Has taught the Qur’an to His beloved Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him).
ने अपने महबूब को कुरआन सिखाया
ne apne mehboob ko Quran sikhaya
(ف2)شانِ نزول : جب آیت اُسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ نازل ہوئی ، کفّارِ مکّہ نے کہا رحمٰن کیا ہے ، ہم نہیں جانتے ، اس پر اللہ تعالٰی نے اَلرّحمٰن نازل فرمائی کہ رحمٰن جس کا تم انکار کرتے ہو ، وہی ہے جس نے قرآن نازل فرمایا ، اور ایک قول یہ ہے کہ اہلِ مکّہ نے جب کہا کہ محمّد (مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کو کوئی بشر سکھاتا ہے تو یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تبارک و تعالٰی نے فرمایا کہ رحمٰن نے قرآن اپنے حبیب محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سکھایا ۔ (خازن)
خَلَقَ الۡاِنۡسَانَۙ ﴿3﴾
انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا،
Has created Prophet Mohammed (peace and blessings be upon him) as the soul of mankind.
इंसानियत की जान मुहम्मद को पैदा किया,
insaniyat ki jaan Muhammad ko paida kiya,
عَلَّمَهُ الۡبَيَانَ ﴿4﴾
ما کان وما یکون کا بیان انہیں سکھایا (ف۳)
Has taught him the knowledge of the past and the future.
मा कान व मा यकून का बयान उन्हें सिखाया
ma kaan wa ma yakoon ka bayan unhein sikhaya
(ف3)انسان سے اس آیت میں سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مراد ہیں اور بیان سےمَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ کا بیان ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اوّلین و آخرین کی خبریں دیتے تھے ۔ (خازن)
اَلشَّمۡسُ وَالۡقَمَرُ بِحُسۡبَانٍ ﴿5﴾
سورج اور چاند حساب سے ہیں (ف٤)
The sun and the moon are scheduled.
सूरज और चांद हिसाब से हैं
suraj aur chaand hisaab se hain
(ف4)کہ تقدیرِ معیّن کے ساتھ اپنے بروج و منازل میں سیر کرتے ہیں اور اس میں خَلق کے لئے منافع ہیں ، اوقات کے حساب ، سالوں اور مہینوں کی شمار انہیں پر ہے ۔
اور آسمان کو اللہ نے بلند کیا (ف٦) اور ترازو رکھی (ف۷)
And Allah has raised the sky; and He has set the balance.
और आसमान को अल्लाह ने बुलन्द किया और तराज़ू रखी
aur aasman ko Allah ne buland kiya aur tarazu rakhi
(ف6)اور اپنے ملائکہ کا مسکن اور اپنے احکام کا جائے صدوربنایا ۔(ف7)جس سے اشیاء کا وزن کیا جائے اور ان کی مقداریں معلوم ہوں تاکہ لین دین میں عدل قائم رکھا جائے ۔
And grain covered with husk, and fragrant flowers.
और भुस के साथ अनाज और ख़ुश्बू के फूल,
aur bhus ke saath anaj aur khushbu ke phool,
(ف11)مثل گیہوں ، جَو وغیرہ کے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿13﴾
تو اے جن و انس! تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے (ف۱۲)
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो ऐ जिन व इंस! तुम दोनों अपने रब की कौन-सी नेमत को झटलाओगे
to ai jin o ins! tum dono apne Rab ki kaun si ne’mat ko jhutlaoge
(ف12)اس سورۃ شریفہ میں یہ آیت اکتیس۳۱ بار آئی ہے ، بار بار نعمتوں کا ذکر فرما کر یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اپنے رب کی کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے ، یہ ہدایت وارشاد کا بہترین اسلوب ہے تاکہ سامع کے نفس کو تنبیہ ہو اور اسے اپنے جُرم اور ناسپاسی کا حال معلوم ہوجائے کہ اس نے کس قدر نعمتوں کو جھٹلایا ہے اور اسے شرم آئے اور وہ ادائے شکر و طاعت کی طرف مائل ہو اور یہ سمجھ لے کہ اللہ تعالٰی کی بے شمار نعمتیں اس پر ہیں ، حدیث : سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سورت میں نے جنّات کو سنائی وہ تم سے اچھا جواب دیتے تھے ، جب میں آیت فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰن پڑھتا ، وہ کہتے اے رب ہمارے ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے تجھے حمد ۔ ( الترمذی وقال غریب)
He created man from clay like that of earthenware.
उसने आदमी को बनाया बजती मिट्टी से जैसे ठीकरी
usne aadmi ko banaya bajti mitti se jaise theekri
(ف13)یعنی خشک مٹی سے جو بجانے سے بجے اور کوئی چیز کھنکھناتی آواز دے ، پھر اس مٹی کو تر کیا کہ وہ مثل گارے کے ہوگئی ، پھر اس کو گَلایا کہ وہ مثل سیاہ کیچ کے ہوگئی ۔
اور اسی کی ہیں وہ چلنے والیاں کہ دریا میں اٹھی ہوئی ہیں جیسے پہاڑ (ف۲۰)
To Him only belong the sailing ships, raised above the sea like hills.
और उसी की हैं वो चलने वालियां फ़ कि दरिया में उठी हुई हैं जैसे पहाड़
aur usi ki hain woh chalne waliyan F ke dariya mein uthi hui hain jaise pahad
(ف20)جن چیزوں سے وہ کَشتیاں بنائی گئیں وہ بھی اللہ تعالٰی نے پیدا کیں اور ان کو ترکیب دینے اور کَشتی بنانے اور صنّاعی کرنے کی عقل بھی اللہ تعالٰی نے پیدا کی اور دریاؤں میں ان کَشتیوں کا چلنا اور تیرنا یہ سب اللہ تعالٰی کی قدرت سے ہے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿25﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
اسی کے منگتا ہیں جتنے آسمانوں اور زمین میں ہیں (ف۲۳) اسے ہر دن ایک کام ہے (ف۲٤)
All those who are in the heavens and the earth seek only from Him; every day is an enterprise for Him.
उसी के मंगता हैं जितने आसमानों और ज़मीन में हैं उसे हर दिन एक काम है
usi ke mangta hain jitne aasmanon aur zameen mein hain use har din ek kaam hai
(ف23)فرشتے ہوں یا جن یا انسان یا اور کوئی مخلوق ، کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں ، سب اس کے فضل کے محتاج ہیں اور زبانِ حال و قال سے اس کے حضور سائل ۔(ف24)یعنی وہ ہر وقت اپنی قدرت کے آثار ظاہر فرماتا ہے ، کسی کو روزی دیتا ہے ، کسی کو مارتا ہے ، کسی کو جِلاتا ہے ، کسی کو عزّت دیتا ہے ، کسی کو ذلّت ، کسی کو غنی کرتا ہے ، کسی کو محتاج ، کسی کے گناہ بخشتا ہے ، کسی کی تکلیف رفع کرتا ہے ۔ شانِ نزول : کہا گیا ہے کہ یہ آیت یہود کے رد میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ اللہ تعالٰی سنیچر کے روز کوئی کام نہیں کرتا ، ان کے قول کا بطلان ظاہر فرمایا گیا ، منقول ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے اس آیت کے معنٰی دریافت کئے اس نے ایک روز کی مہلت چاہی اور نہایت متفکِّر و مغموم ہو کر اپنے مکان پر آیا ، اس کے ایک حبشی غلام نے وزیر کو پریشان دیکھ کر کہا : اے میرے آقا آپ کو کیا مصیبت پیش آئی ، بیان کیجئے ، وزیر نے بیان کیا تو غلام نے کہا کہ اس کے معنٰی بادشاہ کو میں سمجھادوں گا ، وزیر نے اس کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا تو غلام نے کہا کہ اے بادشاہ اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں اور مردے سے زندہ نکالتا ہے اور زندے سے مردہ اور بیمار کو تندرسی دیتا ہے اور تندرست کو بیمار کرتا ہے ، مصیبت زدہ کو رہائی دیتا ہے اور بے غموں کو مصیبت میں مبتلا کرتا ہے ، عزّت والوں کو ذلیل کرتا ہے ، ذلیلوں کو عزّت دیتا ہے ، مالداروں کو محتاج کرتا ہے ، محتاجوں کو مالدار ، بادشاہ نے غلام کا جواب پسند کیا اور وزیر کو حکم دیا کہ اس غلام کو خلعتِ وزارت پہنائے ، غلام نے وزیر سے کہا اے آقا یہ بھی اللہ تعالٰی کی ایک شان ہے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿30﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
سَنَفۡرُغُ لَـكُمۡ اَيُّهَ الثَّقَلٰنِۚ ﴿31﴾
جلد سب کام نبٹا کر ہم تمہارے حساب کا قصد فرماتے ہیں اے دونوں بھاری گروہ (ف۲۵)
Disposing all works quickly We tend towards your account, O you two large groups!
जल्द सब काम निबटा कर हम तुम्हारे हिसाब का क़स्द फ़रमाते हैं ऐ दोनों भारी गिरोह
jald sab kaam nibhata kar hum tumhare hisaab ka qasd farmaate hain ai dono bhaari giroh
(ف25)جن و انس کے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿32﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
تم پر (ف۲۷) چھوڑی جائے گی بےدھویں کی آگ کی لپٹ اور بےلپٹ کا کالا دھواں (ف۲۸) تو پھر بدلا نہ لے سکو گے (ف۲۹)
Flames of smokeless fire and black smoke without flames, will be let loose on you, so you will not be able to retaliate.
तुम पर छोड़ी जाएगी बे-धुएं की आग की लपट और बे-लपट का काला धुआँ तो फिर बदला न ले सकोगे
tum par chhodi jaegi be dhuen ki aag ki lapet aur be lapet ka kaala dhuan to phir badla na le sakoge
(ف27)روزِ قیامت جب تم قبروں سے نکلو گے ۔(ف28)حضرت مترجِم قدّس سِرّہ نے فرمایا لَپٹ میں دھواں ہو تو اس کے سب اجزاء جَلانے والے نہ ہوں گے کہ زمین کے اجزاء شامل ہیں ، جن سے دھواں بنتا ہے اور دھوئیں میں لَپٹ ہو تو وہ پورا سیاہ اور اندھیرا نہ ہوگا کہ لَپٹ کی رنگت شامل ہے ، ان پر بے دھوئیں کی لَپٹ بھیجی جائے گی جس کے سب اجزاء جَلانے والے اور بے لَپٹ کا دھواں جو سخت کالا اندھیرا اوراسی کے وجہ کریم کی پناہ ۔(ف29)اس عذاب سے نہ بچ سکو گے اور آپس میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکوگے بلکہ یہ لَپٹ اور دھواں تمہیں محشرکی طرف لے جائیں گے ، پہلے سے اس کی خبر دے دینا یہ بھی اللہ تعالٰی کا لطف و کرم ہے تاکہ اس کی نافرمانی سے باز رہ کر اپنے آپ کو اس بَلاسے بچاسکو ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿36﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
تو اس دن (ف۳۱) گنہگار کے گناہ کی پوچھ نہ ہوگی کسی آدمی اور جن سے (ف۳۲)
On that day no sinner will be questioned about his sins, from men or from jinns.
तो उस दिन गुनहगार के गुनाह की पूछ न होगी किसी आदमी और जिन से
to us din gunahgaar ke gunah ki poochh na hogi kisi aadmi aur jin se
(ف31)یعنی جب کہ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور آسمان پھٹے گا ۔(ف32)اس روز ملائکہ مجرمین سے دریافت نہ کریں گے ان کی صورتیں ہی دیکھ کر پہچان لیں گے اور سوال دوسرے وقت ہوگا جب کہ لوگ موقف میں جمع ہوں گے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿40﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
مجرم اپنے چہرے سے پہچانے جائیں گے (ف۳۳) تو ماتھا اور پاؤں پکڑ کر جہنم میں ڈالے جائیں گے (ف۳٤)
The criminals will be recognised from their faces, so will be caught by their forelocks and feet, and thrown into hell.
मुजरिम अपने चेहरे से पहचाने जाएंगे तो माथा और पाँव पकड़ कर जहन्नम में डाले जाएंगे
mujrim apne chehre se pehchane jaenge to maatha aur paon pakad kar jahannum mein daale jaenge
(ف33)کہ ان کے منہ کالے اور آنکھیں نیلی ہوں گی ۔(ف34)پاؤں پیٹھ کے پیچھے سے لا کر پیشانیوں سے ملادیئے جائیں گے اور گھسیٹ کرجہنّم میں ڈالے جائیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعضے پیشانیوں سے گھسیٹے جائیں گے بعضے پاؤں سے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿42﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے (ف۳۵)
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
پھیرے کریں گے اس میں اور انتہا کے جلتے کھولتے پانی میں (ف۳٦)
They shall keep going back and forth between it and the extremely hot boiling water.
फेरे करेंगे उसमें और इंतहा के जलते खौलते पानी में
phere karenge usmein aur intiha ke jalte khaultay paani mein
(ف36)کہ جب جہنّم کی آ گ سے جل بُھن کر فریاد کریں گے تو انہیں جلتا ، کھولتا پانی پلایا جائے گا اور اس کے عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے ۔ خدا کی نافرمانی کے اس انجام سے آگاہ فرمادینا اللہ تعالٰی کی نعمت ہے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿45﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
وَلِمَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ ﴿46﴾
اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے (ف۳۷) اس کے لیے دو جنتیں ہیں (ف۳۸)
And for one who fears to stand before his Lord, are two Gardens.
और जो अपने रब के हुज़ूर खड़े होने से डरे उसके लिए दो जन्नतें हैं
aur jo apne Rab ke huzoor khade hone se dare uske liye do jannaten hain
(ف37)یعنی جسے اپنے رب کے حضور روزِ قیامت موقف میں حساب کے لئے کھڑے ہونے کا ڈر ہو اور وہ معاصی ترک کرے اور فرائض بجالائے ۔(ف38)جنّتِ عدن اور جنّتِ نعیم ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک جنّت رب سے ڈر نے کا صلہ اور ایک شہوات ترک کرنے کا صلہ ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ ﴿47﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍۚ ﴿48﴾
بہت سی ڈالوں والیاں (ف۳۹)
Having numerous branches.
बहुत-सी डालों वालियां फ़
bohot si daalon waliyan F
(ف39)اور ہر ڈالی میں قِسم قِسم کے میوے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿49﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ تَجۡرِيٰنِۚ ﴿50﴾
ان میں دو چشمے بہتے ہیں (ف٤۰)
In the two Gardens flow two springs.
उनमें दो चश्मे बहते हैं
unmein do chashme bahtay hain
(ف40)ایک آبِ شیریں کا ، اور ایک شرابِ پاک کا ، یا ایک تسنیم ، دوسرا سلسبیل ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿51﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰنِۚ ﴿52﴾
ان میں ہر میوہ دو دو قسم کا،
In which are fruits of all kinds, each of two varieties.
उनमें हर मेवा दो-दो क़िस्म का,
unmein har mewa do do qism ka,
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿53﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
اور ایسے بچھونوں پر تکیہ لگائے جن کا اَستر قناویز کا (ف٤۱) اور دونوں کے میوے اتنے جھکے ہوئے کہ نیچے سے چن لو (ف٤۲)
Reclining upon thrones that are lined with brocade, with the fruit of both Gardens close enough to be picked from under.
और ऐसे बिछौनों पर तकिया लगाए जिनका अस्तर क़नावीज़ का और दोनों के मेवे इतने झुके हुए कि नीचे से चुन लो
aur aise bichhonon par takiya lagaye jinka astar qanavez ka aur dono ke mewe itne jhuke hue ke neeche se chun lo
(ف41)یعنی سنگین ریشم کا ، جب استرکا یہ حال ہے تو ابرا کیسا ہوگا ، سبحان اللہ ۔(ف42)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما نے فرمایا کہ درخت اتنا قریب ہوگا کہ اللہ تعالٰی کے پیارے کھڑے ، بیٹھے اس کا میوہ چُن لیں گے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿55﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
ان بچھونوں پر وہ عورتیں ہیں کہ شوہر کے سوا کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتیں (ف٤۳) ان سے پہلے انہیں نہ چھوا کسی آدمی اور نہ جن نے،
Upon thrones are the women who do not gaze at men except their husbands, and before them, are untouched by any man or jinn.
उन बिछौनों पर वो औरतें हैं कि शौहर के सिवा किसी को आँख उठाकर नहीं देखतीं उनसे पहले उन्हें न छुआ किसी आदमी और न जिन ने,
un bichhonon par woh auratein hain ke shohar ke siwa kisi ko aankh utha kar nahin dekhti, unse pehle unhein na chhua kisi aadmi aur na jin ne,
(ف43)جنّتی بیبیاں اپنے شوہر سے کہیں گی مجھے اپنے رب کے عزّت و جلال کی قَسم جنّت میں مجھے کوئی چیز تجھ سے زیادہ اچھی نہیں معلوم ہوتی تو اس خدا کی حمد جس نے تجھے میرا شوہر کیا اور مجھے تیری بی بی بنایا ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ۚ ﴿57﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
كَاَنَّهُنَّ الۡيَاقُوۡتُ وَالۡمَرۡجَانُۚ ﴿58﴾
گویا وہ لعل اور یاقوت اور مونگا ہیں (ف٤٤)
They are like rubies and coral-stone.
गोया वो लाल और याकूत और मूंगा हैं
goya woh laal aur yaqoot aur moonga hain
(ف44)صفائی اور خوش رنگی میں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ جنّتی حوروں کے صفائے ابدان کا یہ عالَم ہے کہ ان کی پنڈلی کا مغز اس طرح نظر آتا ہے جس طرح آبگینہ کی صراحی میں شرابِ سرخ ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿59﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
What is the reward of virtue except virtue (in return)?
नेकी का बदला क्या है मगर नेकी
neki ka badla kya hai magar neki
(ف45)یعنی جس نے دنیا میں نیکی کی اس کی جزا آخرت میں احسانِ الٰہی ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما نے فرمایا کہ جولَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کا قائل ہو اور شریعتِ محمّدیہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر عامل ، اس کی جزا جنّت ہے ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿61﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
وَمِنۡ دُوۡنِهِمَا جَنَّتٰنِۚ ﴿62﴾
اور ان کے سوا دو جنتیں اور ہیں (ف٤٦)
And besides them, there are two more Gardens.
और उनके सिवा दो जन्नतें और हैं
aur unke siwa do jannaten aur hain
(ف46)حدیث شریف میں ہے کہ دو جنّتیں تو ایسی ہیں جن کے ظروف اور سامان چاندی کے ہیں اور دو جنّتیں ایسی کہ جن کے ظروف و اسباب سونے کے ، اورایک قول یہ بھی ہے کہ پہلی دو جنّتیں سونے اور چاندی کی اور دوسری یاقوت و زبرجد کی ۔
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ ﴿63﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
مُدۡهَآمَّتٰنِۚ ﴿64﴾
نہایت سبزی سے سیاہی کی جھلک دے رہی ہیں،
Densely covered with foliage, appearing dark.
नहायत सब्ज़ी से सियाही की झलक दे रही हैं,
nihayat sabzi se siyaahi ki jhalak de rahi hain,
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ ﴿65﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
فِيۡهِمَا عَيۡنٰنِ نَضَّاخَتٰنِۚ ﴿66﴾
ان میں دو چشمے ہیں چھلکتے ہوئے،
In the Gardens are two springs, overflowing with abundance.
उनमें दो चश्मे हैं छलकते हुए,
unmein do chashme hain chhalkte hue,
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ﴿67﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
فِيۡهِمَا فَاكِهَةٌ وَّنَخۡلٌ وَّرُمَّانٌۚ ﴿68﴾
ان میں میوے اور کھجوریں اور انار ہیں،
In them are fruits (of all kinds), and dates and pomegranate.
उनमें मेवे और खजूरें और अनार हैं,
unmein mewe aur khajooren aur anaar hain,
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ ﴿69﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
فِيۡهِنَّ خَيۡرٰتٌ حِسَانٌۚ ﴿70﴾
ان میں عورتیں ہیں عادت کی نیک صورت کی اچھی
In them are women of good behaviour and gorgeous faces.
उनमें औरतें हैं आदत की नेक सूरत की अच्छी
unmein auratein hain aadat ki nek soorat ki achhi
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ ﴿71﴾
تو اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے،
So O men and jinns! Which favour of your Lord will you deny?
तो अपने रब की कौन-सी नेमत झटलाओगे,
to apne Rab ki kaunsi ne’mat jhutlaoge,
حُوۡرٌ مَّقۡصُوۡرٰتٌ فِى الۡخِيَامِۚ ﴿72﴾
حوریں ہیں خیموں میں پردہ نشین (ف٤۷)
They are houris (maidens of Paradise), hidden from view, in pavilions.
हूरें हैं ख़ेमों में पर्दा-नशीन
hoorain hain khemon mein parda nasheen
(ف47)کہ ان خیموں سے باہر نہیں نکلتیں یہ ان کی شرافت و کرامت ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر جنّتی عورتوں میں سے زمین کی طرف کسی ایک کی جھلک پڑجائے تو آسمان وزمین کے درمیان کی تمام فضا روشن ہوجائے اور خوشبو سے بھر جائے ، اور ان کے خیمے موتی اور زبر جد کے ہوں گے ۔
بڑی برکت والا ہے تمہارے رب کا نام جو عظمت اور بزرگی والا،
Most Auspicious is the name of your Lord, the Most Majestic and the Most Honourable.
बड़ी बरकत वाला है तुम्हारे रब का नाम जो अज़मत और बज़ुर्गी वाला,
badi barkat wala hai tumhare Rab ka naam jo azmat aur buzurgi wala,
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page