(ف5)قدیم ہر شے سے قبل ، اوّل بے ابتداء کہ وہ تھا اور کچھ نہ تھا ۔(ف6)ہر شے کے ہلاک و فنا ہونے کے بعد رہنے والا، سب فنا ہوجائیں گے اور وہ ہمیشہ رہے گا اس کے لئے انتہا نہیں ۔(ف7)دلائل وبراہین سے یا یہ معنٰی کہ غالب ہر شے پر ۔(ف8)حواس اس کے ادراک سے عاجز ، یا یہ معنٰی کہ ہر شے کا جاننے والا ۔
وہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا کیے (ف۹) پھر عرش پر استوا فرمایا جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے، جانتا ہے جو زمین کے اندر جاتا ہے (ف۱۰) اور جو اس سے باہر نکلتا ہے (ف۱۱) اور جو آسمان سے اترتا ہے (ف۱۲) اور جو اس میں چڑھتا ہے (ف۱۳) اور وہ تمہارے ساتھ ہے (ف۱٤) تم کہیں ہو، اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے (ف۱۵)
It is He Who created the heavens and the earth in six days, then ascended the Throne (of Control), in a manner befitting His Majesty; He knows all what goes into the earth and all what comes out of it, and all what descends from the sky and all that rises in it; and He is with you, wherever you may be; and Allah is seeing your deeds.
वही है जिसने आसमान और ज़मीन छ: दिन में पैदा किए फिर अर्श पर इस्तिवा फ़रमाया जैसा कि उसकी शान के लायक है, जानता है जो ज़मीन के अंदर जाता है और जो उस से बाहर निकलता है और जो आसमान से उतरता है और जो उस में चढ़ता है और वह तुम्हारे साथ है तुम कहीं हो, और अल्लाह तुम्हारे काम देख रहा है
Wohi hai jis ne aasman aur zameen chhe din mein paida kiye phir arsh par istiwa farmaya jaisa ke uski shaan ke laayiq hai, jaanta hai jo zameen ke andar jaata hai aur jo us se baahar nikalta hai aur jo aasman se utarta hai aur jo us mein charhta hai aur woh tumhare saath hai tum kahin ho, aur Allah tumhare kaam dekh raha hai
(ف9)ایّامِ دنیا سے ، کہ پہلا ا ن کایک شنبہ اور پچھلا جمعہ ہے ۔ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ وہ اگر چاہتا توطرفۃ العین میں پیدا کردیتا لیکن اس کی حکمت اسی کو مقتضی ہوئی کہ چھ کو اصل بنائے اور ان پر مدار رکھے ۔(ف10)خواہ وہ دانہ ہو یا قطرہ یا خزانہ ہو یا مردہ ۔ (ف11)خواہ وہ نبات ہو یا دھات یا اور کوئی چیز ۔(ف12)رحمت و عذاب اور فرشتے اور بارش ۔(ف13)اعمال اور دعائیں ۔(ف14)اپنے علم وقدرت کے ساتھ عموماً اور فضل و رحمت کے ساتھ خصوصاً ۔(ف15)تو تمہیں تمہارے حسبِ اعمال جزا دے گا۔
اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ میں کچھ وہ خرچ کرو جس میں تمہیں اَوروں کا جانشین کیا (ف۱۹) تو جو تم میں ایمان لائے اور اس کی راہ میں خرچ کیا ان کے لیے بڑا ثواب ہے،
Accept faith in Allah and His Noble Messenger, and spend in His cause from what He has made you the heirs of; so for those among you who accepted faith and spent in His cause, is a great reward.
अल्लाह और उसके रसूल पर ईमान लाओ और उसकी राह में कुछ वह खर्च करो जिस में तुम्हें औरों का जानशीन किया तो जो तुम में ईमान लाए और उसकी राह में खर्च किया उनके लिए बड़ा सवाब है,
Allah aur uske Rasool par imaan lao aur uski raah mein kuchh woh kharch karo jis mein tumhein auron ka janashin kiya to jo tum mein imaan laaye aur uski raah mein kharch kiya unke liye bada sawaab hai,
(ف19)جو تم سے پہلے تھے اور تمہارا جانشین کرے گا تمہارے بعد والوں کو ۔ معنٰی یہ ہیں کہ جو مال تمہارے قبضہ میں ہیں سب اللہ تعالٰی کے ہیں اس نے تمہیں نفع اٹھانے کے لئے دے دیئے ہیں تم حقیقتہً ان کے مالک نہیں ہو بمنزلۂِ نائب و وکیل کے ہو انہیں راہِ خدا میں خرچ کرو اور جس طرح نائب اور وکیل کو مالک کے حکم سے خرچ کرنے میں کوئی تأمّل نہیں ہوتا توتمہیں بھی کوئی تأمّل و تردّد نہ ہو ۔
اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ پر ایمان نہ لاؤ، حالانکہ یہ رسول تمہیں بلا رہے ہیں کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ (ف۲۰) اور بیشک وہ (ف۲۱) تم سے پہلے سے عہد لے چکا ہے (ف۲۲) اگر تمہیں یقین ہو،
And what is the matter with you, that you should not accept faith in Allah? Whereas this Noble Messenger is calling you to believe in your Lord, and Allah has indeed already taken a covenant from you, if you believe.
और तुम्हें क्या है कि अल्लाह पर ईमान न लाओ, हालाँकि ये रसूल तुम्हें बुला रहे हैं कि अपने रब पर ईमान लाओ और बेशक वह तुम से पहले से अहद ले चुका है अगर तुम्हें यक़ीन हो,
Aur tumhein kya hai ke Allah par imaan na lao, halanke ye Rasool tumhein bula rahe hain ke apne Rab par imaan lao aur beshak woh tum se pehle se ahad le chuka hai agar tumhein yaqeen ho,
(ف20)اور برہانیں اور حجّتیں پیش کرتے ہیں اور کتابِ الٰہی سناتے ہیں اب تمہیں کیا عذر ہوسکتا ہے ۔(ف21)یعنی اللہ تعالٰی ۔(ف22)جب اس نے تمہیں پشتِ آدم علیہ السلام سے نکالا تھا کہ اللہ تعالٰی تمہارا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔
وہی ہے کہ اپنے بندہ پر (ف۲۳) روشن آیتیں اتارتا ہے تاکہ تمہیں اندھیریوں سے (ف۲٤) اجالے کی طرف لے جائے (ف۲۵) اور بیشک اللہ تم پر ضرور مہربان رحم والا،
It is He Who sends down clear verses upon His chosen bondman, in order to take you out from the realms of darkness towards light; and indeed Allah is Most Compassionate, Most Merciful upon you.
वही है कि अपने बंदा पर रोशन आयतें उतारता है ताकि तुम्हें अंधेरियों से उजाले की तरफ़ ले जाए और बेशक अल्लाह तुम पर ज़रूर मेहरबान रहम वाला,
Wohi hai ke apne banda par roshan aayatein utarta hai taake tumhein andheriyon se ujale ki taraf le jaye aur beshak Allah tum par zaroor mehrbaan rahm wala,
(ف23)سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ۔(ف24)کفر و شرک کی ۔(ف25)یعنی نورِ ایمان کی طرف ۔
اور تمہیں کیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو حالانکہ آسمانوں اور زمین میں سب کا وارث اللہ ہی ہے (ف۲٦) تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا (ف۲۷) وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا، اور ان سب سے (ف۲۸) اللہ جنت کا وعدہ فرماچکا (ف۲۹) اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
And what is the matter with you that you should not spend in Allah’s cause, whereas Allah is the Inheritor of all that is in the heavens and in the earth? Those among you who spent and fought before the conquest of Mecca are not equal to others; they are greater in rank than those who spent and fought after the conquest; and Allah has promised Paradise to all of them; and Allah well knows what you do.
और तुम्हें क्या है कि अल्लाह की राह में खर्च न करो हालाँकि आसमानों और ज़मीन में सब का वारिस अल्लाह ही है तुम में बराबर नहीं वह जिन्होंने फ़त्हे मक्का से क़बल खर्च और जिहाद किया, वह मरतबा में उन से बड़े हैं जिन्होंने बाद फ़त्ह के खर्च और जिहाद किया, और उन सब से अल्लाह जन्नत का वादा फ़रमा चुका और अल्लाह को तुम्हारे कामों की खबर है,
Aur tumhein kya hai ke Allah ki raah mein kharch na karo halanke aasmanon aur zameen mein sab ka waaris Allah hi hai tum mein barabar nahin woh jinhon ne Fath-e-Makka se qabl kharch aur jihad kiya, woh martaba mein unse bade hain jinhon ne baad Fath ke kharch aur jihad kiya, aur un sab se Allah jannat ka wada farma chuka aur Allah ko tumhare kaamon ki khabar hai,
(ف26)تم ہلاک ہوجاؤ گے اور مال اسی کی مِلک میں رہ جائیں گے اور تمہیں خرچ کرنے کا ثواب بھی نہ ملے گا اور اگر تم خدا کی راہ میں خرچ کرو تو ثواب بھی پاؤ ۔(ف27)جب کہ مسلمان کم اور کمزور تھے اس وقت جنہوں نے خرچ کیا اور جہاد کیا وہ مہاجرین و انصار میں سے سابقین اوّلین ہیں ان کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کردے تو بھی ان کے ایک مُد کے برابر نہ ہو ، نہ نصف مُد کے ۔ مُد ایک پیمانہ ہے جس سے جَوناپے جاتے ہیں ۔ شانِ نزول : کلبی نے کہا کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ آپ پہلے شخص ہیں جو اسلام لائے اور پہلے وہ شخص جس نے راہِ خدا میں مال خرچ کیا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حمایت کی ۔(ف28)یعنی پہلے خرچ کرنے والوں سے بھی اور فتح کے بعد خرچ کرنے والوں سے بھی ۔(ف29)البتہ درجات میں تفاوت ہے قبلِ فتح خرچ کرنے والوں کا درجہ اعلٰی ہے ۔
جس دن تم ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو (ف۳۱) دیکھو گے کہ ان کا نور ہے (ف۳۲) ان کے آگے اور ان کے دہنے دوڑتا ہے (ف۳۳) ان سے فرمایا جارہا ہے کہ آج تمہاری سب سے زیادہ خوشی کی بات وہ جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں تم ان میں ہمیشہ رہو، یہی بڑی کامیابی ہے،
The day when you will see the believing men and believing women, that their light runs before them and on their right – it being said to them, “This day, the best tidings for you are the Gardens beneath which rivers flow – abide in it forever; this is the greatest success.”
जिस दिन तुम ईमान वाले मर्दों और ईमान वाली औरतों को देखोगे कि उनका नूर है उनके आगे और उनके दहने दौड़ता है, उन से फ़रमाया जा रहा है कि आज तुम्हारी सबसे ज़्यादा खुशी की बात वह जन्नतें हैं जिन के नीचे नहरें बहें तुम उन में हमेशा रहो, यही बड़ी कामयाबी है,
Jis din tum imaan wale mardon aur imaan wali aurton ko dekhoge ke unka noor hai unke aage aur unke dahne daurta hai, unse farmaya ja raha hai ke aaj tumhari sabse zyada khushi ki baat woh jannaten hain jin ke neeche nahrein bahein tum un mein hamesha raho, yahi badi kaamyabi hai,
(ف31)پلِ صراط پر ۔(ف32)یعنی ان کے ایمان و طاعت کا نور ۔(ف33)اور جنّت کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے ۔
جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے کہیں گے کہ ہمیں یک نگاہ دیکھو کہ ہم تمہارے نور سے کچھ حصہ لیں، کہا جائے گا اپنے پیچھے لوٹو (ُ۳٤) وہاں نور ڈھونڈو وہ لوٹیں گے، جبھی ان کے (ف۳۵) درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی (ف۳٦) جس میں ایک دروازہ ہے (ف۳۷) اس کے اندر کی طرف رحمت (ف۳۸) اور اس کے باہر کی طرف عذاب،
The day when hypocrite men and hypocrite women will say to the Muslims, “Look mercifully towards us, so that we may gain some of your light!”; it will be said to them, “Turn back, search light over there!”; so they will turn around, whereupon a wall will be erected between them, in which is a gate; inside the gate is mercy, and on the outer side is the punishment.
जिस दिन मुनाफ़िक मर्द और मुनाफ़िक औरतें मुसलमानों से कहेंगे कि हमें एक निगाह देखो कि हम तुम्हारे नूर से कुछ हिस्सा लें, कहा जाएगा अपने पीछे लौटो वहाँ नूर ढूँढो, वह लौटेंगे, जबही उनके दरमियान एक दीवार खड़ी कर दी जाएगी जिस में एक दरवाज़ा है, उसके अंदर की तरफ़ रहमत और उसके बाहर की तरफ़ अज़ाब,
Jis din munafiq mard aur munafiq auraten musalmanon se kahenge ke humein ek nigaah dekho ke hum tumhare noor se kuchh hissa lein, kaha jayega apne peeche lauto wahan noor dhoondo, woh lautenge, jabhi unke darmiyan ek deewar khadi kar di jayegi jis mein ek darwaza hai, uske andar ki taraf rahmat aur uske baahar ki taraf azaab,
(ف34)جہاں سے آئے تھے یعنی موقف کی طرف جہاں ہمیں نور دیا گیا ہے وہاں نور طلب کر و یا یہ معنٰی ہیں کہ تم ہمارا نور نہیں پاسکتے نور کی طلب کے لئے پیچھے لوٹ جاؤ پھر وہ نور کی تلاش میں واپس ہوں گے اور کچھ نہ پائیں گے دوبارہ مومنین کی طرف پھریں گے ۔(ف35)یعنی مومنین اور منافقین کے ۔(ف36)بعض مفسّرین نے کہا کہ وہی اعراف ہے ۔(ف37)اس سے جنّتی جنّت میں داخل ہوں گے ۔(ف38)یعنی اس دیوار کے اندرونی جانب جنّت ۔
منافق (ف۳۹) مسلمانوں کو پکاریں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے (ف٤۰) وہ کہیں گے کیوں نہیں مگر تم نے تو اپنی جانیں فتنہ میں ڈالیں (ف٤۱) اور مسلمانوں کی برائی تکتے اور شک رکھتے (ف٤۲) اور جھوٹی طمع نے تمھیں فریب دیا (ف٤۳) یہاں تک کہ اللہ کا حکم آگیا (ف٤٤) اور تمہیں اللہ کے حکم پر اس بڑے فریبی نے مغرور رکھا (ف٤۵)
The hypocrites will call out to the Muslims, “Were we not with you?”; they will answer, “Yes you were, why not? But you had put your souls into trial, and you used to await misfortune for the Muslims, and you doubted, and false hopes deceived you until Allah’s command came – and the big cheat had made you conceited towards the command of Allah.”
मुनाफ़िक मुसलमानों को पुकारेंगे क्या हम तुम्हारे साथ न थे? वह कहेंगे क्यों नहीं मगर तुम ने तो अपनी जानें फ़ितना में डालें और मुसलमानों की बुराई तकते और शक रखते और झूटी तमा ने तुम्हें फ़रेब दिया यहाँ तक कि अल्लाह का हुक्म आ गया और तुम्हें अल्लाह के हुक्म पर उस बड़े फ़रेबी ने मग़रूर रखा
Munafiq musalmanon ko pukaarenge kya hum tumhare saath na the? Woh kahenge kyon nahin magar tumne to apni jaanen fitna mein daalein aur musalmanon ki burai takte aur shak rakhte aur jhooti tama ne tumhein fareb diya yahan tak ke Allah ka hukm aa gaya aur tumhein Allah ke hukm par us bade farebi ne maghroor rakha
(ف39)اس دیوار کے پیچھے سے ۔(ف40)دنیا میں نماز یں پڑھتے روزہ رکھتے ۔(ف41)نفاق و کفر اختیار کرکے ۔(ف42)دِینِ اسلام میں ۔(ف43)اور تم باطل امیدوں میں رہے کہ مسلمانوں پر حوادث آئیں گے وہ تباہ ہوجائیں گے ۔(ف44)یعنی موت ۔(ف45)یعنی شیطان نے دھوکا دیا کہ اللہ تعالٰی بڑا حلیم ہے تم پر عذاب نہ کرے گا اور نہ مرنے کے بعد اٹھنا ، نہ حساب تم اس کے اس فریب میں آ گئے ۔
تو آج نہ تم سے کوئی فدیہ لیا جائے (ف٤٦) اور نہ کھلے کافروں سے، تمہارا ٹھکانا آگ ہے، وہ تمہاری رفیق ہے، اور کیا ہی برا انجام،
“So this day no ransom is to be taken from you nor from the declared disbelievers; your destination is the fire; that is your companion; and what a wretched outcome!”
तो आज न तुम से कोई फ़िदया लिया जाए और न खुले काफ़िरों से, तुम्हारा ठिकाना आग है, वह तुम्हारी रफ़ीक़ है, और क्या ही बुरा अंजाम,
To aaj na tumse koi fidya liya jaye aur na khule kafiron se, tumhara thikana aag hai, woh tumhari rafeeq hai, aur kya hi bura anjaam,
(ف46)جس کو دے کر تم اپنی جان عذاب سے چھڑا سکو ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا معنٰی یہ ہیں کہ آج نہ تم سے ایمان قبول کیا جائے ، نہ توبہ ۔
کیا ایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد اور اس حق کے لیے جو اترا (ف٤۷) اور ان جیسے نہ ہوں جن کو پہلے کتاب دی گئی (ف٤۸) پھر ان پر مدت دراز ہوئی (ف٤۹) تو ان کے دل سخت ہوگئے (ف۵۰) اور ان میں بہت فاسق ہیں (ف۵۱)
Has not the time come for the believers to surrender their hearts to Allah’s remembrance and to this truth that has come down? And do not be like those who were earlier given the Book(s) and when a long term passed over them, their hearts became hardened; and many of them are sinners.
क्या ईमान वालों को अभी वह वक़्त न आया कि उनके दिल झुक जाएँ अल्लाह की याद और उस हक़ के लिए जो उतरा और उन जैसे न हों जिन को पहले किताब दी गई फिर उन पर मुद्दत दराज़ हुई तो उनके दिल सख़्त हो गए और उन में बहुत फासिक़ हैं
Kya imaan walon ko abhi woh waqt na aaya ke unke dil jhuk jaayen Allah ki yaad aur us haqq ke liye jo utra aur un jaise na hon jin ko pehle kitaab di gayi phir un par muddat daraaz hui to unke dil sakht ho gaye aur un mein bohot faasiq hain
(ف47)شانِ نزول : حضرت اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دولت سرائے اقدس سے باہر تشریف لائے تو مسلمانوں کو دیکھا کہ آپس میں ہنس رہے ہیں فرمایا تم ہنستے ہو ابھی تک تمہارے رب کی طرف سے امان نہیں آئی اور تمہارے ہنسنے پر یہ آیت نازل ہوئی ، انہو ں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس ہنسی کا کَفّارہ کیا ہے ؟ فرمایا اتنا ہی رونا ۔ اور اترنے والے حق سے مراد قرآنِ مجید ہے ۔(ف48)یعنی یہود و نصارٰی کے طریقے اختیار نہ کریں ۔(ف49)یعنی وہ زمانہ جو ان کے اور ان کے انبیاء کے درمیان تھا ۔(ف50)اور یادِ الٰہی کے لئے نرم نہ ہوئے دنیا کی طرف مائل ہوگئے اور مواعظ سے انہوں نے اعراض کیا ۔(ف51)دِین سے خارج ہونے والے ۔
جان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کے مرے پیچھے (ف۵۲) بیشک ہم نے تمہارے لیے نشانیاں بیان فرمادیں کہ تمہیں سمجھ ہو،
Know that it is Allah Who revives the earth after its death; We have indeed illustrated the signs for you, for you to understand.
जान लो कि अल्लाह ज़मीन को ज़िंदा करता है उसके मरे पीछे बेशक हमने तुम्हारे लिए निशानियाँ बयान फ़रमा दीं कि तुम्हें समझ हो,
Jaan lo ke Allah zameen ko zinda karta hai uske mare pichhe beshak humne tumhare liye nishaaniyan bayaan farma deen ke tumhein samajh ho,
(ف52)مینھ برسا کر سبز ہ اُگا کر بعد اس کے کہ خشک ہوگئی تھی ایسے ہی دلوں کو سخت ہوجانے کے بعد نرم کرتا ہے اور انہیں علم و حکمت سے زندگی عطا فرماتا ہے ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ یہ تمثیل ہے ذکر کے دلوں میں اثر کرنے کی جس طرح بارش سے زمین کو زندگی حاصل ہوتی ہے ایسے ہی ذکرِ الٰہی سے دل زندہ ہوتے ہیں ۔
اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے، اور اَوروں پر (ف۵۵) گواہ اپنے رب کے یہاں، ان کے لیے ان کا ثواب (ف۵٦) اور ان کا نور ہے (ف۵۷) اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ دوزخی ہیں،
And those who believe in Allah and all His Noble Messengers, are the truly sincere; and are witness upon others, before their Lord; for them is their reward, and their light; and those who disbelieved and denied Our signs, are the people of hell.
और वह जो अल्लाह और उसके सब रसूलों पर ईमान लाएँ वही हैं कामिल सच्चे, और औरों पर गवाह अपने रब के यहाँ, उनके लिए उनका सवाब और उनका नूर है और जिन्होंने कुफ़्र किया और हमारी आयतें झटलाईं वह दोज़खी हैं,
Aur woh jo Allah aur uske sab Rasoolon par imaan laayen wahi hain kaamil sachche, aur auron par gawah apne Rab ke yahan, unke liye unka sawaab aur unka noor hai aur jinhon ne kufr kiya aur hamari aayatein jhutlayeen woh dozakhi hain,
(ف55)گزری ہوئی امّتوں میں سے ۔(ف56)جس کا وعدہ کیا گیا ۔(ف57)جو حشر میں ان کے ساتھ ہوگا ۔
جان لو کہ دنیا کی زندگی تو نہیں مگر کھیل کود (ف۵۸) اور آرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنا اور مال اور اولاد میں ایک دوسرے پر زیادتی چاہنا (ف۵۹) اس مینھ کی طرح جس کا اُگایاسبزہ کسانوں کو بھایا پھر سوکھا (ف٦۰) کہ تو اسے زرد دیکھے پھر روندن (پامال کیا ہوا) ہوگیا (ف٦۱) اور آخرت میں سخت عذاب ہے (ف٦۲) اور اللہ کی طرف سے بخشش اور اس کی رضا (ف٦۳) اور دنیا کا جینا تو نہیں مگر دھوکے کا مال (ف٦٤)
Know that the life of this world is nothing but play and pastime, and adornment, and boasting amongst yourselves, and the desire to surpass each other in wealth and children; like the rain the produce of which pleased the farmer, then dried so you see it yellow, and then turned into dry trampled hay; and in the Hereafter is a severe punishment, and the forgiveness from Allah and His pleasure; and the life of this world is nothing but counterfeit wealth.
जान लो कि दुनिया की ज़िंदगी तो नहीं मगर खेल कूद और आराइश और तुम्हारा आपस में बड़ाई मारना और माल और औलाद में एक दूसरे पर ज़ियादती चाहना, उस मेहँ की तरह जिस का उगाया सब्ज़ा किसानों को भाया फिर सूखा कि तू उसे ज़र्द देखे फिर रौंदन (पामाल किया हुआ) हो गया और आख़िरत में सख़्त अज़ाब है और अल्लाह की तरफ़ से बख़्शिश और उसकी रज़ा और दुनिया का जीना तो नहीं मगर धोके का माल
Jaan lo ke duniya ki zindagi to nahin magar khel kood aur aaraish aur tumhara aapas mein barai maarna aur maal aur aulaad mein ek doosre par ziyadati chaahna us mehn ki tarah jis ka ugaya sabza kisano ko bhaya phir sookha ke tu use zard dekhe phir raundan (paamaal kiya hua) ho gaya aur aakhirat mein sakht azaab hai aur Allah ki taraf se bakhshish aur uski raza aur duniya ka jeena to nahin magar dhokhe ka maal
(ف58)جس میں وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ۔(ف59)اور ان چیزوں میں مشغول رہنا اور ان سے دل لگانا دنیا ہے لیکن طاعتیں اور عبادتیں اور جو چیزیں کہ طاعت پر مُعِین ہوں اور وہ امورِ آخرت سے ہیں ۔ اب اس زندگانی دنیا کی ایک مثال ارشاد فرمائی جاتی ہے ۔(ف60)اس کی سبزی جاتی رہی ، پیلا پڑ گیا کسی آفتِ سماوی یا ارضی سے ۔(ف61)ریزہ ریزہ ، یہی حال دنیا کی زندگی کا ہے جس پر طالبِ دنیا بہت خوش ہوتا ہے اور اس کے ساتھ بہت سی امیدیں رکھتا ہے وہ نہایت جلد گزر جاتی ہے ۔(ف62)اس کے لئے جو دنیا کا طالب ہو اور زندگی لہو و لعب میں گزارے اور وہ آخرت کی پرواہ نہ کرے ایسا حال کافر کا ہوتا ہے ۔(ف63)جس نے دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دی ۔(ف64)یہ اس کے لئے ہے جو دنیا ہی کا ہوجائے اور اس پر بھروسہ کرلے اور آخرت کی فکر نہ کرے اور جو شخص دنیا میں آخرت کا طالب ہو اور اسبابِ دنیوی سے بھی آخرت ہی کے لئے علاقہ رکھے تو اس کے لئے دنیا کی کامیابی آخرت کا ذریعہ ہے ۔ حضرت ذوالنّون رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اے گروہِ مرید ین دنیا طلب نہ کرو اور اگر طلب کرو تو اس سے محبّت نہ کرو توشہ یہاں سے لو آرام گاہ اور ہے ۔
بڑھ کر چلو اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف (ف٦۵) جس کی چوڑائی جیسے آسمان اور زمین کا پھیلاؤ (ف٦٦) تیار ہوئی ہے ان کے لیے جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے، یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اور اللہ بڑا فضل والا ہے،
Rush towards the forgiveness of your Lord and a Paradise wide as the expanse of the heavens and the earth – made for those who believe in Allah and all His Noble Messengers; this is Allah’s munificence, He may bestow it to whomever He wills; and Allah is Extremely Munificent.
बढ़ कर चलो अपने रब की बख़्शिश और उस जन्नत की तरफ़ जिस की चौड़ाई जैसे आसमान और ज़मीन का फैलाव तैयार हुई है उनके लिए जो अल्लाह और उसके सब रसूलों पर ईमान लाए, ये अल्लाह का फ़ज़्ल है जिसे चाहे दे, और अल्लाह बड़ा फ़ज़्ल वाला है,
Barh kar chalo apne Rab ki bakhshish aur us jannat ki taraf jis ki chaudai jaise aasman aur zameen ka phailaav tayyar hui hai unke liye jo Allah aur uske sab Rasoolon par imaan laaye, ye Allah ka fazl hai jise chahe de, aur Allah bada fazl wala hai,
(ف65)رضائے الٰہی کے طالب بنو اس کی طاعت اختیار کرو اور اس کی فرمانبرداری بجالا کر جنّت کی طرف بڑھو ۔(ف66)یعنی جنّت کا عرض ایسا ہے کہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کے ورق ملا کر باہم ملا دیئے جائیں تو جتنے وہ ہوں اتنا جنّت کا عرض پھر طول کی کیا انتہا ۔
نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں (ف٦۷) اور نہ تمہاری جانوں میں (ف٦۸) مگر وہ ایک کتاب میں ہے (ف٦۹) قبل اس کے کہ ہم اسے پیدا کریں (ف۷۰) بیشک یہ (ف۷۱) اللہ کو آسان ہے،
There is no misfortune that reaches in the earth or in your selves but is mentioned in a Book, before We initiate it; indeed this is easy for Allah.
नहीं पहुँचती कोई मुसीबत ज़मीन में और न तुम्हारी जानों में मगर वह एक किताब में है क़बल इसके कि हम उसे पैदा करें, बेशक ये अल्लाह को आसान है,
Nahin pahunchti koi museebat zameen mein aur na tumhari jaanon mein magar woh ek kitaab mein hai qabl iske ke hum use paida karein, beshak ye Allah ko aasan hai,
(ف67)قحط کی ، امساکِ باراں کی ، عدم پیدوار کی ، پھلوں کی کمی کی ، کھیتیوں کے تباہ ہونے کی ۔(ف68)امراض کی اور اولاد کے غموں کی ۔(ف69)لوحِ محفوظ میں ۔(ف70)یعنی زمین کو یا جانوں کو یا مصیبت کو ۔(ف71)یعنی ان امور کا باوجود کثرت کے لوح میں ثبت فرمانا ۔
اس لیے کہ غم نہ کھاؤ اس (ف۷۲) پر جو ہاتھ سے جائے اور خوش نہ ہو (ف۷۳) اس پر جو تم کو دیا (ف۷٤) اور اللہ کو نہیں کوئی اترونا (شیخی بگھارنے والا) بڑائی مارنے والا،
So that you may not be saddened upon losing something, nor rejoice upon what you are given; and Allah does not like any boastful, conceited person.
इस लिए कि ग़म न खाओ उस पर जो हाथ से जाए और खुश न हो उस पर जो तुम को दिया और अल्लाह को नहीं कोई उतरौना (शेख़ी बघारने वाला) बड़ाई मारने वाला,
Is liye ke gham na khao us par jo haath se jaye aur khush na ho us par jo tumko diya aur Allah ko nahin koi utarona (shekhi baghaar ne wala) barai maarne wala,
(ف72)متاعِ دنیا ۔(ف73)یعنی نہ اتراؤ ۔(ف74)دنیا کا مال و و متاع ۔ اور یہ سمجھ لو کہ جو اللہ تعالٰی نے مقدر فرمایا ہے ضرور ہونا ہے نہ غم کرنے سے کوئی ضائع شدہ چیز واپس مل سکتی ہیں ، نہ فنا ہونے والی چیز اترانے کے لائق ہے تو چاہئے کہ خوشی کی جگہ شکر اورغم کی جگہ صبر اختیا ر کرو ۔ غم سے مراد یہاں انسان کی وہ حالت ہے جس میں صبر اور رضا بقضائے الٰہی اور امیدِ ثواب باقی نہ رہے ۔ اور خوشی سے وہ اترانا مراد ہے جس میں مست ہو کر آدمی شکر سے غافل ہوجائے ۔ اور وہ غم و رنج جس میں بندہ اللہ تعالٰی کی طرف متوجّہ ہو اور اس کی رضا پر راضی ہو ایسے ہی وہ خوشی جس پر حق تعالٰی کا شکر گزار ہو ممنوع نہیں ۔ حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا اے فرزندِ آدم کسی چیز کے فقدان پر کیوں غم کرتا ہے یہ اس کو تیرے پاس واپس نہ لائے گا اور کسی موجود چیز پر کیوں اتراتا ہے موت اس کو تیرے ہاتھ میں نہ چھوڑ ے گی ۔
وہ جو آپ بخل کریں (ف۷۵) اور اوروں سے بخل کو کہیں (ف۷٦) اور جو منہ پھیرے (ف۷۷) تو بیشک اللہ ہی بےنیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
Those who practice miserliness, and exhort others to miserliness; and whoever turns away, then (know that) Allah is the Independent, the Most Praiseworthy.
वह जो आप बुख़्ल करें और औरों से बुख़्ल को कहें और जो मुँह फेरे तो बेशक अल्लाह ही बेनियाज़ है सब खूबियों सराहा,
Woh jo aap bukhl karein aur auron se bukhl ko kahen aur jo munh phere to beshak Allah hi beniyaaz hai sab khubiyon saraaha,
(ف75)اور راہِ خدا اور امورِ خیر میں خرچ نہ کریں اور حقوقِ مالیہ کی ادا سے قاصر رہیں ۔ (ف76)اسکی تفسیر میں مفسّرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ یہود کے حال کا بیان ہے ، اور بُخل سے مراد ان کا سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ان اوصاف کو چُھپانا ہے جو کُتُبِ سابقہ میں مذکور تھے ۔ (ف77)ایمان سے یا مال خرچ کرنے سے یا خدا اور رسول کی فرمانبرداری سے ۔
بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب (ف۷۸) اور عدل کی ترازو اتاری (ف۷۹) کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں (ف۸۰) اور ہم نے لوہا اتارا (ف۸۱) اس میں سخت آنچ (نقصان) (ف۸۲) اور لوگوں کے فائدے (ف۸۳) اور اس لیے کہ اللہ دیکھے اس کو جو بےدیکھے اس کی (ف۸٤) اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بیشک اللہ قورت والا غالب ہے (ف۸۵)
Indeed We sent Our Noble Messengers with proofs, and sent down the Book and the Balance of Justice along with them, so that people may stay upon justice; and We sent down iron having severe heat and benefits for mankind, and so that Allah may see him, who without seeing aides Him and His Noble Messengers; indeed Allah is Almighty, Dominant.
बेशक हमने अपने रसूलों को दलीलों के साथ भेजा और उनके साथ किताब और अद्ल की तराज़ू उतारी कि लोग इंसाफ़ पर क़ायम हों और हमने लोहे को उतारा उस में सख़्त आँच (नुक़सान) और लोगों के फायदे और इस लिए कि अल्लाह देखे उस को जो बे देखे उसकी और उसके रसूलों की मदद करता है, बेशक अल्लाह क़ुव्वत वाला ग़ालिब है
Beshak humne apne Rasoolon ko daleelon ke saath bheja aur unke saath kitaab aur adl ki tarazu utaari ke log insaaf par qaaim hon aur humne loha utaara us mein sakht aanch (nuqsaan) aur logon ke faayde aur is liye ke Allah dekhe usko jo be dekhe uski aur uske Rasoolon ki madad karta hai, beshak Allah quwwat wala ghaalib hai
(ف78)احکام و شرائع کی بیان کرنے والی ۔(ف79)ترازو سے مراد عدل ہے معنٰی یہ ہیں کہ ہم نے عدل کا حکم دیا ۔ اور ایک قول یہ ہے کہ ترازو سے وزن کا آلہ ہی مراد ہے ۔ مروی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام کے پاس ترازولائے اور فرمایا کہ اپنی قوم کو حکم دیجئے کہ اس سے وزن کریں ۔(ف80)اور کوئی کسی کی حق تلفی نہ کرے ۔(ف81)بعض مفسّرین نے فرمایا کہ اتارنا یہاں پیدا کرنے کے معنٰی میں ہے مراد یہ ہے کہ ہم نے لوہا پیدا کیا اور لوگوں کے لئے معادن سے نکالا اور انہیں اس کی صنعت کا علم دیا اور یہ بھی مروی ہے کہ اللہ تعالٰی نے چار بابرکت چیزیں آسمان سے زمین کی طرف اتاریں(۱) لوہا(۲) آ گ(۳) پانی(۴) نمک ۔(ف82)اور نہایت قوّت کہ اس سے اسلحہ اور آلاتِ جنگ بنائے جاتے ہیں ۔(ف83)کہ صنعتوں اور حرفتوں میں وہ بہت کام آتا ہے ، خلاصہ یہ کہ ہم نے رسولوں کو بھیجا اور ان کے ساتھ ان چیزوں کو نازل فرمایا کہ لوگ حق و عدل کا معاملہ کریں ۔(ف84)یعنی اس کے دِین کی ۔(ف85)اس کو کسی کی مدد درکار نہیں دِین کی مدد کرنے کا جو حکم دیا گیا یہ انہیں لوگوں کے نفع کے لئے ہے ۔
اور بیشک ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی (ف۸٦) تو ان میں (ف۸۷) کوئی راہ پر آیا اور ان میں بہتیرے فاسق ہیں،
And indeed We sent Nooh and Ibrahim, and placed Prophethood and the Book among their descendants, so some among them took to guidance; and many of them are sinners.
और बेशक हमने नूह और इब्राहीम को भेजा और उनकी औलाद में नबुव्वत और किताब रखी तो उन में कोई राह पर आया और उन में बहुतिरे फासिक़ हैं,
Aur beshak humne Nooh aur Ibraheem ko bheja aur unki aulad mein nabuwat aur kitaab rakhi to un mein koi raah par aaya aur un mein bahutire faasiq hain,
(ف86)یعنی توریت وانجیل وزبورا ور قرآن ۔ (ف87)یعنی ان کی ذرّیت میں جن میں نبی اور کتابیں بھیجیں ۔
پھر ہم نے ان کے پیچھے (ف۸۸) اسی راہ پر اپنے اور رسول بھیجے اور ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل عطا فرمائی اور اس کے پیروں کے دل میں نرمی اور رحمت رکھی (ف۸۹) اور راہب بننا (ف۹۰) تو یہ بات انہوں نے دین میں اپنی طرف سے نکالی ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی ہاں یہ بدعت انہوں نے اللہ کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اسے نہ نباہا جیسا اس کے نباہنے کا حق تھا (ف۹۱) تو ان کے ایمان والوں کو (ف۹۲) ہم نے ان کا ثواب عطا کیا، اور ان میں سے بہتیرے (ف۹۳) فاسق ہیں،
We then sent Our other Noble Messengers after them following their footsteps, and after them We sent Eisa, the son of Maryam, and bestowed the Injeel to him; and We instilled compassion and mercy in the hearts of his followers; and they invented monasticism which We had not ordained upon them only to seek Allah’s pleasure, then did not properly abide by it as it should have been rightfully abided; We therefore gave the believers among them their reward; and many of them are sinners.
फिर हमने उनके पीछे उसी राह पर अपने और रसूल भेजे और उनके पीछे ईसा बिन मरियम को भेजा और उसे इंजील अता फ़रमाई और उसके पेरों के दिल में नर्मी और रहमत रखी और राहिब बनना तो ये बात उन्होंने दीन में अपनी तरफ़ से निकाली, हमने उन पर मुक़र्रर न की थी, हाँ ये बिदअत उन्होंने अल्लाह की रज़ा चाहने को पैदा की फिर उसे न निभाया जैसा उसके निभाने का हक़ था तो उनके ईमान वालों को हमने उनका सवाब अता किया, और उन में से बहुतिरे फासिक़ हैं,
Phir humne unke peeche usi raah par apne aur Rasool bheje aur unke peeche Eesa bin Maryam ko bheja aur use Injeel ata farmai aur uske pairon ke dil mein narmi aur rahmat rakhi aur raahib banna to ye baat unhon ne deen mein apni taraf se nikaali, humne un par muqarrar na ki thi, haan ye bidat unhon ne Allah ki raza chaahne ko paida ki phir use na nibhaaya jaisa uske nibhaane ka haq tha to unke imaan walon ko humne unka sawaab ata kiya, aur un mein se bahutire faasiq hain,
(ف88)یعنی نوح و ابراہیم علیہما السلام کے بعد تا زمانۂِ حضرت عیسٰی علیہ السلام یکے بعد دیگرے ۔(ف89)کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبّت و شفقت رکھتے ۔(ف90)پہاڑوں اور غاروں اور تنہا مکانوں میں خلوت نشین ہونا اور صومعہ بنانا اور اہلِ دنیا سے مخالطت ترک کرنا اور عبادتوں میں اپنے اوپر زائد مشقّتیں بڑھا لینا ، تارک ہوجانا ، نکاح نہ کرنا ، نہایت موٹے کپڑے پہننا ، ادنٰی غذا نہایت کم مقدار میں کھانا ۔(ف91)بلکہ اس کو ضائع کردیا اور تثلیث و اتحاد میں مبتلا ہوئے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دِین سے کفر کرکے اپنے بادشاہوں کے دِین میں داخل ہوئے اور کچھ لوگ ان میں سے دِینِ مسیحی پر قائم اور ثابت بھی رہے اور جب زمانۂِ پاک حضور سیّدِعالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پایا تو حضور پر بھی ایمان لائے ۔ مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بدعت یعنی دِین میں کسی بات کا نکالنا اگر وہ بات نیک ہو اور اس سے رضائے الٰہی مقصود ہو تو بہتر ہے ، اس پر ثواب ملتا ہے ، اور اس کو جاری رکھنا چاہئے ایسی بدعت کو بدعتِ حسنہ کہتے ہیں البتہ دِین میں بُری بات نکالنا بدعتِ سیّئہ کہلاتا ہے ، وہ ممنوع اور ناجائز ہے اور بدعتِ سیّئہ حدیث شریف میں وہ بتائی گئی ہے جو خلافِ سنّت ہو اس کے نکالنے سے کوئی سنّت اٹھ جائے اس سے ہزار ہا مسائل کا فیصلہ ہوجاتا ہے جن میں آج کل لوگ اختلاف کرتے ہیں اور اپنی ہوائے نفسانی سے ایسے امورِ خیر کو بدعت بتا کر منع کرتے ہیں جن سے دِین کی تقویّت و تائید ہوتی ہے اور مسلمانوں کو اخروی فوائد پہنچتے ہیں اور وہ طاعات و عبادات میں ذوق و شوق کے ساتھ مشغول رہتے ہیں ایسے امور کو بدعت بتانا قرآنِ مجید کی اس آیت کے صریح خلاف ہے ۔(ف92)جو دِین پر قائم رہے تھے ۔(ف93)جنہوں نے رہبانیّت کو ترک کیا اور دِینِ حضرت عیسٰی علیہ السلام سے منحرف ہوگئے ۔
اے ایمان والو! (ف۹٤) اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول (ف۹۵) پر ایمان لاؤ وہ اپنی رحمت کے دو حصے تمہیں عطا فرمائے گا (ف۹٦) اور تمہارے لیے نور کردے گا (ف۹۷) جس میں چلو اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
O People who Believe (in the earlier Noble Messengers)! Fear Allah and accept faith in this Noble Messenger of His – He will bestow two portions of His mercy to you and will create a light for you to walk in it, and will forgive you; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
ऐ ईमान वालो! अल्लाह से डरो और उसके रसूल पर ईमान लाओ, वह अपनी रहमत के दो हिस्से तुम्हें अता फ़रमाएगा और तुम्हारे लिए नूर कर देगा जिस में चलो और तुम्हें बख़्श देगा, और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
Aye imaan walo! Allah se daro aur uske Rasool par imaan lao, woh apni rahmat ke do hisse tumhein ata farmaayega aur tumhare liye noor kar dega jis mein chalo aur tumhein bakhsh dega, aur Allah bakhshne wala mehrbaan hai,
(ف94)حضرت موسٰی و حضرت عیسٰی پر علیہما السلام ۔ یہ خطاب اہلِ کتاب کو ہی ان سے فرمایا جاتا ہے ۔(ف95)سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ۔(ف96)یعنی تمہیں دونا اجر دے گا کیونکہ تم پہلی کتاب اور پہلے نبی پر بھی ایمان لائے او ر سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور قرآنِ پاک پر بھی ۔(ف97)صراط پر ۔
یہ اس لیے کہ کتاب والے کافر جان جائیں کہ اللہ کے فضل پر ان کا کچھ قابو نہیں (ف۹۸) اور یہ کہ فضل اللہ کے ہاتھ ہے دیتا ہے جسے چاہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے،
This is so that the disbelievers among People given the Book(s) may know that they do not have any control over Allah’s munificence, and that the munificence is in Allah’s Hand (control) – He bestows to whomever He wills; and Allah is Extremely Munificent.
ये इस लिए कि किताब वाले काफ़िर जान जाएँ कि अल्लाह के फ़ज़्ल पर उनका कुछ क़ाबू नहीं और ये कि फ़ज़्ल अल्लाह के हाथ है देता है जिसे चाहे, और अल्लाह बड़े फ़ज़्ल वाला है,
"
Ye is liye ke kitaab wale kaafir jaan jaayen ke Allah ke fazl par unka kuchh qaabu nahin aur ye ke fazl Allah ke haath hai deta hai jise chahe, aur Allah bade fazl wala hai,
(ف98) وہ اس میں سے کچھ نہیں پاسکتے نہ دونا اجر ، نہ نور ، نہ مغفرت کیونکہ وہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان نہ لائے تو ان کا پہلے انبیاء پر ایمان لانا بھی مفید نہ ہوگا ۔شانِ نزول : جب اوپر کی آیت نازل ہوئی اور اس میں مومنینِ اہلِ کتاب کو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے اوپر ایمان لانے پر دونے اجر کا وعدہ دیا گیا تو کفّارِ اہلِ کتاب نے کہا اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لائیں تو دونا اجر ملے اور اگر نہ لائیں تو ایک اجر جب بھی رہے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ان کے اس خیال کا ابطال کردیا گیا ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page