بیشک اللہ نے سنی اس کی بات جو تم سے اپنے شوہر کے معاملہ میں بحث کرتی ہے (ف۲) اور اللہ سے شکایت کرتی ہے، اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے،
Allah has indeed heard the speech of the woman who is arguing with you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) concerning her husband, and is complaining to Allah; and Allah hears the conversation of you both; indeed Allah is All Hearing, All Knowing.
बेशक अल्लाह ने सुनी इस की बात जो तुम से अपने शोहर के मामला में बहस करती है और अल्लाह से शिकायत करती है, और अल्लाह तुम दोनों की गुफ्तगू सुन रहा है, बेशक अल्लाह सुनता देखता है,
Beshak Allah ne suni is ki baat jo tum se apne shauhar ke maamla mein behas karti hai aur Allah se shikayat karti hai, aur Allah tum dono ki guftagu sun raha hai, beshak Allah sunta dekhta hai,
(ف2)وہ خولہ بنتِ ثعلبہ تھیں ، اَوس بن صامت کی بی بی ۔شانِ نزول : کسی بات پر اَوس نے ان سے کہا کہ تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مثل ہے ، یہ کہنے کے بعد اَوس کو ندامت ہوئی ، یہ کلمہ زمانۂِ جاہلیّت میں طلاق تھا ، اَوس نے کہا میرے خیال میں تو مجھ پر حرام ہوگئی ، خولہ نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر تمام واقعات عرض کئے اور عرض کیا کہ میرا مال ختم ہوچکا ، ماں باپ گذر گئے ، عمر زیادہ ہوگئی ، بچے چھوٹے چھوٹے ہیں ، ان کے باپ کے پاس چھوڑ وں تو ہلاک ہوجائیں ، اپنے ساتھ رکھوں تو بھوکے مرجائیں ، کیا صورت ہے کہ میرے اور میرے شوہر کے درمیان جدائی نہ ہو ؟ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ تیرے باب میں میرے پاس کوئی حکم نہیں یعنی ابھی تک ظِہار کے متعلق کوئی حکمِ جدید نازل نہیں ہوا ، دستورِ قدیم یہی ہے کہ ظِہار سے عورت حرام ہوجاتی ہے ، عورت نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَوس نے طلاق کا لفظ نہ کہا ، وہ میرے بچّوں کا باپ ہے اور مجھے بہت ہی پیارا ہے ، اسی طرح وہ بار بار عرض کرتی رہی اور جواب حسبِ خواہش نہ پایا تو آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہنے لگی یا اللہ تعالٰی میں تجھ سے اپنی محتاجی و بے کسی اورپریشان حالی کی شکایت کرتی ہوں ، اپنے نبی پر میرے حق میں ایسا حکم نازل فرماجس سے میری مصیبت رفع ہو ، حضرت امّ المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے فرمایا خاموش ہو دیکھ چہرۂِ مبارکِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر آثارِ وحی ظاہر ہیں ، جب وحی پوری ہوگئی ، فرمایا اپنے شوہر کو بلا ، اوس حاضر ہوئے تو حضور نے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں ۔
وہ جو تم میں اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہہ بیٹھتے ہیں (ف۳) وہ ان کی مائیں نہیں (ف٤) ان کی مائیں تو وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہیں (ف۵) اور وہ بیشک بری اور نری جھوٹ بات کہتے ہیں (ف٦) اور بیشک اللہ ضرور معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے،
Those among you who have proclaimed their wives as their mothers – so their wives are not their mothers; their mothers are only those that gave them birth; and undoubtedly they utter evil and a blatant lie; and indeed Allah is Most Pardoning, Oft Forgiving.
वह जो तुम में अपनी बीबियों को अपनी माँ की जगह कह बैठते हैं वह उनकी माएँ नहीं, उनकी माएँ तो वही हैं जिन से वह पैदा हैं और वह बेशक बुरी और नरी झूट बात कहते हैं और बेशक अल्लाह जरूर माफ़ करने वाला और बख्शने वाला है,
Woh jo tum mein apni beebiyon ko apni maan ki jagah keh baithte hain woh unki maaen nahin, unki maaen to wahi hain jin se woh paida hain aur woh beshak buri aur niri jhoot baat kehte hain aur beshak Allah zaroor maaf karne wala aur bakhshne wala hai,
(ف3)یعنی ظِہار کرتے ہیں ، ظِہار اس کو کہتے ہیں کہ اپنی بی بی کو محرماتِ نسبی یا رضائی کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دی جائے جس کو دیکھنا حرام ہے مثلاً بی بی سے کہے کہ تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مثل ہے یا بی بی کے ایسے عضو کو جس سے وہ تعبیر کی جاتی ہو یا اس کے جزوِ شائع کو محرمات کے ایسے عضو سے تشبیہہ دے جس کا دیکھنا حرام ہے مثلاً یہ کہے کہ تیرا سریا تیرا نصفِ بدن میری ماں کی پیٹھ یا اس کے پیٹ یا اس کی ران یا میری بہن یا پھوپھی یادودھ پلانے والی کی پیٹھ یا پیٹ کے مثل ہے تو ایسا کہنا ظِہار کہلاتا ہے ۔(ف4)یہ کہنے سے وہ مائیں نہیں ہوگئیں ۔(ف5)مسئلہ : اور دودھ پلانے والیاں بسبب دودھ پلانے کے ماؤں کے حکم میں ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ازواجِ مطہّرات بسببِ کمالِ حرمت مائیں بلکہ ماؤں سے اعلٰی ہیں ۔(ف6)جو بی بی کو ماں کہتے ہیں ، اس کو کسی طرح ماں کے ساتھ تشبیہ دینا ٹھیک نہیں ۔
اور وہ جو اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہیں (ف۷) پھر وہی کرنا چاہیں جس پر اتنی بری بات کہہ چکے (ف۸) تو ان پر لازم ہے (ف۹) ایک بردہ آزاد کرنا (ف۱۰) قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں (ف۱۱) یہ ہے جو نصیحت تمہیں کی جاتی ہے، اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
And those among you who have proclaimed their wives as their mothers and then wish to revert to the matter upon which they had uttered such an enormous word, must then free a slave before they touch one another; this is what you are advised; and Allah is Aware of your deeds.
और वह जो अपनी बीबियों को अपनी माँ की जगह कहें फिर वही करना चाहें जिस पर इतनी बुरी बात कह चुके तो उन पर लाज़िम है एक बर्दा आज़ाद करना क़बल इस के कि एक दूसरे को हाथ लगाएँ यह है जो नसीहत तुम्हें की जाती है, और अल्लाह तुम्हारे कामों से ख़बरदार है,
Aur woh jo apni beebiyon ko apni maan ki jagah kahein phir wahi karna chahen jis par itni buri baat keh chuke to un par lazim hai ek barda azaad karna qabl is ke ke ek doosre ko haath lagayen, yeh hai jo naseehat tumhein ki jati hai, aur Allah tumhare kaamon se khabardaar hai,
(ف7)یعنی ان سے ظِہار کریں ۔مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ باندی سے ظِہار نہیں ہوتااگر اس کو محرمات سے تشبیہ دے تو مظاہر نہ ہوگا ۔(ف8)یعنی اس ظِہار کو توڑ دینا اور حرمت کو اٹھا دینا ۔(ف9)کفار ۂِ ظِہار کا ، لہٰذا ان پر ضروری ہے ۔(ف10)خواہ وہ مومن ہو یا کافر ، صغیرہو یا کبیر ، مرد ہو یا عورت ، البتہ مُدَبَّر اور اُمِّ ولد اور ایسا مکاتَب جائز نہیں جس نے بدلِ کتابت میں سے کچھ ادا کیاہو ۔(ف11)مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اس کَفّارہ کے دینے سے پہلے وطی اور اس کے دواعی حرام ہیں ۔
پھر جسے بردہ نہ ملے تو (ف۱۲) لگاتار دو مہینے کے روزے (ف۱۳) قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں (ف۱٤) پھر جس سے روزے بھی نہ ہوسکیں (ف۱۵) تو ساٹھ مسکینوں کا پیٹ بھرنا (ف۱٦) یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو (ف۱۷) اور یہ اللہ کی حدیں ہیں (ف۱۸) اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے،
So one who cannot find a slave, must then fast for two successive months before they touch one another; and one who cannot even fast, must then feed sixty needy ones; this is in order that you keep faith in Allah and His Noble Messenger; and these are the limits of Allah; and for the disbelievers is a painful punishment.
फिर जिसे बर्दा न मिले तो लगातार दो महीने के रोज़े क़बल इस के कि एक दूसरे को हाथ लगाएँ फिर जिस से रोज़े भी न हो सकें तो साठ मिसकीनों का पेट भरना यह इस लिए कि तुम अल्लाह और उसके रसूल पर ईमान रखो और यह अल्लाह की हदें हैं और काफ़िरों के लिए दर्दनाक अज़ाब है,
Phir jise barda na mile to lagataar do mahine ke roze qabl is ke ke ek doosre ko haath lagayen, phir jis se roze bhi na ho saken to saath miskeenon ka pait bharna, yeh is liye ke tum Allah aur uske Rasool par imaan rakho aur yeh Allah ki hadein hain aur kafiron ke liye dardnaak azaab hai,
(ف12)اس کا کَفّارہ ۔(ف13)متصل اس طرح کہ نہ ان دو مہینوں کے درمیان رمضان آئے اور نہ ان پانچ دنوں میں سے کوئی دن آئے جن کا روزہ ممنوع ہے اور نہ کسی عذر سے یا بغیر عذر کے درمیان سے کوئی روزہ چھوڑا جائے اگر ایسا ہوا تو از سر نو روزے رکھنے پڑیں گے ۔(ف14)مسائل یعنی روزوں سے جو کَفّارہ دیا جائے اس کا بھی جِماع اور دواعیِ جماع سے مقدّم ہونا ضروری ہے اور جب تک وہ روزے پورے ہوں خاوند بیوی میں سے کوئی کسی کو ہاتھ نہ لگائے ۔(ف15)یعنی اسے روزے رکھنے کی قوّت ہی نہ ہو ، بوڑھاپے یا مرض وغیرہ کے باعث یا روزے تو رکھ سکتا ہو مگر متواترو متصل نہ رکھ سکتا ہو ۔ (ف16)یعنی ساٹھ مسکینوں کو کھانا دینا اور یہ اس طرح کہ ہر مسکین کو نصف صاع گیہوں یا ایک صاع کھجور یا جَو دے اور اگر مسکینوں کو اس کی قیمت دی یا صبح و شام دونوں وقت انہیں پیٹ بھر کر کھلادیا جب بھی جائز ہے ۔مسئلہ : اس کَفّارہ میں یہ شرط نہیں کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے قبل ہو حتّٰی کہ اگر کھانا کھلانے کے درمیان میں شوہر اور بی بی میں قربت واقع ہوئی تو نیا کَفّارہ لازم نہ ہوگا ۔(ف17)اور خدا اور رسول کی فرمانبرداری کرو اور جاہلیّت کے طریقے چھوڑو ۔(ف18)ان کو توڑنا اور ان سے تجاوز کرنا جائز نہیں ۔
بیشک وہ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی ذلیل کیے گئے جیسے ان سے اگلوں کو ذلت دی گئی (ف۱۹) اور بیشک ہم نے روشن آیتیں اتاریں (ف۲۰) اور کافروں کے لیے خواری کا عذاب ہے،
Indeed those who oppose Allah and His Noble Messenger have been humiliated, like those before them who were humiliated, and We have indeed sent down clear verses; and for the disbelievers is a disgraceful punishment.
बेशक वह जो मुख़ालिफ़त करते हैं अल्लाह और उसके रसूल की ज़लील किए गए जैसे उन से अगलों को ज़िल्लत दी गई और बेशक हम ने रोशन आयतें उतारीं और काफ़िरों के लिए ख़्वारी का अज़ाब है,
Beshak woh jo mukhalifat karte hain Allah aur uske Rasool ki zaleel kiye gaye jaise unse aglon ko zillat di gayi aur beshak humne roshan aayatein utaareen aur kafiron ke liye khwari ka azaab hai,
(ف19)رسولوں کی مخالفت کرنے کے سبب ۔(ف20)رسولوں کی صدق پر دلالت کرنے والی ۔
جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا (ف۲۱) پھر انہیں ان کے کو تک جتادے گا (ف۲۲) اللہ نے انہیں گن رکھا ہے اور وہ بھول گئے (ف۲۳) اور ہر چیز اللہ کے سامنے ہے ،
The day when Allah will raise all of them together and inform them of their misdeeds; Allah has kept count of them, whereas they have forgotten them; and all things are present before Allah.
जिस दिन अल्लाह उन सब को उठाएगा फिर उन्हें उनके क़ो तक जता देगा, अल्लाह ने उन्हें गिन रखा है और वह भूल गए और हर चीज़ अल्लाह के सामने है,
Jis din Allah un sab ko uthayega phir unhein unke ko tak jata dega, Allah ne unhein gin rakha hai aur woh bhool gaye aur har cheez Allah ke samne hai,
(ف21)کسی ایک کو باقی نہ چھوڑے گا ۔(ف22)رسوا اور شرمندہ کرنے کےلئے ۔(ف23)اپنے اعمال جو دنیا میں کرتے تھے ۔
اے سننے والے کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں (ف۲٤) جہاں کہیں تین شخصوں کی سرگوشی ہو (ف۲۵) تو چوتھا وہ موجود ہے (ف۲٦) اور پانچ کی (ف۲۷) تو چھٹا وہ (ف۲۸) اور نہ اس سے کم (ف۲۹) اور نہ اس سے زیادہ کی مگر یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہے (ف۳۰) جہاں کہیں ہوں پھر انہیں قیامت کے دن بتادے گا جو کچھ انہوں نے کیا، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
O listener! Did you not see that Allah knows all whatever is in the heavens and all whatever is in the earth? Wherever there is any discussion among three He is the fourth present with them, and among five He is the sixth, and there is no discussion among fewer or more except that He is with them wherever they may be; and then on the Day of Resurrection He will inform them of all what they did; indeed Allah knows all things.
ऐ सुनने वाले! क्या तू ने न देखा कि अल्लाह जानता है जो कुछ आसमानों में है और जो कुछ ज़मीन में, जहाँ कहीं तीन शख़्सों की सरगोशी हो तो चौथा वह मौजूद है और पाँच की तो छठा वह, और न उस से कम और न उस से ज़्यादा की मगर यह कि वह उनके साथ है जहाँ कहीं हों फिर उन्हें क़यामत के दिन बता देगा जो कुछ उन्होंने किया, बेशक अल्लाह सब कुछ जानता है,
Aye sunne wale! Kya tu ne na dekha ke Allah jaanta hai jo kuch aasmanon mein hai aur jo kuch zameen mein, jahan kahin teen shakhs ki sargoshi ho to chautha woh mojood hai aur paanch ki to chhata woh, aur na usse kam aur na usse zyada ki magar yeh ke woh unke saath hai jahan kahin hon, phir unhein qiyamat ke din bata dega jo kuch unhone kiya, beshak Allah sab kuch jaanta hai,
(ف24)اس سے کچھ پوشیدہ نہیں ۔(ف25)اور اپنے راز آپس میں گوش در گوش کہیں اور اپنی مشاورت پر کسی کو مطّلع نہ کریں ۔(ف26)یعنی اللہ تعالٰی انہیں مشاہدہ کرتا ہے ، ان کے رازوں کو جانتا ہے ۔(ف27)سرگوشی ہو ۔(ف28)یعنی اللہ تعالٰی ۔(ف29)یعنی پانچ اور تین سے ۔ (ف30)اپنے علم وقدرت سے ۔
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہیں بری مشورت سے منع فرمایا گیا تھا پھر وہی کرتے ہیں (ف۳۱) جس کی ممانعت ہوئی تھی اور آپس میں گناہ اور حد سے بڑھنے (ف۳۲) اور رسول کی نافرمانی کے مشورے کرتے ہیں (ف۳۳) اور جب تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں تو ان لفظوں سے تمہیں مجرا کرتے ہیں جو لفظ اللہ نے تمہارے اعزاز میں نہ کہے (ف۳٤) اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں ہمیں اللہ عذاب کیوں نہیں کرتا ہمارے اس کہنے پر (ف۳۵) انہیں جہنم بس ہے، اس میں دھنسیں گے، تو کیا ہی برا انجام،
Did you not see those who were forbidden from conspiracy, yet they do what was forbidden, and consult each other for sinning, and for exceeding limits, and for disobeying the Noble Messenger? And when they come in your presence, they greet you with words not chosen by Allah for respectfully greeting you, and they inwardly say, “Why does not Allah punish us for what we say?”; hell is sufficient for them; they will sink into it; and what a wretched outcome!
क्या तुम ने उन्हें न देखा जिन्हें बुरी मश्वरत से मना फ़रमाया गया था फिर वही करते हैं जिस की ममानअत हुई थी और आपस में गुनाह और हद से बढ़ने और रसूल की नाफ़रमानी के मश्वरे करते हैं और जब तुम्हारे हज़ूर हाज़िर होते हैं तो उन लफ़्ज़ों से तुम्हें मुझरा करते हैं जो लफ़्ज़ अल्लाह ने तुम्हारे एज़ाज़ में न कहे और अपने दिलों में कहते हैं हमें अल्लाह अज़ाब क्यों नहीं करता हमारे इस कहने पर, उन्हें जहन्नम बस है, उस में धँसेंगे, तो क्या ही बुरा अंजाम,
Kya tum ne unhein na dekha jinhein buri mashwarat se mana farmaya gaya tha phir wahi karte hain jis ki mamanaat hui thi aur aapas mein gunaah aur had se badhne aur Rasool ki nafarmani ke mashware karte hain aur jab tumhare huzoor haazir hote hain to un lafzon se tumhein mujra karte hain jo lafz Allah ne tumhare aizaaz mein na kahe aur apne dilon mein kehte hain humein Allah azaab kyon nahin karta humare is kehne par, unhein jahannum bas hai, usmein dhansen ge, to kya hi bura anjaam,
(ف31)شانِ نزول : یہ آیت یہود اور منافقین کے حق میں نازل ہوئی جوآپس میں سرگوشیاں کرتے اور مسلمانوں کی طرف دیکھتے جاتے اور آنکھوں سے ان کی طرف اشارے کرتے جاتے تاکہ مسلمان سمجھیں کہ ان کے خلاف کوئی پوشیدہ بات ہے اور اس سے انہیں رنج ہو ، ان کی اس حرکت سے مسلمانوں کو غم ہوتا تھا اور وہ کہتے تھے کہ شاید ا ن لوگوں کو ہمارے ان بھائیوں کی نسبت قتل یاہزیمت کی کوئی خبر پہنچی جو جہاد میں گئے ہیں اور یہ اسی کے متعلق باتیں بناتے اور اشارے کرتے ہیں ، جب یہ حرکات منافقین کے بہت زیادہ ہوئے اور مسلمانوں نے سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حضور میں اس کی شکایتیں کیں تو سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سرگوشی کرنے والوں کو منع فرمادیا لیکن وہ باز نہ آئے اور یہ حرکت کرتے ہی رہے اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف32)گناہ اور حد سے بڑھنا ، یہ کہ مکاری کے ساتھ سرگوشیاں کرکے مسلمانوں کو رنج و غم میں ڈالتے ہیں ۔(ف33)اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نافرمانی یہ کہ باوجود ممانعت کے باز نہیں آتے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان میں ایک دوسرے کو رائے دیتے تھے کہ رسول کی نافرمانی کرو ۔(ف34)یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس آتے تواَلسَّامُ عَلَیْکَ کہتے ، سام موت کو کہتے ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ان کے جواب میں عَلَیْکُمْ فرمادیتے ۔(ف35)اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ اگر حضرت نبی ہوتے تو ہماری اس گستاخی پر اللہ تعالٰی ہمیں عذاب کرتا ۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔
اے ایمان والو تم جب آپس میں مشورت کرو تو گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کی مشورت نہ کرو (ف۳٦) اور نیکی اور پرہیزگاری کی مشورت کرو، اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف اٹھائے جاؤ گے،
O People who Believe! When you consult each other, do not consult for sinning, nor for exceeding limits, nor for disobeying the Noble Messenger – and consult for righteousness and piety; and fear Allah, towards Whom you will be raised.
ऐ ईमान वालो! तुम जब आपस में मश्वरत करो तो गुनाह और हद से बढ़ने और रसूल की नाफ़रमानी की मश्वरत न करो और नेकी और परहेज़गारी की मश्वरत करो, और अल्लाह से डरो जिस की तरफ़ उठाए जाओगे,
Aye imaan walo! Tum jab aapas mein mashwarat karo to gunaah aur had se badhne aur Rasool ki nafarmani ki mashwarat na karo aur neki aur parhezgari ki mashwarat karo, aur Allah se daro jis ki taraf uthaye jaoge,
(ف36)اورجو طریقہ یہود اور منافقین کا ہے اس سے پرہیز کرو ۔
وہ مشورت تو شیطان ہی کی طرف سے ہے (ف۳۷) اس لیے کہ ایمان والوں کو رنج دے اور وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا بےحکم خدا کے، اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے (ف۳۸)
The evil consultation is only from the devil in order that he may upset the believers, whereas he cannot harm them in the least without Allah’s command; and only upon Allah must the Muslims rely.
वह मश्वरत तो शैतान ही की तरफ़ से है इस लिए कि ईमान वालों को रंज दे और वह उस का कुछ नहीं बिगाड़ सकता ब-हुक्म खुदा के, और मुसलमानों को अल्लाह ही पर भरोसा चाहिए,
Woh mashwarat to shaitaan hi ki taraf se hai is liye ke imaan walon ko ranj de aur woh uska kuch nahin bigaad sakta be-hukm Khuda ke, aur musalmanon ko Allah hi par bharosa chahiye,
(ف37)جس میں گناہ اور حد سے بڑھنا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نافرمانی ہو اور شیطان اپنے دوستوں کو اس پر ابھارتا ہے ۔(ف38)کہ اللہ پر بھروسہ کرنے والا ٹوٹے میں نہیں رہتا ۔
اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا (ف۳۹) اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو (ف٤۰) تو اٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا (ف٤۱) درجے بلند فرمائے گا، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
O People who Believe! When you are told to give room in the assemblies, then do give room – Allah will give you room (in His mercy); and when it is said, “Stand up in reverence”, then do stand up – Allah will raise the believers among you, and those given knowledge, to high ranks; and Allah is Aware of your deeds.
ऐ ईमान वालो! जब तुम से कहा जाए मजलिसों में जगह दो तो जगह दो अल्लाह तुम्हें जगह देगा और जब कहा जाए उठ खड़े हो तो उठ खड़े हो, अल्लाह तुम्हारे ईमान वालों के और उनके जिन को इल्म दिया गया दर्जे बुलंद फ़रमाएगा, और अल्लाह को तुम्हारे कामों की ख़बर है,
Aye imaan walo! Jab tum se kaha jaye majlison mein jagah do to jagah do, Allah tumhein jagah dega aur jab kaha jaye uth khade ho to uth khade ho, Allah tumhare imaan walon ke aur unke jin ko ilm diya gaya darje buland farmaayega, aur Allah ko tumhare kaamon ki khabar hai,
(ف39)شانِ نزول : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بدر میں حاضر ہونے والے اصحاب کی عزّت کرتے تھے ، ایک روز چند بدری اصحاب ایسے وقت پہنچے جب کہ مجلس شریف بھر چکی تھی ، انہوں نے حضور کے سامنے کھڑا ہو کر سلام عرض کیا ، حضور نے جواب دیا ، پھر انہوں نے حاضرین کو سلام کیا ، انہوں نے جواب دیا ، پھروہ اس انتظار میں کھڑے رہے کہ ان کےلئے مجلس شریف میں جگہ کی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی ، یہ سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گراں گذرا تو حضور نے اپنے قریب والوں کو اٹھا کر ان کےلئے جگہ کی ، اٹھنے والوں کو اٹھنا شاق ہوا ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔(ف40)نماز کے یا جہاد کے یا اور کسی نیک کام کےلئے اور اسی میں داخل ہےتعظیمِ ذکرِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کےلئے کھڑا ہونا ۔(ف41)اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اطاعت کے باعث ۔
اے ایمان والو جب تم رسول سے کوئی بات آہستہ عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو (ف٤۲) یہ تمہارے لیے بہت بہتر اور بہت ستھرا ہے، پھر اگر تمہیں مقدور نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
O People who Believe! When you wish to humbly consult with the Noble Messenger, give some charity before you consult; that is much better and much purer for you; so if you do not have the means, then (know that) Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
ऐ ईमान वालो! जब तुम रसूल से कोई बात आहिस्ता अर्ज़ करना चाहो तो अपनी अर्ज़ से पहले कुछ सदक़ा दे लो यह तुम्हारे लिए बहुत बेहतर और बहुत सुथरा है, फिर अगर तुम्हें मक़्दूर न हो तो अल्लाह बख्शने वाला मेहरबान है,
Aye imaan walo! Jab tum Rasool se koi baat aahista arz karna chaho to apni arz se pehle kuch sadqa de lo, yeh tumhare liye bohot behtar aur bohot suthra hai, phir agar tumhein maqdoor na ho to Allah bakhshne wala mehrban hai,
(ف42)کہ اس میں باریابی بارگاہِ رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعظیم اور فقراء کا نفع ہے ۔شانِ نزول : سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں جب اغنیاء نے عرض و معروض کا سلسلہ دراز کیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ فقراء کو اپنی عرض پیش کرنے کا موقع کم ملنے لگا تو عرض پیش کرنے والوں کو عرض پیش کرنے سے پہلے صدقہ دینے کا حکم دیا گیا اور اس حکم پر حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عمل کیا ، ایک دینار صدقہ کرکے دس مسائل دریافت کئے ، عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وفا کیا ہے ؟ فرمایا توحید اور توحید کی شہادت دینا ۔ عرض کیا ، فساد کیا ہے ؟ فرمایا کفر و شرک ۔ عرض کیا حق کیا ہے ؟ فرمایا اسلام و قرآن اور ولایت جب تجھے ملے ۔ عرض کیا حیلہ کیا ہے یعنی تدبیر ؟ فرمایا ترکِ حیلہ ۔ عرض کیا مجھ پر کیا لازم ہے ؟ فرمایا اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کی طاعت ۔ عرض کیا اللہ تعالٰی سے کیسے دعا مانگوں ؟ فرمایا صدق ویقین کے ساتھ ۔ عرض کیا ،کیا مانگوں ؟ فرمایا عاقبت ۔ عرض کیا اپنی نجات کےلئے کیا کروں ؟ فرمایا حلال کھا اور سچ بول ۔ عرض کیا سرورکیا ہے ؟ فرمایا جنّت ۔ عرض کیا راحت کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کا دیدار ۔ جب حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ ان سوالوں سے فارغ ہوگئے تو یہ حکم منسوخ ہوگیا اور رخصت نازل ہوئی سوائے حضرت علیِ مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اور کسی کو اس پر عمل کرنے کا وقت نہیں ملا ۔ (مدارک و خازن) حضرت مترجِم قدّس سرّہ نے فرمایا یہ اس کی اصل ہے جو مزاراتِ اولیاء پر تصدیق کےلئے شیرینی وغیرہ لے جاتے ہیں ۔
کیا تم اس سے ڈرے کہ تم اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقے دو (ف٤۳) پھر جب تم نے یہ نہ کیا، اور اللہ نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی (ف٤٤) تو نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار رہو، اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے،
Were you afraid to offer charity before you consult? So when you did not do this, and Allah has inclined towards you with His mercy, keep the prayers established and pay the obligatory charity and obey Allah and His Noble Messenger; and Allah is Aware of your deeds.
क्या तुम इस से डरे कि तुम अपनी अर्ज़ से पहले कुछ सदके दो, फिर जब तुम ने यह न किया, और अल्लाह ने अपनी मेहर से तुम पर रजू फ़रमाई तो नमाज़ क़ायम रखो और ज़कात दो और अल्लाह और उसके रसूल के फ़रमानबरदार रहो, और अल्लाह तुम्हारे कामों को जानता है,
Kya tum is se dare ke tum apni arz se pehle kuch sadqe do, phir jab tum ne yeh na kiya, aur Allah ne apni mehr se tum par ruju farmaayi to namaz qaim rakho aur zakat do aur Allah aur uske Rasool ke farmanbardaar raho, aur Allah tumhare kaamon ko jaanta hai,
(ف43)بسبب اپنی غریبی و ناداری کے ۔(ف44)اور ترکِ تقدیمِ صدقہ کا مواخذہ تم پر سے اٹھالیا اور تم کو اختیار دے دیا ۔
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو ایسوں کے دوست ہوئے جن پر اللہ کا غضب ہے (ف٤۵) وہ نہ تم میں سے نہ ان میں سے (ف٤٦) وہ دانستہ جھوٹی قسم کھاتے ہیں (ف٤۷)
Did you not see those who befriended those upon whom is Allah’s wrath? They are neither of you nor of these – and they swear a false oath, whereas they know.
क्या तुम ने उन्हें न देखा जो ऐसों के दोस्त हुए जिन पर अल्लाह का ग़ज़ब है, वह न तुम में से न उन में से, वह दानिस्ता झूटी क़सम खाते हैं,
Kya tum ne unhein na dekha jo aison ke dost hue jin par Allah ka ghazab hai, woh na tum mein se na un mein se, woh danista jhooti qasam khate hain,
(ف45)جن لوگوں پر اللہ تعالٰی کا غضب ہے ان سے مراد یہود ہیں اور ان سے دوستی کرنے والے منافقین ۔ شانِ نزول : یہ آیت منافقین کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے یہود سے دوستی کی اور ان کی خیر خواہی میں لگے رہتے اور مسلمانوں کے راز ان سے کہتے ۔(ف46)یعنی نہ مسلمان ، نہ یہودی بلکہ منافق ہیں مذبذب ۔(ف47)شانِ نزول : یہ آیت عبداللہ بن بنتل منافق کے حق میں نازل ہوئی جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مجلس میں حاضر رہتا اور یہاں کی بات یہودکے پاس پہنچاتا ، ایک روز حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم دولت سرائے اقدس میں تشریف فرماتھے ، حضور نے فرمایا اس وقت ایک آدمی آئے گا جس کا دل نہایت سخت اور شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے ، تھوڑی ہی دیر بعد عبداللہ بن بنتل آیا ، اس کی آنکھیں نیلی تھیں ، حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس سے فرمایا تو اور تیرے ساتھی کیوں ہمیں گالیاں دیتے ہیں ، وہ قسم کھا گیا کہ ایسا نہیں کرتا اور اپنے یاروں کو لے آیا ، انہوں نے بھی قسم کھائی کہ ہم نے آپ کو گالی نہیں دی ، اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔
انہوں نے اپنی قسموں کو (ف٤۸) ڈھال بنالیا ہے (ف٤۹) تو اللہ کی راہ سے روکا (ف۵۰) تو ان کے لیے خواری کا عذاب ہے (ف۵۱)
They use their oaths as a shield therefore preventing from Allah’s way – so for them is a disgraceful punishment.
उन्होंने अपनी क़समों को ढाल बना लिया है तो अल्लाह की राह से रोका तो उनके लिए ख़्वारी का अज़ाब है,
Unhon ne apni qasmon ko dhaal bana liya hai to Allah ki raah se roka to unke liye khwari ka azaab hai,
(ف48)جو جھوٹی ہیں ۔(ف49)کہ اپنا جان و مال محفوظ رہے ۔(ف50) یعنی منافقین نے اپنی اس حیلہ سازی سے لوگوں کو جہاد سے روکا اور بعض مفسّرین نے کہا کہ معنٰی یہ ہیں کہ لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکا ۔(ف51) آخرت میں ۔
جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو اس کے حضور بھی ایسے ہی قسمیں کھائیں گے جیسی تمہارے سامنے کھا رہے ہیں (ف۵۳) اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کچھ کیا (ف۵٤) سنتے ہو بیشک وہی جھوٹے ہیں (ف۵۵)
The day when Allah will raise them all, they will swear in His presence the way they now swear in front of you, and they will assume that they have achieved something; pay heed! Indeed it is they who are the liars.
जिस दिन अल्लाह उन सब को उठाएगा तो उसके हज़ूर भी ऐसे ही क़समें खाएँगे जैसी तुम्हारे सामने खा रहे हैं और वह यह समझते हैं कि उन्होंने कुछ किया, सुनते हो बेशक वही झूटे हैं,
Jis din Allah un sab ko uthayega to uske huzoor bhi aise hi qasmein khayenge jaisi tumhare samne kha rahe hain aur woh yeh samajhte hain ke unhon ne kuch kiya, sunte ho beshak wahi jhoote hain,
(ف53)کہ دنیا میں مؤمن مخلص تھے ۔(ف54)یعنی وہ اپنی ان جھوٹی قسموں کو کار آمد سمجھتے ہیں ۔(ف55)اپنی قسموں میں اور ایسے جھوٹے کہ دنیا میں بھی جھوٹ بولتے رہے اور آخرت میں بھی ، رسول کے سامنے بھی اور خدا کے سامنے بھی ۔
ان پر شیطان غالب آگیا تو انہیں اللہ کی یاد بھلا دی، وہ شیطان کے گروہ ہیں، سنتا ہے بیشک شیطان ہی کا گروہ ہار میں ہے (ف۵٦)
The devil has overpowered them, so they forgot the remembrance of Allah; they are the devil’s group; pay heed! Indeed it is the devil’s group who are the losers.
उन पर शैतान ग़ालिब आ गया तो उन्हें अल्लाह की याद भुला दी, वह शैतान के गिरोह हैं, सुनता है बेशक शैतान ही का गिरोह हार में है,
Un par shaitaan ghalib aa gaya to unhein Allah ki yaad bhula di, woh shaitaan ke giroh hain, sunta hai beshak shaitaan hi ka giroh haar mein hai,
(ف56)کہ جنّت کی دائمی نعمتوں سے محروم اور جہنّم کے ابدی عذاب میں گرفتار ۔
تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی (ف۵۹) اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں (ف٦۰) یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی (ف٦۱) اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں ان میں ہمیشہ رہیں، اللہ ان سے راضی (ف٦۲) اور وہ اللہ سے راضی (ف٦۳) یہ اللہ کی جماعت ہے، سنتا ہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے،
You will not find the people who believe in Allah and the Last Day, befriending those who oppose Allah and His Noble Messenger, even if they are their fathers or their sons or their brothers or their tribesmen; it is these upon whose hearts Allah has ingrained faith, and has aided them with a Spirit from Himself; and He will admit them into Gardens beneath which rivers flow, abiding in them forever; Allah is pleased with them, and they are pleased with Him; this is Allah’s group; pay heed! Indeed it is Allah’s group who are the successful.
तुम न पाओगे उन लोगों को जो यक़ीन रखते हैं अल्लाह और पिछले दिन पर कि दोस्ती करें उन से जिन्होंने अल्लाह और उसके रसूल से मुख़ालिफ़त की, अगरचे वह उनके बाप या बेटे या भाई या कुनबे वाले हों, यह हैं जिन के दिलों में अल्लाह ने ईमान नक़्श फ़रमा दिया और अपनी तरफ़ की रूह से उनकी मदद की और उन्हें बाग़ों में ले जाएगा जिन के नीचे नहरें बहें, उन में हमेशा रहें, अल्लाह उन से राज़ी और वह अल्लाह से राज़ी, यह अल्लाह की जमाअत है, सुनता है अल्लाह ही की जमाअत कामयाब है,
Tum na paoge un logon ko jo yaqeen rakhte hain Allah aur pichhle din par ke dosti karein unse jin hon ne Allah aur uske Rasool se mukhalifat ki, agarche woh unke baap ya bete ya bhai ya kunbe wale hon, yeh hain jin ke dilon mein Allah ne imaan naqsh farma diya aur apni taraf ki rooh se unki madad ki aur unhein baghon mein le jaayega jin ke neeche nahrein bahein, un mein hamesha rahein, Allah unse raazi aur woh Allah se raazi, yeh Allah ki jamaat hai, sunta hai Allah hi ki jamaat kaamyab hai.",
(ف59)یعنی مومنین سے یہ ہوہی نہیں سکتا اور ان کی یہ شان ہی نہیں اور ایمان اس کو گوارا ہی نہیں کرتا کہ خدا اور رسول کے دشمن سے دوستی کرے ۔مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بددینوں اور بدمذہبوں اور خداو رسول کی شان میں گستاخی اور بے ادبی کرنے والوں سے مودّت و اختلاط جائز نہیں ۔(ف60)چنانچہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح نے جنگِ اُحد میں اپنے باپ جراح کو قتل کیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے روزِ بدر اپنے بیٹے عبدالرحمن کو مبارزت کےلئے طلب کیا لیکن رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں اس جنگ کی اجازت نہ دی اور معصب بن عمیر نے اپنے بھائی عبداللہ بن عمیر کو قتل کیا اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو روزِ بدر قتل کیا اور حضرت علی بن ابی طالب و حمزہ و ابوعبیدہ نے ربیعہ کے بیٹوں عتبہ اور شیبہ کو اور ولید بن عتبہ کو بدر میں قتل کیا جوان کے رشتہ دار تھے ، خدا اور رسول پر ایمان لانے والوں کو قرابت اور رشتہ داری کا کیا پاس ۔(ف61)اس روح سے یا اللہ کی مدد مراد ہے یا ایمان یا قرآن یا جبریل یا رحمتِ الٰہی یا نور ۔(ف62)بسبب ان کے ایمان و اخلاص وطاعت کے ۔(ف63)اس کے رحمت و کرم سے ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page