Al-Qalam القلم

پارہ: 29
سورہ: 68
آیات: 52
نٓ​ وَالۡقَلَمِ وَمَا يَسۡطُرُوۡنَۙ‏ ﴿1﴾

قلم (ف۲) اور ان کے لکھے کی قسم (ف۳)

Nuun* – by oath of the pen and by oath of what is written by it. (Alphabet of the Arabic language; Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)

مَاۤ اَنۡتَ بِـنِعۡمَةِ رَبِّكَ بِمَجۡنُوۡنٍ​ۚ‏ ﴿2﴾

تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں (ف٤)

You are not insane, by the munificence of your Lord.

وَاِنَّ لَڪَ لَاَجۡرًا غَيۡرَ مَمۡنُوۡنٍ​ۚ‏ ﴿3﴾

اور ضرور تمہارے لیے بے انتہا ثواب ہے (ف۵)

And indeed for you is an unlimited reward.

وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيۡمٍ‏ ﴿4﴾

اور بیشک تمہاری خُو بُو (خُلق) بڑی شان کی ہے (ف٦)

And indeed you possess an exemplary character.

فَسَتُبۡصِرُ وَيُبۡصِرُوۡنَۙ‏ ﴿5﴾

تو اب کوئی دم جاتا ہے کہ تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے (ف۷)

So very soon, you will see and they too will realise –

بِاَيِّٮكُمُ الۡمَفۡتُوۡنُ‏ ﴿6﴾

کہ تم میں کون مجنون تھا،

- That who among you was insane.

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُهۡتَدِيۡنَ‏ ﴿7﴾

بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکے، اور وہ خوب جانتا ہے جو راہ پر ہے،

Indeed your Lord well knows those who have strayed from His path, and He well knows those who are upon guidance.

فَلَا تُطِعِ الۡمُكَذِّبِيۡنَ‏ ﴿8﴾

تو جھٹلانے والوں کی بات نہ سننا،

Therefore do not listen to the deniers.

وَدُّوۡا لَوۡ تُدۡهِنُ فَيُدۡهِنُوۡنَ‏ ﴿9﴾

وہ تو اس آرزو میں ہیں کہ کسی طرح تم نرمی کرو (ف۸) تو وہ بھی نرم پڑجائیں،

They wish that in some way you may yield, so they too might soften their stand.

وَلَا تُطِعۡ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيۡنٍۙ‏ ﴿10﴾

اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا (ف۹) ذلیل

Nor ever listen to any excessive oath maker, ignoble person.

هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۢ بِنَمِيۡمٍۙ‏ ﴿11﴾

بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا (ف۱۰)

The excessively insulting one, spreader of spite.

مَّنَّاعٍ لِّلۡخَيۡرِ مُعۡتَدٍ اَثِيۡمٍۙ‏ ﴿12﴾

بھلائی سے بڑا روکنے والا (ف۱۱) حد سے بڑھنے والا گنہگار (ف۱۲)

One who excessively forbids the good, transgressor, sinner.

عُتُلٍّ ۢ بَعۡدَ ذٰلِكَ زَنِيۡمٍۙ‏ ﴿13﴾

درشت خُو (ف۱۳) اس سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا (ف۱٤)

Foul mouthed, and in addition to all this, of improper lineage.

اَنۡ كَانَ ذَا مَالٍ وَّبَنِيۡنَؕ‏ ﴿14﴾

اس پر کہ کچھ مال اور بیٹے رکھتا ہے،

Because he* has some wealth and sons. (Walid bin Mugaira, who cursed the Holy Prophet.)

اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا قَالَ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ‏ ﴿15﴾

جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں (ف۱۵) کہتا ہے کہ اگلوں کی کہانیاں ہیں (ف۱٦)

When Our verses are recited to him, he says, “These are stories of earlier people.”

سَنَسِمُهٗ عَلَى الۡخُـرۡطُوۡمِ‏ ﴿16﴾

قریب ہے کہ ہم اس کی سور کی سی تھوتھنی پر داغ دیں گے (ف۱۷)

We will soon singe his pig-nose.

اِنَّا بَلَوۡنٰهُمۡ كَمَا بَلَوۡنَاۤ اَصۡحٰبَ الۡجَـنَّةِ​ ۚ اِذۡ اَقۡسَمُوۡا لَيَصۡرِمُنَّهَا مُصۡبِحِيۡنَۙ‏ ﴿17﴾

بیشک ہم نے انہیں جانچا (ف۱۸) جیسا اس باغ والوں کو جانچا تھا (ف۱۹) جب انہوں نے قسم کھائی کہ ضرور صبح ہوتے اس کھیت کو کاٹ لیں گے (ف۲۰)

We have indeed tested them the way We had tested the owners of the garden when they swore that they would reap its harvest the next morning.

وَلَا يَسۡتَثۡنُوۡنَ‏ ﴿18﴾

اور انشاء اللہ نہ کہا (ف۲۱)

And they did not say, “If Allah wills”.

فَطَافَ عَلَيۡهَا طَآٮِٕفٌ مِّنۡ رَّبِّكَ وَهُمۡ نَآٮِٕمُوۡنَ‏ ﴿19﴾

تو اس پر (ف۲۲) تیرے رب کی طرف سے ایک پھیری کرنے والا پھیرا کر گیا (ف۲۳) اور وہ سوتے تھے،

So an envoy from your Lord completed his round upon the garden, whilst they were sleeping.

فَاَصۡبَحَتۡ كَالصَّرِيۡمِۙ‏ ﴿20﴾

تو صبح رہ گیا (ف۲٤) جیسے پھل ٹوٹا ہوا (ف۲۵)

So in the morning it became as if harvested.

فَتَـنَادَوۡا مُصۡبِحِيۡنَۙ‏ ﴿21﴾

پھر انہوں نے صبح ہوتے ایک دوسرے کو پکارا،

They then called out to each other at daybreak.

اَنِ اغۡدُوۡا عَلٰى حَرۡثِكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰرِمِيۡنَ‏ ﴿22﴾

کہ تڑکے اپنی کھیتی چلو اگر تمہیں کاٹنی ہے،

That, “Go to your fields at early morn, if you want to harvest.”

فَانۡطَلَقُوۡا وَهُمۡ يَتَخَافَتُوۡنَۙ‏ ﴿23﴾

تو چلے اور آپس میں آہستہ آہستہ کہتے جاتے تھے کہ

So they went off, while whispering to one another.

اَنۡ لَّا يَدۡخُلَنَّهَا الۡيَوۡمَ عَلَيۡكُمۡ مِّسۡكِيۡنٌۙ‏ ﴿24﴾

ہرگز آج کوئی مسکین تمہارے باغ میں آنے نہ پائے،

“Make sure that no needy person enters your garden this day.”

وَّغَدَوۡا عَلٰى حَرۡدٍ قٰدِرِيۡنَ‏ ﴿25﴾

اور تڑکے چلے اپنے اس ارادہ پر قدرت سمجھتے (ف۲٦)

And they left at early morn, assuming they were in control of their purpose.

فَلَمَّا رَاَوۡهَا قَالُوۡۤا اِنَّا لَـضَآلُّوۡنَۙ‏ ﴿26﴾

پھر جب اسے (ف۲۷) بولے بیشک ہم راستہ بہک گئے (ف۲۸)

Then when they saw it, they said, “We have indeed strayed.”

بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُوۡمُوۡنَ‏ ﴿27﴾

بلکہ ہم بےنصیب ہوئے (ف۲۹)

“In fact, we are unfortunate.”

قَالَ اَوۡسَطُهُمۡ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكُمۡ لَوۡلَا تُسَبِّحُوۡنَ‏ ﴿28﴾

ان میں جو سب سے غنیمت تھا بولا کیا میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ تسبیح کیوں نہیں کرتے (ف۳۰)

The best among them said, “Did I not tell you, ‘Why do you not proclaim His purity?’”

قَالُوۡا سُبۡحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ‏ ﴿29﴾

بولے پاکی ہے ہمارے رب کو بیشک ہم ظالم تھے،

They said, “Purity is to our Lord – we have indeed been unjust.”

فَاَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَلَاوَمُوۡنَ‏ ﴿30﴾

اب ایک دوسرے کی طرف ملامت کرتا متوجہ ہوا (ف۳۱)

So they came towards each other, blaming.

قَالُوۡا يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِيۡنَ‏ ﴿31﴾

بولے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم سرکش تھے (ف۳۲)

They said, “Woe to us – we were indeed rebellious.”

عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَـنَا خَيۡرًا مِّنۡهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوۡنَ‏ ﴿32﴾

امید ہے ہمیں ہمارا رب اس سے بہتر بدل دے ہم اپنے رب کی طرف رغبت لاتے ہیں (ف۳۳)

“Hopefully, our Lord will give us a better replacement than this – we now incline towards our Lord.”

كَذٰلِكَ الۡعَذَابُ​ؕ وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَكۡبَرُ ​ۘ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ‏  ﴿33﴾

مار ایسی ہوتی ہے (ف۳٤) اور بیشک آخرت کی مار سب سے بڑی، کیا اچھا تھا اگر وہ جانتے (ف۳۵)

Such is the punishment; and indeed the punishment of the Hereafter is the greatest, if only they knew!

اِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ‏ ﴿34﴾

بیشک ڈر والوں کے لیے ان کے رب کے پاس (ف۳٦) چین کے باغ ہیں (ف۳۷)

Indeed for the pious, with their Lord, are Gardens of Serenity.

اَفَنَجۡعَلُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ كَالۡمُجۡرِمِيۡنَؕ‏ ﴿35﴾

کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کا سا کردیں (ف۳۸)

Shall We equate the Muslims to the guilty?

مَا لَـكُمۡ كَيۡفَ تَحۡكُمُوۡنَ​ۚ‏ ﴿36﴾

تمہیں کیا ہوا کیسا حکم لگاتے ہو (ف۳۹)

What is the matter with you? What sort of a judgement you impose!

اَمۡ لَـكُمۡ كِتٰبٌ فِيۡهِ تَدۡرُسُوۡنَۙ‏ ﴿37﴾

کیا تمہارے لیے کوئی کتاب ہے اس میں پڑھتے ہو،

Is there a Book for you, from which you read?

اِنَّ لَـكُمۡ فِيۡهِ لَمَا تَخَيَّرُوۡنَ​ۚ‏ ﴿38﴾

کہ تمہارے لیے اس میں جو تم پسند کرو،

- That for you in it is whatever you like?

اَمۡ لَـكُمۡ اَيۡمَانٌ عَلَيۡنَا بَالِغَةٌ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ​ ۙ اِنَّ لَـكُمۡ لَمَا تَحۡكُمُوۡنَ​ۚ‏ ﴿39﴾

یا تمہارے لیے ہم پر کچھ قسمیں ہیں قیامت تک پہنچتی ہوئی (ف٤۰) کہ تمہیں ملے گا جو کچھ دعویٰ کرتے ہو (ف٤۱)

Or is it that you have a covenant from Us, right up to the Day of Judgement, that you will get all what you claim?

سَلۡهُمۡ اَيُّهُمۡ بِذٰلِكَ زَعِيۡمٌ ۛۚ‏ ﴿40﴾

تم ان سے (ف٤۲) پوچھو ان میں کون سا اس کا ضامن ہے (ف٤۳)

Ask them, who among them is a guarantor for it?

اَمۡ لَهُمۡ شُرَكَآءُ ۛۚ فَلۡيَاۡتُوۡا بِشُرَكَآٮِٕهِمۡ اِنۡ كَانُوۡا صٰدِقِيۡنَ‏  ﴿41﴾

یا ان کے پاس کچھ شریک ہیں (ف٤٤) تو اپنے شریکوں کو لے کر آئیں اگر سچے ہیں (ف٤۵)

Or is it that they have partners in worship? So they should bring their appointed partners, if they are truthful.

يَوۡمَ يُكۡشَفُ عَنۡ سَاقٍ وَّيُدۡعَوۡنَ اِلَى السُّجُوۡدِ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَۙ‏  ﴿42﴾

جس دن ایک ساق کھولی جائے گی (جس کے معنی اللہ ہی جانتا ہے) (ف٤٦) اور سجدہ کو بلائے جائیں گے (ف٤۷) تو نہ کرسکیں گے (ف٤۸)

On the day when the Shin* will be exposed and they will be called to prostrate themselves, they will be unable. (Used as a metaphor)

خَاشِعَةً اَبۡصَارُهُمۡ تَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٌ ؕ وَقَدۡ كَانُوۡا يُدۡعَوۡنَ اِلَى السُّجُوۡدِ وَهُمۡ سٰلِمُوۡنَ‏ ﴿43﴾

نیچی نگاہیں کیے ہوئے (ف٤۹) ان پر خواری چڑھ رہی ہوگی، اور بیشک دنیا میں سجدہ کے لیے بلائے جاتے تھے (ف۵۰) جب تندرست تھے (ف۵۱)

With lowered eyes, disgrace overcoming them; and indeed they used to be called to prostrate themselves whilst they were healthy.

فَذَرۡنِىۡ وَمَنۡ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الۡحَـدِيۡثِ​ؕ سَنَسۡتَدۡرِجُهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُوۡنَۙ‏ ﴿44﴾

تو جو اس بات کو (ف۵۲) جھٹلاتا ہے اسے مجھ پر چھوڑ دو (ف۵۳) قریب ہے کہ ہم انہیں آہستہ آہستہ لے جائیں گے (ف۵٤) جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی،

Therefore leave the one who denies this matter, to Me; We shall soon steadily take them away, from a place they do not know.

وَاُمۡلِىۡ لَهُمۡ​ؕ اِنَّ كَيۡدِىۡ مَتِيۡنٌ‏ ﴿45﴾

اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے (ف۵۵)

And I will give them respite; indeed My plan is very solid.

اَمۡ تَسۡـَٔـلُهُمۡ اَجۡرًا فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ​ۚ‏ ﴿46﴾

یا تم ان سے اجرت مانگتے ہو (ف۵٦) کہ وہ چٹی کے بوجھ میں دبے ہیں (ف۵۷)

Or is it that you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) ask any fee from them, so they are burdened with the penalty?

اَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَ‏ ﴿47﴾

یا ان کے پاس غیب ہے (ف۵۸) کہ وہ لکھ رہے ہیں (ف۵۹)

Or that they possess the hidden, so they are writing it?

فَاصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تَكُنۡ كَصَاحِبِ الۡحُوۡتِ​ۘ اِذۡ نَادٰى وَهُوَ مَكۡظُوۡمٌؕ‏ ﴿48﴾

تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کرو (ف٦۰) اور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا (ف٦۱) جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا (ف٦۲)

Therefore wait for your Lord’s command, and do not be like the one of the fish; who cried out when he was distraught. (Prophet Yunus – peace be upon him.)

لَوۡلَاۤ اَنۡ تَدٰرَكَهٗ نِعۡمَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالۡعَرَآءِ وَهُوَ مَذۡمُوۡمٌ‏ ﴿49﴾

اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی (ف٦۳) تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا (ف٦٤)

Were it not for his Lord’s favour that reached him, he would have surely been cast onto the desolate land, reproached.

فَاجۡتَبٰهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِيۡنَ‏ ﴿50﴾

تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے سزاواروں (حقداروں) میں کرلیا،

His Lord therefore chose him and made him among those deserving His proximity.

وَاِنۡ يَّكَادُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لَيُزۡلِقُوۡنَكَ بِاَبۡصَارِهِمۡ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكۡرَ وَيَقُوۡلُوۡنَ اِنَّهٗ لَمَجۡنُوۡنٌ​ۘ‏ ﴿51﴾

اور ضرور کافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا اپنی بد نظر لگا کر تمہیں گرادیں گے جب قرآن سنتے ہیں (ف٦۵) اور کہتے ہیں (ف٦٦) یہ ضرور عقل سے دور ہیں،

And indeed the disbelievers seem as if they would topple you with their evil gaze when they hear the Qur’an, and they say, “He is indeed insane.”

وَمَا هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ‏ ﴿52﴾

اور وہ (ف٦۷) تو نہیں مگر نصیحت سارے جہاں کے لیے (ف٦۸)

Whereas it is not but an advice to the entire creation!

Scroll to Top