اے محبوب! ایک کتاب تمہاری طرف اتاری گئی تو تمہارا جی اس سے نہ رُکے (ف۲) اس لیے کہ تم اس سے ڈر سناؤ اور مسلمانوں کو نصیحت ،
O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), a Book has been sent down upon you, therefore may not your heart be disinclined towards it, so that you may give warning with it, and as an advice for the Muslims.
ऐ महबूब! एक किताब तुम्हारी तरफ़ उतारी गई तो तुम्हारा जी इस से न रुके इस लिए कि तुम इस से डर सुनाओ और मुसलमानों को नसीहत,
Ae mehboob! ek kitaab tumhari taraf utari gayi to tumhara jee us se na ruke is liye ke tum us se dar sunao aur musalmanon ko naseehat,
(ف2)بایں خیال کہ شاید لوگ نہ مانیں اور اس سے اِعراض کریں اور اس کی تکذیب کے درپے ہوں ۔
اے لوگو! اس پر چلو جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا (ف۳) اور اسے چھوڑ کر اور حاکموں کے پیچھے نہ جاؤ، بہت ہی کم سمجھتے ہو،
O mankind, follow what has been sent down to you from your Lord, and do not follow other administrators, abandoning this (the Holy Qur’an); very little do you understand.
ऐ लोगो! इस पर चलो जो तुम्हारी तरफ़ तुम्हारे रब के पास से उतरा और उसे छोड़ कर और हाकिमों के पीछे न जाओ, बहुत ही कम समझते हो,
Ae logon! is par chalo jo tumhari taraf tumhare Rab ke paas se utra aur use chhod kar aur hakimon ke peeche na jao, bohot hi kam samajhte ho,
(ف3)یعنی قرآن شریف جس میں ہدایت و نور کا بیان ہے ۔ زُجاج نے کہا کہ اِتّباع کرو قرآن کا اور اس چیز کا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لائے کیونکہ یہ سب اللہ کا نازِل کیا ہوا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں فرمایا ۔ مَآاٰتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ الآیہ یعنی جو کچھ رسول تمہارے پاس لائیں اسے اخذ کرو اور جس سے منع فرمائیں اس سے باز رہو ۔
اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کیں (ف٤) تو ان پر ہمارا عذاب رات میں آیا جب وہ دوپہر کو سوتے تھے (ف۵)
And many a township did We destroy – so Our punishment came to them at night or while they were sleeping at noon.
और कितनी ही बस्तियाँ हमने हलाक कीं तो उन पर हमारा अज़ाब रात में आया जब वह दोपहर को सोते थे
Aur kitni hi bastiyan hum ne halaak ki to un par hamara azaab raat mein aaya jab woh dopeher ko sote the
(ف4)اب حکمِ الٰہی کا اِتّباع ترک کرنے اور اس سے اِعراض کرنے کے نتائج پچھلی قوموں کے حالات میں دکھائے جاتے ہیں ۔(ف5)معنٰی یہ ہیں کہ ہمارا عذاب ایسے وقت آیا جب کہ انہیں خیال بھی نہ تھا یا تو رات کا وقت تھا اور وہ آرام کی نیند سوتے تھے یا دن میں قیلولہ کا و قت تھا اور وہ مصروفِ راحت تھے نہ عذاب کے نُزول کی کوئی نشانی تھی نہ قرینہ کہ پہلے سے آگاہ ہوتے اچانک آ گیا اس سے کُفَّار کو مُتنبِّہ کیا جاتا ہے کہ وہ اسبابِ امن و راحت پر مغرور نہ ہوں ، عذابِ الٰہی جب آتا ہے تو دَفۡعَۃً آجاتا ہے ۔
تو بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے ان سے جن کے پاس رسول گئے (ف۷) اور بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے رسولوں سے (ف۸)
So undoubtedly We shall question those to whom Our Noble Messengers went, and indeed We shall question the Noble Messengers.
तो बेशक ज़रूर हमें पूछना है उनसे जिनके पास रसूल गए और बेशक ज़रूर हमें पूछना है रसूलों से
To be-shak zaroor humen poochhna hai un se jin ke paas Rasool gaye aur be-shak zaroor humen poochhna hai Rasoolon se
(ف7)کہ انہوں نے رسولوں کی د عوت کا کیا جواب دیا اور ان کے حکم کی کیا تعمیل کی ۔(ف8)کہ انہوں نے اپنی اُمّتوں کو ہمارے پیام پہنچائے اور ان اُمّتوں نے انہیں کیا جواب دیا ۔
اور اس دن تول ضرور ہونی ہے (ف۱۰) تو جن کے پلے بھاری ہوئے (ف۱۱) وہی مراد کو پہنچے،
And on that Day, the weighing will truly be done; so those whose scales prove heavy are the successful.
और उस दिन तोल ज़रूर होनी है तो जिनके पल्ले भारी हुए वही मुराद को पहुँचे,
Aur us din tol zaroor honi hai to jin ke palle bhari huwe wohi muraad ko pohnche,
(ف10)اس طرح کہ اللہ عزّوجلّ ایک میزان قائم فرمائے گا جس کا ہر ایک پلّہ اتنی وُسعت رکھے گا جیسی مشرق و مغرب کے درمیان وُسعت ہے ۔ ابنِ جوزی نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت داؤد علیہ الصلٰوۃ و السلام نے بارگاہِ الٰہی میں میزان دیکھنے کی درخواست کی جب میزان دکھائی گئی اور آپ نے اس کے پلّوں کی وُسعت دیکھی تو عرض کیا یا ربّ کس کا مقدور ہے کہ ان کو نیکیوں سے بھر سکے ارشاد ہوا کہ اے داؤد میں جب اپنے بندوں سے راضی ہوتا ہوں تو ایک کھجور سے اس کو بھر دیتا ہوں یعنی تھوڑی نیکی بھی مقبول ہوجائے تو فضلِ الٰہی سے اتنی بڑھ جاتی ہے کہ میزان کو بھر دے ۔(ف11)نیکیاں زیادہ ہوئیں ۔
اور جن کے پلے ہلکے ہوئے (ف۱۲) تو وہی ہیں جنہوں نے اپنی جان گھاٹے میں ڈالی ان زیادتیوں کا بدلہ جو ہماری آیتوں پر کرتے تھے (ف۱۳)
And those whose scales are light are the people who put themselves to ruin – the recompense of the injustice they used to do to Our signs.
और जिनके पल्ले हल्के हुए तो वही हैं जिन्होंने अपनी जान घाटे में डाली उन ज़्यादतियों का बदला जो हमारी आयतों पर करते थे
Aur jin ke palle halke huwe to wohi hain jin hon ne apni jaan ghaate mein daali un ziadtiyon ka badla jo hamari aayaton par karte the
(ف12)اور ان میں کوئی نیکی نہ ہوئی یہ کُفّار کا حال ہوگا جو ایمان سے محروم ہیں اور اس وجہ سے ان کا کوئی عمل مقبول نہیں ۔(ف13)کہ ان کو چھوڑتے تھے ، جھٹلاتے تھے ، ان کی اِطاعت سے منہ موڑتے تھے ۔
اور بیشک ہم نے تمہیں زمین میں جماؤ (ٹھکانا) دیا اور تمہارے لیے اس میں زندگی کے اسباب بنائے (ف۱٤) بہت ہی کم شکر کرتے ہو (ف۱۵)
And indeed We established you in the earth and in it created for you the means of livelihood; very little thanks do you offer!
और बेशक हमने तुम्हें ज़मीन में जमाओ (ठिकाना) दिया और तुम्हारे लिए उस में ज़िन्दगी के असबाब बनाए बहुत ही कम शुकर करते हो
Aur be-shak hum ne tumhein zameen mein jamaao (thikana) diya aur tumhare liye is mein zindagi ke asbaab banaye bohot hi kam shukr karte ho
(ف14)اور اپنے فضل سے تمہیں راحتیں دیں باوجود اس کے تم ۔(ف15)شکر کی حقیقت نعمت کا تصور اور اس کا اظہار ہے اور ناشکری نعمت کو بھول جانا اور اس کو چُھپانا ۔
اور بیشک ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہارے نقشے بنائے پھر ہم نے ملائکہ سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو وہ سب سجدے میں گرے مگر ابلیس، یہ سجدہ کرنے والوں میں نہ ہوا،
And indeed We created you, then designed you and then ordered the angels, “Prostrate before Adam”; so they all prostrated, except Iblis (Satan); he did not become of those who prostrate.
और बेशक हमने तुम्हें पैदा किया फिर तुम्हारे नक्शे बनाए फिर हमने मलाइका से फ़रमाया कि आदम को सजदा करो, तो वह सब सजदे में गिरे मगर इब्लीस, यह सजदा करने वालों में न हुआ,
Aur be-shak hum ne tumhein paida kiya phir tumhare naqshay banaye phir hum ne malaaika se farmaya ke Aadam ko sajda karo, to woh sab sajde mein gire magar Iblees, yeh sajda karne walon mein na huwa,
فرمایا کس چیز نے تجھے روکا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے تجھے حکم دیا تھا (ف۱٦) بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا (ف۱۷)
Said Allah, “What prevented you, that you did not prostrate when I commanded you?” Answered Iblis, “I am better than him; You created me from fire whereas You created him from clay.”
फ़रमाया किस चीज़ ने तुझे रोका कि तू ने सजदा न किया जब मैंने तुझे हुक्म दिया था बोला मैं उस से बेहतर हूँ तू ने मुझे आग से बनाया और उसे मिट्टी से बनाया
Farmaya kis cheez ne tujhe roka ke tune sajda na kiya jab main ne tujhe hukm diya tha bola main us se behtar hoon tune mujhe aag se banaya aur use mitti se banaya
(ف16)مسئلہ : اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امر وُجوب کے لئے ہوتا ہے اور سجدہ نہ کرنے کا سبب دریافت فرمانا تَوبیخ کے لئے ہے اور اس لئے کہ شیطان کی مُعانَدت اور اس کاکُفر و کِبر اور اپنی اصل پر مُفتخِر ہونا اور حضرت آدم علیہ السلام کے اصل کی تحقیر کرنا ظاہر ہو جائے ۔(ف17)اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ آ گ مِٹی سے افضل و اعلٰی ہے تو جس کی اصل آ گ ہوگی وہ اس سے افضل ہوگا , جس کی اصل مِٹی ہو اور اس خبیث کا یہ خیال غلط وباطل ہے کیونکہ افضل وہ ہے جسے مالک و مولٰی فضیلت دے ، فضیلت کا مدار اصل و جوہر پر نہیں بلکہ مالک کی اِطاعت و فرمانبرداری پر ہے اور آ گ کا مِٹی سے افضل ہونا یہ بھی صحیح نہیں کیونکہ آ گ میں طیش و تیزی اور تَرَفُّع ہے ۔ یہ سبب اِستِکبار کا ہوتا ہے اور مٹی سے وقار ، حِلۡم و حیا و صبر حاصل ہوتے ہیں ، مِٹی سے مُلک آباد ہوتے ہیں آ گ سے ہلاک ، مِٹی امانت دار ہے جو چیز اس میں رکھی جائے اس کو محفوظ رکھے اور بڑھائے ۔ آ گ فنا کر دیتی ہے باوجود اس کے لطف یہ ہے کہ مِٹی آگ کو بجھا دیتی ہے اور آ گ مِٹی کو فنا نہیں کر سکتی علاوہ بَریں حماقَت و شَقاوَت اِبلیس کی یہ کہ اس نے نَص کے موجود ہوتے ہوئے اس کے مُقابِل قیاس کیا اور جو قیاس کہ نص کے خلاف ہو وہ ضرور مردود ۔
فرمایا تو یہاں سے اُ تر جا تجھے نہیں پہنچتا کہ یہاں رہ کر غرور کرے نکل (ف۱۸) تو ہے ذلت والوں میں (ف۱۹)
Said Allah, “Therefore go down from here – it does not befit you to stay here and be proud – exit, you are of the degraded.”
फ़रमाया तू यहाँ से उतर जा तुझे नहीं पहुँचता कि यहाँ रह कर ग़ुरूर करे निकल तू है ज़िल्लत वालों में
Farmaya tu yahan se utar ja tujhe nahin pohoonchta ke yahan reh kar ghuroor kare nikal tu hai zillat walon mein
(ف18)جنّت سے کہ یہ جگہ اطاعت و تواضُع والوں کی ہے منکِر و سرکش کی نہیں ۔(ف19)کہ انسان تیری مَذمَّت کرے گا اور ہر زبان تجھ پر لعنت کرے گی اور یہی تکبّر والے کا انجام ہے ۔
He said, “Give me respite till the day when people will be resurrected.”
बोला मुझे फ़ुर्सत दे उस दिन तक कि लोग उठाए जाएँ,
Bola mujhe fursat de us din tak ke log uthaye jayein,
قَالَ اِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ ﴿15﴾
فرمایا تجھے مہلت ہے (ف۲۰)
Said Allah, “You are given respite.”
फ़रमाया तुझे मोहलत है
Farmaya tujhe mohlat hai
(ف20)اور مُدَّت اس مہلت کی سورۂ حِجر میں بیان فرمائی گئی ۔ اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ اور یہ وقت نَفخَۂ اُولٰی کا ہے جب سب لوگ مر جائیں گے , شیطان نے مُردوں کے زندہ ہونے کے وقت تک کی مہلت چاہی تھی اور اس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ موت کی سختی سے بچ جائے یہ قبول نہ ہوا اور نَفخَۂ اولٰی تک کی مُہلت دی گئی ۔
پھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا ان کے آگے اور ان کے پیچھے اور ان کے دائیں اور ان کے بائیں سے (ف۲۲) اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا (ف۲۳)
“Then I will certainly approach them – from their front and from behind them and from their right and from their left; and You will find most of them not thankful.”
फिर ज़रूर मैं उनके पास आऊँगा उनके आगे और उनके पीछे और उनके दाएँ और उनके बाएँ से और तू उन में से अकसर को शुकर गुज़ार न पाएगा
Phir zaroor main unke paas aaoonga unke aage aur unke peeche aur unke daayein aur unke bayein se aur tu un mein se aksar ko shukr guzaar na paayega
(ف22)یعنی چاروں طرف سے انہیں گھیر کر راہِ راست سے روکوں گا ۔(ف23)چونکہ شیطان بنی آدم کو گمراہ کرنے اور مبتلائے شہوات و قَبائِح کرنے میں اپنی انتہائی سَعی خرچ کرنے کا عَزم کر چکا تھا اس لئے اسے گمان تھا کہ وہ بنی آدم کو بِہکا لے گا ۔ انہیں فریب دے کر خداوندِ عالَم کی نعمتوں کے شکر اور اس کی طاعت و فرمانبرداری سے روک دے گا ۔
فرمایا یہاں سے نکل جا رد کیا گیا راندہ ہوا، ضرور جو ان میں سے تیرے کہے پر چلا میں تم سب سے جہنم بھردوں گا (ف۲٤)
He said, “Exit from here, rejected, outcast; indeed whoever among them follows your bidding, I will fill hell with all of you.”
फ़रमाया यहाँ से निकल जा रद्द किया गया रांदा हुआ, ज़रूर जो उन में से तेरे कहे पर चला मैं तुम सब से जहन्नम भर दूँगा
Farmaya yahan se nikal ja rad kiya gaya randah huwa, zaroor jo un mein se tere kahe par chala main tum sab se jahannam bhar doonga
(ف24)تجھ کو بھی اور تیری ذُرِّیّت کو بھی اور تیری اطاعت کرنے والے آدمیوں کو بھی ، سب کو جہنّم میں داخل کیا جائے گا ، شیطان کو جنّت سے نکال دینے کے بعد حضرت آدم کو خِطاب فرمایا جو آگے آتا ہے ۔
اور اے آدم تو اور تیرا جوڑا (ف۲۵) جنت میں رہو تو اس سے جہاں چاہو کھاؤ اور اس پیڑ کے پاس نہ جانا کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہو گے،
And said, “O Adam! You and your wife dwell in Paradise – therefore eat from it from wherever you wish, and do not approach this tree for you will become of those who transgress.”
और ऐ आदम तू और तेरा जोड़ा जन्नत में रहो तो उस से जहाँ चाहो खाओ और उस पेड़ के पास न जाना कि हद से बढ़ने वालों में होगे,
Aur ae Aadam tu aur tera joda jannat mein raho to us se jahan chaho khao aur is paid ke paas na jana ke had se badhne walon mein ho gaye,
پھر شیطان نے ان کے جی میں خطرہ ڈالا کہ ان پر کھول دے ان کی شرم کی چیزیں (ف۲٦) جو ان سے چھپی تھیں (ف۲۷) اور بولا تمہیں تمہارے رب نے اس پیڑ سے اسی لیے منع فرمایا ہے کہ کہیں تم دو فرشتے ہوجاؤ یا ہمیشہ جینے والے (ف ۲۸)
Then Satan created apprehensions in their hearts in order to disclose to them matters of their shame which were hidden from them, and said, “Your Lord has forbidden you from this tree, for you may become angels or immortals.”
फिर शैतान ने उनके जी में ख़तरा डाला कि उन पर खोल दे उनकी शर्म की चीज़ें जो उन से छुपी थीं और बोला तुम्हें तुम्हारे रब ने इस पेड़ से इसी लिए मना फ़रमाया है कि कहीं तुम दो फ़रिश्ते हो जाओ या हमेशा जीने वाले
Phir shaitaan ne unke jee mein khatra dala ke un par khol de unki sharam ki cheezen jo unse chhupi thein aur bola tumhein tumhare Rab ne is paid se isi liye mana farmaya hai ke kahin tum do farishte ho jao ya hamesha jeene wale
(ف26)یعنی ایسا وسوسہ ڈالا کہ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ وہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کے سامنے بَرہنہ ہو جائیں ۔ اس آیت سے یہ مسئلہ ثابت ہوا کہ وہ جسم جس کو عورت کہتے ہیں اس کو چھپانا ضروری اور کھولنا منع ہے اور یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ اس کا کھولنا ہمیشہ سے عقل کے نزدیک مذموم اور طبیعتوں کو ناگوار رہا ہے ۔(ف27)اس سے معلوم ہوا کہ ان دونوں صاحبوں نے اب تک ایک دوسرے کا سِتر نہ دیکھا تھا ۔(ف28)کہ جنّت میں رہو اور کبھی نہ مرو ۔
تو اتار لایا انہیں فریب سے (ف۲۹) پھر جب انہوں نے وہ پیڑ چکھا ان پر ان کی شرم کی چیزیں کھل گئیں (ف۳۰) اور اپنے بدن پر جنت کے پتے چپٹانے لگے ، اور انہیں ان کے رب نے فرمایا کیا میں نے تمہیں اس پیڑ سے منع نہ کیا اور نہ فرمایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے،
So he brought them down with deception; and when they tasted from that tree, their shame became manifest to them and they began attaching the leaves of Paradise on themselves; and their Lord said to them, “Did I not forbid you from that tree, and tell you that Satan is an open enemy to you?”
तो उतार लाया उन्हें फ़रेब से फिर जब उन्होंने वह पेड़ चखा उन पर उनकी शर्म की चीज़ें खुल गईं और अपने बदन पर जन्नत के पत्ते चिपटाने लगे, और उन्हें उनके रब ने फ़रमाया क्या मैंने तुम्हें इस पेड़ से मना न किया और न फ़रमाया था कि शैतान तुम्हारा खुला दुश्मन है,
To utar laya unhein fareb se phir jab unhon ne woh paid chakha un par unki sharam ki cheezen khul gayin aur apne badan par jannat ke patte chipkaane lage, aur unhein unke Rab ne farmaya kya main ne tumhein is paid se mana na kiya aur na farmaya tha ke shaitaan tumhara khula dushman hai,
(ف29)معنٰی یہ ہیں کہ اِبلیس ملعون نے جھوٹی قسم کھا کر حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دھوکا دیا اور پہلا جھوٹی قسم کھانے والا اِبلیس ہی ہے حضر ت آدم علیہ السلام کو گمان بھی نہ تھا کہ کوئی اللہ کی قسم کھا کر جھوٹ بول سکتا ہے اس لئے آپ نے اس کی بات کا اعتبار کیا ۔(ف30)اور جنّتی لباس جسم سے جدا ہو گئے ۔ اور ان میں ایک دوسرے سے اپنا بدن چُھپا نہ سکا اس وقت تک ا ن صاحبوں میں سے کسی نے خود بھی اپنا سِتر نہ دیکھا تھا اور نہ اس وقت تک انہیں اس کی حاجت پیش آئی تھی ۔
اے آدم کی اولاد! بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو (ف۳۳) اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا (ف۳٤) یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں،
O Descendants of Adam! We have sent down to you a garment to conceal your shame, and another garment for your elegance; and the garment of piety – that is the best; this is among the signs of Allah, so that they may remember.
ऐ आदम की औलाद! बेशक हमने तुम्हारी तरफ़ एक लिबास वह उतारा कि तुम्हारी शर्म की चीज़ें छुपाए और एक वह कि तुम्हारी आराइश हो और परहेज़गारी का लिबास वह सब से भला यह अल्लाह की निशानियों में से है कि कहीं वह नसीहत मानें,
Ae Aadam ki aulaad! be-shak hum ne tumhari taraf ek libaas woh utara ke tumhari sharam ki cheezen chhupaye aur ek woh ke tumhari aaraish ho aur parhezgaari ka libaas woh sab se bhala yeh Allah ki nishaniyon mein se hai ke kahin woh naseehat maanein,
(ف33)یعنی ایک لباس تو وہ ہے جس سے بدن چُھپایا جائے اور سِتر کیا جائے اور ایک لباس وہ ہے جس سے زینت ہو اور یہ بھی غرض صحیح ہے ۔(ف34) پرہیز گاری کا لباس ایمان حیا ، نیک خصلتیں ، نیک عمل ہیں ۔ یہ بے شک لباسِ زینت سے افضل و بہتر ہیں ۔
اے آدم کی اولاد! (ف۳۵) خبردار! تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکالا اتروا دیئے ان کے لباس کہ ان کی شرم کی چیزیں انہیں نظر پڑیں، بیشک وہ اور اس کا کنبہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے (ف۳٦) بیشک ہم نے شیطانوں کو ان کا دوست کیا ہے جو ایمان نہیں لاتے،
O Descendants of Adam, beware! Do not let Satan put you in trial the way he removed your parents from Paradise and had their garments removed so that their shame become visible to them; indeed he and his tribe see you from where you do not see them; indeed We have made the devils the friends of those who do not believe.
ऐ आदम की औलाद! ख़बरदार! तुम्हें शैतान फ़ितना में न डाले जैसा तुम्हारे माँ बाप को बहिश्त से निकाला उतरवा दिए उनके लिबास कि उनकी शर्म की चीज़ें उन्हें नज़र पड़ें, बेशक वह और उसका क़ुनबा तुम्हें वहाँ से देखते हैं कि तुम उन्हें नहीं देखते बेशक हमने शैतानों को उनका दोस्त किया है जो ईमान नहीं लाते,
Ae Aadam ki aulaad! khabardaar! tumhein shaitaan fitne mein na daale jaisa tumhare maa baap ko bahisht se nikala utarwa diye unke libaas ke unki sharam ki cheezen unhein nazar padein, be-shak woh aur us ka kunba tumhein wahan se dekhte hain ke tum unhein nahin dekhte be-shak hum ne shaitanon ko unka dost kiya hai jo imaan nahin laate,
(ف35)شیطان کی کَیّا دی اور حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ اس کی عداوت کا بیان فرما کر بنی آدم کو مُتنبِّہ اور ہوشیار کیا جاتا ہے کہ وہ شیطان کے وسوسے اور اِغواء اور اس کی مکّاریوں سے بچتے رہیں جو حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ و السلام کے ساتھ ایسی فریب کاری کر چکا ہے وہ ان کی اولاد کے ساتھ کب درگزر کرنے والا ہے ۔(ف36)اللہ تعالٰی نے جنّوں کو ایسا اِدراک دیا ہے کہ وہ انسانوں کو دیکھتے ہیں اور انسانوں کو ایسا اِدراک نہیں ملا کہ وہ جنّوں کو دیکھ سکیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ شیطان انسان کے جِسم میں خون کی راہوں میں پیر جاتا ہے ۔ حضرت ذوالنون رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر شیطان ایسا ہے کہ وہ تمہیں دیکھتا ہے تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو تم ایسے سے مدد چاہو جو اس کو دیکھتا ہو اور وہ اسے نہ دیکھ سکے یعنی اللہ کریم ستار ، رحیم غفار سے مدد چاہو ۔
اور جب کوئی بےحیائی کریں (ف۳۷) تو کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا (ف۳۸) تو فرماؤ بیشک اللہ بےحیائی کا حکم نہیں دیتا، کیا اللہ پر وہ بات لگاتے ہو جس کی تمہیں خبر نہیں،
And when they commit any shameful act they say, “We found our forefathers on it and Allah has commanded it to us”; say, “Indeed Allah does not ordain shamelessness; what! You attribute things to Allah, which you do not know?”
और जब कोई बेहयाई करें तो कहते हैं हमने इस पर अपने बाप दादा को पाया और अल्लाह ने हमें इसका हुक्म दिया तो फ़रमाओ बेशक अल्लाह बेहयाई का हुक्म नहीं देता, क्या अल्लाह पर वह बात लगाते हो जिसकी तुम्हें ख़बर नहीं,
Aur jab koi bayhayi karein to kehte hain hum ne is par apne baap dada ko paaya aur Allah ne humein iska hukm diya to farmayo be-shak Allah bayhayi ka hukm nahin deta, kya Allah par woh baat lagate ho jis ki tumhein khabar nahin,
(ف37)اور کوئی قبیح فعل یا گناہ ان سے صادر ہو جیسا کہ زمانۂ جاہِلیَّت کے لوگ مرد و عورت ننگے ہو کر کعبۂ مُعظَّمہ کا طواف کرتے تھے ۔ عطاء کا قول ہے کہ بے حیائی شرک ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہر قبیح فعل اور تمام مَعاصی و کَبائر اس میں داخل ہیں اگرچہ یہ آیت خاص ننگے ہو کر طواف کرنے کے بارے میں آئی ہو ، جب کُفّار کی ایسی بے حیائی کے کاموں پر ان کی مَذّمت کی گئی تو اس پر انہوں نے جو کہا وہ آگے آتا ہے ۔(ف38)کُفّار نے اپنے افعالِ قبیحہ کے دو عذر بیان کئے ، ایک تویہ کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو یہی فعل کرتے پایا لہٰذا ان کی اِتّباع میں یہ بھی کرتے ہیں یہ تو جاہِل بدکار کی تقلید ہوئی اور یہ کسی صاحبِ عقل کے نزدیک جائز نہیں ، تقلیدکی جاتی ہے اہلِ علم و تقوٰی کی نہ کہ جاہِل گمراہ کی ۔ دوسرا عذر ان کا یہ تھا کہ اللہ نے انہیں ان افعال کا حکم دیا ہے ، یہ مَحض اِفتراء و بُہتان تھا چنانچہ اللہ تبارک و تعالٰی رد فرماتا ہے ۔
تم فرماؤ میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے، اور اپنے منہ سیدھے کرو ہر نماز کے وقت اور اس کی عبادت کرو نرے (خالص) اس کے بندے ہو کر، جیسے اس نے تمہارا آغاز کیا ویسے ہی پلٹو گے (ف۳۹)
Say, “My Lord has ordained justice; and set your attention straight every time you offer pray and worship Him, as only His devoted worshippers; the way He brought you into being, in the same manner will you return.”
तुम फ़रमाओ मेरे रब ने इंसाफ़ का हुक्म दिया है, और अपने मुँह सीधे करो हर नमाज़ के वक़्त और उसकी इबादत करो नरे (ख़ालिस) उसके बन्दे हो कर, जैसे उसने तुम्हारा आग़ाज़ किया वैसे ही पलटो गे
Tum farmayo mere Rab ne insaaf ka hukm diya hai, aur apne munh seedhe karo har namaz ke waqt aur uski ibadat karo nare (khaalis) us ke bande ho kar, jaise us ne tumhara aaghaz kiya waise hi paltoge
(ف39)یعنی جیسے اس نے تمہیں نیست سے ہَست کیا ایسے ہی بعدِ موت زندہ فرمائے گا ۔ یہ اُخروی زندگی کا انکار کرنے والوں پر حُجّت ہے اور اس سے یہ بھی مُستفاد ہوتا ہے کہ جب اسی کی طرف پلٹنا ہے اور وہ اعمال کی جزا دے گا تو طاعات و عبادات کو اس کے لئے خالص کرنا ضروری ہے ۔
ایک فرقے کو راہ دکھائی (ف٤۰) اور ایک فرقے کو گمراہی ثابت ہوئی (ف٤۱) انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو والی بنایا (ف٤۲) اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ راہ پر ہیں،
He has guided one group, and one group’s error has been proved; instead of Allah, they have chosen the devil as their friend and they assume that they are on guidance!
एक फ़र्क़े को राह दिखाई और एक फ़र्क़े को गुमराही साबित हुई उन्होंने अल्लाह को छोड़ कर शैतानों को वाली बनाया और समझते यह हैं कि वह राह पर हैं,
Ek firqe ko raah dikhayi aur ek firqe ko gumraahi sabit hui unhon ne Allah ko chhod kar shaitanon ko wali banaya aur samajhte yeh hain ke woh raah par hain,
(ف40)ایمان و معرِفت کی اور انہیں طاعت و عبادت کی توفیق دی ۔(ف41)وہ کُفّار ہیں ۔(ف42)ان کی اِطاعت کی ، ان کے کہے پر چلے ، ان کے حکم سے کُفرو مَعاصی کو اختیار کیا ۔
اے آدم کی اولاد! اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ (ف٤۳) اور کھاؤ اور پیو (ف٤٤) اور حد سے نہ بڑھو، بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں،
O Descendants of Adam! Adorn yourself when you go to the mosque, and eat and drink, and do not cross limits; indeed He does not like the transgressors.
ऐ आदम की औलाद! अपनी ज़ीनत लो जब मस्जिद में जाओ और खाओ और पियो और हद से न बढ़ो, बेशक हद से बढ़ने वाले उसे पसंद नहीं,
Ae Aadam ki aulaad! apni zeenat lo jab masjid mein jao aur khao aur piyo aur had se na badho, be-shak had se badhne wale use pasand nahin,
(ف43)یعنی لباسِ زینت اور ایک قول یہ ہے کہ کنگھی کرنا خوشبو لگانا داخلِ زینت ہے ۔ مسئلہ : اور سنّت یہ ہے کہ آدمی بہتر ہَیئت کے ساتھ نماز کے لئے حاضر ہو کیونکہ نماز میں ربّ سے مُناجات ہے تو اس کے لئے زینت کرنا عِطر لگانا مُستحَب جیسا کہ سِتر، طہارت واجب ہے ۔شا نِ نُزول : مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ زمانۂ جاہِلیّت میں دن میں مرد اور عورتیں رات میں ننگے ہو کر طواف کرتے تھے ، اس آیت میں سِتر چُھپانے اور کپڑے پہننے کا حکم دیا گیا اور اس میں دلیل ہے کہ سترِ عورت نماز و طواف اور ہر حال میں واجب ہے ۔(ف44)شانِ نُزول : کَلبی کا قول ہے کہ بنی عامر زمانۂ حج میں اپنی خوراک بہت ہی کم کر دیتے تھے اور گوشت اور چکنائی تو بالکل کھاتے ہی نہ تھے اور اس کو حج کی تعظیم جانتے تھے ، مسلمانوں نے انہیں دیکھ کر عرض کیا یارسولَ اللہ ہمیں ایسا کرنے کا زیادہ حق ہے ، اس پر یہ نازِل ہوا کہ کھاؤ اور پیو گوشت ہو خواہ چکنائی ہو اور اِسراف نہ کرو اور وہ یہ ہے کہ سیر ہو چکنے کے بعد بھی کھاتے رہو یا حرام کی پرواہ نہ کرو اور یہ بھی اِسراف ہے کہ جو چیز اللہ تعالٰی نے حرام نہیں کی اس کو حرام کر لو ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کھا جو چاہے اور پہن جو چاہے اِسراف اور تکبّر سے بچتا رہ ۔ مسئلہ : آیت میں دلیل ہے کہ کھانے اور پینے کی تمام چیزیں حَلال ہیں سوائے ان کے جن پر شریعت میں دلیلِ حُرمت قائم ہو کیونکہ یہ قاعدہ مقرَّرہ مسلَّمہ ہے کہ اصل تمام اشیاء میں اِباحت ہے مگر جس پر شارع نے مُمانَعت فرمائی ہو اور اس کی حُرمت دلیلِ مستقل سے ثابت ہو ۔
تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی (ف٤۵) اور پاک رزق (ف٤٦) تم فرماؤ کہ وہ ایمان والوں کے لیے ہے دنیا میں اور قیامت میں تو خاص انہی کی ہے، ہم یونہی مفصل آیتیں بیان کرتے ہیں (ف٤۷) علم والوں کے لیے (ف٤۸)
Say, “Who has forbidden the adornment of Allah which He has brought forth for His bondmen, and the good food?” Say, “That is for the believers in this world, and on the Day of Resurrection it will be for them only”; this is how We explain Our verses in detail for people of knowledge.
तुम फ़रमाओ किस ने हराम की अल्लाह की वह ज़ीनत जो उस ने अपने बन्दों के लिए निकाली और पाक रिज़्क़, तुम फ़रमाओ कि वह ईमान वालों के लिए है दुनिया में और क़यामत में तो ख़ास उन्हीं की है, हम यूँही मुफ़स्सल आयतें बयान करते हैं इल्म वालों के लिए
Tum farmayo kis ne haraam ki Allah ki woh zeenat jo us ne apne bandon ke liye nikali aur paak rizq tum farmayo ke woh imaan walon ke liye hai duniya mein aur qiyamat mein to khaas unhi ki hai, hum yunhi mufassal aayatein bayan karte hain ilm walon ke liye
(ف45)خواہ لباس ہو یا اور سامانِ زینت ۔(ف46)اور کھانے پینے کی لذیذ چیزیں ۔مسئلہ : آیت اپنے عُموم پر ہے ہر کھانے کی چیز اس میں داخل ہے کہ جس کی حُرمت پر نَص وارد نہ ہوئی ہو (خازن) تو جو لوگ توشۂ گیارہویں ، میلاد شریف ، بزرگوں کی فاتِحۂ عُرس ، مجالسِ شہادت وغیرہ کی شیرینی ، سبیل کے شربت کو ممنوع کہتے ہیں وہ اس آیت کے خلاف کرکے گناہ گار ہوتے ہیں اور اس کو ممنوع کہنا اپنی رائے کو دین میں داخل کرنا ہے اور یہی بِدعت و ضَلالت ہے ۔(ف47)جن سے حلال و حرام کے احکام معلوم ہوں ۔(ف48)جو یہ جانتے ہیں کہ اللہ واحِد لاشریک لہ ہے وہ جو حرام کرے وہی حرام ہے ۔
تم فرماؤ میرے رب نے تو بےحیائیاں حرام فرمائی ہیں (ف٤۹) جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی اور گناہ اور ناحق زیادتی اور یہ (ف۵۰) کہ اللہ کا شریک کرو جس کی اس نے سند نہ اتاری اور یہ (ف۵۱) کہ اللہ پر وہ بات کہو جس کا علم نہیں رکھتے،
Say, “My Lord has forbidden the indecencies, the apparent among them and the hidden, and sin and wrongful excesses, and forbidden that you ascribe partners with Allah for which He has not sent down any proof, and forbidden that you say things concerning Allah of which you do not have knowledge.”
तुम फ़रमाओ मेरे रब ने तो बेहयाइयाँ हराम फ़रमाई हैं जो उन में खुली हैं और जो छुपी और गुनाह और नाहक़ ज़्यादती और यह कि अल्लाह का शरीक करो जिस की उस ने سند न उतारी और यह कि अल्लाह पर वह बात कहो जिस का इल्म नहीं रखते,
Tum farmayo mere Rab ne to bayhaiyain haraam farmayi hain jo un mein khuli hain aur jo chhupi aur gunah aur na-haq ziadti aur yeh ke Allah ka shareek karo jis ki us ne sanad na utari aur yeh ke Allah par woh baat kaho jis ka ilm nahin rakhte,
(ف49)یہ خِطاب مشرکین سے ہے جو بَرہنہ ہو کر خانۂ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اللہ تعالٰی کی حلال کی ہوئی پاک چیزوں کو حرام کر لیتے تھے ، ان سے فرمایا جاتا ہے کہ اللہ نے یہ چیزیں حرام نہیں کیں اور ان سے اپنے بندوں کو نہیں روکا ، جن چیزوں کو اس نے حرام فرمایا وہ یہ ہیں جو اللہ تعالٰی بیا ن فرماتا ہے ان میں سے بےحیائیاں ہیں جو کھلی ہوئی ہوں یا چھپی ہوئی ، قولی ہوں یا فعلی ۔(ف50)حرام کیا ۔(ف51)حرام کیا ۔
اے آدم کی اولاد! اگر تمہارے پاس تم میں کے رسول آئیں (ف۵۳) میری آیتیں پڑھتے تو جو پرہیزگاری کرے (ف۵٤) اور سنورے (ف۵۵) تو اس پر نہ کچھ خوف اور نہ کچھ غم،
O Descendants of Adam! If Noble Messengers from among you come to you narrating My verses – so whoever practices piety and reforms – upon him shall be no fear nor shall he grieve.
ऐ आदम की औलाद! अगर तुम्हारे पास तुम में के रसूल आएँ मेरी आयतें पढ़ते तो जो परहेज़गारी करे और संवरें तो उस पर न कुछ ख़ौफ़ और न कुछ ग़म,
Ae Aadam ki aulaad! agar tumhare paas tum mein ke Rasool aayein meri aayatein padhte to jo parhezgaari kare aur sanware to us par na kuch khauf aur na kuch gham,
(ف53)مفسِّرین کے اس میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ رُسُل سے تمام مُرسَلین مراد ہیں ، دوسرا یہ کہ خاص سیدِ عالَم خاتَم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں جو تمام خَلق کی طرف رسول بنائے گئے ہیں اور صیغۂ جَمع تعظیم کے لئے ہے ۔(ف54)ممنوعات سے بچے ۔(ف55)طاعات و عبادات بجا لائے ۔
تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیتیں جھٹلائیں، انہیں ان کے نصیب کا لکھا پہنچے گا (ف۵٦) یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (ف۵۷) ان کی جان نکالنے آئیں تو ان سے کہتے ہیں کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے، کہتے ہیں وہ ہم سے گم گئے (ف۵۸) اور اپنی جانوں پر آپ گواہی دیتے ہیں کہ وہ کافر تھے،
So who is more unjust than one who fabricated a lie against Allah or denied His signs? Their written fate will reach them; until when Our sent angels come to remove their souls, hence they say to them, “Where are they whom you used to worship besides Allah?” They say, “We have lost them” and they testify against themselves that they were disbelievers.
तो उस से बढ़ कर ज़ालिम कौन जिस ने अल्लाह पर झूट बाँधा या उस की आयतें झٹلائیں, उन्हें उन के नसीब का लिखा पहुँचेगा यहाँ तक कि जब उन के पास हमारे भेजे हुए उन की जान निकालने आएँ तो उन से कहते हैं कहाँ हैं वह जिन को तुम अल्लाह के सिवा पूजते थे, कहते हैं वह हम से गुम गए और अपनी जानों पर आप गवाही देते हैं कि वह काफ़िर थे,
To us se barh kar zalim kaun jis ne Allah par jhoot bandha ya uski aayatein jhutlayin, unhein unke naseeb ka likha poohnchega yahan tak ke jab unke paas hamare bheje huwe unki jaan nikalne aayein to unse kehte hain kahan hain woh jin ko tum Allah ke siwa poojte the, kehte hain woh hum se gum gaye aur apni jaanon par aap gawahi dete hain ke woh kafir the,
(ف56)یعنی جتنی عمر اور روزی اللہ نے ان کے لئے لکھ دی ہے ان کو پہنچے گی ۔(ف57)مَلکُ المَوت اور ان کے اَعوان ان لوگوں کی عمر یں اور روزیاں پوری ہونے کے بعد ۔(ف58)ان کا کہیں نام و نشان ہی نہیں ۔
اللہ ان سے (ف۵۹) فرماتا ہے کہ تم سے پہلے جو اور جماعتیں جن اور آدمیوں کی آگ میں گئیں، انہیں میں جاؤ جب ایک گروہ (ف٦۰) داخل ہوتا ہے دوسرے پر لعنت کرتا ہے (ف٦۱) یہاں تک کہ جب سب اس میں جا پڑے تو پچھلے پہلوں کو کہیں گے (ف٦۲) اے رب ہمارے! انہوں نے ہم کو بہکایا تھا تو انہیں آگ کا دُونا عذاب دے، فرمائے گا سب کو دُونا ہے (ف٦۳) مگر تمہیں خبر نہیں (ف٦٤)
Allah says to them, “Join the groups of jinns and mankind who have entered hell before you”; when a group enters, it curses the other; until when they have all gone in, the latter groups will say regarding the former, “Our Lord! It is these who led us astray, so give them double the punishment of the fire”; He will say, “For each one is double – but you do not know.”
अल्लाह उन से फ़रमाता है कि तुम से पहले जो और जमाअतें जिन और आदमियों की आग में गईं, उन में जाओ, जब एक गिरोह दाख़िल होता है दूसरे पर लानत करता है यहाँ तक कि जब सब उस में जा पड़ें तो पिच्छले पहलुओं को कहेंगे ऐ रब हमारे! उन्होंने हम को बहकाया था तो उन्हें आग का दूना अज़ाब दे, फ़रमाएगा सब को दूना है मगर तुम्हें ख़बर नहीं
Allah unse farmata hai ke tum se pehle jo aur jamaaten jin aur aadmiyon ki aag mein gayin, unhein mein jao jab ek giroh daakhil hota hai dusre par laanat karta hai yahan tak ke jab sab is mein jaa pade to pichhle pehlon ko kahenge ae Rab hamare! unhon ne hum ko behkaya tha to unhein aag ka doona azaab de, farmaega sab ko doona hai magar tumhein khabar nahin
(ف59)ان کافِروں سے روزِ قیامت ۔(ف60)دوزخ میں ۔(ف61)جو اس کے دین پر تھا تو مشرک مشرکوں پر لعنت کریں گے اور یہود یہودیوں پر اور نصارٰی نصارٰی پر ۔(ف62)یعنی پہلوں کی نسبت اللہ تعالٰی سے کہیں گے ۔(ف63)کیونکہ پہلے خود بھی گمراہ ہوئے اور انہوں نے دوسروں کو بھی گمراہ کیا اور پچھلے بھی ایسے ہی ہیں کہ خود گمراہ ہوئے اور گمراہوں کا ہی اِتّباع کرتے رہے ۔(ف64)کہ تم میں سے ہر فریق کے لئے کیسا عذاب ہے ۔
وہ جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے (ف٦۷) اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں جب تک سوئی کے ناکے اونٹ داخل نہ ہو (ف٦۸) اور مجرموں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں (ف٦۹)
Indeed those who denied Our signs and were conceited towards them – the gates of the heavens will not be opened for them nor will they enter Paradise until the camel goes through the needle’s eye*; and this is the sort of reward We give the guilty. (* Which will never happen.)
वह जिन्होंने हमारी आयतें झٹلائیں और उन के मुक़ाबिल तकब्बुर किया उन के लिए आसमान के दरवाज़े न खोले जाएँगे और न वह जन्नत में दाख़िल हों जब तक सूई के नाके ऊँट दाख़िल न हो और मुजरिमों को हम ऐसा ही बदला देते हैं
Woh jin hon ne hamari aayatein jhutlayin aur unke muqabil takabbur kiya unke liye aasman ke darwaze na khole jaayenge aur na woh jannat mein daakhil hon jab tak sooi ke naake oont daakhil na ho aur mujrimoon ko hum aisa hi badla dete hain
(ف67)نہ ان کے اعمال کے لئے نہ ان کی ارواح کے لئے کیونکہ ان کے اعمال و ارواح دونوں خبیث ہیں ۔ حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کُفّار کی ارواح کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے اور مؤمنین کی ارواح کے لئے کھولے جاتے ہیں ۔ ابنِ جُرَیْج نے کہا کہ آسمان کے دروازے نہ کافِروں کے اعمال کے لئے کھولے جائیں نہ ارواح کے لئے یعنی نہ زندگی میں ان کا عمل ہی آسمان پر جا سکتا ہے نہ بعدِ موت روح ۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ آسمان کے دروازے نہ کھولے جانے کے یہ معنٰی ہیں کہ وہ خیر و برکت اور رحمت کے نُزول سے محروم رہتے ہیں ۔(ف68)اور یہ مَحال ، تو کُفّارکا جنّت میں داخل ہونا مَحال کیونکہ مَحال پر جو موقوف ہو وہ مَحال ہوتا ہے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ کُفّار کا جنّت سے مَحروم رہنا قطعی ہے ۔(ف69)مُجرِمین سے یہاں کُفّار مراد ہیں کیونکہ اوپر ان کی صفت میں آیاتِ الٰہیّہ کی تکذیب اور ان سے تکبُّر کرنے کا بیان ہو چکا ہے ۔
اور وہ جو ایمان لائے اور طاقت بھر اچھے کام کیے ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتے، وہ جنت والے ہیں، انہیں اس میں ہمیشہ رہنا،
And those who accepted faith and performed good deeds according to their capacity – We do not burden any one, except within its capacity – are the people of Paradise; they shall abide in it forever.
और वह जो ईमान लाए और ताक़त भर अच्छे काम किए हम किसी पर ताक़त से ज़्यादा बोझ नहीं रखते, वह जन्नत वाले हैं, उन्हें उस में हमेशा रहना,
Aur woh jo imaan laaye aur taaqat bhar achhe kaam kiye hum kisi par taaqat se zyada bojh nahin rakhte, woh jannat wale hain, unhein is mein hamesha rehna,
اور ہم نے ان کے سینوں سے کینے کھینچ لیے (ف۷۱) ان کے نیچے نہریں بہیں گی اور کہیں گے (ف۷۲) سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی (ف۷۳) اور ہم راہ نہ پاتے اگر اللہ ہمیں راہ نہ دکھاتا، بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے (ف۷٤) اور ندا ہوئی کہ یہ جنت تمہیں میراث ملی (ف۷۵) صلہ تمہارے اعمال کا،
And We have removed resentment from their hearts – rivers will flow beneath them; and (while entering Paradise) they will say, “All praise is to Allah, Who guided us to this; we would not have attained the right path if Allah had not guided us; indeed the Noble Messengers of our Lord brought the truth”; and it is proclaimed, “You have received this Paradise as an inheritance for what you used to do.”
और हमने उन के सीनों से कीने खींच लिए उन के नीचे नहरें बहेंगी और कहेंगे सब खूबियाँ अल्लाह को जिस ने हमें उस की राह दिखाई और हम राह न पाते अगर अल्लाह हमें राह न दिखाता, बेशक हमारे रब के रसूल हक़ लाए और नदा हुई कि यह जन्नत तुम्हें मीरा स मिली सिला तुम्हारे आमाल का,
Aur hum ne unke seenon se keene kheench liye unke neeche nahrain behengi aur kahenge sab khoobiyaan Allah ko jis ne humein is ki raah dikhayi aur hum raah na paate agar Allah humein raah na dikhata, be-shak hamare Rab ke Rasool haq laaye aur nida hui ke yeh jannat tumhein meeras mili sila tumhare aamaal ka,
(ف71)جو دنیا میں ان کے درمیان تھے اور طبیعتیں صاف کر دی گئیں اور ان میں آپس میں نہ باقی رہی مگر مَحبت و مَودَّت ۔ حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ ہم اہلِ بدر کے حق میں نازِل ہوا اور یہ بھی آپ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ میں اور عثمان اور طلحہ او زبیر ان میں سے ہوں جن کے حق میں اللہ تعالٰی نے وَنَزَعْنَا مَافِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ فرمایا ۔ حضرت علی مرتضٰی کے اس ارشاد نے رَفض کی بَیخ و بنیاد کا قَلع قَمع کر دیا ۔(ف72)مؤمنین جنّت میں داخل ہوتے وقت ۔ (ف73)اور ہمیں ایسے عمل کی توفیق دی جس کا یہ اجر و ثواب ہے اور ہم پر فضل و رحمت فرمائی اور اپنے کرم سے عذابِ جہنَّم سے محفوظ کیا ۔(ف74)اور جو انہوں نے ہمیں دنیا میں ثواب کی خبریں دیں وہ سب ہم نے عِیاں دیکھ لیں ، ان کی ہدایت ہمارے لئے کمال لطف و کرم تھا ۔(ف75)مسلم شریف کی حدیث میں ہے جب جنّتی جنّت میں داخل ہوں گے ، ایک نِدا کرنے والا پکارے گا تمہارے لئے زندگانی ہے ، کبھی نہ مرو گے تمہارے لئے تندرستی ہے ، کبھی بیمار نہ ہوگے تمہارے لئے عیش ہے ، کبھی تنگ حال نہ ہوگے ۔ جنّت کو میراث فرمایا گیا اس میں اشارہ ہے کہ وہ مَحض اللہ کے فضل سے حاصل ہوئی ۔
اور جنت والوں نے دوزخ والوں کو پکارا کہ ہمیں تو مل گیا جو سچا وعدہ ہم سے ہمارے رب نے کیا تھا (ف۷٦) تو کیا تم نے بھی پایا جو تمہارے رب نے (ف۷۷) سچا وعدہ تمہیں دیا تھا بولے، ہاں! اور بیچ میں منادی نے پکار دیا کہ اللہ کی لعنت ظالموں پر
And the people of Paradise said to the people of hell, “We have surely received what our Lord had truly promised us – so have you also received what your Lord had truly promised?” They said, “Yes”; and an announcer between them proclaimed, “The curse of Allah is upon the unjust.” –
और जन्नत वालों ने दोज़ख़ वालों को पुकारा कि हमें तो मिल गया जो सच्चा वादा हम से हमारे रब ने किया था तो क्या तुम ने भी पाया जो तुम्हारे रब ने सच्चा वादा तुम्हें दिया था बोले, हाँ! और बीच में मुनादी ने पुकार दिया कि अल्लाह की लानत ज़ालिमों पर
Aur jannat walon ne dozakh walon ko pukara ke humein to mil gaya jo sacha wada humse hamare Rab ne kiya tha to kya tumne bhi paaya jo tumhare Rab ne sacha wada tumhein diya tha bole, haan! aur beech mein munaadi ne pukar diya ke Allah ki laanat zalimon par
(ف76)اور رسولوں نے فرمایا تھا کہ ایمان و طاعت پر اجر و ثواب پاؤ گے ۔(ف77)کُفر و نافرمانی پر عذاب کا ۔
جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں (ف۷۸) اور اسے کجی چاہتے ہیں (ف۷۹) اور آخرت کا انکار رکھتے ہیں،
“Those who prevent from the path of Allah and wish to distort it; and who disbelieve in the Hereafter.”
जो अल्लाह की राह से रोकते हैं और उसे कजी चाहते हैं और आख़िरत का इनकार रखते हैं,
Jo Allah ki raah se rokte hain aur use kaji chahte hain aur aakhirat ka inkaar rakhte hain,
(ف78)اور لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے منع کرتے ہیں ۔(ف79)یعنی یہ چاہتے ہیں کہ دینِ الٰہی کو بدل دیں اور جو طریقہ اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کے لئے مقرر فرمایا ہے اس میں تغیّر ڈال دیں ۔ (خازن)
اور جنت و دوزخ کے بیچ میں ایک پردہ ہے (ف۸۰) اور اعراف پر کچھ مرد ہوں گے (ف۸۱) کہ دونوں فریق کو ان کی پیشانیوں سے پہچانیں گے (ف۸۲) اور وہ جنتیوں کو پکاریں گے کہ سلام تم پر یہ (ف۸۳) جنت میں نہ گئے اور اس کی طمع رکھتے ہیں،
Between Paradise and Hell is a veil; and on the Heights will be some men who will recognise them all by their foreheads; and they call to the people of Paradise, “Peace be upon you”; they have not entered Paradise and they yearn for it.
और जन्नत व दोज़ख़ के बीच में एक पर्दा है और अअराफ़ पर कुछ मर्द होंगे कि दोनों फ़रीक़ को उन की पेशानियों से पहचानेंगे और वह जन्नतीओं को पुकारेंगे कि सलाम तुम पर, यह जन्नत में न गए और उस की तमा रखते हैं,
Aur jannat o dozakh ke beech mein ek parda hai aur a’raaf par kuch mard honge ke dono fareeq ko unki peshaniyon se pehchaanenge aur woh jannatiyon ko pukaarenge ke salaam tum par yeh jannat mein na gaye aur is ki tamaa rakhte hain,
(ف80)جس کو اَعراف کہتے ہیں ۔(ف81)یہ کس طبقہ کے ہوں گے اس میں بہت مختلف اقوال ہیں ۔ ایک قول تو یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں وہ اَعراف پر ٹھہرے رہیں گے جب اہلِ جنّت کی طرف دیکھیں گے تو انہیں سلام کریں گے اور دوزخیوں کی طرف دیکھیں گے تو کہیں گے یاربّ ہمیں ظالِم قوم کے ساتھ نہ کر ، آخر کار جنّت میں داخل کئے جائیں گے ۔ ایک قول یہ ہے کہ جو لوگ جِہاد میں شہید ہوئے مگر ان کے والدین ان سے ناراض تھے وہ اَعراف میں ٹھہرائے جائیں گے ۔ ایک قول یہ ہے کہ جو لوگ ایسے ہیں کہ ان کے والدین میں سے ایک ان سے راضی ہو ایک ناراض وہ اعراف میں رکھے جائیں گے ۔ ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ اَعراف کا مرتبہ اہلِ جنّت سے کم ہے ۔ مجاہد کا قول یہ ہے اَعراف میں صُلَحاء ، فُقَراء ، عُلَماء ہوں گے اور ان کا وہاں قیام اس لئے ہوگا کہ دوسرے ان کے فضل و شرف کو دیکھیں اور ایک قول یہ ہے کہ اَعراف میں اَنبیاء ہوں گے اور وہ اس مکانِ عالی میں تمام اہلِ قیامت پر مُمتاز کئے جائیں گے اور انکی فضیلت اور رتبۂ عالیہ کا اظہار کیا جائے گا تاکہ جنّتی اور دوزخی ان کو دیکھیں اور وہ ان سب کے احوال اور ثواب و عذاب کے مقدار و احوال کا معائنہ کریں ۔ ان قولوں پر اصحابِ اَعراف جنّتیوں میں سے افضل لوگ ہوں گے کیونکہ وہ باقیوں سے مرتبہ میں اعلٰی ہیں ۔ ان تمام اقوال میں کچھ تناقُض نہیں ہے ا س لئے کہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہر طبقہ کے لوگ اَعراف میں ٹھہرائے جائیں اور ہر ایک کے ٹھہرانے کی حکمت جُداگانہ ہو ۔(ف82)دونوں فریق سے جنّتی اور دوزخی مراد ہیں ، جنّتیوں کے چہرے سفید اور تر و تازہ ہوں گے اور دوزخیوں کے چہرے سِیاہ اور آنکھیں نیلی ، یہی ان کی علامتیں ہیں ۔(ف83)اَعراف والے ابھی تک ۔
اور اعراف والے کچھ مردوں کو (ف۸۵) پکاریں گے جنہیں ان کی پیشانی سے پہچانتے ہیں کہیں گے تمہیں کیا کام آیا تمہارا جتھا اور وہ جو تم غرور کرتے تھے (ف۸٦)
And the men on the Heights will call to some men whom they recognise by their foreheads, and say, “What benefit did your derive from your populace and from what you prided in?”
और अअराफ़ वाले कुछ मर्दों को पुकारेंगे जिन्हें उन की पेशानी से पहचानते हैं कहेंगे तुम्हें क्या काम आया तुम्हारा जत्था और वह जो तुम ग़ुरूर करते थे
Aur a’raaf wale kuch mardon ko pukarenge jinhein unki peshani se pehchante hain kahenge tumhein kya kaam aaya tumhara jatha aur woh jo tum ghuroor karte the
(ف85)کُفّار میں سے ۔(ف86)اور اہلِ اَعراف غریب مسلمانوں کی طرف اشارہ کرکے کُفّار سے کہیں گے ۔
کیا یہ ہیں وہ لوگ (ف۸۷) جن پر تم قسمیں کھاتے تھے کہ اللہ ان پر اپنی رحمت کچھ نہ کرے گا (ف۸۸) ان سے تو کہا گیا کہ جنت میں جاؤ نہ تم کو اندیشہ نہ کچھ غم،
“Are these the people (Muslims) regarding whom you swore that Allah would not have mercy on them at all? Whereas to the Muslims it has been said ‘Enter Paradise; you shall have no fear nor any grief.’”
क्या यह हैं वह लोग जिन पर तुम क़समें खाते थे कि अल्लाह उन पर अपनी रहमत कुछ न करेगा उन से तो कहा गया कि जन्नत में जाओ न तुम को अन्देशा न कुछ ग़म,
Kya yeh hain woh log jin par tum qasmen khate the ke Allah un par apni rehamat kuch na karega unse to kaha gaya ke jannat mein jao na tumko andesha na kuch gham,
(ف87)جن کو تم دنیا میں حقیر سمجھتے تھے اور ۔(ف88)اب دیکھ لو کہ جنّت کے دائمی عیش و راحت میں کس عزّت و احترام کے ساتھ ہیں ۔
اور دوزخی بہشتیوں کو پکاریں گے کہ ہمیں اپنے پانی کا فیض دو یا اس کھانے کا جو اللہ نے تمہیں دیا (ف۸۹) کہیں گے بیشک اللہ نے ان دونوں کو کافروں پر حرام کیا ہے
And the people of hell will cry out to the people of Paradise, “Provide us some benefit from your water or from the food Allah has provided you”; they will say, “Indeed Allah has forbidden both to the disbelievers.”
और दोज़खी बहिश्तियों को पुकारेंगे कि हमें अपने पानी का फ़ैज़ दो या उस खाने का जो अल्लाह ने तुम्हें दिया कहेंगे बेशक अल्लाह ने उन दोनों को काफ़िरों पर हराम किया है
Aur dozakhi behishtiyon ko pukarenge ke humein apne paani ka faiz do ya us khane ka jo Allah ne tumhein diya kahenge be-shak Allah ne in donon ko kaafiron par haraam kiya hai
(ف89)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب اَعراف والے جنّت میں چلے جائیں گے تو دوزخیوں کو بھی طمع دامن گیر ہوگی اور وہ عرض کریں گے یاربّ جنّت میں ہمارے رشتہ دار ہیں ، اجازت فرما کہ ہم انہیں دیکھیں ان سے بات کریں ، اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے رشتہ داروں کو جنّت کی نعمتوں میں دیکھیں گے اور پہچانیں گے لیکن اہلِ جنّت ان دوزخی رشتہ داروں کو نہ پہچانیں گے کیونکہ دوزخیوں کے منہ کالے ہوں گے صورتیں بگڑ گئی ہوں گی تو و ہ جنّتیوں کو نام لے لے کر پکاریں گے ۔ کوئی اپنے باپ کو پکارے گا کوئی بھائی کو اورکہے گا میں جل گیا مجھ پر پانی ڈالو اور تمہیں اللہ نے دیا ہے کھانے کو دو ، اس پر اہلِ جنّت ۔
جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنایا (ف۹۰) اور دنیا کی زیست نے انہیں فریب دیا (ف۹۱) تو آج ہم انہیں چھوڑ دیں گے جیسا انہوں نے اس دن کے ملنے کا خیال چھوڑا تھا اور جیسا ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے،
People who made their religion a sport and pastime, and whom the worldly life deceived; so this day We will disregard them, the way they had neglected their confronting of this day, and the way they used to deny Our signs.
जिन्होंने अपने दीन को खेल तमाशा बनाया और दुनिया की ज़ीस्त ने उन्हें फ़रेब दिया तो आज हम उन्हें छोड़ देंगे जैसा उन्होंने उस दिन के मिलने का ख़याल छोड़ा था और जैसा हमारी आयतों से इनकार करते थे,
Jinhnun ne apne deen ko khail tamasha banaya aur duniya ki zeest ne unhen fareb diya to aaj hum unhen chhor denge jaisa unhon ne us din ke milne ka khayal chhoda tha aur jaisa hamari aayaton se inkaar karte the,
(ف90)کہ حلال و حرام میں اپنی ہَوائے نفس کے تابع ہوئے جب ایمان کی طرف انہیں دعوت دی گئی مَسخَرگی کرنے لگے ۔(ف91)اس کی لذّتوں میں آخرت کو بھول گئے ۔
کاہے کی راہ دیکھتے ہیں مگر اس کی کہ اس کتاب کا کہا ہوا انجام سامنے آئے جس دن اس کا بتایا انجام واقع ہوگا (ف۹۳) بول اٹھیں گے وہ جو اسے پہلے سے بھلائے بیٹھے تھے (ف۹٤) کہ بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے تھے تو ہیں کوئی ہمارے سفارشی جو ہماری شفاعت کریں یا ہم واپس بھیجے جائیں کہ پہلے کاموں کے خلاف کام کریں (ف۹۵) بیشک انہوں نے اپنی جانیں نقصان میں ڈالیں اور ان سے کھوئے گئے جو بہتان اٹھاتے تھے (ف۹٦)
What do they await, except for the result foretold by that Book to appear? The day when the result foretold by it occurs, those who had previously forgotten it from the beginning (the disbelievers) will exclaim, “Indeed the Noble Messengers of our Lord had brought the truth! Do we have any intercessors who may intercede for us? Or can we be returned (to earth), so we may do contrary to what we have done before?” Indeed they have put themselves into ruin, and have lost the things they fabricated.
काहे की राह देखते हैं मगर उस की कि उस किताब का कहा हुआ अंजाम सामने आए जिस दिन उस का बताया अंजाम वाक़े होगा बोल उठेंगे वह जो उसे पहले से भुलाए बैठे थे कि बेशक हमारे रब के रसूल हक़ लाए थे तो हैं कोई हमारे सिफ़ारिशी जो हमारी शफ़ाअत करें या हम वापस भेजे जाएँ कि पहले कामों के ख़िलाफ़ काम करें बेशक उन्होंने अपनी जानें नुक़सान में डालें और उन से खोए गए जो बहुतान उठाते थे
Kahe ki raah dekhte hain magar us ki ke is kitaab ka kaha hua anjaam samne aaye jis din us ka bataya anjaam waqe hoga bol uthenge woh jo ise pehle se bhulae baithe the ke beshak hamare Rab ke Rasool haq laaye the to hain koi hamare safarshi jo hamari shafaat karein ya hum wapas bheje jaen ke pehle kaamon ke khilaf kaam karein beshak unhon ne apni jaanen nuqsan mein daalein aur unse khoye gaye jo buhtaan uthate the
(ف93)اور وہ روزِ قیامت ہے ۔(ف94)نہ اس پر ایمان لاتے تھے نہ اس کے مطابق عمل کرتے تھے ۔(ف95)یعنی بجائے کُفر کے ایمان لائیں اور بجائے معصیت اور نافرمانی کے طاعت اور فرمانبرداری اختیار کریں مگر نہ انہیں شَفاعت مُیسّر آئے گی نہ دنیا میں واپس بھیجے جائیں گے ۔(ف96)اور جھوٹ بکتے تھے کہ بُت خدا کے شریک ہیں اور اپنے پُجاریوں کی شَفاعت کریں گے ، اب آخرت میں انہیں معلوم ہوگیا کہ ان کے یہ دعوے جھوٹے تھے ۔
بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین (ف۹۷) چھ دن میں بنائے (ف۹۸) پھر عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے (ف۹۹) رات دن کو ایک دوسرے سے ڈھانکتا ہے کہ جلد اس کے پیچھے لگا آتا ہے اور سورج اور چاند اور تاروں کو بنایا سب اس کے حکم کے دبے ہوئے، سن لو اسی کے ہاتھ ہے پیدا کرنا اور حکم دینا، بڑی برکت والا ہے اللہ رب سارے جہان کا،
Indeed your Lord is Allah Who created the heavens and the earth in six days, then in the manner befitting His Majesty, ascended the Throne (of control); He covers the night with the day, which hastily follows it, and made the sun and the moon and the stars subservient to His command; pay heed! Only He has the power to create and command; Most Auspicious (Propitious) is Allah, the Lord Of The Creation.
बेशक तुम्हारा रब अल्लाह है जिस ने आसमान और ज़मीन छः दिन में बनाए फिर अर्श पर इस्तेवा फ़रमाया जैसा उस की शान के लायक है रात दिन को एक दूसरे से ढाँकता है कि जल्द उस के पीछे लगा आता है और सूरज और चाँद और तारों को बनाया सब उस के हुक्म के दबे हुए, सुन लो उसी के हाथ है पैदा करना और हुक्म देना, बड़ी बरकत वाला है अल्लाह रब सारे जहान का,
Beshak tumhara Rab Allah hai jisne aasman aur zameen chhe din mein banaye phir Arsh par istiwaa farmaaya jaisa us ki shaan ke laayiq hai raat din ko ek doosre se dhankta hai ke jald us ke peeche laga aata hai aur sooraj aur chaand aur taaron ko banaya sab us ke hukm ke dabe hue, sun lo usi ke haath hai paida karna aur hukm dena, badi barkat wala hai Allah Rab saare jahan ka,
(ف97)مع ان تمام چیزوں کے جو ان کے درمیان ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں وارد ہوا ۔ وَلَقَدْخَلَقْنَا السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ۔ (ف98)چھ دن سے دنیا کے چھ دنوں کی مقدار مراد ہے کیونکہ یہ دن تو اس وقت تھے نہیں ، آفتاب ہی نہ تھا جس سے دن ہوتا اور اللہ تعالٰی قادر تھا کہ ایک لمحہ میں یا اس سے کم میں پیدا فرماتا لیکن اتنے عرصہ میں ان کی پیدائش فرمانا بہ تقاضائے حکمت ہے اور اس سے بندوں کو اپنے کاموں میں تدریج اختیار کرنے کا سبق ملتا ہے ۔(ف99)یہ اِستِواء مُتَشابِہات میں سے ہے ۔ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ اللہ کی اس سے جو مراد ہے حق ہے ۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اِستِواء معلوم ہے اور اس کی کیفیت مجہول اور اس پر ایمان لانا واجب ۔ حضرت مُتَرۡجِم قُدِّسَ سِرُّہ نے فرمایا ، یا اس کے معنٰی یہ ہیں کہ آفرِینَش کا خاتِمہ عرش پر جا ٹھہرا ۔ واللہ اعلم باسرار کتابہ
اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ، بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں، (ف۱۰۰)
Pray to your Lord crying humbly, and softly; indeed He does not love the transgressors.
अपने रब से दुआ करो गिड़गिड़ाते और आहिस्ता, बेशक हद से बढ़ने वाले उसे पसंद नहीं,
Apne Rab se dua karo girgirate aur aahista, beshak had se badhne walon ko pasand nahi,
(ف100)دعا اللہ تعالٰی سے خیر طلب کرنے کو کہتے ہیں اور یہ داخلِ عبادت ہے کیونکہ دعا کرنے والا اپنے آپ کو عاجِز و مُحتاج اور اپنے پروردگار کو حقیقی قادر و حاجت رَوا اعتِقاد کرتا ہے ۔ اسی لئے حدیث شریف میں وارِد ہوا اَلدُّعَآ ءُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ تَضَرُّع سے اظہارِ عِجز و خُشوع مراد ہے اور ادب دعا میں یہ ہے کہ آہستہ ہو ۔ حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ آہستہ دعا کرنا علانیہ دعا کرنے سے ستّر درجہ زیادہ افضل ہے ۔ مسئلہ : اس میں عُلَماء کا اختلاف ہے کہ عبادات میں اظہار افضل ہے یا اِخفاء ، بعض کہتے ہیں کہ اِخفاء افضل ہے کیونکہ وہ رِیا سے بہت دور ہے ، بعض کہتے ہیں کہ اظہار افضل ہے اس لئے کہ اس سے دوسروں کو رغبتِ عبادت پیدا ہوتی ہے ۔ ترمذی نے کہا کہ اگر آدمی اپنے نفس پر رِیا کا اندیشہ رکھتا ہو تو اس کے لئے اِخفاء افضل ہے اور اگر قلب صاف ہو اندیشۂ رِیا نہ ہو تو اظہار افضل ہے ۔ بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ فرض عبادتوں میں اظہار افضل ہے ، نمازِ فرض مسجد ہی میں بہتر ہے اور زکوٰۃ کا اظہار کرکے دینا ہی افضل ہے اور نفل عبادات میں خواہ وہ نماز ہو یا صدَقہ وغیرہ ان میں اِخفاء افضل ہے ۔ دعا میں حد سے بڑھنا کئی طرح ہوتا ہے اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بہت بلند آواز سے چیخے ۔
اور وہی ہے کہ ہوائیں بھیجتا ہے اس کی رحمت کے آگے مژدہ سناتی (ف۱۰۳) یہاں تک کہ جب اٹھا لائیں بھاری بادل ہم نے اسے کسی مردہ شہر کی طرف چلایا (ف۱۰٤) پھر اس سے پانی اتارا پھر اس سے طرح طرح کے پھل نکالے اسی طرح ہم مردوں کو نکالیں گے (ف۱۰۵) کہیں تم نصیحت مانو،
And it is He Who sends the winds giving glad tidings, ahead of His mercy; until when they come bearing heavy clouds, We drove it towards a city devoid of vegetation, and then rained water upon it, then produced fruits of various kinds from it; this is how We will bring forth the dead, so that you may heed advice.
और वही है कि हवाएँ भेजता है उस की रहमत के आगे मुझ्दा सुनाती यहाँ तक कि जब उठा लाएँ भारी बादल हमने उसे किसी मुर्दा शहर की तरफ़ चलाया फिर उस से पानी उतारा फिर उस से तरह तरह के फल निकाले इसी तरह हम मुर्दों को निकालेंगे कहीं तुम नसीहत मानो,
Aur wohi hai ke hawaen bhejta hai us ki rehmat ke aage mujda sunati yahan tak ke jab utha laayen bhaari baadal humne use kisi murda shehar ki taraf chalaya phir us se paani utaara phir us se tarah tarah ke phal nikaale isi tarah hum murdon ko nikaalein ge kahin tum naseehat maano,
(ف103)بارش کا اور رحمت سے یہاں مِینہ مراد ہے ۔(ف104)جہاں بارش نہ ہوئی تھی سبزہ نہ جما تھا ۔(ف105)یعنی جس طرح مردہ زمین کو ویرانی کے بعد زندگی عطا فرماتا اور اس کو سرسبز و شاداب فرماتا ہے اور اس میں کھیتی ، درخت ، پھل پھول پیدا کرتا ہے ۔ ایسے ہی مُردوں کو قبروں سے زندہ کر کے اٹھائے گا کیونکہ جو خشک لکڑی سے تر و تازہ پھل پیدا کرنے پر قادر ہے اسے مُردوں کا زندہ کرنا کیا بعید ہے ۔ قدرت کی یہ نشانی دیکھ لینے کے بعد عاقِل ، سلیمُ الحواس کو مُردوں کے زندہ کئے جانے میں کچھ تردُّد باقی نہیں رہتا ۔
اور جو اچھی زمین ہے اس کا سبزہ اللہ کے حکم سے نکلتا ہے (ف۱۰٦) اور جو خراب ہے اس میں نہیں نکلتا مگر تھوڑا بمشکل (ف۱۰۷) ہم یونہی طرح طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں (ف۱۰۸) ان کے لیے جو احسان مانیں،
And from the good land comes forth its vegetation by the command of Allah; and from the infertile land, nothing comes forth except a little with difficulty; this is how We explain Our signs in different ways, for people who are thankful.
और जो अच्छी ज़मीन है उस का सब्ज़ा अल्लाह के हुक्म से निकलता है और जो ख़राब है उस में नहीं निकलता मगर थोड़ा बमुश्किल, हम यूँही तरह तरह से आयतें बयान करते हैं उन के लिए जो एहसान मानें,
Aur jo achhi zameen hai us ka sabza Allah ke hukm se nikalta hai aur jo kharaab hai us mein nahi nikalta magar thoda bmushkil, hum yunhi tarah tarah se aayatein bayan karte hain unke liye jo ehsaaan maanein,
(ف106)یہ مؤمن کی مثال ہے جس طرح عمدہ زمین پانی سے نفع پاتی ہے اور اس میں پھول پھل پیدا ہوتے ہیں اسی طرح جب مؤمن کے دل پر قرآنی انوار کی بارش ہوتی ہے تو وہ اس سے نفع پاتا ہے ، ایمان لاتا ہے ، طاعات و عبادات سے پھلتا پھولتا ہے ۔(ف107)یہ کافِر کی مثال ہے کہ جیسے خراب زمین بارش سے نفع نہیں پاتی ایسے ہی کافِر قرآن پاک سے مُنتفِع نہیں ہوتا ۔(ف108)جو توحید و ایمان پر حُجّت و بُرہان ہیں ۔
بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (ف۱۰۹) تو اس نے کہا میری قوم اللہ کو پوجو (ف۱۱۰) اسکے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں (ف۱۱۱) بیشک مجھے تم پر بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے (ف۱۱۲)
Indeed We sent Nooh to his people – he therefore said, “O my people! Worship Allah – you do not have any God except Him; indeed I fear for you the punishment of the Great Day (of Resurrection).”
बेशक हमने नूह को उस की क़ौम की तरफ़ भेजा तो उस ने कहा मेरी क़ौम अल्लाह को पूजो उस के सिवा तुम्हारा कोई माबूद नहीं बेशक मुझे तुम पर बड़े दिन के अज़ाब का डर है
Beshak humne Nooh ko us ki qawm ki taraf bheja to usne kaha meri qawm Allah ko poojo us ke siwa tumhara koi ma’bood nahi beshak mujhe tum par bade din ke azaab ka darr hai
(ف109)حضرت نوح علیہ السلام کے والد کا نام لمک ہے ، وہ متوشلخ کے ، وہ اخنوخ علیہ السلام کے فرزند ہیں ، اخنوخ حضرت اِدریس علیہ الصلٰوۃ والسلام کا نام ہے ۔ حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام چالیس یا پچاس سال کی عمر میں نبوّت سے سرفراز فرمائے گئے ۔ آیاتِ بالا میں اللہ تعالٰی نے اپنے دلائلِ قُدرت و غَرائبِ صَنعت بیان فرمائے جن سے اس کی توحید و رَبوبیّت ثابت ہوتی ہے اور مرنے کے بعد اٹھنے اور زندہ ہونے کی صحت پر دلائلِ قاطعہ قائم کئے ، اس کے بعد انبیاء علیہم الصلٰوۃ و السّلام کا ذکر فرماتا ہے اور ان کے ان معاملات کا جو انہیں اُمّتوں کے ساتھ پیش آئے ۔ اس میں نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلَّم کی تسلّی ہے کہ فقط آپ ہی کی قوم نے قبولِ حق سے اِعراض نہیں کیا بلکہ پہلی اُمّتیں بھی اِعراض کرتی رہیں اور انبیاء کی تکذیب کرنے والوں کا انجام دنیا میں ہلاک اور آخرت میں عذابِ عظیم ہے ۔ اس سے ظاہر ہے کہ انبیاء کی تکذیب کرنے والے غضبِ الٰہی کے سزا وار ہوتے ہیں ۔ جو شخص سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلَّم کی تکذیب کرے گا اس کا بھی یہی انجام ہوگا ۔ انبیاء کے ان تذکروں میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلَّم کی نبوّت کی زبردست دلیل ہے کیونکہ حضور اُمّی تھے پھر آپ کا ان واقعات کو تفصیلاً بیان فرمانا بالخصوص ایسے مُلک میں جہاں اہلِ کتاب کے عُلَماء بکثرت موجود تھے اور سرگرم مخالِف بھی تھے ، ذرا سی بات پاتے تو بہت شور مچاتے ، وہاں حضور کا ان واقعات کو بیان فرمانا اور اہلِ کتاب کا ساکِت و حیران رہ جانا صریح دلیل ہے کہ آپ نبیٔ برحق ہیں اور پرودگارِ عالَم نے آپ پر علوم کے دروازے کھول دیئے ہیں ۔(ف110)وہی مستحقِ عبادت ہے ۔(ف111)تو اس کے سوا کسی کو نہ پوجو ۔(ف112)روزِ قیامت کا یا روزِ طوفان کا اگر تم میری نصیحت قبول نہ کرو اور راہِ راست پر نہ آؤ ۔
اور کیا تمہیں اس کا اچنبا ہوا کہ تمہارے پاس رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں کے ایک مرد کی معرفت (ف۱۱۳) کہ وہ تمہیں ڈرائے اور تم ڈرو اور کہیں تم پر رحم ہو،
“And are you surprised that an advice came to you from your Lord through a man amongst you, so that he may warn you and that you may fear, and so that there be mercy upon you?”
और क्या तुम्हें इसका अचम्भा हुआ कि तुम्हारे पास रब की तरफ़ से एक नसीहत आई तुम में के एक मर्द की मारफ़त कि वह तुम्हें डराए और तुम डरो और कहीं तुम पर रहम हो,
Aur kya tumhein is ka ajab hua ke tumhare paas Rab ki taraf se ek naseehat aayi tum mein ke ek mard ki ma’rifat ke woh tumhein daraaye aur tum daro aur kahin tum par rehmat ho,
(ف113)جس کو تم خوب جانتے اور اس کے نسب کو پہچانتے ہو ۔
تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے اسے اور جو (ف۱۱۵) اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی اور اپنی آیتیں جھٹلانے والوں کو ڈبو دیا، بیشک وہ اندھا گروہ تھا (ف۱۱٦)
In response they denied him, so We rescued him and those with him in the ship, and We drowned those who denied Our signs; indeed they were a blind group.
तो उन्होंने उसे झुटलाया तो हमने उसे और जो उसके साथ कश्ती में थे नजात दी और अपनी आयतें झुटलाने वालों को डुबो दिया, बेशक वह अंधा गिरोह था
To unhon ne use jhutlaya to humne use aur jo us ke sath kashti mein the najat di aur apni aayatein jhutlane walon ko dobo diya, beshak woh andha giroh tha
(ف114)یعنی حضرت نوح علیہ السلام کو ۔ (ف115)ان پر ایمان لائے اور ۔(ف116)جسے حق نظر نہ آتا تھا . حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ان کے دل اندھے تھے ، نورِ معرِفت سے ان کو بَہرہ نہ تھا ۔
اور عاد کی طرف (ف۱۱۷) ان کی برادری سے ہود کو بھیجا (ف۱۱۸) کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تمہیں ڈر نہیں (ف۱۱۹)
And We sent Hud to the people of Aad from their own community; he said, “O my people! Worship Allah – you do not have any God except Him; so do you not fear?”
और आद की तरफ़ उनकी बरादरी से हूद को भेजा कहा ऐ मेरी क़ौम अल्लाह की बन्दगी करो उसके सिवा तुम्हारा कोई माबूद नहीं, तो क्या तुम्हें डर नहीं
Aur Aad ki taraf un ki baradari se Hood ko bheja kaha aye meri qawm Allah ki bandagi karo us ke siwa tumhara koi ma’bood nahi, to kya tumhein darr nahi
(ف117)یہاں عادِ اُولٰی مراد ہے ، یہ حضرت ہُود علیہ السلام کی قوم ہے اور عادِ ثانیہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ہے اسی کو ثَمُود کہتے ہیں ، ان دونوں کے درمیان سو برس کا فاصلہ ہے ۔ (جمل) (ف118)ہُود علیہ السلام نے ۔(ف119)اللہ کے عذاب کا ۔
(ف121)کُفّار کا حضرت ہُود علیہ السلام کی جناب میں یہ گستاخانہ کلام کہ تمہیں بے وقوف سمجھتے ہیں ، جھوٹا گمان کرتے ہیں ، انتہا درجہ کی بے ادبی اور کمینگی تھی اور وہ مستحق اس بات کے تھے کہ انہیں سخت ترین جواب دیا جاتا مگر آپ نے اپنے اَخلاق و ادب اور شانِ حِلۡم سے جو جواب دیا اس میں شانِ مقابَلہ ہی نہ پیدا ہونے دی اور ان کی جَہالت سے چشم پوشی فرمائی ۔ اس سے دنیا کو سبق ملتا ہے کہ سُفَہاء اور بدخِصَال لوگوں سے اس طرح مُخاطَبہ کرنا چاہئے مع ہٰذا آپ نے اپنی رِسالت اور خیر خواہی و امانت کا ذکر فرمایا ۔ اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ اہلِ عِلم و کمال کو ضرورت کے موقع پر اپنے منصب و کمال کا اِظہار جائز ہے ۔
اور کیا تمہیں اس کا اچنبا ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں سے ایک مرد کی معرفت کہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کا جانشین کیا (ف۱۲۲) اور تمہارے بدن کا پھیلاؤ بڑھایا (ف۱۲۳) تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو (ف۱۲٤) کہ کہیں تمہارا بھلا ہو،
“And are you surprised that an advice came to you from your Lord through a man amongst you, so that he may warn you? Remember when He made you the successors of Nooh’s people, and enlarged your bodies; therefore remember Allah’s favours, so that you may attain good.”
और क्या तुम्हें इसका अचम्भा हुआ कि तुम्हारे पास तुम्हारे रब की तरफ़ से एक नसीहत आई तुम में से एक मर्द की मारफ़त कि वह तुम्हें डराए और याद करो जब उसने तुम्हें क़ौमे नूह का जानशीन किया और तुम्हारे बदन का फैलाव बढ़ाया तो अल्लाह की नेमतें याद करो कि कहीं तुम्हारा भला हो,
Aur kya tumhein is ka ajab hua ke tumhare paas tumhare Rab ki taraf se ek naseehat aayi tum mein se ek mard ki ma’rifat ke woh tumhein daraaye aur yaad karo jab usne tumhein qawm-e-Nooh ka janashin kiya aur tumhare badan ka phelaao barhaya to Allah ki ne’maten yaad karo ke kahin tumhara bhala ho,
(ف122)یہ اس کا کتنا بڑا احسان ہے ۔(ف123)اور بہت زیادہ قوّت وطُولِ قامت عنایت کیا ۔(ف124)اور ایسے مُنۡعِم پر ایمان لاؤ اور طاعات و عبادات بجا لا کر اس کے احسان کی شکر گزاری کرو ۔
بولے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو (ف۱۲۵) کہ ہم ایک اللہ کو پوجیں اور جو (ف۱۲٦) ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، انہیں چھوڑ دیں تو لاؤ (ف۱۲۷) جس کا ہمیں وعدہ دے رہے ہو اگر سچے ہو،
They said, “Have you come to us in order that we worship only Allah, and abandon those whom our ancestors worshipped?! So bring upon us what you promise us, if you are truthful.”
बोले क्या तुम हमारे पास इसलिए आए हो कि हम एक अल्लाह को पूजें और जो हमारे बाप दादा पूजते थे, उन्हें छोड़ दें तो लाओ जिसका हमें वादा दे रहे हो अगर सच्चे हो,
Bole kya tum hamare paas is liye aaye ho ke hum ek Allah ko poojein aur jo hamare baap dada pooajte the unhein chhod dein to laao jiska humein wa’da de rahe ho agar sache ho,
(ف125)یعنی اپنے عبادت خانہ سے حضرت ہُود علیہ السلام اپنی قوم کی بستی سے علیحدہ ایک تنہائی کے مقام میں عبادت کیا کرتے تھے جب آپ کے پاس وحی آتی تو قوم کے پاس آ کر سنا دیتے ۔(ف126)بُت ۔(ف127)وہ عذاب ۔
کہا (ف۱۲۸) ضرور تم پر تمہارے رب کا عذاب اور غضب پڑ گیا (ف۱۲۹) کیا مجھ سے خالی ان ناموں میں جھگڑ رہے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے (ف۱۳۰) اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری، تو راستہ دیکھو (ف۱۳۱) میں بھی تمہارے ساتھ دیکھتا ہوں،
He said, “Indeed the punishment and the wrath of your Lord have fallen upon you; what! You needlessly dispute with me regarding the names you and your ancestors have fabricated? Allah has not sent down any proof concerning them; therefore wait – I too await with you.”
कहा ज़रूर तुम पर तुम्हारे रब का अज़ाब और ग़ज़ब पड़ गया क्या मुझसे खाली उन नामों में झगड़ रहे हो जो तुमने और तुम्हारे बाप दादा ने रख लिए अल्लाह ने उनकी कोई سند न उतारी, तो रास्ता देखो मैं भी तुम्हारे साथ देखता हूँ,
Kaha zaroor tum par tumhare Rab ka azaab aur ghazab pad gaya kya mujh se khaali un naamon mein jhagad rahe ho jo tumne aur tumhare baap dada ne rakh liye Allah ne un ki koi sanad na utaari, to raasta dekho main bhi tumhare sath dekhta hoon,
(ف128)حضرت ہود علیہ السلام نے ۔(ف129)اور تمہاری سرکشی سے تم پر عذاب آنا واجب و لازم ہوگیا ۔(ف130)اور انہیں پوجنے لگے اور معبود ماننے لگے باوجود یکہ ان کی کچھ حقیقت ہی نہیں ہے اور اُ لُوہیّت کے معنٰی سے قَطعاً خالی و عاری ہیں ۔(ف131)عذابِ الٰہی کا ۔
تو ہم نے اسے اور اس کے ساتھ والوں کو (ف۱۳۲) اپنی ایک بڑی رحمت فرما کر نجات دی (ف۱۳۳) اور جو ہماری آیتیں جھٹلاتے (ف۱۳٤) تھے ان کی جڑ کاٹ دی (ف۱۳۵) اور وہ ایمان والے نہ تھے ،
We therefore rescued him and those with him by a great mercy from Us, and We cut off the lineage of those who denied Our signs – and they were not believers.
तो हमने उसे और उसके साथ वालों को अपनी एक बड़ी रहमत फरमा कर नजात दी और जो हमारी आयतें झुटलाते थे उनकी जड़ काट दी और वह ईमान वाले न थे,
To humne use aur us ke sath walon ko apni ek badi rehmat farma kar najat di aur jo hamari aayatein jhutlate the unki jad kaat di aur woh imaan wale na the,
(ف132)جو ان کے مُتّبِع تھے اور ان پر ایمان لائے تھے ۔(ف133)اس عذاب سے جو قومِ ہُود پر اترا ۔(ف134)اور حضرت ہُود علیہ السلام کی تکذیب کرتے ۔(ف135)اور اس طرح ہلاک کر دیا کہ ان میں ایک بھی نہ بچا ۔ مختصر واقعہ یہ ہے کہ قومِ عاد اَحقاف میں رہتی تھی جو عُمَّان و حَضۡر مُوت کے درمیان عَلاقۂ یمن میں ایک ریگستان ہے ۔ انہوں نے زمین کو فِسق سے بھر دیا تھا اور دنیا کی قوموں کو اپنی جَفا کاریوں سے اپنے زورِ قوّت کے زُعم میں پامال کر ڈالا تھا ۔ یہ لوگ بُت پرست تھے ان کے ایک بُت کا نام صَداء ، ایک کاصَمُود ، ایک کا ہَباء تھا ۔ اللہ تعالٰی نے ان میں حضرت ہُود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا ، آپ نے انہیں توحید کا حکم دیا ، شرک وبُت پرستی اور ظلم و جَفا کاری کی ممانَعت کی ، اس پر وہ لوگ منکِر ہوئے آپ کی تکذیب کرنے لگے اور کہنے لگے ہم سے زیادہ زور آور کون ہے ؟ چند آدمی ان میں سے حضرت ہُود علیہ السلام پر ایمان لائے وہ تھوڑے تھے اور اپنا ایمان چھپائے رہتے تھے ۔ ان مؤمنین میں سے ایک شخص کا نام مَرثَد ابنِ سعد بن عضیر تھا وہ اپنا ایمان مخفی رکھتے تھے جب قوم نے سرکشی کی اور اپنے نبی حضرت ہود علیہ السلام کی تکذیب کی اور زمین میں فساد کیا اور ستم گاریوں میں زیادتی کی اور بڑی مضبوط عمارتیں بنائیں ۔ معلوم ہوتا تھا کہ انہیں گمان ہے کہ وہ دنیا میں ہمیشہ ہی رہیں گے جب ان کی نوبت یہاں تک پہنچی تو اللہ تعالٰی نے بارش روک دی تین سال بارش نہ ہوئی اب وہ بہت مصیبت میں مبتلا ہوئے اور اس زمانہ میں دستور یہ تھا کہ جب کوئی بلا یا مصیبت نازِل ہوتی تھی تو لوگ بیت اللہ الحرام میں حاضر ہو کر اللہ تعالٰی سے اس کے دفۡع کی دعا کرتے تھے اسی لئے ان لوگوں نے ایک وفد بیت اللہ کو روانہ کیا، اس وفد میں قیل بن عنزا اور نعیم بن ہزال اور مرثد بن سعد تھے ، یہ وہی صاحب ہیں جو حضرت ہُود علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور اپنا ایمان مخفی رکھتے تھے ۔ اس زمانہ میں مکّۂ مکرَّمہ میں عمالیق کی سُکونت تھی اور ان لوگوں کا سردار معاویہ بن بکر تھا اس شخص کا نانِہال قومِ عاد میں تھا اسی علاقہ سے یہ وفد مکۂ مکرَّمہ کے حوالی میں معاویہ بن بکر کے یہاں مقیم ہوا اس نے ان لوگوں کا بہت اِکرام کیا ، نہایت خاطر و مَدارَات کی ، یہ لوگ وہاں شراب پیتے اور باندیوں کا ناچ دیکھتے تھے ۔ اس طرح انہوں نے عیش و نشاط میں ایک مہینہ بسر کیا ، معاویہ کو خیال آیا کہ یہ لوگ تو راحت میں پڑ گئے اور قوم کی مصیبت کو بھول گئے جو وہاں گرفتارِ بَلا ہے مگر معاویہ بن بکر کو یہ خیال بھی تھا کہ اگر وہ ان لوگوں سے کچھ کہے تو شاید وہ یہ خیال کریں کہ اب اس کو میزبانی گِراں گزرنے لگی ہے اس لئے اس نے گانے والی باندی کو ایسے اشعار دیئے جن میں قومِ عاد کی حاجت کا تذکِرہ تھا جب باندی نے وہ نظم گائی تو ان لوگوں کویاد آیا کہ ہم اس قوم کی مصیبت کی فریاد کرنے کے لئے مکّۂ مکرّمہ بھیجے گئے ہیں ، اب انہیں خیال ہوا کہ حرم شریف میں داخل ہو کر قوم کے لئے پانی برسنے کی دعا کریں اس وقت مرثد بن سعد نے کہا کہ اللہ کی قسم تمہاری دعا سے پانی نہ برسے گا لیکن اگر تم اپنے نبی کی اطاعت کرو اور اللہ تعالٰی سے توبہ کرو تو بارش ہو گی اور اس وقت مرثد نے اپنے اسلام کا اظہار کر دیا ، ان لوگوں نے مرثدکو چھوڑ دیا اور خود مکّۂ مکرَّمہ جا کر دعا کی ، اللہ تعالٰی نے تین اَبر بھیجے ایک سفید ، ایک سُرخ ، ایک سیاہ اور آسمان سے نِدا ہوئی کہ اے قیل! اپنے اور اپنی قوم کے لئے ان میں سے ایک ابۡر اختیار کر اس نے ابرِ سیاہ کو اختیار کیا بَایں خیال کہ اس سے بہت پانی برسے گا چنانچہ وہ ابر قومِ عاد کی طرف چلا اور وہ لوگ اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے مگر اس میں سے ایک ہوا چلی وہ اس شدّت کی تھی کہ اونٹوں اور آدمیوں کو اُ ڑا اُ ڑا کر کہیں سے کہیں لے جاتی تھی ، یہ دیکھ کر وہ لوگ گھروں میں داخل ہوئے اور اپنے دروازے بند کر لئے مگر ہوا کی تیزی سے بچ نہ سکے اس نے دروازے بھی اُکھیڑ دیئے اور ان لوگوں کو ہلاک بھی کر دیا اور قدرتِ الٰہی سے سیاہ پرندے نمودار ہوئے جنہوں نے ان کی لاشوں کو اُٹھا کر سمُندر میں پھینک دیا ۔ حضرت ہُود مؤمنین کو لے کر قوم سے جُدا ہوگئے تھے اس لئے وہ سلامت رہے ۔ قوم کے ہلاک ہونے کے بعد ایمانداروں کو ساتھ لے کر مکّۂ مکرّمہ تشریف لائے اور آخر عُمر شریف تک وہیں اللہ تعالٰی کی عبادت کرتے رہے ۔
اور ثمود کی طرف (ف۱۳٦) ان کی برادری سے صالح کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے (ف۱۳۷) روشن دلیل آئی (ف۱۳۸) یہ اللہ کا ناقہ ہے (ف۱۳۹) تمہارے لیے نشانی، تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ (ف۱٤۰) کہ تمہیں درد ناک عذاب آئے گا،
And We sent Saleh to the tribe of Thamud, from their own community; he said, “O my people! Worship Allah – you do not have any God except Him; indeed a clear proof has come to you from your Lord; this is Allah’s she-camel – a sign for you – so leave her free to feed in Allah’s earth, and do not touch her with evil intentions for a painful punishment will seize you.”
और समूद की तरफ़ उनकी बरादरी से सालेह को भेजा कहा ऐ मेरी क़ौम अल्लाह को पूजो उसके सिवा तुम्हारा कोई माबूद नहीं, बेशक तुम्हारे पास तुम्हारे रब की तरफ़ से रौशन दलील आई यह अल्लाह का नाका है तुम्हारे लिए निशानी, तो उसे छोड़ दो कि अल्लाह की ज़मीन में खाए और उसे बुराई से हाथ न लगाओ कि तुम्हें दर्दनाक अज़ाब आएगा,
Aur Samood ki taraf un ki baradari se Saaleh ko bheja kaha aye meri qawm Allah ko poojo us ke siwa tumhara koi ma’bood nahi, beshak tumhare paas tumhare Rab ki taraf se roshan daleel aayi ye Allah ka naaqa hai tumhare liye nishani, to use chhod do ke Allah ki zameen mein khaaye aur use burai se haath na lagao ke tumhein dardnaak azaab aaye ga,
(ف136)جو حِجاز و شام کی درمیان سر زمینِ حَجۡر میں رہتے تھے ۔(ف137)میرے صدقِ نبوّت پر ۔(ف138)جس کا بیان یہ ہے کہ ۔(ف139)جو نہ کسی پیٹھ میں رہا ، نہ کسی پیٹ میں ، نہ کسی نر سے پیدا ہوا ، نہ مادہ سے ، نہ حمل میں رہا ، نہ اس کی خِلقَت تدریجاً کمال کو پہنچی بلکہ طریقۂ عادیہ کے خلاف وہ پہاڑ کے ایک پتھر سے دَفۡعتاً پیدا ہوا ۔ اس کی یہ پیدائش معجِزہ ہے پھر وہ ایک دن پانی پیتا ہے اور تمام قبیلۂ ثمود ایک دن ۔ یہ بھی معجِزہ ہے کہ ایک ناقہ ایک قبیلہ کے برابر پی جائے اس کے علاوہ اس کے پینے کے روز اس کا دودھ دوہا جاتا تھا اور وہ اتنا ہوتا تھا کہ تمام قبیلہ کو کافی ہو اور پانی کے قائم مقام ہو جائے یہ بھی معجِزہ اور تمام وُحُوش و حیوانات اس کی باری کے روز پانی پینے سے باز رہتے تھے یہ بھی معجزہ ۔ اتنے معجزات حضرت صالح علیہ السلام کے صدقِ نبوّت کی زبردست حُجّتیں ہیں ۔(ف140)نہ مارو ، نہ ہکاؤ ، اگر ایسا کیا تو یہی نتیجہ ہوگا ۔
اور یاد کرو (ف۱٤۱) جب تم کو عاد کا جانشین کیا اور ملک میں جگہ دی کہ نرم زمین میں محل بناتے ہو (ف۱٤۲) اور پہاڑوں میں مکان تراشتے ہو (ف۱٤۳) تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو (ف۱٤٤) اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو،
“And remember when He made you successors of A’ad and gave you a region in the earth, so you now build palaces in the soft plains and carve houses in rocks; therefore remember Allah’s favours and do not roam the earth spreading turmoil.”
और याद करो जब तुम को आद का जानशीन किया और मुल्क में जगह दी कि नरम ज़मीन में महल बनाते हो और पहाड़ों में मकान तराशते हो तो अल्लाह की नेमतें याद करो और ज़मीन में फ़साद मचाते न फिरो,
Aur yaad karo jab tum ko Aad ka janashin kiya aur mulk mein jagah di ke narm zameen mein mahal banate ho aur pahaadon mein makan taraashte ho to Allah ki ne’maten yaad karo aur zameen mein fasaad machaate na phiro,
(ف141)اے قومِ ثمود ۔(ف142)موسمِ گرما میں آرام کرنے کے لئے ۔(ف143)موسم سرما کے لئے ۔(ف144)اور اس کا شُکر بجا لاؤ ۔
اس کی قوم کے تکبر والے کمزور مسلمانوں سے بولے کیا تم جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کے رسول ہیں، بولے وہ جو کچھ لے کے بھیجے گئے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں (ف۱٤۵)
The proud leaders of his people (mockingly) said to the weak Muslims, “Do you know that Saleh is (really) the Noble Messenger of his Lord?” They said, “We believe in whatever he has been sent with.”
उसकी क़ौम के तकब्बुर वाले कमज़ोर मुसलमानों से बोले क्या तुम जानते हो कि सालेह अपने रब के रसूल हैं, बोले वह जो कुछ लेके भेजे गए हम इस पर ईमान रखते हैं
Us ki qawm ke takabbur wale kamzor musalmanon se bole kya tum jaante ho ke Saaleh apne Rab ke Rasool hain, bole woh jo kuch le ke bheje gaye hum us par imaan rakhte hain
(ف145)ان کے دین کو قبول کرتے ہیں ، ان کی رسالت کو مانتے ہیں ۔
پس (ف۱٤٦) ناقہ کی کوچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح! ہم پر لے آؤ (ف۱٤۷) جس کا تم سے وعد دے رہے ہو اگر تم رسول ہو،
So they hamstrung the she-camel and rebelled against the command of their Lord and said, “O Saleh! Bring upon us what you promise us, if you are a Noble Messenger.”
पस नाका की कूचें काट दीं और अपने रब के हुक्म से सरकशी की और बोले ऐ सालेह! हम पर ले आओ जिसका तुम से वादा दे रहे हो अगर तुम रसूल हो,
Pas naaqa ki koochein kaat di aur apne Rab ke hukm se sarkashi ki aur bole aye Saaleh! hum par le aao jiska tumse wa’da de rahe ho agar tum Rasool ho,
تو صالح نے ان سے منہ پھیرا (ف۱٤۸) اور کہا اے میری قوم! بیشک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچادی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کے غرضی (پسند کرنے والے) ہی نہیں،
Saleh therefore turned away from them and said, “O my people! Indeed I did deliver my Lord’s message to you and wished you good, but you do not want well-wishers.” (The people in the graves can hear the speech of those who are on earth.)
तो सालेह ने उनसे मुँह फेरा और कहा ऐ मेरी क़ौम! बेशक मैंने तुम्हें अपने रब की रसालत पहुँचा दी और तुम्हारा भला चाहा मगर तुम ख़ैरख़्वाहों के ग़रज़ी (पसन्द करने वाले) ही नहीं,
To Saaleh ne unse munh phera aur kaha aye meri qawm! beshak main ne tumhein apne Rab ki risaalat pohcha di aur tumhara bhala chaaha magar tum khairkhwahon ke gharsi (pasand karne wale) hi nahi,
(ف148)جب کہ انہوں نے سرکشی کی ۔ منقول ہے کہ ان لوگوں نے چَہار شَنبہ کو ناقہ کی کونچیں کاٹی تھیں تو حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا کہ تم اس کے بعد تین روز زندہ رہو گے ، پہلے روز تمہارے سب کے چہرے زَرۡ د ہو جائیں گے ، دوسرے روز سُرخ ، تیسرے روز سیاہ ، چوتھے روز عذاب آئے گا چنانچہ ا یسا ہی ہوا، یک شنبہ کو دوپہر کے قریب آسمان سے ایک ہَولناک آواز آئی جس سے ان لوگو ں کے دل پھٹ گئے اور سب ہلاک ہو گئے ۔
اور لوط کو بھیجا (ف۱٤۹) جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا وہ بےحیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی،
And We sent Lut – when he said to his people, “What! You commit the shameful acts which no one in the creation has ever done before you?”
और लूत को भेजा जब उसने अपनी क़ौम से कहा क्या वह बेहयाई करते हो जो तुम से पहले जहान में किसी ने न की,
Aur Loot ko bheja jab usne apni qawm se kaha kya woh be-hayaai karte ho jo tumse pehle jahan mein kisi ne na ki,
(ف149)جو حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بھتیجے ہیں آپ اہلِ سَد وم کی طرف بھیجے گئے اور جب آپ کے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شام کی طرف ہجرت کی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سر زمینِ فلسطین میں نُزول فرمایا اور حضرت لوط علیہ ا لسلام اُرۡدن میں اترے ۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو اہلِ سَدوم کی طرف مبعوث کیا آپ ان لوگوں کو دینِ حق کی دعوت دیتے تھے اور فعلِ بد سے روکتے تھے جیسا کہ آیت شریف میں ذکر آتا ہے ۔
تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو (ف۱۵۰) عورتیں چھوڑ کر، بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے (ف۱۵۱)
“You lustfully go towards men, instead of women! In fact, you have transgressed the limits.”
तुम तो मर्दों के पास शह्वत से जाते हो औरतें छोड़कर, बल्कि तुम लोग हद से गुजर गए
Tum to mardon ke paas shahwat se jaate ho auraton ko chhod kar, balkay tum log had se guzar gaye
(ف150)یعنی ان کے ساتھ بَد فعلی کرتے ہو ۔(ف151)کہ حلال کو چھوڑ کر حرام میں مبتلا ہوئے اور ایسے خبیث فعل کا ارتکاب کیا ۔ انسان کو شہوت بقائے نسل اور دنیا کی آبادی کے لئے دی گئی ہے اور عورتیں مَحلِّ شہوت و موضوعِ نسل بنائی گئی ہیں کہ ان سے بطریقۂ معروف حسبِ اجازتِ شرع اولاد حاصل کی جائے ، جب آدمیوں نے عورتوں کو چھوڑ کر ان کا کام مَردوں سے لینا چاہا تو وہ حد سے گزر گئے اور انہوں نے اس قوّت کے مقصدِ صحیح کو فوت کر دیا کیونکہ مَرد کو نہ حمل رہتا ہے نہ وہ بچّہ جنتا ہے تو اس کے ساتھ مشغول ہونا سوائے شیطانیت کے اور کیا ہے ! عُلَمائے سِیَر و اَخبار کا بیان ہے کہ قومِ لُوط کی بستیاں نہایت سرسبز و شاداب تھیں اور وہاں غَلّے اور پھل بکثرت پیدا ہوتے تھے زمین کا دوسرا خِطّہ اس کا مِثل نہ تھا اس لئے جا بجا سے لوگ یہاں آتے تھے اور انہیں پریشان کرتے تھے ، ایسے وقت میں اِبلیسِ لعین ایک بوڑھے کی صورت میں نمودار ہوا اور ان سے کہنے لگا کہ اگر تم مہمانوں کی اس کثرت سے نَجات چاہتے ہو تو جب وہ لوگ آئیں تو ان کے ساتھ بَد فعلی کرو ، اس طرح یہ فعلِ بَد انہوں نے شیطان سے سیکھا اور ان میں رائج ہوا ۔
اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان (ف۱۵۲) کو اپنی بستی سے نکال دو، یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں (ف۱۵۳)
And his people had no answer except to say, “Turn them out of your dwellings; these are people who wish purity!”
और उसकी क़ौम का कुछ जवाब न था मगर यही कहना कि इनको अपनी बस्ती से निकाल दो, ये लोग तो पाकीज़गी चाहते हैं
Aur us ki qawm ka kuch jawab na tha magar yahi kehna ke unko apni basti se nikal do, ye log to paakizgi chahte hain
(ف152)یعنی حضرت لوط اور انکے مُتّبِعین ۔(ف153)اور پاکیزگی ہی اچھی ہوتی ہے وہی قابلِ مدح ہے لیکن اس قوم کا ذوق اتنا خراب ہوگیا تھا کہ انہوں نے اس صفتِ مدح کو عیب قرار دیا ۔
اور ہم نے ان پر ایک مینھ برسایا (ف۱۵٦) تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا (ف۱۵۷)
And We rained a shower (of stones) upon them; therefore see what sort of fate befell the culprits!
और हमने उन पर एक मेंह बरसाया तो देखो कैसा अंजाम हुआ मुजरिमों का
Aur humne un par ek mehn barsaya to dekho kaisa anjaam hua mujrimoon ka
(ف156)عجیب طرح کا جس میں ایسے پتھر برسے کہ گندھک اور آ گ سے مرکَّب تھے ۔ ایک قول یہ ہے کہ بستی میں رہنے والے جو وہاں مقیم تھے وہ تو زمین میں دھنسا دیئے گئے اور جو سفر میں تھے وہ ا س بارش سے ہلاک کیے گئے ۔(ف157)مجاہد نے کہا کہ حضرت جبریل علیہ السلام نازِل ہوئے اور انہوں نے اپنا بازو قومِ لوط کی بستیوں کے نیچے ڈال کر اس خطہ کو اکھاڑ لیا اور آسمان کے قریب پہنچ کر اس کو اوندھا کر کے گرا دیا اور اسکے بعد پتھروں کی بارش کی گئی ۔
اور مدین کی طرف ان کی برادری سے شعیب کو بھیجا (ف۱۵۸) کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی (ف۱۵۹) تو ناپ اور تول پوری کرو اور لوگوں کی چیزیں گھٹا کر نہ دو (ف۱٦۰) اور زمین میں انتظام کے بعد فساد نہ پھیلاؤ، یہ تمہارا بھلا ہے اگر ایمان لاؤ،
And We sent Shuaib to Madyan from their community; he said, “O my people! Worship Allah – you do not have any God except Him; indeed a clear proof has come to you from your Lord, so measure and weigh in full and do not give the people their goods diminished, and do not spread turmoil in the earth after it is organised; this is for your good, if you believe.”
और मदयन की तरफ़ उनकी बरादरी से शुऐब को भेजा कहा ऐ मेरी क़ौम! अल्लाह की इबादत करो उसके सिवा तुम्हारा कोई माबूद नहीं, बेशक तुम्हारे पास तुम्हारे रब की तरफ़ से रौशन दलील आई तो नाप और तोल पूरी करो और लोगों की चीज़ें घटाकर न दो और ज़मीन में इंतिज़ाम के बाद फ़साद न फैलाओ, यह तुम्हारा भला है अगर ईमान लाओ,
Aur Madian ki taraf un ki baradari se Shoaib ko bheja kaha aye meri qawm! Allah ki ibadat karo us ke siwa tumhara koi ma’bood nahi, beshak tumhare paas tumhare Rab ki taraf se roshan daleel aayi to naap aur tol poori karo aur logon ki cheezein ghata kar na do aur zameen mein intizaam ke baad fasaad na phailaao, ye tumhara bhala hai agar imaan laao,
(ف158)حضرت شُعیب علیہ السلام نے ۔(ف159)جس سے میری نبوّت و رِسالت یقینی طور پر ثابت ہوتی ہے ، اس دلیل سے معجِزہ مراد ہے ۔(ف160)ان کے حق دیانت داری کے ساتھ پورے پورے ادا کرو ۔
اور ہر راستہ پر یوں نہ بیٹھو کہ راہگیروں کو ڈراؤ اور اللہ کی راہ سے انہیں روکو (ف۱٦۱) جو اس پر ایمان لائے اور اس میں کجی چاہو، اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے اس نے تمہیں بڑھا دیا (ف۱٦۲) اور دیکھو (ف۱٦۳) فسادیوں کا کیسا انجام ہوا،
“And do not be seated on every road in order to scare the travellers, and to prevent from Allah’s path the people who believe in Him, wishing to distort it; and remember when you were few and He increased your numbers; and see what sort of fate befell the mischievous!”
और हर रास्ता पर यूँ न बैठो कि राहगीरों को डराओ और अल्लाह की राह से उन्हें रोको जो उस पर ईमान लाए और उसमें कजी चाहो, और याद करो जब तुम थोड़े थे उसने तुम्हें बढ़ा दिया और देखो फ़सादियों का कैसा अंजाम हुआ,
Aur har raaste par yun na baitho ke raahgeeron ko daraao aur Allah ki raah se unhein roko jo us par imaan laaye aur us mein kaji chaho, aur yaad karo jab tum thode the usne tumhein barha diya aur dekho fasaadiyon ka kaisa anjaam hua,
(ف161)اور دین کا اِتّباع کرنے میں لوگوں کے لئے سدِّ راہ نہ بنو ۔(ف162)تمہاری تعداد زیادہ کردی تو اس کی نعمت کا شکر کرو اور ایمان لاؤ ۔(ف163)بہ نگاہِ عبرت پچھلی اُمّتوں کے احوال اور گزرے ہوئے زمانوں میں سرکشی کرنے والوں کے انجام و مآ ل دیکھو اور سوچو ۔
اور اگر تم میں ایک گروہ اس پر ایمان لایا جو میں لے کر بھیجا گیا اور ایک گروہ نے نہ مانا (ف۱٦٤) تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ اللہ ہم میں فیصلہ کرے (ف۱٦۵) اور اللہ کا فیصلہ سب سے بہتر (ف۱٦٦)
“And if a group among you believes in what I have been sent with, and another group does not believe, then wait until Allah judges between us; and Allah’s judgement is the best of all.”
और अगर तुम में एक गिरोह उस पर ईमान लाया जो मैं ले कर भेजा गया और एक गिरोह ने न माना तो ठहरे रहो यहाँ तक कि अल्लाह हम में फ़ैसला करे और अल्लाह का फ़ैसला सबसे बेहतर
Aur agar tum mein ek giroh us par imaan laya jo main le kar bheja gaya aur ek giroh ne na maána to thahre raho yahan tak ke Allah hum mein faisla kare aur Allah ka faisla sab se behtar,
(ف164)یعنی اگر تم میری رسالت میں اختلاف کرکے دو فرقے ہوگئے ایک فرقے نے مانا اور ایک منکِر ہوا ۔(ف165)کہ تصدیق کرنے والے ایمانداروں کو عزّت دے اور انکی مدد فرمائے اور جھٹلانے والے منکرین کو ہلاک کرے اور انہیں عذاب دے ۔(ف166)کیونکہ وہ حاکمِ حقیقی ہے ۔
اس کی قوم کے متکبر سردار بولے، اے شعیب قسم ہے کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین میں آجاؤ کہا (ف۱٦۷) کیا اگرچہ ہم بیزار ہوں (ف۱٦۸)
The proud leaders of his people said, “O Shuaib, we swear we will banish you and the Muslims who are with you, from our town or you must return to our religion”; he said, “Even though we detest it?”
उसकी क़ौम के मुतकब्बिर सरदार बोले, ऐ शुऐब क़सम है कि हम तुम्हें और तुम्हारे साथ वाले मुसलमानों को अपनी बस्ती से निकाल देंगे या तुम हमारे दीन में आ जाओ कहा क्या अगर हम बेज़ार हों
Us ki qawm ke mutakabbir sardar bole, aye Shoaib qasam hai ke hum tumhein aur tumhare sath wale musalmanon ko apni basti se nikal denge ya tum hamare deen mein aa jao, kaha kya agarche hum be-zaar hon,
(ف167)حضرت شُعیب علیہ السلام نے ۔(ف168)حاصل مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارا دین نہ قبول کریں گے اور اگر تم نے ہم پر جبر کیا جب بھی نہ مانیں گے کیونکہ ۔
ضرور ہم اللہ پر جھوٹ باندھیں گے اگر تمہارے دین میں آجائیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس سے بچایا ہے (ف۱٦۹) اور ہم مسلمانوں میں کسی کا کام نہیں کہ تمہارے دین میں آئے مگر یہ کہ اللہ چاہے (ف۱۷۰) جو ہمارا رب ہے، ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، اللہ ہی پر بھروسہ کیا (ف۱۷۱) اے ہمارے رب! ہم میں اور ہماری قوم میں حق فیصلہ کر (ف۱۷۲) اور تیرا فیصلہ سب سے بہتر ہے،
“We shall then have fabricated a lie against Allah if we return to your religion after Allah has rescued us from it; and it is not for any of us Muslims to return to your religion except if Allah, Who is our Lord, wills; the knowledge of our Lord encompasses all things; in Allah only we have trusted; our Lord! Decide with justice between us and our people – and Yours is the best decision.”
ज़रूर हम अल्लाह पर झूट बाँधेंगे अगर तुम्हारे दीन में आ जाएँ बाद इसके कि अल्लाह ने हमें उस से बचाया है और हम मुसलमानों में किसी का काम नहीं कि तुम्हारे दीन में आए मगर यह कि अल्लाह चाहे जो हमारा रब है, हमारे रब का इल्म हर चीज़ को मुहीत है, अल्लाह ही पर भरोसा किया ऐ हमारे रब! हम में और हमारी क़ौम में हक़ फ़ैसला कर और तेरा फ़ैसला सबसे बेहतर है,
Zaroor hum Allah par jhoot bandhenge agar tumhare deen mein aa jaen baad is ke ke Allah ne humein us se bachaaya hai aur hum musalmanon mein kisi ka kaam nahi ke tumhare deen mein aaye magar ye ke Allah chahe jo hamara Rab hai, hamare Rab ka ilm har cheez ko muheet hai, Allah hi par bharosa kiya aye hamare Rab! hum mein aur hamari qawm mein haq faisla kar aur tera faisla sab se behtar hai,
(ف169)اور تمہارے دینِ باطل کے قُبح و فساد کا علم دیا ہے ۔(ف170)اور اس کو ہلاک کرنا منظور ہو اور ایسا ہی مقدّر ہو ۔(ف171)اپنے تمام اُمور میں ، وہی ہمیں ایمان پر ثابت رکھے گا وہی زیادتِ اِیقان کی توفیق دے گا ۔(ف172)زُ جاج نے کہا کہ اس کے یہ معنٰی ہو سکتے ہیں کہ اے ربّ ہمارے امر کو ظاہر فرما دے ۔ مراد اس سے یہ ہے کہ ان پر ایسا عذاب نازِل فرما جس سے ان کا باطل پر ہونا اور حضرت شُعیب علیہ السلام اور ان کے مُتّبِعین کا حق پر ہونا ظاہر ہو ۔
تو انہیں زلز لہ نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے (ف۱۷۳)
Therefore the earthquake seized them – so at morning they remained lying flattened in their homes.
तो उन्हें ज़लज़ला ने आ लिया तो सुबह अपने घरों में औंधे पड़े रह गए
To unhein zalzala ne a liya to subah apne gharon mein undhe pade reh gaye
(ف173)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے اس قوم پر جہنّم کا دروازہ کھولا اور ان پر دوزخ کی شدید گرمی بھیجی جس سے سانس بند ہوگئے ، اب نہ انہیں سایہ کام دیتا تھا نہ پانی اس حالت میں وہ تِہ خانہ میں داخل ہوئے تاکہ وہاں انہیں کچھ امن ملے لیکن وہاں باہر سے زیادہ گرمی تھی وہاں سے نکل کر جنگل کی طرف بھاگے ، اللہ تعالٰی نے ایک اَبر بھیجا جس میں نہایت سرد اور خوش گوار ہوا تھی ، اس کے سایہ میں آئے اور ایک نے دوسرے کو پُکار پُکار کر جمع کر لیا ، مرد ، عورتیں ، بچّے سب مجتمع ہوگئے تو وہ بحکمِ الٰہی آ گ بن کر بھڑک اُٹھا اور وہ اس میں اس طرح جل گئے جیسے بھاڑ میں کوئی چیز بُھن جاتی ہے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت شُعیب علیہ السلام کو اصحابِ ایکہ کی طرف بھی مبعوث فرمایا تھا اور اہلِ مَدۡ یَن کی طرف بھی ۔ اصحابِ ایکہ تو اَ بر سے ہلاک کئے گئے اور اہلِ مَدۡ یَن زلزلہ میں گرفتار ہوئے اور ایک ہولناک آواز سے ہلاک ہوگئے ۔
تو شعیب نے ان سے منہ پھیرا (ف۱۷٤) اور کہا اے میری قوم! میں تمہیں رب کی رسالت پہنچا چکا اور تمہارے بھلے کو نصیحت کی (ف۱۷۵) تو کیونکر غم کروں کافروں کا،
So Shoaib turned away from them saying, “O my people! Indeed I did deliver my Lord’s message to you and gave you sound advice; so why should I grieve for the disbelievers?” (The people in the graves can hear the speech of those who are on earth.)
तो शुऐब ने उनसे मुँह फेरा और कहा ऐ मेरी क़ौम! मैं तुम्हें रब की रिसालत पहुँचा चुका और तुम्हारे भले को नसीहत की तो क्योंकर ग़म करूँ काफ़िरों का,
To Shoaib ne unse munh phera aur kaha aye meri qawm! main tumhein Rab ki risaalat pohcha chuka aur tumhare bhale ko naseehat ki to kyun kar gham karun kaafiron ka,
(ف174)جب ان پر عذاب آیا ۔(ف175)مگر تم کسی طرح ایمان نہ لائے ۔
اور نہ بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی (ف۱۷٦) مگر یہ کہ اس کے لوگوں کو سختی اور تکلیف میں پکڑا (ف۱۷۷) کہ وہ کسی طرح زاری کریں (ف۱۷۸)
And never did We send any Prophet to a dwelling but We seized its people with hardship and adversity so that they may become humble.
और न भेजा हमने किसी बस्ती में कोई नबी मगर यह कि उसके लोगों को सख़्ती और तकलीफ़ में पकड़ा कि वह किसी तरह ज़ारी करें
Aur na bheja humne kisi basti mein koi Nabi magar ye ke us ke logon ko sakhti aur takleef mein pakda ke woh kisi tarah zari karein
(ف176)جس کو اس کی قوم نے نہ جھٹلایا ہو ۔(ف177)فَقر و تنگدستی اور مَرض و بیماری میں گرفتار کیا ۔(ف178)تکبُّر چھوڑیں ، توبہ کریں ، حکمِ الٰہی کے مطیع بنیں ۔
پھر ہم نے برائی کی جگہ بھلائی بدل دی (ف۱۷۹) یہاں تک کہ وہ بہت ہوگئے (ف۱۸۰) اور بولے بیشک ہمارے باپ دادا کو رنج و راحت پہنچے تھے (ف۱۸۱) تو ہم نے انہیں اچانک ان کی غفلت میں پکڑ لیا (ف۱۸۲)
Then We changed the misfortune into prosperity to the extent that they became numerous and said, “Indeed grief and comfort did reach our ancestors” – so We seized them suddenly in their neglect.
फिर हमने बुराई की जगह भलाई बदल दी यहाँ तक कि वह बहुत हो गए और बोले बेशक हमारे बाप दादा को रंज व राहत पहुँचे थे तो हमने उन्हें अचानक उनकी ग़फ़लत में पकड़ लिया
Phir humne burai ki jagah bhalai badal di yahan tak ke woh bohot ho gaye aur bole beshak hamare baap dada ko ranj o rahat pohche the to humne unhein achaanak un ki ghaflat mein pakad liya
(ف179)کہ سختی و تکلیف کے بعد راحت و آسائش پہنچنا اور بدنی و مالی نعمتیں ملنا اِطاعت و شکر گزاری کا مُسدَدۡعِی ہے ۔(ف180)انکی تعداد بھی زیادہ ہوئی اور مال بھی بڑھے ۔(ف181)یعنی زمانہ کا دستور ہی یہ ہے کبھی تکلیف ہوتی ہے کبھی راحت ۔ ہمارے باپ دادا پر بھی ایسے احوال گذر چکے ہیں ۔ اس سے ان کا مُدّعا یہ تھا کہ پچھلا زمانہ جو سختیوں میں گذرا ہے وہ اللہ تعالٰی کی طرف سے کچھ عُقوبت و سزا نہ تھا تو اپنا دین ترک کرنا نہ چاہئے نہ ان لوگوں نے شدّت و تکلیف سے کچھ نصیحت حاصل کی نہ راحت و آرام سے ان میں کوئی جذبۂ شکر و طاعت پیدا ہوا وہ غَفۡلت میں سرشار رہے ۔(ف182)جب کہ انہیں عذاب کا خیال بھی نہ تھا ۔ ان واقعات سے عبرت حاصل کرنی چاہئے اور بندوں کو گناہ و سرکشی ترک کرکے اپنے مالِک کا رضا جُو ہونا چاہئے ۔
اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور ڈرتے (ف۱۸۳) تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے (ف۱۸٤) مگر انہوں نے تو جھٹلایا (ف۱۸۵) تو ہم نے انہیں ان کے کیے پر گرفتار کیا (ف۱۸٦)
And had the people of the dwellings believed and been pious, We would have surely opened for them the blessings from the sky and from the earth, but in fact they denied, and We therefore seized them on account of their deeds.
और अगर बस्तियों वाले ईमान लाते और डरते तो ज़रूर हम उन पर आसमान और ज़मीन से बरकतें खोल देते मगर उन्होंने तो झुटलाया तो हमने उन्हें उनके किए पर गिरफ़्तार किया
Aur agar bastiyon wale imaan laate aur darte to zaroor hum un par aasman aur zameen se barkatein khol dete magar unhon ne to jhutlaya to humne unhein un ke kiye par giraftar kiya
(ف183)اور خدا اور رسول کی اِطاعت اختیار کرتے اور جس چیز کو اللہ اور رسول نے منع فرمایا اس سے باز رہتے ۔(ف184)ہر طرف سے انہیں خیر پہنچتی ، وقت پر نافِع اور مفید بارشیں ہوتیں ، زمین سے کھیتی پھل بکثرت پیدا ہوتے ، رزق کی فراخی ہوتی ، امن و سلامتی رہتی ، آفتوں سے محفوظ رہتے ۔(ف185)اللہ کے رسولوں کو ۔(ف186)اور اَنواعِ عذاب میں مُبتلا کیا ۔
کیا اللہ کی خفی تدبیر سے بےخبر ہیں (ف۱۸۹) تو اللہ کی خفی تدبیر سے نذر نہیں ہوتے مگر تباہی والے (ف۱۹۰)
Are they oblivious to Allah’s secret plan? So none is unafraid of Allah’s secret plan except the people of ruin!
क्या अल्लाह की ख़फ़ी तदबीर से बेख़बर हैं तो अल्लाह की ख़फ़ी तदबीर से नज़र नहीं होते मगर तबाही वाले
Kya Allah ki khafi tadbeer se be khabar hain to Allah ki khafi tadbeer se nazar nahi hote magar tabahi wale
(ف189)اور اس کے ڈھیل دینے اور دُنیوی نعمت دینے پر مغرور ہو کر اس کے عذاب سے بے فکر ہوگئے ہیں ۔(ف190)اور اس کے مُخلِص بندے اس کا خوف رکھتے ہیں ۔ رَبیع بن خَثیم کی صاحبزادی نے ان سے کہا کیا سبب ہے میں دیکھتی ہوں سب لوگ سوتے ہیں اور آپ نہیں سوتے ہیں ؟ فرمایا ! اے نورِ نظر ، تیرا باپ شَب کو سونے سے ڈرتا ہے یعنی یہ کہ غافل ہو کر سوجانا کہیں سببِ عذاب نہ ہو ۔
اور کیا وہ جو زمین کے ما لکوں کے بعد اس کے وارث ہوئے انہیں اتنی ہدایت نہ ملی کہ ہم چاہیں تو انہیں ان کے گناہوں پر آفت پہنچائیں (ف۱۹۱) اور ہم ان کے دلوں پر مہر کرتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سنتے (ف۱۹۲)
Or did not those who inherited the land after its owners, get enough guidance that if We will, We can afflict them with calamity for their sins? And We set seals upon their hearts so they do not hear.
और क्या वह जो ज़मीन के मालिकों के बाद उसके वारिस हुए उन्हें इतनी हिदायत न मिली कि हम चाहें तो उन्हें उनके गुनाहों पर आफ़त पहुँचाएँ और हम उनके दिलों पर मुहर करते हैं कि वह कुछ नहीं सुनते
Aur kya woh jo zameen ke maalikon ke baad us ke waaris hue unhein itni hidayat na mili ke hum chahein to unhein un ke gunahon par aafat pohchaen aur hum un ke dilon par mohar karte hain ke woh kuch nahi sunte
(ف191)جیسا کہ ہم نے ان کے مَورِثوں کو ان کی نافرمانی کے سبب ہلاک کیا ۔(ف192)اور کوئی پَند و نصیحت نہیں مانتے ۔
یہ بستیاں ہیں (ف۱۹۳) جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں (ف۱۹٤) اور بیشک ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں (ف۱۹۵) لے کر آئے تو وہ (ف۱۹٦) اس قابل نہ ہوئے کہ وہ اس پر ایمان لاتے جسے پہلے جھٹلاچکے تھے (ف۱۹۷) اللہ یونہی چھاپ لگادیتا ہے کافروں کے دلوں پر (ف۱۹۸)
These are the dwellings – the affairs of which We relate to you (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); and indeed their (respective) Noble Messengers came to them with clear proofs; so they were not able to believe in what they had denied before; this is how Allah sets seals upon the hearts of disbelievers.
यह बस्तियाँ हैं जिनके अहवाल हम तुम्हें सुनाते हैं और बेशक उनके पास उनके रसूल रोशन दलीलें ले कर आए तो वह उस क़ाबिल न हुए कि वह उस पर ईमान लाते जिसे पहले झुटला चुके थे अल्लाह यूँही छाप लगा देता है काफ़िरों के दिलों पर
Ye bastiyan hain jin ke ahwaal hum tumhein sunate hain aur be-shak un ke paas un ke Rasool roshan daleelen le kar aaye to woh is qabil na hue ke woh is par imaan laate jise pehle jhutla chuke the Allah yunhi chaap laga deta hai kafiron ke dilon par
(ف193)قوم حضرت نوح اور عاد و ثمود اور قوم حضرت لُوط وقوم حضرت شعیب کی ۔(ف194)تاکہ معلوم ہو کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والوں کی اپنے دشمنوں یعنی کافِروں کے مُقابلہ میں مدد کیا کرتے ہیں ۔(ف195)یعنی مُعجزاتِ باہِرات ۔(ف196)تا دَمِ مَرۡ گ ۔(ف197)اپنے کُفر و تکذیب پر جمے ہی رہے ۔(ف198)جن کی نسبت اس کے علم میں ہے کہ کُفر پر قائم رہیں گے اور کبھی ایمان نہ لائیں گے ۔
اور ان میں اکثر کو ہم نے قول کا سچا نہ پایا (ف۱۹۹) اور ضرور ان میں اکثر کو بےحکم ہی پایا، پھر ان (ف۲۰۰) کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں (ف۲۰۱) کے ساتھ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو
And We found most of them not true to their words; and indeed We found most of them disobedient.
और उनमें अक्सर को हमने क़ौल का सच्चा न पाया और ज़रूर उनमें अक्सर को बे हुक्म ही पाया,
फिर उनके बाद हमने मूसा को अपनी निशानियों के साथ फ़िरऔन और उसके दरबारियों की तरफ़ भेजा तो
Aur un mein aksar ko hum ne qoul ka sacha na paya aur zaroor un mein aksar ko be-hukum hi paya,
Phir un ke baad hum ne Moosa ko apni nishaniyon ke saath Firaun aur us ke darbariyon ki taraf bheja to
(ف199)انہوں نے اللہ کے عہد پورے نہ کئے ان پر جب کبھی کوئی مصیبت آتی تو عہد کرتے کہ یاربّ تو اگر اس سے ہمیں نَجات دے تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نَجات پاتے عہد سے پِھر جاتے ۔ (مَدارِک)
انہوں نے ان نشانیوں پر زیادتی کی (ف۲۰۲) تو دیکھو کیسا انجام ہوا مفسدوں کا،
Then after them, We sent Moosa with our signs to Firaun and his court members, but they did injustice to those signs; therefore see what sort of fate befell the mischievous!
उन्होंने उन निशानियों पर ज़्यादती की तो देखो कैसा अंजाम हुआ मुफ़्सिदों का,
unhon ne un nishaniyon par zyadaati ki to dekho kaisa anjaam hua mufsidon ka,
(ف200)انبیاءِ مذکورین ۔(ف201)یعنی مُعجزاتِ وَاضِحات مثل یَدِ بَیۡضا وعصا وغیرہ ۔(ف202)انہیں جھٹلایا اور کُفر کیا ۔
مجھے سزاوار ہے کہ اللہ پر نہ کہوں مگر سچی بات (ف۲۰۳) میں تم سب کے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں (ف۲۰٤) تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے (ف۲۰۵)
“It is obligatory for me not to speak concerning Allah except the truth; I have come to you all with a clear sign from your Lord, therefore let the Descendants of Israel go with me.”
मुझे सज़ावार है कि अल्लाह पर न कहूँ मगर सच्ची बात मैं तुम सब के पास तुम्हारे रब की तरफ़ से निशानी ले कर आया हूँ तो बनी इस्राईल को मेरे साथ छोड़ दे
Mujhe sazawaar hai ke Allah par na kahoon magar sachi baat main tum sab ke paas tumhare Rab ki taraf se nishani le kar aaya hoon to Bani Israeel ko mere saath chhod de
(ف203)کیونکہ رسول کی یہی شان ہے وہ کبھی غلط بات نہیں کہتے اور تبلیغِ رِسالت میں ان کا کِذب مُمکِن نہیں ۔(ف204)جس سے میری رسالت ثابت ہے اور وہ نشانی مُعجزات ہیں ۔(ف205)اور اپنی قید سے آزاد کر دے تاکہ وہ میرے ساتھ اَرضِ مُقدّسہ میں چلے جائیں جو ان کا وطن ہے ۔
تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا وہ فورا ً ایک ظاہر اژدہا ہوگیا (ف۲۰٦)
Therefore Moosa put down his staff – it immediately turned into a visible python.
तो मूसा ने अपना असीा डाल दिया वह फ़ौरन एक ज़ाहिर अजदहा हो गया
To Moosa ne apna asa daal diya woh foran ek zaahir ajdaha ho gaya
(ف206)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسّلام نے عصا ڈالا تو وہ ایک بڑا اژدہا بن گیا زَرۡ د رنگ ، مُنہ کھولے ہوئے ، زمین سے ایک مِیل اونچا ، اپنی دُم پر کھڑا ہوگیا اور ایک جبڑا اس نے زمین پر رکھا اور ایک قصرِ شاہی کی دیوار پر پھر اس نے فرعون کی طرف رُخ کیا تو فرعون اپنے تخت سے کُود کر بھاگا اور ڈر سے اس کی رِیح نِکل گئی اور لوگوں کی طرف رُخ کیا تو ایسی بھاگ پڑی کہ ہزاروں آدمی آپس میں کُچَل کر مَر گئے ۔ فرعون گھر میں جا کر چیخنے لگا اے موسٰی ! تمہیں اس کی قسم جس نے تمہیں رسول بنایا اس کو پکڑ لو میں تم پر ایمان لاتا ہوں اور تمہارے ساتھ بَنی اِسرائیل کو بھیجے دیتا ہوں ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس کو اُٹھا لیا تو وہ مثلِ سابِق عصا تھا ۔
بولے اے موسیٰ یا تو (ف۲۱۲) آپ ڈالیں یا ہم ڈالنے والے ہوں (ف۲۱۳)
They said, “O Moosa! You may throw first – or shall we be the first to throw?”
बोले ऐ मूसा या तो आप डालें या हम डालने वाले हों
Bole ae Moosa ya to aap daalen ya hum daalne wale hon
(ف212)پہلے اپنا عصا ۔(ف213)جادُوگروں نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا یہ ادب کیا کہ آپ کو مُقَدّم کیا اور بغیر آپ کی اجازت کے اپنے عمل میں مشغول نہ ہوئے ، اس ادب کا عِوض انہیں یہ ملا کہ اللہ تعالٰی نے انہیں ایمان و ہدایت کے ساتھ مُشَرّف کیا ۔
کہا تمہیں ڈالو (ف۲۱٤) جب انہوں نے ڈالا (ف۲۱۵) لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں ڈرایا اور بڑا جادو لائے،
He said, “You throw”; when they threw, they cast a magic spell upon the people’s eyes and terrified them, and they brought a great magic.
कहा तुम ही डालो जब उन्होंने डाला लोगों की आँखों पर जादू कर दिया और उन्हें डराया और बड़ा जादू लाए,
Kaha tum daalo jab unhon ne daala logon ki aankhon par jadoo kar diya aur unhein daraya aur bara jadoo laaye,
(ف214)یہ فرمانا حضرت موسٰی علیہ السلام کا اس لئے تھا کہ آپ ان کی کچھ پروا ہ نہیں کرتے تھے اور اعتمادِ کامل رکھتے تھے کہ ان کے معجزے کے سامنے سِحر ناکام و مَغلوب ہوگا ۔(ف215)اپنا سامان جس میں بڑے بڑے رَسّے اور شَہتیر تھے تو وہ اَژدھے نظر آنے لگے اور میدان ان سے بھرا معلوم ہونے لگا ۔
اور ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ اپنا عصا ڈال تو ناگاہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا (ف۲۱٦)
And We inspired Moosa that, “Put forth your staff”; it immediately began swallowing up their fabrications.
और हमने मूसा को वही फ़रमाई कि अपना असीा डाल तो नायगाह उनकी बनावटों को निगलने लगा
Aur hum ne Moosa ko wahi farmaayi ke apna asa daal to na-gah un ki banawaton ko nigalne laga
(ف216)جب حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنا عصا ڈالا تو وہ ایک عظیمُ الشّان اَژدہا بن گیا ۔ ابنِ زید کا قول ہے کہ یہ اجتماع اِسکندریہ میں ہوا تھا اور حضرت موسٰی علیہ السّلام کے اَژدھے کی دُم سَمُندر کے پار پہنچ گئی تھی ، وہ جادو گَروں کی سِحر کاریوں کو ایک ایک کر کے نِگل گیا اور تمام رَسّے و لَٹّھے جو انہوں نے جمع کئے تھے جو تین سو اُونٹ کا بار تھے سب کا خاتِمہ کر دیا ، جب موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اس کو دستِ مبارَک میں لیا تو پہلے کی طرح عصا ہوگیا اور اس کا حُجم اور وَزن اپنے حال پر رہا ، یہ دیکھ کر جادو گَروں نے پہچان لیا کہ عصائے موسٰی سِحر نہیں اور قدرتِ بَشَری ایسا کرشمہ نہیں دِکھا سکتی ، ضرور یہ اَمۡرِ سَماوی ہے ۔ یہ بات سمجھ کر وہ اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ کہتے ہوئے سجدے میں گر گئے ۔
فرعون بولا تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، یہ تو بڑا جعل (فریب) ہے جو تم سب نے (ف۲۱۸) شہر میں پھیلایا ہے کہ شہر والوں کو اس سے نکال دو (ف۲۱۹) تو اب جان جاؤ گے (ف۲۲۰)
Said Firaun, “You have accepted faith in Him before I gave you permission! This is indeed a grand conspiracy you have plotted in the city, in order to expel its people from it; so now you will come to know!”
फ़िरऔन बोला तुम इस पर ईमान ले आए क़बल इस के कि मैं तुम्हें इजाज़त दूँ, यह तो बड़ा जाल (फ़रेब) है जो तुम सब ने शहर में फैलाया है कि शहर वालों को इससे निकाल दो तो अब जान जाओगे
Firaun bola tum is par imaan le aaye qabl is ke ke main tumhein ijaazat doon, ye to bara jaal (fareb) hai jo tum sab ne shehar mein phailaaya hai ke shehar walon ko is se nikal do to ab jaan jao ge
(ف218)یعنی تم نے اور حضرت موسٰی علیہ السّلام نے سب نے مُتّفِق ہو کر ۔(ف219)اور خود اس پر مسلّط ہو جاؤ ۔(ف220)کہ میں تمہارے ساتھ کس طرح پیش آتا ہوں ۔
قسم ہے کہ میں تمہارے ایک طرف کہ ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا پھر تم سب کو سُو لی دوں گا (ف۲۲۱)
“I swear I will cut off your hands and your feet from alternate sides and then crucify you all.”
क़सम है कि मैं तुम्हारे एक तरफ़ के हाथ और दूसरी तरफ़ के पाँव काटूँगा फिर तुम सब को सूली दूँगा
Qasam hai ke main tumhare ek taraf ke haath aur doosri taraf ke paon kaatoon ga phir tum sab ko sooli doonga
(ف221)نِیل کے کنارے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ دنیامیں پہلا سُولی دینے والا ، پہلا ہاتھ پاؤں کاٹنے والا فرعون ہے ۔ فرعون کی اس گفتگو پر جادو گَروں نے یہ جواب دیا جو اگلی آیت میں مذکور ہے ۔
(ف222)تو ہمیں موت کا کیا غم کیونکہ مَر کر ہمیں اپنے ربّ کی لِقاء اوراس کی رَحمت نصیب ہوگی اور جب سب کو اسی کی طرف رُجوع کرنا ہے تو وہ خود ہمارے تیرے درمیان فیصلہ فرما دے گا ۔
اور تجھے ہمارا کیا برا لگا یہی نہ کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لائے جب وہ ہمارے پاس آئیں، اے رب ہمارے! ہم پر صبر انڈیل دے (ف۲۲۳) اور ہمیں مسلمان اٹھا (ف۲۲٤)
“And what did you dislike in us, except that we believed in the signs of our Lord when they came to us? Our Lord! Pour (bestow abundantly) patience on us, and bestow us death as Muslims.”
और तुझे हमारा क्या बुरा लगा यही न कि हम अपने रब की निशानियों पर ईमान लाए जब वह हमारे पास आएँ, ऐ रब हमारे! हम पर सब्र उँडेल दे और हमें मुसलमान उठा
Aur tujhe hamara kya bura laga yehi na ke hum apne Rab ki nishaniyon par imaan laaye jab woh hamare paas aayein, ae Rab hamare! hum par sabr andeil de aur humein Musalman uthaa
(ف223)یعنی ہم کو صَبرِ کامِل تام عطا فرما اور اس کثرت سے عطا فرما جیسے پانی کسی پر اُنڈیل دیا جاتا ہے ۔(ف224)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ لوگ دن کے اوّل وقت میں جادو گَر تھے اور اسی روز آخر وقت میں شہید ۔
اور قوم فرعون کے سردار بولے کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو اس لیے چھوڑتا ہے کہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں (ف۲۲۵) اور موسیٰ تجھے اور تیرے ٹھہرائے ہوئے معبودوں کو چھوڑ دے (ف۲۲٦) بولا اب ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی بیٹیاں زندہ رکھیں گے اور ہم بیشک ان پر غالب ہیں (ف۲۲۷)
The chieftains of Firaun’s people said, “Are you releasing Moosa and his people to cause turmoil in the land, and for Moosa to abandon you and your appointed deities?” He said, “We shall now slay their sons and spare their women; and indeed we have power over them.”
और क़ौम फ़िरऔन के सरदार बोले क्या तू मूसा और उसकी क़ौम को इस लिए छोड़ता है कि वह ज़मीन में फ़साद फैलाएँ और मूसा तुझे और तेरे ठहराए हुए माबूदों को छोड़ दे बोला अब हम उनके बेटों को क़त्ल करेंगे और उनकी बेटियाँ ज़िंदा रखेंगे और हम बेशक उन पर ग़ालिब हैं
Aur qoum-e-Firaun ke sardaar bole kya tu Moosa aur us ki qoum ko is liye chhodta hai ke woh zameen mein fasaad phailaayein aur Moosa tujhe aur tere thehraaye hue ma’boodon ko chhod de bola ab hum un ke beton ko qatal karenge aur un ki betiyan zinda rakhenge aur hum be-shak un par ghaalib hain
(ف225)یعنی مِصر میں تیری مُخالفت کریں اور وہاں کے باشندوں کا دین بدلیں اور یہ انہوں نے اس لئے کہا تھا کہ ساحِروں کے ساتھ چھ لاکھ آدمی ایمان لے آئے تھے ۔ (مَدارِک) (ف226)کہ نہ تیری عبادت کریں نہ تیرے مقرّر کئے ہوئے معبودوں کی ۔ سدی کا قول ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کے لئے بُت بنوا دیئے تھے اور ان کی عبادت کرنے کا حکم دیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تمہارا بھی ربّ ہوں اور ان بُتوں کا بھی ۔ بعض مُفسِّرین نے فرمایا کہ فرعون دَہۡرِی تھا یعنی صانِعِ عالَم کے وجود کا مُنکِر ، اس کا خیال تھا کہ عالَمِ سَفلی کے مُدبِّر کَواکِب ہیں اسی لئے اس نے ستاروں کی صورتوں پر بُت بنوائے تھے ان کی خود بھی عبادت کرتا تھا اور دوسروں کو بھی ان کی عبادت کا حکم دیتا تھا اور اپنے آپ کو مطاع و مَخدُوم زمین کا کہتا تھا اسی لئے اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی کہتا تھا ۔(ف227)قومِ فرعون کے سرداروں نے فرعون سے یہ جو کہا تھا کہ کیا تو موسٰی اور اس کی قوم کو اس لئے چھوڑتا ہے کہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں ، اس سے ان کا مطلب فرعون کو حضرت موسٰی علیہ السلام کے اور آپ کی قوم کے قتل پر اُبھارنا تھا جب انہوں نے ایسا کیا تو موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ان کو نُزولِ عذاب کا خوف دلایا اور فرعون اپنی قوم کی خواہش پر قدرت نہیں رکھتا تھا کیونکہ وہ حضرت موسٰی علیہ السلام کے معجزے کی قوّت سے مَرعُوب ہو چکا تھا اسی لئے اس نے اپنی قوم سے یہ کہا کہ ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کریں گے ، لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے ۔ اس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ اس طرح قومِ حضرت موسٰی علیہ السلام کی تعداد گھٹا کر ان کی قوّت کم کریں گے اور عوام میں اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ بھی کہہ دیا کہ ہم بے شک ان پر غالب ہیں لیکن فرعون کے اس قول سے کہ ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کریں گے ، بنی اسرائیل میں کچھ پریشانی پیدا ہوگئی اور انہوں نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سے اس کی شکایت کی ، اس کے جواب میں حضرت موسٰی علیہ السلام نے یہ فرمایا ۔ ( جو اس کے بعد آتاہے )
موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ کی مدد چاہو (ف۲۲۸) اور صبر کرو (ف۲۲۹) بیشک زمین کا مالک اللہ ہے (ف۲۳۰) اپنے بندوں میں جسے چاہے وارث بنائے (ف۲۳۱) اور آخر میدان پرہیزگاروں کے ہاتھ ہے (ف۲۳۲)
Moosa said to his people, “Seek the help of Allah and patiently endure; indeed the Owner of the earth is Allah – He appoints as its successor whomever He wills; and the final triumph is for the pious.”
मूसा ने अपनी क़ौम से फ़रमाया अल्लाह की मदद चाहो और सब्र करो बेशक ज़मीन का मालिक अल्लाह है अपने बंदों में जिसे चाहे वारिस बनाए और आख़िर मैदान परहेज़गारों के हाथ है
Moosa ne apni qoum se farmaya Allah ki madad chaaho aur sabr karo be-shak zameen ka malik Allah hai apne bandon mein jise chahe waaris banaye aur aakhir maidan parhezgaaron ke haath hai
(ف228)وہ کافی ہے ۔(ف229)مصیبتوں اور بلاؤں پر اور گھبراؤ نہیں ۔(ف230)اور زمینِ مِصر بھی اس میں داخل ہے ۔(ف231)یہ فرما کر حضرت موسٰی علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو توقُع دلائی کہ فرعون اور اس کی قوم ہلاک ہوگی اور بنی اسرائیل ان کی زمینوں اور شہروں کے مالک ہوں گے ۔(ف232)انہیں کے لئے فَتح و ظَفر ہے اور انہیں کے لئے عاقبتِ محمودہ ۔
بولے ہم ستائے گئے آپ کے آنے سے پہلے (ف۲۳۳) اور آپ کے تشریف لانے کے بعد (ف۲۳٤) کہا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کرے اور اس کی جگہ زمین کا مالک تمہیں بنائے پھر دیکھے کیسے کام کرتے ہو (ف۲۳۵)
They said, “We have been oppressed before you came to us, and after you have come to us”; he said, “It is likely that your Lord may destroy your enemy and in his place make you the rulers of the earth, and then see what deeds you perform.”
बोले हम सताए गए आपके आने से पहले और आपके तशरीफ़ लाने के बाद कहा क़रीब है कि तुम्हारा रब तुम्हारे दुश्मन को हलाक करे और उसकी जगह ज़मीन का मालिक तुम्हें बनाए फिर देखे कैसे काम करते हो
Bole hum sataaye gaye aap ke aane se pehle aur aap ke tashreef laane ke baad kaha qareeb hai ke tumhara Rab tumhare dushman ko halaak kare aur us ki jagah zameen ka malik tumhein banaye phir dekhe kaise kaam karte ho
(ف233)کہ فرعون اور فرعونیوں نے طرح طرح کی مصیبتوں میں مُبتلا کر رکھّا تھا اور لڑکوں کو بہت زیادہ قتل کیا تھا ۔(ف234)کہ اب وہ پھر ہماری اولاد کے قتل کا ارادہ رکھتا ہے تو ہماری مدد کب ہوگی اور یہ مصیبتیں کب دفع کی جائیں گی ۔(ف235)اور کس طرح شکرِ نعمت بجا لاتے ہو ۔
اور بیشک ہم نے فرعون والوں کو برسوں کے قحط اور پھلوں کے گھٹانے سے پکڑا (ف۲۳٦) کہ کہیں وہ نصیحت مانیں (ف۲۳۷)
And indeed We seized the people of Firaun with a famine of several years and with reduction of fruits, so that they may follow advice.
और बेशक हमने फ़िरऔन वालों को बरसों के क़हत और फलों के घटाने से पकड़ा कि कहीं वह नसीहत मानें
Aur be-shak hum ne Firaun walon ko barson ke qahat aur phalon ke ghatane se pakra ke kahin woh naseehat maaneyin
(ف236)اور فَقر و فاقہ کی مصیبت میں گرفتار کیا ۔(ف237)اور کُفر و معصیّت سے باز آئیں ۔ فرعون نے اپنی چار سو برس کی عمر میں سے تین سو بیس سال تو اس آرام کے ساتھ گزارے تھے کہ اس مدّت میں کبھی درد یا بخار یا بھوک میں مُبتلا ہی نہیں ہوا ، اب قَحۡط سالی کی سختی ان پر اس لئے ڈالی گئی کہ وہ اس سختی ہی سے خدا کو یاد کریں او راس کی طرف متوجّہ ہوں لیکن وہ کُفر میں اس قدر راسِخ ہو چکے تھے کہ ان تکلیفوں سے بھی ان کی سرکشی ہی بڑھتی رہی ۔
تو جب انہیں بھلائی ملتی (ف۲۳۸) کہتے یہ ہمارے لیے ہے (ف۲۳۹) اور جب برائی پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں سے بدشگونی لیتے (ف۲٤۰) سن لو ان کے نصیبہ کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے (ف۲٤۱) لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں،
So when good would reach them they would say, “This is for us”; and when misfortune reached them, they would infer it as ill omens of Moosa and his companions; pay heed! The misfortune of their ill luck lies with Allah, but most of them are unaware.
तो जब उन्हें भलाई मिलती कहते यह हमारे लिए है और जब बुराई पहुँचती तो मूसा और उसके साथ वालों से बदशगूनी लेते सुन लो उनके नसीबा की शामत तो अल्लाह के यहाँ है लेकिन उनमें अक्सर को खबर नहीं,
To jab unhein bhalai milti kehte ye hamare liye hai aur jab burai pohanchti to Moosa aur us ke saath walon se bad-shagooni lete sun lo un ke naseeba ki shamat to Allah ke yahan hai lekin un mein aksar ko khabar nahin,
(ف238)اور اَرۡزانی و فَراخی و امن و عافیت ہوتی ۔(ف239)یعنی ہم اس کے مستحق ہی ہیں اور اس کو اللہ کا فضل نہ جانتے او رشکرِ الٰہی نہ بجا لاتے ۔(ف240)اور کہتے کہ یہ بَلائیں ان کی وجہ سے پہنچیں اگر یہ نہ ہوتے تویہ مصیبتیں نہ آتیں ۔(ف241) جو اس نے مُقدّرکیا ہے وہی پہنچتا ہے اور یہ ان کے کُفر کے سبب ہے ۔ بعض مفسِّرین فرماتے ہیں معنٰی یہ ہیں کہ بڑی شامت تو وہ ہے جو ان کے لئے اللہ کے یہاں ہے یعنی عذابِ دوزخ ۔
تو بھیجا ہم نے ان پر طوفان (ف۲٤۳) اور ٹڈی اور گھن (یا کلنی یا جوئیں) اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانیاں (ف۲٤٤) تو انہوں نے تکبر کیا (ف۲٤۵) اور وہ مجرم قوم تھی
We therefore sent against them the flood and the locusts and the vermin (or insects) and the frogs and the blood – separate signs; in response they were proud and were a guilty people.
तो भेजा हमने उन पर तूफ़ान और टिड्डी और घुन (या कलनी या जुएँ) और मेढक और ख़ून जुदा जुदा निशानियाँ तो उन्होंने तकब्बुर किया और वह मुजरिम क़ौम थी
To bheja hum ne un par toofan aur tiddi aur ghan (ya kulni ya jooin) aur mendak aur khoon juda juda nishaniyan to unhon ne takabbur kiya aur woh mujrim qoum thi
(ف243)جب جادوگروں کے ایمان لانے کے بعد بھی فرعونی اپنے کُفر و سرکشی پر جمے رہے تو ان پر آیاتِ الٰہیہ پِیاپے وارِدہونے لگیں کیونکہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے دعا کی تھی کہ یاربّ ! فرعون زمین میں بہت سرکش ہوگیا اور اس کی قوم نے عہد شکنی کی ، انہیں ایسے عذاب میں گرفتار کر جو ان کے لئے سزا ہو اور میری قوم اور بعد والوں کے لئے عبرت تو اللہ تعالٰی نے طوفان بھیجا ، اَبر آیا ، اندھیرا ہوا ، کثرت سے بارش ہونے لگی ، قُبطِیوں کے گھروں میں پانی بھر گیا یہاں تک کہ وہ اس میں کھڑے رہ گئے اور پانی ان کی گردنوں کی ہَنسلِیوں تک آ گیا ، ان میں سے جو بیٹھا ڈوب گیا ، نہ ہل سکتے تھے نہ کچھ کام کر سکتے تھے ، سنیچرسے سنیچر تک سات روز تک اسی مصیبت میں مبتلا رہے اور باوجود اس کے کہ بنی اسرائیل کے گھر ان کے گھروں سے متصل تھے ان کے گھروں میں پانی نہ آیا ۔ جب یہ لوگ عاجِز ہوئے تو حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سے عرض کیا ہمارے لئے دعا فرمائیےکہ یہ مصیبت رفع ہو تو ہم آپ پر ایمان لائیں اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیج دیں ۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے دعا فرمائی طوفان کی مصیبت رفع ہوئی ، زمین میں وہ سرسبزی و شادابی آئی جو پہلے نہ دیکھی تھی ، کھیتیاں خوب ہوئیں ، درخت خوب پھلے تو فرعونی کہنے لگے یہ پانی تو نعمت تھا اور ایمان نہ لائے ۔ ایک مہینہ تو عافیت سے گذرا پھر اللہ تعالٰی نے ٹِڈی بھیجی وہ کھیتیاں اور پھل ، درختوں کے پتے ، مکان کے دروازے ، چھتیں ، تختے ، سامان حتّٰی کہ لوہے کی کیلیں تک کھا گئیں اور قُبطِیوں کے گھروں میں بھر گئیں اور بنی اسرائیل کے یہاں نہ گئیں ۔ اب قُبطِیوں نے پریشان ہو کر پھر حضرت موسٰی علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی ، ایمان لانے کا وعدہ کیا اس پر عہد و پیمان کیا ۔ سات روز یعنی شنبہ سے شنبہ تک ٹڈی کی مصیبت میں مبتلا رہے پھر حضرت موسٰی علیہ السلام کی دعا سے نجات پائی ۔کھیتیاں اور پھل جو کچھ باقی رہ گئے تھے انہیں دیکھ کر کہنے لگے یہ ہمیں کافی ہیں ہم اپنا دین نہیں چھوڑتے چنانچہ ایمان نہ لائے عہدِ وفا نہ کیا اور اپنے اعمالِ خبیثہ میں مبتلا ہوگئے ۔ ایک مہینہ عافیت سے گذرا پھر اللہ تعالٰی نے قُمَّل بھیجے ۔ اس میں مفسِّرین کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ قُمَّل گُھن ہے ، بعض کہتے ہیں جوں ، بعض کہتے ہیں ایک اور چھوٹا سا کیڑا ہے ، اس کیڑے نے جو کھیتیاں اور پھل باقی رہے تھے وہ کھا لئے ، کپڑوں میں گھس جاتا تھا اور جِلد کو کاٹتا تھا ، کھانے میں بھر جاتا تھا اگر کوئی دس بوری گیہوں چکی پر لے جاتا تو تین سیر واپس لاتا باقی سب کیڑے کھا جاتے ۔ یہ کیڑے فرعونیوں کے بال ، بَھنویں ، پَلکیں چاٹ گئے ، جسم پر چَیچک کی طرح بَھرجاتے ، سونا دشوار کر دیا تھا ۔ اس مصیبت سے فرعونی چیخ پڑے اور انہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے عرض کیا ہم توبہ کرتے ہیں آپ اس بَلا کے دفع ہونے کی دعا فرمائیے چنانچہ سات روز کے بعد یہ مصیبت بھی حضرت کی دعا سے رفع ہوئی لیکن فرعونیوں نے پھر عہد شکنی کی اور پہلے سے زیادہ خبیث تر عمل شروع کئے ، ایک مہینہ امن میں گذرنے کے بعد پھر حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے بددعا کی تو اللہ تعالٰی نے مینڈک بھیجے اور یہ حال ہوا کہ آدمی بیٹھتا تھا تو اسکی مجلس میں مینڈک بھر جاتے تھے ، بات کرنے کے لئے منہ کھولتا تو مینڈک کود کر مُنہ میں پہنچتا ۔ ہانڈیوں میں مینڈک ،کھانوں میں مینڈک ، چولھوں میں مینڈک بھر جاتے تھے ، آگ بجھ جاتی تھی ، لیٹتے تھے تو مینڈک اوپر سوار ہوتے تھے ۔ اس مصیبت سے فرعونی رو پڑے اور حضرت موسٰی علیہ السلام سے عرض کیا اب کی بار ہم پکی توبہ کرتے ہیں حضرت موسٰی علیہ السلام نے ان سے عہد و پیمان لے کر دعا کی تو سات روز کے بعد یہ مصیبت بھی دفع ہوئی اور ایک مہینہ عافیت سے گزرا لیکن پھر انہوں نے عہد توڑ دیا اور اپنے کُفر کی طرف لوٹے پھر حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے بد دعا فرمائی تو تمام کنووں کا پانی ، نہروں اور چشموں کا پانی ، دریائے نیل کا پانی غرض ہر پانی ان کے لئے تازہ خون بن گیا ، انہوں نے فرعون سے اس کی شکایت کی تو کہنے لگا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے جادو سے تمہاری نظر بندی کر دی ۔ انہوں نے کہا کیسی نظر بندی ہمارے برتنوں میں خون کے سوا پانی کا نام و نشان ہی نہیں تو فرعون نے حکم دیا کہ قُبطِی بنی اسرائیل کے ساتھ ایک ہی برتن سے پانی لیں تو جب بنی اسرائیل نکالتے توپانی نکلتا قُبطی نکالتے تو اسی برتن سے خون نکلتا یہاں تک کہ فرعونی عورتیں پیاس سے عاجز ہو کر بنی اسرائیل کی عورتوں کے پاس آئیں اور ان سے پانی مانگا تو وہ پانی ان کے برتن میں آتے ہی خون ہوگیا تو فرعونی عورت کہنے لگی کہ تو پانی اپنے منہ میں لے کر میرے منہ میں کُلی کر دے جب تک وہ پانی اسرائیلی عورت کے منہ میں رہا پانی تھا جب فرعونی عورت کے منہ میں پہنچا خون ہوگیا ۔ فرعون خود پیاس سے مُضطر ہوا تو اس نے تر درختوں کی رَطوبت چُوسی وہ رَطوبت منہ میں پہنچتے ہی خون ہوگئی ۔ سات روز تک خون کے سوا کوئی چیز پینے کی مُیسّر نہ آئی تو پھر حضرت موسٰی علٰی نبِیّنا و علیہ الصلٰوۃ والسلام سے دعا کی درخواست کی اور ایمان لانے کا وعدہ کیا ۔ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے دعا فرمائی یہ مصیبت بھی رفع ہوئی مگر ایمان پھر بھی نہ لائے ۔(ف244)ایک کے بعد دوسری اور ہر عذاب ایک ہفتہ قائم رہتا اور دوسرے عذاب سے ایک مہینہ کا فاصلہ ہوتا ۔(ف245)اور حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان نہ لائے ۔
اور جب ان پر عذاب پڑتا کہتے اے موسیٰ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے (ف۲٤٦) بیشک اگر تم ہم پر عذاب اٹھا دو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے،
And whenever the punishment came upon them they said, “O Moosa! Pray to your Lord for us, by means of His covenant which you have; indeed if you lift the punishment from us we will surely accept faith in you and let the Descendants of Israel go with you.”
और जब उन पर अज़ाब पड़ता कहते ऐ मूसा हमारे लिए अपने रब से दुआ करो उस अहद के सबब जो उसका तुम्हारे पास है बेशक अगर तुम हम पर अज़ाब उठा दोगे तो हम ज़रूर तुम पर ईमान लाएँगे और बनी इसराईल को तुम्हारे साथ कर देंगे,
Aur jab un par azaab padta kehte ae Moosa hamare liye apne Rab se dua karo is ahd ke sabab jo us ka tumhare paas hai be-shak agar tum hum par azaab utha do ge to hum zaroor tum par imaan laayein ge aur Bani Israeel ko tumhare saath kar denge,
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو انہیں دریا میں ڈبو دیا (ف۲٤۷) اس لیے کہ ہماری آیتیں جھٹلاتے اور ان سے بےخبر تھے (ف۲٤۸)
We therefore took revenge from them; so We drowned them in the sea for they used to deny Our signs and were ignoring them.
तो हमने उनसे बदला लिया तो उन्हें दरिया में डुबो दिया इस लिए कि हमारी आयतें झटलाते और उनसे बेखबर थे
To hum ne un se badla liya to unhein darya mein dooba diya is liye ke hamari aayatein jhutlate aur un se be-khabar the
(ف247)یعنی دریائے نیل میں جب بار بار انہیں عذابوں سے نجات دی گئی اور وہ کسی عہد پر قائم نہ رہے اور ایمان نہ لائے اور کُفر نہ چھوڑا تو وہ میعاد پوری ہونے کے بعد جو ان کے لئے مقرر فرمائی گئی تھی انہیں اللہ تعالٰی نے غرق کرکے ہلاک کر دیا ۔(ف248)اصلاً تدبُّر و التفات نہ کرتے تھے ۔
اور ہم نے اس قوم کو (ف۲٤۹) جو دبا لی گئی تھی اس زمین (ف۲۵۰) کے پورب پچھم کا وارث کیا جس میں ہم نے برکت رکھی (ف۲۵۱) اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا، بدلہ ان کے صبر کا، اور ہم نے برباد کردیا (ف۲۵۲) جو کچھ فرعون اور اس کی قوم بناتی اور جو چنائیاں اٹھاتے (تعمیر کرتے) تھے،
And We made the people who were oppressed, the inheritors of the eastern and western parts of the land in which We placed blessings; and the good promise of your Lord was fulfilled for the Descendants of Israel – the reward of their patience; and We destroyed whatever Firaun and his people built and whatever they had contrived.
और हमने उस क़ौम को जो दबा ली गई थी उस ज़मीन के पूरब पच्छम का वारिस किया जिसमें हमने बरकत रखी और तेरे रब का अच्छा वादा बनी इसराईल पर पूरा हुआ, बदला उनके सब्र का, और हमने बरबाद कर दिया जो कुछ फ़िरऔन और उसकी क़ौम बनाती और जो चुनाइयाँ उठाते (तामीर करते) थे,
Aur hum ne is qoum ko jo daba li gayi thi is zameen ke poorab picham ka waaris kiya jis mein hum ne barkat rakhi aur tere Rab ka achha waada Bani Israeel par poora hua, badla un ke sabr ka, aur hum ne barbaad kar diya jo kuch Firaun aur us ki qoum banati aur jo chunaiyan uthate (ta’meer karte) the,
(ف249)یعنی بنی اسرائیل کو ۔(ف250)یعنی مصر و شام ۔(ف251)نہروں ، درختوں ، پھلوں ، کھیتیوں اور پیداوار کی کثرت سے ۔(ف252)ان تمام عمارتوں اور ایوانوں اور باغوں کو ۔
اور ہم نے (ف۲۵۳) بنی اسرائیل کو دریا پار اتارا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا کہ اپنے بتوں کے آگے آسن مارے (جم کر بیٹھے) تھے (ف۲۵٤) بولے اے موسیٰ! ہمیں ایک خدا بنادے جیسا ان کے لیے اتنے خدا ہیں، بولا تم ضرور جا ہل لوگ ہو، (ف۲۵۵)
And We transported the Descendants of Israel across the sea – so they came across a people who used to squat in seclusion in front of their idols; they said, “O Moosa! Make a God for us, the way they have so many Gods!” He said, “You are indeed an ignorant people.”
और हमने बनी इसराईल को दरिया पार उतारा तो उनका गुज़र एक ऐसी क़ौम पर हुआ कि अपने बुतों के आगे आसन मारे (जम कर बैठे) थे बोले ऐ मूसा! हमें एक ख़ुदा बना दे जैसा उनके लिए इतने ख़ुदा हैं, बोला तुम ज़रूर जाहिल लोग हो,
Aur hum ne Bani Israeel ko darya paar utaara to un ka guzar ek aisi qoum par hua ke apne buton ke aage aasan maare (jam kar baithe) the bole ae Moosa! humein ek Khuda bana de jaisa un ke liye itne Khuda hain, bola tum zaroor jaahil log ho,
(ف253)فرعون اور اس کی قوم کو دسویں محرّم کو غرق کرنے کے بعد ۔(ف254)اور ان کی عبادت کرتے تھے ۔ ابنِ جُرَیْح نے کہا کہ یہ بُت گائے کی شکل کے تھے ان کو دیکھ کر بنی اسرائیل ۔(ف255)کہ اتنی نشانیاں دیکھ کر بھی نہ سمجھے کہ اللہ واحد لاشریک لہ ہے اس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں اور کسی کی عبادت جائز نہیں ۔
کہا کیا اللہ کے سوا تمہارا اور کوئی خدا تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں زمانے بھر پر فضیلت دی (ف۲۵۷)
He said, “Shall I seek for you a God other than Allah, whereas He has given you superiority above the entire world?” (By sending His message towards you).
कहा क्या अल्लाह के सिवा तुम्हारा और कोई ख़ुदा तलाश करूँ हालाँकि उसने तुम्हें ज़माने भर पर फ़ज़ीलत दी
Kaha kya Allah ke siwa tumhara aur koi Khuda talash karoon haalanke us ne tumhein zamaane bhar par fazilat di
(ف257)یعنی خدا وہ نہیں ہوتا جو تلاش کرکے بنا لیا جائے بلکہ خدا وہ ہے جس نے تمہیں فضیلت دی کیونکہ وہ فضل و احسان پر قادر ہے تو وہی عبادت کا مستحق ہے ۔
اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات بحشی کہ تمہیں بری مار دیتے تمہارے بیٹے ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں باقی رکھتے، اور اس میں رب کا بڑا فضل ہوا (ف۲۵۸)
And remember when We rescued you from Firaun’s people who were afflicting you with a dreadful torment; slaughtering your sons and sparing your daughters; and in it was a great favour from your Lord.
और याद करो जब हमने तुम्हें फ़िरऔन वालों से नजात बख़्शी कि तुम्हें बुरी मार देते तुम्हारे बेटे ज़बह करते और तुम्हारी बेटियाँ बाक़ी रखते, और उसमें रब का बड़ा फ़ज़ल हुआ
Aur yaad karo jab hum ne tumhein Firaun walon se nijaat bakhshi ke tumhein buri maar dete tumhare bete zabah karte aur tumhari betiyan baaqi rakhte, aur is mein Rab ka bara fazl hua
(ف258)یعنی جب اس نے تم پر ایسی عظیم نعمتیں فرمائیں تو تمہیں کب شایان ہے کہ تم اس کے سوا اور کی عبادت کرو ۔
اور ہم نے موسیٰ سے (ف۲۵۹) تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں (ف۲٦۰) دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا (ف۲٦۱) اور موسیٰ نے (ف۲٦۲) اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم پر میرے نائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کی راہ کو دخل نہ دینا،
And We agreed with Moosa a covenant for thirty nights (of solitude) and completed it by adding ten to them, so the covenant of His Lord amounted to forty nights in full; and Moosa said to his brother Haroon, “Be my deputy over my people and make reform and do not allow the ways of the mischievous to enter.”
और हमने मूसा से तीस रात का वादा फ़रमाया और उनमें दस और बढ़ाकर पूरी कीं तो उसके रब का वादा पूरी चालीस रात का हुआ और मूसा ने अपने भाई हारून से कहा मेरी क़ौम पर मेरे नाइब रहना और इस्लाह करना और फ़सादियों की राह को दख़ल न देना,
Aur hum ne Moosa se tees raat ka waada farmaya aur un mein das aur barha kar poori ki to us ke Rab ka waada poori chalis raat ka hua aur Moosa ne apne bhai Haroon se kaha meri qoum par mere naib rehna aur islaah karna aur fasaadiyon ki raah ko dakhal na dena,
(ف259) تورَیت عطا فرمانے کے لئے ماہِ ذُوالقَعدہ کی ۔(ف260)ذی الحِجّہ کی ۔(ف261)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا بنی اسرائیل سے وعدہ تھا کہ جب اللہ تعالٰی ان کے دشمن فرعون کو ہلاک فرما دے تو وہ ان کے پاس اللہ تعالٰی کی جانب سے ایک کتاب لائیں گے جس میں حلال و حرام کا بیان ہوگا ۔ جب اللہ تعالٰی نے فرعون کو ہلاک کیا تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے ربّ سے اس کتاب کے نازِل فرمانے کی درخواست کی ، حکم ہوا کہ تیس روزے رکھیں جب وہ روزے پورے کر چکے تو آپ کو اپنے دہنِ مبارک میں ایک طرح کی بُو معلوم ہوئی ، آپ نے مسواک کی ، ملائکہ نے عرض کیا کہ ہمیں آپ کے دہنِ مبارک سے بڑی محبوب خوشبو آیا کرتی تھی آپ نے مسواک کر کے اس کو ختم کر دیا ۔ اللہ تعالٰی نے حکم فرمایا کہ ماہِ ذی الحِجّہ میں دس روزے اور رکھیں اور فرمایا کہ اے موسٰی کیا تمہیں معلوم نہیں کہ روزے دار کے منہ کی خوشبو میرے نزدیک خوشبوئے مُشک سے زیادہ اَطیَب ہے ۔(ف262)پہاڑ پر مُناجات کے لئے جاتے وقت ۔
اور جب موسیٰ ہمارے وعدہ پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام فرمایا (ف۲٦۳) عرض کی اے رب میرے! مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا (ف۲٦٤) ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا (ف۲٦۵) پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا اسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ گرا بیہوش پھر جب ہوش ہوا بولا پاکی ہے تجھے میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں (ف۲٦٦)
And when Moosa presented himself upon Our promise, and his Lord spoke to him, he said, “My Lord! Show me Your Self, so that I may see You”; He said, “You will never be able to see Me, but look towards the mountain – if it stays in its place, then you shall soon see Me”; so when his Lord directed His light on the mountain, He blew it into bits and Moosa fell down unconscious; then upon regaining consciousness he said, “Purity is to You! I incline towards You, and I am the first Muslim.”
और जब मूसा हमारे वादा पर हाज़िर हुआ और उससे उसके रब ने कलाम फ़रमाया अर्ज़ की ऐ रब मेरे! मुझे अपना दीदार दिखा कि मैं तुझे देखूँ फ़रमाया तू मुझे हरगिज़ न देख सकेगा हाँ इस पहाड़ की तरफ़ देख यह अगर अपनी जगह पर ठहरा रहा तो क़रीब तू मुझे देख लेगा फिर जब उसके रब ने पहाड़ पर अपना नूर चमकाया उसे पाश पाश कर दिया और मूसा गिरा बेहोश फिर जब होश हुआ बोला पाकी है तुझे मैं तेरी तरफ़ रुजू लाया और मैं सबसे पहला मुसलमान हूँ
Aur jab Moosa hamare waada par haazir hua aur us se us ke Rab ne kalaam farmaya arz ki ae Rab mere! mujhe apna deedaar dikha ke main tujhe dekhoon farmaya tu mujhe har giz na dekh sake ga haan is pahaar ki taraf dekh ye agar apni jagah par thehra raha to anqareeb tu mujhe dekh le ga phir jab us ke Rab ne pahaar par apna noor chamkaaya use paash paash kar diya aur Moosa gira behosh phir jab hosh hua bola paaki hai tujhe main teri taraf ruju laaya aur main sab se pehla Musalman hoon
(ف263)آیت سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سے کلام فرمایا اس پر ہمارا ایمان ہے اور ہماری کیا حقیقت ہے کہ ہم اس کلام کی حقیقت سے بَحث کر سکیں ۔ اَخبار میں وارد ہے کہ جب موسٰی علیہ السلام کلام سننے کے لئے حاضر ہوئے تو آپ نے طہارت کی اور پاکیزہ لباس پہنا اور روزہ رکھ کر طورِ سِینا میں حاضر ہوئے ، اللہ تعالٰی نے ایک ابر نازِل فرمایا جس نے پہاڑ کو ہر طرف سے بقدر چار فرسنگ کے ڈھک لیا ۔ شیاطین اور زمین کے جانور حتٰی کہ ساتھ رہنے والے فرشتے تک وہاں سے علیٰحدہ کر دیئے گئے اور آپ کے لئے آسمان کھول دیا گیا تو آپ نے ملائکہ کو مُلاحظہ فرمایا کہ ہوا میں کھڑے ہیں اور آپ نے عرشِ الٰہی کو صاف دیکھا یہاں تک کہ اَلواح پر قلموں کی آواز سنی اور اللہ تعالٰی نے آپ سے کلام فرمایا ۔ آپ نے اس کی بارگاہ میں اپنے معروضات پیش کئے اس نے اپنا کلامِ کریم سُنا کر نوازا ۔ حضرت جبریل علیہ السلام آپ کے ساتھ تھے لیکن جو اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے فرمایا وہ انہوں نے کچھ نہ سُنا ۔ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو کلامِ ربّانی کی لذّت نے اس کے دیدار کا آرزو مند بنایا ۔ ( خازن وغیرہ)(ف264)ان آنکھوں سے سوال کرکے بلکہ دیدارِ الٰہی بغیر سوال کے مَحض اس کی عطا و فضل سے حاصل ہوگا ، وہ بھی اس فانی آنکھ سے نہیں بلکہ باقی آنکھ سے یعنی کوئی بشر مجھے دنیا میں دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔ اللہ تعالٰی نے یہ نہیں فرمایا کہ میرا دیکھنا ممکن نہیں ۔ اس سے ثابت ہوا کہ دیدارِ الٰہی ممکن ہے اگرچہ دنیا میں نہ ہو کیونکہ صحیح حدیثوں میں ہے کہ روزِ قیامت مؤمنین اپنے ربّ عزّوجلّ کے دیدار سے فیضیاب کئے جائیں گے علاوہ بریں یہ کہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام عارِف باللہ ہیں ، اگر دیدارِ الٰہی ممکن نہ ہوتا توآپ ہر گز سوال نہ فرماتے ۔(ف265)اور پہاڑ کا ثابت رہنا امرِ ممکن ہے کیونکہ اس کی نسبت فرمایا جَعَلَہٗ دَکاًّ اس کو پاش پاش کر دیا تو جو چیز اللہ تعالٰی کی مجعول ہو اور جس کو وہ موجود فرمائے ممکن ہے کہ وہ نہ موجود ہو اگر اس کو نہ موجود کرے کیونکہ وہ اپنے فعل میں مختار ہے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ پہاڑ کا استِقرار امرِ ممکن ہے مَحال نہیں اور جو چیز امرِ ممکن پر معلّق کی جائے وہ بھی ممکن ہی ہوتی ہے مَحال نہیں ہوتی لہٰذا دیدارِ الٰہی جس کو پہاڑ کے ثابت رہنے پر معلّق فرمایا گیا وہ ممکن ہوا تو ان کا قول باطِل ہے جو اللہ تعالٰی کا دیدار مَحال بتاتے ہیں ۔(ف266)بنی اسرائیل میں سے ۔
فرمایا اے موسیٰ میں نے تجھے لوگوں سے چن لیا اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے، تو لے جو میں نے تجھے عطا فرمایا اور شکر والوں میں ہو،
Said Allah, “O Moosa! I have chosen you from mankind by (bestowing) My messages and by My speech; so accept what I have bestowed upon you and be among the thankful.”
फ़रमाया ऐ मूसा मैंने तुझे लोगों से चुन लिया अपनी रसालतों और अपने कलाम से, तो ले जो मैंने तुझे अता फ़रमाया और शुकर वालों में हो,
Farmaya ae Moosa main ne tujhe logon se chun liya apni risaalaton aur apne kalaam se, to le jo main ne tujhe ata farmaya aur shukr walon mein ho,
اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں (ف۲٦۷) لکھ دی ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل، اور فرمایا اے موسیٰ اسے مضبوطی سے لے اور اپنی قوم کو حکم دے کر اس کی اچھی باتیں اختیار کریں (ف۲٦۸) عنقریب میں تمہیں دکھاؤں گا بےحکموں کا گھر (ف۲٦۹)
And We wrote for him on the tablets, the advice for all things and the details of all things; and commanded “Accept it firmly and command your people to choose its good advices; soon I shall show you people the destination of the disobedient.”
और हमने उसके लिए तख़्तियों में लिख दी हर चीज़ की नसीहत और हर चीज़ की तफ़सील, और फ़रमाया ऐ मूसा इसे मज़बूती से ले और अपनी क़ौम को हुक्म देकर इसकी अच्छी बातें इख़्तियार करें क़रीब मैं तुम्हें दिखाऊँगा बे-हुक्मों का घर
Aur hum ne us ke liye takhtiyon mein likh di har cheez ki naseehat aur har cheez ki tafseel, aur farmaya ae Moosa ise mazbooti se le aur apni qoum ko hukm de kar is ki achhi baatein ikhtiyaar karein anqareeb main tumhein dikhaoonga be-hukmon ka ghar
(ف267)توریت کی جو سات یا دس تھیں زَبَرجَد کی یا زُمُرّد کی ۔(ف268)اس کے اَحکام پر عامل ہوں ۔(ف269)جو آخرت میں ان کا ٹھکانا ہے ۔ حَسن و عطا نے کہا کہ بے حُکموں کے گھر سے جہنّم مراد ہے ۔ قَتادہ کا قول ہے کہ معنٰی یہ ہیں کہ میں تمہیں شام میں داخل کروں گا اور گزری ہوئی اُمّتوں کے منازِل دکھاؤں گا جنہوں نے اللہ کی مخالَفت کی تاکہ تمہیں اس سے عبرت حاصل ہو ۔ عطیہ عوفی کا قول ہے کہ دار الفاسقین سے فرعون اور اس کی قوم کے مکانات مراد ہیں جو مِصر میں ہیں ۔ سدی کا قو ل ہے کہ اس سے منازلِ کُفّار مراد ہیں ۔ کلبی نے کہا کہ عاد و ثمود اور ہلاک شدہ اُمّتوں کے منازِل مراد ہیں جن پر عرب کے لوگ اپنے سفروں میں ہو کر گزرا کرتے تھے ۔
اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں (ف۲۷۰) اور اگر سب نشانیاں دیکھیں ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کی راہ دیکھیں اس میں چلنا پسند نہ کریں (ف۳۲۷۱) اور گمراہی کا راستہ نظر پڑے تو اس میں چلنے کو موجود ہوجائیں، یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان سے بےخبر بنے،
“And I shall turn away from My signs the people who unjustly wish to be admired in the earth; and if they see all the signs, they would not believe them; and if they see the path of guidance, they would not prefer to tread it; and if they see the way of error, they would present themselves to tread it; that is because they denied Our signs and were ignoring them.
और मैं अपनी आयतों से उन्हें फेर दूँगा जो ज़मीन में नाहक़ अपनी बड़ाई चाहते हैं और अगर सब निशानियाँ देखें उन पर ईमान न लाएँ और अगर हिदायत की राह देखें उसमें चलना पसंद न करें और गुमराही का रास्ता नज़र पड़े तो उसमें चलने को मौजूद हो जाएँ, यह इस लिए कि उन्होंने हमारी आयतें झटलाईं और उनसे बेख़बर बने,
Aur main apni aayaton se unhein phair doonga jo zameen mein na-haq apni barayi chahte hain aur agar sab nishaniyan dekhein un par imaan na laayen aur agar hidaayat ki raah dekhein is mein chalna pasand na karein aur gumraahi ka raasta nazar pare to is mein chalne ko mojood ho jaayen, ye is liye ke unhon ne hamari aayatein jhutlayeen aur un se be-khabar bane,
(ف270)ذوالنون قُدِّسَ سِرُّہٗ نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی حکمتِ قرآن سے اہلِ باطل کے قُلوب کا اکرام نہیں فرماتا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا مراد یہ ہے کہ جو لوگ میرے بندوں پر تَجبُّر کرتے ہیں اور میرے اولیاء سے لڑتے ہیں میں انہیں اپنی آیتوں کے قبول اور تصدیق سے پھیر دوں گا تاکہ وہ مجھ پر ایمان نہ لائیں یہ ان کے عناد کی سزا ہے کہ انہیں ہدایت سے محروم کیا گیا ۔(ف271)یہی تَکبُّر کا ثمرہ ، مُتَکبِّر کا انجام ہے ۔
اور جنہوں نے ہماری آیتیں اور آخرت کے دربار کو جھٹلایا ان کا سب کیا دھرا اَکارت گیا، انہیں کیا بدلہ ملے گا مگر وہی جو کرتے تھے،
And those who denied Our signs and the confronting of the Hereafter – all their deeds are wasted; what recompense will they get, except what they used to do?
और जिन्होंने हमारी आयतें और आख़िरत के दरबार को झटलाया उनका सब किया धरा अक़ारत गया, उन्हें क्या बदला मिलेगा मगर वही जो करते थे,
Aur jin hon ne hamari aayatein aur aakhrat ke darbaar ko jhutlaya un ka sab kiya dhara akaarat gaya, unhein kya badla mile ga magar wahi jo karte the,
اور موسیٰ کے (ف۲۷۲) بعد اس کی قوم اپنے زیوروں سے (ف۲۷۳) ایک بچھڑا بنا بیٹھی بےجان کا دھڑ (ف۲۷٤) گائے کی طرف آواز کرتا، کیا نہ دیکھا کہ وہ ان سے نہ بات کرتا ہے اور نہ انہیں کچھ راہ بتائے (ف۲۷۵) اسے لیا اور وہ ظالم تھے (ف۲۷٦)
And behind Moosa, his people moulded a calf from their ornaments – a lifeless body making sounds like a cow; did they not see that it neither speaks to them nor guides them in any way? They chose it (for worship), and were unjust.
और मूसा के बाद उसकी क़ौम अपने ज़ेवरों से एक बछड़ा बना बैठी बेजान का ढड़ गाय की तरफ़ आवाज़ करता, क्या न देखा कि वह उनसे न बात करता है और न उन्हें कुछ राह बताए उसे लिया और वह ज़ालिम थे
Aur Moosa ke baad us ki qoum apne zewaron se ek bachhra bana baithi bejaan ka dhar gaaye ki taraf awaaz karta, kya na dekha ke woh un se na baat karta hai aur na unhein kuch raah bataaye use liya aur woh zaalim the
(ف272)طور کی طرف اپنے ربّ کی مُناجات کے لئے جانے کے ۔(ف273)جو انہوں نے قومِ فرعون سے اپنی عید کے لئے عارِیَت لئے تھے ۔(ف274)اور اس کے مُنہ میں حضرت جبریل کے گھوڑے کے قدم کے نیچے کی خاک ڈالی جس کے اثر سے وہ ۔ (ف275)ناقِص ہے ، عاجِز ہے ، جَماد ہے یا حیوان ، دونوں تقدیروں پر صلاحیّت نہیں رکھتا کہ پُوجا جائے ۔(ف276)کہ انہوں نے اللہ تعالٰی کی عبادت سے اِعراض کیا اور ایسے عاجِز و ناقِص بَچھڑے کو پُوجا ۔
اور جب موسیٰ (ف۲۷۷) اپنی قوم کی طرف پلٹا غصہ میں بھرا جھنجلایا ہوا (ف۲۷۸) کہا تم نے کیا بری میری جانشینی کی میرے بعد (۲۷۹) کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے جلدی کی (ف۲۸۰) اور تختیاں ڈال دیں (ف۲۸۱) اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگا (ف۲۸۲) کہا اے میرے ماں جائے (ف۲۸۳) قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالیں تو مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا (ف۲۸٤) اور مجھے ظالموں میں نہ ملا (ف۲۸۵)
And when Moosa returned to his people, angry and upset, he said, “What an evil way you have handled affairs on my behalf, behind me; did you hasten upon the command of your Lord?” And he cast down the stone tablets, and catching hold of his brothers hair, began pulling him towards him; said Haroon said, “O the son of my mother! The people thought I was weak and would have probably killed me; so do not make my enemies laugh at me and do not identify me with the unjust.”
और जब मूसा अपनी क़ौम की तरफ़ पलटा ग़ुस्सा में भरा झुँझलाया हुआ कहा तुमने क्या बुरी मेरी जानशिनी की मेरे बाद
Aur jab Moosa apni qoum ki taraf palta ghussa mein bhara jhanjhlaya hua kaha tum ne kya buri meri jaanasheen ki mere baad kya tum ne apne Rab ke hukm se jaldi ki aur takhtiyan daal deen aur apne bhai ke sar ke baal pakar kar apni taraf kheenchne laga kaha ae mere maan jaaye qoum ne mujhe kamzor samjha aur qareeb tha ke mujhe maar daalein to mujh par dushmanon ko na hansa aur mujhe zaalimoon mein na mila
(ف277)اپنے ربّ کی مُناجات سے مشرّف ہو کر طور سے ۔(ف278)اس لئے کہ اللہ تعالٰی نے ان کو خبر دے دی تھی کہ سامری نے ان کی قوم کو گمراہ کر دیا ۔(ف279)کہ لوگوں کو بَچھڑا پُوجنے سے نہ روکا ۔(ف280)اور میرے توریت لے کر آنے کا انتظار نہ کیا ۔(ف281)توریت کی حضرت موسٰی علیہ السلام نے ۔(ف282)کیونکہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو اپنی قوم کا ایسی بدترین معصیّت میں مبتلا ہونا نہایت شاق اور گِراں ہوا ، تب حضرت ہارون علیہ السلام نے حضرت موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ۔(ف283)میں نے قوم کو روکنے اور انکو وَعظ و نصیحت کرنے میں کمی نہیں کی لیکن ۔(ف284)اور میرے ساتھ ایسا سُلوک نہ کرو جس سے وہ خوش ہوں ۔(ف285)حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنے بھائی کا عُذر قبول کرکے بارگاہِ الٰہی میں ۔
عرض کی اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے (ف۲۸٦) اور ہمیں اپنی رحمت کے اندر لے لے اور تو سب مہر والوں سے بڑھ کر مہر والا
He submitted, “My Lord! Forgive me and my brother and admit us into Your mercy; and You are the Most Merciful of all those who show mercy.”
क्या तुमने अपने रब के हुक्म से जल्दी की और तख़्तियाँ डाल दीं और अपने भाई के सर के बाल पकड़ कर अपनी तरफ़ खींचने लगा कहा ऐ मेरे माँ जाए क़ौम ने मुझे कमज़ोर समझा और क़रीब था कि मुझे मार डालें तो मुझ पर दुश्मनों को न हँसा और मुझे ज़ालिमों में न मिला
Arz ki ae mere Rab! mujhe aur mere bhai ko bakhsh de aur humein apni rehmat ke andar le le aur tu sab mehr walon se barh kar mehr wala
(ف286)اگر ہم میں سے کسی سے کوئی اِفراط یا تفریط ہو گئی ۔ یہ دعا آپ نے بھائی کو راضی کرنے اور اَعدا کی شَماتَت رفع کرنے کے لئے فرمائی ۔
بیشک وہ جو بچھڑا لے بیٹھے عنقریب انہیں ان کے رب کا غضب اور ذلت پہنچنا ہے دنیا کی زندگی میں، اور ہم ایسی ہی بدلہ دیتے ہیں بہتان ہایوں (باندھنے والوں) کو،
Indeed those who took the calf – the punishment from their Lord, and humiliation will reach them in the life of this world; and this is the way We reward those who fabricate lies.
अर्ज़ की ऐ मेरे रब! मुझे और मेरे भाई को बख़्श दे और हमें अपनी रहमत के अंदर ले ले और तू सब मेहर वालों से बढ़कर मेहर वाला
Beshak woh jo bachhra le baithe anqareeb unhein un ke Rab ka ghazab aur zillat pohanchna hai duniya ki zindagi mein, aur hum aisi hi badla dete hain bohtaan baandhne walon ko,
اور جنہوں نے برائیاں کیں اور ان کے بعد توبہ کی اور ایمان لائے تو اس کے بعد تمہارا رب بخشنے والا مہربان ہے (ف۲۸۷)
And those who performed misdeeds and then repented and accepted faith – so after that, your Lord is Oft Forgiving, Most Merciful.
बेशक वह जो बछड़ा ले बैठे क़रीब उन्हें उनके रब का ग़ज़ब और ज़िल्लत पहुँचना है दुनिया की ज़िंदगी में, और हम ऐसी ही बदला देते हैं बहुतान बान्धने वालों को,
Aur jin hon ne buraaiyan keen aur un ke baad tauba ki aur imaan laaye to is ke baad tumhara Rab bakhshne wala mehrbaan hai
(ف287)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ گناہ خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ جب بندہ ان سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تبارَ کَ و تعالٰی اپنے فضل و رحمت سے ان سب کو معاف فرماتا ہے ۔
اور موسیٰ نے اپنی قوم سے سترّ ۷۰، مرد ہمارے وعدہ کے لیے چنے (ف۲۸۸) پھر جب انہیں زلزلہ نے لیا (ف۲۸۹) موسیٰ نے عرض کی اے رب میرے! تو چاہتا تو پہلے ہی انہیں اور مجھے ہلاک کردیتا (ف۲۹۰) کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک فرمائے گا جو ہمارے بےعقلوں نے کیا (ف۲۹۱) وہ نہیں مگر تیرا آزمانا، تو اس سے بہکائے جسے چاہے اور راہ دکھائے جسے چاہے تو ہمارا مولیٰ ہے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر مہر کر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے،
And Moosa chose seventy men from his people for Our promise; therefore when the earthquake seized them, he submitted, “My Lord! If You had willed You could have destroyed them and me, even earlier! Will You destroy us for the deeds which the ignorant among us did? That is not but Your testing us; with it You send astray whomever You will and guide whomever You will; You are our Master, so forgive us and have mercy on us, and You are the Best of the Forgiving.”
और जब मूसा का ग़ुस्सा थमा तख़्तियाँ उठा लीं और उनकी तहरीर में हिदायत और रहमत है उनके लिए जो अपने रब से डरते हैं,
Aur Moosa ne apni qoum se sattar
(ف288)کہ وہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہو کر قوم کی گوسالہ پرستی کی عُذر خواہی کریں چنانچہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام انہیں لے کر حاضر ہوئے ۔(ف289)حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ زلزلہ میں مبتلا ہونے کا سبب یہ تھا کہ قوم نے جب بچھڑا قائم کیا تھا یہ ان سے جدا نہ ہوئے تھے ۔ (خازن)(ف290)یعنی مِیقات میں حاضر ہونے سے پہلے تاکہ بنی اسرائیل ان سب کی ہلاکت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے اور انہیں مجھ پر قتل کی تہمت لگانے کا موقع نہ ملتا ۔(ف291)یعنی ہمیں ہلاک نہ کر اور اپنا لطف و کرم فرما ۔
اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ (ف۲۹۲) اور آخرت میں بیشک ہم تیری طرف رجوع لائے، فرمایا (ف۲۹۳) میرا عذاب میں جسے چاہوں دوں (ف۲۹٤) اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے (ف۲۹۵) تو عنقریب میں (ف۲۹٦) نعمتوں کو ان کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوٰة دیتے ہیں اور وہ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں،
“And destine good for us in this world and in the Hereafter – We have indeed inclined towards You”; He said, “I give My punishment to whomever I will; and My mercy encompasses all things; so I shall soon destine favours for those who fear and pay the charity, and they believe in Our signs.”
और मूसा ने अपनी क़ौम से सत्तर 70, मर्द हमारे वादा के लिए चुने फिर जब उन्हें ज़लज़ला ने लिया मूसा ने अर्ज़ की ऐ रब मेरे! तू चाहता तो पहले ही उन्हें और मुझे हलाक कर देता क्या तू हमें इस काम पर हलाक फ़रमाएगा जो हमारे बेअक़्लों ने किया वह नहीं मगर तेरा आज़माना, तू उससे बहकाए जिसे चाहे और राह दिखाए जिसे चाहे तू हमारा मौला है तू हमें बख़्श दे और हम पर मेहर कर और तू सबसे बेहतर बख़्शने वाला है,
mard hamare waada ke liye chune phir jab unhein zalzala ne liya Moosa ne arz ki ae Rab mere! tu chahta to pehle hi unhein aur mujhe halaak kar deta kya tu humein is kaam par halaak farmaaye ga jo hamare be-aqlon ne kiya woh nahin magar tera aazmana, tu is se behkaaye jise chahe aur raah dikhaaye jise chahe tu hamara Maula hai tu humein bakhsh de aur hum par mehr kar aur tu sab se behtar bakhshne wala hai,
(ف292)اور ہمیں توفیقِ طاعت مَرحمت فرما ۔(ف293)اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے ۔(ف294)مجھے اختیار ہے سب میرے مَملوک اور بندے ہیں کسی کو مجالِ اعتراض نہیں ۔(ف295)دنیا میں نیک اور بد سب کو پہنچتی ہے ۔(ف296)آخرت کی ۔
وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بےپڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی (ف۲۹۷) جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں (ف۲۹۸) وہ انہیں بھلائی کا حکم دے گا اور برائی سے منع کرے گا اور ستھری چیزیں ان کے لیے حلال فرمائے گا اور گندی چیزیں ان پر حرام کرے گا اور ان پر سے وہ بوجھ (ف۲۹۹) اور گلے کے پھندے (ف۳۰۰) جو ان پر تھے اتارے گا، تو وہ جو اس پر (ف۳۰۱) ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا (ف۳۰۲) وہی بامراد ہوئے،
“Those who will obey this Noble Messenger (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), the Herald of the Hidden who is untutored* (except by Allah), whom they will find mentioned in the Taurat and the Injeel with them; he will command them to do good and forbid them from wrong, and he will make lawful for them the good clean things and prohibit the foul for them, and he will unburden the loads and the neck chains which were upon them; so those who believe in him, and revere** him, and help him, and follow the light which came down with him – it is they who have succeeded." (*The Holy Prophet was taught by Allah Himself – see Surah 55 Al-Rahman. **To honour the Holy Prophet – peace and blessings be upon him – is part of faith. To disrespect him is blasphemy.)
और हमारे लिए इस दुनिया में भलाई लिख और आख़िरत में बेशक हम तेरी तरफ़ रुजू लाए, फ़रमाया मेरा अज़ाब मैं जिसे चाहूँ दूँ और मेरी रहमत हर चीज़ को घेरे है तो क़रीब मैं नेमतों को उनके लिए लिख दूँगा जो डरते और ज़कात देते हैं और वह हमारी आयतों पर ईमान लाते हैं,
Aur hamare liye is duniya mein bhalai likh aur aakhrat mein beshak hum teri taraf ruju laaye, farmaya mera azaab main jise chaahoon doon aur meri rehmat har cheez ko ghairay hai to anqareeb main ne’maton ko un ke liye likh doonga jo darte aur zakaat dete hain aur woh hamari aayaton par imaan laate hain,
(ف297)یہاں رسول سے بہ اجماع مفسِّرین سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰےصلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں ۔ آپ کا ذکر وصفِ رسالت سے فرمایا گیا کیونکہ آپ اللہ اور اس کے مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں ۔ فرائضِ رسالت ادا فرماتے ہیں ، اللہ تعالٰی کے اوامِر و نہی و شرائِع و اَحکام اس کے بندوں کو پہنچاتے ہیں ، اس کے بعد آپ کی توصیف میں نبی فرمایا گیا اس کا ترجمہ حضرت مُتَرجِم قُدِّسَ سِرُّہ نے (غیب کی خبریں دینے والے) کیا ہے اور یہ نہایت ہی صحیح ترجمہ ہے کیونکہ نَبَاْ خبر کو کہتے ہیں جو مفیدِ علم ہو اور شائبۂ کِذب سے خالی ہو ۔ قرآنِ کریم میں یہ لفظ اس معنٰی میں بکثرت مستعمل ہوا ہے ۔ ایک جگہ ارشاد ہوا قُلْ ھُوَ نَبَؤُ عَظِیمٌ ایک جگہ فرمایا تِلْکَ مِنْ اَنْبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْھَآ اِلَیْکَ ایک جگہ فرمایا فَلَمَّا اَنْبَأَھُمْ بِاَسْمَآءِ ھِمْ اور بکثرت آیات میں یہ لفظ اس معنٰی میں وارد ہوا ہے پھر یہ لفظ یا فاعِل کے معنٰی میں ہوگا یا مفعول کے معنٰی میں ، پہلی صورت میں اس کے معنٰی غیب کی خبریں دینے والے اور دوسری صورت میں اس کے معنٰی ہوں گے غیب کی خبریں دیئے ہوئے اور دونوں معنٰی کو قرآنِ کریم سے تائید پہنچتی ہے ۔ پہلے معنٰی کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے نَبِّیءْ عِبَادِیْ دوسری آیت میں فرمایا قُلْ اَؤُنَبِّئُکُمْ اور اسی قبیل سے ہے حضرت مسیح علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ارشاد جو قرآنِ کریم میں وارِد ہوا اُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاْکُلُوْنَ وَمَا تَدَّ خِرُوْنَ اور دوسری صورت کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے۔ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ اور حقیقت میں انبیاء علیہم السلام غیب کی خبریں دینے والے ہی ہوتے ہیں ۔ تفسیرِ خازن میں ہے کہ آپ کے وصف میں نبی فرمایا کیونکہ نبی ہونا اعلٰی اور اشرف مراتب میں سے ہے اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ آپ اللہ کے نزدیک بہت بلند درجے رکھنے والے اور اس کی طرف سے خبر دینے والے ہیں اُمِّی کا ترجمہ حضرت متَرجِم قُدِّسَ سِرُّہ نے (بے پڑھے) فرمایا یہ ترجمہ بالکل حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے ارشاد کے مطابق ہے اور یقیناً اُمِّی ہونا آپ کے معجزات میں سے ایک معجِزہ ہے کہ دنیا میں کسی سے پڑھا نہیں اور کتاب وہ لائے جس میں اوّلین و آخرین اور غیبوں کے علوم ہیں ۔ (خازن) خاکی وبَر اُوج عرش منزل ، اُمِّی و کتاب خانہ در دِل دیگر : اُمِّی و دقیقہ دان عالَم ، بے سایہ و سائبان عالَم صلوٰۃ اللہ تعالیٰ علیہ وسَلَامُہ ۔(ف298)یعنی توریت و انجیل میں آپ کی نعت و صفت و نبوّت لکھی پائیں گے ۔ حدیث : حضرت عطاء ابنِ یسار نے حضرت عبداللہ بن عَمۡرو رضی اللہ عنہ سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اوصاف دریافت کئے جو توریت میں مذکور ہیں انہوں نے فرمایا کہ حضور کے جو اوصاف قرآنِ کریم میں آئے ہیں انہیں میں کے بعض اوصاف توریت میں مذکور ہیں ، اس کے بعد انہوں نے پڑھنا شروع کیا اے نبی ہم نے تمہیں بھیجا شاہِد و مبشِّر اور نذیر اور اُمّیّوں کا نگہبان بنا کر ۔ تم میرے بندے اور میرے رسول ہو میں نے تمہارا نام مُتوَکِّل رکھا ، نہ بد خُلق ہو نہ سخت مزاج ، نہ بازاروں میں آواز بلند کرنے والے ، نہ بُرائی سے بُرائی کو دفع کرو لیکن خطا کاروں کو معاف کرتے ہو اور ان پر احسان فرماتے ہو ، اللہ تعالٰی تمہیں نہ اُٹھائے گا جب تک کہ تمہاری برکت سے غیر مُستقیم مِلّت کو اس طرح راست نہ فرماوے کہ لوگ صِدق و یقین کے ساتھ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پکارنے لگیں اور تمہاری بدولت اندھی آنکھیں بینا اور بہرے کان شُنوا اور پردوں میں لپٹے ہوئے دل کشادہ ہو جائیں اور حضرت کعب اَحبار سے حضور کی صفات میں توریت شریف کا یہ مضمون بھی منقول ہے کہ اللہ تعالٰی نے آپ کی صفت میں فرمایا کہ میں انہیں ہر خوبی کے قابِل کروں گا ،اور ہر خُلقِ کریم عطا فرماؤں گا اور اطمینانِ قلب و وقار کو ان کا لباس بناؤں گا اور طاعات و اِ حسان کو ان کا شعار کروں گا اور تقوٰی کو ان کا ضمیر اور حکمت کو ان کا راز اور صدق و وفا کو ان کی طبیعت اور عفو و کرم کو ان کی عادت اور عدل کو ان کی سیرت اور اظہارِ حق کو ان کی شریعت اور ہدایت کو ان کا اِمام اور اسلام کو ان کی مِلّت بناؤں گا ۔ اَحمد انکا نام ہے ، خَلق کو ان کے صدقے میں گمراہی کے بعد ہدایت اور جہالت کے بعد علم و معرِفت اور گمنامی کے بعد رِفعت و منزِلت عطا کروں گا اور انہیں کی برکت سے قِلّت کے بعد کثرت اور فقر کے بعد دولت اور تفرُّقے کے بعد مَحبت عنایت کروں گا ، انہیں کی بدولت مختلف قبائل غیر مُجتمع خواہشوں اور اختلاف رکھنے والے دلوں میں اُلفت پیدا کروں گا اور ان کی اُمّت کو تمام اُمّتوں سے بہتر کروں گا ۔ ایک اور حدیث میں توریت شریف سے حضور کے یہ اوصاف منقول ہیں میرے بندے احمدِ مختار ، انکا جائے ولادت مکّۂ مکرّمہ اور جائے ہجرت مدینہ طیّبہ ہے ، ان کی اُمّت ہر حال میں اللہ کی کثیر حمد کرنے والی ہے ۔ یہ چند نقول احادیث سے پیش کئے گئے ، کُتُبِ اِلٰہیہ حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت و صِفَت سے بھری ہوئی تھیں ۔ اہلِ کتاب ہر قَرن میں اپنی کتابوں میں تراش خراش کرتے رہے اور ان کی بڑی کوشِش اس پر مسلّط رہی کہ حضور کا ذکر اپنی کتابوں میں نام کو نہ چھوڑیں ۔ توریت انجیل وغیرہ ان کے ہاتھ میں تھیں اس لئے انہیں اس میں کچھ دشواری نہ تھی لیکن ہزاروں تبدیلیں کرنے کے بعد بھی موجودہ زمانہ کی بائیبل میں حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی بِشارت کا کچھ نہ کچھ نشان باقی رہ ہی گیا ۔ چنانچہ برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی لاہور ۱۹۳۱ء کی چھپی ہوئی بائیبل میں یوحنّا کی انجیل کے باب چودہ کی سولھویں آیت میں ہے ۔ اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے لفظِ مددگار پر حاشیہ ہے اس میں اس کے معنٰی وکیل یا شفیع لکھے تو اب حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بعد ایسا آنے والا جو شفیع ہو اور ابد تک رہے یعنی اس کا دین کبھی منسوخ نہ ہو بجُز سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے کون ہے پھر اُنتیسویں تیسویں آیت میں ہے ۔ اور اب میں نے تم سے اس کے ہونے سے پہلے کہہ دیا ہے تاکہ جب ہو جائے تو تم یقین کرو اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں کیسی صاف بِشارت ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی اُمّت کو حضور کی ولادت کا کیسا منتظِر بنایا اور شوق دلایا ہے اور دنیا کا سردار خاص سیدِ عالَم کا ترجمہ ہے اور یہ فرمانا کہ مجھ میں اس کا کچھ نہیں حضور کی عظمت کا اظہار اور اس کے حضور اپنا کمالِ ادب و انکسار ہے پھر اسی کتاب کے باب سولہ کی ساتویں آیت ہے ۔ لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لئے فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مدد گار تمہارے پاس نہ آئے گا لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا اس میں حضور کی بشارت کے ساتھ اس کا بھی صاف اظہار ہے کہ حضور خاتَم الانبیاء ہیں ، آپ کا ظہور جب ہی ہوگا جب حضرت عیسٰی علیہ السلام بھی تشریف لے جائیں ۔ اس کی تیرھویں آیت ہے لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا ۔ اس آیت میں بتایا گیا کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر دینِ الٰہی کی تکمیل ہو جائے گی اور آپ سچائی کی راہ یعنی دینِ حق کو مکمّل کر دیں گے ۔ اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ان کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اور یہ کلمہ کہ اپنی طرف سے نہ کہے گا جو کچھ سنے گا وہی کہے گا خاص مَایَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ اِلَّاوَحْیٌ یُّوْحٰی کا ترجمہ ہے اور یہ جملہ کہ تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا اس میں صاف بیان ہے کہ وہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غیبی علوم تعلیم فرمائیں گے جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا۔ یُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ اور مَاھُوَعَلَی الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ ۔(ف299)یعنی سخت تکلیفیں جیسے کہ توبہ میں اپنے آپ کو قتل کرنا اور جن اعضاء سے گناہ صادِر ہوں ان کو کاٹ ڈالنا ۔(ف300)یعنی احکامِ شاقّہ جیسے کہ بدن اور کپڑے کے جس مقام کو نَجاست لگے اس کو قینچی سے کاٹ ڈالنا اور غنیمتوں کو جلانا اور گناہوں کا مکانوں کے دروازوں پر ظاہر ہونا وغیرہ ۔(ف301)یعنی محمّدِ مصطفٰےصلی اللہ علیہ وسلم پر ۔(ف302)اس نُور سے قرآن شریف مراد ہے جس سے مومن کا دل روشن ہوتا ہے اور شک و جہالت کی تاریکیاں دور ہوتی ہیں اور علم و یقین کی ضیاء پھیلتی ہے ۔
تم فرماؤ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں (ف۳۰۳) کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کو ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں جلائے اور مارے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول بےپڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اس کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ،
Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O people! Indeed I am, towards you all, the Noble Messenger of Allah – for Whom (Allah) only is the kingship of the heavens and the earth; there is none worthy of worship, except Him – giving life and giving death; therefore believe in Allah and His Noble Messenger, the Prophet who is untutored (except by Allah), who believes in Allah and His Words, and obey him (the Prophet) to attain guidance.” (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – is the Prophet towards all mankind.)
वह जो ग़ुलामी करेंगे उस रसूल बे-पढ़े ग़ैब की ख़बरें देने वाले की जिसे लिखा हुआ पाएँगे अपने पास तौरैत और इंजील में वह उन्हें भलाई का हुक्म देगा और बुराई से मना करेगा और सुथरी चीज़ें उनके लिए हलाल फ़रमाएगा और गंदी चीज़ें उन पर हराम करेगा और उन पर से वह बोझ और गले के फंदे जो उन पर थे उतार देगा, तो वह जो उस पर ईमान लाएँ और उसकी तअज़ीम करें और उसे मदद दें और उस नूर की पैरवी करें जो उसके साथ उतरा वही बामुराद हुए,
Woh jo ghulami kareinge is Rasool be-parhe ghaib ki khabrein dene wale ki jise likha hua paayeinge apne paas Taurait aur Injeel mein woh unhein bhalai ka hukm de ga aur burai se man kare ga aur suthri cheezain un ke liye halal farmaaye ga aur gandi cheezain un par haraam kare ga aur un par se woh bojh aur galey ke phande jo un par the utaare ga, to woh jo is par imaan laayen aur us ki ta’zeem karein aur use madad dein aur is noor ki pairwi karein jo us ke saath utra wahi ba-muraad hue,
(ف303)یہ آیت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے عُمومِ رسالت کی دلیل ہے کہ آپ تمام خَلق کے رسول ہیں اور کُل جہاں آپ کی اُمّت ۔ بخاری و مسلم کی حدیث ہے حضور فرماتے ہیں پانچ چیزیں مجھے ایسی عطا ہوئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہ ملیں ۔ (۱) ہر نبی خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں سُرخ و سیاہ کی طرف مبعوث فرمایا گیا ۔ (۲) میرے لئے غنیمتیں حلال کی گئیں اور مجھ سے پہلے کسی کے لئے نہیں ہوئی تھیں ۔ (۳) میرے لئے زمین پاک اور پاک کرنے والی (قابلِ تَیَمُّم) اور مسجد کی گئی جس کسی کو کہیں نماز کا وقت آئے وہیں پڑھ لے ۔ (۴) دشمن پر ایک ماہ کی مَسافت تک میرا رُعب ڈال کر میری مدد فرمائی گئی ۔ (۵) اور مجھے شفاعت عنایت کی گئی ۔ مسلم شریف کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ میں تمام خَلق کی طرف رسول بنایا گیا اور میرے ساتھ انبیاء ختم کئے گئے ۔
اور موسیٰ کی قوم سے ایک گروہ ہے کہ حق کی راہ بتاتا اور اسی سے (ف۳۰٤) انصاف کرتا،
And among the people of Moosa is a group that shows the true path, and establishes justice with it.
तुम फ़रमाओ ऐ लोगो! मैं तुम सब की तरफ़ उस अल्लाह का रसूल हूँ कि आसमानों और ज़मीन की बादशाही उसी को है उसके सिवा कोई माबूद नहीं जलाए और मारे तो ईमान लाओ अल्लाह और उसके रसूल बे-पढ़े ग़ैब बताने वाले पर कि अल्लाह और उसकी बातों पर ईमान लाते हैं और उनकी ग़ुलामी करो कि तुम राह पाओ,
Tum farmao ae logo! main tum sab ki taraf is Allah ka Rasool hoon ke aasmaanon aur zameen ki baadshaahi usi ko hai us ke siwa koi ma’bood nahin jalaye aur maare to imaan lao Allah aur us ke Rasool be-parhe ghaib batane wale par ke Allah aur us ki baaton par imaan laate hain aur un ki ghulami karo ke tum raah paao,
اور ہم نے انہیں بانٹ دیا بارہ قبیلے گروہ گروہ، اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کو جب اس سے اس کی قوم نے (ف۳۰۵) پانی ما نگا کہ اس پتھر پر اپنا عصا مارو تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے (ف۳۰٦) ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا، اور ہم نے ان پر ابر کا سائبان کیا (ف۳۰۷) اور ان پر من و سلویٰ اتارا، کھاؤ ہماری دی ہوئی پاک چیزیں اور انہوں نے (ف۳۰۸) ہمارا کچھ نقصان نہ کیا لیکن اپنی ہی جانوں کا برا کرتے ہیں،
And We divided them into twelve tribes, as separate groups; and when his people asked him for water, We revealed to Moosa, “Strike the rock with your staff”; so twelve springs gushed forth from it; each group recognised its drinking-place; and We made the clouds a canopy over them and sent down the Manna and the Salwa (birds) on them; “Eat of the good things we have provided you”; and they did not wrong Us in the least, but they used to wrong themselves.
और मूसा की क़ौम से एक गिरोह है कि हक़ की राह बताता और उसी से इंसाफ़ करता,
Aur Moosa ki qoum se ek groh hai ke haqq ki raah bataata aur usi se insaaf karta,
(ف305)تِیہ میں ۔(ف306)ہر گروہ کے لئے ایک چشمہ ۔(ف307)تاکہ دھوپ سے امن میں رہیں ۔(ف308)ناشکری کر کے ۔
اور یاد کرو جب ان (ف۳۰۹) سے فرمایا گیا اس شہر میں بسو (ف۳۱۰) اور اس میں جو چاہو کھاؤ اور کہو گناہ اترے اور دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے، عنقریب نیکوں کو زیادہ عطا فرمائیں گے،
And remember when they were commanded, “Reside in this township and eat whatever you wish in it, and say ‘Sins are forgiven’ and enter the gate prostrating – We will forgive you your sins; We shall soon bestow more upon the virtuous.”
और हमने उन्हें बाँट दिया बारह क़बीले गिरोह गिरोह, और हमने वही भेजी मूसा को जब उससे उसकी क़ौम ने पानी माँगा कि इस पत्थर पर अपना अ़स्सा मारो तो उसमें से बारह चश्मे फूट निकले हर गिरोह ने अपना घाट पहचान लिया, और हमने उन पर अब्र का सायबान किया और उन पर मन व सलवा उतारा, खाओ हमारी दी हुई पाक चीज़ें और उन्होंने हमारा कुछ नुक़सान न किया लेकिन अपनी ही जानों का बुरा करते हैं,
تو ان میں کے ظالموں نے بات بدل دی اس کے خلاف جس کا انہیں حکم تھا (ف۳۱۱) تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا بدلہ ان کے ظلم کا (ف۳۱۲)
So the unjust among them changed the words, contrary to what they had been commanded – consequently We sent down upon them a punishment from the sky – the recompense of their injustice.
और याद करो जब उनसे फ़रमाया गया इस शहर में बसो और इसमें जो चाहो खाओ और कहो गुनाह उतरे और दरवाज़े में सज्दा करते दाख़िल हो हम तुम्हारे गुनाह बख़्श देंगे, क़रीब नेक़ों को ज़्यादा अता फ़रमाएँगे,
qabeelay groh groh, aur hum ne wahi bheji Moosa ko jab us se us ki qoum ne paani maanga ke is pathar par apna asa maaro to is mein se barah chashmey phoot nikle har groh ne apna ghaat pehchaan liya, aur hum ne un par abr ka saayaan kiya aur un par mann o salwa utaara, khao hamari di hui paak cheezen aur unhon ne hamara kuch nuqsaan na kiya lekin apni hi jaanon ka bura karte hain.
(ف311)یعنی حکم تو تھا کہ حِطَّۃُ کہتے ہوئے دروازے میں داخل ہوں ، حطۃ توبہ اور استغفار کا کلمہ ہے لیکن وہ بجائے اس کے براہِ تمسخُر حنطۃ فی شعیرۃ کہتے ہوئے داخل ہوئے ۔(ف312)یعنی عذاب بھیجنے کا سبب ان کا ظلم اور حکمِ الٰہی کی مخالفت کرنا ہے ۔
اور ان سے حال پوچھو اس بستی کا کہ دریا کنارے تھی (ف۳۱۳) جب وہ ہفتے کے بارے میں حد سے بڑھتے (ف۳۱٤) جب ہفتے کے دن ان کی مچھلیاں پانی پر تیرتی ان کے سامنے آتیں اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا نہ آتیں اس طرح ہم انہیں آزمانتے تھے ان کی بےحکمی کے سبب،
And ask them (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) of the township that was by the sea; when they used to exceed in the matter of the Sabbath – when their fish used to come swimming atop the water in front of them on the day of Sabbath and not come on the days it was not Sabbath; this is how We used to test them, due to their disobedience.
तो उनमें के ज़ालिमों ने बात बदल दी उसके ख़िलाफ़ जिसका उन्हें हुक्म था तो हमने उन पर आसमान से अज़ाब भेजा बदला उनके ज़ुल्म का
Aur yaad karo jab un se farmaya gaya is shehar me baso aur is me jo chaho khao aur kaho gunah utare aur darwaze me sajda karte daakhil ho hum tumhare gunah baksh denge, anqareeb nekon ko ziada ata farmaenge.
(ف313)حضرت نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خِطاب ہے کہ آپ اپنے قریب رہنے والے یہود سے تَو بِیخاً اس بستی والوں کا حال دریافت فرمائیں ۔ مقصود اس سوال سے یہ تھا کہ کُفّار پر ظاہر کر دیا جائے کہ کُفر و معصیت ان کا قدیمی دستور ہے ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت اورحضور کے معجزات کا انکار کرنا یہ ان کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے ان کے پہلے بھی کُفر پر مُصِر رہے ہیں ، اس کے بعد ان کے اَسلاف کا حال بیان فرمایا کہ وہ حکمِ الٰہی کی مخالفت کے سبب بندروں اور سُوروں کی شکل میں مسخ کر دیئے گئے ۔ اس بستی میں اختلاف ہے کہ وہ کون تھی ۔ حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ ایک قَریہ مِصر و مدینہ کے درمیان ہے ، ایک قول ہے کہ مدین و طور کے درمیان ، زُہری نے کہا کہ وہ قَریہ طبریہ شام ہے اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی ایک روایت میں ہے کہ وہ مَدْیَنْ ہے ، بعض نے کہا اِیلہ ہے واللہ تعالٰی اعلم ۔(ف314)کہ باوجود ممانعت کے ہفتے کے روز شکار کرتے ۔ اس بستی کے لوگ تین گروہ میں منقسم ہوگئے تھے ، ایک تہائی ایسے لوگ تھے جو شکار سے باز رہے اور شکار کرنے والوں کو منع کرتے تھے اور ایک تہائی خاموش تھے دوسروں کو منع نہ کرتے تھے اور منع کرنے والوں سے کہتے تھے ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے اور ایک گروہ وہ خطا کار لوگ تھے جنہوں نے حکمِ الٰہی کی مخالفت کی اور شکار کیا اور کھایا اور بیچا اور جب وہ اس معصیّت سے باز نہ آئے تو منع کرنے والے گروہ نے کہا کہ ہم تمہارے ساتھ بُود و باش نہ رکھیں گے اور گاؤں کو تقسیم کر کے درمیان میں ایک دیوار کھینچ دی ، منع کرنے والوں کا ایک دروازہ الگ تھا جس سے آتے جاتے تھے ۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے خطا کاروں پر لعنت کی ، ایک روز منع کرنے والوں نے دیکھا کہ خطاکاروں میں سے کوئی نہیں نکلا تو انہوں نے خیال کیا کہ شاید آج شراب کے نشہ میں مدہوش ہوگئے ہوں گے انہیں دیکھنے کے لئے دیوار پر چڑھے تو دیکھا کہ وہ بندروں کی صورتوں میں مسخ ہوگئے تھے اب یہ لوگ دروازہ کھول کر داخل ہوئے تو وہ بندر اپنے رشتہ داروں کو پہچانتے تھے اور ان کے پاس آ کر ان کے کپڑے سونگھتے تھے اور یہ لوگ ان بندر ہو جانے والوں کو نہیں پہچانتے تھے ، ان لوگوں نے ان سے کہا کیا ہم لوگوں نے تم سے منع نہیں کیا تھا انہوں نے سَر کے اشارے سے کہا ہاں اور وہ سب ہلاک ہوگئے اور منع کرنے والے سلامت رہے ۔
اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا، بولے تمہارے رب کے حضور معذرت کو (ف۳۱۵) اور شاید انہیں ڈر ہو (ف۳۱٦)
And when a group among them said, “Why do you preach to a people whom Allah is going to destroy or mete out a severe punishment?” They said, “To have an excuse before your Lord, and that perhaps they may fear.”
और उनसे हाल पूछो उस बस्ती का कि दरिया किनारे थी जब वह हफ़्ते के बारे में हद से बढ़ते जब हफ़्ते के दिन उनकी मछलियाँ पानी पर तैरती उनके सामने आतीं और जो दिन हफ़्ते का न होता न आतीं इस तरह हम उन्हें आज़माते थे उनकी बे-हुक़्मी के सबब,
To un me ke zalimon ne baat badal di is ke khilaf jis ka unhein hukum tha to hum ne un par aasman se azab bheja badla un ke zulm ka.
(ف315)تاکہ ہم پر نہی عنِ المنکَر ترک کرنے کا اِلزام نہ رہے ۔(ف316)اور وہ نصیحت سے نفع اُٹھا سکیں ۔
پھر جب بھلا بیٹھے جو نصیحت انہیں ہوئی تھی ہم نے بچالیے وہ جو برائی سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو برے عذاب میں پکڑا بدلہ ان کی نافرمانی کا،
And when they forgot the advices they had been given, We rescued those who forbade evil, and seized the unjust with a dreadful punishment – the recompense of their disobedience.
और जब उनमें से एक गिरोह ने कहा क्यों नसीहत करते हो उन लोगों को जिन्हें अल्लाह हलाक करने वाला है या उन्हें सख़्त अज़ाब देने वाला, बोले तुम्हारे रब के हुज़ूर मअज़रत को और शायद उन्हें डर हो
Aur un se haal poocho is basti ka ke darya kinare thi jab woh haftay ke baray me had se barhte, jab haftay ke din un ki machhliyan pani par teerti un ke samne aatin aur jo din haftay ka na hota na aatin, is tarah hum unhein aazmate the un ki be-hukmi ke sabab.
پھر جب انہوں نے ممانعت کے حکم سے سرکشی کی ہم نے ان سے فرمایا ہوجاؤ بندر دھتکارے ہوئے (ف۲۱۷)
Consequently when they rebelled against the command to refrain, We said to them, “Be apes, despised!”
फिर जब भुला बैठे जो नसीहत उन्हें हुई थी हमने बचा लिए वह जो बुराई से मना करते थे और ज़ालिमों को बुरे अज़ाब में पकड़ा बदला उनकी नाफ़रमानी का,
Aur jab un me se ek giroh ne kaha kyon naseehat karte ho un logon ko jinhain Allah halak karne wala hai ya unhein sakht azab dene wala, bole tumhare Rab ke huzoor ma’zerat ko aur shayad unhein dar ho.
(ف317)وہ بندر ہوگئے اور تین روز اسی حال میں مبتلا رہ کر ہلاک ہوگئے ۔
اور جب تمہارے رب نے حکم سنادیا کہ ضرور قیامت کے دن تک ان (ف۳۱۸) پر ایسے کو بھیجتا رہوں گا جو انہیں بری مار چکھائے (ف۳۱۹) بیشک تمہارا رب ضرور جلد عذاب والا ہے (ف۳۲۰) اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳۲۱)
And remember when your Lord announced the command that till the Day of Resurrection I will certainly send such oppressors against them, who will inflict them with a dreadful punishment; indeed your Lord is swift in meting out punishment; and indeed He is Oft Forgiving, Most Merciful.
फिर जब उन्होंने ममनाअत के हुक्म से सरकशी की हमने उनसे फ़रमाया हो जाओ बंदर धुत्कारे हुए
Phir jab bhula baithe jo naseehat unhein hui thi hum ne bacha liye woh jo burai se mana karte the aur zalimon ko bure azab me pakra badla un ki nafarmaani ka.
(ف318)یہود ۔ (ف319)چنانچہ ان پر اللہ تعالٰی نے بختِ نصر اور سنجاریب اور شاہانِ روم کو بھیجا جنہوں نے انہیں سخت ایذائیں اور تکلیفیں دیں اور قیامت تک کے لئے ان پر جِزیہ اور ذِلّت لازم ہوئی ۔(ف320)انکے لئے جو کُفر پر قائم رہیں ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ ان پر عذاب مُستَمِر رہے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔(ف321)ان کو جو اللہ کی اطاعت کریں اورا یمان لائیں ۔
اور انہیں ہم نے زمین میں متفرق کردیا گروہ گروہ، ان میں کچھ نیک ہیں (ف۳۲۲) اور کچھ اور طرح کے (ف۳۲۳) اور ہم نے انہیں بھلائیوں اور برائیوں سے آزمایا کہ کہیں وہ رجوع لائیں (ف۳۲٤)
And We divided them in the earth as separate groups; some of them are righteous and some are the other type; and We tested them with good (favours) and evil things (adversities) so that they may return.
और जब तुम्हारे रब ने हुक्म सुना दिया कि ज़रूर क़यामत के दिन तक उन पर ऐसे को भेजता रहूँगा जो उन्हें बुरी मार चखाए बेशक तुम्हारा रब ज़रूर जल्द अज़ाब वाला है और बेशक वह बख़्शने वाला मेहरबान है
Phir jab unhon ne mumana’at ke hukum se sarkashi ki hum ne un se farmaya ho jao bandar dhatkaare huwe.
(ف322)جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ا یمان لائے اور دین پر ثابت رہے ۔(ف323)جنہوں نے نافرمانی کی اور جنہوں نے کُفر کیا اور دین کو بدلا اور مُتغیَّر کیا ۔(ف324)بھلائیوں سے نعمت و راحت اور بُرائیوں سے شدّت و تکلیف مراد ہے ۔
پھر ان کی جگہ ان کے بعد وہ (ف۳۲۵) ناخلف آئے کہ کتاب کے وارث ہوئے (ف۳۲٦) اس دنیا کا مال لیتے ہیں (ف۳۲۷) اور کہتے اب ہماری بخشش ہوگی (ف۳۲۸) اور اگر ویسا ہی مال ان کے پاس اور آئے تو لے لیں (ف۳۲۹) کیا ان پر کتاب میں عہد نہ لیا گیا کہ اللہ کی طرف نسبت نہ کریں مگر حق اور انہوں نے اسے پڑھا (ف۳۳۰) اور بیشک پچھلا گھر بہتر ہے پرہیزگاروں کو (ف۳۳۱) تو کیا تمہیں عقل نہیں،
And after them in their place, came those unworthy successors who inherited the Books – they accept the goods of this world (as bribes) and say, “We shall soon be forgiven”; and if similar goods come to them again, they would accept it; was not the covenant taken from them in the Book, that they must not relate anything to Allah except the truth, and they have studied it? And indeed the abode of the Hereafter is better for the pious; so do you not have sense?
और उन्हें हमने ज़मीन में मुतफ़र्रिक कर दिया गिरोह गिरोह, उनमें कुछ नेक़ हैं और कुछ और तरह के और हमने उन्हें भलाईयों और बुराईयों से आज़माया कि कहीं वह रुजू लाएँ
Aur jab tumhare Rab ne hukum suna diya ke zaroor qayamat ke din tak un par aise ko bhejta rahoon ga jo unhein buri maar chakhae, beshak tumhara Rab zaroor jald azab wala hai aur beshak woh bakhshne wala meharban hai.
(ف325)جن کی دو قسمیں بیان فرمائی گئیں ۔(ف326)یعنی توریت کے جو انہوں نے اپنے اَسلاف سے پائی اور اس کے اوامِر و نواہی اور تحلیل و تحریم وغیرہ مضامین پر مطّلع ہوئے ۔ مدارک میں ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھے ان کی حالت یہ ہے کہ ۔(ف327)بطورِ رشوت کے احکام کی تبدیل اور کلام کی تغیِیر پر اور و ہ جانتے بھی ہیں کہ یہ حرام ہے لیکن پھر بھی اس گناہِ عظیم پر مُصِر ہیں ۔(ف328)اور ان گناہوں پر ہم سے کچھ مؤاخَذہ نہ ہوگا ۔(ف329)اور آئیندہ بھی گناہ کرتے چلے جائیں ۔ سدی نے کہا کہ بنی اسرائیل میں کوئی قاضی ایسا نہ ہوتا تھا جو رشوت نہ لے جب اس سے کہا جاتا تھا کہ تم رشوت لیتے ہو تو کہتا تھا کہ یہ گناہ بخش دیا جائے گا ، اس کے زمانہ میں دوسرے اس پر طعن کرتے تھے لیکن جب وہ مر جاتا یا معزول کر دیا جاتا اور وہی طعن کرنے والے اس کی جگہ حاکِم و قاضی ہوتے تو وہ بھی اسی طرح رشوت لیتے ۔(ف330)لیکن باوجود اس کے انہوں نے اس کے خلاف کیا ۔ توریت میں گناہ پر اصرار کرنے والے کے لئے مغفرت کا وعدہ نہ تھا تو ان کا گناہ کئے جانا ، توبہ نہ کرنا اور اس پر یہ کہنا کہ ہم سے مؤاخذہ نہ ہوگا یہ اللہ پر افترا ہے ۔(ف331)جو اللہ کے عذاب سے ڈریں اور رشوت و حرام سے بچیں اور اس کی فرمانبرداری کریں ۔
اور وہ جو کتاب کو مضبوط تھامتے ہیں (ف۳۳۲) اور انہوں نے نماز قائم رکھی، ہم نیکوں کا نیگ (اجر) نہیں گنواتے،
And those who hold fast to the Book, and have kept the prayer established; and We do not waste the wages of the righteous.
फिर उनकी जगह उनके बाद वह नाख़लफ़ आए कि किताब के वारिस हुए इस दुनिया का माल लेते हैं और कहते अब हमारी बख़्शिश होगी और अगर वैसा ही माल उनके पास और आए तो ले लें क्या उन पर किताब में अहद न लिया गया कि अल्लाह की तरफ़ निस्बत न करें मगर हक़ और उन्होंने उसे पढ़ा और बेशक पिछला घर बेहतर है परहेज़गारों को तो क्या तुम्हें अक़्ल नहीं,
Aur unhein hum ne zameen me mutafarriq kar diya giroh giroh, un me kuch nek hain aur kuch aur tarah ke, aur hum ne unhein bhalaiyon aur buraiyon se aazmaya ke kahin woh rujoo laen.
(ف332)اور اس کے مطابق عمل کرتے ہیں اور اس کے تمام احکام کو مانتے ہیں اور اس میں تغیِیر و تبدیل روا نہیں رکھتے ۔شانِ نُزول : یہ آیت اہلِ کتاب میں سے حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ ایسے اصحاب کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے پہلی کتاب کا اِتّباع کیا اور اس کی تحریف نہ کی ، اس کے مضامین کو نہ چھپایا اور اس کتاب کے اِتّباع کی بدولت انہیں قرآنِ پاک پر ا یمان نصیب ہوا ۔ (خازن و مدارک)
اور جب ہم نے پہاڑ ان پر اٹھایا گویا وہ سائبان ہے اور سمجھے کہ وہ ان پر گر پڑے گا (ف۳۳۳) تو جو ہم نے تمہیں دیا زور سے (ف۳۳٤) اور یاد کرو جو اس میں ہے کہ کہیں تم پرہیزگار ہو،
And when We raised the Mount (Sinai) above them as if it were a canopy, and they thought that it would fall upon them; “Accept firmly what We have given you, and remember what is in it, so that you may become pious.”
और वह जो किताब को मज़बूत थामते हैं और उन्होंने नमाज़ क़ायम रखी, हम नेक़ों का नेग (अज्र) नहीं गिनवाते,
Phir un ki jagah un ke baad woh na-khalaf aaye ke kitab ke waris huwe, is duniya ka maal lete hain aur kehte ab hamari bakhshish ho gi aur agar waisa hi maal un ke paas aur aaye to le lein, kya un par kitab me ahad na liya gaya ke Allah ki taraf nisbat na karein magar haq aur unhon ne use parha aur beshak pichhla ghar behtar hai parhezgaron ko, to kya tumhein aqal nahi.
(ف333)جب بنی اسرائیل نے تکالیفِ شاقّہ کی وجہ سے احکامِ توریت کو قبول کرنے سے انکار کیا تو حضرت جبریل نے بحکمِ الٰہی ایک پہاڑ جس کی مقدار ان کے لشکر کے برابر ایک فرسنگ طویل ، ایک فرسنگ عریض تھی اُٹھا کر سائبان کی طرح ان کے سرداروں کے قریب کر دیا اور ان سے کہا گیا کہ احکامِ توریت قبول کرو ورنہ یہ تم پر گرا دیا جائے گا ۔ پہاڑ کو سروں پر دیکھ کر سب کے سب سجدے میں کر گر گئے مگر اس طرح کے بایاں رخسارہ و ابرو تو انہوں نے سجدے میں رکھ دی ا ور داہنی آنکھ سے پہاڑ کو دیکھتے رہے کہ کہیں گر نہ پڑے چنانچہ اب تک یہودیوں کے سجدے کی یہی شان ہے ۔(ف334)عزم و کوشش سے ۔
اور اے محبوب! یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا، کیا میں تمہارا رب نہیں (ف۳۳۵) سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے (ف۳۳٦) کہ کہیں قیامت کے دن کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی (ف۳۳۷)
And remember when your Lord brought forth the generations from the backs of the Descendants of Adam, and made them their own witness; “Am I not your Lord?”; they all said, “Yes surely You are, why not? We testify”; for you may say on the Day of Resurrection that, “We were unaware of this.”
और जब हमने पहाड़ उन पर उठाया गोया वह साइबान है और समझे कि वह उन पर गिर पड़ेगा तो जो हमने तुम्हें दिया जोर से और याद करो जो उस में है कि कहीं तुम परहेज़गार हो,
Aur woh jo kitab ko mazboot thaamte hain aur unhon ne namaz qayam rakhi, hum nekon ka najig (ajr) nahi ginaate.
(ف335)حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی ذُرِّیَّت نکالی ا ور ان سے عہد لیا ۔ آیات و حدیث دونوں پر نظر کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذُرِّیَّت نکالنا اس سلسلہ کے ساتھ تھا جس طرح کہ دنیا میں ایک دوسرے سے پیدا ہوں گے اور انکے لئے ربوبیت اور وحدانیت کے دلائل قائم فرما کر اور عقل دے کر ان سے اپنی ربوبیت کی شہادت طلب فرمائی ۔(ف336)اپنے اوپر اور ہم نے تیری ربوبیت اور وحدانیت کا اقرار کیا ، یہ شاہِد کرنا اس لئے ہے ۔(ف337)ہمیں کوئی تنبیہ نہیں کی گئی تھی ۔
یا کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا اور ہم ان کے بعد بچے ہوئے (ف۳۳۸) تو کیا تو ہمیں اس پر ہلاک فرمائے گا جو اہل باطل نے کیا (ف۳۳۹)
Or you may say, “It is our ancestors who first ascribed partners (to Allah) and we were (their) children after them; so will You destroy us on account of the deeds of the followers of falsehood?”
और ऐ महबूब! याद करो जब तुम्हारे रब ने औलाद आदम की पुश्त से उन की नस्ल निकाली और उन्हें खुद उन पर गवाह किया, क्या मैं तुम्हारा रब नहीं सब बोले क्यों नहीं हम गवाह हुए कि कहीं क़यामत के दिन कहो कि हमें उस की ख़बर न थी
Aur jab hum ne pahad un par uthaya goya woh saayaban hai aur samjhe ke woh un par gir pade ga to jo hum ne tumhein diya zor se, aur yaad karo jo us me hai ke kahin tum parhezgar ho.
(ف338)جیسا انہیں دیکھا ان کے اِتّباع و اقتداء میں ویسا ہی کرتے رہے ۔(ف339)یہ عذر کرنے کا موقع نہ رہا جب کہ ان سے عہد لے لیا گیا اور ان کے پاس رسول آئے اور انہوں نے اس عہد کو یاد دلایا اور توحید پر دلائل قائم ہوئے ۔
اور ہم اسی طرح آیتیں رنگ رنگ سے بیان کرتے ہیں (ف۳٤۰) اور اس لیے کہ کہیں وہ پھر آئیں (ف۳٤۱)
And this is how We explain the verses in different ways, and so that they may return.
या कहो कि शिर्क तो पहले हमारे बाप दादा ने किया और हम उन के बाद बचे हुए तो क्या तू हमें उस पर हलाक फ़रमाएगा जो अहले बातिल ने किया
Aur ae mehboob! yaad karo jab tumhare Rab ne aulaad-e-Adam ki pusht se un ki nasal nikali aur unhein khud un par gawah kiya, kya main tumhara Rab nahi, sab bole kyon nahi, hum gawah huwe ke kahin qayamat ke din kaho ke humein is ki khabar na thi.
(ف340)تاکہ بندے تدبُّر و تفکُّر کرکے حق و ا یمان قبول کریں ۔(ف341)شرک و کُفر سے توحید و ا یمان کی طرف اور نبی صاحبِ معجزات کے بتانے سے اپنے عہدِ میثاق کو یاد کریں اور اس کے مطابق عمل کریں ۔
اور اے محبوب! انہیں اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں (ف۳٤۲) تو وہ ان سے صاف نکل گیا (ف۳٤۳) تو شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہوگیا،
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) recite to them the case of the one to whom We gave Our revelations, and in response he departed from them completely – so Satan went after him – he therefore became of the astray.
और हम इसी तरह आयतें रंग रंग से बयान करते हैं और इस लिए कि कहीं वह फिर आएं
Ya kaho ke shirk to pehle hamare baap dada ne kiya aur hum un ke baad bache huwe, to kya tu humein is par halak farmae ga jo ahl-e-batil ne kiya.
(ف342)یعنی بلعم باعور جس کا واقعہ مفسِّرین نے اس طرح بیان کیا ہے کہ جب حضرت موسٰی علیہ السلام نے جبّارین سے جنگ کا قصد کیا اور سر زمینِ شام میں نُزول فرمایا تو بلعم باعور کی قوم اس کے پاس آئی اور اس سے کہنے لگی کہ حضرت موسٰی علیہ السلام بہت تیز مزاج ہیں اور ان کے ساتھ کثیر لشکر ہے وہ یہاں آئے ہیں ہمیں ہمارے بلاد سے نکالیں گے اور قتل کریں گے اور بجائے ہمارے بنی اسرائیل کو اس سر زمین میں آباد کریں گے ، تیرے پاس اسمِ اعظم ہے اور تیری دعا قبول ہوتی ہے تو نکل اور اللہ تعالٰی سے دعا کر اللہ تعالٰی انہیں یہاں سے ہٹا دے ۔ بلعم باعور نے کہا تمہارا بُرا ہو حضرت مُوسٰی علیہ السلام نبی ہیں اور ان کے ساتھ فرشتے ہیں اور ا یمان دار لوگ ہیں ، میں کیسے ان پر دعا کروں ؟ میں جانتا ہوں جو اللہ تعالٰی کے نزدیک ان کا مرتبہ ہے اگر میں ایسا کروں تو میری دنیا و آخرت برباد ہو جائے گی مگر قوم اس سے اصرار کرتی رہی اور بہت اِلحاح و زاری کے ساتھ انہوں نے اپنا یہ سوال جاری رکھا تو بلعم باعور نے کہا کہ میں اپنے ربّ کی مرضی معلوم کر لوں اور اس کا یہی طریقہ تھا کہ جب کبھی کوئی دعا کرتا پہلے مرضی الٰہی معلوم کر لیتا اور خواب میں اس کا جواب مل جاتا چنانچہ اس مرتبہ بھی اس کو یہی جواب ملا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام اور ان کے ہمراہیوں کے خلاف دعا نہ کرنا ، اس نے قوم سے کہہ دیا کہ میں نے اپنے ربّ سے اجازت چاہی تھی مگر میرے ربّ نے ان پر دعا کرنے کی مُمانعت فرما دی تب قوم نے اس کو ہدیئے اور نذرانے دیئے جو اس نے قبول کئے اور قوم نے اپنا سوال جاری رکھا تو پھر دوسری مرتبہ بلعم باعور نے ربّ تبارَک وتعالٰی سے اجازت چاہی اس کا کچھ جواب نہ ملا ، اس نے قوم سے کہہ دیا کہ مجھے اس مرتبہ کچھ جواب ہی نہ ملا قوم کے لوگ کہنے لگے کہ اگر اللہ کو منظور نہ ہوتا تو وہ پہلے کی طرح دوبارہ بھی منع فرماتا اور قوم کا اِلحاح و اصرار اور بھی زیادہ ہوا حتٰی کہ انہوں نے اس کو فتنہ میں ڈال دیا اور آخر کار وہ بددعا کرنے کے لئے پہاڑ پر چڑھا تو جو بددعا کرتا اللہ تعالٰی اس کی زبان کو اس کی قوم کی طرف پھیر دیتا تھا اور اپنی قوم کے لئے جو دعائے خیر کرتا تھا بجائے قوم کے بنی اسرائیل کا نام اس کی زبان پر آتا تھا ۔ قوم نے کہا اے بلعم یہ کیا کر رہا ہے ؟ بنی اسرائیل کے لئے دعا کرتا ہے ہمارے لئے بددعا ، کہا یہ میرے اختیار کی بات نہیں ، میری زبان میرے قبضہ میں نہیں ہے اور اس کی زبان باہر نکل پڑی تو اس نے اپنی قوم سے کہا میری دنیا و آخرت دونوں برباد ہوگئیں ۔ اس آیت میں اس کا بیان ہے ۔(ف343)اور ان کا اِتّباع نہ کیا ۔
اور ہم چاہتے تو آیتوں کے سبب اسے اٹھالیتے (ف۳٤٤) مگر وہ تو زمین پکڑ گیا (ف۳٤۵) اور اپنی خواہش کا تابع ہوا تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے (ف۲٤٦) یہ حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو تم نصیحت سناؤ کہ کہیں وہ دھیان کریں،
And had We willed We could have raised him because of the revelations, but he clung to the earth and followed his own desires; his condition therefore is like that of a dog; if you attack him he hangs out his tongue and if you leave him he hangs out his tongue; this is the state of the people who denied Our signs; therefore preach, so that they may give thought.
और ऐ महबूब! उन्हें उस का अहवाल सुनाओ जिसे हमने अपनी आयतें दीं तो वह उन से साफ़ निकल गया तो शैतान उस के पीछे लगा तो गुमराहों में हो गया,
Aur hum isi tarah ayatein rang rang se bayan karte hain aur is liye ke kahin woh phir aayen.
(ف344)اور بلند درجہ عطا فرما کر اَبرار کی منازِل میں پہنچاتے ۔(ف345)اور دنیا کامَفتوں ہوگیا ۔(ف346)یہ ایک ذلیل جانور کے ساتھ تشبیہ ہے کہ دنیا کی حِرص رکھنے والا اگر اس کو نصیحت کرو تو مفید نہیں , مبتلائے حرص رہتا ہے ، چھوڑ دو تو اسی حرص کا گرفتار ۔ جس طرح زبان نکالنا کُتّے کی لازمی طبیعت ہے ایسی ہی حرص ان کے لئے لازم ہوگئی ہے ۔
کیا بری کہاوت ہے ان کی جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور اپنی ہی جان کا برا کرتے تھے،
What an evil example is of those who denied Our signs and used to wrong only their own souls.
और हम चाहते तो आयतों के सबब उसे उठा लेते मगर वह तो ज़मीन पकड़ गया और अपनी ख़्वाहिश का ताबे हुआ तो उस का हाल कुत्ते की तरह है तू उस पर हमला करे तो ज़बान निकाले और छोड़ दे तो ज़बान निकाले यह हाल है उन का जिन्होंने हमारी आयतें झटलाईं तो तुम नसीहत सुनाओ कि कहीं वह ध्यान करें,
Aur ae mehboob! unhein is ka ahwaal sunao jise hum ne apni ayatein di to woh un se saaf nikal gaya to shaitaan us ke peeche laga to gumraahon me ho gaya.
جسے اللہ راہ دکھائے تو وہی راہ پر ہے، اور جسے گمراہ کرے تو وہی نقصان میں رہے،
Whomever Allah guides – only he is on the right path; and whomever He sends astray – it is they who are the losers.
क्या बुरी कहावत है उन की जिन्होंने हमारी आयतें झटलाईं और अपनी ही जान का बुरा करते थे,
Aur hum chahte to ayaton ke sabab use utha lete magar woh to zameen pakad gaya aur apni khwahish ka tab’ah huwa, to us ka haal kutte ki tarah hai tu us par hamla kare to zuban nikaale aur chhod de to zuban nikaale, yeh haal hai un ka jinhon ne hamari ayatein jhutlayin, to tum naseehat sunao ke kahin woh dhyaan karein.
اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی (ف۳٤۷) اور دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں (ف۳٤۸) اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں (ف۳٤۹) اور وہ کان جن سے سنتے نہیں (ف۳۵۰) وہ چوپایوں کی طرح ہیں (ف۳۵۱) بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ (ف۳۵۲) وہی غفلت میں پڑے ہیں،
And indeed We have created many jinns and men for hell; they have hearts in which their is no understanding; and the eyes they do not see with; and the ears they do not hear with; they are like cattle – in fact more astray; it is they who are the neglectful.
जिसे अल्लाह राह दिखाए तो वही राह पर है, और जिसे गुमराह करे तो वही नुक़सान में रहे,
Kya buri kahawat hai un ki jinhon ne hamari ayatein jhutlayin aur apni hi jaan ka bura karte the.
(ف347)یعنی کُفّارجو آیاتِ الٰہیہ میں تدبّر سے اِعراض کرتے ہیں ، ان کا کافِر ہونا اللہ کے علمِ ازلی میں ہے ۔(ف348)یعنی حق سے اعراض کرکے آیاتِ الٰہیہ بھی تدبّر کرنے سے محروم ہوگئے اور یہی دل کا خاص کام تھا ۔(ف349)راہِ حق و ہدایت اور آیاتِ الٰہیہ اور دلائلِ توحید ۔(ف350)موعِظت و نصیحت کو بگوش قبول اور باوجود قلب و حواس رکھنے کے وہ امورِ دین میں ان سے نفع نہیں اٹھاتے لہٰذا ۔(ف351)کہ اپنے قلب و حواس سے مَدارکِ علمیّہ و معارِفِ ربّانیّہ کا اِدراک نہیں کرتے ہیں ۔کھانے پینے کے دُنیوی کاموں میں تمام حیوانات بھی اپنے حواس سے کام لیتے ہیں ، انسان بھی اتنا ہی کرتا رہا تو اس کو بہائِم پر کیا فضیلت ۔(ف352)کیونکہ چوپایہ بھی اپنے نفع کی طرف بڑھتا ہے اور ضَرر سے بچتا اور اس سے پیچھے ہٹتا ہے اور کافِر جہنّم کی راہ پر چل کر اپنا ضَرر اختیار کرتا ہے تو اس سے بدتر ہوا ۔ آدمی روحانی ، شہوانی ، سماوی ، ارضی ہے جب اس کی روح شہوات پر غالب ہو جاتی ہے تو ملائکہ سے فائِق ہو جاتا ہے اور جب شہوات روح پر غلبہ پاجاتی ہیں تو زمین کے جانوروں سے بدتر ہو جاتا ہے ۔
اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام (ف۳۵۳) تو اسے ان سے پکارو اور انہیں چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے نکلتے ہیں (ف۳۵٤) وہ جلد اپنا کیا پائیں گے،
And for Allah only are the best names, so invoke Him by them; and abandon those who depart from the truth regarding His names; they will soon receive the reward of their deeds.
और बेशक हमने जहन्नम के लिए पैदा किए बहुत जिन और आदमी और दिल रखते हैं जिन में समझ नहीं और वह आंखें जिन से देखते नहीं और वह कान जिन से सुनते नहीं वह चौपायों की तरह हैं बल्कि उन से बढ़ कर गुमराह वही ग़फ़लत में पड़े हैं,
Jise Allah raah dikhaye to wohi raah par hai, aur jise gumrah kare to wohi nuqsan me rahe.
(ف353)حدیث شریف میں ہے اللہ تعالٰی کے ننانوے نام جس کسی نے یاد کر لئے جنّتی ہوا ۔ عُلَماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اسمائے اِلٰہیہ ننانوے میں منحصَر نہیں ہیں ۔ حدیث کا مقصود صرف یہ ہے کہ اتنے ناموں کے یاد کرنے سے انسان جنّتی ہو جاتا ہے ۔ شانِ نُزول : ابو جہل نے کہا تھا کہ محمّد (مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم ) کا دعوٰی تو یہ ہے کہ وہ ایک پروردگار کی عبادت کرتے ہیں پھر وہ اللہ اور رحمٰن دو کو کیوں پکارتے ہیں ؟ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور اس جاہِل بے خِرَد کو بتایا گیا کہ معبود تو ایک ہی ہے نام اس کے بہت ہیں ۔(ف354)اس کے ناموں میں حق و استِقامت سے نکلنا کئی طرح پر ہے ۔ مسائل : ایک تو یہ کہ اس کے ناموں کو کچھ بگاڑ کر غیروں پر اِطلاق کرنا جیسے کہ مشرکین نے اِلٰہ کا لات اور عزیز کا عُزّٰی اور منان کا منات کر کے اپنے بُتوں کے نام رکھے تھے ، یہ ناموں میں حق سے تجاوز اور ناجائز ہے ، دوسرے یہ کہ اللہ تعالٰی کے لئے ایسا نام مقرّر کیا جائے جو قرآن و حدیث میں نہ آیا ہو یہ بھی جائز نہیں جیسے کہ سخی یا رفیق کہنا کیونکہ اللہ تعالٰی کے اسماء توقیفیہ ہیں ۔ تیسرے حسنِ ادب کی رعائیت کرنا تو فقط یا ضار ، یا مانِع ، یا خالِق القِردۃ کہنا جائز نہیں بلکہ دوسرے اسماء کے ساتھ ملا کر کہا جائے گا یا ضار ، یا نافِع اور یا مُعطی ، یا خالِقَ الخَلق ۔ چوتھے یہ کہ اللہ تعالٰی کے لئے کوئی ایسا نام مقرّر کیا جائے جس کے معنٰی فاسِد ہوں یہ بھی بہت سخت ناجائز ہے جیسے کہ لفظ رام اور پرماتما وغیرہ ۔ پنجم ایسے اسماء کا اطلاق جن کے معنٰی معلوم نہیں ہیں اور یہ نہیں جانا جاسکتا کہ وہ جلالِ الٰہی کے لائق ہیں یا نہیں ۔
اور ہمارے بنائے ہوؤں میں ایک گروہ وہ ہے کہ حق بتائیں اور اس پر انصاف کریں (ف۳۵۵)
And from Our creation is a group that shows the truth and establishes justice with it.
और अल्लाह ही के हैं बहुत अच्छे नाम तो उसे उन से पुकारो और उन्हें छोड़ दो जो उस के नामों में हक़ से निकलते हैं वह जल्द अपना किया पाएंगे,
Aur beshak hum ne jahannam ke liye paida kiye bohot jinn aur aadmi, aur dil rakhte hain jinhain samajh nahi, aur woh aankhen jinh se dekhte nahi, aur woh kaan jinh se sunte nahi, woh chopaayon ki tarah hain, balke un se barh kar gumrah, wohi ghaflat me pade hain.
(ف355)یہ گروہ حق پژوہ عُلَماء اور ہادیانِ دین کا ہے ۔ اس آیت سے یہ مسئلہ ثابت ہوا کہ ہر زمانہ کے اہلِ حق کا اِجماع حُجّت ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ کوئی زمانہ حق پرستوں اور دین کے ہادیوں سے خالی نہ ہوگا جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ ایک گروہ میری اُمّت کا تا قیامت دینِ حق پر قائم رہے گا اس کو کسی کی عداوت و مخالفت ضَرر نہ پہنچا سکے گی ۔
کیا سوچتے نہیں کہ ان کے صاحب کو جنوں سے کچھ علاقہ نہیں، وہ تو صاف ڈر سنانے والے ہیں (ف۳۵۹)
Do they not ponder that their companion is far removed from insanity? In fact he is clearly a Herald of Warning.
और मैं उन्हें ढील दूंगा बेशक मेरी ख़फ़ी तदबीर बहुत पक्की है
Aur jinhon ne hamari ayatein jhutlayin jald hum unhein aahista aahista azab ki taraf le jaenge jahan se unhein khabar na hogi.
(ف359)شانِ نُزول : جب نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہِ صفا پر چڑھ کرشب کے وقت قبیلہ قبیلہ کو پکارا اور فرمایا کہ میں تمہیں عذابِ الٰہی سے ڈرانے والا ہوں اورآپ نے انہیں اللہ کا خوف دلایا اور پیش آنے والے حوادِث کا ذکر کیا تو ان میں سے کسی نے آپ کی طرف جُنون کی نسبت کی ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور فرمایا گیا کیا انہوں نے فِکر و تامُّل سے کام نہ لیا اور عاقِبت اندیشی و دور بینی بالکل بالائے طاق رکھ دی اور یہ دیکھ کر کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اقوال و افعال میں ان کے مخالِف ہیں اور دنیا اور اس کی لذّتوں سے آپ نے مُنہ پھیر لیا ہے ، آخرت کی طرف متوجہ ہیں اور اللہ تعالٰی کی طرف دعوت دینے اور اس کا خوف دلانے میں شب و روز مشغول ہیں ۔ ان لوگوں نے آپ کی طرف جُنون کی نسبت کر دی یہ ان کی غلطی ہے ۔
کیا انہوں نے نگاہ نہ کی آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں اور جو جو چیز اللہ نے بنائی (ف۳٦۰) اور یہ کہ شاید ان کا وعدہ نزدیک آگیا ہو (ف۳٦۱) تو اس کے بعد اور کونسی بات پر یقین لائیں گے (ف۳٦۲)
Have they not pondered deeply regarding the kingdom of the heavens and the earth, and whatever things Allah created? And that possibly their promise (of death) may have come near? So after this*, in what will they believe? (*Advent of the Last Prophet and the Holy Qur’an.)
क्या सोचते नहीं कि उन के साहब को जिन्नों से कुछ ताल्लुक़ नहीं, वह तो साफ़ डर सुनाने वाले हैं
Aur main unhein dheel doonga beshak meri khufiya tadbeer bohot pakki hai.
(ف360)ان سب میں اس کی وحدانیت اور کمالِ حکمت و قدرت کی روشن دلیلیں ہیں ۔(ف361)اور وہ کُفر پر مر جائیں اور ہمیشہ کے لئے جہنّمی ہو جائیں ۔ ایسے حال میں عاقِل پر ضروری ہے کہ وہ سوچے سمجھے دلائل پر نظر کرے ۔(ف362)یعنی قرآنِ پاک کے بعد اور کوئی کتاب اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اور کوئی رسُول آنے والا نہیں جس کا انتظار ہو کیونکہ آپ خاتَم الانبیاء ہیں ۔
جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں اور انہیں چھوڑتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں،
For one whom Allah sends astray, there is none to guide him; and He leaves them to wander in their rebellion.
क्या उन्होंने निगाह न की आसमानों और ज़मीन की सल्तनत में और जो जो चीज़ अल्लाह ने बनाई और यह कि शायद उन का वादा नज़दीक आ गया हो तो उस के बाद और कौन सी बात पर यक़ीन लाएंगे
Kya sochte nahi ke un ke sahib ko jinno se kuch alaqa nahi, woh to saaf dar sunane wale hain.
تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں (ف۳٦۳) کہ وہ کب کو ٹھہری ہے تم فرماؤ اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے، اسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا (ف۳٦٤) بھاری پڑ رہی ہے آسمانوں اور زمین میں، تم پر نہ آئے گی مگر اچانک، تم سے ایسا پوچھتے ہیں گویا تم نے اسے خوب تحقیق کر رکھا ہے، تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے اس ہے لیکن بہت لوگ جانتے نہیں (ف۳٦۵)
They ask you about the Resurrection, as to when it is destined; say, “Indeed its knowledge is with my Lord; only He will manifest it at its time; it is proving cumbersome in the heavens and the earth; it will not come to you except suddenly”; they question you as if you have researched it deeply; say, “Indeed its knowledge is with Allah only but most people do not know.”
जिसे अल्लाह गुमराह करे उसे कोई राह दिखाने वाला नहीं और उन्हें छोड़ता है कि अपनी सरकशी में भटका करें,
Kya unhon ne nigah na ki aasmanon aur zameen ki saltanat me aur jo jo cheez Allah ne banayi aur yeh ke shayad un ka wada nazdeek aagaya ho, to is ke baad aur kaunsi baat par yaqeen laayenge.
(ف363)شانِ نُزول : حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودیوں نے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ نبی ہیں تو ہمیں بتائیے کہ قیامت کب قائم ہوگی کیونکہ ہمیں اس کا وقت معلوم ہے اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔(ف364)قیامت کے وقت کا بتانا رسالت کے لوازم سے نہیں ہے جیسا کہ تم نے قرار دیا اور اے یہود تم نے جو اس کا وقت جاننے کا دعوٰی کیا یہ بھی غلط ہے ، اللہ تعالٰی نے اس کو مخفی کیا ہے اور اس میں اس کی حکمت ہے ۔(ف365)اس کے اِخفاء کی حکمت تفسیرِ روح البیان میں ہے کہ بعض مشائخ اس طرف گئے ہیں کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باِعلا مِ الٰہی وقتِ قیامت کا علم ہے اور یہ حَصر آیت کے مُنافی نہیں ۔
تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے برے کا خودمختار نہیں (ف۳٦٦) مگر جو اللہ چاہے (ف۳٦۷) اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی، اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی (ف۳٦۸) میں تو یہی ڈر (ف۳٦۹) اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں،
Say, “I have no autonomy to benefit or hurt myself, except what Allah wills; and were I to procure knowledge of the hidden on my own, it would be that I had accumulated a lot of good; and no misfortune would touch me; I am purely a Herald of Warning and Glad Tidings to the people who believe.”
तुम से क़यामत को पूछते हैं कि वह कब को ठहरी है तुम फ़रमाओ उस का इल्म तो मेरे रब के पास है, उसे वही उस के वक़्त पर ज़ाहिर करेगा भारी पड़ रही है आसमानों और ज़मीन में, तुम पर न आएगी मगर अचानक, तुम से ऐसा पूछते हैं गोया तुम ने उसे खूब तहक़ीक़ कर रखा है, तुम फ़रमाओ उस का इल्म तो अल्लाह ही के पास है लेकिन बहुत लोग जानते नहीं
Jise Allah gumrah kare use koi raah dikhane wala nahi aur unhein chhodta hai ke apni sarkashi me bhatka karein.
(ف366)شانِ نُزول : غزوۂ بنی مُصطلَق سے واپسی کے وقت راہ میں تیز ہو ا چلی چوپائے بھاگے تو نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ مدینہ طیبہ میں رفاعہ کا انتقال ہوگیا اور یہ بھی فرمایا کہ دیکھو میرا ناقہ کہاں ہے ؟ عبداللہ بن اُبَیٔ منافِق اپنی قوم سے کہنے لگا ان کا کیسا عجیب حال ہے کہ مدینہ میں مرنے والے کی تو خبر دے رہے ہیں اور اپنا ناقہ معلوم ہی نہیں کہ کہاں ہے ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا یہ قول بھی مخفی نہ رہا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافِق لوگ ایسا ایسا کہتے ہیں اور میرا ناقہ اس گھاٹی میں ہے اس کی نکیل ایک درخت میں اُلجھ گئی ہے چنانچہ جیسا فرمایا تھا اسی شان سے وہ ناقہ پایا گیا اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔ (تفسیر کبیر)(ف367)وہ مالکِ حقیقی ہے جو کچھ ہے اس کی عطا سے ہے ۔(ف368)یہ کلام براہِ ادب و تواضُع ہے ۔ معنٰی یہ ہیں کہ میں اپنی ذات سے غیب نہیں جانتا ، جو جانتا ہوں وہ اللہ تعالٰی کی اطلاع اور اس کی عطا سے ۔ (خازن ) حضرت مُتَرجِم قُدِّسَ سِرُّہ نے فرمایا بھلائی جمع کرنا اور بُرائی نہ پہنچنا اسی کے اختیار میں ہو سکتا ہے جو ذاتی قدرت رکھے اور ذاتی قدرت وہی رکھے گا جس کا علم بھی ذاتی ہو کیونکہ جس کی ایک صفت ذاتی ہے اس کے تمام صفات ذاتی ، تو معنٰی یہ ہوئے کہ اگر مجھے غیب کا علم ذاتی ہوتا تو قدرت بھی ذاتی ہوتی اور میں بھلائی جمع کر لیتا اور برائی نہ پہنچنے دیتا ۔ بھلائی سے مراد راحتیں اور کامیابیاں اور دشمنوں پر غلبہ ہے اور برائیوں سے تنگی و تکلیف اور دشمنوں کا غالب آنا ہے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھلائی سے مراد سرکشوں کا مُطیع اور نافرمانوں کا فرمانبردار اور کافِروں کا مؤمن کر لینا ہو اور بُرائی سے بدبخت لوگوں کا باوجود دعوت کے محروم رہ جانا ، تو حاصلِ کلام یہ ہوگا کہ اگر میں نفع و ضَرر کا ذاتی اختیار رکھتا تو اے منافقین وکافِرین تمہیں سب کو مومِن کر ڈالتا اور تمہاری کُفری حالت دیکھنے کی تکلیف مجھے نہ پہنچتی ۔(ف369)سنانے والا ہوں کافِروں کو ۔
وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (ف۳۷۰) اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا (ف۳۷۱) کہ اس سے چین پائے پھر جب مرد اس پر چھایا اسے ایک ہلکا سا پیٹ رہ گیا (ف۳۷۲) تو اسے لیے پھراکی پھر جب بوجھل پڑی دونوں نے اپنے رب سے دعا کی ضرور اگر تو ہمیں جیسا چاہیے بچہ دے گا تو بیشک ہم شکر گزار ہوں گے،
It is He Who created you from a single soul, and from him made its mate for him to gain comfort with her; so when the male covered her, she was burdened lightly in her womb, and she therefore moved easily carrying it; and when she felt the burden heavy, they both cried to their Lord Allah, “Indeed You may give to us a child as You will, so we will surely be thankful.”
तुम फ़रमाओ मैं अपनी जान के भले बुरे का ख़ुदमुख्तार नहीं मगर जो अल्लाह चाहे और अगर मैं ग़ैब जान लिया करता तो यूं होता कि मैंने बहुत भलाई जमा कर ली, और मुझे कोई बुराई न पहुंची मैं तो यही डर और ख़ुशी सुनाने वाला हूं उन्हें जो ईमान रखते हैं,
Tum se qayamat ko poochhte hain ke woh kab ko thehri hai, tum farmao us ka ilm to mere Rab ke paas hai, use wahi us ke waqt par zaahir kare ga, bhari parh rahi hai aasmanon aur zameen me, tum par na aayegi magar achanak, tum se aisa poochhte hain goya tum ne use khoob tehqiqat kar rakha hai, tum farmao us ka ilm to Allah hi ke paas hai lekin bohot log jaante nahi.
(ف370)عِکرمہ کا قول ہے کہ اس آیت میں خِطاب عام ہے ہر ایک شخص کو اور معنٰی یہ ہیں کہ اللہ وہی ہے جس نے تم میں سے ہر ایک کو ایک جان سے یعنی اس کے باپ سے پیدا کیا اور اس کی جِنس سے اس کی بی بی کو بنایا پھر جب وہ دونوں جمع ہوئے اور حمل ظاہر ہوا اور ان دونوں نے تندرست بچہ کی دعا کی اور ایسا بچہ ملنے پر ادائے شکر کا عہد کیا پھر اللہ تعالٰی نے انہیں ویسا ہی بچہ عنایت فرمایا ۔ ان کی حالت یہ ہوئی کہ کبھی تو وہ اس بچہ کو طبائع کی طرف نسبت کرتے ہیں جیسے دہریوں کا حال ہے ، کبھی ستاروں کی طرف جیسا کواکب پرستوں کا طریقہ ہے ، کبھی بُتوں کی طرف جیسا بُت پرستوں کا دستور ہے ۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ وہ ان کے اس شرک سے برتر ہے ۔ (کبیر)(ف371)یعنی اس کے باپ کی جِنس سے اس کی بی بی بنائی ۔(ف372)مرد کا چھانا کنایہ ہے جِماع کرنے سے اور ہلکا سا پیٹ رہنا ابتدائے حمل کی حالت کا بیان ہے ۔
پھر جب اس نے انہیں جیسا چاہیے بچہ عطا فرمایا انہوں نے اس کی عطا میں اس کے ساجھی ٹھہرائے تو اللہ کو برتری ہے ان کے شرک سے (ف۳۷۳)
So when He bestowed them a normal child, they ascribed partners (to Him) in respect of what He had bestowed upon them; therefore Supreme is Allah, above all that they ascribe as partners.
वही है जिसने तुम्हें एक जान से पैदा किया और उसी में से उस का जोड़ा बनाया कि उस से चैन पाए फिर जब मर्द उस पर छाया उसे एक हलका सा पेट रह गया तो उसे लिए फेरा कि फिर जब बोज़्हल पड़ी दोनों ने अपने रब से दुआ की ज़रूर अगर तू हमें जैसा चाहिए बच्चा देगा तो बेशक हम शुक्र गुज़ार होंगे,
Tum farmao main apni jaan ke bhale bure ka khud-mukhtar nahi magar jo Allah chahe, aur agar main ghaib jaan liya karta to yun hota ke main ne bohot bhalai jama kar li aur mujhe koi burai na pohnchi, main to yahi dar aur khushi sunane wala hoon unhein jo iman rakhte hain.
(ف373)بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ اس آیت میں قریش کو خِطاب ہے جو قُصَیْ کی اولاد ہیں ۔ ان سے فرمایا گیا کہ تمہیں ایک شخص قُصَیۡ سے پیدا کیا اور اس کی بی بی اسی کی جِنس سے عرَبی قرَشی کی تاکہ اس سے چین و آرام پائے پھر جب ان کی درخواست کے مطابق انہیں تندرست بچہ عنایت کیا تو انہوں نے اللہ کی اس عطا میں دوسروں کو شریک بنایا اور اپنے چاروں بیٹوں کا نام عبد مُناف ، عبدالعُزّٰی ، عبد قُصَیۡ اور عبدالدار رکھا ۔
کیا اسے شریک کرتے ہیں جو کچھ نہ بنائے (ف۳۷٤) اور وہ خود بنائے ہوئے ہیں،
Do they (the disbelievers) ascribe (false deities) that which do not create anything, but are themselves created?
फिर जब उस ने उन्हें जैसा चाहिए बच्चा अता फ़रमाया उन्होंने उस की अता में उस के साझी ठहराए तो अल्लाह को बर्तरी है उन के शिर्क से
Wohi hai jis ne tumhein ek jaan se paida kiya aur usi me se us ka joda banaya ke us se chain paaye, phir jab mard us par chhaya usse ek halka sa pait reh gaya to use liye phira ki phir jab boojhal padi dono ne apne Rab se dua ki zaroor agar tu humein jaisa chahiye bacha de ga to beshak hum shukarguzar honge.
اور نہ وہ ان کو کوئی مدد پہنچاسکیں اور نہ اپنی جانوں کی مدد کریں (ف۳۷۵)
And cannot provide any help to them, nor do they help themselves?
क्या उसे शरीक करते हैं जो कुछ न बनाए और वह खुद बनाए हुए हैं,
Phir jab us ne unhein jaisa chahiye bacha ata farmaya unhon ne us ki ata me us ke saajhi thehraaye, to Allah ko bartri hai un ke shirk se.
(ف375)اس میں بُتوں کی بے قدری اور بُطلانِ شرک کا بیان اور مشرکین کے کمالِ جہل کا اِظہار ہے اور بتایا گیا ہے کہ عبادت کا مستحق وہی ہو سکتا ہے جو عابِدکو نفع پہنچانے اور ا س کا ضَرر دفع کرنے کی قدرت رکھتا ہو ۔ مشرکین جن بُتوں کو پُوجتے ہیں ان کی بے قدرتی اس درجہ کی ہے کہ وہ کسی چیز کے بنانے والے نہیں ، کسی چیز کے بنانے والے تو کیا ہوتے خود اپنی ذات میں دوسرے سے بے نیاز نہیں ، آپ مخلوق ہیں ، بنانے والے کے محتاج ہیں ، اس سے بڑھ کر بے اختیاری یہ ہے کہ وہ کسی کی مدد نہیں کر سکتے اور کسی کی کیا مدد کریں خود انہیں ضَرر پہنچے تو دفع نہیں کر سکتے ، کوئی انہیں توڑ دے ، گرا دے جو چاہے کرے وہ اس سے اپنی حفاظت نہیں کر سکتے ، ایسے مجبور بے اختیار کو پُوجنا انتہا درجہ کا جہل ہے ۔
کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے گرفت کریں یا ان کے آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا ان کے کان ہیں جن سے سنیں (ف۳۸۰) تم فرماؤ کہ اپنے شریکوں کو پکارو اور مجھ پر داؤ چلو اور مجھے مہلت نہ دو (ف۳۸۱)
Do they have feet to walk with? Or have they hands to hold with? Or have they eyes to see with? Or have they ears to hear with? Say, “Call upon your ascribed partners and conspire against me, and do not give me respite.”
बेशक वह जिन को तुम अल्लाह के सिवा पूजते हो तुम्हारी तरह बंदे हैं तो उन्हें पुकारो फिर वह तुम्हें जवाब दें अगर तुम सच्चे हो,
Aur agar tum unhein raah ki taraf bulao to tumhare peeche na aayen, tum par ek sa hai chaahe unhein pukaro ya chup raho.
(ف380)یہ کچھ بھی نہیں تو پھر اپنے سے کمتر کو پُوج کر کیوں ذلیل ہوتے ہو ۔(ف381)شانِ نُزول : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بُت پرستی کی مَذمّت کی اور بُتوں کی عاجزی اور بے اختیاری کا بیان فرمایا تو مشرکین نے دھمکایا اور کہا کہ بُتوں کو بُرا کہنے والے تباہ ہو جاتے ہیں ، برباد ہوجاتے ہیں ، یہ بُت انہیں ہلاک کر دیتے ہیں ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی کہ اگر بُتوں میں کچھ قدرت سمجھتے ہو تو انہیں پُکارو اور میری نقصان رسانی میں ان سے مدد لو اور تم بھی جو مکر و فریب کر سکتے ہو وہ میرے مقابلہ میں کرو اور اس میں دیر نہ کرو ، مجھے تمہاری اور تمہارے معبودوں کی کچھ بھی پرواہ نہیں اور تم سب میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ۔
بیشک میرا والی اللہ ہے جس نے کتاب اتاری (ف۳۸۲) اور وہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے (ف۳۸۳)
“Indeed my Protector is Allah Who has sent down the Book; and He befriends the righteous.”
क्या उन के पांव हैं जिन से चलें या उन के हाथ हैं जिन से गिरफ़्त करें या उन के आंखें हैं जिन से देखें या उन के कान हैं जिन से सुनें तुम फ़रमाओ कि अपने शरीकों को पुकारो और मुझ पर दांव चलो और मुझे मोहलत न दो
Beshak woh jinh ko tum Allah ke siwa poojte ho tumhari tarah bande hain, to unhein pukaro phir woh tumhein jawab dein agar tum sachche ho.
(ف382)اور میری طرف وحی بھیجی اور میری عزّت کی ۔(ف383)اور ان کا حافِظ وناصِر ہے اس پر بھروسہ رکھنے والوں کو مشرکین وغیرہ کا کیا اندیشہ ، تم اور تمہارے معبود مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔
اور جنہیں اس کے سوا پوجتے ہو وہ تمہاری مدد نہیں کرسکتے، اور نہ خود اپنی مدد کریں (ف۳۸٤)
“And those whom you worship besides Him cannot help you nor do they help themselves.”
बेशक मेरा वाली अल्लाह है जिसने किताब उतारी और वह नेकौं को दोस्त रखता है
Kya un ke paon hain jinh se chalein ya un ke haath hain jinh se girift karein ya un ke aankhen hain jinh se dekhein ya un ke kaan hain jinh se sunein, tum farmao ke apne shareekon ko pukaro aur mujh par daav chalo aur mujhe mohlat na do.
اور اگر تم انہیں راہ کی طرف بلاؤ تو نہ سنیں اور تو انہیں دیکھے کہ وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں (ف۳۸۵) اور انہیں کچھ بھی نہیں سوجھتا،
And if you call them to guidance they do not listen; and you (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) observe them looking towards you, whereas they do not perceive anything.
और जिन्हें उस के सिवा पूजते हो वह तुम्हारी मदद नहीं कर सकते, और न खुद अपनी मदद करें
Beshak mera wali Allah hai jis ne kitab utari aur woh nekon ko dost rakhta hai.
(ف385)کیونکہ بُتوں کی تصویریں اس شکل کی بنائی جاتی تھیں جیسے کوئی دیکھ رہاہے ۔
اور اے محبوب! جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہ لاؤ تو کہتے ہیں تم نے دل سے کیوں نہ بنائی تم فرماؤ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب سے وحی ہوتی ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھولنا ہے اور ہدایت اور رحمت مسلمانوں کے لیے،
And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) when you do not bring to them a verse, they say, “Why did you not fabricate it?” Say, “I follow only what is divinely revealed to me from my Lord”; this (the Holy Qur’an) is an enlightenment from your Lord, and a guidance and a mercy for the Muslims.
और वह जो शैतानों के भाई हैं शैतान उन्हें गुमराही में खींचते हैं फिर कमी नहीं करते,
Beshak woh jo dar wale hain jab unhein kisi shaitani khayaal ki thees lagti hai hoshyaar ho jaate hain usi waqt un ki aankhen khul jaati hain.
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو (ف۳۸۹)
And when the Qur’an is recited, listen to it attentively and keep silent, so that you receive mercy.
और ऐ महबूब! जब तुम उन के पास कोई आयत न लाओ तो कहते हैं तुम ने दिल से क्यों न बनाई तुम फ़रमाओ मैं तो उसी की पैरवी करता हूं जो मेरी तरफ़ मेरे रब से वही होती है यह तुम्हारे रब की तरफ़ से आंखें खोलना है और हिदायत और रहमत मुसलमानों के लिए,
Aur woh jo shaitanon ke bhai hain, shaitaan unhein gumraahi me kheenchte hain phir kami nahi karte.
(ف389)مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس وقت قرآنِ کریم پڑھا جائے خواہ نماز میں یا خارِجِ نماز ، اس وقت سننا اور خاموش رہنا واجب ہے ۔ جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم اس طرف ہیں کہ یہ آیت مقتدی کے سننے اور خاموش رہنے کے باب میں ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس میں خطبہ سننے کے لئے گوش برآواز ہونے اور خاموش رہنے کا حکم ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے نماز و خطبہ دونوں میں بغور سُننا اور خاموش رہنا واجب ثابت ہوتا ہے ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے آپ نے کچھ لوگوں کو سنا کہ وہ نماز میں امام کے ساتھ قرأت کرتے ہیں تو نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم اس آیت کے معنٰی سمجھو ۔ غرض اس آیت سے قرأت خَلْفَ الْاِمام کی ممانَعت ثابت ہوتی ہے اور کوئی حدیث ایسی نہیں ہے جس کو اس کے مقابل حُجّت قرار دیا جا سکے ۔ قرأت خَلۡفَ الاِمام کی تائید میں سب سے زیادہ اعتماد جس حدیث پر کیا جاتا ہے وہ یہ ہے ۔ لَاصَلٰوۃَ اِلَّا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ مگر اس حدیث سے قرأت خَلۡفَ الاِمَامِ کا وجوب تو ثابت نہیں ہوتا صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ بغیر فاتحہ کے نماز کامِل نہیں ہوتی تو جب کہ حدیث قرأۃُ الامامِؒ لَہ قِرَاء َۃٌ سے ثابت ہے کہ امام کا قرأت کرنا ہی مقتدی کا قرأت کرنا ہے تو جب امام نے قرأت کی اور مقتدی ساکِت رہا تو اس کی قرأت حُکمیہ ہوئی اس کی نماز بے قرأت کہاں رہی ، یہ قرأت حُکمیہ ہے تو امام کے پیچھے قرأت نہ کرنے سے قرآن و حدیث دونو ں پر عمل ہو جاتا ہے اور قرأت کرنے سے آیت کا اِتّباع ترک ہوتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ امام کے پیچھے فاتحہ وغیرہ کچھ نہ پڑھے ۔
اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو (ف۳۹۰) زاری اور ڈر سے اور بے آواز نکلے زبان سے صبح اور شام (ف۳۹۱) اور غافلوں میں نہ ہونا،
And remember your Lord within your hearts humbly and with fear, and softly with your tongues, morning and evening, and do not be of the neglectful.
और जब क़ुरआन पढ़ा जाए तो उसे कान लगा कर सुनो और ख़ामोश रहो कि तुम पर रहम हो
Aur ae mehboob! jab tum un ke paas koi ayat na lao to kehte hain tum ne dil se kyon na banayi, tum farmao main to usi ki pairwi karta hoon jo meri taraf mere Rab se wahi hoti hai, yeh tumhare Rab ki taraf se aankhen kholna hai aur hidayat aur rehmat musalmanon ke liye.
(ف390)اوپر کی آیت کے بعد اس آیت کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف سننے والے کو خاموش رہنا اور بے آواز نکالے دل میں ذکر کرنا یعنی عظمت و جلالِ الٰہی کا استِحضار لازم ہے کذا فی تفسیر ابنِ جریر ۔ اس سے امام کے پیچھے بلند یا پست آواز سے قرأت کی ممانعت ثابت ہوتی ہے اور دل میں عظمت و جلالِ حق کا استحضار اور ذکرِ قلبی ہے ۔ مسئلہ : ذکر بالجَہر اور ذکر بالاِخفاء دونوں میں نُصوص وارِد ہیں ، جس شخص کو جس قسم کے ذکر میں ذوق و شوقِ تام و اخلاصِ کامل مَیسّر ہو اس کے لئے وہی افضل ہے کذافی ردّالمحتار وغیرہ ۔(ف391)شام عصر و مغرب کے درمیان کا وقت ہے ان دونوں وقتوں میں ذکر افضل ہے کیونکہ نمازِ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک اور اسی طرح نمازِ عصر کے بعد غروب تک نماز ممنوع ہے اس لئے ان وقتوں میں ذکر مُستحَب ہوا تاکہ بندے کے تمام اوقات قربت و طاعت میں مشغول رہیں ۔
بیشک وہ جو تیرے رب کے پاس ہیں (ف۳۹۲) اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بولتے اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں (ف۳۹۳) السجدة ۔۵
Indeed those who are with your Lord are not conceited towards worshipping Him, and they proclaim His Purity and it is to Him they prostrate. (Command of Prostration # 1)
और अपने रब को अपने दिल में याद करो ज़ारी और डर से और बे आवाज़ निकले ज़बान से सुबह और शाम और ग़ाफ़िलों में न होना,
Aur jab Qur’an padha jaye to use kaan laga kar suno aur khamosh raho ke tum par rahm ho.
(ف392)یعنی ملائکہ مقرّبین ۔(ف393)یہ آیت آیاتِ سجدہ میں سے ہے ان کے پڑھنے اور سننے والے دونوں پر سجدہ لازم ہو جاتا ہے ۔مُسلم شریف کی حدیث میں ہے جب آدمی آیتِ سجدہ پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہے اور کہتا ہے افسوس بنی آدم کو سجدہ کا حکم دیا گیا وہ سجدہ کرکے جنّتی ہوا اور مجھے سجدہ کا حکم دیا گیا تو میں انکار کر کے جہنّمی ہو گیا ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page