Al-Araf الاعراف

پارہ:
سورہ: 7
آیات: 206
الۤمّۤصۤ‏ ﴿1﴾

المص

Alif-Laam-Meem-Saad. (Alphabets of the Arabic language; Allah and to whomever He reveals, know their precise meanings.)

كِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ فَلَا يَكُنۡ فِىۡ صَدۡرِكَ حَرَجٌ مِّنۡهُ لِتُنۡذِرَ بِهٖ وَذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿2﴾

اے محبوب! ایک کتاب تمہاری طرف اتاری گئی تو تمہارا جی اس سے نہ رُکے (ف۲) اس لیے کہ تم اس سے ڈر سناؤ اور مسلمانوں کو نصیحت ،

O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him), a Book has been sent down upon you, therefore may not your heart be disinclined towards it, so that you may give warning with it, and as an advice for the Muslims.

اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَلَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ​ ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّرُوۡنَ‏ ﴿3﴾

اے لوگو! اس پر چلو جو تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا (ف۳) اور اسے چھوڑ کر اور حاکموں کے پیچھے نہ جاؤ، بہت ہی کم سمجھتے ہو،

O mankind, follow what has been sent down to you from your Lord, and do not follow other administrators, abandoning this (the Holy Qur’an); very little do you understand.

وَكَمۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اَهۡلَـكۡنٰهَا فَجَآءَهَا بَاۡسُنَا بَيَاتًا اَوۡ هُمۡ قَآٮِٕلُوۡنَ‏ ﴿4﴾

اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کیں (ف٤) تو ان پر ہمارا عذاب رات میں آیا جب وہ دوپہر کو سوتے تھے (ف۵)

And many a township did We destroy – so Our punishment came to them at night or while they were sleeping at noon.

فَمَا كَانَ دَعۡوٰٮهُمۡ اِذۡ جَآءَهُمۡ بَاۡسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ‏ ﴿5﴾

تو ان کے منہ سے کچھ نہ نکلا جب ہمارا عذاب ان پر آیا مگر یہی بولے کہ ہم ظالم تھے (ف٦)

Therefore they uttered nothing when Our punishment came to them, except that they said, “Indeed we were the unjust.”

فَلَنَسۡــَٔــلَنَّ الَّذِيۡنَ اُرۡسِلَ اِلَيۡهِمۡ وَلَـنَسۡـَٔـــلَنَّ الۡمُرۡسَلِيۡنَ ۙ‏ ﴿6﴾

تو بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے ان سے جن کے پاس رسول گئے (ف۷) اور بیشک ضرور ہمیں پوچھنا ہے رسولوں سے (ف۸)

So undoubtedly We shall question those to whom Our Noble Messengers went, and indeed We shall question the Noble Messengers.

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيۡهِمۡ بِعِلۡمٍ وَّمَا كُنَّا غَآٮِٕبِيۡنَ‏ ﴿7﴾

تو ضرور ہم ان کو بتادیں گے (ف۹) اپنے علم سے اور ہم کچھ غائب نہ تھے،

So indeed We shall inform them with Our knowledge and We were not absent.

وَالۡوَزۡنُ يَوۡمَٮِٕذِ اۨلۡحَـقُّ​ ۚ فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ فَاُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏ ﴿8﴾

اور اس دن تول ضرور ہونی ہے (ف۱۰) تو جن کے پلے بھاری ہوئے (ف۱۱) وہی مراد کو پہنچے،

And on that Day, the weighing will truly be done; so those whose scales prove heavy are the successful.

وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ فَاُولٰۤٮِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ بِمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَظۡلِمُوۡنَ‏ ﴿9﴾

اور جن کے پلے ہلکے ہوئے (ف۱۲) تو وہی ہیں جنہوں نے اپنی جان گھاٹے میں ڈالی ان زیادتیوں کا بدلہ جو ہماری آیتوں پر کرتے تھے (ف۱۳)

And those whose scales are light are the people who put themselves to ruin – the recompense of the injustice they used to do to Our signs.

وَلَقَدۡ مَكَّـنّٰكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ وَجَعَلۡنَا لَـكُمۡ فِيۡهَا مَعَايِشَ ؕ قَلِيۡلًا مَّا تَشۡكُرُوۡنَ‏ ﴿10﴾

اور بیشک ہم نے تمہیں زمین میں جماؤ (ٹھکانا) دیا اور تمہارے لیے اس میں زندگی کے اسباب بنائے (ف۱٤) بہت ہی کم شکر کرتے ہو (ف۱۵)

And indeed We established you in the earth and in it created for you the means of livelihood; very little thanks do you offer!

وَلَقَدۡ خَلَقۡنٰكُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنٰكُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلٰۤٮِٕكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ​ ۖ  فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ لَمۡ يَكُنۡ مِّنَ السّٰجِدِيۡنَ‏  ﴿11﴾

اور بیشک ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہارے نقشے بنائے پھر ہم نے ملائکہ سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو وہ سب سجدے میں گرے مگر ابلیس، یہ سجدہ کرنے والوں میں نہ ہوا،

And indeed We created you, then designed you and then ordered the angels, “Prostrate before Adam”; so they all prostrated, except Iblis (Satan); he did not become of those who prostrate.

​قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسۡجُدَ اِذۡ اَمَرۡتُكَ​ ؕ قَالَ اَنَا خَيۡرٌ مِّنۡهُ​ ۚ خَلَقۡتَنِىۡ مِنۡ نَّارٍ وَّخَلَقۡتَهٗ مِنۡ طِيۡنٍ‏ ﴿12﴾

فرمایا کس چیز نے تجھے روکا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے تجھے حکم دیا تھا (ف۱٦) بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا (ف۱۷)

Said Allah, “What prevented you, that you did not prostrate when I commanded you?” Answered Iblis, “I am better than him; You created me from fire whereas You created him from clay.”

قَالَ فَاهۡبِطۡ مِنۡهَا فَمَا يَكُوۡنُ لَـكَ اَنۡ تَتَكَبَّرَ فِيۡهَا فَاخۡرُجۡ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِيۡنَ‏ ﴿13﴾

فرمایا تو یہاں سے اُ تر جا تجھے نہیں پہنچتا کہ یہاں رہ کر غرور کرے نکل (ف۱۸) تو ہے ذلت والوں میں (ف۱۹)

Said Allah, “Therefore go down from here – it does not befit you to stay here and be proud – exit, you are of the degraded.”

قَالَ اَنۡظِرۡنِىۡۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ‏ ﴿14﴾

بولا مجھے فرصت دے اس دن تک کہ لوگ اٹھائے جائیں،

He said, “Give me respite till the day when people will be resurrected.”

قَالَ اِنَّكَ مِنَ الۡمُنۡظَرِيۡنَ‏ ﴿15﴾

فرمایا تجھے مہلت ہے (ف۲۰)

Said Allah, “You are given respite.”

قَالَ فَبِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِىۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَهُمۡ صِرَاطَكَ الۡمُسۡتَقِيۡمَۙ‏  ﴿16﴾

بولا تو قسم اس کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا (ف۲۱)

He said, “Hence I swear by the fact that You sent me astray, I will certainly lay in wait for them on Your Straight Path.”

ثُمَّ لَاَتِيَنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ وَعَنۡ اَيۡمَانِهِمۡ وَعَنۡ شَمَآٮِٕلِهِمۡ​ؕ وَلَاٰ تَجِدُ اَكۡثَرَهُمۡ شٰكِرِيۡنَ‏ ﴿17﴾

پھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا ان کے آگے اور ان کے پیچھے اور ان کے دائیں اور ان کے بائیں سے (ف۲۲) اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا (ف۲۳)

“Then I will certainly approach them – from their front and from behind them and from their right and from their left; and You will find most of them not thankful.”

قَالَ اخۡرُجۡ مِنۡهَا مَذۡءُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ​ؕ لَمَنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ لَاَمۡلَــٴَــنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ‏ ﴿18﴾

فرمایا یہاں سے نکل جا رد کیا گیا راندہ ہوا، ضرور جو ان میں سے تیرے کہے پر چلا میں تم سب سے جہنم بھردوں گا (ف۲٤)

He said, “Exit from here, rejected, outcast; indeed whoever among them follows your bidding, I will fill hell with all of you.”

وَيٰۤاٰدَمُ اسۡكُنۡ اَنۡتَ وَزَوۡجُكَ الۡجَـنَّةَ فَـكُلَا مِنۡ حَيۡثُ شِئۡتُمَا وَلَا تَقۡرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ‏ ﴿19﴾

اور اے آدم تو اور تیرا جوڑا (ف۲۵) جنت میں رہو تو اس سے جہاں چاہو کھاؤ اور اس پیڑ کے پاس نہ جانا کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہو گے،

And said, “O Adam! You and your wife dwell in Paradise – therefore eat from it from wherever you wish, and do not approach this tree for you will become of those who transgress.”

فَوَسۡوَسَ لَهُمَا الشَّيۡطٰنُ لِيُبۡدِىَ لَهُمَا مَا وٗرِىَ عَنۡهُمَا مِنۡ سَوۡاٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهٰٮكُمَا رَبُّكُمَا عَنۡ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَا مَلَـكَيۡنِ اَوۡ تَكُوۡنَا مِنَ الۡخٰلِدِيۡنَ‏ ﴿20﴾

پھر شیطان نے ان کے جی میں خطرہ ڈالا کہ ان پر کھول دے ان کی شرم کی چیزیں (ف۲٦) جو ان سے چھپی تھیں (ف۲۷) اور بولا تمہیں تمہارے رب نے اس پیڑ سے اسی لیے منع فرمایا ہے کہ کہیں تم دو فرشتے ہوجاؤ یا ہمیشہ جینے والے (ف ۲۸)

Then Satan created apprehensions in their hearts in order to disclose to them matters of their shame which were hidden from them, and said, “Your Lord has forbidden you from this tree, for you may become angels or immortals.”

وَقَاسَمَهُمَاۤ اِنِّىۡ لَـكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِيۡنَۙ‏ ﴿21﴾

اور ان سے قسم کھائی کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں،

And he swore to them, “Indeed I am a well-wisher for both of you.”

فَدَلّٰٮهُمَا بِغُرُوۡرٍ​ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتۡ لَهُمَا سَوۡءٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخۡصِفٰنِ عَلَيۡهِمَا مِنۡ وَّرَقِ الۡجَـنَّةِ​ ؕ وَنَادٰٮهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمۡ اَنۡهَكُمَا عَنۡ تِلۡكُمَا الشَّجَرَةِ وَاَقُلْ لَّـكُمَاۤ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ لَـكُمَا عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ‏ ﴿22﴾

تو اتار لایا انہیں فریب سے (ف۲۹) پھر جب انہوں نے وہ پیڑ چکھا ان پر ان کی شرم کی چیزیں کھل گئیں (ف۳۰) اور اپنے بدن پر جنت کے پتے چپٹانے لگے ، اور انہیں ان کے رب نے فرمایا کیا میں نے تمہیں اس پیڑ سے منع نہ کیا اور نہ فرمایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے،

So he brought them down with deception; and when they tasted from that tree, their shame became manifest to them and they began attaching the leaves of Paradise on themselves; and their Lord said to them, “Did I not forbid you from that tree, and tell you that Satan is an open enemy to you?”

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا وَاِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَـنَا وَتَرۡحَمۡنَا لَـنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ‏ ﴿23﴾

دونوں نے عرض کی، اے رب ہمارے! ہم نے اپنا آپ برا کیا، تو اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان والوں میں ہوئے،

They both submitted, “Our Lord! We have wronged ourselves; so if You do not forgive us and have mercy on us, then surely, we are of the losers.”

قَالَ اهۡبِطُوۡا بَعۡضُكُمۡ لِبَـعۡضٍ عَدُوٌّ​ ۚ وَلَـكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰى حِيۡنٍ‏ ﴿24﴾

فرمایا اترو (ف۳۱) تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے اور تمہیں زمین میں ایک وقت تک ٹھہرنا اور برتنا ہے،

He said, “Go down, one of you is a foe unto the other; and for a fixed time you shall stay on earth and feed in it.”

قَالَ فِيۡهَا تَحۡيَوۡنَ وَفِيۡهَا تَمُوۡتُوۡنَ وَمِنۡهَا تُخۡرَجُوۡنَ‏ ﴿25﴾

فرمایا اسی میں جیوگے اور اسی میں مرو گے اور اسی میں اٹھائے جاؤ گے (ف۳۲)

He said, “You shall live there and there shall you die, and from there only you will be raised.”

يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكُمۡ لِبَاسًا يُّوَارِىۡ سَوۡاٰتِكُمۡ وَرِيۡشًا​ ؕ وَلِبَاسُ التَّقۡوٰى ۙ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ​ ؕ ذٰ لِكَ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُوۡنَ‏ ﴿26﴾

اے آدم کی اولاد! بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو (ف۳۳) اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا (ف۳٤) یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں،

O Descendants of Adam! We have sent down to you a garment to conceal your shame, and another garment for your elegance; and the garment of piety – that is the best; this is among the signs of Allah, so that they may remember.

يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ لَا يَفۡتِنَـنَّكُمُ الشَّيۡطٰنُ كَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَيۡكُمۡ مِّنَ الۡجَـنَّةِ يَنۡزِعُ عَنۡهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوۡءاٰتِهِمَا ؕ اِنَّهٗ يَرٰٮكُمۡ هُوَ وَقَبِيۡلُهٗ مِنۡ حَيۡثُ لَا تَرَوۡنَهُمۡ​ ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَ لِلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿27﴾

اے آدم کی اولاد! (ف۳۵) خبردار! تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکالا اتروا دیئے ان کے لباس کہ ان کی شرم کی چیزیں انہیں نظر پڑیں، بیشک وہ اور اس کا کنبہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے (ف۳٦) بیشک ہم نے شیطانوں کو ان کا دوست کیا ہے جو ایمان نہیں لاتے،

O Descendants of Adam, beware! Do not let Satan put you in trial the way he removed your parents from Paradise and had their garments removed so that their shame become visible to them; indeed he and his tribe see you from where you do not see them; indeed We have made the devils the friends of those who do not believe.

وَاِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَةً قَالُوۡا وَجَدۡنَا عَلَيۡهَاۤ اٰبَآءَنَا وَاللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا​ ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ​ ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿28﴾

اور جب کوئی بےحیائی کریں (ف۳۷) تو کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا (ف۳۸) تو فرماؤ بیشک اللہ بےحیائی کا حکم نہیں دیتا، کیا اللہ پر وہ بات لگاتے ہو جس کی تمہیں خبر نہیں،

And when they commit any shameful act they say, “We found our forefathers on it and Allah has commanded it to us”; say, “Indeed Allah does not ordain shamelessness; what! You attribute things to Allah, which you do not know?”

قُلۡ اَمَرَ رَبِّىۡ بِالۡقِسۡطِ​ وَاَقِيۡمُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ عِنۡدَ كُلِّ مَسۡجِدٍ وَّادۡعُوۡهُ مُخۡلِصِيۡنَ لَـهُ الدِّيۡنَ ​   ؕ كَمَا بَدَاَكُمۡ تَعُوۡدُوۡنَؕ‏  ﴿29﴾

تم فرماؤ میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے، اور اپنے منہ سیدھے کرو ہر نماز کے وقت اور اس کی عبادت کرو نرے (خالص) اس کے بندے ہو کر، جیسے اس نے تمہارا آغاز کیا ویسے ہی پلٹو گے (ف۳۹)

Say, “My Lord has ordained justice; and set your attention straight every time you offer pray and worship Him, as only His devoted worshippers; the way He brought you into being, in the same manner will you return.”

فَرِيۡقًا هَدٰى وَ فَرِيۡقًا حَقَّ عَلَيۡهِمُ الضَّلٰلَةُ ​ ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيٰطِيۡنَ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ‏  ﴿30﴾

ایک فرقے کو راہ دکھائی (ف٤۰) اور ایک فرقے کو گمراہی ثابت ہوئی (ف٤۱) انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو والی بنایا (ف٤۲) اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ راہ پر ہیں،

He has guided one group, and one group’s error has been proved; instead of Allah, they have chosen the devil as their friend and they assume that they are on guidance!

يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِيۡنَتَكُمۡ عِنۡدَ كُلِّ مَسۡجِدٍ وَّكُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا وَلَا تُسۡرِفُوۡا​ ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ‏ ﴿31﴾

اے آدم کی اولاد! اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ (ف٤۳) اور کھاؤ اور پیو (ف٤٤) اور حد سے نہ بڑھو، بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں،

O Descendants of Adam! Adorn yourself when you go to the mosque, and eat and drink, and do not cross limits; indeed He does not like the transgressors.

قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِيۡنَةَ اللّٰهِ الَّتِىۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِهٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ​ؕ قُلۡ هِىَ لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا خَالِصَةً يَّوۡمَ الۡقِيٰمَةِ​ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿32﴾

تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی (ف٤۵) اور پاک رزق (ف٤٦) تم فرماؤ کہ وہ ایمان والوں کے لیے ہے دنیا میں اور قیامت میں تو خاص انہی کی ہے، ہم یونہی مفصل آیتیں بیان کرتے ہیں (ف٤۷) علم والوں کے لیے (ف٤۸)

Say, “Who has forbidden the adornment of Allah which He has brought forth for His bondmen, and the good food?” Say, “That is for the believers in this world, and on the Day of Resurrection it will be for them only”; this is how We explain Our verses in detail for people of knowledge.

قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّىَ الۡـفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ وَ الۡاِثۡمَ وَالۡبَـغۡىَ بِغَيۡرِ الۡحَـقِّ وَاَنۡ تُشۡرِكُوۡا بِاللّٰهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهٖ سُلۡطٰنًا وَّاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ‏  ﴿33﴾

تم فرماؤ میرے رب نے تو بےحیائیاں حرام فرمائی ہیں (ف٤۹) جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی اور گناہ اور ناحق زیادتی اور یہ (ف۵۰) کہ اللہ کا شریک کرو جس کی اس نے سند نہ اتاری اور یہ (ف۵۱) کہ اللہ پر وہ بات کہو جس کا علم نہیں رکھتے،

Say, “My Lord has forbidden the indecencies, the apparent among them and the hidden, and sin and wrongful excesses, and forbidden that you ascribe partners with Allah for which He has not sent down any proof, and forbidden that you say things concerning Allah of which you do not have knowledge.”

وَلِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ​ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَةً​ وَّلَا يَسۡتَقۡدِمُوۡنَ‏ ﴿34﴾

اور ہر گروہ کا ایک وعدہ ہے (ف۵۲) تو جب ان کا وعدہ آئے گا ایک گھڑی نہ پیچھے ہو نہ آگے،

And every group has a promise; so when its promise comes, it cannot be postponed for a moment or brought forward.

يٰبَنِىۡۤ اٰدَمَ اِمَّا يَاۡتِيَنَّكُمۡ رُسُلٌ مِّنۡكُمۡ يَقُصُّوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِىۡ​ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَاَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ‏  ﴿35﴾

اے آدم کی اولاد! اگر تمہارے پاس تم میں کے رسول آئیں (ف۵۳) میری آیتیں پڑھتے تو جو پرہیزگاری کرے (ف۵٤) اور سنورے (ف۵۵) تو اس پر نہ کچھ خوف اور نہ کچھ غم،

O Descendants of Adam! If Noble Messengers from among you come to you narrating My verses – so whoever practices piety and reforms – upon him shall be no fear nor shall he grieve.

وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاسۡتَكۡبَرُوۡا عَنۡهَاۤ اُولٰۤٮِٕكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ​ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ‏ ﴿36﴾

اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا وہ دوز خی ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا،

And those who denied Our signs and were conceited towards them, are the people of hell-fire; they will remain in it forever.

فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَـرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ ؕ اُولٰۤٮِٕكَ يَنَالُهُمۡ نَصِيۡبُهُمۡ مِّنَ الۡـكِتٰبِ​ؕ حَتّٰٓى اِذَا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُـنَا يَتَوَفَّوۡنَهُمۡ ۙ قَالُوۡۤا اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ​ ؕ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا وَشَهِدُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ‏ ﴿37﴾

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیتیں جھٹلائیں، انہیں ان کے نصیب کا لکھا پہنچے گا (ف۵٦) یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (ف۵۷) ان کی جان نکالنے آئیں تو ان سے کہتے ہیں کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے تھے، کہتے ہیں وہ ہم سے گم گئے (ف۵۸) اور اپنی جانوں پر آپ گواہی دیتے ہیں کہ وہ کافر تھے،

So who is more unjust than one who fabricated a lie against Allah or denied His signs? Their written fate will reach them; until when Our sent angels come to remove their souls, hence they say to them, “Where are they whom you used to worship besides Allah?” They say, “We have lost them” and they testify against themselves that they were disbelievers.

قَالَ ادۡخُلُوۡا فِىۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ فِى النَّارِ​ ؕ كُلَّمَا دَخَلَتۡ اُمَّةٌ لَّعَنَتۡ اُخۡتَهَا​ ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوۡا فِيۡهَا جَمِيۡعًا ۙ قَالَتۡ اُخۡرٰٮهُمۡ لِاُوۡلٰٮهُمۡ رَبَّنَا هٰٓؤُلَۤاءِ اَضَلُّوۡنَا فَاٰتِهِمۡ عَذَابًا ضِعۡفًا مِّنَ النَّارِ​  ؕ قَالَ لِكُلٍّ ضِعۡفٌ وَّلٰـكِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿38﴾

اللہ ان سے (ف۵۹) فرماتا ہے کہ تم سے پہلے جو اور جماعتیں جن اور آدمیوں کی آگ میں گئیں، انہیں میں جاؤ جب ایک گروہ (ف٦۰) داخل ہوتا ہے دوسرے پر لعنت کرتا ہے (ف٦۱) یہاں تک کہ جب سب اس میں جا پڑے تو پچھلے پہلوں کو کہیں گے (ف٦۲) اے رب ہمارے! انہوں نے ہم کو بہکایا تھا تو انہیں آگ کا دُونا عذاب دے، فرمائے گا سب کو دُونا ہے (ف٦۳) مگر تمہیں خبر نہیں (ف٦٤)

Allah says to them, “Join the groups of jinns and mankind who have entered hell before you”; when a group enters, it curses the other; until when they have all gone in, the latter groups will say regarding the former, “Our Lord! It is these who led us astray, so give them double the punishment of the fire”; He will say, “For each one is double – but you do not know.”

وَقَالَتۡ اُوۡلٰٮهُمۡ لِاُخۡرٰٮهُمۡ فَمَا كَانَ لَـكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡسِبُوۡنَ‏ ﴿39﴾

اور پہلے پچھلوں سے کہیں گے تو تم کچھ ہم سے اچھے نہ رہے (ف٦۵) تو چکھو عذاب بدلہ اپنے کیے کا (ف٦٦)

And the preceding groups will say to the latter, “So you too were no better than us, therefore taste the punishment for what you have done!”

اِنَّ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاسۡتَكۡبَرُوۡا عَنۡهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمۡ اَبۡوَابُ السَّمَآءِ وَلَا يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَـنَّةَ حَتّٰى يَلِجَ الۡجَمَلُ فِىۡ سَمِّ الۡخِيَاطِ​ ؕ وَكَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُجۡرِمِيۡنَ‏ ﴿40﴾

وہ جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے (ف٦۷) اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں جب تک سوئی کے ناکے اونٹ داخل نہ ہو (ف٦۸) اور مجرموں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں (ف٦۹)

Indeed those who denied Our signs and were conceited towards them – the gates of the heavens will not be opened for them nor will they enter Paradise until the camel goes through the needle’s eye*; and this is the sort of reward We give the guilty. (* Which will never happen.)

لَهُمۡ مِّنۡ جَهَـنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنۡ فَوۡقِهِمۡ غَوَاشٍ​ ؕ وَكَذٰلِكَ نَجۡزِى الظّٰلِمِيۡنَ‏ ﴿41﴾

انہیں آگ ہی بچھونا اور آگ ہی اوڑھنا (ف۷۰) اور ظالموں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں،

Their beds and their coverings – both are fire; and this is the sort of reward We give the unjust.

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُـكَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَاۤ  اُولٰۤٮِٕكَ اَصۡحٰبُ الۡجَـنَّةِ​ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ‏ ﴿42﴾

اور وہ جو ایمان لائے اور طاقت بھر اچھے کام کیے ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتے، وہ جنت والے ہیں، انہیں اس میں ہمیشہ رہنا،

And those who accepted faith and performed good deeds according to their capacity – We do not burden any one, except within its capacity – are the people of Paradise; they shall abide in it forever.

وَنَزَعۡنَا مَا فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهِمُ الۡاَنۡهٰرُ​ۚ وَقَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِىۡ هَدٰٮنَا لِهٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهۡتَدِىَ لَوۡلَاۤ اَنۡ هَدٰٮنَا اللّٰهُ​ ​ۚ لَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَـقِّ​ ؕ وَنُوۡدُوۡۤا اَنۡ تِلۡكُمُ الۡجَـنَّةُ اُوۡرِثۡتُمُوۡهَا بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ‏  ﴿43﴾

اور ہم نے ان کے سینوں سے کینے کھینچ لیے (ف۷۱) ان کے نیچے نہریں بہیں گی اور کہیں گے (ف۷۲) سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی (ف۷۳) اور ہم راہ نہ پاتے اگر اللہ ہمیں راہ نہ دکھاتا، بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے (ف۷٤) اور ندا ہوئی کہ یہ جنت تمہیں میراث ملی (ف۷۵) صلہ تمہارے اعمال کا،

And We have removed resentment from their hearts – rivers will flow beneath them; and (while entering Paradise) they will say, “All praise is to Allah, Who guided us to this; we would not have attained the right path if Allah had not guided us; indeed the Noble Messengers of our Lord brought the truth”; and it is proclaimed, “You have received this Paradise as an inheritance for what you used to do.”

وَنَادٰٓى اَصۡحٰبُ الۡجَـنَّةِ اَصۡحٰبَ النَّارِ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلۡ وَجَدْتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمۡ حَقًّا​ ؕ قَالُوۡا نَـعَمۡ​ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيۡنَهُمۡ اَنۡ لَّـعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَۙ‏  ﴿44﴾

اور جنت والوں نے دوزخ والوں کو پکارا کہ ہمیں تو مل گیا جو سچا وعدہ ہم سے ہمارے رب نے کیا تھا (ف۷٦) تو کیا تم نے بھی پایا جو تمہارے رب نے (ف۷۷) سچا وعدہ تمہیں دیا تھا بولے، ہاں! اور بیچ میں منادی نے پکار دیا کہ اللہ کی لعنت ظالموں پر

And the people of Paradise said to the people of hell, “We have surely received what our Lord had truly promised us – so have you also received what your Lord had truly promised?” They said, “Yes”; and an announcer between them proclaimed, “The curse of Allah is upon the unjust.” –

الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَيَـبۡـغُوۡنَهَا عِوَجًا​ ۚ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ كٰفِرُوۡنَ​ۘ‏ ﴿45﴾

جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں (ف۷۸) اور اسے کجی چاہتے ہیں (ف۷۹) اور آخرت کا انکار رکھتے ہیں،

“Those who prevent from the path of Allah and wish to distort it; and who disbelieve in the Hereafter.”

وَبَيۡنَهُمَا حِجَابٌ​ۚ وَعَلَى الۡاَعۡرَافِ رِجَالٌ يَّعۡرِفُوۡنَ كُلًّاۢ بِسِيۡمٰٮهُمۡ​ ۚ وَنَادَوۡا اَصۡحٰبَ الۡجَـنَّةِ اَنۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ​ لَمۡ يَدۡخُلُوۡهَا وَهُمۡ يَطۡمَعُوۡنَ‏ ﴿46﴾

اور جنت و دوزخ کے بیچ میں ایک پردہ ہے (ف۸۰) اور اعراف پر کچھ مرد ہوں گے (ف۸۱) کہ دونوں فریق کو ان کی پیشانیوں سے پہچانیں گے (ف۸۲) اور وہ جنتیوں کو پکاریں گے کہ سلام تم پر یہ (ف۸۳) جنت میں نہ گئے اور اس کی طمع رکھتے ہیں،

Between Paradise and Hell is a veil; and on the Heights will be some men who will recognise them all by their foreheads; and they call to the people of Paradise, “Peace be upon you”; they have not entered Paradise and they yearn for it.

وَاِذَا صُرِفَتۡ اَبۡصَارُهُمۡ تِلۡقَآءَ اَصۡحٰبِ النَّارِۙ قَالُوۡا رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ‏ ﴿47﴾

اور جب ان کی (ف۸٤) آنکھیں دوزخیوں کی طرف پھریں گی کہیں گے اے ہمارے رب! ظالموں کے ساتھ نہ کر،

And when their eyes turn towards the people of hell, they will say, “Our Lord! Do not put us along with the unjust.”

وَنَادٰٓى اَصۡحٰبُ الۡاَعۡرَافِ رِجَالًا يَّعۡرِفُوۡنَهُمۡ بِسِيۡمٰٮهُمۡ قَالُوۡا مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡكُمۡ جَمۡعُكُمۡ وَمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ‏ ﴿48﴾

اور اعراف والے کچھ مردوں کو (ف۸۵) پکاریں گے جنہیں ان کی پیشانی سے پہچانتے ہیں کہیں گے تمہیں کیا کام آیا تمہارا جتھا اور وہ جو تم غرور کرتے تھے (ف۸٦)

And the men on the Heights will call to some men whom they recognise by their foreheads, and say, “What benefit did your derive from your populace and from what you prided in?”

اَهٰٓؤُلَۤاءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ ​ؕ اُدۡخُلُوا الۡجَـنَّةَ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ‏ ﴿49﴾

کیا یہ ہیں وہ لوگ (ف۸۷) جن پر تم قسمیں کھاتے تھے کہ اللہ ان پر اپنی رحمت کچھ نہ کرے گا (ف۸۸) ان سے تو کہا گیا کہ جنت میں جاؤ نہ تم کو اندیشہ نہ کچھ غم،

“Are these the people (Muslims) regarding whom you swore that Allah would not have mercy on them at all? Whereas to the Muslims it has been said ‘Enter Paradise; you shall have no fear nor any grief.’”

وَنَادٰٓى اَصۡحٰبُ النَّارِ اَصۡحٰبَ الۡجَـنَّةِ اَنۡ اَفِيۡضُوۡا عَلَيۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ​ؕ قَالُـوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الۡـكٰفِرِيۡنَ ۙ‏ ﴿50﴾

اور دوزخی بہشتیوں کو پکاریں گے کہ ہمیں اپنے پانی کا فیض دو یا اس کھانے کا جو اللہ نے تمہیں دیا (ف۸۹) کہیں گے بیشک اللہ نے ان دونوں کو کافروں پر حرام کیا ہے

And the people of hell will cry out to the people of Paradise, “Provide us some benefit from your water or from the food Allah has provided you”; they will say, “Indeed Allah has forbidden both to the disbelievers.”

الَّذِيۡنَ اتَّخَذُوۡا دِيۡنَهُمۡ لَهۡوًا وَّلَعِبًا وَّغَرَّتۡهُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا​​ ۚ فَالۡيَوۡمَ نَنۡسٰٮهُمۡ كَمَا نَسُوۡا لِقَآءَ يَوۡمِهِمۡ هٰذَا ۙ وَمَا كَانُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَجۡحَدُوۡنَ‏ ﴿51﴾

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنایا (ف۹۰) اور دنیا کی زیست نے انہیں فریب دیا (ف۹۱) تو آج ہم انہیں چھوڑ دیں گے جیسا انہوں نے اس دن کے ملنے کا خیال چھوڑا تھا اور جیسا ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے،

People who made their religion a sport and pastime, and whom the worldly life deceived; so this day We will disregard them, the way they had neglected their confronting of this day, and the way they used to deny Our signs.

وَلَقَدۡ جِئۡنٰهُمۡ بِكِتٰبٍ فَصَّلۡنٰهُ عَلٰى عِلۡمٍ هُدًى وَّرَحۡمَةً لِّـقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿52﴾

اور بیشک ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے (ف۹۲) جسے ہم نے ایک بڑے علم سے مفصل کیا ہدایت و رحمت ایمان والوں کے لیے،

And indeed We brought to them a Book, which We have explained in detail with a great knowledge – a guidance and a mercy for people who believe.

هَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا تَاۡوِيۡلَهٗ​ؕ يَوۡمَ يَاۡتِىۡ تَاۡوِيۡلُهٗ يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ نَسُوۡهُ مِنۡ قَبۡلُ قَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَـقِّ​ۚ فَهَلْ لَّـنَا مِنۡ شُفَعَآءَ فَيَشۡفَعُوۡا لَـنَاۤ اَوۡ نُرَدُّ فَنَعۡمَلَ غَيۡرَ الَّذِىۡ كُنَّا نَـعۡمَلُ​ؕ قَدۡ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ‏  ﴿53﴾

کاہے کی راہ دیکھتے ہیں مگر اس کی کہ اس کتاب کا کہا ہوا انجام سامنے آئے جس دن اس کا بتایا انجام واقع ہوگا (ف۹۳) بول اٹھیں گے وہ جو اسے پہلے سے بھلائے بیٹھے تھے (ف۹٤) کہ بیشک ہمارے رب کے رسول حق لائے تھے تو ہیں کوئی ہمارے سفارشی جو ہماری شفاعت کریں یا ہم واپس بھیجے جائیں کہ پہلے کاموں کے خلاف کام کریں (ف۹۵) بیشک انہوں نے اپنی جانیں نقصان میں ڈالیں اور ان سے کھوئے گئے جو بہتان اٹھاتے تھے (ف۹٦)

What do they await, except for the result foretold by that Book to appear? The day when the result foretold by it occurs, those who had previously forgotten it from the beginning (the disbelievers) will exclaim, “Indeed the Noble Messengers of our Lord had brought the truth! Do we have any intercessors who may intercede for us? Or can we be returned (to earth), so we may do contrary to what we have done before?” Indeed they have put themselves into ruin, and have lost the things they fabricated.

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِىۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِىۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰى عَلَى الۡعَرۡشِ يُغۡشِى الَّيۡلَ النَّهَارَ يَطۡلُبُهٗ حَثِيۡثًا ۙ وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ وَالنُّجُوۡمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمۡرِهٖ ؕ اَلَا لَـهُ الۡخَـلۡقُ وَالۡاَمۡرُ​ ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏ ﴿54﴾

بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین (ف۹۷) چھ دن میں بنائے (ف۹۸) پھر عرش پر استواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے (ف۹۹) رات دن کو ایک دوسرے سے ڈھانکتا ہے کہ جلد اس کے پیچھے لگا آتا ہے اور سورج اور چاند اور تاروں کو بنایا سب اس کے حکم کے دبے ہوئے، سن لو اسی کے ہاتھ ہے پیدا کرنا اور حکم دینا، بڑی برکت والا ہے اللہ رب سارے جہان کا،

Indeed your Lord is Allah Who created the heavens and the earth in six days, then in the manner befitting His Majesty, ascended the Throne (of control); He covers the night with the day, which hastily follows it, and made the sun and the moon and the stars subservient to His command; pay heed! Only He has the power to create and command; Most Auspicious (Propitious) is Allah, the Lord Of The Creation.

اُدۡعُوۡا رَبَّكُمۡ تَضَرُّعًا وَّخُفۡيَةً​ ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ​ ۚ‏ ﴿55﴾

اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ، بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں، (ف۱۰۰)

Pray to your Lord crying humbly, and softly; indeed He does not love the transgressors.

وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا وَادۡعُوۡهُ خَوۡفًا وَّطَمَعًا​ ؕ اِنَّ رَحۡمَتَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ مِّنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿56﴾

اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ (ف۱۰۱) اس کے سنورنے کے بعد (ف۱۰۲) اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طمع کرتے، بیشک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے،

And do not spread turmoil in the earth after its reform, and pray to Him with fear and hope; indeed Allah’s mercy is close to the virtuous.

وَهُوَ الَّذِىۡ يُرۡسِلُ الرِّيٰحَ بُشۡرًۢا بَيۡنَ يَدَىۡ رَحۡمَتِهٖ ​ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتۡ سَحَابًا ثِقَالًا سُقۡنٰهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَاَنۡزَلۡنَا بِهِ الۡمَآءَ فَاَخۡرَجۡنَا بِهٖ مِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ​ؕ كَذٰلِكَ نُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰى لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُوۡنَ‏ ﴿57﴾

اور وہی ہے کہ ہوائیں بھیجتا ہے اس کی رحمت کے آگے مژدہ سناتی (ف۱۰۳) یہاں تک کہ جب اٹھا لائیں بھاری بادل ہم نے اسے کسی مردہ شہر کی طرف چلایا (ف۱۰٤) پھر اس سے پانی اتارا پھر اس سے طرح طرح کے پھل نکالے اسی طرح ہم مردوں کو نکالیں گے (ف۱۰۵) کہیں تم نصیحت مانو،

And it is He Who sends the winds giving glad tidings, ahead of His mercy; until when they come bearing heavy clouds, We drove it towards a city devoid of vegetation, and then rained water upon it, then produced fruits of various kinds from it; this is how We will bring forth the dead, so that you may heed advice.

وَالۡبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخۡرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذۡنِ رَبِّهٖ ​ۚ وَالَّذِىۡ خَبُثَ لَا يَخۡرُجُ اِلَّا نَكِدًا ​ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّشۡكُرُوۡنَ‏  ﴿58﴾

اور جو اچھی زمین ہے اس کا سبزہ اللہ کے حکم سے نکلتا ہے (ف۱۰٦) اور جو خراب ہے اس میں نہیں نکلتا مگر تھوڑا بمشکل (ف۱۰۷) ہم یونہی طرح طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں (ف۱۰۸) ان کے لیے جو احسان مانیں،

And from the good land comes forth its vegetation by the command of Allah; and from the infertile land, nothing comes forth except a little with difficulty; this is how We explain Our signs in different ways, for people who are thankful.

لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰى قَوۡمِهٖ فَقَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ؕ اِنِّىۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ‏  ﴿59﴾

بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (ف۱۰۹) تو اس نے کہا میری قوم اللہ کو پوجو (ف۱۱۰) اسکے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں (ف۱۱۱) بیشک مجھے تم پر بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے (ف۱۱۲)

Indeed We sent Nooh to his people – he therefore said, “O my people! Worship Allah – you do not have any God except Him; indeed I fear for you the punishment of the Great Day (of Resurrection).”

قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِهٖۤ اِنَّا لَـنَرٰٮكَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ‏  ﴿60﴾

اس کی قوم کے سردار بولے بیشک ہم تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں،

The leaders of his people said, “Indeed we see you in open error.”

قَالَ يٰقَوۡمِ لَـيۡسَ بِىۡ ضَلٰلَةٌ وَّلٰـكِنِّىۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏  ﴿61﴾

کہا اے میری قوم مجھ میں گمراہی کچھ نہیں میں تو رب العالمین کا رسول ہوں،

He said, “O my people! There is no straying in me – I am in fact a Noble Messenger from the Lord Of The Creation.”

اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰلٰتِ رَبِّىۡ وَاَنۡصَحُ لَـكُمۡ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿62﴾

تمہیں اپنے رب کی رسالتیں پہنچاتا اور تمہارا بھلا چاہتا اور میں اللہ کی طرف سے وہ علم رکھتا ہوں جو تم نہیں رکھتے،

“Conveying to you the messages of my Lord and wishing good for you, and I know from Allah what you do not know.”

اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّنۡكُمۡ لِيُنۡذِرَكُمۡ وَلِتَـتَّقُوۡا وَلَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ‏ ﴿63﴾

اور کیا تمہیں اس کا اچنبا ہوا کہ تمہارے پاس رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں کے ایک مرد کی معرفت (ف۱۱۳) کہ وہ تمہیں ڈرائے اور تم ڈرو اور کہیں تم پر رحم ہو،

“And are you surprised that an advice came to you from your Lord through a man amongst you, so that he may warn you and that you may fear, and so that there be mercy upon you?”

فَكَذَّبُوۡهُ فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ فِى الۡفُلۡكِ وَاَغۡرَقۡنَا الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا​ ؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا عَمِيۡنَ‏ ﴿64﴾

تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے اسے اور جو (ف۱۱۵) اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی اور اپنی آیتیں جھٹلانے والوں کو ڈبو دیا، بیشک وہ اندھا گروہ تھا (ف۱۱٦)

In response they denied him, so We rescued him and those with him in the ship, and We drowned those who denied Our signs; indeed they were a blind group.

وَاِلٰى عَادٍ اَخَاهُمۡ هُوۡدًا​ ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ‏ ﴿65﴾

اور عاد کی طرف (ف۱۱۷) ان کی برادری سے ہود کو بھیجا (ف۱۱۸) کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تمہیں ڈر نہیں (ف۱۱۹)

And We sent Hud to the people of Aad from their own community; he said, “O my people! Worship Allah – you do not have any God except Him; so do you not fear?”

قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖۤ اِنَّا لَــنَرٰٮكَ فِىۡ سَفَاهَةٍ وَّاِنَّا لَــنَظُنُّكَ مِنَ الۡـكٰذِبِيۡنَ‏ ﴿66﴾

اس کی قوم کے سردار بولے بیشک ہم تمہیں بیوقوف سمجھتے ہیں اور بیشک ہم تمہیں جھوٹوں میں گمان کرتے ہیں (ف۱۲۰)

The disbelieving leaders of his people said, “Indeed we consider you foolish and think you are a liar.”

قَالَ يٰقَوۡمِ لَـيۡسَ بِىۡ سَفَاهَةٌ وَّلٰـكِنِّىۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏ ﴿67﴾

کہا اے میری قوم مجھے بےوقوفی سے کیا علاقہ میں تو پروردگار عالم کا رسول ہوں،

He said, “O my people! I do not have any concern with foolishness and I am in fact a Noble Messenger from the Lord Of The Creation.”

اُبَلِّغُكُمۡ رِسٰلٰتِ رَبِّىۡ وَاَنَا لَـكُمۡ نَاصِحٌ اَمِيۡنٌ‏ ﴿68﴾

تمہیں اپنے رب کی رسالتیں پہنچاتا ہوں اور تمہارا معتمد خیرخواہ ہوں (ف۱۲۱)

“I convey to you the messages of my Lord and am your trustworthy well-wisher.”

اَوَعَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَكُمۡ ذِكۡرٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ مِّنۡكُمۡ لِيُنۡذِرَكُمۡ​ ؕ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَـكُمۡ ۚ خُلَفَآءَ مِنۡۢ بَعۡدِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّزَادَكُمۡ فِى الۡخَـلۡقِ بَصۜۡطَةً​​ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰ لَۤاءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ‏ ﴿69﴾

اور کیا تمہیں اس کا اچنبا ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں سے ایک مرد کی معرفت کہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کا جانشین کیا (ف۱۲۲) اور تمہارے بدن کا پھیلاؤ بڑھایا (ف۱۲۳) تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو (ف۱۲٤) کہ کہیں تمہارا بھلا ہو،

“And are you surprised that an advice came to you from your Lord through a man amongst you, so that he may warn you? Remember when He made you the successors of Nooh’s people, and enlarged your bodies; therefore remember Allah’s favours, so that you may attain good.”

قَالُـوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِنَعۡبُدَ اللّٰهَ وَحۡدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُنَا​ ۚ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِيۡنَ‏ ﴿70﴾

بولے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو (ف۱۲۵) کہ ہم ایک اللہ کو پوجیں اور جو (ف۱۲٦) ہمارے باپ دادا پوجتے تھے، انہیں چھوڑ دیں تو لاؤ (ف۱۲۷) جس کا ہمیں وعدہ دے رہے ہو اگر سچے ہو،

They said, “Have you come to us in order that we worship only Allah, and abandon those whom our ancestors worshipped?! So bring upon us what you promise us, if you are truthful.”

قَالَ قَدۡ وَقَعَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ رِجۡسٌ وَّغَضَبٌ​ؕ اَتُجَادِلُوۡنَنِىۡ فِىۡۤ اَسۡمَآءٍ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡـتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ​ؕ فَانْتَظِرُوۡۤا اِنِّىۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ‏  ﴿71﴾

کہا (ف۱۲۸) ضرور تم پر تمہارے رب کا عذاب اور غضب پڑ گیا (ف۱۲۹) کیا مجھ سے خالی ان ناموں میں جھگڑ رہے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے (ف۱۳۰) اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اتاری، تو راستہ دیکھو (ف۱۳۱) میں بھی تمہارے ساتھ دیکھتا ہوں،

He said, “Indeed the punishment and the wrath of your Lord have fallen upon you; what! You needlessly dispute with me regarding the names you and your ancestors have fabricated? Allah has not sent down any proof concerning them; therefore wait – I too await with you.”

فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعۡنَا دَابِرَ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا​ وَمَا كَانُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿72﴾

تو ہم نے اسے اور اس کے ساتھ والوں کو (ف۱۳۲) اپنی ایک بڑی رحمت فرما کر نجات دی (ف۱۳۳) اور جو ہماری آیتیں جھٹلاتے (ف۱۳٤) تھے ان کی جڑ کاٹ دی (ف۱۳۵) اور وہ ایمان والے نہ تھے ،

We therefore rescued him and those with him by a great mercy from Us, and We cut off the lineage of those who denied Our signs – and they were not believers.

وَاِلٰى ثَمُوۡدَ اَخَاهُمۡ صٰلِحًا​ ۘ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوۡا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ​ ؕ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ​ ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَـكُمۡ اٰيَةً​ فَذَرُوۡهَا تَاۡكُلۡ فِىۡۤ اَرۡضِ اللّٰهِ​ وَلَا تَمَسُّوۡهَا بِسُوۡٓءٍ فَيَاۡخُذَكُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ‏ ﴿73﴾

اور ثمود کی طرف (ف۱۳٦) ان کی برادری سے صالح کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے (ف۱۳۷) روشن دلیل آئی (ف۱۳۸) یہ اللہ کا ناقہ ہے (ف۱۳۹) تمہارے لیے نشانی، تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ (ف۱٤۰) کہ تمہیں درد ناک عذاب آئے گا،

And We sent Saleh to the tribe of Thamud, from their own community; he said, “O my people! Worship Allah – you do not have any God except Him; indeed a clear proof has come to you from your Lord; this is Allah’s she-camel – a sign for you – so leave her free to feed in Allah’s earth, and do not touch her with evil intentions for a painful punishment will seize you.”

وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ جَعَلَـكُمۡ خُلَفَآءَ مِنۡۢ بَعۡدِ عَادٍ وَّبَوَّاَكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ تَـتَّخِذُوۡنَ مِنۡ سُهُوۡلِهَا قُصُوۡرًا وَّتَـنۡحِتُوۡنَ الۡجِبَالَ بُيُوۡتًا​ ۚ فَاذۡكُرُوۡۤا اٰ لَۤاءَ اللّٰهِ وَلَا تَعۡثَوۡا فِى الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ‏  ﴿74﴾

اور یاد کرو (ف۱٤۱) جب تم کو عاد کا جانشین کیا اور ملک میں جگہ دی کہ نرم زمین میں محل بناتے ہو (ف۱٤۲) اور پہاڑوں میں مکان تراشتے ہو (ف۱٤۳) تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو (ف۱٤٤) اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو،

“And remember when He made you successors of A’ad and gave you a region in the earth, so you now build palaces in the soft plains and carve houses in rocks; therefore remember Allah’s favours and do not roam the earth spreading turmoil.”

قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا لِمَنۡ اٰمَنَ مِنۡهُمۡ اَتَعۡلَمُوۡنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرۡسَلٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ​ؕ قَالُـوۡۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلَ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿75﴾

اس کی قوم کے تکبر والے کمزور مسلمانوں سے بولے کیا تم جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کے رسول ہیں، بولے وہ جو کچھ لے کے بھیجے گئے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں (ف۱٤۵)

The proud leaders of his people (mockingly) said to the weak Muslims, “Do you know that Saleh is (really) the Noble Messenger of his Lord?” They said, “We believe in whatever he has been sent with.”

قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا اِنَّا بِالَّذِىۡۤ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ‏  ﴿76﴾

متکبر بولے جس پر تم ایمان لائے ہمیں اس سے انکار ہے،

The proud ones said, “We deny what you have believed in.”

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوۡا عَنۡ اَمۡرِ رَبِّهِمۡ وَ قَالُوۡا يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ‏ ﴿77﴾

پس (ف۱٤٦) ناقہ کی کوچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح! ہم پر لے آؤ (ف۱٤۷) جس کا تم سے وعد دے رہے ہو اگر تم رسول ہو،

So they hamstrung the she-camel and rebelled against the command of their Lord and said, “O Saleh! Bring upon us what you promise us, if you are a Noble Messenger.”

فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِىۡ دَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَ‏ ﴿78﴾

تو انہیں زلزلے نے آلیا تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے،

Therefore the earthquake seized them, so at morning they remained lying flattened in their homes.

فَتَوَلّٰى عَنۡهُمۡ وَقَالَ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَالَةَ رَبِّىۡ وَنَصَحۡتُ لَـكُمۡ وَلٰـكِنۡ لَّا تُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِيۡنَ‏ ﴿79﴾

تو صالح نے ان سے منہ پھیرا (ف۱٤۸) اور کہا اے میری قوم! بیشک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچادی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کے غرضی (پسند کرنے والے) ہی نہیں،

Saleh therefore turned away from them and said, “O my people! Indeed I did deliver my Lord’s message to you and wished you good, but you do not want well-wishers.” (The people in the graves can hear the speech of those who are on earth.)

وَلُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهٖۤ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمۡ بِهَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ‏ ﴿80﴾

اور لوط کو بھیجا (ف۱٤۹) جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا وہ بےحیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی،

And We sent Lut – when he said to his people, “What! You commit the shameful acts which no one in the creation has ever done before you?”

اِنَّكُمۡ لَـتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَهۡوَةً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ​ ؕ بَلۡ اَنۡـتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ‏ ﴿81﴾

تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو (ف۱۵۰) عورتیں چھوڑ کر، بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے (ف۱۵۱)

“You lustfully go towards men, instead of women! In fact, you have transgressed the limits.”

وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوۡمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُـوۡۤا اَخۡرِجُوۡهُمۡ مِّنۡ قَرۡيَتِكُمۡ​ ۚ اِنَّهُمۡ اُنَاسٌ يَّتَطَهَّرُوۡنَ‏ ﴿82﴾

اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان (ف۱۵۲) کو اپنی بستی سے نکال دو، یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں (ف۱۵۳)

And his people had no answer except to say, “Turn them out of your dwellings; these are people who wish purity!”

فَاَنۡجَيۡنٰهُ وَاَهۡلَهٗۤ اِلَّا امۡرَاَتَهٗ ​ۖ كَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ‏  ﴿83﴾

تو ہم نے اسے (ف۱۵٤) اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہوئی (ف۱۵۵)

And We rescued him and his family, except his wife – she became of those who stayed behind.

وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّطَرًا ​ؕ فَانْظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ‏  ﴿84﴾

اور ہم نے ان پر ایک مینھ برسایا (ف۱۵٦) تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا (ف۱۵۷)

And We rained a shower (of stones) upon them; therefore see what sort of fate befell the culprits!

وَاِلٰى مَدۡيَنَ اَخَاهُمۡ شُعَيۡبًا​ ؕ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ​ ؕ قَدۡ جَآءَتۡكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ​ فَاَوۡفُوا الۡكَيۡلَ وَالۡمِيۡزَانَ وَلَا تَبۡخَسُوا النَّاسَ اَشۡيَآءَهُمۡ وَلَا تُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِهَا​ ؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ​ ۚ‏ ﴿85﴾

اور مدین کی طرف ان کی برادری سے شعیب کو بھیجا (ف۱۵۸) کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی (ف۱۵۹) تو ناپ اور تول پوری کرو اور لوگوں کی چیزیں گھٹا کر نہ دو (ف۱٦۰) اور زمین میں انتظام کے بعد فساد نہ پھیلاؤ، یہ تمہارا بھلا ہے اگر ایمان لاؤ،

And We sent Shuaib to Madyan from their community; he said, “O my people! Worship Allah – you do not have any God except Him; indeed a clear proof has come to you from your Lord, so measure and weigh in full and do not give the people their goods diminished, and do not spread turmoil in the earth after it is organised; this is for your good, if you believe.”

وَلَا تَقۡعُدُوۡا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوۡعِدُوۡنَ وَتَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ مَنۡ اٰمَنَ بِهٖ وَتَبۡغُوۡنَهَا عِوَجًا​ ۚ وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ كُنۡتُمۡ قَلِيۡلًا فَكَثَّرَكُمۡ​وَانْظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ‏ ﴿86﴾

اور ہر راستہ پر یوں نہ بیٹھو کہ راہگیروں کو ڈراؤ اور اللہ کی راہ سے انہیں روکو (ف۱٦۱) جو اس پر ایمان لائے اور اس میں کجی چاہو، اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے اس نے تمہیں بڑھا دیا (ف۱٦۲) اور دیکھو (ف۱٦۳) فسادیوں کا کیسا انجام ہوا،

“And do not be seated on every road in order to scare the travellers, and to prevent from Allah’s path the people who believe in Him, wishing to distort it; and remember when you were few and He increased your numbers; and see what sort of fate befell the mischievous!”

وَاِنۡ كَانَ طَآٮِٕفَةٌ مِّنۡكُمۡ اٰمَنُوۡا بِالَّذِىۡۤ اُرۡسِلۡتُ بِهٖ وَطَآٮِٕفَةٌ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا فَاصۡبِرُوۡا حَتّٰى يَحۡكُمَ اللّٰهُ بَيۡنَنَا​ ۚ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰكِمِيۡنَ‏ ﴿87﴾

اور اگر تم میں ایک گروہ اس پر ایمان لایا جو میں لے کر بھیجا گیا اور ایک گروہ نے نہ مانا (ف۱٦٤) تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ اللہ ہم میں فیصلہ کرے (ف۱٦۵) اور اللہ کا فیصلہ سب سے بہتر (ف۱٦٦)

“And if a group among you believes in what I have been sent with, and another group does not believe, then wait until Allah judges between us; and Allah’s judgement is the best of all.”

قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ لَـنُخۡرِجَنَّكَ يٰشُعَيۡبُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَكَ مِنۡ قَرۡيَتِنَاۤ اَوۡ لَـتَعُوۡدُنَّ فِىۡ مِلَّتِنَا​ ؕ قَالَ اَوَلَوۡ كُنَّا كَارِهِيۡنَ ۚ‏ ﴿88﴾

اس کی قوم کے متکبر سردار بولے، اے شعیب قسم ہے کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین میں آجاؤ کہا (ف۱٦۷) کیا اگرچہ ہم بیزار ہوں (ف۱٦۸)

The proud leaders of his people said, “O Shuaib, we swear we will banish you and the Muslims who are with you, from our town or you must return to our religion”; he said, “Even though we detest it?”

قَدِ افۡتَرَيۡنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنۡ عُدۡنَا فِىۡ مِلَّتِكُمۡ بَعۡدَ اِذۡ نَجّٰٮنَا اللّٰهُ مِنۡهَا​ ؕ وَمَا يَكُوۡنُ لَـنَاۤ اَنۡ نَّعُوۡدَ فِيۡهَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا​ ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَىۡءٍ عِلۡمًا​ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلۡنَا​ ؕ رَبَّنَا افۡتَحۡ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَ قَوۡمِنَا بِالۡحَـقِّ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡفٰتِحِيۡنَ‏ ﴿89﴾

ضرور ہم اللہ پر جھوٹ باندھیں گے اگر تمہارے دین میں آجائیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس سے بچایا ہے (ف۱٦۹) اور ہم مسلمانوں میں کسی کا کام نہیں کہ تمہارے دین میں آئے مگر یہ کہ اللہ چاہے (ف۱۷۰) جو ہمارا رب ہے، ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، اللہ ہی پر بھروسہ کیا (ف۱۷۱) اے ہمارے رب! ہم میں اور ہماری قوم میں حق فیصلہ کر (ف۱۷۲) اور تیرا فیصلہ سب سے بہتر ہے،

“We shall then have fabricated a lie against Allah if we return to your religion after Allah has rescued us from it; and it is not for any of us Muslims to return to your religion except if Allah, Who is our Lord, wills; the knowledge of our Lord encompasses all things; in Allah only we have trusted; our Lord! Decide with justice between us and our people – and Yours is the best decision.”

وَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ لَٮِٕنِ اتَّبَعۡتُمۡ شُعَيۡبًا اِنَّكُمۡ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ‏ ﴿90﴾

اور اسکی قوم کے کافر سردار بولے کہ اگر تم شعیب کے تابع ہوئے تو ضرور نقصان میں رہو گے،

And the disbelieving leaders of his people said, “If you obey Shuaib, you will indeed be in a loss.”

فَاَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ فَاَصۡبَحُوۡا فِىۡ دَارِهِمۡ جٰثِمِيۡنَ​ ۛۙ  ۚ   ۖ‏ ﴿91﴾

تو انہیں زلز لہ نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے (ف۱۷۳)

Therefore the earthquake seized them – so at morning they remained lying flattened in their homes.

الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَاَنۡ لَّمۡ يَغۡنَوۡا فِيۡهَا​​ ۛۚ اَ لَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا شُعَيۡبًا كَانُوۡا هُمُ الۡخٰسِرِيۡنَ​​‏ ﴿92﴾

شعیب کو جھٹلانے والے گویا ان گھروں میں کبھی رہے ہی نہ تھے، شعیب کو جھٹلانے والے ہی تباہی میں پڑے،

As if those who denied Shoaib had never lived in those homes; those who denied Shoaib, were themselves ruined.

فَتَوَلّٰى عَنۡهُمۡ وَقَالَ يٰقَوۡمِ لَقَدۡ اَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسٰلٰتِ رَبِّىۡ وَنَصَحۡتُ لَـكُمۡ​ۚ فَكَيۡفَ اٰسٰی عَلٰى قَوۡمٍ كٰفِرِيۡنَ‏ ﴿93﴾

تو شعیب نے ان سے منہ پھیرا (ف۱۷٤) اور کہا اے میری قوم! میں تمہیں رب کی رسالت پہنچا چکا اور تمہارے بھلے کو نصیحت کی (ف۱۷۵) تو کیونکر غم کروں کافروں کا،

So Shoaib turned away from them saying, “O my people! Indeed I did deliver my Lord’s message to you and gave you sound advice; so why should I grieve for the disbelievers?” (The people in the graves can hear the speech of those who are on earth.)

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِىۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّبِىٍّ اِلَّاۤ اَخَذۡنَاۤ اَهۡلَهَا بِالۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمۡ يَضَّرَّعُوۡنَ‏ ﴿94﴾

اور نہ بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی (ف۱۷٦) مگر یہ کہ اس کے لوگوں کو سختی اور تکلیف میں پکڑا (ف۱۷۷) کہ وہ کسی طرح زاری کریں (ف۱۷۸)

And never did We send any Prophet to a dwelling but We seized its people with hardship and adversity so that they may become humble.

ثُمَّ بَدَّلۡـنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الۡحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّقَالُوۡا قَدۡ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّآءُ فَاَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ‏ ﴿95﴾

پھر ہم نے برائی کی جگہ بھلائی بدل دی (ف۱۷۹) یہاں تک کہ وہ بہت ہوگئے (ف۱۸۰) اور بولے بیشک ہمارے باپ دادا کو رنج و راحت پہنچے تھے (ف۱۸۱) تو ہم نے انہیں اچانک ان کی غفلت میں پکڑ لیا (ف۱۸۲)

Then We changed the misfortune into prosperity to the extent that they became numerous and said, “Indeed grief and comfort did reach our ancestors” – so We seized them suddenly in their neglect.

وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰٓى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَـفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ وَلٰـكِنۡ كَذَّبُوۡا فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ‏ ﴿96﴾

اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور ڈرتے (ف۱۸۳) تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے (ف۱۸٤) مگر انہوں نے تو جھٹلایا (ف۱۸۵) تو ہم نے انہیں ان کے کیے پر گرفتار کیا (ف۱۸٦)

And had the people of the dwellings believed and been pious, We would have surely opened for them the blessings from the sky and from the earth, but in fact they denied, and We therefore seized them on account of their deeds.

اَفَاَمِنَ اَهۡلُ الۡـقُرٰٓى اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ بَاۡسُنَا بَيَاتًا وَّهُمۡ نَآٮِٕمُوۡنَؕ‏ ﴿97﴾

کیا بستیوں والے (ف۱۸۷) نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آئے جب وہ سوتے ہوں

Do the people of the dwellings not fear that Our wrath may come upon them at night while they are asleep?

اَوَاَمِنَ اَهۡلُ الۡقُرٰٓى اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ بَاۡسُنَا ضُحًى وَّهُمۡ يَلۡعَبُوۡنَ‏  ﴿98﴾

یا بستیوں والے نہیں ڈرتے کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آئے جب وہ کھیل رہے ہوں (ف۱۸۸)

Or do the people of the dwellings not fear that Our wrath may come upon them during the day, while they are playing?

اَفَاَمِنُوۡا مَكۡرَ اللّٰهِ​ ۚ فَلَا يَاۡمَنُ مَكۡرَ اللّٰهِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡخٰسِرُوۡنَ‏ ﴿99﴾

کیا اللہ کی خفی تدبیر سے بےخبر ہیں (ف۱۸۹) تو اللہ کی خفی تدبیر سے نذر نہیں ہوتے مگر تباہی والے (ف۱۹۰)

Are they oblivious to Allah’s secret plan? So none is unafraid of Allah’s secret plan except the people of ruin!

اَوَلَمۡ يَهۡدِ لِلَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِ اَهۡلِهَاۤ اَنۡ لَّوۡ نَشَآءُ اَصَبۡنٰهُمۡ بِذُنُوۡبِهِمۡ​ ۚ وَنَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ‏ ﴿100﴾

اور کیا وہ جو زمین کے ما لکوں کے بعد اس کے وارث ہوئے انہیں اتنی ہدایت نہ ملی کہ ہم چاہیں تو انہیں ان کے گناہوں پر آفت پہنچائیں (ف۱۹۱) اور ہم ان کے دلوں پر مہر کرتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سنتے (ف۱۹۲)

Or did not those who inherited the land after its owners, get enough guidance that if We will, We can afflict them with calamity for their sins? And We set seals upon their hearts so they do not hear.

تِلۡكَ الۡقُرٰى نَقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ اَنۡۢبَآٮِٕهَا​ ۚ وَلَقَدۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ​ ۚ فَمَا كَانُوۡا لِيُؤۡمِنُوۡا بِمَا كَذَّبُوۡا مِنۡ قَبۡلُ​ ؕ كَذٰلِكَ يَطۡبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوۡبِ الۡكٰفِرِيۡنَ‏ ﴿101﴾

یہ بستیاں ہیں (ف۱۹۳) جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں (ف۱۹٤) اور بیشک ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں (ف۱۹۵) لے کر آئے تو وہ (ف۱۹٦) اس قابل نہ ہوئے کہ وہ اس پر ایمان لاتے جسے پہلے جھٹلاچکے تھے (ف۱۹۷) اللہ یونہی چھاپ لگادیتا ہے کافروں کے دلوں پر (ف۱۹۸)

These are the dwellings – the affairs of which We relate to you (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him); and indeed their (respective) Noble Messengers came to them with clear proofs; so they were not able to believe in what they had denied before; this is how Allah sets seals upon the hearts of disbelievers.

وَمَا وَجَدۡنَا لِاَكۡثَرِهِمۡ مِّنۡ عَهۡدٍ​ۚ وَاِنۡ وَّجَدۡنَاۤ اَكۡثَرَهُمۡ لَفٰسِقِيۡنَ‏ ﴿102﴾

اور ان میں اکثر کو ہم نے قول کا سچا نہ پایا (ف۱۹۹) اور ضرور ان میں اکثر کو بےحکم ہی پایا، پھر ان (ف۲۰۰) کے بعد ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں (ف۲۰۱) کے ساتھ فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بھیجا تو

And We found most of them not true to their words; and indeed We found most of them disobedient.

ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ مُّوۡسٰى بِاٰيٰتِنَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَا۟ئِهٖ فَظَلَمُوۡا بِهَا​ ۚ فَانْظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُفۡسِدِيۡنَ‏ ﴿103﴾

انہوں نے ان نشانیوں پر زیادتی کی (ف۲۰۲) تو دیکھو کیسا انجام ہوا مفسدوں کا،

Then after them, We sent Moosa with our signs to Firaun and his court members, but they did injustice to those signs; therefore see what sort of fate befell the mischievous!

وَ قَالَ مُوۡسٰى يٰفِرۡعَوۡنُ اِنِّىۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ‏  ﴿104﴾

اور موسیٰ نے کہا اے فرعون! میں پروردگار عالم کا رسول ہوں،

And Moosa said, “O Firaun! Indeed I am a Noble Messenger from the Lord Of The Creation.”

حَقِيۡقٌ عَلٰٓى اَنۡ لَّاۤ اَقُوۡلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَـقَّ​ ؕ قَدۡ جِئۡـتُكُمۡ بِبَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ فَاَرۡسِلۡ مَعِىَ بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ؕ‏ ﴿105﴾

مجھے سزاوار ہے کہ اللہ پر نہ کہوں مگر سچی بات (ف۲۰۳) میں تم سب کے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں (ف۲۰٤) تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ چھوڑ دے (ف۲۰۵)

“It is obligatory for me not to speak concerning Allah except the truth; I have come to you all with a clear sign from your Lord, therefore let the Descendants of Israel go with me.”

قَالَ اِنۡ كُنۡتَ جِئۡتَ بِاٰيَةٍ فَاۡتِ بِهَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِيۡنَ‏  ﴿106﴾

بولا اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو لاؤ اگر سچے ہو،

Said Firaun, “If you have come with a sign, then present it if you are truthful!”

فَاَلۡقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِىَ ثُعۡبَانٌ مُّبِيۡنٌ​ ​ ۖ ​ۚ‏ ﴿107﴾

تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا وہ فورا ً ایک ظاہر اژدہا ہوگیا (ف۲۰٦)

Therefore Moosa put down his staff – it immediately turned into a visible python.

وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِىَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ‏ ﴿108﴾

اور اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکا لا تو وہ دیکھنے والوں کے سامنے جگمگانے لگا (ف۲۰۷)

And putting his hand in his bosom, withdrew it – so it shone brightly before the beholders.

قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيۡمٌ ۙ‏ ﴿109﴾

قوم فرعون کے سردار بولے یہ تو ایک علم والا جادوگر ہے (ف۲۰۸)

Said the chieftains of Firaun’s people, “He is really an expert magician.”

يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ​ ۚ فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ‏ ﴿110﴾

تمہیں تمہارے ملک (ف۲۰۹) سے نکا لا چاہتا ہے تو تمہارا کیا مشورہ ہے،

“He wishes to expel you all from your kingdom; so what do you advise?”

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَاخَاہُ وَاَرْسِلْ فِی الْمَدَآٮِٕنِ حٰشِرِیْنَ ۙ‏ ﴿111﴾

بولے انہیں اور ان کے بھائی (ف۲۱۰) کو ٹھہرا اور شہروں میں لوگ جمع کرنے والے بھیج دے،

They said, “Stop him and his brother, and send announcers to the cities to gather people.”

يَاۡتُوۡكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِيۡمٍ‏ ﴿112﴾

کہ ہر علم والے جادوگر کو تیرے پاس لے آئیں (ف۲۱۱)

“To bring all the expert magicians to you.”

وَجَآءَ السَّحَرَةُ فِرۡعَوۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ لَـنَا لَاَجۡرًا اِنۡ كُنَّا نَحۡنُ الۡغٰلِبِيۡنَ‏ ﴿113﴾

اور جادوگر فرعون کے پاس آئے بولے کچھ ہمیں انعام ملے گا اگر ہم غالب آئیں،

And the magicians came to Firaun, and said, “Will we get some reward if we are victorious?”

قَالَ نَـعَمۡ وَاِنَّكُمۡ لَمِنَ الۡمُقَرَّبِيۡنَ‏ ﴿114﴾

بولا ہاں اور اس وقت تم مقرب ہوجاؤ گے،

He said, “Yes, and you will then become close to me.”

قَالُوۡا يٰمُوۡسٰٓى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِىَ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ‏ ﴿115﴾

بولے اے موسیٰ یا تو (ف۲۱۲) آپ ڈالیں یا ہم ڈالنے والے ہوں (ف۲۱۳)

They said, “O Moosa! You may throw first – or shall we be the first to throw?”

قَالَ اَلۡقُوۡا​ ۚ فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا سَحَرُوۡۤا اَعۡيُنَ النَّاسِ وَاسۡتَرۡهَبُوۡهُمۡ وَجَآءُوۡ بِسِحۡرٍ عَظِيۡمٍ‏ ﴿116﴾

کہا تمہیں ڈالو (ف۲۱٤) جب انہوں نے ڈالا (ف۲۱۵) لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور انہیں ڈرایا اور بڑا جادو لائے،

He said, “You throw”; when they threw, they cast a magic spell upon the people’s eyes and terrified them, and they brought a great magic.

وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰٓى اَنۡ اَلۡقِ عَصَاكَ​ ۚ فَاِذَا هِىَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ ​ۚ‏ ﴿117﴾

اور ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ اپنا عصا ڈال تو ناگاہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا (ف۲۱٦)

And We inspired Moosa that, “Put forth your staff”; it immediately began swallowing up their fabrications.

فَوَقَعَ الۡحَـقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ​ۚ‏ ﴿118﴾

تو حق ثابت ہوا اور ان کا کام باطل ہوا،

So the truth was proved and their works were disproved.

فَغُلِبُوۡا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوۡا صٰغِرِيۡنَ​ۚ‏ ﴿119﴾

تو یہاں وہ مغلوب پڑے اور ذلیل ہو کر پلٹے

They were therefore defeated here and they turned back humiliated.

وَ اُلۡقِىَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيۡنَ ۙ‏ ﴿120﴾

اور جادوگر سجدے میں گرادیے گئے (ف۲۱۷)

And the magicians were obliged to fall prostrate.

قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ۙ‏ ﴿121﴾

بولے ہم ایمان لائے جہان کے رب پر،

They said, “We have accepted faith in the Lord Of The Creation.”

رَبِّ مُوۡسٰى وَهٰرُوۡنَ‏ ﴿122﴾

جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا،

“The Lord of Moosa and Haroon.”

قَالَ فِرۡعَوۡنُ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَـكُمۡ​ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِى الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا​ ۚ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿123﴾

فرعون بولا تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں، یہ تو بڑا جعل (فریب) ہے جو تم سب نے (ف۲۱۸) شہر میں پھیلایا ہے کہ شہر والوں کو اس سے نکال دو (ف۲۱۹) تو اب جان جاؤ گے (ف۲۲۰)

Said Firaun, “You have accepted faith in Him before I gave you permission! This is indeed a grand conspiracy you have plotted in the city, in order to expel its people from it; so now you will come to know!”

لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ‏ ﴿124﴾

قسم ہے کہ میں تمہارے ایک طرف کہ ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا پھر تم سب کو سُو لی دوں گا (ف۲۲۱)

“I swear I will cut off your hands and your feet from alternate sides and then crucify you all.”

قَالُـوۡۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ​ۚ‏ ﴿125﴾

بولے ہم اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں (ف۲۲۲)

They said, “We shall return to our Lord.”

وَمَا تَـنۡقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتۡنَا​ ؕ رَبَّنَاۤ اَفۡرِغۡ عَلَيۡنَا صَبۡرًا وَّتَوَفَّنَا مُسۡلِمِيۡنَ‏ ﴿126﴾

اور تجھے ہمارا کیا برا لگا یہی نہ کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لائے جب وہ ہمارے پاس آئیں، اے رب ہمارے! ہم پر صبر انڈیل دے (ف۲۲۳) اور ہمیں مسلمان اٹھا (ف۲۲٤)

“And what did you dislike in us, except that we believed in the signs of our Lord when they came to us? Our Lord! Pour (bestow abundantly) patience on us, and bestow us death as Muslims.”

وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ اَتَذَرُ مُوۡسٰى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ​ ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡىٖ نِسَآءَهُمۡ​ ۚ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قَاهِرُوۡنَ‏ ﴿127﴾

اور قوم فرعون کے سردار بولے کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو اس لیے چھوڑتا ہے کہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں (ف۲۲۵) اور موسیٰ تجھے اور تیرے ٹھہرائے ہوئے معبودوں کو چھوڑ دے (ف۲۲٦) بولا اب ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی بیٹیاں زندہ رکھیں گے اور ہم بیشک ان پر غالب ہیں (ف۲۲۷)

The chieftains of Firaun’s people said, “Are you releasing Moosa and his people to cause turmoil in the land, and for Moosa to abandon you and your appointed deities?” He said, “We shall now slay their sons and spare their women; and indeed we have power over them.”

قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهِ اسۡتَعِيۡنُوۡا بِاللّٰهِ وَاصۡبِرُوۡا​ ۚ اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ۙ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ​ ؕ وَالۡعَاقِبَةُ لِلۡمُتَّقِيۡنَ‏  ﴿128﴾

موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ کی مدد چاہو (ف۲۲۸) اور صبر کرو (ف۲۲۹) بیشک زمین کا مالک اللہ ہے (ف۲۳۰) اپنے بندوں میں جسے چاہے وارث بنائے (ف۲۳۱) اور آخر میدان پرہیزگاروں کے ہاتھ ہے (ف۲۳۲)

Moosa said to his people, “Seek the help of Allah and patiently endure; indeed the Owner of the earth is Allah – He appoints as its successor whomever He wills; and the final triumph is for the pious.”

قَالُـوۡۤا اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا وَمِنۡۢ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا​ ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ فَيَنۡظُرَ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿129﴾

بولے ہم ستائے گئے آپ کے آنے سے پہلے (ف۲۳۳) اور آپ کے تشریف لانے کے بعد (ف۲۳٤) کہا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کرے اور اس کی جگہ زمین کا مالک تمہیں بنائے پھر دیکھے کیسے کام کرتے ہو (ف۲۳۵)

They said, “We have been oppressed before you came to us, and after you have come to us”; he said, “It is likely that your Lord may destroy your enemy and in his place make you the rulers of the earth, and then see what deeds you perform.”

وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُوۡنَ‏ ﴿130﴾

اور بیشک ہم نے فرعون والوں کو برسوں کے قحط اور پھلوں کے گھٹانے سے پکڑا (ف۲۳٦) کہ کہیں وہ نصیحت مانیں (ف۲۳۷)

And indeed We seized the people of Firaun with a famine of several years and with reduction of fruits, so that they may follow advice.

فَاِذَا جَآءَتۡهُمُ الۡحَسَنَةُ قَالُوۡا لَـنَا هٰذِهٖ​ ۚ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ يَّطَّيَّرُوۡا بِمُوۡسٰى وَمَنۡ مَّعَهٗ​ ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓٮِٕرُهُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿131﴾

تو جب انہیں بھلائی ملتی (ف۲۳۸) کہتے یہ ہمارے لیے ہے (ف۲۳۹) اور جب برائی پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں سے بدشگونی لیتے (ف۲٤۰) سن لو ان کے نصیبہ کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے (ف۲٤۱) لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں،

So when good would reach them they would say, “This is for us”; and when misfortune reached them, they would infer it as ill omens of Moosa and his companions; pay heed! The misfortune of their ill luck lies with Allah, but most of them are unaware.

وَقَالُوۡا مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّـتَسۡحَرَنَا بِهَا ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿132﴾

اور بولے تم کیسی بھی نشانی لے کر ہمارے پاس آؤ کہ ہم پر اس سے جادو کرو ہم کسی طرح تم پر ایمان لانے والے نہیں (ف۲٤۲)

And said, “You may come with any sign to us, in order to cast a magic spell on us – yet by no means are we going to believe in you.”

فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الطُّوۡفَانَ وَالۡجَـرَادَ وَالۡقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ‏  ﴿133﴾

تو بھیجا ہم نے ان پر طوفان (ف۲٤۳) اور ٹڈی اور گھن (یا کلنی یا جوئیں) اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانیاں (ف۲٤٤) تو انہوں نے تکبر کیا (ف۲٤۵) اور وہ مجرم قوم تھی

We therefore sent against them the flood and the locusts and the vermin (or insects) and the frogs and the blood – separate signs; in response they were proud and were a guilty people.

وَلَـمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَـنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ​ۚ لَٮِٕنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَـنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ​ۚ‏ ﴿134﴾

اور جب ان پر عذاب پڑتا کہتے اے موسیٰ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے (ف۲٤٦) بیشک اگر تم ہم پر عذاب اٹھا دو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے،

And whenever the punishment came upon them they said, “O Moosa! Pray to your Lord for us, by means of His covenant which you have; indeed if you lift the punishment from us we will surely accept faith in you and let the Descendants of Israel go with you.”

فَلَمَّا كَشَفۡنَا عَنۡهُمُ الرِّجۡزَ اِلٰٓى اَجَلٍ هُمۡ بٰلِغُوۡهُ اِذَا هُمۡ يَنۡكُثُوۡنَ‏ ﴿135﴾

پھر جب ہم ان سے عذاب اٹھالیتے ایک مدت کے کیے جس تک انہیں پہنچنا ہے جبھی وہ پھر جاتے،

Consequently whenever We lifted the punishment from them for a term which they must reach, they used to then turn away.

فَانْتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰهُمۡ فِى الۡيَمِّ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ‏ ﴿136﴾

تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو انہیں دریا میں ڈبو دیا (ف۲٤۷) اس لیے کہ ہماری آیتیں جھٹلاتے اور ان سے بےخبر تھے (ف۲٤۸)

We therefore took revenge from them; so We drowned them in the sea for they used to deny Our signs and were ignoring them.

وَاَوۡرَثۡنَا الۡـقَوۡمَ الَّذِيۡنَ كَانُوۡا يُسۡتَضۡعَفُوۡنَ مَشَارِقَ الۡاَرۡضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِىۡ بٰرَكۡنَا فِيۡهَا​ ؕ وَتَمَّتۡ كَلِمَتُ رَبِّكَ الۡحُسۡنٰى عَلٰى بَنِىۡۤ اِسۡرَاۤءِيۡلَۙ بِمَا صَبَرُوۡا​ ؕ وَدَمَّرۡنَا مَا كَانَ يَصۡنَعُ فِرۡعَوۡنُ وَقَوۡمُهٗ وَمَا كَانُوۡا يَعۡرِشُوۡنَ‏ ﴿137﴾

اور ہم نے اس قوم کو (ف۲٤۹) جو دبا لی گئی تھی اس زمین (ف۲۵۰) کے پورب پچھم کا وارث کیا جس میں ہم نے برکت رکھی (ف۲۵۱) اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا، بدلہ ان کے صبر کا، اور ہم نے برباد کردیا (ف۲۵۲) جو کچھ فرعون اور اس کی قوم بناتی اور جو چنائیاں اٹھاتے (تعمیر کرتے) تھے،

And We made the people who were oppressed, the inheritors of the eastern and western parts of the land in which We placed blessings; and the good promise of your Lord was fulfilled for the Descendants of Israel – the reward of their patience; and We destroyed whatever Firaun and his people built and whatever they had contrived.

وَجَاوَزۡنَا بِبَنِىۡۤ اِسۡرَاۤءِيۡلَ الۡبَحۡرَ فَاَ تَوۡا عَلٰى قَوۡمٍ يَّعۡكُفُوۡنَ عَلٰٓى اَصۡنَامٍ لَّهُمۡ​ ۚ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى اجۡعَلْ لَّـنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمۡ اٰلِهَةٌ​  ؕ قَالَ اِنَّكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُوۡنَ‏ ﴿138﴾

اور ہم نے (ف۲۵۳) بنی اسرائیل کو دریا پار اتارا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا کہ اپنے بتوں کے آگے آسن مارے (جم کر بیٹھے) تھے (ف۲۵٤) بولے اے موسیٰ! ہمیں ایک خدا بنادے جیسا ان کے لیے اتنے خدا ہیں، بولا تم ضرور جا ہل لوگ ہو، (ف۲۵۵)

And We transported the Descendants of Israel across the sea – so they came across a people who used to squat in seclusion in front of their idols; they said, “O Moosa! Make a God for us, the way they have so many Gods!” He said, “You are indeed an ignorant people.”

اِنَّ هٰٓؤُلَۤاءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمۡ فِيۡهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏  ﴿139﴾

یہ حال تو بربادی کا ہے جس میں یہ (ف۲۵٦) لوگ ہیں اور جو کچھ کررہے ہیں نرا باطل ہے،

“The condition they are in is, in fact, one of destruction – and all what they do is utter falsehood.”

قَالَ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَبۡغِيۡكُمۡ اِلٰهًا وَّهُوَ فَضَّلَـكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ‏  ﴿140﴾

کہا کیا اللہ کے سوا تمہارا اور کوئی خدا تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں زمانے بھر پر فضیلت دی (ف۲۵۷)

He said, “Shall I seek for you a God other than Allah, whereas He has given you superiority above the entire world?” (By sending His message towards you).

وَاِذۡ اَنۡجَيۡنٰكُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ يَسُوۡمُوۡنَـكُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ​ ۚ يُقَتِّلُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَ يَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ​ ؕ وَفِىۡ ذٰ لِكُمۡ بَلَاۤ ءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ‏ ﴿141﴾

اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات بحشی کہ تمہیں بری مار دیتے تمہارے بیٹے ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیاں باقی رکھتے، اور اس میں رب کا بڑا فضل ہوا (ف۲۵۸)

And remember when We rescued you from Firaun’s people who were afflicting you with a dreadful torment; slaughtering your sons and sparing your daughters; and in it was a great favour from your Lord.

وَوٰعَدۡنَا مُوۡسٰى ثَلٰثِيۡنَ لَيۡلَةً وَّاَتۡمَمۡنٰهَا بِعَشۡرٍ فَتَمَّ مِيۡقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرۡبَعِيۡنَ لَيۡلَةً ​ ۚ وَقَالَ مُوۡسٰى لِاَخِيۡهِ هٰرُوۡنَ اخۡلُفۡنِىۡ فِىۡ قَوۡمِىۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ‏ ﴿142﴾

اور ہم نے موسیٰ سے (ف۲۵۹) تیس رات کا وعدہ فرمایا اور ان میں (ف۲٦۰) دس اور بڑھا کر پوری کیں تو اس کے رب کا وعدہ پوری چالیس رات کا ہوا (ف۲٦۱) اور موسیٰ نے (ف۲٦۲) اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم پر میرے نائب رہنا اور اصلاح کرنا اور فسادیوں کی راہ کو دخل نہ دینا،

And We agreed with Moosa a covenant for thirty nights (of solitude) and completed it by adding ten to them, so the covenant of His Lord amounted to forty nights in full; and Moosa said to his brother Haroon, “Be my deputy over my people and make reform and do not allow the ways of the mischievous to enter.”

وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰى لِمِيۡقَاتِنَا وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِىۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ​ ؕ قَالَ لَنۡ تَرٰٮنِىۡ وَلٰـكِنِ انْظُرۡ اِلَى الۡجَـبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوۡفَ تَرٰٮنِىۡ​ ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّخَرَّ مُوۡسٰى صَعِقًا​ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبۡحٰنَكَ تُبۡتُ اِلَيۡكَ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏ ﴿143﴾

اور جب موسیٰ ہمارے وعدہ پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام فرمایا (ف۲٦۳) عرض کی اے رب میرے! مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا (ف۲٦٤) ہاں اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا (ف۲٦۵) پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا اسے پاش پاش کردیا اور موسیٰ گرا بیہوش پھر جب ہوش ہوا بولا پاکی ہے تجھے میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں (ف۲٦٦)

And when Moosa presented himself upon Our promise, and his Lord spoke to him, he said, “My Lord! Show me Your Self, so that I may see You”; He said, “You will never be able to see Me, but look towards the mountain – if it stays in its place, then you shall soon see Me”; so when his Lord directed His light on the mountain, He blew it into bits and Moosa fell down unconscious; then upon regaining consciousness he said, “Purity is to You! I incline towards You, and I am the first Muslim.”

قَالَ يٰمُوۡسٰٓى اِنِّى اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِىۡ وَ بِكَلَامِىۡ ​ۖ  فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ‏ ﴿144﴾

فرمایا اے موسیٰ میں نے تجھے لوگوں سے چن لیا اپنی رسالتوں اور اپنے کلام سے، تو لے جو میں نے تجھے عطا فرمایا اور شکر والوں میں ہو،

Said Allah, “O Moosa! I have chosen you from mankind by (bestowing) My messages and by My speech; so accept what I have bestowed upon you and be among the thankful.”

وَكَتَبۡنَا لَهٗ فِى الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَىۡءٍ مَّوۡعِظَةً وَّتَفۡصِيۡلًا لِّـكُلِّ شَىۡءٍ​ ۚ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا​ ؕ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ‏ ﴿145﴾

اور ہم نے اس کے لیے تختیوں میں (ف۲٦۷) لکھ دی ہر چیز کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل، اور فرمایا اے موسیٰ اسے مضبوطی سے لے اور اپنی قوم کو حکم دے کر اس کی اچھی باتیں اختیار کریں (ف۲٦۸) عنقریب میں تمہیں دکھاؤں گا بےحکموں کا گھر (ف۲٦۹)

And We wrote for him on the tablets, the advice for all things and the details of all things; and commanded “Accept it firmly and command your people to choose its good advices; soon I shall show you people the destination of the disobedient.”

سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِىَ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَـقِّ ؕ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا​ ۚ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ لَا يَتَّخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا​ ۚ وَّاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَىِّ يَتَّخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا​ ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ‏ ﴿146﴾

اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں (ف۲۷۰) اور اگر سب نشانیاں دیکھیں ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر ہدایت کی راہ دیکھیں اس میں چلنا پسند نہ کریں (ف۳۲۷۱) اور گمراہی کا راستہ نظر پڑے تو اس میں چلنے کو موجود ہوجائیں، یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان سے بےخبر بنے،

“And I shall turn away from My signs the people who unjustly wish to be admired in the earth; and if they see all the signs, they would not believe them; and if they see the path of guidance, they would not prefer to tread it; and if they see the way of error, they would present themselves to tread it; that is because they denied Our signs and were ignoring them.

وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ​ؕ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿147﴾

اور جنہوں نے ہماری آیتیں اور آخرت کے دربار کو جھٹلایا ان کا سب کیا دھرا اَکارت گیا، انہیں کیا بدلہ ملے گا مگر وہی جو کرتے تھے،

And those who denied Our signs and the confronting of the Hereafter – all their deeds are wasted; what recompense will they get, except what they used to do?

وَاتَّخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰى مِنۡۢ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ​ ؕ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا ۘ اِتَّخَذُوۡهُ وَكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ‏ ﴿148﴾

اور موسیٰ کے (ف۲۷۲) بعد اس کی قوم اپنے زیوروں سے (ف۲۷۳) ایک بچھڑا بنا بیٹھی بےجان کا دھڑ (ف۲۷٤) گائے کی طرف آواز کرتا، کیا نہ دیکھا کہ وہ ان سے نہ بات کرتا ہے اور نہ انہیں کچھ راہ بتائے (ف۲۷۵) اسے لیا اور وہ ظالم تھے (ف۲۷٦)

And behind Moosa, his people moulded a calf from their ornaments – a lifeless body making sounds like a cow; did they not see that it neither speaks to them nor guides them in any way? They chose it (for worship), and were unjust.

وَلَـمَّا سُقِطَ فِىۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ۙ قَالُوۡا لَٮِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا وَيَغۡفِرۡ لَـنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ‏  ﴿149﴾

اور جب پچھتائے اور سمجھے کہ ہم بہکے بولے اگر ہمارا رب ہم پر مہربانی نہ کرے اور ہمیں نہ بخشے تو ہم تباہ ہوئے،

And when they repented and realised that they had gone astray, they said, “If our Lord does not have mercy on us and forgive us, we are ruined.”

وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰٓى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا ۙ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِىۡ مِنۡۢ بَعۡدِىۡ ۚ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ​ ۚ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ​ؕ قَالَ ابۡنَ اُمَّ اِنَّ الۡـقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِىۡ وَكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِىۡ ​ۖ  فَلَا تُشۡمِتۡ بِىَ الۡاَعۡدَآءَ وَ لَا تَجۡعَلۡنِىۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ‏ ﴿150﴾

اور جب موسیٰ (ف۲۷۷) اپنی قوم کی طرف پلٹا غصہ میں بھرا جھنجلایا ہوا (ف۲۷۸) کہا تم نے کیا بری میری جانشینی کی میرے بعد (۲۷۹) کیا تم نے اپنے رب کے حکم سے جلدی کی (ف۲۸۰) اور تختیاں ڈال دیں (ف۲۸۱) اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگا (ف۲۸۲) کہا اے میرے ماں جائے (ف۲۸۳) قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالیں تو مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا (ف۲۸٤) اور مجھے ظالموں میں نہ ملا (ف۲۸۵)

And when Moosa returned to his people, angry and upset, he said, “What an evil way you have handled affairs on my behalf, behind me; did you hasten upon the command of your Lord?” And he cast down the stone tablets, and catching hold of his brothers hair, began pulling him towards him; said Haroon said, “O the son of my mother! The people thought I was weak and would have probably killed me; so do not make my enemies laugh at me and do not identify me with the unjust.”

قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِىۡ وَلِاَخِىۡ وَ اَدۡخِلۡنَا فِىۡ رَحۡمَتِكَ ​ۖ  وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ‏ ﴿151﴾

عرض کی اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے (ف۲۸٦) اور ہمیں اپنی رحمت کے اندر لے لے اور تو سب مہر والوں سے بڑھ کر مہر والا

He submitted, “My Lord! Forgive me and my brother and admit us into Your mercy; and You are the Most Merciful of all those who show mercy.”

اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّـةٌ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا​ ؕ وَكَذٰلِكَ نَجۡزِىۡ الۡمُفۡتَرِيۡنَ‏ ﴿152﴾

بیشک وہ جو بچھڑا لے بیٹھے عنقریب انہیں ان کے رب کا غضب اور ذلت پہنچنا ہے دنیا کی زندگی میں، اور ہم ایسی ہی بدلہ دیتے ہیں بہتان ہایوں (باندھنے والوں) کو،

Indeed those who took the calf – the punishment from their Lord, and humiliation will reach them in the life of this world; and this is the way We reward those who fabricate lies.

وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِهَا وَاٰمَنُوۡۤا اِنَّ رَبَّكَ مِنۡۢ بَعۡدِهَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏ ﴿153﴾

اور جنہوں نے برائیاں کیں اور ان کے بعد توبہ کی اور ایمان لائے تو اس کے بعد تمہارا رب بخشنے والا مہربان ہے (ف۲۸۷)

And those who performed misdeeds and then repented and accepted faith – so after that, your Lord is Oft Forgiving, Most Merciful.

وَلَـمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ​ۖ  وَفِىۡ نُسۡخَتِهَا هُدًى وَّرَحۡمَةٌ لِّـلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ‏ ﴿154﴾

اور جب موسیٰ کا غصہ تھما تختیاں اٹھالیں اور ان کی تحریر میں ہدایت اور رحمت ہے ان کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں،

And when the anger of Moosa abated, he picked up the stone tablets; and in their texts are guidance and mercy for those who fear their Lord.

وَاخۡتَارَ مُوۡسٰى قَوۡمَهٗ سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا لِّمِيۡقَاتِنَا​ ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ قَالَ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَـكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّاىَ​ ؕ اَ تُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا ۚ اِنۡ هِىَ اِلَّا فِتۡنَـتُكَ ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِىۡ مَنۡ تَشَآءُ ​ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَـنَا وَارۡحَمۡنَا​ وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغَافِرِيۡنَ‏ ﴿155﴾

اور موسیٰ نے اپنی قوم سے سترّ ۷۰، مرد ہمارے وعدہ کے لیے چنے (ف۲۸۸) پھر جب انہیں زلزلہ نے لیا (ف۲۸۹) موسیٰ نے عرض کی اے رب میرے! تو چاہتا تو پہلے ہی انہیں اور مجھے ہلاک کردیتا (ف۲۹۰) کیا تو ہمیں اس کام پر ہلاک فرمائے گا جو ہمارے بےعقلوں نے کیا (ف۲۹۱) وہ نہیں مگر تیرا آزمانا، تو اس سے بہکائے جسے چاہے اور راہ دکھائے جسے چاہے تو ہمارا مولیٰ ہے تو ہمیں بخش دے اور ہم پر مہر کر اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے،

And Moosa chose seventy men from his people for Our promise; therefore when the earthquake seized them, he submitted, “My Lord! If You had willed You could have destroyed them and me, even earlier! Will You destroy us for the deeds which the ignorant among us did? That is not but Your testing us; with it You send astray whomever You will and guide whomever You will; You are our Master, so forgive us and have mercy on us, and You are the Best of the Forgiving.”

وَاكۡتُبۡ لَـنَا فِىۡ هٰذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً وَّفِى الۡاٰخِرَةِ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ​ؕ قَالَ عَذَابِىۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ​ ۚ وَرَحۡمَتِىۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَىۡءٍ​ ؕ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ​ۚ‏ ﴿156﴾

اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی لکھ (ف۲۹۲) اور آخرت میں بیشک ہم تیری طرف رجوع لائے، فرمایا (ف۲۹۳) میرا عذاب میں جسے چاہوں دوں (ف۲۹٤) اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے (ف۲۹۵) تو عنقریب میں (ف۲۹٦) نعمتوں کو ان کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوٰة دیتے ہیں اور وہ ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں،

“And destine good for us in this world and in the Hereafter – We have indeed inclined towards You”; He said, “I give My punishment to whomever I will; and My mercy encompasses all things; so I shall soon destine favours for those who fear and pay the charity, and they believe in Our signs.”

اَ لَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِىَّ الۡاُمِّىَّ الَّذِىۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ يَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهٰٮهُمۡ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡخَبٰۤٮِٕثَ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِىۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ​ ؕ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ وَنَصَرُوۡهُ وَ اتَّبَـعُوا النُّوۡرَ الَّذِىۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗ ۤ​ ۙ اُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏ ﴿157﴾

وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بےپڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی (ف۲۹۷) جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں (ف۲۹۸) وہ انہیں بھلائی کا حکم دے گا اور برائی سے منع کرے گا اور ستھری چیزیں ان کے لیے حلال فرمائے گا اور گندی چیزیں ان پر حرام کرے گا اور ان پر سے وہ بوجھ (ف۲۹۹) اور گلے کے پھندے (ف۳۰۰) جو ان پر تھے اتارے گا، تو وہ جو اس پر (ف۳۰۱) ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا (ف۳۰۲) وہی بامراد ہوئے،

“Those who will obey this Noble Messenger (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), the Herald of the Hidden who is untutored* (except by Allah), whom they will find mentioned in the Taurat and the Injeel with them; he will command them to do good and forbid them from wrong, and he will make lawful for them the good clean things and prohibit the foul for them, and he will unburden the loads and the neck chains which were upon them; so those who believe in him, and revere** him, and help him, and follow the light which came down with him – it is they who have succeeded." (*The Holy Prophet was taught by Allah Himself – see Surah 55 Al-Rahman. **To honour the Holy Prophet – peace and blessings be upon him – is part of faith. To disrespect him is blasphemy.)

قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّىۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعَاْ ۨالَّذِىۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ​ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُحۡىٖ وَيُمِيۡتُ​ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِىِّ الۡاُمِّىِّ الَّذِىۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ‏ ﴿158﴾

تم فرماؤ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں (ف۳۰۳) کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کو ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں جلائے اور مارے تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول بےپڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اس کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ،

Say (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him), “O people! Indeed I am, towards you all, the Noble Messenger of Allah – for Whom (Allah) only is the kingship of the heavens and the earth; there is none worthy of worship, except Him – giving life and giving death; therefore believe in Allah and His Noble Messenger, the Prophet who is untutored (except by Allah), who believes in Allah and His Words, and obey him (the Prophet) to attain guidance.” (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – is the Prophet towards all mankind.)

وَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰٓى اُمَّةٌ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَـقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ‏  ﴿159﴾

اور موسیٰ کی قوم سے ایک گروہ ہے کہ حق کی راہ بتاتا اور اسی سے (ف۳۰٤) انصاف کرتا،

And among the people of Moosa is a group that shows the true path, and establishes justice with it.

وَقَطَّعۡنٰهُمُ اثۡنَتَىۡ عَشۡرَةَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا​ ؕ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰٓى اِذِ اسۡتَسۡقٰٮهُ قَوۡمُهٗۤ اَنِ اضۡرِبْ بِّعَصَاكَ الۡحَجَرَ​ ۚ فَاْنۢبَجَسَتۡ مِنۡهُ اثۡنَتَا عَشۡرَةَ عَيۡنًا​ ؕ قَدۡ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَهُمۡ​ؕ وَظَلَّلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡغَمَامَ وَاَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمُ الۡمَنَّ وَالسَّلۡوٰىؕ كُلُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ​ؕ وَ مَا ظَلَمُوۡنَا وَلٰـكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ‏ ﴿160﴾

اور ہم نے انہیں بانٹ دیا بارہ قبیلے گروہ گروہ، اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کو جب اس سے اس کی قوم نے (ف۳۰۵) پانی ما نگا کہ اس پتھر پر اپنا عصا مارو تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے (ف۳۰٦) ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا، اور ہم نے ان پر ابر کا سائبان کیا (ف۳۰۷) اور ان پر من و سلویٰ اتارا، کھاؤ ہماری دی ہوئی پاک چیزیں اور انہوں نے (ف۳۰۸) ہمارا کچھ نقصان نہ کیا لیکن اپنی ہی جانوں کا برا کرتے ہیں،

And We divided them into twelve tribes, as separate groups; and when his people asked him for water, We revealed to Moosa, “Strike the rock with your staff”; so twelve springs gushed forth from it; each group recognised its drinking-place; and We made the clouds a canopy over them and sent down the Manna and the Salwa (birds) on them; “Eat of the good things we have provided you”; and they did not wrong Us in the least, but they used to wrong themselves.

وَاِذۡ قِيۡلَ لَهُمُ اسۡكُنُوۡا هٰذِهِ الۡقَرۡيَةَ وَكُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ وَقُوۡلُوۡا حِطَّةٌ وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا نَّـغۡفِرۡ لَـكُمۡ خَطِيْٓــٰٔــتِكُمۡ​ ؕ سَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ‏ ﴿161﴾

اور یاد کرو جب ان (ف۳۰۹) سے فرمایا گیا اس شہر میں بسو (ف۳۱۰) اور اس میں جو چاہو کھاؤ اور کہو گناہ اترے اور دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہو ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے، عنقریب نیکوں کو زیادہ عطا فرمائیں گے،

And remember when they were commanded, “Reside in this township and eat whatever you wish in it, and say ‘Sins are forgiven’ and enter the gate prostrating – We will forgive you your sins; We shall soon bestow more upon the virtuous.”

فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡهُمۡ قَوۡلًا غَيۡرَ الَّذِىۡ قِيۡلَ لَهُمۡ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوۡا يَظۡلِمُوۡنَ‏  ﴿162﴾

تو ان میں کے ظالموں نے بات بدل دی اس کے خلاف جس کا انہیں حکم تھا (ف۳۱۱) تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا بدلہ ان کے ظلم کا (ف۳۱۲)

So the unjust among them changed the words, contrary to what they had been commanded – consequently We sent down upon them a punishment from the sky – the recompense of their injustice.

وَسۡـــَٔلۡهُمۡ عَنِ الۡـقَرۡيَةِ الَّتِىۡ كَانَتۡ حَاضِرَةَ الۡبَحۡرِ​ۘ اِذۡ يَعۡدُوۡنَ فِى السَّبۡتِ اِذۡ تَاۡتِيۡهِمۡ حِيۡتَانُهُمۡ يَوۡمَ سَبۡتِهِمۡ شُرَّعًا وَّيَوۡمَ لَا يَسۡبِتُوۡنَ​ ۙ لَا تَاۡتِيۡهِمۡ​​ ۛۚ كَذٰلِكَ ​ۛۚ نَبۡلُوۡهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ‏ ﴿163﴾

اور ان سے حال پوچھو اس بستی کا کہ دریا کنارے تھی (ف۳۱۳) جب وہ ہفتے کے بارے میں حد سے بڑھتے (ف۳۱٤) جب ہفتے کے دن ان کی مچھلیاں پانی پر تیرتی ان کے سامنے آتیں اور جو دن ہفتے کا نہ ہوتا نہ آتیں اس طرح ہم انہیں آزمانتے تھے ان کی بےحکمی کے سبب،

And ask them (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) of the township that was by the sea; when they used to exceed in the matter of the Sabbath – when their fish used to come swimming atop the water in front of them on the day of Sabbath and not come on the days it was not Sabbath; this is how We used to test them, due to their disobedience.

وَاِذۡ قَالَتۡ اُمَّةٌ مِّنۡهُمۡ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡمَاْ ​ ۙ اۨللّٰهُ مُهۡلِكُهُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًا​ ؕ قَالُوۡا مَعۡذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمۡ وَلَعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ‏ ﴿164﴾

اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کیوں نصیحت کرتے ہو ان لوگوں کو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں سخت عذاب دینے والا، بولے تمہارے رب کے حضور معذرت کو (ف۳۱۵) اور شاید انہیں ڈر ہو (ف۳۱٦)

And when a group among them said, “Why do you preach to a people whom Allah is going to destroy or mete out a severe punishment?” They said, “To have an excuse before your Lord, and that perhaps they may fear.”

فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖۤ اَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ السُّوۡۤءِ وَاَخَذۡنَا الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا بِعَذَابٍۭ بَـِٕيۡسٍۢ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ‏ ﴿165﴾

پھر جب بھلا بیٹھے جو نصیحت انہیں ہوئی تھی ہم نے بچالیے وہ جو برائی سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو برے عذاب میں پکڑا بدلہ ان کی نافرمانی کا،

And when they forgot the advices they had been given, We rescued those who forbade evil, and seized the unjust with a dreadful punishment – the recompense of their disobedience.

فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُهُوۡا عَنۡهُ قُلۡنَا لَهُمۡ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خٰسِـٮِٕیْنَ‏ ﴿166﴾

پھر جب انہوں نے ممانعت کے حکم سے سرکشی کی ہم نے ان سے فرمایا ہوجاؤ بندر دھتکارے ہوئے (ف۲۱۷)

Consequently when they rebelled against the command to refrain, We said to them, “Be apes, despised!”

وَاِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ يَّسُوۡمُهُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ​ ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيۡعُ الۡعِقَابِ ​ ​ۖۚ وَاِنَّهٗ لَـغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ‏ ﴿167﴾

اور جب تمہارے رب نے حکم سنادیا کہ ضرور قیامت کے دن تک ان (ف۳۱۸) پر ایسے کو بھیجتا رہوں گا جو انہیں بری مار چکھائے (ف۳۱۹) بیشک تمہارا رب ضرور جلد عذاب والا ہے (ف۳۲۰) اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۳۲۱)

And remember when your Lord announced the command that till the Day of Resurrection I will certainly send such oppressors against them, who will inflict them with a dreadful punishment; indeed your Lord is swift in meting out punishment; and indeed He is Oft Forgiving, Most Merciful.

وَقَطَّعۡنٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اُمَمًا​ ۚ مِنۡهُمُ الصّٰلِحُوۡنَ وَمِنۡهُمۡ دُوۡنَ ذٰ لِكَ​ وَبَلَوۡنٰهُمۡ بِالۡحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ‏  ﴿168﴾

اور انہیں ہم نے زمین میں متفرق کردیا گروہ گروہ، ان میں کچھ نیک ہیں (ف۳۲۲) اور کچھ اور طرح کے (ف۳۲۳) اور ہم نے انہیں بھلائیوں اور برائیوں سے آزمایا کہ کہیں وہ رجوع لائیں (ف۳۲٤)

And We divided them in the earth as separate groups; some of them are righteous and some are the other type; and We tested them with good (favours) and evil things (adversities) so that they may return.

فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ وَّرِثُوا الۡكِتٰبَ يَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ هٰذَا الۡاَدۡنٰى وَيَقُوۡلُوۡنَ سَيُغۡفَرُ لَـنَا​ ۚ وَاِنۡ يَّاۡتِهِمۡ عَرَضٌ مِّثۡلُهٗ يَاۡخُذُوۡهُ​ ؕ اَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِمۡ مِّيۡثَاقُ الۡـكِتٰبِ اَنۡ لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَـقَّ وَدَرَسُوۡا مَا فِيۡهِ​ ؕ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّـلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ​ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ‏ ﴿169﴾

پھر ان کی جگہ ان کے بعد وہ (ف۳۲۵) ناخلف آئے کہ کتاب کے وارث ہوئے (ف۳۲٦) اس دنیا کا مال لیتے ہیں (ف۳۲۷) اور کہتے اب ہماری بخشش ہوگی (ف۳۲۸) اور اگر ویسا ہی مال ان کے پاس اور آئے تو لے لیں (ف۳۲۹) کیا ان پر کتاب میں عہد نہ لیا گیا کہ اللہ کی طرف نسبت نہ کریں مگر حق اور انہوں نے اسے پڑھا (ف۳۳۰) اور بیشک پچھلا گھر بہتر ہے پرہیزگاروں کو (ف۳۳۱) تو کیا تمہیں عقل نہیں،

And after them in their place, came those unworthy successors who inherited the Books – they accept the goods of this world (as bribes) and say, “We shall soon be forgiven”; and if similar goods come to them again, they would accept it; was not the covenant taken from them in the Book, that they must not relate anything to Allah except the truth, and they have studied it? And indeed the abode of the Hereafter is better for the pious; so do you not have sense?

وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡـكِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ؕ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ‏ ﴿170﴾

اور وہ جو کتاب کو مضبوط تھامتے ہیں (ف۳۳۲) اور انہوں نے نماز قائم رکھی، ہم نیکوں کا نیگ (اجر) نہیں گنواتے،

And those who hold fast to the Book, and have kept the prayer established; and We do not waste the wages of the righteous.

وَاِذۡ نَـتَقۡنَا الۡجَـبَلَ فَوۡقَهُمۡ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌ ۢ بِهِمۡ​ ۚ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰكُمۡ بِقُوَّةٍ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ‏ ﴿171﴾

اور جب ہم نے پہاڑ ان پر اٹھایا گویا وہ سائبان ہے اور سمجھے کہ وہ ان پر گر پڑے گا (ف۳۳۳) تو جو ہم نے تمہیں دیا زور سے (ف۳۳٤) اور یاد کرو جو اس میں ہے کہ کہیں تم پرہیزگار ہو،

And when We raised the Mount (Sinai) above them as if it were a canopy, and they thought that it would fall upon them; “Accept firmly what We have given you, and remember what is in it, so that you may become pious.”

وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّكَ مِنۡۢ بَنِىۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَ اَشۡهَدَهُمۡ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ​ ۚ اَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡ​ ؕ قَالُوۡا بَلٰى​ ۛۚ شَهِدۡنَا ​ۛۚ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنۡ هٰذَا غٰفِلِيۡنَ ۙ‏ ﴿172﴾

اور اے محبوب! یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود ان پر گواہ کیا، کیا میں تمہارا رب نہیں (ف۳۳۵) سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے (ف۳۳٦) کہ کہیں قیامت کے دن کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی (ف۳۳۷)

And remember when your Lord brought forth the generations from the backs of the Descendants of Adam, and made them their own witness; “Am I not your Lord?”; they all said, “Yes surely You are, why not? We testify”; for you may say on the Day of Resurrection that, “We were unaware of this.”

اَوۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَشۡرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنۡۢ بَعۡدِهِمۡ​ۚ اَفَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ‏ ﴿173﴾

یا کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا اور ہم ان کے بعد بچے ہوئے (ف۳۳۸) تو کیا تو ہمیں اس پر ہلاک فرمائے گا جو اہل باطل نے کیا (ف۳۳۹)

Or you may say, “It is our ancestors who first ascribed partners (to Allah) and we were (their) children after them; so will You destroy us on account of the deeds of the followers of falsehood?”

وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ وَلَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُوۡنَ‏ ﴿174﴾

اور ہم اسی طرح آیتیں رنگ رنگ سے بیان کرتے ہیں (ف۳٤۰) اور اس لیے کہ کہیں وہ پھر آئیں (ف۳٤۱)

And this is how We explain the verses in different ways, and so that they may return.

وَاتۡلُ عَلَيۡهِمۡ نَبَاَ الَّذِىۡۤ اٰتَيۡنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنۡهَا فَاَتۡبَعَهُ الشَّيۡطٰنُ فَكَانَ مِنَ الۡغٰوِيۡنَ‏ ﴿175﴾

اور اے محبوب! انہیں اس کا احوال سناؤ جسے ہم نے اپنی آیتیں دیں (ف۳٤۲) تو وہ ان سے صاف نکل گیا (ف۳٤۳) تو شیطان اس کے پیچھے لگا تو گمراہوں میں ہوگیا،

And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) recite to them the case of the one to whom We gave Our revelations, and in response he departed from them completely – so Satan went after him – he therefore became of the astray.

وَلَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰهُ بِهَا وَلٰـكِنَّهٗۤ اَخۡلَدَ اِلَى الۡاَرۡضِ وَاتَّبَعَ هَوٰٮهُ​ ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الۡـكَلۡبِ​ ۚ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَيۡهِ يَلۡهَثۡ اَوۡ تَتۡرُكۡهُ يَلۡهَث ​ؕ ذٰ لِكَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا​ ۚ فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُوۡنَ‏ ﴿176﴾

اور ہم چاہتے تو آیتوں کے سبب اسے اٹھالیتے (ف۳٤٤) مگر وہ تو زمین پکڑ گیا (ف۳٤۵) اور اپنی خواہش کا تابع ہوا تو اس کا حال کتے کی طرح ہے تو اس پر حملہ کرے تو زبان نکالے اور چھوڑ دے تو زبان نکالے (ف۲٤٦) یہ حال ہے ان کا جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو تم نصیحت سناؤ کہ کہیں وہ دھیان کریں،

And had We willed We could have raised him because of the revelations, but he clung to the earth and followed his own desires; his condition therefore is like that of a dog; if you attack him he hangs out his tongue and if you leave him he hangs out his tongue; this is the state of the people who denied Our signs; therefore preach, so that they may give thought.

سَآءَ مَثَلَاْ ۨالۡقَوۡمُ الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَاَنۡفُسَهُمۡ كَانُوۡا يَظۡلِمُوۡنَ‏ ﴿177﴾

کیا بری کہاوت ہے ان کی جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور اپنی ہی جان کا برا کرتے تھے،

What an evil example is of those who denied Our signs and used to wrong only their own souls.

مَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ فَهُوَ الۡمُهۡتَدِىۡ​ۚ وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ فَاُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ‏ ﴿178﴾

جسے اللہ راہ دکھائے تو وہی راہ پر ہے، اور جسے گمراہ کرے تو وہی نقصان میں رہے،

Whomever Allah guides – only he is on the right path; and whomever He sends astray – it is they who are the losers.

وَلَـقَدۡ ذَرَاۡنَا لِجَـهَنَّمَ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ​ ​ۖ  لَهُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ بِهَا  وَلَهُمۡ اَعۡيُنٌ لَّا يُبۡصِرُوۡنَ بِهَا  وَلَهُمۡ اٰذَانٌ لَّا يَسۡمَعُوۡنَ بِهَا ؕ اُولٰۤٮِٕكَ كَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ هُمۡ اَضَلُّ​ ؕ اُولٰۤٮِٕكَ هُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ‏ ﴿179﴾

اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی (ف۳٤۷) اور دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں (ف۳٤۸) اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں (ف۳٤۹) اور وہ کان جن سے سنتے نہیں (ف۳۵۰) وہ چوپایوں کی طرح ہیں (ف۳۵۱) بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ (ف۳۵۲) وہی غفلت میں پڑے ہیں،

And indeed We have created many jinns and men for hell; they have hearts in which their is no understanding; and the eyes they do not see with; and the ears they do not hear with; they are like cattle – in fact more astray; it is they who are the neglectful.

وَلِلّٰهِ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى فَادۡعُوۡهُ بِهَا​ وَذَرُوا الَّذِيۡنَ يُلۡحِدُوۡنَ فِىۡۤ اَسۡمَآٮِٕهٖ​ ؕ سَيُجۡزَوۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ﴿180﴾

اور اللہ ہی کے ہیں بہت اچھے نام (ف۳۵۳) تو اسے ان سے پکارو اور انہیں چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے نکلتے ہیں (ف۳۵٤) وہ جلد اپنا کیا پائیں گے،

And for Allah only are the best names, so invoke Him by them; and abandon those who depart from the truth regarding His names; they will soon receive the reward of their deeds.

وَمِمَّنۡ خَلَقۡنَاۤ اُمَّةٌ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَـقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ‏  ﴿181﴾

اور ہمارے بنائے ہوؤں میں ایک گروہ وہ ہے کہ حق بتائیں اور اس پر انصاف کریں (ف۳۵۵)

And from Our creation is a group that shows the truth and establishes justice with it.

وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَنَسۡتَدۡرِجُهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ​ۖ ​ ۚ‏ ﴿182﴾

اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں جلد ہم انہیں آہستہ آہستہ (ف۳۵٦) عذاب کی طرف لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی

And those who denied Our signs – We shall soon steadily lead them towards the punishment, from the place they will not know.

وَاُمۡلِىۡ لَهُمۡ ​ؕ اِنَّ كَيۡدِىۡ مَتِيۡنٌ‏ ﴿183﴾

اور میں انہیں ڈھیل دوں گا (ف۳۵۷) بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہے (ف۳۵۸)

And I will give them respite; indeed My secret plan is extremely solid.

اَوَلَمۡ يَتَفَكَّرُوۡا​ مَا بِصَاحِبِهِمۡ مِّنۡ جِنَّةٍ​ؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ‏ ﴿184﴾

کیا سوچتے نہیں کہ ان کے صاحب کو جنوں سے کچھ علاقہ نہیں، وہ تو صاف ڈر سنانے والے ہیں (ف۳۵۹)

Do they not ponder that their companion is far removed from insanity? In fact he is clearly a Herald of Warning.

اَوَلَمۡ يَنۡظُرُوۡا فِىۡ مَلَـكُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَىۡءٍ ۙ وَّاَنۡ عَسٰٓى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُهُمۡ​ ۚ فَبِاَىِّ حَدِيۡثٍۢ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿185﴾

کیا انہوں نے نگاہ نہ کی آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں اور جو جو چیز اللہ نے بنائی (ف۳٦۰) اور یہ کہ شاید ان کا وعدہ نزدیک آگیا ہو (ف۳٦۱) تو اس کے بعد اور کونسی بات پر یقین لائیں گے (ف۳٦۲)

Have they not pondered deeply regarding the kingdom of the heavens and the earth, and whatever things Allah created? And that possibly their promise (of death) may have come near? So after this*, in what will they believe? (*Advent of the Last Prophet and the Holy Qur’an.)

مَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِىَ لَهٗ ​ؕ وَ يَذَرُهُمۡ فِىۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ‏ ﴿186﴾

جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں اور انہیں چھوڑتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکا کریں،

For one whom Allah sends astray, there is none to guide him; and He leaves them to wander in their rebellion.

يَسۡـَٔـــلُوۡنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰٮهَا ​ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّىۡ​ ۚ لَا يُجَلِّيۡهَا لِوَقۡتِهَاۤ اِلَّا هُوَۘ ​ؕ ثَقُلَتۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ​ؕ لَا تَاۡتِيۡكُمۡ اِلَّا بَغۡتَةً ​ ؕ يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ كَاَنَّكَ حَفِىٌّ عَنۡهَا ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿187﴾

تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں (ف۳٦۳) کہ وہ کب کو ٹھہری ہے تم فرماؤ اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے، اسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا (ف۳٦٤) بھاری پڑ رہی ہے آسمانوں اور زمین میں، تم پر نہ آئے گی مگر اچانک، تم سے ایسا پوچھتے ہیں گویا تم نے اسے خوب تحقیق کر رکھا ہے، تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے اس ہے لیکن بہت لوگ جانتے نہیں (ف۳٦۵)

They ask you about the Resurrection, as to when it is destined; say, “Indeed its knowledge is with my Lord; only He will manifest it at its time; it is proving cumbersome in the heavens and the earth; it will not come to you except suddenly”; they question you as if you have researched it deeply; say, “Indeed its knowledge is with Allah only but most people do not know.”

قُلْ لَّاۤ اَمۡلِكُ لِنَفۡسِىۡ نَـفۡعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ​ ؕ وَلَوۡ كُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ لَاسۡتَكۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَيۡرِ ۖ ​ۛۚ وَمَا مَسَّنِىَ السُّۤوۡءُ​ ​ۛۚ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِيۡرٌ وَّبَشِيۡرٌ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ‏  ﴿188﴾

تم فرماؤ میں اپنی جان کے بھلے برے کا خودمختار نہیں (ف۳٦٦) مگر جو اللہ چاہے (ف۳٦۷) اور اگر میں غیب جان لیا کرتا تو یوں ہوتا کہ میں نے بہت بھلائی جمع کرلی، اور مجھے کوئی برائی نہ پہنچی (ف۳٦۸) میں تو یہی ڈر (ف۳٦۹) اور خوشی سنانے والا ہوں انہیں جو ایمان رکھتے ہیں،

Say, “I have no autonomy to benefit or hurt myself, except what Allah wills; and were I to procure knowledge of the hidden on my own, it would be that I had accumulated a lot of good; and no misfortune would touch me; I am purely a Herald of Warning and Glad Tidings to the people who believe.”

هُوَ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّـفۡسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا لِيَسۡكُنَ اِلَيۡهَا​ ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰٮهَا حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيۡفًا فَمَرَّتۡ بِهٖ​ ۚ فَلَمَّاۤ اَثۡقَلَتۡ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَٮِٕنۡ اٰتَيۡتَـنَا صَالِحًا لَّـنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ‏ ﴿189﴾

وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (ف۳۷۰) اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا (ف۳۷۱) کہ اس سے چین پائے پھر جب مرد اس پر چھایا اسے ایک ہلکا سا پیٹ رہ گیا (ف۳۷۲) تو اسے لیے پھراکی پھر جب بوجھل پڑی دونوں نے اپنے رب سے دعا کی ضرور اگر تو ہمیں جیسا چاہیے بچہ دے گا تو بیشک ہم شکر گزار ہوں گے،

It is He Who created you from a single soul, and from him made its mate for him to gain comfort with her; so when the male covered her, she was burdened lightly in her womb, and she therefore moved easily carrying it; and when she felt the burden heavy, they both cried to their Lord Allah, “Indeed You may give to us a child as You will, so we will surely be thankful.”

فَلَمَّاۤ اٰتٰٮهُمَا صَالِحًـا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِيۡمَاۤ اٰتٰٮهُمَا​ ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ‏ ﴿190﴾

پھر جب اس نے انہیں جیسا چاہیے بچہ عطا فرمایا انہوں نے اس کی عطا میں اس کے ساجھی ٹھہرائے تو اللہ کو برتری ہے ان کے شرک سے (ف۳۷۳)

So when He bestowed them a normal child, they ascribed partners (to Him) in respect of what He had bestowed upon them; therefore Supreme is Allah, above all that they ascribe as partners.

اَيُشۡرِكُوۡنَ مَا لَا يَخۡلُقُ شَيۡـًٔـــا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ​ ​ۖ ‏  ﴿191﴾

کیا اسے شریک کرتے ہیں جو کچھ نہ بنائے (ف۳۷٤) اور وہ خود بنائے ہوئے ہیں،

Do they (the disbelievers) ascribe (false deities) that which do not create anything, but are themselves created?

وَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ لَهُمۡ نَـصۡرًا وَّلَاۤ اَنۡفُسَهُمۡ يَنۡصُرُوۡنَ‏  ﴿192﴾

اور نہ وہ ان کو کوئی مدد پہنچاسکیں اور نہ اپنی جانوں کی مدد کریں (ف۳۷۵)

And cannot provide any help to them, nor do they help themselves?

وَاِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ اِلَى الۡهُدٰى لَا يَتَّبِعُوۡكُمۡ​ ؕ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡهُمۡ اَمۡ اَنۡـتُمۡ صٰمِتُوۡنَ‏ ﴿193﴾

اور اگر تم انہیں (ف۳۷٦) راہ کی طرف بلاؤ تو تمہارے پیچھے نہ آئیں (ف۳۷۷) تم پر ایک سا ہے چاہے انہیں پکارو یا چپ رہو (ف۳۷۸)

And if you call the disbelievers to guidance, they do not follow you; it is the same for you, whether you invite them or remain silent.

اِنَّ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمۡثَالُـكُمۡ​ فَادۡعُوۡهُمۡ فَلۡيَسۡتَجِيۡبُوۡا لَـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏ ﴿194﴾

بیشک وہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری طرح بندے ہیں (ف۳۷۹) تو انہیں پکارو پھر وہ تمہیں جواب دیں اگر تم سچے ہو،

Indeed those whom you (the disbelievers) worship besides Allah are slaves like you – so call them and they may answer you, if you are truthful!

اَلَهُمۡ اَرۡجُلٌ يَّمۡشُوۡنَ بِهَآ اَمۡ لَهُمۡ اَيۡدٍ يَّبۡطِشُوۡنَ بِهَآ اَمۡ لَهُمۡ اَعۡيُنٌ يُّبۡصِرُوۡنَ بِهَآ اَمۡ لَهُمۡ اٰذَانٌ يَّسۡمَعُوۡنَ بِهَا​ ؕ قُلِ ادۡعُوۡا شُرَكَآءَكُمۡ ثُمَّ كِيۡدُوۡنِ فَلَا تُنۡظِرُوۡنِ‏ ﴿195﴾

کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے گرفت کریں یا ان کے آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا ان کے کان ہیں جن سے سنیں (ف۳۸۰) تم فرماؤ کہ اپنے شریکوں کو پکارو اور مجھ پر داؤ چلو اور مجھے مہلت نہ دو (ف۳۸۱)

Do they have feet to walk with? Or have they hands to hold with? Or have they eyes to see with? Or have they ears to hear with? Say, “Call upon your ascribed partners and conspire against me, and do not give me respite.”

اِنَّ وَلىِّۦَ اللّٰهُ الَّذِىۡ نَزَّلَ الۡـكِتٰبَ ​ۖ  وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيۡنَ‏ ﴿196﴾

بیشک میرا والی اللہ ہے جس نے کتاب اتاری (ف۳۸۲) اور وہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے (ف۳۸۳)

“Indeed my Protector is Allah Who has sent down the Book; and He befriends the righteous.”

وَالَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ لَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ نَـصۡرَكُمۡ وَلَاۤ اَنۡفُسَهُمۡ يَنۡصُرُوۡنَ‏ ﴿197﴾

اور جنہیں اس کے سوا پوجتے ہو وہ تمہاری مدد نہیں کرسکتے، اور نہ خود اپنی مدد کریں (ف۳۸٤)

“And those whom you worship besides Him cannot help you nor do they help themselves.”

وَاِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ اِلَى الۡهُدٰى لَا يَسۡمَعُوۡا​ ؕ وَتَرٰٮهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ وَهُمۡ لَا يُبۡصِرُوۡنَ‏ ﴿198﴾

اور اگر تم انہیں راہ کی طرف بلاؤ تو نہ سنیں اور تو انہیں دیکھے کہ وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں (ف۳۸۵) اور انہیں کچھ بھی نہیں سوجھتا،

And if you call them to guidance they do not listen; and you (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) observe them looking towards you, whereas they do not perceive anything.

خُذِ الۡعَفۡوَ وَاۡمُرۡ بِالۡعُرۡفِ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡجٰهِلِيۡنَ‏ ﴿199﴾

اے محبوب! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیرلو،

And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) adopt forgiveness, and enjoin virtue, and turn away from the ignorant.

وَاِمَّا يَنۡزَغَـنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ​ؕ اِنَّهٗ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ‏ ﴿200﴾

اور اے سننے والے اگر شیطان تجھے کوئی کونچا دے (کسی برے کام پر اکسائے) تو اللہ کی پناہ مانگ بیشک وہی سنتا جانتا ہے،

And O listener! If the devil provokes you, seek the refuge of Allah; indeed He is All Hearing, All Knowing.

اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّهُمۡ طٰۤٮِٕفٌ مِّنَ الشَّيۡطٰنِ تَذَكَّرُوۡا فَاِذَا هُمۡ مُّبۡصِرُوۡنَ​ۚ‏ ﴿201﴾

بیشک وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیار ہوجاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں (ف۳۸۷)

Indeed those who fear get alerted whenever a temptation from the devil troubles them, and they perceive immediately.

وَاِخۡوَانُهُمۡ يَمُدُّوۡنَهُمۡ فِى الۡغَىِّ ثُمَّ لَا يُقۡصِرُوۡنَ‏  ﴿202﴾

اور وہ جو شیطانوں کے بھائی ہیں (ف۳۸۸) شیطان انہیں گمراہی میں کھینچتے ہیں پھر کمی نہیں کرتے،

And the devils pull those who their brothers into error, and then do not make any relaxation.

وَاِذَا لَمۡ تَاۡتِهِمۡ بِاٰيَةٍ قَالُوۡا لَوۡلَا اجۡتَبَيۡتَهَا​ ؕ قُلۡ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا يُوۡحٰٓى اِلَىَّ مِنۡ رَّبِّىۡ ​ۚ هٰذَا بَصَآٮِٕرُ مِنۡ رَّبِّكُمۡ وَهُدًى وَّ رَحۡمَةٌ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ‏ ﴿203﴾

اور اے محبوب! جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہ لاؤ تو کہتے ہیں تم نے دل سے کیوں نہ بنائی تم فرماؤ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب سے وحی ہوتی ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھولنا ہے اور ہدایت اور رحمت مسلمانوں کے لیے،

And O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) when you do not bring to them a verse, they say, “Why did you not fabricate it?” Say, “I follow only what is divinely revealed to me from my Lord”; this (the Holy Qur’an) is an enlightenment from your Lord, and a guidance and a mercy for the Muslims.

وَاِذَا قُرِئَ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَهٗ وَاَنۡصِتُوۡا لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ‏  ﴿204﴾

اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو (ف۳۸۹)

And when the Qur’an is recited, listen to it attentively and keep silent, so that you receive mercy.

وَاذۡكُرْ رَّبَّكَ فِىۡ نَفۡسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيۡفَةً وَّدُوۡنَ الۡجَـهۡرِ مِنَ الۡقَوۡلِ بِالۡغُدُوِّ وَالۡاٰصَالِ وَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡغٰفِلِيۡنَ‏ ﴿205﴾

اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو (ف۳۹۰) زاری اور ڈر سے اور بے آواز نکلے زبان سے صبح اور شام (ف۳۹۱) اور غافلوں میں نہ ہونا،

And remember your Lord within your hearts humbly and with fear, and softly with your tongues, morning and evening, and do not be of the neglectful.

اِنَّ الَّذِيۡنَ عِنۡدَ رَبِّكَ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِهٖ وَيُسَبِّحُوۡنَهٗ وَلَهٗ يَسۡجُدُوۡنَ۩‏ ﴿206﴾

بیشک وہ جو تیرے رب کے پاس ہیں (ف۳۹۲) اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بولتے اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں (ف۳۹۳) السجدة ۔۵

Indeed those who are with your Lord are not conceited towards worshipping Him, and they proclaim His Purity and it is to Him they prostrate. (Command of Prostration # 1)

Scroll to Top