A requester seeks the punishment that will take place –
एक मांगने वाला वह अज़ाब मांगता है ,
ek maangne wala woh azaab maangta hai ,
لِّلۡكٰفِرِيۡنَ لَيۡسَ لَهٗ دَافِعٌ ۙ ﴿2﴾
جو کافروں پر ہونے والا ہے، اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں (ف۲) ،
- Upon the disbelievers – the punishment that none can avert.
जो काफ़िरों पर होने वाला है , उसका कोई टालने वाला नहीं ,
jo kafiron par hone wala hai , uska koi taalne wala nahi ,
(ف2)شانِ نزول : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جب اہلِ مکّہ کو عذابِ الٰہی کا خوف دلایا تو وہ آپس میں کہنے لگے کہ اس عذاب کے مستحق کو ن لوگ ہیں ؟ اور یہ کن پر آئے گا ؟ سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پوچھو تو انہوں نے حضور سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے دریافت کیا ۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں اور حضور سے سوال کرنے والا نضر بن حارث تھا ، اس نے دعا کی تھی کہ یارب اگر یہ قرآن حق ہو اور تیرا کلام ہو تو ہمارے اوپر آسمان سے پتّھر برسا ، یا درد ناک عذاب بھیج ۔ ان آیتوں میں ارشاد فرمایا گیا کہ کافر طلب کریں یا نہ کریں عذاب جو ان کےلئے مقدر ہے ضرور آنا ہے ، اسے کوئی ٹال نہیں سکتا ۔
مِّنَ اللّٰهِ ذِى الۡمَعَارِجِؕ ﴿3﴾
وہ ہوگا اللہ کی طرف سے جو بلندیوں کا مالک ہے (ف۳)
From Allah, the Lord of all pinnacles.
वह होगा अल्लाह की तरफ से जो बुलंदियों का मालिक है
woh hoga Allah ki taraf se jo bulandiyon ka malik hai
ملائکہ اور جبریل (ف٤) اس کی بارگاہ کی طرف عروج کرتے ہیں (ف۵) وہ عذاب اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے (ف٦)
The angels and Jibreel, ascend towards Him – the punishment will befall on a day which spans fifty thousand years.
मलाइका और जब्रील उसकी बारगाह की तरफ उरूज करते हैं वह अज़ाब उस दिन होगा जिसकी मिक़दार पचास हज़ार बरस है
malaika aur Jibreel uski bargah ki taraf urooj karte hain woh azaab us din hoga jiski miqdar pachaas hazaar baras hai
(ف4)جو فرشتوں میں مخصوص فضل و شرف رکھتے ہیں ۔(ف5)یعنی اس مقامِ قرب کی طرف جو آسمان میں اس کے اوامر کا جائے نزول ہے ۔(ف6)وہ روزِ قیامت ہے جس کے شدائد کافروں کی نسبت تو اتنے دراز ہوں گے اور مومن کےلئے ایک فرض نماز سے بھی سُبک تر ہوگا ۔
فَاصۡبِرۡ صَبۡرًا جَمِيۡلًا ﴿5﴾
تو تم اچھی طرح صبر کرو،
Therefore patiently endure, in the best manner (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him).
तो तुम अछ्छी तरह सब्र करो,
to tum achhi tarah sabr karo,
اِنَّهُمۡ يَرَوۡنَهٗ بَعِيۡدًا ۙ ﴿6﴾
وہ اسے (ف۷) دور سمجھ رہے ہیں (ف۸)
They deem it to be remote.
वह उसे दूर समझ रहे हैं
woh use door samajh rahe hain
(ف7)یعنی عذاب کو ۔(ف8)اور یہ خیال کرتے ہیں کہ واقع ہونے والا ہی نہیں ۔
اور جتنے زمین میں ہیں سب پھر یہ بدلہ دنیا اسے بچالے،
And all those who are in the earth – then only if the redemption saves him!
और जितने ज़मीन में हैं सब फिर यह बदला दुनिया उसे बचा ले ,
aur jitne zameen mein hain sab phir yeh badla duniya use bacha le ,
كَلَّا ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ ﴿15﴾
ہرگز نہیں (ف۱٤) وہ تو بھڑکتی آگ ہے،
Never! That is indeed a blazing fire.
हरगिज़ नहीं वह तो भड़कती आग है ,
hargiz nahi woh to bhadakti aag hai ,
(ف14)یہ کچھ اس کے کام نہ آئے گا اور کسی طرح وہ عذاب سے بچ نہ سکے گا ۔
نَزَّاعَةً لِّلشَّوٰى ۖۚ ﴿16﴾
کھال اتار لینے والی بلارہی ہے (ف۱۵)
A fire that melts the hide.
खाल उतार लेने वाली बुला रही है
khaal utaar lene wali bula rahi hai
(ف15)نام لے لے کر کہ اے کافر میرے پاس آ ، اے منافق میرے پاس آ ۔
تَدۡعُوۡا مَنۡ اَدۡبَرَ وَتَوَلّٰىۙ ﴿17﴾
اس کو جس نے پیٹھ دی اور منہ پھیرا (ف۱٦)
It calls out to him who reverted and turned away.
उसको जिसने पीठ दी और मुंह फेरा
usko jisne peeth di aur munh phera
(ف16)حق کے قبول کرنے اور ایمان لانے سے ۔
وَجَمَعَ فَاَوۡعٰى ﴿18﴾
اور جوڑ کر سینت رکھا (محفوظ کرلیا) (ف۱۷)
And accumulated wealth and hoarded it.
और जोड़ कर सेंत रखा (محفوظ कर लिया)
aur jod kar sent rakha (mehfooz kar liya)
(ف17)مال کو ، اور اس کے حقوقِ واجبہ ادا نہ کئے ۔
اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ هَلُوۡعًا ۙ ﴿19﴾
بیشک آدمی بنایا گیا ہے بڑا بےصبرا حریص،
Indeed man is created very impatient, greedy.
बेशक आदमी बनाया गया है बड़ा बेसबरा हरीस,
beshak aadmi banaya gaya hai bada besabra harees,
اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا ۙ ﴿20﴾
جب اسے برائی پہنچے (ف۱۸) تو سخت گھبرانے والا ،
Very nervous when touched by misfortune.
जब उसे बुराई पहुंचे तो सख़्त घबराने वाला ,
jab use burai pahunche to sakht ghabrane wala ,
(ف18)تنگ دستی و بیماری وغیرہ کی ۔
وَاِذَا مَسَّهُ الۡخَيۡرُ مَنُوۡعًا ۙ ﴿21﴾
اور جب بھلائی پہنچے (ف۱۹) تو روک رکھنے والا (ف۲۰)
And refraining, when good reaches him.
और जब भलाई पहुंचे तो रोक रखने वाला
aur jab bhalai pahunche to rok rakhne wala
(ف19)دولت مندی و مال ۔ (ف20)یعنی انسان کی حالت یہ ہے کہ اسے کوئی ناگوار حالت پیش آتی ہے تو اس پر صبر نہیں کرتا اور جب مال ملتا ہے تو اس کو خرچ نہیں کرتا ۔
And those in whose wealth exists a recognised right,
और वह जिनके माल में एक मालूम हक़ है
aur woh jinke maal mein ek maloom haq hai
(ف22)مراد اس سے زکوٰۃ ہے جس کی مقدار معلوم ہے یا وہ صدقہ جو آدمی اپنے نفس پر معیّن کرے تو اسے معیّن اوقات میں ادا کیا کرے ۔مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ صدقاتِ مستحبّہ کےلئے اپنی طرف سے وقت معیّن کرنا شرع میں جائز اور قابلِ مدح ہے ۔
لِّلسَّآٮِٕلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِۙ ﴿25﴾
اس کے لیے جو مانگے اور جو مانگ بھی نہ سکے تو محروم رہے (ف۲۳)
For those who beg, and for the needy who cannot even ask.
उसके लिए जो मांगे और जो मांग भी न सके तो महरूम रहे
uske liye jo maange aur jo maang bhi na sake to mehroom rahe
(ف23)یعنی دونوں قِسم کے محتاجوں کو دے ، انہیں بھی جو حاجت کے وقت سوال کرتے ہیں اور انہیں بھی جو شرم سے سوال نہیں کرتے اور ان کی محتاجی ظاہر نہیں ہوتی ۔
تو جو ان دو (ف۲٦) کے سوا اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں (ف۲۷)
So those who desire more than this – it is they who are the transgressors.
तो जो इन दो के सिवा और चाहे वही हद से बढ़ने वाले हैं
to jo in do ke siwa aur chahe wahi had se badhne wale hain
(ف26)یعنی زوجات و مملوکات ۔(ف27)کہ حلال سے حرام کی طرف تجاوز کرتے ہیں ۔مسئلہ : اس آیت سے متعہ ، لواطت ، جانوروں کے ساتھ قضاءِ شہوت اور ہاتھ سے استمناء کی حرمت ثابت ہوتی ہے ۔
اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرتے ہیں (ف۲۸)
And those who protect the property entrusted to them, and their agreements.
और वह जो अपनी अमानतों और अपने अहद की हिफ़ाज़त करते हैं
aur woh jo apni amanaton aur apne ahad ki hifazat karte hain
(ف28)شرعی امانتوں کی بھی اور بندوں کی امانتوں کی بھی اور خَلق کے ساتھ جو عہد ہیں ان کی بھی اور حق کے جو عہد ہیں ان کی بھی نذریں اور قَسمیں بھی اس میں داخل ہیں ۔
(ف30)نماز کا ذکر مکرّر فرمایا گیا ۔ اس میں یہ اظہار ہے کہ نماز بہت اہم ہے یا یہ کہ ایک جگہ فرائض مراد ہیں دوسری جگہ نوافل ۔ اور حفاظت سے مراد یہ ہے کہ اس کے ارکان اور واجبات اور سنّتوں اور مستحبّات کو کامل طور پر ادا کرتے ہیں ۔
تو ان کافروں کو کیا ہوا تمہاری طرف تیز نگاہ سے دیکھتے ہیں (ف۳۲)
So what is the matter with these disbelievers, that they stare at you (O dear Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him)?
तो इन काफ़िरों को क्या हुआ तुम्हारी तरफ़ तेज़ निगाह से देखते हैं
to in kafiron ko kya hua tumhari taraf tez nigah se dekhte hain
(ف32)شانِ نزول: یہ آیت کفّار کی اس جماعت کے حق میں نازل ہوئی جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے گرد حلقے باندھ کر گروہ کے گروہ جمع ہوتے تھے اور آپ کا کلامِ مبارک سنتے اور اس کو جھٹلاتے اور استہزاء کرتے اور کہتے کہ اگر یہ لوگ جنّت میں داخل ہوں گے جیسا کہ محمّد ( مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) فرماتے ہیں تو ہم ضرور ان سے پہلے اس میں داخل ہوں گے ۔ انکے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ ان کافروں کا کیا حال ہے کہ آپ کے پاس بیٹھتے بھی ہیں اور گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھتے بھی ہیں پھر بھی جو آپ سے سنتے ہیں اس سے نفع نہیں اٹھاتے ۔
آنکھیں نیچی کیے ہوئے ان پر ذلت سوار، یہ ہے ان کا وہ دن (ف٤۱) جس کا ان سے وعدہ تھا (ف٤۲)
With lowered eyes, disgrace overcoming them; this is the day, which they had been promised.
आंखें नीची किए हुए उन पर ज़िल्लत सवार, यह है उनका वह दिन जिसका उनसे वादा था
aankhen neechi kiye hue un par zillat sawar, yeh hai unka woh din jiska unse wada tha
(ف41)یعنی روزِ قیامت ۔(ف42)دنیا میں اور وہ اس کو جھٹلاتے تھے ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page