وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے گا (ف۵) اور ایک مقرر میعاد تک (ف٦) تمہیں مہلت دے گا (ف۷) بیشک اللہ کا وعدہ جب آتا ہے ہٹایا نہیں جاتا کسی طرح تم جانتے (ف۸)
“He will forgive you some of your sins, and give you respite up to an appointed term; indeed the promise of Allah cannot be averted when it arrives; if only you knew.”
वह तुम्हारे कुछ गुनाह बख़्श देगा और एक मुक़र्रर मियाद तक तुम्हें मोहलत देगा बेशक अल्लाह का वादा जब आता है हटाया नहीं जाता किसी तरह तुम जानते
Woh tumhare kuch gunah bakhsh dega aur ek muqarrar miyaad tak tumhein mohlat dega beshak Allah ka wada jab aata hai hataya nahin jata kisi tarah tum jaante
(ف5)جو تم سے وقتِ ایمان تک صادر ہوئے ہوں گے یا جو بندوں کے حقوق سے متعلق نہ ہوں گے ۔(ف6)یعنی وقتِ موت تک ۔(ف7)کہ اس دوران میں تم پر عذاب نہ فرمائے گا ۔(ف8)اس کو اور ایمان لے آتے ۔
اور میں نے جتنی بار انہیں بلایا (ف۱۲) کہ تو ان کو بخشے انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں (ف۱۳) اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے (ف۱٤) اور ہٹ کی (ف۱۵) اور بڑا غرور کیا (ف۱٦)
“And whenever I called them, so that You may forgive them, they always thrust their fingers into their ears, and covered themselves with their clothes, and remained stubborn and were extremely haughty.”
और मैं ने जितनी बार उन्हें बुलाया कि तू उन को बख़्शे उन्होंने अपने कानों में उंगलियाँ दे लीं और अपने कपड़े ओढ़ लिए और हठ की और बड़ा ग़ुरूर किया
Aur maine jitni baar unhein bulaya ke tu unko bakhshe unhon ne apne kaanon mein ungliyan de lein aur apne kapde oodh liye aur hath ki aur bara ghuroor kiya
(ف12)تجھ پر ایمان لانے کی طرف ۔(ف13)تاکہ میری دعوت کو نہ سنیں ۔(ف14)اور منھ چُھپا لئے تاکہ مجھے نہ دیکھیں کیونکہ انہیں دِینِ الٰہی کی طرف نصیحت کرنے والے کو دیکھنا بھی گوارا نہ تھا ۔(ف15)اپنے کفر پر ۔(ف16)اور میری دعوت کو قبول کرنا اپنی شان کے خلاف جانا ۔
پھر میں نے ان سے با علان بھی کہا (ف۱۸) اور آہستہ خفیہ بھی کہا (ف۱۹)
“Then I also told them publicly and also spoke to them softly in private.”
फिर मैं ने उन से बआलान भी कहा और आहिस्ता ख़ुफ़िया भी कहा
Phir maine un se ba-ilaan bhi kaha aur aahista khufiya bhi kaha
(ف18)اور دعوت بالاعلان کی تکرار بھی کی ۔(ف19)ایک ایک سے ، اور کوئی دقیقہ دعوت کا اٹھا نہ رکھا قوم زمانۂِ دراز تک حضرت نو ح علیہ السلام کی تکذیب ہی کرتی رہی تو اللہ تعالٰی نے ان سے بارش روک دی اور ان کی عورتوں کو بانجھ کردیا ، چالیس سال تک انکے مال ہلاک ہوگئے ، جانور مرگئے جب یہ حال ہوا تو حضرت نوح علیہ السلام نے انہیں استغفار کا حکم دیا ۔
تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو (ف۲۰) وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے (ف۲۱)
“I therefore told them, ‘Seek forgiveness from your Lord; He is indeed Most Forgiving.’
तो मैं ने कहा अपने रब से माफी मांगो वह बड़ा मआफ़ फ़रमाने वाला है
To maine kaha apne Rab se maafi maango woh bara maaf farmane wala hai
(ف20)کفر و شرک سے ، اور ایمان لا کر مغفرت طلب کرو تاکہ اللہ تعالٰی تم پر اپنی رحمتوں کے دروازے کھولے کیونکہ طاعات میں مشغول ہونا خیر و برکت اور وسعتِ رزق کا سبب ہوتا ہے ۔(ف21)توبہ کرنے والوں کو اگر تم ایمان لائے اور تم نے توبہ کی تو وہ ۔
اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا (ف۲۲) اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا (ف۲۳)
‘And will aid you with wealth and sons, and will create gardens for you and cause rivers to flow for you.’
और माल और बेटों से तुम्हारी मदद करेगा और तुम्हारे लिए बाग़ बना देगा और तुम्हारे लिए नहरें बनाएगा
Aur maal aur beton se tumhari madad karega aur tumhare liye bagh bana dega aur tumhare liye nahrain banayega
(ف22)مال و اولادبکثرت عطا فرمائے گا ۔(ف23)حضرت حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے ایک شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے قلّتِ بارش کی شکایت کی ، آپ نے استغفار کا حکم دیا ، دوسرا آیا ، اس نے تنگ دستی کی شکایت کی ، اسے بھی یہی حکم فرمایا ، پھر تیسرا آیا ، اس نے قلّتِ نسل کی شکایت کی ، اس سے بھی یہی فرمایا ، پھر چوتھا آیا ، اس نے اپنی زمین کی قلّتِ پیداوار کی شکایت کی ، اس سے بھی یہی فرمایا ، ربیع بن صبیح جو حاضر تھے انھوں نے عرض کیا چند لوگ آئے قِسم قِسم کی حاجتیں انہوں نے پیش کیں ، آپ نے سب کو ایک ہی جواب دیا کہ استغفار کرو تو آپ نے یہ آیت پڑھی ۔ ( ان حوائج کےلئے یہ قرآنی عمل ہے)
تمہیں کیا ہوا اللہ سے عزت حاصل کرنے کی امید نہیں کرتے (ف۲٤)
‘What is the matter with you, that you do not desire honour from Allah?’
तुम्हें क्या हुआ अल्लाह से इज़्ज़त हासिल करने की उम्मीद नहीं करते
Tumhein kya hua Allah se izzat hasil karne ki umeed nahin karte
(ف24)اس طرح کہ اس پر ایمان لاؤ ۔
وَقَدۡ خَلَقَكُمۡ اَطۡوَارًا ﴿14﴾
حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح بنایا (ف۲۵)
‘Whereas it is He Who created you in different stages?’
हालाँकि उस ने तुम्हें तरह तरह बनाया
Halaanke us ne tumhein tarah tarah banaya
(ف25)کبھی نطفہ ، کبھی علقہ ، کبھی مضغہ ، یہاں تک کہ تمہاری خلقت کا مل کی ، اس کی آفرینش میں نظر کرنا ، اس کی خالقیّت و قدرت اور اس کی وحدانیّت پر ایمان لانے کو و اجب کرتا ہے ۔
اور ان میں چاند کو روشن کیا (ف۲٦) اور سورج کو چراغ (ف۲۷)
‘And in them, has illuminated the moon, and made the sun a lamp?’
और उन में चाँद को रोशन किया और सूरज को चिराग़
Aur un mein chaand ko roshan kiya aur sooraj ko chiraagh
(ف26)حضرت ابنِ عباس و ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہم سے مروی ہے کہ آفتاب و ماہتاب کے چہرے تو آسمانوں کی طرف ہیں اور ہر ایک کی پشت زمین کی طرف تو آسمانوں کی لطافت کے باعث ان کی روشنی تمام آسمانوں میں پہنچتی ہے اگر چہ چاند آسمانِ دنیا میں ہے ۔(ف27)کہ دنیا کو روشن کرتا ہے اور اس کی روشنی چاند کے نور سے قوی تر ہے اور آفتاب چوتھے آسمان میں ہے ۔
نوح نے عرض کی، اے میرے رب! انہوں نے میری نافرمانی کی (ف۳۱) اور (ف۳۲) ایسے کے پیچھے ہولیے جیسے اس کے مال اور اولاد نے نقصان ہی بڑھایا (ف۳۳)
Prayed Nooh, “O my Lord! They have disobeyed me, and they follow the one whose wealth and children increase nothing for him except ruin.”
नूह ने अर्ज़ की, ऐ मेरे रब! उन्होंने मेरी नाफ़रमानी की और ऐसे के पीछे हो लिए जैसे उस के माल और औलाद ने नुक़सान ही बढ़ाया
Nuh ne arz ki, aye mere Rab! unhon ne meri nafarmaani ki aur aise ke peeche ho liye jaise uske maal aur aulaad ne nuqsaan hi badhaya
(ف31)اور میں نے جو ایمان و استغفار کا حکم دیا تھا ، اس کو انہوں نے نہ مانا ۔(ف32)ان کے عوام ، غرباء اور چھوٹے لوگ ، سرکش رؤساء اور اصحابِ اموال و اولاد کے تابع ہوئے ۔(ف33)اور وہ غرورِ مال میں مست ہو کر کفر و طغیان میں بڑھتا رہا ۔
وَمَكَرُوۡا مَكۡرًا كُبَّارًا ۚ ﴿22﴾
اور (ف۳٤) بہت بڑا داؤں کھیلے (ف۳۵)
“And they carried out a very sinister scheme.”
और बहुत बड़ा दाओं खेले
Aur bohot bara daon kheyle
(ف34)وہ رؤساء ۔(ف35)کہ انہوں نے حضرت نوح علیہ السلام کی تکذیب کی اور انہیں اور ان کے متّبعین کو ایذائیں پہنچائیں ۔
اور بولے (ف۳٦) ہرگز نہ چھوڑنا اپنے خداؤں کو (ف۳۷) اور ہرگز نہ چھوڑنا ودّ اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (ف۳۸)
“And they said, ‘Do not ever abandon your Gods – and never abandon Wadd, or Suwa – or Yaghuth or Yauq or Nasr.’”
और बोले हरगिज़ न छोड़ना अपने ख़ुदाओं को और हरगिज़ न छोड़ना वद्द और सुवाअ और यग़ूस और यऊक़ और नसर को
Aur bole hargiz na chhodna apne khudaon ko aur hargiz na chhodna Wadd aur Suwa' aur Yaghoos aur Ya'ooq aur Nasr ko
(ف36)رؤساءِ کفّار اپنے عوام سے ۔(ف37)یعنی ان کی عبادت ترک نہ کرنا ۔(ف38)یہ ان کے بتوں کے نام ہیں جنہیں وہ پوجتے تھے بت تو ان کے بہت تھے مگر یہ پانچ ان کے نزدیک بڑی عظمت والے تھے وَدّ تو مرد کی صورت پر تھا اور سُواع عورت کی صورت پر اور یغوث شیر کی شکل اور یعوق گھوڑے کی اور نسر کرگس کی ، یہ بت قومِ نوح سے منتقل ہو کر عرب میں پہنچے اور مشرکین کے قبائل سے ایک ایک نے ایک ایک کو اپنے لئے خاص کرلیا ۔
اور بیشک انہوں نے بہتوں کو بہکایا (ف۳۹) اور تو ظالموں کو (ف٤۰) زیادہ نہ کرنا مگر گمراہی (ف٤۱)
“And they have misled a large number; and (I pray that) You increase nothing for the unjust except error.”
और बेशक उन्होंने बहुतों को बहकाया और तू ज़ालिमों को ज़्यादा न करना मगर गुमराही
Aur beshak unhon ne bohton ko behkaya aur tu zalimon ko zyada na karna magar gumraahi
(ف39)یعنی یہ بت بہت سے لوگوں کےلئے گمراہی کا سبب ہوئے یا یہ معنٰی ہیں کہ رؤساءِ قوم نے بتوں کی عبادت کا حکم کرکے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ۔(ف40)جوبتوں کو پوجتے ہیں ۔(ف41)یہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعا ہے جب انہیں وحی سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ایمان لاچکے قوم میں انکے سوا اور لوگ ایمان لانے والے نہیں تب آپ نے یہ دعا کی ۔
اپنی کیسی خطاؤں پر ڈبوئے گئے (ف٤۲) پھر آگ میں داخل کیے گئے (ف٤۳) تو انہوں نے اللہ کے مقابل اپنا کوئی مددگار نہ پایا (ف٤٤)
Because of their sins they were drowned and then put into the fire; so they did not find any supporter for themselves against Allah. (Punishment in the grave is proven by this verse.)
अपनी कैसी ख़ताओं पर डुबोए गए फिर आग में दाख़िल किए गए तो उन्होंने अल्लाह के मुक़ाबिल अपना कोई मददगार न पाया
Apni kaisi khataon par duboye gaye phir aag mein daakhil kiye gaye to unhon ne Allah ke muqabil apna koi madadgar na paya
(ف42)طوفان میں ۔(ف43)بعد غرق ہونے کے ۔(ف44)جو انہیں عذابِ الٰہی سے بچاسکتا ۔
بیشک اگر تو انہیں رہنے دے گا (ف٤۵) تو تیرے بندوں کو گمراہ کردیں گے اور ان کے اولاد ہوگی تو وہ بھی نہ ہوگی مگر بدکار بڑی ناشکر (ف٤٦)
“Indeed, if You spare them, they will mislead your bondmen – and their descendants, if any, will be none except the wicked, very ungrateful.”
बेशक अगर तू उन्हें रहने देगा तो तेरे बंदों को गुमराह कर देंगे और उन की औलाद होगी तो वह भी न होगी मगर बदकार बड़ी नाशुक्र
Beshak agar tu unhein rehne dega to tere bandon ko gumraah kar denge aur unki aulaad hogi to woh bhi na hogi magar badkaar badi naashukr
(ف45)اور ہلاک نہ فرمائے گا ۔ (ف46)یہ حضرت نوح علیہ السلام کو وحی سے معلوم ہوچکا تھا اور حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے اور اپنے والدین اور مومنین و مومنات کےلئے دعا فرمائی ۔
اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو (ف٤۷) اور اسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں ہے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کو، اور کافروں کو نہ بڑھا مگر تباہی (ف٤۸)
“O my Lord! Forgive me, and my parents, and the believers who are in my house, and all other Muslim men and Muslim women; and do not increase anything for the unjust except ruin.”
ऐ मेरे रब मुझे बख़्श दे और मेरे माँ बाप को और उसे जो ईमान के साथ मेरे घर में है और सब मुसलमान मर्दों और सब मुसलमान औरतों को, और काफ़िरों को न बढ़ा मगर तबाही
Aye mere Rab mujhe bakhsh de aur mere maan baap ko aur usay jo imaan ke sath mere ghar mein hai aur sab musalman mardon aur sab musalman auraton ko, aur kaafiron ko na badha magar tabaahi",
(ف47)کہ وہ دونوں مومن تھے ۔(ف48)اللہ تعالٰی نے حضرت نوح علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اوران کی قوم کے تمام کفّار کو عذاب سے ہلاک کردیا ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page