Nuh نوح

پارہ: 29
سورہ: 71
آیات: 28
اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰى قَوۡمِهٖۤ اَنۡ اَنۡذِرۡ قَوۡمَكَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِيَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ‏ ﴿1﴾

بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ ان کو ڈرا اس سے پہلے کہ ان پر دردناک عذاب آئے (ف۲)

Indeed We sent Nooh towards his people saying that, “Warn your people before the painful punishment comes upon them.”

قَالَ يٰقَوۡمِ اِنِّىۡ لَـكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌۙ‏ ﴿2﴾

اس نے فرمایا اے میری قوم! میں تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں ،

He said, “O my people! I am indeed a Herald of clear warnings to you.”

اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ وَاتَّقُوۡهُ وَاَطِيۡعُوۡنِۙ‏ ﴿3﴾

کہ اللہ کی بندگی کرو (ف۳) اور اس سے ڈرو (ف٤) اور میرا حکم مانو ،

“That you must worship Allah and fear Him, and obey me.”

يَغۡفِرۡ لَـكُمۡ مِّنۡ ذُنُوۡبِكُمۡ وَيُؤَخِّرۡكُمۡ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى​ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا يُؤَخَّرُ​​ۘ لَوۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ‏ ﴿4﴾

وہ تمہارے کچھ گناہ بخش دے گا (ف۵) اور ایک مقرر میعاد تک (ف٦) تمہیں مہلت دے گا (ف۷) بیشک اللہ کا وعدہ جب آتا ہے ہٹایا نہیں جاتا کسی طرح تم جانتے (ف۸)

“He will forgive you some of your sins, and give you respite up to an appointed term; indeed the promise of Allah cannot be averted when it arrives; if only you knew.”

قَالَ رَبِّ اِنِّىۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِىۡ لَيۡلًا وَّنَهَارًا ۙ‏ ﴿5﴾

عرض کی (ف۹) اے میرے رب! میں نے اپنی قوم کو رات دن بلایا (ف۱۰)

He said, “My Lord! I invited my people night and day.”

فَلَمۡ يَزِدۡهُمۡ دُعَآءِىۡۤ اِلَّا فِرَارًا‏ ﴿6﴾

تو میرے بلانے سے انہیں بھاگنا ہی بڑھا (ف۱۱)

“So for them, my calling them increased their fleeing away.”

وَاِنِّىۡ كُلَّمَا دَعَوۡتُهُمۡ لِتَغۡفِرَ لَهُمۡ جَعَلُوۡۤا اَصَابِعَهُمۡ فِىۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَاسۡتَغۡشَوۡا ثِيَابَهُمۡ وَاَصَرُّوۡا وَاسۡتَكۡبَرُوا اسۡتِكۡبَارًا​ ۚ‏ ﴿7﴾

اور میں نے جتنی بار انہیں بلایا (ف۱۲) کہ تو ان کو بخشے انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں (ف۱۳) اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے (ف۱٤) اور ہٹ کی (ف۱۵) اور بڑا غرور کیا (ف۱٦)

“And whenever I called them, so that You may forgive them, they always thrust their fingers into their ears, and covered themselves with their clothes, and remained stubborn and were extremely haughty.”

ثُمَّ اِنِّىۡ دَعَوۡتُهُمۡ جِهَارًا ۙ‏ ﴿8﴾

پھر میں نے انہیں علانیہ بلایا (ف۱۷)

“I then called them openly.”

ثُمَّ اِنِّىۡۤ اَعۡلَـنۡتُ لَهُمۡ وَاَسۡرَرۡتُ لَهُمۡ اِسۡرَارًا ۙ‏ ﴿9﴾

پھر میں نے ان سے با علان بھی کہا (ف۱۸) اور آہستہ خفیہ بھی کہا (ف۱۹)

“Then I also told them publicly and also spoke to them softly in private.”

فَقُلۡتُ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًا ۙ‏ ﴿10﴾

تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو (ف۲۰) وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے (ف۲۱)

“I therefore told them, ‘Seek forgiveness from your Lord; He is indeed Most Forgiving.’

يُّرۡسِلِ السَّمَآءَ عَلَيۡكُمۡ مِّدۡرَارًا ۙ‏ ﴿11﴾

تم پر شراٹے کا (موسلا دھار) مینھ بھیجے گا،

‘He will send down abundant rain for you from the sky.’

وَّيُمۡدِدۡكُمۡ بِاَمۡوَالٍ وَّبَنِيۡنَ وَيَجۡعَلۡ لَّـكُمۡ جَنّٰتٍ وَّيَجۡعَلۡ لَّـكُمۡ اَنۡهٰرًا ؕ‏ ﴿12﴾

اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا (ف۲۲) اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا (ف۲۳)

‘And will aid you with wealth and sons, and will create gardens for you and cause rivers to flow for you.’

مَا لَـكُمۡ لَا تَرۡجُوۡنَ لِلّٰهِ وَقَارًا​ ۚ‏ ﴿13﴾

تمہیں کیا ہوا اللہ سے عزت حاصل کرنے کی امید نہیں کرتے (ف۲٤)

‘What is the matter with you, that you do not desire honour from Allah?’

وَقَدۡ خَلَقَكُمۡ اَطۡوَارًا‏ ﴿14﴾

حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح بنایا (ف۲۵)

‘Whereas it is He Who created you in different stages?’

اَلَمۡ تَرَوۡا كَيۡفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ۙ‏ ﴿15﴾

کیا تم نہیں دیکھتے اللہ نے کیونکر سات آسمان بنائے ایک پر ایک ،

‘Do you not see how Allah has created the seven heavens atop each other?’

وَّجَعَلَ الۡقَمَرَ فِيۡهِنَّ نُوۡرًا ۙ وَّجَعَلَ الشَّمۡسَ سِرَاجًا‏ ﴿16﴾

اور ان میں چاند کو روشن کیا (ف۲٦) اور سورج کو چراغ (ف۲۷)

‘And in them, has illuminated the moon, and made the sun a lamp?’

وَاللّٰهُ اَنۡۢبَتَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ نَبَاتًا ۙ‏ ﴿17﴾

اور اللہ نے تمہیں سبزے کی طرح زمین سے اُگایا (ف۲۸)

‘And it is Allah Who made you grow like vegetation from the earth.’

ثُمَّ يُعِيۡدُكُمۡ فِيۡهَا وَيُخۡرِجُكُمۡ اِخۡرَاجًا‏ ﴿18﴾

پھر تمہیں اسی میں لے جائے گا (ف۲۹) اور دبارہ نکالے گا (ف۳۰)

‘And He will then take you back to it, and again remove you from it.”

وَاللّٰهُ جَعَلَ لَـكُمُ الۡاَرۡضَ بِسَاطًا ۙ‏ ﴿19﴾

اور اللہ نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا بنایا ،

‘And it is Allah Who made the earth a bed for you.’

لِّـتَسۡلُكُوۡا مِنۡهَا سُبُلًا فِجَاجًا‏ ﴿20﴾

کہ اس کے وسیع راستوں میں چلو،

‘So that you may tread the wide roads in it.’”

قَالَ نُوۡحٌ رَّبِّ اِنَّهُمۡ عَصَوۡنِىۡ وَاتَّبَعُوۡا مَنۡ لَّمۡ يَزِدۡهُ مَالُهٗ وَوَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًا​ ۚ‏ ﴿21﴾

نوح نے عرض کی، اے میرے رب! انہوں نے میری نافرمانی کی (ف۳۱) اور (ف۳۲) ایسے کے پیچھے ہولیے جیسے اس کے مال اور اولاد نے نقصان ہی بڑھایا (ف۳۳)

Prayed Nooh, “O my Lord! They have disobeyed me, and they follow the one whose wealth and children increase nothing for him except ruin.”

وَمَكَرُوۡا مَكۡرًا كُبَّارًا​ ۚ‏ ﴿22﴾

اور (ف۳٤) بہت بڑا داؤں کھیلے (ف۳۵)

“And they carried out a very sinister scheme.”

وَ قَالُوۡا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمۡ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا  ۙ وَّ لَا يَغُوۡثَ وَيَعُوۡقَ وَنَسۡرًا​ ۚ‏ ﴿23﴾

اور بولے (ف۳٦) ہرگز نہ چھوڑنا اپنے خداؤں کو (ف۳۷) اور ہرگز نہ چھوڑنا ودّ اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو (ف۳۸)

“And they said, ‘Do not ever abandon your Gods – and never abandon Wadd, or Suwa – or Yaghuth or Yauq or Nasr.’”

وَقَدۡ اَضَلُّوۡا كَثِيۡرًا​ ​ ۚ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا ضَلٰلًا‏  ﴿24﴾

اور بیشک انہوں نے بہتوں کو بہکایا (ف۳۹) اور تو ظالموں کو (ف٤۰) زیادہ نہ کرنا مگر گمراہی (ف٤۱)

“And they have misled a large number; and (I pray that) You increase nothing for the unjust except error.”

مِّمَّا خَطِٓيْئٰتِهِمۡ اُغۡرِقُوۡا فَاُدۡخِلُوۡا نَارًا  ۙ فَلَمۡ يَجِدُوۡا لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَنۡصَارًا‏ ﴿25﴾

اپنی کیسی خطاؤں پر ڈبوئے گئے (ف٤۲) پھر آگ میں داخل کیے گئے (ف٤۳) تو انہوں نے اللہ کے مقابل اپنا کوئی مددگار نہ پایا (ف٤٤)

Because of their sins they were drowned and then put into the fire; so they did not find any supporter for themselves against Allah. (Punishment in the grave is proven by this verse.)

وَ قَالَ نُوۡحٌ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى الۡاَرۡضِ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ دَيَّارًا‏  ﴿26﴾

اور نوح نے عرض کی، اے میرے رب! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ،

And prayed Nooh, “O my Lord! Do not leave any of the disbelievers dwelling in the land.”

اِنَّكَ اِنۡ تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّوۡا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوۡۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا‏ ﴿27﴾

بیشک اگر تو انہیں رہنے دے گا (ف٤۵) تو تیرے بندوں کو گمراہ کردیں گے اور ان کے اولاد ہوگی تو وہ بھی نہ ہوگی مگر بدکار بڑی ناشکر (ف٤٦)

“Indeed, if You spare them, they will mislead your bondmen – and their descendants, if any, will be none except the wicked, very ungrateful.”

رَبِّ اغۡفِرۡلِىۡ وَلِـوَالِدَىَّ وَلِمَنۡ دَخَلَ بَيۡتِىَ مُؤۡمِنًا وَّلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِؕ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا تَبَارًا‏ ﴿28﴾

اے میرے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو (ف٤۷) اور اسے جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں ہے اور سب مسلمان مردوں اور سب مسلمان عورتوں کو، اور کافروں کو نہ بڑھا مگر تباہی (ف٤۸)

“O my Lord! Forgive me, and my parents, and the believers who are in my house, and all other Muslim men and Muslim women; and do not increase anything for the unjust except ruin.”

Scroll to Top