By oath of those that are sent, one after the other. (The verses of the Holy Qur’an or the angels or the winds).
क़सम उनकी जो भेजी जाती हैं लगातार
Qasam unki jo bheji jaati hain lagataar
(ف2)ان آیتوں میں جو قَسمیں مذکور ہیں وہ پانچ صفات ہیں جن کے موصوفات ظاہر میں مذکور نہیں اسی لئے مفسّرین نے ان کی تفسیر میں بہت وجوہ ذکر کئے ہیں بعض نے یہ پانچوں صفتیں ہواؤں کی قراردی ہیں ، بعض نے ملائکہ کی ، بعض نے آیاتِ قرآن کی ، بعض نے نفوسِ کاملہ کی جو استکمال کےلئے ابدان کی طرف بھیجے جاتے ہیں ، پھر وہ ریاضتوں کے جھونکوں سے ماسوائے حق کو اڑا دیتے ہیں ، پھر تمام اعضا ء میں اس اثر کو پھیلاتے ہیں ، پھر حق بالذات اور باطل فی نفسہٖ میں فرق کرتے ہیں اور ذاتِ الٰہی کے سوا ہر شے کو ہالک دیکھتے ہیں ، پھر ذکر کا القاء کرتے ہیں اس طرح کہ دلوں میں اور زبانوں پر اللہ تعالٰی کا ذکر ہی ہوتا ہے اور ایک وجہ یہ ذکر کی ہے کہ پہلی تین صفتوں سے ہوائیں مراد ہیں اور باقی دو سے فرشتے ۔ اس تقدیر پر معنٰی یہ ہیں کہ قَسم ان ہواؤں کی جو لگاتار بھیجی جاتی ہیں پھر زور سے جھونکے دیتی ہیں ان سے مراد عذاب کی ہوائیں ہیں ۔ (خازن وجمل وغیرہ)
فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا ۙ ﴿2﴾
پھر زور سے جھونکا دینے والیاں،
Then by oath of those that push with a strong gust.
फिर जोर से झोंका देने वालियाँ फ़,
Phir zor se jhonka dene waliyan f,
وَّالنّٰشِرٰتِ نَشۡرًا ۙ ﴿3﴾
پھر ابھار کر اٹھانے والیاں (ف۳)
Then by oath of those that lift and carry.
फिर उभार कर उठाने वालियाँ फ़
Phir ubhar kar uthane waliyan f
(ف3)یعنی وہ رحمت کی ہوائیں جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں ۔ اس کے بعد جو صفتیں مذکور ہیں وہ قولِ اخیر پر جماعاتِ ملائکہ کی ہیں ۔ ابنِ کثیر نے کہا کہ فارقات و ملقیات سے جماعاتِ ملائکہ مراد ہونے پر اجماع ہے ۔
فَالۡفٰرِقٰتِ فَرۡقًا ۙ ﴿4﴾
پھر حق ناحق کو خوب جدا کرنے والیاں،
Then by those that clearly differentiate the right and wrong.
फिर हक नाहक को खूब जुदा करने वालियाँ फ़,
Phir haq nahaq ko khoob juda karne waliyan f,
فَالۡمُلۡقِيٰتِ ذِكۡرًا ۙ ﴿5﴾
پھر ان کی قسم جو ذکر کا لقا کرتی ہیں (ف٤)
And then by those that instil Remembrance into the hearts.
फिर उनकी क़सम जो ज़िक्र का लिक़ा करती हैं
Phir unki qasam jo zikr ka liqa karti hain
(ف4)انبیاء ومرسلین کے پاس وحی لا کر ۔
عُذۡرًا اَوۡ نُذۡرًا ۙ ﴿6﴾
حجت تمام کرنے یا ڈرانے کو،
To complete the argument or to warn.
हजत तमाम करने या डराने को,
Hujjat tamam karne ya darane ko,
اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَوَاقِعٌ ؕ ﴿7﴾
بیشک جس بات کا تم وعدہ دیے جاتے ہو (ف۵) ضرور ہونی ہے (ف٦)
Indeed what you are promised, will surely befall.
बेशक जिस बात का तुम वादा दिए जाते हो ज़रूर होनी है
Beshak jis baat ka tum wada diye jaate ho zaroor honi hai
(ف5)یعنی بعث و عذاب اور قیامت کے آنے کا ۔ (ف6)کہ اس کے ہونے میں کچھ بھی شک نہیں ۔
فَاِذَا النُّجُوۡمُ طُمِسَتۡۙ ﴿8﴾
پھر جب تارے محو کردیے جائیں،
So when the lights of the stars are put out.
फिर जब तारे महव कर दिए जाएँ,
Phir jab tare mahv kar diye jaayen,
وَ اِذَا السَّمَآءُ فُرِجَتۡۙ ﴿9﴾
اور جب آسمان میں رخنے پڑیں،
And when the sky is split apart.
और जब आसमान में रुखने पड़ें,
Aur jab aasman mein rukhne paden,
وَاِذَا الۡجِبَالُ نُسِفَتۡۙ ﴿10﴾
اور جب پہاڑ غبار کرکے اڑا دیے جا ئیں،
And when the mountains are made into dust and blown away.
और जब पहाड़ धूल करके उड़ा दिए जाएँ,
Aur jab pahad dhool karke uda diye jaayen,
وَاِذَا الرُّسُلُ اُقِّتَتۡؕ ﴿11﴾
اور جب رسولوں کا وقت آئے (ف۷)
And when the time of the Noble Messengers arrives.
और जब रसूलों का वक़्त आए
Aur jab rasoolon ka waqt aaye
(ف7)کہ وہ امّتوں پر گواہی دینے کےلئے جمع کئے جائیں ۔
لِاَىِّ يَوۡمٍ اُجِّلَتۡؕ ﴿12﴾
کس دن کے لیے ٹھہرائے گئے تھے،
For which day were they appointed?
किस दिन के लिए ठहराए गए थे,
Kis din ke liye thehraye gaye the,
لِيَوۡمِ الۡفَصۡلِۚ ﴿13﴾
روز فیصلہ کے لیے،
For the Day of Decision.
रोज़ फ़ैसला के लिए,
Roz faisla ke liye,
وَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِؕ ﴿14﴾
اور تو کیا جانے وہ روز فیصلہ کیا ہے (ف۸)
And what do you know, what the Day of Decision is!
और तो क्या जाने वह रोज़ फ़ैसला क्या है
Aur to kya jaane woh roz faisla kya hai
(ف8)اور اس کے ہول و شدّت کا کیا عالَم ہے ۔
وَيۡلٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴿15﴾
جھٹلانے والوں کی اس دن خرابی (ف۹)
Ruin is for the deniers on that day!
झٹلाने वालों की उस दिन ख़राबी
Jhatlane walon ki us din kharabi
(ف9)جو دنیا میں توحید و نبوّت اور روزِ آخرت اور بعث و حساب کے منکِر تھے ۔
اَلَمۡ نُهۡلِكِ الۡاَوَّلِيۡنَؕ ﴿16﴾
کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہ فرمایا (ف۱۰)
Did We not destroy the earlier people?
क्या हमने अगलों को हलाक न फ़रमाया
Kya humne aglon ko halak na farmaya
(ف10)دنیا میں عذاب نازل کرکے جب انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا ۔
ثُمَّ نُتۡبِعُهُمُ الۡاٰخِرِيۡنَ ﴿17﴾
پھر پچھلوں کو ان کے پیچھے پہنچائیں گے (ف۱۱)
We shall then send the latter after them.
फिर पिछलों को उनके पीछे पहुँचाएँगे
Phir pichhlon ko unke peeche pahunchayenge
(ف11)یعنی جو پہلی امّتوں کے مکذِّبین کی راہ اختیار کرکے سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں انہیں بھی پہلوں کی طرح ہلاک فرمائیں گے ۔
چلو اس دھوئیں کے سائے کی طرف جس کی تین شاخیں (ف۲۱)
“Move towards the shadow of the smoke having three branches.”
चलो उस धुएँ के साए की तरफ जिसकी तीन शाखें
Chalo us dhuen ke saaye ki taraf jis ki teen shaakhen
(ف21)اس سے جہنّم کا دھواں مراد ہے جو اونچا ہو کر تین شاخیں ہوجائے گا ایک کُفّار کے سروں پر ایک ان کے دائیں اور ایک ان کے بائیں اور حساب سے فارغ ہونے تک انہیں اسی دھوئیں میں رہنے کا حکم ہوگا جب کہ اللہ تعالٰی کے پیارے بندے اس کے عرش کے سایہ میں ہوں گے ۔ اس کے بعد جہنّم کے دھوئیں کی شان بیان فرمائی جاتی ہے کہ وہ ایسا ہے کہ ۔
“Which neither gives shade, nor saves from the flame.”
न साया दे न लिपट से बचाए
Na saaya de na lipat se bachaye
(ف22)جس سے اس دن کی گرمی سے کچھ امن پاسکیں ۔(ف23)آتشِ جہنّم کی ۔
اِنَّهَا تَرۡمِىۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِۚ ﴿32﴾
بیشک دوزخ چنگاریاں اڑاتی ہے (ف۲٤)
Indeed hell throws up sparks like huge castles.
बेशक दोज़ख चिंगारियाँ उड़ाती है
Beshak dozak chingariyan udaati hai
(ف24)اتنی اتنی بڑی ۔
كَاَنَّهٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ ؕ ﴿33﴾
جیسے اونچے محل گویا وہ زرد رنگ کے اونٹ ہیں،
Seeming like yellow camels.
जैसे ऊँचे महल गोया वह ज़र्द रंग के ऊँट हैं,
Jaise oonche mahal goya woh zard rang ke oont hain,
وَيۡلٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴿34﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
Ruin is for the deniers on that day!
उस दिन झटलाने वालों की ख़राबी,
Us din jhatlane walon ki kharabi,
هٰذَا يَوۡمُ لَا يَنۡطِقُوۡنَۙ ﴿35﴾
یہ دن ہے کہ وہ بول نہ سکیں گے (ف۲۵)
This is a day in which they will not be able to speak.
यह दिन है कि वह बोल न सकेंगे
Yeh din hai ke woh bol na sakenge
(ف25)نہ کوئی ایسی حجّت پیش کرسکیں گے جو انہیں کام دے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ روزِ قیامت بہت سے موقع ہوں گے بعض میں کلام کریں گے بعض میں کچھ بول نہ سکیں گے ۔
وَلَا يُؤۡذَنُ لَهُمۡ فَيَـعۡتَذِرُوۡنَ ﴿36﴾
اور نہ انہیں اجازت ملے کہ عذر کریں (ف۲٦)
Nor will they be given permission to present excuses.
और न उन्हें इजाज़त मिले कि उज़र करें
Aur na unhein ijazat mile ke uzr karein
(ف26)اور درحقیقت ان کے پاس کوئی عذر ہی نہ ہوگا کیونکہ دنیا میں حجّتیں تمام کر دی گئیں اور آخرت کےلئے کوئی جائے عذر باقی نہیں رکھی گئی ، البتہ انہیں یہ خیالِ فاسد آئے گا کہ کچھ حیلے بہانے بنائیں ، یہ حیلے پیش کرنے کی اجازت نہ ہوگی ۔ جنید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اس کو عذر ہی کیا ہے جس نے نعمت دینے والے سے رو گردانی کی اس کی نعمتوں کو جھٹلایا اس کے احسانوں کی ناسپاسی کی ۔
یہ ہے فیصلہ کا دن، ہم نے تمہیں جمع کیا (ف۲۷) اور سب اگلوں کو (ف۲۸)
This is the Day of Decision; We have gathered you and all the earlier men.
यह है फ़ैसला का दिन, हमने तुम्हें जमा किया और सब अगलों को
Yeh hai faisla ka din, humne tumhein jama kiya aur sab aglon ko
(ف27)اے سیّدِ عالَم محمّد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تکذیب کرنے والو ۔(ف28)جو تم سے پہلے انبیاء کی تکذیب کرتے تھے تمہارا ، ان کا ، سب کا حساب کیا جائے گا اور تمہیں ، انہیں ، سب کو عذاب کیا جائے گا ۔
فَاِنۡ كَانَ لَـكُمۡ كَيۡدٌ فَكِيۡدُوۡنِ ﴿39﴾
اب اگر تمہارا کوئی داؤ ہو تو مجھ پر چل لو (ف۲۹)
If you now have any conspiracy, carry it out on Me.
अब अगर तुम्हारा कोई दांव हो तो मुझ पर चल लो
Ab agar tumhara koi daav ho to mujh par chal lo
(ف29)اور کسی طرح اپنے آپ کو عذاب سے بچا سکو تو بچا لو ، یہ انتہا درجہ کی توبیخ ہے کیونکہ یہ تو وہ یقینی جانتے ہوں گے کہ نہ آج کوئی مَکَر چل سکتا ہے نہ کوئی حیلہ کام دے سکتا ہے ۔
(ف30)جو عذابِ الٰہی کا خوف رکھتے تھے جنّتی درختوں کے ۔
وَّفَوَاكِهَ مِمَّا يَشۡتَهُوۡنَؕ ﴿42﴾
اور میووں میں جو ان کا جی چاہے (ف۳۱)
And among fruits whichever they may desire.
और मिवों में जो उनका जी चाहे
Aur mevon mein jo unka ji chahe
(ف31)اس سے لذّت اٹھاتے ہیں ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اہلِ جنّت کو ان کے حسبِ مرضی نعمتیں ملیں گی بخلاف دنیا کے کہ یہاں آدمی کو جو میسّر آتا ہے اسی پر راضی ہونا پڑتا ہے اور اہلِ جنّت سے کہا جائے گا ۔
And when it is said to them, “Offer the prayer” – they do not!
और जब उनसे कहा जाए कि नमाज़ पढ़ो तो नहीं पढ़ते,
Aur jab unse kaha jaaye ke namaz padho to nahin padhte,
وَيۡلٌ يَّوۡمَٮِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴿49﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی،
Ruin is for the deniers on that day!
उस दिन झटलाने वालों की ख़राबी,
Us din jhatlane walon ki kharabi,
فَبِاَىِّ حَدِيۡثٍۢ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴿50﴾
پھر اس (ف۳۷) کے بعد کون سی بات پر ایمان لائیں گے (ف۳۸) ۳
So after this, in what matter will they believe?
फिर उसके बाद कौन सी बात पर ईमान लाएँगे
Phir uske baad kaun si baat par imaan laayenge",
(ف37)قرآن شریف ۔(ف38)یعنی قرآن شریف کُتُبِ الٰہیہ میں سب سے آخر کتاب ہے اور بہت ظاہر معجزہ ہے اس پر ایمان نہ لائے تو پھر ایمان لانے کی کوئی صورت نہیں ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page