اے محبوب! تم سے غنیمتوں کو پوچھتے ہیں (ف۲) تم فرماؤ غنیمتوں کے مالک اللہ اور رسول ہیں (ف۳) تو اللہ ڈرو (ف٤) اور اپنے آ پس میں میل (صلح صفائی) رکھو اور اللہ اور رسول کا حکم مانو اگر ایمان رکھتے ہو،
They ask you O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) concerning the war booty; say, “Allah and the Noble Messenger are the owners of the war booty; so fear Allah and maintain friendship among yourselves; and obey Allah and His Noble Messenger, if you have faith."
ऐ महबूब! तुम से ग़नीमतों को पूछते हैं तुम फ़रमाओ ग़नीमतों के मालिक अल्लाह और रसूल हैं तो अल्लाह डरो और अपने आपस में मेल (सुलह सफ़ाई) रखो और अल्लाह और रसूल का हुक्म मानो अगर ईमान रखते हो,
Ae Mehboob! Tum se ghanimatoun ko poochte hain, tum farmao ghanimatoun ke malik Allah aur Rasool hain, to Allah se daro aur apne aapas mein mail (sulah safai) rakho aur Allah aur Rasool ka hukm maano agar imaan rakhte ho,
(ف2) شانِ نزول : حضرت عُبادہ بن صامِت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت ہم اہلِ بدر کے حق میں نازِل ہوئی جب غنیمت کے معاملہ میں ہمارے درمیان اختلاف پیدا ہوا اور بدمزگی کی نوبت آگئی تو اللہ تعالٰی نے معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکال کر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کیا آپ نے وہ مال برابر تقسیم کردیا ۔(ف3) جیسے چاہیں تقسیم فرمائیں ۔(ف4)اور باہم اختلاف نہ کرو ۔
ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے (ف۵) ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں (ف٦)
Only they are the believers whose hearts fear when Allah is remembered, and their faith advances when His verses are recited to them, and who trust only in their Lord.
ईमान वाले वही हैं कि जब अल्लाह याद किया जाए उनके दिल डर जाएँ और जब उन पर उसकी आयतें पढ़ी जाएँ उनका ईमान तरक़्क़ी पाए और अपने रब ही पर भरोसा करें
Imaan wale wahi hain ke jab Allah yaad kiya jaye unke dil dar jayein aur jab unpar uski aayatein padhi jayein to unka imaan taraqqi paaye aur apne Rab hi par bharosa karein,
(ف5)تو اس کے عظمت و جلال سے ۔(ف6)اور اپنے تمام کاموں کو اس کے سپرد کریں ۔
یہی سچے مسلمان ہیں، ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس (ف۷) اور بخشش ہے اور عزت کی روزی (ف۸)
These are the true Muslims; for them are ranks before their Lord, and forgiveness and an honourable sustenance.
यही सच्चे मुसलमान हैं, उनके लिए दर्ज़े हैं उनके रब के पास और बख़्शिश है और इज़्ज़त की रोज़ी
Yehi sache Musalman hain, unke liye darje hain unke Rab ke paas aur bakhshish hai aur izzat ki rozi,
(ف7) بقدر ان کے اعمال کے کیونکہ مؤمنین کے احوال ان اوصاف میں متفاوَت ہیں ۔ اس لئے ان کے مراتب بھی جُدا گانہ ہیں ۔(ف8)جو ہمیشہ اِکرام و تعظیم کے ساتھ بے محنت و مشقت عطا کی جائے ۔
جس طرح اے محبوب! تمہیں تمہارے رب نے تمہارے گھر سے حق کے ساتھ برآمد کیا (ف۹) اور بیشک مسلمانوں کا ایک گروہ اس پر ناخوش تھا (ف۱۰)
The way your Lord caused you, O dear Prophet to come forth from your home with the truth; and indeed a group of Muslims were unhappy about it.
जिस तरह ऐ महबूब! तुम्हें तुम्हारे रब ने तुम्हारे घर से हक़ के साथ बरामद किया और बेशक मुसलमानों का एक गिरोह इस पर नाख़ुश था
Jis tarah ae Mehboob! Tumhein tumhare Rab ne tumhare ghar se Haq ke saath baramad kiya aur beshak Musalmanon ka ek groh is par naraaz tha,
(ف9)یعنی مدینہ طیّبہ سے بدر کی طرف ۔ (ف10) کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ انکی تعداد کم ہے ، ہتھیار تھوڑے ہیں ، دشمن کی تعداد بھی زیادہ ہے اور وہ اسلحہ وغیرہ کا بڑا سامان رکھتا ہے ۔ مختصر واقعہ یہ ہے کہ ابو سفیان کے مُلکِ شام سے ایک قافلہ ساتھ آنے کی خبر پا کر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ انکے مقابلہ کے لئے روانہ ہوئے ، مکّہ مکرّمہ سے ابو جہل قریش کا ایک لشکر گراں لے کر قافلہ امداد کے لئے روانہ ہوا ۔ ا بوسفیان تو رستہ سے کترا کر مع اپنے قافلہ کے ساحلِ بحر کی راہ چل پڑے اور ابو جہل سے اس کے رفیقوں نے کہا کہ قافلہ تو بچ گیا اب مکّۂ مکرّمہ واپس چل تو اس نے انکار کردیا اور وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے کے قصد سے بدر کیطرف چل پڑا ۔ سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا اور فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالٰی کُفّار کے دونوں گروہوں میں سے ایک پر مسلمان کو فتح مند کرے گا خواہ قافلہ ہو یا قریش کا لشکر ۔ صحابہ نے اس میں موافقت کی مگر بعض کو یہ عُذر ہوا کہ ہم اس تیاری سے نہیں چلے تھے اور نہ ہماری تعداد اتنی ہے ، نہ ہمارے پاس کافی سامانِ اسلحہ ہے ۔ یہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گراں گزرا اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قافلہ تو ساحل کی طرف نکل گیا اور ابو جہل سامنے آ رہا ہے ۔ اس پر ان لوگوں نے پھر عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیک وسلم قافلے ہی کا تعاقُب کیجئے اور لشکرِ دشمن کو چھوڑ دیجئے ، یہ بات ناگوارِ خاطرِ اقدس ہوئی تو حضرت صدیقِ اکبر و حضرتِ عمر رضی اللہ عنہما نے کھڑے ہو کر اپنے اخلاص و فرمانبرداری اور رضا جُوئی و جاں نثاری کا اظہار کیا اور بڑی قوت و استحکام کے ساتھ عرض کی کہ وہ کسی طرح مرضیٔ مبارک کے خلاف سُستی کرنے والے نہیں ہیں پھر اور صحابہ نے بھی عرض کیا کہ اللہ تعالٰی نے حضور کو جو امر فرمایا اس کے مطابق تشریف لے چلیں ہم ساتھ ہیں ،کبھی تخلُّف نہ کریں گے ، ہم آپ پر ا یمان لائے ، ہم نے آپ کی تصدیق کی ، ہم نے آپ کے اِتِّباع کے عہد کئے ،ہمیں آپ کی اِتِّباع میں سمندر کے اندر کُود جانے سے بھی عذر نہیں ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا چلو اللہ کی برکت پر بھروسہ کرو اس نے مجھے وعدہ دیا ہے میں تمہیں بشارت دیتا ہوں ،مجھے دشمنوں کے گرنے کی جگہ نظر آ رہی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کُفّار کے مرنے اور گرنے کی جگہ نام بنام بتا دیں اور ایک ایک کی جگہ پر نشانات لگادیئے اور یہ معجزہ دیکھا گیا کہ ان میں سے جو مر کر گرا اسی نشان پر گرا اس سے خطا نہ کی ۔
سچی بات میں تم سے جھگڑتے تھے (ف۱۱) بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکی (ف۱۲) گویا وہ آنکھوں دیکھی موت کی طرف ہانکے جاتے ہیں (ف۱۳)
Disputing with you regarding the truth after it had been made clear, as if they were being herded towards a visible death.
सच्ची बात में तुम से झगड़ते थे बाद इसके कि ज़ाहिर हो चुकी गोया वो आँखों देखी मौत की तरफ़ हाँके जाते हैं
Sachi baat mein tumse jhagde the baad iske ke zahir ho chuki goya woh aankhon dekhi maut ki taraf haanke ja rahe hain,
(ف11) اور کہتے تھے کہ ہمیں لشکرِ قریش کا حال ہی معلوم نہ تھا کہ ہم ان کے مقابلہ کی تیاری کرکے چلتے ۔(ف12) یہ بات کہ حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کرتے ہیں حکمِ الٰہی سے کرتے ہیں اور آپ نے اعلان فرمادیا ہے کہ مسلمانوں کو غیبی مدد پہنچے گی ۔(ف13)یعنی قریش سے مقابلہ انہیں ایسا مُہِیب معلوم ہوتا ہے ۔
اور یاد کرو جب اللہ نے تمہیں وعدہ دیا تھا کہ ان دونوں گروہوں (ف۱٤) میں ایک تمہارے لیے ہے اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ ملے جس میں کانٹے کا کھٹکا نہیں (کوئی نقصان نہ ہو) (ف۱۵) اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلام سے سچ کو سچ کر دکھائے (ف۱٦) اور کافروں کی جڑ کاٹ دے (ف۱۷)
And remember when Allah promised you that one of the two groups (of enemies) is for you, and you wished to get the one that posed no danger, and Allah willed to prove the truth with His Words, and to cut the origins of the disbelievers.
और याद करो जब अल्लाह ने तुम्हें वादा दिया था कि इन दोनों गिरोहों में एक तुम्हारे लिए है और तुम ये चाहते थे कि तुम्हें वो मिले जिसमें काँटे का खटका नहीं (कोई नुक़सान न हो) और अल्लाह ये चाहता था कि अपने कलाम से सच को सच कर दिखाए और काफ़िरों की जड़ काट दे
Aur yaad karo jab Allah ne tumhein waada diya tha ke in donon grohon mein se ek tumhare liye hai aur tum yeh chahte the ke tumhein woh mile jismein kaante ka khatka nahin (koi nuqsan na ho) aur Allah yeh chahta tha ke apne kalaam se sach ko sach kar dikhaaye aur kafiron ki jad kaat de,
(ف14)یعنی ابو سفیان کے قافلے اور ابو جہل کے لشکر ۔(ف15)یعنی ابوسفیان کا قافلہ ۔(ف16)دینِ حق کو غلبہ دے اس کو بلند و بالا کرے ۔(ف17)اور انہیں اس طرح ہلاک کرے کہ ان میں سے کوئی باقی نہ بچے ۔
جب تم اپنے رب سے فریاد کرتے تھے (ف۱۹) تو اس نے تمہاری سن لی کہ میں تمہیں مدد دینے والا ہوں ہزاروں فرشتوں کی قطار سے (ف۲۰)
When you (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him) were seeking the help of your Lord, so He answered your prayers that, “I will help you with a row of thousands of angels.”
जब तुम अपने रब से फ़रियाद करते थे तो उसने तुम्हारी सुन ली कि मैं तुम्हें मदद देने वाला हूँ हज़ारों फ़रिश्तों की क़तार से
Jab tum apne Rab se faryaad karte the to usne tumhari sun li ke main tumhein madad dene wala hoon hazaaron farishton ki qataar se,
(ف19)شانِ نُزُول : مسلم شریف کی حدیث ہے روزِ بدر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کو ملاحَظہ فرمایا کہ ہزار ہیں اور آپ کے اصحاب تین سو دس سے کچھ زیادہ تو حضور قبلے کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے مبارک ہاتھ پھیلا کر اپنے ربّ سے یہ دعا کرنے لگے ، یا ربّ جو تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے پورا کر ، یاربّ جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا عنایت فرما ، یاربّ اگر تو اہلِ اسلام کی اس جماعت کو ہلاک کردے گا تو زمین میں تیری پرستِش نہ ہوگی ۔ اسی طرح حضور دعا کرتے رہے یہاں تک کہ دوشِ مبارک سے چادر شریف اُتر گئی تو حضرت ابوبکر حاضر ہوئے اور چادر مبارک دوشِ اقدس پر ڈالی اور عرض کیا یا نبیَ اللہ آپ کی مناجات اپنے ربّ کے ساتھ کافی ہوگئی ، وہ بہت جلد اپنا وعدہ پورا فرمائے گا ۔ اس پر یہ آیتِ شریفہ نازِل ہوئی ۔(ف20)چنانچہ اوّل ہزار فرشتے آئے پھر تین ہزار پھر پانچ ہزار ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مسلمان اس روز کافِروں کا تعاقُب کرتے تھے اور کافِر مسلمانوں کے آگے آگے بھاگتا جاتا تھا اچانک اوپر سے کوڑے کی آواز آتی تھی اور سوار کا یہ کلمہ سنا جاتا تھا اَقْدِمْ حَیْزومُ یعنی آگے بڑھ اے حیزوم ( حیزوم حضرت جبریل علیہ السلام کے گھوڑے کا نام ہے) اور نظر آتا تھا کہ کافِر گر کر مر گیا اور اس کی ناک تلوار سے اُڑا دی گئی اور چہرہ زخمی ہوگیا ۔ صحابہ نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے یہ معائنے بیان کئے تو حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آسمان سوم کی مدد ہے ۔ ابوجہل نے حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کہاں سے ضرب آتی تھی ؟ مارنے والا تو ہم کو نظر نہیں آتا تھا آپ نے فرمایا فرشتوں کی طرف سے تو کہنے لگا پھر وہی تو غالب ہوئے تم تو غالب نہیں ہوئے ۔
اور یہ تو اللہ نے کیا مگر تمہاری خوشی کو اور اس لیے کہ تمہارے دل چین پائیں، اور مدد نہیں مگر اللہ کی طرف سے (ف۲۱) بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے،
And Allah did this just for your happiness and for your hearts to gain contentment; and help does not come except from Allah; indeed Allah is Almighty, Wise.
और ये तो अल्लाह ने किया मगर तुम्हारी ख़ुशी को और इस लिए कि तुम्हारे दिल चैन पाएँ, और मदद नहीं मगर अल्लाह की तरफ़ से बेशक अल्लाह ग़ालिब हिकमत वाला है,
Aur yeh to Allah ne kiya magar tumhari khushi ko aur is liye ke tumhare dil chain paayein, aur madad nahin magar Allah ki taraf se, beshak Allah ghalib hikmat wala hai,
(ف21)تو بندے کو چاہئے کہ اسی پر بھروسہ کرے اور اپنے زور و قوّت اور اسباب و جماعت پر ناز نہ کرے ۔
جب اس نے تمہیں اونگھ سے گھیر دیا تو اس کی طرف سے چین (تسکین) تھی (ف۲۲) اور آسمان سے تم پر پانی اتارا کہ تمہیں اس سے ستھرا کردے اور شیطان کی ناپاکی تم سے دور فرمادے اور تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھائے اور اس سے تمہارے قدم جمادے (ف۲۳)
When He made the slumber overcome you, so it was as a peacefulness from Him, and sent down water from the sky upon you to purify you with it, and to remove the impurity of Satan from you, and to give your hearts fortitude and firmly establish your feet with it.
जब उसने तुम्हें ऊँघ से घेर दिया तो उसकी तरफ़ से चैन (तस्कीन) थी और आसमान से तुम पर पानी उतारा कि तुम्हें उससे सुथरा कर दे और शैतान की नापाकी तुम से दूर फ़रमा दे और तुम्हारे दिलों की ढारस बँधाए और उससे तुम्हारे क़दम जमा दे
Jab usne tumhein oongh se gher diya to uski taraf se chain (taskeen) thi aur aasman se tum par paani utara ke tumhein usse suthra kar de aur shaitaan ki napaaki tumse door kar de aur tumhare dilon ki dhaaras bandhaaye aur usse tumhare qadam jamaa de,
(ف22)حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ غُنودگی اگر جنگ میں ہو تو امن ہے اور اللہ کی طرف سے ہے اور نماز میں ہو تو شیطان کی طرف سے ہے ۔ جنگ میں غُنودگی کا امن ہونا اس سے ظاہر ہے کہ جسے جان کا اندیشہ ہو اسے نیند اور اونگھ نہیں آتی ۔ وہ خطرے اور اِضطِراب میں رہتا ہے ۔ خوفِ شدید کے وقت غُنودگی آنا حصولِ امن اور زوالِ خوف کی دلیل ہے ۔ بعض مفسِّرین نے کہا ہے کہ جب مسلمانوں کو دشمنوں کی کثرت اور مسلمانوں کی قِلّت سے جانوں کا خوف ہوا اور بہت زیادہ پیاس لگی تو ان پر غُنودگی ڈال دی گئی جس سے انہیں راحت حاصل ہوئی اور تَکان اور پیاس رفع ہوئی اور وہ دُشمن سے جنگ کرنے پر قادِر ہوئے ، یہ اُونگھ ان کے حق میں نعمت تھی اور یکبارگی سب کو آئی ۔ جماعتِ کثیر کا خوفِ شدید کی حالت میں اسی طرح یکبارگی اُونگھ جانا خلافِ عادت ہے اسی لئے بعض عُلَماء نے فرمایا کہ یہ اُونگھ معجِزہ کے حکم میں ہے ۔(ف23)روزِ بدر مسلمان ریگستان میں اُترے ، ان کے اور ان کے جانوروں کے پاؤں ریت میں دھنسے جاتے تھے اور مشرکین ان سے پہلے لبِ آب قبضہ کر چکے تھے ۔ صحابہ میں بعض حضرات کو وضو کی ، بعض کو غسل کی ضرورت تھی اور پیاس کی شدّت تھی تو شیطان نے وسوسہ ڈالا کہ تم گمان کرتے ہو کہ تم حق پر ہو ، تم میں اللہ کے نبی ہیں اور تم اللہ والے ہو اور حال یہ ہے کہ مشرکین غالب ہو کر پانی پر پہنچ گئے تم بغیر وضو اور غسل کئے نمازیں پڑھتے ہو تو تمہیں دشمن پر فتح یاب ہونے کی کس طرح امید ہے ؟ تو اللہ تعالٰی نے مِیۡنہ بھیجا جس سے جنگل سیراب ہوگیا اور مسلمانوں نے اس سے پانی پیا اور غسل کئے اور وضو کئے اور اپنی سواریوں کو پلایا اور اپنے برتنوں کو بھرا اور غبار بیٹھ گیا اور زمین اس قابل ہوگئی کہ اس پر قدم جمنے لگے اور شیطان کا وسوسہ زائل ہو ا اور صحابہ کے دل خوش ہوئے اور یہ نعمت فتح و ظَفر حاصل ہونے کی دلیل ہوئی ۔
جب اے محبوب! تمہارا رب فرشتوں کو وحی بھیجتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کو ثابت رکھو (ف۲٤) عنقریب میں کافروں کے دلوں میں ہیبت ڈالوں گا تو کافروں کی گردنوں سے اوپر مارو اور ان کی ایک ایک پور (جوڑ) پر ضرب لگاؤ (ف۲۵)
And when O dear Prophet, your Lord was inspiring the angels that, “I am with you – so make the believers stand firm; I will soon instil fear into the hearts of the disbelievers, so strike above the disbelievers’ necks and hit their each and every bone joint.”
जब ऐ महबूब! तुम्हारा रब फ़रिश्तों को वही भेजता था कि मैं तुम्हारे साथ हूँ तुम मुसलमानों को साबित रखो अन्क़रीब मैं काफ़िरों के दिलों में हैबत डालूँगा तो काफ़िरों की गर्दनों से ऊपर मारो और उनकी एक एक पोर (जोड़) पर ज़र्ब लगाओ
Jab ae Mehboob! Tumhara Rab farishton ko wahi bhejta tha ke main tumhare saath hoon, tum Musalmanon ko saabit rakho, anqareeb main kafiron ke dilon mein haibat daalunga, to kafiron ki gardanon se ooper maaro aur unki ek ek por (jod) par zarb lagao,
(ف24)ان کی اعانت کرکے اور انہیں بشارت دے کر ۔(ف25)ابو داؤد مازنی جو بدر میں حاضر ہوئے تھے ، فرماتے ہیں کہ میں مشرک کی گردن مارنے کے لئے اس کے درپے ہوا اس کا سر میری تلوار پہنچنے سے پہلے ہی کٹ کر گر گیا تو میں نے جان لیا کہ اس کو کسی اور نے قتل کیا ۔ سہل بن حنیف فرماتے ہیں کہ روزِ بدر ہم میں سے کوئی تلوار سے اشارہ کرتا تھا تو اس کی تلوار پہنچنے سے پہلے ہی مشرک کا سر جسم سے جدا ہو کر گر جاتا تھا ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یک مشت سنگریزے کُفّار پر پھینک کر مارے تو کوئی کافِر ایسا نہ بچا جس کی آنکھوں میں اس میں سے کوئی پڑا نہ ہو ۔ بدر کا یہ واقعہ صبحِ جمعہ سترہ رمضان مبارک ۲ ہجری میں پیش آیا ۔
یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخا لفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کرے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے،
This is because they opposed Allah and His Noble Messenger; and whoever opposes Allah and His Noble Messenger – then indeed Allah’s punishment is severe.
ये इस लिए कि उन्होंने अल्लाह और उसके रसूल से मुख़ालिफ़त की और जो अल्लाह और उसके रसूल से मुख़ालिफ़त करे तो बेशक अल्लाह का अज़ाब सख़्त है,
Yeh is liye ke unhone Allah aur uske Rasool se mukhalifat ki, aur jo Allah aur uske Rasool se mukhalifat kare to beshak Allah ka azaab sakht hai,
اور جو اس دن انہیں پیٹھ دے گا مگر لڑائی کا ہنرَ کرنے یا اپنی جماعت میں جاملنے کو، تو وہ اللہ کے غضب میں پلٹا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور کیا بری جگہ ہے پلٹنے کی، (ف۲۹)
And on that day whoever turns his back to them, except for a battle strategy or to join one’s own company, has then turned towards Allah’s wrath, and his destination is hell; and what an evil place of return!
और जो उस दिन उन्हें पीठ देगा मगर लड़ाई का हुनर करने या अपनी जमाअत में जा मिलने को, तो वो अल्लाह के ग़ज़ब में पलटा और उसका ठिकाना दोज़ख़ है, और क्या बुरी जगह है पलटने की,
Aur jo us din unhein peeth dega magar ladai ka hunar karne ya apni jamaat mein ja milne ko, to woh Allah ke gazab mein palta aur uska thikana dozakh hai, aur kya buri jagah hai palatne ki,
(ف29)یعنی مسلمانوں میں سے جو جنگ میں کُفّار کے مقابلہ سے بھاگا وہ غضبِ الٰہی میں گرفتار ہوا ، اس کا ٹھکانا دوزخ ہے سوائے دو حالتوں کے ، ایک تو یہ کہ لڑائی کا ہنر یا کرتب کرنے کے لئے پیچھے ہٹا ہو وہ پیٹھ دینے اور بھاگنے والا نہیں ہے ، دوسرے جو اپنی جماعت میں ملنے کے لئے پیچھے ہٹا ہو وہ بھی بھاگنے والا نہیں ہے ۔
تو تم نے انہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے (۳۰) انہیں قتل کیا، اور اے محبوب! وہ خاک جو تم نے پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی اور اس لیے کہ مسلمانوں کو اس سے اچھا انعام عطا فرمائے، بیشک اللہ سنتا جانتا ہے،
So you did not slay them, but in fact Allah slew them; and O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) you did not throw (the sand) when you did throw, but in fact Allah threw; and in order to bestow an excellent reward upon the Muslims; indeed Allah is the All Hearing, the All Knowing.
तो तुम ने उन्हें क़त्ल न किया बल्कि अल्लाह ने उन्हें क़त्ल किया, और ऐ महबूब! वो ख़ाक जो तुम ने फेंकी थी बल्कि अल्लाह ने फेंकी और इस लिए कि मुसलमानों को इससे अच्छा इनाम अता फ़रमाए, बेशक अल्लाह सुनता जानता है,
To tumne unhein qatal na kiya, balke Allah ne unhein qatal kiya, aur ae Mehboob! Woh khaak jo tumne phainki thi balke Allah ne phainki, aur is liye ke Musalmanon ko usse acha inaam ata farmaaye, beshak Allah sunta jaanta hai,
(ف30)شانِ نُزُول : جب مسلمان جنگِ بدر سے واپس ہوئے تو ان میں سے ایک کہتا تھا کہ میں نے فلاں کو قتل کیا ، دوسرا کہتا تھا میں نے فلاں کو قتل کیا اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور فرمایا گیا کہ اس قتل کو تم اپنے زور و قوت کی طرف نسبت نہ کرو کہ یہ درحقیقت اللہ کی امداد اور اس کی تقویت اور تائید ہے ۔
اے کافرو! اگر تم فیصلہ مانگتے ہو تو یہ فیصلہ تم پر آچکا (ف۳۲) اور اگر باز آؤ (ف۳۳) تو تمہارا بھلا ہے اور اگر تم پھر شرارت کرو تو ہم پھر نہ دیں گے اور تمہارا جتھا تمہیں کچھ کام نہ دے گا چاہے کتنا ہی بہت ہو اور اس کے ساتھ یہ ہے کہ اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے،
O disbelievers! If you seek a judgement, then this judgement has come to you; and if you desist, it is better for you; and if you return to mischief, We will punish you again; and your populace will not benefit you, however large it may be – and besides this, Allah is with the Muslims.
ऐ काफ़िरो! अगर तुम फ़ैसला माँगते हो तो ये फ़ैसला तुम पर आ चुका और अगर बाज़ आओ तो तुम्हारा भला है और अगर तुम फिर शरारत करो तो हम फिर न देंगे और तुम्हारा जत्था तुम्हें कुछ काम न देगा चाहे कितना ही बहुत हो और इसके साथ ये है कि अल्लाह मुसलमानों के साथ है,
Ae kafiro! Agar tum faisla maangte ho to yeh faisla tum par aa chuka, aur agar baaz aao to tumhara bhala hai, aur agar tum phir shararat karo to hum phir na denge, aur tumhara jatha tumhein kuchh kaam na dega chahe kitna hi bohot ho, aur iske saath yeh hai ke Allah Musalmanon ke saath hai,
(ف32)شانِ نُزُول : یہ خِطاب مشرکین کو ہے جنہوں نے بدر میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کی اور ان میں سے ابو جہل نے اپنی اور حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت یہ دعا کی کہ یاربّ ہم میں جو تیرے نزدیک اچھا ہو اسکی مدد کر اور جو بُرا ہو اسے مبتلائے مصیبت کر اور ایک روایت میں ہے کہ مشرکین نے مکّۂ مکرّمہ سے بدر کو چلتے وقت کعبۂ معظّمہ کے پردوں سے لپٹ کر یہ دعا کی تھی کہ یاربّ اگر محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) حق پر ہوں تو ان کی مدد فرما اور اگر ہم حق پر ہوں تو ہماری مدد کر اس پر یہ آیت نازِل ہوئی کہ جو فیصلہ تم نے چاہا تھا وہ کردیا گیا اور جو گروہ حق پر تھا اس کو فتح دی گئی ، یہ تمہارا مانگا ہوا فیصلہ ہے اب آسمانی فیصلہ سے بھی جو ان کا طلب کیا ہوا تھا ، اسلام کی حقانیت ثابت ہوئی ۔ ابوجہل بھی اس جنگ میں ذلّت اورسوائی کے ساتھ مارا گیا اور اس کا سر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں حاضر کیا گیا ۔(ف33)سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عداوت اور حضور کے ساتھ جنگ کرنے سے ۔
اور ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے کہا ہم نے سنا اور وہ نہیں سنتے (ف۳۵)
And do not be like those who said, “We have heard”, whereas they do not hear.
और उन जैसे न होना जिन्होंने कहा हमने सुना और वो नहीं सुनते
Aur un jese na hona jinhone kaha humne suna aur woh nahin sunte,
(ف35)کیونکہ جو سن کر فائدہ نہ اُٹھائے اور نصیحت پذیر نہ ہو اس کا سُننا سُننا ہی نہیں ہے ۔ یہ منافقین و مشرکین کا حال ہے مسلمانوں کو اس سے دور رہنے کا حکم دیا جاتا ہے ۔
بیشک سب جانوروں میں بدتر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں (ف۳٦)
Indeed the worst beasts in the sight of Allah are those (people) who are deaf, dumb – who do not have any sense.
बेशक सब जानवरों में बदतर अल्लाह के नज़दीक वो हैं जो बहरे गूँगे हैं जिनको अक़्ल नहीं
Beshak sab janwaron mein badtar Allah ke nazdeek woh hain jo behre gungay hain jinko aqal nahin,
(ف36)نہ وہ حق سنتے ہیں ، نہ حق بولتے ہیں ، نہ حق کو سمجھتے ہیں ۔ کان اور زبان و عقل سے فائدہ نہیں اُٹھاتے ، جانوروں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ یہ دیدۂ و دانستہ بہرے گونگے بنتے اور عقل سے دشمنی کرتے ہیں ۔ شانِ نُزُول : یہ آیت بنی عبد الدار بن قُصَیْ کے حق میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ جو کچھ محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لائے ہم اس سے بہرے گونگے اندھے ہیں ۔ یہ سب لوگ جنگِ اُحد میں مقتول ہوئے اور ان میں سے صرف دو شخص ا یمان لائے معصب بن عمیر اور سویبط بن حرملہ ۔
اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی (ف۳۷) جانتا تو انہیں سنادیتا اور اگر (ف۳۸) سنا دیتا جب بھی انجام کار منہ پھیر کر پلٹ جاتے (ف۳۹)
And had Allah found any goodness in them, He would have made them hear; and had He made them hear they would, in the end, have turned away and gone back.
और अगर अल्लाह उनमें कुछ भलाई जानता तो उन्हें सुना देता और अगर सुना देता जब भी अंजामकार मुँह फेर कर पलट जाते
Aur agar Allah unmein kuchh bhalai jaanta to unhein suna deta, aur agar suna deta jab bhi anjaam kar munh pher kar palat jaate,
(ف37)یعنی صدق و رغبت ۔(ف38)بحالتِ موجودہ یہ جانتے ہوئے کہ ان میں صدقِ رغبت نہیں ہے ۔(ف39)اپنے عِناد اور حق سے دشمنی کے باعث ۔
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو (ف٤۰) جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی (ف٤۱) اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجاتا ہے اور یہ کہ تمہیں اس کی طرف اٹھنا ہے،
O People who Believe! Present yourselves upon the command of Allah and His Noble Messenger, when the Noble Messenger calls you towards the matter that will bestow you life; and know that the command of Allah becomes a barrier between a man and his heart’s intentions, and that you will all be raised towards Him.
ऐ ईमान वालो! अल्लाह और उसके रसूल के बुलाने पर हाज़िर हो जब रसूल तुम्हें उस चीज़ के लिए बुलाएँ जो तुम्हें ज़िन्दगी बख़्शेगी और जान लो कि अल्लाह का हुक्म आदमी और उसके दिली इरादों में हाइल हो जाता है और ये कि तुम्हें उसकी तरफ़ उठना है,
Ae Imaan walo! Allah aur uske Rasool ke bulane par haazir ho jab Rasool tumhein us cheez ke liye bulayein jo tumhein zindagi bakhsh de, aur jaan lo ke Allah ka hukm aadmi aur uske dili iraadon mein haayil ho jaata hai, aur yeh ke tumhein uski taraf uthna hai,
(ف40)کیونکہ رسول کا بلانا اللہ ہی کا بلانا ہے ۔ بخاری شریف میں سعید بن معلی سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں نماز پڑھتا تھا مجھے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکارا میں نے جواب نہ دیا پھر میں نے حاضرِ خدمت ہو کر عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نماز پڑھ رہا تھا حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالٰی نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو ۔ ایسا ہی دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت ابی بن کعب نماز پڑھتے تھے حضور نے انہیں پکارا ، انہوں نے جلدی نماز تمام کرکے سلام عرض کیا ، حضور نے فرمایا تمہیں جواب دینے سے کیا بات مانِع ہوئی ، عرض کیا حضورمیں نماز میں تھا ۔ حضور نے فرمایا کیا تم نے قرآنِ پاک میں یہ نہیں پایا کہ اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو عرض کیا بے شک آئندہ ایسا نہ ہوگا ۔(ف41)اس چیز سے یا ا یمان مراد ہے کیونکہ کافِر مردہ ہوتا ہے ، ا یمان سے اس کو زندگی حاصل ہوتی ہے ۔ قتادہ نے کہا کہ وہ چیز قرآن ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ہے اور اس میں نَجات ہے اور عِصمتِ دارین ہے ۔ محمد بن اسحاق نے کہا کہ وہ چیز جہاد ہے کیونکہ اس کی بدولت اللہ تعالٰی ذلّت کے بعد عزّت عطا فرماتا ہے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ وہ شہادت ہے اس لئے شہداء اپنے ربّ کے نزدیک زندہ ہیں ۔
اور اس فتنہ سے ڈرتے رہو جو ہرگز تم میں خاص ظالموں کو ہی نہ پہنچے گا (ف٤۲) اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے،
And fear the turmoil which will certainly not fall only upon a few selected unjust people among you; and know that Allah’s punishment is severe.
और उस फ़ितना से डरते रहो जो हरगिज़ तुम में ख़ास ज़ालिमों को ही न पहुँचेगा और जान लो कि अल्लाह का अज़ाब सख़्त है,
Aur us fitna se darte raho jo har-giz tum mein khaas zaalimon ko hi na puhnchega, aur jaan lo ke Allah ka azaab sakht hai,
(ف42)بلکہ اگر تم اس سے نہ ڈرے اور اس کے اسباب یعنی ممنوعات کو ترک نہ کیا اور وہ فتنہ نازِل ہوا تو یہ نہ ہوگا کہ اس میں خاص ظالم اوربدکار ہی مبتلا ہوں بلکہ وہ نیک اور بد سب کو پہنچ جائے گا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے مؤمنین کو حکم فرمایا کہ وہ اپنے درمیان ممنوعات نہ ہونے دیں یعنی اپنے مقدور تک برائیوں کو روکیں اور گناہ کرنے والوں کو گناہ سے منع کریں اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو عذاب ان سب کو عام ہوگا ، خطا کار اور غیر خطا کار سب کو پہنچے گا ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی مخصوص لوگوں کے عمل پر عذاب عام نہیں کرتا جب تک کہ عام طور پر لوگ ایسا نہ کریں کہ ممنوعات کو اپنے درمیان ہوتا دیکھتے رہیں اور اس کے روکنے اور منع کرنے پر قادِر ہوں باوجود اس کے نہ روکیں نہ منع کریں جب ایسا ہوتا ہے تو اللہ تعالٰی عذاب میں عام و خاص سب کو مبتلا کرتا ہے ۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی قوم میں سرگرمِ معاصی ہو اور وہ لوگ باوجود قدرت کے اس کو نہ روکیں تو اللہ تعالٰی مرنے سے پہلے انہیں عذاب میں مبتلا کرتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو قوم نہی عنِ المنکَر ترک کرتی ہے اور لوگوں کو گناہوں سے نہیں روکتی وہ اپنے اس ترکِ فرض کی شامت میں مبتلا ئے عذاب ہوتی ہے ۔
اور یاد کرو (ف٤۳) جب تم تھوڑے تھے ملک میں دبے ہوئے (ف٤٤) ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لے جائیں تو اس نے تمہیں (ف٤۵) جگہ دی اور اپنی مدد سے زور دیا اور ستھری چیزیں تمہیں روزی دیں (ف٤٦) کہ کہیں تم احسان مانو،
And remember when you were only a few and meek in the land, and feared that men may snatch you away – He therefore gave you refuge and strengthened you with His help, and gave you good things as sustenance, so that you may be thankful.
और याद करो जब तुम थोड़े थे मुल्क में दबे हुए डरते थे कि कहीं लोग तुम्हें उचक न ले जाएँ तो उसने तुम्हें जगह दी और अपनी मदद से ज़ोर दिया और सुथरी चीज़ें तुम्हें रोज़ी दीं कि कहीं तुम एहसान मानो,
Aur yaad karo jab tum thode the mulk mein dabe hue darte the ke kahin log tumhein uchak na le jaayein, to usne tumhein jagah di aur apni madad se zor diya aur suthri cheezein tumhein rozi di ke kahin tum ehsaaan maano,
(ف43)اے مؤمنین مہاجرین ابتدائے اسلام میں ہجرت کرنے سے پہلے مکّۂ مکرّمہ میں ۔(ف44)قریش تم پر غالب تھے اور تم ۔(ف45)مدینہ طیّبہ میں ۔ (ف46)یعنی اموالِ غنیمت جو تم سے پہلے کسی اُمّت کے لئے حلال نہیں کئے گئے تھے ۔
اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے دغا نہ کرو (ف٤۷) اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت،
O People who Believe! Do not betray Allah and His Noble Messenger, nor purposely defraud your trusts.
ऐ ईमान वालो! अल्लाह और रसूल से दग़ा न करो और न अपनी अमानतों में दानिस्ता ख़यानत,
Ae Imaan walo! Allah aur Rasool se dagha na karo aur na apni amaanaton mein danista khiyanat,
(ف47)فرائض کا چھوڑ دینا اللہ تعالٰی سے خیانت کرنا ہے اور سنّت کا ترک کرنا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ۔ شانِ نُزُول : یہ آیت ابو لبابہ ہارون بن عبد المنذر انصاری کے حق میں نازِل ہوئی ۔ واقعہ یہ تھا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودِ بنی قُریظہ کا دو ہفتے سے زیادہ عرصہ تک محاصَرہ فرمایا ، وہ اس محاصَرہ سے تنگ آگئے اور ان کے دل خائِف ہوگئے تو ان سے ان کے سردار کعب بن اسد نے یہ کہا کہ اب تین شکلیں ہیں یا تو اس شخص یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کرو اور ان کی بیعت کر لو کیونکہ قسم بخدا وہ نبیٔ مُرسَل ہیں یہ ظاہر ہوچکا اور یہ وہی رسول ہیں جن کا ذکر تمہاری کتاب میں ہے ، ان پر ا یمان لے آئے تو جان مال اہل و اولاد سب محفوظ رہیں گے مگر اس بات کو قوم نے نہ مانا تو کعب نے دوسری شکل پیش کی اور کہا کہ تم اگر اسے نہیں مانتے تو آؤ پہلے ہم اپنے بی بی بچوں کو قتل کر دیں پھر تلواریں کھینچ کر محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب کے مقابل آئیں کہ اگر ہم اس مقابلہ میں ہلاک بھی ہوجائیں تو ہمارے ساتھ اپنے اہل و اولاد کا غم تو نہ رہے ، اس پر قوم نے کہا کہ اہل و اولاد کے بعد جینا ہی کس کام کا تو کعب نے کہا یہ بھی منظور نہیں ہے تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صلح کی درخواست کرو شایداس میں کوئی بہتری کی صورت نکلے تو انہوں نے حضور سے صلح کی درخواست کی لیکن حضور نے منظور نہ فرمایا سوائے اس کے کہ اپنے حق میں سعد بن معاذ کے فیصلہ کو منظور کریں ، اس پر انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ابو لبابہ کو بھیج دیجئے کیونکہ ابو لبابہ سے ان کے تعلقات تھے اور ابو لبابہ کا مال اور ان کی اولاد اور ان کے عیال سب بنی قُریظہ کے پاس تھے ، حضور نے ابو لبابہ کو بھیج دیا ۔ بنی قُریظہ نے ان سے رائے دریافت کی کہ کیا ہم سعد بن معاذ کا فیصلہ منظور کرلیں کہ جو کچھ وہ ہمارے حق میں فیصلہ دیں وہ ہمیں قبول ہو ۔ ابو لبابہ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کیا کہ یہ توگلے کٹوانے کی بات ہے ، ابو لبابہ کہتے ہیں کہ میرے قدم اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائے تھے کہ میرے دل میں یہ بات جم گئی کہ مجھ سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خیانت واقع ہوئی ، یہ سوچ کر وہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تو نہ آئے سیدھے مسجد شریف پہنچے اور مسجد شریف کے ایک سُتون سے اپنے آپ کو بندھوا لیا اور اللہ کی قسم کھائی کہ نہ کچھ کھائیں گے نہ پئیں گے یہاں تک کہ مَرجائیں یا اللہ تعالٰی ان کی توبہ قبول کرے ۔ وقتاً فوقتاً ان کی بی بی آ کر انہیں نمازوں کے لئے اور انسانی حاجتوں کے لئے کھول دیا کرتی تھیں اور پھر باندھ دیئے جاتے تھے ۔ حضور کو جب یہ خبر پہنچی تو فرمایا کہ ابو لبابہ میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتا لیکن جب انہوں نے یہ کیا ہے تو میں انہیں نہ کھولوں گا جب تک اللہ ان کی توبہ قبول نہ کرے ۔ وہ سات روز بندھے رہے نہ کچھ کھایا نہ پیا یہاں تک کہ بے ہوش ہو کر گر گئے پھر اللہ تعالٰی نے ان کی توبہ قبول کی ، صحابہ نے انہیں توبہ قبول ہونے کی بشارت دی تو انہوں نے کہا میں خدا کی قسم نہ کُھلوں گا جب تک رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے خود نہ کھولیں ۔ حضرت نے انہیں اپنے دستِ مبارک سے کھول دیا ، ابو لبابہ نے کہا میری توبہ اس وقت پوری ہوگی جب میں اپنی قوم کی بستی چھوڑ دوں جس میں مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی اور میں اپنے کُل مال کو اپنے مِلک سے نکال دوں ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تہائی مال کا صدقہ کرنا کافی ہے ، ان کے حق میں یہ آیت نازِل ہوئی ۔
اے ایمان والو! اگر اللہ سے ڈرو گے (ف۵۰) تو تمہیں وہ دیگا جس سے حق کو باطل سے جدا کرلو اور تمہاری برائیاں اتار دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے،
O People who Believe! If you fear Allah, He will bestow upon you (the criterion) that with which you will separate the truth from falsehood, and He will unburden your misdeeds and forgive you; and Allah is the Extremely Munificent.
ऐ ईमान वालो! अगर अल्लाह से डरो गे तो तुम्हें वो देगा जिससे हक़ को बाक़िल से जुदा कर लो और तुम्हारी बुराइयाँ उतार देगा और तुम्हें बख़्श देगा और अल्लाह बड़े फ़ज़्ल वाला है,
Ae Imaan walo! Agar Allah se daroge to tumhein woh dega jisse Haq ko baatil se juda kar lo aur tumhari buraiyaan utaar dega aur tumhein bakhsh dega aur Allah bade fazl wala hai,
اور اے محبوب یاد کرو جب کافر تمہارے ساتھ مکر کرتے تھے کہ تمہیں بند کرلیں یا شہید کردیں یا نکال دیں (ف۱۵۱) اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرماتا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر،
And remember O dear Prophet when the disbelievers were scheming against you to either imprison you, or to kill you or to banish you; and they were scheming, and Allah was making His secret plan; and Allah’s secret plan is the best.
और ऐ महबूब याद करो जब काफ़िर तुम्हारे साथ मकर करते थे कि तुम्हें बन्द कर लें या शहीद कर दें या निकाल दें अपना सा मकर करते थे और अल्लाह अपनी ख़ुफ़िया तद्बीर फ़रमाता था और अल्लाह की ख़ुफ़िया तद्बीर सबसे बेहतर,
Aur ae Mehboob yaad karo jab kafir tumhare saath makar karte the ke tumhein band kar lein ya shaheed kar dein ya nikal dein, apna sa makar karte the aur Allah apni khufiya tadbeer farmaata tha aur Allah ki khufiya tadbeer sabse behtar,
(ف51) اس میں اس واقعہ کا بیان ہے جو حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر فرمایا کہ کُفّارِ قریش دارالندوہ (کمیٹی گھر) میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت مشورہ کرنے کے لئے جمع ہوئے اور ابلیسِ لعین ایک بُڈھے کی صورت میں آیا اور کہنے لگا کہ میں شیخِ نجد ہوں ، مجھے تمہارے اس اجتماع کی اطلاع ہوئی تو میں آیا مجھ سے تم کچھ نہ چھپانا ، میں تمہارا رفیق ہوں اور اس معاملہ میں بہتر رائے سے تمہاری مدد کروں گا ، انہوں نے اس کو شامل کرلیا اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق رائے زنی شروع ہوئی ، ابوالبختری نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پکڑ کر ایک مکان میں قید کردو اور مضبوط بندشوں سے باندھ دو ، دروازہ بند کر دو ، صرف ایک سوراخ چھوڑ دو جس سے کبھی کبھی کھانا پانی دیا جائے اور وہیں وہ ہلاک ہو کر رہ جائیں ۔ اس پر شیطانِ لعین جو شیخِ نجدی بنا ہوا تھا بہت ناخوش ہوا اور کہا نہایت ناقص رائے ہے ، یہ خبر مشہور ہوگی اور ان کے اصحاب آئیں گے اور تم سے مقابلہ کریں گے اور ان کو تمہارے ہاتھ سے چُھڑا لیں گے ۔ لوگوں نے کہا شیخِ نجدی ٹھیک کہتا ہے پھر ہشام بن عمرو کھڑا ہوا اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ ان کو (یعنی محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) اونٹ پر سوار کرکے اپنے شہر سے نکال دو پھر وہ جوکچھ بھی کریں اس سے تمہیں کچھ ضَرر نہیں ۔ ابلیس نے اس رائے کو بھی ناپسند کیا اور کہا جس شخص نے تمہارے ہوش اُڑا دیئے اور تمہارے دانشمندوں کو حیران بنادیا اس کو تم دوسروں کی طر ف بھیجتے ہو ، تم نے اس کی شیریں کلامی ، سیف زبانی ، دل کشی نہیں دیکھی ہے اگر تم نے ایسا کیا تو وہ دوسری قوم کے قلوب تسخیر کرکے ان لوگوں کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے ۔ اہلِ مجمع نے کہا شیخِ نجدی کی رائے ٹھیک ہے اس پر ابوجہل کھڑا ہوا اور اس نے یہ رائے دی کہ قریش کے ہر ہر خاندان سے ایک ایک عالی نسب جوان منتخب کیا جائے اور ان کو تیز تلوار یں دی جائیں ، وہ سب یکبارگی حضرت پر حملہ آور ہو کر قتل کردیں تو بنی ہاشم قریش کے تمام قبائل سے نہ لڑ سکیں گے ۔ غایت یہ ہے کہ خون کا معاوضہ دینا پڑے وہ دے دیا جائے گا ۔ ابلیسِ لعین نے اس تجویز کوپسند کیا اور ابوجہل کی بہت تعریف کی اور اسی پر سب کا اتفاق ہوگیا ۔ حضرتِ جبریل علیہ السلام نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ گزارش کیا اور عرض کیا کہ حضور اپنی خواب گاہ میں شب کو نہ رہیں ، اللہ تعالٰی نے اِذن دیا ہے مدینہ طیبہ کا عزم فرمائیں ۔ حضور نے علی مرتضٰی کو شب میں اپنی خواب گاہ میں رہنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ہماری چادر شریف اوڑھو تمہیں کوئی ناگواربات پیش نہ آئے گی اور حضور دولت سرائے اقدس سے باہر تشریف لائے اور ایک مشتِ خاک دستِ مبارک میں لی اور آیت اِنَّا جَعَلْنَا فِیْ اَعْنَاقِھِمْ اَغْلٰلاً پڑھ کر محاصَرہ کرنے والوں پر ماری ، سب کی آنکھوں اور سروں پر پہنچی ، سب اندھے ہوگئے اور حضور کو نہ دیکھ سکے اور حضور مع ابوبکر صدیق کے غارِ ثور میں تشریف لے گئے اور حضرت علی مرتضٰی کو لوگوں کو امانتیں پہنچانے کے لئے مکّۂ مکرّمہ میں چھوڑا ۔ مشرکین رات بھر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دولت سرائے کا پہرہ دیتے رہے ، صبح کو جب قتل کے ارادہ سے حملہ آور ہوئے تو دیکھا کہ حضرت علی ہیں ، ان سے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دریافت کیا گیا کہ کہاں ہیں انہوں نے فرمایا کہ ہمیں معلوم نہیں تو تلاش کے لئے نکلے جب غار پر پہنچے تو مکڑی کے جالے دیکھ کر کہنے لگے کہ اگر اس میں داخل ہوتے تو یہ جالے باقی نہ رہتے ۔ حضور اس غار میں تین روز ٹھہرے پھر مدینہ طیبہ روانہ ہوئے ۔
اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو کہتے ہیں ہاں ہم نے سنا ہم چاہتے تو ایسی ہم بھی کہہ دیتے یہ تو نہیں مگر اگلوں کے قصے (ف۵۲)
And when Our verses are recited to them they say, “Yes, we have heard – if we wanted we could also say something like this – these are nothing but stories of former people!”
और जब उन पर हमारी आयतें पढ़ी जाएँ तो कहते हैं हाँ हमने सुना हम चाहते तो ऐसी हम भी कह देते ये तो नहीं मगर अगलों के क़िस्से
Aur jab unpar hamari aayatein padhi jaati hain to kehte hain haan humne suna, hum chahte to aisi hum bhi keh dete, yeh to nahin magar aglon ke qissay,
(ف52)شانِ نُزول : یہ آیت نضر بن حارث کے حق میں نازِل ہوئی جس نے سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآنِ پاک سُن کر کہا تھا کہ ہم چاہتے تو ہم بھی ایسی ہی کتاب کہہ لیتے ۔ اللہ تعالٰی نے ان کا یہ مقولہ نقل کیا کہ اس میں ان کی کمال بے شرمی و بے حیائی ہے کہ قرآنِ پاک کی تَحدّی فرمانے اور فُصَحائے عرب کو قرآنِ کریم کے مثل ایک سورۃ بنا لانے کی دعوتیں دینے اور ان سب کے عاجز و درماندہ رہ جانے کے بعد یہ کلمہ کہنا اور ایسا اِدّعائے باطل کرنا نہایت ذلیل حرکت ہے ۔
اور جب بولے (ف۵۳) کہ اے اللہ اگر یہی (قرآن) تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لا،
And when they said, “O Allah! If this (the Qur’an) is really the truth from You, then shower upon us a rain of stones from the sky, or bring upon us some painful punishment.”
और जब बोले कि ऐ अल्लाह अगर यही (क़ुरआन) तेरी तरफ़ से हक़ है तो हम पर आसमान से पत्थर बरसा या कोई दर्दनाक अज़ाब हम पर ला,
Aur jab bole ke ae Allah! Agar yeh (Quran) teri taraf se Haq hai to hum par aasman se pathar barsa ya koi dardnaak azaab hum par la,
(ف53)کُفَّار اور ان میں یہ کہنے والا یا نضر بن حارث تھا یا ابوجہل جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے ۔
اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب! تم ان میں تشریف فرما ہو (ف۵٤) اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں (ف۵۵)
And it is not for Allah to punish them while you O dear Prophet (Mohammed – peace and blessings be upon him) are amongst them; and Allah will not punish them as long as they are seeking forgiveness. (Prophet Mohammed – peace and blessings be upon him – is a mercy unto mankind.)
और अल्लाह का काम नहीं कि उन्हें अज़ाब करे जब तक ऐ महबूब! तुम उनमें तशरीफ़ फ़रमा हो और अल्लाह उन्हें अज़ाब करने वाला नहीं जब तक वो बख़्शिश माँग रहे हैं
Aur Allah ka kaam nahin ke unhein azaab kare jab tak ae Mehboob! Tum unmein tashreef farma ho, aur Allah unhein azaab karne wala nahin jab tak woh bakhshish maang rahe hain,
(ف54)کیونکہ رحمۃ لِلعالمین بنا کر بھیجے گئے ہو اور سنّتِ الٰہیہ یہ ہے کہ جب تک کسی قوم میں اس کے نبی موجود ہوں ان پر عام بربادی کا عذاب نہیں بھیجتا جس سے سب کے سب ہلاک ہوجائیں اور کوئی نہ بچے ۔ ایک جماعت مفسِّرین کا قول ہے کہ یہ آیت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس وقت نازِل ہوئی جب آپ مکّۂ مکرّمہ میں مقیم تھے پھر جب آپ نے ہجرت فرمائی اور کچھ مسلمان رہ گئے جو استغِفار کیا کرتے تھے تو وَمَاکَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ نازِل ہوا جس میں بتایا گیا کہ جب تک استغِفار کرنے والے ایماندار موجود ہیں اس وقت تک بھی عذاب نہ آئے گا پھر جب وہ حضرات بھی مدینہ طیّبہ کو روانہ ہو گئے تو اللہ تعالٰی نے فتحِ مکّہ کا اِذن دیا اور یہ عذابِ مَوعود آگیا جس کی نسبت اس آیت میں فرمایا وَمَالَھُمْ اَلَّا یُعَذِّبَھُمُ اللّٰہُ محمد بن اسحاق نے کہا کہ مَاکَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ بھی کُفَّار کا مقولہ ہے جو ان سے حکایۃً نقل کیا گیا ، اللہ عزوجل نے ان کی جہالت کا ذکر فرمایا کہ اس قدر احمق ہیں ، آپ ہی تو یہ کہتے ہیں کہ یاربّ اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر نازِل کر اور آپ ہی یہ کہتے ہیں کہ یا محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )جب تک آپ ہیں عذاب نازِل نہ ہوگا کیونکہ کوئی اُمّت اپنے نبی کی موجودگی میں ہلاک نہیں کی جاتی ، کس قدر مُعارِض اقوال ہیں ۔(ف55)اس آیت سے ثابت ہوا کہ استغِفار عذاب سے امن میں رہنے کا ذریعہ ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے میری اُمّت کے لئے دو امانیں اتاریں ۔ ایک میرا ان میں تشریف فرماہونا ، ایک ان کا استغِفار کرنا ۔
اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ کرے وہ تو مسجد حرام سے روک رہے ہیں (ف۵٦) اور وہ اس کے اہل نہیں (ف۵۷) اس کے اولیاء تو پرہیزگار ہی ہیں مگر ان میں اکثر کو علم نہیں،
And what is with them that Allah should not punish them, whereas in fact they prevent from the Sacred Mosque and they are not worthy (of being the custodians) of it; only the pious are its befitting custodians, but most of them do not have knowledge.
और उन्हें क्या है कि अल्लाह उन्हें अज़ाब न करे वो तो मस्जिद हराम से रोक रहे हैं और वो उसके अहल नहीं उसके औलिया तो परहेज़गार ही हैं मगर उनमें अक्सर को इल्म नहीं,
Aur unhein kya hai ke Allah unhein azaab na kare woh to Masjid-e-Haram se rokte hain aur woh uske ahl nahin, uske auliya to parhezgaar hi hain magar unmein aksar ko ilm nahin,
(ف56)اور مؤمنین کو طوافِ کعبہ کے لئے نہیں آنے دیتے جیسا کہ واقعۂ حُدیبیہ کے سال سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو روکا ۔(ف67)ایمان لانے سے ۔
اور کعبہ کے پاس ان کی نماز نہیں مگر سیٹی اور تالی (ف۵۸) تو اب عذاب چکھو (ف۵۹) بدلہ اپنے کفر کا،
And their prayer near the Kaa’bah is nothing except whistling and clapping; “So now taste the punishment – the result of your disbelief.”
और काबा के पास उनकी नमाज़ नहीं मगर सीटी और ताली तो अब अज़ाब चखो बदला अपने कुफ़्र का,
Aur Kaaba ke paas unki namaz nahin magar seeti aur tali, to ab azaab chakho badla apne kufr ka,
(ف58)یعنی نماز کی جگہ سیٹی اور تالی بجاتے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ قریش ننگے ہو کر خانۂ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے اور یہ فعل ان کا یا تو اس اعتقادِ باطل سے تھا کہ سیٹی اور تالی بجانا عبادت ہے اور یا اس شرارت سے کہ ان کے اس شور سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں پریشانی ہو ۔(ف59)قتل و قید کا بدر میں ۔
بیشک کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں (ف٦۰) تو اب انہیں خرچ کریں گے پھر وہ ان پر پچھتاوا ہوں گے (ف٦۱) پھر مغلوب کردیے جائیں گے اور کافروں کا حشر جہنم کی طرف ہوگا،
Indeed the disbelievers spend their wealth in order to prevent people from the way of Allah; so they will spend it now, and then regret over it, then they will be defeated; and the disbelievers will be gathered towards hell.
बेशक काफ़िर अपने माल खर्च करते हैं कि अल्लाह की राह से रोकें तो अब उन्हें खर्च करेंगे फिर वो उन पर पछतावा होंगे फिर ग़ालिब कर दिए जाएँगे और काफ़िरों का हश्र जहन्नम की तरफ़ होगा,
Beshak kafir apne maal kharch karte hain ke Allah ki raah se rokein, to ab woh kharch karenge, phir woh unpar pachtawa hoga, phir maghloob kar diye jaayenge, aur kafiron ka hashr jahannam ki taraf hoga,
(ف60)یعنی لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے مانع ہوں ۔شانِ نُزول : یہ آیت کُفّار میں سے ان بارہ قریشیوں کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے لشکرِ کُفّار کا کھانا اپنے ذمّہ لیا تھا اور ہر ایک ان میں سے لشکر کوکھانا دیتا تھا ہر روز دس اونٹ ۔(ف61)کہ مال بھی گیا اور کام بھی نہ بنا ۔
اس لیے کہ اللہ گندے کو ستھرے سے جدا فرمادے (ف٦۲) اور نجاستوں کو تلے اوپر رکھ کر سب ایک ڈھیر بناکر جہنم میں ڈال دے وہی نقصان پانے والے ہیں (ف٦۳)
In order that Allah may separate the filthy from the pure, and placing the filthy atop one another, make a heap and throw them into hell; it is they who are the losers.
इस लिए कि अल्लाह गन्दे को सुथरे से जुदा फ़रमा दे और नजासतों को तले ऊपर रखकर सब एक ढेर बना कर जहन्नम में डाल दे वही नुक़सान पाने वाले हैं
Is liye ke Allah gande ko suthre se juda farma de aur nijaaston ko tale upar rakh kar sab ek dher bana kar jahannam mein daal de, wahi nuqsan paane wale hain,
(ف62)یعنی گر وہِ کُفّار کو گروہِ مؤمنین سے ممتاز کر دے ۔(ف63)کہ دنیا و آخرت کے ٹوٹے میں رہے اور اپنے مال خرچ کرکے عذابِ آخرت مول لیا ۔
تم کافروں سے فرماؤ اگر وہ باز رہے تو جو ہو گزرا وہ انہیں معاف فرمادیا جائے گا (ف٦٤) اور اگر پھر وہی کریں تو اگلوں کا دستور گزر چکا ہے (ف٦۵)
Say to the disbelievers that if they desist, what has passed will be forgiven to them; and if they do the same, the tradition of former people has already passed.
तुम काफ़िरों से फ़रमाओ अगर वो बाज़ रहे तो जो हो गुज़रा वो उन्हें माफ़ फ़रमा दिया जाएगा और अगर फिर वही करें तो अगलों का दस्तूर गुज़र चुका है
Tum kafiron se farmao agar woh baaz rahe to jo ho guzra woh unhein maaf farma diya jaayega aur agar phir wahi karein to aglon ka dastoor guzar chuka hai,
(ف64)مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافِر جب کُفر سے باز آئے اور اسلام لائے تو اس کا پہلا کُفر اور مَعاصی مُعاف ہوجاتے ہیں ۔(ف65)کہ اللہ تعالٰی اپنے دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے اور اپنے انبیاء اور اولیاء کی مدد فرماتا ہے ۔
اور اگر ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فساد (ف٦٦) باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ ہی کا ہوجائے، اگر پھر وہ باز رہیں تو اللہ ان کے کام دیکھ رہا ہے،
And fight them until no mischief remains and the entire religion is only for Allah; then if they desist, Allah sees all what they do.
और अगर उनसे लड़ो यहाँ तक कि कोई फ़साद बाक़ी न रहे और सारा दीन अल्लाह ही का हो जाए, अगर फिर वो बाज़ रहें तो अल्लाह उनके काम देख रहा है,
Aur agar unse lado yahan tak ke koi fasaad baqi na rahe aur sara deen Allah hi ka ho jaaye, agar phir woh baaz rahein to Allah unke kaam dekh raha hai,
اور جان لو کہ جو کچھ غنیمت لو (ف٦۹) تو اس کا پانچواں حصہ خاص اللہ اور رسول و قرابت داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کا ہے (ف۷۰) اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اس پر جو ہم نے اپنے بندے پر فیصلہ کے دن اتارا جس دن دونوں فوجیں ملیں تھیں (ف۷۱) اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے،
And know that whatever you take as war booty, a fifth of that belongs to Allah and His Noble Messenger, and to relatives, and orphans, and the needy, and the traveller – if you have accepted faith in Allah and what We sent down to Our bondman on the decisive day – the day when two armies had met; and Allah is Able to do all things.
और जान लो कि जो कुछ ग़नीमत लो तो उसका पाँचवाँ हिस्सा ख़ास अल्लाह और रसूल व क़राबतदारों और यतीमों और मुहताजों और मुसाफ़िरों का है अगर तुम ईमान लाए हो अल्लाह पर और उस पर जो हमने अपने बन्दे पर फ़ैसले के दिन उतारा जिस दिन दोनों फौजें मिलीं थीं और अल्लाह सब कुछ कर सकता है,
Aur jaan lo ke jo kuchh ghanimat lo to uska paanchwan hissa khaas Allah aur Rasool wa qaraabat-daaron aur yateemon aur mohtaajon aur musafiron ka hai, agar tum imaan laaye ho Allah par aur uspar jo humne apne bande par faisle ke din utaara, jis din donon faujein milein thein, aur Allah sab kuchh kar sakta hai.
(ف69)خواہ قلیل یا کثیر ۔ غنیمت وہ مال ہے جو مسلمانوں کوکُفّار سے جنگ میں بطریقِ قَہر و غلبہ حاصل ہو ۔ مسئلہ : مالِ غنیمت پانچ حصوں پر تقسیم کیا جائے اس میں سے چار حصے غانمین کے ۔(ف70)مسئلہ : غنیمت کا پانچواں حصہ پھر پانچ حصوں پر تقسیم ہوگا ان میں سے ایک حصہ جو کُل مال کا پچیسواں حصہ ہو ا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ہے اور ایک حصہ آپ کے اہلِ قرابت کے لئے اور تین حصے یتیموں اور مسکینوں ، مسافروں کے لئے ۔ مسئلہ : رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضور اور آپ کے اہلِ قرابت کے حصے بھی یتیموں مسکینوں اور مسافروں کو ملیں گے اور پانچواں حصہ انہیں تین پر تقسیم ہوجائے گا ۔ یہی قول ہے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کا ۔(ف71)اس دن سے روزِ بدر مراد ہے اور دونوں فوجوں سے مسلمانوں اور کافِروں کی فوجیں اور یہ واقعہ سترہ یا انیس رمضان کو پیش آیا ۔ اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعداد تین سو دس سے کچھ زیادہ تھی اور مشرکین ہزار کے قریب تھے ۔ اللہ تعالٰی نے انہیں ہزیمت دی ان میں سے ستّرسے زیادہ مارے گئے اور اتنے ہی گرفتار ہوئے ۔
جب تم نالے کے کنارے تھے (ف۷۲) اور کافر پرلے کنارے اور قافلہ (ف۷۳) تم سے ترائی میں (ف۷٤) اور اگر تم آپس میں کوئی وعدہ کرتے تو ضرور وقت پر برابر نہ پہنچتے (ف۷۵) لیکن یہ اس لیے کہ اللہ پورا کرے جو کام ہونا ہے (ف۷٦) کہ جو ہلاک ہو دلیل سے ہلاک ہو (ف۷۷) اور جو جئے دلیل سے جئے (ف۷۸) اور بیشک اللہ ضرور سنتا جانتا ہے،
When you were on the near bank and the disbelievers on the far bank, and the caravan below you; and had you made an agreement between one another, you would have failed to reach on the appointed time – but this is in order that Allah may complete a thing that must be done – that he who dies may die by a clear proof and he who lives may live by a clear proof; and indeed Allah is surely, All Hearing, All Knowing.
जब तुम नाले के किनारे थे और काफ़िर परले किनारे और क़ाफ़िला तुम से तराई में और अगर तुम आपस में कोई वादा करते तो ज़रूर वक़्त पर बराबर न पहुँचते लेकिन ये इस लिए कि अल्लाह पूरा करे जो काम होना है कि जो हलाक हो दलील से हलाक हो और जो जिए दलील से जिए और बेशक अल्लाह ज़रूर सुनता जानता है,
Jab tum naale ke kinare the aur kafir parle kinare aur qafila tum se tarai mein, aur agar tum aapas mein koi waada karte to zaroor waqt par barabar na pohnchte, lekin yeh is liye ke Allah poora kare jo kaam hona hai, ke jo halaak ho daleel se halaak ho aur jo jaye daleel se jaye, aur beshak Allah zaroor sunta jaanta hai,
(ف72)جو مدینہ طیّبہ کی طرف ہے ۔(ف73)قریش کا جس میں ابوسفیان وغیرہ تھے ۔(ف74)تین میل کے فاصلہ پر ساحل کی طرف ۔(ف75)یعنی اگر تم اور وہ باہم جنگ کا کوئی وقت مُعیّن کرتے پھر تمہیں اپنی قلت و بے سامانی اور ان کی کثرت و سامان کا حال معلوم ہوتا تو ضرور تم ہیبت و اندیشہ سے میعاد میں اختلاف کرتے ۔(ف76)یعنی اسلام اور مسلمین کی نصرت اور دین کا اعزاز اور دشمنانِ دین کی ہلاکت اس لئے تمہیں اس نے بے میعاد ہی جمع کردیا ۔(ف77)یعنی حجُّتِ ظاہرہ قائم ہونے اور عبرت کا معائنہ کر لینے کے بعد ۔(ف78)محمد بن اسحٰق نے کہا کہ ہلاک سے کُفر ، حیات سے ایمان مراد ہے ۔ معنی یہ ہیں کہ جو کوئی کافِر ہو اس کو چاۂے کہ پہلے حُجّت قائم کرے اور ایسے ہی جو ایمان لائے وہ یقین کے ساتھ ایمان لائے اور حُجّت و برہان سے جان لے کہ یہ دین حق ہے اور بدر کا واقعہ آیاتِ واضحہ میں سے ہے اس کے بعد جس نے کُفر اختیار کیا وہ مکابر ہے ، اپنے نفس کو مغالَطہ دیتا ہے ۔
جب کہ اے محبوب! اللہ ٹمہیں کافروں کو تمہاری خواب میں تھوڑا دکھاتا تھا (ف۷۹) اور اے مسلمانو! اگر وہ تمہیں بہت کرکے دکھاتا تو ضرور تم بزدلی کرتے اور معاملہ میں جھگڑا ڈالتے (ف۸۰) مگر اللہ نے بچا لیا (ف۸۱) بیشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے،
When O dear Prophet, Allah used to show the disbelievers in your dream as only a few*; and O Muslims, had He shown them to you as many, you would have certainly lost courage and disputed over the affair, but Allah rescued (you); indeed He knows what lies within the hearts. (* They numbered more but their actual strength was equal to only a few.)
जब कि ऐ महबूब! अल्लाह तुम्हें काफ़िरों को तुम्हारी ख़्वाब में थोड़ा दिखाता था और ऐ मुसलमानो! अगर वो तुम्हें बहुत करके दिखाता तो ज़रूर तुम बुज़दिली करते और मामला में झगड़ा डालते मगर अल्लाह ने बचा लिया बेशक वो दिलों की बात जानता है,
Jab ke ae Mehboob! Allah tumhein kafiron ko tumhari khwab mein thoda dikhata tha, aur ae Musalmano! Agar woh tumhein bohot kar ke dikhata to zaroor tum buzdili karte aur maamle mein jhagra daalte, magar Allah ne bacha liya, beshak woh dilon ki baat jaanta hai,
(ف79) یہ اللہ تعالٰی کی نعمت تھی کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کُفّار کی تعداد تھوڑی دکھائی گئی اور آپ نے اپنا یہ خواب اصحاب سے بیان کیا اس سے ان کی ہمتیں بڑھیں اور اپنے ضعف و کمزوری کا اندیشہ نہ رہا اور انہیں دشمن پر جرأت پیدا ہوئی اور قلب قوی ہوئے ۔ انبیاء کا خواب حق ہوتا ہے آپ کو کُفّار دکھائے گئے تھے اور ایسے کُفّار جو دنیا سے بے ایمان جائیں اور کُفر ہی پر ان کا خاتمہ ہو وہ تھوڑے ہی تھے کیونکہ جو لشکر مقابل آیا تھا اس میں کثیر لوگ وہ تھے جنہیں اپنی زندگی میں ایمان نصیب ہوا اور خواب میں قِلّت کی تعبیر ضعف سے ہے چنانچہ اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کو غالب فرما کر کُفّار کا ضعف ظاہر کردیا ۔(ف80)اور ثبات و فرار میں متردِّد رہتے ۔(ف81)تم کو بُزدلی اور تردُّد اور باہمی اختلاف سے ۔
اور جب لڑتے وقت (ف۸۲) تمہیں کافر تھوڑے کرکے دکھائے (ف۸۳) اور تمہیں ان کی نگاہوں میں تھوڑا کیا (ف۷٤) کہ اللہ پورا کرے جو کام ہونا ہے (ف۸۵) اور اللہ کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے،
And when at the time of fighting He made the disbelievers seem few to you, and you as few in their sight, in order for Allah to conclude the matter that must be done; and towards Allah is the return of all matters.
और जब लड़ते वक़्त तुम्हें काफ़िर थोड़े करके दिखाए और तुम्हें उनकी निगाहों में थोड़ा किया कि अल्लाह पूरा करे जो काम होना है और अल्लाह की तरफ़ सब कामों की रुजू है,
Aur jab larte waqt tumhein kafir thode kar ke dikhaye aur tumhein unki nigahon mein thoda kiya, ke Allah poora kare jo kaam hona hai, aur Allah ki taraf sab kaamon ki ruju hai,
(ف82)اے مسلمانو ۔(ف83)حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ ہماری نگاہوں میں اتنے کم جچے کہ میں نے اپنے برابر والے ایک شخص سے کہا کہ تمہارے گمان میں کافِر ستّر ہوں گے اس نے کہا کہ میرے خیال میں سو ہیں اور تھے ہزار ۔(ف84)یہاں تک کہ ابو جہل نے کہا کہ انہیں رسیّوں میں باندھ لو گویا کہ وہ مسلمانوں کی جماعت کو اتنا قلیل دیکھ رہا تھا مقابلہ کرنے اور جنگ آزما ہونے کے لائق بھی خیال نہیں کرتا تھا اور مشرکین کو مسلمانوں کی تعداد تھوڑی دکھانے میں یہ حکمت تھی کہ مشرکین مقابلہ پر جم جائیں ، بھاگ نہ پڑیں اور یہ بات ابتداء میں تھی ، مقابلہ ہونے کے بعد انہیں مسلمان بہت زیادہ نظر آنے لگے ۔(ف85)یعنی اسلام کا غلبہ اور مسلمانوں کی نصرت اور شرک کا ابطال اور مشرکین کی ذلّت اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزے کا اظہار کہ جو فرمایا تھا وہ ہوا کہ جماعتِ قلیلہ لشکرِ گراں پر فتح یاب ہوئی ۔
اے ایمان والو! جب کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کی یاد بہت کرو (ف۸٦) کہ تم مراد کو پہنچو،
O People who Believe! When you meet an army, hold firm and remember Allah profusely, in order that you succeed.
ऐ ईमान वालो! जब किसी फौज से तुम्हारा मुक़ाबला हो तो साबित क़दम रहो और अल्लाह की याद बहुत करो कि तुम मुराद को पहुँचो,
Ae Imaan walo! Jab kisi fauj se tumhara muqabla ho to sabit qadam raho aur Allah ki yaad bohot karo ke tum muraad ko pohncho,
(ف86)اس سے مدد چاہو اور کُفّار پر غالب ہونے کی دعائیں کرو ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو ہر حال میں لازم ہے کہ وہ اپنے قلب و زبان کو ذکرِ الٰہی میں مشغول رکھے اور کسی سختی و پریشانی میں بھی اس سے غافل نہ ہو ۔
اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں جھگڑ و نہیں کہ پھر بزدلی کرو گے اور تمہاری بندھی ہوئی ہوا جاتی رہے گی (ف۸۷) اور صبر کرو، بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے (ف۸۸)
And obey Allah and His Noble Messenger, and do not dispute with one another for you will lose courage again and your strength will be lost, and patiently endure; indeed Allah is with those who patiently endure.
और अल्लाह और उसके रसूल का हुक्म मानो और आपस में झगड़ो नहीं कि फिर बुज़दिली करोगे और तुम्हारी बँधी हुई हवा जाती रहेगी और सब्र करो, बेशक अल्लाह सब्र वालों के साथ है
Aur Allah aur uske Rasool ka hukm maano aur aapas mein jhagro nahin ke phir buzdili karoge aur tumhari bandhi hui hawa jaati rahegi, aur sabr karo, beshak Allah sabr walon ke saath hai,
(ف87)اس آیت سے معلوم ہوا کہ باہمی تنازع ضعف و کمزوری اور بے وقاری کا سبب ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ باہمی تنازع سے محفوظ رہنے کی تدبیر خدا اور رسول کی فرماں برداری اور دین کا اِتِّباع ہے ۔(ف88)ان کا معین و مددگار ۔
اور ان جیسے نہ ہوتا جو اپنے گھر سے نکلے اتراتے اور لوگوں کے دکھانے کو اور اللہ کی راہ سے روکتے (ف۸۹) اور ان کے سب کام اللہ کے قابو میں ہیں،
And do not be like those who came out from their houses proudly, and to be seen by men, and they prevent people from Allah’s way; and all their actions are within Allah’s control.
और उन जैसे न होना जो अपने घर से निकले इतराते और लोगों के दिखाने को और अल्लाह की राह से रोकते और उनके सब काम अल्लाह के क़ाबू में हैं,
Aur un jese na hona jo apne ghar se nikle itraate aur logon ko dikhane ko aur Allah ki raah se rokte, aur unke sab kaam Allah ke qaboo mein hain,
(ف89)شانِ نُزوُل : یہ آیت کُفّارِ قریش کے حق میں نازِل ہوئی جو بدر میں بہت اتراتے اور تکبّر کرتے آئے تھے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی یاربّ یہ قریش آگئے تکبّر و غُرور میں سرشار اور جنگ کے لئے تیار ، تیرے رسول کو جھٹلاتے ہیں ۔ یاربّ اب وہ مدد عنایت ہو جس کا تو نے وعدہ کیا تھا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب ابوسفیان نے دیکھا کہ قافلہ کو کوئی خطرہ نہیں رہا تو انہوں نے قریش کے پاس پیام بھیجا کہ تم قافلہ کی مدد کے لئے آئے تھے اب اس کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے لہذا واپس جاؤ ۔ اس پر ابو جہل نے کہا کہ خدا کی قسم ہم واپس نہ ہوں گے یہاں تک کہ ہم بدر میں اُتریں ، تین روز قیام کریں ، اونٹ ذَبح کریں ، بہت سے کھانے پکائیں ، شرابیں پئیں ، کنیزوں کا گانا بجانا سنیں ، عرب میں ہماری شہرت ہو اور ہماری ہیبت ہمیشہ باقی رہے لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا جب وہ بدر میں پہنچے تو جامِ شراب کی جگہ انہیں ساغرِ موت پینا پڑا اور کنیزوں کی ساز و نوا کی جگہ رونے والیاں انہیں روئیں ۔ اللہ تعالٰی مؤمنین کو حکم فرماتا ہے کہ اس واقعہ سے عبرت حاصل کریں اور سمجھ لیں کہ فخر و ریا اور غرور تکبّر کا انجام خراب ہے ، بندے کو اخلاص اور اطاعتِ خدا اور رسول چاہئے ۔
اور جبکہ شیطان نے ان کی نگاہ میں ان کے کام بھلے کر دکھائے (ف۹۰) اور بولا آج تم پر کوئی شخص غالب آنے والا نہیں اور تم میری پناہ میں ہو تو جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے الٹے پاؤں بھاگا اور بولا میں تم سے الگ ہوں (ف۹۱) میں وہ دیکھتا ہوں جو تمہیں نظر نہیں آتا (ف۹۲) میں اللہ سے ڈرتا ہوں (ف۹۳) اور اللہ کا عذاب سخت ہے،
And when Satan made their deeds seem good in their sight and said, “This day no one can overpower you, and you are under my protection”; so when the two armies came face to face, he scrambled back and said, “I am unconcerned with you – I can see what is not visible to you – I fear Allah”; and Allah’s punishment is severe.
और जबकि शैतान ने उनकी निगाह में उनके काम भले कर दिखाए और बोला आज तुम पर कोई शख़्स ग़ालिब आने वाला नहीं और तुम मेरी पनाह में हो तो जब दोनों लश्कर आमने सामने हुए उल्टे पाँव भागा और बोला मैं तुम से अलग हूँ मैं वो देखता हूँ जो तुम्हें नज़र नहीं आता मैं अल्लाह से डरता हूँ और अल्लाह का अज़ाब सख़्त है,
Aur jabke shaitaan ne unki nigah mein unke kaam bhale kar dikhaye aur bola aaj tum par koi shakhs ghaalib aane wala nahin aur tum meri panaah mein ho, to jab donon lashkar aamne saamne hue ulte paon bhaaga aur bola main tumse alag hoon, main woh dekhta hoon jo tumhein nazar nahin aata, main Allah se darta hoon, aur Allah ka azaab sakht hai,
(ف90)اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عداوت اور مسلمانوں کی مخالفت میں جو کچھ انہوں نے کیا تھا اس پر ان کی تعریفیں کیں اور انہیں خبیث اعمال پر قائم رہنے کی رغبت دلائی اور جب قریش نے بدر میں جانے پر اتفاق کرلیا تو انہیں یاد آیا کہ ان کے اور قبیلۂ بنی بکر کے درمیان عداوت ہے ممکن تھا کہ وہ یہ خیال کرکے واپسی کا قصد کرتے ، یہ شیطان کو منظور نہ تھا اس لئے اس نے یہ فریب کیا کہ وہ سراقہ بن مالک بن جعثم بنی کنانہ کے سردار کی صورت میں نمودار ہوا اور ایک لشکر اور ایک جھنڈا ساتھ لے کرمشرکین سے آملا اور ان سے کہنے لگا کہ میں تمہارا ذمہ دار ہوں ، آج تم پر کوئی غالب آنے والا نہیں جب مسلمانوں اور کافِروں کے دونوں لشکر صف آرا ہوئے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مشتِ خاک مشرکین کے مُنہ پر ماری اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور حضرت جبریل ، ابلیسِ لعین کی طرف بڑھے جوسراقہ کی شکل میں حارث بن ہشام کا ہاتھ پکڑ ے ہوئے تھا وہ ہاتھ چھٹا کر مع اپنے گروہ کے بھاگا ۔ حارث پکارتا رہ گیا سراقہ سراقہ تم تو ہمارے ضامن ہوئے تھے کہا ں جاتے ہو ، کہنے لگا مجھے وہ نظر آتا ہے جو تمہیں نظر نہیں آتا ۔ اس آیت میں اس واقعہ کا بیان ہے ۔(ف91)اور امن کی جو ذمہ داری لی تھی اس سے سبک دوش ہوتا ہوں ۔ اس پر حار ث بن ہشام نے کہا کہ ہم تیرے بھروسہ پر آئے تھے اس حالت میں ہمیں رسوا کرے گا ، کہنے لگا ۔(ف92)یعنی لشکرِ ملائکہ ۔(ف93)کہیں وہ مجھے ہلاک نہ کردے ۔ جب کُفّار کو ہزیمت ہوئی اور وہ شکست کھا کر مکّۂ مکرّمہ پہنچے تو انہوں نے یہ مشہور کیا کہ ہماری شکست و ہزیمت کا باعث سراقہ ہوا ، سراقہ کو یہ خبر پہنچی تو اسے حیرت ہوئی اور اس نے کہا یہ لوگ کیا کہتے ہیں نہ مجھے ان کے آنے کی خبر ، نہ جانے کی ، ہزیمت ہوگئی جب میں نے سنا ہے تو قریش نے کہا کہ تو فلاں فلاں روز ہمارے پاس آیا تھا اس نے قسم کھائی کہ یہ غلط ہے تب انہیں معلوم ہوا کہ وہ شیطان تھا ۔
جب کہتے تھے منافق (ف۹٤) اور وہ جن کے دلوں میں آزار ہے (ف۹۵) کہ یہ مسلمان اپنے دین پر مغرور ہیں (ف۹٦) اور جو اللہ پر بھروسہ کرے (ف۹۷) تو بیشک اللہ (ف۹۸) غالب حکمت والا ہے،
When the hypocrites and those in whose hearts is a disease were saying, “These Muslims are proud of their religion”; and whoever trusts Allah, then indeed Allah is Almighty, Wise.
जब कहते थे मुनाफ़िक़ और वो जिनके दिलों में आज़ार है कि ये मुसलमान अपने दीन पर मग़रूर हैं और जो अल्लाह पर भरोसा करे तो बेशक अल्लाह ग़ालिब हिकमत वाला है,
Jab kehte the munafiq aur woh jinke dilon mein aazar hai ke yeh Musalman apne deen par magroor hain, aur jo Allah par bharosa kare to beshak Allah ghaalib hikmat wala hai,
(ف94)مدینہ کے ۔(ف95)یہ مکّۂ مکرّمہ کے کچھ لوگ تھے جنہوں نے کلمۂ اسلام تو پڑھ لیا تھا مگر ابھی تک ان کے دلوں میں شک و تردُّد باقی تھا ۔ جب کُفّارِ قریش سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کے لئے نکلے یہ بھی ان کے ساتھ بدر میں پہنچے ، وہاں جا کر مسلمانوں کو قلیل دیکھا تو شک اور بڑھا اور مُرتدّ ہوگئے اور کہنے لگے ۔(ف96)کہ باوجود اپنی ایسی قلیل تعداد کے ایسے لشکر گراں کے مقابل ہوگئے ۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے ۔(ف97)اور اپنا کام اس کے سپرد کردے اور اس کے فضل و احسان پر مطمئن ہو ۔(ف98)اس کا حافِظ و ناصر ہے ۔
اور کبھی تو دیکھے جب فرشتے کافروں کی جان نکالتے ہیں مار رہے ہیں ان کے منہ پر اور ان کی پیٹھ پر (ف۹۹) اور چکھو آگ کا عذاب ،
And if you see the angels when they are removing the souls of the disbelievers, hitting them on their faces and their backs; “Taste more of the punishment of the fire!” (Punishment in the grave is proven by this verse.)
और कभी तो देखे जब फ़रिश्ते काफ़िरों की जान निकालते हैं मार रहे हैं उनके मुँह पर और उनकी पीठ पर और चखो आग का अज़ाब,
Aur kabhi to dekhe jab farishte kafiron ki jaan nikalte hain, maar rahe hain unke munh par aur unki peeth par aur chakho aag ka azaab,
(ف99)لوہے کہ گُرز جو آ گ میں لال کئے ہوئے ہیں اور ان سے جو زخم لگتا ہے اس میں آ گ پڑتی ہے اور سوزش ہوتی ہے ، ان سے مار کر فرشتے کافِروں سے کہتے ہیں ۔
جیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا دستور (ف۱۰۳) وہ اللہ کی آیتوں کے منکر ہوئے تو اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑا بیشک اللہ قوت والا سخت عذاب والا ہے،
Like the ways of Firaun’s people, and those before them; they disbelieved in the signs of Allah – therefore Allah seized them on account of their sins; indeed Allah is Most Powerful, Severe in Punishing.
जैसे फिरऔन वालों और उन से अगलों का दस्तूर वो अल्लाह की आयतों के मुनकिर हुए तो अल्लाह ने उन्हें उनके गुनाहों पर पकड़ा बेशक अल्लाह क़ुव्वत वाला सख़्त अज़ाब वाला है,
Jaise Firaun walon aur unse aglon ka dastoor, woh Allah ki aayaton ke munkir hue to Allah ne unhein unke gunahon par pakda, beshak Allah quwwat wala sakht azaab wala hai,
(ف103)یعنی ان کافِروں کی عادت کُفر و سرکشی میں فرعونی اور ان سے پہلوں کی مثل ہے تو جس طرح وہ ہلاک کئے گئے یہ بھی روزِ بدر قتل و قید میں مبتلا کئے گئے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جس طرح فرعونیوں نے حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی نبوّت کو یہ یقین جان کر ان کی تکذیب کی یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کو جان پہچان کر تکذیب کرتے ہیں ۔
یہ اس لیے کہ اللہ کسی قوم سے جو نعمت انہیں دی تھی بدلتا نہیں جب تک وہ خود نہ بدل جائیں (ف۱۰٤) اور بیشک اللہ سنتا جانتا ہے
This is because Allah does not change the favour He has bestowed upon any people until they first change themselves, and indeed Allah is All Hearing, All Knowing.
ये इस लिए कि अल्लाह किसी क़ौम से जो नेमत उन्हें दी थी बदलता नहीं जब तक वो ख़ुद न बदल जाएँ और बेशक अल्लाह सुनता जानता है
Yeh is liye ke Allah kisi qoum se jo ne’mat unhein di thi badalta nahin jab tak woh khud na badal jaayein, aur beshak Allah sunta jaanta hai,
(ف104)اور زیادہ بدتر حال میں مبتلا نہ ہوں جیسے کہ اللہ تعالٰی نے کُفّارِ مکّہ کو روزی دے کر بھوک کی تکلیف رفع کی ، امن دے کر خوف سے نجات دی اور ان کی طرف اپنے حبیب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی بنا کر مبعوث کیا ۔ انہوں نے ان نعمتوں پر شکر تو نہ کیا بجائے اس کے یہ سرکشی کی کہ نبی علیہ الصلٰوۃ والسلام کی تکذیب کی ، ان کی خوں ریزی کے درپے ہوئے اور لوگوں کو راہِ حق سے روکا ۔ سدی نے کہا کہ اللہ کی نعمت حضرت سیدِ انبیاء محمّدِمصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔
جیسے فرعون والوں اور ان سے اگلوں کا دستور، انہوں نے اپنے رب کی آیتیں جھٹلائیں تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کیا اور ہم نے فرعون والوں کو ڈبو دیا (ف۱۰۵) اور وہ سب ظالم تھے،
Like the ways of Firaun’s people and those before them; they denied the signs of Allah – We therefore destroyed them on account of their sins and We drowned the people of Firaun; and they all were unjust.
जैसे फिरऔन वालों और उन से अगलों का दस्तूर, उन्होंने अपने रब की आयतें झुठलाईं तो हमने उनको उनके गुनाहों के सबब हलाक किया और हमने फिरऔन वालों को डुबो दिया और वो सब ज़ालिम थे,
Jaise Firaun walon aur unse aglon ka dastoor, unhone apne Rab ki aayatein jhutlayin to humne unko unke gunahon ke sabab halaak kiya aur humne Firaun walon ko dooba diya aur woh sab zaalim the,
(ف105)ایسے ہی یہ کُفّارِ قریش ہیں جنہیں بدر میں ہلاک کیا گیا ۔
وہ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر ہر بار اپنا عہد توڑ دیتے ہیں (ف۱۰٦) اور ڈرتے نہیں (ف۱۰۷)
Those with whom you made a treaty, then they break their agreement each time and do not fear.
वो जिन से तुम ने मुआहदा किया था फिर हर बार अपना अहद तोड़ देते हैं और डरते नहीं
Woh jinse tumne mo’aahida kiya tha phir har baar apna ahd tod dete hain aur darte nahin,
(ف106)شانِ نزول : اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ اور اس کے بعد کی آیتیں بنی قُریظہ کے یہودیوں کے حق میں نازِل ہوئیں جن کا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عہد تھا کہ وہ آپ سے نہ لڑیں گے ، نہ آپ کے دشمنوں کی مدد کریں گے ، انہوں نے عہد توڑا اور مشرکینِ مکّہ نے جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کی تو انھوں نے ہتھیاروں سے ان کی مدد کی پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معذرت کی کہ ہم بھول گئے تھے اور ہم سے قصور ہوا پھر دوبارہ عہد کیا اور اس کو بھی توڑا ۔ اللہ تعالٰی نے انہیں سب جانوروں سے بدتر بتایا کیونکہ کُفّار سب جانوروں سے بدتر ہیں اور باوجود کُفر کے عہد شکن بھی ہوں تو اور بھی خراب ۔(ف107)خدا سے نہ عہد شکنی کے خراب نتیجے سے اور نہ اس سے شرماتے ہیں باوجود یہ کہ عہد شکنی ہر عاقل کے نزدیک شرمناک جرم ہے اور عہد شکنی کرنے والا سب کے نزدیک بے اعتبار ہوجاتا ہے ۔ جب اس کی بے غیرتی اس درجہ پہنچ گئی تو یقینا وہ جانوروں سے بدتر ہیں ۔
اور اگر تم کسی قوم سے دغا کا اندیشہ کرو (ف۱۱۰) تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو برابری پر (ف۱۱۱) بیشک دغا والے اللہ کو پسند نہیں،
And if you apprehend treachery from a nation, then throw back their treaty towards them in reciprocity; indeed Allah does not like the treacherous.
और अगर तुम किसी क़ौम से दग़ा का अन्देशा करो तो उनका अहद उनकी तरफ़ फेंक दो बराबरी पर बेशक दग़ा वाले अल्लाह को पसन्द नहीं,
Aur agar tum kisi qoum se dagha ka andesha karo to unka ahd unki taraf phenk do barabari par, beshak dagha walay Allah ko pasand nahin,
(ف110)اور ایسے آثار و قرائن پائے جائیں جن سے ثابت ہو کہ وہ عذر کریں گے اور عہد پر قائم نہ رہیں گے ۔(ف111) یعنی انہیں اس عہد کی مخالفت کرنے سے پہلے آگاہ کردو کہ تمہاری بدعہدی کے قرائن پائے گئے لہذا وہ عہد قابلِ اعتبار نہ رہا اس کی پابندی نہ کی جائے گی ۔
اور ان کے لیے تیار رکھو جو قوت تمہیں بن پڑے (ف۱۱٤) اور جتنے گھوڑے باندھ سکو کہ ان سے ان کے دلوں میں دھاک بٹھاؤ جو اللہ کے دشمن ہیں (ف۱۱۵) اور ان کے سوا کچھ اوروں کے دلوں میں جنہیں تم نہیں جانتے (ف۱۱٦) اللہ انہیں جانتا ہے اور اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرو گے تمہیں پورا دیا جائے گا (ف۱۱۷) اور کسی طرح گھاٹے میں نہ رہو گے،
And keep ready for them the maximum of forces you can and the maximum number of horses you can keep tethered, in order to instil awe in the hearts of those who are the enemies of Allah and who are your enemies, and in the hearts of some others whom you do not know; Allah knows them; and whatever you spend in Allah's cause will be repaid to you in full and you will never be in a loss.
और उनके लिए तैयार रखो जो क़ुव्वत तुम्हें बन पड़े और जितने घोड़े बाँध सको कि उनसे उनके दिलों में धाक बिठाओ जो अल्लाह के दुश्मन हैं और उनके सिवा कुछ औरों के दिलों में जिन्हें तुम नहीं जानते अल्लाह उन्हें जानता है और अल्लाह की राह में जो कुछ खर्च करोगे तुम्हें पूरा दिया जाएगा और किसी तरह घाटे में न रहोगे,
Aur unke liye tayyar rakho jo quwwat tumhein ban paday aur jitne ghode baandh sako, ke unse unke dilon mein dhaak bithaao jo Allah ke dushman hain aur unke siwa kuchh auron ke dilon mein jinhein tum nahin jaante, Allah unhein jaanta hai, aur Allah ki raah mein jo kuchh kharch karoge tumhein poora diya jaayega aur kisi tarah ghaate mein na rahoge,
(ف114)خواہ وہ ہتھیار ہوں یا قلعے یا تیر اندازی ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں قوت کے معنٰی رمی یعنی تیر اندازی بتائے ۔(ف115)یعنی کُفّار اہلِ مکّہ ہوں یا دوسرے ۔(ف116)ابنِ زید کا قول ہے کہ یہاں اوروں سے منافقین مراد ہیں ۔ حسن کا قول ہے کہ کافِر جن ۔(ف117)اس کی جزا وافر ملے گی ۔
اور ان کے دلوں میں میل کردیا (ف۱۲۰) اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کردیتے ان کے دل نہ ملا سکتے (ف۱۲۱) لیکن اللہ نے ان کے دل ملادیئے، بیشک وہی ہے غالب حکمت والا،
And has created harmony among their hearts; if you had spent all that is in the earth you could not have created harmony among their hearts, but Allah has created harmony among them; indeed He only is Almighty, Wise.
और उनके दिलों में मेल कर दिया अगर तुम ज़मीन में जो कुछ है सब खर्च कर देते उनके दिल न मिला सकते लेकिन अल्लाह ने उनके दिल मिला दिए, बेशक वही है ग़ालिब हिकमत वाला,
Aur unke dilon mein mail kar diya, agar tum zameen mein jo kuchh hai sab kharch kar dete unke dil na mila sakte, lekin Allah ne unke dil mila diye, beshak wohi hai ghaalib hikmat wala,
(ف120)جیسا کہ قبیلۂ اوس و خزرج میں مَحبت و الفت پیدا کردی باوجود یہ کہ ان میں سو برس سے زیادہ کی عداوتیں تھیں اور بڑی بڑی لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں ، یہ مَحض اللہ کا کرم ہے ۔(ف121) یعنی ان کی باہمی عداوت اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ انہیں ملادینے کے لئے تمام سامان بے کار ہو چکے تھے اور کوئی صورت باقی نہ رہی تھی ، ذرا ذرا سی بات میں بگڑ جاتے اور صدیوں تک جنگ باقی رہتی ، کسی طرح دو دل نہ مل سکتے جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوئے اور عرب لوگ آپ پر ایمان لائے اور انہوں نے آپ کا اِتِّباع کیا تو یہ حالت بدل گئی اور دلوں سے دیرینہ عداوتیں اور کینے دور ہوئے اور ایمانی مَحبتیں پیدا ہوئیں ۔ یہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روشن معجِزہ ہے ۔
اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) اللہ تمہیں کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے، (ف۱۲۲)
O Herald of the Hidden! Allah is Sufficient for you and for all these Muslims who follow you.
ऐ ग़ैब की ख़बरें बताने वाले (नबी) अल्लाह तुम्हें काफ़ी है और ये जितने मुसलमान तुम्हारे पैरो हुए,
Ae ghaib ki khabrein batane wale (Nabi), Allah tumhein kaafi hai aur yeh jitne Musalman tumhare pairwi hue,
(ف122)شانِ نُزُول : سعید بن جبیر حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کے بارے میں نازِل ہوئی ۔ ایمان سے صرف تینتیس مرد اور چھ عورتیں مشرّف ہوچکے تھے تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے ۔ اس قول کی بنا پر یہ آیت مکّی ہے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے مدنی سورت میں لکھی گئی ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت غزوۂ بدر میں قبلِ قتال نازِل ہوئی اس تقدیر پر آیت مدنی ہے اور مؤمنین سے یہاں ایک قول میں انصار ، ایک میں تمام مہاجرین و انصار مراد ہیں ۔
اے غیب کی خبریں بتانے والے! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو اگر تم میں کے بیس صبر والے ہوں گے دو سو پر غالب ہوں گے اور اگر تم میں کے سو ہوں تو کافروں کے ہزار پر غالب آئیں گے اس لیے کہ وہ سمجھ نہیں رکھتے، (ف۱۲۳)
O Herald of the Hidden! Urge the believers to fight; if there are twenty persevering men among you, they shall overcome two hundred; and if there are a hundred among you, they shall overcome a thousand disbelievers because the disbelievers are a people who do not have sense.
ऐ ग़ैब की ख़बरें बताने वाले! मुसलमानों को जिहाद की तरग़ीब दो अगर तुम में के बीस सब्र वाले होंगे दो सौ पर ग़ालिब होंगे और अगर तुम में के सौ हों तो काफ़िरों के हज़ार पर ग़ालिब आएँगे इस लिए कि वो समझ नहीं रखते,
Ae ghaib ki khabrein batane wale! Musalmanon ko jihad ki targheeb do, agar tum mein ke bees sabr wale honge do sau par ghaalib honge, aur agar tum mein ke sau hon to kafiron ke hazaar par ghaalib aayenge, is liye ke woh samajh nahin rakhte,
(ف123)یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے وعدہ اور بِشارت ہے کہ مسلمانوں کی جماعت صابر رہے تو بمددِ الٰہی دس گنے کافِروں پر غالب رہے گی کیونکہ کُفّار جاہل ہیں اور ان کی غرض جنگ سے نہ حصولِ ثواب ہے ، نہ خوفِ عذاب ، جانوروں کی طرح لڑتے بھڑتے ہیں تو وہ لِلّٰہِیّت کے ساتھ لڑنے والوں کے مقابل کیا ٹھہر سکیں گے ۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازِل ہوئی تو مسلمانوں پر فرض کردیا گیا کہ مسلمانوں کا ایک ، دس کے مقابلہ سے نہ بھاگے پھر آیت اَلْاٰنَ خَفَّفَ اللّٰہُ نازِل ہوئی تو یہ لازم کیا گیا کہ ایک سو ، دو سو ۲۰۰ کے مقابل قائم رہیں یعنی دس گنے سے مقابلہ کی فرضیت منسوخ ہوئی اور دو گنے کے مقابلہ سے بھاگنا ممنوع رکھا گیا ۔
اب اللہ نے تم پر سے تخفیف فرمائی اور اسے علم کہ تم کمزور ہو تو اگر تم میں سو صبر والے ہوں دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں کے ہزار ہوں تو دو ہزار پر غالب ہوں گے اللہ کے حکم سے اور اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے،
So now Allah has made an ease upon you and He knows that you are weak; so if there are a hundred persevering men among you, they shall overcome two hundred; and if there are a thousand among you, they shall overcome two thousand by the command of Allah; and Allah is with those who patiently endure.
अब अल्लाह ने तुम पर से तख़फ़ीफ़ फ़रमाई और उसे इल्म कि तुम कमज़ोर हो तो अगर तुम में सौ सब्र वाले हों दो सौ पर ग़ालिब आएँगे और अगर तुम में के हज़ार हों तो दो हज़ार पर ग़ालिब होंगे अल्लाह के हुक्म से और अल्लाह सब्र वालों के साथ है,
Ab Allah ne tum par se takhfeef farmaayi aur usse ilm ke tum kamzor ho, to agar tum mein sau sabr wale hon do sau par ghaalib aayenge aur agar tum mein ke hazaar hon to do hazaar par ghaalib honge Allah ke hukm se, aur Allah sabr walon ke saath hai,
کسی نبی کو لائئق نہیں کہ کافروں کو زندہ قید کرلے جب تک زمین میں ان کا خون خوب نہ بہائے (ف۱۲٤) تم لوگ دنیا کا مال چاہتے ہو (ف۱۲۵) اور اللہ آخرت چاہتا ہے (ف۱۲٦) اور اللہ غالب حکمت والا ہے
It does not befit any Prophet to capture the disbelievers alive until he has profusely shed their blood in the land; you people desire the wealth of this world; and Allah wills the Hereafter, and Allah is Almighty, Wise.
किसी नबी को लायक़ नहीं कि काफ़िरों को ज़िन्दा क़ैद कर ले जब तक ज़मीन में उनका ख़ून ख़ूब न बहाए तुम लोग दुनिया का माल चाहते हो और अल्लाह आख़िरत चाहता है और अल्लाह ग़ालिब हिकमत वाला है
Kisi Nabi ko laayiq nahin ke kafiron ko zinda qaid kar le jab tak zameen mein unka khoon khoob na bahaaye, tum log duniya ka maal chahte ho aur Allah aakhirat chahta hai, aur Allah ghaalib hikmat wala hai,
(ف124)اور قتلِ کُفّار میں مبالغہ کرکے کُفر کی ذلّت اور اسلام کی شوکت کا اظہار نہ کرے ۔ شانِ نُزول : مسلم شریف وغیرہ کی احادیث میں ہے کہ جنگِ بدر میں ستّر کافِر قید کرکے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں لائے گئے حضور نے ان کے متعلق صحابہ سے مشورہ طلب فرمایا حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا کہ یہ آپ کی قوم و قبیلے کے لوگ ہیں میری رائے میں انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اس سے مسلمانوں کو قوت بھی پہنچے گی اور کیا عجب ہے کہ اللہ تعالٰی ان لوگوں کو اسلام نصیب کرے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان لوگوں نے آپ کی تکذیب کی آپ کو مکۂ مکرّمہ میں نہ رہنے دیا یہ کُفر کے سردار اور سرپرست ہیں ان کی گردنیں اُڑائیں ۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو فدیہ سے غنی کیا ہے علی مرتضٰی کو عقیل پر اور حضرت حمزہ کو عباس پر اور مجھے میرے قرابتی پر مقرر کیجئے کہ ان کی گردنیں مار دیں آخرکار فدیہ ہی لینے کی رائے قرار پائی اور جب فدیہ لیا گیا تو یہ آیت نازِل ہوئی ۔(ف125)یہ خطاب مؤمنین کو ہے اور مال سے فدیہ مراد ہے ۔(ف126)یعنی تمہارے لئے آخرت کا ثواب جو قتلِ کفّار و اعزازِ اسلام پر مرتب ہے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ حکم بدر میں تھا جبکہ مسلمان تھوڑے تھے پھر جب مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوئی اور وہ فضلِ الٰہی سے قوی ہوئے تو قیدیوں کے حق میں نازِل ہوئی فَاِمَّا مَنًّامْ بَعْدُ وَاِمَّا فِدَآئً اور اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مؤمنین کو اختیار دیا کہ چاہے کافِروں کو قتل کریں چاہے انہیں غلام بنائیں چاہے فدیہ لیں چاہے آزاد کریں ۔ بدر کے قیدیوں کا فدیہ چالیس اوقیہ سونا فی کس تھا جس کے سولہ سو درہم ہوئے ۔
اگر اللہ پہلے ایک بات لکھ نہ چکا ہوتا (ف۱۲۷) تو اے مسلمانو! تم نے جو کافروں سے بدلے کا مال لے لیا اس میں تم پر بڑا عذاب آتا،
Had Allah not pre-destined a matter then, O Muslims, a terrible punishment would have come upon you due to the ransom you took from the disbelievers.
अगर अल्लाह पहले एक बात लिख न चुका होता तो ऐ मुसलमानो! तुम ने जो काफ़िरों से बदले का माल ले लिया उसमें तुम पर बड़ा अज़ाब आता,
Agar Allah pehle ek baat likh na chuka hota to ae Musalmano! Tumne jo kafiron se badlay ka maal le liya us mein tum par bada azaab aata,
(ف127)یہ کہ اجتہاد پر عمل کرنے والے سے مواخذہ نہ فرمائے گا اور یہاں صحابہ نے اجتہاد ہی کیا تھا اور انکی فکر میں یہی بات آئی تھی کہ کافِروں کو زندہ چھوڑ دینے میں ان کے اسلام لانے کی امید ہے اور فدیہ لینے میں دین کو تقویت ہوتی ہے اور اس پر نظر نہیں کی گئی کہ قتل میں عزت اسلام اور تہدیدِ کُفّار ہے ۔ مسئلہ : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس دینی معاملہ میں صحابہ کی رائے دریافت فرمانا مشروعیتِ اجتہاد کی دلیل ہے یا کِتَابٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ سے وہ مراد ہے جو اس نے لوحِ محفوظ میں لکھا کہ اہلِ بدر پر عذاب نہ کیا جائے گا ۔
تو کھاؤ جو غنیمت تمہیں ملی حلال پاکیزہ (ف۱۲۸) اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
Therefore benefit from the booty you have received, lawful and good; and keep fearing Allah; indeed Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.
तो खाओ जो ग़नीमत तुम्हें मिली हलाल पाकीज़ा और अल्लाह से डरते रहो बेशक अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है,
To khao jo ghanimat tumhein mili halal paakiza, aur Allah se darte raho, beshak Allah bakhshne wala meherbaan hai,
(ف128)جب اوپر کی آیت نازِل ہوئی تو اصحابِ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو فدیئے لئے تھے ان سے ہاتھ روک لئے ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور بیا ن فرمایا گیا کہ تمھاری غنیمتیں حلال کی گئیں انھیں کھاؤ ۔ صحیحین کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمارے لئے غنیمتیں حلال کیں ہم سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ کی گئی تھیں ۔
اے غیب کی خبریں بتانے والے جو قیدی تمہارے ہاتھ میں ہیں ان سے فرماؤ (ف۱۲۹) اگر اللہ نے تمہارے دل میں بھلائی جانی (ف۱۳۰) تو جو تم سے لیا گیا (ف۱۳۱) اس سے بہتر تمہیں عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۱۳۲)
O Herald of the Hidden! Say to the captives whom you possess, “If Allah finds any goodness in your hearts, He will give you better than what has been taken from you, and will forgive you; and Allah is Oft Forgiving, Most Merciful.”
ऐ ग़ैब की ख़बरें बताने वाले जो क़ैदी तुम्हारे हाथ में हैं उनसे फ़रमाओ अगर अल्लाह ने तुम्हारे दिल में भलाई जानी तो जो तुम से लिया गया उस से बेहतर तुम्हें अता फ़रमाएगा और तुम्हें बख़्श देगा और अल्लाह बख़्शने वाला मेहरबान है
Ae ghaib ki khabrein batane wale! Jo qaidi tumhare haath mein hain unse farmao, agar Allah ne tumhare dil mein bhalai jaani to jo tumse liya gaya usse behtar tumhein ata farmaayega aur tumhein bakhsh dega, aur Allah bakhshne wala meherbaan hai,
(ف129)شانِ نُزُول : یہ آیت حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازِل ہوئی ہے جو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ہیں ، یہ کُفّارِ قریش کے ان دس سرداروں میں سے تھے جنہوں نے جنگِ بدر میں لشکرِ کُفّار کے کھانے کی ذمہ داری لی تھی اور یہ اس خرچ کے لئے بیس اوقیہ سونا ساتھ لے کر چلے تھے (ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے) لیکن ان کے ذمے جس دن کھلانا تجویز ہوا تھا خاص اسی روز جنگ کا واقعہ پیش آیا اور قتال میں کھانے کھلانے کی فرصت و مہلت نہ ملی تو یہ بیس اوقیہ سونا ان کے پاس بچ رہا جب وہ گرفتار ہوئے اور یہ سونا ان سے لے لیا گیا تو انہوں نے درخواست کی کہ یہ سونا ان کے فدیہ میں محسوب کر لیا جائے مگر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار فرمایا ۔ ارشاد کیا جو چیز ہماری مخالفت میں صرف کرنے کے لئے لائے تھے وہ نہ چھوڑی جائے گی اور حضرت عباس پر ان کے دونوں بھتیجوں عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث کے فدیئے کا بار بھی ڈالا گیا تو حضرت عباس نے عرض کیا یا محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم مجھے اس حال میں چھوڑو گے کہ میں باقی عمر قریش سے مانگ مانگ کر بسر کیا کروں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر وہ سونا کہاں ہے جس کو تمہارے مکّۂ مکرّمہ سے چلتے وقت تمہاری بی بی ام الفضل نے دفن کیا ہے اور تم ان سے کہہ کر آئے ہو کہ خبر نہیں ہے مجھے کیا حادثہ پیش آئے اگر میں جنگ میں کام آجاؤں تو یہ تیرا ہے اور عبداللہ اور عبید اللہ کا اور فضل اور قثم کا ( سب انکے بیٹے تھے ) حضرت عباس نے عرض کیا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے میرے ربّ نے خبردار کیا ہے اس پر حضرت عباس نے عرض کیا میں گواہی دیتا ہوں بے شک آپ سچے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اس کے بندے اور رسول ہیں میرے اس راز پر اللہ کے سوا کوئی مطّلِع نہ تھا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے بھتیجوں عقیل و نوفل کو حکم دیا وہ بھی اسلام لائے ۔(ف130)خلوصِ ایمان اور صحتِ نیّت سے ۔(ف131)یعنی فدیہ ۔(ف132)جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بحرین کا مال آیا جس کی مقدار اسّی ہزار تھی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ ظہر کے لئے وضو کیا اور نماز سے پہلے پہلے کُل کا کُل تقسیم کر دیا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس میں سے لے لو تو جتنا ان سے اٹھ سکا اتنا انہوں نے لے لیا وہ فرماتے تھے کہ یہ اس سے بہتر ہے کہ جو اللہ نے مجھ سے لیا اور میں اس کی مغفرت کی امید رکھتا ہوں اور ان کے تموّل کا یہ حال ہوا کہ ان کے بیس غلام تھے سب کے سب تاجر اور ان میں سب سے کم سرمایہ جس کا تھا اس کا بیس ہزار کا تھا ۔
اور اے محبوب اگر وہ (ف۱۳۳) تم سے دغا چاہیں گے (ف۱۳٤) تو اس سے پہلے اللہ ہی کی خیانت کرچکے ہیں جس پر اس نے اتنے تمہارے قابو میں دے دیے (ف۱۳۵) اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے،
And if they wish to deceive you, they have already been disloyal to Allah, because of which He has given these disbelievers in your control; and Allah is All Knowing, Wise.
और ऐ महबूब अगर वो तुम से दग़ा चाहेंगे तो उस से पहले अल्लाह ही की ख़यानत कर चुके हैं जिस पर उसने इतने तुम्हारे क़ाबू में दे दिए और अल्लाह जानने वाला हिकमत वाला है,
Aur ae Mehboob! Agar woh tumse dagha chahenge to usse pehle Allah hi ki khiyanat kar chuke hain, jis par usne itne tumhare qaboo mein de diye, aur Allah jaane wala hikmat wala hai,
(ف133)وہ قیدی ۔(ف134)تمہاری بیعت سے پھر کر اور کُفر اختیار کرکے ۔(ف135)جیسا کہ وہ بدر میں دیکھ چکے ہیں کہ قتل ہوئے ، گرفتار ہوئے ، آئندہ بھی اگر ان کے اطوار وہی رہے تو انہیں اسی کا امید وار رہنا چاہئے ۔
بیشک جو ایمان لائے اور اللہ کے لیے (ف۱۳٦) گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے لڑے (ف۱۳۷) اور وہ جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی (ف۱۳۸) وہ ایک دوسرے کے وارث ہیں (ف۱۳۹) اور وہ جو ایمان لائے (ف۱٤۰) اور ہجرت نہ کی انہیں ان کا ترکہ کچھ نہیں پہنچتا جب تک ہجرت نہ کریں اور اگر وہ دین میں تم سے مدد چاہیں تو تم پر مدد دینا واجب ہے مگر ایسی قوم پر کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے، اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
Indeed those who accepted faith and left their homes and belongings for Allah, and fought with their wealth and their lives in Allah's cause, and those who gave shelter and provided help, are the heirs of one another; and those who believed but did not leave their homes – you have no right in their estates until they migrate; and if they seek help from you in the matter of religion then it is your duty to provide help, except against the people between whom and you is a treaty; and Allah sees your deeds.
बेशक जो ईमान लाए और अल्लाह के लिए घर बार छोड़े और अल्लाह की राह में अपने मालों और जानों से लड़े और वो जिन्होंने जगह दी और मदद की वो एक दूसरे के वारिस हैं और वो जो ईमान लाए और हिजरत न की उन्हें उनका तर्का कुछ नहीं पहुँचता जब तक हिजरत न करें और अगर वो दीन में तुम से मदद चाहें तो तुम पर मदद देना वाजिब है मगर ऐसी क़ौम पर कि तुम में उनके साथ मुआहदा है, और अल्लाह तुम्हारे काम देख रहा है,
Beshak jo imaan laaye aur Allah ke liye ghar baar chhode aur Allah ki raah mein apne maalon aur jaanon se lade aur woh jinhone jagah di aur madad ki, woh ek doosre ke waaris hain, aur woh jo imaan laaye aur hijrat na ki unhein unka tarka kuchh nahin pohnchta jab tak hijrat na karein, aur agar woh deen mein tumse madad chahein to tum par madad dena wajib hai magar aisi qoum par ke tum mein unmein mo’aahida hai, aur Allah tumhare kaam dekh raha hai,
(ف136)اور اسی کے رسول کی مَحبت میں انہوں نے اپنے ۔(ف137)یہ مہاجرینِ اوّلین ہیں ۔(ف138)مسلمانوں کی اور انہیں اپنے مکانوں میں ٹھرایا یہ انصار ہیں ۔ ان مہاجرین اور انصار دونوں کے لئے ارشاد ہوتا ہے ۔(ف139)مہاجر انصار کے اور انصار مہاجر کے ۔ یہ وراثت آیت وَاُولُوالْاَ رْحَامِ بَعْضُھُمْ اَولیٰ بِبَعْضِ سے منسوخ ہوگئی ۔(ف140)اور مکّۂ مکرّمہ ہی میں مقیم رہے ۔
اور کافر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں (ف۱٤۱) ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا (ف۱٤۲)
And the disbelievers are the heirs of one another – if you do not do so, there will be turmoil in the land and a great chaos.
और काफ़िर आपस में एक दूसरे के वारिस हैं ऐसा न करोगे तो ज़मीन में फ़ितना और बड़ा फ़साद होगा
Aur kafir aapas mein ek doosre ke waaris hain, aisa na karoge to zameen mein fitna aur bada fasaad hoga,
(ف141) ان کے اور مؤمنین کے درمیان وراثت نہیں ۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کو کُفّار کی موالات و موارثت سے منع کیا گیا اور ان سے جدا رہنے کا حکم دیا گیا اور مسلمانوں پر باہم میل جول رکھنا لازم کیا گیا ۔(ف142)یعنی اگر مسلمانوں میں باہم تعاون و تناصُر نہ ہو اور وہ ایک دوسرے کے مددگار ہو کر ایک قوت نہ بن جائیں تو کُفّار قوی ہوں گے اور مسلمان ضعیف اور یہ بڑا فتنہ و فساد ہے ۔
اور وہ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑے اور جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے ایمان والے ہیں، ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی (ف۱٤۳)
And those who believed and migrated and fought in Allah's cause, and those who gave shelter and provided help – it is they who are the true believers; for them is pardon, and an honourable sustenance.
और वो जो ईमान लाए और हिजरत की और अल्लाह की राह में लड़े और जिन्होंने जगह दी और मदद की वही सच्चे ईमान वाले हैं, उनके लिए बख़्शिश है और इज़्ज़त की रोज़ी
Aur woh jo imaan laaye aur hijrat ki aur Allah ki raah mein lade aur jinhone jagah di aur madad ki, wahi sache imaan wale hain, unke liye bakhshish hai aur izzat ki rozi,
(ف143)پہلی آیت میں مہاجرین و انصار کے باہمی تعلقات اور ان میں سے ہر ایک کے دوسرے کے معین و ناصر ہونے کا بیان تھا ۔ اس آیت میں ان دونوں کے ایمان کی تصدیق اور ان کے مَوردِ رحمتِ الٰہی ہونے کا ذکر ہے ۔
اور جو بعد کو ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ جہاد کیا وہ بھی تمہیں میں سے ہیں (ف٤٤) اور رشتہ والے ایک دوسرے سے زیادہ نزدیک ہیں اللہ کی کتاب میں (ف۱٤۵) بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
And those who afterwards believed and migrated and fought along with you – they too are from among you; and family members (blood relations) are nearer to one another in the Book of Allah; indeed Allah knows everything.
और जो बाद को ईमान लाए और हिजरत की और तुम्हारे साथ जिहाद किया वो भी तुम ही में से हैं और रिश्ता वाले एक दूसरे से ज़्यादा नज़दीक हैं अल्लाह की किताब में बेशक अल्लाह सब कुछ जानता है,
Aur jo baad ko imaan laaye aur hijrat ki aur tumhare saath jihad kiya, woh bhi tum mein se hain, aur rishta wale ek doosre se zyada nazdeek hain Allah ki kitaab mein, beshak Allah sab kuchh jaanta hai.
(ف144)اور تمہارے ہی حکم میں ہیں اے مہاجرین و انصار ۔ مہاجرین کے کئی طبقے ہیں ایک وہ ہیں جنہوں نے پہلی مرتبہ مدینۂ طیّبہ کو ہجرت کی انہیں مہاجرینِ اوّلین کہتے ہیں ۔ کچھ وہ حضرات ہیں جنہوں نے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر مدینۂ طیّبہ کی طرف انہیں اصحابُ الہجرتَین کہتے ہیں ۔ بعض حضرات وہ ہیں جنہوں نے صلح حُدیبیہ کے بعد فتحِ مکّہ سے قبل ہجرت کی یہ اصحابِ ہجرتِ ثانیہ کہلاتے ہیں ۔ پہلی آیت میں مہاجرینِ اوّلین کا ذکر ہے اور اس آیت میں اصحابِ ہجرتِ ثانیہ کا ۔(ف145)اس آیت سے توارُث بالہجرت منسوخ کیا گیا اور ذوِی الارحام کی وراثت ثابت ہوئی ۔
Important Update for you:
Read the Holy Quran with Kanzul Iman translation in
Urdu, English, Hindi, and Roman, along with
Khazain-ul-Irfan Tafseer (Urdu).
Use the Toggle ON/OFF options for Translation and Tafseer
for a personalized reading experience.
Also, try our newly added Light/Dark Mode —
simply click the Moon/Sun icon in the top-right corner of the header.
Open Quran Page