Ash-Shams الشمش

پارہ: 30
سورہ: 91
آیات: 15
وَالشَّمۡسِ وَضُحٰٮهَا  ۙ‏ ﴿1﴾

(۱) سورج اور اس کی روشنی کی قسم،

By oath of the sun and its light

وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰٮهَا  ۙ‏ ﴿2﴾

(۲) اور چاند کی جب اس کے پیچھے آئے (ف۲)

And by oath of the moon when it follows the sun

وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰٮهَا ۙ‏ ﴿3﴾

(۳) اور دن کی جب اسے چمکائے (ف۳)

And by oath of the day when it reveals it

وَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰٮهَا ۙ‏ ﴿4﴾

(٤) اور رات کی جب اسے چھپائے (ف٤)

And by oath of the night when it hides it

وَالسَّمَآءِ وَمَا بَنٰٮهَا ۙ‏ ﴿5﴾

(۵) اور آسمان اور اس کے بنانے والے کی قسم،

And by oath of the heaven and by oath of Him Who made it.

وَالۡاَرۡضِ وَمَا طَحٰٮهَا ۙ‏ ﴿6﴾

(٦) اور زمین اور اس کے پھیلانے والے کی قسم،

And by oath of the earth and by oath of Him Who spread it.

وَنَفۡسٍ وَّمَا سَوّٰٮهَا ۙ‏ ﴿7﴾

(۷) اور جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا (ف۵)

And by oath of the soul and by oath of Him Who made it proper.

فَاَلۡهَمَهَا فُجُوۡرَهَا وَتَقۡوٰٮهَا ۙ‏ ﴿8﴾

(۸) پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیزگاری دل میں ڈالی (ف٦)

And inspired in it the knowledge of its sins and its piety.

قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَكّٰٮهَا ۙ‏ ﴿9﴾

(۹) بیشک مراد کو پہنچایا جس نے اسے (ف۷) ستھرا کیا (ف۸)

Indeed successful is the one who made it pure.

وَقَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰٮهَا ؕ‏ ﴿10﴾

(۱۰) اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا،

And indeed failed is the one who covered it in sin.

كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰٮهَآ  ۙ‏ ﴿11﴾

(۱۱) ثمود نے اپنی سرکشی سے جھٹلایا (ف۹)

The tribe of Thamud denied with rebellion.

اِذِ انۡۢبَعَثَ اَشۡقٰٮهَا  ۙ‏ ﴿12﴾

(۱۲) جبکہ اس کا سب سے بدبخت (ف۱۰) اٹھ کھڑا ہوا،

When the most wicked among them stood up in defiance.

فَقَالَ لَهُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقۡيٰهَا ؕ‏ ﴿13﴾

(۱۳) تو ان سے اللہ کے رسول (ف۱۱) نے فرمایا اللہ کے ناقہ (ف۱۲) اور اس کی پینے کی باری سے بچو (ف۱۳)

So the Noble Messenger of Allah said to them, “Stay away from the she camel of Allah, and from its turn to drink.”

فَكَذَّبُوۡهُ فَعَقَرُوۡهَا   ۙفَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۡۢبِهِمۡ فَسَوّٰٮهَا  ۙ‏ ﴿14﴾

(۱٤) تو انہوں نے اسے جھٹلایا پھر ناقہ کی کوچیں کاٹ دیں تو ان پر ان کے رب نے ان کے گناہ کے سبب (ف۱٤) تباہی ڈال کر وہ بستی برابر کردی (ف۱۵)

In response they belied him, and hamstrung the she camel – so Allah put ruin over them because of their sins and flattened their dwellings.

وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا‏ ﴿15﴾

(۱۵) اور اس کے پیچھا کرنے والے کا اسے خوف نہیں (ف۱٦)

And He does not fear its coming behind (to take vengeance).

Scroll to Top