وَالتِّيۡنِ وَالزَّيۡتُوۡنِۙ ﴿1﴾
(۱) انجیر کی قسم اور زیتون (ف۲)
By oath of the fig and of the olive,
وَطُوۡرِ سِيۡنِيۡنَۙ ﴿2﴾
(۲) اور طور سینا (ف۳)
And by oath of Mount Sinai,
وَهٰذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِۙ ﴿3﴾
(۳) اور اس امان والے شہر کی (ف٤)
And by oath of this secure land,
لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِىۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِيۡمٍ ﴿4﴾
(٤) بیشک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا،
We have indeed created man in the best shape.
ثُمَّ رَدَدۡنٰهُ اَسۡفَلَ سَافِلِيۡنَۙ ﴿5﴾
(۵) پھر اسے ہر نیچی سے نیچی حالت کی طرف پھیردیا (ف۵)
We then turned him towards all the lowest of the low states.
اِلَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍؕ ﴿6﴾
(٦) مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ انہیں بیحد ثواب ہے (ف٦)
Except those who accepted faith and did good deeds – for them is a never ending reward.
فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِالدِّيۡنِ ﴿7﴾
(۷) تو اب (ف۷) کیا چیز تجھے انصاف کے جھٹلانے پر باعث ہے (ف۸)
So after this, what causes you to deny the judgement?
اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِاَحۡكَمِ الۡحٰكِمِيۡنَ ﴿8﴾
(۸) کیا اللہ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں،
Is not Allah the Greatest Judge upon all judges?
