حضرات ابوین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا انتقال عہد اسلام سے پہلے تھا تو اس وقت وہ صرف اہلِ توحید واہلِ لا الہ الا اللہ تھے ۔ تو نہی از قبیل ’ لیس ذلک لک ‘ ہے۔ بعدہ رب العزۃ عز جلالہ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقے میں ان پر اتمام نعمت کیلئے اصحاب کہف رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی طرح انہیں زند ہ کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر ایمان لا کر شرف صحابیت پا کر آرام فرمایا ۔
و لہذا حکمت الہٰیہ کہ یہ زندہ کرنا حجۃ الوداع میں واقع ہوا جبکہ قرآن عظیم پورا اتر لیا ۔ اور ۔’’ ألیومَ أکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ أتمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعَمَتِی‘‘ نے نزول فرماکر دین الہٰی کو تام و کامل کردیا تاکہ ان کا ایمان پورے دین کامل شرائع پر واقع ہو ۔ حدیث احیاء کی غایت ضعیف ہے ۔ کما حققہ خاتم الحفاظ الجلال السیوطی و لا عطر بعد عروس ۔ اور حدیث ضعیف دربارئہ فضائل مقبول ۔ کما حققناہ بما لا مزید علیہ فی رسالتنا’’ألہاد الکاف فی حکم الضعاف ‘‘ بلکہ امام ابن حجر مکی نے فرمایا ۔ متعدد حفاظ نے اسکی تصحیح کی ۔أ فضل القری لقراء ام القرئ میں فرماتے ہیں ۔
إن آباء النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم غیر الأنبیاء و أمہاتہ إلی آدم و حواء لیس فیہم کافر ۔لأن الکافر لا یقال فی حقہ أنہ مختار ولا کریم و لا طاہر بل نجس۔ و قد صرحت الأحادیث بأنہم مختارون و أن الآباء کرام و الأمہات طاہرات و أیضا قال تعالیٰ و تقلبک فی الساجدین ۔ علی أحد التفاسیر فیہ أن المراد تنقل نورہ من ساجد إلی ساجد و حینئذ فہذا صریح فی أن أبوی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم أہل الجنّۃ و ہذا ہو الحق بل فی حدیث صححہ غیر واحد من الحفاظ و لم یلتفتوا لمن طعن فیہ أن اللہ تعالٰی أحیاہما فاٰمنا بہ ألخ ۔ مختصرا وفیہ طول ۔
یعنی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سلسلئہ نسب کریم میں جتنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ و السلام ہیں وہ تو انبیا ء ہی ہیں ۔ انکے سوا حضور کے جس قدر آباء کرام و امہات طاہرات آدم وحوا علیہما الصلوۃ و السلام تک بھی ان میں کوئی کافر نہ تھا کہ کافر کو پسندیدہ یا کریم یا پاک نہیں کہا جاتا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آباء وامہات کی نسبت حدیثوں میں تصریح فرمائی ۔ کہ وہ سب پسندیدئہ الہٰی ہیں ۔ آباء سب کرام ہیں ۔ مائیں سب پاکیزہ ہیں ۔ اور آیت کریمہ ’’و تقلبک فی الساجدین‘‘ کی بھی ایک تفسیر یہ ہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نور ایک ساجد سے دوسرے ساجد کی طرف منتقل ہوتا آیا ۔ تو اب اس سے صاف ثابت ہے کہ حضور کے والدین حضرت آمنہ و حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما اہل جنت ہیں کہ وہ تو ان بندوں میں جنہیں اللہ عزوجل نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیلئے چنا تھا سب سے قریب تر ہیں ۔ یہ ہی قول حق ہے بلکہ ایک حدیث میں جسے متعدد حافظان حدیث نے صحیح کہا ہے اور اس مین طعن کرنیوالے کی بات کو قابل التفات نہ جانا تصریح ہے کہ اللہ عزوجل نے والدین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیلئے زندہ فرمایا یہاں تک وہ ایمان لائے ۔
اپنا مسلک اس باب میں یہ ہے
و من مذہبی حب الدیار لأہلہا ÷ و للناس فیما یعشقون مذاہب
جسے یہ پسند ہو ’’ فبہا و نعمت ‘‘ ورنہ آخر اس سے تو کم نہ ہو کہ زبان روکے دل صاف رکھے ۔ إن ذلکم کان یوذی النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ڈرے ۔
امام ابن حجر مکی شرح میں فرماتے ہیں:
ما أحسن قول المتوقفین فی ہذہ المسئلۃ الحذر الحذر من ذکرہما بنقص فان ذلک قد یوذیہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لخبر لطبرانی لا تؤذوا الأحیاء بسب الأموات
یعنی کیا خوب فرمایا ان بعض علما نے جنہیں اس مسئلہ میں توقف تھا کہ دیکھ بچ! والدین کریمین کو کسی نقص کے ساتھ ذکر کرنے سے کہ اس سے حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ایذا ہونے کا اندیشہ ہے کہ طبرانی کی حدیث میں ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ مردوں کو برا کہہ کر زندوں کو ایذا نہ دو ۔ یعنی حضور تو زندئہ ابدی ہیں ۔ ہمارے تمام افعال و اقوال پر مطلع ۔ اور اللہ عزوجل فرماتا ہے ۔
ً و الَذِیْنَ یُؤذُوْنَ رَسُوْلَ اللہِ لَہُمْ عَذَابٌ ألِیْمٌ جو لوگ ر سول اللہ کو ایذا دیتے ہیں انکے لئے دردناک عذاب ہے ۔
عاقل کو چاہئے ایسی جگہ سخت احتیاط سے کام لے ۔ رسالہ شمول الاسلام فتاوی رضویہ ۱۱/۱۲۳


