یا رسول اللہ پکارنے کا ثبوت قرآن و حدیث سے

اﷲ تعالٰی فرماتاہے:

وابتغوا الیہ الوسیلۃ وجاھدوا فی سبیلہ لعلکم تفلحون۲؎۔

اﷲ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں کوشش کرو کہ تم مراد کو پہنچو۔(۲؎ القرآن ۵/۳۵)

اور انبیاء وملائکہ علیہم الصلٰوۃ والسلام کی نسبت فرماتاہے:

اولٰئِک الذین یدعون یبتغون الی ربھم الوسیلۃ۳؎۔

وہ ہیں کہ دعاکرتے اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں۔(۳؎ القرآن ۱۷/۵۷)

اور آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام ودیگرانبیاء وصلحاء وعلماء وعرفاء علیہم التحیۃ والثناء کاقدیماً وحدیثاً حضوراقدس غایۃ الغایات، نہایۃ النہایات علیہ افضل الصلٰوۃ واکمل التسلیمات سے حضور کے ظہورپرنور سے پہلے اور بعد بھی حضور کے زمان برکت نشان میں اور بعد بھی عہد مبارک صحابہ وتابعین سے آج تک اور آج سے قیام قیامت و عرضات محشر ودخول جنت تک ”استشفاع وتوسّل” احادیث وآثار میں جس قدر وفوروکثرت وظہوروشہرت کے ساتھ وارد محتاج بیان نہیں، جسے اس کی گونہ تفصیل دیکھنی منظورہو مواہب لدنیہ امام قسطلانی و خصائص کبرائے امام جلال الدین سیوطی و شرح مواہب علامہ زرقانی و مطالع المسرات علامہ فاسی و لمعات و اشعہ شروح مشکوٰۃ و جذب القلوب الٰی دیار المحبوب و مدارج النبوۃتصانیف شیخ محقق مولٰنا عبد الحق صاحب دہلوی وغیرہا کتب و کلام علمائے کرام و فضلائے عظام علیہم رحمۃ العزیز العلّام ،کی طرف رجوع لائے کہ وہاں حجاب غفلت منکشف ہوتاہے اور مصنف خطا سے منصرف و باﷲ سبحٰنہ وتعالٰی التوفیق۔

اسی طرح صحیح بخاری شریف میں امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا سیدنا عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے طلب باراں سے توسل کرنا مروی ومشہور، حصن حصین میں ہے: وان یتوسل الی اﷲ تعالٰی بانبیاہ خ ر مس والصالحین من عبادہ۱؎خ۔ یعنی آداب دعا سے ہے کہ اﷲ تعالٰی کی طرف اس کے انبیاء سے توسل کرے۔ اسے بخاری و بزاز وحاکم نے امیرالمومنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور اﷲ کے نیک بندوں کاوسیلہ پکڑے، اسے بخاری نے انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(۱؎ حصن حصین آداب دعاء افضل المطابع انڈیا ص۱۸)

اور سب سے زیادہ وہ حدیث صحیح ومشہور ہے جسے نسائی وترمذی و ابن ماجہ و حاکم و بیہقی و طبرانی و ابن خزیمہ نے عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور طبرانی و بیہقی نے صحیح اور ترمذی نے حسن غریب صحیح اور حاکم نے برشرط بخاری و مسلم صحیح کہا اور حافظ امام عبدالعظیم منذری وغیرہ ائمہ نقدوتنقیح نے اس کی تصحیح کو مسلّم ومقرر رکھا جس میں حضوراقدس ملجاء بیکساں، ملاذ دوجہاں، افضل صلوات اﷲ تعالٰی وتسلیماتہ علیہ وعلٰی ذریاتہٖ، نے نابینا کو دعاتعلیم فرمائی کہ بعد نمازکہے: اللھم انی اسئلک واتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمۃ (صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) یامحمد انی اتوجہ بک الٰی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضی لی اللھم فشفعہ فی۔۲؎ الٰہی! میں تجھ سے مانگتااور تیری طرف توجہ کرتاہوں بوسیلہ تیرے نبی محمدصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے کہ مہربانی کے نبی ہیں یارسول اﷲ! میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت میں توجہ کرتاہوں کہ میری حاجت رواہو، الٰہی! ان کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔

(۲؎ جامع الترمذی ابواب الدعوات مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ /۱۹۷)

اور لطف یہ ہے کہ بعض روایات حصن حصین میں لتقضی لی بصیغہ معروف واقع ہوا یعنی یارسول اﷲ! میں آپ کے توسل سے خدا کی طرف توجہ کرتاہوں کہ آپ میری حاجت روائی کردیں۔

مولٰینا فاضل علی قاری علیہ الرحمۃ الباری حرزثمین شرح حصن حصین میں فرماتے ہیں: وفی نسخۃ بصیغۃ فاعل ای لتقضی الحاجۃ لی والمعنی تکون سببا لحصول حاجتی ووصول مرادی فالاسنادمجازی۱؎۱ھ اورایک نسخہ میں معروف کاصیغہ ہے یعنی تومیری حاجت روائی فرما، اور معنی یہ ہے کہ آپ میری حاجت روائی کاسبب بنیں، پس یہ اسناد مجازی ہے۱ھ (ت)(۱؎ حرزثمین شرح حصن حصین مع حصن حصین صلٰوۃ الحاجۃ افضل المطابع انڈیاٍ ص۱۲۵)

اوریہ حدیث نفیس نجیح مذیل بطراز گرانبہائے تصحیح عــہ۱ امام ابوالقاسم سلیمن لخمی طبرانی کے پاس یوں ہے:

ان رجلاکان یختلف الی عثمٰن بن عفان رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی حاجۃ لہ، فکان عثمٰن لایلتفت الیہ ولاینظر فی حاجتہ، فلقی عثمٰن بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ فشکا ذلک الیہ، فقال لہ عثمٰن بن حنیف: ائت المیضأۃ فتوضأ ثم ائت المسجد فصل فیہ رکعتین ثم قل اللھم انی اسألک واتوجہ الیک بنبینا محمدصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نبی الرحمۃ، یامحمد انی اتوجہ بک الی ربی فتقضی لی حاجتی، وتذکر حاجتک ورح الی حتی اروح معک، فانطلق الرجل فصنع ماقال لہ، ثم اتی باب عثمٰن رضی اﷲ تعالٰی عنہ فجاء البواب حتی اخذہ بیدہ فادخلہ علی عثمن بن عفان رضی اﷲ تعالٰی عنہ فاجلسہ معہ علی الطنفسۃ، فقال حاجتک،فذکر حاجتہ فقضاھالہ، ثم قال: ماذکرت حاجتک حتی کانت ھذہ الساعۃ وقال ماکانت لک من حاجۃ فاذکرھا ثم ان الرجل خرج من عندہ فلقی عثمن بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ، فقال لہ جزاک اﷲ خیرا، ماکان ینظر فی حاجتی ولایلتفت الی حتی کلمتہ فی، فقال عثمن بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ واﷲ ما کلمتہ، ولکن شھدت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم واتاہ رجل ضریر فشکا الیہ ذھاب بصرہ، فقال لہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ائت المیضأۃ فتوضأ ثم صل رکعتین ثم ادع بھذہ الدعوات، فقال عثمن بن حنیف فواﷲ ماتفرقنا وطال بنا الحدیث حتی دخل علینا الرجل کانہ لم یکن بہ ضر قط۱؎۔

یعنی ایک حاجتمند اپنی حاجت کے لئے امیرالمومنین عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی خدمت میں آتا امیرالمومنین نہ اس کی طرف التفات کرتے نہ اس کی حاجت پر نظرفرماتے، اس نے عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اس امر کی شکایت کی انہوں نے فرمایا وضو کرکے مسجد میں دورکعت نمازپڑھ پھریوں دعامانگ: الٰہی! میں تجھ سے سوال کرتاہوں اور تیری طرف اپنے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نبی رحمت کے وسیلے سے توجہ کرتاہوں یارسول اﷲ! میں حضور کے توسل سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتاہوں کہ میری حاجت روا فرمائے اور اپنی حاجت کاذکرکر، شام کوپھرمیرے پاس آنا کہ میں بھی تیرے ساتھ چلوں، حاجت مند نے یوں ہی کیا پھرآستان خلافت پرحاضرہوا دربان آیا اور ہاتھ پکڑ کر امیر المومنین کے حضورلے گیا امیرالمومنین نے اپنے ساتھ مسند پربٹھایا مطلب پوچھا، عرض کیا فوراً روافرمایا اور ارشاد کیا اتنے دنوں میں اس وقت تم نے اپنا مطلب بیان کیاپھر فرمایا جوحاجت تمہیں پیش آیاکرے ہمارے پاس چلے آیاکرو۔ یہ شخص وہاں سے نکل کر عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ملا اور کہااﷲ تمہیں جزائے خیردے امیرالمومنین میری حاجت پرنظر اور میری طرف التفات نہ فرماتے تھے یہاں تک کہ آپ نے اُن سے میرے بارے میں عرض کی، عثمان بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا خدا کی قسم میں نے توتیرے معاملے میں امیرالمومنین سے کچھ بھی نہ کہا، مگر ہوایہ کہ میں نے سیّدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کودیکھا حضورکی خدمت اقدس میں ایک نابینا حاضرہوا اور نابینائی کی شکایت کی حضورنے یوں ہی اسے ارشاد فرمایا کہ وضوکرکے دورکعت پڑھے پھریہ دعا کرے، خدا کی قسم ہم اُٹھنے بھی نہ پائے تھے، باتیں ہی کررہے تھے کہ وہ ہمارے پاس آیاگویا کبھی اندھاہی نہ تھا۔

(۱؎ المعجم الکبیر للطبرانی مااسند عثمان بن حنیف ۸۳۱۱ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۹ /۱۷)

عــہ ا: امام منذری ترغیب میں فرماتے ہیں : قال الطبرانی بعد ذکر طرقہ والحدیث صحیح ۲؎
طبرانی نے اس حدیث کی متعدد اسنادیں ذکرکرکے کہا حدیث صحیح ہے ۱۲منہ (م)

(۲؎ الترغیب والترہیب فی الصلٰوۃ الحاجۃ ودعائہا مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۴۷۶)

تنبیہ: ایھا المسلمون حضرات منکرین کی غایت دیانت سخت محل افسوس وعبرت، اس حدیث جلیل کی عظمت رفیعہ وجلالت منیعہ اوپرمعلوم ہوچکی اور اس میں ہم اہل سنت وجماعت کے لئے جواز استمداد والتجا وہنگام توسل، ندائے محبوبانِ خداکابحمداﷲ کیسا روشن و واضح وبین ولائح ثبوت، جس سے اہل انکار کو کہیں مفرنہیں

اور سنئے ابن السنی عبداﷲ بن مسعود اور بزار عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے راوی حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: اذاانفلتت دابۃ احدکم بارض فلاۃ فلیناد یاعباد اﷲ احبسوا فان ﷲ تعالٰی عبادا فی الارض تحبسہ۱؎۔

جب تم میں کسی کاجانور جنگل میں چھوٹ جائے تو چاہئے یوں نداکرے ”اے خدا کے بندو! روک لو” کہ اﷲ تعالٰی کے کچھ بندے زمین میں ہیں جو اسے روک لیں گے۔

(۱ ؎ المعجم الکبیر مروی از عبداﷲ ابن مسعود حدیث ۱۰۵۱۸ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۰ /۲۶۷
المطالب العالیہ بزوائد المسانید الثمانیہ ۳ /۲۳۹ کشف الاستار عن زوائد البزار ۴ /۳۴
مجمع الزوائد ۱۰ /۱۳۲
الاذکار للنووی ص۱۰۱)

بزار کی روایت میں ہے یوں کہے: اعینوا یاعباداﷲ مدد کرو اے خدا کے بندو!۔ سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہما ان لفظوں کے بعد رحمکم اﷲ ۲؎ (اﷲ تم پررحم کرے۔ت) اور زیادہ فرماتے رواہ ابن شیبۃ فی مصنفہ (اسے ابن شیبہ نے اپنی مصنّف میں روایت کیا۔ت)

(۲؎ المصنف لابن ابی شیبہ مایدعوبہ الرجل حدیث ۹۷۶۹ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱۰ /۳۹۰)

امام نووی رحمہ اﷲ تعالٰی اذکار میں فرماتے ہیں: ہمارے بعض اساتذہ نے کہ عالم کبیر تھے ایسا ہی کیا، چھوٹا ہواجانور فوراً رک گیا، اور فرماتے ہیں: ایک بار ہمارا ایک جانور چھٹ گیا، لوگ عاجز آگئے ہاتھ نہ لگا، میں نے یہی کلمہ کہا فوراً رک گیا جس کا اس کہنے کے سوا کوئی سبب نہ تھا۳؎ نقلہ سیدی علی القاری فی الحرز الثمین (ملاعلی قاری نے اسے حرزثمین میں نقل کیا۔ت)

(۳؎ الاذکار للنووی باب مایقول اذا انفلتت دا بۃ مطبوعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ص۲۰۱)

امام طبرانی سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی حضورپرنور سیدالعالمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: اذا اضل احدکم شیئا واراد عونا وھوبارض لیس بھا انیس فلیقل یاعباداﷲ اعینونی یاعباداﷲ اعینونی یاعباداﷲ اعینونی فان ﷲ عبادا لایراھم۴؎۔

جب تم میں سے کوئی شخص سنسان جگہ میں بہکے بھولے یا کوئی چیز گم کردے اور مددمانگنی چاہے تویوں کہے: اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو، اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو، اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو، کہ اﷲ کے کچھ بندے عــہ ہیں جنہیں یہ نہیں دیکھتا۔

(۴؎ المعجم الکبیر ماسند عتبہ بن غزوان حدیث ۲۹۰ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۰ /۱۱۷ و ۱۱۸)

عــہ: جن کے سیدو مولاوسند وماوٰی حضورپرنورسیدناعبدالقادرجیلانی ہیں رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
کما نص علیہ سیدنا الخضر علیہ الصلٰوۃ والسلام رواہ ونقلہ فی البھجۃ و الزبدۃ والتحفۃ وغیرہا ۱۲منہ (م)
جیسا کہ سیدنا خضرعلیہ السلام نے اس کی تصریح کی اور بہجۃ الاسرار، الزبدۃ اور التحفہ وغیرہا میں اس کو روایت کیا اور نقل کیا ۱۲منہ (ت)

عتبہ بن غزوان رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں قد جرّب ذلک ۱؎ رواہ الطبرانی ایضاً

بالیقین یہ بات آزمائی ہوئی ہے (اسے طبرانی نے بھی روایت کیاہے۔ت)

(۱؎ المعجم الکبیر ماسند عتبہ بن غزوان حدیث ۲۹۰ مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۰ /۱۱۸)

فاضل علی قاری علامہ میرک سے وہ بعض علمائے ثقات سے ناقل ھذا حدیث حسن یہ حدیث حسن ہے۔ اور فرمایا مسافروں کو اس کی ضرورت ہے، اور فرمایا مشائخ کرام قدست اسرارہم سے مروی ہوا انہ مجرب قرن بہ النجاح۲؎ یہ مجرب ہے اور مراد ملنی اس کے ساتھ مقرون۔ ذکرہ فی الحرز الثمین (اس کو حرزثمین میں ذکرکیا ہے۔ت)

ان احادیث میں جن بندگان خدا کو وقت حاجت پکارنے اور ان سے مدد مانگنے کاصاف حکم ہے وہ ابدال ہیں کہ ایک قسم ہے اولیائے کرام سے قدس اﷲ تعالٰی اسرارھم وافاض علینا انوارھم یہی قول اظہرواشہرہے کما نص علیہ فی الحرز الوصین (جیسا کہ حرزالوصین میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔ت) اور ممکن کہ ملائکہ یا مسلمان صالح جن، مراد ہوں وکیفما کان ایسے توسل وندا کو شرک وحرام اور منافی توکل واخلاص جاننا معاذاﷲ شرع مطہر کو اصلاح دیناہے۔

(۲؎ حرزثمین حواشی حصن حصین دعاء الرکوب فی البحر افضل المطابع انڈیا ص۴۶)

خیر یہ تو حدیثیں تھیں اب شاہ ولی اﷲ صاحب کی سنئے اپنے قصیدہ اطیب النغم کی شرح میں پہلی بسم اﷲ یہ لکھتے ہیں کہ: لابدست ازاستمداد بروح آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔۴؎ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی روح پاک سے مددحاصل کرناضروری ہے۔(ت)

(۴؎ شرح قصیدہ اطیب النغم فصل اول درتشبیب بذکر الخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۲)

اسی میں ہے: بنظرنمی آید مرامگر آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہجائے دست زدن اندوہگین ست درہرشدّتے۱؎۔ مجھے توہرمصیبت میں اور ہرپریشان حال کے لئے حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کادستِ تصرف ہی نظرآتاہے(ت)

(۱؎ شرح قصیدہ الطیب ا لنغم فصل اول درتشبیب بذکرالخ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۴)

اسی میں ہے : بہترین خلق خداست درخصلت ودرشکل ونافع ترین ایشان ست مردماں رانزدیک ہجوم حوادث زماں۔۲؎ زمانے کے حوادث میں لوگوں کے لئے آپ سے بڑھ کر کوئی نافع نہیں ہے۔(ت)

(۲؎ شرح قصیدہ الطیب النغم فصل چہارم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۶)

اسی میں ہے : فصل یازدہم درابتہال بجناب آں حضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رحمت فرستد برتوخدائے تعالٰی اے بہترین کسیکہ امیدداشتہ شوداے بہترین عطاکنندہ۳؎۔ گیارہویں فصل حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام کی مدح میں ہے اے بہترین مددگار اورجائے امید اور بہترین عطا کرنے والے! آپ پر اﷲ تعالٰی کی بے شمار رحمتیں ہوں۔(ت)

(۳؎ شرح قصیدہ اطیب النغم فصل یازدہم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۲)

اسی میں ہے : اے بہترین کسیکہ امیدداشت شودبرائے ازالہ مصیبتے۴؎۔ اے بہترین امیدگاہ، مصیبتوں کے ازالہ کے لئے۔(ت)

(۴؎ ؎ شرح قصیدہ اطیب النغم فصل یازدہم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۲)

اسی میں ہے : توپناہ دہندہ منی ازہجوم کردن مصیبتے وقتیکہ بخلاند دردل بدترین چنگلالہارا۵؎۔ آپ مجھے ہرایسی مصیبت میں جودل میں بدترین اضطراب پیداکرے، پناہ دیتے ہیں۔(ت)

(۵؎ شرح قصیدہ اطیب النغم فصل یازدہم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۲۲)

اور اپنے قصیدہ ہمزیہ کی شرح میں توقیامت ہی توڑگئے، لکھتے ہیں: آخر حالتی کہ ثابت است مادح آں حضرت را صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وقتیکہ احساس کند نارسائی خودرااز حقیقت ثناضراعۃ (بالفتح) خواری وزاری، ابتہال واخلاص دردعا آنست کہ ندا کند زار وخوارشدہ بشکستگی دل واظہار بے قدری خود، باخلاص درمناجات وپناہ گرفتن بایں طریق، اے رسول خدا، اے بہترین مخلوقات، عطائے ترامیخواہم روزفیصل کردن۔۶؎ مایوسی کے وقت مدح کرنے والے کی آخری حالت میں یہ دعااور ثنا ہونی چاہئے کہ وہ اپنے کو انتہائی گریہ و زاری اور دل جمعی اور اظہار بے قدری میں خلوص کے ساتھ پناہ حاصل کرتے ہوئے یہ مناجات کرے اور کہے کہ اے رسول خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم، اے اﷲ تعالٰی کی مخلوق میں بہترین ذات! قیامت کے روز میں آپ کی عطا کاخواستگار ہوں۔(ت)

(۶؎ شرح قصیدہ ہمزیہ فصل ششم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۳)

اسی میں ہے : وقتیکہ فرودآید کارعظیم درغایت تاریکی پس توئی پناہ ازہربلا۱؎۔ جب کوئی کام تاریکی کی گہرائی میں گرجائے توآپ ہی ہربلامیں پناہ دیتے ہیں۔(ت)

(۱؎ شرح قصیدہ ہمزیہ فصل ششم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۳)

اسی میں ہے : بسوئے توست آوردن من وبہ توست پناہ گرفتن من ودرتوست امید داشتن من۲؎۔ میری جائے پناہ، میری جائے امید اور میرے مرجع آپ ہی ہیں۔(ت)

(۲؎ شرح قصیدہ ہمزیہ فصل ششم مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۴)

بالجملہ بندگان خدا سے توسل کو اخلاص وتوکل کے خلاف نہ جانے گا مگرسخت جاہل محروم یاضال مکابرملوم،