Fatawa Razaviah Volume 10 in Typed Format

#5657 · پیش لفظ
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
پیش لفظ
الحمدﷲ اعلحضرت امام المسلمین مولنا الشاہ احمدرضاخاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے خزائن علمیہ و ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عصرحاضر کے تقاضوں کے مطابق منظرعام پرلانے کے لیے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہورمیں ''رضافاؤنڈیشن'' کے نام سے جوادارہ چندسال قبل قائم ہواتھا وہ انتہائی برق رفتاری کے ساتھ مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہاہے۔ کتاب الطہارت کتاب الصلوۃ اور کتاب الجنائز پرمشتمل نوخوبصورت جلدیں آپ تک پہنچ چکی ہیں۔
اب بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایۃ رسولہ الکریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دسویں جلد پیش کی جارہی ہے۔
جلددہم
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلدچہارم میں سے کتاب الزکوۃ سے آخر تک سوالوں کے جوابات پر مشتمل ہے اس طرح قدیم چار۴جلدیں دس۱۰ جدید جلدوں کی صورت میں مکمل ہوچکی ہیں اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کاترجمہ فاضل شہیر مترجم کتب کثیرہ حضرت علامہ مفتی محمدخاں قادری نے فرمایاہے جبکہ جلدششم ہفتم اور ہشتم کاترجمہ بھی انہی کی رشحات قلم کاثمر ہے۔
#5702 · پیش لفظ
پیش نظرجلد میں شامل رسالہ البدورالاجلۃ فی امورالاھلۃ اس کی شرح نورالادلۃ للبدور الاجلۃ اور اس کے حاشیہ رفع العلۃ من نورالادلۃ میں تقدم وتاخراور عدم ترتیب کی وجہ سے خاصا الجھاؤ تھا جس کی بناء پر اس سے استفادہ بہت دشوارتھا موجودہ ایڈیشن میں متن شرح اور متعلقہ حاشیہ کوانتہائی حسن ترتیب کے ساتھ باہم مربوط کردیاگیا چنانچہ اب اس سے بآسانی استفادہ کیاجاسکتاہے نیز رسالہ النیرۃ الوضیۃ شرح الجوھرۃ المضیۃ مع حاشیۃ الطرۃ الرضیۃ جوکہ پہلے فتاوی رضویہ میں شامل نہ تھا موضوع کی مناسبت سے شامل اشاعت کردیاگیا ہے۔ علاوہ ازیں اس جلد میں شامل رسائل کے مندرجات کی مفصل فہرست راقم نے افادہ قارئین کے لیے تیار کردی ہے متعددضمنی مسائل وفوائد کے علاوہ اس جلد میں مندرجہ ذیل سات عنوانات زیربحث لائے ہیں :
() کتاب الزکوۃ
() کتاب الصوم
() باب فی رؤیۃ الہلال
() باب القضاء والکفارۃ
() باب الفدیہ
() کتاب الحج
() باب الجنایات فی الحج
مندرجہ بالا عنوانات کے علاوہ انتہائی دقیق اور گرانقدر تحقیقات وتدقیقات پرمشتمل مندرجہ ذیل سولہ رسائل بھی اس جلد میں شامل ہیں :
() تجلی المشکوۃ لانارۃ اسئلۃ الزکوۃ (ھ)
ہرقسم کے مال کی زکوۃ کے حساب لگانے اداکرنے کے اوقات اور مصارف کابیان
() اعزالاکتناہ فی ردصدقۃ مانع الزکوۃ (ھ)
صاحب نصاب زکوۃ ادانہ کرے اور دیگرصدقات وخیرات کرے یاذمہ میں فرائض ہوں اور نوافل اداکرے تو یہ مقبول نہیں۔
() رادع التعسف عن الامام ابی یوسف (ھ)
حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی جانب ایک مسئلہ کوغلط منسوب کردیاگیا اس رسالہ میں اس کاجواب دیاگیاہے۔
#5703 · پیش لفظ
() افصح البیان فی حکم مزارع ھندوستان (ھ)
ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام
() الزھرالباسم فی حرمۃ الزکوۃ علی بنی ھاشم (ھ)
بنی ہاشم پرزکوۃ اورصدقات واجبہ حرام ہیں اور ان کودئے ادانہ ہوگی۔
() ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال (ھ)
رؤیت ہلال میں تار کی خبرمعتبرنہیں۔
() طرق اثبات ھلال (ھ)
اثبات ہلال کے صحیح اور غلط طریقے
() البد ور الاجلۃ فی امورالاھلۃ مع شرح نورالادلۃ للبدور الاجلۃ مع حاشیۃ رفع العلۃ عن نورالادلۃ (ھ)
رؤیت ہلال کے تفصیلی احکام
() الاعلام بحال البخورفی الصیام (ھ)
اگربتی لوبان وغیرہ کادھواں منہ یاناک میں کس طرح جانے سے روزہ ٹوٹتاہے۔
() تفاسیرالاحکام لفدیۃ الصلوۃ والصیام (ھ)
بعدازموت نماز روزہ کے فدیہ کے مفصل مسائل
() ھدایۃ الجنان باحکام رمضان (ھ)
صبح صادق اور کاذب کی معرفت کرائی گئی ہے اور نقشوں سے صبح صادق سمجھاياگیاہے نیزافطاروسحر کے مسائل بیان کیے گئے ہیں۔
() درء القبح عن درک وقت الصبح (ھ)
صبح صادق معلوم کرنے کاقاعدہ بیان کیاگیاہے (سحری کے وقت کی تحقیق جلیل)
() العروس المعطار فی زمن دعوۃ الافطار (ھ)
دعائے افطار بعدافطار پڑھنا
() صیقل الرین عن احکام مجاورۃ الحرمین (ھ)
حرمین طیبین میں سکونت کرنے کابیان
#5705 · پیش لفظ
() انوارالبشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ (ھ)
آداب سفر مقدمات حج احکام حج احرام طواف اور طریقہ حج وغیرہ کابیان ۔
() النیرۃ الوضیۃ شرح الجوھرۃ فــــ المضیۃ مع حاشیۃ الطرۃ الرضیۃ (ھ)
مسائل حج وزیارت کابیان
ربیع الاول ھ اگست۱۹۹۶ حافظ عبدالستارسعیدی ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
فــــ : ماتن کانام سیدحسین بن صالح جمل اللیل فاطمی حسینی امام وخطیب شافعیہ مکۃ المکرمہ متوفی ھ
شرح وحاشیہ ازاعلحضرت مولانا احمدرضاخاں قادری بریلوی قدس سرہ
اعلیحضرت نے یہ رسالہ باراول کے حج میں مکہ معظمہ میں ایک دن میں تالیف کیا۔
#5707 · کتاب الزکوۃ
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
کتاب الزکوۃ
مسئلہ ۱ : از بکاجبی والاعلاقہ علاقہ جاگل ہری پور ڈاك خانہ کوٹ نجیب الله خاں مرسلہ مولوی شیر محمد خاں ربیع الاول شریفھ
جناب عالی فیض بخش فیض رساہ امید گاہ جاویداں بندہ سے ایك مولوی امرت سر سے آئے ہیں وہ کسی بات کا جھگڑا کیا تھا تو بندہ نے کہا کہ نماز کا الله نے بہت بار قرآن شریف میں ذکر کیا ہے اور زکوۃ کا بھی بہت بار ذکر کیا ہے مگر روزہ کا ایك بار ذکر کیا ہے جنا ب عالی یہ صحیح ہے یا نہیں اور عشر کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے یا نہیں
الجواب :
فی الواقع نماز و زکوۃ کی فرضیت و فضیلت و مسائل تینوں قسم کا ذکر قرآن مجیدمیں بہت جگہ ہے یہاں تك کہ مناقب بزازی و بحرالرائق و نھرالفائق و منح الغفار و فتح المعین وغیر ہا میں واقع ہوا کہ علاوہ ان مواقع کے جن میں نماز و زکوۃ کا ذکر جدا جداہے دونوں کا ساتھ ساتھ ذکر قرآن عظیم میں بیاسی جگہ آیا ہے مگر علامہ حلبی و علامہ طحطاوی و علامہ شامی سادات کرام محشیان درمختار فرماتے ہیں : صحیح یہ ہے کہ ان کا ساتھ ساتھ بتیس جگہ فرمایا ہے ۔ علامہ حلبی کے استاد نے وہ سب مواقع گنا دئیے درمختارمیں ہے : قرنھا بالصلوۃ فی اثنین و ثمانین موضعا (بیاسی مقامات پر زکوۃ کو نمازکے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ ت )شرح مسکین و حاشیہ سیدازھری
حوالہ / References درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٩
#5708 · کتاب الزکوۃ
میں ہے :
قرن الزکوۃ فی ای من القران اثنین و ثمانین موضعا ھ
ملخصا آیات قرآنی میں بیاسی۸۲جگہ زکوۃ کو نماز سے متصل بیان کیا گیا ہے اھ تلخیصا (ت)
طحطاوی وردالمحتار میں ہے :
واللفظ لط قولہ فی اثنین وثمانین مو ضعا تبع فیہ صاحب النھر والمنح وتبعا صاحب البحر معزیا الی المناقب البزازیۃ وصوابہ اثنین و ثلاثین کما عدھا شیخنا السید اھ حلبی بزیادۃ ۔
اس کی عبارت ط ہے کہ ان کا قول بیاسی مقامات پر ایسا ہے اس میں صاحب نہر ا ورمنح نے اتباع کی ہے اور ان دونوں نے صاحب بحر کی اتباع کی ہے انہوں نے مناقب بزازیہ کی طرف نسبت کی ہے اور درست یہ ہے کہ زکوۃ کو نماز سے متصل جن مقامات پر بیان کیا گیا ان کی تعداد بتیس ہے جیسے کہ اس تعداد کو ہمارے شیخ سید نے شمار کیا اھ حلبی مع اضافہ ۔ (ت)
اور فر ضیت روزہ کا ذکر صرف ایك ہی جگہ ہے ہاں عبارۃ و اشارۃ اس کی فضیلت اور مواقع پر بھی ظاہر فرمائی گئی ہے :
کقولہ تعالی فی سورۃ الاحزاب ان المسلمین و المسلمت (الی قولہ تعالی ) و الصآىمین و الصىمت (الی ان قال تعالی) اعد الله لهم مغفرة و اجرا عظیما(۳۵) * وقولہ تعالی فی سورۃ التوبۃ التآىبون العبدون الحمدون السآىحون الایۃ وقولہ تعالی فی سورۃ
مثلاسورہ احزاب میں اﷲ تعالی کا قول ہے : بلا شبہ مسلمان مرد اور مسلمان خواتین (اﷲ تعالی کے اس فر مان تك )رو زہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی خواتین (یہاں تك کہ فرمایا )اﷲتعالی نے ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم تیار رکھا ہے اور سورہ توبہ میں ارشاد باری تعالی ہے : توبہ کرنے والے
حوالہ / References فتح المعین علیٰ شرح ملا مسکین کتاب الزکوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٣٦٩
ردالمختار کتاب الزکٰوۃ مصطفٰی البابی مصر ٢ / ٢
القرآن ٣٣ / ٣٥
القرآن ٣٣ / ٣٥
القرآن ٩ / ١١٢
#5709 · کتاب الزکوۃ
التحریم “ تىبت عبدت سىحت “ السائح ھوالصائم ۔
عبادت کر نے والے حمد کرنے والے روزہ رکھنے والے الآیۃ
اور سورہ تحریم میں ارشاد باری تعالی ہے : توبہ کرنے والیاں عبادت کرنے وا لیاں روزہ رکھنے والیاں ۔ السائح کا معنی روزہ رکھنے والا ہے (ت) عشر کا ذکر بھی قرآن عظیم میں ہے :
قال تعالی فی سورۃ الانعام و اتوا حقه یوم حصاده ﳲ ۔ قالہ ابن عباس و طاؤس والحسن و جابر بن زید و سعید بن المسیب ۔ رضی اﷲ تعالی عنھم کمافی المعالم وغیرھا واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔
اﷲتعالی نے سورۃ الانعام میں فرمایا : کھیتی کٹنے کی دن اس کا حق ادا کرو ۔ (اکثر مفسرین کے نزدیك اس حق سے مراد عشر ہے) (حضرت ابن عباس طاؤس حسن جابربن زید اور سعید بن المسیب رضی اللہ تعالی عنہم ان تمام حضرات نے اس سے عشر مراد لیا ہے جیساکہ معالم التنزیل وغیرہ میں ہے ۔ ت) واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : مرزا باقی بیگ صاحب رامپوری ذی قعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند مسلمانوں نے ایك صاحب کا کچھ ماہوار نقد بطور چندہ مد زکو ۃ میں سے اور طعام شبانہ روز مقرر کردیا اور کوئی کام خدمت یا بدل وغیرہ ان کے ذمہ نہیں کیا غرض ان لوگوں کی ایك مسلمان بزرگ و مسکین کے ساتھ سلوك کرنا تھا اور ایسے شخص کا اپنے محلہ و مسجد میں رہنا موجب خیر و برکت سمجھا اسی طور پر عرصہ قریب چار سال کی گزرا کہ یہ لوگ مو افق اپنے وعدے اور نیت کے خواہ وہ بزرگ اپنے وطن کو گئے یا یہاں رہے دیتے اور ادا کرتے رہے مگر بعض نے ان میں عذر کیا اور کہا ہم ایام غیر حاضری کا نہ دیں گے تو اس صورت میں زکو ۃ ان لوگوں کی ادا ہوئی یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اللہم ھدایۃ الحق والصواب : اصل یہ ہے کہ زکو ۃ میں نیت شرط ہے بے اس کے ادا نہیں ہو تی فی الاشباہ ماالزکوۃ فلایصح ادا ھا الابالنیۃ (اشباہ میں ہے کہ زکوۃ کی ادائیگی نیت کی بغیر درست نہیں ۔ ت)اور نیت میں اخلاصشرط ہے بغیر اس کے نیت مہمل فی مجمع الانھرالزکوۃ عبادۃ فلابدفیھامن الاخلاص (مجمع الانہر میں ہے زکوۃ عبادت ہے لہذا اس میں اخلاص
حوالہ / References القرآن ٦٦ / ٥
القراٰن ٦ / ١٤۱
معالم التنزیل علیٰ ھامش الٰخا زن تحت آیہ مذکورہ مصطفی البابی مصر ٢ / ١٩١
الاشبادہ والنطائر القاعدۃ الاولیٰ من الفن الاول ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کر اچی ١ / ٣٠
مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر کتاب الزکوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ١٩٢
#5710 · کتاب الزکوۃ
شر ط ہے۔ ت) ور اخلاص کے یہ معنی کہ زکوۃ صرف بہ نیت زکوۃ و ادائے فرض و بجا آوری حکم الہی دی جائے اس کی ساتھ اور کوئی امر منافی زکوۃ مقصود نہ ہو۔ تنویر الابصار میں ہے :
الزکوۃ تملیك جزء مال عینہ الشارع من مسلم فقیرغیرھاشمی ولامولاہ مع قطع المنفعۃ عن المملك من کل وجہ ﷲ تعالی۔
زکوۃ شارع کی مقرر کردہ حصہ کا فقط رضائے الہی کے لئے کسی مسلمان فقیر کو اس طرح مالك بنانا کہ ہر طرح سے مالك نے اس شے سے نفع حاصل نہ کرنا ہو بشرطیکہ وہ مسلمان ہاشمی نہ ہو اور نہ ہی اس کا مولی ہو ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
ﷲتعالی بیان لا شتراط النیۃ۔
“ اﷲکےلئے ہو “ کے الفا ظ نیت ہی کو شرط قرار دینے کیلئے ہیں۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
متعلق بتملیك ای لاجل امتثا ل امرہ تعالی ۔
ان کلمات (ﷲ تعالی )کا تعلق لفظ تملیك سے ہے یعنی یہ عمل فقط اپنے رب کریم کے حکم کی بجا آوری کے طور پر ہو ۔ (ت)
پھر اس میں اعتبار صرف نیت کا ہے اگر چہ زبان سے کچھ اور اظہار کرے مثلا دل میں زکوۃ کا ارادہ کیا اور زبان سے ہبہ یاقرض کہہ کردیا صحیح مذہب پر زکوۃ ادا ہوجائیگی۔ شامی میں ہے :
لااعتبارللتسمیۃفلوسماھا ھبۃاوقرضا تجزیہ فی الاصح۔
نام لینے کا اعتبار نہیں اگر کسی نے اس مال کو ہبہ یا قر ض کہہ دیا تب بھی اصح قول کے مطابق زکوۃ ادا ہوجائے گی(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الزکٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٩
درمختار کتاب الزکٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٩
ردالمحتار کتاب الزکٰوۃ مصطفے البابی مصر ٢ / ٤
ردالمحتار کتاب الزکٰوۃ مصطفے البابی مصر ٢ / ٤
#5712 · کتاب الزکوۃ
پھر نیت بھی صرف دینے والے کی ہے لینے والا کچھ سمجھ کرلے اس کا علم اصلا معتبر نہیں
فی غمزالعیون العبرۃلنیۃ الدافع لالعلم المدفوع۔
غمزالعیون میں ہے کہ اعتبار دینے والے کی نیت کا ہے نہ کہ اس کے علم کا جسے زکوۃ دی جارہی ہے (ت)
ولہذااگر عید کے دن اپنے رشتہ داروں کو جنھیں زکوۃ دی جاسکتی ہے کچھ روپیہ عیدی کا نام کر کے دیا اور انہوں نے عیدی ہی سمجھ کر لیا اور اس کے دل میں یہ نیت تھی میں زکوۃ دیتا ہوں بلاشبہ ادا ہوجائیگی ۔ اسی طرح اگر کوئی ڈالی لایا رمضان مبارك میں سحری کو جگانے والا عید کا انعام لینے آیا یا کسی شخص نے دوست کے آنے یا اور کسی خوشی کا مژدہ سنایا اس نے دل میں زکوۃ کا قصد کر کے ان لوگوں کو کچھ دیا یہ دینا بھی زکوۃ ہی ٹہرے گا اگر چہ ان کے ظاہر میں ڈ الی لانے یا سحری کو جگانے یا خوشخبری کو سنانے کا انعام تھا اور انہوں نے اپنی دانست میں یہی جان کرلیا خلاصۃالفتاوی و خزانۃالمفتین وغیر ھما معتبرات میں ہے :
لودفع علی صبیان اقاربہ دراھم فی ایام العید یعنی عیدی بنیۃالزکوۃ اودفع الی من یبشرہ بقدوم صدیق او یخبرہ بخبر او یھدی الیہ الباکورۃ او الی الطبال یعنی سحر خواں او الی المعلم بنیۃ الزکوۃ جائز۔
اگر کسی نے ایام عید میں اپنے رشتہ داروں کے بچوں کو نیت زکوۃسے عیدی دیدی یا اس شخص کو جس نے اس کے دوست کی آمد کی اطلاع دی یا کوئی خوشی والی خبر دی یا کسی کو عید مبارك پر دی یا سحری کے وقت بیدار کرنے والوں یا استاد کودی تو زکوۃ ادا ہوجائیگی (ت )
پھر زکوۃ صدقہ ہے اور صدقہ شرط فاسد سے فاسد نہیں ہوتا بلکہ وہ شرط ہی فاسد ہوجاتی ہے مثلازکوۃ دی اور یہ شرط کرلی کہ یہاں رہے گا تو دوں گا ورنہ نہ دونگا اس شرط پر دیتا ہوں کہ تو یہ روپیہ فلاں کام میں صرف کرے اس کی مسجد بنادے یا کفن اموات میں اٹھادے تو قطعا زکوۃ ادا ہوجائیگی اور یہ شرطیں سب باطل و مہمل ٹہریں گی
فی مصارف الزکوۃ من الدارالمختارلا الی بناء مسجد او کفن میت و الحیلۃان یتصدق علی الفقیر ثم یا مرہ بفعل ھذہ الاشاء وھل لہ ان یخالف امرہ ولم ارہ و الظاھر
درمختار کے مصارف زکوۃ میں ہے کہ مسجد کی تعمیر یا کفن میت پر زکوۃ نہیں لگتی اور حیلہ یہ ہے کہ فقیرکو زکوۃ دی جائے پھر اسے ان کاموں میں خرچ کرنے کا کہا جائے کیا اس فقیر کےلئے اس دینے والے کے حکم کی خلاف ورزی جائز ہے میری نظر سے نہیں گزرا۔ ہاں ظاہر یہی ہے کہ
حوالہ / References غمزعیون البصائر کتاب الزکوٰۃ ، فن ثانی مصطفی البابی مصر ١ / ٢٢١
خلاصۃالفتاوٰی کتاب الزکوٰۃ الفصل الثامن فی اداء الزکوٰۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ١ / ٢٤٣
#5713 · کتاب الزکوۃ
نعم ھ ملخصا قولہ(والظاھرنعم) البحث لصاحب النہروقال لانہ مقتضی صحۃ التملیك قال الرحمتی والظاھر انہ لا شبہۃ فیہ لا نہ ملکہ ایاہ عن زکوۃ مالہ و شرط علیہ شرطا فاسدا او الھبۃ و الصدقۃ لا تفسدان بالشرط الفاسد اھ ردالمحتار۔
فقیر اس کے خلاف کرسکتا ہے اھ ملخصا۔ قولہ والظاہرنعم صاحب نہر نے اس پر بحث کر تے ہوئے فر مایا کہ حرمت تملیك کا تقاضہ یہی ہے کہ وہ خلاف ورزی کر سکتا ہے ۔ رحمتی نے فرمایا : ظاہر یہی ہے کہ اس میں کوئی شك نہیں اس لیے کہ اس نے فقیر کو اپنے مال کی زکوۃ دے کر اسے مالك بنا دیا اور ساتھ شرط فاسد کا اضافہ کردیا حالانکہ ہبہ اور صدقہ شرط فاسد سے فاسد نہیں ہوتے اھ ردالمحتار (ت)
پھر جب صریح شرط باوجود خلوص نیت اداء زکوۃ میں خلل انداز نہیں تو ایسا بر تاؤ جو بظاہر معنی شرط پر دلالت کرے مثلاجب یہاں رہے تو دے اور نہ رہے تو نہ دے بدرجہ اولی باعث خلل نہ ہوگا۔
اقول : وقد ظہر ھذا من مسائل البشیر والطبال ومھدی البالکورۃ فانہ انما یحمل الناس علی الدفع الیھم افعالھم ھذھ ولو لم یفعلو افلر بمالم ید فع الیھم شیئ ومن ذلك مسئلۃ دفع العیدی بنیۃ الزکوۃ الی خدامہ من الرجال و النساء حیث یقع عن الزکوۃ کما فی المعراج وغیرہ مع العلم با نہ لو لم یخدموہ لما اعطا ھم و با لجملۃ فھذہ العلائق تکون بواعث للناس علی تخصیصھم بصرف الزکوۃ فد وران العطاء معھا وجودا وعد ما لا یعین معنی التعویض وانما المراجع النیۃ فا ذا خلصت اجزت۔
اقول : بشارت دینے والے سحر خواں ( سحری کے وقت بیدار کرنے والا ) اور نئے پھلوں کا ہدیہ دنے والے کے مسائل سے بھی یہ بات واضح ہوگئی ہے کیونکہ لوگ ان کو ان کے عمل کی وجہ سے دیتے ہیں اگر وہ یہ کام نہ کریں تو اکثر اوقات ان بیچاروں کو کچھ بھی نہیں دیا جاتا اسی طرح یہ مسئلہ کہ خدام(خواہ مرد ہوں یا خواتین )کو نیت زکوۃ سے عیدی دینے سے زکوۃ ادا ہوجاتی ہے جیسا کہ معراج وغیرہ میں ہے حالانکہ یہ بات مسلمہ ہے کہ اگروہ خدمت نہ کرتے تو انھیں یہ رقم نہ ملتی الغرض یہ وہ تعلقات ہیں جن وجہ سے لوگ ان مخصوص لوگوں کو زکوۃ دیتے ہیں تو اب عطا کا تعلقات کے ساتھ دوران وجودا وعدماعوض بنانے کے معنی کو معین نہیں کر تا نیت پر مدار ہوگا جب نیت خالص ہو گی تو زکوۃ ادا ہو جائیگی ۔ (ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الزکوٰۃ باب المصرف مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤١
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب المصرف مصطفی البابی مصر ٢ / ٦٩
#9328 · کتاب الزکوۃ
جب یہ امور ذہن نشین ہولیے تو جواب مسئلہ بحمدہ تعالی واضح ہوگیا اگر وہ اگر دینے والے بقصد معاوضہ و بطور اجرت دیتے یا نیت زکوۃکے ساتھ یہ نیت بھی ملالیتے تو بیشك زکوۃ ادا نہ ہوتی۔
اما علی الاول فلعدم النیۃ واما علی الثانی فلعدم الاخلاص ولایکون کنیۃ الحمیۃ مع نیۃ الصوم حیث تجزی لانھا نیۃ لازم لا نیۃ مناف کما افادہ المولی المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر ولا کذلك ما ھنا فان التعویض یبائن التصدق ۔
پہلی صورت (بقصد معاوضہ و اجرت) میں نیت زکوۃ ہی نہیں اور دوسری صورت یعنی (زکوۃ کے ساتھ معاوضہ کی نیت بھی ہو ) تو اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے زکوۃ ادا نہ ہوگی اور اس طرح نہیں جیسے بخار کی بناء پر رخصت کی نیت روزہ کی نیت کے ساتھ کہ یہ جا ئز ہے کیونکہ نیت اس صورت میں لازم کی نیت ہے منافی کی نہیں جیساکہ مولی محقق علی الاطلاق نے فتح القدیرمیں افادہ فرمایا ہے اور یہاں ایسا نہیں ہے کیونکہ معاوضہ میں دینا صدقہ کہ منافی ہے۔ (ت)
جبکہ تقریر سوال سے ظاہر کہ انہوں نے محض بنیت زکوۃ دیا اور اسے زکوۃ ہی خیال کیا معاوضہ و اجرت کا اصلالحاظ نہ تھا تو بے شك زکوۃ ادا ہوگئی اگر چہ وہ شخص جسے زکوۃ دی گئی اپنے علم میں کچھ جانتا ہو اگر چہ انہوں نے اس سے صاف کہہ بھی دیا کہ یہاں رہوگے تو دیں گے ورنہ نہ دیں گے اگر چہ و ہ عمل بھی اس کے مطابق کریں یعنی ایام حاضری میں دیں غیر حاضری میں نہ دیں کہ جب نیت میں صرف زکوۃ کا خاص قصد ہے تو ا ن میں کوئی امر ا س کا نافی و منافی نہیں۔
کما حققنا فالا فتاء ھھنا بعدم الاجزاء بناء علی مخالفۃ علم المدفوع الیہ کماوقع عن بعض المدعین علو ا الکعب فی العلم الدینیۃ ناش عن قلۃ التدبیر او سوء الفھم واﷲالمستعان وعلی ازالۃ الوھم والحمدﷲ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
جیسا کہ ہم نے تحقیق کی ہے پس اب اس پر فتوی دینا کہ یہاں زکوۃ دینا اسلئے جائز نہیں کہ جس کو دی جارہی ہے اس کے علم میں یہ نہیں ہے جیسا کہ علم دین میں اپنے فوقیت کا اعلان کرنے والے بعض حضرات نے کیا یہ قلت تدبریا سوء فہم کی وجہ سے ہوا۔ اﷲتعالی ہی ازالہ وہم پر مدد گار ہے والحمد ا ﷲ والله سبحنہ وتعالی اعلم (ت)
مسئلہ : مسئولہ مولوی علی احمد صاحب مصنف تہذیب الصبیان جمادی الاولیھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ان دنوں قحط میں بعض آدمی مد زکوۃ میں بھوکوں کو غلہ مکا وغیرہ تقسیم کر تے ہیں یہ جائز ہے یا نہیںبینواتوجروا
الجواب :
زکوۃ میں روپے وغیرہ کہ عوض بازار کے بھاؤ سے اس قیمت کا غلہ مکا وغیرہ محتاج کو دے کر بہ نیت زکوۃ مالک
#9329 · کتاب الزکوۃ
کردینا جائز و کافی ہے زکوۃ ادا ہوجائیگی جس قدر چیز محتاج کی ملك میں گئی بازار کے بھاؤ سے جو قیمت اس کی ہے وہی مجراہوگی بالائی خرچ محسوب نہ ہوں گے مثلاآج کل مکا کا نرخ نو سیر ہے نو من مکا مول لے کر محتاجو ں کو بانٹی تو صرف چالیس روپیہ زکوۃ میں ہوں گے اس پر جو پلہ داری یا باربرداری دی ہے حساب میں نہ لگائی جائےگی یا گاؤں سے منگا کر تقسیم کی تو کرایہ گھاٹ چونگی وضع نہ کریں گے یا غلہ پکا کر دیا تو پکوائی کی اجرت لکڑیوں کی قیمت مجرانہ دینگے اس کی پکی ہوئی چیز کو جو قیمت بازار میں وہی محسوب ہو گی
لان رکنھا التملیك من فقیر مسلم لو جہ اﷲ تعالی من دون عوض۔
کیونکہ اس کا رکن یہ ہے کہ کسی فقیر کو اﷲکی رضاکی خاطر اس کا مالك بنایا اور بطور معاوضہ نہ ہو ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لو اطعم یتیما نا ویا الزکوۃ لا یجزیہ الا اذا دفع الیہ المطعوم کمالوکساہ۔
جب کسی نے یتیم کو نیت زکوۃ سے کھانا کھلایا زکوۃ ادا نہ ہوگی جب تك کھانا اس کے حوالے نہ کردے ایسے ہی لباس کا معاملہ ہے (ت)
عالمگیری میں ہے :
ماسواہ من الحبوب لا یجوزالابالقیمۃ۔
یہ دانوں کے علاوہ میں ہے کیونکہ وہاں قیمت ہی ضروری ہے (ت)
اسی میں ہے : الخبز لا یجوز الا باعتبار القیمۃ (روٹی کا اعتبار قیمت کے بغیر جائز نہیں ۔ ت) واﷲسبحنہ وتعالی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ : کیا فر ماتے علمائے دین اس صور ت میں کہ اگر کسی شخص نے عوض اس زر زکوۃ کہ جو اس کہ ذمہ واجب ہے محتاجو ں کو کھانا کھلادیا یا کپڑے بنادئے تو زکوۃ ادا ہو جائیگی یا نہیںبینو ا توجروا۔
الجواب :
عوض زر زکوۃ کے محتاجوں کو کپڑے بنادینا انھیں کھانا دے دینا جائز ہے اور اس سے زکوۃ ادا ہو جائیگی خاص روپیہ ہی دینا واجب نہیں مگر ادائے زکوۃ کے معنی یہ ہیں کہ اس قدر مال کا محتاجوں کو مالك کر دیا جائے
حوالہ / References در مختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٩۱
فتاوی ہندیہ الباب الثامن فی صدقۃالفطر نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٩٢
فتاوی ہندیہ الباب الثامن فی صدقۃالفطر نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٩٢
#9330 · کتاب الزکوۃ
اسی واسطے اگر فقراء و مساکین کو مثلااپنے گھر بلا کر کھانا پکا کر بطریق دعوت کھلادیا تو ہر گز زکوۃ ادا نہ ہوگی کہ یہ صورت اباحت ہے نہ کہ تملیك یعنی مدعو اس طعام کو ملك داعی پر کھاتا ہے اور اس کا مالك نہیں ہو جاتا اسی واسطے مہمانو ں کو روا نہیں کہ طعام دعوت سے بے اذن دعوت میزبان گداؤں یا جانوروں کو دے دیں یا ایك خوان والے دوسرے خوان والے کو اپنے پاس کچھ اٹھا دیں یا بعد فراغ جو باقی بچے اپنے گھر لے جائیں۔
فی الدرالمختار لو اطعم یتیما ناویا الزکوۃ لا یجزیہ الااذادفع الیہ المطعوم کما لو کساہ انتھی قولہ کما لو کساہ ای کما یجزیہ ھ طحطاوی عن الحلبی وفی الحاشیۃ الطحطاویۃ ایضا فی باب المصرف لا یکفی فیھا الاطعام الا بطریق التملیك ولواطعمہ عندہ نا ویا الزکوۃ لا یکفی انتھی۔
درمختار میں ہے کہ کسی نے یتیم کو بنیت زکوۃکھانا کھلایا تو زکوۃ ادا نہ ہوگی مگر اس صورت میں جب کھانا اس کے سپردکر دیا گیا ہو جیسا کہ اگراسے لباس پہنادیا گیا ہو انتہی قولہ “ کمالوکساہ “ یعنی اس صورت میں بھی زکوۃادا ہوجائیگی اھ طحطاوی عن الحلبی اور حاشیہ طحطاویہ کے باب المصرف میں یہ بھی ہے کھانا کھلادینا کافی نہیں البتہ اگر مالك کردے توپھر کافی ہے اور اگر کسی نے نیت زکوۃسے کھانا کھلایا تو کافی نہ ہوگا انتہی (ت)
ہاں اگر صاحب زکوۃ نے کھانا خام خواہ پختہ مستحقین کے گھر بھجوادیا یا اپنے ہی گھر کھلایا مگر بتصریح پہلے مالك کردیا تو زکوۃ ادا ہو جائیگی
فان العبرۃللتملیك ولا مدخل فیہ لا کلہ فی بیت المزکی اوارسالہ الی بیوت المستحقین وما ذکرہ الطحطاوی محمول علی الدعوۃ المعروفۃ فانھا المتبادرۃ منہ وانھا لا تکون الا علی سبیل الا باحۃ واﷲ تعالی اعلم۔
کیونکہ اعتبار تملیك کا ہے اس میں اس کا کوئی دخل نہیں کہ زکوۃ دینے والے کی گھر کھانا کھایا یا مستحق لوگوں کے گھر بھیج دیا ہو۔ اور جو طحطاوی نے ذکر کیا وہ دعوت معروفہ پر محمول ہے کیونکہ اس سے متبادر ہے کہ یہ دعوت بطور تملیك نہیں ہوتی بلکہ بطور اباحت ہوتی ہے وا ﷲتعالی اعلم (ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٩
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الزکوٰۃ دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٣٨٨
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار باب المصرف دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٤٢٥
#9331 · کتاب الزکوۃ
مسئلہ ۵ : مرسلہ مولوی عبدالواحد صاحب متعلم مدرسہ اہلسنت و جماعت بریلی ذی الحجہ ھ
کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے زکوۃ کا روپیہ نکا لا اور اس روپیہ سے غلہ خریدا اور تمام محتاجوں کو جمع کرکے اور کھانا پکواکر کھلوایا تو آیا زکوۃ ادا ہو جائیگی کہ نہیں کیا ضروری ہے کہ جو روپیہ نکالا وہی بعینہ دے
الجواب :
کھانا جمع کر کے کھلادینے سے زکوۃ ادا نہ ہوئی لانہ ابا حۃ ورکنھا التملیك (کیونکہ یہ اباحت ہے حالانکہ زکوۃ کا رکن مالك بنانا ہے۔ ت) نہ بعینہ روپیہ دینا ضرور بلکہ اگر اس کا اناج یا کپڑا خرید کر محتاجوں کو دے دیتا یا کھانا پکا کر ان کے گھر بھیج دیتا یا حصے انھیں تقسیم کر دیتا تو بازار کے بھاؤ سے جو اس کی قیمت ہوتی اس قدر زکوۃ ادا ہو جا تی پکوائی وغیرہ اجرت میں جو صرف ہوا وہ محسوب نہ ہوگا ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : ازدھوراجی ملك کاٹھیاواڑ مسئولہ حاجی عیسی خاں محمد صاحب صفرھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قحط سالی میں مسلمان لوگ چندہ کرکے روپیہ جمع کرکے گندم چھ روپیہ کے بھاؤسے ایك من خرید کر کےچار روپیہ کے بھاؤ سے مسلمان غریب لوگوں کو دینا اور جو دو روپیہ کا نقصان ہوتا ہے وہ مال زکوۃ سے ادا ہو جائےگا یا نہیںاگر نہ ہوتا ہو تو کس صورت سے ادا ہومہربانی فرما کر جلدی عنایت فرمائیں بہت ضروری ہے یہاں پر بالکل بارش نہیں ہوئی ہے اور غریب مسلمان لوگوں کو بہت ضرورت ہے اس مسئلہ کو سوال بنا کر جواب لکھ کر روانا کر دینا ۔
الجواب :
زکوۃ اس طرح ادا نہیں ہوسکتی
فان البیع یبائن الصدقۃ والمحاباۃلیست فی القدر الزائد المتروك من التملیك فی شئ فانك لم تملکہ حتی تملکہ۔
کیونکہ بیع صدقہ کےمبائن چیز ہے خریداری میں رعایت سودے سے کسی زائد چیز کی تملیك نہیں ہے کیونکہ رعایت تیری ملکیت نہیں تاکہ تو کسی کو مالك بنائے۔ (ت)
بلکہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ چھ ہی روپے من ان کے ہاتھ بیچیں اور فی من دوروپے ان کو زکوۃ میں اپنے پاس سے دیں اور قیمت میں چھ روپے ان سے وصول کریں ان کے دو روپے زکوۃ میں محسوب ہوں گے اور ان کو من بھر گیہوں پر چارہی روپے اپنے پاس سے دینے پڑے۔ واﷲتعالی اعلم
#9332 · کتاب الزکوۃ
مسئلہ : رجب ھ
چار پانچ آدمی بزاز کے یہاں کپڑا خریدنے گئے ان میں سے ایك نے کوئی کپڑا چرالیا بعد معلوم ہونے کے دکاندار نے اس کومعاف کر دیا اور نیت صدقہ یا زکوۃ کی کی تو یہ نیت اس کی صحیح ہوگی یا نہیں اور یہ کپڑا صدقہ یا زکوۃ میں محسوب ہوگا یا نہیں
الجواب :
اگر وہ کپڑا ہنوز موجود ہے تو نہ وہ صدقہ میں محسوب ہوگا نہ زکوۃ میں نہ اس کی معافی ہوگی فان الابراء عن الاعیان باطل (کیونکہ اعیان سے بری کرنا باطل ہے ۔ ت)ہاں اگر اسے ہبہ کردیاتو ہبہ ہوجائیگا اور اگر ہبہ کرنے سے زکوۃ یا صدقہ کی نیت کی اور وہ شخص اس کا مصرف ہو تو زکوۃ و صدقہ ادا ہوجائیں گے اور اگر وہ کپڑا اس نے تلف کر دیا یہاں تك کہ اس کا اس پر تاوان لازم آیا اور اس نے وہ تاوان معاف کر دیا تو معافی صحیح ہے اور نیت محمود ہو تو اجر پائے گا اور یہ خود ایك صدقہ نفل ہے مگر اس میں زکوۃ کی نیت صحیح نہیں ہاں اس سے اتنے کی زکوۃ ادا ہوجائے گی جتنا تاوان اس پر واجب تھا مگر یہ اس کے دیگر اموال کی زکوۃ ہوسکے یہ نہ ہوگا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ تا ۱۱ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں :
() زید نے اپنے برادر حقیقی یا بہنوئی یا بہن یا کسی دوست کو اپنی ضمانت سے مبلغ پچاس روپیہ سودی قرض دلادئے اب وہ روپیہ اصل وسود مل کر سو روپیہ ہوگئے زید نے وہ روپے اپنی زکوۃ کے روپے سے ادا کردئے مگر شخص مذکور سے یہ نہیں کہا کہ روپیہ زکوۃ کا ہم نے تمھارے قرضہ میں دیا کیونکہ اگر اس سے کہا جائیگا تو وہ شخص بوجہ برادری کے زکوۃ لینا پسند نہیں کرتااس صورت میں زید سےزکوۃ ادا ہوگیا یا نہیں
() زید نے مبلغ ہزار روپیہ کا رس خریدا اور روپیہ بموجب رواج کھنڈسالیوں کے بالیوں کو دے دیا وقت وصول رس کے پانچ سو روپیہ کا رس وصول ہوا اور باقی روپیہ کے سال آئندہ پر وصول ہونے کی امید رہی اب زید پر زکوۃ پانچ سو روپیہ کی چاہئے یا ہزار کی اور اس بقیہ روپے کا یہ انتظام کیا کہ کچھ روپیہ اور دے کر دستاویز تحریر کرالی اس دستاویز کا روپیہ بشرط پیدا واراس تحریر دستاویز سے دس ماہ بعد وصول ہوگا ورنہ سال آئندہ پر کیا قرضہ دستاویز پر زکوۃ چاہئے یا نہیں
() کچھ قرضہ زیدکا اس طور ہے کہ زید نے دستاویز تحریر کراکے روپیہ قرض کردیا منجملہ اس کے کچھ روپیہ وصول ہوا اور کچھ باقی رہا اس بقیہ کی نہ دستاویز ہے اور نہ کوئی شئ ایسی اس شخص کے پاس ہے کہ جس سے وہ قرضہ اپنا ادا کرے اور اگر ہے تو بغرض بدنیتی اس شئ کو دوسرےکے نام کردیا اب زید کو صرف امید ہی امید
#9333 · کتاب الزکوۃ
وصول کی ہے لہذا اس روپے پر زکوۃ دی جائے یا نہیں
() زید نے پانچ سو روپیہ اپنے اور ہزار قرض لے کر دکان کے منجملہ پندرہ سو روپیہ کے ہزار روپیہ کا مال دکان میں ہے اور پانچ سو روپیہ قرضہ میں ہیں اس صورت میں زکوۃ دی جائے یا نہیں اور دی جائے تو کس قدر کی
الجواب :
() اگر زید نے و ہ روپیہ اپنے اس عزیز کو دل مین نیت زکوۃ کرکے دیا تو زکوۃ ادا ہوگئی خواہ کسی خرچ میں صرف کرے اور اگر بطور خودبلا اجازت اس کے قرضہ میں دیا تو زکوۃ ادا نہ ہوگی وا ﷲ تعالی اعلم۔
() زکوۃ کل روپیہ کی واجب ہوگی مگر مقدار قرضہ کے ابھی ادا کر نا لازم نہیں بعد وصول ادا کرسکتاہے۔
() جبکہ اس کے پاس ثبوت نہیں اور نہ وہ ادا پر آمادہ اور نہ اس کے پاس جائداد تو اس قرضہ کی زکوۃ لازم نہیں۔
() منجملہ پندرہ سو کے کسی قدر زکوۃ فی الحال واجب الادا نہیں جبکہ و ہ وہی مال رکھتا ہو۔ والله تعالی اعلم
#9334 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
مسئلہ تا۱۸ : از گونڈہ بہرائچ محلہ چھاؤنی مکان مولوی اشرف علی صاحب مرسلہ حضرت سید حسین حیدر میاں صاحب دامت بر کاتہم جمادی الاولیھ
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین لطف اﷲبہم اجمعین ان مسائل میں :
مسئلہ اولی : زکوۃ بتدریج دی جائے یایکمشت دینے میں کیا نقصان ہے بینواتوجروا ۔
الجواب :
اگر زکوۃ پیشگی ادا کرتا ہے یعنی ہنوز حولان حول نہ ہوا کہ وجوب ادا ہوجاتا خواہ یوں کہ ابھی نصاب نامی فارغ عن الحوائج کا مالك ہوئے سال تمام نہ ہوا یا یوں کہ سال گزشتہ کی دے چکا ہے اور سال رواں ہنوز ختم پر نہ آیا تو جب تك انتہائے سال نہ ہو بلاشبہ تفریق و تدریج کا اختیار کامل رکھتا ہے جس میں اصلا کوئی نقصان نہیں کہ حولان حول سے پہلے زکوۃ واجب الادا نہیں ہوتی۔ درمختار میں ہے :
شرط افتراض ادا ئھا حولان الحول
ادائیگی زکوۃ کے فرض ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ مال
#9335 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
وھو فی ملکہ۔
کی ملکیت پر سال گزرے۔ (ت)
تو ابھی شرع اس سے تقاضا ہی نہیں فرماتی یکمشت دینے کا مطالبہ کہاں سے ہوگا یہ پیشگی دینا تبرع ہے ولا جبر علی المتبرع وھذاظاھر جدا(نفلا دینے پر جبر نہیں اور یہ نہایت ہی واضح ہی ۔ ت ) اور اگر سال گزر گیا اور زکوۃ واجب الادا ہو چکی تو اب تفریق و تدریج ممنوع ہوگی بلکہ فوراتمام و کمال زر واجب الادا ادا کرے کہ مذہب صحیح و معتمدو مفتی پر ادائے زکوۃ کا وجوب فوری ہے جس میں تا خیر باعث گناہ۔ ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالی عنہم سے اس کی تصریح ثابت۔
رواہ الفقیہ ابو جعفر عن الامام الاعظم و ذکرہ ابو یوسف فی الامالی کما فی الخلاصۃ وفی منتقی الامام ابی عبداﷲ محمد بن عبداﷲالحاکم الشھید رحمہ اﷲتعالی علی ما نقل القھستانی عن المحیط انہ علی الفور عند ھما وعن محمد لا تقبل شھادۃ من اخر فھذاظاھر فی انہ ھو المذھب المروی عن الشیخین فی ظاھر الروایۃ۔
یہی فقیہ ابو جعفر نے امام اعظم سے روایت کیا امام ابویوسف نے اسے امالی میں ذکر کیا جیسا کہ خلاصہ میں ہے اور امام ابوعبداﷲمحمدبن عبداﷲالحاکم الشہید رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی منتقی میں ہے جیسا کہ قہستانی نے محیط سے نقل کیا ہے وہ یہ ہے کہ شیخین کے نزدیك ادائیگی زکوۃ علی الفورلازم ہوجاتی ہے اور امام محمد سے ہے کہ جس نے ادائیگی میں تاخیر کی اس کی شہادت قبول نہ ہوگی۔ یہ بات اس بارے میں واضح ہے کہ شیخین سے یہی مذہب ظاھرالرویۃ میں مروی ہے۔ (ت)
فتح القدیرمیں ہے :
یلزم بتاخیرہ من غیرضرورۃ الاثم کما صرح بہ الکرخی والحاکم الشھید فی المنتقی وھو عین ما ذکرہ الفقیۃ ابو جعفر عن ابی حنیفۃرضی اﷲ تعالی عنہ انہ یکرہ ان یؤخر ھا من غیر عذرفان کراھۃ التحریم ھی المحمل عنداطلاق اسمھا عنھم
بغیر مجبوری کے تاخیر سے گناہ لازم آتا ہے جیسا کہ امام کرخی اور حاکم شہید نے المنتقی میں تصریح کی ہے۔ یہ بعینہ وہی بات ہے جس کا تذکرہ فقیہ ابوجعفر نے امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالے عنہ سے کیا ہے کہ بغیر عذر ادائیگی کو مؤخر کرنا مکروہ تحریمہ ہے کیونکہ جب کر اہت کا ذکر مطلقا ہو تو اس وقت وہ مکروہ تحریمی پر محمول ہوتی ہے
حوالہ / References درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٣٠
جامع الرموز کتاب الزکٰوۃ مکتبہ اسلامیہ گنبدقاموس ایران ٢ / ٣٠١
#9336 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
وکذاعن ابی یوسف وعن محمد ترد شھادتہ بتا خیر الزکوۃ حق الفقراء فقد ثبت عن الثلثہ وجوب فوریۃالزکوۃ اھ مخلصا۔
امام ابو یوسف سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ امام محمد فرماتے ہیں کہ تا خیر زکوۃ کی وجہ سے گواہی مرد ود ہوجائیگی کیونکہ زکوۃ فقراء کا حق ہے تو تینوں بزرگون سے یہ ثابت ہوا کہ زکوۃ کی ادائیگی فی الفورم لازم ہوتی ہے اھ مخلصا(ت)
فتاوی امام قاضی خاں میں ہے :
ھل یأثم بتأخیر الزکوۃ بعدالتمکن ذکر الکرخی انہ یأثم وھکذ ا ذکر الحاکم الشھید فی المنتقی وعن محمد ان من اخر الزکوۃ من غیر عذرلا تقبل شہادتہ وروی ھشام عن ابی یوسف لایأثم اھ ملخصا۔
قلت : فقد قدم التاثیم و ما یقدمہ فھوالراجح الاظھر الاشھر عند ہ کما نص علیہ بنفسہ ویکون ھو المعتمد کما صرح بہ الطحطاوی و الشامی وغیرہماوکذاقدمہ فی الھدایۃوالکافی۔
آدمی قدرت کے بعد تا خیر زکوۃ کی وجہ سے گنہگار ہو گا یا نہیں امام کرخی نے فرمایا : گنہ گار ہوگا۔ اسی طرح حاکم شہید نے منتقی میں ذکر کیا ہے۔ امام محمد سے مروی ہے کہ جس شخص نے بغیر عذر زکوۃ کو مؤخر کیا اس کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی۔ ہشام نے امام ابویوسف سے نقل کیا کہ وہ گنہگار نہ ہوگا اھ ملخصا۔
قلت : (میں کہتا ہوں کہ)گنہگار ہونا (امام ابویوسف کے حوالے سے) پہلے ذکر کیا ہے اور وہی قاضی خاں کے ہاں راجح اظہر اور اشہر ہے جیسا کہ اس پر خود انہوں نے تصریح کی ہے اور یہی معتمد ہے جیسا کہ اس پر طحطاوی شامی اور دیگر لوگوں نے تصریح کی ہے اسی طرح ہدایہ اور کافی میں اسی کو مقدم رکھا ہے(ت)
فتاوی عالمگیر یہ میں ہے :
تجب علی الفور عند تمام الحول حتی یأثم بتاخیرہ من غیر عذر وفی روایۃ الرازی علی التراخی حتی یأثم عند الموت والا ول اصح
سال پورا ہونے پر زکوۃ فی الفورم لازم ہوجاتی ہے حتی کہ بغیر عذر تاخیر سے گناہ ہوگا رازی کی روایت کے مطابق فی الفور لازم نہیں (حتی کہ مؤخر کرنے سے گناہ نہ ہوگا)البتہ اسی حالت میں موت آگئی تو
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الزکوٰۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر ٢ / ١١٤
فتاویٰ قاضی خاں کتاب الزکٰوۃ فصل فی مال التجارۃ مطبع منشی نولکشورلکھنؤ ١ / ١١٩
#9337 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
کذا فی التھذیب۔
قریب موت گنہگار ہوگا لیکن پہلا قول اصح ہے جیسا کہ تہذیب میں ہے۔ (ت)
جواہراخلاطی میں ہے :
یجب الزکوۃ علی الفور حتی یأثم بتاخیرہ بلا عذروقیل علی التراخی والاول اصح اھ ملخصا۔
زکوۃ علی الفور واجب ہوجاتی ہے حتی کہ بغیر عذر مؤخر کر نے سے گناہ گار ہوتا ہے بعض کے نزدیك فی الفور نہیں ہوتی لیکن پہلاقول اصح ہے اھ ملخصا(ت)
مجمع الانہر میں ہے :
قال محمد لاتقبل شہادۃ من لم یؤد زکوتہ وھذا یدل علی الفور کما قال الکرخی و علیہ الفتوی ۔
امام محمد نے فرمایا : جو شخص زکوۃ ادا نہ کرے اس کی شہادت مقبول نہ ہو گی یہ بات دلالت کر تی ہے کہ زکوۃ فی الفورلازم ہوجاتی ہے۔ امام کرخی نے بھی یہی فرمایا ہے اور اسی پر فتوی ہے(ت)
تنویرالابصار و درمختار میں ہے :
(وقیل فوری) ای واجب علی الفور(وعلیہ الفتوی) کما فی شرح الوھبانیۃ (فیاثم بتاخیرہا) بلا عـذر (وترد شھادتہ) لان الامر بالصرف الی الفقیرمعہ قرینۃالفور وھی انہ لدفع حاجتہ وھی معجلۃ فمتی لم تجب علی الفورلم یحصل المقصود من الایجاب علی وجہ التمام وتمامہ
(بعض نے کہا کہ زکوۃ فوری ہے) یعنی زکوۃ فی الفور لازم ہوجاتی ہے (اور اسی پر فتوی ہے ) جیسا کہ شرح وہبانیہ میں ہے (تو تاخیر ادائیگی سے گناہ لازم لائے گا) جب تاخیر بغیر عذر ہو (اور ایسے شخص کی شہادت مردود ہے )کیونکہ حکم زکوۃ کے ساتھ مصرف زکوۃ فقراء کا ذکر کرنا اس پر قرینہ ہے کہ فی الفور ادا ئیگی ہو کیونکہ زکوۃدینا ضروریات فقیر کو پورا کرنے کیلئے ہوتا ہے اور اس میں تعجیل مقصود ہے اور اگر یہ فی الفورلازم ہی نہ ہو تو کامل طور پر ایجاب زکوۃ کا مقصد حاصل نہ ہوگا۔ تفصیل اس کی
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الزکوٰۃ فصل فی مال التجارۃ مطبع منشی نو لکشور لکھنؤ ١ / ١١٩
جواھرالاخلاطی کتاب الزکوٰۃ غیر مطبوعہ قلمی نسخہ ص ٤٣
مجمع الانہر ملتقی الابحر کتاب الزکٰوۃ دارحیاء التراث العربی بیروت ١ / ١٩٢
#9338 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
فی الفتح اھ۔ اقول : فاذا کان ھذا ھواقضیۃ الدلیل والا لصق بمقصد الشرع الجلیل وھو الا حوط فی الدین والا دفع لکید الشیاطین والا نفع لفقراء المسلمین و قد جزم بہ المولی فقیہ النفس قاضی الامۃ وصححہ کمامر ویاتی من کبارالائمۃ و قد ثبت عن سا داتنا الثلثۃ مالکی الازمۃ وقد نص کثیرون ان علیہ الفتوی ومعلوم ان ھذا اللفظ اکد و اقوی فعلیہ فلیکن التعویل وا لاعتماد وان حکی التراخی ایضاعن الثلثۃالامجادوصححہ الباقانی والتا تارخانی بل قال المولی المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر ما ذکر ابن شجاع عن اصحابناان الزکوۃعلی التراخی یجب حملہ علی ان المراد بالنظر الی دلیل الافتراض ای دلیل الا فتراض لا یو جبھا وھولا ینفی وجوددلیل الایجاب اھ قال العلامۃ السید احمد المصری فی حاشیۃ الدرالمختار واختار الکمال ان الزکوۃ فرضیۃ وفوریتھاواجبۃ ویصلح ھذا توفیقا بین القولین اھ قلت : وکان ظھرلی التوفیق بان من قال بالتراخی
فتح میں ہےاھ اقول : جب دلیل کا معاملہ یہ ہے تو یہ مقصد شرع جلیل سے متصل اور قریب ہے اور یہی دین میں احوط اور شیاطین کے مکر کو دفع کرنے والا اور فقراء مسلمین کے لئے زیادہ نافع ہے اسی پر ہمارے سربراہ فقیہ النفس قاضی الامت نے جزم فرمایا اور اسکو صیح قرار دیا جس کا ذکر گزرا اور کبارائمہ سے اس کی تصیح آرہی ہے اور ہمارے تینوں ائمہ جو مسلك کے سر تاج ہیں سے یہی ثابت ہے اور کثیر فقہاء نے تصریح کی ہےکہ فتوی اسی پر ہے اور یہ بات مسلمہ ہے کہ یہ الفاظ مؤکد اور قوی ہیں لہذا اسی پر اعتماد ہونا چاہےے اگر چہ ان تینوں بزرگوں سے تراخی بھی منقول ہے اور اسے باقانی اور تاتارخانی نے صحیح کہا ہے بلکہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا : ہمارے احنا ف میں سے ابن شجاع نے جو یہ کہا کہ زکوۃ فی الفورم لازم نہیں اسے زکوۃ کی فرضیت کی دلیل سے منسلك کرنا ضروری ہے یعنی فرضیت کی دلیل فی الفورادائیگی کو واجب نہیں کرتی جبکہ اس سے فوری ادائیگی کی علیحدہ دلیل کی نفی نہیں ہوتی ۔ علامہ سیداحمد مصری نےحاشیہ درمختار میں کہا کہ کمال کا مختار یہ ہے کہ زکوۃ فرض ہے اور فی الفور ادا کر نا واجب ہے اس سے دونوں اقوال کے درمیان موافقت ممکن ہے اھ
قلت (میں کہتا ہوں ) : میرے نزدیك تطبیق یوں ہو سکتی ہے کہ جس نے تراخی کی
حوالہ / References درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٣٠
فتح القدیر کتاب الزکوٰۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ١١٤
حاشیۃالطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الزکٰوۃ دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٣٩٦
#9339 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
فمرادہ ان وقتہ العمرفتکون ادا ء متی ادی وان اثم بالتاخیر ومن قال بالفور اراد انہ یاثم بالتا خیر وان لم یصربہ قضاء ولا بدع فی ذلك فان الحج فوری علی الراجح مع الاجماع علی انہ لوتراخی کان اداء ونظیرہ سجدۃ التلاوۃ وجوبھا فوری عندابی یوسف ومتراخ عند محمد و ھو المختار کما فی النھر والامداد والدرالمختار واذا اداھا بعد مدۃکان مؤدیا اتفاقا لاقاضیا کما فی النھر الفائق وغیرہ
اقول : لکن یخدش التوفیقین ما قد منا عن الخانیۃ حیث فرض المسئلۃ فی التأثیم ونص روایۃ ھشام عن ابی یوسف لا یأثم فلابدمن ابقاء الخلاف وترجیح الراجح اویقال ان ھشاما انما سمع التراخی فنقل ھو او من روی عنہ بالمعنی علی ما فھم ولعل فیہ بعدایعرف وینکر فلیتدبر واﷲ تعالی اعلم۔
بات کی ہے اس کی مراد یہ ہے کہ وقت ادا تمام عمر ہے تو جس وقت بھی ادائیگی کریگا زکوۃ ادا ہی ہو گی اگر چہ تاخیرسے گنہگار ہوگا اور جس نے کہا “ فی الفورواجب ہے “ اس کی مراد یہ ہے کہ تاخیر سے انسان گنہگار ہوجاتا ہے اگر چہ تاخیر سے قضا نہیں ہوگی اور یہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ حج راجح قول کے مطابق فی الفور لازم ہے حالانکہ اس پر اجماع ہے کہ اگر کسی نے دیر کے بعد حج کیا تو ادا ہی ہوگا اس کی نظیرسجدہ تلاوت ہے جوامام ابو یوسف کے نزدیك فی الفور اور امام محمد کے نزدیك علی التراخی واجب ہے اور یہی مختار ہے جیسا کہ نہر امداد اور درمختار میں ہے اگر کسی نے مدت کے بعد سجدہ کیا تو بالاتفاق ادا ہی ہوگا اسے قضا کرنے والا نہ کہا جائیگا جیسا کہ النہرالفائق وغیرہ میں ہے ۔
اقول : ان دونوں تطبیقات کو خانیہ کی سابقہ عبارت مخدوش کر دیتی ہے کہ وہاں عنوان مسئلہ ہی گنہگار ہونے کے بارے میں ہے اورامام ابو یوسف سے روایت ہشام میں گنہگارنہ ہونے کی تصریح ہے لہذا اثبات اختلاف اور ترجیح راجح ضروری ہے یا یہ کہا جائے کہ ہشام نے تراخی سنا اور اسے نقل کردیا جس نے ان سے روایت بالمعنی کی اس نے اپنی سمجھ کے مطابق نقل کر دیا شاید اس میں بعد معلوم ہو اور اجنبی سمجھا جائے تو غور کرو۔ واﷲتعالی اعلم (ت)
بلکہ ہمارے بہت ائمہ نے تصریح فرمائی کہ اس(زکوۃ) کی ادائیگی میں دیر کرنے والا مردود الشہادۃہے یہی منقول ہے محرر مذہب سیدناامام محمدرحمہ اﷲتعالے سے
کمامرعن الفتح والخانیۃومجمع النھر ومثلہ فی خزانۃالمفتین وفی شرح النقایۃعن المحیط وفی جواھرالا خلاطی وبہ جزم فی
جیسا کہ فتح خانیہ اور مجمع الانہر میں ہے۔ اسی طرح خزانۃ المفتین اور شرح نقایہ میں محیط سے اورجواھرالاخلاطی میں ہے اور اسی پرتنویر اوردر میں جزم
#9340 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
التنویر والدرکما سمعت ونقل الامام الخاصی وصاحب المضمرات شرح القد وری و الطحطاوی والشامی وغیرھم عن الامام قاضی خان ان علیہ الفتوی وبہ اخذالفقیہ ابو اللیث رحمہ اﷲتعالی ۔ اقول : وقول من قال تردشھدتہ یؤید کا لا یخفی ومن قال لافقولہ لا یخالفنااذلیس کل ما یتر جح فیہ الاثم وان صغیرۃ ممایرد بہ الشھادۃ کمالیس بخاف علی من طالع کتاب الشھادۃ۔
کیا ہے جیسا کہ آپ سن چکے۔ امام خاصی صاحب المضمرات شرح قدوری طحطاوی اورشامی وغیرہ نے امام قاضی خاں سے نقل کیا کہ اسی پر فتوی ہے اورفقیہ ابواللیث رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اسے ہی لیا ہے ۔ اقول : جس نے یہ کہا کہ “ اس کی شہادت مردودہے “ اس نے ہماری تائید کی جیسا کہ مخفی نہیں جس نے کہا “ مردود نہیں “ وہ ہمارے مخالف نہیں کیونکہ ہر وہ شی جس میں گنہگار ہوناراجح ہو اگر چہ گناہ صغیرہ ہی ہو ایسی نہیں جس سے شہادت رد ہوجائے جیسا کہ یہ اس پر واضح ہے (مخفی نہیں )جس نے کتاب الشھادۃ کا معاملہ کیا ہے۔ (ت)
اور شك نہیں کہ تدریج میں اگر کل کی تاخیر نہ ہوئی تو بعض کی ضرور ہوگی حالانکہ اس پر واجب تھا کہ کل مطالبہ فی الفو ر ادا کرے
لان الا یجاب الفوری انما ھو للکل لا للبعض و ھذا ظاھر جدا ثم فی معنی الفور ھھنا بحث للعلامۃ الشامی قدس سرہ السامی حیث قال قولہ فیأثم بتاخیر ھا الخ ظاھرہ الاثم بالتاخیر ولوقل کیوم او یو مین لانھم فسروا الفورباول اوقات الامکان وقد یقال المرادان لا یؤخر الی العام المقابل لما فی البدائع عن المنتقی با لنون اذا لم یودحتی مضی حولان فقد اساء و أثم ا ھ فتأمل اھ
اقول : لایخفی ان ھذا القول المعتمد منقول فی عامۃ الکتب بلفظ الفور
کیونکہ فوری واجب کرنا کل کے لئے ہے نہ کہ بعض کے لئے اور یہ نہایت ہی واضح ہے پھر یہاں علامہ شامی قدس سرہ السامی کو معنی فور میں کلام ہے وہ کہتے ہیں مصنف کے قول “ تاخیر زکوۃ سے گنہگار ہوگا “ الخ اس سے ظاہر یہی ہے کہ تاخیر اگر چہ تھوڑی ہو مثلاایك یا دو دن اس سے گنہگار ہوگا کیونکہ فقہاء نے فور کی تفسیر اول اوقات امکان سے کی ہے اور کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ مراد یہ ہے کہ آئندہ سال تك تاخیر نہ ہو کیونکہ بدائع میں منتقی سے ہے کہ جب کئی سال گزر جائیں اور (زکوۃ کی) ادائیگی نہ کی ہو تو یہ برا اور گناہ ہے اھ فتأمل۔
اقول : واضح رہے کہ یہ قول معتمد عام کتب میں لفظ فور اور عدم تاخیر سے منقول ہے اور
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ دارحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ١٣
#9341 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
وعدم التاخیر انما معناہ کما نصواعلیہ وافدتم انتم ھو الا تیان فی اول اوقات الامکان فالتقیید بعدم التاخیر عاما تغییر لا تفسیر و یظھر لی ان قضیۃ الدلیل ایضا تخالفہ فان العلماء کا لاما م فقیہ النفس والامام المحقق علی الاطلاق والامام حسین بن محمد السمعانی صاحب خزانۃ المفتین والعلامۃ برھان الدین ابی بکربن ابراھیم الحسینی صاحب جواھر الا خلاطی وغیرھم رحمھم اﷲتعالے ذکر وا تعلیل تفرقۃ محمد با یجاب الزکوۃعلی الفور و الحج متراخیابان الزکوۃ حق الفقراء فیأثم بتاخیر حقھم بخلاف الحج فانہ خالص حق المولی سبحانہ وتعالی وانت تعلم ان حق العبد بعد وجوب الداء والتمکن منہ لا یتا خر اصلا الا تری ان الاجل اذاحل فمطل الغنی ظلم وان قل وکذا ماحقق المولی المحقق حیث اطلق من ان مع النص قرینۃ الفوروھو الشرع لدفع حاجۃ الفقراء وھی معجلۃ یدل علی الفور الحقیقی ولایتفاوت التسویف بعام و اعوام فی عدم حصول المقصود علی وجہ التمام لا جرم ان قال فی مجمع الانہر بعد ذکرہ الفتوی علی فوریۃ الزکوۃ
اس کا معنی جیسا کہ فقہاء نے تصریح کی اور آپ خود افادہ کر چکے ہو کہ اول اوقات امکان میں بجا لا نا ہے لہذا عدم تاخیر کو سال کے ساتھ مقید کرنا تغییر(بدل دینا ) ہے تفسیر نہیں اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ معاملہ دلیل بھی اس کی مخالفت کر رہا ہے کیونکہ علماء مثلاامام فقیہ النفس امام محقق علی الاطلاق امام حسین بن محمد سمعانی صاحب خزانۃ مفتین اورعلامہ برہان الدین ابو بکر بن ابراھیم الحسینی صاحب جواھرالاخلاطی وغیرہم رحمہم اﷲتعالے نے امام محمد کے زکوۃ کو فی الفوراور حج کو علی التراخی لازم قراردینے کی علتوں میں فرق کرتے ہوئے کہاکہ زکوۃ فقراء کا حق ہے تو ان کے حق میں تاخیر کی وجہ سے وہ شخص گنہگار ہوگا بخلاف حج کے کہ وہ خالصۃاﷲ سبحانہ وتعالی کا حق ہے اور آپ جانتے ہیں کہ حق عبد وجود قدرت اور وجوب ادا کے بعد بالکل متأخر نہیں ہوتا کیا آپ نے نہیں دیکھا جب قرض کی ادائیگی کا وقت مقررہ آجائے تو غنی کا ڈھیل و تاخیر کرنا ظلم ہوتا ہے اگر چہ وہ تاخیر تھوڑی ہی کیوں نہ ہو اور اسی طرح مولی محقق نے تحقیق کرتے ہو ئے کہا کہ نص میں قرینہ فور ہے کہ زکوۃ حاجت فقراء کو دور کرنے کے لئے ہے اور اس میں تعجیل ہے جو فور حقیقی پر دال ہے اب کامل طور پر مقصد کے عدم حصول میں سال یا متعدد سالوں کے اعتبار سے کوئی تفاوت نہیں ہوگاخصوصا جبکہ مجمع الانہر میں فوریت زکوۃ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا فتوی فورزکوۃ
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ ادارۃالطباعۃالمصریۃمصر ٢ / ١٣
#9342 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
معنی یجب علی الفور انہ یجب تعجیل الفعل فی اول اوقات الامکان اھ ۔ قد سمعت نص الخانیۃ اذقال ھل یأثم بتاخیرالزکوۃ بعدالتمکن اھ وقال فی خزانۃالمفتین یأثم بتاخیرالزکوۃ بعد التمکن ومن اخرمن غیر عذر لا تقبل شہاتہ لان الزکوۃحق الفقراء فیأثم بتأ خیر حقہم اھ ملخصا فھذہ نصوص صرائح ومافی المنتقی مفہوم مع انہ ھوالذی یقضی بہ الدلیل فحق ان یکون علیہ التعویل نعم لاغرو فی تقیید رد الشھادۃ بمرورۃ المدۃفان دلیل الفورظنی و الثابت بہ الوجوب فترکہ صغیرۃ لا ترد بہ الشہادۃ الا بعد الاصرار ولا بد لذلك من مرور مدۃکما افاد البحرفی مسئلۃ تاخیر الحج و اﷲتعالی اعلم۔
پر ہے “ یجب علی الفور “ کا معنی یہ بیان کیا کہ اول اوقات امکان میں فعل کو بجا لا نا واجب ہے اھ۔ اور آپ خانیہ کی اس تصریح پر بھی آگاہ ہیں کہ کیا تمکن کے بعدتا خیر زکوۃ سے انسان گنہگار ہوتا ہے یا نہیں ھ ۔ اور خزانۃالمفتین میں فرمایا : تمکن کے بعدتاخیر زکوۃ سے گنہگار ہوتاہے اور جس نے بغیر عذر ادائیگی مؤخر کی اس کی شہادت مقبول نہیں کیونکہ فقراء کا حق ہے تو ان کے حق میں تاخیر کرنا گناہ ہوگا اھ ملخصا پس یہ صریح نصوص ہیں۔ اور جو کچھ المنتقی میں ہے وہ مفہوم ہے باوجودیکہ دلیل کا تقاضا بھی یہی ہے لہذا اسی پر اعتماد کرنا حق ہے ہاں رد شہادت کو مدت کے گزرنے کے ساتھ مقید کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ دلیل فور ظنی ہے جس سے وجوب ثابت ہوگا لہذا اس کا ترك صغیرہ گناہ ہے اس سے شہادت مردود نہیں ہوگی ہاں مگر اس صورت میں جب ترك پر اصرارہو لہذا اس کے لئے مدت کا گزرنا ضروری ہے جیسا کہ بحر میں مسئلہ تاخیر حج میں تفصیل مذکورہے۔ واﷲتعالی اعلم (ت)
پھر بعد وجوب ادا تدریج کی مضرت اظہرمن الشمس کہ مذہب صحیح پر ترك فور کرتے ہی گنہگار ہوگا اور مذہب تراخی پر بھی تدریج نا مناسب کہ تاخیر میں آفات ہیں۔
وقال تعالی و سارعوا الى مغفرة من ربكم “ وقال تعالی “ فاستبقوا الخیرتﳳ- “ ۔
اﷲتعالی کا فرمان ہے : اپنے رب سے بخشش مانگنے میں جلدی کرو۔ اﷲتعالی کا ارشاد گرامی ہے : نیکیوں میں آگے بڑھو۔ (ت)
حوالہ / References مجمع الانہر کتاب الزکوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ١٩٢
فتاویٰ قاضی خان کتاب الزکٰوۃ منشی نو لکشور لکھنؤ ١ / ١١٩
خزانۃ المفتین فصل فی مال التجارۃ قلمی نسخہ ١ / ٥٣
القرآن ٣ / ١٣٣
القرآن ٢ / ١٤٨
#9343 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
ظاہر ہے کہ وقت موت معلوم نہیں ممکن ہے کہ پیش از ادا آجائے تو بالاجماع گنہگارہوگا۔
فان کل موسع یتضیق عند الموت کما نصوا علیہ ولذا صرح القائلون بتراخی الوجوب انہ یأثم عند الموت کما قد منا۔
کیونکہ واجب موسع موت کے قریب مضیق ہوجاتا ہے جیسا کہ اس پر فقہاء نے تصریح کی ہے اور اسی وجہ سے علی التراخی وجوب کے قائلین موت کے قریب تارك کو گنہگار کہتے ہیں جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کر دیا ہے(ت)
اسی طرح تدریج میں اور دقتیں بھی محتمل کما لا یخفی علی خادم الفقۃ (جیساکہ کسی بھی خادم فقہ پر مخفی نہیں۔ ت) اور مالی و جانی حوادث سے محفوظ بھی رہا تو نفس پر اعتماد کسے ہے فان الشیطان یجری من الانسان مجری الدم (شیطان اسی انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ ت) ممکن کہ بہکادے اور آج جو قصدادا ہے کل یہ بھی نہ رہے۔ سید نا امام ابن الامام کریم ابن الکرام حضرت امام محمد باقر رضی اﷲتعالی نے ایك قبائے نفیس بنوائی طہارت خانے میں تشریف لے گئے وہاں خیال آیا کہ اسے راہ خدا میں دیجئے فورا خادم کو آواز دی' قریب دیوار حاضر ہوا حضور نے قبائے معلی اتار کردی کہ فلاں محتاج کو دے آ۔ جب باہر رونق افروز ہوئے خادم نے عرض کی : اس درجہ تعجیل کی وجہ کیا تھی فرمایا : کیا معلوم تھا باہر آتے آتے نیت میں فرق آجاتا۔ سبحان اﷲ!یہ ان کی احتیاط ہے جو ان عبادی لیس لك علیهم سلطن (بلاشبہ میرے بندوں پر تیری حکومت نہیں چلے گی۔ ت)کی آغوش میں پلے اور انما یرید الله لیذهب عنكم الرجس اهل البیت و یطهركم تطهیرا(۳۳) (اﷲتعالی چاہتا ہے کہ اے اہلبیت نبوی!تم سے پلیدی کودور کرے اور تمھیں خوب پاك فرمادے۔ ت) کے دریا میں نہائے دھلے صلی اﷲتعالی علی ابیھم الکریم الاکرام و علیھم اجمعین وبارك وسلم (ان کے والد گرامی پر اﷲتعالی کی رحمتیں ہوں اور ان تمام پر بھی اور برکات و سلام۔ ت) پھر ہم کہ سخرہ دست شیطان ہیں کس امید پر بے خوف و مطلق العنان ہیں و حسبنا اﷲو نعم الوکیل ولا حول ولاقوۃالاباﷲ العلی العظیم۔ میرے نزدیك چند باتیں لوگوں کو تدریج پر حامل ہوتی ہیں کبھی یہ خیال کہ اہم فالا ہم میں صرف کریں یعنی جس وقت جس حاجتمند کو دینا زیادہ مناسب سمجھیں اسے دیں۔ کبھی یہ کہ سائل بکثرت آتے ہیں یہ چاہتا ہے مال زکوۃ ان کے لئے رکھ چھوڑے کہ وقتا فوقتا دیا کرے کبھی یکمشت دینا ذرا نفس پر بار ہے اور تھوڑا تھوڑا نکلتا جائے گا تو معلوم نہ ہوگا۔ جنھیں یہ خیال ہوں ان کے لئے راہ یہی ہے کہ زکوۃ پیشگی دیا کریں مثلاماہ مبارك رمضان میں ان
حوالہ / References مشکوٰۃ المصابیح باب فی الوسو سۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٨
القرآن ١٥ / ٤٢
القرآن ٣٣ / ٣٣
#9344 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
پر حولان حول ہوتا ہے تو رمضا ن کے لئےشوال ۷ سے دینا شروع کریں اور ختم سال تك بتدریج حسب رائے و مصلحت دیتے رہیں کہ اس میں ان کے مقاصد بھی حاصل ہوں گے اور تدریج مذموم و ممنوع سے بھی بچیں گے واﷲسبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ثانیہ : زید کے پاس زیور ہے وہ اس کی زکوۃ دیتا ہے آ ئندہ کو زیور زیادہ ہو تو کس حساب سے زر زکوۃ زیادہ کیا جائے بینواتوجروا
الجواب :
شریعت مطہرہ نے سونے کی نصاب پر کہ حوائج اصلیہ سے فارغ ہو خواہ وہ روپیہ اشرفی ہو گہنا یا برتن یا ورق یا کوئی شے حولان حول قمری کے بعد چالیسواں حصہ زکوۃمقرر فرمایا ہے سونے کی نصاب ساڑھے سات تو لے ہے اور چاندی کی ساڑھے باون تو لے پھر نصاب کے بعد جو کچھ نصاب مذکور کے پانچویں حصہ تك نہ پہنچے معاف ہے اس پر کچھ واجب نہیں ھذا ھومذھب صاحب المذھب رضی اﷲتعالی عنہ وھو الصحیح کما فی التحفۃ ثم مجمع الانہر(یہی صاحب مذہب (امام اعظم) رضی اللہ تعالی عنہ کا مذہب ہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ تحفہ میں پھر مجمع الانہر میں ہے۔ ت)جب خمس کامل ہوجائے اس پر پھر اس خمس کا چالیسواں حصہ فرض ہوگا یونہی ایك خمس سے دوسرے تك عفو اور ہر خمس کامل پر اس کا ربع عشر مثلا ایك شخص کے پاس تولے سونا اس پر ۲ ماشے سونا زکوۃ دیتاہے اور اگر ایك تولہ سے کم اس پر زائد ہے مثلا ایك رتی کم ۹ تولہ ہے جب بھی وہی ۲ ماشے سرخ واجب ہے یہ رتی کم ایك تولہ معاف ہے ہاں اگر پورا چھماشے ایك تولہ ہے کہ خمس نصا ب ہے اور ہو تو اس کا بھی ربع عشر (۳ / ۵ء۳) سرخ اور واجب ہو گا کل تولے پر ماشے ( ۳ / ۵ ء۵ )سرخ ہے پھر ایك تولہ پورا ہونے تك کچھ نہ بڑھے گا جب ۱۰ تولے ماشے کامل ہو وہی(۳ / ۵ ء۵ )سرخ'اور بڑھ کر ماشہ( / ء۳ ) سرخ واجب الادا ہوگا وعلی ہذا القیاس۔ اسی طرح جس کے پاس( )تولہ ماشہ چاندی ہے اس پر تولہ ماشہ چاندی واجب ہے اور جب تک تولے چاندی کہ خمس نصاب ہے نہ بڑھے یہی واجب رہے گا۔ جب( )تولے کامل ہوجائے تواس تولے کا ( / )یعنی ماشہ ( / )سرخ اور زائد ہو کرایك تولہ ماشہ( / ) سرخ کا وجوب ہوگا و علیہ قس۔ درمختارمیں ہے :
نصاب الذھب عشرون مثقالا والفضۃمائتا درھم کل عشرۃ درھم وزن سبعۃ مثاقیل و المعتبر وزنھما اداء ووجوبا لا قیمتھما واللازم فی مضروب کل منھما
سونے کا نصاب بیس مثقال اور چاندی کا دوسو ایسے درھم ہے کہ ان میں سے دسدرہم سات مثقال کا وزن رکھتے ہوں ان کا وزن ادا ئیگی اور وجوب میں معتبر ہے ان دونوں کی قیمت کا اعتبار نہیں پھر ان
#9345 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
ومعمولہ ولو تبرا وحلیا مطلقا مباح الاستعما ل اولا ربع عشر وفی کل خمس بضم الخاء بحسابہ ففی کل اربعین درھمادرھم وفی کل اربعۃ مثاقیل قیراطان وما بین الخمس الی الخمس عفو وقالا مازادبحسابہ وھی مسئلۃ الکسور اھ ملخصا۔
دونوں سے بنی ہوئی اشیامیں چالیسواں حصہ زکوۃ لازم ہے اگر چہ یہ ڈلی کی صورت میں یا زیورات کی صورت میں ہوں خواہ ان کا استعمال مباح ہو یا ممنوع ہو (یعنی مردون کیلئے )ہر خمس میں اس کے حساب سے زکوۃہوگی پس ہر چالیس دراہم میں ایك درہم اور ہر چار مثقال میں دو قیراط زکوۃ ہوگی جو خمس سے دوسرے خمس تك ہے اس میں زکوۃ نہیں صاحبین کے نزدیك جتنا اضافہ ہو اس میں اسی کے حساب سے زکوۃہوگی یہی مسئلہ کسورکہلاتا ہے اھ ملخصا(ت)
پھر جو شخص مالك نصاب ہے اور ہنوز حولان حول نہ ہو ا کہ سال کے اندر ہی کچھ اور مال اسی نصاب کی جنس سے خواہ بذریعہ ہبہ یا میراث یا شرایا وصیت یا کسی طرح اس کی ملك میں آیا تو وہ مال بھی اصل نصاب میں شامل کرکے اصل پر سال گزرنا ا س سب پر حولان حول قرار پائے گا اور یہاں سونا چاندی تو مطلقاایك ہی جنس ہیں خواہ ان کی کوئی چیز ہو اور مال تجارت بھی انہی کی جنس سے گنا جائیگا اگر چہ کسی قسم کا ہو کہ آخر اس پر زکوۃ یوں ہی آتی ہے کہ اس کی قیمت سونے یا چاندی سے لگا کر انھیں کی نصاب دیکھی جاتی ہے تو یہ سب مال زروسیم ہی کی جنس سے ہیں اور وسط سال میں حاصل ہوئے توذہب و فضہ کے ساتھ شامل کردئے جائیں گے بشرطیکہ اس ملانے سے کسی مال پر سال میں دوبار زکوۃ لازم نہ آئے پھر ملانے کے بعد عفو و ایجاب کے وہی احکام ہیں جو اوپر گزرے مثلا ایك شخص یکم محرم کو تیس تولے سونے کا مالك ہوا اور اس کے سوا جنس زروسیم سے اور کوئی چیز اس کی ملك نہیں تو اس پر۹ ماشے سونا زکوۃ میں فرض ہے کہ سلخ ذی الحجہ کو واجب الادا ہوگا ہنوز سال تمام نہ ہو ا کہ مثلایکم رجب کو ایك تولہ اور یکم ذی الحجہ کو دو تولے سونا اسے اور ملا کہ اب کل تو لے ہوگیا تو سلخ ذی الحجہ کو اس مجموع کی زکوۃ ماشہ ( / ء۷)سرخ سونا واجب الادا ہو گا گویا اس سب پر سال گزرگیا اگر چہ واقع میں اس ایك تولے کو ہنوزچھمہینے اور اس دو تو کو ایك ہی مہینہ گزرا ہے اور اس تولہ بھر کے بعد اور نہ ملا کہ سال تمام پر صرف تولے تھا تو وہی ماشہ واجب رہیں گے کہ نصاب کے بعد خمس پورا ہونے تك زیادت معاف ہے اسی طرح اگر تین تولے سونا تو نہ ملا مگر مثلاذی الحجہ کو اس نے اپنی زمین یا غلے یا اثاث البیت کے عوض اس قدرمال تجارت خریدا جس کی قیمت تولے سونے تك پہنچی تو اگر چہ اسے ملك میں آئے ابھی دس ہی دن گزرے مگرمجموع
حوالہ / References درمختار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ المال مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٣٥-١٣٤
#9346 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
تولے کی زکوۃ واجب ہوگی۔ ہاں اگر اس کے پاس مثلا ایك نصاب بکریوں اور ایك دراہم کی تھی اس نے دراہم کی زکوۃ ادا کردی اور ان کے عوض اور بکریاں لیں ان نئی بکریوں کےلئے آج سے سال شمار کیا جائے گا اگلی بکریوں میں ضم نہ کریں گے کہ آخر یہ اسی روپے کے بدل میں جس کی زکوۃ اس سال کی بابت ادا ہوچکی اب اگر انھیں نصاب شاۃ میں ملاتے ہیں تو ایك مال پر ایك سال میں دو بار زکوۃ لازم آئی جاتی ہے اور یہ جائز نہیں۔ تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
المستفاد ولوبھبۃ (اوشراء میراث او وصیۃ اھ ش )وسط الحول یضم الی نصاب من جنسہ (مالم یمنع منہ مانع ھو الثنی المنفی بقولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ولا ثنی فی الصدقۃ اھ ش ) فیزکیہ بحول الاصل ولوادی زکوۃنقدہ ثم اشتری بہ سائمہ لاتضم (الی سائمۃ عندہ من جنس السائمۃ التی اشتراھابذلك النقد المزکی ای لا یزکیہا عند تمام حول السائمۃ الاصلیۃ عند الامام للمانع المذکور اھ ش )اھ بالتلخیص وفی ش ایضا احد النقدین یضم الی الاخرو عروض التجارۃ الی النقدین للجنسیۃ باعتبار
سال کے وسط میں جو بھی حاصل شدہ ہو خواہ بصورت ہبہ ہو (یا شراء یا میراث یا وصیت کی صورت میں ہو اھ ش )اسے ہم جنس نصاب میں شامل کیا جائیگا بشرطیکہ اس میں کوئی مانع نہ ہو اور وہ تکرار زکوۃ ہے جس کی نفی سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان الفاظ میں فرمائی کہ صدقہ میں تکرار نہیں اھ ش )تو حول اصل کی زکوۃ ادا کی جائے گی اگر کسی نے نقدی کی زکوۃاد ا کی پھر اس نے سائمہ جانور خریدا تو وہ اسے نہ ملائے (اصلی سائمہ کے ساتھ ) جن کو اس نے اس نقدی سے خریدا تھا جس کی زکوۃادا کردی گئی یعنی امام کے نزدیك مانع مذکور کی وجہ سے حول سائمہ اصلیہ کے اختتام پر مذکورہ سائمہ پر زکوۃ نہیں ہوگی اھ ش) اھ بالتلخیص ش میں یہ بھی ہے کہ دونو ں نقدیں (سونے اور چاندی )
حوالہ / References درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٣٣
ردالمحتار باب زکوٰۃ الغنم مصطفی البابی مصر ٢ / ٢٥
درمختار باب زکوٰۃ الغنم مجتبائی دہلی ١ / ١٣٣
ردالمحتار باب زکوٰۃ الغنم مصطفی البابی مصر ٢ / ٢٦
درمختار باب زکوٰۃ الغنم مجتبائی دہلی ١ / ١٣٣
ردالمحتار باب زکوٰۃ الغنم مصطفی البابی مصر ٢ / ٢٦
#9347 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
قیمتھما بحر اھ ملخصا واﷲتعالی اعلم۔
کو ایك دوسری جنسیت کے اعتبار سے ملایا جائے سامان تجارت کو قیمت کے اعبتار سے نقدین کے ساتھ ملایا جائے بحرا ھ ملخصا واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ثالثہ : اگر آئندہ زیور کم ہو جائے تو کس حساب سے کمی کی جائےبینوا توجروا
الجواب :
زکوۃ صرف نصاب میں واجب ہوتی ہے نہ عفومیں مثلاایك شخص آٹھ تولے سونے کا مالك ہے تو دو ماشہ سونا کہ اس پر واجب ہوا وہ صرفتولے کے مقابل ہے نہ کہ پورے آٹھ تو لے کے کہ یہ چھ ماشے جو نصاب سے زائد ہے عفو ہے ۔ یوں ہی اگر تولے کا مالك ہو تو زکوۃ صرف تولہ یعنی ایك نصاب کامل اورایك نصاب خمس کے مقابل ہے دسواں تو لہ معاف۔ ملتقی الابحر میں ہے :
الزکوۃ تتعلق بالنصاب دون العفو فلو ھلك بعد الحول اربعون من ثمانین شاۃ تجب شاۃ کا ملۃ اھ ملخصا۔
زکوۃکا تعلق نصاب سے ہوتا ہے عفو سے نہیں اب اگر سال کے بعد اس کی بکریوں میں سے چالیس ہلاك ہوگئیں تو اب بھی ایك کامل بکری زکوۃ لازم ہوگی اھ ملخصا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لافی عفو وھو ما بین النصب فی کل الاموال۔
عفو میں زکوۃ نہیں اور یہ ہر حال میں وہ مقدار و حصہ ہے جو نصابوں کے درمیان ہوتاہے(ت)
پس اگر نقصان مقدار عفو سے تجاوز نہ کرے یعنی اسی قدر مال کم ہوجائے جتنا عفو تھا مثلامثال اول میں ماشہ اور دوم میں ایك تولہ جب تو اصلاقابل لحاظ نہیں کہ اس قدر پر تو پہلے بھی زکوۃ نہ تھی کل واجب بمقابلہ مال باقی تھا وہ اب بھی باقی ہے تو زکوۃ اسی قدر واجب ہے اور کمی نظر سے ساقط کما مثل لہ فی المنتقی (جیسا کہ منتقی میں اس کی مثال دی گئی ۔ ت) اور اگر مقدار عفو سے متجاوز ہو یعنی اس کے باعث کسی نصاب میں نقصان آئے خواہ یوں کہ ما ل میں جس قدرعفو تھا نقصان اس سے زائد کا ہوا۔ جیسے امثلہ مذکورہ میں دو تولے یا یوں کہ ابتداء
حوالہ / References ردالمختار باب زکوٰۃالغنم مصطفی البابی مصر ٢ / ٢٦
ملتقی الابحر فصل فی زکوٰۃ الخیل موسسۃ الرسالہ بیروت ١ / ١٧٧
درمختار باب زکوٰۃ الغنم مجتبائی دہلی ١ / ١٣٣
#9348 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
مال صرف مقادیر نصاب پر تھا عفو سرے سے تھا ہی نہیں جیسے یا یا تولے سونا کہ اس میں رتی چاول جو کچھ گھٹے گا کسی نہ کسی نصاب میں کمی کرے گا۔ ایسا نقصان دو حال سے خالی نہیں یا حولان حول سے پہلے ہے یا بعد بر تقدیر اول دو حال سے خالی نہیں یا سال تمام پر رقم نصا ب ہائے پیشیں پھر پوری ہوگئی یا نہیں اگر پوری ہوگئی تو یہ نقصان بھی اصلا نہ ٹہرے گا اور اس مجموع رقم پر حولان حول سمجھا جائے گا مثلاایك شخص یکم محرم کو تولے سونا کا مالك تھا بعدہ اس میں سے کسی قدر قلیل خواہ کثیر ضائع ہوگیا یا صرف کردیا یا کسی کو دے ڈالا اور تھوڑا سا اگر چہ بہت خفیف باقی رہا پھر جس قدر کم ہوگیا تھا سلخ ذی الحجہ سے پیشتراگر چہ ایك ہی دن پہلے پھر آگیا تو پورے ۱۵ تولہ دو نصاب کامل کی زکوۃ دینی ہوگی کہ ایك مثقال سوناہے یونہی اگر مثلا آٹھ تولے سونے کا مالك ہے اور وسط میں تولہ پھر گھٹ گیا کہ نصاب بھی پوری نہ رہی ختم سال سے پہلے چھ سات ماشے مل گیا تو وہی زکوۃ تمام وکمال لازم آئے گی کہ چھ ماشہ جوعفو تھا جس طرح اس کےہلاك کا اعتبار نہیں یونہی بعد ہلاك اس کا عود در کا ر نہیں صرف اس قدر چاہئے کہ شروع سال میں ایك یا زائد جتنی نصابوں کا مالك ہوا تھا ختم سال پر وہ نصابیں پوری ہوں تو جس قدر زکوۃ کا وجوب بحالت استمرار ہوتا اسی قدر پوری واجب ہوگی اور نقصان درمیانی پر نظر نہ کی جائے ہاں اتنا ضرور ہے کہ اصل مال سے کوئی پارہ محفوظ رہے سب با لکل فنا نہ ہوجائے ورنہ ملك اول سے شمار سال جاتا رہے گا اور جس دن ملك جدید ہوگی اس دن سے حساب کیا جائے گا مثلایکم محرم کو مالك نصاب ہوا صفر میں سب مال سفر کر گیا ربیع الاول میں پھر بہار آئی تو اسی مہینہ سے حول گنیں گے حساب محرم جاتا رہا۔ درمختار میں ہے :
شرط کمال النصاب فی طرفی الحول فی الابتداء للانعقاد وفی الانتھاء للوجوب فلا یضرنقصانہ بینھما فلو ھلك کلہ بطل الحول۔
سال کےدونوں اطراف میں کمال نصاب کی شرط ہے ابتدا ء میں انعقاد اور انتہا ء میں وجوب کے لئے درمیانی مدت میں کمی نقصان دہ نہیں۔ ہاں اگر سارا مال ہلاك ہوگیا تو سال باطل ہوجائے گا۔
ردالمحتار میں ہے :
فان وجد منہ شیأ قبل الحول ولو بیوم ضمہ وزکی الکل۔
اگر کوئی شئ سال کے اختتام سے حاصل ہوئی خواہ ایك ہی دن پہلے ہو ا سے ملایا جائےگا اور تمام کی زکوۃادا کی جائےگی۔ (ت)
حوالہ / References درمختار باب الزکوٰۃ المال مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۵
ردا لمحتار باب زکوٰۃالغنم ادارۃالطباعۃالمصریۃمصر ۲ / ۲۳
#9349 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
اسی میں ہے :
قولہ ھلك کلہ ای فی اثناء الحول حتی لو استفاد فیہ غیرہ استانف لہ حولا جدید۔
قولہ اگر سارا سا ل مال ہلاك ہوگیا یعنی سال کے وسط میں حتی کہ اگر اس مال کے علاوہ حاصل ہوتا ہے تو اس کے لئے نیا سال ہوگا۔ (ت)
اور اگر یہ نقصان مستمر رہا یعنی ختم سال پر وہ نصابیں پوری نہ ہوئیں تو اس وقت جس قدرموجود ہے اتنے کی زکوۃ واجب ہوگی اور وہی احکام حساب نصاب ولحاظ عفو کے اس قدر موجود پر جاری ہوں گے جو جا تا رہا گو یا تھا ہی نہیں کہ حولان حول اسی مقدار پر ہوا حتی کہ اگر یہ مقدار نصاب سے بھی کم ہے توزکوۃ راسا ساقط۔
وذالك لان الحولان شرط الوجوب فاذا نقص عن النصاب لم یجب شئ والا وجب فیما حال علیہ الحول ۔
کیونکہ سال کا گزرنا شرط وجوب ہے جب نصاب سے کم ہے تو کوئی شئ لازم نہ ہوگی اور اگر نصاب ہے تو جس پر سال گزرا ہے اس پر زکوۃ ہوگی ۔ (ت)
حدیث میں ہےحضورپر نورسیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لازکوۃ فی مال حتی یحول علیہ الحول اخرجہ ابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالی عنہا۔
مال پر زکوۃ سال گزرنے سے پہلے لازم نہیں ہوتی اسے ابن ماجہ نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا ہے۔ (ت)
حاشیہ شامی میں ہے :
لواستھلکہ قبل تمام الحول فلا زکوۃعلیہ لعدم الشرط۔ ۔
اگر اس نے مال سال گزرنے سے پہلے ہلاك کریا تو عدم شرط کی وجہ سے زکوۃ لازم نہ ہوگی۔ (ت)
بر تقدیر ثانی یعنی جبکہ مال پر سال گزرگیا اور زکوۃ واجب الاداء ہوچکی اور ہنوز نہ دی تھی کہ مال کم ہوگیا یہ تین حال سے خالی نہیں کہ سبب کمی استہلاك ہوگا یا تصدق یا ہلاک۔ استہلاك کے یہ معنی کہ اس نے اپنے فعل سے اس رقم سے کچھ ااتلاف صرف کر ڈالا پھینك دیا کسی غنی کو ہبہ کر دیا۔ اور یہاں تصدق سے یہ مراد کہ بلا نیت زکوۃکسی فقیر محتاج کو دی دیا۔ اور ہلاك کے یہ معنی کہ بغیر اس کے فعل کے ضائع و تلف ہوگیا مثلا
حوالہ / References ردالمحتار باب زکوٰۃالمال ادارۃالطباعۃالمصریۃمصر ۲ / ۳۳
سُنن ابن ماجہ ابواب الزکوٰۃ باب استفاد مالا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۲۹
درالمحتار باب زکوٰۃالغنم ادارۃالطباعۃالمصریۃمصر ۲ / ۱۲
#9350 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
چوری ہوگئی یا زر و زیور کسی کو قرض و رعایت دے دیا وہ مکر گیا اور گواہ نہیں یا مر گیا اور ترکہ نہیں یا مال کسی فقیر پر دین تھا مدیون محتاج کو ابراکر دیا کہ یہ بھی حکم ہلاك میں ہے۔
اب صورت اولی یعنی استہلاك میں جس قدر زکوۃ سال تمام پر واجب ہو لی تھی اس میں سے ایك حبہ نہ گھٹے گا یہاں تك کہ اگر سارا مال صرف کردے اور بالکل نا دار محض ہوجائے تاہم قرض زکوۃ بدستورہے سراجیہ ونہایہ وغیرہما میں ہے :
لواستھلك النصاب لا یسقط۔
اگر نصاب کو کسی نے ہلاك کر دیا تو زکوۃ ساقط نہ ہو گی(ت)
نہرالفائق وحاشیہ طحطاوی میں ہے :
لو وھب النصاب لغنی بعد الوجوب ضمن الواجب وھواصح الروایتین۔
اگر کسی نے نصاب کسی غنی کو وجوب کے بعد ہبہ کر دیا تو وہ واجب (مقدار)کا ضامن ہوگا اور یہی دونوں روایات میں اصح ہے۔ (ت)
محیط سرخسی وعالمگیریہ میں ہے :
فی روایۃ الجامع یضمن قدرالزکوۃ وھوالاصح۔
روایۃالجامع میں ہے کہ مقدار زکوۃکا ضامن ہوگا اور یہی اصح(ت)
اور صورت ثانیہ یعنی تصدق میں اگر نذر یا کفارے یا کسی اور صدقہ واجبہ کی نیت کی تو بالاتفاق اس کا حکم بھی مثل استہلاك ہے یعنی زکوۃ سے کچھ ساقط نہ ہوگا جو دیااور باقی رہا سب کی زکوۃ لازم آئیگی۔ درمختار میں ہے :
اذانوی نذرااوواجبا اخریصح ویضمن الزکوۃ۔
جب کسی نے نذر کی نیت کر لی یا کسی اور واجب کی تو صحیح ہے مگر زکوۃ کی ضمانت دینا ہو گی۔ (ت)
حوالہ / References فتاویٰ سراجیہ کتاب الزکوٰۃ مطبع منشی نو لکشور لکھنؤ ص ۲۵
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الزکوٰۃ دارالمعرفۃبیروت ۱ / ۳۹۵
فتاویٰ ہندیۃ کتاب الزکوٰۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۷۱
درمختار کتاب الزکٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۰٠
#9351 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
اور اگر تطوع یا مطلق تصدق کی نیت تھی اور سب تصدق کردے تو بالاتفاق زکوۃ ساقط ہوگئی۔ ہندیہ میں ہے :
من تصدق بجمیع نصابہ ولا ینوی الزکوۃ سقط فرضھا عنہ وھذا استحسان کذا فی الزاھدی ولافرق بین ان ینوی النفل او لم تحضرہ النیۃ۔
جس نے تمام مال صدقہ کردیا اور زکوۃ کی نیت نہ کی تو اس سے فرض ساقط ہوجائےگا اور یہ استحسان ہے جیساکہ زاہدی میں ہے اور اس میں کوئی فرق نہیں کہ اس نے صدقہ نفلی کی نیت کی یا ذہن نیت سے خالی تھا۔ (ت)
اور اگر بعض تصدق کیے تو امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیك جس قدر صدقہ کیا اس کی زکوۃ ساقط اور باقی کی لازم مثلادوسودرہم پر حولان حول ہوگیا اور زکوۃ کے پانچ درہم واجب ہولئے اب اس نے سو درہم ﷲدے دئے تو ان سو کی زکوۃ یعنی ڈھائی درہم ساقط ہوگئی دین رہے
وھو روایۃعن صاحب المذھب رضی اﷲ تعالی عنہ کما فی الزاھدی والعنایۃوغیرھما وعن الامام ابی یوسف ایضا کما فی القھستانی عن الخزانۃ ۔ قلت وبہ جزم القدوری فی مختصرہ والسمعانی فی خزانۃالمفتین عن شرح الطحطاوی ولما قال الاکمل روی ان الامام مع محمدفی ھذہ المسئلۃ قال الطحطاوی عن ابی السعود عن شیخہ وھذا کالتصریح با رجحیتہ اھ وقد نص فی القھستانی والھندیۃ اثرین عن الزاھدی انہ الاشبہ.
اور یہی صاحب مذہب (امام اعظم ) رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے جیسا کہ زاہدی اور عنایہ وغیرہ میں ہے اور امام ابویوسف سے بھی یہی مروی ہے جیساکہ قہستانی نے خزانہ سے نقل کیا ہے ۔ قلت(میں کہتا ہوں)اسی پر قدوری نے مختصر میں سمعانی نے خزانۃالمفتین میں شرح طحطاوی سے جزم کیا ہے اکمل نے کہا کہ امام صاحب اس مسئلہ میں امام محمد کے ساتھ ہیں طحطاوی نے ابوالسعود سے انہوں نے اپنے شیخ سے نقل کیا کہ یہ راجح ہونے پر تصریح کی طرح ہے اھ قہستانی اور ہندیہ میں زاہدی سے یوں نقل کیا کہ یہی اشبہ ہے(ت)
حوالہ / References فتاویٰ ہندیۃ کتاب الزکوٰۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۷۱
العنایۃعلی ھامش فتح القدیر کتاب الزکوٰۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر ۲ / ۱۲۶
حاشیہ طحطاوی علی درالمختار کتاب الزکوٰۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱ / ۳۹۵
فتاویٰ ہندیۃ کتاب الزکوٰۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۷۱
#9352 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
مگرامام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیك بعض کا تصدق مطلقا مثل استہلاك ہے کہ کسی نیت سے ہو اصلا زکوۃ سے کچھ نہ گھٹے گا تو صورت مذکورہ میں اگر چہ سو روپیہ خیرات کردے زکوۃ کے پانچ درہم بدستور واجب رہے یہ مذہب زیادہ قوی و مقبول و شایان قبول ہے۔
اقول : فقد اعتمد عامۃالمتون کالوقایۃ۱ و ۲النقایۃ و۳الکنز و ۴الصلاح و۵ المنتقی و۶التنویرو غیرھا حتی لم یتعرض کثیر منھم لخلافہ اصلا و اقرتھم علیہ الشروح ۷کذخیرۃ العقبی و۸البر جندی و ۹تبیین الحقائق و۱۰الایضاح و ۱۱مجمع الانھر و۱۲الدر المختار و غیرھا وقدمہ ۱۳قاضی خان وابراھیم الحلبی فی متنہ وھما لایقد مان الا الاظھر الاشھر الارجح کما نصا علیہ فی خطب الکتابین وکذا قدمہ فی ۱۴الخلاصۃ ومعلوم ان التقدیم یشعر بالاختیار کما فی کتاب الشرکۃمن العنایۃ والنھر والدر المختار واخر دلیلہ فی ۱۵الھدایہ وھولایؤخرالادلیل ما ھو المختار عندہ لیکون جوابامن دلیل ما تقدم واقرہ علی ھذا اشارۃ ۱۶المحقق فی الفتح وکذا ذکر ۱۷الزیلعی فی التبیین دلیل القولین وشید دلیل ابی یوسف واجاب عن دلیل محمدونسب فی الایضاح والملتقی والدرالمختار الخلاف لمحمد وھو تضعیف لہ کماعرف من محاوراتھم واقر الدر علی ذلك ۱۸الشامی وقواہ ببعض ماذکرنا ھنا وھو صنیع الملتقی و
اقول : اکثر متون نے اسی پر اعتماد کیا ہے مثلا ۱وقایہ ۲ نقایہ ۳کنز ۴اصلاح ۵منتقی ۶تنویروغیرہ حتی کہ اکثریت نے اس میں کسی قسم کے اختلاف کا تذکرہ تك نہیں کیا اور شروحات نے بھی انھیں کے قول کو ثابت رکھا ہے مثلا ۷ذخیرۃ العقبی ۸برجندی ۹ تبیین الحقائق ۱۰ایضاح ۱۱مجمع الانہر اور۱۲درمختار وغیرہ۔ ۱۳قاضی خان اور ابراھیم حلبی نے اپنے متن میں اسے مقدم رکھا ہے اور وہ دونوں حضرات اظہر اشہر اور ارجح قول کو ہی مقدم ذکر کرتے ہیں جیسا کہ انھوں نے اپنی کتب کے خطبہ میں اس پر تصریح کی ہے اور ۱۴خلاصہ میں بھی اسے مقدم رکھا اور یہ مسلمہ ہے کہ تقدیم مختار ہونے پر دال ہے جیسا کہ عنایہ نہر اور درمختار کی کتاب الشرکت میں ہے اور ۱۵ہدایہ میں اس قول کی دلیل کو مؤخربیان کیا ہے اور وہ مختار قول کی دلیل ہی کو موخر ذکر کرتے ہیں تاکہ ما قبل دلیل کا جواب بن سکے۔ ۱۶محقق علی الاطلاق نے بھی فتح القدیرمیں اسی کو اشارۃثابت رکھا ہے اسی طرح ۱۷زیلعی نے تبیین میں دونوں اقوال کی دلیل بیان کی اور امام ابو یوسف کی دلیل کو مضبوط کرتے ہوئے امام محمد کی دلیل کا رد کیا ایضاح ملتقی اور درمختار میں کہا کہ اس میں امام محمدکو اختلاف ہے اور وہ اس قول کے ضعیف ہونے پر دال ہے جیسا کہ محاورات فقہاء سے واضح ہے امام شامی نے در کے قول کو اسی طرح ثابت رکھا اور بعض
#9353 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
تقدیم قاضی خان وتاخیر الھدایۃفقد ترجح ھذا ۔ اولا بتظافرعامۃ المتون علیہ۔ و ثانیا : بجلالۃ شان من اعتمد وہ و اقروہ ۱کالامام فقیہ النفس الذی قالو افیہ انہ لا یعدل عن تصحیحہ و۲الامام المحقق صاحب الھدایۃ و عصریھما ۳الامام صاحب الخلاصۃ و ۴الامام النسفی صاحب الکنز فالامام ۵برھان الدین محمود وحفیدہ الامام ۶صدر الشریعۃ و۷الامام المحقق حیث اطلق و۸الامام الفخر الزیلعی و۹العلامۃ الامام ابن کمال الوزیر وھم جمیعامن ائمۃالاجتہادبوجہ اقرلہم بذلك علماء معتمدون ولاکذلك من عددنافی القول الاول الاالقدوری وشارح الطحاوی اماالسمعانی فلم ارمن اعترف لہ بذلك وابوا لسعودھذا لیس ھو الامام المحقق علامۃ الوجودخاتمۃ المجتہدین محمدافندی مفتی الدیارالرومیۃ فانہ متقدم علی صاحب البحر المقدم علی الشرنبلالی السابق علی السیدابی السعود ھذاالمتکلم علی کتب الشرنبلالی تحشیا و تعلیقا فتصحیح ھؤلاء الجلۃولوالتزاما لا یقاومہ قو ل المجروح المطروح ان غیرہ اشبہ ثم ما فیھم وفی من تبعھم من اعاظم المتاخرین من الکثرۃکما عملت یقضی بترجیحہ فانماالعمل
ہمارے مذکورہ دلائل سے اس کو تقویت دی اور وہ ملتقی کا طریقہ ہے تقدیم قاضی خان اور تاخیر طریقہ ہدایہ ہے لہذا یہ قول ترجیح پائے گا ۔ اولا : تو اس لئے کہ اس پر اکثر متون ہیں۔ ثانیا : اس پر بزرگ ترین شخصیات نے اس کی تصریح کی اور اسے ثابت رکھاہے مثلاامام ۱فقیہ النفس جن کے بارے فقہاء نے تصریح کی ہے کہ ان کی تصحیح سے عدول نہیں کیا جاسکتا ۲امام محقق صاحب ہدایہ اور ان کے معاصرین امام ۳صاحب الخلاصہ اور ۴امام نسفی صاحب الکنز پھر ۵امام برھان الدین محموداور ان کے پوتے ۶امام صدر الشریعۃ ۷امام محقق علی الاطلاق ۸امام فخر زیلعی اور ۹علامہ ابن کمال الوزیر اور یہ تمام بالوجہ ائمہ اجتہاد ہیں جس کا اقرا ر کرنے والے علمائے معتمدین ہیں اور قول اول میں ہمارے شمار کا معاملہ اس طرح نہیں ماسوائے قدوری اور شارح الطحاوی کے۔ رہا معاملہ سمعانی کا تومیں ان کیلئے اجتہاد کا اعتراف کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا اور ابو سعود سے امام محقق علامۃالوجود خاتمۃ المجتہدین محمدآفندی مفتی دیارروم مراد نہیں کیونکہ وہ صاحب بحر سے پہلے گزرے ہیں اور صاحب بحر شر نبلالی سے مقدم اور شر نبلالی سیدابوالسعودسے مقدم ہیں جنھوں نے کتب شرنبلالی پر حواشی و تعلیقات تحریر کی ہیں پس ان عظیم علماء کی تصحیح اگر چہ التزاما ہوکا مقابلالہ کوئی مجروح ومطروح قول نہیں کرسکتا اس بات میں کہ اس کا غیر مختار ہے پھر ان علماء اور ان کے متبعین علماء متاخرین کی کثرت جیساکہ معلوم ہوچکا ہے بھی ترجیح کا تقاضا کرتی کیونکہ عمل اس پر
#9354 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
بماعلیہ الاکثر کما فی العقود الدریۃ و غیرہا
وثالثا : بقوۃ دلیلہ کما یظھر بمراجعۃالتبیین وغیرہ ۔ ورابعا : ان فرض تساوی القولین من جھۃ الترجیح فیترجح ھذا بانہ قول ابی یوسف کما عرف ذلك فی رسم المفتی ۔ وخامسا : بانہ الاحوط فان فیہ الخروج عن العھدۃ بیقین و سادسا : بانہ الا نفع للفقراء وقد علم ان للعلماء بذلك اعتناء عظیما فی الزکوۃ والاوقاف ھذا ماظہرلی فانظر ماذا تری واﷲتعالی اعلم۔
ہو تا ہے جس پر اکثریت ہو جیساکہ عقودالدریہ وغیرہ میں ہے۔ ثالثا : اس کی دلیل قوی ہونے کی وجہ سے جیسا کہ تبیین وغیرہ کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ رابعا : اگر جہت ترجیح کی وجہ سے دونوں ااقوال میں مساوات فرض کر لیں تب بھی یہی قول ترجیح پاجائے گا کیونکہ یہ امام ابو یوسف کا قول ہے جیسا کہ رسم المفتی میں معلوم ہوچکا ۔ خامسا : احوط یہی ہےکیونکہ اس صورت میں ذمہ داری سے بالیقین نکلا جاسکتا ہے سادسا : یہ فقراء کیلئے زیادہ سود مند ہے اور یہ معلوم ہے کہ علماء زکوۃ و اوقاف میں اس کا بہت زیادہ اہتمام کرتے ہیں مجھ پر تو یہی واضح ہوا آپ کی کیا رائے ہے واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
رہی صورت ثالثہ یعنی ہلاک اس میں بالاتفاق کم یا بہت جس قدر تلف ہو بحساب اربعہ متناسبہ اتنے کی زکوۃ ساقط ہوگی اور جتنا باقی رہے اگر چہ نصاب سے بھی کم اتنے کی زکوۃ باقی مثلادوسوبیس۲۲۰درہم شرعی کا مالك تھا حولان حول کے بعد درہم واجب الادا ہوئے ابھی نہ دئے تھے کہ ۴۰ درہم ہلاك ہوگئے تو اب نیم درہم ساقط اور ۴ واجب کہ ۲۰ تو عفو تھے جن کے مقابل زکوۃ سے کچھ نہ تھا وہ تو بیکار گئے نصاب میں سے صرف بیس۲۰گھٹے وہ نصاب کی عشر ہیں تو زکوۃ کا بھی دسواں حصہ یعنی آدھا درہم ساقط ہوگا باقی باقی یا یوں دیکھ لیا کہ نصاب سے ۲۰ ہلاك ہوئے ہیں ان کا(۴۰ / ۱ )نیم درہم ہے اسی قدر ساقط ہوگیا یا یوں خیال کرلیا کہ ایك سواسی ۱۸۰ باقی ہیں ان کا(۴۰ / ۱) ساڑھے چار ہیں اسی قدر واجب رہا تینوں کا حاصل ایك ہے اور اگر صورت مذکورہ میں ۲۱ درہم ضائع ہو ئے ہیں تو زکوۃ سے درہم کا صرف بیسواں حصہ کہ کل واجب کا نصف عشر عشر یعنی (۲۰۰ / ۱) ہے ساقط ہو گا باقی (۲۱ / ۱۹)واجب کہ نصاب سے فقط ایك درہم ہلاك ہوا ہے یہ نصاب کا(۲۰۰ / ۱)تھا اور اگر ( ۲۱۹ ) تلف ہوئے تو درہم کا فقط( ۲۰ / ۱) دینا آئے گا باقی ساقط کہ اسی حساب سے حصہ نصاب باقی ہے وعلی ھذا القیاس۔ درمختار میں ہے :
لا شئ فی عفو ولا فی ھالك بعد وجوبھا تعلقھا با لعین لا بالذمۃ وان ھلك بعضہ سقط حظہ ویصرف
عفو میں کوئی شے لازم نہیں وجوب زکوۃ کے بعد ہلاك ہوجانے والے مال پر زکوۃ نہیں کیونکہ زکوۃ کا تعلق اس مال سے تھا نہ کہ ذمہ کے ساتھ اور اگر تھوڑا ہلاک
#9355 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
الھالك الی العفو او لا ثم الی نصاب یلیہ ثم و ثم بخلاف المستھلك لوجودالتعدی والتوی بعد القرض والاعادۃ ھلاك اھ ملتقا۔
ہوا تو اس کے مطابق زکوہ ساقط ہوگی اور ہلاك ہونے والے کو پہلے عفو کی طرف پھر اس سے متصل نصاب کی طرف پھیراجائے گا۔ اسی طرح آگے سلسلہ ہوگا بخلاف ہلاك کیے جانے والے کے کیونکہ یہاں زیادتی ہے قرض لینے والے کے انکار اور دوبارہ ادا کرنے کا نقصان ہلاك کہلائے گا اھ ملتقطا(ت)
ردالمحتار میں ہے :
والتو ی ھنا ان یجحد ولا بینہ علیہ او یموت المستقرض لا عن ترکۃ۔
“ توی “ سے یہاں مراد یہ ہے کہ مقروض گواہ نہ ہونے پر قرض سے انکارکردے یا مقروض قرضہ کی ادائیگی کے لیے ترکہ چھوڑے بغیر فوت ہوجائے(ت)
اسی میں ہے :
من الاستھلاك ما لوأبرأمدیونہ الموسر بخلاف المعسر اھ اقول : وما اشار الیہ فی الدر من الترتیب فی الصرف الی النصب فھو مذھب سیدناالامام الاعظم رضی اﷲتعالی عنہ خلافا للامام ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی فانہ یصرف الھالك بعدالعفو الی جمیع النصب شائعا ولکنی لم الم بذکرہ ھھنا لان الکلام فی الذھب والفضۃ وفیھما لاثمرۃ لھذاا لعدم تفاوت نصبھا فی الواجب اصلافا نہ ربع العشر علی الاطلاق وانما تظھر فی السوائم
ہلاك کیے جانے والے مال کی ایك صورت یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے امیر مقروض کو معاف کردے بخلاف تنگدست کو معاف کردینے کے۔ اقول : در میں نصاب کے مصارف کی جس ترتیب کی طرف اشارہ ہے وہ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کامذہب ہے۔ اس میں امام ابویوسف رحمہ اﷲتعالی کا اختلاف ہے کیونکہ وہ عفو کے بعد ہلاك ہونے والے حصہ کو مشترکہ طور پر تمام نصابوں کی طرف لوٹاتے ہیں لیکن میں نے یہاں اسے ذکر نہیں کیا کیونکہ کلام سونے اور چاندی میں ہے اور ان دونوں میں اس کا کوئی فائدہ نہیں اس لیے کہ ان کے وجوب نصاب میں اصلاتفاوت نہیں وہ تو مطلقا چالیسواں
حوالہ / References ردمختار باب زکوٰۃ الغنم مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۳
ردالمحتار باب زکوٰۃ الغنم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۱
ردالمحتار باب زکوٰۃ الغنم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۲۱
#9356 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
اما لا ختلاف الواجب فیھا با ختلاف النصب فقد یکون شاۃ و تارۃ بنت مخاض واخری بنت لبون وھکذا فمن ملك ستۃ وثلثین من الابل فھلك احدی عشرۃ فالو اجب عند الامام بنت مخاض وعند الثانی (۳۶ / ۲۵) بنت لبون ای خمسۃ و عشرون جزء من ستۃ و ثلثین جزء من اجزاء بنت لبون واما لا نعدام المثلیۃ فیتصور تفاوت الحسابین کمن ملك مائتی شاۃو شاۃ فالواجب ثلث شیاہ ھلکت منھا ثما نون فالواجب عندالامام شاتان صرفا للھلاك الی اقرب النصب وعند ابی یوسف (۲۰۱ / ۱۲۱)ثلث شیاہ ای مائۃ واحد و عشرون جزء من مائتی اجزاء وجزء من ثلث شیاہ ولا یجب ان یکون ھذا کمثل شاتین ویظھر ذلك عند التقویم فان دفع القیمۃ جائز فی الزکوۃ قطعا فلنفرض ان شاۃ بسبعۃ وستین قر شا فقیمۃ الواجب عند الامام ۱۳۴ قرشا و عندابی یوسف ۱۲۱ وھکذا اماھھنا فالتعیین والشیوع سواء بلا تفاوت اصلافان من ملك مثلا۴۴ مثقالامن ذھب فالواجب مثقال وقیراطان لان کل مثقال عشرون قیراطا فاذا
حصہ ہے ہاں چارپایوں میں ثمرہ (اختلاف) ظاہر ہوگا یا تو اس میں اختلاف نصاب اختلاف واجب کی وجہ سے ہوگا مثلا کبھی بکریاں ہوں گی کبھی بنت مخاض اور کبھی بنت لبون پس جو شخص چھتیس اونٹوں کا مالك بنا ان میں سے گیارہ ہلاك ہوگئے امام کے نزدیك یہاں بنت مخاض لازم ہے اور دوسر ے کے نزدیك بنت لبون کا ۳۶ / ۲۵ یعنی بنت لبون کے چھتیس اجزاء میں سے پچیس اجزاء لازم ہوں گے یا وہاں مثلیت معدوم ہونے کی وجہ سے دونوں حسابوں میں تفاوت متصور ہوگا مثلا ایك شخص دوسوایك ۲۰۱ بکری کا مالك ہے اب تین بکریاں لازم ہوگئیں مگر ان میں سے اسی ہلاك ہوگئیں تو امام کے نزدیك اقرب نصاب کی طرف لوٹنے کی وجہ سے یہاں دو بکریاں لازم ہوں گی اور امام ابویوسف کے نزدیك تین بکریوں کا ۲۰۱ / ۱۲۱ یعنی تین بکریوں کے دوسوایك ۲۰۱ اجزاء میں سے ایك سواکیس۱۲۱ لازم ہوں گے اور اس کا دو بکریوں کی مانند ہونا لازم نہیں اوراس چیزکا اظہار قیمت لگانے کے وقت ہی ہوگا کیونکہ قیمت دینے سے زکوۃ بالیقین ادا ہوجاتی ہے مثلا ہم فرض کرتے ہیں کہ بکری کی قیمت سڑسٹھ قرش ہے تو امام کے نزدیك ایك سو چونتیس۱۳۴ قرش اور امام ابویوسف کے نزدیك ایك سو اکیس۱۲۱ قرش زکوۃ لازم ہوگی اسی طرح باقی قیاس کرلیں لیکن زیر نظر مسئلہ میں تعیین اور اشتراك برابر ہیں ان میں کوئی تفاوت ہی نہیں جو شخص مثلا چوالیس ۴۴ مثقال سونے کا مالك بنا تو اس پر ایك مثقال اور دو قراط زکوۃ لازم ہے کیونکہ ہر مثقال بیس قیراط ہوتا ہے مثلا
#9357 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
ھلك ۲۴ مثقالامثلاوبقی۲۰ فالواجب علی طریقۃ الامام نصف مثقال وعلی طریقۃ ابی یوسف (۱۱ / ۵)ا ی خمسۃ اجزاء من احد عشر جزء من اجزاء مثقال و قیراطین فاذا جنسنا حصل۲۲ قیراطا فحصتھا المذکورۃ عشرۃ قراریط و ذلك نصف مثقال وکذا اذا ملك ۱۸ تولجۃ من ذھب وھو نصابان وخمسان فالواجب ۵ ماشہ (۳-۵ / ۱) سرخ فاذاھلك ۳ تولجات مثلا بقی نصابان فالواجب علی طریقۃ الامام ۴ ماشہ۴ سرخ وعلی طریقۃ ابی یوسف۶ / ۵ من الواجب الاول فاذا جعلنا الکل اخماس حبۃ کانت ۲۱۶ خمسانا خذ منھا ۶ / ۵یحصل ۱۸۰ خمسا وھو ۴ ماشہ ۴ سرخ سواء بسواء وان شککت فا نظرالی ھذاالعمل :
۳۶)۲۱۶ (۶
۵
۳۶)۱۸۰ (۵
ماشہ۴) ۳۶(۸
ثم اعلم ان ابراء المدیون الغنی ایضاقد یکون ھلاکا وذلك اذا کان الدین ضعیفا وھو الذی لیس فی مقابلۃ ۴ سرخ مال کالمہر والدیۃ و بدل الخلع و تمام الکلام علیہ فی ردالمحتار واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
چوبیس مثقال ہلاك ہوگیا اور باقی بیس ۲۰ رہ گیا توامام کے طریق پر نصف مثقال اور امام ابو یوسف کے مطابق ۱۱ / ۵ یعنی گیارہ مثقال اور دو قیراط کے اجزاء میں پانچ اجزاء لازم ہوں گے جب ہم انھیں ہم جنس قراردیں تو یہ بائیس قیراط بن جائیں گے اب ان میں حصہ مذکورہ دس۱۰ قیراط ہوگا اور یہ نصف مثقال ہے۔ اسی طرح مثلا کوئی شخص اٹھارہ تولے سونے کا مالك بنا تو یہ دو نصاب اور دو خمس ہیں تو اب پانچ ماشے(۳-۵ / ۱) رتی بنے گا تو اب اگر تین تولے مثلاہلاك ہوگیا تو دونصاب باقی رہ گئے۔ اب امام کے طریق کے مطابق چار ماشے اور چاررتی اور امام ابویوسف کے طریقہ پر ۶ / ۵ واجب اول کا ہوگا تو اگر ہم سب کو حبہ کے خمس بنائیں تو کل ۲۱۶ خمس ہوئے ان میں سے۶ / ۵ لے لیں تو ۱۸۰ خمس حاصل ہوئے اور ۴ ماشے ۴ رتی ہوئے جو برابربرابر ہیں اگر تمھیں شك ہوتو اس عمل کو دیکھو :
۳۶)۲۱۶ (۶
۵
۳۶)۱۸۰ (۵
ماشہ۴) ۳۶(۸
پھر معلوم ہونا چاہئے کہ کسی غنی مقروض کو بری کرنا بھی کبھی ہلاك قرار پاتا ہےاور یہ جب ہوگا کہ قرض یا دین بہت کم ہو اور وہ یہ۴ رتی سے کم ہوتو مال نہ قرار پائیگا جیسا کہ مہر دیت خلع کے بدل میں اس مقدار کو مال نہیں دیا جاتا اس کی مکمل بحث ردالمحتار میں ہے۔ واﷲسبحانہ وتعالی اعلم(ت)
#9358 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
مسئلہ رابعہ : سادات محتاجین کو زر زکوۃ دینا جائز ہے یا نہیں بہت سادات محتاج ایسے ملتے ہیں کہ خود مانگتے ہیں اور میں نے سنا ہے کہ علمائے رام پور نے جواز کا فتوی دیا ہے مگر میں نے اب تك یہ جرأت نہ کی۔ اس بارہ میں آپ کیا حکم فرماتے ہیںبینوا تو جروا
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب زکوۃ سادات کرام و سائر بنی ہاشم پر حرام قطعی ہے جس کی حرمت پر ہمارے ائمہ ثلثہ بلکہ ائمہ مذ اہب اربعہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کا اجماع قائم۔ امام شعرانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ میزان میں فرماتے ہیں :
اتفق الائمۃ الاربعۃ علی تحریم الصدقۃ المفروضۃ علی بنی ھاشم و بنی عبد المطلب وھم خمس بطون ال علی وال العباس و ال جعفر وال عقیل وال الحارث بن عبد المطلب ھذامن مسائل الاجماع و الاتفاق اھ ملخصا۔
باتفاق ائمہ اربعہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب پر صدقہ فرضیہ حرام ہے اور وہ پانچ خاندان ہیں : آل علی آل عباس آل جعفر آل عقیل آل حارث بن عبدالمطلب۔ یہ اجماعی اور اتفاقی مسائل میں سے ہے اھ ملخصا۔ (ت)
اول تاآخر تمام متون مذہب قاطبۃبے شذوذ شاذو عامہ شروح معتمدہ و فتا وائے مستندہ اس حکم پر ناطق اور خود حضور پر نور سید السادات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے متواتر حدیثیں اس باب میں وارد اس وقت جہاں تك فقیرکی نظر ہے بیس صحابہ کر ام رضی اللہ تعالی عنہم نے اس مضمون کی حدیثیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیں :
حضرت سید نا ۱امام حسن مجتبی رضی اللہ تعالی عنہ روی عنہ احمد والبخاری ومسلم (ان رضی اللہ تعالی عنہ سے امام احمد بخاری اور مسلم نے روایت کیاہے۔ ت)حضرت سیدنا ۲امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ روی احمد وابن حبان برجال ثقات (ان رضی اللہ تعالی عنہ سے احمد اور ابن حبان نے ثقہ رجال کے ساتھ روایت کیاہے۔ ت) حضرت سیدنا ۳عبداﷲبن عباس رضی اﷲتعالی عنمھا روی الامام الطحاوی والحاکم وابو نعیم وابن سعد فی الطبقات وابو عبید القاسم بن سلام فی کتاب الاموال و ۴روی عنہ الطحاوی ۵حدیثا اخرو الطبرانی حدیثا ثالثا(امام طحاوی حاکم
حوالہ / References المیزان الکبرٰی باب قسم الصدقات مصطفی البابی مصر ۲ / ۱۳
#9359 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
ابونعیم ابن سعد نے طبقات اور ابو عبید قاسم بن سلام نے کتاب الاموال میں روایت کیا ہے اور طحاوی نے ان سے دوسری حدیث اور طبرانی نے تیسری حدیث روایت کی ہے۔ ت) حضرت ۶عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب رضی اللہ تعالی عنہ روی عنہ احمد ومسلم والنسائی (ان سے احمد مسلم اور نسائی نے روایت کیاہے۔ ت)حضرت ۷سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ روی عنہ ابن حبان والطحاوی والحاکم وابونعیم (ان سے ابن حبان طحاوی حاکم اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔ ت)حضرت ۸ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روی عنہ الشیخان ولہ عند ۹الطحاوی حدیثان ۱۰ اخران( ان سے بخاری و مسلم نے روایت کیا اور انہی سے امام طحاوی نے دو اور احادیث نقل کی ہیں ۔ ت)حضرت ۱۱انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ روی عنہ البخاری ومسلم ولہ عند ۱۲الطحاوی حدیث اخر(ان سے بخاری اور مسلم نے روایت کیا اور انہی سے طحاوی نے ایك اور حدیث روایت کی ہے۔ ت)حضرت ۱۳معاویہ بن حیدہ قشیرہ رضی اللہ تعالی عنہ روی عنہ الترمذی وا لنسائی ولہ عند ۱۴الطحاوی حدیث اخر(ان سے ترمذی اور نسائی نے روایت کیا اور انہی سے طحاوی نے ایك اور حدیث بیان کی ہے۔ ت)حضرت ۱۵ابو رافع مولی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم روی عنہ احمد وداؤد والترمذی والنسائی والطحاوی و ابن حبان وابن خزیمۃوالحاکم(ان سے امام احمد داؤد ترمذی نسائی طحاوی ابن حبان ابن خزیمہ اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ ت) حضرت ۱۶ہرمزیاکیسان مولی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم روی عنہ احمد والطحاوی (ان سے احمد اور طحاوی نے روایت کیا ہے۔ ت) حضرت ۱۷بریدہ اسلمی رضی اللہ تعالی عنہ روی عنہ اسحاق بن راھویۃ و۱۸ابو یعلی الموصلی والطحاوی والبزاز ولطبرانی والحاکم(ان سے اسحاق بن راھویہ ابویعلی الموصلی طحاوی بزاز طبرانی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ ت)حضرت ابو یعلی رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ۱۹ابو عمیرہ رشید بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ روی عنھماالطحاوی(ان دونوں سے طحاوی نے روایت کیا ہے۔ ت)حضرت ۲۰عبدا ﷲبن عمر رضی اللہ تعالی عنہما حضرت ۲۱عبدالرحمن بن علقمہ رضی اللہ تعالی عنہ یقال صحابی( ان کو صحابی کہا گیاہے ۔ ت)حضرت ۲۲عبد الرحمن بن ابی عقیل رضی اللہ تعالی عنہ علق عن الثلثۃ الترمذی(امام ترمذی نے ان تینوں سے تعلیقاحدیث بیان کی ہے۔ ت)حضرت۲۳ ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق رضی اﷲتعالی عنہما روی عنھا الستۃ(ان سے اصحاب ستہ نے بیان کیا۔ ت)حضرت ام المومنین ۲۴ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا روی عنہ احمد و مسلم ( ان سے امام احمد اور مسلم نے روایت کیا۔ ت) حضرت ۲۵ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہ روی عنہا احمد و البخاری و مسلم ( ان سے امام احمد بخار ی اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ ت)اور بیشك اس تحریم کی علت ان حضرات عالیہ کی عزت و کرامت و نظامت و طہارت کہ زکوۃ مال کا میل ہے اور گناہوں کا دھوون اس ستھری نسل والوں کے مقابل نہیں خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہ
#9360 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
نے اس تعلیل کی تصریح فرمائی
کما فی حدیث المطلب عند مسلم و ابن عباس عند الطبرانی وعلی المرتضی عند الطحاوی رضی اﷲتعالی عنھم اجمعین۔
جیسا کہ مسلم کے ہاں حدیث مطلب طبرانی کے ہاں حدیث ابن عباس اورطحاوی کے ہاں حدیث علی المرتضے رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین میں ہے۔ (ت)
اسی طرح عامہ علماء مثل امام ۱ابو جعفر طحاوی شرح معانی الآثار اورا مام ۲شمس الائمہ سرخسی محیط اور امام ۳صدر شہید شرح جامع صغیر اور امام ۴برہان الدین فرغانی ہدایہ اور امام ۵حافظ الدین نسفی کافی اور ا مام ۶فخر الدین زیلعی تبیین اور امام ۷سمعانی خزانۃ المفتین اور ۸علامہ یوسف چلپی ذخیرۃالعقبی اور ۹محقق غزی منح الغفار اور مدقق ۱۰علائی درمختار اور ۱۱فاضل رومی مجمع الانہر اور ۱۲سید حموی غمزالعیون اور ان کے غیر میں اس حکم کی یہی علت بیان فرماتے ہیں اور شك نہیں کہ یہ علت تغیر زمانہ سے متغیر نہیں ہوسکتی تو دائماابدا بقائے حکم میں کوئی شبہ نہیں یہان تك کہ جمہور علمائے کرام مثل امام ۱ابوالحسن کرخی وامام ۲ابوبکر جصاص و امام ۳حسام الدین عمر صدر شہید وامام ۴علی بن ابی بکر مرغنیانی صاحب ہدایہ وامام ۵طاہر بخاری صاحب خلاصہ وامام ۶سغناقی صاحب نہایہ وامام ۷نسفی صاحب کافی وامام ۸زیلعی شارح کنز وامام ۹حسین بن محمد صاحب خزانہ وامام ۱۰ہمام محمدبن الہمام صاحب فتح ۱۱علامہ اتفانی صاحب غایۃالبیان و علامہ ۱۲برجندی شارح نقایہ و ۱۳علامہ زین بن نجیم صاحب اشباہ و بحر و ۱۴علامہ عمر بن نجیم صاحب نہر و ۱۵علامہ ابراہیم حلبی صاحب ملتقی و ۱۶علامہ محمد حصکفی صاحب درمختار و مصنفان اختیار شرح مختار و فتاوی ہندیہ وغیرہم رحمۃ اﷲتعالی علیہم بنی ہاشم کو مال زکوۃ سے عمل صدقات کی اجرت لینا ناجائز ٹہراتے ہیں حالانکہ یہ اغنیاء کے لیے بھی روا کہ من کل الوجوہ زکوۃ نہیں مگر آخر شبہ زکوۃ ہے اوربنی ہاشم کی جلالت شان شبہ لوث سے بھی برائت کی شایاں۔ تبیین الحقائق میں ہے
یستحقہ عمالۃ الاان فیہ شبھۃ الصدقۃ بدلیل سقو ط الزکوۃ عن ارباب الاموال فلا یحل للعامل الہاشمی تنزیھا لقرابۃ النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم عن شبھۃ الوسخ و تحل للغنی لا نہ لا یوازی الھاشمی فی استحقاق الکرامۃ فلا تعتبر الشبھۃ فی حقہ اھ ملخصا۔
عاملین زکوۃ کے حقدار ہیں مگر چونکہ اس میں شبہ زکوۃ ہے کیونکہ اس سے صاحب اموال کی زکوۃ ساقط ہوجاتی ہے لہذا ہاشمی عامل کے لئے حلال نہیں تاکہ قرابت نبوی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو میل کے شبہ سے بھی محفوظ رکھا جا سکے البتہ غنی عامل کے لیے جائز ہے کیونکہ وہ مرتبہ کرامت میں ہاشمی کے برابر نہیں لہذا ان کے حق میں اس شبہ کا اعتبار نہیں کیا جائے گااھ ملخصا(ت)
حوالہ / References تبیین الحقائق باب المصرف مطبعۃالکبر ی الامیریۃ ببولاق مصر ۱ / ۲۹۷
#9361 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
محیط و بحر و درر وغیرہا میں ہے : زکوۃ ہاشمی کے غلام مکاتب کو بھی جائز نہیں حالانکہ مکاتب اغنیاء کیلئے حلال اور وجہ وہی کہ ملك مکاتب من وجہ ملك مولی ہے اور یہاں شبھہ مثل حقیقت۔ ردالمحتار میں ہے :
فی البحر عن المحیط وقد قالو اانہ لا یجوز لمکاتب ھاشمی لان الملك یقع للمولی من وجہ و الشبھۃ ملحقۃ بالحقیقۃ فی حقھم اھ ای ان المکاتب وان صار حراید احتی یملك مایدفع الیہ لکنہ مملوك رقبۃ ففیہ شبھۃ وقوع الملك لمولا ہ الھاشمی والشبھۃ معتبرۃ فی حقہ لکرامۃ بخلاف الغنی کما مر فی العمل فلذا قید بقولہ فی حق بنی ھاشم اھ۔
بحر میں محیط سے ہے کہ علماء نے فرمایاہے کہ ہاشمی کے مکاتب کے لیے زکوۃ جائز نہیں کیونکہ یہاں ا یك لحاظ سے مولی کی ملکیت باقی ہوتی ہے اور یہاں شبہ ہاشمیوں کے حق میں حقیقی طور پر برقرارہوتا ہے اھ یعنی مکاتب اگرچہ آزاد متصور ہوتا ہے حتی کہ جو کچھ اسے دیا جائے وہ اس کا مالك بن جاتا ہے لیکن گردن کے اعتبار سے مملوك ہوتا ہے لہذا اس صورت میں اس کے ہاشمی مولی کی ملکیت کا شبہ ہے اور یہاں ہاشمی کی شرافت کی وجہ سے شبہ کا اعتبار ہوتا ہے بخلاف غنی کے جیسا عامل میں گزرا ہے اسی لیے مصنف نے حق بنی ہاشم کی قید لگائی ہے اھ(ت)
بالجملہ جب حدیث وہ اور فقہ یہ پھر خلاف کی طرف راہ کہاں اب جو صاحب جو از پر فتوی دیں ان کا منشاء غلط'ایك مقدوح و مرجوح و مجروح روایت ہے جو ابوعصمہ نوح بن ابی مریم جامع نے امام رضی اللہ تعالی عنہ سے حکایت کی کہ ہمارے زمانے میں بنی ہاشم کو زکوۃ روا ہے کہ سبب حرمت مال غنیمت سے خمس خمس ملنا تھا اب کہ وہ نہیں ملتا زکوۃ نے عود کیا۔
اقول : یہ حکایت نہ روایۃ رجیح نہ درایۃ نجیح ہم ابھی بیان کر آئے کہ علت حرمت بنص صریح صاحب شرع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم و تصریحات متظافرہ حاملان شرع رحمۃ اﷲعلیہم کثافت صدقات و نظامت سادات یعنی بنی ہاشم ہے اور تبد ل زمانہ سے متبدل نہیں ہو سکتی اور جو دلیل اس ضعیف قیل پر بیان میں آئی فقیر غفر اﷲتعالے لہ' نے اس کی کامل نا تمامی اپنے فتاوی یکم جمادی الاولی ۱۳۰۶ ہجریہ مندرجہ مجموعہ العطایاالنبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ میں بحمد اﷲتعالی روشن بیانوں سے واضح کردی اسی میں اٹھارہ دلائل ساطعہ قائم کیے کہ امام اجل ابو جعفر طحاوی قدس سرہ' کی طرف اس روایت مرجوحہ کے اخذو اختیار کی نسبت میں بڑا دھوکا واقع ہوا
حوالہ / References درالمختار باب المصرف دارحیاء التراث العربی بیروت ۲ / ۶۰
#9362 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
جن میں سترہ ۱۷ خود کلام امام ممدوح کی شہادات سے ہیں بلکہ وہ بلا شبہ اسی مذہب حق و ظاہر الروایۃ کو بھذا ناخذ(ہم اسی کو لیتے ہیں۔ ت) فرماتے اور معتمد و مفتی بہ ٹہراتے ہیں ایك سہل سی عام فہم بات یہ ہے کہ وہی امام ممدوح اپنی اسی کتاب شرح معانی الآثار کی اسی کتاب اسی باب اسی بحث میں جہاں ان سے اس ترجیح معکوس کا وقوع بتایا جاتاہے خاص اسی بھذا ناخذ سے صاف صریح تصریح فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیك بنی ہاشم کے غلام تو غلام موالی پربھی زکوۃ حرام فرماتے ہیں۔ ہمارے ائمہ سے اس کا خلاف معلوم نہیں۔ سبحان اﷲ جب ان کے نزدیك خود بنی ہاشم کے لیے زکوۃ حلال تھی تو ان کے غلاموں پر حرام ماننا کیونکر معقول تھا طرفہ یہ کہ یہیں امام طحاوی نے اس مذہب کو اختیار فرمایا ہے کہ بنی ہاشم پر نہ صرف زکوۃ صدقات واجبہ بلکہ صدقہ نافلہ بھی حرام ہے۔ اور فرماتے ہیں ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالی عنہ م کا یہی قول ہے پھر انھیں قائل جواز ماننا کیسا سخت قول بالمحال ہے جسے اس مطلب جلیل کی تنقیح جمیل پر اطلاع منظور ہو فتاوی فقیر کی طرف رجوح کرے اور جب یقینامعلوم کہ وہ روایت شاذہ مذہب اجماعی ائمہ ثلثہ کے خلاف واقعہ اور تمام متون کا اس کے خلاف پر اجماع قاطع' اور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی احادیث متواترہ اس کی دافع اور دلیل و درایت میں بھی ا س کا حصہ محض ذاہب و ضائع اور فتوی امام طحاوی یقینا جانب ظاہر الروایۃ راجع تو اس پر فتوی دینا قطعا مردود جس سے شرع مطہر جزما مانع کون نہیں جانتا کہ اطباق متون کی کیسی شان جلیل ہے جس کے سبب بار ہا محققین نےجانب خلاف کی تصحیحوں کو قبول نہ کیا نہ اس طرف تصحیح وترجیح کا نام بھی نہ ہو نہ کہ صراحۃ امام مجتھد نے اسی جانب پر فتوی دیا ہو با اینہمہ اسے چھوڑ کر ادھرجانا کس قدر موجب عجب شدید ہے درمختار میں ہے :
قال فی الخانیۃ وعلیہ الفتوی لکن المتون علی الاول فعلیہا المعول
خانیہ میں ہے کہ فتوی اسی پر ہے لیکن متون میں پہلا قول ہے لہذا اسی پر اعتماد ہوگا ۔ (ت)
کون نہیں جانتا کہ ہنگام اختلاف ظاہر الروایۃ ہی مرجح ہے اگر چہ دونوں مذیل بفتوی ہوں۔ بحرالرائق میں ہے :
اذااختلف التصحیح وجب الفحص عن ظاہر الروایۃ والرجوع الیھا۔
جب تصحیح اقوال میں اختلاف ہو تو ظاہر الروایۃ کی تلاش اور اس کی طرف ہی رجوع کرنا چاہئے(ت)
علماء فرماتے جوکچھ ظاہرالروایۃ کے خلاف ہے ہمارے ائمہ کا مذہب نہیں۔ درالمختار کی کتاب
حوالہ / References درمختار کتاب القسمۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۱۹
بحرالرائق باب المصرف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۵۰
#9363 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
احیا ء الموات میں ہے :
ما خالف ظاہر الروایۃ لیس مذھبا لا صحا بنا۔
جو ظاہر روایت کے خلاف ہو وہ ہمارے اصحاب کا مذہب نہیں ہوتا۔ (ت)
پھر جبکہ خاص اسی طرف فتوی ہوا اور اس جانب کچھ نہیں تو ادھر چلنا روش فقہی سے کتنا بعید ہے کون نہیں جانتا کہ قوت دلیل کس قدر موجب تعویل یہاں تك کہ علماء فرماتے ہیں :
لا یعدل من درایۃ ما وا قفھاروایۃ کما فی الغنیۃ شرح المنیۃ ورد المحتار وغیر ھما۔
اس عقلی دلیل سے اعراض نہیں کیا جائے گا جو نقلی دلیل کے مطابق ہو جیسا کہ منیہ شرح غنیہ اور ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ (ت)
اس تنکیر روایۃ پر نظر کیجئے اور مانحن فیہ کی حالت دیکھئے جب روایت کی موافق مانع عدول تو ما ھی الروایۃ کا خلاف کیو نکر مقبول پھر اس طرف احادیث متواترہ ان سب کے جن کے صحت پر ایسا یقین کہ گویا بگوش خویش کلام اقدس حضورپر نور صلوۃ اﷲتعالے و سلامہ علیہ سن رہے ہیں میں نہیں کہہ سکتا کہ ان کے وجوہ کے بعد بھی وہ روایت قبول تو قبول التفات کے قابل ٹھرے۔ لا جرم ملاحظہ کیجئے کہ بکثرت علماء اصحاب متون و شر وح وفتاوی اپنی تصانیف عظیمہ جلیلہ معتمدہ مثل قدوری و بدایہ و وافی و کنز و وقایہ و نقایہ و اصلاح و ملتقی و ہدایہ و تنویر و کافی و شرح وقایہ و ایضاح و اشباہ و درمختار و طریقہ محمدیہ و حدیقہ ندیہ و خانیہ و خلاصہ و خزانۃ المفتین و جواہر اخلاطی و علمگیری وغیرہا میں اس روایت کا نام تك زبان پر نہ لائے اور طبقۃ فطبقۃ منع و تحریم روشن تصریحیں کرتے آئے کیا وہ اس روایت شاذہ سے آگاہ نہ تھے یقینا تھے مگر اسے قابل التفات نہ سمجھے اور بے شك وہ اسی قابل تھی۔ یہ باون عبارتیں اور ستائیس۲۷ حدیثیں جن کی طرف فقیر نے اس تحریر میں اشارہ کیا بحمدا ﷲ اس وقت فقیر کے پیش نظر ہیں سب کی نقل سے بخوف تطویل دست کشی کی۔ بالجملہ اصلامحل شك و ارتیاب نہیں کہ سادات کرام وبنی ہاشم پر زکوۃ یقینا حرام نہ انھیں لینا جائز نہ دینا جائز نہ ان کے دئے زکوۃ ادا ہو تو اس میں گناہ کے سوا کچھ حاصل نہیں اور اس کے جواز پر فتوی دینا محض غلط باطل اور حیلہ صحت بلکہ قابلیت اغماض سے عاری و عاطل کیا معلوم نہیں کہ علمائے کرام نے ایسے فتوی کی نسبت کیسے سخت الفاظ ارشاد کیے ہیں ۔ درمختار میں ہے :
الحکم و الفتیا بالقول المرجوح جہل وخرق للاجماع اھ ولا حول ولا قوۃ الا باﷲالعلی العظیم۔
قول مرجوح پر فیصلہ و فتوی جہالت اور اجماع کو توڑنا ہے اھ ولا حول ولا قوۃ الا باﷲالعلی العظیم(ت)
حوالہ / References رد المحتار کتاب احیاء الموات دار احیا أالتراث العربی ۵ / ۲۷۸
ردالمحتار داراحیاء التراث بیروت ۱ / ۳۱۲ و غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی سہیل اکیڈمی لاہور ص ۲۹۵
در مختار خطبۃالکتاب مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۵
#9364 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
رہایہ کہ پھر اس زمانہ پر آشوب میں حضرات سادات کرام کی مواسات کیونکرہو اقول : بڑے مال والے اگر اپنے خالص مالوں سے بطور ہدیہ ان حضرات علیہ کی خدمت نہ کریں تو ان کی بے سعادتی ہے وہ وقت یاد جب ان حضرات کے جداکرم صلے اﷲتعالے علیہ وسلم سو اظاہری آنکھوں کو بھی کوئی ملجا و ماوی نہ ملے گا کیا پسند نہیں آتا کہ وہ مال جو انھیں کے صدقے میں انھیں کی سرکار سے عطا ہوا جسے عنقریب چھوڑکر پھر ویسے ہی خالی ہاتھ زیر زمین جانے والے ہیں ان کی خوشنودی کے لیے ان کے پاك مبارك بیٹوں پر اس کا ایك حصہ صرف کیا کریں کہ اس سخت حاجت کے دن اس جو اد کریم رؤف و رحیم علیہ افضل الصلوۃ وا لتسلیم کے بھاری انعاموں عظیم اکرامو ں سے مشرف ہوں۔ ابن عساکر امیرالمونین مولا علی کرم اﷲوجہہ' سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من صنع الی اھل بیتی یدا کافاتہ علیھا یوم القیمۃ۔
جو میرے اہل بیت میں سے کسی کے ساتھ اچھا سلوك کرے گا میں روز قیامت اس کا صلہ اسے عطا فرماؤں گا۔
خطیب بغدادی امیر المومنین عثمان غنی رضی ا ﷲتعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من صنع صنیعۃ الی احد من خلف عبد المطلب فی الدنیا فعلی مکافاتہ اذا لقینی۔
جو شخص اولادعبدالمطلب میں کسی کے ساتھ دنیا میں نیکی کرے اس کا صلہ دینا مجھ پر لازم ہے جب وہ روزقیامت مجھ سے ملے گا۔
اﷲاکبر اﷲاکبر !قیامت کا دن وہ قیامت کا دن وہ سخت ضرورت سخت حاجت کا دن اور ہم جیسے محتاج اور صلہ عطا فرمانے کو محمد صلے اﷲتعالے علیہ وسلم سا صاحب التاج خدا جانے کیا کچھ دیں اور کیسا کچھ نہال فرمادیں ایك نگاہ لطف ان کی جملہ مہمات دو جہاں کو بس ہے بلکہ خود یہی صلہ کروڑوں صلے سے اعلی وانفس ہے جس کی طرف کلمہ کریمہ اذالقینی(جب روز قیامت مجھ سے ملے گا۔ ت)اشارہ فرماتاہے بلفظ اذا تعبیر فرمانا بحمد اﷲ بروز قیامت وعدہ وصال و دیدار محبوب ذی الجلال کا مژدہ سناتا ہے ۔ مسلمانو!اور کیا درکار ہے دوڑواور اس دولت و سعادت کو لو وباﷲالتوفیق اور متوسط حال والے اگر مصارف
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ ابنِ عساکر حدیث۳۴۱۵۲ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۲ / ۹۵
تاریخ بغداد ترجمہ۵۲۲۱ ٥ عبداﷲبن محمدالفزاری دارالکتاب العربی بیروت ۱۰ / ۱۰۳
#9365 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
مستحبہ کی وسعت نہیں دیکھتے تو بحمدا ﷲ وہ تدبیر ممکن ہے کہ زکوۃ کی زکوۃ ادا ہو اور خدمت سادات بھی بجا ہو یعنی کسی مسلمان مصرف زکوۃ معتمد علیہ کو کہ اس کی بات سے نہ پھرے مال زکوۃ سے کچھ روپے بہ نیت زکوۃ دے کر مالك کردے پھر اس سے کہے تم اپنے طرف سے فلاں سید کی نذر کر دو اس میں دونو ں مقصود حاصل ہو جائیں گے کہ زکوۃ تو اس فقیر کو گئی اوریہ جو سید نے پایا نذرانہ تھا اس کا فرض ادا ہوگیا اور خدمت سید کا کامل ثواب اسے اور فقیر دونوں کو ملا ذخیرہ وہندیہ میں ہے :
ذا اراد ان یکفن میتاعن زکوۃ مالہ لا یجوز والحیلۃ ان یتصدق بھا علی فقیر من اھل المیت ثم ھو یکفن بہ فیکون لہ ثواب الصدقۃ ولاھل المیت ثواب التکفین وکذلك فی جمیع ابواب البر کعمارۃ المساجد و بناء القناطیر والحیلۃ ان یتصدق بمقدار زکوتہ علی فقیر ثم یا مرہ بالصرف الی ھذہ الوجوہ فیکون للتصدق ثواب الصدقۃ والفقیر ثواب بناء المسجد والقنطرۃ اھ ملخصا۔ اقول : و یظھر لی ان ثواب تلك القرب لھما جمیعا لان من دل علی خیر کان کفا علہ وقد تو ا تر عن البنی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فی نظائرہ تکامل الثواب لکل شریك فی الخیر لا تنقص الشرکۃ من اجورھم شیئا فھذا الذی حدانی علی الجزم بما سمعت ثم رأیت فی الدر المختار
اگر کوئی شخص زکوۃ سے میت کا کفن تیار کرنا چاہے تو جائز نہیں ہاں یہ حیلہ کر سکتا ہے کہ خاندان میت کے کسی فقیر پر صدقہ کر دے اور وہ میت کا کفن تیار کردے تواب مالك کے لیے صدقے کا اور اہل میت کے لیے تکفین کا ثواب ہوگا اسی طرح کا حیلہ تمام امور خیر مثلا تعمیر مساجد اور پلوں کے بنانے میں جائز ہے کہ مالك مقدار زکوۃ کے برابر کسی فقیر کو دے دے اور اسے کہے کہ تو ان امور پر خرچ کر دے تو اب صدقہ کرنے والے کے لیے صدقہ کا اور بناء مسجد و پل کا ثواب فقیر کو ہوگااھ ملخصا(ت) اقول : پھر یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ان امورخیر کا ثواب دونوں کے لیے ہے کیونکہ جو کسی نیکی پر رہنمائی کرتااسے بھی عمل کرنے والے کی طرح ثواب ملتا ہے حضور علیہ السلام سے ایسے معاملات میں تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ کار خیر میں ہر شریك کو کامل ثواب ملتا ہے شرکت سے اجر شرکاء میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی مجھے اس پر مذکورہ دلائل کی وجہ سے جزم تھا جسے تو سن چکا پھر میں نے درمختار
حوالہ / References فتاویٰ ہندیۃ کتاب الحیل الفصل الثالث فی مسائل الزکوٰۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۶ / ۳۹۲
#9366 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
حیلۃ التکفین بھا التصدق علی الفقیرثم ھو یکفن فیکون الثواب لھما اھ قال الشامی ای ثواب الزکوۃ للمزکی و ثواب التکفین للفقیر وقد یقال ان ثواب التکفین یثبت للمزکی ایضا لان الدال علی الخیر کفاعلہ وان اختلف الثواب کما و کیفما ط قلت و اخرج السیوطی فی الجامع الصغیر لو مرت الصدقۃ علی یدی مائۃ لکان لھم من الاجر مثل اجرالمبتدئ من غیر ان ینقص من اجرہ شئ اھ فھذا عین ما بحث وﷲالحمد۔
میں دیکھا کہ کفن کا حیلہ یہ ہے کہ پہلے مال فقیر پر صدقہ کیا جائے پھر فقیر اس سے کفن بنائے تو ثواب دونوں کے لیے ہوگا اھ۔ امام شامی نے کہا کہ زکوۃ کا ثواب مزکی کے لیے اور تکفین کا ثواب فقیر کے لیے ہوگا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تکفین کا ثواب مزکی کے لیے بھی ہے کیونکہ خیر پر رہنمائی کرنے والا فاعل خیر کی طرح ہی ہوتا ہے اگر چہ کمیت و کیفیت کے اعتبار سے ثواب مختلف ہوگا ط۔ قلت امام سیوطی نے جامع صغیرمیں نقل کیا کہ اگر صدقہ سو ہاتھ بھی گزرے تو اجر میں بغیر کسی کمی کے ہر ایك کو اتنا ہی اجر حاصل ہوگا جتنا پہلے کو ہے یہ بعینہ وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا وﷲالحمد(ت)
مگر اس میں دقت اتنی ہے اگر اس نے نہ مانا تو اسے کوئی راہ جبر کی نہیں کہ آخر وہ مالك مستقل ہو چکا اسے اختیار ہے چاہےدے یا نہ دے۔ درمختار میں ہے :
لحیلۃ ان یتصدق علی الفقیر ثم یا مرہ بفعل ھذہ الاشیاء وھل لہ ان یخالف امرہ لم ارہ والظاہر نعم۔
حیلہ یہ ہے کہ فقیر پر صدقہ کیا جائے پھر اسے ان امور کو بجالانے کا کہا جائے کیا وہ فقیر اس کی مخالفت کر سکتا ہے یا نہیں یہ میری نظر سے نہیں گزرا ظاہر یہی ہے کہ مخالفت کر سکتا ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
البحث لصاحب النھروقال لانہ مقتضی صحۃ التملیک قال الرحمتی والظاہر انہ لا شبہۃ فیہ لا نہ ملکہ ایاہ عن زکوۃمالہ وشرط
صاحب نہر نے بحث کی ہے اور کہا یہ مخالفت کر سکنا صحت تملیك کا تقاضا کر تا ہے۔ شیخ رحمتی نے فرمایا یہی ظاہر ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کیونکہ اپنی زکوۃ کا
حوالہ / References در مختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۰
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ مصطفی البابی مصر ۲ / ۱۳
درمختار باب المصرف مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤١
#9367 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
علیہ شرطافاسد او الھبۃ والصدقۃلاتفسدان بالشرط الفاسد۔
مالك بنایاگیاہے اور اس پر ایك فاسد شرط لگائی گئی ہے اور ہبہ اور صدقہ شرط فاسد سے فاسد نہیں ہوتا۔ (ت)
لہذا فقیر غفرا ﷲتعالی لہ کے نزدیك اس کا بے خلش طریقہ یہ ہے کہ مثلامال زکوۃ سے بیس روپے سید کی نذر یا مسجد میں صرف کیا چاہتا ہے کسی فقیر عاقل بالغ مصرف زکوۃ کوکوئی کپڑا مثلا ٹوپی یا سیر سوا سیر غلہ دکھائے کہ یہ ہم تمھیں دیتے ہیں مگر مفت نہ دیں گے بیس روپے کو بیچیں گے یہ روپے تمھیں ہم اپنے پاس سے دیں گے کہ ہمارے مطالبہ میں واپس کردو وہ خواہ مخواہ راضی ہوجائےگا جانے گا کہ مجھے تو یہ چیز یعنی کپڑا یا غلہ مفت ہی ہاتھ آئے گا اب بیع شرعی کرکے بیس ۲۰ روپے بنیت زکوۃ اسے دے جب وہ قابض ہوجائے اپنے مطالبہ ثمن میں لے لے۔ اول تو وہ خود ہی دے دے گا کہ سرے سے اسے ان روپوں کے اپنے پاس رہنے کی امید ہی نہ تھی کہ وہ گرہ سے جاتا سمجھے اسے تو صرف اس کپڑے یا غلہ کی امید تھی وہ حاصل ہے تو انکار نہ کرے گا اور کرے بھی تو یہ جبراچھین لے کہ وہ اس قدر میں اس کا مدیون ہے اور دائن جب اپنے دین کی جنس سے مال مدیون پائے تو بالاتفاق بے اس کی رضا مندی کے لے سکتا ہے اب یہ روپے لے کر بطور خود نذر سید یا بناء مسجد میں صرف کردے کہ دونوں مرادیں حاصل ہیں۔ درمختار میں ہے :
یعطی مدیونہ الفقیرزکوتہ ثم یا خذھا من دینہ ولوامتنع المدیون مد یدہ واخذھا لکونہ ظفر بجنس حقہ اھ
اپنے مدیون فقیر کو زکوۃ دی پھر اس سے دین وصول کرے اگر مدیون نہ دے تو اس سے چھین لے کیونکہ یہ اپنے حق کی جنس کو پاتا ہے اھ(ت)
اور فقیر غفراﷲ تعالی لہ نے اس مصرف زکوۃ کے عاقل بالغ ہونے کی شرط اس لیے لگائی کہ اس کے ساتھ یہ غبن فاحش کی مبایعت بلا تکلف روا ہواور کپڑے غلے کی تخصیص اس لیے کی کہ اگرکچھ پیسے بعوض روپوں کے بیچنا چاہے گاتو ظاہر مفاد جامع صغیرپرتقابض البدلین شرط ہوگا وہ یہاں حاصل نہیں اگر چہ روایت اصل پر ایك ہی جانب کا قبضہ کافی اور اکثر علماء اسی طرف ہیں اور یہی قول منقح
کما بیناہ فی البیوع من فتاونا بل حققنا فیھا ان لا دلالۃ لکلام الجامع الصغیر ایضا علی اشتراط التقابض و ان ظن
جیساکہ ہم نے اپنے فتاوی کی بیوع میں بیان بلکہ اس کی تحقیق کی ہے کہ جامع صغیر عبارت میں بھی تقابض کے شرط ہونے پر کوئی دلالت نہیں
حوالہ / References ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ / ۶۹
درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٣٠
#9368 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
العلامۃ الشامی ماظن۔
اگرچہ علامہ شامی کا گمان کچھ ہو۔ (ت)
بہرحال اس حتی الوسع محل خلاف سے بچنا احسن اور زر زکوۃ پر اس کا قبضہ کراکر اپنے مطالبے میں لینے کی قید اسلیے کہ کوئی صدقہ بے قبضہ تمام نہیں ہوتا کما نص علیہ العلماء (جیساکہ علماء نے اس پر نص فرمائی ہے۔ ت) اور یہ تو پہلے بیان میں آچکا کہ اغنیاء کثیر المال شکر نعمت بجا لائیں ۔ ہزاروں روپے فضول خواہش یا دنیوی آسائش یا ظاہر آرائش میں اٹھانے والے مصارف خیر میں ان حیلوں کی آڑ نہ لیں۔ متوسط الحال بھی ایسی ہی ضرورتوں کی غرض سے خالص خدا ہی کے کام صرف کر نے کے لیے ان طریقوں پر اقدام کریں نہ یہ کہ معاذاﷲان کے ذریعہ سے ادا ئے زکوۃ کانام کرکے روپیہ اپنے خر دبردمیں لائیں کہ یہ امر مقاصد شرع کے بالکل خلاف اور اس میں ایجاب زکوۃ کی حکمتوں کا یکسر ابطال ہے تو گویا اس کا برتنااپنے رب عزوجل کو فریب دینا ہے۔
والعیاذباﷲرب العالمین واﷲیعلم المفسد من المصلح نسئلہ تعالی ان یصلح اعمالنا ویحصل امالنا والحمد ﷲرب العالمین واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
رب العالمین سے پناہ چاہتا ہوں اور اﷲتعالی جانتا ہے مفسد کو مصلح سے اﷲتعالی سے دعا ہے کہ ہمارے اعمال کی اصلاح فرمائے اور ہماری امیدیں برلائے والحمدﷲرب العالمین واﷲسبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ خامسہ : زکوۃ کن مصارف میں دینا جائز ہے بینو اتو جروا۔
الجواب :
مصرف زکوۃ ہر مسلمان حاجتمند ہے جسے اپنے مال مملوك سے مقدار نصاب فارغ عن الحوائج الاصلیہ پر دسترس نہیں بشرطیکہ نہ ہاشمی ہو نہ اپنا شوہر نہ اپنی عورت اگرچہ طلاق مغلظہ دے دی ہو جب تك عدت سے باہر نہ آئے نہ وہ اپنی اولادمیں ہے جیسے بیٹا بیٹی پوتا پوتی نواسا نواسی نہ وہ جن کی اولاد میں یہ ہے جیسے ماں باپ دادا دادی نانانانی اگر چہ یہ اصلی و فرعی رشتے عیا ذاباﷲ بذریعہ زنا ہوں نہ اپنا یا ان پانچواں قسم میں کسی کا مملوك اگر چہ مکاتب ہو نہ کسی غنی کا غلام غیر مکا تب نہ مرد غنی کا نا بالغ بچہ نہ ہاشمی کا آزادبندہ اور مسلمان حاجتمند کہنے سے کافر و غنی پہلے ہی خارج ہوچکے۔ یہ سولہ شخص ہیں جنھیں زکوۃ دینی جائز نہیں ان کے سوا سب کو روا مثلاہا شمیہ بلکہ فاطمیہ عورت کا بیٹا جبکہ باپ ہاشمی نہ ہو کہ شرع میں نسب باپ سے ہے۔ بعض مشہورین کہ ماں کے سیدانی ہونے سے سید بن بیٹھے ہیں اوروہ باوجود تفہیم اس پر اصرار کرتے ہیں بحکم حدیث صحیح مستحق لعنت الہی
#9369 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
ہوتے ہیں والعیاذباﷲ وقد اوضحناذلك فی فتاونا (اﷲتعالی بچائے ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی وضاحت کردی ہے۔ ت)اسی طرح غیرہاشمی کا آزاد شدہ بندہ اگر چہ خود اپنا ہی ہو یااپنے اور اپنے اصول و فروع و زوج و زوجہ و ہاشمی کے علاوہ کسی غنی کا مکاتب یا زن غنیہ کا نا بالغ بچہ اگر چہ یتیم ہو یا اپنے بہن بھائی چچا پھوپھی خالہ ماموں بلکہ انھیں دینے میں دونا ثواب ہے زکوۃ وصلہ رحم یا اپنی بہو یا داماد یا ماں کا شوہر یا باپ کی عورت یا اپنے زوج یا زوجہ کی اولاد ان سولہکو بھی دینا روا جبکہ یہ سولہ ان سولہ سے نہ ہوں از انجا کہ انھیں ان سے مناسبت ہے جس کے باعث ممکن تھا کہ ان میں بھی عدم جواز کا وہم جاتا لہذا فقیر نے انہیں بالتخصیص شمار کر دیا اور نصاب مذکورہ پر دسترس نہ ہونا چند صورت کو شامل : ایك یہ کہ سرے سے مال ہی نہ رکھتا ہو اسے مسکین کہتے ہیں۔ دوم مال ہو مگر نصاب سے کم یہ فقیر ہے۔ سوم نصاب بھی ہو مگر حوائج اصلیہ میں مستغرق جیسے مدیون۔ چہارم حوائج سے بھی فارغ ہو مگر اسے دسترس نہیں جیسے ابن السبیل یعنی مسافر جس کے پاس خرچ نہ رہا تو بقدر ضرورت زکوۃ لے سکتا ہے اس سے زیادہ اسے لینا روانہیں یا وہ شخص جس کا مال دوسرے پر دین مؤجل ہے ہنوز میعاد نہ آئی اب اسے کھانے پہننے کی تکلیف ہے تو میعاد آنے تك بقدر حاجت لے سکتا ہے یا وہ جس کا مدیون غائب ہے یا لے کر مکر گیا اگر چہ یہ ثبوت رکھتاہو کہ ان سب صورتوں میں دسترس نہیں۔ بالجملہ عہ مدار کا ر حاجتمند بمعنی مذکور پرہے تو جو نصاب مزبور پر دسترس رکھتاہے ہر گز زکوۃ نہیں پا سکتا اگر چہ غازی ہو یا حاجی یا طالب علم یا مفتی مگر عامل زکوۃ جسے حاکم اسلام نے ارباب اموال سے تحصیل زکوۃ پر مقرر کیاوہ جب تحصیل کرے تو بحالت غنا بھی بقدر اپنے عمل کے لے سکتاہے اگر ہاشمی نہ ہو ۔ پھر دینے میں تملیك شرط ہے جہاں یہ نہیں جیسے محتاجو ں کو بطوراباحت اپنے دستر خوان پر بٹھا کر کھلا دینا یا میت کے کفن دفن میں لگانا یا مسجد کنواں خانقاہ مدرسہ پل سرائے وغیرہ بنوانا ان سے زکوۃ ادا نہ ہوگی اگر ان میں صرف کیا چاہے تو اس کے وہی حیلے ہیں جو مسئلہ رابعہ میں گزرے۔
ھذا کلہ ملخص ما استقرا علیہ الا مر فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتاروغیرھا من معتبرات الاسفاروقد لخصناہ بتوفیق اﷲ احسن تلخیص لعلہ لا یو جد من غیرنا وﷲ الحمد فمن شك فی شئی من ھذا فلیرا جع الاصو
تمام گفتگو خلاصہ ہے اس چیز کا جس پر تنویرالابصار درمختار اور ردالمحتار جیسی معتبر کتب میں استقرار ہے اور اﷲ تعالی کی توفیق سے ہم نے خوب تلخیص کر دی ہے شاید ہمارے علاوہ کہیں اور اس کا وجود نہ ہو وﷲالحمد اور جس کو اس بارے میں شك ہو وہ کتب اصول

عــــہ : اگر دین معجل ہے خواہ ابتداء یوں کہ جو اجل مقرر ہوئی تھی گزر چکی اور مدیون غنی حاضر ہے تو یہ صورت دسترس کی ہے منہ (م)
#9370 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
التی سمینا اولم یسم نعم لا باس ان نورد نصوص بعض مایکا د یخفی او یستغرب ۔
ففی رد المحتار شمل الولاد بالنکاح والسفاح فلا ید فع الی ولدہ من الزنا الخ وفیہ تحت قولہ او بینھما زوجیۃولو مباینۃ ای فی العدۃ ولو بثلاث نھر عن معراج الدرایۃاھ وفیہ تحت قولہ ولا الی مملوك المزکی ولو مکاتباوکذامملوك من بینہ وبینہ قرابۃ ولاد او زوجیۃ لما قال فی البحر والفتح اھ وفیہ تحت قولہ بخلاف طفل الغنیۃ فیجوز ای ولولم یکن لہ اب بحر عن القنیۃ اھ وفیہ وقید بالو لاد لجوازہ لبقیۃ الاقارب کا لا خوۃ والا عمام والا خوال الفقراء بل ھم اولی لانہ صلۃ وصدقۃ و یجوز دفعھا لزوجۃ ابیہ وابنہ وزوج ابنتہ تاتر خانیۃ اھ ملخصا وفیہ من کتاب الوصا یا تحت قولہ الشرف من الام فقط غیر معتبر یؤیدہ قولہ قول الھندیۃ عن البدائع فثبت ان الحسب والنسب یختص بالاب دون الام اھ فلاتحرم علیہ الزکوۃ ولا یکون کفو ا للھاشمیۃ ولاید خل فی الوقف علی الاشراف ط اھ وفیہ قال
کی طرف رجوع کرکے دیکھ لے خواہ ہم نے ان کا نام لیا ہو یا نہ۔ ہاں اس میں کوئی حرج نہیں کہ اگر بعض ایسی تصریحات کا ذکر کریں جو مخفی ہیں یا غریب۔ ردالمحتار میں ہے : یہ نکاح اور زنا دونوں کی اولاد کو شامل ہے۔ پس اس کے ولدزنا کونہیں دیا جائے گا الخ اور اسی میں “ او بینھما زوجیۃ “ کے تحت ہے اگر چہ وہ تین طلاقوں کی عدت بسر کررہی ہو۔ نہر میں معراج الدرایہ سے ہے اھ اور اسی میں ماتن کے قول “ ولا الی مملوك المزکی “ کے تحت ہے اگر چہ مکاتب ہو اور اسی طرح وہ مملوك کہ مالك اور اس کے درمیان اولاد یا زوجیت والا رشتہ ہو جیسا کہ بحر اور فتح میں ہے۔ اور اسی میں ماتن کے قول “ بخلاف طفل الغنیۃ فیجوز “ کے تحت ہے تو جائز ہے یعنی اگر اس کا والد نہ ہو ۔ بحرمیں قنیہ سے ہے اھ۔ اور اسی میں ہے کہ اولاد کے ساتھ مقید اس لیے کیا ہے کہ بقیہ اقارب کے لیے جائز ہے مثلا فقرا ء بھائی چچے اور خالو بلکہ اولی ہیں کیونکہ یہاں صلہ اور صدقہ دونوں ہیں زکوۃ سوتیلی والدہ سوتیلے بھائی اور اپنے داماد کو دی جاسکتی ہے تاتار خانیہ اھ ملخصااور اسی کے کتاب الوصایامیں ماتن کے قول “ الشرف من الام فقط غیر معتبر “ کے تحت ہے کہ اس کی تائید ہندیہ میں بدائع کے حوالے سے یہ قول کرتا ہے کہ یہ بات ثابت ہے کہ حسب و نسب والد کے ساتھ مخصوص ہے نہ کہ ماں کے ساتھ اھ اور اس پر زکوۃ حرام نہ ہوگی اور نہ وہ ہاشمی کے لیے کفوء ہوگا اور وہ وقف علی الاشراف میں داخل نہ ہوگا ط اھ ۔ اور اسی میں ہے
حوالہ / References ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر۲ / ۶۹۰
ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ / ۶۹٠
ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ / ٧۲
ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر٢ / ۶۹
ردالمحتار باب الوصیۃ للاقارب وغیرہم مصطفی البابی مصر ۵ / ۴۴۷
#9371 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
فی الفتح ایضا ولا یحل لہ ای لا بن السبیل ان یا خذ اکثر من حاجتہ قلت وھذا بخلاف الفقیر فانہ یحل لہ ان یا خذ اکثرمن حا جتہ و بھذا فارق ابن السبیل کما افادہ فی الذخیرۃ اھ وفیہ تحت قولہ ومنہ ما لو کان مالہ مؤجلا ای اذا احتاج الی النفقۃ یجوزلہ اخذالزکوۃ قد ر کفایتہ الی حلول الاجل نھر عن الخانیۃ اھ فیہ تحت قولہ او علی غائب ای ولو کان حالالعدم تمکنہ من اخذہ ط اھ وفیہ تحت قولہ او معسر او جاحد ولو بینۃ فی الاصح فیجوز لہ الاخذ فی اصح الاقاویل لانہ بمنز لۃ ابن السبیل ولو موسرا معترفا لا یجوز کما فی الخانیۃ اھ وفیہ تحت قولہ وفی سبیل اﷲ وھو منقطع الغزاۃ وقیل الحاج وقیل طلبۃ العلم و فسرہ فی البدائع بجمیع القرب قال فی النھر والخلاف لفظی للاتفاق علی ان الاصناف کلھم سوی العامل یعطون بشرط الفقر الخ وفیہ تحت قولہ و بھذا التعلیل یقوی ما نسب للواقعات من ان طالب العلم یجوز لہ اخذ الزکوۃ ولوغنیا اذا فرغ نفسہ
کہ فتح میں بھی کہا اور مسافر کے لیے جائز نہیں کہ وہ حاجت سے زائد ہے قلت اور یہ بخلاف فقیر ہے کہ اس کے لیے حاجت سے زائد لینا حلال ہے اور اسی سے فقیر اور مسافر میں فرق ہوگیاجیسا کہ ذخیرہ میں ہے اھ اور اس میں ماتن کے قول “ منہ ما لو کان مالہ مؤجلا “ (اس کا مال مؤخر ہوجائے)کے تحت ہے یعنی جب نفقہ کا محتاج ہو تو آنے کی مدت تك بقدر کفایت زکوۃ کا حصول جائزہے یہ نہر میں خانیہ سے ہے اھ اور اسی میں ماتن کے قول “ اوعلی غائب “ (یا غائب پر ) کے تحت ہے یعنی اگر چہ یہ اس حال پر ہو کہ جس سے لینے پر قدرت نہ رکھتا ہو ط اھ ۔ او ر اسی میں ماتن کے قول “ او معسر او جاحد الخ “ یا تنگدست یا منکرہو اگر چہ اصح قول کے مطابق اس کے لیے گواہ ہوں تو اس کے لیے اصح قول کے مطابق زکوۃ لینا درست ہے کیونکہ یہ مسافر کی مانند ہے اور اگر امیر و معترف ہے تو اب جائز نہیں کمافی الخانیہ اھ اور اسی میں ماتن کے قول “ فی سبیل اﷲ “ کے تحت ہے یعنی وہ غازی جس کا خرچہ و اسلحہ ختم ہوگیا ہے بعض کے نزدیك اس سے حاجی اور بعض کے نزدیك طالبعلم مراد ہے اور بدائع میں اس سے تمام امور خیر کے مصارف بیان کئے ہیں ۔ نہر میں ہے کہ یہ اختلاف لفظی ہے کیونکہ اس پر اتفاق ہے عامل کے سوا تمام اصناف کو بشرط فقر زکوۃدی جا سکتی ہے الخ اور اسی میں ماتن کے قول “ وبھذا التعلیل یقوی الخ “ اس تعلیل کے ساتھ وہ قوی ہوگیا جو واقعات کی طرف منسوب ہے کہ طالب علم کے زکوۃ کا لینا جائز ہے
حوالہ / References ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ٢ / ٦٧
ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ٢ / ٦٧
ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ٢ / ٦٧
ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ٢ / ٦٧
ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ٢ / ٦٧
#9372 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
لا فادۃ العلم واستفادتہ ھذاالفرع مخاف لا طلاقھم الحرمۃ فی الغنی ولم یعتمدہ احد ط قلت وھو کذلك والاوجہ تقییدہ بالفقیر الی اخر ماافادہ علیہ رحمۃ الجواد واﷲ سبحانہ و تعالی اعلم۔
اگر چہ وہ غنی ہو بشرطیکہ اس نے افادہ و استفادہ علم کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیا ہو یہ جزئیہ فقہاء کے اس اطلاق کے خلاف ہے جو انہوں نے کہا کہ اگر غنی ہے تو زکوۃ لینا حرام ہے اور اس پر کسی نے اعتماد نہیں کیا ط۔ قلت وہ اسی طرح ہے اور اوجہ یہ ہے کہ اسے بھی فقر کے ساتھ مقید کر دیا جائے جیسا کہ انہوں نے افادہ کیا ان پر رحمت جواد ہو ۔ واﷲسبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ سادسہ : میرے کل زیور طلائی سادے اورجڑاؤ میں سونے کا وزن موتی اور نگینے اور لاکھ وغیرہا منہا کرکے اڑسٹھ ۸ تولے ہے ااور زیور نقرئی تین سو اکتالیس تولے اس صورت میں جو سالانہ زکوۃ ہو اس سے مشرح مطلع کیا جاؤں اورایك دستور العمل ایسا ہو کہ آئندہ جس قدر اور بنے اس پر زکوۃ بڑھالی جائے۔ بینو ا تو جروا۔
الجواب :
سونے چاندی کا نصاب اور ان پر واجب و عفو کا حساب مسئلہ ثانیہ میں مشرحا گزرا اور زیادت و نقصان کے تمام احکام بتفصیل تمام مسئلہ ثانیہ و ثالثہ میں مبین ہوئے۔ وہ دونوں مسئلے بجائے خود دستورالعمل تھے مگر اختلاط زر و سیم یعنی دونوں مال کا مالك ہونا' البتہ بعض نئے احکام کا موجب ہوتا ہے جن کا بیان اوپر نہ گزرا لہذا فقیر غفراﷲتعالی لہ بعض ضوابط ضروریہ اور ذکر کر کے دستور العمل کی تکمیل کرتا اور حضرت مستفتی دامت برکاتہ و دیگر ناظرین منتفعین سے اس کے صلے میں دعائے عفوعافیت دارین کی تمنا رکھتا ہے ۔ فاقول : وباﷲالتوفیق مال جب بشرائط معلومہ نصاب کو پہنچے تو بنفسہ وجوب زکوۃ کا سبب اور ایراث حکم میں مستقل ہے جسے اپنے حکم میں دوسری شئی کی حاجت نہیں اور نصاب کے بعدجو خمس نصاب ہو وہ بھی نصاب و سبب ایجاب ہے ہاں جو خمس سے کم ہے وہ اپنے نوع میں مثلاچاندی یا سونا سونے میں موجب زکوۃ نہیں ہوسکتا کہ شرع مطہر نے اسے عفو رکھا ہے کما قد منا فی المسئلۃ الثانیۃ (جیساکہ ہم مسئلہ ثانیہ میں پیچھے بیا ن کرآئے۔ ت) اسی طرح جو راسا نصاب کو نہیں پہنچا بنفسہ سببیت وجوب کی صلاحیت نہیں رکھتا مگر جب اس نوع کے ساتھ دوسری نوع بھی ہو یعنی زر و سیم مخلط ہوں تو از انجا کہ وجہ سببیت ثمنیت تھی اور وہ دونوں میں یکساں تو اس حیثیت سے
حوالہ / References ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ٢ / ٦٥
#9373 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
ذھب و فضہ جنس واحد لہذا ہمارے نزدیك جو ایك نوع میں موجب زکوۃ نہ ہوسکتا تھا خواہ اس لیے کہ نصاب ہی نہ تھا یا اس لیے کہ نصاب کے بعد عفو تھا اس مقدار کو دوسری نوع سے تقویم کرکے ملادیں گے کہ شاید اب اس کا موجب زکوۃ ہونا ظاہر ہو پس اگر اس ضم سے کچھ مقدار زکوۃ بڑھے گی(بایں معنی کہ نوع ثانی قبل ضم نصاب نہ تھی اسکے ملنے سے نصاب ہوگئی یا اگلی نصاب خمس کی تکمیل ہوگئی)تو اسی قدر زکوۃ بڑھا دیں گے اور اب اگر کچھ عفو بچا تو وہ حقیقۃ عفو ہوگا ورنہ کچھ نہیں اور اگر ضم کے بعد بھی کوئی مقدار زکوۃ زائد نہ ہو تو ظاہر ہوجائے گا کہ یہ اصلا موجب زکوۃ نہ تھا۔ ہدایہ میں ہے :
تضم قیمۃ العروض الی الذھب و الفضۃ حتی یتم النصاب و یضم الذھب الی الفضۃ للمجا نسۃ من حیث الثمیۃ ومن ھذا الوجہ صار سببا ثم یضم با لقیمۃ عند ابی حنیفۃ رضی اﷲتعالی عنہ۔
سامان کی قیمت کو سونے اور چاندی کی قیمت کے ساتھ ملایا جائے گا تاکہ نصاب مکمل ہوجائے اور ثمن کی بنا پر ہم جنس ہونے کی وجہ سے سونے کو چاندی کے ساتھ ملایا جائے گا اور اسی وجہ سے یہ سبب وجوب ہوگا پھر امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك قیمت کے لحاظ سے ملایا جائے گا۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
النقدان یضم احد ھما الی الاخر فی تکمیل النصاب عند نا۔
ہمارے نزدیك تکمیل نصاب کے لیے دونوں نقود (سونے و چاندی )کو ایك دوسرے کے ساتھ ملایا جائے گا۔ (ت)
تبیین الحقائق میں ہے :
یضم الذھب الی الفقۃ با لقیمۃ فیکمل بہ النصاب لان الکل جنس واحد۔
سونے کو چاندی کے ساتھ قیمت کے اعتبار سے ملایا جائیگا تاکہ نصاب مکمل ہوجائے کیونکہ یہ آپس میں ہم جنس ہیں (ت)
خلاصہ میں ہے :
اصل ھذا ان الذھب یضم الی فضۃ
ہمارے نزدیك تکمیل نصاب کی خاطر سونے کو چاندی
حوالہ / References الہدایہ کتاب الزکوٰۃ فصل فی العروض مکتبتہ العربیہ کراچی ١ / ۱۷۶
فتح القدیر فصل فی العروض مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر ٢ / ۱۶۹
تبیین الحقائق باب زکوٰۃ المال مطبعۃ کبریٰ امیریۃ بولاق مصر ۱ / ٢٨١
#9374 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
فی تکمیل النصاب عندنا و ھذاا ستحسان۔
کے ساتھ ملانا یہ اصل ہے اور یہ بطور استحسان ہے ۔ (ت)
نقایہ میں ہے :
یضم الذھب الی الفضۃ بالقیمۃ لاتمام النصاب۔
اتمام نصاب کے لیے سونے کو قیمت کے اعتبار سے چاندی کے ساتھ ملایا جائے گا۔ (ت)
ان عبارات ائمہ و تقریر فقیر سے واضح ہو ا کہ یہ ملانا صرف بغرض تکمیل نصاب ہوتا ہے نصاب کہ بنفسہ کامل ہے محتاج ضم نہیں کہ خود سبب مستقل ہے تو شرح مطہر اس کے سبب ایك مقدار واجب فرما چکی اب نصاب کو دوسری چیز سے ضم کرنے کا ایجاب تکمیل نصاب نہیں تعطیل نصاب ہے یا یوں کہئے کہ اس ضم سے مقصود تحصیل واجب ہے نہ تبدیل واجب ۔ ولہذا ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ذھب و فضہ کا کامل نصابوں میں حکم ضم نہیں بلکہ نصاب ذھب پر جدا زکوۃ واجب ہوگی اور نصاب فضہ پر جدا۔ ہاں اگر کوئی یہ چاہے کہ میں ایك ہی نوع زکوۃ میں دوں اور وہ قیمت لگا کر ضم کر لے تو ہمارے نزدیك کوئی مضائقہ بھی نہیں مگر اس وقت واجب ہوگا کہ تقویم ایسی کرے جس میں فقراء کا نفع زائد ہو مثلاایك نقد زیادہ رائج ہے دوسرا کم توجو رائج تر ہے اس سے تقویم کرے۔ امام ملك العلاء ابوبکر مسعود کا شانی قدس سرہ الربانی بدائع میں فرماتے ہیں :
اذا کان کل واحدمنھما نصابا تاما ولم یکن زائدا علیہ لا یجب الضم بل ینبغی ان یؤدی من کل واحد منھمازکوتہ ولو ضم احدھما الی الاخرحتی یؤدی کلہ من الفضۃ اومن الذھب فلا باس بہ عند نا ولکن یجب ان یکون التقویم بما ھو انفع للفقراء رواجا والا فیؤدی من کل واحد منھما ربع عشرۃ۔
اگر دونوں (سونا و چاندی) کا نصاب بلا اضافہ کیے کامل ہے تو اب ایك دوسرے کے ساتھ ملانا واجب نہیں بلکہ ہر ایك کی زکوۃ ادا کی جائے اور اگر کسی نے ملا کر سونے چاندی میں سے ہر ایك کی زکوۃ ادا کردی تو بھی ہمارے ہاں کوئی حرج نہیں لیکن یہ لازم ہے کہ قیمت اس کے ساتھ لگائی جائے جو رواجا فقراء کے لیے زیادہ نافع ہو ورنہ ہر ایك میں سے چالیسواں حصہ ادا کر دیا جائے۔ (ت)
اس نفیس تقریر سے یہ فائدے حاصل ہوئے کہ اگر ایك جا نب نصاب تام بلا عفو ہے اور دوسری
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس فی زکوٰۃ المال مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ١ / ٢٣٧
النقایہ کتاب الزکوٰۃ نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص ۳۴
بدا ئع الصنا ئع فصل وامّا مقدار الواجب فیہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ۲۰
#9375 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
طرف نصاب سے کم تو یہاں یہی طریقہ ضم متعین ہوگا کہ اس غیر نصاب کو اس نصاب سے تقویم کرکے ملا دیں یہ نہ ہوگا کہ نصاب کو تقویم کرکے غیر نصاب سے ملائیں۔ مثلاچاندی نصاب ہے اور سونا غیر نصاب تو اس سونے کو چاندی کریں گے چاندی کو سونا نہ کریں گے اور عکس ہے تو عکس۔ اسی طرح اگر ایك طرف نصاب تام بلا عفو ہے اور دوسری جانب نصاب مع عفو تو صرف اس عفو کو اس نصاب سے ملائیں گے نصاب مع العفو مجموع کو ضم نہ کریں گے کہ محتاج تکمیل صرف وہی عفو ہے نہ کہ نصاب مثلا ۷یا ۹ یا۱۲ تولے سونا اور ۶۰ تو لے چاندی ہے جس میں ۷ تولے چاندی عفو ہے تو صرف اس ۷تولے چاندی کوسونا کریں گے نہ کہ مجموع ۶۰ تو لے کو۔ یونہی اگر دونو ں جانب عفو ہے تو صرف ان عفووں کو باہم ملائیں گے دونوں طرف کے نصاب الگ نکال لیں گے۔ ہندیہ میں ہے :
لوفضل من النصابین اقل من اربعۃ مثاقیل واقل من اربعین درھما فانہ تضم احدی الزیا دتین الی الاخری حتی یتم اربعین درھما او اربعۃ مثاقیل ذھب کذافی المضمرات۔
اگر دونوں نصابوں پر چار مثقال سے کم اور چالیسدراہم سے کم اضافی ہو تو ایك اضافہ کو دوسرے کے ساتھ ملایا جائے حتی کہ چالیس درہم کا مل ہوجائیں یا چار مثقال سونا مکمل ہوجائے جیسا کہ مضمرات میں ہے۔ (ت)
پس ثابت ہوا کہ قابل ضم وہی ہے جو خود نصاب نہیں پھر اگر یہ قابلیت ایك ہی طرف ہے جب تو طریقہ ضم آپ ہی متعین ہوگا کما سبق (جیسا کہ پیچھے گزرا۔ ت) اور دونوں جانب ہے تو البتہ یہ امر غور طلب ہوگا کہ اب ان میں کس کو کس سے تقویم کریں کہ دونوں صلاحیت ضم ر کھتے ہیں اس میں کثرت و قلت کی وجہ سے ترجیح نہ ہوگی کہ خواہی نخواہی قلیل ہی کو کثیر سے ضم کریں کثیر کو نہ کر یں کہ جب نصابیت نہیں تو قلیل و کثیر دونوں احتیاج تکمیل میں یکساں۔ ردالمحتار میں ہے :
لا فرق بین ضم الاقل الی الاکثر و عکسہ۔
اقل کو اکثر ساتھ ملانا یا اس کے برعکس کرنے میں کوئی فرق نہیں۔ (ت)
بلکہ حکم یہ ہوگا جو تقویم فقیروں کے لیے انفع ہو ا سے اختیار کریں اگر سونے کو چاندی کرنے میں فقراء کا نفع زیادہ ہے تو وہی طریقہ برتیں اور چاندی کو سونا ٹھہراتے ہیں تو یہی ٹھہرائیں اور دونوں صورتیں نفع میں یکساں تو مزکی کو اختیار۔ درمختار میں ہے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول فی زکوٰۃ الذھب والفضّہ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٧٩
ردالمحتار باب زکوٰۃ المال مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۵
#9376 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
لو بلغ باحد ھما نصابا دون الاخر تعین مایبلغ بہ ولو بلغ باحدھما نصابا و خمسا وبا لا خراقل قومہ بالا نفع للفقیر سراج اھ وفی ردالمحتار عن النھر عن الفتح یتعین ما یبلغ نصابا دون مالا یبلغ فان بلغ بکل منھما واحد ھما اروج تعین التقویم بالا روج اھ وفی شرح النقایہ للقھستانی و ان تسایا فالما لك مخیر۔
اگر ایك کو ضم کرنے نصاب بنتا ہے دوسری سے نہیں تو جس سے بنتا ہو وہ ضم کے لیے متعین ہوگا اور اگر ایك کو ضم کرنے سے نصاب اور خمس بنتا ہے اور دوسرے سے کم بنتا ہے تو فقیر کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو اس سے قیمت بنائے سراج اھ۔ اور ردالمحتار میں بحوالہ نہر فتح سے منقول ہے کہ نصاب کو پہنچانے والے کی قیمت ضم کے لیے متعین ہوگی دوسرے کی نہیں اگر دونوں سے نصاب پورا ہو جبکہ ایك رواج سے زائد ہے تو جو زیادہ رائج ہو اس کے ساتھ قیمت لگانا متعین ہوگا اھ اور شرح نقایہ للقہستانی میں ہے : اگر دونوں برا بر ہوں تو مالك کو اختیار ہے۔ (ت)
جب یہ امور ممہد ہو لیے تمام صورتوں کے احکام معلوم ہوگئے کہ اختلاط زر وسیم انہی تین حال میں منحصر :
(۱) یا کسی کی طرف کو ئی مقدار قابل ضم نہ ہوگی اور یہ جب ہی ہوگا کہ دونوں نصاب ہوں اور دونوں بے عفو اس کا حکم اول ہی گزرا کہ ہر ایك کی زکوۃ جدا واجب ہوگی اور ایك ہی نوع سے دینا چاہیے تونفع فقراء کا لحاظ واجب۔
() یا صرف ایك طرف مقدار قابل ضم ہوگی یہ یونہی ہوگا کہ ایك نصاب بلا عفو ہو اور دوسرا راسا غیر نصاب یانصاب مع العفو تواس کی دو صورتیں نکلیں ان کا ضابطہ ۱بھی معلوم ہوچکا کہ خاص اسی قابل ضم کو دوسرے کے ساتھ تقویم کریں گے۔
() یا دونوں طرف مقدار قابل ضم ہو یہ اس طرح ہوگا کہ دونوں نصاب سے کم یا ایك کم اور ایك میں عفو یا دونوں میں عفو اس کی تین صورتیں ہوئیں ضابطہ۲بھی مذکور ہو ا کہ جو مقداریں دونوں طرف قابل ضم ہیں انہی کو آپس میں ملائیں گے اور نفع فقراء کا لحاظ رکھیں گے یعنی جس تقویم میں زیادہ مالیت واجب الادا ہو وہی اختیار کرینگے اور مالیت برابر ہو تو جس کا رواج زیادہ ہے اسے لیں گے اور قدر رواج سب یکساں ہوں تو اختیار دیں گے۔
حوالہ / References درمختار باب زکوٰۃ المال مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٣٥
ردالمحتار باب زکوٰۃ المال مصطفی البابی مصر ۲ / ۳۴
جامع الرموز کتاب الزکوٰۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ٢ / ٣١٣
#9377 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
ہر چند اس بیان وجدول نے مسئلہ واضح کردیا مگر بوجہ پیچیدگی عام مسلمان کے لیے ان دونوں ضابطوں میں ایضاح امثلہ کی بیشك ضرورت۔ لہذا فقیر غفرلہ المولی القدیر پھر جانب تفصیل عنان گردانی کرتا ہے وباﷲالتوفیق
شرح ضابطہ اولی : چاندی سونے میں جب ایك نصاب تام بلا عفو ہواور دوسرا نصاب نہ ہو خواہ کلایعنی سرے سے نصاب تك پہنچا ہی نہ ہو یا بعضا یعنی نصاب کے بعد جو عفو بچا ہو اس غیر نصاب کل یا بعض کو اس دوسرے کے ساتھ ضم کریں گے مثلا چاندی کل بعض غیر نصاب ہے تو اسے بلحاظ قیمت سونا قرار دے کر سونے کے نصاب سے ملائیں گے اور سونا کل یا بعض غیر نصاب ہو تو اسے چاندی سے تو ضابطہ اولے کی دو صورتیں بعد بسط چار ہوگئیں جیساکہ مطالعہ جدول سے واضح ہوا ہوگا۔ اب ہم بعد ضم دیکھیں گے کچھ زکوۃ بڑھی یا نہیں اگر اب بھی نہ بڑھی تو وہ غیر نصاب عفو مطلق تھا کہ کسی طرح موجب زکوۃ نہ ہوا اور بڑھی تویا کچھ عفو نہ بچے گا اس صورت میں ظاہر ہوگا کہ غیر نصاب اپنی نوع میں نہ موجب زکوۃ نظرآتا تھا حقیقۃ بالکل موجب تھا یا قدرے بچے گا تو ثابت ہوگا کہ واقع میں اسی قدر عفو ہے باقی پر زکوۃ تو یہ تین حالتیں ہوئیں جنھیں ان چار میں ضرب دیے سے بارہ صورتیں نکلیں اب ہر ایك کی مثال لیجئے اور حساب کے لیے فرض کیجئے کہ تولہ بھر سونے کی قیمت چوبیس تولے چاندی ہے
عــــہ : اس مثلثا نہ خانہ احکام کا خانہ قطب وہ صورت ہے جس میں اصلا حکم ضم نہیں اور اس کے چاروں خانہ آتشی بادی آبی خاکی متعلق ضا بطہ اولی اور باقی چاروں خانے کہ چاروں گوشوں پر ہیں متعلق ضابطہ ثانیہ منہ (م)

yahan aik image hai
#9378 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
اور تولہ بھر چاندی کا چاررتی سونا۔
مثال : ایك شخص کے پاس - / تولے چاندی اور سوا پانچ ماشے سونا ہے تو چاندی نصاب تام بلا عفو ہے اور سونا کلا غیر نصاب۔ لہذاسونے کو چاندی کرکے چاندی سے ملایایعنی بلحاظ قیمت دیکھا کہ اس قدر سونے کی کتنی چاندی ہوئی نرخ مذکور پر یہ سونا دس تولے چاندی کا ہوا تو گویا وہ - / تولے چاندی ماشے سونے کا مالك نہیں بلکہ تولے چاندی کا مالك ہے یہ چاندی ا یك نصاب کامل اور ایك نصاب خمس پورا ہوا جس پر عفو کچھ نہ بچا۔
مثال : اسی صورت میں ماشے سونا فرض کیجئے جس کے تولے چاندی تو گویا - / تولے چاندی کا مالك ہے جس میں وہی نصاب کا مل و نصاب خمس نکل کر تولے چاندی عفو بچی کہ خمس نصاب سے کم ہے یہ عفو حقیقی ہوا یعنی سونے کو چاندی سے ضم نہ کرتے تو بوجہ عدم نصاب بالکل عفو نظر آتا تھا ضم کرنے سے کھل گیا کہ اس میں صرف - / ماشے جس کی تولے چاندی ہوئی عفو پر زکوۃ واجب۔
مثال : صورت مسطورہ میں صرف ماشے سونا مانیے تو کل عفو رہے گا کہ اس کی دس ہی تو لے چاندی ہوئی اور مال جب تك نصاب کے بعد خمس نصاب تك نہ پہنچے عفو اور چاندی میں خمس - / تولے ہے۔
مثال : اسی صورت میں تولے ماشے سونا لیجئے تو - / تولے سونا تو نصاب کامل ہے اس کے بعد ماشے عفو نظر آتا ہے بس اسی قدر کو چاندی سے ضم کرینگے اور ایك نصاب زر اور ایك نصاب و خمس نصاب سیم کی زکوۃ واجب ما نیں گے جس میں عفو کچھ نہ رہا۔
مثال : اسی صورت میں تولے ماشے سونا ہے تو بدلیل مثال دوم وہی - / ماشے سونا عفو رہے گا۔
مثال : تولے ماشے سونا ہے تو نصاب زر سے جتنا یعنی ماشے سب عفو مطلق ہے کہ بعد ضم بھی زکوۃ نہیں بڑھاتا۔
ان چھ مثالو ں میں چاندی نصاب تام بلا عفو تھی اور سونا قابل ضم پہلی تین میں راسانصاب سے کم اور پچھلی تین میں عفو۔ اب وہ مثال لیجئے کہ سونا تام بلا عفواور چاندی انہی دو وجہوں پر قابل ضم۔
مثال : ایك شخص - / تولے سونا تولے چاندی کا مالك ہے کلاغیر نصاب ہے۔ اسے بحساب قیمت سونا کیا تو - / تولے ہوا یہ پورا نصاب خمس ہے تو سونے کا ایك نصاب کامل اور ایك نصاب خمس ہوا اور عفو اصلانہ بچا۔
مثال : اسی صورت میں چاندی تو لے رکھئے تو تولے عفو ر ہے گی کہ تولے کا نصاب خمس ہوگیا تولے کا ماشے سونا ہوا کہ خمس سے کم ہے وہ عفو رہا۔
مثال : اسی صورت میں چاندی تولے فرض کیجئے توکل عفو ہے کہ اس کا سوا ہی تولے سونا ہوا بعد
#9379 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
ضم بھی کچھ نہ بڑھا ۔
مثال ا و و : اب ہمیں وہ تین صورتیں بیان کرنا ہیں جن میں سونا نصاب بے عفو ہو اور چاندی نصاب با عفو جس کے عفو کو سونے سے ملائیں تو جب بھی عفو رہے یا کچھ زکوۃ واجب کرے کچھ عفو بچے یا بالکل زکوۃ واجب کرے ۔ یہ پچھلی دو صورتیں بظاہر محال عادی نظر آتی ہیں کہ نصاب میں عفو وہی ہوتا ہے جس خمس سے کم ہواور نصاب کے بعد زکوۃ واجب کرتا ہیے جو خمس تك پہنچے توان صورتوں کا وقوع جب ہی ہوگا کہ تولے کم چاندی ا- / تولے سونے کے برابر یا اس سے بھی زائد ہو مگر یہ عادۃہو نہین سکتا بلکہ تولے یا اس سے کچھ زیادہ چاندی تولہ بھر سونے کی قیمت کو بھی نہیں پہنچی تو بادی النظر میں یہاں صرف صورت اولی ہی قابل وقوع ہے یعنی عفو سیم کو نصاب ذھب سے جب ملائیے عفو ہی رہے'مگر ایك نفیس و شریف و جلیل و لطیف قاعدہ معلوم کرنے سے کھل جائیگا کہ دو صوتین بھی قابل وقوع ہیں اس با عظمت قاعدے کا جاننا نہ صرف انہی صورتوں کے لیے ضرور ہے بلکہ جو اہل زکوۃ زروسیم دونوں قسم کے مالك ہوں اور عموما ایسے ہی ہوتے ہیں ان سب پر اس کا علم فرض عین ہے کہ اس کے نہ جاننے میں بہت غلطیاں اور خرابی و زیاں واقع ہوتے ہیں لوگ اکثر سمجھ لیتے ہیں ہم زکوۃ ادا کر چکے اور واقع میں مطالبہ باقی ہوتا ہے وہ ضروری قاعدہ عظیم الفائدہ واجب الحفظ یہ ہے کہ اگر چہ زر وسیم کی قیمت و وزن با ہم اکثر مختلف ہوتے ہیں خصوصا جبکہ صنعت کا قدم درمیا ن ہو مثلا ممکن کہ تولہ بھر سونے کا کوئی گہنا صناعی کے سبب پچاس روپے کی قیمت کا ہو اگر چہ ایك تولہ سونے کی قیمت پچیس ہی روپیہ ہو یا تولہ بھر چاندی کی چیز چار روپے کو بکے اگر چہ چاندی ایك ہی روپیہ تولہ ہو دہلی کی سودا کاریوں میں یہ بات خوب واضح ہے یونہی جب مال ہارتا ہو تو قیمت وزن گھٹ جاتی ہے کما لایخفی(جیساکہ مخفی نہیں ۔ )مگر شرع مطہر نے سونے چاندی میں وجوباو اداء ہر طرح وزن ہی کا اعتبار فرمایا ہے نہ کہ قیمت کا مثلا کسی کے پاس صرف تولے سونے کا گہنا ہے کہ قیمت میں - / تولے سونے تك پہنچا ہے یا اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے اس پر زکوۃ واجب نہیں کہ وزن - / تولے کامل نہ ہوا یا - / تولے ہارتے سونے کا مال ہے کہ قیمت تولے سے بھی کم ہے اس پر زکوۃ واجب کہ وزن نصاب پورا ہے'یا ایك شخص کے پاس - / تولے سونے کا زیور ہے جو بوجہ صنعت تولے سونے کی قیمت ہے اس پر صرف ماشے سونا واجب ہوگا کہ وزن کا چالیسواں حصہ ہے نہ چار ماشہ کی قیمت کا / ہے تو لے وزن کی چیز قیمت میں - / تو لے کے برابر ہے تو باعتبار وزن ہوا اور ادا کی یہ صورت کہ مثلا اس پر ماشے سونا واجب الادا تھا اس نے اس کے بدلے ماشے نفیس کندن کہ قیمت میں ماشے سونے کے برابر بلکہ زائد تھا ادا کیا تو عہدہ بر آنہ ہوا کہ واجب کا وزن پورا نہ ہو ا اور ہارتا سونا ماشے دے دیا جو قیمت میں دو ہی ماشے کے برابر تھا تو ادا ہوگیا اگرچہ اس میں کراہت ہے لقولہ عزوجل :
#9380 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
و لستم باخذیه الا ان تغمضوا فیه-۔
تمھیں ملے تو نہ لو گے جب تك اس میں چشم پوشی نہ کرو۔ (ت)
درمختار میں ہے :
المعتبر وزنھما اداء ووجوبا لا قیمتھما۔
ادا ء و وجوب میں ان دونوں کے وزن کا اعتبار ہے نہ کہ قیمت کا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
یعنی یعتبر فی الوجوب ان یبلغ وزنھما نصابا نھر حتی لو کان لہ ابریق ذھب او فضۃ وزنہ عشرۃ مثاقیل اومائۃدرھم وقیمتہ لصیاغتہ عشرون او مائتان لم یجب فیہ شیئ اجماعا قہستانی۔
وجوب کے لیے یہ معتبر ہے کہ وہ وزن کے اعتبار سے نصاب کو پہنچیں نہر۔ اگر کسی کے پاس سونے یا چاندی کا کوزہ تھا جس کا وزن دس مثقال یا سودرہم کے برابر تھا اور زیور کی صورت میں اس کی قیمت بیس یا دوسوہے تو اب اس میں بالاجماع کوئی شئ لازم نہیں قہستانی۔ (ت)
اسی میں ہے :
لولہ ابریق فضۃ وزنہ مائۃ وقیمتہ بصیاغتہ مائتان لا تجب الزکوۃ باعتبار القیمۃ لان الجودۃ و الصنعۃ فی اموال الربا لا قیمۃ لھا عند افرادھا ولا عند المقابلۃ بجنسھا۔
اگر کسی پاس چاندی کا ایسا کوزہ تھا جس کا وزن سو درہم ہو اور اس کی زیور کی صورت میں قیمت دو سودرہم ہے تو اب قیمت کے اعتبار سے زکوۃ واجب نہ ہوگی کیونکہ اموال ربا میں جو جودت اور صنعت ہوتی ہے اس کی انفرادی صورت میں کوئی قیمت نہیں ہوتی نہ ہی اس وقت کوئی قیمت ہے جب کسی'ہمجنس کے مقابل ہو۔ (ت)
اسی میں ہے :
یعتبر یکون المؤدی قدرالواجب وزنا
جس کی زکوۃ ادا کی جائے اس کا وزن کے اعتبار سے
حوالہ / References القرآن ٢ / ٢٦٧
درمختار باب زکوٰۃ المال مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٣٤
ردالمحتار باب زکوٰۃ المال مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ٣٣
ردالمحتار باب زکوٰۃ المال مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ٣٧
#9381 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
فلوادی عن خمسۃ جیدۃ خمسۃ زیوفاقیمتھا اربعۃ جیدۃ جا ز وکرہ ولواربعۃ قیمتھا خمسۃ ردیئۃلم یجزا ھ ملخصا۔
نصاب ہونا ضروری ہے اگر کسی نے پانچ جیددراہم کی جگہ پانچ زیوف سے ادا کی جن کی قیمت چارجید دراہم تھی توجائز مگر مکروہ ہے اور ان چارکی قیمت پانچ ردی درہم تھے تو جائز ہی نہیں اھ ملخصا(ت)
مگر جب ان میں ایك کو دوسرے سے تقویم کریں مثلاچاندی کو سونے یا سونے کو چاندی سے جیسا کہ ضم کی صورتوں مین دیکھتے آتے تو بالاجماع قیمت کا اعتبار ہے کہ جو دت وصنعت خلاف جنس کے مقابلہ میں بالاجماع قیمت پانا ہے مثلابارہ تولے چاندی کا وزنی گہنا اور قیمت میں تولے چاندی کے برابر اب اس کی قیمت سونے سے لگائے گا تو بہ لحاظ قیمت پورا تولہ بھر سونا ہوگا نہ بلحاظ وزن چھ ماشہ ولہذا جس کہ پاس تولے چاندی کا زیور چار سوروپے کا قیمتی ہو جس تولے چاندی واجب وہ اگر تولے چاندی دے دے گا ادا ہوجائے گا اور تولے چاندی کی قیمت کا سونا دے گا ہر گز ادا نہ ہوگا بلکہ تولے چاندی کا قیمتی سونا دینا آئے گا۔ ردالمحتار میں ہے :
عدم اعتبار الجودۃ انما ھو عند المقابلۃ بالجنس اما عند المقابلۃ بخلافہ فتعتبر اتفاقا۔
جید ہونے کا اعتبار جنس کے ساتھ مقابلہ وقت نہیں کیا جاسکتااوراگر غیر جنس سے مقابلہ ہو تو بالاتفاق معتبر ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
لو کان لہ ابریق فضۃ وزنہ مائتان وقیمتہ ثلث مائۃ ان أدی خمسۃ من عینہ اومن غیرہ جاز واجمعواانہ لوأدی من خلاف جنسہ اعتبرت القیمۃ حتی لوأدی من الذھب ما تبلغ قیمتہ خمسۃ دراہم من غیر الاناء لم یجز فی قولھم لتقوم الجودۃعندالمقابلۃ
اگر کسی کے پاس چاندی کا کوزہ ہے دو صد درہم وزنی اور قیمت تن سودرہم ہے تو اب وہ اس میں سے یا اس کے غیر سے پانچ درہم ادا کرتا ہے تو جائز ہے اور اس پر اتفاق ہے کہ اگر اس کی مخالف جنس سے ادا کرے تو قیمت کا اعتبار ہوگا حتی کہ اگر اتنا سونا جسکی قیمت پانچ درہم ہو غیر مصنوعہ سے ادا کیا تو ان کے نزدیك جائز نہیں کیونکہ مقابلہ کے وقت جودت
حوالہ / References ردالمحتار باب زکوٰۃ المال مصطفی البابی مصر ٢ / ٣٣
ردالمحتار باب زکوٰۃ المال مصطفی البابی مصر ٢ / ٣٧
#9382 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
بخلاف الجنس کذا فی لامعراج نھر اھ ملخصا۔
کی قیمت اعتبار ہوتاہے بخلاف جنس کے معراج میں اسی طرح ہے نہر اھ ملخصا (ت)
جب یہ قاعدہ معلوم ہولیا تو اب ان دوصورتوں کی مثالیں بھی واضح ہو گئیں مثلا ایك شخص کے پاس - / تولے سونا اور - / تولے چاندی کا گہنا ہے جو بوجہ صناعی چو گنی قیمت کا ہے اس میں - / تولے چاندی تو نصاب کامل ہوگئیں تولے بچی وہ عفو نظر آتی ہے اسے بلحاظ قیمت سونے سے ملایا تو یہ تولے بہ سبب صنعت تولے کی قیمت میں ہے جس کا - / تولے سونا ہوا کہ خمس نصاب زر ہے تو ایك نصاب سیم اور ایك نصاب و خمس نصاب زر کی زکوۃ واجب ہوئی اور عفو کچھ نہ بچا اور اسی صورت میں تولے چاندی ہے تو ماشہ بھر سونا کہ اس ماشے چاندی کی قیمت ہوا اور عفو رہے گا کما لا یخفی (جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت) واﷲتعالی اعلم ۔
شرح ضابطہ ثانیہ : ملا حظہ جدول سے یہ بھی کھلا ہوگا کہ دونوں جانب مقدار قابل ضم ہونے کی تین صورتیں بھی عندالبسط چار ہوگئیں یعنی چاندی سونا دونوں غیر نصاب یا دونوں نصاب مع العفو یا چاندی غیر نصاب اور سونے میں عفو یا سونا غیرنصاب اور چاندی میں عفو۔ پھر ہر صورت چھ حال سے خالی نہیں :
()یہ کہ بعد ضم بھی اصلازکوۃ نہ بڑھے یعنی خواہ قابل ضم چاندی کو سونا کیجئے یا قابل ضم سونے کو چاندی کسی طرح یہ مقدار موجب زکوۃ نہ ہو اس صورت میں وہ عفوحقیقی رہے گا مثلاایك شخص تولے چاندی اور ایك تولے سونےکا مالك ہے چاندی کو سونا کیجئے تو کل سونا ایك تولہ ماشے ہو اور سونے کو چاندی تو کل چاندی تولے نہ اتنا سونا موجب زکوۃ نہ اتنی چاندی۔
()سونے کو چاندی کیجئے تو نصاب بنے اور چنادی کو سونا کیجئے تو نہ بنے مثلاتولے چاندی' تولے سونا ہے سونے کو چاندی کیا تو کل چاندی تولے ہوئی کہ دو نصاب کامل اور دو نصاب خمس اور تولے عفو ہے اور چاندی کو سونا کیا تو کل تولے ماشے سونا ہوا کہ نصاب تك بھی نہ پہنچا لہذا سب کو چاندی ہی ٹھہرائیں گی۔
() اس کا عکس کہ چاندی کو سونا کرنے سے نصاب بنے اور سونے کو چاندی کرنے سے نہ بنے مثلا تولے ماشے سونا اور تولے چاندی ہے - / تولے سونا تو نصاب کامل ہوکر الگ ہوگیا بچا ماشہ سونا ادھر وہ عفو ہے اور ادھر تولے چاندی یہ بے نصاب ہے انھیں دونو ں کا باہم میل ہوناہے اب اگر ماشہ بھر سونے کو چاندی کرتے ہیں تو کل چاندی تولے آتی ہے یہ نصاب بھی نہ ہوئی اور چاندی
حوالہ / References ردالمحتار باب زکوٰۃ المال مصطفی البابی مصر ٢ / ٣٣
#9383 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
سونا کرتے ہیں تو یہ کل سونا تولے ماشے ہوتا ہے کہ - / تولہ نصاب خمس ہوکر موجب زکوۃ ہوگا اور باقی ماشے عفو رہے گا۔
()دونوں سے نصاب بنے مگر چاندی فقراء کے لیے انفع ہو مثلاتولے سونا تولے چاندی کہ سونا کیجئے تو ۸ تولے ماشے ہوا - / تولے پر زکوۃ اور تولہ عفو تو صرف ماشے سونا دینا ہوگا جس کی قیمت - / تولے چاندی اور چاندی کیجئے تودوسودس تولے ہوئی کہ پورے چار نصاب بلا عفو ہے جس پر تولے چاندی واجب تو چاندی کرنے میں فقراء کو ماشے چاندی زیادہ ملے گی۔
() سونا انفع ہو جیسے تولے سونا تولے چاندی کہ چاندی کیجئے تو چار نصاب کامل کے بعد تولے عفو رہے گی اور صرف تولے چاندی دینا ہوگی جس کی قیمت ماشے سرخ سونا اور سونا کیجئے تو پورا تولے ہوا ایك نصاب کامل اور ایك نصاب خمس بلا عفو ہے جس پر ماشے - / سرخ واجب تو سونا کرنے میں فقراء کو / سرخ زیادہ جائے گا۔
()دونو ں یکساں ہوں مثلافرض کیجئے تولہ بھر سونے کی قیمت تولے چاندی ہے اور یہ تولے چاندی تولے سونے کا مالك ہے اگر چاندی کو سوناکرتے ہیں تو- / تولے یعنی ایك نصاب کامل ہواجس پر - / ماشے سونا قیمتی تولے ماشے سرخ چاندی کا واجب ہوا اور سونے کو چاندی کیجئے تو تولے ماشے چاندی یعنی تین نصاب کامل ہوئی جس پر تولے ماشے سرخ چاندی قیمتی ماشہ سونے کی واجب ہوئی ہر طرح حاصل ایك ہی رہتا ہے اس صورت میں مز کی کو اختیار ہوگا کہ دونوں میں جس سے چاہے تقویم کرے بشرطیکہ دونوں رواج میں یکساں ہوں ورنہ رائج تر متعین ہوگا ۔
اس ضابطہ کی چار صورتوں میں ان چھ حالتوں کو ضرب دیجئے تو چوبیس ہوتی ہیں جس کے امثلہ کی پوری تفصیل موجب تطویل اور جبکہ ہم ہر صورت کی ایك مثال لکھ چکے وضوح مسئلہ بحمداﷲ اپنے منتہی کو پہنچا جس کے بعد زیادہ اطالت کی حاجت نہیں اب بحمداﷲ یہ دستورالعمل کامل و مکمل ہوگیا کہ عالم میں کوئی اختلاط زر و سیم ان صورتوں سے خارج نہیں ہوسکتا۔ ایك صورت دونوں جانب کمال نصاب بلا عفو کی اور صورتیں ضابطہ اولی اور ضابطہ ثانیہ کی اور دو صورتیں کہ صرف چاندی کا مالك ہو یا صرف سونے کا ان کے احکام مسئلہ ثانیہ میں واضح ہوچکے انتالیس ہوئیں۔ چالیسویں صورت کہ سونا چاندی کچھ نہ رکھتا ہو اس کا حکم خود واضح۔ ا ب یہ مسائل بحمداﷲ تعالی تمام صور کے بیان احکام کو کافی و وافی ہوگئے انھیں سے آئندہ کی زیادت و نقصان کے احکام نکل آئیں گے کہ آخر بڑھ کر انھیں سینتیس صورتوں میں سے ایك میں رہے گا غایت یہ کہ تبدیل صورت ہوجائے مثلاپہلے جو مال تھا ضابطہ اولی کی صورت یکم پر تھا اب بڑھ کر ضابطہ ثانیہ یا اولی کی دوم یا اول الصور پر ہوگیا
#9384 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
وعلی ھذا القیاس یوں ہی گھٹ کر صورتوں سے باہر نہ جائے گا تو کوئی حکم ایسا نہیں جسے یہ مسائل نہ بتائیں زیادت و نقصان میں کہاں زکوۃ گھٹے بڑھے گی کہاں نہیں یہ مسئلہ ثانیہ و ثالثہ سے دیکھ لیجئے امید کرتا ہوں یہ شرح و ایضاح بحول الفتاح اسی تحریر فقیر کا حصہ خاصہ ہو والحمدﷲرب العالمین۔
اب صورت جزئیہ مسؤل عنہا کا حکم : نکالنا کتنی بات ہے تولے ماشے سونا اور تولے چاندی اول ہر ایك نصاب الگ نکال لیجئے تولے ماشے میں سونے نصاب کامل ہوئے جن پر ایك تولہ ماشے سرخ سونا واجب ہوا اور ماشے فاضل بچا کہ اپنے نصاب میں عفو ہے تولے میں تولے کے چھ نصاب کامل جن پر تولے ماشے سرخ چاندی واجب اور تولے کے نصاب خمس ہوئے جن پر ماشے - / سرخ واجب ان کا مجموعہ تولے ماشے - / سرخ ہوا اور مال میں پانچ تولے چاندی فاضل رہی کہ اپنی نوع میں عفو ہے اب یہ صورت ضابطہ ثانیہ کی ہوئی کہ دونوں جانب ایك رقم عفو قابل ضم موجود ہے اس میں ان چھ حالتوں کی جانچ باقی رہی چاندی کو سونا کیجئے تو تولے چاندی عام نرخ سے اس قابل نہیں کہ ماشے سونے کی قیمت پہنچے جو اس ماشہ سے مل کر خمس نصاب ذھب یعنی ۱ -۱ / ۲ تولے سونا بنائے اور زکوۃ واجب کرے۔ اب سونے کو چاندی کیجئے تو آج کل کے بھاؤ عــــــہ سے ماشے سونا بیشك تولے چاندی سے کچھ زیادہ ہی کا ہے تو وہ اس پانچ تولے چاندی سے مل کر تولے چاندی مع شے زائد ہوگایہ دونصاب خمس اور حاصل ہوئے جب پر ماشے - / سرخ چاندی اور بڑھی تو یونہی کریں گے اور تولے سونے تولے چاندی پر ایك تولہ ماشے دو سرخ سونا اور تولے ماشے / سرخ چاندی واجب مانیں گے / سرخ کے معنی رتی کے چارخمس جسے تقریباایك رتی چاندی کہیے یہ عام بھاؤ کے اعتبار سے ہے اور اگر بوجہ صنعت نفس مال کے کوئی قیمت بڑھ گئی ہو تو اس کاحساب مالك کو معلوم ہوگا اس کے لیے وہ قاعدہ ضروریہ واجب الحفظ ہم اوپر لکھ ہی چکے غرض ﷲالحمد والمنۃ فقیر غفرلہ المولی القدیر نے بتوفیق المولی سبحانہ و تعالی ان مسائل کو ایسی شرح و تکمیل و بسط جلیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ شاید ان کی نظیر کتب میں نہ ملے امید کرتا ہوں جو شخص ان سب کو بغور کامل خوب سمجھ لے وہ ہزار ہا مسائل زکوۃ کا حکم ایسا بیان کرگا جیسے کوئی عالم محقق بیان کرے جن مسائل میں فقیر نے آج کل کے بعض مدعیان فقاہت و تحدیث بلکہ امامت فنون فقہ و حدیث کو فاحش غلطیاں کرتے دیکھا کم علم آدمی جو ان تحریرات فقیر کو بنہج احسن سمجھ لے گا ان شاء اﷲتعالی بے تکلف صحیح و صاف ادا کرے گا مگر
عــــــہ : نرخ باختلاف امصار بھی مختلف ہوتا ہے اگر وہاں ماشے سونا تولے چاندی سے کم کا ہو تو نصب فضہ میں ایك خمس کم ہوجائیگا جس کے سبب مقدارواجب سے ماشے - / سرخ چاندی گھٹادیں گے منہ (م)
#9385 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
حاشا ہر گز اردو عبارت جان کر اپنی فہم پر قناعت نہ کرے کہ نازك یا غور طلب بات جو آدمی کی اپنی استعداد سے ورا ہو کسی زبان میں کیسی ہی واضح ادا کی جائے پھر نازك ہے بلکہ واجب کہ کسی عالم کامل سے ان مسائل کو پڑھ لے تاکہ بحول اﷲتعالی اس باب میں خود عالم کامل ہوجائے۔
واستغفر اﷲالعظیم الاعظم مما جری علی لسان القلم وصلی اﷲتعالی علیہ سیدنا و مولانا محمد ن النبی الاکرم و صحبہ وبارك وسلم واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
قلم سے جو لکھا گیا اس پر عظیم واعظم اﷲتعالی سے معافی طلب کرتاہوں۔ اﷲتعالی کی رحمتیں نازل ہوں ہمارے آقا ومولی حضرت محمد نبی اکرم پر اورآپ آل و اصحاب پر'برکتیں اور سلام بھی۔ اﷲ سبحانہ وتعالی خوب جانتا ہے اور اسی کا علم کامل اتم اور مستحکم ہے۔ (ت)
مسئلہ سابعہ : صحیح تعداد زکوۃ نہ معلوم ہونے کی وجہ سے جوہر سال مقدار واجب سے کم زکوۃ میں دیا گیا ہے وہ محسوب زکوۃ ہوا یا نہیںبینواتو جروا۔
الجواب :
بیشك محسوب ہوا کہ ادائے زکوۃ کی نیت ضرور ہے مقدار واجب کا صحیح معلوم ہونا شرائط صحت سے نہیں غایت یہ کہ ایك جزء واجب کے ادا میں تاخیر ہوئی اس سے مذہب راجح پر گناہ سہی زکوۃ مؤدی کی نفی صحت تو نہیں والامر بین غنی عن التبیین (معاملہ واضح ہے مزید وضاحت کا محتاج نہیں۔ ت) پس ہر سال جتنا زکوۃ میں دیا وہ قطعاادا ہوا اور جو باقی رہتا گیا وہ اس پر دین ہوا حتی کہ اگر کسی نصاب سے معارض ہوجائے گا تو اسی قدر مقدار واجب گھٹ جائے گی ۔ تشریح اس کی یہ ہے کہ دین عبد(یعنی بندوں میں جس کا کوئی مطالبہ کرنے والا ہو ا اگر چہ دین حقیقۃ اﷲ عزوجل کا ہو جیسے دین زکوۃ جس کا مطالبہ بادشاہ اسلام اعزاﷲ نصرہ کو ہے ) انسان کے حوائج اصلیہ سے ہے ایسا دین جس قدر ہوگا اتنا مال مشغول بحالت اصلیہ قرار دے کر کالعدم ٹھہرے گا اور باقی پر زکوۃ واجب ہوگی اگربقدر نصاب ہو مثلاہزار روپے پر حولان حول ہواور اس پرپانسو قرض ہیں توپانسو پر زکوۃ آئے گی اور ساڑھے نوسودین ہے تو اصلانہیں کہ باقی قدر نصاب سے کم ہے ۔ درمختار میں ہے :
لازکوۃ علی مدیون للعبد بقدردینہ فیزکی الزائد ان بلغ نصابا۔
بندہ کے قرضدار پر قرض کی مقدار پر زکوۃ نہیں ہاں اگر قرض سے زائد نصاب کو پہنچ جائے تو پھر اس کی زکوۃ ادا کرے۔ (ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٩
#9386 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
اسی میں ہے :
فارغ عن دین لہ مطالب من جھۃ العباد سواء کان ﷲتعالی کزکوۃ وخراج او للعبد الخ۔
اس دین سے فارغ ہو جس کا مطالبہ بندوں کی طرف سے ہے خواہ وہ اﷲکے لیے ہو مثلازکوۃ و خراج یا بندے کے لیے الخ(ت)
درالمحتار میں ہے :
المطالب ھنا السلطان تقدیر ا لان الطلب لہ فی زکوۃ السوائم وکذا فی غیر ھالم یبطل حقہ عن الاخذ اھ ملخصاوایضاحہ فیہ۔
یہاں مطالبہ کرنے والا سلطان کو تسلیم کیا جائیگا کیونکہ چار پایوں کی زکوۃ وہی طلب کرسکتا ہے اور اس طرح ان کے علاوہ میں اس کے لیے اخذ زکوۃ کا حق باطل نہیں ہوگا اھ ملخصااور اس کی وضاحت اس میں ہے (ت)
یونہی دو سوچالیس درہم شرعی کہ ایك نصاب کامل و ایك خمس ہے (دو سو درم کی -۱ / ۲تولے چاندی ہوئی اور چالیس کی -۱ / ۲تولے) ان پر چھدرم شرعی زکوۃ کے واجب اگر مالك جہلا یا سہوا یا عمداہر سال پانچ درہم دیتا گیا عـــــہ تو سال اول ایك درم زکوۃ کا اس پر دین رہا دوسرے سال وہ گویا دو سوانتالیس ہی درہم کی جمع رکھتا ہے کہ ایك درہم مشغول بہ دین ہے تو نصاب خمس کہ دوسو کے بعد چالیس کامل تھا جاتا رہا اور اس سال تمام صرف دوسودرہم کی زکوۃ یعنی پانچ ہی واجب ہوئے
پس وہ جب تك ایك درہم مذکور ادا نہ کرے یا سال تمام پر اس کی حاجت سے فارغ ایك درہم اور جمع نہ ہوجائے جب تك ایك درہم مذکورادا نہ کرے یا سال تمام پر اس کی زکوۃ کی تاخیر سے گنہگار ہوگا اور یہ گناہ اصرار کے بعد کبیرہ ہوجائے گا والعیاذباﷲ تعالے اور اگر صورت مذکورہ میں فرض کیجئے کہ وہ ہر سال ایك ہی درم دیتا رہا تو سال اول اس پر پانچ درم زکوۃ کے دین رہے سال دوم میں گویا صرف دو سو پینتیسجمع ہیں اس سال وہی پانچ ہوئے اور دیا ایك ہی'تو اب چار اور قرض ہو کر نو درم دین ہو گئے تیسرے سال تیرہ چوتھے سال یونہی ہر سال دین زکوۃ میں چار چار بڑھتے جائیں گے اور واجب وہی پانچ پانچ
عــــــہ : یعنی اپنی آمدنی سے دیتا رہا اور جمع اسی قدر قائم رہی نہ کم ہوئی نہ زائد منہ (م)
حوالہ / References درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٩
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ مصطفی البابی مصر ٢ / ٥
#9387 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
ہوتے رہیں گے دو سو دوسوانتالیس تك پانچ ہی درم ہیں جب سال دہم میں اکتالیس درہم دین ہوجائیں گے تو گیارھویں سال اس پر زکوۃ ہی نہ ہوگی کہ جمع صرف ایك سو ننانوے ٹھہریں گے کہ نصاب سے کم میں سال یا زدہم بھی اگر اس نے ایك درہم حسب دستور دے دیا تو پھر پانچ درہم واجب ہوجائیں گے کہ اب دین میں صرف چالیس درہم رہے اور دوسوپورے جمع قرار پائے وعلی ہذاالقیاس ۔ غرض سنین ماضیہ میں کم دینے والا اس نفیس حساب کو خوب سمجھ کر جتنا دین اس کے ذمے نکلے فی الفور ادا کرے۔ ردالمحتار میں ہے :
لو کان لہ نصاب حال علیہ حولان ولم یزکیہ فیھما لا زکوۃ علیہ فی الحول الثانی ۔ ۱ھ واﷲتعالی اعلم۔
اگر کسی کے پاس ایك ہی نصاب ہے جس پر سال گزرے حالانکہ اس نے ان میں زکوۃ نہیں دی تو اب دوسرے سال اس پر زکوۃ نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم (ت)
مسئلہ : از شہربریلی محلہ ملوکپور مولوی شفاعت اﷲصاحب طالب علم مدرسہ اہلسنت و جماعت بریلی ربیع الآخر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرعی متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ عرصہ تین سال سے زیور طلائی و نقرئی کی حسب تفصیل ذیل اور نقد روپے کی عرصہ تین سال سے مالك ہے اس کے علاوہ اثاث البیت ضروری خرچ کا بھی رکھتی ہےاور روپیہ مذکور میں سے چار روپے ماہوار عرصہ تین سال سے متواتر خرچ ہوتا رہا ہے اب مسماۃ مذکورہ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرنا چاہتی ہے کس طرح سے ادا کرے بیان فرمائے زیور طلائی تولے ماشے سرخ زیور نقرئی (مععہ) نقد روپیہ( صما مہ)۔
الجواب :
بیان سائل سے معلوم ہوا کہ زیور ہر سال اتنا ہی رہا کم و بیش نہ ہوا تو ہر سال جو سونے کا نرخ تھا اس سے تولے ماشے ۳ سرخ کی قیمت لگا کر زیور نقرہ کے وزن میں شامل کی جائے گی اور ہر ساڑھے باون تولے چاندی پراس کا چالیسواں حصہ پھر ہر ساڑھے دس تولے چاندی پر اس کاچالیسواں حصہ واجب آئے گا اخیر میں جو ساڑھے دس تولے چاندی سے کم بچے معاف رہے گی ہر دوسرے سال اگلے بر سوں کی جتنی زکوۃ واجب ہوتی آئی مال موجود میں سے اتناکم ہو کر باقی پر زکوۃ آئے گی تین سال سے یہ نقد روپیہ بھی بدستور حساب میں شامل کیا جائیگا اور ہر دوسرے سال جتنے روپے خرچ ہوگئے کم کرلئے جائیں گے یوں تین سال کا مجموعی حساب کرکے جس قدر زکوۃ
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ مصطفی البابی مصر ٢ / ٥
#9388 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
فرض نکلی سب فورافوراادا کردینی ہو گی اور اب تك جوادا میں تاخیر کی بہت زاری کے ساتھ اس سے توبہ فرض ہے اور آئندہ ہر سال تمام پر فوراادا کی جائے ۔ یہ اگلے تین برسوں میں اس کے سال تمام ہونے کے دن سونے کا بھاؤدریافت کرنے میں وقت ہو تواحتیاطا زیادہ سے زیادہ نرخ لگالے کہ زکوۃ کچھ رہ نہ جائے واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : از درؤ ضلع نینی تال مرسلہ عبداﷲصاحب دکاندار ذی الحجہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ پورا نصاب کتنا ہوتا ہے جیساکہ علمی خطبہ کے اندر تحریر کرچکے ہیں وہ ٹھیك ہے ان کا قول یہ ہے کہ ساڑھے سات تولے سونا ہو یا ساڑھے باون تولے چاندی ہو دونوں میں سے ایك چیز ہو وہ اہل زکوۃ اہل نصاب ہوگیا علمائے دین کو غورکرناچاہئے کہ ساڑھے باون تولے چاندی ہے اور گھر میں چار چھ آدمی کھانے والے اور خرچ کرنے والے ہیں تو وہ شخص اہل نصاب اہل زکوۃ ہوگیا دوسری گزارش یہ ہے کہ مالا بد منہ میں لکھا ہوا ہے کہ کارروائی سے زیادہ ہو سال بھر اس پر گزر جائے یعنی حاجت سے زائد ہو تو جس قدر ایك شخص کے پاس پچاس روپے کا کپڑا تجارت کا ہے اور اس سے اس کی اوقات بسری ہوتی ہے ساٹھ روپیہ کا زیور ہر وقت کے پہننے کا ہے اور اسی روپے اس کے پاس نقد ہیں اور گھر میں کھانے کو کل ایك مہینے کا ہے اور پچانوے روپے مہر عورت کا ہے یعنی قرضدار ہے وہ مال نصاب کا ہوگیا یا نہیں حضور!ہم لوگوں کا آپ پر یقین کامل ہے جب تك کوئی حکم حضور کے یہاں سے نہ ملے گا ہم کچھ نہیں کرسکتے اور ایك تحریر پیشترحضور کی خدمت میں روانہ کر چکا ہوں اس کا کوئی جواب نہیں ملا حضور کو غور کرنا چاہئے یہاں پر حضور مولوی کبھی کچھ فرماتے ہیں کبھی کچھ۔ شرع کے اندر رخنہ بازی ہے ہم لوگوں کا یقین آپ پر ہے آپ جیسا لکھیں گے ویسا ہم مانیں گے آپ کے خلاف نہیں کرسکتے ایك مسئلہ کو چارجگہ دریافت کر و علیحدہ علیحدہ راہ ہوگی اس کی کیا وجہ ہے رائے کا اتفاق کیوں نہیں ہے ہم لوگوں کو بہت پریشانی ہوتی ہے کوئی مطلب ٹھیك نہیں ہم لوگوں پر عنایت فرمائیے اور دلی مراد پوری کیجئے۔
الجواب :
فی الواقع سونے کا نصاب ساڑھے سات تولے اور چاندی کا ساڑھے باون تولے ہے ان میں سے جو اس کے پاس ہو اور سال پورا اس پر گزر جائے اور کھانے پہننے مکان وغیرہ ضروریات سے بچے اور قرض اسے نصاب سے کم نہ کردے تواس پر زکوۃ فرض ہے اگر چہ پہننے کا زیور ہو زیور پہننا کوئی حاجت اصلیہ نہیں گھر میں جو آدمی کھانے والے ہوں اس کا لحاظ شریعت مطہرہ نے پہلے ہی فرمالیا سال بھر کے کھانے پینے پہننے تمام مصارف سے جو بچا اور سال بھر رہا اسی کا تو چالیسواں حصہ فرض ہوا ہے اور وہ بھی اس لیے کہ تمھیں آخرت میں بھی عذاب سے نجات ملے جس سے آدمی تمام جہان دے کر چھوٹنے کو غنیمت سمجھے اور دنیا میں تمھارے مال میں ترقی ہو برکت ہو یہ خیال کرنا کہ زکوۃ سے مال گھٹے گا نراضعف ایمان ہے۔ مولی تعالی قرآن عظیم میں ارشاد فرماتا ہے کہ وہ زکوۃ کو ترقی و افزونی دیتا رہے جسے وہ بڑھائے وہ کیونکر گھٹ سکتا ہے یہ
#9389 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
خیال کہ اس وقت سوروپیہ سے ڈھائی روپے حکم ماننے میں اٹھادیں گے تو آئندہ بال بچے کیا کھائیں گے محض شیطانی وسوسہ ہے۔ زکوۃ سے اگر برکت بھی ملتی تو ڈھائی روپیہ سو میں سے کم ہو جاتا رزق نہ چھینتا آئندہ سال اگر مال بڑھ گیا کہ سال بھر کا بال بچوں سب کا خرچ ہوا وہ روپیہ بدستور رکھے رہے جب تو اس وسوسہ کا جھوٹ ہونا علانیہ ظاہر ہوجائے گا اور اگر ان میں سے کھانے پینے کی حاجت پڑی یہاں تك کہ نصاب سے کم رہ گیا تو اب آپ سے کوئی زکوۃ نہ مانگے گا مگر بال بچوں کی فکر اگلے سال کے لیے کیا ہوگی وہ جو جمع تھے کھانے پینے میں اٹھ گئے اور اب زکوۃ بھی نہیں جس کے سر الزام دھرو آگے کیونکر جیو گے ایسی کمزوریاں شیطان سکھاتا ہے عورت کا مہر جس کا مطالبہ بعد موت یا طلاق ہوتا ہے اور عمر بھر ادا کا خیال تك نہیں آتا اسے زکوۃ نہ دینے کا حیلہ نہ بنانا چاہئے۔ وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہبرس ہوئے جو میں تولے ماشے سونے اور بھرچاندی کی مالك ہوئی چاندی نو دس برس تك بدستور رہی گیارھویں سال خرچ ہوگئی اور سونا دوبرس تك اسی قدر رہ کر تیسرے سال پانچ تولہ خرچ ہو گیا کہ سال تمام میں صرف ۸ تولے ۶ ماشے تھا پانچویں سال ڈھائی تولہ اور خرچ ہوا کہ سال تمام میں صرف ۶ تولہ تھا اور وہی بیالیس برس تك رہا پھر وہ بھی اپنے دختر کو ہبہ کردیا جن برسوں تك وہ چاندی میرے پاس تھی بلکہ اس کے بعد بھی سونے کا بھاؤ ( ) تولہ رہا اور چاندی روپیہ کی روپیہ بھر اس صورت میں مجھ پر زکوۃ کس قدر واجب ہےبینوا توجروا۔
الجواب ظاہر ہے کہ :
سال اول میں سونا بقدر نصاب بلکہ زائد ہوا اور چاندی نصاب تك بھی نہ پہنچی تو اسی کے سونے سے قیمتاضم کریں گے اس وقت کے نرخ سے کا ماشہ سرخ سونا ہوا تو گویا اس سال تولے ۷ ماشہ سرخ سونا تھا جس میں تولے دو نصاب کامل ہیں ان پر واجب ماشہ سرخ سونا اور ڈیڑھ تولہ نصاب خمس ہے جس پر واجب - / سرخ کل واجب ماشے - / سرخ باقی ایك ماشہ سرخ عفو رہا۔
سال دوم بعد اخراج دین زکوۃ گویا تولے ماشہ - / سرخ سونا تھا جس میں دو نصاب کامل کا واجب ماشہ سرخ باقی ایك تولہ ماشہ - / سرخ عفو مجموع واجبین ماشہ - / سرخ۔
#9390 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
سال سوم صرف تولے ماشے سونا تھا بعد ضم فضہ تولے ماشے سرخ ہوااس سے مجموع واجبین منہا کیا تو تولے ماشے / سرخ سونا بچا کہ ایك نصاب کامل ہے واجب ماشہ سرخ اوردو نصاب خمس واجب - / سرخ کل واجب ماشہ - / سرخ باقی تولے سے جو زائد تھا عفو ہوا۔ کل واجبات ایك تولہ - / سرخ۔
سا ل چہارم بھی اتنا ہی سونا یعنی تولے ماشے سرخ تھا بعد اخراج واجباتتولے ماشہ / سرخ بچاکہ اس پر بھی وہی نصاب کامل و دونصاب خمس کا ماشہ - / سرخ واجب ہوا زیادہ کی رتیاں عفو ہیں کل واجبات ایك تولہ ماشہ سرخ۔
سال پنجم صرف تولے سونا تھا کہ بعد اخراج واجبات تولہ ماشہ سرخ رہا یہ بھی نصاب نہیں اور ادھر چاندی بھی نصاب نہیں اب اگر سونے کو چاندی کرتے ہیں تو اس کی قیمت ہوکر ما کی چاندی ٹھہرتی ہے جس میں دونصاب کامل ما ایك نصاب خمس لہ / / - / پائی کل ما / - / پائی باقی عہ / - / عفو اور اگر چاندی کو سونا کرتے تو کا تولے ماشہ سرخ سونا مل کر کل سونا تولہ ماشہ سرخ قرار پاتا ہے جس میں صرف ایك نصاب کامل باقی ماشے سرخ سونا معاف رہے گا۔ ظاہر ہے کہ عصہ اس عفو سے کہیں زیادہ ہے تو اس صورت میں نفع فقراء چاندی ہی کرنے میں ہے لہذا و ہی کریں گے اور تولہ ماشہ - / سرخ چاندی واجب مانیں گے۔
سال ششم سونا وہی تولہ ماشہ سرخ ہے مگر چاندی بوجہ دین سال پنجم گھٹ گئی کی چاندی کا وزن تولے ماشے سرخ ہے جس سے واجب سال پنجم گھٹا کر تولے ماشے - / سرخ چاندی بچی۔ کل کو چاندی کرتے ہیں تو سونے کے روپیہ کے تولے ماشے سرخ چاندی مل کر کل چاندی تولے ماشے - / سرخ ہوتی ہے جس میں تولے کے صرف دو نصاب کامل باقی تولے ماشے - / سرخ عفو رہے گی اور کل کو سونا کرتے ہیں تو تولے ماشے - / سرخ چاندی کا سونا تولے ماشے - / سرخ ملا کر کل سونا تولے ماشے - / سرخ ہوا جس میں - / تو لے نصاب کامل اور صرف ایك ماشہ - / سرخ عفو بچا پر ظاہر ہے کہ یہ عفو عفو سیم سے بہت کم ہے لہذا اس سال سونا ہی کریں گے اور ماشہ سرخ طلا واجب مانیں گے کل واجبات ذہب ایك تولہ ماشہ فضہ تولے ماشے - / سرخ۔
سال ہفتم چاندی تو وہی تولے ماشے - / سرخ رہی مگر سونا صرف تولے ماشے رہا کہ واجب سال ششم نکل گیا جس کا تولے ماشے چاندی کرنے میں کل فضہ تولے ماشے - / سرخ جس میں وہی دو نصاب کامل نکل کر تولے ماشے - / سرخ عفو ہوگی اور سونا کرنے میں کل ذہب تولے ماشے - / سرخ ہوتا ہے کہ نصاب سے بھی گھٹ کر سب عفو ہوا جاتا ہے لہذا اس سال سب چاندی ہی کریں گے اور وہی تولے ماشے - / سرخ سیم واجب مانیں گے اب کل واجبات ذہب وہی ایك تولہ ماشہ اور فضہ تولے ماشے - / سرخ۔
سال ہشتم سونا وہی تولے ماشے اور چاندی تولے ایك ماشہ - / سرخ رہی کہ واجب سال ہفتم
#9391 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
خارج ہو گیا ظاہر ہے کہ اب کبھی سونا نہیں کرسکتے کہ جب سال ہفتم چاندی تولے ماشے - / سرخ اس سے زائد تھی وہ اس سونے میں مل کر تو نصاب ذہب نہ بناتی تھی اب اتنی گھٹ کر کس طرح نصاب بناسکے گی لہذااس سونے کے وہی تولے ماشے چاندی ملا کرکل چاندی تولے ماشے - / سرخ مانی اس میں بھی تولے پر وہی تولے ماشے - / سرخ سیم واجب ہوئی باقی معاف وہی کل واجبات ذہب ایك تولہ ماشے فضہ تولے ماشے - / سرخ۔
سال نہم واجب سال ہشتم گھٹ کر مع سیم ذہب کل چاندی تولے ماشے - / سرخ بچی جس پر تولوں کے تولے کی کسریں عفو ہوکر واجب مذکور لازم آیا کل واجبات ذہب بدستور فضہ تولے ماشے - / سرخ ۔
سال دہم واجب سال نہم گھٹ کر کل چاندی تولے ماشے - / سرخ بچی اب دوسرا نصاب کامل نہ رہا بلکہ صرف ایك نصاب کامل اور چار نصاب خمس ہیں جب پر واجب تولے ماشے سرخ کل واجبات ذہب بدستور ۔ فضہ تولے ماشے / سرخ۔
سال یازدہم میں چاندی نہ رہی اور سونا کہ باقی رہا قابل نصاب نہیں لہذا دس سال کے بعد آج تك کچھ واجب نہ ہوا اور کل مطالبہ سونا ڈیڑھ تولہ چاندی تولے ماشے / سرخ لازم آیا۔ واﷲسبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ : از مفتی گنج ضلع پٹنہ ڈاك خانہ ایکہگر سرائے مرسلہ محمد نواب صا حب قادری و دیگر سکان مفتی گنج رمضان شریف ھ
زید کی بیوی ہندہ صاحب نصاب ہے اور مال ازقسم زیورات ہے جو خاص ہندہ کی ملکیت ہے یعنی وہ اپنے میکے سے لائی ہے زید اس کو ہدایت ادائے زکوۃ کی کرتا ہے مگر اس کی سمع قبول میں نہیں آتی ہے تویہ فرمائیے کہ شوہر سے اس کے عصیاں پر مواخذہ ہے یا نہیں اور اس کی طرف سے درانحالیکہ اس کی آمدنی وجہ کفاف سے بیش نہیں ادائے زکوۃ کا مکلف شرعا ہو سکتا ہے یا نہیں اور اس عورت پر زجر اور فہمائش کی ضرورت ہو تو کس حد تک اور اگر زید نے اپنے روپیہ سے کچھ زیور بنواکر ہندہ کو دیا ہو تو اس زیور پر کیا حکم ہے
الجواب :
زیور کہ ملك زن ہے اس کی زکوۃ ذمہ شوہر ہرگز نہیں اگر چہ اموال کثیرہ رکھتا ہو نہ اس کے دینے کا اس پر کچھ وبال و لا تزر وازرة وزر اخرى- (کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائیگی۔ ت)
حوالہ / References القرآن ٦ / ١٦٤
#9392 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
اس پر تفہیم و ہدایت اور بقدر مناسب تنبیہ و تاکید(جس کی حالت اختلاف حالات مرد وزن سے مختلف ہوتی ہے ) لازم ہے قوا انفسكم و اهلیكم نارا (اپنے آپ اور اپنے اہل کو آگ سے بچاؤ۔ ت)اور وہ زیور کہ عورت کو دیا اور اس کی ملك کردیا اس پر بھی یہی حکم ہے اور اگر ملك نہ کیا بلکہ اپنی ہی ملك میں رکھا اور عورت کو صرف پہننے کو دیاتو بیشك اس کی زکوۃ مرد کے ذمہ ہے جبکہ خود دیا یا دوسرے مال سے مل کر قدر نصاب فاضل عن الحاجۃ الاصلیہ ہو۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : مرسلہ عبدا لصبور صاحب سوداگر ذی الحجۃ ھ
ایك شخص نے ایك ہزار روپے کسی روزکار میں لگائے بعد سال ختم ہو نے کے اس کے پاس مال دوسو روپیہ کا رہا اور قرض میں پانچ سو روپیہ رہااور نقد چار سو روپیہ مع منافع ایك سو رہا آیا کل گیارہ سو روپیہ کی زکوۃ نکا لی جائے یا کس قدرکی
الجواب سال تمام پرکل گیارہ سو کی زکوۃ واجب ہے مگر چار سو نقداور دو سو کا مال ان کی زکوۃ فی الحال واجب الادا ہے اور پانچسو کہ قرض میں پھیلا ہوا ہے جب اس میں سے بقدر گیارہ روپےتین آنے - / پائی کے وصول ہوتا جائے اس کا چالیسواں حصہ ادا کرتا ہے اور اگر فی الحال سب کی زکوۃ دے دے تو آئندہ کے با ربار محاسبہ سے نجات ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : از شہر مسؤلہ منشی شوکت علی صاحب محرر چونگی ذی الحجۃ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ حساب قیمت کا جس وقت زیور بنوایا تھا وہ رہے گا یا نرخ بازار جو بر وقت دینے زکوۃ کے ہے۔ بینو اتو جروا۔
الجواب :
سونے کے عوض سونا چاندی کے عوض چاندی زکوۃ میں دی جائے جب تو نرخ کی کوئی حاجت ہی نہیں وزن کا چالیسواں حصہ دیا جائے گا ہاں اگر سونے کے بدلے چاندی یا چاندی کے بدلے سونا دینا چاہیں تو نرخ کی ضرورت ہوگی نرخ نہ بنوانے کے وقت کا معتبر ہو نہ وقت ادا کا اگر ادا سال تمام کے پہلے یا بعد ہو جس وقت یہ مالك نصاب ہوا تھا وہ ماہ عربی و تاریخ وقت جب عود کریں گے اس پر زکوۃ کا سال تمام ہوگااس وقت نرخ لیا جائے گا۔ وا ﷲتعالی اعلم
حوالہ / References القرآن ٦٦ / ٦
#9393 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں زید کے پاس تخمینا تولے حبہ ماشہ زیور طلائی موجود ہے اور علاوہ اس کے تخمینا تولے زیور نقرئی و تولے زیور طلائی با لعوض مبلغ روپیہ کی رہن ہے اور روپے نقد بھی موجود ہیں اور مال تجارت میں کہ جو فروخت سے باقی رہ گیاہے وہ تخمینا ما کا ہے تواس میں زکوۃ کس طور سے ادا کی جائے گی۔
الجواب :
اتنا زیور رہن ہے اس کے دومعنی ہوسکتے ہیں ایك یہ کہ اتنا زیور دوسرے شخص کا اس کے پاس پر رہن ہے دوسرے یہ کہ اتنا اس کو دوسرے کے پا س پر رہن ہے پہلی صورت میں وہ زیور اس کا نہیں اس کی زکوۃاس پر نہیں ہوسکتی بلکہ اس چھپن پر زکوۃ ہو گی جو اس نے اس راہن کو قرض دئے ہیں اور اس تقدیر ہر اس کے پاس مال زکوۃ یہ ہوا دو ماشے سونا ۵۲ چاندی اور روپیہ اور م کا مال تجارت ماشے سونا ہونے کا نصاب نہیں اسے بھی چاندی میں شامل کیا جائے گا اگر للع تولے کا ہے تو چار روپے اس کے پڑ یں گے اور تولے ماشے وزن کے ہوئے توکل مال بھر چاندی ہوا جس میں چار نصاب کامل ما للع ہیں اور چار خمس نصاب للع للع - / پائی اس پر واجب تولے ما شے - / رتی چاندی ہوئی باقی عفو ہے دوسری صورت میں وہ زیور اسی کا ہے مگر اس کی زکوۃ اس پر واجب نہیں جب تك وہ قبضہ مرتہن میں رہے اس تقدیر پر فی الحال اس کے پاس مال زکوۃ یہ ہوا دو ماشے سونا تولے اور چھ ماشہ چاندی اور ما نقد و مال تجارت جس میں سے دین کے نکل کر ایك سو روپیہ بارہ آنے رہے سونا چار روپے کا ہو تو کل ما ہوئے جس میں دونصاب کامل ما ہیں اور چار خمس نصاب للع للعہ / پائی اس پر واجب تولے ماشے / رتی چاندی ہوئی باقی عفو ہے ۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اد ا ئے زکوۃ کے واسطے چاندی کا نصاب کس قدر روپیہ یا کس قدر وزن ہے اور ایسے ہی سونے کا کس قدر ہےرانی کھیت میں چند دنوں سے ایك عالم واعظ وارد ہیں انہوں نے وعظ میں فرمایا کہ پانچ کم دو سو پر زکوۃ فرض نہیں جس وقت دو سو روپے ہوجائیں اور ایك سال ان پر گزر جائے اس وقت زکوۃ دینا فرض ہوگی اور روپیہ رائج الوقت گورنمٹ انگلشیہ کا جس کا وزن سوا گیارہ ماشے ہے۔ بینواتوجروا
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب (اے اﷲحق اور صواب کی ہدایت عطا فرما۔ ت)چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولے ہے جس کے سکہ رائجہ سے چھپن روپے ہوئے اور سونے کا نصاب ساڑھے سات تولے۔
#9394 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
درمختار میں ہے :
نصاب الذہب عشرون مثقال والفضۃ مائتا درھم کل عشرۃدراھم وزن سبعۃ مثاقیل۔
سونے کا نصاب بیس مثقال اور چاندی کا دو سو درہم جن سے ہر دس درہم کا وزن سات مثقال ہوسکے(ت)
ثقال ساڑھے چار ماشے ہے تو درہم کہ اس کا / ہے تین ماشے ایك رتی اور پانچواں حصہ رتی کا ہوا۔ کشف الغطاء میں ہے :
مثقال بیست قیراط وقیراط ایك حبہ و چہار خمس حبہ وحبہ کہ آنر ابفارسی سرخ گویند ہشتم حصہ ماشہ است پس مثقال چہار و نیم ماشہ باشد۔
مثقال بیس قیراط اور قیراط ایك رتی اور رتی کے خمس کی چوتھائی ہوتا ہے رتی جسے فارسی میں سرخ کہا جاتا ہے ماشہ کا آٹھواں حصہ ہوتا ہے تو ایك مثقال ساڑھے چار ماشے کا ہوگا۔ (ت)
جواہرالاخلاطی میں ہے :
الدرھم الشرعی خمس و عشرون حبۃ و خمس حبۃ۔
یعنی درہم شرعی پچیس رتی اور پانچواں حصہ رتی کا ہے۔
اب حساب سے واضح ہوسکتا ہے کہ دوسو درم نصاب فضہ کے تولے ماشے اور بیس مثقال نصاب ذہب کے تولے ماشے ہوئے اور یہاں کا روپیہ کہ ماشہ ہے اس سے روپے دوسو درہم کے برابر ہوئے یہی وزن معین متون مذہب و عامہ شروح و فتاوی میں ہے ردالمحتار میں فرمایا :
علیہ الجم الغفیرو الجمھور الکثیر و اطباق کتب المتقدمین والمتاخرین۔
جم غفیر اور جمہور اسی پر ہیں اور کتب متقدمین و متاخرین کا اسی پر اتفاق ہے۔ (ت)
تو اس کے خلاف پر عمل جائز نہیں عقودالدریہ وغیر ہا کتب کثیرہ میں ہے : العمل بما علیہ الاکثر (عمل اسی پر ہوگا
حوالہ / References درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٣٤
کشف الغطاء فصل دراحکام دعاء و صدقہ مطبع احمدی دھلی ص / ٦٨
جواہر الاخلاطی کتاب الزکوٰۃ غیر مطبوعہ قلمی نسخہ ص ٤٤
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ مصطفی البابی مصر ٢ / ٣٢
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ مصطفی البابی مصر ١ / ١٦٦
#9395 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
جس پر اکثریت ہو۔ ت)فقیر نے اپنے تعلیقات حاشیہ شامی میں لکھا :
اقول : ویظہر للعبد الضعیف انہ الا وجہ فان الشرع المطہر انما اعتبر النصاب تحدیدا لغنی یوجب الزکوۃ والغنی با لمالیۃ النامیۃ دون العدد فمن ملك مائۃ ساوت مائتی درھم فقد ساوی الغنی الشرعی فی الموجب ارأیت لو تعورف فی بلد درھم یساوی فی الوزن مائتی درھم ولم یوجب علیہ الابعد مایملك مائتین من ھذا کان حاصلہ ان من ملك فی العرب مثلا ھذا القدر من الفضۃ کان غنیاقد انعقد علیہ النصاب ومن ملك فی ذلك البلد قریبا من مائتی امثال تلك الفضۃ یکون فقیرا لا یخاطب بالزکوۃ بل یحل لہ اخذ الزکوۃ فیؤل الی ان من ملك قدر ربیۃ یا مرہ الشرع بان یعطی من ربیتہ لمن یملك مائتی ربیۃ الاواحدۃمسدالخلتہ فانہ لقلۃ مالہ فقیر وھذا غنی ھذا مما لا یقبلہ العقل فافھم واﷲتعالی اعلم اھ ماکتبتہ۔
اقول : اس عبد ضعیف پر واضح ہوا ہے کہ یہی مختار ہے کیونکہ شریعت مطہرہ نے غنا کی حد بندی کرتے ہوئے ایسے نصاب کا اعتبار کیا ہے جو زکوۃ کے وجوب کا سبب ہو اور غنا مالیت نامیہ کی وجہ سے ہے نہ کہ تعداد کی وجہ سے پس جو شخص ایسے سو کا مالك ہوا جو دوسو درہم کے برابر ہے تو وہ موجب میں غنائے شرعی کے برابر ٹھہرا۔ بتائیے اگر کسی شہر میں ایك ایسا درہم رواج پائے جس کا وزن دوسو درہم کے برابر ہو تو کیا اس پر زکوۃ صرف اس صورت میں واجب ہوگی جب وہ اس درہم جیسے دوسودرہم کا مالك بنے تو حاصل یہ ہوگا کہ کوئی عرب دوسودرہم کے بر ابر چاندی کا مالك بن جائے تو اس پر زکوۃ واجب ہوجائے کیونکہ وہ نصاب کا مالك ہوکر غنی ہوگیا اور جو شخص اس بھاری درہم والے شہر میں اس چاندی کے دوسو گنا کے قریب کا مالك بنے وہ فقیر رہے اور نصاب کا مالك نہ ہونے پر زکوۃ لے سکے تو گویا عدد کے اعتبار سے بات یوں ہوئی کہ جو شخص ایك روپے کی مقدار کا مالك ہوا سے شریعت حکم دے رہی ہے کہ وہ اپنے ایك روپے سے اس شخص کو زکوۃ دے جو ایك کم دوسوروپے کا مالك ہے تاکہ اس کی حاجت پوری ہوسکے کیونکہ یہ قلت مال کی وجہ سے فقیر ہے اور ایك روپے والاغنی ہے اور یہ ایسی چیز ہے جسے عقل قبول نہیں کرتی غور کیجئے۔ واﷲ تعالی اعلم (ت)
مسئلہ / : از اٹا وہ کچہری کلکٹری مرسلہ مولوی وصی علی صاحب ربیع الاول شریف ھ
ماقولکم رحمکم اﷲتعالی فی ھا تین المسألتین
(اﷲتعالی آپ پر رحم فرمائے ان دو مسئلوں میں
حوالہ / References جد الممتار باب زکوٰۃ المال مطبع مبارکپور(بھارت) ٢ / ۱۲۸
#9396 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
آپ کا کیا ارشاد ہے۔ ت) :
() زید اس وقت تولے ماشے زیور طلائی اور ماشے زیور نقرئی کا مالك ہے۔
()عمرو سو تولے چھ ماشے زیور طلائی اور تولے ماشے زیور نقرئی کا مالك ہے دونوں کو کس قدر زکوۃ ادا کرنی چاہئے۔ المستفتی عبدالودود
بموجب ضوابط مندرجہ تحفہ حنفیہ میں نے اس کو یوں نکالاہے : ()تولے ماشے جس میں سے - / تولے نصاب سونے کے بعد خمس ڈیڑھ تولہ تك نہیں پہنچا لہذا دو ماشے رتی واجب الادا زکوۃ ہوئی اور ایك تولہ عفو ہوا تولےماشے میں ایك نصاب چاندی تولے اور خمستولے کل ۷۳ تولے پر ایك تولہماشے / رتی واجب الا دا اور تولے چاندی عفو ہوئی۔ اب دونوں عفو بلحاظ انفع للفقراء ایك تولہ سونے کی تولے ماشے چاندی اس طرح ہوئی کہ ایك تولہ سونا بحساب نرخ حال برابر ہے روپے کے اور کی چاندی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چاندی میں تولے چاندی جو عفو تھی شامل کی گئی تو تولے ماشے ہوئی جس میں ماشے کم چار خمس ہیں :
(۱) پورے چارخمس کا ربع عشر ماشے - / سرخ لیے جو ایك تولہ ماشے / واجب پر بڑھائے توتولے ماشے - / سرخ واجب الادا ہوا۔
(ب)اگر تین نصاب خمس - / تولہ اضافہ کیا جائے تو ماشے- / اضافہ ہوا اور دستولے پھر فاضل ہوگا اور تولے ماشے رتی واجب ہوگا اگر یہ حساب صحیح ہے تو کون سااختیار کیا جائے الف یا ب
()عمرو والے معاملہ اسی طریقہ سے- / تولہ سونے میں نصاب تولے اور ایك خمس - / تولہ ہے تو دو نصاب کے ماشے سرخ اور خمس کا - / کل ماشے - / سرخ واجب الادا ہوتا ہے اور عفو کچھ نہیں اور تولے ماشے چاندی میں نصاب تولے اور تین خمس - / تولے مجرا ہوکر تولے ماشے عفو رہتا ہے اور نصاب کے تولے ماشے اور تین خمس کا ربع عشر ماشے - / سرخ ہمگیں تولے - / سرخ واجب الادا ہوتا ہے اب ایك جانب عفو نہیں اور دوسری جانب ہے اس صورت میں تولے ماشے عفو کو چھوڑدیا جائے یا اس کو سونا کیا جائے اگر سونا کیا جائے تو اس کے خمس کا ربع عشر لے کر ماشے - / سرخ اضافہ کیا جائے یا کیابینو اتوجروا
الجواب :
زکوۃ عمر و کا حساب صحیح ہے مگر تولے ماشے چاندی جبکہ سونا کرنے سے - / تولہ سونے کی قدر نہ ہوتو اسے
#9397 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
نصاب ذہب میں ملانے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ صورت مذکورہ میں وہ مطلقاعفورہے گی ہا ں اگر اپنی صنعت کی وجہ سے اس مقدار تك پہنچ جائے یا بڑھ جائے تو جتنے خمس نصاب ذہب اس میں پیدا ہوں گے ان کا ربع عشر زکوۃ ذہب پر زیادہ کرلیا جائے گا باقی جو خمس کامل سے کم رہا چھوڑا دیا جائے گا حساب زکوۃ زید میں تین سہوواقع ہوئے :
()تولہ بھر سونا کہ اپنی نوع میں عفو تھا جبکہ نرخ حال سے پچیس روپے کا ہے تو اسے پچیس ہی روپیہ بھر چاندی قرار دیں گے جس کی تئیس تولے پانچ ماشے دورتی چاندی ہوئی کہ روپیہ سواگیارہ ماشے کا ہے نہ یہ کہ تولہ بھر سونے کی قیمت روپیہ لے کر پھر ان روپے کی چاندی خریدیں اور تولے چاندی قرار دیں سکہ ہی سے لگائی جاتی ہے نہ کہ پتھر یا اینٹ سے۔ فتح القدیر میں ہے :
التقویم فی حق اﷲتعالی یعتبر با لتقویم فی حق العباد متی قومنا المغضوب اوالمستھلك نقوم بالنقد الغالب کذاھذا۔
اﷲتعالی کے حق میں قیمت لگانے کا اعتبار اسی طرح ہوگا جو بندوں کے حق میں مفید ہو جب ہم کسی مغضوب یا ہلاك شدہ چیز کی قیمت لگائیں گے نقد غالب سے لگائیں گے اسی طرح یہ ہے۔ (ت)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
یقوم بالمضروبۃ کذافی التبیین۔
مضروبہ سے قیمت لگائی جائے گی جیسا کہ تبیین میں ہے ۔ (ت)
پس مقدار مذکور تولے عفو سیم میں ملانے سے تولے ماشے رتی چاندی ہوئی جس میں صرف خمس ہیں جن پر ماشے - / سرخ اور واجب ہو کر کل واجب ذمہ زید سونا ماشے سرخ چاندی تولے ماشے - / سرخ۔
()روپوں کے پھر تولے چاندی اگر کی جائے تو تولے عفو سے مل کر تولے ہوتی نہ کہ یہ لغزش قلم تھی ۔
()اگر بالفرض تولے اور ملاتے اور حاصل جمع ہی تولے ہوتا حساب ب متعین تھا الف کی طرف کوئی راہ نہ تھی جو خمس سے چاول بھر بھی کم ہے وہ خمس کامل ہر گز نہ مانا جائے گا یہ ہمیشہ یادرکھا جائے اور فائدہ اولے خوب سمجھ لیا جائے کہ فقیر کا ضابطہ جو تحفہ حنفیہ میں چھپا اس میں اس کی صاف تصریح کی گئی تھی اس کا جاننا اس کے
حوالہ / References فتح القدیر فصل فی العروض مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ١٦٨
فتاوٰی ہندیہ الفصل الثانی فی العروض نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٧٩
#9398 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
ضوابط کے اجراء پر معین ہوگا۔ واﷲتعالی اعلم ۔
مسئلہ / : ازشہر ملوك پور مرسلہ جناب سید محمد علی صا حب نائب ناظر فرید پور رمضان المبارك ھ کیا
فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں :
()زکوۃ زیور طلائی و نقرئی پر کس حساب سے دی جائے آیا قیمت خرید پر یا جو قیمت اس کی خرید کرنے سے ملتی ہے
() زر نقدپر زکوۃ سیکڑہ ہے یا اس سے کم و بیش
()زکوۃ کن کن اشیاء پر واجب ہے ()صدقہ فطر و زکوۃ والدین کی جانب سے اولاد اور اولاد کی جانب سے والدین جبکہ خور دونوش یك جا ہو دے سکتے ہیں
الجواب :
() سال تمام پر بازار کے بھاؤسے جو قیمت ہو اس کا لحاظ ہوگا اگر مختلف جنس سے زکوۃ دینا چاہیں مثلاسونے کی زکوۃ میں چاندی ورنہ سونے چاندی کی خود اپنی جنس سے زکوۃ دیں تو وزن کا اعتبار ہے قیمت کا کچھ لحاظ نہیں۔
()صاحبین کا یہی مذہب ہے اور اس میں فقیر کا نفع زیادہ ہے اور دینے والے کو بھی حساب کی آسانی ہے۔
()سونا چاندی اور مال تجارت اور چرائی پر چھوٹے ہوئے جانور۔
()خورد و نوش یکجا ہو یا ان میں دوسرے کی طرف سے کوئی فرض وواجب مالی ادا کرنے کے لیے اس کی اجازت کی حاجت ہے اگر بالغ اولاد کی طرف سے صدقہ فطر یا اس کی زکوۃ ماں باپ نے اپنے مال سے ادا کردی یا ماں باپ کی طرف سے اولاد نے اور اصل جس پر حکم ہے اس کی اجازت نہ ہوئی تو ادا نہ ہوگی واﷲتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ : ایك شخص کے پاس گیارہ تولے سونا اور دوسیر چاندی ہے تو اس کو کس قدر زکوۃ دینا چاہئے یعنی ان دونوں کی مقدار تحریر فرمائیے کہ اس قدر سونے کی زکوۃ کے روپے ہوئے اور اس قدر چاندی کی زکوۃ کے ۔ بینواتوجروا
الجواب :
ایك بات لکھئے چاندی کا ٹھیك وزن کتنا ہے صاحبین علیہما الرضوان کے مذہب پر تو حساب سب اتنا ہے تین ماشے دو رتی - / چاول بھر سونا اور پانچ روپے بھر چاندی دے۔ اگر امام اعظم علیہم الرضوان کے مذہب
#9399 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
پر چاہیں جس دن سال تمام ہوا اس دن وہ سونا اور چاندی جو اس کے پاس ہیں بازار کے بھاؤ میں کس نرخ کے تھے اس کے معلوم ہونے پر حساب موقوف ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : مسئولہ سید ایوب علی صاحب ساکن بریلی محلہ بہا ری پور کا سگر
زید بشوق زیارت حرمین طیبین کچھ پس انداز کرتا جاتاہے اس طرح پر اب وہ صاحب نصاب عرصہ ڈیڑھ سال سے ہوگیا تو اس کو صدقہ فطر وزکوۃ قربانی عید الاضحی کرنا چاہئے یا نہیں بینو اتوجروا
الجواب :
اس پر زکوۃ فرض ہے اور صدقہ قربانی واجب۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از خواجہ قطب ذی القعدۃ الحرام ھ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے پاس انیس اشرفیاں جے پوری وزنی تولہ ماشہ اور چار اشرفیاں انگریزی وزنی تولہ ماشہ جملہ اشرفیاں وزنی تولہ ماشے ہیں اور پچیس سال سے اس نے زکوۃ نہ دی اور ان کے سوا کوئی مال زکوۃ نہ اس کے پاس تھا نہ ہے تو اس صورت میں اس پر کس قدر زکوۃ واجب ہے۔ بینو اتو جروا۔
الجواب :
تولے ماشے ایك رتی چاول سونا اور ایك چاول کے چار خمس / تفصیل یہ ہے کہ نصاب ذہب تولے ض ماشے ہے واجب ماشے سرخ اور خمس نصاب ایك تولہ ماشے واجب - / سرخ خمس نصاب سے زائد بچے معاف ہے ہر سال گزشتہ کی زکوۃ سال آئندہ دین ہوکر اس قدر مال کم ہوتا جائیگا یہاں تك کہ اگر دیون زکوۃ جمع ہوتے ہوتے باقی مال نصاب سے کم رہ جائے تو اب کچھ تازہ واجب نہ ہوگا واجب مجموع سنین گزشتہ معلوم کرنے کا قاعدہ یہ ہے کہ جو کچھ سال اخیر میں بعد منہائے دیون زکوۃ باقی ہے اسے اصل مال اول سے تفریق کرکے باقی میں اس اخیر کا واجب جوڑدیں حاصل جمع برسوں کا مجموعہ واجبات ہوگا۔ طریقہ استخراج اس جدول سے واضح ہے ۔ واﷲتعالی اعلم ۔
(جدول اگلے صفحہ پر ملا حظہ ہو )
#9400 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
مسئلہ : ربیع الاول ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان متین و فضلائے شریعت اس مسئلہ میں کہ بینك یا ڈاکخانہ میں جو روپیہ جمع کیا جاتا ہے اس کی نسبت زکوۃ کا کیا حکم ہے
الجواب :
روپیہ کہیں جمع ہو کسی کے پاس امانت ہو مطلقا اس پر زکوۃ واجب ہے ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ / : ذی الحجہ ھ
()میں نے مبلغ سو روپیہ سیونگ بینك میں جمع کر رکھا ہے وہ پورا سال بھر میرے قبضہ میں نہیں رہا اس پر زکوۃ واجب ہے یا جب دو یا تین سال وغیر ہ میں برآمد کرکے قبضہ لیا جائے اس وقت زکوۃ دی جائے اور جب قبضہ میں آئے تو ہر سال کی بابت زکوۃ دی جائے یا صرف اسی سال قبضہ والے کی بابت
(۲) میں نے مبلغ دو سو روپے کے پر امیسری نوٹ ڈاك خانے سے خرید کئے اب اگر مجھ کو روپے کی خواہ کسی قدر سخت ضرورت ہو تو فورا وصول نہیں ہو سکتا تا وقتیکہ کوئی خریدار غیر ان پرامیسری نوٹ کا پیدا نہ ہو تب تك وہ روپیہ مجھ کو وصول نہیں ہو سکتا خواہ دو روز میں پیدا ہو جائے یا سال بھر میں پیدا ہو تو اس رقم پر زکوۃ واجب ہے یا نہیں
الجواب :
()وہ جب تك بینك میں ہے اپنے قبضے میں سمجھا جائے گا اور ہر سال اس پر زکوۃ

mig hamig hai yia par 1 em
#9401 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
واجب ہوگی خواہ سا ل بسال ادا کرتا رہے یا جب اس میں سے گیارہ روپے سوا تین آنے کی وصول ہو اس میں سے چالیسواں حصہ دے اور جتنے برس رہا ہے سب برسوں کی زکوۃ واجب ہوگی ہاں ہر سال اگلے برسوں کی زکوۃ کی قدر اس پر دین سمجھ کر اتنا زکوۃ سے جدارہے گا مثلا دوسو روپیہ جمع ہیں تو پہلے سال دوسوپر پانچ روپیہ تقریبا واجب ہوئے دوسرے سال پانچ روپیہ سال گزشتہ کی زکوۃ کے اس پر واجب ہیں لہذا اس سال ایك سو پچانوے پر زکوۃ واجب ہوگی تقریباچار روپے چودہ آنے ۔ تیسرے سال اس پر دو سال کی زکوۃ کے نو روپے چودہ آنے قرض ہیں یہ مستثنی ہوکر ایك سو نوے روپے دو آنے پر زکوۃ واجب ہوگی وعلی ھذاالقیاس وا ﷲرتعالی اعلم۔
()پر امیسری نوٹوں کا یہ قاعدہ ہے کہ روپیہ گورنمنٹ کو دے دیاجاتا ہے جس پر وہ یہ نوٹ دیتی ہے اب یہ روپیہ کبھی واپس نہ ملے گا نہ خود اصل مالك لے سکتا ہے نہ اس کا وارث نہ اس کا کوئی قائم مقام ہاں گورنمنٹ اس روپے چھ آنے فیصدی ماہوار کے حساب سے ہمشہ سوددے گی تو یہ نوٹ نوٹوں کی طرح خود مال نہیں بلکہ سند قرض ہیں لہذا اس پر گورنمنٹ سود دیتی ہے اور عام نوٹ خزانے سے خریدے جائیں تو ایك پیسہ سود نہ دے گی کہ وہ بیع تھی معاوضہ تمام ہوگیا ہے اوریہاں قرض ہے اور عام نوٹ خزانے سے خرید ے جائیں تو ایك پیسہ قرض رہا اور وہ قرض کسی طرح واپس نہیں مل سکتا تو قرض مردہ ہوا اور قرض مردہ پر زکوۃ نہیں نہ ان نوٹوں کا بیچنا جائز کہ وہ حقیقۃغیر مدیون کے ہاتھ دین کی بیع ہے اور وہ جائز نہیں تو ان کو بیچ کر جو روپیہ لے گا اس کے لیے خبیث ہوگااور اس پر فرض ہوگا کہ جس سے لیا تھا اسے واپس دے اور اس بیع فاسد کو فسخ کرے توزکوۃ ان نوٹوں پر ہے کہ یہ مال نہیں نہ اس روپیہ پر جو انھیں بیچ کر ملے گا یہ تمام و کمال خبیث ہے نہ اس روپیہ پر جو گورنمنٹ کو قرض دے کر یہ نوٹ لیے تھے کہ وہ قرض مردہ ہے جو کبھی واپس نہ ملے گا۔ درمختار میں ہے :
الاصل فیہ حدیث علی لازکوۃ فی مال
اس میں اصل علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ہے
#9402 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
الضمار وھو مالا یمکن الانتفاع بہ مع بقاء الملک۔ واﷲتعالی اعلم۔
کہ مال ضمار پر زکوۃ نہیں مال ضماروہ کہ ملکیت ہونے کے باوجود اس سے انتفاع ممکن نہ ہو۔ واﷲتعالی اعلم (ت)
مسئلہ : از مقام درؤ ضلع نینی تال مسئولہ عبد اﷲدکاندار صاحب ربیع الاول شریف ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کے پاس ساٹھ روپے نقد ہیں اور پچاس روپے کا اس کی عورت پر زیور ہروقت پہننے کا اور پچاس روپے کی دکاندار ی کرتا ہے کل یہی اسباب ہے اور اس میں پچانوے روپے مہر عورت کا قرض ہے اور جو دکان کرتا ہے وہ ایسا سمجھنا چاہئے کہ جیسے کاشتکار کے ہل جوتنے کے بیل اور گھوڑا پچیس روپے کی قیمت کا ہے دکاندار ی کا سوت لادنے کے واسطے اس حالت میں اول مال پر زکوۃ ہونی چاہئے یا نہیں جیسا کہ شرع شریف کا حکم ہو عمل کیا جائے اور سال بھر کے کھانے کا اناج بھی اس کے گھر میں نہیں ہے۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
آج کل عورتوں کا مہر عام طور پر مہر مؤخر ہوتا ہے جس کا مطالبہ بعد موت یا طلاق ہوگا مرد کو اپنے تمام مصارف میں کبھی خیال بھی نہیں آتا کہ مجھ پر یہ دین ہے ایسا مہر مانع وجوب زکوۃ نہیں ہوتا سال تمام پر اس کے پاس اگر یہ ساٹھ روپے بچے تو اس پر زکوۃ واجب ہوگی زکوۃ کا نصاب روپے (- / تولہ چاندی) ہے اور وہ زیوراگر شوہر کی ملك ہے تو وہ بھی شامل کیا جائے گا ایك سودس پر زکوۃ واجب ہوگی اور اگر وہ مال تجارت بھی بچا تو وہ بھی شامل ہوگا ایك سو ساٹھ پر ہوگی غرض ان تینوں مالوں میں سے سال تمام پر اگر روپے کی قدر ہوگا تو زکوۃ واجب ہے ورنہ نہیں اور اگر زیور عورت کی ملك ہے تو اس کی زکوۃ اس پر واجب ہوگی جبکہ وہ خود یا اس کی ملك کا اور سونا چاندی ملا کر ساڑھے باون تولے چاندی ہو ورنہ نہیں۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از نینی تال کاشی پور مسئولہ ڈاکٹر اشتیاق علی صفر المظفر ھ
متعلق زکوۃ پار سال میرے پاس ایك سو پچاس روپے رمضان میں جمع تھے اور زکوۃ میں نے ایك سو پچاس روپے پر دی تھی دو ماہ بعد ہوگئے اور ماہ بعد ہوگئے اور اب رمضان میں پورے تین سو ہوگئے اور میں ہر سال رمضان میں زکوۃ نکالا کرتا ہوں تو اب مجھ کو تین سوروپے پر دینا ہوگی یاصرف پر کیونکہ کے بعد جو روپے بڑھے ہیں ان کو پورا ایك سال نہیں گزراہے۔
الجواب :
نصاب جبکہ باقی ہوتو سال کے اندر اندر جس قدر مال بڑھے اسی پہلے نصاب کے سال تمام پر اس کل کی
حوالہ / References درمختار ، کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ، ١ / ١٢٩
#9423 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
زکوۃ فرض ہوگی مثلا یکم رمضان کو سال تمام ہوگا اور اس کے پاس صرف سو روپے تھے تیس شعبان کو دس ہزار اور آئے کہ سال تمام سے چند گھنٹے بعد جب یکم رمضان آئے گی اس پورے دس ہزار ایك سو پر زکوۃ فرض ہوگی واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : از شہر بریلی محلہ جسولی مسئولہ حافظ علی شاہ صاحب شعبان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے تین لڑکیوں کی شادی کے واسطے روپیہ علیحدہ کردیاہے جس میں سے دو لڑکیاں نابالغ ہیں اور ایك قابل ہے شادی کے اب اس روپیہ کی زید پر زکوۃ دینا واجب ہے یا نہیں
الجواب :
ضرور واجب ہے مگر اس حالت میں ہر نا بالغہ کا حصہ جدا کرکے یہ کہہ دے کہ میں نے اسے اس کا مالك کیا اس کی زکوۃ ان کے بلوغ تك کسی پر واجب نہ ہوگی بعد بلوغ اگر شرائط زکوۃ پائے گئے تو ان لڑکیوں پر واجب ہوگی اور بالغہ کا حصہ جدا کرکے اسے مالك کردے اور اس کے قبضے میں دے دے اگر چہ پھر اس سے لے کر اپنے پاس رکھ لے اس حصہ کی زکوۃ حسب شرائط اس بالغہ پر ہوگی۔ وا ﷲتعالی اعلم
مسئلہ تا : از شہر بریلی مرسلہ شوکت علی فاروقی رمضان المبارك ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
() کیا نوٹ اور روپیہ کا ایك ہی حکم ہے نوٹ تو چاندی سونے سے علیحدہ کاغذ ہے۔
() فی صدی زکوۃ کا کیا دینا ہوتا ہے۔
()جس روپیہ سے زکوۃ پہلے سال میں دے دی اور باقی روپیہ بدستور دوسرے سال تك رکھارہا اب دوسرے سال آنے پر کیا پھر اسی روپیہ میں سے جس میں پہلے سال زکوۃ دے چکا ہے زکوۃ دینا ہوگی بینو اتو جروا۔
الجواب :
()نوٹ اور روپیہ کا حکم ایك نہیں ہوسکتا روپیہ چاندی ہے کہ پیدائشی ثمن ہے اور نوٹ کاغذ کہ اصطلاحی ثمن ہے تو جب تك چلے اس کا حکم پیسوں کے مثل ہے کہ وہ بھی اصطلاحی ثمن ہے ۔
()زکوۃ ہر نصاب و خمس پر چالیسواں حصہ ہے اور مذہب صاحبین پر نہایت آسان حساب اور فقراء کے لیے نافع ہے کہ فیصدی ڈھائی روپے ۔
()دس برس رکھا ہر سال زکوۃ واجب ہوگی جب تك نصاب سے کم نہ رہ جائے یہ اس لیے کہ جب پہلے سال کی زکوۃ نہ دی دوسرے سال اس قدر کا مدیون ہے تو اتنا کم کرکے باقی پر زکوۃ ہوگی تیسرے
#9424 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
سال اگلے دونوں برسوں کی زکوۃ اس پر دین ہے تو مجموع کم کرکے باقی پر ہوگی یوں اگلے سب برسوں کی زکوۃ منہا کرکے جو بچے اگر خودیا اس کے اور مال زکوۃ سے مل کر نصاب ہے تو زکوۃ ہوگی ورنہ نہیں۔ واﷲتعالی اعلم ۔
مسئلہ : مسئولہ شمس الدین احمداز فرخ آباد شوال ھ
وہ زیور جو کسی نے اپنے بچوں یعنی لڑکیوں کو بنوادیا اور ان کی ملك میں کردیا اور وہ بچے ابھی نابالغ ہیں زکوۃ دینے کے لائق ہی نہیں یعنی اپنی بی بی کے زیور اور نقد دیتے وقت بچوں کا زیور حساب میں شامل کرے یا نہیں بینو اتوجروا۔
الجواب :
جو زیور بچوں کو ہبہ کر دیا اس کی زکوۃ نہ اس پر نہ بچوں پر اس پر اس لیے نہیں کہ یہ ملك نہیں ان پر اس لیے نہیں کہ وہ بالغ نہیں۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ تا : شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ :
()جولڑکیاں ناکتخداہیں اور نا بالغ ان کے زیور کی بھی زکوۃہونے چاہئے یا نہیں
()میں نے لڑکی کی شادی کی ضرورت سے اپنا زیور رہن کیا شوہراس وقت میں بیکار تھے باقی زیور جو میرے پاس تھا اس کی زکوۃ تو میں ادا کرتی رہی جو رہن تھا اس کی زکوۃ نہ دی سات آٹھ برس رہن رہا اب میں نے چھڑا یا تو اس سات آٹھ برس کی زکوۃ چاہئے یا نہیں
()شوہر نے جس وقت قرض لیا تھا تو زیور میرا بطور رہن کے رکھ دیا تھا میری والدہ کے پاس تو اور تھوڑا زیور جو اس وقت میں بھی رہن نہ رکھا تھا جب سے اب تك میرے پاس ہے اور زکوۃ جب سے نہیں دی گئی قرضے کا خیال کرکے ۔
الجواب :
() نابالغ لڑکیوں کا جو زیور بنایا گیا اگر ابھی انھیں مالك نہ کیا گیا بلکہ اپنی ہی ملك پر رکھا اور ان کے پہننے کے صرف میں آتا ہے اگر چہ نیت یہ ہوکہ بیاہ ہوئے پر ان کے جہیز میں دے دیں گے جب تو وہ زیور ماں باپ جس نے بنایا ہے اسی کی ملك ہے اگر تنہایا اس کے اور مال سے مل کر قدر نصاب اسی مالك پر اس کی زکوۃ ہے اور اگر نابالغ لڑکیوں کی ملك کردیا گیا تو اس کی زکوۃ کسی پر نہیں ماں باپ پر تو یوں نہیں کہ ا ن کی ملك نہیں اور لڑکیوں پر یوں نہیں کہ وہ نوبالغہ ہیں جب جوان ہوں گی اس وقت سے ان پر احکام زکوۃ
#9425 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
وغیرہ کے جاری ہوں گے۔
()ان برسوں کی زکوۃ واجب نہیں کہ جو مال رہن رکھا ہے اس پر اپنا قبضہ نہیں نہ اپنے نائب کا قبضہ ہے بحرالرائق میں ہے :
اطلق الملك فانصرف الی الکا مل وھوالمملوك رقبۃ ویدافلا یجب علی المشتری فیما اشتراہ للتجارۃ قبل القبض کذافی غایۃ البیان ولایلزم علیہ ابن السبیل لان ید نائب کیدہ کذافی معراج الدرایۃ ومن موانع الوجوب الرھن اذا کان فی ید المرتھن لعدم ملك الید بخلاف العشر حیث یجب فیہ کذا فی العنایۃ اھ مختصرا۔
ملك کا ذکر مطلق کیا ہے لہذا اس سے ملکیت کاملہ مراد ہوگی اوروہ رقبۃاور یدادونوں طرح مملوك ہونا ہے لہذا مشتری پر قبض سے پہلے اس شئ پر زکوۃ نہ ہوگی جو اس نے بطورتجارت خریدی غایۃالبیان میں اسی طرح ہے ۔ اس پر مسافر کے ساتھ اعتراض لازم نہیں آتا کیونکہ اس کے نائب کا قبضہ اسکے اپنے قبضے کی طرح ہے معراج الدرایہ میں ایسے ہی ہے۔ اور موانع وجوب میں رہن بھی ہے جبکہ وہ مرتہن کے قبضہ میں ہوکیونکہ اس صورت میں ملکیت نہیں بخلاف عشر کے وہاں واجب ہے العنایہ ا ھ مختصرا(ت)
درمختار میں ہے : ولافی مرھون بعد قبضہ (قبضہ کے بعد مرہونہ شئی میں زکوۃ نہیں۔ ت) طحطاوی میں ہے :
ای علی المرتہن لعدم الملك ولاعلی الراھن لعدم الید واذااستردہ الراھن لایزکی من السنین الماضیۃ وھو معنی قول الشارح بعد قبضہ ویبدل علیہ قول البحر ومن موانع الوجوب الرھن اھ حلبی وظاہرہ ولو کان الرھن ازید من الدین اھ واﷲتعالی اعلم ۔
یعنی مرتہن پر زکوۃ اس لیے نہیں کہ وہاں ملکیت نہیں نہ ہی راہن پر ہے کیونکہ اس کا قبضہ نہیں جب راہن اس شئی کو واپس لے گا تو گزشتہ سالوں کی زکوۃ نہیں دے گا شارح کے قول “ قبضہ کے بعد “ کا یہی معنی ہے اور اس پر بحر کی یہ عبارت دال ہے موانع وجوب میں سے رہن ہے اھ حلبی اس کا ظاہر بتارہا ہے کہ اگر چہ رہن قرض سے زائد ہواھ۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الزکوٰۃ ایچ ایم سعید کراچی ٢ / ٢٠٣
درمختار کتاب الزکوٰۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٩
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الزکوٰۃ دارالمعرفۃبیروت ٩٢-٣٩١
#9426 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
()اظہار سائلہ سے واضح ہوا کہ یہ زیور بغرض رہن اس نے خود اپنے شوہر کو دیا اس نے اس کی اجازت سے رہن کیا تھا تو یہ رہن بھی رہن بالحق تھا تو ظاہر یہاں بھی یہی ہے کہ اس مدت کی زکوۃ واجب نہ ہو
لعدم الملك الکامل فانہ لیس مملوکا یدا لان قبض الرھن قبض استیفاء کما فی الھدایۃ۔
ملکیت کاملہ نہ ہونے کی بنا پر کیونکہ وہ قبضہ کے لحاظ سے مملوك نہیں ہے کیونکہ رہن کا قبضہ وصولی کا قبضہ ہے جیسا کہ ہدایہ میں ہے۔ (ت)
اور بعد تعلق حق مذکورکے کچھ یہ ضرور نہیں کہ وہ دین خود اسی پر ہولہذا اگر کوئی شخص کسی کی طرف سے اس کے دین کی ضمانت کرلے تو بمقدار دین اس کا مال مشغول سمجھا جائیگا کہ دائن کو حق استیفاء اس سے حاصل ہے اگر چہ دین اصالتا اس پر نہیں ۔ درمختارمیں ہے :
فارغ عن دین مطالب من جہۃالعباد سواء کان ﷲتعالی کزکوۃ وخراج اوللعبد ولوکفالۃ۔ الخ
ایسے دین سے فارغ ہو جس کا مطالبہ بندوں کی طرف سے ہو خواہ اﷲتعالی کے لیے ہو مثلازکوۃ خراج یا بندے کا حق ہو اگر چہ بطور کفالت ہو۔ الخ(ت)
ردالمحتارمیں ہے :
قال فی المحیط لو استقرض الفا فکفل عنہ عشرۃ ولکل الف فی بیتہ وحال الحول فلا زکوۃ علی واحد منھم لشغلہ بدین الکفالۃ لان لہ ان یا خذمن ایھم شاء بحر الخ۔
محیط میں ہے اگر کسی نے ہزار روپیہ قرض لیا اور اس کی طرف سے دس آدمی کفیل بنے اور ہر ایك کے پاس ایك ایك ہزار روپیہ ہے جس پر سال گزرا توان میں سے کسی پر زکوۃ نہیں کیونکہ وہ قرض کفالت میں مشغول ہے کیونکہ قرضخواہ ان میں سے کسی سے بھی قرض لے سکتا ہے بحر الخ(ت)
ہدایہ میں ہے :
لو کانت العاریۃ عبدافاعتقہ المعیر جازلقیام ملك الرقبۃ ثم المرتھن بالخیاران شاء رجع بالدین
اگر عاریۃ غلام تھا اسے معیر نے آزاد کردیا تو جائز ہے کیونکہ وہ اس کی گردن کامالك ہے پھر مرتہن کا اختیار ہے اگر وہ چاہے تو راہن سے دین وصول کرے کیونکہ اس نے
حوالہ / References الہدایہ کتاب الرھن مطبع یوسفی لکھنؤ ٤ / ٥١٧
درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٢٩
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ مصطفی البابی مصر ٢ / ٦
#9427 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
علی الراھن لانہ لم یستوفہ و ان شاء ضمن المعیر قیمتہ لان الحق قد تعلق برقبتہ وقد اتلفہ بالاعتاق الخ
بدل حاصل نہ کیا اگر وہ چاہے تومعیر سے اس کی قیمت وصول کر سکتاہے کیونکہ حق کا تعلق گردن سے اس کی رضا مندی سے ہے جو اس نے آزاد کرکے ضائع کیا ہے الخ(ت)
ہاں جو زیور رہن نہ تھا اور جب سے پاس ہے اگر وہ خود دیا اور مال زکوۃ سے مل کر نصاب تھاتو جب تك نصاب پورا رہا اس مدت کی زکوۃ واجب ہے اور قرضے کا خیال باطل خیال ہے کہ قرض شوہر پر تھا اور زیور عورت کا زکوۃ عورت پر ہے نہ کہ شوہر پر البتہ یہ زکوۃ جو چڑھتی گئی ہر سال اس کا حساب لگانے سے جس سال اسے مجرا کرکے مال بقدرے نصاب نہ رہے اس سال کی زکوۃ واجب نہ ہوگی مثلازیور وغیرہ اموال زکوۃ ملا کر پہلے سال دو سو دس۲۱۰درہم کا ملا تھا اس سال پانچ درہم زکوۃ کے واجب ہوئے دوسرے سال یہ پانچ درم کا کہ زکوۃ کا قرضہ کے مجرا کرکے گویا دوسو کا مال تھا اب بھی پانچ واجب ہو ئے چوتھے سال پندرہ مجرا کر کے پانچ کم دوسو کا ملا رہا یہ نصاب نہیں اب زکوۃ نہیں وہی پندرہ ہی واجب الاداء رہے مگریہ کہ ختم سال پر اور کہیں سے پانچ درہم مل گئے ہوں کہ دوسودرہم پورے ہوکر پھر پانچ درہم لازم آئیں گے اور بیس واجب ہوجائیں گے یہی حساب ہر سال میں خیال کرلینا لازم ہے دوسودرہم شریعت میں چھپن روپے کے ہوتے ہیں اور پانچ درہم کا ایك روپیہ سواچھ آنے ایك دھیلا اور پیسے کا دسواں حصہ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۴۸ : از فریدپور شرقی مرسلہ منشی محمد علی صاحب نائب ناظر تحصیل فرید پور ۵رجب۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ زید کے پاس چار سو روپیہ علاوہ خرچ روز مرہ کے اس تفصیل سے ہیں کہ دوسو روپیہ بابت خرید مکان مسکونہ کے مالك مکان کودے چکا ہے اور دوسوروپے نقدرکھے ہیں اب زید کو زکوۃ ادا کرنا چار سو روپے پر چاہیے یا دوسو پر جو اس کے پاس نقد رکھے ہیں کب اور کس حساب سے اس کو ادا کرنا چاہیے مثلااگر اسی مہینہ جمادی الثانی سے اس کے پاس دوسوروپے نقد جمع ہوگئے تواب زید کو کس مہینہ میں اور کس قدر ادا کرنا چاہئے اوردر صورت نہ ادا کرنے کے کیا مواخذہ اس کے ذمے ہوگا امید کہ ﷲتعالے جواب بالتفصیل مرحمت فرمایا جائے تاکہ عام فہم ہوکر سب کو فائدہ دارین عطا فرمائے۔
حوالہ / References الہدایۃ باب التصرف فی الرہن مطبع یوسفی لکھئنو ٤ / ٥٤٥
#9428 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
الجواب :
بیان سائل سے واضح ہوا کہ ہنوز اس مکان کی بیع نہیں ہوئی وعدہ خرید و فروخت درمیان آیاہے اور اسی بناء پر زید نے مالك مکان کو دوسوروپے پیشگی دے دئے اور اسے اجازت دی کہ خرچ کرلے یہ صورت فرض کی ہوئی ثمن کہہ نہیں سکتے کہ ابھی بیع ہی نہیں ہوئی ا مانت نہیں کہہ سکتے کہ خرچ کی اجازت دی لاجرم قرض ہے
فی لسان الحکام والعقود الدریۃ وغیرھما دفع الیہ دراھم فقال لہ انفقھا ففعل فھو قرض کما لوقال اصر فھاالی حوائجک۔
لسان الحکام اور عقود الدریہ وغیرہ میں ہے کہ کسی کو دراہم دیئے گئے اور کہا گیا کہ انھیں خرچ کر اس نے خرچ کردئے تو یہ قرض ہے جیسا کہ اگر کسی نے یہ کہا ہو کہ انھیں اپنی ضروریات پر خرچ کرلے۔ (ت)
تو دو سو کہ اس کے پاس رکھے ہیں اور دوسوجو مالك مکان کودئے ہیں چاروں سو اسی کی ملك میں اور مال زکوۃ ہیں زکوۃ کا نصاب ان روپوں سے چھپن روپے ہے جس تاریخ چھپن ۵۶ روپے یا زائد کا مالك ہوا اسی تاریخ سے مالك نصاب سمجھا گیا جب ہی سے سال زکوۃ کا حساب ہوگا سال کے اندر جو مال اور ملتا گیا اسی کے ساتھ ملتا رہے گا تمام پر دیکھیں گے سب خرچوں سے بچ کر حوائج اصلیہ سے فاضل کتنا روپیہ اس کی ملك میں ہے خواہ اس کے اپنے پاس رکھا ہو یا کسی کے پاس امانت ہویا کسی کو قرض دے دیا ہو اس قدر پر زکوۃ واجب آئے گی اور جو سال تمام ہونے سے پہلے صرف ہوگیاہو وہ حساب زکوۃ میں محسوب نہ ہوگا مثلا یکم محرم ۱۵ کو چھپن روپے کامالك ہوا تھا ربیع الاول میں سواور ملے جمادی الآخر میں دوسو اور ملے یہ دوسو مالك مکان کو قرض دے دے تو اس پر اسی یکم محرم سے سال چل رہا ہے اور ابھی کہ سال تمام نہ ہوا کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کس قدر پر زکوۃ واجب ہوگی اب اگر یکم محرم ۱۶ کے آنے سے پہلے مکان کی بیع واقع ہوگئی اور وہ دو سو کے قرض دئے تھے سال تمام سے پہلے قیمت مکان میں محسوب ہوگئے تو یہ دوسو حساب زکوۃ سے خارج ہوگئے کہ ان پر سال نہ گزرا اسی طرح اگر بیع نہ ٹھہری اور روپیہ واپس لے لیا اور سال تمام سے پہلے کل یا بعض خرچ ہوگیا تو اس سے بھی تعلق نہ رہا تمامی سال پر جو باقی رہے اسے دیکھیں گے کہ روپیہ زائد ہے تو اس پر ایك سال کی زکوۃ واجب ہوگی اور اگر سال تمام پر سے بھی کم رہے تو کچھ نہیں کہ اگر چہ ابتداء میں نصاب بلکہ نصاب سے زائد کا مالك تھا مگر سال نہ گزرنے پایا کہ نصاب سے کم ہوگیا تو وجوب زکوۃ کا محل نہ رہا اور اگر سال تمام تك یعنی جب سے یہ شخص مالك نصاب ہوا سال پورا ہونے تك نہ بیع ٹھہری نہ روپیہ واپس ہوا
حوالہ / References العقودالدریۃ کتاب الھبۃ حاجی عبدالغفار وپسران تاجرانِ کتب ارگ بازار قندھار ۲/۹۱
#9429 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
بلکہ مالك مکان پر قرض ہی رہا تو اب اس پر کہ خود نصاب بلکہ چند نصاب ہیں اور اس کے سوا اور جو نقد اس وقت موجود ہو غرض جس قدر روپیہ سونا یا چاندی حاجات اصلیہ سے فاضل ملك میں ہے خواہ شروع سال زکوۃ سے تھا خواہ بیچ میں ملا اس سب پر زکوۃ واجب ہوئی جو نقد ہے اس پر تو واجب کے ساتھ وجوب ادا ابھی ہوگا فی الحال دی جائے اور جوقرض ہے اس پر ہنوز وجوب ادا نہیں وصول پانے پر ہوگا خواہ روپیہ ہی وصول ہو یوں کہ بیع نہ ٹھہری اور روپیہ واپس ملے خواہ بیع ہوکر قیمت میں مجرا ہوجائے کہ یہ بھی وصول پالیناہے پھر ازانجا کہ قرض دین قوی ہے اور صورت مسئولہ میں ابتدائے نصاب مال نقد سے ہے کہ اسی پر سال زکوۃ شروع ہوا اس سال تمام پر یا اس کے بعد جو رقم قرض سے وصول ہوگی اسے دیکھا جائے گا کہ خمس نصاب یعنی کے پانچویں حصے لہ ۳ ۲-۲ / ۵ پائی سے کم ہے یا نہیں اگر کم ہے اور کوئی مال نقد نہ اس وقت موجود نہ سال رواں کے ختم پر آکر ایسا ملا جو اس رقم وصولی سے مل کر خمس نصاب ہوجاتا تو اس کی زکوۃ دینی اصلاواجب نہ ہوگی نہ سال گزشتہ کے کیے نہ رواں کے لیے اور اگر ایسا مال نقد پایا جائے تو اسے اس کے ساتھ ملادیں گے پھر اگر عین سال تمام کے وقت وصول ہوا تو خود روز وصول ورنہ سال تمام رواں پر جو باقی ہوگا اس پر یہ حکم لگائیں گے کہ ہر خمس نصاب پر اس کا چالیسواں حصہ واجب الادا اور خمس سے کم پر کچھ نہیں اور اگر رقم وصول مذکور خمس نصاب سے کم نہیں تو جس قدر برس اس پر حالت دین میں گزرے ہوں ان سب کی زکوۃ دینا آئے گی جب تك زکوۃ نکالتے نکالتے خمس نصاب سے کم نہ رہ جائے۔ پھر بہر حال جس قدر خمس سےکم رہے گا اس کا وہی حکم ہے اور مال نقد ہو تو اس کے ساتھ ملا کر تمام رواں پر حکم دیکھا جائے گا ورنہ کچھ نہیں سب صورتوں کی مثال لیجئے مثلا ۲۵ذی الحجہ ۱۴ کو تین سو درہم شرعی کا مالك ہوااس وقت سے سال زکوۃ شروع ہوگیا یہ سب روپے وسط سال میں کسی کو قرض دے دیئے خاص سال تمام کے دن ان سے انتالیس درہم شرعی وصول ہوئے اور آج کچھ نقد اس کی ملك نہیں تو ان لع درہم پر بھی کچھ دینا نہ آئے گا کہ یہ خمس نصاب یعنی چالیس درہم سے کم ہیں اور اگر سال تمام سے پہلے مثلا ۲۴ذی الحجہ ۱۵ کو یا شروع سال میں مالکیت دن کے بارہ۱۲ بجے ہوئی تھی اب ۲۵ ذی الحجہ ۵ ۱ کو بارہ بجے سے ایك لحظہ پہلے انتالیس لع درہم کہیں اور سے مل گئے اور اسی وقت ایك درہم اس قرض میں سے وصول ہوا تو اسے ان انتالیس لع درہم میں ملادیں گے اب یہ چالیس درہم ہوگئے کہ خمس کامل ہے تو ایك درہم دینا واجب آیا اور اگر اسی صورت میں مثلاقرض میں سے بھی انتالیس درہم وصول ہوئے کہ نقد موجود سے مل کر اٹھتر مع درہم ہوگئے تو بھی ایك ہی درہم کہ ایك خمس کامل یعنی چالیس درہم کی زکوۃ ہے واجب الادا ہوگا باقی اڑتیس درہم زائد کہ خمس سے کم ہیں سال تمام آئندہ کے ا نتظار میں رہیں گے اور اگر سرے سے فرض کیجئے کہ شروع سال زکوۃ کو پانچ سال کامل گزر گئے اس وقت تك کچھ نہ ملا اس کے بعد چوالیس درہم
#9430 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
قرض سے وصول ہوئے اور ان کے سوا اور کچھ نقد نہیں تو اس رقم میں صرف ایك خمس نصاب ہے اوپر کے چاردرہم زیادہ ہیں یہ خمس پانچ برس تك فرض تھا تو ہر سال کی بابت ایك درہم دینا واجب ہو اپانچ درہم زکوۃدے اور اگر اسی صورت میں تینتالیس درہم وصول ہوئے تو چاردرہم زکوۃ دینا واجب ہوگی جب بابت سال اول ایك درہم زکوۃ کا ان للعہ پر ڈالا تو سال دوم کے لیے للعہ رہے ان پر ایك درہم اس سال کا ڈالا سوم کے لیے لہ للع رہے چہارم کے لیے تو یہ چار درہم واجب الادا ہوئے پنجم کے لیے صرف لعہ ہی رہ گئے کہ خمس سے کم ہیں ان پر کچھ نہیں اسی طرح اگر للعہ وصول ہوتے تو تین ہی درہم دینے آتے اور لہ للعہ تو دو اور للعہ تو ایك ہی اور للعہ للعہ سے زیادہ پانچ ہی دینے ہوں گے جب تك پورے اسی۸۰تك نہ پہنچیں اسی لہ پر چھ۶ لازم آئیں گے پہلے سال دوخمس کے دو۲درہم اب سال دوم اٹھتر لعہ رہ گئے کہ ایك ہی خمس کامل ہے تو باقی چار سال میں ایك ہی ایك لازم آیا یوں ہی بیاسی۸۲ وصول ہوں تو سات دے گا کہ دو سال تك دو خمس کامل رہے چوراسی۸۴ پر آٹھ چھیاسی۸۶ پر نو اٹھاسی۸۸ سے زیادہ سب پر دس۱۰ جب تك ایك سو بیس ۱۲۰ کامل نہ ہوں۔ پھر ایك سوبیس۱۲۰ پر گیارہ وعلی ہذاالقیاس۔ یہ اس صورت میں ہے کہ کچھ نقد نہ ہو ورنہ اس کے ساتھ ملا کر حساب لگائیں گے مثلاتینتالیس۴۳ وصول ہونے پر چاردرہم لازم آتے تھے اگر نقد ایك درہم بھی موجود ہے تو پورے پانچ آئیں گے کہ اس کے ساتھ مل کر چوالیس۴۴ ہوگئے اور چوالیس پر پانچ لازم تھے وقس علی ھذا ۔ پھر بہر صورت جو فاضل بچا وہ سال تمام آئندہ کا انتظار کرے گا یہ ہے جو کلمات علماء سے فہم فقیر میں آیا
وارجو ان یکون صوابا ان شاء اﷲتعالی واﷲ تعالی باحکامہ علیم۔
میں امید وار ہوں کہ یہ ان شاء اﷲتعالی صواب ہے اور اﷲتعالی اپنے احکام کو خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
تنویر الابصار و درمختار وردالمحتار میں ہے :
الدیون تجب زکوتھا اذا تم نصابا بنفسہ اوبما عندہ یتم بہ النصاب وحال الحول ولو قیل قبضہ فی القوی والمتوسط لکن لا فورا بل عند قبض ار بعین درھما من القوی کقرض فکلما قبض اربعین درھمایلزمہ درھم عند قبض مائتین من متوسط و
قرضوں پر زکوۃ لازم ہے جب خود نصاب ہوں یاا پنے پاس جو کچھ ہے اس سے مل کرنصاب بن جائیں اور اس پر سال گزر جائے اگر چہ قوی اور متوسط میں قبضہ سے قبل گزرے لیکن فی الفور نہیں بلکہ قوی میں چالیس درہم کے قبضہ پر جیسے قرض قوی ہے پس جب بھی چالیس دراہم پر قبضہ ہوگا ایك درہم لازم ہوگا اور متوسط میں دوسو درہم کے قبضہ پر ۔
#9431 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
فی البدائع قال الکرخی ھذااذا لم یکن لہ مال سوی الدین والا فما قبض منہ فھو بمنزلۃالمستفاد فیضم الی ما عندہ وکذلك فی المحیط اھ ملتقطا۔
بدائع میں ہے امام کرخی نے فرمایا : یہ تب ہے جب دین کے علاوہ اس کے پاس مال نہ ہو اور اگر مال ہو تو جتنے حصے پر قبضہ ہوگا وہ بمنزلہ منافع ہوگااپنے پاس موجود مال سے اسے ضم کیا جائے گا اور محیط میں بھی اسی طرح ہے اھ ملتقطا(ت)
نیز ردالمحتار میں ہے :
ذکرفی المنتقی رجل لہ ثلثما ئۃ درھم دین حال علیھا ثلثۃ احول فقبض مائتین فعند ابی حنیفۃ یزکی للسنۃ الاولی خمسۃ وللثانیۃ والثالثۃ اربعۃ اربعۃ عن مائۃ وستین ولا شئی علیہ فی الفضل لانہ دون الاربعین۔
منتقی میں ہے کہ ایك شخص کا تین سودرہم دین ہے اور اس پر تین سال گزر گئے اسے دوسودرہم وصول ہوئے تو امام ابو حنیفۃ رحمۃاﷲتعالی علیہ کے نزدیك پہلے سال کے پانچ اور دوسرے و تیسرے سال کے چار چار درہم ایك سوساٹھ دراہم پرہونگے اور چالیس سے کم زائد پر کچھ نہیں۔ (ت)
اسی میں محیط سے ہے :
لو کان لہ الف علی معسر فا شتری منہ بھادینا را ثم وھبہ منہ فعلیہ زکوۃ الالف لانہ صارقابضا لہا بالدینار اھ۔
اگر کسی تنگدست پر ہزار درہم قرض ہے تو اس سے ایك دینار خرید کر پھر اسے ہبہ کردیا تو اب زکوۃ ہزار ہی کی ہے کیونکہ وہ دینار کی وجہ سے ہزار ہی کا قابض متصور ہوگا اھ(ت)
شرح نقایہ قہستانی میں ہے :
یضم الحادث ولوقبیل اخر الحول لانہ قبل وقت الوجوب اھ۔
نئے مال کو شامل کیا جائیگا اگر چہ سال کے آخر سے تھوڑا سا پہلے ملا ہوکیونکہ یہ وقت وجوب سے پہلے ہے اھ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار مع درمختار شرح تنویرالابصار باب زکوٰۃ المال مصطفی البابی مصر ۲ /۳۸تا۴۰
ردالمحتار مع درمختار شرح تنویرالابصار باب زکوٰۃ المال مصطفی البابی مصر ۲ /۳۸
ردالمحتار مع درمختار شرح تنویرالابصار باب زکوٰۃ المال مصطفی البابی مصر ۲ /۴۰
جامع الرموز کتاب الزکوٰۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۲ /۳۱۶
#9432 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
ادا نہ کرنے کی حالت میں جو مواخذہ زکوۃ دینے پر ہے اس کا سزا وار ہوگا معاذاﷲمعاذاﷲ وہ نہ ہلکا ہے نہ قابل برداشت اس کے بارے کچھ آیات و احادیث فقیر کے رسالہ اعزالا کتنا ۃفی ردصدقۃ مانع الزکوۃ (۱۳۰۹ھ)میں مذکور ہوئیں ان میں بعض کا خلاصہ یہ کہ جس سونے چاندی کی زکوۃ نہ دی جائے روز قیامت جہنم کی آگ میں تپا کر اس سے ان کی پیشانیا ں کروٹیں پیٹھیں داغی جائیں گی۔ ان کے سر پستان پر جہنم کا گرم پتھر رکھیں گے کہ چھاتی توڑ کر شانے سے نکل جائے گا اور شانے کی ہڈی پر رکھیں گے کہ ہڈیاں توڑتا سینے سے نکل ا ئے گا پیٹھ توڑکر کروٹ سے نکلے گا گدی توڑ کر پیشانی سے ابھرے گا۔ جس مال کی زکوۃ نہ دی جائے گی روز قیامت پرانا خبیث خونخوار اژدہا بن کر اس کے پیچھے دوڑے گا یہ ہاتھ سے روگے گا وہ ہاتھ چبالے گا پھر گلے میں طوق بن کر پڑے گا اس کا منہ اپنے منہ میں لے کر چبائے گا کہ میں ہوں تیرا مال میں ہوں تیرا خزانہ۔ پھر اس کاسارا بدن چباڈالے گا۔ والعیاذباﷲرب العالمین واﷲسبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ۴۹ : ۵ جمادی الاولی ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کی رخصت جمادی الاولی ۱۳۱۵ھ میں ہوئی اور اس وقت وہ جہیز کی مالك ہوئی اس سے پہلے مالك نہ تھی اس وقت اس کی ملك میں زیور طلائی لہ ۰۹مہ تولے تھااور زیور نقرئی ما روپیہ بھر اس قدر اخیر عمر تك اس کے پاس رہا تین سال دس ماہ تئیس دن کے بعد ربیع الآخر شریف ۱۳۱۹ھ میں ہندہ نے انتقال کیا اس وقت اس کے پاس چار عدد طلائی اور تھے ایك سات۷تولہ گیارہ۱۱ماشہ کا جس کی دس ماہ پیش از مرگ مالك ہوئی دوسرادو۲تولے کا کہ موت سے ڈیڑھ سال پہلے ملا تھا تیسرا چار۴تولے کا دو۲سال پہلے چوتھاپانچ تولے کا تین سال پہلے اس صورت میں ہندہ پر زکوۃ کس قدر ہوئیبینواتوجروا۔
الجواب :
ہندہ پر تین سال زکوۃ واجب ہوئی کہ چوتھے سال میں ایك ماہ سات۷ روز باقی تھے کہ اس نے وفات پائی مال کہ وقت رخصت ملا اس پر تینوں برسوں کی زکوۃ ہے یوں ہی چوتھاعدد پانچ تولے کا جب مرگ سے تین سال پہلے ملا تو رخصت کے ۱۰ماہ۲۳دن بعد بالجملہ پہلے سال تمام سے پہلے پایا تووہ بھی مال اول میں شامل ہوا اور تینوں سال کی زکوۃ اس پر آ ئی اور یہیں سے واضح ہوا کہ تیسرے عدد پر دو۲ سال اخیر کی زکوۃ ہے اور دوسرے پر ایك ہی برس کی اور پہلے پر اصلانہیں تو سونے میں حاصل ملك ہندہ باعتبار ہر سہ سال یہ ہوا سال اول (۰۹ / ما) دوم( ۰۹ما)سوم للعہ(۰۹ما )صورت مسئولہ میں جبکہ ہندہ اسی قدر مال کی مالك تھی اور زکوۃ تینوں سال نہ دی تو ہر پہلی زکوۃکا دین سال کے مال سے مجرا ہوتا رہاواجب سال اول طلائی ۱۱ماشہ ۷ سرخ نقرہ تین روپیہ بھر اور
#9433 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
تین ماشے تین سرخ مال سال دوم سے استثناء کیا تو سال دوم طلا لعہ( ۱۰مہ )۲ سرخ رہا واجب ۱۱ ماشہ ۷ سرخ ۵-۱ / ۵چاول اور نقرہ ما عصہ (۷ مہ۷سرخ)رہا واجب تین روپے بھر ۲مہ۲ ۲ سرخ ۲ ۴-۳ / ۵چاول سال سوم طلا واجب دو سال ایك تولہ ۱۱ ماشے ۱سرخ ۵-۱ / ۵چاول نقرہ واجب دو۲ سال سے روپے بھر ۵ ماشہ ۶سرخ ۴-۳ / ۵چاول منہا کرکے باقی طلا للعہ( ۱۰مہ) ۲سرخ۲-۴ / ۵چاول واجب ایك تولہ دو سرخ ۴۷ / ۱۰۰چاول نقرہ ما عصہ روپیہ بھر ۵ ماشہ تین سرخ ۳-۲ / ۵ واجب ۳روپیہ بھر ایك ماشہ ۴ سرخ ۲-۱۳۷ / ۲۰۰چاول جمیع واجب سہ سالہ طلا ۲تولے ۱۱ ماشے ۳ سرخ ۵-۴۷ / ۱۰۰چاول یعنی دو۲ تولے ۱۱ ماشے ۳ رتی ۵ چاول کے سو حصوں سے سڑسٹھ۶۷ حصے نقرہ لعہ تولہ ۷ ماشہ ۲ سرخ ۷-۵۷ / ۲۰۰ یعنی نو روپیہ بھر او ر۷ ماشے ۲ رتی ۷ چاول اور چاول کے دو۲ حصوں سے ستاون۵۷ حصے یہ سب مذہب صاحبین پر ہے اور مذہب امام پر کچھ کمی خفیف ہوجائے گی سائل اس پر راضی نہ ہواور تخفیف ہی چاہے تو یہ ضرور ہے کہ تینوں برس ہر سال تمام کے صحیح تاریخ پر سونے اور چاندی کا صحیح نرخ بازار دریافت کرکے بتائیے نیز یہ کہ کس کس عدد کے قیمت بوجہ صنعت اپنے وزن سے کس کس قدر زائد ہے بے اس کے حساب نا ممکن ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۵۰ : از بنگالہ ضلع سلہٹ پر گنہ بیجواڑہ موضع ناران گولہ ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك آدمی ایك سو روپے کی زکوۃ دے کر مدفون کیا پھر دوسرے سال میں زکوۃ دینا ضروری ہے یا نہیں بینوابحوالہ کتاب توجروا یوم الحساب۔ فقط
الجواب :
ہر برس ضرور ہے جب تك کل مال زکوۃ جو اس کی ملك ہے حقیقۃیا حکمانصاب یعنی ساڑھے سات تولہ سونے یا ساڑھے باون تولہ چاندی یعنی انگریزی چھپن ۵۶ روپے سے کم نہ ہوجائے حقیقۃکم ہوجانا یہ کہ زکوۃ وغیرہ میں صرف کرتے کرتے خواہ کسی اور طور سے گھٹ جائے اورحکمایہ کہ ہربرس زکوۃ واجب ہوتی رہی اور ادا نہ کی کہ ہر سال زکوۃ کا دین اس پر چڑھتا رہا یہاں تك کہ مال زکوۃ قدر نصاب نہ رہا مثلاصرف یہی سو روپے مگر اس کے پاس مال زکوۃ تھا اور یہی رہا اور مال زیادہ نہ ہوا تو اب پہلے سال تمام پر بر بنائے مذہب صاحبین ڈھائی روپے واجب ہوئے مگر اس نے ادا نہ کی دوسرے سال تمام پر زکوۃ صرف ۹۷ روپے ۸ آنے رہی کہ ۲ روپے ۸ آنے دین زکوۃ سال گزشتہ میں مشغول ہیں اس سال ۲ روپے ۷ آنے واجب ہوئے تیسرے سال تمام پر دو۲ سال گزشتہ کا دین زکوۃ ۴ روپے ۱۵ آنے مستثنی ہوکر فقط پچانوے روپے ایك آنہ پر زکوۃ آئی کہ ۲ روپیہ چھ آنے اور ایك پیسے کی چاندی کا دسواں حصہ ہوا وعلی ھذاالقیاس جب گھٹتے گھٹتے ۵۶ روپے سے کم رہ جائے تو زکوۃ واجب نہ ہوگی ۔
#9434 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
فی الدرالمختار سبب افتراضھا ملك نصاب حولی فارغ من دین لہ مطالب من جہۃ العباد کزکوۃ وخراج اھ ملخصا
وفی الہندیۃ رجل لہ الف درھم لامال لہ غیرھا استا جربھا دارا عشرسنین لکل سنۃ مائۃ فدفع الالف ولم یسکنھا حتی مضت السنون والدارفی ید الاجریزکی الاجر فی السنۃ الاولی عن تسع مائۃ وفی الثانیۃ عن ثمان مائۃ الا زکوۃ السنۃالاولی ثم یسقط لکل سنۃ زکوۃ مائۃ اخری وما وجب علیہ با لسنین الماضیۃ الخ واﷲتعالی اعلم ۔
درمختار میں ہے کہ زکوۃ کی فرصت کا سبب ایسے نصاب کا مالك ہونا ہے جس پر سال گزرا ہو اور وہ ایسے دین سے فارغ ہو جس کا مطالبہ بندوں کی طرف سے ہو مثلازکوۃ خراج وغیرہ اھ تلخیصا۔ ہندیہ میں ہے ایك آدمی کے پاس ہزار دراہم ہیں اس کے علاوہ کوئی مال نہیں اس نے ان کے عوض دس سال تك گھر کرایہ پر لے لیا کہ ہر سال کے عوض ایك صد درہم ادا کرے گا اس نے ہزار درہم دے دئے مگر اس گھر میں وہ کسی سال تك رہائش پذیر نہ ہوا اور گھر آجر کے پاس ہی رہا تو آجر پہلے سال نو سو کی دوسرے سال آٹھ سوکی مگر گزشتہ سال زکوۃ کی مقدار نکال کر پھر ہر سال ایك سو اور وہ جو گزشتہ سالوں کی زکوۃ کی مقدار ہو سالانہ ساقط ہوتی جائے گی واﷲتعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۵۱ : ۶شعبان المعظم ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے جس مال تجارت پر ایك مرتبہ زکوۃ ادا کردی پھر دوسرے سال اس پر زکوۃ دینا نہ چاہیے بلکہ اس کے نفع پر زکوۃ دینا چاہئے۔ بینوا توجروا
الجواب :
مال تجارت جب تك خود یا دوسرے مال زکوۃ سے مل کر قدر نصاب اور حاجت اصلیہ مثل دین زکوۃ وغیرہ سے فاضل رہے گا ہر سال اس پر زکوۃ واجب ہوگی زید کا بیان محض غلط ہے تشہد بہ الکتب قاطبۃ۔ وا ﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۵۲تا ۵۴ : مسؤلہ محمد صبور سوداگرمیزکرسی بریلی متصل کڑہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
(۱)ایك شخص نے اپنی تجارت کے آغاز کے وقت یہ قرار دیا کہ جو منافع ہوگا اس کاسولھواں حصہ اﷲتعالی نام
حوالہ / References درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی۱ /۱۲۹
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثانی فی الفروض نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۸۲-۱۸۱
#9435 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
صرف کرنا شروع کیا وقت کرنے حساب کے منافع کی تعداد کا سولھواں حصہ کم نکلا اس صرف سے جو وہ کارخیر میں صرف کر چکا یہ فاضل روپیہ بمدزکوۃ داخل ہوسکتا ہے یانہیں
(۲)ایك شخص حق الحنث کے ساتھ ایك تجارت میں شریك ہے قبل حاصل ہونے منافع کے اس تجارت سے بتدریج اپنے صرف کے واسطے لیتا رہا وقت معلوم ہونے منافع کے وہ قرضدار تجارت کا تھا جو منافع اس کے نامزد ہوا وہ قرضہ میں داخل کیا اس حالت میں اس منافع کی زکوۃ اس کے ذمہ عائد ہے یا نہیں
(۳)ایك شخص وقت شروع کرنے تجارت کے دیگر شخص سے جو اس کی تجارت میں شرکت روپے کے ساتھ دینا چاہتا تھا ظاہر کیا کہ میں وقت چٹھہ کے (معلوم کرنا منافع کا) پہلے زکوۃ نکال دیتاہوں بعدہ منافع تقسیم کیا جاتا ہے اس دیگر شخص نے اس بات کو پسند کیا اور روپیہ کے ساتھ منافع میں برابر کا شریك ہوا اس بات کے ظاہرکرنے سے کیااس کے ذمہ اس کے روپیہ کی بھی زکوۃ عائد ہوگی یا صرف منافع کی رقم رہی جو طرفین کے حصہ سے خرچ میں داخل ہوتی ہے۔ بینوا توجروا
الجواب :
(۱)جبکہ بہ نیت زکوۃ وہ دینا نہ تھا تو جو زائد دیا گیا زکوۃ میں محسوب نہیں ہو سکتا ہاں آئندہ سال کے اس سولھویں حصہ میں مجرا ہوسکتا ہے جو اس نے اﷲعزوجل کے لیے دینا ٹھہرا رکھا ہے مثلا اس وقت دس روپیہ زیادہ پہنچے اور آئندہ سا ل منافع کا سولھواں حصہ سو روپے ہو تو اسے اختیار ہے کہ یہ دس ۱۰اس میں محسوب کرکے نوے روپے دے۔
(۲)نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم
(۳)دوسرے کی زکوۃ اس کے ذمہ عائد نہیں ہو سکتی ایك پر اس کے حصہ کی زکوۃ لازم ہے اور زکوۃ صرف منافع مال تجارت پر نہیں ہوتی جس طرح مکان زمین دکان کے صرف منافع پر ہوتی ہے یہاں ایسا نہیں بلکہ کل مال تجارت پر لازم ہوتی ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۵۵ : ازمحلہ چاہ بائی مسؤلہ حافظ محمد صادق مختار عام منشی رحیم دادخاں صاحب تحصیلدار ۲۵شعبان ۱۳۳۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مالك ہے جائداد زمینداری وغیرہ کا اور ا س کی آمدنی مختلف اوقات میں وصول ہوتی رہتی ہے اور مالگزاری و نیز دیگر اخراجات میں خرچ ہوتی رہتی ہے اور ایسی صورت میں حساب سالانہ انگریزی ماہ کتوبر سے شروع ہوتا ہے اور ماہ ستمبر میں ختم کیا جاتا ہے لہذاجو رقم بعد اخراجات کے آخر سال پر باقی رہتی ہے اس پر زکوۃ کب واجب ہوگیکس وقت اس کو ادا کرنا چاہئے بینوا توجروا
#9436 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
الجواب :
ستمبر اکتوبر کا اعتبار حرام ہے نہ اس کے اوقات آمدنی پر لحاظ بلکہ سب میں پہلی جس عربی مہینے کی جس تاریخ جس گھنٹے منٹ پر وہ۵۶ روپیہ کا مالك ہوا اور ختم سال تك یعنی وہی عربی مہینہ وہی تاریخ وہی گھنٹہ منٹ دوسرے سال آنے تك اس کے پاس نصاب باقی رہا وہی مہینہ تاریخ منٹ اس کے لیے زکوۃ دینا فرض ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۵۶ : از شہر بریلی اسٹیشن ریلوے سٹی آر کے آر نعمت حسین دراپور ۱۵ربیع الآخر۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدعرصہ تخمینابیس سال سے ریلوے کمپنی کے یہاں ملازم ہے اور ریلوے اپنے قاعدے کے موافق بشمول دیگر ملازمان کے زید کی تنخواہ ماہواری سے ایك آنہ چار۴پائی فی روپیہ بطورضمانت مجراکر لیتی ہے اور بعد چھ۶ماہ کے اس روپے کو کسی دوسری تجارت وغیرہ میں لگا دیتی ہے درصورت نفع و نقصان کے رسدی کمی بیشی کرکے پھر ششماہی پر رسید دے دیتی ہے ابتدا میں ایك روپیہ دو۲ آنہ مجرا ہوتا تھا جوں جوں تنخواہ میں ترقی ہوتی گئی اس میں بھی اضافہ ہوتا گیا چنانچہ اب مبلغ تین روپے ماہوار مجرا کیا جاتا ہے اور اب اصل تعداد مبلغ پانچسو کی ہوگئی ہے اور کل تعداد ایك ہزار سے زائد ہوگئی ہے جس وقت زید ملازمت سے علیحدہ ہوگا اس وقت اس کو اور اس کے ورثا کو وصول ہوگا بشرطیکہ میعاد ملازمت اچھے طریقہ پر ختم ہوجائے اور کوئی قصور وغیرہ واقع نہ ہو مگر پانچسو روپے جو اصلی ہے اس میں کسی طرح اندیشہ نہیں ہے سوا اس کے کہ درمیان ملازمت کے روپے کا وصول ہونا نا ممکن ہے جب تك ملازمت سے مستعفی نہ ہو ازروئے شریعت اس روپے پر زکوۃ دینا فرض ہے یانہیں اگر ہے تو کس وقت سے دی جائے گیاصلی تعداد پردی جائے گی یا کل روپے پر اور نصاب زکوۃ کس قدر اور اس پر مقدارزکوۃ کیا ہےبینواتوجروا
الجواب :
جب سے وہ اصلی روپیہ خود یا مع اور زکوتی مال کے جوزیدکے پاس ہے قدر نصاب یعنی ۵۶روپے تك پہنچا اور حوائج اصلیہ سے بچ کر اس پر سال گزرا اس وقت سے اس پر زکوۃ واجب ہوئی اور سال بسال جدیدہ زکوۃ واجب ہوتی رہی ہاں اگلے سال کی جتنی زکوۃ واجب ہوئی ہے اس سال جمع میں سے اتنا کم کرلیں گے کہ اتنا اس پراﷲ عزوجل کادین ہے باقی مع جدید مقدار سال حال پر زکوۃ آئے گی تیسرے سال کی جمع میں سے دو۲برس گزشتہ کی زکوۃ واجب شدہ مجرا کریں گے اور سال حال کا اضافہ شامل کریں گے اس قدر پر زکوۃ آئے گی چوتھے سال کی جمع میں سے تین سال کی زکوۃ مذکورمجرا کریں گے اور سال حال کا اضافہ شامل کریں گے اس قدر زکوۃ آئے گی چوتھے سال کی جمع میں سے تین سال کی زکوۃ مذکور مجرا اور امسال کا اضافہ شامل ہوگا اخیر تك یونہی کرینگے
#9437 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
تجارت میں وہ روپیہ اگر اس کی اجازت سے لگایا جاتا ہے تو اس کا منافع شامل ہوگا اس طور پرزکوۃ سال بہ سال واجب ہوا کرے گی مگر اس روپیہ کی زکوۃادا کرنا اس وقت لازم ہوگا جب وہ وصول ہوگا اور جو اضافہ کمپنی سود کے طریقے پر کرتی ہے اس پر کبھی زکوۃ نہ ہوگی نہ وہ اس کی ملك ہے نہ اسے سود کی نیت سے کسی طرح جائز ہے ہاں بعد ختم اگر کمپنی بطور خود اس کو وہ اضافہ دے اور کمپنی میں کوئی مسلمان شریك نہ ہو تو یہ اس اضافہ کو اس نیت سے لے سکتا ہے کہ ایك غیر مسلم جماعت ایك مال بخوشی دیتی ہے یوں مال مباح سمجھ کرلے سکتا ہے سود کی نیت نہ ہو واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۵۷ : از کوسی کلاں ضلع متھرا مرسلہ اﷲمہر ۲۱رمضان المبارك ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ اس میں کہ زکوۃ اعلان سے دینا بہتر ہے یا خفیہ طور سے بینواتوجروا
الجواب :
زکوۃ اعلان کے ساتھ دینا بہتر ہے اور خفیہ دینا بھی بے تکلف روا ہے اور اگر کوئی صاحب عزت حاجتمند ہوکہ اعلانیہ نہ لے گا یا اس میں سبکی سمجھے گا تو اسے خفیہ بھی دینا بہتر ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۵۸ : از سید پور ڈاك خانہ وزیرگنج ضلع بدایوں مرسلہ آغازعلی خاں ۱۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
تجارت کے سرمایہ اصلی پر یعنی اس کی لاگت پر زکوۃ دینا واجب ہے یا منافع پر
الجواب :
تجارت کی نہ لاگت پر زکوۃ ہے نہ صرف منافع پر بلکہ سال تمام کے وقت جو زر منافع ہے اور باقی مال تجارت کی جو قیمت اس وقت بازار کے بھاؤسے ہے اس پر زکوۃ ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۵۹ : مسئولہ حافظ محمودحسین صاحب ۱۹ ذی الحجہ ۱۳۰۸ھ
زید نے بکر کو کچھ دیا اور کہا اس کو مساکین کوجہاں مناسب سمجھو دے دیجیو اگر زید خود اس کا مصرف ہو اپنے اوپر اس کو صرف کر سکتا ہے یا نہیں بینو اتوجروا
الجواب :
جس کے مالك نے اسے اذن مطلق دیا کہ جہاں مناسب سمجھو دو تو اسے اپنے نفس پر بھی صرف کرنے کا اختیار حاصل ہے جبکہ یہ اس کا مصرف ہو۔ ہاں اگر یہ لفظ نہ کہے جاتے اسے اپنے نفس پر صرف کرنا جائز نہ ہوتا مگر اپنی یا اولاد کودے دینا جب بھی جائز ہوتا اگر وہ مصرف تھے۔ درمختار میں ہے :
للوکیل ان یدفع لولدہ الفقیر وزوجتہ لا لنفسہ الااذاقال ربھا
وکیل کو جائز ہے کہ اپنے نابالغ فقیربچے اور اپنی بیوی مستحق کو زکوۃ دے دے جبکہ خود نہیں لے سکتا
#9438 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
ضعھا حیث شئت۔ واﷲتعالی اعلم۔
ہاں اگر مال والے نے یہ کہا ہو کہ جہاں مناسب سمجھو خرچ کرو تو اپنے لیے بھی جائز ہے واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۶۰تا ۶۲ : از اندورسیاگنج مرسلہ طاہرمحمد عبدالغنی صاحب ۱۱ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں :
(۱)اگر چند اشخاص دولتمند کئی ہزار روپے زکوۃ کا جمع کرکے چند معتبر لوگوں کے سپرد اس غرض سے کریں کہ وہ روپیہ حقداران زکوۃ حسب ضرورت ان کے دیاجائے۔
(۲)وہ لوگ جن کی سپرد گی میں مال زکوۃ دیا گیاہے وہ اس مال کو بڑھانے کی غرض سے تجارت میں لگا سکتے ہیں یا نہیں یا کسی تاجر کی شرکت میں شامل کرسکتے ہیں یا نہیں
(۳)ایك ایسا شخص کہ جس کے نزدیك اپنا ذاتی مکان ہے اور اس مکان کی سالانہ آمدنی سوروپے تھی مگر بوجہ عیالدار ہونے کے اس کا خرچ تین سو روپے سالانہ ہے تو ایسے شخص کو زکوۃ کے مال سے امداد دینا جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
(۱ و ۲) ان لوگوں پر فرض ہے کہ وہ روپیہ مستحقین زکوۃ پر تقسیم کردیں اس سے تجارت کرنا ان کو حرام ہے جب تك اذن جملہ مالکان نہ ہو اور مالکوں کو بھی جائز نہیں کہ اگر ان پر زکوۃ کا پورا سال ہوچکا ہوتو زکوۃ روکیں اور تجارت کے منافع حاصل ہونے پر ملتوی کریں۔ سال تمام پر زکوۃ فورافورا ادا کرنا واجب ہے ہاں جس نے پیشگی دیا ہوا بھی سال تمام اس پر نہ آیا ہو وہ سال تمام آنے تك ٹھہرے سکتا ہے پھر اگر یوں کرے کہ مثلاہزارروپے سال آئندہ کی زکوۃ کی نیت سے تجارت میں لگادئے کہ ان سے جو نفع ہو وہ بھی مع ان ہزار کے فقراء کودے گا تو یہ نہایت محبوب عمل ہے
وفیہ حدیث من زرع شعیراجرۃ الاجیر وحصل منہ اموالا فلما جا ء الاجیر سلم کلھا الیہ ففرج اﷲبہ منہ وھم اصحاب الرقیم رضی اﷲتعالی عنھم۔
اس بارے میں وہ حدیث ہے کہ جس نے مزدور کی اجرت جو کو بویا اور اس سے جواموال حاصل ہوئے جب مزدور آیا تو وہ تمام اموال اسے دے دئے تو اﷲتعالی نے انھیں ( رضی اللہ تعالی عنہم ) کو راستہ دیا جب وہ غار میں پھنس گئے تھے اور وہ اصحاب کہف ہیں (ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۳۰
صحیح مسلم باب قصہ اصحاب الغارالثلٰثہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۲/۳۵۳
#9439 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
مگر یہ ضرور ہے کہ اگر تجارت میں نقصان ہو تو نقصان فقراء پر نہیں ڈال سکتا ان کو سال تمام پر پورے ہزار دینے لازم ہوں گے۔
(۳)ہاں اسے زکوۃ دے سکتے ہیں اگر چہ اس کی حاجت سکونت کا مکان ہزار روپے کا ہویا کرائے پر چلالے کہ مکان سے ہزار روپے سالانہ آتا ہواور اس کا ضروری مصارف و نفقہ اہل و عیالل سے اتنا نہ بچتا ہو کہ وہ اپنی حاجت اصلیہ سے فارغ ۵۶ روپے کا مالك ہو۔ عالمگیریہ میں ہے :
لوکان لہ حوانیت او دارغلۃ تساوی ثلاثۃ الاف درھم وغلتہا لا تکفی لقوتہ وقوت عیالہ یجوز صرف الزکوۃ الیہ فی قول محمد رحمہ اﷲتعالی ولو کان لہ ضیعۃ تساوی ثلثۃالاف ولا تخرج مایکفی لہ ولعیالہ اختلفوا فیہ قال محمد بن مقاتل یجوز لہ اخذالزکوۃ ھکذا فی فتاوی قاضیخان۔ واﷲتعالی اعلم۔
اگر کسی شخص کی دکانیں اور کرایہ کی جگہ ہے جو تین ہزار دراہم کے مساوی ہیں لیکن کرایہ اس کےاور اس کے عیال کے لیے کافی نہیں تو امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیك اس پر زکوۃ خرچ کرنا جائز ہے اور اگر اس کی زمین ہے جو تین ہزار کے مساوی ہے لیکن اس سے اتنی پیداوار نہیں ہوتی جو اس کے اور اس کے اہل وعیال کے لیے کافی ہو تو اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے محمد بن مقاتل کہتے ہیں کہ اس کے لیے زکوۃ لینا جائز ہے۔ اسی طرح فتاوی قاضی خاں میں ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۶۳تا ۶۴ : مرسلہ محمد قاسم صاحب از مقام گونڈل علاقہ کا ٹھیارواڑ ۴ ذیقعدہ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے علمائے دین و شرع متین ذیل کے مسئلوں میں :
(۱)ایك شخص نے چالیس یا پچاس ہزار کے مکانات اپنی حاجات سے زیادہ صرف کرایہ وصول کرنے کی غرض سے خرید کیے آیا اس صورت میں حاجت سے زیادہ مکانات میں ان کی قیمت کے اوپر زکوۃ فرض ہے یا جو کرایہ آتا ہے اس کے اوپر ہے
(۲)جو صاحب مکان کی زینت کے لیے تانبے پیتل چینی وغیرہ کے برتن خرید کرکے مکان کو سجاتا ہے اورکبھی وہ برتن استعمال میں بھی آتے ہیں اور کبھی نہیں بھی آتے ہیں اس صورت میں کیا حکم ہےبینوا توجروا
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الباب السابع فی المصارف ، نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۱۸۹
#9440 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
الجواب :
(۱)مکانات پر زکوۃ نہیں اگر چہ پچاس کروڑ کے ہوں کرایہ سے جو سال تمام پر پس انداز ہوگااس پر زکوۃ آئے گی اگر خود یا اور مال سے مل کر قدر نصاب ہو ۔
(۲)برتن وغیرہ اسباب خانہ داری میں زکوۃ نہیں اگرچہ لاکھوں روپے کے ہوں زکوۃ صرف تین۳ چیزوں پر ہے : سونا چاندی کیسے ہی ہوں پہننے کے ہوں یا برتنے کے سکہ ہو یا ورق۔ دوسرے چرائی پر چھوٹے جانور۔ تیسرے تجارت کا مال۔ باقی کسی چیز پر نہیں۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۶۵ : ازبدایوں خانہ اسسٹنٹ کمشنر ۷ ربیع الاول شریف ۱۳۰۸ھ
ایك شخص کے پاس مال زکوۃ کے قابل ہے اس نے سال گزشتہ کے بعد یکمشت روپیہ مسلمان محتاج کو دیا لیکن اس نے زکوۃ کی نیت بر وقت دینے کے نہ کی نہ اس کے دل میں خیال آیا کہ زکوۃ ادا کرتا ہوں بعد کو خیال آیا ہو تو یہ دیاہوا روپیہ زکوۃ میں داخل ہوا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
اگر یہ مال محتاج کو دیا خالص بہ نیت زکوۃ الگ رکھا تھا یعنی اس نیت سے جدا کرکے رکھ چھوڑا کہ اسے زکوۃ میں دیں گے تو جس وقت اس میں سے محتاج کو دیا گیا زکوۃ ادا ہوگئی اگر چہ دیتے وقت زکوۃ کا خیال نہ آیا اور ایسا نہ تھا وہ مال جب تك محتاج کے پاس موجود ہے اب اس میں زکوۃ کی نیت کرلے صحیح ہوجائے گی اور اگر اس کے پاس نہ رہا تو اب نہیں کرسکتا یہ مال خیرات نفل میں گیا زکوۃ جدا ادا کرے۔ درمختار میں ہے :
شرط صحۃ ادا ئھانیۃ مقارنۃ للاداء ولوکانت المقارنۃ حکماکما لودفع بلانیۃ ثم نوی والمال قائم فی یداالفقیر اومقارنۃ بعزل ما وجب کلہ او بعضہ ولا یخرج عن العھدۃ بالعزل بل بالاداء للفقراء اھ ملخصا وا ﷲتعالی اعلم۔
صحت ادائیگی زکوۃ کے لیے ادا کے وقت نیت کا متصل ہونا ضروری ہے خواہ اتصال حکمی ہو مثلاکسی نے بلا نیت زکوۃ ادا کردی اور ابھی مال فقیر کے قبضہ میں ہو تو نیت کرلی یا کل یا بعض مال برائے زکوۃ جدا کرتے وقت نیت کرلی جائے باقی جدا کرنے سے ذمہ داری پوری نہیں ہوتی بلکہ فقراء تك پہنچانے سے ہوگی اھ تلخیصا واﷲتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی۱/۱۳۰
#9441 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
مسئلہ ۶۶ : از مونگیر محلہ بٹون بازار مرسلہ شیخ امداد علی صاحب ۲۱صفر ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو روپیہ قرض و دین میں لوگوں پر پھیلا ہو اور زر وصولی ہو تو اس پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں اگر واجب ہوگی تو فی الحال یا بعد وصول اور کتنے وصول پر واجب ہوگی اوراس پر سال تمام کب سے لیا جائے گابینواتوجروا
الجواب :
دین تین۳ قسم ہے :
اول : قوی یعنی قرض جس عرف میں دست گرد ان کہتے ہیں اور تجارتی مال کا ثمن یا کرایہ مثلا اس نے بہ نیت تجارت کچھ مال خریدا وہ قرضوں کسی کے ہاتھ بیچا تو یہ دین جو خریدا پر آیا دین قوی ہے یا کوئی مکان یا دکان یا زمین بہ نیت تجارت خریدی تھی اب اسے کسی کے ہاتھ سکونت یا نشست یا زراعت کے لیے کرایہ پر دیا یہ کرایہ اگر اس پر دین ہوگا تو دین قوی ہوگا۔
دوم : متوسط کہ کسی مال غیر تجارتی کا بدل ہو مثلاگھر غلہ یا اثاث البیت یا سواری کا گھوڑا کسی کے ہاتھ بیچا یونہی اگر کسی پر کوئی دین اپنے مورث کے ترکہ میں ملا تو مذہب قوی پر وہ بھی دین متوسط ہے۔
سوم : ضعیف کہ کسی مال کا بدل نہ ہو جیسے عورت کا مہر کہ منافع بضع کا عوض ہے یا وہ دین جو بذریعہ وصیت اسے پہنچا یا بسبب خلع عورت پر لازم آیا یا مکان زمین کہ بہ نیت تجارت نہ خریدی تھی ان کا کرایہ چڑھا قسم سوم کے دین پر جب تك دین رہے اصلازکوۃ واجب نہیں ہوتی اگر چہ دس برس گزر جائیں ہاں جس دن سے اس کے قبضہ میں آئے گا شمارزکوۃ میں محسو ب ہوگا یعنی اس کے سوا اور کوئی نصاب زکوۃ اسی کی جنس سے اس کے پاس موجود تھا اس پر سال چل رہا تھا تو جو وصول ہوا اس میں ملا لیا جائے گا اور اسی کے سال تمام پر کل کی زکوۃ لازم ہوگی اوراگر ایسا نصاب نہ تھا تو جس دن سے وصول ہوا اگر بقدرنصاب ہے اسی وقت سے سال شروع ہوا ورنہ کچھ نہیں اور دوقسم سابق میں تجارت دین ہی سال بسال زکوۃ واجب ہوتی رہے گی مگر اس ادا کرنا اسی وقت لازم ہوگا جبکہ اس کے قبضہ میں دین قوی سے بقدر خمس نصاب یامتوسط سے بقدر کامل نصاب آئیگا یہاں کے روپے میں نصاب کامل روپیہ ہے اور اس کا خمس لہ ۲۳-۲ / ۵پائی پھر اگر دین کئی سال کے بعد وصول ہو تو ہر سال متقدم کی زکوۃ جو اس کے ذمہ دین ہوتی رہی وہ پچھلے سال کے حساب میں اسی وصو لی رقم پر ڈالی جائے گی مثلاعمروپر زیدکے تین سودرہم شرعی دین قوی تھے پانچ برس بعد چالیس درہم سے کم وصول ہوئے تو کچھ نہیں اور چالیس ہوئے تو صرف ایك درہم دینا آئے گا اگر چہ پانچ برس کی زکوۃ واجب ہے کہ سال اول کی بابت ان چالیس درہم سے ایك درہم دینا آیا یا اب انتالیس رہ گئے کہ خمس نصاب سے کم ہے لہذا باقی برسوں کی بابت ابھی
#9442 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
کچھ نہیں اور اگر تین سودرہم دین متوسط تھے تو جب تك دوسو وصول نہ ہوں کچھ واجب الادا نہیں اور دوسو درہم اگر پانچ برس بعد وصول ہوئے تو اکیس درہم دینے ہوں گے سال اول کے پانچ درہم اب سال دوم میں ما رہ گئے تو کہ خمس سے کم تھے عفو ہو کر ما درہم 'سال سوم میں ما لہ رہے اب بھی چاردرہم چہارم میں ما معہ پنجم میں ما لعہ ان پر بھی چار چار 'کل لہ درہم واجب الادا ہوئے یونہی جب دین قوی سے خمس نصاب اور متوسط سے پورا نصاب ہوتا جائے گا اسی حساب سے اتنے کی زکوۃ سنین گزشتہ کی زکوۃ واجب الادا ہوتی جائے گی اگر کل وصول ہوگا کل کی پھر دین ہونے کی تاریخ سے سال اول حالت میں مانا جائے گا جبکہ اس سے پہلے اس کی کسی جنس کے نصاب کا سال رواں نہ تھا ورنہ جودین وسط سال میں اس کا یا فتنی ہوا وہ اسی مال موجود میں ملا کر اس کے سال سے حساب رہے گا مثلایکم محرم کو دوسو درم کا مالك ہوا یکم رجب کو اس کا کوئی دین قوی یا متوسط کسی پر لازم آیا تو اس دین کا سال بھی یکم محرم سے لیں گے نہ کہ یکم رجب سے تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
الدیون عند الامام ثلثۃ قوی متوسط ضعیف فتجب زکوتھما اذا تم نصابا (بنفسہ اوبماعندہ ممایتم بہ)وحال الحول(ای ولو قبل قبضہ فی القوی و المتوسط)لکن لافورا بل عند قبض اربعین درھما من القوی کقرض وبدل مال تجارت فکلما قبض اربعین درھما یلزمہ درھم و عند قبض مائتین من بدل مال لغیرتجارۃوھو المتوسط کثمن سائمۃ وعبید خدمۃ ویعتبر مامضی من الحول قبل القبض فی الاصح ومثلہ مالوورث دینا علی رجل وعند قبض مائتین مع حولان الحول بعدہ من ضعیف و
امام صاحب کے نزدیك دیون کی تین اقسام ہیں : قوی متوسط ضعیف ۔ دیون پر زکوۃ ہوتی ہے بشرطیکہ وہ خودیا مالك کے پاس موجودہ مال سے مل کر نصاب کو پہنچیں اور ان پر سال گزرا ہوا اگر چہ قوی اور متوسط قبضہ سے پہلے ہو لیکن فورانہیں بلکہ قوی میں چالیس دراہم کے قبضہ پر ایك درہم ہوگا جیسا کہ قرض اوربدل مال تجارت میں ہوتا ہے تو جب بھی چالیس درہم پر قابض ہوگا ایك درہم لازم ہوگا غیر تجارت کے بدلے میں جو دین ہوتا ہے اسے متوسط کہا جاتا ہے اس میں سے دوسودراہم کے قبضہ کے بعد زکوۃ ہوگی مثلاسائمہ کے قیمت خدمت والے غلاموں کے قیمت اصح قول کے مطابق قبضہ سے قبل گزشتہ سالوں کا بھی اعتبار کیا جائیگا اسی کی مثل وہ صورت ہے جب کوئی دین میں کسی کا وارث بنا اور ضعیف میں دوسوکے
#9443 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
ھو بدل غیر مال کمھرو بدل خلع الا اذا کان عندہ مایضم الی الدین الضعیف (الاولی ان یقول ما یضم الدین الضعیف الیہ و الحا صل انہ اذا قبض منہ شیأ وعندہ نصاب یضم المقبوض الی النصاب و یزکیہ بحولہ ولا یشترط لہ حول بعد القبض) اھ ملخصا۔ مزید امن رد المحتار اقول والاولی فی رسم الضعیف مالیس بدل یشتمل مالیس بدلااصلا کالدین الموصی بہ فی ردالمحتار عن المحیط اما الدین الموصی بہ فلا یکون نصاباقبل القبض لان الموصی لہ ملکہ ابتداء من غیر عوض ولا قائم مقام الموصی فی الملك فصار کما لو ملکہ بھبۃ اھ ھذا۔ وفی الخانیۃ والفتح والبحر واللفظ لقاضی خان اذا اجر دارہ اوعبدہ بمائتی درھم لاتجب الزکوۃ مالم یحل الحول بعد القبض فی قول ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲتعالی علیہ فان کانت الدار و العبد للتجارۃ وقبض
قبضہ کے وقت زکوۃ ہوگی بشرطیکہ اسکے بعد سال گزرے اور دین ضعیف غیر مال کا بدل ہوتا ہے مثلا مہر بدل خلع مگر ایسی صورت میں جب دین ضعیف کے ساتھ مالك کے پاس موجود مال ہوتوملایا جائے(بہتریہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ دین ضعیف کو اس مال کے ساتھ ملایا جائے حاصل یہ ہے کہ اس میں سے جب کسی شئی پر قبضہ ہوا حالانکہ مالك کے پاس نصاب بھی تھا تو اب مقبوض کو نصاب سے ملا کر سال کی زکوۃ دی جائے اس میں قبضہ کے بعد سال کا گزرنا شرط نہیں)اھ تلخیصا اضافی عبارت ردالمحتار کی ہے اقول' ضعیف کی تعریف یوں کرنا بہتر ہے کہ جو مال کا بدل نہ ہوتا اسے بھی شامل ہوجائے جو اصلابدل ہی نہیں مثلاوہ دین جس کی وصیت کی گئی ہو۔ ردالمحتار میں محیط سے ہے وہ دین جس کی وصیت کی گئی ہو وہ قبض سے پہلے نصاب نہیں بن سکتا کیونکہ موصی لہ بغیر عوض کے ابتداء مالك بن رہا ہے اور یہ ملکیت میں وصیت کرنے والے کا قائم مقام بھی نہیں یہ ایسے ہوگا جیسے وہ ہبہ کا مالك بنا ہواھ۔ خانیہ فتح اور بحر میں ہے اور الفاظ قاضی خاں کے ہیں جب کسی نے دار یا غلام دوسو دراہم کے عوض اجرت پر دیاتوامام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے قول کے مطابق قبضہ کے بعد سال گزرنے سے پہلے زکوۃ لازم نہ ہوگی اگر دار اور غلام تجارت کے لیے تھے اور سال کے
حوالہ / References درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ المال مطبع مجتبائی دہلی۱/۱۳۶
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃالمال مصطفی البابی مصر ۲/۳۸تا ۴۰
#9444 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
اربعین درھما بعد الحول کان علیہ درھم بحکم الحول الماضی قبل القبض لان اجرۃ دارالتجارۃ وعبدالتجارۃ بنزلۃثمن مال التجارۃ فی الصحیح من الروایۃ اھ قلت : فتقدم علی روایۃ انھا من الضعیف اوالوسیط وان مشی علی الاخری فی المحیط وکذلك کون الموروث من المتوسط ھو الرجیح وان جزم فی الھندیۃ عن الزاھدی انہ من الضعیف فقد مرضھا فی الخانیۃ واخر وھکذااشار الی تضعیفہ فی الفتح والبحر وفی ردالمحتار عن المنتقی رجل لہ ثلثمائۃ ردھم دین حال علیھا ثلثۃ احوال فقبض مائتین عند ابی حنیفۃ یزکی للسنۃ الاولی خمسۃ وللثانیۃ والثالثۃ اربعۃ اربعۃ من مائۃ وستین ولا شئی ولیہ فی الفضل لانہ دون الاربعین اھ وفی الھندیۃ عن شرح المبسوط للامام السرخی ان الدین مصروف الی المال الذی فی یدہ االخ وفی ردالمحتار اذا کانت لالف من دین قوی کبدل عروض تجارۃ فان ابتداء الحول ھو حول الاصل الا من حین البیع ولا من حین القبض فاذا قبض منہ نصابااواربعین
بعد چالیس دراہم پر قبضہ ہوا تو اب ایك درہم لازم اس سال کی وجہ سے ہوا جو قبضہ سے پہلے گزرا ہے کیونکہ صحیح روایت مطابق دارتجارت اور عبد تجارت کی اجرت مال تجارت کے ثمن کی مثل ہوتی ہے اھ قلت : پہلے ایك روایت میں گزرا ہے کہ یہ دین ضعیف یامتوسط سے ہے اگر چہ محیط میں دوسری روایت کو اختیار کیا ہے اسی طرح مال موروثہ بھی متوسط میں سے ہے اور یہی راجح ہے اگر چہ ہندیہ میں زاہدی سے اس کے ضعیف ہونے پر جزم کیا ہے خانیہ میں اسے کمزور قرار دیا ہے ۔ اسی طرح فتح اور بحر میں اس کے ضعف کی طرف اشارہ ہے ۔ ردالمحتار میں منتقی سے ہے کہ کسی شخص کا تین سودراہم دین تھا اور اس پر تین سال گزرے تو اس کا دوسو پر قبضہ ہوا تو امام ابو حنیفہ کے نزدیك پہلے سال پانچ دوسرے و تیسرے میں ایك سوساٹھ میں سے چارچار درہم زکوۃ دے فضل میں کوئی شئی لازم نہ ہوگی کیونکہ وہ چالیس سے کم ہیں اھ ۔ ہندیہ میں امام سرخسی کی شرح مبسوط سے ہے کہ دین اس مال کی طرف لوٹے گا جس پر قبضہ ہو الخ ردالمحتار میں ہے کہ جب دین قوی مثلا بدل سامان تجارت ہزار دراہم ہوں تو سال کی ابتداء حول اصل سے ہوگی نہ کہ وقت بیع سے اور نہ وقت قبضہ سے تو جب اس نے دین سے نصاب یا چالیس درہم پر قبضہ کیاتو اس سال کا
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں فصل فی مال التجارۃ نولکشور لکھنؤ ۱ /۱۹- ۱۱۸
ردالمحتار باب زکوٰۃ المال مصطفی البابی مصر ۲ /۳۸
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الزکوٰۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۷۳
#9445 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
درھما زکاہ عما مضی بانیا علی حول الاصل فلو ملك عرضا للتجارۃ ثم بعد نصف الحول با عہ ثم بعد حول و نصف قبض ثمنہ فقد تم علیہ حولا ن فیزکیھما وقت القبض بلا خلاف اھ اقول : وانما خص الکلام بالقوی لان اصلہ من اموال الزکوۃ بخلاف المتوسط فلا حول لاصلہ فلو لم یکن لہ قبلہ نصاب من جنسہ لا یبتدأ الحول الامن حین البیع لانہ بہ صار مال الزکوۃ کما نقلہ ھھنا عن المحیط ولیس یرید ان فی الوسیط لا یبتدأ الامن وقت البیع وان وجد قبلہ نصاب یجانسہ تحت حولان الحول فانہ خلاف مسئلۃ المستفاد والمتفق علیھا عند علما ئنا المصرح بھا فی جمیع کتب المذھب متونا وشر وحا و فتاوی فافھم وتثبت۔ وﷲتعالی اعلم۔
اعتبار کرتے ہوئے گزشتہ عرصہ کی زکوۃ دے اگر کوئی شخص تجارت کے لیے سامان کا مالك ہوا پھر اس نے نصف سال کے بعد سامان بیچ ڈالا اور ڈیڑھ سال کے بعد اس کے ثمن پر قبضہ کیا تو اب اس پر دو سال گزرچکے ہیں تواب بلااختلاف وقت قبض سے اس کی زکوۃ دی جائے گی اھاقول : دین کے ساتھ کلام مخصوص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کااصل اموال زکوۃ سے ہوتا ہے بخلاف دین متوسط کہ وہاں اس کے اصل پر سال شرط نہیں ہے اب اگر اس کی جنس سے پہلے نصاب نہ تھا تو اب سال کی ابتداء بیع کے وقت سے ہی ہوگی کیونکہ اس کی وجہ سے وہ مال زکوۃ بنا ہے جیسا کہ اس مقام پر محیط سے منقول ہوا ہے اور یہ مراد نہیں کہ متوسط میں وقت بیع سے پہلے ابتداء نہیں ہوسکتی اگر چہ سال پہلے اس کی جنس سے نصاب ہوکیونکہ یہ مسئلہ مستفاد اور اس متفق علیہ مسئلہ کے خلاف ہے جس پر ہمارے علماء نے تمام کتب کے متون شروحات اور فتاوی میں تصریح کی ہے پس اسے اچھی طرح سمجھ لو اور اس پر قائم رہو۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۶۷ : ۲۲ شوال ۱۳۱۴
جب قرضہ کے ادا کی شکل نہ ہوئی تو شوہر نے والدہ کو رقعہ لکھ دیا اور وہ زیور ان سے واپس لے کر فروخت کر ڈالا اور روپیہ تجارت میں لگایا بیچنا مجھے منظور نہ تھا مگر مجبور ی تھی کہ روز گار نہ تھا شوہر کی بیکاری تھی قرضہ ابھی ادا نہ ہوا اور وہ تجارت بھی نقصان ہوکر چھٹ گئی مالك تجارت شوہر ہی سمجھے جاتے تھے اس کی آمد گھر میں سب بال بچوں کے خرچ میں صرف ہوتی تھی تجارت چھٹنے کے بعد جو روپیہ بچا وہ سب گھر کے خرچوں میں صرف ہوا کبھی یہ ذکر درمیان نہ آیا کہ میرے زیور کا روپیہ ہے کیونکہ معاملہ ایك سمجھا جاتا تھا اب وہ روپیہ بھی نہیں اور
حوالہ / References ردالمحتار باب وجوب الزٰکوۃ فی دین المر صد مصطفی البابی مصر ۲/۳۹
#9446 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
نہ شوہر کا روز گار ٹھیك ہے اور قرضہ بدستور ہے بینواتوجروا۔
الجواب :
اگر زیور تمھاری اجازت سے بیچ کر شوہر نے اپنی تجارت میں لگایا اگر چہ وہ اجازت اسی مجبوری سے تھی کہ شوہر کی بیکاری ہے تو اس کی قیمت شوہر پر قرض رہی اور اگر بے تمھاری اجازت کے بطور خود بیچ ڈالا اگر چہ تم نے سکوت کیا تو حکم غصب میں تھا بہر حال سال بسال اس کی زکوۃ تم پر واجب ہوتی رہی اور واجب ہوا کرگی جب تك نصاب باقی ہے مگر اس زکوۃ کا دینا تم پر واجب نہ ہوگا جب تك شوہر اس میں سے بقدر گیارہ روپے سوا تین آنہ کچھ کوڑیاں کم کے تمھیں ادا نہ کرے یعنی لہ ۳ / ۲-۲ / ۵ پائی جس وقت اس قدر اس میں سے تمھارے قبضہ میں آئے گا اس وقت اس مقداار کا چالیسوں حصہ دینا واجب ہوگا اور اگر کچھ قبضہ میں نہ آئے گا تو اس زکوۃ کا اد اکرنا تو واجب نہ ہوگا
قال الشامی فی مسئلۃالمغصوب قال والظاھر علی القول بالوجوب ان حکم الدین القوی اھ ای فتجب عند قبض اربعین درھما۔
مغصوب میں فرمایا کہ ظاہر وجوب کا قول ہی ہے کیونکہ یہی دین قوی کا حکم ہے اھ یعنی چالیس درہم کے قبض پر ایك درہم لازم۔ (ت)
ہاں اگر تم نے وہ زیور انھیں دے ہی دیا تھا اس کی قیمت کبھی لینے کا خیال نہ تھا تو تم پر اس کی زکوۃ واجب ہی نہیں کہ ایسی حالت میں تمھیں استحقاق واپسی نہ رہا جبکہ کسی قرینہ سے شوہرکو مالك کر دینا سمجھا گیا ہو واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۶۸ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی شخص کا روپیہ اگر قرض میں پھیلا ہوتو اس کی زکوۃ اس کے ذمہ فرض ہے یا نہیںبینو اتوجروا
الجواب :
جو روپیہ قرض میں پھیلا ہے اس کی بھی زکوۃ لازم ہے مگر جب بقدر نصاب یا خمس نصاب وصول ہو ااس وقت ادا واجب ہوگی جتنے برس گزرے ہوں سب کا حساب لگا کر۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۶۹ : ۸ شوال ۱۳۱۴ھ
(۱)شوہر میرا قرضدار ہے اور میرے پاس زیور ہے زکوۃ کے لائق اور میرا شوہر کا معاملہ ایك ہے اور میرے پاس جو کچھ روپیہ ہوا تو شوہر کے قبضہ میں دے دیا یہ سمجھ کر کہ میرا اور ان کا معاملہ واحد ہے بلکہ شوہر کو معلوم بھی
حوالہ / References ردالمحتار باب وجوب الزٰکوۃ فی دین المر صد مصطفی البابی مصر ۲/۳۹
#9447 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
بعد کو ہوا اب میرا نہ شوہر پر تقاضا ہے نہ یہ گفتگو ہوئی کہ میں نے معاف کردیا بلکہ اپنا ان کا معاملہ ایك سمجھ کر قرضہ میں دے دیا اب جو زیور ہے وہ قرضہ سے بہت کم ہے لیکن زکوۃ کے لائق ہے اس صورت میں زکوۃ دینا فرض ہے یا نہیںاور خرچ بال بچوں کا بہت ہے آمد بہت کم ہے اگر زکوۃ فرض ہوتو کچھ ایسی صورت بتائے کہ جس میں زکوۃ بھی ادا ہوجائے اور خرچ کو تکلیف نہ ہو۔
(۲)جو روپیہ میری والدہ کے پاس سے مجھ کو ملا تھا میں نے شوہر کے قرضہ میں دے دیا یا گھر میں بال بچوں کے خرچ میں صرف ہوا زکوۃ کا حال معلوم نہ تھا مجھ پر فرض ہے۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
(۱)عورت اور شوہر کا معاملہ دنیاکے اعتبار سے کتنا ہی ایك ہو مگر اﷲعزوجل کے حکم میں وہ جدا جدا ہیں جب تمھارے پاس زیور زکوۃ کے قابل ہے اور قرض تم پر نہیں شوہر پر ہے تو تم پر زکوۃ ضرور واجب ہے اور ہر سال تمام پر زیور کے سوا جو روپیہ یا اور زکوۃ کی کوئی چیز تمھاری اپنی ملك میں تھی اس پر بھی زکوۃ واجب ہوئی جو روپے تم نے بغیر شوہر کے کہے بطور خود ان کے قرضہ میں دے دیا وہ تمھار ااحسان سمجھاجائے گا اس کا مطالبہ شوہرسے نہیں ہوسکتا بال بچوں کا خرچ باپ کے ذمہ ہے تمھارے ذمہ نہیں زکوۃ دینے سے خرچ کی تکلیف نہ سمجھوں بلکہ اس کا نہ دینا ہی تکلیف کا باعث ہوتا ہے نحوست اور بے برکتی لاتا ہے اور زکوۃ دینے سے مال بڑھتا ہے اﷲتعالے بر کت وفراغت دیتا ہے قرآن مجید میں اﷲکا وعدہ ہے اﷲتعالے سچا اور اس کا وعدہ سچا والسلام۔
(۲)اگر روپیہ تم نے شوہر کو دیا کہ اس سے اپنا قرض ادا کرلو اور اسے دے ڈالنا مقصود نہ تھا تو وہ روپیہ تمھارا شوہر پر قرض ہے۔
فی العقود الدریۃ عن لسان الحکام دفع الیہ دراھم فقال لہ انفقھا ففعل فھو قرض کما لو قال اصرفھا الی حوائجک۔
عقودالدریہ میں لسان الحکام سے ہے کہ اگر کسی کو یہ کہتے ہوئے دراہم دئے گئے کہ تم انھیں خرچ کرو اب اس نے خرچ کرلیے تو یہ قرض ہے جیسا کہ کہا ہو کہ تو اسے اپنی ضروریات میں خرچ کرے(ت)
اس صورت میں تو وہی حکم ہے کہ اس کی زکوۃ تم پر سال بسال واجب جب تك نصاب باقی رہے مگر یہ زکوۃ دینا اسی وقت لازم ہوگا جب شوہر سے بقدرلہ ۳ / کے وصول پاؤ گی اس وقت اس زکوۃ میں سے ساڑھے چار آنے دینے واجب ہوں گے کچھ کوڑیاں کم یعنی ۴ / ۵-۱۹ / ۲۵پائی اور اگر شوہر کو دے ڈالا یا بطورخود شوہر کی
حوالہ / References العقود الدریۃ کتاب الھبۃ حاجی عبدالغفار وپسران تاجر ان کتب ارگ بزار قندھار افغانستان ۲/۹۱
#9448 · تجلّی المشکوٰۃ لانارۃ اسئلۃ الزّکوٰۃ ۱۳۰۷ھ (زکوٰۃ کے مسائل کو واضح کرنے کے لئےچراغ کی چمک
درخواست کے ان کے قرضہ دے دیا تو یہ روپیہ اور نیز وہ جو بچوں کے خرچ میں صرف ہوا ان میں یہ دیکھا جائے گا کہ زکوۃ کا سال تمام ہونے سے پہلے یہ روپیہ دے ڈالا اورصرف ہوگیا جب تو کچھ نہیں اور اگر بعد زکوۃ واجب ہونے کے دے دیا اور اٹھ گیا تو جب تك باقی تھا اتنی مدت کی زکوۃ واجب رہے جب سے دے ڈالا خرچ ہوگیا زکوۃ لازم نہ ہوئی۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۷۱ : ۲۱صفر ۱۳۳۲ھ
عورت پر مہر کی زکوۃ کون سی صورت سے واجب ہوگی مثلا مہر غیر معجل ہے یا کہ معجل اور غیر معجل دونوں میں عورت نے معاف کردیا یا کہ معجل اور غیر معجل دونو ں شوہر نے ادا نہ کیا عورت پر جب بھی کیا زکوۃ واجب بینواتوجروا۔
الجواب :
معجل مہر سے جب بقدر خمس نصاب ہو اس وقت عورت پر زکوۃ واجب الادا ہوگی اور پہلے دیتی رہے تو بہتر ہے اور یہ مہر جو عام طور پر بلا تعین وقت باندھا جاتاہے جس کا مطالبہ عورت قبل موت و طلاق نہیں کر سکتی اس پر زکوۃ کی صلاحیت بعد وصول ہوگی۔ واﷲ تعالی اعلم۔
_________________
#9449 · رسالہ : اعزّالاکتناہ فی ردّصدقۃ مانع الزّکٰوۃ ۱۳۰۹ (زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے صدقہ نفلی کے رَد کے متعلق نا درتحقیقِ حقیق)
مسئلہ ۷۲ : از پیلی بھیت مرسلہ عبدالرزاق خاں ذیقعدہ الحرام ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنے روپیہ کی زکوۃ نہیں دیتا ہے مگر روپیہ مصرف خیر میں صرف کرتا ہے یعنی ہر روز فقراء کو زر نقد و غلہ تقسم کرتا ہے اور ایك مسجدبنوائی ہے اورایك گاؤں اس روپیہ سے خرید کر واسطے خیرات کے ہبہ کر دیا ہے اور تاحیات خود زرتوفیر اس کا صرف کرتا رہے مصرف خیر میں۔ اب ایك اور شخص یہ کہتا ہے کہ جس روپیہ کی زکوۃ نہیں دی گئی ہے اس روپیہ سے کسی قسم کی خیرات جائز نہیں ہے ہرروز کی خیرات اور بنانا مسجد کا اور گاؤں کا ہبہ کرنا سب اکارت ہے۔ فلہذا فتوی طلب کیا جاتا ہے کہ جس روپیہ کی زکوۃ نہیں دی گئی ہے اس روپیہ کو مصرف خیر میں صرف کرنا جیسا کہ بالامذکور ہے درست ہے یا نہیںاور اگر درست نہیں تو اس موضع کو ہبہ سے واپس لے کر دوبارہ اس قصد سے ہبہ کرے کہ اس موضع کی توفیر ہو جو ہر سال وصول ہوا کرے گی بالعوض اس زر زکوۃ کے جو اس کے ذمہ زمانہ ماضیہ کی دین ہے صرف ہوا کرے۔ بینوا توجروا
المکلف : عبدالرزاق خاں ولد نتھوخاں کھنڈ ساری ساکن پیلی بھیت محلہ اشرف خاں
#9450 · رسالہ : اعزّالاکتناہ فی ردّصدقۃ مانع الزّکٰوۃ ۱۳۰۹ (زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے صدقہ نفلی کے رَد کے متعلق نا درتحقیقِ حقیق)
الجواب :
زکوۃ اعظم فروض دین واہم ارکان اسلام سے ہے ولہذاقرآن عظیم میں بتیس ۳۲جگہ نماز کے ساتھ اس کاذکر فرمایا اور طرح طرح سے بندوں کو اس فرض اہم کی طرف بلایا صاف فرمادیا کہ زنہار نہ سمجھنا کہ زکوۃ دی تو مال میں سے اتنا کم ہوگیا بلکہ اس سے مال بڑھتا ہے۔
یمحق الله الربوا و یربی الصدقت-
اﷲہلاك کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو (ت)
بعض درختوں میں کچھ اجزائے فاسدہ اس قسم کے پیدا ہوجاتے ہیں کہ پیڑ کی اٹھان کو روك دیتے ہیں احمق نادان انھیں نہ تراشے گا کہ میرے پیڑ سے اتنا کم ہوجائے گا پر عاقل ہوشمند تو جانتا ہے کہ ان کے چھاٹنے سے یہ نونہا ل لہلہا کر درخت بنے گا ورنہ یوں ہی مرجھا کر رہ جائے گا یہی حساب زکوتی مال کا ہے۔ حدیث میں حضورپر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ما خالطت الصدقۃ او مال الزکوۃ مالا الا افسدتہ۔ رواہ البزار والبیھقی عن ام المومنین الصدیقہ رضی اﷲتعالی عنھا۔
زکوۃ کا مال جس میں ملا ہوگا اسے تباہ و برباد کردے گا۔ اسے بزار اور بیہقی نے ام المومنین الصدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا ۔
دوسری حدیث میں ہے حضوروالا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ماتلف مال فی بر ولا بحر الا بحبس الزکوۃ۔ اخرجہ الطبرانی فی الاوسط عن ابی ھریرۃ عن امیر المومنین عمر الفاروق الاعظم رضی اﷲ تعالی عنھما۔
خشکی و تری میں جو مال تلف ہوا ہے وہ زکوۃ نہ دینے ہی سے تلف ہواہے۔ اسے طبرانی نے اوسط میں ابوہریرہ سے امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔
تیسری حدیث میں ہے حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من ادی زکوۃ مالہ فقد اذھب اﷲشرہ ۔ اخرجہ ابن خزیمۃ فی صحیحہ والطبرانی
جس نے اپنے مال کی زکوۃ ادا کردی بیشك اﷲتعالی نے اس مال کاشر اس سے دور کردیا۔ اسے ابن خزیمہ
حوالہ / References القرآن ۲ /۲۷۶
شعب الایمان للبیہقی حدیث ۳۵۲۲ فصل الاستعفاف عن المسئلۃ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۲۷۳
مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط باب فرض الزکوٰۃ دارالکتاب العربی بیروت ۳ /۶۳
صحیح ابن خزیمۃ حدیث ۲۲۵۸ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۱۳
#9451 · رسالہ : اعزّالاکتناہ فی ردّصدقۃ مانع الزّکٰوۃ ۱۳۰۹ (زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے صدقہ نفلی کے رَد کے متعلق نا درتحقیقِ حقیق)
فی الاوسط والحاکم فی المستدرك عن جابر بن عبداﷲرضی اﷲتعالی عنھما۔
جس نے اپنے مال کی زکوۃ ادا کردی بیشك اﷲتعالی نے اس مال کاشر اس سے دور کردیا۔ اسے ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں طبرانی نے معجم اوسط میں اور حاکم نے مستدرك میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیاہے۔
چوتھی حدیث میں ہے حضورعلی صلوۃواﷲوسلامہ علیہ فرماتے ہیں :
حصنوااموالکم بالزکوۃ وداووا مرضاکم بالصدقۃ رواہ ابوداؤد فی مراسیلہ عن الحسن والطبرانی و البیھقی وغیرھما من جماعۃمن الصحابۃ رضی اﷲتعالی عنھم۔
اپنے مالوں کو مضبوط قلعوں میں کرلو زکوۃ دے کر اور اپنے بیماروں کا علاج کرو خیرات سے۔ اسے ابوداؤد نے اپنی مراسیل میں امام حسن بصری سے اور طبرانی و بیہقی اور دیگر محدثین نے صحابہ کی ایك جماعت سے نقل کیا ہے رضی اللہ تعالی عنہم ۔
اے عزیز !ایك بے عقل گنوارکو دیکھ کہ تخم گندم اگر پاس نہیں ہوتا بہزار دقت قرض دام سے حاصل کرتا اور اسے زمین میں ڈال دیتاہے اس وقت تو وہ اپنے ہاتھوں سے خاك میں ملا دیا مگر امید لگی ہے کہ خداچاہے تو یہ کھونا بہت کچھ پانا ہوجائے گا۔ تجھے اس گنوار کے برابربھی عقل نہیں یا جس قدر ظاہری اسباب پر بھروسہ ہے اپنے مالك جل وعلا کے ارشاد پر اتنا اطمینان بھی نہیں کہ اپنے مال بڑھانے اور ایك ایك دانہ ایك ایك پیڑ بنانے کو زکوۃ کا بیج نہیں ڈالتا۔ وہ فرماتا ہے : زکوۃ دو تمھارا مال بڑھے گا۔ اگر دل میں اس فرمان پر یقین نہیں جب تو کھلا کفر ہے ورنہ تجھ سے بڑھ کر احمق کون کہ اپنے یقینی نفع دین و دنیا کی ایسی بھاری تجارت چھوڑ کر دونوں جہانوں کا زیاں مول لیتا ہے۔
حدیث۱ : میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان تمام اسلامکم ان تؤدوازکوۃ اموالکم۔ رواہ البزار عن علقمۃ۔
تمھارے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے کہ اپنے مالوں کی زکوۃ ادا کرو۔ اسے بزار نے حضرت علقمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔
حدیث۲ : حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرتے ہیں :
من کان یؤمن باﷲورسولہ فلیؤد زکوۃ
جو اﷲاور اﷲکے رسول پر ایمان لاتا ہواسے لازم
حوالہ / References کتاب المرسیل باب الصائم یصیب اھلہ (۲۰)مکتبہ علمیہ لاہور ص ۶۲
کشف الاستارعن زوائدالبزار باب وجوب الزکوٰۃ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۴۱۶
#9452 · رسالہ : اعزّالاکتناہ فی ردّصدقۃ مانع الزّکٰوۃ ۱۳۰۹ (زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے صدقہ نفلی کے رَد کے متعلق نا درتحقیقِ حقیق)
مالہ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عمر رضی اﷲتعالی عنھما۔
جو اﷲاور اﷲکے رسول پر ایمان لاتا ہواسے لازم ہے کہ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے۔ اسے طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔
حدیث ۳ : حضورپر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : جس کے پاس سونا یا چاندی ہواور اس کی زکوۃ نہ دے قیامت کے دن اس زروسیم کی تختیاں بنا کر جہنم کی آگ میں تپائیں گے پھر ان سے اس شخص کی پیشانی اور کروٹ اور پیٹھ پر داغ دیں گے جب وہ تختیاں ٹھنڈی ہوجائیں گی پھر انھیں تپا کر داغیں گے قیامت کے دن کہ پچاس ہزار برس کا ہے یونہی کرتے رہیں گے یہاں تك کہ تمام مخلوق کا حساب ہوچکے۔ اخرجہ الشیخان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ (بخاری و مسلم نے اسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت) مولی تعالی فرماتاہے :
و الذین یكنزون الذهب و الفضة و لا ینفقونها فی سبیل الله-فبشرهم بعذاب الیم(۳۴) یوم یحمى علیها فی نار جهنم فتكوى بها جباههم و جنوبهم و ظهورهم-هذا ما كنزتم لانفسكم فذوقوا ما كنتم تكنزون(۳۵)
اور جو لوگ جوڑتے ہیں سونا چاندی اور اسے خدا کی راہ میں نہیں اٹھاتے یعنی زکوۃ ادانہیں کرتے انھیں بشارت دے دکھ کی مار کی جس دن تپا یا جائے گا وہ سونا چاندی جہنم کی آگ سے پس داغی جائیں گی اس سے ان کی پیشانیاں اور کروٹیں اور پیٹھیں یہ ہے جو تم نے اپنے لیے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھو مزا اس جوڑنے کا۔
پھر اس داغ دینے کو بھی نہ سمجھے کہ کوئی چہکا لگادیا جائے گا یا پیشانی و پشت و پہلو کی چربی نکل کر بس ہوگی بلکہ اس کا حال بھی حدیث سے سن لیجئے :
حدیث۴ : سید نا ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا : ان کے سر پستان پر وہ جہنم کا گرم پتھر رکھیں گے کہ سینہ توڑ کر شانہ سے نکل جائے گا اور شانہ کی ہڈی پر رکھیں گے کہ ہڈیاں توڑتا سینہ سے نکلے گا۔ اخرجہ الشیخان
حوالہ / References المعجم الکبیر حدیث ۱۳۵۶۱ عن عبداﷲابن عمر مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۲/۴۲۴
صحیح مسلم باب اثم مانع الزکوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی۱/۳۱۸
القرآن ۹ /۳۴
صحیح بخاری کتاب الزکوٰۃ باب ما ادی زکوٰتہ فلیس بکنز قدیمی کتب خانہ کراچی۱/۱۸۹
#9453 · رسالہ : اعزّالاکتناہ فی ردّصدقۃ مانع الزّکٰوۃ ۱۳۰۹ (زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے صدقہ نفلی کے رَد کے متعلق نا درتحقیقِ حقیق)
عن الاحنف بن قیس (اسے امام بخاری و مسلم نے حضرت احنف بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)اور فرمایا : میں نے حضورنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو فرماتے سنا کہ پیٹھ توڑ کر کروٹ سے نکلے گا اور گدی توڑکر پیشانی سے۔ رواہ مسلم (اسے امام مسلم نے روایت کیا۔ ت) اور اس کے ساتھ اور بھی ایك کیفیت سن رکھئے :
حدیث۵ : حضرت عبداﷲبن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا : کوئی روپیہ دوسرے روپے پر نہ رکھا جائے نہ کوئی اشرفی دوسری اشرفی سے چھوجائے گی بلکہ زکوۃ دینے والے کاجسم اتنا بڑھا دیا جائے گا کہ لاکھوں کروڑوں جوڑے ہوں تو ہرروپیہ جدا داغ دے گا۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر (اسے طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے۔ ت) اے عزیز!کیا خدا و رسول کے فرمان کو یونہی ہنسی ٹھٹھاسمجھتا ہے یا پچاس ہزار برس کی مدت میں یہ جانکاہ مصیبتیں جھیلنی سہل جانتا ہے ذرا یہیں کی آگ میں ایك آدھ روپیہ گرم کرکے بدن پر رکھ دیکھ پھر کہاں یہ خفیف گرمی کہاں وہ قہر آگ کہاں یہ ایك ہی روپیہ کہاں وہ ساری عمر کا جوڑا ہوامال کہاں یہ منٹ بھر دیر کہاں وہ ہزار دن برس کی آفت کہاں یہ ہلکا ساچہکا کہاں وہ ہڈیاں توڑکر پار ہونے والا غضب ۔ اﷲتعالی مسلمان کو ہدایت بخشے آمین !
حدیث۶ : مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : جوشخص اپنے مال کی زکوۃ نہ دے گا وہ مال روز قیامت گنجے اژدہے کی شکل بنے گا اور اس کے گلے میں طوق ہو کر پڑےگا۔ پھر سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کتاب اﷲ سے اس کی تصدیق پڑھی کہ رب عزوجل فرماتا ہے :
سیطوقون ما بخلوا به یوم القیمة-
رواہ ابن ماجۃ والنسائی وابن خزیمۃعن ان مسعود رضی اﷲتعالی عنہ۔
جس چیز میں بخل کررہے ہیں قریب ہے کہ طوق بنا کر ان کے گلے میں ڈالی جائے قیامت کے دن۔
اسے ابن ماجہ نسائی اور ابن خزیمہ نے حضرت عبداﷲابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے(ت)
حدیث۷ : فرماتے ہیں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم : وہ اژدہا منہ کھول کر اس کے پیچھے دوڑے گا یہ بھاگے گا اس سے فرمایا جائے گا : لے اپنا وہ خزانہ کہ چھپا کر رکھا تھا کہ میں اس سے غنی ہوں ۔ جب دیکھے گاکہ
حوالہ / References صحیح مسلم باب اثم مانع الزکوٰۃ نور محمد اصح المطابع کراچی۱ /۳۲۱
کشف الاستار عن زوائد البزار باب فیمن منع الزکوٰۃ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۴۱۸، المعجم الکبیر مروی از ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حدیث ۱۴۰۸ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۲ /۹۱
صحیح البخاری باب اثم مانع الزکوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی۱/۱۸۸
مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط باب فرض الزکوٰۃ دارالکتاب العربی بیروت ۳/۶۲
#9454 · رسالہ : اعزّالاکتناہ فی ردّصدقۃ مانع الزّکٰوۃ ۱۳۰۹ (زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے صدقہ نفلی کے رَد کے متعلق نا درتحقیقِ حقیق)
اس اژدہا سے کہیں مفر نہیں ناچاراپنا ہاتھ اس کے منہ میں دے دے گا وہ ایسا چبائے گا جیسے نراونٹ چباتا ہے۔ رواہ مسلم عن جابر رضی اﷲتعالی عنہ(اسے مسلم نے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
حدیث۸ : فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم : جب وہ اژدہا اس پر دوڑے گا یہ پوچھے گا تو کون ہے کہے گا میں تیرا وہ بے زکوتی مال ہوں جو چھوڑ مرا تھا جب یہ دیکھے گا کہ وہ پیچھا کیے ہی جارہا ہے ہاتھ اس کے منہ میں دے دے گا وہ چبائے گا پھر اس کا سارابدن چباڈالے گا۔ اخرجہ البزار والطبرانی وابنا اخزیمۃ وحبان عن ثوبان رضی اﷲتعالی عنہ(اسے بزار طبرانی ابن خزیمہ اور ابن حبان نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
حدیث۹ : فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم : وہ اژدہا اس کا منہ اپنے پھن میں لے کر کہے گا : میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔ رواہ البخاری والنسائی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ (اسے بخاری اورنسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
حدیث۱۰ : فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم : فقیر ہرگز ننگے بھوکے ہونے کی تکلیف نہ اٹھائیں گے مگر اغنیاء کے ہاتھوں سن لو ایسے تونگروں سے اﷲتعالی سخت حساب لے گا اور انھیں درد ناك عذاب دے گا۔ رواہ الطبرانی عن امیر المؤمنین علی کرم اﷲتعالی وجھہ (اسے طبرانی نے امیرالمومنین علی کرم اﷲتعالی وجہہ سے روایت کیا۔ ت)
حدیث۱۱ : عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : زکوۃ نہ دینے والا ملعون ہے زبان پاك محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ۔ رواہ ابن خزیمۃ واحمد وابو یعلی وابن حبان (اسے
حوالہ / References صحیح مسلم باب اثم مانع الزکوٰۃ نور محمد اصح المطابع کراچی۱/۳۲۱
کشف الاستار عن زوائد البزار باب فیمن منع الزکوٰۃ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۴۱۸، المعجم الکبیر مروی از ثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حدیث ۱۴۰۸ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۲ /۹۱
صحیح البخاری باب اثم مانع الزکوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی۱/۱۸۸
مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط باب فرض الزکوٰۃ دارالکتاب العربی بیروت ۳/۶،صحیح ابن خزیمہ باب ذ لعن لادی الصدقۃ المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۹
صحیح ابن خزیمہ باب ذ لعن لادی الصدقۃ المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۹، کنز العمال بحوالہ ن عن ابن مسعود حدیث ۹۷۵۰ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۴ /۱۰۴
#9455 · رسالہ : اعزّالاکتناہ فی ردّصدقۃ مانع الزّکٰوۃ ۱۳۰۹ (زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے صدقہ نفلی کے رَد کے متعلق نا درتحقیقِ حقیق)
ابن خزیمہ احمد ابو یعلی اور ابن حبان نے روایت کیا ۔ ت)
حدیث۱۲ : مولاعلی کرم اﷲتعالی وجہہ فرماتے ہیں : رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے سود کھانے والے اور کھلانے والے اور اس پر گواہی کرنے والے اور اس کا کاغذ لکھنے والے زکوۃ نہ دینے والے ان سب کو قیامت کے دن ملعون بتایا۔ رواہ الاصبہانی (اسے اصبہا نی نے روایت کیا۔ ت)
حدیث ۱۳ : کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم : قیامت کے دن تونگروں کے لیے محتاجوں کے ہاتھ سے خرابی ہے۔ محتاج عرض کرینگے اے رب ہمارے !انہوں نے ہمارے وہ حقوق جو تو نے ہمارے لیے ان پر فرض کیے تھے ظلما نہ دئے اﷲعز وجل فرمائے گا : مجھے قسم ہے اپنے عزت کی و جلال کی کہ تمھیں اپنا قرب عطا کروں گا اور انھیں دور رکھوں گا ۔ رواہ الطبرانی وابو الشیخ عن انس رضی اﷲتعالی عنہ (اسے طبرانی اور ابو شیخ نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
حدیث۱۴ : کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کچھ لوگ دیکھے جن کے آگے پیچھے غرقی لنگوٹیوں کی طرح کچھ چیتھڑے تھے اور جہنم کی گرم آگ پتھر اور تھوہر اور سخت کڑوی جلتی بدبو گھانس چو پایوں کی طرح چرتے پھرتے تھے ۔ جبریل امین علیہ الصلوۃ والسلام سے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں عرض کی : یہ زکوۃ نہ دینے والے ہیں اﷲتعالی نے ان پر ظلم نہیں کیا اﷲتعالی بندوں پر ظلم نہیں فرماتا۔ رواہ عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ (اسے بزار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
حدیث ۱۵ : دو عورتیں خدمت والا میں سونے کے کنگن پہنے ہوئیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : ان کی زکوۃ دوگی عرض کی نہ ۔ فرمایا : کیا چاہتی ہو کہ اﷲتعالی تمھیں آگ کے کنگن پہنائےعرض کی : نہ ۔ فرمایا : زکوۃ دو ۔ رواہ الترمذی والدارقطنی واحمد وابوداؤد والنسائی عن عبداﷲبن عمر رضی اﷲتعالی عنھما (اسے ترمذی دار قطنی احمد ابوداؤد اور نسائی نے حضرت عبد اﷲبن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا سے روایت کیا۔ ت)
حدیث۱۶ : ایك بی بی چاندی کے چھلے پہنے تھیں فرمایا : ان کی زکوۃ دوگی انہوں نے کچھ انکار سا کیا۔
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ ھب عن علی حدیث ۹۷۸۳ مؤسسۃالرسالہ بیروت ۴/۱۰۴
مجمع الزوائد بحوالہ المعجم الاوسط باب فرض الزکوٰۃ دارا لکتاب العربی بیروت ۳/۶۲
کشف الاستار عن زوائد البزار باب منہ فی الاسراء حدیث ۵۵ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/۳۸
جامع الترمذی باب ماجاء فی زکوٰۃ الحلی آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۸۱
#9456 · رسالہ : اعزّالاکتناہ فی ردّصدقۃ مانع الزّکٰوۃ ۱۳۰۹ (زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے صدقہ نفلی کے رَد کے متعلق نا درتحقیقِ حقیق)
فرمایا : تویہ ہی جہنم میں لے جانے کو بہت ہیں۔ رواہ ابو داود والدار قطنی عن ام المؤمنین رضی اﷲتعالی عنہا (اسے ابو داؤد اور دار قطنی نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا۔ ت)
حدیث۱۷ : کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : زکوۃ نہ دینے والا قیامت کے دن دوزخ میں ہوگا۔ رواہ الطبرانی عن انس رضی اﷲتعالی عنہ (اسے طبرانی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
حدیث۱۸ : فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم : دوزخ میں سب سے پہلے تین شخص جائیں گے ان میں ایك وہ تونگر کہ اپنے مال میں عزوجل کا حق ادا نہیں کرتا۔ رواہ ابن خزیمہ وابن حبان فی صحیحھما عن ابی ھریرہ رضی اﷲتعالی عنہ (اسے ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
غر ض زکوۃ نہ دینے کی جانکاہ آفتیں وہ نہیں جن کی تاب آسکے نہ دینے والے کو ہزار سال ان سخت عذابوں میں گرفتاری کی امید رکھنا چا ہئے کہ ضعیف البنیان انسان کی کیا جان اگر پہاڑوں پر ڈالی جائیں سرمہ ہوکر خاك میں مل جائیں پھر اس سے بڑھ کر احمق کون کہ اپنا مال جھوٹے سچے نام کی خیرات میں صرف کرے اور اﷲعزوجل کا فرض او راس بادشاہ قہار کا وہ بھاری قرض گردن پر رہنے دے شیطان کا بڑا دھوکا ہے کہ آدمی کو نیکی کے پردے میں ہلاك کرتا ہے نادان سمجھتا ہی نہیں نیك کام کررہا ہوں اور نہ جانا کہ نفل بے فرض نرے دھوکے کی ٹٹی ہے اس کے قبول کی امید تو مفقود اور اس کے ترك کا عذاب گردن پر موجود۔ اے عزیز! فرض خاص سلطانی قرض ہے اور نفل گویا تحفہ و نذرانہ۔ قرض نہ دیجئے اور بالائی بیکار تحفے بھیجئے وہ قابل قبول ہوں گے خصوصا اس شہنشاہ غنی کی بارگاہ میں جو تمام جہان و جہانیاں سے بے نیاز یوں یقین نہ آئے تو دنیا کے جھوٹے حاکموں ہی کو آزمالے کوئی زمین دار مال گزاری توبند کر لے اور تحفے میں ڈالیاں بھیجا کرے دیکھو تو سرکاری مجرم ٹھہرتا ہے یا اس کی ڈالیاں کچھ بہبود کا پھل لاتی ہیں !ذرا آدمی اپنے ہی گریبان میں منہ ڈالے فرض کیجئے آسامیوں سے کسی کھنڈ ساری کارس بندھا ہوا ہے جب دینے کا وقت آئے وہ رس تو ہرگز نہ دیں مگر تحفے میں آم خربوزے بھیجیں کیا یہ شخص ان آسامیوں سے راضی ہوگا یا آتے ہوئے اس کی نادہندگی پر جو آزار انھیں پہنچا سکتا ہے ان آم خربوزے کے بدلے اس سے باز
حوالہ / References سنن ابی داؤد باب الکنز ما ھو و زکوٰۃ الحلی آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۲۱۸
مجمع الزوائد بحوالہ المعجم الصغیر باب فرض الزکوٰۃ دار الکتاب العربی بیروت ۳/۶۴
صحیح ابن خزیمہ باب لذکر اذ خال مانع الزکوٰۃ الخ المکتب الاسلامی بیروت ۴/۸
#9457 · رسالہ : اعزّالاکتناہ فی ردّصدقۃ مانع الزّکٰوۃ ۱۳۰۹ (زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے صدقہ نفلی کے رَد کے متعلق نا درتحقیقِ حقیق)
آئے گا۔ سبحان اﷲ! جب ایك کھنڈ ساری کے مطالبہ کا یہ حال ہے تو ملك الملوك احکم الحاکمین جل وعلا کے قرض کا کیا پوچھنا! لاجرم محمد بن المبارك بن الصباح اپنے جزء املا اور عثمان بن ابی شیبہ اپنی سنن اور ابو نعیم حلیۃ الاولیاء اور ھنا د فوائد اور ابن جریر تہذیب الآثار میں عبد الرحمن بن سابط و زید و زبید پسران حارث و مجاہد سے راوی :
لما حضرابابکرن الموت دعا عمر فقال اتق اﷲیا عمر واعلم ان لہ عملا بالنھار لا یقبلہ باللیل و عملا باللیل لا یقبلہ بالنھار واعلم انہ لایقبل نافلۃ حتی تؤدی الفریضۃ الحدیث۔ ذکرہ العلامۃ ابراھیم بن عبد اﷲالیمنی المدنی الشافعی فی الباب الثالث عشر من کتاب “ القول الصواب فی فضل عمر بن الخطاب “ وفی الباب التاسع عشر من کتاب “ التحقیق فی فضل الصدیق “ وھو اول کتب کتابہ “ الاکتفا فی فضل الابعۃ الخلفاء “ ورواہ الامام الجلیل الجلال السیوطی رحمہ اﷲتعالی فی الجامع الکبیر فقال عن عبدالرحمن بن سابط و زید و زبید بن الحارث و مجاہد قالو الما حضر الخ
یعنی جب خلیفہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سید ناصدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی نزع کا وقت ہوا امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو بلا کر فرمایا : اے عمر !اﷲسے ڈرنا اور جان لو کہ اﷲکے کچھ کام دن میں ہیں کہ انھیں رات میں کرو تو قبول نہ فرمائے گا اور کچھ کام رات میں کہ انھیں دن میں کرو تو مقبول نہ ہوں گے اور خبردار رہو کہ کوئی نفل قبول نہیں ہوتا جب تك فرض ادا نہ کرلیا جائے الحدیث (اسے علامہ ابراہیم بن عبد اﷲالیمنی المدنی الشافعی نے القول الصواب فی فضل عمر بن الخطاب کے باب نمبر ۱۳ میں اور کتاب التحقیق فی فضل الصدیق کے باب نمبر۱۹میں ذکر کیا ہے یہ پہلی کتاب ہے جو انہوں نے خود لکھی ہے جس کا نام “ الا کتفاء فی فضل الاربعۃ الخلفاء “ ہے'اسے امام جلیل جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جامع الکبیر میں عبد الرحمن بن سابط اور زید و زبید بن الحارث اور مجاہد سے روایت کیا کہ جب نزع کا وقت آیا۔ ت)
حضور پر نور سید نا غوث اعظم مولائے اکرم حضرت شیخ محی الملۃ والدین ابو محمد عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی کتاب مستطاب فتوح الغیب شریف میں کیا کیا جگر شگاف مثالیں ایسے شخص کے لیے ارشاد فرمائی ہیں جوفرض چھوڑ کر نفل بجالائے۔ فرماتے ہیں : اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے کسی شخص کو بادشاہ
حوالہ / References حلیۃ الاولیاء، ذکرالمہاجرین نمبر۱ ابوبکر الصدیق دارلکتاب العربی بیروت ۱ /۳۶
المسا نید والمراسیل من الجامع الکبیرحدیث ۱۸۹ م سند ابوبکر الصدیق دارالفکر بیروت ۱۳/۵۳
#9458 · رسالہ : اعزّالاکتناہ فی ردّصدقۃ مانع الزّکٰوۃ ۱۳۰۹ (زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے صدقہ نفلی کے رَد کے متعلق نا درتحقیقِ حقیق)
اپنی خدمت کے لیے بلائے یہ وہاں تو حاضر نہ ہوا اور اس کے غلام کی خدمتگاری میں موجود رہے۔ پھر حضرت امیرالمومنین مولی المسلمین سید نا مولی علی مرتضی کرم اﷲتعالی وجہہ سے اس کی مثال نقل فرمائی کہ جناب ارشاد فرماتے ہیں : ایسے شخص کا حال اس عورت کی طرح ہے جسے حمل رہا جب بچہ ہونے کے دن قریب آئے اسقاط ہوگیا اب وہ نہ حا ملہ ہے نہ بچہ والی۔ یعنی جب پورے دنوں پر اگر اسقاط ہو تو محنت تو پوری اٹھائی اور نتیجہ خاك نہیں کہ اگر بچہ ہوتا تو ثمرہ خود موجود تھا حمل باقی رہتا تو آگے امید لگی تھی اب نہ حمل نہ بچہ نہ امید نہ ثمرہ اور تکلیف وہی جھیلی جو بچہ والی کو ہوتی۔ ایسے ہی اس نفل خیرات دینے والے کے پاس روپیہ تو اٹھا مگر جبکہ فرض چھوڑا یہ نفل بھی قبول نہ ہوا تو خرچ کا خرچ ہوا اور حاصل کچھ نہی۔ اسی کتاب مبارك میں حضور مولی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ہے کہ :
فان اشتغل بالسنن والنوافل قبل الفرائض لم یقبل منہ واھین۔
یعنی فرض چھوڑ کر سنت و نفل میں مشغول ہوگا یہ قبول نہ ہوں گے اور خود کیا جائے گا۔
یوں ہی شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ نے اس کی شرح میں فرمایا کہ :
ترك آنچہ لازم و ضروری ست واہتمام بآنچہ نہ ضروری است از فائدہ عقل و خرد وراست چہ دفع ضرر اہم ست برعاقل از جلب نفع بلکہ بحقیقت نفع دریں صورت منتقی است۔
لازم اور ضروری چیز کا ترك اور جو ضروری نہیں اس کاا ہتمام عقل وخرد میں فائدہ سے دور ہے کیونکہ عاقل کے ہاں حصول نفع سے دفع ضرر اہم ہے بلکہ اس صورت میں نفع منتفی ہے۔ (ت)
حضرت شیخ الشیوخ امام شہاب الملۃ والدین سہروردی قدس سرہ العزیز عوارف شریف کے باب الثامن والثلثین میں حضرت خواص رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل فرماتے ہیں :
بلغنا ان اﷲلایقبل نافلۃحتی یؤدی فریضۃ یقول اﷲتعالی مثلکم کمثل العبد السوء بداء بالھدایۃ قبل قضاء الدین۔
ہمیں خبر پہنچی کہ اﷲعزوجل کوئی نفل قبول نہیں فرماتا یہاں تك کہ فرض ادا کیا جائے اﷲتعالی ایسے لوگوں سے فرماتاہے کہاوت تمھاری بد بندہ کی مانند ہے جو قرض ادا کرنے سے پہلے تحفہ پیش کرے۔
خود حدیث میں ہے : حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
حوالہ / References فتوح الغیب مع شرح عبدالحق الدہلوی المقالۃ الثامنۃوالا ربعون منشی نولکشور لکھنؤ ص ۲۷۳
فتوح الغیب مع شرح عبدالحق الدہلوی المقالۃ الثامنۃوالا ربعون منشی نولکشور لکھنؤ ص ۲۷۳
عوارف المعارف ملحق باحیاء العلوم باب ۳۸ فی ذکر آداب الصلٰوۃالخ مکتبہ ومطبعہ المشہد الحسینی قاہرہ ص ۱۶۸
#9459 · رسالہ : اعزّالاکتناہ فی ردّصدقۃ مانع الزّکٰوۃ ۱۳۰۹ (زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے صدقہ نفلی کے رَد کے متعلق نا درتحقیقِ حقیق)
اربع فرضھن اﷲفی الا سلام فمن جاء بثلث لم یغنین عنہ شیئا حتی یاتی بھن جمیعا الصلوۃ والزکوۃ وصیام رمضان وحج البیت۔ رواہ الامام احمد فی مسندہ بسند حسن عن عمارۃ بن حزم رضی اﷲتعالی عنہ۔
چار ۴ چیزیں اﷲتعالی نے اسلام میں فرض کی ہیں جوان میں سے تین ادا کرے وہ اسے کچھ کام نہ دیں جب تك پوری چاروں نہ بجا لائے نماز زکوۃ روزہ رمضان حج کعبہ(اسے امام احمد نے اپنی مسند میں سند حسن کے ساتھ حضرت عمارہ بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
سید نا عبداﷲبن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
امرنا باقام الصلوۃ وایتاء الزکوۃ ومن لم یزك فلا صلوۃ لہ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر بسند صحیح۔
ہمیں حکم دیا گیا کہ نماز پڑھیں اور زکوۃ دیں اور جو زکوۃ نہ دے اس کی نماز قبول نہیں (اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ت)
سبحان اﷲ! جب زکوۃ نہ دینے والے کی نماز روزے حج تك مقبول نہیں تو اس نفل خیرات نام کی کائنات سے کیا امید ہے بلکہ انہی سے اصبہانی کی روایت میں آیا کہ فرماتے ہیں :
من اقام الصلوۃ ولم یؤت الزکوۃ فلیس بمسلم ینفعہ۔
جو نماز ادا کرے اور زکوۃ نہ دے وہ مسلمان نہیں کہ اسے اس کا عمل کام آئے۔
الہی !مسلمان کو ہدایت فرما آمین! با لجملہ اس شخص نے ا ج تك جس قدر خیرات کی مسجد بنا ئی گاؤں وقف کیا یہ سب امور صحیح و لازم تو ہو گئے کہ اب نہ دی ہو ئی خیرات فقیر سے واپس کر سکتا ہے نہ کئے ہوئے وقف کو پھیر لینے کا اختیا ر رکھتا ہے نہ اس گاؤں کی توفیر ادائے زکوۃ خواہ اپنے اور کسی کام میں صرف کر سکتا ہے کہ وقف بعد تمامی لازم و حتمی ہو جاتا ہے جس کے ابطال کا ہر گز اختیا ر نہیں رہتا ۔
فی الدرالمختار الوقف عند ھما ھو حبسھا علی ملك اﷲتعالی فیلزم فلا یجوز
درمختار میں ہے کہ وقف صاحبین کے نزدیك اﷲتعالی کی ملکیت میں چلے جانے کی وجہ سے لازم ہوجاتا ہے
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل حدیث زیاد بن نعیم دارالفکربیروت ۴ / ۲۰۱ ، کنزالعمال بحوالہ ھب عن عمارہ بن حزم حدیث ۳۳ موسسۃالرسالہ بیروت ۱ /۳۰
مجمع الزوائد بحوالہ المعجم الکبیر باب فرض الزکوٰۃ دارالکتاب العربی بیروت ۳/۶۲
الترغیب والترھیب بحوالہ اصبہانی الترھیب من منع الزکوٰۃ مصطفیٰ البابی مصر ۱ /۵۴۰
#9460 · رسالہ : اعزّالاکتناہ فی ردّصدقۃ مانع الزّکٰوۃ ۱۳۰۹ (زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے صدقہ نفلی کے رَد کے متعلق نا درتحقیقِ حقیق)
لہ ابطالہ ولا یورث عنہ وعلیہ الفتوی ملخصا۔
درمختار میں ہے کہ وقف صاحبین کے نزدیك اﷲتعالی کی ملکیت میں چلے جانے کی وجہ سے لازم ہوجاتا ہےلہذا اس کا ابطال جائز نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی وارث ہوسکتا ہے اسی پر فتوی ہے۔ (ت)
مگر با ایں ہمہ جب تك زکوۃ پوری پوری نہ ادا کرے ان افعال پر امید ثواب و قبول نہیں کہ کسی فعل کا صحیح ہوجانا اور بات ہے اور اس پر ثواب ملنا مقبول بارگاہ ہونا اور بات ہے مثلااگر کوئی شخص دکھا وے کے لیے نماز پڑھے نماز صحیح تو ہوگئی فرض اتر گیا پر نہ قبول ہوگی نہ ثواب پائے گا بلکہ الٹا گناہگار ہوگا یہی حال اس شخص کا ہے ۔ اے عزیز!اب شیطان لعین کہ انسان کا عدومبین ہے بالکل ہلاك کر دینے اور یہ ذرا سا ڈورا جو قصد خیرات کا لگا رہ گیا ہے جس سے فقراء کو تو نفع ہے اسے بھی کاٹ دینے کے لیے یوں فقرہ سجھائے گا کہ جو خیرات قبول نہیں تو کرنے سے کیا فائدہ چلو اسے بھی دور کرو اور شیطان کی پوری بندگی بجا لاؤ مگر اﷲعزوجل کو تیری بھلائی اور عذاب شدید سے رہائی منظور ہے وہ تیرے دل میں ڈالے گاکہ اس حکم شرعی کا جواب یہ نہ تھا جو اس دشمن ایمان نے تجھے سکھایا اور رہا سہابالکل ہی متمرد وسرکش بنایا بلکہ تجھے تو فکر کرنے تھی جس کے باعث عذاب سلطانی سےبھی نجات ملتی اور آج تك کہ یہ وقف ومسجد و خیرات بھی سب قبول ہوجا نے کی امید پڑتی بھلا غور کرو وہ بات بہتر کہ بگڑتے ہوئے کام پھر بن جائیں اکارت جاتی محنتیں از سر نو ثمرہ لائیں یا معاذاﷲیہ بہتر کہ رہی سہی نام کو جو صورت بندگی باقی ہے اسے بھی سلام کیجئے اور کھلے ہوئے سرکشوں اشتہاری باغیوںمیں نام لکھالیجئے وہ نیك تدبیر یہی ہے کہ زکوۃ نہ دینے سے توبہ کیجئے آج تك جتنی زکوۃ گردن پر ہے فورا دل کی خوشی کے ساتھ اپنے رب کا حکم ماننے اور اسے راضی کرنے کو ادا کر دیجئے کہ شہنشاہ بے نیاز کی درگاہ میں باغی غلاموں کی فہرست سے نام کٹ کر فرماں بردار بندوں کے دفتر میں چہرہ لکھا جائے۔ مہر بان مولا جس نے جان عطا کی اعضادئے مال دیا کروڑوں نعمتیں بخشیں اس کے حضور منہ اجالا ہونے کی صورت نظر آئے اورمژدہ ہو بشارت ہو نوید ہو تہنیت ہو کہ ایسا کرتے ہی اب تك جس قدر خیرات دی ہے وقف کیا ہے مسجد بنائی ہے ان سب کی بھی مقبولی کی امید ہوگی کہ جس جرم کے باعث یہ قابل قبول نہ تھے جب وہ زائل ہوگیا انھیں بھی باذن اﷲتعالی شرف قبول حاصل ہوگیا۔ چارہ کار تو یہ ہے آگے ہر شخص اپنی بھلائی برائی کا اختیار رکھتا ہے مدت دراز گزرنے کے باعث اگر زکوۃ کا تحقیقی حساب نہ معلوم ہوسکے تو عاقبت پاك کرنے کے لیے بڑی سے بڑی رقم جہاں تك خیال میں آسکے فرض کر لے کہ زیادہ جائے گا تو ضائع نہ جائے گا بلکہ تیرے رب مہر بان کے پاس تیری بڑی حاجت کے وقت کے لیے جمع رہے گا
حوالہ / References درمختار کتاب الوقف مطبع مجتبائی دہلی۱/۳۷۷
#9461 · رسالہ : اعزّالاکتناہ فی ردّصدقۃ مانع الزّکٰوۃ ۱۳۰۹ (زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے صدقہ نفلی کے رَد کے متعلق نا درتحقیقِ حقیق)
وہ اس کا کامل اجر جو تیرے حوصلہ و کمان سے باہر ہے عطا فرمائے گا اور کم کیا تو بادشاہ قہار کا مطالبہ جیسا ہزار روپیہ کا ویسا ہی ایك پیسے کا۔ اگر بدیں وجہ کہ مال کثیر اور قرنوں کی زکوۃ ہے یہ رقم وافر دیتے ہوئے نفس کو درد پہنچے گا تو اول تو یہ ہی خیال کر لیجئے کہ قصور اپنا ہے سال بہ سال دیتے رہتے تو یہ گٹھڑی کیوں بندھ جاتی پھر خدائے کریم عزو جل کی مہربانی دیکھئے اس نے یہ حکم نہ دیا کہ غیروں ہی کو دیجئے بلکہ اپنوں کو دینے میں دونا ثواب رکھا ہے ایك تصدق کا ایك صلہ رحم کا۔ تو جو اپنے گھر سے پیارے دل کے عزیزہوں جیسے بھائی بھتیجے بھانجے انھیں دے دیجئے کہ ان کا دینا چنداں ناگوار نہ ہوگا بس اتنا لحاظ کر لیجئے کہ نہ وہ غنی ہو نہ غنی باپ زندہ کہ نا بالغ بچے نہ ان سے علاقہ زوجیت یا ولادت ہو یعنی نہ وہ اپنی اولاد میں نہ آپ انکی اولاد میں۔ پھر اگر رقم ایسی ہی فراواں ہے کہ گویا ہاتھ بالکل خالی ہوا جاتا ہے تو دئے بغیر تو چھٹکارا نہیں خدا کے وہ سخت عذاب ہزاروں برس تك جھیلنے بہت دشوار ہیں دنیا کی یہ چند سانسیں تو جیسے بنے گزر ہی جائیں گی تاہم اگر چہ یہ شخص اپنے ان عزیزوں کو بہ نیت زکوۃ دے کر قبضہ دلائےپھر وہ ترس کھا کر بغیر اس کے جبر و اکراہ کے اپنی خوشی سے بطور ہبہ جس قدر چاہیں واپس کردیں تو سب کے لیے سراسر فائدہ ہے اس کے لیے یہ کہ خدا کے عذاب سے چھوٹا اﷲتعالی کا قرض و فرض ادا ہوااور مال بھی حلال وپا کیزہ ہو کر واپس ملا جو رہا وہ اپنے جگر پاروں کے پاس رہا ان کے لیے یہ فائدہ ہیں کہ دنیا میں مال ملا عقبے میں اپنے عزیز مسلمان بھائی پر ترس کھانے اور اسے ہبہ کرنے اور اس کے ادائے زکوۃ میں مدد دینے سے ثواب پایا پھر اگر ان پر پورا اطمینان ہو تو زکوۃ سالہا سال حساب لگانے کی بھی حاجت نہ رہے گی اپنا کل مال بطور تصدق انھیں دے کر قبضہ دلادے پھر وہ جس قدر چاہیں اسے اپنی طرف سے ہبہ کردیں کتنی ہی زکوۃ اس پر تھی سب ادا ہوگئی اور سب مطلب بر آئے اور فریقین نے ہر قسم کے دینی و دنیوی نفع پائے مولی عزوجل اپنے کرم سے توفیق عطا فرمائے آمین آمین یا رب العالمین۔ واﷲتعالے اعلم وعلمہ اتم۔
مسئلہ ۷۳ : از شہر ملوك پور مرسلہ جناب سیدمحمد علی صاحب نائب ناظر فرید پور ۳۰ رمضان المبارك ۱۳۲۹ھ زکوۃ کس ماہ میں دینا اولی ہے یا یہ کہ زیور اور روپیہ تو جب پورا سال گزر جائے
الجواب :
جب سال تمام ہو فورا فورا پوراادا کرے ہاں اولیت چاہے تو سال تمام ہونے سے پہلے پیشگی ادا کرے اس کے لیے بہتر ماہ مبارك رمضان ہے جس میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ستر فرضون کے برابر۔ واﷲتعالی اعلم۔
#9462 · رسالہ : اعزّالاکتناہ فی ردّصدقۃ مانع الزّکٰوۃ ۱۳۰۹ (زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے صدقہ نفلی کے رَد کے متعلق نا درتحقیقِ حقیق)
مسئلہ ۷۴ : از بنارس مسجد بی بی راجی متصل شفا خانہ مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاحب ۱۳۱۲ھماقو لکم ایھا العلماء (اے علماء کرام! آپ کا کیا ارشاد ہے)دریں مسئلہ کہ زید پیشہ طبابت کرتا ہے اور کچھ گولیاں اس کے پاس ہیں کہ بحساب فی روپیہ ۴گولیاں علی العموم بیماروں کو دیتا ہے لیکن لاگت اصل چار گولیوں کے چار پیسے ہے جب مطب میں کوئی غریب مصرف زکوۃ آجاتا ہے تو ۴گولی مذکور الصدر جس کی قیمت اصلی ۴ پیسے ہے دے کر ایك روپیہ ادائے زکوۃ میں شمار کرتا ہے اس صورت میں بموجب اس کے خیال کے ایك روپیہ زکوۃ میں سے ادا ہوگا یا ایك آنہ جو لاگت اصلی ہےبینواتو جروا۔
الجواب :
ہر چند شخص کو اختیار ہے کہ اپنے پیشہ کی چیز برضائے مشتری ہزار روپے کے بیچے جبکہ اس میں کذب و فریب و مغالطہ نہ ہو مگر زکوۃ وغیرہا صدقات واجبہ میں جہاں واجب شئی کی جگہ اس کی غیر کوئی چیز دی جائے تو صرف بلحاظ قیمت جانبین ہی دی جاسکتی ہے
فی التبیین لوادی من خلاف جنسہ تعتبر القیمۃ با لا جماع اھ وفی التتار خانیۃ عن التحفۃ الواجب فی الا بل الا نوثۃحتی لا یجوز الذکور الا بطریق القیمۃ اھ وفی محیط الامام السرخسی فی صدقۃ الفطر ان دقیق الحنطۃ والشعیر و سو یقھما مثلھما و الخبز لا یجوز الا با عتبار القیمۃوھوالاصح اھ الکل فی الھندیۃ۔
تبیین میں ہے کہ اگرشئی کے غیر جنس سے زکوۃ ادا کرنا ہوتو بالاتفاق قیمت کا اعتبار ہوگا اھ اور تاتاخانیہ میں تحفہ سے ہے کہ اونٹوں میں اگر مؤنث لازم ہے تو اب مذکر سے ادائیگی جائز نہیں مگر بطور قیمت اھ امام سرخسی کی محیط کے صدقۃ الفطر میں ہے کہ گندم وجو کاآٹا اور ان کے ستو ایك دوسرے کی مثل ہیں لیکن روٹی نہیں دی جاسکتی ہاں قیمت کے اعتبارسے اور یہی اصح قول ہے اھ مکمل تفصیل ہندیہ میں ملا حظہ کیجئے۔ (ت)
اورقیمت وہ کہ نرخ بازار سے جوحیثیت شئی کی ہو نہ وہ کہ بائع اور مشتری میں ان کی تراضی سے قرارپائے کہ وہ ثمن ہے
حوالہ / References تبیین الحقائق باب زکٰوۃ المال مطبعہ کبرٰی امیریہ بولاق مصر ۱ / ۲۷۸
فتاوٰ ی ہندیۃ بحوالہ تاتارخانیہ الفصل الثانی فی الفروض نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۸۱
فتاوٰ ی ہندیۃ محیط السرخسی الباب الثامن فی صدقۃ الفطر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۹۱
#9463 · رسالہ : اعزّالاکتناہ فی ردّصدقۃ مانع الزّکٰوۃ ۱۳۰۹ (زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے صدقہ نفلی کے رَد کے متعلق نا درتحقیقِ حقیق)
فی ردالمحتار الفرق بین الثمن والقیمۃ ان الثمن ما تراضی علیہ المتعاقد ان سواء زاد علی القیمۃ او نقص والقیمۃ ما قوم بہ الشئی بمنزلۃ المیعاد من غیر زیادہ ولا نقصان۔
ردالمحتار میں ہے کہ ثمن اور قیمت میں فرق ہے جس پر متعاقدان راضی ہوجائیں وہ ثمن ہوں گے خواہ قیمت شئی سے زائد ہو یا کم بغیر کسی کمی و زیادتی کے شئی کے معیاری عوض کا نام قیمت ہے۔ (ت)
تو ان گولیو ں کی بہ لحاظ نرخ بازار جسقدر مالیت ہواسی قدر زکوۃ میں مجرا ہوں گے اس سے زائد دین الہی رہا کہ فوراواجب الادا ہے ہاں اگر زیادہ محسوب کرنا چاہے تو اس کی سبیل یہ نہیں بلکہ یوں ہے کہ مصرف زکوۃ کو گولیاں ہبۃنہ دے اس کے ہاتھ بیع کرلے اب بیع میں اختیار ہے جوثمن چاہے اس کی رضا مندی سے ٹھہرالے اگر چہ شئی کی حیثیت سے کتناہی زائد ہو بشرطیکہ مشتری عاقل بالغ ہو اور اسے سمجھا دے کہ اگر اگر تیرے پاس قیمت نہیں تو اس کا اندیشہ نہ کر میں خود اپنے پاس سے تجھے دے کر سبکدوش کر دوں گا اب مثلا۴گولیاں ایك روپیہ کو اس کے ہاتھ بیچے وہ خریدے اس کاا یك روپیہ اس پر دین ہوگیا پھر ایك روپیہ بہ نیت زکوۃ اسے دے کر قبضہ کر ادے پھر اپنے آتے میں روپیہ اس سے واپس لے اگر وہ عذر کرے تو جبرالے سکتا ہے کہ اتنی میں وہ اس کامدیون ہے یوں اسے ۴ گولیاں مفت ملیں گی اور اس کی زکوۃ سے ایك روپیہ ادا ہوجائےگا
فی الدر المختارحیلۃ الجواز ان یعطی مدیونہ الفقیر زکوتہ ثم یا خذھا من دینہ ولوامتنع المدیون مدیدہ واخذ ھا لکونہ ظفر بجنس حقہ واﷲتعالی اعلم ۔
درمختار میں ہے کہ حیلہ جوازیہ ہے کہ آدمی اپنے مقروض فقیر کو زکوۃ دے پھر اس سے قرضہ وصول کرے اگر مقروض نہ دے تو چھین لے کیونکہ وہ اپنے حق کی جنس پر قادر ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۷۵تا۷۷ : از بمبیئ نمبر۹ ہوٹل آئسکریم مسئولہ شیخ امام علی صاحب رضوی ۱۵ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
(۱)ایك شخص نے کچھ زمین کسی زمیندار سے ٹھیکہ میں لی اس کے پاس دس ہزار روپیہ جمع کیا میعاد ٹھیکہ مقرر نہیں یہ طے ہوا کہ جس وقت روپیہ واپس کریں گے زمین ٹھیکہ سے نکال لیں گے اور اس شخص نے زمین سے نفع حاصل کرنے کی اجازت دی اس روپیہ کی زکوۃ کا کیا حکم ہے اور کس طریقہ سے اس کی زکوۃ دی جائے
(۲)اگر ایك شخص کے پاس دس بیگھہ زمین کاشتکاری کی ہے اور وہ پانچ بیگھہ زمین میں بارش سے غلہ
حوالہ / References ردالمحتار باب خیار الشرط مصطفی البابی مصر ۴/۵۷
درمختار کتاب الزکوٰۃ مبطع مجتبائی دہلی۱/۱۳۰
#9464 · رسالہ : اعزّالاکتناہ فی ردّصدقۃ مانع الزّکٰوۃ ۱۳۰۹ (زکوٰۃ ادانہ کرنے والے کے صدقہ نفلی کے رَد کے متعلق نا درتحقیقِ حقیق)
اگاتا ہے اور پائچ بیگھہ زمین کوکنویں یا دریائی پانی سے سینچ کر غلہ پیدا کرتا ہے اور غلہ صرف اتنا ہی ہوتا ہے کہ جو خاندان کے لیے کافی ہوتا ہے بچت نہیں اس صورت میں اس کے عشر اور زکوۃ کا کیا حکم ہے
(۳)اگر کسی نے ایك دکان میں دس۱۰ ہزار روپیہ کا سامان یعنی میز کرسی اور برتن وغیرہ خرید کر گاہکوں کے استعمال کے لیے لگادیا اور دکان میں فروخت کی اشیاء روزانہ یا دوسرے تیسرے دن لاکر فروخت کرتا ہے تو اس دس ہزار روپیہ کی زکوۃ کا کیا حکم ہے اور روزانہ جو آمدنی ہوتی ہے اس کو اپنے خرچ میں لاتا ہے
الجواب :
(۱)یہ کوئی صورت ٹھیکہ کی نہیں ٹھیکہ میں نفع کے مقابل روپیہ ہوتا ہے نہ یہ کہ نفع لیا جائے اور واپسی زمین پر روپیہ واپس ہوجائے یہ صورت قرض کی ہے اور زمین رہن اور اس سے نفع لینا جائز نہیں او ر اس کی زکوۃ اس روپے والے پرواجب اگر چہ واجب الادا اس وقت ہوگی جب وہ قرض بقدر نصاب یا خمس نصاب اس کو وصول ہو۔ واﷲتعالی اعلم
(۲)زکوۃ تو نہ غلہ پر ہے نہ زمین پر اگر سونا یا چاندی تمام حاجات اصلیہ سے فارغ بقدر نصاب ہو اور سال گزرے تو زکوۃ واجب ہوگی اور عشر بہر حال واجب ہے مینہ کی پیداوار پر دسواں حصہ اور پانی دی ہوئی پر بیسواں ۔ واﷲتعالی اعلم۔
(۳) جس دن وہ مالك نصاب ہوا تھا جب اس پر سال پورا گزرے گا اس وقت جتنا سونا چاندی یا تجارت کا مال میز کرسی وغیرہ جو کچھ بھی ہو بقدرنصاب اس کے پاس تمام حاجات اصلیہ سے فارغ موجود ہوگا اس پر زکوۃ فرض ہوگی روزمرہ کے خرچ میں جو خرچ ہوگیا ہوگیا۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۷۸ : از کانپور محلہ فیل خانہ کہنہ مسئولہ سید محمد آصف صاحب ۹ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
حضور کے فتاوی جلد اول مطبوعہ کے حاشیہ پریہ عبارت ہے کہ : “ جس کے عزیز محتاج ہوں اسے منع ہے کہ انھیں چھوڑ کر غیروں کو اپنے صدقات دے حدیث میں فرمایا : ایسے کا صدقہ قبول نہ ہوگااور اﷲتعالی روز قیامت اس کی طرف نظر نہ فرمائے گا۔ “ عزیز سے کون کون شخص مراد ہیں
الجواب :
عزیزوں میں ذورحم محرم مقدم ہیں پھر باقی ذورحم ان سے پھیر کر اجنبی کو صدقہ نہ دے پھیرنے کے معنی کا صدق چاہئے مثلاگداگروں کو جو ایك آدھ پیسہ یا روٹی کا ٹکڑا جاتا ہے کہ اپنے اعزا کو نہیں دے دسکتا اور دے تو وہ نہ لیں گے وہ ان سے پھیر کردینا نہ ہوا۔ واﷲتعالی اعلم
____________________
#9465 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
مسئلہ۷۹ : از گونڈہ ملك اودھ مدرسہ اسلامیہ مرسلہ حافظ عبداﷲصاحب مدرس مذکور ۱۶ جمادی الآخر ۱۳۱۸ھ
کتاب غفرالمبین مؤلفہ محی الدین غیر مقلد میں لکھا ہے کہ جناب قاضی ابو یوسف صاحب آخر سال پر اپنا مال اپنی بی بی کے نام ہبہ کر دیاکرتے تھے اور اس کا مال اپنے نام ہبہ کرالیا کرتے تھے تاکہ زکوۃ ساقط ہوجائے یہ بات کسی نے امام ابو حنیفہ صاحب سے نقل کی انہوں نے فرمایا کہ یہ ان کے فقہ کی جہت سے ہے اور درست فرمایا چنانچہ اس امرکو ایك عالم مقلد نے بھی تصدیق کیا بلکہ یہ کہا اس معاملے کو امام بخاری صاحب نے بھی درج کتاب کیا ہے اور بہت نفرت کے ساتھ لکھا ہے اس کی تشرح و توضیح مدلل ارشاد فرمائی جائے۔
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
اللھم لك الحمد صل وسلم علی سید انبیائك والہ وصحبہ وسائر اصفیائك اسألك حبك وحب
اے اﷲتیرے ہی لیے حمد ہے۔ تمام انبیاء علیہم السلام کے سربراہ پر صلو ۃ وسلام ان کی آل و اصحاب اور باقی تمام اصفیاء پر بھی۔ اے اﷲ! میں آپ سے آپ کی
#9466 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
احبائك وحسن الادب مع جمیع اولیائك و اعوذبك من غضبك و سخطك و سوء بلائک۔
محبت آپ کے محبوبوں کی محبت اور آپ کے تمام دوستوں کے ساتھ حسن ادب کا سوال کرتاہوں اور آپ کے غضب ناراضگی اور گرفت سے پناہ مانگتا ہوں(ت)
اولا : صحیح بخار ی شریف میں اول تا آخر کہیں اس حکایت کا پتا نہیں کہ امام ابویوسف اس کے عامل تھے امام اعظم مصدق ہوئے امام بخاری نے صرف اس قدر لکھا کہ بعض علماء کے نزدیك اگر کوئی شخص سال تمام سے پہلے مال کو ہلاك کردے یا دے ڈالے یا بیچ کر بدل لے کہ زکوۃ واجب نہ ہونے پائے تو اس پر کچھ واجب نہ ہوگا اور ہلاك کرکے مرجائے تو اس کے مال سے کچھ نہ لیا جائے گا اور سال تمام سے پہلے اگر زکوۃ ادا کردے تو جائز و روا۔ ان کی عبارت یہ ہے :
وقال بعض الناس فی عشرین ومائۃ بعیر حقتان فان اھلکھا متعمدااووھبہا او احتال فیہا فرارا من الزکوۃ فلا شئی علیہ۔
بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ایك سو بیس۱۲۰ اونٹوں میں دو۲حقہ ہیں اور اگر انھیں عمداہلاك کردیا یا انھیں کسی کو ہبہ کردیا یا زکوۃسے بھاگنے کے لیے کوئی حیلہ کرلیا تو اب مالك پر زکوۃ نہیں ہوگی(ت)
پھر کہا :
وقال بعض الناس فی رجل لہ ابل فخاف ان تجب علیہ الصدقۃ فباعھا بابل مثلہا او بغنم او ببقر او بد راھم فرارا من الصدقۃ بیوم واحتیالا فلا شئی علیہ وھو یقول ان زکی ابلہ قبل ان یحول الحول بیوم او بسنۃ جازت عنہ۔
بعض لوگوں نے اس شخص کے بارے میں کہا جس کے پاس اونٹ ہوں وہ ڈرتا ہے کہ کہیں اس پر صدقہ لازم نہ ہوجائےپس وہ زکوۃ سے فرار اور حیلہ کرتے ہوئے ایك دن پہلے اس کی مثل اونٹوں سے بیچ دیتا ہے یا بکری یا گائے یا دراہم کے عوض بیچ دیتا ہے تو اب اس پر کوئی شئے لازم نہیں اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر مالك نے اپنے اونٹ کی زکوۃ سال گزرنے سے ایك دن یا سال پہلے زکوۃ دے دی تو ادا ہوجائیں گی۔ (ت)
پھر کہا :
وقال بعض الناس اذا بلغت الابل عشرین
بعض لوگوں نے کہا جب اونٹ بیس ۲۰ ہوجائیں تو اس
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الحیل باب فی الزکوٰۃ والّا یفرق الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۲/۱۰۲۹
صحیح البخاری کتاب الحیل باب فی الزکوٰۃ والّا یفرق الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۲/۱۰۲۹
#9467 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
ففیھا اربع شیاہ فان وھبھا قبل الحول او باعھا فرارا اواحتیالا لاسقاط الزکوۃ فلاشئی علیہ وکذلك ان اتلفھا فمات فلاشئی فی مالہ۔
بعض لوگوں نے کہا جب اونٹ بیس ۲۰ ہوجائیں تو اسمیں چار بکریاں لازم ہوں گی اب اگر اسقاط زکوۃ کیلئے حیلہ کرتے ہوئے سال گزرنے سے پہلے ان اونٹوں کو ہبہ کردیا تو اب کوئی شئی لازم نہ ہوگی اسی طرح اگر مالك نے ہلاك کردیا اور مالك فوت ہوگیا تو اس کے مال میں کوئی شئی لازم نہ ہوگی۔ (ت)
کیا ہے کہ کوئی ایسا کرے تو اس پر کچھ واجب نہ ہوگا۔
ثانیا : ہمارے کتب مذہب نے اس مسئلہ میں امام ابویوسف اور امام محمد رحہما اﷲتعالی کا اختلاف نقل کیا اورصرف لکھ دیا کہ فتوی امام محمد کے قول پر ہے کہ ایسا فعل جائز نہیں۔ تنویر الابصار و درمختار ودرر وغرروجوہرہ وغیرہا میں ہے :
واللفظ للاولین(تکرہ الحیلۃ لاسقاط الشفعۃ بعد ثبوتھا وفاقا)کقولہ للشفیع اشترہ منی ذکرہ البزازی (واماالحیلۃ لدفع ثبوتھا ابتدأ فعند ابی یوسف لاتکرہ وعند محمد تکرہ ویفتی بقول ابی یوسف فی الشفعۃ)قیدہ فی السراجیۃ بما اذکان الجار غیر محتاج الیہ و استحسنۃ محشی الاشباہ (وبضدہ)وھوالکراھۃ (فی الزکوۃ)والحج وایۃ السجدۃ جوھرۃ۔
پہلی دونوں کتب کی عبارت یہ ہے(ثبوت شفعہ کے بعد اسقاط کے لیے حیلہ کرنا بالاتفاق مکروہ ہے)مثلاشفیع کے لیے یہ کہنا کہ وہ چیز آپ مجھ سے خریدلیں ۔ اسے بزازی نے ذکر کیا(لیکن ابتدا عدم ثبوت کے لیے حیلہ کرنا امام ابویوسف کے نزدیك مکروہ نہیں ۔ اورامام محمد کے ہاں مکروہ ہے ۔ شفعہ میں امام ابویوسف کے قول پر فتوی ہے)سراجیہ میں اس قید کا اضافہ ہے کہ بشرطیکہ پڑوسی اس کے محتاج نہ ہو محشی اشباہ نے اسے پسند کیا ہے اور زکوۃ حج اور آیت سجدہ میں (اس کی ضد)بھی کراہت پر فتوی ہے۔ جوہرہ(ت)
ردالمحتار میں شرح دررالبحار سے ہے : ھذا تفصیل حسن (یہ تفصیل خوبصورت ہے۔ ت) غمزالعیون
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الحیل باب فی الزکوٰۃ والّایفرق بین مجتمع الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۲/۱۰۲۹
درمختار کتاب الشفعۃ کتاب مایبطلہا مطبع مجتبائی دہلی۲/۲۱۶
ردالمحتار کتاب الشفعۃ کتاب مایبطلہا مصطفی البابی مصر ۵/۱۷۳
#9468 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
چط میں ہے :
الزکوۃ علی عدم جوازالحیلۃ لاسقاط الزکوۃ وھو قول محمد رحمہ اﷲتعالی وھو المعتمد۔
فتوی حیلہ اسقاط زکوۃ کے عدم جواز پر ہے اور یہی امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا قول ہے اور اسی پر اعتماد ہے(ت)
مجمع الانہرمیں شرح الکنز للعنیی سے ہے :
المختار عندی ان لا تکرہ فی الشفعۃ دون الزکوۃ۔
میرے نزدیك مختاریہ ہے کہ شفعہ میں حیلہ مکروہ نہیں لیکن زکوۃ میں مکروہ ہے۔ (ت)
وقایہ و اصلاح وایضاح میں ہے :
واللفظ لھذین لا یکرہ حیلۃ اسقاط الشفعۃ الزکوۃ عند ابی یوسف خلافا لمحمد و یفتی فی الاول بقول الاول وفی الثانی بقول الثانی۔
ان دونوں کی عبارت یہ ہے : اسقاط شفعہ زکوۃ کے لیے حیلہ امام ابو یوسف کے نزدیك مکروہ نہیں لیکن امام محمد کو اس میں اختلاف ہے پہلے (شفعہ) میں پہلے امام (ابو یوسف) کے قول پر اور دوسرے (زکوۃ) میں دوسرے امام (محمد ) کے قول پر فتوی ہے۔ (ت)
امام الائمہ سراج الامہ حضرت سید نا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا مذہب بھی یہی مذہب امام محمد ہے کہ ایسا فعل ممنوع و بد ہے۔ غمزالعیون میں تاتارخانیہ سے ہے :
کان ممنوع مکروھا عند الامام و محمد۔
یہ( حیلہ ) امام اعظم اور امام محمد دونوں کے نزدیك مکروہ ہے۔ (ت)
تو امام کے طرف وہ نسبت تصویب کہ انہوں نے فرمایا (ابو یوسف نے درست فرمایا)خود مذہب امام کے صریح خلاف ہے ۔
ثالثا : بلکہ خزانۃالمفتین میں فتاوی کبری سے ہے :
حوالہ / References غمز عیون البصائر الفن الخامس من الاشباہ والنظائر الخ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۲۹۲
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل وتبطل الشفعۃ بتسلیم الکل اوبعض داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۴۸۶
شرح الوقایۃ کتاب الشفعۃ باب ماھی فیہ الخ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۷۰
غمز عیون البصائر الفن الخامس من الاشباہ والنظائر وہوفن الحیل ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۲۹۲
#9469 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
الحیلۃ فی ابطال الشفعۃ بعد ثبوتھا یکرہ لانہ ابطال لحق واجب واما قبل الثبوت فلا باس بہ وھو المختار والحیلۃ فی منع وجوب الزکوۃ تکرہ بالاجماع۔
ثبوت کے بعد ابطال شفعہ کے لیے حیلہ کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ حق واجب کو باطل کرنا ہے لیکن ثبوت سے پہلے حیلہ میں کوئی حرج نہیں اوریہی مختار ہے اور وجوب زکوۃ میں رکاوٹ کے لیے حیلہ کرنا بالاجماع مکروہ ہے۔ (ت)
یہاں سے ثابت کہ ہمارے تمام ائمہ کا اس کے عدم جواز پر اجماع ہے حضرت امام ابو یوسف بھی مکروہ رکھتے ہیں ممنوع و ناجائز جانتے ہیں کہ مطلق کراہت کراہت تحریم کے لیے ہے خصوصا نقل اجماع کہ یہاں ہمارے سب ائمہ کا مذہب متحد بتارہی ہے اور شك نہیں کہ مذہب امام اعظم و امام محمد اس حیلہ کا ناجائز ہوناہے غمزالعیون کے لفظ سن چکے کہ صاف عدم جواز کی تصریح ہے اقول : اگر بتظافر نقول خلاف بغرض توفیق اس روایت اجماع میں کراہت کو معنی اعم پر حمل کریں
فربما تجئی کذا کقولھم فی الصلوۃ کرہ کذا وکذاوارادوابہ المکروھات من القسمین۔
تو کبھی یوں بھی آتا ہے جیسا کہ فقہاء کا نماز کے باب میں کہنا کہ فلاں فلاں چیز مکروہ ہے اور مکروہات کی دونوں قسموں کو مراد لیتے ہیں(ت)
تو حاصل یہ ہوگا کہ اس حیلہ کے مکروہ و نا پسند ہونے پر ہمارے ائمہ کا اجماع ہے خلاف اس میں ہے کہ امام ابو یوسف مکروہ تنزیہی فرماتے ہیں اور امام اعظم و امام محمد مکروہ تحریمی۔ اور فقیر نے بچشم خود امام ابی یوسف رضی اﷲ عنہ کی متواتر کتاب مستطاب الخراج میں یہ عبارت شریفہ مطالعہ کی (مطبع میری بولاق مصر صفحہ۴۵) :
قال ابو یوسف رحمہ اﷲلا یحل لرجل یؤمن باﷲ والیوم الاخر منع الصدقۃ و لااخرا جھا من ملکہ الی ملك جماعۃ غیرہ لیفرقھا بذلك فتبطل الصدقۃ عنھا بان یصیر لکل واحد منھم من الابل والبقر والغنم مالا یجب فیہ الصدقۃ ولایحتال فی ابطال الصدقۃ بوجہ ولا سبب بلغنا عن ابن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ
یعنی امام ابو یوسف فرماتے ہیں کسی شخص کو جو اﷲو قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ حلال نہیں کہ زکوۃ نہ دے یا اپنی ملك سے دوسروں کی ملك میں دے دے جس سے ملك متفرق ہوجائے اور زکوۃ لازم نہ آئے کہ اب ہر ایك کے پاس نصاب سے کم ہے اور کسی طرح کسی صورت ابطال زکوۃ کا حیلہ نہ کرے ہم کو ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا زکوۃ نہ دینے والامسلمان نہیں رہتا اور جو زکوۃ نہ دے اس کی
حوالہ / References خزانۃ المفتین
#9470 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
انہ قال مامانع الزکوۃ بمسلم ومن لم یؤدھا فلا صلوۃ لہ۔
نماز مردود ہے۔
فتاوی کبری و خزانۃالمفتین کی نقل اجماع عبارت اطلاق کی تائید کررہی ہے اور اس کا اطلاق اس اجماع کی امام ابویوسف نے یہ کتاب مستطاب خلیفہ ہارون کے لیے تصنیف فرمائی ہے جبکہ امام خلافت ہارونی میں قاضی القضاۃ و قاضی الشرق والغرب تھے اس میں کمال اعلان حق کے ساتھ خلیفہ کو وہ ہدایات فرمائی ہیں جو ایك اعلی درجے کے امام ربانی کے شایان شان تھیں کہ اﷲکے معاملے میں سلطان و خلیفہ کسی کا خوف و لحاظ نہ کرے اور خلیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ان ہدایات کو اسی طرح سنا ہے جو ایك خدا پرست سلطان و امیر المومنین کے لائق ہے کہ نصائح ائمہ و علماء اگر چہ بظاہر تلخ ہوں گوش قبول سے سنے اور ان کے حجور فروتنی کرے یہ زمانہ امام کا آخر زمانہ تھا حاضرین مجلس مبارك سید نا امام اعظم یا اس کے بعد کا قریب زمانہ جس میں خلافیات ائمہ ثلثہ منقول ہوئی ہیں اس سے متقدم تھا تواس تقدیر پر نقل اجماع کوظاہر سے پھیرنے کی حاجت نہیں تطبیق یوں ہوگی کہ امام ابی یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس قول سے رجوع فرمایا اور ان کا آخر قول یہی ٹھہرا جو ان کے استاذ اعظم امام الائمہ اورشاگرد اکبر امام محمد کا ہے رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین او ر ایك امام دین جب ایك قول سے رجوع فرمائے تو اب وہ اس کا قول نہ رہا نہ اس پر طعن روا نہ سید نا عبد اﷲبن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا پر طعن کیا کہ وہ ابتدا ء میں جواز متعہ مدتوں قائل رہے ہیں یہاں تك کہ عبداﷲ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہم ا نے اپنے زمانہ خلافت میں ان سے فرمایا کہ اپنے ہی اوپر آز مادیکھئے اگر متعہ کروتو میں سنگسار کروں آخر زمانہ میں اس سے رجوع کیا اور فرمایا : اﷲعزوجل نے زوجہ و کنیز شرعی بس ان دو کو حلال فرمایا ہے فکل فرج سواھما حرام ان دو۲ کے سوا جو فرج ہے حرام ہے رواہ الترمذی (اسے ترمذی نے روایت کیا۔ ت) زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ پر طعن کیا جائے کہ وہ پہلے سود کی بعض صورتیں حلال بتا تے ہیں یہاں تك ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ زید کو خبر دے دو کہ اگر وہ اس قول سے باز نہ آئے تو انہوں نے جو حج و جہاد رسول اﷲتعالی علیہ وسلم کے ہمراہ رکاب کیا اﷲتعالی اسے باطل فرمادے گا۔ رواہ الدارقطنی (اسے دار قطنی نے روایت کیا۔ ت)
رابعا : یہ حکایت کسی سند مستند سے ثابت نہیں اور بے سند مذکور ہونا طعن کے لیے کیا نفع دے سکتا ہے
حوالہ / References کتاب الخراج باب فی الزیادۃ والنقصان الخ مطبعہ بولاق مصر ص ۸۶
جامع الترمذی ابواب النکاح باب ماجاء فی نکاح المتعۃ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی۱ /۱۳۴
سنن الدار قطنی کتاب البیوع حدیث ۲۱۱ نشرالسنۃ ملتان ۳ /۵۲
#9471 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
وہ بھی ایسی کتاب میں خصوصا جس میں تو وہ حدیثیں خود رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف ایسی منسوب ہیں جن کی نسبت ائمہ حدیث نے جزم کیا کہ باطل و موضوع و مکذوب ہیں۔
ولکل فن رجال و لکل رجال مجال ویا بی اﷲ العصمۃ الا لکلامہ و لکلام رسولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم۔
ہر فن کے ماہرین ہیں اور تمام ماہرین میں خطا کا امکان ہے۔ اﷲتعالی نے عصمت صرف اپنے کلام اور اپنے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے کلام ہی کو عطا فرمائی ہے۔ (ت)
مجتہد کے اجتہاد میں کسی فعل کا جوازآنا اور بات اور خود اس کا مرتکب ہونا اور بات یہ اساطین دین الہی بار باعوام کے لے رخصت بتاتے اور خود عزیمت پر عمل کرتے۔ سیدنا امام اعظم امام الائمہ سراج الامہ کاشف الغمہ مالك الازمہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
لا احرم النبیذالشدید دیانۃ ولا اشربہ مروء ۃ۔
میں نبیذ کو دیانۃ حرام نہیں کہتا لیکن مروتا اسے پیتا نہیں ہوں۔ (ت)
ان کے شاگرد کے شاگرد محمد بن مقاتل رازی کہتے ہیں :
لواعطیت الدنیا بحذافیرھا ماشربت المسکر یعنی نبیذ التمروالزبیب ولو اعطیت الدنیا بحذافیرھا ماافتیت بانہ حرام ذکرہ الامام البخاری فی الخلاصۃ۔
اگر تمام دنیا مجھے دے دی جائے تو میں نشہ آور چیز یعنی تمر اور زبیب کا نبیذ نہ پیوں گا اور اگر مجھے تمام دنیا عطا کردی جائے تو میں اس کے حرام ہونے کا فتوی نہیں دے سکتا امام بخاری نے خلاصہ میں اس کا ذکر کیا ہے۔ (ت)
خامسا : امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ الشریف احیاء العلوم شریف فرماتے ہیں :
فان قیل ھل یجوز لعن یزید لانہ قاتل الحسین وامربہ قلنا ھذالم یثبت اصلا فلا یجوز ان یقال انہ قتل او امربہ مالم یثبت فضلا عن اللعنۃ لانہ
اگر سوال کیا جائے کہ کیا یزید پر لعنت کرنا جائز ہے کیونکہ وہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کاقاتل ہے یا اس نے آپ کے قتل کا حکم دیا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ اصلاثابت نہیں جب تك یہ ثابت نہ ہوجائے تو اسے
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الاشربہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/۲۰۵
#9472 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
لانہ لاتجوز نسبۃ مسلم الی کبیرۃ من غیر تحقیق نعم یجوز ان یقال قتل ابن ملجم علیا وقتل ابو لؤلؤ عمر رضی اﷲتعالی عنہ فان ذلك ثبت متواتر افلا یجوز ان یرمی مسلم بفسق وکفر من غیر تحقیق۔
قاتل یا اس کا آمر نہ کہا جائے چہ جائیکہ اس پر لعنت کی جائے کیونکہ بغیر تحقیق کسی مسلمان کی طرف کبیرہ گناہ کی نسبت کرنا جائز نہیں ہاں یہ کہنا جائز ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو ابن ملجم اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو ابو لؤلؤ نے شہید کیا کیونکہ یہ تواتر سے ثابت ہے تو بغیر تحقیق کسی مسلمان کی طرف فسق یا کفر کی نسبت کرنا ہر گز جائز نہیں۔ (ت)
اقول : یہ فعل امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے حکایت کیا جاتا ہے آیا خطاء اجتہادی ہے یا اس کی قابلیت نہیں رکھتا بلکہ معاذاﷲعمدافریضۃ اﷲسے معاندت ہے بر تقدیر اول اس سے طعن کے کیا معنی مجتہد اپنی خطا پر ثواب پاتا ہے اگر چہ صواب کا ثواب دونا ہے۔ اوراگر عیاذابا ﷲشق ثانی فرض کی جائے فرض خود سے معاندت قطعا کبیرہ ہے خصوصا وہ بھی بر سبیل عادت جو (کردیا کرتے تھے)کا مفاد ہے خصوصا اس زعم کے ساتھ کہ آخرت میں اس کا ضرر ہر گناہ سے زائد ہے تو معاذاﷲاکبر الکبائر ہوا پھر کیونکر حلال ہوگیا کہ ایسے سخت کبیرہ شدید نہ کبیرہ بلکہ اکبر الکبائر کو ایك مسلمان نہ صرف مسلمان بلکہ امام المسلمین کی طرف بلا تواتر نہ فقط بے تواتر بلکہ محض بلا سند صرف حکی کی بنا پر نسبت کردیا جائے۔ سبحان اﷲ!یزید پلید کی طرف تو یہ نسبت ناجائز و حرام ہو کہ اس نے امام مظلوم سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو شہیدکرایا اس لیے کہ اس کا حکم دینا اس خبیث سے متواتر نہیں اور سیدنا امام ابو یوسف رحمۃ اﷲعلیہ کی طرف ایسی شدید عظیم بات نسبت کرنا حلال ٹھہرے حالانکہ تواتر چھوڑکرا صلا کوئی ٹوٹی پھوٹی سند بھی نہیں۔
فقد تمت الحجۃ بالحجۃ علی الحجۃ و طہربہ ذیل امام المحجۃ وﷲالحجۃ البالغۃ ولکل جواد کبوۃ ولکل صارم نبوۃ ولکل عالم ھفوۃ ولقد صدق امام دارالھجرۃ عالم المدینۃ سیدنا الامام مالك بن انس رحمۃ اﷲتعالی اذیقول کل ماخوذ من قولہ ومردود علیہ الاصاحب ھذاالقبر صلی اﷲتعالی علیہ وسلم الا
اب حجت پر حجت کے ساتھ حجت تام ہوگئی اورامام المحجۃ کا دامن پاك ہوگیا اور کامل حجت اﷲتعالی کے لیے ہی ہے ہر شہسوار کو گرنا اور ہر تلوار کند ہونا ہے اور ہرعالم کو لغزش کا سامنا ہے_____ امام دار الہجرت عالم مدینہ سید نا امام مالك بن انس رضی اللہ تعالی عنہ نے سچ فرمایا کہ ہر ایك کا قول ماخوذ بھی ہوسکتا ہے اور مردود بھی ماسوائے اس قبر کے مکین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے
حوالہ / References احیا ء العلوم الافۃالثامنۃ اللعن مکتبہ و مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرۃ۳/۱۲۵
#9473 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
ان الذین فی قلو بھم ز یغ فیتبعون ھفوات بدرت مھما ندرت یبتغون الفتنۃ فی الدین وایذاء قلوب المسلمین واﷲالمستعان علی الطاغین والمردۃ الباغین ولا حول ولا قوۃ الا باﷲالعلی العظیم۔
____بلاشبہ وہ لوگ جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ ان ہفوات کی اتباع کرتے ہین جیسے بھی وہ ظاہر ہوں اور اس سے دین میں فتنہ برپا کرکے مسلمانوں کے دلوں کو ایذا دیتے ہیں ان سرکشوں اور مردود باغیوں کے خلاف اﷲتعالی مدد فرمانے والاہے۔ (ت)
سادسا : مجرد استقباح و استبعاد بے دلیل شرعی مسموع نہیں نہ احکام زہد احکام شرع پر حاکم نماز میں قلت خشوع کو اہل سلوك کیا کیا سخت و شنیع مذمتیں نہیں کرتے ایسی نماز کو باطل و مہمل و فاسد و مختل سمجھتے ہیں۔ اور فقہاء کااجماع ہے کہ خشوع نہ رکن نماز ہے نہ فرض نہ شرط مانحن فیہ کا محل اجتہاد نہ ہونا مخالف نے نہ بتایا نہ قیامت تك بتاسکتا ہے پھر اجتہاد مجتہد پر طعن کیا معنی رہا فعل اگر بفرض غلط ایك آدھ باروقوع بسند معتمد ثابت بھی ہوجائے تو کرنے اور کیا کرنے میں زمین آسمان کابل ہے نہ کان یفعل تکرار میں نص کما بیناہ فی التاج المکلل فی انارۃ مد لول کان یفعل (جیسا کہ ہم نے اس بات کو اپنے رسالہ التاج المکلل فی انارۃ مدلول کان یفعل''میں بیان کیاہے۔ ت) واقعہ حال محتمل صدا حتمال ہوتا ہے عروض ضرورت یا امراہم یا کچھ نہ سہی تو بیان جواز ہی کہ فعلا قولا سے اکمل واتم اور (یہ ان کی فقہ سے ہے ) تصویب نہیں اس کے معنی اس قدر کہ یہ انکا اجتہاد ہے جس کا حاصل صرف منع طعن ہے کہ مجتہد اپنے اجتہاد پرملام نہیں جس طرح حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا نے عکرمہ کو جب انھوں نے امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی شکایت کی کہ وتر کی ایك رکعت پڑھی جواب دیا دعہ فــــ فانہ فقیہ انھیں کچھ نہ کہہ کہ وہ مجتہد ہیں رواہ البخاری(اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ ت) . ہاں دربارہ تصویب وتصدیق یہ حکایت کتب میں منقول ہے کہ امام زین الملۃ والدین ابوبکر خواب میں زیارت اقدس حضورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مشرف ہوئے کسی شافعی المذہب نے امام ابویوسف کا یہ قول حضور کے سامنے عرض کیا حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : ابویوسف کی تجویز حق ہے یا فر مایا درست ہے۔ شرح نقایہ میں ہے :
وقد ایدہ ما صح عندنا ان افضل العلماء فی زمانہ واکمل العرفاء فی اوانہ زین الملۃ والدین ابوبکر
اس کی تائید وہ واقعہ کرتا ہے جو ہمارے نزدیك صحت کے ساتھ ثابت ہے کہ اپنے وقت کے افضل العلماء اکمل العرفاء زین الملت والدین

فــــ : بخاری کے مقام مذکور پر دوحدیثیں منقول ہیں ایك کے الفاظ یہ ہیں دعہ فانہ صحب رسول اﷲصلے اﷲعلیہ وسلم اور دوسری کے الفاظ یوں قال اصاب انہ فقیہ۔ اعلحضرت علیہ الرحمۃ نے دونوں حدیثوں کا اختیار نقل کیا ہے۔ نذیر احمد )
حوالہ / References صحیح بخاری باب ذکر معاویہ قدیمی کتب خانہ کراچی۱/۵۳۱
#9474 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
التائبادی قدرأی فی المنام ان شافعی المذہب قال فی مجلس النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ان ابا یوسف جوزحیلۃ فی اسقاط الزکوۃ فقال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ان ماجوزہ ابویوسف حق اوصدق۔
اس کی تائید وہ واقعہ کرتا ہے جو ہمارے نزدیك صحت کے ساتھ ثابت ہے کہ اپنے وقت کے افضل العلماء اکمل العرفاء زین الملت والدین ابوبکر التائبادی نے خواب میں دیکھا کہ شافعی المذہب شخص نے مجلس نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں عرض کیا کہ ابو یوسف نے اسقاط زکوۃ میں حیلہ کو جائز رکھا ہے تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : ابویوسف نے جو تجویز کیا ہے وہ حق یا درست ہے (ت)
سابعا : بعد وجوب منع کا حیلہ بالا جماع حرام قطعی ہے یہاں کلام منع وجوب میں ہے یعنی وہ تدبیرکرنی کہ ابتدا زکوۃ واجب ہی نہ ہو۔ اما م ابو یوسف فرماتے ہیں اس میں کون سے حکم کی نافرمانی ہوئی اﷲعزوجل نے سال تمام ہونے پر زکوۃ فرض کی جو بعد وجوب ادانہ کرے بالاجماع عاصی ہے یہ کہاں فرض کیا ہے کہ اپنے مال پر سال گزر بھی جانے دو جس طرح یہ فرض فرمایا ہے کہ جو زادوراحلہ و قدرت رکھتا ہو حج کرے یہ کب فرض کیا ہے کہ زادوراحلہ واستطاعت کے قابل مال جمع بھی کر یونہی ہر گز واجب کیا مستحب بھی نہیں کہ قدر نصاب مال جوڑ کر سال بھر رکھ چھوڑو تاکہ زکوۃ واجب ہو ائمہ دین کو تعلیم غل کی طرف منسوب کرنا بد گمانی ہے جو عوام مسلمین پر بھی جائز نہیں اور حق یہ ہے کہ امام ممدوح کا یہ قول بھی اس لیے نہیں کہ لوگ اسے دستاویز بنا کر زکوۃ سے بچیں بلکہ وہ وقت ضرورت و حاجت پر محمول ہے مثلاکسی پر حج فرض ہوگیا تھا مال چوری ہوگیا مصارف حج ونفقۃ عیالی کے لیے ہزار درہم کی ضرورت ہے اس سے کم میں نہ ہوگا محنت و کوشش سے جمع کئے آج قافلہ جائے کو ہے کل سال زکوۃ تمام ہوگا اگر پچیس درہم نکل جائیں گے مصارف میں کمی پڑے گی یہ ایسا حیلہ کرے کہ حج فرض سے محروم نہ رہے یا کوئی شخص اپنے حال کو جانتا ہے کہ زکوۃ اس سے ہرگز ہر گز قطعانہ دی جائے گی اس کا نفس ایسا غالب ہے کہ کسی طرح اس فرض کی ادا پر اصلا قدرت نہ دے گا یہ اس خیال سے ایسا کرے کہ بعد فرضیت ترك ادا وارتکاب گناہ سے بچوں توازقبیل من ابتلی بلتیین اختارا ھو نھما (جو شخص دو مشکلات میں گھر جائے ان میں سے آسان کو اختیار کرے۔ ت)ہوگا۔ سراجیہ میں ہے :
اذا ارادان یحتال لامتناع وجوب الزکوۃ لما انہ خاف ان لا یؤدی فیقع فی المأثم فا لسبیل ان یھب النصاب قبل تمام الحول من یثق بہ
جب کوئی امتناع وجوب زکوۃ کے لیے حیلہ کرتا ہے کہ وہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ اگر اس نے زکوۃ ادا نہ کی تو گناہگار ہوگا تو اس کے لیے راستہ یہ ہے کہ سال گزرنے سے پہلے نصاب کسی باعتماد آدمی کے
حوالہ / References شرح نقایہ
#9475 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
ویسلمہ الیہ ثم یستوھبہ۔
جب کوئی امتناع وجوب زکوۃ کے لیے حیلہ کرتا ہے کہ وہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ اگر اس نے زکوۃ ادا نہ کی تو گناہگار ہوگا تو اس کے لیے راستہ یہ ہے کہ سال گزرنے سے پہلے نصاب کسی باعتماد آدمی کے حوالے کردے پھر اس سے بطور ہبہ واپس لے لے۔ (ت)
دیکھو تصریح ہے کہ یہ حیلہ گناہ سے بچنے کے لیے نہ کہ معاذاﷲگناہ میں پڑنے کے واسطے۔ حیل شرعیہ کا جواز خود قرآن واحادیث سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ثابت ہے ایوب علیہ الصلوۃ و السلام نے قسم کھائی تھی کہ اپنی زوجہ مقدسہ کو سو۱۰۰ کوڑے ماریں گے رب العزت عز جلالہ نے فرمایا :
و خذ بیدك ضغثا فاضرب به و لا تحنث-
یعنی سو قمچیوں کی ایك جھاڑو بنا کر اس سے ایك دفعہ مارلو اور قسم جھوٹی نہ کرو۔
حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك کمزور شخص پر حد لگانے میں اسی حیلہ جمیلہ پر عمل فرمایا ارشاد ہوا :
خذوالہ عثکالا فیہ مائۃ شمراخ ثم اضربوہ بہ ضربۃ واحدۃ۔ رواہ احمد وابن ماجۃ وابو داؤد و بمعناہ البغوی فی شرح السنۃ الاولان عن ابی امامۃ بن سھل عن سعید بن سعد بن عبادۃ والثالث عن ابی امامۃ بن سھل عن بعض الصحابۃ من الانصار والرابع عن سعید بن سعد بن عبادۃ رضی اﷲتعالی عنہ اتی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم برجل الحدیث ھذا حدیث حسن الاسناد ورواہ الرؤیانی فی مسندہ فقال حدثنا محمد بن المثنی نا عثمن بن عمر نا فلیح عن سھل بن سعد ان ولیدۃ فی عھد رسول اﷲ
شاخہائے خرما کا ایك گچھا لے کر جس میں سوشاخیں ہوں اس سے ایك بار مار دو(اسے امام احمد ابن ماجہ ابوداؤد نے' اور معنا بغوی نے شرح السنۃ میں روایت کیا ہے پہلے دونوں محدثین نے حضرت ابو امامہ بن سہل اور انہوں نے سعید بن سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے اور تیسرے نے حضرت امامہ بن سہل سے انہوں نے ایك انصاری صحابی سے روایت کی ہے اور چوتھے نے حضرت سعید بن سعد بن عبادہ سے روایت کیا کہ نبی پاك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت ا قدس میں ایك شخص کو لایا گیا الحدیث. اس حدیث کی سند حسن ہے اور اسے رؤیانی نے اپنی سند یوں روایت کیا کہ ہمیں محمد بن مثنی نے انھیں
حوالہ / References فتاوٰی سراجیۃ کتاب الحیل والخوارج منشی نولکشور لکھنؤ ص۱۵۴
القرآن ۳۸ / ۴۴
مسند امام احمد بن حنبل حدیث سعید بن سعد بن عبادہ رضی اﷲعنہ دارالفکر بیروت ۵ / ۲۲۲
شرح السنۃ باب حد المریض حدیث ۲۵۹۱ المکتب الاسلامی بیروت ۱۰ / ۳۰۳
#9476 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
صلی اﷲ تعالی وسلم حملت من الزنا فسئلت من احبلک فقالت احبلنی المقعد فسئل عن ذلك فاعترف فقال النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم انہ لضعیف عن الجلد فامربما ئۃعثکول فضربہ بھا ضربۃ واحدۃ اھ ھکذا وقع فیمارأیت انما المعروف ابن سہل سعید بن سعد وفی اخری لابن ماجۃ عن ابن سہل عن سعد بن عبادۃ۔ واﷲتعالی اعلم۔
عثمان بن عمر نے انھیں فلیح نے حضرت سہل بن سعد سے بیان کیا کہ ایك لڑکی حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ظاہری حیات میں زنا سے حاملہ ہوگئی پوچھا گیا یہ حمل کس کا ہے اس نے کہا یہ اس لولے کا ہے پوچھا گیا تو اس نے اعتراف کر لیا۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا یہ کمزور ہے سو کوڑوں کی سزا نہیں جھیل سکتا لہذا آپ نے سو شاخوں والے خرما کی شاخ سے اسے ایك ضرب لگوائی اھ دیکھا تو میں نے یہی ہے مگر معروف ابن سہل سعید بن سعد ہیں اور ابن ماجہ کی دوسری روایت میں ابن سہل نے حضرت سعد بن عبادہ سے بیان کیا ہے۔ اﷲتعالی ہی بہتر جانتا ہے(ت)
خود صحیح بخاری شریف بلکہ صحیحین میں حضرت ابو سعید و حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہم ا سے ہے رسول ا ﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك صاحب کو خیبر پر عامل بنا کر بھیجا وہ عمدہ خرمے وہاں سے لائے فرمایا : کیا خیبر کے سب خرمے ایسے ہی ہیںنہیں یا رسول اﷲ! واﷲکہ ہم چھ سیر خرموں کے بدلے یہ خرمے تین سیر اور نو سیر دے کر اس کے چھ سیر خریدتے ہیں۔ فرمایا :
لاتفعل بع الجمع بالدراھم ثم ابتع بالدراھم جینبا۔
ایسا نہ کرو بلکہ ناقص یا پچمیل خرمے پہلے روپوں کے عوض بیچو پھر ان روپوں سے یہ عمدہ خرمے خریدو۔
اور ہر موزوں کے بارے میں یہی حکم فرمایا نیز صحیحین میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے۔ بلال رضی اللہ تعالی عنہ کہ برنی چھوہارے کے عمدہ قسم ہیں خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں حاضر لائے فرمایا : یہ کہاں سے آئے ہیں عرض کی : ہمارے پاس ناقص چھوہارے تھے ان کے چھ سیردے کر یہ تین سیر لیے فرمایا :
اوہ عین الربالا تفعل ذلك ولکن
اف خاص سودہے ایسا نہ کرو ہاں جب بدل
حوالہ / References مسندالرؤیانی حدیث نمبر ۱۰۵۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ص / ۱۳۸ ، کنز العمال بحوالہ ابن النجار حدیث ۱۳۵۰۴ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۵ / ۴۲۶
صحیح البخاری کتاب البیوع باب اذاارادبیع تمر بتمر خیر منہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹۳
#9477 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
اذااردت ان تشتری فبع التمرببیع اخرثم اشتر بہ۔
ناچاہو تو اپنے چھوہارے اورچیز سے پہلے بیچ پھر اس سے اچھے چھوہارے مول لے لو۔
یہ شرعی حیلے نہیں تو اور کیا ہیں باب حیل واسع ہے اگر کلام کو وسعت دی جائے تطویل لازم آئے۔ اہل انصاف کواسی قدر بس ہے پھر جب اﷲ و رسول اجازت دیں تعلمیں فرمائیں تو ابو یوسف پر کیا الزام آسکتا ہے ہاں ہمارے امام اعظم و امام محمد رضی اللہ تعالی عنہم نے یہ خیال فرمایا کہ کہیں اس کی تجویز عوام کے لیے مقصد شنیع کا دروازہ کھولے لہذا ممانعت فرمادی اور ائمہ فتوی نے اسی منع ہی پر فتوی دیا امام بخاری بھی اگر امام محمد کا ساتھ دیں اور یہ قول امام ابی یوسف پسند نہ کریں تو امام ابی یوسف کی شان جلیل کو کیا نقصان وہ کون سا مجتہد ہے جس کے بعض اقوال دوسروں کو مرضی نہ ہوئے یہ رد وقبول تو زمانہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے بلا نکیر رائج و معمول ہے نہ بخاری کے اقوال مذکورہ میں کوئی کلمہ سخت نفرت کا ہے ان سے صرف اتنا نکلتا ہے کہ یہ قول انھیں مختار نہیں اور ہو بھی تو ان کی نفرت امام مجتہد کو کیا ضرر دے سکتی ہے خصوصاائمہ حنفیہ لاسیما امام الائمہ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ وعنہم کہ امام بخاری کے امام و متبوع سید نا امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ جن کی نسبت شہادت دیتے ہیں کہ تمام مجتہدین امام ابو حنیفہ کے بال بچے ہیں حفظ حدیث ونقد رجال و تنقیح صحت و ضعف روایات میں امام بخاری کا اپنے زمانے میں پایہ رفیع والا صاحب رتبہ بالا مقبول معاصرین ومقتدائے متاخرین ہونا مسلم۔ کتب حدیث میں ان کی کتاب بیشك نہایت چیدہ و انتخاب جس کے تعالیق و متابعات و شواہد کو چھوڑ کر اصول مسانید پر نظر کیجئے تو ان میں گنجائش کلام تقریبا شاید ایسی ہی ملے جیسے مسائل ثانیہ امام اعظم میں اور یہ بھی بحمداﷲحنفیہ وشاگردان ابو حنیفہ وشاگردان شاگرد ابو حنیفہ مثل امام عبد اﷲبن المبارك و امام یحیی بن سعید قطان وامافضیل بن عیاض وامام مستعربن کرام وامام وکیع الجراح وامام لیث بن سعد وامام معلی بن منصور رازی وامام یحیی بن معین وغیرہم ائمہ دین رحمۃاﷲعلیہم اجمعین کا فیض تھا کہ امام بخاری نے ان کے شاگردوں سے علم حاصل کیا اوران کے قدم پر قدم رکھا اور خود امام بخاری کے استاذ اجل امام احمد بن حنبل امام شافعی کے شاگردہیں وہ امام محمد کے وہ امام ابویوسف کے وہ امام ابو حنیفہ کے رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین مگر یہ کار اہم ایسا نہ تھا کہ امام بخاری اس میں ہمہ تن مستغرق ہوکر دوسرے کا ر اجل و اعظم یعنی فقاہت و اجتہاد کی بھی فرصت پاتے اﷲ عزو جل نے انھیں خدمت الفاظ کریمہ کے لیے بنا یا تھا خدمت معانی ائمہ مجتہدین خصوصا امام الائمہ ابوحنیفہ کا حصہ تھا۔ محدث و مجتہد کی نسبت عطا ر و طبیب کی مثل ہے عطاردواشناس ہے اس کی دکان عمدہ عمدہ دواؤں سے مالامال ہے مگر تشخیص مرض و معرفت علاج و فریق استعمال طبیب کاکام ہے
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الوکالت باب اذباع الوکیل شیأ فاسداًالخ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۳۱۰
#9478 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
عطار کامل اگرطبیب حادق کے مدارك عالیہ تك نہ پہنچے معذور ہے خصو صا ملك اطبائے حذاق امام ائمہ آفاق جو ثریا سے علم لے آیا جس کی دقت مقاصد کو اکابر ائمہ نے نہ پایا بھلا امام بخاری تو نہ تابعین سے ہیں نہ تبع تابعین سے امام اعظم کے پانچویں درجے میں جاکر شاگرد ہیں خود حضرت امام اجل سلیمن اعمش کہ اجلہ تابعین و امام ائمہ محدثین سے ہیں حضرت سید نا انس بن مالك انصاری رضی اللہ تعالی عنہ خادم رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے شاگرد اور ہمارے امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے استاد ان سے کچھ مسائل کسی نے پوچھے اس وقت امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ بھی وہاں تشریف فرما تھے امام اعمش نے ہمارے امام سے فتوی لیا ہمارے امام نے سب مسائل کا فورا جواب دیا اعمش نے کہا یہ جواب آپ نے کہاں سے پیدا کیےفرمایا ان حدیثوں سے جو میں نے خود آپ سے سنیں اور وہ احادیث مع اسانید پڑھ کر بتادیں امام اعمش نے کہا :
حسبك ماحد ثتك بہ فی مائۃ یوم تحدثنی بہ فی ساعۃ واحدۃ ماعلمت انك تعمل بھذہ الاحادیث یا معشرالفقھاء انتم الاطباء ونحن الصیادلۃ وانت ایھا الرجل بکلاالطرفین۔
یعنی بس کیجئے میں نے جو حدیثیں سو دن میں بیان کیں آپ نے گھڑی بھر میں مجھے سنا دیں مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ احادیث میں یہ کام کرتے ہیں اے مجتہد!تم طبیب ہو اور ہم محدثین عطار۔ اور اے ابوحنیفہ!تم نے دونوں کنارے گھیر لیے۔
یہ روایت امام ابن حجر مکی شافعی وغیرہ ائمہ شافعیہ وغیرہم نے اپنی تصانیف خیرات الحسان وغیرہا میں بیان فرمائی یہ تو یہ خود ان سے بدرجہا اجل واعظم ان کے استاذاکرم و اقدم امام عامر شعبی جنھوں نے پانسو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو پایا حضرت امیر المومنین مولی علی وسعد بن ابی وقاص و سعید بن زید وابوہریرہ و انس بن مالك و عبد اﷲ بن عمر و عبد اﷲبن عباس و عبداﷲبن زبیر و عمران بن حصین و جریر بن عبداﷲ ومغیرہ بن شعبہ و عدی بن حاتم و امام حسن و امام حسین وغیرہم بکثرت اصحاب کرام رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے شاگرد اور ہمارے امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے استاذ جن کا پایہ رفیع حدیث میں ایسا تھا کہ فرماتے ہیں بیس۲۰ سال گزرے ہیں کسی محدث سے کوئی حدیث میرے کان تك ایسی نہیں پہنچی جس کا علم مجھے اس محدث سے زائد نہ ہو۔ ایسے مقام والا مقام با آں جلالت شان فرماتے ہیں :
انالسنابا لفقھاء ولکنا سمعنا الحدیث فروینا للفقھاء من اذا
ہم لوگ فقیہ و مجتہد نہیں ہم نے تو حدیثیں سن کر فقیہوں کے آگے روایت کردی ہیں جو ان پر مطلع ہوکر
حوالہ / References الخیرات الحسان الفصل الثلاثون فی سندہ فی الحدیث ایم ایچ سعید کمپنی کراچی ص ۱۴۴
#9479 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
علم عمل۔ نقلہ الزین فی تذکرۃ الحفاظ۔
ہم لوگ فقیہ و مجتہد نہیں ہم نے تو حدیثیں سن کر فقیہوں کے آگے روایت کردی ہیں جو ان پر مطلع ہوکر کارروائی کرینگے۔ (اسے شیخ زین نے تذکرۃ الحفاظ میں نقل کیا ہے۔ ت)
کاش امام اجل سید نا امام بخاری علیہ رحمۃ الباری اگر فرصت پاتے اور زیادہ نہیں دس بارہ برس امام حفص کبیر بخاری وغیرہ ائمہ حنفیہ رحمہم اﷲتعالے سے فقہ حاصل فرماتے تو امام ابو حنیفہ کے اقوال شریفہ کی جلالت شان و عظمت مکان سے آگاہ ہوجاتے امام ابو جعفر طحاوی حنفی کی طرح ائمہ محدثین و ائمہ فقہاء دونوں کے شمار میں یکساں آتے مگر تقسیم ازل جو حصہ دے
ہر کسے را بہر کارے ساختند
میل او اندر دلش انداختند
(جس کو کسی کام کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے اس کام کی محبت اس کے دل میں ڈال دیتے ہیں )
اور انصافا یہ تمنا بھی عبث ہے امام بخاری ایسے ہوتے تو امام بخاری ہی نہ ہوتے ان ظاہر بینوں کے یہاں وہ بھی ائمہ حنفیہ کی طرح معتوب و معیوب قرار پاتے فالی اﷲالمشتکی وعلیہ التکان (اﷲتعالی کی بارگاہ میں ہی درخواست ہے اور اسی پر بھروساہے۔ ت)
بالجملہ ہم اہل حق کے نزدیك حضرت امام بخاری کو حضور پر نور امام اعظم سے وہی نسبت ہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو حضور پر نور امیر المومنین مولی المسلمین سید نا ومولنا علی المرتضی کرم اﷲتعالی وجہہ الاسنی سے کہ فرق مراتب بے شمار اور حق بدست حیدر کرار مگر معاویہ بھی ہمارے سردار طعن ان پر بھی کار فجار جو معاویہ کی حمایت میں عیاذباﷲاسد اﷲ کے سبقت واولیت و عظمت واکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ نا صبی یزیدی اور جو علی کی محبت میں معاویہ کی صحا بیت و نسبت بارگاہ حضرت رسالت بھلادے وہ شیعی زیدی یہی روش آداب بحمد اﷲتعالے ہم اہل توسط و اعتدال کو ہر جگہ ملحوظ رہتی ہے یہی نسبت ہمارے نزدیك امام ابن الجوزی کو حضور سید نا غوث اعظم اور مولانا علی قاری کو حضرت خاتم ولایت محمد یہ شیخ اکبر سے ہے نہ ہم بخاری و ابن جوزی و علی قاری کے اعتراضوں سے شان رفیع امام اعظم و غوث اعظم و شیخ اکبر رضی اللہ تعالی عنہم پر کچھ اثر سمجھیں نہ ان حضرات سے کہ بوجہ خطا فی الفہم معترض ہوئے الجھیں ہم جانتے ہیں کہ ان کا منشاء اعتراض بھی نفسانیت نہ تھا بلکہ ان اکابر محبوبان خدا کے مدارك عالیہ تك درس ادراك نہ پہنچنا لاجرم اعتراض باطل اور معترض معذور اور معترض علیہم کی شان ارفع و اقدس والحمد ﷲرب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین
حوالہ / References تذکرۃ الحفّاظ ترجمہ ۷۷ الشعبی علامتہ التابعین دائرۃالمعارف النظامیہ حیدر آباد دکن ۱ /۷۹
#9480 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
محمد والہ وصحبہ واولیا ئہ وعلمائہ واھلہ وحزبہ اجمعین امین واﷲتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۸۰ : از مرزا پور بنگلہ نابالغ مرسلہ شجاعت حسین بیگ صاحب بریلوی
بنظر اشرف عالم المعی فاضل لوذعی مجدد مائۃ حاضرہ جناب مفتی صاحب زاد اﷲ فیوضہ بعد سلام مسنون گزارش ہے مجھ پر عرصہ قرض تھا یکم رمضان ۱۳۳۸ھ کو اپنی دکان بیع کرکے قرضہ دے دیا بے حدو بے شمار شکر ہے کہ اس نے مجھے اس بار عظیم سے اپنے فضل و کرم سے سبکدوش فرمایا بعد ادائے کل قرضہ دوہزار دوسو پچانوے زائد علی الاحتیاج باقی رہے دوسری ماہ مبارك کو با متثال رب عزوجل قبل گزرنے حولان حول کے روپے علیحدہ کردئے باقی رہے ان روپے کی زکوۃ بحکم شریعت مطہرہ ہوئے بقیہ میں ایك کا اضافہ کرکے بہ نیت زکوۃ علیحدہ کردئے یہ طریقہ بحکم شریعت مطہرہ صحیح ہوا یا نہیں ۲۳ رمضان تك میں بریلی رہا جب تك زر زکوۃ طلباء و فقراء کو دیتا رہا باقی تھے کہ مجھے بضرورت ۲۴ کو مرزا پور آنا پڑا اب یہاں یہ بقیہ اہل حاجت کو دیا جائے تو خلاف حکم شرعی تو نہ ہوگا میرے ایك سالے ہیں جو کٹرہ میران پور ضلع تلہر میں منسوب ہیں قلیل آمدنی ہے اور کثیر اولاد ہیں اگر ان کو کچھ بھیجا جائے تو صلہ رحم بھی ہوگا مگر یہ ارشاد ہو کہ جس قدر ان کو بذریعہ ڈاك روانہ کیا جائے مثلا پانچ روپے بھیجے اور ڈاك کی فیس ایك آنہ یا دو آنے ہوئی تو یہ پیسے انھیں ص سے دئے جائیں یا علیحدہ اپنے پاس سے۔
الجواب :
وعلیکم السلام ورحمۃاﷲ و برکاتہ جس دن تاریخ وقت پر آدمی صاحب نصاب ہوا جب تك نصاب رہے وہی دن تاریخ وقت جب آئے گا اسی منٹ حولان حول ہوگا اس بیچ میں جو اوررو پیہ ملے گااسے بھی اسی سال میں شامل کرلیا جائے گا اور اسی حولان کو اس کا حولان مانا جائے گا اگر چہ اسے ملے ہوئے ابھی ایك ہی منٹ ہوا حولان حول کے بعد ادائے زکوۃ میں اصلاتا خیر جائز نہیں جتنی دیر لگائے گا گنہ گار ہوگا ہاں پیشگی دینے میں اختیار ہے کہ بتدریج دیتا رہے سال تمام پر حساب کرے اس وقت جو واجب نکلے اگر پورا دے چکا بہتر اور کم ہوگیاہے تو باقی فورا اب دے اور زیادہ پہنچ گیا تو اسے آئندہ سال میں مجرا لے۔ آپ پر حولان حول جس دن تاریخ وقت پر ہوتا ہے اسے اس بیچ میں جو یہ روپے ملے سب زکوۃ میں شامل کیے جائیں گے وہ چھپن بھی جو بہ نیت زکوۃ علیحدہ رکھے اور ان سب کو ملا کر ۱ / ۴۰لیں گے ہاں اسے پہلے نصاب نہ ہوتا تو جس وقت یہ روپے ملے اسی وقت سے شروع سال لیتے اور اس وقت آپ نے ادا کیے یا بیش و کم کا اعتبار نہ ہوتا سال تمام پرد یکھیے کہ کیا باقی ہے اتنے کی زکوۃ کا مطالبہ ہوتا وہ مطالبہ نکلتا یا بیش و کم بقیہ زکوۃ وہاں کے مساکین کو دیجئے
#9481 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
حرج نہیں سالے سے اگر نسبی رشتہ نہیں تو رحم میں شامل نہیں دوسرے شہر کو وہ زکوۃ بھیج سکتے ہیں جو ابھی واجب الادا نہ ہوئی حولان حول نہ ہوا اس کے بعد نہیں جتنا روپیہ زکوۃ گیر ندہ کو ملے گا اتنا زکوۃ میں محسوب ہوگا بھیجنے کی اجرت وغیرہ اس پر جو خرچ ہو شامل نہ کی جائے گی۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۸۱ تا ۸۲ :
(۱)اگر زمیندار زمین بٹائی پر جتوائے یا کاشتکار دیگر کاشت کار سے کاشت کرائے اور نصف پیداوار کے مستحق ہوں تو دونوں پر زکوۃ فرض ہوگی
(۲)فصل ربیع میں جس کھیت کو پانی نہ دیا اس کا دسواں حصہ پانی دئے ہوئے کا بیسواں اور فصل خریف میں دسواں کیوں کہ بارش کے پانی سے پیدائش ہے یونہی صحیح ہے
الجواب :
(۱)صاحبین کامذہب یہ ہے کہ عشرصرف کاشتکار پر ہے اس پر فتوی دینے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ان ملکوں میں جہاں اجرت میں نقدی ٹھہری ہوتی ہے وہاں اسی پر فتو ی ہونا چاہئے اور بٹائی مین حسب قول امام فقط زمیندار پر ہے۔
(۲)جسے بارش یانہر یا تالاب کا پانی دیا گیا اس میں دسواں حصہ ہے اورجسے چرسے یا ڈھکلی سے پانی دیا گیا اس میں بیسواں حصہ اور جسے مول کا پانی دیا گیا اس میں بھی بیسواں حصہ چاہئے ۔ واﷲتعالی اعلم

مسئلہ ۸۳ : از سر نیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۲رجب ۱۳۳۱ھ
زید دریافت کرتا ہے کہ کاشت کار نے زکوۃ کی پیداوار میں سے دسواں حصہ بلا پانی دیا ہوا اور بیسواں حصہ پانی دئے ہوئے میں سے دیا اگر کا شت کا ر کے بعد سال تمام کے اسی پیداوار میں سے جس کی زکوۃ دسواں یا بیسواں حصہ دے چکا تھا بچ رہے تو زکوۃ چالیسواں حصہ دینا ہوگا کہ نہیں
الجواب :
کھیت کی پیداوار پر زکوۃ نہیں وہی عشر ہے اس کے سوا سال تمام پر اور کوئی زکوۃ نہیں آتی زکوۃ صرف تین۳ مالوں پرہے : ۱سونا ۲چاندی یا وہ مال جو تجارت کی نیت سے خریدا یا ۳جنگل میں چرتے ہو ئےجانور۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۸۴ : از درؤ ضلع نینی تال ڈاکخانہ کچھار مرسلہ عبدالعزیز خاں ۶ رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
زمین نہر ی عشری ہے یا خراجی اور جو روپے کہ انگریز زمینداروں سے بطور قسط ہیں وہ محسوب زکوۃ عشر یا خراج بینوا توجروا۔
#9482 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
الجواب :
زمین بہت صورتوں میں عشری ہوتی ہے بہت میں خراجی بعض میں نہ عشری نہ خراجی جن کی تفصیل کتب فقہ باب العشر و الخروج میں مذکورہند وستان کہ ایك ملك وسیع ہے اس کی مختلف زمینوں میں غالبا وہ سب یا اکثر صور متحقق تو اس کی زمین کو نہ مطلقا عشری کہہ سکتے ہیں نہ مطلقا خراجی عشر و خراج جو محاصل شرعیہ کے اقسام ہیں جن کے لیے شرع مطہر نے اصول و ضوابط و مواقع و مقادیر کی تقدیر فرمائی انگریز اپنی قسطیں لینے میں اس اصول کے پا بند نہیں بلکہ ان کا قانون مالگزاری جدا ہے کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں ہے ۔ ت)
مسئلہ ۸۵ : از لودھیانہ محلہ گرچو منگلی مرسلہ شیخ محمد مقبول صاحب تاجر ۲۱جمادی الاولی ۱۳۱۶ھ
ماقول الفقھاء الحنفیۃ فی ان اراضی الھندیۃ التی فی ایدی المسلمین خراجیۃ ام عشریۃ۔ بینواتوجروا۔
فقہاء احناف کا ہندوستان کی اس زمین کے بارے میں کیا موقف ہے جو مسلمانوں کے قبضہ میں ہے کیا وہ خراجی ہیں یا عشریبینواتوجروا۔ (ت)
الجواب :
الارض کثیرا ماتکون عشریۃ کما فتح ۱وقسم بیننا وما اسلم ۲ اھلہ طوعا قبل ان تظفر بھم و عشریۃ اشتراھا ذمی من مسلم فاخذ ھا مسلم بشفعۃ ۳ اوردت علی البائع لفساد البیع ۴ اوبخیار ۵اورویۃ ۶ مطلقا او عیب ۷با لقضاء وما احیاہ ۸ مسلم بقرب العشریا ت او لتسا وی القرب ۹ الیھا والی الخراجیات علی قول ابی یوسف المفتی بہ وسقاہ بماء عشری وحدہ اومع خراجی علی قول الطرفین و کالاحیاء جعلہ ۱۰ ۱۱ دارہ بستانا اومزرعۃ کثیر اما تکون خراجیۃ کما
زمین بہت سی صورتوں میں عشری ہوتی ہے جیسا کہ ان صورتوں میں ہے مثلا (۱) زمین مفتوحہ اور مسلمانوں میں تقسیم شدہ ہے (۲)وہاں کے باشندوں نے مسلمانوں کے غلبہ سے پہلے پہلے خوشی سے اسلام قبول کرلیا ______ (۳) زمین عشری تھی اسے کسی ذمی نے مسلمان سے خرید لیا پھر کسی مسلمان نے بذریعہ شفعہ حاصل کرلی (۴)یا فساد بیع کی وجہ سے (۵)یا خیار شرط (۶)یا خیار رؤیت ہر حال میں (۷)یا عیب کی صورت میں قاضی کی قضا سے وہ زمین بیچنے والے مسلمان کی طرف واپس لوٹ آئی ہے (۸)جو مسلمان نے آباد کی ہو عشری زمین کےقریب (۹)یا اس زمین کا قرب خراجی اور عشری زمین کے مساوی ہے امام ابو یوسف کے مفتی بہ قول کے مطابق اور اسے صرف عشری پانی یا عشری اور خراجی دونوں پانی سیراب کرتے ہوں طرفین کے
#9483 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
فتح۱ومن علی اھلھا او نقل الیہ ۲کفار اخر وما فتح صلحا۳و عشریۃ۴اشترا ھا ذمی من مسلم و خراجیۃ۵اشتراھا مسلم وما احیاہ ۶ذمی باذن الامام او رضخ لہ۷مطلقا او مسلم۸بقرب الخراجیات او سقاہ بماء خراجی صرفا علی القولین ومثلہ۹مسئلۃالدارفی المسلم والذمی جمیعا وقد تکون لا عشریۃ ولا خراجیۃ کما فتحناہ وابقیناہ لنا الی یوم القیمۃ اومات ملا کھا والت لبیت المال علی نزاع فی ھذا قال فی ردالمحتار عن الدرالمنتقی شرح الملتقی ھذانوع ثالث یعنی لا عشریۃ ولا خراجیۃ من الاراضی تسمی ارض المملکۃ واراضی الحوز و ھو ما مات اربابہ بلا وارث وال لبیت المال او فتح عنوۃ ابقی للمسلمین الی یوم القیامۃ وحکمہ علی مافی التاتارخانیۃ انہ یجوز للامام دفعہ للزارع باحد طریقین اما باقامتھم مقام الملاك فی الزراعۃ واعطاء الخراج
قول کے مطابق (۱۰ ۱۱) اور دار کی زمین کو باغ یا زرعی بنانا آباد بنانے کی طرح ہےاور بہت سی صورتوں میں زمین خراجی ہوتی ہے(۱)زمین فتح کرلی گئی مگر اس کے باشندوں کو ہی بطور حسن سلوك واپس کردی گئی(۲)ایسی زمین کی طرف دوسرے کفار کی منتقلی کی گئی ہو (۳)وہ زمین بطور صلح فتح کی گئی ہو(۴)زمین عشری تھی مگر کسی ذمی نے مسلمان سے خرید لی۔ (۵)ایسی زمین خراجی جسے کسی مسلمان نے خرید لیا۔ (۶)ایسی زمین جسے اذن امام سے کسی ذمی نے آباد کیا ۔ (۷)جو زمین ذمی کو بطور عطیہ دے دی گئی(۸)کسی مسلمان نے اس زمین کو خراجی زمین کے قریب آبا د کیا یا اسے دونوں قولوں کے مطابق محض خراجی پانی سے سیراب کیا(۹)اسی کی مثل مسئلہ دار ہے مسلمان اور ذمی کے حق میں کہ ذمی کیلئے خراجی ہےبعض اوقات زمین نہ شرعی ہوتی ہے اور نہ ہی خراجی مثلاہم نے زمین فتح کی اورتا قیامت اسے مسلمانوں کے لیے وقف رکھا یا اس زمین کے مالك فوت ہوگئے اور وہ زمین بیت المال کی طرف لوٹ آئی اس میں نزاع ہے۔ ردالمحتار میں درالمنتقی شرح الملتقی سے ہے کہ یہ زمین کی تیسری نوع ہے یعنی نہ وہ عشری ہے اور نہ وہ خراجی زمینوں میں سے ہے ایسی زمینوں کو ارض مملکت اور اراضی حوز کہا جاتا ہے اور یہ ایسی زمینیں ہیں جن کے مالك بلا وارث فوت ہوجائیں اور وہ زمین بیت المال کی طرف لوٹ آئے یا وہ زمین بطور غلبہ مفتوحہ ہو اور وہ تا قیامت مسلمانوں کیلئے باقی رکھ دی ہو تاتارخانیہ کے مطابق اس کا حکم یہ ہے کہ حاکم وقت اسے دو۲طریقوں
#9484 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
واما با جارتھا بقدرالخراج فیکون الماخوذ فی حق الامام خراجا وفی حق الاکرۃ اجرۃ لا غیر لا عشر ولاخراج اھ با ختصار. و قال فی الدر المختار المشتراۃ من بیت المال اذاوقفھا مشتریھا فلا عشر ولاخراج شرنبلالیۃ معزیا للبحر وکذا لولم یوقفھا کما ذکرتہ فی شرح الملتقی اھ قال الشامی لم یذکرفی البحر العشر وانما قال بعد ما حقق ان الخراج ارتفع عن اراضی مصر لعود ھا الی بیت المال بموت ملا کہا فاذااشتراھا انسان من الامام ملکھا ولا خراج علیھا لان الامام قد اخذالبدل للمسلمین و تمامہ فی التحفۃ المرضیۃ اھ نعم ذکر العشرفی تلك الرسالۃ فقال انہ لایجب ایضا لانہ لم یر فیہ نقلا ۔ قلت ولا یخفی مافیہ لانھم قد صرحوابان فرضیۃ العشرثابتۃ بالکتاب و السنۃ والاجماع والمعقول وبانہ یجب فیمالیس بعشری ولا خراجی کالمفاوز والجبال وبان الملك غیر شرط
میں سے کسی ایك کے مطابق زراعت کیلئے دے سکتا ہے یا زراعت اور خراج دینے میں مالکوں کے قائم مقام بنادے یا بقدرخراج اجارہ پردے دے اب اس زمین سے حاصل شدہ حاکم کے حق میں خراج اور کرایہ پر لینے والوں پر سوائے اجرت کے کچھ نہ ہوگا تو ان پر نہ عشر ہے نہ خراج اھ اختصارا۔ اسی طرح اس وقت حکم ہے جب وقف نہ کرے جیسا کہ میں نے شرح المنتقی میں ذکر کیا ہے۔ شامی کہتے ہیں کہ بحرمیں عشر کا ذکر نہیں انہوں نے اس کی تحقیق کے بعد کہا کہ اراضی مصر کے مالك فوت ہونے اور ان کے بیت المال کی طرف لوٹنے کی وجہ سے خراج ختم ہوگیا تو اب کوئی انسان امام سے ایسی زمین خریدتا ہے تو وہ مالك بن جائیگا اور خراج نہیں ہوگا کیونکہ امام نے اس کا بدل مسلمانوں کے لیے حاصل کر لیا ہے اس کی تفصیل تحفہ مرضیہ میں ہے اھ ہاں اس رسالہ میں عشر کا ذکر ہے کہ عشر بھی واجب نہیں کیونکہ اس میں نقل نہیں پائی گئی۔ میں کہتا ہوں یہ محل نظر ہے کیونکہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ فرضیت عشر کتاب اﷲ سنت اجماع اور قیاس سے ثابت ہے اور اس بات کی بھی تصریح کی ہے کہ عشر اس زمین میں واجب ہے جو نہ عشری ہو اور
حوالہ / References ردالمحتار باب العشرو الخراج والجزیۃ مصطفی البابی مصر ۳/۲۸۰
درمختار باب العشرو الخراج والجزیۃ مطبع مجتبائی دہلی۱/۳۴۸
#9485 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
فیہ بل الشرط ملك الخارج ولان العشر یجب فی الخراج لا فی الارض فکان ملك الارض و عدمہ سواء کما فی البد ائع ولا یلزم من سقوط الخراج سقوط العشر علی انہ قد ینازع فی سقوط الخراج حیث کانت من ارض الخراج او سقیت بمائہ الخ ملتقطاوبواقی المسائل معروضۃ فی الدرر وغیرہ من الاسفار الغروارض الھند علی سعتھا لا یبعد ان یوجد فیھا تلك الصور کلھا اوجلھا فالمصیر الی التبین فای ارض ثبتت فیھا صورۃ اجری علیہا حکمھا من کونھا خراجیۃ او عشریۃ او لا ولا سبیل الی الجزم بحکم واحد من دون تحقیق وما یتوھم من ان القاسم بن محمد الثقفی افتتحھاعنوۃ سنۃ ثلث وتسعین کما فی الفتح والبنایۃ ولم یعلم قسمتھا بین المسلمین فوجب کیف وان قاسمالم یفتح منھاالا شیأنزر ایسیر ا من احدی نواحیھا مما یلی ملتان والافتتاح عنوۃ لاتستلزم الخراجیۃ کما
نہ خراجی مثلاجنگل او ر پہاڑ کی زمین اور یہ بھی تصریح ہے کہ ملکیت اس پر شرط نہیں بلکہ زمین سے حاصل ہوئی چیز کی ملکیت شرط ہے اور اس لیے بھی کہ عشر حاصل شدہ میں لازم ہوتا ہے نہ کہ زمین میں لہذا زمین کی ملکیت اور عدم ملکیت برابر ہے البدائع سقوط خراج سے سقوط عشر لازم نہیں آتا علاوہ ا زیں سقوط خراج میں بھی اختلاف ہے جبکہ وہ زمین خراجی ہو یا خراجی پانی سے سیراب ہو الخ اختصارا۔ باقی مسائل درمختار اور دیگر کتب میں معروف ہیں ۔ ہندوستان کی زمین نہایت وسیع ہے اس میں مذکورہ تمام صورتوں یا اکثر کا پایا جانا بعید نہیں لہذا یہ حکم لگانے کے لیے کہ یہ عشری ہے یا خراجی یا نہ عشری ہے نہ خراجی۔ زمین کا تعین ضروری ہے کہ کون سی زمین کا معاملہ درپیش ہے تحقیق کے بغیر یقینی طور پر ایك حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ ا ور جو یہ وہم کیا گیا ہے کہ قاسم بن محمد الثقفی نے ۹۳ھ کو ہندوستان کی زمین بطور غلبہ حاصل کی تھی۔ جیسا کہ فتح اور بنایہ میں ہے اور یہ معلوم نہیں کہ اس کا خراجی ہو نا ضروری ہے یہ وہم نہ کافی ہے اور نہ قوی اور یہ ہو بھی کیسے سکتا ہے کیونکہ قاسم نے بہت تھوڑا سا حصہ فتح کیا تھا جو ہندوستان کے ایك گوشہ ملتان کے ساتھ متصل تھا اور بطور غلبہ حصول زمین اس کے خراجی ہونے کو مستلزم نہیں جیسا کہ آپ نے جان لیا ہےتو جس طرح
حوالہ / References ردالمحتار باب العشرو الخراج والجزیۃ مصطفی البابی مصر ۳/۲۷۹
فتح القدیر باب العشر و الخراج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/۲۸۰
#9486 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
علمتو کمالم یعلم قسمتھا بیننا کذلك لم یثبت المن بھا علی اھلہا فکیف یحکم با یجاب الخراج علی المسلمین مع عدم ثبوت موجبہ الایمکن ان تکون الارض مما ابقی للمسلمین بل لعلہ الظاہرمن صنیع السلاطین فاذن لا تکون فی اصل الوضع عشریۃ ولا خراجیۃ وما کان منھا با یدی الناس یتملکونھا ویتوارثونھا یحکم بانھا مملوکۃ لھم و یحمل علی ان منھا ما کان مواتا فاحییت و منھا ما انتقل الیھم بوجہ صحیح من بیت المال وبعد ھذا لا تکون خراجیۃ قطعا لانھا لم تکن فی بدء امرھا منھا ولا یوضع الخراج علی مسلم بدأ تکون عشریۃ علی ما حققہ فی ردالمحتار وفارغۃ الوظیفتین فی الصورۃ الثانیۃ علی مافی التحفۃ المرضیۃ وغنیۃ ذوی الاحکام والدرالمختار قال ابن عابدین عدم ملك الزراع غیر معلوم لنا الا فی القری و المزارع الموقوفۃ او المعلوم کونھا لبیت المال اما غیرھا فنراھم یتوارثو نھا جیلابعد جیل وفی الخیریۃ اذا ادعی واضع الید الذی تلقاھاشراء أوارثااو غیرھا من اسباب
مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرنا معلوم نہیں اسی طرح ان باشندوں کو بطور حسن سلوك دینا بھی تو ثابت نہیں تو عدم ثبوت مقتضی کے باوجود مسلمانوں پر وجوب اخراج کا حکم کیسے لگایا جاسکتاہے البتہ ایسا ممکن بلکہ مسلمان سلاطین سے زیادہ ظاہر یہی ہے کہ انہوں نے یہ زمین مسلمانوں کے لیے رکھی ہو تو اب اصل مصرف کے اعتبار سے نہ یہ عشری ہے اور نہ خراجی اور جو زمین مسلمانوں کے قبضہ میں ہو وہی اس کے مالك ووارث ہوں تو وہاں اس زمین کو انہی کی مملوکہ کہا جائے گا اور یہی سمجھا جائے گا ان میں سے کچھ زمین غیر آباد تھی اسے مسلمانوں نے آباد کرلیا اور کچھ انکی طرف بیت المال سے بطریق صحیح آئی اس کے بعد تو وہ قطعاخراجی نہ ہوگی کیونکہ ابتداء وہ خراجی نہیں ہوسکتی اورنہ ہی کسی مسلمان پر ابتداء خراج لازم ہو سکتاہے اوروہ عشری ہوگی جیسا کہ اس کی تفصیل ردالمحتار میں ہے اور وہ دوسری صورت میں دونوں وظیفوں (عشرو خراج)سے فارغ ہوگی جیساکہ تحفہ مرضیہ غنیہ ذوی الاحکام اور درمختار میں ہے : ابن عابدین کہتے ہیں کہ ہمیں قری اور وقف شدہ کھیتوں کے علاوہ عدم ملك زراع کا علم نہیں یا ہمیں معلوم ہے کہ یہ زمین بیت المال کی ہے اس کے علاوہ زمین کے مسلمان ہر دور میں وارث بنتے اور خرید و فروخت کرتے چلے آرہے ہیں خیر یہ میں ہے کہ قبضہ کرنے والا جب کوئی دعوی کرے کہ یہ زمین مجھے شراء یا وراثۃیا دیگر کسی
#9487 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
الملك انھا ملکہ فالقول لہ اوعلی من یخاصمہ فی الملك البرھان اھ۔ وقد قالوا ان وضع الید والتصرف من اقوی ما یستدل بہ علی الملك ولذا تصح الشھادۃ بانہ ملکہ ۔ وفی رسالۃ الخراج لابی یوسف لیس للامام ان یخرج شیأ من ید احد الا بحق ثابت معروف اھ والائمۃ اذاقالوافی الکنائس المبنیۃ للکفر انھا کانت فی بریۃ فاتصلت بھا عمارۃ المصر فا ولی ان یقولو اببقاء تلك الاراضی بید من ھی تحت ایدیھم با حتمال انھا کانت مواتا فاحییت او انھا انتقلت الیھم بوجہ صحیح اھ ملتقطا الی اخرما اطال واطاب واوضح الصواب ا ما ما قال فی اخرہ و الحاصل فی الاراضی الشامیۃ والمصریۃ ونحوھا ان ما علم منھا کونہ لبیت المال بوجہ شرعی فحکمہ ما ذکرہ الشارح عن الفتح (ای سقط الخراج وماخوذ اجرۃ)ومالم یعلم فھو ملك لاربابہ والماخوذ منہ خراج لااجرۃ
سبب ملك کے ذریعے حاصل ہوئی ہے تو وہ اس کی ملك ہوگی اور اسی کا قول معتبر ہوگا یا جو اس کے ساتھ ملکیت میں مخا صمت کرے اس پر دلیل کا لانا ہوگا اھ اور فقہاء نے تصریح کی ہے کہ قبضہ اور تصرف ملکیت پر قوی دلیل بنتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس کے مالك ہونے پر شہادت دینا صحیح ہوتا ہے۔ امام ابو یوسف کی کتاب الخراج میں ہے کہ کسی حاکم کے لیے یہ جائزنہیں کہ وہ کسی کے قبضہ سے کوئی شئے خارج کرے ماسوائے اس صورت کے جب دوسرے کا حق ثابت و معروف ہو اھ اور ائمہ نے ان گرجو ں کے بارے میں تصریح کی ہے جو کفار کی خاطر بنائے گئے وہ ایسے بیابان میں تھے جو شہر کی عمارتوں سے متصل ہے تو یہاں اولی یہی کہنا ہے کہ زمین انہی کی ملکیت میں باقی رہے گی جن کے وہ قبضہ میں ہے کیونکہ ممکن وہ زمین غیر آبادہو اور ان لوگوں نے اسے آبا د کیا یا وہ ان لوگوں کی طرف بطریق صحیح منتقل ہوئی ہو اھ یہ ان کی طویل خوبصورت اور صواب کو واضح کرنے والی عبارت کا خلاصہ ہے اورا س کے آخر میں یہ جو کہا کہ شام مصر اور ان کی طرح دیگر علاقوں کی اراضی کے بارے میں اگر یہ علم ہو کہ بطریق شرعی بیت المال کو حاصل ہوئی ہیں تو ان کا حکم وہی ہے جس کا ذکر شارح نے فتح سے کیا (یعنی خراج ساقط ہوجائے گا اور جوحاصل کیا جائے گا وہ اجرت ہوگی )اور جن زمینوں کا علم نہیں وہ ان کے مالکوں کی ہی ہوں گی اور اس سے خراج
حوالہ / References ردالمحتار باب العشر والخراج والجزیۃ مصطفی البابی مصر ۳/۲۸۰
#9488 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
لانہ خراجی فی اصل الوضع اھ فقدابان ان الوجہ کونھا خراجیۃ فی بد ء الامرلما قدم فی ھذا البیان مستندا للامام الثانی ان ارض العراق والشام ومصر عنویۃ خراجیۃترکت لاھلھا الذین قھر واعلیہا اھ وقال قبلہ قال ابویوسف فی کتاب الخراج ان ترکھا الامام فی ایدی اھلھا الذین قھرواعلیہا فھو حسن فان المسلمین افتتحوا ارض العراق والشام ومصر ولم یقسمواشیأ من ذلك بل وضع عمر رضی اﷲتعالی عنہ علیھا الخراج ولیس فیھا خمس اھ فھذا ماقال انہ خراجی فی اصل الوضع اماما نحن فیہ اذلم یثبت ذلك لا یمکن جعلھا خراجیۃ بالاحتمال وایجابہ علی المسلمین الذین لیسو امن اھلہ بتصریح ذوی الکمال ھذا ماظہرلی واﷲتعالی اعلم بحقیقۃ الحال ثم رأیت فی الفتاوی العزیزیۃ نقل عن رسالۃ مولنا الشیخ الجلیل جلال التھانیسری
وصولہ کیا جائے گا نہ کہ اجرت کیونکہ اصلایہ زمین خراجی ہے اھ تو اب واضح کیا کہ ابتداء ان کے خراجی ہونے کی وجہ وہی ہے جس کو پہلے بیان کیا جو امام ثانی کی دلیل ہے کہ عراق شام اور مصر کی زمینیں بطور غلبہ حاصل ہوئی ہیں اور خراجی ہیں کیونکہ انھیں اس کے ان سابقہ باشندوں کو دے دیا گیا جن سے بطور غلبہ حاصل کی گئی تھی ا ھاوراس سے پہلے لکھا کہ امام ابویوسف نے کتاب الخراج میں فرمایا اگرحاکم نے انھیں لوگوں کے پاس زمین رہنے دی جن سے بطور غلبہ حاصل کی تھی تو یہ بہت اچھا کیا کیونکہ مسلمانوں نے عراق شام اور مصر کی زمینیں حاصل کیں تو انھیں تقسیم نہ کیا بلکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ان زمینوں پر خراج لگایا اور ان میں خمس نہ رکھا گیا اھ یہ وہی ہے جس کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ یہ اصل کے اعتبار سے خراجی ہیں مگر وہ جس میں ہم گفتگو کررہے ہیں جب تك ثابت نہ ہو ان کا احتمال کی بنیاد پر خراجی قرار دینا اور مسلمانوں پر ایسی چیز کا وجوب جس کے وہ بقول صاحب کمال کے اہل نہیں ممکن نہیں یہ مجھ پر ظاہر ہوا ہے اور حقیقت حال سے اﷲتعالی زیادہ واقف وآگاہ ہے پھر میں نے فتاوی عزیزیہ میں دیکھا کہ انہوں نے مولانا شیخ جلال الدین تھانیسری قد س سرہ السری کے رسالہ
حوالہ / References ردالمحتار باب العشر والخراج والجزیۃ مصطفی البابی مصر ۳/۲۸۲
ردالمحتار باب العشر والخراج والجزیۃ مصطفی البابی مصر ۳/۲۸۱
ردالمحتار باب العشر والخراج والجزیۃ مصطفی البابی مصر ۳/۲۷۹
#9489 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
قدس سرہ السری ما نصہ بالعجمیۃ زمین ہندوستان درابتدائے فتح مانند سواد عراق کہ در عہد حضرت فاروق رضی اللہ تعالی عنہ مفتوح شدہ بود موقوف بر ملك بیت المال است وزمینداراں را بیش از تولیت و داروغگی تر ددو فراہم آوردن مزارعین واعانت وزراعت وحفظ دخلے نیست چنانچہ لفظ زمیندار نیز اشعارے بآں می کند و تغیر و تبدل زمینداری عزل و نصب زمینداران و اخراج بعضے از آنہاواقرار بعضے وعطائے آراضی بافغاناں و بلوچاں و سادات وقدوائیاں بصیغہ زمینداری دلالت صریحہ بریں می کند پس دریں صورت جمیع اراضی ہندوستان مملوك بیت المال گشت و بعقد مزار عت علی النصف اواقل منہ دردست زمینداران فھذا صریح فیما استظھرنا ہ من ان الفاتحین لم یقسموھا ملکا للمسلمین و الحکم فیہ ما بیناہ وذکر رحمہ اﷲتعالی فی سوادالعراق فمختارالائمۃ الشافعیۃ کما بینہ فی ردالمحتار اما عند نا فممنون بھا علی اھلھا ولا یضرنا الکلام فی التمثیل فعلی ھذا مابایدی المسلمین
سے نقل کیا جو فارسی الفاظ میں یوں ہے : ہندوستان کی زمین ابتداء اسی طرح فتح ہوئی جس طرح عراق کی زمین حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں فتح ہوئی تھی یہ بیت المال کی ملکیت میں بطور وقف رہے گی اور زمینداروں کا اس سے زیادہ دخل نہیں کہ وہ ان زمینوں کے متولی منتظم مزارعین مہیا کرنے اور بیت المال کے لیے تعاون وزراعت اور نگرانی کرنیوالے ہیں جیسا کہ لفظ زمیندار بھی اس کی طرف اشارہ کررہا ہے زمینداری میں تغیر و تبدل اور انھیں معزول و مقرر کرنا ان میں سے بعض کا رکھنا اور بعض کا نکالنا افغانیوں بلوچوں سادات اور قدوائیوں کو لفظ زمینداری کے ساتھ بعض زمینوں کا دینا بھی اسی پر تصریح ہے لہذا اس صورت میں ہندوستان کی تمام زمین بیت المال کی ملکیت ہے نصف یا اس سے اقل پر مزارعت کے عقد کے ذریعے زمیندار کے قبضہ میں ہوگی۔ یہ تمام اس پر تصریح ہے جیسے ہم نے اختیار کیا کہ فاتحین نے جن زمینوں کو نہ تقسیم کیا نہ وہاں کے باشندوں کو دیں بلکہ انھیں مسلمانوں کی ملکیت میں رکھا تو ان کا وہی حکم ہے جو ہم نے بیان کر دیا ہے اور مذکور شیخ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے عراق کی زمین کے بارے میں جو کہا تو یہ ائمہ شوافع کا مختار ہے جیسا کہ ردالمحتار میں بیان ہوا ہے اور ہمارے نزدیك تو وہ زمین وہاں کے باشندوں کو بطور احسان دے دی گئی تھی البتہ بطور مثال لانا
حوالہ / References فتاوٰ ی عزیزی مسئلہ اراضی عطائے سلطانی مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۴۳
#9490 · رسالہ رادع التعسف عن الامام ابی یُوسف ۱۳۱۸ھ (حیلہ زکوٰۃ کے بارے میں امام ابو یوسف پر غیر مقلدین کے اعتراض کا رَد)
من الاراضی لا تجعل الا عشریۃ مالم یثبت فی شئی منھا کو نھا خراجیۃ بوجہ شرعی واﷲ سبحانہ وتعالی وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
ہمیں نقصان دہ نہیں تو اب اس ضابطہ پر جو زمین مسلمانوں کے قبضہ میں ہوگی وہ عشری ہی ہوگی مگر اس صورت میں جب اس کے خراجی ہونے پر کوئی وجہ شرعی موجود ہو واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ واتم احکم (ت)
____________________
#9491 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
مسئلہ ۸۶ : از بہار شریف مدرسہ اسلامیہ مرسلہ مولوی عبداﷲصاحب طالب علم ۱۲ربیع الآخر ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ وہ سب زمین ہندوستان کی جس کی مالگزاری زمیندار نقد دیتے ہیں آیا عشری ہے یا خراجی اگر عشری ہے تو بعد منہائی مالگزاری کے واجب ہے یا بلا منہائی اور یہ بھی کہ اس صورت میں کہ زمیندار سب اپنی رعایا کے ساتھ زمین کو بندوبست کرتے ہیں اس صورت میں عشر کس پر واجب ہے زمیندار پر یا رعایاپر اور بصورت خراجی ہونے کے وہ مال گزاری جو نقد دیتے ہیں وہی خراج تصور کیا جائیگا اور کوئی دوسرا اور جب دوسرا ہوگا تو مالگزاری منہادے کر خراج شرعی دینا ہوگا یا بغیر منہا اور کس قدر اور کس حساب سے دینا ہوگا اور بصورت عدم عشری و عدم خراجی ہونے کے ہم زمینداروں کوکیا کرنا چاہیئے جو مواخذہ سے بری ہوں۔ بینو اتو جروا۔
الجواب :
بسم اﷲالرحمن الرحیم والصلوۃ والسلام علی رسول اﷲ۔
ہندوستان میں مسلمانوں کی زمینیں خراجی نہ سمجھی جائیں گی جب تك کسی خاص زمین کی نسبت خراجی ہونا دلیل
#9492 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
شرعی سے ثابت نہ ہو۔ کما حققناہ بتوفیق اﷲتعالی فی فتاو نا بمالا یتجاوز الحق عنہ (جیسا کہ ہم نے اﷲتعالی کی توفیق سے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے جس سے حق متجاوز نہیں۔ ت)بلکہ وہ عشری ہیں یا نہ عشری نہ خراجی اور دونوں صورتوں میں ان کا وظیفہ عشرہے۔
اماعلی الاول فظاہر واماعلی الثانی فکما حققہ فی ردالمحتار خلافا لما فی التحفہ المرضیۃ ثم الشرنبلالیۃ ثم الدرالمختار وما حققہ واضح نفیس والدر انماعزاہ للشرنبلالی و الشر نبلالی لصاحب التحفۃ عن العلامۃ صاحب البحر فالیہ دار فیہ الامر وھو رحمہ اﷲتعالی وما فی التحفۃ لم یستند فیہ النقل انما اعتمد علی عدم رؤیتہ نقلا بلزوم العشرفیہ وانت تعلم ان عدم الرویۃ لیست رؤیۃ العدم ولا عدم النقل نقل العدم والنصوص مطلقۃ والعشریجب فیما لیس بعشر ولا خراجی کا لمفاوز والجبال ۔ اقول : ومعنی کون مافتحناہ فا بقیناہ لنا الی یوم القیامۃ من دون ان نعطیھا ملا کھا او کفارا اخرین اونقسمھا بین الغانمین وکذا مامات ملا کہا فالت لبیت المال ان العشر والخراج انما یوجب حقا للمسلمین وھذہ قد کانت اوصارت لھم فلا وجہ لان یوجب شئی لھم
پہلی صورت میں تومعاملہ واضح ہے اور دوسری صورت میں بھی عشر ہے جیسا کہ ردالمحتار میں اس کی تفصیل ہے البتہ تحفہ مرضیہ پھر شرنبلالیہ پھر درمختار کا اس میں اختلاف ہے اور صاحب درمختار کی تحقیق نہایت نفیس ہے در نے شرنبلالی اور شرنبلالی نے صاحب تحفہ سے اور وہاں علامہ صاحب بحر کی طرف منسوب ہے اور معاملہ کی بنیاد یہاں یہی ہے اور مذکور شیخ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اور جو کچھ تحفہ میں ہے اس کے نقل پر کوئی دلیل نہیں اس پر اعتماد صرف اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ ایسی زمین میں عشر کے لازم ہونے پر کوئی روایت ہماری نظر سے نہیں گزری اور آپ جانتے ہیں کہ عدم رؤیت رؤیت عدم نہیں ہوتی۔ عدم نقل نقل عدم نہیں۔ حالانکہ نصوص مطلق ہیں اور جو زمین نہ عشری ہو اور نہ خراجی وہاں عشر لازم ہوتاہے جیسا کہ جنگل اور پہاڑ ۔ اقول : اس عبارت کہ “ ہم نے زمین کی فتح کی اور اسے تا قیامت اپنے لیے رکھا “ کامعنی یہ ہے کہ اسے مالکوں کو واپس نہ دیا یا دیگر کفار کو نہ دی یا بطور غنیمت اسے لشکر یوں میں تقسیم نہ کیا اسی طرح وہ زمین جس کا مالك فوت ہوگیا اور وہ بیت المال کی ہوگئی کیونکہ عشر اور خراج مسلمانوں کے حق کی وجہ سے لازم ہوتا ہے۔ یہ مذکورہ زمیں یا تو ہے ہی مسلمانوں کی یا ان کی طرف لوٹ آئے گی لہذا مسلمانوں کے لیے ان پر کوئی
#9493 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
علیھم ففراغ الوظیفۃ لعدم من یوظف علیہ کارض خربۃ لم تزرع اصلا اما اذا وجد نا من نوجب علیہ فلا معنی للفراغ وقد نص المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر “ اواخر باب زکوۃ الزروع “ فی تعلیل قول الامام رضی اﷲتعالی عنہ ان الذمی اذااشتری عشریۃ من مسلم تصیرخراجیۃ مانصہوجہ قول ابی حنیفۃ انہ تعذرالعشرلان فیہ من معنی العبادۃ والارض لا تخلوا فیہ من معنی العبادۃ والارض لا تخلوا عن وظیفۃ مقررۃ فیھا شرعااھ مختصرا فھذا بحمد اﷲ نص فیما عولنا علیہ وﷲالحمد ۔ وبالجملۃ مالبیت المال فارغۃ مادامت لھا فاذا انتقلت لملك احد بوجہ صحیح کما ھوالمحمل فی الاراضی التی بایدی الناس یتوارثونھا ویتصرفون فیھا تصرف الملاك کما حققہ فی ردالمحتار وبیناہ فی فتاو نافلا محید عن التوظیف الاتری ان الموات تکون لبیت المال
شئی واجب کرنے کی کوئی وجہ نہیں یہاں عشر و خراج کانہ لازم ہونا اس لیے ہے کہ یہاں کوئی ایسا شخص ہی نہیں جس پر کچھ لازم کیا جائے جیسے کہ بنجر زمین جو بالکل ہی کاشت نہ کی گئی ہو اور اگر ہم یہاں ایسے شخص کو پالیں جس پر کوئی شئی لازم کریں تو فراغ کا کوئی معنی نہ ہوگا۔ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں باب زکوۃ الزروع کے آخر میں امام صاحب رضی اللہ تعالی عنہ کے قول کی علت بیان کرتے تصریح کی ہے کہ ذمی نے جب عشری زمین کسی مسلمان سے خریدی تو وہ خراجی ہوجائےگی۔ امام ابو حنیفہ کے قول کی وجہ یہ بیان کی کہ یہاں عشر نہیں ہوسکتا کیونکہ عشر مین عبادت کا پہلو ہے اور زمین شرعی طور پر کسی مقرر وظیفہ سے خالی نہیں ہوسکتی اھ اختصارا بحمداﷲ یہ ہمارے مختار پر تصریح ہے وﷲالحمد۔ الغرض بیت المال کی زمین جب تك بیت المال کی ہے وہ ہر وظیفہ سے فارغ رہے گی حتی کہ وہ کسی طریق صحیح سے کسی کی ملکیت میں چلی جائے جیسا کہ معاملہ ان اراضی کا ہے جو لوگوں کے پاس بطور وراثت منتقل ہوتی ہیں اور ان میں وہ مالکوں جیسا تصرف کرتے ہیں جیسا کہ رد المحتار میں ہے اور ہم نے اسے اپنے فتاوی میں بیان کیاہے پس ان میں وظیفہ سے چھٹکارا نہیں کیا تمھارے علم میں نہیں کہ جب بے آباد زمین
حوالہ / References فتح القدیر باب زکوٰۃ الزروع الثمار مکبتہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۹۶
فتح القدیر باب زکوٰۃ الزروع الثمار مکبتہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۹۷
#9494 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
وھی فارغۃ فاذاھی تحیی باذن الامام فتصیرذات وظیفۃ کذاھذا۔
بیت المال کی ملکیت ہو تو وہ وظیفہ سے فارغ ہوتی ہے تو جب وہ حاکم کی اجازت سے وہ آباد ہوجائے تو وہ زمین صاحب وظیفہ کی ہوجائیگی یہاں بھی یہی معاملہ ہے۔ (ت)
اور عشر پوری پیداوار کا لیا جائے گا۔
فی تنویر الابصار یجب العشر بلا رفع مؤن الزرع فی الدرالمختارلتصریحھم بالعشر فی کل الخارج اھ
(تنویرالابصار میں ہے کہ کھیتی کے تمام اخراجات نکالے بغیر عشر لازم ہے ۔ درمختار میں اس کی دلیل یہ دی ہے کہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ عشر تمام پیداوار پر ہے۔ ت)
قلت : ومن یظلم لا یظلم (میں کہتا ہوں ظلم کے بدلے ظلم نہ کیا جائے گا۔ ت)زمین اگر بٹائی پر دی جائے یعنی مزارع سے پیداوار کا حصہ مثلا نصف یا ثلث غلہ قرار دیا جائے تو مالك زمین پر بقدر حصہ کا عشر آئیگا مزارعت بالمناصفہ کی صورت میں سو۱۰۰ من غلہ پیدا ہوا تو زمیندار پانچ من عشر میں دے اور اگراجارہ میں دی گئی جسے لوگ نقشی کہتے ہیں مثلاسو۱۰۰ روپیہ بیگھہ پر اٹھائی تو سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك کل عشر مالك زمین پر ہے اور صاحبین رحمہااﷲتعالی کے نزدیك کل مزارع پر ہے زمیندار سے کچھ مطالبہ نہیں ۔ امام قاضی خاں نے قول اول کے اظہر ہونے کا ارشارہ کیا
وعلیہ اقتصرالامام الخصاف وبہ جزم فی منظومۃ النسفی والا سعاف واعتمدہ المتاخرون کالخیر الرملی واسمعیل الحائك وحامد آفندی وغیر ھم رحمھم اﷲ تعالی۔
امام خصاف نے اسی پر اکتفاء کیا ہے اور منظومہ نسفی اور اسعاف میں اسی پر جزم کیا ہے اور متاخرین مثلا خیر رملی اسمعیل حائک حامدآفندی وغیرہم رحمہم اللہ تعالی نے اسی پر اعتماد کیا ہے(ت)
مگر حاوی قدسی میں قول دوم پر فتوی اور وہ بھی لفظ ناخذ(ہم اسی کو لیں گے ۔ ت)کہ آکد الفاظ فتوی سے ہے وہ تصحیح التزامی تھی اور یہ صریح ہے
فی الدرالمختار العشر علی الموجر کخراج موظف وقالا علی المستاجر کمستعیر مسلم وفی الحاوی وبقولھما ناخذ و
درمختار میں ہے کہ عشر کرایہ پر دینے والے پر ہے جیسا کہ مقرر خراج صاحبین کے نزدیك عشرکرایہ دار پر ہے جیسے کہ مسلمان عاریۃکوئی چیز لے۔ حاوی
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار باب العشر مطبع مجتبائی دہلی۱/ ۱۳۹
درمختار شرح تنویر الابصارباب العشر مطبع مجتبائی دہلی۱/ ۱۳۹
#9495 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
فی المزارعۃ ان کان البذرمن رب الارض فعلیہ ولو من العامل فعلیھما بالحصۃ فی ردالمحتار تحت قولہ وفی المزارعۃ الخ ما ذکرہ الشارح ھو قولھما اقتصر علیہ لما علمت ان الفتوی علی قولھما بصحۃ المزارعۃ لکن ما ذکر من التفصیل یخالفہ مافی البحر والمجتبی والمعراج والسراج والحقائق والظہیریۃ وغیرہا من ان العشرعلی رب الارض عندہ وعلیھا عند ھما من غیر ذکر ھذاالتفصیل وھو الظاہر لما فی البدائع من ان المزارعۃ جائزۃ عند ھما والعشر یجب فی الخارج والخارج بینھما فیجب العشر علیھما الخ۔
میں صاحبین کا قول لیتے ہیں اور مزارعت میں اگر بیج زمین کے مالك کا ہے تو اس پر عشر ہے اور اگر عامل کا ہے تو حصہ کے مطابق دونوں پر ہوگا ردالمحتار میں ماتن کے قول “ وفی المزارعۃ الخ “ کے تحت یہ شارح نے جو کہا یہ صاحبین کا قول ہے اور اس پر اکتفاء کی وجہ آپ جان چکے کہ صحت مزارعت کے بارے میں صاحبین کے قول پر فتوی ہے لیکن جو تفصیل میں بیان ہوا وہ اس کے مخالف ہے جوبحر مجتبی معراج سراج حقائق ظہریہ وغیرہ میں ہے کہ امام صاحب کے نزدیك عشر مالك زمین پر ہے اور صاحبین کے نزدیك دونوں پر ہے مگر تفصیل کا ذکر نہیں اور عشر پیداوار میں واجب ہے اور پیداوار دونوں کے درمیان تقسیم ہوگی لہذا عشر دونوں پر ہوگا الخ(ت)
بالجملہ : قول دوم بھی ضعیف نہیں اور ہمارے بلادمیں وہی ارفق بالناس ہے یہاں اجرتیں بلحاظ عشر ہرگز مقرر نہیں ہوتیں اگر پیداوار کا عشر اجرت سے دلائیں تو غالباکچھ نہ بچے بلکہ بہت جگہ عشر ہی میں گھر سے دینا پڑے باقی مصارف دیہی و مالگزاری انگریز جدارہےـ اور اگر اس پر مجبور کیجئے کہ اب وہ اجرتیں مقرر کر لیجئے کہ عشر و مالگزاری و جملہ مصارف دے کر تمھارے لیے بقدر کفالت بچے تو یہ ہرگز میسر نہیں مزار عین اس پر کیوں راضی ہونے لگے ۔
وفی نزع الناس عن عاداتھم حرج والحرج مدفوع بالنص لا یكلف الله نفسا الا ما اتىها-سیجعل الله بعد عسر یسرا(۷) وھذا کما ذکر العلامۃ الشامی رحمہ اﷲ تعالی فی اوقاف
لوگوں کو ان کی عادت سے روکنا حرج ہے اور حرج کا مد فوع ہونا نص سے ثابت ہے۔ ارشاد باری ہے اﷲتعالے ہر نفس کو اتنی تکلیف دیتا ہے جتنا اسے عطا فرمایا عنقریب اﷲتعالی دشواری کے بعد
حوالہ / References درمختار شرح تنویرالابصار باب العشر مطبع مجتبائی دہلی۱ /۴۰-۱۳۹
ردالمحتار باب العشر مصطفی البابی مصر ۲/۲۱
القرآن ۶۵/۷
#9496 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
بلادہ انہ لا تفی الاجرۃ ولا اضعافھا بالعشر او خراج المقاسمۃ قال فلا ینبغی العدول عن الا فتاء بقولھمافی ذلك لانھم فی زماننا یقدرون اجرۃ المثل بناء علی ان الاجرۃ سالمۃلجھۃ الوقف ولا شئی علیہ من عشرو غیرہ امالو اعتبر دفع العشر من جہۃ الوقف وان المستاجرلیس وعلیہ سوی الجرۃ فان اجرۃ المثل تزید اضعافا کثیرۃ کما لا یخفی فان امکن اخذ الجرۃ کاملۃ یفتی بقول الامام والا فبقولھما لما یلزم علیہ من الضرر الواضح الذی لا یقول بہ احد واﷲتعالی اعلم اھ۔
آسانی فرمادے گا یہ اسی طرح ہے جو علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنے شہرں کے ان اوقاف کے بارے میں ذکر کیا ہے جن میں نہ اجرت نہ اس کے ساتھ عشر کا اضافہ اورنہ ہی غلے کی تقسیم پوری ملتی ہے انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں صاحبین کے قول پر فتوی دینے سے اعراض منا سب نہیں کیونکہ ہمارے دور میں لوگ اجرت مثلی مقرر کرتے ہیں اس بناء پر کہ وقف کے لئے اجرت مثلی مقرر کرنے میں نقصان سے سلامتی ہے اور اس پر کوئی عشروغیرہ نہیں اور اگر وقف کی جانب سے عشر دینے کا اعتبار کیا جائے اور مستاجر پر سوائے اجرت کے کچھ نہ ہو تو اجرت مثلی کئی گنا بڑھ جاتی ہے جیسا کہ مخفی نہیں تو اگر کا ملا اجرت لینا ممکن ہوتو امام صاحب کے قول پر فتوی ہوگا ور نہ صاحبین کے قول پر تاکہ اس سے وہ واضح نقصان لازم آئے جس کا قول کسی نے بھی نہیں کیا واﷲتعالی اعلم اھ(ت)
رہی وہ زمین جس کی نسبت خراجی ہونا ثابت ہوجائے مثلا تحقیق ہو کہ ابتدائے زمانہ سلطنت اسلام سقی اﷲتعالی عہد ہا میں ابتداء یہ زمین کسی کافر ذمی کی تھی کہ اس نے باذن سلطان احیاء کی سلطان نے اسے عطا کی اس سے مسلمان نے خریدی یا مسلمان نے خراجی زمین کے قرب میں احیاء کی اس کا وظیفہ ضرور خراج ہے اور بلاشبہ خراج شرعی سے مالگزاری انگریزی کا کوئی تعلق نہیں نہ حساب ادا میں وہ مجرا دی جائے وھذا ظاہر جلی لا خفاء بہ (اور یہ ظاہر روشن ہے اس میں کوئی خفا نہیں۔ ت) امر تحقیق طلب یہ ہے کہ جب یہاں نہ سلطنت اسلام نہ لشکر اسلام تو خراج شرعی بھی واجب رہا یا نہیں اور رہا تو کسے اورکیا اور کتنا دیا جائے۔ اقول : وبا ﷲالتوفیق : یہ تو کتب میں مصرح ہے کہ مطالبہ خراج مشروط بہ تسلط ہے جب بلاد پر جتنے دنوں سلطنت شرعیہ کا تسلط نہ رہے بعد تسلط بھی ان ایام کے خراج کا مطالبہ نہیں انہوں نے اتنے دنوں کسی اور قوم کو خراج دیا یا اسے بھی نہ دیا ہوکہ خراج لینا حمایت فرمانے کے ساتھ
حوالہ / References ردالمحتار باب العشر مصطفٰی البابی مصر ۲/۶۰
#9497 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
ہے جب اتنے دنوں سلطنت دینیہ ان کی حمایت سے جدا رہی اس مدت کا خراج نہیں لے سکتی۔ کنز میں ہے :
لواخذ العشر والخراج والزکوۃ بغاۃ لم یوخذ اخری۔
اگر باغی عشر خراج اور زکوۃ وصول کرلیں تو دوبارہ نہ لیا جائے گا۔ (ت)
ہدایہ بحر وغیرہما میں ہے :
لان الامام لم یحمھم والجبایۃ بالحمایۃ۔
کیونکہ حاکم نے ان کی حمایت نہیں کی اور خراج تو حمایت کی بنا پر ہوتا ہے (ت)
تبیین و بحرو غنیہ ذوی الاحکام میں ہے :
اشتراط اخذھم الخراج ونحوہ وقع اتفاقا حتی لولم یاخذ وا منہ سنین وھو عند ھم لم یو خذ منہ شئی ایضا لما ذکرنا۔
خراج وغیرہ لینے کی شرط لگانے کا ذکر اتفاقاہوا ہے حتی کہ اگر کئی سال ان سے وصولی نہ کی حالانکہ ذمی ان کے پاس تھا تواب سابقہ سے بھی کوئی شئے نہ لی جائیگی جیسا کہ ہم نے بیان کردیا ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
ویظھر لی ان اھل الحرب لو غلبو ا علی بلدۃ من بلادنا کذلك للتعلیلھم اصل المسئلۃ بان الامام لم یحمھم والجبایۃ بالحمایۃ وفی البحر وغیرہ لو اسلم الحربی فی دارالحرب واقام فیھا سنین ثم خرج الینا لم یا خذ منہ الامام الزکوۃ لعدم الحمایۃ الخ
مجھ پر یہ ظاہر ہوا ہے کہ اگر اہل حرب ہمارے کسی شہر پرغالب آجائیں تو حکم یہی ہوگا کیونکہ یہاں دلیل و علت وہی ہے کہ حاکم نے ان کی حمایت نہیں کی اور خراج حمایت کی وجہ سے ہوتا ہے اور بحر وغیرہ میں ہے اگر حربی نے دارالحرب میں اسلام قبول کرلیا اور وہ وہاں ہی کئی سال تك مقیم رہا پھرہمارے ہاں آیا تو حاکم عدم حمایت کی وجہ سے اس سے کچھ وصول نہیں کرسکتا الخ(ت)
اور یہ بھی تصریح ہے کہ مصرف خراج لشکر اسلام ہے فقراء کا اس میں کچھ حق نہیں
حوالہ / References کنز الدقائق فصل فی الغنم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۵۹
بحر الرائق فصل فی الغنم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۲۲۳
تبیین الحقائق فصل فی صدقۃ الغنم مطبعہ کبرٰی بولاق مصر ۲ /۲۷۴
ردالمحتار باب زکوٰۃ الغنم مصطفی البابی مصر ۲ /۲۶
#9498 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
فی العنایۃ تحت مسئلۃ شراء ذمی عشریۃ من مسلم فی توجیہ روایۃ عن محمد حق الفقراء تعلق بہ فھو کتعلق حق المقاتلۃ بالاراضی الخراجیۃ ثم قال فی توجیہ اخری ما یصرف الی الفقراء ھو ماکان ﷲ تعالی بطریق العبادۃ و مال الکافر لیس کذلك فیصرف فی مصارف الخراج وفی الدرالمحتار عن ابن الشحنۃ فی نظم بیوت المال ع
وثالثھا خراج مع عشور الی ان قال :
فمصرف الاولین اتی بنص
وثالثھا حواہ مقاتلونا اھ وفی الفتح والعنایۃ وغیرھما قبیل باب الجزیۃ مصرف العشر الفقراء و مصرف الخراج المقاتلۃاھ وقد اعترض فی الفتح فی المسألۃ المارۃ علی جعل العشریۃ بشراء الذمی خراجیۃ بان التغییر ابطال لحق الفقراء بعد تعلقہ فلا یجوز الخ۔
عنایہ میں اس مسئلہ “ ذمی نے کسی مسلمان سے عشری زمین خریدی “ کے تحت امام محمد رحمہ اﷲ سے مروی روایت کی توجیہ میں ہے کہ فقراء کا اس کے ساتھ حق متعلق ہے پس یہ اسی حق کی طرح ہے جس طرح خراجی زمینوں کے ساتھ حق مقاتلہ کا تعلق ہوتا ہے پھر دوسری توجیہ کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ فقراء پر خرچ کیا جاتا ہے وہ اﷲتعالی کے لیے بطور عبادت ہوتا ہے اور مال کافر میں یہ بات نہیں ہوتی لہذا اسے مصارف خراج میں ہی خرچ کیا جائے گااور درمختار میں ابن شحنہ سے بیوت المال کی نظم میں ہے :
اور تیسری قسم خراج مع عشر ہے۔ آگے چل کر کہا :
پہلی دونوں کے مصارف ہمارے نص میں موجود ہیں اور تیسری کا مصرف ہمارے مقاتلہ(لشکر اسلام) ہوتے ہیں۔ اھ اور فتح اور عنایہ میں باب الجزیہ سے تھوڑا پہلے ہے کہ عشر کا مصرف فقراء اور خراج کا مصرف مقاتلہ کرنیوالے (لشکر اسلام) ہوتے ہیں اھ فتح میں گزشتہ مسئلہ کہ عشری زمین کا ذمی کے خریدنے سے خراجی ہونے پر اعتراض کیا ہے کہ زمین کے ساتھ فقراء کا حق متعلق ہونے کے بعد تغیر ان کے حق کو باطل کردیتا ہے جو جائز نہیں الخ (ت)
حوالہ / References العنایۃ مع فتح القدیر باب العشر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۹۶
درمختار باب العشر مطبع مجتبائی دہلی۱/۱۴۰
فتح القدیر باب العشر والخراج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/۲۸۶
فتح القدیر باب زکوٰۃ الزروع والثمار مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/۱۹۷
#9499 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
اورشك نہیں کہ جب مصرف نہ باقی ہو مطالبہ کس کے لیے ہو ولہذا ہمارے امام کے نزدیك عاشر تاجر سے خربوزے کھیرے ککڑی وغیرہا جلد بگڑ جائے والی پیداوار کا عشر نہ لے گا جبکہ فقراء موجود نہیں کہ مصرف ہی نہیں اور وہ اشیاء رکھنے سے بگڑ جائیں گی تو مطالبہ عبث ہے۔
فی الفتح قبیل باب المعادن من مربرطاب اشتراھا للتجارۃ کا لبطیخ والقثاء و نحوہ لم یعشرہ عند ابی حنیفۃ فانھا تفسد بالا ستبقاء و لیس عند العامل فقراء فی البر لید فع لھم فاذا بقیت لیجد ھم فسدت فیفوت المقصود اھ مختصرا۔
فتح میں باب المعادن سے تھوڑا پہلے ہے کہ جو شخص سبزیوں کے کھیت کے پاس سے گزرا اس نے تجارت کے لیے انھیں خریدا مثلا خربوزہ اور کھیرا وغیرہ تو اب امام ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کے نزدیك اس پر عشر نہ ہوگا کیونکہ وہ باقی رکھنے سے خراب ہوجاتی ہیں اور عامل کے پاس جنگل میں فقراء نہیں ہوتے جنہیں وہ عشر دے دے اور اگر انھیں فقراء کے پانے کے لیے باقی رکھتا ہے تو وہ خراب ہوجاتے ہیں تو اس سے مقصود فوت ہوجاتا اھ اختصارا(ت)
بلکہ علماء نے تصریح فرمائی کہ کل خراج کا وجوب ہی لشکر اسلام کے حق کے لیے اور ان کی حمایت کا معاوضہ ہے ۔ فتح القدیر کتاب السیر باب العشر میں ہے :
الخراج جزاء المقاتلۃ علی حمایتھم فما سقی بما احموہ وجب فیہ اھ۔
خراج لشکر اسلام کی حمایت کا معاوضہ ہے جو زمین ان کی حمایت سے سیراب ہوگی اس میں خراج واجب ہوگا اھ(ت)
عنایہ میں اسی جگہ ہے :
الخراج یجب جبر ا للمقاتلۃ فیختص وجوب الخراج بما یسقی بماء حمتہ المقاتلۃ(الی قولہ) الی ھذا اشار شمس الائمۃ اھ
خراج مقاتلہ کے نقصان کو پورا کونے کے لیے ہوتاہے لہذا خراج انہی زمینوں کے ساتھ مخصوص ہوگا جو لشکر کی حمایت کے تحت سیراب ہوں گی( آگے چل کر کہا)شمس الائمہ نے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ (ت)
حوالہ / References فتح القدیر باب فیمن یمر علی العاشر مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۱۷۸
فتح القدیر باب العشر و الخراج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۲۸۱
العنایہ مع فتح القدیر باب العشر والخراج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۲۸۰
#9500 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
اسی کے اواخر باب زکوۃ الزروع میں ہے :
الخراج یجب حقاللمقاتلۃ فیختص وجوبہ بما حمتہ القاتلۃ۔
خراج حق مقاتلہ کے طور پر لازم ہوتا ہے لہذا یہ اسی کے ساتھ مخصوص رہے گا جو مقاتلہ کے تحت ہوگا۔ (ت)
یہ کلمات بظاہر سقوط خراج کی طرف ناظر مگر نظردقیق حاکم کہ نفس وجوب ثابت و قائم مطالبہ سلطنت و وجوب دیانت میں فرق بعید ہے بہت چیزیں ہیں کہ سلطان کو ان کا مطالبہ نہیں پہنچا اور شرعا واجب ہ
کزکوۃ الاموال الباطنۃ کما فی الدر وغیرہ عامۃ الاسفار وقد قال الشامی عن البحر وغیرہ فی مسئلۃ اسلام الحربی فی دارالحرب بعد العبارۃ المذکوۃ ونفتیہ بادائھا ان کان عالما بوجو بھا والا فلا زکوۃ علیہ لان الخطاب لم یبلغہ وھو شرط الوجوب اھ
جیسے اموال باطنہ کی زکوۃ جیسا کہ در اور دیگر کتب میں ہے شامی نے بحر وغیرہ کے حوالے سے دارالحرب میں کسی حربی کے اسلام لانے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے عبارت مذکورہ کے بعد کہا کہ اگر وہ حربی مسلمان وجوب زکوۃ کا علم رکھتا ہے ہم اسکی ادائیگی کا فتوی دینگے ورنہ اس پر زکوۃ ہی نہیں کیونکہ اسے ایسا حکم ہی نہیں پہنچا جو وجوب کے لیے شرط ہے اھ(ت)
ولہذا صورت مذکورہ عدم تسلط میں تصریح فرمائی کہ متغلبین اگر زکوۃ و عشر لے کر ان کے مصارف میں سبب نہ کریں تو ارباب اموال پر ان کا دوبارہ دینا واجب ہے اور خراج میں جو اعادے کی حاجت نہیں اس کا سبب یہ کہ وہ متغلبین خود بھی ایك اسلامی لشکر کی حیثیت سے اس کے مصرف ہیں تو خراج اپنے محل کو پہنچ گیا
فی الدرالمختار اخذ البغاۃ والسلاطین الجائرۃ زکوۃ الاموال الظاھرۃ کا لسوائم والعشر و الخراج لا اعادۃ علی اربابھا ان صرف الما خوذ فی محلہ الاتی ذکرہ والا یصرف فیہ فعلیہم فیما بینھم وبین اﷲتعالی اعادۃ غیرالخراج لانھم مصارفہ۔
درمختار میں ہے اگر باغیوں اور ظالم حکمرانوں نے اموال ظاہرہ کی زکوۃ وصول کرلی مثلا چارپایوں کی زکوۃ یا عشرہ خراج وصول کرلیا تو اب مالکوں سے دوبارہ نہیں لیا جائیگا(بشرطیکہ ان کی جگہ خرچ کیا گیا جن کا ذکر آرہا ہے) اور اگر وہاں خرچ نہیں کیا تو مالکوں پربطور دیانت عشرہ زکوۃ کا اعادہ لازم ہے خراج کا نہیں کیونکہ باغی لشکر خود خراج کا مصرف ہیں۔ (ت)
حوالہ / References العنایہ مع فتح القدیر باب زکوٰۃ الزروع والثمار مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۹۷
ردالمحتار باب زکوٰۃ الغنم مصطفی البابی مصر ۲ /۲۶
درمختار باب زکوٰۃ الغنم مطبع مجتبائی دہلی۱ /۱۳۴
#9501 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
درمنتقی پھر طحطاوی علی الدرالمختار میں ہے :
اماالخراج فلا یفتون با عادتہ لانھم مصارفہ اذا ھل البغی یقاتلون اھل الحرب و الخراج حق المقاتلۃ۔
خراج دوبارہ لینے کا فتوی نہیں دیا جائے گا کیونکہ یہ اس کا مصرف ہیں کیونکہ اہل بغاوت نے اہل حرب کے ساتھ مقاتلہ کیا اور خراج مقاتلہ کا حق ہے(ت)
ہدایہ و بحر و غیرہما میں ہے :
افتوابان یعید وھا دون الخراج لانھم مصارف الخرج لکونھم مقاتلۃ والزکوۃ مصرفھا الفقراء ولا یصرفونھا الیھم۔
علماء نے فتوی دیا ہے کہ خراج کے علاوہ کا اعادہ ہوگا کیونکہ اہل بغاوت خراج کا مصرف ہیں اس لیے کہ یہ مقاتل ہیں اور زکوۃ کا مصرف فقراء ہیں لہذا ان پر خرچ نہیں کی جاسکتی ۔ (ت)
تو ثابت ہوا کہ تسلط و حمایت شرط مطالبہ سلطانی ہے نہ شرط نفس وجوب اور اس تعلیل نے کہ اعادہ خراج اس وجہ سے نہیں کہ وہ خود بھی مصرف ہیں واضح کردیا کہ اگر وہ مصرف نہ ہوں جیسے نا مسلم قومیں تو خراج کا اعادہ بھی ضرور ہے مصرف خراج صرف لشکر اسلام نہیں بلکہ تمام مصالح عامہ مسلمین ہیں جن میں تعمیر مساجد و وظیفہ امام ومؤذن و بنائے پل و سرا و تنخواہ مدرسین علم دین و خبر گیری طلبہ علوم دین و خدمت علمائے اہل حق حامیان دین مشغولین درس و وعظ و افتا وغیرہا امور دین سب داخل ہیں۔
فی ردالمحتار تحت قول ابن الشحنۃ المار انہ یصرف فی مصالحنا کسد الثغور و بناء القناطیر والجسور و کفایۃ العلماء و القضاء والعال ورزق المقاتلۃ و ذرا ریھم اھ ای ذراری الجمیع۔
ردالمحتار میں ابن شحنہ کے گزشتہ قول جو ہدایہ اور اکثر کتب معتبرہ میں ہے کے تحت یہ ہے خراج ہمارے مصالح پر خرج کیا جاسکتا ہے مثلا دفاعی بند پل راستے علماء قضاء علماء کی خدمت مقاتلہ کرنے والے اور ان کی اولاد یعنی مذکورہ تمام لوگوں کی اولاد پر خرچ کیا جاسکتا ہے(ت)
درمختار میں ہے :
حوالہ / References حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب زکوٰۃ الغنم دارالمعرفۃ بیروت ۱/۴۰۴
الہدایۃ کتاب الزکوٰۃ فصل فی مالا صدقہ فیہ المکتبۃ العربیہ کراچی۱ /۱۷۳
ردالمحتار باب العشر مصطفی البابی مصر ۲/۶۳
#9502 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
مصرف الجزیۃ والخراج مصالحنا کسد ثغورنا و بناء قنطرۃ و جسر کفایۃ العلماء والمعلمین تجنیس وبہ یدخل طلبۃ العلمم فتح و القضاۃ والعمال ککتبۃ قضاۃ وشہود قسمۃ ورقباء سواحل ورزق المقاتلۃ وذراریھم ای ذراری من ذکر مسکین(ملخصا)
جزیہ اور خراج کامصرف ہمارے رفا ہی کام ہیں مثلا دفاعی معاملات جیسے دارالاسلام کی سرحدوں کی حفاظت کرنا سڑکوں اور پلوں کا بنانا علماء اور اساتذہ کو بطور کفالت دینا تجنیس۔ اس میں طالبعلم بھی داخل ہیں فتح۔ قضاۃ اور عمال جیسے قاضیون کے کاتب ورثاء اور شرکاء کے درمیان تقسیم کے گواہ اور سواحل دریا کے نگہبان یعنی عشر لینے والے کذافی الطحطاوی۔ مجاہدین کی روزی اور ان سب کی ذریت کی یعنی جن کا ذکر اوپر ہوا ان سب کی اولاد کی روزی۔ کذافی شرح مسکین۔ (ملخصا)(ت)
ہدایہ میں ہےـ :
الخراج یصرف فی مصالح المسلمین ویعطی قضاۃ المسلمین وعمالھم وعلماؤھم منہ ما یکفیھم لانہ مال بیت المال وھو معد لمصالح المسلمین وھؤلاء عملتھم۔
خراج مسلمانوں کے مفاد کے لیے ہوگا۔ مسلمان قضاۃ عمال علماء کی ضروریات کو اس سے پورا کیا جائے گا کیونکہ یہ بیت المال کا مال ہے اور بیت المال مسلمانوں کے مفاد کے لیے ہوتاہے اور یہ لوگ مسلمانوں کی خدمت کررہے ہوتے ہیں۔ (ت)
فتح میں ہے :
زاد فی تجنیس المعلمین والمتعلمین وبھذا تدخل طلبۃ العلم اھ الکل مختصرا۔
تجنیس المعلمین والمتعلمین میں یہ اضافہ ہے کہ اس کے ساتھ طالب علم اس میں داخل ہوگئے اھ تمام عبارتوں میں اختصار ہے۔ (ت)
خود امام مذہب سید نا ابو یوسف رضی اللہ تعالی عنہ کتاب الخراج میں خلیفہ ہارون رشید سے ارشاد فرماتے ہیں :
حوالہ / References درمختار فصل فی الجزیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/۳۵۴
الہدایۃ فصل و نصارٰی بنی تغلب الخ المکتبہ العربیہ کراچی ۲/۵۷۹
فتح القدیر فصل و نصارٰی بنی تغلب الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/۳۰۷
#9503 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
وسألت من ای وجہ تجری علی القضاۃ و العمال الارزاق فاجعل (اعزاﷲامیرالمؤمنین بطاعتہ) ما یجری علی القضاۃ والولاۃ من بیت مال المسلمین من جبایۃ الارض اومن خراج الارض والجزیۃ لانھم فی عمل المسلمین فیجری علیھم من بیت مالھم ویجری علی والی کل مدینۃ وقا ضیھا بقدر مایحتمل وکل رجل تصیرہ فی عمل المسلمین فاجر علیہ من بیت ما لھم ولا تجر علی الولاۃ والقضاۃ من مال الصدقۃ شیأ الا والی الصدقۃ فانہ یجری علیہ منھا کما قال اﷲتبارك وتعالی و العملین علیها ۔
اے امیرالمومنین!تو نے یہ پوچھا ہے کہ قضاۃ اور عمال کے وظائف کا معاملہ کیسے کیاجائے تو(اﷲتعالی امیرالمومنین کو رعایا کی فرمانبرداری کے ذریعے عزت بخشے) قضاۃ اور عمال کو مسلمانوں کے بیت المال یعنی زمین کی ضمان خراج اور جزیہ س وظائف دئے جائیں کیونکہ وہ مسلمانوں کے کام میں مصروف ہوتے ہیں پس ان پر بیت المال سے خرچ کرواورہر شہر کے والی اور قاضی کے لیے اتنا وظیفہ جاری کرو جتنا وہ کام کرتے ہیں اور جو شخص مسلمانوں کے کام میں مقرر کرو اس پر بیت المال سے خرچ کرو والیوں اور قاضیوں پر مال صدقہ سے خرچ نہ کرو ہاں والی صدقہ پر کرسکتے ہو کیونکہ اس پر اس میں سے خرچ کیا جاسکتا ہے جیسا کہ اﷲتعالی کا ارشاد گرامی ہے اور صدقات وصول کرنے والے کے لیے۔ (ت)
اور اگر بالفرض خاص لشکر اسلام ہی اس کا مصرف ہوتا تو بحمد اﷲتعالی وہ بھی جابجا موجود اور اوپر معلوم ہوچکاکہ خاص یہاں ہونا ان بلاو کی حمایت کا شرط مطالبہ ہے نہ شرط وجوب اور اشیائے سریعۃ الفساد پر خراج کی قیاس نہیں ہوسکتا پھر وہاں بھی صرف مطالبہ منتقی ہے نہ وجوب خود اسی مسئلہ میں تصریح ہے کہ عاشر اگر چہ اس سے عشر نہ لے گا مگرتاجر کو اس کے ادا کاحکم کرے گا۔
فی ردالمحتار عن الشربنلالیۃ صورۃ المسألۃ'ان یشتری بنصاب قرب مضی الحول علیہ شیأمن ھذھ الخضراوات للتجارۃ فتم علیہ الحول فعندہ لا یاخذ الزکوۃ لکن یا مرالمالك بادائھا
ردالمحتار میں شرنبلالیہ سے ہے صورت مسئولہ یوں ہے کہ سال ختم ہونے کے قریب اگر کسی نے تجارت کے لیے نصاب کے عوض سبزیات خریدیں اور اس پر سال مکمل ہوا تو امام صاحب کے نزدیك اس سے زکوۃ وصول نہیں کی جائے گی لیکن
حوالہ / References کتاب الخراج من ای وجہ تجری علی القضاۃ الخ مطبعۃ بولاق مصر ص۲۰۲
#9504 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
بنفسہ الخ۔
مالك سے کہا جائیگا کہ خود ادا کردے۔ (ت)
ایجاب خراج میں لشکر اسلام کا حق اور اس کی حمایت پر تقرر معاوضہ ضرور منظور نظر شرع ہے مگر اس سے وجود حمایت کا شرط وجوب ہونا لازم نہیں تصریحات ائمہ سے واضح ہو لیا کہ خراج صرف انہی کے لیے مقرر نہ ہوا بلکہ جمیع مصالح عامہ اہل اسلام اس میں متساویۃ الاقدام ہاں جہاں حمایت ہو ان کا بھی حق ضرور ہے اور جہاں ان کا حق ہو وہی معاوضہ منظور ہے بالجملہ ادھر سے کلیہ ہے یعنی حیثما وجدت الحمایۃ وجبت الجبایۃ ( جہاں حمایت ہوگی وہاں خراج لازم ہوگا۔ ت) ادھر سے نہیں کہ حیث ما وجبت الجبایۃ وجدت الحمایۃ (جہاں خراج ہوگا وہاں حمایت ہوگی۔ ت) تاکہ اس کا عکس نقیض کیجئے کلما لم توجد الحمایۃ لم توجب الجبایۃ (جب حمایت نہ ہوگی تو خراج لازم نہ ہوگا۔ ت) فتح القدیر کی عبارت مذکور کا منشاء اسی قدر ہے البتہ عبارت عنایہ میں لفظ یختص موہم واقع ہوا ہے اور وہ قطعا زائد بے حاجت محض بلکہ خلاف مقصود ہے
وذلك لان محمد ارحمہ اﷲصرح فی الزیادات ان المسلم لا یبتدأبتوظیف الخراج ثم وقع بینھم الخلاف فیما اذا احیا مسلم مواتا فقال ابویوسف تعتبر بحیزھا ای بما یقرب منھا فان کانت من حیز ارض الخراج فخراجیۃ اوارض العشر فعشریۃ لان القرب من اسباب الترجیح وقال محمد ان کان صفتھا انھا یصل الیھا ماء الانھار فخراجیۃ او ماء عین ونحوہ فعشریۃ کل ذلك فی الفتح وقد لزم من ھذا توظیف
یہ اس لیے کہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے زیادات میں تصریح کی ہے کہ مسلمان پر ابتداء خراج نہیں آسکتا پھر ان ائمہ کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے کہ جب کسی مسلمان نے غیر آباد زمین کو آباد کیا امام ابو یوسف نے فرمایا اس کے قرب کا اعتبار کیا جائیگا اگر خراجی کے قریب ہے تو خراجی اگر عشری کے قریب ہے تو عشری کیونکہ قرب اسباب ترجیح میں سے ہے۔ امام محمد نے فرمایا اگر اسے نہری پانی سیراب کرتا ہو تو خراجی اور اگر چشمہ وغیرہ کا پانی ہوتو عشری۔ یہ تمام تفصیل فتح میں ہے ۔ بعض کے گمان کے مطابق اس سے مسلمان پر
حوالہ / References ردالمحتار باب العاشر مصطفی البابی مصر ۲ /۴۷
فتح القدیر باب زکوٰۃ الزروع والثمار مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۹۸
فتح القدیر باب العشر و الخراج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۲۸۰
#9505 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
الخراج علی المسلم بدأ اذا سقاھا بماء الخراج علی ما ظن عــــــہ۱ وھو خلاف نص الزیادات فا جیب عــــــہ۲ بتقیید مافی الزیادات بما اذالم یکن منہ صنیع یستد عی ذلك وھوالسقی بماء الخراج اما اذا وجد ذلك فھو دلالۃ التزامہ الخراج
ابتدائی طور پر خراج کا تقرر لازم آتا ہے جبکہ وہ زمین خراجی پانی سے سیراب ہورہی ہو حالانکہ یہ زیادات کی تصریح کے خلاف ہے اس کا جوب یہ دیا گیا ہے کہ زیادات کی عبارت میں اس قید کا اعتبار ہے کہ بشرطیکہ اس مسلمان سے کوئی ایسا عمل نہ پایا جاتا ہو جوخراج کا تقاضا کرتا ہو اور وہ عمل خراجی پانی سے سیرابی ہے اور اگر ایسا ہے تو بطور التزام اس کا
عــــــہ۱ : ظنہ جماعۃ منھم الشیخ حسام الدین السغناقی فی النھایۃ ولیس کما ظنوا بل انما ھو انتقال ما تقرر فیہ الخراج بوظیفۃ الیہ وھو الماء فان فیہ وظیفۃ الخراج فاذا سقی بہ انتقل ھو بوظیفۃ الی ارض المسلم کما لواشتری خراجیۃ وھذا لان المقاتلۃ ھم الذین حموا ھذاالماء تثبت حقھم فیہ وحقھم ھوالخراج فاذا اسقی بہ مسلم اخذ منہ حقہم کما ان ثبوت حقھم فی الارض اعنی خراجہا لحمایتھم ایا ھا یوجب مثل ذلك افادہ فی الفتح من باب زکوۃ الزروع ۱۲منہ غفرلہ۔ (م)
عــــــہ۲ : المجیب الامام شمس الائمۃ السرخسی کما فی الفتح ۱۲منہ غفرلہ (م)
عــــــہ۱ : یہ گمان ایك جماعت نے کیا ہے جن میں سے شیخ حسام الدین سغناقی ہیں جنھوں نے نہایہ میں اظہار کیا ہے جبکہ معاملہ وہ نہیں جو انہوں نے گمان کیا ہے بلکہ یہ مسلمان کی طرف وظیفہ خراج والی چیز کا انتقال ہے۔ اور وہ پانی ہے کیونکہ اس میں خراج والا وظیفہ ہے۔ تو جب اس سے زمین سیراب ہوگی تو اس کا وظیفہ بھی مسلمان کی زمین پر لاگو ہوگا جیسا کہ کوئی خراجی زمین خریدے تو اس پر خراج آتا ہے یہ اس لیے کہ مقاتلہ وہ لوگ ہیں جو اس پانی کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اس لیے اس پانی میں ان کا حق ثابت ہوگا جبکہ وہ خراج ہے تو جب کوئی مسلمان اس پانی کو استعمال کرے گا تو اس سے پانی کا حق لیا جائیگا جس طرح خراجی زمینوں میں تحفظ فراہم کرنے پر مقاتلہ کا حق واجب ہوتا ہے اس کا افادہ فتح کے باب زکوۃ الزروع سے حاصل ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
عــــــہ۲ : جواب دینے والے شمس الائمہ سرخسی ہیں جیساکہ فتح میں ہے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
#9506 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
رضاہ بہ لان الخراج جزاء المقاتلۃ علی حما یتھم فما سقی بما حموہ وجب فیہ ھذاما فی الھدایۃ والفتح ولاحاجۃ فیہ الی تخصیص الخراج بماحموہ اصلا بحیث لم یوجد لم یجب انما الحاجۃ الی استتباع حمایتھم ایجاب الخراج بحیث اذا وجدت وجب لان المقصود اثبات الوجوب لاجل ثبوت الحمایۃ فتکون الحمایۃ ملزومۃ والخراج لا زمالیستدل بوضع المقدم علی وضع التالی واللازم لایجب تساویہ اما اذا قلنا بان الخراج یختص بالحمایۃ کان المعنی ھو انتقاء ہ بانتقاء ھا فیکون اللازم ھو الحمایۃ فلا یصح الاستدلال بوجودہ علی وجوب الخراج لان وضع التالی لاینتج وضع المقدم فظہران حدیث الخصوص لا یوافق المقصود فاذن التقریر الصحیح مااشار الیہ فی الھدایۃ وبینہ فی الفتح وانعم ایضاحہ فی زکوتہ الزروع کما نقلنا نصہ انفافی المنھیۃ۔
خراج پر راضی ہونا ثابت ہوجاتا ہے کیونکہ خراج تو حمایت پر مقاتلہ کا معاوضہ ہے اور جو حمایتی (خراجی) پانی سے سیراب ہوگی اس خراج واجب ہوگا۔ یہ ہدایہ اور فتح میں تھا۔ یہاں خراج کو اس چیز کے ساتھ مقید کرنے کی اصلاضرورت نہیں کہ یہ وہاں ہوتاہے جہاں حمایت ہو اور جہاں حمایت نہ ہوگی وہاں خراج کا وجوب نہ ہوگا۔ یہ ضرورت تو ان کی حمایت کی وجہ سے ایجاب خراج کے لیے ہے یعنی جہاں حمایت ہوگی وہاں خراج کا وجوب ہوگا کیونکہ مقصود ثبوت حمایت کی خاطر وجوب خراج کا اثبات ہے تو اب حمایت ملزوم اور خراج لازم قرار پائے گا تا کہ وضع مقدم سے وضع تالی پر استدلال کیا جاسکے اور لازم کے لیے(ملزوم کے )مساوی ہونا ضروری نہیں ہوتا لیکن جب ہم یہ کہیں گے کہ خراج حمایت کے ساتھ مخصوص ہے تو اب معنی ہوگا کہ خراج کی نفی سے حمایت کی نفی ہوتو اب اس صورت حمایت کا لازم ہونا لازم آجائے گا تو اب وجود لازم (حمایت) سے وجوب خراج پر استدلال درست نہ ہوگا کیونکہ وضع تالی سے وضع مقدم پر منتج نہیں ہوتی۔ تو اب ظاہر ہوگیا کہ مخصوص کرنے والی بات مقصود کے موافق نہیں اب تقریر صحیح وہی ہے جس کی طرف ہدایہ میں اشارہ ہے اور فتح میں بیان ہوئی اور اس کی وضاحت زکوۃ الزروع میں کی جیسا کہ ہم نے ابھی منہیہ میں اس کی عبارت بصور نص نقل کی ہے(ت)
پھر اس اختصاص کو اپنے ظاہر اطلاق پر رکھئے تو قطعاغلط و باطل ہے جو زمینیں ہم نے
حوالہ / References فتح القدیر، باب العشر والخراج، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۵ /۲۸۱
#9507 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
قہرا خواہ صلحافتح کیں اور ان کے اہل کو ان پر برقرار رکھا یا قہرافتح کرکے اور جگہ کے کافروں کو دے دیں ان پر یقینا خراج ہے اگر چہ انھیں آب عشری مثل باران وغیرہ سے پانی دیا جاتا ہو۔ محققین تصریح فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ ہمارے ائمہ کا اجماعیہ ہے۔ محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا :
نحن نقطع ان الارض التی اقر اھلھا لو کانت تسقی بعین اوبماء السماء لم تکن الاخراجیۃ لان اھلھا کفارواکفار لو انتقلت الیھم ارض عشریۃ و معلوم ان العشریۃ قد تسقی بعین او بماء الساء لاتبقی علی العشریۃ بل تصیر خراجیۃ فی قول ابی احنیفۃ وابی یوسف خلافا لمحمد فکیف یبتدأ الکافر بتوظیف العشرثم کونھا عشریۃ عند محمد اذا انتقلت الیہ کذلك امافی الابتداء فھو ایضا یمنعہ۔
ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ جس زمین پر اس کےا ہل برقرار رہے اگر چہ وہ چشمہ یا آسمانی پانی سے سیراب ہوتی ہو تو وہ خراجی ہی ہوگی کیونکہ اس کے مالك کافر ہیں اور کافر کی طرف اگرچہ عشری زمین منتقل ہو اور یہ بات معلوم ہوکہ اگر عشری زمین کو چشمہ یا آسمانی پانی سے سیرب کیا جاتا ہے تو وہ عشری نہ رہے گی بلکہ وہ امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کے قول کے مطابق خراجی ہوجائے گی ہاں امام محمد کا اس میں اختلاف ہے تو اب کافر پر ابتدائی طور پو عشر کیسے مقرر کیا جاسکتا ہے پھر امام محمد کے نزدیك جب عشری زمین کسی کافر کی طرف منتقل ہوگی تو وہ عشر ہی رہے لیکن ابتداء وہ بھی کافر پر عشر سے منع کرتے ہیں۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
وقد اطال المحقق فی فتح القدیر فی تقریرہ ثم قال والحاصل ان التی فتحت عنوۃ ان اقر الکفار علیہا لا یوظف علیہم الاالخراج ولوسقیت بماء المطر وان قسمت بین المسلمین لا یوظف الا العشر وان سقیت بماء الانھار۔
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں بڑی طویل گفتگو کرکے کہا کہ حاصل یہ ہے کہ جو زمینیں بطور غلبہ حاصل ہوں اگر کفار کو ہی ان پر قابض رکھا تو اب ان پر خراج ہی مقرر کیا جائیگا اگر چہ وہ بارش سے سیراب ہوتی ہوں اور اگر وہ زمینیں مسلمانوں میں تقسیم کردی گئیں تو ان پر عشرہی مقرر کیا جائیگا اگر چہ وہ نہر ی پانی سے سیراب کی جاتی ہوں۔ (ت)
حوالہ / References فتح القدیر باب العشر والخراج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۲۸۰
بحرالرائق ، باب العشر والخراج، ایچ سعید کمپنی کراچی ، ۵ /۵۰۱
#9508 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
امام محقق زیلعی نے تبیین الحقائق میں فرمایا :
ھذا التفصیل فی حق المسلم اما الکافر فیجب علیہ الخراج من ای ماء سقی لان الکافر لا یبتدأبالعشرفلا یأتی فیہ التفصیل فی حالۃ الابتداء اجماعا۔
یہ تفصیل حق مسلم میں ہے رہا کافر کا معاملہ تو اس پر خراج ہوگا خواہ جو پانی بھی سیراب کرے کیونکہ کافر پر ابتداء عشر نہیں ہوتا لہذا ابتداء اس میں بالاتفاق تفریق و تفصیل نہیں ہوگی۔ (ت)
اسی طرح بحرالرائق و مجمع الانہر میں اس سے نقل کیا اور مقرر رکھا ولہذا علامہ حلبی نے متن متین ملتقی الابحر میں ان زمینوں کو خراجی ہونے کا مسئلہ مطلق رکھاارض السواد خراجیۃ (سواد کی زمین خراجی ہے۔ ت)کے بعد فرمایا :
وکذا کل مافتح عنوۃ واقر اھلھا علیہ اوصولحو اسوی مکۃ۔
اسی طرح ماسوائے مکہ کے وہ زمین جو بطور غلبہ فتح ہوئی اور اس کے باشندوں کو وہاں قابض رکھایا ان سے صلح کرلی گئی۔ (ت)
اور اصلاخلاف کا ذکر نہ کیا حالانکہ انہیں التزام ہے کہ جس مسئلہ میں ائمہ ثلثہ مذہب سے کسی کا خلاف ہو ضرور نقل کریں گے۔
قال فی خطبتہ وصرحت بذکرالخلاف بین ائمتنا الخ
علامہ حلبی نے خطبہ کتاب میں فرمایا ہمارے ائمہ کے درمیان اگر کسی مسئلہ میں اختلاف ہوگا تو میں اس کی تصریح کروں گا۔ (ت)
اسی طرح متن جلیل کنز میں مطلق فرمایا :
فتح عنوۃ و اقر اھلہ علیہ اوفتح صلحا خراجیۃ۔
وہ زمین جوبطور غلبہ حاصل ہوئی اور وہاں کے قابضین کو بر قرار رکھایا بطور صلح فتح ہوئی تو وہ خراجی ہوگی۔ (ت)
اور خلاف کی طرف با وصف التزام رمز ایما نہ کیا یونہی جو زمین ذمی نے احیا کی بالاتفاق خراجی ہے اگرچہ
حوالہ / References تبیین الحقائق باب العشر والخراج الخ مطبعہ کبرٰی امیریہ بولاق مصر ۳ /۲۷۲
ملتقی الابحر باب العشر والخراج الخ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱/۲۷۰
ملتقی الابحر خطبۃ الکتاب (مقدمۃالمؤلف) مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱/۱۰
کنز الدقائق باب ا لعشر والخراج و الجزیۃ ایچ ایم سعید کراچی ص ۱۹۱
#9509 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
پانی عشری دیا ہو فتح القدیر و تبیین الحقائق و بحرالرائق وغیرہا میں ہے :
لو احیا ھا ذمی کانت خراجیۃ سواء سقیت عند محمد بماء السما ونحوہ او لا وسواء کانت عند ابی یوسف من حیز ارض الخراج اوالعشر اھ فظہر ضعف ما انتحاہ فی العنایۃ تبعا للنھا یۃ رکونا الی ظاہر نقل فی الھدایۃ علی خلاف نقل فی الغایۃ کما بینہ المحقق فی الفتح واﷲ ولی الھدایۃ والفتح۔
اگر کسی ذمی نے زمین کو آباد کیا تو وہ خراجی ہوگی خواہ آسمانی پانی وغیرہ سے سیراب ہو یا نہ ہواور امام ابو یوسف کے نزدیك خواہ خراجی کے قریب ہو یا عشری کے قریب اھ اس سے اس کا ضعف ظاہر ہوگیا جو عنایہ میں نہایہ کی اتباع کرتے ہوئے میلان کیا ہے ہدایہ میں نقل ظاہر کی طرف اور وہ نقل غایۃکے خلاف ہے جیسا کہ محقق نے فتح میں کیا اور اﷲتعالی ہی ہدایت اور فتح کا مالك ہے۔ (ت)
تصریح فرمائی مسئلہ اعتبار آب مطلق نہیں ہدایہ میں فرمایاتھا :
اذا کانت لمسلم دار خطۃ فجعلھابستانا فعلیہ العشر معناہ اذا سقاھا بماء العشر واما اذا کانت تسقی بماء الخراج ففیھا الخراج لان المؤنۃ فی مثل ھذا تدور مع الماء۔
جب بطور قبضہ کسی مسلمان کی خالی زمین پر گھر بنایا پھر اسے اس نے باغ بنادیا تو اس پر عشر ہوگا اس کا معنی یہ ہے کہ جب وہ عشری پانی سے سیراب ہوتا ہو اور جب وہ خراجی پانی سے سیراب ہوتو اس میں خراج ہوگا کیونکہ ایسی صورتوں میں عشر و خراج کا معاملہ پانی کے ساتھ ہے۔ (ت)
اس پر عنایہ میں لکھا ہے :
معنی قولہ “ فی مثل ھذا “ الارض التی لم یتقرر امرہ علی عشر او خراج وھو احتراز عما اذا کان لمسلم ارض تسقی بماء العشر وقد اشتراھا ذمی فان ماء ھا عشری وفیہ الخراج۔
ماتن کے قول “ فی مثل ھذا “ سے مرادوہ زمین ہے جس کا معاملہ عشر و خراجی کے اعتبار سے مستحکم نہ ہوا ہو اس سے اس صورت سے احتراز ہوگیا جب کسی مسلمان کی ایسی زمین تھی جو عشری پانی سے سیراب ہوتی تھی اور اسے ذمی نے خرید لیا تو اب اس کا پا نی عشری ہے لیکن اس میں خراج ہے۔ (ت)
حوالہ / References فتح القدیر باب العشر و الخراج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۲۸۱
الہدایۃ، باب زکوٰۃ الزروع والثمار ،لمکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ /۱۸۴
العنایۃ مع فتح القدیر باب زکوٰۃ الزروع والثمار مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۹۷
#9510 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
دیکھو کیسی صاف تصریح ہے کہ خراج آب خراجی کے ساتھ خاص نہیں اور تحقیق یہ ہے کہ اب بھی اطلاق صحیح نہیں مسئلہ احیائے ذمی وغیرہا کے متعلق تصریحات ابھی گزریں ہاں امام مذہب رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك اعتبار آب صرف اس صورت میں ہے جہاں مسلمان پر ابتداء وظیفہ مقرر کرنا ہو جیسے اس نے اپنے گھر کو باغیچہ بنالیا یا مردہ زمین احیاء کی محقق علی الاطلاق نے یوں شرح فرمائی :
قولہ الوظیفۃ فی مثلہ فیما ھوابتداء توظیف علی المسلم من ھذاومن الارض التی احیاھا لا کل مالم یتقرر امرہ فی وظیفۃ کمافی النھایۃ بان الذمی لو جعل دار خطتہ بستانا اواحیا ارضا اورضخت لہ لشہودہ القتال کان فیھا الخراج وان سقاھا بماء العشر عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالی۔
ماتن کا قول “ الوظیفۃ فی مثلہ “ یعنی اس زمین کا جس کا ابتداء مسلمان پر وظیفہ مقرر کرنا ہے اور جسے اس نے آباد کیا ہو' نہ کہ ہر وہ زمین جس کا وظیفہ مستحکم نہ ہواہو جیسا کہ نہایہ میں ہے کیونکہ اگر ذمی نے قبضہ شدہ گھر کوباغ بنالیا یا زمین کو آباد کیا یا اسے جہاد میں شرکت کی وجہ سے بطور عطیہ ملی تو اس میں خراج ہوگا اگرچہ اسے اس نے ماء عشری سے سیراب کیا ہو امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیک۔ (ت)
خود ہدایہ میں فرمایا :
ان جعلھا (ای المجوسی دارہ) بستانا فعلیہ الخراج وان سقاھا بماء العشر لتعذر ایجاب العشر اذفیہ معنی القربۃ فتعین الخراج وھو عقوبۃ تلیق بحالہ اھ اقول : وبہ ظہر سقوط مافی العنایۃ علی ھذا القول من الھدایۃ ما نصہ لقائل ان یقول اما ان یکون الاعتبار للماء اولحال من توضع علیہ الوظیفۃ فان کان الاول وجب علیہ العشر وان کان الثانی ناقض ھذا
اگر (کسی مجوسی نے اپنے دار کو) باغ بنادیا تو اس پر خراج ہے اگر چہ اسے عشری پانی سے سیراب کیا ہو کیونکہ یہاں وجوب عشر متعذر ہے اس لیے کہ عشر میں عبادت کا پہلو ہے لہذا خراج متعین ہوگا جو بطور عقوبت مجوسی کے حلا کے مناسب ہے اقول : اس سے عنایہ کے اس اعتراض کا ساقط ہونا ظاہر ہوگیا جو ہدایہ کے قول پر ان الفاظ میں کیا کہ معترض کہ سکتا ہے کہ یہاں اعتبار پانی کا یا اس شخص کا ہے جس پر عشرو خراج لازم کرنا ہے اگر پانی کا اعتبار ہے تو مجوسی پر عشر لازم آئے گا اور اگرشخص مکلف کا اعتبار ہوتو اس کا
حوالہ / References فتح القدیر ، باب زکوٰۃ الزروع والثمار ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۹۸
الہدایۃ،باب زکوٰۃ الزروع والثمار ،المکتبۃ العربیہ کراچی،۱ /۱۸۴
#9511 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
قولہ (لان المؤنۃ فی مثل ھذا تدورمع الماء)(وجب علی المسلم العشر اذا سقی ارضہ بماء الخراج )اھ وجہ السقوط ان الکلام ھھنا فی الذمی و مامر من دوران المؤنۃ مع الماء انما کان فیما فیہ ابتداء التوظیف علی المسلم فلا مساغ للتناقض اصلا ولا حاجۃ الی تجشم الجواب بما قال ان الاعتبار للماء ولکن قبول المحل شرط وجوب الحکم والکافر لیس بمحل لایجاب العشر علیہ لکونہ عبادۃالخ وکیف ماکان فمقصودنا حاصل وھو بطلان تخصیص الخراج بالماء الخراج اما مطلقا واما فیما لم یتقرر امرھا علی وظیفۃ نعم ھو صحیح عند صاحب المذہب فیما فیہ بدء التوظیف علی مسلم فقط۔
اس قول سے تضاد لازم آئیگا کہ “ ایسی صورت میں وظیفہ کے تعین کے لیے پانی کا اعتبار کیا جاتا ہے “ اور مسلمان پر عشر لازم ہوتا ہے جب وہ اپنی زمین کو خراجی پانی سے سیراب کرتا ہو “ اھ۔ وجہ سقوط یہ ہے کہ یہاں گفتگو ذمی میں ہورہی ہے اور جو گزرا ہے کہ تعین وظیفہ میں پانی کا اعتبار ہے وہ اس صورت میں ہے جب ابتداء کسی مسلمان پر وظیفہ کا تعین کرنا ہو تو یہاں تناقض کا ثبوت ہی نہیں ہوا لہذا یہ کہہ کر جواب میں تکلف کی ضرورت نہیں کہ اعتبار تو پانی کا ہی ہوتا ہے مگر وجوب حکم کے لیے محل کا قبول کرنا شرط ہے اور کافر ایجاب عشر کا محل نہیں کیونکہ عشر ادا کرنا عبادت ہے الخ بہر حال ہمارا مقصد حاصل ہے وہ یہ کہ خراج پانی کے ساتھ خراج کو مخصوص کرنے کا بطلان ہے یا تو ہر حال میں یا اس صورت میں جب زمین پر کسی وظیفہ کا تقرر نہ ہواہو ہاں یہ صاحب مذہب کے نزدیك اس وقت فقط صحیح ہے جب کسی مسلمان پر ابتداء وظیفہ کاتقرر کرنا ہو۔ (ت)
پھر مفتی بہ یہ ہے کہ یہاں بھی پانی کا اعتبار نہیں بلکہ قرب دیکھیں گے اگر زمین خراجی سے نزدیك ہے خراج ہوگا اگر چہ آب عشری دیا ہو اور عشری سے توعشر اگرچہ پانی خراج کا ہو۔ تنویر میں ہے :
لو احیاہ مسلم اعتبر قربہ۔
اگر کسی مسلمان نے زمین کو آباد کیا تو وہاں اس کے قریب زمین کا اعتبار کیا جائیگا۔ (ت)
حوالہ / References العنایۃ مع فتح القدیر ، باب زکوٰۃ الزروع والثمار ،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ،۲ /۱۹۸
العنایۃ مع فتح القدیر ،باب زکوٰۃ الزروع والثمار ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر،۲ /۱۹۸
تنویرالابصار متن درمختار، باب العشر والخراج الخ ، مطبع مجتبائی دہلی ،۱ /۳۴۹
#9512 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
ردالمحتار میں ہے :
ھذا عند ابی یوسف واعتبر محمد الماء فان احیاھا بماء الخراج فخراجیۃ والا فعشریۃ بحر وبالاول یفتی درمنتقی۔
یہ امام ابویوسف کے نزدیك ہے امام محمد نے پانی کا اعتبار کیا ہے اگر مسلمان نے زمین خراجی پانی سے آباد کی ہے تو وہ خراجی ہوگی ورنہ عشری بحر۔ فتوی پہلے قول پر ہے درمنتقی۔ (ت)
اسی میں ہے :
وھو مامشی علیہ المصنف اولا کالکنز وغیرہ وقد مہ فی متن “ الملتقی “ فافاد بتر جیحہ علی قول محمد وقال ح وھو المختار کما فی الحموی علی الکنز عن شرح قراحصاری وعلیہ المتون۔
یہی وہ ہے جس پر پہلے مصنف چلے مثلا کنز وغیرہ۔ اور ملتقی کے متن میں اسے مقدم کیا ہے۔ یہ اس بات کو مفید ہے کہ انہوں نے اسے امام محمد کے قول پر ترجیح دی ہے اور ح نے کہا کہ یہی مختار ہے جیسا کہ حموی علی الکنز میں شرح قراحصاری کے حوالے سے ہے اور متون اسی پر ہیں۔ (ت)
معہذا اگر تخصیص مان بھی لیجئے تو لشکر اسلام کا ید قبضہ پانی پر وارد ہونا ابتداء اس کی خرجیتکا مفید ہوطکا بقاء بھی خراجیت بقاء ید پذیر پر موقوف رہنے کی کیا دلیل ہے اور پر ظاہر کہ ہمارا کلام بقاء میں ہے :
الا تری ان الخراج یجب عقوبۃ الا الکفر ثم لا یحتاج فی بقائہ حتی لو اسلموا لم یسقط الخراج عن اراضیھم کما نصوا علیہ قاطبۃ
( آپ جانتے ہیں کہ خراج کفر کی سزاکے طور پر واجب ہوتا ہے پھر اپنی بقاء میں اس کا محتاج نہیں حتی کہ اگر کافر مسلمان ہوگئے تو ان کی زمینوں سے خراج ساقط نہ ہو گا جیسا کہ اس پر فقہاء نے قطعی تصریح کی ہے۔ ت)
بالجملہ جہاں تك نظر کی جاتی ہے یہاں کی ان زمینوں سے جن کا خراجی ہونا بہ ثبوت شرعی ثابت ہولیا بلاوجہ شرعی وجوب خراج کا اٹھ جانا ثابت نہیں ہوتا اور کیونکر ثابت ہو حالانکہ خراج کے لیے سبب وجوب ارض نامیہ ہے اور وہ حاصل تو وجوب بھی حاصل ہدایہ مسئلہ عدم اجتماع عشرو خراج میں فرمایا :
حوالہ / References ردالمحتار باب العشر والخراج الخ مصطفی البابی مصر۳/۲۸۴
ردالمحتار باب العشر والخراج الخ مصطفی البابی مصر ۳/۲۸۴
#9513 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
سبب الحقین واحد وھوالارض النامیۃ الا انہ یعتبر فی العشر تحقیقا وفی الخراج تقدیر ا و لھذا یضافان الی الارض۔
دونوں حقوق عشر و خراج کا سبب ایك ہے اور وہ ارض نامی ہے ہاں عشر میں اس کانامی ہونا عملا اور خراج میں بالفرض ہے یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کی نسبت زمین کی طرف ہوتی ہے(ت)
فتح القدیر میں ہے :
قال الشافعی یجمع بینھما لان سبب العشر الارض النامیۃ بالخارج تحقیقا وسبب الخراج الارض النامیۃ بہ تقدیرا وقد تحقق سبب کل منھما ولا منا فاۃ بین الحقین فیجبان ولنا ان تعدد الحکم واتحادہ بتعدد السبب واتحادہ وسبب کل من الخراج والعشر الارض النامیۃ ولھذا یضافان الیھا فیقال خراج الارض وعشر الارض والاضافۃ دلیل السببیۃ وکون الارض مع النماء التقدیری غیرالارض مع التحقیقی مخالفۃ اعتباریۃ لاحقیقۃ فالارض النامیۃ ھی السبب واذا اتحد السبب اتحد الحکم اھ ملتقطا
امام شافعی فرماتے ہیں کہ ان دونوں کو جمع کیا جاسکتا ہے کہ عشر کا سبب ارض نامی سے عملا پیداوار اور خراج کا سبب ارض نامی سے پیداوار کا امکان ہے اور یہاں دونوں کا سبب متحقق ہے اور دونوں کے حقوق میں منافات بھی نہیں لہذا دونوں واجب ہوں گے ہماری دلیل یہ ہے کہ حکم کا متعدد اور واحد ہونا سبب کے متعدد اور واحد ہونے پر موقوف ہے خراج و عشر کاسبب ارض نامی ہے اسی لیے زمین کی طرف ان کی نسبت کرتے ہوئے کہا جاتا ہے زمین کا خراج زمین کا عشر اور کسی کی طرف اضافت اس کے سبب ہونے پر دلیل ہے۔ زمین کا ا مکانی نمو پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس کا ایسی زمین کا غیر ہونا جو واقعۃ نمو پر مشتمل ہے یہ اعتباری طور پر ہے یہاں حقیقۃ مخالفت نہیں تو ارض نامی ہی سبب قرار پائے گی تو جب سبب ایك ہے تو حکم بھی ایك ہی ہوگا اھ اختصارا(ت)
ہنوز بعض وجوہ اور ذہن فقیر میں ہیں کہ بخوف اطالت ترك کیں وفیما ذکر نا کفایۃ واﷲ ولی الھدایۃ (ہم نے جو ذکر کیا یہ کافی ہے اﷲتعالی ہی ہدایت کا مالك ہے۔ ت)کسے دیں اس کا
حوالہ / References الھدایۃ ، باب العشر والخراج الخ، المکتبۃ العربیۃ کراچی، ۲ /۵۷۳
فتح القدیر ، باب العشر والخراج الخ،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۵ /۸۷-۲۸۶
#9514 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
جواب بیان سابق سے واضح ہولیا کہ اس کے بہت مصارف مثل مساجد و مدارس و طلبہ و علماء یہاں موجود ہیں ان پر صرف کریں اور اگربالفرض لشکر ہی اس کا مصرف ہوتااور عساکر اسلامیۃ سے کسی تك پہنچانے پر قدرت نہ ملتی جب بھی سقوط کے کوئی معنی نہ تھے خراج ذمہ مکلف پر واجب ہوتا ہے عنایہ میں ہے :
الخراج فی ذمۃ المالك والعشر فی الخارج۔
خراج مالك کے ذمہ ہے اور عشر پیداوار پر ہوتاہے۔ (ت)
فتح میں ہے :
العشر فی الخارج والخراج فی الذمۃ۔
عشر پیداوار پر ہے اور خراج مالك کے ذمہ ہوتا ہے۔ (ت)
اور وہ ایك حق ثابت معروف مثل ملك و دین ہے
حتی لایحل لصاحب ارض خراجیۃ اکل غلتھا قبل اداء خراجھا کما فی التنویر ای فی خراج المقاسمۃ فکانہ کان مالا مشترکا وللامام حبس الخارج للخراج کمافی الدر ای فی الخراج الموظف وقد قال فی الھدایۃ الرھن والکفالۃ جائزان فی الخراج لانہ دین مطالب بہ ممکن الاستیفاء فیمکن ترتیب موجب العقد علیہ فیھما۔
حتی کہ خراجی زمین کے مالك کے لیے خراج کی ادائیگی سے پہلے اس کا غلہ کھانا حلال نہیں جیسا کہ تنویر یعنی خراج مقاسمہ میں ہے گویا یہ مال مشترك ہے اور حاکم کو خراج لینے کے لیے پیداوار کا روك لینا جائز ہے جیسا کہ در میں ہے یعنی خراج موظف میں ہے ہدایہ میں ہے رہن اور کفالۃ خراج میں دونوں جائز ہیں کیونکہ یہ ایسادین ہے جس کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے اور اس کا حصول بھی ممکن ہوتا ہے لہذا تقاضائے عقد کاان دونوں پر مرتب ہونا ممکن ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References العنایۃ مع فتح القدیر ، باب العشر والخراج، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ،۵ /۲۸۶
فتح القدیر باب العشر والخراج ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۵ /۲۸۶
تنویرالابصار متن درمختار، باب العشر، مطبع مجتبائی دہلی،۱/۱۳۹
درمختار ، باب العشر ، مطبع مجتبائی دہلی۱/۱۳۹
الھدایۃ ، کتاب الکفالۃ ، مطبع یوسفی لکھنؤ ، ۳ /۱۱۶
#9515 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
اور ذمہ دین سے مشغول ہو تو بے ادا یا ابراصرف اس بنا پرکہ مستحق نہ رہا ساقط نہ ہوگا بلکہ اس کے ورثہ کو دیں گے وہ بھی نہ رہیں تو فقراء کو دے کر براءت ذمہ کریں گے خراج میں اصالۃ حق فقراء نہ ہونا ضرورۃ انھیں دئے جانے منافی نہیں کما فی سائرالدیون(جیسا کہ تمام دیون میں ہے۔ ت)کیا دیں خراج دوقسم ہے : خراج مقاسمہ یعنی بٹائی کہ پیداوار کا نصف یا ثلث یا ربع یا خمس مقرر ہو اور خراج موظف کہ ایك مقدارمعین ذمے پر لازم کردی جائے خواہ روپیہ مثلا سالانہ روپے بیگھہ جیسے امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے غلے کی ہر جریب پر ایك صاع غلہ اور ایك درہم مقرر فرمایا ظاہر یہ ہے کہ بلاد کا خراج موظف ہی تھا بیت المال میں روپیہ ہی لیا جاتا نہ کہ غلہ میوہ ترکاری وغیرہ ۔ بلکہ مدتوں سے عامہ بلادمیں سلاطین کا یہی داب معلوم ہوتا ہے ہدایہ میں فرمایا :
وفی دیارنا وظفوامن الدراہم فی الاراضی کلھا وترك کذلك لان التقدیر یجب ان یکون بقدر الطاقۃ من ای شئی کان۔
ہمارے علاقہ میں تمام زمینوں پر دراہم کا تقرر کیا جاتا ہے اور ترکوں کے ہاں بھی یہی ہے کیونکہ بقدر طاقت مقدار مقرر کرنا ضروری ہے چاہے وہ جنس سے ہی ہو۔ (ت)
تو ظاہرایہاں کا خراج موظف ہی سمجھنا چاہئے مگر جس زمین کی نسبت ثابت ہو کہ زمان سلطنت اسلام سقی اﷲتعالی عہدہا میں اس پر خراج مقاسمہ تھا خراج موظف بالاتفاق مالك زمین پر ہے اور خراج مقاسمہ صاحبین کے نزدیك مزارع پر امام کے نزدیك زمیندار پر کما فی الدر والشامیۃ(جیساکہ در اور شامیہ میں ہے۔ ت) کتنا دیں اگر مقدار معلوم ہو کہ زمانہ اسلام میں سقی اﷲتعالی عہدہا کیا مقرر تھا جب تو ظاہر ہے کہ اسی قدر دیں دو۲شرط سے اولا : خراج موظف میں جہاں جہاں مقدار مقرر فرمودہ امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ منقول ہے وہاں اس پر زیادت نہ ہو کہ مذہب صحیح میں اس پر اضافہ کسی سلطان کو نہیں پہنچتا زائد ہوتو زیادت نہ دی ں اور جہاں کوئی مقدار امیرالمومنین سے منقول نہیں وہاں اور خراج مقاسمہ میں نصف سے زیادت نہ ہو کہ خلاف انصاف ہے زائد ہو تو نصف ہی دیں۔ ثانیا اتنے کی ادا اس زمین سے اب بھی ممکن ہو ورنہ بلحاظ طاقت دیں۔
فی التنویر التصنیف عین الانصاف فلا یزاد علیہ اھ فی ردالمحتار لا یزاد علیہ فیہ ولافی
تنویرمیں ہے نصف دینا عین انصاف ہے لہذااس پر اضافہ نہ کیا جائے اھ۔ اور ردالمحتار میں ہے اس میں اضافہ
حوالہ / References الہدایہ باب العشر والخراج المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ /۵۷۲
تنویر الابصار متن درمختار ، باب العشر والخراج ،مطبع مجتبائی دہلی،۱ /۳۴۹
#9516 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
خراج المقاسمۃ ولا فی الموظف اھ فی الدرالمختار ولا فی الموظف علی مقدار ماوظفہ عمر رضی اﷲ تعالی عنہ اھ فی التنویرو ینقص مما وظف ان لم تطلق اھ فی ردالمحتار قال فی النھر لا یزید علی النصف وینبغی ان لا ینقص عن الخمس قالہ الحدادی اھ وکان عدم التنقیص عن الخمس غیر منقول فذکرہ الحدادی بحثالکن قال الخیر الرملی یجب ان یحمل علی مااذا کانت تطیق فلو کانت قلیلۃ الربع کثیرۃ المؤن ینقص اذ یجب ان یتفاوت الواجب لتفاوت المؤنۃ کما فی ارض العشر اھ مختصرات۔
نہ کیا جائے اور نہ ہی خراج مقاسمہ اور خراج موظف میں اھ درمختار میں ہے اور نہ ہی خراج موظف میں اس مقدار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے جو سید نا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے مقررہ میں کمی کی جاسکتی ہے اھ تنویر میں ہے اگر طاقت نہ ہو تو مقررہ میں کمی کا جاسکتی ہے اھ ردالمحتار میں ہے کہ نہر میں ہے کہ نصف سے زیادہ نہیں کیا جاسکتا حدادی نے کہا مناسب ہے خمس سے کم نہ کیا جائے اھ اور خمس سے کم نہ کرنا منقول نہیں تو حدادی نے اسے بطور بحث ذکر کیا ہے۔ لیکن خیر رملی نے کہا ہے کہ اسے اس صورت پر محمول کرنا ضروری ہے جب وہ زمین طاقت رکھتی ہو اور اگر رقبہ کم ہو مگر اخراجات اس کے زیادہ ہوں تو پھر کم کیا جاسکتا ہے کیونکہ اخراجات کے تفاوت کی وجہ سے واجب میں تفاوت ضروری ہوتا ہے جیسا کہ عشری زمین میں ہے اھ مختصرا(ت)
اور اگر معلوم نہ ہو کہ سلطنت اسلام میں کیا معین تھا تو ظاہراخراج مقاسمۃ و خراج موظف غیر مقرر امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ میں نصف دیں اور مقررات امیر المومنین میں اسی کا لحاظ رکھیں غرض ہرجگہ پوری مقدار دیں جس سے زیادت جائز نہ تھی۔
لان التنقیص انما کان یثبت بنقص الامام ولم یثبت فلم یثبت فکان الاستقصار فیہ فراغ الذمۃ یقینا فکان الحوط ھذا کلہ
کیونکہ کمی امام کے کرنے سے ہوگی اور جب وہ ثابت نہیں تو وظیفہ میں کمی بھی ثابت نہ ہوگی تو یہاں یقینی فراغ ذمہ کے لیے مقرر پر اکتفاء ہوگا تو یہی احوط ہوگا اول سے
حوالہ / References العنایۃ مع فتح القدیر ، باب العشر والخراج، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ،۵ /۲۸۶
فتح القدیر باب العشر والخراج ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۵ /۲۸۶
تنویرالابصار متن درمختار، باب العشر، مطبع مجتبائی دہلی،۱/۱۳۹
درمختار ، باب العشر ، مطبع مجتبائی دہلی۱/۱۳۹
الھدایۃ ، کتاب الکفالۃ ، مطبع یوسفی لکھنؤ ، ۳ /۱۱۶
#9517 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
من اول الکلام الی ھنا ممااخذہ الفقیر تفقھا و ارجون یکون صوابا ان شاء اﷲتعالی فان اصبت فمن اﷲوحدہ وانا احمداﷲ علیہ وان اخطأت فمنی ومن الشیطان واناابرؤ الی اﷲمنہ ولا حول ولاقوۃ الا باﷲالعلی العظیم۔
لے کر یہاں تك یہ گفتگو فقیر نے بطور تفقہ کی ہے اور میں امید کرتا ہون کہ ان شاء اﷲ یہ صواب ہوگی اگر تو میں درست ہوا تو اﷲوحدہ کی طرف سے ہے اور میں اس پر اﷲتعالی کی حمد بجالا تاہوں اور اگر یہ غلط ہے تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہے اور میں اس سے برأت کا اعلان کرتے ہوئے اپنے اﷲکے دامن میں آتا ہوں ولاحول ولاقوۃ الا باﷲالعلی العظیم۔ (ت)
وظیفہ مقررہ فاروقیہ فی جریب سالانہ یہ ہے ہر قسم غلے پر اسی سے ایك صاع اور ایك درہم اور کہ طاب یعنی خربوزے تربوز کی پالیزوں کھیرے ککڑی بینگن وامثالہا کی باڑیوں پر پانچ درہم انگور و خرما کے گھنے باغوں پر جن کے اندر زراعت نہ ہوسکے دس درہم ان کے ماوراء میں وہی تقدیر طاقت ہے جس کی انتہا نصف تک پھر ان اقسام میں حیثیت زمین وقدرت کا اعتبار ہے جو زمین جس چیز کے بونے کی لیاقت رکھتی ہو اور یہ شخص اس پر قادر ہو اس کے اعتبار سے خراج ادا کرے مثلاانگور بو سکتا ہے تو انھیں خراج دے اگر چہ گیہوں بوئے ہوں اور گیہوں کے قابل ہے تو اس کا خراج دے اگر چہ جو بوئے ہوں ہرحال میں خراج سال بھر میں ایك ہی بار لیا جائے گا اگر چہ سال میں چار بار زراعت کرے یا باوصف قدرت بالکل معطل رکھ چھوڑے اور یہ جریب انگریزی گز سے کہ ان بلاد میں رائج ہے(جس کی مقدار سولہ۱۶ گرہ ہے ہرگرہ تین ۳انگل) پینتیس گز مسطح ہے یعنی ۳۵ گز طول ۳۵گز عرض اور صاع دوسوستر ۲۷۰تولے ہے یعنی انگریزی روپیہ سے دوسواٹھاسی۲۸۸ روپیہ بھر کہ رامپور کے سیر سے پورے تین سیر ہوئے اور دس۱۰ درہم کے عص / ۱۲ ۹-۳ / ۵پائی یعنی دو۲ روپے پونے تیرہ آنے اور پانچواں حصہ پیسے کا پانچ درم کے عص / ۶ / ۴-۴ / ۵پائی ایك درم کے ۴ / ۵-۱۹ / ۲۵پائی یعنی ۴ / ۲۵ کم ساڑھے چار آنے۔
فی الدرالمختار وضع عمر رضی اﷲتعالی عنہ لکل جریب ھو ستون ذرا عافی ستین بذراع کسری (سبع قبضات) صاعامن بر اوشعیر(والصحیح انہ مما یزرع فی تلك الارض کما فی الکافی شرنبلالیۃ ومثلہ فی البحر) ودرھما من اجود
درمختار میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ہر جریب میں ایك صاع گندم یا جو مقرر فرمائے اور جریب طولا عرضا ساٹھ ذراع کاہوتا ہے اور ہر ذراع سات مٹھیوں کا ہوتا ہے اور صحیح یہ ہے اس زمین سے جو کچھ پیدا ہورہا ہے اسی سے وظیفہ ادا کیا جائی گا جیسا کہ کافی شرنبلالیہ میں اور اسی کی مثل بحر میں ہے
#9518 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
النقود(وزن سبعۃ کما فی الزکوۃ بحر) ولجریب الرطبۃ (وھی القثاء والخیار والبطیخ والباذ نجان وما جری مجراہ) خمسۃ دراھم ولجریب الکرم اوالنخل متصلۃ (قید فیھما)ضعفھاوما لیس فیہ توظیف عمر کزعفران وبستان فیھا اشجار متفرقۃ یمکن الزرع تحتہا طاقتہ وغایۃ الطاقۃ نصف الخارج لان التصنیف عین الانصاف اھ مختصرا مزید امابین الاھلۃ من ردالمحتار۔ وفی الدرلوزرع الاخس قادراعلی الاعلی کزعفران فعلیہ خراج الاعلی وھذا یعلم ولا یفتی بہ کیلا یتجرئ الظلمۃ فی ردالمحتار عن العنایۃ رد بانہ کیف یجوز الکتمان وانھم لو اخذواکان فی موضعہ لکونہ واجبا واجیب بانا لوافتینا بذلك لادعی کل ظالم فی ارض لیس شانھا ذلك انھا قبل ھذاکانت تذرع الزعفران فیا خذخراج
اور نقود میں سے ایك درہم لازم ہوگا (جس کا وزن سات مثقال ہوجیسا کہ زکوۃ میں ہوتا ہے بحر) اور سبزیات(اور وہ کھیرے تر خربوزے بینگن اور ایسی دیگر اشیاء) کی جریب میں پانچ دراہم انگور اور خرما کے گھنے باغوں(یہ قید دونوں کے لیے ہے) میں دس درہم ہے اور جس میں سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کوئی وظیفہ مقرر نہیں فرمایا مثلا زعفران اور وہ باغ جس میں متفرق درخت ہوں اور وہاں کاشت کرنا ممکن ہو تو طاقت کے مطابق وظیفہ ہوگا اور انتہائے طاقت نصف پیداوار ہے کیونکہ نصف ادا کرنا عین انصاف ہے اھ مختصرا ہاں قوسین کے اندر ردالمحتار سے اضافہ میری طرف سے کیا گیا ہے اور درمیں ہے کہ اگر کسی نے اعلی پر قادر ہوتے ہوئے ادنی کو کاشت کیا مثلا زعفران اس پر اعلی کا خراج ہوگا یہ جان تولیا جائے مگر اس پر فتوی نہ دیا جائے تاکہ ظالم اس سے فائدہ نہ اٹھائیں ۔ ردالمحتار میں عنایہ کے حوالے سے یہ ردکیا گیا ہے کہ ایسی بات کا چھپانا کیسے جائز ہوسکتا ہے اور اگر ظالم لیتے ہیں تو وہ ٹھیك کرتے ہیں کیونکہ وہ واجب ہے اس کا جواب یہ دیاگیا ہے کہ اگر ہم اس پر فتوی دیتے ہیں تو ظالم ہر زمین کے بارے میں یہ دعوی کرے گا کہ اس سے پہلے اس میں زعفران بویاجاتاتھا اگرچہ
حوالہ / References درمختار ،باب العشر والخراج الخ،مطبع مجتبائی دہلی،۱ /۳۴۹، ردالمحتار باب العشر والخراج الخ مصطفی البابی مصر ۳ /۸۶-۲۸۵
درمختار باب العشر والخراج الخ مطبع مجتبائی دہلی۱/۳۵۰،
#9519 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
ذلك وھو ظلم وعد وان اھ واللفظ للفتح قالو الایفتی بھذالما فیہ تسلط الظلمۃ علی اموال المسلمین اذید عی کل ظالم ان ارضہ تصلح لزراعۃ الزعفران ونحوہ وعلاجہ صعب اھ قلت والذی یؤدی بنفسہ ولاجابی کما فی بلا دنا فلا یخشی ذلك فلذا عولت علی ماھناك وفی الھدایۃ ان غلب علی ارض الخراج الماء انقطع الماء عنھا اواصطلم الزرع آفۃ فلاخراج علیہ وان عطلھا صاحبھا فعلیہ الخراج ولا یتکررالخراج بتکرر الخارج فی سنۃاھ بالالتقاط واﷲ سبحانہ وتعالی۔
وہ ایسی نہ ہوتو اس سے خراج وصول کرے گا اور یہ ظلم و زیادتی ہوگی اھ فتح کی عبارت یہ ہے کہ فقہاء نے فرمایا ہے کہ اس کے ساتھ فتوی نہیں دیا جائے گا کیونکہ ایسی صورت میں مسلمانوں کے مال پر ظالموں کو مسلط کرنا لازم آئے گا اور ہر ظالم یہ دعوی کرے گا کہ یہ زمین کاشت زعفران وغیرہ کے قابل تھی اور اس کا حل مشکل ہے اھ میں نے کہا جو شخص خود بخود ادا کرے اور وصولی کر نے والا نہ ہو جیساکہ ہمارے علاقے میں ہے اس میں ایسا کوئی خوف و خدشہ نہیں اس لیے یہاں اسی پر اعتماد کیا جائیگا ہدایہ میں ہے کہ اگر خراجی زمین پر پانی کا غلبہ ہوگیا یا اس سے پانی منقطع ہوگیا کسی آفت نے فصل ختم کردی تو اس پر خراج نہ ہوگا اور اگر مالك نے زمین کو معطل رکھا_____تو اس پر خراج ہوگا۔ ایك سال میں دوبارہ پیداوار پر خراج نہ ہوگا اھ اختصارا واﷲتعالی سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۸۷ : از موضع سرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۲رجب ۱۳۳۱ھ
زید دریافت کرتا ہے کہ آم کی بہار میں کس صورت سے دسواں حصہ نکال کے فروخت کرسکتا ہے جس سے فروخت خبیث نہ ہو۔
الجواب :
بہار اس وقت بیچنی چاہئے جب پھل ظاہر ہوجائیں اور کسی کام کے قابل ہوں اس سے پہلے بیع جائز نہیں اور اس وقت اس میں عشر واجب ہوتاہے پھل اپنی حد کو پہنچ جائیں کہ اب کچے اورنا تمام ہونے کے باعث ان کے بگڑ جانے سوکھ جانے مارے جانے کا اندیشہ نہ رہے اگر چہ ابھی توڑنے کے قابل نہ ہوئے ہوں یہ حالت جس کی ملك میں پیدا ہوگی اسی پر عشر ہے بائع کے پاس پھل ایسے ہوگئے تھے اس کے بعد بیچے تو عشر بائع پر ہے اور جو اس حالت
حوالہ / References ردالمحتار باب العشر والخراج مصطفی البابی مصر ۳ /۲۸۹
فتح القدیر ، باب العشر والخراج مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ،۵ /۲۸۵
الہدایۃ ، باب العشر والخراج، المکتبۃ العربیۃ کراچی ،۲ /۵۷۳
#9520 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
تك پہنچنے سے پہلے کچے بیچ ڈالے اور اس حالت پر مشتری کے پاس پہنچے تو عشر مشتری پر ہے بعینہ یہی حکم کھیتی کا ہے واﷲتعالی اعلم۔
جانوروں کی زکوۃ
مسئلہ ۸۸ : ۱۹محرم الحرام ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جانوران حسب ذیل پرجوکہ بغرض کاشتکاری ہیں اور تجارت کی غرض سے نہیں ہیں اور سال میں زیادہ حصہ جنگل میں چرتے ہیں ان پر زکوۃ دینی چاہئے یا نہیںبینواتوجروا۔
تفصیل : بیل ۱۸ گائے ۲۱ بچہ گائے ۲سال کے ۱۳ بچہ اندر ایك سال ۳ بھینس ۲ بھینس زائد از دوسال ۲ بچہ بھینس کم از ایك سال۲ بھینسے۶۔ کل۶۷راس۔
الجواب :
اونٹ گائے بھینس بکری بھیڑنر خواہ مادہ خواہ دونوں مختلط جبکہ قدرنصاب۱ ہوں(کہ اونٹ میں پانچ گائے بھینس میں تیس بھیڑ بکری میں چالیس ہے)اور بونے۲ جوتنے لادنے کھانے کے لیے نہ رکھے گئے ہوں بلکہ تمام حاجات اصلیہ سے فارغ صرف دودھ یا نسل یا قیمت بڑھنے کے لے پالے جاتے یا شوقیہ پرورش و فربہی کے واسطے ہوں اور سال کا اکثر حصہ جنگل میں چھوٹے ہوئے چرنے پر اکتفا کرتے ہوں اور ان پر سال پورا گزرے اور تمامی سال کے وقت وہ سب جانور ایك نوع کے یعنی سب اونٹ یا سب گائے بھینس یا سب بھیڑ بکری ایك سال سے کم کے نہ ہوں بلکہ ان میں کوئی ایك سال کامل کا بھی ہو اگر چہ ایك ہی ہو تو ان پانچوں باتوں کے اجتماع سے ان کی زکوۃ دینی فرض ہوگی ورنہ نہیں۔ زکوۃ میں گائے بھینس ایك ہی نوع ہیں اور ان کا حساب زکوۃ یہ ہے کہ تیس ۳۰ سے کم پر کچھ نہیں تیس ۳۰ پر ایك بچہ دو۲ سال کامل کا پھر انسٹھ تك یہی واجب رہے گا ساٹھ پر کہ دوتیس کا مجموعہ ہے انہتر تك دو۲بچے ایك سالہ ستر پر کہ ایك تیس اور ایك چالیس کا مجموعہ ہے۔ اناسی تك ایك بچہ یك سالہ ایك دوسالہ اسی پر کہ دوچالیس ہے نواسی تك دوبچےدو سا لہ نوے پر کہ تین تیس ہیں ننا نوے تك تین بچے یك سالہ سو پر کہ دو تیس اور ایك چالیس ہے ایك سو نو تك دو بچے یك سالہ ایك دوسالہ ایك سودس پر کہ ایك تیس دوچالیس ہے ایك سوانیس پر ایك بچہ یك سالہ ایك سو بیس پر کہ چاہے چار تیس سمجھ لو چاہے تین چالیس ایك سو انتیس تك چاہے چار بچے یك سالہ دے چاہے تین بچے دوسالہ۔ اسی قیاس پر ہر تیس پر ایك بچہ یکسالہ اور ہر چالیس پر ایك بچہ دوسولہ لازم آتا جائے گا اور دہائیوں کے بیچ میں جو اکائیاں نو تك آتی جائینگی سب معاف ہوں گی اور گائے بھینس مخلوط ہوں تو جو گنتی میں زیادہ ہواسی کا بچہ یك سالہ یا دوسالہ لیں گے اور برابر
#9521 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
ہوں توان میں جو قسم اعلی ہے اس کا ادنی لیا جائے گا یا ادنی کا اعلی۔ یونہی بھیڑ بکری مخلوط ہونے میں مثلاایك شخص کے پاس پندرہ پندرہ گائے بھینسیں ہیں جن میں ایك ایك سال کے متعددبچے دونوں قسم کے ہیں کوئی زیادہ فربہ کوئی ہلکا کوئی متوسط تو جہاں گائے کا بچہ زیادہ قیمتی سمجھا جاتا ہو تو ان یك سالہ بچوں میں سب سے ہلکا یا بھینس کے یك سالہ بچوں میں سب سے فربہ لیا جائے گا اور جہاں بھینس کا بچہ بیش قیمت ہوتو اس کے یك سالہ بچوں میں سب سے ہلکا یا گائے کے یك سالہ بچوں میں سب سے فربہ دیا جائے گا۔ تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
(السائمۃ المکتفیۃ بالرعی اکثر العام لقصد الدروالنسل)والسمن فی البدائع لواسامھا لللحم فلا زکوۃ کما لواسام للحمل والرکوب ولوللتجارۃ ففیھا زکوۃ التجارۃ (فلوعلفھا نصفہ لا تکون سائمۃ)فلا زکوۃ للشك فی الموجب (نصاب البقر والجاموس)(ثلثون سائمۃوفیھا تبیع ذوسنۃ) کاملۃ(اوتبیعۃ)انثاہ(وفی اربعین مسن ذو سنتین اومسنۃ)ولاشئی فیما زاد(الی ستین ففیھا ضعف مافی ثلثین)وعلیہ الفتوی (ثم فی کل ثلثین تبیع وفی کل اربعین مسنۃ الااذا تداخلا کمائۃوعشرین فیخیربین اربع اتبعۃ وثلاث مسنات وھکذا (ولاشئی فی عوامل وحمل)بفتحتین ولد
سائمہ وہ چوپایہ ہے جو سال کا اکثر حصہ باہرچر کر گزارا کرے اگر ایسا جانور کسی نے ددوھ نسل اور گھی کے لیے رکھا ہو بدائع میں ہے کہ اگر گوشت کے لیے ہو تو زکوۃ نہیں جیسا کہ اگر کسی نے بوجھ لادنے یا سواری کے لیے رکھا تو زکوۃ نہیں اگر تجارت کیلئے ہے تو اس میں زکوۃ ہوگی (اگرنصف سال چارہ ڈالا تو وہ جانور سائمہ نہ ہوگا) اس میں زکوۃ نہ ہوگی کیونکہ موجب میں شك ہے (گائے)بھینس (کانصاب)تیس ہے ان میں (تبیع)ایك کامل سال کا واجب ہوگا)(یا تبیعہ) اسکی مونث(اورچالیس میں ایك مسن دوسال یا ایك مسنہ) اس پر اضافہ میں کوئی شئی نہیں (ساٹھ تك پھر ساٹھ پر تیس میں جو کچھ تھا اس کا دو گنا لازم ہے اور اس پر فتو ی ہے )پھر ہر تیس پر ایك تبیع اور ہر چالیس پر ایك مسنہ ہوگا مگر اس صورت میں جب تداخل ہوجائے مثلا تعداد ایك سوبیس ہوگی تواب اختیار ہے چار تبیع دے دے یا تین مسنے اسی طرح آگے معاملہ ہے (محنت و مشقت لینے والے
حوالہ / References درمختار باب السائمہ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۳۱
درمختار ،باب زکوٰۃ البقر ، مطبع مجتبائی دہلی ،۱ /۱۳۲
#9522 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
الشاۃ (وفصیل)ولدالناقۃ(وعجول)بوزن سنورولد البقرۃ وصورتہ ان یموت کل الکبار ویتم الحول علی اولا دھاالصغار (الاتبعا لکبیر ولو واحدا(و)لافی(عفووھو مابین النصب فی کل الاموال اھ ملخصاملتقطا۔
جانوروں بکری کے بچوں اونٹنی کے بچوں اور گائے کے بچوں میں زکوۃ نہیں۔ اسکی صورت یہ ہے کہ بڑے جانور مرجاتے ہیں اور سال ان کے چھوٹے بچوں پرمکمل ہوتا ہے(تو اب زکوۃ نہیں) مگر اس صورت میں کہ بڑے موجود ہوں توان کی اتباع میں زکوۃ ہوگی اگر چہ بڑا ایك ہو اور عفو میں زکوۃ نہیں اور یہ تمام اموال میں نصابوں کے درمیانی حصہ کو کہا جاتا ہے ملخصا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
الجاموس ھو نوع من البقر کما فی المغرب فھو مثل البقرفی الزکوۃ والاضحیۃ والربا ویکمل بہ نصاب البقروتوخذ الزکوۃ من اغلبھا وعند الاستواء یوخذ علی الادنی وادنی الاعلی نھر وعلی ھذا الحکم البخت والعراب والضان والمعز ابن ملک۔
بھینس گائے کی ایك نوع ہے جیسا کہ مغرب میں ہے لہذا یہ زکوۃ قربانی اور ربا میں گائے کے حکم میں ہوگی اس سے گائے کا نصاب مکمل ہوجاتا ہے اگر گائیں غالب ہوں تو زکوۃ لی جائے گی اور اگر برابر ہوں تو ان میں جو قسم اعلی ہے اس کا ادنی لیا جائیگا یا ادنی کا اعلی نہر ۔ اور اسی کے حکم میں بختی اور عربی اونٹ بھیڑ اور بکری وغیرہ ہوتے ہیں ابن الملک۔ (ت)
اسی میں ہے :
النصاب اذا کان ضأنا یوخذ الواجب من الضان ولو معز افمن المعز ولومنھمافمن الغالب ولو سواء فمن ایھما شاء جوہرۃ ای فیعطی ادنی الاعلی اوعلی الادنی کما قد مناہ۔
نصاب اگر بھیڑ کا ہے تو بھیڑ ہی وصول کی جائے اور اگر نصاب بکری کا ہے تو بکری ہی لی جائےگی اور اگر دونوں سے نصاب ہے تو پھر غالب کا اعتبار ہوگا اوردونوں برابر ہوں تو جس سے چاہولے لو جوہرہ۔ یعنی اعلی سے ادنی یا ادنی سے اعلی لیا جائیگا۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کردیا ہے(ت)
حوالہ / References درمختار باب زکوٰۃ الغنم مطبع مجتبائی دہلی۱/۱۳۳
ردالمحتار باب زکوٰۃ البقر مصطفی البابی مصر ۲/۱۹
ردالمحتار،باب زکوٰۃ الغنم،مصطفی البابی مصر،۲/۲۰
#9523 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
عالمگیریہ میں ہے :
ادنی السن الذی یتعلق بہ وجوب الزکوۃ فی الابل بنت مخاض وفی البقر تبیع وفی الغنم ھو الثنی کذافی شرح الطحاوی اھ ملتقطا
کم از کم وہ عمر جس کے ساتھ اونٹوں میںزکوۃ متعلق ہوتی ہے بنت مخاض ہے گائے میں تبیع اور بھیڑ بکریوں میں ثنی جیسا کہ شرح الطحاوی میں ہے اھ اختصارا(ت)
درمختار میں ہے :
بنت مخاض ھی التی طعنت فی السنۃ الثانیۃ وتبیع ذوسنۃ کاملۃ والثنی من الضان والمعز ھو ماتمت لہ سنۃ اھ بالالتقاط۔
بنت مخاض جو عمر کے دوسرے سال میں داخل ہو۔ تبیع ایك سال کی عمر۔ اور بھیڑ وبکری میں ثنی وہ ہوتا ہے جس پر سال مکمل ہوجائے اھ اختصارا(ت)
ہندیہ میں ہے :
السوائم تجب الزکوۃفی ذکورھا واناثھا و مختلط ھما والسائمۃ ھی التی تسام فی البراری لقصد الدروالنسل والزیادۃ فی الثمن والسمن کذا فی محیط السرخسی۔
سائمہ چوپایوں مذکر و مؤنث اوران دونوں کے اختلاط پر زکوۃ ہے۔ اور سائمہ وہ چوپائے ہوتے ہیں جو جنگل میں چریں اور ان سے مقصد دودھ نسل ثمن میں اضافہ اور گھی کا حصول ہو۔ محیط سرخسی میں اسی طرح ہے۔ (ت)
جب یہ قواعد معلوم ہولئے حکم مسئلہ مسئولہ واضح ہوگیا۔ اٹھارہ بیل اور دوبھینسے کہ کاشتکاری کے لے ہیں ان پر کچھ نہیں اور ایك سال سے کم کے بچے اگر چہ خود محل وجوب نہیں مگریك سالہ کے ساتھ مل کر ان پر بھی وجوب ہوتا ہے تو سب جانور سینتالیس ۴۷ہوئے جن پر ایك بچہ دوسال کامل کی عمر کا واجب ہے اور ازانجا کہ ان میں زیادہ گائے ہیں تویہ دوسالہ گائے کا ہی بچہ دیا جائے گا بچھڑا ہو خواہ بچھیا اور ازاں جاکہ ان میں زیادہ مادہ ہیں سینتالیس میں اکیس گائے ہیں اور دو بھینسیں پوری دو جھوٹیاں۔ توافضل یہ ہے کہ دوبرس کامل کی بچھیا زکوۃ میں دے
فی الھندیۃ عن التتار خانیۃ عن العتابیۃ
ہندیہ میں تتارخانیہ سے عتابیہ سے ہے گائے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ ، الباب الثانی فی صدقۃ السوائم فصل ثانی،نورانی کتب خانہ پشاور ،۱ /۷۸-۱۷۷
درمختار باب نصاب الابل وزکوٰۃ البقر وزکوٰۃ الغنم مطبع مجتبائی دہلی۱/۱۳۱تا۱۳۳
فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی فی صدقۃالسوائم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۷۶
#9524 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
الافضل فی البقر ان یؤدی من الذکر التبیع ومن الاثنی التبیعۃ۔ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔
ہندیہ میں تتارخانیہ سے عتابیہ سے ہے گائے میں افضل یہ ہے کہ مذکر میں تبیع اور مؤنث میں تبیعہ دیا جائے۔ واﷲسبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۸۹ : از گونڈہ بہرائچ محلہ چھاؤنی مکان مولوی مشرف علی صاحب مرسلہ سید حسین صاحب دامت برکاتہم ۱۳جمادی الاولی ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں لطف اﷲبہم اجمعین زکوۃ کن کن مصارف میں دینا جائز ہے بینواتوجروا۔
الجواب :
مصرف زکوۃ ہر مسلمان حاجتمند جسے اپنے مال مملوك سے مقدار نصاب فارغ عن الحوائج الاصلیہ پر دسترس نہیں بشرطیکہ نہ ہاشمی ہو نہ اپنا شوہر نہ اپنی عورت اگر چہ طلاق مغلظہ دے دی ہو جب تك عدت سے باہر نہ آئے نہ وہ جو اپنی اولاد میں ہے جیسے بیٹا بیٹی پوتاپوتی نواسانواسی نہ وہ جن کی اولاد میں یہ ہے جیسے ماں باپ دادا دادی نانا نانی اگر چہ یہ اصلی و فروعی رشتے عیاذاباﷲبذریعہ زنا ہوں نہ اپنا یا ان پانچوں قسم میں کسی کا مملوك اگرچہ مکاتب ہو نہ کسی غنی کا غلام غیر کاتب نہ مرد غنی کا نابالغ بچہ نہ ہاشمی کا آزاد بندہ اور مسلمان حاجت مند کہنے سے کافر و غنی پہلے ہی خارج ہوچکے۔ یہ سولہ شخص ہیں جنھیں زکوۃ دینی جائز نہیں ان کے سوا سب کو روا مثلاہاشمیہ بلکہ فاطمیہ عورت کا بیٹا جبکہ باپ ہاشمی نہ ہو کہ شرع میں نسب باپ سے ہے۔ بعض متہورین کہ ماں کے سیدانی ہونے سے سید بن بیٹھے اور باوجود تفہیم اس پر اصرار کرتے ہیں بحکم حدیث صحیح مستحق لعنت الہی ہوتے ہیں والعیاذباﷲتعالی وقد اوضحنا ذلك فی فتاونا (اﷲتعالی کی پناہ اور ہم نے اسے اپنے فتاوی میں خوب واضح کردیا ہے۔ ت)اسی طرح غیر ہاشمی کا آزاد شدہ بندہ اگر چہ خود اپنا ہی ہویا اپنے اصول و فروع و زوج و زوجہ ہاشمی کے علاوہ کسی غنی کا مکاتب یا زن غنیہ کا نابالغ بچہ اگر چہ یتیم ہویا اپنے بہن بھائی چچا پھوپھی خالہ ماموں بلکہ انھیں دینے میں دونا ثواب ہے زکوۃ و صلہ رحم یا اپنی بہو یا داماد یا ماں کا شوہر یا باپ کی عورت یا اپنے زوج یا زوجہ کی اولاد کہ ان سولہ کو بھی دینا روا جبکہ یہ سولہ اول سولہ سے نہ ہوں ا زانجا کہ انھیں ان سے مناسبت ہے جس کے باعث ممکن تھا کہ ان میں ہی عدم جواز کا وہم جاتا لہذا فقیر نے انھیں بالتخصیص شمار کردیا اور نصاب مذکورپر دسترس نہ ہونا چندصورت کو شامل : ایك یہ کہ سرے سے مال ہی نہ رکھتا ہو اسے مسکین کہتے ہیں۔
دوم : مال ہو مگر نصاب سے کم یہ فقیر ہے۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الفصل الثالث فی زکوٰۃ البقر نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۷۸
#9525 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
سوم نصاب بھی مگر حوائج اصلیہ میں مستغرق جیسے مدیون۔
چہارم : حوائج سے فارغ ہومگر اسے دسترس نہیں جیسے ابن السبیل یعنی مسافر جس کے پاس خرچ نہ رہاتو بقدرضرورت زکوۃ لے سکتا ہے اس سے زیادہ اسے لینا روا نہیں۔ یا وہ شخص جس کا مال دوسرے پر دین مؤجل ہے اور ہنوز میعاد نہ آئی اب اسے کھانے پہننے کی تکلیف ہے تو میعادآنے تك بقدر حاجت لے سکتا ہے یا وہ جس کا مدیون غائب ہے یالے کر مکر گیا اگر چہ ثبوت رکھتا ہو کہ ان سب صورتوں میں دسترس نہیں عــــہ بالجملہ مدار کار حاجتمند بمعنی مذکور پر ہے تو جو نصاب مذکور پر دسترس رکھتا ہے ہر گز زکوۃ نہیں پاسکتا اگرچہ غازی ہو یا حاجی یا طالب علم یا مفتی مگر عامل زکوۃ جسے حاکم اسلام نے ارباب اموال سے تحصیل زکوۃ پر مقرر کیا وہ جب تحصیل کرے بحالت غنی بھی بقدر اپنے عمل کے لے سکتا ہے اگر ہاشمی نہ ہو۔ پھر دینے میں تملیك شرط ہے جہاں یہ نہیں جیسے محتاجوں کو بطور اباحت اپنے دسترخوان پر بٹھلا کر کھلادینا یا میت کے کفن میں لگانا یا مسجد کنواں خانقاہ مدرسہ پل سرائے وغیرہ بنوانا ان سے زکوۃ ادا نہ ہوگی اگر ان میں صرف کیا چاہے تو اس کی وہی حیلے ہیں جو ہمارے فتاوی میں مسطور ہیں
ھذا کلہ ملخص ما استقر علیہ الامرفی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتاروغیرہا من معتبرات الاسفار وقد لخصناہ بتوفیق اﷲتعالی احسن تلخیص لعلہ لا یوجد من غیرنا وﷲ الحمد فمن شك فی شئی من ھذا فلیراجع الاصول التی سمینا
یہ اس تمام گفتگو کا خلاصہ ہے جس پر تنویر الابصار درمختار ردالمحتار اور دیگر کتب معتبرہ میں معاملہ کو ثابت کیا ہے اور ہم نے اﷲتعالی کی توفیق سے اس کی سب سے اچھی تلخیص کی ہے شاید یہ ہمارے علاوہ کہیں نہ ملے وﷲالحمد۔ اور جس شخص کو اس بارے میں شك ہو وہ ان اصول و کتب کی طرف رجوع کرے خواہ

عــــہ : اگر دین معجل خواہ ابتداء یا یوں کہ اجل مقرر ہوئی تھی گزر چکی اور مدیون غنی مقرر حاضر ہے تو یہ صورت دسترس کی ہے اور یاد رکھنا چاہئے کہ قرض جسے لوگ دست گرداں کہتے ہیں شرعاہمیشہ معجل ہوتا ہے اگر ہزار عہدو پیمان ووثیقہ و تمسك کے ذریعہ اس میں میعاد قرار پائی ہو کہ اتنی مدت کے بعد دیا جائے گا اس سے پہلے اختیارمطالبہ نہ ہوگا اگر مطالبہ کرے تو باطل و نا مسموع ہو وغیرہ وغیرہ ہزار شرطیں اس قسم کی کرلی ہوں تو وہ سب باطل ہیں اور قرض دہندہ کو ہر وقت اختیار مطالبہ ہے
لانہ تبرع ولا جبر علی المتبرع وقد نص فی الاشباہ والدروغیرہما انہ لایصح تا جیل القرض۱۲منہ غفرلہ(م)
کیونکہ یہ تبرع ہے اور تبرع میں جبر نہیں۔ اشباہ در اور دیگر کتب میں یہ تصریح ہے کہ ادائیگی قرض کا وقت مقرر کرنا صحیح نہیں ۱۲۱۲ منہ غفرلہ(ت)
#9526 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
اولم نسم نعم لاباس ان نورد نصوص بعض مایکاد یخفی او یستغرب ففی ردالمحتار شمل الولاد بالنکاح والسفاح فلا یدفع الی ولد ہ من الزنا الخ وفیہ تحت قولہ او بینھما زوجیۃ ولو مباینۃ ای فی العدۃ ولو بثلاث نھر عن معراج الدرایۃ اھ وفیہ تحت قولہ ولوالی مملوك المزکی ولو مکاتبا وکذا مملوك من بینہ وبینہ قرابۃ ولاد او زوجیۃ لما قال فی الفتح الخ وفیہ تحت قولہ و بخلاف طفل الغنیۃ فیجوز ای ولولم یکن لہ اب بحر عن القنیۃ اھ وفیہ وقید بالولاد لجوازہ لبقیۃ الاقارب کالا خوۃ والاعمام و الاخوال الفقراء بل ھم اولی لانہ صلۃ وصدقۃ ویجوزدفعھا لزوجۃ ابیہ وابنہ و زوج ابنتہ تاترخانیہ اھ ملخصا وفیہ من کتاب الوصایا تحت قولہ الشرف
ان کے ہم نے نام لیے ہیں یا نہیں ان میں سے بعض ایسی نصوص کے ذکر میں بھی کوئی حرج محسوس نہیں کرتے جنھیں مخفی یا نادر سمجھا گیاہے۔ ردالمحتار میں ہے یہ تمام اولاد کو شامل ہے خواہ وہ نکاح کی وجہ سے ہو یا زنا کی وجہ سے لہذا اولاد زنا کو بھی زکوۃ نہیں دی جائیگی الخ اور اسی میں ماتن کے قول “ یا ان کے درمیان زوجیت کا رشتہ ہو خواہ وہ مبائنہ ہو یعنی خواہ وہ تین طلاق ہو جانے پر عدت بسر کررہی ہو یہ نہر میں معراج الدرایہ سے ہے اھ اور اسی میں ماتن کے قول “ زکوۃ دینے والا اپنے غلام کو نہ دے خواہ وہ مکاتب ہو کے تحت ہے “ اور اسی طرح اس غلام کا حکم ہے جس کے اور زکوۃ دینے والے کے درمیان رشتہ اولاد یا زوجیت ہو اس دلیل کے پیش نظر جو بحر اور فتح میں ہے اور اسی میں ماتن کے قول “ بخلاف غنی عورت کے بچے کے کہ اسے دینا جائز ہے یعنی اس کا والد نہ ہو یہ بحر میں قنیہ سے ہے اھ اور اسی میں ہے کہ اولاد کی قید اسی لیے ہے کہ باقی اقارب مثلا بھائی بہنیں چچا اورخالو اگر فقراء ہوں تو انھیں زکوۃ دی جاسکتی ہے بلکہ یہ لوگ زکوۃ کے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ یہاں صلہ رحمی اور صدقہ دو۲چیزیں جمع ہوجاتی ہیں اپنے والد اور بیٹے کی بیوی اور اپنے داماد کو زکوۃ جائز ہے تاتارخانیہ اھ ملخصا اور اس میں کتاب الوصایا سے ماتن کے قول “ فقط
حوالہ / References ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ /۶۹
ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ /۶۹
ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ /۶۹
ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ /۷۲
ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ /۶۹
#9527 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
من الام فقط غیر معتبر یؤیدہ قول الھندیۃ عن البدائع فثبت ان الحسب والنسب یختص بالاب دون الام اھ فلا تحرم علیہ الزکوۃ ولا یکون کفواللھا شمیۃ ولا ید خل فی الوقف علی الاشراف ط اھ وفیہ وقال فی الفتح ایضا ولا یحل لہ ای لا بن السبیل ان یاخذ اکثر من حاجتہ قلت وھذا بخلاف الفقیر فانہ یحل لہ ان یاخذ اکثر من حاجتہ وبھذا فارق ابن السبیل کما افادہ فی الذخیرۃ اھ فیہ تحت قولہ ومنہ مالو کان مالہ مؤجلا ای اذا احتاج الی النفقۃ یجوزلہ اخذ الزکوۃ قدر کفایتہ الی حلول الاجل نھر عن الخانیۃ اھ وفیہ تحت قولہ او علی غائب ای ولوکان حالا لعدم تمکنہ من اخذہ ط اھ وفیہ تحت قولہ او معسر او جاحد ولولہ بینۃ فی الاصح فیجوزلہ الاخذ فی اصح الاقاویل لانہ بمنزلۃ ابن السبیل ولوموسرا معتر فالا یجوز کما فی الخانیۃ اھ وفیہ تحت قولہ و فی سبیل اﷲ وھو منقطع
ماں کی وجہ سے شرف معتبر نہیں “ کے تحت ہے کہ ہندیہ نے بدائع سے جو لکھا ہے وہ اس کا موئد ہے تو ثابت ہوگیا کہ حسب و نسب والد کے ساتھ مختص ہے نہ کہ ماں کے ساتھ اھ پس اس پر زکوۃ حرام نہیں اور نہ ہی وہ ہاشمی کا کفو بنے گا اور سادات پر وقف میں شامل نہ ہوگا ۔ اور اسی میں ہے فتح میں بھی ہے کہ اس (مسافر)کے لیے ضرورت سے زائد لینا جائز نہیں۔ میں کہتا ہوں بخلاف فقیر کے کہ اس کے لیے ضرورت سے زاید لینا جائز ہے اسی سے فقیر اور مسافر کے درمیان فرق واضح ہوگیا جیساکہ اس کا بیان ذخیرہ میں ہے اھ اور اس میں ماتن کے قول “ اور ایسی ہی صورت وہ ہے جس میں مال کے حصول کیلئے وقت مقرر ہو یعنی خرچہ کی ضرورت ہوتو وقت مقرر آنے تك بقدر کفایت زکوۃ لینا جائز ہے یہ نہر میں خانیہ سے ہے اور اس میں ماتن کے قول “ یا وہ قرضہ کسی غائب پر ہے “ کے تحت ہے یعنی اگر چہ قرضہ حالی ہو کیونکہ اس وقت اس کے حصول پر قادر نہیں اور اسی میں ماتن کے قول “ یا مقروض تنگ دست یا منکر ہو اگر چہ اصح قول کے مطابق گواہ بھی ہوں “ کے تحت ہے کہ اصح قول کے مطابق ایسے شخص کے لیے زکوۃ لینا جائز ہے کیونکہ وہ مسافر کی طرح ہے اور اگر مقروض امیر اور معترف ہو تو جائز نہیں جیسا کہ خانیہ میں ہے اھ اور اسی میں ماتن کے
حوالہ / References ردالمحتار باب الوصیۃ للاقارب مصطفی البابی مصر ۵ /۴۸۴
ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ /۶۷
ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ۲ /۶۷
#9528 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
الغزاۃ وقیل الحاج وقیل طلبۃ العلم وفسرہ فی البدائع بجیمع القرب قال فی النھر والخلاف لفظی للاتفاق علی ان الاصناف کلھم سوی العامل یعطون بشرط الفقر اھ (ملخصا)وفیہ تحت قولہ وبھذا التعلیل یقوی مانسب للواقعات من ان طالب العلم یجوزلہ اخذالزکوۃ ولوغنیا اذا فرغ نفسہ لافادۃ العلم واستفادتہ ھذاالفرع مخالف لا طلا قھم الحرمۃ فی الغنی ولم یعتمدہ احد ط قلت وھو کذلك والاوجہ تقییدہ بالفقیر الی اخرما افادہ علیہ رحمۃ الجواد۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
قول “ اور اﷲکی راہ میں “ سے مرادوہ غازی ہیں جن کے پاس جہاد کا خرچہ نہیں بعض نے حاجی قرار دیا بعض کے نزدیك طلبہ مراد ہیں۔ بدائع میں اس کلمہ کی تفسیر “ تمام ثواب والے کام “ سے کی ہے نہرمیں ہے کہ عامل کے سوا تمام مصارف پر تب خرچ کیا جائے گا جب وہ فقیر ہوں اھ اور اسی میں ماتن کے قول اس علت کے بیان سے واقعات کی طرف منسوب اس قول کی تقویت ہوجاتی ہے کہ طالبعلم کو زکوۃ لینا جائز ہے خواہ وہ غنی ہو بشرطیکہ اس نے اپنے آپ کو علم پڑھانے اور پڑھنے کے لیے مختص کررکھا ہو کہ یہ تفریع فقہاء کرام کے حرمت زکوۃ کو غنی کے لئے مطلق رکھنے کے خلاف ہے جبکہ اس پر کسی نے اعتماد نہیں کیا ط۔ میں کہتا ہوں یہ معاملہ یونہی ہے موزوں یہی ہے کہ طالبعلم کو فقیر ہونے سے مقید کیا جائے(ان کے افادہ کے آخر تک)ان پر اﷲتعالی جواد کی رحمت ہو واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ : از شہر بہرائچ محلہ ناظر پورہ مسؤلہ حکیم محمد عبدالوکیل صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسمی زید نے مسجد یا کنواں مسجد سے متعلق طاہر پانی کے لیے تیار کیا اور بوجہ کمی سرمایہ کے بالآخر قرضدار ہوگیا لہذا اس صورت میں مال زکوۃ دینا جائز ہے کیونکہ قرضدار کو اس کے قرضہ ادا کرنے کے لیے مال زکوۃ لینا شرعاجائز ہے کیونکہ منجملہ مصارف مال زکوۃ کے قرضہ بھی ایك مصرف ہے۔ بینو اتوجروا
الجواب :
جس پر اتنا دین ہو کہ اسے ادا کرنے کے بعد اپنی حاجات اصلیہ کے علاوہ چھپن روپے کے مال کا مالك نہ رہے گا اور وہ ہاشمی نہ ہو نہ یہ زکوۃ دینے والا اس کے اولاد میں ہو نہ باہم زوج و زوجہ ہوں اسے زکوۃ دینا بیشك جائز
حوالہ / References ردالمحتار ، باب المصرف ، مصطفی البابی مصر ، ٢ / ٦٧
ردالمحتار ، باب المصرف ، مصطفی البابی مصر ، ٢ / ٦۵
#9529 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
بلکہ فقیر کو دینے سے افضل ہر فقیر کو چھپن روپے دفعۃنہ دینا چاہئیں اور مدیون پر چھپن ہزار دین ہو تو زکوۃ کے چھپن ہزار ایك ساتھ دے سکتے ہیں قال اﷲتعالی و الغرمین (اﷲتعالی کا ارشاد گرامی ہے اور مقروض لوگوں پر زکوۃ خرچ کو جائے۔ ت)در مختار میں ہے :
ومدیون لا یملك نصابا فاضلا عن دینہ وفی الظہیریۃ الدفع للمدیون اولی منہ للفقیر۔
مقروض وہ شخص ہوتا ہے جو قرض سے فاضل نصاب کا مالك نہ ہو ظہیریہ میں ہے : مدیون کو زکوۃ دینا فقیر سے اولی ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
ونقل ط عن الحموی انہ یشترط ان لا یکون ھاشمیا۔ واﷲتعالی اعلم۔
اورطحطاوی نے حموی سے نقل کیا کہ شرط یہ ہے کہ مدیون ہاشمی نہ ہو۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ تا : مسئولہ رشید احمد متعلم مدرسہ اہلسنت والجماعت محرم الحرام ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ کسی شخص نے اپنے مال میں سے زکوۃ نکالی وہ روپیہ ان شخصوں کودینا چاہئے یا نہیں
()یہ کہ اگر چچا چچی و چچا زاد بھائی وبہنوں کو کچھ دے دیا جائے تو جائز ہے یا نہیں
()یہ کہ ماموں و ممانی و نانا و نانی اور ماموں زاد بھائی اور بہنوں کو دینا جائز ہے یا نہیں
()یہ کہ پھوپھا و پھوپھی اور ان کی اولاد کو دینا جائز ہے یا نہیں
()یہ کہ اگر اپنی ہمشیرہ ہے اور اس کی شادی کردی اور اس کا خاوند کم توجہ کرتا ہے تو اس کو زکوۃ کا مال دینا جائز ہے یا نہیں
()یہ کہ بھانجی بھانجے کو کچھ دے دیا جائے تو جائز ہے یا نہیں
()یہ کہ اگر زکوتی روپے سے لحاف میں روئی ڈلواکر غریبوں کو تقسیم کردیں تو جائز ہے یا نہیں
()یہ کہ اگر طالب علم کو کچھ دے دیا جائے تو جائز ہے یا نہیں
()یہ کہ اگر بہنوئی کو کچھ دے دیا جائے تو جائز ہے یا نہیں
حوالہ / References القرآن ٩ / ٦٠
درمختار باب المصرف مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٠
ردالمحتار ، باب المصرف ، مصطفی البابی مصر ، ٢ / ٦٧
#9530 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
()یہ کہ اگر چہ معلوم ہو کہ یہ شخص غریب معلوم ہوتا ہے اورپوشیدہ اس کے پاس چاہے کچھ ہو اس کو دینا جائز ہے یا نہیں
()یہ کہ ان روپوں میں سے فقیروں کو جومانگتے پھرتے ہیں دینا جائز ہے یا نہیں
() علاوہ اس کے وہ بات کہ جس میں روپیہ زکوتی صرف کیا جائے وہ برائے مہربانی تحریر کردیجئے گا۔
()یہ کہ اگر مولود شریف میں یا نیاز دعا میں صرف کیا جائے تو جائز ہے یا نہیںبینواتوجروا
الجواب :
() ہاں جائز ہے جبکہ مصرف ہو۔
() نانا نانی کو ناجائز باقی چاروں کو جائز۔
() ان سب کو دے سکتے ہیں جبکہ نہ غنی ہوں نہ غنی باپ کے بچے نہ ہاشمی۔
() جائز ہے جبکہ محتاج ہو۔
() ان کو بھی بشرائط مذکورہ جائزہے۔
() ہاں روئی کی قیمت زکوۃ میں لگا سکتا ہے جبکہ بہ نیت زکوۃ دے مگر بھرائی کی اجرت زکوۃ میں شمار نہ ہوگی۔
() جائز ہے جبکہ غنی ہاشمی نہ ہو۔
() بشرط مذکورہ جائز ہے۔
() جبکہ اسے اس کا اندرونی حال معلوم نہیں تو ظاہر محتاجی پر عمل کرکے زکوۃ دے سکتا ہے۔
() جائز ہے مگر جو ان سے تندرست جو بھیك مانگنے کا پیشہ کرلیتے ہیں جیسے جوگی سادھوبچے ان کو دینا جائز نہیں ۔
() محتاج فقیر جونہ ہاشمی ہونہ غنی باپ کا نابالغ بچہ نہ اپنی اولاد جیسے بیٹابیٹی پاتا پوتی نواسانواسی نہ یہ کہ اس کی اولاد جیسے ماں باپ دادا دادی نانانانی نہ اپنی زوجہ نہ عورت کا اپنا شوہر ایسے محتاج جو ان سب کے سوا ہو بہ نیت زکوۃ دے کر مالك کردینے سے زکوۃ ادا ہوتی ہے وبس۔
() مجلس میلاد پاك میں حصہ عام تقسیم ہوتاہے غنی فقیر مصرف غیر مصرف کی تخصیص نہیں ہوتی یونہی نیاز کی تقسیم میں تو اس سے زکوۃ ادانہیں ہوسکتی ہاں جو حصے خاص فقراء مصرف زکوۃ کو دے اس کا شمار ا ن کو دینے میں زکوۃ کی نیت کرے تو وہ زکوۃ میں محسوب ہوسکتے ہیں۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از مراد آباد مسئولہ امیر حسن صاحب رضوی محرم الحرام ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ صدقہ فطر کس قدر دینا چاہئے اور کس کو دینا چاہئے اور کس وقت ادا کرے اور کس طرف سےبینو اتوجروا
#9531 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
الجواب :
صدقہ فطر سو روپے کے سیر سے پونے دو سیر اٹھنی بھر اوپر دیاجائے اور اس کے مصرف وہی لوگ ہیں جو مصرف زکوۃ ہیں اور اس کے دینے کا وقت واسع ہے عیدالفطر سے پہلے بھی دے سکتا ہے اور بعد بھی مگربعد کو تاخیر نہ چاہئے بلکہ اولی یہ ہے کہ نماز عید سے پہلے نکال دے کہ حدیث میں ہے : صاحب نصاب کے روزے معلق رہتے ہیں جب تك یہ صدقہ ادا نہ کرے گا۔ اپنی طرف سے اور اپنے بچوں کی طرف سے دینا واجب ہے اور باندی غلام کی طرف سے بھی جو اس کی ملك ہیں بی بی یا نا بالغ بچوں کی طرف سے دینا واجب نہیں اگر وہ صاحب نصاب ہیں آپ دیں یا ان کی اجازت سے یہ دے بلا اجازت ان کی طرف سے ادا نہ ہوگا۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : میرے عزیزوں میں ایك شخص نابینا اورقرضدار ہیں جائیداد ان کے ہے لیکن قرضدار ی سے کم ہے اور قبضہ دوسرے شخص کا ہے ان کو آمد بھی پورے پورے طور سے نہیں ملتی زکوۃ کوان دینی چاہئے یا نہیںفقط
الجواب : ہاں بلکہ عزیزوں کو دینے میں دونا ثواب ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از حاجی عبدالکریم نور محمد جنرل مرچنٹ چوك ناگپور صفر المظفرھ
زکوۃ کا پیسہ طلبہ کو دے سکتے ہیں امداد کے لیے یا نہیں
الجواب : طلبہ کہ صاحب نصاب نہ ہوں انھیں زکوۃ دی جاسکتی ہے بلکہ انھیں دینا افضل ہے جبکہ وہ طلبہ علم دین بطور دین پڑھتے ہوں۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : ازشہر بریلی دفتر انجمن خادم المسلمین شعبان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ پیشہ ور گداگروں کو زکوۃ و خیرات کامال دینے سے زکوۃ ادا ہوتی ہے یا نہیں اور مذہبی و تمدنی نقطہ نظر سے کہاں تك یہ گر وہ زکوۃ کا مستحق ہے اوپیشہ ورگداگروں کی ہمت افزائی نہ کرنا کہاں تك جائزہے
الجواب :
گدائی تین قسم ہے :
ایك غنی مالدار جیسے اکثر جوگی اور سادھو بچے انھیں سوال کرنا حرام اور انھیں دینا حرام اور ان کے دئے سے زکوۃ ادانہیں ہوسکتی فرض سرپر باقی رہے گا۔
#9532 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
دوسرے وہ کہ واقع میں قدر نصاب کے مالك نہیں مگر قوی و تندرست کسب پر قادر ہیں اور سوال کسی ایسی ضروریات کے لیے نہیں جوان کے کسب سے باہر ہوکوئی حرفت یا مزدوری نہیں کی جاتی مفت کا کھانا کھانے کے عادی ہیں اور اس کے لیے بھیك مانگتے پھرتے ہیں انھیں سوال کرنا حرام اور جو کچھ انھیں اس سے ملے وہ ان کے حق میں خبیث کہ حدیث شریف میں :
لاتحل الصدقۃ لغنی ولا لذی مرۃ سوی۔
صدقہ حلال نہیں کسی غنی کے لیے اورنہ کسی توانا و تندرست کے لیے(ت)
انھیں بھیك دینا منع ہے کہ معصیت پر اعانت ہے لوگ اگر نہ دیں تو مجبور ہوں کچھ محنت مزدوری کریں۔
قال اﷲتعالی و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪- ۔
اﷲتعالی کا مبارك فرمان ہے : گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرو(ت)
مگر ان کے دئے سے زکوۃ ادا ہوجائیگی جبکہ اور کوئی مانع شرعی نہ ہو کہ فقیرہیں
قال اﷲتعالی انما الصدقت للفقرآء ۔
اﷲتعالی کا فرمان مبارك ہے صدقات فقراء کے لیے ہیں(ت)
تیسرے وہ عاجز نا تواں کہ نہ مال رکھتے ہیں نہ کسب پر قدرت یا جتنے کی حاجت ہے اتنا کمانے پر قادر نہیں انھیں بقدر حاجت سوال حلال اور اس سے جو کچھ ملے ان کے لیے طیب اور یہ عمدہ مصارف زکوۃ سے ہیں اور انھیں دینا باعث اجر عظیم یہی ہیں وہ جنھیں جھڑکنا حرام ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از ناگوار مارواڑ از دکان قادربخش مرسلہ محمد بخش پریزیڈنٹ انجمن مدرسہ حمیدیہ اسلامیہ شعبان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مال زکوۃ مدرسہ اسلامیہ میں دینا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
مدرسہ اسلامیہ اگر صحیح اسلامیہ خاص اہلسنت کا ہو۔ نیچریوں وہابیوں قادیانیوں رافضیوں دیوبندیوں وغیرہم مرتدین کا نہ ہو تو اس میں مال زکوۃ اس شرط پر دیا جاسکتا ہے کہ مہتمم اس مال کو جدا رکھے اور خاص تملیك فقیر کے مصارف میں صرف کرے مدرسین یا دیگر ملازمین کی تنخواہ اس سے نہیں دی جاسکتی۔
حوالہ / References جامع الترمذی ، ابواب الزکوٰۃ باب ماجاء من لاتحل لہ الصدقۃ ، امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ، ١ / ٨٣
القرآن ٥ / ٢
القرآن ٩ / ٦٠
#9533 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
نہ مدرسہ کی تعمیر یا مرمت یا فرش وغیرہ میں صرف ہوسکتی ہے نہ یہ ہوسکتا ہے کہ جن طلبہ کو مدرسہ سے کھانا دیاجاتاہے اس روپے سے کھانا پکا کر ان کو کھلایا جائے کہ یہ صورت اباحت ہے اور زکوۃ میں تملیك لازم ہاں یوں کرسکتے ہے کہ جن طلبہ کو کھانا دیا جاتا ہے ان کو نقد روپیہ بہ نیت زکوۃ دے کر مالك کردیں پھر وہ اپنے کھانے کیلئے واپس دیں یاجن طلبہ کا وظیفہ نہ اجرۃ بلکہ محض بطور امداد ہے ان کے وظیفے میں دیں یا کتابیں خرید کر طلبہ ان کا مالك کردیں۔ ہاں اگر روپیہ بہ نیت زکوۃکسی مصرف زکوۃ کو دے کر مالك کردیں وہ اپنی طرف سے مدرسہ کو دے دے تو تنخواہ مدرسین و ملازمین وغیرہ جملہ مصارف مدرسہ میں صرف ہوسکتاہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از حافظ ایاز صاحب از قصبہ نجیب آباد ضلع بجنور محلہ پٹھان پور محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر زکوۃ کے روپے سے دوچارکتب دینی مثل فتاوی عالمگیری و مشکوۃ شریف وغیرہ خرید کرکے دوسرے شخص کے پاس بطور وقف رکھ دی جائیں تاکہ عوام کو اس سے فیض پہنچے اس وجہ سے ایسی کتاب بوجہ بیش قیمت ہونے کے یہاں میسر نہیں ہے تو اس کے واسطے کیا صورت ہونی چاہئے کہ زکوۃ بھی ادا جائے اورکتابوں کی کاروائی بھی ہوجائے۔
الجواب :
مال زکوۃ سے وقف ناممکن ہے کہ وقف کسی کی ملك نہیں ہوتا اور زکوۃ میں فقیر کی تملیك شرط ہے اس کی تدبیر یوں ہوسکتی ہے کہ کسی نیك بندہ کو جو زکوۃ کا مصرف ہے بہ نیت زکوۃ دے کر ملك کر دیا جائے اور وہ اپنی طرف سے کتابیں خرید کر وقف کردے۔ ایك اور حیلہ بھی ممکن ہے مثلاسوروپے کی کتابیں وقف کرنے کے لیے خریدنی ہیں اور اس پر سوروپے زکوۃ کے آتے ہیں تومن دو من گیہوں مثلاکسی فقیر کے ہاتھ سوروپے کو بیع کرے اور اسے سمجھا دے کہ یہ قیمت تمھیں ہم ہی دینگے جب وہ خرید لے تو اب اسے سوروپے بہ نیت زکوۃ دئے جائیں جب وہ قبضہ کرلے اب اس سے اس آتی ہوئی قیمت میں روپے لے لیے جائیں اگر نہ دے تو جبرالے سکتا ہے کہ وہ اس کا مدیون ہے اب اس روپے سے کتابیں خرید کر وقف کردیں المسئلۃ منصوص علیہا فی الدرالمختار والمعتمدات الاسفار (درمختاراور دیگر معتمد کتب میں اس مسئلہ پر نص ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ تا ۱۱۰ : حاجی عیسی صاحب کاٹھیاوار رمضان شریف ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ :
()ایك مسجد میں بلحاظ مصلیان بہت کم گنجائش ہے یا بایں وجہ کہ ہر وقت کی نمازمیں کش مکش کا سامنا ہوتا ہے لہذاایسی حالت میں اگر کوئی صاحب زکوۃ اپنی زر زکوۃ کو کسی غریب مسلمان شخص کی ملکیت قائم کرکے اس مکان کو جو مسجد سے ملاہوا ہے خرید کرکے شامل مسجد کردے تو زکوۃ ادا ہوگی یا نہیںمکرر آنکہ
#9534 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
مسجد مذکور کے قرب و جوار کے مسلمانوں میں اس قدر استطاعت نہیں کہ جو چندہ فراہم کرکے مکان مذکورکو خرید سکیں ۔ ()ایسی کتاب دینی جو اگر طبع کی جائے تمام مسلمانان عالم میں مفید ثابت ہوسکتی ہے اگر کوئی شخص زر زکوۃ سے چندہ فراہم کرکے کتاب مذکور بغرض رفاہ عام چھپوائے تو ان چندہ دہندہ گان اصحاب کا زر زکوۃ ادا ہوگا یانہیں
الجواب :
()جبکہ اس نے فقیر مصرف زکوۃ کو بہ نیت زکوۃ دے کر مالك کر دیا زکوۃ ادا ہوگئی اب وہ فقیر مسجد میں لگا دے دونوں کے لیے اجر عظیم ہوگا درمختار میں ہے :
وحیلۃ التکفین بھا التصدق علی فقیر ثم ھو یکفن الثواب لھما وکذافی تعمیرالمسجد۔
کفن بنانے کے لیے یہ حیلہ ہے کہ صدقہ فقیر کو دیا جائے پھر وہ فقیر کفن بنا دے تو ثواب دونوں کے لئے ہوگا اسی طرح تعمیر مسجد میں حیلہ کیا جاسکتاہے۔ (ت)
بحرالرائق میں زیر قول متن لا الی بناء مسجد و تکفین میت وقضاء دینہ وشراء قن یعتق(زکوۃ سے تعمیر مسجد میت کے لیے کفن اور اس کا اداء قرض اور ایسے غلام کا خریدنا جائز نہیں جسے آزاد کردیا گیا ہو۔ ت)فرمایا :
والحیلۃ فی الجواز فی ھذہ الاربعۃ ان یتصدق بمقدار زکوتہ علی فقیر ثم یأمرہ بعد ذلك الصرف فی ھذہ الوجوہ فیکون لصاحب المال ثواب الزکوۃ و للفقیر ثواب ھذہ الصرف کذافی المحیط۔
ان چاروں میں جواز کا حیلہ یہ ہے کہ آدمی زکوۃ فقیر کو دے پھر اسے کہے کہ ان چاروں پر خرچ کرے صاحب مال کیلئے زکوۃ کا ثواب اور فقیر کے لیے خرچ کا ثواب ہوگا۔ کذافی المحیط(ت)
()جائز ہے اور اس میں چندہ دہندوں کے لیے اجر عظیم اور ثواب جاری ہے جب تك وہ کتاب باقی رہے گی اور نسلابعد نسل جن جن مسلمانوں کو فائدہ دے گی ہمیشہ ان کا اجر ایك چندہ دہندے کو اس کی حیات میں اور اس کی قبر میں پہنچتا رہے گا۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا مات الانسان انقطع عملہ الامن ثلث صدقۃ جاریۃ او عمل ینتفع بھا
جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے مگر تین صورتوں میں جاری رہتا ہے : ایک اس نے
حوالہ / References درمختار کتاب الزکوٰۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ، ١ / ١٣٠
بحرالرائق باب المصرف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٢٤٣
#9535 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
اوولد صالح ید عولہ۔ رواہ البخاری فی ادب المفرداو مسلم فی الصحیح وابوداؤد و الترمذی عن النسائی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ۔
صدقہ جاریہ کیا تھا دوسرا اس کا ایسا عمل جواب بھی نافع ہے یا اس کی نیك اولاد جو اس کے لیے دعا کرے اسے امام بخاری نے ادب المفردمیں مسلم نے صحیح میں ابو داؤد ترمذی اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
مگر اولا فقیر کو بہ نیت زکوۃ دے کر مالك کر دینا ضرور ہے پھر وہ فقیر طبع کتاب میں خود دے دے یا اس سے دلوادے جیسا کہ درمختار و بحرالرائق کی عبارت سے گزرا یا جو جو طریقے ائمہ نے کتب فقہ میں لکھے ہیں بجالائے۔ درمختار میں ہے :
حیلۃ الجواز ان یعطی مدیونہ الفقیر زکوتہ ثم یأخذھا عن دینہ ولوامتنع المدیون مدیدہ واخذ ھا لکونہ ظفر بجنس حقہ فان مانعہ رفعہ للقاضی۔
حیلہ جوازیوں ہے کہ اپنے مقروض فقیر کو زکوۃ دی جائے پھر اس سے اپنے قرض میں واپس لی جائے اور اگر مقروض نہ دے تو اس سے چھین لے کیونکہ یہ اپنے حق پر قدرت کا معاملہ ہے اگر اس پر بھی نہ دے تو قاضی کی طرف معاملہ لے جایا جائے(ت)
اور سب سے آسان یہ ہے کہ ایك دیندار شخص کے پاس سب زکوۃ دہندہ اپناچندہ جمع کریں اور اس سے کہہ دیں کہ زر زکوۃ ہے طریقہ شرعیہ پر بعد تملیك فقیر طبع میں ہمارے ثواب کے لئے صرف کر وہ ایسا ہی کرے سب زکوتیں بھی ادا ہوجائیں گی اور وہ دینی ضروری نافع کام بھی ہوجائیگا اور یہ اموال کا ملانا کہ باذن مالکانہ ہے کہ چندہ کا یہی طریقہ معروفہ معہودہ ہے کچھ مانع نہ ہوگا۔ درمختارمیں ہے :
لوخلط زکوۃ موکلیہ ضمن وکان متبر عا الا اذا وکلہ الفقراء۔
اگر اپنے موکلین کی زکوۃ خلط کردی تو وکیل ضامن ہوگا اور وہ تبرع کرنے والا ہوگا مگر اس صورت میں جب فقراء نے اسے اپنا وکیل قرار دے دیاہو۔ (ت)
حوالہ / References صحیح مسلم باب ما یلحق الانسان الثواب بعد وفاتہ ، قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٤١ ، الادب المفرد باب ١٩برالوالدین بعد موتہما حدیث٣٨ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل شیخوپورہ ص ٢١
درمختار کتاب الزکوٰۃ ، مبطع مجتبائی دہلی ١ / ١٣٠
درمختار کتاب الزکوٰۃ مبطع مجتبائی دہلی ١ / ١٣٠
#9536 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
ردالمحتار میں ہے :
قال فی التتارخانیۃ اذا وجد الاذن أو اجاز المالکان اھ۔
تاتار خانیہ میں ہے کہ کسی اذن کی وجہ سے ہو یا مؤکل اسے جائز کردیں اھ(ت)
اسی میں ہے :
ثم قال التتارخانیۃ اووجدت دلالۃ الاذن بالخلط کما جرت العادۃ الخ۔ واﷲتعالی اعلم۔
پھر تاتارخانیہ میں کہا کہ یا دلالۃ اختلاط کی اجازت ہو جیسے کہ عادت معروفہ ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ : مسئولہ ناصر الدین صاحب پیلی بھیتی از آگرہ محلہ نئی بستی گلی بدھو بیگ مکان حافظ سعید الدین سوداگر لٹھا جمادی الاولی ھ
کیا فرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جنگ اٹلی و شہنشاہ روم کے واسطے اہل اسلام نے اکثر چندہ جمع کیا ہے اگر زیور کی زکوۃ کا روپیہ جنگ مذکور کے واسطے شہنشاہ روم کو بھیجا جائے تو یہ روپیہ دینا جائز ہوگا یا نا جائزبینواتوجروا
الجواب :
زکوۃ جہاد کے ان مصارف میں جن میں فقیر کو تملیك نہ ہو جیسے گولے بارود کی خریداری یا فوج کی باربرداری یا فوجی افسروں کی تنخواہ یا فوجی دواخانہ کی دواؤں میں دینا جائز نہیں نہ اس سے زکوۃ ادا ہو۔ عالمگیری میں ہے :
لایجوز ان یبنی با لزکاۃ المسجد وکذا الحج والجہاد وکل مالا تملیك فیہ کذا فی التبیین۔
زکوۃ سے مسجد بنانا جائز نہیں اسی طرح حج اور جہاد بلکہ وہ مقام جہاں تملیك نہ ہو۔ تبیین میں یہی ہے۔ (ت)
ہاں فقیر مجاہدوں کو دی جائے یا شہیدوں کے فقیر پس ماندوں کویا ان مجاہدوں کو جو سفر کرکے آئے گھر پر اموال رکھتے ہیں یہاں مصارف کے لیے کچھ پاس نہیں ان کو دینا جائز ہے اول فی سبیل اﷲ ہے ثانی فقراء اور
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ مصطفی البابی مصر ٢ / ١٢
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ مصطفی البابی مصر ٢ / ١٢
فتاوٰی ہندیۃ الباب السابع فی المصارف نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٨٨
#9537 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
ثالث ابن السبیل اور یہ سب مصارف زکوۃ ہیں۔ درمختار میں ہے :
مصرف الزکوۃ فقیر و فی سبیل اﷲوھو منقطع الغزاۃ وابن السبیل وھوکل من لہ مال لامعہ۔ (ملخصا)
زکوۃ فقراء خرچ کی جائے اور اﷲتعالی کی راہ میں اور اس سے مراد محتاج غازی اور مسافر اور اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جس کا مال تو ہو مگر اس کے پاس نہ ہو۔ (ت)
یا یہ ہوکہ یہاں کسی معتمد فقیر کو دے کر مالك کرکے قبضہ دے دیں وہ اپنی طرف سے اس چندہ میں دے دے اب کوئی شرط نہیں ہر مصرف میں صرف ہوسکتی ہے اور زکوۃ دہندہ اور فقیر د ونوں کو ثواب ملے گا۔ درمختار میں ہے :
حیلۃ التکفین بھا التصدق علی فقیر ثم ھو یکفن فیکون الثواب لھما وکذا فی تعمیر المسجد۔
تکفین کے لیے حیلہ یہ ہے کہ زکوۃ فقیر کو دی جائے فقیر کفن بنوادے تو اب ثواب دونوں کے لیے ہوگا اسی طرح تعمیر مسجد میں حیلہ کی صورت ہے۔ (ت)
پھر صورت اولی میں کہ خود زکوۃ ہی ان جائز مصارف کے لیے وہاں بھیجے اگر ابھی اس کی زکوۃ کا سال تمام نہ ہوا تھا پیشگی دیتا ہے جب تو دوسرے شہر کو بھیجنا مطلقاجائز ہے اور اگر سال تمام کے بعد بھیجے جب بھی اس صورت میں حکم جواز ہے کہ مجاہدوں کی اعانت میں اسلام کا زیادہ نفع ہے۔ درمختار میں ہے :
کرہ نقلھا الا الی قرابۃ او احوج او اصلح او اورع او انفع للمسلمین اوکانت معجلۃ قبل تمام الحول فلا یکرہ خلاصۃ۔ (ملخصا)
زکوۃ کو دوسری جگہ منتقل کرنا مکروہ ہاں اس صورت میں مکروہ نہیں جب دوسری جگہ کوئی رشتہ دار زیادہ محتاج نیک صاحب تقوی یا مسلمانوں کا زیادہ فائدہ ہو یا سال سے پہلے جلدی زکوۃ دینا چاہتا ہو خلاصہ(ت)
مگر اطمینان ضرور ہو کہ ٹھکانے پر پہنچے بیچ میں خوردبرد نہ ہوجائے۔ واﷲتعالی اعلم
حوالہ / References درمختار ، باب المصرف ، مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٠
درمختار ، کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٣٠
درمختار ، باب المصرف ، مطبع مجتبائی دہلی ، ١ / ٤٢-١٤١
#9538 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
مسئلہ۱۱۲ : از دہرہ دوں محلہ دھامان مسئولہ مختار حسین قادری شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ موجودہ حالت زار جو مظلومین ترك کی ہے مثلاسمرنا اناطولیہ وغیرہ میں جو یونانیوں کی دست درازیوں کے شکار ہورہے ہیں ان کی امداد زکوۃ کے مال سے کی جائے تو زکوۃ ادا ہوگی یا نہیںاگر ہوگی روپیہ بھیجنے اور دینے کی کیا صورت ہونی چاہئے موجودہ طریق جو سیٹھ چھوٹانی بمبئ والا کررہا ہے کہ امداد مظلومین ترکوں کی جس میں وہ زکوۃ کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے اپنے اختیار سے زکوۃ اور دیگر چندہ لے کر جتنی جہاں ضرورت ہوتی ہے مثلابیماروں کی مدد لٹے ہوئے گھروں کی امداد وغیرہ اپنی رائے کے موافق صرف کرتا ہے تو جو لوگ اس میں زکوۃ دیتے ہیں اداہوگی یا نہیںبینواتوجروا
الجواب :
اس طریقہ سے زکوۃ ادا نہیں ہوسکتی یہ لوگ بطور خود چندہ کرتے ہیں اور زکوۃ وغیر زکوۃ بلکہ مسلم وغیر مسلم سب کے چندے غلط کرلیتے وہ روپیہ فوراہلاك ہوجاتا ہے اور قابل ادا زکوۃ نہیں رہتا فان الخلط استھلاک(کیونکہ خلط ملط کرنا ہلاك کرنا ہوتاہے۔ ت)فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
رجلان دفع کل منھما زکوۃ مالہ الی رجل لیؤدی عنہ فخلط مالھما ثم تصدق ضمن الوکیل مال الدافعین وکانت الصدقۃ عنہ کذا فی فتاوی قاضی خاں۔
دو اشخاص نے اپنے مال کی زکوۃ ایك شخص کو دی تاکہ وہ ان کی طرف سے ادا کرے اس نے دونوں کے مال کو ملا دیا پھر زکوۃ ادا کی تو وکیل ان کے مال کا ضامن ہوگا اور صدقہ وکیل کی طرف سے ہوگا فتاوی قاضی خاں(ت)
درمختار میں ہے :
لو خلط زکوۃ مؤکلیہ ضمن وکان متبرعا الا اذا وکلہ الفقراء ۔
اگر اپنے مؤکلین کی زکوۃ میں خلط ملط کردیا تو وہ وکیل ضامن ہوگا اور متبرع ہوگا مگر اس صورت میں کہ جب اسے فقراء نے اپنا وکیل بنایا ہو۔ (ت)
اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ زکوۃ دینے والے خالص مسلمان اپنی اپنی زکوۃ ایك معتمد متدین کے پاس جمع کریں اور وہ روپیہ ملالینے کی اجازت دیں اور اس میں کوئی پیسہ غیر زکوۃ کا خلط نہ کیا جائے نہ کسی وہابی یا رافضی یا نیچری یا قادیانی یا حد کفر تك پہنچے ہوئے گاندھوی کی زکوۃ اس میں شامل ہو کہ ان لوگوں کی زکوۃ شرعا
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ ، الباب الثالث فی زکوٰۃ الذہب الخ ، نورانی کتب خانہ پشاور ، ١ / ١٨٣
درمختار ، کتاب الزکوٰۃ ، مطبع مجتائی دہلی ، ١ / ١٣٠
#9539 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
زکوۃ نہیں یہ خالص زکوۃشرعی کا جمع کیا ہو ا مال کہ مالکوں سے اذن سے خلط کیا گیا ان فقراء مظلومین کو پہنچایا جائے ۔ ردالمحتار میں زیر عبارت مذکورہ درمختارہے
قولہ ضمن وکان متبرعا لانہ ملکہ بالخلط وصارمؤدیا مال نفسہ قال فی التتارخانیۃ الااذا وجد الاذن أو اجازا المالکان اھ ویتصل بھذاالعالم اذا سئل للفقراء شیأ و خلط یضمن قلت و مقتضاہ لو وجد العرف فلا ضمان لوجود الاذن حینئذ دلالۃ۔ واﷲ سبحانہ و تعالی۔
ان کا قول ہے وکیل ضامن ہوگا اور اس کی ادائیگی بطور تبرع ہوگی کیونکہ خلط ملط کرنے سے وہ مالك ہوجاتا ہے اور اب وہ اپنے مال کو ادا کرنے والا ہوگا۔ تتارخانیہ میں ہے کہ مگر اس صورت میں جب اجازت ہو یا مالك اسے جائز کردیں اھ اس کے ساتھ وہ صورت بھی ملحق ہے جب کسی عالم نے فقراء کے لیے کچھ مانگا اور خلط ملط کردیا تو وہ ضامن ہوگا۔ میں کہتا ہوں اس کا مقتضایہ ہے اگر عرفاایسا کیا جاتا ہوتو اب ضمان نہ ہوگا کیونکہ اس وقت دلالۃاجازت موجود ہے۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۳ : مسئولہ امیر حسن بنگالی طالب علم مدرسہ اہلسنت وجماعت ربیع الآخر ھ
مالدار کے لیے صدقہ لینا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
صدقہ واجبہ مالدار کو لینا حرام اور دینا حرام اور اس کے دئے ادا نہ ہوگا اور نافلہ مانگ کر مالدار کو لینا حرام اور بے مانگے مناسب نہیں جبکہ دینے والا مالدار جان کردے اور اگر وہ محتاج سمجھ کردے تو لینا حرام اور اگر لینے کے لیے اپنے آپ کو محتاج ظاہر کیا تو دوہراحرام ہاں وہ صدقات نافلہ کہ عام خلائق کے لیے ہوتے ہیں اور ان کے لینے میں کوئی ذلت نہیں وہ غنی کو بھی جائز ہیں جیسے حوض کو پانی سقایہ کا پانی نیاز کی شیرینی سرائے کا مکان پل پر سے گزرے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱۱۴ : ازبریلی محلہ کانکر ٹولہ متصل مسجد خورد مرسلہ الطاف علی خاں مورخہ ذی الحجہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مدرسہ دینیہ میں زکوۃ و صدقہ مدرسین کو دینا جائز ہے یا نہیں تنخواہ میں دینا و طلباء کو جو کہ یتیم ہیں ان کی تعلیم کے اخراجات کے واسطے دینا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
تنخواہ مدرسین میں نہیں دے سکتے ہاں طلبہ کو تملیك کرسکتے ہیں اگر چہ یتیم نہ ہوں۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از میرٹھ سٹی ضلع جودھ پور مسئولہ فخرالدین شاہ ذی القعدہھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ یتیموں کو زکوۃ دینا جائز ہے یا نہیںبچہ اپنی قرابت کا ہے اس کا وارث کوئی نہیں۔ بینواتوجروا
الجواب :
یتیم بچہ خصوصا جبکہ اپنا قرابت دار ہو زکوۃ دینا بہت افضل ہے جبکہ وہ نہ مالدار نہ سید وغیرہ نہ ہاشمی ہو نہ اپنی اولاد یا اولاد کی اولاد ہو۔ ہاں بھائی بھانجا ہو تو وہ بشرائط مذکورہ سب سے زیادہ مستحق ہے واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از شہر محلہ مملوك پور مرسلہ جناب سید محمد علی صاحب نائب ناظر فرید پور رمضان المبارك ھ
زر زکوۃ میں سے اگر یتیموں مساکین کو کھلایا جائے یا کپڑا بنایا جائے تو جائز ہے یا نہیں
حوالہ / References ردالمحتار ، کتاب الزکوٰۃ ، مصطفی البابی مصر ، ٢ / ١٢
#9540 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
الجواب :
کپڑا بنا کر ان کو دے کر مالك کردینا کھانا پکا کر ان کے گھر کو بھیج کر قبضہ میں دے کر مالك کر دینا تو حالت موجود پر یہ سلا ہو کپڑا اور پکاہوا کھانا بازار کے بھاؤ سے جتنے کا ہے اس قدر زکوۃ میں مجرا ہوگا سلائی پکوائی وغیرہ مجرا نہ ملے گی اور اگر اپنے یہاں پکا کر دسترخوان پر بٹھلا کر کھلادیا جس طرح دعوتوں میں ہوتا ہے تو وہ زکوۃ نہیں ہوسکتا لانھا تملیك وھذہ اباحۃ(کیونکہ زکوۃ میں مالك بنانا ہوتا ہے اور اس صورت میں ملکیت نہیں بلکہ اباحت ہے۔ ت) واﷲتعالی اعلم
مسئلہتا : ذیقعدہ ھ
() کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو مکان واسطے یتیموں کے خریدا جائے اس کی بیع میں زکوۃ کا روپیہ دینا درست ہے یا نہیں اور وہ مکان نام یتیم خانہ کے ہو۔
()کہ مضحومہ جو واقعہ جسولی میں کٹگھر والوں سے ہوا ہے اس کے صرف میں زکوۃ کا روپیہ دیا جائے یا نہیں کیونکہ وہ مذہبی معاملہ قرار دیا گیا ہے۔
الجواب :
یتیم خانہ کی خریداری میں روپیہ لگادینے سے زکوۃ ہرگز ادا نہ ہوگی لانہ ان کان وقفا والزکوۃ تملیك فلا یجتمعان (کیونکہ یتیم خانہ اگر وقف ہے اور زکوۃ میں تملیك ہوتی ہے لہذا ان دونوں کا اجتماع نہیں ہوسکتا۔ ت)نہ کسی غنی کو صرف مقدمہ کے لیے دینے سے ادا ہوسکے اگر چہ وہ مقدمہ مذہبی دینی ہو فان الغنی لیس بمصرف
#9541 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
(کیونکہ زکوۃ کا مصرف نہیں ہے۔ ت)نہ کسی فقیر نہ مسکین کے دینی خواہ دنیوی مقدمہ میں وکیلوں مختاروں کو دینے یا اور خرچوں میں اٹھانے سے اداممکن جب فقیر کو دے کر اس کے قبضے کے بعد اس سے لے کر صرف نہ کیا جائے فان الصدقۃ لا تحصل الا بتملیك مصرفھا ولا تتم الابقبضۃ(کیونکہ صدقہ تب ادا ہوگا جب کسی مصرف کو مالك بنایا جائے گا اور تملیك کا اتمام قبضہ کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ ت) پس اگر اس قسم کے معاملات میں اٹھانا چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ جو شخص شرعا مصرف زکوۃ ہے اسے بہ نیت زکوۃ دے کر اس کا قبضہ کرادیں پھر وہ اپنی طرف سے اپنے آپ خواہ اسے دے کر خریداری یتیم خانہ خواہ کسی دینی مقدمہ امور خیر میں لگا دے۔ عالمگیریہ وغیرہا میں ہے :
فی جمیع ابواب البر کعمارۃ المساجد وبناء القناطیر الحیلۃ ان یتصدق بمقدار زکوۃ علی فقیر ثم یا مرہ بالصرف الی ھذہ الوجوہ فیکون للمتصدق ثواب الصدقۃ وللفقیر ثواب بناء المسجد والقنطرۃ (ملخصا) واﷲتعالی اعلم۔
تمام امور خیر مثلا تعمیر مساجد اور پلوں کی تعمیر وغیرہ میں حیلہ یہ ہے کہ مقدار زکوۃ فقیر پر صدقہ کی جائے پھر اسے ان امور پرخرچ کرنے کے لیے کہاجائے تو اب صدقہ کرنے والے کے لیے صدقہ کا ثواب اور فقیر کے لیے مسجد اور پل کی تعمیر کا ثواب ہوگا(ملخصا)واﷲتعالی اعلم (ت)
مسئلہ : شوال ھ
سوال اول بعد سلام کے عرض ہے میرے پاس سوا اس کے جو شوہر کے پاس سے صرف کے لیے آتا ہے اور کوئی آمد نہیں اور وہ اتنی ہے کہ گزر بھی مشکل ہوتی ہے عرض ہے کہ ایسی صورت بتائیے کہ جس میں زکوۃ بھی ادا ہو اور خرچ کی بھی دقت نہ ہو یہ بڑی بی کہتی ہیں کہ آپ کے یہاں مجھ کو کچھ روپیہ دئے اور پھر وہ دوآنہ میں مول لئے یا جو خرچ مجھ کو شوہر کے پاس سے ملتا ہے اس میں سے زکوۃ ادا کرکے بچوں کے صرف کی جائے تو کچھ برائی تو نہیں یا جو روپیہ والد کے ترکہ کا ملا تھا وہ میرا بچوں کے صرف میں ہوگیا وہ ہوسکتا ہے کہ میں زکوۃ میں مجرا کرلوں اس واسطے کہ آپ فرماتے ہیں بچوں کا صرف باپ کے ذمہ ہے۔
الجواب :
زیور خود مال ہے اس میں سے زکوۃ ادا کی جائے شوہر سے جو کچھ خرچ بچوں کے لیے ملتا ہے اس میں سے زکوۃ دینے کا ہرگزاختیار نہیں تمہارے خرچ کو جو کچھ دیتے ہیں اس میں سے زکوۃ دے سکتی ہو اپنے مال کی زکوۃ
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ ، کتاب الحیل ، الفصل الثالث فی مسائل الزکوٰۃ ، نورانی کتب خانہ پشاور ٦ / ٣٩٢
#9542 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
اپنے بچوں کے صرف میں نہیں کی جاسکتی اس سے زکوۃ ادا نہ ہوگی ماں کا جو کچھ بچوں کے صرف میں اٹھ گیا زکوۃ میں مجرا نہیں ہوسکتا اگر چہ بچوں کا خرچ باپ پر ہے ماں پر نہیں وہ طریقہ کہ زکوۃ کا مال بہ نیت زکوۃ کسی محتاج کو دے کر مالك کردیا جائے پھر اس کی رضا مندی سے تھوڑے داموں کو اس سے خرید لیں یہ حیلہ بضرورت صرف ایسی جگہ ہوکہ مثلا کسی سید صاحب کو حاجت ہے مال زکوۃ انھیں دے نہیں سکتے اور اپنے پاس زر زکوۃ سے زیادہ دینے کی وسعت نہیں تو اس طرح زکوۃ ادا کرکے برضا مندی مول لے کر سید صاحب نذر کردیا جائے یا مسجد کی تعمیر یا میت کے کفن میں لگا دیا جائے کہ یہ سب نیتیں اﷲ ہی کے لیے ہیں خرید کر اپنے یا اپنے بچوں کے صرف میں لانے کی غرض سے یہ حیلہ نہیں کہ اس میں راہ خدا میں مال خرچ کرکے پھر جانا پایا جائیگا والعیاذباﷲتعالی آسان طریقہ جو یہاں ہوسکے یہ ہے کہ آدمی جن کی اولاد میں خودہے یعنی ماں باپ دادا دادی نانا نانی یاجو اپنی اولاد میں ہیں یعنی بیٹا بیٹی پوتا پوتی نواسا نواسی اور شوہر و زوجہ ان رشتوں کے سوا اپنی جو عزیز قریب حاجتمند مصرف زکوۃ ہیں اپنے مال کی زکوۃ انھیں دے جیسے بہن بھائی بھتیجا بھتیجی ماموں خالہ چچا پھوپھی کہ انھیں دینے میں دونا ثواب ہے اور نفس پر بار بھی کم ہو گا کہ اپنے سگے بہن بھائی یا بھتیجے بھانجے کا دیا ہوا آدمی اپنے کام میں ہی اٹھنا جانتا ہے پھر یہ بھی کچھ ضرورنہیں کہ انھیں زکوۃ جتا ہی کر دے بلکہ دل میں زکوۃ کی نیت ہوانھیں عیدی وغیرہا یا شادیوں کی رسوم خواہ کسی بات کا نام کرکے مالك کردے زکوۃ ادا ہوجائیگی پھر اگر مثلا اپنے بہن بھائی کو دیا اور انھوں نے اس کے بچوں پر خرچ کی تنگی دیکھ کر اپنی خوشی سے اس کے بچوں پر ہبہ کر دیا تو زکوۃ میں کچھ خلل نہ آئے گا نہ مقصود شریعت کے خلاف ہو گا اور دونوں مطلب یعنی ادائے زکوۃ اور بچوں کے خرچ کی وسعت حاصل ہوجائیں گے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از موضع مکہ جبی والا علاقہ جاگل تھانہ پر ہپو ڈاکخانہ کوٹ نجیب اﷲخاں مرسلہ مولوی محمد شیر صاحب جمادی الآخر ھ
اپنی دختریا حقیقی ہمشیرہ کو زکوۃ یا زمین کا عشر دینا جائز ہے یا نہیںبینوا توجروا
الجواب :
بہن کو جائز ہے جبکہ مصرف زکوۃ ہو اور بیٹی کو جائز نہیں
فی الدرالمختار مصرف الزکوۃ والعشر فقیر الخ وفیہ لا یصرف الی من بینھما ولاد الخ۔ واﷲ تعالی اعلم ۔
درمختار میں ہے کہ زکوۃ و عشر کا مصرف فقیر ہے الخ اور اسی میں ہے کہ زکوۃ و عشر ایسے لوگوں پر صرف نہ کی جائے جن سے اپنی ولادت کا تعلق ہوالخ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References درمختار ، باب المصرف ، مطبع مجتبائی دہلی ، ١ / ٤١-١٤٠
#9543 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
مسئلہ : مرسلہ محمود حسن صاحب شاگرد رشیداحمد گنگوہی صاحب صفرھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اس بارہ میں کہ میری زکوۃ کا روپیہ اپنے والدکو کسی حیلہ سے دے سکتی ہوں یا نہیں کیونکہ والدایسی غربت میں ہیں کہ باہر نکلنے بیٹھنے میں شرم آتی ہے اور وہ ایك آبر ودار آدمی ہیں اور نہ کوئی ایسا آدمی ہے کہ میں اس آدمی کو دے دوں وہ اپنی طرف سے بھی والد کو دے اس صورت میں کسی حیلہ سے اپنے والد کو زکوۃکا پیسہ دے سکتی ہوں یا نہیںبینواتوجروا۔
الجواب :
باپ کو زکوۃ دینا کسی طرح جائز نہیں نہ اس کی دی زکوۃ ادا ہو سکے۔ یہ بات اگر واقعی ہے کہ باپ ایسا ہی حاجتمند ہے اور سائلہ میں یہ طاقت نہیں کہ زکوۃ بھی دے اور باپ کی بھی خدمت کرے اور ایسا اطمینان کا شخص کوئی نہیں پاتی کہ اسے زکوۃ دے اور وہ اپنی طرف سے اس کے باپ کودیں تو اس کا یہ طریقہ ممکن ہے کہ مثلا دس روپیہ زکوۃ کے دینے ہیں اور چاہتی ہے کہ یہ روپیہ اس کے باپ کو پہنچے تو کسی فقیر مصرف زکوۃ کے ہاتھ مثلادس سیر یا پانسیر گیہوں دس روپیہ کو بیچے اور اسے سمجھا دے کہ زر ثمن ادا کرنے کی تمھیں دقت نہ ہوگی ہم زکوۃ دیں گے اسی سے ادا کردینا جب وہ بیع قبول کرے گیہوں اس کو دے دے اب اس کے دس درہم بابت ثمن گندم اس پر قرض ہوگئے اس کے بعد اسے دس روپیہ زکوۃ میں دے کر قبضہ کرادے زکوۃ ادا ہوگئی پھر گیہوں کی قیمت میں روپے واپس لے وہ یوں نہ دے تو جبرا لے سکتی ہے کہ وہ اس کا مدیون ہے اب یہ روپیہ اپنے باپ کو دے دے۔ درمختار میں ہے :
حیلۃ الجواز ان یعطی مدیونہ الفقیر زکوتہ ثم یا خذھا عن دینہ ولوامتنع المدیون مدیدہ واخذھا لکونہ ظفر بجنس حقہ فان مانعہ رفعہ للقاضی ۔
حیلہ جوازیہ ہے کہ اپنے مقروض فقیر کو زکوۃ دی جائے پھر قرض کے عوض اس سے وہ رقم واپس لے لی جائے اگر مقروض نہ مانے تو اس سے چھین لی جائے کیونکہ یہ اپنے مال کے حصول پر قدرت کی صورت ہے اگر اس میں بھی رکاوٹ بنے تو معاملہ قاضی کے پاس لے جایاجائے۔ (ت)
مگر اس کا لحاظ لازم ہے کہ محتاج باپ کا نفقہ اس کی سب غنی اولاد پر لازم ہے بیٹا بیٹی سب پر برابر تو اگر تنہا یہی اس کی اولاد ہے تو اس پر اس کا کل خرچ کھانے پہننے رہنے کے مکان کا لازم ہے اور اگر اور بھی ہیں تو
حوالہ / References درمختار ، کتا ب الزکوٰۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ، ١ / ١٣٠
#9544 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
حصہ رسد اور زکوۃ بھی اﷲعزوجل کا غنی پر فرض ہے حیلہ کرکے دوواجبوں میں ایك کو ساقط نہ کرے اﷲعزوجل دلوں کی نیت جانتا ہے ہاں حقیقۃ قدرت نہ ہو تو حیلہ مذکورہ عمدہ وسیلہ ہے جس سے دونوں واجب ادا ہوسکیں۔ واللہ یعلم المفسد من المصلح (اﷲتعالی خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے۔ ت) واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : مرسلہ مولوی نیاز محمد خاں بدایونی وارد حال مانو گاچہ ملك پیراك ربیع الثانی ھ
فطرہ کا پیسہ کون کون سے کام میں صرف ہوسکتا ہے اور کس کس شخص کو دیا جاسکتا ہے
الجواب :
فطرہ کے مصارف بعینہ مصارف زکوۃ ہیں واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از بریلی محلہ کانکر ٹولہ متصل مسجد خورد مرسلہ جناب الطاف علی صاحب ذی الحجہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص اپنی والدہ اور ہمشیرہ کو باوجود بیوہ اور یتیم ہونے کے کچھ نہ دے اور وہ تکالیف اٹھاتی ہوں اس حالت میں اگر زید صاحب نصاب ہو اور زکوۃ صدقہ ادا کرے تو وہ قبول ہوگا یا نہیںاور زید کے واسطے شرع شریف میں کیا حکم ہےبینواتوجروا
الجواب :
زید کی ماں اگر کوئی ذریعہ معاش نہیں رکھتی تو اس کا نفقہ زید پر فرض ہے یوں ہی یتیم بہن کہ جس کی شادی نہ ہوئی ہو نہ اس کے پاس کچھ مال ہو ان کو نہ دینے سے اس پر گناہ عظیم ہے۔ حدیث میں فرمایا :
کفی بالمرء اثما ان یضیع من یقوت۔
آ دمی کے گناہگار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو محروم رکھے جن کا خرچہ اس کے ذمہ ہو۔ (ت)
رہی زکوۃ وہ ماں کو نہیں دے سکتابہن کو دے اور ماں کی خدمت اپنے پاس سے کرے ۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : ازکاٹھیاواڑ مولوی سیف اﷲصاحب پیش امام حبت پور ذی الحجہ ھ
کیا فرماتے ہیں حضرات علمائے کرام و فضلائے عظام دامت علینا برکاتہم اس مسئلہ میں کہ بضرورت
حوالہ / References القرآن ٢ / ٢٢٠
سنن ابی داؤد ، کتاب الزکوٰۃ ، باب فی صلۃ الرحم ، آفتاب عالم پریس لاہور ، ١ / ٢٣٨ ، مسند احمد بن حنبل مروی از عبداﷲبن عمرو دارالفکر بیروت ٢ / ١٦٠ ، ١٩٤ ، ١٩٥
#9545 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
زکوۃ کاروپیہ کوئی مسلمان قبضہ کرکے جوخود بھی مستحق زکوۃ ہوتوسیع مسجد میں صرف کرے تو جائز ہے یا کس صورت سےبینواتوجروا
الجواب :
زکوۃ دہندہ نے اگر زر زکوۃ مصرف زکوۃ کو دے کر اس کی تملیك کردی تواب اسے اختیار ہے جہاں چاہے صرف کرے کہ زکوۃ اس کی تملیك سے ادا ہوگئی یوں ہی اگر مزکی نے زر زکوۃ اسے دیا اور ماذون مطلق کیا کہ اس سے جس طور پر چاہو میری زکوۃ ادا کردو اس نے خود بہ نیت زکوۃ لے لیا اس کے بعد مسجد میں لگادیا تو یہ بھی صحیح وجائز ہے یونہی اگر مزکی نے زر زکوۃ نکال کر رکھا تو فقیر نے بے اس کی اجازت کے لے لیا اور مالك نے بعداطلاع اس کا لینا جائز کردیا اور اس کے بعد فقیر نے مسجد میں صرف کیا تو یہ بھی صحیح ہے اور اگر فقیر نے بطور خود قبضہ کرلیا اور مالك نے اسے جائز نہ کیا یا بعد اس کے کہ یہ مسجد میں لگا چکا جائز کیا تو زکوۃ ادا نہ ہوگی۔ یونہی اگر مالك نے اسے روپیہ دیا اور وکیل کیا کہ میری طرف سے کسی فقیر کو دے دو یہ بھی فقیر ہے خود لے لیا اور مسجد میں لگا دیا تواب بھی زکوۃ ادا نہ ہوئی اگر چہ اسے ماذون مطلق کیا ہو کہ تملیك نہ پائی گئی اور اس پر روپے کا تاوان آئے گا۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : ازمقام ترسائی کاٹھیاواڑ مرسلہ احمد داؤد صاحب یکم جمادی الآخر ھ
فی زمانہ سیدوں کا کوئی پرسان حال نہیں فاقوں تك بعض کی نوبت پہنچی ہے ایسی صورت میں زکوۃ لینا یا بغیر اس عذر کے بھی زکوۃ لینا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
سیدکو زکوۃ لینا دینا حرام ہے اور اسے دئے زکوہ ادا نہیں ہوتی اور فاقوں پر نوبت اگر اس بنا پر ہو کہ نوکری یا مزدوری پر قدرت ہے اور نہیں کرنا چاہتا تو یہ فاقہ بھی عذر نہیں ہوسکتا کہ یہ اپنے ہاتھ کا ہے کیوں نہیں کسب حلال کرتا اور اگر واقعی کسب پر قادرنہیں تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس کی اعانت کریں اور اگر لوگ بے پروائی کریں اور اسے کوئی ذریعہ رزق کا سوا زکوۃ لینے کے نہ ہو تو بقدر ضرورت لے اور قدر ضرورت میں صرف کرے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از مرزا پور سول لائن بنگلہ مولوی محب اﷲصاحب ڈپٹی کلکٹر مرسلہ محمد عبدالقادر صاحب بدایونی جمادی الاولی ھ
زید نے بکر کو صدقہ دیا بکر کو علم ہے کہ صدقہ ہے ایسی صورت میں بکراس مال کو سید کو دے سکتا ہے یا نہیں اور وہ مال بکر کی ملکیت ہے یا زید کی جبکہ زید بکر کو دے چکا۔
#9546 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
الجواب :
جب زید نے بکر کو مال صدقہ میں دیا اور بکر قابض ہوگیا اور وہ محل صدقہ تھا یا نہ تھا اور زید جانتا تھا کہ بکر محل صدقہ نہیں غنی جان کر صدقہ دیا تو دونوں صورتوں میں بکر مالك ہوگیا
فقد نص العلماء کما فی ردالمحتار وغیرہ ان الصدقۃ علی الغنی لھا اجروان کان دون اجر الصدقۃ علی الفقیر۔
ردالمحتار وغیرہ میں علماء سے تصریح ہے کہ غنی پر صدقہ کا بھی اجر ہے مگر اس اجر سے یہ اجر کم ہوگا جو فقیر پر صدقہ سے حاصل ہوتا ہے۔ (ت)
اور جب وہ مالك ہوگیا اور اپنی طرف سے سید کو نذر کرے نہ بطور صدقہ زکوۃ بلکہ بطور ہدیہ و ہبہ تو سید کو اس کا لینا جائز ہے اگر چہ بکر کو زکوۃ ہی دی گئی ہو
قال علیہ الصلو ۃ والسلام فـــــ لك صدقۃ ولنا ھدیۃ۔ واﷲ تعالی اعلم
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : تمھارے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ : مسئولہ محمد عمر جوان المعروف بہ قادری سکنہ موضع باسنی پر گنہ ناگوار مارواڑ ربیع الاول ھ
الحمد ﷲرب العلمین والعاقبۃ للمتقین والصلوۃ والسلام علی سید نا محمد والہ واصحابہ اجمعین اما بعد! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ضلع مارواڑ تحت حکومت ناگوار میں ایك قصبہ ہے معروف بہ باسنی جہاں تخمینانوصد گھر مسلمانوں کے ہیں اور بفضلہ سب صغیر و کبیر برنا وپیر صوم صلوۃ کے اس حد تك پابند ہیں کہ سفروحضر صحت سقم رنج وراحت غرضکہ ہر حالت میں نماز گزاراورپابندصلوۃ ہیں۔ قصبہ بھر میں شاذونادر کوئی ایسا بدبخت ہوگا جو نماز نہ پڑھتا ہو اما بوجہ نہ ہونے علم کے احکام شرعیہ و مسائل ضروریہ سے محض نابلد ہیں جہالت کی اس قدر گرم بازاری ہے کہ آبا واجداد کی رسوم کو کافی ووافی سمجھ کر مسائل شرعیہ سے(نہ بوجہ تعصب کے بلکہ بباعث نہ ہونے علم کے)یك لخت گریز ہے حق و باطل میں امتیاز ہونہیں سکتا لیکن باوجود اس بات کے بھی اگرحسن اتفاق سے کوئی عالم آجائے تو اس کے وعظ میں بیٹھ کر تحصیل فیضان کرتے ہیں افعال بد پر متنبہ ہونے کے بعد تو بہ استغفار بھی کرتے ہیں اور کسی مسائل گو کی بات پر چنداں چون و چرابھی
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ٣ / ٣٥٧
صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب اباحۃ الہدیۃ للنبی صلے اﷲعلیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٣٤٥
فـــــ : صحیح مسلم میں الفاظ یُوں ہیں : ھو لھا صدقۃ ولنا ھدیۃ ۔ نذیر احمد سعیدی)
#9547 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
نہیں کرتے مگر چونکہ قصبہ نرا کا نرا ہی علم سے معرا ہے کوئی وجود ایسا نہیں جو اس کی اصلاح ودرستی کرسکے آخر قصبہ کے چند سربرآوردہ و دور اندیش اصحاب نے سوچا اگر قصبہ میں ایك اسلامی مدرسہ کھول دیا جائے جس کے ذریعہ ایسے وجود و نفوس علمائے اسلام کہ قصبہ میں آر ہیں جو علاوہ وعظ گوئی کے مدرسہ میں علم تجوید و تفسیر وحدیث و فقہ و اصول ومعانی کا طلبہ کو درس بھی دیتے رہیں تو البتہ قصبہ کی اصلاح حسب دلخواہ ممکن ہے آخر انھیں حضرات مذکور الصدر کی سعی بلیغ سے مدرسہ کی عمارت تیار ہو کر سلسلہ تعلیم بھی شروع کر دیا گیا اور گاؤ ں کی اصلاح بھی رو بہ ترقی ہے اور امید ہے کہ مدرسہ اگر قائم رہ گیا پوری درستی ہوجائیگی مگر چونکہ اتنے بڑے قصبہ کے طلباء صغار وکبار جو تخمیناپانسو ہیں ان کی تعلیم کے لیے کم از کم دس مدرسین درکار ہیں اوریہ انتظام بھی کرلیا گیا کہ جمیع طلباء داخل مدرسہ کرکے مدرسین بھی مقرر کرلیے مگر مصارف مدرسہ رقوم زکوۃ سے متعلق ہیں اب ہمیں تشویش ہے کہ زکوۃ کس حیلہ سے مصارف مدرسہ میں مثل مشاہرات مدرسین فرش و فروش و تیل و چراغ ونیز مثل ا س کے ضروریات مدرسہ میں خرچ ہوسکتے ہیں آیا اس پر کوئی مفلس آدمی امین مقرر ہو کہ جس کے پاس سے حساب وغیرہ نہ لیا جائے یا اور حیلہ ہوسکتا ہے یا امین کے مزید شرائط ہوں غرضکہ مذہب حنفیہ میں کوئی ایسا پہلو نکل آئے کہ جس سے مصارف مدرسہ میں جائز ہونے کا کوئی حیلہ نکل آیا جب تو مدرسہ کی بقا کی امید قصبہ کی اصلاح کی صورت ہے ورنہ بدون ان رقوم کے اہل قصبہ میں اتنی و سعت نہیں کہ سوا زکوۃ کے اخراجات مدرسہ کو اٹھاسکیں کیونکہ صاحب نصاب تو چند ہی ہوں گے باقی سب مسکین اور اپنا نان و نفقہ قوت ضروری پیدا کرکے کھانے والے ہیں لیکن مسکین و متمول سب بالاتفاق مدرسہ میں امداد دہی کے لیے حاضر ہیں کسی کو اختلاف نہیں جواب مدلل بدلائل قاطعہ و براہین ساطعہ مطابق مذہب حنفیہ مع صفحات کتب ارقام ہو۔ بینواتوجروا
الجواب :
زکوۃ کا رکن تملیك فقیر ہے جس کام میں فقیر کی تملیك نہ ہوکیسا ہی کارحسن ہو جیسے تعمیر مسجد یا تکفین میت یا تنخواہ مدرسان علم دین اس سے زکوۃ نہیں ادا ہوسکتی۔ مدرسہ علم دین میں دینا چاہیں تو اس کے تین حیلے ہیں :
۱ایك یہ متولی مدرسہ کو مال زکوۃ دے اور اسے مطلع کردے کہ یہ مال زکوۃ کا ہے۔ اسے خاص مصارف زکوۃ میں صرف کرنا متولی اس مال کو جدارکھے اور مال میں نہ ملائے اور اس سے غریب طلبہ کے کپڑے بنائے کتابیں خرید کردے یا ان کے وظیفہ میں دے جو محض بنظر امداد ہو نہ کسی کام کی اجرت۔
۲دوسرے یہ کہ زکوۃ دینے والا کسی فقیر مصرف زکوۃ کو بہ نیت زکوۃ دے اور وہ فقیر اپنی طرف سے کل یا بعض مدرسہ کی نذر کردے۔
۳تیسرے یہ کہ مثلا سو روپے زکوۃ کے دینے ہیں اور چاہتا ہے کہ مدرسہ علم دین کی ان سے مدد کرے تو
#9548 · افصح البیان فی حکم مزارع ہندوستان ۱۳۱۸ھ (ہندوستان کی زمینوں کے تفصیلی احکام )
مثلا دس۱۰ سیر گیہوں کسی محتاج مصرف زکوۃ کے ہاتھ سو روپے کو بیچے اور اسے مطلع کردے کہ یہ قیمت اداکرنے کو تمھیں ہم ہی دیں گے تم پر اس کا بار نہ پڑے گا وہ قبول کرلے اس کے بعد سوروپیہ بہ نیت زکوۃ اس کو دے کر قابض کردے اس کے بعد اپنے گیہوں کی قیمت میں وہ روپے اس سے لے لے اگر وہ نہ دینا چاہے تو یہ خود اس سے لے سکتا ہے کہ یہ اس کا عین حق ہے اب یہ روپے مدرسہ میں دے ان پچھلی دونوںصورتوں میں یہ روپیہ تنخواہ مدرسین وغیرہ ہر کار مدرسہ میں صرف ہوسکتاہے والمسئلۃ فی الدروغیرہ من الاسفار الغر( اس مسئلہ کی تفصیل در اور دیگر معتبر کتب میں ہے۔ ت) واﷲتعالی اعلم
___________________
#9549 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
مسئلہ : مرسلہ مولوی حافظ محمد امیر اﷲصاحب مدرس اول عربیہ اکبریہ جمادی الاولی ھ
کیا فرمائے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بنی ہاشم کو زکوۃ و صدقہ واجبہ دینا بجہت سقوط خمس الخمس جائزہے یا نہیں
کفایہ میں ہے :
قولہ ولا یدفع الی بنی ہاشم وفی شرح الاثار للطحاوی رحمہ اﷲتعالی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲتعالی عنہ لا باس با لصدقات کلھا علی بنی ھاشم والحرمۃ فی عھد النبی علیہ الصلوۃ و السلام للعوض وھو خمس الخمس فلما سقط ذلك بموتہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم حلت لھم الصدقۃ وفی النتف
قولہ بنی ہاشم کو زکوۃ نہ دی جائے شرح الاثار للطحاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ میں امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے بنو ہاشم پر تمام صدقات کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ حضورعلیہ السلام کی ظاہری حیات میں خمس الخمس کی وجہ سے حرام تھے جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے وصال کی وجہ سے خمس الخمس ساقط ہوگیا تو ان کے صدقات حلال ٹھہرے اور النتف میں ہے
#9550 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
یجوز الصرف الی بنی ہاشم فی قولہ خلافا لھما وفی شرح الاثار الصدقۃ المفر وضۃوالتطوع محرمۃ علی بنی ھاشم فی قولھما وعن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالی روایتان فیھا قال الطحاوی رحمہ اﷲتعالی وبالجواز ناخذ انتھی۔ بینواتوجروا
کہ امام صاحب کے نزدیك صدقات کو بنی ہاشم پر خرچ کیا جاسکتا ہے مگر صاحبین کو اس میں اختلاف ہے۔ شرح الآثار میں ہے کہ صاحبین کے قول کے مطابق فرض و نفل صدقہ بنو ہاشم پر ناجائز ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے اس بارے میں دو روایات ہیں امام طحاوی نے فرمایا کہ ہم جواز پر عمل کریں گے انتھی۔ بینو اتوجروا(ت)
الجواب :
اللھم لك الحمد الھم الصواب(اے اﷲ! حمد تیرے ہی لیے ہے اے اﷲ! درستگی عطا فرما۔ ت) بنی ہاشم کو زکوۃ و صدقات واجبات دینا زنہار جائز نہیں نہ انھیں لینا حلال۔ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے متواتر حدیثیں اس کی تحریم میں آئیں ا ور علت تحریم ان کی عزت و کرامت ہے کہ زکوۃ مال کا میل ہے اور مثل سائر صدقات واجبہ غاسل ذنوب تو ان کا حال مثل ماء مستعمل کے ہے جو گناہوں کی نجاسات اور حدث کے قاذورات دھو کر لایا ان پاك لطیف ستھرے لطیف اہلبیت طیب و طہارت کی شان اس سے بس ارفع و اعلی ہے کہ ایسی چیزوں سے آلودگی کریں خود احادیث صحیحہ میں اس علت کی تصریح فرمائی
احمد ومسلم عن المطلب بن ربیعۃ عن الحارث رضی اﷲتعالی عنہ قال قال رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم ان الصدقۃ لا تنبغی لال محمد انما ھی اوساخ الناس الطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما انہ لا یحل لکما اھل البیت من الصدقات شئی ولا غسالۃ الا یدی ھذا مختصرا لطحاوی
مسند احمد اور مسلم میں ہے کہ مطلب بن ربیعہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : صدقہ آل محمد کیلئے جائز نہیں کیونکہ یہ لوگوں (کے مال) کی میل ہے۔ طبرانی میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ اے اہلبیت! تمھارے لیے صدقات میں سے کوئی شئے حلال نہیں اور نہ ہی لوگوں کے ہاتھوں کی میل یہ مختصرا ہے طحاوی میں حضرت علی
حوالہ / References الکفایۃ مع فتح القدیر ، باب من یجوز دفع الصدقۃ الیہ ومن لایجوز ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٢١١تا٢١٣
صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب تحریم الزکوٰۃ علی رسول اﷲالخ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٣٤٤
المعجم الکبیر مروی از عبداﷲابن عباس رضی اﷲعنہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ١١ / ٢١٧
#9551 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
اعن علی کرم اﷲتعالی عنہ قال قلت للعباس سل النبی اﷲتعالی علیہ وسلم یستعملك علی الصدقات فسألہ فقال ما کنت لا ستعملك علی غسالۃ ذنوب الناس۔
کرم اﷲتعالی عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عباس سے کہا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے گزارش کرو تاکہ تمھیں آپ صدقات کے لیے عامل مقرر فرمادیں تو حضرت عباس نے عرض کیا تو آپ نے فرمایا : میں تجھے لوگوں کے گناہوں کی میل پر عامل نہیں بناسکتا۔ (ت)
اسی طرح کلمات علماء میں اس تعلیل کی بکثرت تصریحیں ہیں رہاخمس الخمس اقول : وباﷲالتوفیق اس کی تقریر تحریم صدقات سے ناشی تھی نہ کہ تحریم صدقات اس کی تقریر پر مبتنی ہو
فان اﷲتعالی لما حرم علیہم الصدقات رزقھم خمس الخمس لان اﷲتعالی لما رزقھم ذلك حرم علیہم الصدقات حتی لولم یسھم لھم ذلك لم یحرم علیہم غسالۃ السیأت وھل من دلیل علی ذلك بل الدلیل نا طق بخلافہ وبعد تحریری ھذاالمحل وجدت بحمد اﷲ نصاعن الامام المجتہد التابعی مجاہد رحمہ اﷲتعالی ان تقریر خمس الخمس مبتن علی تحریم الصدقۃ فقد روی ابن ابی شیبۃ والطبرانی عن خصیف فـــــ عن مجاہد قال کان ال محمد صلی اﷲتعالی علیہ وسلم لاتحل لھم الصدقۃ فجعل لھم خمس الخمس اھ ۔
کیونکہ اﷲتعالی نے بنو ہاشم پر صدقات حرام فرمائے تو ان کے لیے خمس الخمس کو رزق کا ذریعہ بنایا نہ یہ کہ جب خمس الخمس انھیں عطا فرمایا تو ان پر صدقات حرام فرمادئے حتی کہ اگر ان کے لیے یہ حصہ نہ ہوتا تو ان پر گناہوں کی میل حرام نہ ہوتی اور اس پر کوئی دلیل ہے بلکہ اس کے خلاف دلیل ناطق ہے۔ فقیر نے جب یہ اس مقام پر لکھا تو پھر بحمداﷲ مجتہد تابعی امام مجاہد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے میں نے یہ تصریح پائی کہ خمس الخمس کا اثبات تحریم صدقہ کی بنا پر ہے محدث ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے خصیف سے اور انھوں نے مجاہد سے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی آل کے لیے صدقہ حلال نہ تھا لہذا ان کے لیے خمس الخمس رکھا گیااھ (ت)
اور سقوط عوض سے رجوع معوض وہیں ہے جہاں زوال معوض حصول عوض پر موقوف ہو
کما فی البیع اذا سلم المشتری الثمن وھلك المبیع فی ید البائع رجع بالثمن
جیسا کہ بیع میں ہے جب مشتری رقم سپرد کردے اور مبیع بائع کے قبضہ میں ہلاك ہوگیاتو مشتری ثمن واپساعن علی کرم اﷲتعالی عنہ قال قلت للعباس سل النبی اﷲتعالی علیہ وسلم یستعملك علی الصدقات فسألہ فقال ما کنت لا ستعملك علی غسالۃ ذنوب الناس۔
کرم اﷲتعالی عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عباس سے کہا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے گزارش کرو تاکہ تمھیں آپ صدقات کے لیے عامل مقرر فرمادیں تو حضرت عباس نے عرض کیا تو آپ نے فرمایا : میں تجھے لوگوں کے گناہوں کی میل پر عامل نہیں بناسکتا۔ (ت)
اسی طرح کلمات علماء میں اس تعلیل کی بکثرت تصریحیں ہیں رہاخمس الخمس اقول : وباﷲالتوفیق اس کی تقریر تحریم صدقات سے ناشی تھی نہ کہ تحریم صدقات اس کی تقریر پر مبتنی ہو
فان اﷲتعالی لما حرم علیہم الصدقات رزقھم خمس الخمس لان اﷲتعالی لما رزقھم ذلك حرم علیہم الصدقات حتی لولم یسھم لھم ذلك لم یحرم علیہم غسالۃ السیأت وھل من دلیل علی ذلك بل الدلیل نا طق بخلافہ وبعد تحریری ھذاالمحل وجدت بحمد اﷲ نصاعن الامام المجتہد التابعی مجاہد رحمہ اﷲتعالی ان تقریر خمس الخمس مبتن علی تحریم الصدقۃ فقد روی ابن ابی شیبۃ والطبرانی عن خصیف فـــــ عن مجاہد قال کان ال محمد صلی اﷲتعالی علیہ وسلم لاتحل لھم الصدقۃ فجعل لھم خمس الخمس اھ ۔
کیونکہ اﷲتعالی نے بنو ہاشم پر صدقات حرام فرمائے تو ان کے لیے خمس الخمس کو رزق کا ذریعہ بنایا نہ یہ کہ جب خمس الخمس انھیں عطا فرمایا تو ان پر صدقات حرام فرمادئے حتی کہ اگر ان کے لیے یہ حصہ نہ ہوتا تو ان پر گناہوں کی میل حرام نہ ہوتی اور اس پر کوئی دلیل ہے بلکہ اس کے خلاف دلیل ناطق ہے۔ فقیر نے جب یہ اس مقام پر لکھا تو پھر بحمداﷲ مجتہد تابعی امام مجاہد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے میں نے یہ تصریح پائی کہ خمس الخمس کا اثبات تحریم صدقہ کی بنا پر ہے محدث ابن ابی شیبہ اور طبرانی نے خصیف سے اور انھوں نے مجاہد سے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی آل کے لیے صدقہ حلال نہ تھا لہذا ان کے لیے خمس الخمس رکھا گیااھ (ت)
اور سقوط عوض سے رجوع معوض وہیں ہے جہاں زوال معوض حصول عوض پر موقوف ہو
کما فی البیع اذا سلم المشتری الثمن وھلك المبیع فی ید البائع رجع بالثمن
جیسا کہ بیع میں ہے جب مشتری رقم سپرد کردے اور مبیع بائع کے قبضہ میں ہلاك ہوگیاتو مشتری ثمن واپس
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الزکوٰۃ باب الصدقۃ علیٰ بنی ہاشم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٣٥٢
مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الزکٰوۃ ، من قال لا تحل الصدقۃ علی بنی ہاشم ، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ٣ / ٢١٥
فـــــ : ابن ابی شیبہ میں بطریق حصین عن مجاہد مروی ہے وفی ن خصیف انظر حاشیۃ مصنف ابن ابی شیبۃ صفحہ مذکورہ بالا۔ نذیر احمد سعیدی )
#9552 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
لان زوال الحق عن الثمن کان موقوفا علی حصول المبیع فاذالم یسلم المبیع عادالحق فی الثمن۔
لے سکتا ہے کیونکہ ثمن سے حق کا زوال حصول مبیع پر موقوف تھا تو جب بائع نے مبیع سپرد نہ کیا تو حق ثمن لوٹ آئے گا۔ (ت)
بخلاف اس کے کہ زوال معوض کسی اور علت سے معلل ہو تو جب تك وہ علت باقی رہے گی زوال معوض بیشك رہے گا اگر چہ حصول عوض ہو یا عوض ہی ساقط ہوجائے۔
والالزم تخلف المعلول عن علتہ وذلك کا لمریض سقطت عنہ فرضیۃ الوضوء لعلۃ الضر روعوض عنہا بفرض التیمم فان سقط التیمم ایضا لعدم وجد ان الصعید الطیب مثلا لا تعود فرضیۃ الوضوء قطعا لبقاء الضرر المقتضی لسقو طھا فاذن یسقطان جمیعا کذا ھذا۔
ورنہ معلول کا علت سے تخلف لازم آئے گا اور یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی مریض جس سے کسی ضرر کی بناء پر فرضیت وضو ساقط تھی اوراس کے عوض تیمم تھا اب اگر پاك مٹی نہ ہونے کی وجہ سے تیمم بھی ساقط ہوجاتا ہے تو فرضیت وضو قطعالوٹ کر نہیں آئے گی اس ضرر کے باقی ہونے کی وجہ سے جس سے وہ ساقط ہوتی تھی تو اب دونوں(وضواور تیمم) کا اجتماعی طور پر سقوط ہوجائیگا اسی طرح یہاں ہے(ت)
ثم اقول : (پھر میں کہتا ہوں۔ ت) یہ جواب ہی اس وقت ہے جبکہ ہمیں خمس الخمس کا بایں معنی عوض صدقات ہونا مسلم ہوکہ اگر تحریم صدقات نہ ہوتی تقریر خمس الخمس عمل میں نہ آتی اور یہ بے شك محل کلام ہے نہ اس پر کوئی دلیل قائم ہم کہہ سکتے ہیں کہ تحریم صدقہ و تقریر سہم دونوں مستقل کرامتیں ہیں کہ حق عزمجدہ نے اہلبیت کرام کو عطا فرمائیں اور لفظ تعویض اول تو کسی حدیث ثابت سے اس وقت فقیر کے خیال میں نہیں وما فی کتب الفقہ عوضکم منھا بخمس الخمس فغیر معروف کما صرح المخرجون(یہ جو کتب فقہ میں ہے کہ صدقہ کے عوض خمس الخمس ہے تو یہ غیر معروف ہے جیسا کہ اصحاب تخریج نے تصریح کی ہے۔ ت) اور ہوبھی تو کھلا ہوا محاورہ دائرہ سائرہ ہے کہ ایك شئی جاکر جو دوسری ملتی ہے اسے اس کا عوض کہتے ہیں اگرچہ ان میں ایك کا حصول دوسرے کے زوال پر موقوف ہو نہ ایك کا زوال دوسرے کے حصول کو مستلزم
کما ان من مات لہ ولد ثم ولد اخر احسن منہ یقال لہ نعم البدل وکما ان من طلق امرأۃ یدعو ربہ ان ابد لنی خیرا منھامع
جیسا کہ کسی شخص کا ایك بیٹا فوت ہوگیا ہو پھر اس سے اچھا دوسرا بیٹا پیدا ہوتو اسے نعم البدل کہا جاتا ہے ___اور جس طرح کوئی شخص عورت کو طلاق دیتا ہے اور اپنے رب سے دعا کرتا ہے کہ
#9553 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
ان الوالدین و المرأتین کان یمکن ان یجتمعا والعوض والمعوض لا یجتمعان۔
مجھے اس کے بدلے بہتر بیوی عطا فرما باوجودیکہ دونوں بیٹوں اور دونوں بیویوں کا اجتماع ممکن ہے حالانکہ عوض اور معوض دونوں جمع نہیں ہوسکتے۔ (ت)
تو ہمیں ہرگز مسلم نہیں کہ یہاں معاوضت عرفیہ کے سوا معاوضت مصطلحہ مراد ہوجس کی بنا پر ایك سقوط سے دوسرے کا عود عــــہ چاہیں۔ لاجرم ظاہر الروایۃ میں ہمارے ائمہ ثلاثہ بالاجماع بنی ہاشم پر تحریم صدقات فرماتے ہیں کافہ متون علی الاطلاق اسی پر ماشی اور اجلہ محققین اہل شروح و فتاوی وارباب تصحیح و فتوی مثل امام برہان الدین فرغانی صاحب ہدایہ و امام فقیہ النفس قاضیخاں و امام طاہر صاحب خلاصہ وامام نسفی صاحب کافی وغیرہم رحمۃ اللہ تعالی علیہ بے اشعار خلاف اس پر جازم کہ مسئلہ میں کوئی روایت مرجوحہ مخالفہ آنے کی بوبھی نہیں دیتے قابل التفات سمجھنا تو درکنار اور جن بعض نے اس کا ذکر کیا ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ مذہب کے خلاف اور ظاہر الروایۃ سے جدا ہے جس کے حاکی فقط نوح جامع ہیں ۱محقق علی الاطلاق فرماتے ہیں :
لاترفع الی بنی ہاشم ھذا ظاہر الروایۃ وروی ابو عصمۃ عن ابی حنیفۃ انہ یجوز فی ھذا الزمان۔
بنوہاشم کو زکوۃ نہ دی جائے یہ ظاہر الروایۃ میں ہے۔ اور ابو عصمۃ نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے روایت کیا ہے کہ اس دور میں جائزہے۔ (ت)
۲مجمع الانہر میں ہے :
لاتدفع الی ھاشمی وھو ظاہر الروایۃ وروی ابو عصمۃ عن الامام انہ یجوز فی زمانہ اھ ملخصا ۔
بنو ہاشم کو زکوۃ کا عدم جواز ظاہر الروایہ میں ہے اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے اس دور میں جواز کی روایت بھی ہے اھ ملخصا(ت)
۳شیخ محقق دہلوی اشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں :
عدم جواز دفع زکوۃ بہ بنی ہاشم ظاہر روایت است و
بنو ہاشم کو زکوۃ کا عدم جوازظاہرالروایۃ ہے اور

عــــہ : حاصل یہ کہ اولا معاوضت مصطلحہ مراد ہونا محل کلام ہے اور اثبات ذمہ مستدلین ثانیا عوضین میں مانعۃ الجمع ہونا ضرور ہے نہ منفصلہ حقیقہ کو منع خلو بھی لازم ہو اور تمام استدلال اسی پر موقوف واﷲتعالی اعلم منہ غفرلہ(م)
حوالہ / References فتح القدیر ، فصل من یجوز دفع الصدقۃ الیہ و من لا یجوز الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٢١١
مجمع الانہر باب فی بیان احکام المصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ٢٢٤
#9554 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
در روایتے از امام ابی حنیفہ جائز ست دریں زمان ۔
امام ابو حنیفہ سے ایك روایت میں اس زمانہ میں جائز ہے ۔ (ت)
در مختار میں ہے : ظاہر المذہب اطلاق المنع (ظاہر مذہب ہر حال میں منع ہے۔ ت)ردالمحتار و طحطاوی حاشیہ درمختار و حاشیہ مراقی الفلاح میں ہے وروی ابو عصمۃ عن الامام انہ یجوز (شیخ ابو عصمۃ نے امام صاحب سے نقل کیا کہ بنو ہاشم کو زکوۃ دینا جائز ہے۔ ت) ذخیرۃ العقبی حاشیہ شرح وقایہ میں ہے :
روی عن الامام الاعظم جواز دفع الزکوۃ الی الہاشمی فی زمانہ۔
امام اعظم سے روایت ہے کہ ہمارے دور میں ہاشمی کو زکوۃ دینا جائز ہے۔ (ت)
شرح نقایہ برجندی میں فتاوی عتابی سے ہے : عن ابی حنیفۃ انہ یجوز (امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے منقول ہے کہ ہاشمی کو زکوۃ دینا جائزہے۔ ت)
اقول : فلا علیك مما فی قول النتف المنقول فی السوال من الایھام۔
اقول : (میں کہتا ہوں)النتف میں جو کچھ منقول ہے اس سے وہم نہیں ہونا چاہئے۔ (ت)
اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ جو کچھ ظاہر الروایۃ کے خلاف ہے ہمارے ائمہ کا قول نہیں بلکہ مرجوع عنہ ہے اور مرجوع عنہ پر عمل ناجائز۔ امام خیر الدین رملی عالم فلسطین اپنے فتاوی میں فرماتے ہیں :
ھذا ھو المذ ہب الذی لا یعدل عنہ الی غیرہ وما سواہ روایات خارجۃ عن ظاہر الروایۃ وما خرج عن ظاہر الروایۃ وما خرج عن ظاہر الروایۃ فہو مرجوع عنہ لما قررہ فی الاصول من عدم امکان صدور قولین
یہ وہ مذہب ہے جس کے غیر کی طرف عدول جائز نہیں اس کے علاوہ دیگر روایات ظاہرالروایۃ سے خارج ہے اور جو ظاہر روایت سے خارج ہو وہ مرجوع عنہ ہوتا ہے کیونکہ اصول میں مسلمہ ہے کہ کسی مجتہد سے دو مختلف مساوی اقوال صادر نہیں ہوسکتے لہذا مرجوع عنہ
حوالہ / References اشعۃ اللمعات ، کتاب الزکوٰۃ باب لاتحل لہ الصدقۃ ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ٢ / ٢٥
درمختار ، باب المصرف ، مطبع مجتبائی دہلی ، ١ / ١٤١
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب المصرف دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٤٢٨
ذخیرۃ العقبیٰ حاشیۃ شرح وقایہ ، کتاب الزکوٰۃ باب المصارف منشی نو لکشور کانپور ، ١ / ١٣٨
شرح النقایۃ للبر جندی فصل فی مصارف الزکوٰۃ منشی نولکشور کانپور ١ / ٢٠٧
#9555 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
مختلفین متساویین من مجتہد والمرجوع عنہ لم یبق قولالہ کما ذکروہ وحیث علم ان القول ھو الذی تواردت علیہ المتون فھو المعتمد المعمول بہ الخ
مجتہد کا قول نہیں رہے گا جیسا کہ علماء نے تصریح کی ہے اور جب علم ہوجائے کہ فلاں قول متون میں برابر نقل ہورہا ہے تو وہی معتمد اور اسی پر عمل کیا جائے گا الخ (ت)
اسی طرح بحر الرائق کی کتاب القضا میں ہے درمختار میں ہے :
المجتہد اذا رجع عن قول لا یجوز الاخذبہ۔
جب مجتہد کسی قول سے رجوع کرے تو اس پر عمل کرنا جائز نہیں رہتا۔ (ت)
یوں ہی بحر کی کتاب الطہارۃ میں لکھ کر فرمایا : کما صرح بہ فی التوشیح (جیسا کہ توشیح میں اس پر تصریح ہے۔ ت)
اب نہ رہا مگر امام اجل سیدی ابوجعفر طحاوی رحمۃاﷲ علیہ کا بہ ناخذ (ہمارا اس پر عمل ہے)فرمانا اقول : وباﷲ التوفیق (میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲتعالی سے ہے ۔ ت)اگر مان بھی لیا جائے کہ امام طحاوی اسی روایت شاذہ کو اختیار فرماتے ہیں تاہم معلوم ہے کہ ان کے لیے بعض اختیارات مفردہ ہیں کہ بترك مذہب ان پر عمل کے کوئی معنی نہیں ان کی جلالت شان بیشك مسلم مگر عظمت قاہر ہ اصل مذہب چیزے دیگر ست پھر اطباق احادیث پھر اتفاق متون پھر احقاق جماہیرائمہ ترجیح و فتیا ایسی شئی نہیں جس کا پلہ اختیارمفرد امام طحاوی کے باعث گر سکے آخر ائمہ کرام نے ان کا بہ ناخذ(ہمارا اسی پر عمل ہے۔ ت) فرمانا دیکھا پھر کیا باعث کہ اصلا ادھر التفات نہ فرمایا غرض خادم فقہ جانتا ہے کہ ایسی روایت مرجوحہ مجروحہ جو نہ روایۃ معتمد نہ درایۃ مؤید صرف ایك اختیار کی بنا پر جسے جمیع متون وسائر مرجحین نے مقبول نہ رکھا ہر گز صالح تعویل نہیں ہوسکتی یہ سب اس تقدیرپر ہے کہ امام طحاوی کا روایت جواز کو اختیار فرمانا تسلیم کرلیں ورنہ فقیر غفراﷲتعالی لہ کے نزدیك اگرکلام امام طحاوی کی طرف بنظر غائر عطف عنان ہوتو ان شاء اﷲتعالی سپیدہ صبح کی طرح ظاہر وعیاں ہوکہ وہ قطعا ظاہر الروایۃ ہی کو بہ ناخذ (اسی پر ہمارا عمل ہے۔ ت)فرمارہے ہیں اگر چہ یہ وہ نئی بات ہے جسے سن کر بہت علمائے زمانہ سخت تعجب فرمائیں گے کہ ۱کفایہ و ۲شرح نقایہ قہستانی و ۳مراقی الفلاح و۴غمزالعیون و ۵درمنتقی و۶مجمع الانہر و۷حاشیہ طحطاوی و۸عقود دریہ وغیرہا متعدد کتابوں میں امام طحاوی کی طرف اختیار جواز کی نسبت مصرح مگر کیا کیجئے کہ اتباع نظر
حوالہ / References فتاویٰ خیریہ کتاب الشہادات دارالمعرفۃ بیروت ٢ / ٣٣
درمختار ، فصل فی البئر ، مطبع مجتبائی دہلی ، ١ / ٤١
بحر الرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ١٣٨
#9556 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
خواہی نخواہی فقیر کو ایضاح حقیقۃ الامر پر مجبور کرتاہے فاستمع لما یتلی علیک( کی جانے والی گفتگو کو اچھی طرح ملاحظہ کیجئے۔ ت)امام اجل طحاوی نے اپنی کتاب مستطاب شرح معانی الآثار کی کتاب الزکوۃ میں پہلا باب لاصدقہ علی بنی ہاشم وضع فرمایااور اس میں ایك حدیث نقل کرکے ارشاد کیا کچھ لوگ اس کی بناء پر بنی ہاشم کے لیے صدقہ جائز رکھتے ہیں پھر ان کے تمسك کا جواب شافی دیا پھر حدیث فدك سے ان کا استناد ذکر کرکے اس کا بھی جواب کافی تحریر کیا پھر فرمایا :
قد جاءت ھذہ الاثار عن رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم متواترۃ بتحریم الصدقۃ علی بنی ھاشم۔
ان آثار کے بعد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے متواتر طور پر احادیث سے ثابت ہے کہ بنو ہاشم پر صدقہ حرام ہے۔ (ت)
پھر احادیث امام حسن مجتبی وعبداﷲبن عباس وعبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث و سلمان فارسی وابو رافع وہرمزیا کسیان ورشیدبن مالك وابی لیلی وبریدہ اسلمی وانس بن مالك ودوحدیث ابی ہریرہ ودوحدیث معویہ بن حیدہ قشیری رضوان اﷲتعالی علیہم اجمعین چودہ حدیثیں حضورپر نور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے باسانید کثیرروایت کرکے فرمایا :
فھذہ الاثار کلھا قد جاءت بتحریم الصدقۃ علی بنی ہاشم لانعلم شیأ نسخھا ولا عارضھا الاما قد ذکرناہ فی ھذاالباب ممالیس فیہ دلیل علی مخالفتھا۔
یہ تمام آثار بنو ہاشم پر صدقہ کی حرمت پر شاہد ہیں ہمیں ان کے منسوخ ہونے یا انکے مقابل روایات کا علم نہیں مگر جو کچھ ہم نے اس باب میں ذکر کیا ہے وہ کوئی ایسی دلیل نہیں جو ان آثار کی مخالفت پر ہو۔ (ت)
پھر حدیثاو فقہا اس مذہب کو مدلل کیا کہ زکوۃ تو زکوۃ صدقہ نافلہ بھی بنی ہاشم پر حرام ہے ان کے فقراء بعینہ حکم اغنیاء رکھتے ہیں جو غنی کے لیے جائز ہے انھیں بھی مباح ہے اور جو غنی کو حلال نہیں انھیں بھی روا نہیں پھر فرمایا :
ھذا ھو النظر فی ھذاالباب وھو قول ابی حنیفۃ وابی یوسف ومحمد رحمہم اﷲتعالی۔
اس باب میں یہی دلیل ہے اور یہی امام ابو حنیفہ امام ابویوسف اورامام محمد رحمہم اللہ تعالی کا قول ہے(ت)
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الزکوٰۃ باب الصدقۃ علیٰ بنی ہاشم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ١ / ٣٤٩
شرح معانی الآثار ، کتاب الزکوٰۃ ، باب الصدقۃ علیٰ بنی ہاشم ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٣٥٢
شرح معانی الآثار ، کتاب الزکوٰۃ ، باب الصدقۃ علیٰ بنی ہاشم ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٣٥٢
#9557 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
اس کے بعد اس روایت کا یوں ذکر فرمایا کہ :
قد اختلف ابی حنیفۃ رحمہ اﷲتعالی فی ذلك فروی انہ قال لا باس بالصدقات کلھا علی بن ھاشم وذھب فی ذلك عندنا الی ان الصدقات انما کانت حرمت علیہم من اجل ماجعل لھم فی ا لخمس من سھم ذوی القربی فلما انقطع ذلك عنہم ورجع الی غیرہم بموت رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم حل لھم بذلك ما قد کان محرما علیہم من اجل ماقد کان احل لھم وقد حدثنی سلیمان بن شعیب عن ابیہ عن محمد عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ فی ذلك مثل قول ابی یوسف فبھذا ناخذ۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲتعالے سے مختلف روایات میں سے ایك روایت یہ ہے کہ بنو ہاشم پر تمام صدقات خرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اس میں ہمارے ہاں دلیل یہ ہے کہ صدقات بنی ہاشم پر حرام ہونے کی وجہ یہ تھی کہ خمس کے ذوی القربی کے حصہ میں سے پانچوں حصہ ان کا ہوتا تھا رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے وصال کے بعد جب ان کا وہ حصہ منقطع ہو کر غیر کی طرف چلا گیا تو اب ان کے لیےوہ حلال ہوجائے گا جو ان پر حرام ہواتھا اس وجہ سے کہ ان پر خمس حلال تھا مجھے حدیث بیان کی سلیمان بن شعیب نے اپنے والد سے انھوں نے محمد سے انھوں نے ابویوسف سے انھوں نے امام ابوحنیفہ سے اس سلسلہ میں ابو یوسف کے قول کے مطابق نقل کیا ہے پس اس کے ساتھ ہی ہمارا عمل ہے۔(ت)
پھر فرمایا :
فان قال قائل افتکرھھا علی موالیھم قلت نعم لحدیث ابی رافع ن الذی قد ذکرنا ہ فی ھذا الباب وقد قال ذلك ابویوسف رحمہ اﷲتعالی فی کتاب الاملاء وما علمت احدا من اصحابنا خالفہ فی ذلک۔
اگر کوئی سوال اٹھائے کہ بنو ہاشم کے والی کے لیے مکروہ ہے تو میں کہوں گا ہاں اس حدیث کی وجہ سے جو ابورافع سے مروی ہے اور ہم نے اس باب میں اسے ذکر کردیا ہے اور یہی بات امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے کتاب الاملاء میں کہی ہے اور میں نہیں جانتا کہ ہمارے اصحاب میں سے کسی نے اس کی مخالفت کی ہو۔ (ت)
حوالہ / References شرح معانی الآثار ، کتاب الزکوٰۃ باب الصدقۃ علی بنی ہاشم ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ١ / ٣٥٢
شرح معانی الآثار ، کتاب الزکوٰۃ باب الصدقۃ علی بنی ہاشم ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ١ / ٣٥٢
#9558 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
پھر فرمایا :
فان قال قائل افتکرہ للھاشمی ان یعمل علی الصدقۃ قلت لا وقد کان ابویوسف یکرہ اذا کانت جعالتھم منھا وخالف ابا یوسف اخرون فقالوا لاباس ان یجتعل منھا الھاشمی لانہ انما یجتعل علی عملہ وذلك قد یحل للاغنیاء فلا یحرم علی بنی ھاشم الذین یحرم علیہم الصدقۃ وقد روی عن رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فیما تصدق علی بریرۃ انہ اکل منہ (ثم اسند الطحاوی فی ذلك احادیث عن امھات المؤمنین عائشۃ وجویریۃ وام سلمۃ وعن ابن عباس وام عطیۃ رضی اﷲتعالی عنہم ثم قال) فلما کان ماتصدق بہ علی بریرۃ رضی اﷲتعالی عنھا جائزاللنبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم اکلہ لانہ انما ملکہ بالھدیۃ جاز ایضا للھاشمی ان یجتعل من الصدقۃ لانہ انما یملکہ بعملہ لا بالصدقۃ فھذاھو النظروھواصح مما ذھب الیہ ابو یوسف رحمہ اﷲتعالی فی ذلك اھ ملخصا۔
اگر کوئی یہ سوال کرے کہ ہاشمی کے لیے صدقات کیلئے عامل بننا مکروہ ہے تومیں کہوں گا کہ نہیں امام ابویوسف ان کی تنخواہ کوصدقات میں مکروہ کہتے ہیں لیکن دوسرے لوگوں نے امام ابویوسف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہاشمی کو اس میں تنخواہ ووظیفہ دینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ اس کے عمل و محنت پر دیا جارہا ہے اور یہ تو اغنیاء کے لیے بھی جائز ہے تو اب ان بنوہاشم پر یہ کیسے حرام ہوسکتا ہے جن پرصدقہ حرام تھا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے صدقہ بریرہ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ نے اس سے تناول فرمایا(پھر اس کے بعد امام طحاوی نے سند کے ساتھ امہات المومنین حضرت عائشہ حضرت جویریہ حضرت ام سلمہ حضرت ابن عباس اور حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے احادیث ذکر کیں پھر کہا)حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا پر کئے گئے صدقہ کا تناول کرنا رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لیے جائز تھا کیونکہ آپ بطور ہدیہ اس کے مالك قرار پائے تو اب ہاشمی کے لیے بھی صدقہ بطور وظیفہ جائز ہوگا کیونکہ وہ عمل کی وجہ سے اس کا مالك بن رہا ہے نہ کہ صدقہ کی بنا پر۔ بس یہ اس میں نظر ہے اور یہی مختار ہے اور یہ اس معاملہ میں اقوال ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ میں سے اصح ہے اھ ملخصا(ت)
اب اس کلام امام کے محاوی ظاہرہ و مطاوی باہرہ پر نظر کیجئے :
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الزکوٰۃ باب الصدقۃ علیٰ بنی ہاشم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٥٣-٣٥٢
#9559 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
اول : شروع سخن سے دلائل تحلیل کارد۔
دوم : دلائل تحریم کی تکثیر میں کد ۔
سوم : ان کا آغاز یوں کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے تحریم میں متواتر حدیثیں آئیں ۔
چہارم : ختم یوں کہ ہمارے علم میں ان حدیثوں کا کوئی ناسخ یا عارض نہیں سواان چیزوں کے جو اہل تحلیل نے ذکر کیں اور وہ اصلا ان کی مؤید نہیں۔
پنجم : حدیثا وفقہا ثابت فرمانا کہ نہ صرف زکوۃ یا دیگر واجبات بلکہ مطلقا تمام صدقات بنی ہاشم پر حرام ہیں یہاں تك کہ نافلہ بھی اور یہی مذہب ائمہ ثلاثہ کا ہے۔
ششم : صاف صاف حصر فرما دینا کہ اسباب میں یہی مقتضائے نظر فقہی ہے اب روایت خلاف کے لیے کہاں گنجائش رکھی حدیثیں بے ناسخ و معارض متواتر نظر فقہی اسی میں منحصر پھر اختیار خلاف کس دلیل سے صادر۔ یہ چھ قرینے تو سباق میں ہیں اب سیاق کی طرف چلئے کہ دلائل دیکھئے۔
ہفتم : روایت کے اختلاف اور اپنے اختیار کو ذکر کرکے بایرادفائے تعقیب سوال قائم فرماتے ہیں کہ اس پر کوئی مجھ سے پوچھے بھلا بنی ہاشم کے غلامان آزاد شدہ کے لیے اخذ زکوۃ ممنوع جانتے ہو سبحان اﷲ اگر اس بہ ناخذ( اسی پر ہمارا عمل ہے۔ ت) کے معنی یہی تھے کہ امام طحاوی نے خود بنی ہاشم کو زکوۃ حلال مانی تو اب اس سوال کا کون ساموقع اورکیا محل تھا موالی تو اس فرعیت کی بناء پر داخل ہوئے تھے کہ مولی القوم منھم (کسی قوم کا غلام انہی میں سے ہوتاہے۔ ت)جب اصول کے لیے جواز ٹھہرا فروع کی نسبت کیا پوچھتا رہا۔
ہشتم : اس سوال کا جواب سنئے کہ میں فرماؤں گا ہاں یعنی میرے نزدیك موالی بنی ہاشم کو اخذ زکوۃ ممنوع ہے کہ حدیث ابو رافع اسی پر ناطق اور ارشاد امام ابی یوسف موافق اور بقیہ ائمہ سے خلاف نامعلوم سبحان اﷲ کہاں بنی ہاشم کے لیے زکوۃ جائز ماننا اور کہاں ان کے غلاموں پر حرام جاننا۔
نہم : پھر حدیث ابو رافع تو یونہی تھی کہ :
ان ال محمد لا یحل لھم الصدقۃ وان مولی القوم من انفسھم۔
آل محمد ( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ) کے لیے صدقہ حلال نہیں اور قوم کا غلام انھی میں سے ہوتا ہے(ت)
کیا معنی کہ حدیث کا فرعی حکم اس وجہ سے کہ حدیث وارد ہے اخذ فرمائیں اور اسی حدیث کا اصلی حکم جس پر اس کے ساتھ اور احادیث متواترہ بھی ناطق ترك کرجائیں فافہم ولاتعجل۔
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب الزکوٰۃ باب الصدقۃ علیٰ بنی ہاشم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٣٥١
#9560 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
دہم : جو بنی ہاشم کے لیے جوازمانے اور موالی پر حرام جانے حدیث ابورافع ہرگز اس کے لیے حجت نہیں بلکہ صاف اس پر منقلب ہے کہ اس میں مولائے قوم کو حکم قوم میں فرماتے ہیں جب حکم قوم جواز ہے حکم مولی بھی لاجرم جواز ہوگا ورنہ موالی بالذات مستحق تحریم نہیں تو برتقدیر اختیار جواز امام طحاوی کا یہ استدلال بالمخالف ٹھہرتا ہے۔
یازدہم : طرفہ یہ کہ فرماتے ہیں امام ابو یوسف نے مولی پر زکوۃ ناروامانی اور ہمیں اپنے باقی ائمہ سے اسکا خلاف معلوم نہیں خلاف تو بنابنایا پیش نظر ہے کہ جس روایت میں خود بنی ہاشم کو زکوۃ روا ہوئی مولی کے لیے بدرجہ اولی ہوئی تو لاجرم وہ اس روایت کو نظر سے ساقط اور ناقابل اعتداد جانتے ہیں جب تو علم خلاف کی نفی فرماتے ہیں۔
دوازدہم : اس کے بعد دوسرا سوال قائم کرتے ہیں کہ بھلا تمھارے نزدیك بنی ہاشم کا تحصیل زکوۃ پر متعین ہو کر اس کی اجرت لینا بھی جائز ہے یا نہیں۔ سبحان اﷲ! جب حقیقت زکوۃ انھیں جائز کرچکے تو شبہ زکوۃ میں کلام کا کیا موقع رہا اگر امام طحاوی کی وہی مراد ہوتی تو میں ان دونوں سوالوں کی مثال اس سے بہتر نہیں جانتا کہ عالم شافعی المذہب کہے میرے نزدیك بنت الفجور سے نکاح حلال ہے زید پوچھے بھلا اس کی دختر رضاعی بھی حلال جانتے ہویا نہیں یا وہ کہے میرے نزدیك زنا موجب حرمت مصاہرت نہیں زید پوچھے بھلا بے نکاح مس میں کیاکہتے ہو۔
یہ چھ دلائل جلائل سیاق میں تھے اب نفس عبارت پر نظر کیجئے کہ ا س کی شہادت سب سے اتم واکمل و قاطع جدل ہے۔ امام طحاوی نے بنی ہاشم پر مطلق صدقات کی حرمت ثابت کرکے فرمایا : یہ امام ابو حنیفہ و امام ابو یوسف و امام محمد کا مذہب یعنی ان سے ظاہر الروایۃ ہے کہ قول نہیں کہتے مگر ظاہر الروایۃ کو پھر امام سے اختلاف روایت ذکر کیا اور اول بلفظ روی عنہ کہ صریح ضعف روایت پر دلیل ہے وہ روایت شاذہ بلا سند ذکر کی پھر بسند متصل نقل کیا کہ امام کا قول مثل قول امام ابو یوسف ہے اور اس پر فرمایا فبھذا ناخذ۔ اب دیکھ لیجئے کہ امام طحاوی نے امام ابو یوسف کا کیا مذہب بیان فرمایا تھا جس پر حوالہ کرتے ہیں کہ ہمیں اس سند کے ساتھ امام سے اسی مذہب ابو یوسف کے مطابق پہنچا آخر وہ نہ تھا مگر اطلاق تحریم تو قطعا اسی کو بھذا نا خذ فرما رہے ہیں یہ تو یقینا معلوم کہ اوپر امام ابو یوسف کا کوئی قول نہ گزرا مگرتحریم اور یہ بھی نہایت واضح و جلی کہ حوالہ نہیں کرتے مگر امر مذکور پر لاجرم ماننا ہوگاکہ اختلاف روایت بتا کر پہلے لفظ روی عنہ روایت ابوعصمہ روایت کی پھر وحدثنی (مجھے بیان کیا۔ ت)سے مذہب تحریم کہ اصول اسی طریق محمد عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ (امام محمد نے امام ابو یوسف سے انھوں نے امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ تعالی سے روایت کیا ۔ ت)سے مروی رنگ اسناد دیا اور اسی کو بھذا ناخذ ( اسی پر عمل ہے۔ ت) سے مذیل کیا اب سارابیان اول سے آخر تک
#9561 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
منتظم و ملتئم ہوگیا اور تمام اعتراضات و استغربات دفعۃ دفع ہوگئے و اخذ الکلام بعضہ بحجربعض (ورنہ یہ تو بعض کلام کو لینا اور بعض کو چھوڑنا ہے۔ ت)
تامل کیجئے تو کلام امام کا یہ وہ یقینی محمل ہے جس کے سوا دوسرا محتمل نہیں اور ہنوز اس کے مؤیدات نفس کلام و دیگر وجوہ سے بکثرت باقی ہیں مثلا :
سیزدہم : آشنائے کلام محدثین جانتا ہے کہ وہ جس قول کو مسندالاتے ہیں یا تو سند لکھ کر اسے بیان فرماتے ہیں وھو الاکثر (اکثر کا طریقہ یہی ہے۔ ت) یا قول بیان کرکے سند یوں ذکر کرتے ہیں کہ حدثنی بذلك فلان عن فلان یا حدثنی فلان عن فلان مثلہ (مجھے فلاں سے فلاں نے بیان کیا فلاں نے فلاں سے اسی کی مثل بیان کیا۔ ت) تاکہ اسناد مسند سے مرتبط ہوجائے نہ یوں کہ بالکل تغایر وانقطاع رہے کہ روی عن ابی حنیفۃ کذاوحدثنی فلان عن ابی حنیفۃ(امام ابوحنیفہ سے اسی طرح مروی ہے اور مجھے فلاں نے امام ابو حنیفہ سے فلاں کی مثل قول کیا ہے ۔ ت)
چہادہم : اگر ایسا ہی مانئے تو ضرور ہے کہ قول ابی یوسف بھی جواز ہو حالانکہ قول ابی یوسف قطعا تحریم ہے بلکہ قول درکنار شاید ان سے کوئی روایت شاذہ بھی مثل روایت نوح نہیں۔
پانزدہم : خود امام طحاوی چند سطر کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ قول ابی یوسف موالی پر بھی تحریم ہے نہ کہ خود اصول کے لیے جواز۔
شانزدہم اور چند سطر بعد فرمایا قول ابی یوسف میں ہاشمی کو شبہ زکوۃ روا نہیں یعنی اپنے عمل کی اجرت مال زکوۃ سے لینا پھر اجازت حقیقت چہ معنی تو لاجرم قول ابی یوسف وہی تحریم ہے اور اس سند کا متن اسی پر محول اور وہی بھذا ناخذ(اسی پر ہمارا عمل ہے۔ ت)سے مذیل۔
ہفد ہم اوپر سن چکے کہ روایت جواز روایت نوح ابن ابی مریم ابو عصمہ مروزی تلمیذ امام ابو حنیفہ و امام ابی لیلی و کلبی ہے اور امام طحاوی اپنی روایت اپنی روایت مختارہ کو بطریق سلسلۃ الذہب محمد عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ (امام محمد نے امام ابو یوسف سے اور انھوں نے ابو حنیفہ سے روایت کیا ہے۔ ت) روایت فرماتے ہیں اگر وہی روایت اس طریق سے مروی ہوتی روی ابو یوسف عن ابی حنیفۃ(امام ابو یوسف نے امام ابوحنیفہ سے روایت کیا۔ ت)کہا جاتا نہ روی ابوعصمۃ (شیخ ابو عصمہ نے روایت کیا۔ ت)کہ مہر عالم افروز کو چھوڑکر چراغ کی طرف نہیں جاتے نہ ہرگز فقہاء کا داب کہ امام کی وہ روایتیں جو بطریق صاحبین مروی ہیں کسی اور کے نام سے منسوب کیاکریں خصوصا وہ صاحب بھی ایسے کہ جن کی نسبت کلام ائمہ معلوم ہے نہیں نہیں بلکہ بیشك یہ روایت جسے بھذا ناخذ(اسی پر ہمارا عمل ہے۔ ت) فرمایا انہی روایات اصول سے ہے جو
#9562 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
اس طریقہ انیقہ صاحبین سے آتی ہیں۔ یہ مجموع اٹھارہ باتیں تو اس نفس عبارت میں ہیں جن کے بعد ان شاء اﷲتعالی وضوح حقیقۃ الامر میں اصلا مجال کلام نہیں اس کے سوا بعض دلائل قاہرہ وباہرہ اسی شرح معانی الآثار کے دوسرے مقام سے سنیے جس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ امام طحاوی اس روایت مردودہ کے اصل مبنی یعنی بنی ہاشم کے لیے خمس الخمس عوض صدقات ہونے ہی کا بہ نہایت شدومد انکار بلیغ فرماتے ہیں کتاب وجوہ الفیئ وخمس المغانم میں ایك قول فرمایاکہ بعض کے نزدیك آیہ کریمہ میں ذوی القربی سے صرف بنی ہاشم مراد ہیں کہ اﷲتعالی نے جبکہ ان پر صدقہ حرام کیا یہ خمس کا حصہ اس کا عوض دیا پھر اس کا رد فرماتے ہیں کہ :
ان قولھم ھذا عندنا فاسد لان رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم لما حرمت الصدقۃعلی بنی ہاشم قد حرمھا علی موالیھم کتحریمہ ایاھا علیہم وتواترت عنہ الاثار بذلک۔
علماء کا قول ہے کہ یہ ہمارے نزدیك فاسد ہے کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جب صدقہ بنو ہاشم پر حرام فرمایا تو آ پ نے ان کے غلاموں پر بھی اسی طرح حرام فرمایا جس طرح بنو ہاشم پر حرام ہے اور اس پر آپ سے متو اتر آثار ہیں۔ (ت)
پھر احادیث ابن عباس وابو رافع و ہرمزیاکیسان رضی اللہ تعالی عنہم ذکر کر کے فرمایا :
فلما کانت الصدقۃ المحرمۃ علی بنی ھاشم قد دخل فیھم موالیھم ولم یدخل موالیھم معھم فی سھم ذوی القربی باتفاق المسلمین ثبت بذلك فساد قول من قال انما جعلت لذی القربی فی ایۃ الفیئ وفی ایۃ خمس الغنیمۃ بدلا مما حرم علیہم الصدقۃ۔
صدقہ کی حرمت میں بنوہاشم کے ساتھ ان کے غلام بھی شامل تو ہیں مگر ذوی القربی کے حصہ میں بالاتفاق بنو ہاشم کے ساتھ شامل نہیں اس سے ان لوگوں کے قول کا فساد واضح ہوگیا جو کہتے ہیں کہ ایك آیت فیئ اور آیت خمس غنیمت میں جو کچھ حضور کے رشتہ داروں کے لیے مقرر کیا گیا یہ اس صدقہ کے عوض ہے جو ان پر حرام کردیا گیا ہے (ت)
پھر دوسری دلیل نظری سے اس عوض ہونے کا فساد ثابت کرکے فرمایا :
فدل ذلك ان سھم ذوی القربی لم یجعل لمن لہ خلفا من الصدقۃ التی
یہ اس پر دال ہے کہ ذوی القربی کا حصہ جن لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے وہ ان پر حرام کردہ
حوالہ / References شرح معانی الآثار کتاب وجوہ الفیئ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٨٤
شرح معانی الآثار کتاب وجوہ الفیئ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٨٤
#9563 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
حرمت علیہ۔
صدقہ کا عوض نہیں۔ (ت)
پھر تصریح کی کہ بنی ہاشم پر صدقہ حرام ہے اور اسے احادیث متعددہ سے ثابت فرما کر ارشاد کیا :
افلا یری ان الصدقۃ التی تحل لسائر الفقراء من غیر بنی ھاشم من جہۃ الفقر لاتحل لبنی ھاشم من حیث تحل لغیرھم فکذلك الفیئ الغنیمۃ لوکان مایعطون منھا علی جہۃ الفقر اذا لماحل لھم۔
کیا وہ یہ ملا حظہ نہیں کرتے کہ بنو ہاشم کے علاوہ فقر کی وجہ سے تمام فقراء کے لیے صدقہ حلال ہے لیکن بنوہاشم پر اس علت کی بنا پر حلال نہیں جس کی بنا پر اوروں کے لیے حلال ہے تو اسی طرح فیئ اور غنیمت اگر یہ فقر کی وجہ سے انھیں عطا کئے جائیں تو یہ بھی ان کے لیے حلال نہ ہونگے۔ (ت)
اب بھی کچھ وضوح حق باقی رہا وﷲالحمد ھکذا اینبغی التحقیق اﷲ سبحانہ ولی التوفیق (اﷲتعالی ہی کے لیے ہے حمد وثناء اور تحقیق کے لیے ہی مناسب ہے اﷲسبحانہ وتعالی ہی توفیق کا مالك ہے۔ ت) رہا کہ امام طحاوی ضمن کلام میں اس روایت کی ایك توجیہ ذکر فرماگئے کہ ہمارے خیال میں اس روایت کی بنا پر امام کی نظر اس طرف گئی حاشایہ اصلا اس کے اختیار سے علاقہ نہیں رکھتا علماء کا داب ہے کہ اقوال مختلفہ میں ہر ایك کی دلیل ذکر فرماتے ہیں ہدایہ و کافی وغیرہما اس رنگ کی کتابیں اسی انداز پر ہیں پھر مختار وہی ہے جو مختار ہے اور قول کو صرف ابویوسف کی طرف نسبت کرنا کچھ مستغرب نہیں کہ امام سے تواختلاف روایت کا بیان ہی ہے اور صاحبین میں اعظم واقدم ابو یوسف ہیں معہذا مذہب تو سب کا اوپر لکھ ہی چکے یہاں فقط بتادینا تھا بالجملہ کلام امام طحاوی بہ اعلی ندامنادی کہ وہ ہرگز اس روایت ضعیفہ کی ترجیح و تصحیح کے پاس بھی نہیں بلکہ قطعاتحریم پر جازم اور اس میں بھی یہاں تك جازم کہ تحریم نافلہ پر بھی حاکم کما ھو المرجح عند المحقق علی الاطلاق والبعض الاخرین من الحذاق(جیسا کہ محقق علی الاطلاق او ربعض دیگر اکابرین کے نزدیك راجح ہے۔ ت) غالبا ابتدا میں بمتقضائے یابی اﷲالعصمۃ الالکلامہ وکلام رسولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم(عصمت صرف کلام اﷲاور کلام رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ہی حاصل ہے۔ ت) بعض علمائے ناقلین کی نظر نے لغزش فرمائی اور بھذا ناخذ(اسی پر ہمارا عمل ہے۔ ت) کی مشارالیہ وہ روایت ضعیفہ خیال میں آئی پھر علمائے مابعد نقل درنقل فرماتے چلے آئے نقد یا مراجعت کا اتفاق نہ ہوا
حوالہ / References شرح معانی الآثار ، کتاب وجوہ الفیئ وقسم الغنائم ، ایچ ایم سعید کمپنی ، کراچی ، ٢ / ١٨٤
شرح معانی الآثار کتاب وجوہ الفیئ وقسم الغنائم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٩٤
#9564 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
ورنہ حاش ﷲان کی جلیل شانیں اس سے بس ارفع ہیں کہ بامعاون و تدبر شرح آثار پر نظر فرماتے اور اس کی عبارت کے یہ معنی ٹھہراتے علامہ زین نجیم مصری بحرالرائق میں فرماتے ہیں :
قدیقع کثیر ا ان مولفایذکر شیأ خطا فی کتابہ فیأتی من بعدہ من المشائخ فینقلون تلك العبارۃ من غیر تغییر فیکثرالناقلون لھاواصلھا الواحد مخطی الخ
بہت دفعہ ایسا ہوجاتا ہے کہ ایك مصنف اپنی کتاب میں خطا کرتا ہے توبعد کے مشائخ اسے بغیر کسی تبدیلی کے نقل کردیتے ہیں ناقلین کثیر ہوجاتے ہیں حالانکہ اصل خطا کرنے والا ایك ہی تھاالخ(ت)
مشتغل علم اگر چہ میری اس طویل تقریر کو بالکل گوش نا آشنا پائے گا مگر امید کرتاہوں کہ ان شاء اﷲتعالی اس مقام کی تنقیح جمیل و تنقیدجلیل برکات علماء سے اس بے بضاعت کا حصہ تھا ع
وللارض من کاس الکرام نصیب (زمین کے لیے بھی سخیوں کے دسترخوان سے حصہ ہوتاہے)
فتبصر وتشکر و الحمد ﷲالاکبر وانما اطلنا الکلام فی ھذاالمقام لما بلغنا عن بعض علماء العصر من اجلۃ رامفور من اباحۃ الزکوۃ لحضرات الاشراف اغترارا بتلك الروایۃ وذاك الاختیار وماالعصمۃ الاباﷲالعزیز الغفار۔
غور کر شکرکر حمد اﷲکے لیے جو سب سے بڑا ہے۔ ہم نے اس مقام پر خوب طویل گفتگو اس لیے کی ہے کہ بعض معاصرین علمائے رامپور نے اس روایت کی بنا پر غلط فہمی کاشکار سادات کرام کے لیے زکوۃ کو مباح قرار دیا ہے عصمت اﷲ غالب غفار کے لیے ہی ہے(ت)
غرض میں جزم کرتا ہوں کہ بے شك بنی ہاشم پر زکوۃ حرام ہے اور بیشك اسی پر افتاء واجب اور بیشك اس سے عدول ناجائز اور بے شك وہ روایت روایۃ مرجوح اور درایۃ مجروح اور بیشك امام طحاوی اس کے خلاف پر قاطع اور بے شك ان کی تصحیح جانب ظاہر الروایۃ راجع والی اﷲالرجعی والیہ مناب (اﷲ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہی ماوی وملجا ہے ۔ ت ) واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم بالصواب۔
مسئلہ : مرسلہ مولوی حافظ محمد امیر اﷲصاحب جمادی الاولی ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زکوۃ احوج کو دینا اولی ہے خصوصا جو احوج اپنا قریب ہو یہ حکم مطلق ہے مثلا بنی ہاشم اپنے اقارب احو جین کو زکوۃ دیں یا یہ مخصوص ہیں بوجہ حدیث :
حوالہ / References بحرالرائق کتاب البیوع باب التفرقات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٦ / ١٨٥
#9565 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
یا بنی ھاشم حرم اﷲتعالی علیکم غسالۃ الناس واوساخھم الخ۔
اے بنی ہاشم ! اﷲتعالے نے تم پر لوگوں کا بچاہوا اور ان کی میل حرام کردی ہے الخ(ت) کے ۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
بیشك زکوۃ اور سب صدقات اپنے عزیزوں قریبوں کو دینا افضل اور دو چنداجرکاباعث ہے زینب ثقفیہ زوجہ عبداﷲبن مسعود اور ایك بی بی انصاریہ رضی اللہ تعالی عنہ م دراقدس پر حاضر ہوئیں اور حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی زبانی عرض کرابھیجا کہ ہم اپنے صدقات اپنے اقارب کودیں حضورپر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
لھما اجران اجرالقرابۃ واجرالصدقۃ۔ رواہ احمد والشیخان من زینب رضی اﷲتعالی عنھا۔
ان کے لیے دوثواب ہوں گے ایك ثواب قرابت اور دوسرا تصدق کا(اسے امام احمد بخاری اور مسلم نے حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا۔ ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
الصدقۃ علی المسکین صدقۃ وعلی ذی الرحم ثنتان صدقۃ وصلۃ۔ اخرجہ النسائی و الترمذی وحسنہ وابن خزیمۃ و ابن حبان فی صحیحھما والحاکم وقال صحیح الاسناد۔
مسکین کو دینا اکہر اصدقہ ہے اور رشتہ دار کو دینا دوہرا ایك تصدق اور ایك صلہ رحم(اسے نسائی اور ترمذی نے بیان کیا اور اسے حسن کہا۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں اور حاکم نے روایت کیا اور کہا اس کی سند صحیح ہے۔ ت)
بلکہ حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
یا امۃ محمد والذی بعثنی بالحق لا یقبل اﷲ صدقۃ من رجل ولہ قرابۃ محتاجون الی صلتہ و یصرفھاالی غیرہم
اے امت محمد ( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ) قسم اس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا اﷲتعالی اس کا صدقہ قبول نہیں فرماتا جس کے رشتہ دار اس کے
حوالہ / References نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ کتاب الزکوٰۃ المکتبۃ الاسلامیہ صاحبہا الحاج ریاض الشیخ ٢ / ٤٠٣
صحیح مسلم ، کتاب الزکوٰۃ فصل النفقۃ والصدقۃ علی الاقربین قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٣٢٣
جامع الترمذی ابواب الزکوٰۃ باب ماجاء فی الصدقۃ علیٰ ذی القرابۃ امین کپنی دہلی ١ / ٨٣
#9566 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
والذی نفسی بیدہ لا ینظر اﷲالیہ یوم القیامۃ۔ اخرجہ الطبرانی عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ۔
سلوك کی حاجت رکھیں اور وہ انھیں چھوڑ کر اوروں پر تصدق کرے قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اﷲتعالی روز قیامت اس پر نظر نہ فرمائے گا۔ (اسے طبرانی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
مگر یہ اسی صورت میں ہے کہ وہ صدقہ اس کے قریبوں کو جائز ہو زکوۃ کے لیے شریعت مطہرہ نے مصارف معین فرمادئے ہیں اور جن جن کو دینا جائزہے صاف بتادئے اس کے رشتہ داروں میں وہ لوگ جنھیں دینے سے ممانعت ہے ہرگز استحقاق نہیں رکھتے نہ ان کے دئے زکوۃ ادا ہو جیسے اپنے غنی بھائی یا فقیر بیٹے کو دینا یونہی اپنا قریب ہاشمی کہ شریعت مطہرہ نے بنی ہاشم کو صراحۃ مستثنی فرمالیا ہے اور بیشك نصوص مطلق ہیں۔
الشیخان واللفظ لمسلم عن ابی ھریرہ فـــــ رضی اﷲتعالی عنہ قا ل قال رسول اﷲصلی ا ﷲتعالی علیہ وسلم انا لا تحل لنا الصدقۃ احمد و ابوداؤد و الترمذی وصححہ والنسائی والحاکم وقال علی شرط الشیخین واقروہ الشیخان
وابن خزیمۃ وابن حبان والطحاوی عن ابی رافع مولی رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم من رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم ان الصدقۃ لا تحل لنا احمد وابن حبان بسند صحیح عن الحسن بن علی رضی اﷲتعالی
اور الفاظ مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں۔ مسند احمد ابوداؤد اور ترمذی نے صحیح کہا۔ نسائی حاکم نے کہا یہ شیخین کے شرائط پر ہے۔ محدثین نے اسے ثابت رکھا۔ ابن خزیمہ ابن حبان اور طحاوی نے حضرت ابو رافع (جورسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں) نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے بیان کیا کہ صدقہ ہمارے لیے حلال نہیں۔ مسند احمد اور ابن حبان نے سند صحیح کے ساتھ حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہما سے
حوالہ / References مجمع الزوائد بحوالہ معجم اوسط ، باب الصدقۃ علی الاقارب الخ دارالکتاب العربی بیروت ، ٣ / ١١٧
صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٣٤٤
جامع الترمذی ابواب الزکوٰۃ باب ماجاء فی کراہیۃ الصدقۃ للنبی الخ امین کمپنی دہلی ١ / ٤٣
فـــــ : صحیح مسلم میں مذکورہ حوالہ میں “ عن ابی ھریرۃ “ کی جگہ “ عن شعبہ لھذا الاسناد “ ہے۔
#9567 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
عنھما عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم اناال محمد لا تحل لنا الصدقۃ احمد عن ام کلثوم رضی اﷲتعالی عنھا ومسلم عن مھران مولی رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم عن رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم مثلہ وھو عندالطحاوی عن ام کلثوم ان مولی لنا یقال لہ ھرمز او کیسان الحدیث الطبرانی عن ابن عباس یرفعہ الی النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم انہ لا یحل لکما اھل البیت من الصدقات شئی احمد و ابوداؤد والنسائی والحاکم وصححہ۔ والطحاوی عن بھزبن حکیم عن ابیہ عن جدہ عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم لا یحل لال محمد منھا شئی۔ الی غیر ذلك من العمومات والاطلاقات التی لا تکاد تحصی لکثر تھا۔
مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا آل محمد کے لیے صدقہ حلال نہیں۔ مسند احمد میں حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا اور مسلم میں حضرت مہران(رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے آزاد کردہ غلام) سے انھوں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اسی کی مثل روایت کیا ہے امام طحاوی کے نزدیك یہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالی عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے آزاد شدہ غلام تھے جنھیں ہرمزیاکیسان کہا جاتاہے الحدیث طبرانی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول ا ﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اے اہل بیت! تمھارے لیے صدقات میں سے کوئی شئی حلال نہیں۔ مسنداحمد ابوداؤد نسائی اور حاکم نے اسے صحیح کہا۔ طحاوی نے حضرت بہز بن حکیم انھوں نے اپنے دادا سے انھوں نے رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا کہ آل محمد کے لیے صدقات میں سے کوئی شئی حلال نہیں۔ اور ان کے علاوہ دیگر عمومی اور اطلاق دلائل جن کا احصا کثرت کی وجہ سے دشوار ہے۔ (ت)
تو بیشك حکم احادیث ہاشمیوں پر مطلق زکوۃ کی تحریم ہے خواہ ہاشمی کی ہو یا غیر ہاشمی کی اور یہی مذہب امام کا ہے اور یہی ان سے ظاہر الروایۃ اور اسی پر متون تویہی معتمد ہے
فی الدرالمختار ظاہر المذہب اطلاق المنع وقول العینی والھاشمی یجوزلہ دفع زکوتہ
درمختار میں ہے ظاہر مذہب یہی ہے کہ سادات کو صدقہ دینا ہر حال میں منع ہے امام عینی کا قول کہ ہاشمیاپنی زکوۃ ہاشمی
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل مروی از حسن بن علی رضی اﷲ عنہ دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٢٠٠
شرح معانی الآثار کتاب وجوہ الفیئ وقسم الغنائم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ١٨٤
المعجم الکبیر حدیث ١١٥٤٣ مروی از عبدا ﷲابن عباس رضی اﷲعنہ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ، ١١ / ٢١٧
مسند احمد بن حنبل ، دیث بہزبن حکیم الخ دارالفکر بیروت ، ٥ / ٢و٤
#9568 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
لمثلہ صوابہ لا یجوز نھر اھ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
کو دے سکتا ہے اسے درست قرار دینا جائز نہیں نہر اھ واﷲسبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ : ازشہر بریلی مسئولہ منشی شوکت علی صاحب محرر چونگی شب ذی الحجہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زکوۃ کا روپیہ کافر مشرك وہابی رافضی قادیانی وغیرہ کو دینا جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
ان کو دینا حرام ہے اور ان کودئے زکوۃ ادا نہ ہوگی واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : ازپنڈ ول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی صاحب ربیع الاول شریف ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خالصا ﷲ ولوجہ اﷲ جو چیز دی جائے اس کا کھانا امیر و غنی کو کیسا ہے
الجواب :
صدقہ واجبہ جیسے زکوۃ و صدقہ فطر غنی پر حرام ہے اور صدقہ نافلہ جیسے حوض یا سقایہ کا پانی یا مسافر خانے کا مکان غنی کو بھی جائز ہے مگر میت کی طرف سے جو صدقہ ہوتا ہے غنی نہ لے نہ غنی کودیں۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از راندیر یہ ضلع سورت ڈاکخانہ خاص مسئولہ جناب مولنا مولوی فقیر غلام محی الدین صاحب رمضان المبارك ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آج کل سمرنافنڈ میں صاحب زکوۃ سے زکوۃ اور جن پر قربانی واجب ہے ان سے قربانی کی قیمت طلب کررہے ہیں اور اس کے لیے گجراتی بڑے لمبے چوڑے اشتہار چھپے ہیں کیا صاحب زکوۃ اور جن پر قربانی واجب ہے ان کی قربانی سمرنافنڈ میں دینے سے ہوجائے گیبینو اتوجروا۔
الجواب :
جس پر قربانی واجب ہے اسے حرام ہے کہ قربانی نہ کرے اور اس کی قیمت کسی فنڈمیں دے دے اس سے ہرگز قربانی ادا نہ ہوگی واجب کا تارك ہوگا اور عذاب کا مستحق اور ایسے چندوں میں دینے سے کہ لوگ بطور خود کرتے ہیں اور سب کے چندے زکوۃ وغیر زکوۃ کے بلکہ مرتدین نا اہل زکوۃ مثل وہابیہ وغیر ہم کے سب خلط کرلیتے ہیں
حوالہ / References درمختار باب المصرف مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤١
#9569 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
زکوۃ ادا نہیں ہوسکتی ہاں اعانت مسلمین کی نیت پرثواب پائے گا مگر فرض زکوۃ سر پر باقی رہے گا وھوتعالی اعلم۔
صدقہ فطر کا بیان
مسئلہ : از نینی تال مرسلہ شیخ عنایت حسین صاحب رمضان المبارکھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ واقعہ کان پور میں مسلمانوں سے دربارہ مسجد پولیس سے فساد ہوگیا پولیس نے انھیں نشانہ بندوق بنالیا اب ان کے غریب بچے یتیم ہوگئے اور نادار مسلمان زخمی ہوکر گرفتار کر لیے گئے اب ان کی رہائی اور پرورش حفاظت جا ن وعزت کے لیے روپے کی ضرورت ہے مسلمان چاہتے ہیں کہ صدقہ فطر رمضان المبارك اس کا رخیر کے متعلق دے دیا جائے عندالشرع دیا جاسکتا ہے یا نہیں
الجواب :
صدقہ فطر میں مسلمان فقیر کو دے کر مالك کر دینا شرط ہے تو اگر غرباء کو دے کر مالك کردیں تو جائز ہے یا فقیر کو دیں اوروہ اپنی طرف سے مقدمہ میں لگانے کو دے دیں تو جائز ہے ورنہ مقدمے اٹھانے یا وکیلوں کو دینے سے صدقہ ادا نہ ہوگا۔ درمختار میں ہے :
صدقۃ الفطر کالزکوۃ فی المصارف وفی کل حال۔
صدقہ فطر مصارف اور تمام احوال میں زکوہ کی طرح ہے۔ (ت)
ردالمختار میں ہے :
من اشتراط النیۃ واشتراط التملیلك فلا تکفی الاباحۃ کمافی البدائع۔ واﷲتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
یعنی نیت اور تملیك دونوں شرائط ہیں تو محض اباحت کفایت نہ کرے گی کما فی البدائع۔ (ت)
مسئلہتا : از راولپنڈی لال کرتی مرسلہ دین محمد صاحب فروش رمضان المبارك ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
()صدقہ فطر لینا امام مسجد کو جائز ہے یانہیں
حوالہ / References درمختار باب صدقۃ الفطر مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٥
ردالمحتار ، باب صدقۃ الفطر ، مصطفی البابی مصر ، ٢ / ٨٦
#9570 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
() مردوں کے مال یعنی صدقہ وغیرہ لینا بالامذکور کو جائز ہے یا نہیںحالانکہ امام مسجد صاحب زکوۃ و صاحب مال ہو دیگر امام مسجد کو ہر جمعرات کو برائے تیل کے نقد و تیل منگانااور اپنے ذاتی مصرف میں لانا جائز ہے یانہیںقربانیوں کی کھالیں وغیرہ لینا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
صاحب نصاب کو اگرچہ امام مسجد ہو کوئی صدقہ واجبہ مثل زکوۃ یا صدقات عیدالفطر یا کفارات جائز نہیں حرام ہے اور اس کے دئے وہ زکوۃ و صدقہ ادانہ ہوں گے۔ قربانی کی کھال اگرلوگ اپنی خوشی سے دیں لے سکتا ہے مانگ کر اپنا حق قرار دے کر لینا جائز نہیں۔ اموات کی طرف سے جو نفل صدقہ دیا جاتا ہے اگر دینے دینے والے نے اسے فقیر سمجھ کردیا اور اس نے اپنا صاحب نصاب ہونا چھپایا تو یہ بھی حرام ہے ورنہ مکروہ و ناپسند۔ تیل وغیرہ کے لیے نقد منگا کر جو بچے اپنے صرف میں کرنا بھی حرام ہے مگر اس صورت میں کہ دینے والے اس بات سے آگاہ اور اس پر راضی ہوں تو کچھ مضائقہ نہیں۔ بقولہ تعالی عن تراض منكم- ( اﷲتعالی کا فرمان ہے تمھاری رضا مندی سے ہو۔ ت)واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از دیوبند ضلع سہارنپور مسجد جامع مرسلہ مولوی اظہرالدین بنگالی ذی القعدہ ھ
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جس ملك میں چاول کثرت سے پیدا ہوں اور وہاں کے باشندوں کی غذا چاول ہی ہو اور گندم مطلقا پیدانہ ہومگر دوسرے ملکوں سے کچھ آتا ہے لیکن وہ بھی ہرجگہ نہیں ملتا ہے بلکہ شہر و قصبہ میں ملتا ہے اور اس کو کوئی غذا کھاتا بھی نہیں بلکہ دوامی اتفاقا استعمال میں لاتے ہیں اور جو بھی بہت قلت طور پر پیدا ہو مثلا چار پانسو یا ہزار دوہزار بیگھہ میں سے کسی ایك آدھ بیگھہ میں بولیا اور اس کو ستو بنا کر برس چھ ماہ میں کبھی ناشتہ کے طور پر کھالیتے ہیں اور خرما ناپیدا ہے اور نہ کہیں ملتا ہے بس ایسے ملك کے باشندوں پر صدقہ فطر نصف صاع گندم کی قیمت میں جس قدر چاول آئے وہ واجب ہوگا یا ایك صاع چاول واجب ہوگا بینو ابالدلیل جزاکم اﷲالجلیل (دلیل کے ساتھ بیان کیجئے اﷲتعالی آپ کو جزادے۔ ت)
الجواب :
شرع مطہر نے یہ صدقہ صرف چار چیزوں سے مقرر فرمایا ہے : گیہوں جو خرما زبیب۔ ان کے سوا پانچویں کوئی چیز چاول ہو یا دھان یا کپڑا وہ انھی میں ایك کی قیمت کے اعتبار سے جائز ہے ورنہ نہیں
حوالہ / References القرآن ۴ / ۲۹
#9571 · رسالہ : الزّھر الباسم فی حُرمۃ الزکوٰۃ علٰی بنی ھاشم ١٣٠٧ھ (بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حُرمت کے بارے میں کِھلا ہُوا شگوفہ)
گیہوں سے نیم صاع واجب ہے یعنی ایك سو پینتیس تولے کہ انگریزی روپیہ سے ایك سوچوالیس روپیہ بھر ہوا اور اسی۸۰ روپیہ کے سیر سے پونے دوسیر اور پون چھٹانك اور بیسواں حصہ چھٹانك کا اور جوسے اس کا دونا گیہوں یا جو کا وہاں کم پیدا ہونا یا غذا میں مستعمل نہ ہونا یا دیہات میں نہ ملنا چاول کو بے لحاظ قیمت صرف صاع یا نیم صاع دے دینے کے قابل نہیں کرسکتا بلکہ واجب ہے کہ اپنے ضلع میں گیہوں نیم صاع یا جو ایك صاع کی جو قیمت ہو اس قدر دام یا اتنے دام کے چاول یا اورچیز ادا کردیں۔ فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
انما تجب من اربعۃ اشیاء من الحنطۃ و الشعیر والتمر والزبیب وماسواہ من الحبوب لا یجوز الابالقیمۃ اھ بالالتقاط
چار اشیاء میں واجب ہے : گندم جو کھجوراور زبیب۔ ان کے ماسوا میں قیمت کے علاوہ جائز نہیں اھ اختصارا(ت)
منسك متوسط میں ہے :
ھذہ اربعۃ انواع لاخامس لھا واما غیرھا من انواع الحبوب فلا یجوز الاباعتبار القیمۃ کالارز والذرۃ والماش والعدس والحمص وغیر ذلک۔
یہ چار انواع ہیں ان کی پانچویں نہیں ان کے علاوہ دانوں میں قیمت کے علاوہ کسی کا اعتبار نہیں مثلا چاول باجرہ مسور اور چنے وغیرہ۔ (ت)
درمختار میں ہے :
مالم ینص علیہ کذرۃ وخبز یعتبر فیہ القیمۃ۔ واﷲتعالی اعلم۔
جس پر نص نہیں مثلا باجرہ اور روٹی ان میں قیمت کا اعتبار ہوگا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)ت
مسئلہ : ربیع الآخر شریف ھ
چہ می فرمایند علمائے دین و مفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ اگر درخانہ کسے مثلا دہ کس موجود باشند بعض از ان غلام و پسر صغیرو بعض زوجہ خود و پسر کبیر پس صدقہ فطر ہفت کس یا ہشت کس ادا کردہ شود
علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ اگر کسی کے گھر میں دس افراد ہوں بعض ان میں سے غلام بعض چھوٹے بچے بعض کے ساتھ بیوی اور بڑے بچے ہوں تو صدقہ فطر
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الباب الثامن فی صدقۃ الفطر نورانی کتب خانہ پشاور ، ١ / ٩٢-١٩١
منسك متوسط متن مسلك متقسط مع ارشاد الساری فصل فی الجزاء اللبس والتغطیۃ دارالکتاب العربی بیروت ص٢٦٤
در مختار باب صدقۃ الفطر مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۴۵
#9572 · صدقہ فطر کا بیان
و صدقہ دو آدمی یاسہ آدمی از غلام و پسر صغیر باشد یا غیر آں دادہ نہ شود پس صدقہ کسانے کہ ادا کردہ شد شرعا صحیح ودرست خواہد شد یانہبینوا بالکتاب توجروایوم الحساب۔
سات افراد کا ہوگا یا آٹھ کا دو آدمیوں یا تین غلام اور چھوٹے بچوں کا صدقہ نہ دیاہو جن اشخاص کا صدقہ دیا ہے وہ شرعا درست ہوگا یانہیں
کتاب سے جواب دے کر روز حساب اجر پاؤ۔ (ت)
الجواب :
ہر چہ مؤدی از اطفال صغار خود ادا کردادا شد کہ وجوب ہم بروست نہ بر اطفال وانچہ از زوجہ و اولاد کبارعاقلین داداگر باذن ایشاں بود نیز از ایشاں ادا شد ورنہ نے فی ردالمحتار عن البحرلوادی زکوۃ غیرہ بغیر امرہ فبلغہ فاجازلم یجز لانھا وجدت نفاذاعلی المتصدق لانھا ملکہ ولم یصرنائبا عن غیرہ فنفذت علیہ ولو تصدق عنہ بامرہ جاز (ملخصا)واﷲ تعالی سبحنہ اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
چھوٹے بچوں کی طرف سے جواد اکیا وہ ادا ہوجائے گا کیونکہ وہ واجب ہی والد پر تھا۔ اور جو بیوی اور بڑی اولاد کی طرف سے ادا کیا اگر ان کا اذن تھا تو بھی ادا ہوجائیگا اور اگر اذن نہ تھا تو صدقہ ادانہ ہوگا۔ ردالمحتار میں بحر سے ہے : اگر کسی نے دوسرے کی طرف سے اس کی اجازت کے بغیر زکوۃ ادا کردی پھر دوسرے تك خبر پہنچی اور اس نے اسے جائزبھی رکھا تب بھی زکوۃ ادا نہ ہوگی کیونکہ اس کا نفاذ صدقہ کرنے والے پر ہے کیونکہ وہ زکوۃ اس کی ملکیت ہے اور غیر سے نائب بن نہیں سکتا کہ اس کی اجازت کا نفاذ ہو ہاں اگر اجازت سے زکوۃ ادا کی ہو تو پھر جائز ہوگا(ملخصا) واﷲتعالی سبحانہ اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ : جمادی الاول ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زکوۃ اور صدقہ فطر کا نصاب برابر ہے یا کچھ فرق ہےبینواتوجروا۔
الجواب :
مقدار نصاب سب کے لیے ہے کچھ فرق نہیں ہاں زکوۃ میں مال نامی ہونا شرط ہے کہ سونا چاندی چرائی پر چھوٹے جانور تجارت کا مال ہے وبس اور سال گزرنا شرط ہے صدقہ فطر و قربانی میں یہ کچھ
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ مصطفی البابی مصر ٢ / ١٢
#9573 · صدقہ فطر کا بیان
درکار نہیں کما فی جمیع الکتب (جیسا کہ سب کتابوں میں ہے۔ ت) واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : از شہر بریلی محلہ ملوکپور مرسلہ جناب سید محمد علی صاحب نائب ناظر فرید پور رمضان المبارك ھ صدقہ فطر کی مقدار فی کس کیا ہے
الجواب :
تین سوا کاون روپے بھر جو یا اس کے آدھے گیہوں کہ بریلی کی تول سے پونے دوسیر ایك اٹھنی بھر ہوئی۔ واﷲتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم احکم۔
مسئلہ : از کمریٹ روٹی گودام چھاؤنی لکھنؤ مرسلہ مولوی سید باسط احمد شوال المکرم ھ
() وزن فطرہ بحساب سیر لکھنؤکتنا دینا چاہئےنصف صاع بوزن سیر لکھنؤ کتنا ہوتا ہے
()گز شرعی بہ حساب گز نمبر مروجہ لکھنؤ کس قدر ہے
الجواب :
()گیہوں کا صاع دوسوستر تولے ہے کہ انگریزی روپے سے دوسواٹھاسی روپے بھر ہوئے۔ نصف صاع کے ایك سوچوالیس روپے بھر گیہوں۔ لکھنؤکا سیر اسی روپے بھر کا ہے تو اس سے دوسیر ہوئے سیر کا / یعنی پونے دوسیر سے چار روپے بھر اوپر لیکن زیادہ احتیاط یہ ہے کہ جو کے صاع سے گیہوں دئے جائیں جو کے صاع میں گیہوں تین سوا کاون روپے بھر آتے ہیں تو نصف صاع ایك سو پچھتر روپے آٹھ آنے بھر ہوا لکھنؤ کا سوا دوسیر اٹھنی بھر کم۔
() نمبری گز کہ تین فٹ کا ہے ہر فٹ بارہ انچ گز شرعی جسے ذراع کر باس کہتے ہیں اس کا نصف یعنی آٹھ گرہ کے برابر ہے کہ وہ چوبیس انگل ہے اور ہرگرہ تین انگل۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ تا : از موضع خورد مئو ڈاکخانہ بدو سرائے ضلع بارہ بنکی مرسلہ سید صفدر علی صاحب شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین امور ذیل میں :
() زید کی بیوی ہندہ جو مالك نصاب نہیں ہے مع اپنے ایك خوردسال بچے کے اپنے باپ بکر کے یہاں یعنی میکے میں عیدالفطر کو قیام رکھتی ہے تو اس کا اور اس کے لڑکے کا صدقہ کس کو دینا چاہئے آیا زید کو جو ہندہ کا شوہر ہے یا بکر کو جو ہندہ کا باپ ہے۔
() اگر کوئی مہمان یہاں یا رمضان شریف سے مقیم ہے یا قبل طلوع فجر عیدالفطر آیا تو کیا ان مہمانوں کا صدقہ شرعامیزبان کو ادا کرنا چاہئے یا مہمان اپنا صدقہ خود اد ا کریں
#9574 · صدقہ فطر کا بیان
الجواب :
()خورد سال بچے کا صدقہ فطر اس کے باپ پر ہے اور عورت کا نہ باپ پر نہ شوہرپر صاحب نصاب ہوتی تو اس کا صدقہ اسی پر ہوتا ہے۔
() مہمان کا صدقہ میربان پرنہیں وہ اگر صاحب نصاب ہیں اپنا صدقہ آپ دیں۔ وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ : ربیع الاول شریف ۳۳ھ
فطرہ رمضان کے نصف صاع آٹے کے عوض میں اگر نصف چاول دے دے تو کیا حکم ہےبینو اتوجروا۔
الجواب : چاول کی قیمت کے اعتبار سے دئے جائیں گے خواہ وزن میں نصف صاع ہوں یا زیادہ یا کم یعنی نصف صاع گندم کی قیمت میں جتنے چاول آئیں اتنے دئے جائیں گے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : (جلد میں سوال نہیں)
الجواب : صاع چارمد ہے اور مد دور طل اور ر طل بیس استار اور استار ساڑھے چار مثقال اور مثقال ساڑھے چار ماشے اور تولہ بارہ ماشے اور انگریزی روپیہ سوا گیارہ ماشے تو صاع دوسو ستر تولے اور روپیوں سے دوسواٹھاسی روپے بھر تو اسی روپے کے سیر سے سیر چھٹانك اور / چھٹانك یا یوں کہئے کہ ساڑھے تین سیر ڈیڑھ چھٹانك اور / چھٹانک۔ اس حساب میں کوئی شك نہیں اسی تول کے گیہوں دئے جاتے تھے ۔
لما فی الفتح یعتبر نصف صاع من برمن حیث الوزن عند ابی حنیفۃ۔
کیونکہ فتح میں ہے کہ امام ابوحنیفہ کے ہاں وزن کے اعتبار سے نصف صاع گندم کا اعتبار ہے(ت)
رمضان المبارك سے علامہ شامی کی یہ احتیاط زیادہ پسند آئی کہ صاع لیا جائے جو کا اوراس کے وزن کے گیہوں دئے جائیں ظاہر ہے کہ جو ہلکا ہے جتنے برتن میں دوسوسترتولے جو آئیں گے جب وہ گیہوں سے بھر اجائے گا تول میں زیادہ چڑھیں گے اس میں فقیروں کا نفع زیادہ ہے۔ ردالمحتار میں ہے :
علی ھذا الاحوط تقدیرہ بالشعیر ولھذا اس بنا پر احتیاط اسی میں ہے کہ ااس کا تقرر جو
حوالہ / References فتح القدیر ، فصل فی مقدار الواجب وقتہ ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ٢ / ٢٢٩
#9575 · صدقہ فطر کا بیان
نقل بعض المحشین عن حاشیۃ الزیلعی للسید محمد امین میر غنی ان الذی علیہ مشائخنا بالحرم الشریف المکی ومن قبلھم من مشائخھم وبہ کانوایفتون تقدیرہ بثمانیۃ ارطال من الشعیر ولعل ذلك لیحتاطوافی الخروج عن الواجب بیقین لما فی مبسوط السرخسی من ان الاخذ بالاحتیاط فی باب العبادات واجب اھ فاذاقدربذلك یسع ثمائیۃ ارطال من العدس ومن الحنطۃ ویزید علیھا البتۃ بخلاف العکس فلذاکان تقدیر الصاع بالشعیر احوط اھ الخ
سے ہو اسی لیے بعض محشین نے حاشیہ زیلعی للسید محمد امین میر غنی سے نقل کیا حرم مکی کے مشائخ اور ان سے پہلے ان کے مشائخ نے اسی پر اعتماد کیا اور وہ اسی پر فتوی دیا کرتے تھے کہ آٹھ رطل جو کا اعتبار ہوگا اور شاید انھوں نے یہ اس لیے کیا تاکہ واجب کی ادائیگی بالیقین ہوجائے اور اس لیے بھی کہ مبسوط سرخسی میں ہے کہ عبادات کے معاملے میں احتیاط پر عمل واجب ہوتا ہے اھ جب صاع کا تقرر یوں ہواتو اب مسور اور گندم کے آٹھ رطل کی گنجائش بھی ہوگی اوریہ اس سے بہر صورت بڑھ جائیں گے بخلاف عکس کے۔ اسی لیے صاع کا تقرر جو کے ساتھ کرنا احوط ہے اھ الخ(ت)
اس بناپر بنظر احتیاط وزیادت نفع فقراء نے ماہ مبارك ھ کو ایك سوچوالیس روپیہ بھر جو وزن کئے کہ نصف صاع ہوئے اور انھیں ایك پیالے میں بھرا حسن اتفاق کہ تام چینی کا ایك بڑا کاسہ گویا اسی پیمانہ کا ناپ کر بنایا گیا تھا وہ جو اس میں پوری سطح مستوی تك آگئے من دون تکویم ولا تقعیر(بغیر ابھار اور گہرائی کے۔ ت)تو وہی کاسہ نصف صاع شعیری ہوا پھر میں نے اسی کاسہ میں گیہوں بھر کر تولے توبریلی کے سیر سے (۔ ۔ ۔ ) ثار اور ایك اٹھنی بھر ہوئے یعنی ایك سو پھچتر روپے آٹھ آنہ بھر تویہ وزن گندم ہوا اور اس کا دوچند روپیہ بھر وزن جو۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : از ریاست کشمیر ضلع میرپور ڈاك خانہ نوشہرہ موضع پھڈہ مرسلہ مولوی محمد عبداﷲصاحب ذی الحجہ ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ درمختار میں صاعدرہم لکھا ہے اور اکثر کتب میں من مثقال کا ہے وبقول معروف کل عشرۃ دراھم سبعۃمثاقیل(معروف قول کے مطابق ہردس دراہم کا وزن سات مثقال ہونا چاہئے۔ ت) ایك من مثقال کا ہوتا ہے تو صاع میں آٹھ مثقال زیادہ آئے اور ایسے ہی شیخ دہلوی نے شرح سفر السعادۃ و شرح مشکوۃ میں وزن صاع لکھا ہے قاعدہ مذکور سے پورا موافق
حوالہ / References ردالمحتار ، باب صدقۃ الفطر ، مصطفی البابی مـصر ، ٢ / ٨٤
#9576 · صدقہ فطر کا بیان
نہیں آتا ہے یہ تحقیق و تدقیق فرما کر جلد عنایت کیجئے۔
الجواب :
صاع چارمن چالیس استار اور استار ساڑھے چار مثقال ساڑھے چار ماشے اور ماشہ آٹھ رتی اور رتی آٹھ چاول اور بارہ ماشے کا ایك تولہ تو صاع دوسوستر تولے ہے اور انگریزی روپیہ رائج سے کہ روپیہ سواگیارہ ماشے کا ہے صاع دوسو اٹھاسی روپیہ بھر اور من ایك سواسی مثقال یعنی سڑسٹھ تولے چھ ماشے یعنی بہتر روپیہ بھر۔ یہ وزن محقق ہے جس میں اصلا شبہ نہیں غرر الافکارشرح دررالبحار میں ہے :
الصاع اربعۃ امداد والمد رطلان والرطل نصف من والمن بالاستار اربعون والاستار بالمثاقیل اربعۃ ونصف اھ مختصرا۔
صاع چار مد کا ہوتا ہے اور مد دو رطل کا رطل نصف من کا من چالیس استار کا اور استار ساڑھے چار مثقال کا ہوتا ہے اھ اختصارا(ت)
کشف الغطاء میں ہے :
بدانکہ معتبرنزد ماعراقی وآن ہشت رطل ست ورطل بست استار واستار چار و نیم مثقال و مثقال بست قیراط یك حبہ وچہار خمس حبہ وحبہ کہ آنرا بفارسی سرخ گویند ہشتم حصہ ماشہ است پس مثقال چہار و نیم ماشہ باشد۔
واضح رہے کہ ہمارے نزدیك معتبر عراقی(صاع) ہے اور وہ آٹھ رطل کا ہوتا ہے ایك رطل بیس استار اور استار ساڑھے چار مثقال مثقال بیسقیراط ایك حبہ اور چہار خمس حبہ ہے۔ حبہ جسے فارسی میں “ سرخ “ کہتے ہیں ماشہ کا آٹھواں حصہ ہوتا ہے پس مثقال ساڑھے چار ماشہ ہوا۔ (ت)
حضرت شیخ محقق دہلوی قدس سرہ القوی کا بیان اصلا اس سے مخالف نہیں مثقالوں کا یہی حساب رکھا ہے کہ سات سوبیس مثقال کا صاع اکبری وجہانگیری سیروں سے اس کا اندازہ بتایا ہے اکبری سیر تیس استار کا تھا اور صاع ایك سوساٹھ استار تو صاع ÷= - / سیر اکبری ہوا اور سیر جہانگیری استار تو صاع ÷=- / سیر جہانگیری ہوا۔ شرح صراط مستقیم فصل زکوۃ فطر میں فرماتے ہیں :
صاع عراقی ہشت رطل وصاع حجازی پنج رطل وثلث رطل
عراقی صاع آٹھ رطل اور حجازی پانچ رطل اور ثلث رطل
حوالہ / References ردالمحتار ، بحوالہ شرح دررالبحار ، باب صدقۃ الفطر ، مصطفی البابی مصر ، ٢ / ٨٣
کشف الغطاء فصل دراحکام دعا وصدقہ ونحوان ازاعمال خیر برائے میّت مطبع احمدی ، دہلی ص ٦٨
#9577 · صدقہ فطر کا بیان
وواجب نزد شافعی صاع حجازی ست ونزد ما نصف صاع عراقی وآن دومن ست و من چہار استار و استار چہارونیم مثقال ۔ پس من صد و ہشتادمثقال بود کذا قال شارح الوقایۃ وازکتب دیگر نیز ہمچنیں معلوم می گردد وچوں ایں حساب را بوزن دیارخود کار فرمائیم نصف صاع بوزن اکبر شاہی کہ سیرے سی سیرشاہی بود دو ونیم سیری می شود وپنج سیر شاہی وبوزن حال جہانگیر شاہی ابد اﷲ ملکہ وسلطنۃ کہ سیرے سی وشش سیر شاہی بود دو سیر یك پاؤمی شود بیك سیر شاہی کم بایں حساب کہ صاع ہفت صد وبست مثقال ست ازانکہ صاع چہارمن ست ومن چہل استار واستار چہار و نیم مثقال پس ہر من صد و ہشتاد مثقال ست لازم آید کہ نصف صاع ہشتاد شیر شاہی باشد وہشتاد سیر شاہی دو ونیم سیر و سیر و پنج سیر شاہی بود بوزن قدیم و دوسیرو یك سیر شاہی کم بوزن حال۔ واﷲتعالی اعلم اھ
ہے۔ امام شافعی کے نزدیك صاع حجازی واجب ہے اور ہمارے نزدیك صاع عراقی جو دومن کا ہوتاہے اور من چار استار اور استار ساڑھے چارمثقال ہے لہذا من ایك سواسی مثقال ہوا جیسا کہ شارح وقایہ نے کہا اور دوسری کتب سے بھی اسی طرح معلوم ہوتا ہے جب ہم اس کا حساب اپنے شہروں کے وزن کے اعتبار سے کرتے ہیں تو نصف صاع اکبری سیروں کے مطابق - / سیر استار ہوگا اور جہانگیری(اﷲتعالی اس کے ملك و سلطنت کی حفاظت کرے) سیروں کے مطابق - / سیر اور ایك استار کم بن جاتا ہے یہ اس حساب سے کہ صاع مثقال ہو اور اگرصاع من اور من استار اور استار - / مثقال ہو تو ہر من مثقال ہوگا جب استار- / ۲مثقال ہے تولازم آیا کہ نصف صاع استار اور استار- / سیر اور استار قدیم وزن ہوا اور - / سیر ایك استار کم موجودہ وزن ہوا۔ واﷲتعالی اعلم اھ (ت)
سیر شاہی اورپیسہ اور استار ایك ہی وزن ہے یعنی ساڑھے چارمثقال کہ سوا بیس ماشے ہوئے اور وزن قدیم سے مراد اکبری اور حال سے جہانگیری۔ صدر باب طہارت میں بھی یہی حساب افادہ فرمایا ہے۔ اتنا ہے کہ وہاں مدعراقی و مد حجازی دونوں کا سیروں سے اندازہ کیا اور بعض جگہ تہائی پیسہ کی کسر کو کہ ڈیڑھ ماشہ ہوئی مساہلۃترك فرمادیا ہے حیث قال صاع چہار مدست و مد بقولے دورطل ست( یہاں انھوں نے کہا کہ صاع چار مد ہے اور مد دو رطل کا ہوتا ہے۔ ت)(یہ قول ہمارے ائمہ کا ہے کہ صاع کو آٹھ رطل لیتے ہیں)
حوالہ / References شرح سفر السعادۃ ، فصل در زکوٰۃ فطر ، مکتبۃنوریہ رضویہ سکھر ، ص ٨٧-٢٨٦
#9578 · صدقہ فطر کا بیان
ودلالت ظاہر احادیث ہم برین است چہ دربعض احادیث وضو بمد واقع شدہ ودربعضے بد ورطل وتطبیق دراں است کہ مصداق ہر دو یکے باشد بقولے مد رطل و ثلث رطل عراقی ست۔
(یہ قول شافعیہ ہے کہ صاع - / رطل÷= / رطل)
ورطل بست استار چہار ونیم مثقال کہ وزن یك پیسہ است وایں حساب ابہامے دارد وما آنرا بوزن ایں دیارفرودآریم تا واضح گردد بدانکہ مد بقول اول(حنفی) یك من شرعی ست ومن شرعی چہل استار وآں بو زن جہانگیر شاہی ابد اﷲفی مراضیہ ملکہ وسلطنتہ کہ سیرے سی و شش پیسہ است یك سیر و چہار پیسہ پس صاع (یعنی عراقی) کہ چہارمدست پنج سیر و ثلث سیر اکبری باشد و بوزن جہانگیری چہارسیر ونیم سیر دوپیسہ کم ومد بقول ثانی (شافعی )یك سیر اکبری سہ پیسہ و چیزے کم (یعنی - / پیسہ کم - / پیسہ ہوا)وسہ ربع سیر جہانگیری چیزے کم(یعنی ثلث پیسہ کم کہ جہانگیری تین پاؤپیسہ ہے) وصاع (یعنی حجازی)بوزن اکبری سہ ونیم سیر و دو پیسہ (یعنی تہائی پیسہ کم کہ ساڑھے تین سیر اکبری اور دو پیسے کے پیسے ہوئے اور صاع حجازی - / پیسہ) وبوزن جہانگیری سہ سیر یك پیسہ کم (بلکہ - / پیسہ کم )کہ ظاہر احادیث کی دلالت بھی اسی پر ہے کیونکہ بعض احادیث وضو میں ہے کہ اس کے لیے ایك مد کافی ہے اور بعض احادیث میں دو رطل کا تذکرہ ہے ان میں تطبیق یوں ہے کہ دونوں کا مصداق ایك ہی ہے۔ ایك قول کے مطابق رطل اور ثلث عراقی ہے(ت)
(یہ قول شافعیہ ہے کہ صاع - / رطل ÷=- / ۳رطل)
اور رطل بیس استار اور استار - / ۲مثقال جو کہ ایك پیسہ کا وزن ہے اس حساب سے بناتے ہیں تاکہ واضح ہوجائے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ مد پہلے (حنفی) قول پر ایك من ہے اور شرعی من چالیس استار ہے یہ اکبری وزن ہے جس میں سیر تیس پیسہ برابر ہے تو مد ایك سیر اور سیر کا ثلث ہوا۔ جہانگیر بادشاہ اﷲتعالی اس کے ملك و سلطنت کو ہمیشہ پسندیدہ فرمائے کہ اس کا سیر چھتیس پیسہ تومد ایك سیر اور چار پیسہ برابرہوا پس صاع عراقی جو چار مد ہے پانچ سیر اور ایك سیرکاثلث اکبری حساب سے ہوا۔ اور جہانگیری حساب سے چار سیر اور دوپیسہ کم آدھ سیر ہوا۔ اور دوسرے قول (شافعی) کے مطابق مد ایك اکبری سیر اور تین پیسہ سے قدرے کم یعنی - / پیسہ کم - / پیسہ ہوا۔ اور جہانگیری حساب سے تین پاؤ سے کم یعنی پیسے کا تہائی حصہ کم جو کہ تین پاؤ پیسہ ہے۔ اور صاع حجازی اکبری حساب سے - / سیر ایك پیسہ کم (بلکہ - / پیسہ کم ) تین سیرجہانگیری پیسہ ہے)
حوالہ / References شرح سفر السعادۃ ، فصل درطہارت الخ ، مکتبہ نو ریہ رضویہ سکھر ، ص ٣٠
#9579 · صدقہ فطر کا بیان
تین سیر جہانگیری ۱۰۸ پیسہ ہے) انتھی مزیدامابین الھلالین منی۔
عبارت ختم ہوئی اور قوسین میں اضافہ میری طرف سے ہے۔ (ت)
البتہ اشعۃ اللمعات مطبع مصطفائی محمد حسین خاں باب الغسل میں سیر جہانگیری سے صاع عراقی کا حساب ظاہرا خطا سے کاتب سے غلط ہوگیا ہے حیث قال صاع بوزن اکبر شاہی کہ سیرے سی سیر شاہی بود پنج سیر ودہ سیر شاہی مے شود(اکبر شاہی کے حساب سے کہ ایك سیر تیس استارکا ہے صاع سیر ہوا اور دساستار ہے۔ ت) ( یہ صحیح ہے اور حساب اول کے مطابق کہ دس سیر شاہی ثلث پیسہ اکبری ہے کما لا یخفی جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ت)
وبوزن حال جہانگیری ابد اﷲملکہ وسلطنتہ کہ سیرے سی وشش سیر شاہی ست چہار سیر و یك پاؤ می شود بیك سیر شاہی کم۔
اور جہانگیری حساب سے جس میں ایك سیر استار کا ہے عراقی صاع چار سیر ایك پاؤ اور ایك سیر کم ہے۔ (ت)
(یہ غلط ہے کہ صاع پیسہ ہے اور سوا چار سیر جہانگیری ایك پیسہ کم کے ہی پیسے ہوئے آٹھ پیسے کافرق ہے صحیح وہی ہے جواوپر گزرا کہ ساڑھے چار سیر جہانگیری ہے دوپیسے کم)
مسئلہتا : از یہان پورہ مکہر اسٹیٹ مسئولہ مرتضی خاں پی سارجنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس آفس ذی الحجہ ھ
()کیا فرماتے ہیں عید الفطر کے خطبہ میں فطرہ فی کس ایك سیر ساڑھے گیارہ آنے بھر مبلغ ایك سو پانچ روپیہ بھر کے حساب سے دینا بتایا کیا یہ صحیح ہے
()صاع کتنے سیر کا سیرکتنے روپیہ بھر روپیہ کتنے ماشے کا اور کون روپیہ شرع سے اس میں کیا حکم ہے
()خطبہ علمی میں نصف صاع یعنی دوسیر جس کا وزن بریلی کے سیر سے ایك سیر نو چھٹانك سے کچھ بتایا کیا یہ صحیح ہے رائج الوقت سیر سے فطرہ فی کس کتنادینا چاہئے
الجواب :
()خالد کا یہ قول محض غلط ہے گیہوں صدقۃ الفطر ایك سوچوالیس ما للعہ للعہ روپیہ بھر ہے اور زیادہ احتیاط اٹھنی اوپر ایك سو پچھتر ما ہعہ روپے بھر کما بیناہ فی فتاونا (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اسے بیان
حوالہ / References اشعۃ اللمعات باب الغسل فصل ثانی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٢٣٣
#9580 · صدقہ فطر کا بیان
کیا ہے۔ ت) ایك سو پانچ روپے ساڑھے گیارہ آنے بھر سے کسی طرح صدقہ ادانہیں ہو سکتا۔
()سیر مختلف ہوتے ہیں صاع کا حساب ہر جگہ کے سیر سے بدلے گا صاع اس انگریزی روپیہ رائج الوقت سے دو سو اٹھاسی روپے بھر ہے اور تولوں سے دوسو سترتولے۔ یہ روپیہ سواگیارہ ماشہ بھرہے۔
()گیہوں کا فطرہ انگریزی روپے سے ایك سوچوالیس روپے بھر ہے جو بریلی کے سیر سے کہ سو روپیہ بھر کا ہے چھٹانك کم ڈیڑھ سیر ہوا سیر کا پانچواں حصہ کم۔ حساب صحیح و منقح یہ ہے زیادہ احتیاط وہ ہے جو اوپر گزری کہ گیہوں بریلی کے سیر سے پونے دوسیر دیں اٹھنی بھر اوپر اور اسی کے سیر سے تین چھٹانك دوسیر دس اٹھنی بھر اوپر۔ واﷲتعالی اعلم
سوال کسے جائز ہے کسے ناجائز
مسئلہ : از مولوی محمد اسمعیل محمود آبادی ربیع الآخر ھ
اس ملك میں رواج ہے کہ بعد نماز قبل فاتحہ اخیرہ کے ایك شخص اٹھ کر مسافروں مسکینوں کے واسطے مسجد کے اندر مقتدیوں میں چندہ کرتاہے بعد ہوجانے کے فاتحہ پڑھی جاتی ہے بعدہ جو کچھ رقم بذریعہ چندہ جمع ہوتی ہے اس کو مسافروں اور مسکینوں میں تقسیم کردیتے ہیں آیا یہ امر اس طرح مسجد کے اندر جائز ہے
الجواب :
جائز ہے جبکہ وہ چندہ کرنے والا خود اسمیں سے نہ لیتا ہو بلکہ مسجد میں مسکین کے لیے اس طرح چندہ کرنا خود سنت سے ثابت ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر لوگ جو صحیح و سالم جو ان تندرست ہیں مگر بوجہ آرام طلبی کے طلب معاش کی محنت سے جی چرا کر سوال کو کہ بظاہر آسان ہے پیشہ اپنا مقرر کیا ہے چنانچہ بعض نے تو چند کتابیں فارسی اردو وغیرہ کی دیکھ کر وعظ گوئی اختیار کی ہے اور دوسرے وطنوں میں جاکر اسی کے ذریعہ سے سوال کرتے ہیں اور بعض مشائخین کی شکل بنا کر کماتے ہیں اور بعضے مسافربن کر مسجدوں میں ٹھہرتے ہیں اور اقسام اقسام کی حاجتیں ظاہر کرکے سوال کرتے ہیں اور بہ سبب کثرت اور رواج اس قسم کے لوگوں کی جو کوئی محتاج سچی حالت والا مسکین اور مسافر مصیبت زدہ ہوتا ہے اس کی تصدیق اور شناخت بھی کم ہوتی ہے علاوہ سوال کرنے کے یہ بھی ہوتا ہے کہ جس شہر یا محلہ میں پہنچے ہیں وہاں کے باشندوں سے وہاں کے لوگوں کا حال معلوم کرکے جس کسی کو اہل شہر یا محلہ سے ذی و جاہت معلوم کرتے ہیں اس کو جاگھیرتے ہیں
#9581 · صدقہ فطر کا بیان
اور کہتے ہیں کہ ہمارے واسطے تم اپنے محلہ یا شہر سے آگاہ کرادو بعض لوگ ان کی باتوں میں آکر ان کی طرف سے لوگوں سے مانگ مانگ کر ان کے واسطے کچھ فراہم کرادیتے ہیں ایسا شخص جو ایسے لوگوں کے واسطے کوشش کرکے کچھ دلوادے تو بمقتضائے اس حدیث شریف کے الدال علی الخیرکفاعلہ ( بھلائی پر رہنمائی کرنے والاا سے بجالانے والے کی طرح ہوتا ہے۔ ت) ثواب پائےگا اور یہ فعل اس کا موجب اجر ہوگایا بحکم و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪- (گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرو۔ ت) کے سوال حرام کے معاونت کا مرتکب ہوگا اور ایسے لوگوں کو دینے والا بھی ثواب پائے گا یا نہیں یا گنہگار ہوگا۔ بینواتوجروا
الجواب :
بے ضرورت شرعی سوال کرنا حرام ہے اور جن لوگوں نے باوجود قدرت کسب بلاضرورت سوال کرنا اپنا پیشہ کرلیا ہے وہ جو کچھ اس سے جمع کرتے ہیں سب ناپاك و خبیث ہے اور ان کا یہ حال جان کر ان کے سوال پر کچھ دینا داخل ثواب نہیں بلکہ ناجائز وگناہ اور گناہ میں مدد کرنا ہے۔ اور جب انھیں دینا نا جائز تو دلانے والا بھی دال علی الخیر نہیں بلکہ دال علی الشر ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل فقیر غفراﷲتعالی نے اپنے مجموعہ فتاوی میں ذکر کی لیکن اگر بے سوال کوئی کچھ دے جیسے لوگ علماء و مشائخ کی خدمت کرتے ہیں تو اس کے لے لینے میں کوئی حرج نہیں بلکہ نیت نیك ہوتو دینے اور لینے والے دونوں داخل ثواب ہیں خصوصا جبکہ لینے والا حاجت رکھتا ہو سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو کچھ عطا بھیجی انھوں نے واپس حاضر کی کہ حضور نے ہمیں حکم دیا تھا کہ کسی سے کچھ نہ لینے میں بھلائی ہے فرما یا یہ بحالت سوال ہے اور جوبے سوال آئے وہ تو ایك رزق ہے کہ مولی تعالی نے تجھے بھیجا امیر المومنین نے عرض کی واﷲ اب کسی سے کچھ سوال نہ کروں گا اور بے سوال جو چیز آئے گی لے لوں گا
رواہ مالك فی الموطا اصل الحدیث
اسے موطا میں امام مالك نے روایت کیا ہے اور اصل
حوالہ / References المعجم الکبیر مروی از ابو مسعود الانصاری المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ١٧ / ٢٨-٢٢٧
القرآن ٥ / ٢
صحیح البخاری باب من اعطا ہ اﷲ شیئا من غیر مسئلۃ قد یمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹۹ ، صحیح مسلم باب جواز الاخذ بغیر سوال الخ قد یمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۳۴ ، مسند احمد بن حنبل مروی از عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دارالفکر بیروت ۱ / ۴۰ ، ۷۱ ، مصنف ابن ابی شیبہ کتاب البیوع والاقضیہ حدیث ۲۰۱۶ ادارہ علوم القرآن والعلوم الاسلامیہ ۶ / ۵۵۲
#9582 · صدقہ فطر کا بیان
عند الشیخین من حدیث ابن عمر رضی اﷲتعالی عنھما وفی الباب عن ام المومنین الصدیقۃ عند احمد و البیھقی وعن واصل بن الخطاب عند ابی یعلی وعن خالد بن عدی الجھنی عند احمد وابی یعلی والطبرانی وابن حبان والحاکم عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ عند الامام احمد وعن عائذ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنھم عنداحمد والطبرانی والبیھقی وھذا کلھا احادیث قویۃ باسانید جیاد۔
حدیث بخاری و مسلم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا سے روایت کی ہے اور اس بارے میں امام احمد اور بیہقی نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ابویعلی نے حضرت واصل بن خطاب سے امام احمد ابویعلی طبرانی ابن حبان اور حاکم نے حضرت خالد بن عدی الجہنی سے امام احمد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے امام احمد طبرانی اور بیہقی نے حضرت عائذ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ م سے روایت کیا ہے اور یہ تمام احادیث جید اسناد کی وجہ سے قوی ہیں۔ (ت)
حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ماالمعطی من سعۃ بافضل من الاخذ اذا کان محتاجا۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عمر رضی اﷲتعالی عنہما وشاہدہ عندہ فی الاوسط کابن حبان فی الضعفاء من حدیث انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔ واﷲتعالی اعلم۔
تونگری سے دینے والا کچھ لینے والے سے افضل نہیں جبکہ وہ حاجت رکھتا ہو(اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا اور اوسط میں ان کے ہاں اس کا شاہد بھی ہے جیسا کہ ابن حبان نے الضعفاء میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث روایت کی ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : از پکھریرا محلہ نورالحلیم شاہ شریف آباد رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ شریف الرحمن صاحب شعبان ھ
زید مالدارچھ سات ہزار روپے یا کچھ کم و بیش کی زمین رکھتا ہے اور اس کو پانچ چھ سو روپیہ قرض ہے آیا وہ زمین بیچ کر ادا کرے یا بھیك مانگ کر شرعااس کو اس غرض سے بھیك مانگنا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
اگر اس کا ذریعہ رزق اس زمین کے سوا کچھ نہیں نہ وہ کسی کسب پر قادر ہے نہ اس زمین کا کوئی حصہ جدا کرکے باقی لائق کفایت بچے یا کوئی حصہ لینے پر راضی نہ ہو غرض یہ کہ سوائے سوال جمیع اسباب بند ہوں تو بحکم ضرورت بقدرضرورت سوال حلال ورنہ حرام
فان الضرورۃ تبیع المحظو رات وما کان لضر ورۃ تقدرھا۔ واﷲتعالی اعلم۔
ضرورت ممنوعات کو مباح کردیتی ہے اور ضرورت کے پیش نظر اتنی ہی مقدار جائز ہوگی(ت)واﷲتعالی اعلم
حوالہ / References المعجم الکبیر مروی از عبداﷲبن عمر رضی اﷲعنہما المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ١٢ / ٤٢٣
#9583 · صدقات نفل کا بیان
مسئلہ : از سرکار مارہرہ مطہرہ از درگاہ مسکین پناہ مسئولہ حضرت سید شاہ حامد حسین میاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم شعبان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك صاحب بغرض ثواب ا پنے جائز روپے سے ماہواری یا سالانہ کھانا پکواکر فاتحہ حضور پر نور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیا کرتے ہیں اور کھانا مساکین و غیر مساکین کو کھلا دیتے ہیں یا تقسیم کردیتے ہیں ایك طالبعلم حنفی قادری سنی سید کہ جس کی تعلیم دینی بوجہ نہ استطاعت ہونے کے اس کے ولی کے غیرمکمل رہی جاتی ہو اور علوم دینی حاصل نہ کرنے کی وجہ سے اس طالب علم آل مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بد عقیدہ ہوجانے کا اندیشہ ہواس صورت میں اگر وہ روپیہ کو جو فاتحہ میں صرف کیا جاتا ہے اگر اس طالب علم کے تعلیم دینی میں بہ نیت ثواب فاتحہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم صرف کردیا جائے تو بدل اس فاتحہ سالانہ یا ماہواری کا ہوکر باعث خوشنودی سردار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہوگا یا نہیں اور ثواب میں کمی تو نہ ہوگی
الجواب :
یہ اس کا نعم البدل ہوگا اور ثواب میں کمی کیا معنی اس سے ستر گنا ثواب کی زیادہ امید ہے بطور مذکور کھانا پکاکر کھلانے یا بانٹنے میں ایك کے دس ہیں ۔
قال اﷲتعالی من جآء بالحسنة فله عشر امثالها-۔
اﷲتعالی کا ارشاد گرامی ہے جو نیکی بجالاتا ہے اس کے لئے اس کی دس مثل ہیں۔ (ت)
اور طالب علم دین کی اعانت میں کم سے کم ایك کے سات سو۔
قال اﷲتعالی مثل الذین ینفقون اموالهم
اﷲتعالی کا فرمان عالی ہے : انکی کہاوت جو اپنے
حوالہ / References القرآن ٦ / ١٦۰
#9584 · صدقات نفل کا بیان
فی سبیل الله كمثل حبة انبتت سبع سنابل فی كل سنبلة مائة حبة-و الله یضعف لمن یشآء-و الله واسع علیم(۲۶۱)
مال اﷲکی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانہ کی طرح جس نے اگائیں سات بالیاں ہر بالی میں سودانے اور اﷲاس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لیے چاہے اور اﷲ وسعت والا علم والا ہے۔(ت)

درمختار میں ہے :
فی سبیل اﷲھو منقطع الغزاۃ وقیل الحاج وقیل طلبۃ العلم خصوصا۔
فی سبیل اﷲسے مراد وہ غازی ہیں جن کے پاس خرچہ و اسلحہ نہ ہو بعض نے کہا حاجی اور بعض نے کہا اس سے خصوصا طلبہ علم مراد ہیں(ت)
جبکہ اس میں حفظ ہدایت ہو صحیح حدیث ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لان یھدی اﷲبك رجلا خیر لك مما طلعت علیك شمس و غربت۔ واﷲتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
تیری وجہ سے کسی ایك کا ہدایت پاجانا ہر اس شئی سے بہتر ہے جس پر طلوع آفتاب ہو۔ (ت)واﷲتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ : از رامپور چاہ شو مرسلہ مولوی عبدالصمد صاحب محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ جو لوگ تندرست و توانگر کھاتے پیتے ہیں انھوں نے اپنا پیشہ گدائی اور فقیری اور محتاجگی کا مقرر کیا ہے اور دربدر شہر بہ شہر بھیك مانگتے سوال کرتے پھرتے ہیں اور ہرگز محنت مزدو ری نہیں کرتے اگر چہ مالدار آسودہ حال ہیں ایسے لوگوں کو بھیك مانگنا اور سوال کرنا حلال ہے یا حرام اور اگر حرام ہے تو دینا بھی بوجہ اعانت علی الحرمۃ حرام اور ممنوع ہے یا نہیں جبکہ مسجد میں سوال اور اس عطا کو کتب فقہ میں حرام و مکروہ فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ درمختار میں مرقوم ہے : ویحرم فیہ السوال ویکرہ الاعطاء (مسجد میں مانگنا حرام اور دینا مکروہ ہے۔ ت) بینوابالکتاب وتوجروابیوم الحساب(کتاب سے بیان کرو اور یوم حساب اجر پاؤ۔ ت)
حوالہ / References القرآن ٢ / ٢٦١
درمختار باب المصرف مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٠
الجامع الصغیر مع فیض القدیر حدیث ٧٢١٩ دارالمعرفۃبیروت ٥ / ٢٥٩ ، اتحاف السادۃ المتقین بیان ترك الطاعات خوفًامن الریاء دارالفکر بیروت ٨ / ٣٢٠
درمختار باب مایفسد الصّلٰوۃ الخ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩٣
#9585 · صدقات نفل کا بیان
الجواب :
جو اپنی ضروریات شرعیہ کے لائق مال رکھتا ہے یا اس کے کسب پر قادر ہے اسے سوال حرام ہے اور جو اس مال سے آگاہ ہو اسے دینا حرام اور لینے اور دینے والا دونوں گنہگار و مبتلائے آثام۔ صحاح میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فر ماتے ہیں :
لاتحل الصدقۃ لغنی ولذی مرۃ سوی۔ رواہ الائمۃ احمد والدارمی والاربعۃ عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ۔
صدقہ حلال نہیں ہے کسی غنی کے لیے نہ کسی تندرست کے لیے( اسے امام احمد دارمی اور چاروں ائمہ نے حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
نیز صحاح میں ہے رسول اﷲصلے اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من سأل الناس ولہ مایغنیہ جاء یوم القیامۃ ومسئلتہ فی وجہہ خموش۔ رواہ الدارمی والا ربعۃ عن ابن مسعودرضی اﷲتعالی عنہ۔
جولوگوں سے سوال کرے اور اس کے پاس وہ شئے ہو جو اسے بے نیاز کرتی ہو روز قیامت اس حال پر آئیگا کہ اس کا وہ سوال اس کے چہرہ پر خراش و زخم ہو ( اسے دارمی اور چاروں ائمہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
نیز فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
من سأل الناس اموالھم تکثر افانما یسأل جمر جھنم فلیستقل منہ او یستکثر۔ رواہ احمد و مسلم وابن ماجۃ عن
جو اپنا مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے ان کے مال کا سوال کرتا ہے وہ جہنم کی آ گ کا ٹکڑا مانگتا ہے اب چاہے تھوڑی لے یا بہت۔ (اسے امام احمد
حوالہ / References سنن الدارمی نمبر١٥ باب من تحل لہ الصدقۃ نشر السنۃ ملتان ١ / ٣٢٥ ، جامع الترمذی ابواب الزکوٰۃ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ١ / ٨٣
جامع سنن الدارمی نمبر١٥ باب من تحل لہ الصدقۃ نشرالسنۃ ملتان ١ / ٣٢٥ ، جامع الترمذی ابواب الزکوٰۃ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ا / ٨٢
مسند احمد بن حنبل مروی از ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دارالفکر بیروت ٢ / ٢٣١ ، صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٣٣٣ ، سنن ابن ماجہ باب من سأ ل عن ظہر غنی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ١٣٣
#9586 · صدقات نفل کا بیان
ھریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ۔
مسلم اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
نیز فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
من سأل من غیر فقر فانما یا کل الجمر۔ رواہ احمد وابن خزیمۃ وایضافی المختارۃ عن حبشی بن جنادۃ رضی اﷲتعالی عنہ بسند صحیح۔
جو بے حاجت وضرورت شرعیہ سوال کرے وہ جہنم کی آگ کھاتا ہے (اسے امام احمد اور ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے اور المختارہ میں حضرت حبشی بن جنادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے صحیح سندکے ساتھ مروی ہے ۔ ت)
تنویر الابصار و درمختار میں ہے :
لایحل ان یسئل من لہ قوت یومہ بالفعل او بالقوۃ کالصحیح المکتسب ویا ثم معطیہ ان علم بحالہ لاعانتہ علی المحرم اھ۔ وتمام الکلام فی ھذاالمقام مع دفع الاوھام فی فتاونا وقد ذکر ناشیأ منہ فیما علقنا علی رد المحتار
واﷲ تعالی یقول جل مجدہ و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪- واﷲتعالی اعلم۔
جس شخص کے پاس عملا ایك دن کی روزی موجود ہو یا وہ روزی کمانے کی صحیح طاقت رکھتا ہو (یعنی وہ تندرست و توانا ہوتو) اس کے لیے روزی کا سوال جائز نہیں اس کے حال سے آگاہ شخص اگر اسے کچھ دے گا تو وہ گنہ گار ہوگا کیونکہ وہ حرام پر اس کی مدد کررہا ہے اھ(ت)اور اس پر ایسی تفصیلی گفتگو جس سے تمام اوہام کا رد ہوجائے ہم نے اپنے فتاوی میں کی ہے اور اس میں کچھ ردالمحتار کے حاشیہ میں بھی ذکر کی ہے اور اﷲتعالی سبحانہ کا مبارك فرمان ہے : گناہ اور زیادتی پر مدد نہ کرو۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ : مرسلہ مظفر علی ساکن قصبہ شاہ آباد ضلع ہر دوئی محلہ سید باڑہ جمادی الاولی ھ
میلاد شریف اور گیارہویں شریف اور فاتحہ اولیاء اﷲ کی شیرینی کھانا اور شربت محرم کا پینا درست ہے یا نہیں اور ان کا حرام جاننے والا اور مثل زکوۃ کے مال کے بجز مساکین اور سب کے واسطے حرام قطعی بتانے والا
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل حدیث حبشی بن جنادۃ السلولی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دارالفکر بیروت ٤ / ١٦٥ ، صحیح ابن خزیمہ نمبر٤١٢ باب التغلیظ فی مسئلۃ الغنی من الصدقۃ حدیث ٢٤٤٦ المکتب الاسلامی بیروت ٤ / ١٠٠
درمختار شرح تنویرالابصار باب المصرف مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٢
#9587 · صدقات نفل کا بیان
حنفی مقلد ہے یا نہیں اور ایسا شخص حنفی مقلد اشخاص میں قابل امامت ہوسکتا ہے یا نہیں
الجواب :
اشیاء مذکورہ سے کوئی چیز نہ زکوۃ ہے نہ صدقہ واجبہ اس کا کھاناغنی فقیر سید وغیرہ سب کو بالاتفاق حلال ہے اسے سوائے مساکین اوروں پر حرام بتانے والا اﷲعزوجل پر افتراء کرتا ہے اور سخت عذاب شدید کا مستحق ہے اور اﷲ عزوجل فرماتا ہے :
و لا تقولوا لما تصف السنتكم الكذب هذا حلل و هذا حرام لتفتروا على الله الكذب-ان الذین یفترون على الله الكذب لا یفلحون(۱۱۶) متاع قلیل۪-و لهم عذاب الیم(۱۱۷)
اور نہ کہو اپنی زبانی جھوٹ بناوٹوں سے کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ چیز حرام کہ اﷲپر جھوٹ باندھو بیشك جو اﷲ پر جھوٹ باندھتے ہیں فلاح نہ پائیں گے دنیا میں تھوڑا سا کھاپہن لیں پھر آخرت میں ان کے لیے دردناك عذاب ہے۔
فتاوی عتابیہ پھر نہایہ شرح ہدایہ پھر سعدی آفندی علی العنایہ میں ہے :
یجوز النفل للھا شمی مطلقا بالاجماع وکذا یجوز النفل للغنی۔
ہر نفلی صدقہ بالاتفاق ہاشمی کے لیے جائز ہے اور اسی طرح نفلی صدقہ غنی کے لیے بھی جائز ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
جازت التطوعات من الصدقات و غلۃ الاوقاف لھم۔
نفلی صدقات اور غلہ اوقاف ان (اغنیاء) کے لیے جائز ہے ۔ (ت)
ذخیرہ پھر ردالمحتار میں ہے :
ان فی التصدیق علی الغنی نوع قربۃ دون قربۃ الفقیر۔
غنی پر صدقہ کی صورت میں وہ قربت ہوتی ہے جو فقیر پر صدقہ سے کم ہے۔ (ت)
معہذاان اشیاء میں تصدق کی نیت نہیں ہوتی بلکہ عام حاضرین پر ہدیہ تقسیم اور ہدیہ یقینامطلقا سب کے لیے جائز
حوالہ / References القرآن ١٦ / ١١٦ و ١١٧
حاشیۃ سعدی آفندی علی العنایہ مع فتح القدیر باب یجوز دفع الصدقۃ الیہ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٢١١
درمختار باب لمصرف مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤١
ردالمحتار ، کتاب الوقف ، داراحیاء التراث العربی بیروت ، ٣ / ٣٥٧
#9588 · صدقات نفل کا بیان
اور زمانہ رسالت سے علی العموم بلا تخصیص مساکین رائج ہے ایسا شخص کہ صراحۃ اﷲ و رسول پر افتراء کرتا ہے اور حلال خدا کو حرام بتاتا ہے اگر جاہل بے علم ہے اور اپنے قول باطل پر مصر ہے تو دو وجہ سے فاسق ہے :
اولا : حلال کو حرام کرنا دوسرے بے علم فتوی دینا حلال حرام میں زبان کھولنا۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
افتوا بغیر علم فضلوا واضلوا۔ رواہ البخاری واحمد ومسلم والتر مذی و ابن ماجۃ عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما ۔
بے علم کہ شرعی حکم لگا بیٹھے تو آ پ بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا ( اسے امام بخاری احمد مسلم ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے ۔ ت)
نیز حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السماء و الارض ۔ رواہ ابن عساکر عن امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ۔
جو بغیر علم کے کوئی حکم شرعی بتائے اس پر آسمان و زمین کے فرشتے لعنت کریں(اسے ابن عساکر نے امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲتعالی وجہہ سے روایت کیا۔ ت)
اور فاسق کی امامت مکروہ تحریمی ہے :
کما فی الحجۃ والغنیۃ والتبیین والطحطاوی علی المراقی وغیرھا وقد حققنا فی النھی الاکید۔
جیسا کہ حجہ غنیہ تبیین اور طحطاوی علی المراقی وغیرہ میں ہے اور ہم نے اپنے رسالہ “ النہی الاکید “ میں اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ (ت)
اور اگر ذی علم ہے تو اس کا حکم اور سخت تر ہے کہ وہ دانستہ اﷲ عزو جل پر افتراء کرتا ہے اور اﷲ عزو جل فرماتاہے :
انما یفتری الكذب الذین لا یؤمنون
جھوٹے افتراء وہی باندھتے ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔
حوالہ / References صحیح البخاری ، کتاب العلم ، باب کیف یقبض العلم ، قدیمی کتب خانہ کراچی ، ١ / ٢٠
کنز العمال بحوالہ ابن عساکر ، عن علی کرم اﷲوجہہ حدیث ٢٩٠١٨ ، مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ، ١٠ / ١٩٣
القرآن ١٦ / ١٠٥
#9589 · صدقات نفل کا بیان
اور اس کے غیر مقلد ہونے میں شك نہیں وہ نہ حنفی ہے نہ شافعی نہ مالکی نہ حنبلی کہ کسی مذہب میں ہدیہ تقسیم اغنیاء پرحرام نہیں ہاں وہ شیطان کا مقلد ہے جس نے صحابہ کرام کے زمانہ سے اس وقت تك تمام مسلمانوں کو مرتکب حرام واکل حرام بنانے کا ناپاك وسوسہ اس کے بے باك دل میں ڈالا اور غیر مقلد کے پیچھے نماز حرام بلکہ محض باطل ہے کما حققناہ فی کتابنا المذکور(جیسا ہم نے اپنی کتاب مذکور میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت)فتح القدیر میں ہے :
الصلوۃ خلف اھل الاھواء لاتجوز۔ واﷲتعالی اعلم۔
اہل ہواکے پیچھے نماز جائز نہیں۔ (ت)
مسئلہ : ازکلکتہ کولھوٹولہ ۔ اسٹریٹ نمبر مرسلہ حاجی محمد لعل خاں صاحب ۲۰ربیع الاولھ
قبلہ وکعبہ حضرت مولائی مرشدی مدظلہ العالی تمنائے قدم بوسی کے بعد مؤد بانہ گزارش ہے کہ ایك شخص اہل و عیال رکھتا ہے اپنی ماہانہ یا سالانہ آمدنی سے بلا افراط وتفریط اپنے بال بچوں پر خرچ کر کے بقایا خدا کی راہ میں دیتا ہے آئند ہ کو اہل وعیال کے واسطے کچھ نہیں رکھتا دوسری اپنی آمدنی سے بچوں پر ایك حصہ خرچ کرکے دوسرا حصہ خیرات کرتا اور تیسرا حصہ آئندہ انکی ضرورتوں میں کام آنے کی غرض سے رکھ چھوڑنے کو اچھا جانتا ہے ان دونوں میں افضل کون ہےبینو اتوجروا
الجواب :
حسن نیت سے دونوں صورتیں محمود ہیں اور باختلاف احوال ہر ایك افضل کبھی واجب ولہذا اس بارہ میں احادیث بھی مختلف آئیں اور سلف صالح کا عمل بھی مختلف رہا۔
اقول : وباﷲالتوفیق(میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲتعالی سے ہے۔ ت)اس میں قول موجز و جامع ان شاء اﷲتعالی یہ ہے کہ آدمی دو۲ قسم ہیں منفرد کہ تنہا ہو اور معیل کہ عیال رکھتا ہو سوال اگر چہ معیل سے متعلق ہے مگر ہر معیل اپنے حق نفس میں منفرد اور اس پر اپنے نفس کے لحاظ سے وہی احکام ہیں جو منفرد پر ہیں لہذا دونوں کے احکام سے بحث درکار۔
اول : وہ اہل انقطاع و تبتل الی اﷲاصحاب تجرید وتفرید جنھوں نے اپنے رب سے کچھ نہ رکھنے کا عہد باندھا ان پر اپنے عہد کے سبب ترك ادخارلازم ہوتا ہے اگر بچارکھیں تو نقض عہد ہے اور بعد عہد پھر جمع کرنا ضرور ضعف یقین سے ناشئی یا اس کا موہم ہوگا ایسے اگر کچھ بھی ذخیرہ کریں مستحق عقاب ہوں حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
حوالہ / References فتح القدیر ، باب الامامۃ ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، / ٣٠٤
#9590 · صدقات نفل کا بیان
نے بلال رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس کچھ خرمے جمع دیکھے فرمایا : یہ کیا ہے عرض کی : شئی ادخرتہ لغدمیں نے آئندہ کے لیے جمع کر رکھے ہیں۔ اور ایك روایت میں ہے : اعد ذلك لا ضیافك حضور کے مہمانوں کے خیال سے انھیں رکھا ہے۔ فرمایا :
اما تخشی ان یکون لك دخان فی نار جھنم انفق یا بلال ولا تخشی من ذوی العرش اقلا لا۔ رواہ البزار بسند حسن و الطبرانی فی الکبیر عن ابن مسعود و ابو یعلی والطبرانی فی الکبیر والاوسط بسند حسن والبیہقی فی شعب الایمان واللفظ الاول لہ عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالی عنہما۔
کیا ڈرتا نہیں کہ تیرے آتش دوزخ کا دھواں ہو اے بلال! خرچ کر اور عرش کے مالك سے کمی کا اندیشہ نہ کرو۔ اسے بزار نے سند حسن سے طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے ابویعلی اور طبرانی نے المعجم الکبیر اور اوسط میں سند حسن سے اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے پہلے الفاظ اسی کے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہیں۔ (ت)
ایك بار انہی بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا : “ اے بلال! فقیر مرنا اور غنی ہو کرنہ مرنا “ ۔ عرض کی : اس کی کیا سبیل ہے فرمایا : جو ملے نہ چھپانا اور جو مانگا جائے منع نہ کرنا(ظاہر ہےکہ جب نہ مال چھپانا ہونہ کسی کا سوال رد کیا جائے تو سائلین کسی وقت بھی کچھ پاس نہ چھوڑیں گے) عرض کی : ایسا کیونکر کروں فرمایا :
ھو ذاك او النار۔ والعیاذ باﷲتعالی رواہ الطبرانی فی الکبیر وابو الشیخ فی الثواب والحاکم فی المستدرك عن بلال رضی اﷲتعالی عنہ۔
یا تو یونہی کر نا ہوگا یا آگ۔ (اﷲتعالی کے دامن رحمت میں پناہ لیتا ہوں۔ اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں ابو شیخ نے الثواب میں اور حاکم نے المستدرك میں حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
دوم : فقر و توکل ظاہر کرکے صدقات لینے والا اگر یہ حالت مستمر رکھنا چاہے تو ان صدقات میں سے کچھ جمع کر رکھنا
حوالہ / References شعب الایمان باب فی الزکوٰۃ حدیث ٣٣٣٨ دارلکتب العلمیہ بیروت ، ٣ / ٢٠٩ ، المعجم الکبیر ، روی از بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حدیث ١٠٢٠ ، المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ، ١ / ٣٤٠ ، جمع الزوائد ، بحوالہ البزار باب فی الانفاق والامساك دارالکتاب العربی بیروت ، ١٠ / ٢٤١
المعجم الکبیر مروی از بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حدیث ١٠٢١ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ١ / ٣٤١
#9591 · صدقات نفل کا بیان
اسے ناجائز ہوگا کہ یہ دھوکا ہوگا اور اب جو صدقہ لے گا حرام و خبیث ہوگا انہی دونوں باب سے ہیں وہ احادیث جن میں ایك اشرفی ترکہ چھوڑے والے کو ایك داغ فرمایا دوپردو تین پر تین یعنی فی اشرفی ایك داغ دیا جائیگا۔
فلا حمد والطبرانی عن ابی امامۃ رضی اﷲتعالی عنہ توفی رجل من اھل الصفۃ فوجد فی مئزرہ دینار فقال رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم کیۃ ثم توفی اخرفو جد فی مئزرہ دیناران فقال رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم کیتان ولا حمد وابن حبان عن ابن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ قال توفی رجل من اھل الصفۃ فوجد وافی شملتہ دینارین فذکرواذلك للنبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فقال کیتان ولھما وللبخاری من سلمۃ بن الاکوع رضی اﷲتعالی عنہ کنت جالسا عند النبی صلی اﷲتعالی عنہ وسلم فاتی بجنازۃ فقال ھل ترك من شئی قالو انعم ثلثۃ دنانیر فقال باصبعہ ثلث کیات۔ مختصرا
امام احمد اور طبرانی نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے اصحاب صفہ میں سے ایك فوت ہوئے ان کے پلے میں ایك دینار پایا گیا تو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اس کے لیے ایك داغ ہے دوسرا فوت ہوا اس کے دامن میں دودینار تھے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : یہ دو داغ ہیں۔ امام احمد اور ابن حبان نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا اصحاب صفہ میں سے ایك فوت ہوئے ان کے شملہ میں دو دینار پائے گئے تو لوگوں نے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا : یہ دوداغ ہیں۔ احمد ابن حبان اور بخاری میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے کہ میں رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا جنازہ لایا گیا آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اس نے کچھ چھوڑا ہے عرض کیا : ہا ں اس نے تین دراہم چھوڑے ہیں ۔ آپ نے مبارك انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : یہ تین داغ ہیں(ت)
ظاہر ہے کہ ان حدیثوں کا محل وہ نہیں ہوسکتا جو آیہ کریمہ :
و الذین یكنزون الذهب و الفضة و لا ینفقونها فی سبیل الله-فبشرهم بعذاب الیم(۳۴)
جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے رہتے ہیں اور اﷲکی راہ میں خرچ نہیں کرتے انھیں درد ناك عذاب کی
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل مروی از ابو امامہ دارالفکر بیروت ٥ / ٢٥٣
مسند احمد بن حنبل مروی از عبداﷲ ابن مسعود دارالفکر بیروت ١ / ٤٥٧
مسند احمد بن حنبل مروی ازسلمہ بن اکوع دارالفکر بیروت ٤ / ٤٧
#9592 · صدقات نفل کا بیان
یوم یحمى علیها فی نار جهنم فتكوى بها جباههم و جنوبهم و ظهورهم-هذا ما كنزتم لانفسكم فذوقوا ما كنتم تكنزون(۳۵)
بشارت دیجئے کہ جس دن جنہم کی آ گ میں انھیں پگھلایا جائے گا اور ان کی پیشانیوں پہلوؤں اور پیٹھیوں کو داغا جائے گا(اور کہا جائے گا) یہ ہے وہ خزانہ جسے تم اپنے لیے جمع کرتے تھے اب اپنے جمع کئے ہوئے کا عذاب چکھو۔ (ت)
و حدیث صحیح :
من اوکی علی ذھب اوفضۃ ولم ینفقہ فی سبیل اﷲکان جمر ایوم القیامۃ یکوی بہ۔ رواہ احمد والطبرانی واللفظ لہ کلاھما بسند صحیح عن ابی ذر رضی اﷲتعالی عنہ عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم۔
جس نے سونا و چاندی جمع کیا اور اسے راہ خدا میں خرچ نہ کیا وہ رو ز قیامت اس کے لیے آگ کا انگارہ بن جائے گا اور اس سے مالك داغا جائے گا۔ اسے امام احمد اور طبرانی (الفاظ اسی کے ہیں) نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے(ت)
کا محمل ہے کہ جب زکوۃ دے دے حقوق واجبہ شرعیہ اداکردے کنز نہ رہااور سبیل اﷲ میں خرچ نہ کرنا صادق نہ آیا لہذااستحقاق داغ نہ رہا
فالبیھقی فی سننہ ابن عمر رضی اﷲتعالی عنھما موقوفا ومرفوعا الی النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کلما ادی زکوۃ فلیس بکنز وان کان مدفوناتحت الارض وکلما لا تؤدی زکوتہ فھو کنز وان کان ظاہرا ولابی داؤد عن ابن عباس رضی اﷲتعالی عنھما قال لما نزلت ھذہ الایۃ و الذین یکنزون الذاب والفضۃ کبرذلك علی المسکین فقال عمر رضی اﷲتعالی عنہ انا
بیہقی نے سنن میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا سے موقوفا اور مرفوعا نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے بیان کیا ہر وہ مال جس کی زکوۃ دے دی جائے وہ کنز نہیں کہلاتا اگر چہ وہ زمین میں مدفون ہو اور ہر مال جس کی زکوۃ نہ دی گئی ہو وہ کنز ہے اگر چہ ظاہر ہو ابو داؤد میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیہ کریمہ والذین یکنزون الذہب والفضۃ نازل ہوئی تومسلمان پریشان ہوئے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا میں
حوالہ / References القرآن ٩ / ٣٤ و٣٥
المعجم الکبیر مروی ازابو ذر غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حدیث ١٦٤١ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ٢ / ١٥٣
السنن الکبری للبیہقی کتاب الزکوٰۃ ، باب التفسیر الکنز الخ ، دارصادر بیروت ، ٤ / ٨٣
#9593 · صدقات نفل کا بیان
افرج عنکم فانطلق فقال یا نبی اﷲ انہ کبر علی اصحابك ھذہ الایۃ فقال ان اﷲلم یفرض الزکوۃ الا لیطیب مابقی من اموالکم وانما فرض المواریث لتکون لمن بعد کم قال فکبر عمر رضی اﷲعنہ۔
تمھاری یہ پریشانی دور کرتاہوں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا نبی اﷲ!اس آیہ مبارکہ نے آپ کے اصحاب کو پریشان کردیا ہے۔ آپ نے فرمایا : اﷲتعالی نے زکوۃ فقط اسی لیے فرض فرمائی تاکہ تمھارا باقی مال پاك ہوجائے اور وراثت اس لیے فرض کی ہے تاکہ بعد کےلوگوں کو مال ملے۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اﷲکی بڑائی بیان کی۔ (ت)
اور یہ اس لیے کہ بیس دینار سے کم پر نہ زکوۃ ہے نہ کوئی صدقہ واجبہ۔ لاجرم یہاں استحقاق داغ انہی دو وجہ سے ایك پر ہو
قال اﷲ تعالی و اوفوا بالعهد-ان العهد كان مسـٴـولا (۳۴) وفی قوت القلوب والترغیب وغیرھما انما کان کذلك لانہ ادخرمع تلبسہ بالفقر ظاہرا و مشارکتہ الفقراء فیما یأتیھم من الصدقۃ۔
اﷲتعالی کافرمان ہے : عہد پورا کرو عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (ت)
قوت القلوب اور ترغیب وغیرہ میں ہے یہ داغ اس لیے ہے کہ ذخیرہ کرنے کے ساتھ اس نے ظاہرا فقر کا اظہار کیا اور وہ صدقات میں فقراء کے ساتھ شریك ہوگیا۔ (ت)
یہ اسی تقدیر پر ہے کہ داغ سے مراد عیاذا باﷲ آتش دوزخ میں تپاکر داغ دینا ہو اور اگر اس سے دھبہ مراد ہویعنی اس کے جمال و نورانیت میں وہ ایسے معلوم ہوں گے جیسے چہرہ پرچیچك وغیرہ کا داغ اور جن موردوں کے بارے میں یہ حدیثیں آئیں وہاں بلاشبہ یہی معنی دوم انسب و اقرب ہیں تو وہ ان دونوں قسموں سے الگ ہیں امام حجۃ الاسلام نے احیاء میں بعد ذکر وجہ اول فرمایا :
الثانی ان لایکون ذلك عن تلبیس فیکون المعنی بہ النقصان عن درجتہ فی الاخرۃ اذلا یؤتی احد من الدنیا شیأ الانقص
دوسرا یہ کہ دھوکا کی بنا پر نہ ہو اب معنی یہ ہوگا کہ آخرت کے درجات میں کمی ہوجائے گی کیونکہ دنیا میں جس کو بھی کچھ دیا گیاہے اس کے عوض آخرت
حوالہ / References سنن ابوداؤد کتاب الزکوٰۃ باب حقوق المال آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٢٣٤
القرآن ١٧ / ٣٤
الترغیب والترھیب کتاب الصدقات الترغیب فی الانفاق فی وجوہ الخیر الخ مصطفی البابی مصر ٢ / ٥٨
#9594 · صدقات نفل کا بیان
بقدرہ من الاخرۃ (ملخصا)
میں کمی ہوجائے گی(ملخصا)(ت)
زبیدی نے اتحاف السادہ میں فرمایا :
وھذا الوجہ ھو اللائق بمقام الصحابۃ رضی اﷲتعالی عنہم کما لا یخفی۔
صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے مقام کے یہی وجہ مناسب ہے جیساکہ مخفی نہیں۔ (ت)
سوم : جسے اپنی حالت معلوم ہو کہ حاجت سے زائد جو کچھ بچا کررکھتا ہے نفس اسے طغیان و عصیان پر حامل ہوتا یاکسی معصیت کی عادت پڑی ہے اس میں خرچ کرتا ہے تو اس پر معصیت سے بچنا فرض ہے اور جب اس کا یہی طریقہ معین ہو کہ باقی مال اپنے پاس نہ رکھے تو اس حالت میں اس پر حاجت سے زائد سب آمدنی کو مصارف خیر میں صرف کر دینا لازم ہوگا
وذلك لان فقد ان الالۃ احد العصمتین وما تعین طریقا لواجب وجب۔
یہ اس لیے کہ ذریعہ کا مفقود ہوجانا بھی عصمت کی ایك صورت ہے اور جو شئی کسی واجب کا ذریعہ بن رہی ہو وہ بھی واجب ہوجاتی ہے۔ (ت)
چہارم : جو ایسا بے صبرا ہوکہ اسے فاقہ پہنچے تو معاذاﷲ رب عزوجل کی شکایت کرنے لگے اگر چہ صرف دل میں نہ زبان سے یا طرق ناجائز مثل سرقہ یا بھیك وغیرہ کا مرتکب ہو اس پر لازم ہے کہ حاجت کے قدر جمع رکھے اگر پیشہ ور ہے کہ روزکاروزکھاتا ہے تو ایك دن کا اور ملازم ہے کہ ماہوار ملتا ہے یا مکانوں دکانوں کے کرایہ پر بسر ہے کہ مہینہ پیچھے آتا ہے تو ایك مہینہ کا اور زمیندار ہے کہ فصل یا سال پر پاتا ہے تو چھ مہینہ یا سال بھر کا فان درء المفاسد اھم من جلب المصالح(مصالح کے حصول سے مفاسد کا ختم کرنا اہم ہوتا ہے ۔ ت) اور اصل ذریعہ معاش مثلا آلات حرفت یا دکان مکان دیہات بقدر کفایت کا باقی رکھنا تو مطلقا اس پر لازم ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فر ماتے ہیں :
من رزق فی شئی فلیلزمہ۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان عن انس رضی اﷲتعالی عنہ بسند حسن۔
جوشئی کسی کا ذیعہ رزق ہو وہ اسے لازم پکڑے امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے بسند حسن بیان کیا ہے۔ (ت)
حوالہ / References احیاء العلوم کتاب التوحید والتوکل الفن الثانی فی التعرض لاسباب الادخار مکتبہ ومطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ٤ / ٢٧٨
اتحاف السادۃ المتقین کتاب التوحید والتوکل الفن الثانی فی التعرض لاسباب الادخار دارالفکر بیروت ٩ / ٥٠٥
شعب الایمان باب التوکل والتسلیم حدیث ١٢٤١ دارالکتب العلمیہ بیروت ، ٢ / ٨٩
#9595 · صدقات نفل کا بیان
دوسری حدیث میں ہے فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
مامن عبد یبیع تالدا عــــہ الاسلط اﷲعلیہ تالفا۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن عمران بن حصین رضی اﷲتعالی عنہ وعن الصحابۃ جمیعا۔ عــــہ : المال القدیم ۔
جو بندہ قدیم جائداد کو بیچ دے اﷲتعالی اس پر تلف کرنے والا مسلط کردیتا ہے۔ اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت عمر ان بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا ہے اور تمام صحابہ سے منقول ہے (ت) 'تالد'قدیم مال کو کہتے ہیں۔
تیسری حدیث میں ہے فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
من باع عقر دار من غیر ضرورۃ سلط اﷲعلی ثمنھا تالفایتلفہ۔ رواہ فی الاوسط عن معقل بن یسار رضی اﷲتعالی عنہ العقر بالفتح الاصل۔
جس نے بغیر ضرورت اصل دار کو بیچا اﷲتعالی اس کے ثمنوں پر کسی تلف کرنیوالے کو مسلط کر دیتا ہے۔ اسے طبرانی نے المعجم الاوسط میں حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ لفظ عقر بالفتح ہے اس کے معنی اصل کے ہیں (ت)
پنجم : جو عالم دین مفتی شرع یا مدافع بدع ہو اور بیت المال سے رزق نہیں پاتا جیسا یہاں ہے اور وہاں اس کا غیر ان مناصب دینیہ پر قیام نہ کرسکے کہ افتایا دفع بدعات میں اپنے اوقات کا صرف کرنا اس پر فرض عین ہو اور وہ مال و جائداد رکھتا ہے جس کے باعث اسے غنا اور ان فرائض دینیہ کے لیے فارغ البالی ہے کہ اگر خرچ کر دے محتاج کسب ہو اور ان امور میں خلل پڑے اس پر بھی اصل ذریعہ کا ابقا اور آمدنی کا بقدر مذکور جمع رکھنا واجب ہے فان مقدمۃ الفریضۃ فریضۃ (کسی فریضہ کا مقدمہ فرض ہوتاہے۔ ت) ایسے عالم کو جہاد کے لیے جانے کی اجازت نہیں کسب مال میں وقت صرف کرنے کی کیونکر اجازت ہوسکتی ہے تنویرو درمختار میں ہے :
عالم لیس فی البلدۃ افقہ منہ فلیس لہ الغزو۔
کسی شہر میں فقیہ ہو اور وہاں اس سے بڑھ کر دین جاننے والا نہ ہوتو ایسا شخص جہاد پر نہیں جاسکتا ہے۔ (ت)
ششم : اگر وہاں اور بھی عالم یہ کام کرسکتے ہوں تو ابقاء وجمع مذکور اگر چہ واجب نہیں مگر اہم و موکد
حوالہ / References المعجم الکبیر ، مروی از عمران بن حصین ، حدیث ٥٥٥ ، المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ، ١٨ / ٢٢٢
الجامع الصغیر مع فتح القدیر بحوالہ طبرانی اوسط حدیث ٨٥٥٣ دار المعرفہ بیروت ۶ / ۹۳
درمختار ، کتاب الجہاد ، مطبع مجتبائی دہلی ، ١ / ٣٣٩
#9596 · صدقات نفل کا بیان
بیشك ہے کہ علم دین حمایت دین کے لیے فراغ بال کسب مال میں اشتغال سے لاکھوں درجے افضل ہے معہذا ایك سے دو اور دوسے چار بھلے ہوتے ہیں ایك کی نظر کبھی خطا کرے تو دوسرے اسے صواب کی طرف پھیر دیں گے ایك کو مرض وغیرہ کے باعث کچھ عذر پیش آئے تو جب اور موجود ہیں کام بند نہ رہے گا لہذا تعدد علمائے دین کی طرف ضرور حاجت ہے۔
ہفتم : عالم نہیں مگر طلب علم دین میں مشغول ہے اور کسب میں اشتغال اس سے مانع ہوگا تو اس پر بھی اسی طرح ابقاء و جمع مسطور آکد واہم ہے۔
ہشتم : تین صورتوں میں جمع منع ہوئی دومیں واجب دو میں مؤکد۔ جو ان آٹھ سے خارج ہو وہ اپنی حالت پر نظر کرے اگر جمع نہ رکھنے میں اس کا قلب پریشان ہو تو جہ بعبادت و ذکر الہی میں خلل پڑے تو بمعنی مذکور بقدر حاجت جمع رکھنا ہی افضل ہے اور اکثر لوگ اسی قسم کے ہیں ع
پراگندہ روزی پرا گندہ دل
(روزی پراگندہ ہوتو دل بھی پراگندہ ہوتاہے۔ ت)
شب چو عقد نماز بر بندم چہ خورد بامداد فرزندم
(رات کو نماز میں دل کیا لگے جب یہ پریشانی ہوکہ صبح بچے کیا کھائیں گے۔ ت)
عین العلم میں ہے :
یترك المضطرب طریق المتوکل بالادخار لان الغرض صلاح القلب۔
مضطرب ذخیرہ کے ذریعے متوکل کا طریق ترك کردے کیونکہ مقصد اصلاح قلب ہے(ت)
احیاء العلوم میں ہے :
بل لوامسك ضیعۃ یکون دخلھا وافیا بقدر کفایتہ وکان لا یتضرع قلبہ الابہ فذلك لہ اولی۔
بلکہ اگر قدر کفایت کو پورا کرنیوالی جائیداد کو محفوط کرے جبکہ(عبادت میں ) تضرع اسی سے حاصل رہتا ہے تویہ بہتر ہے۔ (ت)
یہاں وہ لوگ مراد ہیں جن کو توجہ بخدا کا قصد ہے ورنہ منہمکین فی الدنیا تو کسی وقت بھی متوجہ نہیں ہوتے غنی
حوالہ / References عین العلم ، الباب العشرون فی التوحید والتوکل الخ ، مطبع اسلامیہ لاہور ص٣٣٨
احیاء العلوم ، الباب العشرون فی التوحید والتوکل الخ مکتبہ ومطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ٤ / ٢٧٧
#9597 · صدقات نفل کا بیان
ہوں تو بھول جائیں اللھم انا نعوذبك من غنی یطغی ومن فقر ینسی(اے اﷲ!ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس غنا سے جو تیرا باغی بنادے اور اس فقر سے جو تجھے بھلا دے۔ ت)
نہم : اگر جمع رکھنے میں اس کا دل متفرق اور مال کے حفظ یا اس کی طرف میلان سے متعلق ہوتو رکھنا ہی افضل ہے کہ اصل مقصود ذکر الہی کے لیے فراغ بال ہے جو اس میں مخل ہو وہی ضم ہے ان ہی دونوں مقاموں کی طرف حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس دعا میں اشارہ فرمایا جواپنی امت کو تعلیم فرمائی کہ :
اللھم ما رزقتنی مما احب فا جعلہ قوۃ لی فیما تحب اللھم وما زویت عنی مما احب فا جعلہ فراغا لی فیما تحب۔ رواہ الترمذی عن عبداﷲ بن یزید رضی اﷲتعالی عنہ وحسنہ۔
اے اﷲ ! تو نے جو مجھے میرا پسندیدہ رزق دیا ہے تو اسے اپنے پسندیدہ کاموں میں میرے لیے قوت کا ذریعہ بنادے اور وہ پسندیدہ رزق جو تو نے مجھ سے روك رکھا ہے تو اسے اپنے پسندیدہ کاموں میں میرے لیے ذریعہ فراغت بنادے۔ اسے امام ترمذی نے حضرت عبداﷲبن یزید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرکے حسن قرار دیا ہے۔ (ت)
امام حجۃ الاسلام بعد عبارت مذکورہ فرماتے ہیں :
المقصود اصلاح القلب لیتجرد لذکراﷲ ورب شخص یشغلہ وجود المال ورب شخص یشغلہ عدمہ والمحذورما یشغل عن اﷲعزوجل والا فالدنیا فی عینھا غیر محذورۃ لاوجودھا ولا عدمھا۔
مقصود تو دل کی اصلاح ہے تاکہ وہ ذکر الہی کے لیے خالی ہوجائے اور بہت سے لوگوں کو مال کا ہونا اﷲتعالی سے غافل کردیتا ہے اور بہت سے لوگوں کو مال کا نہ ہونا غافل کردیتا ہے اور منع تو وہ ہے جو اﷲ عزوجل سے غافل کردے ورنہ فی نفسہ دنیا کا وجود و عدم ممنوع نہیں۔ (ت)
دہم : اصحاب نفوس مطمئنہ ہوں نہ عدم مال سے ان کا دل پریشان نہ وجود مال سے ان کی نظر وہ مختار ہیں۔ حق سبحانہ اپنے نبی سیدنا سلیمان علیہ السلام سے فرماتا ہے :
هذا عطآؤنا فامنن او امسك بغیر حساب(۳۹) ۔
یہ ہماری عطا ہے اب تو چاہے تو احسان کریا روك رکھ تجھ پر کچھ حساب نہیں۔ (ت)
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب الدعوات امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ٢ / ١٨٧
احیاء العلوم کتاب التوحید والتوکل ، احوال المتوکلین الخ مکتبہ و مبطبعۃ المشہدالحسینی قاہرہ ٤ / ٢٧٧
القرآن ٣٨ / ٣٩
#9598 · صدقات نفل کا بیان
اور کچھ نہ کہنا کہ عباداﷲکا فائدہ ہے۔ احیاء کتاب الزکوۃ وظیفہ سادسہ مزکی میں ہے :
المال کلہ ﷲ عزوجل وبذل جمیعہ ھو الاحب عنداﷲ سبحنہ وانما لم یأمر بہ عبدہ لانہ یشق علیہ بسبب بخلہ کما قال عزوجل “ فیحفکم تبخلوا “ ۔
تمام مال اﷲ عزوجل کے لیے ہے اور تمام کا تمام خرچ کردینا اﷲ سبحانہ کے ہاں پسندیدہ عمل ہے باقی تمام کو خرچ کردینے کا اﷲ تعالی نے اس لیے حکم نہیں دیا کہ بندے پر بخل کی وجہ سے ایسا کرنا مشکل تھا جیسا کہ باری تعالی نے ارشاد فرمایا : تم سے زیادہ طلب کرے تو تم بخل کرو گے۔ (ت)
یازدہم : حاجت سے زیادہ کا مصارف خیر میں صرف کردینا اور جمع نہ رکھنا صورت سوم میں تو واجب تھا باقی جملہ صور میں ضرور مطلوب اور جوڑ کررکھنا اس کے حق ناپسند ومعیوب کہ منفرد کو اس کا جوڑنا طول امل یا حب دنیا ہی سے ناشئی ہوگا اورطول امل غرور ہے اور دنیا اشر الشرور۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
کن فی الدنیا کانك غریب او عابر سبیل وعدنفسك من اصحاب القبور اذااصبحت فلا تحدث نفسك با لمساء واذاامسیت فلا تحدث نفسك بالصباح۔ رواہ الترمذی والبیھقی عن ابن عمر رضی اﷲتعالی عنھما وھو فی صحیح البخاری برفع اولہ ووقف اخرہ۔
دنیا میں یوں رہ گویا تو مسافر بلکہ راہ چلتا ہے اور اپنے آپ کو قبر میں سمجھ کر صبح کرے تو دل میں یہ خیال نہ لاکہ شام ہوگی اور شام ہوتو یہ نہ سمجھ کہ صبح ہوگی۔ (اسے ترمذی اور بیہقی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا سے روایت کیا ہے۔ صحیح البخاری میں اس کا اول حصہ مرفوعا اور آخری موقوفا مروی ہے۔ ت)
ایك حدیث میں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : یاایھاالناس اماتستحیون اے لوگو!کیا تمھیں شرم نہیں آتی حاضرین نے عرض کی : یارسول اﷲکس بات سے۔ فرمایا :
تجمعون مالا تاکلون وتبنون مالا تعمرون وتاملون مالا تدرکون الاتستحیون
جمع کرتے ہو جونہ کھاؤ گےاور عمارت بناتے ہوتو جس میں نہ رہو گے اور وہ آرزوئیں باندھتے ہو جن تک
حوالہ / References احیاء العلوم کتاب اسرار الزکوٰۃ ، بیان دقائق الآداب الباطنہ الخ مکتبہ ومطبعہ المشہد الحسینی قاہرہ ١ / ٢١٨ ، القرآن ٤٧ / ٣٧
جامع الترمذی ابواب الزہد باب ماجاء فی قصر الامل امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ٢ / ٥٧
#9599 · صدقات نفل کا بیان
ذلک۔ رواہ الطبرانی عن ام الولید بنت عمر الفاروق رضی اﷲتعالی عنھما۔
نہ پہنچو گے اس سے شرماتے نہیں۔ (اسے طبرانی نے حضرت ام الولید دختر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ (ت)
ایك حدیث میں ہے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہما نے ایك مہینے کے وعدے پر ایك کنیز سو دینار کو خریدی رسول اﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
الاتعجبون من اسامۃ یشتری الی شھر ان اسامۃ طویل الامل والذی نفسی بیدہ ماطرفت عیناہ الاظننت ان شفری لا یلتقیان حتی یقبض اﷲ روحی ولارفعت قد حا الی فی فظننت انی واضعہ حتی اقبض ولا لقمت لقمۃ الاظننت انی لاسیغھاحتی اعض بھا من الموت والذی نفسی بیدہ ان ما توعدون لات وماانتم بمعجزین۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی قصر الامل وابو نعیم فی الحلیۃ والاصبہانی فی الترغیب والبیھقی عن ابی سعیدن الخدری رضی اﷲتعالی عنہ۔
کیا اسامہ سے تعجب نہیں کرتے جس نے ایك مہینے کے وعدے پر(کنیز) خریدی بیشك اسامہ کی امید لمبی ہے قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں توجب آنکھ کھولتا ہوں یہ گمان ہوتا ہے کہ پلك جھپکنے سے پہلے موت آجائیگی اور جب پیالہ منہ تك لے جاتا ہوں کبھی یہ گمان نہیں کرتا کہ اس کے رکھنے تك زندہ رہوں گا اور جب کوئی لقمہ لیتا ہوں گمان ہوتاہے کہ اسے حلق سے اتارنے نہ پاؤں گا کہ موت اسے گلے میں روك دے گی قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بیشك جس بات کا تمھیں وعدہ دیا جاتا ہے ضرور آنے والی ہے تم تھکانہ سکو گے۔ اسے ابن ابی الدنیا نے باب فی قصر الامل میں ابونعیم نے حلیہ میں اصبہانی نے ترغیب میں اور بیہقی نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
عبد اﷲبن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا کو دیوار پر کہگل اور ٹٹی درست کرتے دیکھا فرمایا : اے عبد اﷲ!کیا ہے عرض کی درست کرتا ہوں۔ فرمایا :
حوالہ / References المعجم الکبیر مروی از ام الولید بنت عمر بن خطاب حدیث ٤٢١ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ٢٥ / ١٧٢
حلیۃ الاولیاء ابوبکر ابی مریم الغسانی نمبر ٣٣٤ دارالکتاب العربی بیروت ٦ / ٩١ ، الترغیب والترہیب کتاب التوبہ والزہد مصطفی البابی مصر ٤ / ٢٤٢
#9600 · صدقات نفل کا بیان
الامرا سرع من ذلک۔ رواہ ابو داؤد و الترمذی فـــ وحسنہ وصححہ وابن ماجۃ وابن حبان عنہ رضی اﷲتعالی عنہ۔
معاملہ اس سے قریب تر ہے(اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کرکے حسن اور صحیح کہا۔ ابن ماجہ اور ابن حبان نے حضرت عبد اﷲبن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا سے روایت کیا۔ ت)
ایك بار حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے گردن مبارك پر دست اقدس رکھ کر فرمایا : ھذا ابن ادم وھذااجلہ یہ ابن آدم ہے اور یہ اس کی موت ہے۔ پھر دست انور پھیلا کر فرمایا :
وثم املہ وثم املہ۔ رواہ الترمذی وابن حبان وبنحوہ النسائی وابن ماجۃ عن انس رضی اﷲتعالی عنہ۔
اور وہ اتنی دور اس کی امید ہے اتنی دور اس کی امید۔ (اسے ترمذی ابن حبان اور اسی کی مثل نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
ایك حدیث میں ہے :
الدنیا دارمن لادارلہ ولھا یجمع من لا عقل لہ۔ رواہ احمد والبیہقی فی شعب الایمان عن ام المومنین وھذا عن ابن مسعود من قولہ رضی اﷲ تعالی عنھما۔
دنیا بے گھر وں کا گھر ہے اور اس کے لیے وہ جمع کرتا ہے جو بے عقل ہے۔ (اسے امام احمد اور بیہقی نے شعب الایمان میں ام المومنین سے روایت کیا ہے اور اسے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے قول کے طور پر نقل کیا ہے۔ ت)
ایك حدیث میں فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
من کنز دنیا یرید حیاۃ باقیۃ فان الحیاۃ بیداﷲالاوانی لااکنزدینارا
جو دنیا جوڑ کر رکھے بقائے زندگی چاہتا ہو تو زندگی تو اﷲکے ہاتھ میں ہے سن لو میں نہ اشرفی
حوالہ / References جامع الترمذی ابواب الزہد باب ماجاء فی قصر الامل امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ٢ / ٥٧ ، سنن ابن ماجہ ابواب الزہد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ٣١٧
جامع الترمذی ابواب الزہد باب ماجاء فی قصر الامل امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ٢ / ٥٧
مسند احمد بن حنبل مروی از عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا دارالفکر بیروت ٦ / ٧١
فـــ : جامع الترمذی اور سنن ابن ماجہ میں حدیث کے الفاظ یُوں ہیں : ما اری الامر الااعجل من ذٰلک۔ نذیر احمد)
#9601 · صدقات نفل کا بیان
ولا درھما ولا اخبأ رزقا لغد۔ رواہ ابو الشیخ فی الثواب عن ابن عمر رضی اﷲتعالی عنہما۔
جوڑکر رکھتا ہوں نہ روپیہ نہ کل کے لے کھانا اٹھاکر رکھوں۔ (اسے ابو الشیخ نے الثواب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا سے روایت کیاہے۔ ت)
یہ سب منفرد کا بیان رہا عیالدار ظاہر ہے کہ وہ اپنے نفس کے حق میں منفرد ہے تو خوداپنی ذات کے لیے اسے انھیں احکام کا لحاظ چاہئے اور عیال کی نظر سے اس کی صورتیں اور ہیں ان کابیان کریں۔
دوازدہم : عیال کی کفالت شرع نے اس پر فرض کی وہ ان کو توکل و تبتل و صبر علی الفاقہ پر مجبور نہیں کرسکتا اپنی جان کو جتنا چاہے کسے مگر ان کو خالی چھوڑنا اس پر حرام ہے ۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
کفی بالمرء اثما ان یضیع من یقوت رواہ الامام احمد وابوداؤد والنسائی والحاکم والبیہقی بسند صحیح عن عبداﷲبن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما و عزاہ فی المقاصد المسلم۔
آدمی کو گناہ کافی ہے کہ جس کا قوت اس کے ذمہ ہے اسے ضائع چھوڑے۔ (اسے امام احمد ابوداؤد نسائی اور بیہقی نے حضرت عبداﷲبن عمرو رضی اﷲ تعالی عنہما سے بسند حسن روایت کیاہے۔ مقاصد میں اس کی نسبت مسلم کی طرف ہے۔ (ت)
حجۃ الاسلام فرماتے ہیں قدس سرہ :
لایجوز تکلیف العیال الصبر علی الجوع فلا یمکنہ فی حقہم ولا توکل المکتسب فاما ترك العیال توکل فی حقھم او القعود عن الاھتمام بامرھم توکلا فھذا حرام وقد یفضی الی ھلا کھم ویکون ھومواخذابھم۔ (ملخصا)
عیال کو بھوك پر قائم رکھنا جائز نہیں اس ان کے حق میں ایسا ممکن نہیں اور اسی طرح کمانے والے کو توکل کرلینا بھی جائز نہیں عیال کے حق میں توکل کرتے ہوئے انھیں چھوڑ دینا یاتوکل کرتے ہوئے ان کے اخراجات کا اہتمام نہ کرتے ہوئے بیٹھ جانا حرام ہے اور اگر یہ ان کی ہلاکت کا سبب بن گیا تو یہ شخص پکڑا جائے گا۔ (ت)
حوالہ / References الترغیب والترھیب بحوالہ ابی الشیخ فی کتاب الثواب کتاب التوبہ والزہد مصطفی البابی مصر ٤ / ١٨٩
سنن ابی داؤد کتاب الزکوٰۃ باب فی صلۃ الرحم آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٢٣٨ ، مسند احمد بن حنبل مروی از عبد اﷲبن عمر و دارا لفکر بیروت ٢ / ١٦٠ ، ١٩٤ ، ١٩٥
احیاء العلوم کتاب التوحید والتوکل مکتبہ ومطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ٢ / ٢٧٢
#9602 · صدقات نفل کا بیان
حضور پر نور سید المتوکلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنے نفس کریم کے لیے کل کا کھانا بچا رکھنا پسند نہ فرماتے۔ ایك بار خادمہ رضی اللہ تعالی عنہم ا نے پرند کا گوشت کہ آج تناول تو فرمایا تھا بچا ہوا دوسرے دن حاضر کیا فرمایا :
الم انھك ان ترفعی شیآ لغد فان اﷲیأتی برزق غدا۔ رواہ ابویعلی بسند صحیح والبیہقی عن انس رضی اﷲتعالی عنہ۔
کیا ہم نے منع نہ فرمایا کہ کل کے لیے کچھ اٹھا کرنہ رکھنا کل کی روزی اﷲکل دے گا۔ (اسے ابو یعلی نے سند صحیح کے ساتھ اور بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
اور اپنی عیال کے لیے مال سال بھر کا قوت جمع فرمادیتے۔ صحیحین میں امیر المومنین فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
کان صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ینفق منہ (ای مما افاء اﷲعلی رسولہ من اموال بنی النضیر) علی نفقۃ سنۃ ثم یجعل مابقی منہ مجعل مال اﷲ عزوجل۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنے اس(مال فئے جو اﷲنے بنونضیر کے اموال سے حضور کو عطا کیا تھا) سے سال بھر خرچ کرتے پھر باقی کو جمع کرکے بیت المال میں دے دیتے۔ (ت)
سیزدہم : وہ جس کی عیال میں صورت چہارم کی طرح بے صبرا ہو اور بے شك بہت عوام ایسے نکلیں گے تو اس کےلحاظ سے تو اس پر دوہرا وجوب ہوگا کہ قدر حاجت جمع رکھے
قال اﷲقوا انفسکم واھلیکم نارا۔
اﷲتعالی کا ارشاد مبارك ہے : اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو آگ سے بچاؤ۔ (ت)
چہاردہم : ہاں جس کی سب عیال صابر و متوکل ہوں اسے روا ہوگا کہ سب راہ خدا میں خرچ کردے۔ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك بار صدقہ کا حکم فرمایا امیرالمومنین عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں میں خوش ہوا کہ اگرصدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ پر سبقت لے جاؤں گا تو اس بار میرے پاس مال بہت ہے اور ان کے پاس کم۔ فاروق اپنے تمام مال کا نصف حاضر لائے۔ ارشاد ہوا : عیال کے لیے کیا چھوڑاعرض کی : اتنا ہی۔
حوالہ / References مسند ابی یعلیٰ از مسند انس بن مالك حدیث ٤٢٠٨ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ٤ / ١٩٢ ، شعب ایمان باب التوکل والتسلیم حدیث ١٣٤٨ دارالکتب العلمیہ بیروت ٢ / ١١٩
صحیح البخاری کتاب النفقات ٢ / ٨٠٦ وکتاب الفرائض٢ / ٩٩٦ وکتاب الاعتصام٢ / ١٠٨٦ قدیمی کتب خانہ کراچی ، صحیح مسلم باب حکم الفئی قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٨٩ و٩١
القرآن ۶۶ / ٦
#9603 · صدقات نفل کا بیان
صدیق رضی اللہ تعالی عنہ تمام و کمال اتنا اپنا سارا مال حاضر لائے ارشاد ہوا : عیال کے لیے کیا چھوڑا عرض کی : اﷲورسول جل وعلا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔ حضور اقدس نے فرمایا : عــــہ۱ بینکما مابین کلتیكما(تم دونوں کے مرتبوں میں وہ فرق ہے جو تمھاری ان باتوں میں ہے) اگرصاحب عــــہ۲ جائیداد ہے اور اسکی آمدنی خرچ سے زائد ہے تو اس کی آمدنی سے بقدر خرچ رکھ کر باقی کا تصدق مطلقا افضل ہے اگر دخل ماہانہ ہے تو ایك مہینہ کا خرچ رکھ کر اور سالانہ تو ایك سال کا اس سے زائد کا جمع رکھنا حرص و حب دنیا سے ناشئی ہوتا ہے اور حب دنیا خطا کی جڑ ہے۔ صحیحین میں امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
ان رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم کان ینفق علی اھلہ نفقۃ سنتھم من ھذاالمال ثم یاخذ مابقی فیجعلہ مجعل مال اﷲ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اسی مال سے اپنے اہل پر سال بھر خرچ کرتے پھر بقیہ کو اﷲکے راہ میں خرچ کردیتے۔ (ت)
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
الدنیا دار من لادارلہ ولھا یجمع من لاعقل لہ۔ رواہ الامام احمد والبیہقی فی الشعب عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اﷲتعالی عنہا بسند صحیح۔
دنیا بے گھروں کا گھر ہے اور اس کے لیے احمق ہی جمع کر ےگا۔ (اسے امام احمد بیہقی نے شعب الایمان میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بسندصحیح روایت کیا ہے۔ ت)
احیاء العلوم شریف میں ہے :
ما وراء السنۃ لایدخرلہ الابحکم ضعف القلب فھو غیر واثق بتدبیرالحق فان اسباب الدخل تتکرر بتکرر السنین ملخصا۔
سال سے زائد رزق جمع نہ کیا جائے مگر اس صورت میں دل ضعیف ہو اور تدبیر حق کے ساتھ واثق نہ ہو کیونکہ اسباب جمع مختلف سالوں کی وجہ سے مختلف ہونگے (ت)
اور اگر جائداد نہیں رکھتا عیال کے لیے اتنا پس انداز کرنا کہ اگر یہ مرجائے تو وہ اس بقیہ سے منتفع ہوں اور انھیں بھیك مانگنی نہ پڑے افضل ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
عــــہ۱ : یہاں تك یہ جواب دستیاب ہوا (اس سے آگے عربی جملہ اور اسکا ترجمہ “ جواہرالبیان فی سرارالارکان “ صمیں اسی حدیث کے تحت ملا ہے ) عــــہ۲ : یہاں سے سوال مذکور کایہ مختصر جواب ہے
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب النفقات ٢ / ٨٠٦ وکتاب الفرائض٢ / ٩٩٦وکتاب الاعتصام ٢ / ١٠٨٦قدیمی کتب خانہ کراچی ، صحیح مسلم ، باب حکم الفئی ، قدیمی کتب خانہ کراچی ، ٢ / ٨٩ و٩١
صحیح البخاری کتاب النفقات ٢ / ٨٠٦ وکتاب الفرائض٢ / ٩٩٦وکتاب الاعتصام ٢ / ١٠٨٦قدیمی کتب خانہ کراچی ،
احیاء العلوم کتاب التوحید والتوکل بیان احوال المتوکلین مکتبہ ومطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ٢ / ٢٧٧
#9604 · صدقات نفل کا بیان
انك ان تذر ورثتك اغنیاء خیرمن ان تذرھم عالۃ یتکففون الناس فی ایدیھم۔ رواہ الشیخان عن سعد بن ابی وقاص رضی اﷲتعالی عنہ ۔
تیراورثاء کو غنی چھوڑنا اس سے کہیں بہتر ہے کہ محتاجی میں لوگوں سے مانگتے پھریں۔ اسے بخاری و مسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
اور اس کی مقدار جو ان کے لیے چھوڑنا مناسب ہے ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہ سے چار ہزار درہم مروی ہے یعنی ہر ایك کو اتنا حصہ پہنچے اور امام ابوبکر فضل سے دس ہزار درہم اور اگر ان کے حصے مختلف ہیں تو لحاظ اس کا کیا جائیگا جس کا حصہ سب سے کم ہے اور اس سے زیادہ پھر ہوس ہے درمختار میں ہے :
ندبت(ای الوصیۃ) باقل منہ (ای من الثلث) ولو عند غنی ورثتہ او استغنا ھم بحصتھم کما ندب ترکہا بلا غنی واستغناء (ملخصا)
جب ورثاء غنی یا اپنے حصہ کے سبب مستغنی ہوں تو تیسرے حصہ وراثت سے کم میں وصیت کرنا مستحب ہوتا ہے جیسا کہ ورثاغنی و مستغنی نہ ہوں توترك وصیت مستحب ہے(ملخصا)۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
استغنائھم بحصتھم بان یرث کل منھم اربعۃ الاف درھم علی ماروی عن الامام اویرث عشرۃ الاف درھم علی ماروی عن الفضلی قہستانی عن الظہیریۃواقتصرالاتقانی علی الاول۔
ورثاء کا ا پنے حصہ کے ساتھ مستغنی ہونا یہ ہے کہ ان میں سے ہرایك چار ہزار درہم کا وارث بنے جیسا کہ امام صاحب سے مروی ہے۔ یا دس ہزار جیساکہ فضلی قہستانی نے ظہیریہ سے نقل کیا ہے۔ اتقانی نے پہلے قول پر ہی اکتفاء کیا ہے۔ (ت)
چار ہزاردرہم کے انگریزی روپے سے گیارہ سوبیس ہوئے اور دس ہزار کے دوہزار آٹھ سو۔ ہاں اگر عیال خود غنی ہوں تو پس اندازنہ کرنا ہی افضل یونہی اگر فاسق ہوں کہ مال معصیت میں خرچ کریں گے تو ان کے لیے کچھ نہ چھوڑنا ہی بہتر۔ فتاوی خلاصہ و لسان العلوم و فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
لوکان ولدہ فاسقاواردان یصرف مالہ اگر اولاد فاسق و فاجر ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میں اس
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب النفقات باب فضل النفقہ علی الاہل قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٨٠٦ ، صحیح مسلم کتاب الوصیۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٣٩
درمختار کتاب العاقل مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ٣١٨
ردالمحتار کتاب العاقل مصطفی البابی مصر ٥ / ٤٦١
#9605 · صدقات نفل کا بیان
الی وجوہ الخیر ویحرمہ عن المیراث ھذاخیرمن ترکہ۔ واﷲتعالی اعلم۔
وراثت سے محروم کرکے مال کو اچھے کاموں پر خرچ کردوں تو یہ وراثت چھوڑنے سے بہترہے(ت) واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از جبلپور ضلع پیلی بھیت مرسلہ محمد حسین احمد صاحب اسٹیشن ماسٹر ربیع الآخر ھ
مخزن علوم حقانی وربانی ادام اﷲفیوضہم تسلیم بعد تعظیم میری اہلیہ عرصہ سے ہر سال حضرت غوث الاعظم کی گیارھویں میں سوامن بریانی پکواکر نیاز دلاتی ہے اور مساکین کو تقسیم کی جاتی ہے کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ یہ رقم امسال شہداء ویتامی عساکر عثمانیہ کی امداد کے لیے بھیجی جائے اور گیارہویں شریف معمولاقدرے شیرینی یا طعام پر دلادی جائے زیادہ نیاز
الجواب :
اگر دونوں باتیں نہ ہوں تو یہی بہتر ہے کہ قدرے نیاز دے کر وہ تمام قیمت امداد مجاہدین میں بھیج دی جائے اور اس کا ثواب بھی نذرروح اقدس حضرت سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو کیا جائے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از بلتہرابازار ضلع بلیا مرسلہ شیخ واجد علی محمد سلطان سوداگرچرم شعبان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید شخص مالدار ہے اور سالانہ مد زکوۃ میں ہزاروں روپیہ نکال کر مستحقین میں تقسیم کرتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس رقم زکوۃ سے زید حقیت زمینداری خرید کر اس کے خالص منافع کو مستقل طور پر مستحقین اور طالب علم دینیات کو دے سکتا ہے کیا اس کے جواز کی کوئی صورت ہے چونکہ زید اپنے کاروبار تجارت کو بہ مقابلہ حقیت زمینداری کے مستحکم نہیں خیال کرتا وہ چاہتا ہے کہ اس صورت میں ہمیشہ وہ زکوۃ سے مستحقین میں اس کا نفاذ رکھے۔
الجواب :
زکوۃ تملیك فقیر ہے نہ جائداد خرید نے سے ادا ہوسکتی ہے نہ جائداد فقراء پر وقف کردینے سے ہاں اگر وہ روپیہ کسی فقیر مصرف زکوۃ کو باجازت شرعی دے کر بہ نیت زکوۃ مالك کردے تو اس فقیر کی اجازت سے اس کی جائداد خرید کر وقف فقراء کرے تو یہ صورت بہت مستحسن ہے اور اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ مثلا دس ہزار روپیہ زکوۃ کے دینے ہیں اور چاہتا ہے کہ ان کی جائداد خرید کر وقف فقراء کرے توکسی فقیر مصرف زکوۃ کے ہاتھ مثلا سو پچاس روپیہ کا مال دس ہزار روپیہ کو بیچے اور وہ قبول کرلے تو دس ہزار روپیہ اس کو بہ نیت زکوۃ اور اس قیمت کے مطالبہ میں واپس لے کر ان کی جائداد خرید کر وقف فقراء کردے یوں وقف بھی
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ ، الباب السادس فی الھبۃ للصغیر ، نورانی کتب خانہ پشاور ، ٤ / ٣٩١
#9606 · صدقات نفل کا بیان
ہوجائیگا اور زکوۃ بھی ادا ہوجائیگی اور فقیر کو بھی سو پچاس روپیہ کا مال مل جائے گا اور وہ بعد ادائے زکوۃ دس ہزار روپیہ واپس دینا نہ چاہئے یہ جبرالے سکتا ہے کہ اس کا اتنا اس پر آتاہے۔ درمختار میں ہے :
ولو امتنع المدیون مدیدہ واخذھا لکونہ ظفر بجنس حقہ۔ واﷲتعالی اعلم
اگر مدیون نہیں دیتا تو اسے چھین لے کیونکہ یہ اپنے حق کے حصول پر قدرت پاتا ہے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ : از کانپور محلہ فیل خانہ قدیم مرسلہ مولانامولوی سید محمد آصف صاحب زید فیضہم جمادی الآخر ھ
کتاب کنوز الحقائق میں یہ حدیث شریف ہے : تصدقواعلی اھل الادیان کلھا (تمام دینوں والوں پر صدقہ کرو۔ ت) اور دوسری حدیث سے ثابت ہے کہ ہر جاندار سے بھلائی صدقہ ہے۔ ائمہ کرام کفار حربی سے سلوك کو کیوں منع کرتے ہیں ان کے کیا دلایل ہیں اور احادیث کے کیا جوابکتاب السنیۃ الانیقہ میں ہے :
لا تکون براشرعا ولذالم یجزالتطوع الیہ فلم یقع قربۃ۔
یہ شرعانیکی نہیں ہوگی اسی وجہ سے ایسے کافر پر نفلی صدقہ جائز نہیں اور نہ وہ قربت بنے گا۔ (ت)
الجواب :
بہ ملاحظہ مولانا المکرم ذی المجد والکرام مولانا مولوی سید آصف دامت فضائلہم تصدقو اعلی اھل الا دیان کلھا میں امر بتصدق ہے اور تصدق قربت جہاں قربت نہ ہو صدق تصدق محال ہے اوربہ تصریح ائمہ اہل حرب کو کچھ دینا اصلاقربت نہیں تو وہاں صدق تصدق نا ممکن اور قطعاحاصل حدیث یہ کہ جن کو دینا قربت ہے وہ کسی دین کے ہوں ان پر تصدق کرویہ ضرور صحیح ہے اور صرف اہل ذمہ کو شامل نصرانی ہوں خواہ یہودی خواہ مجوسی خواہ وثنی کسی دین کے ہوں اگر وہ قول لیں کہ غنی کو دینا صدقہ نہیں ہوسکتا تو مسلمان غنی بھی اس عموم اہل الادیان کلہا میں نہیں آسکا کہ وہ محل صدقہ ہی نہیں اور کلام تصدق میں ہے یہی جواب اس حدیث سے ہے کہ ہر جاندار سے بھلائی صدقہ ہے ورنہ صحیح مسلم شریف کی صحیح حدیث میں فرمایا کہ جو وزغ کو ایك ضرب مارے سو نیکیاں پائے۔ دوسری حدیث میں ہے : جس نے سانپ کو قتل کیا اس نے گویا ایك مشرك حلال الدم کو قتل کیا۔ رواہ الامام احمد عن عبداﷲبن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ(اسے امام احمد نے حضرت عبد اﷲبن مسعود سے
حوالہ / References درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٣٠
کنوز الحقائق فی حدیث خیر الخلائق لعبد الرؤف المناوی حدیث نمبر ٢٩٤٣ ، ٢٣٢
السنیۃ الانیقۃ
صحیح مسلم کتاب قتل الحیات باب استحباب قتل الوزغ قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٢٣٦
مسند احمد بن حنبل مروی از عبد اﷲبن مسعود دارالفکر بیروت ١ / ٣٩٥
#9607 · صدقات نفل کا بیان
روایت کیا ہے۔ ت)تیسری حدیث میں ہے :
اقتلواالحیات کلھن فمن خاف ثأر ھن فلیس منا ۔ رواہ ابوداؤد والنسائی و الطبرانی فی الکبیر عن جریر بن عبداﷲو عن عثمان بن ابی العاص رضی اﷲتعالی عنھم۔
سب سانپوں کو قتل کرو جو ان کے بدلہ لینے سے ڈرے وہ ہمارے گروہ سے نہیں۔ (اسے ابوداؤد نسائی اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت جریر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کیا ہے۔ ت)
ایك حدیث میں ہے :
من قتل حیۃ اوعقر با فکا نما قتل کافرا۔ رواہ الخطیب عن ابن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ۔
جس نے سانپ یا بچھو ماراگویا ایك کافر مارا(اسے خطیب نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۔ (ت)
کفارکی نسبت خود قرآن عظیم میں ہے : و اقتلوهم حیث ثقفتموهم (اور ان کو جہاں پاؤ مارو۔ ت) اور فرمایا : اینما ثقفوا اخذوا و قتلوا تقتیلا(۶۱) (جہاں کہیں ملیں پکڑ ے جائیں اور گن گن کر قتل کئے جائیں۔ ت)اور فرمایا : و اغلظ علیهم- (ان پر سختی کرو۔ ت) اور فرمایا : و لیجدوا فیكم غلظة- (وہ پائیں تمھارے اندر سختی ۔ ت) تو وہ اصلا محل احسان نہیں۔ ابتدائے اسلام میں غیر محارب و محارب کفار میں فرق فرمایا تھا ان سے نیك سلوك اور برابری کا برتاؤ جائز تھااور ان سے منع اور اسی کو ان سے دوستی رکھنے سے تعبیر فرمایا تھاورنہ دوستی تو کسی کافر سے کبھی حلال نہ تھی۔
قال اﷲتعالی لا ینهىكم الله عن الذین لم یقاتلوكم فی الدین و لم یخرجوكم من دیاركم ان تبروهم و تقسطوا الیهم-ان الله یحب المقسطین(۸)
اﷲتعالی کا ارشادگرامی ہے : اﷲتمھیں ان سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین میں نہ لڑے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہ نکالا کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سے
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی قتل الحیات ، آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ٣٥٦
تاریخ بغداد ، ترجمہ نمبر٦٩ ، محمد بن الحسین الخثمی الاشنائی ، دارالکتاب العربی بیروت ، ٢ / ٢٣٤
القرآن ٢ / ١٩١ و٤ / ٩١
القرآن ٣٣ / ٦١
القرآن ٩ / ٧٣
القرآن ٩ / ١٢٣
#9608 · صدقات نفل کا بیان
انما ینهىكم الله عن الذین قتلوكم فی الدین و اخرجوكم من دیاركم و ظهروا على اخراجكم ان تولوهم-و من یتولهم فاولىك هم الظلمون(۹)
انصاف کابرتاؤ برتو۔ بیشك انصاف والے اﷲکو محبوب ہیں اﷲتمھیں انہی سے منع کرتا ہے جوتم سے دین میں لڑے یا تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا یا تمھارے نکالنے پر مدد کی کہ ان سے دوستی کرو اور جو ان سے دوستی کریں تو وہی ستمگار ہیں۔ (ت)
معالم شریف وغیرہ میں ہے :
ثم ذکرالذین نھا ھم عن صلتھم فقال انما ینہىکم اللہ الایۃ
پھر ا ﷲتعالی نے ان لوگوں کا ذکر کیا جن سے احسان سے منع فرمایا : انما ینهىكم الله ۔ (ت)
خازن میں ہے :
ثم ذکر اﷲالذی نھی عن صلتھم وبرھم فقال تعالی انما ینھکم اﷲ۔
پھر ان لوگوں کا ذکر کیا جن سے نیکی واحسان منع ہے تو فرمایا انما ینهىكم الله ۔ (ت)
تو معلوم ہوا کہ ان کے ساتھ نیك سلوك موالات ہے اور ان سے موالات مطلقا کثیر آیات میں حرام فرمائی۔ اسی سورہ کریمہ کے آخر میں ہے :
یایها الذین امنوا لا تتولوا قوما غضب الله علیهم
اے ایمان والو! ان لوگوں سے دوستی نہ کرو جن پر اﷲکا غضب ہے۔ (ت)
لاجرم کبیر میں ہے : قال قتادۃ نسختھا ایۃ القتال (حضرت قتادہ نے فرمایا اس آیت کو آیت قتال نے منسوخ کردیاہے۔ ت) تو اب کسی کافرحربی سے بروصلہ جائز نہ رہا اگر چہ اس نے بالفعل محاربہ نہ کیا ہو۔ واﷲ تعالی اعلم
____________________
حوالہ / References القرآن ٦٠ / ٨ و٩
تفسیر معالم التنزیل مع الخازن زیر آیت لاینھٰکم اﷲالخ مصطفی البابی مصر ٧ / ٧٧
تفسیر الخازن ، زیر آیت لاینھٰکم اﷲالخ ، مصطفی البابی مصر ٧ / ٧٧
القرآن ٦٠ / ١٣
تفسیر کبیر ، زیر آیت لاینھٰکم اﷲالخ ، المطبعۃ البھیۃ مصر ٢٩ / ٤
#9609 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
مسئلہ :
کسی نے حرام کھاناکھا کر روزہ رکھا اور حرام چیز سے افطار کیا فرض صوم اس پر سے ساقط ہوا ہے یا نہیںبینواتوجروا
الجواب :
بیشك صورت مستفسرہ میں فرض ساقط ہوگیا فان الصوم انماھو الامساك من المفطرات الثلثۃ من الفجر الی اللیل(روزہ صبح سے لے کر شام تك تین چیزوں (کھانا پینا اور ہمبستری) سے رك جانا ہے۔ ت)سحری کھانا یا افطار کرنا روزے کی حقیقت میں داخل نہ اس کی شرائط سے پھر اگر یہ مال حرام سے واقع ہوئی تو اس کا گناہ جدا رہا مگر سقوط فرض میں شبہ نہیں۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ :
چہ می فرمایند علمائے دین و مفتیان شرع متین در مسئلہ کہ روزہ فرض بر حافظ قرآن بوجہے کہ تراویح می گزارد معاف ست یا نابینو اتوجروا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك حافظ قرآن پر تراویح پڑھانے کی وجہ سے روزہ رکھنا معاف ہے یانہیں
#9610 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
ایھا العلماء۔
اے علماء!جواب تحریر فرماکر اجر پاؤ۔ (ت)
الجواب :
ختم قرآن در تراویح از سنتے بیش نیست و فرقے کہ از سنت تا فرض ست خود ہو یداست چہ بلا وسفاہتے باشد ایں را بہرآں گز شتن وادر دین داو اژ گو نہ داشتن بلکہ ایں بہانہ دروغ خود بفہم در نمی آید زیر اکہ قرأت قرآن مانع روزہ نیست ہزارا ں ہزار حافظان قرآن در اقطارعالم واکناف زمین از پیران وبچگان وکم طاقتان ھم بروز روزہ مے دارند وہم شب قرآن می خوانندو بدیں معنی ہیچ مضرتے بچشم ایشاں نمی رسد وچہ گونہ رسد کہ ہم روزہ صحت ست وہم قرآن شفاامااعتقادے صحیح باید تا ازیں دہائے الہی نفع رونماید۔ قال اﷲتعالی
و ننزل من القران ما هو شفآء و رحمة للمؤمنین-و لا یزید الظلمین الا خسارا(۸۲) قال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم اغزوا تغنمو او تصوموا تصحوا وسافروا تستغنوا۔ اخرجہ الطبرانی فی المعجم الاوسط من طریق زھیربن محمدعن سھیل بن ابی صالح عن ابیہ
تراویح میں ختم قرآن سنت سے بڑھ کر نہیں سنت اور فرض میں جو فرق ہے وہ نہایت ہی ظاہر و باہر ہے یہ کتنی بیوقوفی اور کم عقلی ہے کہ سنت کی خاطر فرض چھوڑدیا جائے یہ دین سے برگشتگی بلکہ یہ جھوٹا بہانہ سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ قرأت قرآن روزہ رکھنے سے مانع نہیں ہوسکتی۔ پوری دنیا میں ہزار ہا حفاظ قرآن جن میں بوڑھے بچے اورکمزور شامل ہیں دن کو روزہ رکھتے ہیں اور رات کو قرآن سناتے ہیں اور کبھی کسی کو ایسا معاملہ نقصان دہ نہیں ہوا اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ روزہ بھی صحت ہے اور قرآن سراپا شفا ہے لیکن اعتقاد کا صحیح ہونا ضروری ہے تاکہ ا ﷲتعالے یہ نفع عطافرمائے۔ اﷲتعالی کا فرمان مبارك ہے : ہم نے قرآن نازل کیا جو مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے خسارہ میں اضافہ ہی کرتا ہے۔ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جہاد کرو غنیمت حاصل کرو روزہ رکھو صحت حاصل کرو بغرض تجارت سفر کرواور نفع حاصل کرکے غنی حاصل کرو۔ اسے طبرانی نے معجم اوسط میں زہیر بن محمد سے انھوں نے سہیل بن ابی صالح سے انھوں نے اپنے والد سے
حوالہ / References القرآن ۱۷ / ٨٢
مجمع الزوائد بحوالہ المعجم الاوسط باب اغزوا تغمنوا الخ دارالکتاب العربی بیروت ٥ / ٣٢٤ ، مقاصد الحسنہ حرف السین المہملہ حدیث ٥٤٩ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ٢٣٦
#9611 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ کما فی المقاصد الحسنۃ وروایۃ ثقات کما فی ترغیب المنذری واخرجہ الامام احمد ایضا کما قال السخاوی وروی قولہ صوموا تصحوا عن ام المنومنین عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اخرجہ ابن السنی وابو نعیم فی الطب النبوی کما فی الجامع الصغیر للسیوطی لکن اسنادہ ضعیف کما قال المناوی قلت ولا یضرلثبوتہ برجال ثقات مع ان الضعیف معمول بہ فی الفضائل اجماعا کما افاد النووی وغیرہ۔
ہیچ باور نمی آید کہ ایں کس را قرآن خواندن از روازہ باز می دارد پس نباشد مگر عذر باطل ودون ہمتی ونفس پروری والعیاذ باﷲ اگربالفرض ہمچنان ست کہ قرآن خواندن او را بہ حدے ناتواں می کند کہ طاقت روزہ طاق می گردد تادریں صورت ایں قرآن خواندن درحق وے نہ سنت و باعث ثواب باشك بلکہ حرام و موجب عذاب ورنگ کسیکہ تلاوت قرآن دراز کرد تاآں کہ وقت نماز از دست رفت ایں چنیں قرآن خواندن درآں قول نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم داخل است کہ فرمودہ رب تالی القران والقران یلعنہ
انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا ہے جیسا کہ مقاصد حسنہ میں ہے اور یہ ثقہ لوگوں روایت ہے جیسا کہ ترغیب منذری میں ہے اور اسے امام احمد نے بھی تخریج کیا جیسا کہ سخاوی نے کہا اور یہ الفاظ بھی ام المومنین نے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کئے کہ روزہ رکھو اور صحت پاؤ۔ اسے ابن سنی نے اورابو نعیم نے طب نبوی میں روایت کیا جیسا کہ جامع الصغیر للسیوطی میں ہے لیکن اس کی سند ضعیف ہے جیسا کہ مناوی نے کہا قلت اس کا ضعیف ہونا نقصان دہ نہیں کیونکہ ثقہ لوگوں سے مروی ہے علاوہ ازیں ضعیف پر فضائل میں عمل بالاتفاق جائز ہے جیسا کہ نووی وغیرہ نے بیان کیا ہے۔
کسی طرح بھی یہ باور نہیں کیا جاسکتا کہ اس شخص کو قرأت روزہ رکھنے سے مانع ہے یہ صرف عذر باطل کم ہمتی اور العیاذباﷲاگر بالفرض قرآن پڑھنا اتنا کمزور کردیتا ہے کہ اسے روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رہتی تو اس صورت میں اس کے لیے قرآن پڑھنا نہ سنت ہے نہ باعث ثواب بلکہ حرام اور موجب عذاب ہے جس طرح کوئی شخص قرآن کی تلاوت اتنی طویل کرے کہ نماز کا وقت ہی فوت ہوجائے تو وہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کے تحت داخل ہوگا۔ “ بہت سے لوگ قرآن پڑھتے ہیں مگر قرآن ان پر لعنت
حوالہ / References الجامع الصغیر مع التیسیر تحت حدیث صومواتصحوا مکتبۃ الامام الشافعی ریاض سعودیۃ ٢ / ٩٥
التیسیرشرح الجامع الصغیر تحت حدیث صوموتصحوا مکتبۃ الامام الشافعی ریاض سعودیۃ ٢ / ٩٥
المدخل لابن الحاج بیان فضل تلاوت القرآن الخ دار الکتاب العربی بیروت ۱ / ۸۵
#9612 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
ای بسا قرآن خواناں کہ قرآن ایشاں را لعنت مے کند علماء مطلق فرمودہ اند ہر عملے کہ ضعیف واز روزہ بازدارد روانیست فی الدرالمختار لا یجوزان ان یعمل عملا یصل بہ الی الضعف واگر مردے راحالتے باشد کہ چوں روزہ داردقیام درنماز نہ تواند او را روانیست کہ روزہ رمضان ترك دہد بلکہ روزہ دارد ونماز نشستہ گزارد فی الدرالمختار عن البز ازیۃ لو صام عجز عن القیام صام وصلی قاعد اجمعا بین العبادتین سبحان اﷲ! نزد علماء قیام نماز کہ خود فرض است بغرض مراعات روزہ ساقط گردد اینجاروزہ رمضان بہرادائے سنتے حاشا بلکہ بہر تفاخرے بہ حصول امامتے بلکہ بہر فعلے ناجائزے گناہے حرامے عفو مے شود ان ھذا الاجھل صریح او عناد قبیح ایں عزیز راگویند کہ حق سبحانہ وتعالی صوم رمضان بر تو وہمگناں فرض عین فرمودہ است و قرآن در تراویح ختم کردن نہ فرض ست ونہ سنت عین اگر بسبب تکثیر تلاوت ہنگام دور کہ اکثر حافظا ں را ازاں نا گزیر ست ضعفے بتوراہ می یا بدایں خود بر گردن تو نہ نہادہ اند بحافظے دیگر اقتداکن و تراویح گزار و روزہ دارھم فرض بیاب وہم بہ سنت شتاب وایں قدر نیز نمے توانی
کرتا ہے۔ “ علماء نے مطلقافرمایا ہے کہ جوبھی عمل روزہ رکھنے سے کمزور کرے یا مانع ہووہ جائز نہیں درمختار میں ہے کہ ہر وہ عمل جو انسان کو کمزور کردے وہ جائزنہیں ہوتا۔ اگرروزے کی وجہ سے کوئی شخص اتنا کمزور ہوجاتا ہے کہ نماز میں قیام کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کے لئے رمضان کا روزہ چھوڑنا جائز نہیں بلکہ وہ روزہ رکھے اور نماز بیٹھ کر ادا کرے۔ درمختار میں بزازیہ سے ہے اگر کسی نے روزہ رکھا اور وہ ماز میں قیام سے عاجز ہوگیا تو وہ دونوں عبادات کو جمع کرتے ہوئے روزہ رکھے اور نماز بیٹھ کر ادا کرے۔ تمام قرآن در تراویح مخواں ومشنو ہمیں بست رکعت بہ نہجیکہ قادر باشی بجا آورد روزہ از دست دادہ مستحق نار جحیم و عذاب الیم مباش سبحان اﷲ! علماء کے نزدیك روزہ کی خاطر نماز میں قیام ساقط ہوجاتا ہے حالانکہ یہ قیام فرض ہے صورت مذکورہ میں تو سنت کی خاطر نہیں بلکہ حصول امامت پر تفاخر کے لیے روزہ رمضان ترك کیا جارہا ہے بلکہ ناجائز حرام اور گناہ فعل کے لیے ترك ہے اﷲ تعالی معاف فرمائے ۔ یہ تو جہالت صریح اور عناد قبیح ہے اس عزیز سے کہا جائے کہ ا ﷲ سبحانہ وتعالی نے تجھ پر روزہ رمضان فرض عین فرمایاہے اور تراویح میں قرآن ختم کرنا نہ فرض نہ سنت عین۔ اگر بسبب کثرت تلاوت دور کی وجہ سے جو حفاظ کے لیے جاگزیر ہوتا ہے ایسا ضعف لاحق ہونے کا خطرہ ہے تو یہ بوجھ اپنے اوپر نہ لے بلکہ کسی دوسرے حافظ کی اقتداء کرے تراویح ادا کرے اور روزہ رکھے فرض کو بجالائے اور سنت بھی حاصل کرے اور اگر اس قدر کی بھی طاقت نہیں تو
حوالہ / References درمختار باب مایفسد الصوم ومالایفسد مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٥٢
درمختار باب مایفسد الصوم ومالایفسد مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٥٢
#9613 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
تمام قرآن در تراویح مخواں ومشنو ہمیں بست رکعت بہ نہجیکہ قادر باشی بجا آورد روزہ از دست دادہ مستحق نار جحیم و عذاب الیم مباش اے برادر! روزہ فرض عین ست و فرض عین بر فرض کفایہ مقدم وختم قرآن در تراویح سنت کفایہ است وسنت کفایہ از سنت عین مؤخرایں چہ ستم بے خردی باشك کہ سنت کتایہ بر فرض عین مقدم دارند من العلماء من وسع فی ترك الختم لکسل القوم قائلاان من لم یکن عالما باھل زمانہ فھو جاھل کما فی الدرمختار عن الزاھدی عن الو بری والکرمانی وفیہ عن الاختیار الافضل فی زماننا قدر مالا یثقل علیہم قال اقرہ الصنف یعنی الغزی وغیرہ وعن المجتبی عن الامام لوقرأ ثلاثا قصارا او ایۃ طویلۃ فی الفرض فقد احسن ولم یسیئ قال الزاھدی فما ظنك بالتراویح قلت فانظر الی جھل ھذاالذی یترك صوم رمضان لشئی یرخص فی ترکہ لمثل ھذا
روزے امیر المنومنین تو تمام قرآن تراویح میں نہ پڑھے اور نہ سنے جس طریقہ سے بیس تراویح ادا کرنے پر قادر ہے ادا کرے روزہ اگر نہ تکھا تو نار جہنم اور عذاب الیم کا مستحق ٹھہرے گا اے میرے بھائی! روزہ فرض عین ہے اور فرض عین فرض کفایہ پر مقدم ہوتا ہے اور ختم قرآن تراویح میں سنت کفایہ ہے اور سنت کفایہ سنت عین سے مؤخر ہوتی ہے یہ کیا ظلم ہے کہ سنت کفایہ کو فرض عین پر مقدم کردیا گیا ہے بعض علماء نے قوم میں سستی و کاہلی پیدا ہوجانے کی وجہ سے ختم قرآن کو ترك کردینے کی بھی گنجائش یہ کہتے ہوئے روا رکھی ہے کہ جو شخص اپنے زمانے کے حالات سے آگاہ نہیں وہ جاہل ہے جیسا کہ درمختار میں زاہدی سے اور وہاں وبری اور کرمانی کے حوالے سے ہے اور اسی میں الاختیارسے ہے کہ ہمارے زمانے میں اتنی مقدار افضل ہے جو بوجھ نہ نبے اور کہا کہ اسے ہی مصنف الغزی وغیرہ نے ثابت رکھا ہے المجتبے میں امام صاحب سے منقول ہے کہ اگر کسی نے فرائض میں تین آیات چھوٹی یا بڑی پڑھیں تو اس نے بہت اچھا کیا اور وہ گنہگار نہیں۔ زاہدی کہتے ہیں کہ پھر تراویح کے معاملہ میں آپ کی کیا رائے ہےمیں کہتاہوں اس جاہل کو دیکھو جو رمضان کا روزہ ایسے عمل کی خاطر ترك کر رہاہے جس کا ترك روزے کی خاطر کیا جاسکتا تھا۔ ایك دن امیرالمومنین حضرت
حوالہ / References درمختار ، باب الوتر والنوافل ، مطبع مجتبائی دہلی ، ١ / ٩٩
درمختار باب الوتر والنوافل مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٩۸
#9614 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سلیمان بن ابی حثمہ را درجماعت صبح نہ دید مادر ش را پر سید عرض داد اوہمہ شب نماز گزاردہ است صبح دم خوابش بر د و حضور جماعت نتوانست امیرالمومنین فرمود مرا د رجماعت صبح حاضر شدن محبوب ترست از شب زندہ داشتن مالك فی المؤطاعن شھاب عن ابی بکر بن سلیمان بن ابی حثمۃ عن عمر الخطاب فقد سلیمان بن ابی حثمۃ فی صلوۃ الصبح وان عمر بن الخطاب غد ا الی السوق وسکن سلیمان بین السوق والمسجد فمر علی الشفاء ام سلیمان فقال لھالم ارسلیمان فی صلوۃ الصبح فقالت انہ بات یصلی فغلبتہ عیناہ فقال عمر لان اشھد صلوۃ الصبح فی الجماعۃ احب الی ان اقوم لیلۃ اھ رواہ ابوبکر بن ابی شیبۃ عن عبدالرحمن عن عمر ولفظہ لان اصلیھما فی جماعۃ احب الی من احیی مابینھما یعنی الصبح والعشاء
فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت سلیمان بن ابی حثمہ کو صبح کی جماعت میں نہ دیکھا آپ نے ان کی والدہ سے وجہ پوچھی تو انھوں نے عرض کیاوہ تمام رات نماز پڑھتے رہے صبح کے وقت انھیں نیند آگئی جس کی وجہ سے وہ جماعت میں شریك نہ ہوسکے امیرالمومنین نے فرمایا : میرے نزدیك صبح کی نماز میں شریك ہونا تمام رات کی عبادت سے کہیں افضل ہے۔ مؤطا میں امام مالك نے شہاب سے انھوں نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے انھوں نے حضرت عمر بن خطاب سے بیان کیا کہ انہوں نے سلیمان بن ابی حثمہ کو نماز صبح میں غائب پایا دوسرے دن حضرت عمر بازار کی طرف تشریف لے گئے سلیمان مسجد اور بازار کی درمیانی جگہ پر رہائش پذیر تھے آپ سلیمان کی والدہ حضرت شفا کے پاس سے گزرے فرمایا : میں نے سلیمان کو نماز صبح میں نہیں دیکھا وہ کہنے لگیں : وہ ساری رات نماز پڑھتا رہا صبح اس پر نیند کا غلبہ ہوگیا۔ آپ نے فرمایا : نماز صبح کیلئے حاضر ہونا مجھے تمام رات قیام سے زیادہ محبوب ہے۔ اسے ابوبکر ابن ابی شیبہ نے عبدالرحمن سے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا اور اس کے الفاظ یہ ہیں : “ مجھے جماعت کے ساتھ دونوں نمازیں ادا کرنا ان دونوں(عشاء اور صبح)کے درمیان
حوالہ / References موطا امام مالك باب ماجاء فی العتمۃ والصبح میر محمد کتب خانہ کراچی ص ١١٥
مصنف ابن ابی شیبہ فی التخلف فی العشاء والفجر الخ ادارۃ القرآن کراچی ١ / ٣٣٣
#9615 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
حضورپرنور سید غوث الثقلین پیر دستگیر محی الدین ابو محمد عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ در کتاب مستطاب فتوح الغیب شریف مقالہ در ترتیب عبادات فرمودآنجابر ہمچوجاہلے کہ درحفظ سنت و نفل فرائض راز دست می دہد اقامت قیامت کبری نمود فقیر غفر اﷲتعالی برخے ازاں سخن کریم مع ترجمہ شیخ محقق مولانا عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نقل کنم باشد کہ جاہلاں را از خواب غفلت بیدار ساز واﷲ الھادی مے فرماید رضی اللہ تعالی عنہ ینبغی للمؤمن ان یشتغل اولا بالفرائض مے باید وسرزد مر مسلمان راکہ کار بندو نخست بہ چیزہائے کہ فرض و واجب گردانیدہ است حق تعالی از عبادت کہ ترك آنہا آثم ومعاقب می گردد فاذا فرغ منھا اشتغل بالسنن چوں بہ پر دا زد از فرائض مشغول گددبسنتہائے راتب راکہ معین ومؤکدہ شدہ است ہمراہ فرائض و ترك آں سبب اسائت وعتاب ست ثم یشتغل بالنوافل والفضائل پسترمشغول گردد بعبادت ہائے نافلہ کہ زیادت ست برآں و فضیلت دارد وفعل آنہا ثواب ست وبترك آں اثمی واساءتے نے فمالم یفرغ من الفرائض فاشتغال بالسنن حمق ورعونۃ پس مادام کہ
قیام سے محبوب ہے۔ حضور پر نور سید نا غوث الثقلین پیر دستگیر محی الدین ابو محمد عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ اپنی مبارك کتاب فتوح الغیب شریف کے ترتیب عبادات کے مقالہ میں فرماتے ہیں اور ایسے جاہل پر جو سنت و نفل کی وجہ سے فرائض ترك کردیتا ہے قیامت کبری برپا فرماتے ہیں فقیر(اﷲتعالی اسے بخش دے) اس مبارك گفتگو سے کچھ حصہ مع ترجمہ شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نقل کرتا ہے تاکہ جاہل لوگ خواب غفلت سے بیدار ہوں اور اﷲتعالی ہی ہدایت عطا فرمانے والا ہے حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ “ مومن کو چاہئے کہ وہ پہلے فرائض بجالائے “ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ پہلے ان عبادات کو بجالائے جو اﷲتعالی نے ان پر فرض وواجب کی ہیں جن کے ترك سے وہ گنہگار اور قابل گرفت بن جاتے ہیں “ جب ان فرائض سے فراغت ہوجائے تو پھر سنن میں مشغول ہو “ جب مسلمان ان فرائض سے فارغ ہوجائے تو پھر ان سنن میں مشغول ہوجو فرائض کے ہمراہ معین مؤکد ہیں جن کا ترك اساءت اور عتاب کا سبب ہے “ پھر نوافل و فضائل میں مشغول ہو “ پھر ان نفلی عبادات میں مشغول ہوجو ان فرائض و سنن سے زائد ہیں اور فضیلت رکھتے ہیں ان کا بجالانا ثواب لیکن ان کا ترك گناہ نہیں “ جب تك فرائض سے فراغت نہ ہو سنن میں مشغول ہونا بیوقوفی اور ر عونت ہے)توجب تك فرائض
#9616 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
نہ پرداز دازفرائض وتمام نہ کند آنہاراپس مشغول شدن بسنتہا نشان جہل و بے خردی وسبك عقلی ست چہ ترك انچہ لازم و ضروری ست واہمتمام بہ انچہ نہ ضروری ست از قاعدہ عقل وخرد دورست چہ دفع ضرر اہم است بر عاقل از جلب نفع بلکہ بہ حقیقت نفع دریں صورت منتفی ست بایں قیاس کردن نوافل باترك فرائض نیز نا مقبول وباطل ست چنانچہ مے فرمایند فان اشتغل بالسنن والنوافل قبل الفرائض پس اگر مشغول گردد بسنتہا ونفلہا پیش از اتیان فرائض لم تقبل منہ واھین در پذیر فتہ نہ شود از وبلکہ خوار کردہ شود وگفتہ اند کہ اتیان نوافل باترك فرائض بداں ماند کہ یکے ہدیہ برد کسے کہ دام وے دارد ودام ندہد ایں ہرگز قبول نیفتد ونیز گفتہ اند کہ ہرکہ نوافل نزد وے اہم از فرائض باشد وے مخدوع وممکورست و نیز گفتہ اند ہلاك مردم دو چیز ست اشتغال نافل باتضییع فرائض و عمل جوارح بے مواطات قلب فمثلہ کمثل رجل یدعوہ الملك الی خدمتہ پس حال وقصہ غریب آں کسے کہ ترك مے کند فرائض راباتیان سنن ونوافل ہمچو حال مردے ست کہ مے خواند او را بادشاہ بخدمت خود کنایت ست از اتیان فرائض کہ پروردگار تعالی کہ حامل و با دشاہ علی الاطلاق ست بداں خواندہ وامر کردہ است فلا یأتی الیہ
مکمل نہ ہوجائیں سنتوں میں مشغول ہونا جہالت اور بے عقلی ہے کیونکہ ایسی چیز کا ترك کرنا جو لازم و ضروری تھی اور ایسی چیز کاا ہتمام جو ضروری نہیں تھی عقل و خرد کے قاعدے سے دور ہے کیونکہ عاقل کے لیے منافع کے حصول سے ضرر کا دور کرنا اہم وواجب ہوتا ہے بلکہ حقیقۃ اس صورت میں نفع ہے ہی نہیں۔ اسی پر قیاس نوافل ادا کرنا اور فرائض ترك کردینا بھی نامقبول و باطل ہے جیساکہ فرمایا “ پس اگر سنن و نوافل میں فرائض سے پہلے مشغول ہوگیا “ یعنی اگر فرض کی ادائیگی سے پہلے ہی سنن و نوافل میں مصروف ہوگیا تو “ وہ مقبول نہ ہوں گے بلکہ ذلت ورسوائی ہوگی۔ “ علماء فرماتے ہیں کہ نوافل کا بجالانا اور فرائض کو ترك کر دینا ایسے ہی جیسے کوئی اپنے قرض خواہ کو ہدیہ دے دے مگر اس کا قرض ادا نہ کرےتو یہ ہد یہ ہر گز مقبول نہ ہو گا۔ یہ بھی کہا گیا کہ جس کے نزدیك نوافل فرائض کی نسبت اہم ہوں وہ دھوکا وفریب زدہ ہے۔ یہ بھی کہاگیا ہے کہ دو چیزیں لوگوں کو ہلاك کردینے والی ہیں نفلی عبادات میں مشغول ہوکر فرائض کو ضائع کردینا اور قلب کی موافقت کے بغیر ظاہری اعضاء کا عمل کرنا “ اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جسے بادشاہ اپنی خدمت میں بلائے “ یعنی اس شخص کا حال جو فرائض ترك کر کے سنن و نوافل بجا لائے اس کا حال اس شخص کی طرح ہے جسے بادشاہ اپنی خدمت میں طلب کرے اس سے مراد وہ فرائض ہیں جن کا حکم اﷲتعالی نے دیا ہے جو علی الاطلاق حاکم و بادشاہ ہے اور وہ اس اعلی طریقے پر بلاتاہے “ پس وہ اس کی طرف
#9617 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
پس نمی آید آں مرد بسوئے بادشاہ ویقف بخدمۃ الامیر الذی ھو غلام الملك وخادمہ می ایستد در چاکری یکے از امرائے بادشاہ کہ غلام بادشاہ و چاکر اوست و تحت یدہ وولایتہ وزیر دست قدرت وتصرف اوست ایں مثال اتیان سنن ونوافل ست کہ برطریقہ رسول خدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کہ بندہ وامیر وزیر خاص درگاہ اوست وباستحسان واستحباب علماء کہ بندگان و غلامان اویند عمل کردن ست اگر چہ ہمہ بحکم حضرت پروردگار تعالی وتشریع اوست ولیکن فرائض را بہ جہت الزام وایجاب نسبت بجناب ایزدی کنند و سنن و نوافل را کہ نہ دراں مرتبہ اند بخدمت رسول و اصحاب و اتباع او صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وعلیہم اجمعین عن علی بن ابی طالب روایت ست از امیر المومنین علی کرم اﷲتعالی وجہہ قال قال رسول اﷲ گفت گفت پیغمبر خدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان مثل مصلی النوافل بدرستیکہ قصہ وحال گزارندہ نفلہا وعلیہ فریضۃ وحال آنکہ بر ذمہ او فرضی ست کہ نہ گزاردہ است آں را کمثل حبلی حملت ہمچو قصہ و حال زنے بار داست کہ تمام شدہ است مدت حمل اوفلمادنی نفاسھا اسقطت پس ہر گاہ نزدیك شد وقت زائیدن وے افگند بچہ رانا تمام از شکم ووجہ تشبیہ رنج دیدن و مشقت کشیدن ست بے فائدہ زیراکہ چوں
نہیں آتا “ یعنی وہ آدمی بادشاہ کی طرف نہیں آتا “ اور وہ بادشاہ کے ایسے امیر کے پا س کھڑا رہے جیسے اس کا غلام اور خادم ہو) یعنی وہ ایسے چاکر کے پاس کھڑا رہتا ہے جو بادشاہ کا غلام ہے “ اور اس کے قبضہ وولایت میں ہے “ وہ اس کے تصرف اور قدرت کے تحت ہے یہ ان سنن و نوافل کی مثال ہے جو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم (جو بارگاہ خداوندی میں امیر اور خصوصی وزیر ہیں) کے طریقہ پر یا علماء کے استحباب پر (جو اﷲتعالی کے غلام اور بندے ہیں) کے طریقہ پر عمل پیرا ہوتا ہے اگر چہ تمام پروردگار کے حکم سے ہی لیکن فرائض کی نسبت الزام وایجاب کی وجہ سے اﷲتعالی کی طرف کی جاتی ہے اور وہ سنن و نوافل جن کا درجہ یہ نہیں ان کی نسبت رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور آپ کے اصحاب و اتباع کی طرف کر دی جاتی ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب سے مروی ہے امیرالمومنین حضرت علی کرم اﷲ وجہہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : “ نوافل ادا کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو نوافل ادا کرتا ہے حالانکہ اس پر فرائض ہیں “ حالانکہ اس کے ذمہ ایسے فرائض ہیں جنھیں اس نے ادا نہیں کیا “ اس حاملہ خاتون کی طرح ہے “ جس کی مدت حمل مکمل ہوگئی “ جب ولادت کا وقت آیا تو اس نے بچے کو گرادیا) یعنی ناتمام بچے کو اس نے جننے کے وقت گرادیا۔ وجہ تشبیہ بے فائدہ تکلیف و مشقت اٹھانا ہے کیونکہ جب وہ نوافل عدم ادائیگی فرائض مقبول ہی نہیں
#9618 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
قبول نیفتادنوافل بجہت عدم ادائے فرائض حاصل شد مرآں مصلے رارنج و مشقت بے فائدہ چنانچہ حاصل شد آں زن حاملہ را کہ مدت مدید گزشت و مشقت کشید و فائدہ کہ حصول ولد ست بر آں مراتب نہ گشت فلا ھی ذات حمل پس آں زن نہ خداوند حمل ست باعتبار انتقائے مقصود کہ ولد ست ولا ھی ذات ولاد نہ خداوند ولادست بجہت اسقاط حمل وکذلك المصلی لا یقبل اﷲلہ نافلۃ حتی یؤدی الفریضۃ وہمچنیں مصلی مذکور درنمی پذیر دخدائے تعالی مراد رانماز نفل را تا آنکہ بجا آرد فرض را پس نہ فرض باشد اوراو نہ نفل و مثال دیگر مصلی نفل را بے ادائے فرائض مثل تاجر است کہ سود می خواہد بے سرمایہ چنانچہ می فرمایند ومثل المصلی کمثل التاجر وحال مصلی مذکور حال سوداگر ست کہ لایحصل لہ ربحہ حاصل نمی شودمر اور اسود درسودا حتی یا خذا راس مالہ تا آنکہ بگیر د سرمایہ خودرا فکذلك المصلی بالنوافل لایقبل لہ نافلۃ حتی یؤدی الفریضۃ ہمچنیں حال مشغول شوندہ بہ نوافل پذیر فتہ نمی شود مراور انفل کہ بمنزلہ سوداوست تا آنکہ ادا کند فرض را کہ بمشابہ سرمایہ است اھ مع اختصار فی کلمات الشرح۔
بالجملہ ایں کسے باجماع علماء فاسق و فاجر ومرتکب کبیرہ و مستحق عذاب الیم وخزی عظیم است۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قومے رادید کہ
تو وہ نمازی بے فائدہ مشقت اٹھا رہا ہے جیسے کہ حاملہ خاتون نے کتنی طویل مدت تکلیف اٹھائی مگر اس پر فائدہ بصورت اولاد مرتب نہ ہوا “ پس اب یہ حاملہ نہیں ہے “ کیونکہ مقصود فوت ہوگیا “ نہ ہی یہ صاحب اولاد ہے “ کیونکہ حمل ساقط ہوگیا “ اسی طرح وہ نمازی جب تك فرائض ادا نہیں کرے گا اﷲتعالی اس کے نوافل قبول نہیں فرمائےگا “ تو جب تك نمازی فرائض بجا نہیں لاتا نہ اس کے نوافل ہوں گے نہ فرائض۔ بے ادا فرائض کے نوافل ادا کرنے والے نمازی کی دوسری مثال یوں ہے جیسے کوئی تاجر بغیر سرمایہ کے نفع حاصل کرنا چاہے لہذا فرمایا “ نمازی کی مثال تاجر کی طرح ہے “ یعنی مذکور مصلی کا حال سوداگر کی طرح ہے “ اسے تجارت میں نفع حاصل نہیں ہوتا “ یعنی اسے سوداگری میں اس وقت تك نفع نہیں ہوسکتا “ یہاں تك کہ وہ اپنا سرمایہ حاصل کرے “ جب تك وہ سرمایہ نہیں لگائے گا اسے نفع کیسے ہوگا “ اسی طرح معاملہ ہے نوافل ادا کرنے والے نمازی کا اس کے نفل ادائیگی فرائض کے بغیر مقبول نہیں ہوسکتے “ کیونکہ نفل بمنزلہ نفع کے اور فرض بمنزلہ سرمایہ کے ہیں اھ کلمات شرح میں کچھ اختصار کیا گیا ہے۔
بالجملہ یہ شخص باجماع علماء فاسق فاجر مرتکب کبیرہ عذاب الیم اور ذلت عظیم کا مستحق ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ
حوالہ / References فتوح الغیب مع شرح فارسی مقالہ ٤٨ منشی نولکشور لکھنؤ ص٢٧٣ تا٢٧٥
#9619 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
ایشاں راسرنگوں آویختہ اند وکنجہائے دہاں ایشاں دریدہ کہ ازآنہا خون می ریزد فرمود ایناں چہ باشند فرشتہ عرضد اشت کسانیکہ قبل از وقت افطار رمضان مے کنند اخرجہ ابن خزیمۃ وابن حبان فی صحیحھما عن ابی امامۃ الباھلی رضی اﷲتعالی عنہ قال سمعت رسو ل اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم یقول بیننا انا نائم اذا تانی رجلان فاخذا بضبعی فأتیابی جبلا وعرا وساق الحدیث الی ان قال ثم انطلقا بی فاذا انا بقوم معلقین بعراقیھم مشققۃ اشد اقھم دما قال قلت من ھؤلاء قال الذین یفطرون رمضان قبل تحلۃ صومھم چوں پیش از وقت افطار را ایں عذاب ست اصلاروزہ نہ داشتن را خود قیاس کن کہ چنداں باشد والعیاذباﷲ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماید رسن ہائے اسلام وبنیاد ہائے دین سہ چیز ست کہ برایشاں بنائے اسلام نہادہ اند ہر کہ از آنہایکے راترك دہد کافرست بداں خون او حلال یکے شہادت کلمہ توحید دوم نماز فرض سوم روزہ رمضان ودر روایتے فرمایدہر کہ از انہایکے بگزارد پس آں کافر ست بخداو نہ پذیر نداز و ہچ فرض ونہ نفل و
الٹے لٹکے ہوئے ہیں اور ان کی باچھوں کو چیرا جارہا ہے اور ا ن سے خون بہ رہا ہے آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں فرشتے نے عرض کیا : یارسول اﷲ! یہ لوگ رمضان کا روزہ قبل از وقت افطار کرلیتے تھے۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں سویا تھا میرے پاس دو آدمی آئے وہ مجھے اٹھا کر ایك پہاڑ پر لے گئے(تفصیلا حدیث بیان کی جس کا ایك حصہ یہ ہے) پھر مجھے آگے لے گئے تو وہاں ایك قوم الٹی لٹکی ہوئی تھی ان کی باچھوں کو چیرا جارہاتھا جن سے خون بہہ رہا تھا فرمایا : میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں بتایا گیا : یہ رمضان کا روزہ وقت آنے سے پہلے ہی افطار کر لیتے تھے۔ جب قبل از وقت روزہ افطار کرنے پر یہ عذاب ہے تو خود سوچئے بالکل روزہ نہ رکھنے پر کتنا عذاب ہوگا العیاذباﷲ
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اسلام اور دین کی بنیاد تین چیزیں ہیں جن پر اسلام کی عمارت کھڑی ہے ان میں سے اگر کسی نے ایك کو ترك کردیا تو وہ کافر ہوگا اور اس کا خون مباح ہوگا ان میں سے ایککلمہ توحید کی شہادت ودوم نماز فرض سوم روزہ رمضان ۔ اور ایك روایت میں ہے کہ جو ان میں سے کسی کو بجانہ لایا وہ خدا کا منکر ہے اس کاکوئی نفل و فرض قبول نہیں
حوالہ / References صحیح ابن خزیمہ باب تعلیق المفطرین قبل وقت الافطار حدیث ١٩٨٦ المکتب الاسلامی بیروت ٣ / ٢٣٧
#9620 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
بد رستی کہ روا باشد خون ومال او ابویعلی باسناد حسن وقال المنذری ایضا اسنادہ حسن عن ابن عباس رضی اﷲتعالی عنھما قال حماد بن زید ولا اعلمہ الاقد رفعہ الی النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم قال عری الاسلام وقواعد الدین ثلثۃ علیہن اسس الاسلام من ترك منھن واحدۃ فھو بھا کافر حلال الدم شھادۃ ان لا الہ الا اﷲوالصلوۃ المکتوبۃ وصوم رمضان۔ وفی روایۃ من ترك منھن واحدۃ فھو باﷲکافر ولا یقبل منہ صرف ولا عدل وقد حل دمہ ومالہ وروی ھذھ سعید بن زید بن عمرو بن مالك النکری عن ابی الجوازء عن ابن عباس عن النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ولم یشك فی رفعہ وھم منقول باشد آں حضرت علیہ علیہ الصلوۃ والتحیۃ کہ فرمود حق تعالی در دین اسلام چہار چیز را فرض کردہ است ہرکہ از انہا سہ بجا آرد اور راہیچ بکار نیا ید تا ہر ہمہ چہار را ادا ساز د نماز و زکوۃ و
کیا جائے گا اور اس کا خون ومال مباح ہوگا۔ اسے ابویعلی نے اسناد حسن کے ساتھ ذکر کیا منذری نے بھی اسے سند حسن کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا سے روایت کیا ہے حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں اسے نہیں جانتا مگر یہ کہ اس کی نسبت رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اسلام کے رسے اور دین کے ستون تین ہیں جن پر اسلام کی بنیادیں ہیں جس نے بھی ان میں سے کسی ایك کو ترك کیا وہ کافر ہے اور اس کا خون مباح ہے پہلی لا الہ الااﷲ کی شہادت دوسری نماز فرض تیسری رمضان کا روزہ۔ دوسری روایت میں ہے کہ جس نے ان میں سے کسی ایك کو چھوڑا وہ اﷲکا منکر ہے اس کا کوئی نفل و فرض قبول نہیں اس کا خون ومال مباح ہے۔ یہ روایت سعید بن زید نے عمر وبن مالك النکری سے انھوں نے ابوالجوز اء سے انھوں نے حضرت ابن عباس سے انھوں نے رسو ل خدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس کے مرفوع ہونے میں شك نہیں کیا۔ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے یہ بھی منقول ہے کہ حق تعالی نے دین اسلام میں چار چیزوں کو فرض کیا ہے ان میں سے اگر کوئی تین بجا لاتا ہے تو وہ اس کے کسی کام نہیں آسکتے یہاں تك کہ وہ چاروں کو بجا لائے (وہ
حوالہ / References مسند ابو یعلی الموصلی ترجمہ ٢٣٤٥ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ٣ / ١٣
الترغیب والترھیب من ترك الصلٰوۃ عمدًاالخ مصطفی البابی مصر ١ / ٣٨٢ و ٢ / ١١٠
#9621 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
روزہ رمضان و حج کعبہ الامام احمد عن زیاد بن نعیم الحضر می مرسلا قال قال رسول اﷲ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم اربع فرضھن اﷲفی الاسلام فمن جاء بثلاث لم یغنین عنہ شیأ حتی یأ تی بھن جمیعا الصلوۃ والزکوۃ وصیام رمضان وحج البیت ونیز مروی شد ازاں سرورعلیہ افضل الصلوۃ والسلام کہ فرمود ہرکہ یك روز از رمضان بے رخصت شرع و بے مرض روزہ ندارد اگر ہمہ عمر خودش روزہ خواہد داشت عوض آں یك روزہ نخواہد شد فقد اخرج الترمذی واللفظ لہ وابو داؤد والنسائی و ابن ماجۃ و البیہقی وابن خزیمۃ فی صحیحہ والبخاری تعلیقا عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ ان رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم قال من افطر یوما من رمضان من غیر رخصۃ ولا مرض لم یقض عنہ صوم الدھر کلہ وان صامہ مسلماناں راباید کہ پس ایں کس تراویح نگزارند بدو وجہ اولا او فاسق ست ونماز پس فاسق مکروہ کما صرحت بہ المتون و الشروح والفتاوی
چاریہ ہیں)نماز زکوۃ روزہ ئرمضان حج کعبہ امام احمد نے زیاد بن نعیم الحضرمی سے مرسلا مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا چار چیزوں کو اﷲتعالی نے ایمان میں فرض فرمایا ہے جوان میں سے تین بجالائے گا وہ اسے کسی شئی کا فائدہ نہیں دیں گے حتی کہ تمام کو بجا لائے وہ نماز زکوۃ روزہ رمضان اور حج کعبہ ہے نیز حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے یہ مروی ہے کہ اگر کسی نے شریعت کی اجازت اور مرض کے بغیر روزہ رمضان نہ رکھا اگر ساری عمر روزہ رکھے تب بھی اس کا عوض نہیں ہوسکتا ترمذی نے روایت کیا یہ الفاظ اسی کے ہیں ابوداؤد نسائی ابن ماجہ بیہقی ابن خزیمہ نے صحیح میں اور بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے تعلیقا روایت کیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جس نے بغیر رخصت اور مرض کے ایك دن رمضان کا روزہ چھوڑدیا اب اگر سارازمانہ روزہ رکھتا رہے تو اس کا ازالہ نہیں ہوسکتا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ دو وجوہ کی بنا پر ایسے شخص کو تراویح نہ پڑھانے دیں : اولا یہ فاسق ہے اور فاسق کی اقتداء میں نماز مکروہ ہوتی ہے جیسا کہ اس پر متون شروحات اور فتاوی کی
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل حدیث زیاد ابن نعیم الحضرمی المکتب الاسلامی بیروت ٤ / ٢٠١
صحیح بخاری باب اذا جامع فی رمضان قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٥٩ ، جامع الترمذی ابواب الصیام امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ١ / ٩٠
#9622 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
قاطبۃ ثانیا غالب آنست کہ ایں کس بغایت پست ہمت و بد شوق در امور دینیہ است وخواندن قرآن در تراویح ہمیں بغرض تحصیل امامت وتقدم وتفاخر بروجہ ریاء وسمعہ اختیار کردہ است پس باید کہ غرضش را حاصل شدن نہ دہند و چوں کسے اقتدا نہ کند لاجرم ایں فعل حرام راگز اردو ان شاء اﷲتعالی رجوع بروزہ آرد
قال تعالی و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪-
ایں قرآن خوانی ازاں کس گناہ عظیم ست ومقتدیان باقتدائے اعانت بر گناہ می کنند پس خود آثم باشد ہر چند سخن قدرے دراز شد اما بحمد اﷲخالی از نفع نیست یکے از جہت تحقیق مسئلہ دوم ازروئے ذکر شریف و نقل کلام لطیف حضورپرنور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فان عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ لاسیما ھذا السید رأس الاولیاء وتاج الاقطاب وسید الصلحاء رضی اﷲتعالی عنہ و عنھم اجمعین واﷲتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
قطعی تصریحات ہیں ثانیاغالب گمان یہ ہے کہ یہ شخص انتہائی درجہ کا کم ہمت اور امور دینیہ کے معاملے میں بدذوق ہے اور وہ تراویح میں قرآن محض حصول امامت کیلئے سنارہا ہے اور ریا کاری کرتے ہوئے تقدم وتفاخر پر عمل پیرا ہے لہذااسے اس مقصد میں کامیاب نہ ہونے دیں جب کوئی اس کی اقتداء نہیں کرے گاتو ان شاء اﷲتعالی وہ اس فعل حرام سے رجوع کرے گا اﷲتعالی کا فرمان ہے : گناہ اور زیادتی پر ہر گز تعاون نہ کرو۔ ایسے شخص سے قرآن پڑھوانا گناہ عظیم ہے اور اقتداء کی صورت میں مقتدی گناہ پر اس کی اعانت کرنے والے ہوں گے لہذا یہ بھی گنہ گار ہوں گے ہر چند گفتگو قدرے طویل ہوگئی ہے بحمد اﷲنفع سے خالی نہیں ایك تو تحقیق مسئلہ کی وجہ سے اور دوسرا حضورپرنور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے کلام وذکر شریف کے نقل کرنے کی وجہ سے کیونکہ صالحین کے تذکرہ سے خصوصا اس اولیاء کے سربراہ اقطاب کے تاج اور سید الصلحاء رضی اللہ تعالی عنہ وعنہم اجمعین کے تذکرے پررحمت کا نزول ہوتاہے۔ واﷲتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ : ازمیرٹھ کمبوہ دروازہ مکان داروغہ یاد الہی صاحب مرسلہ مرزا غلام قادر بیگ صاحب رمضان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نابالغ لڑکا کہ نوافل میں قرآن شریف پڑھتا ہے اگر
حوالہ / References القرآن ٥ / ٢
مرقات شرح مشکٰوۃ الفصل الثانی من باب الصلٰوۃ علی الجنازۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ٤ / ٦١
#9623 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
بوجہ کثرت ضعف ومحنت دور روزہ افطار کرے تو جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
نابالغ پر تو قلم شرع جاری ہی نہیں وہ اگر بے عذر بھی افطار کرے اسے گنہ گار نہ کہیں گے۔
لقولہ عــــہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم رفع القلم عن ثلثۃ الی قولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم وعن الصبی حتی یحتلم۔
حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : تین افراد سے قلم اٹھالیا گیاہے۔ ان میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس بچے کا بھی ذکر فرمایا ہے جو ابھی بلوغت کو نہیں پہنچا۔ (ت)
مگر بیان کرنا اس کا ہے کہ بچہ جیسے آٹھویں سال میں قدم رکھے اس کے ولی پر لازم ہے کہ اسے نماز روزے کا حکم دے اور جب اسے گیاروہواں شروع ہوتو ولی پر واجب ہے کہ صوم و صلوۃ پر مارے بشرطیکہ روزے کی طاقت ہو اور روزہ ضرر نہ کرے۔ حدیث صحیح میں ہے کہ حضورپرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
مروا اولاد کم بالصلوۃ وھم ابناء سبع سنین واضربوھم علیھا وھم ابناء عشر۔
جب بچے سات سال کے ہوجائیں تو ا نھیں نماز کو کہو اور دس سال کے ہوجائیں توانھیں ترك نماز پر سزا دو۔ (ت)
تنویرالابصارمیں ہے :
وجب ضرب ابن عشر علیھا۔
ترك نماز پر دس سال کے بچے کو سزادینا واجب ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
عــــہ : رواہ احمد وابو داؤد والحاکم عن امیر المومنین عمر و علی کالنسائی وابن ماجۃ عن ام المومنین عائشۃ الصدیقۃ رضی اﷲتعالی عنھم منہ غفرلہ(م)
اسے امام احمد ابوداؤداور حاکم نے امیرالمومنین حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہم ا سے روایت کیا اور نسائی وابن ماجہ نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہم سے روایت کیا منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References المستد رك للحاکم ، رفع القلم عن الثلاث ، دارالفکر یروت ، ١ / ٢٥٨
سنن ابی داؤد ، باب متی یؤمرالغلام الخ ، آفتاب عالم پریس لاہور ، ١ / ٧١
تنویر الابصار مع درمختار کتاب الصلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٥٨
#9624 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
ظاہر الحدیث ان الامر لابن سبع واجب کا لضرب والظاہر ایضاان الوجوب بالمعنی المصطلح علیہ لا بمعنی الافتراض لان الحدیث ظنی فافھم۔
ظاہر حدیث میں ہے کہ سات سال کے بچے کو نماز کا کہنا اسی طرح واجب ہے جیسے دس سال کے بچے کو سزا دینا واجب ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ یہاں وجوب سے اصطلاحی وجوب مراد ہے نہ کہ بمعنی فرض کیونکہ حدیث ظنی ہے۔ پس غور کیجئے۔ (ت)
درمختار میں ہے : والصوم کالصلوۃ علی الصحیح (صحیح قول کے مطابق روزہ کا حکم نماز ہی کی طرح ہے۔ ت)عالمگیری میں ہے : قال الرازی یؤمر الصبی اذااطاقہ (امام رازی نے فرمایا : جب بچہ توانا ہوجائے تو اسے(نماز و روزہ کا)حکم دیاجائے۔ ت)اسی میں ہے :
ھذا اذالم یضرالصوم ببدنہ فان اضر لایؤمر بہ۔
یہ اس وقت ہے جب روزہ جسمانی تکلیف کا سبب نہ بن رہا ہو اگر بن رہا ہو تو پھراسے نہ کہاجائے(ت)
اور پر ظاہر کہ یہ احکام حدیث و فقہ میں مطلق وعام تو ولی نابالغ ہفت سال یا اس سے بڑے کہ اسی وقت ترك صوم کی اجازت دے سکتا ہے جبکہ فی نفسہ روزہ اسے ضرر پہنچائے ورنہ بلا عذر شرعی اگر روزہ چھڑائے گا یا چھوڑنے پر سکوت کرے گا گنہ گار ہوگا کہ اس پر امر یا ضرب شرعا لازم اور تارك واجب بزہ کار وآثم اور دور کلام اﷲکی محنت عذر و افطار نہیں۔ اولا اکثر ہوتا ہے کہ بچے بہت جوان قوی تندرست لوگ ایسے امور میں کم ہمتی کو بے قدرتی سمجھ لیتے حالانکہ کمر ہمت چست باندھیں تو کھل جائے کہ عجز سمجھنا صرف وسوسہ تھا اور واقعہ میں عجز ہوبھی یعنی روزہ رکھ کر کلام اﷲشریف پر محنت شاقہ نہیں ہوسکتی تو راہ یہ ہے کہ روزہ رکھوائیں اور قرآن مجید کا جتنا شغل بے کلفت ہوسکے لیں اور جس قدر کی طاقت نہ دیکھیں بعد رمضان دور آئندہ پر ملتوی رکھیں کہ شرعا صیام کے لیے ایام معین ہیں جن کے فوت سے ادافوت ہوگی اور دور کے لیے کوئی دن مقرر نہیں ہمیشہ وہر وقت کرسکتے ہیں فرض کیجئے اگر مرد نوجوان تندرست مقیم کی یہی حالت ہوتی ہے کہ روزے کے ساتھ محنت دور نہ کرسکتا تو کیا شرع اسے اجازت دیتی کہ دور کے لیے روزہ ترك کرے حاشا و کلا بلکہ لازم فرماتی کہ روزہ رکھ اور دور دور دیگر پر موقوف رکھ تو معلوم ہوا اسی میں
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصّلٰوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ٢٣٥
دُرمختار کتاب الصّلٰوۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٥٨
فتاوٰی ہندیۃ المتفرقات من باب الاعتکاف نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ٢١٤
فتاوٰی ہندیۃ المتفرقات من باب الاعتکاف نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ٢١٤
#9625 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
خیر ہے اور اس کے عکس میں شر اور ولی کو چاہئے بچے کو ہر خیر کاحکم دے اور ہرشر سے باز رکھے۔ محشیان در ساداتنا حلبی و طحطاوی و شامی رحمہم اللہ تعالی فرماتے ہیں :
مرادہ من ھذین النقلین بیان ان الصبی ینبغی ان یومر لجمیع المأمورات وینھی عن جمیع المنھیات ۔
ان دونوں تصریحات کامقصد یہ ہے کہ ولی پر لازم ہے کہ وہ بچے کو تمام اوامر کو بجالانے اور تمام منہیات سے باز رہنے کا کہے۔ (ت)
علامہ طحطاوی نے فرمایا :
فلا خصوصیۃ للصلوۃ والصوم والخمر کما یرشد الیہ التعلیل اھ ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی انہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
اس میں نماز روزہ اور شراب ہی مخصوص نہیں جیسا کہ علت کا بیان اسے واضح کررہا ہے اھ۔ یہ مجھ پر واضح ہوا ہے علم حق میرے رب کے پاس ہے انہ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ : از کمپ معرفت حکیم سید نورالحسن صاحب دہلوی شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے جوکہ بوجہ اختلاف ہونے رؤیت ہلال کے تاریخ رمضان المبارك کو روزہ افطار کیا گیا اور بعد معلوم ہوجانے خبر تکذیب رؤیت کے روزہ قائم نہیں کیا گیا اور اکل وشرب برابر رکھا اب اس روزے کے واسطے کفارہ لازم ہے یا قضا ونیز جن صاحبوں نے بعد خبر پانے تکذیب رویت کے پھر اپنے صوم کوکلی غرارہ سے دہن کو پاك کرکے قائم کرلیا ہے ان کو کیا امر لازم ہے آیا کفارہ یا قضا
الجواب :
جنہوں نے اکل و شرب قائم رکھا حالانکہ کذب پر مطلع ہوچکے تھے وہ گنہ گار ہوئے لیکن کفارہ ان پر بھی نہیں جنہوں نے فورا کلی غرارہ کرلیاوہ ثواب پائیں گے اور ایك روزہ اس کے عوض کا وہ بھی رکھیں۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۴ : از گلگٹ چھاؤنی جو نال مرسلہ سردارامیر خاں ملازم کپتان اسٹوٹ ذی الحجہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سفر میں روزہ رکھنا کیسا ہےخاص کرکے لڑائی کے موقع پر جاناہے۔ بینواتوجروا
الجواب :
جو اپنے گھر سے تین منزل کامل یا زیادہ کی راہ کا ارادہ کرکے چلے خواہ کسی نیت اچھی یا بری سے جانا ہو وہ
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصّلٰوۃ مصطفی البابی مصر ١ / ٢٥٩
حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصّلٰوۃ دارالمعرفہ بیروت ١ / ١٧٠
#9626 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
جب تك مکان کو پلٹ کرنہ آئے یا بیچ میں کہیں ٹھہرنے کی جگہ پندرہ دن قیام کی نیت نہ کرلے مسافر ہے ایسے شخص کو جس دن کی صبح صادق مسافرت کے حال میں آئے اس دن کا روزہ ناغہ کرنا اور پھر کبھی اس کی قضا رکھ لینا جائز ہے پھر اگر روزہ اسے نقصان نہ کرے نہ اس کے رفیق کو اس کے روزہ سے ایذا ہو جب تو روزہ رکھنا ہی بہتر ہے ورنہ قضا کرنا بہتر ہے
فی الدرالمختار لمسافر سفر اشرعیا ولو بمعصیۃ الفطر ویندب الصوم ان لم یضرہ فان شق علیہ او علی ر فیقہ فالفطر افضل لمو افقۃ الجماعۃ یجب علی مقیم اتمام صوم یوم من رمضان سافر فی ذلك الیوم اھ ملتقطا
درمختار میں ہے وہ مسافر جس کا سفر شرعی(مقدار کے برابر) ہو خواہ گناہ کی خاطر ہو روزہ چھوڑ سکتا ہے اور اگر اسے روزہ تکلیف نہ دے تو روزہ رکھنا مستحب ہے اور اگر روزہ مشکل ہو یا اس کے ساتھی پر مشکل ہو تو پھر جماعت کی موافقت میں افطار افضل ہے۔ مقیم پر اس روزہ رمضان کا اتمام لازم ہے جس دن اس نے سفر شروع کیا اھ مختصرا(ت)
یونہی غازی اگر یقینا جانے کہ اب دشمن سے مقابلہ ہونے والا ہے اور روزہ رکھوں گا تو ضعف کا اندیشہ ہے تووہ بھی ناغہ کرے اگرچہ سفر میں نہ ہو۔
فی ردالمحتار عن النھر عن الخلاصۃ الغازی اذا اکان یعلم یقینا انہ یقاتل العدو فی رمضان ویخاف الضعف ان لم یفطر افطر۔
ردالمحتار میں نہر سے خلاصہ سے ہے کہ غازی کو جب یقین ہو کہ رمضان میں دشمن سے مقابلہ ہوگا اور اگر روزہ رکھا تو کمزور ہوجائے گا تو روزہ نہ رکھے(ت)
مگر یہ اجازت بلا سفر صرف اسی کو مل سکتی ہے جو حمایت یا اعانت دین اسلام میں لڑتا ہو باقی ملکی لڑائیاں یا معاذاﷲکفر کی حمایت یا کافر کی طرف ہو کر اگرچہ دوسرے کافر ہی سے لڑنا یہ سب گناہ ہیں۔ گناہ پر طاقت کے لیے روزہ قضا کرنے کی اجازت ممکن نہیں۔
فی مستامن فتح القدیر فرع نفیس فی المبسوط لوغار قوم من اھل الحرب
فتح القدیر کے باب المستامن میں ہے کہ مبسوط میں نہایت نفیس جزئیہ ہے کہ اگر اہل حرب میں سے
حوالہ / References درمختار باب مایفسد الصوم فصل فی العوارض مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٥٢تا١٥٤
ردالمحتار ، باب مایفسد الصوم فصل فی العوارض ، مصطفی البابی مصر ، ٢ / ١٢٦
#9627 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
علی اھل الدارالتی فیھم المسلم المستامن لایحل لہ قتال ھؤلاء الکفار الاان خاف علی نفسہ لان القتال لما کان تعریضا لنفسہ علی الھلاك لایحل الا لذلك اولا علاء کلمۃ اﷲتعالی وھو اذالم یخف علی نفسہ لیس قتالہ لہؤلاء الااعلاء لکفر۔
کچھ لوگوں نے کسی ایسے علاقے پر حملہ کردیا جس میں کسی مسلمان نے پناہ لے رکھی تھی تواس مسلمان کے لیے ان کفار کے ساتھ لڑائی کرنا جائز نہ ہوگا البتہ اس صورت میں جب اسے اپنی جان کا خوف ہو کیونکہ قتال میں اپنے آپ کو ہلاکت پر پیش کرنا ہوتا ہے اور یہ جائز نہیں مگر اس صورت میں جب اپنی جان کا خوف ہو یا کلمۃاﷲتعالی کی سربلندی کے لیے ہو اور جب اسے اپنے نفس کا خوف نہیں تواب اس کا قتال سوائے کفر کی بلندی کے کچھ نہ ہوگا۔ (ت)
ہاں جب یہ لوگ سفر میں ہوں تو بوجہ سفراجازت ہوگی اگر چہ وہ سفر جانب سقرہو۔
کما قدمنا عن الدرالمختار والخلاف فیہ معروف بیننا وبین الشافعی رضی اﷲتعالی عن الجمیع۔ واﷲتعالی اعلم۔
جیسا کہ ہم نے درمختار کے حوالے سے پیچھے بیان کیا ہے او راس میں ہمارے اور امام شافعی (اﷲتعالی ان تمام سے راضی ہو )کے درمیان مشہوراختلاف ہے۔ واﷲتعالی اعلم (ت)
مسئلہ : عرفان علی صاحب رضوی بیسل پوری ملازم کچہری کلکٹر پیلی بھیت شعبان ھ
ماہ رمضان شریف کبھی موسم گرما میں ہوتا ہے کبھی موسم سرما کبھی موسم بہار میں کبھی برسات میں۔ فرض کیجئے کہ ایك مرتبہ ماہ رمضان گرمیوں میں ہو تو دوسرے سال بھی گرمیوں میں ہونا چاہئے کیونکہ وہی موسم دوبارہ سال بھر بعد آتا ہے شمسی مہینے کے حساب سے کبھی رمضان موسم گرما میں ہوتا ہے اور کبھی موسم سرما میں اس کی وجہ کیا ہے چونکہ حضور علم ہیأت میں ید طولی رکھتے ہیں پس سوائے حضور کے کسی اور سے اس کاحل ہونا غیر ممکن ۔ بینواتوجروا
الجواب :
موسموں کی تبدیلی خالق عزوجل نے گردش آفتاب پر رکھی ہے مثلا تحویل برج حمل سے ختم جوز ا تك فصل ربیع ہے پھر تحویل سرطان سے ختم سنبلہ تك گرمی پھر تحویل میزان سے ختم قوس تك خریف پھر تحویل جدی سے ختم حوت تك جاڑا یہ آفتاب کا ایك دور ہے کہ تقریبا دن اور پونے چھ گھنٹے میں کہ پاؤ دن کے قریب ہوا پورا ہوتاہے۔ اور عربی شرعی مہینے قمری ہیں کہ ہلال سے شروع اور یا دن میں ختم ہوتے ہیں۔ یہ بارہ مہینے
حوالہ / References فتح القدیر باب المستامن مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٥ / ٢٦٧
#9628 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
یعنی قمری سال یا دن کا ہوتا ہے تو شمسی سال سے دس گیارہ دن چھوٹا ہے سمجھنے کے لیے کسرات چھوڑ کر شمسی سال قمری میں رکھے کہ دس دن کا فرق ہوا اب فرض کیجئے کہ کسی سال یکم رمضان شریف یکم جنوری کو ہوئی تو آئندہ سال دسمبر کو یکم رمضان ہوگی کہ قمری مہینے دن میں ختم ہوجائیں گے اور شمسی سال پورا ہونے کو ابھی دس دن اور درکار ہیں پھر تیسرے سال یکم رمضان دسمبر کو ہوگی چوتھے سال یکم دسمبر کو ہوگی تین برس میں ایك مہینہ بدل گیا پہلے یکم جنوری کو تھی اب یکم دسمبر کوہوئی یونہی ہر تین برس میں ایك مہینہ بدلے گا اور رمضان المبارك ہر شمسی مہینہ میں دورہ فرمائے گا بعینہ یہی حالت ہندی مہینوں کی ہوگی اگروہ لوند نہ لیتے انھوں نے سال رکھا شمسی اور مہینے لیے قمری توہر برس دس دن گھٹ گھٹ کر تین سال بعد ایك مہینہ گھٹ گیا لہذا ہر تین سال پر وہ ایك مہینہ مکرر کرلیتے ہیں تاکہ شمسی سال سے مطابقت رہے ورنہ کبھی جیٹھ جاڑوں میں آتا اور پوس گرمیوں میں بلکہ نصاری جنہوں نے سال وماہ سب شمسی لیے اگر یہ چوتھے سال ایك دن بڑھا کر فروری کا نہ کرتے تو ان کو بھی یہی صورت پیش آتی کہ کبھی جون کا مہینہ جاڑوں میں ہوتا اور دسمبر گرمیوں میں یوں کہ سال دن کا لیا اور آفتاب کا دورہ ابھی چند گھنٹے بعد پورا ہوگا کہ جس کی مقدار تقریبا چھگھنٹے تو پہلے سال شمسی سال دورہ یافتہ سے گھنٹے پہلے ختم ہوا دوسرے سال گھنٹے پہلے تیسرے سال گھنٹے پہلے چوتھے سال تقریبا گھنٹے اور گھنٹے کا ایك دن رات ہوتا ہے لہذا ہر چوتھے سال ایك دن بڑھا دیا کہ دورہ آفتاب سے مطابقت رہے لیکن دورہ آفتاب پورے چھ گھنٹے زائد نہ تھا بلکہ چوتھے تقریبا پونے چھ گھنٹے توچوتھے سال پورے گھنٹے کا فرق نہ پڑا تھا بلکہ تقریبا گھنٹے کا اور بڑھالیا ایك ایك کہ گھنٹے ہے تو یوں ہر سال میں شمسی سال دورہ آفتاب سے کچھ کم ایك گھنٹہ بڑھے گا سوبرس بعد تقریبا ایك دن لہذا صدی بعد گھٹا کر پھر فروری دن کا کر لیا اسی طرح اور دقیق کسرات کا حساب ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از رائے پورسی پی محلہ بیجناتھ پارہ مرسلہ بہادر علی خاں سپرنٹنڈنٹ پنشنر محکمہ بندوبست ذی الحجہ ھ شعبان کی کو اگر چاند نظر نہ آئے تو کو علاوہ قاضی و مفتی کے عوام کو روزہ رکھنا جائز ہے یا نہیں اور جائز ہے تو کس نیت سے
الجواب :
اگر کی شام کو مطلع صاف ہو اور چاند نظر نہ آئے تو کو قاضی مفتی کوئی بھی روزہ نہ رکھے اور اگر مطلع پرابر وغبار ہوتو مفتی کو چاہئے کہ عوام کو ضحوہ کبری یعنی نصف النہار شرعی تك انتظار کا حکم دے کہ جب تك کچھ نہ کھائیں پئیں نہ روزے کی نیت کریں بلا نیت روزہ مثل روزہ ر ہیں اس بیچ میں اگر ثبوت شرعی سے
#9629 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
رویت ثابت ہوجائے تو سب روزے کی نیت کرلیں روزہ رمضان ہوجائے گا اور اگر یہ وقت گزر جائے کہیں سے ثبوت نہ آئے تو مفتی عوام کو حکم دے کہ کھائیں پئیں ہاں جو شخص کسی خاص دن کے روزے کا عادی ہو اور اگر اس تاریخ وہ دن آکر پڑے مثلا ایك شخص ہر پیر کو روزہ رکھتا ہے اور یہ دن پیر کا ہو تو وہ اپنے اسی نفلی روزے کی نیت کر سکتا ہے شك کی وجہ سے رمضان کے روزے کی نیت کرے گا یا یہ کہ چاند ہو گیا تو آج رمضان کا روزہ رکھتا ہوں ورنہ نفل تو گنہ گار ہوگا۔ حدیث میں ہے :
من صام یوم الشك عصی اباالقاسم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ واﷲتعالی اعلم
جس نے یوم شك کا روزہ رکھا اس نے حضرت ابو القاسم محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نافرمانی کی ۔ واﷲتعالی اعلم (ت)
مسئلہ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سائل دریافت کرتا ہے کہ بروز پیر روزہ رکھنا چاہئے یا نہیں کیونکہ اگر ابر رہا تو چاند کا ثبوت ہوناغیر ممکن ہے اور اگر مطلع صاف ہوا تو دیکھ کر چاند روزہ ہوگا اس غرض سے دریافت کیا گیا ہے بغیر چاند دیکھنے کے روزہ ناجائز ہوگا حضور تحریر فرمادیجئے تاکہ دیہات میں خبر کردی جائے جیسا بھی تحریر ہوگا ویسا کیا جائے گا۔
الجواب :
اگر چاند ہوجائے یا شرعی شہادت گزر جائے تو کل کا روزہ ہے ورنہ دوپہر تك کچھ کھائیں پئیں نہیں اس خیال سے کہ شاید چاند ثابت ہوجائے پھر اگر ثابت ہوجائے تو روزہ کی نیت کرلیں ورنہ کھانا کھالیں اور جب تك رویت یا ثبوت رویت نہ ہوجائے رمضان کی نیت سے کل کا روزہ رکھنا حرام ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : مرسلہ احمد شاہ خاں از موضع نگر یا سادات
ان پانچ روزوں میں جو روزہ رکھنا منع ہے یعنی ایك خاص عیدالفطر اور عید الاضحی کے تو اس کی کیا وجہ ہے بینواتوجروا
الجواب :
یہ دن اﷲعزوجل کی طرف سے بندوں کی دعوت کے ہیں۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ :
ماہ رمضان المبارك اور غیر رمضان المبارك میں قرآن خوانی یا اور کوئی ختم مثلاتسبیح و تہلیل کے کوئی شخص پڑھے یا پڑھائے تو دونوں میں ثواب برابر ہے یا کم و بیش ہے تو کیا وجہ ہے بینو اتوجروا
حوالہ / References صحیح بخاری باب اذارأیتموالہلال فصوموا قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٥٦
#9630 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
الجواب : رمضان المبارك میں ہر عمل نیك کا ثواب باقی مہینوں کے عمل سے اکثر و اوفر ہے رمضان کا نفل اور مہینوں کے فرض اور اس کا فرض اور مہینوں کے ستر فرض کے برابر ہے۔ اور اﷲ عزوجل کا فضل اوسع واکبر ہے۔ سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے شہر مبارك کی نسبت فرمایا :
من تقرب فیہ بخصلۃ من الخیر کان کمن ادی فریضۃ فیما سواہ ومن ادی فیہ فریضۃ کان کمن ادی سبعین فریضۃ فیما سواہ الحدیث رواہ ابن خزیمۃ والبیہقی واﷲتعالی اعلم
جس نے رمضان میں کوئی نفلی نیکی کاکام کیا اسے اس شخص جیسا ثواب ملے گا جس نے ر مضان کے علاوہ میں فرض ادا کیا اور جس نے اس میں فرض ادا کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے رمضان کے علاوہ میں ستر فرض اداکئے الحدیث اسے ابن خزیمہ اور بیہقی نے روایت کیا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ : از مونگیر بہار مرسلہ مولوی محمد عمر صاحب ولایتی مقیم مونگیر مسجد ٹوٹی شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مونگیر میں رمضان روز یکشنبہ کو باوجود صفائے مطلع چاند نظر نہ آیا مگر کلکتہ سے بذریعہ تاربرقی خبر آئی کہ یہاں رمضان روز یکشنبہ چاند دیکھا گیا بعد اس کے یہاں کے ایك رئیس نے کلکتہ کے امام جامع مسجد سے بذریعہ تار برقی دریافت کیا امام صاحب نے بھی یہی جواب دیا کہ کلکتہ میں بتاریخ رمضان چاند دیکھا گیا اس پر اس رئیس نے مع اور چند آدمیوں کے روزے توڑ ڈالے مگر کسی ذی علم نے ان کی موافقت نہ کی ان اشخاص مفطرین کی نسبت در صورت صحت خبر مذکور کیاحکم ہے اور درصورت عدم صحت صرف اس روزے کی قضا ان اشخاص پر لازم ہوگی یا کفارہ اور تعزیر بھی کسی قسم کیبینو اتوجروا
الجواب :
تارکی خبر شرعامحض نا معتبر کما حققناہ فی فتوی مفصلۃ بما لا مزید علیہ(جیسا کہ ہم نے اپنے فتوی میں اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے جس پر اضافہ نہیں ہوسکتا۔ ت) اس کی بناء پر افطار محض ناجائز واقع ہوئی اور اشخاص مذکورین بیشك مرتکب گناہ ہوئے اگر چہ بعد کو تحقیق ہوجائے کہ اس دن واقعی عید ہی تھی کہ جب تك انھوں نے روزے توڑے اصلا ثبوت شرعی نہ تھا اور انھوں نے بے اذن شرع افطار پر اقدام کیا اور یہ قطعا گناہ ہے۔ شرع مطہر نے صوم و افطار کورؤیت پر معلق فرمایا۔
حوالہ / References صحیح ابن خزیمہ باب فضائل شھر رمضان حدیث ١٨٨٧ المکتب الاسلامی بیروت ٣ / ٩٢-١٩١
#9631 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
قال رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم صوموا لرؤیتہ وافطر والرؤیتہ۔ اخرجہ الشیخان عن ابی ہریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ والحدیث مشہور۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو۔ اسے بخاری و مسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے اور یہ حدیث مشہور ہے۔ (ت)
انہوں نے بے ثبوت رؤیت عید کرلی اور حکم احکم حاکم اعظم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مخا لفت کی ہم نے فتوی مفصلہ میں ثابت کیا کہ تار کی خبر مجہولین و فساق بلکہ بعض کفارکی و ساطت سےآتی ہے اور ایسی خبر میں شرع نے فرض کیا تھا کہ زنہار بے تحقیق عمل نہ کریں۔
قال اﷲتعالی یایها الذین امنوا ان جآءكم فاسق بنبا فتبینوا ان تصیبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم ندمین(۶)
اﷲتعالی نے فرمایا اے اہل ایمان!اگر تمھارے پاس کوئی فاسق خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لو کہ کہیں تم کسی قوم کو بے جانے ایذانہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہو۔ (ت)
انہوں نے صرف اسی کے اعتماد پر کاربندی کرلی شرع مطہر نے حکم دیا تھا تمھیں علم نہ ہو تو علم والوں سے پوچھو۔
قال اﷲتعالی فســٴـلوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون(۷) ۔
اﷲتعالی کا مبارك فرمان ہے : اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں۔ (ت)
انہوں نے اہل علم سے بے پوچھے کارروائی کی قرآن عظیم نے ارشاد کیا تھا جو بات پیش آئے علماء سے عرض کرو وہ حقیقت کار تك پہنچ جائیں گے۔
قال اﷲ تعالی و اذا جآءهم امر من الامن او الخوف اذاعوا به-و لو ردوه الى الرسول و الى اولی الامر منهم لعلمه الذین یستنبطونه منهم-
اﷲتعالی نے فرمایا : اورجب انکے پاس کوئی بات اطمینان یا ڈر کی آتی ہے اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں کی طرف رجوع لاتے تو ضرور اس کی حقیقت جان لیتے ان لوگوں سے جوان میں سے اجتہاد کرتے ہیں (ت)
حوالہ / References صحیح بخاری باب اذا رأیتموا الہلال فصوموا قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٥٦
القرآن ٤٩ / ٦
القرآن ٢١ / ٧
القرآن ٤ / ٨٣
#9632 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
انہوں نے اپنی رائے مستقل سمجھی فرقان حکیم نے فرمایا تھا جب تك شرع اجازت نہ دے آپ کچھ نہ کر بیٹھو
قال اﷲتعالی یایها الذین امنوا لا تقدموا بین یدی الله و رسوله و اتقوا الله-ان الله سمیع علیم(۱)
اﷲتعالی نے فرمایا : اے اہل ایمان!اﷲاور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اﷲتعالی سے ڈرو یقینا اﷲ سننے جاننے والا ہے(ت)
انہوں نے بے ثبوت شرعی جسارت کی رمضان شریف بالیقین ثابت تھا اور مسلمانوں کو شرع مطہر نے بحکم فمن شهد منكم الشهر فلیصمه- (جو ماہ رمضان کو پائے وہ ضرور اس کے روزے رکھے۔ ت) روزے پر جمع فرمایا تھا واجب تھا کہ جب شرع اذن دیتی کہ اب وہ کام ختم ہوا اس وقت روزہ چھوڑتے
قال اﷲتعالی انما المؤمنون الذین امنوا بالله و رسوله و اذا كانوا معه على امر جامع لم یذهبوا حتى یستاذنوه- ۔
اﷲتعالی نے فرمایا : بلاشبہ ایمان والے تو وہی ہیں جو اﷲاور اس کے رسول پر یقین لائے اور وہ جب حضور کے پاس کسی معاملہ میں حاضر ہوتے ہوں جس کیلئے جمع کے گئے ہوں تو آپ اجازت کے بغیر وہاں سے نہیں جاتے(ت)
انہوں نے بے اذن شرع کہ ہنوز اس تاریخ رمضان کا ختم ہوجانا دلیل شرعی سے ثابت نہ ہوا تھا اس امر جامع سے جدائی کی مانا کہ بعد کو عید ہی ظاہر ہو مگر اس وقت تك ان کے شہر میں تو رمضان ہی معلوم تھا انہوں نے قطعا امر دین ناواقفا نہ جسارت اور احکام شرع سے جاہلانہ مخالفت کی تو یہ اگر چہ نفس الامر میں مصیب ہوں عندالشرع خطا وار ہوئے
کما قال رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم من قال فی القران برأیہ فاصاب فقد اخطأ ۔ اخرجہ ابو داؤدو الترمذی والنسائی عن جندب رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جیسا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جس نے قرآن پاك کی تفسیر اپنی رائے سے کی وہ درست بھی ہوتو پھر بھی اس نے خطاء کی۔ اسے ابوداؤد ترمذی اور نسائی نے حضرت جندب رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا۔ (ت)
اور یہیں سے ثابت وہ بہر تقدیر اپنی بے باکی وجرأت واستقلال بالرائے ومخالفت اہل علم واختراع حکم
حوالہ / References القرآن ٤٩ / ١
القرآن ٢ / ١٨٥
القرآن ٢٤ / ٦۲
سنن ابی داؤد باب الکلام فی کتاب اﷲبلاعلم آفتاب عالم پریس ، لاہور ٢ / ١٥٨
#9633 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
کے باعث مستحق تعزیر ہوئے کہ یہ سب گناہ ہیں اور ہر گناہ جس میں حد نہیں اس میں تعزیر ہے
فی الاشباہ کل معصیۃ لیس فیھا حد مقدر ففیہ التعزیر۔
اشباہ میں ہے جس معصیت پر کوئی حد متعین نہ ہو اس میں تعزیز ہوگی(ت)
اور اس کی تعیین قسم حاکم شرع ایدہ اﷲتعالی کی رائے پر ہے ضرب حبس گوشمال سخت کلام تیز نگاہ وغیرہا جس طریقہ سے مصلحت جانے زجر فرمائے اختیار کرے توانتالیس کوڑے سے زیادہ نہ ہو۔
فی شرح التنویر التعزیر لیس فیہ تقدیر بل ھو مفوض الی رائ القاضی وعلیہ مشائخنا زیلعی لان المقصود منہ الزجر واحوال الناس فیہ مختلفۃ بحر۔
شرح تنویر میں ہے کہ تعزیر مقدر نہیں بلکہ قاضی کی رائے کے مطابق ہوگی اور ہمارے مشائخ اسی پر ہیں زیلعی کیونکہ اس سے مقصود زجر ہے اور اس بارے میں لوگوں کے طبائع مختلف ہوتے ہیں بحر۔ (ت)
اسی میں ہے :
اکثرہ تسعۃ وثلثون سوطالوبالضرب۔
تعزیر زیادہ سے زیادہ انتالیس کوڑے ہے اگر ضرب کرنی ہو(ت)
اور جہاں والی شرع نہ ہو جیسے ہمارے بلاد وہاں یہ لوگ تعزیر سے محفوظی پر خوش نہ ہوں کہ یہ خوشی ان کے گناہ کو ہزار چند کردے گی بلکہ اس سے ڈریں جس کی حکومت ہرجگہ ہے اور ہر وقت ہر بات پر قادر ہے اور اسی کی طرف پھرکر جانا ہے۔ فورا صدق دل سے تائب ہوں اورجیسے یہ معصیت اعلانیہ کی توبہ بھی بالاعلان کریں۔
قال رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم اذا عملت سیئۃ فاحدث عند ھاتوبۃ السربالسر والعلانیۃ با لعلانیۃ اخرجہ الامام احمد فی الزھد والطبرانی فی المعجم الکبیر عن معاذبن جبل رضی اﷲتعالی عنہ باسناد حسن۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جب تم کوئی برائی کرو تو اس پر توبہ کرو اگر گناہ خفیہ ہے تو توبہ بھی خفیہ طور پر کی جائے اور اگر گناہ اعلانیہ ہے توتوبہ بھی اعلانیہ کی جائے۔ اسے امام احمد نے زہد میں اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (ت)
حوالہ / References الاشباہ والنظائر کتاب الحدود والتعزیر اداراۃ القرآن والعلوم السلامیہ کراچی ١ / ٢٨٥
درمختار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٣٢٦
درمختار باب التعزیر مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٣٢٦
کنز العمال حدیث١٠١٨٠ بحوالہ احمد فی الزہد عن عطابن یسار ، باب التعزیر موسسۃالرسالۃ بیروت ٤ / ٢٠٩ ، المعجم الکبیر حدیث ٣٣١ مروی از معاذبن جبل المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ٢٠ / ١٥٩
#9634 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
آئندہ کیلئے عہد واثق ہو کہ کبھی اموردین میں بیبا کی وجرأت نہ کرینگے اور بے ارشاد علماء اپنی رائے سے قدم نہ رکھیں گے
و یتوب الله على من یشآء- و یهدی الیه من اناب(۲۷)
اﷲتعالی جس کی چاہے توبہ قبول فرمائے۔ اوراپنی طرف اسی کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف رجوع لائے(ت)
پھر اگر طرق مقبولہ شرع سے ثابت ہوجائے کہ وہ خبر سچی اور عید واقعی تھی تو ان پر اس روزے کی قضا نہیں کہ تحقیق ہوا وہ دن روزے کا نہ تھا
ولاقضاء الاعن وجوب وافساد النفل بعد الشروع وان اوجب القضاء لکن ھذا فی غیر صوم الایام الخمسۃ کمافی التنویرو شرحہ للعلائی علی ان محلہ فی الشروع قصد االا تری ان من شرع فی صلوۃ ظاناانہ لم یصلھا ثم تذکر فقطع لا قضاء علیہ۔
وجوب کے سوا کسی کی قضانہیں نفلی روزہ شروع کرکے توڑدینے سے روزہ واجب ہوجاتا ہے لیکن وہ حکم ان پانچ دنوں کے علاوہ ہے جیسا کہ تنویر اور اس کی شرح للعلائی میں ہے علاوہ ازیں اس کا محل قصدا شروع ہونا ہے کیا آپ نہیں جانتے کہ جو شخص کسی نماز میں یہ گمان کرتے ہوئے شروع ہوا کہ اس نے ادا نہیں کی تھی پھر اسے یاد آگیا کہ اس نے ادا کرلی ہے تو اس نے نماز توڑدی تو اب اس پر قضا نہیں۔ (ت)
نظیر اس کی یہ ہے کہ ابھی غروب شمس محقق نہ ہوا اور کسی شخص نے جزافا روزہ کھول لیا یہ امراسے روانہ تھا کما فی السراج الوھاج والبحر الرائق ووجیزالکردری(جیساکہ سراج الوہاج بحر الرائق اور وجیز کردری میں ہے۔ ت) لیکن اگر بعد کو ثابت ہو کہ فی الواقع اس وقت آفتاب ڈوب چکا تھا تو روزے کی قضا نہیں کما نص علیہ الامام الزیلعی ثم الطحطاوی ثم الشامی(جیسا کہ اس پر امام زیلعی نے پھر طحطاوی اور پھر شامی نے تصریح کی ہے۔ ت) کہ ظاہر ہوا کہ وقوع افطار اپنے محل میں تھا اور اگر منکشف ہوکہ خبر غلط تھی اور وہ دن رمضان کا تھا یاکچھ تحقیق نہ ہو تو بے شك اس روزے کی قضا لازم ہے تقدیراول پر تو وجہ واضح اور بر تقدیر ثانی رمضان کا آنا یقینی تھا اور اس کاجانا شرعا ثابت نہ ہوا والیقین لایزول بالشک(یقین شك سے زائل نہیں ہوا کرتا۔ ت)تو وہ دن عندالشرع رمضان ہی کا تھا کہ شرع نے عدم رؤیت میں تیس دن پورے کامہینہ رکھا ہے
حوالہ / References القرآن ٩ / ١٥
القرآن ١٣ / ٢٧
#9635 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
قال رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم فان غم علیکم فاکملو االعدۃ ثلثین اخرجہ البخاری ونحوہ مسلم عن ابن عمر رضی اﷲتعالی عنھما۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اگر تم پر چاند (بادل کی وجہ سے) مخفی رہے تو تم تیس دن مکمل کرو۔ اسے امام بخاری نے اور اس کی مثل امام مسلم نے حضرت عبد اﷲبن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا سے روایت کیا ہے(ت)
نظیر اس کی یہ ہے کہ بے تحقیق غروب افطار کرلیا پھر ثابت ہوا کہ آفتاب باقی تھا یا کچھ نہ کھلا دونوں حالت میں قضا ہے کما صرح بہ الزیلعی ومن بعدہ(جیسا کہ اس پر زیلعی اور ان کے بعد آنے والوں نے تصریح کی ہے۔ ت)بایں ہمہ مانحن فیہ میں کفارہ کسی تقدیر پر نہیں کہ آخر انہوں نے اپنے نزدیك عید ہی جان کر روزے توڑے اور وہ خبریں اگر چہ شرعانا مقبول ہیں۔ مگر ان عامیوں کے لیے مورث ظن بلکہ ان کے گمان میں موجب یقین ہوچکی تھیں تو ان کی طرف سے جنایت کاملہ نہ پائی گئی وان تبتنی الکفارۃ علیہا(اور کفارہ جنایت کاملہ پر ہوتا ہے۔ ت) نظیر اس کی وہ شخص ہے جس کے ایك دوست نے اس سے بیان کیا میں نے عید کا چاند دیکھا اس نے اسے معتمد سمجھ کر روزہ توڑ ڈالا اگر چہ گنہگار ہوا کہ ایك کی خبر ہلال عید میں محض نامعتبر اور اسی وجہ سے قضا بھی آئی مگر کفارہ نہیں علامہ حسن شرنبلالی نورالایضاح اوراس کی شرح مراقی الفلاح میں فرماتے ہیں :
ان افطر من رأی الھلال وحدہ فی شوال قضی ولا کفارۃ علیہ ولا علی صدیق للرائی شہد عندہ بہلال الفطروصدقہ فافطر لانہ یوم عید فیکون شہبۃ۔
جس نے شوال کا چاند تنہا دیکھا اور روزہ نہ رکھا تو وہ قضا کرے اس پر کفارہ نہیں اسی طرح جس نے اس کی گواہی کی تصدیق کی عیدالفطر کے چاند میں اور روزہ نہ رکھا کیونکہ اس کے نزدیك یہ عید کا دن ہے لہذا یہاں شبہ کا وقوع ہوگیا ہے(لہذا قضا ہوگی کفارہ نہیں۔ (ت)
اسی طرح فتح القدیر و ہندیہ وغیرہا میں ہے بلکہ علماء تصریح فرماتے ہیں اگر گاؤں والوں نے تیسویں رمضان کو شہر سے نقارے کی آواز سنی اور وہ سمجھے کہ نقارہ عید کا ہے روزے توڑدئے حالانکہ وہ نقارہ کسی اور بات کا تھا کفارہ لازم نہیں فتاوی منہیہ پھر شرح نقایہ پھر مجمع الانہر پھر ردالمحتار میں ہے :
حوالہ / References صحیح بخاری باب اذارأیتم الہلال فصوموا قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٥٦
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فیما ثبت بہ الہلال نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ، ۷ ٣٥
#9636 · کتابُ الصّوْم (روزے کا بیان)
لوافطر اھل الرستاق بصوت الطبل یوم الثلثین ظانین انہ یوم العید وھو لغیرہ لم یکفر۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم و احکم ۔
اگر اہل علاقہ نے تیسویں دن ڈھول کی آواز پر یہ گمان کرتے ہوئے روزہ افطار کرلیا کہ یہ عید کا دن ہے حالانکہ وہ کسی اور وجہ سے بجایا گیا تھا تو اب ان پر کفارہ نہیں ہوگا۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجداتم احکم ۔ (ت)
_________________
حوالہ / References ردالمحتار باب مایفسد وما لایفسد داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ١٠٦
#9637 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
اﷲ رب محمد صلی اﷲعلیہ وسلما
مسئلہ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں در بارہ رؤیت ہلال تار کی خبر شرعامعتبر ہے یا نہیں اور اگر کچھ لوگ یہ انتظام مقرر کریں کہ درباب رؤیت ہلال رمضان و شوال و ذی الحجہ ومحرم کے پیشتر سے مراسلات مقام دیگر کو جہاں جہاں مناسب خیال کیا جائے اس مضمون سے بھیجے جائیں کہ اگر ان مقاموں میں کی رؤیت ہو تو خبر رؤیت کی بذریعہ تار کے پہنچ جائے اور بعد پہنچنے خبر شہادت کافی کے مشتہر کردیا جائے تو یہ طریقہ شرعامقبول یا محض باطل اور اس کی بنا پر اعلان ہو تو مسلمانوں کو اس پر عمل جائز یا حرام اور اعلان کرنے والوں کے حق میں کیا حکم ہےبینواتوجروا۔
الجواب :
الحمدﷲ الذی بشکرہ یصیرھلال النعمۃ
سب تعریف اﷲکے لیے جس کے شکر سے نعمتوں کا چاند
#9638 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
بدروالصلوۃ والسلام علی اجل شموس الرسالۃ قدر او علی الہ وصحبہ نجوم الھدی واقمار التقی مااتی البرق بخبر الودق فصدق مرۃ وکذب اخری اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
بدربن جاتا ہے صلوۃ وسلام اس ذات پر جو قدر ومنزلت میں رسالت کا سب سے اعلی آفتاب ہیں آپ کے آل واصحاب پر جو ہدایت کے ستارے اور تقوی کے چاند ہیں جب تك بجلی کی چمك بارش کی خبر دے کبھی وہ سچ ہو اور کبھی غلط اے اﷲ! حق وصواب کی ہدایت عطا فرما۔ (ت)
امور شرعیہ میں تار کی خبر محض نامعتبر اور یہ طریقہ کہ تحقیق ہلال کیلئے تراشا گیا باطل و بے اثر مسلمانوں کو ایسے علان پر عمل حرام اور جو اس کی بنا پر مرتکب اعلان ہو سب سے زیادہ مبتلائے آثام۔ اس طریقے میں جو غلطیاں اور احکام شرع سے سخت بیگا نگیاں ہیں۔ ان کی تفصیل کو دفتر درکار لہذا یہاں بقدرضرورت و فہم مخاطب چند آسان تنبیہوں پر اقتصار۔
تنبیہ اول : شریعت مطہرہ نے دربارہ ہلال دوسرے شہر کی خبر کو شہادت کافیہ یا تواتر شرعی پر بنا فرمایا اور ان میں بھی کافی و شرعی ہونے کے لیے بہت قیود وشرائط لگائیں جس کے بغیر ہرگز گواہی و شہرت بکار آمد نہیں اور پر ظاہر کہ تار نہ کوئی شہادت شرعیہ ہے نہ خبر متواتر پھر اس پر اعتماد کیونکر حلال ہوسکتا ہے۔ فتح القدیر ودرمختار وحاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے :
واللفظ للدریلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذا ثبت عند ھم رؤیۃ اولئك بطریق موجب۔
در کے الفاظ یہ ہیں اہل مشرق پر اہل مغرب کی رویت کی وجہ سے لازم ہوجاتا ہے بشرطیکہ جب اس رویت کا ثبوت ان کے ہاں بطریق موجب ہو۔ (ت)
علامہ حلبی وعلامہ طحطاوی وعلامہ شامی حواشی در میں فرماتے ہیں :
بطریق موجب کان یتحمل اثنان الشھادۃ اویشہد اعلی حکم القاضی او یستفیض الخبر بخلاف ما اذااخبر اان اھل بلدۃ کذا رأوہ لانہ حکایۃ۔
طریق موجب یہ ہے کہ شہادت لانے والے دو ہوں یا وہ قاضی کے فیصلہ پر گواہ ہوں یا خبر مشہور ہو بخلاف اس صورت کے جب دونوں نے یہ خبردی ہوکہ فلاں اہل شہر نے دیکھا ہے کیونکہ یہ تو حکایت ہے۔ (ت)
جو یہاں تار کی خبر پر عمل چاہے اس پر لازم کہ شرعااس کا موجب و ملزم ہونا ثابت کرے مگر حاشانہ ثابت ہوگا جب تك ہلال مشرق اور بدر مغرب سے نہ چمکے پھر شرع مطہر پر بے اصل زیادت اور منصب رفیع فتوی پر جرأت کس لیے ۔ والعیاذ
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
ردالمحتار ، باب صدقۃ الفطر ، داراحیاء التراث العربی بیروت ، ٢ / ٩٦
#9639 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
باﷲ سبحانہ وتعالی اور یہ خیال کہ تار میں خبر تو شہادت کافیہ کی آئی محض نادانی کہ ہم تك تو نامعتبرہ طریقے سے پہنچی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے زیادہ معتبر کس کی خبر پھر جو حدیث نا معتبر راویوں کے ذریعہ سے آتی ہے کیوں پایہ اعتبار سے ساقط ہوجاتی ہے!
تنبیہ دوم : تار کی حالت خط سے زیادہ ردی و سقیم کہ اس میں کاتب کا خط تو پہچانا جاتا ہے طرز عبارت شناخت میں آتا ہے واقف کار دیگر قرائن سے اعانت پاتا ہے ۔ بایں ہمہ ہمارے علماء نے تصریح فر مائی ہے کہ امور شرعیہ میں ان خطوط و مراسلات کا کچھ اعتبار نہیں کہ خط خط کے مشابہ ہوتا ہے اور بن بھی سکتا ہے تو یقین شرعی نہیں ہوسکتا کہ یہ اسی شخص کا لکھا ہواہے۔ ائمہ دین کی عبارتیں لیجئے : اشباہمیں ہے : لایعتمد علی الخط ولا یعمل بہ (خط پر نہ اعتماد کیا جائے گا نہ عمل۔ ت) ہدایہ میں ہے : الخط یشبہ الخط فلم یحصل العلم (خط دوسرے خط کے مشابہ ہوتا ہے لہذا اس سے علم حاصل نہ ہوگا۔ ت) فتح القدیرمیں ہے : الخط لاینطق وھو متشابہ (خط بولتا نہیں اور اس میں مشابہت ہوتی ہے ۔ ت) درمختار میں ہے : لایعمل بالخط الخ (خط پر عمل نہیں کیا جاسکتا الخ۔ ت)فتاوی قاضیخاں میں ہے :
القاضی انما یقضی بالجحۃ والحجۃ ھی البینۃ اوالاقرار اماالصك فلا یصلح حجۃ لان الخط یشبہ الخط۔
قاضی فیصلہ دلیل پر کرے اور دلیل گواہ ہیں یا اقرار پر فیصلہ کرے اشٹام حجت نہیں کیونکہ خط دوسرے خط کے مشابہ ہوسکتا ہے(ت)
کافی شرح وافیمیں ہے : الخط یشبہ الخط وقد یزور ویفتعل ۔ (خط خط کے مشابہ ہوتا ہے اور
حوالہ / References اشباہ والنظائر کتاب القضاء والشہادات والد عاوی ادارۃالقرآن وعلوم اسلامیہ کراچی ١ / ٣٣٨
ہدایہ کتاب الشہادت فصل مایتحملہ الشاہد مطبع یوسفی لکھنؤ ٣ / ١٥٧
فتح القدیر
درمختار کتاب القاضی الی القاضی وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ٨٣
فتاوٰی قاضی خاں ، فصل فی دعوی الوقف الخ ، منشی نولکشور لکھنؤ ٤ / ٧٤٢
کافی شرح وافی
#9640 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
یہ ان اشیاء میں سے ہے جن سے کسی کی طرف جھوٹ منسوب کیا جاتا اور جعلسازی کی جاتی ہے۔ ت)مختصر ظہیریہ پھر شرح الاشباہ للعلامۃ البیری پھر ردالمحتار میں ہے :
لایقضی القاضی بذلك عن المنازعۃ لان الخط مما یزورویفتعل۔
قاضی جھگڑے کے وقت اس پر فیصلہ نہ کرے کیونکہ خط میں کسی کی طرف جھوٹ منسوب کیا جاسکتا ہے اور بنالیا جاتا ہے(ت)
عینیشرح کنز میں ہے :
الخط یشبہ الخط فلا یلزم حجۃ لانہ یحتمل التزویر۔
خط خط کے مشابہ ہوتا ہے لہذا وہ دلیل نہیں بن سکتا کیونکہ اس میں جعلسازی کا احتمال ہوتا ہے(ت)
مجمع الانہرشرح ملتقی الابحر میں ہے :
الشہادۃ والقضاء والرؤیۃ لا یحل الاعن علم ولا ھنا لان الخط یشبہ الخط۔
شہادت اور قضا اور رؤیت یقین کے بغیر حلال نہیں اور یہاں حاصل نہیں کیونکہ خط خط کے مشابہ ہوتاہے(ت)
فتاوی عالمگیری۱۲میں ملتقطسے ہے :
الکتاب یفتعل ویزور الخط یشبہ الخط و الخاتم یشبہ الخاتم۔
خط میں جعل سازی اور من گھڑت بات بھی ہوسکتی ہے اور خط خط کے مشابہ ہوتاہے۔ اسی طرح مہر دوسری مہر کے مشابہ ہوسکتی ہے(ت)
غمز العیون میں فتاوی امام اجل ظہیر الدین مرغینانی سے ہے :
العلۃ فی عدم العمل بالخط کونہ مما یزور ویفتعل ای من شانہ ذلك وکونہ من شانہ ذلك یقتضی عدم العمل بہ وعدم الاعتماد علیہ
خط پر عمل کرنے کی علت یہ ہے کہ اس کے ذریعے جعلسازی کی جاسکتی ہے یعنی اس کی یہ صفت بن سکتی ہے اور اس صفت کا ہونا تقاضا کرتا ہے کہ اس پر عمل نہ کیا جائے اور نہ اعتماد کیا جائے اگرچہ
حوالہ / References ردالمحتار ، باب کتاب القاضی الی القاضی ، داراحیاء التراث العربی بیروت ، ٤ / ٣٥٢
عینی شرح کنز رمزالحقائق شرح کنز الدقائق کتاب الشہادۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٨٠
مجمع الانہر ، کتاب الشہادت ، داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ١٩٢
فتاوٰی ہندیہ اسباب الثالث والعشرون فی کتاب القاضی الی القاضی نورانی کتب خانہ پشاور ٢ / ٣٨١
#9641 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
وان لم یکن مزورافی نفس الامر کما ھو ظاھر۔
نفس الامر میں اس میں جعلسازی نہ کی گئی ہو جیسا کہ ظاہر ہے۔ (ت)
دیکھئے کس قدر روشن وواضح تصریحیں ہیں کہ خط پر اعتماد نہیں نہ اس پر عمل نہ اس کے ذریعہ سے یقین حاصل ہو نہ اس کی بنا پر حکم و گواہی حلال کہ خط خط کے مشابہ ہوتا ہے اور مہر مہر کے مانند ہوسکتی ہے اور صاف ارشاد فرماتے ہیں کہ خط کا صرف اپنی ذات میں قابل تزویر ہونا ہی اس کی بے اعتباری کو کافی ہے اگر چہ یہ خاص خط واقع میں ٹھیك ہو پھر یہ تار جس میں خبر بھیجنے والے کے دست و زبان کی کوئی علامت تك نام کو بھی نہیں اور اس میں خط کی بہ نسبت کذب و تزویر نہایت آسان کیونکر امور دینیہ کی بنا اس پر حرام قطعی نہ ہوگی۔ سبحان اﷲائمہ دین کی وہ احتیاط کہ مہر خط کو صرف گنجائش تزویر کے سبب لغو ٹھہرایا حالانکہ مہر بنالینا اورخط میں خط ملادینا سہل نہیں شاید ہزار میں دوایك ایسا کرسکتے ہوں اوریہاں تو اصلا دشواری نہیں جو چاہے تار گھر میں جائے اور جس کے نام سے چاہے تاردے آئے وہاں نام ونسب کی کوئی تحقیقات نہیں ہوتی نہ رجسٹری کی طرح شناخت کے گواہ لیے جاتے ہیں علاوہ بریں تار والوں کے وجوب صدق پر کون سی وحی نازل ہے کہ ان کی بات خواہی نخواہی واجب القبول ہوگی اور اس پر احکام شرعیہ کی بنا ہونے لگی ہزار افسوس ذلت علم وقلت علماء پر انا ﷲواناا لیہ راجعون۔
تنبیہ سوم : قطع نظر اس سے کہ خبر شہادت منگانے کے لیے جنہیں مراسلات بھیجے جائیں گے غالبا ان کا بیان حکایت و اخبار محض سے کتنا جدا ہوگا جس کی بے اعتباری تمام کتب مذہب میں مصرح۔ بالفرض اگر اصل خبر میں کوئی خلل شرعی نہ ہو تا ہم اس کا جامہ اعتبار تار میں آکر یکسر تار تار کہ وہ بیان ہم تك اصالتانہ پہنچا بلکہ نقل در نقل ہو کرآیا صاحب خبر تو وہاں کے تار والے سے کہہ کر الگ ہوگیا اس نے تار کو جنبش دی اور اس کے کھٹکوں سے جن کے اطوار مختلفہ کو اپنی اصطلاحوں میں علامت حروف قرار دے رکھا ہے اشاروں میں عبارت بتائی اب وہ بھی جدا ہوگیا یہاں کے تار والے نے ان کھٹکوں پر نظر کی اور ضربات معلومہ سے جو فہمم میں آیا نقوش معرفہ میں لایا اب یہ بھی الگ رہا وہ کاغذ کا پرچہ کسی ہر کارے کے سپرد ہوا کہ یہاں پہنچا کر چلتا بنا۔ سبحان اﷲ! اس نفیس روایت کا سلسلہ سند تو دیکھئے مجہول عن مجہول عن مجہول نامقبول از نامقبول از نامقبول اس قدر وسائط تولابدی ہیں پھر شاید کبھی نہ ہوتا ہو کہ معزز لوگ بذات خودجاکرتار دیں اب جس کے ہاتھ کہلابھیجا مانیے وہ جدا واسطہ اس پر فارم کی حاجت ہوئی تو تحریر کا قدم درمیان آپ نہ آئے تو کسی انگریزی دان کی وساطت ادھر تار کا بابو اردو نہ لکھے تو یہاں مترجم کی جدا ضرورت اینہمہ فصل زائد ہوا اور تار وصل نہیں جب تو نقل در نقل کی گنتی ہی کیا ہے وائے بے انصافی
حوالہ / References غمزالعیون مع الاشباہ والنظائر کتاب القضاء والشہادات الخ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ١ / ٣٣٩
#9642 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
اس طریقہ تراشیدہ پر عمل کرنے والوں سے پوچھا جائے ان سب وسائط کی عدالت و ثقاہت سے کہاں تك آگاہ ہیں حاش ﷲنام بھی نہیں معلوم ہوتا نام درکنار اصل شمار وسائط بتانا دشوار سب جانے دیجئے اسلام پر بھی علم نہیں اکثر ہنود وغیرہم کفاران خدمات پر معین غرض کوئی موضوع سی حدیث اس نفیس سلسلے سے نہ آتی ہوگی پھر ایسی خبر پر امور شرعیہ کی بنا کرنا استغفراﷲ علماء توعلماء میں نہیں جانتا کہ کسی عاقل کا کام ہو۔
تنبیہ چہارم : علماء تصریح فرماتے ہیں کہ دوسرے شہر سے بذریعہ خط خبر شہادت دینا صرف قاضی شرع سے خاص جسے سلطان نے مقدمات پر والی فرمایا ہو یہاں تك کہ حکم کا خط مقبول نہیں درمختار میں ہے :
القاضی یکتب الی القاضی وھو نقل الشہادۃ حقیقۃ ولا یقبل من محکم بل من قاض مولی من قبل الامام الخ ملتقطا۔
قاضی دوسرے قاضی کی طرف لکھ سکتا ہے اور یہ حقیقۃ نقل شہادت ہے اور یہ فیصل سے قبول نہیں بلکہ اس قاضی سے قبول ہے جسے حاکم نے مقرر کیا ہو الخ ملتقطا(ت)
فتح میں ہے :
ھذاالنقل بمنزلۃ القضاء ولھذا لایصح الامن القاضی۔
یہ نقل بمنزلہ قضاء کے ہے لہذا یہ قاضی کے علاوہ کسی سے صحیح نہیں۔ (ت)
غیر قضاۃ تو یہیں سے الگ ہوئے رہے قاضی ان کی نسبت صریح ارشاد کہ اس بارے میں نامہ قاضی کا قبول بھی اس وجہ سے ہے کہ صحابہ وتابعین رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے برخلاف قیاس اسکی اجازت پر اجماع فرمالیا ورنہ قاعدہ یہی چاہتا تھا کہ اس کا خط بھی انہی وجوہ سے جواوپر گزریں مقبول نہ ہو اور پر ظاہر کہ جو حکم خلاف قیاس مانا جاتاہے مورد سے آگے تجاوز نہیں کر سکتا اور دوسری جگہ اس کا اجراء محض باطل و فاحش خطا پھر حکم قبول خط سے گزر کر تار تك پہنچنا کیونکر روا۔ ائمہ دین تو یہاں تك تصریح فرماتے ہیں کہ اگر قاضی اپنا آدمی بھیجے بلکہ بذات خود ہی آکر بیان کرے کہ میرے سامنے گواہیاں گزریں ہرگز نہ سنیں گے کہ اجماع تو صرف دربارہ خط منعقد ہوا ہے پیام ایلچی وخود بیان قاضی اس سے جدا ہے۔ امام محقق علی الاطلاق شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں :
الفرق بین رسول القاضی وکتابہ حیث
قاضی کے قاصد اور اس کے خط میں یہ فرق ہے کہ
حوالہ / References درمختار ، باب کتاب القاضی الی القاضی ، مطبع مجتبائی دہلی ، ٢ / ٨٣ و ٨٤
فتح القدیر باب کتاب القاضی الی القاضی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٦ / ٣٨٩
#9643 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
یقبل کتابہ ولا یقبل رسولہ فلان غایۃ رسولہ ان یکون کنفسہ وقد مناانہ لوذکر مافی کتابہ لذلك القاضی بنفسہ لا یقبلہ وکان القیاس فی کتابہ کذلک الا انہ اجیزباجماع التابعین علی خلاف القیاس فاقتصر علیہ۔
خط قبول کیا جائے گا لیکن قاصد مقبول نہیں زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ قاصد قاضی کے قائم مقام ہے جبکہ ہم پہلے بیان کرچکے کہ اگر قاضی خود جاکر دوسرے قاضی کو خط والا مضمون بتائے تو دوسرا قاضی اسے قبول نہیں کرے گا خط کے بارے میں قیاس کا تقاضا یہی ہے کہ قبول نہ ہو لیکن تابعین حضرات کے اجماع سے اس کو جائز و مقبول قرار دیا گیا جو کہ خلاف قیاس ہے اسی لیے اسی میں اجازت محصور رہے گی۔ (ت)
سبحان اﷲ! پھر تار بیچارے کی کیا حقیقت کہ اسے کتاب القاضی پر قیاس کریں اور جہاں خود بیان قاضی شرعا بے اثر وہاں اس کے سر بنائے احکام دھریں ع
ببیں تفاوت رہ از کجاست تا بکجا
(راستے کا تفاوت دیکھیں کہ کہاں سے کہاں تك ہے۔ ت)
اور جب شرعا قاضی کا تار یوں بے اعتبار تو اوروں کے تار کی جو ہستی ہے وہ ہماری تقریر صدر سے آشکار کہ مقبول الکتاب کا تار ناچیز تو مردود الکتاب کا تار کیا چیز ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ الملك العزیز۔
تنبیہ پنجم : قاضی شرع کا نامہ بھی صرف اسی وقت مقبول جب دو مرد ثقہ یا ایك مرد دو عورتیں عادل دارالقضاء سے یہاں آکر شہادت شرعیہ دیں کہ یہ خط بالیقین اسی قاضی کا ہے اور اس نے ہمارے سامنے لکھا ہے ورنہ ہرگز قبول نہ ہوگی اگر چہ ہم اس قاضی کا خط پہچانتے ہوں اور اس کی مہر بھی لگی ہو اور اس نے خاص اپنے آدمی کے ہاتھ بھیجا ہو۔ ہدایہ میں ہے :
لا یقبل الکتاب الابشہادۃ رجلین اورجل وامرأتین لان الکتاب یشبہ الکتاب فلا یثبت الابحجۃ تامۃ وھذالانہ ملزم فلا بدمن الحجۃ۔
خط نہیں قبول کیا جائے گا مگر دومرد یا ایك مرد اور دوخواتین کی گواہی پر قبول ہوگا کیونکہ خط خط کے مشابہ ہوسکتا ہے لہذا اس حجت کاملہ کے بغیر خط کا ثبوت نہ ہوگا اور یہ اس لیے کہ خط کی وجہ سے حکم لازم ہوتا ہے اور اس لیے حجت کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ (ت)
فتاوی ہندیہ میں ملتقط سے ہے :
حوالہ / References فتح القدیر شرح ہدایہ باب القاضی الی القاضی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٦ / ٣٨٦
ہدایہ ، باب القاضی الی القاضی ، مطبع یوسفی لکھنؤ ، ٣ / ١٣٩
#9644 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
یجب ان یعلم ان کتاب القاضی الی القاضی صار حجۃ شرعا فی المعاملات بخلاف القیاس لان الکتاب قد یفتعل ویزور والخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم ولکن جعلنہ حجۃ بالاجماع ولکن انما یقبلہ القاضی المکتوب الیہ عند وجو دشرائطہ ومن جملۃ الشرائط البینۃ حتی ان القاضی المکتوب الیہ لایقبل کتاب القاضی مالم یثبت بالبینۃ انہ کتاب القاضی۔
یہ جان لینا ضروری ہے کہ قاضی کا خط دوسرے قاضی کی طرف معلامات میں شرعا حجت ہے لیکن خلاف قیاس کیونکہ خط میں جعلسازی اور جھوٹ لکھا جاسکتا ہے اورخط خط کے مشابہ اسی طرح مہر دوسری مہر کے مشابہ ہو سکتی ہے لیکن ہم نے اسے اجماع کی وجہ سے حجت مانا ہے لیکن جس قاضی کی طرف لکھا گیا ہو تب قبول کرے جب اسکی شرائط پائی جائیں اور ان شرائط میں سے ایك یہ ہے کہ اس پر گواہ ہوں حتی کہ قاضی دوسرے قاضی کے خط کو اس وقت تك قبول نہیں کرسکتا جب تك گواہ گواہی نہ دیں کہ یہ قاضی کا خط ہے(ت)
عقودالدریہ میں فتاوی علامہ قاری الہدایہ سے ہے :
اذا شہد واانہ خطہ من غیران یشاھد وا کتابتہ فلا یحکم بذلک۔
جب وہ گواہی دیں کہ یہ اس کا خط مگر انہوں نے لکھتے ہوئے نہیں دیکھا تو ایسے خط پر فیصلہ نہ دیا جائے(ت)
سبحان اﷲ! یہ خطوط یا تار جو یہاں آتے ہیں ان کے ساتھ کون سے دو گواہ عادل آکر گواہی دیتے ہیں کہ کہ فلاں نے ہمارے سامنے لکھا یا تار دیا مگر ہے یہ کہ ناواقفی کے ساتھ امور شرع میں بے جامداخلت سب کچھ کراتی ہے نسأل اﷲتوفیق الصواب وبہ نستعین فی کل باب(ہم اﷲتعالی سے توفیق صواب کا سوال کرتے ہیں اور ہر معاملہ میں اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ ت)
اے عزیز! اس زمانہ فتن میں لوگوں کو احکام شرع پر سخت جرأت ہے خصوصا ان مسائل میں جنہیں حوادث جدیدہ سے تعلق و نسبت ہے جیسے تار برقی وغیرہ سمجھتے ہیں کہ کتب ائمہ دین میں ان کا حکم نہ نکلے گا جو مخالفت شرع کا ہم پر الزام چلے گا مگر نہ جانا کہ علمائے دین شکر اﷲتعالی مساعیھم الجمیلۃ(اﷲتعالی ان کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ ت) نے کوئی حرف ان عزیزوں کے اجتہاد کو اٹھانہیں رکھا ہے تصریحا تلویحاتفریعاتاصیلاسب کچھ فرمادیا ہے زیادہ علم اسے ہے جسے زیادہ فہم ہے اور ان شاء اﷲالعزیز زمانہ بندگان خدا سے خالی نہ ہوگا جو
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الباب الثالث والعشرون فی کتاب القاضی الی القاضی نورانی کتب خانہ پشاور ٣ / ٣٨١
عقودالدریہ الکتابۃ علٰی ثلاثۃ مراتب الخ ارگ بازار قندھار افغانستان ٢ / ١٩
#9645 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
مشکل کی تسہیل معضل کی تحصیل صعب کی تذلیل مجمل کی تفصیل سے ماہر ہوں۔ بحر سے صدف سے صدف سے گوہر بذر سے درخت درخت سے ثمر نکالنے پر باذن اﷲ تعالی قادر ہوں۔
لاخلاالکون عن افضالھم وکثر اﷲفی بلادنا الراحمین وصلی اﷲتعالی علی خاتم النبیین سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعین واﷲسبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم۔
زمانہ ان فضلاء سے خالی نہیں اور اﷲتعالی ایسے لوگوں کو ہمارے علاقوں میں زیادہ کرے آمین آمین برحمتك یا ارحم الراحمین وصلی اﷲتعالی علی خاتم النبیین سیدنا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۲ : از رامپور بوساطت مولوی بشیر احمد صاحب مدرس اول مدرسہ اہلسنت و جماعت بریلی ربیع الاول ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ تاریخ کو کسی شہر میں چاند نظر نہ آئے اور دوسرے شہر میں وہی چاند کا نظر آیا اور وہاں کے لوگ ٹیلی فون یا ٹیلی گراف میں اطلاع دیں تو وہ خبر معتبر ہوگی یا نہیںبینو اتوجروا
الجواب :
ہر گز معبتر نہیں ہوسکتی اصلا قابل لحاظ نہیں ہوسکتی تار کی کی سخت بے اعتباری میں فقیر کا فتوی مفصلہ طبع ہوچکا ہے اس کی حالت ٹیلی فون درکنار خط سے بہت گری ہوئی ہے کہ اس میں مرسل کے ہاتھ کی علامت تك نہیں ہوتی اور اکثر بنگالی بابووں وغیرہم کفار کو توسط ہوتا ہے ورنہ مجاہیل ہونا ضروری ہے اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ خط بھی معتبر نہیں ہدایہ میں ہے : الخط یشبہ الخط (تحریر ایك دوسرے کے مشابہ ہوسکتی ہے۔ ت) تو شرعاتار پر عمل کیونکر ممکن ! یونہی ٹیلیفون کہ اس میں شاہد و مشہود نہیں ہوتا صرف آواز سنائی دیتی ہے اور علماء تصریح فرماتے ہیں آڑ سے جو آواز مسموع ہو اس پر احکام شرعیہ کی بناء نہیں ہوسکتی کہ آواز آواز سے مشابہ ہوتی ہے۔ تبیین الحقائق امام زیلعی پھر فتاوی عالمگیریہ میں ہے :
لوسمع من وراء الحجاب لایسعہ ان یشہد لا حتمال ان یکون غیرہ
اگر کسی نے پردہ کے پیچھے سے سنا تو اس کو گواہی دینا جائز نہیں کیونکہ وہ کوئی دوسرا ہوسکتا ہے کیونکہ
حوالہ / References الہدایہ فصل مایتحملہ الشاہد مطبع یوسفی لکھنؤ ٣ / ١٥٧
#9646 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
اذ ا لنغمۃ تشبہ النغمۃ الخ وصورۃ الثنیا التی ذکرت لا تحقق لھا فیما نحن فیہ کما لایخفی واﷲتعالی اعلم۔
آواز ایك دوسرے کے مشابہ ہوسکتی ہے الخ اور جو صورت مستثنی قرار دی گئی ہے اس کا ہماری ا س بحث میں تحقق نہیں ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ وا ﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ : مرسلہ منظور علی علوی کاکوروی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك جگہ پہاڑمیں ایسی ہے جہاں بغیر بہت دقت سے اونچی چوٹیوں پر گئے چاند نہیں دیکھا جاسکتا ہے اور جہاں جاکر بھی اکثر بسبب ابر غبار کے چاند نہیں دکھائی دیتا ہے ایسی جگہ میں مسلمانوں کو شوال کی رؤیت ہلال کی اطلاع بذریعہ تار کے پاکے روزہ افطار کردینا اور عید کی نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں تار اگرایك ہو دوہوں یا دس بارہ ہوں کسی صورت میں ان پراعتبارجائز ہے یا نہیں اگر خبر بذریعہ تار کی نہ مانی جائے تو پہاڑوں میں (مثلانینی تال میں ) کبھی رمضان کا مہینہ انتیس کو نہیں ختم ہوسکتا ہے اس لیے کہ دس بارہ برس کا مشاہدہ ہے کہ ہمیشہ ابر غبار کی وجہ سے شوال کا چاند نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ بینو اتوجرو
الجواب :
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : صوموا لرؤیتہ وافطر والرؤیتہ چانددیکھ کر روزہ رکھو اورچاند دیکھ کر افطار کرو۔ اور فرماتے ہیں : ان اﷲامدہ لرؤیتہ اﷲتعالی نے اس کا مداررؤیت پر رکھا ہے۔ تار اگر چہ دس بیس ہوں اصلا شرعا امور دینیہ میں قابل التفات نہیں کہ اس کی حالت خط سے بھی بدتر ہے اپنے شناسا کا خط پہچانا جاتا ہے طرز عبارت سے پتا چلتاہے تار میں یہ کچھ بھی نہیں پھر ہمارے تمام ائمہ نے عام کتب مذہب میں مثل ہدایہ ودرمختار و اشباہ وخیریہ وعقودالدریہ وفتاوی عالمگیری وغیرہا میں تصریح فرمائی کہ خط کا اعتبار نہیں بلکہ صاف فرمایا کہ مہرکا بھی ان معاملات میں اعتبار نہیں ہوتا پھر تارکیونکر قابل اعتبار ہوسکتا ہے خصوصا تر بابووں کی عدالت درکنار اسلام کا بھی علم نہیں بلکہ اکثر ہنود وغیرہ ہوتے ہیں دس بیس جگہ سے آنا کافر یا فاسق مجہول کی خبر کو معتبر شرعی نہ کردے گا نہ یہاں حد تو اتر پہنچنا معقول کہ دس نہیں ہزار
حوالہ / References فتاوی ہندیہ الباب الثانی فی بیان تحمل الشہادۃ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ٣ / ٤۵٢
صحیح بخاری ، باب اذا رأیتم الہلال فصومواِ قدیمی کتب خانہ کراچی ، ١ / ٢٥٦
سنن دار قطنی ، کتاب الصیام نمبر ٢٦ ، نشر السنۃ ملتان ، ٢ / ١٦٢
#9647 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
جگہ سے تار آئیں ہم کو تو ایك ہی تار گھر سے ملیں گے اور کہیں دوچاربھی ہوئے تو یہ تواتر نہیں اپنے دنیوی معاملات کو دیکھیے دوروپے کا دعوی ہو اور گواہ بیس دفعہ تار پر اپنی گواہی بھیجے کیا کچہریوں میں قبول ہوجائیگی پھر عید کر لینا کیسے حلال ہوجائے گا!رہایہ کہ اس صورت میں کہ انتیس کا چاند ہی وہاں نہ ہوگا شعبان سے ذی الحجہ تك پانچ ہلالوں کا بغور دیکھنا تلاش کرنا ہرجگہ کے مسلمانوں پر واجب ہے اونچی چوٹیوں پر جانے کی دقت اگر صرف بوجہ تکلیف یا کاہلی ہوتو یہ عذر ہر گز نہ سنا جائے گا اور اوپر جاکر دیکھنا واجب ہوگا۔ اگر کوئی نہ جائے گا سب گنہ گار رہیں گے اور اگر واقعی نا قابل برداشت تکلیف ہے تو معاف ہے۔ عــــہ
فان غم علیکم فاکملواالعدۃ ثلثین۔
چاند تم پر پوشیدہ رہے تو تیس کی گنتی پوری کرو۔
مسلمانوں کو حکم سے غرض ہے سے کیا کام! اور اگر یہ خیال ہے کہ کے رمضان کی خوشی زیادہ ہوتی ہے یہ کیونکر ہوگی تو یہ محض بے معنی خیال ہے اور غور کریں تو اس کی کسر ادھر شعبان میں نکل جائیگی کہ وہ بھی کبھی کانہ ہوگا تو رمضان کہ کا چاند وہاں کو نظر آئے گا اہتمام کریں تو تاریخ نزدیك کی آبادیوں میں دوچار معتبر مسلمان بھیج کر پہاڑ سے باہر بھی رؤیت کر سکتے ہیں۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از گونڈل کاٹھیاواڑ مرسلہ محمود میاں ابن قاضی عبد الغنی صاحب ذی الحجہ ھ
اس ریاست میں ٹیلیفون ہونے کی وجہ سے بذریعہ ٹیلیفون رؤیت ہلال رمضان یا عید روبرو آمنے سامنے دونوں مسلمان ہوں اور ایك جگہ کا مسلمان دوسرے کو خبر دے کہ میں نے چاند دیکھا اور دوسری جگہ والا بھی مسلمان ہو اور اس کی آواز پہچانتا ہوکہ فلاں شخص یہ خبر دے رہا ہے تو اس کی آواز پہچان کر ان کے قول پر عمل کیا جائیگا یانہیں یا ٹیلیفون دینے والا اور لینے دونوں ملازم مسلمان ہیں ایك نے دوسرے کو بذریعہ ٹیلیفون خبردی رؤیت ہلال کی اس نے دوسرے سے کہا فلاں جگہ سے مجھ کو فلاں نے کہا کہ وہاں پر رؤیت ہلال ہوئی تو ایسی خبر پر اعتماد چاہئے یا نہیں
الجواب :
ٹیلی فون دینے والا اگر سننے والے کے پیش نظر نہ ہوتو امور شرعیہ میں اس کا کچھ اعتبار نہیں اگر چہ آواز پہچانی جائے کہ آواز مشابہ آواز ہوتی ہے اگر وہ کوئی شہادت دے معتبر نہ ہوگی اور اگر کسی بات کا اقرار کرے
عــــہ : اصل میں یہاں بیاض ہے
حوالہ / References سنن دار قطنی ، کتاب الصیام نمبر ٢٩ ، نشر السنۃ ملتان ، ١ / ١٦٣
#9648 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
سننے والے کو اس پر گواہی دینے کی اجازت نہیں ہاں اگر وہ اس کے پیش نظر ہے جسے دوبدو آمنے سامنے سے تعبیر کرتے ہیں یعنی اس کی دونوں آنکھیں اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے ہوں ایك دوسرے کو دیکھ رہا ہو اور ٹیلی فون کا واسطہ صرف بوجہ آسانی آواز رسانی کے لیے ہو کہ اتنی دور سے آواز پہنچنا دشوار تھا تو اس صورت میں اس کی بات جس حد تك شرعا معتبر ہوتی اب بھی معتبر ہوگی مثلا خود اپنی رؤیت کی شہادت ادا کرے تو مانی جائے گی اگر وہ مقبول الشہادۃ ہے لیکن اتنی بات کہ فلاں جگہ رؤیت ہوئی اگر چہ متصل آکر ادا کرے جب بھی معتبر نہیں کہ یہ محض حکایت ہے نہ کہ شہادت اور یہ کہ فلاں نے مجھ سے کہا کہ فلاں جگہ ہوئی اور زیادہ مہمل کہ حکایت درحکایت ہے۔ تبیین الحقائق پھر فتاوی عالمگیری میں ہے :
ولو سمع من وراء الحجاب لایسعہ ان یشھد لاحتمال ان یکون غیرہ اذ النغمۃ تشبہ النغمۃ الااذاکان فی الداخل وحدہ ودخل وعلم الشاھد انہ لیس فیہ غیرہ ثم جلس علی المسلك ولیس لہ مسلك غیرہ فسمع اقرار الداخل ولایراہ لانہ یحصل بہ العلم وینبغی للقاضی اذا فسرلہ ان لایقبلہ۔
اگر کسی نے پردے کے پیچھے سے سنا تو سننے والا گواہی نہیں دے سکتا ممکن ہے کوئی اور شخص ہو کیونکہ آواز آواز سے مشابہ ہوسکتی ہے مگر اس صورت میں جب داخل ہونے والا اکیلا ہو اور شاہد جانتا اور علم رکھتا ہو کہ اس کے علاوہ دوسرا نہیں پھر وہ گواہ راستہ پر بیٹھتا ہے جبکہ اس راستہ کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی نہیں اور داخل ہونے والے کا اقرار سنتا ہے اور اسے دیکھتا نہیں(تو اب گواہی قبول ہے)کیونکہ اب اسے یقین حاصل ہے اور اگر گواہ پردے والے کی بات کی از خود تفسیر کرے تو قاضی کے لیے مناسب ہے کہ وہ تفسیر قبول نہ کرے۔ (ت)
ذخیرہ پھر ہندیہ میں ہے :
کان الفقیہ ابو اللیث یقول اذااقرت المرأۃ من وراء الحجاب وشھد عندہ اثنان انھا فلانۃ لا یجوز لمن سمع اقرار ھا ان یشھد علی اقرارھا الا اذارأی شخصا یعنی حال مااقرت فح یجوزلہ ان
فقیہ ابوللیث فرمایا کرتے تھے کہ جب پردہ کے پیچھے عورت نے اقرار کیا اور دو آدمیوں نے گواہی دی کہ یہ فلاں عورت ہے تو اقرار سننے والے کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کے اقرار پر گواہی دے مگر اس صورت میں جب اس نے اس خاتون کو دیکھا ہو یعنی
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی فی بیان تحمل الشہادۃ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ٣ / ٤٥٢
#9649 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
یشہد علی اقرار ھا شر ط رؤیۃ شخصھا لارؤیۃ وجھھا۔
اقرار کرتے وقت تواب اس کے لیے جائز ہے کہ اس کے اقرار پر گواہ بنے باقی شرط شخصیت کو دیکھنا ہے نہ کہ چہرے کو۔ (ت)
درمختار میں ہے :
شہد واانہ شہد عند قاضی مصر کذا شاھد ان برؤیۃ الھلال فی لیلۃ کذاوقضی القاضی بہ ووجد استجماع شرائط الدعوی جازلہذا القاضی ان یحکم بشھادتھما لان قضاء القاضی حجۃ وقد شھد وابہ لا لو شھد وابرؤیۃ غیرھم لانہ حکایۃاھ وتمام تحقیقہ فی فتاونا۔ واﷲتعالی اعلم۔
گواہوں نے گواہی دی کہ قاضی مصر کے پاس فلاں رات چاند دیکھنے پر دوگواہوں نے گواہی دی ہے اور قاضی نے اس پر فیصلہ دیا اور شرائط دعوی پائی جائیں تواس قاضی کے لیے دوگوا ہوں کی شہادت پر فیصلہ دینا جائز ہے کیونکہ قضاء قاضی حجت ہے اور گواہوں نے اس قضاء پر ہی گواہی دی ہے ہاں اس صورت میں فیصلہ نہیں دے سکتا جب انہوں نے یہ گواہی دی ہو کہ فلاں نے چاند دیکھا ہے کیونکہ یہ حکایت ہے اھ اس کی تمام تحقیق ہمارے فتاوی میں ہے واﷲتعالی اعلم (ت)
مسئلہ : از دفتر صحیفہ حیدر آباد دکن مبطوعہ رمضان ۱۳۳۳ھ
تار اور ٹیلیفون زمانہ حال کی ایجاد ہے یعنی فقہائے ماسبق کے زمانہ میں یہ چیزیں ایجاد نہیں ہوئی تھیں اس لئے قدیم کتب فقہ اس تذکرے سے خالی ہیں کہ تار اور ٹیلیفون کے ذریعہ سے جو خبریں آتی ہیں وہ قابل تقسیم ہیں یا نہیں اس مسئلہ کی نسبت علماء کے ایك عام اجماع واتفاق کی ضرورت ہے پس براہ کرم بیان فرمایا جائے کہ تار اور ٹیلی فون کے ذریعہ سے جو خبر آئے وہ از روئے احکام شریعت قابل تسلیم ہے یا نہیں اور ایسی خبر کی بناء پر احکام شرعیہ مثلا ترك و اختیار صوم اور تقرر یوم حج وغیرہ کا تصفیہ ہو سکتا ہے یا نہیںبینو اتوجروا
الجواب :
تار محض بے اعتبار یونہی ٹیلی فون اگر خبر دہندہ پیش نظر نہ ہو۔ تفصیل فقیر کے فتاوی مرسلہ سے معلوم ہوگی۔ واﷲتعالی اعلم
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی فی بیان تحمل الشہادۃ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ٣ / ٤٥٣
درمختار کتاب الصیام مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
#9650 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
مسئلہ تا : مسئولہ عبدالعزیز تاجر چرم قصبہ ٹکاری محلہ تتایگنج ضلع گیا ذی القعدہ ۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل مفصل ذیل میں بحوالگی کتب فقہ وفتاوی بینواتوجروا۔
سوال اول : نماز عید کہ جس کی ادائیگی رؤیت ہلال پر موقوف ہے اگر اس کی رؤیت کی خبر ایسی بستی میں جہاں ابر وباد کی وجہ سے چاند نہ دیکھا گیا ہو اور معتبر شخص کی زبانی کہ اس شخص کو بھی خبر غیر شہر میں بذریعہ تار کے ملی ہو اور وہ شخص اپنے مکان پر نماز عید کی پڑھ کر آیا ہو اس شخص معتبر کے بیان پر روزہ افطار کرنا اور نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں اور بعد پڑھنے نماز عید کے جو لوگ کہ سفر میں عید کے روز کلکتہ وغیرہ میں ہیں وہ لوگ یہاں آئے اور بیان کیا کہ ہم نے اور جماعت کثیرہ نے اپنی آنکھ سے چاند دیکھ کر نماز عید روز جمعہ کو پڑھی ہے ایسی صورت میں روز جمعہ کو افطار کرنا اور نماز عید جمعہ کو پڑھنا جائز ہوا یا نہیں اور اطراف وجوانب میں بمعائنہ رویت ہلال عید روز جمعہ کو ہوئی اس کے لیے شہادت کثیر ہے۔
سوال دوم : ایك بستی کے بعض افراد نے شخص معتبر کے بیان پر کہ جس کو خبر بذریعہ تار کے دوسر شہر میں ملی ہو اس کے بیان پر جہاں بوجہ ابر وباد رؤیت نہ ہوئی وہاں کے بعض افراد نے روزہ افطار کیا اور نماز عید پڑھی اور بعض افراد نے وہیں کے کہ جن کو اشتباہ ماہ رمضان کی رؤیت میں تیس کا تھا اور ان کے حساب سے انتیس رمضان پڑتا تھا اور خبر ان لوگوں کو بھی قبل باقی رہنے پورے وقت نماز کے ملی مگر شخص معتبر کے قول وخبر وتارپر اعتبار نہ کرکے روز جمعہ کو نہ روزہ افطار کیا اور نہ نمازعید پڑھی بلکہ سینچر کے روز روزہ افطار کیا اور نماز عیدپڑھی جمعہ کا روزہ جائز ہولیا یا ناجائز
سوال سوم : ایك مسجد میں دوروز نماز عید پڑھنا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
جواب سوال اول : دربارہ ہلال خط اور تار محض بے اعتبار اور دربارہ ہلال عید ایك عادل ثقہ کی خود اپنی رؤیت کی گواہی بھی مقبول نہیں جب تك پورا نصاب شہادت نہ ہو درمختار میں ہے :
شرط للفطر مع العلۃ والعدالۃ نصاب الشہادۃ ولفظ اشھد۔
عید الفطر میں بادل و عدالت کی موجودگی میں نصاب شہادت اور لفظ شہادت ضروری ہے(ت)
تو ایك معتبر شخص کی خبر محض اور وہ بھی اپنی رؤیت کی نہیں دوسرے کی اور وہ بھی تار کی معلوم ہوئی چاروجہ سے
حوالہ / References درمختار ، کتاب الصوم ، مطبع مجتبائی دہلی ، ١ / ١٤٨
#9651 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
مردود تھی اور اس کی بنا پر عید کرنا حرام جن لوگوں نے اس بنا پر روزہ توڑاسخت گناہ شدید کے مرتکب ہوئے اور اس دن کی نماز عید بھی گناہ و مکروہ تحریمی و ناجائز ہوئی اور دوسرے دن نماز عید نہ پڑھنے سے بھی ترك واجب کے گنہ گار ہوئے اور بعد کو ثبوت کتنے ہی کثیر ہوجائیں ان کے ان گناہوں کو رفع نہیں کرسکتا کہ جس وقت تك انہوں نے یہ افعال کئے ثبوت شرعی نہ تھا ان پر سے مخالفت حکم شرع کا الزام بے توبہ زائل نہیں۔ واﷲتعالی اعلم
جواب سوال دوم : جن لوگوں نے اس خبر پرعمل نہ کیا اور روزہ قائم رکھا اور دوسرے دن نماز عید پڑھی انہوں نے مطابق حکم شرع کیا ایسا ہی کرنے کا شرعا حکم تھا اگر چہ جمعہ ضرور روز عید تھا مگر وہاں نہ رؤیت نہ ثبوت شرعی گزرا تو ان پر جمعہ کا روزہ ہی فرض تھا اور سینچر کی عید واجب رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : صوموالرؤیتہ وافطروالرؤیتہ (چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو۔ ت)
جواب سوال سوم : یہ صورت دوروز نماز عید کی نہ تھی کہ وہاں جمعہ کو عید ناجائز تھی جنہوں نے پڑھی وہ ایك ناجائز نفل تھا کہ جماعت سے ادا کیا اور گنہگار ہوئے۔ درمختار میں ہے :
صلوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بما لایصح۔
دیہاتوں میں نماز عید مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ ایسی چیز میں مشغول ہونا ہے جو درست نہیں(ت)
ردالمحتار میں ہے :
ھو نفل مکروہ لادائہ بالجماعۃ ح۔
یہ نوافل ہیں اور نوافل کی جماعت کے ساتھ ادائیگی مکروہ ہے۔ (ت)
نماز عید وہی ہوئی جو دوسرے گروہ نے روز شنبہ پڑھی۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از ضلع بتیاڈاك خانہ و مقام رتسڑ رحیم اﷲ وعبدالرحمن ۱۳صفر المظفر۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں مسلمان باشندوں میں سے ایك شخس حاجی مصدی صاحب ہیں جو کہ احاطہ بنگلہ خطہ آسام ضلع تبرپور رہتے ہیں اور وہیں تجارت کرتے ہیں لہذا انہوں نے خط لکھا کہ یہاں کے لوگوں نے چاند ماہ رمضان المبارك کا روز سہ شنبہ یعنی منگل کے ہوا قریب قریب پچاس آدمیوں نے دیکھا اور دوتین آدمی خاص ہمارے آدمیوں میں سے جوکہ کاروبار دکان کے کرتے ہیں دیکھا مگر جناب حاجی مصدی صاحب انکار
حوالہ / References صحیح بخاری ، باب اذارأیتم الھلال فصوموا ، قدیمی کتب خانہ کراچی ، ١ / ٢٥٦
درمختار ، باب العیدین ، مطبع مجتبائی دہلی ، ١ / ١١٤
ردالمحتار ، باب العیدین ، مصطفے البابی مصر ، ١ / ٦١١
#9652 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
کرتے ہیں کہ ہم نے بچشم خود نہیں دیکھا اور جتنے اس اطراف کے ملك آسام میں رہتے ہیں کسی نے چاند نہیں دیکھا جس وقت یہ خط آیااس وقت جناب مولانا مولوی عبدالغفار صاحب ساکن موضع اعظم گڑھی شاگرد مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی سلسلہ مدرسہ دیوبند تشریف لائے تھے انہوں نے خط دیکھ کر فرمایا کہ دوبارہ خط سے دریافت کرو کہ اگر واقعی ان لوگوں نے چاند دیکھا توتم لوگ بھی جمعہ کی عید کرلینا پنجشنبہ کوچاہے چاند ہو یا نہ ہو اور ایك روزہ قضاء کا رکھ لینا تو پھر جب دوبارہ لکھا گیا تو اسی مضمون کا جواب آیا کہ چاند کا دیکھنا سچ ہے آدمیوں نے باشندہ ملك آسام کے دیکھا لہذا محض ملك آسامیوں کا دیکھنا اور بہ موجب فتوی دینے مولوی عبد الغفار صاحب یہ قابل سند ہوسکتا ہے کہ نہیں اور جمعہ کو ہم لوگ عید کرسکتے ہیں کہ نہیں بر تقدیر نہ چاند ہونے پنجشنبہ کے عید جمعہ کو کرسکتے ہیں یا نہیں اور واقعی ایسا ہوا کہ پنجشنبہ کو عید کا چاند نہیں نظر پڑا ہزاروں آدمیوں نے دیکھا اور نہ کہیں چاند دیکھنے کی خبر آئی جو لوگ کہ معتقد مولوی عبدالغفار صاحب کے نہیں تھے جبکہ دیکھا یہ لوگ نہیں مانیں گے تو محض رفع نزاع کے لیے انہی لوگوں کے ساتھ عیدجمعہ کو کرلی بغیر چاند دیکھے تفریق جماعت اور دو فریق ہوجانے کے خیال سے لہذا ازروئے شرع کے تفصیل بالاکی تحقیق۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
دربارہ ہلال خط اور تار محض بے اعتبار
قال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم صوموالرؤیتہ وافطروا لرؤیتہ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : چاند دیکھنے پر روزہ شروع کرو اور چاند دیکھنے پر عید کرو۔ (ت)
ہدایہ واشباہ و درمختار وغیرہ عام کتب میں ہے : الخط لایعمل بہ (خط پر عمل نہیں کیا جاتا۔ ت)
دیوبندی کا فتوی محض باطل تھا اور بغیر رؤیت یا ثبوت شرعی جمعہ کو عید کرلینا حرام تھا اور تفریق جماعت سے بچنے کا خیال خام تھا اگر کچھ لوگ بے ثبوت شرعی جمعہ کو عید کرلیتے تو نہ وہ عید عید تھی نہ وہ نماز نماز نہ وہ جماعت جماعت تفریق کا ہے کی ہوئی!اب صورت تفریق تو نہ ہوئی مگر حقیقۃ ابطال ہوگیا نماز بھی گئی سب گنہ گار ہوئے اگر چہ واقعہ میں عید جمعہ کی تھی۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : ازریاست چھتاری ضلع بلند شہر مسئولہ عبدالغفور خاں صاحب محلہ کٹرہ صفر۱۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ ہمارے قصبہ میں ہلال رمضان شب پنجشنبہ میں دیکھا گیا اور پنجشنبہ کاروزہ ہوا روز بعد مولوی ناظر حسن دیوبندی کا ایك خط بنام رئیس پہنچا جس کا مضمون یہ تھا کہ
حوالہ / References صحیح بخاری باب اذارأیتم الھلال فصوموا قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٥٦
درمختار باب کتاب القاضی الی القاضی وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ٨٣ ، الاشباہ و النظائر کتاب القضاء والشہادات الخ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ١ / ٣٣٨
#9653 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
دیوبند میں کچھ آدمی بہرائچ کے آئے اور ان سے تحقیق ہوا کہ رؤیت ہلال شب چہار شنبہ میں ہوئی اور روزہ چہار شنبہ کاہوا لہذا علمائے دیوبند نے حکم دیا کہ روزہ چہار شنبہ سے رکھا جائے جن لوگوں نے جمعرات سے رکھا ہے وہ ایك روزہ قضا رکھیں اسی بناء پر رمضان کے جمعہ کو اعلان کیا گیا کہ لوگ ایك روزہ قضارکھیں اور ہر حال میں عید جمعہ سے متجاوز نہ ہوگی جمعرات کو رمضان تھی باوجود صاف ہونے مطلع کے اور کمال کوشش کے چاند نہیں دکھائی دیا حالانکہ قصبہ نے مولوی صاحب کے خط پر استدلال کرکے جمعہ کو عید کا حکم دے دیا آیا مولوی صاحب کا خط شرعاقابل پابندی ہے اور اس کی بناء پر باوجود عدم رؤیت حکم فطر کا صحیح یا غلط ہے اور ہم لوگوں کو اب کیا کرنا چاہئےبینوارحمکم اﷲتعالی بالکتاب(اﷲتعالی آپ پر رحم کرے کتاب اﷲسے بیان کیجئے۔ ت) جواب تفصیلا مع عبارات کتب مرحمت ہواور حمایت فرمائی جائے۔
الجواب :
دربارہ ہلال خط اور تار محض بے اعتبار
قال صلی اﷲتعالی علیہ وسلم صومو الرؤیتہ وافطر والرؤیتہ۔
حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو(ت)
ہدایہ واشباہ ودرمختار وغیرہا عامہ کتب میں ہے : الخط لا یعمل بہ (خط پر عمل نہیں کیا جاتا) (ت) دیوبند والوں کے پاس بہرائچ کے آدمیوں نے اگر یہ بیان کیا وہاں چاند ہوا یا یہی کہا کہ بہت لوگوں نے دیکھا اور اپنی روایت کی شہادت نہ دی یا دی اور ان میں کوئی شخص قابل قبول شرع نہ تھا جب تو دیوبندیوں کا وہ حکم ہی سرے سے باطل تھا اور ایسا نہ بھی ہوتو اس قصبہ والوں کو اس کے خط پر عمل حرام تھا کہ اول تو خط دربارہ ہلال خود ہی مردود دوسرے وہ بھی ایك ایسے فرقے کا جس کا پیشہ تو ہین خدا و رسول جل وعلا و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بہر حال گناہ ہوا اور تو بہ لازم۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از بلالند شہر ڈاکخانہ چھتاری مدرسہ احمدیہ مسئولہ محفوظ الحق قادری ربیع الآخرشریف ھ
حضرت مولنا السلام علیکم و رحمۃاﷲ وبرکاتہ معروض خدمت شریف ہے کہ جناب والا کا ایك مختصرسا پرچہ جس پر جناب کی مہر لگی ہوتی ہے اور ایك سطر میں یہ عبارت مرقوم ہے(میرے سامنے شہادتیں گزرگئیں کل جمعہ کو عید ہے)خاکسار کو موصول ہوااس کے متعلق فتوی شرعی دریافت طلب ہے کہ جس جگہ یہ پرچہ
حوالہ / References صحیح بخاری باب اذارأیتم الہلال فصومو ا قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٥٦
درمختار باب کتاب القاضی الی القاضی وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ٨٤ ، الاشباہ والنظائر کتاب القضاء والشہادت الخ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ١ / ٣٣٨
#9654 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
پہنچے تو وہاں کے لوگوں کو جمعہ کو عید کرنا تھی یا نہیں اور روزے توڑ دینا ضرور تھے یا نہیں اور اس کی عام تشہیر اور دیگر بلاد میں اشاعت سے کیا مفاد تھابینواتوجروا
الجواب :
وہ پرچے دیگر بلادمیں نہ بھیجے گئے تقسیم کرنے والوں نے اسٹیشن پر بھی دئے ان میں سے کوئی لے گیا ہوگا۔ بعض لوگوں نے پیلی بھیت کے واسطے چاہا اور ان کو جواب دے دیا گیا کہ جب تك دو شاہد عادل لے کر نہ جائیں پرچہ کافی نہ ہوگا اور بلاد بعیدہ کو کیونکر بھیجے جاتے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ تا : از راجپوتانہ چتوڑگڑھ عبدالکریم شوال المکرم۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ان عبارات کی بنا پر
قال فی العیون والفتوی علی قولھما اذاتیقن انہ خطہ سواء کان فی القضاء اوالرؤیۃ او الشہادۃ فی الصك وان لم یکن الصك فی ید الشاھد لان الغلط نادر واثر التغییر یمکن الاطلاع علیہ وقلما یشتبہ الخط من کل وجہ فاذا تیقن ذلك جازاالاعتماد علیہ توسعۃ علی الناس۔
اور اما خط البیاع والصراف والسمسار فھو حجۃ وان لم یکن مصدرا معنونایعرف ظاہرابین الناس وکذلك مایکتب الناس فیما بینھم یجب ان یکون حجۃ للعرف۔
عیون میں ہے فتوی اس وقت صاحبین کے قول پر ہے جب یہ یقین ہو کہ فلاں کا خط ہے خواہ قضاء کا معاملہ ہو یا رؤیت وشہادت اشٹام کا اگر چہ اشٹام گواہ کے ہاتھ میں نہ ہو کیونکہ غلط ہونا نادرالوقوع ہے اور تبدیلی پر اطلاع ممکن ہے اور بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ تحریر دوسری تحریر کے کلیۃ مشابہ ہو تو جب اسے خط کا یقین ہوتو لوگوں پر آسانی کی خاطر اس پر اعتماد جائز ہے(ت)
عام خرید وفروخت کرنے والے سونے چاندی کا سودا کرنے والے اور دلال کا خط تمہید تقریر اور عنوان کے بغیر بھی حجت ہے جو لوگوں میں واضح طور پر معروف ہیں اور یونہی لوگوں کی آپس کی خط وکتابت عرف کی بناء پر حجت ہونا واجب ہے۔ (ت)
حوالہ / References غمز عیون البصائر مع الاشباہ کتاب القضاء والشہادات الخ ادارۃالقرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ١ / ٣٣٨ ، ردالمحتار باب کتاب القاضی الی القاضی الخ مصطفی البابی مصر ٤ / ٣٩٣
ردالمحتار باب کتاب القاضی الی القاضی الخ مصطفی البابی مصر ٤ / ٣٩٢
#9655 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
فتوی دیا جاسکتا ہے کہ رؤیت ہلال کی شہادت کے لیے کسی عزیز کا خط جو اس کی طرز عبارت اور رات دن کی تحریر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ضرور اسی کا خط ہے معتبر ہوسکتا ہے یا نہیں
() اگر کسی دینی معاملہ میں خط معتبر نہ ہوگا جو علماء دور دراز سے فتوی تحریر کرتے ہیں اس پر کیسے اعتماد ہو
() بالخصوص رمضان شریف کے چاند کے لیے بجائے شہادت کے صرف خبر ہی کافی ہے اس کے لیے بھی خط معتبر ہے یا نہیںبینو اتوجروا
الجواب :
حکم اﷲ و رسول کے لیے(جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ) تمام کتب میں تصریح ہے :
الخط لایعمل بہ الخط یشبہ الخط الخاتم یشبہ الخاتم۔
خط پر عمل نہیں کیا جاسکتا ۔ خط خط کے مشابہ اور مہر مہر کے مشابہ ہوتی ہے۔ (ت)
بیاع و صراف و مفتی کے خطوط بالاجماع مستثنی ہیں علی خلاف القیاس لضرورۃ الناس وماکان خلاف القیاس لا یجوز القیاس علیہ مکاتبات ناس فیما بینھم(لوگوں کی ضرورت کے پیش نظر خلاف قیاس حجت ہیں اور جو خلاف قیاس ہو اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا لوگوں کی آپس کی خط و کتابت اور چیز ہے۔ ت) دوسری چیز ہیں اور امر حلال فیما بینھم وبین ربھم(ان کے اور ان کے رب کے درمیان معاملہ ہے۔ ت)متون وشروح وفتاوی تمام کتب متعمدہ مذہب دیکھ لیے جائیں جہاں یہ گنتی کے استثنا وہ بھی بہت مباحث کے ساتھ کرتے ہیں کہیں بھی ہلال کا استثناہ ہے تو اپنی طرف سے زیادت فی الشرع کیونکر جائز ہوئی قاضی الشرق والغرب نے شاہد کے اپنے خط کا استثناء فرمایا جس کے ساتھ سو وجوہ مذکور ہوسکتی ہیں اور اپنے خط کا اشتباہ بغایت بعید ہے انہوں نے بھی کہیں ہلال میں خط کا اعتبار فرمایا نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : ان اﷲامدہ لرؤیتہ (اﷲتعالی نے اس کا مداررؤیت پر رکھا ہے۔ ت)اور فرماتے ہیں :
صوموا لرؤیتہ وافطر وا لرؤیتہ۔
چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو۔ (ت)
حوالہ / References الاشباہ والنظائر ١ / ٣٣٨ والہدایۃ کتاب الشہادۃ ٣ / ١٥٧ و فتاوٰی ہندیہ ٣ / ٣٨١
سنن الدارقطنی کتاب الصیام حدیث٢٦ نشر السنۃ ملتان ٢ / ١٦٢
صحیح بخاری باب اذارأیتم الہلال فصوموا قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٥٦
#9656 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
کتب میں تصریح ہے کہ خود رؤیت ہو یا دوسری جگہ کی رؤیت بطریق موجب ثابت ہو اور ان طرق موجبہ کی بھی تفصیل فرماتے ہیں کہ شہادت ہویا شہادۃ علی الشھادۃ یا شہادۃ علی الحکم یا استفاضہ مع التحقیق مجرد حکایت اگر چہ متعدد ثقات عدول کریں تصریح ہے کہ مقبول نہیں حتی کہ ہلال رمضان میں لفظ اشھد کی حاجت نہیں پھر خط کہ حکایت مجردہ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا بلکہ اکثر اوقات اسکے برابر بھی نہیں ہوسکتا جیسے ڈاك کا خط کہ وسائط مجاہیل بلکہ اکثر بذریعہ کفار آتا ہے کیونکر کوئی چیز ہوسکتا ہے والتفصیل فی رسائلنا(اور تفصیل ہمارے رسالوں میں ہے۔ ت) واﷲتعالی اعلم
مسئلہ تا : از رائے پور سی پی محلہ بیجناتھ پارہ مرسلہ بہادر علی خاں سپرنٹنڈنٹ پنشنرمحکمہ بندوبست ذی الحجہ ۱۳ھ
(۱)رؤیت ہلال کے بارے میں تار اورخط کی خبریں معتبر ہیں یا نہیں
(۲)جہاں چاند کو نظر نہ آئے وہاں چاند کی رؤیت امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیك کن کن ذرائع سے ثابت ہوسکتی ہے
(۳)اخباروں کے اندر جو لفظ تاریخ ماہ لکھی ہوتی ہے مثلا شعبان یا رمضان یا ذی الحجہ اور رؤیت ہلال کا ذکر نہیں ہوتا تو فقط تاریخ لکھ دینے سے وہاں جہاں کو رؤیت نہ ہوئی اس ماہ کے ہلال کی رؤیت ثابت ہوسکتی ہے۔
()یہ جو فقہاء نے فرمایا کہ کو اگر چاند نظر نہ آئے دن پورے کرنا چاہئیں تو رمضان اور عید الفطر کے ساتھ خاص یا سب ماہ کے لئے ہے۔
() جنتری کے حساب سے روزہ رکھنا یا عید کرنا یا کسی دیگر ماہ کی تاریخ مقرر کرنا درست ہے۔
(۶)شعبان کی کوچاند نظر نہ آئے اور افواہ ہوکہ چاند ہوگیا لیکن شہادت دینے والا نہ ملے تو شب کو تراویح مع جماعت کرنا جائز ہے یا نہیں اور صبح کو روزہ رکھنا درست ہے یا نہیں
() یہ جو مشہور ہے کہ رجب کی چوتھی جس دن کی ہوتی ہے اسی دن رمضان کی پہلی ہوتی ہے اور جو شوال کی پہلی ہوتی ہے اسی روز عاشورہ ہوتا ہے یہ معتبر ہے یا نہیں
(۸) اگر کسی جگہ سے ایك یا دو آدمی آکر فقط اتنا کہیں کہ ہمارے شہر فلاں دن عید ہے اور چاند کی رؤیت کا ذکر نہ کریں نہ اپنا نہ دوسروں کا توان کی اس خبر پر اس شہر والے عید کرسکتے ہیں یا نہیں
()اگر متواتر یا تین ماہ میں رؤیت کے دن ابر ہوجائے تو ایسے موقع پر ایك ماہ کا اور ایك ماہ تیس کالے کر عید لوگ اپنی رائے سے مقرر کرسکتے ہیں یا نہیںاور اگر یونہیں مقرر کرکے عید کرلی تو نماز ہوئی یا نہیں اور اگر اکثر شہر کے لوگوں نے یونہی عید کی اور سو پچاس نے خلاف کیا اور دوسرے دن نماز عید پڑھی تو حق پر
#9657 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
کون ہے کثیر یا قلیل
الجواب :
() رؤیت ہلال میں تار اور خط اصلا معتبر نہیں تار کی حالت تو خط سے بھی نہایت ردی ہے کہ وہ نہ مرسل کے ہاتھ کا لکھا ہوتا ہے نہ اس پر اس کے دستخط ہوتے ہیں نہ اس کی مہر ہوسکتی ہے اور ذرائع وصول مجا ہیل بلکہ اکثر کفار ہوتے ہیں اور خط ان سب وجوہ سے اس پر فائق ہوسکتا ہے باایں ہمہ تمام کتب مذہب میں تصریح ہے کہ خط کا اعتبار نہیں نہ اس پر عمل ہوسکے کہ خط خط کے مثل ہوتا ہے اور مہر مہر کی مثل بن سکتی ہے۔ اشباہ میں ہے :
لایعتمد علی الخط لایعمل بہ۔
خط پر نہ تو اعتماد کیا جائے گا اور نہ ہی عمل۔ (ت)
ہدایہ میں ہے :
الخط یشبہ الخط فلا یحصل العلم۔
تحریر تحریر کے مشابہ ہوتی ہے تو اس سے علم یقینی حاصل نہ ہوگا۔ (ت)
عالمگیریہ میں ہے :
الکتاب قد یزور ویفتعل والخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم۔
تحریر میں جھوٹ اورجعلسازی ہوسکتی ہے۔ خط خط کے اور مہر مہر کے مشابہ ہوسکتی ہے۔ (ت)
اس مسئلہ کی پوری تفصیل ہمارے رسالہ از کی الھلال بابطال ما احدث الناس فی امرالھلال میں ہے۔
(۲) ثبوت ہلال کے لیے ضرور ہے کہ یا تو رؤیت پر عینی شہادت ہویا عینی شاہدوں نے جن شاہدوں کو حسب شرائط شرعیہ اپنی شہادت کا حامل کیا ہو ان کی شہادت شہادت پر ہو یا حاکم شرعی کے حکم شرعی پر شہادت بروجہ شرعی ہو یا شرائط معتبرہ فقہیہ کے ساتھ کتاب القاضی الی القاضی ہو یا جس شہر میں قاضی شرع ہو اور اس کے حکم سے وہاں روزہ عید ہوا کرتے ہیں وہاں سے لوگ گروہ کے گروہ آئیں اور بالاتفاق اس حاکم شرع کا حکم بیان کریں اور ان میں سے کچھ نہ ہو تو اخیردرجہ تیسکی گنتی پوری کرنا ہے یعنی جب اگلے مہینہ کی رؤیت ہولی یا کافی ثبوت شرعی سے ثابت ہوئی اور اس مہینے کو رؤیت نہ ہوئی تو تیس دن پورے ہوکر ہلال خواہی نخواہی ہوگا کہ شرعی مہینہ تیس سے زائد نہیں ہوسکتا ان طریقوں اور ان کی شرائط کا مفصل اور مدلل بیان ہمارے رسالہ
حوالہ / References الاشباہ والنظائر کتاب القضاء والشہادات والد عاوی ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ١ / ٣٣٨
ہدایہ کتاب الشہادۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ٣ / ١٥٧
فتاوٰی ہندیہ الباب الثالث والعشرون فی کتاب القاضی الی القاضی نورانی کتب خانہ پشاور ٣ / ٣٨١
#9658 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
طرق اثبات ہلال میں ہے۔
()اخباروں کا صرف تاریخ لکھنا تو کوئی چیز نہیں اخباروں میں اگر رؤیت کی خبر چھپے تو وہ بھی محض نا معتبر ہے کہ نہ شہادت علی الرؤیۃ ہے نہ شہادت علی الشہادت نہ شہادت علی الحکم پھر اخبار نہیں مگر ایك خط اور اوپر گزرا کہ ان امور میں خط اصلا معتبر نہیں خصوصا اخبار ی دنیا کہ بے سروپا اڑانے میں ضرب المثل ہے۔
()یہ حکم بارہ مہینے کے لیے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك بار دسوں انگشتان مبارك تین دفعہ اٹھاکر فرمایا : الشھرھکذاوھکذا وھکذا مہینہ اتنا اور اتنا اور اتنا ہوتا ہے یعنی تیس دن کا۔ اور ایك بار دسوں انگشت مبارك تین دفعہ اٹھائیں مگر اخیر میں ایك انگشت مبارك بند فرماکر فرمایا : الشھر ھکذا وھکذا وھکذا مہینہ اتنا اور اتنااور اتنا ہوتا ہے یعنی ۲۹ دن کا۔ توکوئی قمری عربی مہینہ کہ یہی شریعت مطہرہ میں معتبرہیں نہ دن سے کم ہوسکتا ہے نہ تیس سے زائد جس مہینے کی رؤیت کافی ثبوت شرعی سے ثابت ہو ااور اس کی کو رؤیت نہ ہوتو پورے کرکے خواہی نخواہی دوسرے مہینے کا ہلال ہے۔
()شریعت مطہرہ میں جنتری کا حساب اصلا معتبر نہیں درمختار میں ہے : وقول اولی التوقیت لیس بموجب (اہل توقیت کا قول سبب وجوب نہیں بن سکتا۔ ت)رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : انا امۃ امیۃ لا نکتب ولا نحسب (ہم بظاہر ان پڑھ ہیں نہ لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں ۔ ت)یہ ان کے بارے میں ہے جو واقعی ہیئت داں تھے نہ کہ آج کل کے جنتری والے جنہیں ہیئت کی ہوا بھی نہیں لگی بڑے بڑے نامی جنتری دانوں کی نہایت واضح تقاویم شمسیہ میں وہ اغلاط فاحشہ دیکھے ہیں کہ مدہوش کے سوا دوسرے سے متوقع نہیں تابہ حساب ہلال چہ رسد حساب ہلال وہ دشوار چیز ہے جہاں اہل ہیئت کے مسلم امام بطلیموس نے گھٹنے ٹیك دئے محبطی میں ظہور و خفائے کواکب و ثوابت تك کے لیے باب وضع کیا اور ظہور ہلال کو ہاتھ نہ لگایا۔
(۶) ایسی صورت میں نہ شب کو تراویح پڑھنی جائز نہ صبح کو روزہ رمضان رکھنا حلال اما الثانی فللحدیث واما الاول فللتداعی فی النفل ( دوسرا حدیث کی وجہ سے اور پہلا نفل کی طرف تداعی کی وجہ سے منع ہے ۔ ت ) بلالکہ اگر جماعت نہ کریں اکیلے ہی بیس۲۰ رکعتیں پڑھیں اور تراویح کی نیت کریں جب بھی شرع مطہر
حوالہ / References صحیح بخاری باب اذا رأیتم الہلال فصوموا قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٥٦
صحیح بخاری باب اذا رأیتم الہلال فصوموا قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٥٦
درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٨
صحیح بخاری باب قول النبی صلی اﷲعلیہ وسلم لانکتب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٥٦ ، سنن ابی داؤد باب الشہر یکون تسع و عشرین آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٧ا٣
#9659 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
پر زیادت کرنے والے ہوں گے کہ تراویح شرع مطہر نے شب ہائے رمضان میں رکھی ہیں اور یہ رات ان کے لیے شب رمضان نہیں۔
(۷)یہ محض بے اصل ہے اور تجربہ بھی اس کے خلاف پر شاہد اور اس پر اعتماد شرعاہرگز جائز نہیں والمسئلۃ فی البزازیۃ وخزانۃ المفتین وغیرھما(یہ مسئلہ بزازیہ اور خزانۃ المفتین وغیرہ میں ہے ۔ ت) تمام قیاسات وحسابات وقرائن کہ عوام میں مشہور ہیں شرعا باطل ومہجور ہیں صرف انھی طریقوں پر اعتماد جائز ہے جو جواب سوال دوم گزرے اور ہمارے رسالہ طرق اثبات ہلال میں مفصل مذکور ہیں وبس۔ واﷲتعالی اعلم۔
()فقط اتنی خبر پر عید کرنا حرام ہے۔ فتح القدیر و بحرالرائق و عالمگیری میں ہے :
لو شہد جماعۃ ان اھل بلدۃ قد راؤ اھلال رمضان قبلکم بیوم فصاموا وھذا الیوم ثلثون بحسابھم ولم یرھؤلاء الھلال لایباح فطر غد ولا ترك التراویح فی ھذہ اللیلۃ لانھم لم یشھد وابالرؤیۃ ولا شہادۃ غیرھم وانما حکوا رؤیۃ غیرھم۔ واﷲتعالی اعلم۔
اگر کسی جماعت نے گواہی دی کہ فلاں اہل شہر نے تم سے پہلے ایك دن رمضان کا چاند دیکھا اور انہوں نے روزہ رکھا ان کے حساب سے آج کا دن تیسواں ہے جبکہ خود ان لوگوں نے چاند نہیں دیکھا تھا تو ان کو آئندہ دن کا روزہ چھوڑ نا جائز نہیں اور نہ ہی اس رات کی تراویح کو ترك کرنا مباح ہوگا کیونکہ گواہوں کی چاند کی رؤیت پر گواہی نہیں اور نہ غیر کی شہادت پر گواہی ہے بلکہ انہوں نے صرف غیر کی رؤیت حکایت کی ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
() جب تك رؤیت نہ ہویا ثبوت صحیح شرعی سے ثابت نہ ہو ہر مہینہ تیس کالیا جائے گا۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
فان غم علیکم فاکملواالعدۃ ثلاثین۔
چاند تم پرپوشیدہ رہے توتیس کی گنتی پوری کرو(ت)
یہ قاعدہ کہ ایك مہینہ اور ایك کا محض باطل ہے جس کے بطلان پر مشاہدہ شاہد عادل ہے کئی کئی مہینے متواتر کے ہوجاتے ہیں کئی کئی کے اور علم ہیئت کی رو سے مہینے پے درپے ۰کے ہوسکتے ہیں اور تین ۲۹ کے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی فی رؤیۃ الہلال الخ نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٩٩
سنن دارقطنی کتاب الصیام حدیث ٢٦ نشرالسنۃ ملتان ٢ / ١٦٢
#9660 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
کماھو مصرح بہ فی الزیجات القدیمۃ والجدیدۃ و شروحھا واحالوہ علی التجربۃ والا ستقراء ومنھم من تکلف بیانہ بالاستدلال ولم یتم۔
جیسا کہ قدیم و جدید زائچوں اور ان کی شروح میں اس پر تصریح ہے اور انہوں نے اسے تجربہ اور تتبع کے سپرد کردیا ہے بعض نے استدلال کرنے کی کوشش کی وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ (ت)
شریعت مطہرہ میں ہیئت والوں کی اس تحدید استقرائی کا بھی اعتبار نہیں۔ ثبوت شرعی سے اگر مہینے لگا تار۲۹ کے ہوں تومانے جائیں گے اور مثلا چھ مہینے متواتر روز ہلال ابر رہے اور ثبوت نہ ہوتو سب مہینے کے لیے جائیں گے لان الثابت لایزول بالشک(کیونکہ ثابت شدہ شئے کا زوال شك سے نہیں ہوتا۔ ت) جن لوگوں نے ایك مہینہ ۰ ایك کا لے کر عید کر لی ان کی وہ عید اور نماز سب باطل ہوئی اور ان پر چار گناہ رہے :
اول : گناہ عظیم روزہ رمضان کا عمدا ترك کہ وہ ان کے لیے رمضان تھا۔
دوم : نفل کا بجماعت کثیرہ پڑھنا کہ وہ نماز عید کہ انہوں نے پڑھی نماز عیدنہ تھی نافلہ محضہ ہوئی اورنفل کا جماعت کثیر کرکے پڑھنا گناہ ۔
سوم : واجب نماز عید کا ترك کہ دوسرے دن ان کے لیے عید تھی اس دن نماز نہ پڑھی۔
چہارم : شریعت میں دل سے نیا حکم گھڑنے کا وبال شدید سب سے علاوہ اگر چہ بعد کو تحقیق ہو جائے کہ جس دن انھوں نے نماز پڑھی واقعی اسی دن عید تھی اگرچہ وہ سارا شہر ہو اور جنہو ں نے تیس تیس کی گنتی پوری کرکے عید کی ان کی عید اور نماز سب صحیح ہوئی اور وہ ان سب گناہوں سے بچے اگر چہ بعد کو تحقیق ہو کہ عید ایك دن یا دو دن پہلے تھی اگر چہ صرف یہ دو ہی شخص ہوں۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : ازکٹرہ مرسلہ حافظ جضو خاں شعبان ھ
بعد سلام مسنون کے گزارش یہ ہے تراویح اور روزہ کے بارے میں کیا حکم ہے بموجب شرع شریف کے کیفیت یہ ہے مولوی محمد شکر اﷲصاحب کا بیان ہے کہ گر دو نواح بنارس کے حساب سے آج تاریح ہے مولوی صاحب تشریف بنارس لائے ہیں۔ مولوی محمد احسان کریم صاحب کا یہ بیان ہے کہ بچشم خود چاند شعبان کا دیکھا اس کے حساب سے آج تیس ہے۔ حافظ حبیب الحسن صاحب کا بیان ہے دو شخصوں معتبر نے چاند شعبان کا بیان کیا دیکھنا اس کے حساب سے آج شعبان ہے اور مولوی محمد شکر اﷲصاحب فرماتے ہیں کہ چند صاحبان معتبر نے چاند شعبان کا دیکھنا بیان کیا اور میں بنارس میں موجود تھا۔
الجواب :
بعد از ما ھو المسنون مولوی شکر اﷲصاحب کا پہلا بیان کہ گردونواح بنارس کے حساب سے
#9661 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
آج تیس ہے مجرد حکایت ہے کہ شرعامقبول نہیں۔
فی الدرالمختار لا لو شھد وابرؤیۃ غیرھم لانہ حکایۃ۔
درمختار میں ہے اگر غیر کے دیکھنے پر گواہی دی تو مقبول نہ ہوگی کیونکہ یہ حکایت ہے(ت)
مولوی احسان کریم صاحب تنہا ہیں اور ہلال شعبان میں ایك کی گواہی معتبر نہیں۔ فی ردالمحتار
وبقیۃ الاشھر التسعۃ فلا یقبل فیھا الا شہادۃ رجلین اورجل و امرأتین عدول احرار غیر محدودین کما فی سائرالاحکام۔
ردالمحتار میں ہے باقی نو مہینوں کے ثبوت کے لیے ایك کی گواہی معتبر نہیں بلکہ دومرد یا ایك مرد اور دوخواتین جو عادل آزاد ہوں اور حد قذف ان پر نافذ نہ ہوئی ہو جیسا کہ دیگر احکام میں ہے۔ (ت)
حافظ حبیب الحسن صاحب کابیان اور مولوی شکر اﷲصاحب کی دوسری تقریر بالفرض اگر شہادت علی الشہادت مانی جائے تو عدد ناقص
فی ردالمحتار لا تقبل مالم یشھد علی شہادۃ کل رجل رجلان اور جل وامرأتان۔
ردالمحتار میں ہے اس وقت تك شہادت پر شہادت قبول نہیں کی جائے گی جب تك ہر ایك شخص کی شہادت پر دو مرد یاایك مرد اور دوخواتین شہادت نہ دیں(ت)
بالجملہ بیانوں میں ایك بھی قابل اعتبار شرعی نہیں حکم شرعی قاعدہ شرعیہ ہی کے طور پر ثابت ہوسکتا نہ مجرد خیالات پر۔ مطلع شعبان کا نہایت صاف تھا اور بہت آدمی چاند دیکھتے رہے کسی کو نظر نہ آیا اب اگر چہ عند اﷲآج ہی سہی مگر شرع بے ثبوت شرعی کیونکر حکم دے ۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از کلکتہ دھرم تلانمبر مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب رمضان المبارك ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں کلکتہ میں شعبان روز پنجشنبہ شام کو مطلع بالکل صاف تھا سب لوگوں نے چاند پر غور کیا رؤیت نہ ہوئی مگر ایك پیر صاحب نے پیش گوئی کی تھی کہ جمعہ کو یکم رمضان ہوگی ان کے معتقدین نے بلارؤیت جمعہ سے روزہ رکھ لیا اب ایك صاحب کہ شاید بغداد شریف کے ہیں یہاں آئے ان پیر صاحب نے انہیں پیش کیا اپنی پیشگوئی کی تصدیق کے لیے انہوں نے اپنی رؤیت
حوالہ / References درمختا ر ، کتاب الصوم ، مطبع مجتبائی دہلی ، ١ / ١٤٩
ردالمحتار کتاب الصوم ، مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٣
ردالمحتار کتاب الصوم ، مصطفی البابی مصر ٢ / ٩٩
#9662 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
نہرسویز میں شام پنجشنبہ کی بیان کی پھر اسی جلسہ میں دوسرا شخص کھڑا ہوا کہ میں نے اور بہت آدمیوں نے امر تسر میں شام پنجشنبہ کو دیکھا یونہی تیسرے شخص نے کہ وہ بھی کہیں سے آیا ہے اس جلسہ سے جدا اپنی رؤیت بیان کی مگر یہ سب لوگ ان پیر صاحب کے موافقین ہیں اس صورت میں رمضان شریف کی پہلی بروز جمعہ قرار پائیگی اور روزہ جمعہ کا کلکتہ والوں اور دوسرے ہندوستان پر فرض ہوگا یا نہیںبینو اتوجروا
الجواب :
صورت مستفسرہ میں وہ پیشگوئی اور بلارؤیت اس پر عمل کرنے والے سب گنہ گار ہوئے اگر چہ اب کیسے ہی قطعی ثبوت سے یکم جمعہ کی ثابت ہوجائے کہ جس وقت انہوں نے حکم دیا اور عمل کیا تھااس وقت شرعی نہ تھا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : صوموالرؤیتہ وافطر والرؤیتہ (چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چانددیکھ کر ہی عید کرو۔ ت)دوسری حدیث میں ہے :
لا تقدمواالشہر حتی ترواالھلال وتکملوا العدۃ الحدیث رواہ ابوداؤد والنسائی۔
چاند دیکھنے سے پہلے مہینے کو شروع نہ کرو بلکہ گنتی پوری کرو الحدیث اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے(ت)
جب صوم شك کے لیے ہے قد عصی ابا القاسم محمد ا صلی اﷲتعالی علیہ وسلم اس نے محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نافرمانی کی۔ تو با وصف مطلع رؤیت نہ ہونے پر رمضان بنالینا کیسی سخت بیباکی و نافرمانی تھی رہا ان گواہیوں کا حال مذہب مشہور و مختار متون و مصحح کبار ائمہ پر تو یہ شہادت محض مہمل و نامسموع ہیں کہ بحالت صفائی مطلع دوچار کی شہادت سے کچھ نہیں ہوتا جمع عظیم چاہئے اور جبکہ مسلمین نے تلاش ہلال میں تقصیر و تکاسل کو راہ نہ دی جیسا کہ بحمد اﷲتعالی اب یہاں مشاہد ہے تو ایسی جگہ اس روایت پر عمل کی بھی ضرورت متحقق نہیں کہ دوکافی ہیں۔
فی الدرالمختار قیل بلاعلۃ جمع عظیم لیقع العلم بخبر ھم وھو مفوض الی رأی الامام من غیر تقدیر
درمختار میں ہے کہ اگر بادل وغیرہ نہ ہوتو ایك بڑی جماعت کی گواہی ضروری ہے تاکہ ان کی خبر سے یقین حاصل ہوجائے اور مذہب کے مطابق یہاں جماعت
حوالہ / References صحیح بخاری باب اذا رأئیتم الھلال فصوموا قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٥٦
سنن ابی داؤد باب اذا اغمی الشہر آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٣١٨
صحیح البخاری ، باب اذارأیتم الہلال فصوموا ، قدیمی کتب خانہ کراچی ، ١ / ٢٥٦
#9663 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
بعددعلی المذھب وعن الامام انہ یکتفی بشاھدین واختارہ فی البحر اھ ملخصا فی رد المحتار قولہ وھو مفوض قال فی السراج الصحیح انہ مفوض الی رأی الامام ان وقع فی قلبہ صحۃ ماشھدوابہ و کثرت الشہودامر بالصوم اھ کذاصححہ فی المواھب وتبعہ الشرنبلالی وفی البحر عن الفتح والحق ان العبرۃ بمجئ الخبروتواترہ من کل جانب اھ وفی النھر انہ موفق لما صححہ فی السراج تامل قولہ واختارہ فی البحر حیث قال وینبغی العمل علی ھذہ الروایۃ فی زماننا لان الناس تکاسلت عن ترائی الاھلۃفانتفی قولہم مع توجھھم طالبین لماتوجہ ھو الیہ فکان التفرد غیر ظاھر فی الغلط الخ اھ ملخصا۔
کی تعداد کا کوئی تعین نہیں بلکہ قاضی کی رائے پر منحصر ہے اور امام سے یہ بھی مروی ہے کہ دو گواہ کافی ہیں بحر میں اسے اختیار کیا گیا ہے اھ ملخصا ردالمحتار میں قولہ مفوض سراج میں ہے کہ یہی صحیح ہے کہ قاضی کی رائے پر منحصر ہے کہ اگر گواہی اور کثرت شہود کی بنا پر اس کے دل میں اس کی صحت کا یقین ہوجائے تو وہ روزے کا حکم دے اھ مواہب میں اسی کی تصحیح کی ہے اور اسی کی اتباع شرنبلالی نے کی ہے اور بحر میں فتح سے ہے کہ حق یہ ہے کہ ہر جانب سے خبر کے آنے اور تواتر سے اس کے ثبوت کا اعتبار ہے اھ اور نہر میں ہے کہ یہ اسی کے موافق ہے جس کی تصحیح سراج میں ہے تامل قولہ بحر نے اسی کو اختیار کیا ہے عبارت بحر یہ ہے ہمارے زمانے میں اس روایت پر عمل ہونا چاہئے کیونکہ لوگ چاند دیکھنے میں سستی کرتے ہیں تو اس سے فقہاء کا ایك شخص کے دیکھنے اور اس کی خبر کو رد کرنے کے متعلق یہ قول کہ کثیر لوگوں کی طلب و تلاش کے باوجود وہاں ایك شخص کو نظر آتا ہے تو اس ایك کی خبر کا غلط ہونا غیر ظاہر ہے ختم ہوجاتا ہے الخ اھ ملخصا(ت)
مگر راجح یہ ہے کہ جب شاہد میں کوئی خصوصیت خالصہ ایسی ہوجس سے اس کا دیکھنا اور اوروں کو نظر نہ آنا مستبعد نہ رہے مثلا عام لوگ شہر میں تھے اس نے جنگل میں دیکھا یا وہ زمین پر تھے اس نے بلندی پر دیکھا تو دربارہ ہلال رمضان المبارك ایسے ایك کی بھی گواہی مقبول ہوگی جبکہ وہ شرعا قابل قبول شہادت ہو
فی الدرالمختار وصحح فی الاقضیۃ الاکتفاء بواحدان جاء من خارج البلد ا و
درمختار میں ہے اور الاقضیۃ میں صحیح قرار دیا ہے کہ ایك کی گواہی پر اکتفاء کر لیا جائے
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٨
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠١
#9664 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
کان علی مکان مرتفع واختارہ ظھیرالدین۔
جب وہ خارج شہر سے آیا ہو یا وہ کسی بلند جگہ پر ہو اسے ظہیرالدین نے پسند کیا ہے(ت)
صوت مستفسرہ میں شاہد بغدادی میں خصوصیت مذکورہ تو بیشك ہے کہ اگر یہ بیان صحیح ہے تو ایك تو آباد ی سے دور دوسرے دریا کہ اس کی ہواگر دوغبار ودخان سے صاف تر ہوتی ہے پھر کلکتہ کا طول بلد نہر سویز سے اتنا زائد کہ کلکتہ میں پہر بھر رات سے زائد گز رلیتی ہے تو وہاں شام ہوتی ہے اس مدت میں چاند آفتاب سے اور زیادہ ہٹ آئے گا اور رؤیت آسان تر ہوگی بلکہ یہ وجہ گواہ امرتسری میں ہے کہ اقل درجہ بہتر میل کے تفاوت طول پر ایسا فرق ممکن ہے : کما اعتمد علیہ التاج التبریزی الشامی عن شرح المنھاج للرملی۔ جیسا کہ اس پر تاج تبریزی شامی نے رملی کی شرح منہاج سے نقل کرتے ہوئے اعتماد کیا ہے(ت)بس یہ دیکھنا رہا گواہ خود بھی مقبول الشہادۃ ہیں یا نہیں اگر خصوصیت مذکورہ کے ساتھ ایك گواہ بھی مستور الحال تك ہے یعنی اس کے وضع لباس حرفت معیشت کلا م وغیرہ سے اس کا مرتکب کبیرہ یا مصر صغیرہ یا خفیف الحرکات ہونا ظاہر نہیں نہ کسی دوسرے طریقہ سے اس میں یہ امور معلوم توازنجا کہ ہلال رمضان مبارك میں مستور کی گواہی بھی مقبول ہے
کما نص علیہ الامام ابو عبداﷲالحاکم الشھید فی الکافی۔
جیسا کہ اس پر امام ابو عبد اﷲالحاکم شہید نے الکافی میں تصریح کی ہے(ت)
اس کی شہادت مان کر روزہ جمعہ کی قضاء کی جائے گی مگر جبکہ گواہ کی حالت اور پیر مسطور سے اس کی شدت عقیدت پر نظر کرنے سے وہ اس کی بات سچی بنانے پر متہم ٹھہرتا ہو جیسا کہ آجکل بہت لاابالی لوگوں کا اپنے ساختہ مشائخ کے ساتھ حال ہے تو البتہ اس کی گواہی نہ سنی جائے گی کہ تہمت بھی اسباب ردشہادت سے ہے
فی الدرالمختار امیر کبیرادعی فشہد لہ عمالہ وتوابعہ ورعایا ھم لاتقبل اھ قال العلامۃ الرملی یؤخذ منہ ان شہادۃ خدامہ الملازمین لہ ملازمۃ کملا زمۃ العبد لمولاہ کذلك لا تقبل وھو ظاھر
درمختار میں ہے کسی بڑے امیر نے دعوی کیا اس کے عمال نائبین اور رعایا اس پر گواہی دیں تو یہ مقبول نہ ہوگی اھ
علامہ رملی کہتے ہیں کہ اس سے متفرع ہوجاتا ہے کہ اس کے خدام ملازمین کی گواہی اسی طرح ہے جیسے غلام کی گواہی اس کے مولی کے حق میں ہوتو وہ بھی مقبول
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم ، مطبع مجتبائی دہلی ، ١ / ١٤٨
درمختار باب القبول وعدمہ مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ٩٤
#9665 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
لا سیمافی زماننا اھ وفیہ ایضا اعنی الدرلا تقبل شہادۃ الا جیرالخاص اوالخادم اوالتابع اوالتلمیذ الخاص الذی یعد ضرر استاذہ ضرر نفسہ درر اھ ملتقطا وانت تعلم ان حال کثیر من عوام الزمان مع من شیخوہ علیہم ربما یبلغ اشد و اکثر من حال النواب والامیر و المستاجر والاجیرفحیث وجد التھمۃعدم القبول والحکم ید ور مع علتہ۔
نہیں اور یہی ظاہر ہے خصوصاہمارے زمانے میں اھ اور اسی در میں یہ بھی ہے کہ اجیر خاص یا خادم یا تابع یا وہ شاگرد جو استاد کی تکلیف کو اپنی تکلیف محسوس کرے کی گواہی مقبول نہیں درر اھ اختصارا اور آپ جانتے ہیں کہ اس دور میں عوام کے ان لوگوں کے ساتھ جنہیں یہ اپنے شیخ بناتے ہیں بعض اوقات نواب امیراور مستاجر اور اجیر سے زیادہ شدید ہوتے ہیں تو مقام تہمت میں گواہی مقبول نہ ہوگی اور حکم کا ورود اس کی علت پر ہوتا ہے۔ (ت)
یونہی اگر سب گواہ ظاہر الفسق وہ لوگ کہ جماعت کے پابند نہیں یا ناجائز تماشا دیکھا کرتے یا حرام نوکری یا پیشہ رکھتے یا داڑھی حد شرع سے کم رکھواتے یا ریشمیں کپڑے یا سونے چاندی کے ناجائز لباس یا زیور پہنا کرتے یا ضروریات دین سے غافل بے علم جاہل ہیں کہ نماز روزہ وضو غسل کے فرائض وشرائط و مفسدات سے آگاہ نہیں یا تجارت کرتے ہیں اور بیع وشراء کے ضروری احکام نہ سیکھے وعلی ھذاالقیاس جن مسائل کی ضرورت پڑے ان کی تعلیم سے باز رہنے والے کہ یہ سب فساق مردود الشہادۃ ہیں توایسوں کی گواہی توشرع مطہر میں اصلا معتبر نہیں
فی الدرالمختار لاتقبل شہادۃ الجاہل علی العالم لفسقہ بترك مایجب تعلمہ شرعا ومجازف فی کلامہ اویحلف فیہ کثیرا او اعتاد شتم اولادہ او غیرھم لانہ معصیۃ کبیرۃ کترك جماعۃ وخروج لفرحۃ قدوم امیرولبس حریر اھ بالتقاط وفیہ سئل القاضی عما یجب علیہ من الفرالض فان لم یعرفھا
درمختار میں ہے جاہل شخص جو ضروری علم شرعی کے ترک گپ بازی زیادہ قسمیں کھانے کی عادت اپنی اولاد اور غیر کو گالی دینے کی عادت جیسے گناہ کبیرہ ترك جماعت کسی حاکم کے آنے کی خوشی منانے اور ریشم پہننے جیسے امور کی وجہ سے فاسق شخص کی شہادت قبول نہ ہوگی اھ اختصارا اور اسی میں ہے کہ قاضی کا ان چیزوں کے بارے میں امتحان لیا جائے گا جن سے اس کا
حوالہ / References بحوالہ منحۃ الخالق علی البحرالرائق باب من تقبل شہادتہ الخ ایچ ایم سعید کراچی ٧ / ٩٦
درمختار باب القبول و عدمہ مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ٩٥
درمختار ، باب القبول و عدمہ مطبع مجتبائی دہلی ، ٢ / ٩٥
#9666 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
ثبت فسقہ لما فی المجتبی من ترك الاشتغال بالفقۃ لا تقبل شہادتہ والمرادمایجب علیہ تعلمہ منہ نھر۔
آگاہ ہونا لازم ہے اگر وہ ان سے آگاہ نہ ہوا تو فاسق ہوگا کیونکہ مجتبی میں ہے کہ جس نے فقہ میں دلچسپی نہ لی اس کی گواہی قبول نہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جس فقہ کی تعلیم ضروری تھی اگر اسے ترك کردیا تو پھر گواہی مقبول نہ ہوگی نہر۔ (ت)
پھر جس صورت میں کہ وہ گواہی مقبول ہوگی اس کا اثر کلکتہ پر ہوگا نہ دیگر بلاد ہند پر جب تك وہاں بھی یہ شہادت وثبوت بروجہ شرعی نہ پہنچے خالی خط و کتابت سے کچھ نہیں ہوتا
فی الدرالمختار یلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذا ثبت عندھم رؤیۃ اولئك بطریق موجب وفی ردالمحتار بطریق موجب کان یتحمل اثنان الشہادۃ اویشھدا علی حکم القاضی اویستفیض الخبر بخلاف مااذااخبرا ان اھل بلدۃ کذا رأوہ لانہ حکایۃ اھ واﷲتعالی اعلم ۔
درمختار میں ہے اہل مشرق پر اہل مغرب کی رؤیت کی وجہ سے لزوم ہوگا بشرطیکہ ان کی رؤیت بطریق موجب ثابت ہوئی ہو۔ ردالمحتار میں طریق موجب کا معنی یوں بیان ہوا ہے کہ دو آدمی گواہی دیں یا قاضی کے فیصلہ پر گواہ ہوں یا خبر خوب مشہور ہوبخلاف اس صورت کے جب وہ یہ خبردیں کہ فلاں شہر کے لوگوں نے چاند دیکھا کیونکہ یہ حکایت ہے اھ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ : رمضان المبارك ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ اخیر تاریخ رمضان شریف کا روزہ چاند دیکھ کر افطار کرلینا جائز ہے یا نہیں یعنی تیسویں کا چاند اکثر تیسرے پہر سے نظر آتا ہے تو آیا اسی وقت روزہ کھول لیں یا غروب آفتاب کے بعد بینواتوجروا
الجواب :
کسی تاریخ کا روزہ دن سے افطار کر لینا ہر گزجائز نہیں بلکہ حرام قطعی ہے اﷲتعالی نے فرض کیا کہ روزہ رات تك پورا کرو یعنی جب آفتاب ڈوبے اور دن ختم اور رات شروع ہواس وقت کھولو۔
قال اﷲتعالی ثم اتموا الصیام الى الیل- ۔
اﷲتعالی کا ارشاد ہے : پھر روزہ کو شام تك پورا کرو۔ (ت)
حوالہ / References درمختار باب القبول و عدمہ مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ٩٥
درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٥
القرآن ٢ / ۷ ١٨
#9667 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
درمختار فــــ میں ہے :
لا عبرۃ برؤیۃ الہلال نھارا مطلقا علی مذھب الامام الصحیح المعتمد واما علی قول الثانی من انہ ان رأی قبل الزوال فللماضیۃ فلیس الافطار بمعنی ا نھارالصوم بل لثبوت العید عندہ بذاك ولیس ھذا معنی قولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم صوموا لرؤیتہ وافطر والرؤیتہ والایوجب الصوم بمجرد رؤیۃ الہلال بعد المغرب وھذا واضح جدا واﷲتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
امام کے صحیح معتمد مذہب کے مطابق ہرحال میں دن کو چاند دیکھنے کاکوئی اعتبار نہیں مگر امام ثانی (ابویوسف) کے قول پر ہے کہ اگر زوال سے پہلے دیکھا تو یہ گزشتہ رات کا ہوگا تو اب افطار کا یہ معنی نہیں کہ یہ دن کے روزے کا افطار ہے بلکہ اس سے امام ثانی کے نزدیك ثبوت عید ہورہا ہے کیونکہ گزشتہ رات کا چاند ہے تو عید کی وجہ سے افطار ہے اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فرمان مبارك ''چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو'' کا معنی یہ نہیں کہ جب دیکھو تو افطار کرو ورنہ یہ لازم آئے گا کہ مغرب کے بعد محض چاند دیکھنے سے اسی وقت روزہ لازم ہوجائے اور یہ نہایت ہی واضح ہے۔ واﷲتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نسبت رؤیت ہلال ماہ رمضان المبارك ہندوستان میں اختلاف ہے بذریعہ اخبار ودیگر تحریر معلوم ہوا کہ کلکتہ و دیگر جا میں رؤیت بروز دو شنبہ اور روزہ بروز سہ شنبہ ہوا و دیگر بلاد و امصار میں رؤیت بروزسہ شنبہ اور روزہ بروز چہار شنبہ اور بعض جاروز پنجشنبہ ہوا پس اب فتوی علماء کا کیا ہے آیا بحالت عدم رؤیت ہلال شوال کے روزہ رمضان چار شنبہ آئندہ کو ختم کرکے پنجشنبہ کو عید کی جائے یا بروز چہار شنبہ عید ہو بینوا توجروا
فـــ : درمختار میں جو عبارت ملی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں : ''ورؤیتہ بالنھار للیلۃ الاتیۃ مطلقا علی المذھب ذکرہ الحدادی واختلاف المطالع ورؤیتہ نھارا قبل الزوال او بعدہ غیر معتبرعلی ظاھر المذھب۔ ''درمختار میں لاعبرۃ الخ کے الفاظ نہیں ہیں ۔ نذیر احمد سعیدی
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
#9668 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
الجواب :
واﷲ الموفق المصدق والصواب(اﷲتعالی ہی صدق و ثواب کی توفیق عطا فرمانے والا ہے۔ ت)شارع علیہ الصلوۃ والتسلیم نے صوم و فطر کو منوط برؤیت فرمایا۔
قال رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم صوموا لرؤیتہ وافطر والرؤیتہ کمافی الصحاح۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : چاند دیکھنے پرروزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو۔ جیسا کہ احادیث صحاح میں ہے(ت)
پس ہر شہر اور اس کی رؤیت اور اسی پر ابتنائے عدت مجرد اخبارات و خطوط صالح تعویل و اعتماد نہیں نہ صرف شہرت افواہ (کہ فلاں بلد میں فلاں روز چاند ہوا جیسے بعض خبریں شہر میں مشتہر ہوجاتی ہیں اور ان کا اشاعت کندہ معلوم نہیں) قابل اعتبار ہاں اگر کسی شہر جماعات متعددہ آئیں اور ہر ایك بیان کرے کہ فلاں روز وہاں رؤیت ہوئی توبیشك اس خبر مستفیض پر عمل واجب ہوگا اگر چہ ان دو بقاع میں بعد المشرقین ہو کہ مذہب معتمد پر اختلاف مطالع غیر معتبر ہے۔
قال العلامۃ المفتی عمدۃ المتاخرین محمد بن علی بن محمد علاء الدین الحصکفی رحمہ اﷲ تعالی فی الدرالمختار شرح تنویر الابصار نعم لو استفاض الخبر فی البلدۃ الاخری لزمھم علی الصحیح من المذھب مجتبی وغیرہ انتھی وفیہ ایضا ان اختلاف المطالع غیرمعتبر علی ظاھر المذھب وعلیہ اکثر المشائخ وعلیہ الفتوی بحر عن الخلاصۃ فیلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذا ثبت عندھم رؤیۃ اولئك بطریق موجب کمامر وقال الزیلعی الاشبہ انہ یعتبر لکن قال الکمال الاخذبظاھر الروایۃ
عمدۃ المتاخرین علامہ مفتی محمد بن علی بن محمد علاء الدین الحصکفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے درمختار شرح تنویرالابصار میں فرمایا : ہاں اگر ایك شہر کی رؤیت دوسرے شہر میں خبر مشہور کے طور پر ہوجائے تو ان پرصحیح مذہب کے مطابق روزہ رکھنا لازم ہوجائیگا مجتبی وغیرہ انتہی اور اسی میں ہے کہ اختلاف مطالع ظاہر مذہب کے مطابق معتبر نہیں اسے بحر نے خلاصہ سے نقل کیا ہے پس اہل مشرق پر اہل مغرب کی رؤیت سے روزہ یا افطار لازم ہوگا بشرطیکہ اہل مشرق کے ہاں یہ بات بطریق موجب ثابت ہوجیسا کہ سابق میں گزرا۔ امام زیلعی نے فرمایا مشابہ بحق یہ ہے کہ (اختلاف مطالع) معتبر ہے لیکن امام کمال
حوالہ / References صحیح بخاری باب اذارأیتم الہلال فصوموا قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٥٦
#9669 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
احوط انتھی(ملخصا)قلت وقد ذکروا ان الفتوی اکد من الاشبہ وان الفتوی متی اختلف رجح ظاھر الروایۃ کما فی البحر والدرر و غیرھما وفی حاشیۃ ردالمحتار للفاضل السید محمد امین ابن عابدین الشامی رحمہ اﷲعن الشیخ مصطفی الرحمتی الانصاری رحمہ اﷲ ان معنی الاستفاضۃ ان تاتی من تلك البلدۃ جماعات متعددون کل منھم یخبر عن اھل تلك البلدۃ انھم صامواعن رؤیۃ لا مجرد الشیوع من غیر یتحدث بھا سائراھل البلدۃ ولایعلم من اشاعہ کما قد تشیع اخبار یتحدث بھا سائر اھل البلدۃ ولایعلم من اشاعھا کماورد ان فی اخرالزمان یجلس الشیطان بین الجماعۃ فیتکلم بالکلمۃ فیتحدثون بھا ویقولون لاندری من قالھا فمثل ھذالاینبغی ان یسمع فضلا من ان یثبت بہ حکم اھ (قال الشامی ) قلت وھو کلام حسن ویشیر الیہ قول الذخیرۃ اذااستفاض وتحقق فان التحقق لایوجد بمجرد الشیوع انتھی۔
کہتے ہیں کہ ظاہر الروایۃ پر عمل احوط ہے انتہی (ملخصا)
قلت فقہاء نے ذکر کیا ہے کہ لفظ فتوی لفظ اشبہ سے زیادہ مؤکد ہوتا ہے اور جب فتوی میں اختلاف ہوتو ظاہر الروایۃ کو ترجیح حاصل ہوگی جیسا کہ بحر در وغیرہ میں ہے
فاضل سید محمد امین ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے شیخ مصطفی رحمتی انصاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے اپنے حاشیہ ردالمحتار میں نقل کیا ہے مشہور ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس شہر سے متعدد جماعتیں آئیں اور وہ تمام اس بات کی اطلاع دیں کہ وہاں لوگوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے محض ایسی افواہ سے نہیں جس کے پھیلانے والا معلوم نہ ہو جیسا کہ کبھی کبھی بعض خبریں شہروں میں پھیل جاتی ہیں اور ان کے پھیلانے والا معلوم نہیں ہوتا جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ آخری دور میں شیطان جماعت کے درمیان بیٹھ کر کوئی بات کرے گا تو لوگ اسے بیان کریں گے اور کہیں گے ہم نہیں جانتے اس کا قائل کون ہے تو ایسی باتیں سننا ہی مناسب نہیں چہ جائیکہ ان سے کوئی حکم ثابت کیا جائے اھ امام شامی کہتے ہیں قلت یہ تمام گفتگو نہایت ہی خوب ہے اور ذخیرہ کی یہ عبارت بھی اسی طرف اشارہ کررہی ہے جب خبر مشہور اور متحقق ہوجائے کیونکہ تحقق محض شہرت اور پھیل جانے سے نہیں ہوتا انتھی(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
بحر الرائق ، کتاب الرضاع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٣ / ٢٢٢
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٢
#9670 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
پس ہرشہر میں اپنی رؤیت خواہ غیر شہر کی شرعا معتبر خبر پر جو پہلی رمضان کی قرار پائے اسی پر بنائے کا ررکھیں اور روزہ متروك ہوجانا ثابت ہوتو بعد رمضان قضا کریں اسی یکم کے اعتبار سے شمار ثلثین کامل کرکے عید کرلیں لیکن اگر اکتیسویں شب کو باوجود صفائی مطلع چاند نظر نہ آئے اور ابتدائے صیام صرف ایك شاہد کی شہادت پر کی گئی ہو تو اس صورت میں تیس کے بعد عید حضرت امام اعظم وامام ابویوسف رحمۃ اﷲتعالی علیہما نا روافرماتے ہیں کہ کذب اس شاہد واحد کا ظاہر وہیں ہوگیا اور یہی مذہب و مرجح
ھذا ماتحرر لنا من اقوال متشتۃ وکلمات متشوشۃ ولنذکرطرفا من کلام الشامی فی ھذا المقام لیستبین لك ما لخصتہ عن المرام قال العلامۃ الشارح رحمہ اﷲفی الدروبعد صوم ثلثین بقول عدلین حل الفطر وبقول عدل حیث یجوز وغم ھلال الفطر لا یحل علی المذھب خلا فالمحمد کذا ذکرہ المصنف لکن نقل ابن الکمال عن الذخیرۃ ان غم ھلال الفطر حل اتفاقا وفی الزیلعی الاشبہ ان غم حل والا لا انتہی مختصرا قال الفاضل المحشی قولہ حل الفطر ای اتفاقا ان کانت لیلۃ الحادی والثلثین متغیمۃ وکذا لومصحیۃ علی ماصححہ فی الدرایۃ والخلاصۃ والبزازیۃ وصححہ عدمہ فی مجموع النوازل والسید الامام الاجل نا صرالدین
یہ وہ تمام گفتگو تھی جو متفرق اقوال اور تشویش میں ڈالنے والے کلمات سے اخذ کی گئی یہاں امام شامی کی کچھ گفتگو نقل کرنا نہایت ہی مناسب ہے تاکہ وہ مقصد واضح ہوجائے جس کی خاطر میں نے یہ خلاصۃ گفتگو نقل کی ہے علامہ شارح رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے در میں فرمایا جبکہ دو عادلوں کے قول سے روزہ رکھا ہوتو تیس دن کے بعد افطار حلال ہے یعنی جائز ہے اور حال یہ ہو کہ عید کے چاند کے دن ابر ہو تو افطار حلال نہیں صحیح مذہب پر اس میں امام محمد کا اختلاف ہے جیسا کہ مصنف نے ذکر کیا ہے لیکن ابن کمال نے ذخیرہ سے نقل کیا ہے کہ اگر عید کے چاند کے دن بادل وغیرہ ہوتو بالاتفاق افطار حلال یعنی جائز ہے زیلعی میں ہے اگر چاند بادل وغیرہ کی وجہ سے دکھائی نہ دے تو عید حلال ہے ورنہ نہیں انتہی اختصارا۔
فاضل محشی نے کہا قولہ حل الفطر یعنی اگر اکتیسویں رات ابر آلود ہوتو بالاتفاق عید جائز ہوگی اور درایہ خلاصہ اور بزازیہ کی تصحیح کے مطابق اگر مطلع صاف ہوتب بھی یہی حکم ہے مجموع النوازل میں اور السید امام اجل ناصرالدین نے
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
#9671 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
کما فی الامداد نقل العلامۃ نوح الاتفاق علی حل الفطرفی الثانیۃ ایضا عن البدائع والسراج و الجوھرۃ قال والمراد اتفاق ائمتنا الثلثۃ وما حکی فیہ من الخلاف انما ھو لبعض المشائخ قلت وفی الفیض الفتوی علی حل الفطرالخ ثم قال قولہ لکن الخ استدراك علی ماذکرہ المصنف من ان خلاف محمد فیما اذاغم ھلال الفطر بان المصرح بہ فی الذخیرۃ وکذافی المعراج عن المجتبی ان حل الفطر ھنا محل وفاق وانما الخلاف فیما اذا لم یغم ولم یرالھلال فعند ھما لایحل الفطروعند محمد یحل قال شمس الائمۃ الحلوانی وحررہ الشرنبلالی فی الامداد قال فی غایۃ البیان وجہ قول محمد وھو الاصح ان الفطر ما ثبت بقول الواحد ابتداء بل بناء وتبعا الخ ثم قال قولہ وفی الزیلعی الخ نقلہ لبیان فائدۃ لم تعلم من کلام الذخیرۃ وھی ترجیح عدم الفطر ان لم یغم شوال لظہور غلط الشاھد لانہ الاشبہ من الفاظ الترجیح لکنہ مخالف لما علمتہ من تصحیح غایۃ البیان
اس کے بر خلاف تصحیح کی ہے جیسا کہ امداد میں ہے اور علامہ نوح نے بدائع سراج اور جوھرہ سے نقل کیا ہے کہ دوسری صورت میں بھی بالاتفاق عیدجائز ہوگی اور کہاکہ یہاں اتفاق سے مراد ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق ہے اور اس سلسلہ میں اختلاف جو منقول ہے تو وہ بعض مشائخ کا ہے قلت فیض میں ہے فتوی عیدکے جواز پر ہے الخ پھر کہا قولہ لکن الخ یہ استدراك ہے اس پر جو مصنف نے کہا کہ جب موسم ابر آلود ہوتو ہلال فطر کے بارے میں امام محمد کا اختلاف ہے۔ اسی طرح ذخیرہ میں اور معراج میں مجتبی سے تصریح ہے کہ افطار کی حلت بالاتفاق ہے اور اختلاف اسی صورت میں ہے جب موسم ابر آلود نہ ہو اور چاند دکھائی نہ دے تو اب شیخین کے نزدیك عید جائز نہیں او ر امام محمد کے نزدیك جائز ہے جیسا کہ شمس الائمہ حلوانی نے بیان کیا اور شرنبلالی نے امداد میں نقل کیا کہ غایۃ البیان میں کہا ہے کہ امام محمد کے قول کی دلیل اوروہی اصح ہے کہ افطار ایك شخص کے قول سے ابتداء ثابت نہیں ہوتا بلکہ تبعا اور بناء ثابت ہوا ہے الخ پھر فرمایا قولہ وفی الزیلعی الخ یہ اس فائدہ کے لیے منقول ہے جو کلام ذخیرہ سے نہ جانا گیا اور وہ یہ ہے کہ اگر شوال ابر آلود نہ ہو تو عدم افطار کو ترجیح ہوگی اس لیےکہ اس سے گواہ کا غلط ہونا واضح ہوگا کیونکہ یہ لفظ اشبہ الفاظ ترجیح میں سے ہے لیکن یہ اس کے مخالف ہے جو آپ غایۃ البیان
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ٠٣-١٠٢
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٣
#9672 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
لقول محمد بالحل نعم حمل فی الامداد مافی غایۃ البیان علی قول محمد بالحل اذا غم شوال بناء علی تحقق الخلاف الذی نقلہ المصنف وقد علمت عدمہ وح فمافی غایۃ البیان فی غیر محلہ لانہ ترجیح لما ھو متفق علیہ تامل انتہی ملتقطا فعلیك بتلطیف القریحۃ فی ھذاالباب کیلا تغفل فیستزلك الاضطراب واﷲتعالی اعلم بالصواب والیہ تعالی المرجع والماب۔ کی تصحیح میں جان چکے ہیں جو امام محمد کے قول بالحل(جواز) سے متعلق تھی ہاں امدادیہ میں غایۃ البیان کی عبارت کو امام محمد کے قول بالحل(جواز) پر محمول کیا جائے گا جبکہ شوال کا چاند ابر آلود ہو اس بنا پر جواختلاف مصنف نے نقل کیا ہے حالانکہ آپ نے جان لیا اختلاف نہیں اب جو کچھ غایۃ البیان میں ہے وہ بے محل ہے کیونکہ یہ تو متفق علیہ کو ترجیح دینا ہے غورکرو انتہی ملتقطا اس معاملہ میں خوب باریك بینی سے کام لو تاکہ غفلت دور ہو اور اضطراب ختم ہوجائے واﷲتعالی اعلم بالصواب والیہ تعالی المرجع والمآب۔ (ت)
مسئلہ : ذی الحجہ ھ مولوی سید شجاعت علی صاحب از شہر کہنہ بریلی
ماقولھم رضی اﷲتعالی عنھم اجمعین(اﷲتعالی تم سے راضی ہو تمہارا قول کیا ہے۔ ت) اس مسئلہ میں کہ غیر معتبر ہونا اختلاف المطالع کا جو اس عبارت تنویرالابصار سے ظاہر ہے واختلاف المطالع غیر معتبر علی المذھب فیلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب(مطالع کا اختلاف ہمارے مذہب میں معتبر نہیں ہے تواہل مغرب کی رؤیت سے اہل مشرق پر حکم لازم ہوگا۔ ت)عام ہے شامل ہے حج واضحیہ کو یا خاص بصوم یا بہ فطر ہے اور نیز یلزم کی ضمیر کا مرجع ثبوت ہلال عام ہے شامل ہر حج واضحیہ کو یا صوم یا فطرہ سے خاص ہے عام سمجھنا اس کو صواب ہے یا خطا ایك شہر میں عید الاضحی سہ شنبہ کوہوئی بموجب رؤیت ہلال وہاں کی اور دوسرے شہر میں چہار شنبہ کو ہوئی بموجب رؤیت ہلال یہاں کی اب قربانی کرنا دوسرے شہر والوں کوجمعہ کے آخر تك کہ وہ یوم رابع قربانی کا ہے باعتبار رؤیۃ اول کے اور یوم ثالث قربانی کا ہے باعتبار ثانی کے جائز ہے یا نہیںبینو ابسند الکتاب توجروابیوم الحساب(کتاب کی سند کے ساتھ بیان کیجئے اور روز حساب اجر پائیے۔ ت)فقط
الجواب :
علامہ سید حلبی و علامہ سید طحطاوی و علامہ سید شامی محشیان درمختارعلیہم رحمہ اﷲالعزیز الغفار نے ضمیر
حوالہ / References درمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٣
#9673 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
یلزم کا مرجع ہلال صوم وفطر کو قرار دیا
وھذا عبارۃ الشامی قولہ فیلزم فاعلہ ضمیریعود الی ثبوت الہلال ای ہلال الصوم اوالفطر۔
شامی کی عبارت یہ ہے قولہ فیلزم فاعلہ یہ ضمیر ثبوت ہلال کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی رمضان یا عید کا چاند۔ (ت)
اس قدر چنداں قابل انکار نہیں نہ حج واضحیہ سے نفی لزوم میں نص ہاں علامہ شامی نے تصریح فرمائی کہ کلمات ائمہ کرام سے حج میں اختلاف مطالع کا معتبر ہونا مفہوم اور استظہار کیا کہ اضحیہ میں یہی معتبر ہونا چاہئے اس تقدیر پر اہل عید چار شنبہ کو جمعہ تك قربانی جائز ہوگی اگر چہ منگل والوں کے نزدیك وہ روز چہارم ہو جبکہ مطالع بلدین کا مختلف ہونا وہاں کی رؤیت کو یہاں لازم نہ کرے۔ ردالمحتارمیں ہے :
تنبیہ : یفھم من کلامھم فی کتاب الحج ان اختلاف المطالع فیہ معتبر فلا یلزمھم شئی لوظہر انہ رؤی فی بلدۃ اخری قبلھم بیوم وھل یقال کذلك فی حق الاضحیۃ لغیرالحجاج لم ارہ والظاھر نعم لان اختلاف المطالع انمالم یعتبر فی الصوم لتعلقہ بمطلق الرؤیۃ وھذا بخلاف الاضحیۃ فالظاھر انھا کاوقات الصلوۃ یلزم کل قوم العمل بماعند ھم فتجزی الاضحیۃ فی الیوم الثالث عشروان کان علی رؤیا غیرھم ھو الرابع عشر۔
تنبیہ : کتاب الحج میں فقہا کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف مطالع کا حج میں اعتبار ہے تو ان حجاج پر کوئی شئی لازم نہ ہوگی جب یہ ظاہر ہوجائے کہ دوسرے شہر میں چاند ان سے ایك دن پہلے دیکھا گیا ہے کیا حجاج کے علاوہ قربانی کے حق میں بھی یہی حکم ہوگا یہ مسئلہ میرے مطالعہ میں نہیں آیا ہاں ظاہرا یہی حکم معلوم ہوتا ہے کیونکہ اختلاف مطالع کا اعتبار صوم (روزہ)اس لیے نہیں کیا جاتا کہ اس کا تعلق مطلق رؤیت سے ہے بخلاف قربانی کے تو اس میں ظاہر یہی ہے کہ یہ اوقات نماز کی طرح ہے ہر قوم پر ان کے اپنے وقت میں نماز لازم ہوگی تو تیسرے دن کی قربانی کفایت کرجائے گی اگر چہ دوسروں کے اعتبار سے وہ چوتھا دن ہو۔ (ت)
ان کے خیال کا منشایہ ہے کہ طلاق صلوۃ زکوۃ صوم نکاح عتق ایمان سیر بیع اجارہ شفعہ میراث وغیرہا تمام ابواب فقہ میں اختلاف مطالع بلاشبہ معتبر ہے ہلال صوم و فطر میں اصح التصحیحین
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٥
ردالمحتار کتاب الصوم ، صطفی البابی مصر ، ٢ / ١٠٥
#9674 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
پر اس کا نہ ماننا بربنائے ورودنص ہے کہ :
صوموالرؤیتہ وافطرو الرؤیتہ۔
چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر افطار کرو۔ (ت)
مگر یہ علامہ ممدوح رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا اپنا خیال ہے جس پر انہوں نے کوئی نقل معتمد پیش نہ کی نہ کلمات علماء اس کی مساعدت کریں مسئلہ حج کی بناء دفع حرج شدید پر ہے نہ کہ اختلاف مطالع پر اور یہاں عدم ورود نص ماننا بھی صحیح نہیں خاص دربارہ ذی الحجہ بھی حدیث صریح صحیح سے رؤیت پر تعلیق ثابت ہے اور ظاہر سیاق کلام ماتن و شارح رحمہم اللہ تعالی رجوع ضمیر مطلق ثبوت ہلال کی طرف جس میں ذی الحجہ بھی داخل ہے نظم عبارت یہ ہے :
وھلال الاضحی وبقیۃالاشھر التسعۃکالفطر علی المذھب ورؤیتہ بالنھار للیلۃ الاتیۃ مطلقاعلی المذھب ذکرہ الحدادی واختلاف المطالع ورؤیتہ نھارا قبل الزوال اوبعدہ غیرمعتبر علی ظاھر المذھب وعلیہ اکثر المشائخ وعلیہ الفتوی بحر عن الخلاصۃ فیلزم اھل المشرق الخ
عید الاضحی اور باقی نوماہ کاچاند صحیح مذہب پر عیدالفطر کی طرح ہے جو چاند دن کو نظر آئے ہر حال میں صحیح مذہب پر آنے والی رات کا شمار ہوگا اسے حدادی نے ذکر کیا ظاہر مذہب کے مطابق اختلاف مطالع اور دن کو زوال سے پہلے یا بعد چاند کا نظر آنا غیر معتبر ہے اکثر مشائخ اسی پر ہیں اور اسی پر فتوی ہے بحر عن الخلاصۃ لہذامشرق پر لازم ہوگا الخ(ت)
وہ یہاں احکام عامہ کے بیان میں ہیں علی الخصوص اس تصریح کے بعد ذی الحجہ وغیرہ کہ سب مہینوں کے ہلال کا وہی حکم ہے جو رمضان و فطر کے تو عندالتحقیق اگر دوسری جگہ کی رؤیت بطریق شرعی ثابت ہوجائے تو اسی پر عمل واجب ہوگا
والعبدالضعیف لطف بہ المولی اللطیف یرید ان یأتی بھذاالتحقیق الجلیل الشریف ان شاء اﷲ تعالی فی تحریر منفصل نفیس۔
عبد ضعیف اپنے مولی لطیف کے چاہتا ہے کہ اس پر مستقبل تحریر میں تفصیلا تحقیق کردے ان شاء اﷲتعالی۔ (ت)
ورنہ بے تحقیق باتوں پر اس نظرو بحث کی اصلا گنجائش نہیں شرعا نہ ہرگز خط پر عمل نہ پرچہ اشتہار کوئی چیز نہ ایسی مہمل دو ایك تحریروں سے استفاضہ شرعی حاصل ہوسکے ایسے طریق کو موجب سمجھ لینا محض خطا وناواقفی اور ایسے
حوالہ / References صحیح بخاری باب اذارأیتم الہلال فصوموا قدیمی کتب خانہ رکراچی ١ / ٢٥۶
درِمختار کتاب الصوم مطبع مجتائی دہلی ١ / ١٤٩
#9675 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
بیہودہ ثبوتوں پر عید کرلینا مسلمانوں کی نماز و قربانی خراب کردینا اور عرفہ کے روزے تڑوانا سخت جرأت وبیباکی ہےدرمختار میں ہے :
یلزم اھل المشرق برؤیتہ اھل المغرب اذا ثبت عندھم رؤیۃ اولئك بطریق موجب کمامر۔
اہل مشرق پر اہل مغرب کی رؤیت کی بنا پر روزہ یا افطار لازم ہوگا بشرطیکہ ان کے ہاں وہ رؤیت بطریق موجب ثابت ہو۔ جیسا کہ گزرا۔ (ت)
ایسی حالت میں ہم پر باتفاق علماء اپنی رؤیت پر عمل واجب ہے اور ان بے اصل شوشوں کی طرف التفات ہی باطل وذاہب واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ تا : از شاہجہان پور محمد خلیل غربی ۲۱ذی الحجہ ھ
اولا : مرسلہ محمد اعزاز حسین بعبارت : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شاہجہان پور کے رہنے والے دوشخص ثقہ عادل بمبئی سے آئے اورانہوں نے بیان کیا کہ ہم نے خود ذیقعدہ کو بمبئی میں چاند دیکھا تو بمبئی کے آئے ہوئے لوگوں کی شہادۃ اہل شاہجہانپور پر عید الاضحی کے حساب سے ہوگی یا نہیں مع حوالہ کتب فقہیہ حنفیہ معتبرہ جواب تحریر فرمائیے بینوا توجروا
ثانیا : مرسلہ مولوی ریاست علی خاں صاحب بعبارت : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دو شخص کسی دوسرے شہر سے تاریخ کا چاند دیکھ کر آئیں گو مسافت اس شہر کی ایك ماہ سے زائد ہوتوگواہی ان کی درباب رؤیت ہلال عیدالاضحی معتبر ہوگی یا نہیں اور اگر معتبر ہوگی تو قول شامی کا کہ :
یفھم من کلامھم فی کتاب الحج ان اختلاف المطالع فیہ معتبر فلا یلز مھم شئی لو ظھر انہ رأی فی بلدۃ اخری قبلہم بیوم الخ
کتاب الحج میں فقہا ء کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ حج میں اختلاف مطالع معتبر ہے تو حجاج پر کوئی شئی لازم نہ ہوگی اگر دوسرے شہر میں ایك دن پہلے چاند کا دیکھنا ظاہر ہوجائے الخ (ت)
کیا مطلب ہے اور یہ قول شامی کا معارض قول مفتی بہ اور ظاہرالروایۃ کے ہے تو ترجیح قول شامی کو دی جائیگی یا مفتی بہ قول کو کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اختلاف مطالع کا مطلقا اعتبارنہیں ہے گوعیدالاضحی کا ہو
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٥
#9676 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
اور نیز فتوی مولوی عبدالحی صاحب کا کہ جو مؤید بحدیث ہے اعتبار کیا جائے گا یا ظاہر الروایۃ اور مفتی بہ قول کا کیونکہ مولوی عبدالحی اپنے مجموعہ فتاوی میں یہ لکھتے ہیں کہ ایك ماہ یا زائد کی مسافت کی گواہی درباب رؤیت ہلال معتبر اور مقبول نہ ہوگی۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
جواب سوال اول : ان لوگوں کی شہادت عادلہ مستجمعہ شرائط شرعیہ واجب الاعتبار ہے اور اس کا خلاف ناجائز اور شاہجہان پور میں اس کی بنا پر ضرور ماہ ذیقعدہ کا ثبوت ہوکر اس کے حساب سے چہار شنبہ کو عیدالضحی کرنی لازم ہوئی اور اسی حساب سے جو بارہویں تھی یعنی روز جمعہ اسی تك میعاد قربانی رہی جس نے اس کے بعد شنبہ کو قربانی کی وہ قربانی نہ ہوئی کہ مذہب حنفی مین اختلاف مطالع کا اصلا اعتبار نہیں یہی ظاہرالروایۃ ہے اور اسی پر فتوی ہے اور علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ جو ظاہر الروایۃ سے خارج ہے وہ اصلا مذہب ائمہ حنفیہ نہیں خصوصا جب وہی مذیل بفتوی ہو کہ اب تو کسی طرح اس سے عدول روا نہیں۔ خلاصہ و بحرالرائق وتنویرالابصار و درمختار میں ہے :
واللفظ لھذین ملتقطا ھلال الاضحی وبقیۃ الاشھر التسعۃ کالفطر علی المذھب واختلاف المطالع غیر معتبر علی ظاھر المذھب وعلیہ اکثر المشائخ و علیہ الفتوی ۔ (ملخصا)
خلاصۃ ان دونوں کتابوں کے الفاظ میں صحیح مذہب پر عید الاضحی اور بقیہ نو ماہ کے چاند کا معاملہ عید الفطر کی طرح ہے اختلاف مطالع کا ظاہر مذہب کے مطابق اعتبارنہیں اس پر اکثر مشائخ ہیں اور اسی پر فتوی ہے۔ (ت)
فتاوی خیریہ میں ہے :
صرحوابان ما خرج عن ظاھر الروایۃ لیس مذھبا لابی حنیفۃ ولاقولالہ۔
فقہاء نے تصریح کی ہے کہ جو ظاہر الروایۃ سے نکل جائے وہ امام ابو حنیفہ کا نہ مذہب ہوتاہے نہ قول۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
ما خرج عن ظاھرالروایۃ فھو مرجوع عنہ و المرجوع عنہ لم یبق قولالہ۔
جو ظاہرالروایۃ سے نکل جائے اس سے رجوع کرلیا گیا ہوتا ہے اور مرجوع عنہ امام صاحب کا قول باقی نہیں رہتا۔ (ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ الطباعۃ والنشربیروت ١ / ٥٢
بحرالرائق فصل فی التقلید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٦ / ٢٧٠
#9677 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
ردالمحتار میں ہے :
ما خالف ظاھر الروایۃ لیس مذھبا لاصحابنا۔
جو ظاہرالروایت کے خلاف ہو وہ ہمارے احناف کا مذہب نہیں۔ (ت)
درمختار میں ہے :
الحکم والفتیابالقول المرجوح جھل وخرق الاجماع۔
مر جوح قول پر فتوی و فیصلہ جہالت اور اجماع کی مخالفت ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
کقول محمد مع وجود قول ابی یوسف اذالم یصحح اویقووجہہ واولی من ھذا بالبطلان الافتاء بخلاف ظاھرالروایۃ اذا لم یصحح والافتاء بالقول المرجوع عنہ اھ ھ واﷲسبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جیسا کہ امام ابو یوسف کے قول کے باوجود امام محمد کے قول پر جس کی تصحیح نہ کی گئی ہو یا اس کی تقویت بیان نہ کی گئی ہو اور اس سے زیادہ باطل وہ فتوی ہوگا جو ظاہر الروایۃ کے خلاف ہو جبکہ اس خلاف کی تصحیح نہ کی گئی ہو اور وہ فتوی جو مرجوع عنہ ہواھ ح واﷲسبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
جواب سوال ثانی : صورت مستفسرہ میں جب وہ شہادت شرعیہ عادلہ ہوتو ضرور معتبر ہوگی اگر چہ ہلال عید اضحی ہواگرچہ ان میں مسافت ایك ماہ سے زیادہ ہو یہی ہمارے ائمہ کا مذہب ہے اور اسی پر فتوی اور اس سے عدول باطل وناروا علامہ شامی نور قبرہ السامی نے یہاں ظاہر الروایۃ وقول مفتی بہ کا معارضہ نہ چاہا بلکہ براہ بشریت ایك خطائے فکری سے اسے مختص بہ ہلال صوم و فطر سمجھا فقط ہلال اضحی کو ان نصوص سے مخصوص جانا اور یہ لغزش نظر تھی کہ اطلاقات بلکہ تنصیصات کتب معتمدہ مذہب کے مقابل اس کی طرف التفات بھی ناممکن چہ جائے اعتماد علامہ ممدوح کا یفھم من کلامھم فرمانا اسی لغزش فکر کے باعث ہے ورنہ وہ ہرگز ہمارے علماء کے کلام سے مفہوم بلکہ موہوم بھی نہیں ان کے کلمات عالیات صاف اس مزعوم سے ابا فرمارہے ہیں۔ مولوی لکنھوی صاحب نے نہ صرف اضحی بلکہ صوم و فطر سب میں اختلاف مطالع معتبر ٹھہر ایا اور ضرور ظاہرالروایۃ اور مفتی بہ کا بالقصد معارضہ کیا اور
حوالہ / References ردالمحتار کتاب احیاء الموات دارالتراث العربی بیروت ٥ / ٢٧٨
درمختار خطبہ کتاب مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٥
ردالمحتار تحت عبارتِ مذکور مصطفی البابی مصر ١ / ٥٥
#9678 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
خود اپنی تصریحات کی رو سے بوجوہ کثیرہ فاحش خطاؤں اور باطل بناؤں سے کام لیا علامہ شامی کی بحث سے جسے وہ فتوی نہیں بتاتے اور مولوی لکھنوی صاحب کا فتوی جس پر وہ جزم واعتماد کررہے ہیں علم فقہ و علم حدیث وعلم ہیئت تینوں علوم کی رو سے صریح باطل و محض ناقابل اور خود ان دونوں حضرات کی دوسری تصریحات کے معارض ومناقض و مقابل ہیں احادیث کی مخالفت تو دونوں صاحبوں نے یکساں کی ہے اگر چہ اس کا الزام بھی مولوی لکھنو ی صاحب پر زائد و قوی ہے کہ علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ایك متفقہ مقلد سے زیادہ نہیں بنتے اور فاضل لکھنوی ایك محقق محدث اہل نظر اعتبار نقادارشادات ائمہ کبار بننا چاہتے ہیں حتی کہ محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے معجزہ عظیمہ سراج الامہ کاشف الغمہ امام الائمہ نائل العلم والایمان من الثریا سید نا امام اعظم ہمام اقدم رضی اللہ تعالی عنہ ارشادات عالیہ کو محك نقد ونقض وردپر رکھتے ہیں کہ ابو حنیفہ نے یہ کہا اور حق یوں ہے ابو حنیفہ کے دلائل یہ ہیں اور یہ سب باطل ہیں ایسے جلیل الشان رفیع المکان محدث احادیث وآثار کے محیط و حاوی فخر بخاری ورشك طحاوی کا احادیث و اضحہ مشہور ہ معروفہ صحیحہ صریحہ سے مخالف پڑنا ضرور محل عجب ہے۔ فتوائے مولوی صاحب ہرگز مؤید بحدیث بلکہ صریح مخالف احادیث ہے اور اس کی شکایت بھی کچھ نہیں بڑے بڑوں پر بھی بد زبانی کی ہے کہ ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کے کسی مذہب کو اپنے زعم ناقص میں مخالف حدیث سمجھے اور بعد تنقیح آفتاب کی طرح روشن ہوا کہ یہ معتر ضین خود ہی حدیث نہ سمجھتے تھے وﷲدرمن قال(اور اﷲتعالی ہی کے لیے بھلائی ہے جس نے یہ شعر کہا :
وکم من عائب قولا صحیحا وافتہ من الفھم السقیم
بہت سے لوگ صحیح بات کو معیوب قرار دیتے ہیں جبکہ یہ مصیبت کمزور فہم کی وجہ سے آئی ہے۔ ت)
اور مبارك فقہ کی مخالفت کا زیادہ حصہ توانہی فاضل محقق نے لیا۔ علامہ شامی پر اگر یہاں ایك اعتراض ہے تو ان پر چار پھر جیسا کہ ہم اشارہ کر آئے ہیں اتنی مخالفت باوصف کثرت قصدیہ ہیں اور علامہ شامی سے ایك مسئلہ کے فہم میں لغزش ہوئی جس پر انہوں نے بنائے کلام فرمائی تو وہ قاصد موافقت ہیں نہ مرتکب مخالفت طرفہ یہ کہ یہ اپنی تصریحوں سے تعارض وتناقض میں بھی انہی ہمارے محقق مدقق معاصر کا پلہ بھاری ہے اور علم ہیئت سے یکسر بیگانگی کا الزام تو صرف انہی پر ہے کہ علامہ شامی کو ان فنون کی جانب التفات نہ تھا اور ہمارے محقق معاصر تو ہمہ داں ہیں یہ سب اجمالی بیان بعونہ تعالی دربارہ اہلہ فقیر کی متفرق تحریرات سے واضح ہیں اور احباب کی خواہش ہوئی تو فقیر بعون القدیر تفصیل کے لیے حاضر۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۱ : از گیا محلہ بارہ قریب مسجد غلام المصطفی صاحب
مظہر انوار شریعت حضرت مولانا دامت برکاتکم وفیوضاتکم بعد سلام باکرام آنکہ ایك مسئلہ جو رمضان
#9679 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
کی تیس تاریخ پیش آیا تھا وہ دریافت طلب ہے امید کہ جواب باصواب زودتر ارسال فرکر سرفراز و ممتاز فرما کر عندا ﷲماجور ہوں بصورت فرصت و مہلت حدیث ماخذ و حوالہ کتاب بھی ارشاد فرمادیجئے گا فقط زیادہ آفتاب ہدایت تاباں ودرخشاں باد۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اس مسئلہ میں کہ ایك قصبہ میں جس روز رمضان شریف کی تیس تاریخ تھی اسی روز ایك شہر کے مختارکچہری کے آئے اور انہوں نے کہا کہ آج ہم جس شہر سے آئے ہیں وہاں آج عید کی نماز ہوگی سامان نماز کو ہورہا تھا آپ لوگ بھی پڑھیے۔ مختار صاحب مذکور کسی عالم کے فرستادہ میں سے نہ تھے اور نہ کسی عالم صاحب کا خط لائے تھے اب قطع نظر امور خارجہ کے اور اس بات کے کہ آئندہ کیا متحقق ہوگا صرف یہ ارشاد ہو کہ اس قصبہ میں ازرو ئے شریعت کے اس روز مختار صاحب موصوف کی خبر معتبر تھی یا نہیں اور مختار صاحب کی خبر کا اعتبار کرکے نماز عید کے واسطے فتوی دینا صحیح ہوگا یا نہیں ارشاد فرماکر عنداﷲماجور و داخل حسنات ہوں اور اس قصبہ کا ہندو تار بابو خبر دیتا تھا کہ تار آیا ہے آج عید فلاں شہر میں ہوگی اب تار بابو کا خبر دینا معتبر تھا یا نہیں
الجواب :
دربارہ ہلال خط و تار محض بے اعتبار اشباہ والنظائر میں ہے : لا یعتمد علی الخط ولا یعمل بہ (خط پر نہ تو اعتماد کیا جائے نہ ہی اس پر عمل کیا جائے۔ ت)مخبر واحد اور کچہری کے مختار اور وہ بھی محض حکایت و اخبار کہ دو شاھد عدل بھی ایسی حکایت کرتے تو اصلا معتبر نہ تھی۔ درمختار میں ہے :
شھد واانہ شھد عند قاضی مصر کذا شاھد ان برؤیۃ الہلال وقضی بہ و وجد استجماع شرائط الدعوی قضی القاضی بشھادتھما لان قضاء القاضی حجۃ وقد شھد وابہ لالوشھد وابرؤیۃ غیرھم لانہ حکایۃ۔ (ملخصا)
گواہ کہتے ہیں کہ قاضی مصر کے پاس فلاں دو گواہوں نے فلاں تاریخ کو چاند دیکھنے پر گواہی دی ہے اور وہاں کہ قاضی نے اس پر فیصلہ کر دیا ہے اور شرائط دعوی ساری کی ساری پائی گئی ہوں تواب قاضی کو جائز ہے ان کی گواہی پر فیصلہ کردے کیونکہ قاضی کی قضا ء حجت ہے اور اسی پر وہاں کے گواہوں نے گواہی دی ہے۔ ہاں اگر وہ دوسروں کی رؤیت پر گواہی دیتے تو قبول نہ ہوتی کیونکہ یہ حکایت ہے(ملخصا)۔ (ت)
حوالہ / References اشباہ والنظائر ، کتاب القضاء والشہادات والدعاوی ، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ، ١ / ٣٣٨
درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
#9680 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
صورت مذکورہ میں اہل قصبہ کو عید کرنی حرام تھی اگر چہ بعد کو عید ثابت ہی ہوجائے کہ انہوں نے قبل ثبوت عید کی اور ارشاد حدیث صحیح صوموالرؤیتہ وافطر وا لرؤیتہ (چانددیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو۔ ت) کے مخالف ہوئے جس نے بر بنائے مذکورہذیان تار و حکایت نامختار عید کا فتوی دیا سخت حرام ہوا ایسے فتوے پر کبھی عمل نہ کریں حدیث میں ہے :
اذا وسد الامر الی غیراھلہ فانتظر الساعۃ۔ واﷲتعالی اعلم
جب غیر اہل کوکام سپرد کردیا جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔ (ت) واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از مقام سوجت مارواڑ بازار کے اندر مسئولہ شیخ ننے میاں کلاہ فروش داہن منڈی صفرھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ قصبہ سوجت مارواڑ میں شعبان کو چاند نظر نہیں آیا اور شعبان کے تیس روز پورے کرکے رمضان شریف کے روزے رکھنے شروع کئے بعد میں کسی وجہ سے دو تین آدمی دہلی گئے وہاں کے لوگوں نے شعبان کو چاند دیکھنے کے حساب سے روزے رکھے تھے اب وہ شخص اخیر رمضان مبارك میں سوجت واپس آگئے اور کہنے لگے کہ دہلی میں کے حساب سے روزہ رکھنا شروع ہوا ہے ہم بھی وہاں کے حساب سے عید کرینگے سوجت کے چاند دیکھنے کا خیال نہیں کریں گے اب سوجت کی اور دوسری جگہ کو کہا کہ کل عید کرینگے تو انہوں نے ضد اور نفسانیت کرکے روزہ نہیں رکھا اور جن لوگوں نے روزہ رکھا تھا بہکا بہکا کر افطار کردیا اور بعض لوگوں نے کہا کہ بغیر چاند نظر آئے ہم روزہ افطارنہ کریں گے اور دن پورے کرکے عید کریں گے کیونکہ ہم کو شرع شریف کا یہی حکم ہے اور ایك فتوی جناب مولانا احمد رضا خاں صاحب کا دیکھا گیا تھا جس میں تحریر تھا کہ خطوط اور تار وغیرہ سے روزہ افطار نہیں کرنا چاہئے اور پھر اسی قسم کی ایك حدیث بھی نظر آئی جس کا مضمون یہ ہے کہ حضرت کریب رضی اللہ تعالی عنہ ملك شام میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گئے اور رمضان المبارك کا چاند ان کونظر آگیا تھا پھر اخیر رمضان شریف کو مدینہ منورہ میں آئے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے ان سے وہاں کے حالات دریافت کئے اور یہ بھی دریافت کیا کہ تم نے چاند کو دیکھا تھا انہوں نے کہا کہ جمعہ کی رات کو دیکھا تھا پھر ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا تم نے خود دیکھا تھا انہوں نے کہا کہ ہاں میں نے بھی دیکھا تھا اور دوسرے آدمیوں نے بھی دیکھا اور سب نے روزہ رکھا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ ہم نے تو ہفتے کی رات چاند دیکھا سواسی حساب سے ہم روزہ رکھیں گے۔ پھر حضرت کریب رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کیا آپ
حوالہ / References صحیح بخاری باب اذارأیتم الہلال فصوموا قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٥٦
صحیح بخاری کتاب العلم ، قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ١٤
#9681 · ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ (رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
حضرت معاویہ اوران کے روزہ رکھنے پر عمل نہیں کرینگے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ نہیں کیونکہ اسی طرح حکم کیا ہم کو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کہ اپنے اپنے ملك کی رؤیت لازم آتی ہے دوسرے ملك یا علاقہ والوں پر لازم نہیں ہوتی اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ جن لوگوں نے روزہ توڑ دیا اور دوسروں کے روزے قریب آٹھ بجے کے تڑوادئے بغیر چاند دیکھے تو اب روزے رکھنے والے کو توبہ کرنا اور روزہ کی قضاء رکھنا چاہئے یا نہیں
الجواب :
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
صوموالرؤیتہ وافطر والرؤیتہ فان غم علیکم فاکملواعدۃ شعبان ثلثین۔
چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو اگر موسم ابر آلود ہوتوتم پر تیس دنوں کا پورا کرنا ضروری ہے(ت)
روزہ اور افطار دونوں کی بناء حضور نے رؤیت پر رکھی توخود رؤیت ہو یا دوسری جگہ کی رؤیت کا ثبوت شرعی ہو اگر چہ دونوں جگہ فاصلہ مشرق ومغرب کاہو یہی ظاہرالروایۃ ہے اور یہی صحیح و معتمد ہے۔ درمختار وغیرہ میں ہے :
یلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذا ثبت ذلك عندھم رؤیۃ اولئك بطریق موجب شرعی ۔
اہل مشرق پر اہل مغر ب کی رؤیت کی بنا پر روزہ افطار لازم ہے بشرطیکہ ان کے ہاں چاند کا ثبوت بطریق موجب شرعی ہو۔ (ت)
اس کے ثبو ت کے سات طریقے ہیں جو ہم نے اپنے فتاوی میں مفصل بیان کئے یہ بات کہ ایك دو آدمی گئے اور دوسرے شہر سے خبر لائے کہ وہاں کاچاند ہوا نہ رؤیت ہے نہ شہادت ہے نہ شہادت علی الشہادت نہ شہادت علی الحکم غرض کوئی طریقہ شرعیہ نہیں محض حکایت ہے اور وہ دربارہ ہلال اصلا معتبر نہیں کما نص علیہ فی الدروغیرہ من الاسفار (جیساکہ اس پر دروغیرہ کتب میں تصریح ہے۔ ت) اوروں کے روزے تڑوانے میں یہ مرتکب کبیرہ ہوئے اور وہ روزہ توڑنے والے اور سخت کبیرہ کے مرتکب ہوئے اور ان پر قضاء لازم اور ان کو دہلی میں اگر کوئی ثبوت شرعی بہم نہ پہنچا تھا تو ان کا جرم اور اشرہے اور ان پربھی قضاء لازم یہ ایسی صورت کا مطلق حکم ہے مگر اس سال کی نسبت کافی شرعی ثبوتوں سے دن کا ثابت ہوگیا لہذا قضاء کی حاجت نہیں البتہ بلاثبوت شرعی جو حکم شرع پر جرأت کی اس سے توبہ کی حاجت مگر جبکہ شعبان کا سمجھ کر روزے رکھے تو یکم رمضان کے روزے کی قضا لازم ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔
_________________
حوالہ / References صحیح بخاری باب اذا رأیتم الہلال فصوموا قدیمی کتب خانہ کراچی١ / ٢٥٦
درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
#9682 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
مسئلہ : از بڑودہ گجرات باڑہ نواب صاحب مرسلہ نواب سید معین الدین حسن خاں بہادرمحرم الحرامھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رؤیت ہلال شریعت میں کس طرح ثابت ہوتی ہےبحوالہ کتب مع ترجمہ اردو جواب عطاہو۔ بینواتوجروا
الجواب :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط:
الحمدﷲالذی جعل الشمس ضیاء و القمر نورا والصلوۃ والسلام علی من صار الدین بطلوع ہلالہ بدرامنیرا وعلی الہ وصحبہ الکاملین نورا والمکملین تنویرا۔
سب تعریفا ت اﷲکے لیے جس نے شمس کو ضیاء اور قمر کونوربنایا صلوۃ وسلام اس ذات اقدس پر جس کی آمد سے دین اسلام تمام ادیان میں بدر منیر بن گیا آپ کے آل واصحاب پر جو نور کے اعتبار سے کامل اور تنویر کے اعتبار سے مکمل ہیں(ت)
ثبوت رؤیت ہلال کے لیے شرع میں ساتطریقے ہیں :
#9683 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
طریق اول : خود شہادت رؤیت یعنی چاند دیکھنے والے کی گواہی ہلال رمضان مبارك کے لیے ایك ہی مسلمان عاقل بالغ غیر فاسق کا مجرد بیان کافی ہے کہ میں نے اس رمضان شریف کا ہلال فلاں دن کی شام کو دیکھا اگر چہ کنیز ہو اگر چہ مستور الحال ہو جس کی عدالت باطنی معلوم نہیں ظاہر حال پابند شرع ہے اگر چہ اس کا یہ بیان مجلس قضاء میں نہ ہو اگر چہ گواہی دیتا ہوں نہ کہے نہ دیکھنے کی کیفیت بیان کرے کہ کہاں سے دیکھا کدھر کو تھا کتنا اونچا تھا وغیر ذلک۔ یہ اس صورت میں ہے کہ شعبان کو مطلع صاف نہ ہو چاند کی جگہ ابر یا غبار ہو اور بحال صفائی مطلع اگر ویسا ایك شخص جنگل سے آیا یا بلند مکان پر تھا تو بھی ایك ہی کا بیان کافی ہوجائے گا ورنہ دیکھیں گے کہ وہاں کے مسلمان چاند دیکھنے میں کوشش رکھتے ہیں بکثرت لوگ متوجہ ہوتے ہیں یا کاہل ہیں دیکھنے کی پروا نہیں بے پروائی کی صورت میں کم سے کم دودرکار ہوں گے اگر چہ مستور الحال ہوں ورنہ ایك جماعت عظیم چاہئے کہ اپنی آنکھ سے چاند دیکھنا بیان کرے جس کے بیان سے خوب غلبہ ظن حاصل ہوجائے کہ ضرور چاند ہوا اگر چہ غلام یا کھلے فساق ہوں اور اگر کثرت حد تواتر کو پہنچ جائے کہ عقل اتنے شخصوں کا غلط خبر پر اتفاق محال جانے توایسی خبر مسلم وکافر سب کی مقبول ہے۔ باقی گیارہ ہلالوں کے واسطے مطلقا ہر حال میں ضرور ہے کہ دومرد عادل یا ایك مرد دو عورتیں عادل آزاد جن کا ظاہری و باطنی حال تحقیق ہو کہ پابند شرع ہیں قاضی شرع کے حضور لفظ اشھد گواہی دیں یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے اس مہینے کا ہلال فلان دن کی شام کو دیکھا اور جہاں قاضی شرع نہ ہو تو مفتی اسلام اس کا قائم مقام ہے جبکہ تمام اہل شہر سے علم فقہ میں زائد ہو اس کے حضور گواہی دیں اور اگر کہیں قاضی و مفتی کوئی نہ ہوتو مجبوری کو اور مسلمانوں کے سامنے ایسے عادل دومرد یا ایك مرد دو عورتوں کا بیان بے لفظ اشھد بھی کافی سمجھاجائے گا ان گیارہ ہلالوں میں ہمیشہ یہی حکم ہے مگر عیدین میں اگر مطلع صاف ہو اور مسلمان رؤیت ہلال میں کاہلی نہ کرتے ہوں اور وہ دو گواہ جنگل یا بلندی سے نہ آئے ہوں تو اس صورت میں وہی جماعت عظیم درکار ہے اسی طرح جہاں اور کسی چاند مثلا ہلال محرم کا عام مسلمان پورا اہتمام کرتے ہوں تو بحالت صفائی مطلع جبکہ شاہدین جنگل یا بلندی سے نہ آئیں تو ظاہراجماعت عظیم ہی چاہئے کہ جس وجہ سے اس کا ایجاب رمضان و عیدین میں کیا گیا تھا یہاں بھی حاصل ہے۔ درمختار میں ہے :
قیل بلادعوی وبلا لفظ اشھد وحکم و مجلس قضاء للصوم مع علۃ کغیم وغبار خبر عدل او مستورلا فاسق اتفاقا ولوقنا او انثی بین کیفیۃ الرؤیۃ اولا علی
ابرو غبار کی حالت میں ہلال رمضان کے لیے ایك عادل یا مستور الحال کی خبر کافی ہے اگر چہ غلام یا عورت ہو رؤیت کی کیفیت بیان کرے خواہ نہ کرے دعوی یا لفظ اشھد یا حکم یا مجلس قاضی کسی کی شرط نہیں مگر فاسق کا بیان بالاتفاق مردود ہے اور عید
#9684 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
المذہب وشرط للفطر مع العلۃ العدالۃ و نصاب الشھادۃ ولفظ اشھد ولو کانوابلدۃ لاحاکم فیھا صاموابقول ثقۃ وافطر واباخبار عدلین مع العلۃ للضرورۃ وقیل بلاعلۃ جمع عظیم یقع غلبۃ الظن بخبرھم وعن الامام یکتفی بشاھدین واختارہ فی البحر وصحح فی الاقضیۃ الاکتفاء بواحد ان جاء من خارج البلد او کان علی مکان مرتفع واختارہ ظہیرالدین وھلال الاضحی وبقیۃ الاشھر التسعۃ کالفطر علی المذھب اھ مختصرا
کے لیے بحال ناصافی مطلع عدالت کے ساتھ دومرد یا ایك مرد دو۲ عورت کی گواہی بلفظ اشھد ضرور ہے اور اگر ایسے شہر میں ہوں جہاں کوئی حاکم اسلام نہیں تو بوجہ ضرورت بحال ابروغبار ایك ثقہ شخص کے بیان پر روزہ رکھیں اور دو عادلوں کی خبر پر عید کرلیں اور جب ابر و غبار نہ ہو تو ایسی بڑی جماعت کی خبر مقبول ہوگی جس سے ظن غالب حاصل ہوجائے اور امام سے مروی ہوا کہ دو گواہ کافی ہیں اور اسی کو بحرالرائق میں اختیار کیا اور کتاب الاقضیہ میں فرمایا صحیح یہ ہے کہ ایك بھی کافی ہے اگر جنگل سے آئے یا بلند مکان پر تھا اور اسی کو امام ظہیرالدین نے اختیار فرمایا اور ذی الحجہ اور باقی نو مہینوں کے چاند کاوہی حکم ہے جو ہلال عید الفطر کا۔ اھ مختصرا
ردالمحتار میں ہے :
شرط القبول عند عدم علۃ فی السماء لہلال الصوم اوالفطر اخبار جمع عظیم لان التفرد من بین الجم الغفیر بالرؤیۃ مع توجھھم طالبین لما توجہ ھو الیہ مع فرض عدم المانع ظاھر فی غلطہ بحر ولا یشترط فیھم العدالۃ امداد ولا الحریۃ قھستانی قولہ واختارہ فی البحر حیث قال ینبغی العمل علی ھذھ الروایۃ فی زماننا لان الناس تکاسلت عن ترائی الاھلۃ فانتفی قولھم مع توجھھم طالبین و
جب آسمان صاف ہوتو ہلال روزہ وعید کے قبول کو جماعت عظیم کی خبر شرط ہے اس لیے کہ بڑی جماعت کہ وہ بھی چاند دیکھنے میں مصروف تھی اس میں صرف دو ایك شخص کو نظر آنا حالانکہ مطلع صاف ہے ان دو ایك کی خطا میں ظاہر ہے ایسا ہی بحرالرائق میں ہے اور جماعت عظیم میں عدالت شرط نہیں ایسا ہی امداد الفتاح میں ہے نہ آزادی شرط ہے ایسا ہی قہستانی میں ہے اور بحرالرائق میں فرمایا کہ جب لوگ چاند دیکھنے میں کاہلی کریں تو اس روایت پر عمل چاہئے کہ دو گواہ کافی ہیں کہ اب وہ وجہ نہ رہی “ کہ سب چاند دیکھنے میں مصروف تھے اور مطلع صاف تھا تو فقط انہی دو کو نظر آنا “
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٤٩-١٤٨
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٠
#9685 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
ظاہر الولوالجیۃ والظھیریۃ یدل علی ان ظاہرالروایۃ ھو اشتراط العدد والعدد یصدق باثنین اھ وفی زماننا مشاھد من تکاسل الناس فلیس فی شھادۃ الاثنین تفرد من بین الجم الغفیر حتی یظھرغلط الشاھد فانتفت علۃ ظاھرالروایۃ فتعین الافتاء بالروایۃ الاخری وفی کافی الحاکم الذی ھو جمع کلام محمد فی کتبہ ظاہر الروایۃ وتقبل شھادۃ المسلم و المسلمۃ عد لاکان اوغیر عدل بعد ان یشھد انہ رأی خارج المصر اوانہ رأہ فی المصر وفی المصر علۃ تمنع العامۃ من التساوی فی رؤیتہ اھ ولا منا فاۃ بینھما لان اشتراط الجمع العظیم اذاکان الشاھد من المصر فی مکان غیرمرتفع فالثانیۃ مقیدۃ لاطلاق الاولی بدلیل ان الاولی علل فیھا ردالشہادۃ بان التفرد ظاہر فی الغلط وعلی مافی الثانیۃ لم توجد علۃ الردولھذا قال فی المحیط فلایکون تفردہ بالرؤیۃ خلاف الظاہرالخ قولہ وبقیۃ الشھر التسعۃ لا یقبل فیھا الاشھادۃ رجلین اورجل وامرأتین عدول احرار غیر محدو دین کما فی سائرالاحکام بحر عن شرح
بعید از قیاس ہے اور ولوالجیہ وظہیریہ سے ظاہر ہوتاہے کہ ظاہرالروایۃ میں صرف تعدد گوہان کی شرط ہے اور تعدد دو سے بھی ہوگیا انتہی اور ہمارے زمانے میں لوگوں کاکسل آنکھوں دیکھا ہے تو دو کی گواہی کو یہ نہ کہیں گے کہ جمہور کے خلاف انہی کو کیسے نظر آگیا جس سے گواہ کی غلطی ظاہر ہو تو ظاہر الروایۃ کی وجہ نہ رہی تو اس دوسری روایت پر فتوی دینا لازم ہوا
اور کافی حاکم جس میں امام محمد کا تمام کلام کتب ظاہرالروایۃ کا جمع فرمادیا ہے یوں ہے کہ رمضان میں ایك مسلمان مرد یا عورت عادل یا مستورا لحال کی گواہی مقبول ہے جبکہ یہ گواہی دے کہ اس نے جنگل میں دیکھا یا شہر میں دیکھا اور کوئی سبب ایسا تھا جس کے باعث اوروں کو نظر نہ آیا انتہی اور ان دونوں روایتوں میں منافات نہیں اس لیےکہ جماعت عظیم کی شرط وہاں ہے کہ گواہ شہر میں غیر مکان بلند پر ہوتو یہ پچھلی روایت اس پہلی کے اطلاق کی قید بتاتی ہے اور اس پر دلیل یہ کہ پہلی میں ایك کی گواہی نہ ماننے کی وجہ یہ فرمائی کہ تنہا اس کا دیکھنا غلطی میں ظا ہر ہے اور اس پچھلی صورت یعنی جبکہ وہ جنگل میں یا بلند مکان پر تھا وہ رد کی وجہ نہ پائی گئی اس لیے محیط میں فرمایا کہ اس حالت میں تنہا ا س کا دیکھنا خلاف ظاہر نہ ہوگا الخ اور باقی نو مہینوں میں مقبول نہ ہوگی مگر گواہی دو مردوں یا ایك مرد دوعورتوں عادل آزاد کی جن پر حد قذف نہ لگ چکی ہو جیسے باقی تمام معاملات میں ۔ اسی طرح
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠١
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠١
#9686 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
مختصر الطحاوی للامام الاسبیجابی والظاھر انہ فی الاھلۃ التسعۃ لافرق بین الغیم والصحو فی قبول الرجلین لفقد العلۃ الموجبۃ لاشتراط الجمع الکثیر وھی توجہ الکل طالبین ویؤیدہ قولہ کما فی سائرالاحکام اھ ملتقطا۔
بحرالرائق میں امام اسبیجابی شرح مختصر طحاوی سے ہے اور ظاہر یہ ہے کہ ان نو چاندوں میں صفائی وعدم صفائی مطلع کا کچھ فرق نہیں ہر حال میں دو کی گواہی قبول ہوگی کہ وہ وجہ جو وہاں شرط جماعت عظیم کی باعث تھی کہ سب ہلال کو تلاش کرتے ہیں یہاں موجود نہیں کہ ان نومہینوں کا چاند عام لوگ تلاش نہیں کرتے ہیں اور اس کی تائید کرتا ہے امام اسبیجابی کا وہ فرمانا کہ ان میں وہ درکار ہے جو باقی تمام معاملات میں اھ ملتقطا
حدیقہ ندیہ میں ہے :
اذا خلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامور مؤکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم و یصیرون ولاۃ فاذا عسر جمعھم علی واحد استقل کل قطر باتباع علمائہ فان کثروا فالمتبع اعلمھم فان استووا اقرع بینھم۔
جب زمانہ ایسے سلطان سے خالی ہوجو معاملات شرعیہ میں کفایت کرسکے تو شرعی سب کام علماء کوسپرد ہونگے اور مسلمانوں پر لازم ہوگا کہ اپنے ہرمعاملہ شرعیہ میں ان کی طرف رجوع کریں وہ علماء ہی قاضی و حاکم سمجھے جائیں گے پھر اگر سب مسلمانوں کا ایك عالم پر اتفاق مشکل ہو تو ہر ضلع کے لوگ اپنے علماء کا اتباع کریں گے اگر ضلع میں عالم کثیر ہوں توجو سب میں زیادہ احکام شریعت کا علم رکھتا ہے اس کی پیروی ہوگی اور اگر علم میں برابر ہوں توان میں قرعہ ڈالیں منہ غفرلہ
طریق دوم : شہادۃ علی الشہادۃ یعنی گواہوں نے چاند خود نہ دیکھا بلکہ دیکھنے والوں نے ان کے سامنے گواہی دی اور اپنی گواہی پر انہیں گواہ کیا انہوں نے اس گواہی کی گواہی دی یہ وہاں ہے کہ گواہاں اصل حاضری سے معذور ہوں اور اس کاطریقہ یہ ہے کہ گواہ اصل گواہ سے کہے میری اس گواہی پر گواہ ہوجا کہ میں گواہی دیتا ہوں میں نے ماہ فلاں سنہ فلاں کا ہلال فلاں دن کی شام کو دیکھا۔ گواہان فرع یہاں آکر یوں شہادت دیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ فلاں بن فلاں نے مجھے اپنی اس گواہی پر گواہ کیا کہ فلاں بن فلاں مذکور نے ماہ فلاں سنہ فلاں کا ہلال فلاں دن کی شام کو دیکھا اور فلاں بن فلاں مذکور نے مجھ سے کہا کہ میری اس گواہی پر گواہ ہوجا پھر اصل شہادت رؤیت میں اختلاف احوال کے ساتھ جو احکام گزرے ان کا لحاط ضرور ہے مثلا ماہ رمضان میں مطلع صاف تھا
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٣
الحدیقۃ الندیہ ، النوع الثالث من انواع العلوم الثلاثۃ ، مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ، ا / ٣٥١
#9687 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
تو صرف ایك کی گواہی مسموع نہ ہونی چاہئے جب تك جنگل میں یا بلند مکان پر دیکھا نہ بیان کرے ورنہ ایك کی شہادت اور اس کی شہادت پر بھی صرف ایك ہی شاہد اگر چہ کنیز مستورۃ الحال ہو بس ہے اور باقی مہینوں میں یہ توہمیشہ ضرور ہے کہ ہر گواہ کی گواہی پر دو مرد یا ایك مرد دو عورت عادل گواہ ہوں اگر چہ یہی دو مرد ان دواصل میں ہر ایك کے شاہد ہوں مثلا جہاں عیدین میں صرف دوعادلوں کی گواہی مقبول ہے زید وعمر و دو عادلوں نے چاند دیکھا اور ہر ایك نے اپنی شہادت پر بکر و خالد دومرد عادل کو گواہ کر دیا کہ یہاں آکر بکر اور خالد ہر ایك نے زید و عمر و دونوں کی گواہی پر گواہی دی کافی ہے یہ ضرور نہیں کہ ہر گواہ کے جداجدا دو گواہ ہوں اور یہ بھی جائز ہے کہ ایك اصل خود آکر گواہی دے اور دوسرا گواہ اپنی گواہی پر دو گواہ جد اگانہ کر بھیجے ہاں یہ جائز نہیں کہ ایك گواہ اصل کے دو گواہ ہوں اور انہیں دونوں میں سے ایك خود اپنی شہادت ذاتی بھی دے۔ درمختار میں ہے :
الشہادۃ علی الشہادۃ مقبولۃ وان کثرت استحسانا فی کل حق علی الصحیح الافی حد وقود بشرط تعذر حضورالاصل بمرض اوسفر و اکتفی الثانی بغیبتہ بحیث یتعذران یبیت باھلہ واستحسنہ غیر واحد وفی القہستانی والسراجیۃ وعلیہ الفتوی واقرہ المصنف اوکون المرأۃ مخدرۃ لاتخالط الرجال وان خرجت لحاجۃ وحمام قنیۃ عندالشہادۃ عند القاضی قید للکل وبشرط شہادۃ عددنصاب ولو رجلا وامرأتین عن کل اصل ولوامرأۃ لاتغایر فرعی ھذاوذاک وکیفیتھا ان یقول الاصل مخاطبا للفرع ولوابنہ بحر اشھد علی شہادتی انی اشھد بکذا ویقول الفرع اشھد ان فلانا اشھد نی علی شہادتہ بکذا وقال لی اشھد علی شھادتی
گواہی مقبول ہے اگر چہ یکے بعد دیگر ے کتنے ہی درجے تك پہنچے مثلاگواہان اصل نے زید و عمر و کو گواہ بنایا انہوں نے اپنی اس شہادت علی الشہادت پر بکر و خالد کو گواہ کردیا خالد نے اپنی اس شہادت علی الشہادت پر سعید و حمید کو شاہد بنالیا وعلی ھذاالقیاس)اور مذہب صحیح پر یہ امر حدود و قصاص کے سوا ہر حق میں جائز ہے اس شرط سے کہ جس وقت قاضی کے حضور ادائے شہادت ہوئی اس وقت وہاں اصل گواہ کا آنا مرض یا سفر یا زن پر دہ نشین ہونے کے باعث متعذر ہواور امام ابی یوسف کے نزدیك تین منزل دور ہونا ضرور نہیں بلکہ اتنی دوری کافی ہے کہ گواہی دے کر رات کو اپنے گھر نہ پہنچ سکے بکثرت مشائخ نے اس قول کو پسند کیا اور قہستانی و سراجیہ میں ہے کہ اسی پر فتوی ہے۔ مصنف نے اسے مسلم رکھا اورعورت کی پردہ نشینی یہ کہ مردوں کے مجمع سے بچتی ہو اگر چہ اپنی کسی ضرورت کے لیے باہر نکلے یا حمام جائے ایسا ہی قنیہ میں ہے۔ اور یہ بھی شرط ہے کہ ہر اصل
#9688 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
بذلك اھ مختصرا۔
گواہ اگر چہ عورت کی گواہی پر پورا نصاب شہادۃ ہو یعنی دو مرد یا ایك مرد دو عورتیں گواہی دیں ہاں یہ ضرور نہیں کہ ہر گواہ اصل کے دو دو جدا گانہ گواہوں اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ گواہ اصل گواہ فرع سے اگر چہ وہ اس کا بیٹا ہو خطاب کرکے کہے تو میری اس گواہی پر گواہ ہوجا کہ میں یہ گواہی دیتا ہوں اور گواہ فرع یوں ادائے شہادت کرے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ فلاں نے مجھے اپنی گواہی پر گواہ کیا اور مجھ سے کہا کہ میری اس گواہی پر گواہ ہوجا۔ اھ مختصرا۔
اسی کے بیان ہلال رمضان میں ہے :
وتقبل شہادۃ واحد علی اخر کعبد وانثی ولو علی مثلھما۔
ایك کی گواہی دوسرے پر مثلا غلام یا عورت کی شہادت اگر چہ اپنی ہی جیسے پر ہلال رمضان میں مقبول ہے جبکہ ایك کی گواہی وہاں مسموع ہونے کے قابل ہوجیسے بحالت ناصافی مطلع۔
ردالمحتار میں ہے :
لو شھدا علی شہادۃ رجل واحد ھما یشھد بنفسہ ایضالم یجز کذا فی المحیط السرخسی فتاوی الھندیۃ ولو شھد واحد علی شھادۃ نفسہ وآخران علی شہادۃ غیرہ یصح وصرح بہ فی البزازیۃ اھ مختصرا
اگر دو گواہوں نے ایك مرد کی شہادت پر شہادت کی اور ان میں ایك خود بذاتہ گواہ ہے تو یہ جائز نہیں ایسا ہی فتاوی عالمگیری میں محیط امام سرخسی سے ہے اور اگر ایك نے خود گواہی دی اور دوسرے دو نے اور شخص کی شہادت پر شہادت ادا کی تو یہ درست ہے بزازیہ میں اس کی تصریح ہے۱۲
فتاوی علمگیریہ میں ذخیرہ سے ہے :
ینبغی ان یذکر الفرع اسم الشاھد الاصل واسم ابیہ وجدہ حتی لوترك ذلك فالقاضی لا یقبل شہادتھما کذا فی الذخیرۃ۔
گواہ فرع کو چاہئے کہ گواہ اصل اور اس کے باپ اور دادا سب کا نام ذکر کرے یہاں تك کہ اسے چھوڑدے گا توحاکم اس کی گواہی قبول نہ کرے گا کذافی الذخیرہ۔ ۱۲
حوالہ / References دُرمختار باب الشہادت علی الشہادت مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ١٠٠
دُرمختار ، کتاب الصّوم ، مطبع مجتبائی دہلی ، ١ / ١٤٨
ردالمحتار باب الشہادت علی الشہادۃ مصطفی البابی مصر ٤ / ٤٣٧
فتا وٰی ہندیۃ الباب الحادی عشر فی الشہادۃ علی الشہادۃ نورانی کتب خانہ پشاور ، ٣ / ٥٢٤
#9689 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
شہادۃ علی الشہادۃ میں یہ بھی ضرور ہے کہ ا سکے مطابق حکم ہونے تک گواہان اصل بھی اہلیت شہادت پر باقی رہیں اور شہادت کی تکذیب نہ کریں مثلا گواہان فرع نے ابھی گواہی نہ دی یا دی اور اس پر ہنوز حکم نہ ہوا تھا کہ گواہان اصل سے کوئی گواہ اندھایا گونگا یا مجنون یا معاذاﷲمرتد ہوگیا یاکہا کہ میں نے ان گواہوں کو اپنی شہادت کا گواہ نہ کیا تھا یا غلطی سے گواہ کردیا تھا تو یہ شہادت باطل ہوجائے گی۔ درمختار میں ہے :
تبطل شہادۃ الفروع بخروج اصلہ عن اھلیتھا کخرس وعمی وبانکار اصلہ الشھادۃ کقولھم مالنا شہادۃ اولم نشھد اواشھد ناھم وغلطنا اھ مختصرا
اصل شاہد کے اہلیت سے نکل جانے کے سبب سے فروع کی شہادت باطل ہوجاتی ہے مثلا شاہد گونگا یا نابینا ہوگیا یا اصل شاہد شہادت سے انکاری ہو مثلا اصول یوں کہیں ہم گواہ نہیں یا ہم نے ان کو گواہ نہیں کیا یا ہم نے ان کو گواہ کیا اور غلط کہا ۔ (ت)
طریق سوم : شہادۃ علی القضاء یعنی دوسرے کسی اسلامی شہر میں حاکم اسلام قاضی شرع کے حضور رؤیت ہلال پر شہادتیں گزریں اور اس نے ثبوت ہلال کا حکم دیا دو شاہدان عادل اس گواہی و حکم کے وقت حاضر دارالقضاء تھے انہوں نے یہاں حاکم اسلام قاضی شرع یا وہ نہ ہو تو مفتی کے حضور کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں ہمارے سامنے فلاں شہر کے فلاں حاکم کے حضور فلاں ہلال کی نسبت فلاں دن کی شام کو ہونے کی گواہیاں گزریں اور حاکم موصوف نے ان گواہیوں پر ثبوت ہلال مذکور شام فلاں روز کا حکم دیا فتح القدیر شرح ہدایہ میں ہے :
لوشھدواان قاضی بلد کذا شھد عندہ اثنان برؤیۃ الہلال فی لیلۃ کذاوقضی بشھادتھما جاز لھذاالقاضی ان یحکم بشھادتھما لان قضاء القاضی حجۃ وقد شھد وابہ۔
اگر گواہوں نے گواہی دی کہ فلاں شہر کے فلاں قاضی کے پاس فلاں رات میں چاند دیکھنے پر دو آدمیوں نے گواہی دی تو قاضی ان کی شہادت پر فیصلہ دے دیا ہے تو اس قاضی کے لیے ان دونوں کی شہادت کی وجہ سے فیصلہ دینا جائز ہے کیونکہ قضائے قاضی حجت ہے اور انہوں نے اس پر گواہی دی ہے۔ (ت)
اسی طرح فتاوی قاضیخاں و فتاوی خلاصہ وغیرھما میں ہے۔
قلت وقیدہ فی التنویر تبعا للذ خیرۃ عن مجموع النوازل باستجماع شرائط
قلت تنویر میں ذخیرہ کی اتباع کرتے ہوئے مجموع النوازل کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے یہ قید لگائی کہ دعوی
حوالہ / References درمختار باب الشہادۃ علی الشہادۃ مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ١٠٠
فتح القدیر کتاب الصوم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٢٤٣
#9690 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
الدعوی و وجھہ العلامۃ الشامی بتوجیھین لنا فی کل منھما کلام حققناہ فیما علیہ علقناہ فراجعہ ثمہ فانہ من الفوائد المھمۃ۔
کے تمام شرائط کا پایا جانا ضروری ہے اور علامہ شامی نے اس کی دو توجیہات بیان کی ہیں ان میں سے ہرایك پر ہمیں کلام ہے اس کی پوری تفصیل ہم نے حاشیہ ردالمحتار میں بیان کردی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں وہ نہایت ہی اہم ہے(ت)
طریق چہارم : کتاب القاضی الی القاضی یعنی قاضی شرع جسے سلطان اسلام نے فصل مقدمات کے لئے مقرر کیا ہو اس کے سامنے شرعی گواہی گزری اس نے دوسرے شہر کے قاضی شرع کے نام خط لکھا کہ میرے سامنے اس مضمون پر شہادت شرعیہ قائم ہوئی اور اس خط میں اپنا اور مکتوب الیہ کا نام و نشان پورا لکھا جس سے امتیاز کافی واقع ہو اور وہ خط دو گواہان عادل کے سپرد کیا کہ یہ میرا خط قاضی فلاں شہر کے نام ہے و ہ باحتیاط اس قاضی کے پاس لائے اور شہادت ادا کی آپ کے نام یہ خط فلاں قاضی فلاں شہر نے ہم کو دیا اور ہمیں گواہ کیا کہ یہ خط اس کا ہے اب یہ قاضی اگر اس شہادت کو اپنے مذہب کے مطابق ثبوت کے لیے کافی سمجھے تو اس پر عمل کرسکتا ہے(اور بہتر یہ ہے کہ قاضی کا تب خط لکھ کر ان گواہوں کو سنا دے یا اس کا مضمون بتادے اور خط بند کرکے ان کے سامنے سر بمہر کردے اور اولی یہ کہ اس کا مضمون ایك کھلے ہوئے پرچے پر الگ لکھ کر بھی ان شہود کو دے دے کہ اسے یا د کرتے رہیں یہ آکر مضمون پر بھی گواہی دیں کہ خط میں یہ لکھا ہے اور سر بمہر خط اس قاضی کے حوالہ کریں یہ زیادہ احتیاط کے لیے ہے ورنہ خیر اسی قدر کافی ہے کہ دومردوں یا ایك مرد دو عورتیں عادل کو خط سپرد کرکے گواہ کرلے اور وہ باحتیاط یہاں لاکر شہادت دیں)بغیر اس کے اگر خط ڈاك میں ڈال دیا یا اپنے آدمی کے ہاتھ بھیج دیا تو ہرگز مقبول نہیں اگر چہ وہ خط اسی قاضی کا معلوم ہوتا ہو اور اس پر اس کی اور اس کے محکمہ قضا کی مہر بھی لگی ہو(اور یہ بھی ضرور ہے کہ جب تك یہ خط قاضی مکتوب الیہ کو پہنچے اور وہ اسے پڑھ لے اس وقت تك کاتب زندہ رہے اور معزول نہ ہو ورنہ اگر خط پڑھے جانے سے پہلے مرگیا یا برخاست ہوگیا تو اس پر عمل نہ ہوگا اور بحالت زندگی یہ بھی ضرور ہے کہ جب تك مکتوب الیہ اس خط کے مطابق حکم نہ کرلے اس وقت تك کاتب عہدہ قضا کا اہل رہے ورنہ اگر حکم سے پہلے کاتب مثلامجنوں یا مرتد یا اندھا ہوگیا تو بھی خط بیکار ہوجائے گا۔ درمختار میں ہے :
القاضی یکتب الی القاضی بحکمہ وان لم یکن الخصم حاضر الم یحکم وکتب الشھادۃ لیحکم المکتوب الیہ بھا علی رائہ وقرأالکتاب علیھم اوا علمھم بہ
ایك قاضی دوسرے قاضی کی طرف حکم نامہ لکھے اگر خصم حاضر نہ ہو تو قاضی فیصلہ نہ کرے اور گواہی لکھ لے تاکہ قاضی مکتوب الیہ گواہی کے ذریعے اپنی رائے کے مطابق فیصلہ صادر کردے اور قاضی کاتب خط مذکور کو شہود پر
#9691 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
وختم عندھم وسلم الیھم بعد کتابۃ عنوانہ وھوان یکتب فیہ اسمہ واسم المکتوب الیہ وشھر تھماواکتفی الثانی بان یشھد ھم انہ کتابہ وعلیہ الفتوی ویبطل الکتاب بموت الکاتب وعزلہ قبل القرأۃ وبجنون الکاتب وردتہ وحدہ لقذف وعمائہ لخروجہ عن الاھلیۃ وکذابموت المکتوب الیہ لخروجہ عن الاھلیۃ الااذاعمم ولایقبل کتاب القاضی من محکم بل من قاض مولی من قبل الامام (ملخصا)۔
پڑھے یا انہیں اس کے مضمون سے آگاہ کر دے پھر خط پر پتایوں تحریر کرے کہ اپنا اور مکتوب الیہ کانام اور دونوں کی شہرت یعنی وہ لفظ یا لقب ضرور لکھے جس سے وہ مشہور ہوں۔ اور امام ابویوسف نے اس پر اکتفاء کیا ہے کہ قاضی کاتب شاہدوں کو صرف اس پر گواہ کرلے کہ وہ اس کاخط ہے۔ فتوی اسی قول پر ہےـ اور خط پڑھے جانے سے قبل قاضی کاتب کی موت اور اس کی معزولی کے سبب باطل ہوجاتاہے ۔ اسی طرح قاضی کاتب کے مجنون مرتد محدود فی القذف اور نابینا ہوجانے پر بسبب نکل جانے اہلیت قضا سے خط باطل ہوجاتا ہے یونہی مکتوب الیہ قاضی کی موت سے سبب نکل جانے اہلیت قضاء سے خط باطل ہو جائے گا مگر اس صورت میں مکتوب الیہ قاضی کی موت سے خط باطل نہیں ہوتا جب کاتب قاضی تعمیم کردے مثلایوں کہ جو وہاں کا قاضی ہو یہ خط اس کی طرف ہے اور خط حکم کی طرف سے مقبول نہیں بلکہ اس قاضی کی طرف سے مقبول ہے جو سلطان کی طرف سے معین ہو(ملخصا)(ت)
درر وغررمیں ہے :
لایقبلہ ایضا الابشھادۃ رجلین او رجل و امرأتین لان الکتاب قد یزوراذ الخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم فلا یثبت الابحجۃ تامۃ۔
تحریر مقبول نہ ہوگی مگر دو مردوں کی گواہی یا ایك مرد اور خواتین کی گواہی کے بعد کیونکہ تحریر میں جعلسازی ہوجاتی ہے اور تحریر دوسری تحریر کی مشابہ ہوسکتی ہے اسی طرح مہر دوسری مہر کے مشابہ ہوسکتی ہے لہذا حجت کاملہ کے بغیر تحریر کا ثبوت نہ ہوگا۔ (ت)
طریق پنجم : استفاضہ یعنی جس اسلامی شہر میں حاکم شرع قاضی اسلام ہو کہ احکام ہلال اسی کے یہاں سے صادر ہوتے ہیں اور خود عالم اور ان احکام میں علم پر عامل وقائم یا کسی عالم دین محقق معتمد پر اعتماد کا ملتزم و
حوالہ / References درمختار باب کتاب القاضی الی القاضی مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ٨٤-٨٣
دررغرر ، باب کتاب القاضی الی القاضی ، مطبعہ احمد کامل الکائنہ دارصادر بیروت ، ٢ / ٤١٤
#9692 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
ملازم ہے یا جہاں قاضی شرع نہیں تو مفتی اسلام مرجع عوام ومتبع الاحکام ہو کہ احکام روزہ و عیدین اسی کے فتوے سے نفاذ پاتے ہیں عوام کالانعام بطور خود عید و رمضان نہیں ٹھہرالیتے وہاں سے متعدد جماعتیں آئیں اور سب یك زبان اپنے علم سے خبر دیں کہ وہاں فلاں دن بربنائے رؤیت روزہ ہوا یا عید کی گئی مجرد بازادی افواہ خبر اڑگئی اور قائل کا پتا نہیں۔ پوچھے تو یہی جواب ملتا ہے کہ سنا ہے یا لوگ کہتے ہیں یا بہت پتا چلا تو کسی مجہول کا انتہا درجہ منتہائے سند دو ایك شخصوں کے محض حکایت کہ انہوں نے بیان کیا اور شدہ شائع ہوگئی ایسی خبر ہرگز استفاضہ نہیں بلالکہ خود وہاں کی آئی ہوئی متعدد جماعتیں درکار ہیں جو بالاتفاق وہ خبر دیں یہ خبر اگر چہ نہ خود اپنی رؤیت کی شہادت ہے نہ کسی شہادت پر شہادت نہ بالتصریح قضائے قاضی پر شہادت نہ کتاب قاضی پر شہادت مگر اس مستفیض خبر سے بالیقین یا بہ غلبہ ظن ملتحق بالیقین وہاں رؤیت صوم وعید کا ہونا ثابت ہوگااور جبکہ وہ شہر اسلامی اور احکام و حکام کی وہاں پابندی دوامی ہے تو ضرور مظنون ہوگا کہ امر بحکم واقع ہوا تواس طریق سے قضائے قاضی کہ حجت شرعیہ ہے ثابت ہوجائیگی اور یہیں سے واضح ہوا کہ تاریك شہر جہاں نہ کوئی قاضی شرع نہ مفتی اسلام یا مفتی ہے مگر نااہل جسے خود احکام شرع کی تمیز نہیں جیسے آج کل کے بہت مدعیان خامکار خصوصا وہابیہ خصوصا غیر مقلدین وغیرہم فجار یا بعض سلیم الطبع سنی ناقص العلم ناتجربہ کار یا مفتی محقق معتمد عالم مستند ہے مگر عوام خود سر اس کے منتظر احکام نہیں پیش خویش اپنے قیاسات فاسدہ پر جب چاہیں عید ورمضان قرار دے لیتے ہیں ایسے شہروں کی شہرت بلکہ تواتر بھی اصلا قابل قبول نہیں کہ اس سےکسی حجت شرعیہ کا ثبوت نہ ہوا درمختار میں ہے :
شھد وا انہ شھد عند قاضی مصر کذا شاھد ان برؤیتہ الھلال وقضی بہ قضی القاضی بشہا دتھما لان قضاء القاضی حجۃ وشھد وابہ لالو شھد وابرؤیۃ غیرھم لانہ حکایۃ نعم لو استفاض الخبر فی البلدۃ الاخری لزمھم علی الصحیح من المذہب مجتبی وغیرہ (ملخصا)
دوگواہوں نے گواہی دی کہ فلاں شہر کے قاضی کے پاس چاند دیکھنے کی فلاں دوگواہوں نے گواہی دی ہے اور قاضی نے اس پر فیصلہ صادر فرمادیا ہے تو ان کی گواہی کی بناپر یہ قاضی بھی فیصلہ دے سکتا ہے کیونکہ قاضی کی قضاحجت ہے اور اس پر وہ گواہ موجود ہیں البتہ اس صورت میں قاضی فیصلہ نہیں دے سکتا جب وہ صرف غیر رؤیت پر گواہی دیں کیونکہ یہ محض حکایت ہے ہاں اگر خبر دوسرے شہر میں مشہور ہوجاتی ہوتو پھر صحیح مذہب کے مطابق ان پر روزہ لازم ہوجائے گا مجتبی وغیرہ(ملخصا)(ت)
ردالمحتار میں ہے :
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
#9693 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
ھذہ الاسفاضۃ لیس فیھا شہادۃ علی قضاء قاض ولا علی شہادۃ لکن لما کانت بمنزلۃ الخبر المتواتر وقد ثبت بھا ان اھل تلك البلدۃ صاموایوم کذا لزم العمل بھا لان البلدۃلا تخلو عن حاکم شرعی عادۃ فلابد من ان یکون صومھم مبنیا علی حکم حاکمھم الشرعی فکانت تلك الاستفاضۃ بمعنی نقل الحکم المذکور الخ
یہ شہرت نہ تو قضاء قاضی پر شہادت ہے اور نہ ہی کسی اور شہادت پر لیکن یہ خبر متواتر کے درجہ پر فائز ہے اور اس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ فلاں شہر کے لوگوں نے اس دن روزہ رکھا تواس پر عمل لازم ہوگا کیونکہ ہر شہر عادۃحاکم شرعی سے خالی نہیں ہوتا تواب ان کا روزہ ان کے حاکم شرعی کے حکم کی بنا پر ہی ہوگا گویا وہ شہرت حکم قاضی کا منقول ہوناہے۔ الخ(ت)
اسی میں ہے :
قال الرحمتی معنی الاستفاضۃ ان تأتی من تلك بلدۃ جماعات متعددون کل منھم یخبر عن اھل تلك البلدۃ انھم صامواعن رؤیۃ لامجرد الشیوع من غیرعلم بمن اشاعہ کما قد تشیع اخبار یتحدث بھا سائر اھل البلدۃ ولایعلم من اشاعھا کما ورد ان فی اخرالزمان یجلس الشیطان بین الجماعۃ ویتکلم بالکلمۃ فیتحدثون بھا ویقولون لاندری من قالھا فمثل ھذالاینبغی ان یسمع فضلا من ان یثبت بہ حکم اھ قلت وھوکلام حسن ویشیرالیہ قول الذخیرۃ اذا استفاض وتحقق فان التحقق لا یوجد مجردالشیوع۔
امام رحمتی نے فرمایا : شہرت کامعنی یہ ہے کہ اس شہر سے متعدد جماعتیں آئیں اور وہ تمام یہ اطلاع دیں کہ اس شہر میں لوگوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے محض ایسی افواہ سے نہیں جس کے پھیلانے والا معلوم نہ وہ جیسا کہ اکثر ہوتا رہتا ہے کہ بہت سی خبریں شہر میں پھیل جاتی ہیں اور ان کے پھیلانے والا معلوم نہیں ہوتا جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آخری زمانے میں شیطان لوگوں کے درمیان آکر بیٹھے گا اور بات کرے گا لوگ اسے بیان کریں گے اور کہیں گے ہم نہیں جانتے یہ بات کس نے کہی تو ایسی باتیں تو سننا ہی مناسب نہیں چہ جائیکہ ان سے حکم ثابت کیاجائے اھ قلت یہ کلام بہت اچھا ہے اور اسی کی طرف قول ذخیرہ کا اشارہ ہے کہ جب خبر مشہور اور ثابت ہو کیونکہ ثبوت محض افواہ کی بنا پر نہیں ہوتا۔ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٢
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٢
#9694 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
تنبیہ الغافل والوسنان علی احکام ہلال رمضان میں ہے :
لما کانت الاستفاضۃ بمنزلۃ الخبر المتواتر وقد ثبت بھا ان اھل تلك البلدۃ صامو ایوم کذالزم العمل بھا لان المراد بھا بلدۃ فیھاحاکم شرعی الخ
جب چاند نظر آنے کی خبر خبر متواتر کی طرح مشہور ہو اور اس سے ثابت ہوجائے کہ فلاں شہر کے لوگوں نے چاندنظر آنے پر روزہ رکھا ہے تو ایسی خبر پر عمل لازم ہوگا کیونکہ اس سے وہ شہر مراد ہوگا جس میں حاکم شرعی ہوگا الخ(ت)
دربارہ استفاضہ یہ تحقیق علامہ شامی کی ہے اور اس تقدیر پر وہ شرائط ضرور ہیں کہ صوم وعید بر بنائے حکم حاکم شرع عالم متبع احکام ہوا کرتا ہو اور ایك صورت یہ بھی متصور کہ دوسرے شہر سے جماعات کثیرہ آئیں اور سب بالاتفاق بیان کریں کہ وہاں ہمارے سامنے لوگ اپنی آنکھ سے چاند دیکھنا بیان کرتے تھے جن کا بیان مورث یقین شرعی تھا ظاہر اس تقدیر پر وہاں کسی ایسے حاکم شرع کا ہونا ضرور نہیں کہ رؤیت فی نفسہا حجت شرعیہ ہے۔
لقولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم صوموالرؤیتہ وافطر والرؤیتہ۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان مبارك ہے کہ چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو۔ (ت)
جب جماعت تواتر جماعت تواتر سے ان کی رؤیت کی ناقل ہے تورؤیت بالیقین ثابت ہوگئی اور شہادت کی حاجت نہ رہی کہ اثبات احکام میں تواتر بھی قائم مقام شہادت بلکہ اس سے اقوی ہے کہ شہادت بر خلاف تواتر آئے تورد کردی جائے اور نفی پر تواتر مقبول ہے اور شہادت نامسموع۔ عالمگیریہ میں محیط سے ہے :
ان وجد کلھم غیر ثقات یعتمد علی ذلك بتواتر الاخبار۔
اگر وہ تمام غیر ثقہ ہوں تب بھی تواتر خبر کی بنا پر اعتماد کیا جائے گا۔ (ت)
درمختار میں ہے : شھادۃ النفی المتواتر مقبولۃ۔ (نفی متواتر کی گواہی مقبول ہے۔ ت)ردالمحتار میں ہے :
فی النوادر الثانی شھداعلیہ بقول او
نوادر میں امام ابویوسف سے مروی ہے کہ دوگواہوں نے
حوالہ / References تنبیہ الغافل والوسنان رسالہ من رسائل ابن عابدین الرسالۃ التاسعۃ سہیل اکیڈمی لاہور ١ / ٢٥٢
صحیح بخاری باب اذارأیتم الہلال فصوموا قدیمی کتب خانہ کراچی١ / ٢٥٦
فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی عشرفی الجرح والتعدیل نورانی کتب خانہ پشاور ٣ / ٥٢٩
درمختار باب القبول وعدمہٖ مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ٩٨
#9695 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
فعل یلزم علیہ بذلك اجرۃ اوبیع او کتابۃ اوطلاق اوعتاق او قتل او قصاص فی مکان او زمان اوصفات فبرھن المشہود علیہ انہ لم یکن ثمہ یومئذ لاتقبل لکن قال المحیط فی الحادی والخمسین ان تواتر عند الناس وعلم الکل عدم کونہ فی ذلك المکان والزمان لاتسمع الدعوی ویقضی بفراغ الذمۃ لانہ یلزم تکذیب الثابت بالضرورۃ۔
کسی کے خلاف اس کے قول یا فعل پر گواہی دی تو مکان وقت اورصفات کو بیان سے مدعا علیہ پر الزام ثابت ہوجائے گا۔ جب یہ گواہی اجارہ بیع کتاب طلاق عتاق قتل اور قصاص سے متعلق ہو اور اگر مشہود علیہ گواہ قائم کرکے ثابت کرے کہ اس دن وہ وہاں موجود نہ تھا تو پھر گواہی مقبول نہ ہوگی۔ لیکن محیط میں مسئلہ کے تحت کہا کہ اگر لوگوں سے متواترا ثابت ہو اور ہر کوئی جانتا ہو کہ یہ شخص اس وقت تك اس جگہ موجود نہ تھا تو اب دعوی قابل سماعت نہ ہوگا اور اسے بری الذمہ قرار دیا جائے گا ورنہ ثابت بالبداہت کی تکذیب لازم آئیگی(ت)
عقو دالدریہ میں فتاوی صغیری سے ہے :
البینۃ اذاقامت علی خلاف المشہور المتواتر لاتقبل وھوان یشتھر ویسمع من قوم کثیر لایتصوراجتماعھم علی الکذب۔
جب مشہور متواتر کے خلاف گواہ قائم ہوں تو انکی گواہی مقبول نہیں مشہور متواتروہ خبر ہے کہ اتنی کثیر قوم و کثیر لوگوں میں مشہور و مسموع ہوجن کا جھو ٹا ہونا متصور نہ ہوسکتا ہو۔ (ت)
کلام علماء مثلاقول مذکور درمختار کے : لو استفاض الخبر فی البلدۃ الاخری (اگر دوسرے شہر میں خبر مشہور ہوجائے۔ ت) اور قول ذخیرہ :
قال شمس الائمۃ الحلوانی الصحیح من مذہب اصحابنا ان الخبر اذااستفاض وتحقق فیما بین اھل البلدۃ الاخری یلزمھم حکم ھذہ البلدۃ اھ وغیر ذلک۔
شمس الائمہ حلوائی نے کہا کہ ہمارے احناف کا صحیح مسلك یہ ہے کہ خبر مشہور متحقق ہوجائے تو اس شہر والوں پر بھی وہ حکم لازم ہوجاتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب القبول وعدمہٖ مصطفی البابی مصر ٤ / ٤٣١
العقودالدریۃ کتاب الشہادۃ و مطالبہ ارگ بازار قندھار ١ / ٣٦۱
درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
ردالمحتار بحوالہ الذخیرہ کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٢
#9696 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
بلا شبہ اس صورت کو بھی شامل واﷲتعالی اعلم باحکامہ۔
طریق ششم : اکمال عدت یعنی جب ایك مہینہ کے تیس دن کامل ہوجائیں تو ماہ متصل کا ہلال آپ ہی ثابت ہوجائیگا اگر چہ اس کے لیے رویت شہادت حکم استفاضہ وغیرہ کچھ نہ ہو کہ مہینہ تیس سے زائد کا نہ ہونا یقینی ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
فان غم علیکم فاکملو ا العدۃ ثلثین۔ رواہ الشیخان عن ابن عمر رضی اﷲتعالی عنہما۔
اگر مطلع ابر آلود ہوتو تیس کی تعداد مکمل کرو۔ اسے بخاری و مسلم نے حضرت عبد اﷲبن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ (ت)
یہ طریقہ صفائی مطلع کی حالت میں کافی ہے اگر چہ ہلال نظر نہ آئے جبکہ گزشتہ ہلال رؤیت واضحہ یا دوگواہان عادل کی شہادت سے ثابت ہولیاہو ہاں اگر ایك گواہ کی شہادت پر ہلال رمضان مان لیا اور اس حساب سے تیس دن آج پورے ہوگئے اور اب مطلع روشن ہے اور عید کا چاند نظر نہیں آتا تو یہ اکمال عدت کافی نہ ہوگا بلکہ صبح ایك روزہ اور رکھیں کہ اگلے ہلال کا ثبوت حجت تامہ سے نہ تھا اور باوصف صفائی مطلع تیس کے بعد بھی چاند نظر نہ آناصاف گواہ ہے کہ اس گواہ نے غلطی کی اور جبکہ وہ ہلال حجت تامہ دو گواہان عادل سے ثابت تھا تو آج بوصف صفائی مطلع نظر نہ آنا اس پر محمول ہوگا کہ ہلال بہت باریك ہے اور کوئی بخار قلیل المقدار خاص اسی کے سامنے حاجب ہے جسے صفائی عامہ افق کے سبب نظر صفائی مطلع گمان کرتی ہے یا اس کے سوا کوئی اورمانع خفی خلاف معتاد ہے ہاں اگرآج ابر غبار ہے تو مطلقا تیس پورے کرکے عید کرلیں گے اگر چہ ہلال رمضان ایك ہی شاہد کی شہادت سے مانا ہوکہ اب اس کی غلطی ظاہر نہ ہوئی ۔ تنویر میں ہے :
بعد صوم ثلثین بقول عدلین حل الفطر وبقول عدل لا۔
دو عادل گواہوں کی بناپر رمضان کے روزے تیس ہوجانے پر عید الفطر جائز ہے اور ایك عادل کی شہادت پر جائز نہیں (ت)
درمختار میں ہے :
نقل ابن الکمال عن الذخیرۃ انہ ان غم ھلال الفطر حل اتفاقا الخ
وتمام تحقیقہ فی ردالمحتار وما علقنا علیہ۔
ابن کمال نے ذخیرہ سے نقل کیا کہ اگر مطلع ابر آلود ہوا تو عید بالاتفاق جائز الخ(ت)
اسکی تمام تفصیل ردالمحتار اور اس پر ہمارے حاشیہ میں ہے(ت)
حوالہ / References صحیح بخاری باب اذارأیتم الہلال فصوموا قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٥٦
تنویر الابصار مع درمختار کتا ب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
درمختار شرح تنویرالابصار ، کتا ب الصوم ، مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
#9697 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
طریق ہفتم : علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے توپیں سننے کو بھی حوالی شہر کے دیہات والوں کے واسطے دلائل ثبوت ہلال سے گنا ۔ ظاہر ہے کہ یہاں بھی وہی شرائط مشروط ہوں گے کہ اسلامی شہر میں حاکم شرع معتمد کے حکم سے انتیس کی شام کو توپوں کے فائر صرف بحالت ثبوت شرعی رؤیت ہلال ہوا کرتے ہوں کسی کے آنے جانے کی سلامی وغیرہ کا اصلا احتمال نہ ہو ورنہ شہر اگر چہ اسلامی ہو مگر وہاں احکام شرعیہ کی قدر نہیں احکام نہال بے خرد یا نیچری رافضی وغیرہم بد مذہبوں کے حوالے ہیں جنہیں نہ قواعد شرعیہ معلوم نہ ان کے اتباع کی پروا اپنی رائے ناقص میں جو آیا اس پر حکم لگادیا توپیں چل گئیں تو ایسی بے سروپا باتیں کیا قابل لحاظ ہوسکتی ہیں کما لایخفی پھر جہاں کی توپیں شرعا قابل اعتماد ہوں ان پر عمل اہل دیہات ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ عند التحقیق خاص اس شہر والوں کو بھی ان پر اعتماد سے مفر نہیں کہ حاکم شرع کے حضور شہادتیں گزرنا اس کا ان پر حکم نافذ کرنا ہر شخص کہاں دیکھتا سنتا ہے بحکم حاکم اسلام اعلان عام کے لیے ایسی ہی کوئی علامت معہودہ معروفہ قائم کی جاتی ہے جیسے توپوں کے فائر یا ڈھنڈورا وغیرہ۔
اقول : یہیں سے ظاہر ہوا کہ ایسے اسلامی شہر میں منادی پر بھی عمل ہوگا حتی کہ اس کی عدالت بھی شرط نہیں جبکہ معلوم ہو کہ بے حکم سلطانی ایسا اعلان نہیں ہوسکتا۔ عالمگیریہ میں ہے :
خبر منادی السلطان مقبول عدلاکان او فاسقاکذافی جواھر الاخلاطی ۔
سلطان کے منادی کی خبر مقبول ہوگی خواہ منادی عادل ہویا فاسق جیسا کہ جواہراخلاطی میں ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
قلت والظاھرانہ یلزم اھل القری الصوم بسماع المدافع اورؤیۃ القنادیل من المصر لانہ علامۃظاہرۃتفید غلبۃ الظن وغلبۃ الظن حجۃ موجبۃ للعمل کما صرحو بہ واحتمال کون ذلك لغیررمضان بعید اذلا یفعل مثل ذلك عادۃ فی لیلۃ الشك الا لثبوت رمضان۔
قلت اور ظاہری یہی ہے کہ اہل دیہات پر شہر سے توپوں کی آواز اور قندیلوں کو دیکھنے سے روزہ لازم ہوجاتا ہے کیونکہ یہ علامت ظاہرہ ہے اس سے غلبہ ظن حاصل ہوتا ہے اور غلبہ ظن عمل کا موجب ہوتا ہے جیسا کہ فقہا نے اس پر تصریح کی ہے اور یہ احتمال کہ یہ عمل رمضان کے علاوہ کسی کام کے لیے ہو بعید ہے کیونکہ شك کی رات یہ عمل ثبوت رمضان کے علاوہ کسی اور کام کے لیے عادۃنہیں ہوتا۔ (ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الاول فی العمل بخبر واحد نورانی کتب خانہ پشاور٥ / ٣٠٩
ردالمحتار ، کتاب الصوم ، مصطفی البابی مصر ٢ / ٩٩
#9698 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
منحۃ الخالق میں ہے :
لم یذکرواعندنا العمل بالامارات الظاھرۃ الدالۃ علی ثبوت الشھر کضرب المدافع فی زماننا والظاھر وجوب العمل بھا علی من سمعھا ممن کان غائبا عن المصر کاھل القری ونحوھا کما یجب العمل بھا علی اھل المصر الذین لم یروا الحاکم قبل شہادۃ الشھود وقد ذکر ھذا الفرع الشافعیۃ فصرح ابن حجر فی التحفۃ انہ یثبت بالا مارۃ الظاھرۃ الدالۃ التی لاتتخلف عادۃ کرؤیۃ القنادیل المعلقۃ بالمنابر ومخالفۃ جمع فی ذلك غیر صحیحۃ اھ
علماء نے یہ ذکر نہیں کیاکہ ہمارے نزدیك امارات ظاہر مثلا ہمارے دور میں توپوں کا چلنا جوثبوت ماہ پر دال ہیں پر عمل لازم ہے اور ظاہر یہی ہے کہ اس پر شہر سے غائب آواز سننے والے پر عمل واجب ہے مثلا اہل دیہات وغیرہ پر جیسا کہ اس پر عمل کرنا ان اہل شہر کیلئے واجب ہے جنہوں نے گواہوں کی گواہی سے پہلے حاکم کو نہ دیکھا ہو اور یہ جزئیہ شوافع نے بھی بیان کیا ہے ابن حجر نے تحفہ میں تصریح کی ہے کہ روزے کا ثبوت ان علامات ظاہرہ سے ہوجاتا ہے جو عادۃاس موقع پر معروف ہوں مثلا مناروں پر معلق قنادیل روشن کا دیکھنا اور کہا کہ ایك جماعت نے اس کی مخالفت کی ہے جو صحیح نہیں اھ (ت)
تنبیہ دربارہ ہلال غیر رمضان و شوال:جہاں دوسرے شہر کی رؤیت سے یہاں حکم ثابت کیا جائے جیسے دوم سے پنجم تك چار طریقوں میں ان کے بارے میں علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ کی رائے یہ ہے کہ اگر وہ دوسرا شہر اس شہر سے اس قدر مغرب کو نہ ہٹا ہو جس کے باعث رؤیت ہلال میں اختلاف پڑسکے جب تو وہ طریقے ہر ہلال میں کام دیں گے ورنہ غیر رمضان و شوال میں معتبر نہ ہوں گے یعنی اگر وہ شہر اس شہر سے اتنا غربی ہے جس کی مقدار بعض علماء نے یہ رکھی ہے کہ بہترمیل یا زیادہ اس کا طول شرقی اس کے طول شرقی سے کم ہو اور وہاں کی رؤیت ہلال ذی الحجہ پر مثلا شہادت یا شہادت علی الشہادت یا شہادت علی القضا گزری یا کتاب القاضی یا خبر متواتر آئی تو یہاں اس پر عمل نہ ہوگا بلالکہ اپنے ہی شہر یا اس کے قریب مواضع یا شرقی بلاد سے اگر چہ کتنے ہی فاصلے پر ہوں ثبوت آنے پر مدار رکھیں گے اور نہ ملا تو تیس کی گنتی پوری کریں گے۔ ردالمحتار میں فرمایا :
یفھم من کلامھم فی کتاب الحج ان اختلاف المطالع فیہ معتبر فلا یلزمھم
کتاب الحج میں فقہاء کے کلام سے مفہوم ہے کہ حج میں اختلاف مطالع کا اعتبار ہے لہذا ان حجاج پر
حوالہ / References منحۃ الخالق علی البحرالرائق ، کتاب الصوم قبیل باب یفسد الصوم الخ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٢٧٠
#9699 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
شئی لو ظہر انہ رؤی فی بلدۃ اخری قبلھم بیوم وھل یقال کذلك فی حق الاضحیۃ لغیر الحجاج لم ارہ والظاھر نعم لان اختلاف المطالع انما لم یعتبر فی الصوم لتعلقہ بمطلق الرؤیۃ وھذا بخلاف الاضحیۃ فالظاھر انھا کاوقات الصلوۃ یلزم کل قوم العمل بماعندھم فتجزئ الاضحیۃفی الیوم الثالث عشروان کان علی رؤیا غیرھم ھو الرابع عشر۔
کوئی شئی لازم نہ ہوگی اگر یہ ظاہر ہوا کہ فلاں شہر میں ایك دن پہلے چاند دیکھا گیا کیا یہی بات غیر حجاج کے لیے قربانی کے بارے میں کہی جاسکتی ہے یا نہیں میرے مطالعہ میں اس کاجواب نہیں آیا لیکن ظاہر یہی ہے کہ معتبر ہے کیونکہ روزہ میں اختلاف مطالع کا اعتبار اس لیے نہیں کیا جاتا کہ اس کا تعلق مطلق رؤیت سے ہے بخلاف قربانی کے اس میں ظاہریہی ہے کہ یہ اوقات نمازکی طرح ہے کہ ہر قوم پر اپنے اپنے وقت کے مطابق لازم ہوگی تو انکی تیرھویں کی قربانی کافی ہوجائے گی اگر چہ غیر کی رؤیت کے مطابق وہ چودہویں ہو۔ (ت)
اقول : مگر صحیح اس کے خلاف ہے کلام علماء صاف مطلق و عام اور اس تخصیص میں بوجوہ کلام
فان رسول اﷲتعالی علیہ وسلم علل اسقاط اعتبار الحساب بانا امۃامیۃلانکتب ولا نحسب۔ کما رواہ الشیخان وابوداؤد و النسائی وغیرھم عن ابن عمر رضی اﷲتعالی عنھما وھذہ العلۃ تعم الاھلۃ وھذا وان کان خلاف القیاس فلا یمتنع الالحاق بہ دلالۃ وان امتنع قیاسا کما قد نص علیہ العلماء ومنھم العلامۃ الشامی فی نفس ھذاالکتاب ولا شك ان ذا الحجۃ کالفطر سواء بسواء
رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حساب و کتاب کی اسقاط کی علت یہ بیان فرمائی کہ ہم امی لوگ ہیں نہ لکھتے ہیں نہ حساب کرتے ہیں جیساکہ بخاری مسلم ابوداؤد اور نسائی وغیرہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے اور یہ علت تمام چاندوں کو شامل ہے اور یہ اگر چہ قیاس کے مخالف ہے لیکن دلالۃ الحاق سے مانع نہیں اگر چہ قیاسا مانع ہے جیسے کہ اس پر علماء نے تصریح کی ہے اور ان میں سے خود اس کتاب میں امام شامی نے بھی تصریح کی ہے اور اس میں کوئی شك نہیں کہ ذی الحجہ کا چاند بعینہ فطر کے چاند کے مطابق ہے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٥
صحیح بخاری باب قول النبی صلی اﷲعلیہ وسلم لانکتب ولانحسب قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٥٦ ، سنن ابی داؤد اول کتاب الصیام مطبع مجتبائی لاہور ١ / ٣١٧
#9700 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
وقد قال رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم الفطر یوم یفطر الناس والا ضحی یوم یضحی الناس اخرجہ الترمذی بسند صحیح عن ام الومنین الصدیقۃ رضی اﷲتعالی عنھا وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فطر کم یوم یفطرون و اضحا کم یوم تضحون رواہ ابوداؤد و البیہقی بسند صحیح عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ۔
ثم اقول : ھذاکلہ کلام معہ علی تسلیم ان النوط بالرؤیۃ انما وردفی الصوم والفطر ولیس کذلك بل قد ثبت کذلك فی الاضحیۃ فقد اخرج ابوداؤد والدارقطنی عن امیر مکۃ الحارث بن حاطب رضی اﷲتعالی عنہ قال عھد الینا رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم ان ننسك للرؤیۃ فان لم نرہ وشھد شاھد اعدل نسکنا بشھادتھما قال الدارقطنی ھذا اسناد متصل صحیح فانقطع مبنی
کیونکہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کافرمان ہے کہ فطر کا دن وہی ہے جس دن لوگوں نے افطار کیا اور قربانی اسی دن ہے جس دن لوگوں نے قربانی دی۔ ترمذی نے اسے صحیح سند کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیاہے۔ اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے تمھاری فطر کا دن وہ ہے جس میں تم افطار کرو اور تمہاری اضحی کا دن وہ ہے جس میں تم قربانی کرو۔ اسے ابوداؤد اور بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے(ت)
ثم اقول : (پھر میں کہتا ہوں) یہ تمام کلام اس صورت میں ہے جب یہ تسلیم ہوکہ رؤیت پر مدار صرف صوم اور فطر کے بارے میں وارد ہے حالانکہ ایسی بات نہیں بلکہ اسی طرح ثبوت تو قربانی میں بھی ہے امام ابو داؤد اور دار قطنی نے امیر مکہ حضرت حارث بن حاطب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہ ہم سے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس بارے میں یہ عہد لیا تھا کہ ہم چاند دیکھنے کی بناء پر قربانی کریں اور اگر ہم چاند نہ دیکھ سکیں اور دو عادل آدمی گواہی دے دیں تو ان کی شہادت کی بناء پر قربانی کریں۔ دار قطنی نے فرمایا اسکی سند متصل اور صحیح ہے
حوالہ / References الجامع للترمذی ، باب ماجاء فی الفطر والاضحی متی یکون ، امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ١ / ٩٩
سنن ابی داؤد کتا ب الصیام باب اذااخطاء القوم الہلال مطبع مجتبائی لاہور ١ / ٣١٨
سنن الدار قطنی باب الشہادت علی رؤیۃ الہلال نشر السنۃ ملتان ٢ / ١٦٧
سنن الدار قطنی باب الشہادت علی رؤیۃ الہلال نشر السنۃ ملتان ٢ / ١٦٧
#9701 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
البحث من راسہ واستبان الحق وﷲالحمد اماما تمسك بہ من مسئلۃ الحج فاقول لاحجۃ فیھا فانھما فیما اری لدفع الحرج العظیم ونظیرہ مافی التنویروالدر تبین ان الامام صلی بغیر طھارۃ تعادالصلوۃ دون الاضحیۃ لان من العلماء من قال لا یعید الصلوۃ الا الامام وحدہ فکان للاجتھاد فیہ مساغ زیلعی کما لو شہدوا انہ یوم العید فصلو اثم ضحوا ثم بان انہ یوم عرفۃ اجز أتھم الصلوۃ والتضحیۃ لانہ لایمکن التحرز عن مثل ھذاالخطاء فیحکم بالجواز صیانۃ لجمع المسلمین زیلعی اھ ملخصا مصححا ثم رأیت بحمداﷲالتصریح بہ فی اللباب وشرحہ بل فی نفس الشرح المتعلق بہ الدرالمختار حیث قال شھد وابعد الوقوف بوقوفھم بعد وقتہ لا تقبل شھادتھم والوقوف صحیح استحسانا حتی الشھود للحرج الشدید الخ فقد ظہرالحق والحمد ﷲ رب العالمین۔
تو بحث کی بنیاد ہی ختم ہوگئی اور حق واضح ہوگیا وﷲالحمد رہا معاملہ مسئلہ حج سے استدلال تو میں کہتا ہوں کہ اس میں کوئی دلیل نہیں کیونکہ میرے خیال کے مطابق حج کا مسئلہ دفع حرج عظیم پر مبنی ہے اور اس کی نظیر تنویر اور در میں ہے کہ اگر واضح ہوگیا کہ امام نے بغیر طہارت کے نماز پڑھائی تو نماز لوٹائی جائے گی نہ کہ قربانی کیونکہ بعض علماء نے یہ فرمایا کہ نماز کا صرف امام ہی اعادہ کرے تو اب یہ مسئلہ اجتہادی قرار پایا زیلعی ۔ جیساکہ گواہوں نے گواہی دی کہ یہ عید کا دن ہے تو لوگوں نے نماز پڑھی پھر قربانی دی بعد میں واضح ہوا کہ یہ عرفہ کا دن تھاتو ان کی نمازاور قربانی جائز قرار دی جائے کیونکہ ایسی غلطی سے بچنا ممکن نہیں تو مسلمانوں کے اجتماع کے تحفظ کے پیش نظر جواز کا حکم یہی لگایا جائے گا زیلعی اھ ملخصا مصححا
بحمداﷲ پھر میں نے اللباب اور اس کی شرح بلکہ خود شرح درمختار کے مسئلہ سے متعلق درمختار میں تصریح دیکھی کہ اگر گواہوں نے وقوف عرفہ کے بعد گواہی دی کہ یہ وقوف وقت کے بعد ہوا ہے تو یہ گواہی مقبول نہ ہوگی اور حاجیوں کاوقوف استحسانا صحیح ہوگا یہاں تك کہ گواہوں کا وقوف بھی صحیح ہوگا ورنہ حرج شدید لازم آئیگا الخ تواب حق ظاہر ہوگیا والحمد ﷲ رب العالمین۔
غرض ثبوت ہلال کے شرعی طریقے یہ ہیں ان کے سوا جس قدر طرق لوگوں نے ایجاد کئے محض باطل و مخذول و ناقابل قبول ہیں خیالات عوام کا حصر کیا ہومگر آج کل جہال میں غلط طریقے جو زیادہ رائج ہیں وہ بھی
حوالہ / References درمختار کتاب الاضحیہ مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ٢٣٢
درمختار باب الہدی مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٨٣
#9702 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
سات۷ہیں :
یکم حکایت رؤیت : یعنی کچھ لوگ کہیں سے آئے اور خبر دی کہ وہاں فلاں دن چاند دیکھا گیا وہاں کے حساب سے آج تاریخ یہ ہے ظاہرہے کہ یہ نہ شہادت رؤیت ہے کہ انہوں نے خود نہ دیکھا نہ شہادت علی الشہادت کہ دیکھنے والے ان کے سامنے گواہی دیتے اور انہیں اپنی گواہیوں کا حامل بناتے اور یہ حسب قواعد شرعیہ یہاں شہادت دیتے بلکہ مجرد حکایت جس کا شرع میں اصلا اعتبار نہیں اگر چہ یہ لوگ بھی ثقہ معتمد ہوں اور جن کا دیکھنا بیان کریں وہ بھی ثقہ مستند ہوں نہ کہ جہال جہال میں تو یہ رائج ہے کہ کوئی آئے کیسا ہی آئے کسی کے دیکھنے کی خبر لائے اگر چہ خود اس کا نام بھی نہ بتائے بلکہ سرے سے اس سے واقف ہی نہ ہو ایسی مہمل خبروں پر اعتماد کر لیتے ہیں۔ فتح القدیر و بحرالرائق و عالمگیریہ وغیرہا میں ہے :
لو شہد جماعۃ ان اھل بلدۃ کذارأواھلال رمضان قبلکم بیوم فصامواوھذا الیوم ثلثون بحسابھم ولم یرھؤلاء الھلال لایباح فطر غد ولا تترك التراویح فی ھذہ اللیلۃ لانھم لم یشھد وابالرؤیۃ ولا علی شہادۃ غیرھم وانما حکوارؤیۃ غیرھم۔
اگر کسی جماعت نے گواہی دی کہ فلاں شہر کے لوگوں نے تم سے ایك دن پہلے چاند دیکھا اور انہوں نے روزہ رکھا ہے اور یہ دن ان کے حساب سے تیسواں بنتا ہواور ان لوگوں نے چاند نہیں دیکھا تھا تو ان کے لیے آئندہ دن افطار کی اجازت نہیں اور نہ یہ اس رات تراویح چھوڑسکتے ہیں کیونکہ گواہوں نے نہ تو رؤیت پر گواہی دی اور نہ غیر کی رؤیت پر شہادت دی بلکہ انہوں نے رؤیت غیر کی حکایت کی ہے(ت)
دوم افواہ : شہرمیں خبر اڑ جاتی ہے کہ فلاں جگہ چاند ہوا جاہل اسے تواتر واستفاضہ سمجھ لیتے ہیں حالانکہ جس سے پوچھئے سنی ہوئی کہتا ہے ٹھیك پتا کوئی نہیں دیتا یا منتہائے سند صرف دو ایك شخص ہوتے ہیں اسے استفاضہ سمجھ لینا محض جہالت ہے اس کی صورتیں وہ ہیں جو ہم نے طریق پنجم میں ذکر کیں۔ منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرائق میں ہے :
اعلم ان ا لامراد بالاستفاضۃ تواتر الخبر من الواردین من بلدۃ الثبوت الی بلدۃ التی لم یثبت بھا لا مجرد الاستفاضۃ لانھا قد تکون مبینۃ علی اخبار رجل واحد مثلا فیشیع الخبر عنہ ولا شك ان ھذا
واضح ہوکہ شہرت سے مراد چاند ہونے والے شہر سے دوسرے شہر میں آنے والے لوگوں کی خبر کا تواتر ہے محض شہرت کافی نہیں کیونکہ بعض اوقات کسی ایك آدمی کی خبر کی بناء پر مشہور ہوجاتا ہے اور یہ بلاشبہ کافی نہ ہوگی کیونکہ فقہاء کا قول یہ ہے کہ
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی فی رؤیۃ الہلال نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٩٩ ، بحرا لرائق کتاب الصوم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٢٧٠
#9703 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
لایکفی بدلیل قولھم اذااستفاض الخبر وتحقق فان التحقق لایکون الابما ذکرنا۔
جب خبر مشہور اور متحقق ہوکیونکہ تحقق مذکورہ بات کے علاوہ ہو ہی نہیں سکتا۔ (ت)
قیر کو بارہا تحریر ہوا کہ ایسی شہرتیں محض بے سر وپا نکلتی ہیں اسی ذی الحجہ میں خبر شائع ہوئی کہ آنولے میں چاند ہوا ہے وہاں عامل لوگوں نے دیکھا اور فقیر کے ایك دوست کا خاص نام بھی لیا گیا وہ آئے اور خود اپنی رؤیت اور وہاں سب کا دیکھنا بیان کرتے تھے فقیر نے ان کے پاس ایك معتمد کو بھیجا وہاں سے جواب ملا کہ یہاں ابر غلیظ تھا نہ میں نے دیکھا نہ کسی اور نے دیکھا پھر خبر اڑی کہ شاہجہان پور میں تو ایك ایك شخص نے دیکھا فقیر نے وہاں بھی ایك معتمد ثقہ کو اپنے ایك دوست عالم کے پاس بھیجا انہوں نے فرمایا اس کا حال میں آپ کو مشاہدہ کرائے دیتا ہوں ان کا ہاتھ پکڑ کر شہر میں گشت کیا دروازہ دروازہ دریافت کرتے پھرتے عید کب ہے کہا جمعہ کی کہا کیا چاند دیکھا کہا کہ دیکھا تو نہیں کہا پھر کیوں اس کا جواب کچھ نہ تھا شہر بھر سے یہی جواب ملا صرف ایك شخص نے کہا میں نے منگل کو چاند دیکھا تھا اور میرے ساتھ فلاں فلاں صاحب نے بھی ۔ اب یہ عالم مع ان معتمد کے دوسرے صاحب کے پاس گئے ان سے دریافت کیا کہا وہ غلط کہتا تھا اور خود ان دونوں صاحبوں کے ساتھ ان گواہ صاحب کے پاس آئے اب یہ بھی پلٹ گئے کہ ہاں کچھ یا دنہیں ۔ پھر خبر گرم ہوئی کہ رامپور میں چاند دیکھا گیا اور جمعہ کی عید قرار پائی فقیر نے دو ثقہ شخصوں کو وہاں کے دوعلمائے کرام اپنے احباب کے اپس بھیجا معلوم ہوا وہاں بھی ابر تھا کسی نے بھی نہ دیکھا اس بارے میں اتنا معلوم ہوا کہ وہاں دو شخص دہلی سے دیکھ کر آئے ہیں ان علماء نے ان دو شاہدوں کو بلا کر ان دو ثقات کے سامنے شہادت دلوائی اور جو الفاظ فقیر نے انہیں لکھوادئے تھے وہ ان سے کہلواکر ان کو تحمیل شہادت کر ائی اوردنوں عالم صاحبوں نے خود ان دونوں شہود اصل کا تزکیہ کیا اب ان دونوں فرع نے یہاں آکر شہادت علی الشہادت حسب قاعدہ شرعیہ دی اس وقت فقیر نے عید کا فتوی دیا دیکھئے افواہ اخبار کی یہ حالت ہوتی ہے ولا حول ولا قوۃ الاباﷲالعلی العظیم۔
سوم خطوط و اخبار : بڑی دوڑیہ ہوتی ہے کہ فلاں جگہ سے خط آیا فلاں اخبار میں یہ لکھا پایا حالانکہ ہم طریق چہارم میں بیان کرچکے کہ حاکم شرع کا خاص مہری دستخطی خط جس پر خود اس کی اور محکمہ دارالقضا کی مہر لگی اور اس کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہو اور یہاں بھی حاکم شرع کے نام آئے ہرگز بغیر دو شاہدوں عادل کے جنہیں لکھ کر اپنی کتاب کا گواہ بنا کر خط سپرد کیا اور یہاں انہوں نے حاکم شرع کو دے کر شہادت اداکی ہو مقبول نہیں پھر یہ ڈاك کے پرچے کیا قابل التفات ہوسکتے ہیں اور اخبار گپیں تو اصلا نام لینے کے بھی قابل نہیں۔ درمختار میں ہے : لا یعمل بالخط (خط پر عمل
حوالہ / References منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرئق کتاب الصوم قبیل باب مایفسد الصوم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٢٧٠
درمختار ، باب کتاب القاضی الی القاضی ، مطبع مجتبائی دہلی۔ ٢ / ٨٣
#9704 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
نہیں کیاجائے گا۔ ت)ہدایہ میں ہے : الخط یشبہ الخط فلم یحصل العلم (تحریر دوسری تحریر کے مشابہ ہوسکتی ہے تو علم قطعی حاصل نہ ہوا۔ ت)
چہارم تار : یہ خط سے بھی زیادہ بے اعتبار خط میں کاتب کے ہاتھ کی علامت تو ہوتی ہے یہاں اس قدر بھی نہیں تو اس پر عمل کوکون کہے گا مگر اجہل سا اجہل جسے علم کے نام سے بھی مس نہیں فقیر نے اس کے رد میں ایك مفصل فتوی لکھا اور بحمد اﷲتعالی اس پر ہندوستان کے بکثرت علماء نے مہریں کیں کلکتے میں چھپ کر شائع ہوا تھا گنگوہی ملا نے اپنے ایك فتوی میں تار کی خبر اسباب میں معتبر ٹھہرائی اور اسے تحریر خط پر قیاس کیا تھا کہ تار کی خبر مثل تحریر خط کے ہے کیونکہ تحریر میں حروف اصطلاحی ہیں جس سے مطلب معلوم ہوجاتا ہے خواہ بحرکت قلم پیداہوں خواہ کسی لاٹھی یا بانس طویل کی حرکت سے (الی قولہ)بہر حال خبر تار کی مثل خط ہے اور معتبر ہے یعنی خط میں قلم سے لکھتے ہیں تار دینا ایسا ہے کہ کسی بڑے بانس سے جوہزاروں کوس تك لمبا ہے لکھ دیا تو جیسے وہ معتبر ہے ویسے ہی یہ بلکہ یہ تو زیادہ معتبر ہونا چاہئے کہ وہاں چھوٹا ساقلم ہے اور یہاں اتنا بڑابانس تواعتبار بھی اسی نسبت پر بڑھنا چاہئے شملہ بہ مقدار قلم قیاس تو اچھا دوڑا تھا مگرافسوس کہ شرعا محض مردود وناکام رہا۔ اولا : خط و تار میں جو فرق ہیں ہم نے اپنے فتوی مفصلہ میں ذکر کئے جو اس قیاس کو از بیخ برکندہ کرتے اور ان سے قطع نظر بھی کیجئے تو بحکم شرع خط ہی پر عمل حرام پھر اس بانس کے قیاس کاکیا کام حکم مقیس علیہ میں باطل ہے تو مقیس آپ ہی عاری و عاطل ہے مولوی صاحب لکھنوی نے اپنے فتاوی میں خط و تار کو بے اعتبار ہی ٹھہرایا اور اس حکم میں حق کی موافقت کی مگر یہ کہنا ہر گز صحیح نہیں کہ خبر تار یا خط بدرجہ کثر ت پہنچ جائے تو اس پر عمل ہوسکتا ہے اسے استفاضہ میں داخل سمجھنا صریح غلط استفاضے کے معنے جو علماء نے بیان فرمائےتھے وہ تھے کہ طریق پنجم میں مذکور ہوئے متعدد جماعتوں کا آنا اور یك زبان بیان کرنا چاہئے یہاں اگر متعدد جگہ سے خط یا تار آئے بھی تو اولا وہ ان وجوہ نا جوازی سے جنہیں ہم نے اس فتوی میں مفصلا ذکر کیا ہرگز بیان مقبول کے سلسلے میں نہیں آسکتے ڈاك کے منشی تار کے بابو چٹھی رساں اکثر کفار یا عمومامجاہیل یافساق فجار ہوتے ہیں اور بفرض باطل آئیں بھی تویہ تعدد مخبر عنہ میں ہوا نہ کہ مخبرین میں کہ یہاں تار لینے والے بابواگر مسلمان ثقہ ہوں بھی تو ہرگز اتنی جماعات متعدد ہ نہ ہوں گی جن کی اخبار پر یقین شرعی حاصل ہو بلکہ عامہ بلاد میں صرف دو ایك ہی تار گھر ہوتے اور صدر ڈاك خانہ تو ایك ہی ہوتاہےاگرچہ بڑے شہر میں تقسیم کے لیے دو چار برانچ اور بھی ہوں بہر حال یہ خط یا تار ہم کو تو معدود ہی شخصوں کے ذریعہ سے ملیں گے پھر استفاضے سے کیاعلاقہ ہوا کیا اگر زیدآکر کہہ دے کہ فلاں جگہ لاکھ آدمیوں نے چاند دیکھا تو یہ خبر مستفیض
حوالہ / References ہدایہ باب کتاب القاضی الی القاضی مطبع یوسفی لکھنؤ ٣ / ١٣٩
#9705 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
کہلائے گے ولاحول ولا قوۃ الاباﷲالعلی العظیم۔
پنجم جنتریوں کا بیان : کہ فلاں دن پہلی ہے اول بعض علمائے شافعیہ و بعض معتزلہ وغیرہم کا خیال اس طرف گیا تھا کہ مسلمان عادل منجموں کا قول اس بارے میں معتبر ہوسکتا ہے اور بعض نے قید لگائی تھی کہ جب ان کی ایك جماعت کثیر یك زبان بیان کرے کہ فلاں مہینے کی یکم فلاں روز ہے تو مقبول ہونے کے قابل ہے اگر چہ واجب العمل کسی کے نزدیك نہیں مگر ہمارے ائمہ کرام اور جمہورمحققین اعلام اسے اصلا تسلیم نہیں فرماتے اور اس پر عمل جائز ہی نہیں رکھتے اور یہی حق ہے کہ حضور پر نور سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم صحیح حدیث میں یہاں قول منجمین سے قطع نظر وعدم لحاظ کی تصریح فرما چکے پھر اب اس پر عمل کا کیا محل۔ درمختار میں ہے :
لاعبرۃ بقول الموقتین ولوعدولا علی المذہب۔
صحیح مذہب کے مطابق اہل توقیت کا قول معتبر نہیں اگر چہ وہ عادل ہو۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
بل فی المعراج لایعتبر قولھم بالاجماع ولا یجوز للمنجم ان یعمل بحساب نفسہ۔
بلکہ معراج میں ہے کہ اہل توقیت کا قول بالاجماع معتبر نہیں اور منجمین کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے حساب پر عمل پیرا ہوں(ت)
جب منجمین مسلمین ثقات عدول کے بیان کا یہ حال تو آجکل کی جنتر یوں جو عموما ہنود وغیرہم کفار شائع کرتے ہیں یا بعض نیچری نام کے مسلمان یا بعض مسلمان بھی تو وہ بھی انہی ہندوانی جنتریوں کی پیروی سے کیا قابل التفات ہوسکتی ہیں فقیر نے بیس برس سے بڑی بڑی نامی جنتریاں دیکھیں اول مصرانی ہیئت ہی ناقص و مختل ہے پھر ان جنتری سازوں کو اس کی بھی پوری تمیز نہیں تقویمات کواکب میں وہ وہ سخت فاحش غلطیاں دیکھنے میں آئیں جن میں کوئی سمجھ دار بچہ بھی نہ پڑتا پھر یہ کیا اور ان کی جنتری کیا اور ان کی دوج اور پروا کی کسے پروا!
ششم قیاسات و قرائن : مثلا چاند بڑا تھا روشن تھا دیر تك رہا تو ضرور کل کا تھا آج بیٹھ کر نکلا تو ضرور پندرھویں ہے اٹھائیسویں کو نظر آیا تھا مہینہ تیس کا ہوگا اٹھائیسویں کو بہت دیکھا نظر نہ آیا مہینہ انتیس کا ہوگا۔ یہ قیاسات تو حسابات کی وقعت بھی نہیں رکھتے پھر ان پر عمل محض جہل و زلل ۔ حدیث میں ہے حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
حوالہ / References درمختار کتاب الصّوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٨
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٠
#9706 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
من اقتراب الساعۃ انتفاخ الاھلۃ۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن عبداﷲبن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ۔
قرب قیامت کی علامات سے ہے کہ ہلال پھولے ہوتے نکلیں گے۔ یعنی دیکھنے میں بڑے معلوم ہوں گے۔ (اسے طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت عبداﷲبن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے ۔ ت)
دوسری حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من اقتراب الساعۃ ان یری الہلال قبلا ویقال ھو للیلتین۔ رواہ فی الاوسط عن انس رضی اﷲتعالی عنہ۔
علامات قیامت سے ہے کہ چاند بے تکلف نظر آئے گا کہا جائیگا دو رات کا ہے (اسے طبرانی نے اوسط میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
صحیح مسلم شریف میں ابو البختری سعید بن فیروز سے ہے :
قال خرجنا للعمرۃ فلما نزلنا ببطن نخلۃ قال تراء ینا الھلا ل فقال بعض القوم ھو ابن ثلاث وقال بعض القوم ھو ابن لیلتین فقال ای لیلۃ رأیتموہ قال قلنا لیلۃ کذا وکذا فقال ان رسول اﷲصلی اﷲعلیہ وسلم مدہ للرؤیۃ فھو للیلۃ رأیتموہ۔
ہم عمر ے کو چلے جب بطن نخلہ میں اترے ہلال دیکھا کوئی بولاتین رات کا ہے کسی نے کہادورات کا عبداﷲبن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے ملے ان سے عرض کی کہ ہم نے ہلال دیکھا کوئی کہتا ہے تین شب کا مدار ہے کوئی دوشب کا۔ فرمایا : تم نے کس رات دیکھا ہم نے کہا فلاں شب۔ کہا رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس کا مدار رؤیت پر رکھا ہے تو وہ اسی رات کا ہے جس رات نظر آیا۔
ہفتم کچھ استقرائی کچھ اختراعی قاعدے : مثلا رجب کی چوتھی رمضان کی پہلی ہوگی۔ رمضان کی پہلی ذی الحجہ کی دسویں ہوگی۔ اگلے رمضان کی پانچویں اس رمضان کی پہلی ہوگی۔ چار مہینے برابر تیس تیس کے ہوچکے ہیں یہ ضرور انتیس کا تین پے درپے انتیس کے ہوئے ہیں یہ ضرور تیس کا ہوگا۔ ان کا جواب اسی قدر میں ہے : ما انزل اللہ بہا من سلطن (حق سبحانہ نے ان باتوں پر کوئی دلیل نہ اتاری۔ )وجیز امام کردری میں ہے :
حوالہ / References المعجم الکبیر للطبرانی حدیث١٠٤٥١ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ١٠ / ٢٤٤
کنزالعمال بحوالہ طبرانی اوسط ، حدیث ٣٨٤۷۰۔ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ، ١٤ / ٢٢٠
صحیح مسلم باب بیان انہ لا اعتباریکرہ الہلال وصغرہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٣٤٨
القرآن ١٢ / ٤٠
#9707 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
شھر رمضان جاء یوم الخمیس لایضحی ایضا فی یوم الخمیس مالم یتحقق انہ یوم النحر وما نقل عن علی رضی اﷲتعالی عنہ ان یوم اول الصوم یوم النحر لیس بتشریع کلی بل اخبار عن اتفاقی فی ھذہ السنۃ وکذاما ھو الرابع من رجب لایلزم ان یکون غرۃ رمضان بل قد یتفق ۔
رمضان کا مہینہ جمعرات کو شروع ہوا تو یوم خمیس کو قربانی جائز نہ ہوگی جب تك اس بات کا ثبوت نہ ہوجائے کہ یہ قربانی کا دن ہے اور جو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ روزے کا پہلا دن عید کا دن ہوتا ہے یہ شریعت کا قاعدہ کلیہ نہیں بلکہ اس سال اتفاقا ایسا ہوجانے کا بیان ہے۔ اسی طرح جو رجب کا چوتھا دن ہے لازم نہیں وہ رمضان کا پہلا دن ہو ہاں کبھی ایسا اتفاقا ہوجاتا ہے(ت)
خزانۃ المفتین میں فتاوی کبری سے ہے :
مایروی ان یوم نحرکم یوم صومکم کان وقع ذلك العام بعینہ دون الابدلان من اول یوم رمضان الی غرۃ ذی الحجۃ ثلاثۃ اشھر فلا یوافق یوم النحر یوم الصوم الاان یتم شھر ان من الثلثۃ وینقص الواحد فاذا تمت الشہور الثلثۃ تتأخر عنہ واذاانقصت الشہور الثلثۃ اوشہران تقدم علیہ فلا یصح الاعتماد علی ھذا۔
یہ جو مروی ہے کہ تمھاری عید کا دن تمہارے روزے کا دن ہے یہ ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ معین سال میں ایسا واقعہ ہوا تھا کیونکہ رمضان کے پہلے دن سے لے کر ذوالحجہ کے پہلے دن تك تین ماہ ہوتے تو یوم نحر اور یوم صوم میں موافقت نہیں ہوسکتی مگر اس صورت میں کہ جب ان تین ماہ میں سے دو کامل ہوں اور ایك ناقص اب اگر تینوں ماہ کامل ہوتے ہیں تو اس سے تأخر ہوگا اور اگر تین یا دو ناقص ہوجاتے ہیں تو پھر اس پر تقدم ہوگا لہذا اس پر اعتماد درست نہیں۔ (ت)
یہ کلام اجمالی بقدر کفایت ہے اور ان احکام کی تفصیل تام رسائل و مسائل فقیر میں ہے وباﷲ التو فیق واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : از پیلی بھیت مسئولہ عبدالجلیل سوداگر صفر المظفر ھ
جناب مولانا صاحب مکرم دام اکرامکم بعد ہدیہ سلام سنت الاسلام کے گزارش یہ ہے کہ اس مرتبہ
حوالہ / References فتاوٰی بزازیہ علی حاشیہ فتاوٰی ہندیہ کتاب الصوم الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ٤ / ٩٢
خزانۃالمفتین ، کتاب الصوم ، قلمی نسخہ ، ١ / ٦٠
#9708 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
رمضان المبارك کے چاند میں اختلاف ہوکر عیدالفطر میں اکثر اتفاق ہوگیاہے چنانچہ بریلی میں بھی جمعہ کی عید ہوئی سناگیا ہے کہ آپ نے پنجشنبہ کی شام کو بعد مغرب ارشاد فرمایا تھا کہ چونکہ آج رمضان المبارك ہے اس وجہ سے ہم تراویح نہیں پڑھیں گے اور کل سے بروز جمعہ روزہ نہیں رکھیں گے لیکن دوسروں کو حکم نہیں دیتے ہیں بعد کو شہادتوں سے چاند رمضان کا منگل کے دن ثابت ہو کر پنچشنبہ کو رمضان قرار پائی اور جمعہ کو عید ہوئی کارڈ ثانی پر جلد تحریر فرمائیے کہ آپ کا یقین مردوں کی باتوں پر تھا یا ذریعہ اطمینان کوئی اور تھا اور شہادتیں مصر سے آئے ہوئے لوگوں کی ہیں یا ہندوستان سے کس مقام سے تحقیق ہواس لیے تصدیق کیا جاتا ہے کہ آئندہ کو کام آئے۔ بینو ا توجروا
الجواب :
یہاں نہ منگل کو ہلال رمضان دکھائی دیا نہ پنجشنبہ کو ہلال عید ابر تھا اور بہت گہرا شب جمعہ میں میں نے تراویح پڑھیں اور صبح روزہ کی نیت کی تھی کہ دفعۃ مصر سے کچھ لوگوں کے آنے کی خبر سنی جنہوں نے وہاں ہلال رمضان منگل کی شام کو دیکھا تھا وہ بلائے گئے اور انہوں نے شہادتیں دیں اور پوری تنقیح کی گئی اور رات کے ایك بجے صبح عید کاحکم دیا گیا اور اسی وقت سے شہر و شہر کہنہ و اطراف شہر میں اعلان کیا گیا یوں یہاں جمعہ کی عید ہوئی ورنہ افوا ہیں تو پہلے سے سنی جاتی تھیں جن پر حکم نہیں ہوسکتا تھا واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از منڈی افریقہ مسئولہ حاجی عبد اﷲ حاجی یعقوب محرم ۳ھ
منڈی شہر میں سب آدمی مذہب شافعی ہیں اور حنفی مذہب والے ہم چند آدمی ہیں اب یہاں پر روزے ہوئے کی رات کو ابر بہت ہونے کے سبب سے چاند دیکھنے میں نہیں آیا لیکن بعد نماز مغرب کے تین شہروں سے ٹیلی گراف آئے کہ ہم نے چاند دیکھا ہے شوال کا اور کل عید ہے لیکن یہاں کے قاضی صاحب نے ٹیلی گراف کی خبر کو قبول نہ کیا اور تراویح کی نماز پڑھی اور پڑھائی اور روزہ بھی سب سے رکھایا لیکن جب سورج طلوع ہوا بعد دو ساعت کے منڈی شہر کے آس پاس کے باغیچوں سے آدمی آئے انہوں نے گواہی دی کہ ہم نے چاند دیکھا تب قاضی صاحب نے شاہدوں سے گواہی لے کرروزہ کھولنے کا حکم دیا تب تمام آدمیوں نے روزہ توڑدیااور خود بھی قاضی صاحب نے روزہ توڑ دیا اس دن بہت دیر ہونے کے سبب سے عید کی نماز نہیں پڑھی گئی دوسرے دن عید کی نماز ہوئی اب ہم کو دوسرے آدمی کہتے ہیں کہ ہم کو ایك روزہ قضا کرنا چاہئے۔ اب ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا ہم کو ایك روزہ قضا کرنا پڑے گا
الجواب :
تاربرقیوں پر کہ قاضی نے اعتبار نہ کیا بہت صواب کیا ایسا ہی چاہئے تھا دربارہ ہلال خط یا تار کا کچھ اعتبار نہیں صبح کو جو چند شہادتیں گزریں وہ لوگ اگر ثقہ اور ہلال عید میں قابل شہادت تھے اور اتنے فاصلہ پر تھے
#9709 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
کہ رات کو آکر گواہی نہ دے سکتے تھے تو ان کی گواہی مان کر روزہ کھولنے کا حکم دینا بھی صحیح ہے اور اس روزہ کی قضا نہیں کہ ثبوت شرعی سے ثابت ہوگیا کہ وہ روز عید تھا نہ کہ روزہ رمضان کا۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۲۰۶ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شہرت واستفاضہ جو دربارہ ہلال شرعا معتبر ہے اس کے کیا معنی ہیں اور مجرد شیوع و اشتہار خبر کافی ہے یا نہیںبینو اتوجروا
الجواب :
اصل یہ ہے کہ مدار کار حقیقۃ رؤیت پر ہے وبس
قال رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم صوموا لرؤیتہ وافطر والرؤیتہ۔ اخرجہ الشیخان و غیرھما والحدیث مشہورمستفیض۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : چاند دیکھنے پر روزہ رکھو اور چاند دیکھنے پر عید کرو۔ اسے بخاری مسلم اور دیگر محدثین نے روایت کیا اور یہ حدیث مشہور و معروف ہے(ت)
اور رؤیت کا ثبوت شہادت سے منوط فان البینۃ کاسمھا مبینۃ(کیونکہ بینہ (گواہ) اپنے نام کی طرح واضح کرنیوالے ہیں۔ ت) اور شہادت کی حلت رؤیت سے مربوط اذلاشہادۃ الاعن شھود(کیونکہ شہادت معائنہ کرنیوالوں کے بغیر نہیں ہوتی۔ ت)شہادت علی الشہادت والشہادت علی القضاءمقبول ہوتی ہے ان کی وجہ قبول یہی ہے کہ وہ مثبت شہادت معائنہ ہیں
اما الاولی فظاھر واماالاخری فلانہ لاحکم الاعن شہادۃ ومثبت المثبت مثبت۔
پہلی صورت تو واضح ہے رہی دوسری تو وہ اس لیے کہ حکم شہادت کی بنا پر ہی ہوسکتا ہے اور مثبت کو ثابت کرنے والامثبت ہی ہوتاہے(ت)
توہروہ گواہ کہ ان امور سے خالی ہو زنہار قابل قبول نہیں مثلا ایك جماعت ثقات عدول یوں گواہی دے کہ فلاں جگہ چاند ہوا یا فلاں دن اس شہر والوں نے روزہ رکھا یا آج ان کے حساب سے فلاں تاریخ ہے ہرگز نہ مانیں گے یہاں تك کہ جو اس پر عمل کرے گا گناہگار ہوگا کہ یہ نہ شہادت رؤیت ہے نہ شہادت علی الشہادت نہ شہادت علی القضا بلکہ مجرد حکایت ہے جو کسی طرح حجت نہیں۔ فتح القدیر و فتاوی علمگیریہ میں ہے :
انما یلزم الصوم علی متأخری الرؤیۃ
تاخیر سے چاند دیکھنے والوں پر روزہ تب لازم ہوگا
حوالہ / References صحیح بخاری باب اذارأیتم الہلال فصوموا قدیمی کتب خانہ کراچی۱/۲۵۶
#9710 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
اذا ثبت عندھم رؤیۃ اولئك بطریق موجب حتی لو شھد جماعۃ ان اھل بلدۃ کذا رأوا ھلال رمضان قبلکم بیوم فصامواوھذا الیوم ثلثون بحسابھم ولم یرھؤلاء الھلال لایباح فطر غد ولا ترك التراویح فی ھذہ اللیلۃ لانھم لہم یشھد وابالرؤیۃ ولا علی شہادۃ غیرھم وانما حکوارؤیۃ غیرھم۔
تاخیر سے چاند دیکھنے والوں پر روزہ تب لازم ہوگاجب ان کے ہاں چاند کا ثبوت بطریق موجب شرعی ہو حتی کہ اگر کسی جماعت نے گواہی د ی کہ فلاں اہل شہر نے تم سے پہلے ایك دن چاند دیکھا اور انہوں نے روزہ رکھا ہے اور یہ دن ان کے حساب سے تیسواں بنتا ہے لیکن انہوں نے چاند نہیں دیکھا تو ان کے لیے آئندہ کل عید جائز نہیں اور نہ ہی اس رات کی وہ تراویح ترك کرسکتے ہیں کیونکہ ان لوگوں نے چاند کے دیکھنے پر گواہی نہیں دی اور نہ غیرکے چاند دیکھنے کی گواہی پر گواہی دی ہے انہوں نے دوسروں کی رؤیت کو حکایت کیا ہے(ت)
ہاں اگر رؤیت شہر دیگر کی خبر اس حدشہرت واستفاضہ کو پہنچے جو باعث ثبوت رؤیت یقینی و محقق ہوجائے تو صحیح یہ ہے کہ اعتبار کریں گے ردالمحتار میں ہے :
فی الذخیرۃ قال شمس الائمۃ الحلوانی الصحیح من مذھب اصحابنا ان الخبر اذا استفاض وتحقق فیما بین اھل البلدۃ الاخری یلزمھم حکم ھذہ البلدۃ اھ ومثلہ فی الشرنبلالیۃ عن المغنی۔
ذخیرہ میں ہے کہ شمس الائمہ حلوانی نے کہا ہمارے احناف کا صحیح مذہب یہی ہے کہ جب دوسرے شہر میں خبر مشہور و متحقق ہوتو تب ان پر اس شہر کا حکم لازم ہوگااھ شرنبلالیہ میں المغنی کے حوالے سے اسی طرح ہے۔ (ت)
مگر حاشا مجرد شیوع و شہرت کافی نہیں کہ صدہا خبریں خصوصا آج کل ایسی اڑتی ہیں جن کاتمام شہر میں چر چا ہوتا ہے پھر تجربہ گواہ ہے کہ بعد تنقیح محض بے اصل نکلتی ہیں انہیں افواہ کہتے ہیں نہ استفاضہ شرعیہ ولہذا علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ایسا چرچا محض نا معتبر جب تك ثبوت شرعی نہ ہو اختیار شرح مختار میں یوم الشك کی نسبت لکھا :
ذلك بان یتحدث الناس بالرؤیۃ ولا تثبت۔
وہ یہ ہے کہ لوگوں میں رؤیت کاچرچا ہومگر ثبوت نہ ہو۔ (ت)
حوالہ / References فتح القدیر فصل فی رؤیۃ الہلال مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/۲۴۳، فتاوٰی ہندیۃ الباب الثانی فی رؤیۃ الہلا ل نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۱۹۹
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲/۱۰۲
الاختیار لتعلیل المختار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۱/۱۳۰
#9711 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
واقعی ایسی خبروں کی ظاہری شوکت عام لوگوں کودھوکا دیتی ہے مگر تفتیش کے بعد کھلتا ہے کہ حقیقت امر کیا ہے یا ان کی ٹھیك سند منتہی تك ملتی ہی نہیں جس سے پوچھئے سنا کہے گا بعض اپنے مخبر کا نام بھی بتائیں ان مخبر سے پوچھئے وہ سنا کہہ کر چپ رہیں گے یا بہزار کاوش و عرق ریزی اصل نکلی تو اتنی کہ فلاں کا خط آیا فلاں نے تار دیا چند مسافر معقول صورت ملے کہتے تھے فلاں شہر میں لوگوں نے دیکھا ہمارا فلاں قریب اس شہر بعید سے آیا بیان کیا وہاں ہزاروں نے دیکھا ہزاروں کا لفظ تو بیشك ہے مگر یہ نہ دیکھا کہ منقول عنہم میں میں ہے یا ناقل میں غرض ایسی افواہ و حکایات شرعا قابل التفات بھی نہیں نہ ان کی بنا پر کوئی حکم ثابت ہو ولہذا امام شمس الائمہ وذخیرہ ومغنی و امداد کا ارشاد سن چکے کہ ہمارے ائمہ نے صرف استفاضہ واشتہار کافی نہ جانا بلالکہ اس کے ساتھ تحقیق ہوجانے کی قید زیادہ فرمائی۔ علامہ عبد الغنی نابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں :
اما خبر التواتر من الناس لبعضھم بعضابذلك فھو ممنوع لاسناد الکل فیہ الی الظن والتوھم والتخمین واستفاضۃ الخبر من بعضھم لبعض بحیث لوسألت کل واحدمنھم عن رؤیۃ ذلك و معاینتہ لقال لم اعاینہ وانما سمعت ومن قال عاینتہ تستکشف عن حالہ فتراہ مستنداالی ظنون وامارات وھمیۃ وعلامات ظنیۃ و ربما اذا تأملت وتفحصت وجدت خبرذلك التواتر الذی تزعمہ کلہ مستند افی الاصل الی خبرواحد او اثنین الی اخرماافادواجاد رحمہ اﷲتعالی۔
کسی خبر کو لوگوں میں سے بعض کا بعض سے تواتر نقل کرنا ممنوع ہے کیونکہ اس سلسلہ میں ان میں سے ہر ایك کی نسبت ظن وہم اور تخمین کی ہے اور خبر کا ایك دوسرے سے اس طرح مشہور ہونا کہ اگر ان میں سے ہرایك سے پوچھا جائے کہ تونے دیکھا ہے اور مشاہدہ کیا ہے تو وہ کہے گا میں نے مشاہدہ تو نہیں کیا ہاں سنا ہے اور جو کہے میں نے مشاہدہ کیا ہے تو اس کا حال معلوم کیا جائے گا تو اسے علامات ظنیہ اور امارات و ہمیہ اور ظنیات کو سند بنائے ہوئے پائیگا اور اکثر طور پر ایسا ہوتا ہے کہ تو غور و تلاش کرے تو وہ خبر جس کو تومتواتر مستند گمان کررہا تھا وہ اصل میں ایك یا دو۲ کی خبر ہوتی ہے الخ انہوں نے جو کہا خوب کہا اﷲتعالی ان پر رحمتیں نازل فرمائے(ت)
اور یہ زعم ہم کو تو یقین ہوگیا صحیح نہیں یقین وہ ہے جو حجت شرعیہ سے ناشئی ہو یوں توایك جماعت ثقات عدول کی وقعت ان چند مجہولوں یا ساقطوں یا تار و خطوط کی اوہام و ضبوط سے کیا کم تھی انصاف کیجئے تو بدرجہا زائد تھے
حوالہ / References الحدیقۃ الندیۃ الصنف التاسع تتمۃالاصناف التسعۃ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/۵۲۱
#9712 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
پھر کیوں علمائے دین نے اسکی بے اعتباری کی تصریح فرمائی
کمامرنقلہ عن الھندیۃ والفتح ونحوہ فی البحر الرائق والدرالمختار ومجمع الانھر وغیرھا من الاسفار۔
جیساکہ ہندیہ اور فتح کے حوالےسے گزرچکا اسی طرح بحرالرائق درمختار مجمع الانہر اور دیگر کتب معتمدہ میں ہے۔ (ت)
بلالکہ وہ استفاضہ جو شرعا معتبر ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ اس شہر سے گروہ کے گروہ متعدد جماعتیں آئیں اور سب بالاتفاق یك زبان بیان کریں کہ وہاں فلاں شب چاند دیکھ کر لوگوں نے روزہ رکھا یہاں تك کہ ان کی خبر پر یقین شرعی حاصل ہو۔ ردالمحتار میں ہے :
قال الرحمتی معنی الاستفاضۃ ان تاتی من تلك البلدۃ جماعات متعددون کل منھم یخبر عن اھل تلك البلدۃ انھم صامواعن رؤیۃ لامجرد الشیوع من غیرعلم بمن اشاعہ کما قد تشیع اخبار یتحدث بھاسائر اھل البلدۃ ولا یعلم من اشاعھا کما وردان فی اخرالزمان یجلس الشیطان بین الجماعۃ فیتکلم بالکلمۃ فیتحدثون بھا ویقولون لاندری من قالھا فمثل ھذالا ینبغی ان یسمع فضلا من ان یثبت بہ حکم اھ (قلت) وھو کلام حسن ویشیرالیہ قول الذخیرۃ اذا استفاض وتحقق فان التحقق لایوجدبمجرد الشیوع۔
شیخ رحمتی نے فرمایا : شہرت کامفہوم یہ ہے کہ اس شہر سے متعدد جماعتیں آئیں اور تمام اس بات کی اطلاع دیں کہ وہاں کے لوگوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے محض ایسی افواہ سے نہیں جس کے پھیلانے والا معلوم نہ ہو جیسا کہ بعض اوقات بہت سی باتیں شہر میں پھیل جاتی ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتے ہوتے کہ انہیں کس نے پھیلایا ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہے کہ آخری زمانے میں شیطان لوگوں کے درمیان آکر بیٹھے گا اور وہ کچھ گفتگو کرے گا تو لوگ وہ گفتگوبیان توکریں گے مگر کہیں گے ہمیں علم نہیں کہ یہ بات کس نے کی ہے ایسی بات تو قابل سماعت ہی نہیں ہوتی چہ جائیکہ اس سے حکم ثابت ہواھ(میں کہتا ہوں) یہ کلام نہایت ہی خوبصورت ہے اور ذخیرہ کا یہ قول کہ “ جب خبر مشہور و متحقق ہوتو تب لازم ہے ورنہ محض شہرت ثبوت نہیں ہوتا “ بھی اسی کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲/۱۰۲
#9713 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
الشھادۃ بان اھل البلدۃ رأواالہلال وصاموالانھا لا تفید الیقین فلذالم تقبل الااذا کانت علی الحکم اوعلی شہادۃ غیرھم لتکون شہادۃ معتبرۃ والافھی مجرد اخبار بخلاف الاسفاضۃ فانھا تفید الیقین۔ واﷲتعالی اعلم
اس بات پر گواہی کہ فلاں اہل شہر نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے چونکہ مفید یقین نہیں اس لیے گواہی مقبول نہیں البتہ اس صورت میں جب قاضی کے فیصلہ ہو یا غیر کی گواہی پرگواہ ہوں تاکہ یہ شہادت معتبرہ قرار پائے تو مفید یقین ہے ورنہ یہ محض خبر ہوگی بخلاف استفاضہ کیونکہ وہ مفید یقین ہوتی ہے واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۰۷ : از بہرائچ چوك بازار مرسلہ حافط محمد شفیع صاحب ۲۶ماہ مبارك ۱۳۳۳ھ
رمضان شریف کا چاند غبار یا ابر ہونے کی حالت میں صرف ایك شخص نے دیکھا اور قاضی نے اس پر فتوی چاند ہونے کا دے دیا اب کیا غرہ شوال اس سے تیس دن پورے ہوجانے پر ثابت ہوجائے گا گو چاند بوجہ غبار یا ابر کے اس رات کو نظر نہ آئے یا ایسا ایك سے زائد عادل گواہ ہونے پر کیا جاسکتا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
جبکہ ہلال ماہ مبارك بوجہ غبار ایك کی شہادت سے مان کر ۳۰ روزے پورے کئے اور ہلال شوال بوجہ ابر نظر نہ آیا تو صحیح یہ ہے کہ بالاتفاق اس صورت میں عید کرلی جائے ہاں اگر تیس۳۰ روزوں کے بعد مطلع صاف ہوا اور عید کا چاند نظر نہ آئے اور رمضان کا چاند شاہد واحد کے قول پر مانا تھا تو راجح یہ ہے کہ عید نہ کریں گے اوراگر دو۲ عادلوں کی گواہی سے روزے رکھے تھے توقول ارجح پر ۳۰ کے بعد عید کرلیں گے اگر مطلع صاف ہواور ہلال نظر نہ آئے درمختار میں ہے :
بعد صوم ثلثین بقول عدلین حل الفطر۔ (اتفاقا ان کانت لیلۃ الحادی والثلثین متغیمۃ وکذا لوکان مصحیۃ علی ماصححہ فی الدرایۃ والخلاصۃ و البزازیۃ وفی الفیض الفتوی
دو۲ عادل آدمیوں کی گواہی پر رمضان کے روزے رکھنے شروع کئے تھے تو ۳۰ روزوں کے بعد عید جائز ہوتی ہے (اتفاقا اگر اکتیسویں رات ابر آلود ہو اور اگر مطلع صاف ہو پھر بھی درایہ خلاصہ اور بزازیہ کی تصحیح کے مطابق یہی حکم ہے اور فیض
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲/۰۳-۱۰۲
درمختار کتاب الصوم قبیل مایفسد الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۴۹
#9714 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
علی حل الفطر اھ شامی) ولوصاموابقول عدل لایحل علی المذھب کذاذکرہ المصنف لکن قول الفطر حل اتفاقا وفی الزیلعی الاشبہ ان غم حل والالا اھ وتنقیحہ فی ردالمحتار وماعلقنا علیہ واﷲتعالی اعلم۔
میں ہے کہ فتوی اسی قول پر ہے ك عیدالفطر جائز ہوگی اھ شامی)او اگر ایك عادل کے قول پر انہوں نے روزہ رکھنا شروع کیا تھا تو صحیح مذہب پر عید کرنا درست نہیں مصنف نے اسی طرح اسے ذکر کیا ہے لیکن ابن کمال نے ذخیرہ سے یہ نقل کیا ہے کہ اگر چاند رات مطلع ابر آلود ہوتو بالاتفاق عید جائز ہے زیلعی میں ہے کہ مشابہ بالحق یہ ہے کہ اگرمطلع ابر آلود ہوتو عید جائز ورنہ جائز نہیں اھ اس کی تفصیل ردالمحتار اور اس پر ہمارے حواشی میں ہے واﷲتعالی اعلم (ت)
مسئلہ۲۰۸ : از افضل گڑھ ضلع بجنور مرسلہ یوسف خاں وغیرہ ۲۶رمضان ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا میں کہ چاند شعبان کا اکثر جگہ دیکھا اور بہت سے آدمیوں نے نہیں دیکھا مثلا قصبہ افضل گڑھ میں تخمینا پندرہ بیس آدمی اقراری چاند دیکھنے یك شنبہ کے ہیں باقی تمام قصبہ خلاف ہے یعنی باقی نے نہیں دیکھا اب رمضان شریف میں ابر محیط رہا اسی بنا پر ۳۰ یوم پورے کرکے روزہ ہر دو فریق نے رکھا تھوڑے فریق نے ایك یوم پیشتر اور زیادہ فریق نے ایك روز بعد رکھا اب عید قریب آگئی اگر ابر محیط ہواتو عید فریق اول و دوم کو ایك ساتھ کرنا چاہئے یا علیحدہ علیحدہ پورے روزے کرکے کرنا چاہئے حالانکہ ہر فریق اپنے اپنے روزے پورے ۳۰ کرے گا اگر دونوں اتفاق سے عید کرتے ہیں تو ایك فریق کے روزے ۳۰ ہوتے ہیں دوسرے کے ۳۱ ہوتے ہیں ایسی حالت میں کیا کرنا چاہئے بینو اتوجروا
الجواب :
اگر اس کم فریق میں دو۲ مر د یا ایك مرددو۲ عورتیں ثقہ عادل شرعی جو نہ کسی کبیرہ کے مرتکب ہیں نہ صغیرہ پر مصر نہ خفیف الحرکات اور انہوں نے ہلال شعبان شام یك شنبہ کو دیکھ کر وہاں اگر کوئی عالم فقیہ سنی المذہب دین دار ہے اس کے حضور بلفظ اشھد یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہہ کرگواہی دی یا وہاں ایسا کوئی عالم نہ تھا تو مسلمانوں کو اپنی رؤیت کی خبر دی اور وہاں شام یکشنبہ یا تو مطلع صاف نہ تھا یا لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش نہ کی یا کی تو بے وقت کی یا ان دیکھنے والوں نے جہاں سے دیکھا جگہ بلالند پر یا آبادی سے باہر تھی تو ان صورتوں میں
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲/۰۳-۱۰۲
درمختار کتاب الصوم قبیل مایفسد الصوم مطبع مجتبائی دہلی۱/۱۴۹
#9715 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
شرطوں سے یکم شعبان روز دو شنبہ کی ثابت ہوگئی اور اس کی بنا پر بضرورت چہارشنبہ کا پہلا روزہ ہوا جنہوں نے نہ رکھا اس کی قضا رکھیں پھر پنجشنبہ آئندہ کو رمضان کے ۳۰ہوکر بضرورت جمعہ کی عید ہوگی دونوں فریق بالاتفاق جمعہ کی عید کرینگے ایك کے ۳۰ روزے ایك کے ۲۹ ہوں گے ۲۹ والے ایك قضا رکھیں گے اور اگر اس فریق میں دو۲گواہ بھی عادل نہیں یا انہوں نے اس صفت والے عالم کے سامنے لفظ اشھد بمعنی مذکور شہادت نہ دی یا مطلع صاف تھا اور عام لوگوں نے وقت پر چاند دیکھنے کی کافی کوشش کی اور نظر نہ آیا اور ان لوگوں میں کوئی خصوصیت مثل بلندی مقام یا بیرون آبادی کی نہ تھی توان صورتوں میں دو شنبہ کی یکم شعبان ثابت نہ ہوئی اور یہ بعض کہ دیکھنا بیان کرتے ہیں غلط کہتے ہیں ان کو دھوکا ہوا( اور نظر واقع سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ اس دن حال ہلال عادۃ قابل رؤیت نہ تھا) لہذا شعبان کی ۳۰چہار شنبہ کوہوئی اور یکم ماہ مبارك پنجشنبہ سے ہوکر پنجشنبہ ۲۹ کو اگر ابر رہے جمعہ کی ۳۰ ہوگی اور اس کم فریق کو بھی جائز نہ ہوگا کہ اپنے زعم کی بنا پر جمعہ کی عید کرلے بلالکہ ان پر بھی روزہ رکھنا واجب ہوگا عام کے ۳۰ ہوگے اور ان کے ۳۰ ہی ہوں گے پہلا روزہ چہار شنبہ کا رمضان میں محسوب نہ ہوگا اگر چہ ان پر اپنی رؤیت عین کے سبب اس دن بھی روزہ کا حکم تھا یہ سب اس صورت میں ہے کہ غرہ رمضان چہار شنبہ کا کسی اور ثبوت شرعی سے ثابت نہ ہوجائے ورنہ آپ ہی جمعہ کی عید ہے۔ ردالمحتار میں ہے :
بقیۃ الاشھر التسعۃ(ای ماعدارمضان و العیدین) لا یقبل فیھا الا شہادۃ رجلین اور رجل وامرأتین عدول احرار غیرمحد ودین کما فی سائر الاحکام بحر عن شرح الامام الاسبیجابی۔
باقی نوماہ(یعنی رمضان عید الفطر اور عید الاضحی کے مہینوں کے علاوہ) میں ایسے دو۲ مرد یا ایك مرد دوخواتین کی گواہی قبول کی جائے گی جو عادل آزاد اور محدود فی القذف نہ ہوں جیسا کہ بقیہ احکام میں ہوتا ہے بحر میں شرح امام اسبیجابی سے اسی طرح منقول ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
شرط للفطرمع العد الۃ نصاب الشہادۃ ولفظ اشھد ولوکانوابلدۃ لا حاکم فیھا صاموا بقول ثقۃ وافطروا باخبار عدلین للضرورۃ (ملخصا)
عیدالفطر کے چاند کے لیے عدالت کے علاوہ نصاب شہادت اور لفظ شہادت(یعنی اشہد) کا ہونا بھی ضروری ہے اوروہ ایسا شہر ہوجہاں کوئی حاکم نہ ہوتو ضرورت کے پیش نظر ایك ثقہ کے قول پر لوگ روزہ رکھ لیں اور دو۲ عادل گواہوں کی خبر پر عیدالفطر کرلیں۔ (ملخصا)(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲/۱۰۳
درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی۱/۱۴۸
#9716 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
ردالمحتار میں بعد عبارت مذکور ہے :
وذکرفی المداد انھا فی الصحو کرمضان والفطر ای فلا بد من الجمع العظیم ولم یعزہ لاحد لکن قال الخیرالرملی الظاھرانہ فی الاھلۃ التسعۃ لافرق بین الغیم والصحو فی قبول الرجلین لفقدالعلۃ الموجبۃ لاشتراط الکثیر وھی توجہ الکل طالبین فلو شھدا فی الصحو بھلال شعبان وثبت بشروط الثبوت الشرعی ثبت رمضان بعد ثلثین یومامن شعبان وان کان رمضان فی الصحو لایثبت بخبر ھما لان ثبوتہ حینئذ ضمنی اھ مافی الشامی اقول : فاذا ثبت توجہ الکل طالبین تحقق المانع فلا یقبل تفرد البعض ما لم یتفر دوا بما یقرب الرؤیۃ لھم دون عامۃ الناس فکانت شھادتھم مردودۃ فلایعملوابھا حتی فی انفسھم کما فی الدر رأی مکلف ھلال رمضان او الفطر وردقولہ بدلیل شرعی صام مطلقا وجوبا وفی ردالمحتارو افاد
امداد میں ہے کہ اگر مطلع صاف ہو(تو باقی ماہ بھی) رمضان اور عیدالفطر کی طرح ہیں یعنی عظیم جماعت کی گواہی ضروری ہے مگر انہوں نے اس قول کی نسبت کسی کی طرف نہیں کی لیکن خیرالدین رملی نے کہا کہ ظاہر یہی ہے کہ باقی مہینوں میں چاند کے معاملہ میں دو۲ مردوں کی گواہی کی مقبولیت کے لیے ابر آلود اور غیر ابر آلود میں کوئی فرق نہیں ہوتا کیونکہ یہاں وہ علت ہی مفقود ہے جو جماعت کثیر کیلئے شرط ہے اور وہ ہے سب کا چاند کو تلاش کرنا پس اگر دو۲ مردوں نے صاف موسم میں شعبان کے چاند کی گواہی دی اور شعبان کے تیس دن مکمل ہونے پر رمضان کا ثبوت ہوجائے گا اگر چہ صاف موسم میں دو ۲ شخصوں کی گواہی سے رمضان ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اب اس کا ثبوت ضمنا ہوگااھ (شامی کی عبارت ختم ہوئی) اقول : تو جب سب کا چاند تلاش کرنا ثابت ہوجائے تو مانع کا ثبوت ہوگا لہذا بعض کی گواہی مقبول نہ ہوگی جب تك یہ بعض عام لوگوں کے مقابلالہ میں چاند کی رؤیت کے قریب (بللند جگہ یا آبادی سے باہر) ہونے میں منفرد نہ ہوں پس ان کی شہادت مردود ہوگی اور اس پر عمل نہیں کیا جائیگا حتی کہ گواہ بھی عمل نہیں کرسکتے جیسا کہ در میں ہے کسی مکلف نے رمضان اور عید الفطر کا چاند دیکھا لیکن اس کا قول دلیل شرعی کی بنا پر رد کردیا گیا تو وہ وجوبا روزہ رکھے۔ ردالمحتار میں ہے خیر رملی نے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲/۱۰۳
درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی۱/۱۴۸
#9717 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
الخیر الرملی انہ لوکانواجماعۃ وردت شھادتھم لعدم تکامل الجمع العظیم فالحکم فیھم کذلک۔ تنبیہ : لوصام رأی ھلال واکمل العدۃ لم یفطر الامع الامام لقولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم صومکم یوم تصومون وفطر کم یوم تفطرون رواہ الترمذی وغیرہ والناس لم یفطر وافی مثل ھذا الیوم فوجب ان لایفطر نھراھ ھذامااخذتہ تفقھا من کلامھم والنزاع واضح کما تری بتوفیق اﷲ والعلم بالحق عند ربی وھو تعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے خیر رملی نے کہا اگر چاند ایك جماعت دیکھے لیکن عظیم جماعت نہ ہونے کی بنا پر ان کی گواہی مسترد کردی گئی تو ان کا حکم بھی یہی ہے(یعنی وہ روزہ رکھیں)۔ (ت) تنبیہ : اگر چاند دیکھنے والے نے روزہ رکھا اور تیس روزے مکمل کئے تو اب وہ عیدالفطر امام کے ساتھ ہی کرے(نہ کہ اکیلا) کیونکہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے “ روزے کا وہ دن ہے جس میں تم روزہ رکھتے ہو اور عید کا وہ دن ہے جس میں تم عیدکرتے ہو “ ۔ اسے ترمذی اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے اور باقی دیگر لوگ اس دن عید نہیں کررہے لہذااس شخص پر واجب ہے کہ وہ عید نہ کرے نہر اھ یہ وہ تفصیل ہے جو بندہ نے فقہاء کے کلام سے سمجھی ہے اور اﷲکی توفیق سے اب نزاع بھی واضح ہوگیا جیساکہ آپ نے پڑھ لیا اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے وھو تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۰۹تا۲۱۲ : ازسہسرام عربیہ مرسلہ مولوی ظفرالدین صاحب مدرس اول ۱۵ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
(۱)عید یہاں پنجشنبہ کو ہوئی مگر پھلواری میں سات آدمیوں کی رؤیت کے مطابق حسب الحکم شاہ بدرالدین صاحب چہار شنبہ کی عید ہوئی اس کے بارے میں انہوں نے مجھے خط لکھا پھر جب میں بانکی پور گیا تو بطور استفاضہ خبر مجھے پھلواری میں سات آدمیوں کا چاند دیکھنا اور شاہ صاحب کا حکم دینا معلوم ہوا تو جب عید چہار شنبہ کی ہوئی تو ذیقعدہ و ذی الحجہ دونوں مہینوں کے چاند تیس ہی کے مانے جائیں جب بھی سہ شنبہ کو ذی الحجہ ہوتی ہے مگر اس طریقہ پر ثبوت یہاں سوائے میرے کسی کو نہیں تو آیا میرے فتوی دینے سے یہاں کے لوگوں کو نماز پڑھنا جائز ہوگا خود اسی شہر میں وہ خبر بطور استفاضہ آنے کی ضرورت ہے۔
(۲)یوم صومکم یوم نحرکم یہ کیسی حدیث ہے اور کس کتاب میں ہے اور کس موقع پر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا تھا یہاں بالاتفاق روز شنبہ کو عید ہوئی مگریہاں کے کسی شخص نے نہ عید کا
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲/۹۸
#9718 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
چاند دیکھا نہ ذی قعد ہ کا صرف میرے فتوی و حکم کے مطابق ایسا ہوامیں نے اپنی تسلی کے لیے یہ سوالات کئے ہیں شامی قاضیخان سراجیہ بحرالرائق عالمگیریہ فتح القدیر کافی میں ثبوت نہیں ملا اس لئے حضور کو تکلیف دی ۔
(۳) آج کل کے علماء قاضی کے حکم میں ہوں گے یا نہیںاور اس کے لیے کیا کیا شرط ہے یہ تمام عالم جس نے درسی کتابیں پڑھ لی ہوں اوردرس یا وعظ میں مشغول ہو۔
(۴) نماز عیدالاضحی کے لیے لوگوں کا چاند دیکھنا یا دوسری جگہ کی رؤیت بطریق موجب ثابت ہونا بایں معنی ضرور ہے کہ جب تك نہ ہوگا ان لوگوں پر نماز واجب نہ ہوگی یا باوجود رؤیت عامہ بلاد اگر کسی جگہ کے لوگ بوجہ ابر خود نہ دیکھ سکے نہ دس دن کے اندر کہیں سے کچھ معلومات یقینی بہم پہنچاسکے حالانکہ جس وقت لوگ اس غفلت سے بیدار ہوئے تو اس کا موقع تھا کہ طریق موجب کے ذریعہ ثبوت حاصل کرسکتے تھے مگر ایسا نہ کیا اور باوجود ان سب باتوں کے پھر نماز عیدالاضحی اس دن جو ہر جگہ ۱۰ذی الحجہ تھی اور ان کے حساب سے ۹ تھی یہ نماز ہوگی یا نہیں اور قربانی جوکی گئی وہ ٹھیك ہوئی یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
(۱) یہ گواہی کہ فلاں شہر والوں نے چاند دیکھا مقبول نہیں اگر چہ شاہد ایك جماعت ہو کہ یہ نہ شہادۃ علی الرؤیۃ نہ شہادت علی الشہادت۔ فتح القدیر و بحرالرائق و عالمگیریہ وغیرہا میں ہے :
لوشھد جماعۃ ان اھل بلدۃ کذارأواھلال رمضان قبلکم بیوم فصامواوھذاالیوم ثلثون بحسابھم ولم یرھؤ لاء الھلال لا یباح فطر غدولاترك التروایح فی ھذہ اللیلۃ لانھم لم یشھد وابالرؤیۃ ولا علی شھادۃ غیرھم وانما حکوا رؤیۃ غیرھم۔
اگر لوگوں کی جماعت نے گواہی دی کہ فلاں اہل شہر نے تم سے ایك دن پہلے رمضان کا چاند دیکھا اور انہوں نے روزہ رکھا اوران کے حساب سے تیسواں دن ہے لیکن ان لوگوں نے چاند نہیں دیکھا تو آئندہ کل وہ عید نہ کریں اور نہ ہی اس رات کی تراویح ترك کریں کیونکہ اس جماعت نے نہ تو چاند دیکھنے پر گواہی دی اور نہ دو سروں کی شہادت پر گواہی دی انہوں نے صرف دوسروں کی رؤیت کی حکایت کی ہے۔ (ت)
استفاضہ کے بعد تحقیق معتبر ہے خاص اس شہر کا جہاں حاکم شرعی ہو کہ اب یہ شہادۃ علی الحکم ہوگی تنبیہ الغافل الوسنان میں ہے :
لما کانت الاستفاضۃ بمنزلۃ الخبر المتواتر و
جب شہرت خبر متواتر کے درجہ پر ہو اور شہرت سے یہ
حوالہ / References فتح القدیر فصل فی رؤیۃ الہلال مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/۲۴۳، فتاوٰی عالمگیری الباب الثانی فی رؤیۃ الہلال نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۱۹۹، بحرالرائق کتاب الصوم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۲/۲۷۰
#9719 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
وقد ثبت بھا ان اھل تلك البلدۃ صاموایوم کذا لزم العمل بھالان المراد بھا بلدۃ فیھا حاکم شرعی۔
جب شہرت خبر متواتر کے درجہ پر ہو اور شہرت سے یہ ثابت ہوجائے کہ فلاں اہل شہر نے فلاں دن روزہ رکھا ہے تو اس پر عمل لازم ہوگا کیونکہ اس سے مراد وہی شہر ہے جس میں کوئی نہ کوئی حاکم شرعی ہوگا(یعنی حاکم کے فیصلہ کے بعد ہی وہاں عمل ہوا)۔ (ت)
(ردالمحتار میں ہے :
فکانت تلك الاستفاضۃ بمعنی نقل الحکم المذکور۔ ) وہ شہرت بمعنی حکم مذکور کے منقول ہونے کے ہے۔ (ت)
حاکم شرعی سلطان اسلام یا قاضی مولی من قبلہ ہے یا امور فقہ میں فقیہ بصیر افقہ بلد نہ آج کل کے عام مولوی۔ یہی جواب سوال نمبر ۳ہے۔ آج کل درسی کتابیں پڑھنے پڑھانے سے آدمی فقہ کے دروازے میں بھی داخل نہیں ہوتا نہ کہ واعظ جسے سوائے طلاقت لسان کوئی لیاقت جہاں درکار نہیں خصوصا جبکہ خاص مسائل رؤیت ہلال میں جمیع ائمہ سے تفرد ہو۔
(۲)مولی علی سے نہ فرمایا بلالکہ مولی علی نے فرمایا کرم اﷲوجہہ یہ اثر کسی کتاب حدیث سے نظر میں نہیں فقہا نے ذکر کیا اور ساتھ ہی فرمادیا کہ یہ اسی عام(سال)کو تھا نہ عام کو یعنی اسی سال کے لئے تھا اور سالوں کے لیے نہیں۔ فتاوی کبری وخزانۃ المفتین میں ہے :
مایروی ان یوم نحرکم یوم صومکم کان وقع ذلك العام بعینہ دون الابد۔
یہ جو مروی ہے کہ تمہاری قربانی کا دن ہی تمہارے روزے کا دن ہے۔ یہ صرف اسی ایك معین سال کا معاملہ تھا دائمی نہیں۔ (ت)
وجیز کردری میں ہے :
مانقل عن علی رضی اﷲتعالی عنہ ان یوم اول الصوم یوم النحر لیس بتشریع کلی
جو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ روزے کا پہلا دن ہی قربانی کا دن ہے یہ ضابطہ شرعی کا
حوالہ / References تنبیہ الغافل والوسنان رسالہ من رسائل ابن عابدین رسالہ نمبر۹ سہیل اکیڈمی لاہور ۱/۲۵۲
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲/۱۰۲
خزانۃ المفتین کتاب الصوم قلمی نسخہ ۱/۶۰
#9720 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
بل اخبار عن اتفاقی فی ھذہ السنۃ۔
جو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ روزے کا پہلا دن ہی قربانی کا دن ہے یہ ضابطہ شرعی کابیان نہیں بلکہ اسی سال اتفاقی معاملہ کے بارے میں اطلاع ہے۔ (ت)
تحقیق میں تقصیر سے الزام نہ ہوا مگر بے تحقیق محض افواہ پر عید و قربانی صحیح نہ ہوئی اگر چہ واقع میں دہم میں ہو کہ جس طرح صحت نماز کے لیے دخول وقت شرط ہے یونہی اعتقاددخول بھی۔ اگر اسے شك ہے کہ ثبوت نہیں اور جزافا نماز پڑھ لی نماز فاسد ہوئی اگر چہ وقت حقیقۃ ہوگیا ہو یونہی نماز عید بھی کہ ہر مفسد صلوات خمس مفسد عیدین بھی ہے امداد الفتاح و مراقی الفلاح وردالمحتار میں ہے :
یشترط اعتقاد دخولہ لتکون عبادتہ بنیۃ جازمۃ لان الشك لیس بجازم حتی لوصلی وعندہ ان الوقت لم یدخل فظھرانہ کان قد دخل لاتجزیہ۔
نماز کے لیے دخول وقت کا اعتقاد بھی شرط ہے تاکہ نیت جازمہ کے ساتھ عبادت ادا ہوکیونکہ شك سے جزم پیدا نہیں ہوتا حتی کہ اگر کسی نے یہ خیال کرتے ہوئے نماز پڑھی کہ ابھی وقت داخل نہیں ہوا اور بعد میں پتا چلا کہ وقت داخل ہوچکا تھا تو اس صورت میں اس کی نماز کافی نہ ہوگی(ت)
ردالمحتار میں امداد کے لفظ یہ ہیں :
وکذایشترط اعتقاد دخولہ فلوشك لم تصح صلوتہ وان ظھر انہ قد دخل۔
اسی طرح دخول وقت کا اعتقاد بھی شرط ہے پس اگر نمازی کو وقت کے بارے میں شك تھا تو اس کی نماز نہ ہوگی اگرچہ بعد کو پتا چلے کہ وقت داخل ہوچکا تھا۔ (ت)
بدائع امام ملك العلماء میں ہے :
کل ما یفسد سائر الصلوات وما یفسد الجمعۃ یفسد صلوۃ العیدین۔
ہر وہ شیئ جو باقی نمازوں اور نماز جمعہ کو فاسد کرتی ہے وہ نماز عیدین کو بھی فاسد کرتی ہے(ت)
اور جب نماز نہ ہوئی قربانی نہ ہوئی کہ شہر میں تقدم صلوۃ صحت اضحیہ ہے والا فھو لحم
حوالہ / References فتاوٰی بزازیہ علی حاشیہ فتاوٰی ہندیہ الاوّل فی الشہادۃ من کتاب الصوم نورانی کتب خانہ پشاور ۴/۹۶
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب شروط الصّلٰوۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۱۷
ردالمحتار، باب شروط الصّلٰوۃ،داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/۲۶۹
بدائع الصنائع فصل فی بیان مایفسد ھا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی۱/۲۷۹
#9721 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
قدمہ لاھلہ کما نص علیہ حدیثا وفقھا (ورنہ وہ گوشت ہے جو اس نے اپنے اہل کے لیے عید سے پہلے تیار کیا جیسا کہ اس پر حدیث و فقہ میں تصریح ہے۔ ت) واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۳ : از بریلی مسئولہ ابن سید صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہاں شام پنجشنبہ کو ابر محیط تھا رؤیت نہ ہوئی مگر دوسرے دن چاند کو قدرے بڑا دیکھ کر بعض لوگوں کو یہ خیال پیدا ہو کہ شاید کل کا ہو جنتری میں اگر چہ عید اتوار کی لکھی مگرساتھ ہی رؤیت کو مشکوك لکھ دیا ہے ایسی صورت میں شرعا عید دو شنبہ کی ہونا چاہئے یا اتوار کی اگر عید قربانی اتوار کو کرلیں تودرست ہوگی یا نہیں بینوا توجروا
الجواب :
شرع مطہر میں رؤیت کا اعتبار ہے(خود یہیں دیکھا جائے یا دوسرے شہر کی رؤیت پر شرعی شہادتیں گزریں) حدیث میں فرمایا : ان اﷲامدہ لرؤیتہ (اﷲتعالی نے اس کا مدار رؤیت پر رکھا ہے۔ ت)خط یا تار یاعقلی قیاسوں یا دوسرے شہر کی حکایتوں کا شرع میں اصلا اعتبار نہیں مثلا کچھ لوگ آئے اور بیان کیا کہ وہاں فلاں دن کی عید ہے یا وہاں رؤیت ہوئی اس پر اصلا لحاظ نہیں جب تك گواہان عادل شرعی خود اپنا دیکھنا نہ بیان کریں درمختار میں ہے :
لالو شھد وابرؤیۃ غیرھم لانہ حکایۃ۔
اس صورت میں ثبوت نہیں ہوگا اگر گواہوں نے غیروں کی رؤیت پر گواہی دی ہو کیونکہ یہ حکایت ہے(ت)
جنتر یوں کا مشکوك لکھنا تو آپ ہی مشکوك و مہمل ہے اگر وہ یقینی بھی لکھیں توبھی شرع میں اس پر اعتبار نہیں درمختار میں ہے :
لاعبرۃ بقول الموقتین ولوعدولاعلی المذھب۔
صحیح مذہب کے مطابق نجومیوں کے قول کا اعتبار نہیں اگر چہ وہ عادل ہوں۔ (ت)
چاند کے بڑے ہونے پر بھی لحاظ ناجائز ہے حدیث میں فرمایا :
اقتراب الساعۃ انتقاخ الاھلۃ۔ رواہ
قرب قیامت(کی نشانیوں) میں سے ہے کہ چاند
حوالہ / References سنن الدارقطنی کتاب الصیام نشرالسنۃ ملتان ۲/۱۶۳
درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی۱/۱۴۹
درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی۱/۱۴۸
المعجم الکبیر للطبرانی،حدیث ۱۰۴۵۱،المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۰/۲۴۴
#9722 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
الطبرانی فی الکبیر عن ابن مسعود رضی اﷲتعالی عنہ۔
قرب قیامت(کی نشانیوں) میں سے ہے کہ چاند بڑا نظر آئے گا۔ اسے طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
دوسری حدیث میں ہے :
من اقتراب الساعۃ ان یری الھلال قبلا فیقال ھو للیلتین۔ رواہ فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ۔
قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ چاند واضح ہوگا تو کہا جائے گا کہ دوسری رات کا ہے۔ اسے طبرانی نے المعجم الاوسط میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
دونوں حدیثوں کا حاصل یہ کہ قرب قیامت کی یہ بھی ایك علامت ہے کہ ہلال پھولا ہوا نکلے لوگ کہیں کل کا ہے پس ایسی صورت میں اتوار کی عید اور قربانی بالکل باطل اور خلاف شرع ہے۔ عید کوئی دنیوی تقریب نہیں حکم الہی ہے جب مطابق شرع نہ ہو محض بیکار بلکہ گناہ ہے بالفرض اگر چاند پنجشنبہ ہی کو ہوگیا ہے جب بھی دوشنبہ کو نماز قربانی بلاشبہ صحیح ہے اور جمعہ کو ہواتویکشنبہ کو نماز و قربانی محض باطل تو ایسے امر میں پڑنا شرع اور عقل دونوں کے خلاف ہے مسلمان بھائیوں کو چاہئے کہ شرع کے کام شرع کے طور پر کریں اپنے خیالات کو دخل نہ دیں۔ وباﷲالتوفیق واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۴ : مسئولہ محمد امین خاں تاجر سبز منڈی شہجہانپور ۲۰رجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہلال رمضان مبارك یا عیدین اگر دس یا پانچ آدمیوں مسلمانوں نے مشاہدہ کیا اور کل ناقصان شرعی ہیں محلوق اللحیہ ہے کوئی قصر اللحیہ کوئی ستر کشادہ رکھتا ہے کسی کی عورت بلا حجاب پیش اجانب جاتی ہے کوئی سود لیتا ہے کوئی کذب وغیبت میں مبتلا رہتا ہے کوئی اور منہیات میں۔ لیکن وہ سب معاملات میں ایسے ثقہ ہیں کہ مفتی کو ان کی شہادت پریقین تام ہوتا ہے کہ اس امر خاص یعنی شہادت مسلمان میں یہ لوگ کا ذب نہیں اور کوئی متقی اس شہادت میں ان کا شریك نہیں کہ متقی پرہیزگار شہر میں بہت کمیاب ہیں یا دیہات میں ایسا اتفاق ہوکہ وہاں ایسے لوگ زیادہ ہوتے ہیں اور متقی پرہیز گار شاذونادر اس صورت میں روزہ رمضان شریف کافرض ہوگا یا نہیں اور نماز عید درست ہوگی یا نہیں اور مفتی کو ایسے لوگوں کی شہادت باوجود یقین اہل شہر پر فرضیت صوم کا حکم کرنا جائز ہے یانہیںاگر روزہ نہ رکھے تو اثم ہے یا نہیںاور اگررکھ کر توڑڈالے تو اس پر کفارہ واجب ہے یانہیں
حوالہ / References کنزالعمال بحوالہ طبرانی اوسط حدیث۳۸۴۷۰ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۴/۲۲۰
#9723 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
الجواب : صحیح یہ ہے کہ مسلمان اگرچہ فاسق ہو اہل شہادت ہے مگر اس کی شہادت قبول کرنی ناجائز ہے ماسوااس حالت کے کہ اس کے بارے میں کہ حاکم کو تمری صدق ہوکہ یہ بھی تبین میں داخل ہے۔
کماقال تعالی
یایها الذین امنوا ان جآءكم فاسق بنبا فتبینوا ان تصیبوا قوما بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم ندمین(۶) ۔
جیساکہ اﷲتعالی نے فرمایا : اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذانہ دے بیٹھو پھراپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔ (ت)
جب مفتی اہل فتوی کو ان کے بارے میں تمری صدق ہو تو اس کا حکم حجت شرعیہ ہے رمضان و فطر واجب ہوجائیں گے اور اسکے حکم کے بعد عوام میں کسی کو خلاف کی گنجائش نہ ہوگی۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۲۱۵ : از ریاست فرید کوٹ ضلع فیروزپور مسئولہ منشی سید محمد علی فورمین ۲۴رمضان المبارك ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں حضورفیض گنجور اعلحضرت تاج العلوم الشرعیہ اس معاملہ میں کہ اخبار دبدبہ سکندری سے معلوم ہوا کہ ملك آسام میں رؤیت ہلال سہ شنبہ کو ہوکر چہارشنبہ کو ہو کر پہلا روزہ ہوا یہاں پنجاب اور عموما اکثر حصہ ملك ہندوستان ومارواڑمیں چہار شنبہ کورؤیت جمعرات کا پہلا روزہ ہوا اب اس صورت میں ہمارے واسطے کیاحکم ہے کیا ہم پر اس روز کی قضاء لازم آئے گی اور کس قدر فاصلہ تك رؤیت ہلال کا ایك حکم مانا جاسکتا ہے اگر ۲۹رمضان المبارك کو جورؤیت ملك آسام کے حساب سے ۳۰ ہوجائے گی چاند نہ دیکھے یا گر دوغبار کی وجہ سے نہ دیکھا جاسکے تو یہاں پورے تیس روزے کئے جائیں یا ملك آسام کی تحقیق تصدیق پر عید کرلی جائے یہ بھی واضح خیال انور رہے کہ یہاں رؤیت رمضان پر کوئی غبار یا ابر نہیں تھا مطلع کھلا ہواتھا چاند کوشش سے بھی نظر نہیں آیا۔ اس حکم سے جلد اطلاع فرمائیے کہ رمضان المبارك کا وقفہ کم رہ چکا ہے۔
الجواب :
ہمارے ائمہ مذہب صحیح معتمد میں دربارہ رمضان وعید فاصلہ بلاد کا اصلا اعتبار نہیں مشرق کی رؤیت مغرب والوں پر حجت ہے وبالعکس ہاں دوسری جگہ کی رؤیت کا ثبوت بروجہ صحیح شرعی ہونا چاہئے خط یاتار یا تحریر اخبار افواہ بازار یا حکایت امصار محض بے اعتبار بلالکہ شہادت شرعیہ یا استفاضہ شرعیہ درکار درمختار میں ہے :
حوالہ / References القرآن ۴۹ /۶
#9724 · رسالہ : طرق اثبات الھلال ١٣٢٠ھ (اثباتِ چاند کے طریقے)
اختلاف المطالع غیرمعتبر علی المذھب وعلیہ الفتوی فیلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذاثبت عندھم رؤیۃ اولئك بطریق موجب کمامر
صحیح مذہب کے مطابق مطالع کا اختلاف معتبر نہیں اور فتوی اسی پر ہے تواہل مغرب کی رؤیت کی بناء پر اہل مشرق پر روزہ لازم ہوگا بشرطیکہ ان کی رؤیت بطریق شرعی ان تك پہنچے جیسا کہ گزرچکا ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ بطریق موجب کان یتحمل اثنان الشہادۃ اویشھد اعلی حکم القاضی اویستفیض الخبر بخلاف مااذا اخبراان اھل بلدۃ کذارأوہ لانہ حکایۃ ح۔
قولہ “ بطریق موجب “ سے مرادیہ ہے کہ دو۲مرد شہادت پر گواہی دیں یا قاضی کے فیصلہ پر گواہی دیں یا خبر مشہور ہوجائے بخلاف اس صورت کے کہ جب یہ خبر دیں کہ فلاں اہل شہر نے چاند دیکھا ہے کیونکہ یہ حکایت ہے ح۔ (ت)
اسی میں ہے :
قال الرحمتی معنی الاستفاضۃ ان تاتی من تلك البلدۃ جماعات متعددون کل منھم یخبر عن اھل البلدۃ انھم صامو اعن رؤیۃ الخ۔
شیخ رحمتی نے فرمایا : شہرت کا مفہوم یہ ہے کہ اس شہر سے متعدد جماعتیں آئیں اور ہر ایك یہ اطلاع دے کہ اس شہر کے لوگوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے الخ(ت)
پس صورت مستفسرہ میں ہم کو نہ خبر آسام پر عمل جائز نہ خبر حیدر آباد بلالکہ جب تك ثبوت شرعی نہ ہو پنجشنبہ ہی کہ پہلی ہے اور اگر آئندہ پنجشنبہ کو خدا نخواستہ ابر یا غبارہوا اور رؤیت نہ ہو تو حرام ہے کہ اس پنجشنبہ کو ۳۰ مان کر جمعہ کی عید کرلیں بلالکہ اس صورت میں ہم پر جمعہ کا روز ہ بھی فرض ہوگا اگرچہ قواعد علم ہیأت سے جمعہ آئندہ یکم شوال ہے اور جبکہ ہمیں سہ شنبہ کی رؤیت ثابت نہ ہوئی تو جس نے چہار شنبہ کو بہ نیت نفل بھی روزہ نہ رکھا اس پر بھی اس روزہ کی قضاء نہیں کہ ہمارے حق میں یکم شنبہ کو تھی۔ واﷲتعالی اعلم
_________________
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۴۹
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲/۱۰۵
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲/۱۰۵
#9725 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
مسئلہ ۲۱۶ :
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
اﷲ رب محمد صلی علیہ وسلما
(م) عــــہ فصل اول:رؤیت ہلال کے حکم اور اس کے متعلق مسائل وفوائد میں پندرہ ہلال پر مشتمل ۔
ہلا ل نمبر ۱ : ۲۹شعبان کو غروب آفتاب کے بعد ہلال رمضان کی تلاش فرض کفایہ ہے۔
عــــہ : قوسین کے اندر م ش ح سے بالترتیب متن شرح اور حاشیہ مراد ہے۔
#9726 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
(ش)نمبر۱ : فرض کفایہ یعنی سب ترك کریں تو سب گنہگار اور بعض بقدر کفایت عہ کریں تو سب پر سے اتر جائے اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ شاید شعبان ۲۹ کا ہوجائے تو کل سے رمضان ہے۔ اگر چاند کا خیال نہ کیا تو عجب نہیں کہ ہوجائے اور یہ بے خبر رہیں۔ تو کل شعبان سمجھ کر ناحق رمضان کا روزہ جائے ۔
یجب کفایۃ التماس الہلال لیلۃ الثلثین من شعبان لانہ قد یکون ناقصا (مراقی الفلاح) الظاہر منہ الافتراض لانہ یتوصل بہ الی الفرض (ط ط) (حاشیۃ العلامۃ الطحطاوی علیھا)
شعبان کی تیسویں رات چاند کا تلاش کرنا وجوب کفایہ ہے کیونکہ بعض اوقات وہ ناقص ہوتا ہے(مراقی الفلاح)(ت)اس سے ظاہر یہی ہے کہ یہ فرض ہے کیونکہ فرض تك پہنچنے کا یہ وسیلہ ہے(ط ط)
عــــہ : حاشیہ رفع العلۃ عن نورالادلۃ : قلت بقدر کفایت
فقیر نے یہ لفظ اس لیے زائد کر دیا کہ اگر التماس ہلال ایسے شخص نے کیا جس کا بیان عندالشرع مقبول نہ ہو تو اس کا التماس کرنا نہ کرنا یکساں ہوا اور مقصود شرع کہ اس کے ایجاب سے تھا یعنی ثبوت ہلال وہ حاصل نہ ہوا۔ مثلاصفائے مطلع کی حالت میں صرف ایك آدمی نے تلاش کیا یا ہلال عیدین میں فقط عورتوں یا غلاموں نے تلاش کی وعلی ھذا القیاس انمازدتہ تفقہافلیحرر۔
(م) نمبر ۲ : یوں ہی ۲۹ رمضان کو ہلال عید کی۔
(ش) نمبر ۲ : اگر چاند ہوگیا اور نہ دیکھا تو نادانستہ عید کے دن روزہ حرام میں مبتلا ہوں گے
کذایجب التماس ہلال شوال فی غیوب التاسع والعشرین من رمضان (ط ط)
اسی طرح شوال کا چاند انتیسویں رمضان کی شام کو دیکھنا بھی واجب ہے(ط ط)(ت)
(م)نمبر۳ : ۲۹ذیقعدہ کو ہلال ذی الحجہ کی تلاش بھی ضروری ہے۔
(ش)نمبر۳ : اقول : یہ یوں ضروری ہوا کہ حج و نماز عید و قربانی و تکبیرات تشریق کے اوقات جاننے اسی پر موقوف ہیں تواس کی تلاش عام لوگوں پر واجب کفایہ ہونی چاہئے اور اہل موسم پر فرض کفایہ کہ وہاں بے خیالی میں چاند ۲۹ کا ہوگیا اور بنارکھا۳۰ کا تو وقوف عرفہ کہ حج کا فرض اعظم رکن اکبر ہے اپنے وقت سے باہر یوم النحر میں واقع ہوگا اور عام لوگوں کو کسی فرض میں خلل کا اندیشہ نہیں پر واجبات میں دقت آئے گی مثلا کسی ضروت سے نماز عید کی تاخیر بارھویں تك چاہی تو یہ جسے بارہویں سمجھے ہیں وہ تیرہویں ہے۔ اور ایام نماز کہ ایام نحر تھے گزر چکے نماز بے وقت ہوئی
حوالہ / References مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فیما یثبت بہ الہلال نور محمد کتب خانہ کراچی ص ۳۵۴
حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح فصل فیما یثبت بہ الہلال نور محمد کتب خانہ کراچی ص ۳۵۴
حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح فصل فیما یثبت بہ الہلال نور محمد کتب خانہ کراچی ص ۳۵۴
#9727 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
بہت لوگ بارہویں کو قربانی کرتے ہیں ان کی قربانیاں بے وقت ہونگی عرفہ کی صبح سے ہر نماز کے بعد تکبیر واجب ہوتی ہے واقع میں جو عرفہ ہے یہ اسے آٹھویں جان کر تکبیریں نہ کہیں گے۔
وکما ان مایتوصل بہ الی الفرض فرض فکذا ا ن مایتوصل بہ الی الواجب واجب فصح الافتراض علی اھل الموسم والوجوب علی غیرھم ھذا کلہ ماذکرتہ تفقھاوارجوان یکون صوابا ان شاء اﷲتعالی۔
جیساکہ فرض تك پہنچانے والی چیز فرض ہوتی ہے اسی طرح واجب تك پہنچانے والی چیز واجب ہوتی ہے تو اہل موسم پر کوشش کرنا فرض اور دوسروں پر واجب ہے تمام جو میں نے بیان کیا یہ بطور تفقہ ہے اور امید ہے کہ یہ انشاء اﷲتعالی صواب ہوگا۔ (ت)
(م)نمبر۴ : ۲۹ رجب کو ہلال شعبان ۲۹ شوال کو ہلال ذیقعدہ کی بھی تلاش کریں۔
(ش)نمبر۴ : ہلال شعبان کی تلاش کا حکم خود حدیث عــــہ۱ میں ہے حکمت اس میں یہ ہے کہ جب رمضان کا چاند بوجہ ابر نظر نہیں آتا تو حکم ہے کہ شعبان کی گنتی تیس پوری کرلیں۔ جب شعبان کا چاند بہ تحقق نہ معلوم ہوگا تو اس کی گنتی پر کیا یقین ہوسکے گا۔ یوں ہی اگر ذی الحجہ کا چاند نظر نہ آئے تو ذیقعدہ کی گنتی تیس رکھیں گے اور وہی بات یہاں پیش آئے گی
کذا ینبغی ان یلتمسواھلال شعبان ایضافی حق اتمام العدد۱ (ع)(فتاوی عالمگیریۃ) عن السراج الوھاج قلت وزدت عــــہ۲ علیہ ھلال ذی القعدۃ تفقھا۔
یوں ہی اتمام تعداد کے لیے شعبان کے چاند کا تلاش کرنا بھی ضروری ہے(ع) یہ فتاوی عالمگیری میں سراج وہاج سے ہے بندہ اس پر بطور استخراج اضافہ کرتا ہے کہ ذی القعدہ کے چاند کا بھی تلاش کرنا ضروری ہے۔ (ت)
عــــہ۱ : قلت خود حدیث میں ہے :
اخرج الترمذی فی الجامع والحاکم فی المستدرك عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ قال قال رسول اﷲصلی اﷲعلیہ وسلم احصو اھلال شعبان لرمضان ۔ ۱۲(م)
عــــہ۲ : قلت وزدت علیہ ھلال ذی القعدہ
ترمذی نے جامع میں اور حاکم نے مستدرك میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : رمضان کے لےے شعبان کے چاند کو شمار کرو۱۲(م)
قلت اس پر میں نے بطور استنباط ذوالقعدہ کے چاند (باقی اگلے صفحے پر)
حوالہ / References الفتاوی الھندیۃ الباب الثانی فی رؤیۃ الہلال دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۱۹۷
جامع الترمذی باب ماجاء فی احصاء ہلال نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۱۲۳
#9728 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
تنبیہ : لوگ تین قسم ہیں : (۱)عادل (۲)مستور(۳)فاسق
عادل وہ مرتکب کبیرہ عــــہ۱ یا خفیف عــــہ۲ الحرکات نہ ہو۔ اور مستور پر پوشیدہ حال جس کی کوئی بات مسقط شہادت معلوم نہیں۔
اور فاسق جو ظاہرا بد افعال ہے۔
عادل کی گواہی ہر جگہ مقبول ہے اور مستور کی ہلال رمضان میں اور فاسق کی کہیں نہیں۔ پر بعض روایات کے بعض الفاظ بظاہر اس طرف جاتے ہیں کہ رمضان میں فاسق کی شہادت بھی سن لیں۔ ممکن ہے کہ اس شہر کا حاکم شرع یہی خیال رکھتا ہو اگر چہ محققین نے اسے رد کردیا۔ تو جس فاسق کو معلوم ہوکہ یہاں کے حاکم کا یہ مسلك ہے اس پر بیشك گواہی دینی واجب ہوگی ورنہ نہیں اور رمضان میں جبکہ عادل و مستور کا ایك حکم ہے تو اس وجوب میں بھی یکساں رہیں گے۔ رہا عادل جب وہ دائم المقبول ہے تو اس پر وجوب بھی مطلقا ہے یعنی رمضان ہو خواہ عیدالفطر خواہ عید الاضحی
یلزم العدل ان یشھد عند الحاکم فی لیلۃ رؤیتہ کیلایصبحوامفطرین وھی من فروض العین واما الفاسق ان علم ان الحاکم یمیل الی قول الطحاوی و یقبل قولہ یجب علیہ واما
عادل پر لازم ہے کہ اس نے جس رات چاند دیکھا ہے اسی رات حاکم کے پاس گواہی دے تاکہ لوگ صبح کو بے روزہ نہ اٹھیں اور یہ گواہی فرض عین ہے اور فاسق اگر جانتا ہے کہ حاکم کا میلان طحاوی کے قول کی طرف ہے اور اس کا قول قبول کرلیتا ہے تو اس پر
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
تفقھا ھذا والذی قبلہ فی ھلال ذی الحجۃ لیس مایتفکر فان امثال ذلك تلتحق علی وجہ دلالۃ النص وھو مما یشترك فیہ الفقہاء والعوام کما نص علیہ العلامۃط وغیرہ۱۲(م)
کا اضافہ کیا ہے یہ اور اس سے پہلے ذوالحج کے چاند میں تفکر کی ضرورت نہیں کیونکہ اس طرح کے معاملات بطوردلالۃ النص ملحق ہوجاتے ہیں اور اس میں فقہاء اور عوام دونوں مشترك ہیں جیسا کہ اس پر علامہ طحطاوی وغیرہ نے تصریح کی ہے۱۴(ت)
عــــہ۱ : قلت مرتکب کبیرہ نہ ہو اقول ارتکاب کبیرہ میں اصرار صغیرہ بھی آگیا کہ صغیرہ اصرارسے کبیرہ ہوجاتا ہے اماقول العلماء ھو ترك الکبائر والاصرار علی الصغائر الخ فارادوا الایضاح لاالتتمیم کما لا یخفی(رہاعلماء کا یہ قول کہ کبائر کا ترك اور صغائر پر اصرار الخ تو اس سے مراد وضاحت ہے نہ کہ تکمیل تعریف جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت)
عــــہ۲ : قلت خفیف الحرکات نہ ہو جیسے بازار میں کھاتے پھرنا یا شارع عام چلنے پر راہ میں پیشاب کو بیٹھنا ۱۲(م)
حوالہ / References مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فیما یثبت بہ الہلال نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۸
#9729 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
المستورففیہ شبھۃ الرویتین (ش عن الحلوانی) اقول : واذقد تقررقبول المستور کما سیأتی فارتفع النزاع وقد افاد بمفھوم الشرح ان الفاسق لایجب علیہ ان لم یعلم ذلك وھو الذی افاد(در) عن البزازی ونبہ علیہ(ش)۔
گواہی دینا واجب ہے۔ رہا مستورالحال شخص تو اس کے بارے میں دو۲ روایات کا شبہ ہے(ش عن الحلوانی) اقول : جب مستور کے قول کا مقبول ہونا ثابت ہے جیسا کہ عنقریب آرہا ہے تو نزاع ختم ہوگیا اور مفہوم شرح سے یہ واضح ہوا ہے اگر فاسق اس معاملہ کو نہ جانتا ہو تو اس پرگواہی لازم نہیں یہ وہ ہے جو(در)نے(بزازی)سے افادہ کی اور اس پر تنبیہ کی (شامی)نے۔ (ت)
پھر وجوب کا سبب یہ ہے کہ اگر دیکھنے والے نے اسی شب گواہی نہ دی تو ہلال رمضان میں صبح کولوگ بے روزہ اٹھیں گے اور ہلال فطر میں روزہ دار۔ اور یہ دونوں ناروا جس کا الزام گواہی نہ دینے والے پر ہوگا۔
فان تاخیر الحجۃ عن وقت الحاجۃ اثم وقد قال تعالی
و لا تكتموا الشهادة-و من یكتمها فانه اثم قلبه-
کیونکہ ضرورت وقت سے گواہی میں تاخیر گناہ ہے اﷲتعالی کا ارشاد گرامی ہے : گواہی کو مت چھپاؤ اور جو گواہی چھپائے گا تو اندر سے اس کا دل گنہگار ہے۔ (ت)
اقول : مگر ہلال ذی الحجہ میں آٹھویں تك کوئی حاجت ایسی نہیں جو بوجہ تاخیر خلل پذیر ہو۔ بس یوں معلوم ہوجانا چاہئے کہ فجر عرفہ سے لوگ تکبیر میں مشغول ہوں اور حجاج سامان وقوف کریں
فان اخرالی ھذا فلایؤخر وقت الحاجۃ ط انما کان الاثم بہ فلیکن التاخیر الی ھنا سابعا ھذا ماقلتہ تفقھا فلیحرر۔
پس اگر یہاں تك مؤخر کرتا ہے تو کوئی حرج نہیں لیکن وقت حاجت سے مؤخر نہ کرے ط۔ کیونکہ اس سے گنہ گار ہوگا تویہاں تاخیر سات ذوالحجہ تك ہوسکتی ہے۔ یہ بندہ نے بطور استخراج کہا ہے اسے محفوظ کیجئے۔ (ت)
(م)نمبر۵ : ہلال دیکھنے والے عادل پر مطلقا اور مستور پر رمضان میں اور فاسق پر جب سمجھے کہ حاکم میری گواہی مان لے گا واجب ہے کہ رمضان و عید الفطر میں اسی شب اور ذی الحجہ میں آٹھویں تك حاکم شرع کے پاس حاضر ہوکر رؤیت پر گواہی دے۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۹۱
القرآن ۲/۲۸۳
#9730 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
(م)نمبر ۶ : یہاں تك زن پر دہ نشین نکلے اگر چہ شوہر اذن نہ دے اگر چہ کنیز اجازت مولی نہ پائے۔ اگر سمجھیں کہ ثبوت رؤیت ہم پر موقوف ہے ورنہ یہ نکلنا ناجائز ہوگا۔
(ش)نمبر۶ : یجب علی الجاریۃ المخدرۃان تخرج فی لیلتھا۔ (د)(درمختار) ای لیلۃ الرؤیۃ (ش) بلا اذن مولاھا وتشھد کما فی الحافظیۃ (د) وکذایجب علی الحرۃ ان تخرج بلا اذن زوجھا کذاغیرالمخدرۃ والمزوجۃ بالاولی (ش)محلہ اذا تعینت للشہادۃ و الا حرم علیہا (طط)
پر دہ نشین لونڈی پر اس رات نکلنا لازم ہے۔ (د) سے مراد در مختار ہے یعنی چاند رات۔ (ش) سے مراد شامی ہے یعنی اپنے مولی کی اجازت کے بغیر نکلے اور گواہی دے جیسا کہ حافظیہ میں ہے(د) اسی طرح آزاد عورت پر بھی بلا اجازت خاوند نکلنا لازم ہے اسی طرح وہ لونڈی جو پردہ نشین نہ ہو اور وہ عورت جو منکوحہ نہ ہو ان کانکلنا تو بطریق اولی ہوگا(ش) یہ ا س وقت ہے جب شہادت کے لیے اس کا تعین ہو ورنہ اس کا نکلنا حرام ہوگا(طط)۔ (ت)
یہ حکم اس صورت میں ہے جب خاص انہی لوگوں پر گواہی متعین ہو ورنہ پردہ نشین کو جانا یا عورت کو بے اذن شوہر یا غلام و کنیز کو بے اجازت مولی نکلنا روا نہیں
قال ط(الطحاوی) والظاھر ان محل ذلك عند توقف اثبات الرؤیۃ والافلا (ش)
طحاوی نے فرمایا : ظاہر یہی ہے کہ اس کی ضرورت اس وقت ہے جب رؤیت چاند کا اثبات ان پر موقوف ہو ورنہ ضروری نہیں(ش)(ت)
(م)نمبر۷ : جہاں ریاستیں اسلامی ہیں ان بلاد میں جو عالم دین سنی المذہب سب سے زیادہ علم فقہ رکھتا ہو وہ بحکم شرع سردار مسلمانان ہے مسلمانوں پر فرض ہے کہ اپنی دینی باتوں میں اسی کی طرف رجوع کریں اور اس کے فتووں پر عمل کریں تو چاند دیکھنے پر بھی واجب ہے کہ اس شب اس کے حضور ہوکر ادائے شہادت کرے۔
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱/۱۴۸
ردالمحتار کتاب الصوم داراحیاء الترا ث العربی بیروت ۲/۹۱
درمختار کتاب الصوم مطبع مجتائی دہلی۱/۱۴۸
ردالمحتار کتاب الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۹۱
طحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الصوم نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۸
ردالمحتار کتاب الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۹۱
#9731 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
(ش) نمبر۷ : علامہ عبد الغنی بن ا سمعیل نابلسی قدس سرہ حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں :
وفی العتابی اذاخلاالزمان من سلطان ذی کفایۃ فالامورمؤکلۃ الی العلماء ویلزم الامۃ الرجوع الیھم۔
عتابی میں ہے کہ جب دور ایسے بادشاہ سے خالی ہو جو صاحب قدرت ہوتو اس وقت امور علماء کے سپرد ہوں گے اور امت پر لازم ہے کہ اس وقت وہ علماء کی طرف رجوع کرے۔ (ت)
اسی میں ہے :
المتبع اعلمھم فان استووااقرع بینھم۔
علماء میں جو سب سے زیادہ صاحب علم ہوگا لوگ اس کی اتباع کریں اگر علم میں برابر ہوں تو ان میں قرعہ ڈال لیں۔ (ت)
تنبیہ : آج کل اسلامی ریاستوں میں بھی قضاۃ و حکام اکثر بے علم ہوتے ہیں تو عالم دین ان پر بھی مقدم۔ اور وقت اختلاف فتوی عالم پر ہی عمل واجب۔
حکایت : امام الحرمین ابو المعالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے زمانے میں بادشاہ وقت کے یہاں ۲۹کے ہلال پر گواہیاں گزریں۔ بحکم سلطان اعلان ہوا کہ کل عید ہے یہ خبر امام الحرمین کو پہنچی۔ گواہیاں قابل قبول نہ تھیں امام کے حکم سے معا دوسرا اعلان ہو اکہ بحکم امام ابو المعالی کل روزہ ہے۔ صبح کو تمام شہر روزہ داراٹھا۔ حاسدوں نے یہ خبر خوب رنگ کربادشاہ تك پہنچائی کہ اگر امام چاہیں تو سلطنت چھین لیں۔ ملاحظہ ہو کہ انہیں کا حکم مانا گیا اور حکم سلطان کی کچھ پروانہ ہوئی۔ بادشاہ نے برافروختہ ہو کر چوب دار بھیجے کہ جیسے بیٹھے ہیں تشریف لائیں۔ امام ایك جبہ پہنے تھے ویسے ہی دربار میں رونق افروز ہوئے اشتعال شاہی دوبالا ہوا کہ لباس درباری نہ تھا سوال کیا فرمایا اطاعت اولوالامر واجب ہے۔ حکم تھا جیسے بیٹھے ہیں آئیں میں یوں ہی بیٹھا تھا چلاآیا کہا اعلان خلاف پر کیا باعث تھا فرمایا : انتظام دنیا تمہارے سپرد ہے اور انتظام دین ہمارے متعلق۔ بادشاہ پر ہیبت حق طاری ہوئی۔ باعزاز تمام رخصت کی اور بد گویوں کو سزادی۔
تنبیہ : علم دین فقہ وحدیث ہے منطق و فلسفہ کے جاننے والے علماء نہیں یہ امور متعلق بہ فقہ ہیں تو جو فقہ میں زیادہ ہے وہی بڑا عالم دین ہے اگر چہ دوسرا حدیث و تفسیر سے زیادہ اشتعال رکھتا ہو پھر بھی عالم دین نہ ہوگا مگر سنی المذہب کہ فاسد العقیدہ جہل مرکب میں گرفتار جو جہل بسیط سے ہزار درجہ بدتر خصوصا غیر مقلدین کہ
حوالہ / References الحدیقۃ الندیہ النوع الثالث فی المندوب الیہا مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۳۵۱
الحدیقۃ الندیہ النوع الثالث فی المندوب الیہا مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۱ /۳۵۱
#9732 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
فقہ و فتوی میں ان پر اعتماد تو ایسا ہے جیسے چور کو پاسبان بنانا۔
(م)نمبر۸ : جہاں کوئی عالم بھی نہ ہو مجمع مسلمین مثلا مسجد جامع وغیرہ میں گواہی دیں۔
(ش)نمبر۸ : وان لم یوجد حاکم یشھد فی المسجد (جا) جامع الرموز قلت : انما خص المسجد لہ بمحل الاجتماع و انما المقصود الاعلان لیحصل حیثما وجد وامجتمعین کما لایخفی۔
اگر حاکم موجود نہ ہو تو وہ مسجد میں گواہی دے (جامع الرموز) قلت : خاص مسجد کا ذکر اس لیے کہ وہ محل اجتماع ہے اور مقصود اعلان ہوتا ہے تاکہ اعلان ایسی جگہ ہوجائے جہاں لوگ جمع ہوں جیسا کہ مخفی نہیں(ت)
(م)نمبر ۹ : جو بلا عذر گواہی دینے میں تاخیر کرےگا پھر کہے گا میں نے دیکھا تھا اس کی گواہی مردود ہوگی۔
(ش)نمبر۹ : عذر کی صورت یہ کہ مثلا شہر میں نہ تھا دیہات میں دیکھا وہاں سے اب آیا ہے تواس کی گواہی سن لیں گے اور تاخیر سے وہی مراد کہ وقت حاجت کے بعد پھر نہ اٹھار کھے ہلال رمضان و عیدالفطر میں پہلی ہی شب ہے۔
شھد وافی اخررمضان عــــہ برؤیۃ ھلالہ قبل صومھم بیوم ان کانوافی المصر ردت لترکھم الحسبۃ وان جاء وامن خارج قبلت من الفتح (ش)
(ح) عــــہ نمبر۹ : قولہ فی اخر رمضان اقول من احاط بالدلیل علم ان الاخرلیس بقید بل لو شھد وامن غد بعد ما اصبح الناس مفطرین انارأینا الہلال البارحۃ وکانوافی المصر ولاعذر فسقواو ردت شھادتھم لترکھم الحسبۃ وقد علمت ذلك من نص العلماء ان الشہادۃ من
گواہوں نے رمضان کے آخری دن گواہی دی کہ انہوں نے اہل شہر کے روزہ شروع کرنے سے ایك دن پہلے چاند دیکھا تھا اگر وہ گواہ شہر کے رہنے والے ہوں تو گواہی مسترد ہوگی کیونکہ انہوں نے گواہی میں تاخیر کی ہے اور اگر وہ خارج شہر سے آئے ہوں تو ان کی گواہی مقبول ہوگی یہ فتح سے شامی میں ہے۔ (ت)
قولہ فی اخر رمضان ۔ اقول : جس شخص نے دلیل کو خوب جان لیا ہے اس پر واضح ہوگا کہ “ الاخر “ کا لفظ قید نہیں بلکہ اگر انہوں نے اس دن سے دوسرے دن گواہی دی جب لوگ صبح بے روزہ اٹھے انہوں نے کہا ہم نے گزشتہ رات چاند دیکھا اور وہ شہر کے رہنے والے تھے اور عذر بھی کوئی نہ ہو تو وہ فاسق قرار پائیں گے ان کی گواہی مسترد ہوگی کیونکہ انہوں نے ذمہ داری کی خلاف ورزی
حوالہ / References جامع الرموز کتاب الصوم مکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/۳۵۴
ردالمحتار کتاب الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۹۱
#9733 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
فروض العین وانھا تجب فی لیلۃ الرؤیۃ حتی تخرج المخدرۃ والمنکوحۃ بدون اذن زوجھا ومولاھا ۱۲(ملخصا)
کی ہے اور آپ یہ بھی جان چکے کہ علماء نے تصریح کی ہے کہ شہادت فرض عین ہے اور یہ چاند دیکھنے والی رات میں ہی گواہی دینا لازم ہے حتی کہ پردہ نشین اور منکوحہ خواتین پر بغیر اجازت خاوند اور مولی کے( چاند دیکھنے کے لیے نکلنا لازم ہے)۔ (ت)
(م) نمبر۱۰ : جب چاندپر نظر پڑے اور دیکھنے والوں کی گواہی کفایت نہ کرتی ہو فوراجہا ں تك بن پڑے ایسےمسلمانوں کو دکھا دیں جن کی گواہی کافی ہو اور ویسے بھی دکھا دینا چاہئے کہ کثرت بہرحال بہتر ہے ۔
(ش) نمبر ۱۰ : اقول : اگر مطلع صاف نہیں دفعتا ابر ہٹا اور اسے چاند نظر پڑا اب یہ اس قابل نہیں کہ اس کی گواہی مسموع ہو خواہ فاسق ہے یا مستور یا اکیلا یا صرف عورتیں یا غلام ہیں اور ہلال ہلال عیدین تو ان لوگوں کا دیکھنا کافی نہ ہوگا۔ اور عجب نہیں کہ ابر پھر آجائے۔ لہذا نہایت تعجیل کرکے ایسے معتمد مسلمانو ں کو دکھا دے جن کی گواہیاں کفایت کرجائیں قال اﷲتعالی و تعاونوا على البر و التقوى ۪- (اﷲتعالی کا فرمان مبارك ہے۔ نیکی اور تقوی پر ایك دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔ ت) اس صورت میں تو بشرط قدرت معتمدین کو دکھانا لازم ہونا چاہئے اور اگر ایسا نہیں بلکہ خودان کی گواہی بس ہے تاہم اوروں کا دکھانا اچھا ہی ہے کہ کثرت شہود بہرحال بہتر ہے عجب کیا کہ یہ اپنے نزدیك اپنی گواہی کافی سمجھیں اور حاکم شرع کو کسی وجہ سے اعتبار نہ آئے تو اور شہود کی حاجت پڑے ھذاکلہ ما ذکرتہ تفقھا وارجواان یکون حسنا ان شاء اﷲتعالی (بندہ نے یہ تمام بطور استنباط کہا ہے اور امید ہے یہ ان شاء اﷲ درست ہوگا۔ ت)
(م)نمبر۱۱ : جس شام احتمال ہلال ہو جب تك حکم حاکم شرعی فتوی عالم دین نہ ہوہرگز ہرگز کسی وجہ سے بندوقیں یا آواز کی آتش بازی اپنے دنیوی کاموں کے لیے بھی ہرگزنہ کریں۔
(ش)نمبر۱۱ : اصطلاح یوں ٹھہری ہوئی ہے کہ جہاں اسلامی ریاست ہے بعد تحقیق ہلال توپ کے فیر ہوتے ہیں اور شہروں میں بند وقیں یا ہوائیاں وغیرہ چھوڑتے ہیں اب اگر ثبوت شرع ہوگیا اور حاکم شرع نے بھی حکم دے دیا جب تو یہ فعل مستحسن ہے کہ ایك نیت صالحہ سے کیا جاتا ہے اور آتشبازی کا ناجائز ہونا بوجہ اضاعت مال تھا یہاں جاری نہیں کہ بعد غرض محمود کے اضاعت کہاں۔ ورنہ دو۲ صورتیں ہیں : ایك یہ کہ اعلان ہلال کے سوا اور کسی وجہ سے یہ فعل کریں مثلا دوست کے گھر بیٹا پیدا ہوا بندوقیں سرکیں یا خالی بیٹھے مال ضائع کرنا چاہا ہوائیاں
حوالہ / References مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فیما یثبت بہ الہلال نورمحمد کارخانہ کتب کراچی ص۳۵۸،ردالمحتار کتاب ا لصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۹۱
القرآن ۵/۲
#9734 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
ناٹریاں تو مڑیاں چھوڑیں۔ یہ ممنوع ہے کہ اس میں مسلمانوں کو دھوکا ہوگا۔ دوسرے یہ کہ جاہلوں نے جو اپنے جاہلانہ مسئلوں سے بے حکم حاکم و فتوی عالم اپنے نزدیك رؤیت کی خبر ٹھیك جان کر پٹاخہ بازی شروع کردی۔ اور یہ بھی زیادہ ناجائز و حرام ہے کہ منصب رفیع شرع پر جرأت ہے۔
قال رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم افتوا بغیرعلم فضلواواضلوا۔ وعنہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم اجئر کم علی الفتیا اجئر کم علی النار۔ ھذا کلہ ایضا تفقھا ولااظن احد ایخالف فیہ۔ واﷲالھادی للصواب۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے : جو بغیر علم کے فتوی دیں گے خود بھی گمراہ اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا یہ بھی فرمان مبارك ہے : تم میں سے جو فتوی دینے میں زیادہ جرأ ت کرے گا وہ جہنم میں جانے میں زیادہ جرأت مند ہوگا۔ یہ تمام بھی بطور استخراج ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ اس میں کوئی مخالفت نہیں کرے گا۔ اﷲ ہی صواب کی طرف رہنمائی فرمانے والا ہے۔ (ت)
(م) نمبر ۱۲ : ہلال دیکھ کر اس کی طرف اشارہ نہ کریں۔ (ش) نمبر ۱۲ : کہ افعال جاہلیت سے ہے
تکرہ الاشارۃ الی الہلال عندرؤیتہ لانہ فعل اھل الجاھلیۃ (فتح القدیر)
چاند دیکھنے پر اس کی طرف اشارہ کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ اہل جاہلیت کا عمل ہے (فتح القدیر) (ت)
(م) نمبر ۱۳ : ہلال دیکھ کر منہ پھیرلے۔ (ش)نمبر۱۳ : اقول حدیث میں ہے :
ان النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کان اذارأی الہلال صرف وجہہ عنہ۔ رواہ ابوداؤد عن قتادۃ مرسلا ولاشواھد و سندہ ثقات۔
حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے اپنا منہ (مبارک) اس کی طرف سے پھیر لیتے۔ اسے ابوداؤد نے حضرت قتادہ سے مرسلا روایت کیا ہے اور اس کا شاہد کوئی نہیں اور اس کی سند ثقہ ہے(ت)
حوالہ / References صحیح مسلم باب رفع العلم قدیمی کتب خانہ کراچی۲/۳۴۰
سنن الدارمی باب الفتیا حدیث۱۵۹ نشر السنۃ ملتان ۱/۵۳
فتح القدیر فصل فی رؤیہ الہلال ، نوریہ رضویہ سکھر ، ۲/۲۴۳
سُنن ابی داؤد کتاب الادب باب ما یقول الرجل اذارای الہلال آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۳۹
#9735 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ شرکی چیز ہے افادہ المناوی فی التیسیر (مناوی نے تیسیرمیں افادہ کیا۔ ت)
اقول : یا یہ کہ کفار نے اس کی عبادت کی اور شرع میں اسے دیکھ کر اﷲ جل جلالہ سے دعا کرنی آئی تو پسندیدہ ہوا کہ منہ پھیر کر کی جائے تاکہ کفار سے مشابہت نہ لازم آئے۔ واﷲ و رسولہ اعلم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم۔
(م )نمبر۱۴ : یہ جو جاہلوں میں مشہور ہے کہ فلاں چاند تلوار پر دیکھے فلاں آئینے پر۔ یہ سب جہالت و حما قت ہے بلکہ حدیث میں جو دعائیں فرما ئیں وہ پڑھنی کافی ہیں۔
(ش)نمبر۱۴ : حدیث میں رؤیت ہلال کی بہت دعائیں عــــہ۱ آئیں بعض حصن حصین میں مذکور ہیں۔
(ح) عــــہ۲ نمبر ۱۴ : فقیر غفراﷲتعالی لہ جہاں تك اس وقت اپنی نظر میں ہیں تمام ادعیہ حدیث کو مع اشارہ رموز مخرجین جمع کرتا ہے وباﷲالتوفیق :
(می) اﷲ اکبراﷲاکبر الحمدﷲ لاحول ولا قوۃ الا باﷲ۔ اللھم انی اسئلك من خیر ھذاالشھر اعوذبك من شرالقدر ومن شریوم المحشر۔ (اطب)عن عبادہ بن الصامت ھلال خیر ورشد امنت بالذی خلقک۔ (د) عن قتادۃ بلاغا اللھم انی اسئلك من خیرھذا(۳) اللھم انی اسئلك من خیرھذا الشھر وخیر القدر واعوذ بك من شرہ (۳) (طب) عن رافع بن خدیج باسناد حسن اللھم
(می)اﷲ اکبر اﷲ اکبر الحمد ﷲ برائی سے پھرنے اور نیکی کی طاقت اﷲتعالی کی توفیق کے بغیر نہیں۔ اے اﷲمیں تجھ سے اس ماہ میں خیر مانگتا ہوں اور شر تقدیر اور شر قیامت سے تیری پناہ ڈھوندتا ہوں۔ (اطب) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے اے خیرو رشدکے چاند میں تیرے پیدا کرنے والے پر ایمان رکھتا ہوں۔ (د) حضرت قتادہ سے مرسلا مروی ہے اے اﷲ!میں تجھ سے اس میں خیر مانگتاہوں۔ (۳) اے اﷲ!میں تجھ سے اس ماہ کی اور تقدیر کی خیرمانگتا ہوں اور اس کے شر سے تیری پناہ ڈھونڈتا ہوں(۳)(طب) حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ سے سند حسن کے ساتھ مروی ہے : اے اﷲ!
حوالہ / References التیسیر تحت حدیث کان اذارأی الہلال مکتبۃ الامام الشافعی ریاض سعودیۃ ۲ / ۲۴۹
مسند احمد بن حنبل مرویا ت عبادہ بن الصامت دارالفکر بیروت ۵ / ۲۳۹
سنن ابی داؤد کتاب الادب باب ما یقول الرجل اذا رأی الہلال آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۳۹
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۴۴۰۹ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۴ / ۲۷۶
#9736 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
اھلہ علینا بالیمن والایمان والسلامۃ والسلام۔ (اق ت ك حب) عن طلحۃ بن عبید اﷲ باسناد حسن والتوفیق لما تحب وترضی۔ حب عن طلحۃ (طب) عن ابن عمر والسکینۃ والعافیۃ والرزق الحسن (سن)عن حدیر السلمی مرسلا ربی وربك اﷲ۔ امی ت ك (حب) عن طلحۃ طب عن ابن عمر الحمد ﷲ الذی ذھب بشھرکذا وعن قتادۃ بلاغا(سن) عن عبد اﷲ بن مطرف اسئلك من خیر ھذاالشھرونورہ و برکتہ وھداہ وطھورہ ومعافاتہ (سن)مثلہ اللھم ارزقنا خیرہ ونصرہ وبرکتہ وفتحہ ونورہ ونعوذبك من شرہ وشرما بعدہ (مومص)عن علی موقوفا۔
اس چاند کو ہم پر برکت ایمان سلامتی اور امن والا بنادے ۔ (ا ق ت ك حب)حضرت طلحہ بن عبید اﷲ سے سند حسن کے ساتھ مروی ہے اور اس چیز کی توفیق دے جو تجھے پسند اورتو اس سے راضی ہے(حب) نے طلحہ سے اور(طب) نے حضرت ابن عمر سے یہ الفاظ بھی نقل کئے سکون عافیت اور رزق حسن مانگتا ہوں (سن)نے حضرت حدیر السلمی سے مرسلا روایت کیا میرا رب اور تیرا رب اﷲ ہے ( ا می ت ك حب) نے حضرت طلحہ سے اور طب نے حضرت ابن عمر سے روایت کیا تمام حمد اس اﷲ کی جو گزشتہ ماہ اسے لے گیا حضرت قتادہ سے بلاغا اور (سن) نے حضرت عبد اﷲبن مطرف سے روایت کیا ہے اے اﷲ! میں تجھ سے اس ماہ کی خیر اس کا نور اس کی برکت اس کی ہدایت اس کی طہارت اور عافیت مانگتا ہوں۔
(سن) نے اس کی مثل روایت کیا۔ اے اﷲ! ہمیں اس کی خیر مدد برکت رحمت فتح اور نور عطا فرما اور ہم اس کے اور اس کے ما بعد کے شر سے تیری پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ اسے (مو مص) نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مو قوفا روایت کیا ے۔ (ت)
حوالہ / References جامع ترمذی ابواب الدعوات امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی۲/۴۹۸
الاحسان بترتیب ابن الحبان حدیث ۸۸۵ باب الادعیۃ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۳/۷۰
عمل الیوم واللیلۃ حدیث۶۴۵دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن انڈیا ص۱۷۵
جامع ترمذی ابواب الدعوات امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی۲/۴۹۸
عمل الیوم واللیۃ حدیث ۶۴۷دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن انڈیا ص۱۵۷
عمل الیوم واللیۃ حدیث ۶۴۷دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن انڈیا ص۱۵۷
المصنف ابن ابی شیبہ حدیث ۹۷۹۶ کتاب الدعوات ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱۰/۳۹۹- ۴۰۰
#9757 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
(م) نمبر ۱۵ : چاند پر جب کبھی نظر پڑے تو اس کے شر سے پناہ مانگے ۔
(ش) نمبر ۱۵ : ترمذی نسائی حاکم ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے راوی حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے چاند کو دیکھ کر فرمایا :
یاعائشۃ استعیذی با ﷲ من شرھذا فان ھذا ھوالغاسق اذا وقب۔
اے عائشہ! اﷲتعالی کی پناہ مانگ اس شر سے کہ یہی ہے وہ اندھیری ڈالنے والا جب ڈوبے یا گنہائے
یعنی قرآن عظیم میں جس غاسق کا ذکر فرمایا و من شر غاسق اور اس کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم آیا اس سے یہی چاند مراد ہے۔
فصل دوم:
ان امور میں جن کا دربارہ تحقیق ہلال کچھ اعتبار نہیں بیس۲۰ قمر پر مشتمل
(م) قمرا نمبر ۱۶ : اہل ہیأت کی بات کا کچھ اعتبار نہیں اگر چہ عادل ہوں اگر چہ کثیر ہوں نہ ہی خود اس پر عمل جائز۔ (ش) قمر۱ / ۱۶ اہل ہیئت وہ لوگ جو آسمانوں کے حال اور ستاروں کی چال سے بحث کرتے ہیں وہ اپنے حساب عــــہ۱ سے بتاتے ہیں کہ فلاں دن رؤیت ہوگی فلاں مہینہ انتیس۲۹ کا ہوگا فلاں تیس۳۰ کا۔ پھر ان کی بات کہ ایك حساب ہے ٹھیك بھی پڑتی ہے پر صحیح مذہب میں اس کا کچھ اعتبار نہیں اگر چہ وہ ثقہ عادل ہوں اگرچہ ان کی جماعت کثیر یك زبان ایك ہی بات پر اتفاق کرے۔ مثلاوہ ۲۹شعبان کو کہیں آج ضرور رؤیت ہوگی کل یکم رمضان ہے۔ شام کو ابر ہوگیا رؤیت کی خبر معتبر نہ آئی ہم ہرگز رمضان قرار نہ دیں گے بلکہ وہی یوم الشك ٹھہرے گا یا وہ کہیں آج رؤیت نہیں ہوسکتی کل یقینا۳۰شعبان ہے پھر آج ہی رؤیت پر معتبر گواہی گزری فورا قبول کرلیں گے اور کچھ خیال نہ کریں گے کہ بربنائے ہیئت تو آج رؤیت نا ممکن تھی۔ گواہ نے دیکھنے میں غلطی کی یا غلط کہا دلیل اس مسئلے اور اکثر مسائل آئندہ کی جو قمر ۵ تك آئیں گے یہ ہے کہ شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صوم و فطر کا حکم رؤیت پر معلق فرمایا صحیحین وغیرہما میں بطریق کثیرہ بہت صحابہ رضوان اﷲتعالی علیہم سے مروی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :
حوالہ / References جامع ترمذی ابواب التفسیر سورۃ الفلق ، نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی،۲ /۴۸۵
القرآن ۱۱۳ /۳
#9758 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
صومو الرؤیتہ وافطر الرؤیتہ فان اغمی علیکم فاکملواعدۃ شعبان ثلثین۔
چاند دیکھ روزہ رکھو چاند دیکھ کر ختم کرو۔ اور اگر مطلع صاف نہ ہو تو تیس۳۰کی گنتی پوری کرلو۔ (ت)
پس ہمیں اسی پر عمل فرض ہے باقی رہا حساب اسے خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یك لخت ساقط کردیا صاف ارشاد فرماتے ہیں
اناامیۃ لا نکتب ولا نحسب الشھر ھکذا وھکذاوالشھر ھکذا وھکذا۔ رواہعــــہ۲ الشیخان ابوداؤد و نسائی عن ابن عمر رضی اﷲتعالی عنھما۔
ہم امی امت ہیں نہ لکھیں نہ حساب کریں دونوں ہاتھوں کی انگلیاں تین بار اٹھا کر فرمایا مہینہ یوں اور یوں اور یوں ہوتا ہے۔ تیسری دفعہ میں انگوٹھا بند فرمالیا یعنی انتیس' اور مہینہ یوں اور یون ہوتا ہے ہر بار سب انگلیاں کھلی رکھیں یعنی تیس۔ (اسے امام بخاری مسلم ابوداؤد نسائی نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ ت)
ہم بحمد اﷲولہ المنۃ اپنے نبی امی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی امی امت ہیں ہمیں کسی کے حساب کتاب سے کیا کام جب تك رؤیت ثابت نہ ہوگی نہ کسی کا حساب سنیں' نہ تحریر مانیں نہ قرائن دیکھیں نہ اندازا جانیں۔
لاعبرۃ بقول الموقتین ولو عد ولا' علی المذہب بل فی المعراج' لا یعبتر قولھم بالاجماع ولا یجوز للمنجم ان یعمل بحساب نفسہ وفی النھر' فلا یلزم بقول الموقتین انہ ای الھلال یکون فی السماء لیلۃ کذاوان کانوا عدولا فی الصحیح کما فی الایضاح اھ وفی القنیۃ عن ابن مقاتل انہ کان یسألھم ویعتمد علی قولھم اذااتفق علیہ جماعۃ منھم ثم نقل عن شرح السرخسی انہ بیعد وعن مجد الائمۃ انہ اتفق اصحاب ابی حنیفۃ الاالنادر عــــہ۳
صحیح مذہب کے مطابق نجومیوں کا قول معتبر نہیں اگر چہ وہ عادل ہوں بلکہ معراج میں ہے کہ ان کا قول بالاجماع معتبر نہیں' اور نجومی کو خود اپنے حساب پر عمل کرنا درست نہیں۔ نہرمیں ہے نجومیوں کا یہ قول کہ فلاں رات کو آسمان پر چاند نظر آئے گا صحیح روایت کے مطابق ان کے اس قول سے روزہ لازم نہ ہوگا اگر چہ نجومی عادل ہو جیسا کہ ایضاح میں سے ہے اھ قنیہ میں ابن مقاتل سے مروی ہے کہ نجومیوں سے سوال کیا جائے اور اگر ان کی ایك جماعت کا اتفاق ہوجائے تو ان کے قول پر اعتماد کیا جائے پھر شرح سرخسی سے نقل کیاہے کہ یہ بعید (ازقیاس) ہے مجد الائمہ
حوالہ / References صحیح بخاری کتا ب الصوم قدیمی کتب خانہ کراچی۱/۲۵۶
صحیح بخاری کتا ب الصوم قدیمی کتب خانہ کراچی۱/۲۵۶
#9759 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
والشافعی انہ لا اعتماد قولھم ش ملخصا
سے مروی ہے کہ کچھ شاذاحناف کو چھوڑ کر باقی تمام احناف اور شوافع اس پر متفق ہیں کہ نجومیوں کے قول پر اعتماد نہیں کیا جائے گا'شامی ملخصا(ت)
تنبیہ : اس مسئلہ کے یہ معنی ہیں کہ جو بات وہ بطور ہیأت کہیں مقبول نہیں ورنہ اگر شہادت رؤیت ادا کریں تو مثل اور لوگوں کے ہیں جن شرائط سے اوروں کی گواہی سنی جاتی ہے ان کی بھی گواہی قبول ہوگی پھر ان کا قابل شہادت ہونا جبھی ہے کہ ہیأت و نجوم کی خلاف شرع باتوں پر اعتقاد نہ کرتے ہوں صرف صناعی طور پر آسمان کی گردشوں ستاروں کی چالوں طلوع وغروب جوع واستقامت بطؤوسرعت قرآن تسدیس ترجیح تثلیث مقابلہ اجتماع وغیرہ سے بحث کرتے ہوں ورنہ مثلا امور غیب پر احکام لگانا سعد و نحس کے خرخشے اٹھانا زائچہ کے راہ پر چلنا چلانا اوتاداربع طالع رابع عاشر سابع پر نظر رکھنا زائلہ مائلہ کو جانچنا پرکھنا شرعا ہجر ہے۔ اور اعتقاد کے ساتھ ہوتو قطعا کفر والعیاذ باﷲ رب العالمین۔ اسی قبیل سے ہے ان کا کہنا کہ فلاں دن رؤیت واجب ہے فلاں دن محال۔ اگر وجوب واستحالہ عادی مراد لیتے ہیں توخیر کہ سنۃ اﷲکیلئے تبدیل نہیں ورنہ حقیقی و عقلی کا قصد معاذاﷲکھلا ہوا کفر ہے۔ اعاذنا اﷲبمنہ العظیم امین(اﷲتعالی اپنے بڑے احسان پر ہمیں محفوظ رکھے آمین۔ ت)
اہل تخجیم میں قرار پایا ہے کہ جب تك چاند آٹھ درجے آفتا ب سے دور نہیں ہوتا ہرگز نظر نہیں آتا صرح بہ الفاضل الرومی(اس پر فاضل رومی نے تصریح کی ہے۔ ت) اور جب ۱۲ درجے جدا ہوتا ہے ضرور نظر آتاہے نص علیہ علامۃ الشریف(علامہ شریف نے اس پر نص کی ہے۔ ت) پھر وہ ۲۹ تاریخ مغرب کی تقویم یعنی اس وقت فلك بروج سے شمس و قمر کے مواضع نکال کر فصل دیکھتے ہیں اگر آٹھ درجے سے کم پایا حکم لگادیا کہ آج رؤیت ہرگز نہ ہوگی اور ۱۲ یا ۱۲سے زائد دیکھا تو جزم کردیا کہ ضرور ہوگی اور اس کے مابین معلوم ہوا تو رؤیت ہلال مشکوك رکھتے ہیں پھر منجمان ہند کی ادا کچھ نرالی ہے۔ فقیر نے بارہا دیکھا کہ ۲۹ کی مغرب کو قمر ۱۲ درجے سے بہت زیادہ دور ہے پھر بھی انہوں نے کل کی رؤیت رکھی۔ خیر یہاں یہ کہنا ہے کہ حکمائے یونان ان کے قواعد وضع کرچکے خود بھی ان پر مطمئن نہیں تصریح کرتے ہیں کہ احوال قمر کا آج تك انضباط نہ ہوا پھر ایسے شاك وشاك فی انہ شاك بات کا کیا اعتبار
سبحنك لا علم لنا الا ما علمتنا-انك انت العلیم الحكیم(۳۲) اقول : و
پاك ہے تیری ذات ہمیں علم نہیں مگر اتنا جو تونے ہمیں سکھایا بلا شبہ توہی جاننے والا ہے اور حکمت والاہے
حوالہ / References رد المحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ / ۱۰۰
القرآن ۲ /۳۲
#9760 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
وبھذا یردما اعتمدہ الامام السبکی من الشافعیۃ وصوبہ الزرکشی منھم وجنح الیہ بعض منا من جوزالاعتماد علی قولھم بناء علی ان الحساب قطعی والشھادۃ ظنی قلنا ھذا الحساب ایضا لیس من القطع فی شئی کما علمت واحتمال الغلط لیس باقل من احتمالہ فی خبر العدل والشارع صلی اﷲتعالی علیہ وسلم قد الغی الحساب ونزل الشھادۃ بمنزلۃ الیقین وبالجملۃ فالمذھب عدم جواز الاعتماد علیہم اصلا۱۲۔
(ح)۱ / ۱۶ : عــــہ۲ : قدرواہ البخاری فی کتاب الصوم وعقدلہ باب قول النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم لانکتب ولانحسب فقصر الفاضل المرحوم عبدالحی اللکھنوی فی “ القول المنشور “ عزوہ علی مسلم تقصیر۱۲۔
(ح) ۱ / ۱۶ : عــــہ۳ : اقول : الاولی تاخیر الاستثناء بعد الشافعی لان من اصحابہ ایضامن اعتمد علیھم کما سمعت۱۲۔
اقول اس سے اس کا رد ہوجاتا ہے جس پر شوافع میں سے امام سبکی نے اعتماد کیا ہے اور ان میں سے زرکشی نے اس کی تصویب کی۔ اور ہم احناف میں سے بعض نے ان کی طرف جھکاؤ کیا کہ ان کے قول پر اعتماد جائز ہے اس بنا ء پر کہ حساب قطعی ہوتا ہے اور شہادت ظنی۔ ہم کہتے ہیں کہ حساب بھی کسی معاملہ میں قطعی نہیں جیسا کہ آپ جان چکے او ر غلطی کا احتمال خبر عادل میں احتمال سے کم نہیں اور شارع صلی اﷲتعالی تعالی علیہ وسلم نے حساب کو لغو قرار دیا اور شہادت کو بمنزل یقین فرمایا الغرض مذہب صحیح یہی ہے کہ اہل توقیت(نجومیوں) پر اعتماد جائز نہیں(ت) اسے بخاری نے کتاب الصوم میں روایت کیاہے اور باب کا نام “ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے کہ ہم نہ لکھیں اور نہ حساب کریں “ فاضل مرحوم عبدالحی لکھنوی کا “ القول المنشور “ میں اسے صرف مسلم کی طرف منسوب کرنا قلت مطالعہ ہے۱۲(ت) اقول : یہاں حرف استثنا ء لفظ شافعی کے بعد ہونا چاہئے کیونکہ ان میں سے کچھ حضرات نے اہل ہیئت پر اعتماد کیا ہے جیساکہ آپ سن چکے ہیں۔ (ت)
(م) قمر۲ : اخیر میں دو ایك رات ضرور بیٹھتا ہے نمبر ۱۷ پر شریعت میں اس پر مدار حکم نہیں۔
(ش) قمر۲ / ۱۷ : مہینہ انتیس کا ہوتا ہے تو ایك رات بیٹھتا ہے تیس کا ہوتو دو رات پھر آج صبح کو طلوع شمس سے پہلے چاند جانب شرق نظر آیا تھا اور آج شام کی نسبت شہادت شرعی رؤیت پر گزری بلاشبہ قبول کی جائے گی اور یہ لحاظ نہ ہوگا کہ آج صبح تك تو چاندموجود تھا بن ڈوبے کیونکر ہلال عــــہ ہوگیا۔
روی یوم التاسع والعشرین قبل الشمس
طلوع شمس سے پہلے انیتسویں دن کو چاند دیکھا گیا
#9761 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
ثم رؤی لیلۃ الثلاثین بعد الغروب و شھدت بینۃ شرعیۃ بذلك فان الحاکم یحکم برؤیتہ لیلا کما ھو نص الحدیث ولا یلتفت الی قول المنجمین انہ لا یمکن رؤیتہ صباحا ثم مساء فی یوم واحد کیف وقد صرحت ائمۃ المذھب الاربعۃ بان الصحیح انہ لا عبرۃ بقول المنجمین ش ملخصا۔
طلوع شمس سے پہلے انیتسویں دن کو چاند دیکھا گیاپھر غروب کے بعد تیسویں رات کو دیکھا گیا اور اس پر شرعی گواہی بھی ہوئی تو حاکم رات کی رؤیت پر فیصلہ دے جیسا کہ اس پر حدیث میں تصریح ہے اور اہل نجوم کے اس قول کی طرف توجہ نہ کرے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ایك ہی دن میں چاند صبح اور شام دکھائی دے یہ کیوں نہ ہو حالانکہ ائمہ مذاہب نے تصریح کی ہے کہ صحیح مذہب یہی ہے کہ اہل نجوم کے قول کا اعتبار نہیں شامی ملخصا(ت)
(ح)۲ / ۱۷ : عــــہ چاند سورج دونوں کی اپنی چال مغرب سے مشرق کو ہے اور حرکت یومیہ جس کے بسبب طلوع و غروب روزانہ ہوتا ہے مشرق سے مغرب کو تو چاند صبح کے وقت جب ہی نظر آئیگا کہ سورج کے پیچھے ہو یعنی جانب مغرب ہٹا ہوا ہو کہ اگر جانب مشرق بڑھا ہوتو آفتاب اس سے پہلے طلوع کرے گا صبح کے وقت چاند آفتاب سے بھی زیادہ زیر زمین اترا ہوگا نظر کیونکرآئے اور جب پیچھے ہے توافق مشرقی پر سورج سے پہلے چمك آئیگا آفتاب ہنوز زیر زمین ہوگا تو نظر آسکتا ہے بشرطیکہ ۸ درجے سے کم نہ ہو ورنہ اتنے قرب میں سورج کی شعاعیں اسے چھپالیں گی نظر کام نہ کرسکے گی۔ اسی طرح شام کو مغرب میں جب ہی نظر آتا ہے کہ سورج کے آگے یعنی جانب مشرق بڑھا ہوکہ اگر جانب مغرب ہٹا ہوگا تو سورج سے پہلے ڈوب جائے گا اور جب آگے ہے تو افق غربی پر بعد غروب آفتاب باقی رہے تو نظر آنا ممکن بشرطیکہ آٹھ درجہ سے کم فصل نہ ہو۔ جب یہ بات سمجھ لی تو اگر آج صبح کو نظر بھی آئے پھر شام کو ہلال بھی ہو تو لازم ہے کہ صبح کو آٹھ درجے پیچھے تھا شام کو لااقل آٹھ درجے آگے ہوگیا چار پہر میں سولہ درجے طے کرگیا حالانکہ وہ کبھی آٹھ پہر کامل میں بھی اتنا نہیں چلتا اس وجہ سے ہیأت والے اجتماع رؤیت صبح و شام کو ناممکن کہتے ہیں مگر جب ثبوت شرعی ہوتو انکار کا کیا یارا ان الله على كل شیء قدیر (بلاشبہ اﷲتعالی ہر شئی پر قادر ہے۔ ت)
(م) قمر۳نمبر ۱۸ : انتیس ۲۹ رات کی صبح کو چاند نظر نہیں آتا شرع اسے بھی نہیں سنتی۔
(ش) ۳ / ۱۸ : یہ دعوی دعوی اول سے اخص ہے وہاں دو ایك رات بیٹھنا تھا عام ازیں کہ ۲۹ کو ڈوبے یا ۳۰ کو یہاں خاص دعوی ہے کہ ۲۹ کو ضرور ڈوبتا ہے شرع میں اس پر بھی لحاظ نہیں۔ مثلا۲۹ شعبان
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ /۰۴ا
#9762 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
روز یکشنبہ کو شام کے وقت ابر تھا گواہان شرعی نے رؤیت بیان کی صبح کو رمضان ٹھہرا اب جو گنتی ہوئی آئی تو ۲۹ رمضان دو شنبہ کو طلوع شمس سے پیشتر چاند موجود تھا اس پر کوئی خیال کرے دوشنبہ کی پہلی ہوئی تو آج ۲۹ کو چاند صبح کے وقت کیونکر نظر آتا ضرور ہے کہ گواہوں نے غلطی کی شعبان ۳۰ کا ہوا آج ۲۸ ہے ابر ہوا تو اسی حساب پررمضان کے ۳۰ پورے ہوں گے تو یہ خیال محض غلط ہوگا بلکہ وہی دوشنبہ کی ۲۹ ٹھہرے گی او اسی پر بناء احکام رہے گیوالدلیل علی ذلك مع السند قد انطوی فیما قد منا (اور اس پر دلیل مع سند ہماری سابقہ گفتگو میں آچکی ہے۔ ت)
(م) قمر۴نمبر ۱۹ : دن کو دوپہر سے پہلے چاند جب ہی نظر آتا ہے کہ شب گزشتہ ہلال ہوچکا ہو پر صحیح مذہب میں اس کا بھی لحاظ نہیں۔
(ش) ۴ / ۱۹ : یعنی مثلا پنجشنبہ ۲۹ شعبان یا ۲۹ رمضان کو ابر تھا رؤیت نہ ہوئی جمعہ کی دوپہر عہ سے پہلے چاند نظر آیا توا گر چہ قیاس یہی چاہتا ہے کہ شب جمعہ میں ہلال ہوگیا ورنہ دوپہر سے پہلے نظر نہ آتا۔ تو آج پہلی ہونی چاہئے ۔ مگر صحیح مذہب میں اس کا کچھ لحاظ نہ ہوگا اور آج تیس ہی ٹھہرے گی۔
رؤیتہ بالنھار للیلۃ الاتیۃ مطلقا علی المذھب ذکرہ الحدادی(ای سواء روی قبل الزوال او بعدہ علی المذھب الذی ھو قول ابی حنیفۃ و محمد (ملخصا)(ش) اوجب الحدیث ای قولہ علیہ الصلوۃ والسلام صوموالرؤیتہ وافطر والرؤیتہ فوجب فسبق الرؤیۃ علی الصوم و الفطر و المفھوم المتبادر منہ الرؤیۃ عند عشیۃ اخرکل شہر عند الصحابۃ والتابعین ومن بعدھم بخلاف ماقبل الزوال من الثلثین و المختار
دن کو دیکھا جانے والا چاند مذہب صحیح کے مطابق ہر حال میں آئندہ رات کا شمار ہوگا۔ اسے حدادی نے ذکر کیا مذہب صحیح جو امام اعظم اور امام محمد کا مذہب ہے کے مطابق خواہ زوال سے پہلے دکھائی دے یا زوال کے بعد)(شامی) یہ اس حدیث نبوی علی صاحبہا الصلوۃ والسلام سے ثابت ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو تو اس سے چاند کی رؤیت کا روزے اور عید سے پہلے ہونا ضروری ہے اس سے متباد دریہی مفہوم ہوتا ہے کہ چاند کی رؤیت جو ہر ماہ کی آخری شام کی ہو مراد ہے۔ یہی صحابہ تابعین اور ان کے بعد آنے والے اہل علم نے کہاہے بخلاف تیسویں دن کے ماقبل الزوال دکھائی دینے کے اور مختار امام اعظم
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲/۱۰۳
#9763 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
قولھما (فت)(فتح القدیر) وکذاصرح باختیارہ فی ع وخز (خزانۃ المفتین) و ص (خلاصۃ) و ق(قاضی خان) ومروبز(بزازیۃ) وجو (جواھر الاخلاطی) ومج(مجمع الانھر) وب (بحرالرائق) والاختیار وجامع المضمرات والعنایۃ والغیاثیۃ والتتارخانیۃ والتجنیس وغیرھا۔
اورامام محمد کا قول ہی ہے (فتح القدیر) اس کے مختار ہونے پر ع خزانۃ المفتین خلاصہ قاضی خاں مر بزازیہ جواہرالاخلاطی مجمع الانہر بحرالرائق اختیار جامع المضمرات عنایہ غیاثیہ تتارخانیہ اور تجنیس وغیرہ میں تصریح ہے۔ (ت)
(ح)۴ / ۱۹ عــــہ : دوپہرسے پہلے کی قید اس لئے لگائی کہ اگر بعد زوال نظر آیا تو عامہ کتب پر کسی کے نزدیك گزشتہ رات نہ ٹھہرے گا کہ تیس ۳۰ کا چاند بھی اکثر دن سے نظر آجاتا ہے مگر دوپہر ڈھلنے کے بعد
ھکذا فی عامۃ الکتب کالبدائع والایضاح والمنظومۃ والخانیۃ وطم وش والبزازیۃ والعتابیۃ والذخیرۃ والتتارخانیۃ وجامع الرموز وجواھر الاخلاطی والاختیار والبحرو التبیین والمجتبی والقنیۃ ومجمع البحرین و شرحہ لابن ملك وشرح الکنز لملامسکین و غیرھا و وقع فی المجمع الانھر تبعالما فی الفتح من التحفۃ انہ عند ابی یوسف اذارؤی قبل الزوال اوبعدہ الی وقت العصر فللما ضیۃ وبعدہ للمستقبل
عام کتب میں اسی طرح ہے مثلابدائع ایضاح منظومہ خانیہ طم شامی بزازیہ عتابیہ ذخیرہ تتارخانیہ جامع الرموز جواہرالاخلاطی اختیار بحر تبیین قنیہ مجمع البحرین اور اس کی شرح لابن ملک اور شرح کنز لملا مسکین وغیرہ اور مجمع الانہر میں فتح کی اتباع میں اور وہاں تحفہ سے ہے کہ امام ابو یوسف کا قول یہ ہے کہ جب چاند زوال سے پہلے یا اس کے بعد عصر تك دکھائی دے تو وہ گزشتہ رات کا ہوتا ہے اور اگر اس کے بعد نظر آئے تو وہ آئندہ رات کا ہوگا۔ (ت)
(م) قمر۵نمبر۲۰ : کے بڑے ہونے کا کچھ خیال نہ چاہئے۔
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ معجم الکبیر حدیث۳۸۴۶۹ مکتبۃ التراث الاسلامی مصر ۱۴ /۲۲۰
کنز العمال بحوالہ معجم الاوسط حدیث۳۸۴۷۰ مکتبۃ التراث الاسلامی مصر ۱۴ /۲۲۰
#9764 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
(ش)۵ / ۲۰ : بہت لوگ چاند کو بڑا دیکھ کر کہنے لگتے ہیں کہ کل کا ہے یا آج ۲۹ نہ تھی ۳۰ تھی کہ ۲۹ کا چاند اتنا بڑا نہیں ہوتا یہ ان کی خام خیالی ہے شرعی معاملے تو اوپر ہوچکے کہ وہاں قیاسی باتوں کا دخل نہیں اور بطور علم ہیأت ہی چلئے تو ان شاء ا ﷲتعالی فقیر ثابت کرسکتا ہے کہ ۲۹ کاچاند بعض ۳۰ کے چاندوں سے بڑا ہونا ممکن۔ اورسب سے بڑھ کر دافع اوہام یہ ہے کہ طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت عبدا ﷲبن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ حضرت سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
اقتراب الساعۃ انتفاخ الاھلۃ۔
قرب قیامت کا ایك اثر یہ ہے کہ ہلال بڑے نظر آئیں گے۔
اور معجم اوسط میں حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
من اقتراب الساعۃ ان یری الہلال قبلا فیقال ھو للیلتین الحدیث۔
قرب قیامت کی ایك علامت یہ ہے کہ ہلال سامنے ہی نظر پڑے گا دیکھنے والا کہے گا کہ دو۲ رات کا ہے۔
صحیح مسلم شریف میں ابوالبختری سے مروی ہے کہ ہم عمرے کونکلے بطن نخلہ میں ہلال دیکھا کسی نے کہا تین۳ رات کا ہے کسی نے کہا دو۲ رات کاہے۔ حضرت عبد اﷲبن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے حال عرض کیا فرمایا : تم نے کس رات دیکھا ہم نے کہا فلاں رات۔ کہا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ان اﷲتعالی امدہ عہ۱ للرؤیۃ فھو للیلۃ عہ۲ رأیتموہ۔
(ح)۵ / ۱۲ : عہ۱ ای جعل وقت الصوم ممتدالی زمان رؤیۃ الہلال۲ا۔ عہ۲ : وقع ھھنافی القول المنشورللفاضل اللکھنو ی لرؤیۃ رأیتموہ وھوتصحیف۱۲
اﷲتعالی نے اسے رؤیت پر موقوف فرمایا ہے تو جس رات تم نے دیکھا اسی رات کا ہے۔
اﷲتعالی نے وقت صوم کو رؤیت کا چاند کے زمانہ تك طویل (ممتد) کیا ہے۱۲(ت)اور القول المنشور میں فاضل لکھنو ی نے “ لرؤیۃرأیتموہ “ تحریر کیا ہے یہ تصحیف ہے۱۲(ت)
(م)قمر۶ : نہ اس نمبر ۲۱کے اونچے ہونے پر نظر قمر۷ نہ اس کے دیر تك ٹھہرنے پر التفات۔
(ش)۶ / ۲۱بہت لوگ چاند عہ اونچا دیکھ کر بھی ایسی ہی اٹکلیں دوڑاتے ہیں بعض کہتے ہیں اگر ۲۹ کا ہوتا تو اتنا
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ معجم الکبیر حدیث۳۸۴۶۹ مکتبۃ التراث الاسلامی مصر ۱۴ /۲۲۰
کنز العمال بحوالہ معجم الاوسط حدیث۳۸۴۷۰ مکتبۃ التراث الاسلامی مصر ۱۴ /۲۲۰
صحیح مسلم کتاب الصیام قدیمی کتب خانہ کراچی۱/۳۴۸
#9765 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
نہ ٹھہرتا۔ یہ سب بھی ویسے ہی اوہام ہیں جن پر شرع میں التفات نہیں خصوصا یہ باتیں توازروئے ہیأت بھی کلیہ نہیں ہوسکتیں میں ان شاء اﷲتعالی ثابت کرسکتا ہوں کہ کبھی ۲۹کا ۳۰ کے بعض ہلالوں سے اونچا اور دیر پا ہونا متصور۔
(ح)۶ / ۲۱ عہ : اونچا ہونا اور دیر تك رہنا غالبا زیادت فصل سے ہوتا ہے اور یہ ہم اوپر واضح کرچکے کہ کبھی ۲۹ کا بہ نسبت ۳۰والے کے سورج سے دور تر ہوتاہے تو غالبا اتنا ہی اونچا بھی ہوگا اور اتنا ہی دیر میں ڈوبے گا۔ علاوہ ازیں دقائق ہیأت پر نظر کیجئے تو باوجود استوائے فصل ایك حالت میں بلند تر ودیر پاترہونا ممکنوذلك یبتنی علی مقدمات طویلۃ لو تکلمنا علیہا لخرجنا عما نحن بصددہ۱۲( اور یہ طویل مقدمات پر مبنی ہے اگر ہم ان پر گفتگو شروع کردیں تو زیر نظر موضوع سے کہیں دور نکل جائیں گے ۱۲۔ (ت)
(م) قمر۸ : آج کا ہلال نمبر ۲۲ : شفق سے پہلے ڈوبتا ہے کل کا بعد کو یہ بھی معتبر نہیں۔
(ش)۸ / ۲۲ : شفق سے مراد شفق احمر ہے یعنی وہ سرخی جو غروب آفتاب کے بعد جانب مغرب رہتی ہے۔ عادت یوں ہے کہ جو ہلال اسی شب ہوا وہ اس سرخی کے غائب ہونے سے پہلے ڈوب جاتا ہے اور جو کل ظاہر ہوا تھا اس کے بعد غروب کرتا ہے۔ پھر یہ بھی تجربہ کی بات ہے صحیح مذہب میں اس پر اعتماد نہیں
فی مختارات النوازل وقیل ان غاب بعد الشفق فھو للماضیۃ وان غاب قبل الشفق فھوللمستقبلۃاھ وھکذاذکرہ مضعفا مقابلا لمذھب الصحیح المختار اعنی کونہ للمستقبلۃ مطلقافی مج وفت وق وبزوغیرھا من اسفار کثیرۃ۔
مختار النوازل میں ہے بعض نے کہا کہ اگر شفق کے بعد چاند غروب ہوگیا تووہ گزشتہ رات کا ہوگا اور اگر شفق سے پہلے غروب ہوگیا تو وہ آئندہ رات کا ہوگااھ یونہی یہ ضعیف قول مذہب صحیح اور مختار کے مقابل ذکر کیا ہے اور مذہب صحیح یہ ہے کہ وہ چاند ہر حال میں آئندہ رات کا ہوگا مج فتح القدیر قنیہ بزازیہ اور دیگر کتب معتمدہ میں یونہی ہے(ت)
(م)قمر۹ : تیسری رات نمبر۲۳ عشاء سے پہلے چاند نہیں ڈوبتا پر یہ بھی قابل لحاظ نہیں ۔
(ش)۹ / ۲۳ : عادت اکثری یوں ہے کہ تیسری شب کا چاند غروب نہیں کرتا جب تك عشاء کا وقت نہ آجائے۔ حدیث شریف میں نماز عشاء کی نسبت ہے :
کان رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم یصلیھا لسقوط القمر
حضورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یہ نماز اس وقت پڑھا کرتے جس وقت تیسری رات کا
حوالہ / References فتاوٰی بزازیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتا ب الصوم نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۹۶
#9766 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
لثالثۃ۔ رواہ ابوداؤد عن النعمان بن بشیر رضی اﷲتعالی عنہما۔
حضورسید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یہ نماز اس وقت پڑھا کرتے جس وقت تیسری رات کاچاند ڈوبتا ہے (اسے ابوداؤد نے نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔ ت)
پر معاملہ ہلال میں شرعا اس پر بھی التفات نہیں مثلا گواہی گزری کہ آج چاند ہوا کل جمعہ کی یکم رمضان ہے اب شنبہ کے بعد جو شب یکشنبہ آئی کہ اس شہادت کی رو سے تیسری شب تھی اس میں دیکھا تو چاند مغرب ہی کے وقت عشاء کا وقت آنے سے پہلے ڈوب گیا جس کے سبب گمان ہوتا ہے کہ آج شب دوم ہے اس کا کچھ خیال نہ کریں گے اور تیسری ہی رات قرار دیں گے۔ تنبیہ : اقول : وباﷲالتوفیق بے شك اس شہادت پر عمل میں معاذاﷲ حدیث کی کچھ مخالفت نہیں بلکہ عین حکم حدیث پر چلنا ہے۔ حضور اقدس سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وقت عشاء دیکھ کر نماز شروع فرماتے وہ اس اکثری امر کے سبب غالبا اس وقت سے موافق پڑتی یا یوں سہی کہ زمانہ اقدس میں ہمیشہ ہی مطابق آئی اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ حضور نے ایك وقت بھی اس غروب قمر پر وقت نماز کی بنارکھی ہو نہ کہ اسے ابدی غیر ممکن الخلف جانتے نہ کہ اس کے سبب امر صوم میں شہادت شرعیہ جسے شرع نے مثل رؤیت عین قرار دیا روکی جائے۔
سئل فیما غاب الہلال باللیلۃ الثالثۃ قبل دخول وقت العشاء ھل یعمل بالشھادۃ ام لا اجاب المعمول بہ ما شھدت البینۃ لان الشہادۃ نزلھا الشارع منزلۃ الیقین ولیس فی العمل بالبینۃ مخالفۃ لصلوتہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم (ش)عن فتاوی العلامۃ الشھاب الرملی الکبیر الشافعی ملخصا وھذاواضح جداعہ وﷲ الحمد۱۲۔
(ح) ۹ / ۲۳ : عــــہ اقول : وبتقریرنا ھذا
سوال کیا گیا کہ جب تیسری رات کا چاند دخول وقت عشا سے پہلے غائب ہوجائے تو کیا شہادت پر عمل کیا جائے گا یا نہیں تو جواب یہ دیا کہ اس پر عمل کیا جائیگا جس پر گواہی ہوئی کیونکہ گواہی کو شارع علیہ الصلوۃ والسلام نے یقین کا مقام قرار دیا ہے اور گواہوں پر عمل کرنا حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نماز کے مخالف نہیں یہ شامی نے علامہ شہاب رملی الکبیر الشافعی کے فتاوی سے ملخصا نقل کیا ہے اور یہ نہایت ہی واضح ہے حمد اﷲکے لیے ہے۱۲(ت)
اقول : بحمد اﷲ ہماری اس تقریر سے واضح
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الصلٰوۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۶۰
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲/۱۰۰
#9767 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
ظھر بحمد اﷲ انہ لاحاجۃ الی ماتجشمہ الفاضل عبدالحی اللکھنوی فی القول المنشور مجیبا عن ھذاالاشکال انہ لیس فی الحدیث ما یدل علی الدوام فقد یکون ھکذاولا تغتربقولہ “ کان “ فانہ لایدل علی الاستمرارکما بسطہ النووی فی شرح صحیح مسلم فی ابواب النوافل فتشکر انتھی فقد علمت ان لااشکال بالحدیث اصلا ولو “ کان “ للد وام دواما علی ان ھذہ المسئلۃ کثیرۃ الخلاف وقد عقدنا لبیانھا رسالتنا “ التاج المکلل فی انارۃ مدلول کان یفعل “ فبناء التفصی علی امر مختلف فیہ مع عدم الحاجۃ الیہ مما لا معول علیہ۱۲
اقول : بحمدﷲ ہماری اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ اس کی ضرورت نہیں جو فاضل عبدالحی لکھنو نے القول المنشور میں اس اشکال کے جواب میں کہا کہ حدیث میں کوئی ایسی شئی نہیں جو دوام پر دال ہو ہاں کبھی ایسا ہوجاتا تھا اور لفظ “ کان “ سے بھی ضابطہ نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ دوام واستمرار پر دال نہیں ہوتا جیسا کہ شرح صحیح مسلم کے ابواب النوافل میں امام نووی نے اس پر تفصیلا گفتگو کی ہے۔ پس اﷲ کا شکر ادا کرو انتہی یقینا آپنے جان لیا کہ حدیث کے ساتھ یہاں کوئی اشکال ہی نہیں اگر چہ کان ہمیشہ دوام پر دال ہو علاوہ ازیں اس مسئلہ میں بہت زیادہ اختلاف ہے۔ ہم نے اس کے لیےایك رسالہ لکھا جس کانام “ التاج المکلل فی انارۃ مدلول کان یفعل “ رکھا ہے لہذا چھٹکارے کے لئے ایسے معاملہ پر بنیاد رکھنا جو مختلف فیہ ہو اور ضرورت بھی نہ ہو قابل اعتماد نہیں ہے ۱۲(ت)
(م)قمر۱۰ : چودھویں کا سورج ڈوبنے سے پہلے نکلتا ہے قمر ۱۱ پندرھویں کا بیٹھ کر یہ دونوں بھی نا معتبر ہیں۔
(ش) ۱۰-۱۱ / ۲۴ : حاکم شرع یا عالم دین نے شہادت شرعیہ لے کر شعبان کا مہینہ ۲۹ کا ٹھہرا یا اور کل بروز جمعہ رمضان کا حکم دیا اب اس حساب سے شب جمعہ ۱۵ کو چاند غروب سے پہلے نکلا تو بہت جاہل اعتراض کرینگے کہ وہ حکم غلط تھا بلکہ ۳۰ کا چاند ہوا اور ہفتہ کی پہلی جب تو آج چاند بیٹھ کر نہ چمکا یا حاکم و عالم نے گواہی ناکافی سمجھ کر شعبان کی گنتی ۳۰ پوری کی شنبہ سے یکم رمضان رکھی۔ شب جمعہ میں چاند بیٹھ کر نکلا جاہل لوگ کہیں گے کیوں صاحب!ہفتہ کی پہلی سے توآج شب بدر ہوتی ہے یہ چاند بیٹھ کر کیوں نکلا ضرور جمعہ کی پہلی تھی اور آج پندرھویں یہ اور اس قسم کے سب خیالات محض مہمل و بیہودہ ہیں جن پر اصلا مدار احکام نہیں نہ حاکم وعالم پر شرع یہ لازم فرمائے کہ عند اﷲ جو بات نفس الامر میں ہے اس پر مطلع ہوجائیں کہ یہ تکلیف مالا یطاق ہے بلالکہ شرع ان پر یہی فرض کرتی ہے کہ دلیل شرعی سے جو بات ثابت ہو اس پر عمل کرو۔ عام ازیں کہ عند اﷲکچھ ہو خود حضوراقدس عالم ماکان و مایکون صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :
انکم تختصمون الی ولعل بعضکم ان
تم میرے حضور اپنے مقدمات پیش کرتے ہو اور شاید
#9769 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
یکون الحن بحجتہ من بعض فاقضی بنحو مما اسمع فمن قضیت لہ من حق اخیہ شیأفلا یا خذہ فانما اقطع لہ قطعۃ من نار۔ رواہ احمد والستۃ عن ام المومنین ام سلمۃ رضی اﷲتعالی عنھا۔
تم میرے حضور اپنے مقدمات پیش کرتے ہو اور شاید تم پر ایك دوسرے سے زیادہ اپنی حجت بیان کرنے میں تیز زبان ہوتو میں جو سنوں اس پر حکم فرمادوں پس جس کے لیے میں اس کے بھائی کے حق سے کچھ حکم کروں وہ اسے نہ لے کہ یہ تو ایك آگ کا ٹکڑا ہے اس کے لیے قطع کرتا ہوں( اسے امام احمد وائمہ ستہ نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا ہے۔ ت)
علاوہ بریں چاند کا چودھویں کو غروب شمس سے پہلے نکلنا اگر چہ اکثر ہے اور اسی لئے اسے بدر کہتے ہیں مگر بحساب ہیأت بھی اس کا خلاف ممکن کما لایخفی علی من یعلمہ (جیسا کہ اہل علم پر مخفی نہیں۔ ت) واﷲتعالی اعلم۔
(م) قمر ۱۲ : غلط ہے کہ ہمیشہ رجب نمبر۲۵کی چوتھی رمضان کی پہلی ہو۔
(ش)۱۲ / ۲۵ : عوام میں مشہور ہے کہ سال میں جس دن رجب کی چوتھی اسی دن آکر رمضان کی پہلی پڑے گی۔ یہ بات محض بے اصل ہے اس کا شرعی نہ ہونا تو خود ظاہر تجربہ بھی خلاف پر شاہد۔ بعض دفعہ رجب کی تیسری اور رمضان کی پہلی مطابق ہوئی ہے۔
ماھو الرابع من رجب لا یلزم ان یکون غرۃ رمضان بل قد یتفق(بز)
رجب کی چوتھی کا رمضان کی پہلی ہونا لازم نہیں بلکہ بعض دفعہ اتفاقا ایسا ہوجاتا ہے(بزازیہ) (ت)
(م) قمر ۱۳ : رمضان کی پہلی نمبر ۲۶ ذی الحجہ کی دسویں ہونا بھی ضروری نہیں۔
(ش)۱۳ / ۲۶ : کہیں مولی علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کے بعض آثار میں آگیا کہ تمہارے روزہ کا دن وہی تمہاری قربانی کا دن ہے یہ اس سال کا ایك واقعی بیان تھا نہ کہ ہمیشہ کے لیے حکم شرعی ہو۔ بارہایکم رمضان ودہم ذی الحجہ مختلف پڑتی ہیں مثلا یکم رمضان جمعہ کی ہو اور رمضان شوال ذیقعدہ تینوں مہینے ۲۹ کے تو عیداضحی چہار شنبہ کی ہوگی اور دو۲۹ کے تو پنجشنبہ کی اور تینوں تیس۳۰ کے تو شنبہ کی۔ ہاں دو۲ تیس کے اور ایك ۲۹ کا توبے شك جمعہ کی پڑے گی۔ پھر یونہی ہوناکیا ضرور ہے!
حوالہ / References صحیح بخاری باب موعظۃ الامام للخصوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۰۶۲
فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصوم نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۹۶
#9770 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
شھر رمضان اذا جاء یوم الخمیس ویوم عرفۃ جاء یوم الخمیس ایضا کان ذلك یوم عرفۃ لایوم الضحی حتی لا تجوز التضحیۃ فی ھذاالیوم ومایروی ان یوم نحرکم یوم صومکم کان وقع ذلك العام بعینہ دون الابدلان من اول یوم رمضان الی غرۃ ذی الحجۃ ثلثۃ اشھر لا یوافق یوم النحر یوم الصوم الا ان یتم شھران من الثلاثہ وینقص الواحد فاذاتمت الشھور الثلاثۃ تأخر عنہ واذانقصت ا لشہور الثلاثۃ او شھران تقدم علیہ فلا یصح الاعتماد علی ھذا (خذ) عن الفتاوی الکبری۔
جب رمضان المبارك جمعرات کو آیا اور یوم عرفہ بھی جمعرات ہی کو آیا تو اب یہ یوم عرفہ تو ہوسکتا ہے یوم اضحی نہیں ہوسکتا حتی کہ اس دن قربانی جائزنہ ہوگی اور جو یہ مروی ہے کہ تمہارا یوم نحر تمہارے روزہ کادن ہے یہ ایك معین سال میں اتفاق ہوا تھا نہ کہ دائمی ضابطہ ہے کیونکہ رمضان کے پہلے دن سے لے کر ذوالحجہ کی ابتداء تك تین ماہ ہیں تو یوم نحر یوم صوم کے موافق تب ہی ہوگا جب ان تین ماہ میں سے دو۲ کامل اور ایك ناقص ہو تو جب تینوں کامل واقع ہوئے تو یوم نحر اس سے مؤخر ہوجائے گا اور اگر تینوں یا دو ناقص واقع ہوئے تو یوم نحر اس پر مقدم ہوگا لہذا اس پراعتماد صحیح نہیں۔ یہ فتاوے الکبری کے حوالے سے خزانۃ میں ہے(ت)
(م) قمر ۱۴ : اکثری کہ اگلے رمضان کی نمبر۲۷ پانچویں اس رمضان کی پہلی ہوتی ہے پر شرع میں اس پر اعتماد نہیں۔
(ش)۱۴ / ۲۷ : سیدنا امام جعفر رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ :
خامس رمضان الماضی اول رمضان الاتی۔
گزشتہ رمضان کی پانچویں آئندہ رمضان کی پہلی ہے۔ (ت)
بعض علماء نے کہا اس کا پچاس برس تك تجربہ ہوا ٹھیك اترا۔ بعض معاصرین نے لکھا ۱۲برس سے میں بھی تجربہ کرتا اور درست پاتا ہوں۔
اقول : مگر فقیر نے ۱۲۹۷ھ سے اب تك کے ۹ رمضانوں میں خیال کیا چند ہی سال میں صاف فرق پڑگیا۔ پانچ برس تك تو حساب ٹھیك تھا اور اس قاعدے کے مطابق رمضان ۱۳۰۱ھ کی پنجم روزیکشنبہ
حوالہ / References خزانۃ المفتین کتاب الصوم قلمی نسخہ ۱/۶۰
الاستبصار کتاب الصوم دارالکتب الاسلامیہ تہران ۲/۷۶ من لایحضرالفقیہ دارالکتب الاسلامیہ تہران ۲/۷۸
#9771 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
آئی مگر۱۳۰۲ھ بحساب تقویم یکم اسی دن مظنون تھی مگر فقیر ۲۹ شعبان روز پنجشنبہ کو دیہات میں تھا کشادہ جنگل صاف مطلع ابر غبار دخان کسی علت کا نام نہ نشان۔ میں اورمیرے ساتھ اور مسلمان ہر چند غور کرتے رہے رویت نہ ہوئی شب جمعہ کی خبر بھی نہ آئی شنبہ کی عید قرار پائی۔ اب ۱۳۰۲ھ کا حساب تقویم اگر غلط بھی مانئے تو مطلع صاف نہ تھا اور بحکم ہیأت یکم یکشنبہ بھی ممکن تھی توتصحیح قاعدہ کو اسی دن یکم رکھئے تو پنجم پنجشنبہ کی ٹھہریگی۔ ۱۳۰۳ھ میں یکم بھی جمعرات کو ہونی چاہئے حالانکہ وہ بشہادت عین بھی غلط اور بحکم ہیأت بھی ناممکن۔ لاجرم ماننا پڑے گا کہ ۱۳۰۳ھ میں ٹوٹ گیا۔ بااینہمہ اگر دائمہ بھی ہوتو صرف ایك تجربہ ہے نہ حکم شرعی جس پر احکام شرعیہ کی بناء ہوسکے۔
(م) قمر۱۵ : برابر چار مہینے سے زیادہ ۲۹ کے نہیں ہوتے پر اس پر بھی مدار نہیں۔
(ش)۱۵ / ۲۸ : امام قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں :
قد یقع النقص متوالیا شھرین او ثلثۃ ولایقع اکثر من اربعۃ اشھر۔
دو۲یا تین ۳ ماہ مسلسل انتیس کے ہوسکتے ہیں چار ماہ سے زائد ناقص نہیں ہوسکتے۔ (ت)
اسی طرح شرح صحیح مسلم میں ہے : لکن مصدرا بلفظۃ قالوا (لیکن اسے لفظ “ قالوا “ سے تعبیر کیا ہے۔ ت)پھر بھی یہ اسی قبیل سے تجربہ ہے یا حساب جس پرشرع میں اعتماد نہیں۔ مثلا ربیع الآخر سے رجب تك چار مہینے ۲۹ کے ہوتے آئے اب شعبان کی ۲۹کو شہادت رؤیت گزری بلاشبہ مقبول ہوگی اور یہ خیال نہ کریں گے کہ ۵برابر۲۹ کے ہوئے جاتے ہیں۔
(م)قمر ۱۶ : ان امور میں خط کا اعتبار اجس طرح عوام میں رائج محض مردود ہے اگر چہ مہر شدہ ہواور کاتب ثقہ اور خط معروف۔
(ش)۱۶ / ۲۹ : جاہل لوگوں بلکہ بعض ان مدعیان علم میں بھی جو بزعم خود فقیہ العصر وحیدالدہر ہوں اعتماد خط کا عجیب جوش ہے۔ اپنے کسی معتمد کا خط آگیا اور شہادت شرعی میں کچھ باقی نہ رہا گویا خط کا ہے کو ہے۔ خاص فلك قمر سے ان پر تفسیر ہلالین نازل ہوئی پھر کورے جہال کا توکہنا ہی کیا ہے وہاں خط سے گزر کر تاریخ خط سے استناد ہوتا ہے حالانکہ علماء فرماتے ہیں خط پر اعتماد نہیں نہ اس پر عمل ہوکہ خط خط کے
حوالہ / References ارشاد الساری شرح صحیح بخاری کتاب الصوم دارالکتاب العربی بیروت ۳/۳۵۷
شرح نووی علی صحیح مسلم کتاب الصوم قدیمی کتب خانہ کراچی۱/۳۴۷
#9772 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
مشابہ ہوتاہے اور مہر مہر کے مثل ہوسکتی ہے۔
المقرر عند علماء الحنفیۃ انہ لا اعتبار بمجرد الخط والالتفات الیہ خ (خیریہ) الخط لایعتمد علیہ ولا یعمل بہ خ ۔ لیس الموجودفیہ سوی خط فی ورق لیس من حجج الشرع فی شئی خ عــــہ۱ مجرد الخط علامۃ لا تبنی علیھا الاحکام خ ۔ صرح علماؤنابعدم الاعتماد علی الخط وعدم العمل بہ خ ۔ ملخصا العبرۃ لما تقوم البینۃالشرعیۃ علیہ لالما یوجد من الخطوط والکواغذ خ ۔ انما ھو کاغذ بہ خط وھو لا یعتمد علیہ ولایعمل بہ کما صرح بہ کثیر من علمائنا خ ۔ مجرد خط لا یعتمد علیہ ولایعمل لہ شرعا خ عــــہ۲ ۔ لیس الورق والخط من حجج الشرع خ ۔
علمائے احناف کے ہاں یہ مسلم ہے کہ محض خط قابل توجہ نہیں خیریہ۔ خط پر نہ تو اعتماد کیا جائے نہ ہی عمل خیریہ۔
اس میں ایك ورق پر خط کے علاوہ کچھ نہیں جوکوئی شرعی دلیل نہیں خیریہ۔ محض خط علامت ہے اس پر احکام کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی خیریہ۔ ہمارے علماء نے تصریح کی ہے کہ خط پر اعتماد اورعمل نہیں کیا جاسکتاخیریہ ملخصا۔ اعتبار اس کا ہے جس پر شرعی گواہی ہو نہ کہ خطوط اورکا غذ موجود ہونے پر خیریہ ۔ کیونکہ وہ کاغذ ہی ہے جس پر تحریر ہے اور اس پر نہ اعتماد کیا جاسکتا ہے اور نہ عمل جیسا کہ ہمارے اکثر علماء نے تصریح کی ہے خیریہ۔ شرعی طور پر خط پر نہ اعتماد کیا جا سکتا ہے نہ عمل خیریہ۔ کاغذ اور خط دلائل شرعی سے نہیں خیریہ۔
حوالہ / References فتاوٰی خیریۃ کتاب الادب القاضی دارالمعرفۃ بیروت۔۲/۱۲
فتاوٰی خیریۃ باب خلل المحاضر والسجلات دارالمعرفۃ بیروت ۲/۱۹
فتاوٰی خیریۃ باب خلل المحاضر والسجلات ۲/۲۴
فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/۱۱۹
فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/۱۱۸
فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/۲۰۰
فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱/۲۰۳
فتاوٰی خیریۃ کتاب الوقف دارالمرفۃ بیروت ۱/۲۰۹
فتاوٰی خیریۃ کتاب البیوع دارالمرفۃ بیروت ۱/۲۲۸
#9774 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
من کتاب البیوع لا یعتمد علی الخط ولا یعمل بہ ولاشك ان الخط اعم من ان یکون بالقلم اوبالطابع الذی ھو الختم خ ملخصا ۔
کتاب البیوع میں ہے کہ خط پر نہ اعتماد کیا جاسکتا ہے نہ عمل اور اس میں شك نہیں کہ خط سے مراد عام ہے خواہ وہ قلم سے تحریر کیا ہوا ہو یا اس پر مہر مطبوع ہو خیریہ ملخصا(ت)
ان کے سوابے اعتبارئ خط پندرہ کتابوں کی عبارتیں فقیر نے فتوی تار مندرجہ رسالہ از کی الاہلال میں ذکر کیں وباﷲ التوفیق ۔ تنبیہ : خط بعض صورتوں میں مقبول ہوتا ہے کتاب القاضی الی القاضی یعنی حا کم شرع کو خط لکھے تو بشرائط کثیرہ حجت ملزمہ ہے
(ح)۱۶ / ۲۹ : عــــہ۱ : الثلثۃ من کتاب الدعوی کا لاخیرۃ۱۲
آخری کی طرح یہ تینوں بھی کتاب الدعوی سے ہیں ۱۲(ت)
(م) قمر۱۷ : تار محض نمبر۳۰مہمل اور ناقابل التفات اگر چہ متعدد شہروں سے وارد ہو ۔
(ش)۱۷ / ۳۰ : فقیر غفر اﷲتعالی لہ نے اس بارے میں ایك مفصل فتوی لکھا اور علمائے بدایوں و رام پور و حیدر آباد و دہلی نے مہریں کیں وہ فتوی آخر رسالہ ازکی الاہلال میں مذکور ہوا اور ہم ان شاء اﷲ بحث استفاضہ میں یہ بھی ظاہر کریں گے کہ تار جیسا ایك جگہ ویسا ہی دس بیس مقام کا سب نامعتبر ہیں یعنی اگر کسی شہرمیں متعدد تار مختلف امصار سے آئیں تو ان کی بھی کچھ وقعت نہ ہوگی کہ کثرت تار شرعی تواتر واشتہار سے اصلا علاقہ نہیں۔
(م) قمر ۱۸نمبر۳۱ : بازاری افواہ اصلا کوئی چیز نہیں۔
(ش) ۱۸ / ۳۱ : اکثر دیکھا گیا ہے کہ خبر رؤیت میں شہر میں شہرہ اور عام عوام کی زبان پر چاند چاند کا چرچا ہوگیا پھر تحقیق کیجئے تو کچھ اصل نہ تھی۔ اسے افواہ کہتے ہیں۔ شرع جس تواتر و شہرت کو قبول فرماتی ہے وہ اور چیز ہے۔
(م)قمر۱۹نمبر۳۲ : مجرد حکایت محض نامسموع۔
(ش)۱۹ / ۳۲ : گواہوں کا مجرد بیان کہ فلاں شہر میں چاند ہوا یا فلاں فلاں نے چاند دیکھا یا فلاں روز سے روزہ رکھا۔ مجرد حکایت ہے جس پر اصلا التفات نہیں بلکہ یا توا پنے معائنہ کی شہادت ہو یا
حوالہ / References فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/۵۱
#9775 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
شہادت پر شہادت یا شرعی شہرت۔ یہ مسئلہ بہت ضروری الحفظ ہے۔ یہ صرف عوام بلکہ آج کل کے بہت مدعیان علم بلکہ بعض ذی علم بھی ناواقف پائے
واﷲ الھادی ھذہ الجماعۃ لم یشھد وابا لرؤیۃ ولا علی شہادۃ غیرھم وانما حکوا بالرؤیۃ غیرھم فلا یلتفت الی قولھم خز وقد نص علی المسئلۃ فی دط طم ش فت ع ب و غیرہا کما ذکرنا بعض نصوصھا فی ازکی الاھلال۔
او ر اﷲ ہی ہدایت عطا فرمانے والاہے اس جماعت نے چاند دیکھنے کی گواہی نہیں دی اور نہ ہی دوسروں کی گواہی پر گواہی دی ہے انہوں نے صرف دوسروں کی رؤیت کی حکایت کی ہے لہذا ان کا قول قابل توجہ نہیں ہوگا خزانۃ۔ اور اس مسئلہ پر در طحاوی طم ش فتح القدیر ع ب وغیرہ نے تصریح کی ہے۔ جیسا کہ ان میں سے بعض کو ہم نے ازکی الاھلال میں ذکر کردیا ہے(ت)
(م) قمر ۲۰نمبر۳۳ : یقین عرفی کچھ بکار آمد نہیں وصلی اﷲعلی خیر خلقہ سیدنا محمد والہ وصحبہ اجمعین والحمد ﷲرب العالمین۔
(ش) ۲۰ / ۳۳ : اقول : یہ ایك نفیس مسئلہ ہے جس پر فقیر غفرا ﷲتعالی لہ نے تنبیہ کی یقین دو۲ طرح کا ہوتا ہے : ایك شرعی کہ طریقہ شرع سے حاصل ہو۔ دوسرا عرفی کہ باوجود عدم طریقہ شرعی صرف اپنے مقبولات ومسلمات یا تجربیات مشہورات اور قرائن خارجیہ کے لحاظ سے اطمینان حاصل ہوجائے۔ ناواقف لوگ مدرك عرفی و شرعی میں تفرقہ نہ جان کر اسے کافی ووافی ودلیل شرعی گمان کرتے ہیں حالانکہ یہ صریح خطاہے مثلا جہاں شرع مطہر نے شہادت میں عدد شرط کیا دو۲ مردیا ایك مرد دوعورتیں ہوں وہاں ہمارے اعظم کسی معتمد اجل مستند نے جسے افضل اولیاء عالم جانیں اور وہ واقع میں بھی غوث زمانہ ہی ہو۔ شہادت دی کہ میرے سامنے ایسا ہوا اور میں نے بچشم خوددیکھا ہمیں جو اعتبار اس کے فرمانے پر آئے گا ہرگز دوچاردس بیس کی بات پر بھی اس سے زیادہ نہ ہوگامگر شرع دوسرا گواہ اورمانگے گی اور معاملہ زنا میں تین۔ تواگر ایسے ہی تین گواہی دیں جب بھی نامسموع کہ قرآن کریم نے باربعة شهدآء فرمایا اگر چہ اس میں شك نہیں کہ سامع مطلع کو ان کے ارشاد میں اصلا محل شك نہ ہوگا۔ اسی طرح ہزاروں نظیریں اس مسئلہ کی ہوں گی اور
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ۲ / ۱۰۲ ، فتح القدیر کتاب الصوم نوریہ رضویہ سکھر۲ / ۲۴۳
القرآن ۲۴ / ۴
#9776 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
پھر قرائن بے چارے کس گنتی شمارمیں ہیں۔ ذی علم کو بارہا واقع ہوتا ہے کہ بہت امور خارجہ کے لحاط سے چاند ہونے میں اطمینان کامل رکھتا ہے مگر جب تك ثبوت شرعی نہ ہو ہرگز حکم رؤیت نہیں کرتا۔ یوں ہی جب ثبو ت میزان شرع پر ٹھیك اترے گا مجبوراحکم رؤیت کرے گا اگر چہ بنظر امور دیگر کسی طرح ہلال کا ہونا دل پر نہ جمے۔ ایسی ہی جگہ عالم و جاہل کا فرق کھلتا ہے جب قرائن اس کے خلاف ظاہر ہوتے ہیں جہال حکم عالم پر اعتراض کرنے لگتے ہیں حالانکہ وہ جانتا ہے کہ جومیں نے کیا وہی رائے صائب تھی اور مجھ پر بہر حال مدرك شرعی کی پابندی واجب اس امر کی طرف اشارہ زیر یا زدہم بھی گزرا اور ان یقینوں کی زیادہ توضیح رسالہ ازکی الاھلال میں مذکورہوئی وباﷲالتوفیق وصلی اﷲتعالی علی سیدنا محمدوالہ وصحبہ اجمعین۔
فائدہ : صحیح حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
شھران لاینقصان شھراعید رمضان وذی الحجۃ ۔ رواہ احمد والستۃ عن ابن ابی بکرۃ رضی اﷲتعالی عنہ۔
عید کے دونوں مہینے ناقص نہیں ہوتے یعنی رمضان اور ذو الحجہ ۔ (اسے امام احمد اور ائمہ ستہ نے حضرت ابن ابی بکرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
بعض علماء نے اس کے یہ معنی لیے ہیں کہ یہ دونوں مہینے ایك سال میں۲۹ کے نہیں ہوتے۔ صحیح بخاری میں ہے :
قال محمد لا یجتمعان کلاھما ناقص ۔
محمد بن سیرین کہتے یہ دو۲ مہینے جمع نہیں ہوتے اس حال میں کہ دونوں ناقص(یعنی ۲۹کے) ہوں۔ (ت)
امام سرا فـــــ نے فرمایا : لاینقصان جمیعا فی سنۃ واحدۃ (ایك سال میں عید کے دو۲ ماہ جمع نہیں ہوتے کہ دونوں ہی ناقص ہوں۔ ت) امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا :
ان نقص رمضان تم ذوالحجۃ وان نقص ذو الحجۃ تم رمضان ۔
رمضان ۲۹ کاہوگا تو ذوالحجہ ۳۰ کا اور ذوالحجہ ۲۹ کا ہوگا رمضان ۳۰کا۔ (ت)
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل مروی عن عبد الرحمن ابن ابی بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دارالمعرفۃ بیروت ۵ / ۳۸ ، صحیح البخاری کتاب الصوم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۵۶)
صحیح البخاری کتاب الصوم قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۲۵۶
فتح الباری شرح صحیح بخاری کتاب الصوم دارالمعرفہ بیروت ۴ / ۱۰۷
صحیح البخاری کتاب الصوم قدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۲۵۶
فـــــ : فتح الباری میں امام سراء کی بجائے امام بزار سے یہ عبارت منقول ہے۔ )
#9777 · اَلْبُدُوْرُالْاَجِلَّۃِفِیْ اُمُوْرِالْاَھلَّۃِ ۱۳۰۴ھ مع شرح نُوْرالُاَدِلَّۃِلِلْبُدُوْرِالْاَجِلَّۃِ مع حاشیہ رَفْعُ الْعِلَّۃِعَنْ نُوْرِالْاَدِلَّۃِ (رؤیتِ ہلال کے تفصیلی احکام)
اور اس معنی کی مؤید وہ حدیث ہے جو بطریق زید بن عقبہ حضرت سمر ہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی کہ شھر اعید لایکونان ثمانیۃ وخمسین یوما عیدکے دونوں مہینے ۵۸ دن کے نہیں ہوتے۔
باایں ہمہ محققین کے نزدیك اس سے اکثری اغلبی حکم مراد ہے۔ نہ کہ دائمی ابدی۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : قد وجدناھما ینقصان فی اعوامہم نے برسوں دیکھا کہ یہ دونوں مہینے سال میں ۲۹ کے ہوئے ۔
اقول : معہذا حدیث اول کے تو عمدہ معانی علماء نے بیان فرمائے اور تحقیق روشن یہی ہے کہ اس کاثواب نہیں گھٹتا اگرچہ گنتی میں پورے ہوں اور حدیث دوم کی صحت معلوم نہیں اگر صحیح ہوتو بعض رواۃ سے اپنی فہم کی بناء پر نقل بالمعنی محتمل واﷲتعالی اعلم
بالجملہ غرض یہ ہے کہ ایسے تجریبات کا دائمی ہونا ضرور نہیں اور دائمی ہوں بھی تو احکام شرع کا ان پر مدار نہیں۔ واﷲتعالی اعلم واﷲ الھادی وصلی اﷲتعالی علی سید المرسلین محمد والہ وصحبہ اجمعین ط
___________________
حوالہ / References فتح الباری شرح صحیح البخاری کتاب الصوم دارالمعرفۃ بیروت ۴ / ۱۰۷
شرح معانی الآثار کتاب الصیام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۳۸۱
#9778 · مفسدات صَوم (روزۃ توڑدینے والی اشیاء)
مسئلہ ۲۱۷تا۲۱۹ : از علی گڑھ بوساطت رحیم اﷲخاں ۲۵ رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں :
(۱)رمضان میں عورت کوئی دوا خشك اپنے جسم میں رکھے تو روزے میں کچھ فساد آئے گایا نہیں
(۲)عورت بتی کسی دوا کی یا انگلی سے دوا اپنے جسم میں داخل کرے یا مرد انگلی کرے توروزہ ٹوٹے گا یا نہیں
(۳)عورت کو لپٹا یا یا خیال باندھا کچھ دیر بعد جس وقت کہ خواہش بالکل نہ رہی بوندیں خارج ہوچکی ہیں پیشاب کوجاتے وقت بعد پیشاب کے کچھ گاڑھا پانی سفید نکلے جس کی شکل منی کی سی ہو تو اس کو منی کہا جائے گا یا نہی اور روزہ اس سے ٹوٹے گا یا نہیںبینواتوجروا۔
الجواب :
(۱)اگر روزے کی حالت میں یعنی طلوع صبح صادق سے غروب شمس تك رمضان خواہ غیر رمضان میں دوا خشك یا تر خواہ کوئی چیز فرج میں اس طرح رکھی گئی کہ فرج داخل کے اندر بالکل غائب کردی توروزہ جاتارہا اور اگر مثلا دواکسی کپڑے میں باندھ کر فرج میں اس طرح رکھی کہ کپڑے کا سرافرج داخل سے باہر رہا اگر چہ فرج خارج میں غائب ہوجائے تو روزہ نہ جائے گا جب تك دوا کاکوئی حصہ کپڑے سے چھین کر فرج داخل کے اندر نہ گرے یا دوا ایسی تر ہوکہ کپڑے میں ٹپك کر فرج داخل میں لگے یا حرکت کے سبب کپڑا چڑھ جائے کہ بالکل فرج داخل کے اندر غائب ہوجائے ان صورتوں میں روزہ جاتارہے گا۔
#9780 · مفسدات صَوم (روزۃ توڑدینے والی اشیاء)
فی تنویر الابصار والدرالمختار (ادخل عودا) ونحوہ(فی مقعدتہ وطرفہ خارج) وان غیبہ فسد وکذالوابتلع خشبۃ اوخیطا ولوفیہ لقمۃ مربوطۃ الاان ینفصل منھا شئی ومفادہ ان استقرارالداخل فی الجوف شرط للفساد بدائع ولوادخلت قطنۃ ان غابت فسد وان بقی طرفھا فی فرجھا الخارج لا(لم یفطر) اھ ملتقطا وفی ردالمحتار مادخل فی الجوف ان غاب فیہ فسد وھو المراد بالاستقرار وان لم یغب بل بقی طرف منہ فی الخارج اوکان متصلا بشئی خارج لایفسد لعدم استقرارہ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
تنویرالابصار اور درمختار میں ہے : کسی نے عود(کی لکڑی وغیرہ کو) دبر میں اس طرح داخل کیا کہ ایك کنارہ اس کا باہر ہوتو روزہ نہیں ٹوٹتا اور اگر سب اندر چڑھالے تو ٹوٹ جائے گا اور یہی حکم ہے اس کا جو کوئی لکڑی نگل لے یا دھاگہ اگر چہ اس میں لقمہ بندھا ہوا ہو مگر اس صورت میں کہ جب لقمہ سے کچھ جدا ہوکر اندر رہ جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا اس کا حاصل یہ ہے کہ پیٹ میں داخل ہونے والی چیز کا وہاں (پیٹ میں)استقرار(ٹھہرنا)فساد کے لیے شرط ہے بدائع اگر عورت نے روئی داخل کی جو غائب ہوگئی تو روزہ فاسد ہوجائیگا اور اگر اس کی کوئی طرف فرج خارج میں نکلی ہوئی رہی تو روزہ فاسدد نہ ہوگا(یعنی روزہ نہیں ٹوٹے گا)اھ اختصارا۔ ردالمحتار میں ہے کہ جو کچھ جوف میں داخل ہوا اگر وہ غائب ہوگیا تو روزہ فاسد ہوجائے گا اور استقرار سے یہی مراد ہے اور اگر غائب نہ ہو بلکہ اس کی کوئی جانب خارج باقی رہ گئی یا خارج شئی سے متصل رہی تو عدم استقرار کی وجہ سے روزہ فاسد نہ ہوگا واﷲ تعالی اعلم(ت)
(۲)بتی اور دوا کا حکم مسئلہ سابقہ میں گزرا اور انگلی فرج میں داخل کرنے سے عورت کا روزہ صرف چار صورت میں فاسد ہوگا : ایك یہ کہ انگلی داخل کرنے سے اسی حالت میں کہ انگلی فرج کو مس کررہی ہے عورت کو انزال ہوجائے لو جود معنی الفطر وھو الامناء عن مباشرۃ کما فی الھدایۃ وغیرھا (اس صورت میں معنی افطار پایا گیا اور وہ مباشرت کی وجہ سے منی کا خروج ہے ہدایہ وغیرہ۔ ت)دوسرے یہ کہ انگلی پانی یا روغن کی مانند کسی شے سے ایسی تر ہو کہ اس کی تری چھوٹ کر فرج داخل میں لگے۔ تیسرے یہ کہ خشك انگلی داخل کی وہ فرج کی رطوبت سے ایسی تر ہوگئی کہ اب اس سے چھوٹ کر دوسری چیز میں لگے بعدہ انگلی باہر کرکے ایسی ہی
حوالہ / References درمختار باب مایفسد الصوم مجتبائی دہلی۱/۱۴۹
ردالمحتار باب مایفسد الصوم مصطفی البابی مصر ۲/۱۰۷
ردالمحتار باب مایفسد الصوم مصطفی البابی مصر ۲/۱۰۹
#9781 · مفسدات صَوم (روزۃ توڑدینے والی اشیاء)
تری کی حالت میں پھراندر کی کہ تری چھوٹ کر فرج داخل میں لگی۔ چوتھے یہ کہ انگلی کٹی ہوئی جسم سے جدا تھی وہ فرج داخل کے اندر غائب کردی گئی کہ سراباہر نہ رہا یہ احکام بھی اسی مسئلہ سے ظاہر ہیں ان میں برابر ہے خواہ انگلی مرد کی ہو یا عورت خود اپنی
ادخل اصبعہ الیابسۃ فی دبرہ اوفرجھا لم یفطر ولومبتلۃ فسد اھ ملتقطا
اگر کسی نے انگلی دبر میں دی یا عورت نے اپنی فرج میں داخل کی توروزہ نہیں ٹوٹے گا اور اگر انگلی تر تھی تو روزہ ٹوٹ جائے گا اھ اختصارا(ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ ولو مبتلۃ فسد لبقاء شئی من البلۃ فی الداخل۔
قولہ اگر(انگلی) تر ہوئی تو ٹوٹ جائے گا یہ اس لیے ہے کہ اس صورت میں داخل دبر وفرج میں کچھ تری باقی رہ جائے گی۔ (ت)
حاشیہ طحطاوی میں ہے :
ظاہر کلامہ یقتضی ان الذی ادخل فی فرجھا الرجل والحکم واحد۔
ظاہر کلام کا تقاضا یہ ہے کہ فرج عورت میں انگلی داخل کرنے والامرد ہو حالانکہ (دونوں صورتوں میں خواہ مرد ہویا عورت)حکم ایك ہے(ت)
فتح القدیر میں ہے :
لو ادخل الاصبح فی دبرہ اوفرجھا الداخل لا یفسد الصوم الاان تکون مبلولۃ بماء اودھن علی المختار وقیل یجب علیہ القضاء والغسل۔
اگر کسی نے مرد کی دبر یا عورت کی فرج داخل میں انگلی داخل کی تو مختار قول پر روزہ فاسد نہ ہوگا مگر اس صورت کہ جب وہ پانی یا تیل کے ساتھ تر ہو۔ بعض نے کہا ہے کہ ایسی صورت میں روزہ کی قضاء اور غسل لازم ہوجائے گا۔ (ت)
حوالہ / References درمختار باب مایفسد الصوم مجتبائی دہلی۱/۱۴۹
ردالمحتار ، باب مایفسد الصوم،مصطفی البابی مصر ، ۲/۱۰۸
حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار باب مایفسد الصوم دارالمعرفۃ بیروت ۱/۴۵۱
فتح القدیر باب مایوجب القضاء والکفارۃ نوریہ رضویہ سکھر ۲/۲۶۷
#9782 · مفسدات صَوم (روزۃ توڑدینے والی اشیاء)
تنبیہ : فتح القدیرومراقی الفلاح وفتاوی ظہیریہ وفتاوی ہندیہ وغیرہا عامہ کتب میں جو انگلی کی تری میں آب و روغن کا ذکر ہے محض تمثیل وتصویر ہے نہ تخصیص وتقییدکہ اگر دودھ یا گھی لعاب دہن میں تر ہو جب بھی بداہۃحکم یہی ہے کہ مدارصرف کسی تری کا خارج سے جوف میں جاکر رہ جانا ہے کما افادہ فی ردالمحتار(جیسا کہ ردالمحتار میں بیان ہوا۔ ت) ولہذا درمختار میں مطلق مبتلۃ(تر ہوئی۔ ت)فرمایا اور شك نہیں کہ فرج کی رطوبت جب انگلی سے لگ کر باہر آئی اب وہ بھی رطوبت خارجہ ہوگئی اب دوبارہ جو باہر سے جاکر فرج داخل کے اندر رہ جائے گی ضرور فساد صوم لائے گی جس طرح لعاب دہن اگر قبل خروج اسے نگل جائے روزہ میں خلل نہیں اور اگر دہن سے جدا کردینے کے بعد کھائے گا روزہ جائے گا کمافی ردالمحتار عن البدائع ومثلہ فی کثیر من الکتب(جیسا کہ بدائع سے ردالمحتار میں اور اسی طرح اکثر کتب میں ہے۔ ت) رہا علماء کا فرمانا کہ اگر کان سے میل نکالا اور میل لگی ہوئی سلائی دوبارہ سہ بارہ کان میں کی تو بالاجماع روزہ نہ جائے گا۔ بزازیہ ونورالایضاح ودرمختار وغیرہا میں ہے :
واللفظ للوجیز اجمعواانہ لو حك اذنہ بعود فاخرج العودوعلی راسہ درن ثم ادخلہ ثانیا وثالثاکذلك انہ لایفسد۔
وجیز کی عبارت یہ ہے فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر کسی نے عود(لکڑی) کے ساتھ اپنا کان کھرچاپھر لکڑی جب باہر نکالی تو اس کے سرے پر میل تھی اب اسی لکڑی کو دوبارہ یا سہ بارہ اسی طرح(کان میں) داخل کیا تور وزہ فاسد نہ ہوگا۔ (ت)
وہ اس مسئلہ سے جدا ہے وہاں روزہ نہ ٹوٹنے کی وجہ یہ ہے کہ کان کریدنے میں سلائی دماغ تك نہیں جاتی تو میل جوف میں داخل نہ ہوا بخلاف یہاں کے کہ فرج داخل خود جوف ہے۔ مراقی الفلاح میں ہے :
حك اذنہ بعودفخرج علیہ درن ممافی الصماخ ثم ادخلہ ای العود مراراالی اذنہ لایفسد صومہ بالاجماع کما فی البزازیۃ جلعدم وصول المفطر الی الدماغ واﷲتعالی اعلم۔
اگر کان کو لکڑی کے ساتھ کھر چا پھر جب لکڑی واپس نکالی تو اس پر کان کے اندر سے میل آئی پھر ا س لکڑی کو کئی دفعہ کان میں داخل کیا تو بالاتفاق روزہ فاسد نہ ہوگا جیسا کہ بزازیہ میں ہے کیونکہ کوئی چیز روزہ توڑنے والی دماغ تك نہیں پہنچی۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References فتاوٰی بزازیہ علی حاشیہ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصوم نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۹۸
مراقی الفلاح معہ حاشیہ طحطاوی باب فی مالایفسد الصوم،نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی، ص۳۶۲
#9783 · مفسدات صَوم (روزۃ توڑدینے والی اشیاء)
(۳) منی اپنی رنگت اور بو اور قوام وغیرہا کے باعث اور پانیوں سے ممتازہوجاتی ہے بہر حال صورت مستفسرہ میں جو کچھ نکلا اگرچہ منی ہی ہوجبکہ بالکل شہوت ساکن ہوجانے کے بعد بلاشہوت بعد پیشاب نکلا تو اس سے نہ غسل واجب ہونہ روزے میں کچھ خلل آیا اور مجرد خیال باندھنے سے تو روزہ اصلا نہیں جاتا اگر چہ اسی حالت تصور ہی میں شہوت کے ساتھ انزال ہوجائے ہاں لپٹانے یا بوسہ لینے یا ہاتھ لگانے کی حالت میں اگر انزال ہوتو روزہ فاسد ہوکر قضا لازم آئے گی اور ان افعال کے ختم کے بعد شہوت ہنوز باقی رہی اور اس حالت میں کہ یہ عورت کے جسم سے جدا ہے منی اتری اور بشہوت نکل گئی تو اگر چہ غسل واجب ہوگامگر روزہ نہ جائے گا کہ یہ انزال ان افعال سے نہ ہوا بلکہ مجرد تصورہوا
فی الدرالمختار انزل بفکر وان طال او نزع المجامع حال کونہ ناسیافی الحال عند ذکرہ وکذاعند طلوع الفجر وان امنی بعد النزع لانہ کالاحتلام لم یفطراھ ملتقطا وبہ یعلم ماذکرنا بالاولی کما لایخفی۔ واﷲتعالی اعلم۔
درمختار میں ہے کہ اگر سوچنے سے انزال ہوگیا اگر چہ وہ سوچ طویل تھی یا نسیانا جماع شروع کیا تھا روزہ یاد آنے پر فورا چھوڑ دیا اسی طرح حکم ہے اگر اس نے طلوع فجر ہوتے ہی جماع چھوڑ دیا اگر چھوڑنے کے بعد منی کا خروج ہوااس سے روزہ فاسد نہ ہوگا کیونکہ یہ احتلام کی طرح ہے اھ مختصرا۔ اس سے زیر بحث مسئلہ کا حکم بطریق اولی معلوم ہوگیا جو نہایت ہی واضح ہے واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۲۰تا۲۲۱ : ۲۶صفر۱۳۱۷ھ
(۱) ایك شخص پان کھاکے اول شب میں سویا صبح کو اٹھ کر نیت روزہ کرتا ہے روزہ درست ہوگا یا نہیں
(۲)حالت روزہ میں اگر کوئی پانی سے استنجا کرے اور بائی اخراج ہو اور بدستور استنجا کرنے میں مشغول رہے توروزہ رہا یا نہیںبینواتوجروا۔
الجواب :
(۱) اگرپان کھالیاتھا منہ میں صرف چند دانے چھالیا کے دانتوں میں لگے رہ گئے تو روزہ صحیح ہوجائے گا اور اگر صبح کے بعد بھی ایسا اگال کثیر منہ میں تھا جس کا جرم خواہ عرق لعاب کے ساتھ حلق میں جانا مظنون ہے تو روزہ نہ ہوگا۔
حوالہ / References درمختار باب مایفسد الصوم مجتبائی دہلی۱/۵۰-۱۴۹
#9784 · مفسدات صَوم (روزۃ توڑدینے والی اشیاء)
(۲) اس سے روزہ میں کوئی خلل نہیں آتالعدم المفطر۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۲۲۲ : مسئولہ عبد الرحمان صاحب جونپوری از گولڑہ ضلع راولپنڈی ۲۶صفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جولوگ پان یا تمباکو یا نسوار کے عادی ہیں وہ اگر روزہ کی حالت میں پان تمباکونسوارمنہ میں رکھ لیں اور اس کا جرم حلق کے اندر نہ جانے دیں تو روزہ ٹوٹ جائیگا یا نہیں اور بصورت ٹوٹ جانے کے قضا لازم آئے گی یا کفارہ مدلل بیان کیجئے بینو اتوجروا
الجواب :
پان جب منہ میں رکھا جائے گا ا س کا عرق ضرور حلق میں جائیگا اور تمباکو جیسی کھائی جاتی ہے وہ اگر منہ میں ڈالی جائیگی تو یقینا اس کا جرم لعاب کے ساتھ حلق میں جائے گا اور نسوار تو بہت باریك چیز ہے جب اوپر کو سونگی جائے گی ضرور دماغ کو پہنچے گی اور ان طلب والوں کے مقاصد بھی یونہی برآئیں گے اور فقہیات میں ایسا مظنون مثل متیقن ہے یہ سب شیطانی وسوسے ہیں ان چیزوں کے استعمال سے جو روزہ جائے اس کی فقط قضا نہیں بلکہ کفارہ بھی ضرور ہوگا کہ ان میں صلاح بدن وقضائے شہوت ہے اور اگر بالفرض ان میں احتیاط یقینی کی صورت متصور بھی ہوتی جب بھی ممانعت میں شك نہ تھا جیسے مباشرت فاحشہ کہ بے انزال ناقص نہیں مگر ممنوع ضرور ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من وقع فی الشبہات فی الحرام کالراعی یرعی حول الحمی یوشك ان یرتع فیہ ۔ واﷲتعالی اعلم۔
جو شبہات میں داخل ہوتا ہے وہ حرام میں داخل ہوجائے گا جیسا کہ محفوظ جگہ کے قریب بکریاں چرانے والاقریب ہے کہ وہ حرام میں واقع ہوجائے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۲۳ : ازکلکتہ پور نزدیك اسپتال ای بی ایس آر یکم ربیع الاول۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روزہ کس کس حالت میں نہیں ہوتا مثلا اگر کوئی شخص پچھلے کو اتنا زیادہ کھالے کہ صبح کو اسے کھٹی ڈکاریں آئیں تو روزہ ہوا یا نہیں اگر نہیں ہوا تو کیا خرابی واقع ہوئی دوسری یہ بات کہ روزہ کس کس حالت میں درست نہیں رہتا
الجواب :
کھٹی ڈکار سے روزہ نہیں جاتا یہ کسی کتاب میں نہیں لکھا۔ روزہ تین باتوں سے جاتا ہے ۱جماع اگرچہ
حوالہ / References صحیح مسلم ، باب اخذالحلال وترك الشبہات،قدیمی کتب خانہ کراچی،۲/۲۸
#9785 · مفسدات صَوم (روزۃ توڑدینے والی اشیاء)
انزال نہ ہو اور۲مس جبکہ انزال ہو اور ۳باہرسے کوئی چیز جوف میں اس طرح داخل ہو کہ باہر اس کا علاقہ نہ رہے مثلا ڈورے میں بوٹی باندھ کر نگل لی اور ڈور باہر ہے تو اگر اسے نکال لے گا روزہ نہ جائے گا اور اگر ڈور باہر نہ رہی یا نکالنے میں بوٹی یاا س کا کچھ حصہ جو ف میں رہ گیا تو روز ہ جاتا رہا
کل ذلك منصوص علیہ فی الدرالمختار وغیرہ من الاسفار۔ واﷲتعالی اعلم۔
اس تمام پر درمختار اور دیگر کتب میں تصریح ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۲۲۴ : مرسلہ قاری عبدالنبی طالب علم ۲رجب المرجب ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ روزہ دار کو فصد کھلوانا اور سوزاك میں پچکاری لگوانا جائز ہے یا نہیں اور فصد یا پچکاری لگوایا تو روزہ باطل ہوجائے گا یا نہیں
الجواب :
فصد سے روزہ نہ جائے گا ہاں ضعف کے خیال سے بچے تو مناسب اور پچکاری سے مرد کا روزہ نہ جائے گا عورت کا جاتا رہے گا۔ واﷲتعالی اعلم
_________________
حوالہ / References در مختار باب مایفسد الصوم مجتبائی دہلی ۱ / ۱۵۰
#9787 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
اﷲ رب محمد صلی علیہ وسلما
مسئلہ ۲۲۵ : از جونا گڑھ کاٹھیاواڑ سرکل مدار المہام مرسلہ مولوی امیرالدین صاحب ۵ذیقعدہ ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك کامل عارف باﷲکے مقبرہ میں بارہ بارہ چند حضرات مل کر بعد ۴ بجے دن کے فاتحہ کے لیے حاضر ہوتے ہیں اور بوقت فاتحہ ہمیشہ مزار شریف سے کچھ فاصلہ پر لوبان جلایا جاتا ہے اور حاضرین مزار شریف کے قریب کھڑے ہوکر فاتحہ پڑھتے ہیں مگر حضار میں سے کسی شخص کا ارادہ خوشبو یا دھواں لینے کا ہرگز نہیں ہوتا اگر بغیر قصد وارادے کے دھواں ناك وحلق وغیرہ میں چلا جائے تو کیا روزہ فاسد ہوجائے گا ماہ رمضان المبارك میں ایك شخص نے بیان کیا کہ اس خفیف دھوئیں سے روزہ جاتا رہا اور کفارہ لازم آیا اور جہاں لوبان جلتا ہے روزہ دار وہاں سے علیحدہ کھڑے ہوتے ہیں اگرچہ مکان ایك ہے۔ بینواتوجروا
#9788 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
الجواب :
الحمد ﷲ الذی فرض علینا الصیام طہرا وجعل ھذاالدین یسراوالصلوۃ والسلام علی اطیب ریحان الرحمان طیبا ونشرا وعلی الہ وصحبہ الذین من اقتفاھم لایصل الیہ دخان الضلال ورداولاصدرا۔
تمام تعریف اﷲ عزوجل کی جس نے طہارت کے لیے ہم پر روزے فرض فرمائے اور اس دین کوآسان بنایا اور صلوۃ وسلام ہو اس ذات اقدس پر جو خوشبو کے لحاظ سے رحمان کے تمام گلستان میں اعلی ہیں اور آپ کے آل واصحاب پرجنہوں نے آپ کی اس طرح اتباع کی کہ انہیں کسی بھی طرف سے گمراہی کی کوئی غبار لاحق نہ ہو سکے۔ (ت)
متون وشروح و فتاوی عامہ کتب مذہب میں جن پر مدار مذہب ہے علی الاطلاق تصریحات روشن ہیں کہ دھواں یا غبار حلق یا دماغ میں آپ چلا جائے کہ روزہ دارنے بالقصد اسے داخل نہ کیا ہو تو روزہ نہ جائے گا اگر چہ اس وقت روزہ ہونا یاد تھا۔ ۱وقایہ و۲نقایہ و۳اصلاح و۴ملتقی و۵تنویروغیرہا میں ہے :
واللفظ للاصلاح دخل غبار اودخان او ذباب حلقہ لم یفطر ۔
اصلاح کے الفاظ یہ ہیں : حلق میں اگر غبار دھواں یا مکھی داخل ہوگئی تو روزہ نہ ٹوٹے گا(ت)
۶غررمتن دررمیں ہے :
دخل حلقہ غباراودخان او ذباب ولو ذاکرالم یفسد ۔
روزہ دار کے حلق میں غبار دھواں یا مکھی چلی گئی حالانکہ اسے روزہ یاد تھا تو روزہ فاسد نہ ہوگا(ت)
۷بدایہ و۸ہدایہ و۹وافی و۱۰ کافی میں ہے :
واللفظ للکا فی لودخل حلقہ ذباب وھو ذاکر لصومہ یفسد قیاسالوصول المفطر الی جوفہ وکونہ ممالایتغذی لاینافی الفساد کالتراب وفی الاستحسان لایفسد لانہ لایمکن التحرزعنہ فان
کافی کی عبارت یہ ہے روزہ دار کے حلق میں مکھی چلی گئی حالانکہ اسے روزہ یاد تھا روزہ قیاسا فاسد ہوجائےگا___اس لئے کہ روزہ توڑنے والی چیز اس کے حلق میں چلی گئی اور اس کاغذ اوالی چیز نہ ہونا فساد کے منافی نہیں جیسا کہ مٹی کا حکم ہے اور استحسانا روزہ فاسد نہ ہوگا کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں ہے
حوالہ / References درمختار ، باب یفسد الصوم ،مجتبائی دہلی ، ۱/۱۴۹
غررمع دررالحکام باب موجب الافساد احمد کامل الکائنہ دارالسعادۃ بیروت ۱/۲۰۲
#9789 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
الصائم لا یجد بدامن ان یفتح فمہ لیتکلم فصار کا لغبار والدخان ۔
کیونکہ روزہ دار کو بات کرنے کے لئے منہ کھولنا پڑتا ہے تو مکھی کا حکم غبار اور دھوئیں کی طرح ہے۔ (ت)
۱۱فتح القدیر میں ہے :
قولہ فاشبہ الغبار والد خان اذا دخلا فی الحلق فانہ لایستطاع الاحتراز عن دخولھما لدخولھما من الانف اذاطبق الفم وصار ایضاکبلل یبقی فی فیہ بعد المضمضۃ۔
مصنف کا قول مکھی کا داخل ہونا غبار اور دھوئیں کی طرح ہے کیونکہ جب وہ حلق میں داخل ہوجائیں توان کے دخول سے بچنا ممکن نہیں ہوتا منہ اگر بند بھی ہو تو وہ ناك کے ذریعے داخل ہوجائیں گے اور یہ اس تری کی مانند بھی ہے جو کلی کے بعد منہ میں رہ جاتی ہے۔ (ت)
۱۲نورالایضاح متن امداد الفتاح میں ہے :
لایفسد الصوم لودخل حلقہ دخان بلاصنعہ او غبار ولو غبارالطاحون او ذباب او اثر طعم الادویۃ وھو ذاکر لصومہ ۔
ان صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹتا جب حلق میں بلا قصد دھواں داخل ہوجائے یا غبار خواہ وہ آٹے کی چکی کا ہو یا مکھی یا دوائیوں کے ذائقے کا اثر منہ میں داخل ہوجائے اگر چہ روزہ دارکو روزہ دار ہونا یاد ہو۔ (ت)
۱۳خانیہ و۱۴خلاصہ و۱۵خزانۃ المفتین میں ہے :
واللفظ للخانیۃ اذا دخل الدخان او الغبار او ریح العطر اوالذباب حلقہ لایفسد صومہ ۔
خانیہ کی عبارت یہ ہے : حلق میں دھواں غبار عطر کی خوشبو یا مکھی داخل ہوجائے تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ (ت)
۱۶سراج الوہاج و ۱۷ہندیہ میں ہے :
حوالہ / References ہدایۃ باب مایوجب القضاء والکفارۃ المکتبۃ العربیہ کراچی۱/۱۹۸
فتح القدیر باب مایوجب القضاء والکفارۃ نوریہ رضویہ سکھر ۲/۲۵۸
نورالایضاح مالایفسد الصوم مطبع علیمی ،لاہور ص۶۴
فتاوٰی قاضی خان الفصل فیما لایفسد الصوم منشی نولکشورلکھنؤ ۱/۹۸
#9790 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
لودخل حلقہ غبارالطاحونۃ اوطعم الادویۃ اوغبار الھرس واشباھہ او الدخان او ماسطح من غبارالتراب بالریح او بحوافر الدواب واشباہ ذلك لم یفطرہ ۔
اگر روزہ دار کے حلق میں چکی کا غبار ادویات کا ذائقہ گھوڑے کے دوڑنے یا اس کی ہم مثل کی غبار دھواں ہوا کے ذریعے اڑنے والی چوپایوں اور اس کے ہم مثل کی وجہ سے اڑنے والی غبار چلی جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔ (ت)
۱۸وجیز و۱۹انقروی و۲۰واقعات المفتین میں ہے :
دخل الذباب اوالدخان اوالغبار حلقہ او بقی بلل بعد المضمضۃ فابتلعہ مع البزاق لم یفطر ۔
روزہ دارکے حلق میں مکھی دھواں یا غبار چلی گئی یا کلی کے بعد تری منہ میں رہ گئی اور اسے وہ تھوك کے ساتھ نگل گیا تو روزہ نہیں ٹوٹے گات
ہاں اگر صائم اپنے قصد وارادہ سے اگریا لوبان خواہ کسی شے کا دھواں یاغبار اپنے حلق یا دماغ میں عمدا بے حالت نسیان صوم داخل کرے مثلا بخور سلگائے اور اسے اپنے جسم سے متصل کرکے دھواں سونگھے کہ دماغ یاحلق میں جائے تو اس صورت میں روزہ فاسد ہوگا۔ ۲۱ درمختار میں ہے :
مفادہ انہ لوادخل حلقہ الدخان افطرای دخان کان ولو عودا اوعنبرالوذاکرا لامکان التحرز عنہ فلیتنبہ لہ کما بسطہ الشرنبلالی ۔
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کسی روزہ دار نے بقصد اپنے حلق میں دھواں داخل کیا تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا خواہ وہ دھواں عود یا عنبر کا ہو اگر اسے روزہ یاد ہو کیونکہ اس سے بچنا ممکن ہے اس پر متنبہ رہنا چاہئے جیسا کہ اس پر شرنبلالی سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ ت
علامہ شرنبلالی نے۲۲غنیہ ذوی الاحکام و۲۳امداد الفتاح و۲۴ مراقی الفلاح تینوں کتابوں میں فرمایا :
وھذالفظ المراقی وفیماذکرنا اشارۃ الی انہ من ادخل بصنعہ دخانا حلقہ بای صورۃ کان الادخال فسد صومہ
مراقی الفلاح کی عبارت یہ ہے جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس میں یہ اشارہ ہے کہ اگر کسی نے ارادۃ حلق میں دھواں داخل کیا خواہ ادخال کی کوئی صورت
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الباب الرابع فیما یفسد الصوم نورانی کتب خانہ پشاور ۱/۲۰۳
فتاوٰی انقرویۃ کتاب الصوم دارالاشاعۃ العربیہ قندھار افغانستان ۱/۱۵
درمختار باب ما یفسد الصوم مجتبائی دہلی۱/۱۴۹
#9792 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
سواء کان دخان عنبراوعود اوغیرھما حتی من تبخرببخور فآواہ الی نفسہ واشتم دخاناذاکرا لصومہ افطر لامکان التحرز عن ادخال المفطر جوفہ ودماغہ وھذا مما یغفل عنہ کثیرمن الناس فلیتنبہ لہ ولا یتوھم انہ کشم الورد ومائہ والمسك لوضوح الفرق بین ھواء تطیب بریح المسك وشبھہ وبین جوھر دخان وصل الی جوفہ بفعلہ ۔
ہوتو روزہ ٹوٹ جائے گا خواہ وہ دھواں عنبر عود یا ان کے ہم مثل کسی کا ہو حتی کہ جس نے دھونی سلگائی اور اپنے قریب کرکے اس کا دھواں سونگھا حالانکہ روزہ یاد تھا روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ اس صورت میں پیٹ اور دماغ کو روزہ توڑنے والی شے سے محفوظ رکھنا ممکن ہے یہ ان چیزوں میں سے ہیں جن سے اکثر لوگ غافل ہیں لہذا اس پر خصوصی توجہ دیجئے یہ وہم نہ کیا جائے کہ یہ تو پھول اور کستوری سونگھنے کی طرح ہی ہے کیونکہ خوشبو کی مہك اور جوہر دخان میں جوارادۃ جوف میں جائے بڑا واضح فرق ہے(ت)
اسی طرح۲۵ردالمحتار میں امداد الفتاح اور۲۶طحطاویہ میں غنیہ سے نقل فرماکر مقرر رکھا۔ ۲۷مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر میں ہے :
علی ھذالوادخل حلقہ فسد صومہ حتی ان من تبخر ببخور فاستشم دخانہ فادخلہ حلقہ ذاکرا لصومہ افطر لانھم فرقوا بین الدخول و الادخال فی مواضع عدیدۃ لان الادخال عملہ والتحرزممکن ویؤیدہ قول صاحب النھایۃ اذا دخل الذباب جوفہ لایفسد صومہ لم یوجد ماھو ضد الصوم وھوادخال الشئی من الخارج الی الباطن وھذا مما یغفل عنہ کثیرفلیتنبہ لہ ۔
اس بناء پر اگر کسی روزہ دارنے مذکورہ اشیاء میں سے کسی چیز کو اپنے حلق میں داخل کیا تو اس کاروزہ فاسد ہوجائیگا حتی کہ جس نے بخور کے ساتھ دھونی دی اور اس کا دھواں سونگھا اور روزہ یاد ہوتے ہوئے حلق میں داخل کیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ فقہاء نے متعدد جگہ پر دخول اور ادخال میں فرق کیا ہے کیونکہ ادخال صائم کا اپنا عمل ہے جس سے بچنا ممکن ہے اس کی تائید صاحب نہایہ کا یہ قول کرتا ہے کہ جب مکھی پیـٹ میں داخل ہوگئی تو روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ کوئی ایسی چیز نہیں پائی گئی جو روزہ کی ضد ہو اور وہ خارج سے کسی شے کا باطن میں داخل کرناہے اس سے بہت سے لوگ غافل ہیں لہذا اس پر توجہ چاہئے۔ (ت)
حوالہ / References مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب فی بیان مالایفسد الصوم نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۶۲-۳۶۱
مجمع الانہر ، باب موجب الفساد،داراحیاء التراث العربی بیروت ، ۱/۲۴۵
#9793 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
۲۸حاشیہ الکنز للعلامۃ السید ابی السعود الازہری پھرطحطاوی علی المراقی میں ہے :
واللفظ للاول قولہ اودخل حلقہ غبار والتقیید بالدخول للاحتراز عن الادخال ولھذا صرحوا بان الاحتواء علی المبخرۃ مفسد ۔
قولہ “ دخل حلقہ غبار “ دخول کی قید ادخال سے احتراز کے لئے اسی لئے فقہاء نے تصریح کی کہ بخوردان پر محتوی ہونا مفسد روزہ ہے۔ (ت)
بداہۃ واضح کی صورت مذکورہ سوال صورت دخول ہے نہ کہ شکل ادخال تو اس میں انتقاض صوم کا حکم محض بے سند و بے اصل خیال۔
اقول : وباﷲالتوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق تحقیق مقام وتنقیح مرام بتوفیق الملك العلام یہ ہے کہ حقیقت صوم امساك عن المفطرات الشرعیہ میں محصور اور تکالیف شرعیہ قدروسع پر مقصور اور انتفائے حقیقت کو انتقائے شئے قطعا لازم وضرور جس میں ضرورت و عدم ضرورت کا تفرقہ عقلا و نقلا باطل و مہجور مثلا حقیقت نکاح ایجاب وقبول ہے اگر چہ جانب ولی سے اب اگر کوئی شخص ایسی جگہ ہوجہاں نہ کوئی ولی نہ حاکم اسلام اور بوجہ شدت احتیاج زن حالت تابجنون حقیقی پہنچے کہ اہلیت تصرف سے خارج ہوجائے تو اس ضرورت شدیدہ کے لحاظ سے ہرگز روانہ ہوگا کہ کوئی عورت بمجرد ایجاب بے قبول اس کی زوجہ بن جائے یا حقیقت زکوۃ کہ تملیك فقیر الخ ہے اگرکہیں ایساہو کہ مصرف کوئی نہ ملے جیسا کہ زمان برکت نشان سیدنا مسیح کلمۃ اﷲصلوۃ اﷲتعالی وسلامہ علیہ میں ہونے والا ہے تو یہ ممکن نہیں کہ براہ ضرورت زکوۃ اپنی حقیقت سے منسلخ ہوکر کسی غنی کو دینا زکوۃ قرار پائے ارکان ساقطہ بضرورت حقیقت ارکان سعت ہوتے ہیں نہ ارکان اصل حقیقت ورنہ تحقق شئے بے حقیقت شئی محال عقلی ہے تو منافیات سنخ ذات میں ضرورت و بے ضرورت سے تفرقہ نہیں کرسکتے اب ہم ان اشیاء کو جو خارج سے جوف صائم میں داخل ہوں نظر کریں تو انحائے مختلفہ کو پاتے ہیں ان میں بعض وہ ہیں جن سے کسی وقت صائم کو احتراز ممکن نہیں جیسے ہوا بعض وہ جن سے احیاناتلبس ہر شخص کو ضرور اور ان سے تحرز کلی نا مقدور جیسے دخول غبار ودخان کہ کسی نہ کسی طرح انسان کو ان سے قرب کی حاجت ضروری ہے اور وہ اپنی حد ذات میں ممکن الاحترازنہیں آدمی کو کلام سے چارہ نہیں اور کلام نہ بھی کرے تو بے تنفس کیونکر گزرے اور ہو اکہ ان کی حامل ہوتی ہے اورتمام
حوالہ / References فتح المعین حاشیہ علی شرح ملامسکین باب مایفسد الصوم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ / ۴۳۱ ، طحطاوی علٰی مراقی الفلاح باب فی بیان مالا یفسد الصوم نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۶۲
#9794 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
فضامیں بھری اور متحرك رہتی جابجالیے پھرتی ہے آدمی منہ بند بھی رکھے تو یہ ناك کی راہ سے داخل ہوسکتے ہیں اور بعض وہ جن سے ہمیشہ تحر ز کرسکتا ہے اگر چہ نادرا بعض اشخاص کو بعض حالات ایسے پیش آئیں کہ تلبس پر مجبور کریں جیسے طعام و شراب اور انہیں دخان وغبار کا بالقصد ادخال کہ یہ تو اپنا فعل ہے انسان اس میں مجبور محض نہیں شرع مطہر نے کہ حکیم ورحیم ہے جس طرح قسم اول کو مفطرات سے خارج فرمایا کہ اگر اسے ملحوظ رکھیں تو صوم ممتنع اور تکلیف روزہ تکلیف بالمحال ٹہہرے اسی قسم ثا نی کو مطلقا شمار مفطرات میں نہ رکھا اگر مفطر مانیں تو دو حال سے خالی نہیں یا تو حکم فطر ہمیشہ ثابت رکھیں تو وہی تکلیف مالایطاق ہوتی ہے یا وقت ضرورت باوصف حصول مفطر روزہ باقی جانیں تو بقائے شے مع انتفائے حقیقت یا اجتماع ذات ومنافی ذات لازم آئے اور یہ باطل ہے ہم ابھی کہہ آئے ہیں کہ دربارہ حقائق ضرورت کارگر نہیں ہوتی ولہذا شرع مطہر سے ہرگز معہود نہیں کہ کسی شے کو بخصوصہ مفطر قراردے کر بعض جگہ بنظر ضرورت حکم افطار ساقط فرمایا مثلا کتب فقہیہ پر نظر ڈالے
اولا : بیمار قریب مرگ ہو گیا مجبورا دواپی ضرورت کیسی شدید تھی جس نے روزہ توڑنا جائز کردیا مگر روزہ ٹوٹنے کا حکم مرتفع نہ ہوا۔
ثانیا : تلوار سرپر لئے کھڑا ہے کہ نہیں کھاتا تو قتل کردے گا کیسی سخت ضرورت ہے حکم ہوگا کھالے مگر یہ نہ ہوگا کہ روزہ نہ جائے۔
ثالثا : مخمصہ والے مضطر کی ضرورت سے زیادہ کس کی ضرورت ہے جس کے لئے مردار سے مردار حرام سے حرام میں اثم زائل اور بقدر حفظ رمق تناول فرض ہوا مگر یہ نہیں کہ یہ حالت بصورت صوم واقع ہوتو ضرورت کے لحاظ سے روزہ نہ ٹوٹے۔
رابعا : سوتا مرابرابر ہوتا ہے النوم اخوالموت (نیند موت کی بہن ہے۔ ت) سوتے کے پاس بچنے کا کیا حیلہ احتراز کا کیا چارہ مگر یہ ناممکن الاحترازی بقائے صوم کا حکم نہ لائی سوتے میں حلق میں کچھ چلاجائے تو روزے پر وہی فساد کاحکم آئے گا غرض خادم فقہ کے نزدیك بدیہیات سے ہے کہ شرع مطہر کبھی کسی چیز کو مفطر مان کر ضرورت وعدم ضرورت کا فرق نہیں فرماتی لحاظ ضرورت صرف اس قدر ہوتا ہے کہ افطار جائز بلکہ کبھی فرض ہوجائے مگر مفطر مفطر نہ رہے یہ ناممکن تو ثابت ہوا کہ اس اصل اجماعی عقل و نقل وقاعدہ شرعیہ آیہ لا یكلف الله نفسا الا وسعها- (اﷲتعالی کسی نفس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر کلف نہیں ٹھہراتا۔ ت) نے واجب کیا کہ قسم ثانی بھی راسا عداد مفطرات سے مہجور اور مفطر شرعی صرف قسم ثالث میں محصور ہو۔ بحمد ﷲتعالی اس تقریر منیر سے روشن ہوا کہ مفطر نہ ہونے کے لئے جس طرح قسم سوم کی ضرورت نادرہ
حوالہ / References القرآن۲ /۲۸۶
#9795 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
کہ اتفاقا بعض صائمین کو بعض احوال میں لاحق ہو جیسے مفطر و مکروہ ونائم و مریض کی مجبوری کافی نہیں ہوسکتی یونہی قسم اول کی ضرورت دائمہ لازمہ غیر منفطر بھی درکار نہیں بلکہ صرف قسم دوم کی ضرورت عامہ فعلیہ بس ہے اور جب اس کی بناء پر وہ شے شمار مفطر سے خارج رہی تواب تفصیل و تفریق اوقات و حالات ضرورت نہیں کرسکتے ورنہ وہی استحالہ لازم آئے گا جسے ہم ابھی عقلا ونقلا باطل کرچکے بس دخول دخان و غبار بے قصد و اختیار کبھی کہیں پایا جائے اصلا مفسد صوم نہیں ہوسکتا نہ اس کہنے کی گنجائش کہ فلاں جگہ اتفاق دخول وہاں جانے سے ہوانہ جاتا نہ ہوتا اور جانا قصدا تھا تو ممکن الاحتراز ہوا۔ امام ۲۹کردری وجیزمیں فرماتے ہیں :
اذا بقی بعد المضمضۃ ماء فابتلعہ بالبزاق ثم لم یفطر لتعذر الاحتراز ۔
اگر کلی کے بعد منہ میں کچھ پانی باقی رہ جائے اور روزہ دار اسے تھوك کے ساتھ نگل جائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ اس سے بچنا ممکن نہیں (ت)
فتح سے اسی مسئلہ میں گزرا :
صارکبلل یبقی فی فیہ بعد المضمضۃ
یہ اس تری کی طرح ہے جوکلی کے بعد منہ میں باقی رہ جاتی ہے۔ (ت)
شرنبلالیہ میں امام زیلعی سے ہے :
اذادخل حلقہ غبار او ذباب وھو ذاکر لصومہ لا یفطر لانہ لا یقدرعلی الامتناع عنہ فصار کبلل یبقی فی فیہ بعد المضمضۃ ۔
جب روزہ دار کے حلق میں غبار یا مکھی داخل ہوجائے اگر چہ اسے روزہ یاد ہو تو روزہ فاسد نہ ہوگا کیونکہ اس سے بچنے پرقادرنہیں یہ اس تری کی طرح ہے جو کلی کے بعد اس کے منہ میں باقی رہتی ہے(ت)
شرح الملتقی للعلامہ عبدالرحمن الرومی میں ہے :
انہ لایقدر علی الامتناع عنہ فانہ اذا اطبق الفم لایستطاع الاحتراز عن الدخول من الانف فصار کبلل یبقی فی
روزہ دار اسے روکنے پر قادر نہیں کیونکہ اگر منہ بند بھی رکھے پھر بھی ناك کے ذریعے غبار کے دخول سے احتراز کی طاقت نہیں رکھتا تو یہ یونہی جیسے کہ وہ
حوالہ / References بزازیہ بر حاشیہ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصوم نورانی کتب خانہ پشاور ۴/۱۰۰
فتح القدیر باب مایوجب القضاۃ نوریہ رضویہ سکھر ۲/۲۵۸
غنیۃ ذوی الاحکام حاشیۃ دررالحکام باب موجب الافساد مطبعہ احمد کامل الکائنۃ دارسعادت ۱/۲۰۲
#9796 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
فیہ بعد المضمضۃ ۔
تری جوکلی کے بعد منہ میں باقی رہ جاتی ہے(ت)
دیکھو کلی کے بعد جو تری منہ میں باقی رہتی ہے اسے بھی شرع نے اسی تعذر تحرز کی بنا پر مفطر نہ ٹھہرایا اب وہاں یہ لحاظ ہرگز نہیں کہ یہ کلی خود بھی ممکن الاحتراز تھی یا نہیں اگر محض بے ضرورت کلی کی جب بھی وہ تری ناقض صوم نہ ہوگی حالانکہ ضرور کہہ سکتے تھے کہ یہ اس کا دخول اس کلی کرنے سے ہوا نہ کرتا نہ ہوتا اور کلی بے ضرورت تھی تو ممکن الاحتراز ہوا۔ ۳۱بزازیہ میں ہے :
یکرہ ادخال الماء فی الفم بلاضرورۃ وفی ظاہر الروایۃ لاباس لان المقصود التطہیر فکان کالمضمضۃ ۔ بلا ضرورت پانی کا منہ میں داخل کرنا مکروہ ہے اور ظاہر روایت کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ مقصود تطہیر ہے لہذا یہ کلی کی طرح ہے(ت)
حدیہ کہ بے ضرورت کلی کرنی ظاہرالروایۃ میں مکروہ بھی نہیں حالانکہ عنقریب آتا ہے کہ بے ضرورت نمك دیکھنے کے لئے شوربا چکھنا مکروہ وناجائز ہے تو وجہ وہی کہ شرع مطہر اسے شمار مفطرات سے خارج فرماچکی تو اب ضرورت و عدم ضرورت پر نظر نہ ہوگی نہ اس میں کسی مفطر کا احتمال پیدا ہوگا کہ کراہت آئے۔
ثم اقول : وباﷲالتوفیق اس پر تو عرش تحقیق مستقر ہوا کہ دخول بلا صنعہ کیف ما کان(بلا قصد دخول جیسے بھی ہو۔ ت)اصلا صالح افطار نہیں ولہذا علمائے کرام نے مدار فرق صرف دخول و ادخال پر رکھا دخول کا کوئی فرد مفطر میں داخل نہ کیا کما سمعت من نصوصھم(جیسا کہ ان کی تصریحات آپ سن چکے۔ ت) مگر یہاں ایك نکتہ دقیقہ اور ہےسبب شئی مفضی الی الشئی(شئی کا سبب شئی تك پہنچانے والا ہوتا ہے۔ ت) دو۲ قسم ہے : ایك مفضی کلیۃ یا غالبا جس کے بعد وقوع مسبب عادت متیقن یا مظنون بظن غالب ہوکہ فقہیات میں وہ بھی ملتحق بالیقین۔
دوسرا مفضی نادرا جس کے بعد مسبب کبھی واقع ہوجائے قسم اول کے قصد کو قصد مسبب کہنا مستبعدنہیں کہ جب صاحب قصد کو معلوم کہ اس کے بعد مسبب ضرور یا اکثر واقع ہی ہوتا ہے اور اس نے سبب کا ارتکاب بالقصد کیا تو گویا وقوع سبب کا التزام کرچکا بایں معنی خیال کرسکتے ہیں کہ ایسا دخول داخل شق ادخال ہوگا مگر قسم دوم ہرگز اس قابل نہیں پرظاہر کہ یہ سبب سبب کافی نہ ہوگا۔ اوراس کے بعد وقوع مسبب
حوالہ / References مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر باب موجب الفساد داراحیاء التراث العربی بیروت ،۱/۲۴۵
بزازیہ بر حاشیہ فتاوٰی ہندیۃ کتا ب الصوم نورانی کتب خانہ پشاور ۴/۱۰۵
#9797 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
حالت شك و احتمال ہی میں آئے گا اس کے قصد کو مجازا بھی قصد نہیں کہہ سکتے وھذا لایذھب عن عقل عاقل نبیہ فضلا عن فاضل فقیہ(یہ تو کسی عقل عاقل سے مخفی نہیں چہ جائیکہ کسی فاضل فقیہ کے علم سے مخفی ہو۔ ت)
حجت ساطعہ لیجئے کان میں بالقصد پانی کا ادخال اصح الاقوال پر مفسد صوم ہے مگر یہی ائمہ کرام جو بحالت قصدادخال افساد وابطال کی تصحیح فرماتے ہیں نہانے یادریا کے اندر جانے میں اگر پانی کان میں چلا جائے تو روزہ نہ جانے کی تصریح فرماتے ہیں ائمہ نے اصلا اس کا اعتبار نہ فرمایا کہ اس دخول آب کا سبب نہانا یا غوطہ لگانا ہوا اور یہ افعال اس نے بالقصد کئے تو گویا بالقصد پانی کان میں پہنچایا وجہ وہی ہے کہ یہ افعال غالبا دخول آب کے موجب نہیں ہوتے اگر چہ کبھی واقع ہوتا بھی ہے تو ان کا قصد اس کا قصد نہیں ہوسکتا۔ خانیہ میں ہے :
لوخاض الماء فدخل الماء فی اذنہ لایفسد صومہ وان صب الماء فی اذنہ اختلفوا فیہ والصحیح ھو الفساد لانہ وصل الی الجوف بفعلہ فلا یعتبر فیہ صلاح البدن ۔
اگر پانی میں غوطہ لگا یا اور پانی کانوں میں داخل ہوگیا توروزہ فاسد نہ ہوگا اور اگر کان میں پانی خود ڈالا اس بارے میں اختلاف ہے مذہب صحیح یہی ہے کہ روزہ فاسد ہوجائے گا کیونکہ اس صورت میں پانی پیٹ تك اس کے عمل سے پہنچا ہے لہذا اس میں اصلاح بدن کا اعتبار نہیں ہوگا۔ (ت)
فتاوی امام بزازی میں ہے :
خاض الماء فدخل اذنہ لایفسد بخلاف دخول الدھن وان صب الماء فی اذنہ افسدہ فی الصحیح لوجود الفعل لایعتبر فیہ صلاح البدن ۔
روزہ دار پانی میں غوطہ زن ہوا اس کے کان میں پانی داخل ہوگیا تو روزہ فاسد نہ ہوگا بخلاف تیل کے دخول کے اور اگر پانی کان میں ڈالاتو یہ صحیح قول کے مطابق روزہ کو فاسد کردے گا کیونکہ یہ اس کے اپنے عمل سے ہوا ہے پس اس صورت میں اصلاح بدن کا ا عتبار نہیں کیا جائے گا۔ (ت)
۳۴جواہر الاخلاطی میں ہے :
لو اغتسل اوخاض فی الماء فدخل الماء اذنہ لا یفسد صومہ بلاخلاف ولو ادخل الماء فی اذنہ ففیہ الاختلاف
اگر غسل کیا یا پانی میں غوطہ زن ہوا تو پانی کان میں داخل ہوگیا بالاتفاق روزہ فاسد نہ ہوگا اور اگر پانی کان میں داخل کیا تو اس میں اختلاف ہے
حوالہ / References فتاوٰی قاضیخان الفصل الخامس فیما لایفسد الصوم منشی نولکشور لکھنؤ ۱ /۹۹
بزازیہ بر حاشیہ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصوم نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۸
#9798 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
والاصح ھو الفساد دلوصولہ الی الراس و وصول مالافیہ صلاح البدن غیرمعتبر کمالوادخل خشبۃ فی دبرہ وغیبھا ۔
اگر غسل کیا یا پانی میں غوطہ زن ہوا تو پانی کان میں داخل ہوگیا بالاتفاق روزہ فاسد نہ ہوگا اور اگر پانی کان میں داخل کیا تو اس میں اختلاف ہے اصح قول یہ ہے کہ روزہ فاسد ہوجائے گا کیونکہ یہ دماغ تك پہنچ جاتا ہے اور دماغ تك ایسی چیز کا پہنچنا جس میں اصلاح بدن نہ ہو غیر معتبر ہے جیسا کہ اگر کسی نے اپنی دبر میں لکڑی داخل کی اور وہ غائب ہوگئی(ت)
فتح القدیر میں ہے :
الفساد اذاأدخل الماء أذنہ لااذا دخل بغیرصنعہ کما اذا خاض نھرا ۔
روزے کا فساد تب ہوگا جب خود اپنے کان میں پانی داخل کرے اپنے عمل کے بغیر پانی داخل ہونے سے فاسد نہ ہوگا جیسا کہ نہر میں غوطہ زن ہوا۔ (ت)
دیکھو کیسی صریح تصریحیں ہیں کہ ایسے سبب کا قصد قصد مسبب نہیں یہاں تك کہ اس صورت میں باوصف فعل سبب وقوع مسبب کو بغیر صنعہ(اپنے عمل کے بغیر۔ ت) فرماتے ہیں۔ اب ہم اپنے مسئلہ دائرہ کو دیکھیں تو کسی مکان میں جہاں بخور سلگتا ہو موضع بخور سے جدا دور جاکھڑا ہونا کہ دھواں لینے کا قصد درکنار دھوئیں کے پاس تك نہ ہو ہر گزکسی عاقل کے نزدیك دخول دخان کا سبب غالب نہیں ہوسکتا ورنہ واجب تھا کہ رمضان المبارك میں دن کو آگ روشن ہونا شام کے لئےکچھ کھانا پکناحرام و باعث افطار صیام ہوتااس میں تو شاید خود یہ معترضین بھی شامل ہوں اور امکان احترازہی کی ہوس ہواگر چہ عندالتحقیق مفطرات میں اس کو دخل نہیں کما بیناہ بابین وجہ لا یحوم حوم حماہ شبھۃ (ہم نے اسے ایسی واضح وجہ کے ساتھ بیان کیا جسے شبہ کا کوئی جالا ڈھانپ نہیں سکتا۔ ت) تو وہ بداہۃ حاصل کیا ممکن نہ تھا کہ جو کچھ پکانا ہو سحری تك پکارکھیں یا شام کے وقت بازاری اشیاء پر قناعت کریں خصوصا اہل عرب کہ ویسے بھی کھجوروں پر قناعت کے عادی تھے ہاں سحر کا پکا سرد ہو جاتا یا بازاری اشیا میں مزہ نہ آتا یہ عدم امکان تحرز نہ ہوا زبان کا مزہ ٹھہرا کیا اس کے لئے روز روزے رکھ کر باطل کر دینا حلال ہوجاتا جس گھر میں دھواں ہو وہاں موجودہونا درکنار نصوص علماء شاہد عدل کہ خود کھانا پکانا صبح سے شام تك روٹی لگانا بھی دخول دخان کا سبب غالب نہیں
اولا : ۳۵قنیہ و ۳۶تاتارخانیہ و۳۷بحرالرائق و درمختارو ردالمحتار وغیرہا میں ہے :
حوالہ / References جواہر الاخلاطی کتاب الصوم قلمی نسخہ ص۴۷
فتح القدیر باب مایوجب القضاء نوریہ رضویہ سکھر ۲/۲۶۷
#9799 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
والنظم للدر لا یجوزان یعمل عملا یصل بہ الی الضعف فیخبز نصف النھار ویستریح الباقی فان قال لا یکفینی کذب باقصر ایام الشتاء ۔
درکے الفاظ میں کوئی ایسا عمل جائز نہیں جو کمزور کردے تو نانبائی مثلایوں کرے کہ نصف دن روٹی پکائے اور باقی دن آرام کرے پس اگر وہ شخص کہے کہ اس قدر عمل مجھے کفایت نہیں کرتا تو اس کی تکذیب کی جائے سردیوں کے سب سے چھوٹے دن ہیں (ت)
دیکھو نان پزکو فرماتے ہیں اگر گرمی کے دنوں میں سارے دن روٹی لگانے سے وہ ضعف پیدا ہوکہ ادائے صیام میں خلل انداز ہوتوآدھے دن پکائے کہ چھوٹے دنوں میں دن بھر پکاتا تھا نمازوں وغیرہ کے وقت نکال کر گرمیوں کا نصف دن اسی کے قریب قریب ہوجائے گا یہ نہیں فرماتے کہ ضعف توجب آئے گا آئے گا اور چوتھائی دن درکنار روٹی پکانے سے دھواں جو حلق و دماغ میں جاکر روزہ ہی کھودے گا۔ ثانیا : ۳۸سراجیہ وغیرہا میں ہے :
امۃ افطرت فی رمضان متعمدۃ لضعف اصابھا من عمال السید من طبخ او غیرہ کان واسعا وقضیۃ للمملوك ان یمتنع عما یعجزہ عن اداء الفرائض ۔
وہ لونڈی جس نے اپنے مالك کی خدمت مثلاکھانا پکانا وغیرہ پیداہونے والے ضعف کے پیش نظر مجبورا روزہ توڑدیا تو جائز ہے اور غلام کو یہ حکم ہے کہ وہ ایسے کاموں سے رك جائے جوادائے فرائض سے عاجز کردینے والے ہوں(ت)
یہ فرمایا کہ کنیز کو پکانے کی محنت سے ضعف ایسا لاحق ہوا کہ مجبورا روزہ توڑنا پڑا جائز ہے اور قضا رکھے یہ کیوں نہیں فرماتے کہ سرے سے پکانا ہی سبب افطار ہے اور کنیز کو جائز نہیں کہ اس میں مولی کی اطاعت کرے۔ ۳۹ظہیریہ و۴۰ولوالجیہ و بحرالرائق وغیرہا میں ہے :
للامۃ ان تمتنع من امتثال امرالمولی اذا کان ذلك یعجزھا عن اقامۃ الفرائض لانھا مبقاۃ علی اصل الحریۃ فی حق الفرائض ۔
لونڈی کے لئے مولی کے ایسے احکام سے رك جانا ہے جس سے وہ ادائے فرض سے عا جز آجائے گی کیونکہ ادائے فرض کے اعتبار سے وہ اصلا آزاد ہے ۔ (ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی۱/۱۵۲
فتاوٰی سراجیہ کتاب الصوم منشی نولکشور لکھنؤ ص۲۹
بحرالرائق فصل فی العوارض ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۲/۸۲-۲۸۱
#9801 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
ثالثا : نورالایضاح و مراقی الفلاح میں ہے :
کرہ للصائم ذوق شئی لمافیہ من تعرض الصوم للفسادوکرہ مضغہ بلا عذر کالمراۃ اذاوجدت من یمضغ الطعام لصبیھا کمفطرۃ لحیض امااذا لم تجدبدامنہ فلا باس بمضغھا لصیانۃ الولد وللمرأۃ ذوق الطعام اذاکان زوجھا سئی الخلق لتعلم ملوحتہ وان کان حسن الخلق فلایحل لہا و کذا لامۃ قلت کذاالاجیر ۔
روزہ دار کے لئے کسی شئے کا چکھنا مکروہ ہے کیونکہ یہ روزہ کو فاسد کرنے کے درپے ہونا ہے۔ اسی طرح طعام کا چبانا بھی بلا عذر مکروہ ہے جیسے خاتون بچے کے لئے کسی دوسرے کو چبانے والاپالے(مثلا حائضہ عورت کو پائے تو چبانا مکروہ ہے) عورت کو اگر چبانے کے سوا چارہ نہ ہو تو بچے کی حفاظت کے لئے ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں اور خاتون کے لئےطعام کاچکھنا بھی جائز ہے جبکہ خاوند بد خلق ہو تا کہ وہ نمك وغیرہ چکھ سکے اور شوہر حسن اخلاق والا ہے تو پھر چکھنا جائز نہیں۔ اور لونڈی کا حکم اسی طرح ہے۔ میں کہتا ہوں اجیر بھی اسی حکم میں ہے(ت)
حاشیہ طحطاوی میں ہے :
قولہ کذالاجیرای للطبخ ۔
قولہ “ کذاالاجیر “ یعنی کھانے پکانے کا مزدور۔ (ت)
کنزو بحرو نہر و ہندیہ وغیرہا میں ہے :
واللفظ للاولین کرہ ذوق شئی و مضغہ بلا عذر لما فیہ من تعریض الصوم للفسادولایفسد صومہ لعدم الفطر صورۃ ومعنی قید بقولہ بلا عذر لان الذوق بعذر لا یکرہ کما قال فی الخانیۃ فیمن کان زوجھا سئی الخلق او سیدھا لا باس بان تذوق بلسا نھاوالمضغ بعذربان لم تجدالمرأۃ من یمضغ لصبیھا الطعام من حائض او نفساء اوغیرھما
پہلی دونوں کتب کی عبارت یہ ہے بلا عذر شئی کا چکھنا اور چبانا مکروہ ہے کیونکہ یہ فساد صوم کے درپے ہونا ہے اس سے روزہ فاسد نہ ہوگا کیونکہ صورۃو معنی افطار نہیں پایا گیا “ بلا عذر “ کی قید اس لئے لگا ئی کہ عذر کی صورت میں چکھنا مکروہ نہیں جیسا کہ خانیہ میں اس عورت و لونڈی کے بارے میں ہے جس کاخاوند یا مولی بد خلق ہو اگر ایسا عذر ہو تو زبان کے ساتھ چکھنے میں حرج نہیں اور چبانے میں عذر یہ ہے مثلاکوئی خاتون نہیں جو بچے کے لئے
حوالہ / References مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فیما یکرہ للصائم نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۷۱
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فیما یکرہ للصائم نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۷۱
#9802 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
من لایصوم ولم تجد طبیخا ولا لبنا حلیبا لاباس بہ للضرورۃ الاتری انہ یجوز لھاالافطار اذا خافت علی الولد فالمضغ اولی ۔ (ملخصا)
طعام چبادے مثلاحائضہ یا نفاس والی کوئی عورت یا جو روزہ دار نہ ہوں اور نہ روٹی پکی ہوئی اور نہ دودھ میسر ہوتو اب ضرورت کے پیش نظر کوئی حرج نہیں کیا آپ نہیں جانتے کہ جب کسی خاتون کو بچے کے ضائع ہونے کا خوف ہوتو روزہ چھوڑ سکتی ہے تو چبانا تو بطریق اولی جائز ہوگا ۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
الذوق لیس بافطار بل یحتمل ان یصیر ایاہ اذقد یسبق شئی منہ الی الخلق فان من حام حول الحمی یوشك ان یقع فیہ انتھت
مختصرات۔ چکھنا افطار نہیں بلکہ اس میں یہ احتمال ہوتا ہے کہ کہیں کوئی شئے حلق میں چلی جائے( یعنی افطار کا سبب ہے) کیونکہ جو محفوظ جگہ کے قریب جاتا ہے قریب ہے کہ اس میں داخل ہو جائے۔ گزشتہ عبارتیں اختصار کے ساتھ ختم ہوگئیں۔ (ت)
دیکھو کنیز مولی یا عورت شوہر کے لئے یانان پزمزدوری پر روزے میں کھانا پکائے تو اسے نمك چکھنا جائز نہیں بتاتے جبکہ مولی و شوہر و مستاجر خوش خلق و حلیم ہوں کہ نمك کی کمی بیشی پر سختی نہ کریں گے اور کج خلق و بدمزاج ہوں تو روارکھتے ہیں اور بچے کوکوئی چیز چباکردینے میں شرط لگاتے ہیں کہ جب کوئی حیض یا نفاس والی عورت خواہ کوئی بے روزہ دارایسا نہ ملے جو چباسکے نہ بچہ کو دودھ وغیرہ اشیاء جن میں چبانے کی حاجت نہ ہو دے سکے اور ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہی کہ چکھنے چبانے سے روزہ جاتا نہیں بلکہ احتمال ہے کہ شاید حلق میں چلا جائے لہذا بے ضرورت نا جائز ہوا مگر یہ نہیں فرماتے کہ سرے سے پکانا ہی حلال نہیں۔ ابھی گزر چکا کہ غلام و کنیز ایسے احکام میں اطاعت مولی نہ کریں پھر زن واجیر تودوسرے درجے میں ہیں اور پر ظاہر کہ نمك ہرگز حلق میں چلے جانے کا سبب کلی یا اغلبی کیسا سبب مساوی بھی نہیں ہاں احتمال قریب ہے۔ ولہذا محقق علی الاطلاق نے بلفظ احتمال ہی تعبیر فرمایا اب پکانے کی ان اجازتوں کا منشا دو۲ حال سے خالی نہیں یا توا مروہی ہے کہ دخول دخان جبکہ شرعا دائرہ مفطرات سے خارج ہوچکا مدار کا ر حقیقۃ قصدادخال پر رہا بغیر اس کے جب افطار ہی نہیں تو اس کے قرب و تعریض میں کراہت کیوں ہو یا اگر قصد سبب اغلب قصد مسبب ٹھہراؤ تو واجب
حوالہ / References بحرالرائق باب مایفسد الصوم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۲/۸۰-۲۷۹
فتح القدیر باب ما یوجب القضاء والکفارۃ نوریہ رضویہ سکھر ۲/۲۶۸
#9803 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
کہ دخول دخان کے لئے طبخ وغیرہ کی سببیت اس سے بھی اضعف و نادر تر ہو جو دخول شوربا کے لئے ذوق کی اور فی الواقع تجربہ بھی اس کی ندرت کا گواہ دھوان جب حلق میں جاتا ہے اس کی تلخی محسوس ہوتی اور طبیعت کی دافعہ فورا دفع کرتی ہے اور جب دماغ میں جاتا اس کی سوزش معلوم ہوتی اور دماغ کو اذیت دیتی ہے یہ حالت کھانا پکانے والوں کو شاذ ونادر واقع ہوتی ہے نہ کہ ہر وقت یا ہر روز تو دھوئیں سے دور جدا کھڑا ہونا اور بھی زیادہ سبب شاذتر ہوگا اسکے قصد کو قصد مسبب کہنا کیونکر ممکن لاجرم یہاں اگر ہوگا تووہی محض دخول جسے تمام کتب میں تصریحا فرمایا کہ ہرگز مفسد صوم نہیں بالجملہ اصو ل وفروع شرعیہ پر نظر ظاہر اسی طرف منجرکہ اسباب علی الاطلاق ساقط النظر ولہذا جس طرح رمضان مبارك میں۱ نہانا ۲دریا میں جانا حرام نہ ہوا حالانکہ اس کے سبب کان میں پانی بھی چلاجاتا ہے۔ ۳دن کو کھانا پکانا اور۴کاموں کے لیے آگ جلا نا حرام نہ ہوا۔ مسلمان۵نانبائیوں ۶حلوائیوں ۷لوہاروں ۸سناروںوغیرہم کی دکانیں قطعا معطل کردینا واجب نہ ہو حالانکہ ان میں دھوئیں سے ملاسبت ہے۔ ۹جراروں ۱۰قصابوں ۱۱شکرسازوں حلوائیوں کا بازار ہڑتال کردینا لازم نہ ہوا کہ کثرت مگس کا موجب ہے۔ دن کو ۱۲چکی پیسنا ۱۳غلہ پھٹکنا ۱۴باہرنکلنا گلیوں میں چلنا حرام نہ ہوا۔ حالانکہ وہ غالبا غبار سے خالی نہیں ہوتیں۔ یونہی۱۵ کو مساجد بلکہ گھروں میں بھی جھاڑوں دینا خصوصا صدر اول میں فرش کچے ہوتے تھے۔ ۱۶عطاروں کا دوائیں کوٹنا ۱۷مزارعوں کا غلہ ہوا پر اڑا کر صاف کرنا۔ ۱۸ معما روں کا مٹی کی دیوار گرانا۔ ۱۹مسافروں کا خوب چلتی ہوئی ریگستان میں سفر کرنا۔ ۲۰فوج صائمین کا گھوڑوں پر سوار نرم زمینوں سے گزرنا کہ غالبا دخول غبار کے اسباب ہیں ان کی حرمت بھی کہیں مذکورنہیں بلکہ فوجی مجاہدوں کا روزہ احادیث سے ثابت اور بے ضرورت کلی کا جواز تو صراحتا منصوص بہر حال اس قدر تو قطعی یقینی اسباب غیر غالبہ کلیۃ نا ملحوظ لہذا علمائے کرام نے بخور کے سبب فساد صوم ہونے کی یہی تصویر فرمائی کہ اگر دان پر محتوی ہوجائے یعنی ایسا جھك جائے کہ گویا وہ اس کے جسم کے اندر اور اس کا بدن اس پر مشتمل ہے اور شرنبلالیہ و امداد ومراقی و طحطاوی و شامی ومجمع الانہر میں تو اس پر بھی قناعت نہ فرمائی کہ فآ واہ الی نفسہ بخوردان کو اپنے بدن کے متصل کرلیا بلکہ صراحتا اس پر زیادت کی واشتم دخانہ قریب کرکے اس کا دھواں اوپر کوسونگھا یہ خاص قصد ادخال اور اس کا مفطر ہونا بے مقال اور صورت سوال پر حکم افطار باطل خیال ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ سبحانہ ولی التوفیق والحمد اﷲ رب العالمین
حوالہ / References مراقی الفلاح مع حاشیہ طحطاوی باب فی بیان مالایفسد الصو،نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ،ص۳۶۱
غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ دررالحکام باب موجب الافساد مطبعہ کامل الکائنہ دارسعادت مصر ۱ /۲۰۲
#9808 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
(تحقیقی کا حق یہی تھا اﷲ سبحانہ ہی توفیق کا مالك ہے والحمد ﷲرب العالمین ۔ ت) اور اس پر ایجاب کفارہ تو صریح بہتان۔ کفارہ کے لئے جنایت کاملہ چاہئے اور بے قصدوبے ارادہ کون سی جنایت کاملہ ہوسکتی ہے اگر بفرض غلط اس صورت میں روزہ جانا بھی ٹھہرالیتے تو کیا شرع سے کوئی اس کی نظیر بتا سکتا ہے کہ بلا قصد جو افطار واقع ہو اس میں حکم کفارہ دیا گیا ہو بھلا یہ توبلاارادہ حلق یا دماغ میں دھواں جاتا ہے بلاتعمد جماع بھی تو موجب کفارہ نہیں جو اکبر واشنع مفطرات ہے۔ تنویرالابصار میں ہے :
ان جامع فی رمضان اداء اوکل اوشرب عمدا قضی وکفر ۔
اگر ادائے رمضان عمدا جماع کیا یا کھاپی لیا تو قضاء و کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔ (ت)
درمختار میں ہے : عمد اراجع للکل (قصدا کی قید ہر ایك سے متعلق ہے۔ ت) ردالمحتار میں ہے :
المراد تعمد الافطار والناس وان تعمد استعمال المفطر لم یتعمد الافطار ۔
یہاں ارادۃ افطار مراد ہے بھول جانے والا اگر چہ کھانے پینے کا قصد توکرتا ہے مگر اس کا افطار کا ارادہ نہیں ہوتا۔ (ت)
یہ مسئلہ بدیہیات فقہیہ سے ہے حاجت ایضاح سے غنی۔
قلت : وانما اطنبناالکلام فی ھذاالمقام حرصا علی احکام الاحکام وادغام الاوھام احتراسا ان لایعثر عاثر حین یعثر علی بحث للعلامۃ الشرنبلالی فی ھذاالمرام حیث قال رحمہ اﷲ تعالی فی غنیۃ ذوی الاحکام قولہ اودخل حلقہ غباراواثرطعم الادویۃ فیہ لانہ لایمکن الاحتراز منھا اھ لدخولہ من الانف اذااطبق الفم کما فی الفتح قلت فھذا یفید
قلت : ہم نے اس مقام پر اتنی طویل گفتگو اس لئے کی ہے کہ احکام میں استحکام اور اوہام کا ازالہ ہو اور اگر آپ علامہ شرنبلالیہ کی بحث پر مطلع ہوں تو وہاں ہرکسی کے اعتراض سے محفوظ ہوجائیں انہوں ( رحمۃ اللہ تعالی علیہ ) نے غنیہ ذوی الاحکام میں فرمایا قولہ یا روزہ دارکے حلق میں غبار یا ادویات کا ذائقہ داخل ہوجائے کیونکہ اس سے احتراز ممکن نہیں اھ کیونکہ اگر منہ بند بھی ہو تو ناك کے ذریعے دخول ہوجائیگا جیسا کہ فتح القدیر میں ہے قلت یہ عبارت بتار ہی ہے
حوالہ / References تنویر الابصار متن درمختار باب ما یفسد الصوم ومالایفسدہ مجتبائی دہلی۱/۱۵۱
درمختار باب ما یفسدالصوم ومالایفسدہ مجتبائی دہلی۱/۱۵۱
ردالمحتار باب مایفسد الصوم مصطفی البابی مصر ۲/۱۱۸)
#9810 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
انہ اذاوجدبدامن تعاطی مایدخل غبارہ فی حلقہ افسد لوفعل اھ وقال السید الطحطاوی فی حاشیۃ علی المراقی وعلی الدرواللفظ للاولی قولہ اودخل حلقہ غبارالخ بہ عرف حکم من صناعتہ الغربلۃ اوالاشیاء التی یلزمھا الغبار وھو عدم الصوم وفی سکب الانھرعن المؤلف ولووجدبدامن تعاطی مایدخل الخ ویدل علیہ التعلیل بعدم امکان التحرز اھوقال السید الشامی فی ردالمحتار قولہ لعدم امکان التحرز عنہ ھذایفید انہ اذاوجدبدامن تعاطی الخ شرنبلالیہ اھ ملخصا فیظن ان مانحن فیہ من باب تعاطی سبب ممکن التحرز عنہ وحقیقۃ الامر ان العلامۃ الباحث رحمہ اﷲتعالی لاینکر ان مدارالاحکام ھھنا علی التفرقۃبین الدخول والادخال فحسب اما سمعت الی مامرمن قولہ فی متنہ لایفسد الصوم ۔
اگر ایسے کام میں مشغولیت سے چارہ ہو جس سے غبار حلق میں داخل ہوجاتی ہے تو اب اگر عمل کیا تو روزہ فاسد ہوجائے گا اھ سید طحطاوی نے حاشیہ مراقی اور حاشیہ درمیں کہا ہے اور یہ عبارت پہلی کتاب کی ہے قولہ یا غبار روزہ دارکے حلق میں داخل ہوگئی الخ اس سے ان لوگوں کا حکم معلوم ہوگیا جو گیہوں چھانتے یا ایسے کام کرتے ہیں جن کے ساتھ غبار لازمی ہے اور وہ ہے روزہ کا نہ ہونا سکب الانہر میں مؤلف سے ہے اگر ایسے کام سے بچنے کا چارہ ہو جس سے دخول غبارہوتا ہے اب اگر ایسا عمل کیا تو روزہ فاسد ہوجائے گا دلیل یہ علت ہے کہ اس سے بچنا ممکن نہیں اھ سید شامی نے ردالمحتار میں فرمایا قولہ “ اس سے بچنا ممکن ہوتو الخ شرنبلالیہ اھ تو اس سے گمان کرلیا گیا ہے کہ زیر بحث مسئلہ ان میں سے ہے یہاں غبار والے سبب میں مشغول ہونے سے بچنا ممکن ہے اور حقیقت امر یہ ہے کہ علامہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس بات کے منکر نہیں کہ احکام کا مدار یہاں فقط دخول اور ادخال کے فرق پر ہے کیا آپ نے ملا حظہ نہیں کیاکہ متن کے حوالے سے پیچھے گزرا کہ روزہ اس صورت میں فاسد نہ ہوگا
حوالہ / References غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ دررالحکام باب موجب الفساد احمد کامل الکائنۃدارسعادت مصر ۱/۲۰۲
طحطاوی علٰی مراقی الفلاح باب بیان مالایفسد الصوم نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۶۲
ردالمحتار باب مایفسد الصوم ومالایفسدہ مصطفی البابی مصر ۲/۱۰۶
#9811 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
ولودخل حلقہ دخان بلا صنعہ وشرحیہ لہ وحاشیتہ علی الدررمن قولہ فیما ذکرنا اشارۃ انہ من ادخل بصنعہ فسد صومہ وقولہ لامکان التحرزعن ادخال المفطر ولذالمااتی العلامۃ المدقق العلائی فی الدرعلی تلخیص کلام الشرنبلالی لم یلخص الاحر فا واحدا وھو التفرقۃ بالدخول والادخال کما اسمعناك نصہ وانما مطمع نظرہ وملمح بصرہ رحمہ اﷲتعالی ما القینا علیك ان السبب اذا کان مفضیا ولابد کان قصدہ قصدالمسبب فکان من باب الادخال بصنعہ وانما یستقیم ان استقام فیما یفضی قطعا اوظنا غالبا ومن الدلیل علیہ نوطہ فی الکتب الثلثۃ حکم الفساد بمجردتعاطی تلك الاسباب حیث قال “ افسد لوفعل “ ولم یقل “ لو فعل ودخل “ فانما ینظر الی ان فعلہ یوجب الدخول فاجتزأبذکرہ عنہ والافلایتوھم عاقل فضلا عن فاضل فضلا عن مثل ھذاالفاضل ان
جب دھواں حلق میں بلا قصد وعمل داخل ہوا اس کی دونوں شروحات اور حاشیہ درر کے حوالے سے یہ قول بھی گزرچکا کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روزہ دار نے اگر خود دھوئیں کو داخل کیا توروزہ ٹوٹ جائے گا قولہ کیونکہ اس صورت میں روزہ توڑنے والی اشیاء کے ا دخال سے احتراز ممکن ہے اس لئے در میں علامہ مدقق علائی نے شرنبلالی کے کلام کی تلخیص کرتے ہوئے صرف ایك حرف کی تلخیص کی ہے اور وہ دخول اور ادخال میں فرق ہے جیسا کہ پیچھے ہم نے ان کے الفاظ آپ کے سامنے رکھے جو ہم نے بیان کیا اس سے علامہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا مطمح نظریہ ہے کہ سبب اگر لازمی طور پر مفضی ہے تو اس سبب کا قصد مسبب کا ہی قصد ہوگا تو یہ ادخال بالقصد کے باب سے ہوگا اگر یہ درست ہے تو یہ صرف وہاں ہی ہوگا جہاں سبب قطعی یا ظن غالب کے طور پر مفضی ہوگا اس پر دلیل یہ ہے کہ تینوں کتب میں حکم فساد کا مدار محض ان اسباب میں مشغول ہونے کو قرار دیا ہے ان کے الفاظ یہ ہیں “ اگر اس نے ایسا کیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا “ یہ نہیں کہا “ اگر کیا اور داخل ہوگیا “ کیونکہ ان کی نظر اس پر تھی کہ ایسے اسباب کا کرنا ہی دخول کا موجب ہے لہذااس کے ذکر پر اکتفاء فرمایا ورنہ کوئی عاقل چہ جائیکہ ایسا فاضل یہ بات کہے کہ محض ان کاموں
حوالہ / References نورالایضاح باب مایفسد الصوم مطبع علیمی لاہور ص۶۴
مراقی الفلاح مع حاشیہ طحطاوی باب فی بیان مالا یفسد الصوم نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص۳۶۱
غنیہ ذوی الاحکام مع حاشیہ درر باب موجب الافساد مطبعہ احمد کامل الکائنہ دار سعادۃ مصر ۱ /۲۰۲
#9812 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
مجرد تعاطی تلك الافعال یفسد الصوم وان لم یدخل شئی ثم ھو رحمہ اﷲتعالی دار یقیقنا ان الکینونۃ فی بیت فیہ بخور لیس سببا غالبا لدخول الدخان ولذا علق الفساد فی کتبہ الثلثۃ “ بایوائہ الی نفسہ “ بل ولم یقنع بہ حتی زاد “ واشتم دخانہ “ فقد وضح اتضاح الشمس فی رابعۃ النھاران لامساس بمسألتنا لما بحث العلامۃ الفاضل ھنا۔
ثم اقول : وبہ ظھر وﷲ الحمد انہ لایرد علی بحثہ ماقد منا من مسائل الطبخ والذوق و الاغتسال وخوض الماء والطحن والسف و دخول الطرقات وامثالھا فھذا غایۃ ماوصل الیہ ذھنی القاصر فی تصحیح بحثہ لکن یرد علیہ من المنصوصات مسألۃ المضمضۃ ورودا لامردلہ فانھا سبب اغلبی بل کلی لدخول البلل ولم یکن تعاطیھا ولو بلا ضرورۃ بل بلا حاجۃ لیفسد الصوم بالاجماع وان قیل فی النوادر بکراھتھا ولعل مجیبا یجیب بان لیس الحامل فیہ علی الحکم بعدم الفطر مجرد امتناع التحرز بل وشئی اخر وھو کونہ قلیلا تابعا للریق کما قالوافی لحم بین اسنانہ قال فی الھدایۃ لو
میں مشغول ہونا روزہ توڑدیتا ہے اگر چہ کوئی شئی داخل نہ ہوتی ہو پھر علامہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ یہ بھی یقینا جانتے ہیں کہ جس گھر میں بخور ہو وہاں موجود ہونا دھوئیں کے دخول کا سبب غالب نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ تینوں کتب میں یہ قید لگائی ہے کہ اسے اپنے قریب کرے بلکہ اس پر بھی اکتفانہ کیا حتی کہ یہ زائد کیا کہ اس کا دھواں سونگھے اب تو روشن دن کی طرح واضح ہوگیا کہ علامہ فاضل نے جو یہاں کہاہے اس کا تعلق ہمارے زیر بحث مسئلہ سے نہیں ہے۔
ثم اقول : بحمدﷲ اس سے واضح ہوگیا کہ جو ہم نے پیچھے مسائل بیان کئے مثلا کھانا پکانا چکھنا غسل کرنا پانی میں غوطہ لگانا چکی پیسنا غلہ پھٹکنا اور گلیوں میں چلنا وغیرہ یہ سب علامہ کی بحث کارد نہیں کرتے۔ علامہ کی بحث کی تصحیح میں بندہ کا ذہن قاصر اسی انتہائی مقام پر پہنچاہے لیکن اس پر منصوصات میں سے مسئلہ کلی کرنا ایسا وارد ہوتا ہے جس کا جواب نہیں کیونکہ وہاں تری کا دخول سبب اغلب ہی تك نہیں بلکہ کلی سبب ہے اور روزہ دار کا اس میں مشغول ہونا اگر چہ بلا ضرورت بلکہ بلاحاجت ہو حالانکہ اس صورت میں روزہ بالاتفاق نہیں ٹوٹتا اگر یہ کہا جائے کہ نوادر میں ہے کہ اس میں کراہت تو ہے تو شاید جواب دینے والا یہ کہے کہ کلی میں عدم فطر کے حکم کا باعث محض احتراز کا امتناع ہی نہیں بلکہ ایك اور شئی بھی ہے اور وہ اس کا قلیل اور تھوك کے تا بع ہونا ہے جیسا کہ فقہاء نے اس گوشت کے بارے میں کہا ہے جو
#9813 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
اکل لحمابین اسنانہ فان کان قلیلالم یفطر لان القلیل تابع لاسنانہ بمنزلۃ ریقہ بخلاف الکثیرلانہ لایبقی فیما بین الاسنان والفاصل مقدار الحمصۃ ومادونھاقلیل اھ۔
اقول : ولا یجدی فان عدم الافطار ھھنا ایضا انما ھو معلل بعدم امکان التحرز فرجع الامرالی ماوقع قال فی الفتح وانما اعتبر تابعا لانہ لایمکن الامتناع عن بقاء اثر مامن الما کل حوالی الاسنان وان قل ثم یجری مع الریق التابع من محلہ الی الحق فامتنع تعلیق الفطار بعینہ فیعلق بالکثیر وھو ما یفسد الصلوۃ لانہ اعتبر کثیرافی فصل الصلوۃ ومن المشائخ من جعل الفاصل کون ذلك ممایحتاج فی ابتلاعہ الی الاستعانۃ بالریق او لا الاول قلیل والثانی کثیروھو حسن لان المانع من الحکم بالافطار بعد تحقق الوصول کونہ لا یسھل الاحترازعنہ وذلك فیما
دانتوں میں پھنس جاتا ہے۔ ہدایہ میں ہے کسی نے دانتوں کے درمیان پھنسا ہوا گوشت کھالیا اگر وہ تھوڑا تھا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ قلیل دانتوں کے تابع ہونے کی وجہ سے بمنزل تھوك ہوگا بخلاف کثیر کے کیونکہ وہ دانتوں کے درمیان باقی نہیں رہ سکتا اور قلیل و کثیرمیں فرق یوں ہے کہ اگر چنے کی مقدار ہوتو کثیر اور اس سے کم ہوتو قلیل اھ۔
اقول : یہاں یہ بات بھی مفید نہیں کیونکہ روزہ نہ ٹوٹنے کی وجہ یہی بیان کی گئی کہ تری سے بچنا ممکن نہیں تو معاملہ پھر اسی طرف لوٹ آیا جہاں تھا فتح میں ہے تابع اس لیے قرار دیا کہ کھانے کے بعد دانتوں کے اردگرد پر اثر کا باقی نہ رہنا نا ممکن ہے اگر چہ وہ اثر بہت قلیل ہو پھر وہ تھوك کے ساتھ اپنی جگہ سے حلق کی طرف چلاجاتا ہے تو اب روزہ ٹوٹ جانے کو بعینہ اس اثر کے ساتھ متعلق کرنا ممکن نہ رہا ہاں کثیر سے متعلق ہوگااور وہ اتنی مقدار ہے جو نماز کو فاسد کردے کیونکہ اسے نماز کے معاملہ میں کثیر اعتبار کیا گیا ہے مشائخ میں سے بعض نے قلیل و کثیرمیں یوں فرق کیا کہ اس شئی کو نگلنے کے لئے تھوك کی مدد کی ضرورت ہے یا نہیں ا گر مدد درکار ہے تو قلیل ورنہ کثیر اور یہ بہت خوب فرق ہے کیونکہ جوف میں وصول کے بعد روزہ نہ ٹوٹنے کے حکم میں مانع صرف یہ ہے کہ اس سے احتراز آسان نہ تھا اور یہ بات اس میں
حوالہ / References الہدایۃ باب مایوجب القضاء والکفارۃ المکتبۃ العربیۃکراچی۱/۱۹۸
#9815 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
یجری بنفسہ مع الریق الی الجوف لافیما یتعمد فی ادخالہ لانہ غیر مضطر فیہ اھ۱ وقد نقل کلامہ العلامۃ الشرنبلالی نفسہ فی المراقی تصریحا وفی الغنیۃ تلویحامقرا علیہ وھذاایضا بحمداﷲتعالی مشید ارکان مانحونا الیہ من ان المناط ھو الفرق بالدخول والادخال لاغیر وان لا نظر فی الدخول الی کون سببہ ممایستھل التحرز عنہ الاتری ان الانسان غیر مضطرالی اکل مایبقی شئی منہ فی اسنانہ کاللحم وامثالہ بل یمکن الاجتزاء بمثل اللبن ثم ان سلم لہ ان تعاطی الاسباب الغالبۃ من باب الادخال المفطر لوجب ان یکون مفطرا مطلقا وان احتاج الیھا کما قد منا بحقیقتہ فلیس من لم یکن عندہ ما یغنیہ یومہ ولم یقدر علی الاکتساب الابحرفۃ غر بلۃ وھرس وخبز وطبخ ونحوھا ممایدخل فیہ الغبار و الدخان باجل ضرورۃ واقل حیلۃ من مریض اونائم اومکرہ او ذی مخمصۃ فاذالم یستحق اولئك اسقاط
جاری ہوسکتی ہے جو تھوك کے ساتھ جوف میں جائے لیکن اس میں جاری نہیں ہوسکتی جس کا ادخال عمدا ہوکیونکہ اس میں روزہ دار مجبور نہیں اھ علامہ شرنبلالی نے یہ کلام مراقی میں تصریحا اور غنیہ میں اختصارکے ساتھ اسے ثابت رکھتے ہوئے نقل کیا ہے بحمد اﷲیہ بھی ہماری اس گفتگو کی بنیادوں کو مستحکم کرتا ہے کہ فرق کامدار دخول اور ادخال پر ہے اس کے علاوہ کوئی فرق نہیں اور دخول میں اس طرف نظر کرنا بھی مناسب نہیں کہ اس کا سبب ہونا ایسا تھا جس سے بچنا آسان تھا کیا آپ ملاحظہ نہیں کرتے کہ دانتوں میں جو بچ جاتا ہے مثلا گوشت وغیرہ تو انسان اس کے کھانے پر مجبور نہیں بلکہ انسان کا اس سے محفوظ رہنا ممکن بھی ہے مثلادودھ وغیرہ کے ذریعے پھر اگر یہ تسلیم کرلیا جائے ایسے اسباب میں مشغول ہونا جن سے غالبا دخول غبار ہوجاتا ہے اور روزہ ٹوٹ جاتا ہے تو ضروری ہوگا کہ یہ ہرحال میں روزہ ٹوٹنے کا سبب بنے اگرچہ آدمی ان کا محتاج ہو جیسا کہ ہم پیچھے اس کی حقیقت بیان کرآئے تو وہ شخص جس کے پاس دن گزارنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو اور وہ آٹا چھاننے گھوڑا دوڑانے روٹی کھانے اور پکانے وغیرہ جو دخول غبار کا سبب ہیں ان کے علاوہ کسی کاروبار پر قادر بھی نہ ہو تو ایسا شخص مریض سونے والے مکرہ اور صاحب اضطرار سے ضرورت
#9816 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
حکم الفطر فانی یستحقہ من ھو دونھم وقد جری ھو بنفسہ فی متنہ علی تعمیم الغبار غبار الطاحونۃ فالاوفق الارفق الالصق بالاصول بالقبول عندی ھوالاطلاق الذی جرت علیہ المتون والشروح و الفتاوی قاطبۃ الی اواسط القرن الحادی عشر حتی جاء العلامۃ الشرنبلالی فنظر مانظر ولقد احسن واجاد فی کتبہ الثلثۃ اذا علق الفساد بالبخور علی اشتمام الدخان والعلم بالحق عند الملك المنان۔
میں زیادہ اور حیلہ میں کم نہیں ہوتا توجب مذکورہ لوگ اسقاط حکم افطار کے مستحق نہیں تو جوان سے کم درجہ کا معذور ہے وہ اسقاط کا کیسے مستحق ہوگا علامہ نے خودمتن میں عام غبار کا اعتبار کیا ہے جیسے چکی کی غبار تواصول کے زیادہ موافق و مناسب ہوگی اور قبول کے زیادہ لائق۔ میرے نزدیك وہ اطلاق ہے جس پر گیارہویں صدی کے وسط تك تمام متون وشروحات اور فتاوی کی نقل جاری رہی حتی کہ علامہ شرنبلالی کا دور آیا تو انہوں نے اس پر غور و فکر کیاجو ان کی شان کے لائق تھا انہوں نے اپنی تینوں کتب میں یہ لکھ کر بہت ہی خوب کیا کہ بخور کا دھواں قصدا سونگھنے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے۔ حق کا علم مالك اور احسان فرمانے والے اﷲتعالی کے لئے ہے۔ (ت)
الحمدﷲ یہ جواب عجاب کاشف صواب ورافع حجاب اوائل ذی القعدۃ الحرام کے چند جلسوں میں تمام اور بلحاظ تاریخ “ الاعلام بحال البخور فی الصیام “ نام ہوا وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ و بارك وسلم وا ﷲ وسبحانہ وتعالی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۲۲۶ : مسئولہ امانت علی شاہ ساکن قصبہ نواب گنج ضلع بریلی ۱۷رمضان ۱۳۳۱ھ
اس سے پہلے میں نے آپ سے سوال کیاتھا کہ روزہ دار کو غوطہ لگانا چاہئے یا نہیں اور سرمہ لگانا چاہئے یا نہیں تو ایك شخص کہتا ہے کہ غوطہ لگانا کیا بلکہ ناف کے اوپر پانی پہنچ جائے گا تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور سرمہ بعد عصر کےلگا نا چاہئے۔ اور ایك شخص نے یہ بھی کہا کہ سرمہ لگاکر سونا نہ چاہئے اور روزہ دار کو خوشبو سونگھنا چاہئے یا نہیں اور سر میں تیل ڈالنا چاہئے یا نہیں اور بدن پر روغن ملنا چاہئے یا نہیں اور ہلاس سونگھنا چاہئے یا نہیں اور مسواك کرنا چاہئے یانہیں اور مسواك کی لکڑی چبانا چاہئے یا نہیں اور دانتوں میں خلال کرنا چاہئے یانہیں اور منجن ملنا چاہئے یانہیں
#9817 · الاعلام بحال البخورفی الصّیام ۱۳۱۵ھ (حالتِ روزہ میں دُھونی لینے کے بارے میں اطلاع)
الجواب :
وہ شخص غلط کہتا ہے پانی بدن کے اوپر ہونے سے روزہ جائے تو نہانے سے بھی جائے وضو سے بھی جائے۔ ہاں جوف کے اندر مسام کے سوامنافذ سے پہنچے تو روزہ جائے گا مگر غوطے میں ایسا نہیں غوطہ لگا کر کھلے ہوئے منفذ نتھنوں کو دیکھئے کہ ان میں بھی پانی نہیں پہنچتا اور سرمہ بھی ہر وقت لگانے کی اجازت ہے اور لگا کر سو بھی سکتا ہے اور سونے سے بھی کھکھار میں سرمہ کی رنگت آجائے تو کچھ حرج نہیں کہ یہ مسام سے پہنچا اور آنکھوں میں معاذاﷲکان یا ناك کے سوراخ نہیں کہ ان میں داخل روزہ کو مضر ہو۔ روزہ دار خوشبو سونگھ سکتاہے سونگھنے سے جس کے اجزاء دماغ میں نہ چڑھیں بہ خلاف اگر لوبان کے دھوئیں کے کہ اسے سونگھ کر دماغ کو چڑ ھ جائے گا تو روزہ جاتا رہے گا۔ روزہ دار سر میں روغن ڈال سکتا ہے کہ یہ بھی مسام میں کوئی منفذ نہیں ۔ بدن پر بھی روغن مل سکتاہے مل کر خوب جذب کر سکتا ہے ہاں مثلا کان میں نہیں ڈال سکتا اگر ڈالے گا روزہ جاتا رہے گا۔ روزہ دارکو ناس لینا حرام ہے اس کا کوئی ذرہ دماغ کو پہنچا تو روزہ جاتا رہے گا۔ مسواك کرنا سنت ہے ہروقت کرسکتا ہے اگر چہ تیسرے پہر یا عصر کو چبانے سے لکڑی کے ریزے چھوٹیں یا مزہ محسوس ہوتو نہ چاہئے۔ خلال کرنے میں تو کوئی مضائقہ نہیں مگررات کا دانتوں میں کچھ بچارکھنا نہ چاہئے جسے دن کو خلال سے نکالے ہاں سحری کھا کر فارغ ہوا تھا کہ صبح ہوگئی تو اب ہی خلال کرے گا اس کاحرج نہیں روزہ میں منجن ملنا نہ چاہئے۔
________________
#9818 · باب القضاوالکفارۃ
مسئلہ۲۲۷ : ازبنگال ضلع کمر لاپر گنہ سرائل ڈاك خانہ ہرن بیڑ موضع بھو پن مرسلہ عاصم علی صاحب ۲۰رمضان المبارك ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میت کے نماز و روزہ وغیرہ کے کفارے کے عوض میں قرآن شریف کو حیلہ کرنا جائز ہے یا نہیں مع دلائل قویہ وحوالہ کتب معتبرہ ارشاد فرمایا جائے کیونکہ اس ملك بنگالہ میں اکثر علماء حیلہ مذکورہ کو جائز رکھتے ہیں اور جونا جائز کہتا ہے اس کے ساتھ جھگڑنے پر آمادہ ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دلیل بیان کرو اس لیے حضور پر نور کو تکلیف دی جاتی ہے۔ بینوابالدلیل توجرواعند الجلیل (دلیل کے ساتھ بیان کرو اوراﷲتعالی سے اجرپاؤ۔ ت)
الجواب :
یہ حیلہ دو۲ طور پر ہے :
اول : یہ کہ نماز روزے وغیرہ جس قدر ذمہ میت ہوں سب کے کفارے میں خود قرآن مجید ہی مسکین کو دے دیا جائے یعنی مصحف مبارك ہی کو ان فرائض کا معاوضہ و کفارہ بنالیا جائے یہاں جہاں اسی طرح کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ قرآن بے بہا چیز ہے اس کی قیمت کا کون اندازہ کرسکتا ہے تو اگر لاکھوں کفارے ہوں ایك مصحف میں سب ادا ہوجائیں گے ولہذا انہیں میت کی عمر اور اس کی قضا
#9819 · باب القضاوالکفارۃ
نمازوں روزوں کا حساب کرنے کی بھی حاجت نہیں ہوتی کہ حساب تو جب کیجئے کہ کچھ کمی کا احتمال ہو اور جہاں ہرطرح یقینا زیادہ ہی چیز جارہی ہے وہاں حساب کس لئے۔ یہ طریقہ یقینا قطعا باطل و مہمل ہے شرع مطہر نے کفارے میں مال معین فرمایا ہے کہ ہر نماز ہر روزے کے عوض نیم صاع گندم یاایك صاع جو یا ان کی قیمت ۔ او راس سے مقصود شرع ادھر نفع رسانی مساکین ہے ادھر اپنی رحمت کاملہ سے ترك فرائض پر مال جرمانہ لے کر ان شاءاﷲبندہ تارك کو مطالبہ سے سبکدوش فرمانا ولہذاہر نماز روزہ کے ایك مقدار مال معین فرمائی کہ جرم کم و زائد میں امتیاز رہے جس نے تھوڑے چھوڑے ہیں تھوڑا مال دے کر پاك ہوجائے جس نے زیادہ چھوڑے اس پر اسی حساب سے جرمانہ بڑھتا جائے مصحف شریف میں دو۲لحاظ ہیں : ایك کاغذ و سیا ہی وجلد کا اعتبار اس لحاظ سے وہ ایك مال ہے اسی لحاظ سے اس کی بیع و شرا ہوتی ہے بایں معنی اس کی قیمت وہی ہے جتنے پر بازار میں ہدیہ ہو روپیہ دو روپیہ یا دس پندرہ جو حیثیت ہو اسی لحاظ سے وہ کفارے میں دیا جاسکتا ہے تو بازار کے بھاؤ سے جتنے داموں پر ہدیہ ہو اسی قدر مال دینا ٹھہرے گا اور کفار ہ اداہوا تو صرف اتنے ہی نمازروزوں کا ادا ہوگا جوان داموں کے مقابل ہوں مثلا روپے کے پانچ صاع گیہوں آتے ہیں اور یہ مصحف شریف کہ دیا گیا دو۲ روپے ہدیہ کا تھا تو گویا دس۱۰ صاع گیہوں دئے گئے صرف بیس۲۰ نمازوں یا بیس ۲۰ روزوں کا عوض ہوئے دوچار روپے مالیت کی چیز سے عمر بھر کی نمازوں کا کفارہ کیونکر ادا ہوسکتا ہے۔ دوسرا لحاظ اس کلام کریم کا اعتبار ہے جو اس میں لکھا ہے اصلا مال نہیں بلکہ وہ اس احد صمد جل وعلا کی صفت قدیمہ کریمہ اس کی ذات پاك سے قائم اور اس کے کرم سے ہمارے ورقوں ہمارے سینوں ہماری زبانوں ہماری آنکھوں ہمارے کانوں ہمارے دلوں پر کتابت و حفظ و تلاوت و نظر وسماعت و فہم میں متجلی ہے فلوجھہ الکریم الحمد کما ینبغی لجلالہ وعظم جودہ وافضالہ عوام نے سچ کہا کہ وہ بے بہا ہے اور غلط سمجھا کہ اس کہ قیمت حد سے سوا ہے بلکہ وہ بے بہابایں معنی ہے کہ تقویم و مالیت سے پاك ووراہے بایں معنی وہ کفارہ نہیں ہوسکتا کہ کفارہ مال سے ہوتا ہے اور وہ مال نہیں۔ ہدایہ میں ہے :
لاقطع فی سرقۃ المصحف لانہ لامالیۃ لہ علی اعتبار المکتوب واحرازہ لاجلہ لا للجلد و الاوراق ۔
چوری مصحف میں قطع ید نہیں کیونکہ مکتوب کے اعتبار سے یہ مالیت سے بالاتر ہے باقی اس کی حفاظت مکتوب کی وجہ سے ہوئی ہے نہ کہ جلد اور اور اق کی وجہ سے۔ (ت)
حوالہ / References ہدایہ باب مایقطع فیہ ومالا یقطع المکتبۃ العربیہ کراچی۲/۵۲
#9820 · باب القضاوالکفارۃ
فتح القدیر میں ہے :
لافی سرقۃ المصحف وقال الشافعی یقطع وھو روایۃ عن ابی یوسف لانہ مال محرز یباع ویشتری ولان ورقہ مال وبماکتب فیہ از دادبہ ولم ینتقص وجہ الظاھران المالیۃ للتبع وھی الاوراق المتبوع وھوالمکتوب ۔
مصحف کی چوری میں قطع ید نہیں اور امام شافعی نے کہا قطع ید ہے۔ امام ابویوسف سے بھی ایك روایت یہی ہے کیونکہ یہ مال محفوظ ہے بیچا اور خریدا جاتا ہے اور اس لیے بھی کہ اس کے اوراق مال ہیں اور جو کچھ اس میں تحریر ہے اس سے مالیت میں اضافہ ہوگا نہ کہ کمی۔ ظاہر مذہب کی دلیل یہ ہے ہے کہ مالیت تابع یعنی اوراق کی ہیں نہ کہ متبوع کی جو کہ مکتوب ہے(ت)
اسی طرح کافی شرح وافی وتبیین الحقائق و بحرالرائق و ردالمحتار وغیرہا معتمدات اسفار میں ہے۔ بالجملہ مصحف میں جو چیز بے بہا ہے یعنی قرآن وہ مال نہیں کہ کفارہ بن سکے اور جومال ہے یعنی کاغذ وجلد وہ بے بہا نہیں کہ عمر بھر کی نمازروزوں کا بدلہ ہوسکے کاغذ کے اعتبار سے مال ٹھہر ا نا اور مکتوب کے لحاظ سے بیحد قیمت سمجھ کر میت کی تمام عمر بلکہ ہفت پشت کا کفارہ کرنا ایسا ہے جیسے زید پر کسی کے لاکھ روپے آتے ہوں وہ اس کے بدلے ایك روپے کا مصحف شریف بلکہ ایك آنے کا کوئی پارہ دے کر ادا ہوجانا چاہئے کہ یہ لاکھوں کروڑوں روپے کاہے بے بہا ہے یوں تو ایك آیت بلکہ ناخن برابر کاغذ پر ایك اسم اﷲ لکھ کردے دیجئے اور کروڑوں روپے کا قرضہ اتار دیجئے کہ دنیا ومافیہا ایك اسم جلالت کی قیمت نہیں ہوسکتی جیسے بندوں کے دین میں یہ حیلہ پیش نہیں کیا جاتا ویسے ہی رب العزت عزجلالہ کے دین میں۔ حدیث میں ارشاد ہوا : فدین اﷲاحق ان یقضی (اﷲتعالی کا دین زیادہ حق رکھتا ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔ ت)
دوسرا طریقہ : یہ کہ میت پر جس قدر نماز روزے وغیرہا قضاہوں سب کا حساب لگائیں اور اس کا کفارہ معین کریں کہ مثلا ہزار من گندم ہوئے مصحف شریف اتنے گیہوں یا ان کی قیمت کے عوض مسکین کے ہاتھ بیع کریں وہ قبول کرلے مصحف تو اس نے پایا اور اس پر ہزار من گندم یا مثلا تین ہزار روپے ثمن مصحف کے دین ہوگئے اب اس سے کہیں کہ اتنے گیہوں یا روپے جو ہمارے تجھ پر واجب الادا ہیں وہ ہم نے فلاں میت کے کفارہ میں تجھے دئے فقیر کہے میں نے قبول کئے۔ یہ حیلہ قرآن عظیم کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر کتاب یا کپڑے یا
حوالہ / References فتح القدیر باب مایقطع فیہ ومالا یقطع المکتبۃ العربیۃ کراچی۵/۱۳۲
صحیح بخاری باب من مات وعلیہ صوم قدیمی کتب خانہ کراچی۱/۲۶۲
#9821 · باب القضاوالکفارۃ
برتن وامثالہا سے ہوسکتا ہے دہلی کے متاخرین علماء نے یہ حیلہ لکھا مگر نظر فقہی میں یہ بھی صحیح نہیں آتا فقیر غفرلہ المولی القدیر نے اس کی تحقیق منیر اپنے فتاوی میں ذکر کی یہاں اسی قدر کافی کہ کفارے میں مال دینا چاہئے اور دین کہ ساقط کردیا مال نہیں۔ تبیین الحقائق میں ہے :
لوکان لہ دین علی فقیر فابرأہ منہ سقط زکوتہ عنہ لانہ کا لھلاك فلو ابرأہ عن البعض سقط زکوۃ ذلك البعض لما قلنا وزکوۃ الباقی لاتسقط عنہ ولو نوی بہ الاداء عن الباقی لان الساقط لیس بمال والباقی یجوز ان یکون مالافکان الباقی خیرامنہ فلایجوز الساقط عنہ ۔
اگر کسی کا فقیر پر قرض تھا معاف کرکے قرض سے اسے بری کردیا تو اس قرض کی زکوۃ ساقط ہوجائے گی کیونکہ ہلاك ہونے والے مال کی طرح ہے اور اگر کچھ معاف کیا تومذکورہ دلیل کی بنا پر اتنے حصہ کی زکوۃ ساقط ہوجائے گی لیکن باقی حصہ کی زکوۃ ساقط نہ ہوگی اگر چہ وہ ساقط ہونیوالے حصہ کو باقی کی زکوۃ میں شمار کرے کیونکہ ساقط ہونے والا مال نہیں اور باقی رہنے والے کا مال ہونا ممکن ہے اوربقیہ حصہ اس سے بہتر ہے لہذا اس سے اسقاط جائز نہ ہوگا۔ (ت)
بلکہ ضرور ہے کہ وہ دین اس سے وصول کرکے قبضہ میں لاکر کفارے میں دیں۔ درمختار میں ہے :
اوصی لصلواتہ وثلث مالہ دیون علی المعسرین فترکہا الوصی لھم عن الفدیۃ لم تجزہ ولابد من القبض ثم التصدق علیھم اھ وتمام الکلام علی ازالۃ الاوھام فی فتاونا فلیرا جعھا من یتخالج فی صدرہ شئی ولایعجل واﷲتعالی اعلم۔
کسی نے اپنی نمازوں کے لئے وصیت کی اس حال میں کہ اس کا ثلث مال تنگ دستوں پر قرض تھا تو وصی نے نمازوں کے فدیہ کے طور پر ان تنگ دستوں کاقرض چھوڑ دیا تو یہ کافی نہ ہوگا کیونکہ پہلے اس مال پر قبضہ ضروری ہے اس کے بعد ان پر صدقہ کرنا جائز ہوگا اھ ازالہ اوہام کے لئے تفصیلی گفتگو ہمارے فتاوی میں ہے جس کے سینے میں کوئی شے کھٹك رہی ہو وہ اس کامطالعہ کرے اور جلد بازی سے کام نہ لے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۲۲۸ : از بلگرام ضلع ہردوئی محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت سید ابراہیم میاں صاحب ۱۴رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ
شب سہ شنبہ ۱۲ رمضان المبارك کو ہم لوگوں کی آنکھ قریب ساڑھے چار بجے کھلی جلد جلد ہم لوگوں نے
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الزکوٰۃ المطبعۃ الکبری الامیریۃ مصر ۱/۲۵۸
درمختار فصل فی وصایا الذمی وغیرہ مجتبائی دہلی۲/۳۳۴
#9822 · باب القضاوالکفارۃ
یعنی سحری کھا کر حقہ پی رہے تھے کہ یکایك اذان ہوگئی فورا کلی کرکے اور کاموں میں مصروف ہوگئے صبح کو ایك بزرگ سے سب حال کہا گیا انہوں نے اس قسم كے کلمات کہے جس سے ابطال صیام معلوم ہوا نہایت تشویش ہوئی جب ہم لوگوں نے جان لیا کہ روزہ یقینانہیں ہے تب ہم چند آدمیوں نے دن کو یعنی ۱۲ بجے اسی ماہ کھالیا اور یہ امر تخمینا دس آدمیوں سے واقع ہواا عنی روزہ کھول لینا بعد کو اور لوگوں سے ذکر ہوا تو ان لوگوں نے تنبیہ کی اور کہا کہ کھانا کھانا مناسب نہ تھا استطاعت کفارہ نہیں حتی کہ دوماہ متواتر روزے رکھنے کی بھی بظاہر قدرت نہیں اب جیسی رائے ہو مطلع فرمایا جائے۔ بینواتوجروا
الجواب :
آج کل کہ آفتاب اوائل برج حمل میں ہے۔ بریلی بلگرام کے قریب قریب عرض کے شہروں میں سحری چار بجے تك کھانی چاہئے ساڑھے چار بجے کب کی صبح ہوچکتی ہے اس وقت کچھ کھانے پینے کے معنی ہی نہ تھے وہ روزہ یقینانہ ہوا اس کی قضا فرض ہے مگر غیر مریض و مسافر کو روزہ جاتے رہنے کی بھی حالت میں بوجہ ادب وحرمت ماہ مبارك دن بھر مثل روزہ رہنا واجب تھا دن کو پھر جو قصدا کھا یا حرام تھا گناہ ہوا توبہ کی جائے مگر روزہ تو تھا ہی نہیں جسے اس کھانے نے توڑا ہو لہذا کفارے سے کچھ علاقہ نہیں۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۲۲۹ : ازخورجہ ضلع بلندشہر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید رمضان شریف میں روزہ سے تھے اخیر رمضان المبارك میں جبکہ وہ روزہ سے تھے ان کے دردصدر میں ہو اور دست آئے اور استفراغ کئی بار ہوا درد کی بہت سخت تکلیف تھی بالآخر ۴ بجے بخوف ترقی مرض بعد ظہر ڈاکٹری دوا حالت صوم میں پلادی گئی روزہ تڑوادیا گیا ایسی حالت میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ روزہ توڑنے کی وجہ سے آیا ساٹھ روز ے رکھے جائیں یا ساٹھ مسکین کھلائے جائیں یا کچھ نہ کیا جائے درد سے آرام ہونے کے بعد جو آٹھ سات روزے باقی تھے وہ بوجہ ضعف وناطاقتی کے نہیں رکھے گئے تا عید الفطر۔ ایسی صورت میں شارع کا کیا حکم ہےبینو اتوجروا
الجواب :
اس صورت میں نہ ساٹھ روزے ہیں نہ ساٹھ مسکین غرض کفارہ نہیں صرف اس روزہ کی جو توڑا اور ان روزوں کی جونہ رکھے قضا ہے ہرروزہ کے بدلے ایك روزہ وبس۔
فی الدرالمختار من مبیحات الفطر خوف ھلاك اونقصان عقل ولو بعطش اوجوع
درمختار میں عوارض مبیحہ سے ہے یعنی روزہ نہ رکھنے کو مباح کرنے والی چیزوں میں سے یہ ہیں ہلاکت کا خوف یا نقصان عقل کا خوف یہ خوف خواہ پیاس سے ہو
#9823 · باب القضاوالکفارۃ
شدید اولسعۃ حیۃ ۔
سخت بھوك کی وجہ سے یا سانپ کے کاٹنے سے ہو(ان صورتوں میں روزے کا ترك جائز ہے)(ت)
شامی میں ہے :
فلہ شرب دواء ینفعہ ۔
روزہ دار کے لیے ایسی دوا کا پینا جائز ہے جو اسے نفع دے۔ (ت)
مسئلہ۲۳۰ : از بہرائچ چوك بازار مرسلہ حافظ محمد شفیع صاحب ۲۶ماہ مبارك ۱۳۳۳ھ
اگر رمضان شریف کاچاند مکہ معظمہ یا ہندوستان سے دور دراز ملکوں میں۲۹ شعبان کو ہوا اور مثلا بہرائچ میں اس تاریخ کو چاند نہیں نظر آیا بلکہ ۳۰ شعبان کو چاند ہوا کیا اس صورت میں بہرائچ کے باشندوں کو ایك روزہ کی قضا علم و واقفیت قطعی ہونے پر لازم آتی ہے یا نہیں زید کہتا ہے صورت مذکورہ میں قضا ایك روزہ کی لازم نہیں اس لیے کہ جب قریب ملك میں چاند نظر آئے تو اس کا اعتبار ہے دور ملك کا اس بارے میں اعتبار نہیں عمر و کا قول اس کے برخلاف ہے یعنی وہ قضا لازم ہونے کا التزام کرتا ہے۔ بینوا توجروا
الجواب :
عمرو کاقول صحیح ہے ہمارے ائمہ کرام کا مذہب صحیح و معتمد یہی ہے کہ دربارہ ہلال رمضان و عید اختلا ف مطالع کا کچھ اعتبار نہیں اگر مشرق میں رؤیت ہو مغرب پر حجت ہے اور مغرب میں تو مشرق پر مگر ثبوت بروجہ شرعی چاہئے خط یا تار یا تحریر اخبار یا افواہ بازاریا حکایت امصار محض بے اعتبار۔ کما فصلناہ فی فتاونا بما لا مزید علیہ (جیسا کہ اس کی ایسی تفصیل اپنے فتاوی میں تحریر کی ہے جس پر اضافہ دشوار ہے۔ ت)درمختار میں ہے :
اختلاف المطالع غیر معتبر علی المذھب وعلیہ اکثر المشائخ وعلیہ الفتوی فیلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذا ثبت عندھم رؤیۃ اولئك بطریق موجب (ملخصا) واﷲ تعالی اعلم۔
مذہب صحیح کے مطابق مطالع کے اختلاف کا اعتبار نہیں اس پر اکثر مشائخ ہیں اور فتوی اسی قول پر ہے لہذااہل مشرق پر اہل مغرب کی رؤیت کی بنا پر روزہ رکھنا لازم ہوگا بشرطیکہ ان کے ہاں ثبوت چاند موجب شرعی سے ثابت ہو۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References درمختار ،فصل فی العوارض،مجتبائی دہلی ،۱/۱۵۲
ردالمحتار فصل فی العوارض مصطفی البابی مصر ۲/۱۲۶
درمختار کتاب الصوم مجتبائی دہلی۱/۱۴۹
#9825 · باب القضاوالکفارۃ
مسئلہ : از موضع درؤ ضلع نینی تال مسئولہ عبد الجلیل خاں صفر المظفرھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے طعام سحری ساڑھے چار بجے سے پانچ بجے تك کھانا باہر صحن مکان میں نکلنے سے کچھ سفیدی شرق میں آسمان پر معلوم ہوئی اور اذان صبح بھی ہوگئی چونکہ تین روزے ہوچکے تھے روزہ رکھ لیا گیا دن میں کچھ اشخاص نے کہا یہ روزہ نہیں ہوا اس واسطے ایك بجے دن کو توڑ ڈالا پس اندریں صورت ایك روزہ قضا واجب ہوا یا ساٹھ دیگر یہ کہ ماہ صیام میں جو روزے قضا ہوگئے ہوں اور وہ قضا بھی ادانہ ہوئے تو بقول بعض بالعوض ایك قضاکے کیا ساٹھ کا حکم ہے یا ہر وقت میں ایك ہی رکھنا ہوگا بینوا توجروا
الجواب :
اس رمضان شریف میں پانچ بجے تك کسی طرح وقت نہ تھا جبکہ پانچ بجے تك سحری کھائی تور وزہ بلاشبہ ہواہی نہیں کہ توڑنا صادق آئے قضا لازم ہے اور کفارہ نہیں ہاں رمضان مبارك میں اگر کسی وجہ سے روزہ نہ ہوتو غیر معذور شرعی کو دن بھر روزہ کی طرح رہنا واجب اور کھانا پینا حرام ایك بجے کھانا کھالیا یہ دوسرا گناہ ہوا تو بہ فرض ہے واﷲتعالی اعلم ایك روزہ کی قضا ایك ہی ہے ساٹھ کا حکم کفارہ میں ہے کہ کسی نے بلاعذر شرعی رمضان المبارك کا ادا روزہ جس کی نیت رات سے کی تھی بالقصد کسی غذا یا دوا یا نفع رساں شئی سے توڑ ڈالا اور شام تك کوئی ایسا عارضہ لاحق نہ ہوا جس کے باعث شرعا آج روزہ رکھنا ضرورت نہ ہوتا تو اس جرم کے جرمانہ میں ساٹھ روزے پے درپے رکھنے ہوتے ہیں ویسے جو روزہ نہ رکھا ہو اس کی قضا صرف ایك روزہ ہے واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : ازگونڈل علاقہ کاٹھیاواڑ مسئولہ عبدالستار بن محمد اسمعیل رجب ھ
ماہ رمضان المبارك میں ایك شخص نے قبل صبح صادق سحری کا کھانا کھا کر روزے کی نیت کرکے کھانا پینا بند کیا بعد اس کے اپنی منکوحہ سے خوش طبعی کرتے ہوئے بلاجماع منزل ہوا اور یہ امر قبل صبح صادق یا بعد صبح صادق ہوا اب اس کا روزہ رہا یا قضا کرے یا کفارہ دے اور عورت کے لیے کیا حکم ہے
الجواب :
عورت کے لئے کچھ حکم نہیں اور مرد پر بھی کفارہ نہیں اور اگر انزال قبل صادق ہوا تو قضا بھی نہیں اور بعد صبح صادق ہوا اور اس وقت مس وغیرہ نہیں کررہا تھا اس کے بعد مجردبقائے تصور سے واقع ہوا جب بھی قضا نہیں ورنہ اس روزہ کو پورا کرے اور ایك روزہ اس کے عوض رکھے۔ واﷲتعالی اعلم۔
#9827 · باب القضاوالکفارۃ
مسئلہ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر دو صاحب کسی شخص کا روزہ زبردستی تڑوادیں ان کےلیے کیا حکم ہے اور جو صاحب روزہ توڑیں وہ کیا کریں اور ان کے لیے کیاحکم ہے دوسرے کسی صاحب کے بار ڈالنے سے روزہ توڑا جائے تو ہر دو صاحبان کے لئے کیا حکم ہوگا
الجواب :
بلا ضرورت و مجبوری شرعی فرض روزہ زبردستی تڑوانے والا شیطان مجسم و مستحق نار جہنم ہے اور بغیر سچی مجبوری کے فقط کسی کے بار ڈالنے یا زیر کرنے سے فرض روزہ توڑ دینے والے پر عذاب ہے اور روزہ ادائے رمضان تھاتو حسب شرائط اس پر کفارہ واجب جس میں ساٹھ روزے لگاتار رکھنے ہوتے ہیں۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : ازلاہور مسئولہ گلاب خلیفہ صفر المظفر ھ
بخدمت شریف جناب عالی خاندان دام اقبالکم بعدادائے آداب کے عرض کمترین کی یہ ہے کہ جو شخص اس ماہ رمضان میں روزہ نہ رکھے اور بعدمیں پورا روزہ رکھے جس طرح حکم رسول ہو تحریر فرمائیں کیونکہ اس ماہ میں طاقت نہیں ہے رکھنے کی کمزوری ناطاقتی بدن میں ہے۔ جناب کو اس وجہ پر تکلیف دیتا ہوں صاف تحریر فرمائیں اور ایك شخص روزہ نہیں رکھتاہے اپنے عوض ایك عورت کو روزہ رکھاتا ہے آپ فرمائیں مرد کا مرد کو لازم ہے یا عورت کا عورت کو غیر عورت ہے جس کو روزہ رکھاتاہے۔ فقط
الجواب :
جو ایسا مریض ہے کہ روزہ نہیں رکھ سکتا روزہ سے اسے ضرر ہوگا مرض بڑھے گا یا دن کھینچیں گے اور یہ بات تجربہ سے ثابت ہو یا مسلم طبیب حاذق کے بیان سے جو فاسق نہ ہوتو جتنے دنوں یہ حالت رہے اگر چہ پورا مہینہ وہ روزہ ناغہ کرسکتا ہے اور بعد صحت اس کی قضا رکھے جتنے روزے چھوٹے ہوں ایك سے تیس تک۔ اپنے بدلے دوسرے کو روزہ رکھوانا محض باطل وبے معنی ہے بدنی عبادت ایك کے کئے دوسرے پر سے نہیں اتر سکتی نہ مرد کے بدلے مرد کے رکھے سے نہ عورت کے۔ واﷲ تعالی اعلم
#9829 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
اﷲ رب محمد صلی علیہ وسلما
مسئلہ تا : از پٹنہ محلہ لودی کٹرہ مرسلہ قاضی محمد عبدالوحید صاحب فردوسی صفرھ
بسم اﷲالرحمن الرحیم الحمد ﷲرب العالمین کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں :
() موتی کے روزہ کا فدیہ جو فقہ کی کتابوں میں نصف صاع گیہوں یا ایك صاع جو لکھا ہے اس وزن کی تطبیق اس ہندوستان کے کس وزن کے برابر کی گئی ہے کتب فقہ میں جوفی روزہ دوسیر گیہوں یا چار سیر جو لکھا ہے وہ بیس گنڈے کے حساب سے ہے یا انیس گنڈے کے غرض پٹنہ ضلع میں اگر کوئی شخص فدیہ دینا چاہے تو وہ کس وزن سے فی روزہ دے گا
() چاول کا حساب کس چیز میں ہوگا گیہوں یا جو میں یعنی فی روزہ چاول مثل گیہوں کے ثار یا مثل جو کے ثار دیا جائے گا اور اگر چاول دیا جاسکتا ہے تو کل اقسام کے چاول ایك ہی حساب میں ہیں یا باسمتی سلیہا جوشاندہ مثل گیہوں کے اور موٹاچاول مثل جو کے ہے
#9830 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
()دھان مثل جو کے فی روزہ چا ر۴ ثار دے سکتے ہیں یا نہیں
() فدیہ روزہ کا اگر کسی کے ذم بہت ساباقی ہے تو وہ کل بیك دفعہ بیك وقت ادا کرے یا بدفعات جزوجزو کرکے دے سکتا ہے مثلا زید متوفی کے ذمہ روزوں کا فدیہ باقی ہے تو یہ ثار گیہوں بیك دفعہ بیك وقت دینا چاہئے یا ایك ایك دودو کرکے ادا کردینے کا مجاز ہے کہ نہیں اس میں ایك صورت یہ بھی نکلتی ہے کہ اگر زید کے ذمہ ایك ہی روزہ کا فدیہ باقی رہے تو وہ اس دوسیر گیہوں کو پاؤ پاؤ کرکے دفعہ یا آدھ آدھ سیر کرکے دفعہ دے سکتا ہے یا نہیں
()متعدد روزوں کا فدیہ کل ایك ہی دن ایك شخص کودے سکتے ہیں یا روز روز دوسرے دوسرے کو دینا چاہئے مثلا زید متوفی کے ذمہ دس روزوں کا فدیہ چاہئے تھا اگر یہ ادا کیا جائے تو کل ایك ہی شخص کو ایك ہی دن بیك وقت بیك دفعہ دے دے یا ایك ہی آدمی کو دس روز پیہم دے یا ایك ہی دن میں دس آدمیوں کے دے دے یا دس روز کرکے دوسرے دوسرے کو دے اس کی چار شکلیں نکلیں وھوھذا :
شکل اول : ایك ہی دن ایك شخص کو کل دسوں روزوں کا بیك دفعہ بیك وقت دیا جائے۔
شکل دوم : ایك ہی آدمی کو دس روزوں تك برابر دیاجائے۔
شکل سوم : ایك ہی دن میں دس آدمیوں کو دیا جائے۔
شکل چہارم : دس روز کرکے دس آدمیوں کو دیا جائے___یہ چاروں شکلیں جائز ہیں یا نہیں
()اس کے مستحق کون کون اشخاص ہیں سید کودے سکتے ہیں یا نہیں اقربامیں جو لوگ غریب ہیں ان کو دینے کا حکم ہے یا نہیں گھر کے نوکر چاکر کو اگر دیں اور مشاہرہ یا کھانے میں وضع نہ کریں تو جائز ہے یا نہیں
()غلہ دینا بہتر ہے یا اس کی قیمت باندھ کر جو اس زمانہ میں نرخ بازار ہو کون زیادہ مناسب ہےاور نقد روپیہ کا بھی کل وہی حکم ہے جو غلہ کا ہے یا فرق ہے
() اگر کسی غریب کے ذمہ روپیہ قرض کا باقی ہے اور فدیہ پانے کا مستحق ہے تو روپیہ فدیہ میں روزے کے دے سکتا ہے یا نہیں
() فدیہ ادا کرتے وقت یہ لفظ کہنا چاہئے کہ یہ غلہ یا نقد فلاں کے روزہ کا فدیہ ہے یا انما الاعمال بالنیات (اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ ت) کافی ہے
حوالہ / References صحیح بخاری باب کیف کان بدؤالوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢
#9832 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
() شیخ فانی اور موتی کے فدیہ کے احکام میں کوئی فرق ہے یا دونوں کا ایك حکم ہے اور اگر فرق ہے تو وہ کونسا فرق ہے
() اگر اپنی زندگی میں ہی روزہ قضا شدہ کا فدیہ کوئی شخص دے دے حالانکہ وہ شیخ فانی نہیں ہے تو وہ روزہ اس سے ساقط ہوگا یا نہیں
()اگر زید نے انتقال کیا اور اس کے ذمہ روزہ فرض باقی رہ گیا ہے تواس کے وارث یا اقربا اس روزہ کے بدلے میں روزہ رکھ سکتے ہیں یا نہیںبینوا توجروا
الجواب :
() وزن بلاد میں مختلف ہوتے ہیں لہذا ہم تولوں اور انگریزی روپوں کا حساب بتاتے ہیں کہ ہر شخص اپنے یہاں کے وزن رائج کو بآ سانی اس سے تطبیق د ے سکے ایك روزہ یا ایك نماز کا فدیہ یا کفارہ میں ایك مسکین کی خوراك یا ایك شخص کا صدقہ فطر یہ سب گیہوں سے نیم صاع اور جو سے ایك صاع ہے۔ صاع دوسوستر تولے ہے نیم صاع ایك سو پینتیس تولے۔ تولہ بارہ ماشہ ماشہ آٹھ رتی رتی آٹھ چاول۔ انگریزی روپیہ سکہ رائجہ سوگیارہ ماشے ہے۔ ردالمحتار میں ہے :
اعلم ان الصاع اربعۃ امداد والمد بالاستار اربعون والاستار بکسرالھمزۃ بالمثاقیل اربعۃ ونصف کذافی شرح دررالبحار اھ ملخصا ۔
معلوم ہونا چاہئے کہ صاع چار مد اور مد چالیس استار اور استار (ہمزہ پر کسرہ کے ساتھ) ساڑھے چار مثقال ہے جیسا کہ شرح دررالبحار میں ہے اھ ملخصا(ت)
صاع چار مد ہے اور ہر مد چالیس استار اور ہر استار ساڑھے چار مثقال تو ہر مدایك سواسی مثقال ہوا اور مثقال ساڑھے چار ماشہ ہے ولہذا درہم شرعی کہ مثقال کا / سات عشر ہے۔
فی الدرالمختار کل عشرۃ دراھم وزن سبعۃ مثاقیل ۔
درمختار میں ہے ہر دس درہم بوزن سات مثقال کے ہے ۔ (ت)
پچیس رتی اور پانچواں حصہ رتی کا ہوا یعنی ماشہ - / ۵سرخ۔ جواہرالاخلاطی میں ہے :
الدرھم الشرعی وعشرون حبۃ و خمس حبۃ ۔
درہم شرعی پچیس رتیاں اور رتی کا پانچواں حصہ ہے(ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب صدقۃ الفطر مصطفی البابی مصر ٢ / ٨٣
الدرالمختار باب زکوٰۃ المال مجتبائی دہلی ١ / ١٣٤
الجواہرالاخلاطی (قلمی نسخہ) کتاب الزکوٰۃ ص٢٢
#9833 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
کشف الغطاء میں ہے :
بدانکہ معتبر نزد ماصاع عراقی ست وآں ہشت رطل ست ورطل بیست استار واستار چارو نیم مثقال ومثقال بیست قیراط وقیراط یك حبہ وچہار خمس حبہ وحبہ کہ آنرا بفارسی سرخ گویند ہشتم حصہ ماشہ است پس مثقال چہار ونیم ماشہ باشد ۔
واضح رہے ہمارے نزدیك عراقی صاع معتبر ہے اور وہ آٹھ رطل ہے رطل بیس استار کا ہوتا ہے اور استار ساڑھے چار مثقال کا مثقال بیس قیراط کا اور قیراط ایك اور حبہ کے چار خمس کا ہوتا ہے اور حبہ جسے فارسی میں سرخ کہا جاتاہے وہ ماشہ کا آٹھواں حصہ ہوتا ہے لہذا اب مثقال ساڑھے چار ماشے قرار پایا۔ (ت)
اسی حساب سے دوسو درہم نصاب فضہ کے ساڑھے باون تولہ اور بیس مثقال نصاب ذہب کے ساڑھے سات تولے ہوتے ہیں پس چہارم صاع کی مقدار آٹھ سودس ماشے یعنی ساڑھے سڑسٹھ(- / ) تولے ہوئے اور نیم صاع تولے اور اس انگریزی روپیہ سے ایك سو چالیس روپیہ بھر جہاں سیر سو روپے بھر یعنی ترانوے تولے نوماشے کا ہو جیسے بریلی وہاں نیم صاع کے کچھ کم ڈیڑھ سیر یعنی ایك سیر سات چھٹانك دوماشے ساڑھے چھ رتی ہوئے اور ایك صاع کے آدھ پاؤ کم تین سیر اور پانچ ماشے رتی اور انگریزی سیر سے کہ اسی روپے بھر یعنی پورے پچھتر تولے کاہے اور دہلی ولکھنؤ میں وہی رائج ہے ساڑھے تین سیر اور ڈیڑھ چھٹانك اور دسواں حصہ چھٹانك کا ریاست رام پور کا سیر چھیانوے روپے یعنی پورے نوے تولے کا ہے وہاں تین سیر کامل کا ایك صاع وعلی ھذا القیاس فی سائر البقاع(اسی قاعدے پر باقی علاقوں کو قیاس کیا جائے۔ ت)
(و) گندم وجو کے سواچاول دھان وغیرہ کوئی غلہ کسی قسم کا دیاجائے اس میں وزن کا کچھ لحاظ نہ ہوگا بلکہ اسی ایك صاع جو یا نیم صاع گندم کی قیمت ملحوظ رہے گی اگر اس کی قیمت کے قدر ہے تو کافی مثلا نیم صاع گیہوں کی قیمت دو انے ہے تو روپے کے چار سیر والے چاول سے صرف آدھ سیر کافی ہوں گے اور چالیس سیر والے دھان سے پانسیر دینے ہوں گے درمختار میں ہے :
مالم ینص علیہ کذرۃ وخبز یعتبر فیہ القیمۃ ۔
وہ چیزیں جن پر نص مذکورہ نہیں مثلا باجرہ اور روٹی توان میں قیمت کا اعتبار ہے(ت)
حوالہ / References کشف الغطاء فصل دراحکام دعا وصدقہ و نحو ان از اعمال خیربرائے میت مطبع احمدی ، دہلی ص٦٨
الدرالمختار ، باب صدقۃ الفطر ، مجتبائی دہلی ، ١ / ١٤٥
#9835 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
ہندیہ میں ہے :
انما تجب من اربعۃ اشیاء من الحنطۃ والشعیر والتمر والزبیب وما سواہ من الحبوب لایجوز الا بالقیمۃ اھ ملتقطا۔
یہ صرف ان چار چیزوں میں لازم ہے گندم جو کھجور اور منقہ۔ اور جوان کے سوا غلہ جات ہیں ان میں فقط قیمت کا ہی اعتبار ہوگا اھ ملتقطا(ت)
لباب میں ہے :
ھذہ اربعۃ انواع لاخامس لھا واما غیرھا من انواع الحبوب فلا یجوز الا باعتبار القیمۃ کالارزوالذرۃ والماشی والعدس والحمص وغیر ذلک ۔
ان کی چار ہی اقسام ہیں پانچویں کوئی نہیں لہذا ان کے علاوہ غلہ جات میں قیمت ہی کا اعتبار ہوگا مثلا چاول باجرہ ماش مسور اور چنے وغیرہ(ت)
(و) فدیہ نماز و روزہ میں سوال پنجم کی چاروں صورتیں تو بلا شبہ جائز ہیں اور سوال چہارم کی بھی سب صورتیں روا مگر جس میں فقیر کو نصف صاع سے کم دینا ہو اس میں قول راجح عدم جواز ہے سراجیہ ودرمختار و ہندیہ وغیرہا میں اسی پر جزم کیا اور یہی مختار امام ابواللیث ہے۔
فی السراجیۃ لایجوزان یؤدی عن صلوۃ لفقیرین اھ وفی الدرلوادی للفقیر اقل من نصف صاع لم یجز ولو اعطاہ الکل جاز اھ وفی الھندیۃ عن التتارخانیۃ عن الوالجیۃ لودفع عن خمس صلوات تسع امنان لفقیر واحد ومنا لفقیر واحد اختار الفقیہ انہ یجوز عن اربع صلوات ولا یجوز عن
سراجیہ میں ہے کہ ایك نماز کا فدیہ دو فقراء کودینا جائز نہیں اھ اور در میں ہے اگر کسی فقیر کو نصف صاع سے کم دیا تو جائز نہ ہوگا ہاں اگر اسے تمام دے دیا تو جائز ہے اھ اور ھندیہ میں تاتار خانیہ سے وہاں ولوالجیہ سے ہے کہ اگر کسی نے پانچ نمازوں کا فدیہ نو مدایك فقیر کو دیا اور ایك مد ایك فقیرکو تو فقیہ ابواللیث کہتےہیں کہ وہ فدیہ چار نمازوں کا ادا ہوجائے گا پانچویں
حوالہ / References الفتاوی الھندیۃ الباب الثامن فی صدقۃ الفطر نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٩١
الباب المناسك مع ارشادالساری فصل فی احکام الصدقہ دارالکتاب العربی بیروت ص٦٤
فتاوٰی سراجیہ باب قضاء الفوائت نولکشورلکھنؤ ص١٧
درمختار ، باب قضاء الفوائت مجتبائی دہلی ، ١ / ١٠١
#9837 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
الصلوۃ الخامسۃ اھ وفی البحر قال ابوبکر الاسکاف یجوز ذلك کلہ وقال ابوالقاسم وھو اختیار الفقیہ ابی اللیث یجوز عن اربع صلوات دون الخامسۃ لانہ متفرق ولایجوز ان یعطی کل مسکین اقل من نصف صاع فی کفارۃ الیمین فکذلك ھذا فالحاصل ان کفارۃ الصلوۃ تفارق کفارۃ الیمین فی حق انہ لا یشترط فیھا العدد وتوافقھا من حیث انہ لوادی اقل من نصف صاع الی فقیر واحد لایجوز اھ ۔ وفی ظھار التنویر جاز لواطعم واحد استین یوما اھ قلت فاذا جاز ھذا فیما یشترط فیہ التعدد فما لا یشترط فیہ اولی بالجواز۔
کانہیں اھ۔ بحر میں ہے کہ شیخ ابوبکر اسکاف نے کہا کہ وہ تمام نمازوں کا فدیہ ہوگا ابوالقاسم کہتے ہیں اور یہی فقیہ ابواللیث کا مختار ہے کہ یہ چار نمازوں کا فدیہ ہوگا پانچویں کا نہیں کیونکہ اس سے تفریق ہوگئی اورکفارہ قسم میں ہر مسکین کو نصف صاع سے کم نہیں دیا جاسکتا یہاں بھی حکم اسی طرح ہے تو حاصل یہ ہوا کہ نماز کا کفارہ اس لحاظ سے کفارہ قسم سے الگ ہے کہ اس میں تعداد شرط نہیں اور اس لحاظ سے موافق ہے کہ اگر ایك فقیر کو نصف صاع سے کم دیاجائے تو جائز نہیں ا ھ تنویر کے مسئلہ ظہار میں ہے کہ اگر ایك ہی فقیر کو ساٹھ دن کھانا کھلایا تو یہ جائز ہوگا اھ قلت جب یہ وہاں جائز یہاں تعدد شرط ہے تووہاں بطریق اولی جائز ہونا چاہئے جہاں تعدد شرط نہیں ہے۔ (ت)
()مصرف اس کا مثل مصرف صدقہ فطر و کفارہ یمین وسائر کفارات و صدقات واجبہ ہے بلکہ کسی ہاشمی مثلا شیخ علوی یا عباسی کو بھی نہیں دے سکتے۔ غنی یا غنی مرد کے نابالغ فقیر بچے کونہیں دے سکتے کافر کونہیں دے سکتے جو صاحب فدیہ کی اولاد میں ہے جیسے بیٹا بیٹی پوتا پوتی نواسا نواسی یا صاحب فدیہ جس کی اولاد میں جیسے ماں باپ دادا دادی نانانانی انہیں نہیں دے سکتے اور اقربا مثلا بہن بھائی چچا ماموں خالہ پھوپھی بھتیجا بھتیجی بھانجا بھانجی ان کو دے سکتے ہیں جبکہ اور موانع نہ ہوں یونہی نوکروں کو جبکہ اجرت میں محسوب نہ کریں۔
فی ردالمحتار مصرف الزکوۃ ھو مصرف
ردالمحتار میں ہے جو زکوۃ کا مصرف ہے صدقۃ الفطر
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ باب قضاء الفوائت نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٢٥
البحرالرائق باب قضاء الفوائت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٩١
تنویرالابصار متن درمختار باب الکفارۃ مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٢٥١
#9838 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
ایضا لصدقۃ الفطر والکفارۃ والنذر وغیرذلك من الصدقات الواجبۃ کما فی القھستانی ۔ اقول : وھو متمش علی تصحیح ما عن ابی یوسف من عدم جواز شئی من الصدقات الواجبۃ لکافر ذمی قال فی الدرلاتدفع (ای الزکوۃ) الی ذمی وجاز دفع غیرھا وغیرالعشر والخراج الیہ ای الذمی ولو واجباکنذروکفارۃ وفطرۃ خلافا للثانی وبقولہ یفتی حاوی القدسی اھ وفیہ لو دفعھا المعلم لخلیفۃ ان کان بحیث یعمل لہ لولم یعطہ صح والالا اھ وفی معراج الدرایۃ ثم الھندیۃ وکذا مایدفعہ الی الخدم من الرجال والنساء فی الاعیاد وغیرھا بنیۃ الزکوۃ ۔
کفارہ نذر اور دیگر صدقات واجبہ کا بھی وہی مصرف ہے قہستانی۔ اقول : (میں کہتا ہوں۔ ت) یہ اس راہ کو اختیار کیا گیا جو امام ابویوسف سے مروی قول کی تصحیح کے مطابق ہے کہ صدقات واجبہ کسی کافر ذمی کو دینا ناجائز ہے۔ درمیں ہے ذمی کو (زکوۃ) نہیں دی جاسکتی البتہ زکوۃ عشر اور خراج کے علاوہ صدقات ذمی کودئے جاسکتے خواہ وہ صدقہ واجبہ ہی ہوں مثلا نذر کفارہ اور صدقہ فطر اس میں امام ابویوسف کا اختلاف ہے امام مذکور کے قول پر حاوی مقدسی نے فتوی دیا ہے اھ اور اسی میں ہے اگر معلم نے اپنے خلیفہ کو زکوۃ دی اگر وہ اس طرح کام کرتا ہے کہ اگر معلم نہ دیتا تب بھی وہ اس کاکام کرتا ایسی صورت میں دینا درست ہے ورنہ نہیں اھ اور معراج الدرایہ اور ہندیہ میں ہے اسی طرح حکم ہے اس رقم کا جوبہ نیت زکوۃ عید وغیرہ کے موقعہ پر خدام مردوں یا عورتوں کو دی جاتی ہے(ت)
صدقات واجبہ زوجین کو بھی نہیں دے سکتے۔ اقول : فدیہ نماز و روزہ جب بعد مرگ دیا جائے تو مقتضائے نظر فقہی یہ ہے کہ زوجہ کا فدیہ شوہر فقیر کو فورا اور شوہر کا زوجہ فقیرہ کو بعد عدت گزرنے کے دینا جائز ہو کہ اب زوجیت نہ رہی اور شوہر زوجہ کے مرتے ہی اجنبی ہوجاتا ہے ولہذا اسے مس جائز نہیں ۔
فی الدرالمختار لایصرف الی من بینھا زوجیۃ ولومبانۃ قال الشامی ای
درمختار میں ہے کہ زکوۃ ان کو نہ دی جائے جن کے درمیان زوجیت کا تعلق ہوخواہ خاتون کو طلاق بائنہ
حوالہ / References ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ٢ / ٦٤
درمختار باب المصرف مجتبائی دہلی ١ / ١٤١
درمختار باب المصرف مجتبائی دہلی ١ / ١٤٢
الفتاوی الہندیۃ الباب السابع فی المصارف نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٩٠
درمختار باب المصرف مجتبائی دہلی ١ / ١٤١
#9840 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
فی العدۃ ولو بثلاث نھر معراج الدرایہ اھ وفی ردالمحتار عن بدائع الامام ملك العلماء المرأۃ تغسل زوجھا لان اباحۃ الغسل مستفادۃ بالنکاح فتبقی مابقی النکاح والنکاح بعدالموت باق الی ان تنقضی العدۃ بخلاف مااذا ماتت فلا یغسلھا لانتھاء ملك النکاح لعدم المحل فصار اجنبیا واﷲتعالی اعلم۔
ہوچکی ہو اھ۔ علامہ شامی نے فرمایا یعنی وہ عدت میں ہو اگر چہ تین طلاقیں ہوچکی ہوں یہ نہر میں معراج الدرایہ سے ہے اھ ردالمحتار میں امام ملك العلماء کی بدائع سے ہے کہ خاتون اپنے خاوند کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ غسل کی اباحت نکاح کی وجہ سے حاصل ہوئی تو جب تك نکاح باقی ہے اباحت بھی باقی رہے اور نکاح تو خاوند کی موت کے بعد بھی باقی رہتا ہے یہاں تك کہ عدت گزرجائے بخلاف اس صورت کہ جب بیوی فوت ہوجائے تو خاوند اسے غسل نہیں دے سکتا کیو نکہ محل نہ رکھنے کی وجہ سے نکاح ختم ہوگیا لہذا اب خاوند اجنبی قرار پائے گا واﷲتعالی اعلم(ت)
(۷) قیمت افضل ہے مگر قحط میں کھانا دینا بہتر
فی الدرالمختار دفع القیمۃ ای الدراھم افضل من دفع العین علی المذھب المفتی بہ جوھرۃ بحرعن الظھیریۃ وھذا فی السعۃ امام فی الشدۃ فدفع العین افضل ۔
درمختار میں ہے مفتی بہ مذہب کے مطابق قیمت یعنی دراھم کاادا کرنا عین شے سے افضل ہے جوہرہ۔ اور بحر میں ظہیریہ سے ہے کہ یہ عام حالات یعنی آسانی کے وقت ہے اگر کسی وقت شدت اور قحط ہوتو عین شئی کا دینا افضل ہوگا۔ (ت)
باقی احکام نقد وغلہ یکساں ہیں مگر وہ تفاوت جو خاص گندم وجو میں بسبب اعتبار وزن معتبر شرعی اسقاط میں لحاظ مالیت کا ہے مثلا فرض کیجئے کہ نیم صاع گندم کی قیمت دوآنہ ہے اور ایك صاع جو کی ایك آنہ تو ایك آنہ کی قیمت کی کوئی چیز کپڑ ا کتاب چاول باجراوغیرہا بلحاظ قیمت جو دے سکتے ہیں اگر چہ گندم کی قیمت نہ ہوئی مگر چہارم صاع گندم کافی نہیں اگر چہ قیمت ان کی بھی ایك صاع جو کے برابر ہوگئی کہ چار چیزیں جن پر نص شرعی وارد ہوچکی ہے یعنی گندم جو خر ما کشمش ان میں قیمت کا اعتبار نہیں جتنا وزن شرعا واجب ہے اس قدردیناہوگا۔
حوالہ / References ردالمحتار باب المصرف مصطفی البابی مصر ٢ / ٦٩
ردالمحتار باب الجنائز دارا حیاء التراث العربی بیروت ١ / ٥٧٦
الدرالمختار باب الصدقۃ الفطر مجتبائی دہلی ١ / ١٤٥
#9841 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
فی محیط الامام السرخسی ثم الھندیۃ لوادی ربع صاع من حنطۃ جیدۃ تبلغ قیمتہ قیمۃ نصف صاع من شعیر لا یجوز عن الکل بل یقع عن نفسہ وعلیہ تکمیل الباقی وکذا لا یجوز ربع صاع من حنطۃ عن صاع من شعیر اھ ملخصا فی البدائع لان القیمۃ انما تعتبر فی غیر المنصوص علیہ
محیط امام سرخسی پھر ہندیہ میں ہے کہ اگر کسی نے ایسی جید گندم کا چوتھائی صاع ادا کیا جس کی قیمت جو کے نصف صاع کو پہنچ جاتی ہے تو یہ کل کی طرف سے جائز نہیں بلکہ یہ اپنی طرف سے عطیہ ہے باقی کی تکمیل کرنا اس پر لازم ہو گا اور اسی طرح گندم کا چوتھائی صاع جوجو کے صاع کی قیمت کو پہنچ جائے دینا جائز نہیں اھ بدائع میں ہے کیونکہ قیمت کا اعتبار وہاں ہے جہاں نص میں عین کی تصریح نہیں(ت)۔
قیمت میں نرخ بازار آج کا معتبر نہ ہوگا جس دن ادا کررہے ہیں بلکہ روز وجوب کا مثلا اس دن نیم صاع گندم کی قیمت دو آنے تھی آج ایك آنہ ہے تو ایك آنہ کافی نہ ہوگا۔ دو آنے دینا لازم اور ایك آنہ تھی اب دو آنے ہوگئی تو دو آنے ضرور نہیں ایك آنہ کافی۔
فی الدرالمختار جاز دفع القیمہ فی زکوۃ وعشر وخراج وفطرۃ ونذروکفارۃ غیرالعتاق وتعتبر القیمۃ یوم الوجوب وقالایوم الاداء
درمختار میں ہے کہ زکوۃ عشر خراج صدقہ فطر نذر عتاق کے علاوہ کفار ہ میں قیمت کا دینا جائز ہے اور قیمت یوم وجوب کے اعتبار سے ہوگی اور صاحبین کی رائے کے مطابق یوم ادا کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا(ت)
(۸) یہاں صورتیں متعدد ہیں فدیہ والا اپنی حیات میں فدیہ ادا کرتا ہے جیسے شیخ فانی روزے کا یا اس کے بعد وارث بلا وصیت بطور خود دیتا ہے یا بحکم وصیت ادا کیا جاتا ہے اور درصورت وصیت مدیون پر یہ دین بعد موت مورث حادث ہواہے جیسے کسی نے ترکہ سے کوئی چیز غصب کرکے صرف کر ڈالی کہ اس کے تاوان کا اس پر دین آیا یا دین حیات مورث کا ہے تو یہ چار صورتیں ہیں۔ صورت اخیر میں عدم صحت کا حکم درمختار وغیرہ میں مصرح ہے یعنی زید پر نماز روزے وغیرہما کا فدیہ تھا اس نے وصیت کی کہ میرے مال
حوالہ / References الفتاوی الہندیۃ الباب الثامن فی صدقۃ الفطر نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١٩٢
بدائع الصنائع کتاب الزکوٰۃ ایچ ایم سعید کراچی ٢ / ٧٣
الدرالمختار باب زکوٰۃ الغنم مجتبائی دہلی ١ / ١۳٣
#9842 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
سے ادا کرنا عمرو فقیر حیات زید سے زید کا مدیون تھا وصی نے وہ دین فدیہ میں عمرو کو چھوڑ دیا فدیہ ادا نہ ہوا
قال قبیل باب الوصی اوصی لصلواتہ و ثلث مالہ دیون علی المعسرین فترکھا الوصی لھم عن الفدیۃ لم تجزہ ولا بد من القبض ثم التصدق علیھم ولو امران یتصدق بالثلث فما ت فغصب غاصب ثلثھا مثلا واستھلکہ فترکہ صدقۃ علیہ وھو معسر یجزیہ لحصول قبضہ بعد الموت بخلاف الدین الکل من القنیۃ اھ
فی ردالمحتار قولہ اوصی لصلواتہ او صیاماتہ منح قولہ لم تجزہ وقیل تجزہ قال فی القنیۃ قال استاذنا والاول احب الی حتی توجد الروایۃ قولہ بخلاف الدین ای فی المسألۃ السابقۃ فانہ مقبوض قبل الموت بقی لواوصی بکفارۃ صلواتہ والمسألۃ بحالھا ھل یجزیہ لحصول قبضہ بعد الموت اولا یراجع اھ
باب الوصی سے تھوڑا پہلے ہے کسی نے اپنی نمازوں پر فدیہ کی وصیت کی اور اس کے مال کا تہائی حصہ تنگ دست لوگوں پر دین تھا وصی نے وہ حصہ ان تنگ دستوں پر نمازوں کے فدیہ کے طور پر چھوڑ دیا تو کافی نہ ہوگاکیونکہ پہلے قبضہ ضروری ہے اور اس کے بعد ان پر صدقہ کرے تو تب درست ہوگا اگر اس نے کہا میرا تہائی مال صدقہ کردیا جائے پھر وہ فوت ہوگیا اور کسی غاصب نے مثلا تہائی مال غصب کرلیا اور اسے ہلاك کردیا (حالانکہ وہ غریب تھا) وصی نے بطور صدقہ وہ مال اس سے نہ لیا تو جائز ہوگا کیونکہ موت کے بعد وصی کو قبضہ حاصل تھا بخلاف اس صورت کے جب مال کسی پر قرض ہو یہ مسائل قنیہ سے مروی ہیں اھ
ردالمحتار میں ہے قولہ “ فوت ہونے والے نے اپنی نمازوں یا روزوں کے بارے میں وصیت کی “ منح۔ قولہ “ یہ کفایت نہیں کرے گا “ لیکن بعض کے نزدیك یہ کافی ہے۔ قنیہ میں ہے کہ ہمارے استاذ نے فرمایا مجھے پہلا قول بہت محبوب ہے حتی کہ کوئی دوسری روایت آجائے۔ قولہ “ بخلاف قرض “ یعنی گزشتہ مسئلہ میں کیونکہ مال موت سے پہلے قبضہ میں نہیں ہوگا۔ باقی رہایہ معاملہ کہ اگر کسی نے
حوالہ / References الدرالمختار ، فصل فی وصایا الذمی ، مجتبائی دہلی ، ٢ / ٣٣٤
ردالمحتار فصل فی وصایا الذمی داراحیاء التراث العربی بیروت ٥ / ٤٤٧
#9843 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
ارادبقولہ والمسألۃ بحالھا مسألۃ الغصب ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ
اقول : وباﷲ التوفیق ولہ الحمد تبتنی عندی مسألتا الفدیہ والغصب علی ان الوصیۃ بالمال لاتتناول الدین ماکان دینا فاذاصار عینا بالقبض تناولتہ کما صرح بہ فی الظہیریۃ حیث قال اذا کان مائۃ عین ومائۃ درھم علی اجنبی دین فاوصی لرجل بثلث مالہ فانہ یا خذ ثلث العین دون الدین الاتری ان حلف ان لامال لہ ولہ دیون علی الناس لم یحنث ثم ماخرج من الدین اخذ منہ ثلثہ حتی یخرج الدین کلہ لانہ لما تعین الخارج مالا التحق بماکان عینا فی الابتداء ولا یقال لما لم یثبت حقہ فی الدین قبل ان یتعین کیف یثبت حقہ فیہ اذا تعین لانا نقول مثل ھذا غیر ممتنع الا تری
نمازوں کے کفارہ کی وصیت کی اور صورت مذکورہ ہی ہوتو موت کے بعد حصول قبضہ کی وجہ سے یہ کافی ہوگایا نہیں اس پر غور کیاجائے اھ والمسئلۃ بحالھا سے مراد مسئلہ غصب ہے ردالمحتار کے حاشیہ پر بندہ نے جو کچھ تحریر کیا ہے وہ یہ ہے۔ اقول : اﷲکی توفیق اور اسی کے لیے حمد ہے سے کہتا ہوں میرے نزدیك فدیہ او رغصب کا مسئلہ اس پر مبنی ہے کہ وصیت بالمال دین کو شامل ہی نہیں جب تك وہ دین رہے ہاں جب وہ دین قبضہ کی وجہ سے عین ہوجائے تو پھر وصیت اسے شامل ہوگی جیسا کہ ظہیریہ میں ان الفاظ سے صراحت کی ہے کہ جب ایك سودرہم عین اورایك سو درہم کسی اجنبی پر دین تھے تو فوت ہونے والے نے تہائی مال کی وصیت کی تواب عین کی تہائی سے وہ مال لیا جائے گا نہ کہ دین سے کیا آپ کے علم میں نہیں اگر کوئی آدمی حلف اٹھاتا ہے کہ اس کے پاس مال نہیں حالانکہ اس نے لوگوں سے قرض لینا ہے تو اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی پھر دین میں جو حصہ خارج ہوگا اس سے تہائی لیا جائے یہاں تك کہ سارا دین خارج ہوجائے کہ جب خارج ہونے والا مال متعین ہوجائے تو اس مال کے ساتھ لاحق ہوجائے گا جو ابتدائی طور پر عین تھا یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ جب متعین ہونے سے پہلے دین میں مالك کا حق ثابت نہیں ہوا تو متعین ہو جانے کے بعد حق کیسے ثابت ہوگاکیونکہ ہم کہتے ہیں اس طرح کا معاملہ ممتنع نہیں ہوتا کیا آپ نہیں جانتے کہ جس کے حق میں تہائی
#9844 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
ان الموصی لہ بثلث المال لایثبت حقہ فی القصاص ومتی انقلب مالا یثبت حقہ فیہ اھ۔
وبہ یحصل التوفیق بین قولی الخانیۃ لا تد خل الدیون ای فی الوصیۃ بالمال والو ھبانیۃ ان الدخول اجدرکما جنح الیہ فی منحۃ الخالق فراجعھا من شئی القضاء ففی مسألۃ الفدیۃ لما کان الدین سابقا علی الموت وقد ارادالوصی اسقاطہ قبل القبض فیکون انفاذ اللوصیۃ فیما لم تتناولہ فلا یجوز مالم یقبض فیتصدق و فی مسألۃ الغصب لما کان المال عینا عندالوفاۃ وانما حصل قبض الغاصب واستھلا کہ وصیر ورتہ دینا بعد الموت فقد تناولتہ الوصیۃ فجاز ھذا ماظھر لی وبہ یظھر الجواب عما توقف فیہ العلامۃ المحشی بقولہ یراجع فانہ لاغبار علیہ من ھذہ الجھۃ الا ان یثبت ان اداء الکفارات بترك الدین لایجوز اصلا وفیہ وقفۃ فلیراجع ولیحرراھ ماکتبت علیہ۔
مال کی وصیت کی گئی اس کا حق قصاص میں ثابت نہیں ہوتاوہ جب تبدیل ہوکر مال بن جائے تو اس میں اس کا حق ثابت ہوجائے گا اھ۔ اس سے خانیہ اور وہبانیہ کے دونوں اقوال میں تطبیق ہوجائے گی۔ خانیہ میں ہے کہ دیون وصیت بالمال میں داخل نہیں ہوتے۔ وہبانیہ میں ہے کہ دیون کا اس میں دخول زیادہ مناسب ہے جیسا کہ منحۃ الخالق میں اسی طرف میلان ہے تو اس کے لیے منحۃ الخالق میں قضا کے متفرق مسائل کی طرف رجوع کرو۔ رہا مسئلہ فدیہ کا معاملہ تو دین موت سے پہلے تھا اور وصی نے قبضہ سے پہلے ہی اس کے اسقاط کا ارادہ کیا تو یہ وصیت کا ایسی چیز میں اجرا ہوگا جس کو یہ شامل ہی نہیں تو جب تك قبضہ نہ ہو اور صدقہ نہ کیا جائے یہ جائز نہ ہوگا اور مسئلہ غصب میں وفات کے وقت مال عین تھا پھر غاصب کا قبضہ اس کا اسے ہلاك کرنا اور اس کا دین بننا یہ سب موت کے بعد ہوا ہے تو اسے وصیت شامل ہوگی تو اس طرح یہ جائز ہے یہ وہ تھا جو مجھ پر واضح ہوا۔ اوراس سے اس چیز کا جواب بھی آگیا جس میں علامہ محشی نے لفظ “ یراجع “ سے توقف کیا کیونکہ اس اعتبار سے اس پر کوئی غبار نہیں مگر جب یہ ثابت ہوجائے کہ کفارات کی ادائیگی ترك دین سے اصلا جائز ہی نہیں اور اس میں توقف ہے چاہئے یہ کہ جو ہم نے تحریر کیا ہے اس تمام کا مطالعہ کیا جائے اھ میرا حاشیہ ختم ہوا۔ (ت)
باقی صور کا حکم قابل تفتیش و مراجعت ہے ۔ اقول : وباﷲالتوفیق امر متحمل ہے اور قائل کہہ سکتا ہے کہ قاعدہ شرعیہ ادائے کامل بہ کامل ہے نہ کامل بنا قص۔ ولہذا اوقات ثلثہ میں کوئی نماز ادا وقضا جائز نہیں مگر آج کی عصر یا اس جنازے کی نماز جو انہیں اوقات میں لایا گیا لتأدیھما حینئذکما وجبتا
#9846 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
والمسائل بتعلیلا تھا مذکورۃ متونا وشروحا( کیونکہ ان کی ادائیگی اس طرح ہورہی ہے جس طرح وہ واجب ہوئے تھے اور یہ تمام مسائل اپنی تعلیلات کے ساتھ متون اور شروحات میں مذکور ہیں ۔ ت) روزوں میں کوئی ناقص نہیں اور قضا نمازیں عموما کامل ہیں ولہذا کل کی عصر آج آفتاب ڈوبتے قضا نہیں کی جاسکتی اور جو مال کسی پر دین ہو جب تك وصول نہ ہومال کامل نہیں ناقص ہے خصوصا جبکہ کسی مفلس پر ہو کہ وہ تو گویا مردہ مال ہے ولہذا حاصل ملك مال کہ تمول وغنا نہیں ہوتا زید کے لاکھ روپے کسی مفلس پر قرض آتے ہوں جب تك پاس نصاب نہ ہو فقیر ہے خود زکوۃ لے سکتا ہے۔
فی الاشباہ من لہ دین علی مفلس مقر فقیر علی المختار ۔
اشباہ میں ہے جس کا کسی ایسے شخص پر قرض ہو جو مفلس اقرار کرنے والا ہو تو مختار قول پر وہ فقیر ہے۔ (ت)
بلکہ عرفا دین کو مال ہی نہیں کہتے اگر لاکھوں قرض میں پھیلے ہوں اور پاس کچھ نہیں تو قسم کھا سکتا ہے کہ میرا کچھ مال نہیں کما تقدم عن الظھیریۃ ومثلہ فی البحروالتنویروغیرھما(جیسا کہ ظہیریہ کے حوالے سے پہلے گزرا اس کی مثل بحر تنویر اور دیگر کتب میں ہے۔ ت) ولہذا کسی عین یعنی نصاب موجود کی زکوۃ دین بہ نیت زکوۃ معاف کر دینے سے ادا نہیں ہو سکتی کہ نصاب موجود مال کامل ہے تو مال ناقص اس کی زکوۃ نہیں ہوسکتا بلکہ جو دین آئندہ ملنے کا ہے اس کی زکوۃ بھی معافی دین سے ادا نہ ہوگی کہ دین باقی دین ساقط سے بہتر ہے دین ساقط اب کبھی مال نہیں ہوسکتا اور دین باقی میں احتمال ہے شاید وصول ہوکر مال ہوجائے ہاں جو نصاب کسی فقیر پر دین تھی وہ کل یا بعض اسے معاف کردے تو قدرمعاف شدہ کی زکوۃ ساقط ہوگئی کہ ناقص ناقص سے ادا ہوسکتاہے۔
فی الدرالمختار لوابرأالفقیر عن النصاب صح و سقط عنہ واعلم ان اداء الدین عن الدین و العین عن العین وعن الدین یجوز واداء الدین عن العین وعن دین سیقبض لا یجوز اھ فی تبیین الحقائق لو کان لہ
درمختار میں ہے : اگر کسی نے فقیر کو نصاب سے بری کردیا تو صحیح ہوگا اور اس سے زکوۃ ساقط ہوجائیگی۔ واضح رہے کہ دین کی ادائیگی دین سے اور عین کی ادائیگی عین سے اور دین دونوں سے جائز ہے لیکن دین کی ادائیگی عین سے اوراس دین سے جو عنقریب مقبوض ہوگا ان دونوں سے جائز نہیں اھ
تبیین الحقائق میں ہے اگر کسی کا فقیر پر
حوالہ / References الاشباہ والنظائر ، تاب الزکوٰۃ ، دارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ، / ٢٢٠
درمختار کتاب الزکوٰۃ مجتبائی دہلی ١ / ١٣٠
#9848 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
دین علی فقیر فابرأہ عنہ سقط منہ زکوۃ نوی بہ عن الزکوۃ او لا لانہ کالھلاك ولوابرأہ عن البعض سقط زکوۃ ذلك البعض لما قلنا وزکوۃ الباقی لاتسقط ولو نوی بہ الاداء عن الباقی لان الساقط لیس بمال والباقی یجوز ان یکون مالافکان خیرامنہ فلایجوز الساقط عنہ اھ ۔
دین تھا اس نے فقیر کو قرض سے بری کردیا تو اس سے زکوۃ ساقط ہوجائے گی خواہ اس سے زکوۃ کی اس نے نیت کی ہو یا نہ اس لیے کہ یہ ہلاك ہونیوالے مال کی طرح ہے اور اگر بعض نے ساقط کیا تو سابقہ دلیل کی بناپر بعض سے ساقط ہوجائیگی لیکن باقی سے زکوۃ ساقط نہ ہوگی اگر چہ باقی سے ادائیگی کی نیت کی گئی ہوکیونکہ جو ساقط ہے مال نہیں اور جو باقی ہے اس کا مال ہونا ممکن ہے تو باقی ساقط سے بہتر ٹھہرالہذا اس سے سقوط نہیں ہوگا اھ (ت)
یہ تقریر منیر بتوفیق القدیر اقتضاء کرتی ہے کہ دین معاف کرنے سے فدیہ مطلقا ادا نہ ہوجب تك وصول کرکے فدیہ میں نہ دی اس تقدیرپر وہ حیلہ ہند والوں میں متعارف ہے اور بعض متاخرین فضلائے ہند نے اسے کشف الغطا میں ذکر کیا کہ :
متعارف چنان ست کہ حساب کنند سالہائے میت را داد نی مدت بلوغ کہ در مرد دواز دہ سال و در زن نہ سال ست وضع کنند باقی را مقابل ہر شش نماز واجب شبانہ روز سہ صاع کامل گیر ند و ماہ کامل سی روز اعتبار کنند تا فدیہ نماز ہائے یك سال کہ سی صد وشصت روز ست یك ہزار وہشتاد صاع حاصل آید و پانزدہ صاع فدیہ رمضان افزایند ہمگی فدیہ تمام سال یك ہزار ونودوپنج صاع شود ہمیں طریق سالہائے تمام عمر را حساب کنند وحاصل آن را موافق قیمت مبلغ شخص نمایند وبنا بر ضرورت عسرت
معروف یہ ہےکہ میت کی عمر کے تمام سالوں کا حساب لگاتے ہیں کم ازکم مدت بلوغ جو مرد میں بارہ سال اور عورت میں نو سال ہے نکال کر باقی عمر ہردن رات کی چھ نمازوں کے مقابل(اعتبار سے) تین صاع لیتے ہیں اور ہر ماہ کے تیس دن شمار کئے جاتے ہیں حتی کہ ایك سال (جو تین سوساٹھ دنوں کا ہے) کی نمازوں کا فدیہ ایك ہزاراسی صاع بنتا ہے اور صاع رمضان کا فدیہ زیادہ کرتے ہیں تو تمام سال کا فدیہ ایك ہزار پچانوے() صاع ٹھہرا پس اسی طریقے سے تمام سالوں کا حساب کرلیا جائے اور اس کے حاصل کے مطابق اس کی قیمت
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الزکوٰۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ مصر ١ / ٢٥٨
#9849 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
مصحفے را بمثل آنقدر زربد ست فقیرے فروشند وتسلیم نمایند تا آنقدر زر بر ذمہ اش دین شود پس بگویند کہ ایں قدر زر را کہ بر ذمہ تو دین ست عوض فدیہ نماز وروزہ ہائے فلاں میت کہ بایں قدر می رسد ترادادیم وبگوید فلاں کردیم واگر مبلغ حساب بکنند وقرآن را بمثل آں را عوض فدیہ بوے بخشند داد قبول نماید نیز کفایت می کنند ۔
دے دی جائے اگر تنگ دستی ہوتو ایك مصحف کو اس مقدار کے زر پر کسی فقیر کو فروخت کردیں اور یہ اس کے ذمہ دین کردیں اس کے بعد اسے کہیں کہ تیرے ذمہ جو دین آیا ہے یہ فلاں کی نماز اور روزوں کا فدیہ میں نے تجھے دیا ہے وہ فقیر کہ اسے قبول کرتا ہو اگر قیمت کا حساب نہ کریں اور قرآن کو اس کی مقدار جنس کے ساتھ ہدیہ کریں تاکہ یہ جنس اس کے ذمہ ہوجائے اور اسے فدیہ کے عوض بخش دیں اور وہ قبول کرے تو یہ بھی کفایت کر جائے گا(ت)
اہرا محض ناتمام و ناکافی ہے اور اس پر ایك قرینہ واضحہ یہ بھی ہے کہ عامہ کتب معتمدہ مذہب میں ضرورتمند کے لیے جو حیلہ اس کا ارشاد فرمایا سخت دقت طلب اور بہت طول عمل ہے جس کا خود ان فاضل کو اعتراف ہے یہ متعارف طریقہ ذکر کرکے لکھا :
ومشہور و منقول دراکثر کتب چنانست کہ قدرے گندم کہ میسر شود منجملہ فدیہ بایں نام بہ فقیر دہند واوقبول کند پس از وے طلب نما یند وبستا نند بازبوے بدہمان نا م دہند وہمچنیں مکرر کنند تا آنکہ فدیہ نماز وروزہ در فدیہ ہاتمام ادا شود وایں حیلہ خالی از تکلف نیست ۔ مشہور اور اکثر کتب میں منقول یہ ہے کہ جو بھی گندم میسر ہو نماز روزہ کے فدیہ کے طور پر اسے فقیر کو دیا جائے وہ قبول کرے اس کے بعد اس سے بطور ہبہ لے لیں پھر اسے بطور فدیہ دے دیں اسی طرح بار بار کریں حتی کہ نماز وروزہ کا فدیہ مکمل ہوجائے اوریہ حیلہ تکلف سے خالی نہیں۔ (ت)
اقول : اسی حیلہ جمیلہ کی تصریح فرمائی درمختار و بزازیہ و خلاصہ و عالمگیریہ و بحرالرائق وغنیہ وصغیری شروح منیہ وفتح اﷲ المعین حاشیہ کنز ومنحۃ الخالق و طحطاوی علی الدرالمختار وردالمحتار میں زائدین علی مافی الشرح کلھم فی باب قضاء الفوات(جو شرح میں ہے اس پر اضافہ کرتے ہوئے ان سب نے یہ مسئلہ باب قضاء الفوات میں ذکر کیاہے۔ ت) اور جامع الرموز وبرجندی شروح نقایہ و
حوالہ / References کشف الغطا فصل دراحکام دعا وصدقہ ونحوان از اعمال خیر برائے میت مطبع احمد ی دہلی ص٦٧
کشف الغطا فصل دراحکام دعا وصدقہ ونحوان از اعمال خیر برائے میت مطبع احمد ی دہلی ص٦٨
#9850 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں کلھم فی الصوم (ان سب نے کتاب الصوم میں یہ مسئلہ ذکر کیا ہے۔ ت) اسی کو علامہ عبد الغنی بن اسمعیل نابلسی قدس سرہ القدسی نے شرح ہدایہ ابن العمار میں اپنے والد ماجد علامہ اسمعیل بن عبدالغنی نابلسی محشی درر وغرر انہوں نے احکام الجنائز سے نقل فرمایا کما فی منحۃ الخالق ( جیسا کہ منحۃ الخالق میں ہے۔ ت) اسی پر امام اجل ناصر الدین ابو القاسم محمد بن یوسف حسینی سمر قندی نے ملتقط میں نص فرمایا کما فی شرح مختصر الوقایۃ عبد العلی(جیسا کہ شرح مختصر الوقایہ عبد العلی میں ہے۔ ت) اسی طرح علامہ مدقق علائی نے در منتقی شرح ملتقی اور علامہ شریف ابوالسعود ازہری نے شرح نورالایضاح میں تصریح فرمائی کما فی شرحہ للسیداحمد المصری(جیسا کہ سید احمد مصری کی شرح میں ہے۔ ت) یہی تبیین المحارم علامہ سنان الدین یوسف مکی میں مذکور کما فی شفاء العلیل و بل العلیل للعلامۃ الشامی( جیساکہ شفاء العلیل وبل العلیل للعلامۃالشامی میں ہے۔ ت) یہ سب عبارات اور ان سے زائد اس وقت فقیر کے پیش نظر ہیں بلکہ شفاء العلیل سے ہمارے ائمہ کی کتب فروع و اصول کی طرف اس کی نسبت ظاہر۔
حیث قال اعلم المذکورفیما رأیتہ من کتب ائمتنا فروعا واصولا انہ اذالم یوص بفدیۃ الصوم یجوز ان یتبرع منہ ولیہ وھو من لہ التصر ف فی مالہ بوراثۃ او وصایۃ قالو اولولم یملك شیأ ایستقرض الولی شئیا فید فعہ للفقیر ثم یستو ھبہ منہ ثم یدفعہ لاخروھکذا حتی یتم ۔
اس کے الفاظ یہ ہیں میرے مطالعہ کے مطابق ہمارے ائمہ کی کتب خواہ فروع یا اصول میں ہوں یہ مذکور ہے کہ جب میت نے فدیہ صوم کی وصیت نہ کی ہوتو اس کا ولی بطور نفل فدیہ دے سکتا ہے اور ولی سے مراد وہ شخص ہے جواس کے مال میں بطور وارث یا وصی ہونے کے ناطہ سے تصرف کر سکتا ہو فقہاء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر ولی کسی شئے کامالك نہ ہو تو کسی سے قرض لے کر فقیر کو دے اس سے بطور ہبہ واپس لے پھر فقیر کو دے اسی طرح باربار کیا جائے حتی کہ فدیہ پورا ہوجائے۔ (ت)
اور فاصل سید علا ء الدین شامی نے منۃ الجلیل میں اسے متون و شروح و حواشی کی طرف نسبت کیا
حیث قال والمنصوص فی کلامھم متونا و شروحا وحواشی ان الذی یتولی
اس کی عبارت یہ ہے متون شروح اور حواشی میں یہ منصوص ہے یہ سارا کچھ ولی کر سکتا ہے اور ولی
حوالہ / References شفاء العلیل ، رسالہ من رسائل ابن عابدین ، الرسالۃ السابعۃ ، سہیل اکیڈمی لاہور ١ / ١٩٦
#9852 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
ذلك انما ھو الولی وان المراد بالولی من لہ ولایۃ التصرف فی مالہ بوصایۃ اووراثۃ وان المیت لولم یملك شیأ یفعل لہ ذلك الوارث من مالہ ان شاء فان لم یکن للوارث مال یستوھب من الغیر اویستقرض بلید فعہ للفقیر ثم یستوھبہ من الفقیر وھکذا الی ان یتم المقصود ۔
سے مراد وہ شخص ہے جو میت کے مال میں اس کی وصیت یا وارث ہونے کی حیثیت سے تصرف کرسکتا ہو اور میت اگر کسی شے کا مالك نہ ہو تو وارث اپنے مال سے بھی یہ حیلہ کرسکتا ہے تاکہ کسی فقیر کودے پھر فقیر سے بطور ہبہ واپس لے اسی طرح کرے یہاں تك کہ مقصود ہوجائے۔ (ت)
یہ ائمہ متقدمین سے لے کر ہمارے زمانے تك کے علمائے متاخرین کے نصوص ہیں جن میں سوا اس طریقہ دور کے طریقہ دین کا اصلا پتا نہ دیااور طریقہ دور میں جو سخت تکلیف ہے مخفی نہیں۔ وجیز امام کردری میں ہے :
ان لم یکن لہ مال یستقرض نصف صاع و یعطیہ المسکین ثم یتصدق بہ المسکین علی الوارث الی المسکین ثم الوارث الی المسکین ثم وثم حتی یتم لکل صلوۃ نصف صاع کما ذکرنا ۔
اگر وارث کے پاس مال نہ ہو تو وارث نصف صاع قرض لے اور کسی مسکین کو دے پھر وہ مسکین اس وارث پر صدقہ کرے پھر وارث مسکین پر صدقہ کرے اسی طرح باربار کیا جائے حتی کہ ہرہر نماز کا فدیہ نصف صاع ہوجائے جیسے ہم ذکر کر آئے (ت)
بعینہ اسی طرح نیم صاع بحرالرائق و خلاصہ وہندیہ و طحطاوی علی نورالایضاح وابی السعود علی مسکین و ملتقط و برجندی ودرمختار و غیر ہا معتمدات اسفار میں ہے۔ اب فرض کیجئے کہ زید نے بہتر سال کی عمر میں وفات پائی بارہ برس نکال کر ساٹھرہے۔ ہر سال کے دن تین سو ساٹھ نہ رکھئے جس طرح کشف الغطاء میں اختیار کیا ہر سال قمری کبھی تین سو پچپن دن سے زائد نہیں ہوتا۔
ھذاالعرفی الماخوذ بالاھلۃ اماالحقیقی فیکون اقل منھا بساعات کما فصل فی محلہ اقول وکذا لاحاجۃ بنا الی اخذ الشمسیۃ ثلثمائۃ و
یہ عرفی سال ہے جو چاند کی بنا پر ہوتا ہے رہا حقیقی سال تو وہ اس سے کچھ ساعتیں کم ہوتا ہے جیسا کہ اس کی تفصیل اپنے مقام پر کی گئی ہے اقول اسی طرح ہمیں شمسی سال تین سو پینسٹھ دن کا لینے کی ضرورت
حوالہ / References منۃ الجلیل ، رسالہ من رسائل ابن عابدین ، الرسالۃ الثامنۃ ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ١ / ٢١٢
الفتاوی البزازیۃ علی حاشیہ فتاوٰی ہندیۃ التاسع عشرفی الفوائت نورانی کتب خانہ پشاور ٤ / ٦٩
#9853 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
خمسۃ وستین یوما کما فعل فی احکام الجنائز قائلا ینبغی ان تحسب فدیۃ الصلوۃ بالسنۃ الشمسیۃ اخذاباحتیاط من غیر اعتبار ربع الیوم اھ فان سن العمراذا حسبت بالقمر یات علمنا قطعا ان الایام لاتزید علی مانحسب والمقطوع بہ لا یحتاج الی الاحتیاط فان قیل لعلھم اخذ واالزائد لیقع عمایؤد عنہ من الصلوات التی عسی ان یکون المیت فرط فیھا قلت قالوابعد ذلك ثم یحسب سن المیت فیطرح منہ اثنا عشرۃ سنۃ لمدۃ بلوغہ ان کان المیت ذکراوتسع سنین ان کانت انثی الخ کمافی احکام الجنائز ایضافا ذا اتواعلی جمیع العمر فماذاعسی ان یکون شاذا یحتاط لہ۔
نہیں جیسا کہ احکام جنائز میں یہ کہتے ہوئے لیا گیا ہے کہ فدیہ نماز میں احتیاطا شمسی سال کا اعتبار کرنا چاہئے ماسوائے دن کے چوتھائی حصہ کے اھ۔ کیونکہ جب عمر کے سالوں کا اعتبار چاند کے اعتبار سے ہے تو یقینا دن ہمارے حساب سے زائد نہ ہوں گے اور یقینی بات میں احتیاط کی محتاجی نہیں ہوتی اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے زائد دن اس لیے لئے ہیں شاید میت نے بعض نمازوں میں کوتاہی کی ہو تو اس کا فدیہ ہوجائے قلت اس کے بعد فقہاء نے فرمایا ہے پھر میت کی عمر شمار کی جائے اس سے بلوغ کی مدت بارہ سال خارج کردی جائے اگر وہ مذکر ہو اور اگر مؤنث ہے تو نو سال خارج کی جائے الخ جیسا کہ احکام جنائز میں بھی ہے تو جب وہ ساری عمر کی بات کررہے ہیں تو اس سے خارج کوئی نہیں رہا جس کے لیے احتیاط کی ضرورت ہو۔(ت)
تویہی تین سو پچپن کافی ہیں پس ایك سال کی نمازوں کے دوہزار ایك سوتیس () فدیے ہوئے اور تیس فدئیے یعنی فدیے رمضان المبارك کے ملا کر دوہزار ایك سوساٹھ انہیں ساٹھ میں ضرب دینے سے ایك لاکھ انتیس ہزار چھ سو()ہوتے ہیں اتنی بار وارث و فقیر میں تصدق و ہبہ کی الٹ پھیر ہونی چاہئے تو فدیہ ادا ہو یہ صرف صوم و صلوۃ کا فدیہ ہوا اور ہنوز اور بہت فدیے و کفارے باقی ہیں مثلا () زکوۃ فرض کیجئے ہزاروں روپے زکوۃ کے اس پر مجتمع ہوگئے تھے اور نیم صاع کی قیمت دو آنے ہے تو آٹھ ہزار دور بہ نیت زکوۃ دینے لینے کو درکار ہیں () قربانیاں اگر فی قربانی ایك ہی روپیہ قیمت رکھئے تو ساٹھ قربانیوں کے لیے چار سو اسی دور ہوں۔ ()قسموں کے کفارے ہر قسم کے لیے دس مسکین جدا جدا درکار ہیں ایك کو دس بار دینا کافی نہ ہوگا() ہر سجدہ تلاوت کے لیے بھی احتیاطا ایك فدیہ مثل ایك نماز کے ادا چاہئے وان لم یجب علی الصحیح کما
حوالہ / References منحۃ الخالق بحوالہ احکام الجنا ئز حاشیہ بحرالرائق باب قضاء الفوائت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی٢ / ٩٠
منحۃ الخالق بحوالہ احکام الجنا ئز ، حاشیہ بحرالرائق ، باب قضاء الفوائت ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٩٠
#9854 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
فی التاتار خانیۃ (اگر چہ صحیح قول کے مطابق واجب نہیں جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے۔ ت) () صدقات فطر اپنے اور اپنے اہل وعیال کے جس قدرادا نہ ہوئے ہوں() جتنے نوافل فاسد ہوئے اور ان کی قضانہ کی() جوجو منتیں مانیں اور ادا نہ کیں() زمین کا عشر یا خراج جوادا سے رہ گیا وغیرہ وغیرہ اشیائے کثیرہ
علی ماذکر بعضھا فی ردالمحتار وزادکثیرا فی شفاء العلیل وفصل جلھا فی منۃ الجلیل فراجعھا ان اردت التفصیل وافاد فی الدرالمختار ضابطۃ کلیۃ ان ماکان عبادۃ بدنیۃ فان الوصی یطعم عنہ بعد موتہ عن کل واجب کالفطرۃ والمالیۃ کالزکوۃ یخرج عنہ القدر الواجب والمرکب کالحج یحج عنہ رجلا من مال المیت بحر اھ قلت وکلام البحراجمع وانفع حیث قال الصلوۃ کالصوم ویؤدی عن کل وتر نصف صاع وسائر حقوقہ تعالی کذلك مالیا کان أوبدنیا عبادۃ محضۃ اوفیہ معنی المؤنۃ کصدقۃ الفطر او عکسہ کالعشراومؤنۃ محضۃ کالنفقات او فیہ معنی العقوبۃ کالکفارات اھ (ملخصا)
ان میں سے بعض کا تذکرہ ردالمحتار میں ہے اس پر بہت سا اضافہ شفاء العلیل میں کیا اور منۃ الجلیل میں ان میں سے بڑی بڑی کی تفصیل ہے اگرتفصیل چاہتے ہوتو اس کی طرف رجوع کرو۔ درمختار میں یہ ضابطہ کلیہ بیان کیا جس کا حاصل یہ ہے ہر وہ عبادت جو بدنی ہو(جیسے نماز) تو وصی اس کے مرنے کے بعد میت کی طرف سے ہر واجب کے عوض صدقۃ الفطر کی مقدار فدیہ دے اگر عبادت مالی ہو مثلا زکوۃ تو وصی مقدار واجب میت کی طرف سے ادا کرے اور اگر مالی اور بدنی کا مرکب ہو جیسے حج تو کسی شخص کو بھیج کر میت کے مال سے حج کرائے کذافی البحر اھ۔ قلت بحر کا کلام بہت جامع اور نافع ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ نماز روزے کی طرح ہے اور ہر وتر کے عوض نصف صاع ادا کیا جائے اور اﷲتعالی کے بقیہ حقوق کا معاملہ بھی اسی طرح ہے خواہ وہ مالی ہوں یا بدنی عبادت محضہ ہوں یا اس میں ذمہ داری کا پہلو بھی ہو مثلا صدقۃ الفطر یا اس کا عکس ہو مثلا عشر یا اس میں محض ذمہ داری ہو مثلانفقات یا اس میں معنی عقوبت ہو مثلا کفارات اھ (ملخصا) (ت)
ان کے لیے کوئی حد معین نہیں کرسکتے اس قدر ہونا چاہئے کہ براءت ذمہ پر ظن حاصل ہو واﷲتعالی یقبل الحسنات ویقیل السیئات(اﷲتعالی حسنات کو قبول کرے اور برائیوں کو ختم کرے۔ ت)
حوالہ / References الدرالمختار کتا ب الصوم فصل فی العوارض مجتبائی دہلی ١ / ١٥٣
البحرالرائق فصل فی العوارض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٢٨٥
#9856 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
ان ہزاروں لاکھوں بار کے ہیر پھیر کی دقت دیکھئے اور اس ہندی طریقہ کی سہولت کہ ایك ہی دفعہ میں اس کے اور اس کی سات پشت کے تمام انواع واقسام کے فدیے کفارے مواخذے دو حرف کہنے میں معا ادا ہوسکتے ہیں تو اول تا آخر تمام علمائے مذہب کا اس کلفت کے اختیار اور اس سہولت کے ترك پر اتفاق قرینہ واضحہ ہے کہ ان کے نزدیك اس آسانی کی طرف راہ نہ تھی ورنہ اسے چھوڑ کر اس مشقت پر اطباق نہ ہوتا بالجملہ دین سے فدیہ ادا کرنے کی دو صورتیں ہیں :
ایك وہ کہ درمختار کتاب الوصایا عبارت مذکورہ سابقا میں ذکر فرمائی کہ مدیون سے دین وصول کرکے بعد قبضہ پھر اسے فدیہ میں دے دے۔
دوسری وہ کہ درمختار کتاب الزکوۃ میں مذکور ہوئی کہ مال فدیہ میں دے کر آتے میں واپس کرے اگرمدیون نہ دینا چاہے ہاتھ بڑھا کرلے لے کہ اپنا عین حق لیتا ہے
حیث قال وحیلۃ الجوازان یعطی مدیونہ الفقیر زکوتہ ثم یا خذھا عن دینہ ولو امتنع المدیون مدیدہ واخذھا لکونہ ظفر بجنس حقہ فان ما نعہ رفعہ للقاضی ۔
اس کے الفاظ یہ ہیں مال موجود کی زکوۃ دین سے ادا کرنے کی تدبیر یہ ہے کہ فقیر مقروض کو اپنی زکوۃ حوالہ کردے پھر اس سے دین کے عوض زکوۃ کی رقم واپس لے لے اگر مقروض نہ دے تو اس کا ہاتھ پکڑ کر چھین لے کیونکہ یہ اسے اس کے حق کی جنس ملی ہے پھر اگر مدیون فقیر مزاحمت کرے تو اس کو قاضی کے پاس لے جائے کہ وہ اس سے دلوادے گا۔ (ت)
اسی طرح ذخیرہ و ہندیہ واشباہ وغیرہا میں ہے باقی یہ صورت کہ جو دین فقیر پر آتا تھا یا اب اس کے ہاتھ کچھ بیچ کر مدیون کرلیا یہ فدیہ میں چھوڑدیا جائے اس کے جواز کا پتا کلمات علماء سے اصلا نہیں چلتا بلکہ ظاہر عدم جواز مفہوم ہوتا ہے تو احتیاط اس میں ہے کہ جب تك مشائخ مذہب سے اس کے جواز کے پتے کی تصریح نہ ملے ایسے امر پر اقدام نہ کیا جائے ھذاماظھر لی والعلم بالحق عند ربی (یہ مجھ پر ظاہر ہوا ہے اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے۔ ت)
فائدہ : علماء نے حتی الامکان تقلیل دورپر نظرفرمائی ہے علامہ شمس قہستانی نے تین صاع سے دور فرض کیا کہ ہر بار میں ایك دن کامل کی نماز ادا ہو۔ احکام الجنائز میں چار ہزار بہتر درہم سے دور رکھا کہ ان اعصار وامصار کے حساب سے ہردور میں ایك سال کی نماز کا فدیہ ہو۔ ردالمحتار میں دور یك سالہ
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الزکوٰۃ مجتبائی دہلی ١ / ١٣٠
#9857 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
ذکر کرکے کہا اس سے زیادہ قرض لے تو ہربار میں زیادہ ساقط ہو
ویشمل کل ذلك وما سواہ مافی منۃ الجلیل ومماتعارفہ الناس ونص علیہ اھل المذھب ان الواجب اذاکثر اداروا صرۃ مشتملۃ علی نقوداوغیرھا کجواھراوحلی اوساعۃ وبنواالامر علی اعتبار القیمۃ الخ ۔
یہ تمام کو شامل ہے اس کے علاوہ جو منۃ الجلیل میں ہے کہ جو لوگوں کے ہاں معروف ہے اسی پر اہل مذہب نے تصریح کی کہ جب واجب کثیر ہوں تو ایك تھیلی میں نقدی وغیرہ مثلا جواہر ہار زیور ڈال کر دور کریں تو فقہاء نے قیمت کا اعتبار کیا ہے الخ (ت)
یہ سب واضحات ہیں اور ہر فہیم بعد ادراك حساب حتی المقدور تخفیف دور کرسکتا ہے یہاں تك کہ اگر ممکن ہو کہ جس قدر اموال تمام فدیوں کفاروں مطالبوں کی بابت محسوب ہوئے سب دفعۃ تھوڑی دیر کے لیے کسی سے قرض مل سکیں تو دور کی حاجت ہی نہ رہے گی کہ کوئی شے اتنے اموال کے عوض فقیر کے ہاتھ بیچے اوراگر کفار ہ قسم بھی شامل ہے تو دس کے ہاتھ۔ پھر وہ اموال قرضہ گرفۃ فدیہ میں دے کر شئی مبیع کو ثمن میں لے لے اور حسب مقدرت فقراء کو کچھ دے کر ان کا دل خوش کر دے ہنوز اس مسئلہ میں بہت تفاصیل باقی ہیں کہ بخیال طول ان کے ذکر سے عنان کشی ہوئی۔ واﷲتعالی اعلم
() دینے والے کی نیت کافی ہے لفظ کی حاجت نہیں
کما صرحوابہ فی الزکوۃ وقال العلامۃ السید الحموی فی شرح الاشباہ والنظائر العبرۃ لنیۃ الدافع لالعلم المدفوع الیہ اھ و فی ردالمحتار لا اعتبار للتسمیۃ الخ و قد فصلناہ فی زکوۃ فتاونا۔
جیسا کہ مسئلہ زکوۃ میں اس کی تصریح موجود ہے علامہ سید حموی نے شرح الاشباہ والنظائر میں فرمایا دینے والے کی نیت کا اعتبار ہے اسے معلوم ہونا ضروری نہیں جسے دی جارہی ہواھ ردالمحتار میں ہے زبان سے نام لینے کا اعتبار نہیں الخ ہم نے اس کی پوری تفصیل اپنے فتاوی کے کتاب الزکوۃ میں دی ہے۔ (ت)
مگر زبان سے بھی کہہ دینے کو علماء مناسب بتاتے ہیں یہاں تك کہ طریقہ ادا میں میت کے باپ دادا تك کا نام لینا فرماتے ہیں کہ مسکین سے کہا جائے یہ مال تجھے فلاں بن فلاں کے اتنے روزوں یا اتنی
حوالہ / References منۃ الجلیل ، رسالہ من رسائل ابن عابدین ، الرسالۃ الثامنۃ ، سہیل اکیڈمی لاہور ١ / ٢١٢
غمز عیون البصائر مع الاشباہ والنظائر کتاب الزکوٰۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ١ / ٢٢١
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ١١
#9859 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
نمازوں کے فدیہ میں دیا وہ کہے میں نے قبول کیا شرح نقایہ علامہ قہستانی میں ہے :
ینبغی ان یقول الدافع للمسکین فی کل مرۃ انی ادفعك مال کذافدیہ صوم کذا لفلان بن فلان المتوفی ویقول المسکین قبلتہ ۔
مسکین کو دینے والا ہر دفعہ کہے میں تجھے فلاں بن فلاں میت کی طرف سے فدیہ صوم کے طور پر مال دے رہا ہوں اور مسکین کہے میں نے اسے قبول کیا۔ (ت)
منحۃ الخالق و شرح ہدایۃ ابن عمار و احکام الجنائز میں ہے :
یقول المسقط لواحد من الفقرأ ھکذا افلان بن فلاں ویذکر اسمہ و ابیہ فاتتہ صلوات سنۃ ھذہ فدیتھا من مالہ نملکك ایاھا ویعلم ان المال المدفوع الیہ صار ملکالہ ثم یقول الفقیر ھکذا وانا قبلتھا وتملکتھا منک ۔
وارث فقراءمیں سے کسی ایك کو یوں کہے کہ یہ فلاں بن فلاں ہے میت کانام اس کے والد کانام ذکر کرکے کہے اس کی سال کی نمازیں فوت ہوگئی تھیں ہم ان کے فدیہ کے طور پر اس مال کا تجھے مالك بنارہے ہیں اور وہ مال فقیر کی ملك میں چلانا معلوم کرے پھر فقیر یوں کہے میں نے قبول کیا اور تجھ سے اسے اپنی ملك میں لیا۔ (ت)
پر ظاہر کہ یہ سب اولویتیں ہیں جن پر توقف ادا نہیں
کما علمت فلا نظرلما یوھمہ کلام الفاضل المعاصر فی منۃ الجلیل حیث قال و یدفع عن الجنایۃ علی الحرم والاحرام مما یوجب دما او صدقۃ نصف صاع اودون ذلك فلابد من التعرض لاخراجھا بان یقال خذھذا عن جنایۃ علی حرم او احرام اھ وانما الواجب التعرض فی النیۃ والقول یعم النفسی
جیسا کہ آپ جان چکے اس کی طرف توجہ نہ کی جائے جس کا وہم فاضل معاصر کے رسالہ منۃالجلیل میں کلام سے پیدا ہورہا ہے انہوں نے کہا حرم اور احرام میں جس جنایت کی وجہ سے دم لازم آیا ہو یا نصف صاع صدقہ یا اس سے کم صدقہ لازم آیا ہو تو اس کے نکالتے وقت یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ حرم یا احرام میں جنایت کا فدیہ ہے تو اسے وصول کر ا ھ کیونکہ تعرض نیت میں ضروری ہے اور قول کلام نفسی
حوالہ / References جامع الرموز فصل موجب الافساد مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ / ٧١-٣٧٠
منحۃ الخالق حاشیہ بحرالرائق باب قضاء الفوائت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٩٠
منۃ الجلیل رسالہ من رسائل ابن عابدین الرسالۃ الثامنۃ سہیل اکیڈمی لاہور ١ / ٢٢٤
#9861 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
فافھم واﷲتعالی اعلم۔
کو شامل ہوتا ہے فافہم واﷲتعالی اعلم(ت)
() متعدد فرق ہیں :
() شیخ فانی اپنی حیات میں روزہ کا فدیہ دے گا اور وہ کافی ہوگا۔ اگر زندگی میں عجززائل ہوکر قوت نہ آجائے مگر نماز کا فدیہ نہیں دے سکتا کہ اس سے عجز مستمر متحقق نہیں ہوتا مگر دم واپسیں کھڑے ہوکر نہ ہوسکے بیٹھ کر پڑھے بیٹھ کر نہ ہوسکے لیٹ کر اشارہ سے پڑھے۔
() شیخ فانی پر روزہ کا فدیہ حیات میں دینا واجب ہے اگر قادر ہو بعد مرگ وجوب نہیں جب تك اپنے مال میں وصیت نہ کرے۔
() شیخ فانی کہ زندگی میں روزہ کا فدیہ دے اس کے کافی ہونے پر یقین کیا جائے گا کہ اس میں صراحۃ نص وارد یونہی اگر فدیہ روزہ کی وصیت کرے اور فدیہ روزہ بے وصیت اور فدیہ نماز بوصیت میں شبہ ہے اور فدیہ نماز بے وصیت میں شبہ اقوی وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل۔
() زندگی میں فدیہ صوم شیخ فانی پر اس کے کل مال میں ہے اور بعد مرگ بے وصیت بے اجازت ورثہ ثلث سے زائد میں نافذ نہ ہوگی۔
فی تنویر الابصار والدرالمختار لومات و علیہ صلوات فائتۃ واوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلوۃ کالفطرۃ وکذاالوترو الصوم وانما یعطی من ثلث مالہ ولو فدی عن صلوتہ فی مرضہ لایصح بخلاف الصوم اھ ملخصا وفی ردالمحتار اذا اوصی بفدیۃ الصوم یحکم بالجواز قطعا واذالم یوص فتطوع بھا الوارث فقال محمد فی الزیادات یجزیہ
تنویرالابصار اور درمختار میں ہے اگر کوئی فوت ہوا اور اس کی نماز یں رہ گئی تھیں اور اس نے کفارہ کی وصیت کی تو ہر نماز کے عوض صدقہ فطر کے برابر فدیہ دیا جائے اسی طرح وتر اور روزے کاحکم ہے باقی یہ فدیہ صرف اس کے تہائی مال سے ادا کیا جائیگا اگر کسی نے اپنی نماز کا فدیہ مرض موت میں دیا تو صحیح نہیں بخلاف روزہ کے کہ اس کا فدیہ مرض موت میں دینا جائز ہے۔ ردالمحتار میں ہے جب کسی نے فدیہ صوم کی وصیت کی توقطعا جواز کا حکم دیا جائے اور اگر اس نے وصیت نہ کی مگر وارث نے بطور نفل فدیۃ ادا کردیا تو امام محمد نے زیادات میں فرمایا اگر
حوالہ / References درمختار باب قضاء الفوائت مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٠١
#9862 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
ان شاء اﷲتعالی وکذا علقہ بالمشئیۃ فیما اذااوصی بفدیۃ الصلوۃ فاذالم یوص فالشبھۃ اقوی وفی التنویروالدر فدی لزوما عن المیت ولیہ بو صیۃ و ان تبرع ولیہ جاز ان شاء اﷲتعالی والشیخ الفانی یفدی وجوبالو موسرا ومتی قدر قضی لان استمرار العجز شرط الخلیفہ اھ (الکل بالا لتقاط) وفی صوم البحر الرائق وقید بالوصیۃ لانہ لولم یأمر لایلزم الورثۃ شئی کالزکوۃ۔
اﷲتعالی نے چاہا تو یہ فدیۃ کفایت کرجائے گا اسی طرح انہوں نے اسے مشیت باری تعالی سے معلق فرمایا جب کسی نے نماز کے فدیہ کی وصیت کی تو جب اس نے وصیت نہ کی ہوتو شبہ بہت قوی ہوگا ۔ نیزتنویر اور در میں ہے وصیت کی بنا پر وارث کو میت کی طرف سے فدیہ دینا لازم ہے اور اگر وارث نے بطوراحسان فدیہ دے دیا تب بھی ان شاء اﷲ یہ فدیہ دینا جائز ہے اور شیخ فانی اگر امیر ہوتو اس پر فدیہ دینا لازم ہے اور اگر روزہ رکھنے پر قادر ہوگیا تو قضا کرے کیونکہ دوام عجز کا شرط ہے یعنی فدیہ کے روزے کا خلیفہ ہونے کے لیے دوام عجز شرط ہے یہ تمام عبارتیں اختصارا ذکر کی گئی ہیں۔ بحر الرائق کے باب الصوم میں ہے وصیت کے ساتھ مقید اس لئے کیا کہ اگر میت وصیت نہ کرے تو ورثاء پر کوئی شئے لازم نہ ہوگی جیسا کہ زکوۃ کا معاملہ ہے۔ (ت)
ان کے سوااور فرق ہیں کہ مطالعہ بحرالرائق وغیرہ سے ظاہر مگر مقدار فدیہ وغیرہ جس قدر احکام نو مسائل سابقہ میں مذکور ہوئے ان میں فدیہ حیات و ممات یکساں ہے واﷲتعالی اعلم
() نہ کنز میں ہے للشیخ الفانی وھو یفدی (شیخ فانی فدیہ ادا کرے۔ ت) فقط غیر فانی پر قضا فرض ہے پیش از قضا قضا آجائے تو فدیہ کی وصیت واجب کما فی ردالمحتار وغیرہ من الاسفار( جیسا کہ ردالمحتار اور دیگر کتب میں ہے۔ ت) واﷲتعالی اعلم۔
() انہ فی البحرا الرائق الولی لایصوم عنہ و لا یصلی لحدیث النسائی عــــہ لایصوم
بحرا لرائق میں ہے ولی میت کی طرف سے نہ روزہ رکھے نہ نماز پڑھے کیونکہ حدیث نسائی میں ہے کوئی

عــــہ : ای فی سننہ الکبری عن ابن عباس رضی اﷲتعالی عنہما(م)
حوالہ / References ردالمحتار باب قضاء الفوائت مصطفی البابی مصر ١ / ٥٤١
درمختار باب مایفسد الصوم مجتبائی دہلی ١ / ١٥٣
البحرالرائق فصل فی العوارض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٢٨٤
کنز الدقائق فصل فی العوارض ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٧٠
#9864 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
احد عن احد ولا یصلی احد عن احد اھ واﷲ تعالی اعلم۔
شخص کسی کی طرف سے نہ روزہ رکھے اور نہ نماز پڑھے۔ اھ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ : از شہر کہنہ بریلی مسئولہ محمد شفیع علی خاں مرحوم شعبان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی عمر سال کی ہے اور بوجہ کمزوری کے برداشت اور طاقت روزہ رکھنے کی نہ ہو ایسی صورت میں اس کو کیا کرنا چاہئے اور کفارہ روزوں کا کس طرح ہواور کفارہ ہر روزدیا جائے۔ بینو اتوجروا
الجواب :
طاقت نہ ہونا ایك تو واقعی ہوتا ہے اور ایك کم ہمتی سے ہوتا ہے کم ہمتی کا کچھ اعتبار نہیں اکثر اوقات شیطان دل میں ڈالتا ہے کہ ہم سے یہ کام ہرگز نہ ہوسکے اور کریں گے تو مرجائیں گے بیمار پڑ جائیں گے پھر جب خداپر بھروسہ کرکے کیا جاتا ہے تو اﷲتعالی ادا کرادیتا ہے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچتا معلوم ہوتا ہے کہ وہ شیطان کا دھوکا تھا برس عمر میں بہت لوگ روزے رکھتے ہیں ہاں ایسے کمزور بھی ہوسکتے ہیں کہ ستر ہی برس کی عمر میں نہ رکھ سکیں تو شیطان کے وسوسوں سے بچ کر خوب صحیح طور پر جانچ چاہئے ایك بات تو یہ ہوئی دوسری یہ کہ ان میں بعض کو گرمیوں میں روزہ کی طاقت واقعی نہیں ہوتی مگر جاڑوں میں رکھ سکتے ہیں یہ بھی کفارہ نہیں دے سکتے بلکہ گرمیوں میں قضا کرکے جاڑوں میں روزے رکھنا ان پر فرض ہے تیسری بات یہ ہے کہ ان میں بعض لگاتار مہینہ بھر کے روزے نہیں رکھ سکتے مگر ایك دودن بیچ کرکے رکھ سکتے ہیں تو جتنے رکھ سکیں اتنے رکھنا فرض ہے جتنے قضا ہوجائیں جاڑوں میں رکھ لیں چوتھی بات یہ ہے کہ جس جوان یا بوڑھے کو کسی بیماری کے سبب ایسا ضعف ہو کہ روزہ نہیں رکھ سکتے انہیں بھی کفار ہ دینے کی اجازت نہیں بلکہ بیماری جانے کا انتظار کریں اگر قبل شفاموت آجائے تواس وقت کفارہ کی وصیت کردیں غرض یہ ہے کہ کفارہ اس وقت ہے کہ روزہ نہ گرمی میں رکھ سکیں نہ جاڑے میں نہ لگاتار نہ متفرق اور جس عذر کے سبب طاقت نہ ہو اس عذر کے جانے کی امید نہ ہو جیسے وہ بوڑھا کہ بڑھاپے نے اسے ایسا ضعیف کر دیا کہ گنڈے دار روزے متفرق کرکے جاڑے میں بھی نہیں رکھ سکتا تو بڑھا پا تو جانے کی چیز نہیں ایسے شخص کو کفارہ کاحکم ہے ہر روزے کے بدلے پونے دوسیر گیہوں اٹھنی اوپر بریلی کی تول سے یا ساڑھے تین سیر جو ایك روپیہ بھر اوپر۔ واﷲ تعالی اعلم اسے کفارہ کا اختیار ہے کہ روز کا روز دے دے یا مہینہ بھر کا پہلے ہی ادا کردے یا ختم ماہ کے بعد کئی فقیر وں کو دے یا سب ایك ہی فقیر کو دے سب جائز ہے۔
حوالہ / References البحرالرائق ، فصل فی العوارض ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ٢ / ٢٨٥
#9865 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
مسئلہ : ازمدرسہ اہلسنت وجماعت بریلی مسئولہ مولوی اشرف علی صاحب طالبعلم ذیقعدہ ھ
ایك شخص نے انتقال کیا اور اس کے ذمہ کچھ روزہ فرض اور کچھ وقتوں کی نماز رہ گئی اب اس کی نماز روزہ کا فدیہ ادا کرنا چاہتے ہیں تو اس فدیہ کا کون مستحق ہے کس قسم کے لوگوں کو دیا جائےبینو اتوجروا
الجواب :
اس کے وہی مستحق ہیں جو زکوۃ کے مستحق ہیں فقیر محتاج مسلمان کہ نہ ہاشمی ہوں نہ اس کی اولاد نہ یہ ان کی اولاد۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : از مارہرہ شریف ضلع ایٹہ سرکارکلاں مرسلہ حضرت سید محمد میاں صاحب دامت برکاتہم شعبان ھ
فدیہ صوم جو شخص فانی کے لیے ہو اس کی مقدار بحساب انگریزی اسی تولہ کے سیر سے کیا ہے اس سے مطلع فرمایا جاؤں فتوی رضویہ میں فتوی بارق النور میں ایك صاع کی مقدار آٹھ رطل اور ہر رطل کی مقدار روپے بھر ہے اس حساب سے ایك صاع دوسو اٹھاسی روپیہ بھر ہو امگر اس میں ایك سو اٹھاسی بھر لکھا ہے شاید غلطی سے لکھا گیا ہو مجھے خیال پڑتا ہے کہ سال گزشتہ کے اشتہار افطار وسحر میں صدقہ فطر کی مقدار سوادوسیراور ایك اٹھنی انگریزی بھر لکھی ہوئی تھی یہ اس فتاوی کے مقدار صاع سے جو دوسو اٹھاسی ہویا ایك سو اٹھاسی ہو بہر حال مختلف رہتی ہے میں صرف بحساب اسی تولہ سیر کے مقدار صدقہ فطر و فدیہ دریافت کرنا چاہتا ہوں فقط۔
الجواب :
صاع وہی دوسو ستر تولے ہے جس کا سکہ رائجہ ہند سے دوسو اٹھاسی روپے بھر وزن ہوا کہ یہ روپیہ سواگیارہ ماشے ہے مگر احسن واحوط یہ ہے کہ گیہوں کا صدقہ جو کی صاع سے ادا کیاجائے یعنی جس پیمانہ میں ایك سو چوالیس روپے بھر جو آئیں اس بھر گیہوں دئے جائیں ظاہر ہے کہ گیہوں وزن میں زیادہ آئیں گے جو سے بھاری ہیں فقیر نے صاع شعیری حاصل کیا اور اس میں گیہوں بلا تکویم و تقعیر بھر کر تولے تو پورے تین سواکاون روپے بھر ہوئے توصدقہ فطر فدیہ صوم وغیرہا میں نیم صاع گندم کے اٹھنی اوپرپونے دو سو روپے بھر گیہوں دینا احوط ہے جس کے بریلی کے سیر سے اٹھنی بھر اوپر پونے دوسیر ہوئے اور اسی روپے بھر کے سیر سے اٹھنی بھر اور تین چھٹانك دوسیر ہوئے۔ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از گونڈہ محلہ نبی گنج مکان مولوی نوازش احمد مسئولہ حافظ محمد اسحق ذیقعدہ ھ
شیخ فانی کی تعریف کیا ہے اور اس کی عمر کی کچھ تعداد بھی معین ہے یا نہیں احکام شرعیہ مثل نماز روزہ وضو و غسل کے کیا حکم ہے بینو اتوجروا
#9867 · تفاسیر الاحکام لفدیۃ الصّلوٰۃ والصّیام ١٣١٦ھ (بعد ازموت نماز وروزہ کے فدیہ کے تفصیلی احکام)
الجواب :
شیخ فانی کی عمر اسی یا نوے سال لکھی ہے اور حقیقۃ بنائے حکم اس کی حالت پر ہے اگر سو برس کا بوڑھا روزہ پر قادرر ہے شیخ فانی نہیں اور اگر وہ ستر برس میں بوجہ ضعف بینہ بڑھاپے سے ایسا زار ونزار ہوجائے کہ روزہ کی طاقت نہ رہے تو شیخ فانی ہے۔ غرض شیخ فانی وہ ہے جسے بڑھاپے نے ایسا ضعیف کردیا ہو اور جب اس ضعف کی علت بڑھاپا ہوگا تو اس کے زوال کی امید نہیں اسے روزے کے عوض فدیہ کا حکم ہے باقی نماز و طہارت کے بارہ میں پیر جوان سب کا ایك حکم ہے جو جس وقت جس حالت میں جتنی بات سے معذور ہوگا بقدر ضرورت تا وقت اسے تخفیف دی جائے گی قال تعالی لا یكلف الله نفسا الا وسعها- (اﷲتعالی کا مبارك فرمان ہے اﷲہر کسی کو اس کی طاقت کے مطابق ہی حکم دیتا ہے۔ ت) واﷲتعالی اعلم
حوالہ / References لقرآن ٢ / ٢٨٦
#9868 · مکروھاتِ صوم
مسئلہ : از بلگرام شریف محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت سید ابراہیم صاحب ذیقعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روزے میں منجن جو بادام کوئلہ سپاری و گل وغیرہ کا بنتا ہے اس کا استعمال کرنا کرنا کیسا ہے اور دربارہ مسواك کیا حکم ہے بینو اتوجروا
الجواب :
مسواك مطلقا جائز ہے اگر چہ بعد زوال اور منجن ناجائز وحرام نہیں بلکہ اطمینان کافی ہو کہ اس کا کوئی جزو حلق میں نہ جائے گا مگر بے ضرورت صحیحہ کراہت ضرور ہے۔ درمختار میں ہے : کرہ لہ ذوق شئی (روزہ دارکو شے کا چکھنا مکروہ ہے۔ ت) واﷲتعالی اعلم
مسئلہ تا : ازعلی گڑھ بوساطت رحیم اﷲخاں رمضان المبارك ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں بینوا توجروا :
() روزے میں اپنی عورت کو لپٹانا یا پاس لیٹنا جس سے خواہش غالب ہو اور مذی نکلے تو روزہ مکروہ ہوگا یا جاتا رہےگا
#9870 · مکروھاتِ صوم
() عورت کی شرمگاہ دیکھنا روزے کو توڑے گا یا نہیں
الجواب :
() ان افعال سے روزہ جانے کی تو کوئی صورت ہی نہیں جب تك انزال نہ ہو اور خالی پاس لیٹنا جس میں بدن چھونا یا بوسہ لینا کچھ نہ ہو مکروہ بھی نہیں رہا لپٹانا یا بوسہ لینا یا بدن چھونا ان میں اگر بہ سبب غلبہ شہوت فساد صوم کا اندیشہ ہو یعنی خوف ہے کہ صبر نہ کرسکے گا اور معاذ اﷲ جماع میں مبتلا ہوجائے گا یا بلا جماع ہی ان افعال کی حالت میں انزال ہوجائے گا تو یہ سب فعل مکروہ ممنوع ہیں اور اگر یہ اندیشہ نہ ہو تو کچھ حرج نہیں مگر مباشرت فاحشہ یعنی ننگے بدن لپٹانا کہ ذکر فرج کو مس کرے روزے میں مطلقامکروہ ہے۔ اسی طرح سرا ج وہاج میں بوسہ فاحشہ کو بھی مطلقا مکروہ فرمایا بوسہ فاحشہ عورت کے لب اپنے لبوں میں لے کر چبائے اور زبان چوسنا بدرجہ اولی مکروہ جبکہ عورت کا لعاب دہن جو اس کی زبان چوسنے سے اس کے منہ میں آئے تھوك دے اور اگر حلق میں اتر گیا تو کراہت درکنار روزہ ہی جاتا رہے گا اور اگر قصدا بحالت لذت پی لیا تو کفارہ بھی لازم آئے گا۔
فی الدرالمختار کرہ قبلۃ ومس و معانقۃ ان لم یأمن المفسد وان امن لاباس ملخصاوفی رد المختار جزم فی السراج بان القبلۃ الفاحشۃ بان یمضغ شفتیھا تکرہ علی الاطلاق ای سواء أمن اولا قال فی النھر والمعانقۃ علی التفصیل فی المشہور وکذا المباشرۃ الفاحشۃ فی ظاھر الروایۃ وعن محمد کراھتھا مطلقا وھو روایۃ الحسن قیل وھو الصحیح اھ واختار الکراھۃ فی الفتح وجزم بھا فی الولوالجیۃ بلاذکر خلاف وھی ان یعانقھا وھما
درمختار میں ہے : بوسہ لینا چھونا اور معانقہ کرنا مکروہ ہے اگر جماع یا انزال مفسد روزہ کا خوف ہو اور اگر مفسد روزہ کا خوف نہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔ ردالمحتار میں ہے : سراج میں اس پر جزم کیا ہے کہ بوسہ فاحشہ یہ ہےکہ اس کے دونوں ہونٹ اپنے منہ میں لے کر دبانا مطلقا مکروہ ہے خواہ فساد روزہ سے خوف ہو یا نہ ہو۔ نہر میں ہے مشہور روایت کے مطابق بوسہ میں تفصیل ہے ظاہر الروایۃ میں مباشرت فاحشہ کا بھی یہی حکم ہے اور امام محمد سے مطلق اس کی کراہت مروی ہے اور یہ روایت حسن سے ہے بعض نے کہا یہی ہے اھ ذکر اختلاف کے بغیر فتح میں کراہت کو مختار قرار دیاہے اور ولوالجیہ میں کراہت پرجزم کا اظہار ہے۔ اور مباشرت فاحشہ سے مراد یہ ہے
حوالہ / References الدرالمختار باب مایفسد الصوم مجتبائی دہلی ١ / ١٥٢
#9871 · مکروھاتِ صوم
متجردان ویمس فرجہ فرجہا بل قال فی الذخیرۃ ان ھذا مکروہ بلا خلاف لانہ یفضی الی الجماع غالبا اھ وبہ علم ان روایۃ محمد بیان لکون مافی ظاھرالروایۃ ومامر عن النھر لیس مما ینبغی ثم رأیت فی التتار خانیۃ عن المحیط التصریح بما ذکرتہ من التوفیق بین الروایتین وانہ لافرق بینھما وﷲ الحمد اھ باختصار
وفی الدر الضابط وصول مافیہ صلاح بدنہ لجوفہ ومنہ ریق حبیبہ فیکفرلوجود معنی صلاح البدن فیہ درایۃ وغیرہا واﷲ تعالی اعلم۔
کہ مردعورت دونوں معانقہ کریں اس حال میں کہ دونوں ننگے ہوں اور مرد کا فرج خاتون کی شرمگاہ کو مس کررہاہو بلکہ ذخیرہ میں یہ کہا ہے کہ ایسا عمل بالاتفاق مکروہ ہے کیونکہ یہ غالبا جماع کا سبب بن جاتا ہے اھ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ امام محمد کی روایت ظاہر روایت کا بیان ہے اور جو کچھ نہر کے حوالے سے گزراوہ مناسب نہیں پھر میں نے تتارخانیہ میں محیط سے اس پر تصریح دیکھی جو میں نے دونوں روایات میں مطابقت دیتے ہوئے ذکر کی ہے کہ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں وﷲالحمد اھ اختصارا در میں ہے غذا اور دوا کی شناخت کا ضابطہ یہ ہے پیٹ میں ایسی شئی کا پہنچ جانا جو بدن کی اصلاح کا سبب ہو(وہ غذا یا دوا کہلاتی ہے) محبوب کا لعاب دہن اسی قبیل سے ہے اگر کوئی نگل جائے تو ایسی صورت میں چونکہ اصلاح بدن موجود ہے لہذا وہ کفارہ اداکرے جیسا کہ درایۃ وغیرہ میں ہے۔ واﷲتعالی اعلم۔ (ت)
(۲) نہ۔ اگرچہ باربار بتکرار دیکھے یہاں تك کہ دیکھنے ہی کی حالت میں بے چھوئے انزال ہوجائے ہاں اس صورت میں کراہت ضرور ہے
فی الدرالمختار انزل بنظر ولوالی فرجھا مرارا لم یفطر ۔ واﷲتعالی اعلم۔
درمختار میں ہے اگر انزال ہوجائے نظر کرنے سے اگر چہ عورت کی شرمگاہ کی طرف نظر مکرر ہو روزہ نہ ٹوٹے گا۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب مایفسد الصوم الخ مصطفی البابی مصر ٢ / ٢٣-١٢٢
درمختار باب مایفسد الصوم مجتبائی دہلی ١ / ١٥١
درمختار باب مایفسد الصوم مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
#9873 · مکروھاتِ صوم
مسئلہ : از فرید پور ضلع بریلی مرسلہ قاضی محمد نبی جان صاحب رمضان مبارك ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں ایك شخص ہے اس کو حاجت غسل کی ہے مگر روزہ اس نے رکھا مگر قصدا بوقت ظہر تك اس نے غسل نہ کیا وقت نماز ظہر کے غسل کیا کیا روزہ اس کا رہا یا گیا
الجواب :
روزہ ہوجائے گا اگر چہ شام تك نہ نہائے ہاں ترك نماز کے سبب سخت اشد کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوگا۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از بانکی پور پٹنہ محلہ مراد پور مرسلہ علی حسن صاحب تاجر محرم شریف ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے رمضان شریف کا روزہ جنابت کی حالت میں رکھا اور قصدا دن بھر افطار کے وقت تك غسل نہیں کیا تو کیا یہ روزہ اس کا بغیر کسی نقص کے درست ہوگا یا نہیں اور روزے کے لیے طہارت شرط ہے یا نہیں اور کیا کوئی ایسی عبادت بدنی بھی ہے جو بے طہارت صحیح ہو
الجواب :
وہ شخص نمازیں عمدا کھونے کے سبب سخت کبائر کا مرتکب اور عذاب جہنم کا مستوجب ہوا مگر اس سے روزے میں کوئی نقص و خلل نہ آیا طہارت باجماع ائمہ اربعہ شرط صوم نہیں۔ رب عزوجل فرماتا ہے :
احل لكم لیلة الصیام الرفث الى نسآىكم-
روزے کی راتوں میں تمھارے لئے بیویوں سے جماع حلال کیا گیا ہے۔ (ت)
آیہ کریمہ نے ہرجزو شب میں جماع و تلبیس بالجماع حلال فرمایا اور محض تحلیل ہی نہیں بلکہ بصیغہ امر ارشادی ارشاد ہوا۔
فالــٴـن باشروهن و ابتغوا ما كتب الله لكم۪-
اور اب ان سے مباشرت کرو اور تلاش کرو جو اﷲتعالی نے تمہارے لیے لکھ رکھا ہے(ت)
اور ظاہر ہے کہ جز واخیر شب کو بھی لیلۃ الصیام شامل اور وہ بھی اس احل لکم اور باشروھن کے امر میں داخل اور اسے بحالت جنابت صبح کرنا اور تاتمامی غسل روزے میں جنب رہنا بداہۃ لازم تو قرآن عظیم اس کی حلت ودخول زیر امرارشادی پر حاکم۔ اگر اس سے روزے میں کوئی نقص و خلل
حوالہ / References القرآن ٢ / ١٨٧
القرآن ٢ / ١٨٧
#9875 · مکروھاتِ صوم
آتا ضرور اتنے حصے کا استثناء فرمادیتا پھر صاحب شرع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے عملا اس کا بے نقص و بے خلل ہونا فرمادیا۔ صحیحین میں ام المومنین عائشہ صدیقہ و ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہم ا سے ہے :
ان رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم کان یدرکہ الفجر وھو جنب من اھلہ ثم یغتسل و یصوم ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ازواج مطہرات سے قربت فرماتے اور صبح ہوجاتی جب تك نہ نہاتے اس کے بعد غسل فرماتے اور روزہ رکھتے۔
صحیح مسلم ومؤطامالك و سنن ابی داؤدو نسائی میں ام المو منین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ہے :
ان رجلا قال لرسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھو واقف علی الباب وانا اسمع یا رسول اﷲانی اصبح جنبا وانا ارید الصیام فقال رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم وانا اصبح جنبا وانا ارید الصیام فاغتسل واصوم فقال الرجل یا رسول اﷲانك لست مثلنا قد غفراﷲلك ما تقدم وماتا خرفغضب رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم وقال انی ارجوان اکون اخشیکم ﷲ اعلمکم بما اتقی ۔
یعنی حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنے دراوزہ اقدس کے پاس کھڑے تھے ایك شخص نے حضور سے عرض کی اور میں سن رہی تھی کہ یارسول اﷲ! میں صبح کو جنب اٹھتا ہوں اور نیت روزے کی ہوتی ہے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا میں خود ایسا کرتا ہوں اس نے عرض کی حضور کی ہماری کیا برابری حضور کو تو اﷲعزوجل نے ہمیشہ کے لیے پوری معافی عطا فرمادی ہے۔ اس پر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم غضب ناك ہوئے اور فرمایا : بیشك میں امید رکھتا ہوں کہ مجھے تم سب سے زیادہ اﷲعزوجل کاخوف ہے اور میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں جن جن باتوں سے مجھے بچنا چاہئے۔
اس حدیث صحیح نے خوب واضح فرمادیا کہ اس سے روزہ میں کوئی نقص نہیں آتا ورنہ وہ صاحب سائل تھے محل بیان میں سکوت نہ فرمایا جاتا سکوت کیسا اخیر کے ارشاد نے اور بھی روشن فرمادیا کہ اس میں کوئی بات خوف کی نہیں نہ یہ اس میں داخل جس سے بچنا چاہئے۔ اور پر ظاہر کہ روزہ غیر متجزی ہے جو چیز اس میں نقص پیدا کرے گی اگر سارے روزے میں ہوئی تو موجب نقص ہوگی اور اس کے اول یا آخر کسی لطیف حصہ میں ہوئی تو ضرر دے گی
حوالہ / References الصحیح البخاری باب ا لصائم یصبح جنبا قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٥٨
سنن ابی داؤد کتاب الصائم آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٣٢٥
#9877 · مکروھاتِ صوم
ولہذا ہمارے علمائے کرام نے انہیں آیات واحادیث سے ثابت فرمایا کہ اگر تمام دن جنب رہا جب بھی روزہ کو کچھ مضر نہیں۔ مراقی الفلاح میں ہے :
اواصبح جنبا ولواستمرعلی حالتہ یوما او ایاما لقولہ تعالی فالئن باشروھن لاستلزام جواز المباشرۃ الی قبیل الفجر وقوع الغسل بعد ضرورۃ وقولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم وانا اصبح جنباوانا ارید الصیام واغتسل واصوم ۔
یا کسی نے حالت جنب میں صبح کی اگر چہ وہ اسی حالت میں ایك دن یا کئی دن رہا کیونکہ اﷲتعالی کا ارشاد گرامی “ اب تم مباشرت کرسکتے ہو “ اس بات کا متقضی ہے کہ فجر سے تھوڑا ساپہلے تك مباشرت جائز ہو اور اس کے بعد غسل لازم ہو اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی “ میں نے حالت جنابت میں صبح کی ہے اور میں روزے کا ارادہ رکھتا ہوں میں غسل کروں گا اور روزہ رکھوں گا۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
لو اصبح جنبا لا یضرہ کذافی المحیط ۔
اگر کسی نے حالت جنب میں صبح کی تو نقصان دہ نہیں محیط میں اسی طرح ہے۔ (ت)
عالمگیریہ میں ہے :
ومن اصبح جنبااواحتلم فی النھار لم یضرہ کذا فی محیط السرخسی ۔
جس نے بحالت جنابت صبح کی یادن کو احتلام ہوگیا تو یہ اسے نقصان دہ نہیں۔ محیط سرخسی میں اسی طرح ہے(ت)
ہاں بوجہ ارتکاب کبیرہ اس کی نورانیت بالصوم میں فرق آئے گا نہ اس لیے کہ جنب تھا کہ جنابت سے نورانیت میں تفاوت آتا تو بحال جنابت صبح کرنے سے بھی آتا بلکہ اس لیے کہ نماز فوت کی یہاں تك کہ اگر نماز بحال جنابت ہوسکتی تو دن بھر بلکہ مہینہ بھر جنب رہنے سے بھی حصول نورانیت بصوم میں فرق نہ ہوتا یہ فرق بوجہ فوت نماز ایسا ہوگا جیسے روزہ میں کسی کو ظلما مارنے سے مگر اس سے کوئی نہ کہے گا کہ نفس صوم میں کوئی نقص آگیا گناہ کے سبب روزے میں خلل آنا ظاہر یہ کا مذہب فاسد ہے اس کی نظیر ایسی ہے کہ کوئی ریشمیں
#9878 · مکروھاتِ صوم
کپڑے پہن کر قرآن عظیم کی تلاوت کرے اس سے نہ تلاوت میں کوئی نقص ہوا نہ اس کے ثواب میں کمی ہاں ظلمت گناہ ملنے کے باعث اس کے لیے نورانیت خالصہ نہ رہی۔ یہ ان میں داخل ہواجن کو فرماتا ہے :
و اخرون اعترفوا بذنوبهم خلطوا عملا صالحا و اخر سیئا-
اور کچھ اور ہیں جو اپنے گناہوں کے مقر ہوئے اور ملایا ایك کام اچھا اور دوسرا برا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
قرأالقران ولم یعمل بموجبہ یثاب علی قرأتہ کمن یصلی ویعصی ۔
کسی نے قرآن حکیم پڑھا لیکن اس کے احکام پر عمل نہ کیا تو تلاوت پر ثواب ملے گا جیسا کہ کوئی نماز پڑھے اور گناہ کرے۔ (ت)
طحاوی و ردالمحتار میں ہے :
یثاب علی قرأتہ وان کان یأثم بترك العمل فالثواب من جہۃ والاثم من اخری ۔
قرأت قرآن پر ثواب ملے گا اگر چہ ترك عمل کی وجہ سے گناہ گار ہوگا توثواب ایك جہت سے اور گناہ دوسری جہت سے ہے۔ (ت)
بہت عبادات بدنیہ ہیں جن میں طہارت شرط نہیں جیسے یاد پر تلاوت اور مسجد میں اعتکاف کہ ان دونوں میں وضو ضرور نہیں اور قرآن عظیم کو بے چھوئے دیکھنا کعبہ معظمہ پر بیرون مسجد سے نظر کرنا عالم کو بنگاہ تعظیم دیکھنا ماں باپ کوبنظر محبت دیکھنا عالم سے مصافحہ کرنا یہ سب عبادات بدنیہ ہیں اور سب بحال جنابت بھی روا ہیں۔ حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
خمس من العبادۃ قلۃ الطعم والقعود فی المساجد والنظر الی الکعبۃ والنظر الی المصحف والنظر الی وجہ العالم ۔ رواہ فی مسند الفردوس عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ ۔
پانچ چیزیں عبادت سے ہیں کم کھانا اور مسجدمیں بیٹھنا اور کعبہ کو دیکھنا اور مصحف کو دیکھنا اور عالم کا چہرہ دیکھنا۔ (اسے مسند فردوس میں حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا گیا ہے۔ ت)
حوالہ / References القرآن ٩ / ۱٠۲
الدرالمختار کتاب الحظر والاباحۃ مجتبائی دہلی ٢ / ٢٤٨
ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ مصطفی البابی مصر ٥ / ٢٨١
الفردوس بما ثور الخطاب حدیث٢٩٦٩ دارالکتب العلمیۃ بیروت ٢ / ١٩٥
#9879 · مکروھاتِ صوم
دار قطنی وغیرہ کی روایت یوں ہے کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
خمس من العبادۃ النظر الی المصحف والنظر الی الکعبۃ والنظر الی الوالدین والنظر فی زمزم وھی تحط الخطایا والنظر فی وجہ العالم ۔
پانچ چیزیں عبادت سے ہیں مصحف کو دیکھنا اور ماں باپ کو دیکھنا اور زمزم کے اندر نظر کرنا اور اس سے گناہ اترتے ہیں اور عالم کا چہرہ دیکھنا۔
صحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
لقینی رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم وانا جنب فاخذ بیدی فمشیت معہ حتی قعد فانسللت فاتیت الرحل فاغتسلت ثم جئت وھو قاعد فقال این کنت یا ابا ھریرۃ فقلت لہ فقال سبحان اﷲ یا با ھریرۃ ان المؤمن لایتنجس ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اچانك ملاقات ہوگئی حالانکہ میں حالت جنابت میں تھا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑلیا میں آپ کے ساتھ چلتا رہا حتی کہ آپ تشریف فرما ہوئے تو میں چپکے سے نکل گیا رہائش گاہ میں جاکر غسل کیا پھر واپس آیا تو آپ تشریف فرماتھے فرمایا : اے ابوھریرہ! کہاں چلے گئے تھے میں نے ساری بات عرض کی تو آ پ نے فرمایا : سبحان اﷲ ابوھریرہ! مومن ناپاك نہیں ہوتا۔ (ت)
اور افضل واعلی تمام عبادات بدنیہ جن کے لیے طہارت صغری نہ کبری کچھ شرط نہیں ذکر الہی ہے اور دعا وذکر کا عبادت ہونا بدیہی ہے بلکہ ذکر ہی اصل جملہ عبادات ہے قال تعالی اقم الصلوة لذكری(۱۴) (میری یاد کے لیے نماز قائم رکھ۔ ت)اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے حدیث ہے :
الدعاء مخ العبادۃ ۔ رواہ الترمذی عن انس رضی اﷲتعالی عنہ۔
دعامغز عبادت ہے (اسے ترمذی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ ت)
اور ان کے لیے طہارت شرط نہ ہونا ظاہر ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں :
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ دارقطنی حدیث٤٣٤٩٤ التراث الاسلامی مصر ٥ / ٨٨٠
الصحیح للبخاری کتاب الغسل باب الجنب یخرج ویمشی فی السوق قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٤٢
القرآن ٢٠ / ١٤
جامع للترمذی ابواب الدعوات ماجاء فی فضل الدعاء امین کمپنی دہلی ٢ / ١٧٣
#9880 · مکروھاتِ صوم
کان النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم یذکراﷲعلی کل احیانہ ۔ رواہ مسلم وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ۔
رسو ل اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنے جمیع اوقات میں ذکر الہی فرماتے تھے(اسے مسلم ابوداؤد ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ ت)
جنب کو بہ نیت دعا وثنا الحمد وآیۃ الکرسی پڑھنے کی اجازت ہے والمسئلۃ مشہورۃ وفی الکتب مزبورۃ(یہ مسئلہ نہایت مشہور ہے اور کتب میں مسطور ہے۔ ت) واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ : رجب ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کا روزہ نفل رکھنا کیسا ہے۔ ایك شخص نے جمعہ کا روزہ رکھا دوسرے نے اس سے کہا جمعہ عید المومنین ہے روزہ رکھنا اس دن میں مکروہ ہے اور باصرار بعد دوپہر کے روزہ تڑوادیا اور کتاب سرالقلوب میں مکروہ ہونا لکھا ہے دکھلادیا ایسی صورت میں روزہ توڑنے والے کے ذمے کفارہ ہے یا نہیں اور تڑوانے والے کوکوئی الزام ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب :
جمعہ کا روزہ خاص اس نیت سے کہ آج جمعہ ہے اس کا روزہ بالتخصیص چاہئے مکروہ ہے مگر نہ وہ کراہت کہ توڑنا لازم ہوا اور اگر خاص بہ نیت تخصیص نہ تھی تو اصلا کراہت بھی نہیں اس دوسرے شخص کو اگر نیت مکروہہ پر اطلاع نہ تھی جب تواعتراض ہی سرے سے حماقت ہوا اور روزہ توڑ دینا شرع پر سخت جرأت اور اگر اطلاع بھی ہوئی جب بھی مسئلہ بتا دینا کافی نہ تھا نہ کہ روزہ تڑوانا اور وہ بھی بعد دوپہر کے جس کا اختیار نفل روزے میں والدین کے سوا کسی کو نہیں توڑنے والا اور تڑوانے والا دونوں گنہ گار ہوئے توڑنے والے پر قضا لازم ہے کفارہ اصلا نہیں ۔ واﷲتعالی اعلم
حوالہ / References سُنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص٢٦
#9881 · سحر وافطار کا بیان
مسئلہ تا : از پنڈراروڈضلع بلاسپور ملك متوسط مرسلہ منشی عتیق احمد صاحب ذیقعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
() فالــٴـن باشروهن و ابتغوا ما كتب الله لكم۪- و كلوا و اشربوا حتى یتبین لكم الخیط الابیض من الخیط الاسود من الفجر۪- ثم اتموا الصیام الى الیل-و لا تباشروهن و انتم عكفون-فی المسجد ۔
تو اب ان سے صحبت کرو اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہو اور کھاؤ اور پیؤ یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے (پوپھٹ کر) پھر رات آنے تک روزے پورے کر اور عورتوں کو ہاتھ نہ لگاؤ جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو)
ان چاروں اوامر مشروطہ ونہی ظاہرآیہ آخر آیہ کریمہ تلك حدود الله فلا تقربوها- (یہ اﷲکی حدودہیں ان کے قریب نہ جاؤ۔ ت)سے متعلق ہے یا نہیں اگر نہیں ہے تو جمع کا صیغہ کیوں فرمایاگیا اگر صرف نہی آخر سے متعلق ہے تو حدود اﷲکس طرح ایك پر عائد۔
() جیسا کہ الخیط الابیض من الخیط الاسود (سفید دھاگا کالے دھاگے سے واضح ہوجائے۔ ت)
حوالہ / References القرآن ٢ / ١٨٧
القرآن ٢ / ١٨٧
القرآن ٢ / ١٨٧
#9882 · سحر وافطار کا بیان
میں بعض صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے حقیقی تاگے کو سمجھا تومن الفجر (فطر ہونے تک۔ ت) نازل ہوا۔ تلك حدود اﷲ (یہ اﷲکی حدودہیں۔ ت)کا نزول بھی کیا اسی طرح ہوا ہے جبکہ بعض نے سفیدہ صبح تك کھایا ہو جس سے اندیشہ روزے میں خلل ہونے کے باعث ان احکام اربعہ کے بعد تلك حدود اﷲ نازل ہوئی ہو یا یہ آیت نازل ہونے پر بھی صبح ظاہر ہونے تك کھانے کا معمول برابر جاری رہا عموما ہر ایك سحری کھاتا رہا۔
() حضور سرورعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا سحری کھانا بالکل قریب صبح کے دوامی تھا یا اتفاقی جیسا کہ بعض حدیثوں میں مروی ہے اور اگر معمول دوامی تھا تو کیا آخر تك رہا اور اسی طرح عموما سب کو اجازت تا آخر وقت بالقصد ہے یا اس حالت میں کہ آخر وقت ہی اس کو ملا ہوتب۔ بینواتوجروا
الجواب :
() سب احکام مذکورہ کی طرف اشارہ ہے معالم میں ہے :
تلك حدود اﷲ یعنی تلك الاحکام التی ذکرھا فی الصیام والاعتکاف ۔
یہ اﷲکی حدود ہیں یعنی یہ وہ احکام ہیں جن کا ذکر اس نے روزے اور اعتکاف کے بارے میں فرمایا ہے(ت)
بیضاوی میں ہے : ای الاحکام التی ذکرت (یعنی وہ احکام جو پیچھے ذکر ہوئے ہیں۔ ت) واﷲتعالی اعلم
() اس آیت کا نزول من الفجر۪- کے طور پر نہیں سحری کی تاخیر مستحب ومسنون ہے احادیث صحیحہ میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تعجیل افطار و تاخیر سحور کا حکم فرمایا اور ارشاد ہوا : “ میری امت ہمیشہ خیر سے رہے گی جب تك افطار میں جلدی اور سحری میں دیر کرے گی۔ “ مگر تعجیل افطار کے معنی یہ ہیں کہ جب غروب آفتاب پر یقین ہوجائے فورا افطار کرلے وہم ووسوسہ کو دخل نہ دے نہ بلاوجہ رافضیوں کی طرح شب کا ایك حصہ داخل ہونے کا انتظار کرے ایسی جلدی کہ ہنوز غروب میں شك ہو حرام ومفسد صوم۔ اور تاخیر سحری کے معنی یہ ہیں کہ اس وقت تك کھائے جب تك طلوع
حوالہ / References معالم التنزیل مع الخازن تحت آیت تلك حدوداﷲالخ مصطفی البابی مصر ١ / ١٦٥
بیضاوی (انوارالتنزیل) علی حاشیۃ القرآن الکریم مصطفی البابی مصر ١ / ٤١
القرآن ٢ / ١٨٧
صحیح بخاری باب تعجیل الافطار قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٦٣ ، مسند احمد بن حنبل مروی از ابوذر دارالفکربیروت ٥ / ١٤٧
#9883 · سحر وافطار کا بیان
کاظن غالب نہ ہو بخلاف افطار کے کہ وہاں بحالت شك روزہ جاتا رہتا ہے وجہ فرق یہ ہے کہ شرع مطہر کا قاعدہ کلیہ ہے کہ الیقین لایزول بالشك یعنی شك سے یقین زائل نہیں ہوتا۔ رات میں طلوع فجر کا جب تك شك نہ ہوا تھا بقائے لیل پر یقین تھا وقوع شك سے بھی یہ یقین زائل نہ ہوگا اور رات ہی کا حکم رہے گا جب تك طلوع فجر کاظن غالب نہ ہو۔ ولہذا ارشادفرمایا حتى یتبین لكم الخیط الابیض یہاں تك کہ سفید ڈورا تمہارے لیے خوب ظاہر ہوجائے۔ اور افطار میں غروب شمس جب تك مشکوك نہ ہواتھا دن پر یقین تھا تو حالت شك میں بھی وہی یقین حاصل اور دن باقی سمجھا جائے گا اور اس وقت روزہ کھولنا دن میں کھولنا ٹھہرے گا زمانہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے اب تك انہیں قواعد پر عمل رہا ہے۔
() تاخیر سحور بمعنی مذکور مطلقا مستحب و مسنون ہے' صرف اسی حالت کی خصوصیت نہیں کہ اخیری وقت آنکھ کھلی ہو عادت مستمرہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی یہی تاخیر تھی ہاں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے برابر کسی کا علم نہیں ہوسکتا حضور صاحب وحی صاحب علمتہ علم الاولین والاخرین (تمام اولین وآخرین کے علوم کے جامع۔ ت)وصاحب و علمك ما لم تكن تعلم-و كان فضل الله علیك عظیما(۱۱۳) ( اﷲنے تعلیم دی ہر اس کی جو آپ نہ جانتے تھے اور اﷲکا آپ پر فضل عظیم ہے۔ ت)ہیں اوقات حقیقۃ جن میں حد مشترك صرف ایك آن ہوتی ہے ان کا امتیاز حقیقی طاقت بشری سے خارج ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس پر مطلع تھے لہذااحیانا ایسی تاخیر واقع ہوئی کہ دوسرا اس پر قادر نہیں ایك شب سحری تناول فرمانے کے بعد صرف اتنے وقفہ پر کہ آدمی پچاس آیات پڑھ لے نماز صبح شروع فرمادی۔ ایسے امور میں اتباع کی قدرت نہیں ہمارے لیے وہی حکم ہے جو جواب سوال ثانی میں مذکور ہوا۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از شہر کہنہ بریلی رجب ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ مسئلہ جو مشہور ہے کہ رمضان شریف میں رات کے سات حصے کئے جائیں جب ایك حصہ رات کا باقی رہے کھانا پینا ترك کردے آیا یہ مسئلہ صحیح ہے یا نہیںبینوا توجروا
الجواب :
یہ قاعدہ ہر گز صحیح نہیں بلکہ کبھی رات کا ہنوز حصہ باقی رہتا ہے کہ صبح ہوجاتی ہے اور کبھی ساتواں
حوالہ / References القرآن ٤ / ١١٣
#9884 · سحر وافطار کا بیان
آٹھواں نواں یہاں تك کہ کبھی صرف دسواں حصہ تقریبا رہتا ہے اس وقت صبح ہوتی ہے ہم رؤس بروج کے لیے بریلی اور اس کے موافق العرض شہروں میں ایك تقریبی نقشہ دیتے ہیں جس سے اس اجمال کی تفصیل ظاہر ہوگی افق حقیقی پر انطباق مرکز شمس جانب مغرب سے اسی پر انطباق مرکز جانب شرق تك شب نجومی ہے اور افق حسی بالمعنی الثانی سے تجاوز کنارہ آخرین شمس جانب غرب سے اسی افق سے ارتفاع کنارہ اولین شمس جانب شرق تك شب عرفی ہے اس کی تحصیل میں دونوں جانب کے دقائق انکسار بھی شب نجومی سے ساقط کئے جاتے ہیں اورافق حسی مذکور بے تجاوز کنارہ آفریں شمس سے طلوع فجر صادق تك شب شرعی ہے تحصیل فجر میں بھی جانب طلوع شمس کہ دقائق انکسار وقت باقی سے مستثنی ہیں۔ یہ نقشہ خود فقیر کا ایجاد ہے جس کا اجمالی بیان یہ ہوا اور جو شخص اس فن میں کچھ ادراك رکھتا ہو اسے تفصیل بھی بتائی جاسکتی ہے وباﷲ التوفیق وﷲالحمد والمنۃ واﷲسبحانہ وتعالی اعلم۔

عــــہ : یعنی نواں حصہ قدرے کم
#9885 · سحر وافطار کا بیان
ان بیانوں سے واضح ہوا کہ راس السرطان کی صبح جس طرح تمام سال میں سب صبحوں سے باعتبار نسبت بڑی ہے کہ کوئی صبح اپنی رات کا اتنا بڑا حصہ نہیں ہوتی یونہی وہ مقدار میں بھی جمیع صبحوں سے زائد ہے کہ اتنی مدت کوئی صبح نہیں پاتی مگر اس کے خلاف راس الجدی کی صبح باآنکہ نسبت میں تمام صبحوں سے کم ہے کہ کوئی صبح اپنی رات کا اتنا چھوٹا حصہ نہیں ہوتی لیکن وہ مقدار میں سب سےکم نہیں بلکہ نصف جنوبی میں سب سے زائد مقدار کی فجر ہے سال میں سب سے چھوٹی فجر فجر اعتدالین ہے مگر وہ نسبت میں سب سے کم نہیں بلکہ نصف جنوبی میں سب نسبتوں سے زائد ہے نیز روشن ہوا کہ صبح کا اپنی مقدار چھوٹی بڑی ہونے میں مطلقاتابع روز ہونا کہ جتنا دن گھٹے صبح چھوٹی ہوتی جائے اور جتنا بڑھے ترقی پائے یا مطلقا تابع شب ہونا کہ ہمیشہ اس کی کمی فزونی رات کی کاہش وبیشی پر رہے جیسا کہ آج کل کے ناواقف محاسبوں میں کسی نے اسے نہار کسی نے لیل کا ٹکڑا سمجھ کر گمان کیا ہے محض غلط ہے بلکہ صبح اپنی کمی بیشی میں میل شمسی کی تابع ہے اعتدالین پر کہ میل منتفی ہوتا ہے صبح سب سے چھوٹی مقدار پر ہوتی ہے پھر جتنا میل بڑھتا جاتا ہے صبح کی مقدار زیادہ ہوتی جاتی ہے یہاں تك کہ انقلاب پر اپنی اعظم مقادیر پر آتی ہے پھر جس قدر میل گھٹتا ہے صبح چھوٹی ہوتی جاتی ہے حتی کہ اعتدال پر پھر اپنی انقص مقادیر پر آتی ہے اور انقلاب قطب ظاہر کے اعظم مقادیر انقلاب قطب خفی کے اعظم مقادیر سے بھی اعظم ہوتی ہے یا عام فہمی کے لیے یوں کہئے کہ صبح ہر دو نصف شمالی و جنوبی میں بڑے کی تابع ہے نصف شمالی میں دن رات سے بڑاہوتا ہے صبح اس کی زیادت و قلت کے ساتھ بڑھتی گھٹتی ہے اور نصف جنوبی میں رات دن سے بڑی ہوتی ہے صبح افزائش و کاہش میں اس کے ساتھ چلتی ہے راس الحمل پر اپنی اقل مقدار تك پہنچ کر دن کے ساتھ بڑھنی شروع ہوئی جب انقلاب صیفی میں دن اپنی نہایت زیادت پر آیا صبح بھی غایت ازدیاد پر پہنچی پھر دن گھٹنا شروع ہوا صبح بھی انہیں قدموں پر رجعت قہقری کرتی ہوئی گھٹتی چلی یہاں تك کہ اعتدال خریفی پر پھر اسی اقل مقادیر پر آگئی اب رات کے ساتھ فزونی کرنے لگی جب انقلاب شتوی نے شب یلدا(اندھیری اور طویل رات) دکھائی صبح بھی اس نصف میں اپنی اعظم مقادیر پر آئی آگے رات کم ہوتی چلی صبح بھی بدستور الٹے پاؤں کمی پر پلٹی حتی کہ اعتدال ربیعی پر پھر انقص مقدار ہوئی وھکذا الی ماشاء اﷲ تعالی واﷲتعالی اعلم۔
_________________

yun par one emig hai
#9886 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ : از شاہجہان پور محلہ جگدل نگر متصل اسٹیشن ریلوے مرسلہ محمد فصاحت اﷲخاں رمضان المبارك ھ
بعد ادائے آداب کے عرض پر داز ہوں کہ ایك اشتہار مولوی اعظم شاہ صاحب نے بابت افطار وسحری رمضان المبارك ونیز چند مسائل روزے کے جواوپر نقشہ اور پشت پر نقشہ لکھے ہیں شائع کرکے تقسیم کرائے ہیں جو کہ شاہجہان پور میں سال گزشتہ میں بابت چاند عیداضحی نزاع ہوچکا ہے اس خیال سے اس نقشہ کی بابت تحقیقات کرنا ضروری ہے۔ آج کے روزے کا نقشہ دیا ہوا بابت افطار و سحری اور نقشہ مولوی اعظم شاہ اور نقشہ مولوی ریاست علی خان صاحب کا مقابلہ کیا گیا جواعظم شاہ کے نقشہ اورآپ کے نقشہ سے بہت فرق آیا بابت سحری کے اور آپ کا نقشہ اور مولوی ریاست علی خاں کا نقشہ قریب قریب ہے جو کہ اب ایسی حالت میں بڑا نقصان کم علموں کا ہورہا ہے اور ہوگا کیونکہ کل کے روز ایك عورت نے چار بج کر چالیس منٹ پر سحری کھائی اور جب اس کی حالت مولوی اعظم کو معلوم ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ روزہ جاتا رہا اس پراس نے روزہ توڑڈالا
#9887 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
جب مولوی ریاست علی خاں صاحب سے دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ اس کا روزہ تھا کیونکہ وہ وقت سحری کھانے کا تھا اور نیز اس اشتہار میں جو مسائل بابت رمضان المبارك اور وقت افطار اور وقت سحری اور مسائل تراویح کے لکھے ہیں وہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ صحیح لکھے ہیں یا نہیں بندہ اشتہار مذکور روانہ خدمت عالی کرتا ہے اور بعد ملاحظہ جملہ اشتہار کے اس کے صحیح اور غیر صحیح پر توجہ فرمائی جائے اور اگر غلط ہے تو جس جس مسئلہ میں غلطی ہو اس کا جواب بحوالہ کتاب ارقام فرمادیجئے اگر نقشہ غلط ہوتو بابت نقشہ کے اسی قدر کافی ہے کہ نقشہ غلط ہے اور اس اشتہار کے بھیجنے کی بابت جناب مخدوم و مکرم مولوی ریاست علی خان صاحب نے بھی تاکید فرمائی تھی جب میں نے عرض کیا تھا کہ اس اشتہار کو بریلی روانہ کروں گا تو فرمایا کہ ضرور بھیج دو تاکہ وہاں سے جواب آنے کے بعد اس اشتہار کی صحت اور غلطی کا اعلان کرادیا جائے۔ فقط۔
الجواب :
بعد مراسم سنت ملتمس بعد سوال جواب واجب اور وقت وجوب اظہار صواب لازم اوقات صحیح نکالنے کا فن جسے علم توقیت کہتے ہیں ہندوستان کے طلبہ تو طلبہ اکثر علماء اس سے غافل ہیں نہ وہ درس میں رکھا گیا ہے نہ ہیأت کی درسی کتابوں سے آسکتا ہے اور جو کچھ مسالہ مولوی مسیح الدین خاں کا کوروی وغیرہ بنا گئے وہ فقط ناکافی ہی نہیں بلکہ سخت اغلاط میں ڈالنے والا ہے یونہی مرزاخیراﷲمنجم کی دوحرفی جدول سے کوئی ناواقف فن نفع نہیں پاسکتا اگر کسی نے بڑی تحقیقات چاہی تو زیچ بہادر خانی کی جد اول تعدیل النہار سے کام لیا سحری کو توان سے کچھ تعلق ہی نہیں اور افطار میں بھی ناقص ہے جب تك متعدد ضروری اصلاحیں اس کے ساتھ شریك نہ ہوں پھر جسے وہ اصلاحیں آتی ہیں اسے ان جدول کی کیا حاجت فقیر نے اس فن میں نہ نری کتابی باتوں پر اعتماد کیا نہ خالی دلائل ہندسہ پر نہ تنہا تجربہ ومشاہدہ پر بلکہ سب کو جمع کیا اور بتوفیق الہی اپنی ذہنی جدتوں سے بہت کچھ کام لیا یہاں تك بفضلہ تعالی برہان و عیان کو مطابق کردیا میرا نقشہ بفضلہ تعالی جزاف نہیں ہوتا جو ہیأت و ہندسہ جانتا ہو وہ اسے براہین کے مطابق پائے گا اور جو نگاہ رکھتا ہو صبح صادق وکاذب کو دیکھ کر پہچان سکتا ہو وہ اسے مشاہدہ سے موافق پائے گا میرے نقشوں میں بریلی کی سی سحری و افطار میں پانچ پانچ منٹ کی احتیاط ہوتی ہے اور دوسرے شہروں کا تقریبی وقت بھی اسی صحت کے ساتھ دیا جاتا ہے کہ کم و بیش چار پانچ منٹ احتیاطی رہیں۔ جو نقشہ میرے بتائے ہوئے وقت سے جتنا مخالف ہو یقین جانئے کہ وہ اتنا ہی غلط ہے اگر چہ کسی کا بنایا ہوا ہو دونقشے اگر صحیح باقاعدہ دینے ہوں تو صرف اس قدر فرق کرسکتے ہیں کہ احتیاطی منٹ کسی نے دو ایك کم رکھے کسی نے زائد یا ایك منٹ کی تحتانی کسروں میں کسی نے زیادہ تعمق کیا کسی نے بے ضرورت سمجھ کر مساہلت سے کام لیا وبس۔ اب آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ
#9888 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
ان مولوی صاحب کے نقشے میں کتنا فرق ہے شاہجہان پور بریلی بدایوں پیلی بھیت دہلی رامپور لکھنؤ مرادآباد کے وقت یہاں اور شاہجہان پور والے دونوں نقشوں میں دئے ہیں ان میں ہرشہر کے لیے سحری کے اوقات میں بیس بائیس منٹ تك کا فرق ہے اور دہلی کے لیے تو منٹ تك ہے کہ دو منٹ کم آدھا گھٹتا ہوا مگر پیلی بھیت کے لیے اﷲاعلم کس وجہ سے اس قدر ترقی واقع ہوئی کہ ابتداء میں وقت ٹھیك آیا اور آخر ماہ میں بڑھتے بڑھتے احتیاطی منٹ کا بھی اصلا نشان نہ رہا کنارے ہی پر آلگا بلکہ تدقیق کی جائے تو عجب نہیں کہ کچھ حصہ صبح کا آجائے۔ بات یہ ہے کہ مولوی صاحب نے شاہجہان پور کے وقت بطور خود تجویز کرکے باقی شہروں کے لیے صرف ان کا تفاوت طول جو ان کے خیال میں تھا گھٹا بڑھا لیا حالانکہ تبدل اوقات میں بڑا حصہ تفاوت عرض کا ہے دوشہروں میں تفاوت طول اصلا نہ ہو صرف اختلاف عرض سے طلوع وغروب و صبح و عشامیں گھنٹوں کا فرق پڑجاتا ہے شاہجہان پورو پیلی بھیت میں اکیس منٹ کاتفاوت کسی طرح نہیں بنتا یہی حال کلکتے کا ہے کہ اخیر کی تاریخوں میں کچھ ہی خفیف نام احتیاط کا رہ گیا ہے دو سال ہوئے کہ خاص کلکتے کے اوقات یہاں سے شائع ہوئے تھے نومبر سے تك تاریخیں اس سال بھی پڑی ہیں ان سے ملا کر دیکھ سکتے ہیں پرچہ مرسل ہے افطار کے اوقات میں اتنا زیادہ تفاوت نہیں مگر اس کا تھوڑا بھی بہت ہے مثلا شاہجہا ن پور میں احتیاطی منٹ گھٹتے گھٹتے آخر میں صرف ایك ہی رہ گیا مگر دہلی پر آفت پوری ہے اول سے آخر تك غروب سے پہلے افطار لکھاخصوصا آخر میں تو پانچ منٹ پیش از غروب افطار ہوئی ہے شاہجہان پور میں جس نے بج کر منٹ تك سحری کھائی اس کا روزہ یقینا صحیح ہوا وہ عورت توڑنے سے سخت گنہ گار ہوئی اس کا روزہ نہ ہونے کا حکم محض غلط تھا۔ ابوداؤد دارمی ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من افتی بغیر علم کان اثمہ علی من افتاہ ۔
جس نے بے علم فتوی دیا اس کا وبال فتوی دینے والے پر ہے۔ (ت)
اگر گھڑی صحیح تھی تو یقینا پاؤ گھنٹے سے زیادہ وقت باقی تھا۔ مسلمانو! یہ دین ہے جس پر خدا کی دین ہے وہ جانتا ہے کہ اس کا سیکھنا مجھ پر دین ہے قواعد و براہین ہیأت و ہندسہ بالائے طاق سہی وقت پہچاننا تو ہر مسلمان پر فرض عین ہے افسوس کہ ہزاروں آدمی حتی کہ بہت ذی علم بھی صبح صادق و کاذب کی ٹھیك تمیز دیکھ کر نہیں بتاسکتے اور اس پر کتب ہیئت وغیرہ کی پریشان بیانوں نے انہیں اور دھو کے میں ڈالا ہے سچ
حوالہ / References سنن ابی داؤد باب التوقی فی الفتیا ای الفتوی آفتاب عالم پریس لاہور ٢ / ١٥٩
#9889 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
فرمایا امام حجۃ الاسلام غزالی قدس سرہ العالی نے کہ ابتداء میں انسان کو ان دونوں صبح میں امتیاز مشکل ہوتا ہے بکثرت بار بار بغور مشاہدہ کرتا رہے تو بعنایت الہی دونوں صبحیں خوب نگاہ میں جچ جاتی ہیں کہ بہ نگاہ اولیں دیکھ کر کہہ سکتا ہے کہ ابھی صبح صادق ہوئی یا نہ ہوئی یہاں متعدد وجوہ سے لوگ اشتباہ میں ہیں ان کا بیان کردینا ضرور ہے کہ مسلمان سمجھ لیں اور اغلاط سے بچیں۔
فاقول : وباﷲالتوفیق(پس میں کہتا ہوں اور توفیق اﷲتعالی سے ہے۔ ت)اولا صبح کاذب کو حدیث میں مستطیل یعنی لمبی اور صادق کو مستطیر پھیلی ہوئی فرمایا ہے ناواقف گمان کرتے ہیں کہ صبح کاذب کوئی ڈورے کی مثل باریك سفید ہے اور جہاں ذرا چوڑی سفیدی ہوئی تو صبح صادق ہوگئی یہ محض غلط وہم ہے رات کی چھائی ہوئی اندھیری میں باریك ڈورا کیا نظر آسکتا صبح کاذب بھی ضرور عرض رکھتی ہے اور نگاہ میں دوتین گز بلکہ اس سے زیادہ تك چوڑی ہوتی ہے بلکہ حدیث کی مراد وہ ہے جو خود حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دست اقدس کے اشارے سے تعلیم فرمائی کہ شرقا غربا جو سفیدی پھیلی ہوتی ہے وہ صبح کاذب ہے اور دونوں دست مبارك کی کلمے کی انگلیاں ملاکر ہاتھ پھیلائے یعنی جنوبا شمالا افق میں پھیلنے والی سپیدی پھیلی صبح صادق ہے۔
ثانیا : بعض کتب میں صبح کاذب کی وجہ تسمیہ یہ لکھی کہ یعقبہ ظلمۃ فالافق یکذبہ یعنی اس کے عقب میں ظلمت ہوتی ہے یہ سپیدی تو کہہ رہی ہے صبح ہوگئی افق اسکی تکذیب کرتی ہے لہذا اسے صبح کاذب کہتے ہیں۔ اس کے معنے علمائے عــــہ زمانہ قریب نے یہ سمجھ لیے کہ صبح کاذب کی سپیدی جاکر اس کے بعد اندھیرا ہوجا تا ہے پھر صبح صادق نکلتی ہے حالانکہ یہ محض باطل ہے صبح کاذب کی سپیدی جہاں شروع ہوتی ہے وہ اخیر تك بڑھتی ہی جاتی ہے ہرگز غروب آفتاب تك وہاں تاریکی نہیں آتی بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ صبح کاذب کی سپیدی افق سے بہت اونچی ظاہر ہوتی ہے اور اس کے عقب میں اس کے پیچھے یعنی افق میں اس کے نیچے بالکل اندھیرا ہوتا ہے جب صبح صادق پھیلتی ہے یہ تاریکی بھی روشنی سے بدل جاتی ہے۔
ثالثا : بعض کتب ہیئت اور ان کے اتباع سے بعض کتب فقہ مثل ردالمحتار میں لکھ دیا کہ جب آفتاب افق سے درجے نیچے رہتا ہے وقت صبح صادق ہوتی ہے اور صبح کاذب اس سے صرف تین درجے پہلے یعنی درجے کے انحطاط پر ہوتی ہے مگر ہزاروں بار کا مشاہدہ شاہد ہے کہ یہ بھی محض غلط ہے بلکہ جب آفتاب کا انحطاط قریبدرجے کے رہ جاتا ہے اس وقت یقینا صبح صادق ہوجاتی ہے صبح کاذب اس سے بہت درجوں پہلے ہوچکتی ہے میں نے آج ہی رات کہ شب ہشتم ماہ مبارك ہے بچشم خود معائنہ کیا کہ آفتاب ہنوز تینتیس درجے سے زیادہ افق سے نیچا تھا کہ صبح کاذب اپنی جھلك دکھارہی تھی صبح صادق ہونے کو ایك گھنٹے کامل سے بھی زیادہ وقت باقی تھا۔
عــــہ : یعنی سعد اﷲصاحب رام پوری
#9890 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
رابعا : عوام صبح کا طلوع ہونا سنتے ہیں تو اپنے زعم میں یہ گمان کرتے ہیں کہ افق یعنی زمین کے کنارہ سے یہ سپیدی اٹھتی ہوئی جب بلندی پر آتی ہے تو ہمیں مکانوں میں یا چھت پر دکھائی دیتی ہے جیسے آفتاب وغیرہ ستارے شہر میں اپنے طلوع سے دیر کے بعد نظر آتے ہیں اس بنا پر وہ صبح ہوتی دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ بہت پہلے ہوچکی ہے جب تواتنی بلندی آگئی ہے حالانکہ یہ بھی ان کا محض وہم ہے بلکہ یہ سفیدی افق سے بہت اونچی ہی ہماری نظروں میں پیدا ہوتی ہے۔ فرض کیجئے کہ آدمی جنگل بلکہ سمندر میں ہوکہ نگاہ کے سامنے درخت غبار ابر وغیرہ کوئی شے اصلا حائل نہ ہوتو وہاں بھی یہ بیاض افق سے بہت اوپر ہی حادث ہوگی اور اس کے نیچے تمام کنارہ آسمان تاریك ہوگا اسی کو تو یعقبہ ظلمۃ( اس عقب میں ظلمت ہوتی ہے۔ ت) کہا گیا اپنی ہی سمجھ کے قابل یوں سمجھیں کہ نظر بواقع ضرور رہے کہ آفتاب کی کرنیں پہلے اس حصے میں سپیدی لاتی ہوں گی جو کنارہ زمین کے متصل ہے مگر وہ نہ کبھی محسوس ہوئی نہ ہو افق میں بخارات کا ازدحام اور خطوط نظر کا صدہا میل بخار وغیرہ کثافات کو طے کرکے افق تك جانا آفتاب کی دھوپ جیسی روشن چیز کو کتنا میلا کرکے دکھاتا ہے کہ سپیدی کی جگہ سرخی معلوم ہوتی ہے اور تیزی نام کو نہیں ہوتی پھر یہ خفیف ضعیف سپیدی کیا اس قابل ہے کہ افق میں نظر آسکے جو صاف بھی کم ہے اور نظر سے دور بھی بہت ہے یہ تو ہمیشہ اوپر چمکے گی جہاں نظر سے قرب بھی ہے اور جگہ بہ نسبت افق صاف تر ہے۔
خامسا : بعض کتب میں واقع ہوا کہ صبح رات کا ساتواں حصہ ہے اسے لوگ ہر موسم میں وہر مقام کے لیے عام سمجھ لیے حالانکہ جن عالم نے ایسا فرمایا وہ اس موسم اور اس عرض بلد کے لیے خاص تھا ورنہ یقینا صبح ہمارے بلاد میں رات کے چھٹے حصے سے دسویں حصے تك ہوتی جس کی مفصل جدول فقیر نے اپنے فتاوی میں لکھی ہے اس ماہ مبارك میں بھی صبح رات کے نویں حصے سے دسویں حصے تك ہے جو لوگ ساتواں حصہ لگائیں گے وہ آپ ہی رات کو دن بنائیں گے اب ہم بتوفیق اﷲ تعالی صبح کاذب کے شروع سے صبح صادق کے انتشار تك جو صورتیں اس سپیدی کی پیش آتی ہیں ان کا واضح بیان کرتے ہیں جو آج تك کسی کتاب میں نہ لکھا گیا جو ہمارا برسوں کا مشاہدہ ہے اور جسے بغور سمجھ لینے والا ان شاء اﷲتعالی بہت جلد صبح کاذب و صادق میں امتیاز کا ملکہ پیدا کرسکتا ہے :
() افق سے کئی نیزے بلندی پر جانب مشرق آج جہاں سے آفتاب نکلنے کو ہو اس کی سیدھ میں یعنی دائرہ منطقۃ البروج کی سطح کرہ بخار پر رات کی اندھیری میں ایك خفیف سپیدی کا دھبہ پیدا ہوتا ہے جسے چاروں طرف سے رات کی اندھیری گھیرے ہوئے ہے اس انداز پر یہ صبح کاذب کی بنیاد پڑتی ہے۔
() جوں جوں آفتاب افق کے نزدیك آتا جاتا ہے یہ سپیدی ترقی کرتی ہے مگر ترقی معکوس یعنی اوپر سے
#9891 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
نیچے کو بڑھتی جاتی ہے افق سے بہت اونچی چمکی تھی اور نیچے دور تك اندھیرا تھا اب وہ اونچی سپیدی تواپنی جگہ رہتی ہے اور اس کے نیچے سپیدی اور اس میں ملتی جاتی ہے یہاں کہ شدہ شدہ افق کے قریب تك آنے کو ہوتی ہے مگر ان سب حالتوں میں وہ ایك طولانی ستون کی حالت میں ہوتی ہے گویا ایك سفید چادر اوپر سے نیچے لٹکائی گئی ہے کہ اسی حد تك سپیدی ہے اور آس پاس بالکل اندھیراان شکلوں پر
یہاں امیج کی شکل میں ڈبے بنانے ہیں جلد ۱۰ ص۵۷۲
() ان تمام اشکال کے بعد اس عمود کے حصہ زیریں کے دونوں پہلوؤں پر نہایت تھوڑی دور تك ایك خفیف بھوراپن خاکستری رنگ پیدا ہوتا ہے کہ کبھی تمیز میں آتا ہے اور معا نگاہ کے نیچے سے نکل جاتا ہے اس طرز پر اب یہ وہ وقت کہ صبح صادق اپنے رخ روشن سے نقاب اٹھایا چاہتی ہے مگر ہنوز صبح نہیں کہ اس کے لے تبین شرط ہے اور یہ متبین نہیں :
حتى یتبین لكم الخیط الابیض من الخیط الاسود من الفجر۪-ثم
اﷲتعالی کا ارشاد گرامی ہے : یہاں تك کہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پوپھٹ کر۔ (ت)
ان تمام حالتوں تك صبح کاذب ہی ہے اور نماز عشاء اور سحری کھانے کا وقت بالاتفاق باقی ہے۔
() اس کے بعد وہ دونوں پہلو سپید ہوجاتے ہیں اگر چہ ان کی سپیدی مائل بہ تیرگی ہوتی ہے اور جنوبا شمالا اس کا عرض بہت خفیف ہوتا ہے اس وضع پر یہ ابتدائے صبح ہے اور اس وقت میں ہمارے مشائخ کرام کو اختلاف ہے : بعض نے اسے صبح قرار دیا اور یہی احوط ہے بعض نے بلحاظ شرط استطارہ وانتشارا اسے بھی صبح کاذب کے حکم میں رکھا اور یہی اوسع ہے۔ ان جمیع حالتوں میں عمود کے تمام بالائی حصے کے آس پاس نری سیاہی ہوتی ہے۔
() اس کے بعد دونوں پہلوؤں کی یہ سپیدی آنافانا جنوبا شمالاپھیلنا شروع ہوتی ہے اور ایك خفیف دیر میں پھیل جاتی ہے۔ اس طور پر یہ یقینی اجماعی صبح صادق ہے اور ہنوز وہ عمود بدستور باقی اور اس کے تین طرف سیاہی ہوتی ہے مگر یہ سچی سپیدی جیسی جیسی جنوب شمال میں پھیلتی ہے ساتھ ہی نیچے سے اوپر چڑھتی جاتی ہے برعکس سپیدی کاذب کے کہ اوپر سے نیچے بڑھتی آتی تھی یہاں تك کہ اب وہ عمود سپید رفتہ رفتہ اس منتشر سپیدی میں گم ہوتے ہوتے فنا ہوجاتا ہے یعنی اس کے اطراف کی
حوالہ / References القرآن ٢ / ١۸۷
#9892 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
ساری سیاہی کو سپیدی گھیر لیتی ہے اور اب اس عمود کی صورت متمیز نہیں رہتی ان صورتوں پر

()اب یہ سپیدی جس طرح آسمان پر بڑھی زمین کی جانب بھی متوجہ ہوتی اور صحن وبام کو روشن کر دیتی ہے یہ وقت اسفار ہے کہ نماز صبح کا مستحب وقت ہے اور اس پہلے اندھیرے میں پڑھنی خلاف مستحب۔
() جب آفتاب اور زیادہ قریب افق آتا ہے یہ سپیدی سرخی لاتی ہے پھر سنہرا پن پھر چمکدار سپیدی اس کے متصل طلوع آفتاب ہے پانچویں شکل جو اجماعی صبح ہے اسے جانے دیجئے تو چوتھی شکل بھی اس رمضان مبارك اور اس سے پہلے کے متعدد رمضانوں میں بریلی وشاہجہان پور میں تیسری شب کی صبح ان گھڑیوں سے بھی جو پارسال تك حال کی گھڑیوں سے نومنٹ کم تھیں کبھی کسی دن ٹھیك پانچ بجے بھی نہ ہوئی اور اخیر تاریخوں میں جو چاہے آزما کر دیکھ لے سواپانچ بجے تك بھی ہرگزنہ ہوگی تو چار بج کر منٹ پر روزہ نہ ہونے کا حکم کیونکہ صحیح ہوسکتا ہے تمیز کے لیے ایك اور پہچان گزارش کروں آسمان پر چند کواکب سے ایك شکل حرف کاف بنتی ہے اس وضع پر یہ کاف آج کل پچھلی رات کو طالع ہوتا ہے اس سے ایك نیزے کے فاصلے پر ان دنوں بڑا روشن ستارہ زہرہ ہے بریلی میں صبح کاذب کا عمودآج کل اس کاف کے الف یعنی حصہ و سطانی کے گرد ہوتا ہے اور زہرہ تك پھیلتا ہے پھر زہرہ کے دونوں پہلوؤں سے جنوب و شمال کو صبح صادق تجلی کرتی ہے اس شکل پر اوقات کے متعلق تجلی کرتی ہے اس شکل پر

اوقات کے متعلق بیان سے فراغ ہوا۔ رہے مسائل مذکورہ اشتہار ان میں بھی سخت اغلاط بشدت ہیں مثلا : اول ہلال رمضان بحال ابر وغبار ایك ثقہ کی گواہی شرط کرنی اس مذہب معتمد و ظاہر الروایۃ مصححہ کے خلاف ہے کہ اجلہ ائمہ مثل امام شمس الائمہ حلوانی وامام برہان الدین فرغانی واما م بزازی وغیرہم نے جس کی تصحیح فرمائی اور نظر بحال زمانہ اس پر اعتماد واجب ہے کہ یہاں شہادت مستور بھی مقبول ہے یعنی جس کا فسق معلوم نہیں اور اس کا ظاہر حال صلاح ہے محررمذہب امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ نے تصریح فرمائی کہ ہلال رمضان میں ثقہ وغیر ثقہ دونوں کی شہادت مقبول ہے غیر ثقہ سے وہی مستور مراد جس کی عدالت باطنی مجہول ہے آج کل ثقہ کی کمیابی ظاہر ہے تو اس ظاہرالروایۃ
#9894 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
مصححہ بالتصریح سے عدول صریح جہل نامقبول کافی امام حاکم شہید میں ہے :
تقبل شہادۃ المسلم والمسلمۃ عدلاکان الشاہد او غیرعدل ۔
مسلمان مرداور عورت کی شہادت مقبول ہوگی خواہ شاہد عادل ہو یا نہ ہو۔ (ت)
درمختار میں ہے : صححہ البزازی (اس کو بزازی نے صحیح قرار دیا ہے۔ ت) فتح القدیر میں ہے : وبہ اخذالحلوانی (اسے حلوانی نے اختیار کیا ہے۔ ت) ردالمحتار میں ہے :
وکذاصححہ فی المعراج والتجنیس ومشی علیہ فی نورالایضاح وانہ ظاھر الروایۃ ایضا فا لحاکم الشہید فی الکافی جمع کلام محمد فی کتبہ التی ھی ظاھر الروایۃ والمراد بغیر العدل المستور ۔ ملخصا
معراج اور تجنیس میں اسے صحیح کہا نورالایضاح نے بھی اسی کو اختیار کیا اور ظاہرروایت بھی یہی ہے تو حاکم شہید نے الکافی میں امام محمد کا وہ کلام جمع کیا ہے جو ان کی کتب میں مذکور ہے اور یہی ظاہرالروایۃ ہے اور غیر عادل سے مراد مستور الحال ہونا ہے(ت)
دوم : قبول شہادت کے لیے مطابقت قواعد شرعیہ کے ساتھ مطابقت قواعد عقلیہ کی قید بڑھانی بھی خلاف مذہب معتمد ہے رؤیت ہلال میں جس قدر عقلی بات کہ شرع مطہر نے بھی قبول فرمائی ہے مثلا اٹھائیس کو چاند نہیں ہوسکتا اتنی قواعد شرعیہ میں آگئی اس سے زائد جو قواعد اہل ہیئت نے دربارہ ہلال اپنے ظنون و تخمینات سے گھڑے ہیں شرع نے اصلا ان کی طرف التفات نہ فرمایا اور صراحتا ارشاد فرمایا :
اناامۃ امیۃ لانکتب ولا نحسب الشہر ھکذا وھکذا وھکذا الحدیث
ہم امی امت ہیں نہ لکھتے ہیں اور نہ ہی حساب جانتے ہیں مہینہ اس طرح اس طرح اس طرح ہے الحدیث۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لاعبرۃ بقول الموقتین ولوعد ولا
مذہب کے مطابق نجومیوں کا قول مقبول نہیں اگرچہ
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ کافی للحاکم کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ٩٩-٩٨
درمختار ، کتاب الصوم مجتبائی دہلی ، ١ / ١٤٨
فتح القدیر ، کتاب الصوم ، نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٢٥٠
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ٩٩-٩٨
سنن ابی داؤد کتاب الصوم آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٣١٧
#9895 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
علی المذھب ۔
وہ عادل ہوں۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
بل فی المعراج لا یعتبر قولھم بالاجماع ولا یجوز للمنجم ان یعمل بحساب نفسہ ۔
بلکہ معراج میں ہے کہ نجومیوں کا قول بالاتفاق معتبر نہیں اور منجم کے لیے اپنے حساب پر بھی عمل کرنا جائز نہیں۔ (ت)
اقول : یہ شرع مطہر عالم ماکان ومایکون کےارشادات ہیں عالم امی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو معلوم تھا کہ سیر نیرین ضرور اس عزیز علیم کے حساب مقدر پر ہے ذلك تقدیر العزیز العلیم(۹۶) (یہ سادھا ہے زبردست جاننے والے کا۔ ت) اور کیوں نہ معلوم ہوتا حالانکہ انہیں پر نازل ہوا کہ الشمس و القمر بحسبان۪(۵) (سورج اور چاند حساب سے ہیں۔ ت)باایں ہمہ اس عالم حقائق عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے درباب رؤیت ہلا ل حساب کویك لخت ابطال واہمال فرمایا کہ حضور جانتے تھے کہ یہ ان محاسبات قطعیہ سے نہیں جن کا ذکر کریمہ بحسبان میں ہے بلکہ ناقص ونامنضبط متاخرین اہل ہیئت کے تخمینات ہیں جن کا تخلف دشوار نہیں ولہذا امام اہل ہیئت بطلیموس نے مجسطی میں با آنکہ ثوابت تك کے ظہور واخفاء کے لیے فصل جداگانہ وضع کی رؤیت ہلال کا اصلا ذکر نہ کیا کہ وہ اصلا اس کے انضباط پر قادر نہ ہوااور متاخرین نے جو کچھ لکھا ان شدیدباہمی اختلافات کے بعد(جو مطالعہ شرح مواقف وشرح زیج سلطان وغیرہ سے ظاہر ہیں) خود بھی کوئی ضابطہ صحیحہ نہ بتاسکے ان یتبعون الا الظن و ان هم الا یخرصون(۶۶) (وہ پیچھے نہیں جاتے مگر گمان کے اور وہ تو نہیں مگر اٹکلیں دوڑاتے ہیں۔ ت)کے مصداق رہے ولہذا منجمین کے ان حسابات میں اکثر خطا پڑی ہے ابھی چند سال کا ذکر ہے کہ رمضان مبارك جنتریوں میں بلا اشتباہ روز کالکھا تھا اور یہاں سے نقشہ سحری و افطار میں دن کا مہینہ شائع ہوا بفضلہ تعالی ایسی صاف عام رؤیت کی ہوئی جس میں اصلا اختلاف نہ ہوا مخالفین میں سے ایك صاحب نے بعض خاص احباب سے کہا میں کو نقشہ ہاتھ میں لیے منتظر رہا
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٨
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٠
القرآن ٦ / ٩٦
القرآن ٥٥ / ٥
القرآن ١٠ / ٦٦
#9897 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
کہ آج رؤیت نہ ہو اور فورا نقشہ لے کر پہنچوں کہ کا مہینہ کب ہوا حالانکہ یہ ان کی خام خیالی تھی یہاں نقشوں میں تصریح کردی جاتی ہے کہ بر بنائے قواعد علم ہیئت ہے شرع مطہر میں رؤیت پر مدار ہے اگر رؤیت اس کے خلاف ہو نقشہ پر لحاظ نہ ہوگا بالجملہ ایسے قواعد عقلیہ کیا قابل لحاظ ہوسکتے ہیں جن کے سبب ثقہ عادل کی شہادت شرعیہ رد کی جائے۔
وبہ ظہر الجواب عما ذکرھھنا الامام السبکی الشافعی ان الشہادۃ ظنیۃ والحساب قطعی فانہ رحمہ اﷲتعالی ظن انہ کسائر حسابات الھیئۃ من الطلوع والغرب والتحویل والتقویم والخسوف ولیس کذلك بل ھو مثل حساب وقت الکسوف بدایۃ ونھایۃ بل ادون رتبۃ فانہ یتم بعد تکرار الاعمال الطوال مرۃ بعد اخری بخلاف ھذاومن جرب تجربتی عرف معرفتی لا جرم ردہ کل من جاء بعدہ من محققی الشافعیۃ ایضاو حققو اان العبرۃ بالشہادۃ الشرعیۃ وان خالفت تلك القواعد العقلیۃ کما فصلہ فی رد المحتار۔
اس سے امام سبکی شافعی کی گفتگو کا جواب بھی آگیا کہ شہادت ظنی ہے اور حساب قطعی کیونکہ انہوں نے اسے باقی حسابات مثلا طلوع غروب تحویل تقویم اور خسوف کی حالت پر قیاس کیا ہے حالانکہ معاملہ ایسانہیں ہے بلکہ یہ تو ابتداء وانتھا کے اعتبار سے کسوف بلکہ رتبہ کے اعتبار سے اس سے بھی کم درجہ پر ہے کیونکہ یہ یکے بعدد یگرے تکرار عمل سے تام ہوجاتا ہے بخلاف مذکورہ کے جوبھی مجھ جیسا تجربہ کرے گا اسے ہماری طرح ہی معرفت ہوگی یہی وجہ ہے کہ ان کے بعد آنے والے محققین شوافع نے بھی ان کا رد کیا ہے اور یہی ثابت کیا کہ اعتبار شہادت شرعیہ کاہے اگرچہ وہ قواعد عقلیہ کے مخالف ہو جیسا کہ اس کی تفصیل ردالمحتار میں ہے۔ (ت)
سوم : رمضان مبارك میں بحال صفائی مطلع ایك ثقہ کی گواہی مطلقا رد کر دینا مذہب منقح کے خلاف ہے بلکہ وہ بتصریح محرر مذہب امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس حالت سے مقید ہے جبکہ اس اکیلے کا رؤیت سے تفرد خلاف ظاہرہو ورنہ اگر بیرون شہر سے آیا اور اہل شہر نے نہ دیکھا یا یہ بلندی پر تھا اور لوگ زمین پر یا لوگوں نے تلاش ہلال میں کوشش نہ کی تو صفائے مطلع میں بھی ایك کی شہادت ظاہرالروایۃ مصححہ معتمدہ منقحہ پر مقبول ہے۔ درمختار میں ہے :
صحح فی الاقضیہ الاکتفاء بواحد ان جاء بخارج البلد اوکان علی
کتاب الاقضیہ میں اس بات کی تصحیح ہے کہ ایك گواہ پر اکتفاء درست ہے جبکہ وہ بیرون شہر سے
#9898 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
مکان مرتفع واختارہ ظہیرالدین ۔
کتاب الاقضیہ میں اس بات کی تصحیح ہے کہ ایك گواہ پر اکتفاء درست ہے جبکہ وہ بیرون شہر سےآیا ہو یا وہ کسی جگہ بلند پر ہو اور ظہیرالدین نے اسی کو مختار کہاہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
واعتمدہ فی الفتاوی الصغری ایضا وھو قول الطحاوی واشارالیہ الامام محمد فی کتاب الاستحسان من الاصل قال فی النھایۃ اذاجاء من خارج المصر اوکان فی موضع مرتفع فانہ یقبل عندنا اھ فقولہ عندنا یدل علی انہ قول ائمتناالثلثۃ رضی اﷲتعالی عنھم وقد جزم بہ فی المحیط وعبر عن مقابلہ بقیل ففیہ التصریح بانہ ظاھرالروایۃ وھو کذلک ویظھر لی ان لامنافاۃ بینھما لان روایۃ اشتراط الجمع العظیم محمولۃ علی مااذاکان الشاھد من المصرفی مکان غیر مرتفع فتکون الروایۃ الثانیۃ مقیدۃ لاطلاق الروایۃ الاولی الخ اھ باختصار ۔
فتاوی صغری میں بھی اسی پر اعتماد کیا ہے اور یہی امام طحاوی کا قول ہے امام محمدکی اصل کتاب الاستحسان میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے فرمایا : نہایہ میں ہے جب گواہ بیرون شہر سے آیا ہو وہ کسی بلند جگہ پر ہو تو ہمارے نزدیك اس کی گواہی مقبول ہوگی اھ نہایہ کا عندنا یہ واضح کررہا ہے کہ یہ تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کا قول ہے۔ محیط میں اس پر جزم ہے اور اس کے مقابل قول “ قیل “ سے ذکر کیا اور اس میں تصریح ہے کہ یہ ظاہرالروایت ہے اور وہ اسی طرح ہے میرے نزدیك ان روایات میں کوئی منافات نہیں کیونکہ یہ روایت کہ جم عظیم کا ہونا ضروری ہے یہ اس صورت پر محمول ہے جب گواہ شہری بلند جگہ والا نہ ہو تواب دوسری روایت پہلی مطلق روایت کے لیے مقید بن جائے گی الخ اھ اختصارا(ت)
یہاں تین روایتیں ہیں اور تینوں مصححہ اور تینوں ظاہرالروایۃ ہیں اور فقیر نے اپنی تعلیقات حاشیہ شامی میں بیان کیا ہے کہ وہ سب اپنے اپنے محامل پر مقبولہ معمولہ ہیں اور فقہ میں بڑا کام یہی قول منقح کا ادراك ہے وباﷲ التوفیق۔
چہارم : جب رمضان دوعادلوں کی شہا دت سے ثابت ہوا ہو اور روزوں کے بعد اکتیسویں شب
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٨
درمختار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠١
#9905 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
باوصف صفائے مطلع ہلال نظر نہ آئے تو علماء کو اختلاف شدید ہے ایسی نادر صورت کے ذکر کی اشتہار میں حاجت نہ تھی اورذکر ہوا تومذہب مفتی بہ کا اتباع ضرور تھا اوریہاں مفتی بہ یہی ہے جس کے ضعف کی طرف اشتہار میں اشعار کیا یعنی عید کرلی جائے اگر چہ چاند نظر نہ آئے بلکہ علامہ نوح نے فرمایا کہ یہی مذہب ہمارے ائمہ ثلاثہ رضی اللہ تعالی عنہم کا ہے اور دوسرا قول کہ روزے رکھے جائیں صرف بعض مشائخ کا ہے تو اس تقدیر پر تو وہ اصلا قابل لحاظ نہ رہا۔ تنویرالابصار میں ہے :
بعد صوم ثلثین عدلین حل الفطر ۔
تیس روزوں کے بعد دو عادل گواہوں کی شہادت پر عید الفطر جائز ہوتی ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
ای اتفاقاان کانت لیلۃ حادی والثلثین متغیمۃ وکذا لومصحیۃ علی ماصححہ فی الدرایۃ والخلاصۃ والبزازیۃ ۔
یعنی یہ جواز بالاتفاق ہے جب اکتیسویں رات مطلع ابر آلود ہو اوردرایہ خلاصہ اور بزازیہ کی تصحیح کے مطابق اگر مطلع ابر آلود نہ بھی ہوتب بھی یہی حکم ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
ونقل العلامۃ نوح الاتفاق علی حل الفطر فی الثانیۃ ایضاعن البدائع والسراج والجوھرۃ قال والمراد اتفاق ائمتنا الثلثۃ وما حکی فیھا من الخلاف انما ھو لبعض المشائخ قلت وفی الفیض الفتوی علی حل الفطر ۔
علامہ نوح نے بدائع سراج اور جوہرہ سے نقل کیا کہ دوسری صورت (جب اکتیسویں رات مطلع ابر آلودنہ ہو)میں بھی جواز عید الفطر پر بھی اتفاق ہے اور پھر کہایہاں اتفاق سے مراد ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق ہے اور اس میں جو اختلاف منقول ہے وہ بعض مشائخ کا ہے ۔ میں کہتا ہوں فیض میں ہے فتوی جواز فطر پر ہے(ت)
مذہب مفتی بہ بلکہ اپنے تمام ائمہ کے مذہب صحیح و معتمد کو ضعیف بتانا اور اس کے مقابل بعض مشائخ کے قول
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٢
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٢
#9907 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
پر اعتماد کرنا بحکم درمختار وتصحیح القدوری وغیرہما جہل و خرق اجماع ہے۔
پنجم : شعبان کو مطلع صاف ہونے کے ساتھ یو م شك کی تخصیص محض باطل ہے بلکہ مطلع صاف نہ ہو تو شعبان کے بعد کا دن بالاتفاق یوم الشك ہے اور بہ نیت رمضان اس کا روزہ رکھنا ممنوع اختلاف اگر ہے تو اس میں ہے کہ بحال صفائے مطلع بھی شعبان یوم الشك ہے یا نہیں معراج الدرایہ شرح ہدایہ و مجتبی شرح قدوری و جامع الرموز شرح نقایہ میں تصریح کی کہ وہ اصلا یوم الشك نہیں اور درمختار میں بحوالہ شرح مجمع العینی زاہدی سے نقل کیا کہ بربنائے عدم اعتبار اختلاف مطالع وہ بھی یوم الشك ہےکہ شاید کہیں اور رؤیت ہوئی ہو ردالمحتار میں ہے :
القھستانی قیدہ بما اذا غم فلو مصحیۃ ولم یراحد فلیس بیوم شك اھ ومثلہ فی المعراج عن المجتبی ۔
قہستانی نے اسے اس صورت کے ساتھ مقید کیا جب مطلع ابر آلود ہو اگر مطلع ابر آلود نہ ہوا ور کسی نے چاند بھی نہ دیکھا ہوتو یہ یوم شك نہ ہوگا اھ معراج میں مجتبی کے حوالے سے اسی طرح منقول ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
ھو یوم الثلثین من شعبان وان لم یکن علۃ ای علی القول لعدم اعتبار اختلاف المطالع لجواز تحقق الرؤیۃ فی بلدۃ اخری شرح المجمع للعینی عن الزاھدی ۔
یوم شك شعبان کا تیسواں دن ہوگا اگرچہ علت نہ ہو (یعنی مطلع صاف ہو) یعنی اس قول پر جس میں اختلاف مطالع کا اعتبار نہیں کیونکہ کسی دوسرے شہر میں رؤیت کا ثبوت ہوسکتا ہے۔ یہ امام عینی کی شرح المجمع میں زاہدی کے حوالے سے منقول ہے۔ (ت)
اقول : تو کلام زاہدی مضطرب ہوا اور کلام معراج معارض سے سالم رہا اور اسی کے مثل تبیین الحقائق وغیرہ معتمدات میں ہے اور وہی اظہر وازہر ہے کہ شك استوائے طرفین کی حالت ہے۔ یہی بحرالرائق میں ہے :
ھو استوا طرفی الادراك من النفی والاثبات ۔
نفی واثبات کے ادراك کی دونوں اطراف کے برابر ہونے میں شك ہے(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ٩٥
درمختار کتاب الصوم مجتبائی دہلی ١ / ١٤٧
بحرالرائق کتاب الصوم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٢٤٦
#9909 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
اور جبکہ مطلع صاف ہواور چاند اصلانظر نہ آئے تو صرف اس احتمال بعید پر کہ شاید کہیں اور سے رؤیت کا ثبوت آجائے شك متحقق ہونا کس درجہ بعید ہے۔
فان مجرد الرؤیۃ بلدۃ اخری لا یلزمنا مالم تثبت بطریق شرعی وھو احتمال لاعن دلیل فلا یعارض الظن الحاصل من استقراء الحس الصحیح فی المرای الصریح فافھم۔
محض دوسرے شہر میں دیکھ لینا ہمارے لیے لزوم کو کافی نہیں جب تك طریق شرعی سے اس کا ثبوت نہ ہو یہ تو بغیر دلیل محض احتمال ہے اب یہ اس ظن کے مقابل و معارض کیسے ہوسکتا ہے جو حس صحیحہ سے رؤیت صحیحہ میں حاصل ہوتا ہے غور کرو(ت)
ششم : یہ کہنا کہ جو لوگ اختلاف مطالع کا اعتبار نہیں کرتے ان کے قول پر روزہ شك کا جائز ہونا چاہئے سخت عجیب اور دونوں قول سے مخالف وغیر مصیب ہے شعبان کو جب رؤیت نہ ہو تو اس میں ہرگز اختلاف قولین نہیں کہ اس دن روزہ رمضان رکھنا گناہ ہے اختلاف علت حکم میں ہے جو بحال صفائے مطلع اسے یوم الشك نہ قرار دیں ان کے نزدیك اس لیے کہ لاتقدموا رمضان بصوم یوم ولایومین(رمضان سے پہلے ایك یا دو دن روزہ نہ رکھو۔ ت) خود اشتہار میں درمختار سے نقل کیا :
اما علی مقابلہ فلیس بشك ولا یصام اصلا ۔
اسکے مخالف قول پر یوم شك نہیں تو اب ہرگز روزہ نہ رکھا جائے گا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ولایجوز صومہ ابتداء لا فرضا ولا نفلا ۔
رمضان سے پہلے نہ فرضی روزہ رکھا جائے اور نہ نفلی(ت)
اسی میں ہے :
لانہ احتیاط فی صومہ للخواص بخلاف یوم الشک ۔
اس لیے کہ اس روزہ کے رکھنے میں خواص کے لیے کچھ احتیاط نہیں بخلاف یوم شك کے۔ (ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٧
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ٩٥
ردالمحتار کتاب الصوم ٢ / ٩٦-٩٥
#9911 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
اور جو اس حال میں بھی یوم الشك کہیں ان کے نزدیك اس لیے کہ :
من صام یوم الشك فقد عصی اباالقاسم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔
جس نے یوم شك کاروزہ رکھا اس نے حضور ابوالقاسم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نافرمانی کی۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لایصام یوم الشك ھو یوم الثلثین من شعبان وان لم یکن علۃ الاتطوعا ویکرہ غیرہ ۔ (ملخصا)
یوم شك میں روزہ نہ رکھا جائے اور یہ شعبان کا تیسواں دن ہوسکتا ہے اگر چہ کوئی علت نہ ہو ہاں نفلی روزہ رکھا جاسکتا ہے اس کے علاوہ مکروہ ہے(ت)
ہفتم : اس ایجادی اختراعی حکم کی یہ تعلیل “ کیونکہ با لضرور دنیا میں اس روز چاند ہوا ہوگا “ اس بالضرور پر کیا دلیل خود ہی اشتہار میں درمختارو شرح مجمع عینی سے اتنا نقل کیا کہ : لجواز تحقق الرؤیۃ فی بلدۃ اخری (کیونکہ دوسرے شہر میں رؤیت کا ثبوت ہوسکتا ہے۔ ت)نہ کہ لوجوب وقوع الرؤیۃ فی مکان من الدنیا(دنیاکے کسی گوشے میں رؤیت کا وقوع واجب و لازم ۔ ت)
ہشتم : اگر ہر کو کہیں نہ کہیں رؤیت ہونی ضرور ہوتو عدم اعتبار اختلاف مطالع پر کہ ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا وہی مذہب ہے اور اسی پر فتوی اور اسی پر اعتماد ہے ہمیشہ رمضان ہی دن کا ہونا لازم ہو کہ با لضرور دنیا میں چاند ہوا ہوگا اور اختلاف مطالع معتبر نہیں حالانکہ یہ اجماع امت و نصوص صریحہ کے خلاف ہے۔
نہم : جب بالضرورۃ کہیں نہ کہیں رؤیت ہونی معلوم تو ائمہ کا ارشاد کہ ثبوت شرعی مثل شہادت و استفاضہ شرعیہ سے دوسری جگہ رؤیت ہونی ثانت ہوتو ہم پر لازم ہوگا ورنہ نہیں کما نص علیہ فی الدرالمختار وسائر الاسفار(جیسا کہ درمختار اور دیگر کتب میں اس پر تصریح ہے۔ ت)محض لغو ومہمل بلکہ غلط و باطل ہو کہ جب یقینا دوسری جگہ وقوع رؤیت معلوم ہے تو یقین سے زیادہ اور کون سا ثبوت چاہئے کیا ضروریات کے لیے بھی گواہی کی حاجت ہے افسوس کہ علماء نے طریق موجب شرعی سے
حوالہ / References سنن ابی داؤد باب کراہیۃ صوم یوم الشک آفتاب عالم پریس لاہور ٢ / ٩٦-۹٥
درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٧
درمختار ، کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٧
#9913 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
مقید کیا اشتہاری فتوی دیکھتے تو معلوم ہوتا کہ خود ہی بالضرور ثابت ہے ولاحول ولا قوۃ الا باﷲالعلی العظیم۔
دہم : اب یہ تعلیل عجب ہوگی کہ خود مدعا کا ابطال محض کرے گی جب بالضرورت رؤیت معلوم تو جو لوگ اختلاف مطالع کا اعتبار نہیں کرتے ان کے نزدیك یہ یوم الشك کدھر سے آیا بلکہ یقین یوم الیقین ہے اورروزہ جائز ہونا کیا معنی بلکہ فرض ہونا چاہئے کہ یقینا رمضان ہے بالجملہ ہر کو کہیں نہ کہیں رؤیت ضروری و لازم مان لینا معاذاﷲ ائمہ کرام کو مخالف اجماع مسلمین و مخالف نصوص قاطعہ و مجانین قرار دینا ہے جس پر راضی نہ ہوگا مگر بد دین یا مجنون ہاں احتمال کہئے پھر اگر ہوا تو یوم الشك ہوا اور یوم الشك کا روزہ جائز نہیں پھرجواز کدھرسے آیا۔
یازدہم : رمضان و فطر میں اعتبار اختلاف مطالع کو قول محققین حنفیہ و محدثین مذہب و مجتہدین روایات فقہیہ قرار دینا محض غلط تہمت ہے بلکہ اس کا عدم اعتبار ہی ہمارے ائمہ کرام ومجتہدین عظام رضی اللہ تعالی عنہم کا مذہب ہے اور اسی پر فتوی ہے اور اسی پر جمہور اور یہی احوط و اقوی من حیث الدلیل تو بوجوہ کثیرہ اسی پر عمل واجب اوراس سے عدول ہرگز جائز نہیں ۔ تنویرالابصار ودرمختار وبحرالرائق وفتاوی خلاصہ وغیرہ میں ہے :
اختلاف المطالع غیر معتبر علی ظاھر المذہب و علیہ اکثر المشائخ وعلیہ الفتوی ۔
ظاہر مذہب پر اختلاف مطالع کا اعتبار نہیں اکثر مشائخ کی یہی رائے ہے اور اسی پر فتوی ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
ھو المعتمد عندنا عند المالکیۃ و الحنابلۃ ۔
ہمارے مالکیہ اور حنابلہ کے ہاں یہی معتمد ہے(ت)
فتح القدیر میں ہے : الاخذ بظاھر الروایۃ احوط (ظاہر الروایۃ پر عمل احوط ہے۔ ت) بحرالرائق میں ہے : الاحتیاط العمل باقوی الدلیلین (دونوں دلیلوں سے قوی پر عمل بہتر ہے۔ ت)
حوالہ / References درمختار ، کتا ب الصوم ، مطبع مجتبائی دہلی ، ١ / ١٤٩
ردالمحتار کتا ب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٥
فتح القدیر ، کتا ب الصوم ، نوریہ رضویہ سکھر ، ٢ / ٢٤٣
ردالمحتار بحوالہ النہر خطبہ کتاب مصطفی البابی مصر ١ / ٥٤
#9914 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
عقود الدریہ میں ہے : العمل بما علیہ الاکثر (عمل اس پر کیا جائے جس پر اکثر ہوں۔ ت) فتاوی خیریہ میں ہے :
صرحو ابہ ان ماخرج عن ظاھر الروایۃ لیس مذھبا لابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ولاقولا لہ ۔
فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے کہ ظاہر الروایۃ سے جو خارج ہے وہ نہ تو امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کا مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی قول(ت)
بحر میں ہے :
ما خرج عن ظاھر الروایۃ فھو مرجوع عنہ و المرجوع عنہ لم یبق قولالہ ۔ (ملخصا)
جو ظاہرالروایۃ سے خارج ہو وہ قول مرجوع عنہ ہوتا ہے اور مرجوع عنہ آپ(امام اعظم)کا قول نہیں ہوتا۔ (ت)
شامی میں ہے :
ماخالف ظاھرالروایۃ لیس مذھبا لاصحابنا ۔
جو قول ظاہر الروایۃ کے خلاف ہو وہ ہمارے اصحاب کا مذہب نہیں ہوتا(ت)
اسی میں ہے : العمل بما علیہ الفتوی (جس پر فتوی ہو اس پر عمل کیا جائے۔ ت) تو ان تمام عظیم قولو ں کے خلاف دو ایك متاخرین علماء کا قول خلاف کو اشبہ کہہ دینا کیا شبہ ڈال سکتا یا کیا قابل التفات ہوسکتا ہے درمختار میں ہے :
الحکم والفتیا بالقول المرجوح جہل وخرق للاجماع ۔
قول مرجوح پر فیصلہ اور فتوی محض جہالت اور اجماع کی مخالفت ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے۔
حوالہ / References عقود الدریۃ ، مسائل وفوائد شتٰی من الحظر والاباحۃ حاجی عبد الغفار و پسران قندھار افغانستان ٢ / ٣٥٦
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٥٢
بحرالرائق کتاب القضاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٦ / ٢٧٠
ردالمحتار کتاب احیاء الموات ، داراحیاء التراث العربی بیروت ٥ / ٢٧٨
ردالمحتار باب صدقۃ الفطر داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ٧٨
درمختار مقدمہ کتاب ، مجتبائی دہلی ، ١ / ١٥
#9916 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
کقول محمد مع وجود قول ابی یوسف اذا لم یصح او یقووجھہ واولی من ھذا بالبطلان الافتاء بخلاف ظاھر الروایۃ اذا لم یصحح والافتاء با لقول المرجوع عنہ اھ۔
جیسا کہ امام محمد کا قول امام ابو یوسف کا قول کی موجودگی میں جبکہ اس کی تصحیح نہ کی گئی ہویا اس کی دلیل قوی نہ ہو اور اولی بالبطلان ہے ظاہرالروایۃ کے مخالف پر فتوی دینا جبکہ اس کی تصحیح نہ کی گئی ہو اور اسی طرح قول مرجوع عنہ پر فتوی دینا ہے اھ(ت)
دوازدہم اقول : وبا ﷲالتوفیق ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم جس پر عرش تحقیق مستقر فرمائیں وہ ایسا نہیں ہوتا کہ اس کے ارکان کسی کے متزلزل کئے متزلزل ہوجائیں رؤیت ہلال میں اختلاف مطالع معتبر ماننے والے ذرا سمجھ کر بتائیں کہ اس اعتبار سے کیا مراد اور وہ کتنی مسافت ہے جس میں اختلاف مطالع معتبر ہوگا :
اولا اس کے قائلین اس بارے میں خود مختلف ہیں اور مختلف بھی اتنے کہ آٹھ گنے کا فرق جواہر ولباب وغیرہما میں اسے ایك مہینہ کی راہ سے مقدر کیا روزانہ بارہ کو س کی منزل معتاد کے لحاظ سے از انجا کہ میل یہاں کے کوسوں کا / ہے ء میل مسافت یکروزہ ہوئی اور مہینہ بھر کی راہ میل جس کے ا فر سخ ہوئے جواہر میں اس تحدید پر قصہ سید نا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام سے استدلال کیا :
غدوها شهر و رواحها شهر- قال فانہ قد انتقل کل غدوورواح من اقلیم الی اقلیم وبین کل منھما مسیرۃ شہر ۔
اس کی صبح کی منزل ایك مہینہ کی راہ اور شام کی منزل ایك مہینہ کی راہ۔ فرمایا وہ ہر صبح و شام ایك اقلیم سے دوسرے اقلیم کی طرف تشریف لے جاتے اور ان کے درمیان ایك ماہ کی مسافت ہوتی۔ (ت)
یہ دلیل جیسی ہے رویش ببیں و حالت بپرس(اس کا چہرہ دیکھو اور اس کا حال پوچھو۔ ت)ولہذا ایقاظ الوسنان میں اسے نقل کرکے کہا : فی دلالۃ القصۃ علی ذلك نظر (اس مسئلہ پر واقعہ کی دلالت محل نظر ہے۔ ت)
حوالہ / References ردالمحتار مقدمہ کتاب مطلب لایجوز العمل بالضعیف حتی لنفسہٖ مصطفی البابی مصر ١ / ٥٥
القرآن ٣٤ / ١٢
تنبیہ الغافل والوسنان عن رسائل ابن عابدین بحوالہ القہستانی عن الجواہر سہیل اکیڈمی لاہور ١ / ٢٥٠
تنبیہ الغافل والوسنان عن رسائل ابن عابدین بحوالہ القہستانی عن الجواہر ، سہیل اکیڈمی لاہور ١ / ٢٥٠
#9918 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
ردالمحتارمیں فرمایا : لایخفی مافی ھذاالاستدلال (اس استدلال میں جو نظر ہے ہو مخفی نہیں۔ ت)تاج تبریزی نے کہا : بہتر میل سے کم میں اختلاف مطالع ممکن نہیں۔ علامہ رملی شافعی نے شرح منہاج میں اسی کو اختیار کیا اور اسی پر اپنے والد کا فتوی بتایا۔ ایقاظ الوسنان میں اسی کو اولی کہا
حیث قال فالاول ای ماذکر التاج من ان اختلاف المطالع لایمکن فی اقل من اربعۃ و عشرین فر سخااولی لان الظاھر من قولہ لا یمکن الخ انہ قدرہ بالقواعد الفلکیۃ ولا مانع من اعتبارھا ھھنا کاعتبار ھا فی اوقات الصلوۃ ۔
الفاظ یہ ہیں کہ پہلا قول کہ تاج تبریزی نے جو ذکر کیا کہ اختلاف مطالع چوبیس فرسخ سے کم ممکن نہیں اولی ہے کیونکہ یہ ان کے قول لایمکن الخ سے ظاہر یہ ہے کہ انہوں نے قواعد فلکیہ سے اندازہ لگایا ہے اوراس مقام پر ان کا اعتبار کرنے میں کوئی مانع نہیں جیسا کہ اوقات نماز میں ان کااعتبار ہے۔ (ت)
کہاں چوبیس کہاں ایك سوبانوے پورے آٹھ گنے کا فرق ہے اور ضرور ہونا تھا کہ ائمہ مجتہدین کا نور علم اس کے ساتھ نہیں
و لو كان من عند غیر الله لوجدوا فیه اختلافا كثیرا(۸۲) ۔
اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے۔ (ت)
ثانیا سب حضرات نے مطلق فرمایا کوئی تخصیص سمت وجانب کی نہ رکھی حالانکہ معظم معمورہ خصوصا بلادہندوستان اور ان کے امثال کثیرہ مثل خطہ مقدسہ عرب وغیرہ میں جہاں عرض میل کلی کے اندر ہے یا اس سے بہت متفاوت نہیں یہ اختلاف معتبر ہوتو یونہی کہ غربی شہر کی رؤیت شرقی پر حجت نہ ہوکہ ممکن کہ شرقی میں وقت غروب شمس فصل نیرین کم تھا قمر کا شعاع شمس سے انفضال قابل رؤیت ہلال نہ ہوا تھا جب حرکت فلکیہ نیریں کو بلد غربی کی افق پر لے گئے اتنی دیر میں انفصال بقدر استہلال ہوگیا مگر غربی میں شرقی کی رؤیت مطلقا کیوں نامعتبر ہو خصوصا جب کہ عرض متحد یا متقارب ہوکہ اضطجاع وانتصاب افق یکساں ہو پر ظاہر کہ جب مشرق میں بعد قابل رؤیت ہوچکا تھا تو غربی میں تواور زیادہ فصل و ظہور ہوجائے گا اور جنوب و
حوالہ / References ردالمحتار مطلب فی اختلاف المطالع مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٥
تنبیہ الغافل والو سنان من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ١ / ٢٥٠
القرآن ٤ / ٨٢
#9919 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
شمال میں فرسخ درکنار ا کافصل ہونا ضرورنہیں فرض کیجئے آفتاب شمالی ہے اور قمر وقت استہلال عدیم المیل اور ایك شہر خط استواء سے درجہ شمال کو ہے کہ ایك مہینہ کی راہ سے کم فاصلہ ہوا اور دوسرا سترہ درجے کہ دو مہینے سے بھی زیادہ فصل ہوا اس لئے کہ غایت تدقیق کے بعد ثابت ہوا ہے کہ زمین عــــہ کا ایك درجہ قدم ہے اور قدم / گز اور میل گز تو ایك درجہ ارضیہ ءمیل ہوا راہ ایك ماہ کو اس پر تقسیم کئے سے ء ہوتے ہیں یعنی ح لح ی ند اور تینوں شہر ایك ہی نصف النہار کے نیچے ہیں۔ اب فرض کیجئے کہ صورت مذکورہ میں خط استوا میں رؤیت ہلال ہوئی توشہر ابعد درکنار شہر و سطانی میں بھی رؤیت ضرور نہیں حالانکہ یك ماہہ راہ سے کم فاصلہ ہے اس لیے کہ خط استوا میں ادھر تو آفتاب جلد ڈوبے گا تو اندھیرا جلد ہوکر رؤیت کا معین ہوگا ادھرافق منتصب ہے تو آفتاب بعد غروب جلد افق سے دور ہوکر نور شفق کہ عائق رؤیت ہوتا جلد کم ہوجائے گا ادھر قمر کا ارتفاع زائد ہے تو دیر تك بالائے افق رہے گا اور یہ بھی مؤید رؤیت ہو گا بخلاف بلد شمالی کہ وہاں سب امور با لعکس ہیں اور اسی صورت میں فرض کیجئے کہ شہر ابعد میں رؤیت ہوئی تو شہر و سطانی درکنار خط استوا میں بھی بدرجہ اولی رؤیت ہوگی کہ مؤیدات رؤیت وہاں بافراط ہیں حالانکہ دوماہہ راہ سے زیادہ کا فاصلہ ہے تومعلوم ہوا کہ جنوبا شمالا کبھی ایك مہینے سے بھی کم کا فاصلہ اختلاف رؤیت لاتا ہے اور کبھی دو مہینے سے زیادہ کا بھی فاصلہ اختلاف نہیں لاتا۔ اب یہ تقریر اس طرف لے جائے گی کہ شہروں کا باہم بعد معتبر نہ ہو حالانکہ اختلاف مطالع ماننے والو ں کی عبارات اس میں نص ہیں نہ تفاوت عرض معتبر ہو نہ تفاوت طول شرقی بلکہ صرف تفاوت طول غربی معتبر ہو یعنی جس کا طول غربی اس شہر سے یك ماہہ راہ یعنی درجے ا دقیقے ہو وہاں کی رؤیت
عــــہ : اقول : اور تدقیق ادق سے قدم اس لیے کہ زمین کا نصف قطر استوائی ء میل ہے اور نیم قطر قطبی ء پس نیم قطر معدل ء پھر کمال تدقیق ادق سے قطر : محیط : : ا : ء لوغار شمسءولوغارثم معدلء مجموعہء پھر نسبت انصاف مثل نسبت اضعاف ہے توکے لوگار ثم ء کو اس تفریق کیابلکہ ء جمع کیا حاصل ء عدوشء یہ ایك درجہ محیطیہ کے میل ہوئے اور گز تو قدم بالرفع یوں بھی وہی مطلب ثابت ہے کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ت)اب حاصل قسمت ء ہوگایعنیدرجےدقیقے ثانئے ثالثے ۱۲منہ غفراﷲ تعالی لہ(م)
#9921 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
معتبر ہو مگر بنے گی یہ بھی نہیں کہ تفاوت عرض بھی قطعا اختلاف رؤیت لاتا ہے جس کے بعض وجوہ کی طرف ابھی اشارہ ہوچکا تو اس کا نظر سے اسقاط نا ممکن تفاوت عرض سے یہاں تك تو ہوگا کہ ایك شہر میں ہلال مرئی ہو اور دوسرے شہر میں چاند اس وقت زیر زمین جاچکا ہو رؤیت و عدم رؤیت ہلال تو بالائے طاق رہی غرض یوں بھی ٹھیك نہیں آتی اور حقیقت امر یہ ہے کہ تحدید کرنے والوں نے محض سرسری طور پر ایك حد کہہ دی تنقیح پر آئیے تو قیامت تك وہ خود اس کی حد بست نہ کرسکیں گے۔
ثالثا اس سب سے قطع نظر کیجئے تو اب ہمارا وہ سوال متوجہ ہے کہ اس اعتبار اختلاف سے کیامراد آیا دو شہروں کا ایسا فصل کہ چاند جب اك میں مرئی ہوتو دوسرے میں رؤیت ہمیشہ ناممکن ہو یہ وہ اختلاف مطالع ہے جسے معتبر مانتے ہیں یا صرف ایسا فصل کہ ایك میں رؤیت ہونے کے ساتھ دوسرے میں رؤیت نہ ہونا ممکن ہویہ معتبر ہے بالجملہ بنظر فاصلہ بلدین دوسرے شہر میں عدم امکان چاہئے یا امکان عدم اول تو یقینا باطل ہے دنیا میں کوئی فاصلہ ایسا نہیں کہ ایك جگہ کی رؤیت کو صرف نظر بفصل مسافت بے لحاظ خصوص حال ہلال حال دوسری جگہ محال کرتاہو اختلاف معتبر ماننے والوں نے بڑی حد یك ماہہ راہ بتائی اور انہیں بھی انکار نہیں ہوسکتا کہ ہزارہا بار یہاں بھی کا چاند ہوا اور یہاں سے مہینوں راہ کے فاصلے پر بھی ہوا بلکہ جب یہاں کا ہوتو اس عرض میں غرب کو جتنا بڑھیے بدرجہ اولی ہی کا ہوگا تو بالضرورۃ ثانی ہی مقصود اور اب بالیقین راہ تحدید مسدود مہینے بھر کی راہ تو بہت ہے فرسخ کا فاصل جس پر تاج تبریزی نے ادعا کیا کہ اس سے کم ہیں اختلاف ممکن نہیں اور علامہ شامی نے براہ تحسین ظن فرمایا کہ ان کا یہ دعوی قواعد فلکیہ پر ہی مبنی ہوگا۔
اقول : ہرگز قواعد فلکیہ اس عدم امکان کے ساتھ مساعد نہیں بلکہ صراحۃ اس کا رد کرتے ہیں ایك درجہ زمین یقینا فرسنگ سے کم ہے کہ یہ میل ہے اور وہ بہتر مگر ایك درجے بلکہ اس سے کم فصل غربی پر بھی اختلاف رؤیت ممکن دربارہ ہلال کہ کب صالح رؤیت ہوتا ہے اگر چہ اختلاف اقوال بکثرت ہے اس میں دس قو ل تو اس وقت میرے پیش نظر ہیں جن کی وجہ وہی ولوکان من عند غیراﷲ(اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا۔ ت)ہے مگر متاخرین اہل ہیئت نے بعد تطاول تجارب جس پر استقرار رائے کیا وہ یہ ہے کہ نیرین میں بعد سوا دس درجے سے زائد ہو اور بعد معدل سے کم نہ ہو۔ زیج سلطانی میں ہے :
اگر بعدمعدل میان دہ درجہ ودوازدہ درجہ باشد وبعد سوا ازدہ بیش تر باشد ہلال بتواں دید باریک ۔
بعد معدل اگردس اور بارہ درجہ کے درمیان ہواور بعد سوا دسدرجہ سے زائد ہوتو چاند ایك بار دیکھا جاسکتا ہے(ت
حوالہ / References زیج سلطانی
#9923 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
علامہ عبدالعلی برجندی شرح میں فرماتے ہیں :
تاہر دو شرط وجودنگیر وہلال مرئی نہ شود و متعارف درین زمان این ست ۔
جب تك یہ دونوں شرطیں نہ پائی جائیں چاند نظر نہیں آسکتا اور اس زمانہ میں یہی متعارف ہے(ت)
اب فرض کیجئے کہ یہاں وقت غروب بعد سوا ط حہ لظ یعنی دس درجے سے ایك دقیقہ کم تھا تو ہلال قابل رؤیت نہ تھا اور ایك درجہ حرکت وسطیدقیقہ میں ہے اور اس مدت میں سبق قمر تقریبا دودقیقے بلکہ کبھی اس سے بھی زائد ہے توجب قمر اس شہر سے ایك درجہ بلکہ کم فاصلے کے مقام رؤیت پر آیا بعد دس درجے سے زائد ہوگیا اوررؤیت ہوگئی اسی طرح ارتفاع قمر وغیرہ اختلاف کے ذرائع سے بھی تقریر مدعا ممکن تو ثابت ہوا کہ بلکہ فرسخ سے کم بھی اختلاف ممکن ہے اب کوئی راہ نہ رہی سوااس کے کہ حد اصلا نہ باندھئے بلکہ یا تو ہمیشہ ہر جگہ ہر ماہ کے لیے خصوص حال ہلال حال ومحال استہلال پر نظر کیجئے یا مطلقا کہہ دیجئے کہ ایك شہر کی رؤیت دوسرے کے لیے اصلا معتبر نہیں اگرچہ فرسخ سے بھی کم فاصلہ ہو ثانی تو بالاجماع مردود ہے اختلاف معتبر ماننے والے بھی ایسے عموم و اطلاق کے ہر گز قائل نہیں ا ور اول کی طرف راہ نہیں مگر انہیں حسابات دقیقہ طویلہ مرئی و عرض مرئی وانکسار افقی اختلاف منظر افقی و تعدیل الغروب وبعد معدل وغیرہا کے ذرائع سے جن کے بعد بھی بہت اوقات سواظن وتخمین کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ یہ وہی محاسبات ہیں جن کو شریعت مطہرہ دربارہ ہلال یك لخت ساقط و باطل فرماچکی تو بحمد اﷲتعالی نہ ہلال روشن بلکہ آفتاب پردہ برافگن کی طرح آشکار اہواکہ اختلاف مطالع معتبر ماننا ہی خلاف تحقیق تھا اور یہ کہ وہ مؤید بحدیث نہیں بلکہ وہی حدیث مجمع علیہ کے ارشاد واجب الانقیاد سے دور وسحیق تھا اور یہ کہ نہ صرف رمضان وشوال بلکہ کسی مہینے میں شرع مطہر اس کی طرف اصلا دعوت نہیں فرماتی اور یہ کہ ہمارے ائمہ کا مذہب مہذب اس اعلی درجہ تدقیق انیق پر ہوتا ہے کہ مدعیان تحقیق تك اس کی ہوا بھی نہیں آتی ھکذا ینبغی التحقیق واﷲتعالی ولی التوفیق(تحقیق یوں ہی ہونی چاہئے اور توفیق کا مالك اﷲ ہے۔ ت)کیاا نہیں معلوم نہ تھا اختلاف مطالع ہوتاہے ضرور معلوم تھا مگر ساتھ ہی یہ بھی جانتے تھے کہ اسکا فتح باب اسی حساب ناقص النصاب کی طرف کھینچ کرلے جائے گا جسے مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم رد فرما چکے ہیں لاجرم صاف فرمادیا کہ اختلاف مطالع اصلا معتبر نہیں ان اﷲامدہ لرؤیتہ احق تعالی نے مدار رؤیت پر رکھا ہے اگر رؤیت ثبو ت شرعی سے ثابت ہے اگر چہ کتناہی فاصلہ ہو اور نہیں تو نہیں اگر چہ کتنا ہی قریب ہو اور یہیں سے ظاہر
حوالہ / References شرح زیج سلطانی لعبد العلی البرجندی
صحیح مسلم کتاب الصیام قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٣٤٩
#9925 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
ہو اکہ دربارہ صلوات اختلاف مطالع پر اس کا قیا س محض مع الفارق ہے حساب طلوع و غروب و صبح وشفق ومثل اول وثانی واضحاك جلیلہ و منضبطات کلیہ ہیں بخلاف حسابات رؤیت ہلال کہ قدمائے اہل ہیئت نے اپنے بوتے کا روگ نہ پا کر سرے سے اس کی طرف التفات ہی نہ کیا اور متاخرین نے ہزار اضطراب واختلاف کے بعد آخرعلامہ برجندی کی طرح لکھ دیا کہ بالجملہ ضبط آں برسبیل تحقیق متعسر ست بلکہ متعذر(رؤیت ہلال کا تحقیقی ضابطہ انتہائی مشکل اور متعذر ہے۔ ت)اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ یك ماہہ راہ پر اختلاف مطالع کو بحسب قواعد مبرہنہ علم ہیئت ماننا جیسا کہ مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی سے اپنے فتاوی جلد اول طبع اول ص پر واقع ہوا محض قلت تدبر سے ناشئی تھا نیز ہماری تقریر سے ظاہر ہوا کہ اختلاف مطالع کے یہ معنی قرار دینا کہ ایك شہر میں رؤیت ہو سکتی ہے دوسرے میں نہیں جیسا کہ انہیں سے اسی صفحہ پر واقع ہوا محض باطل ہے یہاں ہرگز امکان وامتناع کا اختلاف نہیں بلکہ وقوع وامکان عدم کا کما اوضحناسابقا(جیساکہ سابقہ گفتگو میں ہم نے اسے واضح کردیا ہے۔ ت)خود مولوی صاحب مذکور نے اسی فتوے کے آخرمیں صفحہ پر حق کی طرف رجوع کرکے اختلاف مطالع کے معنی یوں لکھے : “ یہ ممکن ہے کہ ایك جگہ ہلال دیکھا جائے اور دوسری جگہ نہیں۔ “ یہ عبارت پھر بھی متحمل ہے جلد دوم ص پر صاف تر لکھا : “ اگردو شہروں میں اس قدر بعد مسافت ہے کہ اختلاف مطالع ہوتا ہے اور یہ ہوسکتا ہے کہ ایك جگہ طلوع ہلال ہواور دوسری جگہ اس روز نہ ہو۔ “ اور ایك امام زیلعی کے “ اشبہ “ لکھ دینے پر مولوی صاحب مذکور کا فرمانا کہ “ یہی مذہب محدثین حنفیہ کا ہے “ محض دعوی ہے زیلعی صاحب مذہب نہیں نہ محدثین حنفیہ ان میں منحصر ابو حنیفہ و ابو یوسف و محمد رضی اللہ تعالی عنہم کے برابر کون سے محدثین ہوں گے جن کا مذہب عدم اعتبار اختلاف مطالع ہے اور محدثی اگر محدثین ومتاخرین ہی سے خالص ہے تو بالغ مرتبہ اجتہاد امام ابن الہمام کیا کم محدث ہیں جو فرماچکے کہ ظاہرالروایۃ ہی پر عمل احوط ہے۔ رہی حدیث کریب کہ انہوں نے ملك شام میں رمضان مبارك کا چاند شب جمعہ کو دیکھا پھر مدینہ طیبہ میں عبداﷲبن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا سے آکر بیان کیا انہوں نے فرمایاہم نے شب شنبہ میں دیکھا تو ہم اپنے ہی حساب سے پورے کریں گے کریب نے کہا کیا آپ امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی رؤیت و حکم پر اکتفا نہ کرینگے فرمایا : لا ھکذاامرنا رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم (نہیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہمیں یہی حکم دیا۔ ت)جس سے امام زیلعی نے استناد کیااور اس کی بناپر مولوی صاحب مذکور نے اسے موافق حدیث بتایا۔ اقول : حدیث مذکور واقعۃ عین لاعموم لھا(یہ ایك خاص
حوالہ / References جامع ترمذی ابواب الصیام امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ١ / ٨٧
#9926 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
واقعہ ہے اس کا حکم عمومی نہیں۔ ت)بحال صفائے مطلع بکثرت ائمہ ایك کی گواہی نہیں مانتے ممکن کہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا نے اسی بنا پر نہ مانی ہو اور امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کا حکم تو بے نصاب شہادت ثابت ہوہی نہ سکتا تھا تنویر میں ہے :
شھد واانہ شھد عند قاضی مصرکذاالخ
گواہوں نے کہا کہ انہوں نے قاضی شہر کے پاس اس طرح گواہی دی ہے الخ(ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ شھدوا' من اطلاق الجمع علی مافوق الواحد وفی بعض النسخ شھدابضمیر التثنیۃ وھو اولی ۔
قولہ “ شھدوا “ یہاں جمع کا اطلاق ایك سے زائد پر ہے بعض نسخوں میں ضمیر تثنیہ کے ساتھ شھدا ہے اور یہی اولی ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
یلزم اھل المشرق برؤیۃ اھل المغرب اذا ثبت عند ھم رؤیۃ اولئك بطریق موجب کما مر ۔
اہل مشرق پر اہل مغرب کی رؤیت روزہ رکھنا لازم تب آئے گا جب ان کی رؤیت بطریق موجب شرعی ثابت ہوگی جیسا کہ گزرا ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
کان یتحمل اثنان الشہادۃ او یشھدا علی حکم القاضی او یستفیض الخبر ۔
دو آدمی شہادت پر شہادت دیں یا حکم تام پرشہادت دیں یا خبر مشہور ہو۔ (ت)
لہذا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا نے لا فرمایا : بنگاہ اولیں یہ جواب فقیر کے خیال میں آیا تھا پھر دیکھا امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اور جواب دیا اور اس کے بعض کی طرف بھی اشارہ کیا فرماتے ہیں :
قد یقال ان الاشارۃ فی قولہ
یوں کہا جا سکتا ہے کہ حضرت ابن عباس کے ارشاد
حوالہ / References درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
ردالمحتار کتاب الصوم مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٢
درمختار کتاب الصوم مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٤٩
ردالمحتار مطلب فی اختلاف المطالع مصطفی البابی مصر ٢ / ١٠٥
#9928 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
ھکذا الی نحوماجری بینہ وبین ام الفضل و حینئذ لادلیل فیہ لان مثل ماوقع من کلامہ لو وقع لنا لم نحکم بہ لانہ لم یشھد علی شھادۃ غیرہ ولا علی حکم الحاکم فان قیل اخبارہ عن صوم معاویۃ یتضمنہ لانہ الامام یجاب بانہ لم یات بلفظ الشہادۃ ولو سلم فھو واحد لا یثبت بشھادتہ وجوب القضاء علی القاضی واﷲ سبحانہ و تعالی اعلم والاخذ بظاھرالروایۃ احوط اھ
اقول : لکن فی الحدیث قال انت رایتہ قلت نعم و الاخبار فی رمضان کاف فماذکر الفقیر اولی۔
ھکذا میں اس بات کی طرف اشارہ ہے جو ان کے اور حضرت ام فضل کے درمیان جاری ہوئی تو اب یہ دلیل نہیں کیونکہ ان کے کلام کی طرح ہمارے سامنے معاملہ آجائے تو ہم اس پر فیصلہ نہیں کریں گے کیونکہ ایسا بیان کرنے والے نے نہ تو کسی کی شہادت پر گواہی دی ہے اور نہ کسی حاکم کے فیصلہ پر اگر کوئی سوال اٹھائے کہ حضرت معاویہ کے روزہ کی اطلاع اس گواہی کو متضمن ہے کیونکہ وہ امیر تھے اس کا جواب یہ دیا جائے گا کہ یہاں لفظ شہادت کا ذکر نہیں اور اگر اس بات کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو وہ تنہا ہیں تو ان کی شہادت سے قاضی پر قضا کا فیصلہ لازم نہ ہوگا اﷲتعالی بزرگ و برتر بہتر جانتا ہے اور ظاہرالروایۃ پر عمل احوط ہے اھ
اقول : حدیث میں ہے تونے اسے دیکھا ہے میں نے کہا ہاں اور رمضان کے لیے یہ اطلاع ہی کافی ہے توبندہ حقیر نے جو ذکر کیا وہ اولی ہے(ت)
معہذامو لوی صاحب مذکور کو حدیث سے استنا د اس وقت پہنچتا کہ دمشق ومدینہ طیبہ میں یك ماہہ راہ کا فصل ثابت کیا جاتا ورنہ حدیث خود ان کے بھی مخالف ہوگی کما لا یخفی(جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ ت)یہاں ایك امر یہ بھی قابل تنبیہ ہے کہ مولوی صاحب مذکور نے اپنے فتاوی میں تین جگہ عبارت تاتارخانیہ :
اھل بلدۃ اذا رأو الھلال ھل یلزمہ ذلك فی حق کل بلدۃ اخری اختلف المشائخ فیہ فبعضھم قالو الا یلزم ذلك فانما المعتبر فی حق اھل بلدۃ رؤیتھم وفی الخانیۃ لا عبرۃ لاختلاف المطالع فی ظاھر الروایۃ وفی القدوری
جب ایك شہر والوں نے چاند دیکھا تو کیا ہر شہر والوں پر روزہ لازم ہوگااس میں مشائخ کا اختلاف ہے بعض نے کہا ہے اس سے روزہ لازم نہیں ہر شہر والوں کے حق میں ان کی اپنی رؤیت ہی معتبر ہے۔ خانیہ میں ہے ظاہرالروایت کے مطابق اختلاف مطالع کا اعتبار نہیں اور قدوری
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الصوم نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٢٤٣
فتح القدیر کتاب الصوم نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٢٤٣
#9940 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
اذاکان بین البلدتین تفاوت لایختلف المطالع یلزمہ وذکر شمس الائمۃ الحلوانی انہ الصحیح من مذھب اصحابنا ۔
میں ہے جب دونوں شہروں کے درمیان اتنا تفاوت ہو جس سے مطالع میں اختلاف نہ ہو تو لازم ہوگا شمس الائمہ حلوانی نے ذکر کیا ہے کہ ہمارے مذہب میں صحیح یہی ہے ۔ (ت)
نقل کی اور ظاہرا خیال کیا کہ تصحیح امام شمس الائمہ اعتبار اختلاف کی طرف ناظر ہے حالانکہ وہ مذھب اصحابنا فرمارہے ہیں اور ظاہر ہے کہ مذھب اصحابنا نہیں مگر ظاہر الروایۃ کما قد منا نقولہ فیما سبق(جیسا کہ ہم نے پہلے تذکرہ کردیا ہے۔ ت)اور ظاہر الروایۃ نہیں مگر عدم اعتبار اختلاف جیسا کہ خود مولوی صاحب کو اعتراف جصپرلکھا :
نزد اکثر مشائخ حنفیہ موافق ظاہر الروایۃ اختلاف مطالع رامطلقا اعتبار نیست ۔
ظاہر الروایۃ کے موافق اکثر مشائخ حنفیہ کے نزدیك اختلاف مطالع کا مطلقا اعتبار نہیں(ت)
ج۲ص۱پرکہا : جب کسی شہر میں ثابت ہوجائے کہ فلاں شہر میں چاند ہوا تو ان پر موافق اس کے حکم دیا جائے گا گو دونوں شہروں میں بعد مسافت ہوا ور یہی ظاہرالروایۃ ہے ۔
لاجرم پھرغنیہ ذوی الاحکام میں فرمایا : قال الامام الحلوانی الصحیح من مذھب اصحابنا ان الخبر اذاا ستفاض فی بلدۃ اخری وتحقق یلزمھم حکم تلك البلدۃ ۔
امام حلوانی نے فرمایا ہمارے اصحاب کا صحیح مذہب یہی ہے کہ جب خبر دوسرے شہر میں مشہور ومتحقق ہوجائے تو پھر دوسرے شہر والوں پر پہلے اہل شہر کا حکم لازم ہوگا۔ (ت)
مسلك متقسط شرح منسك متوسط میں فرمایا :
ان ثبت فی مصر لزم سائرالناس فی ظاھر الروایۃ و علیہ اکثر المشائخ
جب شہر میں ثبوت ہوجائے تو ظاہر الروایۃ کے مطابق باقی لوگوں پر لازم ہوگا اکثر مشائخ کی یہی
حوالہ / References مجموعہ فتاوٰی عبد الحی کتاب الصوم مطبع یو سفی لکھنؤ ١ / ٢٦٥ ، ٢٧٣ ، ٢٧٥ ، فتاوٰی تاتارخانیہ کتاب الصوم ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ٢ / ٥
مجموعہ فتاوٰی محمد عبد الحی کتاب الصوم مطبع یوسفی لکھنؤ ١ / ٢٧٤
مجموعہ فتاوٰی محمد عبد الحی کتاب الصوم مطبع یوسفی لکھنؤ ١ / ٢٦٦
غنیہ ذوی الاحکام حاشیۃ دررالحکام کتاب الصوم احمد کامل الکائنہ فی دارالسعادت بیروت ١ / ٢٠١
#9941 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
وبہ کان یفتی ابو اللیث وشمس الائمۃ الحلوانی وھو مختار صاحب التجرید والکافی وغیرھم من المشائخ ۔
رائے ہے فقیہ ابوللیث اور شمس الائمہ حلوانی نے بھی اسی پر فتوی دیا ہے صاحب تجرید وکافی اور دیگر مشائخ کے ہاں یہی مختار ہے۔ (ت)
خلاصہ وعالمگیریہ وغیر ہمامعتمدات میں فرمایا :
علیہ فتوی الفقیہ ابی اللیث وبہ کان یفتی شمس الائمۃ الحلوانی قال لورأی اھل مغرب ھلال رمضان یجب الصوم علی اھل المشرق ۔
فقیہ ابو اللیث کا اسی پر فتوی ہے شمس الائمہ اسی پر فتو ی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر اہل مغرب رمضان کا چاند دیکھ لیں تو اہل مشرق پر رمضان کا روزہ لازم ہوجائے گا(ت)
دیکھو کیسی صریح تصریحات ہیں کہ امام شمس الائمہ کا فتوی اسی پر ہے کہ اختلاف مطالع اصلا معتبر نہیں بالجملہ بعد اس جاننے کے کہ اختلاف مطالع کا نا معتبر ہونا ہی ظاہرالروایۃ ہے اور اسی پر فتوی ہے اور وہی معتمد جمہور وقول کثیر ہے اس سے عدول کی کوئی راہ نہیں مگر الحمدﷲ مولوی لکھنو صاحب نے اپنے فتاوی کی جلدسوم میں حق کی طرف صاف رجوع کی صفحہ پر کہتے ہیں :
سوال : رؤیت یکجا مفید حکم بجائے دیگر مے شود یا آنکہ اختلاف مطالع معتبر ست۔
جواب : اختلاف مطالع معتبر نیست و حکم یکجا مفید حکم بجائے دیگر مے شود اگر خبر رؤیت مشتہر شود وانتشار پذیرد ودرمختار مے آرد و اختلاف المطالع غیر معتبر علی ظاھر المذہب وعلیہ الکثر المشائخ وعلیہ الفتوی بحر عن الخلاصۃ انتہی درجامع رموز مے آرد الصحیح من مذھب اصحابنا انہ یلزم
سوال : آیا ایك جگہ رؤیت کا حکم دوسری جگہ پر لاگو ہوتا ہے یا اختلاف مطالع معتبر ہے
جواب : اختلاف مطالع ك اعتبار نہیں ہے اور ایك جگہ کا حکم دوسری جگہ کے لیے معتبر و مفید ہوتا ہے جبکہ خبر مشہور ہوکر اطراف میں پھیل جائے ظاہر مذہب میں اختلاف مطالع کا اعتبار نہیں اکثر مشائخ کا یہی قول ہے اور فتوی بھی اسی پرہے کذافی البحر عن الخلاصہ انتہی اور جامع الرموزمیں یہ مذکور ہے ہمارے ائمہ کا صحیح مذہب یہی ہے
حوالہ / References مسلک متقسط شرح منسک متوسط فصل فی اشتباہ یوم عرفہ الخ دارالکتاب العربی بیروت ص١٤٣
فتاوی ہندیہ کتاب الصوم نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ٩٩-١٩٨
#9944 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
اذااستفاض الخبر فی البلدۃ الاخری ۔ ملخصا۔
کہ جب خبر دوسرے شہر میں مشہور ہوجائے تو روزہ لازم ہوجاتا ہے۔ (ت)
یہ وہی صحیح من مذھب اصحابنا ہے کہ پہلے قول خلاف کی طرف منسوب سمجھا گیا تھا اور ایك اور سوال کے جواب میں بھی مطلقا مقام بعید کی شہادت مقبول مانی صو :
سوال : گواہان بروز بست و نہم از رمضان گواہی دادند کہ ماہلال رمضان یك روز قبل دیدہ ایم کہ بداں حساب امر وزسیم رمضان ست پس شہادت ایشاں مقبول خواہد شد یانہ
جواب : اگر گواہاں ہما نجا بودند وازاول رمضان ساکت ماندہ بست ونہم رمضان گواہی دادند گواہی ایشاں مقبول نخواہد شد و اگر از سفر ازمقام بعید می آیند شہادت مقبول خواہد شد کذافی الخلاصۃ ۔
سوال : گواہوں نے رمضان کو یہ گواہی دی کہ ہم نے رمضان کا چاند ایك روز پہلے دیکھا تھا اس حساب سے آج رمضان بنتا
ہے تو ان گواہوں کی گواہی مقبول یا نہ
جواب : اگر گواہ اسی مقام کے رہنے والے ہوں اور رمضان کے پہلے دن خاموش رہے اور اب رمضان کی گواہی دے رہے ہیں توان کی گواہی مقبول نہ ہوگی اور اگر کہیں دور کے مقام سے سفر کرکے آئے ہوں تو ان کی شہادت قبول کی جائیگی کذا فی الخلاصہ۔ (ت)
یہ تیسری جلد مولوی صاحب نے آپ ہی سوالات قائم کرکے لکھی ہے اور اس میں بہت جگہ پہلی جلدوں کے اغلاط کی اصلاح کردی ہے ان کے فتاوی دیکھنے والے کو اس کا لحاظ ضرور ہے مدت سے خیال تھا کہ مسئلہ اختلاف مطالع میں ایك بیان شافی لکھا جائے کہ ابر اختلاف اٹھ کر مطلع صاف نظر آئے الحمد ﷲ کہ آج کا وقت آیا وﷲالحمد فی الاولی والاخری وصلی اﷲتعالی علی بد رتجلی من البطحاء وعلی الہ وصحبہ نجوم الھدی۔
سیزدھم نیم صاع گہیوں سے روزے کا فدیہ اور فطر کا صدقہ ہے ایك سوپینتیس تولہ ہے انگریزی سے اسی روپے بھر ہے اور روپیہ سواگیارہ ماشے کا ہے آدھ پاؤ کم دو سیر نہ ہوا بلکہ تین چھٹانك اور بیسواں حصہ چھٹانك کا کم دوسیر جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی جلد “ صدقہ فطر کے بیان “ میں
حوالہ / References مجموعہ فتاوٰی محمد عبد الحی لکھنوی باب رؤیۃہلال مطبع یوسفی لکھنو ٣ / ٧١-٧٠
مجموعہ فتاوٰی محمد عبد الحی لکھنوی باب رؤیۃہلال مطبع یوسفی لکھنو ٣ / ٧١
فتاوی رضویہ(جدید)جلد ہذاصفحہ٢٣٩
#9946 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
مشرحا بیان کیا ہے اور یہ فتوی تحفہ حنفیہ عظیم آباد میں چھپ بھی گیا ہے اور بریلی کے سیر سے کہ پورے سو روپے بھر کا ہے ایك سیر سات چھٹانك دو ماشے ساڑھے چھ رتی اور رامپور کے سیر سے کہ چھیانوے کا ہے پورا ڈیڑھ سیر فاحفظ ولاتزل
چہار دہم جس نے بعذر شرعی روزہ نہ رکھا اسے دقت نہ ہو تو حرمت ماہ مبارك کے لحاظ سے حتی الوسع چھپا کر کھانا پینا چاہئے مگر کسی روزہ دار کے سامنے کچھ نہ کھانے کا مطلقا وجوب محتاج دلیل ہے۔
پانزدہم کاغذ یا کنکر یا خاك وغیرہا اشیاکو کہ نہ دوا ہیں نہ غذا نہ مرغوب طبع اگر تل بھر نہیں پیٹ بھر کھالے گا صرف قضا ہوگی کفارہ نہ آئے گا۔ یونہی روزہ توڑنا عمدا حقنہ وغیرہا اشیائے مذکورہ مابعد کو بھی شامل مگر اس میں کفارہ نہیں۔ نیز کفارہ صرف اداروزہ رمضان کے توڑنے میں ہے جبکہ یہ نہ صاحب عذر تھا نہ اس دن میں کوئی آسمانی عذر مثل حیض یا مرض پیدا ہوجائے نہ ہی توڑنا کسی کے جبرواکراہ سے ہو اور روزے کی نیت رات سے کی ہو درمختار میں ہے :
ثم انما یکفر ان نوی لیلا ولم یکن مکرھا ولم یطرأمسقط کمرض وحیض ۔
پھر کفارہ تب ہوگا جب تك رات کو نیت کی ہو اور مجبور بھی نہ ہو اور کفارہ چھوڑنے کا کوئی عارضہ مثل مرض وحیض وغیرہ کے لاحق نہ ہواہو(ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ مسقط ای سماوی لاصنع لہ فیہ ولا فی سببہ رحمتی ۔
قولہ مسقط یعنی و ہ عارضہ سماوی جس میں بندے کا کوئی دخل نہ ہواور نہ اس کے سبب میں دخل ہو رحمتی۔ (ت)
تو یہ اشتہاری مطلق احکام سب غلط ہیں۔
شانزدہم کفارے میں شرعا ترتیب ہے سب میں پہلے ایك غلام آزاد کرنا ہے اس کی طاقت نہ ہوتودو مہینے کے لگاتار روزے یہ بھی نہ ہو سکے تو اخیر درجہ ساٹھ مسکین کما نص اﷲتعالی علیہ فی ایۃ الظھار(جیسا کہ اﷲتعالی نے آیت ظہار میں تصریح فرمادی ہے۔ ت)غلام آزاد کرنا تو شاید اشتہار میں اس لیے مذکور نہ ہوا کہ یہاں غلام کہاں مگر روزوں اور ساٹھ مسکینوں میں ترتیب نہ رکھنا صحیح نہیں
حوالہ / References درمختار باب مایفسد الصوم ومالایفسد مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٥١
ردالمحتار مطلب فی الکفارۃ مصطفی البابی مصر ١ / ١٢٠
#9948 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
یہ اگر جہل نہ ہو تو سخت تر ہے کہ تجہیل و تضلیل ہے۔
ہفد ہم جلق سے روزہ نہیں ٹوٹتا جب تك اس سے انزال نہ ہو۔ درمختارمیں ہے : استمنی بہ ولم ینزل (مشت زنی کی انزال نہ ہوا تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ )تو یہ اطلاق بھی غلط ہے۔
ہیجد ہم قصدا قے کرنے سے بھی روزہ نہیں جاتا مگر جبکہ روزہ یاد ہونے کی حالت میں منہ بھر کر ہو۔ ردالمحتار میں ہے :
لافطرفی الکل علی الاصح الافی الاعادۃ والاستقاء بشرط الملاأ مع التذکیر شرح الملتقی ۔
اصح قول کے مطابق ان تمام میں افطار نہ ہوگا البتہ اس صورت میں جب قے کو لوٹائے یا خود قے کرے بشرطیکہ منہ بھر کر ہوروزہ ہونا یاد ہو شرح الملتقی(ت)
نوزدہم مفطرات غیرمکفرات مثل حقنہ وغیرہا کا مطلقا دوبارہ کرنا موجب کفارہ نہیں جب تك بقصد معصیت نہ ہو۔ درمختار میں ہے :
کل ما انتفی فیہ الکفارۃ محلہ مااذالم یقع ذلك منہ مرۃ بعد اخری لاجل قصد المعصیۃفان فعلہ وجبت زجرالہ ۔
جس صورت میں کفارہ لازم نہ ہو اس کا محل یہ ہے کہ جب اس شخص سے وہ فعل بتکرار گناہ کے قصد سے صادر نہ ہو پس اگر اس فعل کو مکرر کرے گا توزجرا کفارہ واجب ہوگا۔ (ت)
اور اس عبارت سے اگرچہ علامہ طحطاوی نے یہ استظہار کیا کہ دو ہی بار کرنے میں کفارہ واجب کردیں گے اور علامہ شامی نے اسے نقل کرکے مقررکھا مگر اس معنی پر جزم انہیں بھی نہیں اتنا ہی فرمایا ہے :
ظاھرہ انہ بالمرۃ الثانیۃ تجب علیہ الکفارۃ ولوحصل فاصل بایام ۔
ظاہر یہ ہے کہ اگردوسری دفعہ کیا تو کفارہ لازم اگر چہ درمیان میں متعدد ایام کا فاصلہ ہو(ت)
اور فقیر کے نزدیك یہ ہنوز محتاج مراجعت ہے اگر یہ مراد ہوتی تو مرۃ اخری(دوبارہ کرنا۔ ت)کہنا کافی تھا مرۃ بعد اخری(باربار کرنا۔ ت)ظاہرا باربار تکرار کی طرف ناظر ہے فلیراجع و
حوالہ / References درمختار باب مایفسد الصوم ومالایفسدہ ، مجتبائی دہلی ١ / ١٥٠
ردالمحتار مطلب فی الکفارۃ مصطفی البابی مصر ٢ / ١٢٠
درمختار باب مایفسد الصوم الخ مجتبائی دہلی ١ / ١٥١
ردالمحتار باب مایفسد الصوم الخ مصطفی البابی مصر ٢ / ١١٥
#9950 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
لیحرر(غور طلب ہے۔ ت)واﷲتعالی اعلم
بستم حاملہ کو بھی مثل مرضعہ روزہ نہ رکھنے کی اجازت اسی صورت میں ہے کہ اپنے یا بچے کے ضرر کا اندیشہ غلبہ ظن کے ساتھ ہونہ کہ مطلقا جیسا کہ اشتہار نے زعم کیا۔
بست ویکم جب رکعات تراویح میں اختلاف پڑے کہ بیس پڑھیں یا اٹھارہ تو اس میں نہایت کثرت سے مختلف صورتیں ہیں ان کی تمام تر تفصیل اور ان کے اصول کی تاصیل اور ان کے احکام تحقیق و تحصیل فقیر نے تعلیقات ردالمحتار میں ذکر کی یہاں اجمالا اتنا گزارش کہ نہ مطلقا اختلاف امام وقوم کی حالت میں مقتدیوں کو دو رکعت پڑھنے کا حکم نہ مطلقا تنہا پڑھنے کا حکم نہ یہ حکم مطلقاامام کو کسی عدد پر یقین نہ ہونے کے ساتھ خاص مثلا مقتدیوں کا یقین ہے کہ بیس ہوگئی اور امام کو شك تھا یا اٹھارہ کا یقین ہی ہے تو مقتدی اصلا دو رکعت نہ پڑھیں گے نہ جماعت سے نہ تنہا کہ جب انہیں تراویح کامل ہوجانے کا یقین ہے تو اب انہیں امام کے شك یا یقین سے زیادہ کا کیونکر حکم ہوسکتا ہے اپنے جزم پر غیر کا جزم بھی حاکم نہیں ہوسکتا نہ کہ شک ردالمحتار میں ہے :
لو تیقن الامام بالنقص لزمھم ا لاعادۃ الامن تیقن منھم بالتمام ۔
اگر امام کو کم کا یقین ہو تو ان پر اعادہ لازم ہے مگر ان میں سے جسے تکمیل کا یقین ہو(ت)
فتح القدیر میں ہے :
لان یقینہ لایبطل بیقین غیرہ ۔
کیونکہ اس کا یقین کسی دوسرے کے یقین سے باطل نہیں ہوسکتا ۔ (ت)
اور اگر مقتدیوں کو کا یقین ہے اور امام کو بیس کاشك ہوتو خود امام بھی دو اور پڑھے گا اور یقین مقتدیاں کی اقتداء کرے گا اور جماعت سے پڑھی جائیں گی۔ درمختار میں ہے :
لواختلف الامام والقوم فلو الامام علی یقین لم یعد والااعاد بقولھم ۔
اگر امام اور مقتدیوں کے درمیان اختلاف ہوگیا اگر امام کو یقین ہوتو اعادہ نہ کرے اوراگر یقین نہ ہو تو مقتدیوں کا قول معتبر ہونے کی وجہ سے اعادہ ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب سجودالسہو داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ٥٠٧
فتح القدیر باب سجودالسہو نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٤٥٧
درمختار باب سجودالسہو مجتبائی دہلی ١ / ١٠٣
#9952 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
فتح القدیر میں ہے :
ان اعاد الامام الصلوۃ واعادوامعہ مقتدین بہ صح اقتدائھم ۔
اگر امام نے اعادہ نماز کیا اور لوگوں نے اس کی اقتدا میں اعادہ کیا تو ان کی اقتدأدرست ہوگی(ت)
بست ودوم حافظ کہ ایك بار ختم کر چکا اب دوسری تاریخوں میں دوسری جگہ سنانا چاہتا ہے جہاں ابھی لوگوں نے قرآن عظیم نہیں سنا ہے تومذہب صحیح ومعتمد پر اس کے عدم جواز کی اصلا کوئی وجہ نہیں نہ اس قرآن سننے کا ثواب نہ ہونے کے کوئی معنی ظاہر ہے کہ ان راتوں میں وہ بھی تراویح ہی پڑھے گا نہ کہ نفل محض تو ضرور تراویح کا امام ہوسکتا ہے اور جب امام تراویح ہوسکے گا تو دوبارہ قرآن عظیم پڑھنے سے کیونکر ممنوع ہوسکتا ہے اور جب اس سے ممنوع نہیں تو بلاشبہ جو کچھ قرآن عظیم اس میں پڑھے گا وہ تراویح صحیحہ مسنونہ ہی میں ہوگا پھر ثواب نہ ملنا چہ معنی اور اس کی یہ تعلیل کہ “ وہ اب نفل سناتا ہے اور مقتدی واجب سننا چاہتے ہیں “ اس سے بھی زیادہ فاسد وعلیل۔ تراویح میں پہلا ختم بھی واجب نہیں صرف سنت ہی ہے اور دوبارہ ختم کرنا اگر چہ حافظ پر سنت مؤکدہ نہ تھا مگر یہ قبل ایقاع ہے بعد وقوع سنت درکنار جتنا پڑھے گا فرض ادا ہوگا کہ نماز میں فرض ابتدائی اگر چہ ایك ہی آیت ہے مگر سارا قرآن عظیم اگر ایك رکعت میں پڑھے سب فرض ہی واقع ہوتا ہے لانہ فرد
فاقرءوا ما تیسر من القران- (کیونکہ یہ بھی(ارشادباری تعالی) “ جو قرآن میں سے آسان ہے پڑھو “ کافردہے۔ ت)ولہذا اگر سورت بھول کررکوع میں چلا جائے پھر رکوع میں یاد آئے تو حکم ہے کہ رکوع کو چھوڑے اور کھڑاہوکر سورت پڑھے اور پھر رکوع کرے حالانکہ ضم سورت صرف واجب تھا اور واجب کے لیے رفض فرض جائز نہیں جیسے قعدہ اولی بھول کر جو سیدھا کھڑا ہوجائے اب اسے عود حلال نہیں کہ قعدہ واجب تھا اور قیام فرض ہے مگر سورت جو پڑھے گا یہ بھی فرض واقع ہوگی تو فرض کے لیے رفض فرض ہوا ولہذا اگر کھڑا ہو کر سورت پڑھے اور اس خیال سے کہ رکوع تو پہلے کر چکا ہوں دوبارہ رکوع نہ کرے نماز باطل ہوجائیگی کہ فرض کے لیے جو فرض چھوڑا گیا وہ جاتارہا تھا اس پر فرض تھا کہ رکوع دوبارہ کرتا۔ ردالمحتار میں ہے :
فی المبتغی لوسھا عن السورۃ فرکع یرفض الرکوع و یعود الی القیام ویقرأ اھ فی البحرانہ اذا عاد و قرأ السورۃ
المبتغی میں ہے اگر سورت پڑھنا بھول گیا رکوع کرلیا تو رکوع چھوڑ کر قیام کی طرف لوٹ آئے اور قرأت کرے اھ بحر میں ہے جب لوٹ کر سورت پڑھی تو سورت بطور
حوالہ / References فتح القدیر باب سجود السہو نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٤٥٧
#9953 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
صارت فرضا فقد عاد من فرض الی فرض لان کل فرض طولہ یقع فرضا اھ ملتقطا
فرض ادا ہوگی تو یہ ایك فرض سے دوسرے فرض کی طرف لوٹنا ہوا کیونکہ ہر فرض کی طوالت بھی فرض میں شامل ہوئی ہے اھ ملتقطا(ت)
ایك بار ختم کرکے دوسری راتوں میں دوسرا ختم نئے لوگوں کو سنانا تونہایت صاف امرہے اگر بالفرض کوئی شخص آج اپنی تراویح پڑھ کر آج ہی رات اور لوگوں کی امامت تراویح میں کرے اور قرآن عظیم سنائے تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس قرآن سننے کا ثواب نہ ہوگا۔ روایت مختارہ امام قاضی خاں پر تو ظاہر ہے کہ وہ متنفل محض کے پیچھے تراویح کی اقتداء بلا کراہت جائز مانتے ہیں صرف امام کے حق میں کراہت کہتے ہیں اگر نیت امامت کرے ورنہ اس پر بھی کراہت نہیں خانیہ میں فرمایا :
لوصلی العشاء والتراویح والو ترفی منزلہ ثم ام قوما اخرین فی التراویح ونوی الامامۃ کرہ ولایکرہ للقوم ولو لم ینوالامامۃ اولاو شرع فی الصلوۃ و اقتدی بہ الناس فی التراویح لم یکرہ لواحد منھما ۔
اگرکسی نے نماز عشاء تراویح اور وتر گھر اداکئے پھر تراویح میں لوگوں کی امامت کی نیت سے تراویح کی امامت کی تو یہ مکروہ ہے لیکن قوم کے لیے یہ مکروہ نہیں ہے اور اگر اولا اس نے امامت کی نیت نہ کی نماز میں شروع ہواتھا کہ لوگوں نے تراویح میں اقتداکرلی تو اب کسی کے حق میں کراہت نہیں۔ (ت)
اور روایت مختارہ امام شمس الائمہ سرخسی پر اگر چہ یہ ناجائز ہے اور ان لوگوں کی تراویح نہ ہوں گی
لان التراویح سنۃ مستقلۃ شرعت بوجہ مخصوص فلا تتأدی الابہ۔
کیونکہ نماز تراویح مستقل سنت ہے جو وجہ مخصوص پر مشروع ہے تو یہ اسی وجہ مخصوص کے ساتھ ہی وہ ادا ہوگی(ت)
اور یہی اصح ہے اور اسی پر فتوی ہے عالمگیریہ میں محیط سے ہے :
الامام یصلی التراویح فی مسجدین فی کل مسجد علی الکمال لایجوز۔
ایك امام جو دو مساجد میں مکمل طور پر نماز تراویح پڑھائے تو یہ جائز نہیں ہے(ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب سجود السہو داراحیاء التراث العربی ١ / ٥٠٠
فتاوٰی قاضیخان فصل فی نیۃ التراویح نولکشورلکھنؤ ١ / ١١١
فتاوٰی ہندیۃ فصل فی التراویح نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١١٦
#9955 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
اسی میں جامع المضمرات شرح قدوری سے ہے : الفتوی علی ذلک (فتوی اسی قول پر ہے۔ )جوہرہ نیرہ میں ہے :
لو صلی امام التراویح فی مسجدین فی کل مسجد علی الکمال قال ابوبکر الاسکاف لایجوز وقال ابو نصر یجوز لاھل المسجدین واختار ابو اللیث قول الاسکاف و ھو الصحیح ۔
اگر کوئی امام دو مساجد میں مکمل طور پر نماز تراویح پڑھائے تو شیخ ابوبکر اسکاف نے فرما یا یہ جائز نہیں اور شیخ ابونصر نے کہادونوں مساجد والوں کے لئے جائز ہے شیخ ابوللیث نے اسکاف کے قول کو اختیار کیا اور یہی صحیح ہے(ت)
نیز ہندیہ میں محیط سے ہے :
لوصلی التراویح مقتد یا بمن یصلی مکتوبۃ او وترا ونافلۃ الاصح انہ لایصح الاقتداء بہ لانہ مکروہ مخالف لعمل السلف ۔
اگر کسی نے نماز تراویح ایسے شخص کی اقتدا میں ادا کی جو فرض یا وتر یا نفل پڑھا رہا تھا تو یہ اقتداء درست نہیں کیونکہ یہ مکروہ اور عمل اسلاف کے مخالف ہے(ت)
مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ نماز ہی نہ ہوگی تراویح نہ ہونا اور بات ہے اور نماز نہ ہونا اور بات
الاتری انہ انما علل بالکراھۃ ومخالفۃ الماثور وھما لاینفیان الاقتداء ولا یفسدان الصلوۃ۔
آپ نے دیکھا نہیں کہ علت کراہت اور مخالفت ماثور کو قرار دیا گیا ہے اور یہ دونوں اقتداء کے منافی نہیں اور نہ ہی نماز کو فاسد کرتی ہے(ت)
تو وہ نماز اگر چہ تراویح نہیں یقینا نماز صحیح و نفل محض ہے اور نفل محض میں بھی استماع قرآن فرض ہے اور اس ادائے فرض پر ثواب نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں تو قرآن سننے کا ثواب یہاں بھی ہے ہاں روایت مفتی بہا پر اس صورت خاصہ میں یعنی جبکہ امام اپنی تراویح پڑھ کر اسی رات اوروں کی امامت کرے یہ کہہ سکتے ہیں کہ تراویح میں ختم قرآن کا انہیں ثواب نہ ملے گا کہ یہ تراویح نہیں اورصورت اولی میں تو اس کی طرف بھی اصلا راہ نہیں کہ وہ نماز بلا شبہ تراویح اور وہ ختم ختم فی التراویح ہے بات یہ ہے کہ اس مسئلہ میں بھی مولوی صاحب نے مولوی عبدالحی صاحب
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ فصل فی التراویح نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١١٦
الجوہرۃ النیرہ باب قیام شہر رمضان مکتبہ امدادیہ ملتان ا / ١١٨
فتاوٰی ہندیۃ فصل فی التراویح نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١١٧
#9956 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
لکھنوی کا اتباع کیا ہے۔ مولوی صاحب لکھنوی خزانۃ الروایات سے ناقل ہیں :
قال السغناقی امام ختم فی التراویح مرۃ و ختم ثانیا بغیرھذاالقوم لایخرج ھذاالقوم الثانی عن السنیۃ لان الامام خرج السنیۃ فصارلہ نفلا فیدرکون ثواب صلوۃ النفل ولا یدرکون ثواب صلوۃ التراویح ۔
شیخ سغناقی کہتے ہیں امام نے ایك مرتبہ تراویح میں قرآن ختم کیا تو دوسری قوم سنت کو ادا کرنے والی قرار نہیں پائے گی کیونکہ امام سنت ادا کرچکا تھا اب اس کے لئے وہ نفل ہے لوگ نماز نفل کا ثواب تو پائیں گے مگر تراویح کا ثواب نہیں پائیں گے(ت)
ظاہرہے کہ اس کا مبنی وہ قول ضعیف ہے کہ جب ختم قرآن ہو جائے تو تراویح سنت نہیں رہتیں
کما یفصح عنہ قولہ یدرکون ثواب صلوۃ النفل وقولہ ولا یدرکون ثواب صلوۃ التراویح ۔
جیسا کہ ان کا یہ قول واضح کر رہا ہے کہ وہ نماز نفل کا ثواب پائیں گے اور یہ قول بھی کہ وہ تراویح کا ثواب نہیں پا ئیں گے۔ (ت)
اور یہ قول ضعیف وناماخوذ ہے اصح ومعتمدومعمول بہ یہی ہےکہ ختم اگرچہ ہو جائے تراویح سارے ماہ مبارك میں سنت مؤکدہ ہیں اسی پر جوہرہ میں جزم کیا اور اسی کو سراج وہاج میں اصح کہا۔ عالمگیریہ میں ہے :
لوحصل الختم لیلۃ التاسع عشراوالحادی و العشرین لایترك التراویح فی بقیۃ الشہر لانھا سنۃ کذافی الجوھرۃ النیرۃ الاصح انہ یکرہ لہ الترك کذا فی السراج الوھاج ۔
اگر قرآن انیسویں یا اکیسویں کو ختم ہوگیا تو باقی ماہ میں تراویح کو ترك نہ کیا جائے کیونکہ یہ سنت ہیں جیسا کہ الجوہرۃ النیرۃ میں ہے۔ اصح یہ ہے کہ تراویح کا ترك مکروہ ہے جیسا کہ السراج الوہاج میں ہے۔
تو اب اس سے عدول کا اختیار نہ رہا۔ فتاوی خیریہ جلد اول میں فرمایا :
انت علی علم بانہ بعد التنصیص علی اصحیتہ لایعدل عنہ الی غیرہ ۔
آپ باخبر ہیں کہ جب اس حکم کے اصح ہونے پر تصریح مل جائے تو دوسرے قول کی طرف عدول نہیں کیا جائیگا(ت)
اسی کی جلد ثانی میں فرمایا : حیث ثبت الاصح لایعدل عنہ (جب اصح کا ثبوت ہوتو پھر اس سے
حوالہ / References مجموعہ فتاوٰی بحوالہ خزانۃ الروایات کتاب الصلٰوۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ١ / ١٣٤
فتاوٰی ہندیۃ فصل فی التراویح نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ١١٨
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٣٩
فتاوٰی خیریہ کتاب الصلح کتاب الطلاق ٢ / ١٠٤
#9958 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
عدول نہ کیا جائے۔ ت)خود مولوی لکھنوی صاحب نے لکھا :
مفتی بہ ومختار متحققین آنست کہ تراویح سنت علیحدہ است و ختم سنت علیحدہ ہیچ ازیں ہردو تابع دیگر نیست پس بعد ختم سنیت تراویح باقی خواہد ماند چنانکہ بود ۔
مفتی بہ اور مختار محققین کے ہاں یہ ہے کہ تراویح الگ سنت اور ختم قرآن الگ سنت ہے۔ یہ دونوں ایك دوسرے کے تابع نہیں لہذا قرآن کے بعد سنیت تراویح اسی طرح قائم رہے گی جیسے کہ پہلے تھی۔ (ت)
باوصف اس جاننے کے پھر مفتی بہ سے عدول ہرگز روا نہ تھا اور اس بچنے کے لئے مولوی لکھنوی صاحب کی یہ توجیہ کہ :
قول مفتی بہ پرـ اگر چہ تراویح از ذمہ مقتدیاں ساقط خواہد شد چہ درسنت تراویح امام ومقتدی ہر دو برابر اندلیکن در سقوط ختم اشکالیست چہ فقہا در باب اقتداء ضعف نماز امام را اگر چہ بہ یك رکن باشد مانع اقتداء می نویسند چنانچہ در درمختار وغیرہ مذکورست امااقتداء المسافر بالمقیم فیصح فی الوقت و یتم لا بعدہ فیما یتغیر لانہ اقتداء المفترض بالمتنفل فی حق القعدۃ لواقتداء فی الاولیین اوالقراءۃ لو اقتداء فی الاخریین ۔ انتہی دریں صورت باوجود یکہ امام ومقتدی ہر دو تحریمہ فرض بستہ سبب ضعف یك جز از اجزاء نمازامام حکم بفساد اقتداء دادہ شد پس بناء علیہ درصورت سوال ہم حکم بعدم سقوط ختم از مقتدیان دادہ خواہد شدوہمیں امراز عبارت
قول مفتی بہ پر اگر چہ تراویح مقتدیوں کے ذمہ سے ساقط ہوجائیں گی کیونکہ سنت تراویح میں امام اور مقتدی دونوں برابر ہیں لیکن ختم کے سقوط میں اختلاف ہے کیونکہ فقہااقتداء کے باب میں نماز امام کے ضعف کو اگر چہ وہ ایك رکن میں ہومانع اقتداء قرار دیتے ہیں جیسا کہ درمختاروغیرہ میں ہے مسافر کی اقتداء مقیم کے ساتھ وقتی نماز میں صحیح ہے اور وہ ادا بھی چار رکعت کرے لیکن بعد میں تبدیلی آجاتی ہے لہذا اقتدادرست نہیں ہوگی کیونکہ اب اگر پہلی دورکعات میں اقتداکرے گا تو قعدہ کے اعتبار سے فرض ادا کرنے والے کی متنفل کی اقتدا لازم آئے گی اور اگر آخری دورکعات میں اقتداء کرے تو قرأت کے اعتبار سے یہی خرابی لازم آئیگی انتھی حالانکہ اس صورت میں امام اور مقتدی دونوں نے فرض کی تکبیر تحریمہ کہی لیکن نماز امام کے ایك جز کے ضعف کی وجہ سے فساد اقتداء کا حکم جاری ہوگیا۔ اس
حوالہ / References مجموعہ فتاوٰی کتاب الصّلٰوۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ١ / ١٣٤
مجموعہ فتاوٰی کتاب الصّلٰوۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ١ / ١٣٥
#9959 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
سغناقی مفہوم شود ہر گاہ درباب سقوط ختم وعدم سقوط آں اختلافے واقع شد پس امام را لازم کہ ختم ثانی رامع تراویح برخودنذر کردہ گیر دوگوید ﷲان اختم القران فی صلوۃ التراویح تاختم او واجب شود واقتدائے مقتدیان درست شود چنانچہ درخزانۃ الروایۃ تفصیل آں مذکور ست واﷲاعلم حررہ محمد عبدالحی عفا عنہ ۔
پر بناء کرتے ہوئے سوال مذکور کے جواب میں یہی حکم ہوگا کہ مقتدیوں کے ذمہ سے ختم قرآن ساقط نہیں ہوگا اور عبارت سغناقی سے یہی بات مفہوم ہورہی ہے لہذا جہاں بھی سقوط وعدم سقوط ختم میں اختلاف ہوجائے وہاں امام کے لیے ضروری ہےکہ وہ تراویح میں دوسرے ختم کی نذر مانتے ہوئے کہے کہ مجھ پر اﷲکی رضا کی خاطر نماز تراویح میں ختم قرآن لازم تاکہ اس پر ختم قرآن واجب ہوجائے اور مقتدیوں کی اقتداء بھی درست ہوجائے جیسا کہ خزانۃ الروایۃ میں اس کی تفصیل ہے واﷲ اعلم المحرر محمد عبد الحی عفا عنہ(ت)
انصافا شطرنج میں اضافہ بغلہ سے بہتر اولا سنن و نوافل میں اضعفیت مانع صحت بنا نہیں ہوسکتی ورنہ جس طرح عاری کے پیچھے لابس کی نماز نہیں ہوسکتی یونہی کلاہ پوش کے پیچھے عمامہ بند کی نماز نہ ہوسکے کہ وہ سنیت میں مقتدیوں سے اضعف ہے۔
ثانیا یہ مان کر کہ مقتدیوں کے ذمہ سے تراویح ساقط ہوجائیگی پھر یہ فرمانا کہ امام پر نذر ماننا لازم کہ اقتدائے مقتدیان درست ہو صریح تناقض ہے۔
ثالثا عبارت سغناقی کا ہرگز یہ مفاد نہیں کہ باوصف صحت تراویح صرف اس بنا پر کہ امام ایك بار ختم کرچکا ہے مقتدیوں کے ذمہ سے ختم ساقط نہ ہوگا بلکہ اس کا مبنی صراحۃ وہی تھا کہ تراویح ختم کے لیے تھیں جب ختم ہوچکا تراویح بھی ختم ہوگئیں تو امام نفل محض پڑھ رہا ہے اور متنفل کے پیچھے تراویح ادا نہیں ہوتیں ولہذا تصریح کی کہ ثواب نفل پائیں گے ثواب تراویح نہ پائیں گے یہ مفاد اس مفاد کے صریح مضاد ہے نہ کہ باہم اتحاد۔
رابعا شروع سے معلوم ہے کہ جماعت نفل بہ تداعی مشروع نہیں اور تراویح باجماعت وارد ہوئیں تو وجہ متوارث ماثور پر مقتصر ہوں گی اور وہ یونہی ہے کہ امام مقتدی سب نیت تراویح کرتے یہاں اضعف واقوی کو دخل نہیں ولہذا اوپر تصحیح گزری کہ تراویح جس طرح متنفل کے پیچھے ساقط نہ ہونگی یونہی مفترض کے پیچھے بھی ادا نہ ہوں گی حالانکہ مفترض یقینا اعظم قوت پر ہے توجب تك دلیل صریح سے ثبوت نہ دیاجائے
حوالہ / References مجموعہ فتاوی درینکہ بعدیک ختم قرآن آیا سنت تراویح الخ مطبع یوسفی لکھنؤ ١ / ٥٢-٢٥١
#9960 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
کہ امام کا ایك بار ختم کئے ہوئے ہونا بھی ماثور ومتوارث کے خلاف ہے اس پر اس کا قیاس محض بے معنی ہے بالجملہ متنفل کے پیچھے تراویح نہ ہونا تو ضرور منقول بلکہ اس پر فتوائے فحول اور ایك بار ختم قرآن پڑھ لینے کے باعث حافظ کا امامت دیگراں سے معزول ہوناکہیں منقول نہیں اور آپ کی اپنی رائے سے بے نقل صحیح حجت و مقبول نہیں۔
خامسا بلکہ امر بالعکس ہے خود اسی خزانۃ الروایات میں کنز الفتاوی سے منقول :
رجل ام قوما فی التراویح وختم فیھا ثم ام قوم اخرین لہ ثواب الفضیلۃ ولھم ثواب الختم ۔
کسی نے تراویح میں امامت کرتے ہوئے قرآن ختم کیا پھر دوسرے لوگوں کی امامت کی تواب امام کے لیے ثواب فضیلت اور لوگوں کے لیے ختم کا ثواب ہوگا(ت)
یہ صریح جزئیہ ہے اور آپ کے خیال کا صاف رد اور قاضی گجراتی کا ارشاد کہ ھذا الکتاب غیر مشہور بین العلماء فلا وثوق بہ(یہ کتاب علماء کے درمیان مشہور نہیں لہذا اس پر اعتماد نہیں کیاجاسکتا ہے۔ ت)مسلم نہیں صاحب کنز الفتاوی امام احمد بن محمد بن ابی بکر حنفی مصنف مجمع الفتاوی وخزانۃ الفتاوی ہیں کشف الظنون میں انہیں بلفظ شیخ و امام وصف کیا :
حیث قال کنزالفتاوی للشیخ الامام احمد بن محمد صاحب مجمع الفتاوی الحنفی ۔
ان کے الفاظ یہ ہیں کنز الفتاوی شیخ امام احمد بن محمد حنفی صاحب مجمع الفتاوی کی کتاب ہے(ت)
سادسا ہم عنقریب واضح کرتے ہیں کہ نذر سے بھی عقدہ کشائی نہ ہوگی امثال فاضل لکھنوی سے قال ابو حنیفۃ والحق کذا(امام ابو حنیفہ نے اسی طرح فرمایا ہے مگر حق یہ ہے۔ ت)فرمانے والے ہیں مصنف خزانۃ الروایۃ ایك متاخر ہندی قاضی جگن گجراتی کی ایسی تقلید سخت عجیب و بعید
ولکن اﷲیفعل ما یرید والحمد ﷲعلی اراء ۃ السبیل السدید واﷲ سبحنہ وتعالی۔
اﷲاپنے ارادے کے مطابق کرتا ہے اور صحیح رہنما ئی فرمانے پر اﷲتعالی ہی کی حمد وثنا ہے اور اﷲتعالی بہتر جانتا ہے جس کی ذات نہایت ہی مقدس وبالا ہے(ت)
بست وسوم اگر وہ مسئلہ وتعلیل قبول کرليے جائیں تو حافظ مذکور اگر نذر بھی مان لے کہ میں تراویح
حوالہ / References خزانۃ الروایات
کشف الظنون باب الکاف منشورات مکتبۃ المثنی بغداد ٢ / ١٥١٨
#9962 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
مع جماعت وختم قرآن ادا کروں گا تو اب بھی کار بر آری مسلم نہیں کہ مقتدیوں پر وجوب اصلی تھا اور نذر کا وجوب عارضی ہے اور وہ وجوب اصلی سے اضعف ہے توا ضعف پر اقوی کی بناء صحیح نہیں۔ فتح اﷲالمعین پھر طحطاوی پھر ردالمحتار میں ہے :
بناء القوی علی الضعیف انما یمنع اذا کانت القوۃ ذاتیۃ فلو عرضت بالنذر کما ھنا فلاومن ھنا قال فی شرح المنیۃ النذر کالنفل ۔
قوی کی بناء ضعیف پر تب منع ہے جب قوت ذاتی ہو اگر نذر کی وجہ سے عارضی ہو جیسا کہ یہاں ہے تو پھر مانع نہیں۔ اسی مقام پر شرح منیہ میں ہے کہ نذر نفل کی طرح ہوتی ہے(ت)
اور ضعیف بھی مانئے تو سبب وجوب مختلف ہیں جب بھی بناء صحیح نہ ہوئی جیسے ناذر ناذر کی اقتداء نہیں کرسکتا بلکہ ناذر مفترض کی اقتداء نہیں کرسکتا حالانکہ فرض اقوی ہے تو سبب وہی کہ سبب جدا ہے۔ درمختار میں ہے :
لایصح اقتداء ناذر بمفترض ولا بناذر لان کلا منھما کمفترض فرضا اخر الااذانذر احد ھما عین منذور الاخر للاتحاد اھ۔
نذر ماننے والے کے ليے فرض ادا کرنے والے اور نذر ادا کرنے والے کی اقتداء صحیح نہیں کیونکہ یہ دونوں الگ الگ فرائض ادا کررہے ہیں البتہ اس صورت میں جائز ہوگی جب دونوں کی نذر ایك ہو کیونکہ اس صورت میں اتحاد حاصل ہوگا اھ(ت)
مولوی صاحب نے یہاں بھی فاضل لکھنوی کااتباع کیا اور فاضل لکھنوی نے حسب حوالہ خود قاضی جگن ہندی کا والحق احق ان یتبع(جبکہ حق ہی اتباع کے لائق تر ہے۔ ت)
بست و چہارم تحقیق یہ ہے کہ جس نے فرض جماعت سے پڑھے اور تراویح تنہا وہ تو جماعت وتر میں شریك ہوسکتا ہے اور جس نے فرض تنہاپڑھے ہوں اگر چہ تراویح جماعت سے پڑھی ہوں وہ وتر کی جماعت میں داخل نہیں ہوسکتا وقد حققناہ فی فتاونا بما یکفی ویشفی(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس پر تسلی بخش گفتگو کی ہے۔ ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب الوتر والنوافل داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ٤٧٦ ، طحطاوی علی الدرالمحتار باب الوتر والنوافل دارالمعرفۃ بیروت ١ / ٢٩٧
درمختار باب الامامۃ مجتبائی دہلی ١ / ٨٤
#9964 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
در مختار میں ہے :
لولم یصل التراویح بالامام یصلی الوتر معہ ۔
اگر کسی نے تراویح امام کے ساتھ ادا نہیں کی تو وتر امام کے ساتھ ادا کرسکتا ہے(ت)
جامع الرموز میں ہے :
لکنہ اذا لم یصل الفرض معہ لا یتبعہ فی الوتر ۔
اگر فرض امام کے ساتھ ادا نہ کئے ہوں تو پھر وتر میں امام کی اتباع نہ کرے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
امالوصلاھا جماعۃ مع غیرہ ثم صلی الوتر معہ لا کراھۃ ۔
اگر فرض کسی اور کی اقتداء میں ادا کيے پھر وتر دوسرے امام کے ساتھ پڑھے تواب کراہت نہ ہوگی(ت)
مولوی عبدا لحی صاحب لکھنوی نے بھی فقہائے کرام سے اس کی ممانعت ہی نقل کی اگر چہ صرف اس بنا پر کہ اس کی وجہ اپنی سمجھ میں نہ آئی اپنی خاص رائے مخالف بتائی اپنے فتاوی میں لکھتے ہیں :
درقنیہ از عین الائمہ ودر تاتارخانیہ از علی بن احمد رحمہ اﷲ تعالی مرقوم کہ ہر کہ فرض باجماعت ادا نہ کردہ باشد وتر ہم بجماعت ادانہ سازد وہمچنیں در غنیہ وغیرہا مذکور ست لیکن کدامی وجہ قوی معتد بہ عدم جواز معلوم نمی شود حق جواز معلوم مے شود انتہی ۔
قنیہ میں عین الائمہ سے اور تاتارخانیہ میں علی بن احمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے مروی ہے کہ جوشخص فرض جماعت کے ساتھ ادا نہ کرے وہ وتر بھی جماعت سے نہ پڑھے۔ اور اسی طرح غنیہ وغیرہ میں مذکور ہے۔ لیکن اس کے عدم جواز پر قوی ومعتدبہ وجہ معلوم نہیں ہوسکی جواز حق معلوم ہوتا ہے انتہی(ت)
امام عین الائمہ کرابیسی وامام علی بن احمد وقنیہ وغنیہ و جامع الرموز و ردالمحتار کے نصوص صریحہ کے مقابل صرف آپ کی “ معلوم نمی شود “ (معلوم نہیں ہوسکی۔ ت)پر عمل کی کوئی وجہ نہیں کما لا یخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے۔ ت)
حوالہ / References درمختار باب الوتر والنوافل مطبع مجتبائی دہلی ١ / ۹٩
جامع الرموز فصل فی الوتر والنوافل مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ١ / ٢١٦
ردالمحتار باب الوتر والنوافل مبحث صلوۃ التراویح داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ٤٧٦
مجموعہ فتاوٰی کتاب الصلٰوۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ١ / ٣٦-١٣٥
#9965 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
بست وپنجم بارہ برس سے کم عمر تخصیص نہیں بلکہ صحیح ومختاریہ ہے کہ نابالغ کے پیچھے بالغوں کی کوئی نماز جائز نہیں اگر چہ ایك دن کم پندرہ برس کا ہو امامت بالغین کے لیے بلوغ شرط ہے خواہ یہ ظہور آثار مثل احتلام وانزال خواہ بتمامی پانزدہ سال۔ درمختار میں ہے :
لایصح اقتداء رجل بصبی مطلقا ولا فی نفل علی الاصح ۔
بالغ مرد کی اقتداء بچے کے پیچھے مطلقا اگر چہ نفل نماز میں ہو اصح مذہب پر درست نہیں ہے(ت)
بست وششم آیت سجدہ کہ نماز میں تلاوت کی جائے سجدہ فورا واجب ہے اگرتین آیت کی تاخیر کی گنہ گار ہوگا پھر اگر عمدا سجدہ نہ کیا نہ معارکوع کیا کہ سجدہ تلاوت رکوع سے ادا ہوجاتاتو اس کی اصلاح سجدہ سہو سے نہیں ہوسکتی کہ وہ سجدہ سہو ہے کہ نہ سجدہ عمد اور اگر سجدہ تلاوت کرنا بھول گیا اور حرمت نماز سے باہر نکل گیا تو اب بھی سجدہ سہونہیں ہوسکتا کہ حرمت سے خروج جیسا کہ مانع سجدہ تلاوت ہے یوں ہی مانع سجدہ سہو ہاں اگر حرمت نماز میں باقی ہے کلام نہ کیا اٹھ کر چلانہ گیا اور یاد آیا تو سجدہ تلاوت نماز میں کیا مگر سہوا بتاخیر مثلا دوسری رکعت میں یاد آیا کہ سجدہ تلاوت چاہئے تھا اور اب ادا کیا جب بھی سجدہ سہو کا حکم ہے اگر چہ سجدہ تلاوت نماز میں ادا ہو گیا درمختار میں ہے :
ھی علی التراخی ان لم تکن صلویۃ فعلی الفور لصیر ورتھا جزأ منھا ویاثم بتا خیرھا ویقضیھا مادامہ فی حرمۃ الصلوۃ ولوبعد السلام فتح ۔
سجدہ تلاوت لازم ہوتا ہے تراخی کے طور بشرطیکہ سجدہ مذکورہ نماز میں لازم نہ ہوا کیونکہ اگر نماز میں لازم ہوا تو فی الفور نماز کے اندر کرنا ہی ضروری ہے کیونکہ اب وہ نماز کی جز بن گیا ہے لہذااس کی تاخیر سے گنہ گار ہوگا اور اس کی قضا بجالاسکتا ہے جب تك وہ حرمت نماز کے اندر ہے اگر چہ سلام کے بعد ہو فتح۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ ولو بعد السلام ای ناسیا مادام فی المسجد ۔
قولہ سلام کے بعد الخ یعنی بھول جانے والا شخص جب تك مسجد میں ہے سجدہ ادا کر سکتا ہے(ت)
حوالہ / References در مختار کتا ب الصلوٰۃ مجتبائی دہلی ١ / ٨٤
درمختار باب سجود التلاوۃ مجتبائی دہلی ١ / ١٠٥
درالمحتار باب سجود التلاوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ٥١٨
#9967 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
اسی میں ہے :
لو اخرالتلاویۃ عن موضعھا فان علیہ سجود السھو کما فی الخلاصۃ جازما بانہ لااعتماد علی مایخالفہ وصححہ فی الولو الجیۃ ۔
اگر نماز میں سجدہ تلاوت مؤخر کر دیا تو اس کی وجہ سے سجدہ سہو آئے گا جیساکہ خلاصہ میں بطورجزم بیان ہے یعنی اس کے مخالف قول پر اعتماد نہیں کیا جائیگا ولوالجیہ نے بھی اس قول کی تصحیح کی ہے۔ (ت)
ایضا درمختار میں ہے :
سجود السہو یجب بترك واجب سہو افلا سجود فی العمود قیل الافی اربع ۔
بھول کر ترك واجب میں سجدہ سہو ہوتا ہے لہذا قصدا ترك میں سجدہ سہو نہیں ہوگا بعض کی رائے میں صرف چار مقامات پر عمدا ترك واجب میں سجدہ سہو لازم ہوجاتا ہے (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
اشار الی ضعفہ تبعالنور الایضاح لمخالفتہ للمشھور وقد ردہ العلامۃ قاسم بانہ لایعلم لہ اصل فی الروایۃ ولاوجہ فی الدرایۃ ۔
نورالایضاح کی اتباع کرتے ہوئے انہوں نے اس کے ضعیف ہونے پر اشارہ کیا ہے کیونکہ یہ قول مشہور کے خلاف ہے اور علامہ قاسم نے اس کی یوں تردید کی ہے کہ اس قول کی روایت میں کوئی اصل معلوم نہیں اور نہ ہی اس پر کوئی عقل دلیل موجود ہے(ت)
بست وہفتم دربارہ ہلال تار کی گواہی شرعا محض باطل ونامعتبر وحققناہ فی فتاونا بمالامزید علیہ(ہم نے اس کی اپنے فتاوی میں خوب تفصیل بیان کی ہے جس پر اضافہ دشوار ۔ ت) نامعتبر شرعی کا درجہ اعتبار کو پہنچا کیونکر یہاں بھی مولوی صاحب نے مولوی عبدا لحی صاحب لکھنوی کا اتباع کیا ہے مولوی صاحب لکھنوی نے باآنکہ جابجا خود بے اعتبار تار کی تصریح کی جلد اول ص اس باب(یعنی رؤیت ہلال) میں صرف خبر تار یا تحریر خطی کافی نہیں جب تك کہ بطور کتاب القاضی الی القاضی( قاضی کا دوسرے قاضی کی طرف لکھنا۔ ت) کی تحریر نہ پہنچے قاعدہ الخط یشبہ الخط( تحریر دوسری تحریر کے مشابہ ہوتی ہے۔ ت) کا مشہور ہے ۔ ایضا صفحہ بحسب ضوابط فقیہ مجرد اخبارات تار وغیرہ در باب
حوالہ / References ردالمحتار باب سجودالسہو داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ۴۹۷
درمختار باب سجودالسہو مجتبائی دہلی ١ / ۱۰۲
ردالمحتار باب سجودالسہو داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ٤۹۷
مجموعہ فتاوٰی کتاب الصوم مطبع یوسفی لکھنؤ ١ / ٢٧٢
#9970 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
حکم صوم وافطار معتبر نہیں ۔ صفحہ پر یہ لکھا :
واقعی درباب رؤیت ہلال شہرت اخبار معتبر ست اگراز شہرے خبرے رسیدہ کہ بہ شب گزشتہ درآنجا رؤیت شدہ یا بوساطت تار برقی دریافت ایں امر شدہ تا وقتیکہ شہرت آں نہ شود از تحریرات کثیرہ واخبار عدیدہ معلوم نہ شود اعتبار آں نباید ساخت ۔
رؤیت ہلال کے بارے میں خبروں کی شہرت معتبر ہے اگر کسی شہر سے یہ خبر آئے کہ گزشتہ رات اس جگہ چاند دیکھا گیا ہے یا تار کے ذریعے یہ خبر معلوم ہوتو جب تك کثیر تحریروں اور متعدد خبروں کے ذریعے یہ خبر شہرت حاصل نہ کرے اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ (ت)
اس کی شہرت ہوجانے سے یہ تو مرادنہیں ہوسکتی کہ جب اس شہر میں خبر مشہور ہوگئی کہ فلاں جگہ سے تار آیا ہے تو اب وہی تار جس کی خبر شرعا ناکافی اور بحسب ضوابط فقیہ نا معتبر تھی معتبر ہوجائیگا اسے تو کوئی عاقل گمان نہ کرے گا ورنہ کسی فاسق فاجر شراب خور زنا کار کی خبر شہر میں اڑ جائے کہ وہ اپنا چاند دیکھنا بیان کرتا ہے تو چاہئے کہ معتبرہوجائے حالانکہ تار اس سے بھی زیادہ بے اعتبار کہ فاسق اہل شہادت ہے ولہذا اگر حاکم شرع اس کی شہادت قبول کرلے حکم صحیح ہوجائے گا اگر چہ حاکم آثم ہو نص علیہ فی الفتح والبحر ودروغیرہ من الاسفار الغر(فتح بحر در وغیرہ دیگر مشہورکتب میں اس پر تصریح ہے۔ ت)اور تار اصلا اہلبیت شہادت نہیں رکھتا ہاں شایدیہ مراد ہوکہ جب اس شہر سے متعدد تار آئیں تو اعتبارکیا جائے گا اوریہ ا س استفاضہ و شہرت میں داخل ہوگا جسے فقہائے کرام نے دربارہ رؤیت ہلال معتبر رکھا ہے مگر خیال نہ کیا کہ یہ تعدد ہوگا تو مروی عنہ میں نہ راوی میں کہ یہاں بھی تار بابو ان سب تاروں کا ناقل ہوگا حالانکہ ان میں اکثر کفار ہوتے ہیں تو یہ استفاضہ مخترعہ اس سے بھی بدتر ہوگا کہ ایك فاسق فاجر سرباز پکارتا پھر ےکہ فلاں شہر میں لاکھ آدمیوں نے چاند دیکھا ہے کیا اسے استفاضہ کہیں گے حاشاوکلا اور جہاں تار گھر متعدد بھی ہوں اور فرض کریں کہ ہر آفس میں اس شہر سے خبر آئی تو کیا چند کافر یا فاسق یا مجہول آکر کہہ دیں کہ فلاں جگہ کے فلاں فلاں سکان نے ہم سے اپنا چاند دیکھنا بیان کیا تو یہ حکایت محضہ تاحد استفاضہ پہنچے گی استغفر اﷲ تار والا تو بے چارہ اتنی بات کابھی گواہ نہیں اس نے تو تار میں ایك حرکت پائی اور اس سے کچھ حروف مصطلحہ سمجھے جو نہایت جلدی میں کمال بے جزمی کے ساتھ ایك کاغذ پر لے کر چپراسی کے حوالے کئے حرکت دینے والے بھی خود رؤیت ہلال
حوالہ / References مجموعہ فتاوٰی کتاب الصوم مطبع یوسفی لکھنؤ ١ / ٢٧٣
مجموعہ فتاوٰی کتاب الصوم مطبع یوسفی لکھنؤ ١ / ٢٦٤
#9972 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
والے نہ تھے وہ وہاں کے بنگالی بابو یا ہندو یا نصاری وغیرہم تھے ان کے پاس چاند دیکھنے والے خود نہ آئے ایك پرچے پر لکھ کر یا خود انگریزی نہ جانی تو کسی ہندو وغیرہ کفار سے انگریزی کر اکر کسی نوکر چاکر یا راہ چلتے کے ہاتھ تار آفس میں بھیج دی وہ وہاں کا بابو یہاں بھیج دے گا اس کی بلا کو بھی غرض نہیں کہ جس کے نام سے تار جاتا ہے خود وہ بھیجتا بھی ہے یا کسی نے محض جھوٹ اس کی طرف سے تار دلوایا ہے ایسے نفیس سلسلے کی خبر اگر شرع معتبر کرے تو قیامت ہے یہ توتار کے مہملات ہیں زبانوں کی کہی ہوئی خود ہمارے آگے مسلمانوں کی ادا کی ہوئی ہزار افواہ بازار ہرگز استفاضہ شر عیہ نہیں جب تك پایہ ثبوت و تحقیق کو نہ پہنچیں پھر متعددتاروں سے سوا اس کے کہ گورنمنٹ کے خزانے میں چند روپے داخل ہوگئے اور کیا نتیجہ! یہاں جو استفاضہ شرع نے معتبر فرمایا اس کے معنی معلوم کیجئے ردالمحتار میں ہے :
قال الرحمتی معنی الاستفاضۃ ان تاتی من تلك البلدۃ جماعات متعددون کل منھم یخبر عن اھل تلك البلدۃ انھم صاموا من رؤیۃ لامجرد الشیوع من غیرعلم بمن اشاعہ کماقد تشیع اخبار یتحدث بھا سائر اھل البلدۃ ولایعلم من اشاعھا فمثل ھذا لا ینبغی ان یسمع فضلا من ان یثبت بہ حکم اھ قلت وھو کلام حسن ویشیر الیہ قول الذخیرۃ اذا استفاض وتحقق فان التحقق لا یوجد بمجرد الشیوع ۔
شیخ رحمتی کہتےہیں کہ استفاضہ کا معنی یہ ہے کہ اس شہر سے متعدد جماعتیں آئیں اور ہر کوئی یہ اطلاع دے کہ انہوں نے چاند دیکھ کر روزہ رکھا ہے محض ایسی افواہ سے نہیں کہ جس کے پھیلانے والا معلوم نہ ہو جیسا کہ بہت سے باتیں شہروں میں پھیل جاتی ہیں اور ان کے پھیلانے والا معلوم نہیں ہوتا تو ایسی بات سننا مناسب نہیں چہ جائیکہ اس سے کوئی حکم شرعی ثابت کیا جائے اھ قلت یہ کلام بہت ہی خوب ہے ذخیرہ کے ان الفاظ میں بھی یہی بات ہے کہ جب مشہور و متحقق ہوجائے تب لازم ہوگا کیونکہ ثبوت وتحقق محض افواہ سے نہیں ہوگا۔(ت)
دیکھئے استفاضہ اس کانام ہے کہ اس شہر سے متعددجماعات آئیں اور سب یك زبان خبر دیں کہ وہاں رؤیت ہوئی اور روزہ چاند دیکھ کر رکھا بے تحقیق خبریں جن کی سندمعلوم نہیں اگر چہ تمام اہل شہر کی زبان پر ہوں کان رکھنے کے قابل نہیں ہوتیں نہ کہ ان سے کسی حکم شرعی کا اثبات انصاف کیجئے تو تار کی یہی حالت ہے شہر والے ہرگز یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ یہ اشاعت کن لوگوں کے ہاتھوں سے ہوئی تار کے فارم کس نے لکھے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ٩
#9973 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
تار بابو کو فارم دینے کون گیا وہاں کا تار بابو کون تھا یہاں کون ہے چپراسی کہ دے گیا کون تھا تو وہی رہا کہ لایعلم من اشاعھا(اسے مشہور کرنے والے کا علم نہیں۔ ت)اور استفاض لغوی کے ساتھ تحقق متحقق نہ ہوا کہ استفاضہ شرعی ہوتا اوریہیں سے ظاہر کہ انتظام زمانہ حال جس پر مولوی لکھنوی صاحب نے اعتماد و اتکال کیا یہاں کچھ بھی بکار آمد نہیں انتظام اس کا ہے کہ تار جو دیاجائے اپنی تین مقررہ میعادوں پر بھیج دیا جائے گا اس میں فرق نہ آئے گا مکتوب الیہ ملا تو اسے پہنچا دیاجائے گا آفس کی غلطی سے نہ پہنچا تو محصول اتنی مدت تك واپس دیا جائے گا یہ انتظام اصلا نہیں کہ تار دینے جو آئے اس کی شناخت لی جائے کہ آیا وہی ہے یا دوسرا شخص غلط سلط اس کےنام سے دیتا ہے نہ اس کا انتظام ہے کہ فارم لکھنے والے نے کلام قائل کا صحیح ترجمہ کیا ہے یا اس نے کچھ کہا اور یہ تار کے تنگ لفظوں میں اسے ادانہ کرسکا یا محصول کے بچاؤ کو مطلب ناقص رہ گیا نہ اسکا انتظام ہے کہ تار دینے لینے پہنچانے والے عادل ثقہ متقی ہونا درکنار مسلمان ہی ہوں پھر انتظام مذکور نے کیا کام دیا باقی تفصیل فتاوائے فقیر میں ملاحظہ ہو اور ان تمام خرابیوں سے قطع نظر کیجئے تو قبول استفاضہ جس امر پر مبنی تھا یہاں عامہ بلاد میں سرے سے وہ مبنی ہی مفقود ہے مبنی یہ تھا کہ استفاضہ سے اس شہر میں روزہ ہونا بالیقین ثابت ہوگا اور شہر عادۃ حاکم شہرع سے خالی نہیں ہوتا اور روزہ وعید حکم حاکم اسلام ہی سے ہوا کرتے ہیں تو اس استفاضہ سے معلوم ہوگا اس شہر میں حاکم شرع نے حکم دیا اور اس کا حکم حجت شرعیہ ہے لہذا مقبول ہوگا جیسے دوگواہ عادل گواہی دیں کہ ہمارے سامنے فلاں حاکم شرع کے یہاں شہادتیں گزریں اور اس نے حکم دیا۔ ردالمحتار میں ہے :
الاستفاضۃ لما کانت بمنزلۃ الخبر المتواتر وقد ثبت بھا ان اھل تلك البلدۃ صاموا یوم کذالزم العمل بھا لان البلدۃ لا تخلو عن حاکم شرعی عادہ فلا بد من ان یکون صومھم مبنیا علی حکم حاکمھم الشرعی فکانت تلك الاستفاضۃ بمعنی نقل الحکم المذکور ۔
جب استفاضہ خبر متواتر کی طرح ہے اور اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ اس شہر کے لوگوں نے فلاں دن روزہ رکھا ہے تو اس پر عمل ہوگا کیونکہ عادۃ شہر حاکم شرعی سے خالی نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں لامحالہ ان کا روزہ ان کے حاکم شرعی کے فیصلے پر مبنی ہوگا تو اب استفاضہ بمعنی حکم مذکور کا نقل کرنا ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ٩٤
#9975 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
یہاں عامہ بلاد میں نہ حاکم شرعی نہ لوگ پابند احکام شرعیہ پھر استفاضہ ہوا بھی تو کیا وحسبنا اﷲ ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ۔
بست وہشتم مسئلہ اختلاف مطالع کی تحقیق اعلی وجہ انیق پر بحمد اﷲتعالی بیان ہوچکی جس سے روشن کہ وہ اصلاکبھی کسی ہلال میں معتبر ہونے کے قابل نہیں۔ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ایك ارشاد :
اناامۃ امیۃ لا نکتب ولانحسب الشہر ھکذا وھکذا وھکذا الحدیث۔
ہم امی امت ہیں نہ لکھتے ہیں او ر نہ حساب جانتے ہیں ہم ماہ کو یوں یوں شمار کرتے ہیں الحدیث(ت)
مطلقا اس کے ابطال واہمال کوکافی ووافی کہ اس کی بنا ہرمہینے میں انہیں حسابات غیر مضبوط پر ہے جن کو شرع مطہر یکسر ساقط النظر فرما چکی مگر دربارہ ہلال اضحی علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو براہ بشریت ایك اشتباہ واقع ہوا اور انہیں گمان گزرا یہاں اس کا اعتبارچاہئے وہ خود بھی اسے مسئلہ مذہب نہیں بتاتے صرف اپنی ایك رائے کہتے اور تصریح فرماتے ہیں کہ یہ حکم میں نے کسی کتاب میں نہ دیکھا اور اس کی بناء دو بلکہ ایك ہی امر پر کرتے ہیں اگر وہ اپنے اس خیال کا منشا ظاہر نہ فرماتے تو شبہ رہتا کہ شاید یہاں کوئی دقیقہ ہومگر الحمد ﷲکہ ان کے بیان نے امر واضح کردیا ان دونوں امر میں علامہ شامی کی رائے سامی سے لغزش ہوئی ہے تو ان کے اتباع کی طرف ہرگز سبیل نہیں۔
امر اول یہ فرمایا کہ اختلاف مطالع صوم میں تو اس لیے نا معتبر ہوا تھاکہ حدیث نے اسے مطلق رؤیت سے متعلق فرمایا تھا جب کہیں چاند دیکھا گیا رؤیت ہوگئی بخلاف اضحیہ کہ اس کا ویسا تعلق وارد نہیں۔
امر دوم یہ کہ کلام علماسے کتاب الحج میں مفہوم ہوتا ہے دربارہ حج اختلاف مطالع معتبر ہے تو اگر بعد وقوف گواہ گزریں کہ آج دسویں تھی قبول نہ کی جائے گی۔ ردالحتار میں فرمایا :
لایعتبراختلافھا بل یجب العمل بالاسبق رؤیۃ وھو المعتمد عندنا و عند المالکیۃ والحنا بلۃ لتعلق الخطاب عاما بمطلق الرؤیۃفی حدیث صوموا لرؤیتہ ۔
اختلاف مطالع کا اعتبار نہ ہوگا بلکہ پہلے چاند کی رؤیت پر عمل واجب ہوگا اور یہی ہمارے(احناف) مالکیہ اور حنابلہ کے ہاں معتمد ہے کیونکہ حدیث پاک “ صوموالرؤیتہ “ ۔ (چاند دیکھنے پر روزہ رکھو)میں خطاب مطلق رؤیت کو شامل ہے۔ (ت)
حوالہ / References سُنن ابی داؤد کتاب الصّیام آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٣١٧
ردالمحتار مطلب فی اختلاف المطالع داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ٩٦
#9981 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
تنبیہ : یفھم من کلامھم فی کتاب الحج ان اختلاف المطالع فیہ معتبر فلا یلزمھم شئی لوظھر انہ رؤی فی بلدۃ اخری قبلھم بیوم وھل یقال کذلك فی حق الاضحیۃ لغیر الحجاج لم ارہ والظاہر نعم لان اختلاف المطالع انما لم یعبتر فی الصوم لتعلقہ بمطلق الرؤیۃ وھذابخلاف الاضحیۃ فالظاھر انھا کا وقات الصلوۃ یلزم کل قوم العمل بما عندھم ۔
تنبیہ : کتب الحج میں کلام علماء سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ حج میں اختلاف مطالع کا اعتبار ہے کیونکہ اگر واضح ہوجائے کہ کسی دوسرے شہرمیں ایك دن پہلے چاند دیکھا گیا تھا تو اب حجاج پر کوئی شے بھی لازم نہ ہوگی اور کیا قربانی کے بارے میں غیر حجاج کے حق میں بھی یہی کہا جائے گا اس بارے میں حکم میری نظر سے نہیں گزرا ظاہر یہی ہے(کہ اختلاف مطالع کا اعتبار ہوگا)کیونکہ صوم میں اختلاف مطالع کا اعتبار اس لیے نہیں کہ حدیث مبارك میں روزہ کا تعلق مطلق رؤیت سے ہے بخلاف قربانی کے کہ اس میں ظاہر یہی ہے کہ یہ اوقات نماز کی طرح ہے ہر قوم پر اپنے اوقات کے مطابق عمل لازم ہوگا۔ (ت)
اقول : دونوں صحیح نہیں الحمد ﷲ دربارہ اضحیہ بھی ویسی ہی حدیث وارد ہے جیسی صوم و افطار میں تھی شرع نے اسے بھی مطلق رؤیت سے ویسا ہی متعلق فرمایاہے جیسا ان دونوں کو سنن ابی داؤد شریف میں امیرمکہ حارث بن حاطب رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
قال عھد الینا رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم ان ننسك للرؤیۃ فان لم نرہ وشھد شاھدا عدل نسکنا بشھادتھما ۔
ہمیں رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے وصیت فرمائی کہ رؤیت پر قربانی کریں پھر اگر ہمیں رؤیت نہ ہو اور دو گواہ عادل گواہی دیں تو ان کی گواہی سے قربانی کرلیں۔
امام دار قطنی نے فرمایا : ھذا اسناد متصل صحیح (اس کی سند متصل اور صحیح ہے۔ ت)۔ اور حج میں رد شہادت نہ بر بنائے اعتبار اختلاف ہے ورنہ مہینہ بھر سے فاصلہ کی رؤیت گواہ بیان کریں تو مقبول ہو حالانکہ علماء مطلقارد فرماتے ہیں بلکہ اس کی وجہ دفع حرج ہے جیسا کہ لباب و شرح لباب میں تصریح ہے یعنی ہزار ہا کوس کے فاصلوں سے تمام اقطارواطراف زمین سے لاکھوں بندہ خدا حج کے لیے
حوالہ / References ردالمحتار مطلب فی اختلاف المطالع داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ٩٦
سنن ابی ابوداؤد کتاب الصیام آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٣١٩
دار قطنی باب الشہادت علی رؤیتـہ الہلال حدیث نمبر١ نشر السنۃ ملتان ٢ / ١٦٧
#9983 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
حاضر ہوئے اب کہ وقت گزرگیا گواہ گواہی دینے آئے کہ تم نےدسویں کو وقوف عرفہ کیا تمہا را حج نہ ہوا کتنا بڑا حرج عظیم ہے لاکھوں بندوں کے کروڑوں روپے کا خرچ اور جانوں کی مشقتیں سب برباد گئیں اب یا تو سال بھر اور یہ تمام لشکر ہائے عظیم الشان مکہ معظمہ میں پڑے رہیں کہ نہ انہیں روٹی نصیب ہونہ اہل مکہ کے لیے دانہ بچے یا حکم دیا جائے کہ سب اپنے وطنوں کو واپس جاکر ویسے ہی کروڑوں کے خرچ اور جانوں کی مشقت سے پھر سال آئندہ حاضر ہوں ان دونوں آفتوں سے ان دونوں گواہوں کی تغلیط آسان تر ہے۔
وقد قال اﷲ تعالی و ما جعل علیكم فی الدین من حرج- ۔
اﷲتعالی کا ارشاد مبارك ہے : اﷲنے تم پر دین میں تنگی نہیں فرمائی۔ (ت)
ولہذا و ہی علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اگر وقت ہنوز باقی اور تدراك ممکن ہے گواہی مقبول ہوگی پھر اعتبار اختلاف مطالع کدھر رہا۔ درمختار میں ہے :
شھدوابعد الوقوف بوقوفھم بعد وقتہ لا تقبل شھادتھم والوقوف صحیح استحسانا حتی الشھود للحرج الشدید وقبلہ ای قبل وقتہ قبلت ان امکن التدارك لیلامع اکثرھم والالا ۔
اگر وقوف عرفات کے بعد گواہوں نے گواہی دی کہ حاجیوں کا وقوف وقت کے بعد ہوا ہے تو گواہی مقبول نہ ہوگی اور استحسانا حاجیوں کا وقوف صحیح ہوگا ورنہ حرج شدید لازم آئے گا اور اگر گواہوں نے گواہی وقوف سے پہلے دی تو گواہی مقبول ہوگی بشرطیکہ رات کو اکثر لوگوں کے ساتھ تدارك ہوسکے ورنہ نہیں (ت)
خود اسی ردالمحتار میں ہے :
لو شھد وابعد الوقوف قبل وقتہ قبلت شھادتھم بخلاف الشہادۃ بانھم وقفوا بعد یومہ فان التدارك
غیرممکن اصلا فلذا لم تقبل (ملخصا)
اگر وقوف کے بعد گواہوں نے یہ گواہی دی کہ وقوف وقت سے پہلے ہوا ہے تو گواہی مقبول ہوگی بخلاف اس صورت کے جب یہ گواہی ہوکہ وقوف یوم عرفہ کے بعد ہوا کیونکہ اس صورت میں تدارك ممکن نہیں اس لیے گواہی مقبول نہ ہوگی (ت)
حوالہ / References القرآن ٢٢ / ٧٨
درمختار باب الہدی مجتبائی دہلی ١ / ١٨٣
ردالمحتار باب الہدی داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ٥٢-٢٥١
#9985 · ھدایۃ الجنان باحکام رمضان ١٣٢٣ھ (رمضان کے احکام میں جنت کی راہ)
ان تصریحات کے بعداس سے اعتبار اختلاف مطالع کی طرف خیال جانا محض شان بشریت ہے۔
کذلك یریکم اﷲ ایتہ فی الافاق وفی انفسکم لعلکم تذکرون۔
اسی طرح اﷲتعالی تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے آفاق میں او ر خود تمہارے اندر تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ (ت)
بست ونہم چالیس روپے کو نصاب قرار دینے میں بھی شاید مولوی صاحب نے مولوی عبد الحی صاحب لکھنو ی کا اتباع کیا ہے مگر وہ صحیح نہیں صحیح چھپن روپے ہے جیسا کہ جواہر اخلاطی سے ثابت ہے اور ہم نے اپنے فتاوی میں اسے مفصل ذکر کیا۔
سیم تاریخ ۲۳ کو شب قدر بالاختلاف اور رمضان کو شب قدر بالاتفاق فرمانے میں شاید اتفاق سے مراد قول جمہور ہو اگر چہ بالاختلاف سے اس کا مقابلہ سخت موہم خلاف ہے ورنہ لازم آئے گا کہ ان تاریخوں میں شب قدر ماننے والوں کے نزدیك ایك رمضان میں دو دو شب قدر ہوں ایك ان کے قول خاص کے مطابق اور دوسری کو قول متفق علیہ کے موافق۔ یونہی اس اشتہار میں اغلاط بکثرت ہیں مگر بعد ایام مبارک اگر انصاف و ہدایت مطلوب ہو تیس ۳۰رد کیا کم ہیں واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
___________________
#9986 · درء القبح عن درك وقت الصبح ١٣٢٦ھ (صبح صادق کو سمجھنے میں کوتاہی کا ازالہ)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
اﷲ رب محمد صلی علیہ وسلما
مسئلہ : از بازار لال کرتی کیمپ میرٹھ مرسلہ شیخ محمد احسان الحق حنفی قادری رمضان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مبین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ شریعت میں صبح صادق کاکوئی کلیہ قاعدہ ہےجس کے ذریعہ سے معلوم ہوجایا کرے کہ صبح صادق فلاں وقت ہوتی ہے اور آنکھوں سے دیکھنے کی کچھ ضرورت نہ ر ہے یا کوئی حساب اور کلیہ قاعدہ نہیں ہے بلکہ آنکھوں سے دیکھنے ہی پر منحصر ہے اگر قاعدہ کلیہ نہیں ہے تو مفتاح الصلوۃ میں جو بحوالہ خزانۃ الروایات لکھا ہے کہ رات کا ساتواں حصہ فجر ہوتا ہے اس کا کیا مطلب ہےبینو اتوجروا
الجواب :
شریعت مطہرہ محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ نے نماز روزہ حج و زکوۃ وعدت وفات وطلاق ومدت حمل وایلا وتاجیل عنین ومنتہائے حیض ونفاس وغیر ذلك امور کے لئے یہ اوقات مقرر فرمائے
#9988 · درء القبح عن درك وقت الصبح ١٣٢٦ھ (صبح صادق کو سمجھنے میں کوتاہی کا ازالہ)
یعنی طلوع صبح وشمس وغروب شمس ونصف النہار ومثلین وروز وماہ وسال ان سب کے ادراك کا مدار رؤیت و مشاہدہ پر ہے ان میں کوئی ایسا نہیں جو بغیر مشاہدہ مجرد کسی حساب یا قانون عقلی سے مدرك ہوجاتا ہاں رؤیت ومشاہدہ ان سب کے اداراك کا سبب کافی ہے اور یہی اس شریعت عامہ تامہ شاملہ کاملہ کے لائق شان تھا کہ تمام جہان کے لیے اتری ہے اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ دقائق محاسبات ہیئت وزیج کی تکلیف انہیں نہیں دی جاسکتی اناامۃ امیۃلا نکتب ولانحسب (ہم امی امت ہیں نہ لکھتے ہیں اور نہ حساب کرتے ہیں۔ ت) فرماکر اپنے تمام غلاموں کے لیے ایك آسان اور واضح راستہ کھول دیا اور ان تمام اوقات کے لیے حکیم رحیم عزجلالہ نے دو کھلی نشانیاں مقرر فرمادیں چاند اور سورج جن کے اختلاف احوال پر نظر کرکے خواص وعوام سب اوقات مطلوبہ شرعیہ کا ادراك کرسکیں
کما قال تعالی
و جعلنا الیل و النهار ایتین فمحونا ایة الیل و جعلنا ایة النهار مبصرة لتبتغوا فضلا من ربكم و لتعلموا عدد السنین و الحساب-و كل شیء فصلنه تفصیلا(۱۲) ۔
وقال تعالی یســٴـلونك عن الاهلة-قل هی مواقیت للناس و الحج- ۔
قال تعالی و كلوا و اشربوا حتى یتبین لكم الخیط الابیض من الخیط الاسود من الفجر۪-ثم اتموا الصیام الى الیل-
وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم صوموا لرؤیتہ وافطر و الرؤیتہ ۔
جیسا کہ اﷲتعالی نے فرمایااور ہم نے رات اوردن کو دو نشانیاں بنایا تورات کی نشانی مٹی ہوئی رکھی اور دن کی نشانیاں دکھانے والی کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور برسوں کی گنتی اور حساب جانو اور ہم نے ہر چیز خوب جد اجدا ظاہر فرمادی۔ اوراﷲتعالی کا ارشاد ہے : تم سے چاندکو پوچھتے ہیں تم فرمادو وہ وقت کی علامتیں ہیں لوگوں اور حج کے لیے۔ اور اﷲتعالی کا یہ ارشاد : کھاؤ اور پیو یہاں تك کہ تمہارے لیے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پوپھٹ کر پھر رات آنے تك روزے پورے کرو۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد اقدس ہے : تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر روزہ چھوڑو۔ (ت)
پھر ان میں بعض تو وہ ہیں جن کا مدار صرف رؤیت پر ہی رہا وہ ہلال کہ ان اﷲامدہ
حوالہ / References سنن ابی داؤد کتاب الصیام آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٣١٧
القرآن ١٧ / ١٢
القرآن ٢ / ۱۸۹
القرآن ٢ / ١٨٧
صحیح بخاری کتب الصوم قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٥٦
#9989 · درء القبح عن درك وقت الصبح ١٣٢٦ھ (صبح صادق کو سمجھنے میں کوتاہی کا ازالہ)
لرؤیتـہ (بیشك اﷲتعالی نے چاند کا مدار رؤیت پر رکھا ہے۔ ت) اس کے ظہور وخفاء کے وہ اسباب کثیرہ نامنضبط ہیں جن کے لیے آج تك کوئی قاعدہ تك کوئی قاعدہ منضبطہ نہ ہوسکا۔ ولہذا بطلیموس نے محبطی میں باآنکہ متحیرہ خمسہ وکواکب ثوابت کے ظہور و خفا کے لیے باب وضع کیے مگر رؤیت ہلال سے اصلا بحث نہ کی وہ جانتا تھا کہ یہ قابو کی چیز نہیں اس کا میں کوئی ضابطہ کلیہ نہیں دے سکتا بعد کے لوگوں نے اپنے تجارب کی بناء پر اگر چہ لحا ظ درجہ ارتفاع یا بعد سوا یا بعد معدل وقوس تعدیل الغروب وغیرذلك کچھ باتیں بیان کیں مگر وہ خود ان میں بشدت مختلف ہیں اور باوصف اختلاف کوئی اپنے قرار داد پر جازم بھی نہیں جیسا کہ وقف پر ظاہر ہے اسی لیے اہل ہیئت جدیدہ باآنکہ محض فضول باتوں میں نہایت تدقیق وتعمق کرتے ہیں اور سالانہ المنك میں ہرروز کے لیے قمر کے ایك ایك گنٹھہ کا میل و مطالع قمر اور ہر مہینہ میں آفتاب کے ساتھ اس کے جملہ انظار اجتماع واستقبال وتربیع ایمن وایسر کے وقت دیتے ہیں اور ہرہر تاریخ پر متحیرات وثوابت کے ساتھ اس کے قرانات بیان کرتے ہیں مگر رؤیت ہلال کا وقت نہیں دیتے وہ بھی سمجھے ہوئے ہیں کہ یہ ہمارے بوتے کانہیں ولہذا ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ اس بارہ میں قول اہل توقیت پر نظر نہ ہوگی درمختار میں وہانیہ سے ہے : وقول اولی التوقیت لیس بموجب (اہل توقیت کا قول سبب وجوب نہیں نہیں سکتا۔ ت)اور باقی وہ ہیں کہ اگر چہ ان کا اصل مدار رؤیت نہ ہوسکتا تھا مگر رؤیت ہی کے تکرر سے تجربہ نے ان کے بارے میں ضوابط کلیہ دیئے جن کاادراك بے رؤیت نہ ہوسکتا تھا مگر بعد ادراك وہ قاعدہ مقرر ہوکر وقت کو قوانین علم ہیأت وزیج کے ضابطہ میں لے آنا میسر ہوا جس کے سبب ہم پیش از وقت حکم لگا سکتے ہیں کہ فلاں وقت مطلوب شرعی فلاں گھنٹے منٹ سیکنڈ پر واقع ہوگا۔ واقف فن کا وہ حکم لگایا ہوا کبھی خطا نہ کرے گا کہ آخر مدار کار شمس وقمر کی چال پر ہے اور ان کی چال عزیز علیم نے ایك حساب مضبوط پر منضبط فرمائی ہے۔
قال تعالی الشمس و القمر بحسبان۪(۵)
وقال تعالی ذلك تقدیر العزیز العلیم(۳۸) ۔
ارشاد باری تعالی ہے : سورج اور چاند حساب سے ہیں۔ اور
ارشاد ربانی ہے : یہ حکم ہے زبردست علم والے کا۔ (ت)
حوالہ / References سنن الدارقطنی کتاب الصیام حدیث٢٦ نشر السنۃ ملتان ٢ / ١٦٢
درمختار کتاب الصوم مجتبائی دہلی ١ / ١٤٨
القرآن ٥٥ / ٥
القرآن ٣٦ / ٣٨
#9991 · درء القبح عن درك وقت الصبح ١٣٢٦ھ (صبح صادق کو سمجھنے میں کوتاہی کا ازالہ)
حسا ب تو قطعی تھاہی جتنی بات کی طرف ا سے راہ نہ تھی وہ مکرر رؤیت نے براہ تجربہ بتادی اور اب تجربہ وحساب دو قطعیوں سے مل کر حکم قطعی ہمارے ہاتھ آگیا مثلا طلوع وغروب اگر نجومی مراد ہوتے یعنی مرکز شمس کا افق حقیقی پر طرفین شرق وغرب میں انطباق کہ ان کے جاننے کے لیے رؤیت کی کچھ حاجت نہ تھی شہر کا عرض اور جزر شمس کا میل ہونا ہی ان کا وقت بتانے کے لیے کافی ووافی ہوتا جس کے ذریعہ سے ہم ہر عرض کے لیے جداول تعدیل النہار تیار کرلیتے ہیں مگر شرع مطہر میں اس طلوع و غروب کا کچھ اعتبار نہیں طلوع وغروب عرفی درکار ہے یعنی جانب شرق آفتاب کی کرن چمکنا یا جانب غرب کل قرص آفتاب نظر سے غائب ہوجانا اس میں بھی اگر صرف نصف قطر آفتاب کا قدم درمیان ہوتا تو دقت نہ تھی مرکز عالم سے آفتاب کا ہر جز و مرکز شمسی پر بعد دریافت کرکے ہرروز کے نصف قطر کی مقدار دریافت کرسکتے تھے جس کی جدول المنك میں دی ہوئی ہوتی ہے مگر بالائے زمین میل سے میل تك علی الاختلاف بخارات ہواءغلیظ کامحیط ہونا اور شعاع بصر کا پہلے اس ملاء غلیظ پھر اس کے بعد ملاء صافی میں گزر کرافق میں پہنچنا حکیم عزوجل کے حکم سے اشعہ بصریہ کے لیے موجب انکسار ہوا جس کے سبب آفتاب یا کوئی کوکب قبل اس کے کہ جانب شرق افق حقیقی پر آئے نظر آنے لگتا ہے اور جانب غرب باآنکہ افق حقیقی پر اس کا کوئی کنارہ باقی نہیں رہتا دیر تك ہمیں نظر آتا رہتا ہے یہ انکسار ہی وہ چیز ہے جس نے صد ہا موقتین کو پیچ وتاب میں رکھا اور طلوع وغروب کا حساب ٹھیك نہ ہونے دیاا ور یہی وہ بھاری پیچ ہے جس سے آجکل عام جنتریوں والوں کےطلوع وغروب غلط ہوتے ہیں اس انکسار کی مقدار مدت دریافت کرنے کو عقل کے پاس کوئی قاعدہ نہ تھا جس سے وہ محتاج رؤیت نہ رہتی ہاں سالہا سال کے مکرر مشاہدہ نے ثابت کیا کہ اس کی مقدار اوسطا دقیقہ فلکیہ ہے اب ضابطہ ہمارے ہاتھ آگیا کہ ان دقیقوں سے اختلاف منظر کے ثانیہ منہا کرکے باقی پر اس کا نصف قطر شمس زائد کریں یہ مقدار انحطاط شمس ہوگی یعنی طلوع یا غروب کے وقت آفتاب افق حقیقی کے اتنے دقیقے نیچے ہوگا جب قدر انحطاط معلوم ہولی تو دائرہ ارتفاع کے اجزاء سے وقت و طالع معلوم کرنے کے قاعدوں نے جو علم ہیأت و زیج میں دئے ہوئے ہیں راہ پائی اور ہمیں حکم لگانا آسان ہوگیا کہ فلاں شہر میں فلاں دن اتنے گھنٹے منٹ سکنڈ پر آفتاب طلوع کرےگا اور اتنے پر غروب معمول سے زیادہ ہوا میں رطوبت یا کثافت اگر چہ انکسارمیں کچھ کمی بیشی لاتی ہے جس کا ادراك تھرمامیٹراوربیرو میٹر سے ممکن اور وہ قبل از وقوع نہیں ہوسکتا مگر یہ تفاوت معتد بہ نہیں جس سے عام احکام مطلوبہ شرعیہ میں کوئی فرق پڑے یونہی مثلین وسایہ کا ادراك بھی حساب سے بہت آسان تھا کہ عرض بلد و میل شمس سے اس کا غایۃ الارتفاع پھر جدول سے اتنے ارتفاع کا ظل اصلی معلوم کرکے
#9993 · درء القبح عن درك وقت الصبح ١٣٢٦ھ (صبح صادق کو سمجھنے میں کوتاہی کا ازالہ)
اس پر ایك یاد ومثل بڑھا کر اتنے ظل کے لیے ارتفاع اور اس ارتفاع کے لیے وقت معلوم کرلیتے مگر یہاں بھی اسی انکسار کا قدم درمیان ہے کہ کوکب جب تك ٹھیك سمت الراس پر نہ ہو انکسار کے پنجے سے نہیں چھوٹ سکتا مگر رؤیت نے انکسار افقی کلی بتایا اور تناسب سے انکسار ات جزئیہ مدرك ہوئے جن کی جدول فقیر نے اپنے تحریرات ہندسہ میں دی ہے اس کے ملاحظہ سے پھر انہیں قوانین نے راہ پائی اور ہر روز کے لیے وقت عصر پیش از وقوع ہمیں بتانا آسان ہوا طلوع وغروب شفق کو توانکسار سے بھی علاقہ نہ تھا کہ اس وقت آفتاب پیش نگاہ ہوتا ہی نہیں کہ بصر کی شعاعوں کا انکسار لیا جائے وہاں سرے سے عقل کو اس ادراك کی راہ نہ تھی کہ آفتاب افق سے کتنا نیچا ہوگا کہ صبح طلوع کرے گی یاکتنا نیچا جائے کہ شفق ڈوب جائے گی تو پھر رؤیت ہی کی احتیاج پڑی اور صدہاسال کے تکرر مشاہدہ نے ثابت کیا کہ آفتاب ان دونوں وقت تقریبا اٹھارہ درجے نیچے ہوتا ہے یہ وہ علم ہے جو اکثر ہیأت دانوں پر مخفی رہا رجمابا لغیب باتیں اڑا کئے صبح کاذب کے وقت انحطاط شمس میں مختلف ہوئے کسی نے سترہ درجہ کہا کسی نے اٹھارہ کسی نے انیس بتائے اور مشہور اٹھارہ ہے اور اسی پر شرح چغمنی نے مشی کی اور صبح صادق کے لیے بعض نے پندرہ درجے بتائے ہیں۔ اسے علامہ برجندی نے حاشیہ چغمنی میں بلفظ قد قیل نقل کیا اور مقرر رکھا اور اسی نے علامہ خلیل کاملی کو دھوکا دیاکہ دونوں صبحوں میں صرف تین درجہ کا فاصلہ بتایا جسے ردالمحتار میں نقل کیا اور معتمدرکھا حالانکہ یہ سب ہو سات بے معنی ہیں شرع مطہر نے اس باب میں کچھ ارشاد فرمایا ہی نہیں اس نے تو صبح کی صورتیں تعلیم فرمائی ہیں کہ صبح کاذب شرقا غربا مستطیل ہوتی ہے اور صبح صادق جنوبا شمالامستطیر اورہم اوپر کہہ آئے کہ مقدار انحطاط جاننے کی طرف کسی برہان عقلی کو راہ نہیں صرف مدار رؤیت پر ہے اور رؤیت شاہد عدل ہے کہ صبح کاذب کے وقت یا یا درجے اور صادق کے وقت درجے انحطاط ہونا اور صادق وکاذب میں صرف تین درجے کا تفاوت ہونا سب محض باطل ہے بلکہ درجہ انحطاط پر صبح صادق ہوجاتی ہے اور اس سے بہت درجے پہلے صبح کاذب فقیر نے بچشم خود مشاہدہ کیاکہ محاسبات علم ہیأت سے آفتاب ہنوز در جے افق سے نیچا تھا اور صبح کاذب خوب روشن تھی صبح صادق کے سالہا سال سے فقیر کا ذاتی تجربہ ہے کہ اس کی ابتداء کے وقت ہمیشہ ہر موسم میں آفتاب ہی درجہ زیر افق پایا ہے اور صبح کاذب کے لیے جس سے کوئی حکم شرعی متعلق نہ تھا اب تك اہتمام کا موقع نہ ملا ہاں اتنا اپنے مشاہدہ سے یقینا معلوم ہوا کہ اس میں اور صبح صادق میں درجے سے بھی زائد فاصلہ ہے نہ کہ درجہ لاجرم برہان شرح مواھب الرحمن پھر شرنبلالیہ علی الدرر پھر ابوالسعود علی الکنزوغیرہا میں ہے :
#9994 · درء القبح عن درك وقت الصبح ١٣٢٦ھ (صبح صادق کو سمجھنے میں کوتاہی کا ازالہ)
البیاض لا یذھب الا قریبا من ثلث اللیل ۔
سفیدی تہائی رات کے قریب ختم ہوجاتی ہے۔ (ت)
یہ وہی سپیدی مستطیل ہے جسے وہ اپنے ملك میں ہمیشہ تہائی رات کے قریب تك رہتی فرماتے ہیں کمادل علیہ الحصر(جیسا کہ حصر کالفظ اس پر دال ہے۔ ت)اور ظاہر ہے کہ ان بلاد میں رات گھنٹے اور اس سے بھی کچھ زائد تك پہنچتی ہے جس کی تہائی تقریبا پونے گھنٹے اور بحکم مقابلہ قطعا معلوم ہے کہ ادھر جتنے حصہ شب تك یہ سپیدی رہے گی ادھر اتنا ہی حصہ شب کا باقی رہے گا_______تواس بیان پر لیالی شتامیں صبح کاذب کی مقدار وہاں پونے پانچ گھنٹے ہوئی اور معلوم ہے کہ وہاں صبح صادق کی مقدار پونے دو گھنٹے سے زائد نہیں تو صبح صادق وکاذب میں تین گھنٹے تك کا فاصلہ ثابت ہوا نہ کہ صرف تین ہی درجے۔ مگر امام زیلعی نے تبیین الحقائق میں فرمایا :
روی عن الخلیل انہ قال رأیت البیاض بمکۃ شرفہا اﷲتعالی لیلۃ فماذھب الا بعد نصف اللیل ۔
شیخ خلیل سے منقول ہے کہ میں نے مکہ(اﷲتعالی اسے اور بزرگی عطا فرمائے)میں ایك رات سفیدی دیکھی تو وہ نصف رات کے بعد ختم ہوئی۔ (ت)
ظاہر ہے کہ مکہ معظمہ میں وہ سپیدی کہ آدھی رات تك رہی اگر ہوسکتی ہے تو یہی سرطان کی بیاض دراز ورنہ مکہ معظمہ میں اس کی صبح وشفق مستطیر ڈیڑھ گھنٹا بھی نہیں تو خلیل بن احمد عروضی کی رؤیت وروایت اگر صحیح ہے اس دن دونوں صبح میں تقریبا پانچ گھنٹے کا فاصلہ ہوگا یہ بہت بعید ضرور ہے مگر اس قدر میں شك نہیں کہ تین درجے کا قول فاسد ومہجور ہے اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ برہان کے اس بیان یاخلیل کی اس رؤیت کو دربارہ وقت مغرب مذہب امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا ذریعہ تضعیف جاننا
کما وقع عن الطر ابلسی فی البرھان فعدل عن اتباع المحقق ابن الھمام مع شدۃ تاسیسہ بہ۔
جیسا کہ برہان میں طرابلسی سے ہے انہوں نے باتباع محقق ابن الہمام یہاں سے عدول کر لیا حالانکہ وہ ان کی شدید اتباع کرتے ہیں(ت)
محض خطاہے امام کے نزدیك وقت مغرب شفق ابیض مستطیر تك ہے جو فجر صادق کی نظیر ہے وہ کبھی ان بلاد میں تہائی کیا چوتھائی رات تك بھی نہیں رہتی اور یہ جو اس قدر دیر پاہے بیاض دراز نظیر صبح کاذب ہے
حوالہ / References تبنیہ ذوی الاحکام حاشیۃ درر الحکام کتاب الصّلٰوۃ احمد کامل دارسعادت بیروت ١ / ٥١
تبیین الحقائق کتاب الصّلٰوۃ مطبع کبرٰی امیریہ مصر ١ / ٨١
#9996 · درء القبح عن درك وقت الصبح ١٣٢٦ھ (صبح صادق کو سمجھنے میں کوتاہی کا ازالہ)
کہ اسی کی طرح احکام شرعیہ سے یکسر ساقط والی بعض ھذا اونحومنہ اومأالتبیین(اس کے بعض یاا س کے مثل کی طرف تبیین میں اشارہ ہے۔ ت)
ثم اقول : (پھر میں کہتا ہوں۔ ت)صبح صادق کے لیے درجے انحطاط ہونے کا بطلان اور درجے انحطاط کی صحت اس واقعہ مشہورہ سے بھی ثابت ہے جو فتح القدیر وبحرالرائق و درمختار میں وعامہ کتب معتبرہ میں مذکور کہ بلغار سے ہمارے مشائخ کرام کے حضور استفتاء آیاتھا کہ گرمیوں کی چھوٹی راتوں میں ان کو وقت عشاء نہیں ملتا آدھی رات تك شفق ابیض رہتی ہے اور وہ ابھی نہ ڈوبی کہ مشرق سے صبح صادق طلوع کر آئی امام برہان الدین کبیر نے حکم دیا کہ عشاء کی قضاء پڑھیں اور امام بقالی وامام شمس الائمہ حلوانی وغیرہما نے فرمایا ان پر سے عشاء ساقط ہے ۔ بالجملہ ان راتوں میں وہاں وقت عشا نہ پانا متفق علیہ ہے اب اگر انحطاط صبح صادق درجے ہوتا تو سال کی سب سے چھوٹی رات یعنی شب تحویل سرطان میں بھی ان کو وقت عشا ملتا ایك رات بھی فوت نہ ہوتا نہ کہ راتوں اس پر دلیل سنئے بلغار کا عرض شمالی ساڑھے انچاس درجے ہے کما فی الزیج السمر قندی ثم الزیج الالوغ بیکی(جیسا کہ سمر قندی اور الوغ بیگی زیج میں ہے۔ ت)اورمیل کلی یعنی راس السرطان کا میل اس زمانے میں- / درجے سے کچھ زائد تھا کہ اس کی مقدار زمانہ رصد سمر قند میں جسے تقریبا پانسوبرس عــــہ۱ ہوئے لح ل ء تھی یعنی - / درجے سے ثانیہ زیادہ تو زمانہ امام شمس الائمہ حلوانی میں جسے پونے نو سوبرس عــــہ۲ گزرے اور بھی زائد ہوگا اور طوسی کا رصد مراغہ لیجئے تو وہ اپنے ہی زمانہ میں الح لہ کارہا ہے یعنی درجے دقیقے خیر اس کی نہ سنیے اس پر تجربہ ہوا ہے کہ اعمال میں کچا ہے تو بلحاظ تناسب کہ اب الح الر یعنی درجے ۲۷ دقیقے معہ کسر خفیف ہے اس وقت کا میل الح لح بالرفع رکھئے یعنی درجے ۳۳ دقیقے تو وہاں راس السرطان کی غایت انحطاط یعنی وقت بلوغ دائرہ نصف اللیل درجے دقیقے تھی یا تقریبا درجے کہئے اور انحطاط صبح درجے ہے تو قطعا یہی انحطاط شفق ابیض ہے کہ جانبین سے تعادل وتناظر ہے اس تقدیر پر بعد غروب شمس جب تك افق سے آفتاب کا انحطاط بڑھتے بڑھتے درجے تك پہنچا امام اعظم کے مذہب میں وقت مغرب تھا پھر اس کے بعد جبکہ انحطاط اس سے ترقی کرکے آدھی رات کو درجے تك پہنچا پھر
عــــہ۱ : مبدء زیج سنہ ضمارکھا ہے یعنی آٹھ سواکتالیس ہجری۔ )
عــــہ ۲ : وفات امام حدود ہجری میں ہے یعنی یا یا میں منہ۔ )
حوالہ / References درمختار کتاب الصّلٰوۃ مجتبائی دہلی ١ / ٦٠
#9997 · درء القبح عن درك وقت الصبح ١٣٢٦ھ (صبح صادق کو سمجھنے میں کوتاہی کا ازالہ)
آدھی رات ڈھلے اس سے کم ہوتاپھر درجے رہا اس وقت صبح ہوئی اس بیچ میں کہ تقریبا چار درجے انحطاط بدلا یقینا اجماعاوقت عشا تھا تو فوت عشا کیا معنے اورا گر مقدار وقت جاننا چاہو توعرض شمالی -میل شمالی = +بعد سمقتی مفروض = نصفہ جیبہ ئجیب اول و-نصف مذکور جیبہ ء جیب دوم ئقاطع عرض پس ت شروع وقت عشائقاطع میل شروع وقت صبح ئیعنی رات کے بج کر منٹ سیکنڈ پر مغرب ختم ہوگیا اور ایك بج کر منٹ سیکنڈ پرصبح شروع ہوئی تو / - گھنٹے سے زیادہ وقت عشا رہا اور جب اس رات میں جس کا غایۃ الانحطاط یعنی نہایت قلت میں ہے اتنا طویل وقت ملا تو گرمی کی اور راتوں میں کہ انحطاط اس سے بھی زائد ہے اور بھی زیادہ وقت ہاتھ آئے گا اور یہ متفق علیہ مسئلہ یقینا غلط ہوجائے گا ہاں جب صبح وشفق کا انحطاط درجے لیجئے تو += یا تمام العرض غایت مفروضہ = یعنی جس چیز کا میل شمالی ساڑھے بائیس درجے یا اس زائد ہوگا اس میں ٹھیك آدھی رات کو انحطاط درجے یا اس سے بھی کم ہوگا جو ظہور بیاض کے لیے کافی ہے تو تمام رات میں ایك آن کو بھی افق مظلم ہوکر وقت عشاء نہ آئے گا اور اب یہ فقط راس السرطان ہی پر نہیں بلکہ درجے جوزا سے درجے سرطان تك یہی حال رہے گا جس کی مقدار ایك مہینہ تین دن بلکہ زائد ہوئی ھکذاینبغی ا لتحقیق واﷲ ولی التوفیق(تحقیق اسی طرح مناسب تھی توفیق کا اﷲ ہی مالك ہے۔ ت)اس تمام بیان سے تین باتیں واضح ہوئیں جن سے جواب سوال روشن ومبین :
()اصلا مدار رؤیت ہے شارع علیہ الصلوۃ والسلام نے اسباب میں کوئی ضابطہ وحساب ارشاد نہ فرمایا نہ عقل صرف مقدار انحطاط صبح بتا سکتی تھی۔
()ہاں رؤیت نے وہ تجارب صحیحہ دئے جن سے قاعدہ کلیہ ہاتھ آیا اور بے دیکھے وقت بتانا ممکن ومیسر ہوا۔
()ازانجاکہ یہاں جو قاعدہ ہوگا رؤیت ہی سے مستفاد ہوگا کہ شرع وعقل دونوں ساکت ہیں تو لاجرم
حوالہ / References یعنی دائرہ نصف النہار جانب سمت القدم ١٢ منہ
#9999 · درء القبح عن درك وقت الصبح ١٣٢٦ھ (صبح صادق کو سمجھنے میں کوتاہی کا ازالہ)
جو قاعدہ رؤیت یا اس کے دئے ہوئے قوانین کی مخالفت کرے خود باطل ہونا لازم کہ فرع جب تکذیب اصل کرے تو فرع باقرار خود کاذب ہے کہ اس کا صدق اس پر مبتنی تھا جب مبنی باطل یہ خود باطل یہ قاعدہ کہ صبح رات کا ساتواں حصہ ہوتی ہے انہیں قواعد باطلہ فاسدہ سے ہے کہ رؤیت وقوانین عطیہ رؤیت بالاتفاق اس کے بطلان پر شاہد عدل ہیں۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ ۲۶۴ : از پیلی بھیت قاضی محلہ مرسلہ قاضی ممتاز حسین صاحب ممتاز ر مضان ھ
طعام سحری کا جب وقت نہیں رہتا ہے تو در مسجد پرنقارہ بجایا جاتا ہے بعض کہتے ہیں کہ جائز ہے اوربعض کہتے ہیں ناجائز ہے اس میں کیا حکم ہے
الجواب :
سحری کا نقارہ اجازت یا ممانعت جس اصطلاح معروف پر مقرر کیا جائے اجازت ہے کہ کہیں ممانعت نہیں درمنتقی شرح الملتقی میں ہے :
ینبغی ان یکون بوق الحمام یجوز کقرب النوبۃ ۔
حمام کا توتا جائز ہوناچاہئے جیسا کہ نقارہ جائز ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
ینبغی ان یکون طبل السحر فی رمضان لا یقاظ النائمین للسحور کبوق الحمام تامل ۔ و اﷲ تعالی اعلم۔
رمضان میں سحری کے وقت سونے والوں کو جگانے کے لیے طبل اسی طرح ہے جیسے حمام کے لیے تو تابجایاجاتا ہے غور کیجئے واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ : از کوہ الموڑہ رانی دھارہ مسئولہ حکیم مولوی خلیل اﷲخاں صاحب سلمہ ماہ مبارك ھ
سحر وافطار کے نقشے عطا ہوں صاحبزادہ نواب دولھا صاحب مانگتے ہیں ایك دومنٹ کا تفاوت دیکھ لیا جائے گا۔
الجواب :
نقشے بھیجتا ہوں الموڑے اور بریلی میں اس ماہ مبارك میں سحری کا اوسط تفاوت منفی پانچ(-)ہے یعنی اتنے منٹ وقت بریلی سے پہلے ختم ہے اور افطار کا اوسط مثبت ایک(+- / )یعنی وقت بریلی سے
حوالہ / References درمنتقی علی حاشیۃ مجمع الانہر فصل فی المتفرقات من کتاب الکراھیۃ دارا حیاء التراث العربی بیروت ٢ / ٥٥٣
ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ مصطفی البابی مصر ٥ / ٢٤٧
#10000 · درء القبح عن درك وقت الصبح ١٣٢٦ھ (صبح صادق کو سمجھنے میں کوتاہی کا ازالہ)
سوا منٹ بعد۔ لیکن یہ حساب ہموار زمین کا ہے پہاڑ پر فرق پڑے گا اور وہ فرق بتفاوت بلندی متفاوت ہوگا اگر دو ہزار فٹ بلندی ہے تو غروب تقریبا چار منٹ بعد ہوگا اور طلوع اسی قدر پہلے لہذا جب تك یہ نہ معلوم ہوکہ وہ جگہ کس قدر بلند ہے جواب نہیں دے سکتا۔ اگر کسی دن کے طلوع یا غروب کا وقت صحیح گھڑی سے دیکھ کر لکھو تو میں اس سے حساب کرلوں کہ وہ جگہ کتنی بلند ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ۲۶۶ : از سہادر ضلع ایٹہ مرسلہ سیدفردوس علی صاحب رمضان المبارك ھ
بعد آداب وتمنائے قد مبوسی گزارش ہے کہ رمضان شریف یوم شنبہ مطابق ستمبر کو افطار روزہ ایك مسجد میں ریلوے ٹائم سے پونے سات بجے روزہ افطار کیا جاتا تھا مطلع فرمائیے کہ اس روز ریلوے ٹائم سے کس قدر فرق ہے زیادہ حد ادب فقط
الجواب :
سہادرمیں جس کا عرض شمالی الر ص مح۲۷ درجے ۴۸ دقیقےاور طول شرقی عح نح۷۸ درجے ۵۳ دقیقے ہے پنجم ماہ مبارك روز شنبہ مطابق ستمبر ء کو غروب آفتاب صحیح وقت سے چھ بج کر سوا چھبیس منٹ پر ہوا تو وہ گھڑی جس کے ساڑھے چھ پر افطار کیا گیا اگر صحیح تھی روزہ بے تکلف ہوگیا کہ غروب کو پونے چار منٹ گزرچکے تھے اس سے پہلے جو پونے سات پر افطار کرتے تھے خلاف سنت تھا افطار میں اتنی تاخیر مکروہ ہے ریلوے وقت سہادر کے اپنے وقت سے چودہ منٹ اٹھائیس سیکنڈ تیز ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : از الہ آباد صدر بازار محمد حشمت اﷲصاحب رمضان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص امام مسجد ہے او سب لوگ روزہ اس کی اذان سے افطار کرتے ہیں اور وہ دیر سے افطار کا حکم دیتا ہے یہاں تك کہ کئی مرتبہ آزمایاگیا ہے کہ تارانکل آیا اس کوتارا دکھابھی دیا گیا تواس پر بھی اس نے کہا کہ ابھی دومنٹ کی دیر ہے تو اس حالت میں کچھ روزہ میں نقص تو واقع نہیں ہوتا ہےاگر کوئی واقع ہوتا ہے تو کیا کرنا چاہئے
الجواب :
جب آفتاب تمام وکمال ڈوبنے پر یقین ہوجائے فورا روزہ کی افطار سنت ہے حدیث میں فرمایا :
لاتزال امتی بخیر ما عجلواالفطر واخروالسحور ۔
ہمیشہ میری امت خیر سے رہے گی جب تك افطار میں جلدی اور سحری میں دیر کریں۔
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل روایات ابو ذر دارالفکر بیروت ٥ / ١٤٧
#10002 · درء القبح عن درك وقت الصبح ١٣٢٦ھ (صبح صادق کو سمجھنے میں کوتاہی کا ازالہ)
مگراتنی جلدی جائز نہیں کہ غروب مشکوك ہو اور افطار کرے یا سحری میں اتنی دیر لگائے کہ صبح کا شك پڑجائے اور تارے کی سند نہیں بعض تارے دن سے چمك آتے ہیں ہاں سیاروں کے سوا جو کواکب ہیں وہ اکثر ہمارے بلد میں غروب آفتاب کے بعد چمکتے ہیں اگر ان ستاروں میں سے کوئی ستارہ چمك آتا ہے اور پھر وہ افطار نہیں کر دیتا اور دو منٹ کی دیر بتاتا ہے تو یہ رافضیوں کا طریقہ ہے اور بہت محرومی وبے برکتی ہے اسے توبہ کرنی چاہئے واﷲتعالی اعلم اس صورت میں مسلمان اس پر نہ رہیں جب غروب پر یقین ہوجائے افطار کریں۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ۲۶۸ : ازکوہ الموڑہ رانی دھارہ مسئولہ حکیم مولوی خلیل اﷲصاحب سلمہ ماہ مبارك ھ
بعد از اہدائے سلام سنت الاسلام ولوازم آداب تسلیمات فدویانہ معروض خدمت فیض درجت آنکہ والا نامہ گرامی بشرف صدور لایا مفخر وممتاز فرمایا کل اس کوٹھی کی بلندی دریافت کی گئی بلندی دریافت کرنے کا ایك آلہ ہوتا ہے جو سطح سمندر سے جس قدر بلند ہو وہ بتاتا ہے ایك چھوٹا ساآلہ ہے جوکہ چھوٹی سی ڈبیہ کی طرح ہوتا ہے مثل گھڑی کے گول اس میں سوئی ہوتی ہے جو کہ بلندی کے نمبروں پر گشت کرتی ہے غرض وہ کل دیکھا گیا اس کے ذریعہ سے ذیل کی بلندی دریافت ہوئی پانچہزار پانچ سو پچاس فٹ سطح آب سے بلندی ہے اس لیے صاحبزادہ نواب دولھا صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ اب لکھ بھیجوکہ اس حساب سے کیا وقت نکلتا ہے لیکن یہ بلندی اس وقت ٹھیك وقت بتاسکتی ہے جبکہ یہ جگہ ہموار ہو یہاں شرقا وغربا پہاڑ ہے جس باعث سے طلوع مؤخر اور غروب مقدم ہوتا ہے اور یہ ٹیکری پہاڑ جو کہ غربی جانب ہے ہم سے تین سو یا چار سو فٹ بلند ہے اور شرقی جانب کا پہاڑ غالبا چھ سو فٹ ہوگا اور شمالی جانب پندرہ روزہ کے راستہ پر برف کا پہاڑ نظر آتا ہے جس پر شعاع آفتاب کی بہت پہلے پڑتی ہے اور مطلع صاف ہو تو اس کی چمك یہاں پر بخوبی نظر آتی ہے اور قریب کے پہاڑوں پر کہیں شعاع نہیں ہوتی اور لوگ نماز پڑھتے ہوتے ہیں اور شرق وغرب جو پہاڑ ہے اس پر بھی الموڑہ ہی کی آبادی ہے سب طرف مکانات بنے ہوئے ہیں اور اس کوٹھی سے اور خاص شہریعنی بازار سے چنداں تفاوت نہیں اب اگر ایك ہزار فٹ پر دو منٹ بڑھاجائیں تو گیارہ منٹ اور سوا منٹ طول یا عرض بلد کاکل سوا بارہ منٹ جمع کرنا پڑیں گے جس حساب سے آج کا افطار منٹ پر ہونا چاہئے(+=)لیکن میرے خیال میں منٹ سے پیشترہی مشرق سے سیاہی نمودار ہوجاتی ہے لیکن مغربی بادلوں میں خوب سرخی اور چاروں طرف کسی قدر بادلوں پر سرخی پائی جاتی ہے چونکہ صاحبزادہ صاحب موصوف کو تحقیق مطلوب ہے اس لیے خاکسارنے یہاں کی مجموعی کیفیت گزارش کردی امید کہ جواب باصواب سے ممتاز فرمایا جائے رام پور سے جو نقشے آئے ہیں ان میں اس نقشے کے حساب
#10004 · درء القبح عن درك وقت الصبح ١٣٢٦ھ (صبح صادق کو سمجھنے میں کوتاہی کا ازالہ)
سے تین چار منٹ کا بل ہے یعنی غروب چار منٹ مؤخرہے۔
الجواب :
وعلیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ شرقی غربی پہاڑوں کے سبب تاخر طلوع وتقدم غروب معتبر نہیں وہ دیوار ہائے مکان کی مثل ہیں نہ وہ شعاعیں کہ کوہ برف پر پڑکر روشنی دیتی ہیں کچھ قابل لحاظ نہیں جبکہ وہ پہاڑ اس سے بلند تر ہیو وہ شب کی چاندنی کے مثل ہیں کہ چاند پر شعاع شمس ہی پڑکر روشنی پیدا ہوتی ہے۔ نہ یہاں اربعہ متناسبہ ہے کہ دو ہزار فٹ پر چار منٹ تھے توہزار پر دو اور ساڑھے پانچ ہزار پر گیارہ ہوں بلکہ یہاں تزاید علی سبیل التناقص ہے ہر بلند ی پر جو تفاوت ہے اس سے دو چند پر دوچند سے کم ہوگا مثلا سو فٹ بلندی پر افق دقیقے نیچے گرتا ہے اور ہزار فٹ پر صرف دقیقے نہ کہ کا دس گنا اور چار ہزار فٹ پر ایك درجہ سات دقیقے نہ کہ کہ دو درجے چودہ دقیقے یعنی اس سے دو چند ہوتا کہ ادقیقے کا چالیس گنا کہ پورے سات درجے ہوتا وقس علی ھذا(اور اس پر قیاس کرو۔ ت)فٹ بلندی پر میں نے حساب کیا افق ایك درجہ دقیقے ثانیے گرا جس کے سبب شروع ماہ مبارك میں کہ تقویم سرطانی کہ درجے پر تھی طلوع وغروب الموڑہ میں ہموار زمین کے اعتبار سے منٹ سیکنڈ تفاوت تھا یعنی طلوع شمس اس قدر پہلے اور غروب اس قدر بعد اور آخرماہ مبارك میں کہ تقویم اسد کے پر ہوگی تفاوت منٹ سیکنڈ ہوگا یہ سیکنڈ کا فرق تفاوت میل شمسی کے باعث ہے غرض اواخر رمضان حال میں ساڑھے چھ منٹ تو یہ فرق سمجھئے اور سوامنٹ بلحاظ عرض طول مجموع پونے آٹھ منٹ وقت افطار بریلی پر بڑھیں گے جس میں احتیاطی منٹ بھی شامل ہیں۔ ماہ مبارك مطابق جولائی کی نسبت جوتم نے منٹ بڑھائے بڑھاؤ(+=)وہی بات آگئی جو تم نے لکھی کہ “ میرے خیال میںمنٹ سے پہلے ہی مشرق سے سیاہی نمودار ہوجاتی ہے “ ۔ ایك رامپور کیا ہندوستان بھر کے نقشوں کی بایں معنی قدر کرنابے جا نہیں جانتا کہ وہ بیچارے اپنے گمان میں تو اچھا سمجھ کر کرتے ہیں اگر چہ یہ فتوی ہے اور بے علم فتوی سخت حرام ہے۔ واﷲتعالی اعلم ۔
مسئلہ ۲۶۹ تا ۲۷۰ : از اروہ نگلہ ڈاك خانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ محمد صادق علی خاں صاحب رمضان ھ
()روزہ افطار کر نا کس چیز سے مسنون ہے
()رمضان مبارك میں روزہ افطار کے بعد مغرب نماز پڑھ کر بہت سے آدمی جمع ہو کر حقہ پیتے ہیں جس سے بیہوش ہوتے ہیں کچھ خبر نہیں رہتی ہاتھ پیروں میں رعشہ ہوجاتا ہے آیا یہ حالت شرعا سکر میں ہے یا نہیں ایسا حقہ پینا جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا
#10005 · درء القبح عن درك وقت الصبح ١٣٢٦ھ (صبح صادق کو سمجھنے میں کوتاہی کا ازالہ)
الجواب :
()خرمائے تر اور نہ ہو تو خشك اور نہ ہو تو پانی۔ سنن ابی داؤد وجامع ترمذی میں بسند حسن انس رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
کان النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم یفطر قبل ان یصلی علی رطبات فان لم تکن رطبات فتمیرات وان لم تکن تمیرات فحساحسرات من ماء ۔ واﷲتعالی اعلم۔
حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نماز ادا کرنے سے پہلے تر کھجور سے روزہ افطار فرماتے اگر تر کھجور یں نہ ہوتیں تو خشك کھجوریں استعمال فرماتے اگر کھجوریں نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پیتے۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
(۲)ایسا حقہ پینا کبھی ہو حرام ہے اور یہ حالت سکر نہیں بلکہ تفتیر ہے اور سکرو تفتیر دونوں حرام ۔ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حدیث میں ہے :
نھی رسول اﷲصلی اﷲتعالی علیہ وسلم عن کل مسکرومفتر ۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہر نشہ آور مفتر سے منع فرماتے تھے(ت)
اور تفصیل مسئلہ ہمارے رسالہ حقۃ المرجان لمھم حکم الدخان میں ہے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : ازبنارس محلہ کندی گڑ ٹولہ متصل شفاخانہ مرسلہ حکیم عبد الغفور صاحب رمضان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دعاء افطار اللھم صمت وعلی رزقك افطرت قبل از افطار پڑھنی چاہئے یا بعدافطار مظاہر حق نواب قطب الدین حسن واشعۃ اللمعات شیخ عبد الحق میں ترجمہ افطرت کا بصیغہ ماضی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دعا آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بعد افطار کے پڑھتے تھے چنانچہ ابن ملك نے بھی اس کو لکھا ہے قول ابن ملك کو کہ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دعا مذکور بعد افطار کے پڑھتے تھے نواب قطب الدین حسن دہلوی نے مظاہر حق شرح مشکوۃ میں نقل کیا ہے لیکن بعض کتابوں میں لکھتے ہیں کہ دعا مذکورہ بالاقبل افطار پڑھنی چاہئے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
فی الواقع اس کا محل بعد افطار ہے
ابوداؤد عن معاذ بن زھرۃ
ابو داؤد میں حضرت معاذبن زہرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے
حوالہ / References جامع ترمذی باب ماجاء مایستحب علیہ الافطار امین کمپنی دہلی ١ / ٨٨ ، سنن ابی داؤد باب ما یفطر علیہ آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٣٢١
سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ آفتاب عالم پریس لاہور ٢ / ١٦٣
#10007 · درء القبح عن درك وقت الصبح ١٣٢٦ھ (صبح صادق کو سمجھنے میں کوتاہی کا ازالہ)
انہ بلغہ ان النبی صلی اﷲتعالی علیہ وسلم کان اذا افطر اللھم لك صمت وعلی رزقک فحمل افطر علی معنی ارادۃ الافطار وصرف عن الحقیقۃ من دون حاجۃ الیہ وذالایجوز وھکذا فی افطرت۔
کہ رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم افطار کے وقت یہ دعا پڑھتے : “ اے اﷲ! میں نے تیری رضا کی خاطر روزہ رکھا تیرے رزق پر افطار کیا “ تو یہاں افطر سے مراد ارادہ افطارلینا اور حقیقی معنی سے بے ضرورت اعراض کرنا ہے حالانکہ یہ جائز نہیں اور اسی طرح کا معاملہ “ افطرت “ میں ہے(ت)
مولانا علی قاری علیہ الباری مرقاۃ شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں :
(کان اذاافطر قال)ای دعا وقال ابن الملك ای قرأبعد الافطار الخ۔ واﷲتعالی اعلم۔
(جب افطار کرتے تو کہتے)یعنی دعا کرتے ابن الملك نے کہا کہ افطار کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے الخ۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
_________________
حوالہ / References سنن ابی داؤد باب القول عندالافطار آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٣٢٢
مرقاۃ شرح مشکٰوۃ کتاب الصوم مسائل متفرقہ مکتبہ امدادیہ ملتان ٤ / ٢٥٨
#10009 · العروس المعطار فی زمن دعوۃالافطار ١٣١٢ھ (افطار کی دُعاکے وقت کے بیان میں عطر آلود دُولھا)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
اﷲرب محمد صلی علیہ وسلما
مسئلہ : از بنارس محلہ پتر کنڈہ مرسلہ مولوی محمد عبدالمجید صاحب چشتی فریدی پانی پتی رمضان المبارك ھ
ہمارے علماء رحمہم الغفار وابقاھم الی یوم القرار اس میں کیا فرماتے ہیں کہ دعائے افطار روزہ اللھم لك صمت وعلی رزقك افطرت کو بعض علماء فرماتے ہیں کہ قبل افطار کہے چنانچہ رسالہ تنبیہ الانام فی آداب الصیام میں ہے : اور قبل افطار کے یہ پڑھنا اللھم لك صمت الخ سنت ہے انتہی۔ اور بعض فرماتے ہیں کہ وقت افطار کہے۔ چنانچہ رسالہ مفتاح الجنۃ مؤلفہ مولانا کرامت علی جونپوری مرحوم میں ہے : اور افطار کے وقت سنت ہے کہ کہے اللھم لك صمت الخ انتہی ۔ اور کتاب
حوالہ / References تنبیہ الانام فی آداب الصیام
رسالہ مفتاح الجنۃ ، مولوی کرامت علی
#10013 · العروس المعطار فی زمن دعوۃالافطار ١٣١٢ھ (افطار کی دُعاکے وقت کے بیان میں عطر آلود دُولھا)
جواہر الاحکام تصنیف مولوی عبداﷲمعروف بہ مستان شاہ میسوری میں نقلاعن الکفایہ ہے۔ مثلا سنت وہی ہے کہ وقت افطار یہ دعا کہے اللھم لك صمت الخ انتہی۔ اور رسالہ خیرالکلام فی مسائل الصیام مؤلفہ جناب مولوی محمد عبدالحلیم مرحوم لکھنوی میں ہے :
وقت افطار سنت آنست کہ بہ گوید اللھم لك صمت الخ انتہی۔
افطار كے وقت سنت یہ ہے کہ دعا مانگے : اے اﷲ!میں نے تیرے لیے روزہ رکھاالخ(ت)
اور نورالہدایہ ترجمہ اردو شرح وقایہ مؤلفہ مولوی وحید الزمان میں ہے : جس وقت افطار کرے کہے اللھم لك صمت وعلی رزقك افطرت یعنی اے اﷲ! تیرے ہی واسطے میں نے روزہ رکھا تھا اور تیرے رزق پر افطار کرتا ہوں۔ روایت کیا اس کو ابوداؤد نے کہ ایسا ہی کرتے تھے آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم انتہی۔ اور رسائل ارکان اربعہ مؤلفہ مولانا ومقتدانا جناب مولوی عبد العلی کے رسالہ صوم میں ہے :
وینبغی ان یقول عند الافطار اللھم لك صمت وعلی رزقك افطرت عن معاذبن زھرۃ قال بلغنی ان رسول اﷲ کان اذا افطر قال اللھم لك صمت وعلی رزقك افطرت رواہ ابوداؤد انتہی ۔
افطار کے وقت یہ کہنا چاہئے اے اﷲ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق پر افطار کیا کیونکہ حضرت معاذ بن زہرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب افطار فرماتے تو کہتے اے اﷲ! میں نے تیری خاطر روزہ رکھا اور تیرے رزق پر افطار کیا اسے ابوداؤد نے روایت کیا انتہی(ت)
اور رسالہ تعلیم الصیام میں ہے : معاذبن زہرہ نے کہا حضرت( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )افطار کے وقت یوں کہتے تھے :
اللھم لك صمت وعلی رزقك افطرت رواہ ابوداؤد مرسلا انتہی۔
اے اﷲ! میں نے تیری خاطر روزہ رکھا اور تیرے رزق پر افطار کیا۔ اسے ابوداؤد نے مرسلا روایت کیا۔ (ت)
اورشیخ عبد الحق قدس سرہ کی مدارج النبوۃ میں ہے :
حوالہ / References جواہرا لحکام ، مولوی عبد اﷲ
رسالہ خیر الکلام فی مسائل الصیام ، مولوی عبد الحلیم
نورالہدایہ ترجمہ شرح وقایہ ، کتاب الصوم باب مکروہات ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ١٧٦
رسائل ارکان ربعہ بیان انہ یستحب الافطار بالتمر مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۲۱۵
رسالہ تعلیم الصیام
#10017 · العروس المعطار فی زمن دعوۃالافطار ١٣١٢ھ (افطار کی دُعاکے وقت کے بیان میں عطر آلود دُولھا)
ودروقت افطار فرمودے اللھم بك صمت الخ انتہی۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم افطار کے وقت فرماتے اے اﷲ! میں نے تیرے لیے رکھا الخ انتہی(ت)
اور انہیں کی اشعۃ اللمعات میں حدیث معاذ بن زہرہ کے ترجمہ میں ہے :
بود آنحضرت چوں افطارمی کردمی گفت اللھم لك صمت خداوند برائے رضائے تو روزہ داشتہ ام وعلی رزقك افطرت وبر روزی توکہ رسانیدی می کشادم روزہ را انتہی۔ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب افطار کرتے فرماتے اللھم لك صمت اے اﷲ! میں نے تیری رضا کیلئے روزہ رکھا وعلی رزقك افطرت اور تیرے عطا کردہ رزق پر روزہ افطار کیا انتہی(ت)
اور بعض کہتے کہ اس دعا کو بعد افطار کہے۔ چنانچہ مظاہر حق ترجمہ اردو مشکوۃ مؤلفہ جناب مولوی قطب الدین مرحوم دہلوی میں ہے : ابن ملك نے کہا ہے کہ حضرت( صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )ان کلمات(یعنی اللھم لك صمت الخ)کو بعد افطار کہتے تھے انتہی۔ تو ان قولوں میں صحیح قول کون سا ہے اور نیز اس میں کہ وقت افطار سے مراد قبل از افطار ہے اور پہلے قول اور اس قول کا مآل واحد ہے یا بعد افطار اور پچھلے قول اور اس قول کا مآل واحد ہے اور نیز اس میں کہ لفظ افطرت کا ترجمہ “ افطار کرتا ہوں میں “ جیسا کہ مؤلف نورالہدایہ ترجمہ اردوشرح وقایہ نے کیا ہے صحیح ہے یا “ افطار کیا میں نے “ جیسا کہ شیخ قدس سرہ نے اشعۃ اللمعات میں کیا ہے صحیح ہے اور نیز اس میں کہ بر تقدیر صحت ترجمہ ثانی کے اس دعا کا بعد افطار ہونا ثابت ہوگا یا نہیں اور نیز اس میں کہ زید تو کہتا ہے کہ حدیث کے لفظ اذاافطرت قال اللھم لك صمت الخ(جب افطار کرتے تو فرماتے اے اﷲ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھاالخ۔ ت)میں اذا حرف شرط ہے افطر جملہ فعلیہ شرط ہے قال اپنے فاعل ضمیر مستتر اور اللھم لك الخ مقولہ کے ساتھ جزا ہے۔ اور عمرو کہتا ہے اذا حرف شرط افطر شرط اور فقد قال جزا۔ بس یہ کلام تو تمام ہوچکا اب اللھم لك صمت برأسہ اور نیز ایك دوسرا کلام ہے قال سے اس کو کچھ تعلق نہیں تو دونوں میں صحیح قول کس کا ہےـ اور نیز اس میں زید توکہتا ہے کہ اللھم لك صمت الخ دعا ہے اور عمرو کہتا ہے نہیں کیونکہ دعا تو وہ کلام ہوتا ہے جو کہ متضمن مضمون طلب ہو اور یہ ایسا نہیں تو دعا بھی نہیں تو دونوں میں صحیح
حوالہ / References مدارج النبوۃ باب دہم در انواع عبادات نوع چہارم درصوم نوریہ رضویہ سکھر ١ / ٤٢٩
اشعۃ اللمعات کتا ب الصوم فصل ثالث نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٨٤
مظاہر حق ترجمہ مشکوٰۃ المصابیح کتاب الصوم افطار کی دعا دارالاشاعت کراچی ٢ / ٣١٤
#10019 · العروس المعطار فی زمن دعوۃالافطار ١٣١٢ھ (افطار کی دُعاکے وقت کے بیان میں عطر آلود دُولھا)
قول کس کاہے اور نیز اس میں کہ لفظ عند ظرف ہے یا نہیں اگر ہے تو ظرف زمان بمعنی وقت ہے یا ظرف مکان بمعنی نزدیك اور پاس کے اور نیز اس میں کہ مولانا بحرالعلوم مرحوم کے قول وینبغی ان یقول عند الافطار کا ترجمہ “ اور لائق ہے کہ کہے وقت افطار کے “ کرنا چاہئے یا “ اور لائق ہے یہ کہ کہے نزدیك افطار کے “ کرنا چاہئے بینو اتوجروا
الجواب :
اقول : وباﷲالتوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق مقتضائے دلیل یہ ہے کہ دعا روزہ افطار کرکے پڑھے اولا حدیث مذکور ابی داؤد کہ ابن السنی نے کتاب عمل الیوم واللیلہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں یوں روایت کی :
عن معاذبن زھرۃ قال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا افطر قال الحمد ﷲ الذی اعاننی فصمت ورزقنی فافطرت
حضرت معاذبن زہرہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب افطار فرماتے تو یہ پڑھتے : سب حمداﷲکی جس نے میری مدد فرمائی کہ میں نے روزہ رکھا اور مجھے رزق عطا فرمایا کہ میں نے افطار کیا۔ (ت)
اور نیز ابن السنی نے کتاب مذکور اور طبرانی نے معجم کبیر اور دار قطنی نے سنن میں موصولا یوں تخریج کی :
عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما قال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا افطر قال اللھم لك صمنا و علی رزقك افطرنا فتقبل منا انك انت السمیع العلیم ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب افطار فرماتے تو یہ دعا پڑھتے : اے اﷲ! ہم نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق پر افطار کیا ہماری طرف سے قبول فرما تو سننے اور جاننے والا ہے(ت)
ونیز حدیث ابی داؤدو نسائی ودار قطنی وحاکم وغیرہم :
عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنھما
حضرت عبد اﷲابن عمر رضی اللہ تعالی عنہم ا سے مروی ہے
حوالہ / References شعب الایمان باب فی الصیام حدیث ٣٩٠٢ دارالکتب العلمیہ بیروت ٣ / ٤٠٦ ، کتاب عمل الیوم و اللیلۃ باب مایقول اذاافطر حدیث ٤٧٩ معارف نعمانیہ حیدر آباد دکن ص ١٢٨
کتاب عمل الیوم و اللیلۃباب مایقول اذاافطر حدیث٤۸۰معارف نعمانیہ حیدر آباد دکن ص ١٢٨ ، سنن الدار قطنی باب القبلۃ للصائم حدیث ٢١نشر السنۃ ملتان٢ / ١٨٥
#10020 · العروس المعطار فی زمن دعوۃالافطار ١٣١٢ھ (افطار کی دُعاکے وقت کے بیان میں عطر آلود دُولھا)
قال کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذاافطر قال ذھب الظمأ و ابتلت العروق ویثبت الاجران شاء اﷲ تعالی ۔
کہ جب رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم افطار کرتے توفرماتے : پیاس چلی گئی رگیں تر ہوگئیں اور اگر اﷲ تعالی نے چاہا تو اجر ثابت ہوگیا(ت)
ان سب کا مفاد صریح یہی ہے افطر شرط اور قال کذا اس کی جزا مجرد قول کہ مقولے سے معرا کرلیا جائے صلاحیت وقوع ہی نہیں رکھتا ترتب کہ لازم جزائیت ہے کہاں سے آئیگا اللھم کو کلام مستانف قراردینا ایسی بات ہے کہ شرع مائۃعامل خواں بھی قبول نہ کرے گا اور جزا شرط سے مقدم نہیں ہوتی بل یعقبہ ویترتب علیہ کما لایخفی علی کل من لہ ادنی مسکۃ(بلکہ جزا شرط سے مؤخر اور اس پر مترتب ہوتی ہے جیسا کہ ہر اس شخص پر واضح ہے جو اس فن کے ساتھ تھوڑا سابھی تعلق رکھتا ہے۔ ت)اورمقارنت حقیقیہ یہاں معقول نہیں کہ عین وقت افطار بالاکل والشرب یعنی جس وقت کوئی مطعوم حلق سے اتارا جائے عادۃ خاص اس حالت میں قرأت نامتیسر لاجرم تعقیب مراد وھوالمقصود ہاں افطار بالجماع میں اقتران حقیقی مقصود مگر وہ یہاں قطعا مرادنہیں کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ت)یہیں سے واضح ہوا کہ قول ثانی وثالث کا مآل ایك ہی ہے اور نکتہ تعبیر اشعار بعدیت متصلہ ہے کہ لفظ بعد بعدیت منفصلہ کوبھی شامل اور وہ خلاف مقصود ہے۔ لہذا بلفظ “ وقتــ “ تعبیر کہ نافی انفصال ہو ہنگام استحالہ مقار نہ اگر چہ معاقبہ تقدم و تاخر دونوں کو متناول مگر حالت مجازات مانع تقدم ہے ولہذا جہاں خارج سے تقدم معلوم شرط میں تاویل ارادہ وغیرہ معمول
کما فی قولہ عزوجل اذا قمتم الى الصلوة فاغسلوا وجوهكم وفی حدیث کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا دخل الخلاء قال اللھم انی اعوذبك من الخبث و الخبائث رواہ الائمۃ احمد والستۃ عن انس
جیسا کہ اﷲ عزوجل کے مبارك ارشاد میں ہے جب تم نماز کا ارادہ کرو تو چہرے کو دھولو۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی حدیث میں ہے جب کوئی بیت الخلاء میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو کہے اے اﷲ! میں ناپاك وخبیث سے تیری پناہ میں آتاہوں۔ اسے امام احمد اور ائمہ ستہ نے حضرت انس
حوالہ / References سُنن ابی داؤدباب القول عندالافطارآفتاب عالم پریس لاہور١ / ٣٢١ ، سنن الدار قطنی باب ا لقبلۃ للصائم نشرالسنۃ ملتان٢ / ١٨٥
القرآن ٥ / ٦
جامع ترمذی باب مایقول اذاادخل الخلاء امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ١ / ٣
#10021 · العروس المعطار فی زمن دعوۃالافطار ١٣١٢ھ (افطار کی دُعاکے وقت کے بیان میں عطر آلود دُولھا)
بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ اماھھنا فحمل “ افطر “ علی الارادۃ عدول عن الحقیقۃ من دون حاجۃ تحمل علیہ ولا صارف یدعوالیہ فلایفعل ولا یقبل ۔
بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے لیکن مذکورہ صورت میں لفظ افطرکو ارادہ افطار پر محمول کرنا بے ضرورت حقیقت سے اعراض ہے اور یہاں کوئی مجاز پر قرینہ بھی نہیں لہذا ایسا نہ کیا جائے اور نہ اسے قبول کیا جائے۔ (ت)
ثانیا ان ادعیہ میں افطرت(میں نے افطار کیا)اور افطرنا(ہم نے افطارکیا) ذھب الظمأ(پیاس چلی گئی)ابتلت العروق(رگیں تر ہوگئیں)سب صیغے ماضی ہیں اور افطار باللفظ متصور نہیں کہ مثل عقود انشاء مقصود لاجرم اخبار متعین تو تقدیم علی الافطار میں یہ سب بھی ارتکاب تجوز کے محتاج ہوں گے کہ خلاف اصل ہے والنصوص یجب حملھا علی ظواہر ھا مالم تمس حاجۃ واین حاجۃ(جب تك کوئی مجبوری نہ ہو نصوص کو ظاہرپر ہی محمول کرنا چاہئے اور یہاں کوئی ضرورت ومجبوری نہیں۔ ت)یہاں سے بھی ظاہر ہوا کہ ترجمہ حضرت شیخ محقق نوراﷲمرقدہ الشریف ہی صحیح ہے اور “ افطار کرتا ہوں “ بلاوجہ حقیقت سے عدول۔ طرفہ یہ کہ اب بھی حاجت تجوز باقی۔
لما قدمنا من امتناع المقارنۃ فلا بد من تاویل الحال بالاستقبال والافطار بالارادۃ۔
کیونکہ ہم نے پہلے بیان کردیا کہ یہاں مقارنت و اتصال ممتنع ہے لہذا حال کو بمعنی استقبال اور افطار بمعنی ارادہ افطار کیاجائے گا۔ (ت)
ثالثا مرسل ابن السنی وبیہقی میں لفظ الحمدﷲ اور مؤید تا خیر کہ حمد بعداکل معہود ہے جس طرح قبل اکل تسمیہ۔
رابعا یہ تو ظاہر ہے اور شاید مدعی تقدیم کو بھی مسلم ہوکہ یہ دعائیں دن میں پڑھ لینے کی نہیں کہ ہنوز وقت افطار بھی نہ آیا اب اگر عمرو بعد غروب شمس یہ دعائیں پڑھ کر افطار کرے اور زید بعد غروب فورا افطار کرکے پڑھے تو دیکھنا چاہئے کہ اس میں کس کا فعل اﷲ عزو جل کو زیادہ محبوب ہے حدیث شاہدعادل ہے کہ فعل زید زیادہ پسند حضرت جلا وعلا ہے کہ رب العزت تبارك وتعالی فرماتا ہے :
ان احب عبادی الی اعجلھم فطرا رواہ الامام احمد و
مجھے اپنے بندوں میں وہ زیادہ پیارا ہے جو ان میں سب سے زیادہ جلد افطار کرتا ہے(اسے
حوالہ / References جامع ترمذی باب ماجاء فی تعجیل الافطار امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی١ / ٨٨
#10022 · العروس المعطار فی زمن دعوۃالافطار ١٣١٢ھ (افطار کی دُعاکے وقت کے بیان میں عطر آلود دُولھا)
الترمذی وحسنہ وابنا خزیمۃ وحبان فی صحیحہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن ربہ تعالی وتقدس۔
امام احمد اور ترمذی نے حسن کہا۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اور آپ نے اﷲتبارك وتعالی سے ذکر کیا یعنی یہ حدیث قدسی ہے۔ ت)
شك نہیں کہ صورت مذکورہ میں زید کا افطار جلد تر ہو اتو یہی طریقہ زیادہ پسند ومرضی رب اکبر ہوا جل جلالہ وعم نوالہ یہ دوسرا مؤید ہے اس کا کہ وقت الافطار وبعد الافطار کا مآل واحد ہے کہ جب افطار غروب شمس کے بعد جلد ہو تو احب وافضل اور مقارنت افطار ودعا نا متیسر اور پیش ازغروب وقت افطار معدوم تو وہ صورت بعدیت متصلہ ہی مقصود ومفہوم۔
خامسا فعل اقدس حضور پرنور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بتانے والے بھی اسی کا انکار کرتے ہیں عادت کریمہ تھی کہ قریب کسی کو حکم فرماتے کہ بلندی پر جا کر آفتاب کو دیکھتا رہے وہ نظر کرتا ہوتا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس کی خبر کے منتظر ہوتے ادھر اس نے عرض کی کہ سورج ڈوبا ادھر حضور والا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے خرما وغیرہ تناول فرمایا
الحاکم وصححہ عن سھل بن سعد و الطبرانی فی الکبیر عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنھما وھذا حدیث سھل قال کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا کان صائما امررجلا اوفی علی نشز فاذاقال غابت الشمس افطر ولفظ حدیث ابی الدرراء امر رجلا یقوم علی نشز من الارض فاذا قال قد وجبت الشمس افطر
حاکم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کرکے صحیح کہا اور طبرانی نے الکبیر میں حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ حدیث سہل کے الفاظ یہ ہیں : رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب روزہ دار ہوتے تو کسی شخص کو بلند جگہ پر جاکر چاند دیکھنے کا حکم فرماتے جب وہ کہتا سورج ڈوب گیا ہے تو پھر افطار فرماتے حدیث ابو الدرداء کے الفاظ یہ ہیں کسی شخص کو حکم دیتے زمین کے اونچے مقام پر کھڑے ہوکر سورج دیکھو جب وہ کہتا سورج ڈوب
حوالہ / References المستد رك للحاکم کتاب الصوم دارالفکر بیروت ١ / ٤٣٤
مجمع الزوائد بحوالہ طرانی کبیردارالکتاب العربی بیروت٣ / ١٥٥
#10023 · العروس المعطار فی زمن دعوۃالافطار ١٣١٢ھ (افطار کی دُعاکے وقت کے بیان میں عطر آلود دُولھا)
وفی کشف الغمۃ عن جمیع الامۃ للامام العارف سیدی عبد الوھاب الشعرانی قدس سرہ الربانی کانت عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہا تقول رأیت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وھو صائم یترصد غروب الشمس بتمرۃ فلما توارت القاھافی فیہ ۔
گیا ہے تو آپ افطارفرماتے۔ کشف الغمہ عن جمیع الامہ للامام عارف سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا بیان یوں منقول ہے کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو روزے کی حالت میں دیکھا آپ کھجور پکڑے سورج کے غروب ہونے کا انتظارفرما رہے ہیں جیسے ہی وہ ڈوبا آپ نے کھجور منہ میں ڈال لی۔ (ت)
یہ تینوں حدیثیں بھی اس تقدیم افطار کا پتا دیتی ہیں کہ اخبار وافطار میں اصلا فصل نہ تھا کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت)لاجرم تصریح فرمائی کہ یہ دعا افطار کے بعد واقع ہوئی مولانا قاری رحمۃ الباری مرقاۃ شرح مشکوۃ میں زیر حدیث مذکور ابی داؤد فرماتے ہیں :
ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کان اذا افطر قال ای دعا وقال ابن الملك ای قرأبعد الافطار الخ۔
رسالتمآب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب افطار فرماتے تو کہتے یعنی دعا فرماتے ابن الملك نے کہا کہ آپ افطار کے بعد یہ کلمات پڑھتے الخ(ت)
اس عبارت سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ اللھم لك صمت الخ دعا ہے دعا کے معنی پکارنا اور اللھم سے بہتر کون ساپکارنا ہوگا بلکہ اسی مرقاۃ میں تصریح فرمائی کہ کل ذکردعا وکل دعاذکر (ہر ذکر دعا ہے اور ہر دعا ذکر ہے۔ ت) صحیح بخاری شریف میں باب وضع کیا : باب الدعاء بعد الصلاۃ(نماز کے بعد دعا کے بارے میں باب)اور اسی میں حدیث لائے :
تسبحون فی دبر کل صلوۃ عشرا وتحمدون عشر او تکبرون عشرا ۔
تم ہر نماز کے بعد دس دفعہ سبحان اﷲ اور دس دفعہ الحمد اﷲ اور دس دفعہ اﷲاکبر کہو۔ (ت)
یونہی باب الدعا اذا ھبط وادیا(یہ باب اس بارے میں ہے کہ جب کسی وادی میں اترے تو دعا کرے۔ ت)میں حدیث جابر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف اشارہ کیا :
حوالہ / References کشف الغمۃ عن جمیع الامۃ کتاب الصوم دارالفکر بیروت ١ / ٢٥٥
مرقاۃ شرح مشکوۃ کتاب الصوم مکتبہ امدادیہ ملتان ٤ / ٢٥٨
مرقاۃ شرح مشکوۃ کتاب الدعوات المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ٥ / ١٣٥
صحیح بخاری الدعاء بعد الصلٰوۃقدیمی کتب خانہ کراچی٢ / ٩٣٧
#10024 · العروس المعطار فی زمن دعوۃالافطار ١٣١٢ھ (افطار کی دُعاکے وقت کے بیان میں عطر آلود دُولھا)
قال کنا اذاصعد ناکبرنا واذا نزلنا سبحنا ۔
جب ہم اوپر چڑھتے تو اﷲاکبر اور جب نیچے اترتے تو سبحان اﷲ کہتے(ت)
یوں ہی باب الدعا اذا ارادہ سفرا او رجع(یہ باب اس بارے میں ہے کہ جب سفر کا ارادہ کرے یا سفر سے لوٹے تو دعا کرے۔ ت)میں حدیث یکبر علی کل شرف الخ(آپ ہربلند ی پر تکبیر کہتے۔ ت)لائے بلکہ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے احادیث کثیرہ میں ذکر کو دعا فرمایا صحیحین میں ہے :
عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ قال کنا مع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی سفر فکنا اذا علونا کبرنا فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایھا الناس اربعو اعلی انفسکم فانکم لاتدعون اصم ولا غائبا ولکن تدعون سمیعا بصیرا ۔
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے ہم حضور اکر م صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے جب ہم بلند جگہ پر چڑھتے تو تکبیر کہتے۔ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اپنے آپ پر نرمی کرو کیونکہ تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے تم تو سننے اور دیکھنے والے کو پکار رہے ہو۔ (ت)
جامع ترمذی میں ہے :
عن عبد اﷲ بن عمرو بن العاص رضی اﷲ تعالی عنہما قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم خیرالدعاء دعاء یوم عرفۃ وخیرماقلت اناوالنبیون من قبلی لاالہ الا اﷲ وحدہ لاشریك لہ لہ الملك ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر قال الترمذی حدیث حسن غریب قال مناوی خیر ماقلت ای مادعوت ۔
حضرت عبد اﷲبن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا سب سے بہتر دعا یوم عرفہ کی دعا ہے اور سب سے بہتر یہ دعا ہے جومیں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء نے مانگی : اﷲکے سواکوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریك نہیں ملك وحمد اسی کے لیے ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے مناوی “ خیر ما قلت “ کا ترجمہ “ جو میں نے دعا کی “ کیا ہے۔ (ت)
حوالہ / References صحیح بخاری باب التسبیح اذا ھبط وادیًاقدیمی کتب خانہ کراچی١ / ٤٢٠
صحیح بخاری باب الدعا اذاارادسفرًاقدیمی کتب خانہ کراچی٢ / ٩٤٤
صحیح بخاری باب الدعاء اذاعلاعقبۃقدیمی کتب خانہ کراچی٢ / ٩٤٤
جامع الترمذی باب فی فضل لا حول ولا قوۃ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ٢ / ١٩٨
التیسیر شرح جامع صغیر تحت حدیث خیر الدعاء مکتبہ الامام الشافعی ریاض ١ / ٥٢٥
#10025 · العروس المعطار فی زمن دعوۃالافطار ١٣١٢ھ (افطار کی دُعاکے وقت کے بیان میں عطر آلود دُولھا)
ترمذی نسائی ابن ماجہ ابن حبان حاکم جابر بن عبداﷲ رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی :
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم افضل الذکر لاالہ الااﷲ و افضل الدعاء الحمد ﷲ ۔ حسنہ الترمذی وصححہ الحاکم۔
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : سب سے بہتر ذکر لاالہ الا اﷲ اور افضل دعا الحمد ﷲ ہے۔ ترمذی نے اسے حسن کہا اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا۔ (ت)
معہذا کنایہ تصریح سے ابلغ ہے اللھم لکل صمت(ا ے اﷲ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا۔ ت)کہنے والا اخلاص عبادت لوجہ اﷲعرض کرتا ہے اور اﷲعزوجل فرماتا ہے :
ان الله لا یضیع اجر المحسنین(۱۲۰) ۔
اﷲتعالی کسی نیکو کار کااجر ضائع نہیں کرتا۔ (ت)
اور فرماتا ہے : الصوم لی وانا اجزی بہ (روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا ہوں۔ ت)پھر علی رزقك افطرت(تیرے رزق پر میں نے افطارکیا۔ ت)کہہ کر شکر نعمت بجالاتا ہے۔ اور رب جل وعلا فرماتا ہے : لىن شكرتم لازیدنكم (اگر تم شکر کرو تو میں تمہارے لیے اضافہ کروں گا۔ ت)اگر دو شخص بادشاہ کے در دولت پر حاضر ہوں ایك عرض کرے اے بادشاہ!مجھے یہ دے دے۔ دوسرا عرض کرے اے بادشاہ! میں تیرا فرمان سر آنکھوں سے بجا لاتا ہوں اور تیرا ہی دیا کھاتا ہوں انصاف کیجئے۔ حسن طلب کس کا حصہ ہے
أ اذکرحاجتی ام قد کفانی حیاؤك ان شیمتك الحیاء
اذا اثنی علیك المرء یوما کفاہ من تو ضك الثناء
کریما لا یغیرہ صباح عن الخلق الکریم ولامساء
(کیا میں اپنی حاجت ذکر کروں یا آپ کا حیاء ہی میرے لیے کافی ہے جو آپ کا زیور ہے۔
حوالہ / References جامع ترمذی باب ان دعوۃ المسلم مستجابۃامین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی٢ / ١٧٤
القرآن ٩ / ١٢٠
مشکٰوۃکتاب الصوم الفصل الاول مجتبائی دہلی ص١٧٣
القرآن ١٤ / ٧
#10049 · العروس المعطار فی زمن دعوۃالافطار ١٣١٢ھ (افطار کی دُعاکے وقت کے بیان میں عطر آلود دُولھا)
جب کسی دن کسی نے آپ کی تعریف کی تو آپ کی ثنا کا روشن ہونا ہی اس کیلئے کافی تھا ایسا کریم کہ صبح وشام مخلوق کو نوازتے ہوئے کوئی تغیر واقع نہیں ہوتا)
بالجملہ قابل قبول و مؤید بالمعقول والمنقول وہی قول ثانی وثالث ہے اور وقت الافطار و عندالافطار وبعد الافطار وہنگام افطار و نزدیك افطار وپس افطار سب کاحاصل ایك ہی ہے نزدیك ترجمہ عند ہے اور عند خواہ ظرف مکان ہو کما افادہ فی الاتقان الشریف(جیسا کہ اتقان شریف میں ہے ۔ ت)خواہ ظرف زمان ومکان دونوں کما نص علیہ فی القاموس (جیسا کہ اس پر قاموس میں تصریح ہے۔ ت)امتیاز بحسب مدخول علیہ ہوگا کما بینہ فی تاج العروس (جیسا کہ اس کی تفصیل تاج العروس میں ہے ۔ ت) مگر شك نہیں کہ زمان زمانی پر داخل ہو کر افادہ قرب زمانی ہی کرے گا کوئی عاقل نہ کہے گاکہ عندالصبح کا حاصل قرب مکان صبح ہے اصل یہ کہ وضع عند قرب مطلق کے لیے ہے حسی ہو یا معنوی کما صرح بہ فی مسلم الثبوت وشرح الکافیۃ لرضی وغیرھا من المعتبرات(جیسا کہ مسلم الثبوت شرح کافیہ للرضی اور دیگر معتبر کتب میں اس پر تصریح کی ہے۔ ت) مکانیات سے قرب مکانی ہوگا زمانیا ت سے قرب زمانی متعالی عن المکان والزمان سے قرب مکانت کما فی قولہ تعالی عند ملیك مقتدر(۵۵) (جیساکہ اﷲتعالی کے ارشاد گرامی میں ہے : (عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور ۔ ت) تو نظر باصل معنی کہ عند لغت میں بمعنی جانب وناحیہ تھا کما فی القاموس (جیسا کہ قاموس میں ہے۔ ت) اوراتحاد جہت مستلزم قرب اور وہ ہنگام حقیقت قرب مکانی کہ جہت حقیقیہ مختص بمکانیات ہے اسے ظرف مکان کہیں صحیح اور نظر بحال کہ یہ قرب حسی ومعنوی سب کو شامل ہوکر زمانیات کو بھی متناول ہوگیا ظرف زمان ومکان دونوں کہیں بھی صحیح
ھذاماظھر لی ولہ استعمالات اخر
یہ تمام وہ تھا جو مجھ پر آشکار ہوا اس کے دیگر استعمالات
حوالہ / References الاتقان فی علوم القرآن النوع الاربعون فی معرفۃ معانی الادوات مصطفی البابی مصر١ / ١٦٥
القاموس المحیط تحت فصل العین باب الدال مصطفٰی البابی مصر١ / ٣٣٠
تاج العروس تحت فصل العین باب الدال احیاء التراث العر بی بیروت٢ / ٣٥-٤٣٤
مسلم الثبوت مسائل ادوات التعلیق مطبع انصاری دہلی ص٦٨
القرآن ٥٤ / ٥٥
القاموس المحیط تحت فصل العین باب الدال احیاء التراث العربی بیروت١ / ٣٣٠
#10053 · العروس المعطار فی زمن دعوۃالافطار ١٣١٢ھ (افطار کی دُعاکے وقت کے بیان میں عطر آلود دُولھا)
منسلخ فیھا عن معنی الظرفیۃ کالحکم والاعتقاد کقولك ھذا عند ابی حنیفۃ والفضل والاحسان کقولہ تعالی فان اتممت عشرا فمن عندك- وغیرہ ذلك کما ذکرہ الحریری فی درۃ الغواص لیس ھذامقام تفصیلھا۔
بھی ہیں جو معنی ظرفیت کے علاوہ ہیں مثلا حکم اور اعتقاد جیساکہا جائے یہ امام ابو حنیفہ کا قول ہے یا بمعنی فضل واحسان کے “ مثلاـ “ اﷲتعالی کا مبارك فرمان ہے پس اگر آپ دس مکمل کریں تو تمہارا احسان ہے ان کے علاوہ دیگر معانی بھی ہیں جنہیں حریری نے درۃ الغواص میں ذکر کیا ہے لیکن یہ مقام تفصیل نہیں(ت)
معانی از قبیل ثانیاا ور افطار منجملہ معانی تو اس مراد وہی قرب زمانی ہرذی عقل جانتا ہے کہ عند الافطار کے معنی حین الافطار ہیں نہ کہ فی مکان الافطار ای مکان کان فیہ المفطرحین افطر والا فالافطار لیس مما یحل فی المکان(افطار کے وقت جہاں افطار کرنے والاہو ورنہ افطار خود مکان میں حلول نہیں کرتا۔ ت)کیا آج اگر کسی شخص نے ایك جگہ روزہ افطار کیا اور چھمہینے بعد آکر اس جگہ پر دعاء مذکور پڑھ لے یا چار پہر تك وہیں بیٹھا رہا صبح کو دعا پڑھے تو یقول عند الافطار (افطار کے وقت کہے ۔ ت)کاحکم ادا ہوگیا کہ آخر مکان تو وہی ہے لاجرم ماننا پڑے گا کہ یہاں عند سے اتحاد زمان ہی مفاد اور اتحاد سے وہی تعقیب متصل مراد یہ سب واضحات جلیلہ ہیں جن کی اضاحت گویا وقت کی اضاعت مگر کیا کیجئے کہ بعد وہم واہم و ورود سوال حاجت ازاحت۔
ان تقریرات سے بحمد اﷲتعالی تمام سوالوں کا جواب ہوگیا اور روشن طور پر منجلی ہوا کہ مقتضائے سنت یہی ہے کہ بعد غروب جو خرمے یا پانی وغیرہ از قبل نماز افطار معجل کرتے ہیں اس میں اور علم بغروب شمس میں اصلافصل نہ چاہئے یہ دعائیں اس کے بعد ہوں ہاں کبھی افطار مقابل سحور اس کھانے کو کہتے ہیں جو صائم شام کو کھاتا ہے۔
ابن خزیمۃ فی صحیحہ ومن طریقہ البیہقی وابو الشیخ بن حبان فی الثواب عن سلمان الفارسی رضی اﷲ تعالی عنہ یرفعہ الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی فضائل شھر رمضان قال من فطرفیہ صائما کان مغفرۃ لذنوبہ وعتق رقبتہ
ابن خزیمہ نے صحیح میں اور اسی طریق سے بیہقی نے اور ابوالشیخ بن حبان نے الثواب میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے فضائل رمضان کے بارے مرفوعا بیان کیا کہ رسول ا ﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بیان فرمایا جس نے کسی کا روزہ افطار کروایااس کے گناہ معاف اور اس کی گردن جہنم سے آزاد
حوالہ / References القرآن ٢٨ / ٢٧
#10054 · العروس المعطار فی زمن دعوۃالافطار ١٣١٢ھ (افطار کی دُعاکے وقت کے بیان میں عطر آلود دُولھا)
من النار وکان لہ مثل اجرہ من غیران ینقص من اجرہ شئی قالوایا رسول اﷲلیس کلنا یجد مایفطر الصائم الحدیثوفی روایۃ ابی الشیخ فقلت یا رسول اللہ افرأ یت ان لم یکن ذلك عندہ قال فقبضہ من طعام قلت افرأیت ان لم یکن عندہ لقمۃ خبز قال فمذقۃ من لبن قال افرأیت ان لم یکن عندہ قال فشربۃ من ماء وفی حدیث ابی داؤد وغیرہ بسند صحیح عن انس رضی اﷲ تعالی ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم جاء الی سعد بن عبادۃ فجاء بخبز و زیت فاکل ثم قال النبی صلی اﷲعلیہ وسلم افطر عندکم الصانمون واکل طعامکم الابرار وصلت علیکم الملئکۃ وفی لفظ افطرنا مرۃ مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقر بواالیہ زیتا فاکل واکلنا حتی فرغ قال اکل طعامکم الابرار وصلت علیکم الملئکۃ وافطر عند کم الصائمون۔
ہوجائے گی اور اس کے لیے روزہ دار کے برابر اجر ہوگا اور روزہ دار کے اجر میں بھی کمی نہ ہوگی۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اﷲ! ہم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو روزہ دار کوسیر ہو کرکھانا کھلانے کی طاقت نہیں رکھتے الحدیث۔ اور ابوالشیخ کی روایت میں ہے میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ! اس کے بارے میں کیا حکم ہے جس کے پاس اتنا نہ ہو فرمایا تو ایك مٹھی طعام سہی۔ میں نے عرض کیا اگر اس کے پاس روٹی کا ٹکڑا نہ ہو فرمایا دودھ کا گھونٹ۔ عرض کیا اگر یہ بھی نہ ہوفرمایا پانی کا گھونٹ پیش کردے۔ اور ابوداؤد وغیرہ میں سند صحیح کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سعد بن عبادہ کے پاس آئے انہوں نے روٹی اور زیتون پیش کیا آپ نے تناول کیا اور فرمایا تمہارے پاس روزہ داروں نے افطار کیا تمہارا کھانا ابرار نے کھایا اور تم پر ملائکہ نے رحمت کی دعا کی۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں : ایك دفعہ ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ افطاری کی۔ آپ کی خدمت اقدس میں زیتون پیش کیا گیا آپ نے اور ہم سب نے تناول کیا جب فارغ ہوئے فرمایا : تمہارے کھانے کو نیك لوگوں نے کھایا تمہارے لیے ملائکہ نےدعا کی اور تمہارے
حوالہ / References صحیح ابن خزیمہ باب فضائل شہرر مضان المکتب الاسلامی بیروت٣ / ١٩٢
کنز العمال بحوالہ حب حدیث ٢٣٦۵٨موسستہ الرسالۃ بیروت٨ / ٤٦٠ ، الترغیب والترھیب بحوالہ ابن حبان فی کتاب الثواب الترغیب فی اطعام الطعام مصطفٰی البابی مصر٢ / ١٤٤
سنن ابی داؤدکتاب الاطعمۃآفتاب عالم پریس لاہور٢ / ١٨٢
#10055 · العروس المعطار فی زمن دعوۃالافطار ١٣١٢ھ (افطار کی دُعاکے وقت کے بیان میں عطر آلود دُولھا)
پاس روزہ داروں نے افطار کیا۔ (ت) اسی طعام شام سے پہلے ایك دعا وارد ہوئی ہے اس میں بھی یہ الفاظ موجود ہیں :
الدار قطنی فی الافراد عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا قرب الی احدکم طعامہ وھو صائم فلیقل بسم اﷲ و الحمد ﷲ اللھم لك صمت وعلی رزقك افطرت وعلیك توکلت سبحنك وبحمدك تقبل منی انك انت السمیع العلیم ۔
امام دارقطنی نے افراد میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : “ جب تمہارے پاس کھانا لایا جائے اور تم حالت روزہ میں ہوتو یہ کلمات کہو اﷲکے نام کے ساتھ شروع تمام حمداﷲکے لیے ہے اے اﷲ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اورتیرے رزق پر افطار کیا اور تجھ پر توکل کیا تیری ذات مقدس ہے اورحمد تیری ہے مجھ سے قبول فرمالے بیشك تو سننے اور جاننے والاہے “ ۔ (ت)
حدیث طبرانی :
عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ قال کان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اذا افطر قال بسم اﷲ اللھم لك صمت وعلی رزقك افطرت ۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب افطار فرماتے تو کہتے : “ اﷲ کے نام کے ساتھ اے اﷲ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے رزق پر افطار کیا۔ “ (ت)
میں کہ ظاہر تسمیہ مشعر تقدیم ہے اگر افطار سے یہی طعام شام بمعنی مذکور مراد جب تو امرواضح ہے ورنہ وہ بسبب شدت ضعف قابل احتجاج نہیں اس کی سند میں داؤد بن الزبرقان متروك ہے۔
قال فی التقریب التھذیب متروك کذبہ الازدی اھ قلت
التقریب التہذیب میں ہے کہ یہ متروك ہے اور ازدی نے اسے کاذب کہا ہے اھ میں کہتا ہوں
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ قط فی الافرادحدیث ٢٣٨٧٣مکتبۃ التراث الاسلامی حلب٨ / ٥٠٩
مجمع الزوائد بحوالہ طبرانی اوسط باب مایقول اذاافطردارالکتاب بیروت٨ / ١٥٦
تقریب التہذیب تحت حرف الدال دارالکتب العلمیۃ بیروت١ / ٢٧٩
#10057 · العروس المعطار فی زمن دعوۃالافطار ١٣١٢ھ (افطار کی دُعاکے وقت کے بیان میں عطر آلود دُولھا)
وکذا الجوزجانی کما فی المیزان۔
جوز جانی نے بھی کہا ہے جیسا کہ میزان میں ہے۔ (ت)
یہ اس مسئلہ میں آخر کلام ہے امید کرتا ہوں کہ یہ تحقیق وتفصیل اس تحریر کے غیر میں نہ ملے گی وﷲ الحمد وبہ التوفیق ایاہ نسأل ھدایۃ الطریق واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
________________
#10059 · صَومِ نفل
مسئلہ : از بنارس محلہ مانپور متصل کول چونرہ اونچی سیڑھی مرسلہ عبد الستار شوالھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ مین کہ تاریخ ماہ رجب کی روزہ رکھنا چاہئے یا نہیں بینواتوجروا
الجواب :
بیہقی شعب الایمان اور دیلمی نے مسند الفردوس میں سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوعا روایت کی :
فی رجب یوم ولیلۃ من صام ذلك الیوم وقام تلك اللیلۃ کان کمن صام من الدھر مائۃ سنۃ وقام مائۃ سنۃ وھو لثلث بقین من رجب وفیہ بعث اﷲ تعالی محمد اصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ۔
رجب میں ایك دن اور رات ہے جو اس دن کا روزہ رکھے اور وہ رات نوافل میں گزارے سوبرس کے روزوں اور سوبرس کے شب بیداری کے برابر ہو اور وہ رجب ہے اسی تاریخ اﷲ عزوجل نے محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو مبعوث فرمایا ۔
قال البیہقی منکر ( امام بیہقی نے اس روایت کو منکر کہا ہے۔ ت) نیز اسی میں بطریق ابان
حوالہ / References الفردوس بمأثور الخطاب حدیث٤٣٨١دارالکتب العلمیہ بیروت٣ / ١٤٢ ، شعب الایمان حدیث ٣٨١١دارالکتب العلمیہ بیروت٣ / ٣٧٤
کنز العمال بحوالہ ھب حدیث ٣٥١٦٩مکتبۃ التراث الاسلامی بیروت١٢ / ٣١٢
#10060 · صَومِ نفل
بن عیاش حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوعامروی :
فی رجب لیلۃ یکتب للعامل فیھا حسنات مائۃ سنۃ وذلك لثلث بقین من رجب فمن صلی فیہ اثنتی عشرۃ رکعۃ یقرأ فی کل رکعۃ فاتحۃ الکتاب وسورۃ من القرأن ویتشھد فی کل رکعۃ ویسلم فی اخرھن ثم یقول سبحن اﷲ والحمدﷲ ولاالہ الااﷲ واﷲ اکبر مائۃ مرۃ ویستغفر اﷲمائۃ مرۃ ویصلی عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم مائۃ مرۃ ویدعو لنفسہ ماشاء من امر دنیاہ واخرتہ ویصبح صائما فان اﷲ یستجیب دعاء کلہ الاان یدعوفی معصیۃ ۔ قال البیھقی ھو اضعف من الذی قبلہ قال ابن حجر فیہ متھمان۔
رجب میں ایك رات ہے کہ اس میں عمل نیك کرنے والے کو سو برس کی نیکیوں کا ثواب ہے اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے جو اس میں بارہ رکعت پڑھے ہررکعت میں سورہ فاتحہ اور ایك سورت اور ہر دورکعت پر التحیات اور آخر میں بعد سلام سبحن اﷲ والحمد ﷲ ولاالہ الااﷲ واﷲ اکبر سوبار استغفار سو بار درود سو بار اور اپنی دنیا وآخرت سے جس چیز کی چاہے دعا مانگے اور صبح کو رزہ رکھے تو اﷲ تعالی اس کی سب دعائیں قبول فرمائے سوائے اس دعا کے جو گناہ کے لیے ہو۔ (بیہقی فرماتے ہیں یہ روایت سابقہ روایت سے زیادہ ضعیف ہے۔ حافظ ابن حجر کہتے ہیں اس کے دو راوی متہم بالکذ ب ہیں۔ ت)
فوائد ہناد میں انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی :
بعث نبیا فی السابع والعشرین رجب فمن صام ذلك الیوم ودعا عند افطارہ کان لہ کفارۃ عشر سنتین ۔ اسنادہ منکر۔
رجب کو مجھے نبوت عطا ہوئی جو اس دن کا روزہ رکھے اور افطار کے وقت دعا کرے دس برس کے گناہوں کا کفارہ ہو( اس کی اسناد منکر ہے۔ ت)
حوالہ / References شعب الایمان حدیث٣٨١٢١دارالکتب العلمیہ بیروت٣ / ٣٧٤
کنز العمال بحوالہ شعب الایمان حدیث ٣٥١٧٠مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ١٢ / ٣١٢
ماثبت بالسنۃ مع اردوترجمہ بحوالہ ابن حجر ذکرماہ رجب ادارہ نعیمیہ رضویہ لال کھوہ موچی گیٹ لاہورص٢٥٢
تنزیہ الشریعۃبحوالہ فوائد ہناد کتاب الصوم حدیث٤١دارالکتب العلمیۃ بیروت٣ / ١٦١
#10062 · صَومِ نفل
جزء ابی معاذ مروزی میں بطریق شہر ابن حوشب ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے موقوفامروی :
من صام یوم سبع وعشرین من رجب کتب اﷲلہ صیام ستین شھراوھوالیوم الذی ھبط فیہ جبریل علی محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بالرسالۃ ۔
جو رجب کی ستائیسویں کا روزہ رکھے تو اﷲتعالی اس کے لیے ساٹھ مہینوں کے روزوں کا ثواب لکھے اور وہ وہ دن ہے جس میں جبریل علیہ الصلوۃ والسلام محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لیے پیغمبری لے کر نازل ہوئے۔
تنزیہ الشریعۃ سے ماثبت بالسنۃ میں ہے :
وھذاأمثل ماوردفی ھذاالمعنی ۔
یہ ان سب حدیثوں سے بہتر ہے جو اس باب میں آئیں۔
بالجملہ اس کے لیے اصل ہے اور فضائل اعمال میں حدیث ضعیف باجماع ائمہ مقبول ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ : شعبان المعظمھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روزہ رکھنا ماہ مبارك رجب مرجب کی تاریخ کو سوارمضان کے بہ نسبت اور روزوں کے فضیلت رکھتا ہے یا نہیں اور اگر رکھتا ہے تو کیا وجہ ہے اور ماسوا اس روزے کے درمیان سال بھر کے اور کون کون روزہ ایسا ہے جس کو حضرت رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد واسطے روزہ رکھنے کے فرمایا ہے اور اگر کوئی شخص روزہ رجب المرجب کو رکھے تو کس قدر مستحق ثواب کارہوگا اور نیز دوسرے روزوں میں اور اگر کوئی منع کرے اور روں کو اور منکر ہو خود تو وہ کون ہے گنہ گار ہے یا نہیں بینو اتوجروا۔
الجواب :
صوم وغیرہ اعمال صالحہ کے لیے بعد رمضان مبارك سب دنوں سے افضل عشر ذاالحجہ ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
مامن ایام العمل الصالح فیھن احب الی اﷲ تعالی من ھذہ الایام العشرقالوا یا رسول اللہ
دس دنوں سے زیادہ کسی دن کا عمل صالح اﷲ عزوجل کو محبوب نہیں صحابہ نے عرض کی یا رسول اﷲ
حوالہ / References تنزیہ الشریعۃبحوالہ جزء ابی معاذکتاب الصوم حدیث٤١دارا لکتب العلمیہ بیروت٣ / ١٦١
تنزیہ الشریعۃبحوالہ جزء ابی معاذکتاب الصوم حدیث٤١دارا لکتب العلمیہ بیروت٣ / ١٦١ ، ما ثبت بالسنۃ مع اردو ترجمہ ذکرماہِ رجب ارادہ نعیمیہ رضویہ لال کھوہ موچی گیٹ لاہورص٢٣٤
#10064 · صَومِ نفل
ولاالجہاد فی سبیل اﷲقال ولا الجہاد فی سبیل اﷲ الارجلا خرج بنفسہ ومالہ ثم لم یرجع من ذلك بشئی ۔ رواہ البخاری والترمذی وابوداؤد وابن ماجۃ و الطبرانی فی الکبیر بسند جید والبیہقی کلھم عن ابن عباس رضی اﷲتعالی عنھما والطبرانی فیہ بسند صحیح عن ابن مسعود والبزارفی مسندہ بسند حسن وابو یعلی بسند صحیح وابن حبان فی صحیحہ عن جابربن عبد اﷲرضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔
اور نہ راہ خدا میں جہاد فرمایا : اور نہ راہ خدا میں جہاد مگر وہ کہ اپنی جان ومال لے کر نکلے پھر ان میں سے کچھ واپس نہ لائے (اسے بخاری ترمذی ابوداؤد ابن ماجہ اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں سند جید کے ساتھ اور بیہقی تمام حضرات نے حضرت عبد اﷲبن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا سے روایت کیا ہے اور اس میں طبرانی نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ اور بزار نے اپنی مسند میں سند حسن کے ساتھ اور ابویعلی نے سند صحیح کے ساتھ اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت جابر بن عبدا ﷲرضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین سے روایت کیا ہے۔ (ت)
ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
ما من ایام احب الی اﷲان یتعبد لہ فیھا من عشر ذی الحجہ یعدل صیام کل یوم منھا بصیام سنۃ وقیام کل لیلۃ منھا بقیام لیلۃ القدر ۔ رواہ الترمذی وابن ماجۃ والبیھقی۔
اﷲ عزوجل کو عشرہ ذی الحجہ سے زیادہ کسی دن کی عبادت پسندیدہ نہیں ان کے ہر دن کا روزہ ایك سال کے روزوں اور ہر شب کا قیام شب قدر کے برابر ہے۔ (اسے ترمذی ابن ماجہ اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ ت)
خصوصا روز عرفہ کہ افضل ایام سال ہے اس کا روزہ صحیح حدیث سے ہزاروں روزوں کے برابر ہے اور دو سال کامل کے گناہوں کی معافی ایك سال گزشتہ اور ایك سال آئندہ ۔
الائمۃ الستۃ الاالبخاری عن ابی قتادۃ رضی اﷲعنہ
بخاری کے علاوہ ائمہ ستہ نے حضرت ابو قتادہ رضی اﷲعنہ
حوالہ / References جامع الترمذی باب ماجاء فی العمل فی ایّام العشرامین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی١ / ٩٤ ، السنن الصغیر للبیہقی باب العمل الصالح فی العشر الخ دارالکتب العلمیہ بیروت١ / ٣٧٨
جامع الترمذی باب ماجاء فی العمل فی ایام العشرامین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی١ / ٩٤ ، سُنن ابن ماجہ باب صیام العشرایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص١٢٥
#10065 · صَومِ نفل
قال سئل رسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن صوم یوم عرفۃ قال یکفرالسنۃ الماضیۃ والباقیۃ ولابی یعلی بسند صحیح عن سھل بن سعد رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من صام یوم عرفۃ غفرلہ ذنب سنتین متتابعین وللطبرانی بسند حسن والبیہقی واللفظ لہ عن ام المؤمنین رضی اﷲ تعالی عنہا قالت کان رسول اﷲصلی اﷲ تعالی علیہ وسلم یقول صیام یوم عرفۃ کصیام الف یوم۔
سے روایت کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے یوم عرفہ کے بارے دریافت کیا گیا تو فرمایا یہ سال گزشتہ اور آئندہ کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ اور ابویعلی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جس نے عرفہ کے دن روزہ رکھا اس کے مسلسل دوسالوں کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اور طبرانی میں سند حسن کے ساتھ اور بیہقی نے اور بیہقی کے الفاظ ہیں ام المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا گیا ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرمایا کرتے کہ عرفہ کے روزہ کا ثواب ہزار دن کے روزوں کے برابر ہے۔ (ت)
پھر سب دنوں سے افضل روزہ عاشورہ یعنی دہم محرم کا روزہ ہے اس میں ایك سال گزشتہ کے گناہوں کی مغفرت ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من صام یوم عرفۃ غفر لہ سنۃ امامہ وسنۃ خلفہ ومن صام عاشوراء غفرلہ سنۃ ۔ رواہ الطبرانی بسند حسن فی معجمہ الاوسط عن ابی سعید ن الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ۔
جس نے عرفہ کاروزہ رکھا اس کے پہلے اور آئندہ کے سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور جس نے عاشوراء کا روزہ رکھا اس کے ایك سال کے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں۔ اسے طبرانی نے معجم الاوسط میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے(ت)
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب الصیام قدیمی کتب خانہ کراچی١ / ٣٦٨ ، سنن ابن ماجہ باب صیام العشرایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص١٢٥
مسند ابو یعلٰی حدیث ٧٥١٠مؤسسہ علوم القرآن بیروت٦ / ٥٠٥
شعب الایمان حدیث ٣٧٦٤دارا لکتب العلمیہ بیروت٣ / ٣٥٧
الترغیب والترھیب بحوالہ معجم اوسط الترغیب فی صوم یوم عرفہ الخ مصطفی البابی مصر٢ / ١١٢
#10067 · صَومِ نفل
محرم کے ہردن کا روزہ ایك مہینہ کے روزوں کے برابر ہے۔
الطبرانی فی الکبیر الصغیر عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما بسند لا باس بہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من صام یوما من المحرم فلہ بکل یوم ثلثون حسنۃ ۔
طبرانی نے معجم الکبیر اور صغیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہم ا سے ایسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے جس میں کوئی حرج نہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جس نے محرم کا ایك روزہ رکھا اس کے لیے ہر دن میں تیس نیکیاں ہیں(ت)
رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
افضل الصوم بعد رمضان شعبان لتعظیم رمضان ۔ رواہ الترمذی واستغربہ والبیہقی فی الشعب وفیہ صدقۃ بن موسی۔
رمضان کے بعد سب سے افضل شعبان کے روزے ہیں تعظیم رمضان کے لیے۔ (اسے ترمذی نے روایت کرکے غریب کہا اور بیہقی نے شعب الایمان میں ذکر کیا اور اس میں ایك راوی صدقہ بن موسی ہے۔ ت)
تو رجب کے روزے بعد رمضان سب روزوں سے افضل کہنا صحیح نہیں ہاں بعض احادیث اس کی فضیلت میں مروی ہوئیں کہ فقیر نے اپنے فتاوی میں ذکر کیں ان سب میں بہتر حدیث موقوف ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے :
من صام یوم سبع عشرین من رجب کتب اﷲ تعالی لہ صیام ستین شھرا ۔
جو رجب کا روزہ رکھے اﷲ تعالی اس کے لیے پانچ برس کے روزوں کا ثواب لکھے۔
ایسی جگہ حدیث موقوف مرفوع ہے کہ تعیین مقدار اجر کی طرف رائے کواصلا راہ نہیں اور حدیث ضعیف فضائل اعمال میں باجماع ائمہ مقبول ہے کما فصلنا ہ بما لا مزید علیہ فی رسالتنا الھاد الکاف فی حکم الضعاف ( اس کی پوری تفصیل جس پر اضافہ دشوار ہے ہم نے اپنے رسالہ الھاد الکاف فی حکم الضعاف
حوالہ / References المعجم الکبیر حدیث ١١٠٨٢المکتبۃ الفیصلیہ بیروت١١ / ٧٢
جامع الترمذی ابواب الزکوٰۃباب ماجاء فی فضل الصدقۃ امین کمپنی دہلی١ / ٨٤ ، شعب الایمان حدیث ٣٨١٩دارالکتب العلمیہ بیروت٣ / ٣٧٧
تنزیہ الشریعۃبحوالہ جزء ابی معاذکتا ب الصوم حدیث٤١دارالکتب العلمیہ بیروت٢ / ١٦١
اس کے مطالعہ کے لیے رسالہ''منیر العین فی حکم تقبیل الابہا مین'' ملاحظہ ہو جو فتاوٰی رضویہ(جدید)جلد ٥ کے ص٤٢٩پر ہے۔
#10068 · صَومِ نفل
میں کی ہے۔ ت)احادیث صحاح وحسن وصوالح میں اور بھی بہت روزوں کے فضائل آئے ہیں جیسے شش عید وایام بیض کہ دونوں میں ہرایك سال بھر کے روزوں کا ثواب لاتا ہے کہ من جآء بالحسنة فله عشر امثالها- (جس نے کوئی نیکی کی اسے اس کا دس گنا اجر ملے گا ۔ ت) وروزہ دو شنبہ و روزہ پنجشنبہ وروزہ چہار شنبہ وپنجشنبہ کہ دوزخ سے آزاد ہیں اور روزہ چہار شنبہ وپنجشنبہ و جمعہ کہ جنت میں گوہر ویاقوت وزبرجد کا گھر بناتے ہیں بلکہ روزہ جمعہ یعنی جب اس کے ساتھ پنجشنبہ یا شنبہ بھی شامل ہو مروی ہوا کہ دس ہزار برس کے روزوں کے برابر ہے رواہ البیہقی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ مرفوعا(ا سے بیہقی نے حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوعا نقل کیا ہے۔ ت)روزہ سے منع کرنا خیر سے منع کرنا اور منا ع للخیر(خیر سے روکنے والا )کے وبال میں داخل ہونا ہے جب تك ذاتا یا عارضا ممانعت شرعیہ نہ ثابت ہو کے علاوہ روزہ ہائے رجب میں احادیث کثیرہ وارد ہیں جن میں بعض خود اوربعض بتعدد مرتبہ صالح رکھتی ہیں شیخ محقق مولانا عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ القوی نے ماثبت بالسنۃ میں ان کی تفصیل فرمائی۔
ومایروی عن الفاروق الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ فلان رجب کانت تعظمہ الجاھلیۃ ایضا وقد کان العھد قریبا والاحکام لم تتبین عند کثیر من الاعراب فتخشی الزیادۃ ولکل وجھۃ ھو مولیھا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
اور جو فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے پس اس لئے کہ اہل جاہلیت بھی رجب کی تعظیم کرتے تھے زمانہ جاہلیت اسلام سے قبل قریب تھا اور بہت سے عربوں پر احکام اچھی طرح واضح نہ ہوسکے تھے تو اس لئے رجب کے روزوں کے متعلق بیان میں از خود اضافہ کرنے کا خدشہ موجود ہے جبکہ ہر ایك کیلئے اپنے عمل کی راہ ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ : از موضع سرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب ھ
اکثر عورتیں مشکل کشا علی کا روزہ رکھتی ہیں کیسا ہے
الجواب :
روزہ خاص اﷲ عزوجل کے لیے ہے اگر اﷲکا روزہ رکھیں اور اس کا ثواب مولا علی کی نذر کریں
حوالہ / References القرآن ٦ / ١٦٠
کنز العمال حدیث ٢٤١٩١مؤسسۃ الرسالہ بیروت٤ / ٥٦٤ ، الترغیب والترھیب الترغیب فی صوم الاربعاء الخ مصطفی البابی مصر٢ / ١٢٦
شعب الایمان حدیث ٣٨٧٣دارالکتب العلمیہ بیروت٣ / ٣٩٧
الترغیب والترھیب الترغیب فی صوم الاربعاء مصطفٰے البابی مصر٢ / ١٢٦
#10070 · صَومِ نفل
توحرج نہیں مگر اس میں یہ کرتی ہیں کہ روزہ آدھی رات تك رکھتی ہیں شام افطار نہیں کرتیں آدھی رات کے بعد گھر کے کواڑ کھول کر کچھ دعا مانگتی ہیں اس وقت روزہ افطار کرتی ہیں یہ شیطانی رسم ہے واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ : از بلگرام شریف محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت صاحبزادہ سید ابراہیم میاں صاحب قادری دامت برکاتہم رمضان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اعتکاف آخر عشرہ رمضان شریف کا پورے دس روز میں ادا ہوتا ہے یا تین چار روز آخر میں بھی جائز ہے ایك شخص کا بیان ہے کہ مقصود مشروعیت اعتکاف کے واسطے شرف ادراك لیلۃ القدر کی ہے یہ کامل دہ میں حاصل ہوگا دوسرے شخص کا بیان ہے تین چار روز میں بھی جائز ہے ایسا دیکھا گیا ہے۔
الجواب :
اعتکاف عشرہ اخیرہ کی سنت مؤکدہ علی وجہ الکفایہ ہے جس پر حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مواظبت ومداومت فرمائی پورے عشرہ اخیرہ کا اعتکاف ہے ایك روز بھی کم ہو تو سنت ادا نہ ہوگی ہاں اعتکاف نفل کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ایك ساعت کا بھی ہوسکتا ہے اگر چہ بے روزہ ہو۔ ولہذا چاہئے کہ جب نماز کو مسجد میں آئے نیت اعتکاف کرلے کہ یہ دوسری عبادت مفت حاصل ہوجائے گی درمختار میں ہے :
سنۃ مؤکدۃ فی العشر الاخیر من رمضان ای سنۃ کفایۃ کما فی البرھان وغیرہ ۔
رمضان کے آخری عشرہ میں سنت مؤکدہ ہے یعنی سنت کفایہ ہے جیسا کہ برہان وغیرہ میں ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
واقلہ نفلا ساعۃ من لیل اونھار عند محمد وھو ظاھر الروایۃ عن الامام لبناء النفل علی المسامحۃ وبہ یفتی والساعۃ فی عرف الفقہاء جزء من الزمان لا جزء من اربعۃ وعشرین کمایقولہ المنجمون
امام محمد کے نزدیك کم سے کم نفلی اعتکاف دن و رات میں ایك گھڑی کا بھی ہوسکتا ہے اورامام اعظم سے بھی ظاہر الروایت میں ہے کیونکہ نفل کی بناء آسانی پر ہے اور اسی پر فتوی ہے عرف فقہا میں ساعت کا مفہوم زمانے کا ایك جزہے نہ کہ چوبیس گھنٹوں میں سے ایك گھنٹہ جو کہ اہل توقیت
حوالہ / References درمختار باب الاعتکاف مجتبائی دہلی١ / ١٥٦
#10071 · صَومِ نفل
کما فی غرر الاذکار وغیرہ ۔
کا مؤقف ہے جیسا کہ غرر الاذکار وغیرہ میں ہے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
الاعتکاف ینقسم الی واجب وھوالمنذور تنجیزا او تعلیقا والی سنۃ مؤکدۃ وھو اعتکاف العشر الاواخر من رمضان والی مستحب وھو ماسواھما ۔
اعتکاف واجب سنت مؤکدہ اور مستحب پر منقسم ہے واجب جس کی نذر مانی گئی ہو خواہ فی الفور یا معلق ہو اور سنت مؤکدہ وہ رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف ہے اور مستحب جوان مذکورہ دونوں صورتوں کے علاوہ ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے :
المسنون ھو اعتکاف العشر بتمامہ واﷲ تعالی اعلم۔
سنت اعتکاف وہ رمضان کا پورا عشرہ ہے۔ واﷲ تعالی اعلم ( ت)
________________
حوالہ / References درمختارباب الاعتکاف مطبع مجتبائی دہلی١ / ٥٧-١٥٦
فتح القدیرباب الاعتکاف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر٢ / ٣٠٥
ردالمحتارباب الاعتکاف مصطفٰے البابی مصر٢ / ١٤٣
#10073 · کتابُ الحج
مسئلہ : مسئولہ واحد یارخاں صاحب از بریلی ذی قعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت کا حج کوجانا درست ہے یا نہیں
الجواب :
حج کی فرضیت میں عورت مرد کا ایك حکم ہے جوراہ کی طاقت رکھتا ہواس پر فرض ہے مرد ہو یا عورت جوادا نہ کرے گا عذاب جہنم کا مستحق ہوگا۔ عورت میں اتنی بات زیادہ ہے کہ اسے بغیر شوہر یا محرم کے ساتھ لیے سفر کوجانا حرام اس میں کچھ حج کی خصوصیت نہیں کہیں ایك دن کے راستہ پر بے شوہر یا محرم جائے گی تو گنہگار ہوگی ہاں جب فرض ادا ہوجائے تو بار بار عورت کو مناسب نہیں کہ وہ جس قدر پردے کے اندر ہے اس قدر بہتر ہے۔ حدیث میں اس قدر ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے امہات المومنین کو حج کراکر فرمایا ھذہ ثم حصر البیوت یہ ایك حج ہوگیا اس کے بعد گھر کی چٹائیاں۔ پھر یہ بھی اولویت کا ارشاد ہے نہ کہ عورت کو دوسرا حج ناجائز ہے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اس کے بعد پھر حج کیا۔ واﷲتعالی اعلم ۔
مسئلہ تا : از ایٹہ رمضان مبارك مرسلہ اسحاق نائب مدرس تحصیلی اسکول
جناب مولانا صاحب! عرض حال ذیل کو ملاحظہ فرماکر جواب ضرور ضرور لکھ دیجئے گا :
() زید خرچ زاد راہ آمدورفت کا اپنی ذات خاص سے رکھتا ہے اگر والدین اجازت حج مکہ معظمہ کی نہ دیں تو حج نامبردہ کا ہوسکتا ہے یا کیا
#10075 · کتابُ الحج
() والدین پر قرضہ قلیل اور حقیقت زمینداری اس سے کہیں زیادہ قیمت کی ہے۔
() زید مذکور کی اہلیہ نیز عیال اطفال سے کوئی نہیں ہے۔
الجواب :
جبکہ زید اپنے ذاتی روپے سے استطاعت رکھتا ہے تو حج اس پر فرض ہے اور حج فرض میں والدین کی اجازت درکار نہیں بلکہ والدین کو ممانعت کا اختیار نہیں زید پر لازم ہے کہ حج کو چلا جائے اگر چہ والدین مانع ہوں والدین پر قرض ہونا اس شخص پر فرضیت میں خلل انداز نہیں۔ واﷲتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ : از شہر کہنہ مسئولہ سید محمد نوراﷲصاحب اشرفی جیلانی محرر دار الافتائے اہلسنت بریلی ذی الحجہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کو بوجہ ہونے امکان حج کے جب کبھی حج کی ترغیب دی تو کہتا ہے کہ ہم نے حاجیوں کی اکثر مدد کی ہے پس ہم پر حج کرنا فرض نہیں ہے اور کسی عالم کا قول نہیں مانتا پس کیا اس سے حج شرعا ساقط ہے
الجواب :
یہ کلمہ کفر ہے حاجیوں کی مدد کرنے سے حج ساقط نہیں ہوسکتا اس شخص پر توبہ وتجدید اسلام فرض ہے تجدید نکاح وتجدید اسلام کرے۔ واﷲتعالی اعلم ۔
مسئلہ : از بدایوں مولوی محلہ مکان عطا احمد صاحب از طرف اہلیہ شاہ ابو الحسین صاحب مرحوم ومغفور رمضان ھ
حضرت جناب مولانا صاحب ! بعد سلام سنت واضح ہو مجھ کو سخت ضرورت وانتشار برائے دریافت ایك امر واقع ہوگیا وہ یہ ہے کہ میں اس سال جو حج بیت اﷲکو جاتی ہوں تو بارادہ حج بدل اپنے پیر و مرشد جناب نانا صاحب حضرت شاہ آل رسول رضی اللہ تعالی عنہ کے جاتی ہوں مارہرہ آکر ایك امر جدید دریافت ہوا کہ جس سے آج اور اب تك بے خبر محض تھی وہ امر یہ ہے کہ جناب مرحومہ مغفورہ والدہ صاحبہ جو بیت اﷲتشریف لے گئی تھیں وہاں جاکر ان کو مرض الموت پیدا ہوا اور بتاریخ آٹھویں ذی الحجہ مقام منی پہنچ کر انتقال ہوگیا اور حج نہیں ہوا تو مجھ پر اب حج والدہ مغفورہ لازمی ہوگیا چونکہ میں اپنے ہمراہ بوجہ محرمیت برادر زادہ کو لیے جاتی ہوں جس کی عمر سال کی ہے اور اول مرتبہ یہ برادر زادہ بیت اﷲجاتا ہے تو دریافت طلب آپ سے یہ امر ہے کہ میں اس بچہ سے حج والدہ مغفورہ کرادوں اور خود حج بعوض پیر وشد
#10076 · کتابُ الحج
کروں اور میں سابق میں اپنے شوہر اور اپنے والد مغفور کا حج کر کے آئی ہوں اور میرا ذاتی حج عرصہ اٹھارہ سال ہوا کہ ہوچکا تھا اگر برادر زادہ سے حج والدہ مرحومہ نہ ہوسکتا ہو تو میں خود قیام کرکے ایك سال تك دونوں حج مرشد ووالدہ کروں ان امور کا جواب جلد مرحمت ہو۔
الجواب :
بعد ادائے تسلیم خادمانہ ملتمس اگر حضرت کی والدہ ماجدہ رحمۃ اﷲتعالی علیہا پر اسی سال حج فرض ہوا تھا اس سے پہلے کسی برس میں مال وغیرہ اتنا نہ تھا کہ حج فرض ہوتا تو جب تو ان کا حج بفضلہ تعالی ادا ہوگیا بلکہ ایسا ادا ہوا کہ ان شاء اﷲ قیامت تك ہر سال حج ادا کرتی رہیں گی اور اگر اس سال سے پہلے فرض ہوچکا تھا تو البتہ حج فرض ان پر باقی رہا حضرت ان کی طرف سے ادا فرمائیں یا ادا کرادیں تو اجر عظیم ہے اب دیکھا جائے کہ یہ صاحبزادے جب سے بالغ ہوئے کسی سال زمانہ حج میں مال وغیرہ اتنا سامان ان کے پاس تھا کہ ان پر حج فرض ہوگیا یا اب تك ان پر فرض نہ ہوا اور اگر ان پر اصلا فرض نہ ہوا تو حضرت ان کو والدہ ماجدہ کی طرف سے حج کرادیں اور خود پرنور پیرو مرشدبرحق رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے کریں اور اگر خودان پر حج فرض ہولیا ہو تو یہ دوسرے کی طرف سے حج کرنے سے گنہگار ہوں گے مگرحج جس کی طرف سے کریں گے ادا ہوجائے گا ان پر گناہ رہے گا اور ایسی صورت میں ان سے حج غیر کرانا بھی مکروہ ہے کہ ایك گناہ کا حکم دینا ہے زیادہ حد ادب!
مسئلہ : از نواب مولوی سلطان احمد خاں صاحب ذیقعدہ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حج بدل کی کیا کیا شرائط ہیںبینو اتوجروا
الجواب :
حج بدل یعنی نیا بۃ دوسرے کی طرف سے حج فرض ادا کرنا کہ اس پرسے اسقاط فرض کرے ان شرائط سے مشروط ہے :
() جس کی طرف سے حج کیا جائے قبل احجاج اس پر حج فرض ہو اگر فقیر نے حج کرادیا پھر غنی ہوا خود حج کرنا فرض ہوگا۔
()محجوج عنہ حج بدل یعنی نائب کے وقوف عرفہ کرنے سے پہلے خود ادا سے عاجز ہو اگر بحال قدرت حج کرایا پھر عاجز ہوگیا از سر نواحجاج لازم ہوگا۔
() عجز اگر ممکن الزوال تھا مثل حبس ومرض تو شرط ہے کہ تادم مرگ دائم رہے اگر بعد حج خود قادر ہوا خود ادا فرض ہوگی بخلاف اس عجز کے کہ قابل زوال نہیں جیسے نابینائی اگر بطور خرق عادت
#10078 · کتابُ الحج
بعد احجاج زائل بھی ہوجائےاعادہ ضرور نہیں۔
() حج بدل کرنے والا تنہا ایك محجوج عنہ کی طرف سے حج واحد کی نیت کرے مثلا احرمت عن فلان یا اللھم لبیك عن فلان اگر اس کی طرف سے نیت نہ کی یا دو حج کی نیت کی ایك اس کی طرف سے ایك اپنی طرف سے یادو شخصوں کی طرف سے نیت کی ایك اس کی جانب ایك منیب آخر کی جانب سے تو کافی نہ ہوگا۔
(۵) یہ حج بامر محجوج عنہ ہو بلا اجازت دوسرے کی طرف سے حج کافی نہ ہوگا مگر جبکہ وارث اپنے مورث کی طرف سے حج کرے یا کرائے لقیامہ مقامہ خلافۃ۔
() مصارف آمد و رفت وسائر نفقہ حج کل یا اکثر مال محجوج عنہ سے ہوں۔
() حج اگر بحیات محجوج عنہ ہو توجسے اس نے امر کیا وہی حج کرے وہ دوسرے سے کرادے گا تو ادا نہ ہوگا اور اگر بعد وفات محجوج عنہ ہے تو مامور دوسرے کو بھی اپنی جگہ قائم کرسکتا ہے اگر چہ میت نے اس کا نام لے کروصیت کی ہوکہ فلاں میری طرف سے حج کرے ہاں اگر صراحۃ اس نے نہی کردی تھی کہ وہی کرے نہ دوسرا تواب دوسرا کافی نہیں۔
() حج بدل کرنے والا اکثر راستہ سواری پر طے کرے اگر باوصف گنجائش نفقہ پیادہ حج کرےگا نفقہ واپس دے دے گا اور حج اس کی طرف سے نہ ہوگا۔
() محجوج عنہ جب اہل آفاق سے ہو تو لازم ہے کہ اس کی طرف سے حج آفاقی کیا جائے اگر اس نے حج کو بھیجا اس نے عمرہ کا احرام باندھا بعد عمرہ مکہ معظمہ سے احرام حج باندھا اس کی طرف سے حج نہ ہوگا کہ یہ حج مکی ہوانہ آفاقی ہاں اگر قریب حج میقات کی طرف نکل کر احرام حج میقات سے باندھے تو جائز ہے کہ حج آفاقی ہوا نہ مکی۔
() مخالفت نہ کرے مـثلا تنہا حج کے لیے امر کیا تھا اس نے قران یا تمتع کیا نفقہ واپس دے گا اور حج اس کی طرف سے نہ ہوگا۔
() حج بدل کرنے والا حج صحیح اس دفعہ میں ادا کرے ناعاقل بچے یا مجنون کا حج کافی نہیں ہاں مراہق کا کافی ہے یونہی اگر وہ حج فاسد کردیا کافی نہ ہوگا اگر چہ قضا بھی کرے۔ بیس شرطیں منسك متقسط میں ہیں انہیں گیارہ میں آگئیں۔ واﷲتعالی اعلم
حوالہ / References المنسك المتقسط مع ارشادالساری باب الحج عن الغیردارالکتاب العربی بیروت ص٢٩٢)
#10080 · کتابُ الحج
مسئلہ : ازمارہرہ مطہرہ درگاہ مقدس حضرت سید حامد حسن میاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم شوالھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك بیوہ پچپن برس کی عمر ہے دوبارہ پہلے اپنی طرف سے لوگوں کو بھیج کر حج بدل کراچکی ہے اس سے بعض صاحبوں نے کہا کہ وہ حج نہ ہوئے خود حج کو جا اس نے محرم نہ ہونے کی وجہ سے نکاح کیا مگر ضعیفہ مریضہ ہے اس صورت میں اس کے وہ حج بدل ادا ہوگئے یا اب خود اس پر حج لازم ہے یا کیا حکم ہےبینو اتوجروا
الجواب :
زندگی میں جو کوئی حج بدل اپنی طرف سے بوجہ عجز ومجبوری کرائے اس حج کی صحت کے لیے شرط ہے کہ وہ مجبوری آخر عمر تك مستمررہے اگر حج کے بعد مجبوری جاتی رہی اور بذات خود حج کرنے پر قدرت پائی تو اس سے پہلے جتنے حج بدل اپنی طرف سے کرائے ہوں سب ساقط ہوگئے حج نفل کا ثواب رہ گیا فرض ادا نہ ہوا اب اس پر فرض ہے کہ خود حج کرے پھر اگر غفلت کی اور وقت گزر گیا اور اب دوبارہ مجبوری لاحق ہوئی تو از سر نوحج بدل کرانا ضرور ہے ہاں اگر کسی کی معذوری ایسی ہوجو عادۃ اصلا زوال پذیر نہیں اور اس نے حج بدل کرلیا اور اس کے بعد بمحض قدرت الہی مثلا کسی ولی کی کرامت سے وہ عذر نا قابل الزوال زائل ہوگیا مثلا اندھے نے حج بدل کرایا تھا پھر رب العزۃ نے اسے آنکھیں دے دیں تو اس کا وہ حج بدل ساقط نہ ہوا وہی کافی ہے خود اگر حج کرے سعادت ہے ورنہ فرض ادا ہوگیا ایسا زوال عذر کہ کرامت خرق عادت ہو معتبر نہیں مسئلہ شرعیہ تو یہ ہے اور صورت سوال سے ظاہر کہ عورت نے پہلے جو دو حج بدل کرائے یا تو وہ حقیقۃ ایسی مجبوری نہ تھی کہ خود نہ جاسکتی یا مرض وضعف وغیرہا کی وجہ سے مجبوری تھی اور بعد کو وہ مجبوری زائل ہوگئی کہ اس نے خود حج کا قصد کیا جس پر دلیل روشن اسی نیت سے اس کا نکاح کرنا ہے ورنہ پچپن سالہ عورت کو نکاح کی کیا حاجت تھی بہر حال ان دونوں صورتوں میں کوئی شکل ہو وہ دونوں حج بدل یا تو سرے سے ناکافی تھے یا اب ساقط ہوگئے صرف ثواب نفل رہا فرض گردن پر باقی ہے خود ادا کرے اور مجبور وناامید ہوتو پھر حج بدل کرائے۔ وباﷲ التوفیق واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ تا : از پیر بہوڑ بانکی پور از محمد عصمت اللہ صاحب محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك خوشحال شخص اپنی متوفی بیوی کی طرف سے (جو دولت مند تھیں اور شوق حج کا مصمم ارادہ رکھتی تھیں)حج بدل کرانا چاہتے ہیں لہذا ان کو امور ذیل میں حکم شرع شریف ناطق فرمایا جائے :
#10081 · کتابُ الحج
() مستطیع شخص جواپنا فرض ادا کرچکا کسی دوسرے کی طرف سے حج بدل کرسکتا ہے یا نہیں
() غیرمستطیع جس پر حج فرض نہیں ہے حج بدل کے واسطے مقرر ہوسکتا ہے یا نہیں
() بہر کیف حج بدل کرنے والے کو خاص مکہ معظمہ میں وہاں کا زمانہ حج کا خرچ دے کر مقرر کرلینا کافی ہے یانہیں
() حج بدل کرنے والا شخص مبدل منہ کے مقام قیام کے قریب باش لیا جائے اور آمدورفت کا تمام خرچ اس کو دیا جائے تویہ افضل ہوگا یا صرف بمبئی یا خاص مکہ معظمہ میں حج تك مقرر کرلیا جائے وبینو ابحو الۃالکتاب توجروا عند اﷲ الوھاب(کتاب کے حوالے سے بیان کیجئے اﷲ وہاب سے اجر پائیے ۔ ت)
الجواب :
() کرسکتا ہے واﷲتعالی اعلم۔
() اس میں اختلاف ہے اور بہتر احتراز واﷲتعالی اعلم۔
() اس قسم کے حج بدل جو کرائے جاتے ہیں ان سے فرض تو اتر سکتا نہیں حج عبادت بدنی اور مالی دونوں سے مرکب ہے جس پر حج فرض تھا اور معاذاﷲ بے کئے مرگیا ظاہر ہے کہ بدنی حصہ سے تو عاجز ہوگیا رب عزوجل کی رحمت کہ صرف مالی حصہ سے اس کی طرف سے حج بدل قبول فرماتا ہے جبکہ وہ وصیت کرجائے اور رحمت پر رحمت یہ کہ وارث کا حج کرانا بھی قبول فرمایاجاتا ہے اگر چہ میت نے وصیت نہ کی حج بدل والے کو اسی شہر سے جانا چاہئے جو شہر میت کا تھا تاکہ مالی صرف پوراہو مکہ معظمہ سے حج کرادینا اس میں داخل نہیں رہا ثواب اس کی امید بھی بخیر ہے حج کرانے والے صاحب اس پر اجرت لیتے ہیں اور جب اجرت لی ثواب کہاں اور جب انہیں کوثواب نہ ملا میت کو کیا پہنچائیں گے خصوصا بعض متہور یہ ظلم کرتے ہیں کہ چار چار شخصوں سے حج بدل کے روپے لے لیتے ہیں اﷲتعالی مسلمانوں کو ہدایت فرمائے واﷲتعالی اعلم۔
() اس کا جواب اوپر آچکا اورخرچ آمد ورفت دونوں دیاجائے واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : از میرٹھ ڈاك خانہ بہادر گڑھ مسئولہ محمد صادق صاحب محرم الحرام ھ
علماء عظام وکرام! اس مسئلہ میں کیا ارشاد ہوتا ہے کہ کوئی شخص حج بدل کو گیا اور حج کرنے والے نے چالیس روپے اس کے بال بچوں کے خرچ کے واسطے چار ماہ کے لیے دیے اور پچاس روپے اس کو خرچ کے واسطے مکہ معظمہ تك دیے اور کہا کہ باقی خرچ مکہ معظمہ جاکر دے دوں گا اورٹکٹ جہاز کا حج
#10083 · کتابُ الحج
کرنے والے کی طرف سے اس نے لے لیاخداوندتعالی کے حکم سے جہاز چھ سومیل جاکر بوجہ آگ لگنے کے واپس آگیا اب حج کرانے والے نے کہا کہ ٹکٹ جہاز کا مجھے واپس کردو تو اس نے فورا واپس کردیا اور اس حج بدل کرنے والے نے یہ کہا کہ آپ ٹکٹ واپس کیوں لیتے ہیں اب میں دوسرے جہاز میں چلاجاؤنگا چاہے آپ جائیں یا نہ جائیں باقی اورخرچ مجھے دے دیجئے حج کرانے والے نے کہا کہ میں خود تو جاتا ہی نہیں ہوں اب میں باپ کی طرف سے نہیں کراتا ہوں تو حج بدل کرانے والے نے فورا ٹکٹ واپس کردیا اور ڈیڑھ ماہ حج بدل کرنے والے نے اس پچاس روپے میں سے کھا یا اور کرایہ ریل کا ممبئی سے مراد آباد تك انہیں پچاس روپے سے خرچ ہوا ایك طرف اب حج بدل کرنے والے یہ فرماتے ہیں کہ حساب کرکے جو روپیہ تمہارے پاس بچا ہے وہ ہم کو دے دو حج بدل کرنیوالے نے یہ کہا کہ میرے پاس سب خرچ ہوگیا اب حج بدل کرنے والے کے ذمہ روپیہ دینا آتا ہے یا نہیں اور حج بدل کرنے والے کا حرج دوماہ کا ہوااورحج بدل کرنے والے کی آمدنی ماہوار بتیس روپے کی تھی۔
الجواب :
اگر وہ روپے شخص مذکور نے اسی کام میں اٹھائے تو ان کا تاوان اس پر نہیں اور اگر اس سے جداکسی اپنے ذاتی کام میں اٹھائے تو تاوان لازم ہے اور اس بات میں کہ اسی کام میں وہ روپے صرف ہوئے شخص مذکور کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے اور حرجہ پانے کا اسے استحقاق نہیں اگر چہ اس کی ماہوار آمدنی ہزار روپے ہو۔ واﷲتعالی اعلم۔
مسئلہ تا ۲۹۱ : از پٹنہ عظیم آباد مرسلہ محمدعمر صاحب رمضان المبارك ھ
() ایك شخص عازم بیت اﷲشریف ہے اور اس کے ایك عارضہ یہ ہے کہ بعد اجابت قطرات سرخ زائد از ایك گھنٹہ برابر آیا کرتے ہیں کہ بغیر لنگوٹ نہیں رہ سکتا ہے بعد ایك گھنٹے کے جب قطرات موقوف ہوں تب استنجا کرکے کپڑا پہنتا ہے تو ایسا شخص جو بغیر لنگوٹ نہیں رہ سکتا احرام کیونکر باندھے کیونکہ لنگ احرام تو روز ناپاك ہوا کرے گا اور بسبب پیری اور بیماریوں کے غسل سے بھی مجبور ہے تو صرف تیمم بعوض غسل کرلے یا کیا
() سرما میں سوا چادراحرام کے کوئی کمبل وغیرہ اوپر سے اوڑھ سکتا ہے یا کیا اور نہیں تو صدمہ سرما سے محفوظ رہنے کی کیا صورت ہے بینوا توجروا
#10084 · کتابُ الحج
الجواب :
احرام میں لنگوٹ باندھنا مطلقا جائز ہے سلانہ ہوکہ ممانعت لبس مخیط بروجہ معتاد سے ہے یاسر اور منہ کے چھپانے سے اور نادو ختہ لنگوٹ میں دونوں باتیں نہیں۔
فی الدرالمختار بعد الاحرام یتقی ستر الوجہ والراس بخلاف بقیۃ البدن ولبس قمیص وسراویل ای کل معمول علی قدر بدن اوبعضہ وقباء ولولم ید خل ید یہ فی کمیہ جاز الا ان یزررہ اویخللہ ویجوز ان یرتدی بقمیص وجبۃ ویلتحف بہ فی نوم وغیرہ اتفاقا ۔
درمختار میں ہے محرم چہرہ اور سرکوڈھانپنے سے پرہیز کرے بخلاف بقیہ بدن کے اور قمیص اور شلوار پہننے سے بچے یعنی ہراس لباس کو پہننے سے پرہیز کرے جو انسان کے تمام قد یا بعض بدن کے موافق بنایا جاتا ہے اور قبا پہننے سے پرہیز کرے یا اگر محرم قبا کی دونوں آستینوں میں اپنے ہاتھ نہ ڈالے تو جائز ہے مگر یہ کہ اسے گھنڈی یا کانٹے سے اٹکادے توجائز نہیں اور باتفاق یہ جائز ہے کہ محرم قمیص وجبہ کو بطور چادر استعمال میں لائے یا سونے وغیرہ کی حالت میں جبہ کو بطور لحاف لپیٹے(ت)
اور ایسی ضرورت شدیدہ کی حالت میں تو اگر لنگوٹ نا جائز بھی ہوتا اجازت دی جاتی لان الضرورات تبیح المحظورات (ضرورتیں ممنوعات کوبھی مباح کردیتی ہیں۔ ت) ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا نے سفر حج میں اپنے حاملان محمل کریم کو ایك ضرورت خاصہ کے سبب تہ بند کے نیچے تنبان یعنی جانگیا پہننے کا حکم دیا کما فی صحیح البخاری (جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے۔ ت)کمل یا بانا ت یا اونی چادر وغیرہ بے سلے کپڑے اگر چہ دوچارہوں اوڑھنے کی اجازت ہے بلکہ سوتے وقت اوپر روئی کا انگرکھا چغہ لبادہ چہر ہ چھوڑ کر بدن پر ڈال لینا یا نیچے بچھالینا بھی ممنوع نہیں بلکہ بیداری میں بھی انہیں کندھوں پر ڈال سکتا ہے جبکہ آستین میں ہاتھ نہ ڈالے نہ بند باندھے نہ کسی اور ذریعہ سے بندش کرے کماقد مناہ عن الدروذلك لانہ لیس من اللبس المعتاد(جیسا کہ ہم در کے حوالے سے بیان کر آئے کیونکہ یہ عادۃپہننے کی طرح نہیں ہیں۔ ت) باایں ہمہ ضعیف کمزور کو دو تدبیریں اور ملحوظ رہیں تو انسب اولا تمتع کرے کہ تنہا حج کرنے سے افضل بھی ہے اور احرام کی مدت بھی کم ہوگی یعنی محاذات یلملم سے کہ سمندر میں عدن سے آگے آئیگی صرف عمرے کا احرام
حوالہ / References درمختارکتاب الحج فصل فی الاحرام مطبع مجتبائی دہلی١ / ١٦٤
صحیح بخاری باب مایلبس المحرم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ٢٠٩
#10086 · کتابُ الحج
باندھے مکہ معظمہ پہنچتے ہی طواف وسعی سے عمرہ بجالاکراحرام کھولدے اب بلاتکلف ہشتم ذی الحجہ تك بلااحرام مکہ معظمہ میں قیام کرسکتا ہے جو چاہے پہنے اوڑھے سرسے عمامہ باندھے جوچاہے کرے۔ یہ احرام صرف پانچ روز رکھنا ہوگا۔ بعدہ آٹھویں کو پھر احرام حج کا باندھے منی کو جائے عرفات ومزدلفہ سے پلٹ کر دسویں تاریخ جب پھر منی میں آئیگا اورجمرۃ العقبہ کی رمی کرکے قربانی جو اس پر بوجہ تمتع واجب تھی بجالائیگا اس کے بعد سر منڈائے یا بال کتروائے احرام کھل گیا سوا عورتوں کے(کہ بعد طواف زیارت حلال ہوں گی) جو کچھ احرام نے حرام کیا تھا سب حلال ہوگیا تو یہ احرام پورے تین دن بھی نہ رہا۔
ثانیا یہاں بمبئی سے دالان کی شکل کی ایك چیز کھیچیوں کی بنوالے جس کی تین دیواریں ہوں ہر ایك آدھ گز یا قدرے زائد کی اور اوپر چھت پٹی ہواور دروازہ زمین بالکل خالی ہو تینوں دیواراور چھت کوروئی وغیرہ جس سے چاہیں منڈھ لیں سوتے وقت سرہانے اس مکان کو رکھ کر سراس کے دروازہ سے داخل کریں کہ چہرہ اس کے سائے میں رہے باقی بدن پر کپڑا اڈال لیں اب اس مکان کی وجہ سے سر ہوائے سردسے محفوظ ہوگیا اور رو وسر کاچھپانا بھی لازم نہ آیا
فی الدر المختار من فصل الاحرام لا یتقی (ای المحرم) الاستحمام والا ستظلال ببیت ومحمل لم یصب راسہ اووجہہ فلواصاب احدھماکرہ اھ وفیہ ایضا قالوا لودخل تحت ستر الکعبۃ فاصاب راسہ اووجھہ کرہ والافلابأس بہ ۔
درمختار کی فصل احرام میں ہے(محرم) کا حمام میں جانا یا ایسے گھریا کجاوہ کے سایہ میں جانا منع نہیں جواس کے سر اور چہرہ کونہ ڈھانپے اگر ان میں سے کسی کو ڈھانپتا ہے تو مکروہ ہے اور اس میں یہ بھی ہے فقہا نے کہا ہے کہ اگر محرم غلاف کعبہ کے نیچے داخل ہوگیا اور اس کے سریا چہرہ کو غلاف لگا تو کراہت ہے اور اگر نہیں تو کوئی حرج نہیں۔ (ت)
جنابت سے طہارت کے لیے تو آپ ہی تیمم کرے گا جبکہ نہانے پر قادر نہ ہو اور احرام کے وقت جو غسل مسنون ہے اس پر قدرت نہ ہوتو اس کے عوض تیمم مشروع نہیں کہ وہ غسل نظافت کے لیے ہے نہ طہارت کے لیے کہ طہارت تو حاصل ہے اور تیمم سے طہارت ہوتی نہ نظافت بلکہ بدن پر غبار لگنا خلاف نظافت ہے تو ایسا شخص اس غسل کے عوض کچھ نہ کرے صرف وضو کافی ہے ۔
حوالہ / References درمختارکتاب الحج فصل فی لاحرام مطبع مجتبائی دہلی١ / ١٦٤
درمختار کتاب الحج فصل فی لاحرام مطبع مجتبائی دہلی١ / ١٦٤
#10087 · کتابُ الحج
فی الدرالمختار من شاء الاحرام توضأ وغسلہ احب وھو للنظافۃ لالطہارۃ فالتیمم لہ عند العجز من الماء لیس بمشروع لانہ تلوث اھ ای فی بعض الصور حیث یصیب الغبار والافمن تیمم علی مرمر مغسول جاز ولم یکن تلوثا۔ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
درمختار میں ہے جس نے احرام کا ارادہ کیا وہ وضو کرے غسل اس کے لیے افضل ہے اور یہ بات نظافت کے پیش نظر ہے طہارت کے لیے نہیں اگر محرم کے پاس پانی نہیں تو وضو کی جگہ تیمم نہ کرے کیونکہ یہ تو مٹی میں ملوث ہونا ہے اھ یعنی یہ تلوث ان صورتوں میں لازم آتا ہے جہاں غبار ہو اگر دھوئے ہوئے سنگ مرمر پر تیمم کیا تو جائز ہوگا کیونکہ اب تلوث کا خطرہ نہیں۔ واﷲسبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ : از بمبئی محلہ قصاباں متصل کرافٹ مارکیٹ مکان گورے بابو صاحب مسئولہ حضرت سید حامد حسین میاں صاحب دام ظلہم ذیقعدہھ
معظمی مکرمی مدظلہ العالی السلام علیکم ورحمۃاﷲوبرکاتہ حجاج قطعی معلم وبدویان کے قبضہ میں ہوتے ہیں اکثر ۷ ذی الحجہ کو روانہ ہوکر منی میں قیام کرتے ہیں اور شب نہم منی شریف سے روانہ ہوکر صبح پہنچتے ہیں اور مزدلفہ سے بھی پچھلی شب میں روانہ ہوجاتے ہیں آپ حضرات بدویان کی سخت مزاجی سے خوب واقف ہیں وہ کسی کا کہا نہیں سنتے کیا کیا جائے بجز اس کے کہ آپ دعا فرمادیں کہ بدویان انہیں اوقات میں روزانہ ہوں جن کی بابت حکم ہے فقیر کوشش بلیغ کرے گا بشرطیکہ دیگر حجاج نے میرے کلام کی تائید کی اگر فقیر تنہا ہوتا تو کچھ قافلہ کی ہمراہی کی پروانہ کرتا اور پورے طورپر حسب تحریر رسالہ اوقات معینہ کی پابندی کرتا اور اب بھی ان شاء اﷲ حتی المقدور پابندی کرےگا اﷲتعالی میری امداد فرمائے آمین ثم آمین!
دوم یہ کہ عورت معذور اور غیرمعذور کی جانب سے وکالۃ ہر سہ یوم رمی جائز ہے یا نہیں کیونکہ علاوہ مجمع بارہویں تاریخ قبل دوپہر قافلہ روانہ ہوتا ہے میں تنہا رہ جاؤں گا بعد زوال رمی کرکے قافلہ سے آملوں گا والسلام
الجواب :
بشرف ملاحظہ عالیہ بابرکت والا درجت حضرت مولانا سید حامد حسین میاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم السلام علیکم ورحمۃ اﷲوبرکاتہ۔ بعد ادائے آداب معروض مطوفون کو اگر اہل قافلہ مل کر
حوالہ / References درمختارکتاب الحج فصل فی الاحرام مطبع مجتبائی دہلی١ / ١٦٣
#10089 · کتابُ الحج
یا ایك ہی شخص جوان کے نزدیك ذی وجاہت ہو مجبور کریں تو ان کو ماننا پڑتا ہے فقیر کو اس کا تجربہ ہے اور اگر نہ مانیں اور مجبوری ہوتو نویں رات منی میں صبح تك ٹھہرنا اور آفتا ب چمکنے پر عرفات کو چلنا سنت ہے مجبورانہ اس کے ترك سے حج میں کوئی نقص نہ آئے گا مزدلفہ کی حدود کے اندر دسویں تاریخ کے طلوع صبح صادق سے طلوع آفتاب تك کسی طرح موجود ہونا اگر چہ ایك لحظہ ہوا دائے واجب کے لیے کافی ہے تو اگر حدود مزدلفہ سے نکل جانے سے پہلے صبح صادق ہوگئی توواجب ادا ہوگیا اگر چہ سنت ترك ہوگئی ہاں اگر اتنی رات سے چل دیا کہ صبح صادق نہ ہونے پائی اور مزدلفہ کی حدود سے نکل گیا تو بے شك واجب ترك ہوا قربانی دینی آئے گی مگر بدوی ایسا نہیں کرتے اور عورتوں اور نہایت کمزور مردوں اوربیماروں کو بخوف ہجوم خود شرع بھی رات سے چل دینے کی اجازت فرماتی ہے انہیں کوئی جرمانہ دینا نہ ہوگا بارہویں تاریخ قبل زوال چل دینے کی ضرور اب وہاں عادت نکالی ہے اور یہ ہمارے مذہب وظاہر الروایۃ میں گناہ ہے فقیر نے تو جمالوں کو مجبور کیا اور بحمد ﷲ ان کو رکنا پڑا کہ میں اور میرے ساتھ کے سب مردوعورت بعد زوال رمی کرکے روانہ ہوئے جہاں وہ ہر گز نہ مانیں اور پیچھے رہ جانے میں اندیشہ صحیح ہوتو یہ صورت مجبوری کی ہے ضعیف روایت پر عمل کرکے قبل زوال رمی کرکے جاسکتا ہے عورت ہونا رمی میں نیابت کے لیے عذر نہیں ہاں ایسا بیمار ہوکہ رمی کو نہ جاسکے تو اس سے اجازت لے کر دوسر ا اس کی طرف سے رمی کرسکتا ہے یا جو غشی میں ہوتو اسکی بلااجازت اسکی طرف سے رمی ہوسکتی ہے لباب وشرح لباب سنن حج میں ہے :
والخروج من مکۃ الی عرفۃ یوم الترویۃ والبیوتۃ بمنی لیلۃ عرفۃ الالحادث من الضروریات والدفع منہ الی عرفۃ بعد طلوع الشمس ۔
یوم ترویہ کو مکہ سے عرفات کی طرف حاجی نکلے اور عرفہ کی رات منی میں بسر کرے بشرطیکہ کوئی مانع اور مجبوری نہ ہو اور پھر منی سے طلوع آفتا ب کے بعد عرفات جائے۔ (ت)
اسی کی فصل الرواح الی منی میں ہے :
وان بات بغیر منی تلك اللیلۃ جاز و اساء ۔
اگر منی کے علاوہ کسی اور جگہ حاجی نے یہ رات بسر کی توجائز مگر خلاف ادب ہے۔ (ت)
حوالہ / References لباب و شرح لباب مع ارشاد الساری باب سنن الحج دارالکتب العربی بیروت ص٥١
لباب و شرح لباب مع ارشاد الساری فصل فی الرواح الیٰ منٰی دارالکتب العربی بیروت ص١٢٧
#10090 · کتابُ الحج
اسی کی فصل وقوف بالمزدلفہ میں ہے :
الوقوف بھا واجب واول وقتہ طلوع الفجر الثانی من یوم النحر واخر طلوع الشمس منہ فمن وقف بھا قبل طلوع الفجر اوبعد طلوع الشمس لایعتد بہ وقدرالواجب منہ ساعۃ ورکنہ کینونتہ بمزدلفۃ بفعل نفسہ اوغیرہ نواہ اولم ینو علم بھا اولم یعلم ولوترك الوقوف بھا فدفع لیلا فعلیہ دم الااذا کان لمرض اوضعف بینۃ من کبر اوصغر اویکون امرأۃ تخاف الزحام فلا شئی علیہ۔
مزدلفہ کا وقوف لازم ہے ابتدااس کی یوم نحر کی طلوع فجر ثانی سے ہوتی ہے اور اس کا اخیر وقت اسی دن کا طلوع آفتاب ہے توجو طلوع فجر سے پہلے یاطلوع شمس کے بعد مزدلفہ میں ٹھہرا اسکے ٹھہرنے کا اعتبار نہیں(یعنی وقوف معتبر نہیں ہوگا) مقدار واجب ایك ساعت ہے اور اس کا رکن یہ ہے کہ اس مدت میں وہاں خود موجود ہونا اپنے عمل سے یاغیر کے عمل سے ہو نیت ہویا نہ ہو اسے مزدلفہ کا علم ہو یا نہ ہو اگرمزدلفہ کا وقوف ترك کرکے رات کو ہی حاجی واپس آگیا تو ایسی صورت میں دم لازم ہوگا اگر کوئی مرض ہو یاکبروصغر کی وجہ سے واضح ہو یا کوئی خاتون ہوجواز دحام سے ڈرتی ہوتو اب کوئی شے لازم نہ ہوگی۔ (ت)
اسی کی فصل وقت الرمی فی الیومین میں ہے :
وقت رمی الجمار الثلث فی الیوم الثانی یجوز قبلہ فی المشہور ای عند الجمہور وقیل یجوز وھو خلاف ظاھرالروایۃ وفی المسألۃ روایۃ اخری مختصۃ بالیوم الثانی من ایام التشریق لما فی المرغینانی لو اراد ان ینفرفی ھذاالیوم لہ ان یرمی قبل الزوال وان رمی بعدہ فھو افضل وانما لا یجوز قبل الزوال من
ایام نحر میں دوسرے اور تیسرے دن تینوں جمرات کو رمی کا وقت زوال کے بعد ہوتا ہے مشہور روایت یعنی جمہور کے ہاں زوال سے پہلے رمی جائز نہیں بعض نے کہا جائز ہے لیکن یہ ظاہرالروایت کے خلاف ہے اس مسئلہ میں ایك اور روایت بھی ہے جو ایام تشریق کے دوسرے دن کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ مرغینانی میں مذکور ہے : اور اگر حاجی نے اس دن لوٹنے کا ارادہ کرلیا ہے تو زوال سے پہلے رمی کرسکتا ہے ہاں بعد از زوال کرے تو افضل ہوگی اور زوال سے پہلے اس شخص کے لیے رمی
حوالہ / References لباب وشرح لباب مع ارشاد الساری فصل فی الوقوف بالمزدلفہ دارالکتاب العربی بیروت ص ١٤٧
#10092 · کتابُ الحج
لایرید النفرکذاروی الحسن عن ابی حنیفۃ ۔
جائز نہیں جو لوٹنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔ امام حسن نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے یوں ہی نقل کیا ہے۔ (ت)
اسی کی فصل شرائط رمی میں ہے :
الخامس ان یرمی بنفسہ فلا تجوزالنیابۃ عند القدرۃ تجوز عند العذر فلورمی عن مریض لا یستطیع الرمی بامرہ اومغمی علیہ ولوبغیر امرہ او صبی غیر ممیزاومجنون جاز والا فضل ان توضع الحصی فی اکفھم فیرمونھا ای رفقاؤھم ففی الحاوی عن المنتقی عن محمد اذاکان المریض بحیث یصلی جالسارمی عنہ ولاشئی علیہ اھ ولعل وجہہ انہ اذاکان یصلی قائما فلہ القدرۃ علی حضور المرمی راکبا اومحمولا فلایجوز النیابہ عنہ اھ ملخصات واﷲ تعالی اعلم۔
پانچویں شرط یہ ہے کہ خود رمی کرے قدرت کے باوجود نائب بنانا درست نہیں ہاں عذر کے وقت جائز ہے اگر کسی نے ایسے مریض کے کہنے پر رمی کی جو طاقت نہیں رکھتا یا حاجی پر غشی طاری تھی اگر چہ اس نے رمی کا نہ کہا ہو یا جس بچے کو شعور نہ ہو اس کی طرف سے یادیوانے کی طرف سے رمی کردی تو جائز ہوگی ۔ افضل یہ ہے کہ سنگریزے معذوروں کے ہاتھوں میں رکھ دئے جائیں توان کے رفیق رمی کریں۔ حاوی میں المنتقی سے امام محمد سے مروی ہے جب مریض اس حال میں ہو کہ صرف بیٹھ کر نماز ادا کرتا ہوتو اس کی طرف سے کسی نے رمی کردی تو اس پر کوئی شئے لازم نہ ہوگی اھ شاید اسکی وجہ یہ ہے کہ جب وہ نمازکھڑے ہوکر ادا کرسکتاہوتو اب اس کے لیے رمی کے لیے جانے کی قدرت ہوگی خواہ سوار ہوکر جائے یا اسے اٹھاکر لے جایاجائے اب اس کی طرف سے نائب بنانا درست نہ ہوگا اھ ملخصا واﷲتعالی اعلم (ت)
مسئلہ : ازشہر بریلی مسئولہ حضرت ستنا بی بی صاحبہ مدظلہا
حج میں ایك اونٹ آٹھ آدمیوں نے شریك ہوکر قربانی کی تو حج ہوایا نہیں اور قربانی دوبارہ کرے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
حج ہوگیا پھر احرام باندھتے وقت تنہا حج کی نیت باندھی تھی تو قربانی اصلا ضرور نہ تھی نہ اب اس کے بدلے کسی چیز کی حاجت ہے ہاں اگر احرام میں حج اور عمرہ دونوں کی نیت ایك ساتھ باندھی تھی یا احرام میں فقط
حوالہ / References لباب وشرح لباب مع ارشاد الساری فصل فی وقت الرمی فی الیومین دارالکتاب العربی بیروت ص١٦١تا٨٥
لباب وشرح لباب مع ارشاد الساری فصل فی احکام الرمی وشرائط الخ دارالکتاب العربی بیروت ص١٦٦
#10093 · کتابُ الحج
عمرہ کی نیت کرکے ادا کرکے پھر حج کا احرام مکہ معظمہ میں باندھا تھا توالبتہ قربانی واجب تھی اور ایك اونٹ میں ساتسے زیادہ شریك نہ ہوسکتے تھے تو وہ قربانی نہ ہوئی اس صورت میں البتہ دو قربانیاں لازم ہیں ایك اصل اور ایك جرمانہ کی ان کی قیمت بھیج کر حرم شریف میں کرائی جائیں۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہتا :
() ایك حاجی نے دم شکریہ کے عوض اس کی قیمت خیرات کی اب یہ دم شکریہ اس کی جانب سے ادا ہوا یا نہیں دوسرے صاحب نے دم تقصیر کی قیمت خیرات کی اس کی ذمہ سے دم ادا ہوا یا نہیں
() اگر وہ صاحب جنہوں نے دم شکریہ اور دم تقصیر منی میں نہ ذبح کیا وہ یہاں آکر ایك گائے خرید کر مثل قربانی کے شریك ہوکر اور اس کوذبح کرکے خیرات یہاں کردیں تو وہ فعل ہند میں درست ہوگا یانہیں بینواتوجروا
الجواب :
() نہ کہ یہاں خود ذبح مقصود ہے اوراﷲ عزوجل کے لیے جان دینا تو قیمت اس کے بدلے میں کافی نہیں لباب میں ہے :
لاتجوزالقیمۃ فی ھدی النذر کما لاتجوز فی غیرہ من الھدایا ۔ واﷲتعالی اعلم۔
نذر کے ہدی کی قیمت ادا کرنا جائز نہیں جیسا کہ دیگر ہدیوں میں جائز نہیں۔ واﷲتعالی اعلم (ت)
اگر ہندوستان میں ہزار گائیں یا اونٹ ذبح کردیں ادانہ ہوگا کہ اس کے لیےحرم شرط ہے۔ درمختار میں ہے :
یتعین الحرم المنی اھ ای لدم شکروجبر قال الشامی لما تقدم انہ اسم لما یھدی من النعم الی الحرم الخ قلت وقد قال تعالی هدیا بلغ الكعبة ۔ واﷲ تعالی اعلم
حرم متعین ہے منی کچھ خاص نہیں اھ یعنی دم شکر اور اس دم کے لیے جو نقصان کے ازالہ کے لیے ہو امام شامی نے کہا کہ پہلے گزرا کہ یہ ان ہدایاکا نام ہے جو جانور حرم کی طرف لے جائے جاتے ہیں الخ میں کہتا ہوں اﷲتعالی کافرمان مبارك یوں ہے وہ ہدی جو کعبہ کو پہنچنے والی ہے واﷲتعالی اعلم (ت)
حوالہ / References لباب المناسك مع ارشاد الساری فصل فی ایجاب الہدی دارالکتاب العربی بیروت ص٣١٥
درمختارکتاب الحج مطبع مجتبائی دہلی١ / ١٨٣
ردالمحتارمصطفٰی البابی مصر٢ / ٢٧٢
#10095 · کتابُ الحج
مسئلہ : ازپیلی بھیت مرسلہ حضرت مولانا وصی احمد صاحب محدث سورتی رحمۃ اللہ تعالی علیہ رمضان ھ
جو شخص دور دراز سفر کرکے حج نفل کرے اور زیارت سرور کائنات علیہ التحیۃ والصلوۃ نہ کرے تو وہ مصداق ا س حدیث کا ہوسکتا ہے کہ “ جو شخص حج کرے اور میری زیارت نہ کرے تو اس نے مجھ پر ظلم کیا “ ۔ جو لوگ کہ ساکن مکہ معظمہ کے ہیں اور نفل حج کے بعد روضہ اقدس کی زیارت نہ کریں تو اس حدیث کے مصداق ہیں یا نہیں
الجواب :
من حج(جس نے بھی حج کیا۔ ت) یقینا عام ہے مکی وآفاقی سب کو شامل اور تکرار سبب تکرار حکم کو مستلزم اور لم یزرنی(میری زیارت نہ کی۔ ت) کے صدق کو ترك کلی کی طرف مشیر ماننا خلاف اصل متبادر نظر ایمانی میں بلاشبہ ہربار زیارت لازم اور اسی پر مسلمین کا عمل لاجرم فاکہی مکی متوفیھ کتاب حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں فرماتے ہیں :
الما موربہ اذاکان مرتبا علی سبب یتکرر طلبہ من المکلف بتکرر السبب فمن ذلك اجابۃ المؤذن فتطلب الاجابۃ علی ماقالہ جمع کلما وجد الاذان و یتکرر ومنہ فیما یظھر الزیارۃ للمستطیع کلماحج بناء علی مقتضی ھذا الخبر ونحوہ فیتأ کد علی نحو المکی اکثر من تاکدہ علی غیرہ ان لایفوت الزیارۃ بعد حجہ لاسیما فی عام حجہ فان قرب الدار یصیر القریب کالجار والجار التارك للمزار قد جار سیما اذا کان یر تکب الدیون فی تحصیل شھوتہ وعدم قطع عادتہ ولا یرتکبھا فیما ھو اشرف عباداتہ اھ
جب مامور بہ کسی ایسے سبب پر مترتب ہو جس میں تکرار ہے تو سبب کے تکرار پر مکلف سے ماموربہ کے مطالبہ کا بھی تکرار ہوگا مؤذن کی دعوت نماز کو قبول کرنا بھی اسی قبیل سے ہے تو جب بھی اذان کاتکرار ہوگا اجابت کا مطالبہ ہوگا جیسا کہ ایك جماعت کا قول ہے اس سے یہ واضح ہوجاتاہے کہ صاحب استطاعت جب بھی حج کرے اس اور دیگر فرمان نبوی کی بنا پر دربار نبوی علی صاحبہا الصلوۃ والسلام میں حاضری دے غیر مکی لوگوں کی نسبت مکی لوگوں کو اس کی زیادہ تاکید ہے کہ حج کے بعد خصوصا حج کی ادائیگی کے سال زیارت کیلئے حاضری کو فوت نہ کرے کیونکہ قرب دار قریبی کو پڑوسی بنادیتا
حوالہ / References حسن التوسل فی زیارہ افضل الرسل صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم
#10096 · کتابُ الحج
قلت وانما جعل التاکد علی المکی اکثر لان عذرہ اقل کما اشارہ الیہ۔ واﷲتعالی اعلم۔
ہے اور پڑوسی ہوکر زیارت کا تارك ہوتو گویا اس نے ظلم کیا خصوصا جب اپنے شوق اور عادت کو پورا کرنے میں تو قرض تك کا ارتکاب کرتا ہو اور ان اعمال میں خرچ نہیں کرتا جو عبادات میں افضل ہیں اھ میں کہتا ہوں مکی لوگوں پریہ تاکید اکثر ہوگی کیونکہ ان کا عذر اقل ہے جیسا کہ انہوں نے اس طرف اشارہ فرمایا۔ واﷲتعالی اعلم(ت)
مسئلہ تا : حافظ محمد ایاز صاحب از نجیب آباد ضلع بجنور محلہ پٹھان پورہ محرم ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں بموجب حکم شرع شریف ارشاد فرمائیے اﷲتعالی اجر عظیم عطا فرمائے۔
()اگر ماہ شعبان میں کوئی شخص مکہ معظمہ پہنچ جائے اور رمضان شریف میں وہاں قیام کرے اور نہایت اطمینان سے طواف وسنگ اسود شریف کا بوسہ وغیرہ ادا کرے تو جیساثواب ایام حج میں ہوتا ہے ویسا ہی ہوگا یا اس میں اور اس میں کچھ فرق ہوگا اور وہی ثواب ایك نماز کا ملے گا جیسا کہ ایك لاکھ کا اور صدقات وغیرہ میں بھی اسی کے مثل ہوگا یا نہیں حالانکہ شخص مذکورایام حج میں بھی ارکان حج ضرور ادا کرے گا۔
() اگر ماہ شعبان میں کوئی شخص مدینہ پہنچ جائے اور وہاں رمضان المبارك میں قیام کرے اور روضہ مطہرہ کی زیارت کرتا رہے اور ہمراہ قافلہ مدینہ منورہ کے مکہ معظمہ پہنچ کر حج کے ارکان ادا کرے یا ماہ شوال میں اول مدینہ منورہ جائے اور وہاں زیارت حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے اطمینان کے ساتھ فراغت پاکر مکہ معظمہ جائے اور وہاں حج کے ارکان ادا کرکے اپنے مکان کو چلاآئے تو ان صورتوں میں شخص مذکورہ کو ثواب اسی درجہ ملے گا جیساکہ حج بیت اﷲشریف کے بعد مدینہ طیبہ جانے کا ہوتا ہے یا کچھ کم ہوگا حاصل کلام یہ کہ اول مدینہ منورہ جانا اور وہاں سے قافلہ کے ساتھ بیت اﷲشریف آنا اور ارکان حج ادا کرکے مکان کو واپس آجانا درست ہے یانہیں اور اس کا ثواب مثل بعد مدینہ شریف جانے کے ہے یانہیں عند اﷲجواب سے مشرف فرمائیے اس کے اوپر یہاں بہت جھگڑا ہورہا ہے اﷲتعالی ثواب دارین عطا فرمائے۔
الجواب :
()حرم محترم کے اعمال کا ثواب اس زمین پاك کے اعتبارسے ہے نہ زمان حج کی خصوصیت سے ایك نیکی پر لاکھ کا ثواب جیسے زمانہ حج میں ہوگا ویسے ہی دیگر اوقات میں اور طواف کعبہ معظمہ جو حج میں کیا جائے گا اگر وہ طواف فرض ہے جب تو ظاہر ہے کہ فرض کے ثواب کو دوسری چیز نہیں پہنچ سکتی اور
#10098 · کتابُ الحج
اگر وہ طواف عمرہ ہے تو رمضان مبارك میں اس کا طواف ذی الحجہ سے بہت زیادہ ہوگا لاختلاف العلماء فی نفس جواز العمرۃ شھر الحج(کیونکہ علماء کا حج کے مہینے میں جواز عمرہ کے بارے میں اختلاف ہے۔ ت) حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
عمرۃ فی رمضان تعدل حجۃ معی۔ واﷲتعالی اعلم۔
رمضان مبارك میں ایك عمرہ میرے ساتھ حج کے برابر۔ واﷲتعالی اعلم۔
علمائے کرام نے دونوں صورتیں لکھی ہیں چاہے پہلے سرکار اعظم میں حاضر ہو اس کے بعد حج کرے یہ ایسا ہوگا جیسے صبح کے فرضوں سے سنتیں مقدم ہیں اورحاضری بارگاہ مقدس اس کے لیے قبول حج کا سامان فرمادے گی ان شاء اﷲالکریم ثم رسولہ الرؤف الرحیم علیہ وعلی آلہ اکرم الصلوۃ والتسلیم اور چاہے تو حج کے بعد حاضر ہو یہ ایسا ہوگا جیسے مغرب کے فرضوں کے بعد سنتیں۔ حج اگر مبرورہے اسے گناہوں سے پاك کرکے اس قابل کردے گا کہ زیارت قبر انور کرے ع
پاك شواول وپس دیدہ برآں پاك انداز
(پہلے پاك ہو جاؤ پھر مبارك ادا والوں کی زیارت کا شرف پاؤ۔ ت)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ مکہ معظمہ کو جاتے میں مدینہ طیبہ راستہ میں نہ پڑے اور اگر ایسا ہے جیسا شام سے آنے والوں کے لیے تو پہلے حاضری دربارا نور ضروری ہے خلاف ادب ہے کہ بے حاضر ہوئے حج کو چلا جائے۔ واﷲتعالی اعلم
مسئلہ : پیش کردہ منشی محمد عتیق احمد صاحب ساکن پیلی بھیت بتاریخ رجب ھ
بحضرت اعلم العلماء افضل الفضلاء واکمل الکملاء آفتاب آسمان شریعت ماہتاب درخشاں طریقت نور بخش قلوب مومنین روشن فرمائے دین و دنیا حاکم محکمہ ایمان ماتحت حبیب الرحمان سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حامی دین متین اہل سنت ماحی ضلالت وکفروبدعت صاحب حجت قاہرہ مجددمائتہ حاضرہ آیۃ من آیات اﷲ فضیلت پناہ حقیقت آگاہ امام العلماء والفضلاء حاج الحرمین الشریفین مولانا ومقتدانا عالی جناب مولوی محمد احمد رضاخاں صاحب فاضل بریلوی دامت برکاتہم وافاضاتہم اس بارے میں کیا ارشاد ہے کہ حجاز ریلوے جو حرمین شریفین زاد ہما اﷲشرفاوتعظیما کے سفر وزیارت وغیرہ کو مسلمانوں پر آسان کردے گی اور وہاں کے ساکنین خصوصا حرم محترم مدینہ منورہ کے رہنے والوں کو ہرشئی بہ آسانی میسر آنے کا
حوالہ / References صحیح مسلم باب فضل العمرۃ فی رمضان قدیمی کتب خانہ کراچی١ / ٤٠٩
#10099 · کتابُ الحج
ذریعہ ہوگی ان شاء اﷲتعالی قابل امداد واعانت اہل اسلام ہے یانہیں جبکہ حضور سلطان المعظم اس کو خاص مسلمانوں کے روپے سے تعمیر واجرا کرانے میں بہت سعی وکوشش فرمارہے ہیں اور اس اعانت کو اجر چندہ دہند گان کو ملے گا یا نہیںکیونکہ بعض کوگمان ہوتا ہے کہ ریل کا بننا ہی غلط بیانی ہے بعض تردد کرتے ہیں کہ روپیہ وہاں تك پہنچتا ہی نہیں حالانکہ یہ امر قابل اطمینان پایا گیا ہے قسطنطنیہ سے رسیدات مہری ڈاکخانہ وغیرہ بسند کافی آئی ہیں بعض مقاموں خاص کر پیلی بھیت میں مسلمانوں نے یہ معلوم کرکے کہ حضور والا نے چندہ دینے کو منع فرمایا ہے اس سبب سے سب مسلمان کہ مطیع حکم حضور کے رہتے ہیں جو دراصل صحیح حکم خدا اور رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ہوتا ہے چندہ دینے لینے سے باز رہے لیکن اس بارے میں ارشاد حضور کیا ہے بینو اتوجروا
الجواب :
حجاز ریلوے مسلمانوں کے نفع وآرام کی چیز ہے نیت صالحہ سے اس میں شرکت ان شاء اﷲتعالی باعث اجروبرکت ہے۔ بعض حاجیوں کو یہ خیال کہ ریل بننا ہی غلط ہے بلکہ بیچ کے لوگوں نے یہ شعبدہ اٹھارکھا ہے روپیہ جو جاتا ہے تغلب خائنان میں آتا ہے اس میں پہلا فقرہ محض غلط و سوئے ظن ہے وہ بھی صریح یقین کے مقابل اورپچھلا فقرہ اگر چہ بعض مواضع پر صحیح ہونا ممکن اور تجربہ شاہد ہے کہ ضرور کہیں صحیح ہوگا ایسے معاملات میں بہت کاذب وخائن کھڑے ہوجاتے ہیں مگر نہ سب یکساں ہیں نہ بعد حصول ذرائع اطمینان اجازت سوئےگمان ہے اور بالفرض ہو بھی تو مسلمان جس نے لوجہ اﷲتعالی دیا اپنی نیت پر اجر پائے گا فقد و قع اجره على الله- ( تو اس کا ثواب اﷲکے ذمہ ہوگیا۔ ت) فقیر نے اس میں اعانت پر کبھی انکار نہ کیا البتہ بعض جاہلان علم ادعانے یہ کہہ دیا تھا کہ اس کی اعانت فرض ہے کہ بے امنی راہ کے باعث فرضیت حج میں خلل ہے ریل کا بننا اس خلل کا ازالہ کرے گا اور مقدمہ فرض فرض ہوتا ہے اس کامیں نے رد کیا تھا کہ یہ محض جہالت ہے اول بحمد ﷲتعالی ہرگز راہ میں بے امنی نہیں جسے حق سبحانہ نے وہ سفر کریم بخشا اور اس کے ساتھ ایمان کی آنکھ اور عقل سلیم عطا کی ہے اس نے موازنہ کیا اور معلوم کرلیا ہے وہاں باآنکہ بارہ منزل کے اندر صرف دو ایك چوکیاں ہیں بحمدہ تعالی وہ امن وامان رہتی ہے کہ یہاں قدم قدم پرچوکی پہرے کی حالت میں ہو جس قافلہ میں یہ فقیرھ میں اپنے رب کے دربار سے اس کے حبیب کی سرکار میں حاضر ہوتا تھا جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قافلہ بعد زوال ظہروعصر پڑھ کر وہاں ہوتا اور وقت مغرب خفیف قیام کرتا کہ لوگ مغرب وعشاء کے فرض و وتر پڑھ لیتے شافعیہ اپنے مذہب پر ایسا کرتے اور حنفیہ بضرورت تقلید غیر پر عامل ہوتے کہ بحالت ضرورت ان شرائط پر کہ فقہ میں مفصل ہیں
حوالہ / References القرآن ٤ / ١٠٠
#10101 · کتابُ الحج
ایسا روا ہے مگریہ فقیر بحمد اﷲاپنے امام رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے مطابق مذہب ہر نماز خاص ا س کے وقت مقرر ہی میں پڑھتا جن کی تعیین اﷲ ورسول جل وعلا و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمادی ہے مجھے عصر وعشاء کے لیے اترنا پڑتا قافلہ دور نکل جاتا میں جلدی کرکے مل جاتا قضائے حاجت کے لیے بھی لوگ اس خیال سے کہ قافلہ بعید نہ ہوجائے نزدیك ہی بیٹھ جاتے ہیں مجھے یہ پسند نہ آتا اور دور کسی پیڑیا پہاڑ کی آڑ میں جاتا اس میں بھی لوگ قافلہ دور نکل جاتا دن کی تنہائیوں اور رات کی اندھیریوں میں بار ہا بد وی ملے وہ مسلح تھے اورمیں نہتا مگر کبھی سوا السلام علیکم و علیکم السلام مساکم اﷲ بالخیر والسعادۃ صبحکم اﷲبالرضاء والنعیم(تم پر سلام ہو اور تم پربھی سلام ہو اﷲتعالی رات خیر اور صبح مبارك کرے اﷲاپنی خوشنودی اورانعامات سے نوازے۔ ت) کے اصلا کسی نے کوئی تعرض نہ کیا وﷲالحمد اتفاقا کہیں کوئی واقعہ ہوجانا بدامنی نہیں کہلاتا یہاں شہر سے اسٹیشن کو جاتے ہوئے شب میں متعدد واردات ہو چکیں اور رات کو آنولے سے بدایوں جانے میں تو کتنے ہی وقائع ہوئے کوئی عاقل ایسے اتفاقیات پر شہر یا راہ میں بدامنی نہ مانے گا پھر وہاں اس حال پرکہ بارہ منزل تك بیچ میں صرف ایك قلعہ رابغ ملتا ہے جگہ جگہ چوکی پہروں کا نشان نہیں اگر اتفاقی واردات ہوجائیں تو اس کے باعث بدامنی ماننا فرضیت حج میں خلل جاننا ضعف ایمان نہیں توکیا ہے لئیم الطبع لوگ جو قافلوں میں بدویوں سے دنائت وخست کا برتاؤ کرتے ہیں اور اس کے سبب وہ ان کی خدمت گزاری کہ ان پر شرعا عرفا کسی طرح لازم نہیں پوری نہیں کرتے(حالانکہ مشاہدہ وہ تجربہ ہے کہ وہ کریم الطبع بندے قلیل پر کثیر راضی ہوجاتے اور ادنی خدمت گار سے بڑھ کر کام دیتے ہیں ہاں خسیس دنی الطبع کو ضرور مکروہ رکھتے ہیں) اس باعث سے اگرکوئی تکلیف ان سفہاء کو پہنچ جاتی ہے تو انہیں کی لوم وخست کا نتیجہ ہے اسے طرح طرح کی رنگ آمیز یوں کے ساتھ یہاں آکر بیان کرتے اور محض بے اصل نئی پرانی افواہ اپنے حواشی بڑھاکر مسلمانوں کو سناتے اور انہیں حاضری بارگاہ خدا ورسول سے بد دل کرتے ہیں یہ ان کی ایمانی حالت کا خاکہ ہے ولا حول ولاقوۃ الا باﷲالعلی العظیم وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل اور اگر معاذاﷲ بدامنی اس حد کی فرض کی جائے کہ مانع فرضیت حج ہو توا ب یہ ریل اگر مورث امن وامان بھی لی جائے تو مقدمہ فرض نہ ہوگی کہ بسبب بے امنی حج فرض ہی نہیں ہاں مقدمہ فرضیت ہوگی کہ یہ ہوجائے توحج فرض ہو اور مقدمہ فرضیت فرض درکنار مستحب بھی نہیں ہوتا مثلا اتنا مال جمع کرنا کہ حوائج اصلیہ سے بچ کر قدر نصاب رہے اور اس پر سال گزرے مقدمہ فرضیت زکوۃ ہے کہ ایسا ہوتو زکوۃ فرض ہو مگر وہ اصلا مستحب نہیں غرض ہر عاقل جانتا ہے کہ اسباب ادائے واجب کا مہیا کرنا واجب ہوتا ہے نہ کہ اسباب وجوب کا۔ درمختار میں ہے :
لو وھب الاب لابنہ مالا یحج بہ
اگر والد نے بیٹے کو حج کے لیے مال ہبہ کیا تو اس پر
#10102 · کتابُ الحج
لم یجب قبولہ لان شرانط الوجوب لایجب تحصیلھا ۔
قبول کرنالازم نہیں کیونکہ شرائط کا حاصل کرنا لازم نہیں۔ (ت)
یہ ان جاہلان عالم نما کی جہالت کا رد تھا ورنہ نفس ریل واعانت چندہ پرفقیر نے کبھی اعتراض نہ کیا مسلمانوں کو اتنا ضرور ہے کہ اس ا مر خیر میں ہمت کریں تو ذرائع اطمینان حاصل کرلیں اور اپنے شہر کے معتمد متدین صلحا مثل جناب مولنا الاسد الاسد الاشد الارشد مولانا مولوی محمد وصی احمد صاحب محدث سورتی یا مولانا مولوی حکیم محمد خلیل الرحمن صاحب یا مولانا قاضی حافظ خلیل الدین حسن صاحب یا مکر منامنشی محمد عتیق احمدصاحب سلمہم کو متوسط کریں وبا ﷲالتوفیق واﷲتعالی اعلم۔
_______________
حوالہ / References درمختارکتاب الحج مطبع متجبائی دہلی١ / ١٦٠
#10104 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
مسئلہ : ازگورکھ پورمحلہ گھوسی پورہ مسئولہ مولانا مولوی حکیم عبداﷲ صاحب جمادی الاولیھ
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
ماقولکم رحمکم اﷲ تعالی فی رجل مکلف لہ ابوان وبنتان صغیرتان لایفتقرون الیہ فی المعاش ولہ زاد و راحلۃ یریدان یھاجر وحدہ الی الحرمین الشریفین زادھما اﷲ شرفاوتعظیما وذلك لانہ لا یجد مالا یسع زادھم جمیعا ویظن انہ لو استجازھم فی الھجرۃ لایجیزوہ اصلا فع ھل تجوز لہ الھجرۃ بحکم الشرع ام لا بینوابسند
اے علماء کرام (اﷲ تم پر رحمت فرمائے) اس مکلف کے بارے میں تمہاری کیارائے ہے جس کے ایسے والدین اور دوبیٹیاں ہیں جو معاشی اعتبارسے اس شخص کی محتاج نہیں اس شخص کے لیے زادراہ اور سواری وغیرہ بھی ہو اور وہ چاہتاہے کہ وہ تنہا حرمین شریفن (اﷲ تعالی ان کے شرف وعظمت میں اوراضافہ فرمائے) ہجرت کرجائے کیونکہ وہ تمام کے خرچہ کی طاقت نہیں رکھتا اور یہ بھی گمان رکھتاہے کہ اگران
#10106 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
الکتاب والعبارۃ توجرو ایوم الحساب بالبشارۃ۔
مذکورہ افراد سے ہجرت کی اجازت چاہئے گا تو وہ اجازت نہیں دیں گے ایسی صورت میں اس کے لیے شرعا ہجرت جائز ہے یا نہیں کتاب وسنت کی روشنی میں واضح فرمادیں اللہ تعالی تمھیں یوم قیامت اجر عطافرمائے گا۔ (ت)
الجواب :
اللھم ھدایۃ الحق والصواب الحمد اﷲ وحدہ و الصلوۃ والسلام علی من لانبی بعدہ وعلی الہ وصحبہ المکرمین عندہ برالو الدین من اعظم الواجبات واھم القربات حتی قرن المولی سبحانہ وتعالی شکرھا بشکرہ اذ امر عز من امر ان اشکر لی ولوالدیك وقد فضلہ النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علی الجھاد فی سبیل اﷲ (اخرج) احمد و الشیخان وابوداؤد والنسائی عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ قال سألت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ای العمل احب الی اﷲ قال الصلوۃ علی وقتھا قلت ثم ای قال ابوالوالدین قلت ثم ای قال الجھاد فی سبیل اﷲ قلت ولیس
اے اللہ حق وصواب کی توفیق عطافرمائیں حمد ہے اللہ کے لیے جو ذات صفات میں لا شریك ہے صلوۃ وسلام ہو اس ذات پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں اور مکرم ومحترم آل واصحاب پر۔ والدین کے ساتھ حسن سلوك اعظم واجبات او راہم عبادات میں سے ہے حتی کہ اللہ تعالی سبحانہ وتعالی نے ان کی شکر گزاری کو اپنے شکریہ کے ساتھ متصل فرماتے ہوئے یہ حکم دیا “ میرے شکر گزار بنو او راپنے والدین کے “ اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے والدین کے ساتھ نیکی کو اللہ تعالی کی راہ میں جہاد سے افضل قرار دیا ہے۔ امام احمد بخاری مسلم ابوداؤد نسائی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے عرض کیا : اللہ تعالی کے ہاں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے فرمایا : وقت پر نماز میں نے عرض کیا : اس کے بعد کون سا عمل ہے فرمایا : والدین کے ساتھ حسن سلوک۔ عرض کیا : اس کے بعد فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد
حوالہ / References صحیح بخاری کتاب الادب قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٨٨٢
#10107 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
البران لاتعصیھما اذا صرحا بشی وتخا لفھما فی ما سوی ذلك ولکن البران لاتاتی مایکرھانہ وان لم یخاطباك فیہ بشی فانہ الطاعۃ والارضاء کلاھما واجبان والمعصیۃ والاسخاط جمیعا محرمان وھذا ن اعنی السخط والرضا لایختصان بما تقدما فیہ بصریح البیان کما لایخفی۔ وحسبك ما اخرج الترمذی وابن حبان والحاکم وصححہ والطبرانی عن عبداﷲ بن عمرو والبزار عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالی عنہم انہ صلی اﷲ تعالی عیہ وسلم قال رضی الرب فی رضی الوالد وسخط الرب فی سخط الوالد ولفظ البزار الوالدین فی الموضعین وقد اشار النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من اراد الجھاد و الھجرۃ الیہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان یرجع فیخدم ابویہ ولیس فی الحدیث انھما کانا مفتقرین الیہ اخرج احمد والستۃ الا ابن ماجۃ
میں کہتا ہوں نیکی ان کے ساتھ یہ نہیں کہ ان کے حکم کی صریح کی تو نافرمانی نہ کی جائے اورا س کے علاوہ میں ان کی مخالفت کی جائے ہا ں نیکی یہ ہے کہ کسی معاملہ میں بھی انھیں پریشان نہ کیا جائے اگر چہ وہ اولاد کوکسی معاملہ کا حکم نہ دیں کیونکہ طاعت اور راضی کرنا دونوں واجب ہیں اور نافرمانی اور ناراض کرنا دونوں حرام ہیں اور یہ ناراض اور راضی کر نا ان کے صریح حکم کے ساتھ ہی مخصوص نہیں جیسا کہ مخفی نہیں۔ اس پر دلیل یہ روایت ہی کافی ہے کہ امام ترمذی ابن حبان حاکم (انھوں نے اسے صحیح کہا ہے) اور طبرانی نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ سے اور بزار نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا کہ رحمۃ العلمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : رب کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے مسند بزار میں دونوں مقامات پر والد کی جگہ والدین کا لفظ ہے کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس رہنے کی اجازت چاہی آپ نے انھیں والدین کی خدمت کا حکم دیا ان احادیث میں یہ کہیں تصریح نہیں کہ والدین ان کی خدمت کے محتاج تھے امام احمد ا بن ماجہ
حوالہ / References جامع الترمذی باب ماجاء من الفضل فی رضا الوالدین امین کمپنی دہلی ٢ / ١٢
الترغیب والترھیب بحوالہ البزار کتاب البروالصلۃ مصطفی البابی مصر ٣ / ٣٢٢
#10109 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
عن عبداﷲ بن عمر وبن العاص رضی اﷲ تعالی عنہم ومسلم وغیرہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال جاء رجل الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فاستاذنہ فی الجھاد فقال احی والداک قال نعم قال ففیھما فجاھد ۔
قلت ولا اقول ان مجرد عدم الذکر ذکر العدم حتی ترجع تقول واقعۃ حال فلا شمول فما یدریك لعلھا کانا مفتقرین الیہ وانما اقول ان المسائل لم یبین والنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لم یستبن فترك السؤال دلیل الارسال۔
واخرج مسلم فی روایۃ لہ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما قال اقبل رجل الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال ابایعك علی الھجرۃ والجھاد ابتغی الاجر من اﷲ تعالی قال فھل من والدیك احد حی
کے علاوہ ائمہ ستہ نے حضرت عبداللہ بن عمر وبن عاص رضی اللہ تعالی عنہما سے اور مسلم اور دیگر محدثین نے حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ ایك شخص نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر جہاد پر جانے کی اجازت چاہی آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے پوچھا : کیا تیرے والدین زندہ ہیں عرض کی : ہاں۔ فرمایا : جاؤ ان کی خدمت میں محنت کرو
میں کہتاہوں میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ محض عدم ذکر ذکر عدم ہے حتی کہ یہ اعتراض ہو کہ یہ تو ایك مخصوص واقعہ ہے جس کا حکم عام نہیں کیا علم کہ وہ والدین محتاج خدمت ہوں میں تویہ کہہ رہا ہوں کہ سائل نے ان کی محتاجی بیان نہیں کی اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس کی تفصیل پوچھی سوال کا نہ کرنا اس بات پر دلیل ہے کہ محتاج ہونا ضروری نہیں ۔
امام مسلم نے ایك روایت میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ایك شخص نے حضو ر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیا آقا! میں اللہ تعالی سے اجر و ثواب کی خاطر ہجرت اور اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے آپ کے دست اقدس پر بیعت چاہتا ہوں آپ نے پوچھا : تیرے والدین میں سے کوئی ایک
حوالہ / References صحیح مسلم باب برالوالدین قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٣١٣
#10110 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
قال نعم بل کلاھما قال فتبتغی الاجر من اللہ تعالی قال نعم قال فارجع الی والدیك فاحسن صحبتھما ۔
واخرج ابوداؤد عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ بلفظ جاء رجل الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال جئت ابایعك علی الھجرۃ وترکت ابوی یبکیان قال فارجع الیھما فاضحکھما کما ابکیتھما ۔
واخرج ایضا عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالی عنہ ان رجلا ھا جرمن الیمن الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال ھل لك احد بالیمن فقال ابوای قال اذنالک قال لا قال فارجع الیھما فاستاذنھما فان اذنا لك فجاھد والافبرھما ۔
زندہ ہے عرض کیا : ہاں جبکہ دونوں زندہ ہیں فرمایا : توا للہ تعالی سے ثواب واجر چاہتا ہے عرض کیا : ہاں۔ فرمایا : والدین کے پاس جاؤ اور ان کی خوب خدمت کرو۔
امام ابوداؤد نے اسی صحابی رضی اللہ تعالی عنہ سے ان الفاظ میں روایت ذکر کی ہے ایك شخص رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں آپ کے پاس ہجرت پر بیعت کے لیے آیا ہوں اس حال میں کہ میں والدین کو روتے ہوئے چھوڑ آیا ہوں فرمایا : ان کی خدمت میں واپس جاؤ اور اس طرح خوش کرو جیسے تم نے انھیں رلایا ہے۔
انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ بھی روایت کیا ہے کہ ایك شخص یمن سے ہجرت کرکے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں آیا آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے پوچھا : یمن میں تیرا کوئی عزیز ہےعرض کیا : میرے والدین ہیں فرمایا : انھوں نے تجھے اس بات کی اجازت دی ہے عرض کیا : نہیں فرمایا : ان کی خدمت میں جاکر اجازت طلب کرو اگر تجھے اجازت دے دیں تو جہاد پر جاؤ اور اگر اجازت نہ دیں تو والدین کی خدمت کرو۔
حوالہ / References صحیح مسلم باب برالوالدین قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٣١٣
سُنن ابوداؤد کتاب الجہاد آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٣٤٢
سُنن ابوداؤد کتاب الجہاد آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٤٣۔ ٣٤٢
#10112 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
واخرج النسائی وابن ماجۃ وحاکم وقال صحیح علی شرط مسلم والطبرانی باسناد جید عن معاویۃ بن جاھمۃ ان جاھمۃ رضی اﷲتعالی عنہ جاء الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقال یا رسول اﷲ! اردت ان اغزو وقد جئتك استشیرک فقال ھل لك من ام قال نعم قال فالزمھا فان الجنۃ عند رجلیھا ۔
ولفظ الطبرانی قال اتیت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم استشیرہ فی الجھاد فقال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الك والدان قلت نعم قال الزمھما فان الجنۃ تحت ارجلھما ۔
واخرج ھذا اعنی الطبرانی عن طلحۃ بن معویۃ السلمی رضی اﷲ تعالی عنہ قال اتیت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فقلت یا رسول اﷲ انی اربد الجھاد فی سبیل اﷲ قال امك حیۃ قلت نعم قال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم الزم
نسائی ابن ماجہ حاکم (اور کہایہ شرط مسلم کے مطابق صحیح ہے) اور طبرانی نے سند جید کے ساتھ حضرت معاویہ بن جاہمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا کہ حضرت جاہمہ رضی اللہ تعالی عنہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں آئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ! میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں آپ کی خدمت میں مشورہ کے لیے حاضر ہوا ہوں فرمایا : تمھاری والدہ ہیں عرض کیا : ہیں۔ فرمایا : پس ان کی خدمت کرو کیونکہ جنت ان کے قدموں میں ہے۔
اور طبرانی میں روایت کے الفاظ یہ ہیں حضرت جاہمہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر جہادکے لیے مشورہ طلب کیا آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : کیا تمھارے والدین زندہ ہیں عرض کیا : زندہ ہیں۔ فرمایا ان کی خدمت کو لازم جانو کیونکہ جنت ان کے قدموں میں ہے۔
طبرانی نے حضرت طلحہ بن معاویۃ السلمی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ! میں اللہ کی راہ میں جہاد کا ارادہ رکھتاہوں فرمایا : تمھاری والدہ زندہ ہیں عرض کیا : ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : ا ن کے قدموں میں
حوالہ / References سنن نسائی کتاب الجہاد مکتبہ سلفیہ لاہور ٢ / ٤٨
المعجم الکبیر حدیث ٢٢٠٢ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ٢ / ٢٨٩
#10113 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
رجلیھا فثم الجنۃ ۔
فھذہ فتوی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی الھجرۃ الی المدینۃ ورسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم بین اظھر ھم فکیف بجوار احدالحرمین بعد وفاۃ سید الکونین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فانظر کیف امر ھم ان یرجعوا ویلزموا ارجل ابائھم وامھاتھم وانظر کیف امر من لم یستأذن ان یرجع فلیستاذن وانظر کیف ھدی من اتی وترکھمایبکیان ان یضحکھما کما ابکاھما وانت ان استاذنت فقد علمت انھما لایأذنان ان استاذنت فقد علمت انھما لا شد حزنا و جدا بك ان فارقت وما اذنت فایاك ثم ایاك ان تترکھما وھما یبکیان۔
وھذا خیرالتابعین بشھادۃ سید العالمین صلی اﷲ تعالی علیہ
رہو وہیں جنت ہے۔
یہ مدینہ کی طرف ہجرت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا اس وقت کا فتوی ہے جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم صحابہ کے درمیان ظاہری حیات کے ساتھ تشریف فرماتھے اب سید الکونین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے وصال کے بعد حرمین میں سے کسی ایك میں جانے کا حال کیا ہوگا! ذرا غور کیجئے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے لوگوں کو اپنے ابا ء اور امہات کی خد مت میں لوٹنے کا کس انداز میں حکم دیا ہے یہ ملاحظہ بھی کیجئے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس شخص کو کیاحکم دیا جو والدین سے اجازت لیے بغیر آیاتھا کہ واپس جاؤا ور اجازت لو اس پر یہ بھی توجہ کیجئے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس شخص کی کتنی پیاری رہنمائی فرمائی جو اپنے والدین کو روتا ہوا چھوڑ کر آیا تھا کہ جاؤ ان کو اسی طرح ہنساؤ جس طرح انھیں رلا یا ہے جب آپ نے یہ سب کچھ پڑھ لیا تو اب صورت مذکورہ میں اگر والدین سے اجازت مانگے وہ اجازت نہیں دے رہے تو واضح بات ہے کہ وہ تمھاری جدائی پرسخت پریشان وغمگین ہوں گے جبھی تو وہ آپ کو اجازت نہیں دے رہے تو اب روتے ہوئے چھوڑ کر جانا ہر گز جائز نہیں۔
آئیے ایك ایسی شخصیت کا عمل پڑھتے ہیں جن کے بارے میں امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت عمر رضی اللہ
حوالہ / References المعجم الکبیر حدیث ٨١٦٢ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ٨ / ٣٧٢
#10115 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
وسلم المرویۃ من طریق عمر رضی اﷲ تعالی عنہ عند مسلم فی صحیحۃ ومن حدیث علی کرم اﷲ وجہہ عند الحاکم بسند صحیح اعنی ولی اﷲ سیدنا اویس القرنی رضی اﷲ تعالی عنہ منعتہ خدمۃ امہ والبربھا ان یاتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویتشرف بذاك الشرف الاھم الاعظم ھو صحبۃ نبی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فما ظنك بھذا الذی یسمیہ الناس ھجرۃ وماوھو بھجرۃ وانما الھجرۃ ھجران الذنوب نسأل توفیقہ من رب القلوب۔
اخرج البخاری وابوداؤد والنسائی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما قال قال النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ والمھاجر من ھجرما نھی اﷲ تعالی عنہ ۔
وماحسن ماقال اخوالعجم
گردر یمنی وبامنی پیش منی
ورپیش منی وبے منی دریمنی
وھو معنی ما قال اخر : تعالی عنہ سے اور حاکم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے سند صحیح کے ساتھ روایت کیا کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : تمام تابعین میں افضل شخصیت ہے یعنی ولی اللہ حضرت سیدنا اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ ۔ انھیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں آکر اعلی وافضل مقام حضور نبی پاك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی صحبت پانے سے مانع فقط والدہ کی خدمت اور حسن سلوك ہی تھا اب ذرا سوچئے اس عمل کا کیا مقام ہے جسے لوگوں نے ہجرت کا نام دے رکھا ہے حالانکہ یہ ہر گز ہجرت نہیں ہجرت تو حقیقۃ گناہوں کا چھوڑنا ہے ہم رب قلوب سے اسکی توفیق کے طلبگار ہیں۔
بخاری ابوداؤد اور نسائی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ ہوا ور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ تعالی نے منع فرمایا ہے۔
اور اخوالعجم نے کیا خوب کہا ہے :
اگر تو یمن میں ہے اور میرے تصور میں ہے تو میرے سامنے ہے اور اگر تو میرے سامنے ہے لیکن میرے تصور میں نہیں تو تو یمن میں ہے کسی اور شاعر نے بھی یہی بات یوں کہی ہے :
حوالہ / References صحیح مسلم باب من فضائل اویس قرنی قدیمی کتب خانہ کراچی ٢ / ٣١١
المستدرك للحاکم مناقب اویس قرنی دارالفکر بیروت ٣ / ٤٠٣
صحیح بخاری باب من سلم المسلمون من لسانہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٦
#10116 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
وکم من بعید الدار نال مرادہ
وکم من قریب الدار مات کئیبا
وکان سیدی العارف باﷲ ابو محمد المرجانی رحمہ اﷲ تعالی یقول :
کم من ھومعنا ولیس ھو معنا و کم من ھو بعید عنا وھو معنا اھ۔
ومن اخفی وسائس الشیطان تلبس الشر بالخیر علی الانسان فیذھب بہ علی السیئات من باب الحسنات و لایعرف ذلك الا العلماء العاملون لذا ورد ذم المتعبد بغیر فقہ وضرب لہ مثل سوء فی حدیث عند ابی نعیم فی حلیۃ الاولیاء عند واثلۃ بن اسقح رضی اﷲ تعالی عنہ۔ وھذا شرما اخرج الترمذی وابن ماجۃ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد ۔
فھذا الذی یرید الھجرۃ
بہت سے دور رہنے والے مراد پالیتے ہیں اور بہت سے قریب رہنے والے محروم ونامراد مرتے ہیں۔
سیدی عارف باﷲ ابو محمد المرجانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : بہت سے لوگ ہمارے ساتھ رہتے ہوئے بھی ہمارے ساتھ نہیں اور بہت سے ہم سے دور ہیں مگر ہمارے ساتھ ہوتے ہیں اھ جس پر شیطان کے وساوس مخفی ہوں اس انسان پر شر وخیر میں التباس ہوجاتا ہے اور شیطان اسے حسنات سے سیئات کی طرف لے جاتا ہے اور اس بات سے باعمل علماء ہی ا گاہ ہوسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے بغیر دین فہمی کے عبادت کرنے والے کی مذمت آئی ہے اور ایسے عابد کی اس حدیث میں بری مثال بیان ہوئی جو ابو نعیم نے حلیہ میں حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے یہ اس سے سخت ہے جسے ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : ایك فقیہ شیطان پر ہزار عابد سے زیادہ سخت ہے۔
ہجرت کا ارادہ کرنے والا اگر یہ جان لے کہ
حوالہ / References حلیۃ الاولیاء ترجمہ ٣١٨ خالد بن معدان دارالکتاب العربی بیروت ٥ / ٢١٩
جامع الترمذی باب ماجاء فی فضل الفقہ امین کمپنی دہلی ٢ / ٩٣
#10118 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
لو علم مافی احزان الوالدین وادخال الغم علیھما لما ارادھا کما ورد عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انہ قال لوکان جریج الراھب فقیھا عالما لعلم ان اجابۃ دعاء امہ اولی من عبادۃ ربہ اخرجہ الحسن بن سفین فی مسندہ والحکیم المولی الترمذی فی نوادرہ وابن قانع فی معجمہ والبیھقی فی شعب الایمان عن شھر بن حوشب عن حوشب بن یزید عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
فھذا الحدیث وان بقیت الفقہ فقد نقل العلامۃ البحر فی البحرالرائق تفصیلا برخصۃ ونھی فی مسئلۃ حج الولد بلا اذن الوالد ثم قال ھذا کلہ فی حج الفرض اما حج النفل فطاعۃ الوالدین اولی مطلقا کما صرح بہ فی الملتقط اھ نقلہ العلامۃ ابن عابدین فی ردالمحتار۔
قلت فاذا کان ھذا حکمھم فی الحج وانت ترید القفول فکیف وانت عازم ان لا ترجع وقد وضع فی الھندیۃ ضابطۃ حسنا فی امثال ھذہ المسائل
والدین کو پریشان کرنے میں کیا سزا ہے تو ہجرت کا ارادہ ترك کردے۔ جیساکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہے کہ جریج راہب فقیہ وعالم ہوتا تو اسے معلوم ہوتا کہ اللہ تعالی کی عبادت سے والدہ کے بلاوے کا جواب اولی ہے حسن بن سفین نے مسند میں حکیم ترمذی نے نوادر میں ابن قانع نے معجم میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں شہر بن حوشب سے انھوں نے حوشب بن یزید سے انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے بیان کیا ہے :
یہ تو احادیث تھیں باقی رہے فقہاء تو علامۃالبحر نے بحرا لرائق میں تفصیلا رخصت کی تفصیل تحریر کی اور جبکہ اجازت والد کے بغیر اولاد کو حج کرنے سے منع کیا پھر فرمایا یہ تمام بحث حج فرض میں ہے رہا نفل حج تو اس میں اطاعت والدین ہر حال میں اولی ہے جیسا کہ ملتقط میں ہے اھ اسے علامہ ابن عابدین نے ردالمحتار میں نقل کیاہے۔
میں کہتا ہوں یہ انھوں نے حج کے بارے میں حکم دیا ہے جس میں تو واپس کوچ کا ارادہ رکھتا ہے یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے جبکہ تو واپس نہ ہو نیکا عزم رکھتا ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ایسے مسائل کے بارے میں بہت عمدہ ضابطہ بیان کیا ہے وہ یہ ہے
حوالہ / References نوادر الاصول الاصل السابع عشر والمائۃ دارصادر بیروت ص١٥٢ ، شعب الایمان باب فی برالوالدین حدیث ٧٨٨٠ دارالکتب العلمیہ بیروت ٦ / ١٩٥
بحرالرائق کتا ب الحج ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ٢ / ٣٠٩
#10119 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
حیث قال الابن البالغ یعمل عملا لاضرر فیہ دینا ولادنیا بوالدیہ وھما یکرھا نہ فلا بد من الاستیذان فیہ اذاکان لہ منہ بد اھ فقد حکم ان لا محید من الاستیذان وان لم یکن بھما ضرر اصلا فیما اراد فھذاحکم المسئلۃ کما تری و مالی التکلم فی ھذا وذاك ولکن اقول ان المجاورۃ لاتحل من اصلھا وان اذن الابوان فکیف اذا کرھا وحزنا بھا ھذا ھوقول الامام وبقولہ قال الخائفون المحتاطون من العلماء کما فی الشامی عن الاحیاء وبہ جزم المجمع وغیرہ۔
قلت و ھوا لا قوی دلیلا والاحسن تاویلا والاصلح تعویلا والاقوم قیلا ولیس لحنفی ان یجتاز من قولہ ویختار قول غیرہ کصاحبیہ مثلا الا لضعف بین فی دلیلہ او ضرورۃ تدعو الی مخالفۃ قیلہ حتی صرح الفاضلان العلامتان مولنا زین بن نجیم المصری والشیخ خیر الدین الرملی انہ لا یعمل ولایفتی الابقولہ رضی اﷲ تعالی عنہ ولا یعدل عن قول الی قولھما
کہ بالغ اولاد کوئی دینی یا دنیوی ایسا کام نہ کرے جو والدین کے لیے غیر مضر اور ناپسند ہو اورا گر ضروری ہو تو والدین سے اجازت لینا ضروری ہوگا اھ یعنی اگر چہ نقصان دہ نہ بھی ہو تب بھی والدین کی اجازت کے بغیر چارہ نہیں یہ تو مسئلہ کا حکم تھا لیکن مجھے اس میں کلام نہیں ہے اور جبکہ میں یہ کہتاہوں کہ مجاورت اس صورت میں بھی جائز نہیں جبکہ والدین اجازت دیں تو اس وقت کیسے جائز ہوگی جب وہ اسے پسند نہ کریں اورا س پر پریشان ہوں اور یہی امام صاحب کا قول ہے محتاط اور خائف اہل علم نے آپ کے اسی قول کو اختیار کیا ہے جیسا کہ شامی میں احیاء سے ہے۔ مجمع وغیرہ میں اس پر جزم کا اظہار کیا ہے۔
میں کہتا ہوں یہ قول دلیل کے اعتبار سے قوی تاویل کے لحاظ سے احسن ہے اعتماد کے لحاظ سے اصلح اور قیل وقال کے لحاظ سے معتدل ہے۔ اور کسی حنفی کے لیے یہ اجازت نہیں کہ وہ آپ کے قول کو ترك کرکے کسی دوسرے مثلا صاحبین کے قول پر عمل کرے ہا ں اس صورت میں جائز ہوتاہے جب آپ کے قول کی دلیل واضح طورپر کمزور ہو یا آپ کے قول کی مخالفت کی اشد ضرورت درپیش ہو حتی کہ دو عظیم فاضل اہل علم مولاناا بن نجیم مصری اور شیخ خیر الدین رملی نے تصریح کی ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے قول پر عمل اور فتوی دیا جائے گا اس سے صاحبین یا کسی اور کے
حوالہ / References فتاویٰ ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب السادس والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ٥ / ٣٦٥
#10121 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
اوقول احدھما الالضرورۃ وان صرح المشائخ بان الفتوی علی قولھما کما فی صلوۃ البحر وشہادات الخیریۃ وھذا امیرالمومنین عمرالفاروق الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کان اذا فرغ من حجہ یدور فی الناس و یقول یا اھل الیمن یمنکم ویااھل العراق عراقکم ویا اھل الشام شامکم فانہ اھیب لبیت ربکم فی اعینکم اوکما یقول رضی اﷲ تعالی عنہ
قلت وکان ھذا والناس انما ھم صحابۃ اوتابعون و ھم ماھم من غایۃ الادب ونھایۃ الاجلال فما بال اھل الزمان اھل کیت وذیت واﷲ المستعان لاصلاح الاحوال وقد سئل امام دار الھجرۃ عالم المدینۃ مالك بن انس رحمہ اﷲ تعالی ایما احب الیك المجاورۃ اوالقفول فاجاب ان السنۃ الحج ثم القفول کما نقلہ العلامۃ محمد العبدری فی مدخلہ۔
قول کی طرف اعراض کی اجازت نہیں البتہ اس صورت میں جو مذکور ہے اگرچہ کچھ مشائخ نے تصریح کی ہے کہ فتوی صاحبین کے قول پر ہے جیسا کہ بحر کے باب الصلوۃ میں اور فتاوی خیریہ کے باب الشہادات میں ہے حالانکہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھئے وہ جب حج سے فارغ ہوتے تو لوگوں میں دورہ کرتے اور فرماتے : اے اہل یمن! یمن چلے جاؤ اے اہل عراق! عراق چلے جاؤ اے اہل شام! اپنے وطن شام لوٹ جاؤ تا کہ تمھارے ذہنوں میں تمھارے رب کی گھر کی ہیبت خوب قائم رہے۔
میں کہتا ہوں یہ اس دور کی بات ہے جب صحابہ یا تابعین تھے جو نہایت مؤدب اور نہایت ہی احترام واکرام کرنے والے تھے ہمارے اس دور کا کیا حال ہوگا اللہ تعالی ہی اصلاح و احوال کی توفیق دے امام دارالہجرت عالم مدینہ حضرت امام مالك بن انس رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے پوچھا گیا کہ آپ کو مجاورت محبوب ہے یا لوٹنا فرمایا : سنت یہ ہے کہ حج کیا جائے پھر واپس ہو جیساکہ علامہ محمد عبدری نے مدخل میں ذکر کیا ہے۔
حوالہ / References فتاویٰ خیریہ کتاب الشہادات دارالمعرفۃ بیروت ٢ / ٣٣ ، بحرالرائق کتاب الصلوٰۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ١ / ٢٤٦
المدخل فصل فی ذکر بعض مایعتور الحاج فی حجہ دارالکتاب العربی بیروت ٤ / ٢٥٣
المدخل فصل فی ذکر بعض مایعتور الحاج فی حجہ دارالکتاب العربی بیروت ٤ / ٢٥٣
#10122 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
قلت وانما اراد سنۃ الصحابۃ ما عدا المھاجرین اما المھاجرون فقد کانوا عن الاقامۃ محجورین فلا یدل قفولھم علی استنانہ کما لا یخفی ثم ان العبدری نقل من بعض اکابر الاولیاء قدست اسرارہم ان جاور بمکۃ اربعین سنۃ ولم یبل فی الحرم ولم یضطجع قال فمثل ھذا تستحب لہ المجاورۃ اویو مربھا والموضع موضع ربح لا موضع خسارۃ فیحرم نفسہ الربح لقلۃ الادب الذی یصدر منہ وقلۃ الاحترام “ قال “ وقد حکی لی السید الجلیل ابو عبداﷲ القاضی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ انہ احتاج الی قضاء حاجۃ الانسان وھو فی المدینۃ فخرج الی موضع من تلك المواضع وعزم ان یقضی حاجتہ فیہ فسمع ھاتفا ینھاہ عن ذلك فقال الحجاج یعملون ھذا فاجابہ الھاتف بان قال واین الحجاج واین الحجاج واین الحجاج ثلث مرات فخرج من البلد حتی قضی حاجۃ ثم رجع اھ۔
“ وقد اطال الکلام فیہ الی ان قال “ ثم لو فرض ان المجاور لا یبا شر
قلت یہاں امام مالك نے سنت سے مراد غیر مہاجرین صحابہ کی سنت لی ہے رہے مہاجرین صحابہ تو ان کے لیے مکہ میں اقامت ممنوع تھی لہذا ان کا لوٹنا سنت پر دال نہیں جیسا کہ واضح ہے۔ پھر شیخ عبدری نے بعض اکابر اولیاء قدست اسرارہم کے بارے میں یہ بھی نقل کیا کہ وہ چالیس سال مکہ میں رہے مگر حرم کعبہ میں پیشاب نہ کرتے اور نہ ہی وہاں لیٹتے تھے پھر فرمایا ایسے لوگوں کے لیے مجاورت مستحب ہے یا انھیں کو اجازت دی جاسکتی ہے اور یہ مقام سراپا نفع ہے خسارہ نہیں تو قلت ادب اور قلت احترام کی بنا پر انسان خود کو نفع سے محروم نہ کرے پھر فرمایا مجھے السید الجلیل ابو عبداللہ القاضی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے بارے میں بیان کیا گیا کہ انھیں شہر مدینہ میں رفع حاجت کی ضرورت پیش آئی تو وہ شہر میں ایك مقام کی طرف گئے اور وہاں قضاء حاجت کا ارادہ کیا تو غیب سے آواز آئی جو اس عمل سے انھیں منع کررہی تھی تو انھوں نے کہا تمام حجاج ایسا کرتے ہیں تو جواب میں تین دفعہ آواز آئی کہاں کے حجاج کہاں کے حجاج کہاں کے حجاج۔ پھر وہ شہر سے باہر چلے گئے اور رفع حاجت کی اور پھر لوٹے اھ
طویل گفتگو کے بعد لکھتے ہیں کہ بالفرض مجاورت کرنے والا کوئی ایسا عمل نہیں کرتا جو ذکر ہوا تو اس کے
حوالہ / References المدخل فصل فی ذکر بعض مایعتور الحاج فی حجہ دارالکتاب العربی بیروت ٤ / ٢٥٣
#10124 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
شیئا مما تقدم ذکرہ حینئذ تکون المجاورۃ مستحبۃ فی حقہ مالم یخل بعبادۃ اخری ھی اکبر منھا کبر الوالدین والقیام بما وجب علیہ من صلۃ الرحم لمن یحب ذلك بالحضور معہ دون ارسال السلام بالکتابۃ وغیرہ “ قال “ والمقصودان یقدم امتثال الشرع الشریف فیقدم ماقدمہ ویؤخرما اخرہ فالمجاورۃ مع النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم باتباع اوامرہ واجتناب نواھیہ فی ای موضع کان ھذہ ھی المجاورۃ “ قال “ ومن کتاب القوت (ای السیدی ابی طالب المکی رحمہ اﷲ تعالی) قال بعض السلف کم من رجل بارض خراسان اقرب الی ھذا البیت ممن یطوف بہ وکان بعضھم یقول لان تکون بلدك وقلبك مشتاق متعلق بھذا البیت خیر لك من ان تکون فیہ وانت متبرم بمقامك وقلبك متعلق الی بلد غیرہ اھ ملتقطا۔
انی لو شئت لطولت الکلام بتوفیق العلام فی تحقیق المرام ولکن حسبی فی ھذا المقام کلام الامام بن الھمام
حق میں مجاورت مستحب ہوگی بشرطیکہ اس سے کوئی بڑی عبادت درمیان میں حائل نہ ہو مثلا بوڑھے والدین کے ساتھ حسن سلوك وخدمت اور ان لوگوں کی خدمت جو صلہ رحمی کی بناء پر لازم ہے اور وہ اس کے موجود ہونے کا تقاضا کرتا ہو نہ کہ محض تحریری سلام وغیرہ کا پھر لکھا مقصود شرع شریف کے احکام کو مقدم کرناہے لہذا جسے شریعت نے مقدم رکھا ہے اسے مقدم رکھا جائے اور جسے شریعت نے مؤخر رکھا ہے اسے مؤخر رکھا جائے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مجاورت آپ کے اوامر کی اتباع اور نواہی سے اجتناب کی صورت میں ہے خواہ انسان کسی جگہ مقیم ہو اور اصلا مجاورت یہی ہے اور فرمایا کتاب القوت (للامام ابو طالب مکی رحمہ اللہ تعالی) میں بعض اسلاف سے ہے بہت سے خراسان میں رہائش پذیر اس بیت اللہ کے ان لوگوں سے زیادہ قریب ہیں جو اس کا طواف کر رہے ہیں بعض نے فرمایا بندہ اپنے شہر میں ہوا ور اس کا دل اللہ تعالی کے گھر سے متعلق ہو یہ اس سے بہتر ہے کہ بندہ بیت اللہ میں ہو اور دل کسی اور شہر کے ساتھ وابستہ ہو اھ اختصارا۔
اگر میں چاہوں تو اس مقصد پر اللہ تعالی کی توفیق سے اور بھی طویل گفتگو کی جاسکتی ہے لیکن اس مقام پر مجھے امام ابن ہمام کی گفتگو ہی کافی ہے کیونکہ
حوالہ / References المدخل فصل فی ذکر بعض مایعتور الحاج فی حجہ الخ دارلکتاب العربی بیروت ٤ / ٢٥٥
المدخل فصل فی ذکر بعض مایعتور الحاج فی حجہ الخ دارلکتاب العربی بیروت ٤ / ٢٥٦
#10125 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
اذ لا عطر بعد عروس قال قدسنا اﷲ تعالی بسرہ الکریم ونفعنا فی الدارین بفضلہ الفخیم فی فتح القدیر شرح الھدایۃ اختلف العلماء فی کراھۃ المجاورۃ بمکۃ وعدمھا فذکر بعض الشافعیہ ان المختار استحبابھا الا ان یغلب علی ظنہ الوقوع فی المحذور وھذا قول ابی یوسف ومحمد رحمھما اﷲ تعالی وذھب وابوحنیفۃ ومالك رحمھما اﷲ تعالی الی کراھتھا ۔
قلت والمراد کراھۃ التحریم اذا ھو المحمل عندا لاطلاق وبدلیل قول المحقق فیما سیأتی “ لایذکر حالھم قیدا فی جواز الجوار “ اھ۔
(قال) وکان ابوحنیفۃ یقول انھا لیست بدار ھجرۃ وقال مالك وقد سئل عن ذلک ماکان الناس یرحلون الیھا الاعلی نیۃ الحج والرجوع وھوا عجب و ھذا احوط لما فی خلافہ من تعریض النفس علی الخطر اذطبع الانسان التبرم والملل من توارد ما یخالف ھواہ فی المعیشۃ وزیادۃ الانبساط المخل
شادی کے بعد عطر کیا کرنا ہے انھوں نے (اللہ تعالی ہمیں دارین میں ان کے علوم وفیوض سے بہرہ ور فرمائے) نے فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرمایا : مکہ مکرمہ کی مجاورت مکروہ ہے یا نہیں اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے بعض شوافع نے کہا کہ مختار قول کے مطابق مستحب ہے لیکن جب غالب گمان ممنوعات کے ارتکاب کا ہو تو پھرمکروہ ہے امام ا بو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ تعالی کا بھی یہی قول ہے امام ابو حنیفہ اور امام مالك رحمہم اللہ تعالی کے نزدیك مجاورت مکروہ ہے۔
میں کہتا ہوں یہاں کراہت سے مراد تحریمی ہے کیونکہ جب لفظ کراہت مطلقا ہو تو اس سے یہی مراد ہوتی ہے۔ اھ محقق کا آئندہ قول بھی اسی پر دلیل ہے کہ قلیل لوگوں کے حال کو جواز مجاورت کے لیے بطور قید ذکر نہیں کیا جاتا اھ۔
آگے لکھا امام ابو حنیفہ نے فرمایا مکہ مقام دارالہجرت نہیں امام مالك سے جب اسی بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا لوگوں کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ حج ادا کرکے واپس ہوجائیں اور یہ قول نہایت محبوب ہے اور یہی احوط ہے کیونکہ اس کے خلاف کرنے میں اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنا ہے کیونکہ انسانی طبیعت یہ ہے کہ بار بار خلاف خواہش کرنے سے اس کی زندگی میں ملال و پریشانی پید اہوتی ہے اسی طرح
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الحج مسائل منثورہ نوریہ رضویہ سکھر ٣ / ٩٣
فتح القدیر کتاب الحج مسائل منثورہ نوریہ رضویہ سکھر ٣ / ٩٤
#10127 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
بمایحب من الاحترام لما یکثرتکررہ علیہ ومداومۃ نظرہ الیہ وایضا الانسان محل الخطاء کما قال علیہ السلام کل بنی ادم خطاء ۔
قلت اخرجہ احمد والترمذی وابن ماجۃ والحاکم عن انس عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کل بنی ادم خطاء وخیر الخطائین التوابون اھ۔
(قال) والمعاصی تضاعف علی ماروی عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ ان صح والا فلا شک انھا فی حرم اﷲ افحش واغلظ فتنتھض سببالغلظ الموجب و ھوالعقاب (وساق الکلام الی ان قال) وکل من ھذہ الامور سبب لمقت اﷲ تعالی واذاکان ھذا سبحیۃ البشر فالسبیل النزوح عن ساحتہ وقل من یطمئن الی نفسہ فی دعوھا البرائۃ من ھذہ الامور الا وھو فی ذلك مغرور لایری الی ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما من اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم المحببین الیہ المدعولہ کیف اتخذ
کثرت کے ساتھ ادب کے منافی ہے بے تکلفی اور بار بار دیکھنے سے ادب و احترام میں کمی واقع ہوجاتی ہے اور یہ بھی کہ انسان خطاء کا محل ہے حضور علیہ الصلوۃ السلام کا مبارك ارشاد ہے : ہر آدمی محل خطاء ہے۔
میں کہتا ہوں اسے امام احمد ترمذی اور ابن ماجہ اور حاکم نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : ہر آدم محل خطاء ہے اور بہتر خطا کار وہ ہیں جو توبہ کر لینے والے ہوتے ہیں ا ھ
پھر لکھا گناہوں پر سزا بھی کئی گناہ ہے جیسا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے اگریہ روایت صحیح ہے تو فبہا ورنہ اس میں کوئی شك نہیں کہ اللہ کے حرم میں گناہ نہایت ہی بدبختی اور سخت قابل گرفت جرم ہے جو عقاب وسزا کا مستحق بنادے گا (اگے چل کر لکھا) ان میں ہر امرا للہ تعالی کی ناراضگی کاسبب ہے اور جب یہ بشری تقاضا ہے تو بچنے کی صورت فقط اس میدان سے نکل جانا ہے اور کوئی بھی ان امور سے بچنے کا دعوی نہیں کرسکتا ماسوائے ان لوگوں کے جو دھوکا میں ہیں کیا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کے بارے میں علم نہیں جو صحابی رسول ہیں محبوب لوگوں میں سے ہیں اور ان کے لیے حضور کی دعا ہے ہجرت کرکے وہ طائف چلے گئے۔
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الحج مسائل منثورہ نوریہ رضویہ سکھر ٣ / ٩٣
مسند احمد بن حنبل مروی از انس رضی اللہ عنہ دارالفکر بیروت ٣ / ١٩٨
#10129 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
الطائف دارا وقال لان اذنب خمسین ذنبا برکبۃ وھو موضع بقرب الطائف احب الی من ان اذنب واحدا بمکۃ ۔
قلت یشیر بالدعاء الی قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اللھم فقھہ فی الدین وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اللھم علمہ الکتاب اخرجھما الشیخان
وانما الفقیہ کما قالہ الامام الحسن البصری رحمہ اﷲ تعالی الزاھد فی الدنیا الراغب فی الاخرۃ البصیرۃ بعیوب نفسہ ومثل ھذا یتأھل للجوار لاشك واﷲ قد کان ابن عباس من اعاظم اھلہ و لکن الاکابر انفسھم یستصغرون فانظر الی الفرق من لا یسئم یخشی السأمۃ ومن لایسلم یدعی السلامۃ۔
(قال) وعن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ مامن بلدۃ یؤاخذ العبد فیہا بالھدایۃ قبل العمل الامکۃ و
اور فرمایا : رکبہ (طائف کے قریب جگہ کا نام ہے) کے مقام پر پچاس گناہ کرنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں مکہ میں ایك گناہ کروں۔
میں کہتا ہوں دعا سے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اس دعا کی طرف اشارہ ہے : “ اے اللہ! ابن عباس کو دین کی سمجھ عطا فرما۔ “ اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی یہ دعا بھی ہے : “ اے اللہ! ابن عباس کو کتاب کا علم عطا فرما۔ “ یہ دونوں دعائیں بخاری ومسلم میں ہیں فقیہ کی تعریف امام حسن بصری رحمۃ اللہ تعالی علیہ علیہ نے یوں کی ہے : دنیا سے اعراض کرنے والا آخرت کا شوق رکھنے والا اور اپنے عیوب سے اگاہ شخص فقیہ کہلاتا ہے۔ ایسے لوگ بلاشبہ مجاورت مکہ کے اہل ہیں اور اللہ کی قسم حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما ان اہل لوگوں میں سے بھی بڑے ہیں لیکن اکابر ہمیشہ اپنے آپ کو چھوٹا اور عاجز سمجھتے ہیں غور تو کیجئے کتنا فرق ہے ان میں کہ جو غلطی نہیں کرتا وہ عذاب سے ڈرتا ہے اور جوگناہ سے محفوظ نہیں وہ سلامتی کا دعوی کرتا ہے۔
پھر لکھا حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے کہ کسی شہر میں عمل سے پہلے محض برائی کے ارادے پر گرفت نہیں مگر مکہ میں پھر یہ آیت تلاوت کی :
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الحج مسائل منثورہ نوریہ رضویہ سکھر ٣ / ٩٣
صحیح بخاری باب وضع الماء عند الخلاء قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٢٦
صحیح بخاری باب قول البنی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللھم علمہ الکتاب قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ١٧
#10131 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
تلاھذہ الایۃ ومن یرد فیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم وقال سعید بن المسیب للذی جاء من اھل المدینۃ یطلب العلم ارجع الی المدینۃ۔ فانا نسمع ان ساکن مکۃ لایموت حتی یکون الحرم عندہ بمنزلۃ الحل لما یستحل من حرمھا وعن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ خطیئۃ اصیبھا بمکۃ اعز علی من سبعین خطیئۃ بغیرھا نعم افراد من عباد اﷲ استخلصھم وخلصھم من مقتضیات الطباع فاولئك ھم اھل الجوار الفائزون بفضیلۃ من تضاعف الحسنات والصلوات من غیر مایحبطھا من الخطیئات والسیئات (ثم سرد احادیث فی ذلک) ثم قال لکن الفائز بھذا مع السلامۃ من احباطہ اقل القلیل فلا یبنی الفقہ باعتبارھم ولا یذکر حالھم قیدا فی جواز الجوار لان شان النفوس الدعوی الکاذبۃ والمبادرۃ الی دعوۃ الملکۃ والقدرۃ علی مایشترط فیما تتوجہ الیہ وتطلبہ وانھا لأ کذب
اور جو اس میں کسی زیادتی کا ناحق ارادہ کرے توہم اسے درد ناك عذاب چکھائیں گے اور حضرت بن مسیب رضی اللہ تعالی عنہ نے مدینہ طیبہ سے طلب علم کے لیے مکہ آنے والے سے فرمایا : مدینہ طیبہ کی طرف واپس چلے جاؤ ہم نے سن رکھا ہے کہ ساکن مکہ نہیں فوت ہوگا حتی کہ حرم اس کے ہاں بمنزل حل کے ہوجاتی ہے کیونکہ وہ اس کی حرمت کا پاس نہیں کرتا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے : مکہ میں کیا جانے والا گناہ دوسرے مقام کے ستر گناہوں سے بد تر ہوتا ہے ہاں اللہ تعالی کے کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں جنھوں نے اپنی طبائع کے تقاضو ں کو صاف وخاص کرلیا ہے وہی اس پڑوس ومجاورت کے اہل ہیں وہ ہی حسنات اور عبادات کے فضیلت ودرجات پانے والے ہیں اور وہ سیئات اور گناہوں سے محفوظ رہتے ہیں (پھر اس سلسلہ میں احادیث ذکر کیں)
پھر کہا : لیکن گناہوں میں گرنے سے محفوظ وسلامتی کے ساتھ کا میاب ہونے والے بہت ہی کم ہوتے ہیں اور قلیل لوگوں کے اعتبار سے فقہی حکم کی بنا نہیں ہوتی اور نہ ہی جواز مجاورت کے لیے ان کے حال کو بطور قید ذکر کیا جاتا ہے کیونکہ انسانی فطرت یہ ہے کہ جھوٹے دعوی اور تجربہ کے اعلان میں پیش رفت کرتے ہوئے اور شرائط پر قدرت کا اظہار کرتے ہوئے مطلوب کی طرف بڑھتا ہے حالانکہ وہ
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الحج مسائل منثورہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٣ / ٩٤۔ ٩٣
#10133 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
مایکون اذا حلفت فکیف اذا ادعت واﷲ تعالی اعلم وعلی ھذا فیجب کون الجوار فی المدینۃ المشرفۃ کذلك فان تضاعف السیئات اوتعاظمھا وان فقد فیھا ۔
(قلت وذلك لان الرحمۃ فی المدینۃ اکثر واللطف اوفر والکرم اوسع و العفوا سرع کما ھو شاہد مجرب والحمد ﷲ رب العالمین ومع ذلک) فمخافۃ السامۃ وقلت الادب المفضی الی الاخلال بواجب التوقیر والاجلال قائم وھو ایضا مانع الا للافراد ذوی الملکات اھ مختصرا موضحا
وھو کما تری من الحسن بمکان فقد افادوا جاد اثابہ الجواد تبارك وتعالی وابان ان الامر وان کان فی الواقع علی جواز الجوار بشرط التوثیق وھو التوفیق عندالتحقیق کما نص علیہ وصححہ فی شرح اللباب وجزم بہ فی الدرالمختار الا ان اھل التوثیق لما کانوا اقل قلیل واحکام الفقہ انما تبتنی علی الغالب الکثیر دون النادر الیسیر فالوجہ ھو اطلاق المنع کما
اپنی قسموں میں نہایت جھوٹا ہوتا ہے تو اپنے دعووں میں وہ کیا ہوگا اور اللہ تعالی ہی بہتر جاننے والا ہے اس بنا پر یہ ضروری ہے کہ مدینہ طیبہ میں مجاورت کا بھی یہی حکم ہو اگر چہ یہاں گناہوں پر سزا میں اضافہ یا ان کی شدت مفقود ہے۔
میں کہتا ہوں کیونکہ مدینہ طیبہ میں رحمت اکثر لطف وافر کرم سب سے وسیع اور عفو سب سے جلدی ہوتا ہے جیسا کہ شاہد مجرب ہے والحمد ﷲ رب العالمین اس کے بوجود) اکتا نے کا ڈر اور وہاں کے احترام وتوقیر میں قلت ادب کا خوف تو موجود ہے او ریہ بھی تو مجاورت سے مانع ہے ہاں وہ افراد جو فرشتہ صفت ہوں تو ان کا وہاں ٹھہرنا اور فوت ہونا سعادت کاملہ ہے اھ اختصارا
آپ نے دیکھا اس جگہ محقق نے کنتی اچھی گفتگو کی یہ نہایت ہی عمدہ تفصیل ہے اللہ تعالی انھیں اجر عطافرمائے انھوں نے یہ واضح فرمادیا کہ اگر چہ مجاورت کا معاملہ جائزہے مگر بشرط توثیق جو بصورت توفیق الہی ہی حاصل ہوسکتی ہے جیسا کہ اس پر انھوں نے تصریح کی ہے شرح اللباب میں اس کو صحیح کہا درمختار میں اسی پر جزم کا اظہار کیا مگر چونکہ اہل توثیق بہت ہی کم ہوتے ہیں اور احکام فقہ کی بناء نادر و قلیل پر نہیں ہوتی بلکہ غالب کثیر پر ہوتی ہے تو اب مطلقا منع کہنا ہی بہتر ہے جیساکہ
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الحج مسائل منثورہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٣ / ٩٤
فتح القدیر کتاب الحج مسائل منثورہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٣ / ٩٤
#10134 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
ھو مذہب الامام رضی اﷲ تعالی عنہ و لذا اخذ الفاضلون المحشون العلامۃ الحلبی ثم الطحطاوی ثم الشامی کلھم فی حواشی الدر فی اشتراطہ التوثیق حیث نقلوا کلام الفتح ثم قالوا وھو وجیہ فکان ینبغی للشارح ان ینص علی الکراھۃ ویترك التقلید بالتوثیق اھ زاد ابن عابدین ای اعتبار للغالب من حال الناس لا سیما اھل ھذا الزمان واﷲ المستعان ھ۔
ولقد اعجبنی قول العلامۃ علی القاری فی مسلك المتقسط شرح المنسك المتوسط مع تصحیحہ ما علمت حیث یقول لوکانت الائمۃ فی زمانناوتحقق لھم شاننا لصرحوا بالحرمۃ الخ۔
قلت ونظیرہ ماقال فی الدرالمختار فی مسئلۃ دخول المرأۃ الحمام ان فی زماننا لا شك فی الکراھۃ لتحقق کشف العورۃ اھ وقد سبقہ الی ذلك المحقق علی الاطلاق فی الفتح ونحوھا ماذکر العلائی ایضا فی الدراالمنتقی شرح الملتقی
امام رضی اللہ تعالی عنہ کا مذہب ہے یہی وجہ ہے کہ درمختار پر حواشی لکھنے والے فاضل علماء حلبی طحطاوی پھر شامی سب نے فتح القدیر کی عبارت نقل کرکے توثیق کی شرط لگائی اور پھر کہا یہی بہتر ہے لہذا شارح کو چاہئے تھا کہ وہ کراہت پر تصریح کرنااور توثیق کی قید ترك کردیتا اھ ابن عابدین نے یہ اضافہ کیا کہ یہ اکثر لوگوں کے حال کے اعتبار خصوصا اس دور کے حوالے سے ضروری ہے اور اللہ تعالی ہی مدد فرمانے والا ہے اھ
مجھے علامہ ملا علی قاری کا “ مسلك متقسط شرح المنسك المتوسط “ میں یہ قول بہت پسند آیا جیسا مجھے معلوم ہے انھوں نے مذکور گفتگو کی تصحیح کرتے ہوئے کہا اگر یہ ائمہ ہمارے دور میں ہوتے اور ہمارے احوال سے آگاہ ہوتے تو مجاورت کے حرام ہونے کی تصریح کرتے الخ
میں کہتا ہوں اس کی نظیر درمختار میں “ عورت کا حمام میں جانا “ کے تحت ہے کہ ہمارے دور میں یہ مکروہ ہے کیونکہ بے پردگی ہوتی ہے اھ اور اس سے پہلے فتح میں محقق علی الاطلاق نے بھی یہی لکھا ہے وہ بھی اسی کی مثل ہے جو حافظ علائی نے الدر المنتقی شرح الملتقی میں طالب علم کے وجوب نفقہ کے بارے
حوالہ / References طحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحج باب الہدی دارالمعرفہ بیروت ١ / ٥٦٢
ردالمحتار کتاب الحج مطلب فی المجاورۃ بالمدینۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ٢ / ٢٥٦
مسلك متقسط مع ارشاد الساری فصل اجمعوا علی افضل البلاد الخ دارالکتاب العربی بیروت ص٣٥٢
درمختار باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع مجتبائی دہلی ٢ / ١٧٨
#10136 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
فی وجوب نفقۃ طالب العلم ان ھذا اذاکان بہ رشد کما فی الخلاصۃ ولذا قال صاحب المنیۃ والقنیۃ انا افتی بعدم وجوبھا فا ن قلیلا منھم حسن السیرۃ مشتغلا بالعلم الدینی واکثر ھم (کذا وکذا وذکر من مساویھم ثم قال اعنی الحصکفی) واما م کان بخلافھم فنادر فی ھذا الزمان فلایفرد بالحکم دفعا لحرج التمییز بین المصلح والمفسد الخ۔
قلت ومن ھذا القبیل حکمھم بتحریم السماع المجرد عن المزامیر فانہ یھیج مکا من القلوب واکثر الناس اساری الشہوات فالوجہ المنع سدا لباب الفتنۃ وان کان نفع شی فی حق رجال تحلوا بالفضائل وتخلوا عن الرذائل وماتت شہوا تھم بل قنت ذواتھم فبقی السماع محض الاتنفاع وبہ انقطع تطویل النزاع فمن فعلہ من الاولیاء فقد اصاب خیرہ ومن منعہ من الفقہاء فقد ازال ضیرہ فلھم الاجربما نصحوا
میں لکھا کہ یہ اس وقت ہے جب اس میں نیکی ہو اور بے رواہ روی نہ ہو جیسا کہ خلاصہ میں ہے اسی لیے صاحب منیہ وقنیہ نے کہا میں عدم وجوب کافتوی دیتا ہوں کیونکہ ان میں بہت کم طلبہ اچھے کردار کے حامل اور علم دین کے حاصل کرنے والے ہیں اور ان میں سے اکثر (ایسے ایسے ہیں اور پھر اپنے دور کے طلبہ کا ذکر کیا۔ پھر حصکفی نے کہا) جو ان کے خلاف ہیں وہ اس دور میں بہت کم ہیں ا ور اب مصلح اور مفسد میں فرق مشکل ہوجانے کی وجہ سے ان کے لیے الگ حکم بیان نہیں کیا جاسکتا الخ
میں کہتاہوں اسی قبیل سے سماع کا حرام ہونا ہے خواہ وہ مزامیر کے ساتھ نہ ہو کیونکہ وہ دل کے جذبات کو ابھارتا ہے اور اب اکثر لوگ شہوات نفسانیہ کے قیدی بن چکے ہیں۔ لہذا فتنہ کے دروازے کو بند کرنے کے لیے سماع سے منع کرنا ہی درست ہے اگر چہ یہ ایسے کچھ لوگوں کے لیے نافع بھی ہے جو فضائل سے مزین رذ ائل سے خالی ہو اور ان کی نفسانی خواہشات مر چکی ہوں بلکہ ان کی ذوات سراپا خشوع وخضوع ہوچکی ہو توپھر سماع واقعۃ نافع ہوتاہے۔ اس مسئلہ میں جو طویل نزاع ہے اس سے وہ بھی ختم ہوجا تا ہے اولیاء میں سے جس نے سماع سنا اس نے درست کیا اور اس کے لیے خبر بنا فقہاء میں سے جس نے
حوالہ / References الدرالمنتقی علی حاشیۃ مجمع الانہر فصل فی نفقۃ الطفل داراحیاء التراث العربی بیروت ١ / ٥٠٠
#10137 · صیقل الرّین عن احکام مجاورۃ الحرمین ١٣٠٥ھ (حرمین شریفین میں سکونت کے احکام سے متعلق شبہات کا ازالہ)
وللقوم الاذن لما صلحوا ولکل ثواب وبشری الصواب والحمد ﷲ رب الارباب۔
وبالجملۃ فالحکم عدم جواز الجوار اصلا فی زماننا والعاقل لایسعہ الا الاحتیاط لنفسہ والاحتراز عن سلوك مسالك تفضی غالبا الی المھالك ومن صدق نفسہ فقد صدق کذو باوسیری ذلک “ ولا حول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم “ واذاکان الامر وصف ھنالك سقط منشأ ا لسوال رأسا اذ تبین ان لیس مایظنہ خیرا خیرا واﷲ المسئول ان یرزق الخیر وبقی الضیر وھو سبحانہ وتعالی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وبارك وسلم۔
منع کیا تھا تو انھوں نے اس کے نقصانات کا ازالہ کیا ان کی اس خیر خواہی پر ان کے لیے اجر ہی اجر ہے اور لوگوں کے لیے اس میں اجازت ہے جو صلاحیت رکھتے ہوں اور ہر ایك کے لیے ثواب اور بشارت ہے درستی اور حمد رب الارباب کے لیے ہے۔
بالجملہ ہمارے دور میں مجاورت کی قطعا اجازت نہیں۔ عقلمند اپنے لیے فقط احتیاط ہی کی راہ اپنا تا ہے اور ہر اس راستہ سے اجتناب کرتا ہے جس سے ہلاکت میں گرنے کا خدشہ ہو جس نے اپنے نفس کو سچا سمجھا اس نے جھوٹے کی تصدیق کی اور خود اس کا مشاہدہ بھی کرے گا برائی سے بچنے اور نیکی بجا لانے کی طاقت اللہ تعالی جو بلند وعظیم ہے کی توفیق کے بغیر نہیں جب معاملہ یہ ہے جو یہاں بیان ہو اتو اب سرے سے سوال ہی ختم ہوگیا کیونکہ جس شے کو سائل نے خیر تصور کیا تھا وہ خیر ہی نہیں اللہ تعالی سے دعا ہے وہ خیر کی توفیق دے اور نقصان سے بچائے اور وہی مقدس واعلم ہے اس کا علم کامل واکمل ہے اس کے رسول اور ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر درود وسلام ہو اورآپ کے آل واصحاب پر بھی ۔ (ت)
_____________
#10139 · شرائط حج
مسئلہ : از پٹنہ عظیم آباد بخشی محلہ مسئولہ منشی علی حسین صاحب شعبان ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید معمر قریب ہفتادسال مریض رعشہ کہ تنہا سفرکے قابل نہیں کبھی اپنے زمانہ صحت وشباب میں اتنے مال کا مالك نہ ہوا کہ اس پر حج فرض ہوتا اب کہ حالت یہ ہے اس نے اپنا مال وغیرہ بیچا اور پانچسو روپے اس کے پاس ہوگئے کہ یہی کل سرمایہ اس کا ہے۔ بوجہ ضعف وامراض دوسرے شہر میں جہاں اس کے اعزہ ہیں سکونت کرنا اور وہاں مکان خریدنا چاہتا ہے اس صورت میں اس پر خود حج کو جانا یاروپیہ دے کر حج بدل کرانا واجب ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
صورت مستفسرہ میں زید پر حج اصلا واجب نہیں۔ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب مصحح ظاہر الروایۃ میں تو ایسی تندرستی جو اس سفر مبارك کے قابل ہو شرط وجوب ہے کہ بغیر اس پر حج سرے سے واجب ہی نہ ہوتا نہ خود جاتا نہ دوسرے کو بھیجتا اور صاحبین رحمہم اللہ تعالی کے مذہب مصحح میں اگرچہ تندرستی مذکور شرط وجوب نہیں شرط وجوب ادا ہے کہ وہ نہ ہو تو خود جانا لازم نہیں مگر اپنے عوض اپنے روپے سے اپنی حیات میں یا بعد موت حج کرانا واجب ہے مگر مال جملہ حاجات سے فاضل جانے آنے کے قابل باتفاق فقہائے کرام شرط وجوب ہے کہ بے اس کے حج واجب ہی نہیں ہوتا اور مکان حاجات اصلیہ سے ہے اس کی خریداری یا بنانے کے بعد اس زمانے میں کہ اب مصارف حج بہت قریب گزرے ہوئے زمانے سے تقریبا دو چند ہوگئے
#10140 · شرائط حج
اتنا بچنا کہ اس سے حج کے لیے جانے آنے رہنے کے بھی تمام مصارف ہوں او رزید کے لیے اس حالت میں کہ نہ اور مال نہ کسب پر قدرت کچھ ذریعہ معاش بچ بھی رہے معقول نہیں لہذا بالاتفاق ورنہ علی التنزیل صاحب مذہب رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب صحیح مرجح پر تو بلا شبہہ زید پر حج کرانا بھی نہیں اور خود حج کو جانا تو بالا جماع اصلا صورت وجوب نہیں رکھتا لا یكلف الله نفسا الا وسعها- (الله کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔ ت)تنویر الابصار ودرمختار وردالمحتار میں ہے :
الحج فرض علی مسلم حرمکلف صحیح البدن (ای سالم عن الافات المانعۃ عن القیام بما لا بد منہ فی السفر فلا یجب علی مقعد ومفلوج وشیخ کبیر لا یثبت علی الراحلۃ بنفسہ واعمی وان وجد قائدا لا بانفسھم ولا بالنیابۃ فی ظاھر المذھب عن الامام وھو روایۃ عنھما وظاھر الروایۃ عنھما وجوب الاحجاج علیھم وظاھر التحفۃ اختیار قولھما وکذا الاسبیجابی وقواہ فی الفتح وحکی فی اللباب اختلاف التصحیح وفی شرح انہ مشی علی الاول فی النھایۃ وقال فی البحر العمیق انہ المذھب الصحیح وان الثانی صححہ قاضیخان فی شرح الجامع واختارہ کثیر من المشائخ اھ ش) بصیر ذی زادو راحلۃ
حج ہرمسلم آزاد بالغ صحت مند پر لازم ہے (یعنی ہر اس آفت سے محفوظ ہو جس کے باوجود سفر نہیں کیا جاسکتا پس لولے فالج زدہ اور ایسے بڑے بوڑھے پرحج فرض نہیں جو سواری پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح نابینا پر بھی فرض نہیں اگرچہ کوئی اس کا معاون ہو امام صاحب کے ظاہر مذہب کے مطابق نہ ان کی ذوات پر لازم اور نہ ان پر نائب بنانا لازم ہے اور ایك روایت صاحبین سے یہی ہے۔ ظاہر الروایۃ صاحبین سے یہ ہے کہ ان پر حج بدل کروانا لازم ہے تحفہ سے ظاہرا یہی معلوم ہوتا ہے کہ صاحبین کا قول مختار ہے اسبیجابی میں اسی طرح ہے فتح میں ا س کو قوی کہا۔ اللباب میں تصحیح اقوال میں اختلاف منقول ہے اسی کی شرح میں ہے کہ نہایہ میں پہلے قول کو لیا گیا ہے بحرا لعمیق میں ہے کہ یہی مذہب صحیح ہے قاضیخان نے شرح الجامع میں دوسرے قول کو صحیح کہا ہے اور اسے کثیر المشائخ نے اختیارکیا اھ ش)ایسے زادراہ اور سواری پر قادر ہو
حوالہ / References القرآن ٢ / ٢٨٦
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحج مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٦٠۔ ١٥٩
ردالمحتار کتاب الحج مصطفی البابی مصر ٢ / ١٥٤
#10142 · شرائط حج
فضلا عما لابد منہ ومنہ المسکین ومرمتہ ولوکان عندہ ما لواشتری بہ مسکنا و خادما لا یبقی بعدہ مایکفی للحج لایلزمہ خلاصۃ وحرر فی النھرانہ یشترط بقاء راس مال لحرفتہ ان احتاجت لذلك و الا لا (وراس المال یختلف باختلاف الناس بحر والمراد مایمکنہ الا کتساب بہ قدر کفایتہ وکفایۃ عیالہ اھ ملتقطات واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
جو اس کی ضرویات سے زائد ہو ان میں اس کی رہائش اور اس کی مرمت بھی ہے اگر اس کے پاس مال ہے کہ وہ رہائش اور خادم خریدتا ہے اور باقی اتنا مال نہیں بچتا جو حج کے لیے کافی ہو اس پر حج فرض نہیں ہوگا خلاصہ۔ اور نھر میں ہے اگر وہ کسی کاروبار کا محتاج ہے تواس کے لیے سرمایہ کا باقی رہنا بھی شرط ہے اور اگر محتاج نہیں تو پھر یہ شرط نہ ہوگی مختلف لوگوں کے اعتبار سے سرمایہ مختلف ہوسکتا ہے بحر۔ اور کاروبار سے مراد اتنا ہے جس سے اپنی اور اپنے عیال کے لیے بقدر کفایت روزی حاصل ہوسکے اھ اختصار۔ والله سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ادائے حج ہندہ پر مدت سے فرض تھا اب جانے کا قصد کیا تو محارم اس کے بجہت موانع نہیں جاسکتے ایك محرم کو کہ ارتکاب مناہی سے بیباك ہے اور انصرام سفر کے کاموں کا اس سے متوقع نہیں ۔ لے جانا ممکن ہے اور ایك عورت متقیہ اور ایك بھتیجا شوہر ہندہ کا کہ بچپن سے اس کے سامنے ہوتی دیندار وہو شیار ہے جاتے ہیں ان کے ساتھ نہ جائے گی تو پھر جانے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی فرض رہ جائے گا اس صورت میں ہندہ کو جانا چاہئے یا نہیںا ور جائے تو کس کے ساتھ جائے بینوا توجروا۔
الجواب :
عورت کو بغیر محرم کے حج خواہ کسی اور کام کے واسطے سفر کرنا نا جائز ہے اور بھتیجا شوہر کا محرم نہیں اور محرم فاسق بیکار ہے اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے اور معیت زن متقیہ کی امام اعظم رحمۃ الله علیہ کے نزدیك کافی نہیں لیکن اگر بغیر محرم کے چلی گئی اور حج کر لیا تو فرض ساقط اور حج مع الکراہۃ ادا اس فعل ناجائز کی معصیت جدا پس جب ہندہ پر بسبب اجتماع شرائط کے حج فرض ہوگیا تھا اور اب معیت محرم کی نہیں ملتی تو چارہ کار یہی ہے
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الحج مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٦٠
ردالمحتار کتاب الحج مصطفی البابی مصر ٢ / ١٥٦
#10144 · شرائط حج
کہ نکاح کرے اگر یہ خوف ہو کہ شاید اس نے نکاح کرلیا اور پھر نہ گیا تو یہ پھنس گئی اور حج بھی نہ ہوا یا اندیشہ ہو کہ شوہر موافق مزاج نہ نکلے چاہئے تو تھا چند روز کے لیے اور پابند ہوگئی عمر بھر کی یا سرے سے اسے پابند شوہر رہنا منظور ہی نہ ہو صرف اس ضرورت کی رفع تك کہ نکاح چاہئے تو اقول : (میں کہتا ہوں۔ ت)اس کی تدبیر یہ ہے کہ اس شرط پر نکاح کرے کہ اگر تواس سال میرے ساتھ حج کو نہ جائے تو مجھ پر ایك طلاق بائن ہوا ور جب بعد حج میں واپس آؤں اور اپنے مکان میں قدم رکھوں تو فورا مجھ پر طلاق بائن ہو یوں اگر وہ نہ گیا تو طلاق ہوجائے گی اور اگر گیا تو واپسی پر عورت جس وقت اپنے مکان میں قدم رکھے گی نکاح سے نکل جائے گی اور بہتر اورآسان تر یہ ہے کہ اس شرط پر نکاح کرے کہ مجھے ہر وقت اپنے نفس کا اختیار ہو کہ جب کبھی چاہوں اپنے آپ کو ایك طلاق بائن دے لوں یوں اس کے نہ جانے یا واپس آنے پر اور اس کے بعد بھی ہر وقت عورت کو اختیار رہے گا مرضی ہو اس کی زوجیت میں رہے نہ مرضی ہو اپنے آپ کو ایك طلاق بائن دے کر جدا ہوجائے درمختار میں ہے :
مع زوج او محرم بالغ عاقل غیر مجوسی ولا فاسق لامرأۃولو عجو زا وھل یلزمھا التزوج قولان ولوحجت بلامحرم جازمع الکراھۃ ۔
عورت خواہ بوڑھی ہو اس کے لیے خاوند یا محرم بالغ کاہونا ضروری ہے بشرطیکہ وہ محرم فاسق اور مجوسی نہ ہو کیا عورت پر حج کے لیے نکاح ضروری ہے اس بارے میں دو قول ہیں اگرعورت نے بغیر محرم حج کرلیا تو جائز مع الکراہت ہوگا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ قولان ھما مبنیان علی ان وجود الزوج اوالمحرم شرط وجوب ام شرط وجوب الاداء والذی اختارہ فی الفتح انہ مع الصحۃ وأمن الطریق شرط وجوب الاداء فیجب الایصاء ان منع المرض وخوف الطریق اولم یوجد زوج ولامحرم ویجب علیھا التزوج عند فقد المحرم وعلی الاول لا یجب شیئ من ذلک
قولہ قولان یہ دونوں اس بنا پر ہیں کہ خاوند یا محرم کا ہونا نفس وجوب کے لیے شرط ہے یا وجوب ادا کے لیے فتح میں جو مختار ہے وہ یہ ہے کہ صحت اورراہ پر امن ہو تو وجوب ادا کے لیے شرط ہے اگر مرض یا راستہ کا خوف مانع ہے تو حج کے بارے میں وصیت لازم ہوگی یا خاوند اورمحرم نہیں تو محرم کی عدم موجودگی میں نکاح کرنا ضروری ہوگا اور پہلے قول پر ان میں سے کوئی چیز بھی واجب نہیں
حوالہ / References درمختار کتاب الحج مطبع مجتبائی دہلی ١ / ٦١۔ ١٦٠
#10145 · شرائط حج
کما فی البحر ح وفی النھر وصحح الاول فی البدائع ورجح الثانی فی النھایۃ تبعا لقاضی خاں واختارہ فی الفتح اھ
قلت لکن جزم فی اللباب بانہ لایجب علیھاا لتزوج مع انہ مشی علی جعل المحرم اوالزوج شرط اداء ورجح ھذا فی الجوھرۃ وابن امیر حاج فی المناسك کما قالہ المصنف فی منحہ قال ووجھہ انہ لا یحصل غرضھا بالتزوج لان الزوج لہ ان یمتنع من الخروج معھما بعد ان یملکھا ولا تقدر علی الخلاص منہ وربما لا یوا فقھا فتتضرر منہ بخلاف المحرم فانہ ان وفقھا انفقت علیہ وان امتنع امسکت نفقتھا وترکت الحج اھ فافھم اھ مافی ش اقول : نعم المخلص من ھذہ کلھا ماذکرت من ان تتزوج بشرط ان تملك طلقۃ بائنۃ تطلق بھا نفسھا متی شاءت فان لم یخرج معھا اولم یوافقھا اولم تردہ تخلص نفسھا ولاحرج علیھا واﷲ تعالی اعلم۔
جیسا کہ بحر اور نہر میں ہے بدائع نے اول کو صحیح بتایا اور نہایہ نے قاضی خاں کی اتباع میں دوسرے کو ترجیح دی ہے اور فتح میں بھی اسی کو اختیار کیاہے اھ
میں کہتا ہوں اللباب میں اس پر جزم ہے کہ اس عورت پر نکاح کرنا لازم نہیں باوجود یکہ انھوں نے بھی یہ کہا کہ محرم یا خاوند وجوب ادا کے لیے شرط ہے اسے جوہرہ میں اور ابن امیر حاج نے المناسك میں اسی کو ترجیح دی جیسا کہ مصنف نے اپنی منح میں کہا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نکاح سے اس عورت کی غرض کا پورا ہونا ضروری نہیں ممکن ہے خاوند نکاح کے بعد اجازت نہ دے اور وہ عورت اس سے خلاصی پر قادر بھی نہ ہو بہت دفعہ خاوند بیوی میں موافقت نہیں رہتی لہذا نکاح سے نقصان ہوگا بخلاف محرم کے اگر وہ عورت کی موافقت کرے گا تو اس پر خرچ کرے گی اور اگر وہ رك جاتا ہے تووہ خرچ بھی روك کر حج چھوڑدے گی اھ فافھم ما فی ش
اقول : (میں کہتاہوں۔ ت) ان تمام صورتوں میں بچت س میں ہے جو ہم نے ذکر کیا عورت اس شرط پر نکاح کرے کہ عورت طلاق بائنہ کی مالك ہوگی اور جب چاہے اپنے آپ کو دے سکے گی اب اگر خاوند اس کے ساتھ نہیں جاتا یا موافقت نہیں کرتا یا جواب نہیں دیتا تو اس سے خلاصی پائے اوراس پرکوئی تنگی نہیں والله تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحج مصطفی البابی مصر ٢ / ١٥٨
#10147 · شرائط حج
مسئلہ : از پیلی بھیت محلہ بشیر خاں مرسلہ محمد عبداللطیف خاں صاحب رئیس شوال ھ
جناب مولوی صاحب مخدوم بندہ سلامت بعد سلام نیاز کے عرض یہ ہے میری بھاوج بیوہ فی الحال ارادہ حج بیت الله شریف کے جانے کا رکھتی ہیں بلکہ بھاوج صاحبہ کا قصد حال میں روانگی کا ہے مگرہمراہ ان کے کوئی شخص محرم نہیں ہے جو شخص کہ ان کے ہمراہ جاتا ہے وہ ان کے دور کے رشتہ کا بھائی ہے اور عرصہ سے بھاوج صاحبہ کے پاس ملازم ہے مگر شخص مذکور محتاط نہیں ہے یہاں کے علماء نامحرم شخص کے ہمراہ جانے سے منع فرماتے ہیں اور بھاوج صاحبہ کے حقیقی بھائی مکہ شریف سال گزشتہ میں گئے ہوئے ہیں واپس میں وہ ان کے ہمراہ آئیں گے جناب بموجب شرع شریف یہ ارقام فرمائے کہ بھاوج صاحبہ کا ایسے شخص کے ہمراہ جانا جائز ہے یا ناجائز جواب سے جلد مطلع فرمائے۔
الجواب :
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لا یحل لا مرأۃ تؤمن باﷲ والیوم الاخر ان تسافر مسیرۃ یوم ولیلۃ الامع ذی رحم محرم یقوم علیھا ۔
حلال نہیں اس عورت کو کہ ایمان رکھتی ہو الله اور قیامت پر کہ ایك منزل کا بھی سفرکرے مگر محرم کے ساتھ جوا س کی حفاظت کرے۔
یعنی بچہ یامجنون یا مجوسی یا بے غیرت فاسق نہ ہوا یسا اگر محرم ہو تو اس کے ساتھ بھی سفر حرام ہے کہ اس سے حفاظت نہ ہوسکے گی یا ناحفاظتی کا اندیشہ ہوگا حج کا جانا ثواب کے لیے ہے اور بے محرم جا نے میں ثواب کے بدلے ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا میں خاص اس موقع کے لیے نہیں کہتا بلکہ عام مسئلہ بتا تا ہوں کہ جو عورت حج کو جانا چاہے اور محرم نہ پائے اور شوہر نہ رکھتی ہو اس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی کفو سے نکاح کرکے اسے ساتھ لے جائے پھر اگر نکاح کو باقی رکھنا نہ چاہے اور اندیشہ ہوکہ دوسرے کی پابند ہوجائیگی تو اس کی تدبیر یہ ہے کہ (فلاں) کفو کے ساتھ نکاح کرنے کا اس شرط پر کہ جب میں سفرحج سے اپنے مکان پر واپس آؤں مکان میں قدم رکھتے ہی فورا مجھ پر ایك طلاق بائن ہو پھر وکیل کرے
حوالہ / References صحیح بخاری باب فی کم یقصر الصلوٰۃ وسمہ النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم یوماً ولیلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٤٨ ۔ ١٤٧ ، صحیح مسلم باب سفر المرأۃ مع محرم الی حج وغیرہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٣٤۔ ٤٣٣ ، سنن ابوداؤد کتاب المناسک باب المرأۃ تحج بغیر محرم آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٢٤١ ، الترغیب والترھیب ترھیب المرأۃ ان تسافرا لخ مصطفی البابی مصر ٤ / ٧٢
#10148 · شرائط حج
یہ وکیل یونہی نکاح کرے یعنی ان سے کہے میں نے فلانہ بنت فلاں بن فلان اپنی موکلہ کو اتنے مہر کے عوض اس شرط پر تیرے نکاح میں دیاکہ جب وہ عورت بعد حج اپنے گھر واپس آئے مکان میں داخل ہو فورا اس پر ایك طلاق بائن ہو شوہر کہے میں نے اسے اس شرط پر قبول کیا اب بعد واپسی گھر میں آتے ہی فورا اس کے نکاح سے نکل جائے گی جسے وہ کسی طرح نہیں روك سکتا اور جسے مکہ معظمہ سے واپسی پر محرم ملنے کا یقین ہو یوں شرط کرے کہ مکہ معظمہ پہنچتے ہی مجھ پرطلاق بائن ہو مکہ معظمہ پہنچتے ہی طلاق بائن واقع ہوجائے گی مگراگر بیچ میں خلوت واقع ہو وے تو تا انقضائے ایام عدت وہاں (مکہ معظمہ )قیام لازم ہوگا اور خلوت نہ ہو تو یہ دقت بھی نہ ہوگی اور ہر حال میں جو عورت ولی رکھتی ہو اس کے لیے یہ ضرور ہوگا کہ نکاح مذکور ایسے شخص سے کرے جو قوم یا مذہب یا پیشے یا چال چلن میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح اس کے ولی کے لیے باعث ننگ وعار ہو یا اگر ایسا شخص ہے تو ولی اس کے اس حال پر مطلع ہو کر پیش از نکاح صریح اجازت دے دے ورنہ نکاح نہ ہوگا والله سبحنہ و تعالی اعلم ۔
مسئلہ : عبدالجبار خاں صاحب از محلہ جسولی بریلی شوال ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اس بارے میں کہ ایك بیوہ عورت مالدار جس کو مقدور حج بیت الله شریف کے جانے کا ہو جس کی عمر تخمینا چالیس یا پنتالیس سال کی ہے اور اس کو بیوہ ہوئے عرصہ یا سال کا ہوا اور اس کے منہ میں دو ایك دانت داڑھ باقی ہیں اور سر کھچڑی ہے وہ بیوہ سفر حج بیت الله شریف بوساطت یابہمراہ اپنے رشتہ کے ماموں جن کے سامنے روز پیدائش سے اس وقت تك بے پردہ مثل اپنے والدہ کے آتی ہے اور نیز اس کی اور ہمشیرگان ووالدہ وغیرہ ان کے سامنے بے پردہ آتی ہوں اور ماموں کی عمر تخمینا یا برس کی ہے اور وہ ماموں مع اپنی بی بی اور بچہ اور نیز ایك غلام خاوند زاد ودیگر عورات ملازمہ کے حج بیت الله شریف جاتے ہیں اگر وہ بیوہ مذکور اپنے ایسے ماموں رشتہ دار جن کی تعریف اوپر ہو چکی ہے جس کو حقیقی ماموں سے کم خیال نہیں کیا جاسکتا ہے ان کے ہمراہ اپنے خرچ سے سفر بیت الله شریف کو جائے اور حج وزیارت سے مشرف ہو کر اپنے وطن کو واپس آجائے تو اس کی صورت دیکھنا اور اس سے ملنا اس کے رشتہ داروں کو حرام ہے یا حلال یا جائز ہے یا ناجائز یا ثواب پائے گی یا عذاب یا کچھ نہیں
الجواب :
لا تبدیل لحکم اﷲ الله کے حکم کو کوئی بدلنے والانہیں۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
لا یحل لا مرأہ تؤمن باﷲ والیوم الاخران تسافر ثلثۃ ایام وفی
حلال نہیں کسی عورت کو جو الله تعالی اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کہ ایك منزل بھی سفر کو جائے
#10150 · شرائط حج
روایۃ یوما ولیلۃ الاومعھا زوجھا اوذورحم محرم منھا اوکما لفظہ وھذا معناہ۔
جب تك ساتھ میں شوہر یا وہ رشتہ دار نہ ہو جس سے ہمیشہ ہمیشہ کو نکاح حرام ہے۔
جانا چاہے تو اس پر لازم ہے کہ اپنے کسی محرم کو ساتھ لے یا حج سے واپسی تك کے لیےنکاح کرلے اگر چہ ستر اسی برس کی عمر والے سے جو اس کے ساتھ جائے آئے کہ مقصود صرف یہ ہے کہ بے محرم یا شوہر کے جانا صادق نہ ہو باقی مقاصد زوجیت ہونے نہ ہونے سے بحث نہیں اور اگر اندیشہ ہو کہ وہ بعد واپسی کے طلاق نہ دے گا تو نکاح یوں کیاجائے کہ عورت کہے میں نے اپنے نفس کو تیرے نکاح میں دیا اس شرط پر کہ جب تو مجھے حج کو لے جائے اور واپس آئے تو واپس اپنے مکان پر پہنچتے ہی مجھ پر طلاق بائن ہو یا اگرتو اس سال اس قافلہ کے ساتھ حج کو میرے ہمراہ نہ جائے تو مجھ پر طلاق بائن ہو مرد کہے میں نے یہ قبول کیا اس شرط پر کہ جب میں تجھے حج کو لے جاؤں( الی آخرہ) یوں اگر وہ ساتھ نہ جائے تو طلاق ہوجائے گی اور ساتھ جائے تو واپس پہنچتے ہی طلاق ہوجائے گی بغیر اس کے جوقدم رکھے گی گناہ لکھا جائے گا ان گناہان کثیرہ کے باعث اگر رشتہ دار اس سے نہ ملیں تو بے جا نہیں۔ والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ : مسئولہ حافظ محمد عبداللطیف صاحب علی گڑھی محرم ھ
کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت ضعیفہ ستر سال یا نوجوان عفیفہ نے تن تنہا یا غیر محرم کے ساتھ بقصد حج حرمین کا سفر کیا جب بہت کچھ مسافت طے کر چکی تو اس کو راستہ سے اسی حالت میں واپس کرالیا جائے اور اگر وہ خانہ کعبہ اور عرفات میں پہنچ گئی اور ارکان حج بتمامہ مع سنن وواجبات وفرائض ادا کئے تواس کا حج ادا ہوگا یا نہیں اور سفر کی تنہائی مانع ومفسد حج ہوگی یا نہیں اور اس راستہ سے لوٹانا مناسب ہوگا یا نہیں بینوا بالکتاب والسنۃ وتوجرواببیان احکام القران والشریعۃ(کتا ب وسنہ سے اس کی تفصیل بیان کیجئے احکام قرآن وشریعت کے بیان پر الله تعالی تمھیں اجر عطا فرمائیگا۔ ت)
الجواب :
عورت اگر چہ عفیفہ یاضعیفہ ہو اسے بے شوہر یامحرم سفر کو جانا حرام ہے یہ عفیفہ ہے تو جن سے اس پر
حوالہ / References صحیح بخاری باب فی کم یقصر الصلوٰۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٤٨۔ ١٤٧ ، صحیح مسلم باب سفر المرأۃ مع محرم الی حج وغیرہ قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٣٤۔ ٤٣٣ ، سنن ابوداؤد باب المرأۃ تحج بغیر محرم آفتاب عالم پریس لاہور ١ / ٢٤٢ ، ا لترغیب والترھیب ترھیب المرأۃ ان تسافر وحد ہا بغیر محرم مصطفی البابی مصر ٤ / ٧٢
#10152 · شرائط حج
اندیشہ ہے وہ تو عفیف نہیں او ریہ ضعیفہ ہے تو سفر خصوصا حج میں اور زیادہ محتاج محرم ہے کہ جہاز یا اونٹ پر چڑھانے اتارنے کے لیے ضعیفہ کو دوسرے شخص کی زیادہ حاجت ہے۔ ہاں اگر چلی جائے گی گنہ گار ہوگی ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا مگر حج ہوجائے گا کہ معیت محرم شرط صحت حج نہیں رہی واپسی اگر اس کا شوہر یا محرم اس کے ساتھ حج کو جاسکتا ہے تو یہی مناسب ہے۔ اس صورت میں واپسی کر نامناسب نہیں اگر زوج یا محرم کوئی نہیں یا ہے مگر حج کو نہیں جاسکتا تو اگر ابھی مدت سفر تك نہیں گئی ہے واپسی لازم ہے اور اگر مدت سفر تك قطع کرچکی تو شوہر یا محرم ہو تو واپس لائیں کہ اس میں ازالہ گناہ ہے اور ازالہ گناہ فرض ہے۔
قال اﷲ تعالی یایها الذین امنوا قوا انفسكم و اهلیكم نارا ۔
وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ ۔
الله تعالی کا ارشاد گرامی ہے : اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو آگ سے بچالو۔ (ت)
اور سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان مبارك ہے : تم میں سے جو برائی دیکھے اسے طاقت سے روکے۔ (ت)
اور اگر شوہر ومحرم نہیں رکھتی تو اگر اتنی دور پہنچ گئی کہ مکہ معظمہ تك مدت سفر نہیں مثلا جدہ پہنچ گئی تو اب چلی جائے اور واپس نہ ہو کہ واپسی میں سفر بلا محرم ہے اور وہ حرام ہے۔
وکانت کمن ابانھا زوجھا اومات عنھا ولو فی مصر ولیس بینھا وبین مصرھا مدۃ سفر رجعت ولوبین مصرھا مدۃ وبین مقصدھا اقل مضت۔
مثلا اس عورت کو خاوند نے طلاق بائن دے دی یا وہ فوت ہوگیا اگر وہ شہر تھا اور اس عورت اورا س کے وطن کے درمیان مدت سفر نہیں تو وہ عورت لوٹ آئے اور اگر اس کے وطن کے لیے مدت سفر ہو او رمقصد کے لیے مدت سفر کم ہوتو سفرجاری رکھے۔ (ت)
پھر بعد حج مکہ معظمہ میں اقامت کرے بلا محرم گھر کو واپس آنا بلکہ مدینہ طیبہ کی حاضری ناممکن ہے یہ وہ عورت ہے جس نے خود اپنے آپ کو بلا میں ڈالا اس کے لیے چارہ کار نہیں مگر یہ کہ اس کا کوئی محرم جا کر اسے لائے یوں کہ اس سال وہ جانا چاہتا تھا اس سال گیا یا یوں کہ اس سال تك اس کا کوئی محرم نابالغ تھا اب بالغ ہوا اور لاسکتا ہے اور یہ بھی نہ ہو تو چارہ کار نکاح ہے نکاح کرے پھر شوہر کے ساتھ چاہے واپس آئے یا وہیں مقیم رہے اور اگر
حوالہ / References القرآن ٦٦ / ٦
صحیح مسلم باب بیان کون النھی عن المنکر من الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ١ / ٥١
#10153 · شرائط حج
دونوں طرف مدت سفر ہے توبلا سخت تر ہے اور جانا یا آنا کوئی بھی بے گناہ نہیں ہوسکتا مگربہ حصول محرم یا تحصیل شوہر شوہر کے قبضے میں اگر ہمیشہ رہنا نہ چاہے تو اس کا یہ علاج ہے کہ اس شرط پر نکاح کرے کہ میرا کام میرے ہاتھ میں رہے گا جب چاہوں اپنے آپ کو طلاق بائن دے لوں او راگر یہ بھی ناممکن ہو تو سب طرف سے دروازے بند ہیں پوری مضطرہ ہیے اگر ثقہ معتمدہ عورتیں واپسی کے لیے ملیں تو مذہب امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ پر عمل کرکے ساتھ واپس آئے اور جانے کے لیے ملیں تو انکے ساتھ جائے انھیں کے ساتھ واپس آئے کہ تقلید غیر عندا لضرروۃ بلاشبہہ جائز ہے کما فی الدرالمختار وغیرہ (جیساکہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت) اس لیے ارشاد ہوا کہ اختلاف اصحابی لکم رحمۃ (میرے صحابہ کا اختلا ف تمھارے لیے رحمت ہے۔ ت) ھذا ما ظھر لی والعلم بالحق عند ربی فلیحر ر ولیراجع (یہ مجھ پر واضح ہوا اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ۳۰و ۳۰۷ : مرسلہ حافظ محمد آیاز صاحب از قصبہ نجیب آباد ضلع بجنور محلہ پٹھان پور محرم الحرام ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل ذیل میں موافق حکم شرع شریف بموجب قرآن وحدیث عقائد اہل سنت ارشاد فر مائے الله تعالی اجر عظم عطافرمائے :
() جس کے پاس روپیہ تنخواہ ورشوت وغیرہ کا شامل ہوا ور اس کے خرچ خانگی وغیرہ سے فاضل ہو تو اس شخص پر حج بیت الله شریف فرض ہے یا نہیں اگر فرض ہے تو اس روپے سے حج ادا ہوگا یا نہیں اگر نہیں ادا ہوگا توا س کے واسطے کیا صورت ہونی چاہئے کہ جس سے حج بھی ادا ہوجائے اور ثواب کا بھی مستحق ہو
() جس شخص کے پاس روپیہ واسطے خرچ حج بیت الله شریف موجود ہے لیکن وہ شخص بوجہ پوری تندرستی نہ ہونے کے خود جانے سے معذور ہے تو اس پر حج فرض ہے یانہیں اگر ہے تو وہ کس صورت سے حج ادا ہو سکتا ہے کہ جس سے یہ شخص سبکدوش ہو بینوا توجروا۔
الجواب :
() اگر اس کے پاس مال حلال کبھی اتنا نہ ہوا جس سے حج کر سکے اگر چہ رشوت کے ہزار ہا روپے ہوئے تو اس پر حج فرض ہی نہ ہوا کہ مال رشوت مثل مغصوب ہے وہ اس کا مالك ہی نہیں اور اگر مال حلال
حوالہ / References تہذیب تاریخ دمشق ترجمہ سلیمان بن کثیر داراحیاء التراث العربی بیروت ٦ / ٢٨٥ ، کنزالعمال حدیث ١٠٠٢ موسسۃ الرسالہ بیروت ١ / ١٩٩
#10154 · شرائط حج
ا س قدراس کے پاس ہے یا کسی موسم میں ہوا تھا توا س پر حج فرض ہے مگر رشوت وغیرہ حرام مال کا اس میں صرف کرنا حرام ہے اور وہ حج قابل قبول نہ ہوگا اگر چہ فرض ساقط ہوجائے گا حدیث میں ارشاد ہوا جو مال حرام لے کر حج کو جاتا ہے جب وہ لبیك کہتا ہے فرشتہ جواب دیتا ہے :
لا لبیك ولا سعدیك حتی تردما فی یدیك وحجك مردود علیك ۔
نہ تیری حاضری قبول نہ تیری خدمت قبول اورتیرا حج تیرے منہ پر مردود جب تك تو یہ حرام مال جو تیرے ہاتھ میں ہے واپس نہ دے۔
اس کے لیے چارہ کار یہ ہے کہ قرض لے کر فرض ادا کرے۔
() عذر اگر ایسا ہو کہ مانع سفر ہے مثلا آنکھیں یا پاؤں نہیں اور اس عذر کے زوال کی کوئی امید نہیں تو اپنی طرف سے حج بدل کرادے اور اگر عذر مانع سفر نہیں تو خود جائے اور اگر مانع سفر ہے مثلا زوال کی امید ہے جیسے تپ شدید یا درد وغیرہ تو حج بدل نہیں کراسکتا بلکہ زوال کا انتظار کرے جب شفاء ہوجائے خود جائے اور اگر قبل شفا وقت آجائے تو حج بدل کی وصیت کرجائے اگر اپنی طرف سے کوئی تقصیرنہ کی تھی یعنی جب سے حج فرض ہوا تھا نہ مانع سفر لاحق تھا اور قبل زوال وقت آگیا اس پر مواخذہ نہ ہوگا اورا گر ایك سال بھی ایسا گزرگیا تھا کہ جاسکتا تھا اور نہ گیا تو گنہ گار ہوا استغفار واجب ہے۔ اور حج بدل کرانا فرض ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ : مسئولہ حافظ محمد ایاز صاحب از قصبہ نجیب آ باد ضلع بجنور صفر ھ
کیا فر ماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں حضور نے پہلے استفتاء میں بابت حج بیت الله شریف یہ ارشاد فرمایا ہے کہ جس کے پاس مال رشوت وغیرہ کا شامل ہے اس کو چاہئے قرض لے کر حج ادا کرے انتہی اب آئندہ یہ ارشاد فرمائے کہ وہ قرضہ کہا ں سے ادا کرے معترض کہتا ہے کہ اول تو جب رشوت وغیرہ کا روپیہ اس کی ملك نہیں ہے تو اس کے پاس اور کچھ نہیں اور قرض لے کر حج ادا کرنے کی ممانعت ہے ا ور بالفرض اگر قرض لے کر حج کے واسطے رکھا اور اپنے روپے سے جو رشوت وغیرہ کا اس کے پاس ہے اس سے قرض ادا کردیا تو وہ کیا ہوا اسی اپنے روپے کی وجہ سے توا س نے قرض لیا تھا لہذا یہ روپیہ بھی بعینہ اپنے ہی روپے کی مثل ہوا تواس واسطے دلیل و ثبوت کافی ارشاد ہو کہ تسکین ہوجائے یہ شخص حج کے واسطے جانے کا بہت ہی مشتاق ہے۔
حوالہ / References ارشاد الساری الیٰ مناسک لملا علی قاری باب المتفرقات دارالکتاب العربی بیروت ص٣٢٣
#10155 · شرائط حج
الجواب :
روپیہ کہ قرض لیا گیا کہ ایك مال حلال ہے کہ عقد صحیح شرع سے حاصل کیا توا س میں خبث کی کوئی وجہ نہیں عالمگیری وغیرہ کتب معتمدہ میں تصریح ہے کہ جس کا مال حرام ہے وہ اگر زید کی دعوت کرے یا اسے کچھ دے اور کہے ورثتہ اواستقر ضتہ یہ مال مجھے ترکہ میں ملا ہے یا میں نے قرض لیا ہے توا س کا لینااور دعوت کھانا حلال ہے اور جب حج اس کے فرض ہوچکا تھا اور اب اس کے پاس مال حلال نہ رہا صرف مال حرام ہے اور مال حرام سے حج مردود ہے تو چارہ کار سوا اس کے کیا ہے کہ کسی ذریعہ سے حلال مال حاصل کرکے حج کو جائے او رفرض ادا کرے قرض بھی ذریعہ حلال ہے یہرفرض تو ادا ہوگیا ہاں ادائے قرض میں اس پر دقت ہے کہ مال حرام کو اپنے کسی مصر ف میں صرف کرنا اسے جائز نہیں مگر یہ مسئلہ جدا گانہ ہے حج سے اسے تعلق نہیں اپنی نجات چاہے تو مال حرام اس کے مالك کو یا وارثوں کو پہنچائے اور نہ ملیں تو تصدق کرے اور وجہ حلال سے مال پیدا کرکے قرض ادا کرے اگر ادا ہوگیا فبہا ورنہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ حج یاجہاد یا نکاح کے لیے قرض لے وہ قرض الله عزوجل کے ذمہ کرم پر ہے اور اگر پیروی نفس کی اور مال حلال کی طرف توجہ نہ کی اسی حرام سے قرض ادا کیا اور اپنے مصارف میں صرف کرتا رہا تو یہ ایك گناہ ہے اور حج ادا نہ کرتا تو دوگناہ تھے ایك گناہ سے بچ گیا یہ کیا کم ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ : مولوی ابو المحاسن محمد سجاد بہاری صاحب مدرس اول و مہتمم مدرسہ انوار العلوم شہر گیا شوال ھ
مولانا صاحب اسلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ مزاج شریف! باعث تحریر عریضہ ہذایہ ہے کہ اس سال نظر بحالات موجودہ حج کے متعلق عام مسلمین کو کیا حکم دیاجائے جناب عالی کی رائے صائب ہوگی کیا خبر احوال شریف مکہ وموجودہ جنگ کے واقعات مسقط وجوب ہوسکتے ہیں یا نہیں اگر بالفرض اس قسم کا احتمال مسقط وجوب ہو بھی تو ایسے موقع پر فتوی کیا دینا چاہئے امید کہ جواب بالصواب سے سرفراز فرمائیں گے۔
الجواب :
افواہ کا اعتبار اگر واقعی ثابت ہو کہ راستہ میں امن نہیں تو وجوب نہ ہوگا کہ من استطاع الیه سبیلا- (جو اس تك چل سکے۔ ت)
صادق نہ ایا مگر یہ ا س کے لیے ہے جس پر اسی سال وجوب حج ہوتا اور جن
حوالہ / References فتاویٰ ہندیہ الباب الثانی عشر فے الہدایہ والضیافات نورانی کتب خانہ پشاور ٥ / ٣٤٢
مجمع الزوائد باب فیمن نوی دینہ واھتم بہ دارالکتاب بیروت ٤ / ١٣٣
القرآن ٣ / ٩٧
#10156 · شرائط حج
پر پہلے سے واجب ہو لیا ہے اور اپنی کاہلی سے اب تك ادا نہ کیا ان پر سے وجوب ساقط نہیں ہوسکتا غایت یہ کہ جس سال امن نہ ہونا ثابت ہو وجوب ادا نہ ہوگا جب باذنہ تعالی امن ہوجائے واجب الادا ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ : از قادری گنج ضلع بیرم بھوم ملك بنگالہ مرسلہ سید ظہور الحسین صاحب قادری رزاقی کرمانی جمادی الاولی ھ
حضور سرور کائنات (صلی الله تعالی علیہ وسلم) کا مزار اقدس بلکہ مدینہ طیبہ عرش وکرسی وکعبہ شریف سے افضل ہے یا نہیں
الجواب :
تربت اطہر یعنی وہ زمین کہ جسم انور سے متصل ہے کعبہ معظمہ بلکہ عرش سے بھی افضل ہے صرح بہ عقیل الحنبلی وتلقاہ العلماء بالقبول (اس پر ابو عقیل حنبلی نے تصریح کی اور تمام علماء نے اسے قبول کیا۔ ت)
باقی مزار شریف کا بالائی حصہ اس میں داخل نہیں کعبہ معظمہ مدینہ طیبہ سے افضل ہے ہاں اس میں اختلاف ہے کہ مدینہ طیبہ سوائے موضع تربت اطہر اور مکہ معظمہ سوائے کعبہ مکرمہ ان دونوں میں کون افضل ہے اکثر جانب ثانی ہیں اور اپنا مسلك اول اور یہی مذہب فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ہے طبرانی کی حدیث میں تصریح ہے کہ المدینۃ افضل من مکۃ (مدینہ (علی صاحبہا الصلوۃ والسلام) مکہ سے افضل ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
________________
حوالہ / References مسلک متقسط مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم دارالکتاب العربی بیروت ص٣٣٦
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ٤٤٥٠ المکتبہ الفیصلیہ بیروت ٤ / ٢٨٨
#10157 · باب الجنایات فی الحج (جنایاتِ حج کا بیان)
مسئلہ : از اوجین مکان میر خادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ ملا یعقوب علی خاں رجب ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص احرام میں ذرا دیر سر پر بھولے سے کپڑا ڈال لے تو حکم ہے کہ من گیہوں دے اور جو مکہ میں نہ دے یہاں دے کیاحکم ہے حج میں تو خلل نہیں کہ یہ مستحب ہے اور اگر کسی عذر کے سبب سر چھپانا پڑے تو کیا حکم ہے
الجواب :
جو مرد اپنا سارایا چوتھائی سر بحالت احرام چھپائے جسے عادۃ سر چھپانا کہیں جیسے ٹوپی پہننا عمامہ سر باندھنا سر سے چادر اوڑھنا دھوپ کے باعث سر پر کپڑا ڈالنا درد کے سبب سر کسنا زخم کی وجہ سے پٹی باندھنا ( نہ گٹھڑی یا صندوق یاخوان وغیرہ کا سر پر اٹھانا کہ یہ سر چھپانے میں داخل نہیں) اس پر مطلقا جرمانہ واجب ہے اگر چہ بھولے سے اگر چہ سوتے میں ا گر چہ بیہوشی میں اگر چہ عذر سے مگرصحت حج میں خلل نہیں ہاں ایك طرح کا قصور ہے جس کی تلافی کو جرمانہ مقرر ہوا جیسے نماز میں سہوا ترك واجب سے سجدہ عذر و بے عذر میں اتنا فرق ہے اگر بے عذر ایك دن کامل یا ایك رات کامل یا اس سے زائد سرچھپارہا تو خاص حرم میں ایك قربانی ہی کرنی ہوگی جب چاہے کرے دوسرا طریقہ کفارہ کا نہیں اور عذر مثلا بخار یا سردی یا زخم یا درد کے سبب اتنی مدت چھپایا تو اختیار ہوگا حرم میں قربانی کرے یا جہاں چاہے جب چاہے یا تین۳ صاع گیہوں یا مثلا چھ۶ صاع جو چھ۶ مسکینوں کو دے یا تین۳
#10158 · باب الجنایات فی الحج (جنایاتِ حج کا بیان)
روزے جس طرح چاہے رکھ لے اور اگر کامل دن یا رات کی مدت سے کم چھپا رہا اگر چہ کتنی ہی تھوڑی دیر کو توبے عذری کی صورت میں صدقہ فطر کی طرح خاص صدقہ ہی لازم ہوگا یعنی نیم صاع گیہوں یا مثلا ایك صاع جو کہ جہاں چاہے دے اور بصورت عذر مختار ہو گا چاہے یہ صدقہ دے یا ایك روزہ جہاں چاہے رکھ لے۔ ایك صاع دوسو ستر تولے کا ہوتا ہے اور سکہ انگریزی روپیہ سوا گیارہ ماشے کا تو جہاں سو روپے بھر کا سیر ہے جیسے ہمارے شہر بریلی میں وہاں کی تول سے صاع پانچ ماشے پانچ رتی اوپر آدھ پاؤ پونے تین سیر کا ہوا اور نصف صاع دوماشے ساڑھے چھ رتی اوپر تین چھٹانك سوا سیر کا یعنی کچھ کم ڈیڑھ سیر اس نصف صاع کے آدھے کو عربی میں مد اور من کہتے ہیں ۔ تو ذر ادیر کپڑا سر پر ڈالنے میں من بھر گیہوں کا حکم نہیں بلکہ متعمد روایت میں دومن کاہے۔
فی الدرالمختار الواجب دم علی محرم بالغ ولونا سیا اوجا ھلا اومکرھا فیجب علی نائم غطی راسہ اوستر راسہ (ای کلہ او ربعہ) بمعتاد اما بحمل اجانۃ او عدل فلا شی علیہ یوما کاملا اولیلۃ کاملۃ وفی الا قل (شمل (الا قل الساعہ الواحدۃ او مادونھا) تصدق بنصف صاع من بر کا لفطرۃ (افادان التقیید بنصف الصاع من البر اتفاقی فیجوز اخراج الصاع من التمر اوالشعیر من القھستانی) وبعذر (ومن الاعذار الحمی والبرد والجرح والقرح والصداع والشقیقۃ والقمل) و (اما الخطاء والنسیان والاغمام والاکراہ و النوم وعدم القدرۃ علی الکفارہ فلیست باعذار) خیر ان شاء ذبح فی الحرم او تصدق بثلاثۃ اصوع طعام علی ستۃ مساکین این شاء اوصام ثلثۃ ایام ولو متفرقۃ
درمختار اور ردالمحتار میں ہے ہر محرم بالغ پر دم واجب ہوتا ہے خواہ اس نے وہ عمل نسیانا یا جہالۃ یا مجبورا کیاہویا حالت نیند میں محرم نے اگر بطور عادت پور ادن یا پوری رات سر ڈھانپ لیا (تمام سر یا چوتھائی سر) تو دم لازم ہوگا اگر کسی نے ٹب یا گٹھڑی اٹھائی تو کوئی شے لازم نہیں ا ور اگر دن سے کم وقت سر ڈھانپا (لفظ اقل ایك ساعت اور اس سے کم کو بھی شامل ہے) تو گندم کا ایك صاع صدقہ کیا جائیگا جیسے فطرانہ (یہ عبارت بتارہی ہے کہ نصف صاع گندم کا تذکرہ اتفاقی ہے احترازی نہیں تو ایك صاع کھجور یا جو دے سکتے ہیں قہستانی( اگر چہ عذر کی وجہ سے ہو (اعذار میں سے بخار سردی زخم پھوڑا شیققہ وسر کا درد اور جوں کا ہونا ہے لیکن عمل خطا نسیانا اغمام مجبوری نیند یا کفارہ پر عدم قدرت یہ عذر نہیں بن سکتے)اسے اختیار ہے چاہے حرم میں دم ذبح کرے یا جہاں چاہے چھ مساکین کو تین صاع طعام دے دے یا تین روزے متفرق طور پر رکھ لے (یہ اس صورت میں ہے
#10160 · باب الجنایات فی الحج (جنایاتِ حج کا بیان)
(ھذا فیما یجب فیہ الدم اماما یجب فیہ الصدقۃ ان شاء تصدق بما وجب علیہ من نصف صاع اواقل علی مسکین او صام یوما کما فی اللباب) اھ ملتقطین وفی الشامیۃ ایضا وکذا الصوم لایتقید بالحرم فیصومہ این شاء اھ وفیہا ایضا الکفارات کلھا واجبۃ علی التراخی فیکون مؤدیافی ای وقت ا ھ واﷲ تعالی اعلم۔
جہاں دم لازم ہوتا ہے اور جس صورت میں صدقہ لازم ہوگا توا گر چاہے تو نصف صاع یا اس سے کم کسی مسکین کو دے دے یا ایك دن کا روزہ رکھ لے اللباب) اھ دونوں عبارتیں مختصر ہیں اور فتاوی شامی میں بھی اسی طرح ہے کہ اور اسی طرح روزہ حرم کے ساتھ مخصوص نہیں جہاں چاہے رکھ سکتا ہے اھ اور اس میں یہ بھی ہے کہ تمام کفارات واجبہ کی ادائیگی فی الفور لازم نہیں لہذا وہ جس وقت بھی ادا کرے ادا ہوجائے گا اھ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ : از حافظ عبدالمجید قصبہ تحصیل سوار خاص علاقہ ریاست رامپور بروز سہ شنبہ ربیع الآخر ھ
محرم کو احرام میں جوڑ لگانا عند الشرع جائز ہے یا نہیں
الجواب :
سلی ہوئی چیز سے بچنا چاہئے اور حالت ضرورت مستثنے ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ : از بمبئی محلہ قصاباں متصل کرافٹ مارکیٹ مکان گورے بابو صاحب مسئولہ حضرت سید حامد حسین میاں صاحب قبلہ دام ظلہم ذیقعدہ ھ
معظمی مکرمی مد ظلہ العالی السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ چند امور دریافت طلب ہیں بہ گوارائے تکلیف بواپسی ڈاك مطلع فرمائیے بعید از شفقت بزر گانہ نہ ہوگا
اول : یہ کہ مستورات منہ پر پنکھا کھجور کا لگالیتی ہیں یقینا وہ پنکھا کنپٹی اور ناك اور منہ سے لگتا ہےا ور چہرہ پوشیدہ بھی رہتا ہے احرام کی حالت میں کیا کرنا چاہئے نماز پڑھتے وقت جبکہ پردہ کی جگہ نہ ہو پنکھا اونچا اٹھا ہو مشکل سے رکے گا علاوہ ازیں چہرہ نامحرمان کی نظر سے مخفی رکھنا دشوار ہے اس کے متعلق صاف
حوالہ / References درمختار باب الجنایات مطبع مجتبائی دہلی ١ / ١٧٣ تا ١٧٥ ، ردالمحتار باب الجنایات مصطفی البابی مصر ٢ / ۲۱٧تا ٢٢٨
ردالمحتار باب الجنایات مصطفی البابی مصر ٢ / ٢٢٨
ردالمحتار باب الجنایات مصطفی البابی مصر ٢ / ٢١٧
#10161 · باب الجنایات فی الحج (جنایاتِ حج کا بیان)
الفاظ میں تحریر فرمائیے جو سمجھ میں آسکے۔
دوم : یہ کہ فقیر تمباکو پان کو ساتھ کھانے کا عادی ہے اگرچہ لعاب ایك قطرہ بھی حلق سے نیچے نہیں اترتا تمباکو نہ کھانے کے سبب سخت تکلیف ہوگی اس تمباکو میں قدرے قلیل مشك وزعفران کاہونا بھی بیان کیا جاتا ہے آپ کے ملاحظہ کے واسطے قدرے تمباکو مرسل ہے۔
الجواب :
بشرف ملا حظہ عالیہ حضرات بابرکت والا درجت حضرت مولانا سید شاہ حامد حسین میاں صاحب قبلہ دامت برکاتہم السلا م علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ بعد ادائے آداب معروض پنکھا سر پر مضبوط باندھیں کہ اٹھا رہے او ر بڑا ہو کہ اٹھا رہنے کی عادت میں چہرہ اجانب سے چھپارہے پھر بھی اگر احیانا چہرہ پر ڈھلك آئے یا کنپٹی یا ناك یا منہ سے لگے اگر منہ کی ٹکلی کے چہارم تك نہ پہنچے تو کفارہ کچھ نہیں نہ قربانی نہ صدقہ کہ نہ چہارم منہ چھپایا نہ چار پہر تك اسے دوام رہا اس صورت میں کراہت ومعصیت ہوتی مگر جبکہ وہ بلا قصد ہے اور اسے قائم رکھا گیا تو مواخذہ نہیں ہا ں اگر چہارم منہ کی ٹکلی چھپ جائے گی تو ضرور صدقہ دینا آئے گا احکام جو شرع مطہر نے ارشاد فرمائے صدق دل سے ان کا اہتمام ہو تو وہی جس کے احکام ہیں مدد فرماتا او رآسان کردیتا ہے تمباکو کہ قوام میں خوشبو ڈال کرپکائی گئی جب تو اس کاکھانا مطلقا جائز ہے اگر چہ خوشبو دیتی ہو ہاں خوشبو ہی کے قصد سے اسے اختیار کرنا کراہت سے خالی نہیں اور نظر جانب خوشبو نہ ہو بلکہ حسب عادت دیگر منافع تمباکو کی طرف تو کچھ حرج نہیں اور اگر بے پکائے خوشبو مشك وغیرہ اس میں شامل ہو اور خوشبو دے رہا ہو جب بھی کفارہ کچھ نہیں البتہ کراہت ضرور ہے یہ کراہت پیك نگلنے پر موقوف نہیں کہ خوشبو کا آنچل میں باندھنا بھی ناجائز ہے ہاں اگر مشك اتنی کم پڑی کہ خوشبو نہ دے یا مدت گزرنے سے اتر گئی کہ اب خوشبو جاتی رہی تو کراہت بھی نہیں لباب وشرح لباب میں ہے :
الطیب اذا اخلطہ بطعام قد طبخ فلا شی علیہ اتفاقا سواء یوجد ریحہ اولا لانہ بالخلط والطبخ یصیر مستھلکا فلا یعتبر وجودہ اصلا وان خلطہ بما یوکل بلا طبخ کا لزعفران بالملح فالعبرۃ بالغلبۃ فان کان الغالب الملح ای اجزأہ لا طعمہ ولونہ
اگر خوشبو کسی ایسے کھانے میں ملائی جسے پکایا گیا تو اب محرم پر کوئی شی لازم نہ ہوگی خواہ مہك باقی ہو یا نہ ہو کیونکہ وہ اختلاط اور پکنے سے ہلاك و ختم ہوگئی اب اس کے وجود کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا اور اگر وہ کھانے والی چیز میں ملی لیکن اس میں پکی نہیں جیسے زعفران نمك میں مل جائے تو غلبہ کا اعتبار ہوگا اگر نمك کے اجزاء (ذائقہ اور رنگ نہیں) زائد ہیں تو اب کوئی شی لازم
#10163 · باب الجنایات فی الحج (جنایاتِ حج کا بیان)
فلاشی علیہ من الجزاء غیرانہ اذا کان رائحتہ موجودۃ کرہ اکلہ مغلوبا غیر مطبوخ وان کان الغالب الطیب ففیہ الدم فانہ حینئذ کالزعفران الخالص فیجب الجزاء وان لم تظھر رائحتہ اھ ملخصا محررا۔
نہ ہوگی ماسوائے اس کے کہ اگر مہك باقی تھی تو اس کا کھانا مکروہ ہوگا کیونکہ وہ مغلوب ہے مگر پکی ہوئی نہیں اور اگر غالب خوشبو ہے تو اس میں دم آئیگا کیونکہ وہ خالص زعفران کی طرح ہوگا تو اب سزا لازم ہوگی خواہ مہك نہ ہوگی اھ ملخصا محررا۔ (ت)
اسی کے محرمات احرام میں ہے :
التطیب واکل الطیب وشدہ بطرف ثوبہ ای ربط طیب یفوح ریحہ واﷲ تعالی اعلم۔
خوشبو لگانا خوشبو کھانا کپڑے کے کنارے میں ایسی خوشبو باندھنا جس کی مہك پھیل رہی ہو۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ : مسئولہ شفقت علی از محلہ ذخیرہ بریلی شہر ربیع الآخر ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت جس کے پاس اس کے باپ بھائی خاوند کا دیا ہوا اتنا سرمایہ موجود ہے کہ جس سے وہ بخوبی حج کرسکتی ہے مسماۃ مذکورہ کا ارادہ اب کے سال حج کرنے کا مصمم ہے مگر باوجود ہر منت وسماجت کے اس کا خاوند اس کو اجازت نہیں دیتا اس کے حقیقی بھائی بھی اب کی مرتبہ حج کا ارادہ رکھتے ہیں یہ موقع بھی مسماۃ مذکور نے نہایت مناسب سمجھا ہے اس صورت میں یہ عورت بلا اجازت اپنے خاوند کے اپنے بھائیوں کے ہمراہ جاکر حج ادا کرسکتی ہے یا نہیں
الجواب :
جبکہ عورت پر حج فرض ہے اجازت شوہر کی ہر گز حاجت نہیں
فالاصح ان افتراض الحج فوری وقال صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لا طاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ ۔
یہی درست کہ فریضہ حج فورا ادا کیا جائے اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : الله کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں کرنی چاہئے۔ (ت)
حوالہ / References لباب وشرح لباب مع ارشاد الساری فصل فی ا کل الطیب وشربہ دارالکتاب العربی بیروت ص٢١١ تا ٢١٣
لباب وشرح لباب مع ارشاد الساری فی محرمات الاحرام دارالکتاب العربی بیروت ص٨١
مسند احمد بن حنبل بقیہ حدیث حکم بن عمر والغفاری دارالفکر بیروت ٥ / ٦٧
#10165 · باب الجنایات فی الحج (جنایاتِ حج کا بیان)
عورت کے لیے ایك بڑی شرط شوہر یا محرم کا ساتھ رہنا ہے اس وقت تو اس کابھائی جا رہا ہے کیا معلوم کہ آگے کوئی محرم ساتھ کو نہ ملے تو حج سے محروم رہے نہایت جلدی کرے اور فورا بھائی کے ساتھ چلی جائے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیارت حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا کیا حکم ہے اور باوجود قدرت اس کا تارك یا مانع ومنکر فضل شرعا کیسا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
زیارت سراپا طہارت حضور پرنور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بالقطع والیقین باجماع مسلمین افضل قربات واعظم حسنات سے ہے جس کی فضیلت وخوبی کا انکار نہ کرے گا مگر گمراہ بد دین یا کوئی سخت جاہل سفیہ غافل سخرہ شیاطین والعیاذ بالله رب العالمین۔ اس قدر پر توا جماع قطعی قائم اور کیوں نہ ہو خود قرآن عظیم اس کی طرف بلاتااور مسلمانوں کو رغبت دلاتا ہے الله تعالی نے فرمایا :
و لو انهم اذ ظلموا انفسهم جآءوك فاستغفروا الله و استغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحیما(۶۴) ۔
یعنی اگر ایسا ہو کہ وہ جب اپنی جانوں پر ظلم یعنی گناہ وجرم کریں تیری بارگاہ بیکس پناہ میں حاضر ہو پھر خدا سے مغفرت مانگیں او رمغفرت چاہے ان کے لیے رسول تو بیشك الله عزوجل کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں
امام سبکی شفاء السقام اور شیخ محقق جذ ب القلوب میں فرماتے ہیں :
“ علماء نے اس آیت سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حال حیات وحال وفات دونو ں حالتوں کو شمول سمجھا اور ہر مذہب کے ائمہ مصنفین مناسك نے وقت حاضری مزار پر انوار اس آیت کی تلاوت کو آداب زیارت سے گنا۔ “
علامہ سمہودی شافعی وفاء الوفاء میں فرماتے ہیں :
“ حنفیہ زیارت شریف کو قریب بہ واجب کہتے ہیں اور اسی طرح مالکیہ وحنبلیہ نے تصریح کی۔ “
حوالہ / References القرآن ٤ / ٦٤
جذب القلوب باب پانزدہم دربیان حکم زیارۃ قبر النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نولکشورلکھنؤ ص٢١١
وفاء الوفاء الفصل الثانی فی بقیۃ ادلۃ الزیارۃ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ٤ / ١٣٦٦
#10166 · باب الجنایات فی الحج (جنایاتِ حج کا بیان)
ہماری کتب مذہب میں مناسك فارسی وطبرابلسی وکرمانی واختیار شرح مختار وفتاوی ظہیریہ و فتح القدیر وخزانۃ المفتین ومنسك متوسط ومسلك متقسط ومنح الغفارو مراقی الفلاح وحاشیہ طحطاویہ علی المراقی و مجمع الانہر وسنن الہدی وعالمگیری وغیرہ میں اس کے قریب واجب ہونے کی تصریح کی بلکہ خود صاحب مذہب سیدنا امام اعظم سے اس پر نص منقول جذب القلوب میں ہے :
زیارت آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نزد ابی حنیفہ از افضل مندوبات واوکد مستحبات است قریب بہ درجہ واجبات۔
زیارت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم امام اعظم رحمہ الله تعالی کے نزدیك افضل مندوبات واعلی مستحبات سے ہے درجہ واجبات کے قریب۔ (ت)
اور بعض ائمہ مالکیہ وشافعیہ تو صاف صاف واجب کہتے ہیں اور یہی مذہب ظاہریہ سے منقول۔ امام ابن الحاج مکی مالکی مدخل اور امام سبکی شافعی تہذیب الطالب امام عبدالحق بن محمد سے نقل فرماتے ہیں :
“ امام ابو عمران فاسی مالکی نے فرمایاقبر شریف حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی زیارت واجب ہے ۔ “
امام قاضی عیاض مالکی شفا شریف میں امام ابو عمرو سے ناقل :
“ قبر اقدس حضور والا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف سفر کرکے جانا واجب ہے۔ “
اسی طرف امام قسطلانی شارح صحیح بخاری شافعی وامام ابن حجر مکی شافعی و علامہ علی قاری حنفی وغیرہم علماء کا میلان ہے بلکہ بعض کلمات امام سبکی بھی اسی طرف نا ظر شفا شریف میں فرمایا :
“ زیارت قبر میں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تعظیم ہے اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تعظیم واجب ۔ “
اسی طرح مواہب لدنیہ شریف میں ہے او ر شك نہیں کہ ظاہر دلیل اسی کو مقتضی ۔ ابن عدی وغیرہ کی حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
من حج البیت ولم یزرنی فقد جفانی ۔
جو حج کرے اور میری زیارت کو حاضر نہ ہو بیشك اس نے مجھ پر جفا کی۔
حوالہ / References جذب القلوب باب پانزدہم دربیان حکم زیارۃ قبر النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نولکشورلکھنؤ ص٢١٠
وفاء الوفاء بحوالہ عبدالحق الفصل الثانی فی بقیہ ادلۃ الزیارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ٤ / ١٣٦٤
کتاب الشفا قاضی عیاض فصل فی حکم زیارۃ قبر مطبوعہ شرکت صحافیۃ فی البلادالعثمانیہ ٢ / ٧٥
شفاء السقام الباب الخامس فی تقریر کون الزیارۃ قربۃ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص٨٣
کامل ابن عدی ترجمہ النعمان شبلی الباہلی دارالفکر بیروت ٧ / ٢٤٨٠
#10168 · باب الجنایات فی الحج (جنایاتِ حج کا بیان)
علامہ علی قاری شرح لباب میں اس کی سند کو حسن اور وہی شرح شفاء ودرہ مضیہ اور امام ابن حجر جوہر منظم میں محتج بہ فرماتے ہیں انہی دونوں کتابوں میں فرمایا :
“ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی جفا حرام ہے توزیارت نہ کرنا متضمن جفا ہے حرام ہوا ۔ “
مدارج النبوۃ میں ہے :
“ صاحب مواہب گفتہ ایں ظاہر است در حرمت ترك زیارت زیرا کہ دریں جفا واذائے اوست و جفاء واذائے آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حرام ست باجماع پس واجب باشدازالہ جفا وآں بزیارت خواہد پس زیارت واجب باشد۔ “
صاحب مواہب نے فرمایا کہ زیارت نہ کرنے کی حرمت پر یہ ظاہر ہے کیونکہ اس میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے جفا ہے اور آپ کو ایذا ہے جبکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے جفا اور ایذاء بالاجماع حرام ہے تواس جفا کے ازالہ کے لیے زیارت واجب ہے۔ (ت)
امام قسطلانی اس عبارت کے بعد فرماتے ہیں : “ بالجملہ جوباوجود قدرت کے ترك زیارت کرے اس نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر جفا کی اور حضور کا ہم پر یہ حق نہ تھا“
اسی طرح ترك زیارت کے موجب جفا ہونے میں متعدد حدیثیں آئیں کہ حضرت والد علام قدس سرہ نے جواہر البیان شریف میں ذکر فرمائیں اور شك نہیں کہ افراد میں اگر چہ کلام ہو مجموع حسن تك مترقی اور حسن اگر چہ لغیرہ ہو محل احتجاج میں کافی اور اسی کے مناسب قصہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ ہے کہ امام ابن عساکر وغیرہ نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا اور امام سبکی نے شفاء اور علامہ سمہودی نے وفا اور امام ابن حجر نے جوہر میں اس کی سند کو جید کہا کہ جب حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے شام میں سکونت اختیار فرمائی خواب میں حضور پر نور سید المحبوبین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی زیارت سے شرفیاب ہوئے کہ ارشاد فرماتے ہیں :
ماھذہ الجفوۃ یا بلال اما آن لك ان تزورنی یا بلال!
اے بلال! یہ کیا جفا ہے اے بلال! کیاابھی تجھے وہ وقت یاد نہ آیا کہ میری زیارت کو حاضر ہو۔
بلال رضی اللہ تعالی عنہ غمگین وترساں وہراساں بیدار ہوئے اورفورا قصد مزار پرانوار جانب مدینہ شد الرحال
حوالہ / References الجوہر المنظم ابن حجر مکی فصل اول مطبعہ خیریہ مصر ص٨
مدارج النبوۃ وصل درذکر غم والم مفارقت آنحضرت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٤٤٤
المواہب اللدنیہ مقصد عاشرفصل ثانی الترغیب فی زیارتہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم المکتبہ الاسلامی بیروت ٤ / ٥٧١
#10169 · باب الجنایات فی الحج (جنایاتِ حج کا بیان)
فرمایا جب شرف حضور پایا قبر انور کے حضور رونا اور منہ اس خاك پر ملنا شروع کیا دونوں صاحبزادے حضرات حسین وحسن رضی الله تعالی علی جد ہما وعلیہما وبارك وسلم تشریف لائے بلال رضی اللہ تعالی عنہ انھیں گلے لگا کر پیار کرنے لگے شہزادوں نے فرمایا ہم تمھاری اذان کے مشتاق ہیں یہ سقف مسجد انور پر جہاں زمانہ اقدس میں اذان دیتے تھے گئے جس وقت الله اکبر الله اکبر کہا تمام مدینہ میں لرزہ پڑگیا جب اشہد ان لا الہ الا الله کہا مدینہ کا لرزہ دوبالا ہوا جب اس لفظ پر پہنچے کہ اشھدان محمدرسول الله کنواری نوجوان لڑکیاں پردوں سے نکل آئیں اور لوگوں میں غل پڑگیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مزار پر انوار سے باہر تشریف لے آئے انتقال حضور محبوب ذی الجلال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بعد کسی دن مدینہ منورہ کے مرد وزن میں وہ رونا نہ پڑا تھا جو اس دن ہوا
درنمازم خم ابروئے تو بریاد آمد حالتے رفت کہ محراب بفریاد آمد
(جب آپ کی کمان ابرو مجھے نماز میں یاد آئی تو بیخودی کی حالت میں مسجد آہ وبکا میں مصروف ہوگئی)
اور نیز وہ حدیث بھی مؤید وجوب ہوسکتی ہے جسے امام ابن عساکر اور امام ابن النجار نے کتاب الدرۃ الثمینہ میں انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
مامن احد من امتی لہ سعۃ ثم لم یزرنی فلیس لہ عذر ۔
میرا جو امتی باوصف مقدرت میری زیارت نہ کرے اس کے لیے کوئی عذر نہیں۔
حتی کہ بعض ائمہ شافعیہ زیارت شریفہ کو مثل حج فرض بتاتے ہیں علامہ عبدالغنی بن احمد بن شاہ عبدالقدوس چشتی گنگوہی قدس سرہ شاگر امام علامہ ابن حجر مکی رحمہم الله تعالی سنن الہدی میں فرماتے ہیں : “ میں نے اپنے استاذ ابن حجر (اید الله الاسلام ببقائہ)کو فرماتے سنا کہ زیارت شریفہ ہمارے بعض اصحاب شافعیہ کے نزدیك مثل حج واجب ہے اور ان کے نزدیك واجب فرض میں کچھ فرق نہیں۔ “
بالجملہ قول وجوب من حیث الدلیل اظھر اور نظر ایمانی میں احب وازہر ہے اور قریب وجوب کہ علمائے مذاہب اربعہ بلکہ خود امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا منصوص اس کے قریب اور حکما مقارب اور قول سنت
حوالہ / References شفاء السقام الباب الثالث مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص٥٣
المواہب اللدنیہ مقصد عاشر فصل ثانی الترغیب فی زیارۃ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم المکتب الاسلامی بیروت ٤ / ٥٧١
سنن الہدٰی عبدالغنی بن احمد
#10171 · باب الجنایات فی الحج (جنایاتِ حج کا بیان)
اس کے منافی نہیں فقہاء واجب کو بھی “ کہ سنت یعنی جو حدیث سے ثابت ہو “ سنت بولتے ہیں۔ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے نماز عید کو کہ حنفیہ کے نزدیك واجب ہے سنت کہا بلکہ اطلاق اعم میں مستحب ومندوب بھی واجبات کو شامل اور فرض وواجب جبکہ حکم عمل واثم تارك میں مشارک اور شافعیہ کے یہاں فرق اصطلاح نہیں تو ان کے نزدیك واجب پر اطلا ع فرض اور حج سے تمثیل بعید نہیں اس تقریر پر سب افعال متفق ہوجائیں گے اور بہ تصریح علماء مثل علامہ شامی وغیرہ اہدائے وفاق ابقائے خلاف سے اولی اور بیشك وجوب وقرب وجوب کہ جمہورائمہ مذاہب جس کی تصریح کرتے ہیں تارك کے اثم پر یك زبان بہرحال جزم کیاجاتا ہے کہ باجود قدرت تارك زیارت قطعا محروم وملوم وبد بخت ومشوم وآثم وگنہگار و ظالم و جفا کار ہے والعیاذ بالله ممالا یرضاہ لاجرم سلفا وخلفا علماء دین وائمہ معتمدین تارك زیارت پر طعن شدید وتشنیع مدید کرتے آئے کہ ترك مستحب ہر گز نہیں ہوسکتی علامہ رحمت الله علیہ رحمۃ الله تلمیذ امام ابن ہمام نے لباب میں فرمایا : “ ترك زیارت بڑی غفلت اور سخت بے ادبی ہے۔ “
اور امام ابن حجر مکی قدس سرہ الملکی نے توجوہر منظم میں تارك زیارت پر قیامت کبری قائم فرمائی فرماتے ہیں رحمۃ اللہ تعالی علیہ :
“ خبردار ہو حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تجھے ترك زیارت سے حد درجہ ڈرایا اور اس کی آفتوں سے وہ کچھ بیان فرمایا کہ اگرتو اسے غور سے سمجھے تو اپنے اوپر ہلاکت وبدانجامی کا خوف کرے حضور نے صاف فرمادیا کہ ترك زیارت جفا ہے۔
اور یونہی صحیح حدیث میں آیا کہ “ میرا ذکر سن کر مجھ پر درود نہ پڑھنا جفا ہے۔ “ اس سے ثابت ہوا کہ باوجود قدرت ترك زیارت اور ذکر اقدس سن کر ترك درود دونوں یکساں ہیں کہ دونوں جفا ہیں تو تارك زیارت پر ان سب عذابوں اور شناعتوں کا خو ف ہے جو تارك درود کے لیے حدیثوں میں آئیں کہ وہ شقی نامراد ذلیل وخوار مستحق نار خدا ورسول سے دور ہے اس پر ان سب عذابوں اور نیز مردود بارگاہ ہونے کی دعا جبریل امین وحضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمائی وہ راہ جنت بھول گیا حد بھر کا بخیل ملعون بے دین ہے اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دیدار جمال جہاں آرا سے محروم رہے گا والعیاذ بالله تبارك وتعالی ان باتوں کو یاد کرکے اسے خبر دے جس نے باوصف قدرت براہ سستی وکسل زیارت شریف نہ کی شاید
حوالہ / References لباب المناسك مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص٣٣٤
#10172 · باب الجنایات فی الحج (جنایاتِ حج کا بیان)
یہ سن کر ان برائیوں سے توبہ کرے اور الله تعالی کی طرف رجوع لائے اپنے اس نبی پر جفا نہ کرے جو اس کا اور تمام جہاں کا الله عزوجل کی طرف سے وسیلہ ہیں اور ہم نے بہت تارکان زیارت بحال قدرت کو دیکھا کہ الله تعالی نے ان کے چہروں پر صریح محسوس تاریکی ظاہر کردی اور نیکیوں میں انھیں ایسا سست کردیا کہ عبادت چھوڑ کر دنیا میں پڑگئے اور مرتے دم تك اس حال پر رہے ۔ “ (ملخصا) والعیاذ بالله سبحانہ وتعالی۔
اس کے بعد امام نے وہ سخت ہولناك واقعے لکھے جنھیں سن کر مسلمان کا دل کانپ اٹھے الله تعالی اپنی امان میں رکھے صدقہ اپنے پیارے حبیب قریب مجیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا آمین! مسلمان غور کرے جب تارك زیارت کا یہ حال اس کے مانع یا منکر فضیلت کا کیا حال ہوگا! آفتاب سے زیادہ روشن کہ ایسا شخص گمراہ بددین خارق اجماع مسلمین مستحق وعیدشدید نوله ما تولى و نصله جهنم-و سآءت مصیرا(۱۱۵) (ہم اسے اس کے حال پر چھوڑدیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی ت) ہے۔
امام ابن حجر افضل القری میں فرماتے ہیں : “ جو اس کی خوبی میں نزاع کرے گا اس کا نزاع کرنا دنیا و آخرت میں اس کی تباہی وروسیاہی کا باعث ہوگا ۔ “ امام سبکی شفاء السقام شریف میں فرماتے ہیں : “ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی زیارت واطراف عالم سے اس کی طرف سفر اعظم قربات الہی سے ہے جیسا کہ مدتوں سے شرق وغرب کے مسلمانوں میں معروف ہے آج کل بعض مردود (یعنی ابن تیمیہ اور اس کے ہوا خواہ) شیطان کے سکھائے سے اس میں شك ڈالنے لگے مگر ہیہات یہ مسلمان کے دل میں کہاں جگہ پاتی یہ تو ایك مردود کی فتنہ پر دازی ہے جس کا وبال اسی پر پڑے گا۔ امام احمد قسطلانی مواہب شریفہ میں فرماتے ہیں : “ قبر مبارك کی زیارت بہت بڑی قربت اور بہت بڑی امید کی اطاعت اور نہایت بلند درجوں کی طرف راہ ہے جو اس کے خلاف اعتقاد کرے اس نے رسن اسلام کا حلقہ اپنی گردن سے نکال دیا اور خدا ورسول وجماعت مشاہیر ائمہ کا خلاف کیا۔ “
حوالہ / References جوہر منظم ابن حجر مکی عربی فصل ثالث فی التحذیر من ترك زیارت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مطبعہ خیریہ مصر ص۲۸ تا ٣٠
القرآن ٤ / ١١٥
افضل القریٰ
شفاء السقام الباب ا لسادس فی کون السفر الیہاقربۃ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۱۰۲
المواہب اللدنیہ مقصد عاشر فصل ثانی الترغیب فی زیارۃ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم المکتب الاسلامی بیروت ٤ / ٥٧٠
#10174 · باب الجنایات فی الحج (جنایاتِ حج کا بیان)
یہاں تك کہ بعض علماء صراحۃ زیارت شریفہ کے قربت ہونے کو ضروریات دین سے اور اس کے منکر کو کافر بتا تے ہیں درہ مضیہ مولنا علی قاری میں ہے : “ بعض فضلاء نے مبالغہ کیا کہ فرماتے ہیں زیارت شریفہ کا قربت ہونا دین سے ضرورۃ معلوم ہےا ور اس کے منکر پر کفر کا حکم۔ “ علامہ شہاب الدین خفاجی مصری نسیم الریاض شرح شفائے قاضی عیاض میں فرماتے ہیں : “ قبر اکرم سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی زیارت اورا س کی طرف سفر کو ابن تیمیہ اور اس کے اتباع مثل ابن قیم نے منع کیا اور یہ اس کا وہ کلام شنیع ہے جس کے سبب علماء نے اس کی تکفیر کی اور امام سبکی نے اس میں مستقل کتا ب لکھی ۔ “
اقول : قول تکفیرکی نفیس تقریر وعمدہ توجیہ مع جواب وجیہ فقیر غفرالله تعالی نے بتوفیق الله تعالی اصل فتوی میں ذکر کی یہاں اس قدر کافی مولی تعالی صدقہ اپنے حبیب کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کا ان کی سچی محبت اور سچا ادب بخشے اور انہی کی محبت وتعظیم وادب وتکریم پر دنیا سے اٹھائے اور اپنے کرم عمیم و فضل عظیم سے دنیا وآخرت میں ان کی زیارت سےمشرف وبہرہ مند فرمائے آمین آمین یاارحم الراحمین وصلی الله تعالی علی سید المرسلین محمد وآلہ وصحبہ اجمعین والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
کتبہ
عبدہ المذنب احمد رضا البر یلوی عفی عنہ عند بمحمدن المصطفی النبی الامی
صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم
__________________
حوالہ / References درہ مضیہ
نسیم الریاض فصل فی حکم زیارۃ قبرہ علیہ الصلٰوۃ والسلام دارالفکر بیروت ٣ / ٥١٤
#10177 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
الحمد ﷲ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ محمد والہ واصحابہ اجمعین۔
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
اما بعد یہ چند حروف ہدایت حجاج کے لیے ہیں ان میں اکثر کتاب مستطاب جواہر البیان شریف تصنیف لطیف اقدس حضرت خاتم المحققین سیدنا ومولنا مولوی محمد نقی علی خاں صاحب قادری برکاتی قدس سرہ الشریف سے التقاط عــــہ کئے ہیں شوال ھ کو والا جناب حضرت سید محمدا حسن صاحب بریلوی نے فقیر احمد رضا خاں قادری غفرلہ سے فرمایا کہ شوال کو میرا ارادہ حج ہے بہت لوگ جاتے ہیں حج کا طریقہ اور آداب
عــــہ : اور صدہا مسائل اپنے رسائل اور منسك متوسط وغیرہ سے اضافہ کیے منہ (م)
#10179 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
لکھ کر چھاپ دے حضرت سید صاحب کے حکم سے بکمال استعجابی یہ چند سطور تحریر ہوئیں امید کہ بہ برکت سادات کرام اﷲ تعالی قبول فرمائے اور مسلمان بھائیوں کو نفع پہنچائے آمین!
فصل اول اداب سفر و مقدمات حج میں
() جس کا قرض آتا ہو یا امانت پاس ہو ادا کرے جن کے مال ناحق لیے ہوں واپس دے یا معاف کرائے پتا نہ چلے تو مال فقیروں کو دے دے۔
() نماز روزہ زکوۃ جتنی عبادات ذمہ پر ہوں ادا کرے اور تائب ہو۔
() جس کی بے اجازت سفر مکروہ ہے جیسے ماں باپ شوہر اسے رضامند کرے جس کااس پر قرض آتا ہے اس وقت نہ دے سکے توا س سے بھی اجازت لے پھر بھی حج کسی کی اجازت نہ دینے سے رك نہیں سکتا اجازت میں کوشش کرے نہ ملے جب بھی چلا جائے
() اس سفر سے مقصود صرف اﷲ ورسول ہوں۔
() عورت کے ساتھ جب تك شوہر یا محرم بالغ قابل اطمینان نہ ہو جس سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے سفر حرام ہے اگر کرے گی حج ہوجائے گا مگر ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا۔
() توشہ مال حلال سے ہو ورنہ قبول حج کی امید نہیں اگر چہ فرض اترجائے گا۔
() حاجت سے زیادہ توشہ لے کر رفیقوں کی مدد اور فقیروں پر صدقہ کرتا چلے یہ حج مبرور کی نشانی ہے۔
() عام کتب فقہ بقدر کفایت ساتھ لے ورنہ کسی عالم کے ساتھ چلا جائے یہ بھی نہ ملے تو کم از کم یہ رسالہ ہمراہ ہو۔
() آئینہ سرمہ کنگھا مسواك ساتھ رکھے کہ سنت ہے
() اکیلا سفر نہ کرے منع ہے رفیق دیندار ہو کہ بددین کی ہمراہی سے اکیلابہتر ہے۔
()حدیث میں ہے : جب تین آدمی سفر کو جائیں اپنے میں ایك کو سردار بنالیں ۔ اس میں کاموں کا انتظام رہتا ہے سردار اسے بنائیں جو خوش خلق عاقل دیندار ہو سردار کو چاہئے رفیقوں کے آرام کو اپنی آسائش پر مقدم رکھے۔
چلتے وقت اپنے دوستوں عزیزوں سے ملے اور اپنے قصور معاف کرائے اور ان پر لازم ہے کہ دل سے معاف کردیں حدیث میں ہے کہ جس کے پاس اس کا مسلمان بھائی معذرت لائے واجب ہے
حوالہ / References مشکوٰۃ المصابیح کتاب الجہاد باب آداب السفر مطبع مجتبائی دہلی ص٣٣٩
#10181 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
کہ قبول کرلے ورنہ حوض کوثر پرآنا نہ ملے گا۔
() وقت رخصت سب سے دعا لے کہ برکت پائے گا۔
() ان سب کے دین جان اولاد مال تندرستی عافیت خدا کو سونپے
() لباس سفر پہن کر گھر میں چار رکعت نفل الحمد وقل سے پڑھ کر باہر نکلے وہ رکعتیں واپس آنے تك اس کے اہل ومال کی نگہبانی کریں گی
() جدھر سفر کو جائے جمعرات یا ہفتہ یا پیر کادن ہو اور صبح کا وقت مبارك ہے اور اہل جمعہ کو روز جمعہ قبل جمعہ سفر اچھا نہیں۔
() دروازے سے باہر نکلتے ہی کہے :
بسم عــــہ۱ اﷲ وامنت باﷲ وتوکلت علی اﷲ ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ اللھم انا نعوذبك من ان نزل اونضل ونضل اونظلم اونظلم اونجھل اویجھل علینا احد۔
(۱۸) سب سے رخصت کے بعداپنی مسجد سے رخصت ہو وقت کراہت نہ ہو تو اس میں دو رکعت نفل پڑھے۔
() چلتے وقت کہے : واپسی تك مال اور اہل وعیال محفوظ رہیں گے
اللھم عــــہ۲ انا نعوذبك من وعشآء السفر وکابۃ المنقلب وسوء المنظر فی المال والاھل والولد ۔
عــــہ۱ : ترجمہ : اﷲ کے نام سے اور اﷲ کی مدد سے اور میں نے اﷲ پر بھروسہ کیا اور نہ گناہوں سے پھر نا نہ طاعت کی طاقت مگر اﷲ تعالی کی توفیق سے الہی! ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس سے کہ خود لغزش کریں یا دوسرا ہمیں لغزش دے یا خود بہکیں یا دوسرا بہکائے یا ظلم کریں یا ہم پر ظلم ہو یا جہل کریں یا ہم پر کوئی جہل کرے۔ (ت)
عــــہ۲ : الہی!ہم تیری پناہ مانگتے ہیں سفر کی مشقت اور واپسی کی بدحالی اور مال یا اولاد میں کوئی بری حالت نظر آنے سے (م)
حوالہ / References الترغیب والترھیب الترھیب ان یعتذرالی المرء اخوہ الخ مصطفی البابی مصر ٣ / ٤٩١
کتاب ادعیۃ الحج والعمرۃ ملحق ارشاد الساری فصل فی الوداع دارالکتاب العربی بیروت ص٢
کتاب ادعیۃ الحج والعمرۃ ملحق ارشاد الساری فصل فی الوداع دارالکتاب العربی بیروت ص٣
#10182 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() اسی وقت تبت کے سوا قل یا سے قل اعوذ برب الناس تك پانچ سورتیں سب مع بسم اﷲ پڑھے پھر آخر میں ایك بار بسم اﷲ شریف پڑھ لے راستے بھر آرام رہے گا۔
() نیز اس وقت ان الذی فرض علیك القران لرآدك الى معاد- ایك بار پھر پڑھ لے بالخیر واپس آئے گا۔
(۲۲) ریل وغیرہ جس پر سوارہو بسم اﷲ کہے پھر اﷲ اکبر اور سبحان اﷲ تین تین بار لا الہ الا اﷲ ایك بار پھر کہے : عــــہ۲ سبحن الذی سخر لنا هذا و ما كنا له مقرنین(۱۳) و انا الى ربنا لمنقلبون(۱۴) اس کے شر سے بچے۔
() ہر بلندی پر چڑھے اﷲ اکبر اور ڈھال میں اترتے سبحان اﷲ۔
(۲۴) جس منزل پر اترے عــــہ۳ اعوذ بکلمت اﷲ التامات کلھا من شرما خلق کہے ہر نقصان سے بچے گا۔
(۲۵) جب وہ بستی نظر پڑے جس میں ٹھہرنا چاہتا ہے کہے :
عــــہ۴ اللھم انانسئلك خیر ھذہ القریۃ وخیر اھلھا وخیرما فیھا ونعوذبك من شر ھذہ القریۃ وشراھلھا وشرما فیھا ۔ ہر بلا سے محفوظ رہے گا۔
ترجمہ : عــــہ۱ : بیشك وہ جس نے تجھ پر قرآن فرض کیا ضرور تجھے پھرنے کی جگہ واپس لائے گا۔ (م)
عــــہ۲ : پاکی ہے اسے جس نے اسے ہمارے بس میں کردیا اور ہم میں اس کی طاقت نہ تھی بیشك ہم ضرور اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔ (م)
عــــہ۳ : میں اﷲ تعالی کی کامل باتوں کی پناہ مانگتاہوں اس سب مخلوق کی شر سے۔ (م)
عــــہ۴ : الہی ہم تجھ سے مانگتے ہیں اس بستی کی بھلائی اور اس بستی والوں کی بھلائی اور اس بستی میں جو کچھ ہے اس کی بھلائی اور تیری پناہ مانگتے ہیں اس بستی کی برائی سے اور اس میں جو کچھ ہے اس کی برائی سے۔ (م)
حوالہ / References القرآن ٢٨ / ۸۵
القرآن ٤٣ / ١٣
کتاب ادعیۃ الحج والعمرۃ ملحق ارشاد الساری فصل فی الرکوب دارالکتاب العربی بیروت ص٣
کتاب ادعیۃ الحج والعمرۃ ملحق ارشاد الساری فصل فی الرکوب دارالکتاب العربی بیروت ص٣
الاذکار امام نووی باب مایقول اذا راَی قریۃ الخ فصل فی الرکوب ص٢٠١
#10184 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() جس شہر میں جائے وہاں کے سنی عالموں اور باشرع فقیروں کے پاس ادب سے حاضر ہو مزارات کی زیارت کرے فضول سیر تماشے میں وقت نہ کھودے۔
() جس عالم کی خدمت میں جائے وہ مکان میں ہو تو آواز نہ دے باہر آنے کا انتظار کرے اس کے حضور بے ضرورت کلام نہ کرے بے اجازت لیے مسئلہ نہ پوچھے اس کی کوئی بات اپنی نظر میں خلاف شرع ہو تو اعتراض نہ کرے اور دل میں نیك گمان رکھے مگر یہ سنی عالم کے لیے بد مذہب کے سامنے سے بھاگے
() ذکر خدا سے دل بہلائے کہ فرشتہ ساتھ رہے گا نہ کہ شعر ولغویات سے کہ شیطان ساتھ ہوگا رات کوزیادہ چلے کہ سفر جلد طے ہوتا ہے۔
() منزل میں راستے سے بچ کر اترے کہ وہاں سانپ وغیرہ موذیوں کا گزرنا ہوتا ہے۔
() راستے پر پیشاب وغیرہ باعث لعنت ہے۔
() منزل میں متفرق ہو کر نہ اتریں ایك جگہ اتریں۔
(۳۲) ہر سفر خصوصا سفر حج میں اپنے اور اپنے عزیزوں دوستوں کے لیے دعا سے غافل نہ رہے کہ مسافر کی دعا قبول ہے
(۳۳) جب دریا میں سوار ہو کہے :
بسم الله مجرىها و مرسىها-ان ربی لغفور رحیم(۴۱) و ما قدروا الله حق قدره ﳓ و الارض جمیعا قبضته یوم القیمة و السموت مطویت بیمینه-سبحنه و تعلى عما یشركون(۶۷) ڈوبنے سے محفوظ رہے گا۔ جب کسی مشکل میں مدد کی حاجت ہو تین بار کہے : یا عباداﷲ اعینونی اے اﷲ کے بندو! میری مدد کرو غیب سے مدد ہوگی یہ حکم حدیث ہے۔
عــــہ : ترجمہ : اﷲ کے نام سے ہے اس کشتی کا چلنا اور ٹھہرنا بیشك میرا رب ضرور بخشنے والا مہربان ہے کافروں نے خداہی کی قدر جیسے چاہئے تھی نہ پہچانی حالانکہ ساری زمین قیامت کے دن بہت حقیر سی کی طرح اس کے قبضہ میں ہے اور سب آسمان اس کی قدرت سے لپٹ جائیں گے وہ پاك وبلند ہے ان کی شرکت سے منہ (م)
حوالہ / References کتاب عمل الیوم واللیلۃ باب مایقول اذا ارکب فی السفینۃ مجلس دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن ص١٣٤
مجمع الزوائد باب مایقول اذا انفلتت دابتہ الخ دارالکتاب العربی بیروت ١٠ / ١٣٢ ، کنزالعمال بحوالہ طب عن عتبہ بن غزوان حدیث ١٧٤٩٨ موسسۃ الرسالۃ بیروت ٦ / ٧٠٩
#10185 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
()عــــہ۱ یاصمد بار روزانہ پڑھے بھوك وپیاس سے بچے گا۔
() اگر دشمنی یا رہزن کا ڈر ہو لایلف پڑھے ہر بلا سے امان رہے۔
() سوتے وقت آیۃ الکرسی ایك بار ہمیشہ پڑھے کہ چور اور شیطان سے امان رہے
() اگر کوئی چیز گم ہوجائے تو کہے : عــــہ۲ یاجامع الناس لیوم لاریب فیہ ط ان اﷲلایخلف المیعاد * اجمع بینی وبین ضالتی ۔
ان شاء اﷲ تعالی مل جائے گی۔
() کرایہ کے اونٹ وغیرہ جو کچھ بارکرنا ہوا س کے مالك کو دکھائے اور اس سے زیادہ بغیر اس کی اجازت کے نہ رکھے۔
() جانور کے ساتھ نرمی کرے طاقت سے زیادہ کام نہ لے بے سبب نہ مارے نہ کبھی پونچھ پر مارے حتی المقدور اس پر نہ سوئے کہ سونے کا بوجھ زیادہ ہوتا ہے کسی سے بات وغیرہ کرنے کو کچھ دیر ٹھہرنا ہو تو اتر لے اگر ممکن ہو ۔
() صبح وشام اتر کر کچھ دیر پیادہ چل لینے میں دینی دنیوی بہت فائدے ہیں۔
() بدوؤں اور سب عربوں سے بہت نرمی کے ساتھ پیش آئے اگر وہ سختی کریں ادب سے تحمل کرے اس پر شفاعت نصیب ہونے کا وعدہ فرمایا ہے خصوصا اہل حرمین خصوصا اہل مدینہ اہل عرب کے افعال پر اعتراض نہ کرے نہ دل میں کدورت لائے اس میں دونوں جہان کی سعادت ہے
() جمال یعنی اونٹ والوں کو یہاں کے کرایہ والے نہ سمجھے بلکہ اپنا مخدوم جانے اور کھانے پینے میں ان سے بخل نہ کرے کہ وہ ایسوں سے ناراض ہوتے ہیں اور تھوڑی بات میں بہت خوش ہوجاتے ہیں اور امید سے زیادہ کام آتے ہیں۔
() سفر مدینہ طیبہ میں قافلہ نہ ٹھہرنے کے باعث بمجبوری ظہر وعصر ملا کر پڑھنی ہوتی ہے اس کے لیے لازم ہے
عــــہ : ۱ ترجمہ : اے بے نیاز۔ (م)
عــــہ : ۲ ترجمہ : اے یقینی دن کے لیے سب لوگوں کے جمع فرمانے والے بیشك اﷲ تعالی وعدہ خلافی نہیں کرتا مجھے میری گمی چیز ملادے منہ (م)
حوالہ / References درمنثور تحت آیۃ انك جامع الناس مکتبۃ آیۃ اﷲ العظمی قم ایران ٢ / ٩
#10186 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
کہ ظہر کے فرضوں سے فارغ ہونے سے پہلے ارادہ کرلے کہ اسی وقت عصر پڑھوں گا اور فرض ظہر کے بعد فورا عصر کی نما ز پڑھے یہاں تك کہ بیچ میں ظہر کی سنتیں بھی نہ ہوں اسی طرح مغرب کے ساتھ عشاء انہی شرطوں سے مغرب کے وقت نکلنے سے پہلے ارادہ کرلے کہ ان کو عصر وعشاء کے ساتھ پڑھوں گا۔
() واپسی میں بھی وہی طریقہ ملحوظ رکھے جو یہاں تك بیان ہوا۔
() مکان پر اپنے آنے کی تاریخ وقت کی اطلاع پہلے سے دے دے بے اطلاع ہر گز نہ جائے خصوصا رات میں۔
() سب سے پہلے اپنی مسجد سے دو رکعت نفل کے ساتھ ملے۔
() دو رکعت گھر میں آکر پڑھے پھر سب سے بکشادہ پیشانی ملے۔
() دوستوں کے لیے کچھ نہ کچھ تحفہ ضرور لائے اور حاجی کا تحفہ تبرکات حرمین شریفین سے زیادہ کیا ہے اور دوسرا تحفہ دعا کہ مکان میں پہنچنے سے پہلے استقبال کرنے والوں اور سب مسلمانوں کے لیے کرے کہ قبول ہے۔
فصل دوم احرام اور اس کے احکام اور داخلی حرم محترم و مکہ مکرمہ و مسجد الحرام
() ہندیوں کے لیے میقات (جہاں سے احرام باندھنے کا حکم ہے) کوہ یلملم کی محاذات ہے یہ جگہ کامران سے نکل کر سمندروں میں آتی ہے جب جدہ دو تین میل رہ جاتا ہے جہاز والے اطلاع دیتے ہیں پہلے سے احرام کا سامان تیار کر رکھیں۔
() جب و ہ جگہ قریب آئے خوب مل کر نہائیں اور نہ نہا سکیں تو صرف وضو کرلیں۔
() چاہیں مرد سر منڈا لیں کہ احرام میں بالوں کی حفاظت سے نجات ملے گی ورنہ کنگھی کرکے خوشبودار تیل ڈالیں۔
() ناخن کتریں خط بنوائیں موئے بغل وزیر ناف دور کریں۔
() خوشبو لگائیں کہ سنت ہے۔
() مرد سلے کپڑے اتاریں ایك چادر نئی یا دھلی اوڑھیں اورایك ایساہی تہبند باندھیں یہ کپڑے سفید بہتر ہیں۔
() جب وہ جگہ آئے دو رکعت بہ نیت احرام پڑھیں پہلی میں فاتحہ کے بعد قل یاایھاالکافرون دوسری میں قل ھو اﷲ۔
#10188 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() اب حج تین طرح کا ہوتا ہے۔
ایك یہ کہ نراحج کرے اسے افراد۱ کہتے ہیں اس میں بعد سلام یوں کہے :
عــــہ اللھم انی ارید الحج فیسرہ لی وتقبلہ منی نویت الحج مخلصاللہ تعالی ۔
دوسرا یہ کہ یہاں سے نرے عمرے کی نیت کرے مکہ معظمہ میں حج کا احرام با ندھے اسے تمتع کہتے ہیں اس میں بعد سلام یو کہے :
اللھم ارید العمرۃ فیسر ھالی وتقبلھا منی نویت العمرۃ مخلصاللہ تعالی ۔
تیسرا یہ کہ حج وعمرہ کی یہیں سے نیت کرے اور یہ سب سے افضل ہے اسے قران کہتے ہیں اس میں بعد سلام یو ں کہے :
اللھم انی ارید الحج والعمرۃ فیسر ھمالی وتقبلھما منی نویت الحج والعمرۃ للہ تعالی ۔
اورتینوں صورتوں میں اس نیت کے بعد لبیك بآواز بلند کہے لبیك یہ ہے :
لبیك اللھم لبیك ط لبیك لا شریك لك لبیك ط ان الحمد والنعمۃ لك والملك ط لا شریك لك ط
(۹) یہ احرام تھا اس کے ہوتے ہی یہ کام حرام ہوگئے۔
عورت سے ۱صحبت ۲بوسہ ۳مساس ۴گلے لگانا اس کی ۵اندام نہانی پرنگاہ جبکہ یہ چاروں باتیں بشہوت ہوں ۶عورتوں کے سامنے اس کا نام لینا ۷فحش گناہ ہمیشہ حرام تھے اب اورسخت حرام ہوگئے کسی سے ۸دینوی لڑائی جھگڑا ۹جنگل کا شکار اس کی طرف شکار کرنے کو ۱۰اشارہ کرنا یا ۱۱کسی طرح بتانا بندوق
عــــہ : ترجمہ : الہی! میں حج کا ارادہ کرتاہوں تو اسے میرے لیے آسان کردے اور مجھ سے قبول فرما میں نے خاص اﷲ تعالی کے لیے حج کی نیت کی۔ (م)
حوالہ / References منسك متوسط مع ارشاد الساری فصل یصلی رکعتین بعد اللبس دارالکتاب العربی بیروت ص٦٩
منسك متوسط مع ارشاد الساری فصل یصلی رکعتین بعد اللبس دارالکتاب العربی بیروت ص٧٠
منسك متوسط مع ارشاد الساری فصل یصلی رکعتین بعد اللبس دارالکتاب العربی بیروت ص٧٠
منسك متوسط مع ارشاد الساری فصل یصلی رکعتین بعد اللبس دارالکتاب العربی بیروت ص٦٩
#10190 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
یا ۱۲بارود یا اس کے ذبح کے لیے ۱۳چھری دینا ۱۴اس کے انڈے توڑنا ۱۵پر اکھاڑنا ۱۶پاؤں یا بازو توڑنا اس کا ۱۷دودھ دوہنا اس کا گوشت یا ۱۸انڈے پکانا ۱۹بھوننا ۲۰بیچنا ۲۱خریدنا ۲۲کھانا ۲۳ناخن کترنا ۲۴سر سے پاؤں تك کہیں سے کوئی بال جداکرنا ۲۵منہ یا ۲۶سر کسی کپڑے وغیرہ سے چھپانا ۲۷بستر یا کپڑے عــــہ کی بقچی یا گٹھڑی سر پر رکھنا ۲۸عمامہ باندھنا ۲۹برقع و دستانے پہننا ۳۰موزے یاجرابیں وغیرہ جو پنڈلی اور ۳۱اقدام کے جوڑ کو چھپائے پہننا ۳۲سلا کپڑا پہننا ۳۳خوشبو بالوں یا ۳۴بدن یا کپڑوں میں لگانا ۳۵ملاگیری یاکسم کیسر غرض کسی خوشبو کے رنگے ۳۶کپڑے پہننا جبکہ ابھی خوشبو دے رہے ہوں ۳۷خالص خوشبو مشک عنبر زعفران جاوتری لونگ الائچی دارچینی زنجبیل وغیرہ کھانا ۳۸ایسی خوشبو کا آنچل میں باندھنا ۳۹جس میں فی الحال مہك ہو ۴۰جیسے مشک عنبر زعفران سر یا ڈاڑھی خطمی یا کسی ۴۱خوشبودار ایسی چیز سے دھونا ۴۲جس سے جوئیں مرجائیں ۴۳وسمہ یا ۴۴مہندی کا خضاب لگانا گوند وغیرہ سے ۴۵بال جمانا زیتون یا تل کا ۴۶تیل اگر چہ بے خوشبو ہو ۴۷بدن یا بالوں میں لگانا کسی کا ۴۸سر مونڈنا اگر چہ اس کا احرام نہ ہو ۴۹جوں مارنا پھینکنا کسی کو اس کے مارنے کا اشارہ کرنا کپڑا اس کے مارنے۵۰ کودھونا یا ۵۱دھوپ میں ڈالنا بالوں۵۲ میں پارہ وغیرہ اس کے ۵۳مرنے کو لگانا غرض جوں کے ہلاك پر کسی پر کسی طرح باعث ہونا
() احرام میں یہ باتیں مکروہ ہیں :
بدن کا میل چھڑانا بال یا بدن کھلی یا صابون وغیرہ بے خوشبو کی چیز سے دھونا کنگھی کرنا اس طرح کھجانا کہ بال ٹوٹے یا جوں گرے انگر کھا کرتا یا چغہ پہننے کی طرح کندھوں پر ڈالنا خوشبوں کی دھونی دیا ہوا کپڑا کہ ابھی خوشبو دے رہا ہوں پہننا اوڑھنا قصدا خوشبو سونگھنا اگر چہ خوشبودار پھل یا پتہ ہو جیسے لیموں نارنگی پودینہ عطردانہ سریامنہ پر پٹی باندھنا غلاف کعبہ مکہ معظمہ کے اندر اس طرح داخل ہونا کہ غلاف شریف سریا منہ سے لگے ناك وغیرہ منہ کا کوئی حصہ کپڑے سے چھپائے یا کوئی ایسی چیز کھانا پینا جس میں خوشبو پڑی ہو اور نہ ہو پکائی گئی ہو نہ زائل ہوگئی ہو بے سلا کپڑا رفو کیا یاپیوند لگا ہوا پہننا تکیہ پر منہ رکھ کر
عــــہ : لو حمل المحرم علی راسہ شیأ یلبسہ الناس یکون لا بسا وان کان لا یلبسہ الناس کا لا جانۃ ونحوہ فلا اھ ش عن النھر وا لخانیۃ منہ (م)
اگر محرم نے کئی ایسی شئی اٹھائی جسے لوگ پہنتے ہیں تو اب لباس پہننے والا سمجھا جائیگا اور اگر لوگ اسے نہیں پہنتے مثلا ٹب وغیرہ تو اب لابس نہ ہوگا اھ ش نہر اور خانیہ کے حوالے سے ہے۔ منہ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی الاحرام مصطفی البابی مصر ۲ / ۱۷۶
#10194 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
اوندھنا لیٹنا مہکتی خوشبو ہاتھ سے چھونا جبکہ ہاتھ میں نہ لگ جائے ورنہ حرام ہے بازو یا گلے پر تعویز باندھا اگر چہ بے سلے کپڑے میں لپیٹ کر بلا عذر بدن عہ پر پٹی باندھنا سنگھار کرنا چادر اوڑھ کر اس کے آنچلوں میں گرہ دے لینا تہبند باندھ کمر بند سے کسنا
() یہ باتیں احرام میں جائز ہیں :
انگرکھا کرتا چغہ لپیٹ کر اوپر سے اس طرح ڈال لینا کہ سراور منہ نہ چھپے ان چیزوں یا پاجامہ کا تہبند باندھنا ہمیانی پا پٹی باندھنا بے میل چڑائے حمام کرنا کسی چیز کے سائے میں بیٹھنا چھتری لگانا انگوٹھی پہننا بے خوشبو کا سرمہ لگانا فصد بغیر بال مونڈے پچھنے لینا آنکھ میں جو بال نکلے اسے جدا کرنا سر یا بدن اس طرح کھجا نا کہ بال نہ ٹوٹے جوں نہ گرے احرام سے پہلے جو خوشبو لگائی اس کا لگارہنا پالتو جانور اونٹ گائے بکری مرغی کا ذبح کرنا پکانا کھانا اس کا دودھ دوہنا انڈے توڑنا بھوننا کھانا کھانے کے لیے مچھلی کا شکار کرنا کسی دریا ئی جانو کامارنا دوا یا غذا کے لیے نہ ہو نری تفریح منظو ر ہو جس طرح لوگوں میں رائج ہے تو شکار دریا ہو یا جنگل خودہی حرام ہے اور احرام میں سخت تر حرام منہ اور سر کاسوا کسی اور جگہ زخم پر پٹی باندھنا سر یا گال کے نیچے تکیہ رکھنا سر یا ناك پر اپنا یا دوسرے کا ہاتھ رکھنا کان کپڑے سے چھپانا ٹھوڑی سے نیچے داڑھی پر کپڑا آنا سر پر سینی اور بوری اٹھانا جس کھانے کے پکنے میں مشك وغیرہ پڑے ہوں اگر چہ خوشبو دیں یا بے پکائے جس میں خوشبو ڈالی اور وہ بو نہیں دیتی اس کا کھانا پینا گھی یا چربی یا کڑوا تیل یا ناریل یا بادام یا کدو یا کاہو کا تیل کہ بسایا نہ ہو بدن یا بالوں میں لگانا خوشبو کے رنگے کپڑے پہننا جبکہ ان کی خوشبو جاتی رہی ہو
عــــہ : یکرہ تعصیب راسہ ولو عصبہ یوما او لیلا فعلیہ صدقۃ ولا شیئ علیہ لو عصب غیرہ من بدنہ لعلۃ او لغیر علۃ لکنہ یکرہ بلا علۃ اھ فتح القدیر منہ (م)
اگر کسی نے سر پر یا ایڑی پر پٹی باندھی اگر چہ ایك دن یا رات ہو تو اس پر صدقہ ہوگا اور اگر سر کے علاوہ جسم کے کسی اور حصہ پرپٹی باندھی خواہ کسی تکلیف کی وجہ سے تھی یا بلاوجہ تو کوئی شیئ لازم نہ ہوگی ہاں بلاوجہ باندھنا مکروہ ہوگا اھ فتح القدیر منہ (ت)
حوالہ / References فتح القدیر باب الاحرام مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ٢ / ٣٤٩
#10195 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
مگر کسم کیسر کا رنگ مرد کو ویسے ہی حرام ہے دین کے لیے لڑنا جھگڑنا بلکہ حسب حاجت فرض وواجب ہے جوتا پہننا جو پاؤں کے جوڑ کو نہ چھپائے بے سلے کپڑے میں لپیٹ کر تعویز گلے میں ڈالنا آئینہ دیکھنا ایسی خوشبو کا چھونا جس میں فی الحال مہك نہیں جیسے اگر لوبان صندل یا اس کا آنچل میں باندھنا نکاح کرنا
() ان مسائل میں مرد وعورت برابر ہیں مگر عورت کو چند باتیں جائز ہیں : سر چھپانا بلکہ نامحرم کے سامنے اور نماز میں فرض ہے توسر پر بستر بقچہ اٹھانا بدرجہ اولی گوند وغیرہ سے بال جمانا سر وغیرہ پر پٹی خواہ بازو یا گلے پر تعویز باندھنا اگر چہ سی کر غلاف کعبہ کے اندر یوں داخل ہونا کہ سر پر رہے منہ پر نہ آئے دستانے موزے سلے کپڑے پہننا عورت اتنی آواز سے لبیك نہ کہے کہ نامحرم سنے ہاں اتنی آواز ہر پڑھنے میں ہمیشہ سب کو ضرور ہے کہ اپنے کان تك آواز آئے
تنبیہ : احرام میں منہ چھپانا عورت کو بھی حرام ہے نامحرم کے آگے کوئی پنکھا وغیرہ منہ سے بچا ہوا سامنے رکھے۔
() جو باتیں احرام میں ناجائز ہیں وہ اگر کسی عذر سے یا بھول کر ہوں تو گناہ نہیں مگر ان پر جو جرمانہ مقرر ہے ہر طرح دینا آئے گا اگر چہ بے قصد ہوں سہوا یا جبرا یا سوتے میں۔
() وقت احرام سے رمی جمرہ تك (جس کا ذکر آئے گا) اکثر اوقات لبیك کی بے شمار کثرت رکھے خصوصا چڑھائی پر چڑھتے اترتے دو قافلوں کے ملتے صبح وشام پچھلی رات پانچویں نمازوں کے بعد مرد بآواز کہیں مگر اتنی بلند کہ اپنے آپ یا دوسرے کو تکلیف نہ ہو
() جب حرم کے متصل پہنچے سر جھکائے آنکھیں شرم گناہ سے نیچی کیے خشوع وخضوع سے داخل ہو اور ہو سکے تو پیادہ ننگے پاؤں اور لبیك و دعا کی کثرت رکھے اور بہتر یہ کہ دن کو داخل ہو نہاکر
() مکہ مکرمہ کے گرد اگرد کئی کوس کا جنگل ہے ہر طرف اس کی حدیں بنی ہوئی ہیں ان حدوں کے اندر ترگھاس اکھاڑنا خود رو پیڑ کا کاٹنا وہاں عــــہ کے و حشی جانوروں کو تکلیف دینا حرام ہے۔ یہاں تك کہ اگر سخت دھوپ ہو اور ایك ہی پیڑ ہے اس کے سایہ میں ہرن بیٹھا ہے تو جائز نہیں کہ اپنے بیٹھنے کے لیے اسے اٹھائے اور اگرکوئی وحشی جانور بیرون حرم کا اس کے ہاتھ میں تھا اسے لیے ہوئے حرم میں داخل ہوگیا اب وہ جانور حرم کا ہوگیا فرض ہے کہ فورا اسے آزاد کرے مکہ معظمہ میں جنگلی کبوتر بکثرت ہیں ہر مکان میں
عــــہ : چیل کوا چوہا چھپکلی سانپ بچھو کھٹمل مچھر پسو وغیرہ خبیث اور موذی جانوروں کا قتل حرم میں بھی جائز ہے اور احرام میں بھی (م)
#10197 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
رہتے ہیں خبردار ہر گز انھیں نہ اڑائے نہ ڈرائے نہ کوئی ایذا پہنچائے بعض ادھر ادھر کے لوگ جو مکے میں بسے کبوتروں کا ادب نہیں کرتے ان کی ریس نہ کرے مگر برا انھیں بھی نہ کہے جب وہاں کے جانوروں کا ادب ہے تو مسلمانوں انسان کا کیا کہنا
() جب رب العالمین جل جلالہ کا شہر نظر پڑے ٹھہر کر دعا مانگے اور درود شریف کی کثرت کرے اور افضل یہ ہے کہ نہا دھو کر داخل ہو اور مدفونین جنت المعلی کے لیے فاتحہ پڑھے
() جب مدعی میں پہنچے جہاں کعبہ معظمہ نظر آئے اﷲ اکبر یہ عظیم قبول واجابت کا وقت ہے صدق دل سے اپنے اور تمام عزیزون دوستوں مسلمانو ں کے لیے مغفرت وعافیت مانگے اور فقیر دعائے جامع عرض کرتا ہے درود شریف کی کثرت کرے اور اسے کم از کم تین بار پڑھیں
عــــہ۱اللھم ھذا بیتك واناعبدك اسألك العفو والعافیۃ فی الدین والدنیا والاخرۃ لی ولوالدی و للمؤمنین والمؤمنت ولعبدك احمدرضا ابن نقی علی اللھم اغفرھما وارحمھما وانصرہ نصرا عزیزا پھر درود شریف پڑھیں۔
(۱۹) یو نہی ذکر خدا ورسول اور اپنے تمام مسلمانوں کے لیے دعائے فلاح دارین کر تاہوا باب السلام تك پہنچے اور اس آستانہ پاك کو بوسہ دے کر داہنا پاؤں پہلے رکھ کر داخل ہو اور کہے :
عــــہ۲ بسم اﷲ والحمدللہ والسلام علی رسول اﷲ اللھم صل علی سیدنا محمد و علی ال سیدنا محمد وازواج سیدنا محمد اللھم اغفر لی ذنوبی وافتح لی ابواب رحمتک۔
عــــہ۱ : ترجمہ : الہی! یہ تیرا گھر ہے او میں تیرا بندہ الہی! میں تجھ سے پناہ مانگتاہوں گناہوں کی معافی اور دین و دینا وآخرت میں ہر بلا سے محفوظی اپنے لیے اور اپنے ماں باپ اور سب مردوں عورتوں اور تیرے حقیر بندے احمد رضا خاں علی کے لیے الہی! اس کی زبردست امداد فرما آمین!
عــــہ۲ : اﷲ کے نام سے اور سب خوبیاں خدا کو اور رسول اﷲ پر سلام الہی درود بھیج ہمارے آقا محمد اور ان کی آل اور ان کی بیبیوں پر الہی! میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ (م)
#10198 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() یہ دعا خوب یاد رکھے جب کبھی مسجد الحرام شریف خواہ مسجد میں داخل ہو اسی طرح جائے اور یہ دعا پڑھے اور جب کسی مسجد سے باہر آئے پہلے بایاں پاؤں باہر رکھے اور یہی دعا پڑھے مگر اخیر میں رحمتك کی جگہ فضلك کہے اور یہ لفظ اور بڑھائے : وسھل عــــہ ابواب رزقك۔ اس کی برکات دین ودنیا میں بے شمار ہیں۔ والحمد ﷲ ۔
فصل سوم طواف و سعی صفا و مروہ کا بیان
اب کہ مسجد الحرام میں داخل ہوا اگر جماعت قائم یا نماز فرض خواہ وتر یا سنت موکدہ کے فوت ہونے کا خوف نہ ہو تو سب کاموں سے پہلے متوجہ طواف ہو کعبہ شمع ہے اور تو پروانہ دیکھتا نہیں کہ پروانہ شمع کے گرد کیسے قربان ہوتا ہے تو بھی اس شمع پر قربان ہونے کے لیے مستعد ہوجا پہلے اس مقام کریم کا نقشہ دیکھے کہ جوبات کہی جائے خوب ذہن میں آجائے۔

مسجد الحرام ایك گول وسیع احاطہ ہے جس کے کنارے کنارے بہ کثرت دالان اور آنے جانے کے دروازے ہیں اور بیچ میں مطاف ایك گول دائرہ ہے جس میں سنگ مر مر بچھا ہے اس کے بیچ میں کعبہ معظمہ ہے بنی صلی اللہ
عــــہ : اپنے رزق کے دروازوں میں آسانی فرما۔ (ت)
yahan aik image hai
حوالہ / References €&تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم €∞کے زمانہ میں مسجد الحرام اسی قدر تھی ، اس کی حد پر باب السلام شرقی قدیم دروازہ واقع ہے ، رکن مکان کا گوشہ جہاں اس کی دو دیواریں ملتی ہیں جسے زاویہ کہتے ہیں ، اس طرح €&ا€∞ _________€& ح ب اح€∞ ، €&ح ب€∞ دونوں دیواریں مقام €&ح€∞ پر ملی ہیں۔ یہ رکن زاویہ ہے ، کعبہ معظمہ کے چار رکن ہیں ، رکنِ اسود جنوب مشرق کے گوشہ میں ، اسی میں زمین سے اونچا سنگ اسود شریف نصب ہے ، رکن عراق مشرق وشمال کے گوشہ میں ، دروازہ کعبہ انہی دونوں رکنوں کے بیچ کی شرقی دیوار میں زمین سے بہت بلند ہے۔ ملتزم اسی شرقی دیوار کا وہ ٹکڑا جو رکن اسود سے دروازہ کعبہ معظمہ تك ہے ، رکن شامی شمال مغرب کے گوشہ میں ، میزاب رحمت ، سونے کا پرنالہ رکن شامی وعراقی کے بیچ کی شمالی دیوار پر چھت میں نصب ہے ، حطیم بھی اسی شمالی دیوار کی طرف ہے ، یہ زمین €&عــــہ€∞ کعبہ معظمہ ہی کی تھی ، زمانہ جاہلیت میں جب قریش نے کعبہ از سر نو بنایا ، کمی خرچ کے باعث اتنی زمین کعبہ معظمہ سے باہر چھوڑدی ، اس کے گرد اگرد ایك قوسی انداز کی چھوٹی سی دیوار کھینچ دی اور دونوں طرف آمد ورفت کا دروازہ ہے۔ اور یہ مسلمانوں کی خوش نصیبی ہے اس میں داخل ہونا کعبہ معظمہ ہی میں داخل ہونا ہے جو €&بحمد ﷲ تعالیٰ€∞ بے تکلیف نصیب ہوتاہے ، رکن یمانی غروب وجنوب کے گوشہ میں €&مستجاب€∞ رکن عراق ویمانی کے بیچ کی غربی دیوار کاوہ ٹکڑا جو ملتزم کے مقابل ہے ، مستجاب رکن یمانی اور رکن اسود کے بیچ میں جو دیوار جنوبی ہے یہاں ستر ہزار فرشتے دعا پر آمین کہنے کے لیے مقرر ہیں ، فقیر نے اس کا نام مستجاب رکھا ، مقامِ ابراہیم دروازہ کعبہ کے سامنے ایك قبہ میں وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر سیدنا ابراہیم خلیل ا€ﷲ∞ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کعبہ بنایا تھا ان کے قدم پاك کا اس پر نشان ہوگیا جواب تك موجود ہے اور جسے ا€ﷲ∞ تعالیٰ نے €&آیا ت بینات€∞ ا€ﷲ∞ تعالیٰ کی کھلی نشانیا فرمایا۔ زمزم شریف کا قبہ اس سے جنوب کو مسجد شریف میں واقع ہے ، €&باب الصفا€∞ مسجد شریف کے دروازوں میں سے ایك دروازہ ہے جس سے نکل کر سامنے کوہ صفا ہے صفا کعبہ معظمہ سے جنوب کو ایك پہاڑی تھی کہ زمین میں چھپ گئی ہے ، اب وہاں قبلہ رخ ایك دالان بنادیاہے اور چڑھنے کی سیڑھیاں۔ مروہ دوسری پہاڑی صفا سے پورب کو تھی ، یہاں بھی قبلہ رخ دالان بنادیا ہے اور سیڑھیاں۔ صفا سے مروہ تك جو فاصلہ ہے اب یہاں بازار ہے ۔ صفا سے چلتے ہوئے دہنے ہاتھ کو دکانیں اور بائیں ہاتھ کو احاطہ مسجد الحرام ہے۔ €&میلین اخضرین€∞ اس فاصلہ کے وسط میں دیوار حرم شریف میں دوسبز میل نصب ہیں ، جیسے میل کے شروع میں پتھر لگا ہوتا ہے ، €&مسعی€∞ وہ فاصلہ کہ ان دونوں میلوں کے بیچ میں ہے ، یہ سب صورتیں رسالہ میں بار بار لکھ کر خوب ذہن نشین کر لیجئے کہ وہاں پہنچ کر پوچھنے کی حاجت
€&عــــہ€∞ : جنوبًا شمالًا چھ ہاتھ کعبہ کی زمین ہے اور بعض کہتے ہیں سات ہاتھ اور بعض کا خیال ہے کہ سارا حطیم ہے۔ (م)
#10201 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
تعالی علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں مسجد الحرام اسی قدر تھی اس کی حد پر باب السلام شرقی قدیم دروازہ واقع ہے رکن مکان کا گوشہ جہاں اس کی دو دیواریں ملتی ہیں جسے زاویہ کہتے ہیں اس طرح ا _________ ح ب اح ح ب دونوں دیواریں مقام ح پر ملی ہیں۔ یہ رکن زاویہ ہے کعبہ معظمہ کے چار رکن ہیں رکن اسود جنوب مشرق کے گوشہ میں اسی میں زمین سے اونچا سنگ اسود شریف نصب ہے رکن عراق مشرق وشمال کے گوشہ میں دروازہ کعبہ انہی دونوں رکنوں کے بیچ کی شرقی دیوار میں زمین سے بہت بلند ہے۔ ملتزم اسی شرقی دیوار کا وہ ٹکڑا جو رکن اسود سے دروازہ کعبہ معظمہ تك ہے رکن شامی شمال مغرب کے گوشہ میں میزاب رحمت سونے کا پرنالہ رکن شامی وعراقی کے بیچ کی شمالی دیوار پر چھت میں نصب ہے حطیم بھی اسی شمالی دیوار کی طرف ہے یہ زمین عــــہ کعبہ معظمہ ہی کی تھی زمانہ جاہلیت میں جب قریش نے کعبہ از سر نو بنایا کمی خرچ کے باعث اتنی زمین کعبہ معظمہ سے باہر چھوڑدی اس کے گرد اگرد ایك قوسی انداز کی چھوٹی سی دیوار کھینچ دی اور دونوں طرف آمد ورفت کا دروازہ ہے۔ اور یہ مسلمانوں کی خوش نصیبی ہے اس میں داخل ہونا کعبہ معظمہ ہی میں داخل ہونا ہے جو بحمد ﷲ تعالی بے تکلیف نصیب ہوتاہے رکن یمانی غروب وجنوب کے گوشہ میں مستجاب رکن عراق ویمانی کے بیچ کی غربی دیوار کاوہ ٹکڑا جو ملتزم کے مقابل ہے مستجاب رکن یمانی اور رکن اسود کے بیچ میں جو دیوار جنوبی ہے یہاں ستر ہزار فرشتے دعا پر آمین کہنے کے لیے مقرر ہیں فقیر نے اس کا نام مستجاب رکھا مقام ابراہیم دروازہ کعبہ کے سامنے ایك قبہ میں وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر سیدنا ابراہیم خلیل اﷲ علیہ الصلوۃ والسلام نے کعبہ بنایا تھا ان کے قدم پاك کا اس پر نشان ہوگیا جواب تك موجود ہے اور جسے اﷲ تعالی نے ایا ت بینات اﷲ تعالی کی کھلی نشانیا فرمایا۔ زمزم شریف کا قبہ اس سے جنوب کو مسجد شریف میں واقع ہے باب الصفا مسجد شریف کے دروازوں میں سے ایك دروازہ ہے جس سے نکل کر سامنے کوہ صفا ہے صفا کعبہ معظمہ سے جنوب کو ایك پہاڑی تھی کہ زمین میں چھپ گئی ہے اب وہاں قبلہ رخ ایك دالان بنادیاہے اور چڑھنے کی سیڑھیاں۔ مروہ دوسری پہاڑی صفا سے پورب کو تھی یہاں بھی قبلہ رخ دالان بنادیا ہے اور سیڑھیاں۔ صفا سے مروہ تك جو فاصلہ ہے اب یہاں بازار ہے ۔ صفا سے چلتے ہوئے دہنے ہاتھ کو دکانیں اور بائیں ہاتھ کو احاطہ مسجد الحرام ہے۔ میلین اخضرین اس فاصلہ کے وسط میں دیوار حرم شریف میں دوسبز میل نصب ہیں جیسے میل کے شروع میں پتھر لگا ہوتا ہے مسعی وہ فاصلہ کہ ان دونوں میلوں کے بیچ میں ہے یہ سب صورتیں رسالہ میں بار بار لکھ کر خوب ذہن نشین کر لیجئے کہ وہاں پہنچ کر پوچھنے کی حاجت
عــــہ : جنوبا شمالا چھ ہاتھ کعبہ کی زمین ہے اور بعض کہتے ہیں سات ہاتھ اور بعض کا خیال ہے کہ سارا حطیم ہے۔ (م)
#10204 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
نہ ہو ناواقف آدمی اندھے کی طرح کا م کر تا ہے اور جو سمجھ لیا وہ انکھیارا ہے ۔ اب اپنے رب عز وجل کا نا م پاك لے کر طواف کیجئے۔
(۱) شروع طواف سے پہلے مرد اضطباع کرے یعنی چادر کی سیدھی جانب دہنی بغل کے نیچے سے نکا لے کہ سیدھا شانہ کھلا رہے اور دونوں آنچل بائیں کندھے پر ڈال لے۔
(۲) اب رو بہ کعبہ حجر اسود کی دہنی طرف رکن یمانی کی جانب سنگ اسود کے قریب یوں کھڑے ہو کہ تمام پتھر اپنے سیدھے ہاتھ کو رہے ۔ پھر طواف کی نیت کرو :
اللھم عــــہ انی ارید طواف بیتك المحرم فیسرہ لی وتقبلہ منی ۔
(۳) اس نیت کے بعد کعبہ کو منہ کیے اپنی داہنی سمت چلو جب سنگ اسود کے مقابل ہو (اور یہ بات ادنی حرکت میں حاصل ہو جائے گی ) کانوں تك ہاتھ اس طرح اٹھاؤ کہ ہتھیلیاں حجر کی طرف رہیں اور کہو :
بسم عــــہ۲ اﷲ والحمد ﷲ واﷲ اکبر ط والصلو ۃ والسلام علی رسول اﷲ ۔
(۴) میسر ہو سکے تو حجر اسود مطہر پر دونوں ہتھیلیاں اور ان کے بیچ میں منہ رکھ کر یوں بوسہ دو کہ آواز پیدا ہو سکے۔ تین بار ایساہی کرو یہ نصیب ہو تو کمال سعادت ہے یقینا تمھا رے محبوب ومولی محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اسے بوسہ دیا اور روئے اقدس اس پر رکھا ہے زہے خوش نصیبی کہ تمھارا منہ وہاں تك پہنچے اور ہجوم کے سبب نہ ہو سکے تو نہ اوروں کو ایذا دو اور نہ آپ دبو کچلو بلکہ اس کے عوض ہا تھ سے اور ہاتھ نہ پہنچے تو لکڑی سے سنگ اسود مبارك چھو کر اسے چوم لو اور یہ بھی نہ بن پڑ ے تو ہاتھوں سے اس کی طرف اشارہ کر کے اسے بوسہ دے محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے منہ رکھنے کی جگہ پر نگاہ پڑ رہی ہے یہی کیا کم ہے !
(۵) اللھم عــــہ۳ ایمانا بك واتباعا لسنۃ نبیك محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم
عــــہ ۱ : اے اﷲ !میں تیرے مبارك ومعزز گھر کا طواف کرنے لگا ہوں اسے میرے لیے آسان فرما اور اسے میر ی طرف سے قبول فرما ۔ (ت)
عــــہ۲ : اﷲ کے نام سے تمام حمد اﷲ کے لیے اﷲ سب سے بڑا ہے اور صلوۃ وسلام ہو اﷲ کے رسول پر (ت)
عــــہ۳ : الہی تجھ پر ایمان لا کر اور تیرے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی پیروی کو یہ طواف کرتا ہوں ۱۲ منہ(م)
حوالہ / References منسك متوسط مع ارشاد الساری فصل فی صفۃ الشروع فی الطواف دار الکتاب العربی بیروت ص ۸۹
الاذکا ر امام نووی فصل فی اذکا ر الطواف دارالکتا ب العربی بیروت ص ۱۶۷
#10206 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
کہتے ہوئے در کعبہ تك بڑھو جب حجر مبارك کے سامنے سے گزر جاؤ سیدھے ہو لو خانہ کعبہ کو اپنے بائیں ہاتھ پر لے کر یوں چلو کہ کسی کو ایذا نہ دو ۔
(۶) مرد رمل کرتا چلے یعنی جلد جلد چھوٹے قدم رکھتا شانے ہلاتا جیسے قوی و بہادر لوگ چلتے ہیں نہ کودتا نہ دوڑتا جہاں زیادہ ہجوم ہو جائے اور رمل میں اپنی یا غیر کی ایذا ہو اتنی دیر رمل ترك کرو ۔
(۷) طواف میں جس قدر خانہ کعبہ سے نزدیك ہو بہتر ہے مگر نہ اتنے کہ پشتہ دیوار پر جسم یا کپڑا لگے اور نزدیکی میں کثرت ہجوم کے سبب رمل نہ ہو سکے تو دوری بہتر ہے۔
(۸) جب ملتزم پھر رکن عراقی پھر میزاب الرحمۃ پھر رکن شامی کے سامنے آؤ تو یہ سب دعا کے مواقع ہیں ان کے لیے خاص خاص دعائیں کہ جو جواہر البیان شریف میں مذکور ہیں سب کا یاد کرنا دشوار ہے اس سے وہ اختیار کرو جو محمد رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سچے وعدے سے تمام دعاؤں سے بہتر وافضل ہیں یعنی یہاں اور تمام مواقع میں اپنے لیے دعا کے بدلے اپنے حبییب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر درود بھیجو رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا یکفی ھمك ویغفر لك ذنبك ۔ ایسا کرے گا تو اﷲ تعالی تمھارے سب کام بنا دے گا اور تیرے گناہ معاف فرما دے گا ۔
(۹)طواف میں دعا ودرود کے لیے رکو نہیں بلکہ چلتے میں پڑھو ۔
(۱۰) دعا ودرود چلا چلا کر نہ پڑھو جس طرح مطوف پڑھاتے ہیں بلکہ آہستہ اس قدر کہ اپنے کان تك آواز آئے ۔
(۱۱) جب رکن یمانی کے پاس آؤ تو اسے دونوں ہاتھ یا دہنے ہاتھ سے تبرکا چھوؤ نہ صرف بائیں ہاتھ سے اور چاہو تو اسے بوسہ بھی دو اور نہ ہو سکے تو لکڑی سے چھونا یا اشارہ کر کے ہاتھ چومنا نہیں ۔
(۱۲) جب اس سے بڑھو تو یہ مستجاب جہاں ستر ہزار فرشتے دعا پر آمین کہیں گے وہی دعائے جامع پڑھئے یا اپنے اور سب احباب ومسلمین اور ا س حقیر و ذلیل کی نیت سے صرف درود شریف کافی ہے ۔
(۱۳) اب جو دوبارہ حجر تك آئے یہ ایك پھیرا ہوا یونہی سات پھیرے کرو مگر باقی پھیروں میں وہ نیت کرنانہیں کہ نیت تو ابتداء میں ہو چکی اور رمل صرف اگلے تین پھیروں میں ہے اور باقی چار میں آہستہ بے جنبش شانہ معمولی چال سے چلو۔
حوالہ / References الترغیب والترھیب الترغیب فی اکثار الصلوۃ علی النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مصطفٰی البابی مصر ۲ / ۱۰۵
#10207 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() جب ساتوں پھیرے ہوجائیں آخر میں پھر حجر کو بوسہ دو یا وہی طریقے ہاتھ یا لکڑی کے برتو
() بعد طواف مقام ابراہیم میں آ کر آیہ کریمہ و اتخذوا من مقام ابرهم مصلى- پڑھ کر دو رکعت طواف کہ واجب ہیں قل یا اور قل ھو اﷲ سے پڑھو اگر وقت کراہت مثلا طلوع صبح سے بلندی آفتاب تك یا دوپہر یا نماز عصر کے بعد غروب تك نہ ہو ورنہ وقت نکل جانے پر بعد کو پڑھو یہ رکعتیں پڑھ کر دعا مانگو یہاں حدیث میں ایك دعا ارشاد ہوئی جس کے فائدوں کی عظمت اس سے کہنا ہی چاہتی ہے :
اللھم عــــہ ۲ انك تعلم سری وعلانیتی فاقبل معذرتی وتعلم حاجتی فاعطنی سؤلی وتعلم مافی نفسی فاغفرلی ذنوبی اللھم انی اسئلك ایمانا یباشرقلبی ویقینا صادقا حتی اعلم انہ لایصیبنی الاماکتبت لی وارضی من المعیشۃ بما قسمت لی یا ارحم الراحمین۔
حدیث میں ہے اﷲ تعالی عزوجل فرماتا ہے جو یہ دعا کرے گا اس کی خطا بخش دوں گا غم دور کروں گا محتاجی سے نکالوں گا ہر تاجر سے بڑھ کر اس کی تجارت رکھوں گا دنیا ناچار ومجبور اس کے پاس آئے گی گو وہ اسے نہ چاہے۔
() پھر ملتزم پر جاؤ اور قریب حجرا س سے لپٹو اور اپنا سینہ اور پیٹ اور کبھی دہنا رخسارہ کبھی بایاں رخسارہ اس پر رکھو اور دونوں ہاتھ سر سے اونچے کرکے دیوار پر پھیلاؤ یا داہنا ہاتھ دروازے اور بایاں سنگ اسود کی طرف اور یہاں کی دعا یہ ہے :
عــــہ ۱ : اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ منہ (م)
عــــہ ۲ : الہی! تو میرا چھپا اور ظاہر سب جانتا ہے تو میرا عذر قبول فرما اور میری حاجت تجھے معلوم ہے تو میری مراد دے اور جو میرے دل میں ہے تو جانتا ہے تومیرے گناہ بخش دے الہی میں تجھ سے مانگتا ہوں وہ ایمان جو میرے دل میں پیوست ہو جائے اور سچا یقین کہ میں جانوں کہ مجھے وہی ملے گا جو تو نے میرے لیے لکھ دیا ہے اور میں ا س معاش پر راضی ہوں تو نے مجھے نصیب کی ہے اے سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان منہ (م)
حوالہ / References القرآن ٢ / ١٢٥
مسلك متقسط مع ارشاد الساری فصل فی صفۃ الشروع فی الطواف دارالکتاب العربی بیروت ص٩٤
#10209 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
یاواجد عــــہ۱ یاماجد لاتزل عنی نعمۃ انعمت بھاعلی ۔
حدیث میں فرمایا : میں جب چاہتا ہوں جبریل کودیکھتا ہوں کہ ملتزم سے لپٹے ہوئے یہ دعا کررہے ہیں ۔
() پھر زمزم پر آؤ اور ہوسکے تو خواہ ایك ڈول کھینچو ورنہ بھرنے والوں سے لے لو اور کعبہ کو منہ کرکے تین سانسوں میں پیٹ بھر کے جتنا پیا جائے پیو ہر بار بسم اﷲ سے شروع اور الحمد ﷲ پر ختم باقی بدن پر ڈال لو اور پیتے وقت دعا کرو کہ قبول ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : زمزم جس مراد سے پیا جائے اسی کے لیے ہے یہاں وہی دعائے جامع پڑھو اور حاضری مکہ معظمہ تك پینا تو بار بار نصیب ہوگا قیامت کی پیاس سے بچنے لے لیے پیو کبھی عذاب قبر سے محفوظی کو کبھی محبت رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو کبھی وسعت رزق کبھی شفائے امراض کبھی حصول علم و غیرہا خاص مرادوں کے لیے پیو۔
() وہاں جب پیو خوب پیٹ بھر کر پیو حدیث میں ہے : ہم میں اور منافقوں میں یہ فرق ہے کہ وہ زمزم کو کھ بھر کر نہیں پیتے۔
() چاہ زمزم کے اندر بھی نظر کرو کہ بحکم حدیث دافع نفاق ہے۔
() اب اگر کوئی عذرتکان وغیرہ کا نہ ہو تو ابھی ورنہ آرام لے کر صفا مروہ میں سعی کے لیے پھر حجر اسود کے پاس آؤ اور اسی طرح تکبیر وغیرہ کہہ کر چومو اور نہ ہو سکے تو اس کی طرف منہ کرکے فورا باب صفا سے جانب صفا روانہ ہو دروازے سے پہلے بایاں پاؤں نکالو اور دہنا پہلے جوتے میں ڈالو اوریہ ادب ہر مسجد سے باہر آتے ہمیشہ ملحوظ رکھو۔
() ذکر ودرود میں مشغول صفا کی سیڑھیوں پراتنا چڑھو کہ کعبہ معظمہ نظر آئے اور یہ بات جہاں پہلی ہی سیڑھی سے حاصل ہے پھر رخ کعبہ ہو کر دونوں ہاتھ دعا کی طرح پہلے شانوں تك اٹھاؤ اور دیر تك تسیبح وتہلیل ودرود ودعا کرو کہ محل اجابت ہے یہاں بھی دعا ئے جامع پڑھو پھر اتر کر ذکر و
عــــہ : اے قدرت والے اے عزت والے مجھ سے زائل نہ کر جو نعمت تو نے مجھے بخشی ہے منہ (م)
حوالہ / References مسلك متقسط مع ارشاد الساری فصل فی صفۃ الشروع فی الطواف دارالکتاب العربی بیروت ص٩٤
مسلك متقسط مع ارشاد الساری فصل فی صفۃ الشروع فی الطواف دارالکتاب العربی بیروت ص٩٥
مسلك متقسط مع ارشاد الساری فصل یستحب الاکثار من شرب ماء زمزم دارالکتاب العربی بیروت ص٣٢٩
#10213 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
درود میں مشغول مروہ کو چلو۔
() جب پہلا میل آئے مرد دوڑنا شروع کریں( مگر نہ حد سے زائد نہ کسی کو ایذا دیتے ) یہاں تك کہ دوسرے میل سے نکل جائیں اس درمیان میں سب دعا بہ کوشش تمام کرو۔ یہاں کی دعا یہ ہے :
رب عــــہ۱ اغفرلی وارحم وانت الاعز الاکرم ۔
() دوسرے میل سے نکل کر پھر آہستہ ہو لو یہاں تك کہ مروہ پہنچو یہاں پہلی سیڑھی چڑھنے بلکہ اس کے قریب کھڑے ہونے سے مروہ پر صعود مل جاتا ہے یہاں اگرچہ عمارتیں بن جانے سے کعبہ نظر نہیں آتا مگر روبہ کعبہ ہوکر جیسا صفا پر کیا تھا کرو یہ ایك پھیرا ہوا۔
() پھر صفا کو جاؤ پھر آؤ یہاں تك کہ ساتواں پھیرا مروہ پر ختم ہو ہر پھیرے میں اسی طرح کریں اس کانام سعی ہے ۔ واضح ہو کہ عمرہ صرف انہی افعال طواف وسعی کا نام ہے قران وتمتع والے کے لیے بھی یہی عمرہ ہوگیا اور افراد والے کے لیے یہ طواف قدوم ہوا یعنی حاضری دربار کا مجرا۔
() قران یعنی جس نے قران کیا ہے اس کے بعد طواف قدوم کی نیت سے ایك طواف وسعی اور بجا لائے۔
() قارن اور مفرد جن نے افراد کیا تھا لبیك کہتے ہوئے احرام کے ساتھ مکہ میں ٹھہریں ان کی لبیك دسویں تاریخ رمی جمرہ کے وقت ختم ہوگی جبھی احرام سے نکلیں گے جس کا ذکر ان شاء اﷲ تعالی آتا ہے مگر متمتع جس نے تمتع کیا تھا وہ اور معتمر یعنی نرا عمرہ کرنے والا شروع طواف کعبہ معظمہ سے سنگ اسود شریف کا پہلا بوسہ لیتے ہی لبیك چھوڑدیں اور طواف وسعی مذکور کے بعد حلق کریں یعنی مرد سارا سر منڈا دیں یا تقصیر یعنی مرد وعورت بال کتروائیں اور احرام عــــہ۲ سے باہر آئیں پھر متمتع چاہے توآٹھویں ذی الحجہ تك بے احرام رہے مگرا فضل یہ ہے کہ جلد حج کا احرام باندھ لے اگریہ خیال نہ ہو کہ دن زیادہ ہیں یہ
عــــہ۱ : اے میرے رب بخش دے اور رحم فرمانا تو ہی سب سے زیادہ عز ت والا سب سے بڑھ کر کرم والا (م)
عــــہ۲ : کبھی احرام کےساتھ ہی منی میں قربانی کے لیے جانور ہمراہ لیتے ہیں اسے سوق ہدی کہتے ہیں اگر کسی متمتع نے ایسااحرام باندھا توا ب عمرہ کے بعد احرام کھولنا جائز ہوگا بلکہ قارن کی طرح احرام میں رہے اور لبیك کہہ کر یہاں تك کہ دسویں کو رمی کے ساتھ لبیك چھوڑے پھر قربانی کے بعد حلق یا تقصیر کر کے احرام سے باہر آئے منہ (م)
حوالہ / References مسلك متقسط مع ارشاد الساری باب السعی بین الصفا والمروۃ دارالکتاب العربی بیروت ص١١٧
#10214 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
قیدیں نہ نبھیں گی۔
تنبیہ : طواف قدوم میں اضطباع ورمل اور اس کے بعد صفا ومروہ میں سعی ضرور نہیں مگر اب نہ کرے گا تو طواف الزیارت میں کہ حج کا طواف فرض ہے جس کا ذکر ان شاء اﷲ آتا ہے یہ سب کام کرنے ہوں گے اور اس وقت ہجوم بہت ہوتا ہے عجب نہیں کہ طواف میں رمل اور مسعی میں دوڑنا نہ ہوسکے اور اس وقت ہوچکا تو طواف میں ان کی حاجت نہ ہوگی لہذا ہم نے ان کو مطلقا داخل ترکیب کردیا۔
() مفرد وقارن توحج کے رمل وسعی سے طواف قدوم میں فارغ ہو لیے مگر متمتع نے جو طواف وسعی کیے وہ عمرہ کے تھے حج کے رمل و سعی اس سے ادا نہ ہوئے اورا س پر طواف قدوم ہے نہیں کہ قارن کی طرح اس میں یہ امور کرکے فراغت پالے لہذا اگر وہ بھی پہلے سے فارغ ہو لینا چاہے تو جب حج کا احرام باندھے گا اس کے بعدایك نفل طواف میں رمل وسعی کرے اب اسے طواف الزیارت میں ان کی حاجت نہ ہوگی
() اب یہ سب حجاج قارن متمتع مفرد کوئی ہو کہ منی جانے کے لیے مکہ معظمہ میں آٹھویں تاریخ کا انتظار کر رہے ہیں ایام اقامت میں جس قدر ہوسکے نرا طواف بے اضطباع ورمل وسعی کرتےر ہیں باہر والوں کے لیے یہ سب سے بہتر عبادت ہے اور ہر سات پھیروں پر مقام ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام میں دو رکعت پڑھیں۔
() اب خواہ منی سے واپسی پر جب کبھی رات میں جتنی بارکعبہ معظمہ پر نظر پڑے لا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر تین تین بار کہیں اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پردرود بھیجیں دعاکریں کہ یہ وقت قبول ہے
() طواف اگر چہ نفل ہو اس میں یہ باتیں حرام ہیں :
بے وضو طواف کرنا کوئی عضو جوستر میں داخل ہے اس کا چہارم کھلا ہونا مثلا ران یاآزاد عورت کا کان بے مجبوری سواری پر یا کسی کی گود میں یا کندھوں پر طواف کرنا بلا عذر بیٹھ کر سرکنا یا گھٹنوں چلنا کعبہ کو داہنے ہاتھ پر لے کر الٹا طواف کرنا طواف میں حطیم کے اندر ہو کر گزرنا سات پھیروں سے کم کرنا۔
() یہ باتیں طواف میں مکروہ ہیں :
۱فضول بات کرنا ۲بیچنا ۳خریدنا ۴حمد ونعت ومنقبت کے سوا کوئی شعر پڑھنا۵ذکر یا دعا یا تلاوت یا کوئی کلام بلند آواز سے کرنا۔ ۶ناپاك کپڑے میں طواف کرنا ۷ رمل یا اضطباع یا بوسہ سنگ اسود جہاں جہاں ان کا حکم ہے ترك کرنا ۸طواف کے پھیروں میں زیادہ فاصلہ دینا یعنی کچھ پھیرے کر لیے پھر دیر تك ٹھہر گئے یا اور ۹کسی کام میں لگ گئے باقی پھیرے بعد کو کیے مگر وضو جاتارہا تو کر آئے یا ۱۰جماعت قائم ہوئی اور اس نے نماز ابھی نہ پڑھی ہو تو شریك ہوجائے بلکہ جنازہ کی جماعت میں بھی طواف چھوڑ کر مل سکتا ہے باقی جہاں سے چھوڑا تھا
#10216 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
آکر پورا کرے ۱۱یونہی پیشاب پاخانہ کی ضرورت ہو تو چلا جائے وضو کر کے باقی پورا کرے ۱۲ایك طواف کے بعد جب تك اس کی رکعتیں نہ پڑھ لیں دوسرا طواف شروع کردینا مگر کراہت نما زکا وقت ہو جیسے صبح صادق سے طلوع آفتاب یا نماز عصر پڑھنے کے بعدسے غروب آفتاب تك کہ اس میں متعدد طواف بے فصل نماز جائز ہیں وقت کراہت نکل جائے تو ہر طواف کے لیے دو رکعت ادا کرے ۱۳خطبہ امام کے وقت طواف کرنا ہاں اگر خود پہلی جماعت میں پڑھ چکا تو باقی جماعتوں کے وقت طواف کرنے میں حرج نہیں اور نمازیوں کے سامنے سے گزر سکتا ہے کہ ۱۴طواف بھی مثل نماز ہی ہے طواف میں کچھ کھانا ۱۵پیشاب یا پاخانہ یا ریح کے تقاضے میں طواف کرنا
() یہ باتیں طواف وسعی دونوں میں مباح ہیں :
۱سلام کرنا ۲جواب دینا ۳پانی پینا ۴حمد ونعت ومنقبت کے اشعار آہستہ پڑھنا اور ۵سعی میں کھانا کھا سکتا ہے۔ ۶حاجت کے لیے کلام کرنا ۷فتوی پوچھنا فتوی دینا۔
() طواف کی طرح سعی بھی بلا ضرورت سوار ہوکر یا بیٹھ کر ناجائز وگناہ ہے۔
() سعی میں دو باتیں مکروہ ہیں :
۱بے حاجت اس کے پھیروں میں زیادہ فصل دینا مگر جماعت قائم ہوتو چلا جائے یونہی شرکت جنازہ یا قضائے حاجت یا تجدید وضو کواگر چہ سعی میں ضرور نہیں ۲خرید و۳فروخت ۴فضول کلام ۵صفا یا مروہ پر نہ چڑھنا ۶مرد کا مسعی میں بلا عذر نہ دوڑنا ۷طواف کے بعد بہت تاخیر کرکے سعی کرنا ۸ستر عورت نہ ہونا ۹پریشان نظری یعنی ادھر ادھر فضول دیکھنا سعی میں بھی مکروہ ہے اور طواف میں اور زیادہ مکروہ ۔
مسئلہ : بے وضو بھی سعی میں کوئی حرج نہیں ہاں باوضو مستحب ہے
() طواف وسعی کے سب مسائل مذکورہ میں عورتیں بھی شامل ہیں مگر ۱ا ضطباع ۲رمل ۳سعی میں دوڑنا ان کے لیے نہیں ۴مزاحمت کے ساتھ بوسہ سنگ اسود یا ۵مس رکن یمانی یا ۶قرب کعبہ یا ۷زمزم کے اندر نظر یا ۸خود پانی بھرنے کی کوشش نہ کریں یہ باتیں یوں مل سکیں کہ نامحرم سے بدن نہ چھوئے تو خیرورنہ الگ تھلگ رہنا اس کے لیے سب سے بہتر ہے۔
فصل چہارم منی کی روانگی اور عرفہ کا وقوف
() ساتویں تاریخ مسجد حرام میں بعد نماز ظہر امام خطبہ پڑھے گا اسے سنو۔
() یوم الترویہ کہ آٹھ تاریخ کا نام ہے جس نے احرام نہ باندھا ہو یا باندھ لے اور ایك نفل طواف میں رمل و سعی جیسا کہ اوپر گزرا۔
#10217 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() جب آفتاب نکل آئے منی کو چلو اور ہوسکے تو پیادہ کہ جب تك مکہ معظمہ پلٹ کر آؤ گے ہر قدم پر سات سو نیکیاں لکھی جائیں گی سو ہزار کا لاکھ سو لاکھ کا کروڑ سوکروڑ کا ارب سوارب کا کھرب یہ نیکیاں تخمینا کھرب ارب ہوتی ہیں اور اﷲ کا فضل اس نبی کے صدقہ میں اس امت پر بے شمار ہے جل وعلا صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم والحمد ﷲ رب العالمین۔
() راستے بھر لبیك و دعا اور درود و ثنا کی کثرت کرو۔
() جب منی نظر آئے کہو : اللھم عــــہ ھذہ منی فامنن علی بمامننت بہ علی اولیائك ۔
() یہاں رات کو ٹھہرو آج ظہر سے نویں کی صبح تك پانچ نمازیں مسجد خیف میں پڑھو آج کل بعض مطوفوں نے یہ نکالی ہے کہ آٹھویں کو منی نہیں ٹھہرتے سیدھے عرفات پہنچتے ہیں ان کی نہ مانے اور اس سنت عظیمہ کو ہر گز نہ چھوڑے قافلہ کے اصرار سے ان کو بھی مجبور ہونا پڑے گا
() شب عرفہ منی میں ذکر وعبادت سے جاگ کر صبح کرو سونے کے بہت دن پڑے ہیں اور نہ ہو تو کم از کم عشاء وصبح تو جماعت اولی سے پڑھو کہ شب بیداری کا ثواب ملے گا اور باوضو سوؤ کہ روح عرش تك بلند ہوگی۔
() صبح تك مستحب وقت نماز پڑھ کر لبیك وذکر ودرود میں مشغول رہو یہاں تك کہ آفتاب کوہ ثبیر پر کہ مسجد خیف شریف کے سامنے ہے چمکے اب عرفات کو چلو دل کو خیال غیر سے پاك کرنے میں کوشش کرو کہ آج وہ دن ہے کہ کچھ کا حج قبول کریں گے اور کچھ ان کے صدقے بخش دیں گے محروم ہو جو آج محروم رہا وسوسے آئیں تو ان سے لڑائی نہ باندھو کہ یوں بھی دشمن کا مطلب حاصل ہے وہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اور خیال میں لگ جاؤ لڑائی باندھی جائے جب بھی توا ور خیال پڑے بلکہ ان کی طرف دھیان ہی نہ کرو یہ سمجھ لو کہ کوئی اور وجود ہے جو ایسے خیالات لارہا ہے مجھے اپنے رب سے کام ہے یوں ان شاء اﷲ وہ مردود وناکام واپس جائے گا۔
() راستے بھر ذکر و درود میں بسر کرو بے ضرورت کچھ بات نہ کرو لبیك کی بار بار کثرت کرتے چلو
() جب نگاہ جبل رحمت پر پڑے ان امور میں اور زیادہ کوشش کرو کہ ان شاء اﷲ تعالی وقت قبول ہے۔
عــــہ : الہی! یہ منی ہے تو مجھ پر وہ احسان کر جو تونے اپنے دوستوں پر کئے منہ (م)
حوالہ / References کتاب ادعیۃ الحج والعمرۃ ملحق ارشاد الساری فصل فاذاکان الیوم الثانی الخ دارالکتاب العربی بیروت ص١٧
#10219 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() عرفات میں اس کوہ مبارك کے پاس یا جہاں جگہ ملے شارع عام سے بچ کر اترو۔
() آج کے ہجوم میں کہ لاکھوں آدمی ہزاروں ڈیرے خیمے ہوتے ہیں اپنے ڈیرے سے جا کر واپسی میں اس کا ملنا دشوار ہوتا ہے اس لیے پہچان کا نشان قائم کر کہ دور سے نظر آئے۔
() مستورات ساتھ ہوں توا ن کے برقعہ پر کوئی خاص کپڑا علامت چمکتے رنگ کا لگا دو کہ دور سے دیکھ کر تمیز کرسکو اور دل میں تشویش نہ رہے۔
() دوپہر تك زیادہ وقت اﷲ کے حضور زاری اور باخلاص نیت حسب استطاعت تصدق وخیرات وذکر و لبیك ودرود و دعا واستغفار وکلمہ توحید میں مشغول رہو حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : سب سے بہتر وہ چیز جو آج کے دن میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء نے کہی یہ ہے :
لا عــــہ الہ الا اﷲ وحدہ لاشریك لہ لہ الملك ولہ الحمد یحی ویمیت ط و ھوحی لا یموت ط بیدہ الخیر ط وھو علی کل شیء قدیر ۔
() دوپہر سے پہلے کھانے پینے وغیرہ ضروریات سے فارغ ہولو کہ دل کسی طرف لگانہ رہے آج کے دن جیسے حاجی کو روزہ مناسب نہیں کہ دعا میں ضعف ہوگا یونہی پیٹ بھر کر کھانا سخت ضرر اور غفلت وکسل کا باعث ہے تین روٹی کی بھوك والا ایك ہی کھائے۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تو ہمیشہ کے لیے یہی حکم دیا ہے اور خود دنیا سے تشریف لے گئے اور جو کی روٹی کبھی پیٹ بھر کر نہ کھائی حالانکہ اﷲ کے حکم سے تمام جہان اختیار میں تھا اور ہے اور اگر انوار وبرکات لینا چاہو تو صرف آج بلکہ حرمین شریفین میں جب تك حاضرہو تہائی پیٹ سے زیادہ ہر گز نہ کھاؤ مانوگے تو اس کا فائدہ نہ مانو گے تواس کا نقصان آنکھوں سے دیکھ لوگے ہفتہ بھر اس پر عمل کرکے تودیکھو اگلی حالت سے فرق نہ پاؤ جبھی کہنا جی بچے تو کھانے پینے کے بہت دن ہیں یہاں تو نور وذوق کے لیے جگہ خالی رکھو
بھراتن دوبارہ کیا بھرے گا
عــــہ : اﷲ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں وہ ایك اکیلا اس کا کوئی ساجھی نہیں اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے سب خوبیاں وہی جلائے وہ مارے اور وہ زندہ ہے کہ کبھی نہ مرے گا سب بھلائیاں اسی کے قبضہ میں ہیں اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے (م)
حوالہ / References کتاب ادعیۃ الحج والعمرۃ ملحق ارشاد الساری فصل فی التوجہ ا لی العرفات دارالکتاب العربی بیروت ص١٧
#10221 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() جب دوپہر قریب آئے نہاؤ کہ سنت موکدہ ہے اور نہ ہوسکے تو صرف وضو۔
() دوپہر ڈھلتے ہی بلکہ اس سے پہلے کہ امام کے بقریب جگہ ملے مسجد نمرہ جاؤ سنتیں پڑھ کر خطبہ سن کر امام کے ساتھ ظہر پڑھو بیچ میں سلام وقیام توکیا معنی سنتیں بھی نہ پڑھو اور بعد عصر بھی نفل نہیں یہ ظہر و عصر ملا کر پڑھنا جبھی جائز ہے کہ نماز یا تو سلطان خود پڑھائے یا وہ جو حج میں اس کا نائب ہو کر آتا ہے جس نے ظہر اکیلے یا اپنی خاص جماعت سے پڑھی اسے وقت سے پہلے عصر پڑھنا حلال نہ ہوگا اور جس حکمت کے لیے شرع نے یہاں ظہر کے ساتھ عصر ملا نے کا حکم فرمایا ہے یعنی غروب آفتاب تك دعا کے لیے وقت خالی ملتا ہے وہ جاتی رہے گی
() خیال کرو جب شرع کو یہ وقت دعا کے لیے فارغ کرنے کا اس قدر اہتمام ہے توا س وقت اور کام میں مشغولی کس قدر بیہودہ ہے بعض احمقوں کو دیکھا ہے کہ امام تو نماز میں ہے یا نماز پڑھ کر موقف عــــہ۱ کو گیااور وہ کھانے پینے حقے چائے اڑانے میں مصروف ہیں خبردار ایسا نہ کرو امام کے ساتھ نما ز پڑھتے ہی فورا موقف کو روانہ ہوجاؤ او رممکن ہو تو اونٹ پر کہ سنت بھی ہے او رہجوم میں دبنے کچلنے سے محافظت بھی۔
(۱۹) بعض مطوف اس مجمع میں جانے سے منع کرتے ہیں اور طرح طرح سے ڈراتے ہیں ان کی نہ سنو کہ وہ خاص نزول رحمت عام کی جگہ ہے ہاں عورات اور کمزور مرد یہیں کھڑے ہوئے دعا میں شامل ہوں کہ بطن عرنہ عــــہ۲کے سوا یہ سارا میدان موقف ہے اور یہ لوگ بھی تصور یہی کریں کہ ہم اس مجمع میں حاضر ہیں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ نہ سمجھیں اس مجمع میں یقینا بکثرت اولیاء بلکہ الیاس وخضر علیہ الصلوۃ والسلام نبی اﷲ موجود ہیں یہ تصور کریں کہ انوار وبرکات جو اس مجمع میں ان پر اتر رہے ہیں ان کا صدقہ ہم بھکاریوں کو بھی پہنچتا ہے یوں الگ ہو کر بھی شامل رہیں گے اور جس سے ہوسکے تو وہاں کی حاضری چھوڑنے کی چیز نہیں۔
() افضل یہ ہے کہ امام سے نزدیك جبل رحمت کے قریب جہاں سیاہ پتھر کا فرش ہے رو بقبلہ پس پشت امام کھڑا ہو جبکہ ان فضائل کے حصول میں دقت یا کسی کی اذیت نہ ہو ورنہ جہاں اور جس طرح ہوسکے وقوف عــــہ۳ کرو۔ امام کی دہنی جانب اور بائیں رو برو سے افضل ہے یہ وقوف ہی حج کی جان اور اس کابڑا رکن ہے۔
عــــہ۱ : وہ جگہ کہ نماز کے بعد سے غروب آفتاب تك وہاں کھڑے ہوکر ذکر و دعاکا حکم ہے۔ (م)
عــــہ۲ : بطن عرنہ عرفات میں حرم کے نالوں میں سے ایك نالہ ہے مسجدنمرہ کے مغرب یعنی مکہ معظمہ کی طرف وہاں موقف محض ناجائز ہے۔ (م)
عــــہ۳ : وہا ں ذکر ودعا کے لیے کھڑا ہونا۔ (م)
#10222 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() بعض جاہل یہ حرکت کرتے ہیں کہ پہاڑ پر چڑھ جاتے ہیں اور وہاں کھڑے رومال ہلاتے رہتے ہیں اس سے بچو اور ان کی طرف بھی برا خیال نہ کرو یہ وقت اوروں کے عیب دیکھنے کا نہیں اپنے عیبوں پر شرمساری اور گریہ وزاری کا ہے۔
() اب وہ کہ یہاں ہیں اور کہ ڈیروں میں ہیں سب ہمہ تن صدق دل سے اپنے کریم مہربان رب کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور میدان قیامت میں حساب اعمال کے لیے اس کے حضور حاضری کا تصور کرو نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ لرزتے کانپتے ڈرتے امید کرتے آنکھیں بند کیے گردن جھکائے دست دعا آسمان کی طرف سر سے اونچے پھیلاؤ تکبیر تہلیل تسبیح لیبک حمد ذکر دعا توبہ استغفار میں ڈوب جاؤ کوشش کرو کہ ایك قطرہ آنسوؤں کا ٹپکے کہ دلیل اجابت وسعادت ہے ورنہ رونے کا سامنہ بناؤ کہ اچھوں کی صورت بھی اچھی اثنائے دعا وذکر میں لبیك کی بار بار تکرار کرو۔ آج کے دن کی دعائیں بہت منقول ہیں اور دعائے جامع کہ اوپر گزری کافی ہے چند بار اسے کہہ لو اور سب سے بہتر یہ ہے کہ سارا وقت درود ذکر تلاوت قرآن میں گزارو کہ بوعدہ حدیث دعا والوں سے زیادہ پاؤگے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا دامن پکڑو غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے توسل کرو اپنے گناہ اور اس کی قہاری یاد کرو بید کی طرح لرزو اور یقین جانو کہ اس کی مار سے اسی کے پاس پناہ ہے۔ اس سے بھاگ کر کہیں جانہیں سکتے اس کے در کے سوا کہیں ٹھکانا نہیں لہذا ان شفیعوں کا دامن لیے اس کے عذاب سے اسی کی پناہ مانگو اور اسی حالت میں رہو کہ کبھی اس کی رحمت عام کی امید سے مرجھا یادل نہال ہوا جاتا ہے اور یونہی تضرع وزاری میں رہو یہاں تك کہ آفتاب ڈوب جائے اور رات کا لطیف جز آجائے اس سے پہلے کوچ منع ہے بعض جلد باز دن ہی سے چل دیتے ہیں ان کا ساتھ نہ دو۔ غروب تك ٹھہرنے کی ضرورت نہ ہوتی تو عصر ظہر سے ملا کر پڑھنے کا حکم کیوں ہوتا اور کیا معلوم کہ رحمت الہی کس وقت توجہ فرمائے اگر تمھارے چل دینے کے بعد اتری تو معاذاﷲ کیسا خسارہ ہے اورا گر غروب سے پہلے حدود عرفات سے نکل گئے جب تو پورا جرم ہے اور جرمانے میں قربانی دینی آئے گی بعض مطوف یوں ڈراتے ہیں کہ رات میں خطرہ ہے یہ دو ایك کے لیے ٹھیك ہے اور جب قافلہ کا قافلہ ٹھہرے گا تو ان شاء اﷲ کچھ اندیشہ نہیں۔
() ایك ادب واجب الحفظ اس روز کا یہ ہے کہ اﷲ تعالی کے سچے وعدوں پر بھروسا کرکے یقین کرے کہ آج میں گناہوں سے ایسا پاك ہوگیا جیسا جس دن ماں کے پیٹ سے پیدا ہواتھا اب کوشش کروں کہ آئندہ گناہ نہ ہوں اور جو داغ اﷲ تعالی نے بمحض رحمت میری پیشانی سے دھویا ہے پھر نہ لگے
() یہاں یہ باتیں مکروہ ہیں۔ غروب آفتاب سے پہلے وقوف چھوڑ کر روانگی جب کہ غروب تک
#10224 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
حدود عرفات سے باہر نہ ہوجائے ورنہ حرام ہے۔ نماز ظہر و عصر ملانے کے بعد موقف کو جانے میں دیر اس وقت سے غروب تك کھانے پینے یا توجہ بخدا کسی کام میں مشغول ہونا کوئی دنیوی بات کرنا غروب پر یقین ہوجانے کے بعد روانگی میں تاخیر کرنا مغرب یا عشاء عرفات میں پڑھنا ۔
تنبیہ : موقوف میں چھتری لگانے یاکسی طرح سایہ چاہنے سے حتی المقدور بچو ہاں جو مجبور ہے معذور ہے
تنبیہ ضروری اشد ضروری
بدنگاہی ہمیشہ حرام ہے نہ کہ احرام میں نہ کہ موقف میں یا مسجد الحرام میں نہ کہ کعبہ معظمہ کے سامنے نہ کہ طواف بیت الحرام میں یہ تمھارے بہت امتحان کا موقعہ ہے۔ عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ یہاں منہ نہ چھپاؤ اور تمھیں حکم دیا گیا ہے کہ ان کی طرف نگاہ نہ کرو یقین جانو کہ یہ بڑے عزت والے بادشاہ کی باندیاں ہیں اور اس وقت تم اور وہ سب خاص دربار میں حاضر ہوکر بلاتشبیہہ شیر کا بچہ اس کی بغل میں ہو اس وقت کون اس کی طرف نگاہ اٹھا سکتا ہے تو اﷲ تعالی واحد قہار کی کنیزیں کہ اس کے خاص دربار میں حاضر ہیں ان پر بد نگاہی کس قدر سخت ہوگی و للہ المثل الاعلی (اور اﷲ تعالی ہی کی شان سب سے بلند ہے)ہاں ہاں ہوشیار ایمان بچائے ہوئے قلب ونگاہ سنبھالے ہوئے حرم وہ جگہ ہے جہاں گناہ کے ارادے پر پکڑاجاتا ہے اور ایك گناہ لاکھ گناہ کے برابر ٹھہرتا ہے الہی! خیر کی توفیق دے۔ آمین!
فصل پنجم منی و مزدلفہ و باقی افعال حج
() جب غروب آفتاب کا یقین ہوجائے فورا مزدلفہ کو چلو اور امام کا ساتھ افضل ہے مگر وہ دیر کرے تو اس کا انتظار نہ کرو۔
() راستے بھر ذکر درود ودعا لبیك وزاری وبکا میں مصروف رہو۔
() راستہ میں جہاں گنجائش پاؤ اور اپنی یا دوسرے کی ایذا کا احتمال نہ ہو تو اتنی دیر اتنی دور تیز چلو پیادہ ہو خواہ سوار۔
() جب مزدلفہ نظر آئے بشرط قدرت پیادہ ہولینا بہتر ہے اور نہا کر داخل ہونا افضل ہے۔
() وہاں پہنچ کر حتی الامکان جبل قزح کے پاس راستے سے بچ کر اترو ورنہ جہاں جگہ ملے۔
() غالبا وہاں پہنچتے پہنچتے شفق ڈوب جائے گی مغرب کاوقت نکل جائے گا اونٹ کھولنے
#10226 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
اسباب اتارنے سے پہلے امام کے ساتھ مغرب وعشاء پڑھو او راگر وقت باقی رہے جب بھی ابھی مغرب ہر گز نہ پڑھو نہ راہ میں کہ اس دن یہاں نماز مغرب وقت مغرب میں پڑھنا گناہ ہے اگر پڑھ لوگے عشاء کے وقت پھر پڑھنی ہوگی غرض یہاں پہنچ کر مغرب وعشاء میں بہ نیت ادانہ کہ بہ نیت قضاء حتی الامکان امام کے ساتھ پڑھو اس کا سلام ہوتے ہی معا عشاء کی جماعت ہوگی عشاء کے فرض پڑھو اس کے بعد مغرب و عشا کی سنتیں ا ور وتر پڑھو اگر امام کے ساتھ نماز مل سکے تواپنی جماعت کرلواور نہ ہوسکے تو تنہا پڑھو۔
() باقی رات ذکر لبیك ودرود ودعا میں گزار رو کہ یہ بہت افضل جگہ ہے اور بہت افضل رات ہے زندگی ہو تو اور سونے کو بہت سی راتیں ملیں گی اور یہاں یہ رات خدا جانے دوبارہ کیسے ملے اور نہ ہوسکے تو خیر باطہارت سورہو کہ فضول باتوں سے سونا بہتر ہے اور اتنے پہلے اٹھ کر صبح چمکنے سے پہلے ضروریات و طہارت سے فارغ ہولو آج نماز صبح بہت اندھیرے سے پڑھی جائے گی کوشش کرو کہ جماعت امام بلکہ پہلی تکبیر فوت نہ ہو کہ عشاء وصبح جماعت سے پڑھنے والا پوری شب بیداری کا ثواب پاتا ہے۔
() اب دربارہ اعظم کی دوسری حاضری کا وقت آیا۔ ہاں ہاں کرم کے دروازے کھولے گئے ہیں کل عرفات میں حقوق اﷲ معاف یہاں حقوق العباد معاف فرمانے کا وعدہ ہے۔ مشعر الحرام میں یعنی خاص پہاڑی پر اور جگہ نہ ملے تواس کے دامن میں اور نہ ہوسکے تو وادی محسر کے سواجہاں گنجائش پاؤ وقوف کرو اور تمام باتیں کہ وقوف عرفات میں مذکور ہوئیں ملحوظ رکھو۔
() جب طلوع آفتاب میں دورکعت پڑھنے کا وقت رہ جائے امام کے ساتھ منی کو چلو اور یہاں سے ساتھ چھوٹی چھوٹی کنکریاں دانہ خرما کے برا بر پاك جگہ سے اٹھا کر تین بار دھولو کسی پتھر کو توڑ کر کنکریاں نہ بناؤ۔
() راستے بھر بدستور ذکر ودعاو درود وبکثرت لبیك میں مشغول رہو۔
() جب وادی محسر عــــہ۱ پہنچو پانچ سو پنتالیس ہاتھ بہت جلدی تیزی کے ساتھ چل کر نکل جاؤ مگر نہ وہ تیزی جس سے کسی کو ایذا ہوا ور اس عرصہ میں یہ دعا کرتے جاؤ : اللھم عــــہ۲ لاتقتلنا بغضبك ولاتھلکنا بعذابک
عــــہ۱ : یہ منی مزدلفہ کے بیچ میں ایك نالہ دونوں کی حدود سے خارج مزدلفہ سے منی کو جاتے بائیں ہاتھ کو جو پہاڑ پڑتا ہے اس کی چوٹی سے شروع ہو کر ۵۴۵ ہاتھ تك ہے یہاں اصحاب الفیل آکر ٹہہرے تھے اور ان پر عذاب ابابیل اترا تھا اس سے جلد گزرنا اور عذاب الہی سے پناہ مانگنا چاہئے ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : الہی ! اپنے غضب سے ہمیں قتل نہ کر اور اپنے عذاب سے ہمیں ہلاك نہ کر اور اس سے پہلے ہمیں عافیت دے ۔ ۱۲ منہ (م)
#10228 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
وعافناقبل ذلک ۔
(۱۲) جب منی نظر آئے وہی دعا پڑھو جو مکہ سے آتے منی کو دیکھ کر پڑھی تھی۔
(۱۳) جب منی پہنچو سب کاموں سے پہلے جمرۃ العقبہ عــــہ۱ کو جاؤ جو ادھر سے پچھلا جمرہ ہے اور مکہ معظمہ سے پہلے نالے کے وسط میں سواری پر جمرے سے پانچ ہاتھ ہٹے ہوئے یوں کھڑے ہو کہ منی داہنے ہاتھ پر اور کعبہ بائیں کو اور جمرہ کی طرف منہ ہو سات کنکریاں جدا جدا سیدھا ہاتھ اٹھا کر کہ سپیدی بغل ظاہر ہو ہر ایك پر بسم اﷲ اﷲ اکبر کہہ کر مارو۔ بہتر یہ ہے کہ کنکریاں جمرہ تك پہنچیں ورنہ تین ہاتھ کے فاصلے پرگریں۔ اس سے زیادہ فاصلے پر گری تو وہ کنکری شمار میں نہ آئے گی۔ پہلی کنکری سے لبیك موقوف کرو۔
(۱۴ ) جب سات پوری ہوجائیں وہاں نہ ٹھہرو فورا ذکر کرو دعاکرتے پلٹ آؤ۔
() اب قربانی میں مشغول ہو یہ وہ قربانی نہیں جو عید میں ہوتی ہے کہ وہ تو مسافر پر اصلا نہیں اور مقیم مالدار پر واجب ہے اگر چہ حج میں ہو بلکہ یہ حج کا شکرانہ ہے ۔ قارن ومتمتع پر واجب اگر چہ فقیر ہو۔ اور مفرد کے لیے مستحب اگر چہ غنی ہو جانور کی عمر و اعضاء میں وہی شرطیں ہیں جو عید کی قربانی میں۔
() ذبح کرنا آتا ہو تو آپ ذبح کرو کہ سنت ہے ورنہ وقت ذبح حاضر رہو۔
() روبقبلہ لٹا کر خود بھی رو بقبلہ رہو اور تکبیر کہتے ہوئے نہایت تیز چھری سے بہت جلد اتنی پھیرو کہ چاروں رگیں کٹ جائیں زیادہ ہاتھ نہ بڑھاؤکہ بے سبب کی تکلیف ہے۔
عــــہ ۱ : منی اور مکہ کے بیچ میں تین ستون بنے ہوئے ہیں ان کو جمرہ کہتے ہیں پہلا جو منی سے قریب ہے جمرہ اولی کہلاتا ہے اور بیچ کا جمرہ وسطی اور اخیر کا مکہ معظمہ سے قریب ہے جمرۃ العقبی منہ (م)
عــــہ ۲ : مسئلہ : محتاج محض جس کی ملك میں نہ قربانی کے لائق کوئی جانور ہونہ اتنا نقد یا اسباب کہ اسے بیچ کر لے سکے وہ اگر قران یا تمتع کی نیت کرے گا تو اس پر قربانی کے بدلے دس روزے واجب ہوں گے تین تو حج کے مہینوں میں یعنی یکم شوال سے نویں ذی الحج تك احرام باندھنے کے بعداس بیچ میں جب چاہے رکھ لے ایك ساتھ خواہ جدا جدا۔ اور بہتر ہے اور کو ہوں اور باقی سات تیرھویں کے بعد جب چاہے رکھے اور بہتر یہ ہے کہ گھر پہنچ کر ہوں۔ (م)
حوالہ / References مسلك متقسط مع ارشاد الساری فصل فی آداب التوجہ الیٰ منیٰ دارالکتاب العربی بیروت ص١٤٨
کتاب ادعیہ الحج والعمرۃ ملحق ارشاد الساری فصل فاذا کان یوم الثانی الخ دارالکتاب العربی بیروت ص١٧
#10229 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() بہتریہ ہے کہ وقت ذبح قربانی والے جانور کے دونوں ہاتھ اور ایك پاؤں باندھ لو ذبح کر کے کھول دو۔
() اونٹ ہو تو اسے کھڑا کر کے سینہ میں گلے کے انتہا پر تکبیر کہہ کر نیزہ مارو کہ سنت یو نہی ہے اور اس کا ذبح کرنا مکروہ۔ مگر حلال ذبح سے بھی ہوجائے گا اورگلے پر ایك جگہ سے ذبح کرے۔ جاہلوں میں جو مشہور ہے کہ اونٹ تین جگہ سے ذبح ہوتا ہے غلط وخلاف سنت اور مفت کی اذیت ومکروہ ہے۔
() کسی ذبیحہ کو جب تك سرد نہ ہو کھال نہ کھینچو اعضاء نہ کاٹو کہ ایذا ہے۔
() یہ قربانی کرکے اپنے اور تمام مسلمانوں کے حج وقربانی قبول ہوجانے کی دعا کرو۔
() بعد قربانی رو بقبلہ بیٹھ کر مرد حلق کریں یعنی سارا سر منڈائیں کہ افضل ہے یابال کتروائیں کہ رخصت ہے۔ اور عورتوں کوحلق حرام ہے ایك پور برابر بال کتروادیں۔
() حلق ہو یا تقصیر دہنی طرف سے ابتداء کرو اور اس وقت اﷲ اکبر ط اﷲ اکبر ط لا الہ الا اﷲ ط و اﷲ اکبر ط اﷲ اکبر ط و للہ الحمد ط بعد فراغت بھی کہو سب مسلمانوں کی بخشش مانگو۔
() بال دفن کرو اور ہمیشہ بدن سے جو چیز بال ناخن کھال جدا ہو دفن کرو۔
() یہاں حلق یا تقصیر سے پہلے ناخن نہ کتراؤ خط نہ بنواؤ۔
() اب عورت سے صبحت کرنے شہوت سے ہاتھ لگانے گلے لگانے بوسہ لینے دیکھنے کے سوا جو کچھ احرام نے حرام کیا تھا سب حلال ہوگیا۔
() افضل یہ ہے کہ آج دسویں ہی تاریخ فرض طواف کے لیے جسے طواف الزیارۃ کہتے ہیں مکہ معظمہ جاؤ بدستور مذکورہ پیادہ باطہارت وستر عورت طواف کرو مگر اس طواف میں اضطباع نہیں۔
() قارن ومفرد طواف قدوم میں اور متمتع بعد احرام حج کسی طواف نفل میں حج کے رمل وسعی دونوں خواہ صرف سعی کرچکے ہوں تو اس طواف میں رمل وسعی کچھ نہ کریں اور اگر اس میں رمل وسعی کچھ نہ کیا ہو یا صرف رمل کیا ہو یا جس طواف میں کئے تھے وہ عمرہ کاتھا جیسے قارن ومتمتع کا پہلا طواف یا وہ طواف بے طہارت کیا تھا توان چاروں صورتوں میں رمل وسعی دونوں اس طواف فرض میں کریں ۔
() کمزور اور عورتیں اگر بھیڑ کے سبب دسویں کو نہ جائیں تو اس کے بعد گیارھویں کو افضل ہے اور اس دن یہ بڑا نفع ہے کہ مطاف خالی ملتا ہے گنتی کے بیس بیس آدمی ہوتے ہیں۔ عورتوں کو بھی باطمینان تمام
حوالہ / References مسلك متقسط مع ارشاد الساری فصل فی الحلق والتقصیر دارالکتاب العربی بیروت ص١٥٢
#10231 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
ہر پھیرے میں سنگ اسود کا بوسہ ملتا ہے۔
() جو گیارھویں کو نہ جائے بارھویں کو کرلے۔ اس کے بعد بلا عذر تاخیر گناہ ہے۔ جرمانہ میں ایك قربانی ہوگی ہاں مثلا عورت کو حیض یا نفاس آگیا تو وہ ان کے ختم کے بعد کرے۔
() بہر حال بعد طواف دو رکعت ضرور پڑھیں۔ اس طواف سے عورتیں بھی حلال ہوجائیں گی حج پورا ہوگیا کہ اس کا دوسرا رکن یہ طواف تھا۔
() دسویں گیارھویں بارھویں راتیں منی ہی میں بسرکرنا سنت ہے نہ مزدلفہ میں نہ مکہ میں نہ راہ میں۔ تو جو دس یا گیارہ کو طواف کے لیے گیا واپس آکر رات منی ہی میں گزارے۔
() گیارھویں تاریخ بعد نماز ظہر امام کا خطبہ سن کر پھر رمی کو چلو ان ایام میں رمی جمرۃ اولی سے شروع کرو جو مسجد خیف سے قریب مزدلفہ کی طرف ہے اس کی رمی کو راہ مکہ کی طرف سے آکر چڑھو کہ یہ جگہ بہ نسبت جمرۃ العقبہ کے بلند ہے یہاں رو بہ کعبہ سات کنکریاں بطور مذکور مار کر جمرہ سے کچھ آگے بڑھ جاؤ اور دعا میں ہاتھ یوں اٹھاؤ کہ ہتھیلیاں قبلہ کو رہیں حضور قلب سے حمد و درود ودعا واستغفار میں کم سے کم بیس آیتیں پڑھنے کی قدر مشغول ہو ورنہ پون پارہ یا سورہ بقر پڑھنے کی مقدار تک۔
() پھر جمرہ وسطی پر جاکر ایسا ہی کرو۔
() پھر جمرہ عقبے پر مگر یہاں رمی کرکے نہ ٹھہرو معا پلٹ آؤ۔ پلٹنے میں دعا کرو۔
() بعینہ اسی طرح بارھویں تاریح تینوں جمرے بعد زوال رمی کرو۔ بعض لوگ آج دوپہر سے پہلے رمی کرکے مکہ معظمہ کو چل دیتے ہیں یہ ہمارے اصل مذہب کے خلاف اور ایك ضعیف روایت ہے۔
() بارھویں کی رمی کرکے غروب آفتاب سے پہلے اختیار ہے کہ مکہ معظمہ روانہ ہوجاؤ۔ مگر بعدغروب چلا جانا معیوب ہے۔ اب ایك دن اور ٹھہرنا اور تیرھویں کو بدستور دوپہر ڈھلے رمی کرکے مکہ جانا ہوگا او ریہی افضل ہے مگر عام لوگ بارھویں کو چلے جاتے ہیں توایك رات دن یہاں قیام میں قلیل جماعت کو دقت ہے۔
() حلق رمی سے پہلے جائز نہیں۔
() گیارھویں بارھویں کی رمی دوپہر سے پہلے اصلا صحیح نہیں۔
() رمی میں یہ امور مکروہ ہیں :
۱دسویں کی رمی دوپہر بعدکرنا ۲تیرھویں کی رمی دوپہر سے پہلے کرنا ۳رمی میں بڑا پتھر مارنا ۴توڑ کر بڑے پتھر کی کنکریاں مارنا ۵جمرہ کے نیچے جو کنکریاں پڑی ہیں اٹھا کر مارنا کہ یہ مردود کنکریاں ہیں جو قبول ہوتی ہیں۔ قیامت کے دن نیکیوں کے پلے میں رکھنے کو اٹھائی جاتی ہیں ورنہ جمروں کے گرد پہاڑ جمع ہوجاتے ۶ناپاك کنکریاں مارنا سات
#10233 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
سے زیادہ مارنا۔ رمی کے لیے جو جہت مذکور ہوئی اس کا خلاف کرنا جمرہ سے پانچ ہاتھ سے کم فاصلہ پر کھڑا ہونا زیادہ کا مضائقہ نہیں جمروں میں خلاف ترتیب کرنا مارنے کے بدلے کنکری جمرے کے پاس ڈال دینا۔
() اخیر دن یعنی بارھویں خواہ تیرھویں کو جب منی سے رخصت ہوکر مکہ معظمہ چلو تو وادی محصب عــــہ۱میں کہ جنۃ المعلی کے قریب ہے سواری سے اترلو بے اترے کچھ دیر ٹھہرکر مشغول دعا ہو اور افضل یہ ہے کہ عشاء تك نمازیں پڑھو ایك نیند لے کر داخل مکہ معظمہ ہو۔
(۴۲) اب تیرھویں کے بعد جب تك مکہ میں ٹھہرو اپنے پیر استاد ماں باپ خصوصا حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کے اصحاب وعترت اور حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہم کی طرف سے جتنے ہوسکیں عمرے کرتے رہو تنعیم کو جو مکہ معظمہ سے شمال یعنی مدینہ طیبہ کی طرف تین میل کے فاصلے پر ہے جاؤ وہاں سے عمرہ کا احرام جس طرح اوپر بیان ہوا باندھ کر آؤ اور طواف وسعی حسب دستور کرکے حلق یا تقصیر کرلو عمرہ ہوگیا جو حلق کر چکا اور مثلا اسی دن دوسرا عمرہ کیا وہ سر پرا سترا پھر وا لے کافی ہے۔ یوں ہی وہ جس کے سر پر قدرتی بال نہ ہوں۔
() مکہ معظمہ میں کم از کم ایك بار ختم قرآن مجید سے محروم نہ رہے۔
() جنۃ المعلی حاضرہو کر ام المومنین خدیجۃ الکبری ودیگر مدفونین کی زیارت کرے۔
() مکان ولادت اقدس حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بھی زیارت سے مشرف ہو۔
() حضرت عبدالمطلب کی زیارت کریں اور ابو طالب کی قبرپر نہ جاؤ یونہی جدہ میں جو لوگوں نے حضرت حوا رضی اﷲ عنہا کا مزار کئی سوہاتھ کا بنا رکھا ہے وہاں بھی نہ جاؤ کہ بے اصل ہے۔
() علماء کی خدمت سے شرف لو خصوصا اکابر جیسے آج کل حضرت مولانا عبدالحق صاحب مہاجر الہ آبادی کہ حمید یہ محل کے قریب تشریف فرما اور مسلمانان ہند کے لیے رحمت مجسم ہیں اور حضرت شیخ العلماء مولانہ محمد سعید بابصیل اور حضرت شیخ الائمہ مولانا احمد ابوالخیر مروا وقریب صفا اور حضرت عماد السنۃ مولانا شیخ صالح کمال قریب باب الاسلام اور حضرت مولانا سعید اسمعیل آفندی حافظ کتب الحرم حرم شریف کے کتب خانے میں وغیر ہم حفظہم عــــہ۲اﷲ تعالی۔
عــــہ۱ : جنت المعلی کہ مکہ کا قبرستان ہے اس کے پاس ایك پہاڑ ہے اوروہ دوسرے پہاڑ کے سامنے مکہ کو جاتے ہوئے داہنے ہاتھ پر نالے کے پیٹ سے جدا ہے۔ ان دونوں پہاڑوں کے بیچ کا نالہ وادی محصب ہے جنت المعلی محصب میں داخل نہیں۔ (م)
عــــہ۲ : یہ سب حضرات رخصت ہوچکے ہیں۔ (م)
#10234 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() کعبہ معظمہ کی داخلی کمال سعادت ہے اگر جائز طور پر نصیب ہو حرم عام میں داخلی ہوتی ہے مگر سخت کش مکش کمزور مر دکا کام ہی نہیں نہ عورتوں کو ایسے ہجوم میں جرأت کی اجازت زبردست مرد اگر آپ ایذا سے بچ بھی گیا تو اوروں کو دھکے دے کر ایذا دے گا۔ اور یہ جائز نہیں۔ نہ یوں حاضری میں کچھ ذوق ملے اور خاص داخلی بے لین دین اور اس پر لینا بھی حرام اور دینا بھی۔ حرام کے ذریعہ ایك مستحب ملا بھی تو وہ بھی حرام ہوگیا ان مفاسد سے نجات نہ ملے تو حطیم شریف کی حاضری غنیمت جانے اوپر گزرا کہ وہ بھی کعبہ ہی کی زمین ہے اور اگر شاید بن پڑے یوں کہ خدام کعبہ سے ٹھہر جائے کہ داخلی کے عوض میں کچھ نہ دیں گے۔ اس کے بعد یا قبل چاہے ہزاروں روپے دے دو تو کمال آداب ظاہر وباطن کی رعایت سے آنکھیں نیچے کئے گردن جھکائے گناہوں پر شرماتے۔ جلال رب البیت سے لرزتے کانپتے بسم اﷲ کہہ کر پہلے سیدھاپاؤں بڑھا کر داخل ہو او رسامنے کی دیوار تك اتنا پڑھو کہ تین ہاتھ کا فاصلہ رہے۔ وہاں دو رکعت نفل غیر وقت مکرو ہ میں پڑھو کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مصلی ہے۔ پھر دیوار پر رخسار اور منہ رکھ کر حمد ودرود اور دعا میں کوشش کرو۔ یوں ہی نگاہیں نیچے کئے چار گوشو ں پر جاؤ او ردعاکرو اور ستونوں سے چمٹوا ور پھر اس دولت کا ملنا اور حج وزیارت کا قبول مانگو اور یونہی آنکھیں نیچے کئے واپس آؤ اوپر ادھر ادھر ہر گز نہ دیکھو۔ اور بڑے فضل کی امید کرو کہ وہ فرماتا ہے جو اس گھرمیں داخل ہوا وہ امان میں ۔ والحمد ﷲ
() بچی ہوئی بتی وغیرہ جو یہاں یا مدینہ طیبہ میں خدام دیتے ہیں ہر گز نہ لو بلکہ اپنے پاس سے بتی وہاں روشن کرکے باقی اٹھالو۔
() جب عزم رخصت ہو طواف وداع بے رمل وسعی واضطباع بجا لاؤکہ باہر والوں پرواجب ہے۔ ہاں وقت رخصت عورت حیض ونفاس میں ہو تو اس پر نہیں۔ پھر دو رکعت مقام ابراہیم میں پڑھو۔
() پھر زمزم پر آکر اسی طرح پانی پیو۔ بدن پر ڈالو۔
() پھر دروازہ کعبہ پر کھڑے ہوکر آستانہ پاك کو بوسہ دو اور قبول وبار بار حاضری کی دعامانگو اور وہی دعا ئے جامع پڑھو۔
() پھر ملتزم پر آکر غلاف کعبہ تھام کر اسی طرح چمٹو ذکر ودرود اور دعا کی کثرت کرو۔
() پھر حجر اسود کو بوسہ دو اور جو آنسو رکھتے ہو گراؤ۔
() پھر الٹے پاؤں رخ بہ کعبہ یا سیدھے چلنے میں باربار پھر کر کعبہ کو حسرت سے دیکھئے۔ ا س کی جدائی پر روتے یا رونے کا منہ بناتے مسجد کریم کے دروازے سے بایاں پاؤں پہلے بڑھا کر نکلو اور دعائے مذکور پڑھو اور اس کے لیے بہتر باب الحزورہ ہے۔
#10236 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() حیض ونفاس والی دروازے پر کھڑے ہوکر کعبہ کو بہ نگاہ حسرت دیکھے اور دعاکرتی پلٹے۔
() پھر بقدر قدرت فقرائے مکہ معظمہ پر تصدق کرکے متوجہ سرکار اعظم مدینہ طیبہ ہو وباﷲ التوفیق۔
فصل ششم جرم اور ان کے کفارے
ان کی تفصیل موجب تطویل اوررسالہ مختصر اور وقت قلیل اور جو طریقے بتا دئے ہیں ان پر عمل کرنا ان شاء اﷲ تعالی جرمانے سے بچنے کا کفیل۔ لہذا یہاں صرف اجمالا معدود مسائل کا بیان ہوتا ہے۔
تنبیہ : اس فصل میں جہاں دم کہیں گے اس سے مراد ایك بھیڑ یا بکری ہوگی اوربدنہ اونٹ یا گائے۔ یہ سب جانور انھیں شرائط کے ہوں جوقربانی میں ہوں اور صدقہ سے مراد انگریزی روپے سے ایك سو پچھتر () روپے آٹھ آنے بھر کہ سوروپے کے سیر سے پونے دوسیر ہوئے اٹھنی بھر اوپر گندم یا اس کے دونے جو یا کجھور یاان کی قیمت۔
مسئلہ : جہاں دم کا حکم ہے وہ جرم اگر بیماری یاسخت گرمی یا شدید سردی یا زخم یا پھوڑے یا جوؤں کے ایذا کے باعث ہوگا توا سے جرم غیر اختیاری کہتے ہیں اس میں اختیا ر ہوگا کہ دم کے بدلے چھ مسکینوں کو ایك ایك صدقہ دے دے یا تین روزے رکھ لے۔ اور اگر اس میں صدقہ کا حکم ہے اور بہ مجبوری کیا تھا اختیار ہوگا کہ صدقے کے بدلے ایك روزہ رکھ لے۔ اب احکام سنئے :
() سلا کپڑا یا خوشبو کا رنگا چار پہر عــــہ۱ کامل یا لگاتار زیادہ دنوں پہنا تودم واجب ہے اور چار پہر سے کم اگرچہ عــــہ۲ ایك لحظہ توصدقہ۔
(۲) اگردن کو پہنا او ررات کو گرمی کے باعث اتار ڈالا یا رات کو سردی کے سبب پہنا دن کوا تاردیا اور باز آنے کی نیت سے اتارا دوسرے دن پھر پہنا تودوسرا جرمانہ ہوگا اسی طرح جتنی بار کرے۔
() بیماری کے سبب پہنا تو جب تك وہ بیماری رہے گی ایك جرم ہے اور اگر وہ بیماری یقینا جاتی رہی دوسری بیماری شروع ہوگئی اور اس میں بھی پہننے کی ضرورت ہے جب بھی یہ دوسرا جرم ہوگا مگر غیراختیاری۔
عــــہ۱ : چار پہر سے مراد ایك دن یارات کی مقدار ہے۔ مثلا طلوع سے غروب یاغروب سے طلوع یا دوپہر سے آدھی رات یا آدھی رات سے دوپہر تك منہ (م)
عــــہ۲ : یعنی لمحہ بھر پہنا اور پھر اتار ڈالنا جب بھی صدقہ ہے منہ (م)
#10237 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() بیماری وغیرہ سے اگر سر سے عــــہ۱ پاؤں تك سب کپڑے پہننے کی ضرورت ہوئی تو ایك ہی جرم غیر اختیاری ہے اور اگر مثلا ضرورت صرف عمامہ کی تھی اور اس نے کرتابھی پہنا تو دو۲ جرم ہیں ۱عمامہ کا غیر اختیاری اور ۲کرتا کا اختیاری۔
() مرد سارا سر یا چہارم یا مرد خواہ عورت منہ کی ٹکلی ساری یا چہارم چار پہر یازیادہ لگاتار چھپائیں تو دم ہے اور چہارم سے کم چار پہرتك یا زیادہ لگا تا ر چھپائیں تو دم ہے اور چہارم سے کم چار پہر تك یا چار سے کم اگر چہ سارا سریا منہ توصدقہ ہے اور چہارم سے کم کو چار پہر سے کم تك چھپائیں تو گناہ ہے کفارہ نہیں۔
(۶) خوشبو اگر بہت سی لگائی جسے دیکھ کر بہت لوگ بتائیں اگر چہ عضو کے تھوڑے ٹکڑے پر یا کوئی بڑا عضو جیسے سر یا منہ یا ران یا پنڈلی پورا سان دیا اگر چہ تھوڑی ہی خوشبو سے جب توا س پر دم ہے اور اگر تھوڑی سی خوشبو تھوڑے حصے میں لگائی تو صدقہ ہے۔
مسئلہ : سنگ اسود شریف پر خوشبو ملی جاتی ہے وہ اگر بوسہ لینے میں بحالت احرام منہ کو بہت سی لگ گئی تو دم دیناہوگا اور تھوڑی سے صدقہ۔
() سر پر تیل مہندی کا خضاب کیا کہ بال نہ چھپائے تو ایك دم ہے اور اگر گاڑھی تھوپی اور چار پہر گزرے تو مرد پر دو دم عــــہ۲ ہیں اور چار پہر سے کم توا یك صدقہ عــــہ۳ اور ایك دم اور عورت عــــہ۴ پر بہر حال ایك دم۔
() ایك جلسہ میں کتنے ہی بدن پر خوشبو لگائے ایك جرم اور مختلف جلسوں میں ہر بار نیا جرم۔
() تھوڑی سی خوشبو بدن کے متفرق حصوں عــــہ۵ پر لگائی اگر جمع کرنے سے ایك بڑے عضو کامل کی مقدار ہوجائے تو دم ہے ورنہ صدقہ۔ () خوشبو دار سرمہ تین بار یاز یادہ بار لگایا تو دم ہے ورنہ صدقہ۔
عــــہ۱ مسئلہ : یونہی پوری ہتھیلی یا تلوے پر مہندی لگائے تودم ہے عورت ہو یا مرد اور چاروں میں ایك ہی جلسہ میں لگائی تو ایك ہی دم ورنہ ہر جلسہ پر ایك دم اور ہاتھ یا پاؤں کے کسی حصہ پر لگائی تو صدقہ منہ (م)
عــــہ۲ : ایك سارے عضو پر خوشبو کاد وسرا چار پہر سر چھپانے کا منہ (م)
عــــہ۳ : خوشبو پر دم اور چار پہر سے کم سے کم سر چھپانے پر صدقہ منہ (م)
عــــہ۴ : صرف خوشبو کا دم ہے اس لیے کہ سر چھپانا تو اسے روا ہے منہ (م)
عــــہ۵ : قیدت بہ لان الطیب الکثیر لایتقید بکمال العضو فتنبہ ۱۲ منہ (م)
یہ قید اس لیے لگائی ہے کہ کثیر خوشبو کی صورت میں کمال عضو کے ساتھ مقید نہیں کیا جاتا پس متوجہ رہو ۱۲منہ (ت)
#10239 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() اگر خالص خوشبو کی چیز اتنی کھائی کہ اکثرمنہ عــــہ۱ میں لگ گئی تو دم ہے ورنہ صدقہ۔
(۱۲)کھانے میں خوشبو اگر پکنے میں پڑی یا فنا ہوگئی جب تو کچھ نہیں ورنہ اگر خوشبو کے اجزاء زیادہ ہوں تو وہ خالص خوشبو کے حکم میں ہے اور اگر کھانے کا حصہ زیادہ ہے تو عام کتابوں میں مطلق حکم دیا کہ اس میں کفارہ کچھ نہیں ہاں خوشبو آئی تو کراہت ہے۔
() پینے کی چیزمیں خوشبو ملائی اگر خوشبو کا حصہ غالب ہے یا تین بار یا زیادہ پیا تو دم ہے ورنہ صدقہ ۔
مسئلہ : خمیرہ تمباکو نہ پینا بہتر مگر منع یا کفارہ نہیں عــــہ۲ ۔
(۱۴) اگر چہارم سر یا داڑھی کے بال زیادہ کسی طرح دور کئے تو دم ہے اور کم میں صدقہ۔
() اگر چند لا ہے یا داڑھی بہت ہلکی چھدری تویہ دیکھیں کہ اتنے بال اس جگہ کی چہارم مقدار تك پہنچتے ہیں یا نہیں
() یونہی چند جگہ سے دور کئے تو ملا کر چہارم کی مقدار دیکھیں گے۔
() اگر سارے بدن کے بال ایك جلسہ میں دور کئے توایك ہی جرم ہے اور مختلف جلسے تو ہربار نیا جرم۔
() مونچھیں اگر چہ پوری ہوں صرف صدقہ ہے۔
() گردن یا ایك بغل پوری ہو تو دم ہے اور کم میں اگر چہ نصف یا زائد ہو صدقہ۔ یونہی موئے زیر ناف چہارم کو سب کے برابر ٹھہرانا صرف سر اور داڑھی میں ہے۔
() دونوں بغلیں پوری منڈائے جب بھی ایك ہی دم ہے۔
() سرا ور داڑھی اور زیر ناف اور بغل کے سوا باقی اعضاء کے منڈنے میں صرف صدقہ ہے۔
عــــہ ۱ : اقول : لم یقل فیہ الدم کما قال کثیرون لانہ لم یلتزق باکثر فمہ لایلزم الدم بالخالص فکیف بالمخلوط ووقع ھھنا فی شرح اللباب فی النقل عن الحلبی تحریف او سقط فا جتنبہ کما بیناہ علی ھامشہ منہ (م)
عــــہ ۲ : کما حققناہ فیما علی ردالمحتار منہ (م)
میں کہتاہوں یہ نہیں کہا اس میں دم ہے جیسا کہ کثیر حضرات نے کہا کیونکہ حجر اسو د سے کثیر چہرہ کا حصہ مس نہیں کر تا تو جب خالص خوشبو کی وجہ سے دم لازم نہیں تومخلوط کے ساتھ کیسے ہوگا یہاں شرح لباب میں حلبی سے نقل کرتے ہوئے تحریف ہوگئی ہے یا الفاظ ساقط ہوگئے ہیں جیسا کہ ہم نے وہاں حاشیہ میں بیان کردیا ہے ۱۲ منہ (ت)
جیسا کہ ہم نے تفصیل حاشیہ ردالمحتار میں دی ہے۔ (ت)
#10241 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() مونڈنا کترنا موچنہ سے لینا نورہ لگانا سب کا ایك حکم ہے۔
() عورت اگر سارے یا چہارم سرکے بال ایك پورہ برابر کترے تو دم ہے اور کم میں صدقہ۔
() وضو عــــہ۱ کرنے یا کھجا نے یا کنگھی کرنے میں جو بال گرے اس پر بھی پورا صدقہ ہے۔ اور بعض نے کہا دوتین بال تك ہر بال کے لیے ایك مٹھی اناج یا ایك روٹی کا ٹکڑا یا ایك چھوہارا۔
() بال آپ گرجائے بے اس کا ہاتھ لگائے یا بیماری سے تمام بال گرپڑیں توکچھ نہیں۔
() ایك ہاتھ ایك پاؤں کے پانچوں ناخن کترے یا بیسوں ایك ساتھ تو ایك دم ہے۔ اور اگر کسی ہاتھ پاؤں کے پورے پورے پانچ نہ کترے تو ہر ناخن پر ایك صدقہ یہاں تك کہ چاروں ہاتھ پاؤں کے چار چار کترے تو سولہ صدقے دے مگر یہ کہ صدقوں کی قیمت ایك دم کے برابر ہوجا ئے تو کچھ کم کر لے۔
() اگر ایك جلسہ میں ایك ہاتھ یا پاؤں کے کترے دوسرے میں دوسرے کے تودو دم دے یونہی چار جلسوں میں چاروں کے تو چار دم۔
() کوئی ناخن ٹوٹ گیا کہ اب اگنے کے قابل نہ رہا اس کا بقیہ اس نے کاٹ لیا تو کچھ نہیں۔
() شہوت کے ساتھ بوس وکنار ومساس میں د م عــــہ۲ہے اگرچہ انزال نہ ہو اور بلا شہوت میں کچھ نہیں۔
(۳۰) اندام نہانی پرنگاہ کرنے سے کچھ نہیں اگرچہ انزال ہوجائے۔ مکروہ ضرورہے۔
() جلق سے انزال ہوجائے تو دم ہے ورنہ مکروہ ہے۔
() طواف فرض کلی یا اکثر جنابت میں یا حیض ونفاس میں کیا تو بد نہ ہے اور بے وضو تودم ہے اور پہلی صورت میں طہارت کے ساتھ ا س کا اعادہ واجب دوسری میں مستحب ۔
() نصف سے کم پھیرے بے طہارت کے کئے تو ہر پھیرے کے لیے ایك صدقہ۔
() طواف فرض کل یا اکثر بلاعذر اپنے پاؤں چل کرنہ کیا بلکہ سواری یا گودمیں یا بیٹھے بیٹھے۔
() یا بے ستر عورت کیا مثلا عورت کی چہارم کلائی یا چہارم سر کے بال کھلے تھے۔
() یاکعبہ کودہنے ہاتھ پر لے کے الٹا کیا۔
() یا اس میں حطیم کے اندر ہو کر گزرا۔
() یا بارھویں کے بعد کیا توان پانچوں صورتوں میں دم دے۔
عــــہ۱ : یہاں بھی جلسہ کا اعتبارچاہے ایك جلسہ میں ایك بال یا کل ٹوٹیں توا یك صدقہ اور متعدد جلسوں میں تو متعدد منہ (م)
عــــہ۲ : مسئلہ : مرد کے ان افعال سے عورت کو لذت آئے تو بھی دم ہے منہ (م)
#10242 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() اس کے چار سے کم پھیرے بالکل نہ کئے تو دم دے دے اور بارھویں کے بعد کئے تو ہر پھیرے پر صدقہ ہے۔
() طواف فرض کے سوا اور کوئی طواف ناپاکی میں کیا تودم ہے اور بے وضو توصدقہ۔
() فرض وغیرہ کوئی طواف ہو جیسے ناقص طورپر کیا کہ کفارہ لازم ہوا جب کامل اعادہ کرلیا کفارہ اترگیا مگر بارھویں کے بعد ہونے سے جو نقصان طواف فرض کے سوا کسی پھیرے میں آیا اس کا اعادہ ناممکن بارھویں تو گزرگئی۔
() نجس کپڑوں سے طواف مکروہ ہے کفارہ نہیں۔
() سعی کے چار پھیرے یازیادہ بلاعذر اصلا نہ کئے یا سواری پر کئے تو دم ہے اورحج گیا اور چار سے کم میں ہر پھیرے پرصدقہ دے۔
() طواف سے پہلے سعی کرلی پھر کرے نہ کرے گا تودم لازم۔
() دسویں کی صبح بلا عذر مزدلفہ میں وقوف نہ کیا تودم دے۔ ہاں کمزور یاعورت بخوف زحمت ترك کرے تو جرمانہ نہیں۔
() حلق حرم میں نہ کیا حدود حرم سے باہر کیا یا بارھویں کے بعد کیا تو دم ہے۔
() رمی سے پہلے حلق کرلیا دم دے۔
() قارن یا متمتع رمی سے پہلے قربانی یا قربانی سے پہلے حلق کریں تو دم دیں۔
() اگر رمی کسی دن اصلا نہ کی۔
() یا کسی ایك دن کی بالکل یا اکثر ترك کردی مثلا دسویں کو تین کنکریوں تك ماریں یا گیارھویں کو دس کنکریوں تک۔
() یا کسی ایك دن کی بالکل یا اکثر اس کے بعد دوسرے دن کی تو ان صورتوں میں دم دے اورا گر کسی دن کی رمی اس کے بعد آنے والی رات کرلی توکفارہ نہیں۔
() اگر کسی دن کے نصف سے کم رمی مثلا دسویں کی تین کنکریاں اور دن کی دس بالکل چھوڑدیں یا دوسرے دن کیں توہر کنکری پرا یك صدقہ دے۔ ان صدقوں کی قیمت دم کے برابر ہوجائے تو کچھ کم کرلے۔
() احرام والے نے کسی دوسرے کے بال مونڈے یا ناخن کترے اگر وہ بھی احرام میں ہے تو یہ صدقہ دے اور وہ صدقہ یا دم اسی تفصیل پر کہ اوپر گزری۔ اور اگر وہ احرام میں نہیں تو کچھ خیرات کردے اگر چہ ایك مٹھی اور وہ کچھ نہیں۔
#10245 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() اور اگر اس کو سلے کپڑے پہنائے یا خوشبو اس طرح لگائی کہ اپنے نہ لگی توا س پرکفارہ نہیں ہاں گناہ ہوگا اگر وہ بھی احرام میں تھا۔ ا ور وہ حسب تفصیل مذکور دم یا صدقہ دے گا۔
() وقوف عرفہ سے پہلے جماع کیا تو حج نہ ہوا اسے حج ہی کی طرف پورا کرکے دم دے اور پھر فورا ہی سال آئندہ اس کی قضا کرلے۔ عورت بھی احرام حج میں تھی توا س پرلازم ہے اور مناسب ہے کہ حج کے احرام سے ختم تك دونوں اس طرح جدا رہیں کہ ایك دوسرے کو نہ دیکھے اگر خوف ہو کہ پھر اس بلا میں پڑجائیں گے اور وقوف کے بعد صحبت کرنے سے حج تو نہ جائے گا مگر اگر حلق وطواف سے پہلے کیا تو بدنہ دے اور دونوں کے بیچ میں کیا تو دم او ربہتر عــــہ اب بھی بدنہ ہے او دونوں کے بعد کچھ نہیں
() عمرہ میں طواف کے چارپھیروں سے پہلے جماع کیا تو عمرہ جاتارہا دم دے او رعمرہ پھر کرے او رچار کے بعد دم دے عمرہ صحیح ہے۔
() اپنی جوں اپنے بدن یا کپڑوں میں ماری یاپھینك دی تو ایك میں روٹی کا ٹکڑا دے۔ او ردو ہوں تو مٹھی بھر اناج اور زیادہ میں صدقہ دے۔
() جوئیں مارنے کو سر یا کپڑا دھویا یا دھوپ میں ڈالا جب بھی یہی کفارے جو خود قتل میں تھے۔
() یونہی دوسرے نے اس کے کہنے یا اشارہ کرنے سے اس کی جوں کومارا جب بھی اس پرکفارہ ہے اگرچہ وہ دوسرا احرام میں نہ ہو۔
() زمین وغیر ہ پر گری ہوئی جوں یا دوسرے کے بدن یا کپڑوں کی مارنے میں اس پر کچھ نہیں اگر چہ وہ دوسرا بھی احرام میں ہو۔
مسئلہ : جہاں ایك دم یا صدقہ ہے قارن پردو ہیں۔
مسئلہ : کفارہ کی قربانی یا قارن ومتمتع کے شکرانہ کی غیر حرم میں نہیں ہوسکتی مگر شکرانہ کی قربانی سے آپ کھائے غنی کو کھلائے اور کفارہ کی صرف محتاجوں کا حق ہے۔
نصیحت : کفارے اس لیے ہیں کہ بھول چوك سے یا سونے میں یا مجبوری سے جرم ہوں تو کفارہ سے پاك ہوجائیں نہ اس لیے کہ جان بوجھ کر بلاعذر جرم کرو اور کہو کفارہ دے دیں گے دینا تو جب بھی آئیگا مگر قصدا حکم الہی کی مخالفت سخت ہے۔ والعیاذ باﷲ تعالی حق سبحانہ توفیق طاعت عطافرماکر مدینہ کی زیارت کرائے۔ آمین!
عــــہ : ذکرتہ خروجا عن خلاف قوی ۱۲ منہ (م)
میں نے اس کو اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ قوی اختلاف سے خروج ہوجائے۔ (ت)
#10248 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
فصل ہفتم حاضری سرکار اعظم مدینہ طیبہ حضور حبیب اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
() زیارت اقدس قریب بواجب ہے بہت لوگ دوست بن کر طرح طرح ڈراتے ہیں راہ میں خطرہ ہے وہاں بیماری ہے خبردار! کسی کی نہ سنو اور ہر گز محرومی کا داغ لے کر نہ پلٹو جان ایك دن جانی ضرور ہے اس سے کیا بہتر ہے کہ ان کی راہ میں جائے۔ اورتجربہ ہے کہ جو ان کا دامن تھام لیتا ہے اسے اپنے سایہ میں بارام لے جاتے ہیں کیل کا کھٹکا نہیں ہوتا۔ والحمد ﷲ۔
() حاضری میں خاص زیارت اقدس کی نیت کرو یہاں تك کہ امام ابن الہمام فرماتے ہیں اس بار مسجد شریف کی بھی نیت نہ کرے۔
() راستہ بھر درود وذکر شریف میں ڈ وب جاؤ۔
() جب حرم مدینہ نظر آئے بہتر یہ ہے کہ پیادہ ہو لو روتے سرجھکاتے آنکھیں نیچی کئے اور ہوسکے تو ننگے پاؤں چلو بلکہ
جائے سراست اینکہ تو پامی نہی پائے نہ بینی کہ کجا می نہی
حر م کی زمین اور قدم رکھ کے چلنا ارے سر کا موقعہ ہے او جانے والے
() جب قبہ انور پر نگاہ پڑے درود وسلام کی کثرت کرو۔
() جب شہر اقدس تك پہنچو جلال وجمال محبوب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تصور میں غرق ہوجاؤ۔
() حاضری مسجد سے پہلے تمام ضروریات جن کا لگاؤ دل بٹنے کا باعث ہو نہایت جلد فارغ ہو ان کے سوا کسی بیکار بات میں مشغول نہ ہو۔ معا وضو او رمسواك کر واور غسل بہتر سفید وپاکیزہ کپڑے پہنو اور نئے بہتر سرمہ اور خوشبو لگاؤ اور مشك افضل ہے۔
() اب فورا آستانہ اقدس کی طرف نہایت خشوع وخضوع سے متوجہ ہو رونا نہ آئے تو رونے کامنہ بناؤ اور دل کو بزور رونے پر لاؤا ور اپنی سنگدلی سے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف متوجہ کرو۔
() جب درمسجد پر حاضر ہو صلوۃ وسلا م عرض کرکے تھوڑا ٹھہرو جیسے سرکار سے حاضری کی اجازت مانگتے ہو بسم اﷲ کہہ کر سیدھا پاؤں پہلے رکھ کہ ہمہ تن ادب ہوکر داخل ہو۔
() اس وقت جو ادب وتعظیم فرض ہے ہر مسلمان کا دل جانتاہے کہ آنکھوں کان زبان ہاتھ پاؤں دل سب خیال غیر سے پاك کرو۔ مسجد اقدس کے نقش ونگار نہ دیکھو۔
#10249 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() اگر کوئی ایسا سامنے آجائے جس سے سلام کلام ضرور ہو تو جہاں تك بنے کتراجاؤ ورنہ ضرورت سے زیادہ نہ بڑھو پھر بھی دل سرکار ہی کی طرف ہو۔
()ہر گز ہرگز مسجد اقدس میں کوئی حرف چلاکر نہ نکلے۔
() یقین جانو کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سچی حقیقی دنیاوی جسمانی حیات سے ویسے ہی زندہ ہیں جیسے وفات شریف سے پہلے تھے۔ ان کی اور تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی موت صرف وعدہ خدا کی تصدیق کو ایك آن کے لیے تھی۔ ان کا انتقال صرف نظر عوام سے چھپ جانا ہے۔
امام محمد ابن الحاج مکی مدخل اور امام احمد قسطلانی مواہب اللدنیہ میں اور ائمہ دین رحمۃ اﷲ تعالی علیہم اجمعین فرماتے ہیں :
لافرق بین موتہ وحیاتہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فی مشاھدتہ لامتہ ومعرفتہ باحوالھم ونیاتھم و عزائمھم وخواطرھم وذالك عندہ جلی لاخفاء بہ ۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی حیات وفات میں اس بات میں کچھ فرق نہیں کہ وہ اپنی امت کو دیکھ رہے ہیں اور ان کی حالتوں اور ان کی نیتوں ان کے ارادوں ان کے دلوں کے خیالوں کو پہچانتے ہیں اوریہ سب حضور پر ایساروشن ہے جس مں اصلا کوئی پوشیدگی نہیں۔
امام رحمہ اﷲ تلمیذ امام محقق ابن ا لہمام منسك متوسط اور علی قاری مکی اس کی شرح مسلك متقسط میں فرماتے ہیں :
انہ صلی اﷲ علیہ وسلم عالم بحضورك وقیامك وسلامك ای بل بجمیع افعالك واحوالك و ارتحالك ومقامك ۔
بیشك رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تیری حاضری اور تیرے کھڑے ہونے اور تیرے سلام بلکہ تیرے تمام افعال واحوال وکوچ ومقام سے آگاہ ہیں۔
() اب اگر جماعت قائم ہو شریك ہوجاؤ کہ اس میں تحیۃ المسجد بھی ادا ہوجائیگی ورنہ اگر غلبہ شوق
حوالہ / References المدخل لابن الحاج فصل فی زیارۃ القبور دارالکتاب العربی بیروت ١ / ٢٥٢ ، شرح مواہب زرقانی المقصدالعاشر مطبعہ عامرہ مصر ٨ / ٣٤٨
مسلك متقسط مع ارشاد الساری باب زیارۃ سیدالمرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص٣٣٨
#10251 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
مہلت دے اور اس وقت کراہت نہ ہو تو دو رکعت تحیۃ المسجدو شکرانہ حاضری دربارہ اقدس صرف قل یا اور قل سے بہت ہلکی مگر رعایت سنت کے ساتھ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ جہاں ا ب وسط کریم میں محراب بنی ہے اور وہاں نہ ملے تو جہاں تك ہوسکے اس کے نزدیك اداکرو پھر سجدہ شکر میں دعا کرو کہ الہی! اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ادب اور ان کا اور اپنا قبول نصیب کر۔ آمین!
() اب کمال ادب میں ڈوبے ہوئے گردن جھکائے آنکھیں نیچی کیے لرزتے کانپتے گناہوں کی ندامت سے پسینہ پسینہ ہوتے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے عفو وکرم کی امید رکھتے حضور والا کی پائیں یعنی مشرق کی طرف سے مواجہہ عالیہ میں حاضر ہو کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مزار انور میں روبقبلہ جلوہ فرما ہیں اس سمت سے حاضر ہو کہ حضور کی نگاہ بیکس پناہ تمھاری طرف ہوگی اور یہ بات تمھارے لیے دونوں جہان میں کافی ہے۔ والحمد ﷲ ۔
() اب کمال ادب وہیبت وخوف وامید کے ساتھ زیر قندیل اس چاندی کی کیل کے جو حجرہ مطہرہ کی جنوبی دیوار میں چہرہ انور کے مقابل لگی ہے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلہ سے قبلہ کو پیٹھ اور مزار انور کو منہ کرکے نماز کی طرح ہاتھ باندھے کھڑے ہو لباب وشرح لباب واخیتار شرح مختار فتاوائے عالمگیری وغیرہمامعتمد کتابوں میں اس کی تصریح فرمائی کہ یقف کمافی الصلوۃ حضور کے سامنے ایسا کھڑا ہو جیسا نماز میں کھڑاہو تاہے یہ عبارت عالمگیری واختیار کی ہے اور لباب میں فرمایا : واضعا یمینہ علی شمالہ دست بستہ دہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پررکھ کر کھڑا ہو
(۱۷) خبردار جالی شریف کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے سے بچو کہ خلاف ادب ہے بلکہ چار ہاتھ فاصلہ سے زیادہ قریب نہ جاؤ یہ ان کی رحمت کیا کم ہے کہ تم کوا پنے حضور بلایا اور اپنے مواجہہ اقدس میں جگہ بخشی ان کی نگاہ کریم اگر چہ تمھاری طرف تھی اب خصوصیت اور اس درجہ قرب کے ساتھ ہے والحمد ﷲ ۔
() الحمدﷲ اب کہ دل کی طرح تمھارا منہ بھی اس پاك جالی کی طرف ہے جو اﷲ عزوجل کے محبوب عظیم الشان صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی آرام گاہ ہے نہایت ادب و وقار کے ساتھ بآواز حزیں و صورت دردآگیں و دل شرمناك وجگر چاك چاک معتدل آواز سے نہ بلند وسخت ( کہ ان کے حضور آواز
حوالہ / References فتاویٰ ہندیہ خاتمہ فی زیارۃ قبر النبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نورانی کتب خانہ پشاور ١ / ٢٦٥
شرح لباب مع ارشاد الساری باب فی زیارت سید المرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص٣٣٧
#10252 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
بلند کرنے سے عمل اکارت ہوجاتے ہیں) نہ نہایت نرم وپست (کہ سنت کے خلاف ہے اگر چہ وہ تمھارے دلوں کے خطروں تك سے اگاہ ہیں جیسا کہ ابھی تصریحات ائمہ سے گزرا) مجراوتسلیم بجا لاؤ اور عرض کرو :
السلام علیك ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔ السلام علیك یارسول ا ﷲ ۔ السلام علیك یاخیر خلق اﷲ ۔ السلام علیك یاشفیع المذنبین۔ السلام علیك وعلی الك واصحابك وامتك اجمعین۔ ۔
(اے پیارے نبی! آپ پر سلام ہو او راﷲ کی رحمت وبرکات ہوں اے اﷲ کے رسول! آپ پر سلام ہو۔ اے مخلوق خدا میں سب سے بہتر آپ پر سلام ہو۔ اے گنہ گاروں کی شفاعت فرمانے والے آپ پر سلام ہو۔ آپ پر۔ اور آپ کے آل واصحاب پر اور تمام امت پر سلام ہو۔ ت)
() جہاں تك ممکن ہو اور زبان یاری دے اور ملال وکسل نہ ہو صلوۃ وسلام کی کثرت کرو۔ حضور سے اپنے لیے اور اپنے ماں باپ۔ پیر استاد اولاد عزیزوں دوستوں ا ور سب مسلمانوں کے لیے شفاعت مانگو بار بار عرض کرو۔ اسئلك الشفاعۃ یا رسول اﷲ (اے اﷲ کے رسول! آپ سے شفاعت کا سوالی ہوں۔ ت)
() پھراگر کسی نے عرض سلام کی وصیت کی بجالاؤ۔ شرعا اس کا حکم ہے۔ اور یہ فقیر ذلیل ان مسلمانوں کو جواس رسالہ کو دیکھیں وصیت کرتاہے کہ جب انھیں حاضری نصیب ہو بارگارہ نصیب ہو فقیر کی زندگی میں یابعد کم از کم تین بار مواجہہ اقدس میں ضرور یہ الفاظ عرض کرکے اس نالائق ننگ خلائق پر احسان فرمائیں اﷲ ان کودونوں جہاں میں جزا بخشے۔ آمین :
الصلوۃ والسلام علیك یارسول اﷲ وعلی الك وذریتك فی کل آن ولحظۃ عددکل ذرۃ الف الف مرۃ من عبیدك احمد رضاابن نقی علی یسئالك الشفاعۃ فاشفع لہ وللمسلمین۔
(اے اﷲ کے رسول آپ پر صلوۃ وسلام ہو آپ کی آل وذریت پر بھی ہرذرہ کے برابر لاکھوں مرتبہ آپ کے غلام احمدرضابن نقی علی پر اور وہ آپ سے شفاعت کا خواستگار ہے اس کی اور تمام مسلمانوں کی شفاعت فرمائیے۔ ت)
حوالہ / References شرح لباب مع ارشاد الساری باب فی زیارت سید المرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص٣٣٨
شرح لباب مع ارشاد الساری باب فی زیارت سید المرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص٣٣٩
#10253 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() پھر اپنے دہنے ہاتھ یعنی مشرق کی طرف ہاتھ بھر ہٹ کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے چہرہ نورانی کے سامنے کھڑے ہوکر عرض کرو :
السلام علیك یاخلیفۃ رسول اﷲ۔ السلام علیك یاصاحب رسول اﷲ فی الغار ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ۔
(اے اﷲ کے رسول کے خلیفہ! آپ پر سلام۔ اے رسول اﷲ کے یار غار! آپ پر سلام اور اﷲ کی رحمت وبرکات کا نزول ہو۔ (ت)
() پھر اتنا ہی اور ہٹ کر حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے روبرو کھڑے ہوکر عرض کرو :
السلام علیك یاامیرالمؤمنین ط السلام علیك یامتمم الاربعین ط السلام علیك یاعزالاسلام و المسلمین و رحمۃ اﷲ وبرکاتہ ۔
( اے امیرالمومنین آپ پر سلام۔ اے چالیس مسلمان پورے فرمانے والے! آپ پر سلام ۔ اے اسلام اور مسلمانوں کی عزت! آپ پر سلام اور رحمت وبرکات الہی کا نزول ہو۔ ت)
() پھر بالشت بھر مغرب کی طرف پلٹو اور صدیق وفاروق کے درمیان کھڑے ہوکر عرض کرو :
السلام علیکما یاخلیفتی رسول اﷲ ط السلام علیکما یا وزیری رسول اﷲ ط السلام علیکما یاضجیعی رسول اﷲ ورحمۃاﷲ وبرکاتہ ط اسئلکما الشفاعۃ عند رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیکما وبارك وسلم ۔
( اے رسول اﷲ کے دونوں خلیفو! تم پر سلام ہو اے رسول اﷲ کے دونو ں وزیرو! تم پر سلام ہو ۔ اے رسول اﷲ کے پہلو میں لیٹنے والو! تم پر سلام اور اﷲ کی رحمتوں و برکات کا نزول ہو آپ دونوں سے درخواست ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وعلیکما وبارك وسلم کی خدمت اقدس میں میرے لیے شفاعت کا وسیلہ اور سہارا بنو۔ ت)
() یہ سب حاضریاں محل اجابت ہیں دعا میں کوشش کرو دعا ئے جامع کرو۔ درود پر قناعت بہتر ہے۔
حوالہ / References شرح لباب مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص٣٣٩
شرح لباب مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص٣٣٩
شرح لباب مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص٣٤٠
#10255 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() پھر منبر اطہر کے قریب دعامانگو۔
() پھر روضہ جنت میں (یعنی جو جگہ منبروحجرہ منورہ کے درمیان ہے اور اسے حدیث میں جنت کی کیاری فرمایا آکر دورکعت نفل غیر وقت مکروہ میں پڑھ کر دعا کرو۔
() یونہی مسجد شریف کے ہر ستون کے پاس نماز پڑھو اور دعامانگو کہ محل برکات ہیں خصوصا بعض میں خاص خصوصیت۔
() جب تك مدینہ طیبہ کی حاضری نصیب ہر ایك سانس بیکار نہ جائے وہ ضروریات کے سوا اکثر وقت مسجد شریف میں باطہارت حاضر ہو نماز وتلاوت ودرود میں وقت گزارو دنیا کی بات کسی مسجد میں نہیں چاہئے نہ کہ یہاں۔
() ہمیشہ ہر مسجد میں جائے اعتکاف کی نیت کرلو۔ یہاں تمھاری یاددہانی ہی کو دروازے سے بڑھتے ہی یہ کتبہ ملے گا۔ نویت سنۃ الاعتکاف ط (میں سنت اعتکاف کی نیت کرتا ہوں۔ ت)
() مدینہ طیبہ میں روزہ نصیب ہو خصوصا گرمی میں تو کیا کہنا کہ اس پر وعدہ شفاعت ہے۔
() یہاں ہر نیکی ایك کی پچاس ہزار لکھی جاتی ہے لہذا عبادت میں زیادہ کوشش کرو کھانے پینے کی کمی ضرور کرو۔
() قرآن مجید کا کم سے کم ایك ختم یہاں اور حطیم کعبہ معظمہ میں کرلو ۔
() روضہ انور پر نظر بھی عبادت ہے جیسے کعبہ معظمہ یا قرآن مجید کا دیکھنا توادب کے ساتھ اس کی کثرت کرو اور درود وسلام عرض کرو۔
() پنجگانہ یا کم از کم صبح وشام مواجہہ شریف میں عرض سلام کے لیے حاضر رہو۔
() شہر میں یا شہر سے باہر جہاں کہیں گنبد مبارك پر نظر پڑے فورا دست بستہ ادھر منہ کرکے صلوۃ وسلام عرض کرو بغیر اس کے ہر گز نہ گزرو کہ خلاف ادب ہے۔
() ترك جماعت بلا عذر ہر جگہ گناہ ہے اور کئی بار ہو تو سخت حرام وگناہ کبیرہ اور یہاں تو گناہ کے علاوہ کیسی سخت محرومی ہے والعیاذ باﷲ تعالی صحیح حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : جسے میری مسجد میں چالیس نمازیں فوت نہ ہوں اس کے لیے دوزخ ونفاق سے آزادیاں لکھی جائیں ۔
حوالہ / References شرح لباب مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص٣٤١
مسند احمد بن حنبل مروی از انس بن مالك دارالفکر بیروت ٣ / ١٥٥
#10256 · انوار البشارۃ فی مسائل الحج والزیارۃ ١٣٢٩ھ ( حج وزیارت کے مسائل میں خوشی کی بہاریں)
() قبر کریم کو ہر گز پیٹھ نہ کرو اور حتی الامکان نماز میں بھی ایسی جگہ کھڑے ہو کہ پیٹھ کرنی نہ پڑے۔
() روضہ انور کا طواف کرو۔ نہ سجدہ نہ اتناجھکنا کہ رکوع کے برابر ہو۔ رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تعظیم ان کی اطاعت میں ہے۔
() بقیع واحد وقبا کی زیارت سنت ہے۔ مسجد قبا کی دو رکعت کا ثواب ایك عمرے کے برا بر ہے اور چا ہو تو یہیں حاضر رہو سیدی ابن ابی جمرہ قدس سرہ جب حضور ہوتے آٹھوں پہر برابر حضوری میں کھڑے رہتے۔ ایك دن بقیع وغیرہ کی زیارت کا خیال آیا پھر فرمایا یہ ہے اﷲ کادروازہ بھیك مانگنے والوں کے لیے کھلا ہے اسے چھوڑ کر کہاں جاؤں ع
سرایں جاسجدہ این جا بندگی ایں جا قرار ایں جا
() وقت رخصت مواجہہ انور میں حاضر ہوا ورحضور سے بار بار اس نعت کی عطا کا سوال کرو اور تمام آداب کہ کعبہ معظمہ سے رخصت میں گزرے ملحوظ رکھو اور سچے دل سے دعاکرو کہ الہی! ایمان وسنت پر مدینہ طیبہ میں مرنا اور بقیع پاك میں دفن ہونا نصیب ہو۔ اللھم ارزقنا امین امین یا ارحم الراحمین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین والحمد ﷲ رب العالمین۔
_____________________
#10258 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
از عالم اجل مولانا سید حسین بن صالح جمل اللیل فاطمی حسینی امام وخطیب شافعیہ مکہ مکرمہ رحمہ الله (متوفی ۱۳۹۱ھ)
____شرح وحاشیۃ____
از اعلیحضرت امام اہلسنت مولانا شاہ احمدر ضاخاں قادری بریلوی قدس سرہ العزیز

حج عمرہ اور زیارت سراپا طہارت کے آداب ومسائل

بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد ﷲ الذی حمدہ من بحار القدس جوھرۃ مضیۃ والصلوۃ والسلام علی من الصلوۃ علیہ فی سماء النور نیرۃ وضیۃ وعلی الہ صحبہ الذی السلام علیھم علی تلك
#10260 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
الا اﷲ وحدہ لاشریك لہ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم وعلی الہ وصحبہ الی یوم القیمۃ امین ! امابعد
فقیر عبد المصطفی احمد رضا غفرلہ واصلح عملہ نے زمانہ تالیف “ النیرۃ الوضیۃ شرح الجوھرۃ المضیۃ “ میں اس پر بعض منیہات'تقییدات لطیفہ پر مشتمل'بغرض اظہار مرام یا اتمام کلام یا از ہاق اوہام لکھے تھے۔ اب دیگر حواشی مفیدہ توضیح مسائل یا تخریج احادیث یا زیادت فوائد کو متضمن اور اضافہ کیے مقصود اس تعلیق مختصر مسمی بہالطرۃ الرضیۃ علی النیرۃ الوضیۃسے صرف برادر ان دینی کے لیے کم از کم پانسو ورق کی کتاب درکار۔ اسأل اﷲ ان ینفع بھما وبسائر تصانیفی المسلمین ویجعلھا جمیعا حجۃ لی لاعلی یوم الدین وصلی اﷲتعالی علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعین ۔ شرح میں کہ کمال اختصار منظور تھا خطبہ متن کا ترجمہ بھی نہ لکھا مگراس میں متن ناقص رہتا ہے لہذا یہاں تحریر ہوتا ہے۔
قال المصنف رحمہ اﷲتعالی بسم اﷲالرحمن الرحیم۔
م : حمدالمن انزل فرض الحج ودلنا علی سوی النھج
ت : سب خوبیاں اسے جس نے حج کا فرض اتارا اور ہمیں سب راہوں میں سیدھی راہ بتائی۔
م : ثم صلوۃ اﷲ والسلام علی نبی دینہ الاسلامت :
پھر خدا کے درودوسلام اس نبی پر جن کا دین اسلام ہے۔
م : محمد والہ الکرام و صحبہ الافاضل الاعلام
ت : یعنی محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کی کرم والی آل اور بڑی فضیلت وشہرت والے یاروں پر۔
م : وبعدذا یقول ذاالفقیر بجمال اللیل ھو الشہیر
ت : اس کے بعد کہتا ہے یہ فقیر کہ جمال اللیل کے لقب سے مشہور ہے۔
م : حسین نجل صالح اخی الہدی للشافعیۃ امام مقتدیت :
حسین پسر صالح کہ صاحب رہنمائی تھے شافعیہ کے امام پیشوا۔
م : ھذی اتت ارجوزۃ للناسك تنفع فی معرفۃ المناسکت :
یہ ایك رجز ہے حاجی کے لیے کہ نفع دے گی مسائل حج پہچاننے میں۔
ش : ناسك کے اصل معنی عابدوں قربانی کندہ یہاں حاجی مراد ہے کہ حج عمدہ عبادات سے ہے اور وجوبا یا استحباباقربانی پر مشتمل اور رجز ایك قسم نظم یا نثر مسجح کی ہے علی اختلاف العروضیین فیہ۔
م : سمیتھا الجورھۃ المضیۃ تضحی بھا نفس الفتی وضیۃ
#10261 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
ت : میں نے اس کا جوہرہ مضیہ نام رکھا مردان راہ علم کی جان اس سے روشنی پائے گی۔
م : مؤملامن ربی القبولا بہ انال الفوزوالمامولات :
اپنے رب سے قبول کی تمنا کرتا ہوا میں اسی سے پاؤں گا فلح ومراد۔
م : من عندہ التوفیق للصواب ونحواہ المرجع فی المابت :
اسی کے پاس ہے راستی کے سامان درست فرمانا اور اسی کی طرف ہے انتہا میں پلٹ جانا۔
م : مقدمۃ فی وجوب الخ
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمد اﷲالذی فرض الحجۃ واوضح المحججۃ عــــہ۱ والصلوۃ والسلام علی نبیہ الذی اقام الحجۃ فقوم اقواما معوجۃ عــــہ۲ وعلی الہ وصحبہ الذین اظہر وازقاق عــــہ ۳ الدین وفجۃ عــــہ ۴ حتی وقعت بالسموت من لجۃ عــــہ۵ مدائحھم رجۃ عــــہ۶ واشھدان لاالہ الااﷲ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ صلی اﷲتعالی علیہ وسلم ماتدلاطم الامواج فی لجۃ عــــہ۷ ۔
بعدحمد وصلوۃ کے واضح ہوکہ جب توفیق وعنایت الہی واعانت حضرت رسالت پناہی علیہ الصلوۃ والسلام الغیر المتناہی نے دستگیری فرمائی اور ۱۲۹۵ھ میں فقیر سراپا تقصیر عبد المصطفی احمد رضا حنفی قادری بر کاتی بریلوی غفرلہ ماجنی کو بہ ہمراہی رکاب سعادت انتساب حضرت افضل المحققین امثل المقدققین حامی السنۃ السنیۃ ماحی الفتن الدنیہ خدمت والدم قبلہ اعظم حضرت مولانا مولوی محمد نقی علی خاں صاحب قادری برکاتی مدظلہم العالی مدی تعاقب الایام واللیالی خلف حضرت قد وۃالعارفین زبدۃ الفاضلین حجۃ اﷲفی الارضین معجزہ من معجزات سید المرسلین علیہ الصلوۃ والتسلیم حضرت مولونا محمد رضا علی خاں صاحب قادری قدس شرہ العلی نعمت حاضری بلدہ معظمہ مکہ مکرمہ زادہا اﷲتعالی شرفا وتکریما ہاتھ آئی حسن اتفاق سے ایك روز جناب مولانا سیدی حسین بن صالح جمل اللیل علوی فاطمی قادری مکی امام وخطیب شافعیہ سے مقام ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم کے
عــــہ۱ : راہ راست۱۲) عــــہ۲ : من الاعو جاج کج واناراست۱۲)
عــــہ۳ : بالضم کوچہ وراہ تنگ) عــــہ۴ : بفتح راہ کشادہ وفراخ والمرادبھما ظواھرالدین ودقائقہ ۱۲)
عــــہ۵ : شوروغوغا وآواز ۱۲) عــــہ۶ : لرزہ۱۲)
عــــہ۷ : میان دریاوقعر دریا ودریائے ژرف والمراد احد الطرفین۱۲منہ غفرلہ)
#10263 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
قریب کہ فقیر رکعات طواف اوروہ جناب امامت نماز مغرب سے فارغ ہوئے تھے ملازمت حاصل ہوئی۔ سبحان اﷲ! عجب بزرگ خوش اوقات وبابرکات ہیں اکثر عرب وجاد ہ وداغستان وغیرہا بلاد نزدیك و دور کے ہزاروں آدمی ان کے بلکہ ان کے مریدوں کے مرید اور شرف بیعت و سلسلہ تلمذ سے مستفیض ہیں اول نماز میں حد عــــہ۱ سے زیادہ تلطف فرمایا فقیر کا ہاتھ اپنے دست مبارك میں لیے دولت خانہ تك کہ نزدیك باب صفا واقع ہے لے گئے اور تاقیام مکہ معظمہ حاضری کا تقاضا فرمایا فقیر حسب وعدہ حاضر ہوا مسائل حج میں ایك ارجوزہ اپنا مسمی بالجوہرۃ المضیۃ فقیر کو سنایا پھر فرمایا کہ اکثر اہل اس سے مستفیض نہیں ہوسکتے ایك تو زبان عربی ' دوسرے مذہب شافعی اور ہندی اکثر حنفی ہیں میں چاہتا ہوں تو اس کی بزبان اردو تشریح اور اس میں مذاہب حنفیہ کی توضیح کردے۔ فقیر نے باعث اجر جزیل اور ثواب جمیل سمجھ قبول کیا اگر چہ وہاں فرصت نہ تھی ' نہ کتابیں پاس۔ روز اول دو۲ بیت کے متعلق صرف تفصیل مسائل میں تین ورق طویل سے زائد لکھے گئے۔ جب بطور انموذج حاضر کیے جناب مولانا نے فرمایا : میرامقصود تطویل اور اس قدر تفصیل نہیں کہ عوام اس سے کم منتفع ومتمتع ہوتے ہیں صرف ہمارے کلام کا ترجمہ عــــہ۲ و خلاصہ مطلب اور جہاں حنفیہ کا اختلاف ہو ان کا بیان مذہب ہوجائے۔ فقیر نے امتثال امر لازم اوریہی امر فرصت حاصلہ کے ملائم دیکھ کر بتاریخ ہفتم ذی الحجہ روز جاں افروز دوشنبہ یہ مختصر جملے لکھ دئے اور ا لنیرۃ الوضیۃ فی شرح الجوھرۃ المضیۃ سے ملقب کئے اگر چہ بعض عــــہ۳ ضروریات پر بھی مشتمل نہیں مگر حسب استدعائے مصنف ہے اور بیان مذہب حنفیہ میں اختیار راجح اور ترك عــــہ۴ مرجوح کے ساتھ متصف۔ “ م “ سے مراد متن ہے اور “ ت “ ترجمہ “ ش “ شرح
عــــہ۱ : حالانکہ اس وقت کوئی تعارف نہ تھا وہ توفقیر کو کیا جانتے فقیر نے بھی اس سے پہلے انہیں نہ دیکھا تھا پھر جو کچھ کلمات انہوں نے فرمائے فقیر دنیا و آخرت میں ان کی برکات کی امید رکھتا ہے۱۲ منۃ غفرلہ)
عــــہ۲ : حسب الارشاد مصنف بیان شافعیہ میں صرف ترجمہ و شرح متن پر قناعت کی تنقیح وترجیح سے غرض نہ رکھی اگر چہ مکہ معظمہ میں اس کا عمدہ سامان مہیا تھا کتب شافعیہ بکثرت ملتیں مگر اس میں ایك تو دیر ہوتی دوسرے مقصود اصلی اس شرح سے ہندیوں کا نفع تھا ان کے اہل سنت عموما حنفی پھر مذہب شافعیہ کی تنقیح ہونی نہ ہونی ایك سی ۱۲منہ۔ )
عــــہ۳ : سفر حرمین طیبین سے معاودت کے بعد حضرت والد علام قدس سرہ نے جواہر البیان شریف تصنیف فرمائی فقیر نے اس کے بعض کلمات کا خلاصہ اس شرح کے آخر میں لکھ کر تکملہ کردیا جس کے باعث بحمد اﷲ اب یہ مختصر تحریر ضروریات پر مشتمل ہوگئی البتہ ایك جرمانہ کا بیان کہ دفتر چاہتا ہے اور محرم احتیاط رکھے تو اس کی حاجت بھی نہیں پڑتی متروك رہا جسے کسی امر کی ضرورت ہو علماء سے در یافت کرسکتا ہے ۱۲منہ
عــــہ۴ : مگر نادرا دو قول بھی بیان میں آئے جہاں دونوں جانب قوت قویہ تھی پھر جسے اس وقت اقوی سمجھا بیان میں مقدم رکھا ۱۲منہ ۔ )
#10265 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
“ م “ سے مراد متن ہے اور “ ت “ ترجمہ “ ش “ شرح “ ف “ فائدہ عــــہ۱ ۔ واﷲنسأل التوفیق منہ الوصول الی سواء الطریق (اور اﷲتعالی سے ہی ہم توفیق کا سوال کرتے ہیں اور اسی کے کرم سے صراط مستقیم تك رسائی ہے۔ ت)
م:مقدمۃ فی وجوب حجۃ الاسلام
ت : حج عــــہ۲ اسلام کے واجب ہونے میں۔
ش : یعنی حج کب واجب ہوتا ہے اور اس کے وجوب کے لئے کیا کیا شرطیں درکار ہیں۔
م : شروطھا التکلیف والاسلام والعقل والحریۃ والتمام
ت : شرطیں اس کے مکلف مسلمان عاقل ہونا اور پوری آزادی۔
ش : یعنی شرائط وجوب حج کہ جب وہ جمع ہوں حج فرض ہوجائے اور ان میں سے ایك بھی فوت ہوتو نہیں
پانچ ہیں :
۱اول : بلوغ : کہ بچے پر فرض نہیں کرے عــــہ۳ گا تو نفل ہوگا اور ثواب اسی کے لئے ہے۔ باپ عــــہ۴ وغیرہ مربی تعلیم وترتیب کا اجر پائیں گے۔ پھر بعد بلوغ شرطیں جمع ہوں گی اس پر حج فرض ہوجائے گا بچپن کا حج کفایت نہ کریگا۔
۲دوم : اسلام : کہ کافر پر ایمان لانے کے سوا کوئی عبادت فرض نہیں نہ اس کے ادا کیے ادا ہوسکیں جب مسلمان ہوگا تو سب احکام اس کی طرف متوجہ ہونگے۔
سوم ۳ : عقل کہ مجنون ومعتوہ پر فرض نہیں۔ معتوہ وہ جس کے ہوش وحواس درست نہ ہوں بہکی بہکی باتیں کرے رائے میں فساد ہو پھر اس عــــہ۵ کے ساتھ مارے گالیاں دے تو مجنون ہے۔
عــــہ۱ : “ ف “ وہاں آئی جہاں کوئی تازہ بات لکھی یا قول متن پر کچھ کلام کیا یا مذہب حنفیہ کا خلاف بتایا۱۲منہ)
عــــہ۲ : حج اسلام حج فرض کو کہتے ہیں یعنی پہلا حج کہ مکلف اداکرے ۱۲منہ )
عــــہ۳ : قید عقل خود مفاد عبارت ہے ظاہرہے کہ اس کا حج کرنا جبھی کہیں گے کہ اتنی سمجھ رکھتا ہواور بے سمجھ بچے کی عبادت کچھ معتبر نہیں نہ وہ فرض ہو نہ نفل واﷲتعالی اعلم ۱۲منہ )
عــــہ۴ : یعنی یہ جو عوام میں مشہور ہے کہ بچوں کی عبادت کا ثواب ماں باپ پاتے ہیں انہیں نہیں ہوتا غلط ہے بلکہ عبادت کا ثواب انہیں اور تعلیم کا انہیں ۱۲منہ۔ )
عــــہ۵ : ھذا احسن ماقیل فی الفرق بینھما شامی عن البحر ۱۲منہ (م)
دونوں میں فرق کی بابت اقوال میں سے یہ احسن ہے یہ شامی نے بحر سے نقل کیا ہے(ت)
#10266 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
چہارم۴ پوری آزادی : کہ مکاتب ومدبر وام ولد عــــہ۱ پر فرض نہیں جب تك کامل آزاد نہ ہوں ہاں کرلیں تو نفل ہوگا۔ پھر بعد آزادی کامل اجتماع شرائط ہو اتو حج فرض ادا کرنا پڑے گا۔
ف : مولی نے اپنے غلام سے کہا میں نے تجھے مال پر مکاتب کیا یا اتنا مال مقرر کیا کہ مال لادے تو آزاد ہو۔ اورغلام نے قبول کرلیا۔ اسے عقد کتابت کہتے ہیں اور اس غلام کو مکاتب۔ ا ور جو کہا تومیرے بعد آزاد ہے تویہ مدبر ہوا اور جو کنیز اپنے مولی کے نطفے عــــہ۲ سے بچہ عــــہ۳ جنے وہ ام ولد ہے ان سب کی غلامی میں ایك طرح کافرق آجاتا ہے پر حج فرض ہونے کو پوری حریت درکار ہے۔
ف : مکلف عاقل بالغ کو کہتے ہیں تو بعد ذکر تکلیف ذکر عقل کی حاجت نہ تھی پر جناب مصنف نے فرمایا میری مراد تکلیف سے صرف بلوغ ہے۔
ف : کافروں پر ایمان کے سوا اور عبادتیں فرض ہونے میں علماء کو اختلاف ہے۔ شافعیہ کے نزدیك فرض ہیں اور یہی مذہب علمائے عراقیین عہ۴ کا ہے اور یہی معتمد عہ۵ وراجح تر ہے فقیر کہتا ہے اس تقدیر پر اسلام کو
عــــہ۱ : یونہی معتق البعض ۲ ۱منہ)
عــــہ ۲ : اشارۃ الی انہ لایشترط تحبلھا بجماع المولی حق لو استدخلت منیہ فی فرجھا فحبلت وولدت صارت ام ولد کما فی الدر ۲ ۱منہ (م)
ام ولد بننے کے لیے مالك کے جماع سے حاملہ بننا شرط نہیں بلکہ کسی طرح مالك کی منی کو اپنی شرمگاہ میں ڈالنے سے حاملہ ہوجائے تو بھی ام ولد بن جائیگی جیسا کہ درمیں ہے ۲ ۱منہ )
عــــہ۳ : عندالله اسی قدر سے ام ولد ہوجاتی ہے کمافی الدر ہاں قضاء پہلی بار مولی کا اقرار بھی شرط ہے یعنی وہ کہے کہ یہ بچہ میرا ہے۔ جس کنیز کے لیے ایك دفعہ یہ اقرار کرلیا دوسرے بچے میں قضاء بھی یہ اقرار شرط نہ رہا البتہ نفی سے منتفی ہوجائے گا اگر زمانہ دراز تك ساقط نہ رہا ہو کہ فراش متوسط ہے قوی نہیں ۱۲ منہ)
عــــہ۴ : مشائخ سمرقند اصلا فرض نہیں مانتے ائمہ بخارا فرماتے ہیں ان پر فرائض کا اعتقادفرض ہے ادا فرض نہیں۔ منار میں اسی کو صحیح کہا ثمرہ اختلاف یہ ہے کہ سمرقندیوں کے نزدیك کافروں پر صرف ترك ایمان کے سبب عذاب ہوگا۔ بخاریوں کے نزدیك فرائض کے نہ ماننے پر بھی عراقیوں کے نزدیك ان کے بجا نہ لانے پر بھی ۱۲ منہ غفرلہ۔ )
عــــہ۵ : علامہ ابن نجیم ومحقق علائی نے فرمایا :
حوالہ / References درمختار باب الاستیلاد مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۲۸۷
#10268 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
شرط وجوب عــــہ۱ ٹھہرانے میں تامل ہے بلکہ شرط صحت عــــہ۲ ادا ہے۔ مگر یہ کہا جائے کہ وجوب سے مراد وہ وجوب ہے جس کے باعث دنیا میں مواخذہ ہوسکے کہ کفار پر ترك فرائض میں احتساب نہیں نترکھم ومایدینون فافھم(ان کے دین کے معاملہ میں ان سے تعرض نہ کرینگے۔ ت)واﷲ تعالی اعلم
م : ثم استطاعۃ السبیل شرطھا فلیك بالحفظ لھدی ضبطھا
ت : پھر راہ پر قدرت شرط حج ہے۔ پس چاہئے کہ انھیں حفظ کرکے خوب خیال میں رکھا جائے۔
ش : یعنی شرط پنجم استطاعت ہے کہ علاوہ مصارف ضروری کے اس قدر مال کا مالك ہو جو مکہ تك اپنی خواہ کرایہ کی سواری میں کھانے پہننے کا متوسط صرف کرتا جائے اور حج کرکے اسی طرح لوٹ آئے اور ضروری مصارف
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) وھو المعتمد لان ظاہر النصوص یشہد لھم وخلافہ تاویل۔ (م)
یہی معتمد علیہ ہے کیوں کہ نصوص کا ظاہر اسی پر گواہ ہے اور اس کا خلاف تاویل ہے۔ (ت)
قرآ ن مجید میں صاف ارشاد ہوا :
ما سلككم فی سقر(۴۲) قالوا لم نك من المصلین(۴۳) و لم نك نطعم المسكین(۴۴) و كنا نخوض مع الخآىضین(۴۵) و كنا نكذب بیوم الدین(۴۶) حتى اتىنا الیقین(۴۷) ۱۲ منہ (م)
تمھیں کس چیز نے جہنم میں پہنچایا انھوں نے کہا ہم نمازی نہ تھے اور مسکینوں کو کھانا نہ کھلاتے اور سازشیں کرنیوالوں کے ساتھ شریك ہوکر ہم بھی حصہ لیتے اور ہم یوم جزا کا انکار کرتے یہاں تك کہ موت آگئی ۱۲ منہ (ت)
عــــہ ۱ : کہ اس مذہب صحیح پر وجوب درکنار وجوب ادا ہے لہذا شرائط مرسوم یعنی صحت ادا کی طرف عدول کیا ۱۲ منہ
عــــہ ۲ : اقول : بل لك ان تقول لما لم یکن الکافرمن من اھل النیۃ والنیۃ شرط الصحۃ کان الاسلام مندرجا فیھا لاشرطا بحیالہ واﷲ تعالی اعلم ۱۲ منہ (م)
میں کہتاہوں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کافر جب نیت کرنے کا اہل نہیں جبکہ نیت صحت حج کے لیے شرط ہے تو یوں اسلام کا شرط ہونا پایا گیا علیحدہ شرط نہ سہی والله تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References کشف الاستار حاشیہ درمختارحاشیہ نمبر۴کتاب الحج مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۱۶۰
القرآن۷۴ / ۴۲ تا ۴۷
#10270 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
جیسے رہنے کا مکان پہننے کے کپڑے گھر کا اثاثہ اہل وعیال کا نفقہ قرضخواہوں کا قرض پیشہ ور کو آلات حرفہ۔ سوداگر کو اتنی پونجی جس سے اپنی اور اپنے بال بچوں کی کفایت کے لائق کما سکے طالب علم کے لیے ضروری عــــہ۱ دینی کتابیں اور جنھیں سواری ہتھیار کی حاجت ہو ان کے لیے یہ بھی۔
ف : یہ استطاعت حج کے مہینوں میں درکار ہے یعنی شوال ذیقعدہ ذی الحجہ اور جو دور کے ساکن ہیں کہ پہلے سے چلتے ہیں تو جب اس شہر کے لوگ جائیں ورنہ اس سے پہلے اگر استطاعت تھی اور یہ وقت نہ آنے پا یا کہ جاتی رہی تو حج فرض عــــہ۲ نہ ہوگا
ف : ہمارے امام کے نزدیك تندرستی شرط ہے یعنی بدن میں وہ آفت نہ ہو جو سفر سے معذور کردے جیسے اپاہج مفلوج اتنا بوڑھا کہ سواری پر نہ ٹھہر سکے مگر صاحبین فرماتے ہیں ان پر حج بدل کرانا فرض ہے۔
م: صفۃ الاحرام
ش : یعنی احرام کی کیفیت اور اس کے سنت وفرض کا بیان
م : تجود عن المخیط واجب لمحرم من غیر عذر لازب
ت : سلے کپڑے اتارنے واجب ہیں احرام والے پر اگر کوئی عذر لاحق نہ ہو عــــہ۳ ۔
ف : اگر کسی عذر کے سبب سلا کپڑا پہن لے گا تو گنہگار نہ ہوگا ہمارے نزدیك ۱۲ منہ ورنہ کفارہ تو ہر حال دینا لازم آئے گا۔
ت : یونہی احرام دو کپڑوں میں ہے بے سلے پاك ستھرے۔
ش : یعنی جب احرام چاہے سلے کپڑے عمامہ ٹوپی موزے اتارے چادر تہبند بے سلی اوڑھے باندھے۔
عــــہ۱ : منطق فلسفہ کی کتابیں اس میں داخل نہیں ۱۲ منہ)
عــــہ۲ : یعنی جس سال استطاعت ہوئی اسی سال وقت آنے سے پہلے جاتی رہی ورنہ اگر ایك سال وقت تك باقی تھی تو حج فرض ہوچکا اب ساقط نہ ہوگا اگر چہ دوسرے برس وقت سے پہلے استطاعت زائل ہوجائے ۱۲)
عــــہ۳ : اللازب اللازم ولایشترط لزوم العذر بل وجودہ حین ارتکاب المحظور فلذافسرہ باللاحق ۱۲ منہ (م)
لازب لازم کو کہتے ہیں جبکہ عذر کا لزوم نہیں بلکہ ممنوع کے ارتکاب کے وقت اس کا وجہ شرط ہے اسی لیے اس کی تفسیر میں لاحق کہاہے ۱۲ منہ (م)
#10271 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
ف : نئے سفید ہوں تو بہتر ورنہ دھلے اجلے اور ان میں رفویا پیوند بھی اچھا نہیں پر جائز ہے۔ ا ور ہمیانی یا تلوار کے پر تلے کا ڈر نہیں۔
م : ینوی اداء النسك بالجنان وفضلہ فی القول باللسان
ت : نیت کرے حج یا عمرہ کی دل سے اور زیادہ خوبی زبان سے کہنے میں ہے ۔
ش : یعنی جامع احرام پہن کر اب جوکچھ ادا کیا چاہتا ہے (حج خواہ عمرہ یادونوں ) اس کی نیت دل سے کرے اور زبان سے بھی الفاظ نیت کہنا بہتر ہے مثلا الہی میں حج کی نیت کرتا ہوں اسے میرے لئے اسان کر اور قبول فرما ۔
م : ملبیا جھرا من المیقات وذاکر اﷲ فی الحالات
ت : لبیك کہتا ہوا بآواز میقات سے اور خدا کی یاد کرتا ہوا مختلف حالوں میں۔
ش : میقات ان مقاموں کو کہتے ہیں جو شرع مطہر نے احرام کے لیے مقرر کیے ہیں کہ باہر عــــہ۱ سے مکہ معظمہ کا قصد کرنے والے کو بے احرام ان مقاموں سے آگے بڑھنا حرام ہے ہندیوں کو وہ جگہ سمندر میں آتی ہے جب کوہ یلملم کی یدھ میں پہنچتے ہیں۔
ف : رکن احرام کے صرف دو ہیں دل سے نیت اور اس کے ساتھ زبان سے وہ ذکر جس میں الله تعالی کی تعظیم ہو خواہ لبیك یا کچھ اور مثل سبحان الله یا الحمدلله یا الله اکبر یا اللھم اغفرلی عــــہ۲ وغیرہ ذلک جب یہ دونوں عــــہ۳ باتیں پائی گئیں احرام باندھ گیا اور جو کچھ محرم پر حرام تھا
عــــہ۱ : باہر سے مکہ مکرمہ کا قصد اس لیے کہا کہ اگر آفاتی یعنی باہر والا میقات کے اندر کسی مکان مثل جدہ یا خلیص کا قصد کرکے میقات میں داخل ہو جائے تو اب آفاتی نہ رہا میقاتی ہوگیا اسے وہاں سے مکہ معظمہ میں بے احرام جانا جائز ہے ۱۲ منہ)
عــــہ۲ : اشارۃ الی انہ لا یشترط کون الذکر خالصا کما فی تحریمۃ الصلوۃ بل یکفی مطلقا ولو مشوبا بالدعاء ھوالصحیح کما فی المسلك المتقسط ۱۲ منہ (م)۔
اس میں اشارہ ہے کہ خالص ذکر شرط نہیں ہے جیسا کہ نماز کے تحریمہ میں ہوتا ہے بلکہ دعائیہ کلمات بھی ملے ہوں تو صحیح ہے جیسا کہ مسلك متقسط میں ہے ۱۲ منہ )
عــــہ۳ : احرام کبھی تقلید وسوق بدنہ سے ہوتا ہے مگرا س کے بیان میں طول تھا اور ہندیوں میں اس کا رواج نہیں لہذا اسی پر اکتفاء کیا گیا ۱۲ منہ)
حوالہ / References مسلك متقسط مع ارشادی الساری باب ا لاحرام دارالکتاب العربی بیروت ص۷۰
#10273 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
حرام ہوگیا ۔ پر لبیك کہنا سنت عــــہ اور محرم کے لیے ہر ذکر سے بہتر ہے جہاں تك ہوسکے اس کی کثرت کرے۔ اس کے
عــــہ : وقع فی اللباب ان التلبیۃ مرۃ فرض وفی النھر والدر انھا مرۃ شرط قال القاری وھو عند الشروع لا غیر لکن التحقیق ان الفرض والشرط انما ھو مطلق الذکر لاخصوص التلبیۃ کما حققہ فی البحر قال وقول من قال انھا شرط مرادہ ذکر یقصد بہ التعظیم لاخصوصھا وتمامہ فی ردالمحتار اقول و قدنص فی اللباب قبیل ما مران کل ذکر یقصد بہ تعظیم اﷲ سبحانہ یقوم مقامہ التلبیۃ اھ وفیہ فی صدر باب الاحرام شرائط صحتہ الاسلام والنیۃ و الذکر اوتقلید البدنۃ اھ ثم عد من سننہ تعیین التلبیۃ قال القاری ھناك التلبیۃ اوما یقوم مقامھا من فرائض الاحرام عند اصحابنا اھ وفی الدر یصح الحج بمطلق النیۃ و لو بقلبہ
لباب میں مذکور ہے کہ تلبیہ ایك مرتبہ فرض ہے اور نہر اور در میں ہے کہ ایك بار شرط ہے۔ ملا علی قاری نے کہا کہ یہ صرف شروع میں ہے۔ لیکن تحقیق یہ ہے کہ فرض اور شرط تلبیہ نہیں بلکہ مطلقا ذکر ہے جیسا کہ بحر میں اس کی تحقیق ہے انھوں نے کہا کہ جس نے کہا تلبیہ شرط ہے اس کی مراد یہ ہے کہ تعظیم پر مشتمل ذکر نہ کہ خاص تلبیہ مکمل بحث ردالمحتار میں ہے اقول : لباب میں تصریح ہے کہ جو ذکر تعظیم پرمشتمل ہو وہ تلبیہ کے قائم مقام ہوتا ہے اھ اسی میں باب الاحرام کے شروع میں ہے کہ احرام کے صحیح ہونے کی شرط اسلام نیت ذکر اور بدنہ کے گلے میں قلادہ باندھنا ہے اھ پھر اس کی سنتوں میں تلبیہ کو ذکر کیا ملا علی قاری نے کہا کہ یہاں تلبیہ یا اس کے قائم مقام احرام کے فرائض ہیں ہمارے اصحاب کے ہاں اھ در میں ہے کہ حج مطلق خواہ صرف دل سے(باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References لباب المناسك مع ارشاد الساری فصل وشرط التلیبۃ الخ دارالکتاب العربی بیروت ص۷۰
درمختارفصل فی الاحرام مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۱۶۳
مسلك متقسط مع ارشادی الساری فصل وشرط التلبیۃ الخ دارالکتاب العربی بیروت ص۷۰
بحرالرائق باب الاحرام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۲ / ۳۲۲
لباب المناسك مع ارشاد الساری فصل وشرط التلبیۃ الخ دارالکتاب العربی بیروت ص۷۰
لباب المناسك مع ارشاد الساری فصل وشرط التلبیہ الخ دارالکتاب العربی بیروت ص ۶۲
مسلك متقسط مع ارشاد الساری باب الاحرام دارالکتاب العربی بیروت ص ۶۲
#10274 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
الفاظ مسنونہ یہ ہیں :
لبیك اللھم لبیك ط لبیك لا شریك لك لبیك ط ان الحمد والنعمۃ لك والملك عــــہ لا شریك لک
میں تیرے دربار میں حاضر ہو گیا الہی! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوگیا میں حاضر ہوگیا ہوں تیرا کوئی شریك نہیں میں حاضر ہوگیا ہوں بلا شبہ تعریف اور نعمت اور ملك تیرے ہی لیے ہے تیرا کوئی شریك نہیں۔ (ت)
صبح وشام کے وقت اور ہر نماز کے بعد اور بلندی پر چڑھتے۔ پستی میں اترتے دوسرے قافلہ سے ملتے ستاروں کے ڈوبتے نکلتے کھڑے ہوتے بیٹھتے چلتے ٹھہرتے غرض ہر حالت کے بدلنے زیادہ کثرت کرے۔
ف : احرام کا مسنون ومستحب طریقہ یہ ہے کہ غسل کرے بدن سے میل اتارے ناخن ترشوائے خط بنوائے موئے بغل و زیرناف دور کرے سرمنڈانے کی عادت ہو تو منڈائے ورنہ کنگھی کرے تیل ڈالے بدن میں خوشبو لگائے پھر جامہ احرام پہن کر دو رکعت نماز بہ نیت سنت احرام پڑھے۔ پھر وہیں قبلہ رو بیٹھا دل وزبان سے نیت
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لکن بشرط ومقارنتھا بذکر یقصد بہ التعظیم اھ فانکشف الغطاء والحمد ﷲ رب العلمین ۱۲ منہ (م)
عــــہ : قولہ الملك استحسن الوقف علیہ لئلا یتوھم ان مابعد خبرہ شرح اللباب ونقل بعضھم انہ مستحب عند الائمۃ الاربعۃ اھ ردالمحتار اقول ولم یجب لان المعنی الوہم ایضا صحیح فی نفسہ وان لم مرادا ۱۲ منہ (م)
ہو صحیح ہوجاتا ہے بشر طیکہ نیت کے ساتھ کوئی ایسا ذکر ہو جس سے تعظیم مقصود ہو اھ تو اس سے پردہ چھٹ گیا والحمد لله رب العلمین ۱۲منہ (ت)
لفظ “ الملک “ پر وقف بہتر ہے تاکہ مابعد کے خبر ہونے کا احتمال پیدا نہ ہو شرح لباب اور بعض نے نقل کیا ہے کہ یہاں وقف ائمہ اربعہ کے ہاں مستحب ہے اھ رد المحتار اقول یہ وقف واجب نہیں کیونکہ بعد کے ساتھ ملانے سے جس معنی کا وہم ہوسکتا ہے وہ بھی درست ہے اگرچہ وہ معنی یہاں مراد نہیں ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References درمختارفصل فی الاحرام مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۱۶۳
مسلك متقسط مع ارشاد الساری فصل ثم یصلی رکعتین دارالکتاب العربی بیروت ص۶۹
ردالمحتارفصل فی الاحرام مصطفی البابی مصر۲ / ۱۷۳
#10276 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
کرے باواز تین۳ بار لبیك کہے اسانی و قبول کی دعا مانگے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر درود بھیجے۔
م: محرمات الاحرام
ت : وہ باتیں جن کا احرام میں کرنا حرام ہے
م : لبس مخیط الثیاب حرما من غیر علۃ علی من احرما
ت : سلا کپڑا پہننا حرام ہے بے کسی بیماری کے احرام والے پر۔
ف : واضح ہوکہ جو باتیں احرام میں حرام ہیں وہ اگر کسی عذر سے کیں یا بھول کر ہوئیں تو گناہ نہیں پر ان کا جوجرمانہ مقرر ہے وہ ہر طرح دینا ہوگا اگر چہ بے قصد واقع ہوں یا سہو سے یا مجبوری کو یا کسی کے جبر سے یا سوتے میں یا کسی طرح اور سلا کپڑا حرام جب ہے کہ بطور معتاد استعمال میں آئے ورنہ جبہ یا کرتے کا تہ بند باندھا انگر کھا یا پاجامہ بدن پر ڈال کر سویا تو حرام نہیں اگر چہ چاہئے نہ تھا۔
م : ویحرم الطیب کمثل الاس و دھن شعر لحیۃ وراس
ت : اور حرام ہے خوشبو جیسے آس عــــہ۲ اور تیل لگانا داڑھی یا سر کے بالوں میں۔
ف : بدن یا کپڑوں عــــہ۳ میں خوشبولگانا حرام ہے اور سونگھنا مکروہ اور خوشبو کا تیل اور روغن زیتون
عــــہ۱ : مگر نہ حد سے زائد جس میں اذیت ہو اور عنقریب آتا ہے کہ عورت آہستہ کہے۔
ووقع فی المنسك المتوسط انہ یستحب ان یرفع بہا صوتہ الا ان یکون فی مصر اھ ولم ارہ لغیرہ ثم وجہہ القاری بخوف الریاء والسمعۃ اقول وفیہ نظر ظاھر ولذاقال القاری ان الاظھر ان یکون یتضرر فصحت علی بعض من حرر ۱۲ منہ (م)
عــــہ ۲ : بفارسی درخت موردنا مند بروزن دوست ۱۲
منسك متوسط میں ہے کہ آواز بلند کرنا مستحب ہے۔ مگر شہر میں مستحب نہیں اھ کسی او رجگہ یہ نہیں دیکھا پھر علامہ قاری نے اس کی وجہ بیان کرتے ہو ئے کہاشہر میں بلند کرنے میں ریا کا ری کا خوف ہے۔ میں کہتا ہوں اس میں غور کی ضرورت ہے۔ اسی لیے ملا علی قاری نے کہا کہ ظاہر یہ ہے کہ اس میں دوسروں کو ضرر ہے۔ تحریر کرنیوالے کو اشتباہ ہوگیاہے ۱۲ منہ (ت)
فارسی میں دوست کے وزن پر مورد ایك درخت کا نام ہے ۱۲ (ت)
عــــہ۳ : احرام سے پہلے جو خوشبولگائی وہ لگی رہی تو مضائقہ نہیں بعد احرام کے لگانا حرام ہے ۱۲ منہ)
حوالہ / References منسك متوسط مع ارشاد الساری فصل وشرط التلبیۃدارالکتاب العربی بیروت ص۷۱ و ۷۲
مسلك متقسط مع ارشاد الساری فصل وشرط التلبیۃدارالکتاب العربی بیروت ص۷۲
#10278 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
اور تل کا تیل عــــہ۱ اگر چہ خالص ہوں بالوں میں یابدن میں لگانا جائز نہیں اور گھی یا چربی جائز ہے۔
م : حلق شعر ثم قلم ظفر عقد النکاح ثم صیدالبر
ت : اور بال مونڈ نا ناخن کترنا عقد نکاح جنگلی شکار۔
ش : یعنی سر سے پاؤں تك کسی جگہ کے بال مونڈکر کترکر نورہ سے موچینہ سے آپ یا دوسرے کے ہاتھ سے دورکرنا اصلا جائز نہیں مگر جو بال آنکھ میں نکلے اور نکاح کرنا حنفیہ کے نزدیك اور دریا کا شکار عــــہ۲ بالاتفاق جائز ہے۔
ف : اس کے سوا منہ عــــہ۳ یا سر کو ڈھانکنا اگر چہ سوتے میں یا کسی سے ناحق لڑنا یا جماع کرنا یا شہوت سے بوسہ لینا عہ۴ یا مساس کرنا یا عورتوں کے آگے جماع کا تذکرہ لانا کسی کا سر مونڈنا اگر چہ اس کا احرام نہ ہو جنگلی شکار عہ۵ کے ہلاك میں کسی طرح شریك ہونا مثلا شکاری کو بتانا اشارہ کرنا بندوق یا بارود دینا ذبح کے لیے چھری دینا اس کے انڈے توڑنا پر اکھاڑنا پاؤں یا بازو توڑنا اس کا دودھ دوہنا اس کا گوشت یا
عــــہ۱ : ان دو تیلوں میں اگر چہ خوشبو نہیں ناجائز ہیں ان کے سوا اور بے خوشبو کے تیل جیسے روغن بادام وغیرہ درمختار سے ان کا جواز نکلتا ہے اور شرح لباب میں مطلقا ناجائز کہا والله تعالی اعلم ۱۲ منہ)
عــــہ۲ : یعنی جبکہ خاص کھانے یا دوا کی غرض سے ہو یا مذہب راجح پر بطور پیشہ وحرفت بھی ورنہ تفریحا شکار جیسا کہ آجکل عوام میں رائج دریا کا ہو یاجنگل کا احرام میں ہو یا غیر احرام میں ہر طرح حرام ہے کما فی الدر المختار وغیرہ(جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔ ت ۱۲ منہ)
عــــہ۳ : یعنی کل منہ یا بعض یہاں تك کہ تکیہ پر منہ رکھ کر اوندھے لیٹنا جائز نہیں ہاں چت یا کروٹ سے رواہے اگر چہ اس میں رخسارے یاسر کے ایك ٹکڑے کا ڈھانکنا ہوا کہ شرع میں خاص اس کی اجازت ہے اور اس میں مرد وزن کا ایك حکم ہے یہاں تك کہ اسے منہ چھپانے کے لیے روانہیں کہ پنکھا وغیرہ منہ پر رکھ لے بلکہ سر پر منہ سے الگ یوں رکھے کہ آڑ ہوجائے۔ ہاں سرکا ڈھانکنا عورت کو احرام میں بھی ضرور ہے ۱۲ منہ غفرلہ)
عــــہ ۴ : یعنی اپنی عورت یا کنیز شرعی کے ساتھ بھی یہ باتیں بشہوت ناروا ہیں پھر غیر کے ساتھ دو ہرا گناہ ایك تو فعل آپ ہی ناجائز دوسرے احرام کا محظور ۱۲ منہ)
عــــہ۵ : پالتو جانور جیسے اونٹ گائے بکری مرغی کے ذبح کرنے کھانے پکانے میں حرج نہیں ۱۲ منہ غفرلہ)
#10279 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
یا انڈے پکانا بیچنا خریدنا کھانا جوں کے ہلاك پر کسی طور باعث ہونا مثلا مارنا پھینکنا کسی کو اس کے مارنے کا اشارہ کرنا کپڑا اس کے مرجانے کے لیے دھونا یا دھوپ میں ڈالنا
وسمہ عــــہ۱ یا مہندی کا خضاب لگانا بال خطمی سے دھونا گوند وغیرہ سے جمانا سب ناجائز ہے۔ اسی طرح تمام چھوٹے بڑے گناہ کو ہمیشہ برے ہیں اور احرام میں بہت زیادہ برے۔
م : وحکم مرأۃ کذالکنما احرامھا فی وجھھا فلزم
ان لاتغطیہ وفی لباسھا المخیط تبقی وغطاء راسھا
ت : اور اسی طرح عورت کا حکم ہے لیکن اس کا احرام صرف چہرے میں ہے تو لازم ہو اکہ منہ چھپائے اور سلے کپڑوں میں رہے۔ سرڈھکے۔
ش : یعنی اوپر جو باتیں گزریں ان میں عورت مثل مرد کے ہے مگر اسے سلے کپڑے پہننا سرڈھکنا روا ہے صرف چہرے پر کپڑا نہ عــــہ۲ آنے دے۔
ف : پردہ نشین عورت کوئی پنکھا وغیرہ منہ سے بچاہوا سامنے رکھے اور عورتیں لبیك بآواز عــــہ۳ نہ کہیں
عــــہ۱ : مہندی دو وجہ سے حرام ہوئی : ایك تو خوشبو ہے دوسرے اس کے لگانے سے بال چھپ جاتے ہیں توسر یا منہ کا ڈھانکنا ہوا اور وسمہ اگر چہ خوشبو نہیں بال چھپائے گا پھر سیاہ خضاب ہمیشہ ناجائز ہے مگر جہاد میں تو محرم کو بدرجہ اولی ناجائز ہوا۔ حدیث میں ہے : دوسری حدیث میں ہے :
“ وہ جنت یك بو نہ سونگھیں گے ۔ “ ہاں اگر کوئی رقیق تیل بے خوشبو جس سے بال کالے نہ ہوں لگایا جائے تو وہ اس اختلاف قاری وعلائی پر ہوگا جو اوپر گزرا والله تعالی اعلم ۱۲ منہ)
عــــہ۲ : کپڑے سے مراد ہر چھپانے والی چیز ہے پنکھے کا مسئلہ اس پر دلیل ہے ۱۲ منہ)
عــــہ۳ : بآواز کے یہ معنی نہیں کہ چلا کر نہ ہو بلکہ یہ مراد ہے کہ آپ ہی سنے کسی اجنبی مرد کے کان تك نہ جائے کہ
حوالہ / References کنز العمال محظورات الخضاب حدیث۱۷۳۳۲موسسۃ الرسالہ بیروت۶ / ۶۷۱
#10281 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
م : والحج بالجماع بتا یفسد قضاؤہ فی قابل یؤکد
مالم یکن ذاجا ھلا اوناسیا فما علیہ ان یکون فادیا
ت : اور حج جماع سے بے شبہ فاسد ہوجاتا ہے قضا اس کی سال عــــہ۱ ائندہ میں ضروری ہوتی ہے جب تك یہ شخص ناواقف یا بھولا ہوا نہ ہو کہ اس پر فدیہ دینا لازم نہیں۔
م : ولا فدا لیع التی فداکرھت وطأ ولافساد فیما قدقضت
ش : خلاصہ یہ کہ اگر حج میں قبل تحلل اول عــــہ۲ کہ دسویں تاریخ منی میں ہوتا ہے یا عمرہ میں قبل اس سے فراغ کلی کے باختیار خود قصدا جماع کیا ا ور اس کی حرمت سے اگاہ بھی تھا تو وہ حج یا عمرہ فاسد ہوجائے گا اور اس پر فرض ہے کہ اسے پورا کرکے پھر اعادہ کرے اور جرمانہ میں بدنہ یعنی ایك اونٹ دے او رجو بعد اس کے کیا یا حرمت نہ جانتا تھا یا بھولے سے کر بیٹھا یا کسی کا جبر تھا تو مذہب اصح پر نہ حج وعمرہ فاسد ہو نہ فدیہ آئے۔
ف : یہ سب تفصیل مذہب شافعیہ کی تھی اور حنفیہ کے نزدیك اگر حج میں وقوف عرفہ سے پہلے جماع کیا تو حج فاسد اور اسے بدستور پورا کرکے ذبح شاۃ (بکری) واعادہ لازم او ر وقوف کے بعد کئے سے حج اصلا فاسد نہیں ہوتا پھر اگر حلق وطواف فرض سے بھی فارغ ہوکر کیا تو کچھ جرمانہ بھی نہیں اور ان دونون سے پہلے کیا تو بد نہ لازم آئیگا یعنی اونٹ یا گائے اور دونوں کے بیچ میں واقع ہوا یعنی طواف زیارت کے بعد
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)اس میں فتنہ ہے اور اپنا سننا ہر گز ذکر وقرأت وکلام میں ضرور ہے اس کے بغیر فقط زبان ہلانے کا کچھ اعتبار نہیں یہاں تك کہ نماز میں قرأت ایسی پڑھی کہ اپنے کان تك نہ آئے وہ قرأت نہ ٹھہرے گی اور اصح مذہب پر نماز نہ ہوگی بہت لوگ اس مسئلہ سے ناواقف ہیں ۲ ۱منہ )
عــــہ۱ : یعنی اس میں یہ نہیں کہ اب فاسد تو ہو گیا ہے جب چاہیں گے قضاء کر لیں گے بلکہ فورا سال آئندہ ہی قضاء کر لیں ۱۲ منہ غفرلہ )
عــــہ۲ : دسویں کو جو رمی جمار کرتے ہیں سب کچھ حلال ہوجاتا ہے مگر عورتیں یہ پہلا تحلل ہوا پھر جب طواف زیارت کیا عورتیں بھی حلال ہوگئیں یہ تحلل آخر وتحلل تام ہوا یہ مذہب امام شافعی کا ہے۔ ہمارے نزدیك پہلا تحلل حلق سے ہوتا ہے جب تك حلق نہ کیا کوئی چیز حلال نہیں اگر چہ رمی کرچکے ۱۲منہ
#10282 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
حلق سے پہلے یا بالعکس توبکری دینی آئے گی مگر بہت علماء صورت عکس عہ ۱میں بد نہ کہتے ہیں اور عمرہ میں چار طواف سے پہلے فساد ہے اور اتمام وزبح شاۃ واعادہ ضرور اور چار کے بعد صرف ذبح ہے فساد نہیں اور ان احکام میں برابر ہے قصدا یا بھولے سے باخیتار خود یا جبرسے دانستہ یا نادانستہ والله تعالی اعلم
م:ارکان الحج
ش : یعنی حج وعمرہ کے رکن
ف : رکن شے کا وہ ہے جس سے اس کے نفس ذات کا قوام ہو جیسے نماز کے لیے رکوع سجود قیام قعود اور شرط خارج موقوف علیہ کو کہتے ہیں یعنی حقیقت شی میں داخل نہ ہو پرا س کے بغیر شی موجود نہ ہو
عــــہ : یعنی جبکہ جماع حتی کے بعد طواف سے پہلے ہو
ففی الھدایۃ والکافی والمجمع واللباب والتنویر والدر وغیرھا ان فیہ شاۃ قال فی ردالمحتار ھو ما علیہ المتون ومشی فی المبسوط والبدائع والاسبیجابی علی وجوب البدنۃ وفی الفتح انہ الاوجہ لاطلاق ظاھر الروایۃ وناقشہ فی البحر والنھر اھ وکذا حکاہ فی اللباب وعلی الاول مشی القدوری وشراحہ وبالجملۃ فالموضع نزاع والاول ارفق وھذا احوط واﷲ تعالی اعلم ۲ ۱منہ (م)
تو ہدایہ کافی مجمع لباب تنویر اور در وغیرہ میں ہے کہ اس میں بکری لازم ہے۔ ردالمحتار میں کہا کہ ا س پر متون وارد ہیں۔ اور مبسوط بدائع الاستیجابی اس پر بد نہ کے وجوب کے قائل ہیں اور فتح میں ہے کہ یہی ظاہر الروایت کے اطلاق سے موافق ہے۔ اور بحرا ور نہر میں اس پر مناقشہ بیان کیا ہے اھ اور یوں ہی لباب میں حکایت کیا گیا ہے ا ور پہلے قول پر قدوری اور اس کے شارحین نے رجحان ظاہر کیا ہے غرضیکہ یہ مقام نزاع ہے پہلا قول آسان ہے اور دوسرا احتیاط پر مبنی ہے۔ والله تعالی اعلم۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References درمختارباب الجنایات مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۱۷۵
ردالمحتار باب الجنایات مصطفی البابی مصر۲ / ۲۳۰
#10285 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
جیسے نماز کے لیے وضو نیت استقبال تکبیر اور کسی عمل کے فرائض وہ ہیں جن کے ترك عــــہ۱ سے عمل باطل ہوجائے اور واجبات کے ترك سے باطل نہیں ہوتا اس میں خلل آتا ا ور ناقص ہوجاتا ہے جیسے نماز میں الحمد سورت التحیات وغیرہا۔
م : للحج ارکان تعد ستۃ لابد ان تحفظھن البتۃ
ت : حج عــــہ۲ کے چھ رکن ہیں ضرور ہے کہ تو انھیں یاد کرے جزما
عــــہ : یہ تعریف رکن وشرط دونوں کو شامل تو فرض ان سے عام ہے وفی المسلك المتقسط الفرائض اعم من الارکان والشرائط وغیرھما کا لاخلاص فی العبادۃ اقول یظھر لی ان ھذا فی الفرض فی نفسہ ومنہ الاخلاص فانہ فرض بحیالہ ولیس من فرائض الصلوۃ مثلا والا لبطلت بالریاء اما الفرض فی غیرہ فلا بدان یتوقف وجودہ علیہ بمعنی انہ لایصح الا بہ فان دخل فرکن وان کان خارجا موقوفا علیہ و ھذا ھو معنی الشرط نعم قدیوخذ فی الشرط تقدمہ وجودا والمعیۃ بقاء کشروط الصلوۃ واسطۃ کترتیب مالا یتکرر فی رکعۃ فافھم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
مسلك متقسط میں ہے کہ فرائض ارکان وشرائط وغیرہ سے عام ہیں جیسا کہ عبادت میں اخلاص اقول میرے ہاں ظاہر یہ ہے کہ یہ معاملہ نفس فرض کا ہے جس میں سے اخلاص بھی ہے کہ یہ مکمل فرض ہے حالانکہ یہ نماز کے فرائض میں سے نہیں ہے ورنہ نماز ریاکاری سے فاسد ہوجائے لیکن غیر میں کوئی فرض ہو تو اس کے لیے ضرور ی ہے کہ اس فرض پر اس غیر کا وجود موقوف ہو یعنی اس کے بغیر اس غیر کی صحت نہ ہوسکے تو اب یہ فرض اس غیر میں داخل ہو تو رکن کہلائے گا اور اگر خارج ہو کر موقوف علیہ بنے تو شرط ہوگا ہاں شرط میں کبھی وجود کے اعتبار سے مقدم ہونا اور بقاء کے اعتبار سے موقوف کے ساتھ رہنا بھی ملحوظ ہوتا ہے جیسا کہ نماز کی ان شرائط کی ترتیب جو ایك رکعت میں مکرر نہیں آتیں۔
عــــہ۲ : یہ چھ کہ مصنف نے ذکر فرمائے ان میں ہمارے نزدیك تو اکثر رکن نہیں اور بعض بطور شافعیہ بھی محل کلام فقیر نے ایضاح امام نووی میں کہ شافعیہ کے عمدہ مذہب واحد الشیخین میں مطالعہ کیاکہ انھوں نے ارکان حج صرف پانچ گنے ترتیب کو واجبات میں شمار کیا ولعل ھذہ روایۃ اخری فی مذھھم(ہوسکتا ہے کہ ان کے مذہب کی یہ دوسری روایت ہو۔ ت والله تعالی اعلم ۱۲منہ )
حوالہ / References مسلك متقسط مع ارشاد الساری باب فرائض الحج دارالکتاب العربی بیروت ص۴۵
یہ عبارت نہیں پڑھی گئی ۱۲
#10286 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
م : للحج ارکان تعد ستۃ لابد ان تحفظھن البتۃ
ت : حج کے چھ رکن ہیں ضرور ہے کہ تو انھیں یاد کرے جزما
م : فنیۃ الحج اول الصفۃ ثم الوقوف معھم بعرفۃ
ت : پس نیت حج کی ساری ترکیب میں پہلے ہے پھر حاجیوں کے ساتھ عرفہ کے دن وقوف کرنا۔
ش : اس وقوف کے لیے جس طرح دن مقرر ہے یعنی عرفہ عــــہ۱ کہ ذی الحجہ کی نویں تاریخ ہے یو نہی مکان بھی معین ہے یعنی عرفات کہ مکہ معظمہ سے پورب کو نوکوس ہے۔ تو مصنف کا فرمانا کہ حاجیوں کے ساتھ وقوف کرنا وہ اس سے تعیین مکان کی طرف اشارہ فرماتے ہیں جہاں حجاج ٹھہرتے ہیں وہاں ٹھہرنا ورنہ وقوف میں اوروں عــــہ۲ کے سا تھ ہونا ضرور نہیں۔
م : ثم طواف ثم سعی بالصفا والحلق والترتیب فیما وصفا
ت : پھر طواف زیارت پھر صفا مروہ میں دوڑتا اور سر منڈانا اور ان افعال میں ترتیب۔
ش : یعنی پہلے نیت پھر وقوف پھر طواف پھر سعی لیکن طواف وحلق میں ترتیب ضرور نہیں اور حلق سے مراد عام ہے سرمنڈانا یا بال کترانا ہاں منڈانا افضل ہے۔
ف : ہمارے نزدیك رکن حج کے صرف عــــہ۳ دو ہیں سب میں بڑارکن وقوف عرفہ اس کے بعد طواف زیارت باقی نیت شرط ہے اور فرائض میں ترتیب فرض اور سعی وحلق واجب۔
م : ھذہ کذا للعمرۃ الارکان سوی الوقوف ھکذا البیان
ت : یونہی یہ چیزیں عمرہ کی رکن ہیں سوا وقوف کے اسی طرح بیان چاہیے ۔
ف : ہمارے ہاں رکن عمرہ صرف طوف ہے او رنیت شرط اور سعی وحلق واجب۔
ف : یہ نیت کہ حج وعمرہ میں شرط مانی گئی اس کے دو معنی ہیں ایك تو شروع میں حج یا عمرہ کا عزم
عــــہ۱ : آگے شرح میں آتا ہے کہ وقوف کا وقت عرفہ کے دوپہر ڈھلے سے دسویں کی طلوع فجر تك ہے مگر یہ رات نویں تاریخ ہی کی رات گنی جاتی ہے علماء نے فرمایا راتیں ہمیشہ آنے والے دن کے تابع ہوتی ہیں مثلا جمعہ کی رات وہ ہے جس کی صبح کو جمعہ ہو پر ایام حج کی راتیں گزرے دنوں کی تابع ہیں مثلا شب عرفہ وہ رات ہے جو نویں تاریخ کے بعد آئے گی اور شب نحر دسویں کے بعد ۱۲ منہ
عــــہ۲ : دفع دخل مقدر ۱۲ منہ)
عــــہ۳ : ان کے سوا احرام میں بھی باآنکہ شرط ہے کئی مشابہتیں رکن کی ہیں کما بینہ فی ردالمحتار اقول ولی فی اکثر ھن کلام بینتہ علی ھامشہ ۱۲منہجیسا کہ ردالمحتار میں بیان کیا ہے میں کہتا ہوں کہ ان میں سے اکثر میں میری کلام ہے جو میں نے اس حاشیہ میں بیان کی ہے۔ ت)
#10287 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
یہ بعینہ احرا م ہے یعنی دل سے قصد اور اس کے ساتھ زبان سے ذکر خدا دوسرے طواف رکن میں نیت طواف کہ وہ فرض ہے اور بے نیت عــــہ۱ ادا نہیں ہوتا تو ا س کی نیت بھی شرط ٹھہری۔
حج کے فرض
ف : یہ فصل جناب مصنف نے نہ لکھی ہمارے نزدیك رکن کے سوا اور بھی فرض ہیں اور واجبات الگ لہذا اپنے طور پر بیان کرتے ہیں حج میں دس فرض ہیں : ۱احرام ۲وقوف ۳طواف کے چار عــــہ۲ پھیرے ۴ان میں طواف کی نیت ۵ وقوف کا عرفات میں ہونا ۶اپنے وقت میں ہونا کہ زوال عــــہ۳ عرفہ سے فجر نحر تك ہے۔ ۷طواف کا مسجد الحرام میں ہونا ۸اپنے وقت میں ہونا کہ فجر نحر سے آکر عمر تك ہے۔ ۹فرضوں میں ترتیب کہ پہلے احرام عــــہ۴ ہو پھر وقوف پھر طواف ۱۰ وقوف سے پہلے جماع عــــہ۵سے بچنا ان دس۱۰ میں سے ایك بھی رہ جائے تو حج نہ ہو والعیاذ باللہ۔
واجبات الحج
حج کے واجب
م : الرمی للجماد والاحرام کذا بمزدلفۃ المنام
ت : جمروں پر سنگریزے مارنا اور احرام ایسا ہی مزدلفہ میں سونا۔
عــــہ۱ : یہ اس لیے کہ دیا کہ وقوف عرفہ بھی فرض بلکہ رکن اعظم ہے پر وہ بے نیت بھی ادا ہوجاتا ہے توا س کی نیت شرط نہیں ہوسکتی ۱۲منہ۔ عــــہ۲ : ہر طواف میں سات پھیرے ہوتے ہیں یونہی اس طواف فرض میں بھی مگر ان سے فرض فقط چار ہیں انہی کے اعتبار سے اسے طواف فرض کہا جاتا ہے۔ باقی تین واجب ہیں نہ کیے تو دم دے گا حج ہوگیا۔ اور چار سے کم کیے تو حج ہی نہ ہوا ۱۲ منہ
عــــہ۳ : نویں تاریخ دوپہر ڈھلے سے دسویں پو پٹھے تك اس بیچ میں وقوف کا وقت ہے۔ اگر زوال عرفہ سے پہلے وقوف کرکے حدود عرفات سے باہر ہوگیا اور وقت میں اعادہ نہ کیا یا پہلے نہ کیا تھا صبح نحر چمکنے کے بعد کیا تو حج نہ ہوگا ۱۲منہ
عــــہ۴ : اس فرض کو تین فرض کہہ سکتے ہیں احرام کا وقوف سے پہلے ہونا ایك طواف پر تقدم دو وقوف کاطواف سے پیشتر ہونا تین ۱۲ منہ۔ عــــہ۵ : جماع سے بچنا ہمیشہ حج میں واجب ہے جب تك مطلقا طواف فرض سے فارغ نہ ہوجائے پر وقوف تك احتراز فرض ہے کہ ا س سے پہلے جماع موجب فساد ہوتا ہے پھر فساد نہیں کما مر ۱۲ منہ
#10289 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
ف : ہمارے نزدیك احرام فرض ہے کما سبق (جیسا کہ پیچھے گزرا۔ ت) ہاں ۱اس کامیقات عــــہ۱ سے ہونا واجب ہے۔
ش : منی ایك بستی ہے مکہ معظمہ سے عرفات کی طرف تین کوس وہاں تین جگہ ستون بنے ہیں انھیں جمارد جمرات کہتے ہیں اور ہر ایك جمرہ۔ دسویں تاریخ سے ان پر کنکریاں مارتے ہیں اورت منی سے تین کوس مزدلفہ ہے نویں شام کو عرفات سے پلٹ کر یہاں رات گزارتے ہیں دسویں کو منی آتے ہیں۔ شافعیہ کے نزدیك رات کا بڑا حصہ یہاں بسر کرناواجب ہے اسی لیے عــــہ۲ جناب مصنف سونا فرمایاورنہ حقیقۃ سونے کا حکم کچھ نہیں۔
ف : ہمارے نزدیك واجب صرف اس قدر ہے کہ ۲مغرب وعشاء یہیں پڑھے ۳صبح کو کچھ دیر وقوف کرے باقی رات کورہنا واجب نہیں سنت ہے۔
م : ثم المبیت بمنی للرمی ثم الطواف للوداع ینوی
ت : پھر رات کو ۴منی جمارکے لیے رہنا پھر ۵طواف رخصت کی نیت کرے
ف : منی میں دسویں گیارھویں بارھویں دن رمی جمار واجب ہے شب باشی ہمارے نزدیك سنت ہے اور طواف وداع کہ رخصت کے لیے کرتے ہیں آفاتی یعنی باہروالے پر واجب ہے مکی تو دس دن کا ساکن ہے نہ کہ رخصت ہونے والا۔
ف : یہاں تك ہمارے مذہب کے پانچ واجب گزرے اور ان کے سوا اور بہت ہیں مثلا صفا
عــــہ۱ : لوگ تین قسم ہیں ۱اہل حرم جو مکہ معظمہ یا اس کے گرد ان مقاموں میں رہتے ہیں جہاں تك شکار وغیرہ حرام ہے۔ ۲اہل حل جو حرم سے باہ رمواقیت کے اندر ہیں ۳اہل آفاق جو مواقیت سے بھی باہر ہیں آفاقیوں کے لےے حج و عمرہ دونوں کی میقات انھیں مواقیت کے جیسے ہندیوں کے لےے محاذات لمیلم اہل حل کی میقات حل ہے یعنی جب حج یا عمرہ کو جائیں حرم میں پہنچنے سے پہلے احرام باندھ لیں اور اہل حرم کے لےے میقات حج حرم سے یعنی مسجد الحرام شریف خواہ اپنے گھر ہی سے غرض حرم کی کسی جگہ سے احرام کریں اور عمرہ کے لےے حل یعنی حرم سے باہرجاکر عمرہ کا احرام باندھیں ۔ )
ف : مکی کے لیے احرام و عمرہ میں افضل تنعیم ہے کہ مدینہ طیبہ کی طرف تین کوس پر ہے یونہی جب حجاج حج سے فارغ ہوکر مکہ میں چند روز ٹھہریں وہیں سے عمرہ لائیں کہ نزدیك بھی ہے اور افضل بھی ۔ والله تعالی علم ۱۲منہ۔ عــــہ۲ : دفع دخل مقدر۔
#10290 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
مروہ میں سعی اور اس کا ایك طواف کامل عــــہ۱ کے بعد صفا سے شروع اور سات پھیرے اور ہر بار پوری مسافت قطع اور بشرط قدرت پیادہ ہونا دن میں عــــہ۲ وقوف عرفہ کرنے والے کو غروب شمس کے بعد تك اتنظار کرنا ا س کا امام عــــہ۳ کے ساتھ عرفات سے کوچ کرنا یعنی امام کے چلنے سے پہلے حدود عرفہ سے باہر نہ ہونا بشرطیکہ امام وقت عــــہ۴ پرکوچ کرے اور ہمراہی میں حرج نہ ہو جمرۃ العقبی کی رمی کہ دہم کو ہے حلق سے پہلے ہونا ہر دن کی رمی اسی دن ہوجانا حلق یا تقصیر اور ان کا ایام نحر میں خاص زمین میں ہونا طواف فرض کا بارھویں عــــہ۴ تك ہوجانا حجر اسود سے شروع ہونا ساتھ پھیرے حطیم سے باہر باوضو ستر عورت کے ساتھ بشرط قدرت پیادہ اپنی دہنی طر ف سے آغاز ہونا یعنی کعبہ معظمہ بائیں ہاتھ کو رکھنا قارن عــــہ۵ ومتمتع کا شکر کی قربانی حلق سے پہلے رمی کے بعد ایام نحر میں کرنا وغیر ذالک۔ والله تعالی اعلم۔
عــــہ۱ : طواف کامل یہ ہے کہ شرائط صحت کو جامع اور جنابت وحیض سے پاك ہو عام ازیں کہ فرض ہو جیسے طواف زیارت یاواجب جیسے طواف الوداع کما سیأتی(جیسا کہ آگے آئیگا۔ ت)یا سنت جیسے طواف القدوم یا نفل جیسے متمتع حج کی سعی طواف زیارت سے پہلے کرنی چاہئے تو ایك طواف نفل کرکے ادا کرے۔ اس کے سواکامل کے یہ معنی نہیں کہ ساتویں پھیروں کے بعد ہو بلکہ چار کے بعد ہونا کافی ہے۔ سعی صحیح اور واجب ادا ہوجائیگا اگر چہ سنت یونہی ہے کہ ساتویں پھیروں کے بعد کرے ہاں اگر چہ پھیروں سے پشتر کی توسعی ادا نہ ہوگی اور طواف کے بعد سے بعدیت متصلہ مراد نہیں اگر چہ مستحب فوراہوتا ہے مگر پہلے طواف ہولیا تو پھر جب کبھی سعی کریگا صحیح ہوگی ۱۲ منہ )
عــــہ۲ : یہ قید اس لیے لگادی کہ جونویں تاریخ وقت نہ کرسکا ہو ا ور دسویں شب کو کرے اس پر کچھ واجب نہیں ایك لمحہ کے لیے زمین عرفات میں گزر جانا کافی ہے کہ فرض اسی قدر ہے ۱۲ منہ)
عــــہ۳ : اس کا اس لیے کہا جور ات کو وقوف کرے اس پر امام کے ساتھ کوچ بھی واجب نہیں کہ امام تو اس کے آنے سے پہلے جاچکا ۱۲منہ)
عــــہ۴ : یعنی اگر امام نے ترك واجب کرکے غروب سے پہلے کو چ کردیا تو ساتھ نہ دیں یونہی اگر غروب کے بعد اس نے دیر کی یہ روانہ ہوجائیں ۱۲ منہ)
عــــہ۵ : یعنی اس کے چار پھیرے جو فرض ہیں بارھویں تك ہو گئے تو واجب ادا ہولیا اگر چہ باقی تین پھر کبھی ہوں ہاں سنت یونہی ہے کہ پورا طواف انہی دنوں میں ہولے بلکہ ساتوں پھیرے ایك ساتھ ہو ۱۲ منہ )
عــــہ۶ : مفرد کو یہ قربانی مستحب ہے ۱۲ منہ غفرلہ)
#10291 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
م : بعض سنن الحج
ت : حج کی بعض سنتیں
م : قد سن للمرء الطواف ان قدم والحجر الاسود فیہ یستلم
ت : باہر سے آنے والے کو ایك طواف سنت ہے طواف میں سنگ اسود کا بوسہ لے
ش : یہ پہلا طواف ہے جو مفرد حاضر عــــہ۱ ہوتے ہی کرتا ہے اور قارن عمرہ کے بعد اسے طواف قدوم کہتے ہیں گویا حاضری دربارا عظم کا مجرا۔
ف : یہ طواف متمتع عــــہ۲ کے لیے نہیں نہ اہل مکہ کو کہ وہ ہر وقت حاضر بارگاہ میں اورسنگ اسود کا بوسہ نہ اسی طواف بلکہ ہر طواف میں سنت ہے طواف اسی سے شروع اور اسی پر ختم ہوتا ہے۔
م : والا ضطباع ثم رمل قداتی ورکعتان للطواف یافنیت :
سنتوں کے شمار میں اضطباع پھر رمل آیا اور وہ رکعتیں طواف کی اے جوان!
ش : اضطباع یہ کہ چادر دہنے بغل کے نیچے سے نکال کر یہ آنچل بائیں شانے پر ڈالےلے جس میں دہنا کندھا کھلا رہے۔ اور رمل یہ کہ طواف میں جلد جلد چھوٹے قدم رکھتا شانوں کو جنبش دیتا چلے۔
ف : یہ دونوں سنتیں خاص مردوں کے لیے ہیں وہ بھی صرف اس طواف میں جس کے بعد صفا مروہ میں سعی ہوتی ہے یعنی طواف عمرہ اور حج میں طواف قدوم کہ اکثر بخیال عــــہ۳ زحمت وکمی فرصت اسی کے بعدسعی کرلتے ہیں ہاں جس سے رہ گئی وہ طواف زیارت عــــہ۴ کے بعد کرے گا تو اس طواف میں رمل کرے مگر
عــــہ۱ : مفرد قارن متمتع کے معنی عنقریب تکملہ میں آتے ہیں ان شاء الله تعالی۱۲ منہ)
عــــہ۲ : اس لیے کہ وہ آتے وقت عمرہ لایا اور عمرہ میں طواف قدوم نہیں۔ جب عمرہ کرلیا مکی ہوگیا اور مکی کو یہ طوا ف نہیں ۱۲ منہ)
عــــہ۳ : اگے آتاہے کہ مفرد کو طواف زیارت کے بعد کی افضل ہے پر اس دن بہت ہجوم ہوتا ہے اور کئی کام اس لیے طواف قدوم پرکرلیتے ہیں اور قارن کے لیے افضل ہی یہ ہے ۱۲ منہ)
عــــہ۴ : جس نے طواف زیارت کے بعد بھی سعی نہ کی وہ طواف الوداع کے بعد کرلے کہ سعی کا کوئی وقت معین نہیں ہے اور اب اس طواف میں رمل بھی بجالائے۔
لا ن الرمل بعد طواف یعقبہ سعی افادہ
کیونکہ رمل ایسے طواف کے بعد ہوتاہے جس کے بعد
(باقی برصفحہ ائندہ )
#10293 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
اضطباع ساقط ہوگیا۔
ف : اضطباع طواف میں ہوتا ہے اور رمل صرف اگلے تین پھیروں عــــہ میں باقی چار میں اپنی چال اور ہجوم کے سبب رمل میں اپنی یا اور کی ایذا ہوتو رك رہے۔ جب غول نکل جائے پھر رمل کرتاچلے۔
ف : ہر طواف کے بعد دو رکعتیں ہمارے نزدیك سنت نہیں بلکہ واجب ہیں۔
م : و رکعتا الاحرام ثم الغسل لہ وفی جھر الملبی فضل
ت : او را حرام کی دورکعتیں پھر اس کے لیے نہانا اور لبیك کے بآواز کہنے میں فضیلت ہے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
العلامۃ الخیر الرمل قال ولم ارہ صریحا و ان علم فی اطلاقھم اھ رد المحتار
اقول : لا کلام فی جوازہ قد صرحوا ان لاتوقیت و انما الکلافی انہ یومر بایقاع السعی بعد طواف الصدور ولوند باولعل الوجہ فیہ ان یقع سعیہ متصلا بالطواف کما ھوا لمستحب لکن یعارضہ مستحب اخر وھوان لایکون بین طوافہ للصدر ونفرہ من مکہ حائل کما نصوا علیہ وقد اوجب ذالك الامام الشافعی ویوافقہ روایۃ عن ابی یوسف والحسن بن زیاد رحمھم اﷲ تعالی فتا کدالاستحباب خروجا عن الخلاف فافھم واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم ۱۲ منہ
سعی ہو اس کا افادہ علامہ خیر الدین رملی نے کیا اور فرمایا اور میں نے صراحۃ یہ دیکھا کہ نہیں اگر چہ فقہاء کے اطلاقات سے معلوم ہوسکتا ہے اھ ردالمحتار اقول : اس کے جوا ز میں کوئی کلام نہیں ہے جبکہ وہ تصریح کرچکے ہیں کہ اس میں وقت مقرر نہیں۔ اس میں ضرور کلام ہے کہ کیا طواف وداع کے بعد سعی کا استحبابا بھی حکم ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وجہ یہ ہو کہ طواف کے بعد متصل سعی ہوجائے تو مستحب ہے لیکن یہاں ایك دوسرا مستحب اڑے آرہاہے وہ یہ کہ طواف وداع اور کوچ کرنے میں کوئی چیز درمیان میں حائل نہ ہو جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے جبکہ امام شافعی اس کو واجب قرار دیتے ہیں اور اس کی موافقت ابو یوسف اور حسن بن زیاد کی روایت بھی کرتی ہے تو فورا بعد میں روانہ ہونے کا استحباب واضح ہوگیا اس کو سمجھو والله سبحانہ وتعالی اعلم۱۲منہ(ت)
عــــہ : یہاں تك کہ اگر اول پھیروں میں بھول گیا تو بھی ان چار میں اور اگر پہلے پھیرے میں یاد نہ رہا تو دو ہی میں کرے اور دو میں بھولا تو ایك ہی میں ۱۲ منہ
حوالہ / References ردالمحتارمطلب فی طواف الزیارۃمصطفٰے البابی مصر۲ / ۱۹۸
#10294 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
ش : یہ مسائل ہم اوپر لکھ چکے اور یہ بھی کہ عورت لبیك آہستہ کہے۔ غسل نماز احرام کلام مصنف میں ذکرا مؤخر ہے وقوعا مقدم۔
م : وفی منی المبیت لیل عرفۃ من سنۃ فافھم اخی بمعرفۃ
ت : اور منی میں نویں رات شب باشی سنت ہے پس اے برادر! اسے پہچان کر سمجھ لے۔
م : والجمع بین اللیل والنھار بعرفات جاء فی الاثار
ت : اور عرفات میں شب وروز کا جمع کرنا حدیثوں میں آیا ہے۔
ش : یعنی نویں تاریخ جو وقت سے عرفات میں وقوف کرتے ہیں اسے دن میں ختم کریں بلکہ اتنا ٹھہریں کہ سورج وہیں ڈوبے اور ایك لطیف عــــہ۱ حصہ رات کا آجائے۔ اس کے بعد مزدلفہ چلیں۔
ف : وقوف فرض توا س قدر ہے کہ عرفہ کی دوپہرڈھلے سے دسویں شب کی صبح صادق تك عرفات میں ہونا پایا جائے اگر چہ ایك عــــہ۲ لمحہ ۔ پھر جو رات کو وقوف کرے اگر چہ مکروہ ہے اسے کچھ دیر لگانا ضرور نہیں اور جو دن کو بعدزوال وقوف کرے کہ سنت یہی ہے اس پر ہمارے نزدیك امور مزکورہ یعنی غروب شمس تك ٹھہرنا اور جز وقلیل شب کا لےلینا واجب ہیں مگر بعد غروب دیر نہ کرے کہ مکروہ ہے۔
م : سن الوقوف جانب الصخرات والمشعر عــــہ۳ الحرام حین یاتی
ت : سنت ہے ٹھہرنا پتھروں کی طرف اور مشعر حرام میں جب آئے۔
ش : عرفات میں سب سے اونچا میدان سیاہ چٹانوں کے پاس جس میں قبلہ رو کھڑے ہو تو جبل الرحمۃ دہنے ہاتھ
عــــہ۱ : اس سے یہ مراد کہ آفتاب کا غروب یقینی ہوجائے اس کے بعد ہی فورا کو چ کردیں کہ پھر توقف مکروہ ہے اور ظاہر کہ بعد غروب ایك آن بھی گزریہ تو رات کاایك لطیف حصہ آگیا ۱۲ منہ)
عــــہ۲ : اگر چہ بلا قصد اگر چہ سوتا ہوا اگر چہ بیہوش اگر چہ بالا کراہ اگر چہ بحالت حدث حیض یا نفاس یا حنابت اگر چہ جانتا بھی نہ ہو کہ یہ مقام عرفات ہے فرض ہر طرح ادا ہوجائے گا ۱۲ منہ)
عــــہ ۳ : قلت : فی ضبط اعرابہ شعرایوافقہ زنۃ وقافیۃ
انصبہ مفعولا لفعل یاتی
او جرہ عطفا علی الصخرات
۲ ۱ منہ غفرلہ۔ میں نے المشعر الحرام کے اعراب کو ضبط کرنے میں شعر کہا ہے جو وزن اور قافیہ میں اس شعر کے موافق ہے :
اسے “ یأتی “ فعل کے مفعول ہونے کی بنا پر نصب دے یا “ الصخرات “ پر عطف ہونے کی بنا پر جر دے۔ ۱۲ منہ (ت)
#10296 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
کو رہتا ہے۔ اسے حضو رپر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مکان وقوف گمان کیا جاتاہے بہت افضل ہے کہ کسی کی ایذا نہ ہو تو وہاں وقوف کرے۔
ف : یہ تو مستحب ہے اور مشعرالحرام کو مزدلفہ میں ایك خاص مقام کا نام ہے بالخصوص وہاں وقوف مسنون ورنہ مزدلفہ کا وقوف ہم اوپر لکھ چکے ہیں کہ ہمارے نزدیك واجب ہے۔
م : اخذ الحصاریا صاح من مزدلفۃ من سنۃ وغسلھا ان اردفہ
ت : مزدلفہ سے کنکریاں لینا اے رفیق میرے! سنت ہے اور ان کا دھولینا اگر اس کے بعد کرے۔
ش : دسویں کی صبح کو مزدلفہ سے منی جاتے ہیں تو آج وہاں ایك جمرہ پر کنکریاں ماریں گے اس کے لیے مستحب ہے کہ سات عــــہ۱ سنگریزے یہاں سے اٹھالے۔ ا وردھونا تو ہرطرح مستحب ہے کہیں عــــہ۲ سے اٹھائے۔
عــــہ۱ : اور وہ جو بعض لوگ باقی دنوں کی رمی جمرات ثلاثہ کو بھی سنگریزے یہیں سے لیتے ہیں مباح ہے نہ کہ کچھ مندوب نہ کچھ معیوب ۱۲ منہ)
عــــہ۲ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سنگریزے ہر جگہ سے لینے جائز ہیں ہاں جمرات کے پاس سے نہ اٹھائے کہ وہ پھینکی ہوئی کنکریاں ہوتی ہیں اور حدیث میں ہے : “ جس کی قبول ہوتی ہیں فرشتے اٹھالے جاتے ہیں ورنہ تمھیں پہاڑ نظر آتھے “ اس سے معلوم ہو اکہ جو پڑی رہ جاتی ہے ہو معاذ الله مردود ہوتی ہیں توا نھیں اپنے حج میں کیوں استعمال کیجیو غور کرو تویہ بھی ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا کھلا معجزہ ہے۔ اسلام میں حج ہوتے تیرہ سو برس کے قریب گزرے۔ ہرسال لاکھوں بندگان خدا ہوتے ہیں ایك روایت میں چھ لاکھ ایك روایت میں آٹھ لاکھ حضرت حسن بصری کے اثر میں پندرہ لاکھ ان سے کم ہوتے نہیں تو فرشتے عدد پورا کرتے ہیں اور قاعدہ ہے کہ ایسی جگہ عدد زائد ماخوذ ہوتاہے کہ کم اس کا منافی نہیں۔ فقیر جس سال حاضر ہوا یعنی ۱۲۹۵ ھ حاجیوں کی مرد م شماری اٹھارہ لاکھ سنی گئی پھر ہر شخص ۴۹ یا ۷۰ کنکریاں مارتا ہے ۴۹ ہی رکھئے تو پندرہ لاکھ میں ضرب دینے سے سات کروڑ پینتیس لاکھ (۷۳۵۰۰۰۰۰) کنکریاں جمع ہوئیں جمع کیجئے تو ہر سال پہاڑ بنتا ہے پھر جب دیکھئے تو جمرے خالی ہوتے ہیں منی میں کچھ گنتی کنکریاں نظر آتی ہیں یہ خدا کی شان ہے اور حقیقت اسلام کی صریح برہانو الحمد الله تعالی رب العلمین ۔ )
ف : یو نہی مسجد کی کنکریاں نہ لے کہ بے ادبی اور اسی کی چیز کا اپنے تصرف میں لانا ہے اسی طر ح ناپاك کنکری بھی نہ لینی چاہئے کہ ان پر خدا کا نام لیا جاتا ہے والله تعالی اعلم ۱۲ منہ)
حوالہ / References کنز العمال حدیث۱۲۱۴۱ ، ۵ / ۸۱ والترغیب وا لترھیب ، الترغیب فی رمی الجمار الخ۲ / ۲۰۸
#10297 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
م : وفی منی لاتترکن الاضحیۃ کذاصلوۃ العید مع الحسن النیۃ
ت : اور منی میں عید کی قربانی نہ چھوڑ یو نہی عید کی نماز نیك نیت ہے۔
ف : ہمارے نزدیك نماز عید وقربانی دونوں مقیم مالدار پر واجب ہیں اور شافعیہ سنت کہتے ہیں لہذا مصنف علام نے اپنے مذہب کے موافق انھیں سنن میں گنا مگر یہاں واجب التنبیہ یہ بات ہے کہ ہمارے علماء ذخیرہ ومحیط وغیرہما میں تصریح فرماتے ہیں کہ منی میں نماز عید اصلا نہیں کہ وہاں لوگوں کو امور حج سے فرصت نہیں ہوتی۔ علامہ ابراہیم حلبی نے فرمایا : ہاں بالاتفاق نماز عید نہ پڑھے۔ علامہ علی قاری نے فرمایا : اس پر تمام علمائے امت کا اجماع ہے کذا فی ردالمحتار فافھم واﷲ تعالی اعلم(جیسا کہ ردالمحتار میں ہے لہذا غور کیجئے۔ والله تعالی اعلم۔ ت)
وہی قربانی وہ مذہب راجح میں مقیم پرواجب ہے جیسے اہل مکہ ومنی اگر چہ احرام میں ہوں اور مسافر سے تو اس کا مطالبہ ہی نہیں۔
م : وسنۃ فی فعلھا الثواب لیس علی تارکھا العقاب
ت : اور سنت کے کرنے میں ثواب ہے چھوڑنے میں عذاب نہیں۔
ف : مگر سنن موکدہ کے ترك میں سخت ملامت ہوگی اور عیاذ بالله شفاعت سے محرومی بھی وارد۔ بلکہ محققین فرماتے ہیں ان کے ترك میں تھوڑا ساگناہ عــــہ۱بھی ہے اگر چہ نہ ترك واجب کے برابر ۔ ا نہی وجوہ سے سنت کو مستحب سے امتیازہے ورنہ جتنی بات متن میں گزری مستحب کو بھی شامل۔
م : وانما یؤاخذ المرء علی اھمال فرض قد اتی مفصلا
ت : یوں ہی ہے کہ آدمی پر مواخذہ فرض چھوڑنے میں ہے جو بتفصیل وارد ہوا۔
ش : یعنی جس کے ثبوت میں کوئی جمال واشکا ل نہیں توصف عــــہ۲ کا شفہ ہے کہ فرض سب ایسے ہوتے ہیں اور بقرینہ سباق ظاہر کہ مواخذہ سے مراد عذاب ہے ورنہ ملامت کہ ترك سنن پر ہوگی خود گرفت وموخذا ہے۔
عــــہ۱ : من اراد تحقیق ذلك فعلیہ بالبحرا لرائق وردالمحتار وغیرھما من الاسفار ۱۲ منہ (م) عــــہ۲ : یمکن ان یراد بہ مااتی ای سبق بیانہ مفصلا فعلی ھذایکون اشارۃ الی فروض الحج المارۃ فی الواجبات علی مذھب المصنف لکن الذی یعطیہ سوق الکلام ان المقصود بیان حکم السنۃ والفرض مطلقا فلذا مطلقا فلذا فسرناہ بما فسرنا ۲ ۱منہ (م)
جو اس کی تحقیق چاہتا ہے اسے چاہئے کہ وہ بحرالرائق و ردالمحتار وغیرہ کتب کو دیکھے ۱۲ منہ (ت) ممکن ہے اس سے مراد و ہ ہو جو مفصلا گزراہے اس بناء پر حج کے ان فرائض کی طرف اشارہ ہوگا جو مصنف کے مذہب کے مطابق واجبات میں گزرا لیکن سوق کلام جو مستفاد ہورہا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں مطلق سنت اور فرض سےکا حکم بیان کرنا مقصود ہے اسی لیے ہم نے مذکورہ تفسیر کی ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References ردالمحتارکتاب الحج مطلب فی حکم صلٰوۃ العید والجمعۃ فی منٰی مصطفٰے البابی مصر۲ / ۲۰۰
#10299 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
ف : شافعیہ واجب وفرض میں فرق نہیں کرتے۔ ہمارے نزدیك وہ دو چیزیں جدا جدا ہیں اور دونوں کے ترك پر استحقاق عذاب اگر چہ واجب میں کم فرض میں زیادہ۔ والعیاذباللہ۔
م : ذی جملۃ من السنن الشھیرۃ اجل من شمس لدی الظھیرۃ
ت : یہ چند مشہور سنتیں ہیں مہر نیمروز سے جلالت میں افزوں۔
ف : ان کے سواء آٹھویں تاریخ مکہ معظمہ سے منی نویں کو بعد طلوع شمس منی سے عرفات جانا وہاں نہانا مزدلفہ میں رات بسر کرنا دسویں کو وہاں سے قبل طلوع شمس منی کو جانا۔ وہاں ایام رمی جمار میں راتوں کو رہنا مکہ معظمہ کو یہاں سے جاتے وادی محصب عــــہ۱ میں اترنا وغیر ذلك کہ یہ سب سنن موکدہ ہیں۔ والله تعالی اعلم۔
م: الفدیۃ
ت : جرمانہ کا بیان
م : مایفسد الحج ففیہ بدنۃ وفی سواہ ذبح شاۃ حسنۃ
ت : حج فاسد ہوجاتا ہے جماع سے بشرائط مذکورہ اور ہم نے حنفیہ کا اختلاف بہ تفصیل بیان کردیا بدنہ ان کے یہاں صرف اونٹ کو کہتے ہیں ہمارے عــــہ۲ یہاں گائے کو بھی شامل عمدہ بکری یہ کہ ان عیبوں سے پاك ہو جو اضحیہ میں ناجائز ہیں اور فقہ میں بہ تفصیل مذکور۔
ف : یہ دونوں قاعدے کہ جناب مصنف نے ذکر کیے ہمارے مذہب کے مطابق نہیں جماع قبل الوقوف سے ہمارے نزدیك حج فاسد اور بدنہ لازم نہیں اور بعد الوقوف قبل الحلق والطواف سے بدنہ لازم۔ حج
عــــہ۱ : یہ وادی مکہ معظمہ کی آبادی سے ملی ہوئی ہے۔ مقبرہ مکہ مکرمہ یعنی جنت المعلی کے متصل دو کو چے ہیں ان کے مقابل منی کو جاتے ہوئے بائیں ہاتھ پر بطن وادی سے اوپر کچھ پہاڑیاں ہیں ان کوہچیوں اور پہاڑیوں کے درمیان جتنی وادی رہی وہ وادی محصب ہے جب منی سے رمی جمار کرکے مکہ معظمہ جائیں یہاں ٹھہرنا ضرور اور بلا عذر اس کا ترك برا افضل طریقہ اس کا تکملہ میں آئے گا اور زیادہ نہ ہوسکے تو اسی قدر کا فی کہ سواری روك کر کچھ دیر دعاء کرلیں ۱۲ منہ)
عــــہ۲ : تو جہاں بد نہ لازم آئے گاان کے نزدیك خاص اونٹ واجب ہوگا ہمارے نزدیك گائے بھی کفایت کر جائے گی کما نص علیہ فی الفتح (جیسا کہ فتح القدیر میں اس پر وضاحت کی گئی ہے۔ ت)۱۲ منہ۔ )
#10301 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
فاسد نہیں۔
م : فی کل شعرۃ من الطعام مد ویفدی الغیر بالصیام
ت : ہر بال میں اناج سے چہارم عــــہ صاع ہے اور ماورا کا جرمانہ روزے۔
ف : بال وغیرہ کے جرمانہ میں ہمارے یہاں بہت تفصیل ہے جس کا بیان موجب تطویل ہے وقت حاجت علماء سے دریافت کرلیں۔
م : وما عدا ھذی التی قد ذکرت احکامھا فیما سواھا سطرت
ت : ان مذکورات کے سوا اور چیزوں کے احکام اس رسالہ کے ماورا میں مسطور ہیں۔
م : وانما ذی جملۃ لیسھلا لمن اتی لحفظہ مؤملا
ت : اوریہ تو چند باتیں تاکہ آسانی ہو اس کے لیے جو اسے یاد کرنے کی امید میں آئے۔ والله تعالی اعلم
م:الزیادۃ
ت : زیارت سراپا طہارت سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا بیان
م : واقصداذا حججت للزیارۃ لقبر طہ فلك البشارۃ
ت : اور جب حج کر چکے تو زیارت قبر طہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا قصد کرکہ تیرے لیے خوشخبری ہے۔
ف : علماء مختلف ہیں کہ پہلے حج کرے یا زیارت لباب میں ہے : حج نقل میں مختار ہے اور فرض
عــــہ : مدشافعیہ وحنفیہ دونوں کے نزدیك چہارم صاع ہے مگرصاع میں اختلاف ہے۔ ہم ۸ رطل کا کہتے ہیں تو مد ۲ رطل ہوا وہ ۵ – ۱ / ۳ رطل تو ۱ – ۱ / ۲ ہوا اور صاع عند التحقیق دو سو ستر تولے کا ہے۔ تو ہمارے حساب پر بریلی کے سیر سے کہ سو روپیہ بھر کا ہے ایك صاع آدھ پاؤ کم تین سیر سے ۵ ماشے ۵ رتی زیادہ اور نیم صاع کہ وہ گندم سے ایك آدمی کے فطر کا صدقہ اور ایك روزہ کا فدیہ اور کفارہ میں ایك مسکین کا حصہ یعنی ایك سیر سات چھٹانك دو ماشے ساڑھے چھ رتی (یہاں عبارت میں کچھ اختصار کیاگیا ہے ۱۲ شرف قادری) رامپور کے سیر سے کہ ۹۶ روپے بھرکا ہے (یعنی پورے نوے تولے کا (فتاوی رضویہ) حساب بہت سیدھا ہے پورے تین سیر کا صاع ہوا دہلی کے سیر سے کہ ۸۰ روپے بھر کا ہے (یعنی ۷۵ تولے ہے ۱۲ فتاوی رضویہ) صاع ۳ – ۵ / ۳ ہوا یعنی ساڑھے تین سیر سے دسواں حصہ سیر کا زائد اور نیم صاع یعنی دو سیر سے پانچواں حصہ سیر کا کم یہ حساب یا د رکھنا چاہئے بحمد الله تعالی کمال تحقیق ہے۔ والله سبحانہ تعالی اعلم ۱۲ من
#10303 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
ہو تو پہلے حج مگر مدینہ طیبہ راہ میں آئے تو تقدیم زیارت لازم انتہی “ یعنی بے زیارت گزر جانا گستاخی اور فقیر کہ علامہ سبکی کا یہ ارشاد بہت بھایا پہلے حج کرے تاکہ پاك کی زیارت پاك ہو کر ملے
پاك شوا اول وپس دیدہ براں پاك انداز
(پہلے پا ك ہو اور پھر اس پاك ہستی پر نظر ڈال)
ف : جناب مصنف کے کلام میں صاف اشارہ ہے کہ سفر مدینہ طیبہ خاص بقصد زیارت شریفہ ہو اور بیشك یہ امر شرعا محمود اور زیارت اقدس اعظم مقصود اور حدیث میں لفظ عــــہ لا تعملہ (ف) الا زیارتی موجود یعنی
عــــہ ۱ : فائدہ جلیلہ : یہ حدیث صحیح ہے
رواہ الطبرانی الکبیر والدارقطنی فی الامالی وابوبکر المقری فی المعجم والحافظ السلفی وابن عساکر وابو نعیم و الحافظ ابو علی وسعید بن السکن البغدادی فی کتاب السنن الصحاح عن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما
اس کو طبرانی نے کبیر اور دارقطنی نے امالی میں ابوبکر مقری نے معجم میں حافظ سلفی ابن عساکر ا بو نعیم حافظ ابو علی اور سعید بن سکن بغدادی نے سنن اور صحاح میں حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ (ت)
امام ابن سکن اشارہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی صحت پر ائمہ حدیث کا اجماع ہے۔ دوسری حدیث میں ہے :
زارنی متعمدا ۔ رواہ العقیلی والبھیقی و ابن عساکر۔
بالقصد میری زیارت کرے اس کو عقیلی بیہقی ا ور ابن عساکر نے روایت کیا۔ ت)
تیسری حدیث میں ہے :
زارنی بالمدینۃ محتسبا ۔ اخرجہ ابن ابی الدنیا
ثواب کی نیت سے میری زیارت کے لیے مدینے میں
(باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References لباب وشرح لباب مع ارشاد الساری باب زیارۃ سیدالمرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص۳۵۔ ۳۳۴
معجم کبیر ، مروی از عبدالله ابن عمرحدیث ۱۳۱۴۹مکتبہ فیصیلہ بیروت۱۲ / ۲۹۱ ، کنز العمال حدیث ۳۴۹۲۸موسسۃ الرسالہ بیروت۱۲ / ۲۵۶
شعب الایمان ، حدیث ۴۱۵۲باب المناسك دارالکتاب العلمیۃ بیروت۳ / ۴۸۸
شعب الایمان ، حدیث ۴۱۵۷باب المناسک ، دارالکتاب العلمیۃ بیروت۳ / ۴۹۰
#10305 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
اسے کوئی کام نہ ہو میری زیارت کے سوا۔ امام ابن الہمام فرماتے ہیں میرے نزدیك افضل یہ ہے کہ سفر خاص بقصد
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
والبیھقی وابن الجوزی عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔
حاضر ہو (اس کی ابن ابی الدنیا بہیقی اور ابن جوزی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے تخریج کی۔ ت)
چوتھی حدیث میں ہے :
قصدنی فی مسجدی ۔ اوردہ فی جذب القلوب۔
میرا قصد کرکے میری مسجد میں آئے (اسکو جذب القلوب میں ذکر کیا گیا ہے۔ ت)
اقول : علاوہ بریں وہ تمام احادیث جن میں زیارت قبر شریف کی ترغیب وتاکید اور اس کے ترك پر وعید و تہدید ہمارے مدعا کی گواہ وشہید طرفہ بات یہ ہے کہ شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جس امر کی طرف تاکید بلائیں اور اس کے ترك پر وعید فرمائیں اس کا قصد ناجائز قرار پائے۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : انماا لاعمال بالنیات ۔ (تمام اعمال کا مدار نیتوں پر ہے۔ ت) یہ عجب کار ثواب ہے جس کی نیت موجب عذاب ہے لاحول ولاقوۃ الا باﷲ۔
رہی حدیث “ لا تشد الرحال “ ائمہ دین نے تصریح فرمائی ہے کہ وہاں ان تینوں مسجدوں کے سوا اور مسجد کے لیے بالقصد سفر کرنے سے ممانعت ہے ورنہ زنہار الفاظ حدیث طلب علم واصلاح مسلمین وجہاد واعداءو نشر دین وتجارت حلال وملاقات صالحین وغیرہا مقاصد کے لیے سفر سے مانع نہیں۔ اور قاطع نزاع یہ ہے کہ بعینہ یہی حدیث بروایت حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ امام احمد رحمہ الله تعالی نے اپنی مسند میں بسند حسن یوں روایت کی :
لا ینبغی للمطی ان تشد رحالہ الی مسجد تبتغی فیہ الصلوۃ غیر المسجد الحرام والمسجد الاقصی و مسجدی ھذا ۔
ناقہ کو سزا وار نہیں کہ اس کے کجاوے کسی مسجد کی طرف بغرض نماز کسے جائیں سوائے مسجد حرام ومسجد اقصی اور میری مسجد کے۔
تو خود حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ارشاد سے حضور کی مراد واضح ہوگئی والحمد لله رب العلمین ۱۲ منہ
حوالہ / References جذب القلوب باب چہاردرہم در فضائل زیارۃ المرسلین مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ص ۱۹۶
صحیح بخاری باب کیف کان بدئ الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲
مسند احمد بن حنبل مروی از ابو سعید خدری دارالفکر بیروت ۳ / ۶۳
#10306 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
زیارت والاکرے یہاں تك کہ اس کے ساتھ مسجد شریف کا بھی ارادہ نہ ہو کہ اس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تعظیم زیادہ ہے جب حاضر ہو گا حاضری مسجد خود ہوجا ئے گی یاا س کی نیت دوسرے سفر پر رکھے۔
م : ان زیارۃ النبی لا زبۃ صلوا علیہ فالصلو ۃ واجبۃ
ت : بے شك زیارت نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی لازم ہے درود بھیجو ان پرکہ درود فرض ہے
ش : علماء فرماتے ہیں زیارت نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اعظم قربات وافضل طاعات سے ہے۔ بہت برآرندہ مقاصد وحاجات قریب بدرجہ موکدہ واجبات بلکہ بعض نے وجوب عــــہ۱کی تصریح فرمائی ۔
فقیر کہتا ہے دلیل اسی کو مقتضی وھو الذی نود ان نقول بہ(ہم یہی کہنا چاہتے ہیں۔ ت) اسی طرح حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر درود عمر میں ایك بار تو بالاجماع فرض قطعی ہے اور امام شافعی ہر نماز میں فرض اور ہر بار کہ ذکر شریف آئے علماء کو وجوب واستحباب میں اختلاف وامام طحطاوی کا مذہب ہر مرتبہ وجوب ہے ذاکرو سامع پر باقلانی وحلبی وصاحب بحرالرائق وتنویرا لابصار وغیرہم اکابر علماء نے اسی کو صحیح و راجح ومختار ومعتمد فرمایا اور دلیل اسی کو مقتضیوھوالذی ندب اللہ بہ(یہی الله تعالی کو زیادہ پسند ہے۔ ت) البتہ درصورت اتحاد مجلس دفعا للحرج تداخل مسلم عــــہ۲۔ والله اعلم
م : ویستحی الزائر الشفاعۃ فیما روتہ ثقۃ الجماعۃ
ت : اور زیارت کرنے والا مستحق شفاعت ہے ا س حدیث کی رو سے جسے ثقہ جماعت نے روایت کیا۔
عــــہ۱ : یعنی الوجوب المصطلح عندالحنفیۃ لاکما تقول القدماء الظاھریۃ ان الزیارۃ الکریمۃ واجبۃ ولایفرقون بین الواجب والفرض اما احداثھم الھنود فقد امنوا بابن تیمیۃ وتفوھو بمالا تعسطہ الدیمۃ الدومیۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : المعتمد عندنا الوجوب والتد اخل افادہ فی المرقاۃ ۲ ۱منہ (م)
یعنی احناف کی اصطلاح کا وجوب قدماء ظاہری مذہب والوں کا وجوب مراد نہیں کہ زیارت کریمہ واجب بمعنی فرض ہو کیونکہ وہ فرض اور واجب میں فرق نہیں کرتے۔ لیکن ہندوستانی نئے ظاہری لو گ تو ابن تیمیہ پر ایمان رکھتے ہوئے وہ بکواس کرتے ہیں جن کو چاٹنے والی دیمك بھی نہ چاٹ سکے۔ لا حول ولا قوۃ الاباﷲ ۱۲ منہ )(ت)
ہمارے نزدیك قابل اعتماد و جوب اور تداخل ہے اس کا افادہ مرقات میں ہے ۱۲ منہ (ت)
#10308 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
ش : حدیث ۱ : حدیث عــــہ۱ صحیح میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔
حدیث عــــہ۲ ۲ : جو میری زیارت کو آیا کہ اسے سوا زیارت کے کچھ کام نہ تھا مجھ پر حق ہو گیا کہ روز قیامت اس کاشفیع ہوں۔
عــــہ ۱ : رواہ ابن خزیمۃ فی صحیحیہ وابن ابی الدنیا والطبرانی فی المحاملی والبزار والعقیلی و ابن عدی والدارقطنی والبیھقی وابوالشیخ وابن عساکر وابوطاھر السلفی وعبدالحق فی الاحکامین والذھبی وابن الجوزی کلھم عن ابن عمر رضی الله تعالی عنہما وصححہ عبدالحق وحسنہ الذھبی اقول بعد الحسن فلا شك فی صحتہ لکثرۃ الطرق ففی لباب عن بکر بن عبداﷲ رواہ ابو الحسن یحی بن الحسن فی اخبار المدینۃ وعن الفاروق وعن ابن عباس وعن انس بن مالك وعن ابی ھریرۃ رحمہم اﷲ تعالی عنہم کماسیأتی ۱۲ منہ
اسے ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں اور ابن ابی الدنیا طبرانی محاملی بزار عقیلی ابن عدی ابوطاہر سلفی اور عبدالحق نے احکامین میں اور ذہبی اور ابن جوزی سب نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا اور عبدالحق نے اسے صحیح کہا اور ذہبی نے اس کی تحسین کی اقول تحسین کے بعدا س کی صحت میں کثرت طرق کی بنا پر شك نہ رہا اس باب میں بکر بن عبدالله سے روایت ہے اسے ابوالحسن یحیی بن الحسن نے اخبار مدینہ میں ذکر کیا اور عمر فاروق سے ابن عباس سے انس بن مالك اور ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہم سے روایات مروی ہیں جیسا کہ آگے آرہا ہے ۲ ۱ منہ (ت)
عــــہ۲ : یہ حدیث بھی صحیح ہے جس کی تخریج شروع فصل کے حواشی میں گزری۔
عجیب لطیفہ : امام اجل خاتمۃ الحفاظ والمحدثین امام زین الدین عراقی استاذ امام جبل الحفظ اسناد المحدثین امام ابن حجر عسقلانی رحمہم اللہ تعالی زیارت مزار پر انوار حضرت سید ابراہیم خلیل الله علیہ الصلوۃ والسلام کو جاتے تھے بعض حنبلی حضرت کے ہمراہ رکاب تھے حنبلی نے باتباع ابن تیمیہ کہ مدعی حنبلیت تھا یوں کہا کہ میں نے مسجد خلیل اللہ(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References سنن الدار قطنی کتا ب الحج باب المواقیت نشر السنۃ ملتان ۲ / ۲۷۸
معجم الکبیر مروی از عبدالله بن عمر حدیث ۱۳۱۴۹ مکتبہ فیصلیہ بیروت ۱۲ / ۲۹۱ ، کنز العمال حدیث ۳۴۹۲۸ مؤسسۃ رسالہ بیروت ۱۲ / ۲۵۶
#10311 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
حدیث عــــہ۱ ۳ : جو مدینہ میں بہ نیت ثواب میری زیارت کرنے آئے میں اس کا شفیع وگواہ ہوں۔
حدیث عــــہ۲ ۴ : جو میرے انتقال کے بعد میری زیارت کرے گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی اور
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)علیہ الصلوۃ والسلام میں نماز پڑھنے کی نیت کی امام نے فرمایا میں نے زیارت قبر سیدنا خلیل الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نیت کی پھر حنبلی سے فرمایا تم نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مخالفت کی کہ حضور نے مساجد ثلاثہ کے سواء چوتھی مسجد میں نمازپڑھنے کے لیے سفر سے ممانعت کی اور میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا اتباع کیا کہ حضور نے فرمایا : قبور کی زیارت کرو۔ کیا اس کے ساتھ کہیں یہ بھی فرمادیا ہے کہ قبور انبیاء کی زیارت نہ کرو حنبلی کو سوا حیرت کے کچھ بن نہ آیا ۔
نقلہ العلامۃ القسطلانی فی المواھب عن الشیخ ولی الدین عراقی عن ابیہ الامام زین الدین العراقی رحمۃ الله تعالی علیھم اجمعین۔ (م)
اسے علامہ قسطلانی نے مواہب میں شیخ ولی الدین عراقی سے (انھوں نے اپنے والد امام زین الدین عراقی رحمۃ الله تعالی علیہم اجمعین سے) نقل فرمایا۔ (ت)
دیکھئے خدا کی شان جس حدیث سے یہ لوگ زعم میں مزارات کی طرف سفرکی ممانعت نکالتے تھے خدا تعالی نے اسی حدیث سے ان پر الزام قائم فرمایا ولله الحجۃ السامیۃ ۱۲ منہ
عــــہ۱ : رواہ ابن ابی الدنیا والبیھقی وابو الفرج ابن الجوزی عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ ۲ ۱منہ (م)
عــــہ۲ : رواہ العقیلی وابن عساکر عن ابن عباس والیعقوبی فی جزئہ الحدیثی عن ابی ھریرۃ و ابن النجار فی الدرۃ الـثمینۃ عن انس بن مالك وصدر الحدیث مروی عن ابن عمر
اسے ابن ابی الدنیا بیہقی اور ابو الفرج ابن جوزی نے حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۱۲ منہ (ت)
عقیلی اور ابن عساکر نے ابن عباس سے اور یعقوبی نے جزء الحدیثی میں ابوھریرہ سے اور ابن النجار نے الدرۃ الثمینہ میں انس بن مالك سے روایت کیا ہے اور صدر حدیث ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما
(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References شعب الایمان باب المناسك حدیث ۴۱۵۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۴۵۷
المواھب اللد نیہ حکم نذر الزیارۃ المکتب الاسلامیہ بیروت ۴ / ۷۴۔ ۵۷۳
#10312 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
اور میں روز قیامت اپنے زائر کا گواہ یا شفیع ہوں گا۔
حدیث عــــہ۱ ۵ : جو میری قبر کی یا فرمایا میری زیارت کرے میں اس کا شافع و شا ہد ہوں ۔ غرض یہ مضمون بہت حدیثوں میں وارد۔
حدیث عــــہ۲ ۶ : و مکہ جاکر حج کرے پھر میرے قصد سے میری مسجد حاضر ہوا اس کے لیے دو حج مبرور لکھے جائیں ۔ اور فرماتے ہیں صلی الله علیہ وسلم : حج مبرور عــــہ۳ کی جزا سوا جنت کے کچھ نہیں ۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
رضی الله تعالی عنہما رواہ سعید بن منصور و المحاملی والطبرانی وابویعلی وابن عدی والدار قطنی والبیھقی وابن عساکر وابن الجوزی وابن النجار وعن حاطب رواہ الدارقطنی والمحاملی والبیہقی و ابن عساکر و عن علی کر م اﷲ وجہہ رواہ یحی بن جعفر الحسینی فی اخبار المدینۃ واوردہ ابو سعیدفی شرف المصطفی ۱۲ منہ (م)
عــــہ۱ : رواہ ابوداؤد الطیاسی والبیھقی وابونعیم وابن عساکر عن امیر المومنین عمر رضی الله تعالی عنہ ۱۲ منہ (م)
عــــہ ۲ : مرفی صدر الفصل ۱۲ منہ (م)
عــــہ۳ : رواہ مالك واحمد والبخاری ومسلم وابو داؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ
سے مروی ہے۔ اسے سعید بن منصور محاملی طبرانی ابویعلی ابن عدی دارقطنی بیہقی ابن عساکر ابن نجار نے روایت کیا اور حاطب سے مروی ہے اسے دارقطنی محاملی بیہقی اور ابن عساکر نے روایت کیا اور حضرت علی کرم الله وجہہ سے مروی ہے اسے یحیی بن جعفر الحسینی نے اخبار المدینہ میں روایت کیا اور ابو سعید نے اسے شرف المصطفی میں بیان کیا ۱۲ منہ (ت)
اسے ابوداؤد طیالسی بیہقی ابونعیم اور ابن عساکر نے امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
فصل کے شروع میں گزرا ۱۲ منہ (ت)
اسے امام مالک احمد بخاری مسلم ابوداؤد ترمذی نسائی ابن ماجہ اصبہانی اور بیہقی(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References کتاب الضعفاء الکبیر ترجمہ ۱۵۱۳ فضالۃ بن سعید دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ / ۴۵۷
مسند ابو داؤد طیالسی حدیث من زار قبری دار المعرفۃ ص۱۲ و ۱۳
جذب القلوب باب چہارم درفضائل زیارۃ سید المر سلین نولکشور لکھنؤ ص۱۹۶
صحیح بخاری ابواب العمرۃ باب وجوب العمرۃ وفضلہا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۳۸
#10314 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
حدیث عــــہ۱ ۷ : جو بالقصد میری زیارت کوحاضر ہو روز قیامت میرے سایہ دامان میں ہو۔
حدیث عــــہ۲ ۸ : جو حجۃ الاسلام بجالائے اور میری قبر کی زیارت سے مشرف ہو اور ایك جہاد کرے اور بیت المقدس میں نماز پڑھے الله تعالی اس سے فرائض کا حساب نہ لے۔
حدیث عــــہ۳ ۹ : جس نے حج کیا اور میری زیارت کو نہ آیا اس نے مجھ پر جفا کی۔
والاصبہانی والبیہقی عن ابی ھریرۃ وا حمد عن عامر بن ربیعۃ وعن جابر بن عبداﷲ والطبرانی فی المعجم الکبیر عن ابن عباس واحمد والترمذی والنسائی وابن خزیمۃ وابن حبان فی صحیحھما عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنھم قال الترمذی حسن صحیح قلت وقد روی من غیر وجہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــــہ۱ : سبق ذکرہ فی صدر الفصل ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : رواہ ا بوالفتح الازدی بطریق سفیان الثوری عن منصور عن ابراھیم عن علقمۃ عن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ ۱۲ منہ (م)
اسے امام مالک احمد بخاری مسلم ابوداؤد ترمذی نسائی ابن ماجہ اصبہانی اور بیہقی نے حضرت ابوھریرہ سے اور احمد نے عامر بن ربیعہ سے اور جابر بن عبدالله سے اور طبرانی نے معجم الکبیر میں ابن عباس سے اور احمد ترمذی نسائی ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا میں کہتا ہوں یہ متعدد وجوہ سے مروی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
فصل کے شروع میں پیچھے اس کا ذکر ہوچکا ۱۲ منہ (ت)
اسے ابوالفتح ازدی نے بطریق سفیان ثوری منصور سے ابراہیم سے علقمہ سے ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References شعب الایمان حدیث ۴۱۵۷ باب المناسك دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ / ۴۹۰
تنزیہ الشریعۃ المرفوعہ بحوالہ (فت) کتاب الحج فصل ثالث ۲ / ۱۷۵
الکامل فی ضعفاء الرجال ترجمہ نعمان بن شبل دارالفکر بیروت ۷ / ۲۴۸۰
#10315 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
حدیث عــــہ۱ ۱۰ : جو امتی میرا قدرت رکھتاہو پھر میری زیارت نہ کرے اس کے لیے کوئی عذر نہیں ۔
حدیث عــــہ۲ ۱۱ : عہ۲ جو مجھ پر سلام عرض کرتا ہے میں اسے جواب دیتا ہوں السلام علیك ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ۔
حدیث عــــہ۳ ۱۲ : عہ۳ جو مجھ پر میری قبر کے پاس سلام عرض کرے الله تعالی اس پر ایك فرشتہ مقرر فرمائے عــــہ۴ کہ اس کا سلام مجھے پہنچائے اور اس کے دنیا وآخرت کے کاموں کی کفایت فرمائے اور روز قیامت میں اس کا شفیع یا گواہ ہوں ۔
حدیث عــــہ۵۱۳ : الله تعالی نے دنیا میرے سامنے اٹھائی کہ وہ جو کچھ قیامت تك اس میں ہونے والا ہے سب کو ایسا دیکھ رہاہوں جیسا اپنی ہتھیلی کو۔
عــــہ۱ : رواہ ابن النجار عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : رواہ الامام احمد وابوداؤد عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ باسناد صحیح قالہ المناوی ۱۲ منہ (م)
عہ۳ : ھذا حدیث ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ اوردہ فی الجوھر النظم ذکرہ العلامۃ الزرقانی فی شرح المواھب ۱۲منہ (م)
اسے ابن نجار نے حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۱۲ منہ (ت)
اسے امام احمد اور ابوداؤد نے صحیح اسناد کے ساتھ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ یہ مناوی نے کہا ۱۲ منہ (ت)
یہ حدیث ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ہے اسے جوہر النظم میں درج کیا گیا ہے علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں اس کا ذکر کیاہے ۱۲ منہ (ت)
عــــہ۴ : دربارشاہی کا ادب ہے کہ حاضرین کی عرض بھی عرض بیگی کے ذریعہ سے ہوتی ہے ورنہ حضور پر دلوں کے ارادے تك روشن ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔
عــــہ۵ : رواہ الطبرانی عن ابن عمر الفاروق رضی اﷲ تعالی عنہ ۲ ۱منہ (م)
اسے طبرانی نے حضرت ابن عمرالفاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References تنزیہ الشریعۃ المرفوعہ بحوالہ تاریخ ابن نجار کتاب الحج فصل ثانی دارالکتب العلمیۃ بیروت ۲ / ۱۷۲
سنن ابوداؤد کتاب المناسك باب زیارۃ القبور آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۷۹
شعب الایمان باب فی المناسك حدیث ۴۱۵۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ / ۴۸۹
کنز العمال بحوالہ نعیم بن حماد فی الفتن حدیث ۳۱۸۱۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ / ۳۷۸وکنز العمال بحوالہ طب وحل عن ابن عمر حدیث ۱۳۹۷۲ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ / ۴۲۰
#10316 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
حدیث عــــہ۱ ۱۴ : میرا علم میری وفات کے بعد ایساہی ہے جیسا میری زندگی میں۔ “
حدیث عــــہ۲ ۱۵ : میری حیات وممات دونوں تمھارے لیے بہتر ہیں تمھارے اعمال میرے حضور پیش کئے جاتے ہیں میں نیکیوں پر شکرکرتا ہوں اور برائیوں پر تمھارے لیے استغفار فرماتا ہوں ۔
حدیث عــــہ۳ ۱۶ : بیشك الله تعالی نے زمین پر پیغمبروں کا جسم کھانا حرام کیا ہے تو الله کا نبی زندہ ہے اور روزی
عــــہ۱ : اخرجہ الاصبھانی وابن عدی فی الکامل عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : رواہ الحارث فی مسندہ وابن سعد فی طبقات والقاضی اسمعیل بسند صحیح عن بکر بن عبد اﷲ المزنی التابعی الثقۃ مرسلا والبزار مثلہ باسناد صحیح عن عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ ۱۲ منہ غفرلہ (م) عــــہ۳ : صدرالحدیث ان اﷲ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء اخرجہ الائمۃ احمد وابوداؤد و النسائی وابن ماجۃ و الحاکم والدارقطنی وابن خزیمۃ وابن حبان وابو نعیم وغیرہم عن اوس بن اوس رضی اﷲ تعالی عنہ وصححہ ابنا خزیمۃ وحبان و الدارقطنی وحسنہ عبدالغنی والمنذری وقال ابن دحیہ انہ صحیح محفوظ بنقل العدل عن العدل اھ واخرجہ الطبرانی
اسے اصبہانی اور ابن عدی نے کامل میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۱۲ منہ (ت)
حارث نے اپنی مسند میں اور ابن سعد نے اپنی طبقات میں اور قاضی اسمعیل نے بسندصحیح بکر بن عبدالله المزنی التابعی الثقۃ سے مرسلا اور ایسے ہی صحیح اسناد کے ساتھ بزار نے عبدالله بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حدیث کا ابتدائی حصہ یہ ہے الله تعالی نے حرام فرمایا ہے زمین پر کہ وہ انبیاء کے اجسام کو کھائے۔
اس کو ائمہ کرام ابوداؤد ابن ماجہ حاکم دارقطنی ابن خزیمہ ابن حبان وابو نعیم وغیرہم نے اوس بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ سے تخریج کیا ہے اور اس کو ابن خزیمہ ابن حبان اور دارقطنی نے صحیح کہا ہے اور عبدالغنی او رمنذری نے اس کو حسن کہا ہے اورابن دحیہ نے کہاکہ یہ صحیح محفوظ ہے اور ا س کے تمام راوی عادل ہیں اور طبرانی اور بیہقی نے ابوھریرہ سے اور ابن عدی(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References جذب القلوب باب چہاردہم درزیارت النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نولکشور لکھنؤ ص۱۹۹
کنز العمال بحوالہ ابن سعد عن بکر بن عبدالله المزنی حدیث ۳۱۹۰۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ / ۴۰۷
سنن ابن ماجہ ابواب الجنائز ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۹
#10318 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
دیا جاتا ہے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔
حدیث عــــہ۱ ۱۷ : میری اس مسجد میں نماز او ر مسجدوں کی ہزار نماز سے افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے ۔
حدیث عــــہ۲ ۱۸ : جو حرمین میں سے کسی حرم میں مرے روز قیامت بے خوف اٹھے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
والبھیقی عن ابی ھریرۃ وابن عدی عن انس ومع زیادۃ فبنی اﷲ حی یرزق رواہ ابن ماجۃ بسند صحیح عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین ۱۲ منہ (م)
عــــہ۱ : رواہ احمد والستۃ الا اباداؤد عن ابی ھریرۃ و احمد ومسلم والنسائی و ابن ماجۃ عن ابن عمر و مسلم عن ام المومنین میمونۃ واحمد عن جبیر بن مطعم وعن وسعد وعن الارقم بن ابی الارقم وکا بن ماجۃ عن جابر بن عبداﷲ وکابن حبان عن عبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین ۲ ۱منہ (م)
عــــہ۲ : مروی عن انس بن مالك عند البیھقی و عن بکر بن عبداﷲ وعن حاطب وعن امیر المومنین عمر وعن غیرھم رضی اﷲ تعالی عنھم تتمۃ للحدیث الاول والرابع والخامس والسابع وقد مر تخاریجھا ۱۲ منہ (م)
اس کو ائمہ کرام ابوداؤد ابن ماجہ حاکم دارقطنی ابن خزیمہ ابن حبان وابو نعیم وغیرہم نے اوس بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ سے تخریج کیا ہے اور اس کو ابن خزیمہ ابن حبان اور دارقطنی نے صحیح کہا ہے اور عبدالغنی او رمنذری نے اس کو حسن کہا ہے اورابن دحیہ نے کہاکہ یہ صحیح محفوظ ہے اور ا س کے تمام راوی عادل ہیں اور طبرانی اور بیہقی نے ابوھریرہ سے اور ابن عدی نے انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے اس اضافہ “ تو الله کا نبی زندہ ہے روزی دیا جاتا ہے “ کوابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ ا بودرداء رضی الله تعالی عنہم اجمعین سے روایت کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
یہ بیہقی کے ہاں انس بن مالك اوربکر بن عبداللہ حاطب اور امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہم سے مروی ہے یہ پہلی چوتھی پانچویں ا ور ساتویں حدیث کا تتمہ ہے۔ اس کی تخاریج گزر چکیں ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References سنن ابن ماجہ ابواب الجنائزایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۹
صحیح مسلم باب فضل الصلوٰۃ بمسجد ی مکہ والمدینہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۴۶
شعب الایمان باب فی المناسك حدیث ۴۱۵۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ / ۴۹۰
سنن ابن ماجہ ابواب الجنائز ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۹
#10320 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
حدیث عــــہ۱ ۱۹ : مدینہ مکہ سے افضل ہے ۔
حدیث عــــہ۲ ۲۰ : جس سے مدینہ میں مرنا ہو سکے تو اسی میں مرے کہ جو مدینہ میں مرے گا میں اس کی شفاعت فرماؤں گا ۔
اللھم ارزقنا علی الایمان والسنۃ بجاھہ عندك باعظم المنۃ امین امین امین وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔
م : ھنالکم یا معشر الحجاج اذ جئتم من ابعد الفجاجت :
اے گروہ حاجیاں! تمھیں مژدہ جب آئے تم دور دراز راہوں سے۔
ت : وقد حویتم عظیم المنۃ والحج مبرورا جزاہ الجنۃ
ت : اور بیشك تم نے بڑا احسان جمع کیا او راچھے حج کا بدلہ بہشت ہے۔
ش : یہ اخبار بہ طور رجاہے بنظر احادیث کثیرہ عــــہ۳ کہ اسی معنی میں وارد ہوئیں یا دعا مراد ہے اورتخصیص مغفرت
عــــہ۱ : رواہ الطبرانی فی الکبیر والدارقطنی فی الافراد عن رافع بن خدیج رضی الله تعالی عنہ ۲ ۱منہ (م)
عــــہ۲ : رواہ احمد والترمذی وابن ماجۃ وابن حبان عن ابن عمر رضی الله تعالی عنھما وصححہ التر مذی ۱۲ منہ (م)
اس کو طبرانی نے کبیر میں اور دارقطنی نے افراد میں رافع بن خدیج رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے ۱۲ منہ(ت)
اس کو احمد ترمذی ابن ماجہ اور ابن حبان نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ۱۲ منہ (ت)
عــــہ۳ : اس بارے میں احادیث کثیرہ وارد ہیں فضائل حج و عمرہ میں حضرت والد قدس سرہ الماجد نے جواہر البیان شریف
(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References المعجم الکبیر مروی از رافع بن خدیج المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۴ / ۲۸۸
جامع الترمذی ابواب المناقب باب ماجاء فی فضل المدینۃ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۲۳۱
#10321 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
کے یہ معنی نہیں کہ خاص تمھاری مغفرت ہو بلکہ یہ کہ تمھاری خاص مغفرت عــــہ۱ ہو ۔
م : فالتزموا الحمدلہ والشکرا اذ ھذہ النعمۃ منہ الکبری
ت : تو حمد وشکر الہی کا التزام کرلو کہ یہ نعمت اس کی بہت بڑی ہے۔
م : وعظموا النبی بالسلام علیہ فھوا لمسك للختام
ت : اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تعظیم کرو ان پر سلام بھیج کر کیونکہ یہ مشك ہے مہر خاتمہ کے لیے۔
م : والہ خلاصۃ الانام مع صحبہ الافاضل الکرام
ت : اوران کی ال پر کہ خلاصہ مخلوقات ہیں مع صحابہ کے کہ بہت فضیلت وکرم والے ہیں۔
ف : اس قسم کے کلمات مقام مدح میں استعمال کرتے ہیں مثلا امام ابو حنیفہ سیدالاولیاء حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہما بلکہ علماء وسادات عصر کو لکھتے ہیں افضل المحققین اکمل المدققین خلاصہ دودمان مصطفوی نقادہ خاندان مرتضوی اور ان الفاظ سے عموم واستغراق حقیقی مراد نہیں لیتے۔ ورنہ بایں معنی امام ائمہ وسیدنا الاولیاء حضور اقدس سرور دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں وبس اور اگر امت عــــہ۲ میں لیجئے تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ۔ اسی طرح خلاصہ دودمان مصطفوی حضرت بتول زہرا ہیں۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
میں ستر سے زائد حدیثیں ذکر فرمائیں ان میں بہت احادیث اس معنی کی مفید ملیں گی سب سے اعلی یہ ہے کہ صحیحین میں آیا حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا : جو حج کرے اور اس میں رفث وگناہ سے بچے ایسا پاك ہو کر پلٹے جیسا جس دن ماں کے پیٹ سے نکلا تھا۔ ۱ ۱۲ منہ۔
عــــہ۱ : یعنی مغفر ت عامہ سے جدا وممتاز ۱۲ منہ
عــــہ۲ : یہ اس لیے کہہ دیا کہ اولیاء کا اطلاق کبھی بمعنی اعم آتا ہے یعنی ہر محبوب خدا توانبیاء بلکہ ملائکہ کوبھی شامل اس معنی پر قرآن عظیم میں فرمایا : الا ان اولیآء الله لا خوف علیهم و لا هم یحزنون(۶۲) (سن لو بیشك الله کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ غم۔ ت) بایں معنی سیدالاولیاء حضور سید المحبوبین ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور کبھی ماورائے انبیاء ومرسلین مراد لیتے ہیں ہزاروں بار سنا ہوگا انبیاء واولیاء اور عطف مقتضی مغایرت ہے اس معنی پر سید الاولیاء حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ہیں کہ باجماع اہل سنت تمام امت سے افضل واکمل(باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References الترغیب والترھیب کتاب الحج الترغیب فی الحج مصطفی البابی مصر ۲ / ۱۶۳ ، صحیح بخاری کتاب المناسك قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۰۶
#10323 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
اور اوپر سے لیجئے تو حضرت مولا مشکل کشا ء اور نقادہ خاندان مرتضوی حسن عــــہ مجتبی رضی الله تعالی عنہم اجمعین۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ہیں ا ور اس لفظ کا تیسرا اطلاق اخص اور ہے جس میں صحابہ بلکہ تابعین کو بھی شامل نہیں رکھتے کہ وہ اسمائے خاصہ سے ممتاز ہیں جیسے کہتے ہیں اس مسئلہ پر صحابہ وتابعین واولیائے امت وعلمائے ملت کا اجماع ہے اس وقت یہ لفظ اصطلاح مشائخ وصوفیہ کاہم عناں ہوتا ہے اس معنی پر بیشك حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سیدالاولیاء ہیں لا یخص منہ نفس الاان یقوم دلیل(اس معنی کہ اولیاء میں آپ بلا تخصیص سب کے سردار ہیں بغیر دلیل کسی ولی کی تخصیص نہ ہوگی) تو فرمان واجب الاذعان “ قدمی ھذ اعلی رقبۃ کل ولی اﷲ (میرا یہ قدم ہر ولی کی گردن پر ہے۔ ت)میں تخصیص بلا مخصص کی اصلا حاجت نہیں کما حققناہ فی المجیرالمعظم(جیسا کہ ہم نے المجیر المعظم میں اس کی تخصیص کی ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
عــــہ۱ : ہم نے اپنی کتاب “ مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین “ کے منہیات پر متعدد حدیثوں سے ثابت کیا کہ حضرت سبط اکبر حضرت سبط اصغر سے افضل ہیں رضی اللہ تعالی عنہ ما از انجملہ حدیث طبرانی کہ حضور والا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
“ حسن کے لیے میری ہیبت وسرداری ہے اور حسین کے لیے میری جرأت و بخشش۔ “
دوم : حدیث احمد وابوداؤد کہ فرمایا : “ حسن میرا ہے اور حسین علی کا ۔ “
سوم حدیث ابو یعلی کہ فرمایا : “ حسن تمام جوانان اہل جنت کے سردار ہیں۔ “
وھذا حدیث حسن نص صریح فما قلنا(یہ حدیث ہمارے دعوی پر صریح نص ہے۔ ت) فقیر بدلیل احادیث یہی گمان کرتا تھا یہاں تك کہ تیسیر شرح جامع صغیر میں اس معنی کی تصریح پائی والحمد لله ۱۲ منہ غفرلہ۔
حوالہ / References مجمع الزوائد باب فیما اشترك الحسن والحسین الخ دارالکتاب العربی بیروت ۹ / ۱۸۵
؎ مسند احمد بن حنبل مروی از مقدام بن معدیکرب دارالفکر بیروت ۴ / ۱۳۲
مجمع الزوائد باب ماجاء فی الحسن بن علی دارالکتاب العربی بیروت ۹ / ۱۷۸
#10324 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
پس واضح ہوگیا کہ طور متعارف پر حضرات آل اطہار کو خلاصہ مخلوقات کہنا بہت صحیح ہے اور اس سے ان کی فضیلت انبیاء ومرسلین بلکہ خلفائے ثلثہ رضوان تعالی علیہم اجمعین پر لازم نہیں آتی کہ جو امور عقائد حقہ میں مستقر ہوچکے وہ خود ایضاح مراد کو بس ہیں۔ والحمد ﷲ اولا واخرا والصلوۃ والسلام کا ثرا وافرا علی الحبیب الجلیل باطنا وظاھرا والہ وصحبہ سادۃ الوری ماطلعت شمس وبدرسری۔
تکملہ
حج وعمرہ کی ترکیب او ر اول سے آخرتك ان کے افعال کی ترتیب اور آداب زیارت قبر حبیب علیہ صلوۃ القریب المجیب میں
یہ شرح کہ حسب فرمائش حضرت مصنف نہایت مختصر لکھی گئی اگرچہ بحمد الله کارآمد مسائل پر مشتمل اور اختیار راجح وترك مرجوع میں تام وکامل جسے نہ جانے گا مگر وہ کہ کتب کثیرہ فقہیہ جمع کرکے نظر تدقیق وفکر عمیق سے کام لے سکے اور اس کے ساتھ وقت اختلاف ترجیح یا عدم تصریح بافتاء وتصحیح رسم افتاء وآداب مفتی کے مسالك بعیدہ ومعارك عدیدہ میں مہارت رکھے بایں ہمہ بحمد الله جابجا ارشادات لطیفہ وتنقیدات شریفہ ہیں جن پر اطلاع ذہن ثاقب کا کام والحمدﷲ ولی الانعام قلتہ شکرا لابطرا وفخرا والعیاذ باﷲ مما لا یرضاہ مگر ازاں جا کہ اول تاآخرترکیب اعمال وترتیب افعال بیان نہ ہوئی جس کی طرف حجاج کو عموما اور عوام کو خصوصا حاجت اوراس کے نہ جاننے سے اکثر اوقات کم علم مسلمانوں کو دقت ہوتی ہے۔ لہذا فقیر غفرالله تعالی لہ نے چاہا کہ امور مذکورہ سے شرح کی تکمیل اور آخر میں قدرے آداب زیارت سراپا طہارت کی مختصر تفصیل کروں کہ عام مومنین کو ان شاء الله تعالی خود بصیرت ملے اور مطوفوں مزیروں کی حاجت نہ رہے۔ سفر مبارك حرمین طیبین سے معاودت فرما کر حضرت تاج العلماء سراج الکملاء سید الفقہاء سندالفضلاء حضرت والد قدس سرہ الماجد نے کتاب مستطاب “ جواہر البیان فی اسرار الارکان “ میں اس جلیل کا م کو نہایت تك پہنچایا اور طہارت و صلوۃ وصوم وزکوۃ کے اسراردقیقہ ولطائف انیقہ ارشاد فرماکر حج و زیارت کا بیان بے مثیل وعدیل تحریر فرمایا۔
#10326 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
جزاہ الله تعالی خیر جزاء واعلی درجاتہ فی داراللقاء امین! اس جمیل کتاب جلیل مستطاب کی لطافت وخوبی ودلکشی ع
ذوق این مے نشناسی بخدا تانہ چشی
(بخدا چکھے بغیر اس شراب کا ذائقہ معلوم نہ ہوسکے گا)
اس مبارك کتا ب کے نصف سے زائد میں یہی بیان جانفزا ہے۔ فقیر اس کی دو فصلوں سے چند حروف تلخیص عــــہ۱ کرتا ہے وباﷲ التوفیق وھدایۃ الطریق۔
حج و عمرہ کی ترکیب
احرام کی ترکیب تو ہم اوپر لکھ چکے ہیں یہاں اتنا جانئے کہ حاجیوں عــــہ۲ کاا حرام تین طرح کاہوتا ہے تنہا حج کی نیت عــــہ۳ سے افراد کہتے ہیں اور ایسے حاجی کو مفرد یا یہ کہ میقات عــــہ۴ پر صرف عمرہ عــــہ۵ کا ارادہ کرے مکہ معظمہ پہنچ کر
عــــہ۱ : غالبا اسی کا خلاصہ ہے اگرچہ کہیں کہیں کچھ حرف زائد کیے گئے ۱۲ منہ
عــــہ۲ : چوتھا احرام تنہا عمرہ کا ہے جو تمتع وقران سے جدا ہو اسے افراد بالعمرہ کہتے ہیں وہ حاجی کا احرام نہیں ۱۲ منہ
عــــہ۳ : یعنی جس کے وقوف عرفہ کوہوجانے تك احرام عمرہ نہ ہو و رنہ نیت حج نیت عمرہ مجتمع ہوکر قران کی شکل آجائیگی۔ کما فصلناہ علی ھامش ردالمحتار (جیسا کہ ہم نے ردالمحتار کے حاشیہ میں اس کی وضاحت کی ہے۔ ت) ۱۲ منہ
عــــہ۴ : قید بالمیقات لبیان الطریق للشروع للمتعۃ فان غیر الافاقی لا یجوز لہ التمتع والآفاقی لایجوزلہ التجاوز بغیر احرام والافان تمتع المکی اوتجاوز الآفاقی ثم تمتع کان متعۃ بلاشك وان اثما خلافا لما یوھمہ بعض العبارات والراویات من ارتاب فعلیہ بشرح اللباب ۱۲ منہ (م)
میقات کی قید تمتع کے مشروع طریقہ کو بیان کرنے کے لیے ہے کیونکہ تمتع آفاقی یعنی میقات کے باہر والوں کے لیے جائز ہے غیرآفاقی کے لیے جائز نہیں جبکہ آفاقی کو میقات سے آگے احرام کے بغیر گزرنا منع ہے ورنہ اگر مکی نے تمتع کرلیا اور آفاقی نے بغیر احرام میقات سے گزر کر تمتع کرلیا تو دونوں کے تمتع ہوجائیں گے۔ اگر چہ ان کو گناہ ہوگا اس کے خلاف بعض عبارات وروایات سے وہم ہوتا ہے جس سے بعض حضرات کو وہم ہوا ہے ایسے حضرات کو چاہئے کہ وہ شرح لباب کی طرف رجوع کریں ۱۲ منہ (ت)
عــــہ۵ : میقات سے نہ کہا کہ میقات سے ابتدائے احرام ضرور نہیں میقات پر محرم ہونا درکار ہے خاص وہیں سے باندھے یا پہلے سے باندھا ہو تا کہ تجاوز بے احرام نہ ہو بل الافضل ھو التقدیم علی المیقات الکافی بشرطہ کما نصوا علیہ(بلکہ میقات مکانی پر مقدم ہونا افضل ہے کہ وہ شرط ہے جیسا کہ اس پر نص ہے ۱۲ منہ (ت)
#10327 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
اشھر الحج عــــہ۱ میں عمرہ عــــہ۲ کرکے وہیں عــــہ۳ حج کا احرام باندھے اسے تمتع کہتے ہیں اور اس حاجی کو متمتع یا یہ کہ حج وعمرہ دونوں کی نیت جمع عــــہ۴ کرے اسے قران عــــہ۵ کہتے ہیں اور حاجی کو قارن اور زیادہ ثواب اسی میں ہے۔
جب حرم مکہ کے متصل پہنچے بادب وخشوع پیادہ پاداخل ہو اور برہنہ پاؤں بہتر ہے جب مکہ معظمہ تك آئے نہا کر جانا مستحب ہے جب کعبہ معظمہ پر نظر پڑے دعا مانگے کہ محل اجابت ہے باب السلام پر جاکر آستانہ پاك کو بوسہ دے دہنا پاؤں پہلے رکھ کر بسم الله کہہ کر داخل ہو بعدہ اگر جماعت قائم یا نماز فرض خواہ وتر یا سنت مؤکدہ کے فوت کاخوف نہ ہو تو سب کاموں سے پہلے متوجہ طواف ہو مرد اضطباع عــــہ۶ کرکے اور
عــــہ۱ : اشہر حج یکم شوال سے دہم ذی الحجہ تك ہیں ۱۲ منہ
عــــہ۲ : تمتع کے لیے اکثر طواف عمرہ یعنی چار پھیروں کا ان مہینوں میں واقع ہونا ضرور ہے اگر چہ پورا عمرہ ان میں نہ ہو مثلا تین پھیرے رمضان میں کرلیے چار شوال میں کیے ہوں یوں بھی تمتع ہوسکتا ہے کہ اکثر کے لیے حکم کل کا ہے تو جن دنوں میں اکثر طواف واقع ہو گاا نہی میں عمرہ ہونا ٹھہرے گا ۱۲ منہ
عــــہ۳ : وہیں اس لیے کہہ دیا کہ عمرہ کے احرام سے نکل کر اپنے وطن کو واپس جائے اس کے بعد آکر حج کا احرام باندھے تو تمتع نہ ہوگا عمرہ الگ رہا حج الگ رہا اگر چہ اسی سال کرے دوسرا فائدہ اس قید کا یہ ہے کہ حج کا احرام وہیں یعنی حرم سے باندھے کہ اس کا حکم مثل مکی کے ہے اور مکی کے لیے حج کا میقات حرم ہے اگر حل سے باندھے دم دے گا۔ ہاں غیر مکی کا تمتع یوں بھی صحیح ہے پر یہاں جائز ومسنون شکل کا بیان ہے ۲ ۱منہ
عــــہ۴ : جمع کرنے کے ظاہر متبادر معنی یہ ہیں کہ ایك ہی وقت میں دونوں کی نیت کرے یہ شکل خاص سنت ہے اور اگر پہلے عمرہ کا احرام باندھا اور ہنوز اس کے چار پھیرے نہ کئے تھے کہ حج کا احرام کرلیا جب بھی تو قران ہوگیا یونہی اگرپہلے فقط حج کا احرام کیاتھا اور وقوف عرفہ سے پہلے عمرہ کا احرام کرلیا تو بھی قارن ہو امگر خلاف سنت کیا خصوصا جبکہ احرام عمرہ بعض افعال حج میں شروع کے بعد ہو کہ زیادہ برا ہے ۲ ۱منہ قدس سرہ العزیز۔
عــــہ۵ : تنبیہ : احرام کی بارہ صورتیں ہیں جن میں ایك تمتع ہے اور باقی گیارہ میں بعض ائمہ کے طور پر پانچ افراد ہیں اور چھ قران اور بعض محققین کی تحقیق پر آٹھ افراد ہیں تین قران۔ اس کی نفیس وجلیل توضیح وتفصیل ہم نے ہوامش ردالمحتار پر کی کہ غالبا دوسری جگہ نہ ملے گی وہاں سے ان تین قسموں کی پوری پوری جامع مانع تعریف ظاہر ہوتی ہے یہاں صرف صاف صاف عام فہم بات لکھ دی ہے ۱۲ منہ۔ عــــہ۶ : تنبیہ : طواف قدوم میں رمل واضطباع وسعی کرنے نہ کرنے کااختیار ہے اگر کرے گا توطواف زیارت میں جس کا بیان آگے آتا ہے ان امور کی حاجت نہ ہوگی ورنہ وہاں کرنے ہوں گے اور اس دن ہجوم بہت ہوتا ہے اور کام بھی زیادہ۔ لہذا ہم نے بنظر آسانی مطلقا ان امور کو داخل ترتیب کردیا اور قارن کو تو خود افضل ہی یہ ہے کہ یہ باتیں اسی طواف میں بجا لائے ۱۲ منہ
#10328 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
اور عورت بے اضطباع حجر اسود کی دہنی طرف رکن یمانی کی جانب سنگ مکرم کے قریب یوں کھڑا ہو کہ تمام پتھراپنے اپنے دست راست کی طرف رہے پھرطواف کی نیت کرکے کعبہ کو منہ کئے اپنی دہنی سمت چلے جب سنگ اسود کے مقابل ہوا ور یہ بات ادنی حرکت سے حاصل ہوجائے گی کانوں تك ہاتھ اس طرح اٹھا کر کہ ہتھیلیاں جانب حجر رہیں بسم الله والحمد لله والله اکبر والصلوۃ والسلام علی رسول الله کہے اور پھر حجر مطہر پر دونوں کف دست اور ان کے بیچ میں منہ رکھ کر یوں بوسہ لے کہ آواز عــــہ۱ نہ پیدا ہو۔ تین بار ایسا ہی کرے اگر بے ایذا وکشمکش میسر آئے ورنہ ہاتھ یالکڑی سے مس کرکے انھیں چوم لے او ریہ بھی نہ ہوسکے تو ہاتھوں سے اس کی طر ف اشارہ کرکے انھیں بوسہ دے لے پھر درکعبہ کی طرف بڑھے جب محاذات حجرسے گزر جائے سیدھا ہولے اور خانہ کعبہ کو اپنی طرف کرکے بے ایذا ومزاحمت مرد رمل کرتا (اور عورت بے رمل) چلے۔ طواف میں کعبہ سے جتنا پاس ہو بہتر ۔ مگر اتنا نہ کہ پشتہ دیوار پر جسم یا کپڑا لگے اور نزدیکی میں از دحام سے رمل نہ کر سکے تو دوری افضل ہے جب رکن یمانی پر آئے اسے دونوں ہاتھوں یا دہنے سے تبرکا چھوئے نہ صرف بائیں سے اور چاہے تو بوسہ بھی دے او رنہ ہوسکے تو کچھ نہیں عــــہ۲ یہاں تك کہ حجر اسود تك آجائے۔ یہ ایك پھیرا ہوا یوں ہی سات پھیرے کرے مگر رمل تین پھیروں کے بعد نہیں ختم طواف میں بھی حجر اسود پر بوسہ دے پھر مقام ابراہیم میں آکر جہاں تك مر مر بچھا ہے دو رکعت طواف پڑھے بشرطیکہ وقت مکروہ نہ ہو ورنہ تاخیر کرے اس کے بعد دعا مانگے۔ پھر ملتزم میں آئے کہ اس پارہ دیور کانام ہے جو درمیان حجرا سود ودرکعبہ کے ہے یہاں قریب حجرملتزم سے لپٹے اور اپنا سینہ پیٹ دہنا ر خسارہ کبھی بایاں کبھی تمام منہ اس پر رکھے۔ دونوں ہاتھ سرسے بلند کرکے دیوار پر پھیلائے یا دہنا دروازے اور بایاں حجر کی طرف او ردعا کرے۔ پھر زمزم پر آئے۔ ہو سکے تو خود ایك ڈول کھینچے ورنہ کسی سے لے کر آب مطہر رو بکعبہ تین سانسوں میں ہر بار بسم الله سے شروع الحمد پر ختم کرتا خوب پیٹ بھر کر پیے۔ باقی بدن پر ڈال لے۔ پیتے وقت دعا کرے کہ قبول ہے۔ کنویں کے اندر بھی نظر کرے کہ دافع نفاق ہے اب اگر کوئی عذر مثل استراحت وغیرہ نہ ہو تو صفا مروہ میں سعی کے لیے پھر حجر اسود کو بطور مذکور چومے۔ او رنہ ہوسکے تو فقط اس کی طرف منہ کرکے فورا باب صفا سے جانب صفا روانہ ہو دروازے سے بایاں پاؤں پہلے نکالے اور داہنا پہلے جوتے میں ڈالے پھر صفا کی سیڑھی پر چڑھے کہ کعبہ نظر آئے روبکعبہ ہو کر دونوں ہاتھ آسمان کی طرف پھیلے شانوں تك اٹھائے جیسے دعا میں کرتے ہیں۔ دیر تك تکبیر
عــــہ۱ : یہ ادب ہر بوسہ تعظیم مثلا اولیاء وعلماء کے دست وپا چومنے میں بھی ملحوظ رکھے ۱۲ منہ۔
عــــہ۲ : یعنی بوسہ ومس نہ ملے تو یہاں یہ نہیں کہ لکڑی سے چھو کر اسے چومے یا ہاتھوں سے اشارہ کرکے بوسہ دے یہ باتیں صرف حجراسود میں تھیں ۱۲ منہ
#10329 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
تہلیل درود و دعا میں رہے کہ محل اجابت ہے پھر اترکر ذکر ودرود میں مشغول مروہ کو چلے۔ ان دونوں کے بیچ میں بائیں ہاتھ کو دیوار مسجد الحرام میں دو جگہ سبز علامتیں بنی ہیں جنھیں میلین ا خضرین کہتے ہیں مرد پہلے میل سے دوڑنا شروع کریں مگر نہ حد سے زائد کسی کو ایذا دیتے۔ یہاں تك کہ دوسرے میل سے نکل جائیں۔ اتنے راستے کو “ مسعی “ کہتے ہیں عورتیں نہ دوڑیں۔ اس مابین میں دعا بجہد کرے میل دوم سے پھر آہستہ ہو لے یہاں تك کہ مروہ پر پہنچے یہاں گو کعبہ نظر نہیں آتا مگر استقبال کرکے جیسے صفا پر کیا تھا کرے۔ یہ ایك پھیرا ہوا۔ پھر صفا پر جائے اور مسعی میں دوڑے یہاں تك کہ ساتواں پھیرا مروہ پر ختم ہو۔ واضح ہو کہ عمرہ صرف انہی افعال طواف وسعی کا نام ہے۔ قارن ومتمتع کے لیے یہی عمرہ عــــہ۱ ہوگیا۔
اور مفرد کے لیے طواف قدوم مگر قارن اسی طرح بہ نیت طواف قدوم ایك طواف وسعی اورکرے۔ اور وہ اور مفرد دونوں احرام میں رہیں۔ لیبك گویاں مقیم مکہ ہوں بخلاف متمتع کہ تنہا عمرہ والے کی طرح شروع سے بوسہ حجر لیتے ہی لبیك چھوڑدے اور طواف وسعی مذکور کے بعد حلق یا تقصیر کرکے احرام عــــہ۲ سے باہرآئے
پھر چاہے تو ہشتم ذی الحجہ تك بے احرام رہے مگر افضل یہ ہے کہ جلدا حرام حج باندھ لے اگر یہ خیال نہ ہو کہ دن زیادہ ہیں احرام کی قید یں مجھ سے نہ نبھیں گی۔
ایام اقامت میں یہ سب حجاج عــــہ۳ جس قدر ہوسکے نرا طواف بے سعی و رمل واضطباع کرتے رہیں اور ہر سات پھیروں پر مقام ابراہیم میں دو رکعت پڑھیں۔
ساتویں تاریخ بعد نماز ظہر مسجد الحرام شریف میں امام کا خطبہ سنے۔ آٹھویں تاریخ جس نے عــــہ۴ ابھی احرام نہ باندھا ہو باندھ لے۔ اور حج کے رمل عــــہ۵ وسعی پیشتر کرنا چاہے
عــــہ۱ : اگر چہ انھوں نے ان افعال میں نیت عمرہ نہ کی ہو ۱۲ منہ
عــــہ۲ : مگر جس متمتع نے سوق ہدی کیا ہو اسے قارن کی طرح احرام سے باہر آنا روانہیں ۱۲ منہ
عــــہ۳ : یعنی یہ چند سطریں بیچ میں خاص متمتع کے بیان میں تھیں آگے پھر عام احکام ہیں جن میں قارن متمتع مفرد سب شریك ۱۲منہ
عــــہ۴ : اور وہ وہی متمتع ہوگا جو عمرہ کرکے احرام سے باہر آیا یا مکی جس نے ابھی حج کا احرام نہ کیا ۱۲ منہ
عــــہ۵ : مفرد قارن نے طواف قدوم میں جو رمل وسعی کی وہ حج کی تھی اب انھیں طواف زیارت میں فراغت رہے گی پر متمتع کے لیے طواف قدوم نہیں اور وہ رمل وسعی کہ اس نے کی تھی عمرہ کی تھی اس سے حج کی رمل وسعی ادا نہ ہوئی تواسے طواف زیارت میں کرنے ہوں گے لہذا اگر بخیال زحمت وقلت فرصت یہ بھی پیشتر فارغ ہولینا چاہے تو ایك نفلی طواف کے ساتھ ادا کرے ۱۲ منہ
#10330 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
تو ایك طواف نفل کے ساتھ کرلے جب آفتاب نکل آئے سب منی کوچلیں بشرط قوت پیادہ کہ جب تك مکہ پلٹ کر آئے گا ہر قدم پر سات کروڑ عــــہ۱ نیکیاں لکھی جائیں گی۔ سو ہزار کا لاکھ سولاکھ کا کروڑ سو کروڑ کا ارب سو ارب کا کھرب یہ نیکیاں تخمینا عــــہ۲ اٹھتر کھرب چالیس ارب آتی ہیں اور خدا کا فضل اس نبی کے صدقے میں اس امت پر بہت ہے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم راہ میں لبیك و دعا ودرود وثنا کی کثرت کرے۔ منی دیکھ کر دعا مانگے۔ وہاں شب باش ہوکر آج کی ظہر سے نویں کی صبح تك پانچ نمازیں پڑھے۔ یہ رات ذکر وعبادت میں جاگتا یا باطہارت سوتا گزارے۔ جب صبح ہو نماز مستحب وقت پڑھ کر لبیك وذکرمیں رہے یہاں تك کہ آفتاب “ کوہ ثبیر “ پر کہ مسجد الخیف شریف کے مقابل ہے چمکے۔ اب عرفات کو چلے قلب کو خیال غیر سے پاك کرنے میں جہد کامل کرے۔ راستہ کثرت لبیك وذکر ودرود وتوبہ واستغفار میں کاٹے۔ جب نگاہ جبل رحمت پر پڑے ان امور میں جہد تام کرے کہ ان شاء الله وقت قبول ہے۔ عرفات میں اس کوہ مبارك کے پاس یا جہاں جگہ ملے شارع عام سے بچ کر اترے۔ دوپہر تك تضرع وابتہال اور باخلاص نیت حسب استطاعت تصدق وخیرات وذکر ولبیك ودرود ودعا واستغفار وکلمہ توحید عــــہ۳ میں مشغول رہے پھر زوال آفتاب سے کچھ پہلے نہائے کہ سنت موکدہ ہے یا وضو کرے اور قبل از زوال کھانے پینے وغیر ہما ضروریات سے فارغ ہولے کہ قلب کو کسی جانب تعلق نہ رہے۔ آج کے دن جیسے کہ حاجی کو روزہ مناسب نہیں کہ دعا میں ضعف نہ ہو یوں پیٹ بھر کھانا سخت زہر ور غفلت وکسل کا باعث تین روٹی بھوك والا
عــــہ۱ : حدیث میں یوں ہے کہ پیادہ جانیوالے کو ہر قدم پر سات سو نیکیاں ملتی ہیں حرم کی نیکیوں سے اور دوسری حدیث سے ثابت ہے کہ حرم کی ہر نیکی لاکھ نیکیوں کے برابرہے تو سات سو کو لاکھ میں ضرب دینے سے سات کروڑ ہوئے ۱۲ منہ۔
عــــہ۲ : عرفات مکہ معظمہ سے نو کوس گنی جاتی ہے آتے جاتے اٹھارہ کوس ہوئے ا ور فقیر نے تجربہ کیا کہ عرفی کوس ۱ ۳ / ۵ ہوتا ہے تو تخمینا ۲۸ میل سمجھو ہر میل کے چار ہزار قدم ۲۸ کو ۴۰۰۰ میں ضرب دینے سے ایك لاکھ بارہ ہزار قدم ہوئے انھیں سات کروڑ میں ضرب دیجیئے تو وہی ۷۸ کھرب ۴۰ ارب نیکیاں ہوتی ہیں اور اگر عرفات کو مکہ معظمہ سے ۹ میل ہی رکھتے تو ۷۲ ہزار قدم ہوئے جن کی ۵۰ کھرب ۴۰ ارب نیکیاں یہ کیا تھوڑی ہیں اور الله تعالی کا فضل بہت بڑا ہے ۱۲ غفرلہ
عــــہ۳ : یعنی لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریك لہ لہ الملك ولہ الحمد یحیی ویمیت وھو حی لا یموت بیدہ الخیر وھو علی کل شیئ قدیر ۔ حدیث میں فرمایا : بہتر وہ کلمہ جو آج عرفہ کے دن میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء نے فرمایا یہ ہے ۱۲ منہ
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الحج مسائل منثورہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۸۷)
فتح القدیر کتاب الحج مسائل منثورہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳ / ۸۷
#10331 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
یك ہی کھائے عــــہ۱ جب زوال ہولے بلکہ اس سے پہلے کہ امام کے قریب جگہ ملے مسجد نمرہ جائے سنتیں پڑھ کر خطبہ سن کر امام کے ساتھ ظہر پڑھے اس کے بعد بے توقف عصر کی تکبیر ہو گی معا جماعت میں عصر پڑھ لے بیچ میں سلام کلام تو کیا معنی۔ ظہر کی پچھلی سنتیں بھی نہ پڑھے اور بعد عصر بھی نفل نہیں۔ یہ ظہر وعصر کی جمع جبھی جائزہے کہ نماز امام اعظم یعنی سلطان یااس کے نائب ماذون کے پیچھے ہو ورنہ عصر وقت سے پہلے باطل ہوگی۔ بعدنماز فورا فورا موقف کو جائے۔ افضل یہ ہے کہ اونٹ پر امام سے نزدیك جبل الرحمۃ کے قریب جہاں سیاہ پتھروں کا فرش ہے روبقبلہ پس پشت امام کھڑا ہو جبکہ ان فضائل کے حصول میں دقت یاکسی کی اذیت نہ ہو ورنہ جہاں عــــہ۲ اور جس طرح ہو سکے وقوف کرے۔ اما م کی دہنی جانب بائیں اور بائیں رو برو سے افضل ہے۔ اب غایت خشوع وخضوع کے ساتھ لرزتا کانپتا ڈرتا ا مید کرتا آنکھیں بند کئے گردن جھکائے دست دعا آسمان کی طرف اٹھائے تکبیر تہلیل تسبیح حمد درود دعا توبہ استغفار میں ڈوب جائے کو شش کرے کہ ایك قطرہ آنسوؤں کا ٹپکے کہ دلیل اجابت وکمال سعادت ہے ورنہ رونے والوں کا سا منہ بنائے کہ من تشبہ بقوم فھومنھم (جس نے جس قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہوگا۔ ت) اثنائے دعا وذکر میں لبیك کی بار بار تکرار کرے آج کے دن دعائیں بہت مقبول ہیں مگر سب میں بہت
عــــہ۱ : حدیث میں ہمیشہ تہائی پیٹ کھانے کو فرمایا ہے ہم حریصوں سے مدام عمل نہیں ہوتا تو کاش ایام اقامت حرمین میں تواس پر عامل رہیں ورنہ جان برادر
انائے کہ پرشد دگرچوں پرد
(پیٹ جب پر ہوتا ہے تو دوسرے امور ہاتھ سے جاتے رہتے ہیں)
اے عزیز۱ ہفتہ بھر اس پر عمل کر دیکھ۔ پھر اگر اگلی حالت سے کچھ فرق دیکھے ماننا ورنہ اختیار ہے زندگی ہے توکھانے پینے کے بہت دن ہیں۔ حرمین کی اقامت تو نشاط سے گزرے جان برادر! اگر اتنا صبر بھی شاق ہے تو ۸ سے ۱۳تك خاص اعمال حج کے دن ہیں اور آٹھ دس روز مدینہ طیبہ کے کہ حضور ی مبارك کے ایام ہیں ذرانفس کی باگ کڑی کرلے ورنہ یقین جان کہ
بسیار خوارست بسیار خوار
(بسیار خوری___ کثیر ذلت ہے) ۱۲منہ
عــــہ۲ : یعنی بطن عرنہ سے بچ کر وہاں وقوف محض ناجائز ہے وہ عرفات میں ایك نالہ ہے حرم محترم کے نالوں سے مسجد عرفات سے جسے مسجد نمرہ کہتے ہیں پچھال یعنی کعبہ معظمہ کی طرف ۱۲ منہ
حوالہ / References الترغیب والترھیب بحوالہ ترمذی حدیث ۲ الترھیب من الامعان فی الشبع الخ مصطفی البابی مصر ۳ / ۱۳۶
#10332 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
یہ ہے کہ دعا کے بدلے سارا وقت درود وذکر وتلاوت قرآن میں گزارے کہ دعا والوں عــــہ۱ سے زیادہ پائے گا۔
غرض اسی حالت تضرع وزاری پرر ہے یہاں تك کہ سورج ڈوب جائے اور ایك جز ولطیف عــــہ۲ رات کا آجائے اس سے پہلے کوچ منع ہے اور ایك ادب واجب الحفظ اس روز یہ ہے کہ الله تعالی کے سچے وعدوں پر بھروسا کرکے یقین جانے کہ آج میں گناہوں سے ایسا پاك ہوگیا جیسا جس دن ماں کے پیٹ سے پیدا ہواتھا۔ اب کوشش کروں گا کہ آئندہ گناہ نہ ہو او رجو داغ الله تعالی نے بہ محض رحمت میری پیشانی سے دھویاہے پھر نہ لگے۔ بعد تیقن غروب فورا سکینہ ووقار کے ساتھ ہمراہ امام عــــہ۳ لبیك وتکبیر وذکر و درود میں مشغول مزدلفہ جائیں۔ راہ میں وسعت ملے او رکسی کی ایذا نہ ہو تو سیر میں شتابی کریں۔ نما زمغرب وعشاء عرفات خواہ راہ میں نہ پڑھیں جب مزدلفہ نظرآئے بشرط قدرت پیادہ ہوجائے اور نہاسکے تو بہتر یہاں جبل قزح کے قریب راہ سے بچ کر اتریں اسباب اتارنے اونٹ کھولنے سے پہلے وقت عشاء میں بعد اذان واقامت نما زمغرب بہ نیت ادا اور اس کے بعد بے تکبیر یا تکبیر کہہ کر بے فصل سنت ونفل معا عشاء پڑھ لیں اس جمع میں جماعت شرط نہیں۔ صبح تك بقدر قدرت یاد خدا ودرود ودعامیں رہیں جب صبح ہو نماز صبح اول وقت خوب تاریکی میں پڑھ کر مشعر الحرام میں آئیں امام کے پیچھے رو بقبلہ ذکر ولبیك و درود ودعا میں جہد رکھیں۔ الله جل جلالہ سے بتضرع تمام حقوق العباد سے خلاصی مانگیں یہاں سے سات کنکریاں اٹھا کر دھو کر رکھ لیں۔ جب خوب روشنی ہوجائے اور آفتاب قریب طلوع آئے ہمراہ امام لبیك وذکر میں مشغول منی کو چلیں جب وادی محسر عــــہ۴ پہنچیں بقدر پانسو پنیتالیس گزشرعی کے سیر میں
عــــہ۱ : یہ امر حدیثوں سے ثابت ہے جسے ان کا دیکھنا ہو جواہر البیان شریف مطالعہ کرے خلاصہ ان کا یہ کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا : “ اگر تو اپنی سب دعاؤں کے عوض مجھ پر درود بھیجا کرے گا تو الله تعالی تیرے سب کام بنادے گا اور تیرے گناہ معاف فرمائے گا ۔ “ بیہقی کی حدیث میں ہے : “ رب العزت جل جلالہ فرماتا ہے جو میرے ذکر کے سبب دعا کی فرصت نہ پائے اسے سب مانگنے والوں سے زیادہ دوں ۔ “ ترمذی کی حدیث میں ہے : “ مولا تعالی فرماتا ہے جسے تلاوت قرآن ذکر ودعا کی مہلت نہ دے اسے سب سائلوں سے افضل عطاکروں ۱۲ منہعــــہ۲ : اس کے معنی ہم اوپر لکھ چکے کہ غروب آفتاب کا یقینی ہوجانا مرادہے پھردیر نہ کرے ۱۲ منہ عــــہ۳ : اوپر گزرا کہ ہمراہی امام سنت ہے اور اگر وہ وقت مسنون پر کوچ کرے اور معیت میں ا پنی یا غیر کی اذیت نہ ہو۱۲ منہ۔ عــــہ۴ : یہ منی ومزدلفہ کے بیچ میں ایك نالہ ہے دونوں کی حدود سے خارج مزدلفہ سے منی کو جاتے ہوئے بائیں ہاتھ کو جو پہاڑ پڑتا ہے اس کی چوٹی سے شروع ہو ا ہے ۵۴۵ گزطول رکھتا ہے یہاں آکر اصحاب الفیل ٹھہرے اور ان پر عذاب ابابیل اترا تھا اس لیے اس سے جلد گزرنا اور عذاب الہی سے پناہ مانگنا چاہئے ۱۲ منہ
حوالہ / References مشکوٰۃ المصابیح باب الصلٰوۃ علی النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فصل ثانی مطبع مجتبائی دہلی ص۸۶
شعب ا لایمان حدیث ۵۷۳ بیروت ۱ / ۴۱۳
جامع الترمذی ابواب فضائل القرآن امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۱۱۶)
#10334 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
بے ایذا ئے احد ے تیزی کریں اور اس عرصہ میں غضب وعذاب الہی سے پناہ مانگیں جب منی پہنچیں سب کاموں سے پہلے جمرہ العقبہ کوکہ ادھر سے پچھلا جمرہ ہے اور مکہ معظمہ سے پہلا جائیں اور بطن وادی میں سواری پر جمرہ سے پانچ گز شرعی چھوڑ کر کھڑے ہوں کہ منی دہنے ہاتھ پر رہے اور کعبہ بائیں پر۔ پس رخ بجمرہ سات کنکریاں جدا جدا سیدھا ہاتھ خوب اٹھا کر کہ سپیدی بغل ظاہر ہو ہر ایك پر “ بسم اﷲ اﷲ اکبر “ کہہ کر ماریں۔ بہتر یہ ہے کہ کنکریاں جمرہ تك پہنچیں ورنہ تین گز شرعی کے فاصلہ تك گریں اس سے زیادہ میں وہ کنکری شمارمیں نہ آئے گی پہلی کنکری سے لبیك موقوف کریں جب سات پوری ہوجائیں فورا ذکر ودعا کرتے پلٹ آئیں اب قربانی عــــہ۱ میں کہ متمتع وقارن پر واجب او رمفرد کو مستحب ہے مشغول ہو اگر ذبح کرنا آئے خود ذبح کریں ورنہ ذبح میں حاضر ہوں دنوں ہاتھ اور ایك پاؤں اس کا باندھ کر روبقبلہ لٹائیں او رتکبیر کہہ کر نہایت تیز چھری بسر عت تمام پھیردیں بعدہ ہاتھ پاؤں کھول دیں اونٹ ہو تو اسے کھڑا کرکے سینہ میں منتہائے گلو پر نیز ماریں کہ سنت یونہی ہے اور اس کا ذبح مکروہ اگر چہ حلت میں کافی ہے۔ بعدفراغ اپنے اور تمام مسلمانوں کے لیے قبول حج وقربانی کی دعا کریں جب تك سرد نہ ہو کھال نہ کھینچیں کہ ایذا ہے بعدہ رو بقبلہ بیٹھ کر مرد سارا سر منڈائیں کہ افضل ہے یابال کتروائیں کہ رخصت ہے ابتداء دہنی جانب سے کریں وقت حلق اﷲ اکبر اﷲ اکبر لا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر اﷲ اکبر وﷲ الحمد کہتے جائیں بعد فراغ بھی کہیں سب مسلمانوں کی مغفرت مانگیں بال دفن کردیں حلق سے پہلے ناخن نہ کتروائیں خط نہ بنوائیں عورتوں کو حلق روانہیں ایك پور برابر بال کتروادیں اب جماع ودواعی جماع کے سوا جو کچھ احرام نے حرام کیا تھا سب حلا ل ہوگیا۔ افضل یہ ہے کہ آج دسویں ہی تاریخ طواف فرض کے لیے جسے “ طواف زیارۃ “ کہتے ہیں مکہ معظمہ جائیں بدستور مذکور پیادہ پا باطہارت وستر عورت بے اضطباع عــــہ۲ کریں اسی طرح عــــہ۳ جو مفرد متمتع مثل قارن رمل وسعی حج دونوں خواہ صرف سعی حج سے کسی طواف عــــہ۴ کا مل باطہارت میں
عــــہ۱ : یہ قربانی عیدکی قربانی سے جدا ہے وہ مسافر پر اصلا نہیں اور مقیم مالدارپر واجب ہے اگر چہ حاجی ہو ۱۲ منہ
عــــہ۲ : ہم اوپر لکھ چکے کہ اس طواف میں اضطباع اصلا نہیں ا گر چہ پیشترنہ کیا ہو ۱۲ منہ
عــــہ۳ : تو ضیح مسئلہ یہ ہے کہ قارن کو طواف قدوم میں رمل وسعی کرلینی افضل ہے وھذہ معنی قولہ مثل قارن(اس کے قول “ مثل قارن “ کا یہی معنی ہے۔ ت) او رمفرد کو بھی بخیال زحمت وقلت فرصت اجازت اور متمتع کے لیے اگرچہ طواف قدوم نہیں کما بینامن قبل (جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کردیاہے ۔ ت) مگرا سے(باقی برصفحہ ائندہ)
#10335 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
فارغ ہوچکا ہے و ہ رمل وسعی کرے ورنہ اب دونوں بجا لائے۔ بعد طواف دورکعت مقام ابراہیم میں پڑھیں اس سے عورتیں بھی حلال ہوگئیں بارھویں تك اس کی تاخیر روا۔ اس کے بعد بلا عذر مکروہ تحریمی موجب دم ۔
اب دسویں تاریخ نماز ظہر مکہ معظمہ میں پڑھ کر پھر منی عــــہ۱ جائے گیارھویں شب وہیں بسر کرے نہ مکہ میں نہ راہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ہم اوپر لکھ آئے کہ پہلے کرلینا چاہئے تو ایك نفل کے ساتھ کرلے اب یہ لوگ اگر پیشتر ان کاموں سے فارغ ہولئے تھے فبہا آج حاجت نہ پڑے گی مگر جس نے نہ کئے خواہ قارن ہو یا مفرد یامتمتع اسے اب کرنے چاہئیں پر رمل اسی طواف میں مشروع ہے جس کے بعد سعی ہو تو جس نے ہنوز دونوں نہ کئے ہوں ہو توظاہر ہے کہ اس طواف کے ساتھ دونوں کرے گا اور جس نے سعی نہ کی اور رمل کرلیا وہ بھی اب دونوں کرے۔ سعی تویوں کہ باقی تھی اور رمل یوں کہ پہلا رمل جو طواف بے سعی میں واقع ہوا نامشروع تھا اب بروجہ مشروع بجالائے اور جس نے سعی کرلی تھی رمل نہ کیا تھاوہ اب کچھ نہ کرے۔ سعی تو یوں کرچکا ہے اور رمل یو ں کہ کرتا ہے تو بے سعی واقع ہوگا اورسعی دوبارہ نہیں ہوسکتی ۱۲ منہ
عــــہ۴ : طواف کا مل کے معنی فصل واجبات میں گزرے ۱۲ منہ
(حاشیہ صفحہ ھذا)
عــــہ۱ : قدرت الہی کا ایك عجیب تماشا ہر کس وناکس نے منی میں ان آنکھوں سے دیکھا ہے جس سے بحمد الله حقانیت اسلام ومعجزہ باہر ہ حضور سید الانام علیہ افضل الصلوۃ والسلام ظاہر ہو۔ منی چند پہاڑوں کے درمیان ایك چھوٹی سی جگہ کا نام ہے جس کا عرض تو بہت ہی قلیل ہے اور طول دومیل سارا رقبہ ایك مربع میل سے بھی کم سمجھئے یہاں چار پانچ روز تمام حجاج کا ہجوم رہتا ہے پھر یوں نہیں جیسے نماز کی صفیں یا مجلس کی گنجائش بلکہ جس طرح شہروں میں بستے ہیں ہزار ہا خیمے ڈیرے قناتیں پردے ہر ایك اپنی اپنی جدا منزل میں پھر اصل آبادی کی عمارتیں علاوہ۔ اور ہم اوپر لکھ آئے کہ کسی سال پندرہ لاکھ سے کم نہیں ہوتے فقیر جس سال حاضرتھا اٹھارہ لاکھ کی مردم شماری سننے میں آئی۔ پھر کبھی نہ دیکھئے گا کہ منی بھر گئی یا کسی وقت حاضرین سے تنگ ہوگئی۔ سب اہلے گہلے بہ فراغت پھیلتے چلتے پھرتے سوتے بستے کام کاج کرتے ہیں یہ بحمد الله صریح تصدیق ہے اس حدیث کی کہ ارشاد ہوا : “ منی حاجیوں کے لیے ایسی پھیلتی ہے کہ جیسے ماں کا پیٹ بچہ کے لیے کہ جتنا بچہ بڑھتا جاتا ہے ماں کا پیٹ جگہ دیتاہے ۔ “ اشھدان الا سلام حق والکفر باطل والحمدﷲ رب العالمین ۱۲ منہ غفرلہ۔
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ طس عن ابی الدرداء حدیث ۳۴۷۹۹ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۲ / ۲۳۰ ، درمنثور واذکرواﷲ فی ایام معدودات کے تحت مذکور ہے منشورات آیۃ الله العظمی قم ایران ۱ / ۲۳۵
#10337 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
مکروہ ہے روز یازدہم بعد نماز ظہر امام کا خطبہ سن کر متوجہ رمی ہو ان ایام میں رمی جمرہ اولی سے شروع کرے جو مزدلفہ کی طرف مسجد خیف سے قریب ہے راہ مکہ کی طرف سے آکر چڑھائی پر چڑھے کہ یہ جگہ نسبت جمرۃ العقبہ کے بلندہے رو بہ کعبہ بطور مذکور سات کنکریاں مار کرجمرہ سے قدرے آگے بڑھے مستقبل قبلہ ہاتھ دعامیں یوں اٹھا کر ہتھلیاں رو بہ قبلہ رہیں حضور قلب سے حمد و درود ودعا واستغفار میں بقدر قراء ت یا سورہ بقرہ یا کم سے کم بمقدار بست آیت مشغول رہے۔
آگے جمرہ وسطی ہے وہاں بھی ایساہی کرے پھر جمرہ عقبہ ہے یہاں رمی کرکے نہ ٹھہرے معا پلٹ آئے پلٹتے میں دعا کرے شب دواز دہم یہیں اپنی فرودگاہ پر گزارے۔ بارھویں تاریخ جمرات ثلاثہ کو بعد زوال اسی طریقے سے رمی کرے___ اب تابہ غروب آفتاب مختار ہے کہ جانب مکہ روانہ ہوا ور ایك دن اور ٹھہرے تو افضل ہے مگر بعد غروب چلاجانا معیوب ۔ پس اگر تیرھویں کو بھی ٹھہرا تو اسی طرح رمی جمرات کرکے متوجہ مکہ معظمہ ہو۔ جب وادی محصب میں کہ جنت المعلی کے قریب ہے پہنچے سواری اترلے یا بے اترے کچھ دیر ٹھہر کر مشغول دعاہو بہتر تویہ ہے کہ عشاء تك نمازیں یہیں پڑھے نیند لے کر داخل مکہ معظمہ ہو۔ اب اپنے اور اپنے والدین ومشائخ واولیائے نعمت خصوصا حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کے اصحاب وعترت علیہ وعلیہم الصلوۃ والتحیۃ کی طرف سے جتنے ہوسکیں عمرے کرتا رہے جب عزم سفر ہو طواف وداع بے رمل وسعی واضطباع کرے دو رکعت مطلوبہ پڑھے۔ پھر زمزم عــــہ پر آئے پانی بہ طریق مذکور پئے بدن پر ڈالے۔
عــــہ : قدرت ربانی کا صریح نمونہ اس مبارك کنویں میں ہے چھوٹا ساکنواں ذرا سادور اور لاکھوں کا ہجوم آٹھ پہر میں ایك دم کو پانی تھمنے نہیں پاتا۔ ہزاروں پیتے ہیں ہزاروں وضو کرتے ہیں ہزاروں نہار ہے ہیں ہزاروں مشکیں شہر میں جا ری ہیں ایك غول سرکا دوسرا آیا ہٹنے نہ پایا کہ تیسرا آیا پھر کوئی بتادے کہ فلاں وقت کنویں کا پانی کچھ کم کرگیا۔ والله برکت واے مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی برکت ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا گہرے سے گہرا کنواں فرض کیجئے اورایك دن میں پندرہ لاکھ اٹھارہ لاکھ کا ہجوم اس پر آنے دیجئے دم کے دم میں سن لیجئے گا کہ تلی میں خاك بھی نہ رہی ایك بار صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیہم اجمعین کے زمانہ میں زمزم شریف میں ایك زنگی گر کر مرگیا سب پانی کھینچنا تھا تھك تھك گئے۔ شل ہوگئے بہزار مشکل قدرے گھٹا کہ دفعۃ حجرا سود کی طرف سے ایك موسلادھار پرنالہ اسی جوش سے گرا کہ آن کی آن میں پھر ویساہی کردیا۔ الله تعالی کی بے شمار درودیں محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اورا ن کی آل پر۱۲ منہ غفرلہ۔
#10338 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
پھر روبروئے دراقدس کھڑا ہو۔ آستانہ پاك کو بوسہ دے۔ فلاح دارین قبول حج مغفرت ذنوب توفیق حسن عود بار ہا کی دعا کرے ملتزم پر آکر بہ نہج مذکور غلاف کعبہ تھام کر چمٹے تضرع خشوع دعا بکاء ذکر درود کی جو تکثیر ہوسکے بجالائے۔ حجر مطہر کو بوسہ دے کر الٹے پاؤں رخ بہ کعبہ یا سیدھے چلنے میں بار بار پھر کر کعبہ کوبہ نگاہ حسرت دیکھتا اور فراق بیت پر روتا یا رونے کی صورت بناتا مسجد مقدس کے دروازہ مسمی بہ “ باب الخرورہ “ سے نکلے پھر بقدر استطاعت فقرائے حرم پر تصدق کرکے متوجہ مدینہ طیبہ ہو۔
حاضری دربار در بار مدینہ طیبہ
اس سفر سراپاظفرمیں نیت لحاظ غیر سے خالص اور درود وذکر شریف حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نہایت کثرت کرے جب حرم مدینہ میں داخل ہو احسن یہ ہے کہ سواری سے اتر پڑے روتا سر جھکائے آنکھیں نیچے کئے چلے۔ ہوسکے توبرہنہ پائی بہتر بلکہ
جائے سراست اینکہ تو پائے می نہی پائے نہ بینی کہ کجامی نہی
(حرم کی زمین اور قدم رکھ کے چلنا ارے سرکا موقع ہے او جانیوالے)
جب نگاہ قبہ سعادت وبرج کرامت پر پڑے صلوۃ وسلام کی کثرت کرے جب خاص شہر اقدس تك پہنچے قبل دخول اور نہ بن پڑے تو بعد دخول پیش از حضور مسجد وضو ومسواك کرے اور غسل احسن جامہ سفید پاکیزہ پہنے۔ نیا بہتر سرمہ وخوشبو لگائے مشك افضل جب دروازہ شہر میں داخل ہو تمام ہمت اپنی تکثیر صلوۃ وسلام میں مصروف کرے۔ مراقبہ جلال وجمال محبوب ذی الجلال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں ڈوب جائے اب ان ضروریات وحوائج سے جن کا لگاؤ باعث تشویش خاطر ہو بسر عت تمام فراغ پاکر پہلا کام یہ کرے کہ آستانہ والا کی طرف بہ نہایت خشوع وخضوع متوجہ ہو۔ اگر رونا نہ آئے رونے کا منہ بنائے اور دل کو بہ زور رونے پر لائے۔ اپنی سختی دل سے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف التجا کرے۔ جب در مسجد پر حاضر ہو صلوۃ وسلام عرض کرکے قدرے توقف کرے گویا سرکار سے اذن حضوری طلب کرتاہے پھر دہنا پاؤں پہلے رکھتاسر سے پاؤں تك ادب بنتا داخل ہو اس وقت جوادب وتعظیم واجب ہے مسلمان کا قلب خود واقف ہے دل وجوارح کوخیال غیر وحرکات عبث سے باز رکھے مسجد اقدس کی آرائش و زینت ظاہری کی طرف نگاہ نہ کرے۔ اگر کوئی ایسا سامنے آئے جس سے سلام وکلام ضروری ہو حتی الوسع اعراض کرجائے۔ نہ بن پڑے تو قدر ضرورت سے تجاوز نہ کرے۔ پھر بھی دل اسی طرف متوجہ ہو
#10340 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
زنہارزنہار اس مسجد مقدس میں کوئی حرف چلا کر نہ کہے۔ یقین جان کہ وہ جناب عہ۱ مراز ا عطر وانور میں بحیات ظاہری دنیاوی حقیقی ویسے ہی زندہ ہیں جیسے پیش از وفات تھے ۔ موت ان کی ایك امر آنی تھی اور انتقال ان کا صرف نظر عوام سے چھپ جانا۔
ائمہ دین فرماتے ہیں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمارے ایك ایك قول عــــہ۲ وفعل بلکہ دل کے خطروں عــــہ۳ پر مطلع ہیں ۔ اب اگر جماعت قائم ہو شریك ہو جائے کہ اس میں تحیۃ المسجد بھی ادا ہوجائے گی ورنہ اگر غلبہ شوق اجازت دے تو دورکعت تحیۃ المسجد وشکرانہ حاضری صرف سورہ کافرون واخلاص سے بہت تخفیف کے ساتھ مگر بہ مراعات سنن مصلائے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم میں جہاں اب وسط مسجد میں محراب بنی ہے اور وہاں میسر نہ آئے تو حتی الوسع اس کے نزدیك ادا کرے۔ بعدہ سجدہ شکر میں گرے اور دعامانگے کہ الہی! اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ادب نصیب فرما۔
اب وہ وقت آیا کہ منہ اس کا مثل دل کے اس شباك پا ك کی طرف ہو گیا جو الله تعالی کے محبوب عظیم الشان کی آرام گاہ رفیع المکان ہے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم گردن جھکائے آنکھیں نیچی کئے لرزتا کانپتا بید کی طرح تھرتھراتا ندامت گناہ سے عرق شرم میں ڈوبا قدم بڑھا۔ خضوع ووقار وخشوع وانکساری کا کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کر سواسجدہ عبادت کے جو بات ادب واجلال میں اکمل ہو بجالا حضور والا کے پائیں یعنی شرق
عــــہ۱ : اس نفیس مقام پر کتاب مستطاب جواہر البیان شریف میں وہ نفحات جاں افروز ونفخات دشمن سوزہیں جن کی شرح میں فقیر نے کتاب “ سلطنت المصطفی فی ملکوت کل الوری “ تحریرکی جسے ان حقائق کی تفصیل دیکھنی منظور ہو اس کی طرف رجوع کرے ان شاء الله تعالی حق کا رنگ رچا ملے گا اور باطل کا سر لچا ذلك من فضل اﷲ علینا و علی الناس ولکن اکثر الناس لا یشکرون ۱۲ منہ
عــــہ۲ : علامہ علی قاری نے فرمایاحضور سے کچھ پوشیدہ نہیں وہ تیرے تمام افعال واحوال وکوچ ومقام سے آگاہ ہیں ۱۲منہ
عــــہ۳ : امام علامہ محدث شہاب الدین احمد قسطلانی شارح بخاری نے مواہب لدنیہ اور علامہ ابن الحاج مکی محمد عبدری نے مدخل میں اور ان کے ماسوا اور اکابر علماء نے اس معنی کی تصریح فرمائی ۱۲ منہ غفرلہ
حوالہ / References شرح مواہب زرقانی المقصد العاشر مطبعہ عامرہ مصر ۸ / ۳۴۸
المدخل فصل فی زیارۃ القبور دارالکتاب العربی بیروت ۱ / ۲۵۲
مسلك متقسط مع ارشادالساری باب زیارۃ سید المرسلین ص۳۳۸
#10341 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
کی سمت سے آ کہ وہ جناب مزارپر انوار میں رو بقبلہ جلوہ فرما ہیں جب تو اس سمت سے حاضر ہو گا حضور کی نگاہ بیکس پناہ تیری طرف ہوگی اور یہ امر تیرے لیے دو جہاں میں بس ہے۔
پھر زیر قندیل میخ سیمیں کے محاذی جودیوار حجرہ مقدسہ میں چہرہ انور کے مقابل مرکوز ہے پہنچ کر پشت بہ قبلہ دست بستہ مثل نماز کھڑا ہو عــــہ۱ کہ کتب معتمدہ میں اس معنی کی تصریح ہے اور زنہار جالی شریف کے بوسہ ومس سے دور رہ کہ خلاف ادب ہے اب نہایت ہیبت و وقارکے ساتھ مجر اوتسلیم بجالا بہ آواز حزیں وصورت درد آگیں و دل شرمناك و جگر صد چاک معتدل آوازسے نہ نہایت نرم وپست نہ بہت بلند وسخت عرض کر : السلام علیك ایھا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ السلام علیك یا رسول اﷲ السلام علیك یا خیر خلق اﷲ السلام علیك یا شفیع المذنبین السلام علیك وعلی الك واصحابك اجمعین ۔
جہاں تك ممکن ہو اور زبان یاری دے اور ملال وکسل نہ ہو۔ صلوۃ وسلام کی کثرت کر۔ حضور سے اپنے اور اپنے والدین ومشائخ واحباب تمام اہل اسلام کے لیے شفاعت مانگ۔ بار بار عرض کر : اسئلك الشفاعۃ یا رسول اﷲ ۔ پھر کسی نے عرض سلام کی وصیت کی توبجالا عرض کر : السلام علیك یا رسول اﷲ من عبدك عــــہ ۲ وابن عبدك احمد رضا بن نقی علی
عــــہ۱ : مثل اختیار شرح مختار وفتاوی عالمگیری ولباب وشرح لباب وغیرہا ۱۲ منہ
عــــہ۲ : اطلاق عبدبمعنی غلام قطعا جائز وشائع اور قرآن وحدیث میں واقع فقیر غفرالله تعالی نے اپنی کتاب “ البارق الشارقۃ علی مارقۃ المشارقۃ “ میں اس کی تحقیق مشبع لکھی اور اپنے رسالہ “ مجیر معظم شرح قصیدہ اکسیر اعظم “ (۱۳۰۲ھ) میں بھی قدرے توضیح اور گیارہ احادیث پر قناعت کی۔ یہاں اسی قدر کافی کہ رب الارباب عز جلالہ قرآن عظیم میں فرماتا ہے :
و انكحوا الایامى منكم و الصلحین من
نکاح کردو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ خاتمہ فی زیارۃ قبرالنبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۶۵
شرح لباب مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص۳۳۸
شرح لباب مع ارشادالساری باب زیارۃ سید المرسلین دارالکتاب العربی بیروت ص۳۳۹
#10342 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
یسئلك الشفاعۃ فاشفع لہ وللمسلمین۔
فقیر اپنے مسلمان بھائیوں سے عاجزانہ درخواست کرتاہے جوصاحب اس رسالہ پر واقف ہوں اورالله عزجلالہ حاضری روضہ اقدس عطا فرمائے ان الفاظ کو عرض کرکے ثواب جزیل پائیں اور نالائق ننگ خلائق کو ممنون احسان بنائیں الله تعالی تمھیں دونوں جہان میں جزائے خیر بخشے۔ آمین!
بعدہ ایك گز شرعی اپنے دہنے ہاتھ یعنی مشرق کی جانب ہٹ کر مقابل چہرہ انور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کھڑا ہو کر عرض کر : السلام علیك یا خلیفۃ رسول اﷲ۔ السلام علیك یا وزیر رسول اﷲ ۔ السلام علیك یا صاحب رسول اﷲ فی الغار ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ۔
پھر اس قدر ہٹ کر روبروئے جناب فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ قیام کرکے کہہ : السلام علیك یا امیر المومنین۔ السلام علیك یا متمم الاربعین۔ السلام علیك یا عزالاسلام والمسلمین ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ۔
پھر بقدر نصف گز شرعی کے پلٹ آ او رصدیق وفاروق کے درمیان کھڑا ہو کر عرض کر : السلام علیك یا صاحبی رسول اﷲ۔ السلام علیك یا خلیفتی رسول اﷲ۔ السلام علیك یا وزیری رسول اﷲ ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ ۔
ان سب حاضریوں میں بہ جہد تام دعا کرے کہ محل قبول ہے۔ پھر منبر اطہر کے قریب آکر دعا کرے
پھر روضہ منورہ میں یعنی جو جگہ منبر انور وروضہ مطہرہ کے ہے اور اسے حدیث میں جنت کی کیاری فرمایا آکر دو رکعت نفل پڑھے اور دعا کرے ۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
عبادكم و امآىكم-
اپنے لائق غلاموں اور کنیزوں کا ۔ (ت)
دیکھو الله تعالی نے ہمارے غلاموں کو ہمارا عبد فرمایا اگر چہ ہمیں اپنے غلام کو یاعبدی نہ کہنا چاہئے کہ تواضح کے خلاف ہے حدیث میں اس کی ممانعت آئی نہ یہ کہ غلام بھی اپنے آپ کو آقا کا عبد نہ کہے ۱۲ منہ
#10344 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
پھر روضہ منورہ میں یعنی جو جگہ منبر انور وروضہ مطہرہ کے ہے اور اسے حدیث میں جنت کی کیاری فرمایا آکر دو رکعت نفل پڑھے اور دعا کرے ۔ اسی طرح مسجد شریف کے ستونوں کے پاس نمازیں پڑھے۔ دعائیں مانگے کہ محل برکات ہیں۔ خصوصا بعض عــــہ۱ میں خصوصیات خاصہ والله تعالی اعلم
مسئلہ : اس سواد جنت آباد کی اقامت غنیمت جانے جہد کرے کہ کوئی نفس بیکار نہ گزرے۔
مسجدا نور سے ضروریات کے سوا باہر نہ جائے۔ باطہارت حاضر رہے مگر حاشا کہ دنیوی باتوں عبث کاموں میں وقت ضائع نہ کرے۔
مسئلہ : ہمیشہ جلوس مسجد عــــہ۲ میں نیت اعتکاف رکھے اور روزہ نصیب ہو خصوصا ایام گرما میں تو
عــــہ۱ : حضرت والد قدس سرہ نے جواہر البیان شریف میں سات ستونوں کی تفصیل فرمائی قال رضی اللہ تعالی عنہ ان میں ایك ستون وہ ہے جو محراب مکرم کے دہنی طرف مصلا ئے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی علامت ہے ستون حنانہ اس کے آگے تھا۔ دوسرا ستون ام المومنین عائشہ صدیقہ کا کہ امام اگر مصلائے شریف میں نماز پڑھے تو اس کے پیچھے کی صف میں جو ستون واقع ہوں ان میں سے منبر سے جانب مشرق تیسرا ستون ہے۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے چند روز اس کی طرف نماز پڑھی۔ اس کے پاس دعا مقبول ہوتی ہے تیسرا اسطوانہ توبہ اور وہ ستون عائشہ اور ستون ملاصق بہ دیوار حجرہ کے بیچ میں ہے نبی صلی الله تعالی تعالی علیہ وسلم نے ا س کی طرف نماز پڑھی اور وہاں اعتکاف فرمایا تھا۔ چوتھا اسطوانہ السریر کہ جالی شریف سے ملتصق ہے اسطوانہ توبہ سے مشرق کو نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس کے پاس اعتکاف کیا۔ پانچواں ستون علی رضی اللہ تعالی عنہ اور وہ شمال کی طرف اسطوانہ توبہ کے پیچھے ہے جناب مرتضی کر م الله وجہہ یہاں بیٹھتے اور نماز پڑھتے۔ چھٹا اسطوانہ الوفود کہ وہ اسی جانب اسطوانہ علی کے پیچھے ہے اس میں اور اسطوانہ توبہ میں صرف ستون علی حائل ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور افاضل صحابہ یہاں رونق افروز ہوتے____ ساتواں اسطوانہ التہجد کہ بیت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پیچھے ہے ۱۲ منہ
عــــہ۲ : روایت مفتی بہا پر اعتکاف کے لیے کوئی مقدارمعین نہیں ایك لمحہ کا بھی ہوسکتاہے نہ اس کے لیے روزہ شرط توآد می کو ہر مسجد میں ہر وقت اس کا لحاظ کرنا چاہئے کہ جب داخل ہو اعتکاف کی نیت کرلے جب تك رہے گا اعتکاف کا بھی ثواب پائے گا پھر یہ نیت اسے کچھ پابند نہ کرے گی۔ جب چاہے باہر آئے اسی وقت اعتکاف ختم ہوجائے گا فان الخروج فی النفل المطلق منہ لامفسد کما نصوا علیہ(کیونکہ نفلی طواف میں مسجد سے نکلنا اعتکاف کا اختتام ہے مفسد نہیں جیسا کہ اس پر تصریح کی گئی ہے۔ ت) لوگ اپنی ناواقفی یابے خیالی سے اس ثواب عظیم کو مفت کھوتے ہیں وفقنا اﷲ تعالی للحسنات بجاہ سید الکائنات علی افضل الصلوات والتحیات امین ۱۲ منہ
#10347 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
کیا کہنا اس پر وعدہ عــــہ۱ شفاعت ہے۔
مسئلہ : یہاں ہر عمل صالح پچاس ہزار تك مضاعف ہوتا ہے لہذا عبادات میں جہد لازم شب بیداری رہے کھانے پینے کی تقلیل رکھے قرآن مجید کا کم سے کم ایك ختم تو یہاں اور حطیم عــــہ۲ کعبہ معظمہ میں کرلے۔
مسئلہ : نظر حجرہ منورہ وقبہ معطرہ کی طرف عبادت ہے جیسے کعبہ کی طرف تو خشوع وادب کے ساتھ اس کی کثرت کرے۔
مسئلہ : پنچگانہ نماز کے بعد حضور میں حاضر ہو کر صلوۃ وسلام عرض کیاکرے۔
مسئلہ : جب محاذات گنبد اقدس میں گزارے اگر چہ بیرون مسجد اگر چہ بیرون مدینہ جہاں سے قبہ کریمہ نظر آئے بے ٹھہرے اور صلوۃ وسلام عرض کئے نہ گزرے کہ ترك ادب ہے۔
مسئلہ : ترك جماعت ہر جگہ برا ہے مگر یہاں سخت محرومی والعیاذ باﷲ حدیث عــــہ۳ میں ہے : جس سے چالیس
عــــہ۱ : حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : میرا جو امتی مدینہ کی شدت وسختی پر صبر کرے گا میں قیامت کے روز اس کا شفیع ہوں گا (رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ)اور پر ظاہر کہ روزہ میں شدت ومحنت پر صبر ہوتا ہے خصوصا بلاد گرم میں خصوصاجبکہ موسم گرماہو خود حدیث میں آیا : ا لصوم نصف الصبر روزہ آدھا صبر ہے۔
فائدہ جلیلہ : جن چیزوں پر وعدہ شفاعت فرمایا گیا جیسے یہ حدیث یا حدیث زیارت شریفہ یا حدیث موت فی المدینہ یا حدیث سوال وسیلہ وغیرہا وہ بحمد الله حسن خاتمہ کی بشارت جمیلہ ہیں کہ یہاں وعدہ شفاعت ہے اور وعدہ حضور وعدہ رب غفور ان الله لا یخلف المیعاد(۳۱) (بیشك الله وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ ت)اور کافر کی شفاعت محال تو لاجرم بشارت فرماتے ہیں کہ سختی مدینہ پر صابر اور حضور پر نور کا زائر اور مدینہ طیبہ میں مرنے والا اور حضور کے لیے سوال وسیلہ کرنے والا ایمان پر خاتمہ پائے گا والحمد لله رب لعالمین اللہم ارزقنا آمین ۱۲ منہ
عــــہ۲ : کعبہ معظمہ سے جو متصل جانب شمال جو ایك چھوٹی سی دیوار قوسی شکل پر ہے اس کے اندر کی زمین کو حطیم کہتے ہیں ا س کا بڑا ٹکڑا بنائے ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام میں داخل کعبہ تھا قریش نے تنگی خرچ کے سبب بنائے جدید میں خارج کردیا ۱۲منہ
عــــہ۳ : رواہ الامام احمد فی مسند ہ بسند صحیح عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ والحمد ﷲ رب العلمین۔
اسے امام احمد نے بسندصحیح اپنی مسند میں انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے والحمد لله رب العلمین (ت)
حوالہ / References صحیح مسلم باب الترغیب فی سکنی المدینۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۴۴
مسند احمد بن حنبل حدیث رجل من بنی سلیم دارالفکر بیروت۴ / ۲۶۰
القرآن ۱۳ / ۳۱
#10348 · اَلنَّیِّرَۃُ الْوَضِیَّۃ شرح الْجَوْھَرَۃِ الْمَضِیَّۃ ۱۲۹۵ھ مع حاشیۃ اَلطُّرَّۃُ الرَّضِیَّۃ عَلَی النَّیِّرَۃِ الْوَضِیَّۃ
نمازیں میری مسجد میں فوت نہ ہوں اس کے لیے دوزخ ونفاق وعذاب سے آزاد یاں لکھی جائیں ۔
مسئلہ : دیوار حجر ہ کو مس نہ کرے نہ اس سے چمٹے بلکہ کم سے کم تین گز شرعی کا فاصلہ رکھے کہ ادب یہی ہے
مسئلہ : قبر اطہر واعطر کو ہر گز پیٹھ نہ کرے نماز میں نہ غیر نماز میں۔
مسئلہ : روضہ انور کا طواف نہ کرے نہ زمین چومے۔ نہ پیٹھ مثل رکوع جھکائے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تعظیم ان کی اطاعت میں ہے۔
مسئلہ : حسب استحسان علماء زیارت بقیع واحد وقبا ودیگبر آثار شریفہ کا قصد ہو تو ان کی تفصیل کتاب علماء سے دریافت کرے ورنہ حجرہ مطہرہ کے حضور حاضر رہنے کے برابر کون سی دولت ہے الله تعالی دنیا وآخرت میں ان کا قر ب عطافرمائے آمین۔
وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولانا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔ واخردعوانا ان الحمد ﷲ رب العالمین۔
تمت الطرۃ الرضیۃ علی النیرۃ الوضیۃ شرح الجوھرۃ المضیۃ والحمد ﷲ۔
______________________
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل مروی از انس بن مالك رضی الله عنہ دارالفکر بیروت ۳ / ۱۵۵
#19700 · باب الفدیۃ
مسئلہ : مسئولہ قاضی عبدالحمید صاحب پیش امام از قصبہ ککڑی محرمھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و فضلائے شرع متین اس مسئلہ میں کہ امام اگر عذر سے روزہ نہیں رکھتا ہے پر اعادہ روزہ کا یقینی ایک مسکین کو ہمیشہ کھانا کھلادیتا ہے مگر نماز تراویح پڑھا سکتا ہے یا نہیں اور تراویح کے پڑھانے میں حرج تو نہیں ہے جواب دو
الجواب :
بعض جاہلوں نے یہ خیال کرلیا ہے کہ روزہ کا فدیہ ہر شخص کے لئے جائز ہے جبکہ روزے میں اسے کچھ تکلیف ہو ایسا ہر گز نہیں فدیہ صرف شیخ فانی کے لیے رکھا ہے جو بہ سبب پیرانہ سالی حقیقۃ روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہو نہ آئندہ طاقت کی امید کہ عمر جتنی بڑھے گی ضعف بڑھے گا اس کے لیے فدیہ کا حکم ہے اور جو شخص روزہ خود رکھ سکتا ہو اور ایسا مریض نہیں جس کے مرض کوروزہ مضر ہو اس پر خود روزہ رکھنا فرض ہے اگر چہ تکلیف ہو۔ بھوک پیاس گرمی خشکی کی تکلیف تو گویا لازم روزہ ہے اور اسی حکمت کے لیے روزہ کا حکم فرمایا گیا ہے اس کے ڈر سے اگر روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوتو معاذاﷲ روزے کا حکم ہی بیکارومعطل ہوجائے امام مذکور اگر واقعی کسی ایسے مرض میں مبتلاہے جسے روزہ سے ضرر پہنچتا ہے تو تاحصول صحت اسے روزہ قضا کرنے کی اجازت ہے اس کے بدلے اگر مسکین کو کھا ناد ے تو مستحب ہے ثواب ہے جبکہ اسے روزہ کا بدلہ نہ سمجھے اور سچے دل سے نیت رکھے کہ جب صحت پائے گا جتنے روزے قضا ہوئے ہیں ادا کرے گا۔ اس صورت میں وہ امامت کرسکتا ہے اور اگر ویسا مریض نہیں اور کم ہمتی کے سبب روزے قضا کرتا ہے تو سخت فاسق ہے اور اسے امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی۔ واﷲتعالی اعلم
_____________________
Scroll to Top