Fatawa Razaviah Volume 17 in Typed Format

#12383 · پیش لفظ
پیش لفظ
الحمدﷲ! اعلیحضرت امام المسلمین مولانا الشاہ احمد رضاخاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عہدحاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظرعام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضافاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ ماہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہواتھا وہ انتہائی کامیا بی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہاہےاب تک یہ ادارہ امام احمدرضاکی متعدد تصانیف شائع کرچکاہے مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ خوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔ فتاوی مذکورہ کی اشاعت کا آغاز شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ مارچ ۱۹۹۰ء میں ہواتھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الکریم تقریبا دس سال کے مختصرعرصہ میں سترہویں جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس سے قبل کتاب الطہارۃ کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب الحج کتاب النکاح کتاب الطلاقکتاب الایمان کتاب الحدود والتعزیر کتاب السیر کتاب الشرکت اور کتاب الوقف پر مشتمل سولہ جلدیں شائع ہوچکی ہیں جن کی تفصیل سنین مشمولات مجموعی صفحات اور ان میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار سے حسب ذیل ہے :
#12384 · پیش لفظ
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ ______مارچ ۱۹۹۰ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ۱۴۱۲___________نومبر ۱۹۹۱ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم ۱۴۱۲_________فروری ۱۹۹۲ ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۴۱۳ ________جنوری ۱۹۹۳ ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ۱۴۱۴___________ستمبر ۱۹۹۳ ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ۱۴۱۵___________اگست۱۹۹۴ ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب ۱۴۱۵_________دسمبر۱۹۹۴ ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام ۱۴۱۶___________جون۱۹۹۵ ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ۱۴۱۶______________اپریل۱۹۹۶ ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول۱۴۱۷___________اگست۱۹۹۶ ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام۱۴۱۸___________مئی۱۹۹۷ ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب۱۴۱۸_________نومبر۱۹۹۷ ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ ۱۴۱۸_____________مارچ ۱۹۹۸ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر (ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
۱۵ کتاب السیر(ب) ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
سترہویں جلد
یہ جلدفتاوی رضویہ قدیم جلد ہفتم مطبوعہ سنی دارالاشاعت مبارکپور اعظم گڑھ بھارت کے شروع سے صفحہ ۲۹۰ تک ۲۹۸ سوالوں کے جوابات پر مشتمل ہے۔ رسالہ" کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الدراھم"کے علاوہ اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کا ترجمہ راقم الحروف نے کیاہے اس سے قبل گیارہویںبارھویں تیرہویں اور سولہویں جلد بھی راقم کے ترجمہ کے ساتھ شائع ہوچکی ہیں جبکہ "کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الدراھم"کانہایت شاندار اور زوردار ترجمہ مصنف علیہ الرحمۃ کے فرزند ارجمند حجۃ الاسلام حضرت علامہ مولانا محمدحامدرضاخان بریلوی نوراللہ مرقدہ کا ہے۔
#12385 · پیش لفظ
یاد رہے کہ رسالہ مبارکہ "کفل الفقیہ الفاہم"جونوٹ سے متعلقہ تمام مسائل پر محیط ہے مصنف علیہ الرحمہ نے مکہ مکرمہ میں ایک دن اور چندگھنٹوں میں علماء مکہ کی طرف سے پیش کردہ بارہ سوالات کے جواب میں تحریر فرمایا۔ رسالہ میں مذکورتحقیقات وتدقیقات کودیکھ کر علماء مکہ بہت مسرور ومحظوظ ہوئے اور مصنف علیہ الرحمہ کو انتہائی شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش فرمایا رسالہ مذکورہ کی تصنیف کے بعد جب آپ حرمین شریفین سے وطن واپس تشریف لائے تومولوی رشیداحمدگنگوہی اور مولوی عبدالحی لکھنوی صاحب کے نوٹ سے متعلق فتوے نظر سے گزرے جن کے رد میں مصنف علیہ الرحمہ نے رسالہ "کاسرالسفیہ الواھم فی ابدال قرطاس الدراھم "ملقب بلقب تاریخی "الذیل المنوط لرسالۃ النوط"تحریر فرمایا پیش نظر جلد بنیادی طور پر کتاب البیوع کتاب الکفالہ اورکتاب الحوالہ کے مباحث جلیلہ پر مشتمل ہے تاہم متعدد ابواب فقہیہ وکلامیہ وغیرہ کے مسائل ضمنا زیر بحث آئے ہیں مسائل ورسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کرام کی سہولت کے لئے تیارکردی گئی ہے۔ اتنہائی وقیع اورگرانقدر تحقیقات وتدقیقات پر مشتمل مندرجہ ذیل دو رسالے بھی اس جلد کی زینت ہیں :
(۱)کفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراہم (۱۳۲۴ھ)
کاغذی نوٹ کے بارے علماء مکرہ مکرمہ کے بارہ سوالوں کا تحقیقی جواب
(۲) کاسرالسفیہ الواھم فی ابدال قرطاس الدراھم ملقب بلقب تاریخی الذیل المنوط لرسالۃ النوط (۱۳۲۴ھ)
کاغذی نوٹ سے متعلق مولوی رشیداحمد گنگوہی اورمولانا عبدالحی لکھنوی کے فتووں کا تفصیلی رد۔
٭…٭…٭
شوال المکرم ۱۴۲۰ھ حافظ محمد عبدالستار سعیدی
جنوری ۲۰۰۰ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
#12386 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
سم الله الرحمن الرحیم
کتاب البیوع
(خرید وفروخت کا بیان)
مسئلہ ۱:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس صورت میں کہ زید نے کہا میں اپنا مکان بھیجتاہوںعمرو نے کہا میں خریدوں گادونوں آپس میں راضی ہوئے قیمت قرار پاگئیزیدنے عمرو سے بیعانہ بھی لے لیا اور کاغذ واسطے تحریر بیعنامہ کے خرید کرلایااس صورت میں شرعا بیع تمام ہوگئی یا ناتمام رہی بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر پائے۔ت)
الجواب:
ہر چند صورت مستفسرہ میں الفاظ ایجاب وقبول نہ پائے گئے کہ خرید کروں گا صیغہ استقبال ہے اور یہاں درکار ماضی یاحال لکین اگر متعارف ان بلاد وامصار یوں یوں ہے کہ بعد گفتگو ئے مساومت وقرار داد قیمت بیعانہ اورلینا مستلزم تمام بیع ٹھہرتا ہے اور بعد اس کے تنہا ایك عاقد عقد سے رجوع نہیں کرسکتا اگر چہ الفاظ ایجاب وقبول درمیان نہ آئے ہوں تو بیع تمام ہوگئی کہ مقصود ان عقود میں معنی ہیں نہ کہ لفظاور اصل مدار تراضی طرفین قولا ظاہر ہو خواہ فعلااس لیے تعاطی مثل ایجاب وقبول لزوم بیع کا سبب قرار پائیگویا عاقدین زبان سے کچھ نہ کہیں کہ عادت محکم ہے اور تعارف معتبراور جوحکم عرف پر مبنی ہوتا ہے اس کے ساتھ دائر رہتا ہےجب یہ فعل مثل الفاظ مظہر تراضی ہوا تو انھیں کی طرح موجب تمام بیع ہوگا۔
فی الہدایۃ والمعنی ھو المعتبر فی ھذہ العقود ولہذا ینعفد بالتعاطی فی النفیس والخسیس ھوا لصحیح لتحقق المراضاۃ واللہ تعالی اعلم وعلمہ اتم۔ ہدایہ میں ہے کہ ان عقود میں معنی ہی کا اعتبار ہوتا ہے اسی لئے بڑھیا اور گھٹیا چیزوں میں بیع تعاطی منعقد
حوالہ / References الہدایہ کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/۲۴،۲۵
#12387 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
ہوجاتی ہے اور یہی صحیح ہے کیونکہ باہمی رضامندی متحقق ہے والله تعالی اعلم وعلمہ اتم(ت)
مسئلہ۲: از ریاست رامپور محلہ سبزی منڈی مرسلہ سید مقبول حسین صاحب وکیل ۲۱ محرم ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ زید نے ایك مکان متروکہ چھوڑامسمی عمرو اس کا پسر وارث مع الحصر مگر وہ نابالغ تھا دیگر شخص غیر وارث نے بہ زمانہ نابالغی مسمی عمرو مکان مذکور کو اپنی ملکیت قرار دے کر بدست بکر بیع کردیا بکرنے قبضۃ کرلیابعد بلوغ مسمی عمرو نے بحالت غیر قابض مکان مذکور بدست خالد بیع کردیا خالد بذریعہ دستاویز بیعنامہ اقراری عمرو بنام بکر ونیز عمرو دعویدار تخلیہ و دخلیابی مکان مذکور ہے عمرو کو بیع کردینا تسلیم ہے اور دعوی سے اقبال ہے بکر قابض مکان بیع موسومہ خود کو حجت گردان کر منکر دعوی ہے اور مسئلہ شرعی مقدور التسلیم کا عذر کرتا ہےکیا صورت مذکورہ بالا میں مسئلہ مقدور التسلیم شرعا متعلق ہوسکے گا اور مسئلہ مذکور کے حقیقی معنی اور اس کی مثال بھی تحریر فرمائے تاکہ عام فہم ہوجائے۔بینوا توجروا۔
الجواب:
عمرو نے جس وقت خالد کے ہاتھ بیع کی اگر عمرو اس وقت گواہان عادل شرعی اس امر پر رکھتا تھا کہ یہ مکان میری ملك ہے بکر وبائع بکر غاصب ہے جبکہ تو بیع عمرو بدست خالد صحیح وتام ونافذ واقع ہوئی مکان ملك خالد ہوگیاخالد کا دعوی صحیح ہے بوجہ وجود بینہ عادلہعمرو کو حکما قدرۃ علی التسلیم حاصل تھی اور اسی قدر صحت ونفاذ بیع کے لئے کافی ہے حقیقۃ مقدور التسلیم فی الحال ہونا کسی کے نزدیك ضرور نہیںغلام کو کسی کام کے لئے ہزار کوس پر بھیجا اور یہاں اسے بیع کردیابیع صحیح ہوگئی کہ عادۃ اس کا واپس آنا مظنون ہے اگرچہ احتمال ہے کہ سرکشی کرے اور بھاگ جائےکبوتر ہلے ہوئےکہ صبح اڑائے جاتے اور شام کو گھر پلٹ آتے ہیںان کی غیبت میں بیچے بیع صحیح ہے
کہ رجوع مرجوع ہے تو قدرۃ علی التسلیم حکما حاصل ہے یوں ہی جب بینہ عادلہ موجود ہے تو ڈگری ملنے کی امید قوی ہے تویہاں بھی قدرۃ حکمیہ حاصلاوریہی بس ہےاسی طرح اگر غاصب مقرغصب وملك مالك ہوتا جب بھی بیع مالك صحیح ونافذ ہوتی کہ اقراربھی حق مقر میں مثل بینہ حجت ملزمہ ہے بلکہ ا س سے بھی اقوی ولہذا اگر منکر بعد اقامت بینہ اقرار کردے حکم بربنائے اقرار ہوگا نہ کہ بربنائے بینہہاں اگروقت بیع عمرو نہ بکر مقر ملك عمرو تھا نہ عمرو کے پاس بینہ شرعیہتو اب
#12388 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
ضرور مسئلہ اشتراط قدرۃ علی التسلیم عائدہ ہوگاظاہر ہے کہ اس صورت میں عمرو کو نہ حقیقۃ قدرۃ التسلیم ہے نہ حکما کہ بے اقرار وبینہ ڈگری ملنا ہر گز مظنون نہیںتو یہ غلام آبق کی مانند ہوا جو سرکشی کرکے بھاگ گیا اور غائب ہےمالك اگر اسے بیع کرے گا ہر گز صحیح نہ ہوگییونہی نیا کبوتر کہ اڑگیاوہ ہلہ ہوا نہیں کہ واپس مظنون ہو اس کی بیع بھی جائز نہیں کہ قدرۃ التسلیم مفقود ہےاگریہ صورت تھی تو خالد کو دعوی کا کوئی حق نہیںقدرۃ التسلیم میں ہمارے ائمہ کے دو۲ قول ہیںدونوں باقوتاول یہ کہ وہ شرط انعقاد ہے ك بے اس کے بیع باطل محض ہےدوم شرط صحت بیع ہےکہ بے اس کے بیع فاسد ہےپہلے قول پر تو ظاہر ہے کہ نہ خالد مشتری ہے نہ عمرو بائعاجنبی محض کودعوی کا کیا اختیاراور قول ثانی پر جبکہ بیع فاسد ہے اور بیع فاسد میں مشتری بے قبضہ مالك نہیں ہوتاپھر جبکہ فساد بوجہ عدم قدرۃ التسلیم ہے اور بیع فاسد میں ارتفاع مفسدبیع کو صحیح کردیتا ہے تو صحت بیع اس پر موقوف ہوئی کہ بکر مقر ہوجائے یا کوئی بینہ عادلہ ہاتھ آئے لہذا یہ بیع موقوف بھی ہوئی جیسے بیع مکروہ کہ فاسد بھی ہے اور موقوف بھی اور بیع موقوف بھی مفید ملك مشتری نہیں ہوتی تو بہر طور اس صورت میں خالد کے لئے مکان میں ملك نہیںنہ اسے مکان پر دعوی پہنچےعالمگیریہ میں ہے:
اذا باع المغصوب من غیر المغاصب فھو موقوف ھوا لصحیح فان اقرالغاصب تم البیع ولزمہوان جھدو للمغصوب منہ بینہ فکذلك کذا فی الغیاثیۃ وان لکم یکن لہ بینۃ ولم یسلمہ حتی ھلك انتقض البیع کذا فی الذخیرۃ ۔
مالك نے مغصوب کوغاصب کے غیر کے ہاتھ بیچا تو صحیح یہ ہے کہ وہ بیع موقوف ہوگئیاگر غاصب نے اقرار کیا توبیع تام ولازم ہوگئیاگر اس نے انکار کیا اور مغصوب منہ کے پاس گواہ موجود ہیں تب بھی یہی حکم ہے یونہی غیاثیہ میں ہے اگر اس کے پاس گواہ موجود نہیں اور وہ مبیع کو مشتری کے حوالے نہ کر سکا حتی کہ مبیع ہلاك ہوگیا تو بیع ٹوٹ گئی یونہی ذخیرہ میں ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
وقف بیع المالك المغصوب علی البینۃ اواقرار الغاصب ۔
مالك کا مغصوب کو فروخت کرنا غاصب کے اقرار یا گواہوں کے موجو دہونے پر موقوف ہوگا(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب التاسع الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۱۱
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفصولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱
#12389 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
خانیہ میں قبیل فصل شروط مفسدہ ہے:
باع المغصوب من غیر الغاصب ان کان الغاصب جاحدا یدعی انہ لہ ولم یکن للمغصوب منہ بینۃ لایجوز بیعہ وان کان لہ بینۃ جازبیعہ ۔
مالك نے مغصوب کی بیع غیر غاصب کے ہاتھ کردی درانحالیکہ غاصب منکر غصب ہے اور اپنی ملکیت کا دعویدار ہے اور مغصوب منہ کے پاس گواہ بھی نہیں ہیں تو بیع جائز نہیں اور اگر اس کے پاس گواہ موجود ہیں تو بیع جائز ہے۔ (ت)
تنویر الابصارمیں ہے:
فسدبیع طیر فی الہواء لایرجع وان یطیر ویرجع صح ۔
ہواء میں اس پرندے کی بیع فاسد ہے جو واپس نہ آئے اور اگر وہ اڑتا ہے اور پھر واپس آجاتا ہے تو ہواء میں اس کی بیع جائز ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قال فی الفتح لان المعلوم عادۃ کالواقع وتجویز کونہا لاتعود او عروض عدم عودھا لایمنع جواز البیع کتجویز ھلاك المبیع قبل القبض ثم اذاعرض الھلاك انفسخ کذا ھنا اھ وفی النہرفیہ نظر لان من شروط صحۃ البیع القدرۃ علی التسلیم عقبہ ولذا لم یجز بیع الابق اھ قال ح فرق مابین الحمام و الابق فان العادۃ لم تقض بعودہ غالبا بخلاف الحماموماادعاہ من اشتراط القدرۃ علی التسلیم عقبہ ان ارادبہ القدرۃ حقیقۃ فھو ممنوع والا لاشترط حضور المبیع مجلس العقد واحد لایقول بہوان ارادبہ القدرۃ حکما کما ذکرہ بعد ھذا فما نحن فیہ کذالك لحکم العادۃ بعودہ اھ قلت وھو وجیہ فھو نظیر العبد المرسل فی حاجۃ المولی فانہ یجوز بیعہ وعللوہ بانہ مقدرو التسلیم وقت العقد حکما اذا لظاہر عودہ ۔فتح میں فرمایا اس لئے کہ معلوم عادی واقع کی مثل ہے محض اس بات کا امکان کہ وہ(پرندے)واپس نہ آئیں گے یاعدم رجوع کا انھیں عارض ہوجانا جواز بیع سے مانع نہیں جیساکہ قبضہ سے قبل ہلاك بیع کا امکان مانع بیع نہیںپھر اگر مبیع کو ہلاکت عارض ہوگئی تو بیع فسخ ہوجائیگیایساہی یہاں بھی ہوگا اھ اور نہر میں ہے کہ اس میں نظر ہے کیونکہ صحت بیع کی شرطوں میں سے ہے کہ بیع کے بعد تسلیم مبیع پر قدرت ہو اسی لئے بھاگے ہوئے غلام کی بیع ناجائز ہے اھح نے فرمایا کہ صاحب نہر نے کبوتر اور غلام میں فرق کیا ہے کہ عادت بھاگے ہوئے غلام کے
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب البیوع فصل فی البیع الباطل مطبع نولکشور لکھنؤ ۲/ ۳۴۲
الدرالمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع فصل فی باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/۲۴
ردالمحتار،کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۰۷
#12390 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
واپس آنے کا حکم غالبا نہیں کرتی بخلا کبوتر کےاور بیع کے بعد بیع کے مقدور التسلیم ہونے کے اشتراط کا جو دعوی صاحب نہر نے کیا ہے اس سے مراد اگر وقت تسلیم حقیقتا ہے تو یہ ممنوع ہے ورنہ مبیع کا مجلس عقد میں حاضر کرنا ضروری ہوگا حالانکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے اگر حکما ہے جیساکہ بعد خود انھوں نے ذکر کیا تو ہمارا زیر بحث مسئلہ بھی ایساہی ہے کیونکہ عادت کبوتر کے لوٹ آنے کاحکم کرتی ہے اھ میں کہتاہوں یہ قوی ہے پس یہ اس غلام کی نظیر ہے جسے مالك کے کام کے لئے کہیں بھیجا گیا ہو کیونکہ ا س کی بیع جائز ہےاور فقہاء نے اس جواز کی علت یہ بیان کی ہے کہ وہ غلام بوقت بیع حکما مقدو التسلیم ہے کیونکہ ظاہر اس کالوٹ آنا ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
لو باعہ (ای الابق) ثم عادوسلمۃ یتم البیع علی القول بفسادہ ورجحہ الکمال وقیل لایتم علی القول ببطلانہ من الروایۃ واختارہ فی الہدایۃ وغیرہا وبہ کان یفتی البلخی وغیرہبحر و ابن کمال ۔
اگر بھاگے ہوئے غلام کو فروخت کیا پھر وہ لوٹ آیا اور اس کو مشتری کے حوالے کردیا تو اس قول کے مطابق بیع تام ہوجائے گی جس قول میں اس بیع کو فاسد قرار دیاگیا اور کمال نے اس کو ترجیح دی اور جس قول میں اس بیع کو باطل قرار دیا گیا اس کے مطابق بیع تمام نہ ہوگی اوریہی زیادہ ظاہر روایت ہے ہدایہ وغیرہ نے اس کو اختیار کیا اور بلخی وغیرہ اس پر ہی فتوی دیتے تھےبحرابن کمال(ت)
ہندیہ میں محیط سے ہے:
وبہ اخذ جماعۃ من مشایخنا وبہ کان یفتی ابوعبداللہ البلخی وھکذا ذکر شیخ الاسلام ۔
اس کو اخذ کیا ہے ہمارے مشائخ کی ایك جماعت نے اور اس پر ابوعبدالله بلخی فتوی دیتے تھے
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/۲۵
فتاوٰی ہندیۃ کتاب البیوع الباب التاسع الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۱۲
#12391 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
شیخ الاسلام نے یونہی ذکر فرمایا ہے۔(ت)
نیز غیاثیہ میں ہے:قالوا اوالمختار ھذا (مشائخ نے فرمایا یہی مختار ہے۔ت)ردالمحتار میں ہے:
قال فی الفتح والحق ان الاختلاف فیہ بناء علی الاختلاف فی انہ باطل اوفاسد وانك علمت ان ارتفاع المفسد فی الفاسد یردہ صحیا لان البیع قائم مع الفساد ومع البطلان لم یکن قائما بصفۃ البطلان بل معدومافوجہ البطلان عدم قدرۃ التسلیم فوجہ البطلان عدم قدرۃ التسلیمووجہ الفساد قیام المالیۃ والملکوالوجہ عندی ان عدم القدرۃ علی التسلیم مفسد لا مبطل ۔
فتح میں فرمایا:حق یہ ہے کہ اس میں اختلاف اس اختلاف پر مبنی ہے کہ یہ بیع باطل ہے یا فاسداور بیشك توجانتا ہے کہ ازالہ مفسد سے بیع فاسد صحیح ہوجاتی ہے کیونکہ فساد کے باوجود بیع قائم رہتی ہے جبکہ بطلان کے ساتھ بسبب صفۃ بطلان کے بیع قائم نہیں رہتی بلکہ معدوم ہوجاتی ہےپس بطلان کی وجہ قدرت تسلیم کا نہ ہونا ہے جبکہ فساد کی وجہ سے مالیت وملك کا قیام ہے اور میرے نزدیك اس کی وجہ یہ ہے کہ تسلیم مبیع پر قادرنہ ہونا بیع کو فاسد کرنے والا ہے نہ کہ باطل کرنے ولا۔ (ت)
ہندیہ میں محیط سے ہے:
وبہ اخذ الکرخی وجماعۃ من مشایخنا وھکذا ذکر القاضی الا سبیجابی فی شرحہ ۔
اور اسی کو اخذ کیا ہے کرخی اور ہمارے مشائخ کی ایك جماعت نے اور قاضی اسبیجابی نے اپنی شرح میں یوں ذکر فرمایا ہے۔(ت)
نیز اسی سے بحوالہ غیاثیہ گزرا:
ھو موقوف ھوالصحیح اھ وھو تصحیح للقول بالفساد کما بینا علی ھامشہا ولاغرو جمع الفساد والتوقف ففی ردالمحتار عن البحر ان بیع المکرہ فاسد موقوف الخ وتمامہ فیہ وبہ یحصل الجمع بین قول الخانیۃ فی مسالتنا لایجوز بیعہ وقول غیرہ موقوفواللہ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم عزشانہ احکم۔
وہ موقوف ہے یہی صحیح ہے اھ اور وہ قول فساد
حوالہ / References الفتاوٰی الغیاثیہ کتاب البیوع الفصل الثانی مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۱۴۳
ردالمحتار کتاب البیوع باب بیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیعروت ۴/ ۱۱۳
فتاوٰی ہندیۃ الباب التاسع الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۱۲
فتاوٰی ہندیۃ الباب التاسع الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۱۱
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۴
#12392 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
کی تصحیح ہے جیساکہ ہم نے اس کے حاشیہ پر بیان کیا اور فسادو توقف کے جمع ہونے میں کوئی تعجب نہیںپس ردالمحتارمیں بحر کے حوالے سے ہے کہ مکرہ کی بیع فاسد موقوف ہے الخ اور اس کی مکمل بحث اس میں ہے اور اسی سے ہمارے مسئلہ میں خانیہ کے قول کہ بیع ناجائز ہے اور اس کے غیر کے قول کہ بیع موقوف ہے کے درمیان تطبیق حاصل ہوگئیواللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم عزشانہ احکم(ت)
مسئلہ ۳: ازشہر کہنہ ۲محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے ایك شے کو فروخت کیا اس شرط پر کہ نصف روپیہ خریداری مال لیا اور نصف روپیہ وقت جانے مال کے کہ جو پہلی مرتبہ جائے گا ہم اپنا آدمی بھیج کر منگالیں گےزیدنے آدمی نہ بھیجاخریدار نے وہ نصف روپیہ اپنے طور پر اپنے آدمی کے ہاتھ بھیج دیااب چونکہ نرخ اس مال کا بموجب فروخت حال کے دوچند ہوگیا لہذا زید کی اب یہ نیت ہے کہ یہ روپیہ جو نصف مال کی قیمت کاآیا ہے واپس کردے اور مال نہ دےاور یہ بھی واضح ہو کہ جو مال زید سے لینا قرار پایا تھا وہ مال بھی نہ دیا اس سے کم قیمت کا دیا ہے۔بینوا توجروا
الجواب:
بیع ایجاب وقبول سے تمام ہوجاتی ہےاور جب بیع صحیح شرع واقع ہولے تو اس کے بعد بائع یا مشتری کسی کو بے رضامندی دوسرے کے اس سے یوں پھر جانا روا نہیںنہ اس کے پھر نے سے وہ معاہدہ جو مکمل ہوچکا ٹوٹ سکتا ہےزید پر لازم ہے کہ مال فروخت شدہ تمام وکمال خریدار کو دےہدایہ میں ہے:
اذا حصل الایجاب والقبول لزم البیع والاخیار لو احد منہما الامن عیب وعدم رویۃ ۔
جب ایجاب وقبول حاصل ہوجائے تو بیع لازم ہوجاتی ہے اور بائع ومشتری میں سےکسی کو فسخ کا خیار حاصل نہیں ہوتا سوائے اس کےکہ مبیع میں کوئی عیب ظاہر ہو جائے یا مشتری نے بوقت بیع اس کودیکھا نہ ہو۔(ت)
حوالہ / References الہدایہ کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۵
#12393 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
مال ناقص جو خلاف قرار داد زید نے بھیجا مشتری اسے واپس پہنچا کر اپنی اصل خریداری کامال لے سکتا ہے جب کہ مشتری سے کوئی امر مانع واپسی نہ ہواہو مثلا اسے دیکھنے کے بعد وہ قول یا فعل جو اسی مال پرراضی ہوجانے کی دلیل ہودرمختارمیں ہے:
(لہ) ای لللمشتری (ان یردہ اذا راہ) الا اذا حملہ البائع لبیت المشتری فلا یردہ اذا راہ الا اذا اعادہ الی البائع اشباہ (ویثبت الخیار)للرؤیۃ(مطلقا غیر موقت) بمدۃ ھو الاصحعنایۃلاطلاق النص مالم یوجد مبطلہ و ھو مبطل خیار الشرط مطلقا ومفید الرضا بعد الرؤیۃ لاقبلھادرر اھ مختصرا۔واللہ تعالی اعلم۔
اس کو یعنی مشتری کو اختیار ہے کہ بیع کو رد کردے جب مبیع کو دیکھے مگر جب بائع مبیع کو مشتری کے گھر اٹھالایا ہو تو اب مشتری نے اسے دیکھنے پر رد نہ کیا ہوہاں اگر مشتری نے مبیع کو بائع کی طرف لوٹا دیا تو رد ہوجائے گا __(اشباہ)اور خیار رؤیت مطلقا ثابت ہوتا ہے کسی مدت کے ساتھ مقید نہیں ہوتا یہی زیادہ صحیح ہے(عنایہ)کیونکہ نص میں اطلاق ہے جب تك مبطل خیار رؤیت نہ پایا جائے اور اس کا مبطل وہی ہے جو خیار شرط کا مبطل ہے مطلقا یعنی قولی ہویا فعلیاور وہ فعل یا قول بھی مبطل ہے جو مفید رضا ہوجبکہ وہ رؤیت کے بعد پایا جائے نہ کہ رؤیت سے پہلےدرر اھ(مختصرا)والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۴:مسئولہ عظیم الدین افسر مدرس مدرسہ مسعودیہ درگاہ شریف حضرت سید مسعود غازی صاحب سالاربروز شنبہ۱۰ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کسی اراضی کا بیع کامل کب ہوسکتا ہے جبکہ مشتری پورا زر ثمن اداکردے اگر مشتری پورانہ اداکرے تو تا ادائے زرثمن کے اس ارارضی کا حاصلات مشتری کو حلال اور مباح ہے یانہیں۔اس صورت میں کہ اس نے زر ثمن پورا ادا نہیں کیا بائع سے کچھ روپیہ زر سود کا مشتری نے زرثمن مجرالیا ہے کچھ روپیہ مشتری بائع کو زائد زرثمن دینا ظاہر کرتا ہے حالانکہ بائع کہتا ہے کہ یہ روپیہ بوجہ اقراری مجھے دیا گیا ہے یا بطور خیراتپس یہ روپیہ زر سود میں جو مشتری نے بائع سے لیا ہے وضع ہوسکتا ہے یانہیںفقط۔
حوالہ / References الدارالمختار کتاب البیوع باب خیار الرؤیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴
#12394 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
الجواب:
بیع ایجاب وقبول سے تمام ہوجاتی ہےچیز بائع کے ملك سے نکل کر مشتری کی ملك میں داخل ہوجاتی ہے ہاں پہلے مشتری کو چاہئے کہ ثمن اداکرےبائع کو اختیار ہے کہ جب تك ثمن نہ لے مبیع سپرد نہ کرے لیکن اگر اس نے بعض یا کل ثمن لینے سے پہلے مبیع اس کے قبضہ میں دے دی تو اس سے جو کچھ منافع حاصل ہوں ملك مشتر ی ہیں مشتری کے لئے حلال ہیں مشتری نے بائع سے جو سود لیا وہ حرا م قطعی ہےاور بداقراری کے معاوضہ میں کچھ روپیہ جرمانہ لینا بائع کو حرام ہے لیکن بائع یہ روپیہ اس سود میں مجرا لے سکتا ہے جو مشتر ی نے اس سے لیا تھا جبکہ اس کی مقدار سے زائد نہ ہووالله تعالی اعلم۔
مسئلہ۵: از شہر گونڈہ انجمن اسلامیہ مرسلہ جناب مرزا محمود بیگ صاحب وکیل وسکریٹری انجمن اسلامیہ گونڈہ ۳ رمضان ۱۳۳۲ھ
خدمت مبارك میں نقل دستاویزات مؤرخہ ۶ فروری۱۹۰۸ء و ۱۲ جنوری ۱۹۰۹ءبھیج کر مستدعی ہوں کہ براہ مہربانی مطلع فرمائیے کہ آیا دستاویزات جائز ہے بموجب دستاویزات مذکور الصدر کے انجمن اسلامیہ گونڈہ نے مکانات سید مقبول احمد وسید منظور احمد بیع بالخیار لئے ہیں اور قبضہ انجمن کا اس طورپر ہے کہ علیحدہ سرخط کرایہ نامہ لکھا لیا ہے اور کرایہ مبلغ(عہ/عہ ماہ بماہ)انجمن وصول کرتی آئی ہے جوکرایہ وصول ہوتا ہے ہو مصارف انجمن پر خرچ ہوتا ہےآیا یہ رقم کرایہ شرعا جائز ہے اور انجمن اس کو جائز طورپر صرف کرسکتی ہے
الجواب:
دونوں دستاویزیں ملاحظہ ہوئیں دونوں باطم محض ہیںدو برس کےلئے بیع بالخیار شریعت مطہر میں کہیں نہیںکرایہ کہ الٹامالکان مکان سے غیر مالکوں نے لیا سب حیلہ باطلہ اور نرا سود ہے انجمن پر فرض ہے کہ جتنا کرایہ اس وقت تك وصول کیا ہو مالکوں کو واپس دے یا اپنے دئے ہوئے قرض میں مجرا کرکے اتنی رسید مالکوں کو دے دےحدیث شریف میں رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربو ۔
ہر قرض جو منفعت کو کھینچے وہ سود ہے۔(ت)
حوالہ / References کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ موسستہ الرسالہ بیروت ۶ /۲۳۸
#12395 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
یہ صورت حقیقۃ رہن کی ہے خود بائعوں نے دوسری دستاویز میں اسے جائداد مستفرقہ کہا اور میعاد دوسال اسے مکفول لکھا بس حقیقت اس قدر ہے باقی بیع کا بے معنی نام محض حیلہ خام ہے اور رہن بے قبضہ باطل ہے قال اللہ تعالی"فرهن مقبوضة "
(الله تعالی نے فرمایا:تو رہن ہو قبضہ میں دیا ہوا۔ت)
نیز مالکوں کا اپنی ملك غیر مالکوں سے کرایہ پر لینا شدید باطل ہے تو اس ماہورا کی اصل حقیقت سود ہے اور بنام اجارہ باطلہ لینا اتنا بھی اثر نہ دے گا جو سود مردود کی ملك خبیث سے ہوتا بلکہ مالکوں کو تمام وکمال واپس دینا فرض ہے لعدم الملك فکان غصبا فوجب الرد و الضمان ھالکا (ملك نہ ہونے کی وجہ سےلہذا وہ غصب ہوگا تو اس کا لوٹانا اور ہلاکت کی صورت میں ضمان واجب ہوگا۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶ تا ۱۶:ازقصبہ رسیون محلہ میرزاد گان بمقام مسجد میرزادگان ضلع اناؤ مرسلہ قادرعلی صاحب ۱۶جمادی الآخر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسائل میں:
(۱)بیع خیار کی تعریف کیا ہے
(۲)کیا شرائط اس میں ضروری ہیں اور انتہائے مدت اس کی کیا ہے
(۳)کیا بیع خیار میں شیئ مبیعہ پر فورا قبضہ ہونا چاہئے
(۴)اگر شیئ مبیعہ پر قبضہ نہ ہوا تو بیع خیار قائم رہی یا نہیں
(۵)اگر شے پر قبضہ تو نہیں ہوا بلکہ روپیہ کا منافع جس حساب سے باہمی ٹھہراتھا وہ ملا کیا تو بیع خیار قائم رہی یانہیں
(۶)اگر بعد میعاد گزرجانے کے یہی مشتری بیع خیار طے شدہ منافع اپنا لیتا رہا جائداد پر قبضہ نہیں کیا تو یہ منافع سود ہوا یا نہیںجاء ز ہے یا ناجائز
(۷)کیا بائع اندر میعاد بیع خیار جائداد کو اسی شخص یا کسی غیر شخص سے بیع کرکے روپیہ واپس کرکے جائداد واپس لے سکتا ہے
(۸)کیا بعوض روپیہ واپس کرنے کے ایك جزو اسی جائداد کا مشتری بیع خیار کو بیع قطع کرکے بقیہ اپنی جائداد واپس کرسکتا ہے
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۸۳
#12396 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
(۹)کیا مشتری بیع خیاربخوشی خاطر ایك جزو جائداد کا بائع کوواپس کرکے بقیہ جائداد کو بیع قطعی کرتا ہے تو اس صورت میں کوئی ملزم شرعی ہوگا
(۱۰)اگر بعد انقضائے میعاد متعینہ بیع خیار کوئی کاروائی فیما بین بائع ومشتری نہیں ہوئی بلکہ تین سال اور زائد تك وہی عملدرآمد یعنی وہی طے شدہ منافع اسی روپیہ کا لیتا رہا تو اس صورت میں یہ رقم وصول شدہ مشتری سود ہے اور مشتری سود خور ہوا یا نہیں اس کا استقرار تاریخ تحریر دستاویز سے ہوگا یا انقضائے میعاد کے بعد سے
(۱۱)اس قسم کی دستاویز مع خیار جس کا شیئ مبیعہ پر قبضہ نہیں ہوا صرف روپیہ کا منافع طے شدہ ملتارہابعد ختم میعاد بھی کوئی کاروائی نہیں ہوئی تو اس شکل میں دستاویز بیع قطع لکھانا بہتر ہے یا بدستور وہی دستاویز بیع خیار قائم رکھنا
الجواب:
بیع خیار شرع میں تو اسے کہتے ہیں کہ بائع ایك چیز اس شرط پر بیچے یا مشتری اس شرط پر خریدے کہ مجھے تین دن تك اختیار ہےکہ بیع قائم رکھوں یا نہیں خواہ دونوں اپنے لئے تین دن اختیار ہونے کی قید لگالیںیہ اختیار تین دن سے زیادہ کانہیں لگاسکتے اور کم میں ایك دین یا ایك گھنٹہ جو چاہیں مقرر کریںاس مدت کے اندر ایك یا دونوں جس کا خیار شرط کیا گیا ہے اسے اختیار ہوگا کہ بیع نامنظور کردے وہ فسخ ہوجائےگی اور اگر مدت مقرر کردہ گزر گئی تو بیع لازم ہوجائے گی مگر سائل نے بیع بالوفاء کو بیع بالخیار کہا ہےاس کی صورت یہ ہوئی کہ زید نے ایك چیز عمرو کے ہاتھ بیچی اور سال دوسال یا کم بیش باہم ایك مدت طے کرلی کہ اس مدت میں زید زرثمن نہ دے گا تو بیع قطعی ہوجائے گی اس صورت میں اکثر تو یہ کرتے ہیں کہ وہ چیز قبضہ مشتری میں دے دیتے ہیں مشتری اس سے نفع حاصل کرتا رہتا ہے بذریعہ سکونت یا کرایہ یا زراعت وغیرہ یہ حرام ہے کہ صحیح ومعتمد مذہب میں بیع وفاء بیع نہیں رہن ہےمشتری مرتہن کو رہن سے نفع حاصل کرنا حرام ہےحدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ ھو ربو ۔
جو بھی قرض نفع دے وہ سود ہے(ت)
اور پورے بیباك یہ کرتے ہیں کہ چیز بھی بائع کے قبضہ میں رہتت ہے اور اس سے اپنے روپیہ کا نفع اٹھایا جاتا ہے یہ رہن بھی نہ ہوا کہ رہن بے قبضہ باطل ہے۔
حوالہ / References کنزالعمال فصل فی لواحق کتاب الدین حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسستہ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۳۸
#12397 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
قال اللہ تعالی " فرهن مقبوضة " (الله تعالی نے فرمایا تو رہن ہو قبضہ میں دیا ہوا۔ت)یہ نفع جو اس پر ٹھہرا کھلا سود اورنرا حرام ومردود ہے۔
بالجملہ یہ بیع کسی صورت میں نہیں ہےمشتری کا قبضہ نہ ہواجب تو اسے جائداد سے کوئی تعلق ہی نہیںجتنا روپیہ دےا ہے جب چا ہے واپس لے سکتا ہے میعاد گزری ہو یانہیں کہ بوجہ عدم رہن سادہ قرض رہ گیا اور قرض کے لئے شرعا کوئی میعاد نہیںاگر مقرربھی کی ہے اس کی پابندی نہیں اس دئے ہوئے روپیہ سے ایك حبہ زائد اس کو حرام ہےنہ میعاد گزرنے پر اس جائداد میں اس کا کوئی حق ہےاور اگر مشتری کا قبضہ ہوگیا ہے تو وہ رہن ہے مشتری کو اس سے نفع لینا حرام ہےاور بائع ہر وقت روپیہ دے کر جائداد واپس لے سکتا ہے اگرچہ میعاد گزرگئی ہواور یہ بھی کرسکتا ہے کہ اسی جائداد کا کوئی حصہ باہمی رضامندی سے مشتری کے ہاتھ بیع قطعی بعوض دین کر دے اور باقی جائداد واپس لے لےرہا بائع یا مشتری کا دوسرا کے ہاتھ جائداد کا کل یا بعض بیچنااگرقبضہ مشتری نہیں ہوا ہے جب تو بائع کو اس کا اختیار کامل ہے کہ وہ اس کی ملك خالص ہےاور مشتری کو اصلا اختیار نہیں کہ اسے جائداد سے کوئی تعلق نہیںاوراگر قبضہ مشتری ہوگیا ہے تو اگر بائع بیچے تو یہ بیع مشتری کی اجازت پر موقوف ر ہے گی کما ھو حکم بیع المرھون(جیسا کہ مرہون کی بیع کاحکم ہے۔ت)
سوال اخیر کا جواب یہ ہے کہ اس صورت میں نہ بیع ہے نہ رہن ہے قائم کس چیز کو رکھا جائے اور بیع قطعی کرنا نہ کرنا بائع کو اختیار ہے مشتری کو اپنے روپیہ کے سوا کوئی دعوی ا س پر نہیں۔واللہ تعالی اعلم۔

مسئلہ ۱۷: از شہر محلہ سبزی منڈی بازار مرسلہ ولایت حسین صاحب مورخہ ۱۸ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
زید بکر کے پاس آیا اور یہ کہا کہ ایك صاحب کو کپڑا کی ضرورت ہے اور اس کو کچھ کپڑا سلوانا بھی ہےبکر سلائی کا کام بھی کرتا ہےبکر نے تین دکانات پر سے مختلف قسم کے پارچہ مالکان مال سے ان کی قیمت طے کرکے زید کے ساتھ صاحب کے یہاں چلا گیازید نے یہ کہا کہ میں ان صاحب کو کپڑا دکھانے جاتاہوں اور وہ کپڑے کو لے کر چلا گیابکر نہ وہ شخص ملانہ کپڑا ملااب مالکان مال کو شرعا بکر سے اس پارچہ کی قیمت لینے کا حق ہے یانہیں فقط
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۸۳
#12398 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
الجواب:
بیچنے والے اپنے کپڑوں کا تاوان بکر سے لے سکتے ہیں
لان المقبوض علی سوم الشراء مضمونواللہ تعالی اعلم
جس چیز پر بھاؤ طے کرنے کے لئے قبضہ کیا جائے وہ قابل ضمان ہےوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۸:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی حیات میں کسی وارث کو بیعنامہ اپنی جائداد کا مثل باغ یا اراضی وتالاب وغیرہا کے لکھ دیا اس کی موت کے بعد دوسرا وارث اگر فسخ بیع چا ہے تو اسے شرعا اختیار ہے یانہیں اور بائع کو بوجہ خیار عیب یا رؤیت اختیار فسخ حاصل ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں بیع اگر مرض موت میں نہیں تو بعد لزوم وتکمیل بائع اور اس کے ورثاء کو کسی طرح اختیار فسخ نہیں اور خیار رؤیت خاص مشتری کے لئے ہے اور خیارعیب اگر بائع کو حاصل بھی ہے تو صرف بایں معنی کہ ثمن ناقص جید سے بدل سکتا ہے نہ یہ کہ اس کی وجہ سے فسخ بیع کرسکےپس خیار رؤیت مطلقا اورخیار عیب کہ سبب فسخ ہے مشتری کےلئے خاص ہیں بائع کو ہر گز حاصل نہیں
فی الدرالمختار واذا وجدا لزم البیع بلاخیار الا لعیب اورؤیۃ فی الہدایۃ ومن باع مالم یرہ فلا خیار لہ و کان ابوحنیفۃ رضی اللہ تعالی عنہ یقول اولا لہ الخیار اعتبارا بخیار العیب و خیار الشرط فی العنایۃ اعتبارا بخیار العیب فانہ لایختص بجانب المشتری بل اذا وجد البائع الثمن زیفا فھو بالخیار ان شاء جوز وان شاء ردہ کالمشتری اذا وجد المبیع معیبا لکن العقد لاینفسخ بردالثمن وینفسخ برد المبیع لانہ اصل دون الثمن والعلم عند واھب العلوم عالم کل سر مکتوم۔
درمختار ہے جب ایجاب وقبول دونوں پائے گئے تو بیع بلاخیار لازم ہوگئی سوائے خیار عیب اور رؤیت کےہدایہ میں ہے جس نے ایسی چیز کو بیچا جسے اس نے دیکھا نہیں تو اسے خیار رؤیت نہیںامام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہپہلے کہاکرتے تھے کہ اسے خیار رؤیت ہے اور وہ اس کو خیار عیب اور خیار شرط پر قیاس کرتے تھےعنایہ میں ہے کہ خیار عیب پر قیاس کرنا
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵
الہدایہ کتاب البیوع باب خیارالرؤیۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۴۱۔۴۰
العنایہ علی ہامش فتح القدیر کتاب البیوع باب خیار الرؤیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۵۳۳
#12399 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
اس لئے درست ہے کہ وہ فقط مشتری کے ساتھ مختص نہیں بلکہ اگر بائع ثمنوں کو کھوٹا پایا تو اسے اختیار ہے چا ہے تو جائز قرار دے دے اور چا ہے تو رد کردے جیسا کہ مبیع کو معیوب پاکر مشتری کو اختیار ہوتا ہے لیکن ثمن کر رد کرنے سے عقد فسخ نہیں ہوتا اور مبیع کو رد کرنے سے عقد فسخ ہوجاتا ہے کیونکہ مبیع اصل ہے نہ کہ ثمناور علم درحقیقت علم عطا فرمانے والے کے پاس ہے جو ہر چھپے راز کو جاننے والا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۹: ۱۱رجب ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ معاہدہ مابین زید وعمر کے قرار پایا اور زید نے عمرو کو عہ/ بیس روپے بطور بیعانہ کے دئے اب زید اپنی بدنیتی سے بلا قصور عمر کے معاہدہ مذکورہ سے منحرف ہوگیا تو اس صورت میں زید واپسی زر مذکور کا مستحق ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
بیشك واپس پائے گابیع نہ ہونے کی حالت میں بیعانہ ضبط کرلینا جیسا کہ جاہلوں میں رواج ہے ظلم صریح ہے
قال اللہ تعالی " لا تاكلوا اموالكم بینكم بالباطل " ۔
الله تعالی نے فرمایا:آپس میں ایك دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ(ت)
ہاں اگر عقد بیع باہم تمام ہولیا تھا یعنی طرفین سے ایجاب وقبول واقع ہولیا اور کوئی موجب تنہا مشتری کے فسخ بیع کردینے کا نہ رہااب بلاوجہ شرعی زید مشتری عقد سے پھرتا ہے توبیشك عمرو کو روا ہے کہ اس کا پھر نانہ مانے او ر بیع تمام شدہ کو تمار ولازم جانےاس کے یہ معنی ہوں گے کہ مبیع ملك زید اور ثمن حق عمرودرمختار کے باب الاقالہ میں ہے:
من شرائطہا رضا المتعا قدین ۔
اقالہ کی شرطوں میں سے بائع ومشتری کا باہم رضامند ہونا ہے۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۴ /۲۹
درمختار کتاب البیوع باب الاقالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳
#12400 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
یہ کبھی نہ ہوگا کہ بیع کو فسخ ہوجا مان کر مبیع زید کو نہ دے اور اس کے روپے اس جرم میں کہ تو کیوں پھر گیا ضبط کرےھل ھذا الا ظلم صریح(کیا یہ ظلم صریح نہیں ہے۔ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰: از پیلی بھیت ۵ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور فضلائے شرع مبین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك عورت زینب کو بمواجہ چند عورات مستورات اور چند مرد مان کرکے کچھ روپیہ اس وعدہ پر دیا کہ ہم فلاں مکان یا زمین اسی عورت زینب کا اس قدر تعداد روپیہ لیں گے اور بقدر عہ /بیس روپیہ مثل بیعانہ دئے ہیں اور اس عورت زینب نے اس روپیہ کو لے کر صرف مایحتاج کرلیا اور سب گواہان کے سامنے اقرار کردیا بعداقرار کے کچھ دنوں بعد زینب فوت ہوگئی لہذا شرعا بیع ہوئی یانہیں اور ازروئے شرع شریف کے زید اپنا قبضہ کرسکتا ہے یانہیں فقط
الجواب:
"لیں گے" صرف وعدہ ہے اور وعدہ کوئی عقد نہیںنہ وفائے وعدہ پر خود وعدہ کرنے والے کو جبر کیا جاسکتا ہے۔
کما نص علیہ فی الہندیۃ والخیریۃ وغیرہما من الکتب الفقہیۃ
(جیسا کہ ہندیہ اور خیریہ وغیرہ کتب فقہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ ت)
تواس کی موت کے بعد وارثوں پر کیا جبر ممکن ہے پس زید کو قبضہ کرنے کا اصلا اختیار نہیں وہ صرف ان روپوں کا مستحق رہا جو اس نے پیشگی دئے تھے ترکہ زینب سے قبل تقسیم ورثہ وصول کئے جائیںوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱: ۲۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپناحق حقوق ۲بسوانسی کچھ کچوانسی بکر کے ہاتھ فروخت کیا مبلغ(ما سہ مہ۱۵۸)روپیہ کو اور بیع نامہ لکھ کر اپنے دستخط کئے اور بیعانہ لیا اور رجسٹری کرادینے کا معاہدہ کیا اور بعد کو خالد اپنے چچا زاد بھائی کو(سا مہ لعہ ۳۹۵)روپیہ کا بیعنامہ لکھ کر رجسٹری کرادیاب بکر کہتا ہے کہ درحقیقت یہ بیعنامہ مصنوعی لکھا ہے شفیع کے ڈر سے اور یہ حقیقت اصل میں وہی(ما صہ مہ ۱۵۸)کو بموجب بیع بکر کے فروخت کی ہےاور بکر یہ بھی کہتا ہے کہ میں اس میں شفیع ہوں کیونکہ میری پندرہ بستے ہیںتو اس صورت میں بکر بموجب شرع شریف کے شفاعت سے اس حقیت کو اورنیز بموجب معاہدہ کے اس قیمت کوپاسکتا ہے یانہیں فقط
الجواب:
بیع عقد لازم ہے بعدتمامی ہر گز بائع کو اختیار نہیں کہ دوسرے کے ہاتھ بیع کردے جب
حوالہ / References α فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب السابع فی اجارۃ المستاجر نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۲۷،العقود الدریۃ مسائل وفوائد شتی من الحظر والاباحۃ ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۳۵۳
#12401 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
وہ بدست بکر بیچ چکا بیعنامہ لکھ دیا اس پر اپنے دستخط کردئےتو تمامی عقد میں اصلا کوئی شبہ نہ رہا۔رجسٹری نہ شرعا ضروریہ نہ اسے تکمیل عقد میں اصلا کچھ دخلبلکہ شرعا تو صرف ایجاب وقبول کانام بیع ہے اگرچہ بیعنامہ بھی نہ لکھا جائے تونہی تنہا بیعنامہ بطریق معروف ومعہود لکھ کر دسختط کرنا مشتری کا اسے قبول کرلینا بھی عقد تام وکافی ہےاگرچہ زبانی الفاظ مقررہ خریدم و فروختم(میں نے خریدامیں نے بیچا۔ت)کا ذکر نہ آیا ہو۔ اشباہ میں ہے:
الکتابۃ یصح البیع بہا قال فی الہدایۃ والکتاب کالخطاب ۔
تحریر سے بیع صحیح ہوجاتی ہےہدایہ میں ہے فرمایا تحریر کلام کی مثل ہے۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
المعنی ھواالمعتبر فی ھذہ العقود ولہذا ینعقد بالتعاطی فی النفیس والخسیس ھوالصحیح لتحقق المراضاۃ ۔
ان عقود میں معنی کا اعتبار ہوتا ہے اسی لئے بڑھیا اور گٹھیا چیزوں میں بیع تعاطی منعقد ہوجاتی ہے اور یہی صحیح ہے کیونکہ باہمی رضامندی متحقق ہوتی ہے۔(ت)
غرض حقیقت مذکورہ ملك زید سے خارج ہوکر ملك بکر میں داخل ہوگئیزید بکر سے صرف(ما سہ مہ۱۵۸)کا مطالبہ کرسکتا ہے بیع ثانی کہ بدست خالد کیبے اجازت بکر مردود ہےبکر کو اپنی ملك میں دعوی شفعہ کی کوئی حاجت نہیںوالله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۲۲:علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ زید کی دو زوجہ ہیںاب زید اپنا حق حقوق ایك زوجہ کے نام بیع کرتا ہےتو زید کو اپنی حیات میں بیع کرنے کا اختیار ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
اگریہ بیع زیدسے قبل مرض موت کے بحالت صحت نفس وثبات عقل واقع ہوئی تو قطعا نافذ ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك زوجہ اور ایك ہمشیرہ اور ایك بھتیجا وارث اور تین بسوہ جائداد متروکہ چھوڑ کر انتقال کیا زوجہ نے وہ کل حقیت اپنی طرف سے بدست خالد فروخت کی مگر وہ بیعنامہ سب ورثاء کی اطلاع سے لکھا گیا اور وہ سب بالغ ہیں اور سب نے اپنی گواہیاں
حوالہ / References α الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الکتابۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۱۹۶
α الہدایہ کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۵۔۲۴
#12402 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
اس بیعنامہ پر لکھیں اوریہ کہہ دا کہ یہ بیع صحیح ہے اس میں کچھ دعوی مبیع نہیں ہے کل زرثمن مشتری نے اداکردیا اور سب ورثاء نے باہم تقسیم کرلیااب بعد نو دس برس کے ہمشیرہ زید مدعیہ ہے کہ یہ بیع میں نے نہیں کی فقط زوجہ زید نے بطور مالکانہ کل حقیت بیع کی حالانکہ وہ کل کی مستحق نہیںاس صورت میں وہ بیع شرعا صحیح ونافذاور دعوی مدعیہ ناحق وباطل قرار پائے گا یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ بیع صحیح ونافذ ہے اور دعوی مدعیہ محض ناحق وباطل کہ اگر چہ زوجہ زید کل حقیت کی مالك نہ تھی اور اس نے ساری جائداد اپنی طرف سے بیع کی مگر یہ جبکہ یہ امر باطلاع ورثاء دیگر واقع ہوا اور انھوں نے پسند رکھا اورانکارنہ کیا یہاں تك کہ زر ثمن سے حصہ لیا اور وہ سب بالغ تھے تو اب وہ بیع ایسے ہی قرار پائےگی کہ گویا ان سب نے خود اپنا اپنا حصہ بیع کیا او رثمن لیا اب کسی طرح سے انھیں محل دعوی واعتراض باقی نہیں
فی تنویر الابصار والدالمختار اخذ المالك الثمن اوطلبہ من المشتری اجازۃ اھ ملخصا واما ماوقع فی البحر ثم الدر ر من البطلان ان باع الفضولی لنفسہ موہم مخالف للفروع المذھبیۃ ومضاد للظاہر الروایۃ کما حققہ المولی خیرالملۃ والدین الرملی ثم العلامۃ الشامی افندی فلیتنبہواللہ تعالی اعلم۔
تنویر الابصار اور درمختار میں ہے کہ مالك کا مشتری سے ثمن وصول کرلینا یا اس سے ثمن مانگنا اجازت بیع ہے اھ ملخصااو وہ جو بحر پھر درر میں آیا ہے کہ بیع باطل ہے اگر فضولی نے اپنے لئے بیع کی وہ وہم ہے اور فروع مذہبیہ کے مخالف اور ظاہر الروایہ کے خلاف ہے جیسا کہ حضرت مولانا خیرالدین رملی پھر علامہ شامی آفندی ن تحقیق فرمائیپس اس سے باخبر ہونا چاہئے والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جب غلہ بازار میں نقدوں ۱۶ سیر کا ہو تو قرضوں ۱۵ یا ۱۲ سیر کا بیچنا جائز ہے یا حرام یامکروہ بینوا توجروا
الجواب:
یہ فعل اگر چہ نرخ بازار سے کیساہی تفاوت ہو حرام یاناجائز نہیں کہ وہ مشتری پر جبر نہیں کرتا
حوالہ / References α درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲
#12403 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
نہ اسے دھوکا دیتا ہے اور اپنے مال کاہر شخص کو اختیار ہے چا ہے کوڑی کی چیز ہزار روپیہ کودےمشتری کو غرض ہولےنہ ہونہ لے۔
فی ردالمحتار لوباع کاغذہ بالف یجوز ولایکرہ ۔واللہ تعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے اگر کسی نے کاغذ کا ٹکڑا ہزار کے بدلے میں بیچا تو جائز ہے اور مکروہ نہیں ہےوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۵:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںکہ شیخ خضروی وکریم الله ومحمد بشارت وشاہ محمد چار بھائیوں نے ایك جائداد بشمول ہمدگر پیدا کی اور تادم مرگ خورد نوش ان کا یکجاررہابعدۃ خضری نے دو دختر فجو اور اجو اور ایك پسر محمد بخش جس کی وارث اس کی زوجہ امرین ہےاور دوسری فجو جس کے ورثاء اس کے زوج کلو اور علی بخش وحسین بخش وسلیمن اولادہیںاور شاہ محمد نے زوجہ نورن وابن محمد علی وبنت بلاقن اورکریم اللہ نے زوجہ منگو اور ابن یاد علی اور امیرن منیرنبگابنات اور محمد بشارت نے زوجہ چھوڑیاور محب الله وکلن پسران اور عمدہ دختر اپنے اپنے ورثاء چھوڑ کر وفات پائیبعدا ن کے اتنقال کے ان سب وارثوں نے وہ جائداد مشترکی غیر منقسمہ ایك عقد میں ایك شخص کے ہاتھ بعوض آٹھ سو روپیہ کے بیع کی اور اسے قابض ومتصرف کرادیا مگر کلن اور علی حسین اور حسین بخش اور سلیمان وقت بیع نابالغ تھے کہ ان کی ماں کلو نے ولایۃ ان کی جانب سے بھی بیع کی اور یاد علی کی بی بی نے بے اجازت و اطلاع یاد علی باختیار خود حصہ اس کا مالکانہ بیچ ڈالااب یہ پانچوں وارث دعوی کرتے ہیں اور نقض بیع چاہتے ہیں پس اس صورت میں بیع مذکور صحیح ونافذ اور حصہ ان ورثاء کا انھیں واپس ملے گا یانہیں
الجواب:
صورت مسئولہ میں اگر یادعلی سے بعد از علم بالبیع کوئی قول یا فعل ایسا صادر ہوا کہ دال اجازت وتسلیم بیع پر تھا تو وہ بیع صحیح ونافذ ہوگئیاور دعوی اس کا ہر گز نہ سنایا جائے گااور جو قولا وفعلا کوئی امر ایسا نہ ہوا کہ اجازت پر دلالت کرے اگر چہ بعد خبر پہنچنے بیع کے چپ رہااو رکچھ نہ کہا تو اس صورت میں دعوی اس کا مسموع اور بیع بقدر اس کے حصہ کے ناجائز مشتری حصہ اس کا واپس کرے اورمابقی بقدر اس ثمن کے کہ مقابل اس کے ہے مقبول رکھے خواہ اسے بھی بالعین رد کردے اور اپنا کل ثمن پھیرلے اور اگر جائداد اولاد صغار بیع کردی گئی تو یہ بیع ہر گز صحیح نہ ہوگی اور مشتری اس کا
حوالہ / References α ردالمحتار کتاب الکفالۃ مطلب فی بیع العینۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۷۹
#12404 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
کسی طرح مالك نہیں ہوسکتا مشتری اس جائداد میں سے کلن وعلی حسین وحسین بخش وسلیمن کو بقدر ان کے حصص کے واپس کردے اور مابقی کی نسبت مختار ہے چا ہے سب بیع ترك کردے اور کل ثمن واپس لے لے یا بیع نسبت مابقی کے قائم رکھے اور اس قدر حصہ ثمن کا کہ مقابل جائداد رد شدہ کے تھا پھیرلے۔والله تعالی اعلم۔
الجواب الثانی بالتفصیل:مال اولاد نابالغ میں ماں کو کسی طرح کی ولایت حاصل نہیں سوا اس کے کہ حفظ ونگہبانی کرے یا ضروری چیزیں انھیں خرید دے۔
فی الاشباہ والنظائر لاولایۃ للام فی مال الصغیر الا الحفظ وشراء مالا بدمنہ للصغیر اھ وفی فتاوی قاضیخاں من کتاب الحظر والاباحۃ باب مایکرہ من النظر والمس للرجل ان یختن ولدہ الصغیر ویقبض لہ الہبہ ویشتری و یبیع ولایجوز ذلك لوصی العم الا انہ یقبض لہ الہبۃ وکذا الام اھ ملخصا۔
الاشباہ والنظائر میں ہے کہ نابالغ اولاد کے مال میں ماں کو سوائے حفاظت واشیاء ضروریہ کی خریداری کے کوئی ولایت حاصل نہیں اھفتاوی قاضی خاں کتاب الحظر والاباحۃ باب مایکرہ من النظر والمسمیں مذکور ہے کہ مرد کو اپنے نابالغ بیٹے کے ختنے کرنےاس کے لئے ہبہ پر قبضہ کرنے اور اس کے لئے خرید وفروخت کا اختیار ہے اور چچا کے وصی کے لئے یہ جائز نہیں سوائے اس کہ اس کے لئے ہبہ پر قبضہ کرسکتا ہے اور یہی حکم ماں کا بھی ہے اھ(ت)
پس کلو نے کہ جائداد اور کلن اور علی حسین اور حسین بخش اورسلیمن نابالغوں کی ان کی جانب سے بیچ ڈالیبیع فضولی قرار پائے گیاور اس سبب سے کہ حالت عقد کوئی مجیز یعنی قابل اجازت نہ تھا محض ناجائز وباطل ہوگی کہ اگر نابالغان مذکورین بعد ازبلوغ اجازت دیتے تاہم صحیح نہ ہوتی کہ باطل کسی کی اجازت پر موقوف نہیں رہتا اور اس کی تصحیح غیر متصور۔
فی الدر المختار من فصل الفضولی کل تصرف صدر منہ ولہ مجیز ای لھذا التصرف من یقدر علی اجازتہ حال وقوعہ انعقد موقوفا ومالا مجیز لہ حالۃ العقد لاینعقد اصلا اھ ملخصاوفیہ وقف بیع مال الغیر لو الغیر بالغا عاقلا فلوصغیرا او مجنونا لم ینعقد اصلا کما فی الزواھر معزیا للحاوی اھ۔
درمختار میں فضولی میں ہے کہ جو تصرف فضولی سے صادر ہوا اور درانحالیکہ اس تصرف کے وقوع کے وقت کوئی ایسا شخص موجود ہو جو اس تصرف
حوالہ / References α الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام المحارم ادارۃ القرآن والعوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۱۸۸
α فتاوٰی قاضی خان کتاب الحظروالاباحۃ فصل فیما یکرہ من النظر والمس نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۸۳
α درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱
α درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱
#12405 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
کی اجازت دے سکتاہو توا کا انعقاد اس شخص کی اجازت پر موقوف ہوجائے گا اور اگربوقت تصرف فضولی کوئی ایسا اجازت دینے والا موجودنہ ہو تو یہ تصرف سرے سے منعقد ہی نہ ہوگا اھ ملخصا۔اسی میں ہے کہ مال غیر کی بیع موقوف ہوتی ہے اگر وہ غیر عاقل وبالغ ہو اور اگر وہ غیر نابالغ یا مجنون ہو تو بیع سرے سے منعقد نہ ہوگی جیسا کہ حاوی کی طرف منسوب کرتے ہوئے زواہر میں ہے اھ(ت)
پس سہم نابالغان مذکورین کہ کل جائداد مبیعہ کے دسویں حصہ سے کچھ زائد ہے یعنی چہارم جائداد کہ متروکہ کہ شیخ خضری تھی اس ایك سوبانوے سہام سے ستترسہام مشتری پر لازم ہے کہ ان نابالغوں کو واپس کردے اور(سہ ۳/۴ پے)زرثمن ان سہام کا ان کی ماں کلو سے وصول کرلے اسی طرح حرمت زوجہ یاد علی نے کہ ان کا سہام بلا اذن اس کے اپنی جانب سے بطریق مالکانہ بیچ ڈالا حسب حکم بدائع وبحرالرائق واشباہ وظاہر متن تنویر الابصار بیع باطل وغیرصالح اجازت ہے۔
فی الدرالمختار بیعہ لنفسہ باطل کما فی البحر والاشباہ عن البدائع وعبارۃ الاشباہ بیع الفضولی موقوف الا اذا باع لنفسہ فباطل بدائع اھ مع التلخیص بالتغیر وفیہ ایضا وقف بیع مال الغیر ان باعہ علی انہ لما بلکہ اما لوباعہ علی انہ لنفسہ فالبیع باطل اھ ملخصا۔
درمختارمیں ہےکہ فضولی کی اپنی ذات کے لئے بیع باطل ہے جیساکہ بحوالہ بدائعبحر اور اشباہ میں ہے اشباہ کی عبارت یوں ہے کہ فضولی کی بیع موقوف ہوتی ہے مگر جب وہ اپنی ذات کے لئے بیع کرے توباطل ہوگی(بدائع اھ مع تلخیص وتغییر) اسی میں ہے کہ غیر کے مال کی بیع موقوف ہوتی ہے جبکہ یہ سمجھ کر بیچے کہ وہ مالك کےلئے ہے اور اگر اپنے لئے تو بیع باطل ہے اھ تلخیص۔(ت) مگر مولنا محمد بن عبدالله غزی تمرتاشی مصنف تنویر الابصار اس مذہب کی بوجہ مخالفت فروع مذہب تضعیف فرماتے ہیں فضولی اگر مال غیر کو اپنا ٹھہرا کربیچے تو ظاہر الروایت یہی ہے کہ
حوالہ / References α درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱
α درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱
#12406 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
مستحق کواختیار اجازت حاصل ہے یعنی بیع باطل نہ ہوگی اور اجازت مالك پر موقوف ر ہے گی۔
فی الدرالمختار لکن ضعف المصنف الاولی(ای بطلان بیعہ اذا باعہ لنفسہ)لمخالفتہا لفروع المذہب لتصریحہم بان بیع الغاصب موقوفوبان المبیع اذا استحق فللمستحق اجازتہ علی الظاھر مع ان البائع باع لنفسہ لا للمالك الذی ھو المستحق مع انہ توقف علی الاجازۃ اھفی غمز العیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر للعلامۃ الحموی تحت قولہ بیع الفضولی موقوف الا فی ثلث فباطل اذا شرط الخیار فیہ المالك وھی فی التلقیح وفیما اذا باع لنفسہ وھی فی البدائع اھ قولہ وفیما اذا باع لنفسہ یعنی لایتوقف علی اجازۃ المالك لانہ لم ینعقد اصلا قال بعض الفضلاء ویشکل علیہ ماقالوا من ان المبیع اذا استحق لاینفسخ العقد فی ظاہر الروایۃ بقضاء القاضی بالاستحقاق وللمستحق اجازتہ اھووجہ اشکالہ ان البائع باعہ لنفسہ لاللمالك الذی ھو المستحق اھ ۔
درمختار میں ہے مگر مصنف نے صورت اولی(یعنی فضولی کی اپنے لئے بیع باطل ہے)کو فروع مذہب کے مخالف ہونے کی وجہ سے ضعیف قرار دیاکیونکہ ائمہ نے تصریح کی کہ غاصب کی بیع موقوف ہے اور یہ کہ مبیع میں اگراستحقاق ثابت ہوجائے تو ظاہرالروایت پر مستحق کو اجازت کا اختیار حاصل ہے باوجود یکہ بائع نے اپنے لئے بیع کی نہ کہ اس مالك کے لئے جو کہ مستحق ہیے اس کے باوجود اس کی اجازت پر موقوف ہوگئی اھغمز عیون البصائر شرح اشباہ والنظائر تصنیف علامہ حموی میں ماتن کے اس قول"فضولی کی بیع موقوف ہے مگر تین صورتوں میں باطل ہےجب مالك کے لئے اس میں شرط خیار رکھے اور یہ تلقیح میں ہےاور ج ب وہ اپنے لئے بیچے اور یہ بدائع میں ہے اھ"کے تحت مذکور ہےماتن کا قول کہ جب فضولی اپنے لئے بیع کرے(تو باطل ہے)یعنی مالك کی اجازت پر موقوف نہ ہوگی کیونکہ وہ سرے سے منعقد ہی نہیں ہوئیبعض فضلاء نے کہا کہ اس پر مشائخ کے اس قول اشکال وارد ہوتا ہے کہ مبیع میں اگر استحقاق ثابت ہوجائے تو قاضی کے استحقاق کا فیصلہ کردینے کے باوجود بیع فسخ نہیں ہوتی اور مالك مستحق کواسکی اجازت کا اختیار حاصل ہوتا ہے اھ اشکال کی وجہ یہ ہے کہ بائع نے اپنی ذات کے لئے بیچا ہے
حوالہ / References α درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱
α غمز العیون البصائر الفن الثالث کتاب البیوع ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۳۲۹
#12407 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
نہ کہ اس مالك کے لئے جو مستحق ہے اھ(ت)
پس اگر قبل اس دعوی کے یاد علی سے کوئی قول یا فعل ایسا صادر ہوا ہو جو شرعا اجازت بیع قرار پائے مثلا زرثمن مشتری سے مانگا ہو یا اس کو ہبہ کردیا ہو یا اپنی عورت سے کہا ہو تونے برا کیا یا اچھاکیاعلی مذہب محمد وھو الاستحسان عالمگیری وھوالمختار فتح القدیر(مذہب محمد پر اوریہی استحسان ہےعالمگیریاوریہی مختار ہےفتح القدیر۔ت) تو اب یہ دعوی اس کا نہ سنا جائے گا اور اس کے حصہ میں بیعنافذ ہوچکی اس کے سہم کا زرثمن کہ(معہ)روپے ہیں اس کی زوجہ کے پاس امانت رہا بشرطیکہ بلاقصور اس کے پاس سے تلف نہ ہوگیا ہو اس سے وصول کرلے اور اگر زوجہ نے حفظ مبلغ میں کچھ تقصیر نہ کی نہ اپنے تصر ف میں لائی اور کسی طرح تلف ہوگیا تو اس سے بھ نہیں لے سکتا کہ وہ امینہ تھی اور امین پر بلا تقصیر فی الحفظ ضمان نہیں۔
فی الدرالمختار ای بیع الفضولی قبول الاجازۃ من المالك اذا کان البائع والمشتری والمبیع قائما وکذا الثمن لوکان عرضا وغیر العرض ملك للمجیز امانۃ فی ید الفضولی ملتقیوان اخذ المالك الثمن اوطلبہ من المشتری یکون اجازۃعمادیۃوقولہ اسأت نہر بئس ماصنعت اواحسنت اواصبت علی المختارفتح وھبۃ الثمن من المشتری والتصدیق علیہ بہ اجازۃ اھ ملخصا
درمختار میں اور فضولی کی بیع کاحکم مالك کی اجازت کو قبول کرنا ہے جبکہ بائعمشتری اور مبیع قائم ہو اور اسی طرح ثمن بھی جبکہ بصورت سامان ہوں اور ثمن سامان نہ ہو ں تو وہ مالك مجیز کی ملك ہیں اور فضولی کے قبضہ میں بطور امانت ہیں ملتقیاگر مالك ثمن وصول کرے یا مشتری سے ثمن طلب کرے تو یہ اجازت ہےعمادیہاور مالك کا یہ کہنا کہ تو نے بر اکیانہریا جو تونے کیا برا ہے یاتو نے اچھا کیایا تونے درست کیا قول مختار کے مطابقفتح القدیراور مشتری کو ثمن ہبہ کر دینا یا اس پر صدقہ کردینا اجازت ہے اھ تلخیص(ت)
اور اگر قبل از دعوی کوئی قول یا فعل اس سے صادر نہ ہوا بلکہ بیع کی خبر بھی نہ ہوئی یا سن کر چپ رہا اور کچھ نہ کہا تو دعوی اس کا مسموع اور اسے اختیار استرداد حاصل کہ خبر بیع سن کر مالك کا خاموش رہنا شرعا اجازت نہیں۔
حوالہ / References α فتاوٰی ہندیۃ کتاب البیوع البا ب الثانی عشر فی احکام البیع الموقوف نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۵۲،ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۴۱
α درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲
#12408 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
فی الفتاوی الھندیۃ بلغ المالك ان فضولیا باع مبلکہ فسکت لایکون اجازۃ اھ۔
فتاوی ہندیہ میں مالك کو خبر پہنچی کہ فضولی نے تیری مملوك چیز فروخت کردی اور وہ خاموش رہا تو یہ اجازت نہ ہوگی اھ (ت)
اس صورت میں مشتری پر لازم ہے کہ مثل حصہ نابالغان یاد علی کا حصہ بھی یعنی چہارم جائداد کے چالیس سہام سے چودہ سہم یاد علی کو واپس کردے اور ثمن اس حصہ کا کہ(معہ)روپے ہے اس کی زوجہ سے وصول کرلےرہا یہ کہ درصورت اولی بعد واپسی صرف نابالغان ودرصورت ثانیہ پس از ردہردوسہم یادعلی ونابالغان جو باقی بچے اس کا کیا حکم ہے اس کی نسبت بوجہ اس بات کے کہ مبیع ذوات القیم سے اور استحقاق نسبت یادعلی بعد قبض کل واقع ہوا مشتری کو اختیار ہے خواہ عوض باقی زر ثمن کے کہ پہلی تقدیر پر(لعہ عہ /۱۲)ہے اور دوسری تقدیر پر(لعہ للعہ /۱۲)ہے اپنے پاس رکھے یا کل مبیع سب بالغوں کو واپس کردے اوراپنے پورے آٹھ سو ان سے وصول کرلےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶: ۱۷ جمادی الاولی ۱۳۰۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك گاؤں میں تین شریك ہیں زید اور خالد اور زید کا بیٹا عمروعمرو پر کچہری انگریزی سے ایك معاملہ میں ہندہ کی بقدر آٹھ سو روپیہ کی ڈگری ہوئی ہندہ نے جائداد عمرو نیلام پر چڑھائی کچہری انگریزی سے پانچ بسوہ عمرو کے بتفریق اس طرح نیلام ہوئے کہ ۲۷ رمضان ۱۳۰۱ مطابق ۲۱ جولائی ۱۸۸۴ ء و ۱۳ ساون ۱۲۹۲ فصلی کو تین بسوہ پھر یك صفر ۱۳۰۲ھ مطابق ۲۰ نومبر ۸۴ء و ۷ا اگہن(مگھر)۹۲ فصلی کو ایك بسوہ پرھ ۴ جمادی الاولی ۱۳۰۲ھ مطابق ۲۰ فروری ۱۸۸۵ء و ۲۱ پھاگن ۱۲۹۲ فصلی کو ایك بسوہ اور یہ سب نیلام خود ہندہ ڈگری دار نے خرید لئےبعدہہفتم رجب ۱۳۰۲ھ مطابق ۲۳ اپریل ۱۸۸۵ء و ۲۴ بیساکھ ۱۲۹۲ فصلی کو ہندہ نے یہ کل جائداد یعنی پانچوں بسوئے بنام خالد شریك سوم بیع کردئےخالد نے باحتیاط بحکم شرع اصل مالك یعنی عمرو سے اپنے نام جو انتقال ہوا اس کی اجازت چاہی عمرو نے بخوشی اجازت دی پھر مزید وثوق کے لئے ۱۶ جمادی الاولی ۱۳۰۳ ھ مطابق ۲۱ فروری ۱۸۸۶ء و ۳ پھاگن ۱۲۹۳ فصلی کو عمرو مذکور نے ایك دستاویز بدیں مضمون لکھ دی کہ یہ پانچوں بسوہ جو ہندہ مشتریہ نیلام نے بدست خالد بیع کئے میں نے یہ انتقال بخوشی جائز رکھا اور زرثمن خالد کو معاف کیا اور روز نیلام سے کہ ابتدائے زراعت خریف ۱۲۹۲ فصلی تھی
حوالہ / References α فتاوٰی ہندیۃ کتاب البیوع الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۵۳
#12409 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
ربیع ۱۲۹۲ تك جس قدر توفیر ان پانچوں بسوں کے ہوئی اس کی نسبت صریحا لکھ دیا کہ وہ توفیران پانچوں بسووں کے میں نے خالد مذکور کو اس شرط پر کہ موہوب لہ میرے حق رجوع کے عوض مجھے دس من خادم گندم دے ہبہ کئے خالد اس توفیر کو قبض ووصول کرے اور میں نے گندم مذکور کو خالد سے وصول پالیاب میرا کوئی حق اس توفیر میں نہیں اورنہ مجھے اس ہبہ سے رجوع کااختیار باقی رہااب شرع شریف سے سوال ہے کہ صورت مذکورہ میں اس تمام توفیر کا استحقاق خالد خریدار کو ہے یا زید پدر عمرو کو بینوا توجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں زید پدر عمرو کسی طرح توفیر کا مالك نہیں بلکہ وہ کل توفیر پانچوں بسوہ کی بابت سال تمام ۱۲۹۲ فصلی کی محض خالد کا حق ہے اور صرف اور صرف اسی کو ملنا چاہئے۔
والفقہ فی ذلك ان بیع من یزید الصادرمن حکام الزمان لیس بیع المالك وھو ظاھرولاباذنہ فانہم لایسألونہ ولایسترضونہ بل ربما باعوا مایساوی الفا بمائۃ اواقل ولا باذن الشرع المطہر کما لایخفی علی من لہ ادنی مسکۃ فلا یسوغ تفریعہ علی قول الصاحبین فی بیع القضاۃ مال المدیون کرھا علیہ ان ابی ولابیع المکرہ حتی یجعل فاسدا لان المالك لایتولی الایجاب بل ربما لایشہد العقد وانماھم یبیعون بانفسہم جبراعلیہ فاذن لیس الا کبیع الغاصب ینعقد موقوفا علی اجازۃ المالک
اس میں فقہ یہ ہے کہ بولی لگاکر بیع(نیلامی)جیسا کہ آج کل کے حکمران کرتے ہیں وہ مالك کی طر ف سے بیع نہیں اور یہ ظاہر ہے اور نہ مالك کی اجازت سے ہے کیونکہ حکمران نہ تو مالك سے پوچھتے ہیں اورنہ ہی اس کی رضا معلوم کرتے ہیں بلکہ بعض دفعہ تو ہزار کی مالیتی چیز سویا اس سے بھی کم پر فروخت کردیتے ہیںاورنہ ہی یہ بیع شرعا مطہر کے اذن سے ہوتی ہے جیساکہ شریعت سے ادنی سا تعلق رکھنے والے پر مخفی نہیںاور یہ بیع مذکور کو بیع مکرہ اور مدیون کے انکار کے باوجود حکام کی طرف سے جبرا اس کے مال کوفروخت کرنے سے متعلق قول صاحبین پر متفرع کرکے بیع فاسد قرار دینے کی گنجائش نہیں کیونکہ یہاں ملك کی طرف سے ایجاب نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات تو مالك بوقت عقد حاضرہی نہیں ہوتا بلکہ حکام اس پر جبر کرتے ہوئے از خود بیع کردیتے ہیں لہذا یہ تومحض بیع غاصب کی مثل ہے جس کا انعقاد مالك کی اجازت پر
#12410 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
فان اجاز جاز والابطل فی الدرالمختار وقف بیع الغاصب علی اجازۃ المالك اھ واذا کان الامر کذلك فلم یثبت الملك فی المبیع لھندۃ المشتریۃ من احکام فبیعہا من خالد ایضا بیع الفضولی لعدم الملك واذن المالك فیتوقف ایضا علی اجازتہفی رد المحتار بیع المشتری من الغاصب موقوف اھ فایما عقد منہما صادفتہ الاجازۃ نفذ بخصوصۃفی الحاشیۃ الشامیۃ عن جامع الفصولین عن المبسوط لوباعہ المشتری من غاصب ثم وثم حتی تداولتہ الایدی فاجاز مالکہ عقدا من العقود جاز ذلك العقد خاصۃ لتوقف کلہا علی الاجازۃ فاذا اجاز عقدا منہا جاز ذلك عقدا منہا جاز ذلك خاصۃ اھ وھھنا قد لحقت الاجازۃ العقد الاخر فنفذ وثبت موقوف ہوتا ہے اگر اجازت دے دے تو نافذ ورنہ باطل ہوجائیگیدرمختار میں ہے کہ غاصب کی بیع اجازت مالك پر موقوف ہوتی اھ اور جب صورت حال یہ ہے تو حکام سے خریدنے والی ہندہ کی مبیع میں ملك ہی ثابت نہ ہوئیچنانچہ اس کا خالد کے ہاتھ بیچنا بھی ملك اذن مالك کے نہ ہونے کی وجہ سے بیع فضولی ہوا تو یہ بھی اجازت مالك پر موقوف ہوگا ردالمحتار میں ہے کہ غاصب سے خریدار کی بیع موقوف ہوتی ہے اھتو ان دونوں عقدوں میں سے جس کو اجازت لاحق ہوگئی وہ بطور خاص نافذ ہوگیا۔حاشیہ شامیہ بحوالہ مبسوطجامع الفصولین سے منقول ہے کہ اگر غاصب سے خریدنے والے نے کسی کے ہاتھ فروخت کیا اس نے آگے پھر اس نے آگے فروخت کردیا حتی کہ وہ کئی جگہ فروخت ہوااب مالك نے ان عقود میں سے کسی ایك عقد کی اجازت دے دی تو خاص وہ عقد نافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ تمام عقود مالك کی اجازت پر موقوف تھے تو جس کی اجازت اس نے دی وہی بطورخاص نافذ ہوگیا اھاوریہاں(صورت مسئولہ میں)اجازت آخری عقد کو لاحق ہوئی وہ نافذ ہوگیاچنانچہ
حوالہ / References α درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱
α ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۴۲
α ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۴۲
#12411 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
الملك لخالد فی المبیع و نمائہ وغلالہ منذ شری من الھندۃفی تنویر الابصار وشرحہ کل مایحدث من البیع کالکسب والولد والعقر ولوقبل الاجازۃ یکون للمشتری لان الملك تم لہ من وقت الشراء بخلاف الغاصب اھ واماما تحصل من المزارع قبل شراء خالد فلا حق لخالد فیہ و لالھندۃ بل لعمر وخاصۃ لانہ بدل منافع مبلکہ المعد للاستغلال وھبۃ الدین ممن لیس علیہ باطلۃ الا ان یسلط علی القبض فی شرح العلائی اما تملیك الدین نم غیر من علیہ الدین فان امرہ بقبضہ صحت لرجوعہا الی ھبۃ العین اھ وفی مسألتنا ھذہ قد وقع التسلیط کما ذکر فی السوال فصحت الھبۃ وصح التعویضفی شرح التنویر عن الجواہرلایصح الابراء عن الرجوع ولوصالحہ
مبیع اور اس سے حاصل شدہ آمدنی میں اس دن سے خالد کی ملك ثابت ہوگئی جس دن اس نے ہندہ سے خریداتنویر الابصار اور اس کی شرح میں ہے کہ جو کچھ مبیع سے حاصل ہو جیسے کمائیاولاد اور عقرتو وہ مشتری کا ہے اگر چہ اجازت سے قبل ہو کیونکہ خریداری کے وقت سے ہی اس کو ملك تام حاصل ہوگئیبخلاف غاصب کے اھاور جو کچھ خالد کی خریداری سے قبل کھیتوں سے حاصل ہو ا اس میں خالد اور ہندہ کا کوئی حق نہیں بلکہ وہ خاص عمرو کا ہے کیونکہ یہ اس کی ایسی ملك کے منافع کا بدل ہے جوغلہ حاصل کرنے کے قبل ہےاور دین کا ہبہ اس شخص کو جس پر دین نہیں باطل ہے سوائے اس کے کہ اس کوقبضہ کا اختیار دے دے شرح علائی میں ہے کہ ایسے شخص کو دین کامالك بنا یا جس پر دین نہیں اب اگر صاحب دین نے مدیون کو دین پر قبضہ کا حکم دے دیا تو یہ ہبہ صحیح ہوگیا کیونکہ یہ(ہبہ دین)ہبہ عین کی طرف راجع ہوگا اھ ہمارے زیر بحث مسئلہ میں چونکہ قبضہ کا اختیار دے دیا ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے لہذا ہبہ صحیح ہوگیا اور عوض دینا بھی درست ہوگیا شرح تنویر میں بحوالہ جواہر منقول ہے کہ کسی کو حق شرع رجوع سے بری کردینا صحیح نہیں
حوالہ / References α درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲
α درمختار کتاب الہبۃ کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۸
#12412 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
من حق الرجوع علی شیئ صح وکان عوضا عن الہبۃ اھ۔
اور اگر حق رجوع کے عوض کسی شیئ پر صلح کرلی توصحیح ہے اور یہ ہبہ کا عوض ہوجائے گا اھ(ت)
بالجملہ:جس روز سے خالد نے وہ جائداد ہندہ سے خریدی اس دن سے تو اس کی توفیر خود ملك خالد ہے اور اس سے پہلے جو توفیر روز نیلام سے اس وقت تك تھی وہ عمرو کے ہبہ کرنے سے اس کا حق ہوگئی اب پانچوں بسوں کی توفیر سال ۱۲۹۲ فصلی میں سوا خالد کے کسی کا حق نہیں والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم
(مہر مولوی عبدالقادر صاح بدایونی) (مہر مولوی عبدالمقتدر صاحب بدایونی)
مسئلہ ۲۷: از ستار گنج ۲۶ ربیع الآخر ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر باغ وجائداد منقولہ وغیرہ منقولہ سرکار نیلام کرتی ہے اس کا خریدنا جائز ہے یا ناجائز ہے اور اشیاء روبرو ہے فقط۔
الجواب:
جو نیلام باجازت مالك ہو مطلقا جائز ہے یا بعد بیع مالك اجازت دے دے مثلا سو روپے قرض تھے ایك سودس میں نیلام ہوا دس کہ زائد تھے مالك کو دئے گئے اس نے قبول کرلئے تویہ اب جائز ہوگیا اگر چہ ابتداء ناجائز تھا فان الاجاۃ اللاحقۃ کالوکالۃ السابقۃ (کیونکہ اجازت لاحقہوکالت سابقہ کی مثل ہے۔ت) اور جہاں یہ دونوں صورتیں ہ ہوں وہ عقد فضولی ہے اجازت مالك پر موقوف ر ہے گا اگر جائز کردے جائز ہوجائے گا رد کردے باطل ہوجائے گااور جب تك اجازت نہ دے اس شے میں مشتری کو تصرف حلال نہ ہوگا
فان العقد الموقوف لایفید الحلکما نص علیہ فی ردالمحتار وغیرہ۔
کیونکہ بیع موقوف مفید حل نہیں ہوتی جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ یمں اس پر نص کی گئی ہے۔(ت)
پھر یہ بھی اس صورت میں ہے کہ اس عقد کے ہوتے وقت کوئی ایسا شخص قائم ہو جسے شرعا اس کی اجازت کا اختیار ہے نہ دوسرے سے باطل ہوگا مثلا نابالغ کا مال نصف قیمت کا نیلام کیا گیا کہ اسے تمام دنیا میں اجات دینے والا کوئی نہیں تو ایسا عقد موقوف نہ ر ہے گا ابتداء باطل ومردود ہوگا
حوالہ / References α درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲
α درمختار کتاب الہبۃ کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۸
#12413 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
فان تصرف الفضولی حیث لامجیز باطل اصلا کما نص علیہ فی الدر وغیرہ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
کیونکہ فضولی کا تصرف جہاں اس کی اجازت دینے کا اختیار رکھنے والا کوئی نہ ہو سرے سے باطل ہے جیسا کہ اس پر دروغیرہ میں نص کی گئی ہے والله سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۸: ۱۱ذی الحجہ ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس ڈگری میں اصل روپیہ اس کا سود بھی شامل ہے اس میں اگر کوئی جائداد حاکم ہندہ جو فی الحال ہے نیلام بغرض ادائے دین وسود کرے تو اس جائداد کو خریدنا شخص مسلمان کو جائز ہے یانہیں جائز ہے تو بقدر زر اصل کے ہے یا بالکلیہ بینوا توجروا
الجواب:
مشتری جب عقد صحیح شرعی سے کوئی شے خریدے تو بائع کے فعل کا کہ وہ اس زر ثمن کو اطاعت میں خرچ کرے گا یا معصیت میں مشتری سے کچھ مطالبہ نہیں
" و لا تزر وازرة وزر اخرى "
کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں آٹھائے گا۔ (ت)
زر ثمن کا معاذالله سود مں دیا جانا تمامی عقد بیع کے بعد ہوگا تو مشتری سے کیا تعلق اورا س وقت اگر ہے تو بائع کی نیت کہ ثمن لے کر وہاں دے گااس نیت کو بھی عقد سے علاقہ نہیںبہرحال مشتری اس الزام سے بیر ہے لتخلل فعل فاعل مختار (کہ درمیان میں فاعل مختار کا فعل ہے۔ت)ہاں اگر کوئی صورت خاصہ ایسی ہو کہ بائع سود وغیرہ مصارف حرام میں صرف کرنے کے لئے بیچتا ہے اور مشتری شراء سے نیت کرے کہ اس امر حرام میں اس کی اعانت کرے تو فساد نیت کے باعث خود اپنے وپر الزام شرعی لے گا شمول ربا کا جواب تویہ ہے کہ مگریہاں محل نظریہ امر ہے کہ نیلام ایك بیع ہے اور بیع بے رضائے مالك شرعا جائز نہیں
قال اللہ تعالی " یایہا الذین امنوا
الله تعالی نے ارشاد فرمایا:اے ایمان والو! آپس میں
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱
القرآن الکریم ۶ /۱۶۴
#12414 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
لا تاكلوا اموالكم بینكم بالباطل الا ان تكون تجارة عن تراض منكم- " ۔
ایك دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ سوائے اس کے کہ تمھارے درمیان باہمی رضامندی سے تجارت ہو۔(ت)
پس اگر نیلام جائز صحیح شرعی خود مال کرے یا باذن مالك ہو تو اس کے جواز میں کلام نہیں وہ بیع فضولی ہے کہ اگر اس وقت اس کا کوئی نافذ کرنیوالا نہیں مثلا نابالغ کا مال نصف قیمت کونیلام ہوا کہ اسے تمام جہاں میں کوئی نافذ نہیں کرسکتا جب تو وہ بیع سرے سے باطل وبے اثر ہے اور خریدار حرام اور اگر نافذ کرنے والا ہے مثلا بالغ کا مال کتنی ہی کم قیمت کونیلام ہوا تو ہ عقد اس کی اجزت پر موقوف ر ہے گااگر رد کردیا یاباطل ہوگیااوراگر جائز کردیا نافذ ہوگیااور اجازت کی صورت میں ایك یہ بھی ہے کہ زرثمن قدر مطالبہ سے زائدقرار پایا مثلا پانسو روپے کی ڈگری میں یا ہزار کامال پانسو دس روپے کو نیلام ہوا پانسودائن کو گئے دس مالك کو دئے اس نے لے لئے تو یہ لینابیع کونافذ کردینا ہوگا لان قبولہ تنفیذ کما نصواعلیہ(کیونکہ مالك کا قبول کرنا اس کی طرف سے نافذ کرنا متصور ہوتا ہے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہ سواروں میں نوکر تھا اس نے اپنے زوجہ ہندہ کے مہر میں بحالت صحت مکان اور اپنی اسامی دے دی اور دستاویز میں دونوں چیزون کا ذکر لکھ کرداخل خارج کرادیابعدایك عرصہ کے زیدکا انتقال ہوگیازوجہ زید نے مکان عمرو کے ہاتھ فروخت کیااب خالد جس کا زید پر کچھ قرض آتا تھا اس مکان کو مملوك زیدقرار دے کر اپنا قرضہ اس سے وصول کرایا چاہتا ہے کہ زید نے اسے لکھ دیا تھا اگر میں ادانہ کروں میری جائداد سے وصول کرلےآیا یہ اقرار شرعا روا اور وہ دستاویز جس میں مکان کے ساتھ اسامی کا بھی ذکر ہے شرعا صحیح اور یہ مکان بوجہ عقد زید مملوك ہندہ پھر بسبب عقد ہندہ مملوك عمرو ہوگیا یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں بیشك وہ مکان بوجہ عقد زید مملوك ہندہ پھر بسبب بیع ہندہ مملوك عمرو ہوگیااب سوائے عمرو کسی کا اس میں کچھ حق نہیںنہ کوئی قرضخواہ زید اس سے اپنا قرضہ وصول کرسکتا ہےمحل تأمل وامر تنقیح طلب یہاں اس قدر کہ زید نے عقدہ واحدہ میں عین یعنی مکان اور حق مجرد یعنی اسامی میں جمع کیا حالانکہ حقوق مجردہ صالح تملیك ومعاوضہ نہیںکلیہ فقہ ہے کہ جب عقد اہل سے محل میں بسلامت اراکان واقع ہو تو اس کے عدم بطلان میں کوئی شبہ نہیں اور اپنے ثمرات کو اگرچہ
حوالہ / References القرآن الکریم ۴ /۲۹
#12415 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
بعد القبض بالیقین مثمر ہوگا مگروقت نظر حاکم کہ وہ عقد جو درمیان زید وزوجہ زید واقع ہوا عام ازیں کہ صلح عن المہر ٹھہرے خواہ ہندہ یازید کی طرف سے ہبہ اور ہبہ ہو تو بالعوض خواہ بشرط العوض اور یہ اختلاف سہ اختلاف عاقدین سے ناشئی ہوگابہر تقدیر امر مذکور نفس مکان کے تملیك پھر ہندہ کی صحت بیع میں ہر گز مخل نہیں کہ اگر صورت اخیرہ یعنی ہبہ بشرط العوض تو وہ توابتداء ہبہ ہے اور اسی کے احکام اس پر جاریاگر چہ انتہاء بدستیاری معاوضہ جانب بیع منقلب ہوجائے اور ہبہ میں اگر شے صالح التملیك وغیر صالح یکجا کی جائیں تو اس کا فساد اسی پر مقتصر رہتااور اس قدر میں ہبہ قطعا صحیح ہوجاتا ہے
فی الاشباہ والنظائر من قاعدۃ اذا اجتمع الحلال و الحرام غلب الحرام قال ومنہا الہبۃ وھی لاتبطل بالشرط الفاسد فلا یتعدی الی الجائز اھ۔ الاشباہ والنظائر میں ایك قاعدہ مذکور ہےکہ جب حلال وحرام مجتمع ہوں تو حرام غالب ہوگا فرمایا کہ اسی میں سے ہبہ بھی ہے اور وہ شرط فاسد سے باطل نہیں ہوتا لہذا جائز کی طرف متعدی نہیں ہوگا اھ(ت)
اور صور باقیہ میں اگرچہ یہ عقد لباس ہبہ یاصلح میں ہو مگر معنی بیع وشراء ہے زید بائع ہندہ مشتریہ مکان واسامی مبیع مہر ثمن اما فی الہبۃ بالعوض فظاھر واما فی الصلح فکما فی العالمگیریۃ عن المحیط اذا وقع الصلح عن دین فحکمہ حکم الثمن فی البیع وان وقع علی عین فحکمہ حکم المبیع فمایصلح ثمنا فی البیع اومبیعا یصلح بدلا فی الصلح وما لا لا ۔لیکن ہبہ بالعوض میں تو یہ ظاہر ہے اور صلح اس لئے جیسا کہ عالمگیریہ میں بحوالہ محیط آیا ہے کہ اگر صلح دین پر واقع ہو تو اس کاحکم وہی ہے جو بیع میں ثمن کا ہے اور اگر صلح عین پر واقع ہوتو اس کاحکم وہی ہے جو بیع میں مبیع کا ہے چنانچہ جو چیز بیع میں ثمن یا مبیع بن سکتی ہے وہ صلح میں بدل بھی بن سکتی ہے اور جو بیع میں ثمن یا مبیع نہیں بن سکتی وہ بدل صلح بھی نہیں بن سکتی۔(ت)
اب یہ کلام مسئلہ اعتیاض عن الوضائف کے طرف مجر ہوگا وہاں ہر چند علماء کواختلاف ہے
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیہ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۴۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب الصلح نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۲۳۱
#12416 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
اوریہ مبحث معرکۃ الآراء ہے مگر مرضی جماہیر فحول ونحاریر عدول صحت وقبول ہے اور وہی ہنگام اعتبار وملاحظہ نظائر ان شاء اللہ تعالی اظہراگرچہ دوسرا پلہ بھی بہت ثقیل وگراں ہے
فی الدالمختار من الاشباہ المذہب عدم اعتبار العرف الخاص لکن افتی کثیر باعتبارہ وعلیہ فیفتی بجواز النزول من الوظائف بمال الخ قال العلامۃ السید احمد الطحطاوی فی حاشیتہ وقد تعارف ذلك الفقہاء عرفا قدیما رضیہ العلماء والحکام الی ان قال عن ابی السعود عن السید احمد الحموی من بعض الفضلاء عن العلامۃ بدرالدین العینی ان النزول عن الوضائف صحیح قیاسا علی ترك المرأۃ قسمہا لصاحبتہا لان کل منہما مجرد اسقاط الخ۔
درمختار میں بحوالہ اشباہ مذکور ہے کہ مذہب کہ عرف خاص کے عدم اعتبار کا ہے لیکن کثیر علماء نے اس کے اعتبار کرنے کا فتوی دیا اسی بنیاد پر مال کے بدلے وظائف سے دستبرداری کے جواز کا فتوی دیا گیا الخ علامہ سید احمد طحطاوی نے اپنے حاشیہ میں کہا کہ فقہاء نے اس کو عرف قدیم سمجھا اور علماء وحکام نے اس کو پسند کیا یہاں تك کہ علامہ طحطاوی نے کہا کہ ابوسعود نے بعض فضلاء کا قول بحوالہ علامہ بدرالدین عینی سید احمد حموی سے نقل کیا کہ وظائف سے دستبرداری صحیح ہے قیاس کرتے ہوئے عورت کے اپنی باری اپنی سوکن کے لئے چھوڑ دینے پرکیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایك محض اسقاط ہےالخ(ت)
علامہ سید احمد حموی غمز عیون البصائر میں علامہ نورالدین علی مقدسی سے بعض فروع مبسوط سرخسی پر اس مسئلہ کا اعتبار اور صحت کا استظہار نقل کرکے فرماتے ہیں:فلیحفظ فانہ نفیس جدا (اس کو یادرکھنا چاہئے کیونکہ یہ بہت عمدہ ہے۔ت)
خاتم المحققین علامہ ابن عابدین شامی ردالمحتار میں کلام علامہ بیری شارح اشباہ سے اس کی تائید نقل اور حقوق موصی لہ بالخدمہ وقصاص ونکاح ورق کا حقوق شفعہ وقسم زوجہ وخیار مخیرہ فی النکاح سے بدیں وجہ کہ صور اولی میں حق اصالۃ ثابت ہے تو ان سے اعتیاض جائز
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۹
غمزعیون البصائر القاعدۃ الاولٰی ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۱۳۹
#12417 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
بخلاف اخیرہ کے کہ وہاں ثبوت حق صرف بربنائے ضرر ہے جب صاحب حق اعتیاض پر راضی ہو ا معلوم ہوا مستضررنہ تھا راسا حق باطل ہوا یہ عوض کیسا فرق بیان کرکے فرماتے ہیں:
ولا یخفی ان صاحب الوظیفۃ ثبت لہ الحق فیہ بتقریر القاضی علی وجہ الاصالۃ لاعلی رفع الضرر (ینقل الی ماقال)و ان کان الاظہر فیہا ماقلنا ۔
اورمخفی نہ ر ہے کہ بیشك صاحب وظیفہ کے لئے حق قاضی کی تقریر سے بطور اصل ثابت ہوانہ کہ رفع ضرر کے طورپر(نقل کرتے ہوئے یہاں تك کہا)اگرچہ اس میں زیادہ ظاہر وہی ہے جوہم نے کہا۔(ت)
اس تقدیر پر یہ تو وہ شبہہ کو صفقہ واحدہ میں صالح وغیر صالح کو جمع کیا راسا مقلوع اور اگر مذہب آخر اختیار کیجئے تاہم فقیہ پر روشن کہ کم من شیئ یصح ضمنا ولایصح قصدا(بہت سی اشیاء ضمنا صحیح ہوتی ہے اور قصدا صحیح نہیں ہوتیں۔ت)آخر مرو ر وشرب و تعلی بھی تو حقوق مجردہ ہیں اگر بہ تبعیات رقبات طریق ونہر وعلو ان کی بیع بالا تفاق جائزیہاں بھی اسامی بیچنا صرف اس حق مجرد کے بیع نہیں بلکہ اس کے ساتھ اسپ ولباس بھی ہے کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)پھر استقلال و تمحض کہا جو بطلان مقطعوع ہو معہذا اگر ایك مذہب پر بیع اسامی مطلقا باطل ہی مانی جائےتاہم اس قدر تو یقینی کہ یہ بطلان مختلف فیہ ہےپس صرف اتنا ثابت ہوگا کہ زید نے صفقہ واحدہ میں ایك شے صالح البیع بالاتفاق اور شے دوسری مختلف الصلاحیۃ کو ضم کیا اور ایسی صورت میں قائلین بالبطلان کے نزدیك اگر چہ اس مضمون کی بیع باطلمگر اس کافساد مضمون الیہ تك ساری نہیں ہوتا اس کی بیع بالاتفاق صحیح رہتی ہےخلاصہ یہ کہ مانعین کے نزدیك بھی حل وظیفہ مثل اوقاف ہے نہ کہ مانند حرومیۃ کہ اس کے بطلان سے بیع مکان بھی فاسد ٹھہرے فی الدرالمختار وقید وا سرایۃ الفساد فی باب البیع الفاسد بالفاسد القوی المجمع علیہ فیسری کجمع بین حرو عبد بخلاف الضعیف المختلف فیقتصر علی محلہ ولا یتعداہ کجمع بین عبدو مدبر الخ وفی الشامیۃ
درمختار میں ہےکہ فقہاء نے بیع فاسد کے باب میں سرایت فساد کو فساد قوی متفق علیہ کے ساتھ مقید کیا تو وہ فاسد تمام عقدمیں سرایت کرےگا جیسے آزاد اور غلام کو عقد واحد میں جمع کرنا بخلاف فساد ضعیف اختلاف کے کہ وہ اپنے محل پر بندرہتا ہے اور اس سے
حوالہ / References ردالمختار کتاب البیوع مطلب فی النزول عن الوظائف داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۵
الدرالمختار کتاب الاجارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۷
#12418 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
الفساد غیر قوی لعدم الاتفاق علیہ فلا یسری ۔
تجاوز نہیں کرتا جیسے غلام اور مدبر کو عقد واحدمیں جمع کرنا الخ اور شامی میں ہے کہ یہ فساد غیر قوی ہے کیونکہ اس پراتفاق نہیں لہذا یہ سرایت نہیں کریگا(ت)
اور بالفرض اگر اس سے بھی تنزل کیجئے اگرچہ یہ تنزل کے قابل نہیں لیکن تاہم غایت یہ ہے کہ اس سے بیع مکان میں فساد لازم آئے گانہ بطلان کہ وجہ فساد مسئلہ حرومیۃ میں قبول غیر صالح سے مشروط ہوتا ہے اور بیع شروط فاسدہ سے سے فاسد ہوجاتی ہے نہ کہ باطل
اقول:وان کانت تعبیرات العلماء فی ذلك لم ترد علی نسق واحد فمنہم وھم بالفساد ومنہم من عبر بالبطلان والفساد ھوالمرادلانہما لفظان متعاوران یرد کل واحد منہما مشرب صاحبہ کما لایخفی علی الناظر فی کلمات القوم وقال القہستانی فی بیان الباطل کثیرا مایطلق الفاسد علیہ وبالعکس اھومن اقوی الدلیل علی ذلك کلام الامام الہمام فقیہ النفس فخر الدین خان القاضی اذاقال فی الخانیۃ البیع انواع باطل وفاسد و موقوف ولازم ومکروہ ثم عقد فصلا فی البیع الباطل وذکر مسألۃ ثم قال باب البیع الفاسد المفسد للبیع انواع وھذا الباب یشتمل علی فضولیالفصل الاول فی فساد البیع الجہالۃ احد البدلین وفیہ الجمع بین الموجود والمعدوم والجمع بین المال وغیر المال اھ فہذا کما تری نص صریح لا یقبل صرفا و لاتاویلا قلت وبہ اوضح عمدۃ المذہب امامنا المجتہد سیدنا محمد فی المحیط و المبسوط وغیرہ فی غیرہما کما فی جماع الرموز والکفایۃ وعلیہ یدور کلام الامام البرھان الدین المرغینانی فی الہدایۃ والعلامۃ المحقق علی الاطلاق فی الفتح والفاضل زین الدین المصری فی الاشباہ والسید احمد الحموی فی غمز العیون والعلامۃ نوح آفندی والفاضل سید احمد الطحطاوی وغیرہم رحمۃ اللہ تعالی علیہ م اجمعین فعلیہ المعول وبہ الاعتماد کما حققتہ فی فتاوی الملقبۃ بالعطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ خلافا لما فہم العلامۃ ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ الغزی من وقوع لفظ البطلان فی بعض کلمات القوم اواستظہرہ سیدی محمد امین الدین افندی امرا بالتامل فلا محیط الاالی المقام بعد مااتضح وتحقق ومن اراد فعلی ایراد الدلیل۔ فی الدرالمختار بخلاف بیع الفاسد فانہ لایطیب لہ لفساد عقدہ ویطیب للمشتری منہ لصحۃ عقدہ ۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الاجارہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/۵
جامع الرموز کتاب البیوع فصل البیع الفاسد مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۳۲
فتاوٰی قاضی خاں کتاب البیع نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۳۵
فتاوٰی قاضی خاں کتاب البیع نولکشور لکھنؤ ۲/ ۳۳۵
درمختار کتاب البیوع البیع الفاسد مجتبائی دہلی ۲ /۲۹
#12419 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
میں کہتاہوں کہ اگر چہ اس میں علماء کی تعبیریں ایك طرز پر واقع نہیں ہوئیںان میں سے بعض نے اس کو فساد قرار دیا اور بعض نے بطلان سے تعبیر کیا جس سے مراد فساد ہی ہے کیونکہ ان دونوں لفظوں یعنی فساد و بطلان میں سے ہر ایك دووسرے کی جگہ استعمال ہوتارہتا ہے جیسا کہ کلمات قوم کو مدنظر رکھنے والے پر مخفی نہیں اورقہستانی نے باطل کے بیان میں کہا کہ بسااوقات اس پر فاسد کا اطلاق ہوتا ہے او راسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی فاسدپر باطل کا اطلاق ہوتا ہے اھ اس پر قوی ترین دلیل امام ہمام فقہ النفس فخر الدین خان قاضی کاکلام ہے کیونکہ انھوں نے فتاوی خانیہ میں فرمایا بیع کی کئی قسمیں ہیں باطلفاسدموقوفلازم اور مکروہ پر بیع باطل کے بارے میں فصل قائم کی اور اس میں بیع باطل کے مسائل کوذکر کیابعد ازاں بیع فاسد کا باب قائم کرکے فرمایا کہ مفسدات بیع متعدد قسموں کے ہیں اوریہ باب کئی فصلوں پر مشتمل ہےپہلی قسم بدلین میں سے کسی ایك کی جہالت کی وجہ سے فساد بیع کے بارے میں ہے اور اس میں معدوم و موجود کو اور مال وغیرمال کو عقد واحدمیں جمع کرنا داخل ہے الخ تو یہ جیسا کہ تو دیکھ رہا ہے صریح نص ہے جو مجاز وتاویل کو قبول نہیں کرتی میں کہتاہوں اوراسی کو واضح فرمایا ہے عمدۃ المذہب امام مجتہد ہمارے سردار امام محمد نے محیط اورمبسوط میں اور دیگر ائمہ نے دوسری کتابوں میں جیساکہ جامع الرموز اور کفایہ میں ہےاور اسی پر دائر ہے امام برہان الدین مرغینانی کا کلام ہدایہ میںامام علامہ محقق علی الاطلاق کاکلام فتح میںفاضل زین الدین مصری کاکلام الاشباہ میںسید احمد حموی کا کلام غمز العیون میںاور اسی پر دائر ہے علامہ نوح آفندی اور فاضل سید احمد طحطاوی وغیرہ ائمہ کا کلامالله تعالی ان تمام پر رحمت نازل فرمائےپس اسی پر بھروسہ اور اعتماد ہے جیسا کہ اس کی تحقیق میں نے"العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ"کے لقب سے ملقب فتاوی میں کردی ہے برخلاف اس کے جو بعض کلمات قوم میں لفظ بطلان کے واقع ہونے سے علامہ ابوعبدالله محمد بن عبدالله غزی نے سمجھایا تأمل کاحکم دے کہ سیدی محمد امین الدین آفندی نے احتیاط برتیچنانچہ وضاحت و ثبوت کے بعد مقام تحقیق کی طرف رجوع کئے بغیر چارہ نہیں اور جو اس کے خلاف کا ارادہ کرے اس کے ذمے پر دلیل پیش کرنا ہے۔(ت)
#12420 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
اور مبیع بالبیع الفاسد بعد القبض مملوك ہوجاتی ہے کما فی عامۃ الکتب(جیسا کہ عام کتابوں میں ہے۔ت)ہاں حق مشتری میں اس کی خباثت رہتی ہے لہذا تفاسخ واجب ہےمگر اس کی بیع کے بعد مشتری ثانی کے لئے وہ بھی نہیں رہتی درمختارمیں ہے بخلاف بیع فاسد کے کہ اس میں مشتری کو حلال نہیں اس عقد کے فساد کے سبب سے اور جس نے اس سے خریدا اسے حلال ہے بسبب اس کی صحت عقدکے(ت) پس بہرحال اب یہ مکان بالیقین مملوك عمرو ہے زید یا زوجہ زید یا قرضخواہان زید کا اس میں کچھ حق نہیںنہ قرضہ زید اس سے کوئی وصول کرسکتا ہے ھذا ینبغی التحیق واللہ ولی التوفیقواللہسبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(یونہی تحقیق چاہئے اور الله ہی توفیق کامالك ہےاور الله سبحنہ وتعالی خوب جاننے والا ہے اور اس کا علم اتم واحکم ہے۔ ت)
مسئلہ ۳۰: از کمپ لال کرتی مرسلہ شیخ کریم بخش صاحب ۸ رمضان ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکے مکان میں ایك درخت فالسہ کا تھا اور بکر کے ہاتھ فروخت کئے ہوئے ایك مہینہ گزرگیابعدہزید کے مکان میں آگ لگ گئیدرخت مذکور جل گیاقیمت اس کی بکر کو واپس دینا چاہئے یانہیں فقط
الجواب:
بعد استفسار واضح ہوا کہ گھنڈ ساریوں کے ہاتھ فاسلہ کی ٹہنیاں بیچی جاتی ہے وہ انھیں کاٹ
#12421 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
لیتے ہیں اور پیڑ بدستور قائم رہتا ہےیہ بیع بھی انھیں ٹہنیوں کی تھی اور مشتری ہنوز کا کاٹنے نہ پایا تھا کہ مکان میں آگ لگ گئی پیڑ جل گیااس صورت میں قطع نظر اس سے کہ صرف ٹہنیوں کی بیع جائز وصحیح ہونے میں بہت نزاع طویل ہے۔
وانما حکم من حکم بالجواز مستنداالی التعامل اوان کان موضع القطع معلوما بالعرف کما فصلہ فی الدر وحواشیہ ۔
اور جس نے جواز کا حکم کیا اس نے تعامل کی بنیاد پر جواز کاحکم کیا یا اس بنیاد پر کہ ازروئے عرف کاٹنے کی جگہ معلوم ہو جیسا ك درر اور اس کے حواشی میں اس کی تفصیل ہے(ت)
جب شیئ مبیع قبل قبضہ مشتری دست بائع میں ہلاك ہوگئی بیع جاتی رہی اور جو قیمت لی تھ وہ واپس دینی واجب
فی درالمختار عن الفتح والدرالمنتقی لوھلك المبیع بفعل البائع اوبفعل المبیع اوبامرسماوی بطل البیع و یرجع بالثمن لومقبوضا ۔واللہ تعالی اعلم۔
ردالمحتارمیں بحوالہ فتح اور در منتقی ہے کہ اگر فعل مبیع یا فعل بائع یا کسی امر سماوی سے مبیع(بائع کے ہاتھ میں)ہلاك ہوجائے تو بیع باطل ہوجائے گی اور ثمنوں پر اگر بائع قبضہ کرچکا ہے تو لوٹائے جائیں گےوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۱: از شہر کہنہ ۲محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنا مکان مسکونہ بعوض دین مہر زوجہ کے ساتھ بیع کردیا اور رجسٹری وغیرہ کی تکمیل کرادیبعدہباجازت عورت تاحیات یعنی سوابرس اس مکان میں رہتا رہا پس بسبب رہنے زید کے اس مکان میں تکمیل بیعنامہ جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
بیع مذکور تام وکامل ہے اور زید کا رہنا بے اجازت عورت ہوتا تاہم اصلا تمامی بیع میں خلل نہ لاتا
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مجتبائی دہلی ۲ /۲۴
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۴۲
#12422 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
فان غایتہ الغصب والبیع اذا تم افاد الملك والملك بالغصب لایزول علی ان الغصب لایتحقق فی العقاد و البیع لیس کالہبۃ حتی یشترط فیہ القبض و التخلیۃ وھذا ظاھر جداواللہ تعالی اعلم۔
کیونکہ غایت اس کی غصب اور بیع جب تام ہوجائے تو مفید ملك ہوتی ہے اور غصب سے ملك زائل نہیں ہوتیعلاوہ ازیں غصب غیر منقولہ اشیاء میں متحقق نہیں ہوتا اور بیع ہبہ کی مثل نہیں حتی کہ اس میں قبضہ اور فارغ کرنا شرط قرار دیا جاتا اور یہ خوب ظاہر ہےوالله اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۲: مرسلہ ابوالاثیم محمد ابراہیم بریلی خواجہ قطب ۱۱محرم ۱۳۲۳ھ یوم دوشنبہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدنے انتقال کیا دو بھتیجے حقیقی اورایك دختر چھوڑی اور بڑا بھتیجا اس لڑکی کا شوہر ہے لیکن باہم زوجین میں ایك مدت سے نااتفاقی ہے حتی کہ نان ونفقہ تك نہیں دیتےزید نے اپنی حیات میں اپنی کل جائداد دوہزار روپیہ میں اپنی دختر کے ہاتھ بیع کردی لیکن قیمت جائداد تخمینا چھ ہزار وپے ہے اور بیعنامہ بھی قانونی کردیا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ روپیہ مشتریہ نے بائع کو کچھ نہیں دیا وہ کہا ں سے دیتی اس کانان ونفقہ بھی باپ کے ذمے تھاایك مرتبہ زید نے کسی موقع پر اپنے چھوٹے بھتیجے سے کہا کہ تیری حق تلفی مجھ سے ہوگئی تیرے بڑے بھائی کی وجہ سے وہ میری زندگی میں تواپنی زوجہ(یعنی میری لڑکی)کو کچھ دیتے نہیں ہیں بعد میرے مرنے کے کیا دیں گےاس کے جواب میں بھتیجے نے یہ کہا کہ آپ میری حق تلفی کیو ں کرتے ہیںاس کے جواب میں زید نے یہ کہا کہ جو کچھ ہونا تھا ہوگیاپس صورت مذکورہ میں اس جائداد وبیع کا کیاحکم ہے آیا دونو ں بھتیجو ں کو بھی شرعی حصہ پہنچتاہے یانہیں بینوا مع الدلیل و البرہان توجروا عندالحنان المنان(دلیل وبرہان کے ساتھ بیان کرو احسان ومہربانی فرمانے والے سے اجر پاؤ۔ت)
الجواب:
یہ بیع صحیح وتام ونافذ ہوگئی جبکہ زید کی حالت صحت میں تھی
کما ذکر لی السائل بلسانہ وذلك لانہ عقد صدر عن اھلہ فی محلہ فلا مردلہ
جیسا کہ سائل نے مجھے زبانی بتایااوریہ حکم اس لئے ہے کہ یہ ایك ایسا عقیدہ ہے جو اہل سے صادر ہوکر محل میں واقع ہوا تو اس میں کوئی رکاوٹ نہیں۔(ت)
#12423 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
ادائے ثمن شرائط صحت یا نفاذ بیع سے نہیں ولہذا اگر بائع بعد تمامی عقد زرثمن تمام وکمال معاف کردے معاف ہو جائے گا اوربیع میں کوئی خلل نہ آئے گا کما نص علی فی فتاوی الامام قاضی خا ں وبینہ فی ردالمحتار وحققناہ فی فتاونا (جیساکہ فتاوی امام قاضی خا ں میں اس پر نص کی گئی اور ردالمحتار میں اس کو بیان کیا اور ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی۔ت)یہا ں اگر معاف ثابت ہو فبہا اور اگر زید نے وصول پالینے کا اقرار کیا جب بھی مشتریہ پر ثمن کا دعوی اسے نہ رہا لان المرء مواخذباقرارہ(کیونکہ شخص اپنے اقرار سے پکڑا جاتاہے۔ت)اور یہ قرائن کہ وہ کہاں سے دیتی اس کا نفقہ بھی تو باپ کے ذمہ تھا بینہ ابراء کے مقابل مسموع نہ ہوتا توظاہر اقرار وصول کے سامنے بھی قابل التفات نہیں
لان المال غاد و رائح وقد یکون لبعض الناس لاسیما النساء مال خفی قل مایطلع علیہ الاخرون وعسی ان یکون لہا من حلی جہازھا وامتعۃ مایفی بذلک۔
کیونکہ مال آنے جانے والی چیز ہے اور کبھی بعض لوگو ں خصوصا عورتو ں کے پاس کچھ پوشیدہ مال ہوتاہے جس پر دوسرے لوگ بہت کم مطلع ہوتے ہیںشاید اس عورت کے پاس جہیز کا کوئی زیور یا سامان ہو جس سے وہ ادائیگی کرتی ہو (ت)
اور جب خو زید کا دعوی نہ سنایا جاتا تو ورثاء کہ خلافۃ اسی طرف سے مدعی ہو ں گے ان کا دعوی کیونکر مقبول ہوسکتا ہے زید کا ایك بھتیجے سے کہنا کہ مجھ سے تیری حق تلفی ہوگئی صحت بیع کا منافی نہیں بلکہ مؤکد ہے کہ اگر بیع صحیح نہ ہوتی تو حق تلفی کیونکر ہوتی باقی براہ دیانت حق تلفی حکم قضاء میں صحت بیع پر اثر نہیں ڈالتی بیع صحیح ہوگئیبھتیجو ں کا جائداد میں کچھ حق نہ رہاہا ں ثمن کا دعوی ممکن ہے اگر زید نے معاف یا وصول یا لینے کا اقرار نہ کیا ہوواللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳: از پیگا مسئولہ مولوی حاجی نذیر احمد صاحب ۲۴ ذی القعدہ ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ زید نے نصف اراضی زمینداری عمرو کی جس میں اس کی سیر وخود کاشت کی کچھ زراعت تیار شدہ کچھ تخم ریزی شدہ بھی تھی بایں شرط خرید کی کہ جو اراضی عمرو کی کاشت میں ہے وہ بھی نصف کاشت سے چھوڑدینا ہوگیعمرو نے اس شرط کو قبول کرلیا تھا اور اس اراضی کی اس پیداوار موجودہ اور مزروعہ کا وقت بیع کے کچھ تذکرہ اور تصفیہ نہ ہوا تھا کہ آیا کل عمرو کا ہوگا یا نصف زید کا بھی اب زید نصف پیداوار بھی اس اراضی کی جو عمرو نے کاشت کرائی تھی طلب کرتاہے کہ میرا تو عمرو کی ہر چیز میں نصف ٹھہرا ہےعمرو کہتاہے
#12424 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
میں نے اراضی زمینداری اور حقوق زمینداری بیع کئے ہیںنہ حقوق کاشتکاریپس حق زمینداری اس اراضی زراعت تیار شدہ اور مزروعہ کا چوتھائی حصہ ہے اس کا نصف لے لو جیسی کہ مخلوق میں اسامیان سے جو نصفی یا چوتھائی یا پیچرو وغیرہ پر کاشت کرتے ہیں حصہ لیا جاتاہے اسی طرح سے ورنہ تمھاری ہر چیز کے اعتبار سے تومیں اثاث البیت وغیرہ بھی دے کرنہ چھوٹو ں گا لہذا استفسار ہے کہ فریقین میں سے زید حق پرہے یا عمرو زید کا مطالبہ کرنا کیساہے اورعمرو کا نہ دینا کیساہے بینوا توجروا
الجواب:
زراعت تیار شدہ تمام وکمال ملك عمرو ہے بلکہ اگر وقت بیع تك صرف اسی قدر اگی ہوتی جسے جانور اپنے لبو ں کے زریعہ سے زمین سے لے سکے بھی اس پر زید کا دعوی بالاتفاق باطل تھاہا ں اگر پیٹا بالکل باہر نہ آتا جسے جانور چرسکے نری رنگت ہی رنگت زمین پر ظاہر ہوئی ہوتی ایسی حالت میں زمین بیچی جاتی تو ایك قول پرنصف زراعت بھی ملك زیدقرار پاتی تجنیس میں اسی کو صواب اور شرح المجمع ودرمختار میں اصح بتایا اور دوسرے قول پر اب بھی وہ تمام وکمال ملك عمرو رہتیفتح القدیر میں اسی کو اوجہ ور سراج الوہاج میں صحیح فرمایااور اکثر کا رجحان رائے قول اول کی طرف ہے اور جس قدر میں تخم ریزی ہوئی ہے اسے دیکھا جائے گا کہ آیا ہنوز بیج تازہ پڑا ہے کہ زمین میں گل نہ گیا ہوگا تو اس صورت میں بھی بالاتفاق جو زراعت اس سے پیدا ہوگی تمام وکمال عمرو کی ہوگی اور اگر ایسے وقت بیع ہوئی کہ بیج گل چکا تھا زمین کھود کر اگر اسے نکالنا چاہتے تو کچھ نہ ملتا تو اس صورت میں بھی اختلاف علماء ہےبعض نے کہا اب نصف زراعت مشتری نصف زمین کی ہوگیاسی کو امام فضلی وصاحب ذخیرہ نے اختیار فرمایا اور بعض نے فرمایا اب بھی تمام وکمال بائع کی ہے اسی کو امام ابواللیث وامام برہان الدین صاحب ہدایہ نے اختیار فرمایا اور اسی پر درمختار میں اعتماد کیا بلکہ امام فقیہ ابواللیث وامام برہان الدین صاحب ہدایہ کا مختار یہ ہے کہ مطلقا چارو ں صورتو ں میں تمام وکمال زراعت بائع کی ہی ہے خواہ تھوڑی اگی ہو یا بہتبیج گل گیا ہو یا نہیںاوریہی متون تنویر الابصار وغیرہ کا مفادہےبالجملہ ان تمام صورتو ں میں زراعت ملك عمرو ہےزید کا دعوی نصف باطل ہے مگر صرف اس حالت میں کہ بیع کے وقت زمین سے کھیتی ظاہر توہوئی ہو اور اس قابل نہ ہو کہ جانور اپنے لب سے اسے نکال سکے کہ اس قتدیر پر قول راجح میں آدھی زراعت مشتری نصف زمین کی ہوگی پھر جن صورتو ں میں زراعت صرف عمرو ں کی ٹھہری زید کو اختیار ہے کہ زمین تقسیم کراکر اپنا
#12425 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
حصہ زراعت عمرو سے خالی کرالے اسے فورا خالی کرنا ہوگا اگر چہ زراعت ہنوز قابل ورد نہ ہوئی ہو اگر برضائے زید باقی رکھی تو حسب دستور زید کو حق زمینداری یعنی جو اتنی زمین کی اس قدر مدت تك استعمال رکھنے کی لگان وغیرہ ہوتی ہے اداکرےدرمختار میں ہے:
(لایدخل الزرع فی بیع الارض بلا تسمیۃ)الااذا نبت ولاقیمۃ لہ فیدخل فی الاصح شرح المجمع ویؤمر البائع بقطع الزرع وتسلیم الارض عند وجوب تسلیمہا فلولم ینقد الثمن لم یؤمر بہ خانیۃ وما فی الفصولین الزرع للبائع باجبر مثلھا محمول علی مااذا رضی المشتری نھر اھ ملتقطاواللہ تعالی اعلم۔ زمین کی بیع میں زراعت بغیر نام لئے داخل نہیں مگر جب کھیتی اگی ہوئی ہو اور بے قیمت ہو تو بیع میں داخل ہوگی اصح قول کے مطابق(شرح المجمع)بائع کوحکم دیا جائے گا کہ وہ کھیتی کو اکھاڑ کر زمین مشتری کے حوالے کرے جب زمین کی تسلیم واجب ہوچکی ہو اگر مشتری نے ثمن نقد نہ دئے ہو ں تو بائع کو مذکورہ بالا حکم نہیں دیا جائے گا(خانیہ)اور فصولین میں جو آیا ہے کہ کھیتی بائع کے لئے ہے زمین کی اجرت مثلی کے ساتھ تو وہ اس صورت پر محمول ہے کہ مشتری اس پر راضی ہونہر اھ ملتقطا والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۴ و ۳۵:از ریاست جاروہڈونگر پور دروازہ مرسلہ ہدایت نور خان صاحب بردر نواب جاورہرمضان المبارك ۱۳۲۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل ذیل میں :
(۱)زید وہندہ نے بروقت خواستگاری یعنی مگنی پسر خود مسمی بکر کے ماہ ستمبر ۱۹۰۲ء میں ایك تحریر بدیں مضمون لکھی کہ پندرہ روپیہ چار آنہ ماہوار کہ بعد مایان بحصہ برخوردار بکر رسید سے بعد وفات ہمارے جو حصہ بکر میں پہنچیں گے اور ایك منزل مکان بحدود اربعہ بعوض مبلغ پنجاہ ہزار روپیہ ازجملہ مہرش کہ کفیل وضامن اس کے ہم ہیں مسماۃ ہاجرہ کو دیا ہم نے اور اس پر قابض ومتصرف کر دیا ہم نے مگر ا س تحریر کے ایك سال آٹھ ماہ کے بعد مئی ۱۹۰۴ میں نکاح ہاجرہ کا بکر کے ساتھ ہواجلسہ نکاح میں تکمیل تحریر مسطور بالا کی نہیں ہوئی ورنہ دستخط قاضی وقت کے کہ جس نے نکاح پڑھایا اس پرہوئے ہیںنہ تاریخ یوم نکاح ہینہ منظور شدہ زوج ہیپس ایسی حالت میں اگر زوجہ بکر
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع فصل فی مالایدخل فی البیع تبعا الخ مجتبائی دہلی ۲ /۹
#12426 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
اس تحریر کی رو سے زید وہندہ یا بکرپردعوی کرے تو عندالشرع اس جائداد منقولہ وغیر منقولہ کے پانے کی مستحق ہے یانہیں اور قبضہ بھی اس جائداد پر مسماۃ ہاجرہ کو مالکانہ نہ اصالتا نہ وکالتادلایا گیا کیونکہ زید وہندہ ۱۹۰۲ء سے ابھی تك بقید حیات ہیں اسی جائداد منقولہ وغیر منقولہ پر خود قابض ومتصرف ہیں پس ایسی حالت میں ہاجرہ شرعا اس جائداد مذکورہ کے پانے کی مستحق ہے یانہیں
(۲)زید نے تنخواہ عطیہ شاہی جو کہ آئندہ آنے والی ہے اس کوبنام مسماۃ ہاجرہ بالعوض مہر بیع وہبہ کی اور قبضہ بھی نہیں دیا تو ایسی آنے والی تنخواہ کا بیع وہبہ ازروئے شرع شریف معتبر ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
(۱)ہاجرہ اس جائداد کا اصلا مطالبہ نہیں کرسکتیظاہر ہے کہ زید وہندہ کی طرف سے یہ تصرف مہر کے عوض ایك جائداد دینا ہے اورتملیك عین بالعوضاگرچہ بلفظ ہبہ یاعطا ہوابتداء وانتہاء ہر طرح بیع ہے۔
فی الدرالمختار امالو قال وہبتك بکذا فہو بیع ابتداء وانتہاء ۔
درمختارمیں ہے اگر کہا میں نے تجھے اس چیز کے بدلے ہبہ کیا تو یہ ابتداء اور انتہاء بیع ہے۔(ت)
اور بیع مبادلہ مال بمال ہے کما فی الکنز والملتقی وغیرہما(جیسا کہ کنزاور ملتقی وغیرہ میں ہے۔ت)اورمال عین ہے یادیناور مہر قبل از نکاح نہ عین ہے نہ دینتو اصلا مال ہی نہیںتو اس کے عوض کسی شیئ کا دینا محض باطل ہے۔
وصار کالبیع بالدم اوالمیتۃ اوالتراب بل ادون لانہا اشیاء وان لم تکن اموالا وھذا لیس بشیئ اصلا۔
اوریہ خون یا مردار یامٹی کے بدلے بیع کی مثل ہوگیا بلکہ اس سے بھی کمتر کیونکہ یہ چیزیں اگرچہ مال تو نہیں مگر اشیاء تو ہیں جبکہ مہر قبل از نکاح تو شیئ ہی نہیں۔(ت)
انعقاد سبب وجوب سے پہلے ادا باطل ہے۔
فی فتح القدیر لایجوز تعجیلہ
فتح القدیر میں ہے کہ اس کی تعجیل جائز نہیں
حوالہ / References درمختار کتاب الہبتہ باب الرجوع فی الہبۃ مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۴
#12464 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
لانہ یکون قبل السبب ۔
کیونکہ اس طرح سبب پر اس کا مقدم ہونا لازم آئے گا۔(ت)
عنایہ میں ہے:
تقدیم الحکم علی السبب لایجوز ۔
حکم کو سبب پر مقدم کرنا جائز نہیں۔(ت)
علماء تصریح فرماتے ہیں کہ دین معدوم کے بدلے رہن لینا بھی جائز نہیں۔
فی الہندیۃ الرہن بدین معدوم فلا یصح اذحکمہ ثبوت یدالاستیفاء والاستیفاء یتلو الوجوب کذا فی الکافی ۔
ہندیہ میں ہے کہ معدوم دین کے بدلے رہن لینا صحیح نہیں کیونکہ رہن کا حکم یہ ہے کہ دین وصول کرنے کی قدرت حاصل رہے اور وصول کرنا وجوب کے بعد ہوتاہے جیسا کہ کافی میں ہے(ت)
تو فی الحال اس کا اداکرنا کیونکر صحیح ہوگا۔
ولا یرد مااذا بعث الی المخطوبۃ اشیاء مہرا لہا فانھا تملکہا اذ تزوجت علیہا وذلك لان الملك انما یثبت فہا بعد التزوج والامہار اما قبلہا فلا ولذا تردھا ان ابت قائمۃ اوھالکۃ کمافی الدرالمختار وغیرہ اما ھھنا فالتزوج انما وقع علی الدراہم ثم لم یکن بعد ذلك من الکفیلین تعویض وماتقدم لایجدی کما تقدم۔
اور اس پر ان اشیاء کا اعتراض واردنہیں ہوتا جو کسی نے اپنی منگیتر کو بطور مہر بھیجیں کیونکہ ان اشیاء پر نکاح ہونے کی صورت میں وہ عورت ان کی مالك ہوجاتی ہے ________ اور یہ اس لئے کہ یہا ں ان اشیاء میں ثبوت ملك نکاح اور مہر مقرر کرنے کے بعد ہے نہ کہ اس سے پہلے اسی لئے عورت اگرنکاح سے انکاری ہو تو ان اشیاء کو واپس کرے گی چاہے وہ اشیاء موجود ہو ں یا ضائع ہوگئی ہو جیسا کہ دروغیرہ میں ہے مگریہا ں تو نکاح دراہم پر واقع ہواپھر اس کے بعد دونو ں کفیلو ں کی طرف سے عوض
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الزکوٰۃ فصل ولیس فی الفصلان الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۱۵۷
العنایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الزکوٰۃ فصل ولیس فی الفصلان الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۱۵۷
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الرہن الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۳۱
درمختار کتاب النکاح باب المہر مجتبائی دہلی ۱/ ۲۰۳
#12465 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
دینا بھی نہیں پایا گیا اور جو کچھ ہوچکا وہ نفع نہیں دے گا جیسا کہ پہلے گزر گیاہے۔(ت)
یہ حال تو مکان کا ہےرہے وہ پندرہ روپے چار آنے ماہواراس سے اگرمراد اپنی کوئی جائداد اتنی توفیرکی ہو تو اس کا حال مثل حال مکان ہےکہ گزرا اور اگر کوئی تنخواہ مراد ہو جوان کو کسی نوکری کی اجرت میں ملتی ہے تو اس کا حال حال مکان سے بدتر ہے کہ وہ خود ہنوز معدوم ہے تو یہ بیع معدوم بالمعدوم ہوئیاور اگر وہ تنخواہ محض عطیہ حاکم بطور منصب وجاگیر ہے تو اس سے بھی بدتر حالت ہے کہ وہ خود ان کے اختیارہی کی نہیںبہرحال یہ معاوضہ باطل محض ہے اور ہاجرہ کو اس کے ذریعہ سے کوئی استحقاق مطالبہ نہیںدستاویز کہ زید وہندہ نے لکھی اس کی پوری نقل سائل نے نہ بھیجی جس سے یہ معلوم ہوتا کہ انھو ں مہر کی جو کفالت کی ہے وہ بھی شرعا صحیح ہے یانہیںنہ اس سے سائل کا سوال ہے لہذا اس سے بحث کی حاجت نہیںوالله تعالی اعلم۔
(۲)آئندہ تنخواہ کی بیع وہبہ دونو ں کو باطل کہ وہ معدوم ہے اور معدوم نہ بیع ہوسکتاہےنہ ہبہتنویر الابصارمیں ہے: بطل بیع المعدوم (معدوم کی بیع باطل ہے۔ت)فتاوی خیریہ میں ہے:
وبہذا علم عدم صحۃ ہبۃ ماسیتحصل من محصول القریتین بالاولی لان الواھب نفسہ لم یقبضہ بعد فکیف یمبلکہ وھذا ظاہر واللہ تعالی اعلم۔
اور اس سے معلوم ہوگیا کہ دوقریو ں کی آمدنی سے حاصل شدہ شیئ کا ہبہ بدرجہ اولی صحیح نہیں کیونکہ وہ خود واہب نے ابھی قبضہ نہیں کیا تو وہ اس کا مالك کیسے بنا سکتاہے اوریہ ظاہر ہے الله خوب جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۳۶:از ریاست رامپور محلہ راجدوارہ متصل مسجد مولوی حیدر علی صاحب مرحوم مرسلہ مظہر حسین خاں ولد مولوی عبدالعلی خان مرحوم ۶ رجب ۱۳۲۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ زید نے ایك قطعہ اراضی تعدادی چوبیس درعہ جس کا طول جنوبا شمالا چھ درعہ وعرض شرقا غربا چاردرعہ اراضی مکسر مملوکہ خود جس کا طول شرقا غربا سولہ گز وعرض جنوبا شمالا چھ گز ہے بقیمت مبلغ نوروپیہ کے بدست عمر بیع کرکے بعینامہ تصدیق کرادیا بوقت تحریر بیعنامہ حد شرعی بجائے بقیہ اراضی بائع کے صریح غلط طورپر دروازہ مکان
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع باب البیع الفاسدہ مجتبائی دہلی ۲/ ۲۳
فتاوٰی خیریۃ کتاب الہبۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۱۱
#12466 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
خالد تحریر ہوگیا حالانکہ دروازہ مکان خالد محکم وصحیح کل قطعہ مملوکہ بائع کی بھی نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ منتہائے کل قطعہ اراضی مملوکہ بائع تعداد ی چھیانوے۹۶ درعہ کے حد پربھی اراضی مرور مکانات ہےدروازہ مکان خالد بعد اراضی مرور کے ہے اور حد شمالی میں بجائے مرور مکانات صریح طور پر بھی غلط پچھیت مکان خالد دروازہ مکانات ہندہ تحریر ہوگیاحالانکہ پچھیت مکان خالد بعد اراضی مرور کے اور دروازہ مکان ہندہ بہت فاصلہ پرواقع ہے اس غلطی تحریر حدود سے جبکہ بیعنامہ میں پیمائش وعرض وطول اراضی مبیعہ کی صراحت وتعین ہے اور شرح مقام اراضی موجودہ وقت اور اقرار یافتہ کے اس نو روپیہ قیمت صرف چوبیس درعہ کے ہوسکتی ہے نہ کہ چھیانوے درعہ کے اور حدود کے اعتبار سے علاوہ اراضی بائع کے راہ مرور مشترکہ محلہ داران بھی داخل مبیعہ ہواجاتاہے جس کی بیع شرعا جائز نہیں ہے پس صورت بالا شرعا مبیعہ وہی چوبیش درعہ اراضی قرار پائے گی یا کہ کل قطعہ چھیانوے درعہ اراضی مملوکہ بائع مع اراضی مرور شرقی وشمالی محلہ داران۔بینوا توجروا۔
الجواب:
بیعنامے اور عرضی دعوی وجواب ملاحظہ ہوئےاگر بیعنامو ں پر نظر ہو تو ان میں حدود بالاتفاق یکسا ں صاف صاف مکتوب ہیںاور ان میں شرح ۶ گز کا کہیں ذکر نہیںایسی حالت میں کل زمین مذکور کہ بائع اول کو اس کے مامو ں سے وارثۃ پہنچی بیع سمجھی جائے گیحدود میں اگر مکانات دیگر کے راستے بھی داخل ہوگئے ہیں مالکو ں کی چارہ جوئی پر واگذاشت ہوجائیں گے بائع اس سے استدلال نہیں کرسکتا نہ بیعنامو ں میں مقدار مبیع ۲۴ گز اور اس کا طول ۶ گز عرض ۴ گز لکھاہوناکچھ مفید ہوسکتاہے جبکہ فی گز ۶ کی قید بیعنامہ میں کہیں نہیںدرمختارمیں ہے:
ان باع المذورع علی انہ مائۃ ذراع اخذ المشتری الاقل بکل الثمن اوترك واخذ الاکثر بلاخیار للبائع لان الذرع وصف لتعیبہ بالتبعیض ضد القدر والوصف لایقابلہ شیئ من الثمن الا اذا کان مقصودا بالتناول کما افادہ بقولہ وان قال کل ذراع بدرہم
اگر مذروع کو اس شرط پر بیچا کہ مثلا یہ سو گز ہے تو مشتری اقل کو پوری قیمت سے لے یا چھوڑدے اور اکثر بلاخیار بائع لے لے گا ذراع یعنی گز وصف ہے کیونکہ سالم نہ رکھنے پر وہ عیب قرار پاتاہے یہ حکم کے مقازبلے میں ثمن کا کوئی حصہ نہیں ہوتا مگر جبکہ وصف تناول سے مقصود ہو جیسا کہ مصنف نے اپنے اس قول سے اس کو بیان فرمایا کہ اگر بائع
#12467 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
اخذ کل ذراع ھم اوفسخ (ملتقطا)
نے یو ں کہا کہ ہرگز ایك درہم کے بدلے میں ہے تو مشتری ہرگز درہم کے بدلے میں لے لے یابیع فسخ کردے۔(ملتقطا) (ت)
مگر شرع مطہر میں عقد معتبروہ ہے جو عاقدین نے باہم زبان سے کہا کاغذمیں اس کے خلاف کچھ لکھا جائے معتبر نہ ہوگافتاوی خیریہ میں ہے:
العبرۃ بما تلفظ بہ الواقف لالما کتب الکاتب ۔
اعتبار اس کا ہے جو واقف نے زبان سے کہانہ اس کا جو کاتب نے لکھا۔(ت)
تو اگر گواہان عادل سے ثابت ہوجائے کہ عقد زبانی میں فی گز ۶ کی تصریح تھی اور اسی حساب سے ۲۴ گز(۹لعہ)روپے کو بیع ہوئی تو اگر ۲۴ گز مبیع کی تعبین سمت بھی ہوگئی تھی جیسا کہ اب عرضی دعوی کے بعض بیانو ں سے مستفاد ہے تویہی ۲۴ گز جانب غربی سے بیع ہوئی باقی پر مشتری کا قبضہ باطل ہے اور اگر تعیین نہ تھی جیسا کہ بیان بیع میں کہ عرضی دعوی میں ہے اس وقت تك نہیں تو یہ بیع بوجہ جہالت فاسد ہوئی۔
لان الذراع انما یحل فی المعین فھو معین لکنہ مجہول الموضع لامشاع کما فی ردالمحتار ۔
اس لئے کہ زراع تو معین میں جاری ہوتاہے اور مذروع معین ہے لیکن مجہول الموضع ہے نہ کہ غیر معین جیسا کہ ردالمحتارمیں ہے(ت)
تنویر الابصارمیں ہے:
فسد بیع عشرۃ اذرع من مائۃ ذراع من دار ۔
گھر کے سوگز میں سے دس گز کی بیع فاسد ہے۔(ت)
ہاں اگرمجلس عقدکےاندرتعیین کردی تھی تو بیع صحیح ہوگئی لان المجلس یجمع الکلمات(کیونکہ مجلس جامع کلمات ہوتی ہے۔ت)اسی طرح اگر بعد مجلس اس عقد فاسد کو ترك کرکے ایك طرف سے ۲۴ گز معین بائع نے مشتری کودئے اور اس نے لئے تو بھی صحیح ہوگئیدرمختار میں ہے:
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷ و ۸
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۴۰۔۱۳۹
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۲۔۳۱
الدرالمختارشرح تنویر الابصار کتاب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸
#12468 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
وینبغی انقلابہ صحیحا لو فی المجلس ولو بعدہ فبیع بالمقاطینہر ۔
اور لائق ہے کہ بیع صحت کی طرف منقلب ہوجائے اگر تعیین مجلس عقد میں ہو اور اگر تعیین مجلس کے بعد ہو تو بیع بالتعاطی ہوگی۔نہر(ت)
ان صورتو ں میں بھی وہی ۲۴ گز معین ہوئی باقی پر مشتری کا قبضہ باطل ہے یہ سب یعنی بائع سے گواہ لینا اور ان کی گواہی پر اعتماد کرنا اس حالت میں ہے کہ بقیہ ۷۲ گز میں مشتری ثانی کے تصرفات مدت دراز سے بائع نے دیکھ کر سکوت نہ کیا ہواور اگر ایسا ہے جیسا مشتری ثانی کا یبان ہے کہ اسی وقت سے اس نے دالان اور کھپریل اور چبوترہ کل زمین میں بنوالیا اور بائعو ں نے خود کھڑے ہوکر بنیاد وغیرہ قائم کرادی جس کوعرصہ قریب آٹھ سال کا ہوگیا تو اس صورت میں دعوی بائع اصلا قابل سماعت نہ ہوگا۔
لما افتی بہ العلماء قطعا للتزویر والاطماع الفاسدۃ کما فی العقود الدریۃ ومعین المفتی وغیرہماواللہ تعالی اعلم۔
علماء کے اس فتوی کی وجہ سے جوانھو ں نے دھوکہ دہی اور فاسد خواہشو ں کو منقطع کرنے کے لئے دیا ہے جیسا کہ عقود الدریہ اور معین المفتی وغیرہ میں ہےوالله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۷: از پیلی بھیت محلہ محمد شیر مسئولہ جناب قمر الدین صاحب ۱۷ صفر المظفر ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنا مال آڑھت میں دے کر دکان میں بیچنا چاہتاہے اور اس سے روپیہ مال جمع شدہ کا پیشگی چاہتاہے اور کہتاہے کہ جب فروخت ہوجائے گا تو اس وقت کاہم اور تم حساب کئے لیں گےیہ روپیہ پیشگی دیناجائزہے یانہیں
الجواب:
اگر علی الحساب بطور قرض لیتاہے تو دکاندار کی مرضی سے لے سکتاہے اس پر جبر نہیں کرسکتا اور اگر دکاندار سے اس مال کی قیمت لیتا اور یہ شرط کرتاکہ فروخت پر کمی بیشی کا حساب ہوجائے گا تو یہ حرام ہے۔والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
حوالہ / References الدرالمختار کتاب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۸
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیہ کتاب الدعوٰی ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۳
#12469 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
مسئلہ ۳۸: مسئولہ نواب وزیر احمد خان صاحب بہاری پور بریلی ۱۴ جمادی الآخر ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی شے کا بیعنامہ معمولی رواجی الفاظ کے ساتھ تحریر ہوکر آخر میں یہ فقرہ لکھ دیا جائے کہ نفاذ اس بیع نامہ کا فلا ں مدت کے بعد عمل میں آئے گا مشتری کو قبضہ لینے اور داخل خارج کرنے کا مجاز بعد انقضائے مدت مذکورہ حاصل ہوگا اگر مشتری درمیان اس مدت کے قبضہ لے کر داخل خارج کرائے گا تو اس مدت کا ماحصل توفیر زرثمن کے علاوہ اداکرنے کا مستوجب ہوگا تو درمیان دستاویز میں جو "بعت" لکھ چکاہے وہ غالب رہےگایاآخر کایہ فقرہ بینوا توجروا
الجواب:
دونو ں جملے اپنا اپنا عمل کرینگے"بعت" کا یہ عمل ہوا کہ بیع ہوگئی اور اس شرط فاسد کا یہ عمل ہوا کہ بیع فاسد وحرام ہوئی ان دونوں پر واجب ہے کہ اسے فسخ کریں اگر نہ کریں گے توحاکم شرع جبرا فسخ کرادے گانہ مشتری مبیع لے سکتاہے نہ بائع ثمناور اگر بائع کی رضا سے مشتری مبیع پر قبضہ کرلے تو بحکم جملہ اولی اس کامالك ہوجائے گامگر بحکم جملہ ثانیہ وہ ملك خبیث ہوگی اور اب بھی اس پر واجب ہوگا کہ بیع فسخ کرے اور مبیع واپس کردے ہا ں اگر مشتری بعد قبضہ برضائے مبیع کسی دوسرے کے ہاتھ بیع صحیح یا ہبہ یادین یا وقف یا وصیت کردے تو اگر چہ مشتری گنہگار ہوگا مگر اب وہ بیع نافذ ہوجائے گی اور اس کا فسخ نہ ہوسکے گا اور اب بھی مشتری اس سے مبیع کے ثمن کا مستحق نہ ہوگا یعنی جو معاوضہ باہم قرار پایا تھا بلکہ قیمت لے گا یعنی بازار کے بھاؤ سے وہ مال جتنے کا ہو مثلا ایك شے ساڑھے پانچ ہزار کو خریدی ااور بازار کے نرخ سے وہ چار ہزار کی ہے تو چار ہزار ہی دینا آئیں گے بائع اس سے زائد نہیں لے سکتا یہ سب اس صورت میں ہے کہ اصل بیع اسی شرط پر ہوئی ہو اور اگر پہلے فروختم خریدم زبانی ہولئے تھے اور اس میں یہ عدم نفاذتا مدت مذکورہ کی شرط تھی بعد کو کاغذ بیعنامہ میں لکھی گئی ہو تو اس کا کچھ اعتبار نہیں بیع صحیح ونافذ ولازم ہوگئی فورا وقت عقد اس کا نفاذ ہوگیا اسی وقت سے مشتری کو اختیار ہوگیا کہ زرثمن جتنا باہم قرار پایا ہے دے کر مبیع پر قبضۃ کرلے اگر چہ بائع کی رضانہ ہو اور وہ شرط کہ اتنی مدت کی توفیر دینی آئے گی محض باطل ومردود ونامسموع ہے زرثمن سے زیادتہ ایك کوڑی دینی نہ ہوگیوالله اعلم
مسئلہ ۳۹: از سرنیا ں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۲ رجب ۱۳۳۱ھ
سودا خریدنے میں حجت کرکے بھاؤ بڑھانا کیساہے
#12470 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
الجواب:
بھاؤ کے لئے حجت کرنا بہترہے بلکہ سنتسوا اس چیز کے جوسفر حج کے لئے خریدی جائے اس میں بہتر یہ ہے کہ جو مانگے دے دےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۰:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك مکان اپنے دولڑکو ں عمرو وبکر کے نام سے بحصہ مساوی کیا اور اس کا بیعنامہ بھی انھیں دونو ں کے نامو ں سے ہےان میں عمر و بالغ ہے اور بکر نابالغبعد ازا ں زید نے اسی مکان میں سے ایك ربع اپنے بھائی خالد کو اس طرح دلایا کہ عمرو سے بیعنامہ لکھا دیا تو بقیہ مکان میں عمرو وبکر کاحصہ شرعا کس طرح رہا بینوا توجروا
الجواب:
شرع میں گفتگوئے خریدوفروخت کا اعتبار ہے اس کے آگے بیعنامہ کا اعتبارنہیںاگر زبانی خریداری لڑکو ں کے نام نہ ہوئی یعنی یہ نہ کہا کہ مکان عمرو بکر کے ہاتھ بیع کردےاس نے کہا میں نے ان کے ہاتھ بیع کیا بلکہ صرف اپنے نام زبانی خریدا یا زبانی خریدم فروختم(میں خریدتاہو ں اور میں فروخت کرتاہو ں۔ت)میں کسی کانام نہ آیا تو اس صورت میں شرعا وہ مکان زید کاہواپھر زید نے جو اپنے بیٹو ں کے نام بیعنامہ لکھا یا یہ ان کے نام ہبہ ہوا اور ہبہ مشاع بلا تقسیم ہے لہذا عمرو بکر اس کے مالك نہ ہوئےبیعنامہ کہ بنام خالد جانب عمرو سے ہے لغو ہے کہ غیر مالك کی طرف سے ہے مگریہ بیع اجازت زید پر موقوف رہی کہ اصل مالك زید ہے جبکہ زید نے اسے جائز رکھا تو بیع نافذ ہوگئیچہارم مکان خالد کا ہوا تین ربع بدستور زید کے ہیںہا ں اگر اصل خریداری زبانی ہی بنام عمرو بکر ہوئی یا زبانی خریدم فروختم کے الفاظ ان کے معنی اداہی نہ کئے گئے صرف قیمت کی گفتگو ہوکریہ ٹھہرا کہ بیعنامہ بنام عمرو بکر کردوتو یہ بیع بنام عمرو بکرہوئیتام ہوگئی اور دونو ں لڑکے کے باپ کا قبول کافی تھاعمرو نے بھی اسے مقبول رکھا تو اس کے نام بھی بیع تام ہوگئیاور دونو ں لڑکے اس مکان کے مالك ہوگئےاب کہ اس کا ربع عمرو نے بیع کیا وہ نصف حصہ عمرو بیع ہوا باقی مکان میں ایك ثلث عمرو کا رہا دو ثلث بکرکےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۱:از کمہر ڈاکخانہ گھٹیامرسلہ وصی علی صاحب معرفت مولوی قاسم علی صاحب طالب علم مدرسہ منظر الاسلام ۲۸ عید الفطر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زانیہ نے زنا کے روپے سے کوئی چیز خریدکی اب اس کا خریدنا جائز ہے یانہیں
#12471 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
الجواب:
جائز ہوگا کہ اگر اس چیز پر عقد ونقد جمع نہ ہوئے ہو ں ورنہ خریدنا نہ چاہئےمثلا اس نے وہ حرام روپیہ مشتری کو دکھا کر کہااس کے بدلے فلا ں شے دے دےاس نے دے دیاس نے وہی حرام روپیہ قیمت میں دیا تو اب وہ شیئ خبیث ہے کما ھوقول الامام الکرخی المفتی بہ کما فی التنویر وغیرہ (جیسا کہ امام کرخی کا مفتی بہ قول ہے جیسا کہ تنویر وغیرہ میں ہےت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۲: مسئولہ محمد حسین خان ولد امین خان ساکن ریاست رامپور محلہ سٹن گنج ۷جمادی الاولی یکشنبہ ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسمی جھاؤ سنگ نے اپنا حصہ ۸ بسوئے بیگہ ۶بسوانسی ۱۳ کچوانسی ۱۳ طنوانسی ۱۳ ننسوانسی کسر زائد یعنی بارھوا ں حصہ ازکل ملك معافی لاخراجی تعدادی ۱۶ بسوہ لیا ہے جس کا کہ وہ مالك وقابض تھا بالعوض مبلغ دوسواڑسٹھ روپےکے بدست تھان سنگھ بیع قطعی کیا لیکن قبضہ تھان سنگ کا نہ ہوا ور جاؤسنگھ فوت ہوگیا جاؤسنگھ کے مرنے کےبعد اس کے ورثاء اس پرقابض رہے بعد ازا ں تھان سنگھ نے خرید شدہ اراضی بالعوض مبلغ چھ سو روپے کے بدست محمد حسین خا ں بیع قطعی کردیآیا تھان سنگھ کا بدست محمد حسین خا ں بلاقبضہ کئے ہوئے بیع کرنا شرعا جائز ہے یاناجائز اور تھان سنگھ نے(مار مہ سہ)بابت قیمت اراضی جھاؤسنگھ کو دے دئیے ہیں فقط
الجواب:
جائز ہے تنویر الابصارمیں ہے:
صح بیع عقار لایخشی ھلاکہ قبل قبضہ ۔واللہ تعالی اعلم۔
جس مال غیر منقولہ کے تلف ہونے کا خطرہ نہ ہو اس کو قبضہ میں لینے سے پہلے اس کی بیع جائزہےوالله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۳: مسئولہ شوکت علی صاحب محلہ شاہ آباد بریلی ۲۸ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شیئ سربند بکس میں ہے جس کاوزن مثلا
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الغصب مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۶
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب البیوع فصل فی التصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۷
#12472 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
چارمن معین ہےزید نے خریدکیبعد خریدنے کے جب کھولا گیا تو بھرا ہوانہ تھا بلکہ قریب نصف کے نکلادیکھتے ہی فورا بائع کو اطلاع کی کہ یہ کم نکلا یا تو بقدر مال کے قیمت کرویا واپس لو۔اس صورت میں بائع پر اس شیئ کا پھیرلینا لازم ہے یانہیں۔بیتوا توجروا
الجواب:
جبکہ وزن معین ہے او روہ شے نصف نکلی تو مشتری نصف قیمت دے اس سے زیادہ کا بائع کو اختیار نہیںردالمحتار میں ہے:
اذا کان طعاما فی حب فاذا نصفہ تبن یأخذہ بنصفہ الثمن لان الحب دعاء یکال فیہ فصار المبیع حنطۃ مقدرۃ وشمل مااذا کان المسمی مشروطا بلفظ او بالعادۃ واللہ تعالی اعلم۔
جب ایك گھڑا طعام خریدا اور نصف اس میں بھوسہ نکل آیا تو اب مشتری اس کو آدھی قیمت کے بدلے لے گا کیونکہ گھڑا ایك ایسا برتن ہے جس سے کیل کیا جاتاہے چنانچہ مبیع ایك معین مقدار میں گندم ہوگیا اور یہ ضابطہ ان دونوں صورتو ں کو شامل ہوگا یعنی چاہے تو مسمی لفظ مشروط ہویا عادتاوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۴۴ تا ۴۵: مرسلہ حاجی مولا بخش صاحب جفت فروش ازمین پوری ۲۱صفر ۱۳۳۵ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے فصل پر غلہ خرید کیا اوریہ نیت کی کہ فلان مہینہ میں اس کی کچھ نرخ ہو فروخت کردو ں گا تو اس صورت میں زید غلہ کی خریداری کرسکتاہے یانہیںاور اس کے اوپر کوئی الزام شرعی تو عائد نہیں ہوتا ہے
(۲)زید نے بکر کو بضرورت بکر کچھ روپیہ نقد مال کے خریدنے کو دیا کہ تم اپنی مرضی کا مال دساور سے خریرکر لاؤ اور اس کو ہمارے نام روانہ کردواور پھر ہماری دکان سے اس مال کو ایك آنہ روپیہ منافع دے کر خریدلواگر مال راستہ میں کل کسی وجہ سے ضائع ہوجائے تو زید ذمہ دار ہے اور اگر نقصان کچھ ہوجائے گا تو بقاعدہ دکانداری وہ نقصان اورخرچ راہ مال پر ڈال کر اور اس کے اورپر اپنا منافع لگا کر بکر کے ہاتھ فروخت کردیا اور اگر نقصان نہ ہوا تو جو خرچ اس مال کے لانے میں بکر کا پڑگیا وہ خرچ ہی اس مال پر ڈال دیا جائے گا توایسی بیع وشرائط زید کو جائزہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)ایسی تجارت جائز ہے اور ایسی نیت ہی میں کوئی حرج نہیں اور اسے اپنے مال کا اختیار ہے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۰
#12473 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
دفعۃ بیچے خواہ متفرق یا اس سے قبل خواہ بعدلان الملك مطلق للمتصرف مالم ینہ الشرع(کیونکہ ملك تو مطلق تصرف کے لئے ہوتا ہے جب تك شرع منع نہ کرے۔ت)والله تعالی اعلم۔
(۲)معمولی خرچ جوحسب عادت تجار مال پرڈالا جاتاہے اس کے ڈالے جانے میں تو شبہ نہیں رہا کچھ نقصان اس میں اگر عام عادت تجار مال پر ڈالنے کی ہے ڈالیں گے ورنہ نہیںدرمختارمیں ہے:
کل مایزید فی المبیع او فی قیمتہ یضمدررواعتمدا العینی وغیرہ عادۃ التجار بالضم ولایضم مایؤخذ فی الطریق من الظلم الا اذا جرت العادۃ بضمہ ھذا ھوا الاصل کما علمت فلیکن المعمول علیہ کما یفیدہ کلام الکمال اھ(ملتقطا)واللہ تعالی اعلم۔
جو چیز مبیع میں یا اس کی قیمت میں زیادہ ہو وہ ملائی جائے گی درراور عینی وغیرہ نے تاجرو ں کے ملانے کی عادت پراعتماد کیا ہےاور نہیں ملایاجائےگا اس کو جو راستے میں ظلم سے لیاجاتاہے مگر اس وقت ملایا جائے گا جب رواجب میں اس کے ملانے کی عادت ہویہی اصل ہے جیسا کہ تو جان چکا ہے لہذا اسی پراعتماد ہونا چاہئے جیساکہ کمال کا کلام اس کا فائدہ دیتا ہے اھ(ملتقطا)والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۴۶: از لاہور مسجد سادھوا ں مرسلہ پیر جی عبدالغفار صاحب زید لطفہ ۲۵ صفر المظفر ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو دو حقیقی اب وام بھائی ہیںوالدین کی حیات میں زید جو عمر میں بڑا ہے عمرو سے نسبتہ کم آمدنی رکھتاہے اور عمرو زید سےکثیرالاولاد ہےلیکن دونوں بھائی جو کچھ کماتے ہیں والدین کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں اور والدین اپنے اختیار سے جس طرح چاہتے ہیں خرچ کرتے ہیںز ید وعمرو کے کل اخراجات کے ان کے والدین ہی کفیل ہیں اور زید وعمرو کے اہل وعیال کاخرچ سب ان کے ما ں باپ اٹھاتے ہیںاو ربچو ں کو جو کچھ وہ خرچ کے واسطے دیتے ہیں تو بالسویہ دیتے ہیں یعنی اگر ایك بچے کو پانچ روپے دیں تو سب بچو ں کو پانچ ہی پانچ دیتے ہیںاور جوکوئی جائداد خرید کی جاتی ہے تو وہ بھی والدین کے اختیار سےوہ جس کانام چاہیں درج کرادیںعلاوہ ازیں زید نے بوجہ اپنی ضعیفی اور دورادندیشی کے والدین سے روپیہ لے کر ایك جائداد خرید کی اور
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مبطع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۵
#12474 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
اپنے چھوٹے بھائی عمرو کے نام درج رجسٹر کرادی لیکن عمرو نے دوسرے وقت والدین سے روپیہ لے کر اور جائداد خرید کیاس کی رجسٹری اپنے اور زید کے نام کرادی اور ان سب جائدادوں کی جو آمدنی ہوئی وہ بھی والدین کے قبض وتصرف میں اتی رہی خلاصہ کلام یہ ہے کہ دونو ں بھائیو ں کی تمام وکمال آمدنی والدین کے قبض وتصرف میں رہی اور اس آمدنی سے جو کچھ جائداد خرید کی گئی بعض کی رجسٹری والدین کے نام ہے اور بعض کی زید وعمرو کے نام ہے اور بعض کی صرف عمرو کے نام ہے اور جملہ آمدنی نقد ہر دو کی اور جملہ آمدنی جائداد خرید کہ وہ والدین کے ہاتھ میں رہیبعد انتقال پدر مرحوم کے چھ سال اور بعد وفات مادر مشفقہ کے دو سال تك دونو ں بھائی باتفاق حسب دستور زمانہ والدین خرچ کرتے رہےاب بوجہ پیش آنے بعض امور نفسانی کے دونو ں بھائی انقسام جائداد ومنقولہ وغیرہ منقولہ کا چاہتے ہیں اور سوائے ان دوبھائیو ں کے اور کوئی وارث اور متخاصم نہیں ہےان کا آپس میں ازروئے شرع شریف کیا حصہ ہوگااور کے حصص پر کل جائداد کی تقسیم ہوگی بینوا بالکتاب و توجروا من ملك الوھاب(کتاب الله سے بیان فرمائیں اور الله تعالی بہت زیادہ عطاکرنے والے بادشاہ سے اجرپائیں۔ت)
الجواب:
یہ مسئلہ بہت طویل الاذیا ں کثر الاشکال معرض الاشکال ہے ہم بتوفیقہ تعالی اسے ایسے طورپر بیان کریں کہ تمام اشکال کا جامع او رہر اشکال کا رافع ہو وبالله التوفقی اس کے لئے دو بیان لکھیں :
بیان اول:اس کی تحقیق کہ جو جائدادیں زیدیاعمرو یا ان کے والدین نے خریدیں اور ان کے نام ہوئیں ان میں کون سی بیع شرعا کس کے لئے واقع ہوئی۔اقول:(میں کہتاہو ں۔ت)خریداری تین طرح ہوتی ہے:
اول: بائع وطالب شرا میں زبانی گفتگو صرف فیصلہ قیمت وتصفیہ ودیگر زوائد کی ہوکر بیعنامہ لکھا جاتاہے اس سے پہلے ایجاب وقبول اشتریت فروختم خریدم یعنی بر کہے میں نے بیچی وہ کہے میں نے خریدی اصلا درمیان میں نہیں آتا بہت ہوتاہے تویہ کہ کتنے کو دو گے اس نے کہا اتنے کو یاا س نے کہا یہ چیزیں تمھارے یہا ں بکاؤ ہے کہا ہےکہا کیا قیمت ہےکہا یہیامیں فلا ں چیز مول لینا چاہتا ہو ںکہا بہترکہا یہ دوں گاکہا اچھا تو کاغذ کر دویا اس نے کہا یہ چیز بکتی ہے تمہیں خریدنا ہو تو خریدلوکہا لیتا ہوںکہا تو اتنا دینا ہوگاکہا دو ں گا بیعنامہ لکھ دویہ الفاظ اور ان کے امثال ایجاب وقبول نہیں یا قرارداد ہوکر بیعنامہ دے دیا جاتاہے وہ بھی ایجاب وقبول نہیں بلکہ اس اقرار کی توثیق کی شرا سے باز نہ رہے ورنہ جاہل اسے ضبط کرلیتے ہیں اور یہ حرام ہے حدیث میں اس سے نہی فرمائی۔
#12475 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
مالك واحمد وابوداؤد وابن ماجۃ عن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما نھی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عن بیع العربان ۔
امام مالکاحمدابوداؤداور ابن ماجہ نے عبدالله ابن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بیعانہ کی بیع سے منع فرمایا۔(ت)
درمختارمیں ہے:
الایجاب والقبول عبارۃ عن کل لفظین ینبئان عن معنی التملك والتملیك ماضیین اوحالین اواحدہما ماض والاخرحال ۔
ایجاب وقبول ایسے دولفظو ں کانام ہے جو تملك و تملیك کے معنی کی خبر دیتے ہیں چاہے دونو ں ماضی ہو ں یا دونوں حال ہو ں یا ایك ماضی اور ایك حال ہو۔(ت)
فتاوی امام بزازی وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
قال لقصاب کم من ھذا اللحم بدرہم فقال منوین قال زن فاعطی درہما فاخذہ فھو بیع جائز ولا یعید الوزن وان وزنہ فوجدہ انقص رجع بقدرہ من الدرہم لامن اللحم لان الانعقاد بقدر المبیع المعطی اھ فلم یجعل قولہ کم بدرھم قال منوین قال زن بیعابل التعاطی کسی نے قصاب کو کہا کہ یہ گوشت ایك درہم کا کتنا ہےاس نے کہا دوسیراس شخص نے کہا تول دےپھر ایك درہم قصاب کو دیا اور اس سے گوشت لے لیا تو یہ بیع جائز ہے دوبارہ وزن کرنا ضروری نہیں اور اگر وزن کرنے پر گوشت کودوسیر سے کم پایا تو کمی کے برابر درہم میں سے واپس لے سکتاہے گوشت میں سے نہیں لے سکتا کیونکہ بیع کا انعقاد اسی قدرپر ہوا جتنا اس نے دیا اھتو مشتری کے قول کہ ایك درہم کا کتنا
حوالہ / References سنن ابوداؤد کتاب البیوع آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۹۔۱۳۸،سنن ابن ماجہ ابواب التجارات باب بیع العربان ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۵۹،مسند احمد بن حنبل از مسند عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہما دارالفکر بیروت ۲/ ۱۸۳
درمختار کتاب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۔۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع باب ثانی فصل اول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۰
#12476 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
ولذا لم یکن لہ ان یطلب مانقص من الحم۔وفی الہندیۃ عن التتارخانیۃ عن الیتیمۃ عن الحسن بن علی انہ سئل عن رجل ساوم وکیل البائع السلعۃ باثنین وعشرین دینارا وابی الوکیل الابخمسۃ و عشرین فقال المشتری اترك لی ھذہ الثلثۃ الدنانیر ورضی بذلك من غیر ان یوجد منہ قول وھناك شہود علی انہ رضی فطابت نفسہ بذلك ھل یکون ذلك بیعا فقال ھذا القدر لیس ببیع الا ان یوجد الایجاب والقبول اوما یقوم مقامہا من الفعل اھوفیہا عن المحیط عن المجرد عن ابی حنیفۃ رضی اللہ تعالی عنہ اذا قال للحام کیف تبیع اللحم قال کل ثلثۃ ارطال بدرھم قال قداخذت منك زن الی ثم بداللحام ان لایزن فلہ ذلك وان وزن فقبل قبض المشتری کل لکل واحد منہما الرجوع فان قبضۃ المشتری اوجعلہ البائع فی وعاء المشتری بامرۃ ثم البیع وعلیہ درہم اھ وفیہا عن السراجیۃ قال الاخر بکم ھذا الوقرمن الحطب فقال بکذا فقال سق الحمار فساقہ لم یکن بیعا الا اذا سلم الحطب وانتقد الثمن اھ اقول: وینتنی علی اشتراط الاعطاء من الجانبین فی التعاطی والصحیح الاکتفاء لواحد نص علیہ محمد کما فی النھر ۔
گوشت ہے جواب میں قصاب کےقول دوسیر اور پھر مشتری کے قول کہ"تول دے"کو بیع نہیں بتایا گیا بلکہ تعاطی کو بیع قرار دیا گیا اسی لئے مشتری کویہ حق نہیں کہ اتنا گوشت طلب کرے جتنا قصاب نے اسے کم دیااور ہندیہ میں بحوالہ تتارخانیہ فتاوی یتیمہ سے منقول ہے کہ حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے بائع کے وکیل سے کسی مال کا بائیس دینار بھاؤ لگایا وکیل نے کہامیں پچیس دینار سے کم پر نہیں دو ں گامشتری نے کہا مجھے یہ تین دینار چھوڑدے اس پر وکیل راضی ہوگیا مگر زبان سے کچھ نہ کہا اوراس کے رضامند ہونے پر وہا ں گواہ موجود تھے تو کیا بیع ہےتو آپ نے جواب دیا محض اس قدر سے بیع نہیں ہوتی سوائے اس کے وہا ں ایجاب وقبول یا اس کے قائم مقام کوئی فعل پایاجائے اھ اور اسی میں بحوالہ محیط مجرد سے منقول ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے کہ کسی شخص نے قصاب کو کہا گوشت کیسے بیچتے ہو اس نے جواب دیا تین رطل ایك درہم کا مشتری نے کہا میں نے تجھ سے لیا میرے لئے تول دےپھر قصاب کی رائے ہوئی کہ وہ نہ تولے تو اس کویہ حق ہے اور اگر اس نے تول دیاتو مشتری کے قبضہ کرنے سے پہلے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع باب ثانی فصل اول نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۶
فتاوٰی ہندیہ کتاب الیوع باب ثانی فصل اول نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۰۔۹
فتاوٰی ہندیہ کتاب الیوع باب ثانی فصل اول نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۰
فتاوٰی ہندیہ کتاب الیوع باب ثانی فصل اول نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۹
#12477 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
دونو ں میں سے ہر ایك کو رجوع کا اختیار ہے اور اگر مشتری نے قبضہ کرلیا یا اس کے کہنے سے بائع نے اس کے برتن میں گوشت رکھ دیا توبیع تام ہوگئی اور مشتری پرا یك درہم لازم ہوگیا اھ اور اسی میں سراجیہ سے منقول ہے کہ ایك شخص نے لکڑی فروش کوکہا لکڑی کا یہ گٹھا کتنے کا ہےاس نے کہا کہ اتنے کاپھر مشتری نے کہا اپنا گدھا ہانکواس نے ہانك دیاتویہ بیع نہیںمگر اس وقت بیع ہوجائیگی جب لکڑیا ں سونپ کرثمن وصول کرلے اھاقول:(میں کہتاہو ں)یہ بیع تعاطی میں دونو ں طرفو ں پرقبضہ کرنے کے شرط ہونے پر مبنی ہےحالانکہ صحیح یہ ہے کہ فقط ایك طرف سے قبضہ کا فی ہے اس پر امام محمد نے نص فرمائی ہے جیسا کہ نہر میں ہے۔ (ت)
ان صورتو ں میں وہ بیعنامہ ہی خودبیع ہوتاہے اور اس کی تسلیم شراءکہ اسی میں لکھا جاتاہے میں نے فلا ں شےفلاں کے ہاتھ اتنے کو بیچی اشباہ وہندیہ میں ہے:الکتاب کالخطاب (تحریر کلام کی طرح ہے۔ت) تو یہ بیع اسی کے ہاتھ ہوئی جس کانام بیعنامہ میں ہے مثلا خالدپھر اگر اسی نے بیعنامہ لکھوادیا جب توظاہر ہے کہ بیع تام ونافذ ہے اور اگر دوسرے نے گفتگو کرکے اس کانام لےکر اس کی بے اجازت کے کاغذ کردیا تو یہ شرائے فضولی ہوا اور اجازت خالد پر موقوف رہا اگرچہ زبانی گفتگوئے خریداری میں نام خالد اصلا نہ آیاہو بلکہ گفتگو کرنے والے مثلا بکر نے خود اپنا نام ظاہرکیا ہوکہ اپنے لئے خریدناچاہتاہو ں۔
وذلك لان ماجری بینہما من کلام لم یکن عقد او انما البیع بالکتاب وفیہ الاضافۃ الی خالد۔
اوریہ اس لئے ہے کہ جو کلام ان دونو ں کے درمیان جاری ہوا وہ عقد نہیں بیع توتحریر کے ذریعے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع باب ثانی فصل اول نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۹
#12478 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
ہوئی اور اس میں خالد کی طرف اضافت موجو دہے۔(ت)
پس اگراخالد جائز کردے گا شیئ مبیع کاخود مالك ہوگا اور رد کردے گا تو بیع باطل ہوجائے گی بہرحال اس کا مالك نہ ہوگا۔
لان البیع لم یکن منہ ومن کان منہ لم یقبلہ وھذا الحکم مع ظہورہ قدصرح بہ الفتاوی الاسعدیۃ و سیأتی عن الخانیۃ۔ کیونکہ بیع اس سے نہیں ہوئی اور جس سے بیع ہوئی اس نے اس کو قبول نہیں کیااورا س حکم کے ظاہر ہونے کے باوجود فتاوی اسعدیہ میں اس کی تصریح کی گئی اور عنقریب خانیہ کے حوالے سے آرہاہے۔(ت)
دوم:قبل تحریر بیعنامہ باہم عاقدین میں ایجاب وقبول واقع(جواب یہا ں تك دستیاب ہوا۔ت)
مسئلہ ۴۷: از شہر بریلی محلہ بازوران ۲صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے جو ایك عرصہ سے بحالت پریشانی کرایہ کےمکانات میں رہ کربسرکرتا رہتا ہے حال میں اس نے ایك اراضی واسطے اپنی سکونت کے خرید کیبوقت ابتداء تعمیر کام چند صاحبان اہل محلہ بسبب رنجش وبرائےکسی خاص فساد کے اس شخص پر بہ جبر اس کا اثر ڈالتے ہیں کہ وہ اس اراضی کی قیمت جس کا کہ وہ لوگ چندہ سے بنام مسجد اہتمام کرنا چاہتے ہیں لےکر بیع کردے پس ایسی صورت میں مالك اراضی اس کی بیع کردینے پر مجبور ہے یانہیں
الجواب:
بیان سائل سے واضح ہوا کہ مسجد موجود ہے اور اسے بڑھانے کی ضرورت شدیدہ نہیں نہ اسے بڑھانے کے لئے وہ لوگ یہ زمین مانگتے ہیں بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ اسے کرایہ پر چلا کر مسجد میں اس کاکرایہ لگائیںاگرصورت واقعہ یہ ہے تو مالك اراضی پر ہر گز لازم نہیں کہ اسے بیع کرے اور اسے مجبور کرنا ظلم ہے اور ظلم سے لیں گے تو اس کاکرایہ مسجد میں لگاناحرام ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۸: از شہر بازار شہامت گنج مسئولہ نقش علی ۲۸ جمادی الاولی ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے عمرو کو روپے دے اور کہا تم مال خرید لاؤعمرو نے خرید کر زید کوقبضہ کرادیابعد کو مال زید سے عمرو نے کچھ نفع دے کر خرید لیا نقد یا قرض بموجب شریعت کے
#12479 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
یہ حیلہ جائز ہے یانہیں
الجواب:
جائز ہے نقد ہو خواہ قرضاور کنتے ہیں نفع پر ہو سب رواہےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۹: از کانپورمسٹن روڈ مرسلہ شیخ محمد عمر محمد عتیق صاحبان ۹شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین زید وبکر کی شرکت میں ایك تجارت تھی بعد شرت روپیہ اور مال تقسیم ہوااپنی اپنی ملك پر قابض ہوگئےپھر بکر نے اپنا مال بیچنا چاہازید نے چاریا دس روپے کم پر لینا چاہا اور بوقت خریداری کہہ دیا کہ اگر منظور ہوتو دو ورنہ روپیہ دے کر مال واپس لے لوبکر نے مال دے دیا روپیہ لے لیاآیا یہ خریداری زید کو جائز ہے یانہیں زید کو خطاوار کہنا کیساہے
الجواب:
یہ خریداری جبکہ برضائے بائع ہو بیشك جائز ہے اگرچہ ہزاروپے کم کو خریدارہوا سے اس وجہ سے خطاوار کہنے والا خطاوار ہے:
قال اللہ تعالی " الا ان تكون تجارة عن تراض منكم- " ۔
واللہ تعالی اعلم۔ الله تعالی نے ارشاد فرمایا:مگر ہو تجارت تمھاری باہمی رضا مندی سے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۵۰: مسئولہ حاجی لعل خا ں صاحب یکم صفر ۱۳۳۴ھ
تنقیح سوالات حسب بیان مسماۃ حبیبن بی بی وصبیحن بی بی دختران شیخ امیر بخش صاحب مرحوم
سوال سوموالدہ ماجدہ نے کچھ جائداد خاص اپنی رقم سے خریدی تھی اور کچھ جائداد والدہ مرحومہ کے دین مہر کے روپیہ سےیہ دونوں جائداد والد صاحب کی ملك قرار پائیں گی یاکہ دوسری جائداد والدہ صاحبہ کی ملك کہی جائیں گیاگردونو ں جائداد والد صاحب کی ملك قرار پائیں تو والدہ کے سونے کے کڑے جس کی قیمت مبلغ آٹھ سوروپیہ تھی اور اس سے والد صاحب نے جائداد خرید کی وہ بذمہ والد صاحب دین واجب الاداہے یا نہیں ونیز والدہ مرحومہ کی سونے کی بالیا ں جس کی قیمت سوروپیہ تھی اور فروخت کرکے تجارت میں شامل کردی گئی اس کا عوض والد صاحب کے ذمہ باقی ہے یانہیں
حوالہ / References القرآن الکریم ۴ /۲۹
#12480 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
الجواب:
مورث نے جو جائداد اپنے روپیہ سے خریدی وہ ظاہر ہے کہ اسی کی ہے اور جو دوسرے کے روپے سے خریدی وہ اگر اپنے لئے خریدی یعنی عقد بیع دوسرے کے نام نہ کرایا تو وہ بھی اسی مشتری کی ہے لان الشراء متی وجد نفاذاعلی المشتری نفذ (اس لئے کہ خریداری جب مشتری پر نفاذ کے طورپر پائی جائےتو نافذہوجاتی ہے۔ت) پھرا س صورت میں اگر ثابت ہوکہ یہ روپیہ دوسرے نے اسے بطور تملیك دے دیا تھا تو روپیہ کا بھی مطالبہ اس پر نہ تھا ورنہ اگر باجازت تھا قرض تھابے اجازت تھا غضب تھابہرحال اس پر ضمان لازم ہےیہ دوسرے کے روپے سے جائداد خریدنے کاحکم تھاسائل کے لفظ یہ ہیں کہ"کچھ جائداد والدہ مرحومہ کے دین مہر کے روپے سے"اس کے اگر یہ معنی ہیں کہ دین مہر ادا کردیا تھا اور بعد قبضہ زوجہ اس سے جائداد خریدی جب تو وہی صورت ہے جو اوپر مذکورہوئی اور اگر دین مہر ادانہ کیا تھا تو اس کے روپے سے خریدنا یونہی ہوگا کہ وہ کہے کہ تیرا مہر جو کچھ مجھ پر آتا ہے اس کے عوض یہ جائداد خریدتاہو ںیو ں اگر خریدی تو وہ جائداد ملك زوجہ ہوئییا یو ں ہوگا کہ عورت کہے میرامہر تجھ پر آتاہے اس کے عوض مجھے جائداد لے دےاور اس نے خریدی تو یو ں بھی جائداد ملك زوجہ ہوگی اور قبضہ زوجہ پرشرط نہ ہوگا نہ اصل بائع سے عقد بیع میں زوجہ کانام لینا ضرور ہوگا کہ خریدکر اس کے مہر کا معاوضہ کردینا ا س کی طرف سے بنام زوجہ بعوض مہر بیع ہوگی اور بیع میں قبضہ شرط ملك نہیںیایو ں ہوگا کہ زوجہ نے اس سے کہا میرا مہر جو تم پر آتاہے اس سے اپنے لئے جائداد خرید لو تو جائداد ملك شوہر ہوگی اور اس پر روپے کا مطالبہ بھی نہ رہا کہ وہ اجازت اقتضاء ھبۃ الدین ممن علیہ الدین(مدیون کودین کا اقتضاء ہبہ ہے۔ت)تھی اور یہ جائزہے۔اور اگر نہ مہرا ادا کیا تھا نہ اس قسم کا کوئی تذکرہ مابین زوجین آیا تو اسے دین مہر کے روپے سے خریدنا کیونکر کہا جاسکتاہےسونےکے کڑو ں سے جائداد خریدنا وہی زرغیر سے شراء ہے جس کا حکم اوپر گزرا اگر عورت کی طرف سے کوئی دلالت تملیك پائی گئی تو اس کا کوئی معاوضہ ذمہ شوہر نہیں ورنہ ہےیو ں ہی بالیا ں کہ بیچ کر تجارت میں لگائی گئیں اگر دلالت تملیك پائی گئی شوہر پر عوض نہیں اوراگر تجارت میں شرکت کے لئے عورت نے دیں اور اس نے قبول کیا تو وہ شریك تجارت ہوئی ورنہ ادنی متعین ہے یعنی قرض اور عوض لازموالله تعالی اعلم
مسئلہ ۵۱:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آجکل دکاندار عموما ہر چیز کی قیمت بڑھاکر کہتے ہیں اور پھر اس سے کم پر بیچ ڈالتے ہیں یہ شرعا جائز ہے یا نہیں ہر ایك کا چار پیسے کی چیز کا دگنی یاتین گنی
حوالہ / References الاشباہ النظائر الفن الثانی کتاب البیوع ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۳۲۳،ردالمحتار کتاب البیوع باب المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۲۰
#12481 · کتاب البیوع (خرید وفروخت کا بیان)
قیمت پر فروخت کرناجائز ہے بینوا توجروا
الجواب:
دونو ں باتیں جائز ہیں جبکہ جھوٹ نہ بولےفریب نہ دےمثلاکہا یہ چیز تین یا چار پیسے کی میری خرید ہےاور خرید پونے چار کو تھییاکہا خرچ وغیرہ ملاکر مجھے سوا چار میں پڑی ہے اور پڑی تھی پونے چارکویاخریر وغیرہ ٹھیك بتائے مگر مال بدل دیا یہ دھوکا ہےیہ صورتیں حرام ہیں اورنہ چیز ں کے مول لگانے میں کمی بیشی حرج نہیں رکھتیوالله تعالی اعلم۔
___________________
#12482 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
باب البیع الفاسد والباطل
(باطل اور فاسد بیع کا بیان)
مسئلہ ۵۲: عــــــہ
الجواب:
جائز ہے قال اللہ تعالی " واحل اللہ البیع الله تعالی کا ارشاد ہے:اور الله تعالی نے بیع کو حلال فرمایا۔ت)بیع کا ناجائز و ممنوع ہونا تین صورتو ں میں منحصر ہےباطل وفاسد ومکروہ تحریمیبحرالرائق میں ہے:
البیع النہی عنہ ثلثۃ باطل وفاسد ومکروہ تحریما الخاقول: والمراد صورۃ البیع الحاصلۃ جس بیع سے روکا گیا ہے وہ تین قسم پر ہے باطلفاسد اور مکروہ تحریمی الخاقول:(میں کہتاہو ں)اس بیع سے مراد بیع کی وہ صورت ہے

عــــــہ: اصل میں سوال درج نہیں۔
حوالہ / References البحرالرائق کتاب البیوع باب البیع الفاسد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۶۸
#12483 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
من بعت واشتریب اعم من ان تحقق معناہ الشرعی اولا وذلك لان الباطل لیس بیعا منہا عنہ عندنا لان الباطل لیس بیعا اصلا فکیف یکون بیعا منہا عنہ وقد تقرران النھی یقرر المشروعیۃ و بہ ذھبوا الی تقسیمہم البیع الی باطل وفاسد وصحیح ان لم یکن تقسیم البیع الصوری ففیہ مسامحۃ ظاہرۃ۔
جویہ کہنے سے حاصل ہوتی ہے کہ میں نے بیچا اور میں نے خریدا عام ازیں کہ بیع کاشرعی معنی متحقق ہو یانہ ہواوریہ توجیہ اس لئے کی گئی کہ بیع باطل ہمارے نزدیك ممنوع بیع نہیں کیونکہ وہ سرے سے بیع ہی نہیں تو وہ ممنوع بیع کیسے ہوسکتی ہےاور تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ نہی مشروعیت کو ثابت کرتی ہے اس لئے فقہاء نے بیع کو باطلفاسد اور صحیح کی طرف تقسیم کیا اگر اس سے مراد بیع صوری کی تقسیم نہ ہو تویہ کھلی چشم پوشی ہے(ت)
باطل وہ ہے جس کے نفس عقد یا محل میں خلل ہو خلل عقدمثل بیع وشراء مجنون کہ اس کاقول شرعا لاقول ہے تو اس کا بعت یا اشتریت نہ ایجاب ہوسکے نہ قبولاور خلل محل مثل بیع بالمیتہ کہ میتہ مال نہیں درمختارمیں ہے:
کل ما اورث خللا فی رکن البیع فہو مبطل ۔
اور جو چیز بیع کے رکن میں خلل پیداکرے وہ بیع کو باطل کرنے والی ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ھوالایجاب والقبول بان کان من مجنون اوصبی لایعقل وکان علیہ ان یزید اوفی محلہ اعنی المبیع فان الخلل فیہ مبطل بان کان المبیع میتۃ اودما اوحرا اوخمرا کما فی ط عن البدائع اھ اقول: الایجاب حدث لابدل من محل
وہ(رکن)ایجاب وقبول ہے بایں طور کہ مجنون کی طرف سے ہو یا نہ سمجھ بچے کی طرف سے ہواور ماتن پر لازم تھاکہ وہ محل یعنی مبیع میں خلل کے ذکر کا اضافہ کرتے کیونکہ مبیع میں خلل بھی مبطل بیع ہے بایں طور کہ مبیع مردارخونحر یا شراب ہو جیسا کہ ط میں بحوالہ بدائع ہے الخ اقول:(میں کہتا ہو ں)کہ ایجاب حدث ہے جس کے وجو د کےلئے محل کا
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳
ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد دارحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۰۰
#12484 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
کالضرب لاوجودلہ یدون مضروب فاذا العدم المحل بتطرق الخلل وجب انعدام الرکنین لانعدام ما یتعلقان بہ الاتری ان من قال بعتك نجوم السماء وامواج الھواء واشعۃ الضیاء وقال الاخر اشتریت لم یفہم ھذا ایجاب ولا قبولا فی الشرع فکذ ا قول القائل بعتك ھذا لحراواشتریت بھذ الدم اذا لا فاصل بعد انعدام المالیۃ والحاصل ان خلل المحل یوجب خلل الرکن فکان فیہ معنی من ذکرہ نعم لو ذکر لکان اظہر واوضح۔
موجود ہونا ضروری ہے جیساکہ ضرب کا وجود مضروب کے بغیر نہیں ہوسکتاچنانچہ جب خلل کے پائے جانے کی وجہ سے محل معدوم ہونا واجب ہے بسبب ان کے متعلق کے معدوم ہونے کےکیا نہیں دیکھتاہے تو کہ جس شخص نے کہا میں نے تجھ پرآسمان کے ستارےہوا کی موجیں اور روشنی کی شعاعیں فروخت کیںدوسرے نے کہا میں نے خریدیںتواس کی شرعا ایجاب وقبول نہیں سمجھا گیا اور یونہی ہے کسی کا یہ کہنا کہ میں نے تجھ پر یہ آزاد شخص فروخت کیا اور دوسرے کاکہنا کہ میں نے اس کو خون کے بدلے میں خریدا کیونکہ مالیت کے منعدم ہونے اور محل کے منعدم ہونے میں کوئی فرق نہیں خلاصہ یہ کہ محل کا خلل لازم کرتاہے رکن خلل کو۔تو گویا خلل رکن کے ذکر میں معنی کے اعتبار سے خلل مبیع بھی مذکور ہواہا ں اگر ماتن علیہ الرحمۃاس کا ذکر کردیتے تو زیادہ ظاہر اور زیادہ واضح ہوجاتا(ت)
اور فاسدوہ جس کی اصل حقیقت خلل سے خالی ہو مگر وصف یعنی ان متعلقات میں خلل ہو جو قوام عقدمیں داخل نہیں مثلا شروط فاسدہ اگر رکن ومحل سالم از خلل ہو ں تو بیع شرعی قطعا متحققپھر اگر وصف میں خلل ہے مثلا بیع مقدور التسلیم نہیں یا مجہول ہے یاکوئی شرط فاسد مفہوماصل یہ کہ بیع شرعی میں مبادلہ مال بمال کانام ہے ایجاب وقبول اس کے رکن اورمال متقوم محل اور اجل و قدرت تسلیم وشرط وغیرہا اوصاف اور انتقال ملك حکم واثر ہے اپنے وجود شرعی میں صرف رکن ومحل کا محتاج ہے کہ بے ان کے اس کے(تحقق کی کوئی ضرورت نہیں)جو خلل کہ ان میں ہوگا مبطل بیع قرار پائے گا جس کے معنی یہ ہوں گے کہ عندالشرع راسابیع ہی نہیں خلل رکن مثل بیع عــــــہ
عــــــہ:یہا ں تك جواب دستیاب ہوا۔
#12485 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
مسئلہ ۵۳: از تعلقہ پٹن ضلع اورنگ آباد علاقہ حیدر آباد دکن کچہری منصفی مرسلہ مولوی عبدالعزیز صاحب ۲۶ ربیع الاول ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دن اس مسئلہ میں کہ سرکاری کاغذ ممہور ہوتے ہیں مہر میں اس کی قیمت بھی لکھی ہوتی ہے اور یہا ں سرکاری قاعدہ یہ ہے کہ دعوی جب تك اسی کاغذپر نہ لکھا جائے ہر گز مسموع نہیں ہوتااوربعد مسموع ہونے یہ ضرور نہیں کہ فیصلہ مدعی کے حسب دلخواہ ہو اس کاغذ میں سرکار کی منفعت ہے آٹھ روپے کا دعوی ہو تو(۸/)کاکاغذ ممہور لیا جاتاہے (عہ) تك (عص۔للعہ )تک(عہ۔للعہ)تک(للعہ ماصہ)تک(مئے )وعلی ہذا القیاس او راس ممہور کے فروخت کرنے کے واسطے سرکار کی جانب سے جو شخص معین ہوتاہے وہی فروخت کرسکتاہے غیر کی مجال نہیں اور اس کے بائع کو ہر سوروپے میں پانچ روپیہ نفع ملتاہے اس کا غذ ممہور کی بیع اور تجارت کا طریقہ شرعا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
نسأ اللہ ھدایۃ الحق والصواب اللہم اغفر(ہم الله تعالی سے حق اور درستگی کی ہدایت مانگتے ہیں اے اللہ! مغفرت فرما۔ت)یہ تجارت اکثرصورتو ں میں خالی از خباثت نہیںالله عزوجل نے جواز تجارت کے لئے تراضی باہمی شرط فرمائی
قال تعالی عز من قائل" یایها الذین امنوا لا تاكلوا اموالكم بینكم بالباطل الا ان تكون تجارة عن تراض منكم- " ۔
الله تعالی کاارشادہے:اے ایمان والو! نہ کھاؤ اپنے مال آپس میں ناحق طورپر مگریہ کہ کوئی سودا ہو تمھارے آپس کی رضامندی سے۔
حدیث میں جناب سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
لایحل مالی امریئ مسلم الابطیب نفسہ ۔رواہ الدارقطنی عن انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ۔
کسی مسلمان کا مال حلال نہیں مگر اس کے جی کی خوشی سے (اسے دارقطنی نے انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
دوسری حدیث میں ہے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
لایحل لمسلم ان یأخذ عصا اخیہ بغیر طیب نفس منہ قال ذلك لشدۃ ماحرم اللہ من مال المسلم علی المسلم ۔رواہ ابن حبان فی صحیحہ عن ابی حمید الساعدی رضی اللہ تعالی عنہ۔
مسلمان کوحلال نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کی چھڑی بے اس کی مرضی کے لے اور یہ اس سبب سے ہے کہ الله تعالی نے مسلمان کا مال مسلمان پر سخت حرام کیا ہے(اسے ابن حبان نے اپنی صحیح میں ابوحمید ساعدی سے رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۴ /۲۹
سنن الدارقطنی کتاب البیوع حدیث ۹۱ نشرالسنہ ملتان ۳ /۲۶
الترغیب والترہیب بحوالہ ابن حبان حدیث ۹ مصطفی البابی مصر ۳/ ۱۷
#12486 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
ظاہر ہے کہ آدمی نالش اپنے استخراج کےلئے کرتاہے جبکہ خود اس کی تحصیل پر قادرنہیں ہوتا اور کوئی شخص اپنے دل کی خوشی سے نہ چاہے گا کہ میراحق جو غیر کے پاس ہے بے صرف کے میسرنہ ہو بلکہ جب اسے اپنا حق جانے گا قطعا مفت ہی ہاتھ آنا چاہے گاہا ں اگر دیکھے گا کہ یو ں نہیں مل سکتا ناچار بحکم من ابتلی بلیتین اختاراھونہما (جو شخص دو مصیتبو ں میں مبتلا ہو وہ ان میں سے ہر کمتر کو اختیار کرے۔ت)صرف وخرچ گوارا کرلے گا کہ سارا دھن جاتا دیکھے تو آدھا دیجئے بانٹیہ معنی اگرچہ منافی اختیار نہیں کہ کسی نے اس پر اپنا حق لینے کا جبر نہ کیا تھا اسے اختیار تھا کہ بالکل خاموش رہنا تو یہ صرف نہ پڑتھا مگر مفسد رضا بیشك ہے اگربے اس کے وصول ممکن جانتا ہر گز خرچ اختیار نہ کرتا مثلا عمرو نے زید کا سو روپے کا مال دبالیا اورکہتاہے دس روپے دے تو واپس کرو ںزید اس کی زبردستی اور اپنا عجز جان کر دس دے آیا اور مال چھڑالیا یہ روپے اگرچہ فی الواقع زید نے باختیار خود دیے مگر عمرو کے لئے حلال نہ ہوجائیں گے کہ ہر گز برضائے خود نہ دئےاختیار ورضا میں زمین وآسمان کا فرق ہےاور عقود بیع وشراء وہبہ وامثالہا صرف بے اختیاری ہی سے فاسد نہیں ہوتے بلکہ عدم رضا بھی ان کے فساد کو بس ہے۔
کما مر فی قولہ تعالی " عن تراض منكم- " و فی الحدیث الابطیب نفسہ ۔جیسا کہ الله تعالی کے اس ارشاد میں گزرا کہ کسی کا مال مت کھاؤ سوائے اس کے کہ تمھارے درمیان باہمی رضامندی سے سودا ہواور حدیث میں گزرا کہ کسی مومن کی دلی خوشی کے بغیر اس کا مال لینا حلال نہیں۔(ت)
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الاول بیان احکام من ابتلی ببلیتین ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۲۳
القرآن الکریم ۴ /۲۹
الترغیب والترہیب بحوالہ ابن حبان حدیث ۹ مصطفی البابی مصر ۳ /۱۷
#12487 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
ردالمحتار میں ہے:
نفی الرضی اعم من افساد الاختیار و الرضی بازاء الکراھۃ والاختیار بازاء الجبر ففی الاکراہ بحبس اوضرب لاشك فی وجوب الکراھۃ وعدم الرضی وان تحقق الاختیار الصحیح اذ فسادہ انما ھو بالتخریف باتلاف النفس او العضو ۔
رضاء کی نفی فساد اختیار سے عام ہے اور رضا کراہت کے مقابلے میں جبکہ اختیار جبرکے مقابلے میں آتاہےچنانچہ قید اور مار کے ذریعے اکراہ کی صورت میں کراہت وعدم رضا کے پائے جانے میں کوئی شك نہیں اگر چہ اختیار صحیح متحقق ہے کیونکہ فساد اختیار جان سے ماردینے یا عضو کے ضائع کردینے کی دھمکی دے حاصل ہوتاہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
الاکراہ الملجی وغیر الملجی یعد مان الرضاء والرضاء شرط لصحۃ ھذہ العقود وکذا لصحۃ الاقرار فلذا صار لہ حق الفسخ والامضاء ۔
اکراہ ملجی و غیر ملجی یعنی اکراہ تام وناقص رضاکو ختم کردیتے ہیں حالانکہ ان عقود کی صحت کے لئے رضا شرط ہے اور اسی طرح صحت اقرار کے لئے بھی رضا شرط ہےاسی لئے اس کو فسخ کرنے اور جاری رکھنے کا حق حاصل ہوا ہے۔(ت)
بعینہ یہی حال خریداری کاغذ مذکورکا ہے کوئی شخص بلاوجہ اپنا ایك پیسہ ضائع جانا گوارانہیں کرتا مال کا سولہواں حصہ تو بہت ہوتاہے مگر جب رئیس کاحکم ہے کہ بے اس کے کوئی نالش نہ سنی جائے تو آدمی یا تو اپنے حقوق واملاك سے یکدست ہاتھ دھو بیٹھے یہ ممکن نہیں کہ ظالم ناخدا ترس جس کے اس عزم پر آگاہ ہوجائیں اس کے تن کے کپڑے تك اتار کر بس نہ کریں کہ آخریہ بخوف مصرف نالش تو کرے گا ہی نہیں پھر ڈر کاہے یارہی عاقبتوہ کس نےدیکھی ہےخدا کا سامنا ہوگا ہوگاآج تو اپنی چلتی گئی نہ کریںیہ ان کاحال ہے جو خدا کا سامنا ہونے پر ایمان لاتے ہیں اور جو اس پراعتقاد ہی نہیں رکھتے ان کیا کہناوہ توپورے بے غم ہے یا بحالت قدرت بطور خود جبرا اپنے حقوق واپس کرلے توالٹی ان کی طرف سے نالش ہو اورحکم کے نزدیك یہ خود مجرم ٹھہرے معہذا
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الاکراہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۸۰
درمختار کتاب الاکراہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹۵
#12488 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
جوا بدی نہ کرے تو وہی ظلم بے تحاشہ اور کرے تو اب کیا اس قسم کے صرف نہ ہو ں گے پھر بھی ہما ں آش درکاسہ غرض دنیا میں سب راہیں بند ہیں سوا اس کے کہ ریاست سے مددلے اورریاست علانیہ حکم دے چکی کہ ہماری امداد اسی شرط پر موقوف ہے ورنہ زنہار دار القضاء کے دروازے تك بازنہ ہوگا ناچار خریداری کاغذ مذکور گوارا کرے گا مگریہ گوارش اسی طرح کی ہے کہ دل نہیں چاہتا بس چلے تو حق یہی ہے کہ اپنا حق بے کوڑی خرچے ہاتھ لگے مگر مجبوری کوکیا کیجئےتو ثابت ہوا کہ یہ خریداری ہرگز بطیب خاطر نہیں ہوتی اور جو روپیہ اس کے بدلے نذر فروشندگان ہوتاہے زنہار رضائے قلب سے نہیں دیا جاتا تو بحکم قرآن وحدیث اسے مال حلال وطیب نہیں کہہ سکتےہا ں اس قدر مسلم کہ بوجہ مرور زمان وعموم ابتلاء بہت لوگو ں خصوصا مقدمہ بازو ں پر اس قسم کے مصارف میں آثار کراہت غالبا ظاہر نہیں ہوتے مگر حاشا یہ طیب نفس ورضائے دلی نہیں بلکہ یہ بات وہی ہے کہ عادت ہوگئی اور جب سب ایك حال میں ہیں تو مرگ انبوہ جشنے دارد(اجتماع کی موت میں اپنی موت جشن رکھتی ہے۔ت)آخر اور رقمو ں میں نہ دیکھئے جن میں اپنے کسی نفع کی توقع نہیں ہوتی اور رؤسا وسلاطین اموال ومزارع پر باندھ دیتے ہیں اول اول چند روز ایك عام واویلا رہتاہے پھر کچھ نہیں کہ آخر دنیا اول دنیا پھر اظہار کراہت بے معنی جب زیادہ زمانہ گزرا چلئے وہ رفتہ رفتہ ایك امور عادیہ میں داخل ہوگیا مگر دل کی خواہش ہرگز اس کی مساعد نہیں ہوجاتی اس کا سہل سا ایك امتحان یہ ہے کہ مثلا اسی کاغذ ہی کے نسبت ریاست کاحکم ہوجائے کہ ضروری نہیں سادے پر بھی دعوی سن لیں گے پر دیکھئے کتنے خرید نے جاتے ہیںحاشا وکلا کوئی پاس بھی نہ پھٹکے گاکہ بلاوجہ اپناخرچ کسے بھاتاہے تو قطعا عدم رضا دائمی ابدی ہے اور یہ شراء بالکل شرائے مکروہ کی حالت میں ہے وبعداللتیا واللتی(اوربحث وتمحیص کے بعد۔ت)عدم رضا وفقدان طیب نفس میں کلام نہیں اور اسی قدر انعدام حلت میں کافی علماء فرماتے ہیں اگر بادشاہ وقت کا بھاؤ کاٹ دے مثلا لوگ روپیہ کے پندرہ سیر گیہو ں بیچتے ہیں حاکم حکم دے کہ بیس سیر سے کم نہ بیچیں ورنہ سزا پائیں گے اسی صورت میں مشتری کے لئے یہ بھاؤحلال نہ ہوگاکہ اگرچہ حاکم نے بائع کو بیع پر جبر نہ کیا کہ اصلا نہ بیچے تو اپنے مال کا مالك ہے مگریہ حکم تو کردیا ہے کہ بیچے تو اسی بھاؤ بیچے اور اس کی مخالفت میں حاکم کی طرف سے اندیشہ ہے تو اس نرخ پر اس کی رضا متحقق نہ ہوئیاور مسلمان کا مال بے مرضی لینا حلال نہیں۔درمختار میں ہے:
اذا سعر وخاف البائع ضرب الامام لونقص لایحل للمشتری ۔
اگر حاکم نرخ مقررکردے اور بائع کوضرب حاکم کاڈر ہے اگر وہ اس نرخ میں کمی کرے تو
حوالہ / References درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۸
#12489 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
ایسی صورت میں مشتری کے لئے حلال نہیں۔(ت)
شرح نقایہ میں ہے:
لوسعر فباع للخوف لم یحل للمشتری لقولہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم لایحل مال امری مسلم الابطیب نفس منہ ۔
اگر حاکم نے نرخ مقرر کردیا اوربائع اس کے خوف سے فروخت کیا تو مشتری کے لئے حلال نہیں کیونکہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے کسی مسلمان کا مال اس کی دلی خوشی کے بغیر لینا حلال نہیں۔(ت)
اسی طرح اگرچہ رئیس نے نالش پرمجبور نہ کیا نہ کرے تو اپنے ترك حق کا مختار ہے مگرحکم دیا ہے کہ کرے تو کاغذ ضرورہی دے اور اسی مقدار کا دے اور اس کی مخالفت میں تلف حق کا اندیشہ ہی نہیں بلکہ یقین کا مل ہے تو اس شراء پر بھی رضامتحقق نہ ہوئی فرق اس قدرہے کہ حکم حاکم نہ ہوتا تو گیہو ں والا گیہو ں خود بھی بیچتا اگرچہ زیادہ کواور یہا ں حکم نہ ہوتا تو نالش والایہ کاغذ کوڑی کو بھی نہ پوچھتا کم لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)
بالجملہ فقیر غفرالله تعالی لہ جہا ں تك نظر کرتاہے اس تجارت کے مطابق حلال وطیب ہونے کی راہ نہیں پاتاہا ں بعض صورتیں ایسی بھی ہیں جن میں مشتری بخوشی خود خریدیں مثلا فروشندہ سے دوسرے نے قدرے نفع دے کر بیچنے کو مول لیا جیسے اونچے بزازو ں سے گٹھری والے کپڑالیتے ہیں یا نالش جس بات پر کرتاہے وہ ایسی نہ تھی جس سے درگزر کرنی کچھ اس پر شاق ہوتی صرف ایذائے مخالف یا انتقام کے لئے نالش چاہتاہے یہ بھی صورت حاجت کی نہ ہوئییا دائن کو یہ کاغذ درکا تھا مدیوں سے کہا میرے قرض لادے وہ لے آیا یہ خریدار ی بھی برضائے خود ہوئی کہ اس پر کاغذ دے کر قرض اتارنا لازم تھایا اپنے کسی بزرك کو نالش کی حاجت ہوئی چھوٹے نے خوشنودی کے لئے اپنے پاس سے کاغذ خرید کر لگایا خواہ کسی عزیز یا دوست یا محتاج کے کام میں صرف کیا کہ یہ سب حالتیں خریدار کی ضرورت کی نہیں ایسی صورت میں بیشك بیع صحیح وجائز اور زرثمن فروشندہ کےلئے حلال وطیباور صرف یہ بات کہ ومڑی کا کاغذ سوروپے کوکیونکر
حوالہ / References جامع الرموز کتاب الکراھیۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳ /۳۲۴
#12490 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
جائے بعد ثبوت تراضی موثر نہیںہر شخص اپنے مال کا مختار ہے جنتے کو چاہے بیچےاما م محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں ہے:
لوباع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ ۔
اگر کسی نے کاغذ کا ٹکڑا ہزار کے بدلے میں فروخت کیا تویہ جائز ہے مکروہ نہیں ہے۔(ت)
فقیر غفرلہ الله تعالی لہ مسئلہ تجارت نوٹ میں اسے واضح کرچکا وبالله التوفیق مگر ان صورتو ں کا وقوع نادر ہےانھیں پرقانع ہوکر تجارت نہ چل سکے گیاور اگرکوئی قناعت کرے اور جب تك ہوسکتاہے البتہ ایك صورت عدم اکراہ کثیر الوقوع ہے یعنی جھوٹی نالش کے لئے خریدنا کہ یہ لوگ مظلوم نہیں خود ظالم ہیں توانھیں شراء پر کیا مجبوری ان کے ہاتھ بیچنے میں اگر چہ عدم حلت کی وہ وجہ نہ ہوئیمگر اور وجوہ معصیت پیداہو ں گی کہ درحال سے خالی نہیں یا تو بائع کو معلوم ہوگا کہ مشتری ظالم ہے اور خاص نالش ناحق کے لئے خریدتاہے یا بے دلیل وعلم ٹھہرا لے گا کہ اس مشتری کا ایسا ارادہ ہے برتقدیر ثانی سوء ظن میں گرفتار ہوا اور بدگمانی حرام قطعیپھر تراشیدہ خیال معصیت مال کی بناء پر کیونکر مال مسلم کا استحلال کرسکتاہےبرتقدیر اول جبکہ یہ جاننا تھا کہ وہ نالش دروغ کے لئے کاغذ لیتاہے تو اس سے اس کے ہاتھ بیچنا معصیت پر اعانت کرنا ہوا جس طرح اہل فتنہ کے ہاتھ ہتھیار اور معصیت پر اعانت خود ممنوع ومعصیت
قال عزوجل " و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪- " ۔واللہ الہادی ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی واللہ سبحنہ وتعالی اعلم۔
آپس میں ایك دوسرے کی مددنہ کرو گناہ اور حد سے بڑھنے پر۔ اور الله تعالی ہی ہدایت دینے والاہے یہ وہ ہے جو میرے پاس ہے اور حق کا علم میرے پروردگار کے پاس ہےاور الله سبحانہ وتعالی خوب جاننے والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۵۴: از کلکتہ فوجداری بالاخانہ نمبر ۳۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہا ں کلکتہ میں مصنوعی یعنی میل کا گھی بکتاہے باوجود علم
حوالہ / References α فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲/ ۲۲۴
α القرآن الکریم ۵ /۲
#12491 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
ایسا گھی تجارت کے لئے خرید کر بیچنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
اگریہ مصنوعی جعلی گھی وہا ں عام طور پر بکتاہے کہ ہر شخص اس کے جعل ہونے پر مطلع ہے اور باوجود اطلاع خریدتاہے تو بشرطیکہ خریداراسی بلد کا ہونہ غریب الوطن تازہ وارد ناواقف اور گھی میں اس قدرمیل سے جتنا وہا ں عام طورپر لوگو ں کے ذہن میں ہے اپنی طرف سے اور زائد نہ کیا جائے نہ کسی طرح اس کا جعلی ہونا چھپا یاجائےخلاصہ یہ کہ جب خریدارو ں پر اس کی حالت مکشوف ہو اور فریب ومغالطہ راہ نہ پائے تو اس کی تجارت جائزہےاخر گھی بیچنا بھی جائز اور جوچیز اس میں ملائی گئی اس کا بیچنا بھیاور عدم جواز صرف بوجہ غش وفریب تھاجب حال ظاہر ہے غش نہ ہوااور جواز رہا جیسے بازاری دودھ کہ سب جانتے ہیں کہ اس میں پانی ہے او ر باوصف علم خریدتے یہ اس صورت میں ہے جبکہ بائع وقت بیع اصلی حالت خریدار پرظاہر نہ کردےاور اگر خود بتادے تو ظاہر الروایت ومذہب امام عظم رضی اللہ تعالی عنہم یں مطلقا جائز ہے خواہ کتنا ہی میل ہو اگرچہ خریدار غریب الوطن ہو کہ بعدبیان فریب نہ رہادرمختارمیں ہے:
لاباس ببیع المغشوش اذا بین غشہ اوکان ظاھرا یری وکذاقال ابوحنیفۃ رضی اللہ تعالی عنہ فی حنطۃ خلط فیہا الشعیر والشعیریری لاباس بیبعہ و ان طحنہ لایبیع وقال الثانی فی رجل معہ فضۃ نحاس لایبیعہا حتی یبین ۔ ملاوٹ والی چیز کو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں جب اس کی ملاوٹ کو بیان کردے یا ملاوٹ ایسی ظاہر ہو کہ دکھائی دیتی ہو اوریونہی فرمایا امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہنے ایسی گندم کے بارے میں جس میں جوملے ہوئے ہو ں اس طورپو کہ جونظر آتے ہو ں تو ایسی گندم کی بیع کوئی مضائقہ نہیں اور اگر اس مخلوط گندم کو پیس لیا تومت بیچئےاور امام ابویوسف نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس کے پاس تانبا ملی چاندی ہے کہ وہ اسے بتائے بغیر نہ بیچے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
قول وان طحنہ لایبیع ای الاان یبین لانہ لایری ۔
ماتن کا یہ فرمانا کہ جب اس نے مخلوط گندم کو پیش لیا
حوالہ / References α درمختار باب المتفرقہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۲
α ردالمحتار باب المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۲۱
#12492 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
تو مت بیچےاس کا مطلب یہ ہے کہ بیان کئے بغیر نہ بیچےکیونکہ اب اس میں ملاوٹ دکھائی نہیں دیتی(ت)
بالجملہ: مدار کا ظہور امر پرہے خواہ خود ظاہر ہو جیسے گیہو ں میں جو چنو ں میں کسایا بجہت عرف و اشتہار مشتری پرواضح ہوجیسے دودھ کا معمولی پانی خواہ یہ خو دحالت واقعی تمام وکمال بیان کرےوالله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۵۵: ۸شوال ۱۳۰۸ھ ازلبکن
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید جو زمانہ دراز سے بعارضہ آتشك سخت علیل ہے اپنی زمینداری غیر منقسمہ کو صرف حق تلفی زوجہ منکوحہ ذی مہر اور ورثاء ذوی الفروض مثل دختر اپنی کے بدست اپنے لڑکے نابالغ کے کہ جو عورت بازاری غیر نکاحی کے بطن سے ہے بیع شرعی کرکے زرثمن اس کا ہبہ کردینا(بایں عبارت کہ بعد ایجاب وقبول زرثمن حقیت مبیعہ کا بحق مشتری ہبہ کردیا)ظاہر کرتاہے تو درحالیکہ مشتری نابالغ ہے توہبہ کردینا زرثمن کا بحق مشتری عندالشرع قابل تقسیم ہے یانہیں اوریہ بیع شرعا جائزہے یاناجائز بینوا توجروا
الجواب:
یہ بیع شرعا محض باطل وناجائزہےوہ لڑکا جبکہ زنا سے ہے تو شرعا نہ وہ زیدکا بیٹانہ زید اس کا باپ
قال رسول اللہ تعالی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم الولد للفراش وللعاہر الحجر ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا:اولاد خاوند کے لئے ہے اورزانی کے لئے پتھر ہیں۔(ت)
تو زید اس پر اصلا ولایت مالیہ نہین رکھتا بلکہ محض اجنبی ہے ولایت مالیہ تو باپ دادا اور قاضی شرع اور ان کے اوصیاءکے سوا ماں بھائی چچاکو بھی نہیں ہوتی نہ کہ ایسا شخص جس سےکچھ علاقہ نہ ںتنویر الابصار میں ہے:
ولیہ ابوہ ثم وصیہ ثم جدہ ثم وصیہ ثم القاضی او وصیہ دون الام او وصیہا (ملتقطا)
نابالغ کا ولی اس کا باپ ہے پھر باپ کا وصی پھر اس کا داداپھردادا کا وصی پھر قاضی یا
حوالہ / References α صحیح البخاری کتاب البیوع باب تفسیر المشبہات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۷۶
α درمختار کتاب الماذون مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۳
#12493 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
اس کا وصینہ کہ ما ں یا اس کا وصی(ملتقطا)(ت)
اولا:زید کو اس نابالغ کے لئے جائداد اور اپنے نفس سے خواہ کسی غیر سے اپنے روپے خواہ نابالغ کے روپیہ سے کسی طرح خریدنے کا اصلا اختیار نہ تھا کہ یہ اختیار ولی مال کے سوا کسی کونہیں۔ درمختارمیں ہے:
ام و اخ لایملکان بیع العقار مطلقا و لاشراء غیر طعام وکسوۃ ۔ نابالغ کی ما ں اور اس کا بھائی نابالغ کی غیر منقولہ جائداد کو کسی طرح فروخت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ ہی انھیں طعام ولباس کے سوا کچھ خریدنے کا اختیارہے۔(ت)
ثانیا:وہ اس خریداری میں فضولی ہے لعدم ولایۃ ولاوصایۃ(ولایت او روصی نہ ہونے کی بناء پر۔ت)اور وہ اس بیع میں طرفین ایجاب وقبول دونو ں کا خود ہی متولی ہوا ایسی صورت میں جب یہ شخص کسی طرف سے فضولی ہو عقد باطل محض ہوتا ہے۔درمختار میں ہے:
لایتوقف الایجاب علی قبول غائب عن المجلس فی سائر العقود من نکاح وبیع وغیرہما بل یبطل الایجاب ولاتلحقہ الاجازۃ اتفاقا ۔
ایجاب مجلس سے غائب شخص کے قبول پر موقوف نہیں ہوتا تمام عقود میں جیسے نکاح او ر بیع وغیرہ بلکہ وہ ایجاب باطل ہوجاتاہے اور بالاتفاق اس کو اجازت لاحق نہیں ہوتی۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
فاذا اوجب الحاضر وھو فضولی من جانب اومن الجانبین لایتوقف علی قبول الغائب بل یبطل وان قبل العاقد الحاضر بان یتکلم بکلامین کما یأتی ۔
جب حاضر ایجاب کیا اور آنحالیکہ وہ فضولی ہے ایك طرف سے یا دونو ں طرفو ں سے تو وہ ایجابغائب کے قبول پر موقوف نہیں رہے گا بلکہ باطل ہوجائے گا اگرچہ عاقد حاضر نے قبول کیا ہوبایں طور کہ دونو ں کلامو ں(ایجاب وقبول) سے تکلم کیا ہو جیسا کہ آرہاہے۔(ت)
حوالہ / References α درمختار کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۷
α درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۹۶
α ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۲۶
#12494 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
پس یہ بیع محض باطل وبے اثر ہے اور جائداد بدستور ملك زید پر باقیوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۶: ۱۵رجب ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید نے ایك درخت عمرو سے ا س شرط پر خریدا کہ اس کا کٹوادینا عمرو کے ذمہ ہے اب عمرو اس کے کٹوانے میں حجت کرتاہےاس صورت میں کیاحکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
درخت کاٹنے کے لئے بیچا جائے اس کا کاٹنا شرعا مشتری کے ذمہ ہے کما اوضحناہ بتوفیق اللہ تعالی فی فتاونا(جیسا کہ الله تعالی کی توفیق سے ہم اپنے فتاوی میں اسے واضح کرچکے ہیں۔ت)ردالمحتارمیں ہے:
فی البحر من الظہیریۃ اشتری شجرۃ للقلع یؤمر بقلعہا الخ ۔
بحرمیں ظہریہ کے حوالے سے ہے کہ کسی شخص نے اکھاڑنے کےلئے درخت خریدا تو خریدار کو اسے اکھاڑنے کاحکم دیا جائے گا الخ(ت)
یہا ں کہ برخلاف حکم شرع اس کے کٹوانے کی شرط ذمہ بائع لگائی گئی بیع فاسد ہوئیدرمختار وردالمحتارمیں ہے:
یقطعہا المشتری فی الحال(ای اذا طلب البائع تفریغ ملکہ)وان شرط ترکھا فسدالبیع کشرط القطع علی البائع حاوی(وعلل فی البحر الفساد بانہ شرط لا یقتضیہ العقد وھو شغل ملك الغیر اھ ملتقطا۔
مشتری اس درخت کوفی الحال کاٹے یعنی جب بائع اپنی ملکیت کی فراغت کا مطالبہ کرےاور اگر اس کو زمین میں چھوڑے رکھنے کی شرط لگائی توبیع فاسد ہوگئی جیسا کہ کاٹنے کی ذمہ داری بائع پر عائد کرنے کی شرط لگانے سے بیع فاسد ہوجاتی ہے حاوی بحر۔میں فساد کی علت یو ں بیان فرمائی کہ یہ ایسی شرط ہے جس کا تقاضا عقد نہیں کرتا اور وہ شرط ملك غیر کو مشغول رکھنے کی ہے اھ ملتقطا(ت)
پس بائع ومشتری دونو ں گنہگار ہوئے اور دونو ں پر بحکم شرع واجب ہے کہ اپنے اس بیع
حوالہ / References α ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع تبعا الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۸
α ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع تبعا الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۹،درمختار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع تبعا الخ مجتبائی دہلی ۲ /۹
#12495 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
کوفسخ کریں ان میں جو کوئی نہ مانے دوسرا بے اس کی رضامندی کےکہہ دے میں نے اس بیع کو فسخ فورا فسخ ہوجائے گی اور اگر دونوں فسخ کرنا چاہیں اورحاکم شرع خو خبر ہو تو وہ جبر ا فسخ کردے کہ گناہ کا زائل کرنا فرض ہے درمختارمیں ہے:
یجب علی کل واحد منہما فسخہ قبل القبض اوبعدہ ما دام المبیع بحالہ اعداما للفساد لانہ معصیۃ فیجب رفعہا بحرولذالایشترط فیہ قضاء قاضی واذا اصرعلی امساکہ وعلم بہ القاضی فلہ فسخہ جبرا علیہما حقا للشرع بزازیہ ۔
بیع فاسد کو بائع ومشتری میں سے ہر ایك پر واجب ہے چاہے مبیع پر قبضہ سے پہلے ہو یا بعدجب تك مبیع اپنے حال پر قائم ہے اوریہ فسخ فساد کو ختم کرنے کے لئے ہے کیونکہ یہ معصیت ہے۔لہذا اس کا رفع واجب ہےبحریہی وجہ ہے کہ اس میں قضاء قاضی کی شرط بھی نہیں اور اگر وہ اس بیع فاسد کے برقرار رکھنے پر اصرار کریں اور قاضی کو خبر ہوجائے تو وہ حق شرع کے لئے ان دونوں یعنی بائع ومشتری پر جبر کرکے فسخ کراسکتا ہے بزازیہ اھ تلخیص(ت)
پھر جب اس بیع کو فسخ کرلیں اورباہم رضامندی ہو تونئے سرے سے پھر بیع صحیح بغیر اس شرط مفسد کے کرسکتے ہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۷: ۴ رجب ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے شیشی قاروری فی سیکڑہ دس آنے کے حساب سے خرید کر بمنافع فی صدی دوآنہ سیکڑہ کے عمرو سے تعدادی آٹھ سو قاروری کے مبلغ چھ روپے وصول پاکر قاروریان واسطے دینے عمرو کے اپنی دکان پر لاکر رکھیں اور عمرو سے کہا کہ آپ شیشیا ں اپنی لے جائےعمرو نے جواب دیا کہ مجھ کو اس وقت فرصت نہیں ہے پیلی بھیت سے واپس آکر لو ں گاجب عمرو پیلی بھیت سے واپس آیا اس وقت قاروریا ں شمار کی گئیں تو منجملہ آٹھ سو قاروری کے سو قاروری بوجہ ناز کی کے ٹوٹی نکلیں تو اب اس سوقاروری شکستہ کی قیمت ۱۲ زید کے ذمہ ہونا چاہئے یا عمرو کے بینوا توجروا
الجواب:
سائل مظہر کہ اس وقت بیع نہ ہوئی تھی بلکہ عمرو نے اس سے شیشیا ں مانگیں اس کے پاس
حوالہ / References α درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۸
#12496 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
نہ تھیں اس نے خرید کر دیناکہا اور قیمت فیصل کرلی کہ جس بھاؤ کو خریدو ں گا فی صدی دوآنے کے نفع پر تجھے دو ں گا۔عمرو نے اسے پیشگی روپے دے دئے یہ صورت بیع کی نہ ہوئی صرف ایك وعدہ قرار داد ہوا اور اگر ایجاب وقبول ہو بھی جاتاتاہم باطل تھی کہ شیشیا ں زید کے پاس نہ تھیں اور جو چیز ہنوز اپنی ملك ہی میں نہیں بیع سلم کے سوا اس کا بیچنا باطل ہے۔
فی الدرالمختار من البیع الباطل وبیع مالیس فی مبلکہ لبطلان بیع المعدوم ومالہ خطرالعدم لا بطریق السلم لانہ علیہ الصلوۃ والسلام نھی عن بیع مالیس عندالانسان ورخص فی السلم اھ قال فی ردالمحتار المراد بیع ما سیمبلکہ قبل مبلکہ لہ ۔
درمختار میں ہے کہ بیع باطل کے قبیلہ سے ہے اس چیز کی بیع جا بائع کی ملك میں نہ ہو کیونکہ معدوم چیز اور وہ چیز جس کے عدم کا خطرہ ہو اس کی بیع باطل ہے مگر بطور سلم ان کی بیع باطل نہیں اس لئے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس چیز کی بیع سے منع فرمایا جو آدمی کے پاس نہ ہواور بیع سلم میں رخصت دی الخ ردالمحتار میں فرمایا کہ اس سے مراد اس چیز کی بیع ہے جو عنقریب اس کی ملك میں آئے گی اس کی ملك میں ہونے سے قبل۔(ت)پس شیشیا ں کہ زید نے خریدیں زیدہی کی ملك تھیں جتنی ٹوٹیں اس کی عمرو سے کچھ علاقہ نہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۸: ۱۹ رمضان المبارك ۱۳۱۲ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ ایك شخص نے پھول پر انبہ خریدے اور کل روپیہ دینے کافرداپر وعدہ کیا مگر کل کی قیمت وعدہ پر ادا نہ کیوعدہ کو فسخ کیابیع جائز ہے یاناجائزبینوا توجروا
الجواب:
پھل کا پھول پر بیچنا ہی سرے سے حرام وناجائز ہے وہ بیع بالاتفاق صحیح نہ ہوئی بائع ومشتری دونو ں پر اس سے دست کشی وتوبہ لازم ہے:
فی الدرالمختار باع ثمرۃ قبل الظہور لایصح اتفاقا واللہ تعالی اعلم۔
درمختارمیں ہے کہ کسی نے پھل کو نمودار ہونے سے
حوالہ / References α درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴
α ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۰۵
α درمختار کتاب البیوع فصل فی ما یدخل فی البیع تبعا الخ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹
#12497 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
پہلے بیچا تو بالاتفاق صحیح نہیں۔(ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۹: مسئولہ محمدعلی بخش ۹ربیع الاول ۱۳۰۸ھ
جناب عالی! کیا فرماتے ہیں آپ اس مقدمہ میں کہ ایك جائداد بقیمت مبلغ تین ہزار روپیہ کو خرید کرتاہو ں اوریہ شرط ٹھہرتی ہے کہ جب اس کاجی چاہے اسی قیمت کو یا کچھ روپے زیادہ دے کر مجھ سے پھر خریدلیں میں بلاعذر ان کو دے دو ں گااگر یہ جائز ہو توحکم فرمائے۔
الجواب:
اندراج شرط مذکور الصدور بیعنامہ میں مفسد بیع ہے کیونکہ جو شروط زائد مفید بائع ہو ں یا مشتری باطل کنندہ بیع میں فقط محمد یعقوب علی خا ں
الجواب:
بیعنامہ کوئی چیز نہیں وہ گفتگو عقد کی جو زبانی عاقدین میں ہو شرعا اس کا اعتبارہے اگر اس میں بائع نے صرف اس قدر کہیا کہ میں نے یہ چیزیں تین ہزار روپیہ کو بیچیں اور مشتری نے کہا میں نے قبول کیںاورعقد ختم کردیااور دونو ں نے اسے بیع صحیح شرعی لازم سمجھا تو بیع صحیح وجائز ہوگئیمشتری جائداد اور بائع قیمت کا مالك ہوگیا پھرختم عقد کے بعد عقد سے علاوہ عــــــہ باہم یہ ٹھہرا لیا کہ جب تو چاہنا مجھ سے خریدلینا میں تیرے ہاتھ بیچ ڈالو ں گاپھر اگر بیعنامہ میں اس وثوق سے کہ کہیں یہ اپنے وعدہ سے نہ پھر جائے یو ں لکھا گیا کہ میں نے فلا ں جائداد بکر ك ہاتھ بعوض سوا تین ہزار روپے کے بیع صحیح شرعی کی اورباہم یہ وعدہ قرار داد ہےکہ میں جب چاہو ں اس قدر روپے کو یہ جائداد مشتری سے خریدلو ں اسے میرے ہاتھ بیع میں عذر نہ ہوگا تو اس لکھے جانے سے بیع میں اصلا حرج نہیں کہ عقد تو وہی تھا جو ان میں باہم زبانی ہوا اس میں اس شرط کا اصلا ذکر نہ تھا بیعنامہ میں ایك ساتھ تحریر ہونا عقد شرعی کو جوصحیح واقع ہوا فاسد نہیں ہوسکتاہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۰: از ضلع پربھنی صوبہ اورنگ آباد مرسلہ مولوی سید غلام رسول حسین صاحب وکیل ۱۶ رمضان المبارك ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مٹی کی بیع وشراء میں کہ جائز ہے یاناجائز
عــــــہ: یتعلق بہ مسئلۃ التحاق الشرط بعد العقد بالعقد وفیہا قولان مصححان ۱۲ منہ۔
عقد کے بعد شر ط کو عقد کے ساتھ ملحق کرنے کا مسئلہ بھی اس سے متعلق ہے اوراس میں دو مصحح قول ہیں ۱۲ منہ(ت)
#12498 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
درمختارکے بیع فاسد میں تحریر فرماتے ہیں:
بطل بیع مالیس بمالالمال مایمیل الیہ الطبع ویجری فیہ البذل والمنع درر فخرج التراب ونحوہ ۔
جو چیز مال نہیں اس کی بیع باطل ہےاور مال وہ ہے جس کی طرف طبیعت مائل ہو اور اس میں(بطور ہبہ وغیرہ)دینا اور (غیر کو اس میں تصرف سے)منع کرنا جاری ہوتا ہو (درر) چنانچہ مٹی وغیرہ اس تعریف سے خارج ہوگئی۔(ت)
اور بعض مقام میں جیسا کہ مقام پر بھنی میں مٹی کی طرف طبائع مائل ہیں اور اس میں بذل ومنع جاری ہے اور بیع وشراء بھی جاری ہے اور یوما فیوما اس کی قدر وقیمت زیادہ ہوتی جاتی ہےاس صور ت میں مٹی پر مال کی تعریف صادق ا سکتی ہے یانہیں اور اس کی بیع وشراء شرعا جائز ہوسکتی ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
مٹی کہ مال وصالح بیع نہیںوہ تراب قلیل ہے جس میں بذل ومنع نہیں جیسے ایك مٹھی خاکورنہ تراب کثیر خصوصا بعد نقل بلاشبہ مال ہے اور عموما اس کی بیع میں تعامل بلادمٹی کی گاٹھیا چھتو ں پرڈالنے یا گہگل کرنے یا استنجو ں کے ڈھیلو ں کے لئے جگہ بکتی ہےردالمحتارمیں اسی عبارت درمختار پر لکھا:
قولہ فخرج التراب ای القلیل مادام فی محلہ والا فقد یعرض لہ بالنقل مایصیربہ مالامعتبرا ومثلہ الماء ۔
ماتن کے اس قول کہ"مٹی تعریف مال سے خارج ہوگئی"کا مطلب یہ ہے کہ وہ مٹی قلیل ہواور ابھی تك اپنی جگہ پر پڑی ہو ورنہ وہاں سے نقل کرلینے کے بعد وہ مال معتبر بن جاتی ہے۔اورپانی بھی اسی کی مثل ہے۔(ت)
بلکہ زمین خود مٹی ہے اور اس کی بیع قطعا جائزتو مناط وہی تحقق حد مال ہےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۱: از پیلی بھیت محلہ پنجابیا ں متصل مسجد مرسلہ شیخ عبدالعزیز صاحب ۲۲ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۴ھ
بسم الله الرحمن الرحیمکیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مسلم تاجر لٹھہ نے ایك روز قوم ہنود کے تعلقہ دارکے ساتھ بایں شرائط چوب فروش کی کہ جس نمونہ اورپیمائش کی لکڑی
حوالہ / References α درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳
α ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العر بی بیروت ۴/ ۱۰۱
#12499 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
بکر کو درکار ہوگی زید چراکر اپنے مصارف بار برداری سے بذریعہ ریل یا کشتی کے زید اس مال کو بکر کے مکان پرپہنچادے گا اور بکر نے یہ معاہدہ کیا کہ بعد پہنچ جانے اس مال کے تاریخ پہنچنے سے عرصہ تیس یوم میں قیمت اس لکڑی کی بشرح(۱۰ عہ)زید کو ادا کریں گے اورا گر اس عرصہ میں نہ ادا کریں تو قیمت اس کی تین روپیہ کے نرخ سے دیں گےچنانچہ زید نے حسب پیمائش فرمائش بکر کی لکڑی تیار کرکے بکر کو اطلاع دی کہ لکڑی تیار ہے حسب معاہدہ سابق مستری بھیجو کہ پاس کرجائےچنانچہ مستری آیا اور زید کے مکان پر اس لکڑی کو پاس کرکے اپنا نشان اور ٹانچ لگا گیا اور زید نے اس پاس شدہ لکڑی کو اپنے مصارف باربرداری سے بکر کے مکان پر پہنچادیا اوربعد پہنچادینے کے بکر کے ذی اختیار کارکنان کارندگان سے رسید دستخطی حاصل کرلی اس مابین جب تك وصولیابی روپیہ کازمانہ آئے علاقہ بکر میں انتظاما تبدل وتغیر ہوا اور بجائے کارندگان سابق کے دوسرا کارندہ یوروپین سے قائم ہوا اس سے قیمت کا روپیہ طلب کیا گیا اول تو بوجہ ابتدائے انتظام کے اس نے لیت ولعل کیا پھر عرصہ تین چار مہینے بعدا س لکڑی مستری کی پاس شدہ میں سے بقدر ایك ثلث کے ناقص انتخاب کی اور اب کہ بجائے ۳۰ یوم کے معاہدہ کے عرصہ آٹھ سات ماہ کا منقضی ہوتاہے ہنوز قیمت چوب کا روپیہ ادا نہیں ہوا اور طلب پر بکر خود اورنیز اس کا کارندہ جدید جواب دیتے ہیں کہ جس قدر لکڑی ہم نے ناقص برآمد کی ہے واپس لے جاؤ اور باقیماندہ عمدہ مال کی قیمت شرح(۱۰ عہ)کی دی جائے گی کیا ایسی صورت میں جائز ہوگا کہ زید بذریعہ نالش محکمہ جات حکام زمانہ کی امداد سے شرائط فی مابین کے پورے اس مال کی قیمت جس کو بکر کا مستری پاس کرکے نشان دے گیا تھا اور زید نے اس کو بکر کے مکان پر پہنچا کر رسید حاصل کی ہے بشرح(ے)روپیہ کے مع خرچ محکمہ کے وصول کرکے یاحسب خواہش بکرکے عمدہ لکڑی کی قیمت بہ نرخ(۱۰ عہ)کے وصول کرکے ناقص منتخب کی ہوئی لکڑی اپنا دوسرا مصارف خرچ کرکے واپس لائےبیان فرمائیں ثواب پائیں۔فقط
الجواب:
صورت مستفسرہ میں بیع ہی نہ ہوئی کہ یہ لکڑی وقت بیع معدوم وغیر مملوك بائع تھی اور ایسی چیز کہ بیع بے طریق سلم باطل محض ہےدرمختارمیں ہے:
بطل بیع مالیس فی مبلکہ لبطلان بیع المعدوم و مالہ خطرا لعدم الابطریق السلم لانہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نھی عن ییع مالیس عند الانسان ورخص فی السلم
غیر مملوك کی بیع باطل ہے بسبب باطل ہونے اس چیز کی بیع کے جو معدوم ہویا اس کے معدوم ہونے کاخطرہ ہو مگر بطور رسلم اس کی بیع باطل نہیں
حوالہ / References α درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴
#12500 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
اس لئے کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس چیز کی بیع سے منع فرمایا جو آدمی کے پاس نہ ہوا ور بیع سلم میں رخصت دی۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لم ینعقد بیع المعدوم ومالہ خطر العدم کالحمل واللبن فی الضرع ولابیع مالیس مملوکالہ وان مبلکہ بعدہ الا السلم الخ۔
اس چیز کی بیع منعقدنہیں ہوتی جو معدوم ہو یا اس کے معدوم ہونے کا خطرہ ہو جیسے حمل اور تھنو ں کے اندر دودھاور نہیں منعقد اس چیز کی بیع جو بائع کی ملك میں نہ ہواگرچہ بعدمیں اس کا مالك بن جائے سوائے بیع سلم کے الخ(ت)
تو زید وبکر میں باہم کوئی معاہدہ ہی نہیں جس کی بناء پر ایك دوسرے سے کچھ مطالبہ کرسکےزیداپنی لکڑی تمام وکمال واپس لے اور اپنے صرف سے جہا ں چاہے لے جائےہا ں اب از سرنو اس مال موجودہ کی بیع برضائےباہمی جس قیمت پر ہوجائے تو وہ جائز ہوگی اور اس کا مطالبہ ہوسکے گا والله سبحانہ و تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۲: از شاہجہان پور مرسلہ عنایت حسین خاں محلہ ہاتھی تھان ۲۷ ربیع الاخر ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اوپر اس بات کے کہ زید نے پیداوار رس قبل تیار ہونے پیداوار کھیت نیشکر ازروئے تخمینہ واندازہ کے کہ جو بعد چہار ماہ کے اگر الله نے چاہا تو پیدا ہوگا اس مال رس کو زید نے بہ نفع مبلغ(مہ ہہ ۱۲/)ایك سومن بوزن خام بدست بکر کے اس شرط سے فروخت کیا اور فورا زر قیمت پیشگی بیباك کرلیا شرط باہم یہ قرار پائی کہ اگرتخمینہ مذکورہ سے مال رس کم پیدا ہوگا اس وجہ سے کم دیا جائے گا تو فی من خام آدھ آنہ کے جس کے حساب سے ہے سومن خام پر ہوتے ہیںبطریق منافع جس کو عوام الناس گٹے کہتے ہیں بوجہ پیشگی لینے روپیہ کے زید کو مع روپیہ باقی ماندہ کے بکر کو دینا ہوں گے لہذا یہ بیع اور کمی منافع دونوں شرعا مذہب حنفیہ میں جائز ہیں یا کیا درجہ رکھتے ہیںعندالله اجروثواب ہوگا۔
حوالہ / References α ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۵
#12501 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
الجواب:
یہ بیع بھی حرام اور یہ شرط بھی حراماور یہ دام جو اس کمی پر لئے جائیں نرے سود ہیں۔
فان النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نھی عن بیع ما لیس عندہ وعن بیع وشرط والربو ھو الفضل المستحق بالعقد الخالی عن العوض کما فی الہدایۃ و المسائل واضحواللہ تعالی اعلم۔نبی اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس چیز کی بیع سے منع فرمایا جوآدمی کے پاس نہ ہو اور بیع اور شرط سے منع فرمایا اور سود عقد سے ثابت ہونے والی اس زیادتی کو کہتے ہیں جو عوض سے خالی ہو جیسا کہ ہدایہ میں ہےاور یہ تمام مسائل واضح ہیں والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۶۳: از شہر کہنہ مرسلہ مولوی خدایار خاں صاحب ۱صفر ۱۳۱۹ھ
جناب مولانا معظم مکرم دام سالماالسلام علیکم ورحمۃ الله وربرکاتہایك مسلمان شخص کے ہاتھ رس بیچا تھا بہ نرخ(صہ مہ /)فیصدی من یہ شرط ٹھہری تھی کہ بعد ختم بیل ڈیڑھ مہینہ کے اند رجو روپیہ باقی نکلے گا دیں گے اگرنہ دیں گے تو اس کا نرخ(معہ سہ /)کا دیں اور خدا یار کے اوپر ہمارا روپیہ باقی نکلے وہ بھی ڈیڑھ مہینہ کے اندر دیں اگر میعاد میں نہ دیں تو(مہ لہ/)کانرخ لیںسو روپیہ ہمارا نکلا تیرہ سواور میعاد گزرگئیاب نرخ(معہ سہ/)کالینا سود تونہیں ہے یا ہے چونکہ میں آپ سے اکثر اپنے معاملات پوچھ لیتاہوں لہذا اب بھی تصدیعہ دیتاہوں کہ مجھ کو صبح اس کی اطلاع ہوجائے۔زیادہ نیاز خاکسار خدایار تبیتہ الله بالتصدیق والاقرار
الجواب:
یہ شرط فاسدا ور عقد حرام ہے دو۲ وجہ سے:اولا: اس شرط میں احداد العاقدین کی منفعت ہے
وکل شرط کذا فاسد وکل شرط فاسد فہو یفسد البیع وکل بیع فاسد حرام واجب الفسخ علی کل من العاقدین فان لم یفسخا اثما جمیعا وفسخ القاضی بالجبر۔ ہر وہ شرط جو ایسی ہو فاسد ہے اور جو شرط فاسد ہو وہ بیع کو فاسد کردیتی ہے اور ہر فاسد بیع حرام ہے جس کا فسخ کرنا بائع اور مشتری میں سے ہر ایك پر واجب ہے اگر وہ فسخ نہ کریں تو دونوں گنہگار ہوں گے اور قاضی جبرا اس بیع کو فسخ کرائے۔
حوالہ / References α الہدایہ کتاب البیوع باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۰
#12502 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
ثانیا: اس میں جہالت قدر ثمن لازم آئندہ اورخاصہ قمار ہے کہ بائع مشتری کے لئے ایك آئندہ نامعلوم صورت میں کہ خدا جانے کس طرح واقع ہوگی ہارجیت بدی گئی ہے اور قمار بنص قطعی قرآن حرام ہےوالله سبحانہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۴: نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس معاملہ میں کہ زید نے عمرو سے مبلغ(ما لعہ لعہ/)لے کر ایك اقرار نامہ بدیں مضمون تحریر کیا کہ (۱۴۰)چٹے لکڑی پانچ اقساط میں دوں گا منجملہ ان کے صرف ۲۵ چٹے لکڑی دی اور اقرار نامہ مذکور الصدرمیں یہ شرط تحریر کی کہ اگر کسی جانب سے لین دین لکڑی میں انحراف ہو تو پانچ روپیہ فی چٹہ ہرجہ لینے کا ایك دوسرے سے مستحق ہوگاپس عمرو زید سے اس صورت سے ہر جہ تحریری لینے کا شرعا مستحق ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگر لکڑی زیدکے پاس اس وقت موجود نہ تھی تو یہ بیع حرام وباطل ہوئیعمرو پر لازم ہے کہ یہ ۲۵ چٹے بھی زیدکو واپس دے اور زید پر لازم کہ پورے(ما لعہ لعہ/)عمرو کو پھیردے اور اگر لکڑی موجود معین بیچی اور پھر اس میں سے ۱۱۵ چٹے مشتری کونہ دی تو زید پر فرض ہے کہ اب دے دے اور اگر وہ لکڑی دوسری جگہ بیچ ڈالی ہے تو زید سخت گنہگار ہوا اور عمرو اپنی لکڑی اس دوسرے مشتری سے واپس لے سکتاہے اور اگر پتہ نہ چلے تو ۱۱۵ چٹے کے جو دام بازار کے بھاؤ سے ہوئے عمرو زید سے لےبہرحال ہرجہ لینے کا کسی صورت میں اختیارنہیںنہ وہ شرط اقرارنامہ اصلا قابل قبول۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۵: ۲۲ محرم الحرام ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھال مردہ کا بیچنا جائزہے یانہیں اور ہڈی بیچنا جائز ہے یانہیں بعض عالم کہتے ہیں جائز نہیں ہے اور بعض کہتے ہیں جائز ہے۔بینوا توجروا
الجواب:
کھال اگر پکاکر یا دھوپ میں سکھاکر دباغت کرلی جائے تو بیچنا جائز ہے لطھارتہ و حل الانتفاع(بسبب اس کی طہارت کے اور حلال ہونے اس سے نفع حاصل کرنے کے۔ت)ورنہ حرام وباطل ہے لانہ جزء میتۃ وبیع المیتۃ باطل(اس لئے کہ وہ مردار کی جزء ہے اور مردار کی بیع باطل ہے۔ت)ہڈی پر اگر دسومت نہ ہو خشك ہو تو اس کی بیع جائز ہے لما تقدم
#12503 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
لان الحیاۃ لاتحلہ(اس وجہ سے جو پہلے گزر چکی ہے کیونکہ حیات اس میں سرایت نہیں کرتی۔ت)اورا ن احکام سے خنزیر مستثنی ہے اس کی کھال یا ہڈی کسی حال میں اصلا خرید وفروخت یا کسی قسم کے انتفاع کے قابل نہیں لنجاسۃ عینہا(اس کے نجس عین ہونے کی وجہ سے۔ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۶۶: مرسلہ محمد بشیر الدین طالبعلم مدرسہ امداد العلوم محلہ بانسمنڈی کانپور ۲۹صفر ۱۳۳۰ھ
کوئی شخص زندہ گائے یا بکری وغیرہ کی کھال چھوڑ کر صاف گوشت خریدے ذبح کرنے کے بعد دس بارہ آدمی مل کر تقسیم کرکے کھائیں اس صورت میں بیع کیسی ہے اور گوشت کھانا حلال ہے یا حرام بینوا توجروا
الجواب:
بیع فاسد ہے اور وہ کھانا حرام۔
والوجہ ظاہر فھو کجذع فی سقف بل اشد قال فی الدر فی السراج لوسلم الصوف والبن بعد العقد لم ینقلب صحیحا وکذا کل ما اتصالہ خلقی کجلد حیوان ونوی تمر وبزر بطیخ واللہ تعالی اعلم۔ اس کی وجہ ظاہر ہے تو وہ چھت میں لگی ہوئی شہتیر کی مانند ہے بلکہ اس سے بھی سخت تردر میں فرمایا کہ سراج میں ہے اگر عقد کے بعد اون اور دودھ مشتری کو سونپ بھی دیا تب بھی بیع صحیح نہ ہوگی اور ایسے ہی ہےہر وہ چیز جس کا اتصال پیدائشی طورپر ہے جیسے حیوان کی کھالکھجور کی گٹھلی اور تربوز کا بیچوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۶۷ تا ۶۸: از جاورہ ملك مالوہ مسئولہ جناب سید مقبول عیسی صاحب ۱۴ جمادی الآخر ۱۳۱۰ھ
(۱)مسماۃ زینب سے زید نے اس شرط پر نکاح کیا اور ایك دستاویز کا بین نامہ بھی اس مضمون کی لکھ دی کہ جو زینب کو بالعوض دین مہر مبلغ پچاس ہزار روپے اور دو اشرفی کے اپنے نکاح میں لایا ہوں اور بالعوض اس دین مہر جو دوقطعے مکانات نصف نصف حصہ خو د مع حدود اربعہ ہیں زینب کو دین مہر میں دے دیئے اور جو آئندہ جائداد منقولہ و
حوالہ / References α درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴
#12504 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
غیرہ منقولہ میں اپنے قوت بازو سے پیدا کروں گا اس کی مالك بھی عوض اس دین مہر کے منکوحہ رہے گی اور بشرط نااتفاقی جمیع جائداد منقولہ و غیر منقولہ کی مالك منکوحہ ہے اس جائداد میں میرا اور میرے خویش واقارب کا کسی طرح سے دعوی نہ ہوگا بعد ازاں ایك مدت کے زید نے اور جائداد منقولہ وغیر منقولہ اپنے قوت بازو سے پیدا کی وہ بھی جائداد منقولہ وغیرہ منقولہ بموجب شرائط کا بین نامہ زینب کو دے کر نصف قبضہ کرادیااندریں صورت مالك جمیع جائداد کی زینب قرار پاسکتی ہے یازید اور جو شے دین مہر میں اس صورت سے دے دی جائے کیا قبضہ لازم ہوگااور بلاقبضہ ہو تو کیاحکم ہے
(۲)بعد دو چار برس کے منجملہ جائداد مذکورہ ایك مکان میں کرایہ دار رہتاتھا وہ مالك بن گیازید نے اپنے نام نالش کرکے قبضہ لیا اور زینب کو دیا یا نہ دیا اور دیگر شخص نے زید پر نالش کرکے اس مکان کو حراج کرایا اب اس مکان کی دعویدار زینب ہوئی اور زید کو اقرار ہے کہ اندریں صورت اس مکان کی مالك زینب ہوسکتی ہے یانہیں
الجواب:
(۱)دین مہر کے عوض دینا ہبہ بالعوض ہے اور ہبہ بالعوض اور بیع میں قبضہ شرط نہیں۔
فی الدرالمختار لوقال وھبتك بکذا فہو بیع ابتداء وانتہاء ۔
درمختار میں ہے کہ اگر کسی نے کہا میں نے انتے کے بدلے تجھے ہبہ کیا ہے تو یہ ابتداء اور انتہاء بیع ہے۔(ت)
مگر یہ کابین نامہ جو زید نے لکھا اس میں دو قطعہ مکان بعوض دین مہر دئیے ہیں اور یہ شر ط کی ہے کہ آئندہ جو حاصل کرے وہ بھی بعوض دین مہر ملك زوجہ ہوا اور بحال نااتفاقی تمام وکمال کی مالك ہویہ دونوں شرطیں باطل ہیںاس باطل کی بناء پر جو بعد کی جائداد زید نے زینب کو دی وہ زینب کی ملك نہ ہوئی اگر چہ ہزار قبضہ کرادیا ہو فان المبنی علی الباطل باطل والباطل لا حکم لہ(اس لئے کہ جو باطل پر مبنی ہو وہ باطل ہوتاہے اور باطل کا کوئی حکم نہیں۔ت)وہ بوجہ شرط فاسد بیع فاسد ہےزید وزینب پر واجب ہے کہ اس بیع کو فسخ کریں مکان زید کو وپس دئے جائیں مہر زینب کا ذمہ دار زید ہے جبکہ وہ مکان قبضہ وملك زینب میں ہنوز موجود ہیں اوراگرزینب ان کو کسی اور کے ہاتھ بیع صحیح یاہبہ وا وقف یا وصیت یا رہن کرچکی تو اب مکانوں کی واپس نہ ہوگی
حوالہ / References α درمختار کتاب الہبہ باب الرجوع فی الہبہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۴
#12505 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
مگر مہر میں سے اتناہی ساقط ہوجتنے کی مالیت وہ مکان برنرخ بازارہوں باقی مہرذمہ زید رہا(۲)اگر وہ مکان بعد کی جائداد میں تھا جب تو ظاہر ہے کہ زینب اس کی مابلکہ ہی نہی تھی زید کا اقرار اپنے اسی شرط کی بناء پر ہے اور باطل کی بناء پر جو اقرار ہو باطل ہے کما فی الاشباہ والدروغیرھما(جیسا کہ اشباہ اور دروغیرہ میں ہے۔ت)اور اگر وہ ان دونوں مکانوں میں سے تھا جو وقت نکاح مہر میں دئیے تو ہم بیان کرچکے کہ وہ بیع فاسد واجب الفسخ تھی اورزینب کا اسے کرایہ پر دینا مانع فسخ تھا۔
فی الدرالمختار ان باعہ المشتری فاسدا بیعا صحیحا باتا لغیر بائعہ اووھبہ وسلماو وقفہ وقفا صحیحا الفاسد فی جمیع مامروا امتنع الفسخ لتعلق حق العبد بہ وکذا کل تصرف قولی غیر اجازۃ ونکاح ۔
درمختار میں ہے اگر بیع فاسد کے مشتری نے مبیع فاسد کو غیر بائع کے ہاتھ بیع صحیح تام کے ساتھ فروخت کردیایا ہبہ کرکے قبضہ دے دیا یا وقف صحیح کے ساتھ وقف کردیا یا اسی کو کسی کے پاس رہن رکھ دیا یا کسی کے لئے اس مبیع فاسد کی وصیت کردی یا صدقہ کردیا تو ان تمام تصرفات مذکورہ میں وہ بیع فاسد نافذ ہوجائے گی اور فسخ ممتنع ہوجائے گا بسبب حق عبد کے اس کے ساتھ متلعق ہونے کےاور یہی حکم ہے تمام تصرفات قولی کا سوائے اجارہ اورنکاح کے۔(ملتقطا)۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لان الاجارۃ تفسخ بالاعذار ورفع الفساد من الاعذار ۔
اس لئے کہ اجارہ عذروں کی وجہ سے فسخ ہوجاتاہے اور فسخ فساد بھی عذروں میں سے ایك عذر ہے۔(ت)
اب کہ زید نے اسے اپنی ملك ٹھہرا کر دعوی کیا اورڈگری پائییہ اس بیع فاسد کا فسخ ہوگیا مکان زید کوواپس آگیا اور زینب کا مہر اس پر رہا پھر زید اس اسے دے دینا اگر وہی بربنائے سابق ہو جب تو باطل وبے سود ہے اور اب قبضہ زینب سے بھی ملك نہ ہوگی کہ اس وقت تك بیع فاسد تھی اب بعد فسخ باطل ہوگئیہاں اگر اس بناء پر نہ ہو بلکہ اپنی طرف سے ہبہ مستقل کرکے زینب کو قابض کردیا ہو تو زینب مالك ہوگئی جبکہ وہ نصف قطعہ مشاع نہ ہووالله تعالی اعلم۔
حوالہ / References α درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۹۔۲۸
α ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲۷
#12506 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
مسئلہ ۶۹: از سرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۲رجب ۱۳۳۱ھ
عمرو کی مسجد میں یہ قاعدہ ہے کہ جو درخت مسجد میں ہیں ان کی سوکھی لکڑی گری ہوئی کمہار ہمیشہ خرچ میں لاتا ہےہمیشہ کے لئے لوٹے گھڑے کمہار کے خرچ کودیتاہے۔
الجواب:
یہ عقد بوجہ مجہول ہونے کے ناجائز ہے۔نہیں معلوم کتنی لکڑی گرے گینہیں معلوم کتنے لوٹوں کی حاجت ہوگیہاں اگریوں ہو کہ اتنی لکڑی کے عوض اتنے لوٹےتو جائز ہوگاوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۰ تا ۷۱: مسئولہ حافظ محمد آمین صاحب از قصبہ نجیب آباد ضلع بجنور محلہ پٹھان ۲۵ محرم ۱۳۳۲ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص کسی کامال چوری کرکے لایاا ور اس نے اس مال کو فروخت کرنا چاہا تو جس شخص کو معلوم ہوچکا ہے کہ یہ مال چوری کا ہے پھر بھی اس کو خریدتاہے تو اس کے لئے وہ خریدنا جائز ہے یانہیں اور جو شخص لاعلمی میں ایسا مال مسروقہ خریدلے تو کیاحکم ہے اور بعد خرید لینے کے معلوم ہوجائے کہ یہ مال چوری کا تھا جب کیاحکم ہے
(۲)ایك شخص پندرہ بیس برس سے کسی محکمہ میں ملازم ہے اور وہ نوکری کا استعفاء دے کر حج بیت الله شریف کا جاتاہے دوسرا شخص یہ چاہتاہے کہ تم استعفا ء مت دو بلکہ بذریعہ درخواست بجائے اپنے مجھ کوقائم کردو اور مجھ سے پچاس روپےلے لوتو یہ روپیہ لینا سابقہ ملازم کے واسطے درست ہے یانہیں
الجواب:
(۱)چوری کا مال دانستہ خریدناحرام ہے بلکہ اگر معلوم نہ ہو مظنون ہو جب بھی حرام ہے مثلا کوئی جاہل شخص کو اس کے مورثین بھی جاہل تھے کوئی علمی کتاب بیچنے کو لائے اور اپنی ملك بتائے اس کے خریدنے کی اجازت نہیں اور اگر نہ معلوم ہے نہ کوئی واضح قرینہ تو خریداری جائز ہےپھر اگر ثابت ہوجائے کہ یہ چوری کا مال ہے تو اس کااستعمال حرام ہے بلکہ ملاك کو دیا جائے اور وہ نہ ہو تو اس کے وارثوں کواور ان کا بھی پتہ نہ چل سکے تو فقراء کووالله تعالی اعلم۔
(۲)یہ مسئلہ بہت مشتبہ ہے اور اختلاف کثیر ہیں اورنظائر متشابہ ہیں اور احتراز اولی ہےانظرردالمحتار من اول البیوع(رد المحتار میں کتاب البیوع کے شروع میں دیکھئے۔ت)والله تعالی اعلم۔
#12507 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
مسئلہ ۷۲: از قصبہ نیٹھور ضلع بجنور محلہ سادات مرسلہ سید شاہد حسین انسپکٹر پنشنر ۲۹ محرم ۱۳۳۲ھ
جناب عالی! نہایت ادب سے گزراش ہے کہ میں نے ایك مولوی صاحب سے ذریعہ تحریر بابت پرامیسیر نوٹ ۵مسئلے دریافت کئے تویہ جواب آیا جو ملاحظہ کے لئے ارسال کرتاہوں اور نیٹھور کے مدرسہ اسلامیہ کے حامد حسین مولوی صاحب سے دریافت کیا تو فرمایا کہ ہدایہ کتاب الزکوۃ میں تحریر ہے کہ جوروپیہ ملك میں ہو یا کسی کو امانت یاقرض دے رکھا ہو اور اس کے ملنے کی امید ہو چاہے مدیون مقر ہو یا مفلس یا منکرمگر منکر کی صورت میں داین کے پاس اپنے قرض کی پکی سند ہو مثلا معتبر گواہ یا مدیون کا اقرار نامہ ہو تو ایسے قرض کی زکوۃ مالك کے ذمہ واجب ہےمالك روپیہ مذکور مدیون یا امانت دار سے لے کر قبضہ کرے یا نہ کرےاب عرض یہ ہے کہ پرامیسری نوٹ کا روپیہ مردہ نہیں ہے البتہ اس قدر ضرور بے قابو ہے کہ ضرورت کے وقت مالك کو نہیں مل سکتا جب گورنمنٹ کے اعلان پر کوئی جدید خریدار پیدا ہو اس وقت روپیہ مالك کو ملك جائے گا اب اس کے واسطے جس قدر زمانہ گزرے یہ قاعدہ گویا ایسا ہے جیسے کہ کسی کارخانہ یا کمپنی میں حصے فروخت ہوں اور کوئی شخص اول حصہ جات کو خرید لے اب اگر حصہ دار اپنا روپیہ کارخانہ یاکمپنی سے واپس لینا چاہے تو اس کو اس وقت تك روپیہ نہیں مل سکتا جب تك کہ ان حصوں کاخریدار پیدا نہ ہوں خواہ کسی قدر زمانہ گزر جائے البتہ منافع مقررہ ملتارہے گا اب براہ کرم وبندہ نوازی کے جواب شافی مرحمت فرمائے ۶ پائی کا ٹکٹ جوا ب کے لئے ارسال ہے بحث صرف پرامیسری نوٹ کی بابت ہے سیونگ بنك کا جواب نہیں چاہتا۔زیادہ حدادب!
حاضرالوقت حسین احمد دست بستہ سلاعم عرض کرتاہے یہ سید صاحب بہت ہی شش وپنج میں مبتلا ہیں ان کی تسلی فرمادیجئے گا از راہ کرم۔فقط
الجواب:
پرامیسیر نوٹ کا روپیہ گورنمنٹ کبھی واپس نہیں دیتی ہے خریدارپیدا ہونے پر اگر یہ بیع کرے گا توخریدار سے روپیہ لے گا گورنمنٹ کے یہاں سود دینے کے لئے اس کے نام کی جگہ خریدار کانام قائم ہوجائے گایہ اس قرض کا واپس ملنا نہ ہواقرض ملتا تو گورنمنٹ سے ملتا نہ کہ خریدار سےتو وہ قرض یقینا مردہ ہےاور یہ کہ ملتا ہے غیر مدیوں کے ہاتھ دین کی بیع سے ملتاہےوہ بیع ناجائزوفاسد و حرام ہےمگر جبکہ خریدار کو مدیون سے اس کا قبضہ لینے پر مسلط کرے اشباہ میں ہے:
لایجوز بیع الدین ممن لیس علیہ الدین الا اذاسلطہ علی قبضۃ ۔
غیرمدیون کے ہاتھ دین فروخت کرنا جائز نہیں مگر اس وقت جائز ہے جب اس کو
حوالہ / References α الاشباہ والنظائر الفن الثانی ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۴۱
#12508 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
قبضہ پر مسلط کرے۔(ت)
اوریہاں قبضہ پر مسلط کرنا ناممکن ہے کہ سو خریدار بدلیں گورنمنٹ وہ روپیہ کسی کو نہ دے گی سود دیتی رہے گیتویہ روپیہ قطعا اجماعا حرام محض بیچنا حرام روپیہ لینا حرام او رلے لیا ہو تو واپس دینا فرض ہے پھر اس روپیہ سے کون سے اتنفاع کا امکان ہوا۔اوریہی معنی قرض مردہ کےہوں کہ ملك ہوا اور انتفاع پر قدرت نہ ہولہذا حکم وہی ہے جو فتوی اول میں لکھا گیاوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۳: از ریاست رامپور محلہ گھیرپورن سنگھ متصل قبرستان مسجد ۱۲ع مرسلہ محمد عبدالقادر صفر ۱۳۳۲ھ
ماقولکم رحمکم اللہ تعالی فی ھذہ المسئلۃ(اس مسئلہ کے بارے میں تمھارا کیاا رشاد ہے الله تعالی تم پر رحم فرمائے۔ ت) زید نے نوآنے قیمت کے ایك ٹکٹ نو۹/ آنے سے لے کر سرکار میں داخل کیا بعد ازاں سرکار نے اسی زید سے سوا روپیہ لے کر اس کو چارٹکٹ اور دے دئےبعد اس کے زید نے وہی چار ٹکٹ وہی سواروپیہ بیچ کر پھر سرکار میں داخل کیابعد روپیہ داخل کرنے کے سرکار نے اسی روپیہ کے دو فی قیمت کا ایك کپڑا زید کو دے دیا اب یہ معاملہ مطابق شرح شریعت کے جائز ہے یانہیں اور اس کپڑا سے نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا بالدلائل وحوالۃ الکتب(دلائل و حوالہ کتب کے ساتھ بیان کرو اجردئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
یہ صورت شرعا باطل وناجائز ہے کہ وہ ٹکٹ جو اس کے ہاتھ بیچا جاتاہے اور یہ دوسروں کے ہاتھ بیچتا ہے اصلا مال نہیں تو رکن بیع کہ مبادلۃ المال بالمال ہے اس میں متحقق نہیں اس کی حالت مٹی سے بھی بدتر ہے مٹی پر بھی کام آتی ہےاوریہ کسی مصرف کا نہیں سوائے اس کے کہ احمق پہلے اپنا گلا پھانسے پھر اس کے چھڑانے کو اپنے سے چاراحمق اور تلاش کرے اور ان میں ہر ایك کو چار چار ڈھونڈتا پڑیں اوریہ سلسلہ بڑھتا رہے یا بعض احمقوں کے خسارہ پر ختم ہوجائےہاں وہ کپڑا کہ اسے ملا وہ معاوضہ نہیں ہوتا بلکہ بطور انعام دیا جاتاہے تو وہ فی نفسہ اس کے لئے جائز اور اس سے نماز درست ہے ۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۴: مسئولہ محمد سلیمان شاہجہان پورکیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اس شہر میں جس قدر افتادہ
حوالہ / References α الاشباہ والنظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۲۱۳
#12509 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
زمین مکانات سے باہر گلیوں کوچوں میں ہے سب سرکار نے ضبط کرلی ہے پبلك کو مکان بنانا دیوار بنانی منع کردیا ہےاب اگر دوسرا پڑوسی زمین مقبوضہ کو سرکارسے خرید کر مکان بنالےجائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
اگر وہ افتادہ زمین غیر مملوکہ تھی جسے شرع میں"عادی الارض"عرف حال میں"سرکاری زمین"کہتے ہیں تو خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۵: از اودے پور میواڑ مہارانا ہائی اسکول مسئولہ وزیر احمد مدرس مسلمان کو ہندو مردہ جلانے کے لئے لکڑیاں بیچنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
لکڑیاں بیچنے میں حرج نہیں لان المعصیۃ لاتقوم بعینہا(کیونکہ معصیت اس کے عین کے ساتھ قائم نہیں ہوتی۔ ت)مگر جلانے میں اعانت کی نیت نہ کرے اپنا ایك مال بیچے اور دام لے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۶: از شہر محلہ سوداگراں مسئولہ حافظ مولوی محمد حشمت علی صاحب رضوی مدرسہ منظر اسلام ۱۵صفر ۱۳۳۹ھ
الی اعلیحضرت سیدنا وسید اھل السنت والجماعت مجدد المائۃ الحاضرۃ مدظلہم الاقدس السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ بعد لثم عتبتکم القدسیۃ ماتقول الشریعۃ الحنفیۃ الحنفاء فی ھذہ المسئلۃ ھل یجوز مبایعۃ الحشیش الذی یقال لہ فی الھندیۃ بھنگ
بخدمت جناب اعلحضرتہمارے اور اہلسنت وجماعت کے سردارموجودہ صدی کے مجددجناب کا سایہ مقدس دراز ہو آپ پر سلام اور الله کی رحمت وبرکت ہوجناب ولا کی پاکیزہ چوکھٹ کے بوسہ کے بعد گزارش ہے کہ شریعت مطہر حنفیہ اس مسئلہ میں کیا فرماتی ہے کہ کیا حشیش جس کوہندی میں بھنگ کہاجاتاہےکی بیع جائز ہے
الجواب:
یجوز للدواء وان ظن انہ یتعاطاہ للتفتیر لایحل البیع منہ لقیام المعصیۃ بہ بعینہ۔واللہ تعالی اعلم۔
دوا کے لئے جائز ہے اور اگر گمان غالب ہو کہ وہ اس کو نشہ کےلئے استعمال کرے گا تو ایسے
#12510 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
شخص کے ہاتھ بیع کرنا حلال نہیں کیونکہ معصیت بعینہ اس کے ساتھ قائم ہوتی ہےوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۷۷: از ریاست رامپور یکم ذی القعدہ ۱۳۳۸ھکیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی حقیت اپنی زوجہ کے نام بعوض دس ہزار روپے اور حقوق زوجیت بیع قطعی کی جائداد پر عورت کا قبضہ ہے اور عاقدین میں کوئی نزاع نہیں شخص ثالث جو بائع کا ڈگری دار ہے اس بیع کو کالعدم قرار دیتاہے کچہری سے تجویز ہوجانے پر جزوثمن یعنی حقوق زوجیت ثمن ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے لہذا بیع باطل ہےسوال یہ ہے کہ حقوق زوجیت نان نفقہ قرار پاکر بھی مال ہوسکتے ہیں یانہیں ایسی بیع باطل ہے یاصحیح یا فاسد اور اگر کوئی بیع ایسی دو چیزوں کے معاوضہ میں ہوجن میں سے ایك پاك نہ ہوسکتی ہو تو بقیہ جز کے اعتبار سے بیع صحیح ہوسکتی ہے
الجواب:
حقوق زوجیت کہ ثمن قرار دئے گئے مال ہیں یعنی مہر ونفقہ وکسوتدرمختارمیں ہے:
یسقط الخلع کل حق متعلق بذلك النکاح ۔
خلع ہر ایسے حق کو ساقط کردیتاہے جواس نکاح سے متعلق ہوتاہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
شمل المہر والنفقۃ المفروضۃ و الماضیۃ والکسوۃ کذلك ۔
یہ حکم شامل ہے مہرنفقہ مقررہنفقہ گزشتہ اور اسی طرح لباس کو۔(ت)
تو اس بیع کے انعقاد میں شك نہیں پھر اگر حقوق ثابتہ معلومہ ہیں تو بیع صحیح ہے اور اگر یہ مراد ہو کہ آئندہ نفقہ سے بھی اس کے عوض برائت ہو تو بیع فاسد ہے لانہ شرط فاسد فیہ نفع احد العاقدین فیفسد البیع(کیونکہ یہ شرط فاسد ہے جس میں متعاقدین بائع ومشتری میں سے ایك کانفع ہے لہذا بیع فاسد ہوگی۔ت)اور بیع فاسد میں بھی بعد قبضہ ملك مشتری ثابت ہوجاتی ہے اگر چہ ملك خبیث ہے کما نصوا علیہ قاطبۃ(جیساکہ اس پر تمام فقہاء نے نص کی ہے۔ت)دوسرے سوال کو یہاں سے تعلق نہ رہا کہ حقوق زوجیت مال ہیںوالله تعالی اعلم۔
حوالہ / References α درمختار کتاب الطلاق باب الخلع مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۴۷
α ردالمحتار کتاب الطلاق باب الخلع داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/۵۶۵
#12511 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
مسئلہ ۷۸: از دھامن گاؤں ضلع امراوتیبرار معرفت حاجی محمد عثمان ٹمبر مرچنٹ مسئولہ ضیاء الدین ۱۱رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ دوشخض اپس میں سوداکرتے ہیں مثلا ایك دوسرے سے ایك قسم کی لکڑی خریدتاہے کہ اس وقت اس لکڑی کی قیمت فی عدد تین روپے ہےاب دونوں میں یہ شرط ٹھہری ہے کہ فلاں تاریخ اس قسم کی لکڑی کئی سو عدد ہونا اگر اس قیمت معین پر لکڑی نہ دے گا تو اس وقت کے بھاؤ کے موافق روپیہ لے لوں گا مہنگا ہو یاسستہاور بیچنے والا بھی راضی ہوکر قبول کرلیتاہے اور لکڑی کے سب دام پہلے سے لیتاہے اس بیع پر شرط مطہر کا کیاحکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
یہ بیع حرام ہے کہ نرخ وقت کے حساب سے روپیہ لے لینے کی شرط بوجہ جہالت شرط فاسد ہے اور شرط فاسد سے بیع فاسد ہوتی ہے اور بیع فاسد حرام ومثل ربو ہے کما فی الدرالمختار وغیرہ(جیسا کہ درمختارمیں ہے۔ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۷۹: از چوك لکھنومدرسہ فرقانیہ مرسلہ حافظ شیخ اکرام الدین رضوی ۲۷ جمادی ا لاولی ۱۳۳۶ھ
چہ می فرمایند علمائے دین درصحت بیع افیون و بنگ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین افیون اور بھنگ کی صحت کے بارے میں (ت)
الجواب:
صحت چیزے دیگر ست وجواز بمعنی حل دیگر اینہا اگر چہ تاحد سکر حرام است فاما ہمچو خمر وخنزیر از تقوم برنیفتادہ است و چوں بیع برمال متقوم مقدورالتسلیم وارد شود صحیح بود گو حرام باشد پس صحت درینہا مطلق ست وگربرائے تداوی از بیرون بدن می خواہد میخواہد بمعنی حل نیز باشد وگربرائے معصیت میخواہد روانیست قال تعالی" و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪- " ۔واللہ صحت اور چیز ہے اور جوازبمعنی حل دوسری چیزمذکورہ اشیاء یعنی افیون اور بھنگ جب نشہ کی حد تك پہنچ جائیں تو اگرچہ حرام ہیں مگر متقوم ہونے سے خارج نہیں ہوتیںجیسے شراب اور خنزیر متقوم ہونے سے خارج ہوتے ہیں تو بیع مال متقوم مقدورالتسلیم پر وارد ہوتو صحیح ہوتی ہے اگرچہ حرام ہو لہذا صحت تو ان میں مطلق ہے اور اگر بیرون بد ن ان میں سے علاج معالجہ مطلوب ہو تو جواز بمعنی حل بھی ہوگا اور اگر معصیت کے لئے ان کی
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۲
#12512 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
بیع مطلوب ہو تو جائز نہیں۔الله تعالی نے فرمایا گناہ اور ظلم پر تعاون مت کرو۔والله تعالی اعلم۔(ت) والله تعالی اعلم
مسئلہ ۸۰: از ضلع سلمپور موضع سگو ڈاکخانہ سگومولوی محمد حیات بروز یکشنبہ ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ علمائے دین ومفتیان شرع متین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں جوکہ جانور حلال مرجائے اس کو مسلمان بکری کرکے اپنی ضرورت پوری کرنی جائز ہے یانہیں
الجواب:
جو جانور مردا ر ہوگیا بغیر ذبح شرعی کے مرگیا اس کا بیچنا حرام ہے اور اس کے دام حرام والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۱: مسئولہ عبدالرحیم وخدابخش بریلی محلہ اعظم نگر ۱۵ جمادی الاول ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك قبرستان جو ایك مدت سے ہندوؤں کے قبضے میں تھا حکیم مظاہر الاسلام کے والد نے اس کو بہ کوشش اہل محلہ کچہری کے ذریعہ سے ہندوؤں سے واپس لیا بعد مرگ مظاہر الاسلام رحیم بخش بہشتی نے بہت کم قیمت کو زوجہ مظاہر الاسلام نے خرید لیا اور ایك بیعنامہ موروثی زمین قرار دے کر لکھا لیا کسی اہل محلہ کو معلوم بھی نہ ہوا رحیم بخش جانتا تھا کہ قبرستان ہے مگر نفع کے خیال سے خرید لیاآیا یہ خریدوفروخت قبرستان جائز ہے یا حرام اور اہل محلہ اس قبرستان کو رحیم بخش کے ہاتھ سے قیمت دے کر چھڑائیں یا بغیر قیمتاوراگر نہ چھڑائیں تو شرعی مواخذہ وپکڑ ہے یانہیں اور رحیم بخش کو اصلی قیمت لینا چاہئے یاجو بیعنامہ میں لکھی ہے یا زیادہاور اگر قیمت لیں تو مواخذہ شرعی ہوگا یانہیں بینواتوجروا
الجواب:
رحیم بخش پر فرض ہے کہ قبرستان کو فورا فورا بلا قیمت چھوڑ دےاگرنہ چھوڑے گا تو روز قیامت اس کا عذاب یہ ہے کہ اسے تکلیف دی جائے گی کہ زمین کا اتنا ٹکڑا ساتوں طبقوں تك کھودے اور پھر وہ کروڑہا کروڑ من پہاڑ اس کے گلہ میں طوق ڈالے جائیںاس پر اگر ایك کوڑی قیمت لے گا تو اس کے لئے جہنم کی آگ ہےاہل محلہ پر فرض ہے کہ ہر جائز کوشش سے قبرستان کو بلا قیمت اس کے قبضہ ظلم سے چھڑائیں اگر مجبور ہوں اور بے قیمت نہ چھوٹ سکے تو یہ قیمت دے سکتے ہیں مگر اس کا لینا اسے سور کی مثل ہوگاا ور خواہ اصلی لے یا بیعنامہ کیکم یا زیادہ ہر طرح حرام قطعی ہےہاں اس نے جو قیمت زوجہ مظاہر الاسلام کو دی وہ اس عورت پر حرام قطعی ہےوہ رحیم بخش کو واپس دے مگر رحیم بخش اس کی واپسی پر قبرستان کو روك نہیں سکتا اسے فورا بلا قیمت واگزاشت کردے خواہ اسے عورت سے واپس ملے یا
#12513 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
نہ ملے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۲ تا ۸۴: از سورت محلہ سید واڑہ سید عبدالقادر سید حسن واعظ بروز شنبہ بتاریخ ۶صفر المظفر ۱۳۲۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك قصبہ مسلمانوں میں دوفریق ہوگئے تھے اس پر سے شہر سورت میں سے دوتین شخص کو مذکورہ قصبہ والے لے گئے اور انھوں نے دونوں کو ایك جگہ جمع کیا اور جس کا قصور رپایا ان سے کہا کہ تم مقابل فریق سے اپنا قصور معاف کراؤتو انھوں نے مقابل فریق سے قصور کی معافی چاہیبعد میں جو شخص سورت گئے تھے انھوں نے اپنے پیسے سے شیرینی منگواہی اور مجلس میں تقسیم کردی اس میں سے ایك شخص نے وہ شیرینی نہ لی اور کہا کہ تم بکری فروخت کرنے کے دلال ہو تو تمھارے مکان کا پانیکھانا اور شیرینی چار مذہب میں حرام ہےتو کہنے والا گنہگار ہے یانہیں(۱)سورت میں لوگ اپنی بکری وکیلوں پر روانہ کرتے ہیں اس شرط پر کہ تم اس کو بیچو اور اس کی قیمت ہم کو پوری اداکردو نفع ونقصان وکیل کے ذمہ اور دلالی کا روپیہ فی صدی دوروپیہ لے لویہ درست ہے یانہیں
(۲)ایسی کمائی ہو مسلمان کی تو اس کے گھر کاکھانا درست ہے یانہیں
(۳)بے پڑھا فتوی دےدے کہ چار مذہب میں حرام تو اس کا کیاحکم ہے
الجواب:
(۱)اس عبارت سے یہ مفہوم ہتاہے کہ وہ لوگ ایك قیمت معین کردیتے ہیں کہ اتنے دام ہم کو بھیج دو خواہ تم کم کو بیچو یا زیادہ کواو ران داموں میں سے دو روپیہ فیصدی اپنی دلالی کے لے لواگر یہی صورت ہے تو بلاشبہ فریقین کو ناجائز ہے مؤکلوں کو بھی اور وکلاء کو بھی ایسی صورت میں اس شخص کا اعتراض بیجا نہ تھا اگر چہ لفظ زائد کہےوالله تعالی اعلم۔
(۲)اس میں تفصیل بہت ہے اور اجمال یہ ہے جو سیدنا امام محمدرضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا:
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ ھندیۃ عن الذخیرہ۔
ہم اسی کو لیتے ہیں جب تك کسی معین چیز کا حرام ہونا ہمیں معلوم نہ ہوجائےہندیہ بحوالہ ذخیرہ۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
#12514 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
یعنی جب تك معلوم نہ ہو کہ یہ شے جو ہمارے پاس آئی خاص حرام ہے اس وقت تك اس کے کھانے پینے میں حرج نہیںوالله تعالی اعلم۔
(۳)اس کا جواب اوپر گزرا کہ اگر صورت وہی تھی تو بلاشبہ حرام ہےبے پڑھے کہ جو حکم شرعی سناہے بہ تحقیق معلوم ہے اس کے بیان میں حرج نہیں اگر چہ جرأت نہ کرنا ہی اس کے لئے بہترہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۵: مسئولہ الہ داد خان صاحب محرر مدرسہ اہلسنت بروز جمعہ بتاریخ ۱۲ذی القعدہ ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنا مکان ایك ہزار روپیہ یا کچھ کم وبیش کا دو سویا تین سو روپے میں عمرو کے ہاتھ فروکت کیا اور اسی وقت یا بعد کو عمرو سے ایك اقرار نامہ علیحدہ لکھوالیا کہ دوبرس یا چار برس یا پانچ برس میں یہ مکان میرے ہاتھ فروخت کردینا جس قیمت میں مجھ سے خریداہےا ور زید اس مکان میں خود رہا اورکچھ ماہواری باہم تصفیہ ہوکرزید نے مقرر کردیایہ جائز ہے یانہیں
الجواب:
اگرعقد بیع میں یہ شرط نہ تھی عقد صحیح بروجہ شرعی خالی عن الشروط الفاسدہ تھا نہ پہلے سے باہم یہ قرارداد ہوکر اسی بناء پر وہ بیع ہوسکتی تو بیع جائز ہے اور بائع کا بعد بیع اس میں مشتری سے کرایہ ٹھہراکرکرایہ پر رہنا اورمشتری کو ماہوار مقررشدہ دینا جائز ہے اور اگر عقد بیع میں یہ شرط کی یا بیع میں تو اس کا ذکر نہ تھا مگر پہلے سے باہم قرداد ہوئی تھی کہ یوں بیع کرینگے اور یہ شرط ہوگی پھر اسی قرار داد پر یہ بیع کی تو ان دونوں صورتوں میں حرام ہےردالمحتارمیں ہے:
اشاربقولہ بشرط الی انہ لابد من کونہ مقارنا للعقد لان الشرط الفاسد لوالتحق بعد العقد قیل یلتحق عند ابی حنیفۃ رضی اللہ تعالی عنہ وقیل لاوھو الاصح کما فی جامع الفصولین(تنبیہ)فی جامع الفصولین ایضا لو شرطا فاسدا قبل العقد ثم عقدا ماتن نے اپنے قول"بشرط"سے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اس کا عقد سے مقرن ہونا ضروری ہے اس لئے کہ شرط فاسد اگر عقد کے بعد لگائی جائے توایك قول یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك عقد سے ملحق ہوتی ہے اور ایك قول یہ ہے کہ ملحق نہیں ہوتیاویہی زیاد صحیح ہے جیسا کہ جامع الفصولین میں ہے(تنبیہ)جامع الفصولین میں یہ بھی ہے کہ اگر بائع اور مشتری نے عقد سے قبل کوئی شرط
#12515 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
لم یبطل العقد اھ قلت ینبغی الفساد لو اتفقا علی بناء العقدعلیہ کما صرحوا بہ فی بیع الھزلوقد سئل الخیر الرملی عن رجلین تواضعا علی بیع الوفاء قبل عقدہ وعقد البیع خالیا عن الشرط فاجاب بانہ صرح فی الخلاصۃ والفیض والتتارخانیۃ وغیرہا بانہ یکون علی ماتواضعا ۱ھ (ملتقطا)مافی الشامی وکتبت علی قولہ یکون علی ماتواضعا اذا تصادقا علی ان العقد مبنی علی تلك الموضعۃ کما قید بہ فی الخیریۃ والخلاصۃ اقول:وھذا فی القضاءاما فی الدیانۃ فاذا علم اللہ تعالی منہما النباء وعلیہا یکون وان تکاذبا من بعد واللہ تعالی اعلم۔
فاسد لگائی پھر عقد کیا تو وہ عقد باطل نہ ہوگا الخ میں کہتاہوں کہ فاسد ہونا چاہئے اگر وہ دونوں اس پر متفق ہوں کہ عقد اسی شرط پر مبنی ہے جیسا کہ فقہاء نے بیع ہزل میں اس کی تصریح کی خیرالدین رملی سے ان دو مردوں کے بارے میں سوال کیا گیا جنھوں نے عقدسے پہلے بیع وفاء پر قرارداد کی پھر اس شرط سے خالی عقد کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ خلاصہ فیض اور تتارخانیہ وغیرہ میں تصریح کی گئی ہے کہ یہ بیع ان کی قرار داد پر مبنی ہوگی(شامی کے بیان کے آخر تک)میں نے شامی کے قول"علی ماتواضعا"پرلکھا کہ یہ حکم تب ہوگا جب وہ دونوں اس بات میں سچے ہوں کہ یہ عقد اس قرار داد پر مبنی ہے جیساکہ خیریہ اور خلاصہ میں یہ قید لگائی گئیمیں کہتا ہوں کہ یہ حکم قضا میں ہے رہا دیانت میں تو جب الله تعالی کے علم میں ہے کہ انھوں نے عقد کی بناء اس قرادا دپر کی ہے تو یہ عقد اسی پر مبنی ہوگا اگرچہ انھوں نے بعد میں جھوٹ کہا۔ والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۸۶: مسئولہ ننھے میاں صاحب شہر بریلی محلہ سوداگران از کرتوالی بروز شنبہ بتاریخ ۲۳ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
کھڑا کھیت خرید کر ناجائزہے یانہیں
الجواب:
کھیت اگر تیار ہوگیا اور ابھی کاٹ لیا جائے گا تو جائز ہے اور اگر ابھی نہ پکا اور پکنے تك
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۱۔۱۲۰
جدالممتار علی ردالمحتار
#12516 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
کھیتی قائم رکھی جائے گیتو خرید وفروخت ناجائز ہے بشرط مافیہ نفع عاقد بلا قضیۃ العقد(اس چیز کی شرط لگانے کی وجہ سے جس میں کسی عاقد کا نفع ہے اور عقد اس کا تقاضا نہیں کرتا۔ت)اوراس کے جواز کا حیلہ یہ ہے کہ مثلا کھیتی دو مہینہ میں پکتی سمجھے تو کھیتی فی الحال خرید لے اوراس کے باقی رکھنے کی شرط نہ کرے اور اسی وقت معا وہ زمین جس مین کھیتی ہے اپنے کسی کام کے لئے دومہینہ تك کو ایك معینہ کرایہ پر لے لے خریداری میں اس اجرت کاحساب دل میں سمجھ لے مثلا بیس روپے قیمت کا کھیت ہے اور روپیہ مہینہ زمین کا کرایہ ہوگا اور دومہینہ کو کرایہ لینا ہوا تو اٹھارہ روپے کوکھیت خریدے اور دوروپے کو زمین کرایہ پرلے درمختار میں ہے:
والحیلۃ فی الزرع والحشیش یشتری الموجود ببعض الثمن ویستاجرالارض مدۃ معلومۃ یعلم فیہا الادراك بباقی الثمن ۔
واللہ تعالی اعلم۔کھیتی اورگھاس کے باقی رکھنے کاحیلہ یہ ہے کہ جو موجود ہو اس کو بعض ثمن کے مقابل میں خریدلے اورباقی ثمن کے عوض زمین کو ایك معینہ مدت کے لئے کرایہ پر لے لے جس میں کھیتی کا پکنا معلوم ہووالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۸۷: از کسیراں کلاں ڈاکخانہ خاص ضلع بلند شہر مرسلہ احمد علی ولد حکم محمد امیر ۱۵ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عوام میں قدیم سے یہ دستور رائج ہے کہ جب فصل انبہ یا خربوزہ وغیرہ کی فروخت کرتے ہیں تو قیمت کے سوا کچھ جنس لیتے ہیں جو ڈالی کے نام سے مشہور ہےانبہ کی جنس فی روپیہ ایك صد آماورخربوزہ پر فی روپیہ ۵ سیر لینے کا معمول ہےاور بعض اوقات جنس بقدر تول طے پاتی ہے اور اکثر بلاتعین وقت کے فصل کی فروختگی کا معمول وقت پھول آنے یاپھل کے نمودار ہوجانے پرہے۔تو بایں صورت فصل انبہ وغیرہ کی بیع درست ہے یانہیں اور جنس دستوری کا لینا اور اس کاکھانا جائز ہے یانہیں اگر جائزنہیں تو شرعا وہ کیا فصل کی بیع کا طریقہ ہے کہ جس سے بیع بھی درست رہے اور جنس کالینا بھی روا قرار پائے۔
الجواب:
بیج یا پھول پرفصل کی بیع ناجائزہےاور جب پھل آجائیں اگر چہ جانور کے کھانے کے قابل ہوئے ہوں تو بیع جائز ہے مگریوں کہ خریدار اسی وقت توڑلےاور اگر یہ ٹھہراکر پھل تیار ہونے تك
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع تبعا مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹
#12517 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
لگے رہیں گے تویہ ناجائز وحرام ہے اور اس میں اسے فی روپیہ آم یا پانچ سیر خربوزہ یاکم وبیش بائع کےلئے قرارد ینا دوسراحرام ہےہاں یہ ہوسکتاہے کہ مثلا آم میں جتنے کوبہاربیچی منظور ہو موجودہ پھل جس حالت کے ہیں اتنے کوخرید کئے جائیں پھر مشتری بائع سے کہے کہ میں نے یہ پیڑ بعقد معاملہ تجھ سے لئے کہ میں ان کی غورپر داخت کروں گا اور جو پیل پیداہوں گے ان میں سے ہر ہزارمیں ایك تیرا اور نوسو نناوے میرے یا سو تیرے اور نو سو میرے جوقرارپاجائےخربوزےتربوزککڑیبیگن کی جڑیں خریدے تاکہ جو پید ا ہوے مشتری کی ملك ہویہ خریداری ایك حصہ ثمن پر ہو جتنے پر بہار بیچنا اورخریدنا چاہتے ہوں باقی حصہ ثمن پر اس زمین کو ایك مدت معلوم تك اجارہ پر لے جس میں یہ سمجھے کہ فصل فارغ ہوجائے گی یہی طریقہ کھیتی میں بھی ہے مثلا سوروپے پر معاملہ کرنا چاہتے ہیں توخربوزے وغیرہ کی جڑیں یاموجود کھیتی پچاس روپے کوخریدے اور چھ مہینے میں فارغ ہوتی سمجھیں تو باقی پچاس روپے کے بدلے میں چھ مہینے کے واسطے اجارہ پر لے لےدرمختارمیں ہے:
من باع ثمرۃ بارزۃ اماقبل الظہور فلایصح اتفاقا ظھر صلاحہا اولا یصح فی ظاہر المذہب وصححہ السرخسی ویقطعہا المشتری فی الحال جبرا علیہ وان شرط ترکھا علی الاشجار فسد البیعوالحیلہ ان یاخذ الشجرۃ معاملۃ علی ان لہ جزء من الف جزئ وان یشتری اصول الرطبۃ کالباذنجان و اشجار البطیخ والخیار لیکون الحادث للمشتری وفی الزرع والحشیش یشتری الموجود ببعض الثمن ویستاجر الارض مدۃ معلومۃ یعلم فیہا الادراك بباقی الثمن مختصرا۔ واللہ تعالی اعلم۔
جس شخص نے نمودار پھل بیچا چاہے اس کی صلاحیت ظاہر ہوئی ہو یانہ ہوئی ہو تو اصح قول کے مطابق صحیح ہے اور اگر نمودار ہونے سے قبل پھل بیچا تو بالاتفاق صحیح نہیںاورا گر کچھ پھل نمودار ہواور کچھ ابھی نمودار نہیں ہو تو ظاہر مذہب میں بیع صحیح نہیں سرخسی نے اس کو صحیح قرار دیا اور بیع کے بعد مشتری پھلوں کو فی الحال قطع کرے اس سلسلہ میں اس پر جبر کیا جائے گا اور اگر اس نے پھلوں کو درختوں پر چھوڑنے کی شرط لگائی تو بیع فاسد ہوگی اور اس میں حیلہ یہ ہے کہ مشتری بائع سے درخت بطور معاملہ لے کرہزار میں سے ایك جزء بائع کی ہوگی اور یہ کہ بینگنتربوز اور ککڑی کی جڑیں خریدلے تاکہ نئے پیداہونے والے پھل مشتری کی ملك ہوں اور کھیتی اور گھاس میں موجود
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع فصل فی مایدخل فی البیع تبعا مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۹
#12518 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
بعض ثمن کے بدلے خریدلے اور باقی ثمن کے بدلے زمین کو مدت معینہ کے لئے کرایہ پر لے لے جس مدت میں کھیتی کا پکنا معلوم ہو۔(ت)
مسئلہ ۸۸: ا زکانپور مسجد جامع مرسلہ محمدادریس صاحب پرتابگڈھی ۲۹ ذی القعدہ ۱۳۳۶ھ
پس از سلام مسنون حضرت سیدولد آدم وسید الانس والجان(روحی فداہ)معروض خدمت ولا ہے کہ خادم کو چند مسائل کے متعلق جناب سے استفسار مقصودہے زید نے اپنے مکان کہ عمرو سے بیع کیا اور قیمت کے متعلق یہ قرار دیا کہ جو بکر قرار دے وہی قیمت ہے یعنی بیع تو اس وقت کی اور قیمت کی تقدیر وتعیین بکر کی رائے پر موقوف کردی یہ بیع صحیح ہوئی یا فاسدپھر جبکہ بکرنے تخمینہ تین ماہ کے بعد قیمت معین کی تو بصورت فسادوہ فساد اٹھ گیا یا نہیں اور کون سا فساد بعد رفع علت فساد اٹھ جاتاہے اور فساد کے صلب عقد میں ہونے کا کیامعنی ہےاور تقرر بیع کی کیا صورتیں ہیںامید کہ حضرت والا ان امور سے ضرور بالتفصیل مع حوالہ کتاب آگاہ فرمائیں گے۔بینوا توجروا
الجواب:
یہ بیع فاسد ہےعالمگیریہ میں ہے:
اما اشرائط الصحۃ فمنہا ان یکون البیع معلوما و الثمن معلوما علما یمنع من المنازعۃ فبیع المجہول جہالۃ تقضی الیہا غیر صحیح کبیع شاۃ من ھذا القطیع وبیع الشیئ بیقمتہ وبحکم فلان ۔
بیع کے صحیح ہونے کی شرط میں سے یہ ہے کہ مبیع معلوم ہو اور ثمن معلوم ہو اس طور پر کہ جھگڑا نہ پیدا ہو چنانچہ ایسی مجہول چیز کی بیع صحیح نہیں جس سے جھگڑا پیدا نہ ہوجیسے کہا جائے کہ اس گلہ میں سے ایك بکری کی بیع یا اس شے کی بیع اس کی قمیت کے ساتھ یافلاں کے فیصلے کے مطابق بیع۔(ت)
بکرنے جبکہ تعیین ثمن انقضائے مجلس بیع کے بعد کی وہ فساد بالاجماع متقرر ہوگیا اب نہیں اٹھ سکتا جب تك یہ بیع فسخ نہ کی جائے۔ردالمحتارمیں ہے:
فی النہایۃ والفتح وغیرہما قال شمس الائمۃ الحلوانی وان علم بالرقم فی
نہایہ اورفتح وغیرہ میں ہے شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا کہ اگرچہ مشتری کو مجلس کے اندر لکھی ہوئی
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب البیع الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/۳
#12519 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
المجلس لاینقلبذلك العقد جائز اولکن ان کان البائع دائما علی الرضافرضی بہ المشتری ینعقد بینہا عقد بالتراضی اھ وعبر فی الفتح بالتعاطی والمراد واحد اھ قیمت معلوم ہوگی _______ تو بھی عقد جائز نہیں ہوگا لیکن اگر بائع رضامندی پر قائم ہے اور مشتری بھی اس پر راضی ہوگیا تو دونوں کی باہمی رضامندی سے عقد ان کے درمیان منعقد ہوجائے گا الخ فتح میں اس کو تعاطی سے تعبیر کیا گیا اور مراد دونوں سے ایك ہی ہے اھ(ت) قیمت معلوم ہوگی _______ تو بھی عقد جائز نہیں ہوگا لیکن اگر بائع رضامندی پر قائم ہے اور مشتری بھی اس پر راضی ہوگیا تو دونوں کی باہمی رضامندی سے عقد ان کے درمیان منعقد ہوجائے گا الخ فتح میں اس کو تعاطی سے تعبیر کیا گیا اور مراد دونوں سے ایك ہی ہے اھ(ت)
اور لفظ فتح یہ ہیں :
وجواز اذا علم فی المجلس بعقد اخر ھوالتعاطی کما قالہ الحلوانی اھ اقول:وھذا التعیین ان التعاطی بعد عقد فاسد اذا وقع فی المجلس لایحتاج الی سبقۃ متارکۃ ذلك الفاسد بخلافہ بعد المجلس الاتری الی تقییدہ وبقولہ اذا علم فی المجلس والا فحصول البیع بعقد جدید لا یتوقف علی کونہ فی المجلس الاول فقد حصل التوفیق وان استبعدہ الشامی و استظھر انہما روایتان اعنی اشتراط المتارکۃ فی التعاطی بعد الفاسد و عدمہ فافہم وباللہ التوفیق۔
مجلس میں معلوم ہوجانے پر اس کا جواز دوسرے عقدکے ساتھ ہے جوکہ تعاطی ہے جیسا کہ حلوانی نے فرمایا اھ میں کہتاہوں یہ امر کی تعیین کے لئے ہے کہ بیشك تعاطی جب عقد فاسد کے بعد مجلس میں واقع ہو تو وہ پہلے اس عقد فاسد کے متارکہ کی محتاج نہیں ہوتی بخلاف مجلس کے بعد تعاطی کےکیا تونہیں دیکھتا کہ فتح نے اپنے اس قول کے ذریعے قید لگائی کہ"جب اس کو مجلس میں معلوم ہو" ورنہ عقد جدید کے ساتھ بیع کا حصول اس بات پر موقف نہیں کہ وہ مجلس اول میں ہو تحقیق(مختلف عبارتوں میں)توفیق وتطبیق حاصل ہوگئی اگر چہ شامی نے اس کو بعید جانا اور احتیاط برتتے ہوئے کہا کہ بیشك یہ دو روایتیں ہیں یعنی عقد فاسد کے بعد تعاطی میں متارکہ کا شرط ہونا اور شرط نہ ہونا پس سمجھ اور توفیق الله تعالی ہی کی طرف سے ہے۔(ت)
پھر شامی نے فرمایا:
وجزم بخلاف فی الھندیۃ اخر باب ہندیہ میں باب المرابحہ کے آخر میں اس کے خلاف
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۲
فتح القدیر کتاب البیوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۷۴
#12520 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
المرابحۃ وذکر ان العلم فی المجلس یجعل کابتداء العقد ویصیر کتاخیر القبول الی اخر المجلس وبہ جزم فی الفتح ھناك ایضا اھ ۔
اقول اولا: لقد ابعد الحجۃ فقد قال فی الھدایۃ من باب خیار الشرط انہ اسقط المفسد قبل تقررہ فیعود جائزا کما اذا باع بالرقم واعلمہ فی المجلس اھ واقرہ الفتح و الشراح وقال فی الفتح صدرالبیوع ممالا یجوز البیع بہ البیع بقیمتہ اوبما حل بہ اوبما ترید اوبما اشتراہ اوبمثل مااشتری فلان لایجوز فان علم المشتری بالقدر فی المجلس فرضیہ عاد جائزا اھ ۔ وقال فی البدائع لو قال بعت ھذا العبد بقیمتہ فالبیع فاسد لان قیمتہ تختلف باختلاف المقومین فکان الثمن مجہولا وکذا اذا باع بحکم المشتری اوبحکم فلان
پر جزم کیا اور ذکر کیا کہ مجلس میں معلوم ہونے کو ابتداء عقد کی مانند بنایا جائے گا اور یہ آخر مجلس تك قبول کومؤخر کرنے کی طرح ہوجائے گا اوریہاں پر فتح نے بھی اسی پر جز م کیا اھ
اقول:(میں کہتاہوں)اولا: علامہ شامی دلیل سے دورہوگئے تحقیق ہدایہ کے باب خیار الشرط میں فرمایا کہ بیشك بائع نے مفسد کو فساد کے مستحکم ہونے سے قبل ساقط کردیا تو بیع جائز ہوگئی جیسا کہ کسی نے لکھی ہوئی قیمت پر بیع کی اور مجلس کے اندر مشتری کو وہ قیمت بتادی الخ فتح اور شارحین نے اسے برقرار رکھافتح میں کتاب البیوع کے آغاز میں فرمایا جن چیزوں کے ساتھ بیع ناجائز ہے ان میں سے یہ ہے کہ کہ کسی چیز کی بیع اس کی قیمت کے بدلے میں یا اس چیز کے بدلے جس سے بیع حلال ہو یا بائع مشتری کو یہ کہے کہ جنتی قیمت تو چاہے اس کے بدلے میں بیچتاہوں یا کہے جتنے پر اس نے خریدا ہے اس کے بدلے میں یا کہے جتنے پر فلاں نے خریدا اس کی مثل قیمت کے بدلے میں تو ان تمام صورتوں میں بیع ناجائز ہے پھر اگر مشتری کو مجلس کے اندر قیمت کی مقدار معلوم ہوگئی اور وہ اس پر رضامند ہوا تو بیع جائز ہوجائے گی الخ۔بدائع نے فرمایا کہ اگر بائع نے کہا میں نے غلام اس کی قیمت کے عوض بیچا
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲
الہدایہ کتاب البیوع باب خیار الشرط مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۳۴
فتح القدیر کتاب البیوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۴۶۷
#12521 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
تو بیع فاسد ہے کیونکہ مختلف قیمت لگانے والوں کے اعتبار سے اس غلام کی قیمت مختلف ہوگی تو اس طرح ثمن مجہول ہوگا اس طرح اگر غلام بیچا اس چیز کے بدلے میں جس کا فیصلہ مشتری یا فلاں شخص کرے گا تو بھی بیع فاسد ہوگی کیونکہ معلوم نہیں فلاں شخص کیا فیصلہ کریگا اور جہالت ثمن صحت بیع سے مانع ہے پھر جب مشتری کوثمن کا علم ہوا اور وہ اس پر رضامندہوگیا تو بیع جائز ہوجائے گی کیونکہ جہالت مجلس کے اندر ہی زائل ہوگئی تو یہ ایسے ہی ہوگیا جیسے گویا کہ عقد کے وقت معلوم تھا اور اگر ثمن کا علم نہ ہوا یہاں تك کہ بائع اور مشتری متفرق ہوگئے تو فسادمستحکم ہوگیا اھ مختصرا۔اور اسی میں امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکا یہ قول بھی ہے کہ اگرحالت عقد میں تمام ثمن اس طرح مجہول ہوں کہ جہالت جھگڑے تك پہنچائے تو یہ فساد عقدکا موجب بنے گی اور ہمارے نزدیك جب مجلس کے اندر جہالت رفع ہوجائے تو عقدجواز کی طرف پلٹ آتاہے کیونکہ مجلس اگر چہ طویل ہو اس کاحکم ساعت عقد والا ہی ہوتاہے اھ اور اسی میں یہ بھی ہے کہ جب کسی نے لکھی ہوئی قیمت کے بدلے میں کپڑا خریدا اور مشتری کو اس لکھی ہوئی قیمت کا علم نہیں ہے حتی کہ بیع فاسد ہوئی پھر
#12522 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
لانہ لایدری بما اذا یحکم فلان وجہالۃ الثمن تمنع صحۃ البیع فاذا علم ورضی بہ جاز البیع لان الجہالۃ قد زالت فی المجلس ولہ حکم حالۃ العقد فصار کانہ کان معلوما عند العقد وان لم یعلم بہ حتی افترقا تقرر الفساد اھ مختصرا وفیہما ایضا لابی حنیفۃ رضی اللہ تعالی عنہ ان جملۃ الثمن مجہولۃ حالۃ العقد جہالۃ مفضیۃ الی المنازعۃ فتوجب فساد العقد و عندنا اذا ارتفعت فی المجلس ینقلب العقد الی الجواز لان المجلس وان طال فلہ حکم ساعۃ العقد اھ و فیہا ایضا اذا شتری ثوبا برقمہ ولم یعلم المشتری رقمہ حتی فسد البیع ثم علم رقمہ فان علم قبل الافتراق واختار البیع جاز عندنا و ان کان بعد الافتراق لایجوز بالاجماع اھ
اسے لکھی ہوئی قیمت کا علم ہواگر چہ تویہ علم افتراق سے قبل ہو او ر اس نے بیع کو اختیار کرلیا تو ہمارے نزدیك بیع جائز ہوگئی اور اگر افتراق کے بعد اسے لکھی ہوئی قیمت کا علم ہوا تو بالانفاق بیع جائز نہیں ہوگی الخ
وثانیا: تتبعت جمیع باب المرابحۃ من الھندیۃ فلم ارفیہا ماذکر من التعلیل لافی النسخۃ المصریۃ ولا فی الہندیۃ وانما قال فیہما اول باب المرابحۃ ان باعہ بربح دہ یازدہ لایجوز الا اذا علم الثمن فی المجلس فیجوز ولہ(ای للمشتری)الخیار فاذا اختار العقد یلزمہ احد عشر استحسانہ وکذا الوباعہ تولیۃ ولایعلم المشتری بکم یقوم علیہ ولایجوز الا اذا علم الثمن فی المجلس فیجوز ولہ الخیار ھکذا فی محیط السرخسی اھ وقال الاخر الباب من ولی رجلا شیئا بما قام علیہ ولم یعلم المشتری بکم قام علیہ فسد البیع فان اعلمہ البائع فی المجلس صح البیع وللمشتری الخیار ان شاء اخذہ وان شاء ترکہ کذا فی الکافی اھ وقال قبیلہ عن الحاوی اذا باع الرجل المتاع بربح دہ یازدہ او ماشاکل ذلك فاذا علم المشتری بالثمن ان شاء اخذہ وان شاء ترکہان علم بالثمن قبل العقد فلیس لہ ان یرد اھ اقول:والمراد العلم فی المجلس بدلیل ما تقدم و ماتاخر۔
وثانیا: میں نے ہندیہ کا تمام باب مرابحہ تلاش کیاتعلیل مذکورہ میں نے اس میں نہیں دیکھی نہ مصری نسخے میں اور نہ ہندی نسخے میںہاں بیشك اس کے اندرباب مرابحہ کے شروع میں یہ فرمایا اگر کسی نے دویازدہ یعنی دس کی چیز بطورنفع گیارہ کے بدلے میں فروخت کی تو جائز نہیں مگر جب مجلس میں ہی مشتری کو ثمن کا علم ہوگیا تو بیع جائز ہوگئی اور مشتری کو اختیار ہے اگر اس نے عقد کو اختیار کیا توبطور استحسان اس پر گیارہ لازم ہوں گے یونہی اگر وہ چیز بطور تولیۃ بیچی اور مشتری نہیں جانتا کہ اسے کتنے میں پڑے گی توبیع جائز نہیں مگر جب مجلس کے اندراس کو ثمن معلوم ہوگئے تو جائز ہے اورمشتری کو اختیارہوگا اس طرح محیط سرخسی میں ہے اھ اور باب کے آخر میں کہا کہ جس شخص نےکسی مرد پر بطور تولیۃ کوئی شیئ اتنے میں بیچی جتنے میں بائع کو کتنے میں پڑی تو یہ فاسد ہوئیپھر اگر بائع
حوالہ / References بدائع الصنائع کتاب البیوع فصل واما شرائط الصحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۵۸
بدائع الصنائع کتاب البیوع فصل واما شرائط الصحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۵۹
بدائع الصنائع کتاب البیوع فصل واما شرائط الصحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۷۸
فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۶۰
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۶۵
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الرابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۶۵
#12523 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
مجلس کے اندر مشتری کو بتادے تو بیع صحیح ہوگئی اور مشتری کو اختیارہے اگر چاہے تو لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے اسی طرح کافی میں ہے اھ اور اس سے تھوڑا پہلے حاوی کے حوالہ سے کہا کہ اگر کسی مرد نے کوئی سامان جودس کا خریدا ہوا تھا گیار ہ کے بدلے بیچا اس سے ملتی جلتی کوئی صورت اختیار کی پھر جب مشتری کوثمن کا علم ہوا تو اس کا اختیار ہے چاہے تو لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے اور اگرمشتری کو عقد سے پہلے ثمن معلوم ہوں تو اسے رد کا اختیار نہ ہوگا الخ میں کہتاہوں اس سے مراد مجلس کے اندر علم ہونا ہے اس دلیل کے ساتھ جو پہلے گزری اور جو اس کے بعد ہے۔
وثالثا: التعلیل المزکور کالمتناقض فان اخر ہ یفید انہ بالعقد الاول واولہ انہ بعقد جدید۔
وثالثا: تعلیل مذکور متناقض کی مانند ہے اس لئے کہ اس کا آخر اس بات کا فائدہ دیتاہے کہ وہ عقد اول کے ساتھ ہے اور اس کا اول اس بات کا فائدہ دیتاہے کہ وہ عقد جدید کے ساتھ ہے۔ (ت)
صلب عقد بدلین ہیں فتح القدیر میں اسی مسئلہ آجال مجہول میں ہے:صلب العقد بدلان (صلب عقد دونوں بدل ہیں (یعنی ثمن ومبیع) ۔ت) یہ فساد کبھی مرتفع نہیں ہوسکتا جب تك اس عقد ہی کو فسخ نہ کریں یہاں نفس مجلس عقدمیں اصلاح بھی کار آمد نہیں جیسے ایك روپیہ دو۲روپے کو بیچے پھرقبل افتراق زائد روپیہ ساقط کردےعقدصحت کی طرف عود نہ کرے گا۔ہدایہ میں ہے:
لوباع الی ھذہ الاضال تراضیا باسقاط اگر کسی نے ان اوقات مذکورہ کے وعدہ پر بیع کی
حوالہ / References فتح القدیر باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۸۸
#12524 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
الاجل قبل ان یاخذ الناس فی الحصاد و الدیاس وقبل قدوم الحاج جاز البیعوقال زفرلا یجوز لانہ وقع فاسدا فلاینقلب جائزاولنا ان الفساد للمنازعۃ وقد ارتفع قبل تقررہ وھذہ الجہالۃ فی شرط زائد لافی صلب العقد فیمکن اسقاطہ بخلاف ما اذا باع الدرہم بالدرہمین ثم اسقطا الدرھم الزائد لان الفساد فی صلب العقد ۔ پھر بائع اورمشتری اس مدت کو ساقط کرنے پر رضامند ہوگئے قبل اس کے لوگ کھیتی کاٹنے یا اس کو گاہنے کا آغاز کریں اور قبل اس کے کہ حاجی لوگ آئیں تو بیع جائز ہوگئیامام زفر نے کہا جائز نہیں ہوگی کیونکہ یہ بیع فاسد واقع ہوئی لہذا جوازکی طرف نہیں پلٹے گیاور ہماری دلیل یہ ہے کہ فساد تو جھگڑے کے ڈر سے تھا درانجالیکہ وہ فسادمستحکم ہونے سے پہلے ہی دور ہوگیا اور یہ جہالت صلب عقد میں نہیں بلکہ ایك زائد شرط میں واقع ہوئی جس کو ساقط کرنا ممکن ہے بخلاف اس کے کہ جب ایك درہم دودرہموں کے عوض بیچا پھر بائع اور مشتری دونوں نے زائد درہم کو ساقط کردیا تب بھی یہ بیع جائز نہ ہوگی کیونکہ یہاں فساد صلب عقد میں ہے۔(ت)
اور عدم شرط انعقاد کا فساد اس سے ملحق کیاگیا
فان انعدامہ یعدم العقد لا انہ منعقد بصفۃ الفساد فیکمن اصلاحہ فی المجلس۔
اس لئے کہ شرط کامعدوم ہونا عقد کو باطل کردیتاہے ایسا نہیں کہ وہ عقد صفت فساد کے ساتھ منعقد ہوا کہ مجلس میں اس کی اصلاح ممکن ہو۔(ت)
عنایہ امام کمال بابرتی محل مذکورمیں ہے:
اعترض بانہ اذا نکح بغیر شہود ثم اشہد بعد النکاح فانہ لاینقلب جائزا ولیس الفساد فی صلب العقد واجیب بان الفساد فیہ لعدم الشرط فہو قوی کما لوکان فی صلب العقد الاتری ان من صلی بغیر طہارۃ ثم تطہر لم تنقلب صلاتہ جائزۃ اھ ملخصا۔
اس پر اعتراض کیاگیا کہ اگرکوئی شخص بغیر گواہوں کےنکاح کرے پھر نکاح کےبعد اس پر گواہ قائم کردے تو وہ نکاح جواز کی طرف نہیں پلٹے گا حالانکہ اس صورت میں فساد صلب عقد میں نہیںاس کا جواب یہ دیا گیا کہ یہاں فلاں عدم شرط کی
حوالہ / References الہدایہ کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۶۴
العنایہ علی ہامش فتح القدیر کتاب البیوع باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۸۸
#12525 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
وجہ سے آیا ہے جو قوی ہے جیسا کہ صلب عقد میں فساد ہو تو قوی ہوتاہے کیا تو نہیں دیکھتا ہے کہ اگرکوئی شخص بلا طہارت نماز پڑھ لے پھر بعد میں طہارت کرلے تو اس کی نماز جواز کی طرف نہیں پلٹے گی اھ(ت)
اسی کے مثل فتح میں بھی ہے:
اقول:ویبتنی علی ان الشہود شرط الانعقاد فی النکاح وعلیہ ظاھر عامۃ کلما تہم وصرح فی الدر وغیرہ انہم من شروط الصحۃ فیکون النکاح بلاشہود فاسدا لاباطلا واللہ تعالی اعلمثم اقول:بل الحق ان عدم شرط الانعقاد ومبطل لامفسد والکلام فی الفاسد فالسوال ساقط من اصلہ۔
اقول:(میں کہتاہوں)کہ اس کی بنیاد اس پر ہے کہ گواہ نکاح میں شرف انعقاد ہیں اورکلمات فقہاء کا ظاہر بھی اسی پر دلالت کرتاہے اوردر وغیرہ میں تصریح کی گئی کہ گواہ شرط صحت ہیں لہذا بغیر گواہوں کے نکاح فاسدہوگا نہ کہ باطلوالله تعالی اعلم۔ثم اقول:(پھر میں کہتاہوں)بلکہ حق یہ ہے کہ شرط انعقاد کانہ پایا جاتا باطل کرنے والا ہے نہ کہ فاسد کرنے والا حالانکہ کلام فاسد ہونے میں ہے تو سرے سے سوال ہی ساقط ہے۔(ت)
ان کے سوا جو فساد ہو اگر قوی ہے صرف مجلس بیع کے اندر اس کاازالہ عقد کو صحیح کرسکے گابعدمجلس فساد متقرر ہوجائے گا اوراگر چہ مفسدزائل ہوجائے مرتفع نہ ہوگا جیسے ثمن کاآندھی چلنے یا مینہ برسنے پر مؤجل کرنا اور اگر ضعیف ہے تو بعد مجلس بھی اصلاح پذیر ہے جب تك وہ فساد اپنا عمل نہ کرلے کہ بعد عمل انتہا ہے نہ کہ انتفاء جیسے حاجیوں کے آنے یاہوائیں چلنے پر ثمن کی تاجیل اگر آنے اور چلنے سے پہلے اس شرط کو ساقط کردیا تو بیع صحیح ہوگئی اگرچہ مجلس عقدکے مہینوں بعد ہوااور اگرحاجی آئے ہو ائیں چلی گئی تو اب اسقاط شرط کے کوئی معنی نہیں فساد مستقر ہوگیابے فسخ عقد مرتفع نہ ہوگاہدایہ کی عبارت گزریفتح القدیر میں عبارت مذکورہ پرہے:
حوالہ / References درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۸۶
#12526 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
تقییدہ بہذہ الاجال الاخراج نحو التأجیل بھبوب الریح ونزول المطر فانہ لواجل بھاثم ااسقطعہ لایعود صحیحہ اتفاقا ۔
ماتن کا ان مدتوں کی قید لگانا ہواؤں کے چلنے اور بارش برسنے کی میعاد کو خارج کرنے کے لئے ہے اس لئے کہ اگر ان کے ساتھ میعاد مقرر کی پھر اسے ساقط کردیا تب بھی بیع بالاتفاق صحیح نہ ہوگی۔(ت)
شرح الطحطاوی للامام الاسبیجابی پھر حقائق شرح منظومہ نسفیہ پھر ردالمحتار میں ہے:
البیع باجل مجہول لایجوز اجماعا سواء کانت الجہالۃ متقاربۃ کالحصاد والدیاس اومتقاربۃ الریح وقدوم واحد من سفرہ فان ابطل المشتری المتقارب قبل محلہ وقبل فسخ العقد انقلب البیع جائزا عندنا ولو مضت المدۃ قبل ابطال الاجل تاکدا الفساد ولاینقلب جائزا اجماعاوان ابطل المشتری المتفاوت قبل التفرق ونقد الثمن انقلب جائزا عندنا ولوتفرقا قبل الابطال تاکد الفساد ولا ینقلب جائزا اجماعا (مختصرا) مدت مجہولہ کے ساتھ بیع بالاجماع ناجائز ہے چاہے جہالت متقاربہ ہو جیسے فصلوں کی کٹائی اور ان کو گاہنام یا جہالت متفادتہ ہو جیسے ہواؤں کا چلنا اورکسی کا سفر سے واپس آنااگر مشتری نے جہالت متقاربہ والی میعاد کو مستحکم ہونے اورفسخ عقد سے پہلے ختم کردیا توہمارے نزدیك بیع جائز ہوجائیگی اور اگر میعاد کوختم کرنے سے پہلے مدت گزرگئی توفساد پختہ ہوگیا اور بیع بالاجماع جائز نہ ہوگیاوراگر مشتری نے جہالت متفاوتہ کو جدا ہونے سے قبل ختم کردیا اور ثمن ادا کردئے توہمارے نزدیك بیع جائز ہوگئی اور اگر جہالت کوختم کرنے سے پہلے بائع اورمشتری ایك دوسرے سے جدا ہوگئے تو فساد مستحکم ہوگیا اوراب بالاجماع جائز نہ ہوگی۔(مختصرا)(ت)
بدائع امام ملك العلماء میں ہے:
الاصل عندنا انہ ینظر الی الفساد فان کان قویا بان دخل فی صلب العقد وھوالبدل والمبدل لایحتمل منہما(ای من شرائط صحۃ البیع)ان یکون مقدور التسلیم من غیر ضرر یلحق البائعفاذا باعاجذ عالہ فی سقف اواجرلہ فی حائط اوذرا عافی دیباج او کرباس لایجوزفان نزعہ البائع اوقطعہ وسلمہ الی المشتری قبل ان یفسخ المشتری البیع جاز البیع حتی یجبر المشتری علی الاخذ لان المانع من الجواز ضرر البائع بالتسلیم فاذا سلم باختیارہ ورضاہ فقد زال المانع فجاز البیع ولزمفرق بین ھذا وبین بیع الالیۃ فی الشاۃ الحیۃ والنوی فی التمروالزیت فی الزیتون والدقیق فی الحنطۃ والبزر فی البطیخ ونحو ھا انہ لا ینعقد اصلا حتی لو سلم لم یجزاولا صل المحفوظ ان لایمکن تسلیمہ الابضرر یرجع الی قطع
ہمارے نزدیك ضابطہ یہ ہے کہ فساد کو دیکھا جائے گا اگر وہ قوی ہے یعنی صلب عقد میں ہے جوکہ بدل و مبدل ہے تو رفع مفسد کے ساتھ جائز ہونے کا
حوالہ / References فتح القدیر کتاب البیوع باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۸۸
ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۲۰
#12527 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
احتمال نہیں رکھتا جیساکہ امام زفر نے اس صورت کے بارے میں کہاکہ جب کوئی شخص ہزار درہم اور یك رطل شراب کے بدلے میں غلام فروخت کرے پھر مشتری سے شراب کو ساقط کردے اور اگر فساد وضعیف ہے یعنی صلب عقد میں داخل نہیں بلکہ شرط جائز میں پایا گیا تو اس صورت میں رفع مفسد کے ساتھ جواز عقد کااحتمال ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
صحت کی بیع کی شرائط میں سے یہ ہے کہ مبیع مقدور التسلیم ہو بغیر ا س کے کہ بائع کو ضرر لاحق ہوچنانچہ اگر کسی نے چھت میں لگی ہوئی شہتیر یا دیوار میں لگی ہوئی اینٹیں یارشمی یا اونی کپڑے میں سے ایك گز فروکت کیا تو جائز نہیں پھرا گر بائع نے مبیع کو اکھاڑیا ایا کاٹ دیا اور مشتری کے بیع کو فسخ کرنے سے پہلے مبیع مشتری کے حوالے کردیا تو بیع جائز ہوگئی یہاں تك کہ مشتری کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس کولےکیونکہ مانع جواز تو تسلیم کے سبب سے بائع کو لاحق ہونے ولا ضرور تھا اب جبکہ بائع نے اپنی رضا مندی اور اختیار سے تسلیم مبیع کردیا تو وہ مانع زائل ہوگیا اور بیع جائز اور لازم ہوگئیفرق کیا گیا ہے درمیان مذکورہ صورت کے اور درمیان اس کے کہ زندہ دنبہ کی چکیکجھور میں موجود گٹھلی زیتون میں موجودروغنگندم میں موجود آتاتربوز میں موجود بیچ اور اس طرح کی دیگر اشیاء فروخت کی جائیں کیونکہ ان میں سرے سے بیع منعقد ہی نہیں ہوتی یہاں تك اگر بائع مبیع کو مشتری کے حوالے بھی کردے تب بھی جائز نہ ہوگی اور اصل محفوظ یہ ہے کہ اگر
حوالہ / References €&اتصال ثابت باصل الخلقۃ فبیعہ باطل وما لایمکن تسلیمہ الا بضرر یرجع الی قطع اتصال عارض فبیعہ فاسد الا ان یقطع باختیارہ ویسلم فیجوز ولقیاس علی ھذا الاصل ان یجوز بیع الصوف علی ظھرالغنم لانہ یمکن تسلیمہ من غیر ضرر یلزمہ بالحز الاانہم استحسنوا عدم الجواز للنص وھو ماروی عن ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما عن رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ولان الجزء من اصلہ لایخلو عن الاضرار بالحیوان وموضع الجز فیما فوق ذٰلك غیر معلوم فتجری فیہ النازعۃ فلایجوز اھ ملتقطا اقول:فکان ھذا من باب عدم ارتفاع المفسد وقولہ"جذ عالہ فی مقف اواٰجر لہ فی حائط"یحتمل المعین فلا فساد الامن جہۃ لزوم الضرر۔
€∞تسلیم مبیع بائع کو ایسا ضرر پہنچے بغیر ممکن نہ ہو جو ضرر اصل خلقت سے ثابت شدہ اتصال کے قطع کی طرف لوٹتاہے تو بیع باطل ہوگی اور اگر تسلیم مبیع ایسے ضرر کے بغیر ممکن نہ ہوجو اتصال عارضی کے قطع کی طرف لوٹتا ہے تو بیع فاسد ہو گی مگر جب بائع اپنے اختیار سے قطع کرکے تسلیم مبیع کردے توبیع جائز ہوجائیگی۔او راس اصل پر قیاس کا تقاضا ہے کہ بکریوں کی پشت پر اگی ہوئی اون کی بیع جائز ہو کیونکر اس میں تسلیم ممکن ہے بائع کو ضرور لاحق ہوئے بغیر جو بسبب اون کاٹنے کے لازم آتاہے مگر فقہاء نے اس کے جائز نہ ہونے کو مستحسن قرار دیا اس نص کی وجہ سے جس کو سیدنا حضرت ابن عباس €&رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما €∞نے رسول €&الله€∞ €&صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ €∞سے روایت فرمایا اور اس وجہ سے کہ اون کو جڑ سے کاٹنا حیوان کو ضرر پہنچانے سے خالی نہیں اور جڑکے اوپر سے کاٹیں تو کاٹنے کی جگہ متعین نہیں لہٰذا س میں جھگڑا پیدا ہوگا اس لئے ناجائز ہے الخ پس میں کہتاہوں کہ یہ مفسد کے دور نہ ہونے کے باب سے ہوگیا اور صاحب بدائع کا قول کہ"بائع نے چھت میں لگی شہتیر یا دیوار میں لگی ہوئی اینٹیں فروخت کیں"تو اس میں احتمال ہے کہ وہ شہتیر اور اینٹیں معین ہوں تو اس میں سوائے لزوم ضرر کے کسی اورجہت سے فساد نہ ہوگا۔(ت)
#12528 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
اتصال ثابت باصل الخلقۃ فبیعہ باطل وما لایمکن تسلیمہ الا بضرر یرجع الی قطع اتصال عارض فبیعہ فاسد الا ان یقطع باختیارہ ویسلم فیجوز ولقیاس علی ھذا الاصل ان یجوز بیع الصوف علی ظھرالغنم لانہ یمکن تسلیمہ من غیر ضرر یلزمہ بالحز الاانہم استحسنوا عدم الجواز للنص وھو ماروی عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما عن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ولان الجزء من اصلہ لایخلو عن الاضرار بالحیوان وموضع الجز فیما فوق ذلك غیر معلوم فتجری فیہ النازعۃ فلایجوز اھ ملتقطا اقول:فکان ھذا من باب عدم ارتفاع المفسد وقولہ"جذ عالہ فی مقف اواجر لہ فی حائط"یحتمل المعین فلا فساد الامن جہۃ لزوم الضرر۔
تسلیم مبیع بائع کو ایسا ضرر پہنچے بغیر ممکن نہ ہو جو ضرر اصل خلقت سے ثابت شدہ اتصال کے قطع کی طرف لوٹتاہے تو بیع باطل ہوگی اور اگر تسلیم مبیع ایسے ضرر کے بغیر ممکن نہ ہوجو اتصال عارضی کے قطع کی طرف لوٹتا ہے تو بیع فاسد ہو گی مگر جب بائع اپنے اختیار سے قطع کرکے تسلیم مبیع کردے توبیع جائز ہوجائیگی۔او راس اصل پر قیاس کا تقاضا ہے کہ بکریوں کی پشت پر اگی ہوئی اون کی بیع جائز ہو کیونکر اس میں تسلیم ممکن ہے بائع کو ضرور لاحق ہوئے بغیر جو بسبب اون کاٹنے کے لازم آتاہے مگر فقہاء نے اس کے جائز نہ ہونے کو مستحسن قرار دیا اس نص کی وجہ سے جس کو سیدنا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت فرمایا اور اس وجہ سے کہ اون کو جڑ سے کاٹنا حیوان کو ضرر پہنچانے سے خالی نہیں اور جڑکے اوپر سے کاٹیں تو کاٹنے کی جگہ متعین نہیں لہذا س میں جھگڑا پیدا ہوگا اس لئے ناجائز ہے الخ پس میں کہتاہوں کہ یہ مفسد کے دور نہ ہونے کے باب سے ہوگیا اور صاحب بدائع کا قول کہ"بائع نے چھت میں لگی شہتیر یا دیوار میں لگی ہوئی اینٹیں فروخت کیں"تو اس میں احتمال ہے کہ وہ شہتیر اور اینٹیں معین ہوں تو اس میں سوائے لزوم ضرر کے کسی اورجہت سے فساد نہ ہوگا۔(ت)
حوالہ / References بدائع الصنائع کتاب البیوع فصل واماشرائط الصحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۶۷
#12529 · باب البیع الفاسد والباطل (باطل اور فاسد بیع کا بیان)
بلکہ درمختارمیں ہے:
(فسد)بیع(جذع)معین(فی سقف)اما غیر المعین فلا ینقلب صحیحا ابن کمال(وزراع من ثوب یضرہ التبعیض)فلو قطع وسلم قبل فسخ المشتری عاد صحیحا ولو لم یضرہ القطع ککر باس جاز لانتفاء المانع ۔
چھت میں لگی ہوئی معین شہتیر کی بیع فاسد ہے رہی غیر معین تو اس کی بیع نہیں ہوسکتی(ابن کمال)اور جس کپڑے کو تبعیض نقصان دے اس میں سے ایك گز کی بیع فاسد ہے پھر اگر مشتری کے بیع کو فسخ کرنے سے قبل بائع نے اس کپڑے کو کاٹ کر مشتری کے سپرد کردیا تو بیع جائز ہوگئی اور اگر کاٹنا اس کو نقصان نہیں پہنچاتا تو مانع کے نہ ہونے کی وجہ سے بیع جائز ہے۔(ت)
مگر ردالمحتار میں ہے:
وھو ضعیف لانہ فی غیر المعین معلل بلزوم الضرر الجہالۃ فاذا تحمل البائع الضرر وسلمہ زال المفسد وارتفعت الجہالۃ ایضا ومن ثم جزم فی الفتح بانہ یعود صحیحا عــــــہ
اور وہ ضعیف ہے کیونکہ غیر معین میں فساد بیع کی علت لزوم ضرر اور جہالت کو قرار دیا گیا تو جب بائع نے ضررکو برداشت کرلیا اور مبیع مشتری کے سپرد کردیا تو مفسد زائل ہوگیا اور جہالت بھی جاتی رہییہی وجہ ہے کہ فتح میں اس پر جز م کیا گیا کہ بیع صحت کی طرف پلٹ آئے گی۔(ت)

عــــــہ:جواب ناتمام ملا۔
_______________________
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴
ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۹۔۱۰۸
#12530 · باب البیع المکروہ (بیع مکروہ کا بیان)
باب البیع المکروہ
(بیع مکروہ کا بیان)
مسئلہ ۸۹: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ غلہ کوروك کر بیچنا جائزہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
غلہ کو اس نظر سے روکنا کہ گرانی کے وقت بیچیں گے بشرطیکہ اسی جگہ یا اس کے قریب سے خریدا اور اس کانہ بیچنا لوگوں کو مضر ہو مکروہ وممنوع ہےاوراگر غلہ دور سے خرید کر لائے اور باتنظار گرانی نہ بیچے یانہ بیچنا اس کا خلق کو مضرنہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں
فی العالمگیریۃ الاحتکار مکروہ وذلك ان یشتری ذلك یضر بالناس کذا فی الحاوی وان اشتری فی ذلك المصر وحبسہ ولایضر باھل المصر لاباس بہ کذا فی التتارخانیۃ ناقلاعن التجنیس واذا اشتری من مکان قریب من المصرفحمل طعاما الی المصر وحبسہ و ذلك یضر باھلہ فہو مکروہ ھذا قول محمد وھو احدی الروایتین عن ابی یوسف وھو المختار ھکذافی الغیاثیۃ وھو الصحیح ھکذا فی جواہر الاخلاطیوفی الجامع الجوامع فان جلب من کان بعید واحتکر لم یمنع کذا فی التاتارخانیۃ ۔
عالمگیریہ میں ہے احتکار مکروہ ہے اس کی صورت یہ ہے کہ شہر میں غلہ خرید لے اور اس کو فروخت کرنے سے روك رکھے اوریہ روکنا لوگوں کے لئے نقصان دہ ہو یہ حاوی میں ہے اور شہر میں خرید کر اس کے بیچنے سے روکا مگر اس سے لوگوں کو ضرر نہیں پہنچتا تو کوئی حرج نہیں یونہی تاتارخانیہ میں تجنیس سے نقل کیا گیا ہےاور اگر شہرکے قریب سے خریدا اور شہر میں اٹھالایا اور فروخت سے روك رکھا جبکہ
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع فصل فی الاحتکار نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۱۳
#12531 · باب البیع المکروہ (بیع مکروہ کا بیان)
اس سے شہر والوں کو ضرر پہنچتاہے تو یہ مکروہ ہے یہ امام محمد علیہ الرحمۃ کا قول ہےاورامام ابویوسف رحمہ الله تعالی علیہ سے بھی دوروایتوں میں سے ایك میں یہی آیاہےیہی مختار ہےاسی طرح غیاثیہ میں ہےاوریہی صحیح ہے جیسا کہ جواہر الاخلاطی میں مذکور ہے اور جامع الجوامع میں ہے کہ اگر کہیں دور سے اناج خرید کر کھینچ لایا اور شہر میں فروخت سے روك رکھا تو ممنوع نہیںتتارخانیہ میں یوں ہی ہے۔(ت)
مسئلہ ۹۰: از شہر کہنہ ۱۱ربیع الآخر شریف ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زد نے مبلغ پانسو روپے کے گیہوں خریدے فصل میں اور بقدر ضرورت اپنے اہل وعیال کے لئے رکھ لئےاور باقیماندہ ماہ اساڑھ میں فروخت کردئے اس شکل میں زید مواخذہ دار ہوایانہیں
الجواب:
بریلی میں پانسو بلکہ پانچ ہزار کے گہیوں فصل پر خریدنے اور بیچنے میں کوئی مواخذہ نہیں کہ ان دونوں زمانوں میں نرخ کا اختلاف معمولی طوپر ہمیشہ ہوتاہےہاں اگر گرانی پڑنے کی خواہش کرے تو خلق اللہ کا بدخواہ اور ماخوذ گناہ ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۱ تا ۹۲: از بریلی محلہ ذخیرہ جناب مقبول الرحمن خاں
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مکان مسکونہ کی بیع ایك مسلمان سے قرار پائی وہ معاملہ بیع طے ہوگیا اور قبضہ مکان پر مشتری کو بعد تحریر مسودہ بیعنامہ کردینے دستخط کے دے دیا گیا حسب قانون انگریزی ہنوز بینعامہ تحریر ورجسٹری نہ ہوا تھا کہ ایك دوسرامسلمان اسی محلہ کا جو پہلے خریداری سے انکار کرچکا تھا اب ایك سو روپیہ بڑھاکر خریداری کا ارادہ ظاہر کرتاہے اور قبضہ ہنوز اس شخص کا ہے جس سے پہلے بائعان کی گفتگو بیع کی طے ہوچکی ہے اور اس کے قبضہ میں مسودہ دستخط شدہ بھی موجود ہےایسی صورت میں کون سی بیع شرعا جائز ہے اور جو بیع شرعی
#12532 · باب البیع المکروہ (بیع مکروہ کا بیان)
پرراضی نہ ہو اس کے لئے کیاحکم ہے
(۲)تین ہفتہ سے مشتری سابق مع عیال واطفال اس مکان میں رہتاہے جس پر بائعان بخوشی قبضہ دے چکے ہیں تو اب اس کو حق اہل محلہ کے پڑوسی ہونے کا حاصل ہوگیا یانہیں اوراگر حاصل ہوگیا تو نئے مشتری کو جو پڑوسی ہے اس کو تکلیف دینا اور مکان بہ جبر اس سے خالی کرانا جائز ہے یانہیں اور اگر نہیں تو اس کے لئے کیاحکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
دوسرے کااب بیع سے تعرض کرناقیمت بڑھانااپنی طرف پھیرنا سب حرام ہے۔
فقد نہی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عن سوم الرجل علی سوم اخیہ فضلا عن الصورۃ المذکورۃ فی السوال۔ بیشك رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے سوداپر سودا کرے چہ جائیکہ سوال میں مذکورہ صورت ہو۔(ت)
مکان بہ جبر اس سے خالی کرانا ظلم ہےاور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:الظلم ظلمات یوم القیمۃ ۔ظلم قیامت کے دن اندھیریاں ہوجائے گا۔
اورقرآن عظیم میں ظالموں پر لعنت فرمائی اور ہمسایہ ظلم اور بھی سخت اشد کبیرہ ہےبائع پر فرض ہے کہ اپنی اگلی بیع پر قائم رہے شرعا بیع ہوچکی رجسٹری یا اسٹامپ پرلکھا جانا شرعا اصلا ضرور نہیںاور اس دوسرے شخص پر فرض ہے اس ظلم سے باز آجائے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۳: از چاندپور ضلع بجنور مرسلہ حکیم رضوی صاحب ۲۳ شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فصل اور موسم ارزانی میں غلہ خرید کیا جائے عندالموقع بشرح نرخ بازار فروخت کردیا جائے اس کا منافع مسلم کے لئے حرام ہونا کہاں تك لغویت ہے مخالفین اس میں طعنہ زن ہوتے ہیں بغرض حجت حضور سے استصواب ہے۔
الجواب:
صورت مذکورہ پر غلہ کی تجارت بلاشبہ حلال وجائز ہے اسےحرام کہنے والا حلال شرعی کو
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل حدیث ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲ /۴۱۱
مسند احمد بن حنبل عبدالله ابن عمر رضی الله تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲/ ۱۰۶
#12533 · باب البیع المکروہ (بیع مکروہ کا بیان)
حرام کہتاہےحرام یہ ہے کہ بستی میں آنے والا غلہ خود خریدلے اور بندرکھے کہ جتنا مہنگا چاہے بیچے جس سے بستی پر تنگی ہو جائےاور مکروہ یہ ہے کہ اس کے خریدنے سے بستی پر تنگی تونہ ہو مگر اسے آروز ہو کہ قحط پڑے کہ مجھے نفع بہت ملےاور جب ان دونوں باتوں سے پاك ہے جیسا صورت سوال میں ہے تو اصلا کراہت بھی نہیں۔ درمختارمیں ہے:
کرہ احتکار قوۃ البشر والبہائم فی بلد یضرباھلہ فان لم یضرلم یکرہ ۔
انسانوں اور چوپایوں کی خوراك مہنگا بیچنے کی غرض سے ایسے شہر میں روك رکھنا مکروہ ہے جس کے باشندوں کو اس روکنے سے ضررر پہنچے اور اگر ضرر نہ ہو تو مکروہ نہیں۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
اثم بانتظار الغلاء والقحط لنیۃ السوء للمسلمین ۔واللہ تعالی اعلم
مہنگائی اور قحط سالی کے انتظار میں غلہ کوروك رکھنے سے گنہگار ہوا کیونکہ ا س میں مسلمانوں کےلئے بدخواہی ہے۔ والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۴: از ضلع فریدپور مرسلہ حافظ عنایت علی وکفایت علی ۲۵ صفر ۱۳۱۹ھ
جناب مولانا احمد رضاخاں صاحب بعد سلام علیکم مزاج شریفاحوال یہ ہے کہ ایك شخص گندم مبلغ بیس ۲۰ روپے کے ساڑھے نوسیر کے وعدہ پر چھ ماہ کو طلب کرتاہے اور گندم کانرخ بازار میں ساڑھے گیارہ سیر وبارہ سیرہےجوشخص گندم لیتاہے اپنی ضرورت کو بازار میں ساڑھے گیارہ سیر وبارہ سیر فروخت کرکے اپنا کام نکال لیتاہے اورجو شخص گندم ادھار دیتاہے اس کے مکان پر گندم نہیں بازار سے خرید کردیتاہےدوسرا شخص مبلغ دس روپے کے گندم آٹھ سیر کے بھاؤ سے مانگتا ہے اور مبلغ دس روپے نقد طلب کرتاہے اسے جو دس روپے دئے جائیں گے اس روپیہ کو دس کے دس لئے جائیں گے جیسا کچھ ارشاد فرمائیں۔
الجواب:
یہ صورتیں حرام نہیں گناہ نہیں پھر بھی مکروہ ہیں ان سے بچنا بہترہےکما فی الفتح وردالمحتار(جیسا کہ فتح اور رد المحتار میں ہے۔ت)
__________________
حوالہ / References درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۸
ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۵۶
#12534 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
باب بیع الفضولی
(فضولی کی بیع کے احکام)
مسئلہ ۹۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے زیور اپنی زوجہ ہندہ کا کہ اسے جہیز میں ملاتھا بلااجازت ہندہ بیع کیا اور اپنے صرف میں لایاآیا یہ بیع نافذ اور ہندہ کو زید سے اختیار مطالبہ حاصل ہے یانہیں اور زیور وظروف وغیرہ اسباب جہیز جو والدین ہندہ نے خاص واسطے صرف ہندہ کے دیا ہے ملك ہندہ کی ہے یا زید کی بینوا توجروا۔
الجواب:
زیور وظروف وغیرہ اسباب جہیز کہ والدین ہندہ نے خاص واسطے صرف ہندہ کے دیا بلاوجہ ملك ہندہ ہے زید کو اس میں کچھ حق نہیں۔
فی الدرالمختار جھز ابنتہ بجھاز وسلمہا ذلك لیس لہ الاسترداد منہاولالورثتہ بعدہ ان سلمہا ذلك فی صحتہ بل تختص بہوبہ یفتی ۔ درمختارمیں ہے کہ باپ نے بیٹی کو جہز دیا اور بیٹی کے قبضہ میں دے دیا تو اب نہ تو وہ خود واپس لے سکتاہے نہ ہی اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء واپس لے سکتے ہیں جب کہ اس نے یہ جہیز حالت صحت میں دیا ہو بلکہ اس جہیز کی ملکیت بیٹی کے ساتھ مختص ہے اور اسی پر فتوی ہے۔(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب النکاح باب المہر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۰۳
#12535 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
پس وہ بیع کہ زید نے کی بلااجازت ہندہ نافذ نہیں ہوسکتیاور اگر ہندہ مطالبہ کرے تو وہ زیور مشتری سے پھر سکتاہےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے مرض موت میں ایك مکان اور ایك دکان کہ قریب سولہ سو روپے کے قیمت کے تھے چھ سوروپے کو اپنے شوہر اور دختر کے ہاتھ بیع کئےبعد پندرہ روزکے بعد ہندہ مرگئیاس صورت میں یہ بیع جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مسئولہ میں بیع صحیح نہیں کہ بیع مرض موت میں کم قیمت کو باتفاق امام اعظم وصاحبین رحمہم الله تعالی ناجائز ہے اور وارث کے ہاتھ تو برابر قیمت کوبھی بے اجازت دیگر ورثہ امام اعظم کےنزدیك جائز نہیں
فی التلویح لوباع من احد الورثۃ عینا من اعیان الترکۃ بمثل القیمۃ فلایجوز عند ابی حنیفۃ اھ ملخصاواللہ تعالی اعلم۔
تلویح میں ہے اگر اشیاء ترکہ میں سے کوئی خاص شئی کسی نے اپنے وراث کے ہاتھ برابر قیمت پر فروخت کی تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك جائز نہیں ہے اھ ملخصا والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۷:
مثلا زید یك مکان بلااجازت عمرو خریدہ بیعنامہ آں بنام عمرو برادر خود تحریر کنایندہ گرفت وزرثمن آں نیز خود دادہ اقرارہم کردہ ماند کہ ایں مکان عمرو ست بعد ازاں عمرو کہ وقت خرید مکان درسفر بود درانجا فوت کرد ورثہ عمرو مکان مذکورہ باعانت حاکم از زید بوجہ بیعنامہ واقرار مذکور در خواستند وزیر بحکم حاکم تفویض وتسلیم
مثال کے طور پر زید نے ایك مکان اپنے بھائی عمرو کی اجازت کے بغیر خرید کر اس کا بیعنامہ عمرو کے نام لکھوادیا اور اس کا زرثمن بھی خود ہی دے کر اقرار کیا کہ یہ مکان عمرو کا ہےبعد میں جب عمرو جو مکان کی خریداری کے وقت سفرپر تھا وہیں فوت ہوگیا تو عمروکے وارثوں نے بیعنامہ اور اقرار مذکورہ کی وجہ سے حاکم کی مدد کے ذریعے زید سے مکان کامطالبہ کیا اور زید حاکم کے حکم پر
حوالہ / References التلویح مع التوضیح فصل فی الامور المعترضۃ علی الاھلیۃ منہا المرض نورانی کتب خانہ قصہ خانی پشاور ص۶۶۳
#12536 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
ایشاں کردپس الحال زید مستحق یافتن زرثمن کہ درعدالت دادن زید ثابت گردید از ورثاء عمرو ہست یا بوجہ اقرار برملکیت عمرو بسبب مکان مذکور اقراربریں امر ہم گردید کہ روپیہ دادہ شدہ زرثمن مکان ازاں عمرو ستبینوا توجرواوہ مکان ان کے حوالے کردیاتوکیا اب زید وہ زرثمن عمروکے وارثوں سے پانے کا حقدار ہے جس کی زید کی طرف سے عدالت میں ادائیگی ثابت ہے یامکان مذکور پر عمرو کی ملکیت کااقرار کرنے کی وجہ سے اس بات کا بھی اقرار ہوگیا کہ مکان کہ زرثمن میں دیا گیا روپیہ بھی اسی عمرو کی طرف سے ہے بیان کرو اجرپاؤ گے۔(ت)
الجواب:
شرعا درصورت مسؤل فیہا زید مستحق یافتن زرثمن کہ در عدالت دادن زید ثابت گردیدہ از روثہ عمرو بعدتسلیم مکان بایشان استواقرار زید بمکان برائے عمرو کہ ہمچوں صورت خرید درغیبت دادن ثمن از نردخود بمعنی خریدہ شدن برائے عمرو است اقرار بملکیت ثمن برائے عمو عموما خصوص بحالیکہ زید بودن ثمن ازاں خود گفتہ باشد نمی تواند شد چہ اقرار بریك چیز اقرار بچیز دیگر منفصل از مقربہ کہ جزء تابع آں نباشد نمے شود وزرثمن کہ چیزے منفصل وعلیحدہ ا ز مکان مقربہ است بجہت نبودن جزء مکان ومرکب نبودنش دراں تابع مکان نیست پس داخل دراقرار مکان عموما خصوص درحالیکہ زید بودنش ازاں خود گفتہ باشد نمی تواند شد مانند اقرار بجاریہ مقبوضہ ذات صورت مسئولہ میں عمرو کے ورثاء کومکان سپرد کرنے کے بعد زید ان سے وہ زرثمن حاصل کرنے کا شرعی طور پرمستحق ہے جس زرثمن کی زید کی طرف سے عدالت میں ادائیگی ثابت ہےاورزید کا یہ اقرار کہ مکان عمرو کے لئے ہے جیسا کہ خریداری کی صورت میں عمرو کی عدم موجودگی میں اپنے پاس سے ثمن ادا کرنا بایں معنی کہ مکان کی خریداری عمرو کے لئے ہے اس بات کا اقرار عموما نہیں ہوسکتا کہ ثمن عمر وکی ملکیت تھے خصوصا اس حال میں کہ جب زید نے اپنے پاس سے ثمنوں کی ادائیگی کاکہا بھی ہو(تو بدرجہ اولی ثمنوں کا ملك عمرو ہوناثابت نہ ہوگا)کیونکہ ایك چیز کا اقرار کسی دوسری ایسی چیز کا اقرار نہیں ہوسکتا جو اس چیز سے منفصل ہو جس کا اقرار کیا گیا ہے اوراس کی تابع جزء نہ ہواور ثمن اس مکان سے منفصل اور علیحدہ چیز ہے جس مکان کا اقرار زید نے عمرو کے لئے کیا ہے لہذا اس مکان کی جزء نہ ہونے اور اس کے ساتھ مرکب نہ ہونے کی وجہ سے زر ثمن مکان کے تابع نہیں چنانچہ بالعموم اقرار مکان میں داخل نہ ہوسکے گا
#12537 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
ولد واقرار بصندوق محمولہ متاع و اقرار بدار مقبوضہ مشمولہ بمتاع ودواب کہ اقرار بولد جاریہ ومتاع صندوق ومتاع دار ودواب از ہمیں علت جامعہ یعنی از جہت نبودن ہر یکے ازاں جزو تابع مقربہ نمے شود درفتاوی قاضیخان نوشتہ رجل فی یدیہ جاریۃ وولدہافقال ان الجاریۃ لفلان لایدخل فیہ الولد الخ۔ودرمحیط نوشتہ(عبارت منقول بر ہامش در مختار ص ۴۸۲)انتہی ملتقطا واگر نیك غور کردہ آید ہمیں مضموم یعنی داخل نبودن ثمن غیر مقربہ در اقرار مکان ولازم نبودنش برمقران ازھدایہ وعینی وغیرہما بقیہ مااقربہ درعبارت لزمہ اقرارہ مجہولہ کان مااقربہ اومعلوما والاقرار ملزم علی المقرما اقربہ ۔ واضح مے شودوچوں ثمن غیر مقربہ داخل در اقرار مکان نمی تواند شد خصوصا اس حال میں کہ جب زید نے یہ کہہ بھی دیا ہے کہ ثمن میں اپنے پاس دے رہاہوں یہ ایسے ہی ہوگیا جیسے کوئی شخص اولاد والی مقبوضہ لونڈی کے بارے میں اقرار کرے یا اس صندوق کے بارے میں اقرار کرے جس میں سامان ہویا ایسے گھر کے بارے میں اقرار کے جس میں سامان اور چوپائے ہوں تو یہ اقرار لونڈی کی اولادصندوق میں رکھے ہوئے سامان اور گھر میں موجود سامان اور چوپایوں کو شامل نہ ہوگا اسی علت جامعہ کی وجہ سے یعنی اس وجہ سے کہ ان میں کوئی بھی ان چیزون کی جزء وتابع نہیں جن کے بارے میں اقرار کیا گیافتاوی قاضی خاں میں لکھا ہوا کہ ایك شخص کے قبضہ میں لونڈی اور اس کی اولاد ہوا اور وہ کہے کہ یہ لونڈی فلاں شخص کی ہے تو لونڈی کی اولاد اس اقرار میں داخل نہ ہوگی الخ۔اور محیط میں مرقوم ہے(عبارت برہامش درمختار ص ۴۸۲)انتہی ملتقطا اور اگر خوب غور کیا جائے تو یہی مضمون یعنی غیر اقرار شدہ ثمنوں کا اقرار مکان میں داخل نہ ہونا اور مکان کا اقرار کرنیوالوں پرثمن کا لازم نہ ہونا ہدایہ اور عینی وغیرہ میں مذکور مااقربہ(جس کا اس نے اقرار کیا)کی قید سے حاصل ہوتاہے جو قید انھوں نے ان عبارتوں میں لگائی کہ مقرپر اس کا اقرار لازم ہو جاتاہے چاہے
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب الاقرار فصل فی الاستثناء نولکشور لکھنؤ ۳/ ۶۲۳
الہدایہ کتاب الاقرار مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۲۹
البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب الاقرار المکتبۃ الامدادیہ مکۃ المکرمہ ۳/ ۴۷۷،فتح القدیر کتاب الاقرار مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۷/ ۲۹۹
#12538 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
پس زید کہ مکان مذکور آں بلااجازت عمرو بنام اوخریدہ زرثمن آں از نرد خود بجہت مباشربودن معاملہ خرید ومضطر بودن درادائے ثمن کہ دینے واجب الادا بود ببائع آں نمود ورثہ عمرو آں مکان را بعد حکم حاکم برتسلیم زید درقبض خود درآورند بے شبہہ ز ید مستحق یافتن زرثمن ادا کردہ خود از ورثہ عمر واست واحتمال تطوع وتبرع درہمچوں حالت اضطرار ادائے ثمن مفقود کہ شرعا مضطر بادائے دین ذمگی کسے بہ نہجیکہ باشد ہر گز متطوع ومتبرع قراردادہ نمی شود چنانچہ ازیں روایت معتبرہ شرح حموی ظاہر ست لو قضی واحد من الورثۃ حق الغریم من مالہ علی ان لایرجع فی الترکۃ فالقاضی لاینقض القسمۃ بل یمضیہا امااذا شرط الرجوع او سکت فالقسمۃ مردودۃ الاان یقضوا حق الوارث الذی قضی حق الغریم من مالہ وھذا الجواب وہ شے جس کا اس نے اقرار کیامعلوم ہو یا مجہولمقر پر لزوم اس کے اقرار کی وجہ سے ہوتاہے۔جب غیر اقرار شدہ ثمن مکان کے اقرارمیں داخل نہیں ہوسکتے تو پھر زید نے جو مکان عمرو کی اجازت کے بغیر اس کے نام پر خریدا اور زرثمن اپنے پاس سے اس لئے بائع کودیا کہ ہو خریداری کے معاملہ میں مباشر تھا اور ثمن جو کہ واجب الادا دین ہے کی ادائیگی میں مجبور تھا ورحکم حاکم کے بعد زید کی سپردگی سے عمرو کے ورثاء نے وہ مکان اپنے قبضہ میں لے لیا تو اب زید بلا شبہ عمروکے ورثاء سے اس زرثمن کو وصول کرنے کا مستحق ہے جو اس نے اپنے پاس سے ادا کیا ہے اور اس طرح کی اضطراری حالت میں ثمن کی ادائیگی میں تطوع وتبرع(بطور احسان اداکرنا)کا احتمال موجود نہیں کیونکہ کسی کے ذمے لازم قرض کی ادائیگی میں اگر کوئی شخص کسی طرح مجبورہوتوشرعی طورپراس قرض اداکرنے والے شخص کوتطوع و تبرع کرنے والا ہر گز قرارنہیں دیا جاتاجیسا کہ شرح حموی کی اس معتبر روایت سے ظاہر ہے اگر کسی وارث نے اپنے مال سے کسی قرض خواہ کا حق ادا کردیا اس شرط پرکہ وہ ترکہ میں سے قرض کا رجوع نہیں کرے گا تو قاضی تقسیم کو نہیں توڑے گا بلکہ اس کو قائم رکھے گا اوراگر اس نے ترکہ سے رجوع کی
#12539 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
ظاہر فیما اذا شرط الرجوع مشکل فیما اذا سکت وینبغی ان یجعل متوطعا اذااسکت و الجواب انہ لم یجعل متطوعا لانہ مضطر فی القضاء انتہی۔وبرائے ثبوت استحقاق زید بہ نسبت یافتن زرثمن از ورثہ عمرو کہ مکان خریدہ زید رابعد حکم حاکم بہ تسلیم زید باوصف ثبوت ادائے ثمن ازاں زید بقبضہ ایشاں دررسیدہ ایں روایت ہدایہ وعنایہ ونتائج وغیرہ کنایت میکند وھی ھذہ ومن قال الاخر بعنی(منقول ھامش الدرمن باب الفضولی)الا ان یسلمہ المشتری لہ ای الاان یسلمہ المشتری لہ العبد المشتری لاجلہ الیہ ویجوز ان یکون معناہ الاان یسلم فلانا العبد المشتری لاجلہ وفاعل یسلم ضمیر یعود الی المشتری بناء علی الروایتین بکسرالراء وفتحہا فیکون بیعا و علیہ العہدۃ ای علی شرط لگائی یا خاموش رہا تو تقسیم مردود ہوگی تاوقتیکہ ورثاء اس وارث کا حق ادا کردیں جس نے قرضخواہ کا حق اپنے مال سے اداکیایہ حکم شرط رجوع والی صورت میں ظاہر اور سکوت والی صورت میں شکل ہے چنانچہ خاموش رہنے کی صورت میں اس وارث کو متطوع قرار دینا چاہئےاس کا جواب یہ ہے کہ اس کو متطوع اس لئے قرار نہیں دیا گیا کہ وہ قرض کی ادائیگی میں مجبور تھا انتہیزید کاخریدا ہوا مکان حکم حاکم پر زید کے سپردگی کے بعد جب ورثاء عمرو کے قبضہ میں پہنچ گیا باوجود یکہ زید کی طرف سے زرثمن کی ادائیگی ثابت ہے تواب ورثاء عمرو سے زید کے زرثمن کے مستحق ہونے کے ثبوت کے لئے ہدایہ عنایہ اورنتائج کی یہ روایت کافی ہے جو کہ یہ ہے اور جس شخص نے دوسرے کو کہاکہ مجھ پر فروخت کر الخ(منقول از حاشیہ درمختارباب الفضولی)مگریہ کہ مشتری غلام اس کے حوالے کردے جس کے لئے اس نے خریدا یعنی سوائے اس کے بیع جائز نہ ہوگی کہ مشتری خریدا ہوا غلام اس کے حوالے کردے جس کے لئے اس نے خریدا اور ممکن ہے کہ معنی یوں ہو مگر ا وقت بیع جائز ہوگی جب مشتری خریدا ہوا غلام اس فلاں کے سپرد کردے جس کی خاطر وہ غلام خریدا گیا اور یسلم کافاعل ضمیر ہو جو مشتری کی طرف لوٹتی ہےیہ اختلاف دوروایتوں پر مبنی ہے مشتری کی راء پر کسرہ اور فتحہ
حوالہ / References غمز عیون البصائر الفن الثانی کتاب القسمۃ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲/ ۹۵۔۹۴
#12540 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
فلان عہدۃ الاخذ بتسلیم الثمن لانہ صار مشتریا بالتعاطی کالفضولی اذااشتری لشخص ثم سلمہ المشتری لاجلہ عنایۃ الا ان یسلم المشتری لہ روی لفظ المشتری بروایتین بکسر الراء وفتحہا فعلی الکسر یکون المشتری فاعلاوقولہ لہ ای لاجلہ ویکون المفعول الثانی محذوفا وھو الیہفالمعنی الا ان یسلم الفضولی العبد الذی اشتراہ لاجل فلان الیہوعلی الفتح یکون المشتری لہ مفعولا ثانیا بدون حرف الجر وحو فلانویکون الفاعل مضمرا یعود الی المشتری فالمعنی الا ان یسلم الفضولی العبد الی المشتری لہ وھو فلانثم ان ھذا الاستثناء من قولہ لم یکن الخ(منقولہ ھامش الدر من الفضولی) الخ کے ساتھ تو اس طرح یہ نئی بیع ہوگی او راس کی یعنی فلاں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ثمن ادا کرکے اس کو لے لے کیونکہ وہ تعاطی کے ساتھ مشتری ہوگیا ہے اس فضولی کی طرح جو کسی شخص کے لئے کچھ خریدے وہ چیز اس کے حوالے کردے جو اس کے لئے خریدی گئی(عنایہ)مگریہ کہ مشتری وہ غلام اس کے حوالے کردےلفظ مشتری دوطرح سے روایت کیا گیا راء کے کسرہ اور فتحہ کے ساتھکسرہ کی صورت میں مشتری فاعل ہوگا اور ماتن کا قول لہ کا بمعنی لاجلہ ہوگا اور مفعول ثانی محذوف ہوگا جوکہ الیہ ہے تو اس طرح عبارت مذکورہ کا معنی یہ ہوگا مگر یہ کہ فضولی(مشتری)وہ غلام جو فلاں کی وجہ سے اس نے خریدا وہ فلاں کے حوالے کردےاورفتحہ کی صورت میں مشتری لہ بغیر حرف جر کے مفعول ثانی ہوگا اور مشتری لہ وہ فلاں ہی ہے اور یسلم کا فاعل وہ ضمیر ہوگی جو مشتری کی طرف لوٹتی ہے تو اس طرح عبارت مذکورہ کا معنی یہ ہوگا مگریہ کہ وہ فضولی(مشتری)غلام کو مشتری لہ(جس کے لئے خریدا گیا) کے حوالے کردے اور وہ یعنی مشتری لہ وہ فلاں ہی ہےپھر یہ اسثتناء ماتن کے قول لم یکن الخ سے ہے(منقول ازحاشیہ در
حوالہ / References العنایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الوکالۃ باب الوکالہ فی البیع والشراء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۷ /۵۱ و ۵۲
نتائج الافکار وھی تکملہ فتح القدیر کتاب الوکالۃ باب الوکالہ فی البیع والشراء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۷/ ۵۱ و ۵۲
#12541 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
نتائجوا ﷲ تعالی اعلم وعلمہ احکم المجیب المدعو بمحمد فقیر اللہ الغنی عفی عنہ ارسلہ الی سید مولنا شاہ علی باھتمام تام للتصدیق لمنتصف جمادی الاولی ۱۲۹۵ھ۔
اس کو سیدمولنا شاہ علی کے پاس پورے اہتمام کے ساتھ تصدیق کے لئے ارسال کیا نصف جمادی الاولی ۱۲۹۵ھ(ت)
اقول:حاصل الجواب امران الاول انہ انما اقربالدار دون الثمن وکان مضطر الی قضائہ فیرجع ولایجعل تبرعاالثانی انہ لما سلم الدار الی ورثۃ عمرو صاربیعا مبتہ ابالتعاطی فکان عہدۃ الاخذ بتسلیم الثمن علیہم وانت تعلم ان بین الامرین تباینا وتنافیا وعندی الجواب لیس کما قال لان زیدا اما ان یکون قال عندالشراء اشتریتہ لفلان اوقال لی اولا ولا علی الاول کان فضولیا یتوقف نفاذ شرائۃ علی اجازۃ من اشتری لہ وقد مات قبل ان یجیز فبطل واستبان ان المبیع للبائع و الثمن للفضولی المشتری الذی اداہ من عندہفلا شیئ باب الفضولی)
نتائجالله تعالی بہتر جانتا ہے اوراس کا علم بہت مضبوط ہےمجیب فقیر محمد فقیر الله نے اقول:(میں کہتاہوں)جواب کا حاصل دو امرہیں:پہلا یہ کہ زید نے مکان کا اقرار کیا نہ کہ ثمن کا اور وہ ثمن کی ادائیگی میں مجبورتھا لہذا وہ رجوع کرے گا اور اس کو تبرع قرار نہیں دیا جائےگادوسرا امر یہ ہے کہ زید نے جب مکان ورثاء عمرو کے حوالے کردیا اور یہ تعاطی کے ساتھ نئی بیع ہوئی تو اب ثمن اداکرکے اس کو لینا عمرو کے ورثاء کی ذمہ داری ہے اور تو جانتا ہے کہ ان دونوں امروں میں مخالفت ومنافات ہےاور میرے نزدیك اس کا جواب اس طرح نہیں جس طرح میرے مجیب نے کہا اس لئے کہ زید نے خریداری کے وقت یا تو یہ کہا ہے کہ میں نے یہ مکان فلاں کے لئے خریدا ہے یا یہ کہا کہ یہ میرے اپنے لئے ہوگا یا ایسا اس نے نہیں کیاپہلی صورت میں وہ فضولی ہے اور اس کی خریداری کا نفاذ اس کی اجازت پر موقوف ہوگا جس کے لئے اس نے یہ مکان خریدا حالانکہ وہ اجازت سے قبل مرگیا ہے تو بیع باطل ہوگئی اور ظاہر ہوگیا کہ مبیع بائع کی ملك اور ثمن ا س فضولی مشتری کی ملك ہے جس نے اپنے پاس سے ادا کیاچنانچہ
#12542 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
لعمرو ولالورثتہ وحکم الحاکم لہم لایعتبر بل یرد ویفسخ لانہ قضی لہم بمال الغیر والاقرار باطل لانہ اقرار بملك الغیر نعم ان انتقل الیہ بعد بوجہ من الوجوہ اخذ باقرارہ فاذ ارفع الامر الی القاضی وجب ان یرد قضاوہ لظہور خطائہ من جہۃ الشرع وھذا التعاطی ایضا لایجوز ان یکون بیعا مبتداء اذا لفضولی لاحق لہ فی المبیع وان کان کان بیع فضولی متوقفا علی اجازۃ البائع الاولفان اجاز کان الثمن لہ لاللفضولی والا یسترد الدار من الورثۃ ویرد الثمن علی الفضولیوعلی الثانیین نفذ الشراء علی الفضولی لعدم الاضافۃالی من اشتراھا لاجلہثم انہ مواخذہ باقرارہ وقد قضی القاضی للورثہ بالدار محتجین بالاقرار ففیم برجع علیہم بالثمن و ان ثبت عندا لقاضی انہ انما شراہ بثمنہ لما وقع عندالشراء فی محکمۃ القضاء ولم لم یستلزم الاقرار بالدار الاقرار بالثمن اذلیس معنی المؤاخذۃ بالاقرار ان یقضی بالمقربہ للمقرلہ ویرجع المقر بالثمن بناء علی انہ کان اشتراہ اذ فی الاقرار لاینظر الی الواقع انما یواخذ الرجل بزعمہ لاحتمال انہ کان اشتراہ ثم حدث سبب فصار ملکا للمقرلہ وان ادعی انہ انما اقربنا علی زعمہ ان اشراءہ لاینفذ علیہ فھذہ کلمۃ ھو قائلہا لاتقبل منہ لما فی الاشباہ اذا اقربشیئ ثم ادعی الخطاء لم تقبل الا اذااقربالطلاق اذا اقربہ بناء علی مافتی بہ المفتی ۔ ثم ظھر ان الحکم لیس کك فادعی الخطاء بناء علی ھذا قبل وکذا ان ادعی ان اقرارہ کان تملیکا وہبۃ وبطلت لموت عمرو قبل القبول والتسلیم فان الموت احدالعاقدین یبطل الہبۃ اذا کان قبل التسلیم فقبل القبول ۔۔۔۔۔فـ ۔۔۔ابی لم تقبل ایضا صرح بہ فی الاشباہ ثم ھذا التسلیم الواقع بامرالقاضی انما وقع علی حکم الاقرار لاعلی وجہ البیع والتسلیم لایکون بیع التعاطی الااذا وقع علی جھتہ قال فی الدر فی باب الوکالۃ بالبیع والشراء لان التسلیم علی وجہ البیع بیع بالتعاطی الخ۔وایضا یعتمد البیع بالتراضی و ھھنا التسلیم بامر القاضی ولا رضاء بعد القضاء ھذا ماظہرلی من وجوہ الخلل فی الجواب فالحق فی الجواب ما
حوالہ / References الاشباہ والنظائر کتاب الاقرار ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۲۱۔۲۰
درمختار کتاب الوکالۃ باب الوکالۃ بالبیع الخ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۰۶
فــــــ:یہاں اصل میں بیاض ہے۔
#12543 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
اقول:ان ثبت انہ لم یکن اضاف الشراء الی عمرو حین اشتری ولو استکتب اسمہ فی الصك بعد تمام العقد ووقوع الایجاب و القبول فلا شك ان الشراء ینفذ علیہ فتصیر الدار ملکا لہ ثم یواخذہ باقرارہ کما قضی القاضی ولایمکنہ الرجوع علی الورثۃ بالثمن وان تثبت الاضافۃ اذ ذاك کان شراء متوقطا ثم بطل لموت عمر وقبل الاجازۃ قال فی الدر فی حق بیع الفضولی لاتجوز اجازۃ وارثہ لبطلان بموتہ وکذا فی عامۃ الکتب فکذا شراء ہ لاجرم ان قال فی الاشباہ الموقوف یبطل بموت الموقوف علی اجازتہ ولا یقوم الوارث لوارث مقامہ الا فی القسمۃ کذا فی الولوالجیۃ انتہی فلم یکن للورثۃ حق فی الدارولا فی الثمن فاذ ارفع الامرا الی القاضی وجب ان یرد قضاؤہ لما تبیین من خطائہ بحکم الشرع فان ادعی البائع ردت الدار الیہ والثمن الی المشتری ولا شیئ للورثۃ ھذاواللہ تعالی اعلم وعلمہ اتم وحکمہ احکم۔
عمرو اور اس کے وراثوں کے لئے کچھ بھی نہیں اور ان کے حق میں حاکم نے ان کے لئے ملك غیر کا حکم کیاہے اور اقرار باطل ہے کیونکہ یہ ملك غیر کا اقرار ہےہاں اگر اس کے بعد کسی طرح وہ مکان زید کی طرف منتقل ہوجائے تو وہ اس کے اقرار کے سبب سے لے لیا جائے گااور اگر یہ معاملہ قاضی کے پاس لے جایا جائے تو اس پر پہلے فیصلے کو رد کردینا واجب ہے کیونکہ شریعت کی جہت سے اس کی خطاء ظاہر ہوچکی ہے اور اس تعاطی کانئی بیع ہونا بھی جائز نہیں کیونکہ فضولی کا مبیع میں کوئی حق نہیں اوراگرنئی ہوئی بھی تو ایسی بیع فضولی ہوگی جو بائع اول کی اجازت پر موقوف ہوگی اگر اس نے اجازت دے دی تو ثمن اس کے لئے ہوں گے نہ کے فضولی کے لئےاوراگر اس نے بیع کورد کردیا تو مکان عمرو کے وارثوں سے واپس لے لیا جائے گا اور ثمن فضولی کو لوٹا دئے جائیں گےدیگر دونوں صورتوں میں خریداری فضولی پر نافذ ہوئی کیونکہ اس نے اس شخص کی طر ف اضافت نہیں کی جس کے لئے اس نے گھر خریدا پھر بسبب اس کے اقرار کے وہ ذمہ دار ہوگیا اور قاضی نے ورثاء عمرو کے حق میں فیصلہ دیا جو زید کے اقرار کو دلیل بنارہے ہیں تو اب زید(فضولی)ثمن کے بارے میں ورثاء عمرو پر کس وجہ سے رجوع کرے گا اور اگر قاضی کے ہاں ثابت ہوجائے کہ زید نے وہ مکان عمر و کے ثمن سےخریدا ہے تو اہل شرع خریداروں کے نزدیك یہ معاملہ محکمہ قضاء کے تحت داخل نہ ہوگا اگرچہ کسی کے شے مکان کا اقرار کرنا اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ وہ مکان اس کے ثمن سے خریدا گیا ہے کیونکہ کسی شخص کو اس کے اقرار کے سبب پکڑنے کا یہ مطلب نہیں کہ اقرار والی شے کافیصلہ اس شخص کے لئے کیا جائے جس کے لئے اقرار کیا گیاہے اور پھر اقرار کرنے والا اس بناء پر مقرلہ سے ثمن کے بارے میں رجوع کرے کہ اس اقرار کرنے والے نے یہ شے خریدی تھی اس لئے کہ اقرار میں واقع کونہیں دیکھا جاتا بلکہ اقرار کرنے ولا اپنے گمان/ قول کے سبب سے پکڑا جاتا ہے کیونکہ ہوسکتا ہے اقار کرنے والے نے اس شیئ کو خریدا ہو پھر کوئی ایسا سبب پیدا ہوگیا ہو جس سے وہ شے مقرلہ کی ملکیت منتقل ہوگئی ہواور اگر اقرار کرنے والا یہ دعوی کرے کہ اس نے یہ شیئ(مقریہ اس خیال سے خریدی تھی کہ اس کی خریداری مجھ پر نافذنہ ہوگی تویہ محض اس کا ایك قول ہے جس کو قبول نہیں کیا جائے گااس دلیل کی وجہ سے جو اشباہ میں کہ ایك شخص نے کسی چیز کا اقرار کیا پھر اس میں خطاء کا دعوی کیا تویہ دعوی قبول نہیں کیا جائے گا سوائے طلاق کے کہ جب کسی شخص نے مفتی کے غلط فتوی کی بناء پر طلاق کا اقرار کرلیا۔پھر اسے معلوم ہوا کہ مسئلہ اس طرح نہیں ہے چنانچہ اس وجہ سے اس نے خطاء کا
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲
الاشباہ والنظائر کتاب البیوع الفن الثانی ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۳۳۰
#12544 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
دعوی کیا تو قبول کرلیا جائے گا اور یہی حکم ہوگا کہ اگر زید نے دعوی کیا کہ اس کا اقرار تو تملیك اور ہبہ تھا اور وہ قبول وتسلیم سے عمرو کے فوت ہوجانے کی وجہ سے باطل ہوگیا ہے کیونکہ عاقدین میں سے کسی ایك کی موت ہبہ کو باطل کردیتی ہے جبکہ تسلیم سے پہلے موت واقع ہوئی ہے ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰ پھرقاضی کے حکم سے واقع ہونے والے یہ تسلیم بطور بیع نہیں بلکہ اقرار کی بنیاد پر ہے اور تسلیم جب تك بطور بیع نہ ہو وہ بیع تعاطی نہیں ہوسکتی در میں بیع وشراء کی وکالت کے باب میں ہے کہ بیشك بیع کے طو پر ہونے والی تسلیم بیع تعاطی ہے الخ۔ نیز بیع کی بنیاد تو باہمی رضامندی پر ہوتی ہے جبکہ یہاں قاض کے حکم سے تسلیم ہوئی اور قضاء کے بعد رضا نہیں ہوتییہ مجیب کے جواب میں واقع ہونے والے خلل کی وجوہات تھیں جومیرے لئے ظاہر ہوئیں اورجواب میں حق وہ ہے جو
#12545 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
اقول:(میں کہتاہوں)اگر ثابت ہوجائے کہ زید نے مکان خریدتے وقت خریداری کو عمرو کی طرف منسوب نہیں کیا اگر چہ ایجاب وقبول کے وقوع اور عقد کے انعقاد کے بعد بیعنامہ میں اس کانام لکھوادیا ہے تو بیشك یہ شراء زید پر نافذ ہوگی اور مکان اس کی ملك ہوگا پھر اس کے اقرار کلی وجہ سے وہ مکان اس سے لے لیا جائے گا جیسا کہ قاضی نے فیصلہ کیا ہے اس صورت میں وہ ثمن کے بار ے میں ورثاء عمرو سے رجوع نہیں کرسکتا اور اگر بوقت خریداری عمرو کی طرف نسبت کرنا ثابت ہوجائے تو یہ شراء موقوف ہوئی جو کہ عمرو کی قبول از اجازت موت کے سبب سے باطل ہوچکیدر میں فضولی کی بیع کے بارے میں فرمایاکہ اس کے وارث کی اجازت سے جائز نہ ہوگی کیونکہ وہ بیع اس(صاحب متاع)کی موت کی وجہ سے باطل ہوچکی ہے اور اسی طرح عام کتابوں میں ہے تو یقینا اسی طرح فضولی کی شراء کا حکم ہوگااشباہ میں کہا کہ موقوف بیع اس شخص کی موت سے باطل ہوتی ہے جس کی اجازت پر وہ موقوف تھی اور اس کا وارث اس کے قائم مقام نہیں ہوتا سوائے قسمت کے جیسا کہ ولوالجیہ میں ہے انتہیلہذا ورثاء عمرو کا نہ تو مکان میں کوئی حق ہے نہ ہی ثمن میں اور
#12546 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
جب قاضی کے پاس معاملہ لے جایا گیا تو اس کی قضا کو ردکرنا واجب ہے کیونکہ شرع کی جانب سے اس کی خطاء ظاہر ہوچکی ہے چنانچہ اگر بائع دعوی کرے تو مکان اس کوا ور ثمن مشتری کو لوٹا دئے جائیں گے ورثاء عمرو کے لئے کوئی شیئ نہ ہوگی اسے خوب یادرکھو والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ ۹۸:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے دومکان اپنے روپیہ سے خرید کر ان کے بیعنامے اپنےچھوٹے بھائی خالد کے نام کہ وہ بھی بالغ تھا لکھادئے اورخریدتے وقت اپنے اہل خاندان کے روبرو کہا کہ یہ مکان میں نے اپنے بھائی خالد کے لئے خریدے ہیں ان کا کوئی مالك نہیں اور بعد خریداری خلاد کو قابض کرادیااور دستاویز بھی اسے دے دی اور کرایہ نامے خالدہی کے نام سے ہوتے رہے اور کرایہ دار اسی کی مرضی پرآباد ہوتے رہے اور کرایہ بھی وہی پاتا رہا اب دس برس کے بعد کو زید فوت ہوا اس کا تیسرا بھائی عمرو مدعی ہےان مکانوں کے میں اور زوجہ وپسر ودختر زید مالك ہیں کہ میرے اور زید کے روپے سے خرید کردہ ہیں حالانکہ واقع میں اس کا روپیہ اصلا نہ تھا اس صورت میں مالك مکانوں کا کون ہوسکتاہے بینوا توجروا
الجواب:
اگر خریدتے وقت عقد بیع وشراء مالکان مکان وزید سے بنام خالد وقع ہوا تھا تو وشراء شرائے فضولی تھا اور اجازت خالد پر موقوف فی الدار المختار لو اضافہ(یعنی اضاف المشتری الفضولی الشراء الی غیرہ)بان قال بع ھذا العبد لفلان فقال البائع بعتہ لفلان توقف بزازیۃ وغیرھا اھ۔ فی ردالمحتار علی اجازۃ من شری لہ فان اجاز جاز و عہدتہ علی المجیز لاعلی العاقد ۔
درمختارمیں ہے کہ اگر فضولی مشتری نے شراء کی نسبت کسی غیر کی بایں طور کہ یوں کہا یہ غلام فلاں کے لئے فروخت کربائع نے کہا میں نے فلاں کے لئے فروکت کیاتویہ شراء موقوف ہوگیبزازیہ وغیرہ اھ۔ردالمحتار میں ہے کہ اس شخص کی اجازت پر موقوف ہوگی جس کے لئے فضولی نے خریداری کی اگر وہ اجازت
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۳۷
#12547 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
دےگا تو یہ شراء جائز ہوجائےگی اور اس کی ذمہ داری اجازت دینے والے پر ہوگی نہ کہ عاقدین پر۔(ت)
جبکہ خالد نے مکانات پر قبضہ کیا وہ شراء جائز ونافذ ہوگیا۔
کما ان قبض الثمن اجازۃ لبیع الفضولی فی الدار المختار اخذ المالك الثمن اجازۃ اھ ملخصا ثم قال وافاد کلامہ جواز الاجازۃ بالفعل والقول اھ جیسا کہ ثمن پر قبضہ کرنا بیع فضولی کی اجازت ہوتاہے درمختار میں ہے کہ مالك کا ثمن وصول کرنا اجازت ہے اھ ملخص پھرکہا ماتن کا قول اس بات کا فائدہ دیتاہے کہ اجازت قول وفعل دونوں سے جائز ہے۔اھ(ت)
اور تقریر سوال سے ظاہر کہ ثمن زید نےبطورخود بے اذن وامر خالد اپنے مال سے ادا کیا تو وہ اس امر میں تبرع واحسان کرنیوالا تھا اور یہ بات خود گفتگو مذکور سوال سے واضح ہے پس مکانات بے شرکت غیرے خاص ملك خالد ہیں اور اس پر وارثان زید کا کوئی دعوی نہ دربارہ مکانات ہے نہ درباب ثمن
فی الفتاوی الخیریۃ اذا دفع دینا لحق الاخر باذنہ فلہ الرجوع علیہ ولایکون متبرعا للاذن حتی اذالم یاذن لہ بہ کان متبرعاوبہ یعلم انہ اذادفع مہر زوجتہ عنہ باذنہ اوثمن الجاریۃ التی امرہ بشرائہا یرجع علیہ بما دفع والحال ھذہ اھ۔
فتاوی خیریہ میں ہے اگر کسی نے دوسرے کا قرض اس کی اجازت سے ادا کیا تو اس سے رجوع کرسکتاہے اور متبرع نہ ہوگا کیونکہ اس کی اجازت سے ادائیگی کی ہے حتی کہ اگر مقروض نے اس کو ادائیگی قرض کا اذن نہ دیا ہوتا تویہ احسان کرنے والا قرار پاتا(یعنی حق رجوع نہ رکھتا)اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی نے شوہر کے اذن سے اس کی طرف سے ا س کی بیوی کا مہراداکردیا یا کسی کی لونڈی کی قیمت ادا کردی جس کی خریداری کا اس نے حکم دیا تھا تو ادا کرنے والا شوہر اور لونڈی کے مالك سے رجوع کرسکتاہے اور صورت حال یہی ہے اھ(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/۳۲
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/۳۲
فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع فصل فی الفضولی دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۳۴
#12548 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
رہا عمرع اگر واقع میں کچھ روپیہ اس کا بھی ادائے ثمن میں صرف ہوا اور اس نے بھی مثل زید بطور خود دیا تھا تو وہ بھی متبرع ہے جس کا مطالبہ کسی سے نہیں کرسکتااور اگر زید نے اس سے مانگ کر ثمن میں صرف کیا تو غایت یہ ہے کہ یہ قرض عمرو کا زیدپر ہوگا اس کے ترکہ سے لےخالد پر کوئی دعوی اسے نہیں پہنچتا۔
فانہ ان اقرض فانما اقرض زید ا فعلیہ العھدۃ لاعلی خالد کما لایخفی۔
اس لئے کہ اگر اس نے قرض دیاتھا تو یہ قرض زید کو دیا تھا اس پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے نہ کہ خالد پرجیسا کہ پوشیدہ نہیں۔(ت)
اور اگر عقد بیع وشراء بنام زید ہوا تھا اگرچہ بعد کو زید نے بیعناموں میں خالد کا نام لکھا دیا تو وہ مکان وقت خریداری مملوك زید ہوئے۔
لان الشراء اذا وجد نفاذا نفذ علی العاقد کما نص علی فی الہدایۃ والدرالمختار وعامۃ الاسفار فی الدر لو اشتری لغیرہ نفذ علیہ الخ۔
کیونکہ شراء نفاذ کی گنجائش پائے تو عائد پر نفاذ ہوجاتی ہےجیساکہ اس پر ہدایہ اور عام کتابوں میں نص کی گئی ہے درمیں ہے کہ اگر کسی غیر کے لئے خریداری کی تو خود اس پر نافذ ہوگی الخ(ت)
اور عمرو کا روپیہ ادائے ثمن میں دیا بھی گیا ہو تو ا س سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ مکان خرید کردہ عمرو کے ٹھہریں یاان میں اس کا حصہ قرارپایا جائے بلکہ تنہا زید ہی اس کامالك ٹھہرے گا
فی الفتاوی الخیریۃ لاتثبت الدارللاب بقول الابن اشتریتہا من مال ابی اذا لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب لانہ یحتمل القرض و الغصب ۔ فتاوی خیریہ میں ہے کہ بیٹے کے یوں کہنے سے کہ میں نے گھر اپنے باپ کے مال سے خریدا ہے گھر باپ کے لئے ثابت نہ ہوگا کیونکہ باپ کے مال سے خریدنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ مبیع باپ کے لئے ہو اس لئے کہ اس میں یہ احتمال موجود ہے کہ اس نے باپ کا مال غصب کیا ہو یا قرض کیاہو۔(ت)
پھر بعد خریداری جو افعال واقوال زید سے واقع ہوئے اور اس نے وہ مکان خالد کا نام بیعنام میں
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع باب المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۲۰،فتاوٰی قاضی خاں کتاب البیوع فصل فی البیع الموقوف نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۵۱
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱
فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع فصل فی الفضولی دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۱۹
#12833 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
لکھا کراسے سپردکردئے یہ صریح دلیل ہبہ ہے۔
فالہبۃ ایضا ینعقد بالتعاطی دل علیہ فروع جمۃ فی المذہب وفی الدرالمختار اتخذ لولدہ اولتلمیذہ ثیاباثم اراد دفعہا لغیرہ لیس لہ ذلك مالك یبین وقت الاتخاذ انہا عاریۃ اھ وفی العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ وفی الذخیرۃ والتجنیس امرأۃ اشتری ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالہا وقع الشراء للام لانہا لاتملك الشراء للولد وتکون الضیعۃ للولد لان الام تصیر واھبۃ ۔
چنانچہ ہبہ بھی تعاطی(باہمی لین دین)سے منعقد ہوجا تا ہے اس پر مذہب میں واقع کثیرفروع دلالت کرتی ہے در مختارمیں ہے کہ بیٹے یا شاگرد کے لئے کسی نے کپڑے بنائے پھر غیر کو دینے کا ارادہ کیا تو اس کو ایسا کرنے کا اختیار نہیں جب تك کہ بنانے کے وقت یہ وضاحت نہ کردی ہو کہ یہ کپڑے عاریت ہیں اھ عقود الدریہفتاوی حامدیہذخیرہ اور تجنیس میں ہے کہ ایك عورت نے اپنے مال سے نابالغ بچے کے لئے جائداد خریدی تو شراء ماں کے لئے واقع ہوئی کیونکہ وہ بچےکے لئے خریداری کی مالك نہیں اور وہ جائداد بچےکی ہوگی کیونکہ مال ہبہ کرنے والی بن گئی۔(ت)
پس اس صورت میں بھی بعد قبضہ خالد کے ملك تام ہوگئی اور ان مکانات میں کسی کا کچھ حق نہ رہا اور زرثمن میں اگرعمرو نےکچھ دیا بھی تو اس کا وہی حال ہےجو اوپر مذکور ہوا یعنی بطور تطوع تھا تو کسی پر مطالبہ نہیں اور بطور قرض تھا تو وہ زید پر ہے خالد سےکچھ تعلق نہیںہاں اگر نفس عقد زید وعمرو دونوں کے لئے واقع ہوتا مچلا بائع کہتا میں نے یہ مکان تم دونون کے ہاتھ بیچےیہ کہتے ہم نے خریدےیا عمرو زید کو اپنی طرف سے اپنے مکان کی خریداری کا وکیل کردیتا تو البتہ وہ بحصہ مساوی زید وعمرو دونوں کے ملك ہوتے اگرچہ عمرو نے ثمن میں کچھ نہ دیا ہو اور اب یہ ہبہ بنام خالد کہ صرف زید نے کیا محض ناجائز رہتا
لانہ مایملك الاھبہ مبلکہ وھو مشاع ولایکفی سکوت عمرو حتی یجعل ھبۃ لکل لان سکوت المالك یبیع الفضولی لایکون رضا کما فی الاشباہ فکیف بالھبۃ ۔
کیونہ وہ تو صرف اپنی ملك کو ہبہ کرنے کا مالك ہےاور اس کی ملك جزء غیر منقسم ہے جس کاہب جائز نہیں)اور عمرو کا سکوت کافی نہیں کہ دونوں کا
حوالہ / References درمختار کتاب الہبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۰
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب الوصایۃ عبدالغفار کتبخانہ قندہار افغانستان ۲ /۳۳۷
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثانیہ عشر ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۸۵
#12836 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
ہبہ بنادیا جائے کیونکہ فضولی کی بیع کے وقت مالك کا سکوت اس کی رضا نہیں ہوتا جیسا کہ اشباہ میں ہے تو ہبہ میں ایسا کیسے ہوسکتاہے(ت)
مسئلہ ۹۹: از پیلی بھیت مرسلہ مولوی عبدالاحد صاحب ۴ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے بحالت مرض الموت ایك حقیت بحق وارث بیع کی بہ امورات خیرتویہ وقف رہا یا بیع ایسی صورت میں یہ بیع بھی ایك ثلث میں بحق وارث رہ سکتی ہے یانہیں یہ بیع ایسی حالت میں بیع جانی جائے گی یاہبہ فقط بینوا توجروا
الجواب:
جبکہ بیع کی ہے تو وہ عقد نہ وقف ہوسکتاہے نہ ہبہ ہوسکتاہے بلکہ بیع ہی ہوگا اگر واقعی اسی مرض میں ہے جسے شرعا مرض الموت مانا جائے تو وارث کے ہاتھ بے اجازت دیگر ورثہ مطلقا ناجائز ہے نہ ثلث میں نافذ ہوسکتی ہے ہزارویں حصے میںوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۰: از قصبہ فیروز آباد ضلع آگرہ مسئولہ سید بشارت علی وسرفراز علی سوداگران چوڑی ۲ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس زمانے میں گورنمنٹ نے شہر بہ شہرقصبہ بہ قصبہگاؤں بگاؤں مویشی خانے مقرر کررکھے ہیں اس میں لاوارثی گائے بیل بکری وغیرہ داخل کی جاتی ہیں اور وہ زیادہ سے زیادہ پندرہ یوم مویشی خانہ میں اس وجہ سے رہتی ہے کہ جب مالك مویشی آئے گا اس وقت زرجرمانہ و زرخوراك وصول کرکے چھوڑ دیا جائے گا اور جب میعاد مقررہ تك مالك راس نہیں آیا تو اس جانور کو حاکم پرگنہ یا حاکم متعلقہ نیلام کردیتاہےاب سوال یہ ہے کہ ایسی بیع جائز ہے یانہیں اس قسم کی گائے بیل وغیرہ نیلام میں سے خرید کرکے بقرہ عید پر قربانی کرنا اس جانور کا جائز ہے یانہیں دوسری بات یہ ہے کہ اگر ایسے جانور کو دوسرا شخص خریدے خواہ ہندو ہو یا مسلمان پھر اس سے ایك اور شخص خرید کرکے قربانی کرے تو جائز ہے یانہیں قربانی کرنے والے کو اس کا علم ہے کہ اس نے مویشی خانے میں سے نیلام میں خریدی ہے زید وعمرو دونوں مولوی ہیں یہ دونوں کہتے ہیں کہ ایسے جانور کی قربانی جائز ہے اور بکر ایك مولوی ہے وہ یہ کہتاہے کہ یہ جانور حکم لقیط میں ہے لہذا ایسے جانور کی قربانی بھی ناجائز ہے بینوا توجروا۔
#12838 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
الجواب:
جو چیز ہے بے اطلاع مالك بیچی جائے وہ بیع اجازت مالك پر موقوف رہتی ہے قبل از اجازت اگر سو بیعیں یکے بعد دیگرے ہوں سب اسی کی اجازت پر موقوف رہیں گی اور قبل اجازت اس میں کوئی اس کا مالك نہ ہوگا نہ اس کا تصرف جائز ہونہ اس کی قربانی ہوسکےلقطہ کاحکم تشہیر ہے اس کے بعد فقیر پر تصدق نہ کہ بلاتشہیر بیعہاں بعد اطلاع جس بیع کہ وہ نافذ کردے نافذ ہوجائیگی جبکہ بائع ومشتری وبیع قائم ہوںفتاوی قاضی خاں وفتاوی عالمگیریہ وغیرہما میں ہے:
اذا باع الرجل مال الغیر عندنا یتوقف البیع علی اجازۃ المالك ویشترط لصحۃ الاجازۃ قیام العاقدین و المقعود علیہ ۔
جب کسی شخص نے غیر کا مال فروخت کیا توہمارے نزدیك یہ بیع مالك کی اجازت پر موقوف ہوگی اور اجازت کے صحیح ہونے کے لئے شرط ہے کہ عاقدین اور معقود علیہ قائم ہو(ت)
مسئلہ ۱۰۱: از بنارس محلہ کچی باغ علاقہ جیت پورہ مرسلہ خلیل الرحمن صاحب ۲۸ جمادی الاولی ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں جو کچھ ازروئے کتب معتبرہ ہو بیان فرمائیںبینوا توجروا واضح ہو کہ مسمی حشام جب بیمار ہوئے تو حالت بیماری میں اپنا مکان اپنی زوجہ واپنی دختر دونوں کے ہاتھ بیع کیا مگر گواہان سے ثابت ہوا کہ زرثمن روبرو گواہوں کے مشتریاں مذکورہ نے ادانہیں کیا اور بعد بیع کرنے مکان کے مسمی حشام ایسے نہ ہوئے کہ چارپائی سے اٹھر کر کام ضروری کرتے آخر بعد اکیس یوم کے قضا کرگئےاور بعد قضا کرنے حشام کے ان کی دختر بھی ایك ہفتہ کے بعد مرگئیاور پھر گزرنے مدت پانچ ماہ کےلڑکا حشام کا پیدا ہوااور بعد پیدا ہونے بیٹے کے مسماۃ جان بی بی زوجہ حشام بیمار ہوئیں اوربیماری کی حالت میں زوجہ حشام نے مکان مذکور کو ایك شخص کے ہاتھ بیع کیا اور بعد بیع کرنے مکان کے چار روز بعد زوجہ حشام بھی قضا کرگئیں فقط۔
لڑکا حشام کا جو پیدا ہوا تھا وہ تنہا رہاپھر وہ لڑکا بھی دو۲ مہینے بعد مرگیاجب سب لوگ مرگئے کوئی نہ بچا مگر ایك براردر زادہ حشام کے مسمی یارمحمد ہیںتو یار محمد سے اور جس کے ہاتھ زوجہ حشام نے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الثالث عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۵۲،فتاوٰی قاضیخان کتاب البیوع فصل البیع الموقوف نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۵۱
#12841 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
مکان بیع کیا تھا اس سے تنازع ہوئیمشتری نے کہا کہ ہم نے خریدا ہے اور یارمحمد نے کہا کہ ہمارا حق ہوتاہے ہم مالك ہیں غرضکہ جب جھگڑا زیادہ اہل محلہ نے دیکھا تب پنچوں نے دونوں سے کہا کہ جھگڑو نہ ہم لوگ تمھارا جھگڑا طے کردیں گےپنچ جمع ہوئےمطلب سے اگاہ ہوئے یعنی مشتری نے کہا کہ حشام بعد بیع کرنے مکان کے تندرست ہوگئے تھے اور یارمحمد بھتیجے حشام نے کہا کہ بیع کرنے کے بعد چچااپنی چارپائی سے نہ اٹھے اور فوت ہوئےاس بات میں پنچوں نے صلاح کیا کہ جو لوگ قریب مکان کے رہیتے ہیں ان سے دریافت کرناچاہئے تب دو۲ آدمی پڑوسی کو بلایا ایسے کہ وہ لوگ حشام کے گھر جاتے رہتے تھےوہ لوگ آئے یعنی مسمی الہی بخش ومسمی جان محمددونوں گواہوں سے پوچھا گیا تو جو گواہوں نے شہادت دی ہے وہ رقم ہوتاہے فقط۔
بیان الہی بخش گواہ کا یہ ہے:الہی بخش ازروئے حلف بمقابلہ پنچوں کے مسجد میں بیان کیا کہ میں گاہ گاہ ان کے گھر جاتا تھا تو حالت حشام کی ایسی تھی کہ سوائے چارپائی کے کہیں جانہیں سکتے تھے اور ضعف اس قدر تھا کہ واسطے حاجات ضروری کے مکان سے باہر نہیں جاسکتے تھے مکان کے اندر پاخانہ وپیشاب کرتے تھے اور بیعنامہ لکھنے کے تخمینا ایك ماہ سے کمتر میں انتقال کرگئےبیان جان محمد گواہ کا یہ ہے:مسجد میں بیان کیا گیا کہ حشام نے جب بیعنامہ لکھا تو حالت ان کی یہ تھی کہ سوائے چاپائی کے کہیں جانہیں سکتے تھےبیماری میں ضعف اس قدر تھا کہ واسطے پاخانہ وپیشاب کے مکان سے باہر نہیں جاسکتے تھے اندرہی مکان کے حاجت اداکرتے تھے میں گاہ گاہ ان کی حالت کو جاتا رہتا تھا تو اسی چارپائی پر جھك کر حقہ بھی بھرلیتے تھےاور اسی بیماری میں تخمینا ایك ماہ سے کمتر میں قضا کرگئے۔
الجواب:
بیع جو مرض الموت میں وارث کے نام کی جائے حکم وصیت میں ہے کہ بعد موت مورثبے اجازت وارث باطل ہے فتاوی امام قاضیخاں وغیرہ میں ہے:
من البیع الموقوف اذا باع المریض فی مرض الموت من وارثہ عینا من اعیان مالہ ان صح جاز بیعہ وان مات من ذلك المرض ولم یجز موقوف بیوع میں سے ہے کہ جب مریض نے مرض موت میں اپنے مال میں سے جو معین چیز انے کسی وارث کے ہاتھ فروخت کی اب اگر وہ صحتیاب ہوگیا تو بیع جائز ہوجائے گی اور گر اسی بیماری میں مرگیا اور اس کے وارثوں نے
#12844 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
الورثۃ بطل البیع ۔ اس بیع کی اجازت بھی نہ دی تو بیع باطل ہوجائے گی۔(ت)
او وقت اجازت متصل موت مورث ہے یہاں تك کہ حیات میں اجازت ورثہ معتبر نہیںہدایہ میں ہے:
لامعتبر باجازتہم فی حال حیاتہ لانہا قبل ثبوت الحقاذا لحق یثبت عندالموت ۔ مریض کی زندگی میں وارثوں کی اجازت معتبر نہیں کیونکہ یہ اجازت ثبوت حق سے پہلے ہوئی اس لئے کہ واثوں کا حق تو مریض کی موت کے وقت ثابت ہوگا۔(ت)
اور موت ہشام سے چند ماہ بعد لڑکا پیدا ہونے سے ثابت ہواکہ وقت موت یہ لڑکا بھی ایك وارث تھا اور اگر بچہ کہ ہنوز پیٹ میں ہو ظاہر ہے کہ نہ تو خود اس کی اجازت متصور نہ اس کی طرف سے کسی کی اجازت ممکن کہ پیٹ کے بچے پر الله عــــــہ ورسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سوا کسی ولی یا وصی
عــــــہ: الله جل جلالہ کا ولی ووالی جملہ عالم ہونا ظاہر اور اس کی خلافت سے حضور پرنور سید عالم خلیفہ اعظم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ولایت بھی ہر شیئ پر ہے اور خود جنین پر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ولایت فقیر قرآن عظیم وحدیث صحیح سے ثابت کرسکتاہےآیت تو قول الہی عزوجل النبی "النبی اولى بالمؤمنین من انفسهم" جس میں ارشاد ہو اکہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہر مسلمان پر اس کی جان سے زیادہ ولی وواولی ومختار وصاحب تصرف واقتدار ہیںاور شك نہیں کہ جنین بھی انسان ہے اور یقینا کافر نہیںرسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
کل مولود یولد علی فطرۃ الاسلام ۔
ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتاہے۔(ت)(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب البیوع فصل فی البیع الموقوف نولکشور لکھنؤ ۲/ ۳۵۳
الہدایہ کتاب الوصایہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۵۱
القرآن الکریم ۳۳ /۶
صحیح البخاری کتاب الجنائز قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۱،صحیح مسلم کتاب القدر باب معنی کل مولود یودل علی الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۳۶
#12847 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
یاحاکم یہاں تك کہ خود باپ کو بھی ولایت نہیں۔ ولوالجیہ پھر معین المفتی پھر غمز العیون القول فی الملك میں ہے:
لاولایۃ للاب علی الجنین ۔
جنین پر باپ کی ولایت حاصل نہیں۔(ت)
ثالث میں ثانی سے ہے:
وفی التبیین ولاتصح الہبۃ للحمل لان الھبۃ من شرطہا القبول والقبض ولایتصور ذلك من الجنین ولایلی علیہ احدحتی
تبیین میں ہے: حمل کے لئے ہبہ درست نہیں کیونکہ قبول وقبضہ ہبہ کی شرائط میں سے ہے جبکہ جنین سے یہ متصور نہیں اور نہ ہی اس پر کسی کو ولایت حاصل ہے کہ وہ اس کی طرف سے

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) الله سبحانہ وتعالی فرماتاہے:
" فطرت الله التی فطر الناس علیها "
الله کی فطرت وہ ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا فرمایا۔(ت)
اہلسنت کے نزدیك ایمان وکفر میں واسطہ نہیں تو جنین ضرور مومن ہے اور بحکم آیت رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہر مومن کے ولی ووالی ہیںیہ ثبوت آیت سے ہوا اور حدیث سے یہ کہ ابھی فقہائے کرام کی تصریحیں سن چکے کہ جنین کا کوئی ولی نہیںاور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
اللہ ورسولہ مولی من لامولی لہ ۔ رواہ الترمذی وحسنہ وابن ماجۃ عن امیر المومنین الفاروق رضی اللہ تعالی عنہ ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
جس کا کوئی ولی نہ ہواس کے ولی ووالی ومولی الله ورسول ہیں جل وعلا و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم (اسے ترمذی نے روایت کیااور اسے حسن قرار دیا اور ابن ماجہ نے اسے امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ت)۱۲ منہ غفرلہ
حوالہ / References غمز عیون البصائرمع الاشباہ الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن الخ کراچی ۲/ ۲۰۳
القرآن الکریم ۳۰ /۳۰
سنن ابن ماجہ ابواب الفرائض باب ذوی الارحام ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۰۱
#12849 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
یقبض عنہ فصارکالبیع قلت فقدافاد رحمۃ اللہ تعالی انہ لاولایۃ لاحد علی الجنین اصلا وبہ ظہر خطأ من افتی ان الوصی یملك التصرف فی المال الموقوف للحمل
قبضہ کرے چنانچہ یہ بیع کی طرح ہوگیامیں کہتاہوں کہ مصنف علیہ الرحمۃ نے اس بات کافائدہ دیا کہ بیشك جنین پر کسی کو کسی قسم کی ولایت بالکل حاصل نہیں تو اس سے اس شخص کی غلطی ظاہر ہوگئی جس نے یہ فتوی دیا کہ حمل کے لئے رکھے ہوئے مال میں وصی تصرف کرنے کامالك ہے۔(ت)
عقود الدریہ میں منح الغفار سے ہے:
لاولایۃ للاب علی الجنین فضلا عن الوصی لقول الزیلعی ولایلی علی الحمل اھ ۔
باپ کو جنین پر ولایت حاصل نہیں تو وصی کو کیسے حاصل ہوسکتی ہے بسبب زیلعی کے قول کے کہ اس کو حمل پر ولایت نہیں اھ(ت)
اور جو عقد جس وقت محتاج اجازت ہو اور اس وقت اس کا اجازت دینے ولا کوئی نہ ہو وہ باطل محض ہوتا ہےکہ پھر آئندہ کوئی صالح اجازت پیدا ہوکر اجازت بھی دے تو جائز نہیں ہوسکتادرمختارمیں ہے:
مالامجیزلہ حالۃ العقد لاینعقد اصلا بیانہ صبی باع مثلا ثم بلغ قبل اجازۃ ولیۃ فاجازہ بنفسہ جاز لان لہ ولیا یجیزہ حالۃ العقد بخلاف مالوطلق مثلا ثم بلغ فاجازہ بنفسہ لم یجز لانہ وقت العقد لامجیز لہ فیبطل ۔
جس بیع کا بوقت عقد کوئی اجازت دینے والا نہ ہو وہ اصلا منعقد نہیں ہوتا اس کا بیان یہ ہے کہ نابالغ بچے نے بیع کی پھر ولی کی اجازت سے قبل بالغ ہوگیا اور بذات خود اس کی اجازت دے دی تو بیع جائز ہوگئی کیونکہ بوقت عقد اس بیع کی اجازت دینے والا اس کا ولی موجود تھا جو بیع کی اجازت دے سکتا تھا بخلاف اس کے کہ اس نے نابالغی کی عمر میں طلاق دی پھر بالغ ہوکر بذات خود اس کی اجازت دی تو یہ طلاق جائزنہ ہوگی کیونکہ بوقت عقد اس کا کوئی اجازت دہندہ نہ تھا لہذا یہ باطل ہوگئی (ت)
تو ظاہر ہواکہ صورت مستفسرہ میں یارمحمد مومشتری کا اختلاف کہ ہشام نے وہ بیع صحت میں کی یا مرض الموت
حوالہ / References غمز عیون البصائر مع الاشباہ الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن الخ کراچی ۲/ ۲۰۳
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الوصایا باب الوصی ارگ بازار قندھار افغانستان ۲ /۳۳۰
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲/۳۱
#12851 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
میں درحقیقت اس بیع کی انعقاد وبطلان میں اختلاف ہے مشتری مدعی ہے کہ وہ بیع شرعا منعقد ہے اور یارمحمد کہتاہے منعقد نہیں بلکہ محض باطل وکالعدم ہے اور جب بیع کے بطلان وانعقاد میں اختلاف واقع ہو تو قول اس کا بحلف معتبرہے جو قائل بطلان ہو اشباہ والنظائر ودرالمختار میں ہے:
اختلف المتبایعان فی الصحۃ والبطلان فالقول المدعی البطلان وفی الصحۃ و الفساد لمدعی الصحۃ الافی مسئلۃ فی اقالۃ ۔
ائع اور مشتری کا بیع کی صحت وبطلان میں اختلاف واقع ہو تو بطلان کا دعوی کرنے والے کا قول معتبر ہوگا اور اگر صحت وفساد میں اختلاف ہو تو صحت کا دعوی کرنے ولا کا قول معتبر ہوگا سوائے اقالہ کے(ت)
اسی طرح جب صحت مرض میں اختلاف ہو کہ مورث نے یہ عقد وارث کے ساتھ یا اس کے لئے فلاں اقرار اپنے مرض میں کیا یاصحت میںتو قول اس کا معتبر ہے جو مرض میں ہونا بتاتاہے۔ردالمحتارمیں ہے:
لواقر لوارث ثم مات فقال المقرلہ اقرفی صحتہ وقال بقیۃ الورثۃ فی مرضہ فالقول قول الورثۃ والبینۃ للمقرلہ وان لم یقم بینۃ واراداستحلافہم لہ ذلك ۔
اگر کسی نے اپنے کسی وارث کے لئے کسی شے کا اقرار کیا پھر مرگیا اب مقرلہ(جس کے لئے اقرار کیا گیا)کہتاہے کہ یہ اقرار اس نے حالت صحت میں کیا جبکہ دیگر ورثاء کہتے ہیں کہ اس نے یہ اقرار مرض الموت میں کیا تو دیگر وارثوں کا قول معتبر ہوگا اور گواہ پیش کرنا مقرلہکے ذمے ہے اگر وہ گواہ پیش نہ کرے اوردیگر وارثوں سے قسم لینا چاہے تو اس کو ایسا کرنے کا حق ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
فی الاتقروی ادعی بعض الورثۃ ان المورث وہبہ شیئا معینا وقبضہ فی صحتہ وقالت البقیۃ کان فی المرض فالقول لہم و ان اقاموالبینۃ فالبینۃ لمدعی الصحۃ ۔
انقروی میں ہےکسی وارث نے دعوی کیا کہ کہ مورث نے اپنی کوئی معین شے اس کو ہبہ کی اور مورث کی حالت صحت میں اس وارث نے موہوب شیئ
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب الاقالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۴،اشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب البیوع ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱/ ۳۲۶
ردالمحتار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳۸۷
ردالمحتار کتاب الشہادات باب القبول وعدمہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳۸۷
#12858 · باب بیع الفضولی (فضولی کی بیع کے احکام)
پر قبضہ کرلیا تھا جبکہ باقی ورثاء کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ مرض الموت میں ہوا تو باقی وارثوں کا قول معتبر ہوگا اوراگر وہ گواہ پیش کریں تو گواہ اس کے معتبر ہوں گے جو حالت صحت کا دعوی کرنیوالا ہے۔(ت)
پس صورت سوال میں یارمحمد کو حاجت گواہان نہ تھی بلکہ مشتری سے گواہ لئے جائیں اگر وہ گواہان عادلہ ثقہ متقی سے ثابت کردے کہ یہ بیع ہشام نے اپنی تندرستی میں کی یا اس بیع کے بعد وہ تندرست ہوگیا تھایا وہ گواہ نہ دے سکے اور یارمحمد سے قسم چاہےاور یارمحمدپنچوں کے سامنے قسم کھانے سے انکار کرے تو ان دونوں صورتوں میں ثابت ہوجائے گا کہ ہشام نے جو بیع اپنی زوجہ و دختر کے ہاتھ کی ضرور صحیح ونافذ تھی عورتیں اس مکان کی مالك مستقل ہوگئیں اور اگر بیع میں تفصیل حصص نہ تھی تو دونوں نصفا نصف کی مالك ہوئیںپھر جب دختر نے انتقال کیا اور اس کی موت سے چھ مہینے کے اندر اس کا بھائی پیدا ہوا تو ظاہر ہوا کہ یہ بھی بہن کا وارث ہےاب کہ زوجہ ہشام نے اپنے مرض میں کل مکان مشتری کے ہاتھ بیع کردیااگر یہ مشتری بائعہ کا وارث نہیں توبیع اس قدر میں صحیح ہوگئی جو ملك زوجہ مذکورہ تھا یعنی نصف مکان کہ بیع ہشام سے اس کی ملك ہوا اورنصف دیگر ملك دختر سے ایك ثلث جبکہ اسے ثلث سے کوئی حاجت نہ ہوباقی دوثلث نصف یعنی کل مکان کا ایك ثلث حق برادرنو پیدا ہوااگر مادر وبرادر مذکور کے سوا دختر کا کوئی اور وارث نہ ہوپھر جب لڑکا مرگیا اوریارمحمد کے سوا اس کاکوئی وارث نہ ہو تو وہ ثلث یارمحمد کا ہوا اس قدراسے واپس دےاورگر مشتری گواہ نہ دے سکا یاگواہ عادل شرعی قابل قبول نہ تھے اور یارمحمد نے پنچوں کے سامنے بطلب مشتری حلف کرلیا کہ ہشام نے یہ بیع اپنے مرض موت میں کی تو اس صورت میں وہ بیع باطل ہوئیپھر بعدموت ہشام اگر اس کے وارث یہی زن وپسر ودختر ہیں عورت کا ایك ثمن اور دختر کے ۲۴ / ۷ ہوئے ان میں سے بشرط مذکور ایك ثلث یعنی ۷/۷۲ پھر زوجہ ہشام کو پہنچے تو وقت بیع زوجہ ہشام صرف ۱۶/۷۲ یعنی ۲/۹ کی مالك تھی اسی قدر میں بیع قائم رہ سکتی ہے مشتری باقی مکان بشرط مذکور یعنی مکان کے ۹ حصوں سے ۷ حصے یارمحمد کو واپس دےوالله تعالی اعلم۔
___________________
#12861 · باب الاقالۃ (بیع اقالہ کا بیان)
باب الاقالۃ
(بیع اقالہ کا بیان)
مسئلہ ۱۰۲: از مرادآباد محلہ باڑہ شاہ صفا مسئولہ حافظ عبدالمجید ۶شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك جائداد عمرو کی چھ سو پچیس۶۲۵روپے پر اپنے دوست بکرکے ذریعہ خریدنے کے لئے طے کرائیقیمت طے ہونے کے بعد سو روپیہ بطور بیعنامہ عمرو کو دے کررسید لکھوائیرسید میں بکر نے دھوکے سے اپنا نام بھی تحریر کرالیا اوردعوی کردیا کہ جائداد تو میری اورتمھاری دونوں کی مشترك طے ہوئیحالانکہ یہ بالکل غلط ہےیہ قصہ پنچایت میں ڈالا گیاپنچوں نے دونوں سے پچاس پچاس روپے لے کر جمع کرائے اور کہا جو شخص یہ روپیہ لے گا اسے جائداد نہیں ملے گی اور جو جائداد لے گا یہ روپیہ نہیں لے سکتا۔زید نے جائداد خریدنی منظور کیبکر نے سوروپے اٹھالئے اور رسید لکھنی چاہیابھی لکھی نہ تھی کہ بکر کے محلہ والے جو زید سے بغض وعداوت رکھتے ہیں زید سے بولے کہ یہ رسید بیعنامہ عمرو کو واپس کردو ہم تم کو یہ جائداد خریدنے نہ دیں گے بلکہ اسے مسجد کی آمدنی کے لئے خریدیں گےزید نے مجبوری رسید عمرو کو واپس کردیاب بے اجازت زید آمدنی مسجد کے لئے یہ جائداد خریدیں یہ جائز ہے یانہیں بکرکے اہل محلہ یہ بھی کہتے ہیں کہ تمھارا اس میں کچھ دخل نہیں نہ تمھاری رضامندی کی ضرورت ہے۔بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں کہ زید نے بکر کو ایك شے معین خریدنے کا وکیل کیا اسے کوئی اختیار نہ تھا کہ غیبت
#12863 · باب الاقالۃ (بیع اقالہ کا بیان)
زید میں اسے اپنے نفس کے لئے خریدے بلکہ اپنے نفس کےلئے خریدتا جب بھی زید موکل کے لئے ہو جب مخالفت نہ کی ہو
ففی الدرالمختار لووکلہ بشراء شیئ بیعنہ لایشتریہ نفسہ ولولمؤکل اخربالاولی عند غیبتہ حیث لم یکن مخالفا دفعاللضرر فلو اشتراہ بغیر العقود او بخلاف ماسمی المؤکل لہ من الثمن وقع الشراء للوکیل لمخالفتہ امرہ وینعزل فی ضمن المخالفۃ عینی ۔
درمختارمیں ہے کسی نےکسی شخص کو کسی معین شے کی خریداری کا وکیل بنایا تو وکیل اس شے کو مؤکل کی غیر موجودگی میں اپنے لئے نہ خریدے اور دوسرے مؤکل کے لئے تو بدرجہ اولی نہ خریدے تاکہ دھوکہ دہی نہ ہویہ حکم تب ہےجب وکیل امر مؤکل کی مخالفت نہ کرےاور اگر وکیل نے اس شیئ کو غیر نقود سے خریدا اس ثمن کے خلاف خریدا جو مؤکل نے اس کو بتایا تھا تو یہ خریداری امر مؤکل کی مخالفت کی وجہ سے خود وکیل سے ہوگی اور اس مخالفت کے سبب سے وہ وکالت سے معزول ہوجائے گا۔عینی(ت)
بکرنے کہ رسید بیعنامہ میں اپنا نام بھی لکھا لیا ظلم وفریب وجہل وحماقت تھاپنچوں نے جو فریقین سے پچاس جمع کرائے اور وہ بے معنی فیصلہ قراردیا سخت باطل ومردود تھا وہ پچاس روپے بکر پر حرام ہیں اس پر فرض ہے کہ زید کو واپس کردے۔
قال اللہ تعالی "لا تاكلوا اموالكم بینكم بالباطل "۔
الله تعالی نے فرمایا:آپس میں ایك دوسرے کے مال باطل طریقے پر مت کھاؤ۔(ت)
عبارت سوال سے زید پر اہل محلہ بکر کی جانب سے کوئی اکراہ شرعی نہ ہونا نہیں نکلتا لوگوں کے اصرار سے عرفی مجبوری اکراہ شرعی نہیں اس صورت میں جبکہ زید نے بیعنامہ واپس کردیا اور عمرو نے قبول کرلیا بیع اگر نہ ہوئی تھی ہونے نہ پائی اور اگر ہو چکی تھی فسخ ہوگئی بہرضال زید کو اس جائداد سے کوئی تعلق نہ رہا اہل محلہ بکر اگر مسجد کے لئے خریدیں برضائے عمرو خریدکرسکتے ہیں رضائے زید کی کچھ حاجت نہیںوالله تعالی اعلم۔
___________________
حوالہ / References درمختار کتاب الوکالۃ باب الوکالۃ بالبیع واالشراء مطبع مجتبائی دہلی ۲/۱۰۵
القرآن الکریم ۲ /۱۸۸
#12866 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
باب المرابحۃ
(بیع مرابحہ کا بیان)
مسئلہ ۱۰۳: ۱۰ جمادی الاولی ۱۳۱۹ھ
زید نے عمرو سے کہا کہ تم عہ/ روپیہ کا مال اپنے روپے سے خرید لو بعد خریدنے تمھارے کے میں تم سے عہ ا ایك روپیہ آنہ دے کر خرید لوں گا اور ایك ماہ میں دوں لگا کیونکہ میرے پاس روپیہ نہیں تو اس صورت میں نفع جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
جائزہے مگر یہ ثمن کی زیادتی اگر معمولی نرخ سے اس بناء پر بڑھائی گئی کہ زید قرض خریدتاہے تو بہتر نہیں
لما فیہ من الاعراض عن مبرۃ الاقراض کما افادہ فی الفتح وردالمحتار وغیرھما من الاسفارواللہ تعالی اعلم۔
کیونکہ اس میں قرض دینے کی نیکی اور مروت سے اعراض ہے جیسا کہ اس کا فائدہ فتح اور ردالمحتاروغیرہ کتابوں نے دیا ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۰۴: از کاٹھیا وارر دھوراجی محلہ سیاہی گراں مسئولہ حاجی عیسی خاں محمد صاحب ۸ جمادی الاولی ۱۳۳۰ھ
نوٹ کی بیع مرابحہ یعنی نوٹ بیچا اور کہا کہ فی روپیہ ایك آنہ لکھی ہوئی رقم سے زیادہ لوں گاجائز ہے یانہیں
#12869 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
الجواب:
یہ مسئلہ تنقیح طلب ہے ہم اولا: عبارات کتب ذکر کریں پھر بتوفیق الله تعالی اپنے تحقیق پھر صورت مسئولہ کاحکم وبالله التوفیقفاعلم ان ائمتنا رحمہم اللہ تعالی عرفوا المرابحۃ فی المتون بانہا نقل مامبلکہ بالعقد الاول بالثمن الاول مع زیادۃ ربح کما فی الھدایۃ ۔واختصرہ فی الکنز فقال بیع بثمن سابق وزیادۃ وکلام عامتہم تدور حول ذلك واعترضہم الشراح بانہ منتقض طردا وعکسا واطالوا فیہ بما افادوا احکام فروع وقد اجبیب عن اکثر الایرادات بما یتم اولا کما بسطہ فی العنایۃ والفتح وغیرھا ولما کان منشأ اکثرھا العقد والثمن ترکہما فی الدرر وقال بیع مامبلکہ بمثل ماقام علیہ بزیادۃ ولا یسلم ایضا من بعض النقوضولسنا ھھنا بصدد سردہا مع مالہا وعلیہ وقام العلامۃ البحر فی البحرالرائق لیأتی بحد جامع مانع لا یرد علیہ شیئ اصلا فاطال بالاستیعاب شروط الجواز ولم یتم ایضا کما ستعرفہ ان شاء اللہ تعالی ووقع ھھنا فی نسختہ المطبوعۃ نقل ما مبلکہ بغیر عقد الصلح والہبۃ بشرط عوض بما یتعین بعین ماقام علیہ اوبمثلہ اوبرقمہ الخقال محشیہ العلامۃ الشامی فی المنحۃ قولہ بما یتعین متعلق بما مبلکہ اھ وھذا یفید انہ کذلك بالباء فی نسختہ وقد یجنح الی تاییدہ قول البحر تحت قول الماتن شرطہما(ای التولیۃ و المرابحۃ کون الثمن الاول مثلیا مانصہ عبارۃ المجمع اولی وھی ولایصح ذلك حتی یکون العوض مثلیا اومملوکا للمشتری قال ولکن لابد من التقیید بالمعین للاحتراز عن الصرف فانہ لایجوز ان فیہما اھ فانہ ھھنا فی بیان العوض فاوھم اشتراط ان یکون مبلکہ بما یتعین۔
تو جان لے کہ ہمارے ائمہ کرام رحمۃ اللہ تعالی علیہ م نے متون میں مرابحہ کی تعریف یوں کی ہےکہ مرابحہ وہ بیع ہے کہ عقد اول کے ساتھ جس چیز کا مالك ہواہے اس کو ثمن اول مع کچھ نفع کی زیادتی کے دوسرےکو منتقل کرناجیساکہ ہدایہ میں ہےکنز میں اس کو مختصر کرکے کہا کہ ثمن اول اور کچھ اضافے کے ساتھ فروخت کرناعام فقہاء کا کلام اسی تعریف کے گرد گھومتا ہےشارحین نے اس پر اعتراض کیا کہ یہ تعریف جامع اور مانع نہیں انھوں نے اس میں طویل کلام کیاجو کئی فروعی حکام کا مفید ہےاور تحقیق ان میں سے اکثر اعتراضوں کے تام یا غیرتام جوابات دئے گئےجیسا کہ عنایہ اور فتح وغیرہ میں اس کی تفصیل مذکور ہےچونکہ اکثر اعتراضات کامنشا لفظ عقدا ور لفظ ثمن ہےچنانچہ درر میں ان دونوں کو چھوڑ کر یوں کہا جس چیز کا مالك ہوا ہے وہ چیز جتنے میں اس کو پڑی ہے اس کی مثل اور کچھ زیادہ کے ساتھ اس کو منتقل کرنایہ تعریف بھی بعض اعتراضات سے
حوالہ / References الہدایہ کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مطبع یوسفتی لکھنؤ ۳ /۷۳
کنز الدقائق باب التولیۃ والمرابحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۲
الدررالحکام فی شرح غررالاحکام باب المرابحۃ والتولیۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۸۰
بحرالرائق کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۰۷
منحۃ الخالق علی البحرالرائق باب المرابحۃ والتولیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۰۷
بحرالرائق کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۰۸
#12878 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
محفوظ نہیں اور ہم ان اعتراضات کی تفصیل ان کے مالہاور ماعلیہ کے درپے نہیں ہیںعلامہ صاحب البحر اس بات پر کمربستہ ہوئے کہ وہ بحرالرائق میں ایسی جامع مانع تعریف لائیں گے جس پر کوئی اعتراض وارد نہ ہوتاہوچنانچہ انھوں نے شروط جواز کا احاطہ کرنے پر طویل کلام کیا مگر وہ بھی تام نہیں جیساکہ ان شاء الله تعالی عنقریب تو جان لے گایہاں پر نسخہ مطبوعہ میں یوں واقع ہے کہ عقد صلح اورہبہ بشرط عوض کے بغیر جس چیز کا متعین ثمن کے بدلے میں مالك ہواہے اس کو بعینہ اس ثمن کے بدلے میں جس میں اس کوپڑی یا اس کی مثل کے بدلے میں یا اس پرلکھی ہوئی قیمت کے بدلے میں منتقل کرنا الخ اس کے محشی علامہ شامی نے منحہ میں فرمایا صاحب بحر کا قول"بمایتعین"اس کے قول "ما ملکہ"سے متعلق ہے اھ اور یہ اس امر کا مفید ہے کہ محشی کے پیش نسخہ میں بھی عبارت اس طرح ہے یعنی"بما"پر باء کے ساتھاور اس کی تائید کی طرف مائل ہےماتن کے قول "تولیہ ومرابحہ دونوں کے لئے ثمن اول کا مثلی ہونا شرط ہے" کے تحت وارد ہونے والا بحر کا قول جس میں اس نے نص کی کہ مجمع کی عبارت اولی ہے جویہ ہے کہ تولیہ ومرابحہ صحیح نہیں ہوتا جب تك عوض مثلی یا مشتری کی
#12880 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
ملکیت میں نہ ہوصاحب بحر نے کہا کہ لیکن عبارت مجمع کے لئے معین کی قید ضروری ہے تاکہ بیع صرف سے احتراز ہوجائے کیونکہ تولیہ ومرابحہ دونوں دراہم و دنانیر میں جائز نہیں اھکیونکہ اس عبارت میں یہ قید بیان عوض میں ہے لہذا اس سے وہم ہوتاہے کہ وہ معین ثمن کے عوض مالك بنا ہو
اقول: وھو ظاھر البطلان ولاقائل بہ احد من الناس والا لامتنعت المرابحۃ والتولیۃ فی البیاعات المطلقۃ عن اخرھا لکون الاثمان فیہا ممالا یتعین وقد قال الامام السمر قندی فی تحفۃ الفقہاءوعنہا فی غایۃ البیان اذا باع شیئا مرابحۃ علی الثمن الاول فلا یخلوا ماان یکون الثمن من ذوات الامثال کالدراہم و الدنانیر والمکیل والموزون والمعدد المتقارباویکون من الاعداد المتفاوتۃمثل العبید والدروالثیاب والرمان و البطاطیخ وغیرھما اما اذا کان الثمن الاول مثلیا فباعہ مرابحۃ علی الثمن الاول وزیادۃ ربح فیجوز سواء کان الربح من جنس الثمن الاول اولم یکن بعد ان یکون شیئا مقدارا معلوما نحو الدرہم وثوب مشارالیہ اودینار الخ
اقول:(میں کہتاہوں)کہ اس کا باطل ہونا ظاہر ہے اور نہ ہی لوگوں میں اس کا کوئی قائل ہے ورنہ مرابحہ وتولیہ تمام بیانات مطلقہ میں ممنوع ہوجائیں گی کیونکہ ان میں ثمن غیر معین ہوتے ہیں امام سمرقندی نے تحفۃ الفقہاء میں کہا اور اسی کے حوالے سے غایۃ البیان میں ہے کہ جب کسی نے ثمن اول پر کچھ نفع کے ساتھ کوئی چیز فروخت کی تو وہ ثمن دوحال سے خالی نہیں کہ وہ ذوات الامثال میں سے ہے جیسے درہمدینارکیلیوزنی اورعددی متقارب یا وہ عددی متفاوت میں سے ہے جیسے غلامکپڑےمکاناتتربوز اور انار وغیرہبہر حال اگر ثمن اول مثلی ہو اور اس نے ثمن اول پر کچھ نفع لگاکر بیع کی تو جائز ہے چاہے وہ نفع ثمن اول کی جنس سے ہو یا نہ ہو بعد اس کے وہ معین ومعلوم شے ہو جیسے درہم اور ایسا کپڑا جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہو یا دینار الخمیرے نزدیك درست بات یہ ہے کہ
"بمایتعین"
حوالہ / References تحفۃ الفقہاء کتاب البیوع باب الاقالۃ والمرابحۃ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۰۶
#12885 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
فالصواب عندی ان الباء فی بما یتعین من خطاء النساخ وانما ھو ممایتیعن ای مامبلکہ حال کونہ من الاشیاء التی یتعین فی العقود فالتعین شرط فیما مبلکہ وھوالذی یرید نقلہ مرابحۃ لافی عوضہ وقال فی الکفایۃ"قولہ نقل مامبلکہ ای من السلع لانہ اذا اشتری بالدراھم الدنانیر لایجوز بیع الدنانیر بعد ذلك مرابحۃ اھ وقال فی العنایۃ بعد ذکر الایرادات علی حد المتن قیل فعلی ھذا الاولی ان یقال نقل مامبلکہ من السلع بما قام عندہ اھ و قال سعدی افندی فی حاشیتہا المراد بما مامبلکہ ھوالمملوك المعہود الذی کان الکلام الی ھنافیہ اعنی السلع اھقال فی جامع الرموز التولیۃ ان یشترط فی البیع ای بیع العرض احتراز عن الصرف فالتولیۃ والمرابحۃ لم تکونا فی بیع الدراہم ودنانیر کما فی الکفایۃ اھ وقال فی الدارلمختار المرابحۃ بیع ماملکہ من العروض بما قام علیہ وبفضل اھ ۔
پر"با"کا تبوں کی غلطی سے ہے(دراصل)وہ"ممایتعین"ہے یعنی جس چیز کا وہ مالك ہوادرانحالیکہ وہ ان اشیاء میں سے ہو جو عقود میں متعین ہوتی ہیں چنانچہ تعین اس مملوکہ شے میں شرط ہے جس کو وہ بطور مرابحہ منتقل کرنا چاہتاہے عوض میں تعین شرط نہیں۔اور کفایہ میں کہا کہ ماتن کا قول کہ منتقل کرنا اس چیز کو جس کا وہ مالك ہوااس چیز شے سامان مراد ہے کیونکہ اگر درہموں کے بدلے دنانیر خریدے تو اس کے بعد ان دیناروں کی بیع بطو رمرابحۃ جائز نہیں اھ عنایہ میں متن پر وارد ہونے والے اعتراضات کو ذکرکرنے کے بعد فرمایاکہا گیا ہے کہ اس بناء پر بہتر تھا کہ وہ یوں کہا جاتا کہ اس سامان کو منتقل کرنا جس کا وہ مالك ہوا اس کے بدلے میں جتنے میں اس کو پڑا اھ اور سعدی آفندی نے اس کے حاشیہ میں کہا کہ اس چیز سے مراد جس کا وہ مالك ہوا وہی مملوك معہود ہے جس میں یہاں تك کلام ہورہی ہے یعنی سامان اتنے کے بدلے میں جتنے میں اس کو پڑا اھجامع الرموز میں کہا تولیہ یہ ہے کہ شرط لگائی جائے بیع میں یعنی سامان کی بیع میں یہ بیع صرف سے احتراز ہے چنانچہ تولیہ ومرابحہ دونوں دراہم ودنانیرکی بیع میں نہیں ہوتے جیسا کہ
حوالہ / References الکفایۃ مع فتح القدیر کتاب البیوع باب ا لمرابحۃ والتولیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۲۲
العنایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۲۲
حاشیہ چلپی کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۲۳
جامع الرموز کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مکتبہ اسلامیۃ گنبد قاموس ایران ۳ /۵۳
درمختار کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵
#12887 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
کفایہ میں ہے اھ درمختار میں کہا کہ مرابحہ یہ ہے کہ سامان مملوك کو اتنے کے بدلے جتنے میں اس کو پڑا ہے اور کچھ زیادتی کے ساتھ فروخت کرنا اھ(ت)
اقول: وبالله التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ت)جو چیز مرابحۃ بیچی جائے نہ تو ا س کا عرض وسلع ومتاع وکیلا ہونا لازم بلکہ سونے چاندی پر بھی مرابحہ جائز ہے جبکہ سونا روپوں کو خریدا ہو یا چاندی اشرفیوں کوفتاوی عالمگیری میں ہے:
اذا اشتری ذھہا بعشرۃ دراہم فباعہ بربح درھم جاز کذا فی الحاوی ۔
اگردس درہم کا سونا خریدا اور ایك درہم نفع کے ساتھ فروخت کردیا تو جائز ہےایساہی حاوی میں ہے۔(ت)
اسی میں محیط سے ہے:
اذا باع قلب فضۃ وزنہ عشرۃ دراھم بدینار وتقابضا ثم باعہ بربح درھم اوبربح نصف دینار جاز اما اذا باعہ بربح نصف دینار فلانہ یصیر بائعا قلب فضۃ وزنہ عشرۃ دراھم بدینار ونصف وزنہ عشرۃ دراھم بدینار ونصف دینار لان الجنس مختلف فلا یظہر الربحواما اذا باع بربح درھم فما ذکر من الجواب ظاھر الروایۃ لانہ یصیر بائعا للقلب بدینار ودرھم وانہ جازلانہ یجعل بازاء الدرھم من القلب مثلہ والباقی من القلب بازاء الدینار وعن ابی یوسف انہ لایجوز الخ
اگر دس درہم وزنی چاندی کا کنگن سونے کے ایك دینار کے بدلے میں خریدا پھر ایك درہم نفع پر(ایك دینار اور ایك درہم کے بدلے میں)یا نصف دینار نفع پر(یعنی ڈیڑھ دینار کے بدلے میں)فروخت کر دیا تو جائز ہےنصف دینار نفع پر بیچنا تو اس لئے جائز ہے کہ وہ چاندی کے ایك ایسے کنگن کو ڈیڑھ دینار میں فروخت کرنے والا ہےجس کا وزن دس درہم ہے کیونکہ جنس مختلف ہے لہذا نفع ظاہر نہ ہوارہا ایك درہم نفع پر بیچنا تو حکم مذکور ظاہر الروایہ ہے کیونکہ ایك درہم کے عوض کنگن میں سے اس کی مثل یعنی ایك درہم ہوا اور
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الصرف الباب الثالث الفصل ثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۳۰
فتاوٰی ہندیہ کتاب الصرف الباب الثالث الفصل ثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳/۳۱۔۲۳۰
#12890 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
باقی کنگن دینار کے عوض ہوگیا امام ابویوسف سے مروی ہے کہ یہ جائز نہیں الخ۔(ت)
نہ بیع کا صرف ہونا مطلقا اس کی ممانعت کو مستلزمسونا کہ دس روپے کو خریدا تھا گیارہ روپے کو بیچا یا دس روپے بھر چاندی کا کنگن کہ ایك اشرفی کو مول لیا تھا ڈیڑھ اشرفی یا ایك اشرفی اورایك روپے کوبیچنایہ سب صرف ہی ہے اور مرابحہ اور جائزنہ صرف نہ ہونا مطلقا جواز مرابحہ کو کافیمن بھرگیہوں من بھر گیہوں کو خریدےان کی بیع مرابحہ حرام ہے کہ سود ہےحالانکہ صرف نہیں۔شرنبلالی علی الدرر میں ہے:
المثلی اذا غیبہ الغاصب وقضی علیہ بمثلہ مبلکہ ولا یجوز لہ بیعہ بازید منہ لکونہ ربی ۔
غاصب نے مثلی شے کو غائب کردیاقاضی کی طرف سے اس پر اس کی مثل دینے کا فیصلہ صادر ہوا تو اب وہ مغصوب کا مالك بن گیا اس کے لئے جائز نہیں کہ اس چیز کو اس سے زائد پر فروخت کرے کیونکہ یہ سود ہے(ت)
ہندیہ میں محیط سے ہے:
لواشتری مختوم حنطۃ بمختومی شعیر بغیر عینہما ثم تقا بضا فلابأس بان یبیع الحنطۃ مرابحۃ وکذلك کل صنف من المکیل والموزون بصنف اخر اھ افاد بمفہوم قولہ بصنف اخر انہ لو قوبل الجنس بالجنس لم تجز المرابحۃ وسنعطیك دلیلہ ان شاء اللہ تعالی
اگر کسی نے گندم کا ایك مختوم جو کے دو غیر معین مختوموں کے بدلے میں خریدا پھر باہمی قبضہ بھی کرلیا تو گندم کو بطور مرابحہ فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ایسے ہی ہر کیلی اور وزنی چیزوں کی ایك قسم کو دوسری قسم کے ساتھ بیچنے کا یہی حکم ہے اھ ہندیہ کے قول یصنف اخر(یعنی دوسری قسم کے ساتھ)کے مفہوم نے یہ فائدہ دیا کہ اگر جنس کا مقابلہ جنس سے ہو توبیع مرابحہ ناجائز ہےہم عنقریب ان شاء الله تعالی تجھے اس کی دلیل دیں گے۔(ت)
بلکہ تحقیق یہ ہے کہ جوشے مرابحۃ بیچی جائے اس میں دو۲ شرطیں ہیں:
حوالہ / References غنیہ ذوی الاحکام فی بغیۃ درر الاحکام باب المرابحۃ والتولیۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۸۰
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب لرابی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۶۱
#12893 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
شرط اول:وہ شے معین ہو یعنی عقد معاوضہ اس کی ذات خاص سے متعلق ہوتاہے نہ یہ کہ ایك مطلق چیز ذمہ پر لازم آتی ہو ثمن جیسے روپیہ اشرفی عقود معاوضہ میں متعین نہیں ہوتےایك چیز سو روپے کو خریدی کچھ ضرور نہیں کہ یہی سو روپے جو اس وقت سامنے تھے ادا کرے بلکہ کوئی سو دے دےاور اگر مثلا سونے کے کنگن بیچے تو خاص یہی کنگن دینے ہوں گےیہ نہیں کرسکتا کہ ان کو بدل کر دوسرے کنگن دے اگر چہ وزن ساخت میں ان کے مثل ہوں یہ شرط مرابحۃ وتولیۃ ووضیعہ تینوں میں ہے یعنی اول سے نفع پر بیچے یا برابر کو یا کمی پریہاں اس شیئ کا معین ہونا اس لئے ضرور ہے کہ یہ عقد اسی شیئ مملوك سابق پر وارد کا جاتاہے اور جب وہ معین نہیں تو نہیں کہہ سکتےکہ یہ وہی شی ہےولہذا اگرروپوں سے اشرفیاں خریدیں تو ان کو مرابحہ نہیں بیچ سکتے۔
کما نص علیہ فی التبیین والفتح و العنایۃ والکفایۃ و البحر والنہر و الظہیریۃ والخانیۃ وخزانۃ المفتین و الہندیۃ وجامع الرموز وغیرہما وان نقل ط عن حاشیۃ سری الدین علی الزیلعی نقل عن البدائع انہ یجوز ۔
جیسا کہ تبیینفتح القدیرعنایہکفایہبحرنہر ظہیریہ خانیہخزانۃ المفتینہندیہ اور جامع الرموز میں اس پر نص کی گئی ہے اگرچہ ط نے تبیین کے حاشیہ سری الدین سے بحوالہ بدائع نقل کیا ہے کہ یہ جائز ہے۔(ت)
اس لئے کہ اشرفیاں معین نہیں ہوتیںبیچنے والا ان اشرفیوں کے بدلے دوسری اسی طرح کی دے دیتاتو جائز تھا اور اب جو یہ بیچ رہا ہے اب بھی متعین نہ ہوں گی یہ اشرفیاں دے یا ان کے ساتھ کی دوسریتو یہ کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ جو اشرفیاں پہلے اس کی ملك میں آئی تھی وہی اتنے نفع پر بیچیں کہ بیع مرابحہ ہوفتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
رجل اشتری دنانیر بداراہم ثم باع الدنانیر مرابحۃ لایجوز لان الدنانیر لاتتعین فی البیع فلم یکن المقبوض بعقد الصرف مبیعا فی البیع الاول ۔
ایك شخص نے درہموں کے عوض دینار خریدے پھر ان دیناروں کو بطور مرابحہ بیچا تو یہ جائز نہیں کیونکہ دینار بیع متعین نہیں ہواکرتے لہذا عقد صرف میں جن دیناروں پر قبضہ کیا گیا بعینہ وہی بیع اول کامبیع قرار نہ پائے۔(ت)
حوالہ / References حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۹۴
فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع فصل فی الاجل نولکشور لکھنو ۲/ ۴۰۱
#12896 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
فتح القدیر میں ہے:
انما لم تجز المرابحۃ فی ذلك لان بدلی الصرف لا یتعینان فلم تکن عین ھذہ الدنانیر متعینۃ لتلزم مبیعا ۔
اس میں مرابحہ اسی لئے ناجائزہے کہ بیع صرف کے بدلین متعین نہیں ہوتے تو بعینہ یہی دینار متعین نہ ہوئے کہ ان کا مبیع ہونا لازم ہوتا۔(ت)
اور اگر سونے کا گہناروپوں کو خریدا تو اسے مرابحۃ بیچ سکتاہےکہ وہ بیع میں متعین ہوگیا تو عقد سی مملوك اول پر واقع ہوگا۔
کما قدمناہ وبہ ظہر ان مرادہم ہنا بالعرض والسلع کل مایتعین ولم من احد النقدین وبالصرف مالا یتین فیہ البدل الذی حصل فی ملك من یرید بیعہ مرابحۃ وان الاولی قول الفتح المراد نقل ما ملکہ مما ھو ببیع متعین بدلا لۃ قولہ بالثمن الاول فان کون مقابلہ ثمنا مطلقا یفیدان ماملکہ بالضرورۃ مبیع مطلقا اھ۔
جیساکہ ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں اور اسی سے ظاہر ہوگیا کہ یہاں پر عرض اور سلع سے فقہاء کی مراد ہر و ہ چیز ہے جو متعین ہواگر چہ نقدین میں سے کوئی ایك ہو اور عقد صرف سے ان کی مراد وہ بیع ہے جس میں وہ بدل متعین نہ ہو جو اس شخص کی ملکیت میں حاصل ہو جو بطور مرابحہ اس کو بیچنے کا ارادہ کرے ا ور اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ فتح کا قول اولی ہے یعنی مراد یہ ہے کہ اس مبیع متعین کو منتقل کرنا جس کا وہ مالك ہواہے اس پر دلیل اس کا قول"ثمن اول"ہے اس لئے کہ اس کے مقابل ثمن مطلق ہونا اس بات کا فائدہ دیتاہے کہ جس چیز کا وہ مالك ہوا وہ ضروری طورپر مبیع مطلق ہے اھ(ت)
فھذا ھو تحقیق الشرط الاول(پس یہ ہے شرط اول کی تحقیق۔ت)
شرط دوم:وہ ایسا مال ربوی نہ ہو جو اپنی جنس کے بدلے لیا ہو جیسے سونا سونے یا چاندی چاندییا گیہوں گیہونیا جو جو کو عالمگیریہ میں ہے:
ان اشتری ذھبا بذہب اوفضۃ بفضۃ لم تجزمرابحۃ اصلا کذا فی التتارخانیۃ ۔
اگر سونے کو سونے کے بدلے یا چاندی کو چاندی کے بدلے خریدا تو اس میں مرابحہ بالکل جائز نہیں۔یہ تتارخانیہ میں ہے۔(ت)
حوالہ / References فتح القدیر کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۲۲
فتح القدیر کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۲۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب الصرف الباب الثالث الفصل الثانی فی المرابحۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۳۱
#12900 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
یہ شرط مرابحۃ ووضیعہ اول کے اعتبار سے زیادہ یا کم بیچنے میں ہے تولیہ یعنی برابر بیچنے میں نہیں اقول: وبالله التوفیق وجہ اس کی یہ ہے کہ جب ایك ربوی مال جس میں کمی بیشی سے سود ہوجاتاہے اپنی جنس کے بدلے اسے ملاہےاب جو یہ اسے مرابحۃ بیچتے گا تو اس کی جنس سے بدلے گا یاغیر جنس سےاگر جنس سے بدلے تو فرض ہوگا کہ دونوں پورے برابر ہوں کمی ییشی کیونکر ممکن عین ربو ہےاور اگر غیر جنس سے بدلے تو نہ مرابحۃ ہوئینہ جائز ہوسکتی ہےمرابحۃ تویہ تھی کہ جس عوض پر اسے پڑی ہے اسی کو مع کچھ نفع کے بیچےیہاں عوض کی جنس بدل گئی
وبہ ظہر سقوط مااعترض بہ فی العنایۃ علی تعریف الہدایۃ و تبعہ فی البحر اذ قال واللفظ للاکمل بالاختصار"اعترض علیہ بانہ مشتمل علی ابہام یجب عنہ خلوا لتعریف لان قولہ بالثمن الاول اما ان یراد بہ عین الثمن الاول اومثلہ لاسبیل لا الاول لان عین الثمن الاول صار ملکا للبائع الاولولا الی الثانی لانہ لایخلوا ما ان یراد المثل من حیث الجنس او المقدار الاول لیس بششرط لما فی الایضاح والمحیط انہ اذا باعہ مرابحۃ فان کان ما اشتراہ بہ لہ مثل جاز سواء جعل الربح من جنس راس المال الدراھم من الدراھم اومن غیر الدراھم من الدنانیر اوعلی العکس اذا کان معلوما
اور اس سے اس اعتراض کا ساقط ہونا ظاہر ہوگیا جو ہدایہ کی تعریف پر عنایہ میں واردکیا گیا اور بحر نے اس کی اتباع کی اختصارا لفظ اکمل کے یہ ہیں کہ اس پر اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ تعریف(تعریف ہدایہ)ابہام پر مشتمل ہے جس سے تعریف کا خالی ہونا واجب ہے اس لئے صاحب ہدایہ کے قول "ثمن اول"سے مراد ثمن اول کا عین ہے یا اس کی مثلاول کی طرف کوئی راہ نہیں کیونکہ عین اول تو بائع اول کی ملك ہوگیا اور نہ ہی ثانی کی طرف کوئی راہ ہے کیونکہ ثانی (ثمن کی مثل)دوحال سے خالی نہیں یا تو اس سے مراد جنس کے اعتبار سے ثمن اول کا مثل ہونا ہے یا مقدار کے اعتبار سے جنس کےاعتبار سے مثلیت تو اس دلیل کی وجہ سے شرط نہیں جو ایضاح اور محیط میں ہے کہ جب اس نے بطور مرابحہ کسی چیز کی بیع کی اگر اس چیز کی مثل موجو دہےجس کے بدلے میں اس نے اس کو خریدا تھا تو یہ بیع مرابحہ جائز ہے چاہے اس نے نفع راس المال یعنی دراہم کی جنس یعنی دراہم سے رکھا یا اس کے غیر بھی یعنی دیناروں سے رکھا ہو
#12901 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
یجوز بہ الشراء لان الکل ثمن والثانی یقتضی ان لایضم الی راس المال اجرۃ القصار والصباغ والطراز وغیرھا الخ والاکمل وان اجاب عنہ فانما اختار الشق الاخیر والبحر لم یرضہ بل ردہ بما لایفید الایراد الا بعدا۔اقول: و العجب ان المعترض حصر والبطل جمیع الشقق فکیف یعترض بالابہام لم لا یحکم بالبطلان ثم العجب اشد العجب الاستناد بمانقل عن الایضاح والمحیط فانہ لامساس لہ بالمدعی کمانبہ علیہ العلامۃ سعدی افندی حیث یقول"لایخفی علیك ان مانقلہ من ذینك الکتابین انمایدل علی عدم اشتراط مما ثلثۃ الریح لرأس المال جنسا لا علی عدم شرطبۃ مماثلۃ الثمن الثانی للاول فی الجنس اھاقول:
یا اس کے برعکس صورت ہو(یعنی راس المال بجائے درھموں کے دینار ہوں)جب یہ معین ہو تو اس کے بدلے خریداری جائز ہے کیونکہ یہ سب ثمن ہیں اور اگر مقدار کے اعتبار سے مثلیت مراد ہو تو یہ مقتضی ہے اس امر کو کہ راس المال کے ساتھ دھوبیرنگریز اور نقش ونگار وغیرہ کی اجرت نہ ملائی جائے الخ اکمل نے اگر چہ اس کا جواب دیتے ہوئے آخری شق کو اختیار کیا مگر صاحب بحراس پر راضی نہیں بلکہ اس کو رد کردیا جو کہ اعتراض میں بعد کے سوا کچھ فائدہ نہیں دیتا۔
اقول:(میں کہتاہوں)تعجب ہے معترض نے حصر کرتے ہوئے تمام شقوں کو باطل قرار دیا ہے تو اس پر ابہام کا اعتراض کیسے ہو ابطلان کاحکم کیوں نہیں لگایا گیا پھر شدید ترین تعجب اس استناد پر ہے جو ایضاح اور محیط سے منقول عبارت پر کیا گیا کیونکہ اس کا مدعا سے کوئی تعلق نہیں جیسا کہ علامہ سعدی آفندی نے یہ کہتے ہوئے اس پر تنبیہ فرمائی کہ اے مخاطب! تجھ پر پوشیدہ نہیں کہ اکمل نے ان دونوں کتابوں سے جو نقل کیا ہے وہ تو اس بات پر دلالت کرتاہے کہ نفع کا اعتبار جنس کے راس المال کی مثل ہونا شرط نہیںاس بات پروہ دلالت نہیں کرتا کہ ثمن ثانی کاباعتبار جنس کے ثمن اول کی مثل ہونا شرط نہیں اھ ۔اقول:(میں کہتاہوں)
حوالہ / References العنایۃ علی ہامش فتح القدیر باب المرابحۃ والتولیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۲۲
حاشیہ سعدی آفندی علی ہامش فتح القدیر باب المرابحۃ والتولیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۲۲
#12902 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
ولانظر الی مایوھمہ التصویر بالدارہم والدنانیر والتعلیل بان الکل ثمن فان الربح یجوز مطلقا من ای جنس کان ثوبا اوعبدا اوارضا او غیر ذلك بعد ان یکون مقدارا معلوما کما قدمناہ عن العنایۃ عن التحفۃ ومثلہ فی عامۃ الکتب فہذا وجہ۔و اقول ثانیا: لئن قطعنا النظر عن ھذا لم یکن فیہ مایمنع اشتراط المجانسۃ وینفیہ فقد نصوا ان الدرھم والدینار جنس واحد فی بضع مواضع منہا المرابحۃ کما فی البحر والدر وغیرھمااقول ثالثا: وھوا لقول الفصل وھادم الاعتراض من الاصل اطبقت الکتب قاطبۃ ان شرط صحۃ المرابحۃ والتولیۃ کون العوض الی الثمن الاول مثلیا وعلله المعللون کالہدایۃ و الشروح ومنہا العنایۃ و التبیین والبحر وغیرھما واللفظ للعنایۃ بان مبنا ہما علی الاحتراز عن الخیانۃ و
دراہم ودنانیر سے صورت بیان کرنا جس وہم کو پیدا کرتاہے علامہ آفندی کو ملحوظ ہے نہ ہی وہ تعلیل جو اکمل نے یہ کہہ کر بیان کی کہ یہ سب ثمن ہیں اس لئے کہ نفع تو مطلقا جائز ہے چاہے کسی بھی جنس سے ہویعنی چاہے کپڑا ہویا غلام ہو یا زمین وغیرہ ہو بشرطیکہ وہ مقدار معین ہو جیسا کہ ہم عنایہ سے بحوالہ تحفۃ الفقہاء پہلے بیان کرچکے ہیں اور اس کی مثل عام کتابوں میں ہے یہ توجیہ ہے اقول ثانیا:(میں دوبارہ کہتا ہوں)اگر ہم اس سے قطع نظر کرلیں تو بھی اس میں ایسی کوئی چیز نہیں جو شرط مجانست سے مانع ونافی ہوچنانچہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ چند جگہوں میں درہم اور دینار جنس واحد شمار ہوتے ہیںان میں سے مرابحہ بھی ہوجیسا کہ بحر اور در وغیرہ میں ہےاقول ثالثا:(میں سہ بارہ کہتا ہوں) جو قول فیصلہ کن اور اعتراض کو سرے سے منہدم کردینے والا ہے کہ تمام کتابیں اس پر متفق ہیں کہ تولیہ ومرابحۃ کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ عوض یعنی ثمن اول مثلی ہو اور علت بیان کرنے والوں جیسے ہدایہ اور اس کی شروحات عنایہتبیین اور بحر وغیرہ نے اس کی علت یوں بیان کیلفظ عنایہ کے ہیں کہ ان دونوں (تولیہ ومرابحہ)کی بناء خیانت اور
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶،بحرالرائق کتاب البیوع باب البیع الفاسد ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/۸۳
#12903 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
شبھھا والاحتراز عن الخیانۃ فی القیمیات ان امکن وقد لایمکن عن شبہہا لان المشتری لا یشتری المبیع الابقیمۃ ماوقع فیہ من الثمن اذ لایمکن دفع عینۃ حیث لم یمبلکہ ولا دفع مثلہ اذ الفرض عدمہ فتعیت القیمۃ وھی مجھولۃ تعرف بالخرص و الظن فیتمکن فیہ شبہۃ الخیانۃ الااذا کان المشتری باعہ مرابحۃ ممن ملك ذلك البدل من البائع الاول بسبب من الاسباب فانہ یشتریہ مرابحۃ بربح معلوم من دراہم او شیئ من المکیل والموزون الموصوف لاقتدارہ علی الوفاء بما التزمہ اھ ۔ اقول: ولاتنس ماقدمنا ان الربح سائغ مطلقا ولو ثوبا کما نص علیہ فی التحفۃ وقال فی التحفۃ وقال فی الفتح لوکان مااشتراہ بہ وصل الی من یبیعہ منہ فرابحہ علیہ بربح
شبہ خیانت سے اجتناب پر ہے جبکہ قیمتی چیزوں میں اگرچہ خیانت سے اجتناب ممکن ہے مگر شبہ خیانت سے اجتناب کبھی ممکن نہیں ہوتا کیونکہ مرابحہ میں مشتری مبیع کو اس قیمت کے بدلے ہی خریدسکتاہے جس میں ثمن واقع ہوا نہ کہ عین ثمن کے بدلے کیونکہ جب وہ اس کا مالك ہی نہیں تو اس کا دینا اس کے لیے نا ممکن ہے اورنہ ہی مثل ثمن کے بدلے کیونکہ مفروض اس کا عدم ہے تو قیمت ہی متعین ہوئی اور وہ مجہول ہے جو کہ ظن وتخمینہ سے پہچانی جاتی ہے لہذا اس میں شبہ خیانت پایا جاتاہے سوائے اس کے کہ جب مشتری اول مبیع کو اس شخص کے ہاتھ بطور مرابحہ بیچے جو اس بائع اول سے اس مبیع کے بدل کا کسی سبب سے مالك بن چکا ہے کیونکہ اس صورت میں مشتری ثانی اس مبیع کو دراہہم یا کسی کیلی وزنی شے میں سے معین ومعلوم نفع پرخرید رہا ہے یہ اس لئے ہے کہ مشتری ثانی نے جس چیز کا التزام کیا ہے وہ اس کی ادائیگی پر قادرہے اھاقول:(میں کہتاہوں)جو ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں اس کو مت بھولیں کہ نفع مطلقا جاری ہوتاہے اگر چہ کپڑ ا ہو جیساکہ فتح میں کہا کہ اگر کسی طرح مبیع کے ثمن اس شخص کے پاس پہنچ جائیں جس کے ہاتھ اب یہ بیع بطور مرابحہ بیچ رہا ہے اور
حوالہ / References العنایہ علی ہامش الفتح القدیر کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۲۴
#12904 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
معین کان یقول ابیعك مرابحۃ علی الثوب الذی بیدك وربح درھم اوکرشعیرا وربح ھذا الثوب جاز اھ فالقصر علی المکیل والموزون لامفہوم لہ ومن البین ان اشتراط مثلیۃ الثمن الاول یوجب المماثلۃ بینہ وبین الثمن الثانی فی الجنس اذا لاہ لعاد علی مقصودہ بالنقص فان الشیئ ولومثلیا اذا بدل بخلاف جنسہ خرج المثل من البین وآل الامرالی التقویم فھناك قلتم لایمکنہ دفع مثلہ اذا الفرض عدمہ وھھنا نقول لایمکن دفعہ مثلہ اذ الفرض ان البیع الثانی بخلاف جنسہ وھذ اکان شیئا واضحا فی غایۃ الوضوح فسبحان الذی اذ ھل ھؤلاء الاکابر من مثلہ ولاعصمۃ الالکلام اللہ وکلام الرسول جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔
اس ثمن پر معین نفع لگائے مثلا یوں کہے کہ میں یہ چیز بطور مرابحہ تجھ پر فروخت کرتاہوں اس کپڑے کے عوض جو تیرے قبضے میں ہے اور ایك درہم کے نفع پر یا ایك کر جو کے نفع پر یا اس کپڑے کے نفع پرتویہ بیع مرابحہ جائزہے اھ چنانچہ نفع کے کیلی اور وزنی اشیاء میں اقتصار کا کوئی مفہوم نہیں اور ظاہرہے ثمن اول کے مثل ہونے کی شرط اس بات کو واجب کرتی ہے کہ ثمن اول اور ثمن ثانی کے درمیان جنس کے اعتبار سے مماثلت ہو اس لئے کہ اگر ایسا نہ ہو تو یہ امر مقصود پر بطور نقض لوٹے گا کیونکہ کوئی شے اگرچہ مثلی ہو جب غیر جنس سے بدلی جائے تو مماثلت درمیان سے نکل جاتی ہے اور معاملہ قیمت لگانے کی طرف لوٹ آتاہےوہاں تم نے کہا کہ ثمن اول کی مثل دیناممکن نہیں کیونکہ مفروض اس کا عدم ہے تو یہاں ہم کہتے ہیں کہ اس کی مثل دینا ممکن نہیں کیونکہ مفروض یہ ہے کہ بیع ثانی اس کی جنس کے غیر بدلے میں ہے یہ انتہائی واضح چیز ہےپاك ہے وہ جس نے ان کا ابر کو اس جیسی ظاہر چیز بھلادیخطا سے پاك تو صرف الله تعالی اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاکلام ہے۔(ت)
اور ناجائز یوں ہوئی جس کا بیان ابھی عنایہ وغیرہا کے حوالے سے گزرا کہ غیر جنس کا عوض اول کے مثل ومساوی ہونا محض تخمین واندازہ سے ہوگا اور تخمین میں غلطی کا احتمال ہے اور مرابحہ کی بناء کمال امانت پر ہے اس میں خیانت کا شبہ بھی حرام ہے پوراٹھیك ٹھیك ثمن اول کا مساوی
حوالہ / References فتح القدیر کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۲۴
#12905 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
بتاکر اس پر نفع باندھےغیر جنس میں ٹھیك مساوات بتانا محال ہے لہذا مال ربوی جب اپنی جنس کے عوض کیا ہواسے مرابحۃ بیچنا ناممکن وحرام ہےیہ وہ شرط ثانی ضروری ولازمی وواجب تھی جس سے بحرالرائق میں باوصف استقصاء کے غفلت واقع ہوئی
وھذا م وعدناك من قبل بان الحد الذی اتی بہ لم یتم ایضا وکان علیہ ان یزید بعض قولہ"ممایتعین" غیر ربوی قوبل بجنسہ ثم العجب من العلامۃ المحقق ابی الاخلاص حسن الشربنلالی رحمۃ اللہ تعالی اذا ورد علی تعریف الدرر المذکور بیع مامبلکہ بمثل ماقام علیہ بزیادۃ مسئلۃ المثلی اذا غیبہ الغاصب وضمن وملك ولایرابح کما قدمنا عنہقال ولایرد علی من قال بیع بمثل الثمن الاول ۔اقول: صور بضمان الغصب فصدق ماقام علیہ ولم یصدق الثمن ولوصور بربوی مبلکہ بجنسہ کبر ببر لعم الضمان والاثمان وورد علی الکل بالسویۃ فہذا تحقیق الشرط الثانی وقد تفضل علی المولی سبحانہ وتعالی بہذا المباحث فاتقنہا فانك لاتجدہ فی محل اخر وﷲ الحمد علی تواتر الائہ والصلوۃ والسلام علی سید انبیائہ محمد والہ واحبائہ۔
یہ وہ ہے جس کا ہم نے آپ کے ساتھ پہلے وعدہ کیا تھا کہ جو تعریف علامہ بحر نے بیا ن کی ہے وہ بھی تام نہیںان پر لازم تھا کہ وہ اپنے قول"ممایتعین"کے بعد یہ الفاظ بڑھاتے "غیر ربوی قوبل بجنسہ"یعنی وہ چیز مال ربوی کا غیر ہو جس کا مقابلہ اس کی جنس سے کیا گیا ہوپھر علامہ محقق ابو الخلاص حس شربنلالی رحمہ الله تعالی پر حیرت ہے کہ جب درر کی اس تعریف"وہ ملوك چیز کی بیع ہے اس کی مثل کے ساتھ جتنے میں اس کو پڑی مع کچھ زیادتی کے"پر اس مسئلہ کے ساتھ اعتراض وارد ہوا کہ غاصب دینے پر وہ اس شیئ کوغائب کردیا اور اس کا ضمان دینے پر وہ اس شیئ مغصوب کا ماملك بن گیا اس کے باوجود وہ اس میں بیع مرابحہ نہیں کرسکتا جیساکہ اس سے نقل کرچکے ہیںتو علامہ ابوالاخلاص حسن شربنلالی نے فرمایا کہ یہ اعتراض اس پر وارد نہیں ہوتاجس نے تعریف میں یوں کہا کہ"بیع بمثل الثمن الاول"یعنی ثمن اول کی مثل کے بدلے بیع کرنااقول:(میں کہتاہوں) ضمان غصب کے ساتھ صورت بیان کی گئی ہوجو"ماقام علیہ" پر صادق اور ثمن پر صادق نہیں اگر ایسے مال ربوی کے ساتھ صورت بیان کی جاتی جس کا وہ اس کی
حوالہ / References غنیہ ذوی الاحکام حاشیہ درر الاحکام باب المرابحۃ والتولیۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۸۰
#12906 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
جنس کے بدلے میں مالك ہوا جیسے گندم کے بدلے گندم تو یہ صورت ضمان غصب اور ثمنوں کو شامل ہوتی اور سب پر اعتراض کا ورود برابر ہوتا۔یہ شرط ثانی کی تحقیق ہے۔بیشك مولی سبحانہ وتعالی نے ان مباحث جلیلہ کے سبب محمد پر فضل فرمایا اور تو ان کو محفوظ کر کہ انھیں تو دوسری جگہ نہیں پائے گا۔ان مسلسل نعمتوں کے عطا ہونے پر الله تعالی ہی کے لئے حمد ہے اور درود وسلام ہو نبیوں کے سردار محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اورآپ کی آل واحباب پر۔(ت)
جب یہ اصل اصیل منقع ہولی اب جواب مسئلہ کی طرف چلئے فاقول: وبالله التوفیق(تو میں کہتاہوں اور توفیق الله سے ہے۔ت)نوٹ میں شرط دوم تو خوموجود ہے کہ وہ سرے سے مال ربوی ہی نہیں نہ وہ اور روپے یا اشرفی متحد الجنس۔اور شرط اول اس کی نفس ذات میں تو متحقق ہے کہ وہ فی نفسہ ایك عرض ومتاع ہے نہ ثمن مگر بذریعہ اصطلاح اسے ثمنیت عار ض ہے اور جب تك رائج رہے گا اور عاقدین بالقصد اسے متعین نہ کریں گے عقود معاوضہ متعین نہ ہوگا۔اور اوپر معلوم ہولیا کہ یہاں تعین دونوں وقت درکار ہے ملك اول کے وقت اور اس بیع مرابحہ کے وقت تاکہ صادق آئے کہ وہی شے جو پہلے اس کی ملك میں آئی تھی اس نفع پر بیچی۔وقت مرابحہ کا تعین بھی خودہی ظاہر ہے کہ جب مرابحہ بے تعین ناممکن اور وہ قصد مرابحہ کررہے ہیں ضرور اسے متعین کرلیا جس طرح پیسوں کی بیع سلم میں ہمارے ائمہ کے اجماع سے اورایك پیسہ معین دوپیسے معین کو بیچنے میں ہمارے امام اعظم وامام ابویوسف رضی الله تعالی عنہما کے نزدیك ہے جس کی تحقیق ہمارے رسالہ کفل الفقیہ الفاھم میں ہے۔
وقلت فی الوفاقیۃ ان المسلم فیہ لایکون ثمنا قط فاقدامہا علی جعلہا مسلما فیہا دلیل علی الابطال اھ ای ابطال الاصطلاح علی الثمینۃ القاضیۃ بعدم التعیین وفی الہدایۃ فی الخلافیۃ لہما ان الثمینۃ فی حقہما باصطلاحہما
میں نے اتفاقی اور اجماعی مسئلہ میں کہا کہ مسلم فیہ کبھی بھی ثمن نہیں ہوسکتا لہذا بائع اور مشتری کا پیسوں کو مسلم فیہ بنانے کا اقدام دلیل ابطال ہے اھ یعنی اصطلاح ثمنیت کا ابطال جو عدم تعیین کا تقاضا کرتی ہے اور ہدایہ میں اختلافی مسئلہ کے بارے میں شیخین کی دلیل یون بیان کی کہ بائع اور مشتری کے حق میں ثمنیت ان دونوں کی
حوالہ / References کفل الفقیہ الفاہم امام العاشر نوری کتب خانہ داتا دربار لاہور ص۶۲۔۶۱،کفل الفقیہ الفاہم امام العاشر منظمۃ الدعوۃ الاسلامیہ لوہاری دروازہ لاہور ص۴۷
#12907 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
فتبطل باصطلاحہما اھ وقلت فیہا فی ہامش الکفل ان الحاجۃ الی تصحیح العقد تکفی قرینۃ علی ذلك ولایلزم کون ذلك ناشئا عن نفس ذات العقد کمن باع درہما ودینارین بدرہمین ودینار یحمل علی الجواز صرفا للجنس الی خلاف الجنس مع ان نفس ذات العقد لاتابی مقابلۃ الجنس بالجنس واحتمال الرباء کتحققہ فما الحامل علیہ الاحاجۃ التصحیح و کم بلہ من نظیر ۔
اصطلاح کی وجہ سے ہے لہذا ان دونوں کی اصطلاح سے باطل ہوجائے گی۔اور میں نے اس مسئلہ اختلافیہ کے بارے میں کفل الفقیہ کے حاشیہ پر کہا ہے کہ عقد کو صحیح کرنے کی حاجت اس پر کافی قرینہ ہے اس کا نفس عقد سے ناشی ہونا لازم نہیں جیسے کسی نے ایك درہم اور دو دینار کو دو درہموں اور ایك دینار کے عوض فروخت کیا۔تو جنس کو غیر جنس کی طرف پھیرتے ہوئے اس کو جواز پر محمول کریں گے باوجود یکہ خود ذات عقد جنس کا مقابلہ جنس سے کرنے سے انکار نہیں کرتی اور سود کا احتمال بھی حقیقت سودکی طرح ہے تو سوائے تصحیح عقد کی حاجت کے اس کا کوئی باعث نہیں اوراس کی متعدد نظیریں ہیں۔(ت)
اب نہ رہی مگر وقت میں نظر۔اگریہ نوٹ کسی نے اسے ہبہ کیا تھا یااس پر تصدق کیا یا بذریعہ وصیت یا مورث کے ترکہ میں اسے ملایا اس نے کسی سے چھین لیا اور تاوان دے دیا یاکسی کا اس کے پاس امانت رکا تھا اس سے منکر ہو کر تاوان دے کر بیچ لیا تو ان صورتوں میں اسے بیع مرابحہ کرسکتاہے کہ اب سب وجوہ میں خود روپے اشرفی معین ہوتے ہیں جو ثمن خلقی ہیں نوٹ تو ثمن اصطلاحی ہےپہلی چارصورتوں میں تو بازار کے بھاؤ سے اس کی قیمت بتاکر اس پر نفع لگائے مثلایہ نوٹ سو روپے کا ہے میں نے تیرے ہاتھ اکنی روپے کے نفع پر بیچا اور پچھلی دو صورتوں میں جو کچھ تاوان دینا پڑا ہو وہ بتاکر اس پر نفع رکھے کہ یہ نوٹ مجھے اتنے میں پڑا اور انتے نفع پر میں نے تیرے ہاتھ بیع کیادرمختار میں ہے:
المرابحۃ بیع مامبلکہ ولو بھبۃ او ارث اووصیۃ اوغصب ۔
مرابحہ اس چیز کی بیع ہے جس کامالك بنااگر چہ
حوالہ / References الہدایۃ کتاب البیوع باب المسلم مطبع مجتبائی دہلی ۳/۹۴
کفل الفقیۃ الفاہم امام العاشر حاشیہ نوری کتب خانہ داتا دربار لاہور ص۶۲،کفل الفقیہ الفاہم امام العاشر منظمۃ الدعوۃ الاسلامیہ لوہاری دروازہ لاہور ص۴۸
درمختار کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۵
#12908 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
ہبہمیراثوصیت یا غصب کے سبب سے مالك بنا ہو۔ (ت)
بحر میں ہے:
الغصب اذا ضمنہ جازلہ بیعہ مرابحۃ وتولیۃ علی ماضمن ومامبلکہ بھبۃ اوارث اووصیۃ اذا قومہ فلہ المرابحۃ علی القیمۃ اذا کان صاد قافی التقویم اھ ملتقطا۔
غصب کا جب تاوان دے دیا تو اب اس تاوان پر غصب کی بیع بطور مرابحہ یا بطور تولیہ جائز ہے اور جس چیز کا ہبہمیراث یا وصیت کے ذریعے مالك بنا جب اس کی قیمت مقرر کرے تو اس قیمت پر اس مملوك چیز کی بیع مرابحہ کرسکتا ہے بشرطیکہ قیمت مقرر کرنے میں سچا ہو اھ التقاط(ت)
اشباہ پھر ردالمحتار میں ہے:
تتعین ای الدراہم والدنانیر فی الامانات والھبۃ والصدقۃ والشرکۃ والمضاربۃ والغصب ۔
امانتوں۔ہبہصدقہشرکتمضاربہ اور غصب میں دراہم ودنانیر متعین ہوجاتے ہیں (ت)
یونہی اگریہ نوٹ بیع سلم سےمول لیااس پر مرابحہ کرسکتاہے مثلا نوے روپے کے بدلے سو کی رقم کانوٹ ایك مہینہ کے وعدہ پر خریدا یہ نوٹ معین ہوگیا لما قدمنا۔(اس دلیل کی وجہ سے جس کا ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں۔ت)اب نوے روپے اصل ثمن لگاکر اس پر نفع معین کرے سو روپے اصل قیمت کو ٹھہرا کر اس پر نفع لگانا حرام ہوگا یونہی اگر نوٹ اور خریدنے میں صاف تصریح کردی کہ خاص یہ نوٹ بعینہ اتنے کو بیچاکہ ایسی صریح تصریح سے ثمن اصطلاحی متعین ہوجاتاہے تو جتنے کو لیا اتنے پر مرابحہ کرسکتا ہے اور صرف اس کے کہنے سے کہ یہ نوٹ اتنے کو بیچا معین نہ ہوگا جب تك عاقدین صاف تصریح نہ کریں کہ خاص اس کی ذات سے عقد بیع کا متلعق کرنا مقصود ہے۔تبیین الحقائق میں ہے:
حوالہ / References البحرالرائق کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۰۷
ردالمحتار کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲۹
#12909 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
صح البیع بالفلوس النافقۃ وان لم یعین لانہا اموال معلومۃ صارت ثمنا بالاصطلاح فجاز بہا البیع ووجب فی الذمۃ کالدراھم والدنانیر وان عینہا لاتتعیین لانہا صارت ثمنا باصطلاح الناس ولہ ان یعطیہ غیرہما لان الثمنیۃ لاتبطل بتعیینہا لان التعیین یحتمل ان یکون لبیان قدرالواجب ووصفہ کما فی الدراھمویجوز ان یکون لتعلیق الحکم بعینہا فلا یبطل الاصطلاح بالمحتمل مالم یصرحا بابطالہ بان یقولا اردنا بہ تعلیق الحکم بعینہا فحینئذ یتعلق العقد بعینہا بخلاف مااذا باع فلسا بفلسین باعیانہما حیث یتعین من غیر تصریح لانہ لو لم یتعیین لفسد البیع علی مابینا من قبل فکان فیہ ضرورۃ تحریا للجواز وھنا یجوز علی التقدیرین فلاحاجۃ الی ابطال اصطلاح الکافۃ ۔
رائج پیسوں کے ساتھ بیع جائز ہے اگرچہ متعین نہ ہوں کیونکہ وہ اموال معلومہ ہیں جوکہ اصطلاح کے سبب سے ثمن بنے ہیں تو ان کے ساتھ بیع جائز ہوگی اور یہ ذمہ پر ہونگے جیسا کہ دراہم ودنانیر کا حکم ہے اگر ان کومتعین کرے تب بھی یہ متعین نہ ہونگے کیونکہ یہ لوگوں کے اصطلاح سے ثمنم بنے ہیں اور تعیین کے باوجود اس کو دوسرے پیسے دینے کا اختیار ہے کیونکہ ان کی تعیین سے ثمنیت باطل نہیں ہوتی کیونکہ تعیین میں احتمال ہے کہ وہ واجب کی مقدار اور وصف کو بیان کرنے کے لئے ہو اور یہ بھی ممکن ہے حکم کو ان معین پیسوں کی ذات سے معین کرنے کے لئے ہو چنانچہ محض احتمال سے اصطلاح باطل نہیں ہوتی جب تك بائع اور مشتری اس کو باطل کرنے کی تصریح نہ کریں بایں طور کہ وہ یوں کہیں کہ ہم نے خاص انہی پیسوں سے حکم کو مطلق کرنے کا ارادہ کیا ہے اس وقت خاص ان ہی معین پیسوں سے عقد متعلق ہوگا بخلاف اس صورت کے جب کسی نے دو معین پیسوں کے عوض ایك پیسہ فروخت کیا کیونکہ یہاں بغیر تصریح کے وہ متعین ہوجائیں گے اس لئے کہ اگر اس صورت میں وہ متعین نہ ہوں تو بیع فاسد ہوگی اس وجہ سے جوہم نے پہلے بیان کردی ہے تو اس میں تلاش جواز کی ضرورت ہوئی اور یہاں دونوں صورتوں میں بیع جائز ہوگی لہذا تمام کی اصطلاح کو باطل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔(ت)
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الصرف المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ مصر ۴/ ۱۴۳
#12910 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
ہاں بغیر اس تصریح کے جس طرح عام طورپر نوٹ کی خرید وفروخت ہوتی ہے نوٹ معین نہیں ہوتایہاں تك کہ اگر یہ نوٹ سوروپے کو بیچا بائع کو اختیار ہے کہ یہ خاص نوٹ نہ دے اس کے بدلے اور کوئی نوٹ کا سو کا دے دے جبکہ چلن میں اس کا مساوی ہو اور اگر ابھی یہ نوٹ مشتری کو نہ دینے پایا تھا کہ جل گیاپھٹ گیاتلف ہوگیا تو بیع باطل نہ ہوئی کہ خاص اس نوٹ کی ذات اسے متعین نہ تھی دوسرا دے تو اس عام طورکے خریدے ہوئے نوٹوں پر مرابحہ نہیں کرسکتا کہ وہ معین ہوکر اس کی ملکیت میں نہ آئےکما بیناہ انفا(جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے۔ت)اسی طرح اگر عورت کا مہر نوٹ قرار پائے تھے وہ اس نے شوہر سے اپنے مہر میں پائے انھیں مرابحۃ نہیں بیچ سکتی کہ اثمان مہرمیں متعین نہیں ہوتے۔اشباہ پھر ردالمحتار میں ہے:
لایتعین فی المہر ولوبعد الطلاق قبل الدخول فتردمثل نصفہ ولذا لزمہا زکوتہ لونصابا حولیا عندھا اھ۔اقول: والوجہ فیہ ان المہر ایضا معاوضۃ و الاثمان لایتعین فی المعاوضات وتتعین فیما وراء ھا من التبر عات وفیہا الہبۃ والصدقۃ ومن الامانات ومنہا المضاربۃ والشرکۃ والوکالۃ والودیعۃ کلہا بعد التسلیم اما قبلہ فلا مطالبۃ ولا استحقاق وانما النظر فی تعین النفقود وعدمہ من
ثمن مہر میں متعین نہیں ہوتے اگر چہ دخول سے قبل طلاق کے بعد ہوں تو اس صورت میں مطلقہ نصف مہر کی مثل واپس کرے گی اسی وجہ سے اس عورت پر اس مہر کی زکوۃ واجب ہے اگر وہ نصاب کے برابر ہوں اور سال بھر عورت کے پاس رہے اھاقول:(میں کہتاہوں)وجہ اس میں یہ ہےکہ مہر معاوضہ ہے اور ثمن معاوضوں میں متعین نہیں ہوتے جبکہ معاوضوں کے ماسوا یعنی تبرعاتامانات اور غصبات میں متعین ہوجاتے ہیںہبہ اور صدقہ تبرعات میں سے ہیں جبکہ مضاربت شرکتوکالت اور ودیعت امانات میں سے ہیں۔ان سب میں تعین تسلیم کے بعد ہوتا رہاہے قبل از تسلیم تو اس صورت میں نہ مطالبہ نہ کوئی استحقاقنقود کے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲۹،الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام النقد ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۱۵۹
#12911 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
ھذہ الجھۃ کما فی احکام النقد من الاشباہ اقول: ولذا لم تتعین فی النذر اذ لیس مطالب الا بما فیہ قربۃ ولاقربۃ فی خصوص نقد او وقت اوفقیر کما فی جامع الفصولین من الفصل السابع عشر ومن الغصبیات ویلتحق بہا المقبوض فی الصرف اذا فسد بالتفریق قبل قبض بدل و فی البیع اذا فسد علی ماھو الاصح لکونہ واجب الرد وفی الدعوی اذا ادعی اخر مالافقضی لہ فقبض ثم اقرانہ کان مبطلا فیہا اما الدین المشترك اذا قبضہ احدھما یؤمر برد حصۃ صاحبہ من عین المقبوض۔اقول: ان کان قبضہ بحق فامین اولافغاصب فانحصر الامر فیما ابدیت من الضابط واللہ الحمد اتقنہ فانك لاتجدہ فی غیر ھذہ السطور والحمد اللہ علی تواتر الائہ بالوفور۔
تعین اور عدم تعین میں نظر صرف اسی جہت(بعدا ز تسلیم) سے ہے جیسا کہ اشباہ کی فصل احکام النقد میں ہے۔
اقول: اسی لئے نقود نذر میں متعین نہیں ہوتے کیونکہ مطالبہ صرف اس چیزکا ہوتاہے جس میں قربت ہو جبکہ نقد یا وقت یا فقیر کےخاص ہونے میں کوئی قربت نہیں جیساکہ جامع الفصولین فصل ۱۷ میں ہےاور بیع صرف میں جس چیز پر قبضہ کیا جائے وہ غصبیات کے ساتھ ملحق ہوجاتی ہے جبکہ بدل صرف پر قبضہ کرنے سے پہلے تفریق کی وجہ سے عقد صرف فاسد ہوجائےاور مذہب اصح کے مطابق بیع فاسد میں بھی غصب سے ملحق ہے کیونکہ اس کا ردکرناواجب ہے اور یوں ہی دعوی میں ہے اگر کسی نے دوسرے پر کچھ مال کا دعوی کیا پھر فیصلہ کے حق میں ہونے اور قبضہ کرنے کے بعد اس نے اقرار کیا کہ وہ اس دعوی میں باطل پر تھا یعنی جھوٹا تھا۔رہا دین مشترك تو اگر اس پر دو شریکوں میں سے ایك نے قبضہ کرلیا تو اس کو حکم دیا جائے گا کہ وہ عین مقبوض میں سے اپنے شریك کا حصہ اس کو دے۔اقول:(میں کہتاہوں) اگر اس نے حق کے ساتھ قبضہ کیا تو امین ہے اور اگرناحق قبضہ کیا ہے و غاصب ہے۔چنانچہ جو ضابطہ میں نے بیان کیا ہے معاملہ اسی پر منحصر ہوا۔الله تعالی
حوالہ / References الاشباہ والنظائر احکام النقد ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲/ ۵۹۔۱۵۸
جامع الفصولین الفصل السابع عشر اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۳۰
#12912 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
کے لئے ہی حمد ہے۔اسے محفوظ کرلو کہ اس کو تو ان سطور میں کے غیرمیں نہ پائیگا۔اور مسلسل وافر نعمتوں کی عطا پر تمام تعریفیں الله تعالی کے لئے ہیں۔(ت)
پھر جہاں نوٹ پر مرابحہ منع ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ ملك اول کے لحاظ سے نفع مقرر نہیں کرسکتا ابتدائے بیع بے لحاظ سابق کرے جسے مساومہ کہتے ہیں۔تو اختیار ہے جنتے کو چاہے بیچے اگر چہ دس کا نوٹ ہزار کو۔بحرمیں ہے:
قید بقولہ لم یرابح لانہ یصح مساومۃ لان منع المرابحۃ انماھی للشبہۃ فی حق العباد لافی حق الشرع وتمامہ فی البنایۃ ۔
ماتن نے یہ قید لگائی کہ وہ بیع مرابحہ نہیں کرسکتا کیونکہ بیع مساومہ اس میں صحیح ہے اس لئے کہ مرابحہ کی ممانعت حقوق العباد میں شبہ کی وجہ سے ہے نہ کہ حق شرعی میں ۔اس کی پوری بحث بنایہ میں ہے۔(ت)
اورجہاں مرابحہ جائز ہے اور یوں مرابحہ کیا جس طرح سوال میں مزکور ہے کہ لکھی ہوئی رقم سے مثلا فی روپیہ ایك آنہ زیادہ لوں گا تو اس کے لئے ضرورہے کہ مشتری کو بھی اس کی رقم معلوم ہو اور جانے کہ مجموع یہ ہوااورنہ اگر کسی ناخواندہ کے ہاتھ بیچا ہے معلوم نہیں کہ یہ نوٹ کتنے کا ہے اس صورت میں اگر اسی جلسہ بیع میں اسے علم ہوگیا کہ یہ مثلا سوروپے کا ہے اور مجھے ایك سو چھ روپے چارآنے میں دیا جاتاہے تو بعد علم اسے اختیار ہے کہ خریداری پر قائم رہے یا انکار کردے اور اگر ختم جلسہ بیع تك اسے علم نہ ہو توبیع فاسد وحرام و واجب الفسخ ہوگئی اگرچہ بعد کو اسے علم ہوجائے۔ردالمحتارمیں ہے:
قال فی النہر لو کان البدل مثلیا فباعہ بہ وبعشرہ ای بعشر ذلك المثلی فان کان المشتری یعلم جملۃ ذلك صح والا فان علم فی المجلس خیر والافسد ۔
نہر میں کہا کہ اگر بدل مثلی ہے اور اس نے اس مثلی بدل اور مزید اس کے عشر یعنی اس مثل کے دسویں حصہ کے عوض بیع کیاس صورت میں اگر مشتری کو اس تمام کا علم ہے تو بیع صحیح ہے اور اگر علم نہیں تھا مگر اسی مجلس میں اس کو معلوم ہوگیا تو اسے اختیار ہے ورنہ فاسد ہوگی۔(ت)
حوالہ / References البحرالرائق کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۱۱
ردالمحتار کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۵۴
#12913 · باب المرابحۃ (بیع مرابحہ کا بیان)
ہدایہ باب المرابحہ میں ہے:
اذ احصل العلم فی المجلس جعل کابتداء العقد وصار کتاخیر القبول الی اخر المجلس وبعد الافتراق قد تقرر فلا یقبل الاصلاح ونظیرہ بیع الشیئ برقمہ ۔واللہ تعالی اعلم۔
جب مشتری کو مجلس کے اندر ثمن کا علم ہوگیا تو اس کی ابتداء عقد کی طرح قراردیا جائے گا اور یہ آخر مجلس تك قبول کومؤخر کرنے کی مثل ہوگیا اور جدائی(تبدیلی مجلس)کے بعد اگر علم ہوا تو اب چونکہ فساد مستحکم ہوچکا ہے لہذایہ بیع اصلاح کو قبول نہیں کرے گی اورا س کی نظیر کسی شے کو اس کی لکھی ہوئی قیمت کے عوض فروخت کرنا ہے۔اور الله تعالی خوب جانتا ہے۔ت)
___________________
حوالہ / References الہدایہ کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۷۷۔۷۶
#12914 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
باب التصرف فی المبیع والثمن
(مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
مسئلہ ۱۰۵: از بڑودہ پائگاہ قام حالہ مرسلہ سیدہ میاں حالہ ۱۹ ربیع الاخر شریف ۱۳۱۰ھ
قدوۃ العلماء عمدۃ الفضلاء اس مسئلہ کبیر میں کیا ارشاد فرماتے ہیں ایك شخص نے ایك عورت سے نکاح کیا۔چند روز کے بعد عورت نے اپنا مہر طلب کیاخاوند اس کا کہنے لگا کچھ روپیہ اس وقت نقد مجھ سے وصول کرلے باقی روپیہ جو رہا مکان اور زمین نرخ بازار سے خرید لے اور جو اس سے بھی باقی رہے قسط بقسط ماہ بماہ دیتارہوں گا تیرا مہر بہرحال ادا کردوں گا۔عورت اس بات پر راضی ہوئیشرع شریف میں یہ جائز ہے یا ناجائز ہے مع مہرسند کتاب عبارت عربی وترجمہ اردو خلاصہ تحریر فرمائے گا اس کا صلہ آپ کو اللہ تعالی جل شانہعطا کرے گا فقط۔ راقم سید ومیاں حالہ از بڑودہ۔
الجواب:
یہاں تین باتیں ہیں :۱بعض مہر کا بالفعل زر نقد سے ادا کرنا۔۲بعض کے عوض مکان وزمین نرخ بازار پر دینا۔باقی ماندہ کی قسط بندی ہونایہ تینوں امر شرعا جائز ہیں۔۱اول تو خود ظاہر ہے اگرچہ شرعاخواہ عرفا مہرمؤجل عدت وطلاق یا ایسی اجل پر موعود ہو جو ہنوز نہ آئی مثلا دس برس بعد دینا ٹھہرا تھا اس نے کل یا بعض ابھی دے دیا عورت کو جبرا لینا ہوگا کہ اجل حق مدیون ہے۔ اور اسے
#12915 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
ا س کے ساقط کرنے کااختیار
فی الزیلعی والخانیۃ والنہایۃ ثم الاشباہ ثم العقود الدریۃ الدین المؤجل اذا قضاہ قبل حول الاجل یجبرا الطالب علی تسلیمہ لان الاجل حق المدیون فلہ ان یسقطہ ۔
زیلعیخانیہنہایہ پھر اشباہ پھر عقود الدریہ میں ہے کہ مدیون اگر دین مؤجل کی ادائیگی اجل گزرنے سے پہلے کرے تو طالب(قرض خواہ)پر اس کی وصولی کے لئے جبر کیا جائے گا کیونکہ اجل مدیون کا حق ہے جسے ساقط کرنے کا اسے اختیار ہے۔(ت)
اور ثانی۲ بھی جائز کہ اگرچہ اصل مقتضائے دین یہی ہے کہ جس چیز کا مطالبہ ہے وہی دی جائےمثلا روپے کے روپے ہی اداکئے جائیںفی الاشباہ واالدروغیرہما الدیون تقضی بامثالہا (اشباہ اور دروغیرہ میں ہے کہ قرضے ان کی مثل سے اداکئے جائیں ۔ت)مگر ماورائے سلم وصرف میں باہمی تراضی سے یہ بھی رواکہ دین کا معاوضہ دوسری چیز کرلیں ۔
فی ردالمحتار طالب مدیونہ فبعث الیہ شعیر اقدرا معلوما وقال خذہ بسعر البلد والسعر لہما معلوم کان بیعا ۔
ردالمحتار میں ہے کہ کسی نے اپنے مقروض سے قرضے کا مطالبہ کیا تو اس نے معین مقدار میں جو بھیجے اور کہا کہ شہر کے بھاؤ کے مطابق لے لو اگر شہر کا بھاؤ دونوں کو معلوم ہے تو بیع ہوگئی۔(ت)
اور ثالث۳ کا بھی جواب واضحاگر چہ اس وقت تك قسط بندی نہ تھی کہ برضامندی معجل کو مؤجلغیر منجم کو منجم کرسکتے ہیں ۔ یعنی جس دین کی نسبت قرارپایا تھا کہ فورا دیا جائے گا پھر یہ ٹھہرالیں کہ اتنی مدت کے بعد دیا جائے گا یا اب تك قسطیں نہ تھیں اب قرار دے لیں کہ ماہانہ یا سالانہ قسط سے اداہواکرے گا۔
فی الکنز صح تاجیل کل دین غیر القرض وفی الاشباہ الحال یقبل التأجیل الاماقد مناہ اھ یعنی ماذکر فی قولہ لیس فی الشرع دین لا یکون الا حالا الا راس مال السلم وبدل الصرف والقرض و الثمن بعد الاقالۃ ودین المیت وما اخذبہ الشفیع العقار ۔
کنز میں ہےکہ قرض کے سوا ہر دین میں میعاد مقرر کرنا صحیح ہےاور اشباہ میں ہے دین حالی تأجیل
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب المدانیات ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۴۸
تتمہ فی الفروق من الاشباہ والنظائر مع الاشباہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۶
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲
کنز الدقائق باب المرابحۃ والتولیۃفصل صح بیع العقار ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۲۵
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الدین ادارۃ القرآن الخ کراچی ۲/ ۲۱۲
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الدین ادارۃ القرآن الخ کراچی ۲/ ۲۱۲
#12916 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
کوقبول کرتاہے سوائے اس کے جس کا ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں اھاس سے مراد وہ ہے جس کا ذکر مصنف نے اپنے اس قول میں کیا کہ شرع میں کوئی دین ایسانہیں جو فقط حالی ہو سوائے بیع سلم میں راس المالبدل صرفقرضاقالہ کے بعد ثمن اور دین میت کے اور وہ جس کے بدلے شفیع نے جائداد لی۔(ت)
مگر مکان زمین دینے میں اتنا لحاظ ضرور ہےکہ نرخ بازار مردوزن کا معلوم نہیں تو پہلے نرخ دریافت کرلیں اس کے تعین کے ساتھ بیع واقع ہوکہ بازار کے بھاؤ سے یہ چیز ہزار روپے کی ہے تو شوہر عورت سے کہے میں نے اپنی یہ زمین ومکان تیرے ہزار روپے کے عوض میں تجھے دی۔وہ کہے میں نے قبول کییہ نہ ہوکہ پہلے بیع ہولے اس کے بعد تحقیقات کرنے جائیں کہ بازار کا نرخ کیا ہے کہ اس صورت میں بوجہ جہالت ثمن بیع فاسد ہوجائے گی اور زن ومرد دونوں بسبب ارتکاب عقد فاسد گنہگار ہونگے پھر اس بیع کا فسخ بوجہ فساد واجب ہوگاہاں اگر اسی جلسہ ایجاب وقبول میں نرخ بازار معلوم ہوجائے تو البتہ بیع صحیح ہوجائے گی۔اور مشتریہ کو بعد علم قیمت اس شیئ کی لینے نہ لینے کا اختیار ہوگا مگریہ امر موہوم ومشکل ہے لہذا پہلے ہی دریافت کرکے بیع بطریق مذکور کریں ۔
فی الدر فسد بیع ماسکت فیہ عن الثمن کبیعہ بقیمۃ اھ ملخصا۔ وفی الہندیۃ اما اشرائط الصحۃ فمنہا ان یکون الثمن معلوما علما یمنع من المنازعہ فبیع المجہول جہالۃ تفضی الیہا غیر صحیح کبیع الشیئ بقیمتہ اھ مختصرا وفیہا من ولی رجلا شیئا بما قام علیہ ولم یعلم المشتری بکم قام علیہ فسد البیع فان اعلمہ البائع فی المجلس صح البیع وللمشری الخیار ان شاء اخذہ وان شاء ترکہ کذافی الکافی انتہی واللہسبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
درمیں ہے کہ جس بیع میں ثمن سے سکوت اختیار کیا وہ فاسد ہے جیسے کسی شے کی بیع اس کی قیمت کے بدلے میں اھ تلخیصہندیہ میں ہے کہ صحت بیع کی شرائط میں سے ثمن کا اس طرح معلوم ہونا ہےکہ جھگڑا پیدا نہ ہو لہذا مجہول کی بیع ایسی جہالت کے ساتھ جو جھگڑے کا باعث بنے صحیح نہیں جیسےکسی شیئ کو اس کی قیمت کے بدلے فروخت
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع باب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/۳
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب المرابحۃ التولیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۶۵
#12917 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
کرنا اھ اختصار۔اور اسی میں ہے کہ کسی شخص نے دوسرے کے ساتھ کسی شیئ کی تولیہ کی اتنے کے بدلے میں جتنے میں اس کو پڑی در انحالیکہ مشتری کو معلوم نہیں کہ بائع کو کتنے میں پڑی ہے تو بیع فاسد ہوگیپھر اگر بائع نے مجلس کے اندر مشتری کو بتایدا تو بیع صحیح ہوجائے گی اور مشتری کو اختیار ہوگا اگر چاہے تو لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دےیونہی کافی میں ہے۔واللہ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ۱۰۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر ایك جائداد بیع کی جائے اور اسی مجلس خواہ دوسری مجلس میں بائع کا ثمن مشتری کو معاف کردے تو جائز ہے یانہیں اور اس معاف کرنے کے سبب وہ بیع بیع رہے گی اور اس کے احکام اس پر جاری ہوں گے یا ہبہ ہوجائے گی بینواتوجروا۔
الجواب :
بیشك جائز ہے کہ بائع کوئی چیز بیچے او اس مجلس خواہ دوسری میں کل ثمن یا بعض مشتری کو معاف کردے اور اس معافی کے سبب وہ عقد عقد بیع ہی رہے گا اور اسی کے احکام اس پر جاری ہوں گے اس ابراء کے سبب ہبہ ٹھہر کر احکام ہبہ کا محل نہیں قرار پاسکتا کیونکہ ہبہ یا ابراء جو کچھ ہوا ثمن کا ہوا ہے نہ اس جائداد کااورلفظ ثمن خود تحقق بیع کو متقضی ہے کہ اگر وہ بیع نہ تھی تو یہ ثمن کا ہے کہ تھا جو معاف کیا گیا
فی الفتاوی العالمگیریۃ اذ احط کل الثمن اووھبہ او ابرأہ عنہ فان کان ذلك قبل قبض الثمن صح الکل ولکن لایلتحق باصل العقد وان کان بعد قبض الثمن صح الحط والھبۃ ولم یصح الابراء ھکذا فی المحیط ۔
فتاوی عالمگیریہ میں ہے پورا ثمن گھٹا دیا یا ہبہ کردیا یا بری کردیا اگر قبضہ سے پہلے ایسا کیا تو سب صورتیں درست ہیں مگر یہ اصل عقد کے ساتھ لاحق نہیں ہوگا او اگر ثمن پر قبضہ کے بعد ایسا کیا ہے تو گھٹا نا اور ہبہ کرنا درست ہوگا مگر بری کرنا درست نہ ہوگا محیط میں ایسا ہی ہے۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب السادس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۷۳
#12918 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی:
قال غزوت مع رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قال فتلاحق بی النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وانا علی ناضح لنا قد اعیا فلا یکاد یسیر فقال لی ما لبعیرك قال قلت اعیقال فتخلف رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فزجرہ ودعا لہ فما زال بین یدی الابل قد امھا یسیر فقال لی کیف تری بعیرك قال قلت بخیر قد اصابتہ برکتك قال افتبیعنیہ قال فاستیحیت ولم یکن لنا ناضح غیرہ قال فلقلت نعم قال فبعنی قال فبعتہ ایاہ علی ان لی فقار ظھرہ حتی بلغ المدینۃ فلما قدم رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم المدینۃ غدوت علیہ بالبعیر فاعطا نی ثمنہ وردہ علی (ملتقطا)۔
انہوں نے کہا کہ میں ایك جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ گیا تو آپ مجھ سے آملے درانحالیکہ میں پانی لانے والے ایك انٹ پر سوار تھا جو تھك چکا تھا اور چلنے سے تقریبا عاجز ہوگیا تھا۔آپ نے مجھے فرمایا کہ تیرے اونٹ کو کیا ہوا۔حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی کہ تھك گیا ہےآپ نے پیچھے مڑ کر اونٹ کو جھڑکا اور اس کے لئے دعافرمائی تو وہ مسلسل تمام اونٹوں کے آگے چلنے لگا پھر سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اونٹ کو کیسا پاتے ہومیں نے عرض کی کہ بہتر ہے اس کو آپ کی برکت پہنچی ہےآپ نے فرمایا کیا تم اسکو میرے پاس فروخت کروگے تو میں نے انکار سے حیا کیا جبکہ ہمارے پاس اور اونٹ نہ تھا تو میں نے وہ اونٹ اس شرط پر آپ کے ہاتھ بیچ دیا کہ میں مدینہ منورہ تك ا س کی پشت پر سواری کروں گا۔جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں اونٹ لے کر آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا آپ نے مجھے اونٹ کے ثمن عطا فرمائے اور اونٹ بھی مجھے واپس کردیا(ملتقطا)۔(ت)
دیکھو حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اونٹ خرید کر قیمت بھی عطافرمائی اور اونٹ بھی نہ لیایوں ہی بائع کو روا ہےکہ مبیع بھی سپرد کردے اور ثمن بھی نہ لے۔واللہ تعالی اعلم۔
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الجہاد باب الاستیذان الرجل الامام الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۱۶،صحیح مسلم،کتاب المساقاۃ باب بیع البعیر و استثناء رکوبہ قدیمی کتب خانہ ۲/ ۲۹
#12919 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
مسئلہ۱۰۷: عــــــہ
الجواب:
صورت مستفرہ میں چند امور قابل لحاظ ہیں:
(۱)شرع مطہر میں عاقدین کی نیات قلبیہ واغراض باطنیہ پر بائے کار نہیں بلکہ جو لفظ انہوں نےکہے ان کے معانی پر مدار ہےصدہا مسائل شرع اس پر متفرع۔اسی لئے اگر کسی عورت سے نکاح کرے اوراس کے دل میں عزم قطعی ہو کہ دو روز کے لئے نکاح کرتا ہوں تیسرے روز طلاق دے دوں گا تو وہ نکاح صحیح ونافذ رہتا ہے پھر اسے اختیار رہتا ہے چاہے طلاق دے یا نہ دے۔اوراگر عقد نکاح ہی ان لفظوں سے واقع ہو تو باطل محض ہوجاتا ہے
بنایۃ للعلامۃ العینی کتاب النکاح فصل المحرمات قال شیخنا زین الدین العراقی فی شرح جامع الترمذی نکاح المتعۃ المحرم اذخرج بالتوقیت فیہ اما اذاکان فی تعیین الزوج انہ لا یقیم معھا الاسنۃ او شھرا او نحو ذلك ولم یشترط ذلك فانہ نکاح صحیح ۔
علامہ عینی کی تصنیف بنایہ کتاب النکاحفصل محرمات میں ہے کہ ہمارے شیخ زین الدین عراقی نے جامع ترمذی کی شرح میں فرمایا کہ نکاح متعہ حرام ہے بشرطیکہ اس میں معین مدت کا اظہار کرےاور اگر زوج نے محض اپنی نیت میں تعیین کی ہو کہ وہ اس عورت کو ایك سال یا ایك مہینہ وغیرہ مدت تك اپنی زوجیت میں رکھے گا لیکن بوقت نکاح شرط نہیں لگائی تو بیشك یہ نکاح صحیح یہ ہے۔(ت)
علی ہذا اگر کوئی شخصاپنا مکانزید کے ہاتھ بیچنا چاہے اور شفیع کے خوف سے لفظ بیع نہ کہے بلکہ یہ اس کو مکان ہبہ کردے اور وہ بقدر ثمن روپیہ اسے ہبہ کردے تو یہ ہبہ شرعا ہبہ ہی رہے گا او شفیع کا حق ثابت نہ ہوگا اگرچہ ان کی نیت مبادلہ مال بالمال تھی۔
عالمگیریہ مطبع احمد ی جلد ششم صفحہ ۱۴۹:
یھب البائع الدار من المشتری ویشھد بائع مکان مشتری کو ہبہ کردے اور اس پر گواہ

عــــــہ: اصل میں سوال درج نہیں۔جواب سے سوال کی صورت سمجھی جاسکتی ہے۔
حوالہ / References ا لبنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب النکاح فصل فی نکاح المحرمات المکتبۃ الامدادیہ مکہ مکرمہ ۲ /۶۷
#12920 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
علیہ ثمن الشتری یھب الثمن من البائع ویشھد علیہ وذکر فی حیل الاصل ثم المشتری یعوضہ مقدار الثمن فاذا فعلا ذلك لاتجب الشفعۃ لان حق الشفعۃ یختص بالمعاوضات ۔
قائم کردے پھر مشتری ثمن بائع کو ہبہ کرے اور اس پر گواہ قائم کرے اور حیل اصل میں مذکور ہے کہ پھر مشتری اس پر ثمن کے برابر عوض مقرر کرےجب بائع او مشتری نے ایسا کرلیا تو اب شفعہ ثابت نہیں ہوگا کیونکہ حق شفعہ تو معاوضات کے ساتھ مختص ہے۔(ت)
اسی طرح اگر کسی شخص ایك شے مشاع ہبہ کرنا چاہے اور جانے کہ ہبہ بوجہ شیوع فاسد ہوجائیگاتو علماء فرماتے ہیں اس مشاع کو اس کے ہاتھ بیع کرے ور ثمن معاف کرے کہ اس کی غرض یعنی تملیك بلا عوض بھی حاصل ہوجائے گیاور بدیں وجہ کہ یہ عقد شرعا بیع ہے فاسد بھی نہ ہوگاردالمحتار حاشیہ در مختار مطبوعہ دارالاسلام قسطنطنیہ جلد ۴ص۷۷۷:
(فائدۃ)من ارادان یھب نصف دار مشاعا یبیع منہ نصف الدار بثمن معلومہ ثم یبریہ عن الثمن بزازیۃ ۔
(فائدہ)جو آدھا مکان غیر منقسم ہبہ کرنا چاہے تو وہ آدھا مکان موہوب لہ کے ہاتھ بیچ کر ثمن سے اس کو بری کردے بزازیہ۔ (ت)
مدعیہ تسلیم کرتی ہے کہ صورت مقدمہ بعینہ یہی جزئیہ خاص ہے جس کا حکم فقہاء نے بالتصریح فرمادیا کیونکہ اس کی عرضی دعوی کا بیان ہے کہ یہ عقد ضعیف مشروط بشرائط تھا لہذا بیع کی طرف انتقال کیا گیاواللہ تعالی اعلم۔
(۲)وکیل مدعیہ نے جو عبارت درمختار پیش کی کہ بطل حط الکل (کل کا گھٹا دینا باطل ہے۔ت)
علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ردالمحتار میں اس کے معنی بیان فرمادئے کہ مراد یہ ہے کہ ہبہ ثمن بھی صحیح ہوگا اور عقد بھی صحیح رہےگا مگر یہ کہ بہ اصل عقد سے ملتحق نہ ہوگا یعنی یہ نہ قرار پائے گا کہ سرے سے عقد بلاثمن ہوا تھا تاکہ فساد لازم آئے یا بیع ہبہ ہوجائے بخلاف حط بعض کے کہ وہ اصل
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الحیل الفصل العشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۴۲۱
ردالمحتار کتاب الھبۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۵۰۸
درمختار کتاب البیوع فصل فی التصرف فی البیع والثمن مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۸
#12921 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
عقد سے ملتحق ہوجاتا ہے سو کو بیچا پھر پچیس حط کردے تو یہ ٹھہرے گا گویا ابتداء پچھتر کو بیچا تھا۔شامی مطبوعہ استنبول ج ۴ص۲۵۹:
(قولہ)فبطل حط الکل ای بطل التحاقہ مع صحۃ العقدوسقوط الثمن عن المشتری خلافالماتوھمہ بعضھم من ان البیع یفسداخذا من تعلیل الزیلعی بقولہ لان الالتحاق فیہ یؤدی الی تبدیلہ لانہ ینقلب ھبۃ او بیع بلاثمن فیفسد وقد کان من قصد ھما التجارۃ بعقد مشروع من کل وجہ فالالتحاق فیہ یؤدی الی تبدیلہ فلایلتحق بہ اھ فقولہ فلا یلتحق صریح فی ان الکلام فی الالتحاق وان قولہ فیفسد مفرع علی الالتحاق کما صرح بہ شرح الھدایۃ وقال فی الذخیرۃ اذا حط کل الثمن او وھب او ابرأعنہ فان کان قبل قبضہ صح الکل ولا یلتحق باصل العقد وفی البدائع من الشفعۃ ولو حط جمیع الثمن یاخذ الشفیع بجمیع الثمن ولا یسقط عنہ شیئ لان حط کل الثمن لایلتحق قولہ
یعنی ماتن کا قول کہ "کل کو گھٹا دینا باطل ہے" اس سے مراد یہ ہے کہ اس کو اصل عقد کے ساتھ لاحق کرنا باطل ہے اور باوجودیکہ عقد اور مشتری سے ثمن کا اسقاط دونوں صحیح ہیںیہ حکم بعض لوگوں کے اس وہم کے خلاف ہے کہ بیع فاسد ہےان لوگوں نے زیلعی کی تعلیل سے استدلال کیا جو اس نے اپنے اس کلام میں بیان کی کہ یہ الحاق اصل عقد کی تبدیلی تك پہنچاتا ہے کیونکہ اس کے سبب سے بیع یا تو ہبہ بن جائے گی یا بیع بلاثمن تو اس طرح وہ فاسد ہوجائے گیحالانکہ ان دونوں کا ارادہ ایسے عقد کے ذریعے تجارت تھا جو ہر لحاظ سے مشروع ہو او الحاق چونکہ اس میں تبدیلی کا موجب ہے لہذا یہ عقد کے ساتھ ملحق نہ ہوگا اھ اس کا قول"فلا یلتحق" صریح ہے اس بات میں کلام لاحق ہونے کے بارے میں ہے اور اس کا قول "فیفسد"اسی لحوق پر متفرع ہے جیسا کہ شرح ھدایہ میں اس کی تصریح کی گئی ہےاور ذخیرہ میں کہا کہ جب بائع تمام ثمن گھٹا دے یا ہبہ کرے یا مشتری کو ثمن سے بری کردے اگر یہ ثمن پر قبضہ سے پہلے ہے تو سب درست ہے اور یہ اصل عقد کے ساتھ لاحق نہیں ہوگا۔بدائع میں شفعہ کی بحث میں ہےکہ اگر بائع نے تمام ثمن گھٹا دیئے تو شفیع تمام ثمن کے بدلے لے سکتا ہے اس سے کچھ بھی ساقط نہ ہوگا کیونکہ تمام ثمنوں کا
#12922 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
باصل العقد لانہ لو التحق لبطل البیع لانہ یکون بیعابلا ثمن فلم یصح الحط فی حق الشفیع وصح فی حق المشتری وکان ابراء لہ عن الثمن اھ زادفی المحیط لانہ لاقی دینا قائما فی ذمتہ و تمامہ فی فتاوی العلامۃ قاسم ۔
گھٹا نا اصل عقد کے ساتھ لاحق نہیں ہوتا اس لئے کہ اگر یہ لاحق ہوتو بیع باطل ہوجائے گی کیونکہ یہ بیع بلاثمن بن جائے گیچنانچہ شفیع کے حق میں کل ثمن کا گھٹانا صحیح نہیں البتہ مشتری کے حق میں صحیح ہے اور یہ اس کوثمن سے بری کرنا ہوااھ۔اور محیط میں زیادہ کیا کہ وہ اس دین کے مقابل ہوا جو اس کے ذمہ کے ساتھ قائم ہےاس کی پوری بحث علامہ قاسم کے فتاوی میں ہے۔(ت)
ملاحظہ کیاجائے کہ علامہ امین الملۃ والدین محمد ب ن عابدین آفندی شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جو تحقیق انیق ارشاد فرمائی ہے کس قدر مدلل و مبرہن ہے اور وہ بھی صرف اپنی ایجاد نہیں بلکہ کتب ائمہ سے اس پر نصوص صریحہ نقل فرمائیں جن سے صاحب درمختار وغیرہ علمائے کبار سلفا وخلفا استناد کرتے آئے ہیں ____ ذخیرہ کہ ایك عمدہ مستند فتاوی ہے۔بدائع تصنیف امام ابوبکر بن مسعود بن احمد کاشانی جس کی نسبت علماء فرماتے ہیں ھذاالکتاب جلیل الشان لم ارلہ نظیر فی کتبنا(یہ عظیم الشان کتاب ہے جس کی نظیر ہماری کتابوں میں دکھائی نہیں دیتی۔ت)محیط جس کا اعتبار آفتاب نیمروز ہےفتاوی علامہ قاسم بن قطلوبغا تلمیذرشید امام علامہ کمال الدین محمد بن الہمامتبیین الحقائق شرح کنز الدقائق امام علامہ فقیہ محدث زیلعیشرح الہدایۃ اور ان کے سوا اورکتابتوں میں بھی یہ مسئلہ یونہی لکھا ہے جیسا علامہ محقق نے تحقق فرمایامجمع الانھر شرح ملتقی الابحر مطبوعہ استنبول جلد ۲صفحہ ۷۵:
صح التصرف فی الثمن ببیع وھبۃ وتملیك ممن علیہ بعوض وغیرعوض قبل قبضہوالحط منہ ویثبت الحط فی الحال ویلتحق باصل العقد استنادا وفیہ اشارۃ الی ان حط کل الثمن غیر ملتحق بالعقد اتفاقا اھ ملتقطا۔
ثمن میں قبض سے قبل تصرف صحیح ہے جیسے بیعہبہاور جس پر ثمن لازم ہے اس کو کچھ عوض کے ساتھ یا بلا عوض مالك بنانااور ثمن میں سے کچھ گھٹادینااور یہ گھٹانافی الحال ثابت ہوتا ہے اور اصل عقد کی طرف منسوب ہوکر اس کے ساتھ لاحق ہوتا ہے اور اس میں اشارہ ہےکہ تمام ثمن کا گھٹان
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی التصرف فی المبیع والثمن داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۶۷
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب البیوع فصل فی بیان البیع قبل قبض المبیع،داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۸۱۔۸۰
#12923 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
اصل عقد کے ساتھ بالاتفاق لاحق نہیں ہوتا اھ اختصار۔ (ت)
شرح نقایہ مطبوعہ لکھنؤ ج۳صفحہ ۳۳۰:
صح التصرف فی الثمن والحط عنہای صح للمشتری القاء کل المبیع اوبعضہ عن البائعوللبائع القاء کل الثمن او بعضہ عن المشتری وان لم یبق المبیع ولم یقبض الثمن فصح ان یقول حططت کلہ او بعضہ عنك اووھبتہ منك او ابرأتك عنہ(الی قولہ)وان لم یلتحق باصل العقد ۔
ثمن میں تصرف اور اس کو گھٹانا درست ہے یعنی مشتری کے لئے کل یا بعض مبیع بائع سے گھٹانا اور اسی طرح بائع کے لئے کل یا بعض ثمن مشتری سے ساقط کردینا درست ہے اگرچہ مبیع باقی نہ رہا ہو اور ثمن پر قبضہ نہ کیا ہو تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ میں نے تجھ سے کل یا بعض گھٹادیا یا میں نے تجھ کو اس سے بری کردیا(اس کے اس قول تک)اگرچہ یہ اصل عقد کے ساتھ ملحق نہیں ہوگا۔(ت)
خلاصۃ الفتاوی کتاب البیوع فصل ۱۳:
ولووھب کل الثمن لایلتحق باصل العقد ولو وھب بعض الثمن یلتحق ۔
اگر کل ثمن ہبہ کردیے تو اصل عد کے ساتھ ملحق نہ ہونگے اور اگر بعض ثمن ہبہ کئے تو ملحق ہوجائیں گے۔(ت)
فتاوی ہندیہ مطبع احمدی جلد سوم صفحہ ۵۸:
اذاحط کل الثمن اووھبہ او ابرأہ عنہ فان کان ذلك قبل قبض الثمن صح الکل ولکن لایلتحق باصل العقد ۔
جب کسی نے کل ثمن گھٹا دیئے یا ہبہ کردیے یا مشتری کو اس سے بری کردیا اگر یہ ثمن پر قبضہ سے پہلے ہوا تو سب صورتیں درست ہیں لیکن یہ اصل عقد کے ساتھ ملحق نہیں ہوگا۔(ت)
اور ان سب کتابوں سے صاحب درمختار رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اسی درمختا رمیں صدہا جگہ استناد کیا ہے۔
حوالہ / References شرح النقایہ
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب البیوع الفصل الثالث عشر فی الثمن مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ /۹۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب السادس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۷۳
#12924 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
سوا فتاوی ہندیہ کےکہ اس کی تالیف تصنیف درمختا رس ے متاخر ہے تو اب کالشمس فی النصف النہار روشن ہوگیا کہ طرف مقابل کا یہ عذر کہ بمقابلہ درمختار شامی کا کیا اعتبارکتنی بے محل بات ہےقطع نظر اس سے کہ جس نے علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی تحقیقات لائقہ اور تدقیقات فائقہ اس حاشیہ اور کتاب مستطاب عقود دریہ وغیرہما میں دیکھی ہیں وہ ایسا لفظ ہر گز نہیں کہہ سکتااور علاوہ اس سے کہ علماء نے تصریح فرمادی ہے کہ درمختا ر ہرچند معتبر کتاب ہے مگر جب تك اس کے حواشی پاس نہ ہوں اس سے فتوی دینا جائز نہیں کیونکہ عبارت اس کی اکثر مقامات پر ایسی چیستاں ہےجس سےصحیح مطلب سمجھ لینا دشوار ہوتا ہےان سب باتوں سے قطع نظر کرکے جب اس قدر اکابر ائمہ مستند ین صاحب درمختار کی تحقیق علامہ شامی کے بالکل مطابق ہے تو اس لفظ کا کون ساموقع رہا۔
(۳)اگر تسلیم کیا جائے کہ عبارت درمختار سے ظاہرا جو مطلب سمجھا گیا وہی صحیح ہے اور جما ہیرائمہ کی تحقیق کا کچھ اعتبار نہیں تاہم اس کے مفاد کو دعوی مدعیہ سے کیا علاقہاس سے اس قدر سمجھا گیا کہ ہبہ ثمن باطل ہے نہ یہ کہ بیع فاسد و قابل فسخ ہے جیسا کہ دعوی مدعیہ ہے کاش یہ عبارت کہیں سے پیدا کی جاتی کہ بطل البیع بحط الکل(کل ثمن گھٹا دینے سے بیع باطل ہوگئی۔ت)تو شاید قابل التفات ہوتی۔
(۴)وکیل مدعیہ نے جو عبارت عالمگیری پیش کی کہ اگر ہبہ ثمن قبل قبول واقعہ ہوا تو عقد صحیح نہیںیہ مسئلہ مختلف فیہ ہے۔
فتاوی خلاصہ کتاب البیوع فصل ۲:
فی مجموع النوازل رجل قال بعت منك ھذاالعبد بعشرۃ دراہم ووھبت منك العشرۃ وقال الاخر اشتریت لایصح البیع کما لو باع بدون الثمنوفی النوازل الشراء جائز ولم تجز الھبۃ ۔
مجموع النوازل میں ہے ایك شخص نے دوسرے کو کہا کہ یہ غلام میں نے تیرے ہاتھ دس درہم کے عوض بیچا اور میں نے تجھ دس درہم ہبہ کئے دوسرے نے جواب میں کہا کہ میں نے خریدا تو بیع صحیح نہ ہوگی جیساکہ وہ بغیر ثمن کے بیچےاور نوازل میں ہے کہ خریداری جائز ہے اور ہبہ ناجائز ہے۔(ت)
اور امام علامہ فقیہ النفس مالك التصحیح والترجیح فخر الملۃ والدین قاضی خان اوزجندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنے فتاوی میں روایت صحت پر جزم کیا اور اسی کے ذکر پر اقتصار فرمایا دوسری روایت نقل بی نہ فرمائی اور اسی روایت کو مدلل و مبرہن کیا۔
قاضیخاں مطبوعہ العلوم جلد ۲ص۲۴۹و۳۴۴:
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی کتاب البیوع الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۱۴
#12925 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
نظیرہ مالو قال بعتك ھذاالشیئ بعشرۃ دراہم ووھبت لك العشرۃ ثم قبل المشتری البیع جاز البیعولا یبرأ المشتری عن الثمن لان الثمن لا یجب الابعد قبول البیع فاذا ابرأ عن الثمن قبل القبول کان ابراء قبل السبب فلایصح ۔
اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر کسی نےکہا میں نے یہ چیز تمہارے ہاتھ دس درہم کے بدلے فروخت کی اور میں نے تیرے لئے دس درہم ہبہ کئےپھر مشتری نے بیع کو قبول کرلیا تو بیع جائز ہے اور مشتری ثمن سے بری نہ ہوگا کیونکہ ثمن تو قبول بیع کے بعد ہی واجب ہوتے ہیںاگر اس نے قبول سے پہلے مشتری کو ثمن سے بری کیا تو یہ سبب سے قبل بری کرنا ہوا لہذا صحیح نہ ہوگا۔(ت)
اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ کسی قول پر اقتصار کرنا اس کے اعتماد کی دلیل ہے۔ردالمحتار مطبوعہ قسطنطنیہ پنجم صفحہ ۶۵۲:
الاقتصار علیہ یدل علی اعتمادہ ۔
اس پر اقتصار اس کے اعتماد پر دلالت کرتا ہے۔(ت)
طحطاوی حاشیہ درمختار مطبوعہ بولاق دارالسلطنت مصر جلد ۴ص۳۲۱:
الاقتصار علیہ یدل علی اعتمادہ ۔
اس پر اقتصار اس کے اعتماد پر دلالت کرتا ہے۔(ت)
اور یہ بھی تصریح فرماتے ہیں کہ کسی قول کو مدلل و مبرہن کرنا بھی اس کی ترجیح کی دلیل ہےفتاوی حامدیہ مع التنقیح مطبوعہ مطبع سرکاری مصر جلد اول ص۱۶:
التعلیل دلیل الترجیح وفیہا ھوالمرجح اذ ھو المحلی بالتعلیل ۔
کسی کی علت بیان کو نا اس کی ترجیح کی دلیل ہےاور اسی میں ہے کہ وہی راجح ہے کیونکہ وہ بیان دلیل سے مزین ہے(ت)
پس دو وجہ سے ثابت ہوا کہ امام قاضی خاں نے صحت بیع پر اعتماد فرمایااور اسی کو ترجیح دی اب علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اس امام اجل کا ارشاد زیادہ اعتبار واعتماد کے لائق اور ان کی تصحیح و ترجیح فائق ہے کہ انہیں رتبہ اجتہاد حاصل تھاحاشیہ جامع الفصولین للعلامہ خیر الدین الرملی
حوالہ / References فتاوٰی قاضیخان کتاب البیوع فصل فی احکام البیع الفاسد نولکشور لکھنؤ ۲/۳۴۹
ردالمحتارعلی الدرالمختار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۲۵
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الوصایا دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۴۲۱
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب النکاح حاجی عبدالغفار کتب خانہ ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ /۱۷
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ کتاب النکاح حاجی عبدالغفار کتب خانہ ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ /۱۷
#12926 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
استاد صاحب الدرالمختار :
علیك بما فی الخانیۃ فان قاضی خان اھل التصحیح الترجیح ۔
جو خانیہ میں ہے اس کو قبول کرناتجھ پر لازم ہے کیونکہ امام قاضی خاں ترجیح وتصحیح والوں میں سے ہیں۔(ت)
تصحیح القدوری للعلامہ قاسم :
مایصححہ قاضی خان من الاقوال یکون مقدما علی مایصححہ غیرہ لانہ کان فقیہ النفس ۔
جن اقوال کی تصحیح قاضی خان کردیں وہ مقدم ہوتے ہیں ان اقوال پر جن کی تصحیح دوسرے کریں کیونکہ امام قاضی خاں فقیہ النفس ہیں(ت)
حاشیہ سید احمد طحطاوی علی الدرالمختار مطبوعہ مصر جلد دوم ص۲۵:
الذی یظہر اعتماد مافی الخانیۃ قولھم ان قاضی خان من اجل مایعتمد کعلی تصحیحاتہ ۔
جوخانیہ میں ہے اس پر اعتماد ظاہر ہے فقہاء کے اس قول کی وجہ سے کہ قاضی خان ان جلیلہ القدر لوگوں میں سے ہیں جن کی تصحیحات پر اعتماد کیا جاتا ہے۔(ت)
غمز العیون والبصائر شرح الاشباہ والنظائر مطبوع مطبع مصطفائی دہلی ص۲۷۵:
ھذاالقول صححہ قاضی خان فینبغی اعتمادہ ۔
اس قول کو قاضی خان نے صحیح قرار دیا ہے لہذا اس پر اعتماد کرنا چاہئے۔(ت)
عقود الدریۃ مطبوعہ مصر جلد دوم ص۵۷:
مایصححہ قاضی خان مقدم علی مایصححہ غیرہ ۔
جس کی تصحیح قاضی خان فرمادیں وہ اس پر مقدم ہے جس کی تصحیح کوئی دوسرا کرے۔(ت)
حوالہ / References الآلی الدریۃ فی الفوائد الخیریۃ حشیۃ جلیلۃ جامع الفصولین الفصل الثامن عشر اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۴۶
غمز عیون البصائر بحوالہ تصحیح القدوری مع الاشباہ الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۵۵
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۲۵
غمز عیون البصائر مع الاشباہ الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۵۵
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ کتاب الاجارات حاجی عبدالغفار وپسران تاجران کتب قندھار افغانستان ۲/ ۱۰۳
#12927 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
اور اسی طرح اور کتب میں بھی تصریح ہےپس ثابت ہوا کہ مذہب راجح صحت بیع ہے اگرچہ ہبہ ثمن مابین الایجاب والقبول واقع ہوا ہو۔لطف یہ ہے کہ وہی عالمگیری جس سے اس مسئلہ میں طرف مقابل کو استناد ہےاسی کی جلد سوم ص۴۷ پر بحوالہ خانیہ مرقوم:
لو قال بعت منك بکذاعلی ان حططت منك کذا اوقال علی ان وھبت لك کذاجاز البیع ۔
اگر کسی نے کہا کہ میں تیرے ہاتھ اتنے کے عوض بیع کرتا ہوں اس شرط پرکہ میں تجھ سے اتنے گھٹاؤں گا یا کہا اس شرط پر کہ میں تیرے لئے اتنا ہبہ کروں گا تو بیع جائز ہے(ت)
بالجملہ طرف مقابل کوکوئی محل استدلال نہیں رہا یہ کہ ہبہ بھی صحیح ہوا یا نہیں یہ دعوی مدعیہ سے جدا بات ہے۔
(۵)بطریق تنزل عرض کیا جاتا ہے کہ اگرحکم عالمگیری ہی تسلیم کیاجائے تو حاصل اختلاف فریقین کا یہ ہوگا کہ آیا یہ ہبہ قبل قبول واقعہ ہوا یا بعد۔اب یہ دیکھا چاہئے کہ ایسی صورت میں علماء کون سے وقت کا اعتبار رکھتے ہیں مگر ہم تصریح پاتے ہیں کہ اصل حواد ث میں یہ ہے کہ وقت ہ مدعیوں کو۔اشباہ والنظائر مطبع مقریب کی طرف اضافت کئے جائیں اور جو بعدیت کا قائل ہے اسی کا قول معتبر رکھاجائے گا اور یہ بھی تصریح ہے کہ یہ دلیل مدعا علیہم کو مفید ہے نصطفائی صفحہ ۶۰:
الاصل اضافۃ الحادث الی اقرب اوقاتہ ۔
اصل یہ ہےکہ حادث کی اضافت اس کے قریب ترین وقت کی طرف کی جائے۔(ت)
فقہ میں بہت مسائل اس ضابطہ پر مبنی ہیںتمثیلا ایك عرض کیا جتا ہےایك عورت نصرانیہ ایك مسلمان کے نکاح میں تھیاس مسلمان کا انتقال ہوا عورت نے دارالقضا میں آکر دعوی کیاکہ میں مسلمان ہوں اور مورث کا ہنوز دم نہ نکلا تھا کہ میں اسلام لے آئی تھی مجھے اسکاترکہ ملنا چاہئےورثہ نے کہا تو اس وقت مسلمان ہوئی ہے جب اس کا دم نکل چکا تھا تجھے ترکہ نہیں پہنچتاعلماء فرماتے ہیں قول ورچہ کا معبتر رہے گا کیونکہ اسلام اس کا حادث ہے تو وقت قریب کی طرف اضافت کیاجائے گا جب تك اول کا ثبوت بینہ سے نہ ہو۔ہدایہ مطبع مصفائی جلد دوم ص۱۳۲:
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب العاشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۳۶
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الثالثہ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۹۴
#12928 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
لومات المسلم ولہ امرأۃ نصرانیۃ فجاءت مسلمۃ بعد موتہ وقالت اسلمت قبل موتہ وقالت الورثہ اسلمت بعدموتہ فالقول قولھم ۔
اگر کوئی مسلمان فوت ہوااس حال میں کہ اس کی ایك نصرانی بیوی تھی جس اس کی موت کے بعد مسلمان تھی اور آئی اور کہا کہ میں اس کی موت سے پہلےاسلام لائی تھی جبکہ ورثاء میت کا کہنا ہے کہ یہ اسکی موت کے بعد اسلام لائی ہے تو ورثاء کا قول معتبر ہوگا۔(ت)
بنایۃ العلامۃ العینی میں ہے:
لان الاسلام حادث والحادث یضاف الی اقرب الاوقات ۔ ورثاء کا قول اس لئے معتبر ہے کہ اسلام حادث ہے اور حادث کی اضافت اس کے قریب ترین وقت کی طرف کی جاتی ہے۔ (ت)
تو یہاں بھی ثمن حادث ہے پس قول مدعاعلیہم کا معتبر رہے گا کہ یہ ہبہ بعد تمامی بیع واقع ہوانہ مابین الایجاب والقبول۔
(۶)خود مسئلہ پیش کردہ مدعیہ سے ثابت کہ اگر ہبہ بطریق اشتراط فی نفس العقد ہو تو مفسد بیع ہے ورنہ نہیںتو اب حاسل اختلاف یہ ہوا کہ مدعیہ وجود شرط مفسد کا دعوی کرتی ہے مدعا علیہم اس کا انکار کرتے ہیں اس خاص جزئیہ میں بھی علماء کی تصریح ہےکہ قول اسکا معتبر ہے جو شرط فاسد کا انکار کرتی ہے۔ خانیہ مطبوعہ العلوم جلد دوم ص۲۵۱میں ہے:
لوادعی عبدافی یدرجل انہ اشتراہ منہ بالف درھم وقال البائع بعتك بالف دراھم و شرطت ان لاتبیع ولا تھب او ادعی المشتری ذلك وانکر البائع کان القول قول من ینکر الشرط الفاسد
اگر کسی شخص نے ایك غلام جو کہ دوسرےکے قبضہ میں ہےکہ بارے میں دعوی کیاکہ میں نے اس سےیہ غلام ہار درہم کے عوض خریدا ہےاور بائع نے کہا کہ میں نے تیرے ہاتھ یہ غلام ہزار درہم کے عوض فروخت کیا اور یہ شرط لگائی کہ تو اس کو نہ تو بیچے گا اور نہ ہبہ کرےیا مشتری نے اس شرط کا دعوی کیا اور بائع نے اس کا انکار کیا
حوالہ / References الہدایۃ شرح البدایۃ کتاب ادب القاضی فصل فی قضاء بالمواریث مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۴۷
البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب ادب القاضی فصل فی قضاء بالمواریث المکتبۃ الامدادیہ مکہ مکرمہ ۳ /۳۰۴
#12929 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
والبینۃ بینۃ الاخروکذلك لو کان مکان الشرط الفاسد شرط الخمروالخنزیر ۔
تو اس کا قول معتبر ہوگا جو اس شرط فاسد کا منکر ہے اور گواہ دوسرے کے مقبول ہوں گے اور ایسا ہی حکم ہوگا اگر اس شرط فاسد کی جگہ خمر و خنزیر کی شرط ہو۔(ت)
(۷)یہ بھی تسلیم کیا کہ نفس ایجاب میں معاف ہونا مذکور تھا مگر علمائے محققین ایسی جگہ صیغہ ماضی ومستقبل میں فرق فرماتے ہیں کہ اگر بصیغہ مستقبل تھا تو ناجائز او بصیغہ ماضی تھا تو جائزاور ظاہر ہے کہ دستاویز پیش کردہ مدعا علیہم میں لفظ ماضی مذکور ہےکہ ثمن بعوض حقوق فرزندی معاف کیا۔فتاوی قاضیخاں جلد ۲ ص۲۳۹میں ہے:
لوقال علی ان اھب لك من ثمنہ کذا لا یجوزولو قال بعت منك بکذا علی ان حططت عنك کذا وعلی ان وھبت لك کذا جاز البیع اھ ملخصا ۔
اگرکہااس شرط پر تیرے ہاتھ بیع کی کہ تجھے اس کے ثمن سے اتنے ہبہ کروں گا تو بیع جائز نہ ہوگی وار اگر کہا کہ میں نے تیرے ہاتھ کاتنے کو بیع کی اس شرط پر تجھ سے اتنا گھٹا دیا یا تجھے اتنا ہبہ کیا تو بیع جائز ہے اھ تلخیص۔(ت)
اور اسی طرح نوازل میں مذکور ہے اور اس سے خلاصہ میں یونہی نقل کیا اور خود عالمگیری مستند وکیل مدعیہ سای طرح روایت کرکے مقرر رکھا کمامر(جیساکہ گزرا۔ت)اور سب میں بلا ذکر خلاف۔
(۸)علماء فرماتے ہیں کہ اگر کسی عقد کے صحت وعدم صحت سے سوال ہو تو اسے صحت پر حمل کیا جائیگا اور یہ مان لیا جائے گا کہ تمام شرائط صحت مجتمع تھیں تا وقتیکہ فساد دلیل روشن سے ثابت نہ ہو مجرد احتمال کفایت نہیں کرتا۔فتاوی خیریہ لنفع البریہ تصنیف امام خیر الملۃ والدین رملی استاذ صاحب درمختار مطبوعہ مطبع میری مصر دوم صفحہ ۹۴:
الاصل صحتہ ففی البزازیۃ لو سئل عن صحتہ یفتی بصحتہ حملا علی استیفاء الشرائط اذ المطلق یحمل علی الکمال الخالی عن الموانع للصحۃ واللہ اعلم وفیہا جلد دوم ص۳۵:اذا رفع السوال ببیع مال باعہ ذوالمال جاز بلا مرأ مع انہ کان مجنونا فلا احدیقول بانہ صح الشراء ۔وفیہا النظر الی العمل بعبارۃ المکلف اولی من اھدارھا والحاقہ بالحیوانات وکلامہ بجوارھا واللہ تعالی اعلم ۔
اصل عقد کی صحت ہے چنانچہ بزازیہ میں ہے کہ اگر صحت عقد کے بارے میں سوال کیا جائے تو اس بنیاد پر کہ اس میں تمام شرائط مجتمع تھیں
حوالہ / References فتاوٰی قاضیخان کتاب البیوع فصل فی احکام البیع فاسد مطبع نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۵۰
فتاوٰی قاضیخان کتاب البیوع فصل فی الشروط المفسدۃ مطبع نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۴۴
فتاوٰی خیریہ کتاب الصلح دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۰۳
فتاوٰی خیریہ کتاب الوکالۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۳۹
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوی دارالمعرفۃ بیروت ۲ /۷۷
#12930 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
اس کی صحت کا فتوی دیا جائیگا کیونکہ مطلق کو موانع صحت سے خالی کمال پر محمول کیا جاتا ہے اور اللہ تعالی خوب جانتا ہے۔ اور اسی میں جلد دوم ص ۳۵ پر ہے:اگر ایسے مال کی بیع کے بارے میں سوال کیا جائے جس کو مال والے نے منعقد کیا ہے تو بلا شبہہ یہ جائز ہے اس کے باوجود کہ اگر وہ مجنون ہے تو کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ خریداری درست ہے۔ اسی میں ہے کہ مکلف کی عبارت کوقابل عمل بنانے پر نظر کرنا اس کو لغو قراردینے اور مکلف کو حیوانوں اور اس کے کلام کو حیوانوں کے ڈکارنے کے ساتھ لاحق کرنے سے اولی ہےاللہ تعالی بہتر جانتا ہے۔(ت)
ملاحظہ ہو کہ جب مفتی کے لئے یہ حکم ہے کہ اصل صحت پر عمل کرے اور شرائط صحت کا اجتماع مان کر فتوی دے تو قاضی جس کی نظر صرف ظاہر پر مقتصر ہے اور احتمالات بعیدہ کا لحاظ اس کے منصب سے جدا بات ہے وہاں تو اصل پر نظر رکھنااولی واحق ہوگاخصوصا یہاں کہ بائع مرحوم عالم دین تھے اور ان کا قصد تملیك کا ہونا ظاہرتو موانع صحت سے احتراز کرنا ہی ان سے متوقع۔
(۹)علماء تصریح فرماتے ہیں جب عاقدیم میں صحت وفساد کی اختلاف واقع ہو تو قول اس کا قول ہے جو مدعی صحت ہے۔فتاوی قاضی خان جلد دوم ص۲۵۱:
اذا اختلف المتبائعان احدھما یدعی الصحۃ والاخر الفساد بشرط اسد اواجل فاسد کان القو قول مدعی الصحۃ والبینۃ بینۃ مدعی الفساد باتفاق الروایات وان کان مدعی الفساد یدعی الفساد لمعنی فی صلب العقد بان ادعی انہ اشتراہ بالف درہم ورطل من خمر والاخریدعی البیع بالف درہمفیہ روایتان عن ابی حنیفۃ رحمۃ اللہ تعالی فی ظاھر الروایۃ القول قول من یدعی الصحۃ ایضا والبینۃ بینۃ الاخر کما فی الوجہ الاول وفی روایۃ القول قول من یدعی الفساد ۔
جب بائع اور مشتری میں اختلاف ہوان میں سے ایك صحت عقدکا جبکہ دوسراکسی شرط فاسد کی وجہ سے فساد عقد کا دعوی کرے تو قول صحت کے مدعی کا بہتر ہوگا اور گواہ فساد کے مدعی کے معتبر ہوں گےاس پر تمام روایات میں اتفاق ہے۔
حوالہ / References فتوٰی قاضی خان کتاب البیوع فصل فی احکام البیع الفاسد مطبع نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۵۰
#12931 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
اگر فساد کا دعوی کرنے والا اصل عقد میں پائی جانیوالی کسی خرابی کے سبب سے فساد کادعوی کرے مثلا اگر وہ دعوی کرے کہ اس نے یہ شے ہزار درہم اور ایك رطل شراب کے عوض خریدی ہے جبکہ دوسرا دعوی کرے کہ اس نے ہزار درہم کے عوض فروخت کیتو اس میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی سے دو روایتیں منقول ہےںظاہر الروایۃ میں ہے کہ قول مدعی صحت کا اور گواہی دوسرے کے معتبر ہیں جیساکہ پہلی صورت میں بیان ہوااور ایك روایت میں یوں ہے کہ فساد کے مدعی کا قول معتبر ہوگا۔(ت)
اور اسی طرح فتاوی عالمگیری میں نقل کیاجدل۳ ص ۵۲۔خلاص کتاب البیوع فصل ۴:
لو ادعی احدھما فساد العقد والاخر الصحۃ القول قول من یدعی الصحۃ الخ۔
فتاوی صغری میں ہے اگر بائع اور مشتری میں سے ایك نے فساد عقد کا جبکہ دوسرے نے صحت عقد کیا دعوی کیا تو صحت کے مدعی کا قول معتبر ہوگا۔(ت)
قابل لحاظ ہے کہ جب اسل بائع دعوی فساد کرتا تو اس کا قول تسلیم نہ ہوتا غیر کا کیونکر ہوگا۔
(۱۰)اتنی بات اور بھی لائق التفات ہے کہ مدعیہ کو اس کی گنجائش ہی نہیں کہ وہ ہبہ ثمن بر سبیل اشتراط یا بلا اشتراط مابین الایجاب والقبول خواہ بعد القبول واقع ہونا مانےکیونکہ اس تقدیر پر مورث کا بیع وہبہ کرنا ثابت ہوتا ہے اگرچہ وہ کسی طور پر ہو اور یہ قول اس کی عرضی دعوی و اظہار حلفی کے بالکل مناقض ہےاور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مناقض دعوی قابل تسلیم نہیں تو مدعا علیہم کا قول بلامعارض ولائق قبول ہے واللہ تعالی اعلم وحکمہ جل مجدہ احکم
مسئلہ ۱۰۸: ازریاست رامپور مرسلہ جناب سیدنا درحسین صاحب ۵شعبان ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنا ایك مکان سلمی کے ہاتھ جس سے پسر ہندہ کی شادی قرار پائی تھی بیع صحیح شرعی کیا اور زر ثمن کے سلمی پر اس بیع سے واجب ہوا تھا سلمی کو بخوشی
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی کتاب البیوع الفصل الرابع مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ /۴۸،۴۹
#12932 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
معاف کردیا اس عقد کی دستاویز بدیں خلاصہ تحریر ہوکر رجسٹری ہوگئی منکہ سعادت النساء بیگم زوجی سید سعادت علی صاحب ساکن رام پور ہوں جو کہ ایك منزل مکان(چنیں وچناں)واقع رامپور محدودہ ذیل مقبوضہ مملوکہ میراہے وہاب میں نے بحالت صحت نفس و ثابت عقل بلا اکراہ واجبار بطوع ورغبت اپنی سے جمیع حقوق ومرافق بعوض مبلغ آٹھ سوروپیہ چہرہ دار ہمدست مسماۃ سلمی بیگم بنت سید نا درحسین صاحب ساکنہ بریلی جس کا نکاح حسب خواہش میری سید سکندر شاہ پسر بطنی میرے سے قرار پایا ہے بیچا اور بیع کیا میں نے_________________________________________________________
اور مکان مبیعہ پر مشتریہ مذکورہ کو مثل اپنی ذات کے مالك وقابض کردیا میں نےاور زر ثمن تمام کمال مشتریہ سے وصول پایا میں نےیعنی ثمن اسکا بوجہ محبت فطری سید سکندر شاہ مذکور کے سلمی بیگم مشتریہ کو معاف کیا اور بخشا میں نے اب مجھ کو اور قائم مقامان میرے کو دعو ی زر ثمن کا نہیں ہے اور نہ ہوگا تقابض بدلین واقع ہوا اب مجھ بائعہ کو مکان مبیعہ سے کچھ سروکار نہ رہااگر کوئی سہیم یا شریك پیدا ہو توجدابدہ میں بائعہ ہوں فقطاس صورت میں یہ بیع شرعا صحیح ہے یانہیں اور ہندہ خواہ اس کے قائم مقاموں کو اس بیع پر کوئی رد واعتراض ہے یانہیں او یہ معافی ثمن بھی صحیح ہوئی یا نہیں اور ہندہ یا ا سکے ورثہ کو اس معافی سے رجوع کا اختیار ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ بیع مکان و معافی دونوں میں صحیح وتام وکامل ہیں ہندہ خواہ اس کے کسی وارث قائم مقام کونہ اس بیع و معافی پر اعتراض پہنچتا ہے نہ ہر گزرجوع کا اختیار مل سکتا ہےفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
اذاحط کل الثمن اووھبہ اوابرأہ عنہ فان کان ذلك قبل قبض الثمن صح الکل ۔
اگر پورا ثمن گھٹا دیا یا ہبہ کردیا یا اس سے بری کردیا اگر یہ ثمن پر قبضہ سے پہلے ہوا تو سب جائز ہے(ت)
نقایہ وشرح نقایہ میں ہے:
صح التصرف فی الثمن والحط عنہ ای صح للمشتری القاء کل المبیع اوبعضہ عن البائع وللبائع القاء کل الثمن او بعضہ عن المشتری ۔
ثمن میں تصرف اور اس کو گھٹانا صحیح ہے یعنی مشتری کے لئے درست ہے کہ وہ بائع سے پورا
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب السادس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۷۳
شرح النقایۃ
#12933 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
یا بعض مبیع ساقط کردے او بائع کیلئے درست ہے کہ وہ مشتری سے پورا یا بعض ثمن ساقط کردے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
لوحط جمیع الثمن صح فی حق المشتری وکان ابراء لہ عن الثمن اھ بتلخیص۔
اگر بائع نے پورا ثمن گھٹا دیا تو مشری کے حق میں یہ صحیح ہوگا اور یہ بائع کی طرف سے مشتری کو ثمن سے بری کرنا قرار پائیگا اھ تلخیص(ت)
اشباہ والنظائر وغمز العیون میں ہے:
واللفظ لہ بخلاف الابراء فانہ لارجوع فیہ سواء وجد فیہ مانع من موانع الرجوع فی الھبۃ اولا ۔ واللہ سبحنہ وتعالی اعلم۔
لفط غمز کے ہیں بخلاف ابراء کے کیونکہ اس میں رجوع کا حق نہیں کوئی رجوع سے مانع ہوجیسے ہبہ یا منع نہ ہو۔
و اللہ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۰۹: ازسرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۲رجب ۱۳۳۱ھ
بکر کمھار سے جس وقت لوٹے مول لیتا ہے کہتا ہے مسجد کے لئے لئے جاتے ہیں زیادہ دیناکمہار دوچار لوٹے پر زیادہ کردیتا ہے اور اگر مسجد کا نام نہ لیا جائے جب بھی اسی قدر ملتےاوراگر بھاؤ سے زیادہ بھی دے تو زیادہ لوٹے کیسا ہے
الجواب:
اگر وہ اپنی خوشی سے زیادہ دے کوئی حرج نہیںمگر کمہاراگر کافر ہے تو مسجد کے لئے اس سے مانگنا نہ چا ہئے کہ گویا مسجد اور مسلمان پر احسان سمجھے گا۔واللہ تعالی اعلم۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی المبیع والثمن داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۶۷
غمزعیون البصائر الفن الثالث ماافترق فیہ الھبۃ والابراء ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۴۸
#12934 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
مسئلہ ۱۱۰: آمدہ ازدکان حمیدہ اللہ وعبدالرحمن جفت فروش دہلی بازار فتح پوری ۹رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ہم لوگ تاجر کاریگروں سے جو مال خریدتے ہیں ایك پیسہ روپیہ کٹوتی کاٹ کر مال کی قیمت دیتے ہیں اور اس بات کا اعلان کاریگروں کوبیع سے پہلے کردیا گیا ہے اس صورت میں یہ بیع شرعا جائز ہے یاناجائز صورت ثانی اگر بائع کٹوتی سے راضی ہو تو کیاحکم اور اگر ناراض ہو تو کیا حکم صورت ثالث یہ ہےکہ پیشہ روپیہ کاٹ کر جو مال خرید کیا جاتی ہے بیوپاری کو پورا ایك روپیہ کا بتاکر نفع فی روپیہ لیا جاتا ہے یعنی بیوپاری کوکٹوتی مجرا نہیں دی جاتییہ امر جائز ہے یاناجائز بینوتواجروا۔
الجواب:
ناراضی کی حالت میں حرام ہے
قال اللہ تعالی "الا ان تكون تجارة عن تراض منكم- " ۔
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:مگر یہ کہ ہو وہ تمہارے درمیان تجارت باہمی رضامندی سے۔(ت)
اور رضا سے ہو یا ناراضی سےمال جتنے کو اسے پڑا اس سے زیادہ کو بتانا جائز نہیں۔واللہ تعالی اعلم
مسئلہ۱۱۱: از ریاست رام پور مدرسہ مطلع العلوم مرسلہ محمد امام الدین صاحب ۱۵صفر ۱۳۳۶ھ
مبیع میں زیادت ثمن بحسب آجال درست ہے یانہیں اگر ہے تو بحسب اثمان و آجال مختلف ہے یانہیں اگر ہے توکیا ہے
الجواب:
درست ہے مع الکراہۃ اور اختلاف تراضی عاقدین پر۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۲: ازشہر محلہ عقب کوتوالی مرسلہ شیخ مقبول احمد صاحب پسر شیخ علی جان صاحب
کلکتہ سے میں نے ایك بیوپاری کو(مالص عہ /)مال روانہ کیا اور وہ اس کے پاس پہنچا لیکن روپیہ بھول سے ہمارے یہاں کھاتے میں درج کرنے سے رہ گیا قریب دو سال کے اس بیوپاری نے ہم سے اب کہا کہ قریب(مالص عہ/)کے ایك رقم فاضل تمہاری ہمارے کھاتے سے برآمد ہوئی ہے اور تمہارے یہاں یہ رقم جمع نہیںاب خدا معلوم کہ تمہاری غلطی ہے یا ہماریاس سے بہتر کہ روپیہ ہم سے لے مگر اس کو اپنے مصر میں نہ لانا خدا کی راہ میں صرف کرنا چنانچہ بیوپاری سے ہم نے
حوالہ / References القرآن الکریم ۴ /۲۹
#12935 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
وعدہ کرلیا کہ یہ رقم ہم خیرات کردیں گے بیوپاری نے ہم سے قسم اس امر کی لی ہے کہ اگر اس رقم کی خیرات نہ کروگے تو تمہارے اوپر بوجھ رہے گا۔
الجواب :
اگر اس رقم کا واجبی ہونا معلوم نہیں جب تو اس کا اپنے تصرف میں لانا ہرگز جائز نہیں سب خیرات کردیا جائے اور اگر معلوم ہے کہ ہماری یہ رقم اس پر آئی تھی لکھنے سے رہ گئی تھی تو اگر وہ اس کا مال ہے اور اپنے صرف میں لانا حرام نہ ہوگا مگر جب اللہ کےلئے وعدہ کرچکا ہے تو اس سے پھرنا سخت شامت کا موجب ہے۔
قال اللہ تعالی" فاعقبهم نفاقا فی قلوبهم الى یوم یلقونه بما اخلفوا الله ما وعدوه و بما كانوا یكذبون(۷۷)" ۔
واللہ تعالی اعلم۔ اللہ تعالی نے فرمایا:تواللہ تعالی نے ان کی سزا میں ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تك جب وہ اس کو ملیں گے اس سبب سے کہ انہوں نے خلاف ورزی کی اس وعدہ کی جو انہوں نے اللہ تعالی سے کیا تھا اور اس سبب سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔واللہ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۱۳:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بکر کے ہاتھ ایك اراضی بقیمت مبلغ چار سو روپے کی فروخت کی اور ایك سو پچاس روپیہ کی بابت بیعانہ زید نے بکر سے لے کر رسید تحریر کردی اوروعدہ کیا کہ بقیہ روپیہ وقت رجسٹری دستاویز لےکر بیعنامہ اندر مدت ایك سال کے تصدیق کرادوں گاسوال یہ ہے کہ آیا شرعا بیع منعقد اور مختتم ہوگی اور بقیہ زر ثمن بکر کے ذمہ دین رہا یا بیع فاسد ہوئی بوجہ مجہول غیر معلوم ہونے مدت ادائے زر ثمن کے اور قرار داد مہلت ادائے ثمن بہر حال مفسد بیع ہے یا فقط صلب عقد میں مہلت کا شرط ہونا مفسد ہوتا ہے اور تجویز عدالت میں دو روایتیں کتاب بحرالرائق وفتاوی خیریہ کی بابت فاسد ہونے بیع کے بجہالت مدت ادائے ثمن کے درج ہوئی ہیں وہ یہ ہیںبحرالرائق میں ہے:
صح بثمن حال وباجل معلوم قید بعلم الاجل لان جہالتہ تفضی الی النزاع فالبائع
بیع ثمن حالی کے بدلے اور میعاد معلوم کے ساتھ صحیح ہے ماتن نے اجل کے ساتھ معلوم ہونے کی قید لتگائی اس لئے کہ اجل کی جہالت جھگڑے کا
حوالہ / References القرآن الکریم ۹ /۷۷
#12936 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
یطالبہ فی مدۃ قریبۃ والمشتری یأباھا فیفسد ۔
سبب بنتی ہے چنانچہ بائع قریبی مدت میں ثمن کا مطالبہ کرے گا اور مشتری اس سے انکار کریگا تو اس طرح فساد آئے گا۔(ت)
فتاوی خیریہ میں ہے:
سئل فی رجل باع آخر جملا باثنین و ثلاثین غرشا مؤجلۃ علیہ الی ثلث خیارات کل خیار ثلث الثمن فطلع الاخیار ودفع لہ ثلثہ ویطالبہ بثلثیہ قبل طلوع الخیارین مدعیا ان الاجل المذکور غیر صحیح وانہ یستوجب کل الثمن عاجلا فالحکم فی ذلك (اجاب)البیع المذکور فاسد ۔ ایك ایسے شخص کے بارے میں کیا گیا جس نے دوسرے کے ہاتھ بتیس۳۲ غرش(دو آنے کے برابر ایك سکہ)کے عوض اونٹ بیچا اور اس پر تین خیاروں تك اجل مقر کی ہر خیار میں تہائی ثمن دے گا پس ایك خیار کے طلوع ہونے پر اس نے بائع کو ثمن کا ایك تہائی دے دیا اور بائع دوسرے دو خیاروں کے طلوع سے قبل ہی باقی دو تہائی ثمن کا مطالبہ کرتا ہے درانحالیکہ وہ اس بات کا دعوی کرتا ہے کہ اجل مذکور درست نہیں اور اس بیع میں تمام ثمن معجل طورپر لازم ہوتا ہے تو اس صورت میں کیا حکم ہے(تو جواب دیا کہ)بیع مذکور فاسد ہے۔ (ت)
اور تجویز عدالت جو بقدر ضرورت درج ذیل ہے اس کا کیا جواب ہے:
عبارت تجویز عدالت بقدر ضرورت
بقواعد شرعیہ جہالت اجل ثمن موجب فساد بیو ہے اس لئے کہ مدعی نے دعوی میں تحریر کیا ہے کہ مدعا علیہ نے بیعانہ لےکر یہ وعدہ کیا کہ بقیہ روپیہ وقت رجسٹری دستاویز لےکر بیعنامہ اندر مدت ایك سال کے تصدیق کردوں گاپس وعدہ ادائے ثمن بقیہ کا جو درمیان سال کے حسب دعوی مدعی قرار داد ہو ا وہ بقید تاریخ معین مخصوص و مقید نہیں ہے اس کا اطلاق عموما علی السویہ آغاز وعدہ سے تا اختتام جز و آخر روز سال مابین فریقین متضمن نزاع ہوسکتا ہے تو یہ بیع فاسد ہے فقط۔
حوالہ / References البحرالرائق کتاب البیع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ /۲۷۹
فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع باب البیع الفاسد دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۳۸
#12937 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں بیع تام و صحیح ہے اور بقیہ ثمن ذمہ مشتری واجب۔یہ قرار داد مہلت ادائے ثمن کسی طرح مفسد بیع نہیں نہ بعد تمامی عقدوان قلنا بالتحاقہ باصل العقد(اگرچہ ہم اس کے اصل عقد کے ساتھ لاحق ہونے کا قول کریں۔ ت)نہ نفس صلب عقد میں کہ یہ اجل معین ہے اور بیع اجل معین کے ساتھ صحیح ہے اس کے لئے خود وہی عبارت بحرالرائق منقولہ تجویز کافی ہےکہ صح بثمن حال وباجل معلوم (بیع درست ہے ثمن حالی کے ساتھ اور معلوم میعاد کے ساتھ۔ ت) اسے اجل مجہول سمجھنا اصلا وجہ صحت نہیں رکھتا عرفا لغۃ ہر طرح سال کے اندر اور ایك سال تك کا حاصل ایك ہے جس سے اجل کی تحدید ایك سال سے ہوتی ہے اور سال شے معین ہے نہ کہ مجہولاسی بحرالرائق میں اسی بحث میں ہے:
وفی السراج الوھاج الاجال علی ضربین معلومۃ و مجہولۃ فالمعلومۃ السنون والشہور والایام الخ۔
السراج الوہاج میں مذکور ہے کہ میعاد یں دو طرح کی ہیں معلوم اور مجہول۔معلوم میعاد دیں سالمہینے اور دن ہیں الخ (ت)
آغاز وعدہ سے اختتام سال تك مشتری کو اختیار ادا ہونا مضر نہیں بلکہ عین مقصود تاجیل ہے کہ اجل اسی کے رفاہ کے لئے ہے کما فی الھدایۃ وغیرہ(جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ت)اور اگر یہ مقصود کہ اس کا اطلاق ان تمام اجزاء کو شامل تو بائع ہر جز میں طلب کرسکتا ہے اور یہ مفضی الی النزاع ہے تو یہ محض باطل ہے جب وہ مشتری کو سال کے اندر ادا کی اجازت کرچکا تو جب تك سال کے اندر ہے اسے اختیار مطالبہ نہیں کہ وہ اسی اجازت تاخیر کے اندر داخل ہے وقد لزم التاجیل من جھتہ فلا یقدر ان یطالبہ(تحقیق اس کی طرف سے میعاد لازم ہوچکی ہے اب وہ ثمن کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ت)ہاں جب سال سے باہر جائے ا س وقت اسے اختیار مطالبہ ہوگا اور اب مشتری کو کوئی عذر نہیں ہوسکتا پھر نزاع کہاںاور خود عبارت بحرالرائق منقولہ تجویز سے ظاہر کہ اجل وہی مفسد ہے جو مفضی نزاع ہو عبارت خیریہ کو یہاں سےکوئی تعلق نہیں کہ اس میں تین خیار تك بیع ہے اور خیار کوئی شے معین نہیں بخلاف سال۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۴: از اردہ نگلہ ڈاك خانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مرسلہ صاد ق علی خان ۲۸شوال ۱۳۳۶ھ
ایك شخص غلہ اپنا نرغ بازار سے کم اس شرط پر دیتا ہے کہ قیمت کچھ عرسہ بعد لوں گا مثلابھاؤ
حوالہ / References البحر الرائق کتاب البیع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ /۲۷۹
البحرالرائق کتاب البیع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۸۰
#12938 · باب التصرف فی المبیع والثمن (مبیع اورثمن میں تصرف کرنے کا بیان)
بازاری ۲۰ثار ہے اور لوگوں کو ۱۶ ثار کے حساب سے دیتا ہے اس قرض دینے میں سود تو نہیں ہوتا جائز ہے یاناجائز
الجواب:
یہ سود نہیںنہ اس میں کوئی حرج جبکہ برضائے مشتری ہواور اجل یعنی میعاد ادا معین کردی جائے
قال اللہ تعالی " الا ان تكون تجارة عن تراض منكم- " ۔
اللہ تعالی نے فرمایا:مگر یہ کہ ہو وہ تمہارے درمیان تجارت تمہاری باہمی رضامندی سے۔(ت)
غرض یہ بیع بلا کراہت ہےہاں خلاف اولویت ہے۔فتح القدیر میں ہے:
لاکراھۃ الاخلاف الاولی فان الاجل قابلہ قسط من الثمن ۔واللہ تعالی اعلم۔
اس میں کراہت نہیں تاہم یہ خلاف اولی ہے کیونکہ اجل کے مقابل ثمن کا ایك حصہ ہے واللہ تعالی اعلم(ت)
_____________________
حوالہ / References α القرآن الکریم ۴ /۲۹
α فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴
#12939 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
باب القرض
(قرض کا بیان)

مسئلہ ۱۱۵:کیافر ماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ ایك شخص نے مبلغ سو روپیہ اس شرط پر قرض لیا کہ پچیس روپے سالانہ منافع مقررہ بلا نقصان کے دیتارہوں گا اور جب جمع طلب کروگے تو تمہارا پورا روپیہ واپس کردوں گاجس شخص نے اس شرط کو قبول کرکے روپیہ دے دیا اس پر خود سودخوری کا حکم ہے یانہیں اور اس کے پیچھے نمااز پڑھنا جائز ہوگی یا ناجائز بینوا توجروا(بیان کرواجردئے جاؤگے۔ت)
الجواب:
قطعی سوداور یقینی حرام وگناہ کبیرہ خبیث ومردار ہے۔حدیث میں ہے:
قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کل قرض جر منفعۃ فہو ربو ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو قرض نفع کو کھینچے وہ سود ہے(ت)
ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنی سخت مکروہ ہے جس کے پھیرنے کا حکم ہے اور اسے امام کرنا گناہکما نص علیہ الامام الحلبی فی الغنیۃ (جیسا کہ سا پر امام حلبی نے غنیہ میں نص فرمائی ہے۔ت)واللہ تعالی اعلم
حوالہ / References کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۳۸
غنیۃ المستملی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۴۔۵۱۳
#12940 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
مسئلہ ۱۱۶: ۵ شوال ۱۳۰۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے ملازم سے کہا پچاس روپلے مجھے کسی سے قرض لادےملازم ایك مہاجن سے پچاس وپے یہ کہہ کر قرض لایا کہ میرے آقا کو ضرورت روپے کی ہے مہاجن نے غائبانہ بلاتصدیق پچاس روپے دے دئیے اور ملازم نے اپنا رقعہ اسے لکھ دیا بعدہۃ روپیہ آقا کو ادا کردیا اور بیان کیا کہ میں فلاں مہاجن سے یہ روپیہ آپ کے نام سے قرض لایا ہوں اور رقعہ اپنادستخطی لکھ کر دے آیا ہوںبعد چندے زید نے وہ(م۵۰/)اس ملازم کو دے دئیےبعد بہت عرصہ کے تحقیق ہوا کہ روپیہ مہاجن کو نہیں پہنچا بلکہ ملازم نے خود اپنے تصرف میں کرلیا اور ملازم سے پوچھا تو وہ بھی اقرار کرتا ہے کہ روپیہ میں نے مہاجن کو نہیں دیااور کہتا ہے یہ روپیہ تو میں اپنے رقعہ سے لایا تھا آقا سے مجھے ملنا چاہئے تھااس صورت میں وہ(م۵۰/)مکرر ذمہ زید کے واجب الادا ہیں یانہیں اور یہ(م۵۰/)کہ نوکرنے تصرف کرلئے اسے دینا آئیں گے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگر نوکرنے یوں قرض مانگا تھا کہ میرے آقا کو پچاس روپے قرض دے دے یا میرا آقا تجھ سے پچاس روپے قرض مانگتا ہے جب تو یہ قرض آقا کے ذمہ ہے اور اگر یوں مانگا تھا کہ میرے آقا کو پچاس روپے کی ضرورت ہے مجھے قرض دے یا میرے آقا کے لئے مجھے پچاس روپے قرض دے تو مہاجن کا قرض نوکر کے ذمہ ہوا۔ردالمحتار میں ہے:
فی جامع الفصولین بعث رجلا یستفرضہ فاقرضہ فضاع فی یدہ فلو قال اقرض للمرسل ضمن مرسلہ ولو قال اقرضنی للمرسل ضمن رسولہ و الحاصل ان التوکیل بالقراض جائز لابالاستقراض و الرسالۃ بالاستقراض تجوز ولواخرج وکیل الاستقراض کلامہ مخرج الرسالۃ یقع القرض للامر جامع الفصولین میں ہے کسی نے ایك شخص کو قرض لینے کے لئے بھیجا اس نے قرض لیا ور اس کے ہاتھ سے ضائع ہوگیا اگر اس نے قرض لیتے وقت یوں کہا کہ بھیجتنے والے کےلئے قرض دے تو بھیجنے والا ضامن ہوگااور اگر کہا کہ بھیجنے والے کےلئے مجھے قرض دے تو اب قاصد ضامن ہوگا۔حاصل یہ کہ قرض دینے کے لئے وکیل بنانا جائز نہ کہ قرض لینے کے لئےاور قرض لینے کے لئے قاصد بھیجناجائز ہےاور اگر قرض لینے کے وکیل نے بطور قاصد کلام کیا تو قرض آمر کے لئے ہوگا اور
#12941 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
ولو مخرج الوکالۃ بان اضافہ الی نفسہ یقع للوکیل ولہ منعہ عن آمرہ اھقلت والفرق انہ اضاف العقد الی الموکل بان قال ان فلان یطلب منك ان تقرضہ کذا صار رسولا و الرسول سفیر ومعبر بخلاف مااذا اضافہ الی نفسہ بان قال اقرضی کذا اوقال اقرضی لفلان کذافانہ یقع لنفسہ ویکون قولہ لفلان بمعنی لاجلہوقالو اانما لم یصح التوکیل بالاستقراض لانہ توکیل بالتکدی وھو لایصح قلت ووجہہ ان القرض صلۃ وتبرع ابتداء فیقع للمستقرض اذلا تصح النیابۃ فی ذلك فھو نوع من التکدی بمعنی الشحاذۃ ھذا ماظہرلی اھ ۔
اگر ساس نے بطور وکیل کلام کیا بایں اس کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا تو اس صور ت میں قرض خود وکیل کے لئے واقع ہوگااور اس کو اختیار ہوگا کہ وہ قرض آمر کو نہ دے اھ میں کہتا ہوں ان دونوں صورتوں میں فرق یہ ہے کہ جب اس نے عقد کو مؤکل کی طرف منسوب کیا مثلا یوں کہا کہ فلاں تجھ سے مطالبہ کرتا ہے کہ تواس کو قرض دے تو اس صورت میں وہ قاصد ہوگیا اور قاصد محض سفیر اور معبر ہوتا ہے بخلاف اس صورت کے کہ جب اس نے اپنی طرف نسبت کی اور کہا مجھے اتنا قرض دے یا کہ کہ مجھے فلاں کے لئے اتنا قرض دے تو یہ قرض خود اس کے لئے واقع ہوا اور اس کے قول"فلاں کے لئے"کا مطلب ہوگا کہ فلاں کی وجہ سے۔اور علماء نے کہا کہ قرض لینے میں وکیل بنانا اس لئے صحیح نہیں کہ یہ گداگری میں وکیل بنانا ہے جو کہ صحیح نہیں۔میں کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ قرض ابتداء صلہ اور احسان ہے چنانچہ قرض مانگنے والے کے لئے واقع ہوگا کیونکہ اس میں نیابت درست نہیں تو اس طرح وہ تکد بمعنی گداگری کی ایك قسم ہوگایہ وہ ہے جومیرے لئے ظاہر ہوا اھ(ت)
پھراس صور میں جبکہ نوکرنے وہ روپے جو حقیقۃ اس کی ملك ہوچکے تھے لاکر آقا کو دے دیے اور اس نے اپنے صرف میں کئےاور ظاہر ہے کہ یہ دینابروجہ ہبہ نہ تھا بلکہ بربنائے قرض ووجوب تقاضا وادائے مثل تھا تو نوکر کا دین آقا کے ذمہ رہا۔
لان الاستقراض لما نفذ علی الخادم لاضافتہ الی نفسہ وقد اعطی علی وجہ التقاضی کیونکہ قرض لینا اپنی ذات کی طرف منسوب کرنے کی وجہ سے خادم پر نافذ ہوگیا اور اس باہمی رضامندی سے وجوب تقاضا کے طور پر اپنے آقا کو
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی القرض داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/¥۱۷۵
#12942 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
دون الھبۃ وبالتراضی صار کفضو لی شری مضیفا الی نفسہ حتی نفذ علیہ ثم اعطاہ من اشتری لہ واخذمنہ الثمن حیث لایکون ھذا اجازۃ للعقد السابق لان الاجازۃ انما تلحق الموقوف دون النافذ بل یکون عقدا جدیدابینھما بالتعاطی کما فی الھدایۃ والدر المختار وغیرہما من الاسفار وذلك لکون الدفع بجھۃ البیع دون الھبۃ۔
دے دیا نہ کہ ہبہ کے طور پرتو اس طرح وہ نوکر اس فضولی کیہ طرح ہوگیا جس نے اپنی ذات کی طرف نسبت کرتے ہوئے کوئی چیزخرید ی یہاں تك کہ خریداری اس پر نافذ ہوگئی پھر وہ چیز نوکر نے اس شخص کو دے دی جس کے لئے اس نے خریدی اور اس سے ثمن وصول کرلئےیہاں یہ عقد سابق کی اجازت نہ ہوگی اس لئے کہ اجازت تو عقد موقوف کو لاحق ہوتی ہے نہ کہ نافذ کوبلکہ یہ باہمی لین دین سے ان دونوں کے درمیان ایك نیا عقد ہوگا جیسا کہ ہدایہ اور درمختار وغیرہ کتاب میں ہےور یہ بطور بیع دینے کی وجہ سے ہے نہ کہ بطور ہبہ۔(ت)
اور ظاہر کہ جب روپے مہاجن کو نہ پہنچے تو اس کا قرض کسی طرح ادا نہ ہوا
لانہ مال ھلك قبل الوصول الی الطالب او الی وکیلہ فلا معنی للقضاء وبراءۃ الذمۃ۔
اس لئے کہ وہ مال طالب یا اس کے وکیل تك پہنچنے سے قبل ہی ہلاك ہوگیا تو اب قرض کی ادائیگی اور اس سے بری الذمہ ہونے کا کوئی معنی نہیں۔(ت)
اب اگر واقع صورت اولی تھی مہاجن کا قرض زید پر رہا اور یہ روپے کہ زید نے نوکر کو ادائے دین کے لئے دئے اور اس نے اپنے صرف میں کرلئے اس کا تصرف بیجا ور حرام ہے اور نوکر پر اس تاوان لازم
لکونہ امینا خان و اتلف وتعدی علیہ فیما تصرف فصار ضمینا بعد ان کان امینا۔
کیونکہ وہ امین تھا اس نے خیانت کی اور امانت میں بیجا تصرف کرکے زیادتی کی تو اب وہ ضامن ہے جبکہ اس سے قبل وہ امین تھا۔(ت)
اور اس کا یہ عذر کہ روپیہ تو میں اپنے رقعہ سے لایا تھا آقا سے مجھے ملنا چاہئے تھا محض نامقبول کہ جب آقا پر دین مہاجن کا تھا تو مہاجن کو پہنچنا چاہئے تھا یہ بیچ میں لے لینے والا کون تھااور اگر واقع صورت ثانیہ تھی تو مہاجن کا قرض نوکر کے ذمہ رہا زید سے کچھ تعلق نہیں اور یہ روپے کہ نوکر نے بربنائے مذکور اپنے
حوالہ / References بحرالرائق کتاب البیع فصل فی بیع الفضولی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۱۴۹
#12943 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
سمجھ کر اٹھالئے بجا کئے کہ فی الواقع زید پر نوکر ہی کا دین تھا اور زید سے اسی کو ملنا چاہئے تھافکان دائنا ظفر بجنس حقہ(وہ ایسا قرضخواہ ہوا و اپنے حق کی جنس کو وصول کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ت) اب زید نوکر کے مطالبہ سے بری ہوگیا لانہ استوفی ماکان لہ(کیونکہ اس نے اپنا حق پورا وصول کرلیا۔ت) پس خلاصہ حکم یہ ہے کہ اگر نوکر یہ کہہ کر الایا تھا کہ میرے آقا کو قرض دےتو مہاجن کے پچاس روپے زید پر قائم اور زید کے پچاس روپے نوکر پر لازماور اگر یہ کہہ کر لایا کہ مجھے آقا کے لئے قرض دےتو مہاجن کے پچاس روپے نوکر پر واجب اور نوکر کے پچاس روپے جو آقا پر تھے ادا ہوگئے۔غرض نوکر پر ہر طرح پچاس روپے کامطالبہ ہےپہلی صورت میں آقا دوسری میں مہاجن کااور زید پر پہلی صور تمیں مہاجن کا مطالبہ ہے دوسری میں کسی کا نہیںواللہ تعالی اعلم
مسئلہ۱۱۷: ازسرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۲ رجب ۱۳۳۱ھ
بھاؤ بکتازید سے اناج خرید کیا مگر ادھار فصل پر بھاؤ بکتا جتنا روپیہ ادھار تھا اس کا زید نے مول لیا۔
الجواب:
اگر زید نے بیچتے وقت شرط کرلی تھی کہ اس کی قیمت میں روپیہ نہ لوں گا بلکہ روپیہ کے عوض فصل کے بھاؤ سےناج لوں گاتو یہ ناجائز ہے اور اگر شرط نہ کی تھی اور فصل پر اس سے اپنا آتا ہوا روپیہ مانگا اس نے کہا روپیہ تو میرے پس نہیں اس کا اناج لے لو تو یہ جائز ہے جبکہ وہی ناج نہ ہو جو زید سے خریدا تھا یا وہی ہو تو اتنے ہی بھاؤ کو دیاجائے جتنےکو خریدا تھا ورنہ ناجائز ہے۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۱۸: اذدھوراجی ضلع کاٹھیاواڑ محلہ سیاہی گراں مرسلہ جناب حاجی عیسی خان محمد صاحب رضوی یکم ذی الحجہ ۱۳۳۲ھ
ایك شخص کو ایك ہزار روپے کا نوٹ دس ماہ کے وعدہ سے گیارہ سوروپے کو دیاقرضدار نے اپنے وعدہ پر قرض خواہ کو گیارہ سوروپے کے دوسرے نوٹ دئے(وہی نہیں دئیے)تو جائز یا کیا جواب سے سرفراز فرمائیں۔
الجواب:
اگر ہزار روپے کا نوٹ قرض دیا اور پیسہ اوپر ہزار لینا ٹھہرا تو حرام ہے سود ہے ہاں اگر ہزار روپے کا نوٹ گیارہ سوروپے کو بیچا اور ادائے ثمن کا وعدہ مثلا دس ماہ کا قرار پایا جب وعدہ کا دن آیا بائع نے زرثمن کا مشتری سے مطالبہ کیا اس نے کہا میرے پاس روپیہ نہیں گیارہ سو روپے کے نوٹ
#12944 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
زرثمن کے بدلے لے لواس نے قبول کیا اور نوٹ اس کے عوض میں دے دئے تو یہ جائز ہے وھی مسئلۃ شراء القرض من المستقرض(یہ مقروض سے قرض خرید نے کا مسئلہ ہے۔ت)واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۱۹: ازپکسرانواں ڈاکخانہ رسول پور ضلع رائے بریلی مسئولہ عبدالوہاب ۲۰رمضان ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سے بکر نے ماہ کا تك میں بغرض تخم ریزی ایك من گیہوں لیا اورفصل کٹنے پر ماہ چیت میں ایك من کا ایك من گیہوں واپس دیا یعنی کچھ کمی بیشی نہیں ہوئیجائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
جائز ہے
عملا بقول الامام ا ابی یوسف من اعتبار العرف فی الکیل والوزن مطلقا وقد تعمل بہ الناس وشاع بینھم استقراض الحنطۃ وزناولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔واللہ تعالی اعلم۔ امام ابویوسف کے قول پر عمل کرتے ہوئے کہ کیلی اور وزنی اشیاء میں مطلقا عرف کا اعتبار ہے اور لوگوں کا اس پر عمل ہے اور گندم کو وزن کے اعتبار سے قرض لینا لوگوں میں رائج ہےگناہ سے بچنے اور نیکی کی طاقت نہیں مگر بلند و عظمت والے معبود کی طرف سے۔واللہ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۲۰:مسئولہ الف خان مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ قصبہ سانگوا ریاست کوٹہ راجپوتانہ بروز یکشنبہ ۳شعبان ۱۳۳۴ھ
(۱)نوٹ قیمتی پچیس روپے کو ہمراہ یك صدیا پانصد روپے کے قریبا پچاس روپے کی قیمت پر بدست کسی ہندو یا مسلمان کے کسی مدت کے وعدہ پر بیع کرنا شرعا درست ہے کہ نہیں اسی طرح زیور طلائی یا کوئی پارچہ کسی شیئ تجارت کو ہمرا روپے ادھار میں زیادہ قیمت پر بیع کرنا اور تنہا نوٹ کو بھی اصلی قیمت سے زیادہ ادھار میں بیع کرنا درست ہے کہ نہیں
(۲)غلہ تجارتی کو ادھار میں موجودہ نرخ سے زیادہ قیمت پر بیع کرنا درست ہے کہ نہیں
الجواب:
(۱)قرض لینے والا بضرورت قرض قرض کے ساتھ کم مالیت کی شے زیادہ قیمت کو اس طرح خریدے کہ وہ بیع اس قرض پر مشروط ہو تو بالاتفاق حرام ہے
#12945 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
لان النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نہی عن بیع و شرط ۔
کیونکہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بیع ور شرط سے منع فرمایا ہے۔(ت)
خواہ یہ شرط نصا ہو یا دلالۃ لان المعروف کالمشروط (کیونکہ معروفمشروط کی طرح ہوتاہے۔ت)او اگر عقد قرض پہلے ہو اور یہ بیع اس میں نصا یا دلالۃ مشروط نہ ہو تو اس میں اختلاف ہےبعض علماء اجازت دیتے ہیں کہ یہ بیع بشرط القرض نہیں بلکہ قرض بشرط البیع ہے اور قرض شروط فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتااور راجح یہ ہے کہ یہ بھی ممنوع ہے کہ اگرچہ شرط مفسد قرض نہیں مگر یہ وہ قرض ہے جس کے ذریعہ سے ایك منفعت قرض دینے والے نے حاصل کی اور یہ ناجائز ہے۔نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:کل قرض جر منفعۃ فھو ربو (جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔ت)لہذا ان سب صورتوں کو ترك کیا جائے وار قرض کا نام ہی نہ لیا جائے اور خالص بیع ایك وعدہ معینہ پر ہواب نوٹ کی بیع روپے کے عوض جائز ہوگی اگرچہ دس کا نوٹ سو کو بیچےاور دونوں صورتوں میں فرق وہی ہےجو قرآن عظیم نے فرمایا:
" و احل الله البیع و حرم الربوا-" ۔
اللہ تعالی نے بیع کو حلال وار سود کو حرام کیا۔(ت)
مگر چاندی سونے کی بیع اب بھی جائز نہ ہوگی اور نوٹ کی جائز ہوگی۔
قال النبی صلی اللہ تعالی اعلم وسلم اذا اختلف النوعان فبیعواکیف شئتم ۔
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جب بدلین مختلف نوعوں کے ہوں تو جیسے چاہوبیع کرو۔(ت)
اور یہ زیادہ قیمت دینا اگرچہ بحالت قرض ہے بوجہ بیع جائزہے اگرچہ اولی نہیں درمختار میں ہے:
شراء شیئ بثمن غال لحاجۃ القرض
کسی چیز کو حاجت قرض کی وجہ سے مہنگے داموں
حوالہ / References α نصب الرایۃ کتاب البیوع باب البیع الفاسد المکتبۃ الاسلامیۃ لصاحبہا الریاض ۴ /۱۷
α فتح القدیر کتاب البیوع باب المرابحہ والتولیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۳۴
α کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۳۸
α القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
α نصب الرایہ لاحادیث الہدایہ کتاب البیوع المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا الریا ض ۴/ ۴
#12946 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
یجوزویکرہ۔ واللہ تعالی اعلم۔ خریدنا جائز اور مکروہ ہے(ت)واللہ تعالی اعلم
(۲)درست ہے۔واللہ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۲: ازچھاؤنی بانس بریلی بنگلہ ۲۴ملازم میجر اسٹور صاحب سؤلہ جناب شکور محمد صاحب خانساماں ۹ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
میں ایك شخص کا کھیت مبلغ پچیس روپے میں گروی رکھتا ہوں اپنے پاسعرصہ دو سال کے بعد وہ شخص اپنا کھیت مبلغ پچیس روپے ہم کو دے کر واپس لے گااور دوسال تك اس کھیت میں جوت کر اور اس میں محنت کرکے جو ہماری طبیعت چاہے وہ ہم بوئیں گے مثلا چناگیہوں اور مکاوغیرہتوجو فصل اس میں ہوگی وہ ہماری ہےاور سرکاری لگان بھی ہم دیں گے جو اس کی باقی ہےاور بعد دو برس کے وہ پورے پورے مبلغ پیچیس روپے واپس دے کر اپنا کھیت واپس لے لے گااب ازراہ مہربانی اورعنایت پروری کے ساتھ یہ تحریر کریں کہ یہ بیاج تو نہیں ہوا اگر بیان ہوگیا تو نہ رکھوں اور اگر بیاج نہ ہو اہو تو رکھ لوں۔ خوب اچھی طرح سمجھا کر تحریر کر دو کیونکہ ایك صاحب اس میں رائے دیتے ہیں کہ یہ بیاج ہوگیااب آپ کیہ رائے پر ہے یہ معاملہاگر بیاج ہوگیا تو ہم بھی اپنا کھیت دوسرے کے پاس نہ گروی رکھیں۔
الجواب:
یہ نہ شرعا رہن ہے نہ کسی طرح سود رہنکے لئے ضرور یہ ہےکہ وہ شیئ رہن رکھنے والے کی ملك ہو یا مالك نے اسے رہن کی اجازت دی ہو گیر کی ملك بے اس کی اجازت کے رہن نہیں ہوسکتییہاں یہ دونوں صورتیںظاہر ہے کہ کھیت کا شتکار کی ملك نہیں زمیندار کی ملك ہے اور زمیندار نے اسکے رہن کی اجازت نہ دی کہ اسکی طرف سے وہ اجارہ میں ہے وہ اس کی اجرت یعنی لگان لے گا والرھن والاجارۃ عقد ان متنا فیان لایجتمعان(رہن اور اجارہ دو ایسے عقد ہیں جو ایك دوسرے کے منافی ہیں آپس میں جمع نہیں ہوسکتے۔ت)تو اتنے زمانے کے لئے یہ زمیندار سےذکرکردےکہ مثلا دو برس تك یہ زمین میری کاشت میں رہے گی اور میں لگان دوں گا وہ اجازت دے دے گا اب یہ کاشت اور اس کا محاصل سب بلا شبہہ حلال ہوگاپہلے کاشت کارکو جتنا روپیہ قرض دیا ہے اسی قدر اس سے واپس لے زائدنہ لے تویہ صورت کسی طرح سود نہیں۔واللہ تعالی اعلم
حوالہ / References α درمختار کتاب البیوع فصل فی القرض مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۰
#12947 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
مسئلہ۱۲۳ تا ۱۲۴:ازجائس ضلع رائے بریلی محلہ زیر مسجد مکان حاجی ابراہیم مرسلہ ولی اللہصاحب ۲ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
سوال اول:خراب اناج کھلانا اور فسل پراچھا اناج لینا جائز ہے یانہیں
سوال دوم:چاول یا گیہوں پر روپیہ دینا نرخ کاٹ کر کہ فصل پر ا س نرخ سے لیں گے فصل نہ ہوئی تو اس روپیہ کو اسی بھاؤ سے جوڑ کر زیادہ کرکے یعنی جب اس بھاؤ کو جوڑا تو اب روپیہ زیادہ ہو دوسری فصل پر چھوڑ دینا یا گائے بیل لگالینا جائز یانہیں فقط
الجواب :
(۱)اگراس نے ناج ناقص کردیا اور یہ شرط نہ تھی کہ عمدہ لوں گا قرضدار نے اپنی خوشی سے عمدہ ناج دے دیا سای قدر جتنا قرض لیا تھا تو اس میں مضائقہ نہیں اور اگر اسی شرط پر قرض دے کہ خراب دیتا ہوں اس کے برابر یا کم یا زائد عمدہ لوں گاتو یہ ناجائز ہے
لکونہ خلاف حکم الشرع من ان الدیون تقضی بامثالھا ولم یجز التنقیص ایضا لان الشرط المساواۃ قد راوالجید والردی فیہ سواء۔واللہ تعالی اعلم۔ کیونکہ یہ شرع کے اس حکم کے خلاف ہے کہ قرضوں کی ادائیگی ان کی مثل کے ساتھ ہوتی ہے اور کمی بھی جائزنہیں کیونکہ اس میں مقدار کے اعتبار سے مساوات شرط ہےعمدہ اور گھٹیا اس میں برابر ہیںواللہ تعالی اعلم(ت)
(۲)ناج رپ روپیہ نرخ کاٹ کر دینا اگر انہیں لفظوں سے ہو کہ فصل پر اس نرخ سے لیں گےتو نرا وعدہ ہے جس کا وفا کرنا ناج ولاے پر لازم نہیں اور اگر یوں ہے کہ اتنا ناج اس بھاؤ سے اتنے روپیہ کا خریدا تو یہ بیع سلم ہے اس کی سب شرطیں پائی گئیں تو جائز ہے ورنہ حرام۔پھر بہرحال جب وہ ناج نہ دے سکے تو اس قرار داد بھاؤ کے حساب سے روپیہ یا اس کے بدلے گائے وغیرہ کوئی شے لینا قطعی حرام ہے
لحدیث لاتأخذ الاسلمك او راس مالك واللہ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
اس حدیث کی وجہ سے بیع سلم کی مبیع یا راس المال کے علاوہ مت لےواللہ تعالی علم وعلمہ اتم واحکم۔(ت)
حوالہ / References α درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۹،تبیین الحقائق کتاب البیوع باب السلم المطبعۃ الکبری بولاق مصر ۴ /۱۱۸
#12948 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
مسئلہ۱۲۵: از مارہرہ شریف ضلع ایٹہ مرسلہ شیخ شان الہی ۱۵جمادی الاولی ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر زید عمرو کو دس روپے کا نوٹ قرض دے اور اس وقت یا کچھ دنوں کے بعد عمرو بارہ روپے نقد ادا کرے تو اس پر سود کا اطلاق ہوسکتا ہے نہیں اور زید وعمرو گنہگار ہوئے یانہیں بینو اتوجروا۔
الجواب:
اگر قرض دینے میں یہ شرط ہوئی تھی تو بیشك سود و حرام قطعی و گناہ کبیرہ ہےایسا قرض دینے والا ملعون اور لینے والا بھی اسے کے مثل ملعون ہے اگر بے ضرورت شرعیہ قرض لیا ہو۔حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربو ۔ رواہ الحارث ابی اسامۃ عن امیر المؤمنین علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم ۔قرض پر جو نفع حاصل کیا جائے وہ سود ہے۔(اسے حارث بن اسامہ نے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہوجہہ الکریم سے روایت کیا۔ت) متعدد احادیث صحیحہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اللہ اکل الربو مؤکلہ وکاتبہ وشاھدہ ۔رواہ احمد وابوداؤد و الترمذی وابن ماجۃ بسند صحیح عن ابی مسعود واحمد و النسائی بسند صحیح عن امیر المومنین علی رضی اللہ تعالی عنہما وھو عند مسلم عنہ بلفظ لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اللہ کی لعنت سود کھانے والے پراور سود کھلانے والے پر اور سود کا کاغذ لکھنے والے اور اس کے گواہ پر۔(اس کو امام احمد ابوداؤدترمذی اور ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ سید نا ابومسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے رویات کیااور امام احمد اور نسائی نے صحیح سند کے ساتھ امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا اور امام احمد علی رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیامگر اس میں لفظ شاہد کے بدلے مانع صدقہ کے لفظ ہیں اور
حوالہ / References کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۳۸
مسند امام احمد بن حنبل دارالفکربیروت ۱/ ۳۹۳،سنن ابوداؤد کتاب البیوع باب فی اکل الربا آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۱۷، جامع الترمذی کتاب البیوع باب ماجاء فی اٰکل الربو امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱/ ۱۴۵
#12949 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
اکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء ۔ یہ امام مسلم کے نزدیك حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ان لفظوں کے ساتھ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے سود کے کھانے والےکھلانے والےلکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائیاور فرمایا کہ وہ سب برابر ہیں۔(ت)
اور اگر شرط نہ ٹھہری تھی بلکہ دس روپے کا قرض لیا کہ اس کے عوض دس ہی روپے کا نوٹ ادا کیا جائے گاپھر عمرو کے دل میں خیال آیا کہ نوٹ کے بدلے دس اور دو روپے اپنی طرف سے احسانا بڑھا کر بارہ روپے دے دے تویہ جائز واحسان ہے یا زید نے مثلا اس سے اپنے قرض کا نوٹ مانگا اس کے پس نہ تھا بارہ روپے اس کے عوض دینے پر فیصلہ ہوا تو اس کی دوصورتیں ہیںاگر نوٹ عمرو خرچ کرچکا تو بالاتفاق بال شبہہ جائز ہے جبکہ روپے اسی جلسہ میں دے دئے جائیں ورنہ ناجائز ہوجائے گا اور اگر وہی نوٹ اس کے پاس بدستور موجود ہے اور اسی نوٹ موجود کے عوض روپے دئےے تو ہمارے امام اعظم و امام محمد رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیك مطلقا ناجائز ہے کہ عقد باطل ہےزید پر لازم ہے کہ روپے عمرو کو پھیردےہاں نوٹ موجود کے بدلے روپے نہ دے بلکہ قرض لینے کے باعث جو اس کے ذمہ پر نوٹ لازم ہوا ہے اس کے عوض دے تو دونوں امام ممدوح کے طور پر جائز ہے مگر یہ شکل اخیر عوام کے تصور وخیال میں نہیں ہوتی کہ باوصف بقائے نوٹ وہ عین و دین میں فرق کریں اور بجائے مافی الید مافی الذمہ کا عوض دینا لینا مر اد رکھیںدرمختار میں ہے:
یملك المستقرض القرض بنفس القبض عندھما الامام ومحمد خلاف للثانیفجاز شراء المستقرض القرض ولو قائما من المقرض بدراھم مقبوضۃ فلو تفرقا قبل قبضھا بطل لانہ افتراق عن دین بزازیۃ اھ ملخصا۔
مقروض محض قبضہ کرنے سے ان دونوں یعنی امام اعظم اور امام محمد کے نزدیك قرض کا مالك ہوجاتا ہے بخلاف امام ابو یوسف کےلہذا(طرفین کے نزدیک)مقروض کا دراہم مقبوضہ کے بدلے میں قرض دہندہ سے قرض کو خرید نا جائز ہے اگر قرض موجود ہو اگر وہ دونوں شخص دراہم مذکورہ پر قبضہ سے قبل جدا ہوگئے تو یہ خریداری باطل ہوگی کیونکہ یہ دین سے جدا ہونا ہےبزازیہاھ تلخیص۔(ت)
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب المساقات باب الرباء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷
درمختار کتاب البیوع فصل فی القرض مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۰۔۳۹
#12950 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
ردالمحتار میں ہے:
بیان ذلك انہ تارۃ یشتری مافی ذمتہ للمقرض وتارۃ مافی یدہ ای عین مااستقرضہ فان کان الاول ففی الذخیرۃ اشتری من المقرض الکر الذی لہ علیہ بمائۃ دینار جاز لانہ دین علیہ لابعقد صرف ولا سلمفان کان مستھلکا وقت الشراء فالجواز قول الکل لانہ مبلکہ بالاستھلاك و علیہ مثلہ فی ذمتہ بلا خلاف وان کان قائما فکذلك عندھما وعلی قول ابی یوسف ینبغی ان لایجو لانہ لایملکہ مالم یستھبلکہ فلم یجب مثلہ فی ذمتہفاذا اضاف الشراء الی الکر الذی فی ذمتہ فقد اضافہ الی معدوم فلا یجوز اھ وھذا مافی الشرح وان کان الثانی ففی الذخیرۃ ایضا استقرض من رجل کراو قبضہ ثمن اشتری ذلك الکربعینہ من المقرض لایجوز علی قولھما لانہ ملکہ بنفس القبض فیصیر مشتریا
اس کا بیان یہ ہے کہ مقروض کبھی تو اس چیز کوخرید تا ہے جو قرض دہندہ کےلئے اس کے ذمہ پر ہے اور کبھی بعینہ اس قرض کو خریدتا ہے جو اس کے قبضہ میں موجود ہےاگر پہلی صورت ہوتو اس کے بارے میں ذخیرہ میں ہے کہ مقروض نے قرض دہندہ سےسو دینار کے عوض کر(غلہ)خریداقرض دہندہ کےلئے مقروض کے ذمہ پر لازم ہے تو یہ جائز ہے کیونکہ اس پر دین ہے جو کہ عقد صرف اور عقد سلم کے سبب سے نہیں ہے پھر اگر مقروض نے بوقت شراء قرض ہلاك کردیا ہے تو اس صورت میں سب نے جواز شراء کا قول کیا ہے کیونکہ وہ ہلاك کرنے کے سبب سے قرض کا مالك ہوگیا اور بلاخلاف اس کی مثل اس کے ذمے لازم ہے اور اگر بوقت شراء قرض مقروض کے پاس موجود ہے تو بھی طرفین کے نزدیك یہی حکم(جواز)ہے جبکہ امام ابویوسف کے قول پر مناسب ہے کہ جائز نہ ہو کیونکہ ان کے نزدیك جب تك وہ قرض کو ہلاك نہ کرے مالك نہیں ہوگا لہذا اس کی مثل مقروض کے ذمہ پر لازم نہ ہوگی اھیہ وہ ہے جو شرح میں ہےاور اگر دوسری صورت میں ہے تو اس کے بارے میں بھی ذخیرہ میں ہے کہ کسی شخص نے ایك کر قرض لیا پھراس پر قبضہ کرکے بعینہ وہی کر اس مقروض نے قرض دہندہ سے خریدلیا تو طرفین کے قول پر جائز نہیں کیونکہ وہ مقروض محض قبضہ کرنے سے قرض کا مالك ہوچکا ہے
#12951 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
ملك نفسہ اما علی قول ابی یوسف فالکر باق علی المقرض فیصیر المستقرض مشتریا ملك غیرہ فیصح ۔
تو اب وہ اپنی ہی ملك کا خریدار ہوگیا لیکن امام ابویوسف کے قول پر چونکہ وہ کر قرض دہندہ کی ملك پر باقی ہےچنانچہ مقروض ملك غیر کا خریدار ہوا لہذا یہ خریداری صحیح ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
فی البزازیۃ من اخر الصرفاذاکان لہ علی اخر طعام او فلوس فاشتراہ من علیہ بدرہم وتفرقا قبل قبض الدراہم بطل وھذا ممایحفظ ۔واللہ تعالی اعلم۔
بزازیہ باب الصرف کے آخر میں ہے کہ اگر کسی کا دوسرے کے ذمے اناج یا پیسے لازم ہیں پھر مقروض نےاس سے کچھ دراہم کے بدلے وہ اناج یا پیسے خرید لئے اور دراہم پر قبضہ سے پہلے ہی یہ دونوں شخص متفرق ہوگئے تو خرید اری باطل ہے یہ بات قابل حفظ ہے۔(ت) واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۶:ازالہ آباد دائرہ شاہ اجمل صاحب مرسلہ مولوی محمد صاحب محمدی برادر مولانا مفتی اسد اللہ خان صاحب مرحوم ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ عوض قرضہ یا فتنی مورثکے منجملہ سے بری کردیامطابق شرع مذہب اہل سنت وجماعت دیگر وارثان کو وارث مذکور اس جو خریدار جائداد مدیون ہے بقدر حصہ رسدی زر قرضہ یافتنی مورچ کے نقد دلایا جائے گا یا جائداد خریدہ وارث مذکور متروکہ متصور ہوکر دیگر وارثان کو بھی بقدر سہام مفروضہ حصہ جائداد دلایا جائیگا۔بینوامشرحا ومدللا مع سند الکتاب توجرواعنداللہ الملك العزیز الوھاب(تفصیل سے مدلل اور حوالہ کتب کے ساتھ بیان فرمائیں اللہ تعالی بادشاہ غالب بہت عطا فرمانے والے کے ہاں اجر دئے جاؤگے۔ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی القرض داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۷۳
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی القرض داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۷۴
#12952 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ظاہر ہے کہ بائع مدیون کا مقصود یہی ہوگا کہ جائداد سب ورثہ کے حصص دین میں دے ان میں ہر ایك بقدر اپنے حصہ کے جائداد بعوض دین پالےکہ مدیون اسے دے کر دین سے بری ہو او مشتری بھی جبکہ دین مشترك میں لیتا ہے تو دیانۃ اس سے بھی یہی امید کہ تنہا اپنے ہی لئے نہ خریدی ہومگر واقع بارہا اس کے خلاف ہوتا ہے اورعبارت سوال سے کچھ نہیں کھلتا کہ بیع کس کے نام واقع ہوئی تنہا ایك شخص کا مشتری ہونا اسےمستلزم نہیں کہ مشتری لہ بھی تنہا وہی ہویوں ہی ثمن کسی مال مشترك بشرکت ملك بلکہ خاص ملك غیر ہی کو قرار دینا اس کی دلیل نہیں کہ شرا مشترك یاغیر کےلئے ہو
فی الخیریۃ لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب ۔
فتاوی خیریہ میں ہے کہ باپ کے مال سے کسی شیئ کو خریدنے سے لازم نہیں آتا کہ مبیع باپ کےلئے ہو۔(ت)
لہذا ہمیں ہر احتمال پر کلام لازم اگر اس عقد میں کام عاقدین مختلف واقع ہوا یعنی بائع نےاپنی براءت تامہ کےلئے سب ورثہ کی طرف اضافت کی اور مشتریہ نے اپنی منفعت کے واسطے صرف اپنی خصوصیت رکھیمثلا اس نےکہا میں نے یہ جائداد تم سب کے ہاتھ تمہارے دین میں بیع کی اس نے کہا میں نے اپنے لئے خریدی جب تو بیع ہی نہ ہوئی کہ ایجاب وقبول متخالف رہے
فی البحر الرائق عن فروق الکرابیسی لو قال اشتریت لفلان بکذا و البائع یقول بعت منك بطل العقد فی اصح الروایتین والفرق انہ خاطب المشتری والمشتری یسترد لغیرہ فلایکون جوابا فکان شطر العقد ۔
بحرالرائق میں فروق الکرابیسی سے منقول ہے کہ اگر کسی نے کہا کہ میں نے اتنے کے عوض یہ شیئ فلاں کےلئے خریدی اور بائع نے کہا کہ میں نے تیرے ہاتھ فروخت کے لئے خریدیاور بائع نے کہا کہ میں نے تیرے ہاتھ فروخت کی تو دو روایتوں میں سے زیادہ صحیح روایت کے مطابق عقد باطل ہوگافرق یہ ہےکہ بائع نے مشتری کو مخاطب بنایا جبکہ مشتری اس کو غیر کی طرف لوٹانا چاہتا ہے تو یہ مشتری کا جواب نہ ہوا تو اس طرح یہ آدھا عقد ہوا(یعنی دو۲ میں سے صرف ایك رکن پایا گیا)(ت)
حوالہ / References الفتاوٰی الخیریۃ کتاب البیوع فصل فی القرض دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۲۱۹
بحرالرائق کتاب البیوع فصل فی بیع الفضولی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۶ /۱۴۹
#12953 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
اس صورت میں جائداد مدیون کو واپس اور ورثہ کا دین اس پر قائمصرف مشتری کہ بری کرچکااگر اس کا ابرا اس عقد سے جدا واقع ہوا یعنی دین بطور خود معاف کردینا چاہاہواور اگر اس کی طرف سے بھی کوئی ابرائے جدا گانہ واقع نہ ہوا اسی شرائے جائداد بعوض دین کی بناء پر دعوی سے اسے بری کیا ہے تو س کا بھی دین بدستور باقی رہا وقد اوضحناہ وفصلناہ فی المداینات من فتاونا(اس کی وضاحت وتفصیل ہم اپنے فتاوی میں مداینات کی بحث میں بیان کرچکے ہیں۔ت)اور اگر مشتری نے اپنے ہی لئے خریدی اور بائع نے بھی اس کے ہاتھ بیچی سب ورثہ کی طرف اضافت نہ کی توبیع اسی مشتری کے لئے تمام ہوگئی دیگر ورثہ کا جائداد میں کچھ حق نہیںہاں زر ثمن میں اس دین کا محسوب ہونا ان کی اجازات جائزہ شرعیہ پر موقوف رہے گاجواجازت دے گا اس کے حصہ دین سے بائع بریاور اس قدر روپیہ اجازت دہندہ کےلئے لازم بذمہ مشتری اور خود مشتری کے حصہ دین سے تو بائع بری ہو ہی چکا یہ اجازت دیگر ورثہ کہ یہاں درکار ہیوئی اجازت نقد ہے نہ اجازت عقدعقد تو بامشتری تام ونافذ ہولیا یہاں تك کہ اگر کوئی شخص اپنے لئے کچھ خریدے اور اس کا ثمن کسی غیر کا غلام یا مکان قرار دے تو وہاں بھی صرف اس بناء پر کہ یہ من وجہ شراء ہے اور شراء مشتری پر نافذ عقد بنام مشتری تمام ہوجاتا ہے حالانکہ وہ من وجہ بیع ہے اور بیع مال غیر غیر نافذ و موقوفتو جہاں من کل وجہ شرا ہے اس کا مشتری پر نفاذ اوضح واجلی ہے
فی البحر الرائق ان کان الثمن عرضا کان مملوکا للفضولی واجازۃ المالك اجازۃ نقدلا اجازۃ عقد لانہ لما کان العوض متعینا کان شراء من وجہ والشراء لایتوقف بل ینفذ علی المباشران وجد نفاذافیکون ملکا لہ وباجازۃ المالك لاینقل الیہبل تاثیر اجازتہ فی النقد لافی العقد ثمن یجب علی الفضولی مثل المبیع ان کان مثلیا والافقیمتہ الخ ۔
البحرالرائق میں ہے ثمن اگر سامان ہو تو فضولی کا مملوك ہوگا اور مالك کی اجازت اجازت نقد ہے نہ کہ اجازت عقد کیونکہ عوض جب متعین ہے تو یہ من وجہ شراء ہے اور شراء موقوف نہیں ہوتی بلکہ مباشر پر نافذ ہوجاتی ہے اگر وہ نفاز کی راہ پائے تو یہ مشتری کی ملك ہوا اور مالك کی اجازت سےت یہ مشتری کی ملك ہو ااور الك کی اجازت سے یہ مالك کی طرف منتقل نہیں ہوگا بلکہ اس کی اجازت نقد میں اثر کرے گی نہ کہ عقد میںپھر فضولی پر مبیع کی مثل واجب ہوگی اور اگروہ مثلی ہے ورنہ اس کی قیمت واجب ہوگی الخ(ت)
حوالہ / References البحرالرائق کتاب البیوع فصل فی بیع الفضولی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/۱۴۸
#12954 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
اور ورثہ سے جو اجازت نہ دے گا اسے اختیار ہے کہ اپنے تمام حصہ دین کا مطالبہ مدیون پر رکھے خواہ جس قدر حصہ دین مشتری نے بذیعہ شراء وصول پایا اسے جمیع سہام پر تقسیم کرکے بقدر اپنے سہم کے روپے کا مطالبہ مشتری اور باقی کا مدیون سے رکھے مثلا نوے روپے دین تھےاور زیدعمروبکر تین بیٹے وارث زشید نے مدیون سے جائداد بعوض دین مورث اپنے نام خریدلی تو اس نے اپنے تیس روپے پالئے عمرو نے یہ تصرف جائز رکھا وہ اپنے پورے تیس روپے زید سے لے لے بکر نے اجازت نہ دی وہ چاہے تو کامل تیس روپے مدیون سے لے خواہ ازانجا کہ دین مشترك سبب واحد یعنی ارث سے ناشی تھا اور زید نے اپناحصہ اس سے پالیا بقدر ثلث یعنی دس روپے زید سے لے باقی بیس کا مطالبہ مدیون پر رکھے جائداد پر دعوی نہیں کرسکتا مگر یہ کہ زید اپنی خوشی سے اسے حصہ رسد جائداد دے اور وہ قبول کرلے
فی الدر المختار الدین المشترك بسبب متحد کدین موروث اذا قبض احدھما شیئا منہ شارکہ الاخرفیہ ان شاء او اتبع الغریمفلو اشتری بنصفہ شیئا ضمنہ شریکہ الربع لقبضہ النصف بالمقاصۃ او اتبع غریمہ لبقاء حقہ فی ذمتہ اھ مختصرا وفی الھندیۃ ولو اشتری بنصیبہ ثوبا فللشریك ان یضمنہ نصف ثمن الثوب ولا سبیل لہ علی الثوب فان اجتمعا جمیعا علی الشرکۃ فی الثوب فذلك جائز کذا فی السراج الوھاج ۔
درمختار میں مذکور ہے دو شخصوں میں سبب واحد سے مشترك دین ہو جیسے دین موروث ہو اور ان دونوں میں سے ایك نے اگر کچھ دین مشترك وصول کرلیا تو دوسراگر چاہے تو اس میں شریك ہوجائے یا پھر مدیون کا پیچھا کرےاور دونوں میں سے ایك شریك نے نصف دین کے بدلے مدیون سے کوء چیز خریدی تو یہ خریدنے والا شریك دوسرے کو دین کے چوتھائی کا تاوان دے کیونکہ اس نے نصف دین پر قبضہ کیا ہے دین کے ثم میں مجراہونے کے سبب سے یا پھر دوسرا شریك مدیون کا پیچھا کرے کیونکہ اس کا حق مدیون کے ذمے پر باقی ہے اھ مختصرا۔ہندیہ میں ہے کہ اگر ایك شریك نے اپنے حصے کے بدلے میں مدیون سے کپڑا خریدا تو دوسرے شریك کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کو آدھے کپڑے کے ثمن کا ضامن ٹھہرائے اور کپڑے پر اس کا کوئی حق نہ ہوگا اور اگر وہ دونوں کپڑے کی شرکت پر متفق ہوجائیں تو یہ جائز ہے السراج الوہاج میں یونہی ہے۔(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الصلح فصل فی دعوی الدین مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشرکۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۳۳۷
#12955 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
اور اگر یہ عقد شراء سب وارثوں کے لئے واقع ہوا مثلا مدیون نے کہا میں نے تم سب ورثہ کو یہ جائداد دین میں دین مشتری نے کہا میں نے سب کی طرف سے خریدی یا سب کے لئے لییا اسی قدرکہا کہ میں نے قبول کی کہ مذہب صحیح پر ایك ہی کلام میں اضافت الی الغیر توقف عقدکےلئے بس ہے جبکہ کلام غیر میں اس کا خلاف نہ ہو
فی البزازیۃ والبحر وغیرہما الصحیح انہ اذااضیف العقد فی احدالکلامین الی فلان یتوقف علی اجازتہ اھ واما عدم التخالف فقد مناہ عن البحرعن الفروق ان الاصح عند التخالف البطلان قلت وھو مراد وجیز الکردری بقولہ لو قال اشتریت لفلان وقالا بائع بعت منك الاصح عدم التوقف اھ وقد عرض ھھنا وھم للعلامۃ الشامی فی ردالمحتار نبھنا علیہ فیما علقنا علیہ وباللہ التوفیق۔
بزازیہ اور بحر وغیرہ میں مذکور ہے صحیح یہ ہے کہ جب دو کلاموں میں سے صرف ایك میں عقد کی اضافت فلان کی طرف کی گئی ہو تو عقد اس کی اجازت پر موقوف ہوگارہا مخالفت کا نہ ہونا تو ہم بحر سے بحوالہ فروق پہلے بیان کرچکے ہیں کہ بائع ومشتری کے کلاموں میں مخالفت کی صورت میں زیادہ صحیح یہ ہے کہ وہ عقد باطل ہوگامیں کہتا ہوں کہ وجیز الکردری کے اس قول سے یہی مراد ہے کہ اگر مشتری نے کہامیں نے فلاں کے لئے خریدا اور بائع نے کہا میں نے تیرے ہاتھ بیچا تو زیادہ صحیح یہ ہے کہ عقد موقوف نہیں ہوگا اھ یہاں پر علامہ شامی کو ردالمحتار میں ایك وہم عارض ہواہم نے ردالمحتار پر اپنی تحریر کردہ تعلیقات میں اس پر تنبیہ کردیاور توفیق اللہ تعالی ہی کی طرف سے ہے۔(ت)
تو اس صورت میں اگر مشتری باقی سب ورچہ کی طرف سے وصایۃ یا ولایۃ یا وکالۃ اس شراء کا اختیار رکھتا تھا جب تو ظاہر کہ عقد تمام وکمال فورا نافذ اور سب ورثہ حصہ رسد جائداد میں شریك اور مدیون سب کے دین سے بری لانہ تصرف من لہ التصرف فتم و نفذ من دون توقف(کیونکہ یہ اس کا تصرف ہے جس کو تصرف کا اختیار ہے تو بلا توقف تام و نافذ ہوگیا۔ت)ورنہ اگر ورثہ میں کوئی قاصدایسا ہے جس پر کسی کو اس شراء کا اختیار شرعی نہیں جس طرح آج کل بہت یتیم ہوتے ہیں جن کے نہ باپنہ دادا نہ ان کا وصینہ وصی الوصینہ ان بلاد میں قاضی شرعنہ سلطان اسلاماور ان کے سوا
حوالہ / References البحرالرائق کتاب البیع فصل فی بیع الفضولی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۴۹
الفتاوٰی البزازیۃ علی ہامش الفتاوٰی الھندیۃ کتاب البیوع،الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور۴/ ۴۸۳
#12956 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
ماں بھائی چچا وغیرہ یتیم کے لئے جائداد خریدنے کے مجاز نہیں تو اس کی طرف اس خریداری کی اجازت دینے والا کوئی نہیں اور فضولی سے و عقد ایساصادر ہو کہ وقت عقد جس کا مجیز نہیں ہو باطل ہوتا ہے
فی الدر کل تصرف صدر منہ ولہ مجیز ای من یقدر علی اجازتہ حال وقوعہ انعقد موقوفا وما لا مجیزلہ حالۃ العقد لاینعقد اصلا ۔
درمیں مذکور ہے ہر وہ تصرف جو فضولی سےصادر ہوا اور عقد کے وقت اس کا کوئی مجیز یعنی کوئی ایسا شخص موجود ہےجو اس کی اجازت دے سکتا ہے تو اس عقد کا انعقاد اس کی اجازت پر موقوف ہوگا اور جس تصرف کا بوقف عقد کوئی مجیز موجود نہ ہو وہ بالکل منعقد نہیں ہوگا۔(ت)
تو مشتری کا اس نابالغ کی طرف سے قبولنہ قبول نافذ ہے نہ قبول موقوف بلکہ محض باطل ہے اور باطل معدومتو ایجاب سب کے لئے تھا اور قبول بعض کی طرف سے نہ پایا گیایا یوں کہئے کہ ایجاب کل مبیع کا تھا اور قبول بعض کا ہوابہرحال ایجاب وقبول مختلف ہوکر عقد ر اسا باطل ہوگیاکل جائداد مدیون کو واپس اوردین بدستور مذکور صورت اولی قائم
فی ردالمحتار عن البحرالرائق الموجب اذا اتحد وتعدد المخاطب لم یجز التفریق بقبول احدھما بائعا کان الموجب او مشتریا وعلی عکسہ لم یجز القبول فی حصۃ احدھما اھ وفیہما شرط العقد موافقۃ الایجاب للقبول فلو قبل غیرما او جبہ او بعضہ او بغیر ما او جبہ او بعضہ لم ینعقد الافی الشفعۃ الخ۔
ردالمحتار میں البحرالرائق کے حوالے سے مذکور ہے کہ ایجاب کرنے والا اگر ایك ہو اور مخاطب متعدد ہوں تو تفریق جائز نہیں کہ ان دونوں میں سے ایك قبول کرےچاہے ایجاب کرنے والا بائع ہو یا مشتری ہواور اگر اس کے برعکس ہو تو ان دونوں میں سے ایك کے حصہ میں قبول جائز نہیں اھ انہی دونوں کتابوں میں مذکور ہے کہ قبول کا ایجاب کے موافق ہونا شرط ہے بایں طور کہ مشتری اسی چیز کو قبول کرے جس کا بائع نے ایجاب کیا مشتری اس کے غیریا اس کے بعض کو قبول کرے یا جو ثمن بائع نے
حوالہ / References الدرالمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۹،بحرالرائق کتاب البیع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۶۸۔۲۶۷
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۵،بحرالرائق کتاب البیع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۵۸
#12957 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
ایجاب میں ذکر کیا مشتری اس کے غیر یا اس کے بعض کے بدلے قبول کرے تو سوائے شفعہ کے منعقد نہیں ہوا الخ۔(ت)
اور اگر یہ دونوں صورتیں نہیں یعنی نہ سب ورچہ پر مشتری کا یہ تصرف نافذ نہ ان میں کوئی ایسا جس پر کسی کا ایسا تصرف نافذتو شرابحق مشتری اور نیز اس کے حق میں جس کی طرف سے اس کا قبول نافز ہے نافذ ولازم باقی ورثہ کےلئے خود ان کی خواہ ان کے وصی یا وصی مجاز کی اجازت پر موقوف جو اجازت دے گا وہ بھی بقدر حصہ اس جائداد کا مالك ہوگا اور جرد کرے گااس کے حق میں رد ہوجائیگا کما ھو شان عقد الفضولی(جیسا کہ عقد فضولی کی شان ہے۔ت)اب بحالت رد بعض صورت یہ ہوگی کہ جائداد جو بائع نے بصفقہ واحدہ بیع کی تھی اس کی بعض مبیع رہی اور بعض مبیع سے نکل گئی اس میں اس پر تفریق صفقہ قبل تمام ہوگی جس پر وہ مجبور نہیں ہوسکتا
اماالتفریق فظاھر وکذا کونہ قبل التمام فکیف تتم صفقۃ موقوفۃ قبل الاجازۃ الاتری ان للمشتری لہ الرد بدون قضاء ولارضاء ولذاکان خیار الشرط مانعا تمامھا کما نص علیہ فی الفتح وغیرہقال فی الدر المختار الاصل ان ردالبعض یوجب تفریق الصفقۃ وھو بعد التمام جائز لاقبلہ فخیار الشرط و الرؤیۃ یمنعان تمامھا وخیار العیب یمنعہ قبل القبض لابعدہ الخ قلت و الدین لازم بیعہ ممن
لیکن تفریق ظاہر ہے یونہی اس کا قبل از تمام ہونا کیونکہ اجازت پر موقوف عقد اجازت سے قبل کیسے تمام ہوسکتا ہے کیا تو نہیں دیکھتا کہ جس کے لئے خریداری ہو اس کو قضاء ورضاء کے بغیر ہی رد کا اختیار ہےاسی لئے خیار شرط تمامیت صفقہ سے مانع ہے جیسا کہ فتح وغیرہ میں منصوص ہے۔ درمختار میں ہے اصل یہ ہے کہ بعض کو ردکرنا تفریق صفقہ کا موجب ہے اور وہ تمامیت صفقہ کے بعد جائز ہے نہ کہ اس سے پہلےچنانچہ خیار شرط اور خیار رؤیت تمامیت صفقہ سے مانع ہیں جبکہ خیار عیب قبضہ سے پہلے مانع ہے قبضہ کے بعد مانع نہیں الخ میں کہتا ہوں
حوالہ / References فتح القدیر کتاب البیوع باب خیار الرؤیۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۵۴۳،ردالمحتار کتاب البیوع باب خیار الرؤیۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۷۰
درمختار کتاب البیوع باب خیار الرؤیۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵
#12958 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
ھو اصیل وفضولی الردممن شری لہ بل تحتمل الاجازۃ فلم یتحقق من البائع الرضی بتفریق الصفقۃ والرد معیبابعیب الشرکۃ۔قال فی الھدایۃ اذا اشتری لرجلان غلاماعلی انھما بالخیار فرضی احدھما فلیس لاخر ان یردہلان المبیع خرج من مبلکہ غیر معیب بعیب الشرکہ فلوردہ احدھما ردہ معیبا بہ وفیہ الزام ضرر زائد ولیس من ضرورۃ اثبات الخیار لھما الرضا برد احدھما لتصورا اجتماعھما علی الرد اھ مختصرا وفی الدر المختار لیس لاحدھما الانفراد اجازۃ او رد اختلافا لھمامجمع ۔
لازم دین کو فروخت کرنا اس شخص سے جو اصیل ہے اور فضولی بھیفضولی ہونے کی حیثیت سے جس کے لئے خریدا اس کو رد کرنے بلکہ جائز کرنے کا اکتیار ہے تو اندریں صورت بائع کی طرف سے سودے کے متفرق ہونے اور شرکت عیب کے ساتھ رد کرنے پر رضانہ پائی گئیہدایہ میں فرمایا کہ جب دو شخص نے ایك غلام خریدا اس شرط پر کہ دونوں کو خیار شرط حاصل ہوگا پھر ان میں سے ایك راضی ہوگیا تو دوسرے کو رد کرنے کا اختیار نہیں کیونکہ غلام مبیع بائع ملك سے اس حال میں نکلا تھا کہ اس میں عیب شرکت نہیں تھااب اگر دونوں میں سے ایك اس کو واپس کرے تو اس حال میں واپس کریگا کہ اس میں شرکت کا عیب موجود ہے اور اس میں بائع پر ضرر زائد لازم کرنا ہوااور بائع کی طرف سے ان دونوں کو خیار دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ ان میں سے ایك کے رد کرنے پر راضی ہو کیونکہ ان کے رد پر جمعی ہونے کا احتمال موجودہے اھ مختصردرمختار میں ہے دونوں میں سے ایك کو انفرادی طور اجازت یا رد کا اختیار نہیں بخلاف صاحبین کے مجمع۔(ت)
لہذا اسے اختیار ہوگا کہ کل جائداد واپس لے اور دین بدستور مذکور سابق اس پر لازم رہے خواہ اس ضرر تفریق کو گوارا کرکے جس نے رد کیا اس کا حصہ پھیرلے باقی میں بیع مقبول رکھے اس تقدیر پر جنہوں نے رد کیا انہیں وہی اختیار مذکور دیا جائے گا کہ خواہ اپنے اپنے حصص دین کا مطالبہ
حوالہ / References الہدایۃ کتاب البیوع باب خیار الشرط مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۴۰۔۳۹
الدرالمختار کتاب البیوع باب خیار الشرط مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۳
#12959 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
مدیون سے رکھیں خواہ ان پانے والے شریکوں یعنی مشتری وغیرہ نے(جن جن کے لئے عقد بفعل مشتری خواہ ان کے یا ان کے اولیا یا اوصیا کی اجازت سے نافذ ہوا)جو کچھ دین بمعاوضہ جائداد وصول پالیا اس قدر روپے سے اپنا حصہ رسد مطالبہ ان پانیوالوں سے کریں باقی کااصل مدیون سے رکھیں کما سبق(جیسا کہ پیچھے گزرا۔ت)مثلا تصویر مسطور میں زید نے سب ورثہ کےلئےخریدی عمرو نے اجازت دی زید و عمرو بوعوض دین دو ثلث جائداد کے مالك ہوئے بکرنے کہ اسے جائز نہ رکھا چاہے تو اپنے تیس پورے مدیون سے لے خواہ دس دس زید و عمرو سے لے جو اپنے ساٹھ وصول پاچکے ہیں باقی دس کامطالبہ مدیون پر رکھےواللہ سبحہ و تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۱۲۷: ازالہ آباد دائرہ اجمل شاہ صاحب مرسلہ مولوی محمد صاحب محمدی ۱۳جمادی الآخر۱۳۱۴ھ
متعلقہ مسئلہ سابقہ
بعالی خدمت جناب مولنا الممجد دام فضلکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جو فتوی آپ نے مرحمت فرمایا اس میں عبارات ذیل ہیںبسبب علالت طبیعتمیں استخراج عبارت مذکورہ من الکتب کی طرف متوجہ نہ ہوسکا او لڑکوں کی تلاش سے وہ عبارتیں کتاب میں نہ ملیں مجبورانہ خدمت گرامی بکمال تمنا ملتمس ہوں کو براہ عنایت کریمانہ تحریر فرمائیے کہ عبارت عبارات مذکورکس باب و فصل میں ہیں ممنون منت ہوں گاوالتسلیم!
فی الدرالمختار الدین المشترك بسبب متحد کدین موروث اذاقبض احدھما الخ(ملخصا)فی الھندیۃ ولو اشتری بنصیبہ ثوبا فللشریك ان یضمنہ الخ۔
درمختار میں ہےکہ دین مشترك جو سبب واحد کے ساتھ ہو جیسے دین موروثپر دونوں میں سے ایك شریك جب قبضہ کرلے الخ ہندیہ میں ہے کہ جب ایك شرك نے مدیون سے اپنے حصہ کے بدلے میں کپڑا خریدا تو دوسرے شریك کو حق حاصل ہے کہ وہ اس سے ضمان لے الخ(ت)
الجواب:
مولانا المکرم اکرم اللہ تعالیالسلام علیکم ورحمۃ اللہ وربرکاتہعبارت درمختار کتاب الصلح
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الصلح فصل فی دعوی الدین مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴۴
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الشرکۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۳۷
#12960 · بابُ القرض (قرض کا بیان)
فصل فی دعوی الدین اور عبارت ہندیہ کتاب الشرکۃ الباب السادس فی المتفرقات میں ہے والسلام۔
مسئلہ۱۲۸: ۲۸ذی الحجہ ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے فی روپیہ انیس سیر کے حساب سے روپے قرض لئے لیکن غلہ بہم نہ کرسکا تو دائن نے اس سے بجائے غلہ کے زر نقد بحساب نرخ بازار لے لیا تو یہ شرح بازار قرضہ پر جوا افزود ہے آیا جائز ہے یا ناجائز بینواتوجروا۔
الجواب:
ناجائز اور حرام قطعی اور نرا سود ہے
فی الحدیث قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کل قرض جر منفعۃ فھو ربو ۔واللہ تعالی اعلم۔
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو قرض نفع کھینچے سود ہے۔واللہ تعالی اعلم (ت)
____________________
حوالہ / References کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۳۸
#12961 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
باب الربو
(سود کابیان)
مسئلہ۱۲۹:کیافر ماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جس چیز کی جنس اور تول دونوں ایك نہ ہوں اس کو باختیار اپنے خلاف بازار نرخ کرنا اور وعدہ پر بیچنا درست ہے یانہیں مثلا چاندی سونا عوض سونے کے یا چونے یا غلے کے عوض بیچے تو اس میں ادھار دینا اور تھوڑے مال کو بہت کے عوض میں بیچنا درست ہے یانہیں اور اگر وعدہ پر بیچے تو کس قدر مدت کا وعدہ شرعا جائز ہے بینواتوجروا
الجواب:
اندازہ شرعی جو دربارہ ربو معتبر ہے دو قسم ہے:کیل یعنی ناپ اور وزن بمعنی تولاور حلت وحرمت کا قاعدہ کلیہ یہاں چار صورت میں بیان ہوتا ہے:
صورت اولی:جو دو چیزیں اندازہ میں مشترك ہیں یعنی ایك ہی قسم کے اندازہ سے ان کی تقدیر کی جاتی ہے مثلادونوں وزنی ہیں یا دونوں کیلیاور دونوں ہیں بھی ایك جنس کےمثلا گیہوں گیہوں یا لوہا لوہاتو ایسی دو۲ چیزوں کی آپس میں بیع اسی وقت صحیح ہے جب دونوں اپنے اسی اندازہ میں جو شرعا یا عرفا ان کا مقرر ہے بالکل برابر ہوں اور ان میں کوئی ادھار بھی نہ ہواور اگر ایسی دو چیزیں ایك یا دونوں ادھار ہوں یا اپنے اس اندازہ مقرر میں برابر نہ کی گئیںاب خواہ سرے سے اندازہ ہی نہ کیا گیا یا اندازہ کیا مگر کمی بیشی رہی یا برابری تو کی مگر دوسری قسم کے اندازہ سے کی مثلا جو تول کی چیز تھی اسے ناپ کے برابر کیا
#12962 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
یا جو ناپ کی تھی اسے تول کر یکساں کیا تو یہ بیع محض ناجائز اور ربو قرار پائے گی۔
صورت ثانیہ:جو دو چیزیں ہم جنس تو ہیں مگر اندازہ میں مشترك نہیں خواہ دونوں طرف اندازہ معہودہ سے خارج ہیں جیسے گلبدن گلبدنتنزیب تنزیبگھوڑا گھوڑا کہ کیل ووزن سے ان کی تقدیر نہیں ہوتیکپڑے گزوں سے بکتے ہیں اور گھوڑے شما ر سےیاایك طرف فقط اندازہ ہو اور دوسری سمت خارججیسے تلوار لو ہے کے ساتھ یا بکری کا گوشت زندہ بکری کے ساتھ کہ ہر چند ہم جنس ہیں مگر لوہے اور گوشت کی طرف اندازہ ہے کہ تل کر بکتے ہیں اور تلوار اور بکری کی طرف اندازہ نہیں کہ شمار کی چیزیں ہیں تو ان صورتوں میں تفاضل یعنی کمی بیشی تو جائز ہے مگر ایك دونوں کا دین ہونا جائز نہیں۔
صورت ثالثہ:جو دونوں چیزیں ایك قسم کے اندازہ میں تو شریك ہوں مثلا دونوں کیلی ہیں یا دونوں وزنی مگر ہم جنس نہیںجیسے گیہوں جو کے ساتھیا لوہا تانبے کے ساتھتو یہاں بھی وہی حکم کہ تفاضل روااور نسیہ حرام سوا سو نے چاندی کے کہ ہر چند وزن کی چیزیں ہیں مگر بیع سلم کے طور پر انہیں نقد دے کر اشیائے موزونہ لوہاتانبا چونا ز عفران وغیرہ ادھار خریدنا بسبب حاجت کے بالاجماع جائز ہے اگرچہ ایك ہی قسم کے اندازہ میں شریك ہیں
صورت رابعہ:جو دو چیزیں نہ ہم جنس ہوں نہ ایك قسم کے اندازہ میں شریکاب خواہ دونوں اصلا داخل اندازہ کیل و وزن نہ ہوں جیسے گھوڑا کپڑایا ایك داخل ہو ا یك خارج جیسے گھوڑا گیہوںیا دونوں داخل ہوں مگر ایك قسم کے اندازہ سے ان کی تقدیر نہ ہوتی بلکہ ایك کیلی ہو دوسری وزنی جیسے چاول کھجوریںتو ایسی صورتوں میں تفاضل ونسیہ دونوں حلال ہیں۔
فائدہ:سونے چاندی کا ادھار ہونا یونہی دفعہ ہوسکتا ہے کہ ان پر قبضہ کرلیا جائے مثلا یہ سونا بعوض اس چاندی کے بیچا اور بائع نے چاندی اور مشتری نے سونے پر قبضہ نہ کیا اور جدا ہوگئے وہ بیع جائز نہیں اور ان کے سوا اور چیزوں میں فقط معلوم معین ہونا شرط ہے قبضہ ضرور نہیں مثلا یہ گیہوں بعوض اس جو کے بیچے اور دونوں بے قبضہ کئے جدا ہوگئے بیع صحیح ہے اور یہ جو اور گیہوں ادھار نہ کہلائیں گے۔
فائدہ:چار چیزوں کو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کیلی فرمایا ہے:
(۱)گیہوں (۲)جو (۳)چھوہارے (۴)نمک۔
یہ چاروں ہمیشہ کیلی رہیں گی اگرچہ لو گ انہیں وزن سے بیچنے لگیں تو اب اگرگیہوں کے بدلے گیہوں برابر تول کر بیچے تو حرام ہوگابلکہ ناپ میں برابر کرنا چاہئے۔اور دو کو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
#12963 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
نے وزنی فرمایا ہے:(۱)سونا(۲)چاندی__یہ ہمیشہ وزنی رہیں گےان چیزوں کے سوا بنائے کار عرف و عادت پر ہےجو چیز عرف میں تل کربکتی ہے وہ وزنی ہے اور جو گزوں یا گنتی سے بکتی ہے وہ اندازہ سے خارج عــــــہ ۔
مسئلہ۱۳۰: ۲۱ رجب المرجب ۱۳۱۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك صاحب نے بیان فرمایا کہ سود کھانا اپنی ماں کے ساتھ زنا کرنے سے بدتر ہے اور سود کا ایك روپیہ لینا اتنی اتنی باززنا کرنے سے سخت تر ہےیہ امر صحیح ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
بیشك صحیح ہےاس باب میں احادیث کثیرہ وارد ہیں :
حدیث(۱)کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
من اکل درھما من ربو فھو مثل ثلث و ثلثین زنیۃ ومن نبت لحمہ من السحت فالنار اولی بہ رواہ الطبرانی فی الاوسط والصغیر وصدرہ ابن عساکر عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما ۔
ایك درہم سود کا کھانا تینتیس زنا کے برابر ہے جس کا گوشت حرام سے بڑھے تو نارجہنم اس کی زیادہ مستحق ہے(اس کو طبرانی نے معجم اوسط اور صغیر میں اور ابن عساکر نے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔(ت)
حدیث(۲و۳)کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
لدرھم یصیبہ الرجل من الربا اعظم عنداللہ من ثلثۃ و ثلثین زنیۃ یزینھا فی الاسلام ۔رواہ الطبرانی
بیشك ایك درم کہ آدمی سود سے پائے اللہ عزوجل کے نزدیك سخت تر ہے تینتیس زنا سےکہ آدمی اسلام میں کرے۔ (اس کو طبرانی نے

عــــــہ:جواب یہاں تك دستیاب ہوا۔
حوالہ / References المعجم الاوسط للطبرانی حدیث ۲۹۶۸ مکتبۃ المعارف ریاض ۳ /۵۴۱
الدرالمنثور بحوالہ طبرانی تحت آیۃ ۲/ ۲۷۹ منشورات قم ایران ۱ /۳۶۷،الترغیب والترہیب عن عبداﷲ بن سلام حدیث ۱۲ مصطفی البابی مصر ۳ /۶،مجمع الزوائد باب ماجاء فی الربا دارالکتاب بیروت ۴/ ۱۱۷
#12964 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
فی الکبیر عن عبداللہ بن مسعود ایضا عن عبد اللہبن سلام رضی اللہ تعالی عنہما ۔
معجم کبیر میں عبداللہبن مسعود سے نیز عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث(۴)کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
درھم ربا یأکلہ الرجل وھو یعلم اشھد عنداللہ من ستۃ و ثلثین زنیۃ ۔رواہ احمد بسند صحیح و الطبرانی فی الکبیر عن عبد اللہ بن حنظلۃ غسیل الملئکۃ۔
سود کاا یك درم کہ آدمی دانستہ کھائے اللہ تعالی کے نزدیك چھتیس زنا سے سخت تر ہےت(اس کو امام احمد نے سند صحیح کے ساتھ اور طبرانی نے معجم کبیر میں عبداللہ بن حنظلہ غسیل ملائکہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث(۵)کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
ان الدرھم یصیبہ الرجل من الربا اعظم عنداللہ فی الخطیئۃ من ست وثلثین زنیۃ یزنیھا الرجل ۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ والبیھقی عن انس رضی اللہ تعالی عنہ۔
ایك درم کہ آدمی سود سے پائے اللہ تعالی کے نزدیك مرد کے چھتیس بار زنا کرنے سے گناہ میں زیادہ ہے۔(اس کو ابن ابی الدنیا نے غیبت کی مذمت میں اور بیہقی نے انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث(۶)کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
لدرھم ربا اشد جرما عنداللہ من سبع وثلثین زنیۃ ۔رواہ الحاکم فی الکنی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اللہ تعالی عنہما ۔
بیشك سود کا ایك درہم اللہ عزوجل کے یہاں سینتیس زنا سے بڑھ کر جرم ہے۔(اس کو حاکم نے کنیتوں کے باب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث(۷)کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
الربا سبعون حوبا ایسرھا کالذی ینکح
سود ستر گناہ ہے جن میں سب سے آسان تر اس شخص
حوالہ / References المعجم الاوسط حدیث ۲۷۰۳ مکتبۃ المعارف ریاض ۳ /۳۳۰،مسند احمد بن حنبل حدیث عبداﷲ بن حنظلہ دارالفکر بیروت ۵/ ۲۲۵
الترغیب والترھیب بحوالہ ذم الغیبۃ،والبیہقی باب الترہیب من الربا مصطفی البابی مصر ۳ /۷
کنز العمال بحوالہ الحاکم فی الکنی حدیث ۹۷۸۰ موسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۱۰۹
#12965 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
امہ و فی روایۃ سبعون بابا ادنا ھا کالذی یقع علی امہ رواہ ابن ماجۃ وابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ وابن جریر ورواہ البیہقی بسند لاباس بہ باللفظ الثانی کلھم عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ۔ کی طرح ہے جو اپنی ماں سے نکاح کرے۔(اور ایك روایت میں ہے کہ سود کے ستر دروازے ہیں جن میں ادنی یہ ہے کہ وہ اپنی ماں پرپڑے۔ت)(اس کو ابن ماجہ اور ابن ابی الدنیا نے ذم الغیبۃ میں اور ابن جریر نے اور بیہقی نے اس کو ایسی سند کے ساتھ روایت کیا جس میں کوئی حرج نہیں ساتھ لفظ ثانی کے تمام نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
حدیث(۸)کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
ان الربا ابوابالباب منہ عدل سبعین حوبا ادناہ فجرۃ کاضطجاع الرجل مع امۃ ۔رواہ ابن مندۃ وابونعیم عن الاسود بن وھب بن عبد مناف بن زہرۃ الزہری القرشی خال النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ورضی اللہ تعالی عنہ۔
بیشك ربا کے کئی دروازے ہیں ان میں سے ایك دروازہ برابر ستر گناہ کے ہے جن میں سب سے ہلکا گناہ ایسا ہے جیسے اپنی ماں کے ساتھ ہم بستر ہونا(اس کوابن مندہ اورابونعیم نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ماموں حضرت اسود بن وہب بن عبد مناف بن زہرہ الزہری القرشی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث(۹)کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
الربا احد وسبعون بابا او قال ثلثۃ وسبعون حوبا ادنا ھا مثل اتیان الرجل امہ ۔رواہ عبدالرزاق عن رجل من الانصار
سود اکہتر دروازے ہے یا فرمایا تہتر گناہ ہے جن میں سب سے ہلکا ایسا ہے جیسے آدمی کا اپنی ماں سے جماع کرنا(اس کوامام عبدالرزاق نے انصار کے
حوالہ / References سنن ابن ماجہ باب التغلیظ فی الربا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۶۵،شعب الایمان حدیث ۵۵۱۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴/ ۳۹۴
شعب الایمان حدیث ۵۵۲۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴/ ۳۹۴
الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ بحوالہ ابن مندہ ترجمہ ۱۷۲ اسود بن وہب دار صادر بیروت ۱/ ۴۶
المصنف لعبد الرزاق باب ماجاء فی الربا حدیث ۱۵۳۴۵ المکتب الاسلامی بیروت ۸/ ۳۱۴
#12966 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
رضی اللہ تعالی عنہم ۔
ایك مرد سے روایت کیا رضی اللہ تعالی عنہم ۔(ت)
حدیث(۱۰)کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
الربا اثنان وسبعون بابا ادنا ھا مثل اتیان الرجل امہ ۔رواہ الطبرانی فی الاوسط بسند صحیح عن البراء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ۔
سود کے بہتر دروازے ہیں ان میں سے کم تر ایسا ہے جیسے اپنی ماں سے صحبت کرنا(اس کو طبرانی نے سند صحیح کے ساتھ معجم اوسط میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث(۱۱)کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
ان ابواب الربا اثنان وسبعون حوبا ادناھا کالذی یاتی امہ فی الاسلام ۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عن عبداللہبن سلام رضی اللہ تعالی عنہ۔
بیشك سود کے دروازے بہتر گناہ ہیں سب میں کمتر ایسا ہے جیسے اسلام میں اپنی ماں سے زنا کرنا(اسی کو طبرانی نے معجم کبیر میں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث(۱۲)کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
الربا ثلث وسبعون بابا ایسرھا مثل ان ینکح الرجل امہ رواہ الحاکم وقال صحیح علی شرطھا و البیہقی عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ۔
سود کے تہتر دروازے ہیں سب میں ہلکا اپنی ماں سے زنا کے مثل ہے(اس کو حاکم نے روایت کیا اور فرمایا کہ یہ بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور امام بیہقی نے اس کو سیدنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
حدیث(۱۳)کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :
ان الربا نیف وسبعون بابا اھونہن بابا مثل من اتی امہ فی الاسلام
سود کے کچھ اوپر ستر دروازے ہیں ان میں سب سے ہلکا ایسا ہے کہ مسلمان ہوکر اپنی ماں سے زنا کرنا
حوالہ / References المعجم الاوسط للطبرانی حدیث۷۱۴۷ مکتبۃ المعارف ریاض ۸/ ۷۴
کنز العمال بحوالہ طب عن عبداﷲ بن سلام حدیث ۹۷۵۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۱۰۵
المستدرك کتاب البیوع دارالفکر بیروت ۲/ ۳۷،شعب الایمان للبیہقی حدیث ۵۵۱۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۳۹۴
#12967 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
ودرہم من ربا اشد من خمس و ثلثین زنیۃ ۔رواہ البیہقی عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما ۔
اور سود کا ایك درم پینتیس زنا سے سخت تر ہے۔(اس کو بیہقی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
حدیث(۱۴)سیدنا امیر المومنین عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
الربا سبعون بابا اھونھا مثل نکاح الرجل امہ ۔رواہ ابن عساکر بسند صحیح۔
سود ستر دروازے ہیں ان میں آسان تر اپنی ماں سے زنا کے مثل ہیں۔(اس کو ابن عساکرنے صحیح سند کے ساتھ روایت فرمایا۔ت)
حدیث(۱۵)سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :
الربا اثنان وسبعون حوبا اصغرھا حوبا کمن اتی امہ فی الاسلام ودرہم من الربا اشد من بضع وثلثین زنیۃ ۔رواہ ابن ابی الدنیا والبغوی وغیرہما وصدرہ عند عبدالرزاق بلفظ بضعۃ وسبعون ۔
سود بہتر گناہ ہے سب سے چھوٹا بحالت اسلام اپنی ماں سے زنا کی طرح ہے اور سود کا ایك درہم کئی اوپر تیس زنا سے سخت تر ہے۔(اس کو ابن ابی الدنیا اور بغوی وغیرہ نے روایت کیااور امام عبدالرزاق کے ہاں لفظ بضع وسبعون کے ساتھ ہے۔ت)
حدیث(۱۶)سیدنا عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں :
الربا ثلث وسبعون حوبا ادناھا حوبا کمن اتی امہ فی الاسلام ودرہم من الربا کبضع وثلثین زنیۃ ۔ سود میں تہتر گناہ ہیں سب سے کم ایسا جیسے اسلام میں اپنی ماں سے جماع کرنا اور سود کا ایك درہم چند اور تیس زنا کی مانند ہے(اس کو
حوالہ / References الدر المنثور بحوالہ البیہقی فی الشعب تحت آیۃ ۴۹/۱۲ منشورات قم ایران ۶/ ۹۶،الترغیب والترھیب بحوالہ البیہقی فی الشعب الترھیب من الربا حدیث ۱۶ مصطفی البابی مصر ۳ /۸
المنتقی لابن الجارود عن ابی ہریرۃ حدیث ۶۳۷ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ص۲۱۸
الترغیب والترہیب بحوالہ ابن ابی الدنیا والبغوی حدیث۱۲ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۳ /۷،شرح السنۃ للبغوی باب وعید آکل الربا حدیث۲۰۵۴ المکتب الاسلامی بیروت ۸/۵۴
المصنف لعبد الرزاق باب ماجاء فی الربا حدیث ۱۵۳۴۶ المکتب الاسلامی بیروت ۸/ ۳۱۴
المصنف لعبد الرزاق باب ماجاء فی الربا حدیث ۱۵۳۴۴ المکتب الاسلامی بیروت ۸/ ۳۱۴
#12968 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
رواہ عبدالرزاق۔ امام عبدالرزاق نے روایت کیا۔ت)
حدیث(۱۷)کعب احبار فرماتے ہیں :
لان ازنی ثلثا وثلثین زنیۃ احب الی من ان اکل درھما ربا یعلم اللہ انی اکلتہ حین اکلتہ ربا ۔رواہ الامام احمد عنہ بسند جید۔
بیشك مجھے اپنا تینتیس بار زنا کرنا اس سے زیادہ پسند ہے کہ سود کا ایك درہم کھاؤں جسے اللہ عزوجل جانے کہ میں نے سود کھایا ہے۔(اس کو امام احمد نے سند جید کے ساتھ روایت کیا ہے۔ت)
والعیاذ باللہ تعالیاللہ تعالی مسلمانوں کو ہدایت بخشے آمین۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۱: ۲۷ رجب روز دو شنبہ۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مقروض ہے اور اس قدر محتاج ہے کہ قوت روز مرہ بھی بدشواری میسر آتا ہے چاہتا ہے کہ کچھ روپیہ سودی قرض لے کر کچھ روزگار کرے تا کہ صورت ادائے قرض کی ظہور میں آئے اور کچھ قوت بسری میں لائےپس یہ امر مباح ہے یانہیں اور جو شخص ایسے اصل روپیہ کی ضمانت کرے گنہگار ہوگا یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
سود جس طرح لینا حرام ہے دینا بھی حرام ہے۔رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اللہ اکل الربو وموکلہ وکاتبہ و شاھدہ ۔رواہ احمد وابوداؤد
اللہ کی لعنت سود کھانے والے اور کھلانے والے اور اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس کی گواہی
حوالہ / References مسند امام احمد بن حنبل حدیث عبداﷲبن حنظلہ دارالفکربیروت ۵/ ۲۲۵
صحیح مسلم کتاب المساقات باب الربا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷،سنن ابوداؤد کتاب البیوع آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۱۷)
(جامع الترمذی ابواب البیوع امین کمپنی دہلی ۱ /۱۴۵،سنن ابن ماجہ ابواب التجارات باب التغلیظ فی الربا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۶۶،مسند احمد بن حنبل عن ابن مسعود دارالفکر بیروت ۱/ ۳۹۳ و ۴۰۲ و ۴۰۹ و ۴۵۳،مسند احمد بن حنبل عن علی کرم اﷲ وجہہ دارالفکر بیروت ۱/ ۸۳ و ۱۰۷ و ۱۳۳ و ۱۵۰،سنن النسائی کتاب الزنیۃ نورمحمد کارخانہ کراچی ۲/ ۲۸۰
#12969 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
والترمذی وابن ماجۃ والطبرانی فی الکبیر وزادوھم یعلمون کلھم عن ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ احمد والنسائی عن علی کرم اللہ تعالی وجہہ سند اھما صحیحان وبمعناہ عند مسلم فی صحیحہ وزادو ھم سواء ۔
کرنیوالے پر(اس کو امام احمدابوداؤدترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا۔طبرانی نے معجم کبیر میں یہ زیادہ کیا کہ وہ جانتے ہوں کہ یہ سود ہے ان تمام ائمہ نے اس کو سید نا ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاامام احمد اور نسائی کے نزدیك اس کی مثل سید نا حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے مروی ہے اور ان دونوں کی سندیں صحیح ہیں اس کے ہم معنی امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا اور یہ اضافہ کیا کہ وہ سب برابر ہیں۔ت)
مگر شریعت مطہرہ کا قاعدہ مقرر ہے کہ الضرورات تبیح المحظورات(ضرورتیں ممنوعات کو مباح کردیتی ہیں۔ت)اسی لئے علماء فرماتے ہیں محتاج کو سودی قرض لینا جائز ہے
فی الاشباہ والنطائر وفی القنیۃ والبغیۃ یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح اھ قال فی الغمز و ذلك نحو ان یقترض عشرۃ دنانیر مثلا و یجعل لربھا شیئا معلوما فی کل یوم ربحا اھ
الاشباہ والنظائرقنیہ اور بغیہ میں ہے کہ محتاج کےلئے سود پر قرض لینا جائز ہے اھ غمز میں فرمایا اس کی صورت یہ ہے کہ مثلا وہ دس دینار قرض لے اور قرض دہندہ کے لئے یومیہ کچھ نفع مقرر کرے اھ(ت)
اقول:محتاج کے یہ معنی جو واقعی حقیقی ضرورت قابل قبول شرع رکھتا ہو کہ نہ اس کے بغیر چارہ ہو نہ کسی طرح بے سودی روپیہ ملنے کا یارا ورنہ ہر گز جائز نہ ہوگا جیسے لوگوں میں رائج ہے کہ اولاد کی شادی کرنی چاہی سوروپے پاس ہیں ہزار روپے لگانے کو جی چاہا نوسو سودی نکلوائے یا مکان رہنے کو موجود ہے دل پکے محل کو ہوا سودی قرض لے کر بنایا یا سودوسو کی تجارت کرتے ہیں قوت اہل وعیال بقدر کفایت ملتا ہے نفس نے بڑا سودا گر بننا چاہا پانچ چھ سوسودی نکلوا کر لگا دئے یا گھر میں زیور وغیرہ موجود ہے جسے بیچ کر روپیہ حاصل کرسکتے ہیں نہ بیچا بلکہ سودی قرض لیا وعلی ہذا القیاس صدہا صورتیں ہیں کہ یہ ضرورتیں نہیں تو ان میں حکم جواز نہیں ہوسکتا اگرچہ لوگ اپنے زعم میں ضرورت سمجھیں
حوالہ / References مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی فی الکبیر،باب ماجاء فی الرباء،دار الکتاب بیروت۴ /۱۱۸
صحیح مسلم کتاب المساقات باب الربا قدیمی کتب خانہ راچی ۲ /۲۷
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۲۶
غمز عیون البصائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۲۶
#12970 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
ولہذا قوت اہل وعیال کے لئے سودی قرض لینے کی اجازت اسی وقت ہوسکتی ہے جب اس کے بغیر کوئی طریقہ بسر اوقات کا نہ ہونہ کوئی پیشہ جانتا ہونہ نوکری ملتی ہے جس کے ذریعہ سے دال روٹی اور موٹا کپڑا محتاج آدمی کی بسر کے لائق مل سکے ورنہ اس قدر پاسکتا ہے تو سودی روپے سے تجارت پھر وہی تونگری کی ہوس ہوگی نہ ضرورت قوترہا ادائے قرض کی نیت سے سودی قرض لینااگر جانتا ہے کہ اب ادا نہ ہوا تو قرضخواہ قید کرائے گا جس کے باعث بال بچوں کو نفقہ نہ پہنچ سکے گا اور ذلت وخواری علاوہ اور فی الحال اس کے سوا کوئی شکل ادا نہیں تو رخصت دی جائیگی کہ ضرورت متحقق ہولی حفظ نفس و تحصیل قوت کی ضرورت تو خود ظاہراور ذلت عــــــہ ومطعونی سے بچنا بھی ایساامر ہے جسے شرع نے بہت مہم سمجھا اور اس کےلئے بعض محظورات کو جائز فرمایامثلا شریرشاعر جو امراء کے پاس قصائد مدح لکھ کر لیجاتے ہیں کہ خاطر خواہ انعام نہ پائیں تو ہجو سنائیں انہیں اگرچہ وہ انعام لیناحرام ہے اور جس چیز کا لینا جائز نہیں دینا بھی روا نہیںپھر یہ لوگ کہ اپنی آبرو بچانے کو دیتے ہیں خاص رشوت دیتے ہیں اور رشوت صریح حرامباینہمہ شرع نے حفظ آبرو کےلئے انہیں دینا دینے والے کے حق میں روافرمایا اگرچہ لینے والے کو بدستور حرام محض ہے
فی الدرالمختار لاباس بالرشوۃ اذا خاف علی دینہ (عبارۃ المجتبی لمن یخاف)والنبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کان یعطی الشعراء ولمن یخاف لسانہ(فقد روی الخطابی فی الغریب عن عکرمۃ مرسلا قال اتی شاعر النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فقال یا بلال اقطع لسانہ عنی فاعطاہ اربعین درھما)ومن السحت مایاخذہ شاعر درمختار میں ہے کہ جب کسی کو اپنے دین کے بارے میں خوف ہو تو اس کے لئے رشوت دینے میں کوئی حرج نہیں (مجتبی کی عبارت میں ہے جسے خوف ہو)نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم شاعروں کو اور جن کی زبان درازی کاخوف ہوتا ان کو عطا فرماتے تھے(خطابی نے غریب میں حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مرسلا روایت کیا عکرمہ نے کہا کہ ایك شاعر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس آیا تو حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا اے بلال! اس کی زبان مجھ سے قطع کرو۔چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کو چالیس درہم

عــــــہ: ظاہر ہے کہ یہ ذلت پہنچے گی کہ مفلس کو مہلت دینی شرع نے واجب کی ۱۲منہ۔
#12971 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
لشعر(لانہ انما یدفع لہ عادۃ قطعا للسانہ فلو کان ممن یؤمن شرہ فالظاہر ان مایدفع لہ حلال بدلیل دفعہ علیہ السلام بردتہ للکعب لما امتدحہ بقصیدتہ المشھور ۃ تأمل ) اھ ملخصا مختلطا بردا لمحتار۔
دے دئے)حالانکہ شاعر جو کچھ شعر کی وجہ سے لیتا ہے وہ حرام ہے(کیونکہ عادتا جو کچھ اس کو دیا جاتا ہے وہ اس کی زبان درازی روکنے کے لئے ہوتا ہے چنانچہ اگر کوئی شاعر ایسا ہو جس کے شر سے امن ہو تو ظاہر یہ ہے کہ اس کو جو کچھ دیا جائے وہ حلال ہے اس پر دلیل حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنی چادر مبارك عطا فرمانا ہے جب حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کی بارگاہ اقدس میں اپنا مشہور قصیدہ پیش کیا)اھ تلخیص باختلاط ردالمحتار(ت)
اور اگراس مفلس قرضدار کی قرضخواہ کی طرف اس قسم کے اندیشے نہیں بلکہ صرف حساب آخرت پاك کرنا چاہتا ہے تو ایسی حالت میں سودی قرض لینے کی اجازت مقاصد شرع سے سخت بعید ہے قرضدار جب مفلس ہو تو شرع قرضخواہ پر واجب کرتی ہے کہ انتظارکرے اور جب تك اسے استطاعت نہ ہو مہلت دے
قال اللہ تعالی " و ان كان ذو عسرة فنظرة الى میسرة- " ۔
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:اگر قرضدار تنگدست ہو تو ا س کی کشادگی اور آسانی مہیا ہونے تك مہلت دو۔(ت)
اور قرضدار کوحکم دیتی ہے کہ حتی الامکان ادا میں کوشش کرے اور ہر وقت سچے دل سے ادا کی نیت رکھے مفلسی کو پروانہ معافی نہ ٹھہرالے کہ اب ہم سے کوئی کیا لے گاجب ایسی سچی نیت رکھے گا اور اپنی چلتی فکر ادا میں جو بروجہ شرعی ہوگئی نہ کرے گا تو اس سے زیادت شرع اسے تکلیف نہیں دیتی
قال اللہ تعالی " لا یكلف الله نفسا الا وسعها " ۔
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالی کسی نفس کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی وسعت کے مطابق۔(ت)
پھر اگر اسی حال پر مرگیا اور ادا نہ ہو سکا تو امیدقوی ہے کہ ارحم الراحمین جل جلالہ در گزر فرماکر
حوالہ / References درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۳،ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۷۲
القرآن الکریم ۲ /۲۸۰
القرآن الکریم ۲ /۲۸۶
#12972 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
قرضخواہ کے مطالبہ سے نجات بخشے گا۔ حضور اقدس سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
من اخذ اموال الناس یرید اداء ھا ادی اللہ عنہ و من اخذیرید اتلافھا اتلفہ اللہ ۔اخرجہ احمد و البخاری وابن ماجۃ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ۔
جو لوگوں کے مال بہ نیت ادالے اللہ تعالی اس کی طرف سے ادا فرمادے اور جو تلف کردینے کے ارادے سے لے اللہ تعالی اسے ہلاك کردے۔(امام احمدبخاری اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اسکی تخریج فرمائی۔ ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں:
من ادان دینا ینوی قضائہ اداہ اللہ یوم القیمۃ ۔ اخرجہ الطبرانی فی الکبیر عن میمونۃ بن الحارث رضی اللہ تعالی عنہما باسناد صحیح۔
جو کوئی دین لے کہ اسکے ادا کی نیت رکھتا ہو اللہ تعالی روز قیامت اس کی طرف سے ادا فرمادے گا(طبرانی نے معجم کبیر میں سند صحیح کے ساتھ حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہما سے اس کی تخریج فرمائی۔(ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں:
من حمل من امتی دینا ثم جھد فی قضائہ ثم مات قبل ان یقضیہ فانا ولیہ ۔رواہ احمد باسناد جید و ابو یعلی والطبرانی فی الاوسط عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اللہ تعالی عنہما ۔
میراجوامتی کسی دین کا بار اٹھائے پھر اس کے ادا میں کوشش کرے پھر بے ادا کئے مرجائے تو میں اس کا ولی وکفیل کار ہوں (اس کو امام احمد نے اسناد جید کے ساتھ اورا بویعلی اور طبرانی نے معجم اوسط میں ام المومنین سید ہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ت)
اور ایك حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
حوالہ / References α صحیح البخاری کتاب فی الاستقراض الخ باب من اخذ اموال الناس الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۱
α المعجم الکبیر حدیث ۱۰۴۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۳/ ۴۳۲ وحدیث ۷۲،۷۳ ۲۴ /۲۸
α مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اﷲعنہا دارالفکر بیروت ۶ /۷۴،۱۵۴،المعجم الاوسط للطبرانی حدیث۹۳۳۴ مکتبۃ المعارف الریاض ۱۰ /۱۵۸
#12973 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
من تداین بدین وفی نفسہ وفاؤہ ثم مات تجاوز اللہ عنہ وارضی غریمہ بماشاء ۔الحدیث۔رواہ الحاکم و بنحوہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ رضی اللہ تعالی عنہ۔ جو کسی دین کا معاملہ کرے اور دل میں اس کے ادا کا ارادہ رکھے پھر مرجائے تو اللہ تعالی اس سے درگزر فرمائے اور اس کے قرضخوا ہ کوجیسے چاہے راضی کردے الحدیث(اس کو حاکم نے روایت کیا اور اس کی مثل طبرانی نے معجم کبیر میں ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
غرض بعد نیك نیتی کے پاکی حساب کی ویسے ہی امید ہے باقی شرع مطہر سے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ ادائے قرض کےلئے کسی ناجائز طریقے سے مال حاصل کرنے کو جائز فرمایا ہواور بیشك سودی قرض لینا جائز طریقہ ہے بلکہ علماء تو یہاں تك تصریح فرماتے ہیں کہ عورت اگر مارے سے بھی نماز نہ پڑھے طلاق دے دے اگرچہ اس کا مہر دینے پر قادر نہ ہو کہ اللہ تعالی سے اس حال پر ملنا کہ اس کا مطالبہ مہر اس کی گردن پر ہو اس سے بہتر ہے کہ ایك بے نمازی عورت سے صحبت کرے
فی الغنیۃ الزوج لہ ان یضرب زوجتہ علی ترك الصلوۃ وان لم تنتہ عن ترکھا بالضرب یطلقھا ولو لم یکن قادر اعلی مھرھا ولان یلقی اللہ تعالی ومھرھا فی ذمتہ خیرلہ من ان یطأ امرأۃ لاتصلی ۔
غنیہ میں ہے کہ شوہر کو حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو نماز چھوڑنے پر مارے اور اگر مارنے کے باوجود وہ نماز چھوڑنے سے باز نہیں آتی تو طلاق دے دے اگرچہ اس کو مہر کی ادائیگی پر قدرت نہ ہو کیونکہ اللہ تعالی کو اس حال میں ملنا کہ اس کی بیوی کا مہر ا سکے ذمہ پر ہو بہتر ہے اس سے کہ ایسی عورت سے صحبت کرے جو نماز نہیں پڑھتی۔(ت)
دیکھو عورت کا نماز نہ پڑھنا اس کا کوئی گناہ نہیں جبکہ وہ اس کی ہدایت وتنبیہ کسی طرح نہیں مانتی باینہمہ اسے گوارا نہ کیا گیا اور قرضدار مرنے کو اس سے آسان سمجھاتو سودی قرض لینا کہ جو خود اس کا گناہ ہے کیونکر گوارا کیا جائے گا اور قرضدارمرنا اس کی نسبت آسان نہ ہوگ اھذاکلہ ماظہرلی وارجوان یکون صوابا ان شاء اللہ تعالی(یہ سب وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا اور میں امید کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ تعالی یہ درست ہوگا۔ت)رہی ضمانت وہ درحقیقت قرض ملنے پر اعانت ہے اگر اس محتاج کو سودی قرض لینا شرعا جائز تھا تو اصل روپے کی ضمانت میں کوئی حرج نہیں کہ جائز بات میں ایك مسلمان بھائی کی
حوالہ / References α المستدرك للحاکم کتاب البیوع باب من تداین بدین الخ دارالفکر بیروت ۲ /۳۲
α غنیۃ المستملی احکام المساجد مسائل شتی سہیل اکیڈمی لاہور ص ۶۲۱
#12974 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
مددکرتا ہے اور ناجائز تھا تو ہر گز اصل کی بھی ضمانت نہ کرے کہ یہ معصیت پر اعانت ہوگی
قال اللہ تعالی " و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪- " ۔
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:گناہ اورظلم پر تعاون مت کرو۔ واللہ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۳۲: ۱۵ ذی الحجہ ۱۳۰۶ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے کچھ روپیہ سودی نکلوایا دو شخص ضامن ہوئے اب گناہگار زیادہ کون ہے وہ شخص جس نے سود پر دیا اب تو بہ کرتا ہے اور سود کو واپس دینا چاہتا ہے تو یہ توبہ اسکی قبول ہوگی یانہیں اور وہ سود کے گناہ سے پاك ہوگا یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
بغیر سخت مجبوری کے جسے شرع بھی مجبور کہے سودی قرض لینا حرام ہےاور اسی طرح اس کے کام میں کسی طرح کی شرکت ہو باعث گناہ ہےاور حدیث صحیح میں:ھم سواء فرمایا یعنی وہ سب نفس گناہ میں برابر ہیںاور سود سے توبہ کے یہی معنی ہیں کہ جس قدر سود لیا واپس دے اور اللہ عزوجل سے آئندہ کےلئے سچے دل سے نادم ہوکر عہد کرےجو ایسا کرے گا اس کی توبہ بیشك قبول ہوگی " و هو الذی یقبل التوبة عن عباده " (وہ وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ت) اور وہ سود کے گناہ سے پاك ہوجائے گا التائب من الذنب کمن لاذنب لہ (گناہ سے توبہ کرنے والا ایسے ہے جیسے اس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو۔ت)واللہ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم۔
مسئلہ ۱۳۳تا۱۳۸: ازشاہجہان پور محلہ خلیل مرسلہ محمد اعزاز حسین خاں مہتمم مدرسہ اسلامیہ ۲۶محرم ۱۳۰۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس صورت میں کہ:
(۱)زید نے اپنی حیات میں کچھ روپیہ سود پر قرض دیا اور قبل وصول روپیہ کے زید مرگیا اب ورثا زید کو تاریخ وفات زید تك کا سود لینا جائز ہے یانہیں
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۲
صحیح مسلم کتاب المساقات باب الربا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷
القرآن الکریم ۴۲ /۲۵
سنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الشہادات دارصادربیروت ۱۰ /۱۵۴،سنن ابن ماجہ ابواب الزہد باب ذکر التوبۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۳
#12975 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
(۲)زید نے روپیہ قرض سود پر دے کر دیوانی سے مع سود ڈگری حاصل کی تھی اور حسب ضابطہ کچہری ۸ فیصدی سود تا ادائے روپیہ اور بھی ڈگری میں لکھا جاتا ہے بعد مرنے زید کے ورثاء اسکے دونوں قسم کا سود لے سکتے ہیں اور شرعا جائز ہے یانہیں
(۳)زید نے پر امیسری نوٹ خریدے تھے اور گورنمنٹ سے ساڑھے چار روپیہ فیصدی سالانہ سود لیا کرتاتھا زید مرگیا ورثاء زید کو حسب ضابطہ کچہری اول سارٹیفکیٹ وراثت لینا ضرور ہے اور بغیر اس کے ورثاء نہ سود نوٹوں کا پاسکتے ہیں اور نہ ان کو فروخت کرسکتے ہیں اور سارٹیفکیٹ لینے میں قریب تین ہزار روپیہ کے کچہری میں صرف ہوگا ورثاء زید چاہتے ہیں کہ گورنمنٹ نوٹوں تك سود لے کر سارٹیفکیٹ کے لینے میں خرچ کردیں یعنی گورنمنٹ سے لے کر پھر اسی کو واپس کردیں پس ورثاء زید تاریخ انتقال زیدتك سود نوٹوں کالے سکتے ہیں یا آئندہ کا بھی لے سکتے ہیں یا مطلق ناجائز ہے
(۴)عمرو نے پر امیسری نوٹ ایك لاکھ کے خریدے اور پر امیسری نوٹوں کا قاعدہ ہے کہ گورنمنٹ اصل روپیہ کبھی نہیں دیتی بلکہ ساڑھے چار روپیہ فی صدی سالانہ سود دیا کرتی ہے ہاں اگر مالك چاہے تو دوسرے خریداروں کے ہاتھ فروخت کرے اور نرخ نوٹوں کا بھی کم ہو تا ہے اور کبھی زیادہ جیسے آجکل سو روپیہ کا پر امیسری نوٹ ایك سو آٹھ روپیہ کو فروخت ہوتا ہے پس اگر عمرو بھی ایك لاکھ روپیہ کے پر امیسری فیصدی آٹھ روپیہ کے نفع سے فروخت کرے یا نرخ سے دو روپیہ زیادہ نفع پر بیچ ڈالے تویہ بیع درست ہے یانہیں
(۵)کسی شخص نے دو ہزار کی ڈگری کچہری سے حاصل کی جس میں ایك ہزار اصل ہے اور ایك ہزار سودوہ شخص کسی کے ہاتھ یا وارث اس کا بعوض بارہ سو کے وہ ڈگری فروخت کرڈالے تو کیسا ہے
(۶)اوپرکی صورتوں میں جو جو رقم کہ سود کی قرار دی گئی اگر اس میں سے کل یا بعض لے کر مدرسہ اسلامیہ میں دے دی جائے تو شرعا کیا اس کی حالت ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
(۱)حرام قطعی ہے
قال المولی سبحانہ وتعالی " یایها الذین امنوا اتقوا الله و ذروا ما بقی من الربوا ان كنتم مؤمنین(۲۷۸) فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب
مولا سبحانہ وتعالی نے فرمایا:اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہا ہے چھوڑ دو اگر تم مسلمان ہو پھر جو ایسا نہ کرو تو خبر دار ہوجاؤ خدا ورسول کے لڑنے سے یا اعلان کردو
#12976 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
من الله و رسوله " اللہ ورسول سے لڑائی کا۔
یہ اس بقیہ کی نسبت ارشاد ہوا جو تحریم سے پہلے کارہ گیا تھا مسلمانوں نے خیال کیا یہ تو حرمت سے پیشتر ہے اسے لے لیں آئندہ سے باز رہیں گے اس پر یہ حکم آیا صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے کہا ہم میں خدا ورسو ل سے لڑنے کی طاقت نہیںوہ بقیہ بھی چھوڑ دیا نہ کہ معاذاللہ یہ بقیہ شقیہ کے سرے سے بعد تحریم الہی کے لینا دینا ٹھہرااور اس کا لینے والا اللہ عزیز مقتدر قہار اور اس کے رسول جلیل جبار جل جلالہ و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے لڑائی کا پورا سامان کرلے اور قرآن پر ایمان رکھتا ہو تو یقین جانے کہ خد ا و رسول عزمجدہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے لڑنے والا سخت ہلاکت میں پڑنے والا ہےوالعیاذ باللہ رب العلمین (اللہ کی پناہ جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔ت)ورثہ اس چیز کے مستحق ہوتے ہیں جو مورث کی ملك اور اس کاترکہ ہو یہ سود نا مسعود نہ ملك نہ ترکہ اس کا مطالبہ کس ذریعہ سے پہنچ سکتا ہے واللہالہادی ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
(۲)کسی قسم کا نہیں لے سکتےدونوں قطعی حرام ہیںحدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:سود کے ستراور ایك حدیث میں بہتراور دوسری میں تہتر دروازے ہیںان سب میں ہلکا ایسا ہے جیسے آدمی ماں سے زنا کرے۔
الحاکم عن ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم الرباثلث وسبعون بابا ایسرھا مثل ان ینکح الرجل امہ الطبرانی فی الاوسط عن البراء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم الربا اثنان وسبعون باباادنا ھا مثل اتیان الرجل حاکم نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا کہ سود کے تہتر دروازے ہیں ان میں سے سب سے ہلکا ایسے ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں سے زنا کرے۔طبرانی نے معجم اوسط میں سیدنا براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا سود کے بہتر دروازے ہیں ان میں سے کمترین ایسے ہے جو کوئی مرد اپنی ماں سے
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۷۹۔۲۷۸
المستدرك للحاکم کتاب البیوع دارالفکر بیروت ۲ /۳۷
#12977 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
امہ ابن ماجۃ والبیہقی باسناد لاباس بہ واللفظ لہ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم الربا سبعون بابا ادناھا کالذی یقع علی امہ ۔ زنا کرے۔ابن ماجہ اور بیہقی نے ایسی اسناد کے ساتھ اس کو روایت کیا جس میں کوئی حرج نہیں اور لفظ بیہقی کے ہیں۔ سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہصلی اللہ تعالی وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سود کے ستر دروازے ہیں ان میں سے کمتر ایسا ہے جیسے کوئی مرد اپنی ماں سے زنا کرے(ت)
تو جو شخص سود کا ایك پیسہ لینا چاہے اگر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد مانتا ہے تو ذرا گریبان میں منہ ڈال کر پہلے سوچ لے کہ اس پیسہ کا نہ ملنا قبول ہے یا اپنی ماں سے ستر ستر بار زنا کرناواللہ الہادی۔
(۳)سودلیناحرام قطعی و کبیرہ و عظیمہ ہے جس کا لینا کسی طرح روا نہیں ہوسکتا ہاں مال مباح شرعی یا اپنادیا ہو احق بقدر حق بہ نیت تحصیل مباح یا وصول حق نہ بہ نیت ربا وغیرہ امور محرمہ لینا جائز ہے اگرچہ کسی عذر کے سبب کسی ناجائز نام کو اس کے حصول کا ذریعہ کیاجائے
وھذا مسألۃ جلیلۃ دقیقۃ لایتنبہ الا بتوفیق اللہ تعالی وسنفصلہا یوما ان شاء الملك العلام جل و علا۔
یہ بڑی جلالت وعظمت کا حامل دقیق مسئلہ ہے سوائے اللہ تعالی کی توفیق کے اس پر آگاہی نہیں ہوسکتیہم ان شاء اللہ تعالی کسی دن اس کو مفصل بیان کریں گے۔(ت)
(۴و۵)زائدبرابر کم کسی مقدار کو اصلا بیع نہیں کرسکتا کہ ان دونوں صورت میں حقیقۃ غیر مدیون کے ہاتھ دین کا بیچنا ہے اور وہ شرعا باطل ہے۔اشباہ میں ہے:
بیع الدین لایجوز ولو باعہ من الدین او وہبہ جاز ۔واللہ تعالی
دین کی بیع جائز نہیں اور اگر کوئی مدیون پر دین کو بیچے یا اس کو ہبہ کر دے تو جائز ہےواللہ تعالی
حوالہ / References المعجم الاوسط للطبرانی حدیث۷۱۴۷ مکتبۃ المعارف ریاض ۸ /۷۴
سنن ابن ماجہ باب التغلیظ فی الربا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۱۶۵،شعب الایمان حدیث ۵۵۲۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۳۹۴
الاشبا ہ والنظائر الفن الثالث القول فی الدین ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۱۳
#12978 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
اعلم وحکمہ سبحانہ احکم۔
اعلم وحکمہ سبحانہ احکم(ت)
(۶)جوابات سابقہ سے واضح جہاں جس طرح لینا جائز دینا جائز جہاں نہیں نہیں۔واللہ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۹:۶ جمادی الاولی ۱۳۱۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کہتا ہے یہاں ہنود سے سود لینا جائز ہے مسلمانوں سے نہیںیہ قول کیسا ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
سود لینا نہ مسلمان سے جائز نہ ہندو سے
لاطلاق قولہ تعالی " و حرم الربوا " اما یؤخذ من الحربی فی دارالحرب فمال مباح لیس بربا۔واللہ تعالی اعلم۔
اس ارشاد باری تعالی کے اطلاق کی وجہ سے کہ "اور اللہ تعالی نے سود کو حرام کردیا" لیکن جو کچھ دارالحرب میں حربی سے لیا جائے تو وہ مباح مال ہے سود نہیں۔واللہ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۴۰: مرسلہ محمد عنایت حسین سر شتہ دار سابق شفاخانہ ضلع بریلی ۳۰ربیع الثانی ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سے اگر کسی بنئے نے کوئی رقم ناجائز مثل سود وغیرہ کے لی ہو جس کے وصول کرنے پر اسے قدرت نہ تھی اور وہ نہ بہ نیت سود بلکہ اس حق کو وصول کرنے کے لئے اس کی کوٹھی میں کچھ روپیہ اتنا جمع کرے اور جو رقم ماہوار اس پر ملے اسے اپنے آتے ہوئے میں مجرا سمجھتا جائے یہاں تك کہ وہ حق پورا نکل آئےاس کے بعد اپنا روپیہ واپس لے لےاسی طرح بادشاہ یا حاکم نے کوئی محصول یا ٹیکس یا مالگزاری یا اسٹام یا جرمانہ وغیرہ اس سے یا عام رعایا سے ایسے طریقہ پر لیا ہو جو شرعا ناجائز یا حد شرع سے زیادہ ہو اور اس مقدار ناجائز تك وصول کرنے کےلئے اپنے ذاتی روپیہ یا عام مسلمانوں کے چندہ کا روپیہ شاہی بنك میں جمع کرکے حقدار مذکور اس سے نیت وصول حق کے ساتھ بے نیت سود حاصل کرےاور پہلی صورت میں اسے اپنے صرف خاص اور چندہ کی صورت میں ان مصارف مسلمین میں جن کے لئے وہ چندہ وصول کیا گیا تھا صرف کردے تو یہ شرعا جائز ہے یانہیں اور اور اسے سود لینا کہیں گے یاکیا بینواتوجروا۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
#12979 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
الجواب:
سود حرام قطعی وکبیرہ عظیمہ ہے جس کا لینا کسی حال روانہیں ہوسکتا مگر حقیقۃ سود لینا ہو یا سود لینے کی نیت کہ ایسا قصد معصیت بھی معصیت ہے اگرچہ فعل واقع میں معصیت نہ ہو جیسے شربت براہ غلط شراب سمجھ کر پینا کہ وہ حقیقۃ حلال سہی پر یہ تو اپنے نزدیك مرتکب گناہ ہوااور جہاں نہ حقیقت نہ نیت صرف نام ہی نام ہے وہ بھی بضرورتتو اسے بالبداہۃ اس معصیت سے کچھ علاقہ نہ رہا کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں۔ت)پس ریاست خواہ غیر ریاست جس شخص پر جس کا کوئی حق عام یا خاص ہو اور وہ بوجہ مجبوری قانون یا کسی وجہ سے اس طور پر وصول نہ ہوسکے مثلا تمادی عارض ہے یا مدیون منکر اور گواہ نہیں یا گواہ دئیے کچہری نہ مانی ڈسمس کردی یا کسی نے کچھ رقمیں خلاف شرع اس سے لیں اور یہ انہیں واپس لینے پر قادر نہیں جیسے بنئے نے سودقاضی نے رشوت وغیرہما اور وہ دوسرے طریقہ ناجائز شرعی کے نام سے ملتا ہو کہ اس میں ممانعت قانونی وغیر موانع نہ ہوں تو اس طریقہ ناجائزہ کے نام کو صرف اس مقدار تك جہاں تك اس کا حق ہے ذریعہ وصول بنانا جبکہ کسی امر ممنوع کی طرف منجرنہ ہو اور قصد و نیت میں اپنا حق لینا ہو نہ اس طریقہ ممنوعہ کا مرتکب ہوناشرعا جائز ہے کہ اس صورت میں نہ اس امر ناجائز کی حقیقت نہ اس کی نیت نہ قانونی ممانعت جس سے دنیوی تحفظ کیا جائے ربا وغیرہ امور محرمہ کے معانی ربا و محرمات ہیںنہ مجرد الفاظ بے معنیولہذا علماء فرماتے ہیں:
لاربابین المولی وعبدہ لان العبد ومافی یدہ ملك لمولاہ فلا یتحقق الربا وکذا لاربابین شریکی المفاوضۃ وکذا العنان کما فی الھدایۃ والدر وغیرہما من الاسفار الغر۔ مالك اور اس کے غلام کے درمیان کوئی سود نہیں ہوتا کیونکہ غلام اور جو کچھ اس کے قبضہ میں ہو وہ مالك کی ملك ہوتا ہے لہذا سود متحقق نہیں ہوتا اسی طرح شرکت مفاوضہ اور شرکت عنان کے دو شریکوں کے درمیان بھی سود نہیں ہوتا جیسا کہ ہدایہ اور درمختار وغیرہ روشن کتابوں میں ہے۔(ت)
در مختار میں ہے:
حوالہ / References الہدایۃ باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۷
درمختار کتاب البیوع باب الربا مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۳
#12980 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
الاصل ان المستحق بجہۃ اذا وصل الی المستحق بجھۃ اخری اعتبر واصلا بجھۃ مستحقہ ان وصل الیہ من المستحق علیہ ۔
قاعدہ یہ ہے کہ جو چیز ایك جہت سے مستحق ہو جب وہ شخص مستحق کو پہنچے دوسری جہت سے تو وہ جہت مستحقہ سے واصل سمجھی جائے گی بشرطیکہ وہ مستحق علیہ کی طرف سے مستحق کو پہنچی ہو(ت)
یہاں تك کہ علماء نے تحصیل مال مباح جس میں پہلے سے اس کا کوئی حق مستقر نہیں بحیلہ نام طرق ممنوعہ مثل رباوقماروغیرہماجائز رکھی بشرطیکہ وہ طریقہ صاحب مال کی رضامندی سےبرتا گیایعنی غدر سے پاك وجدا ہو
کما نصواعلیہ فی ربا المستامن و مقامرۃ الاسیر فی ردالمحتار عن السیر الکبیرو شرحہ اذادخل المسلم دار الحرب بامان فلا باس بان یاخذ منھم اموالھم بطیب انفسھم بای وجہ کان لانہ انما اخذ المباح علی وجہ عری عن الغدر فیکون طیبا لہ والاسیر و المستامن سواء حتی لو باعھم درھما بدرھمین او میتۃ بدراھم او اخذمالامنھم بطریق القمار فذلك کلہ طیب لہ اھ ملخصا۔
جیساکہ فقہاء نے مستامن کے سود اور قیدی کے جوا کے بارے میں ا س پر نص فرمائی ہےردالمحتار میں سیر کبیراور اس کی شرح کے حوالے سے مذکور ہے جب کوئی مسلمان امان لے کر دارالحرب میں داخل ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ حربیوں کا مال ان کی رضامندی سے کسی بھی طریقے سے لے کیونکہ اس نے مال مباح ایسے طریقے سے لیا جو کہ دھوکہ سے خالی ہے لہذا یہ اس کےلئے حلال ہےقیدی اور مستامن برابر ہیںیہاں تك کہ اگر کسی نے ان پر دو درہموں کے عوض ایك درہم بیچا یا کچھ درہموں کے عوض مردار بیچا یا جوئے کے ذریعے ان کا مال لے لیا تو یہ سب اس کے لئے حلال ہے اھ تلخیص۔(ت)
اور حضرت امیر المومنین امام المتقین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کا کفار مکہ سے بنام شرط باجازت حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مال حاصل فرمانا حالانکہ شرط شرعا روا نہیںدلیل واضح ہے
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۸
ردالمحتار کتاب البیوع باب الربا داراحیاء التراث العربی بیروت۴/ ۱۸۸
#12981 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
کہ نام ناجائز امر جائز کوناجائز نہیں کردیتا
کما افادہ فی الفتح وغیرہ نقلاعن المبسوط مستد لالمذھبنا فی ھذاالباب۔
جیسا کہ مبسوط سے نقل کرتے ہوئے فتح وغیرہ میں اس کا فائدہ دیا ہے اس باب میں ہمارے مذہب سے استدلال کرتے ہوئے۔(ت)
تو احیائے حق ثابت مجرد کسی اسم بے مسمی کے باعث کیونکر ممنوع ہوسکتا ہے
ھذامایعرفہ کل فقیہ والمسئلۃ مسئلۃ الظفر المنصوص علیہا فی الوھبانیۃ و القنیۃ والدروغیرہا۔
یہ وہ ہے جس کو ہر فقیہ جانتا ہے اور مسئلہ تو مسئلہ ظفر ہے جس پر وہبانیہقنیہ اور در وغیرہ میں نص کی گئی ہے(ت)
زیادت ایضاح مقام یہ ہے کہ اصل حکم حقائق پر ہے نہ کہ الفاظ پرمثلا اگر کوئی شخص زید سے اپنا آتا ہو الے اور اس کا نام ربا رکھے تو وہ ربا یا حرام نہ ہوجائے گا یا دو قسم کے قرض ہوں ایك کی قسطوں کے ساتھ دوسرے کا بھی ایك حصہ برضائے مدیون خواہ بحالت انکار بلا رضالے لیا کرے تو وہ بھی ہر گز ربا نہیں ہوسکتا اگرچہ بلفظ ربا تعبیر کرے کہ حقیقت ربا یعنی فضل خالی عن العوض مستحق بالعقد(وہ عوض جو ایسی زیادتی سے خالی ہو جس کا استحقاق بذریعہ عقد ہو۔ت)اس پر صادق نہیں ہاں اگر یہ اپنی جہالت سے اسے حقیقت ربا سمجھے اور یہی جان کراس کے لینے کا مرتکب ہو تو اگرچہ سود لینے کا اس پر گناہ نہیں کہ جو اس نے لیا وہ سود عنداللہ نہیں مگر بقصد مخالفت شرع کسی فعل کا کرنا ضرور اس کے حق میں معصیت جدا گانہ ہوگا کہ یہ تو اپنے زعم میں حکم الہی کا خلاف ہی کررہا ہےولہذا علماء فرماتے ہیں اگر دور سے کسی کپڑے کو زن اجنبیہ سمجھ کر بہ نگاہ بد اس کی طرف نظر کرے گا گنہگار ہوگا اگرچہ واقع میں وہ خالی کپڑا ہے کہ یہ تو اپنے نزدیك نافرمانی خدا پر اقدام کررہا ہےمیزان الشریعۃ الکبری کتاب البیوع باب مایجوز بیعہ ومالایجوز میں ہے:
لو نظر انسان الی ثوب موضوع فی طاق علی ظن انہ امرأۃ اجنبیۃ فانہ یحرم علیہ ۔
اگر کسی انسان نے طاق میں رکھے ہوئے کپڑے کو اجنبی عورت سمجھ کر نظر بد سے دیکھا تو یہ اس کےلئے حرام ہے(ت)
اور جب یہ دونوں نہ ہوں تو رہا نرانامتو وہ بھی جب بے ضرورت وحاجت محض بطور لہو ولعب وہزل
حوالہ / References میزان الکبرٰی کتاب البیوع باب مایجوز بیعہ ومالایجوز مصطفی البابی مصر ۲/ ۶۷
#12982 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
ہومکروہ ہونا چاہئے جیسے اپنی عورت کو ماں یا بہن کہنا کہ اس کا نام رکھنے سے نہ وہ حقیقۃ اس کی ماں بہن ہوجائے گی
" ان امهتهم الا اﻼ ولدنهم "
نہیں ہیں ان کی مائیں مگر وہ جنہوں نے ان کو جنا۔(ت)
نہ اس کی مقاربت میں ا س پر اصلا کوئی مواخذہ کہ اس کہنے سے وہ اس پر حرام نہ ہوگئی
ابوداؤد فی سننہ عن ابی تمیمۃ الھجیمی ان رجلا قال لامرأتہ یااختی فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اختك ھی فکرہ ذلك ونہی عنہ قال فی الفتح الحدیث افادکونہ لیس ظہارا حیث لم یبین فیہ حکما سوی الکراھۃ والنھی ۔
امام ابوداود نے اپنی سنن میں ابوتمیمہ ہجیمی سے روایت کیا کہ ایك مرد نے اپنی بیوی کو کہا کہ اے میری بہنتو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا یہ تیری بہن ہے آپ نے اس کی اس بات کو ناپسند جانا اور اس سے منع فرمایا۔ فتح میں کہا کہ حدیث اس قول کے ظہار نہ ہونے کا فائدہ دیتی ہے کیونکہ ا س میں ناپسند یدگی اور ممانعت کے سوا کوئی حکم بیان نہیں کیا گیا۔(ت)
ہاں صرف اتنی قباحت ہوگی کہ اس نے بے کسی ضرورت و مصلحت کے ایك جائز حلال شے کو حرام نام سے تعبیر کیا
کما قال اللہ تعالی" و انهم لیقولون منكرا من القول و زورا- " ۔
جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا:اور بیشك وہ بری بات اور جھوٹ کہتے ہیں۔(ت)
پھر اگر مصلحت ہو تو یہ قباحت بھی نہ رہے گی
کقول سیدنا ابراہیم علی نبینا الکریم وعلیہ وعلی سائر الانبیاء افضل الصلوۃ
جیسا کہ سیدتنا حضرت سارہ رضی اللہ تعالی عنہما کے بار ے میں سیدنا حضرت ابراہیم کا فرمانا
حوالہ / References القرآن الکریم ۵۸ /۲
α سنن ابوداود کتاب الطلاق باب فی الرجل یقول لامرأتہ یا اختی آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۰۱
α فتح القدیر باب الظہار مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۹۱
القرآن الکریم ۵۸ /۲
#12983 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
والتسلیم لسیدتنا سارۃ رضی اللہ تعالی عنہما انہا اختی ۔
کہ بیشك یہ میری بہن ہےہمارے نبی کریمحضرت ابراہیم اور تمام انبیاء کرام پر بہترین دور وسلام ہو۔(ت)
پھر علماء نے تو یہاں مصلحت اخذ مباح تك معتبر رکھی نہ کہ مصلحت احیائے حق وازالہ مظالم کے بالبداہۃ اس سے ازید واتم ہے اور بالفرض کوئی مصلحت نہ بھی ہو تاہم اس مال کے حل و طیب میں اصلا شك نہیں
کما علمت وقد انتظمہ اطلاق قولھم لاربابین المولی وعبدہ ولا بین شریکی المفاوضۃ والعنان کما لا یخفی۔
جیسا کہ تو جان چکا ہےاور تحقیق فقہاء کے اس قول کا اطلاق اس کو شامل ہے کہ مالك و غلام کے درمیان اور مفاوضہ و عنان کے دو شریکوں کے درمیان کوئی سود نہیں جیساکہ پوشیدہ نہیں۔(ت)
اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ اس مسئلہ میں ماخوذ منہ کاکافر حربی خواہ محل اخذ کادارالحرب ہونا ضرور نہیں کما تشھد بہ مسائل المولی والشرکاء(جیسا کہ مالك اور شریکوں کے مسئلے اس پر گواہ ہیں۔ت)صرف انتفائے حقیقت و قصد ربادرکار ہے کہ اس کے بعد نہ عنداللہ ارتکاب حرام نہ اپنے زعم میں مخالفت شرع پر اقدامعلماء نے کہ مسئلہ حربی میں قید دارالحرب ذکر فرمائی اس کا منشاء اخراج مستامن ہے کہ اس کا مال مباح نہ رہا۔ردالمحتار میں ہے:
قولہ ثم ای فی دارالحرب قید بہ لانہ دخل دار نا بامان فباع منہ مسلم درھما بدرھمین لایجوز اتفاقا ط عن المسکین ۔
ماتن کا قول"وہاں یعنی دارالحربیہ قید اس لئے کہ اگر کوئی حربی ہمارے ملك میں امان لے کر داخل ہوا پھر کسی مسلمان نے اس کے ہاتھ ایك درہم دو درہموں کے عوض فروخت کیا تو بالاتفاق ناجائز ہے ط نے مسکین سے نقل کیا۔ (ت)
ہدایہ میں ہے:
لاربا بین المسلم والحربی فی دارالحرب بخلاف المستامن منھم لان مالہ
مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں کوئی سود نہیں بخلاف حربی مستامن کے کیونکہ
حوالہ / References الدر المنثور بحولہ ابویعلی عن ابی سعید تحت آیہ بل فعلہ کبیرھم منشورات مکتبہ آیۃ العظمی قم ایران ۴/ ۳۲۱
ردالمحتار کتاب البیوع باب الربا داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۸
#12984 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
صار محظورا بعقد الامان اھ ملخصا۔
عقد امان کی وجہ سے اس کا مال ممنوع ہوگیا اھ تلخیص(ت)
فتح القدیر میں مبسوط سے ہے:
اطلاق النصوص فی المال المحظور وانما یحرم علی المسلم اذاکان بطریق الغدر فاذالم یاخذ غدر فبای طریق اخذہ حل بعد کونہ برضابخلاف المستامن منھم عندنا لان مالہ صار محظورابالامان فاذا اخذہ بغیرالطریق المشروعۃ یکون غدرا ۔
نصوص کااطلاق ممنوع مال میں ہے حربی کا مال مسلمان پر صرف اس صورت میں حرام ہوتا ہے جب وہ دھوکے سے لےچنانچہ جب اس نے دھوکہ کے بغیر لیا چاہے جس طریقے سے لیا ہو تو اس کےلئے حلال ہے بشرطیکہ اس حربی کی رضامندی سے لیا ہو بخلاف حربی مستأمن کے دارالاسلام میں کیونکہ اس کا مال امان کی وجہ سے ممنوع ہوگیا لہذا ا سکو اگر جائز طریقے کے علاوہ لیا ہو تو دھوکہ ہوگا۔(ت)
بالجملہ حقیقت ربا اموال محظورہ میں متحقق ہوتی ہے کما سمعت انفا(جیسا کہ تونے ابھی سنا ہے۔ت)اور مال اصحاب دیون و مظالم بقدر دیون و مظالم محظور اگر جنس حق سے ہو جیسا کہ اکثر صور مستفسرہ میں ہے تو بالاجماع ورنہ علی المفتی بہ لفساد الزمان
درمختار میں ہے:
لیس لذی الحق ان یاخذ غیر جنس حقہ وجوزہ الشافعی وھو الاوسع ۔
صاحب حق کےلئے روا نہیں کہ اپنے حق کی جنس کا غیر لے جبکہ امام شافعی رحمۃ تعالی علیہ نے اس کو جائز قرار دیا اور اس میں زیادہ وسعت ہے(ت)
ردالمحتا رمیں ہے:
قولہ وجوزہ الشافعی قدمنافی کتاب الحجر ان عدم الجواز کان فی زمانھم اما الیوم فالفتوی علی الجواز اھ وفیہ من کتاب الحجر
ماتن کا قول کہ"امام شافعی نے اس کو جائز قرار دیا"ہم اس کو کتاب الحجر میں بیان کرچکے ہیں کہ عدم جوازانکے زمانے میں تھالیکن آج کل فتوی جواز پر ہے اھاور اسی میں کتاب الحجر
حوالہ / References الہدایہ کتاب البیوع باب الربا مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۷
فتح القدیر باب الربا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۷۸
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵۳
ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۷۱
#12985 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
عن العلامۃ الحموی عن العلامۃ المقدسی عن جدہ الجمال الاشقر عن الامام الاخصب انہ قال فی شرح القدوری ان عدم جواز الاخذ من خلاف الجنس کان فی زمانھم لمطاوعتھم فی الحقوق والفتوی الیوم علی جواز الاخذ عند القدرۃ من ای مال کان لاسیما فی دیارنا لمداومتہم العقوق اھ۔
میں علامہ حموی سے منقول ہے انہوں نے علامہ مقدسی سے انہوں نے اپنے دادا جمال اشقر سے انہوں نے امام اخصب سے نقل کیا انہوں نے شرح قدوری میں کہا کہ تحقیق غیر جنس سے حق لینے کا عدم جواز ان کے زمانے میں تھا حقوق میں ان کی پاسداری کی وجہ سے جبکہ آج کل فتوی جواز پر ہے جب کسی بھی مال سے لینے پر قادر ہو خصوصا ہمارے شہروں میں بسبب ان کی دائمی نافرمانی کے اھ(ت)
تنویر الابصار میں ہے:
من لہ حظ فی بیت المال ظفر بما وجد لبیت المال فلہ اخذہ دیانۃ ۔
جس کا بیت المال میں حق ہو اور اس نے بیت المال کا مال پایا دیانت کے اعتبار سے اس کو لینا جائز ہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
وللمودع صرف ودیعۃ مات ربھا ولاوارث لنفسہ او غیرہ من المصارف ۔ جس کے پاس ودیعت رکھی گئی ہے وہ ودیعت کو اپنی ذات یا دیگر مصارف میں صرفکرسکتا ہے جبکہ ودیعت رکھنے والا فوت ہوگیا ہو اور اس کا کوئی وارث نہ ہو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
عن شرح الوھبانیۃ عن البزازیۃ عن الامام الحلوانی لانہ لواعطاھا لبیت المال لضاع لانھم
شرح وہبانیہ میں بحوالہ بزازیہ امام حلوانی سے منقول ہے اس لئے کہ اگر اس نے ودیعت بیت المال کو دے دی تو وہ ضائع ہوجائیگی
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۹۵
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب مسائل شتی مجتبائی دہلی ۲/ ۳۴۳
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الزکوٰۃ باب العشر مجتبائی دہلی ۱/ ۱۴۰
#12986 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
لایصرفون مصارفہ فاذا کان من اھلہ صرفہ الی نفسہ وان لم یکن من المصارف صرفہ الی المصرف اھ۔
کیونکہ بیت المال والے مصارف میں خرچ نہیں کرتے لہذا اگر وہ خود مصارف میں سے ہے تو اپنی ذات پر صرف کرے اور اگر وہ خود مصارف میں سے نہیں ہے تو کسی اور مصرف میں خرچ کرے اھ(ت)
ان تقریروں سے خوب روشن ہوگیا کہ حاش ﷲ ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے ہر گز کسی صورت ربا کو حلال نہ ٹھہرایا یہ غیرمقلدوں کا محض افتراء ہے بلکہ ان مواقع میں کہ حکم جواز ہے وجہ یہ کہ وہ ربا ہی نہیں اپنا حق یا کوئی مال مباح ایك ذریعہ جائزہ سے حاصل کرنا ہے اگرچہ بضرورت و مصلحت اس شخص نے اسے کسی لفظ سے تعبیر کیا ہوولہذا علماء ان مسائل میں لاربا(کوئی سود نہیں۔ت)فرماتے ہیں نہ لا یحل الربا(سود حلال ہے۔ت)والعیاذ باللہ تعالی۔
تنبیہ:اگرچہ ہمارے کلام سابق سے متبین ہوا کہ مسلم و حربی میں دارالحرب میں نفی ربا بربنائے انتفائے عصمت ووجود اباحت ہے نہ بربنائے انتفائے شرف دار مگر ہم تتمیم فائدہ کو ا س مطلب کی مزید تو ضیح کرتے ہیں فاقول: وباللہ التوفیق(پس میں کہتا ہوں اوراللہ تعالی ہی سے توفیق ہے۔ت)اگر اس سے یہ مقصود کہ تحریم محرمات بوجہ شرف دار تھی دارالحرب میں کہ یہ شرف مفقودحرمت مفقودولہذا وہاں غصب وربا حلال وموجب ملك ہے تو بداہۃ باطلاحکام الہیہ دار دون دار(ایك ملك سوائے دوسرے ملك کے۔ت)پر موقوف نہیںنہ اختلاف زمین کسی حرام شیئ کو حلال کرسکتا ہے
فان العباد ﷲ والبلاد ﷲ والحکم ﷲ والملك ﷲ " تبرك الذی نزل الفرقان على عبده لیكون للعلمین نذیر ﰳا (۱) " وقال اللہ تعالی " و حیث ما كنتم فولوا وجوهكم کیونکہ تمام بندے اور شہر اللہ تعالی کے ہیںحکم اور بادشاہی اللہ تعالی کی ہےبرکت والا وہ ہے جس نے حق و باطل میں فرق کرنیوالی کتاب اپنے بندے پر نازل فرمائی تاکہ وہ تمام جہانوں کے لئے ڈرسنانے والا ہوجائےاور اللہ تعالی نے فرمایا:اور جہاں کہیں تم ہو اپنے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الزکوۃ باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۵۶
القرآن الکریم ۲۵ /۱
#12987 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
شطره- " " و اقتلوهم حیث ثقفتموهم " وقال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جعلت لی الارض مسجد او طہور افا یمارجل من امتی ادرکتہ الصلاۃ فلیصل ۔
چہروں کو مسجد حرام کی طرف پھیرلو۔اور اللہ تعالی نے فرمایا:ان کو قتل کرو جہاں کہیں ان کو پاؤ۔اور رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ میرے لئے زمین کو مسجد اور پاك کرنیوالی بنادیا گیا ہے چنانچہ میری امت کے کسی شخص پر جب نماز کاوقت ہوجائے تو نماز پڑھے(جہاں بھی ہو)۔(ت)
یہاں تك کہ مذہب معتمد میں کفار خود بھی مخاطب بالفروع ہیں
حتی العبادات اداء واعتقادا فیعذبون علی ترك الاداء ایضالقولہ تعالی قالوالم نك من المصلین الی قولہ تعالی وکنا نکذب بیوم الدین ۔
یہاں تك کہ عبادات کی ادائیگی اور اعتقاد کے اعتبار سے چنانچہ ادائیگی چھوڑنے پر بھی ان کو عذاب دیا جائے گا بدلیل اللہ تعالی کے اس ارشاد کے کہ وہ کفار کہیں گے ہم نمازی نہیں تھے(اس لئے عذاب میں مبتلا ہیں)اللہ تعالی کے ارشاد" اور ہم قیامت کے دن کو جھٹلاتے تھے"تک(ت)
آخر دارالحرب میں غدر بالاجماع حرام یونہی زنا لعدم جریان الاباحۃ فی الابضاع(کیونکہ شرمگاہوں میں اباحت جاری نہیں ہوتی۔ت)فتح میں مبسوط سے بعد عبارت مذکورہ منقول
وبخلاف الزنا ان قیس علی الربا لان البضع لا یستباح بالاباحۃ بل بالطریق الخاص اما المال فیباح بطیب النفس بہ واباحتہ ۔ بخلاف زنا کے اگر اس کو سود پر قیاس کیا جائے کیونکہ فرج (شرمگاہ)اباحت سے مباح نہیں ہوتی بلکہ خاص طریقے (نکاح)سےرہا مال تو وہ خوشدلی سے دینے کے سبب سے اور اباحت سے مباح ہوجاتا ہے(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۱۴۴
القرآن الکریم ۲ /۱۹۱ و ۴ /۹۱
السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الصلوٰۃ باب اینما ادرکتك الصلوٰۃ دارصادر بیروت ۲/ ۴۳۳
القرآن الکریم ۷۴ /۴۳ تا ۴۶
فتح القدیر باب الربا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۷۸
#12988 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
ولہذا مسلم مستامن سے عقد ربا قطعا حرام اگرچہ شرف دار منتفی ہے لوجود العصمۃ(عصمت کے پائے جانے کی وجہ سے۔ت) اور مسلم غیر مہاجر سے حلال لانعدام العصمۃ(عصمت کے معدوم ہونے کی وجہ سے۔ت)درمختار میں ہے:
وحکم من اسلم فی دار الحرب ولم یھاجر کحربی فللمسلم الربو معہ خلافا لھما لان مالہ غیر معصوم فلو ھا جرالینا ثم عاد الیہم فلا ربا اتفاقاجوھرۃ ۔
جو شخض دارالحرب میں اسلام لایا اور ہجرت نہ کی اس کا حکم حربی والا ہے یعنی مسلمان اس سے سود لے سکتا ہے بخلاف صاحبین کےکیونکہ اس کا مال معصوم نہیںاگر وہ ہجرت کرکے ہماری طرف یعنی دارالاسلام میں آگیا پھر ان کی طرف یعنی دارالحرب میں لوٹ گیا تو اب بالاتفاق سودنہیں(یعنی سود جائزنہیں)جوہرہ (ت)
تو ہر زمین و بقعہ بالیقین محل جریان احکام الہیہ جل وعلا ہے ہاں احکام قضا دارالحرب بلکہ دار البغی میں بھی بسبب انقطاع ولایت نافذ نہیں ان کے عدم سے حلت وحرمت فی نفسہا مختلف نہیں ہوسکتیو لہذا علماء نے جہاں حکم قضا کی نفی فرمائی اس کے ساتھ ہی حکم دیانت کا اثبات فرمایا
فی الدر ادانہ حربی او بعکسہ او غصب احدھما صاحبہ و خرجا الینا لم نقض لاحد بشیئ ویفتی المسلم برد المغصوب دیانۃ لاقضاء لانہ غدروکذا الحکم فی حربیین فعلا ذلك ثم استامنا لما بینا اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے:حربی نے مستامن کو مدیون کیا یا اس کے برعکس یعنی مسلمان مستامن نے حربی کو مدیون کیا یا ان میں سے ایك نے دوسرے کا مال غصب کیا اور دونوں ہماری طرف یعنی دارالاسلام میں نکل آئے تو ہم ان میں سے کسی کیلئے کسی شے کا حکم نہیں کرینگے اور مسلمان کو رد مغصوب کا فتوی دیا جائیگا دیانت کے اعتبار سے نہ کہ قضا ء کے اعتبار سےکیونکہ دین کی عدم ادائیگی دھوکہ ہےاور یہی حکم ان دو حربیوں کا ہے جنہوں نے فعل مذکور کیا پھر(دارالاسلام میں داخل ہوکر)مستامن ہوگئے اسی دلیل کی وجہ سے جس کو ہم نے بیان کیا اھ تلخیص(ت)
تبیین الحقائق میں ہے:
لان القضاء یستدعی الولایۃ ویعتمدھا
کیونکہ قضاء ولایت کا تقاضا کرتی ہے اوراس پر
حوالہ / References درمختار باب الربا مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۳
درمختار باب المستامن مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۳۴۶
#12989 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
ولاولایۃ وقت الادانۃ اصلا اذ لا قدرۃ للقاضی فیہ علی من ھو فی دارالحرب الخ۔
اعتماد کرتی ہے جبکہ ادانت(مدیون بناتے)وقت کی ولایت تو یہاں بالکل نہیں کیونکہ اس میں قاضی کو اس شخص پر قدرت نہیں جو دارالحرب میں ہے الخ(ت)
پس ثابت ہوا کہ کوئی حرام بوجہ انتفائے شرف دار حلال نہیں ہوسکتا اور دارالحرب میں کسی شے کی حلت فی نفسہ اس کی حلت ہے کہ باختلاف دارمختلف نہ ہوگیرہا وہاں امور مذکورہ کا حلال ہونا وہ ہر گز اس بناء پر نہیں کہ یہ محرمات وہاں حلال ہیں بلکہ وجہ یہ کہ ان محرمات کی حقیقت عصمت و محظوریت پر مبنی کما نص علیہ فی المبسوط کما تقدم(جیسا کہ اس پر مبسوط میں نص کی گئی ہے جیسے گزر چکا ہے۔ت)اور وہ وہاں معدوم تو حقیقۃ ان کی حقیقت ہی ان صورتوں میں منتفی اگرچہ مجرد صورت و اسم باقی ہو اور حکم حقیقت پر ہے نہ کہ اسم و صورت پر کما لایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)اور اگر یہ مقصود کہ امور مذکورہ اگرچہ حقیقۃ محرمات نہیں مگر دارالاسلام میں بوجہ شرف دار ان کا صرف نام و صورت ہی حرامتاہم بالیقین باطل کہ بداہۃ مدار احکام حقائق ہیں نہ کہ اسم بے مسمیورنہ معاملہ مولی وعبدوشرکاء مفاوضہ وشرکاء عنان کہ اسم مجردوہاں بھی موجودہر گز جائز نہ ہوتانہ مسئلہ ظفر بالحق میں اخذ بالجبر و اخذ خفیۃ کی اجات ہوتی کہ صورت غصب و سرقہ یقینا ہے گو حقیقت بوجہ عدم محظوریت منتفی صورت سرقہ کا جواز تو عبارات سابقہ میں گزرا اور صورت غصب کی حلت یہ ہے:
قال فی الدر وحیلۃ الجوازان یعطی مدیونہ الفقیر زکاتہ ثم یاخذھا عن دینہ ولو امتنع المدیون مدیدہ واخذھالکونہ ظفر بجنس حقہ ۔
درمیں کہا جواز کا حیلہ یہ ہے کہ دائن اپنے فقیر مدیون کو اپنی زکوۃ دے پھر دین کے عوض اس سے وہی دی ہوئی زکوۃ لے لے اگر مدیون رکاوٹ ڈالے تو اسکا ہاتھ پکڑے اور جبرا لے لے کیونکہ یہ اپنے حق کی جنس وصول کرنے پر کامیابی ہے۔ (ت)
وبالجملہ یہ دونوں مقدمے کہ دار الحرب حرام کوحلال نہیں کرتی اور دارالاسلام کسی ایسے اسم بے مسمی کو حرام نہیں فرماتی تصریحات بے شمار سے واضح آشکارتو مانحن فیہ میں تفرقہ بین دار ودار کی طرف کوئی سبیل نہیں۔یونہی صورت غصب و سرقہ و نام عقد فاسد سے فرق ناممکن کہ اگرمجرد العلم و صورت محرم ہو توغصب و سرقہ کیوں محرم نہ ہوئے اور نہ ہو تو نام عقد فاسد کیوں حرام کرنے لگا بلکہ غصب وسرقہ تو عقد فاسد سے اشد و اخبث ہیں کہ یہ بعد
حوالہ / References تبیین الحقائق باب المستامن المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۳/ ۲۶۶
درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۰
#12990 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
قبض مفید ملك ہوجاتے ہیں اگرچہ بروجہ خبیثاور وہ اصلا مورث ملك نہیںھذاماعندی والعلم بالحق عند ربی(یہ وہ ہے جو میرے پاس ہے اور حق کا علم میرے پروردگار کے پاس ہے۔ت)واللہ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۴۱: ازشہرکہنہ ۲۹ربیع الاول شریف ۱۳۱۳ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے کچھ روپے بکر سے مدت معینہ پر قرض لئے اور وقت روپیہ لینے کے کچھ ذکر سود وغیرہ کا نہ ہوا بلکہ زید نے صاف کہہ دیا کہ بلا سود ی لیتا ہوں اور وقت دینے روپے کے کچھ اور روپے بدلے اس کے احسان کے زیادہ کردئیےتو یہ روپے جو زیادہ دئیے یہ سود میں داخل ہیں یا طریقہ سنت کا ہے یا مستحب ہےبینواتوجروا۔
الجواب:
جبکہ زیادہ دینا نہ لفظا موعود نہ عادۃ معہودتو معنی ربا یقینا مفقود خصوصا جبکہ خود لفظوں میں نفی ربا کا ذکر موجودبلکہ یہ صرف ایك نوع احسان و کرم و مروت ہے اور بیشك مستحب وثابت بہ سنت
لحدیث صحیح البخاری وصحیح مسلم وعن جابر بن عبداللہانصاری رضی اللہ تعالی عنہما قال اتیت النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وکان لی علیہ دین فقضانی وزادنی (ملخصا)ولحدیثہما عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال کان لرجل علی النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سن من الابل فجاءہ یتقاضاہ فقال اعطوہ فطلبوا سنہ فلم یجد وا لہ الاسنا فوقھا
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی حدیث کی وجہ سے کہ سیدنا حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا میراآپ پر کچھ قرض تھا آپ نے وہ ادا فرمادیا اور کچھ زیادہ بھی مجھے عنایت فرمایا۔اور ان دونوں کی اس حدیث کی وجہ سے کہ سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ ایك شخص کا نبی اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایك عمر کا اونٹ قرض تھا وہ شخص خدمت اقدس میں آیا اور قرض کا تقاضا کرنے لگاحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ اس کو اونٹ دے دو
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الاستقراض باب حسن القضاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۲
#12991 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
فقال اعطوہ فقال او فیتنی او فاك اللہ فقال النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان خیارکم احسنکم قضاء و لحدیث قولہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لوزان زن و ارجح رواہ احمد والاربعۃ وابن حبان والحاکم عن سویدبن قیس العبدی رضی اللہ تعالی عنہ قال الترمذی حسن صحیح وقال الحاکم صحیح وھذا الوزان فی مکۃ و رواہ الطبرانی فی الاوسط وابویعلی فی المسند وابن عساکر عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ وھذالوزان فی المدینۃ۔
تلاش کرنے پر اس کے اونٹ جیسا اونٹ نہ ملا مگر اس سے بہترعمر کا اونٹ ملاتو آپ نے فرمایا کہ یہی اونٹ اس شخص کو دے دواس شخص نے کہا آپ نے مجھے بھر پور عطا فرمایا اللہ تعالی آپ کو بھر پور عطا فرمائے۔حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے جو فرض کی ادائیگی میں تم سے بہترہے۔ اور اس حدیث کی وجہ سے جس میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے وزن کرنیوالے سے فرمایا کہ وزن کر اور ترازو کو جھکا (یعنی قدرے زیادہ دے)اس کو امام احمدسنن اربعہابن حبان اور حاکم نے سویدبن قیس عبدی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاامام ترمذی نے کہا یہ حسن صحیح ہے۔امام حاکم نے کہا یہ صحیح ہے اور یہ وزن کرنے والا مکہ مکرمہ میں تھااور اس کو طبرانی نے معجم اوسط میںابویعلی نے مسند میں اور ابن عساکر نے حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا اور یہ وزن کرنے والا مدینہ منور ہ میں تھا۔(ت)
مگر محل اس کا وہاں ہے کہ یا تو وہ زیادت قابل تقسیم نہ ہو مثلا ساڑھے نوروپے آتے تھے دس پورے دئیے کہ اب بقدر نصف روپے کی زیادتی ہے اور ایك روپیہ دو پارہ کرنے کے لائق نہیں یا قابل تقسیم ہو تو جدا کرکے دےمثلا دس آتے تھے وہ دے کر ایك روپیہ احسانا الگ دیا ان صورتوں میں وہ زیادتی بکر کے لئے حلال ہوجائے گیاور اگر قابل تقسیم تھی اور یوں ہی مخلوط و مشاع دی مثلا دس آتے تھے گیارہ یکمشت دئیے دس آتے میں اور ایك احسانا تو نہ ہبہ صحیح ہوگا نہ بکر اس زیادت کامالک۔ عالمگیری میں ہے:
رجل دفع الی رجل تسعۃ دراہم وقال
ایك مرد نے دوسرے کو نودرہم دئیے اور کہا
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الاستقراض باب حسن القضاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۲
مسند امام احمد بن حنبل حدیث سوید بن قیس رضی اﷲ عنہ دارالفکر بیروت ۴ /۳۵۲،جامع الترمذی ابواب البیوع ۱/ ۱۵۶ والمستدرك کتاب البیوع ۲ /۳۰
المعجم الاوسط حدیث۶۵۹۰ المکتبۃ المعارف الریاض ۷ /۳۰۷
#12992 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
ثلثۃ قضاء من حقك وثلثۃ ہبۃ لك وثلثۃ صدقۃ فضاع الکل یضمن ثلثۃ الہبۃ لانھا ہبۃ فاسدۃ ولایضمن ثلثۃ الصدقۃ لان صدقۃ المشاع جائزۃ الا فی روایۃ کذا فی محیط السرخسی ۔واللہ تعالی اعلم۔
تین تیرے حق کی ادائیگی ہیں تین تیرے لئے ہبہ اور تین صدقہ ہیںپھر سب ضائع ہوگئے تو ہبہ کے تین درہموں کا وہ ضامن ہوگا کیونکہ یہ فاسد ہبہ ہے اور صدقہ کے تین درہموں کا ضامن نہیں ہوگا کیونکہ صدقہ مشاع جائز ہے سوائے ایك روایت کےمحیط سرخسی میں یونہی ہے واللہ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ۱۴۲ تا۱۴۴: ازموضع دیورنیاں
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱)سود دینا مسلمان کو درست ہے یانہیں
(۲)ہنود سے سود لینا درست ہے یانہیں
(۳)دستاویز میں سود تحریر کرانا اگرچہ اس کے لئے نیت نہ ہو جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب
(۱)ہر گزدرست نہیں مگر جب کوئی خاص ضرورت شدیدہ ہو جسے شرع بھی ضرورت مانے اور بغیر سود دئیے چارہ نہ ہو۔واللہ تعالی اعلم۔
(۲)ہندو مسلمان کسی سے درست نہیں۔واللہ تعالی اعلم
(۳)نادرست کہ جھوٹی تہمت گناہ اپنے اوپر لگانی ہے۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۴۵: از شہر کہنہ ۲۹جمادی اولی ۱۳۱۴ھ
ایك موضع کے اسامیان کو کچھ غلہ بغرض تخم ریزی کے دیا گیا اور اس غلہ کا بہ نرخ بازار روپیہ اسامی کے ذمہ قائم کردیا گیا مگر اس وقت میں اسامی سے یہ امر طے نہ کیا گیا کہ کس نرخ سے بحساب فی روپیہ غلہ جو آئندہ پیدا ہوگا وہ اس اسامی سے لیا جائیگافصل پر وہ غلہ یعنی ساٹھی سترہ سیر کی فروخت ہوئی اور اب تیرہ سیر کی فروخت ہوتی ہے اور اسامی سے فصل پر بحساب ۲۵سیر فی روپیہ ساٹھی لی گئیآیا یہ کارروائی جائز ہوئی یا ناجائز اگر ناجائز ہے تو کیا طریقہ برتا جائے اور کس نرخ
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الہبۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۹
#12993 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
سے غلہ لیا جائے کہ وہ جائز ہو بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر اس وقت کوئی ناجائز عقد نہ ہوا تھانہ بعد کوکسی جبر وتعدی سے آسامی نے دیا بلکہ بخوشی سترہ سیر کے حساب سے غلہ ان روپوں کا دے دیا تو لینا جائز ہے ورنہ حرام۔واللہ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ۱۴۶ : ۸ رمضان المعظم ۱۳۱۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو روپیہ کفار کے خزانہ میں جمع کیاجائے اس کا سود لینا جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
سود لینا قطعا حرام ہےاللہ عزوجل نے مطلقا فرمایا:
"و احل الله البیع و حرم الربوا- "
اللہ نے حلال کی بیع اور حرام کیا سود۔
اس میں رب العزت جل جلالہ نے کوئی تخصیص نہ فرمائی کہ فلاں سے سود لینا حرام اور فلاں سے حلال ہے بلکہ مطلقا حرام فرمایااور وہ مطلقا ہی حرام ہے کافر سے ہو خواہ مسلم سے۔ہاں اپنا کسی پر آتا ہوا یا اور کوئی مال جائزشرعی کسی حیلہ شرعیہ سے حاصل کرنا دوسری بات ہے والتفصیل فی فتاونا(اور تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔ت)واللہ سبحانہ و تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۴۷: ازمارہرہ ضلع ایٹہ مرسلہ حضرت سید ارتضا حسین صاحب ۱۴رجب ۱۳۱۶ھ
بنك سے سود لینا جائز یا ناجائز زیادہ نیاز
الجواب:
سود لینا مطلقا حرام ہےقال اللہ تعالی" وحرم الربوا " (اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:اور اللہ تعالی نے سود کو حرام کیا۔ ت)واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۴۸: ۸/جمادی الاولی ۱۳۱۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے عہ ۱۰ روپے کا مال اپنے روپیہ سے عمرو کو دلوادیا اور کہا کہ میں تم سے لہ عہ۱۱/ لوں گا اس میں نفع جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
#12994 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
الجواب:
نراسود اور حرام ہےواللہ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۹: ازاوجین مرسلہ حاجی محمد یعقوب علی خان صاحب ۲۴/شعبان ۱۳۱۵ھ
جب جنس و قدر دونوں پائے جائیں تو امام اعظم کے نزدیك نسیہ و فضل دونوں حرام ہیں تو اگر کوئی ایك من گیہوں ایك من گیہوں سے دست بدست بیچے تو اس تجارت میں بائع و مشتری کو کیا فائدہ ہوا اور اس سے یہ بھی پایا گیا کہ کسی کو گیہوں یا جو یا جوار یا چنا وغیرہ کی ضرورت پڑی اور ا س نے اس سے کہا کہ مجھ کو ایك من گیہوں وغیرہ بطریق ادھار دے دے میں تجھ کو چند روز میں دے دوں گا تو یہ بھی سود میں داخل ہوگیا اور یہ ضرورت ہر کس و ناکس کو پیش آتی ہے اس مسئلہ میں جو حکم تحقیق ہو بیان فرمائیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
قرض تو ایك دوسرا عقد ہے بیع کے سوا جسے شرع مطہر نے حاجات ناس کے لئے جائز فرمایا غلہ کیابڑا قرض تو روپے کا ہوتا ہے روپیہ خود اموال ربویہ سے ہے کہ روپے کے عوض روپیہ یا چاندی ہو تو قدر و جنس دونوں موجود اور فضل و نسیہ دونوں حرام مگر روپیہ قرض لینا جائز ہی ہے اور خود غلہ قرض لینا صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ثابت ہے اور رب العزت جل وعلا فرماتا ہے:
" یایها الذین امنوا اذا تداینتم بدین الى اجل مسمى فاكتبوه-" الآیۃ۔
اے ایمان والو! جب تم ایك مقررہ مدت تك کسی دین کا لین دین کرو تو اس کو لکھ لیا کرو۔(ت)
اور اموال ربویہ میں شرع مطہر نے وصف کا اعتبار ساقط فرمایا ہے ولہذا ان کا جید و ردی یکساں ہے اور اختلاف اوصاف اختلاف اغراض وحاجات ناس کا باعث ہوسکتا ہے مثلا ایك قسم کی چیز زید کو مطلوب ہے اس کے پاس اس قسم کی نہیں دوسری قسم کی ہے اور اس قسم کی شیئ عمرو کے پاس ہے اسے اس قسم کی مطلوب ہے جو زید کے پاس ہے تو باہم دست بدست یکساں برابر مبادلہ کرکے ہر ایك اپنے مطلوب کو پہنچ سکتا ہے معہذا یہ صورت بھی ہے کہ مثلا زید کے منہ سے قسم نکل گئی کہ یہ گیہوں جو اپنے پاس ہیں نہ کھائے گا اب اگر وہ ان گیہوں کو عمرو کے گندم سے دست بدست برابر بدل لے
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۸۲
#12995 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
تو قسم بھی پوری ہوگی اور کوئی حرج بھی لازم نہ آئے گا۔علاوہ بریں شرع نے دست بدست برابر بیع کرنا واجب تو نہ کیا یہ فرمایا ہے کہ اگر ان چیزوں کی باہم بیع کرنی ہو تو یوں کرو جسے نہ کرنی ہو نہ کرے کوئی شرعی ایجاب تو نہیں۔واللہ سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۱۵۰: ازلاہورمسجد بیگم شاہی مرسلہ مولوی احمد الدین صاحب یکم ذی القعدہ ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ اس ملك میں اہل ہنود سے بیاج لیناجائز ہے یانہیں بعض کہتے ہیں کہ نصاری سے بوجہ اہل کتاب ہونے کے بیاج لینا نادرست ہےایسے خیال والوں کے پیچھے نماز پڑھنی درست ہے یا نہیں
الجواب:
سود مطلقطا حرام ہے
قال اللہ تعالی " وحرم الربوا " ۔ اللہ تعالی نے فرمایا:اور اللہ تعالی نے سود کو حرام کیا۔ (ت)
ہاں جو مال غیر مسلم سےکہ نہ ذمی ہو نہ مستامن بغیر اپنی طرف سے کسی غدر اور بدعہدی کے ملے اگرچہ عقود فاسدہ کے نام سے اسے اسی نیت سے نہ بہ نیت ربا وغیرہ محرمات سے لینا جائز ہے اگرچہ وہ دینے والا کچھ کہے یا سمجھے کہ ا سکے لئے اس کی نیت بہتر ہے نہ کہ دوسرے کیلکل امرئ ما نوی (ہرشخص کےلئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ت)پھر بھی جس طرح برے کام سے بچنا ضرور ہے برے نام سے بچنا بھی مناسب ہے ایاك وبالسوء الظن(بدگمانی سے بچ۔ت)ان تمام احکام میں مشرك ومجوسی و کتابی سب برابر ہیں جبکہ نہ ذمی و مستامن ہوں نہ غدر کیا جائے بلکہ یہی شرط کافی ہے کہ ان دونوں کو بھی حاوی ہےواللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۱: ازقصبہ حسن پور ضلع مراد آباد مرسلہ محمد شیر علی خان مورخہ ۷ ذوالحجہ ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین بدیں امر کہ ہر دو فریق کہ باہمی رضامندی پر سود(بیاج)کہاں تك جائزہے یانہیںاور اگر نہیں تو کس صورت میں اور کیوں مفصل تحریر فرمائیے۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
α α صحیح البخاری کتاب الایمان باب ماجاء ان الاعمال بالنیۃ والحسبۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۳
#12996 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
الجواب:
اگر باہمی رضامندی سے سود جائز ہوسکے گا تو زنا بھی جائز ہوسکے گا اور سور بھی جائز ہوسکے گا جبکہ سور کا مالك اس کے کھانے پر راضی ہواللہ ورسول کے غضب میں کسی کی رضامندی کو کیادخلصحیح حدیث میں ہے فرمایا کہ سودکھانا تہتر بار اپنی ماں سے زنا کرنے سے زیادہ سخت ہے۔کیا باہمی رضامندی سے ماں کے ساتھ ۷۳ باز زنا جائز ہوسکتا ہےواللہ تعالی اعلم
مسئلہ۱۵۲: ازشہر بانس منڈی مسئولہ محمد صدیق بیگ صاحب ۲۵محرم ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سود کیا چیز ہے اور کس کس صور ت میں سود ہوجاتا ہے بینواتوجروا۔
الجواب :
وہ زیادت کہ عوض سے خالی ہو اور معاہدہ میں اس کا استحقاق قرار پایا ہو سود ہے مثلا سو روپے قرض دئے اور یہ ٹھہرالیا کہ پیسہ اوپر سولے گا تویہ پیسہ عوض شرعی سے خالی ہے لہذا سود حرام ہے واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۵۳: ازمدرسہ منظر الاسلام بریلی مسئولہ اختر حسین طالبعلم ۵/صفر ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی پنواڑی یاسرمہ فروش کو دس یاپانچ روپے کوئی شخص دے اور اس سے کہے کہ جب تك میر اروپیہ تمہارے ذمہ رہے مجھے پان بقدر خرچ روزانہ کے دیا کرو اور جب روپیہ واپس کردو گے تو مت دینا یہ صورت جائز ہے یانہیں اور نہیں تو جواز کی کون سی صورت ہے
الجواب:
یہ صورت خاص سود اور حرام ہےسود کے جواز کی کوئی شکل نہیں۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۴ تا۱۵۵: ازبریلی مسئولہ عزیز الدین خاں سوداگر ۲۷/شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں کہ:
(۱)ایك مسلمان اور ایك ہندو کو دس روپیہ کا نوٹ دیا آیا ہندو مسلمان دونوں سے اس کا نفع جو قرار پایا ہے لیاجائےگا یانہیں
(۲)ہندو سے نقد قرض سودی لینا مسلمان کو جائز ہے یانہیں یا کچھ زیور رکھ کر روپیہ سودی لینا مسلمان کو ہندو سے جائز ہے یا نہیں بینواتوجروا۔
#12997 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
الجواب:
(۱)دس کا نوٹ اگر زیادہ کو بیچا تو ہندو مسلمان دونوں سے لینا جائز اور اگر قرض دیا اور زیادہ لینا قرار پایا تو مسلمان سے حرام قطعی اور ہندو سے جائز جبکہ اسے سود سمجھ کر نہ لے۔واللہ تعالی اعلم۔
(۲)سود جس طرح لینا حرام ہے یونہی دینا بھی حرام جب تك سچی حقیقی مجبوری نہ ہوزیور اگر اپنا ہے تو اسے رہن رکھ کر سودی روپیہ نکلوانا حرام کہ یہ مجبوری نہ ہوئیزیور بیچ کیوں نہیں ڈالتااوراگردوسرے سے رہن رکھنے کے لے مانگ کرلیا ہے اور پاس کوئی ایسی چیز نہیں جسے بیچ کر کام نکال سکے اور قرض لینے کی سچی ضرورت و مجبوری ہے تو جائز ہے۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۵۶: ازشہر بریلی مرسلہ شوکت علی صاحب ۵/شعبان ۱۳۳۷ھ
کیاحکم ہے اہل شریعت کا اس مسئلہ میں کہ زید نے بکر سے دس روپیہ اس شرط پر مانگے کہ میں فصل پر گندم ۱۵ما/ دوں گا اور خالدنے بکر سے دس روپیہ اس شرط پر مانگے کہ جو نرخ بازار فصل پر ہوگا اس نرخ سے دس روپیہ کے گندم دوں گابکر نے کہا میرے پاس اس وقت روپیہ نہیں ہے تم دونوں شخص دس دس روپیہ کے گندم جو اس وقت(۱۰ ما/)کا نرخ لے جاؤ۔دونوں شخص رضامندی سے گندم حسب شرائط بالا لے گئے اور فروخت کرکے دس دس روپے اپنے صرف میں لائےاب زید کو فصل پر فی روپیہ(۱۵ ما/)گندم حسب وعدہ اور خالد کو فی روپیہ(۱۲ما/)گندم نرخ بازار دیتے ہوئے یہ بیع جائز ہوئی یانہیں اور اگر بکر خالد کو روپیہ حسب شرائط بالا یعنی جو فصل پر نرخ ہو گا دوں گا دیتا تو جائز ہو تا یا نہیں
الجواب:
یہ صورت حرام قطعی اور خالص سود ہےڈھائی من گیہوں جو اس نے دئیے ان سے زیادہ لینا حرام حرام حرام۔اور اگر روپیہ دیتا تو اس میں دو صورتیں تھیںروپیہ قرض دیتا اور یہ شرط ٹھہرالیتا کہ ادا کے وقت گیہوں دیں تو یہ شرط باطل تھیزید وخالد پر صرف اتنا روپیہ ادا کرنا تھا اور اگر گیہوں کی خریداری کرتا اور روپیہ پیشگی دیتا تو یہ صورت بیع سلم کی تھی اگر اس کے شرائط پائے جاتے جائز ہوتی ورنہ حرام۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۵۷: ازشاہجہاں پور محلہ خلیل مرسلہ حاجی محمد اعزاز حسین خان صاحب ۱۶/ ربیع الاول ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اشتہار دیا ہے کہ میں ایك روپیہ میں تیس روپیہ کی گھڑی دیتا ہوں لیکن اس شرط سے کہ جو شخص میر اٹکٹ ایك روپیہ کو خریدے اس کے نام پانچ ٹکٹ میں بھیجوں گا جب وہ پانچ ٹکٹ پانچ روپیہ کو فروخت کرکے وہ پانچ روپیہ مع ان کے پانچ خریداروں کے
#12998 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
ناموں کے میرے پاس بھیج دے پھر میں ان پانچوں خریداروں کے پاس پانچ پانچ ٹکٹ بھیجوں گا جبکہ ان میں سے ہر ایك شخص اپنے اپنے ٹکٹ فروخت کرکے مبلغ پچیس روپیہ میرے پاس بھیج دیں گے تو میں تیس روپیہ کی گھڑی اس مقدم الذکر شخص کے پاس بھیج دوں گا اور پھر وہ شخص اشتہار دینے والا ان پچھلے پچیس خریداروں میں سے ہر ایك کے نام پانچ پانچ ٹکٹ بھیج دے گا جبکہ یہ اپنے اپنے ٹکٹ فروخت کرکے روپیہ اس کے پاس بھیج دیں گے جب وہ ان پانچ شخصوں کے پاس تیس تیس روپیہ کی گھڑی بھیجے گا جنہوں نے مقدم الذکر شخص سے ٹکٹ خریدے تھے غرضکہ اسی سلسلہ میں جبکہ اس کے پاس تیس روپیہ پہنچتے جائیں گے تو وہ حسب ترتیب ایك شخص کو گھڑی بھیجتا رہے گاتو ہر شخص کو گھڑی ایك روپیہ میں ملے گی مگر بایں شرط کہ اس کے ذریعہ سے تیس روپیہ کے ٹکٹ اس شخص کے فروخت ہوجائیں اور وہ ٹکٹ دراصل بطور ایك سند و وثیقہ خریداری کے ہیں کیونکہ اس ٹکٹ پر لفظ کوپن اس نے لکھاہے جس کا ترجمہ سودی اقرار نامہ لکھا ہے جس سے ظاہر ہے کہ یہ ٹکٹ مبیعہ نہیں بلکہ اقرار نامہ ہے اس بات کا کہ بعوض ایك روپیہ تیس روپیہ کی شے اشیاء مبیعہ سے جس کی وہ خریداردرخواست کرے بلحاظ شرائط مذکورہ و مندرجہ اشتہار ملے گیپس اس معاملہ مذکورہ سے کسی شے کا لینا شرعا جائزہے یانہیںاگر جائز ہے تو یہ عقد عقد بیع ہے یا کیااور اگر بیع ہے تو اس میں کوئی دوسر ا عقد مثل توکیل و دلالی واخذ اجرت وغیرہ مندرج ہے یانہیںاور ثمن وہ ایك روپیہ ہے یا مع اس زیادتی مذکورہ کےاگر مع زیادتی ہے تو یہ بیع بطریق بیع چھٹی مروجہ ممنوعہ شرعیہ کے معنی میں ہوگی گوایك لخت سب چھٹی نہ ہوں متفرقا متفرقا ہوں یا اس معنی میں نہیںپھر یہ بیع باندراج شرائط مذکورہ بالاجائز ہوگی یا نہیں بحوالہ شرعیہ دلائل معتبرہ جواب مرحمت فرمایا جائے اور نقل اشتہار بغرض ملاحظہ ہمرشتہ سوال ہذاہے بینواللہ توجروا عنداللہ۔
نقل اشتہار بغرض ملاحظہ ذیل میں تحریر کی جاتی ہے:قیمتی تیس روپیہ صرف ایك روپیہ کو لندن واچ کمپنی کمر شیل بلڈنگ لکھنؤ سونے چاندی یا دھات کی جیبی گھڑیاں کلاك اور زیور وغیرہ تم کویہ سند ملے گی جس کے واسطے تم نے صرف ایك روپیہ خرچ کیا ہے اور ان ٹکٹوں کو جو کہ ان میں شامل ہیں ایمان کے ساتھ فی ٹکٹ ایك روپیہ فروخت کرو اپنے دوستوں اور ملاقاتیوں میں ان میں سے ٹکٹ فروخت کرو جس قدرکہ تم سے ہو سکےاور پھر جب تم اس سند کو مع اس روپیہ کے جو تم نے فروخت کرکے وصول کیا ہے ہمارے پاس بھیجو گے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم تم کو ایك چیز ان چیزوں میں سے جو کہ اوپر بیان کی گئیں جس کے تم مستحق ہوگے(ہماری فہرست نمونہ کی دیکھ لو)جبکہ شرائط مفصلہ ذیل پوری ہوں گی ہم بھیجیں گےشرط اول تم ہمارے پاس نام اور پتہ صاف قلم سے ان شخصوں کے جسکے ہاتھ تم نے ٹکٹ
#12999 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
فروخت کئے ہیں بھیجوگے۔شرط دوسری ان میں سے ہر ایك شخص سے ہم بذریعہ تحریر کے دریافت کریں گے اپنے اطمینان کے واسطے کہ آیا تم نے ان شخصوں کے ہاتھ فروخت کیا ہے یانہیں۔تیسری شرط وہ شخص ہمارے پاس اپنی سند مع اس روپیہ کے جو کہ انہوں نے اپنے ٹکٹ فروخت کرکے وصول کیا ہے ہمارے پاس بھیجیں گےاگر تم یا تمہارے دوست پانچوں ٹکٹ نہ فروخت کرسکیں تاہم تم ہماری ایك چیز کےعمدہ چیزوں میں سے مستحق ہوگے اگرچہ چار یا تین یا دو یاصرف ایك ہی ٹکٹ بموجب شرائط بالاکے فروخت ہوا ہو خوب غور کرلو کہ تم صرف ایك روپیہ اپنی جیب سے خرچ کرکے اس کے عوض میں بموجب شرائط بالا کے اپنے آپ کو مستحق کرتے ہوخالص سونے کی جیبی گھڑی کا یا کلاك کا جس کی قیمت تیس روپیہ ہوگی ہم تمہارے ساتھ ایمانداری سے کام کرتے ہیں اور ہم کو یقین ہے کہ تم بھی ہمارے ساتھ ایمانداری کروگے ہم تم پر اعتبار کرتے ہیں ہمارے مال میں سے جس چیز کو جی چاہے بموجب نمونہ کی فہرست کے ہندوستانبرماسیلون میں جانچ کراکے اطمینان کرالو۔
ترجمہ اس ٹکٹ کا جو ایك روپیہ کو فروخت ہوتا ہے:تیس روپیہ کی قیمت کا مال صرف ایك روپیہ کو خریدنے والے کو اس ٹکٹ کے ایك سند مع پانچ ٹکٹوں کے ملے گی جن کو کہ فی ٹکٹ اس کو ایك روپیہ میں فروخت کرنا چاہئے بعدہ ہمارے پاس اس کی قیمت یعنی پانچ روپیہ وصول شدہ بذریعہ منی آرڈر یا چك کے بھیجنا چاہئے اور تقسیم کرنا چاہئے جیسا کہ سندپر لکھا ہے ٹکٹ کے لفظ کو کوپن لکھا ہے جس کا ترجمہ ڈکشنری میں سودی اقرارنامہ لکھا ہےفقط
الجواب:
معاملہ مذکورہ محض حرام و قمارہزاراں ہزار محرمات بے شمار کا تودہ وانباربلکہ حراموں کا سلسلہ ناپیداکنارطرفہ اختراع ابلیس مکار ہے
قال اللہ تعالی" و كذلك جعلنا لكل نبی عدوا شیطین الانس و الجن یوحی بعضهم الى بعض زخرف القول غرورا-و لو شآء ربك ما فعلوه فذرهم و ما یفترون(۱۱۲) و لتصغى الیه افـدة الذین لا یؤمنون بالاخرة
اللہ تعالی نے فرمایا:اسی طرح ہم نے ہر نبی کیلئے کچھ دشمن بنائے شیطان آدمی اور جن کہ ایك دوسرے کے دل میں جھوٹی بات ملمع کی ہوئی ڈالتے ہیں ایك تو فریب دینے کو(اور تیرا رب چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو تو چھوڑدے انہیں اور ان کے باندھنے جھوٹ کو)دوسرے اس لئے کہ جھك آئیں اس باطل کی طرف ان کے دل
#13000 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
و لیرضوه و لیقترفوا ما هم مقترفون(۱۱۳) "
جنہیں آخرت پر ایمان نہیں اور اسے پسند کریں اور اس کے ذریعہ سے کمالیں جو انہیں کمانا ہے۔
آخرت میں وبال وعذاب اور دنیا میںمثلا صورت مسئولہ میں کوئی روپے اور کوئی گھڑی یا گہنا وغیرہ اور کوئی " خسر الدنیا و الاخرة " (دنیا وآخرت میں اس نے گھاٹا پایا۔ت)کہ روپیہ گیا اور کچھ نہ ملا
" قل ﰰ لله اذن لكم ام على الله تفترون(۵۹) "
اے نبی! تو ان لوگوں سے فرما کیا اللہ نے تمہیں اس کی پروانگی دی ہے یا خدا پر بہتان اٹھاتے ہو۔
یعنی پروانگی تو ہے نہیں ضرور افتراء ہی ہے
" ام لهم شركؤا شرعوا لهم من الدین ما لم یاذن به الله "
کیاان کے لئے کچھ ساختہ خدا ہیں جنہوں نے ان کو وہ دین گھڑ دیا جس کی اجازت اللہ نے نہ دی۔
اللہ عزوجل مسلمانوں کو شیطان کے فریب سے بچائےآمین! اس اجمال کی تفصیل مجمل یہ ہے کہ حقیقت دیکھئے تو معاملہ مذکورہ بنظر مقاصد ٹکٹ فروش و ٹکٹ خراں ہر گز بیع و شراوغیرہ کوئی عقد شرعی نہیں بلکہ صرف طمع کے جال میں لوگوں کو پھانسنا اور ایك امید موہوم پر پانسا ڈالنا ہے اور یہی قمار ہےپرظاہرکہ اس طمع دلائی ہوئی گھڑی یا گہنے وغیرہ کی خرید و فروخت کا تو اصلا نہ ذکر نہ اس شیئ کی جنس ہی متعینبلکہ تاجر کہتاہے جب ایسا ہوگا تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تم کو ایك چیز ان چیزوں سے بھیجیں گےیہ وعدہ ہے اور بیع عقداور وعدہ وعقدمیں زمین وآسمان کا بعد۔اب رہی سند اور ٹکٹسند تو خود مع قیمت واپس مانگتا ہے اور بیع میں مبیع مع قیمت واپس ہونے کے کوئی معنی نہیں علماء نے صبی لایعقل البیع والشراء(وہ بچہ جو بیع و شراء کی سمجھ نہیں رکھتا۔ت)کی پہچان لکھی کہ چیز لے کر پیسہ بھی واپس مانگنے لگے فیعلم انك لایعرف معنی المبادلۃ وما البیع الا المبادلۃ(پس معلوم ہوگیا کہ وہ مبادلہ کا معنی نہیں جانتا اور بیع تو ہے ہی مبادلہ۔ت)ہاں ٹکٹ کی بیع کانام لیا مگر اس پر وہ عبارت چھاپی جس نے صاف بتادیا کہ یہ مبیع نہیں ایك
#13001 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
اقراری سند ہے جس کے ذریعہ سے ایك روپے والا بعد موجود شرائط تیس روپے کا مال تاجر سے لے سکے گا اگر ٹکٹ ہی بکتا تو خریدار کیاایسے احمق تھے کہ روپیہ دے کر دو انگل کا محض بیکار پرچہ کاغذ مول لیتے جسے کوئی دو کوڑی کو بھی نہ پوچھے گالاجرم بیع وغیرہ سب بالائے طاق ہے بلکہ تاجر تویہ سمجھا کہ مفت گھر بیٹھے میرے مال کی نکاسی میں جان لڑاکر سعی کرنیوالے ملك بھر میں پھیل جائیں گے اور محض بے وقت منہ مانگے دام پے درپے آیا کرینگے نوکر دام لے کر کام کرتے ہیں اور غلام بے داممگر یہ ایسے پھنسیں گے کہ آپ دام دیں گے اور میرا کام کرینگے انسان کسی امر میں دو ہی وجہ سے سعی کرتا ہے خوف یا طمعیہاں دونوں مجتمع ہوں گےایك کے تیس ملنے کی طمع میں جس نے ایك ٹکٹ لے لیا اس پر خواہی نخواہی لازم ہوگا کہ جہاں سے جانے پانچ احمق اور پھانسے چھ تو یہ نقد بلا معاوضہ آئے اب وہ نوگرفتار پانچ میں ہر ایك اسی تیس کی طمع اور اپنا رویہ مفت مارے جانے کے خوف سے اور پانچ پانچ پر ڈورے ڈالے گا یونہی یہ سلسلہ بڑھتا رہے گا اور ملك بھر کے بے عقل میرا مال نکلنے میں بجان ساعی ہوجائیں گے پھر جب تك سلسلہ چلا فبہاگھر بیٹھے بے محنت دونے ڈیوڑھے چھنا چھن آرہے ہیں اور جہاں تھکا تو اپنا کیا گیاان ٹکٹ خروں کا گیا جنہوں نے روپے کو ہوا خریدیہمیں یوں بھی صدہا مفت بچ رہےبہرحال اپنا احمق کہیں نہیں گیا تاجر کے تو یہ منصوبے تھے ادھر مشتری سمجھا کہ گیا توایك اور ملے تو تیس لاؤ قسمت آزما دیکھیں یہاں تك نری طمع تھی اب کہ روپیہ بھیج چکے مارے جانے کا خوف بھی عارض ہوگیا اور ہر طرح لازم ہواکہ اوروں پر جال ڈالیں اپنا روپیہ ہرا ہودوسرے سوکھے گھاٹ اتریں تو اتریںیونہی یہ امیدوبیم کا سلسلہ قمار ترقی پکڑے گااول کے دوچار کچھ حرام مال کی جیت میں رہیں گے آخر میں بگڑے گا جس جس کا بگڑے گا یہی اکل مال بالباطل ہے جسے قرآن عظیم نے حرام فرمایا کہ:
" یایها الذین امنوا لا تاكلوا اموالكم بینكم بالباطل "
اے ایمان والو! آپس میں ایك دوسرے کے مال ناحق طور مت کھاؤ۔(ت)
یہی غرر وخطر وضراروضرر میں پڑنا اور ڈالنا ہے جس سے صحاح احادیث میں نہی ہےیہ معاملہ چھٹی سے بدرجہا بدترہے وہاں ہر ایك بطور خود اس قمار وگناہ میں پڑتا ہے اور یہاں ہر پہلا اپنے نفع کیلئے دوسرے پانچ کا گلاپھانسے گا تو وہاں صرف خطر تھا یہاں خطر وضرر وضرار وغش سب کچھ ہےاور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں :
حوالہ / References القرآن الکریم ۴ /۲۹
#13002 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
لیس منا من غشنا۔ رواہ مسلماحمد وابوداؤد و ابن ماجۃ والحاکم عن ابی ہریرۃ والطبرانی فی الکبیر عن ضمیرۃ رضی اللہ تعالی عنہما ۔
جومسلمانوں کے خلاف خیر خواہی معاملہ کرے وہ ہمارے گروہ میں سے نہیں (اس کوامام مسلماحمدابوداؤدابن ماجہ اور امام حاکم نے سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اور طبرانی نے معجم کبیر میں سیدنا حضرت ضمیرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ت)
ایك حدیث میں ہے:
لیس منا من غش مسلما اوضرہ او ماکرہ رواہ الامام الرافعی عن امیر المومنین علی کرم اللہ تعالی وجہہ۔
ہم میں سے نہیں جو کسی مسلمان کی بدخواہی کرے یا اسے ضرر پہنچائے(اس کو امام رافعی نے سیدنا امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت کیا ہے۔ ت)
احادیث اس باب میں حد تواتر پر ہیں اور خود ان امور کی حرمت ضروریات دین سے ہے کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ت)حقیقت امر تو یہ تھی اور صورت الفاط پر نظر کیجئے تو ٹکٹ کی خرید وفروخت ہے۔اول تو اس کے مال ہونے میں کلام ہے کہ وہ جس کی طرف طبائع میل کریں اور وقت حاجت کےلئے ذخیرہ رکھا جائےیہ ٹکٹ دونوں وصف سے خالی ہےکشف الکبیر و بحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
المراد بالمال مایمیل الیہ الطبع ویمکن ادخارہ لوقت الحاجۃ ۔ مال سے مراد وہ چیز ہے جس کی طرف طبیعتیں میلان کریں اور اس کو حاجت کے وقت کیلئے ذخیرہ کیا جاسکتا ہو۔(ت)
اس تقدیر پر تو یہ بیع سرے سے محض باطل ہوگی لانہ مبادلۃ مال
حوالہ / References صحیح مسلج کتاب الایمان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۷۰،مسند امام احمد بن حنبل مسند ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲ /۴۱۷،سنن ابو داؤد کتاب البیوع آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۳۳
کنز العمال بحوالہ الرافعی عن علی حدیث ۹۵۰۲ موسسۃ الرسالہ بروت ۴/ ۶۰
بحرالرائق کتاب البیوع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۵۶
#13003 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
بمال کما فی الکنز والملتقی وغیرہما(اس لئے کہ بیع تو ایك مال کے بدلے دوسرا مال لینے کا نام ہے جیسا کہ کنز اور ملتقی وغیرہ میں ہے۔ت) اور بالفرض مال ہو تو متعدد شرائط فاسدہ پر مشتمل ہے
وقد نھی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عن بیع وشرط ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بیع اور شرط سے منع فرمایا۔(ت)
تو عقد بوجوہ فاسد ہوا اور ہر فساد جداگانہ حرام ہے پھر یہ سلسلہ غش و فساد وحرامتو ادھر ٹکٹ خروں میں یکے بعد دیگر مستمر چلاادھر ایسے جو تیس کی شے ملی اس کی جنس تك معین نہ تھی نہ صرف اس کے عمل پر ملی کہ اس کاکام تو پانچ ٹکٹ بکنے پر منتہی ہوگیا اور اس وعدہ طمع میں چیز کا مستوجب اس وقت ہوگا کہ پھر وہ بکیں اور پانچ ان کے اور پانچ پانچ ان پانچ کے وصول ہوں یہ ہر گز اسی اول کا عمل نہیں تو اگر اجارہ ہوتا بوجوہ خود فاسدہ اور اپنی مشروط بیع کا مفسدہ ہوتا مگر حقیقۃ وہ صرف طمع دہی اور از قبیل رشوت ہےغرض اس معاملہ حرام در حرام کے مفاسد بکثرت ہیں ا ور ان سب سے سخت تر وہ لفظ ہے کہ ہم تمہارے ساتھ ایمانداری سے کام کرتے ہیں ایسے شدیدی گناہوں اختراعی راہوں کو ایمانداری کا کام بتانا ان اصل گناہوں سے کتنے درجے زائد ہے جبکہ یہ اشتہار دینے والا کوئی مسلمان ہوکہ اب یہ تحصیل حرام بلکہ تحسین حرام ہے والعیاذ باللہ رب العلمین ہذا واللہ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۸ تا ۱۵۹: ازبدایوں سوتنہہ محلہ مرسلہ مولوی حامد ب خش صاحب خان بہادر ۷رمضان المبارك ۱۳۲۲ھ
جناب مولنا و مقتدانا حامی سنت دامت برکاتہمبعد تمنائے حصول قد مبوسی مدعا نگار ہوں کہ سوالات مندرجہ ذیل کا جواب باصواب جو مطابق احکام شریعت ہو مرحمت فرمائیے تا کہ گمراہان کی رہبری ہووے:
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید وبکر دو شخصوں نے اپنالعہ/ کا مملوکہ مال واسباب اتنے ہی حصص میں تقسیم کیا جس قدر کی مالیت کا وہ کل مال تھا ور فروخت کا یہ طریقہ رکھا کہ ہر شخص جو اس کی خریداری کے واسطے حصہ دار ہوچکا اس کو ایك چٹھی دے دی گئی او سب چٹھیاں جمع ہوجانے پر بروئے قرعہ اندازی سب سے اول چٹھی لکھنے والے کو عہ/ کا مال ایك روپیہ کے چٹھی پر ملا اور دوسرے شخص کو دس کا اور تیسرے کو صہ / روپیہ اور چوتھے شخص کودو روپیہ کا اور باقی ۶۶چٹھی والے خریداروں کو آخر نمبر تك ۸/ کا مال فی ٹکٹ دیا گیا آیا یہ طریقہ بیع
حوالہ / References ملتقی الابحر کتاب البیوع موسسۃ الرسالۃ بیروت ۲ /۵
نصب الرایۃ کتاب البیوع المکتبۃ الاسلامیہ الریاض الشیخ ۴/ ۱۷
#13004 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
موافق احکام شریعت ہے یانہیں
(۲)ڈاك خانہ سرکاری کے سیونگ بنك میں یا دوسرے انگریزی تجارتی بنکوں میں زید نے کچھ روپیہ داخل کیا جس پر بہ شرح معینہ اس کو گورنمنٹ نے یا تاجر انگریز نے منافع ادا کیا تو جمع کرنے والا شخص مطابق احکام شریعت اس منافع کو لینے کا مستحق ہے یانہیں
الجواب:
(۱)یہ صورت قطعی حرام ہے اور نرا قمار اور بائع و مشتری سب کے لئے استقاق عذاب نار۔واللہ تعالی اعلم
(۲)سود مطلقا حرام ہے قال اللہ تعالی" وحرم الربوا " (اللہ تعالی نے فرمایا:اللہ تعالی نے سود کو حرام کیا۔ت) مگر جس کے یہاں روپیہ جمع کیا اگر اس پر کوئی مطالبہ شرعا آتا تھا اور وہ اور طور پر نہ مل سکتا تھا اس نام سے وصول ہوجائیگا تو اپنے اس حق کی نیت سے قدر حق تك لے لینے کا استحقاق ہے اور اگر کچھ نہ آتا تھا مگر کوئی مال مباح بلا غدر و بلا ارتکاب جرم برضا مندی ہاتھ آتا ہو تو بہ نیت مباح اسے لے لینے والے کو مباح ہے اگرچہ دینے والا کسی نام سے تعبیر کرے اس مسئلہ کی تحقیق کامل بھی فتاوی فقیر میں ہے واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۰: از بریلی محلہ کنگھی ٹولہ مرسلہ محمد رضاعلی ۵ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے عمرو کو روپیہ اس شرط پر دیا کہ چار ماہ کے بعد تم سے روپیہ مذکور کے پچیس ما/ گندم لیں گےیہ جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر روپیہ قرض دیا اور یہ شرط کرلی کہ چار مہینے کے بعد ایك روپے کے پچیس(ما/)گیہوں لیں گے اور نرخ بازار پچیس سیر سے بہت کم ہے تو یہ محض سود اور سخت حرام ہے حدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فھو ربو ۔
جو قرض نفع کو کھینچے وہ سود ہے۔(ت)
اور اگر گیہوں خریدے اور قیمت پیشگی دی ہے تو بیع سلم ہے اگر سب شرائط بیع سلم کے
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
کنز العمال بحوالہ الحارث عن علی حدیث ۱۵۵۱۶ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۶/ ۲۳۸
#13005 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
ادا کرلی ہیں تو جائز ہے اگرچہ روپے کے دس من گیہوں ٹھہر جائیں ورنہ حرام ہے۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۱: مرسلہ احمد شاہ خاں از موضع نگریا سادات
زید نے کچھ روپے قرض واسطے تجارت کے عمرو کو دئے اور آپس میں یہ ٹھہرالیا کہ علاوہ قرض کے روپوں کے جس قدر منافع تجارت میں ہو اس میں سے نصف ہمارا اور نصف تمہاراتو یہ سود ہوا یا نہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
یہ سود اور حرام قطعی ہےہاں اگر روپیہ اسے قرض نہ دے بلکہ تجارت کےلئے دے کہ روپیہ میرا اور محنت تیری اور منافع نصفا نصفتو یہ جائز ہے۔واللہ تعالی اعلم
مسئلہ۱۶۲: از پٹیالہ مارواڑ محمد عبدالرحمن سوداگر چرم ۲۱/ ذی القعدہ ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آیا سر زمین ہندوستان میں بحالت موجودہ مسلمانوں کو اپنی دینی اور قومی حالت سنوار نے کی غرض سے سود کالین دین غیر مسلم سے شرعا جائز ہے یانہیں
الجواب:
سود لینا دینا مطلقا حرام ہیںقال اللہ تعالی " و حرم الربوا-" (اللہ تعالی نے فرمایا:اور اللہ تعالی نے سود کوحرام کیا۔ت)
حدیث صحیح میں ہے:
لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اکل الربو ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدہ وقال ھم سواء ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اور سود دینے والے اور سود کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہی دینے والوں پر۔اور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔
اللہکی لعنت کے ساتھے دینی حالت سنورے گی یا اور بدتر ہوگیاور قومی دنیوی حالت سنبھلنا بھی معلوماللہ عزوجل فرماتا ہے:
" یمحق الله الربوا و یربی الصدقت "
اللہ مٹاتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے زکوۃ کو۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
صحیح مسلم باب الربا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷
القرآن الکریم ۲ /۲۷۶
#13006 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
جسے اللہ تباہ و برباد کرے وہ کیونکر بڑھ سکتا ہےاور بالفرض کچھ دن کوظاہری نگاہ میں بڑھے بھی تو جتنا بڑھے گا اللہ کی لعنت بڑھے گی
مبادا دل آن فرومایہ شاد کہ از بہر دنیا دہد دین بباد
(اس کمینے کا دل خوش نہ ہو جس نے دنیا کی خاطر دین کو برباد کیا۔ت)
اگر قرآن عظیم پر ایمان ہے تو سود کا انجام یقینا تباہی و خسران ہے۔سائل لین دین پوچھتا ہےمسلمانوں کے پاس مال کہاں اور کفار بڑے بڑے مالدارانہیں آپ سے سودی قرض لینے کی کیا ضرورت ہوگیاوراگر ہو بھی تو ان کی قوم کے ہزاروں لینے دینے کو موجود ہیں اور سود دینے میں قوم کا نفع ہے یا کفار کاسوددینے سے قومی حالت سنورتی تو لاکھوں مسلمان بنیوں کو سود دیتے اور اپنی جائدادوں کو تباہ کرتے ہیں ہزار کا مال دو ڈھائی سو میں بہ جاتا ہے کیا اسی کو حالت سنورنا کہتے ہیںنفع لینے کی بعض جائز صورتیں نکل سکتی ہیں جن میں کچھ کا ذکر ہمارے فتاوی اور بہت کا ہمارے رسالہ نوٹ میں ہے کہ مع ترجمہ چھپ رہا ہےمگر کسی کوٹھی کاکام فقط نفع لینے سے نہیں چلتا اسے دینا بھی ضرور پڑتا ہےاور معاملہ جب کفار سے ہو تو ان تینوں صورتوں کی پابندی دشوار ہے جن پر جواز کا مدار ہے اور یوں سود دینا اگرچہ کافر کو ہو قطعا حرام و استحقاق نار ہےہاں اگر نوٹ کاطریقہ جو ہم نے اس رسالہ میں لکھا تجار میں رائج ہوجائے تو بلا شبہہ سود لینے دینے کی آفت اٹھ جائے اور لین دین کا عام بازار شرعی جواز کے ساتھ کھل جائےوباللہ التوفیقواللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۳: از شہر بریلی محلہ ملوك پور مسئولہ عبدالغنی صاحب تاجر ۱۳ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ محبوب اللہ کی دکان ایك بقال کے پاس چار سور وپیہ میں رہن ہے اور محبوب اللہ فی صدی ایك روپیہ ماہوار سود کا ادا کرتے ہیں اب ایك شخص محبوب اللہ کی دوسری دکان میں مبلغ دس روپیہ کرایہ پر بیٹھتا ہے محبوب اللہ اس کرایہ دار سے کہتا ہے کہ مجھ کو تم چار سو روپیہ دے دو میں بقال کو ادا کردوں گا اور تم چار سو روپیہ کی دستاویز تحریر کرالو میں تم کو کرایہ میں کمی کردوں گا اس صورت میں جائز ہے یانہیں
الجواب:
اگر ہمیشہ کےلئے کمی کردے اور صاف صاف قرض میں تحریر کردیں کہ کچھ نفع اس پر لیا دیا نہ جائیگایہ کمی صرف اس احسان کے بدلے میں احسان ہو قرض کا منافع نہ ہو تو حرج نہیں۔واللہ تعالی اعلم۔
#13007 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
مسئلہ ۱۶۴: از ریودر براہ آبو مرسلہ ٹھیکیدار آنول موسی منشی صاحب ۱۴/رجب ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ اناج کا بدلنا بھی دوسرے اناج سے جائز ہے یانہیں مثلا مکی ایك من دوماہ پہلے دی بعد میں دوماہ کے ایك من گندم لیتے ہیں اس شرط سے لین دین یہاں کے مسلمان کرتے ہیں یہ بدلنا بھی جائز ہے یانہیں
الجواب:
ایك ناج دوسرے ناج سے نقد بدلنے میں کوئی حرج نہیں اور جب جنس بدلی ہوئی ہے تو کمی بیشی جائز ہے اور ایك طرف سے اب دیا گیا اور دوسری طرف سے ایك مدت کے بعد دینا ٹھہرا تو یہ بیع سلم کے شرائط کا محتاج ہےواللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۶۵: ازجوہر کوٹ بارکھان ملك بلوچستان مرسلہ قادر بخش صاحب ۱۴ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
چہ میفرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ نرخ بازار سہ پوئٹہ فی روپیہ است اکنوں شخصے بمیعاد تا۳ سہ ماہ یا زیادہ کم از نرخ بازار دو پوئٹہ فی روپیہ فروخت میکند آیا جائز است یا مکروہ علمائے دین اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ بازار کا بھاؤ تین پوئٹہ فی روپیہ ہےاب ایك شخص تین ماہ یا زیادہ کی میعاد پر بازار کے بھاؤ سے کم دو پوئٹہ فی روپیہ کے حساب سے فروخت کرتا ہےکیا شرعا جائز ہے یا مکروہ (ت)
الجواب:
جائز است۔واللہ تعالی اعلم۔ جائز ہے۔اور اللہ تعالی بہتر جانتا ہے(ت)
مسئلہ ۱۶۶: ازسید پور ڈاکخانہ وزیر گنج ضلع بدایوں مرسلہ آغا علی خاں صاحب مورخہ ۱۶ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
اگر ساہو کار اپنے مسلمان روز گاری سے سود نہ لے بلکہ کچھ اضافہ لفظ سود سے بدلنے اور مسلمان کو اس سے محفوظ کرنے کی غرض سے آڑھت پر کرلے تو مسلمان اس مسئلہ سود سے بچ سکتا ہے یانہیں
الجواب:
سود کا لفظ فقط حرام نہیں بلکہ سود کی حقیقت حرام ہے اسے اضافہ کے لفظ سے تعبیر کرنانہ اسے سود ہونے سے بچالے گانہ حرمت میں فرق آئے گا۔واللہ تعالی اعلم۔
#13008 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
مسئلہ۱۶۷تا۱۷۰: عبدالحکیم خان دکاندار محلہ کٹکور ریاست رامپور
(۱)زید نے بکر کے ہاتھ ۲۴روپیہ کی اشرفی فروخت کی ۱۲ روپیہ تو بکر نے اسی وقت دے دئے ۱۲ کا وعدہ کیا چنانچہ دوچار روز کے بعد وہ بھی دے دئے۔
(۲)زید نے بکر سے ایك روپیہ کے دام مانگےاور روپیہ دیا بکر نے آٹھ آنے پیسے اسی وقت دے دئے اور دو یوم کے بعد دو چونیاں دے دیں۔
(۳)زید نے بکر سے ایك روپیہ دے کر پیسے مانگےبکر نے ایك اٹھنی اس وقت دے دی باقی کے بابت دو یوم کا وعدہ کیا چنانچہ تین یوم کے بعد ۸/ کے پیسے دے دئے۔
(۴)زید نے ایك آنہ کا سودابکر سے لیابکر نے کہا کہ اسوقت باقی روپیہ کے پیسے نہیں ہیں پھر لے لینابکر کو زید نے روپیہ دے دیا اور دو روز کے بعد باقی کے پیسے لے لئےان سب صورتوں میں کوئی صورت ربا کی ہے یانہیں ہے
الجواب:
(۱)یہ حرام ہے کہ سونے چاندی کے مبادلہ میں دست بدست ہونا شرط ہے۔
(۲)اگر زید نے روپے کے پیسے مانگے اور روپیہ دے دیا اس نے آٹھ آنے پیسے اب دے دئے اور باقی پیسوں کے بدلے دو دن کے بعد چونیاں اٹھنی دی تو جائز ہے کہ روپے اور پیسوں کے مبادلہ میں ایك طرف سے قبضہ کافی ہے کما حققناہ فی کفل الفقیہ الفاھم(جیسا کہ ہم نے کفل الفقیہ الفاھم میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)اور اگر زید ہی نے روپے کے ۸/ پیسے اور دو چونیاں مانگیں جو اس نے دوسرے وقت دیں یہ حرام ہے لاشتراط الصرف یدابید(کیونکہ بیع صرف میں ہاتھوں ہاتھ لینا شرط ہے۔ت)
(۳)یہ صورت جائز ہے کہ پیسوں میں ایك طرف کاقبضہ ہوگیا اور اٹھنی میں دونوں طرف کا۔
(۴)یہ بھی بدلیل مذکور جائز ہے جبکہ باقی کے پیسے لینے ٹھہرے جیساکہ سوال میں ہے۔
مسئلہ ۱۷۱: ازصید پور ضلع رنگپور بنگال مرسلہ محمود خان صاحب پسنجر سپرنٹنڈنٹ ۹جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
فدوی ریلوے میں بعہدہ پسنجر سپرنٹنڈنٹ ملازم ہے اور ہر ماہ مشاہرہ سے کچھ روپیہ ریلوے کاٹ لیتی ہے اور وہ روپیہ بعد ترك ملازمت مع کچھ سود کے دیا جاتا ہے جو ریلوے کا سرکلر ہے لہذا یہ روپیہ اپنے صرف میں یاکسی کارخیر میں لاسکتا ہے یانہیں مدرسہ دیوبند سے لاعلمی سے میں نے دریافت کیا تھا وہاں سے جائز قرار دیا گیا ہے بعدمیں معلوم ہوا کہ وہاں کا فتوی ہم لوگوں کے
#13009 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
واسطے قابل وثوق نہیں ہے لہذا حضور کی خدمت میں التماس ہے کہ جواب سے سرفراز فرمایا جاؤں۔
الجواب:
اللہ عزوجل نے سود کو حرام فرمایا اور اس میں کوئی تخصیص مسلم وکافر کی نہیں رکھیمطلق ارشاد ہوا ہے " وحرم الربوا " (اور اللہ تعالی نے سود کوحرام کردیا۔ت) تو اسے سود قرار دے کرلینا جائز نہیں ا ور اگر کسی کمپنی میں کوئی مسلمان بھی حصہ دار ہو تو مطلقا اس زیادہ روپیہ کا لینا حرام ہے اور اگر کوئی مسلمان حصہ دار نہیں تو سود کی نیت کرنا ناجائز ہے بلکہ یوں سمجھے کہ ایك مال مباح بلا غدر مالکوں کی خوشی سے ملتا ہے یوں اس کے لینے میں فی نفسہ کوئی حرج نہیں اوراسے چاہے اپنے صرف میں لائے چاہے کارخیر میں لگائے کما حققناہ فی فتاونا(جیساکہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے۔ت)واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۲: سائل حافظ محمد نور الحق مجلہ پنجا بیاں پیلی بھیت ۲۵صفر ۱۳۳۱ھ
مخدومی و مکرمی جناب مولانا احمد رضاخان صاحب دام مجدہ بعد سلام مسنون التماس یہ ہے کہ ایك شخص مسمی وزیر نے انتقال کیا منجملہ اور وارثوں کے دو لڑکیاں نابالغ اس نے چھوڑیں اس کے مال میں چار سو روپیہ نقد ان لڑکیوں کے حصہ میں ملا وہ کل روپیہ ایك شخص دیگر نے امانتا ا س سے اس وعدہ پر لیاکہ ہم تم کو پانچ روپیہ ماہوار اس روپیہ کا منا فع دیتے رہیں گےاور اس روپیہ کے اطمینان کی غرض سے اس شخص روپیہ لینے والے نے اپنا مکان اس روپیہ کے بالعوض رہن کردیا اور اس کا رہن نامہ لکھا گیا مگر رہن نامے میں مضمون یہ ہے کہ مبلغ چار سو روپے معرفت مسماۃ بنے بیگم ہمارے پاس امانتا یا فتنہ ہر دو نابالغہ کے جمع ہوئے ہیں جو تابلوغ ہر دو نابالغہ کے ہمارے پاس جمع رہیں گے چونکہ زر امانت کی کوئی تحریر باضابطہ بغرض اطمینان کے منجانب ہمارے کہ مسماۃ کے پاس نہیں ہیں لہذا ہم بموجب تحریر ہذا کے اقرار کرتے ہیں کہ زر مذکورہ تابلوغ ہر دو مذکور نابالغان کے جمع رہیں گے اور اس کا سود بشرح فیصدی(۴ عہ /)ماہوار ی کے حساب سے نابالغان کو ماہ بماہ بلا عذر وحیلہ کے ادا کرتے رہیں گے اور واسطے اطمینان زر مذکور کے ایك مکان مستغرق ومکفول دستاویز ہذا کرتے ہیں تا بیباق زر مذکور کے بجائے دیگرمنتقل نہیں کریں گےاگر کریں تو ناجائز ہولہذا یہ رہن نامہ سودی بحق نابالغان دختر ان وزیر کے لکھ دیں کہ سند ہو۔
تو اب امر دریافت طلب یہ ہےکہ شخص مذکور جس نے روپیہ لیا تھا اس نے انتقال کیا اور ماہوار ی جو مقرر کیا تھا وہ نہیں دیا اب وہ نابالغان اپناروپیہ اس مکان سے لیں گی مگر اصل کے چار سو روپیہ سے جوایك سو روپیہ زائد اس وقت تك ہوگیا ہے وہ بھی لے سکتی ہیں یانہیں کیونکہ ان نابالغان کو یا اس کے
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
#13010 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
اور کسی وارث کو یہ معلوم نہ تھا کہ دستاویز کے اندر وہ پانچ روپیہ ماہوار سود دیا گیا ہے وہ بھی سمجھی ہوئی تھیں کہ ہم کو پانچ روپیہ ماہوار کرایہ مکان یا اس روپیہ کے منافع میں سے دیا جائے گا اگر وہ سو روپیہ جو اصل سے زائد ہے لے لیں تو کوئی مواخذہ تو ان کے ذمہ میں نہ ہوگا اور وہ عنداللہ گنہگار تو نہ ہوں گیاور یہ بھی امر قابل تحریر ہے کہ وہ نہایت ہی غریب ہیں اور کوئی معاش بھی ان کے پاس نہیں ہے اگر کوئی صورت ایسی ہو کہ وہ اسے لے سکتی ہیں اور ان کے ذمہ کوئی مواخذہ اخروی نہ ہو تو نہایت ہی بہتر ہوگا کیونکہ ان کے بہت سے کام نکلیں گے۔
الجواب:
وہ روپیہ ہر طرح سود اور حرام ہے اس کا لینا کسی حال میں جائز نہیں ہوسکتا ہےسود لکھا گیا تو حرام ہےمنافع سمجھا تو سود ہے۔مکان کا کرایہ جانا تو باطل ہےمالك مکان غیر مالك سے کرایہ پر لے اس کے کوئی معنی نہیں بہر حال وہ سود ہےہاں اگر وہ جس شخص نے یہ روپیہ امانتا لیا اور اس پر پانچ روپے ماہوار دینا مقرر کیا ہندو وغیراقوام سے ہو تو یہ سو روپیہ زائد اس کے قرار داد سے ملتے ہیں ایك مال مباح سمجھ کر لینا جائز ہے سود سمجھ کرلینا حرام۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۳: از کتھیل ضلع کرنال مرسلہ فضل قدیر صاحب طالب علم مدرسہ اسلامیہ ۱۶جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
گورنمنٹ کی نگرانی میں پنجاپ و مدراس کے دیہات میں زرعی بنك کھولے جاتے ہیں زراعتی بنك کی غرض سے سود خوری نہیں ہوتی بلکہ سود خور مہاجنوں سے قطع متعلق ہوتا ہے سرکاری نام اس بنك کا انجمن امداد قرضہ ہے(ہیئت اس کی یہ ہے)کہ گاؤں کے لوگ بطو رحصہ داری کے دس روپیہ سالانہ فی آدمی دس سال تك اس اپنی انجمن میں جمع کرتے رہتے ہیں اور اسی انجمن سے حسب ضرورت سودی قرض بھی لیتے رہتے ہیں مگر قرض لینے کا حق محض حصہ داروں کو ہے غیر حصہ دار کو ہر گز ہرگز نہیں دیا جاتا مقروض جو کچھ رقم سود اس بنك کو دے گا وہ رقم بحصہ رسد اس مقروض کے حصہ میں بھی آئے گی گویا سود دہندہ سود گیرندہ بھی ہے اس انجمن کے پاس دس سال کے بعد کافی سرمایہ جمع ہوجاتا ہے تو سود بہت کم یا بالکل موقوف کردیا جاتا ہےیہ بنك زراعتی ہے یہ بنك جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
حرامحرامحرام قطعی یقینی حرامدس برس تو بہت ہوتے ہیں سود ایك لمحہ ایك آن کو حلال نہیں ہوسکتااحکام الہیہ کسی کی ترمیم سے بدل نہیں سکتےاللہ عزوجل فرماتا ہے:
" و احل الله البیع و حرم الربوا "
اوراللہنے بیع کو حلال اور سود کو حرام کیا۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
#13011 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
صحیح حدیث میں ہے:
لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اکل الربو ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانےوالے اور سود کھلا نیوالے اور سود کا کاغذلکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنیوالوں پراور فرمایا وہ سب برابر ہیں(ت)
یہاں تك کہ سود دہندہ ہی سود گیرندہ بھی ہے معنی یہ کہ ڈبل ملعون ہے جو براہ شامت نفس اس کا ارتکاب کریں اور حرام جانیں وہ فاسق فاجر ہیں اور جو حلال سمجھیں وہ مرتد کافروالعیاذ باللہ تعالیہاں اگر اس میں بھی اسی طریقہ بیع نوٹ کا اجراء کریں جو ہم نے تحریر سابق میں ذکر کیا تو بلادقت اس حرام قطعی سے بچ جائیں مگر حلال حرام کی آج فکر کسے ہے الا ما رحم ربی-ان ربی غفور رحیم(۵۳) (مگر وہی جس پر میرا رب رحم فرمائےبیشك میرا رب بخشنے والا مہر بان ہے۔ت)واللہ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۷۴: ازنجیب آباد ضلع بجنور بازار چوك مرسلہ عبدالرزاق وعبدالغفور خیاطان۱۷/ جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسلمان اہل السنۃ والجماعت پکا حنفی اگر یہ شخص مذکور کفار مثل نصاری وہنود و رافضی وخارجی سے سود لے اور کفار مذکور کی رضا سے لے بطور تجارت روپیہ کمانے کو اور نیز اس مسلمان سود گیرندہ کی یہ نیت ہو کہ کسی وقت میں کسی مسلمان سے سود نہ لیا جائے تو اس صورت میں اس مسلمان کو کفار مذکورہ سے سود لینا جائز ہے یا ناجائز جو حکم شرع شریف ہوبلاتاویل بلا خوف ملامت علمائے خاص وعام ارسال فرمایا جائےفقطبینواتوجروا۔
الجواب :
اللہ عزوجل نے مطلق فرمایا: " و حرم الربوا " اللہنے سود حرام کیا۔اس میں تخصیص مسلمکافرسنیبدمذہب کسی کی نہیں۔سود لینا کسی سے حلال نہیںجو حلال ہے وہ سود نہیںاور جو سود ہے وہ حلال نہیںکافر غیر ذمی کا مال بلا غدر جو حاصل ہو وہ مال مباح سمجھ کرلینا حلال ہے سود جان کرلینا حرام
حوالہ / References α صحیح مسلم کتاب المساقاۃ والمزارعۃ باب الربوٰ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷
القرآن الکریم ۱۲ /۵۳
القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
#13012 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
قصد معصیت خود معصیت ہےمثلا کافرسے کوئی مال سو روپیہ کو خریدااور قیمت دبالی یا دھوکادے کر کھوٹے دام دئےیہ ناجائز ہے کہ خلاف معاہدہ ہوا
قال اللہ تعالی " یایها الذین امنوا اوفوا بالعقود۬- " ۔
اللہ تعالی نے فرمایا:اے ایمان والو!اپنے قول پورے کرو (ت)
اور اگر چاندی کا دو سو روپیہ بھر مال سو روپیہ کو مول لیا اور یہ سمجھا کہ سو روپیہ ہی کے بدلے سوروپے ہوگئے باقی کافر کا مال بلاغدر اس کی مرضی سے ملتا ہے تو جائز جبکہ وہ کافر ذمی مستامن نہ ہواس کی تفصیل ہمارے فتوی ۱۳۱۱ھ میں ہے جو آپ کے خوف ملامت سے بیس سال پہلے لکھا گیاواللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۵ تا۱۷۶:از فتح آباد ضلع امر تسر تحصیل ترنتارن مسئولہ مولوی محمد عنایت اللہ صابری و محمد اسمعیل چشتی صابری قادری ۴ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)ایك بنك سودی مسلمانان نے ان شرائط پر قائم کیا ہے کہ جو کوئی اس میں داخل ہو اور ممبر بنے اول ایك روپیہ داخلہ اور مبلغ(عہ /)پہلی قسط بعدہ دس روپے سالانہ داخل کرتا جائے بعد دس سال کے اپنا اصلی روپیہ مع سود فی صدی فی ماہ(۱۲/)کے حساب سے مل جائے گا اور ہر ایك ممبر کو جب ضرورت ہو اپنی حیثیت موجب(۱۲/)سیکڑہ سود پر روپیہ لے سکتا ہے پھر قسطوں سے اداکرتا جائےکہتے ہیں کہ یہ بینك غریب مسلمانوں کے لئے بنایاگیا ہے مگر ممبرکے سوا جو کہ داخلہ نہ دے روپیہ نہیں ملتا یعنی عام مسلمانوں کو نہیں ملتا ہماری مسجد کا امام بھی اس میں شامل و داخل ہے وہ کہتا ہے کہ میں اپنے روپے کا سود نہ لوں گا مجھ پر حرام ہے ضرورت کے وقت سود دیا گیا چنانچہ ضرورت کے وقت ہم لوگ آگے بھی تو اہل ہنود کو دیتے ہیں جیساکہ لینا حرام ہے ایسا دینا بھی تو حرام ہے جب ہم لوگ دیتے ہیں تو لینے میں کیا قباحت لینا دینا برابر ہےمیں اب داخل ہوچکا ہوں چھوڑ نہیں سکتا۔
(۲)کہتا ہے جو مسلمان ڈاکخانہ سرکاری میں روپیہ جمع کراکر سود لیتے ہیں وہ کیوں کھاتے ہیں وہ جائز ہےایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں بینواتوجروا
حوالہ / References القرآن الکریم ۵ /۱
#13013 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
الجواب:
وہ بنك حرام قطعی ہےاور یہ قواعد سب شیطانی ہیں اوراس کا ممبر بننا حرام ہےاور سود دینا اور لینا ضرور برابرہیںصحیح مسلم میں امیرالمومنین علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے ہے:
لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اکل الربو وموکلہ وکاتبہ و شاھدیہ وقال ھم سواء ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے ا ور سود کھلانے والے اور اس کے لکھنے والے اور اس کے گواہوں پراور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔(ت)
تو امام مذکور کا اس بنك کی ممبری قبول کرنا گناہ وحرام ہوا
قال اللہ تعالی " و لا تعاونوا على الاثم و العدوان۪- " ۔
اللہ تعالی نے فرمایا:گناہ اور ظلم میں ایك دوسرے سے تعاون مت کرو۔(ت)
حدیث میں ہے:
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم انہ ظالم فقد خلع من عنقہ ربقۃ الاسلام ۔
جو دانستہ ظلم پر اعانت کرے اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے نکال دی(ت)
اور شك نہیں کہ سود لینا ظلم شدید ہے اور اس کا ممبر بننا اور اسکے ان سود خوروں کو روپیہ دینا اس ظلم شدید پر اعانت ہےاور معین مثل فاعل ہے ولہذاکاتب پر بھی لعنت فرمائیتو اس کارکن بننے والا اور اس کےلئے روپیہ دینے والا ضرور کاتب سے بدرجہا زائد لعنت کا مستحق ہوگا اور امام مذکور کا اس پر اصرار حرام پر اصرار اور اعلانیہ فسق واستکبار ہےاور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اور اسے امام بنانا گناہ ور اسے معزول کرنا واجب اور جتنی اس کے پیچھے پڑھی ہوں ان کا پھیرنا لازمپھر اگر بلا ضرورت شرعیہ محض جاہلانہ ضرورتوں کے لئے سودی قرض لے گا تو ضرور وہ بھی سود کھانے کے مثل ہوگا۔
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب المساقات والمزارعۃ باب الربوٰ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷
القرآن الکریم ۵ /۲
المعجم الکبیر حدیث ۶۱۹ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱ /۲۲۷،شعب الایمان حدیث۷۶۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶/ ۱۲۲
#13014 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
اور یہ لعنت کا دوسرا حصہ ملے گا اور عوام کے فعل سے سندلانا اور حکم الہی کے مقابل اسے سنانا محض جہالت و ضلالت ہے ہاں اگر محض مجبوری شرعی کےلئےسودی روپیہ بقدر ضرورت قرض لے تو وہ اس سے مستثنی ہے کہ مواضع ضرورت شرع نے خود استثنا فرمادئے ہیں
قال اللہ تعالی " فاتقوا الله ما استطعتم" وقال تعالی " لا یكلف الله نفسا الا وسعها- " ۔
اللہ نے فرمایا:اور ڈرو اللہ تعالی سے جس قدر تم استطاعت رکھتے ہو۔اور اللہ تعالی نے فرمایا:اللہ تعالی کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا۔(ت)
درمختار میں ہے:
یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح ۔ محتاج کےلئے سودی قرض لینا جائز ہے۔(ت)
مگر اس کو سند بنا کر سود خوروں کی اعانت اور سودی کمپنی کی رکنیت نہ حرام ہونے سے بچ سکتی ہے نہ لعنت الہی سے بچا سکتی ہے لہذا امام مذکور کی نسبت حکم وہی ہے جو اوپر گزرا۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۷:ازقصبہ بیلپور محلہ درگاہ پر شاد از مکان فخر الدین صاحب رئیس وممبر چنگی مرسلہ حافظ شمس الدین ۲۳/ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
سود لینا کسی قوم سے مسلمان کو جائز ہے یانہیں اور سود کس کس قسم سے ہوتا ہے مشرح بیان فرمایاجائےکسی بنك میں روپیہ جمع کرکے ان سے سود وصول کرنا موجب اس کی شرح کے جائز ہے یانہیںیا کسی انجمن کا روپیہ ڈاکخانہ میں جمع کرکے ان سے سود لے سکتا ہے یانہیںیا کوئی تجارت اس طرح کی کرے کہ جو اس قدر روپیہ جمع کرے اس کو اتنے سیکڑہ کا سود دینگے نقصان کا وہ شریك نہیں اور اس کو نقصان سے کچھ مطلب نہیں اور روپیہ جمع کرنے والا سود جان کر نہ لے اور نقصان بھی نہ دےت تو وہ حلال ہے یاحرام یا کسی دکاندارکو کچھ روپیہ بموجب نفع کے دے نقصان کا شریك نہ ہوں وہ نفع حلال ہے یانہیں
الجواب:
سو د لینا مطلقا حرام ہے مسلمان سے ہو یا کافر سےبنك سے ہویا تاجر سے جتنی صورتیں سوال میں بیان کیں سب ناجائز ہیں قرض دے کر اس پر کچھ نفع بڑھالینا سود ہے یا ایك چیز کو اس کی جنس کے بدلے ادھار بیچنا یا دو چیزیں کہ دونوں تول سے بکتی ہوں یا دونوں ناپ سےان میں ایك کو دوسرے سے
حوالہ / References α القرآن الکریم ۶۴ /۱۶
القرآن الکریم ۲ /۲۸۶
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱ /۱۲۶
#13015 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
ادھار بدلنا یا ناپ خواہ تول کے چیز کو اس کی جنس سے کمی بیشی کے ساتھ بیچنا مثلا سیر بھر کھرے گیہوں سواسیر ناقص گیہوں کے عوض بیچنا یہ صورتیں سود کی ہیں اور جو شرعاسود ہےاس میں یہ نیت کرلینا کہ سود نہیں لیتا ہوں کچھ اور لیتا ہوں محض جہالت ہےہاں وہاں یہ نیت کام دے سکتی ہے جو واقع میں سود نہ ہو اگرچہ دینے والا اسے سود ہی سمجھ کردے مثلا یہاں کسی کافر کے پاس اس کی دکان یاکوٹھی یا بنك میں بشرطیکہ اس میں کوئی مسلمان شریك نہ ہو روپیہ جمع کردیا اور ا س پر جو نفع کافر نے اپنے دستو ر کے موافق دیا اسے اپنے روپیہ کا نفع اور سود خیال کرکے نہ لیا بلکہ یہ سمجھ کر لیا کہ ایك مال مباح برضائے مالك ملتا ہے تو اسمیں حرج نہیں واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۸:ولو اشتری مکیلا کیلا حرم بیعہ واکلہ حتی یکیلہ(اگر کسی نے کیلی شے کیل کے طور پر خریدی تو جب تك کیل نہ کرے اس کی بیع اور اس کا کھانا حرام ہے۔ت)اس سے سمجھ میں یہ آتا ہے جو چیز مکیل خریدی جائے پھر گھر میں اگر اسے ناپ لے پھر صرف کرے اس بنا پر دودھ خرید کر پھر اپنے گھر میں اس کو ناپ کرلینا چاہئے یانہیں
الجواب:
یہ اس صورت میں ہے کہ چیز تول یا ناپ سے خریدی اور بائع نے اس کے یا اس کے وکیل کے سامنے نہ تولی تو اسے تولنا لازم ہے اس کا تصرف ناجائز ہے اور اگر اس کے یا اس کے وکیل کے سامنے تولی تو دوبارہ تولنے کی حاجت نہیں ۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۷۹: مسئولہ مولوی حشمت علی صاحب مدرس مدرسہ اہل سنت بریلی ۲۷جمادی الآخر ۱۳۳۳ھ
حضور ! ایك مسلمان زمیندار کے روپے سے اگر کوئی ہندو مثلا پٹواری یا کٹوار یا تہنیت اسامیوں سے سود لے کر اپنے صرف میں کرے مگر زمیندار نہ اس سے اس پر کچھ کہے اور نہ خود اس میں سے کوئی پیسہ لے اور یہ لوگ زمیندار کے روپے سے اسامیوں سے یہ کہہ کر سود لیں کہ اگر تم زمیندار کا روپیہ بر فصل ادا نہ کیا کروگے تو تم سے اس کا سود لیا جائے گاتو اس صورت میں زمیندار شرعا کسی گناہ کا مستحق ہوگا یانہیںاور زمیندار کو اس حالت میں اپنے ملازم ہنود کو منع کرنا لازم ہوگا یانہیں کہ اس زمیندار کا بھی اتنا نفع ہے کہ اس کا روپیہ ہر فصل پر وصول ہوجاتا ہے اور کوئی دقت اسے پیش نہیں آتیسود کے خوف سے اسامی فورا روپیہ وصول کردیتے ہیں ورنہ کئی کئی سال تك بقایا نہیں وصول کرتے حالانکہ ان کے پاس روپیہ ہوتا ہے مگر بعض سرکش زمیندار کے دق کرنے کو نہیں دیتے اور جب وہ نالش کرتا ہے تو فورا کچہری میں روپیہ اسی روز داخل کردیتے ہیں اور زمیندار کا نقصان کرواتے ہیں ان پریشانیوں سے بچنے کی کوئی
#13016 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
صورت حضور عطا فرمائیں ورنہ ان سے بچنے کے واسطے اکثر مسلمان ظاہر ظہور میں مرتکب حرام ہوتے ہیں۔
الجواب :
اسامیان مسلمان ہیں تو یہ عمل قطعا حرام ہے اور جبکہ زمیندار کو اس پر اطلاع ہے تو اسے سکوت حرام ہے ازالہ منکر فرض ہے خصوصا جب اپنے نفع کےلئے خاموش ہو تو یوں راضی ہے اور رضا بالکبیرہ خود ہی کبیرہ ہے بلکہ کبھی اس سے بھی سخت تراور اگر اسامیان یہاں کے مشرکین ہیں کہ ذمی نہیں نہ سلطنت اسلام سے مستامنتو زمیندار خواہ ان سے یہ قاعدہ جاری کرے کہ جس پر بقایا ٹوٹے گیاس پر ہر مہینہ اتنا حرجہ لیا جائیگا وتحقیق الکلام فی فتاونا(تحقیق کلام ہمارے فتاوی میں ہے۔ ت) اسے بھی سود سمجھ کر لینا جائز نہیں لقولہ تعالی " وحرم الربوا " (اللہ تعالی کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ:اللہ تعالی نے سود کو حرام کیا۔ت)بلکہ ان کی ایذارسانی کے معاوضہ میں ایك مال مباح سمجھ کرلے۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۰: مسئولہ ولایت حسین صاحب جامع مسجد بریلی ۷/جمادی الاخری ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین وحامیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی زوجہ نے انتقال کیا زید بعد فراغت خرچ تجہیز و تکفین کےخرچ فاتحہ و سویم نہیں رکھتا ہے یا زید اپنی لڑکی کی شادی کرنا فرض سمجھتا ہے اور فرض ہے مگر اتنا خرچ نہیں ہے کہ فرض ادا کرے تو مجبور ہوکر زید نے اپنے دوست عمرو سے اس معاملہ کاتذکرہ کیاعمرو نے کچھ زیور زید کو دیا اور یہ کہا کہ اس کو رہن کرکے تم اس فرض یا فاتحہ وغیرہ سے فارغ ہوجاؤزید زیور لے کر برائے رہن چلااور عمرو وہیں رہاایك دوست راستہ میں جو خالد تھا زید نے اس سے تمام معاملہ کی کیفیت بیان کی خالد سن کر خاموش ہورہازید نے خالد سے کہا کہ جلد چلو اور یہ زیور رہن کرکے روپیہ لائیںخالد زید کے ہمراہ چلازید کو ایك شخص اور ملا جس کا نام محمود ہے اور وہ اس معاملہ سے واقفیت رکھتا ہے اور محمود کو یہ نہیں معلوم کہ خالد اور زید کہاں جارہے ہیں محمود بھی ہمراہ ہولیایہ تینوں شخص دکان مرتہن پر پہنچے اور زید نے وہ زیور رہن کرکے بشرح سود روپیہ لے کر واپس ہمراہ آئے اور اس روپیہ سے کاربرآری کیکرسکتے تھے یا نہیں میت کو ثواب پہنچا یانہیں یا اس لڑکی کی شادی میں کوئی نقص ہوایانہیں اور ان چار اشخاص میں کون کون مرتکب عذاب کا ہوا
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
#13017 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
الجواب:
فاتحہ سوم یا لڑکی کی شادی کے لئے سودی قرض لینا حرام ہےزید ضرور مرتکب گناہ کبیرہ و مستحق عذاب ہوایونہی عمرو بھی جس نے اس حرام کے لئے زیور دیایونہی خالد بھی جسے اس نے رہن رکھنے کے لئے کہہ کر اپنے ساتھ لیارہا محمود جبکہ اسے معلوم نہ تھا کہ یہ کہاں جارہے ہیں ساتھ جانے میں اس پر گناہ نہ ہوا مگر وہاں جاکر معلوم ہونے پر اگر اس نے کسی طرح اس میں مدددی یا تائید کی تو وہ بھی ویسا ہی مرتکب گناہ ہوا مگر اصل نکاح میں اس سے خلل نہیں آتا اور مال حرام لے کر فاتحہ کا ثواب پہنچنا مشکل ہےواللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۱ تا۱۸۲: ازجلالپور دھئی ڈاکخانہ خاص ضلع رائے بریلی مرسلہ منشی علی حسین خان پوسٹ ماسٹر ۲۸صفر ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)تبادلہ گیہوں یا دھان یا جو یا چنا وغیرہ شکر قند یا آلو یا میوہ سے زیادتی یا کمی کے ساتھ جائز ہے یاناجائز رواج اعتبار ہند شکر قند وآلو ومیوہ من حیث قدر وزنی ہےاعتبار عند الفقہاء کیا ہےگیہوں وغیرہ باعتبار فقہاء من حیث قدر کیلی ہے تغایر جنس ظاہر ہے تغایر قدر میں نہیں معلوم کیا ہے
(۲)گیہوں کو گیہوں سے یا جو سے یا جو کو جو سے اور گیہوں سے مساوی یا کم زائد بدلنا اس طرح پر کہ خریف میں دے دے اور ربیع میں وصول کرےکیسا ہے
الجواب:
(۱)گیہوں جوچنے سے آلو شکر قندمیووں کی خرید و فروخت کم بیش کو بلا شبہہ جائز ہے کہ جنس مختلف ہے اور گیہوں اور جو سے قدر بھی یقینا مختلفاور جو میوے مثلا آم یا شکر قند جہاں عددی ہوں وہاں چنے سے بھیاور قدر مختلف نہ بھی ہو تو فقط اختلاف جنس کمی بیشی کو مباح کر تا ہے
قال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اذا اختلف النوعان فبیعوا کیف شئتم ۔واللہ تعالی اعلم۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا:جب "بدلین"دو مختلف نوعوں کے ہوں تو جیسے چاہے فروخت کرو۔واللہ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References نصب الرایۃ لاحادیث الہدایہ کتاب البیوع مکتبہ اسلامیہ ریاض ۴ /۴
#13018 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
(۲)گیہوں کی گیہوں یا جو کی جو سے تبدیل کمی بیشی کے ساتھ ہو تو حراماور ایك طرف سے نقد اور دوسری طرف سے ادھار ہو تو حراماور گیہوں کی جو سے تبدیل نقدوں کمی سے حلال اور ادھار مطلقا حرام
فان احدی العلتین من القدر والجنس تحرم النسئۃ واجتماعھما والتفاضل۔واللہ تعالی اعلم۔
کیونکہ دو علتوں یعنی قدر و جنس میں سے ایك علت کا وجود ادھار کو اور دونوں کا پایاجانا زیادتی کو حرام کرتا ہے۔واللہ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۸۳تا۱۸۴: از او دے پورمیواڑ راجپوتانہ مسئولہ قاضی یعقوب محمد سب انسپکٹر پولیس ۸/ شوال ۱۳۳۹ھ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام رحمہم اللہ مسائل ذیل میں کہ:
(۱)رافضی بوہرے کافر ہیں یا مرتد بہر دو صورت اگر مسلمان ان کے ساتھ یا ہندو کافر کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کرے مثلا ہزار یا پانچ سو روپیہ تجارت کےلئے رافضی کو دے اس شر ط پر کہ گڑ اور شکر میں نقصان کی صورت نہیں ہوا کرتی ہے الا شاذ ونادر تو میں تجھ سے ڈیڑھ یا دو روپیہ فیصد ماہوار کے حساب سے نفع نقصان کا اوسط نکال کرتیری دکان سے خواہ نقد یا سامان خوردنی لیتا رہوں گااور یہ مضمون بطور شرط کاغذ پر لکھواکر اور عرصہ تك اسی طرح باہمی معاملہ آپس میں جاری رہے اور رأ س المال محفوظ سمجھ کر بعوض نفع حسب قرار داد و شرط باہمی اشیائے خوردنی و پوشیدنی لیتا رہے اور مابقی نفع کا حساب کرکے نقد لے تو جائز ہے یاناجائز اور ناجائز ہوگا تو سود ہوگا یا کیا
(۲)اسی طرح کافر کو اگر مال دو مہینہ کا وعدہ پر قرض فروخت کرے اور اس کے ہاتھ سے اپنے بھی کھاتے میں لکھوالے کہ دو مہینہ میں روپیہ نہ ادا کروں تو بوقت ادائے روپیہ فی صد(۸/ یا عہ /)ماہوار اس مال کے نفع کا زائد ادا کروں گایہ جائز ہے یا ناجائز بینوابسند الکتاب وتوجرواعند اللہ یوم الحساب(کتاب کے حوالہ سے بیان کرو اللہ تعالی کی طرف سے یوم حساب کو اجر دئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
بوہرے رافضی مرتد ہیں اور ہر مرتدکافر ہے بلکہ کافروں کی بدتر قسمیہاں کے ہندو وغیرہ جتنے کفار ہیں ان میں نہ کوئی ذمی ہے کہ سلطنت اسلام میں مطیع الاسلام وجزیہ گزار ہوکر رہےنہ مستامن ہیں کہ بادشاہ اسلام سے کچھ دنوں کےلئے امان لے کر دارالاسلام میں آئےاور جو کافرنہ ذمی ہو نہ مستامن سواغدر و بدعہدی کے کہ مطلقا ہر کافر سے بھی حرام ہے باقی اس کی رضاسے اس کا مال جس طرح ملے جس عقد کے
#13019 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
نام سے ہو مسلمان کے لئے حلال ہےوقد فصلناہ فی فتونا بمالامزید علیہ(ہم اس کو اپنے فتاوی میں تفصیل سے بیان کرچکے ہیں جس پر مزید اضافہ کی گنجائش نہیں۔ت)ہدایہ وفتح القدیر وغیرہما میں ہے:
ان مالھم مباح فی دارھم فبای طریق اخذہ المسلم اخذما لامباحا اذالم یکن فیہ غدر ۔
کفار کا مال دارالحرب میں مباح ہے لہذا ان کا سوائے دھوکا کے جس طریقے سے بھی مسلمان نے لیا اس نے مال مباح لیا(ت)
دوسری صورت بھی جائز ہے جس کا جواز جواب اول سے واضح ہے البتہ ان سب صورتوں میں یہ لحاظ رہے کہ ذی عزت متقی آدمی جسے جاہل عوام اپنی نافہمی کے سبب ایسی صورتوں میں معاذ اللہ سود خور مشہور کریں اسے احتراز مناسب ہے کہ جیسے برے کام سے بچنا ہے یونہی برے نام سے بچنا چاہئے۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۵ تا ۱۸۶: ازاودے پور میواڑ بڑا بازار مسئولہ چھیپا بخشاجی محمود ۸/رمضان ۱۳۳۹ھ
بعالی خدمت فیضد رجتغوث دورانقطب زمانمجدد ہذاالاوانحضرت مولنا الحاج مولوی مفتی احمد رضاخان صاحب مدظلہ العالی! ماقولکم ایھا العلماء الکرام رحمکم اللہ تعالی(اے علماء کراماللہ آ پر رحم فرمائےآپ کیا فرماتے ہیں۔ت)
(۱)کفار ہنود کو ہزار دو ہزار یا کم زیادہ کا دو مہینہ کے وعدہ پر قرض کپڑا فروخت کیاکپڑا دیتے وقت اس سے یہ ظاہر کردیا گیا کہ اگر دو مہینہ کے وعدہ پر روپیہ نہ ادا کیا تو میں تجھ سے فی صد ایك روپیہ نفع زیادہ لوں گا یا یوں کہہ دیا جائے کہ مثلا دو مہینے کے وعدہ پراس کپڑے کی قیمت سوروپے اور اگر اس وعدہ پر نہ آئے تو ایك سوایك روپے ہوں گے یہ اسلئے کہ کفار مسلمانوں کے روپوں کا وعدہ پر ادا کرنے کی فکر نہیں رکھتےجائز ہوگا ناجائز
(۲)نوٹ سو سو روپیہ کے مثلا یا بارہ آنہ زیادتی پر یعنی ایك سو ایك یا ایك سو بارہ آنے پر ایك مہینہ کے بعد واپس روپیہ لینا کرکے دئے گئےوہ نوٹ تو اس کے کام میں آگئے مگر مہینہ ہونے پر وہ بدلے میں روپیہ نہ دے اور نوٹ دے تو لینا جائز ہے یا روپیہ ہی لیا جائےبینواتوجروا۔
حوالہ / References الہدایۃ کتاب البیوع باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۷
#13020 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
الجواب:
(۱)یہاں کے کفار سے ایسی شرط جائز ہے لانھم غیر اھل ذمۃ ولامستامن(کیونکہ نہ تو وہ ذمی ہیں نہ مستامن۔ت)مگر یہ زیادت جو ملے اسے سود سمجھ کر نہ لے بلکہ مال مباح۔واللہ تعالی اعلم۔
(۲)یہاں کے کفار سے جس طور ہو جائز ہے
لان مالھم مباح فی دارھم فبای طریق اخذہ المسلم اخذما لامباحا اذالم یکن فیہ غدر کما فی الھدایۃ وغیرہا۔
اس لئے کہ کفا رکا مال دارالحرب میں مباح ہے لہذا جس طریقے سے بھی مسلمان نے اس کو لیا تو اس نے مباح مال لیا بشرطیکہ دھوکا بازی نہ ہوجیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے(ت)
اور مسلمان کو اگر سو روپیہ کانوٹ قرض دیا اور شرط کرلی کہ مہینہ بھر بعد بارہ آنے یا ایك پیسہ زائد لوں گا تو حرام اور سود ہے
لان کل قرض جرمنفعۃ فھو ربو ۔
کیونکہ جو قرض نفع کو کھینچے وہ سود ہے(ت)
اور اگر سو روپیہ کا نوٹ مسلمان کے ہاتھ اس کی مرضی سے ایك سوایك یا ایك سودس روپیہ کو مہینہ بھر کے وعدہ پر بیچا تو حلال ہے
قال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اذا اختلف النوعان فبیعواکیف شئتم ۔
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا:جب نوعیں مختلف ہوں تو جیسے چاہوفروخت کرو(ت)
پھر اگر وعدہ کے وقت اس کے پاس روپیہ نہیں اور وہ نوٹ اور ایك روپیہ یا دس روپے یا ایك نوٹ سو کا اور ایك ایك روپیہ یا دس روپیہ کا دے تو لینا جائز ہے بشرطیکہ یہ نوٹ وہی نہ ہو جو اس نے بیچا تھا لان شراء ماباع باقل مما باع قبل نقد الثمن لایجوز(کیونکہ اپنی ہی فروخت کی ہوئی شے کو ثمن کی ادائیگی سے قبل اس ثمن سے کم پر خریدنا جس پر پہلے فروخت کی ناجا ئز ہے۔ت)ہاں اگر مشتری نے اس کو خرچ کردیا تھا اور پھر جدید سبب سے مشتری کے پاس واپس آیا اور اب وہی نوٹ بائع کودیتا ہے لینا جائز۔ ردالمحتار میں ہے:
حوالہ / References الہدایۃ کتاب البیوع باب الربٰو مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۸۷
کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۶/ ۲۳۸
نصب الرایہ لاحادیث الہدایۃ کتاب البیوع مکتبہ اسلامیہ ریاض ۴ /۴
#13021 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
ولو خرج عن ملك المشتری ثم عاد الیہ بحکم ملك جدید کا قالۃ او شراء او ھبۃ او ارث فشراء البائع منہ بالاقل جائز لاان عاد الیہ بما ھو فسخ بخیار رؤیۃ او شرط قبل القبض او بعدہ بحر عن السراج ۔ واللہ تعالی اعلم۔
اگر مبیع مشتر ی کی ملك سے خارج ہوگیا پھر جدید سبب سے مشتری کے پاس لوٹاجیسے اقالہخریداریہبہ یا میراث کے طور پر۔اب بائع کا اس سے پہلے ثمن سے کم پر خریدنا جائز ہےاور اگر مبیع دوبارہ مشتری کی ملك میں خیار شرط یا خیار رؤیت کی وجہ سے بیع کے فسخ ہونے پر واپس آیا چاہے قبضہ سے پہلے یا بعدتواب بائع کے لئے جائز نہیں کہ پہلے ثمن سے کم پر ا س سے خریدے۔بحر نے سراج سے روایت کیا۔ واللہ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۱۸۷: ازریاست فرید کوٹ ضلع فیروز پور مطبع سرکاری مرسلہ محمد علی ۲۷صفر۱۳۳۸ھ
شریعت عزاکاحکم ہے اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کے پاس خالص بیاج کی آمدنی ہے اور ایك مولوی صاحب کہتے ہیں کہ بیاج کے حرام ہونے کا عقیدہ رکھتے ہوئے اگر کوئی شخص سود لیتا رہے تو اس کی اس خالص بیاج کی آمدنی کوصدقات خیرات بالخصوص تعمیر مساجد میں لگانا حلال وجائز ہے اور اس کے اس آمدنی کے ایسے مصارف میں لگانے کے لئے اس کا عقیدہ ہی بس ہے بیاج علانیہ لیا جارہا ہے آمدنی جس کا مسئلہ دریافت ہے خالص بیاج ہے۔
الجواب:
سود حرام قطعی ہے اور اس کی آمدنی حرام قطعی اور خبیث محض ہے۔اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اللہ طیب لایقبل الاطیبا ۔ بیشك اللہ پاك ہےپاك ہی کو قبول کرتا ہے۔(ت)
حرام کے لئے فقط اس کی حرمت کا اعتقاد کافی نہیں ورنہ حرام خوری وحرام کاری میں کیا فرق ہے وہاں بھی صرف اعتقاد حرمت کافی ہو بلکہ ربو تو زنا سے بھی بدرجہابدتر ہے بکثرت صحیح حدیثوں میں ارشاد ہوا:
الربو ثلثۃ وسبعون بابا ایسرھا ربو تہتر گناہوں کا مجموعہ ہے جس میں سب سے
حوالہ / References ردالمحتار باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۱۴
صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب ان اسم الصدقۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۶
#13022 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
مثل ان ینکح الرجل امہ ۔رواہ الحاکم فی المستدرك بسند صحیح عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ۔
ہلکا گناہ یہ ہے کہ آدمی ماں سے زنا کرے۔(اس کو امام حاکم نے مستدرك میں سند صحیح کے ساتھ سیدنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
بلکہ علماء نے یہاں تك فرمایا کہ مال حرام فقیر کو دے کر ثواب کی امید رکھنا کفر ہےاور اگر فقیر کو معلوم ہو کہ اس نے مال حرام دیا ہے اور اس کےلئے دعا کرے اور وہ آمین کہے تو دونوں نئے سرے سے کلمہ اسلام پڑھیں اور تجدید نکاح کریں۔ محیط وعالمگیریہ و جامع الفصولین وغیرہا میں ہے:
تصدق علی الفقیر شیئا من المال الحرام ویرجو الثواب کفر ولو علم بہ الفقیر ودعالہ وامن المعطی کفرا ۔
کسی نے مال حرام میں سے کچھ فقیر پر صدقہ کیا اس حال میں کہ وہ اس سے ثواب کی امید کرتا ہے تو کافر ہوگیا اور اگر فقیر کو معلوم ہو کہ یہ مال حرام ہے اس کے باوجود اس نے دینے والے کو دعا دی اور دینے والے نے اس پرآمین کہی تو دونوں کافر ہوگئے۔(ت)
زر حرام والے کو یہ حکم ہوتا ہے کہ جس سے لیا اسے واپس دے وہ نہ رہا اس کے وارثوں کو دے پتہ نہ چلے تو فقراء پر تصدق کرے یہ تصدق بطور تبرع واحسان و خیرات نہیں بلکہ اس لئے کہ مال خبیث میں اسے تصرف حرام ہے اور اس کا پتہ نہیں جسے واپس دیا جاتا لہذا دفع خبث وتکمیل توبہ کے کئے فقراء کودینا ضرور ہوا اس غرض کے لئے جومال دفع کیا جائے وہ مساجد وغیرہ امور خیر میں صرف کہ خبیث ہے اور یہ مواضع خبیث کا مصرف نہیںہاں فقیر اگر لے کر بعد قبول و قبضہ اپنی طرف سے مسجد میں دے دے تو مضائقہ نہیں۔
قال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ھو لہا صدقۃ ولنا ھدیۃ ۔واللہ تعالی اعلم۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا یہ اس(حضرت بریرۃ رضی اللہ تعالی عنہما )کیلئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ۔واللہ تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References المستدرك علی الصحیحین کتاب البیوع دارالفکر بیروت ۲ /۳۷
جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون فی مسائل کلمات الکفر اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۰۸
صحیح البخاری کتاب الفرائض باب الولاء لمن اعتق قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۹۹
#13023 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
مسئلہ ۱۸۸: ازورو ڈاکخانہ خاص ضلع نینی تال مرسلہ عبداللہ صاحب ۶شعبان ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روپیہ کے سترہ آنے یا ساڑے سولہ آنے ٹھہرا کر دو چار روز میں لینا کیسا ہے
الجواب:
روپیہ قرض دیا اور یہ ٹھہرالیا کہ سواسولہ آنے لیں گےیہ سود و حرام قطعی ہے اور اگر روپیہ سترہ آنے یا سولہ آنے کا برضائے مشتری بیچا ور قیمت چار دن یا دو دن یا دس برس بعد دینی ٹھہری تو یہ جائز ہے جبکہ روپیہ اسی جلسہ میں دے دیا گیا ورنہ بیع باطل ہوجائے گی
لکونہ افتراقا عن دین بدین ویکفی قبض احد الجانبین کما حققناہ فی کفل الفقیہ۔
کیونکہ افتراق ہے دین سے دین کے بدلے میں اور ایك جانب سے قبضہ کا پایا جانا کافی ہے جیساکہ اس کی تحقیق ہم نے کفل الفقیہ میں کردی ہے۔(ت)
اور اگر روپے کے سترہ آنے یا سولہ آنے خریدے اور پیسے چار دن بعد دینے ٹھہرے تو یہ ناجائز ہے کہ یہ بیع سلم ہوئی اور بیع سلم میں ایك مہینے سے کم مدت مقرر کرنی جائز نہیں بہ یفتی زیلعی ودر وھو المعتمد بحر وھو المذھب نھر(اسی پر زیلعی اور در فتوی دیتے ہیں اور یہی معتمد ہے(بحر)اور یہی مذہب ہے(نہر)۔ت)ہاں ایك مہنے یا زیادہ کی مدت مقررکریں اور روپیہ اسی جلسہ میں دے دیں اور باقی سب شرائط بیع سلم کے پائے جائیں تو جائز ہے۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۹: از شہر محلہ ملوکپور مسئولہ محمد حسن خان صاحب ۲۳/ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
عمرو تجارت پارچہ کی کرتا ہےاس کا پارچہ کا روپیہ زید کے ذمہ چاہئے تھاعرصہ جس کو دو ڈھائی برس کا ہوگیا تھا بلاسودیعمرو سود نہیں کھاتا ہےعمرو کو بے حد ضرورت لاحق ہوئیعمرو نے زید سے طلب کیازید نے انکار کیا اور وعدہ چار ماہ کاکیاعمرو نے کہا کہ اگر آپ اب مجھے نہ دو گے تو میری ذات رسوائی ہوگی تب کیانتیجہ ہوگا۔زید کا بڑابھائی خالد تھا اس سے سفارش کرائی تب زید نے کہا کہ بکر جو میرا عزیز ہے اس سے میں نے ابھی تھوڑا زمانہ ہوا ۴۲سو روپیہ دستاویز لکھ کر قرض لئے تھے وہ روپیہ میں نے ادا کردیا حسب معاہدہ بلا سود رسیدات آگئی ہیں دستاویزات انہی کے پاس ہیںاگر وہ دے دیں تو رسیدیں واپس دے دوں دستاویز وہی پھر برقرار رہے گی وہ تم کو روپیہ دے دیں عمرو خالد کو ہمراہ لے کر بکر کے پاس گیا بکر سے کہا وہ راضی نہ ہوا تب عمرو نے کہا
#13024 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
آپ دو سو مجھے کم دے دیں میری عزت جاتی رہے گی بغیر روپیہ کے ملنے کےمیں ۲۶ سولے کر ۲۸ سو کی رسید لکھنے کو تیار ہوںیہ آپ کو فائدہ ہوجائیگابکر نے کہا تم کہیں ا ور اسے لے لو میں ضمانت کردوں گا۔عمرو نے ایك کافر سے کہا کہ تین ماہ کے واسطے ۲۶ سوروپے دے دے وہ سو روپیہ سود کے طلب کر تا تھاعمرو نے بکر سے کہا کہ یہ سو بھی آپ لے لیں آپ ہی دے دیں ۲۵ سو روپے اوررسید ۲۸ سو کی لیں میری ضرورت بہت شدید ہے اور خوشامد در آمد کیخالد نے کہا سنا بکر راضی ہوگیا مگر یہ کہا کہ زید ایك خط لکھ دے کہ یہ روپیہ تین ماہ میں واپس کروں گا اگر نہ دوں تو مع سود کے چار ماہ میں دوں گااور ایك رقعہ پانچ سو کا لکھ دیں کہ اگر چار ماہ میں بھی نہ ادا ہو تو پانچویں ماہ مجھ کو اس رقعہ کا مطالبہ وصول کرنے کا حق حاصل ہوگا اور سود دستاویز کا بھی۔چنانچہ زید نے رقعہ تاوانی باضابطہ لکھ دیا بکر کواور خط معاہدہ کا بھیاور رسیدات واپس دے دیںبکر نے عمرو کو ۲۵ سو دیا ۲۸ سو کی رسید لیدو سو کمی کے کاٹے اور سودسوروپےجملہ تین سو اور چودہ سو نقد زید کو دے دئے یا کسی سے دلادئیےاس نے پورے چودہ سو نقددئے بلا کسی کاٹ چھانٹ کے ۲۸ سو کی رسید ۱۴ سو نقدیوں ۴۲ سو ہوگئے۔عمرو نے رسید لکھتے وقت یہ کہا بکر سے کہ میں بہت غریب ہوں یہ سو روپے تو سود کے میں نے کاٹ دئیے مگر یہ دو سو روپے کمی والے محض ان کی وجہ سے کہ انہوں نے(زید نے)نہ دئیے اور میری۔۔بغیر اس کے ذلت ہے بمبوری کمی کرکے لئے ہیں کہ حضور بغیر اس کے نہ دیتے اگر زید تین ماہ میں نہ دیں اور چوتھے ماہ میں دیں تو حضور یہ سود دستاویز جو حضور کو وصول ہوگا یہ معاوضہ ان کمی والے دو سو روپے کے میرا حق ہوگا وہ مجھ کو ملےجو دو سو سے زائد ہوگا وہ حضور لیں کیونکہ میں تو انہیں کے بالعوض دے رہاہوں وہ حضور مجھ کو دیںتین ماہ میں واپس ہو روپیہ تو حسب معاہدہ بلاسود ہے میری تقدیر سے وہ چار ماہ میں دیں تو سود کی رقم ضرور لے کر مجھے دیں سود کہ میرا حق ہے مجھ کو جائز ہے زید نے وہ روپیہ حسب معاہدہ ادا نہ کیا بلکہ پانچ ماہ بعد ادا کیا بکر نے سود تو دستاویز کا نہ لیا جو دو سو ڈھائی روپیہ ہوتا تھا زید کو چھوڑدیا مگر رقعہ تاوانی پانسوکا وصول کرلیا یعنی ۴۲سو کے ۴۷ سو وصول کرلئے بعد وصول کے عمرو طالب ہے بکر سے کہ مجھے ان پانچ سو میں سے دو سو دیجئے کیونکہ حضور نہ چھوڑتے تو وہ مجھے ملتے آپ نے چھوٹی رقم نہ لی بڑی لی لہذا مجھ کو دو سو دیجئے گابکر نے کہا کہ مجھ کو یاد نہیں یہ معاہدہ ہوا تھاتب خالدنے یاد دلایا کہ ہوا تھا اب بکر نے عمرو سے کہا کہ اگر شرع شریف حکم خدا ورسول سے مجھ کو وہ رقم دو سو کی تمہاری اور بلکہ سو روپے سود کے جو میں نے تم سے لئے ہیں جائزہیں تو میں نہ دوں گا اور اگر مجھ کو وہ حرام ہیں تو میں تین سو کے تین سو دینے کو تیار
#13025 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
ہوںبکر کبھی سود نہیں کھاتا ہے اور ہزاروں روپے اپنے عزیزوں کودوستوں کو قرض بلا سود دیتا ہے۔اس سبب سے بکر دریافت کرتا ہے مرقومہ بالا صورتوں میں کون سی رقم مجھ کو جائز ہے یا کل ناجائزہے عنداللہ مواخذہ کس رقم کا ہوگا اور کس کا نہ ہوگا اور کونسی رقم سود ہوگی اور کونسی سود نہ ہوگی یا کل سود ہوگی اور عنداللہ میں گنہگار ہوں گا عمرو شریعت کے حکم کے موافق تین سو یا دو سو یا ایك سو کس رقم کے واپس لینے کا مستحق ہے یا کسی رقم کے واپس پانے کا مستحق نہیں ہے یا کل واپس پانے کا مستحق نہیں ہے
الجواب:
اللہ کے بندو ! اللہسے ڈرواللہعزوجل فرماتا ہے:
"یایها الذین امنوا لا تاكلوا اموالكم بینكم بالباطل الا ان تكون تجارة عن تراض منكم- و لا تقتلوا انفسكم-ان الله كان بكم رحیما(۲۹)" ۔
اے ایمان والو! آپس میں ایك دوسرے کا مال بلا وجہ شرعی نہ کھاؤ ہاں تجارت میں آپس کی رضا سے نفع اٹھانے کی ممانعت نہیں اور اپنی جانیں ہلاکت میں نہ ڈالو بیشك اللہ تم پر مہربان ہے(ت)
بکر نےجو وہ پانسو زید سے لئے حرام اور قطعی سود ہیں اوریہ جو عمرو کو ۲۵ سودئیے اور عمرو نے ۲۸ سو کی رسید لکھ دی یہ تین سو بھی سود اور حرام قطعی ہیںحدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جر منفعۃ فھو ربو ۔
جو قرض نفع کھنچے وہ سود ہے۔(ت)
قرض پر جو کچھ زیادہ لیا جائے سود ہےبکر پر فرض ہے کہ زید کے پانچسو واپس کرے اور عمرو سے صرف پچیس سولے ایك پیسہ زیادہ حرام ہے اور اگر لیا ہے تو اسے بھی واپس دےعمرو کا ان پانسو میں سے دو سو مانگنا بھی حرام ہے کہ وہ مال حرام ہے اس کا کہنا کہ سود کی رقم اسے دومیرا حق ہے مجھے جائز ہےبہت سخت اشدکلمہ ہےعمرو پر لازم ہے کہ توبہ تجدید اسلام وتجدید نکاح کرے۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۰: ازقصبہ چتوڑگڑہ میواڑمرسلہ ڈاکٹر شیخ فضیلت حسین صاحب ۱۷جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ می کہ زید کی عمر ساٹھ سال کی ہے مدۃ العمر میں بوقت افلاس جب نقد روپیہ کی ضرورت پڑتی تو سودپر قرض لے کر کام چلاتا رہا اگرچہ سود کا دینا بھی شرعاممنوع ہے مگر
حوالہ / References α القرآن الکریم ۴ /۲۹
α کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۶/ ۲۳۸
#13026 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
قرض ملنے کی بجز اس کے دوسری صورت نہ تھی اب اس وقت زید کے پاس ایك ہزار روپیہ نقد ہے جس کی زکوۃ کے(ص عہ) سالانہ فرض ہوتے ہیں اگر تجارت وغیرہ کرکے صورت ترقی پیدا نہ کرے تو چند ہی سال میں ۲۵ روپیہ سالانہ ادا کرتے کرتے اصل رقم ہی ختم ہوتی ہےبباعث ضعیفی بذات خود تجارت وغیرہ کر نہیں سکتا زمانہ کی وہ حالت کہ نہ نوکر قابل اعتبارنہ شریك امانت داربلکہ جو ملاد غا باز یا مکارتو زید چاہتا ہے کہ کافروں مشرکوں کے زیوارات طلائی و نقرئی بطور رہن رکھ کر روپیہ دے کر ماہانہ یا سالانہ بطور منافع ٹھہرالے تو شرعا کیا قباحت ہےبعض علماء نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا ہے جیساکہ مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب اپنے فتاوی میں ارشاد فرماتے ہیں یا بعض علماء دارالحرب تو قرارنہیں دیتے مگر یہاں کے کافروں کو حربی سمجھ کر ان کے مال غیر محفوظ فرماتے ہیںبہر دو صورت اگر کافروں سے ایسے معاملات کئے جائیں یا ہنڈو ی لکھواکر روپیہ دے کر فائدہ اٹھالے مثلا(لع لعہ۹۹)یا ساڑھے ننانوے روپیہ دے کر سو روپیہ کی ہنڈوی اس سے لکھوالے میعاد مقرر شدہ پر سو روپیہ لے کر اس کی تحریر کردہ ہنڈوی اسے واپس کردے کہ زکوۃ کا ادا کرنا بھی نہایت ہی ضروری فرض ہےقرآن شریف میں جو اللہ عزوجل جلالہ نے ربا حرام فرمایا ہے اس میں ربا کی کیا تعریف ہےزمانہ نزول آیہ شریفہ میں عربستان میں ربا کس قسم کے سود کو کہتے تھےاسی طرح یہاں کے کافر و مشرك سوداگر غلہ وغیرہ ارزانی میں خرید کر بند رکھتے ہیں اور گرانی کے منتظر رہتے ہیں اور بحالت مجبوری مسلمانوں کو بھی انہیں سے خریدنا پڑتا ہےتو اگر زید بھی ایسا ہی کیا کرے تو شرعا اس کا کیا حکم ہے
الجواب:
قدرتی طور پر ہے کہ غلہ فصل پر ارزاں اور بیج پر گراں ہوتا ہے اس سے فائدہ اٹھانا منع نہیں غلہ بند رکھنا وہ منع ہے جس سے شہر پر تنگی ہوجائے۔ہندوستان بلا شبہہ دارالاسلام ہے اسے دارالحرب کہنا صحیح نہیںجو کافر مطیع اسلام نہ ہو نہ سلطنت اسلام میں مستامن ہو بلا غدر و بدعہدی اس سے کوئی نفع حاصل کرنا ممنوع نہیں مگر گروی اور ہنڈوی کا طریقہ صورت سود ہے اور اسے سود ہی کہتے ہیں اور حتی الوسع برے نام سے بھی بچنا چاہئے اس سے بہتر نوٹ کی بیع ہے دس کا نوٹ بارہ یا پندرہ یا جتنے پر باہم رضامندی ہو بیچنا جائز ہے تو دس کا نوٹ قرض دے اور پیسہ اوپر دس ٹھہرائے یہ سود ہے اور دس کا نوٹ سوکو بیچے یہ جائز ہےاور اگر کوئی فرق پوچھے تو اس کا جواب قرآن عظیم نے دیا ہے:
" و احل الله البیع و حرم الربوا " اللہنے حلال کی بیع اور حرام کیا سود۔سود
حوالہ / References α القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
#13027 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
کا یہی طریقہ عرب میں جاری تھا جسے حرام فرمایاگیا:
الربا فضل خال عن العوض مستحق بالعقد۔
ربا اس زیادتی کو کہتے ہیں جو عوض سے خالی ہو اور اس کا استحقاق عقد سے ہو اہو۔(ت)
یعنی عقدمیں کسی ایسی زیادت کے لے جانے کی شرط کی جائے جس کے مقابلہ میں شرعا کوئی عوض نہ ہویہ زیادت جنس متحد میں ظاہر ہوتی ہے بحالت نسیہ اتحاد وقدر میں بھی جس کی تفصیل فقہ میں ہے اور جو زیادہ مفصل بیان چاہئے ہماری کتاب کفل الفقیہ الفاھم دیکھئے۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۱: مسئولہ عبداللہ احمد سود اگر امراؤ تی برار شنبہ ۲۲/شعبان ۱۳۳۴ھ
اللہ جل شانہ نے اپنے کلام پاك قرآن مجید میں سود خوری کی سختی سے وعید فرمائی ہے اور بیشك قرآن حکیم کے اوامر و نواہی انسان کے لئے دارین میں سود مندہیں اس کے ہر فرمان پر ہمار ا سر تسلیم خم ہے مگر مزید اطمینان کے لئے استفتا کرنے کی ضرورت پڑی کہ سود دینا اور سود لینا دونوں قطعی حرام ہیں میرے ناقص خیال میں ہزار میں سے ایك شخص بھی ایسا مشکل سے نکلے گا جو مقدم الذکر دو بلاؤں میں سے کسی ایك میں مبتلا نہ ہواتجارت کے کاروبار شاید ہی بغیر سود کے انجام پائیںیہ ایك قابل غور بات ہے کہ فی زمانہ شرح سود اس قدر کم ہے کہ دینے والا خوشی سے اداکرتا ہے اس پر کسی طرح کابار نہیں پڑتا ہے کیونکہ اس کو فی صدی آٹھ آنے دیناپڑتا ہے تو ان روپوں سے تجارت کرکے سیکڑے دس پیدا کرتا ہے اسلئے لینے والا اور دینے والا دونوں فائدہ اٹھاتے ہیںتو معروض یہ ہے کہ اس آیت کا شان نزول کیا ہےربا کے جواز وعدم جواز میں کیا راز مضمر ہےاور اتنی سختی کے ساتھ ممانعت کی کیا باعث ہےمفصل تحریر فرماکر کمترین کو مطمئن فرمائیںبغیر سود کے آجکل بیوپار کرنا مشکل نہیں تو محال ضرور ہےخاص کرکے ولایت کی تجارت کا دار و مدار ہی سود پر ہے مثلا بمبئی میں ولایت کی ہنڈوی کا بھاؤ آج پندرہ روپے ہے تو کل پونے پندرہ تو پرسوں ساڑھے پندرہتو پھر ایسی حالت میں سود سے بچنا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ لاکھوں کا لین دین ہوتا ہے چونکہ آج کل تجارت زیادہ تر غیر قوموں کے ہاتھ میں ہے تو ان کے ساتھ باہم خرید و فروخت میں بغیر لئے دئے کے چل نہیں سکتاتو اس آیت کا یہ مفہو م ہے کہ مسلمان اعلی پیمانہ
حوالہ / References α ردالمحتار کتاب البیوع باب الربوٰ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۷۶،الہدایۃ باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۰،ملتقی الابحر باب الربوٰ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۲ /۳۷
#13028 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
پر تجارت نہ کریں صرف قوت بسری کے لئے کچھ تھوڑا بہت کرلیا کریں جس طرح بنی اسرائیل پر اونٹ کا گوشت اور چربی وغیرہ حرام کردی گئی تھیآج کل تجارت میں بڑا نقص یہ بھی ہے کہ مال زیادہ تر ادھار بکتا ہےتو ایسی حالت میں اگر خریدار کے ذمہ سود نہ لگایا جائے تو شائد وہ مہینے میں دینے والا برس بھر میں مشکل سے ادا کرےکافروں کے ذمہ جو سو د عائد ہوتا وہ ان سے وصول کرکے غریب مسلمان کو جو تعلیمی اخراجات کے بار کے متحمل نہیں ہوسکتے اور بے علمی کی وجہ سے اکثر مسلمانوں کے لڑکے آوارہ ہو جاتے ہیں اور رذیل پیشہ اختیار کرکے بے عزتی کی زندگی بسر کرتے ہیں بلکہ نان شبینہ کے محتاج ہوجاتے ہیں ایسے محتاج مسلمانوں کے تعلیمی امدادی فنڈ میں دیا جائے تو کیا قباحت ہے کیونکہ تین دن کے فاقہ پر حرام بھی کھانا حلال ہوجاتا ہے۔سود خور اور سوددینے والے کے لئے اس قدر عتاب انگیز کلمات لکھے گئے ہیں کہ اس کے یہاں کھاناتو درکنار اس کے سایہ میں بیٹھنا بھی ایك سخت گناہ ہےپھر ایسی حالت میں جبکہ دنیا بھر میں ہزار میں سے ایك بھی اس دقت سے بری نہیں کیا حال ہوگا یہ ممالك اسلامیہ میں بھی بنك کھولے گئے ہیں اور برابر لین دین ہوتا ہے البتہ طبقہ علماء و مشائخ اس سے محترز ہے مگر جب وعط نصیحت کے لئے نکلتے ہیں تو ان بیچاروں کو بھی سفر میں جن کے یہاں کھانے پینے کا اتفاق ہوتا ہے اکثر سود لینے یا دینے والے ہوتے ہیں پھر مجبوری سے کہو یا خوشی سے مگر میں نے کسی عالم یا مشائخ کو اس بارے میں کسی طرح کا اعتراض نکالتے نہیں دیکھا ہے ماسوا اس کے کہ مدرسوں اور دینی امورات کیلئے جو چندے وصول کئے جاتے ہیں ان میں سے شاید ہی کسی ایسے کا چندہ ہو جو اس بلا سے بچا ہوا ہومورخ خلکان نے امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے حالات کے ضمن میں ایك حکایت لکھی ہے کہ امام صاحب سے شہاب الدین غوری نے ایك کثیر رقم قرض لی تھی جب اس کو ادا کیا تو صلہ کے طورپر بہت بڑی رقم اضافہ کرکے دی تھی تو اس زیادہ کی رقم کو کیا کہنا چاہئے اور اس طرح لینا بھی جائز ہے کیافقط
الجواب الملفوظ
سود حرام قطعی ہے اور اس پر سخت شدیدوعیدیں قرآن واحادیث صحیحہ متواترہ میں وارد اور یہ کہ وہ کیوں حرام ہوا اور اس قدر اس پرسختی کیوں ہے اس کے جواب قرآن عظیم نے دو جواب عطا فرمائےایك عام اور ایك خاص عام تو یہ کہ:
" لا یســٴـل عما یفعل و هم یســٴـلون(۲۳)"
اللہ جو کچھ کرے اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں
حوالہ / References القرآن الکریم ۲۱ /۲۳
#13029 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
" ان الحكم الا لله- " " له الحكم و الیه ترجعون(۸۸) " "و ما كان لمؤمن و لا مؤمنة اذا قضى الله و رسوله امرا ان یكون لهم الخیرة من امرهم-و من یعص الله و رسوله فقد ضل ضللا مبینا(۳۶)
اورسب سے سوال ہوگاحکم نہیں مگر اللہ کو اسی کی حکومت ہےاور تمہیں اسی کی طرف پھرناکسی مسلمان مرد یا عورت کویہ گنجائش نہیں کچھ کہ جب اللہ اور رسول کسی بات میں کچھ حکم کریں تو انھیں کچھ اپنا اختیار باقی رہے اور جو اللہ ورسول کے حکم پر نہ چلے بیشك وہ صریح گمراہی میں بھٹکا۔
اور خاص یہ کہ کافروں نے اعتراض کیا تھا" انما البیع مثل الربوا " (بے شك بیع سود کی مثل ہے۔ت)تم جو خرید وفروخت کو حلال اور سود کو حرام کرتے ہو ان میں کیا فرق ہے بیع میں بھی تو نفع لینا ہوتا ہےاس کا جواب ارشاد فرمایا:
" و احل الله البیع و حرم الربوا "
اللہ نے حلال کی بیع اور حرام کیا سود۔
تم ہوتے ہو کونبندے ہو سربندگی خم کروحکم سب کو دئے جاتے ہیں حکمتیں بتانے کے لئے سب نہیں ہوتےآج دنیا بھر کے ممالك میں کسی کی مجال ہے کہ قانون ملکی کسی دفعہ پر حرف گیری کرے کہ یہ بیجا ہے یہ کیوں ہےیوں نہ چاہئےیوں ہونا چاہئے تھاجب جھوٹی فانی مجازی سلطنتوں کے سامنے چون و چرا کی مجال نہیں ہوتی تو اس ملك الملوك بادشاہ حقیقی ازلی ابدی کے حضور کیوںاور کس لئے کا دم بھرنا کیسی سخت نادانی ہےوالعیاذ باللہ تعالی۔سود لینا مطلقا عموما قطعا سخت کبیرہ ہے اور سود دینا اگر بضرورت شرعی و مجبوری ہوتو جائز ہےدرمختار میں ہے:
یجوز للمحتاج الاستقراض بالربو ۔
محتاج سود پر قرض لے سکتا ہے۔(ت)
ہاں بلا ضرورت جیسے بیٹی بیٹے کی شادی یا تجارت بڑھانا یا پکا مکان بنانے کے لئے سودی روپیہ لینا حرام ہےسود خور کے یہاں کھانا نہ چاہئے مگر حرام و ناجائزنہیںجب تك یہ معلوم نہ ہو کہ یہ چیز جو ہمارے سامنے کھانے کو آئی بعینہ سود ہے مثلا ان گیہوں کی روٹی جو اس نے سود میں لئے تھے یا
حوالہ / References القرآن الکریم ۶ /۵۷
القرآن الکریم ۲۸ /۸۸
القرآن الکریم ۳۳ /۳۶
القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
الاشباہ والنظائر بحوالہ القنیہ الفن الاول،القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۲۶
#13030 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
سود کے روپے سے اس طرح خریدی گئی ہے کہ اس پر عقد و نقد جمع ہوگئے یعنی سود کا روپیہ دکھا کر اس کے عوض خریدی اور وہی روپیہ اسے دے دیاجب تك یہ صورتیں تحقیق نہ ہوں وہ کھانا حرام ہے نہ ممنوع۔
فی الھندیۃ عن الذخیرۃ عن محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ ۔
فتاوی ہندیہ میں بحوالہ ذخیرہ امام محمد سے منقول ہے کہ ہم اسی(قول جواز)کو لیتے ہیں جب تك بعینہ کسی شے کا حرام ہونا معلوم نہ ہوجائے(ت)
تو نہ خلق پر تنگی ہے نہ علماء پر اعتراضہاں تجارت حرام کے دردوازے آج کل بکثرت کھلے ہیں ان کی بندش کو اگر تنگی سمجھا جائے تو مجبوری ہے وہ تو بیشك شرع مطہر نے ہمیشہ کیلئے بندکئے ہیں جو آج بے قیدی چاہے کل نہایت سخت شدید قید میں گرفتار ہوگا اور جو آج احکام کا مقید رہے کل بڑے چین کی آزادی پائے گا۔دنیا مسلمان کےلئے قید خانہ ہے اور کافر کےلئے جنت۔ مسلمانوں سے کس نے کہا کہ کافروں کی اموال کی وسعت اور طریق تحصیل آزادی اور کثرت کی طرف نگاہ پھاڑ کر دیکھےاے مسکین !تجھے تو کل کا دن سنوارنا ہے
" یوم لا ینفع مال و لا بنون(۸۸) الا من اتى الله بقلب سلیم(۸۹) " ۔
جس دن نہ مال نفع دے گا نہ اولادمگر جو اللہ کے حضور سلامت والے دل کے ساتھ حاضر ہوا۔
اے مسکین ! تیرے رب نے پہلے ہی تجھے فرمادیا ہے:
ولاتمدن عینیك الی مامتعنا بہ ازواجا منھم زھرۃ الحیوۃ الدنیا لنفتنھم فیہ ورزق ربك خیر وابقی ۔
اپنی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ اس دنیوی زندگی کی آرائش کی طرف جو ہم نے کافروں کے کچھ مردوں و عورتوں کے برتنے کو دی تاکہ وہ اس کے فتنہ میں پڑ ے رہیں اور ہماری یاد سے غافل ہوں اور تیرے رب کا رزق بہتر ہے اور باقی رہنے والا۔
چندہ کا جواب اوپر آگیا کہ اگر ہم کو تحقیق سے معلوم ہو کہ یہ روپیہ جو دے رہا ہے بعینہ سود کا ہے تو لینا حرام ورنہ جائز۔ربا اس صور ت میں متحقق ہوتا ہےکہ عقد میں مشروط ہو اگرچہ شرط نصا نہ ہو یا عرفا ہو
حوالہ / References α فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲
α القرآن الکریم ۲۶ /۸۸ و۸۹
α القرآن الکریم ۲۰ /۱۳۱
#13031 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
ورنہ احسا نا قرار داد سے زائد دینا نہ ربا ہے نہ جرم۔خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك پاجامہ خریدا اور قیمت کی چاندی وزن کرنیوالے سے ارشاد فرمایا:زن وارجح تول اور زیادہ دے۔یہ احسان ہے" ما على المحسنین من سبیل " ۔ (احسان کرنے والوں پر کوئی راہ نہیں۔ت) پھر امام رازی پر کیا اعتراض ہےسود لینا شرع نے مطلقا حرام فرمایا ہے مسلم سے ہو یا کافرسےقال تعالی " وحرم الربوا " (اللہ تعالی نے ارشادفرمایا:اللہ تعالی نے سود کو حرام کیا۔ت) اس میں کوئی تخصیص نہیں مگر مدار اعمال نیت پرہے اگر کسی کافر کا مال کہ نہ ذمی ہو نہ مستامنبلاغدر و بدعہدی اور بغیر کسی نیت ناجائز کے حاصل ہو تو بہ نیت شے مباح اسے لینا ممنوع نہیں اگرچہ وہ دینے والا اپنے ذہن میں سود ہی سمجھ کر دے یہ مال مساجد و مدارس و مصارف یتامی میں بھی صرف ہوسکتا ہے۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۹۲: از مقام کٹھور ضلع سورت حاجی محمد سلیمان کٹروا بروز یکشنبہ ۲۹ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فی زماننا ٹراموے و ریلوے کمپنی ودیگر کارخانہ جات کے حصص جسے یہاں کی اصطلاح میں شیئر کہتے ہیں خریدے جاتے ہیں اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایك کمپنی ٹراموے یا ریلوے یا کارخانہ پارچہ بافی یاآہن سازی یا کسی تجارت کے لئے قائم کی جاتی ہے اور اس کا سر مایہ مقرر کرکے اس کے حصص فروخت کئے جاتے ہیں اور اس کے کارکنان بھی تنخواہ دار مقررکئے جاتے ہیں جو حسب منصب کام کرتے ہیں اور ششماہی یا سالانہ اس کے نفع نقصان کا حساب شائع کرتے ہیں اور نفع بھی حصہ رسد تقسیم کرتے ہیں اور کچھ روپیہ نفع میں سے جمع بھی رہتا ہے جو سود پر بھی دیا جاتا ہے اور اس کا سود بھی نفع میں شامل کر کے حصہ داروں کو تقسیم کیا جاتا ہے اور ضرورت کے وقت سودی روپیہ بھی لیا جاتا ہے اس کا سود اصل رقم یا نفع میں سے دیا جاتا ہے اور ان حصص کی قیمت کمپنی کے نفع نقصان کے اعتبار سے بڑھتی گھٹتی رہتی ہے حصہ داران اپنے حصہ کو اسی بھاؤ سے فروخت کردیتے ہیں لیکن فروخت کی یہ صورت ہوتی ہے کہ بائع دلال سے کہتا ہے کہ میں اپنی فلاں کمپنی کا حصہ فروخت کرنا چاہتا ہوں تو دلال کہتا ہے کہ آج
حوالہ / References α سنن ابوداؤد کتاب البیوع باب فی الرجحان فی الوزن آفتاب عالم پریس لاہور۲/ ۱۱۸
α القرآن الکریم ۹ /۹۱
α القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
#13032 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
یہ بھاؤ ہے پھر اگر بائع کو اس بھاؤ سے فروخت کرنا ہوتا ہے تو دلال کہہ دیتا ہے کہ بیچ دوتو وہ کسی کو بیچ دیتا ہےیہاں مشتری کسی چیز پر قبضہ نہیں کرتا ہے بلکہ صرف کمپنی والوں سے دلال بائع کے نام کی جگہ مشتری کا نام لکھواکر دے دیتا ہےیہاں قابل غور یہ امر بھی ہے کہ اگر مشتری کمپنی والوں سے اپنے حصص کے عوض کمپنی کے اسباب تجارت میں سے کوئی شے طلب کرے تو کمپنی والے وہ شیئ اسے نہیں دیتے اور نہ اسے اس کے دام واپس کرتے ہیں البتہ وہ جس وقت حصہ فروخت کرنا چاہے تو بازاری بھاؤ سے اسی وقت مذکورہ بالا طریق سے فروخت ہوجاتا ہےاور اسے اسی وقت روپیہ مل بھی جاتا ہےاب دریافت طلب یہ امر ہے حصص خرید نے عندالشرع جائزہیں یانہیں اور اگر جائز ہے تو یہ کس بیع میں داخل ہے اور اس میں زکوۃ حصص کی قیمت پر لازم آتی ہے یامنافع پربینواتوجروا۔
الجواب الملفوظ
ظاہر ہے کہ حصہ روپوں کا ہے اور وہ اتنے ہی روپوں کو بیچاجائے گا جتنے کا حصہ ہے یا کم زائد کو بیچاگیا تو ربا اور حرام قطعی ہےاور اگر مساوی ہی کو بیچاگیا تو صرف ہے جس میں تقابض بدلین نہ ہوا یوں حرام ہےپھر حصہ داروں کو جو منافع کا سود دیا جاتا ہے وہ بھی حرام ہےغرض یہ معاملہ حرام درحرام محض حرام ہے حصص کی قیمت شرعا کوئی چیز نہیں بلکہ اصل کے روپے جتنے اس کے کمپنی میں جمع ہیںیا مال میں اس کا جتنا حصہ ہےیا منفعت جائزہ غیر ربا میں اس کا جتنا حصہ ہے اس پر زکوۃ لازم آئیگی۔واللہ تعالی اعلم
مسئلہ۱۹۳: از بہرائچ درگاہ شریف مسئولہ عظیم الدین مدرس افسر مدرسہ مسعودیہ بروز پنجشنبہ۲۲ صفر ۱۳۳۴ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے عمرو کو کچھ روپیہ مختلف شرع سود پر بدفعات قرض دیا اور اس روپیہ میں کوئی جائداد مرہون نہیں تھی اس کے بعد خالد پسر زید نے عمرو کی جائداد بخیال اپنے وارث ہونے کے خرید کیاکل زر قرض اصل معہ سود زر ثمن جائداد میں مجرا لیاپس سوال یہ ہے کہ خالد وعمرو جو دونوں سنی المذہب ہیں اور حدود شرعیہ سے نکلنا نہیں چاہتےایسی صورت میں خالد کو رقم سود حلال ومباح ہے یا حرام وناجائز ہے اور خالد خیرات وصدقہ کر دینے کے عذر سے یا عمرو کے مبتلائے اسراف ہو جانے کے احتمال سے رقم سود واپس نہیں کرنا چاہتایہ عذر اس کا کیسا ہے جواب مع دلائلمہربانی فرما کر تحریر فرما ئیے فقط۔
#13033 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
الجواب :
اللہ عزوجل فرماتا ہے:
" یایها الذین امنوا اتقوا الله و ذروا ما بقی من الربوا ان كنتم مؤمنین(۲۷۸) فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من الله و رسوله- " ۔
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہا چھوڑ دو پھر اگر ایسا نہ کرو تو اللہ ورسول سے لڑائی کا اعلان کردو یعنی اللہ و رسول سے لڑنے کو تیار ہوجاؤ اگر سود نہیں چھوڑتے۔
خالد پر ایك حبہ سود کا لینا حرام ہےحدیث میں فرمایا:"جس نے دانستہ ایك درہم سودکا لیا اس نے گویا چھتیس۳۶ بار اپنی ماں سے زنا کیا"۔بکثرت احادیث صحیحہ میں ہےکہ سود تہتر گناہوں کا مجموعہ ہے ایسرھا مثل ان ینکح الرجل امہ ان سب میں ہلکا یہ ہےکہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔صحیح حدیث میں ہے:
لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اکل الربو ومؤکلہ وکاتبہ و شاہدیہ وقال ھم سواء ۔
لعنت فرمائی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے سود لینے والے اور کاغذلکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنےوالوں پراور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔
اور یہ عذر کہ خیرات کرے گا یا عمرو مسرف ہے محض اغوائے شیطانی ہےاسراف اگر وہ کرے تو گناہ اس پر ہوگا اس کا مال ضائع ہوگا دوسرے کو گناہ سے بچانے کےلئے خود اللہ و رسول سے لڑائی مول لینا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی لعنت قبول کرنا عقل و دین سے کیا علاقہ رکھتا ہے اور خیرا ت کا عذر تو اور بھی بدتر ہےخیرات کرنے کے لئے حرام مال لینا اس عورت کے مثل ہے جو تصدق کے لئے اجرت پر زنا کرائے کہ خیرات کرے گی۔ ردالمحتار میں ہے :
کمطعمۃ الایتام من کدفرجھا لك الویل لاتزنی ولا تتصدقی ۔
جیسے وہ عورت کہ اپنی فرج کی کمائی سے یتیموں کو کھانا دےتیری خرابی ہو نہ زناکرنہ خیرات دے۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۷۹۔۲۷۸
المستدرك للحاکم کتاب البیوع دارالفکر بیروت ۲/ ۳۷
صحیح مسلم کتاب المساقاۃ والمزارعۃ باب الربوٰ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷
ردالمحتار
#13034 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
بلکہ خالد کی سعادت یہ ہے کہ اس کے باپ نے جس قدر سود لیا ہے وہ بھی واپس دے اگر اللہ تعالی سے ڈرتا اور حدود شرع میں رہنا چاہتا ہے تو راہ یہ ہے اور ہدایت اللہ تعالی کے ہاتھ۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۴: از مقام بمبئی سیتارام بلڈنگ کوٹھی صاحب عبدا ﷲ علی رضا صاحب مسئولہ سرور خان ۱۳ محرم الحرام ۱۳۳۴ھ
مصدر فیض وحسنات مکرم و معظم بندہ اعلیحضرت مولانا قبلہ دام ظلکمالسلام علیکم !
برادر م محمد عبدالعزیز نےکلکتہ سے آنجناب سے جان کے بیمہ کی نسبت دریافت کیا تھاآنجناب نے ناجائز کا فتوی دیامذکور فتوی کو انہوں نے میرے پاس بھیج دیا دیکھنے سے معلوم ہوا کہ سوال ان کا ناقص ہےدوبارہ بغرض تحقیق مسئلہ مذکورہ مفصلا پیش ہوتا ہےامیدو ارجواب باصواب ہوں۔ایك بیمہ کمپنی میں جس کے مالك و مختار سب کےسب نصرانی المذہب ہیں علاوہ دریا و آگ کے بیمہ کےجان کا بیمہ بھی ہوتا ہےصورتیں اس کی متفرق ہیں:
۱ پہلی صورت: میں تمام عمر ایك مقررہ فی بیمہ اتارنے والا کمپنی مذکورہ کو تمام عمر ہرسال دیتا رہے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کو بیمہ کی رقم دی جاتی ہے مثلا تیس سال کی عمر کے شخص نے ہزار روپیہ کی رقم کے لئے اپنا بیمہ اتارا تو سالانہ فیس اس کو اٹھائیس روپیہ دینا پڑے گا اور اس کے مرنے کے بعد کمپنی اس کے وارثوں کو پورا ایك ہزار دے دے گی مثلا آج کسی شخص نے بیمہ کمپنی سے معاہدہ کیا اور پہلے سال کی فیس دی اس کے بعد دو مہینہ یا دو سال یا چار سال کے بعد مرگیا تو بیمہ کی پوری رقم ایك ہزار روپیہ اس کے وارثوں کو مل جائے گی۔
۲دوسری صورت: یہ ہےکہ معدودفی فقط چند سال تك ہر سال کمپنی مذکور کو دیتا رہا اور اس کے مرنے پر اس کے وارثوں کو بیمہ کی رقم پوری ایك ہزار روپیہ دی جائیگییہ پہلی صورت سے اچھی ہےچند سال فی بھرنے کے بعد بھرنا نہیں ہوتاہےمثلا ایك شخص کی عمر تیس سال ہے اور ساٹھ سال کی عمر تك کمپنی کو سالانہ ساڑھے تیس روپیہ فیس دیتار ہے اور پھر نہ دے تو اس کے وارثوں کو بعد موت بیمہ کی رقم دی جائے گیاگر بیمہ اتارنے والا قبل مدت کے مر گیا تو بیمے کی طرف سے اسکے وارثوں کو پوری رقم بیمہ کی ایك ہزار روپیہ دی جائے گی۔
۳تیسری صورت: کوئی شخص جو بیمہ اتارتا ہے وہ آئندہ اپنے بڑھاپے میں مثلا پچیس سال یا ساٹھ سال یاباسٹھ سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد بیمہ کی ہوئی رقم خود وصول کرنا چاہتا ہے اس عمر تك بیمہ اتارنے والا زندہ رہا تو رقم مذکور اسی کو ملے گی ہر بڑھاپے عمر کی فیس جدا ہے مثلا تیس سال کی عمر کا شخص ساٹھ سال
#13035 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
کی عمر کو پہنچنے کے بعد ایك ہزار چاہتا ہے تو سالانہ اس کی فیس ساڑھے چونتیس روپے ہےاگر وہ زندہ رہا تو سالانہ اس کو فیس مذکورہ دینا ہوگااور اس کو ساٹھ سال کی عمر میں بیمہ کی رقم ایك ہزار ملے گی اس درمیان میں بیمہ اتارنے والا مرگیاتو پوری رقم بیمہ کی ایك ہزار وپیہ اس کے وارثوں کو مل جائے گی۔
۴چوتھی صورت: یہ صورت تیسری صورت سے ملتی جلتی ہےفرق یہ ہے کہ اس صورت میں بیمہ اتارنے والے کو فقط بیس سال تك فیس دینی پڑتی ہے اس کے بعد پھر دینا نہیں پڑتا اس کی فیس تیسری صورت سے ذرا زیادہ ہے مثلا تیس سال کی عمر کا شخص ساٹھ سال میں ایك ہزار روپیہ چاہتا ہے تو اس کو سالانہ بیالیس روپیہ دینا ہوگا بیس سال کے بعد پھر دینا نہ ہوگاجب وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچے گا تو کمپنی اس کو بیمہ کی رقم دے دیگی یعنی مبلغ ایك ہزار روپیہاس اثناء میں وہ مرگیا تو اس کے وارثوں کو پورا ایك ہزار روپیہ مل جائے گا۔کوئی شخص مذکورہ بالا صورتوں کا بیمہ لینے کے بعد چند سال بیمہ کی فیس دیتا رہا اس کے بعد دینا نہ چاہے یا دے نہ سکا اور کمپنی سے روپیہ جو بھرا ہے واپس چاہتا ہے تو فقط نصف رقم فیس ادا کردہ اس کو ملے گیمثلا دس سال تك دیتا رہا اندازا جملہ چار سو ہوا زیادہ ہوا یا کم ہوا اب وہ کمپنی سے اپنا معاہدہ منسوخ کراکر جو روپیہ بھرا ہے واپس چاہتا ہےتو فقط نصف رقم چار سو کی دو سو۲۰۰ ملے گی اگر واپس نہ چاہا تو مدت مقررہ گزرنے پر جس کو وہ انتخاب کیا ہو بوقت معاہدہ بیمہ کی رقم بالمناسبۃ ملے گی مثلا چوتھی صورت کا بیمہ کسی نے لیا پانچ سال تك فی دیتا رہااس کے بعد دے نہ سکا یا دینا نہ چاہا تو اس کو پاؤ رقم کی دئے کی رسید ملے گی یعنی ۲۵۰ روپیہ اس کو یا تو بشرط حیات ساٹھ سال کی عمر میں مذکور روپیہ ۲۵۰ ملے گا یا بعد موت اس کے وارثوں کو ملے گابیمہ کی فیس جدا جدا ہے جتنی عمر کم ہوگی اتنی فیس کم ہوگی بڑی عمر کےلئے زیادہ فیس ہےیہ حساب بیمی اتارنے کے وقت کیا جاتا ہے اور بیمہ اتارنے کے وقت جو عمر رہتی ہے اس کی فیس تمام عمر یا بڑھاپے کی عمر تك بھرنا ہوگا جس کو وہ پسند کرے۔بالا مذکور صورتوں سے روپیہ جمع کرنا اور بیمہ کمپنی سے معاہدہ کرنا اور کمپنی مذکورہ سے وصول کرنا شرعا جائز ہے یانہیں سائل حنفی المذہب ہے لہذا فتوی بھی اسی مذہب پر ہو۔والسلام
الجواب:
یہ بالکل قمار ہے اور محض باطل کہ کسی عقد شرعی کے تحت میں داخل نہیںایسی جگہ عقود فاسدہ بغیر عذر کے جو اجازت دی گئی وہ اس صورت سے مقید ہے کہ ہر طرح ہی اپنانفع ہو اور یہ ایسی کمپنیوں میں کسی طرح متوقع نہیں لہذا اجازت نہیں کما حقق المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر(جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں تحقیق فرمائی۔ت)واللہ تعالی اعلم۔
#13036 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
مسئلہ۱۹۵: ازموضع درؤضلع پیلی بھیت مرسلہ عبدالعزیز خان صاحب ۳/رجب ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فروخت غلہ نسیہ ساتھ نقصسان نرخ کے بشرط ادائیگی وقت خرمن گاہ جس طرح فی زمانہ زمیندار کیا کرتے ہیں مثلا اسامی نے تخم واسطے کاشتکاری زمیندار سے طلب کیا اس نے نرخ سے دو تین سیر کم کرکے دے دیا اور اس کی قیمت اس کے ذمہ واجب الادا کرکے وقت بٹائی کے وصول کرلیا خواہ روپیہ لے لیا یا اناج جس کو ہندی میں بیج کھاد کہتے ہیں آیا اس قسم کی بیع جائز ہے یاناجائز بینواتوجروا۔
الجواب:
قرضوں نرخ موجود سے کم بیچنے میں مضائقہ نہیں جبکہ باہم تراضی ہومگر یہ ضرور ہے کہ نرخ و قیمت و وعدہ ادائے قیمت سب وقت بیع معین کردئے جائیں اورغلے کے بدلے غلہ نہ بیچےمثلا بارہ سیر کا بك رہا ہے اس نے دس من غلہ دس سیر کے حساب سے دو مہینے کے وعدے پر چالیس روپے کو بیچا کوئی حرج نہیں اور اگر یہ ٹھہرا کہ غلہ اتنے غلے کے عوض بیچا جوآج کے بھاؤ سے اتنے روپوں کا فصل پر ہو تو حرام اور سود ہے یونہی وقت خرمن گاہ کا وعدہ بیع میں جائز نہیں ہے اگر عقد بیع میں یہ میعاد مذکور ہوگی بیع فاسد و گناہ ہوگیہاں اگر نفس عقد میں قرضو ں کا ذکر نہ تھا پھر قرار پایا کہ یہ روپے جو مشتری پر لازم آئے وقت خرمن ادا کئے جائیں گے تو جائز ہے۔
فی الدر المختار لایصح البیع بثمن مؤجل الی قدوم الحاج والحصاد للزرع والدیا س للحب والقطاف للعنب لانہا تتقدم وتتأخر ولو باع مطلقا عن ھذہ الاجال ثم اجل الثمن الدین الیہا صح التاجیل کما لو کفل الی ھذہ الاوقات لان الجہالۃ الیسیرۃ متحملۃ فی الدین والکفالۃ اھ مختصرا۔ درمختار میں ہے کہ بیع اس ثمن کے بدلے صحیح نہیں جس کی میعاد حاجیوں کے آنے یا کھیت کاٹنے یا غلہ گاہنے یا انگور توڑنے کے ساتھ مقرر کی گئی ہو کیونکہ یہ اوقات مقدم و مؤخر ہوتے رہتے ہیں ہاں اگر ان اوقات کا ذکر کئے بغیر بیع کی پھر ثمن دین کوان اوقات کے ساتھ مؤجل کردیا تو مدت مقرر کرنا صحیح ہے جیسا کہ کوئی شخص اوقات مذکورہ تك ضامن بنے کیونکہ تھوڑی سی جہالت دین اور ضمانت میں قابل برداشت ہے اھ مختصرا(ت)
حوالہ / References α درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷
#13037 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
پھر بہر حال یہ اس سے انہیں قرار یافتہ روپوں کے لینے کا مستحق ہوگا وقت خرمن جبر نہیں کرسکتا کہ اب اس وقت کے بھاؤ سے اتنے روپوں کا جو غلہ ہو اوہ دے یہاں تك کہ اگر عقد میں یہ شرط کرلی تھی کہ چالیس روپے زر ثمن کے عوض فصل پر جو بھاؤ ہوگا اس کے حساب سے غلہ لیا جائیگا تو بیع فاسد وحرام ہوجائے گی۔
لفساد الشرط وصفقتین فی صفقۃ والافتراق عن دین بدین فی ماشرط من معاوضۃ الثمن بالحب مع جھالۃ قدرالمبیع فی ھذہ المعاوضۃ
کیوں کہ اس میں فساد شرطایك سودے میں دو سودوں کا اجتماع اور جدا ہونا ہے دین سے دین کے بدلے میں اس چیز میں جو اس نے وقت خرمن پر معاوضہ ثمن کی شرط لگائی باوجودیکہ اس معاوضہ میں مبیع کی مقدار مجہول ہے(ت)
ہاں اگر فصل پر مشتری کہے میرے پاس روپیہ نہیں آج کے نرخ بازار سے کہ فریقین کو معلوم ہے ان روپوں کے بدلے غلہ لے لو تو جائز ہے کما نص علیہ العلماء و بیناہ فی فتاونا(جیسا کہ اس پر علماء نے نص فرمائی ہے اور ہم نے اس کو اپنے فتاوی میں بیان کیا۔ت)
مسئلہ ۱۹۶: مرسلہ وحید الدین صاحب محلہ اردو بازار بھاگلپور سٹی
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندوستان دارالاسلام ہے یا دارالحرب اور دونوں کی تعریفیں کیا ہیں ہندوستان میں غیر اقوام سے سو د لینا جائز ہے یانہیں جو شخص سود لیتا ہے یاسود تمسکات کی تحریر کی اجرت سے اپنی اوقات گزاری کرتا ہو ایسے شخص کے یہاں کا کھانا جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
ہندوستان دارالاسلام ہے دارالاسلام وہ ملك ہے کہ فی الحال اس میں اسلامی سلطنت ہویا اب نہیں تو پہلے تھیاور غیر مسلم بادشاہ نے اس میں شعائر اسلام مثل جمعہ و عیدین و اذان و اقامت وجماعت باقی رکھے اور اگر شعائر کفر جاری کئے اور شعائر اسلام یك لخت اٹھادئے اور اس میں کوئی شخص امان اول پر باقی نہ رہااور وہ جگہ چاروں طرف سےدارالاسلام سے گھری ہوئی نہیں تو دارالحرب ہوجائے گاجب تك یہ تینوں شرطیں جمع نہ ہوں کوئی دارالاسلام دارالحرب نہیں ہوسکتا۔سود لینا نہ مسلمان سے حلال ہے نہ کافر سے۔سود خور اور تمسك لکھنے والا اور اس پر گواہی کرنیوالے سب ایك حکم میں ہیں جو کھانا سامنے لایا اگر معلوم ہو کہ یہ بعینہ سود کا ہے تو اس کا کھانا حرام اور اگر سود کا روپیہ دکھا کر یا پہلے دے کر اسکے عوض کھانے کی چیز خریدی جب ناجائز ہے ورنہ ناجائز
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب المساقات باب الربوٰ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷
#13038 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
نہیں مگر ایسے لوگوں سے اختلاط نا مناسب ہے۔واللہ تعالی اعلم
مسئلہ۱۹۷:از گودنا ڈاکخانہ یولگنج ضلع سارن مدرسہ حمیدیہ مرسلہ منشی عبدالحمید صاحب ناظم مدرسہ مذکورہ ۱۸/شوال ۱۳۳۱ھ
مایقول السادۃ الفضلاء ھل یجوز اخذ الربا عن اھل الحرب فی الھند سواء کانواھنوداام نصرانیین او غیرہم ممن لاذمۃ لھم علینا۔ کیا فرماتے ہیں بزرگ فضلاء کہ کیا ہندوستان میں اہل حرب سے سودلینا جائز ہے چاہے وہ ہندو ہوں یا نصرانی ہوں یا ان کے علاوہ جن کاذ مہ ہم پر لازم نہیں (یعنی ذمی نہیں)۔(ت)
الجواب:
الھند بحمدہ تعالی دارالاسلام لبقاء کثیر من شعائر الاسلام ومابقی علقۃ منھا تبقی دارالاسلام دار الاسلام لان الاسلام یعلو ولا یعلی اما اخذ الربا فانہ لایجوز مطلقا لاطلاق نصوص التحریم وماذکروامن جواز اخذ الفضل فی دارالحرب فلیس من باب الربا فی شیئلان الربا انما یکون فی مال معصوم ومال اھل دارالحرب غیر معصوم حتی من اسلم منھم ثمہ ولم یھاجر الینا فاخذ ذلك اخذ مال مباح لااخذ رباولذا یقول المحققون لاربا فی دارالحرب لا انہ یجوز اخذ الربا فیہا ہندوستان الحمد ﷲ دارالاسلام ہے کیونکہ اس میں بہت سے شعائر اسلامی باقی ہیں اور جب تك ان شعائر اسلامیہ کا تعلق باقی رہے دارالاسلام دارالاسلام ہی رہتا ہے اس لئے کہ اسلام غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں ہوتا۔رہا سود کا لینا تو وہ نصوص تحریم کے اطلاق کی وجہ سے مطلقا حرام ہے اور فقہاء کرام نے جودارالحرب میں زیادہ لینے کے جواز کا ذکر کیا ہے وہ سود کے قبیلہ سے نہیں ہے کیونکہ سود مال معصوم میں ہوتا ہے اور اہل حرب کا مال معصوم نہیں یہاں تك کہ اگر اہل حرب میں سے کوئی شخص وہاں ہی مسلمان ہوااور ہجرت کرکے ہماری طرف دارالاسلام میں نہیں آیا تو اس کا مال لینا مال مباح کا لینا ہے نہ کہ سود کا لینا۔اسی لئے محققین فرماتے ہیں کہ دارالحرب میں کوئی سود نہیںیوں نہیں فرماتے کہ وہاں سود
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الجنائز باب اذا اسلم الصبی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۰
#13039 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
کما یقولون لاربا بین السید وعبدہ لاانہ یجوز للسید اخذ الربا من عبدہفانما اطلق علیہ اسم الربا نظر االی الصورۃوانما الاحکام للحقائق وھذا الحکم یعم کل حربی غیر مستامن ولو فی دار الاسلام لان المناط عدم العصمۃ وھو یشملھم جمیعافلا یحرم علینا معھم الاالغدرفاذا جاوزتہ و اخذت منھم مااخذت باسم ای عقد اردت فقد اخذت مالا مباحا لاتبعۃ علیك فیہ کما راھن الصدیق الاکبر علیہ الرضوان الاکبر کفار مکۃ فی غلبۃ الروم واخذ مالھم باذنہ علیہ وعلی الہ افضل الصلوۃ والسلامفانما جاز لعدم العصمۃ والالکان قمارامحرمافہذا ھوالاصل المطرد فی ھذا الباب ومن اتقنہ تیسر علیہ استخراج الجزئیات وقد فصلنا القول فیہ فی فتاونانعم ھنا دقیقتان یجب التنبہ لھما ۱ الاولی ینبغی التحرز عن مواقف التھم ممن جاھر باخذ الفضل منھم
لیناجائز ہے جیسا کہ وہ فرماتے ہیں کہ مالك اور اس کے غلام کے درمیان کوئی سود نہیںنہ یہ کہ مالك کا غلام سے سود لینا جائز ہےاس پر سود کا اطلاق محض صورت کے اعتبار سے ہے اور احکام تو حقائق کے لئے ہوتے ہیں(نہ کہ صورت کےلئے)اور یہ حکم مذکور ہر حربی غیر مستامن کو شامل ہے اگر چہ وہ دارالاسلام میں ہو کیونکہ اس حکم کا دارومدار مال کے معصوم نہ ہونے پر ہے اور وہ(عدم عصمت)تمام غیر مستامن حربیوں کو شامل ہے چنانچہ ہم پر ان کے ساتھ سوائے دھوکا بازی کے کچھ حرام نہیںاور جب تو دھوکا بازی سے اعراض کرتے ہوئے ان کا مال جس عقد کے نام سے چاہے لے تو بیشك تو نے مال مباح لیا اس میں تجھ پر کوئی مواخذہ نہیں جیسا کہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے غلبہ روم کے بارے میں کفار مکہ سے شرط لگائی اور نبی اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اجازت سے اس شرط پر کفار مکہ کا مال لے لیا کیونکہ ان کا مال معصوم نہیں ورنہ تو یہ جوا ہے جو کہ حرام ہے۔اس باب میں یہ قاعدہ کلیہ ہے جس نے اس کو مستحکم کرلیا اس پر جزئیات کا استخراج آسان ہوگیا اور ہم نے اپنے فتاوی میں اس پر مفصل گفتگو کی ہے ہاں یہاں دوباریك باتیں ہیں جن پر متنبہ ہونا ضروری ہےپہلی بات یہ ہے کہ تہمت کی جگہوں سے بچنا چاہئے۔جس شخص نے اعلانیہ طور پر حربیوں سے زیادتی مال وصول کی اور
#13040 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
بالنیۃ الصحیحۃ المذکورۃ انما یاخذ حلالا ولکن یتھمہ العوام باکل الربا فینبغی التحرز عنہ لذوی الھیأت فی الدین و۲الثانیۃ ان من الصور المباحۃ ما یکون جرمافی القانون ففی اقتحامہ تعریض النفس للاذی والاذلال وھو لایجوز فیجب التحرز عن مثلہ وما عدا ذلك مباح سائغ لاحجر فیہنعم من اخذ منھم الفضل ونوی اخذ الربا فھو الذی قصد المعصیۃ وانما الاعمال بالنیات ولکل امرئ مانوی کما نصوا علیہ فی من تعمد النظر من بعید الی ثوب موضوع فی الطاق ظنامنہ انھا امرأۃ اجنبیۃ حیث یا ثم بما قصد و ان کان النظر الی الثوب مباحافی نفسہ وھوسبحانہ وتعالی اعلم۔ نیت اس کی صحیح ہے جس کا ذکر ہوا تو بیشك وہ حلال مال لیتا ہے لیکن عوام اس پر سود کھانے کی تہمت لگائیں گے لہذا دینی اعتبار سے صاحب حیثیت لوگوں کو اس سے اجتناب کرنا چاہئے دوسری بات یہ ہے کہ مباح صورتوں میں سے بعض قانونی طور پر جرم ہوتی ہیں ان میں ملوث ہونا اپنی ذات کو اذیت و ذلت کےلئے پیش کرنا ہے اور وہ ناجائز ہےاس طرح کی صورتوں سے بچنا ضروری ہے اور اس کا ماسوا مباح و جائز ہے اس میں کوئی ممانعت نہیںہاں جس نے حربیوں سے زیادہ مال بنیت سود لیا تواس نے گناہ کا قصد کیا اور اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے ہر شخص کےلئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کیجیسا کہ فقہاء کرام نے اس شخص کے بارے میں اس پر نص کی ہے جس نے طاق میں رکھے ہوئے کپڑے کو دور سے غیر محرم عورت سمجھتے ہوئے قصدا اس کی طرف نظر کی کیونکہ اس نے اپنے قصد میں گناہ کیا اگرچہ کپڑے کو دیکھنا فی نفسہ مباح ہے۔(ت)وھو سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۸: ازلکھنؤ بازار جھاؤلال مکان ۳۷ مسئولہ سید عزیز الرحمان ۱۱/رمضان ۱۳۳۹ھ
ماقولکم رحمکم اللہ(آپ کا کیافرمان ہے اللہ آپ پر رحم کرے۔ت)ربا کی حرمت نصوص صریحہ سے ثابت ہے مگر قرآن مجید میں ربا کی کوئی تفسیر نہیں کی گئیایام جاہلیت میں جو ربا عام طور پر شائع تھا وہ یہ تھا کہ لوگ ایك دوسرے سے میعاد معینہ پر قرض لیتے تھے اور میعاد
حوالہ / References صحیح البخاری باب کیف کان بدأ الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲
#13048 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
گزرجانے پر مدیون راس المال پر اضافہ گوارا کرتا یا پہلے ہی سے دونوں میں معاہدہ ہوجاتا تھااسی راس المال پر اس افزائش کو اضافہ کرکے پھر اس پر سود لگایا جاتا تھا جیسا کہ اس زمانے میں مہاجنی کا طریقہ ہے اس صورت کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں مگر اب اس زمانے میں معاملات کی نئی صورتیں پیدا ہوگئی ہیں جیسے بنك یالائف انشورنس کمپنی یا ریلوے اور ملوں کے حصے وغیرہ جوتاجرانہ کاروبار کرتے ہیں ان میں جو شخص روپیہ جمع کرتا ہے وہ در حقیقت قرض نہیں دیتا اور جو نفع اس کو ملتا ہے وہ در حقیقت سود نہیں ہوتا بلکہ وہ اس تجارت میں ایك گونہ شرکت ہے اور جو سود مقرر ہوتا ہے اگرچہ وہ بلفظ سود ہو مگر در حقیقت سود نہیں ہے بلکہ وہ اس کاروبار کا نفع ہے جو منقح ہوتا ہے اور قرآن مجید میں کہیں منقح نفع کی حرمت وارد نہیں اور نہ اس کی کوئی وجہ معلوم ہوتی ہےاس واسطے کہ جو شخص تجارتی حساب سمجھنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو اس کو بغیر اس کے چارہ نہیں ہے کہ وہ فیصدی تین یا پانچ روپیہ پہلے سے منقح کرکے لیا کرے خصوصا اس زمانے میں جبکہ کروڑوں روپیہ کے شرکت سے تجارتی کاروبار کھولے جاتے ہیں اور شرکاء کی جانب سے ڈائر کٹروں کی جماعت کاروبار چلانے اور حساب و کتاب رکھنے اور منافع مشخص کرنے اور ریزر وفنڈ(محفوظ)کے قائم رکھنے کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں جو درحقیقت ان شرکاء کی طرف سے وکیل ہوتے ہیں تو جو منافع بعد پس انداز کرنے ریزرو فنڈ کے ان وکیلوں نے تجویز کیا ہو وہ سود نہیں ہوسکتا اور نہ ایسے کاروبار میں روپیہ داخل کرنے کو قرض کہا جاتا ہےعلاوہ اس کے ربا کی حرمت کی جو علت آیہ کریمہ" لا تظلمون و لا تظلمون(۲۷۹) " (نہ تم ظلم کرو اور نہ ظلم کئے جاؤ۔ت)میں بیان فرمائی گئی ہے وہ اس پر کسی طرح صادق نہیں آتی۔ضرورت ہے کہ علمائے کرام اس پر غور فرماکر جواب تحریر فرمائیں تاکہ اس زمانہ میں مسلمان جس کشمکش میں مبتلا ہیں اس سے نجات پائیں۔
الجواب :
یہاں چار ہی صورتیں متصور ہیںکام میں لگانے کے لئے یہ روپیہ دینے والا بغرض ۱شرکت دیتا ہے یا ۲بطور ہبہ یا ۳عاریۃ یا ۴قرض۔ صورت ہبہ تو یہاں بداہۃ نہیں اور شرکت کابطلان اظہر من الشمسشرکت ایك عقد ہے جس کا متقضی دونوں شریکوں کا اصل و نفع دونوں میں اشتراك ہے ایك شریك کے لئے معین تعداد زر مقرر کرنا قاطع شرکت ہے کہ ممکن کہ اسی قدر نفع ہو تو کلی نفع کا یہی مالك ہوگیادوسرے شریك کو کچھ نہ ملا تو ربح(نفع)میں شرکت کب ہوئی۔ جوہرہ نیرہ و تنویر الابصار میں ہے:
الشرکۃ عبارۃ من عقد بین تنویر وشرح مدقق علائی۔شرکت نام ہے اصل و نفع میں دو شریك ہونیوالوں
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۷۹
#13049 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
المتشارکین فی الاصل والربح تنویر و شرح مدقق علائی۔
کے درمیان عقد کاتنویر و شرح مدقق علائی۔(ت)
درمختار میں ہے:
شرطھا ای شرکۃ العقد عدم مایقطعھا کشرط دراہم مسماۃ من الربح لاحدھما لانہ قد لایربح غیر المسمی و حکمھا الشرکۃ فی الربح ۔ شرکت عقد کی شرط اس چیز کا نہ پایا جانا ہے جو شرکت کو قطع کرے جیسے دو شریکوں میں سے ایك کے لئے نفع میں سے معین درہموں کی شرط کیونکہ کبھی ان معینہ درہموں کے علاوہ کوئی نفع ہی نہیں ہوتا اور شرکت عقد کا حکم نفع میں شرکت ہے۔(ت)
اگر ایك سرمایہ سے تجارت ہوئی پھر اس میں سو حصہ دار اور شریك ہوئے اور ہر ایك کیلئے دس دس روپے نفع کے لینے ٹھہرے اور اس سال ایك ہی ہزار کا نفع ہوا تو یہ ہزار تنہا یہی سو حصہ دار لیں گے یہ شرکت نہیں لوٹ ہےشرکت کا متقضی یہ ہے کہ جیسے نفع میں سب شریك ہوتے ہیں نقصان ہو تو وہ بھی سب پر ہر ایك کے مال کی قدر پڑے۔ردالمحتار میں ہے:
ثم یقول فما کان من ربح فہو بینھما علی قدر رؤس اموالھما وماکان من وضیعۃ او تبعۃ فکذلکولا خلاف ان اشتراط الوضیعۃ بخلاف قدراس المال باطل واشتراط الربح متفا وتا صحیح فیما سیذکر ۔
پھر کہےجو بھی نفع ہو گا وہ دونوں کے درمیان ان کے سرمائے کی مقدار کے حساب سے ہوگا یوں ہی حکم نقصان کا بھی ہوگا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ سرمائے کی مقدار کے خلاف نقصان کی شرط لگانا باطل ہے اور نفع میں تفاوت کی شرط لگانا صحیح ہے اس کی دلیل ہم عنقریب ذکر کریں گے۔(ت)
یہاں اگر نقصان ہوا جب بھی ان حصہ داروں کو اس سے غرض نہ ہوگی وہ اپنے ہزار روپے لے چھوڑیں گے یہ شرکت ہوئی یا غصباصل مقتضاء شرکت عدل و مساوات ہے۔قال اللہ تعالی " فهم شركآء فی الثلث "
حوالہ / References α درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الشرکۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۰
α درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الشرکۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۱
α ردالمحتار کتاب الشرکۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۳۷
α القرآن الکریم ۴ /۱۲
#13050 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
( اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:سب ترکہ کے تیسرے حصہ میں شریك ہیں۔ت)فرض کیجئے کہ اصل سرمایہ ان سو حصوں سے دو چند تھا اور اس سال پندرہ سو روپے کے نفع ہوئے تو یہ نصف والے ایك ہزار لیں گے اور دو چند والوں کو صرف پانسو ملیں گے آدھے کو دو نا اور دونے کو آدھایہ عدل ہوا یا صریح ظلم۔بالجملہ اس عقد مخترعہ کو شرکت شرعیہ سے کوئی علاقہ نہیںاب نہ رہے مگر عاریت یا قرضعاریت ہے جب بھی قرض ہے کہ روپیہ صرف کرنے کو دیااو ر عاریت میں شے بعینہ قائم رہتی ہے۔درمختار میں ہے:
عاریۃ الثمنین قرض ضرورۃ استھلاك عینھا ۔ ثمنوں(سونے اور چاندی)کی عاریت قرض ہے کیونکہ اس میں عین کو ہلاك کرنا لازم ہے۔(ت)
بہر حال یہاں نہیں مگر صورت قرضاور اس پر نفع مقرر کیا گیایہی سود ہے اور یہی جاہلیت میں تھاحدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جر منفعۃ فھو ربو ۔
قرض پر جو نفع حاصل کیا جائے وہ ربا ہے۔
قرآن کریم اس نفع منقح کی تحریم سے ساکت نہیں خود سائل نے علت تحریم ربا تلاوت کی " لا تظلمون و لا تظلمون(۲۷۹)" (نہ تم ظلم کرو اور نہ ظلم کئے جاؤ۔ت) اور یہاں "تظلمون وتظلمون" دونوں ہیںان مذکور صورتوں میں کہ ہزار ہی نفع کے ہوئے اور سب ان سو حصہ دار وں نے لئے یا نفع کے پندرہ سو ہوئے اور نصف والوں نے دو نے لئےیہ ظالم ہیں اور وہ مظلوماور اگر پانچ ہزار نفع کے ہوئے تو ان نصف والوں نے دونے لئےیہ ظالم ہیں اور وہ مظوماور اگر پانچ ہزار نفع کے ہوئے تو ان نصف والوں کو پانچواں حصہ ملا اور ان دو چند ہی والوں کو چہار چندیہ مظلوم ہوئے اور وہ ظالماور اگر یہ حصے سرمایہ سے تھے تو ظلم اشد ہےاور دونے اور آدھے کو چار۔اب ایك صورت اگر یہ خیال کی جائے کہ اصل سرمایہ ان حصوں سے جدا نہ ہو انہیں حصوں سے تجارت شروع ہوئیمثلا سواشخاص نے سو سو روپے ملاکر دس ہزار سے تجارت کی اور ہر شریك کے لئے دس دس رپوے نفع منقح قرار پایا یہ صورت ظاہر کردے گی کہ وہ قرار داد ظلم و جبریت تھا یا محض جہل و حماقت۔فرض کیجئے ایك سال پانچ ہی سو نفع کے ہوئے تو یہ سوپر دس دس کرکے کیسے بٹیںکیا پانسو کہیں سے غصب کرکے ملائے جائیں گے یا پچاس ہی کو دے کر
حوالہ / References درمختار کتاب العاریۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۶
کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۳۸
القرآن الکریم ۲ /۲۷۹
#13051 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
پچاس کو رے چھوڑ دئے جائیں گے اور وہ کون سے پچاس ہوں گے جن کو دیں گے ور وہ کون سے پچاس ہوں گے جن کو محروم رکھیں گے۔فرض کیجئے دو ہزار نفع کے ہوئے تو دس دس بانٹ کر ہزار بچیں گے یہ کسی راہ چلتے کو دئے جائیں گے یا اسی تجارت میں لگادئے جائیں گےاگر اسی میں لگائیں گے تو سب کی طرف سے یا بعض کی طرف سے ثانی میں وہ بعض کون ہوں گے اور ان کو کیوں زیادہ ملا اور اول پر سب کو بیس بیس ملے اور ٹھہرے تھے دس دس خلاف قرار داد عقد کیونکر ہوا۔لاجرم عقل ہو تو یہی ماننا پڑے گا کہ جس سال ہزار نفع کے ہوں گے سب دس دس پائیں اور پانسو تو سب پانچ پانچ اور دو ہزار تو سب بیس بیساور کچھ نہ ہو تو کوئی کچھ نہیںاور نقصان ہو تو سب پر حصہ رسد۔یہی عدل ہے اور یہی مقتضائے شرکتاور یہی شرکت شرعیہاور وہ نفع منقح رجما بالغیب ٹھہرالینا محض جہل و حماقت تھابالجملہ شرع مطہر سے آنکھ بند کرنا شر ہی لاتا ہےخیرہمہ تن خیر وہی ہے جو شرع مصطفی ہے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔
مسئلہ ۱۹۹: از جالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی احمد جان صاحب مرسلہ محمد احمد خان صاحب ۲۰/ شوال ۴ ۱۳۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںایك شخص کو سرکاری بنك گھر سے اس کے روپوں کا سود آتا ہے آیا یہ شخص سرکار سے سود لے لے اور آپ نہ کھائے اور محتاج اور غریبوں کو تقسیم کردیا کرے یا کسی مفلس تنگدست کے گھر جس کو پانی کی قلت ہوکنواں لگوادے آیا وہ شخص ازروئے شرع شریف سود خوروں اور گناہگاروں میں شمار تو نہ ہوگااور ان مفلسوں اور محتاج گھر والوں کے واسطے نقد وغیرہ اس سود سے لینی اور اس کو کنوئیں کا پانی پینا درست ہے یانہیں بحوالہ کتب معتبرہ بیان فرمائیں۔
الجواب:
سود لینا مطلقا حرام ہے
قال اللہ تعالی " و حرم الربوا " وقال تعالی " و ذروا ما بقی من الربوا " ۔اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی نے سود کو حرام کیا۔ اور اللہ تعالی نے فرمایا کہ چھوڑ دو جو باقی رہا ہے سود سے(ت)
تو یہ شخص جس نے سود کی نیت سے لیا اپنی نیت فاسدہ پر گنہگار ہواہاں جبکہ وہ روپیہ برضا مندی گورنمنٹ حاصل کیا اور گورنمنٹ کی طرف سے یا اس سے لینے والوں کو کسی ضرر کے پہنچنے کا اندیشہ نہیں۔
#13052 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
تو فقراء و غرباء اسے نہ یہ سمجھ کر کہ سود کا روپیہ ہے بلکہ یہ جان کر کہ از خزانہ برضائے حاکم وقت حاصل ہوا ہے لے سکتے ہیں ان کے لئے طیب و حلال ہے یونہی اس سے بنوایا ہوا کنواں
کما فصلناہ فی فتاونا المسألۃ مسألۃ الظفر المنصوص علیہ من الدر وغیرہ من الاسفار الغر۔
جیسا کہ اس کو ہم نے اپنے فتاوی میں مفصل بیان کیا ہےیہ مسئلہ اپنے حق کو کسی طریقے سے حاصل کرلینے میں کامیابی کا مسئلہ ہے جس پر در وغیرہ کتابوں میں اس پر نص کی گئی ہے(ت) ۔
واللہ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم حکمہ احکم
مسئلہ ۲۰۰:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کہتا ہے کہ میں نے ڈاکخانہ میں روپیہ جمع کیا مگر میرا ارادہ سود لینے کا نہ تھا بلکہ میں نے منع کیا کہ سودی نہ جمع کرنا بعد کو جب عرصہ ہوگیا تو میں روپیہ لینے کے واسطے ڈاکخانہ گیا تو اس نے مع سود روپیہ مجھ کو واپس دیا میں نے انکار کیا کہ میں سود نہ لوں گااس نے کہا کہ ہم بھی واپس نہیں کرسکتے سود تم کسی محتاج کو دے دینا اس میں عالموں کی کیا رائے ہے اور شرع کا کیا حکم ہے آیا وہ روپیہ محتاج کو دینا ثواب ہے یا نہیں کیونکہ سرکار اس روپیہ کو واپس نہیں لیتی ہے اور ہمارے بھی کسی کام کا نہیںاس حالت میں محتاج کو دیں یا کیا کریں بینواتوجروا۔
الجواب:
جبکہ اس نے نہ سود لینا چاہا نہ اصلا اس کا قرار داد کیا بلکہ صراحۃ منع کردیانہ اب سود لینا مقصود توفقراء کو پہنچانے کی نیت سے وہ روپیہ جو گورنمنٹ سے بلا غدر وعہد شکنی بلکہ بخوشی ملتا ہے لینا اور لے کر مساکین مستحقین کو پہنچا دینا ضرور موجب ثواب ہے لان فیہ الاحسان بالمساکین " و الله یحب المحسنین(۱۳۴) " وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی و قد قال صلی اللہ تعالی علیہ کیونکہ اس میں مسکینوں پر احسان اور مستحقین کو ان کا حق پہنچانا ہےاوراللہ تعالی احسان کر نیوالوں سے محبت فرماتا ہےاور بیشك اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس
حوالہ / References القرآن الکریم ۳ /۱۳۴و۱۴۸
α صحیح البخاری باب کیف کان بدأ لوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲
#13053 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
وسلم من استطاع منکم ان ینفع اخاہ فلینفعہ ۔ رواہ مسلم عن جابر رضی اللہ تعالی عنہ۔واللہ تعالی اعلم۔
کی اس نے نیت کی۔اور تحقیق رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو اپنے بھائی کو نفع پہنچانے کی طاقت رکھتا ہو اس کو چاہئے کہ وہ اپنے بھائی کو نفع پہنچائے۔ (اس کو امام مسلم نے سیدنا حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت فرمایا۔اور اللہ تعالی بہتر جانتا ہے۔ت)
مسئلہ ۲۰۱: ازمیرگنج مرسلہ ابوالحسن صاحب ۶شعبان ۱۳۲۰ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ سیونگ بنك یعنی ڈاکخانہ جات سرکار میں روپیہ جمع کرنا اور اس کو سود ۴/ فیصدی جو حسب قاعدہ سرکاری جمع کنندہ کو ملتا ہے لینا جائز ہے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
سود مطلقا حرام ہے قال اللہ تعالی " و حرم الربوا " (اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:حرام کیا ہے اللہ تعالی نے سود کو۔ت)
ہاں اگر کسی کا اپنا مطالبہ واجبہ یا مباحہ جائزہ زید پر آتا ہو اور ویسے نہ ملے تو صرف بقدر مطالبہ جس طریقہ کے نام سے مل سکے لے سکتا ہے کہ اس صورت میں یہ اپنا حق لیتا ہے نہ کہ کوئی چیز ناجائزدینے والے کا اسے ناجائز نام سے تعبیر کرنا یا سمجھنا اسے مضر نہ ہوگا جب کہ اس کی نیت صحیح اور حق جائز وواجبی ہے واللہ یعلم السرواخفی(اللہ تعالی رازوں اور پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔ت)اس امر میں مسلم وغیرہ مسلم سب کا حکم یکساں ہے بشرطیکہ غدر نہ کرے فتنہ نہ ہو۔
قال اللہ تعالی " و الفتنة اكبر من القتل " ۔واللہ تعالی اعلم۔
اللہ تعالی نے فرمایا:فتنہ قتل سے بڑا(گناہ)ہے۔واللہ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۰۲: مرسلہ شیخ علاء الدین صاحب از میرٹھ لال کرتی ۱۳ شعبان المعظم ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے کچھ روپیہ بنك میں جمع کیا اس کے بعد اس کے ورثہ سے عمرو نے اسے ناجائز جان کر بنك کو نوٹس دے دیا کہ میرا کل روپیہ دے دو۔بنك والوں نے
حوالہ / References صحیح مسلم کتاب السلام باب استحباب الرقیۃ من العین الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۲۴
القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
القرآن الکریم ۲ /۲۱۷
#13054 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
اپنے ضابطہ کے موافق ایك سال میں دینے کا وعدہ کیاعمرو کو روپیہ کی ضرورت ہوئی بنك سے منگایابنك والوں نے اسے قرض قرار دے کر دیا کہ عمرو کو عمرو کا روپیہ وہ ابھی نہیں دیتے اب بعد تمامی سال بنك والے اپنے اس قرض کا سود عمرو سے لیں گے اور عمرو کے روپیہ کا ابتداء سے سود اسے دیں گے وہ مقدار اس سے بہت زائد ہوگی جو وہ عمرو سے لیں گے تو بعد منہائی عمرو ہی کو زائد ملے گا لیکن عمرو قصد مصمم کرچکا ہے کہ نہ لونگا۔اس صورت میں اسے کہنا جائز ہوگا یا نہیں کہ ہم نہ سود لیں گے نہ دیں تم اپنے یہاں حساب کرلو۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اللھم لك الحمد(اے اللہ! تیرے لیے ہی حمد ہے۔ت)شرع مطہر میں سود لینا مطلقا اور بے ضرورت ومجبوری شرعی دینا بھی دو نوں حرام ہیں مگر مال مباح جب بلا غدر و بے ارتکاب جرائم برضا مندی ملتا ہو تو اسے نہ بہ نیت سود بلکہ اسی نیت مباح سے لینے میں حرج نہیں قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی وقد حققنا المسئلۃ بما لامزید علیہ بتوفیق اللہ تعالی فی فتاونا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ بیشك اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی اور ہم نے اس مسئلہ کی تحقیق اللہ تعالی کی توفیق سے اپنے فتاوی میں اس انداز سے کردی ہے کہ اس پر اضافہ کی ضرورت نہیں۔(ت)
دینے والے کا اسے اپنے زعم میں سود سمجھنا اسے مضر نہ ہوگا جبکہ وہ نہ واقع میں سود نہ لینے والے کو سود مقصودالاتری الی قولہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم لکل امرئ مانوی فقد جعل کلا ونیۃ و قال تعالی لایضرکم من ضل اذااھتدیتم وقال تعالی کیا تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اس ارشاد کی طرف نہیں دیکھتا کہ ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔تحقیق حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہر شخص کو اس کی نیت کے ساتھ چھوڑ دیااور اللہ تعالی
حوالہ / References α صحیح البخاری باب کیف کان بداء الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲
α صحیح البخاری باب کیف کان بداء الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲
α القرآن الکریم ۵ /۱۰۵
#13055 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
" قل كل یعمل على شاكلته- نے فرمایا تمہیں نقصان نہیں پہنچاتا وہ جو گمراہ ہوا جبکہ تم خود ہدایت پر ہو۔اور اللہ تعالی نے فرمایا:اے(میرے محبوب) آپ فرمادیں کہ ہر ایك اپنے طریقے پر عمل کرتا ہے۔(ت)
مگر یہ اس صورت میں ہے کہ بنك میں کوئی مسلمان شریك نہ ہوا ور اگر مسلمان بھی حصہ دار ہوں توضرور ہے کہ یہ روپیہ جس قدر اسے زیادہ ملے گا اتنا یا اس سے زائد اس کا ان پر آتا ہو اس آتے ہوئے میں اس زیادت کو محسوب کرلے مثلا اسی بنك سے پہلے بھی متعدد بار اس نے قرض لیا تھا جس کا سود سب بار کا پانسوروپے بنك کو پہنچ چکے ہیں اور اب اسے جو کچھ وہ بنام سود دینگے وہ اسی قدر یا اس سے کم ہے تو اسے لینا جائز ہے اور نیت اس آتے ہوئے کے واپسی کی کرکے جو قانونا اس صورت کے سوا بلارضامندی کے دوسری طرح واپس نہ لے سکتا تھااور اگر وہاں مسلمان شریك ہیں اور اس کا پہلے سے کچھ نہیں آتا یا اس ر قم سے جو اسے ملے گی کم آتا ہے اور وہ خواہی نخواہی اسے یہ زیادت دیں گے تو اسے اور مسلمانوں کی جانب سے لے جن سے ان لوگوں نے سود لیا تھا
لانھم مامورون شرعا برد ما اخذ وامنھم الیہم و ھم لایردون والمسلمون لا یقدرون علی ان یسترددوا فیکون ھذا عونا لاخوانہ۔
کیونکہ اہل حرب مسلمانوں سے لیا مال انہیں واپس کرنے کے مامور ہیں حالانکہ وہ واپس نہیں کرتے اور مسلمان ان سے واپس لینے کی طاقت نہیں رکھتے تو اس طرح اسکے بھائیوں کی مدد ہوگی۔(ت)
پھر جس قدر اپنا آتا تھا خود لے سکتا تھا باقی واجب ہے کہ فقراء پر تصدق کردے
لانہ سبیل کل مال صالح لایعلم مستحقہ کما فی الدر المختار وغیرہ من معتمدات الاسفار۔واللہ تعالی اعلم۔
کیونکہ یہ سبیل ہے ہر مال صالح میں جس کا مستحق معلوم نہ ہو جیسا کہ درمختار وغیرہ قابل اعتماد کتابوں میں ہے۔واللہ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۰۳: ملك بنگالہ ضلع نصیر آباد مرسلہ مولوی تمیز الدین صاحب ۸ ذیقعدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اول سود کھاتا تھا اب اس نے توبہ کرلی کہ اب میں سود نہیں لوں گا اور نہ سود لیا پہلا جو مال اس کے پاس سودی ہے اس کا خرچ کرنا اپنے حوائج میں جائز ہے یا نہیں اس کے ورثاؤں کو وہ مال حلال ہے یا حرام
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۷ /۸۴
#13056 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
الجواب:
سود میں جو مال ملتا ہے وہ سود خور کے قبضہ میں آکر اگرچہ اس کی ملك ہوجاتا ہے
لان ھذا ھو حکم العقود الفاسدۃ وذھل الفاضل الشامی فی العقود الدریۃ۔ کیونکہ عقود فاسدہ کا یہی حکم ہے اور علامہ فاضل شامی سے عقود دریہ میں بھول ہوئی۔(ت)
مگر وہ ملك خبیث ہوتی ہے اس پر فرض ہوتا ہے کہ ناپاك مال جن جن سے لیا ہے انہیں واپس دے وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو دے وہ بھی نہ ملیں توتصد ق کردےبہرحال اپنے حوائج میں اسے خرچ کرنا حرام ہوتا ہے اگراپنے خرچ میں لائے گا تو وہ اب بھی سود کھارہا ہے اور اس کی توبہ جھوٹی ہے
لانہ لم یندم علی الماضی وما ترك فی الاتی ولم یمح الباقی فلم یوجد شیئ من ارکان التوبۃ۔ کیونکہ وہ گزشتہ پر نادم نہیں ہوا اور آئندہ کے لئے اس کو چھوڑا نہیں اور نہ ہی باقی کو مٹایا تو اس طرح ارکان توبہ میں سے کوئی بھی نہیں پایا گیا(ت)
وارث کو اگر معلوم ہوکہ اس کے مورث نے فلاں فلاں شخص سے اتنا اتنا حرام لیا تھا تو انہیں پہنچا دے اور اگر سب معلوم ہو کہ بعینہ یہ روپیہ جو اس صندوق یا اس تھیلی میں ہے خالص مال حرام ہے تو اسے فقراء پر تصدق کردے اور اگر سب مخلوط ہے اور جن سے لیا وہ بھی معلوم نہیں تو وارث کےلئے جائز ہے اور بچنا افضل ہے۔ درمختار میں ہے :
الحرمۃ تتعدد مع العلم بھا الافی حق الوارث وقیدہ فی الظہیریۃ بان لایعلم ارباب الاموال ۔
حرمت کا اگر علم ہو تو وہ منتقل ہوتی ہے سوائے وارث کے حق کےاور ظہیریہ میں حق وارث کے ساتھ یہ قید لگائی کہ وہ وارث مال کے مالکوں کو نہ جانتا ہو(تب اس کے لئے حلال ہے)۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
الحاصل انہ ان علم ارباب الاموال وجب ردہ علیہم والا فان علم عین الحرام لایحل لہ و یتصدق بہ بنیۃ صاحبہوان کان مالا
حاصل یہ کہ اگر وارث مال کے اصل مالکوں کا علم رکھتا ہو تو ان کا مال انہیں لوٹانا اس پر واجب ہے ورنہ اگر اس مال کے بعینہ حرام ہونے کا اسے علم ہے تو اس کے لئے حلال نہیں بلکہ مالك کی طرف سے
حوالہ / References الدرالمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۹
#13057 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
مختلطا مجتمعا من الحرام ولا یعلم اربابہ ولا شیئا منہ بعینہ حل لہ حکماوالاحسن دیانۃ التنزہ عنہ ۔
نیت کرتے ہوئے صدقہ کرے اور اگر مال حرام حلال سے مخلوط ہے اور وہ وارث اس کے مالکوں کونہیں جانتانہ ہی بعینہ اس کے حرام ہونے کا اس کو علم ہے تو وہ حکما اس کے لئے حلال ہے مگر دیانت کے اعتبار سے اس سے بچنا ہی زیادہ بہتر ہے۔(ت)
نیز درمختار میں ہے :
ولا یبطل حق الفسخ(ای فی البیع الفاسد)بموت احدھما(ای احد العاقدین)فیخلفہ الوارث بہ یفتی اھ اقول: فافاد ان انتقال الملك فی الملك الخبیث لا یزیل الخبث ویجب علی الوارث فسخہ فان لم یفعل اجبرا لقاضی۔واللہ تعالی اعلم۔
بیع فاسد میں بائع یا مشتری کی موت کے سبب سے حق فسخ باطل نہیں ہوتاچنانچہ مرنے والے کا وارث اس کا قائم مقام ہوگا اور اسی پر فتوی دیا جاتا ہے۔میں کہتا ہوں کہ اس کلام نے اس بات کا فائدہ دیا کہ ملك خبیث میں ملك کا منتقل ہونا خبث کو زائل نہیں کرتا لہذا وارث پر واجب ہے کہ بیع فاسد کو فسخ کرے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو قاضی اس پر جبر کرے۔واللہ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۰۴: ملك بنگالہ ضلع نصیر آباد مرسلہ مولوی تمیز الدین صاحب ۸/ ذیقعدہ ۱۳۲۲ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ سود خور کے ساتھ میل جول کرنا اور شادی اور پنچایت میں بلاناجائز ہے یانہیںبحوالہ کتب وبادلیل جواب عنایت فرمائیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
سود خور کہ علانیہ سود کھائے اور توبہ نہ کرےباز نہ آئےاس کے ساتھ میل جول نہ چاہئے اسے شادی وغیرہ میں نہ بلایا جائے
قال اللہ تعالی " و اما ینسینك الشیطن :اگر شیطان تجھے بھلادے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۳۰
ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۹
#13058 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظلمین(۶۸)" ۔واللہ تعالی اعلم۔
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا تو یاد آنے پر ظالم قوم کے ساتھ مت بیٹھ۔واللہ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۰۵:از ریاست کشن گڈھ متصل اجمیر شریف مہاراجہ اسکول تھرڈ ماسٹر مسئولہ سید امانت علی صاحب ۷ /ربیع الآخر ۱۳۳۱ھ
شادی و زندگی کا بیمہ کرنا یا کروانا جائز ہے یاناجائز آپ کے شادگرد رامپوری صاحب نے جو کہ اجمیر شریف میں عرصہ سے قیام پذیر ہیں دریافت کرنے پر یہ جواب دیا کہ میرے خیال سے تویہ حرام نہیں ہے انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ میرے مولنا مولوی احمد رضاخان صاحب سے دریافت کرلینا چاہئے میں امید کرتا ہوں کہ آپ بافادہ اہل اسلام بصورت فتوی ارسال فرماکر ممنون و مشکور فرمائیں گے۔اس بیمہ کا قانون بھی گورنر جنر ل کی کونسل سے ۱۳۱۲ھ میں پاس ہوگیا مگر ہنوز اس پر کوئی اعتراض نہ ہوا۔پر اسپکٹس اردو سالانہ رپورٹ بزبان انگریزی جناب کے ملاحظہ کے لئے روانہ کرتا ہوں۔
الجواب:
یہ نرا قمار ہے اس میں ایك حد تك روپیہ ضائع بھی جاتا ہے اور وہ منافع موہوم جس کی امید پر دین اگر ملے بھی تو کمپنی بیوقوف نہیں کہ گرہ سے ہزار ڈیڑھ ہزارد ے بلکہ وہ وہی روپیہ ہوگا جو اوروں کا ضائع گیااور ان میں مسلمان بھی ہوں گے تو کوئی وجہ اس کی حلت کی نہیں
قال اللہ تعالی " لا تاكلوا اموالكم بینكم بالباطل " ۔واللہ تعالی اعلم۔
اللہ تعالی نے فرمایا:آپس میں ایك دوسرے کا مال ناحق طور مت کھاؤ۔واللہ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۰۶:کابلی علاوہ مسلمانوں کے غیر قوم سے جو سود لیتے ہیں ان کے یہاں کھانا پیناان کے پیچھے نما ز پڑھنا یا رسم رکھنا کیسا ہے
الجواب:
یہ مسئلہ ایسانہیں کہ ایسی شدت کا برتاؤ ان سے بر تا جائے۔واللہ اتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۷: ازسید ایوب علی صاحب محلہ بہاولپور کا سگرہبریلی زید نے کچھ روپیہ بکر کو دس سال کی مدت پر سودی قرض دیا اور اس کا کاغذ رجسٹری ہوگیا۔جب
#13059 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
اہل محلہ کو اس کی خبر ہوئی اور تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اس کے علاوہ دو ایك مکان بھی زید کے پاس لوگوں کے رہن ہیں اور ان سے کرایہ وصول کرتا ہے اس پر اہل محلہ نے زید سے پوچھا جس کا اقرار زید نے کیا اور کہا کہ میرا ارادہ سود لینے کا نہیں کاغذ میں یہ شرط سود کی بقواعد تعزیرات ہند لکھادی ہے پھر کہا اس کی مدت تو دس سال ہے جب وہ وقت آئے گا میں زر سود نہ لوں گا اور مکانوں کی نسبت کہا کہ اس کا روپیہ میں اپنی بیٹی کو دے دیتا ہوں اور بیٹی نے کہا کہ میں کرایہ مکان میں دیتی ہوں اپنے پاس نہیں رکھتیاور یہ اقبال تمام واقعات کا جب کیا جب دیکھا کہ اہل محلہ چھوڑنے پر آمادہ ہیں بلکہ بعض نے چھوڑبھی دیاایسی صورت میں زید کے یہاں کھانے پینے سے احتراز کیا جائے یانہیںبینواتوجروا۔
الجواب:
صورت مذکورہ میں زید ضرور سود خور ہے اس سے احتراز کیا جائےاس سے میل جول ترك کیا جائےاس کے بہانے جھوٹے ہیںکرایہ کہ وہ لیتا ہے یقینا سود ہےاس نے سود لیا چاہے خود کھائے یا بیٹی کودےقانون کی کوئی دفعہ ایسی نہیں ہے جو قرض میں سود لکھانا ضرور ہو یہ سود خور کذابوں کا جھوٹا عذر ہے اور یہ کہنا کہ لکھا لیا ہے لیں گے نہیںایسا ہے کہ کوئی یہ کہے غلیظ منہ میں لیا ہے نگلیں کے نہیں۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ۲۰۸: ازمارہرہ مطہرہ ضلع ایٹہ حضرت سید برکات حسن صاحب ۲۴/رجب ۱۳۱۸ھ
ایك شخص چھ سوروپے قرض لیتا ہے اورجائداد روپیہ دینے والے کو دیتا اور اس کا حق الخدمت یا حق التحصیل مثلا سویا پچاس روپے مقرر کرتا ہے لفظ سود سے دونوں بچنا چاہتے ہیں یہ عقد رہن ہے قرض تو ہے نہیںقرض میں عوض نہیں ہوتا ہے الحاصل رہن صحیح ہوجائے اس کی شکل فرمادیجئے اور روپیہ لینے والا دینے والے کو جو کچھ دینا چاہتا ہے اس کو دینا اور اس کو لینا جائز ہوجائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
یہ رہن نہیں ہوسکتاگاؤں سے انتفاع بطریق اجارہ ہوتا ہے کہ زمین مزارعین کے پاس اجارے میں ہے اور اجارہ و رہن دو عقد منافی ہیں باہم جمع نہیں ہوسکتےمزارعین کے اجارے میں ہونا زمین پر ان کا قبضہ چاہے گا لاستحالۃ الانتفاع بدون القبض(کیونکہ بغیر قبضہ کے نفع حاصل کرنا محال ہے۔ت)اور مرہون ہونا مرتہن کا قبضہ چاہے گا لقولہ تعالی " فرهن مقبوضة " (تو رہن قبضہ کیا ہوا۔ت) اور دو مختلف قبضے شے واحد پر وقت واحد میں محال ہیںہاں زید مستقرض عمرو مقروض سے روپیہ قرض لے لے اور
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۸۳
#13062 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
عمرو کو اپنے گاؤں پر بطور کارندگی نوکر رکھ لے معمولی تنخواہ اگرچہ پانچ روپے ہوتی ہو اس کی دس بیس پچاس چالیس جس قدر ماہواری مناسب جانے اور باہم تراضی ہو مقرر کردے مگر اتنا لحاظ کرے کہ تنخواہ تو فیر کو محیط نہ ہوجائے کیلا یخرج من اجارات الناس(تاکہ لوگوں کے اجاروں سے خارج نہ ہوجائے۔ت)اس قدر اسے لینا بہت اکابر کے نزدیك حلال ہوگا باقی توفیر کو مالك کردیا کرے جب دین ادا ہوجائے زید عمرو کو موقوف کردے
فی الھندیۃ عن البزازیۃ استیجار المستقرض المقرض علی حفظ عین متقوم قیمتہ ازید من الاجارۃ کالسکین والمشط والمعلقۃ کل شھر بکذا اختلف فیہ الائمۃ المتأخرون فقیل یجوز بلا کراھۃ منھم الامام محمد بن سلمۃ والامام الصاحب الکامل مولانا حسام الدین علیا بادی وجلال الدین ابو الفتح محمد بن علی وصاحب الھدایۃ وقد وقع علی الجواز اجلۃ الائمۃ ۔واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ ہندیہ میں بزازیہ کے حوالے سے مذکور ہےمقروض کا کسی ایسی قیمتی معین شیئ کی حفاظت کےلئے قرض دہندہ کو اجرت پر رکھنا جس شیئ کی قیمت اجرت سے زیادہو جسے چھریکنگھی اور چمچہ کہ ہر ماہ اتنی اجرت دے گااس میں متاخرین ائمہ کا اختلاف ہےبعض نے کہا ہے کہ بلا کراہت جائز ہے ان میں امام محمد بن سلمہا مام صاحب کامل مولانا حسام الدین علیا بادیجلال الدین ابو الفتح محمد بن علی اور صاحب ہدایہ شامل ہیں اور تحقیق جلیل القدر ائمہ کرام جواز پر متفق ہوئے۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۰۹: ۹/ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
زید عمرو سے ڈیڑھ سوروپیہ بے سودی لینا چاہتا ہے قرضاور عمرو کو یہ منظور ہے کہ اسے کچھ نفع جائز شرعی طور پر مل جائے اور سود نہ ہو اس صورت میں کیا کیا جائے
الجواب:
علماء کرام نے اس کی متعدد صورتیں تحریر فرمائیں ہیں از انجملہ بہت آسان طریقہ یہ ہے کہ زید جو قرض لینا چاہتا ہے عمرو کے ہاتھ کوئی مال مثلا برتن یا کپڑا ڈیڑھ سو روپے کو بیچے عمرو خرید لے اور ڈیڑ ھ سوروپیہ زر ثمن کے زید کو دے دے بعدہ اسی جلسہ خواہ دوسرے جلسہ میں عمرو یہی مال زید کے ہاتھ دوسوروپیہ
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب الثانی والثلاثون نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۵۲۲
#13064 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
کومثلا بوعدہ ایك سال بیچے زید خریدلے اور اب اس زر ثمن کے عوض چاہے تو عمرو کے پاس رہن بھی رکھ دے اس صورت میں زید کی چیز زید کے پاس آگئی اور اسے ڈیڑھ سو روپیہ مل گئے اور اس پر عمرو کے دوسو روپے واجب ہوگئے عمرو اس رہن سے کچھ انتفاع نہ کرے ورنہ سود ہوجائے گا۔فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
رجل لہ علی رجل عشرۃ دراہم فاراد ان یجعلھا ثلثۃ عشر الی اجل قالو ایشتری من المدیون شیئا بتلك العشرۃ ویقبض المبیع ثم یبیع من المدیون بثلثۃ عشر الی سنۃ فیقع التحرز عن الحرامومثل ھذا مروی عن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم انہ امربذلك الخ۔واللہ تعالی اعلم۔ ایك شخص کے دوسرے پر دس درہم قرض ہیں وہ چاہتا ہے کہ ایك معینہ مدت تك یہ تیرہ درہم ہوجائیں۔علماء نے فرمایا ہے وہ مقروض سے ان ہی دس درہم میں کوئی چیز خریدے اور مبیع پر قبضہ کرلے پھر وہی چیز تیرہ درہم کے بدلے ایك سال کے ادھار پر مقروض کے ہاتھ فروخت کرے تو اس طرح سے حرام سے اجتناب ہوجائے گااور اسی کی مثل رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے الخ۔واللہ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۱۰:ایك شخص سو روپے قرض لیا چاہتا ہے دوسرا دیا چاہتا ہےروپے کے دینے والے کو سود لینے سے انکار ہے اور روپیہ کے لینے والے کو سود دینے سے انکار ہےکس طریقہ پر دستاویز تحریر کرائی جائے اور ہندو سے لینا نہیں چاہتے مگر روپیہ دینے والے کو بلا کسی نفع کے دینا منظور نہیں ہے۔
الجواب:
اس کی بہت سی صورتیں ہیںایك سہل صورت یہ ہے کہ دینے والا قرض نہ دے بلکہ اس کے ہاتھ نوٹ بیچےمثلا سو روپے یہ لینا چاہتاہے اور سال بھر کا وعدہ ہے اور دینے والا نفع لینا چاہتا ہے تو سورو پے کا نوٹ اس کے ہاتھ ایك سال کے وعدہ پرمثلا ایك سو بارہ روپے کو بیچے پھر اگر وہ سال کے اندر مثلا چھ مہینے میں روپیہ دے دے تو صرف ایك سو چھ لےاس سے زیادہ
حوالہ / References فتاوٰی قاضیخان کتاب البیوع فصل فیما یکون فراراعن الربٰو نولکشور لکھنو ۲ /۴۰۶
#13065 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
لینا حرام ہے یونہی اور کوئی چیز جو بازار کے عام بھاؤ سے سوروپے کی ہو ایك سوبارہ کو بیچے اس کا بھی یہی حکم ہے درمختار میں ہے:
قضی المدیون الدین المؤجل قبل الحلول لایاخذ من المرابحۃ التی جرت بینھما الابقدر مامضی من الایام ۔
مقروض نے میعادی قرضہ میعاد سے پہلے ادا کردیا تو قرض دہندہ اس سے وہ نفع نہ لے جوان کے درمیان طے پایا تھا مگر صرف اتنے دنوں کے حساب سے نفع لے سکتا ہے جتنے دن گزرچکے ہیں(ت)
دوسرے یہ کہ سوروپے اسے قرض دے اور قرض لینے والا دینے والے کے پاس اپنی کوئی چیز مثلا چاقو یا تھالی امانت رکھے اور دینے والے سے کہے میری اس چیز کی حفاظت کرمیں اس کی حفاظت پرایك روپیہ یا ۴ / یا ۲/ یا دس روپے ماہوار جو ٹھہرجائے دوں گا مگر جو شے ا سکے پاس رکھے اس کی قیمت اس اجرت سے زیادہ ہو روپے مہینہ پر رکھے تو روپے سے زیادہ قیمت کی چیز ہو۔
عالمگیریہ میں ہے:
استیجار المستقرض المقرض علی حفظ عین متقومۃ قیمتہ ازید من الاجرۃ کالسکین والمشط و المعلقۃ کل شہر بکذااختلف فیہ الائمۃ المتاخرون فقیل یجوز بلا کراہۃ منھم الامام محمد بن سلمۃ و الامام الصاحب الکامل مولانا حسام الدین علیا بادی وجلال الدین ابو الفتح محمد بن علی وصاحب الھدایۃ وقد وقع علی الجواز اجلۃ الائمۃ ۔
مقروض کسی ایسی قیمتی معین شیئ کی حفاظت کے لئے قرض دہندہ کو معین ماہانہ اجرت پر مقرر کرے جس شیئ کی قیمت اجرت سے زیاد ہ ہے مثلا چاقوکنگھی اور چمچ وغیرہتواس میں متاخرین ائمہ کے درمیان اختلاف ہوابعض نے بلاکراہت جواز کا قول کیا ان میں امام محمد بن سلمہامام صاحب کامل مولانا حسام الدین علیا بادیجلال الدین ابوالفتح محمد بن علی اور صاحب ہدایہ شامل ہیںاور تحقیق جلیل القدر ائمہ کرام نے جواز پر اتفاق کیا ہے۔(ت)
اور اس کے سوا اور صورتیں ہیں کہ ہم نے کفل الفقیہ میں ذکر کیں۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۱: مسئولہ محمد حسین خان بریلی شہر کہنہ ۳/ شوال المکرم
جناب مولوی صاحب قبلہ و کعبہ دارین مدظلہ اللہ آداب! بصد نیازگزارش ہے کہ مجھ سے ایك
حوالہ / References درمختار باب مسائل شتی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۵۱
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب الثانی والثلاثون نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۵۲۲
#13067 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
شخص قرضہ چاہتا ہے اور بالعوض اس کے اپنا مکان وہ شخص رہن کرنا چاہتا ہے مجھ کو روپے دینے میں اور دوسرے کی حاجت نکالنے میں کچھ عذر اور انکار نہیں ہے کیونکہ روپیہ اللہ نے جبکہ دیا ہے تو دوسرے کی حاجت براری ہوجانے پر امید ہے کہ اللہ بھی خوش ہوگا مگر اس قدر ہے کہ سود کھانا نہیں چاہتا ہوںاب اس میں گزارش ہے وہ جائداد بالعوض روپیہ کے دخلی رہن کردیں یا کس طرح سے روپیہ دوں کہ سود سے بچوں کیونکہ میں اہل اسلام ہوں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
دخلی رہن بھی سود اور حرام ہے بلکہ سبیل یہ ہے کہ آپ محض بلا سود و بلا رہن روپیہ قرض دیجئے پھر اس سے اپنا کوئی برتن مثلا وہ مدیون آپ کو دے کہ اس کی حفاظت کرو حفاظت کا اتنا ماہوار مثلا ایك روپیہ یا دس روپے تمہیں دی جائیگی یوں اس حفاظت کی اجرت کا روپیہ لینا حلال ہوگااور اگر مکان ہی چاہئے تو وہ کوئی برتن وغیرہ مثلا دس روپے مہینے اجرت پر کو حفاظت کےلئے دے اور آپ اس کا مکان مثلا دس روپے یا کم و بیش کو جتنا کہ قرار پائے اسی سے کرایہ پر لیجئے حفاظت کی اجرت ماہوار اس پر واجب ہوگی اور مکان کا کرایہ آپ پرپھر اگر دونوں اجرتیں بر ابرہیں تو باہم آپ دونوں کو معاملہ برابر ہوگیانہ آپ اسے روپیہ دیں نہ وہ آپ کوآپ اس کی چیز کی حفاظت کریں اور اس کرایہ کے مکان میں رہیں اور اگر برابر نہیں تو جس پر زیادہ ہے وہ قدر زائد ادا کرتا رہے۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۲: ۱۱شعبان ۱۳۳۵ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ حکام ریاست بہاولپور برائے مخلصی مسلمانان از قرض ہندو ان درہر موضع و دہ بنك تجویز کر دہ اندبایں طور کہ چند معتبران موضع را ممبر آں بنك نمودہ می گویند کہ از ہر کس حسب حیثیت روپیہ داخل بنك کنایندہ نزد خود جمع سازید وازاں روپیہ خاصۃ داخل کنندہ را و بدیگرے رابوقت حاجت ولے قرض میعاد ی بسود یسیر دادہ باشید و عند المیعاد علمائے دین اس مسئلہ میں کیا ارشادفرماتے ہیں کہ ریاست بہاولپور کے حکام نے ہندوؤں کے قرض سے مسلمانوں کو رہائی دلانے کے لئے ہر بستی اور گاؤں میں بنك تجویز کیا ہےاس کی صورت یہ ہے کہ اس بستی کے چند معتبروں کو بنك کا ممبر ظاہر کرکے کہتے ہیں کہ ہر شخص سے اس کی حیثیت کے مطابق روپے بنك میں داخل کراکے اپنے پاس جمع رکھوپھر انہیں خاص روپوں میں سے داخل کرنے والے کو یا دوسرے کو بوقت ضرورت تھوڑے سے سود پر میعادی قرض کے طور پر دیں اور
#13068 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
آں روپیہ مع سود ازو وصول نمودہ بایں طرز دیگرے راہ و سیس اخیر رامی دہید از سود دادہ شما آن جائداد شما تر قی پذیردو برآمدگی حاجات مسلماناں از مال خویش بسہولت گردد و ضرورت باستقراض ا ز ہند وان نماند۔پس در شرع شریف روپیہ دادن یا گرفتن ازیں بنك چہ حکم داردچونکہ دریں امر عامہ مسلمانان از حکام ماورند و مجبورازآں اگر حیلہ جواز فعل ایشاں ایما فرمودہ شود امید کہ قرین ماجوریت عنداللہ و مشکوریت من خلق اللہ خواہد شد۔ میعاد گزرنے پر وہ روپے سود سمیت اس سے واپس لیں اور پھر اسی طرح کسی دوسرے شخص کو اسی طریقے سے قرض دیں اسی طرح یکے بعد دیگرے حاجتمندوں کو سود پر قرض دیتے جائیں تاکہ تمہارے ادا کردہ سودسے تمہاری جائداد ترقی اختیار کرے اور مسلمانوں کی حاجات ان کے اپنے مال سے بآسانی پوری ہوں اور ہندوؤں سے قرض لینے کی ضرورت نہ پڑے۔شرع شریف میں اس بنك کو روپیہ دینا اوراس سے لینا کیا حکم رکھتا ہے چونکہ اس معاملہ میں عام مسلمان حاکموں کی طرف سے مامور اور مجبور ہیں اس لئے اگر ان کے اس فعل کے جواز کی طرف کوئی اشارہ فرمایا جائے تو امید ہے کہ اللہ تعالی کے ہاں ماجور اور مخلوق کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہوں گے۔(ت)
الجواب:
ربا گرفتن حرام قطعی بالاجماع و کبیرہ و شدیدہ است وربا دادن محتاج بحاجت شرعیہ صحیحہ را رخصت کردہ اند فی الدر المختار یجوز المحتاج الاستقراض بالربا حاصل ایں بنك آنست کہ حرامے کہ ہندو ان می خورند بیاید تا مسلمانان خورند و لاحول ولا قوۃ الا باللہ کارکنان ایں بنك اگر درد دین دارند صورتے مہیا است کہ بہ مقصد ر سند واز حرام وار ہند ہر کہ مثلا صدر وپیہ دام خواہدزرند ہند کاغذ زر کہ نوٹ نامند بدہندو آں ھم دام ندہند کہ بردام ہر چہ سودے گیرد ربا باشد سودلینا بالاتفاق حرام قطعی اور سخت کبیرہ گناہ ہے اور سوددینے کی محتاج کو حاجت شرعیہ صحیحہ کے وقت اجازت دی گئی ہے۔درمختار میں ہے کہ محتاج کو سود پر قرض لینا جائز ہےاس بنك کا حاصل یہ ہے کہ جو حرام ہندو کھاتے ہیں وہ حاصل ہوجائے تاکہ اس کو مسلمان کھائیں۔گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں سوائے اللہ تعالی کی توفیق کے اس بنك کے کارکن اگر دین کا درد رکھتے ہیں تو ایك ایسی صورت مہیا ہے کہ وہ اپنے مقصد تك رسائی بھی حاصل کریں اورحرام سے خلاصی بھی پالیںجو کوئی مثال کے طور پر سوروپیہ قرض چاہتا ہے اس کو زر نہ دیں بلکہ وہ کاغذ دیں جس کا نام نوٹ ہے
حوالہ / References الاشباہ والنظائر بحوالہ القنیہ الفن الاول القاعدۃ الخامسہ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۲۶
#13070 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
وحرامفی الحدیث عن علی کرم اللہ تعالی وجہہ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کل قرض جر منفعۃ فھو ربا بلکہ نوٹ صدروپیہ بہر ربحے کہ باہم تراضی شود بمیعاد وا جل مسمی بدست او فروشند مثلا بیك صد و دہ روپیہ بوعدہ یك سال ایں ربح ربح بیع باشد و ربح بیع حلال است و ربح قرض حرام قال اللہ تعالی" انما البیع مثل الربوا-و احل الله البیع و حرم الربوا- " ایں مسئلہ را در کتاب کفل الفقیہ الفاہم ہر چہ تمامتررنگ تفصیل دادہ ایم بایں وجہ ہم ربح حلال بدست آید وہم آں مستقرض بمراد خود برسد۔واللہ تعالی اعلم۔ اور وہ بھی بطور قرض مت دیں کیونکہ قرض پر جو بھی نفع لے گا وہ سود اور حرام ہوا۔حدیث میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے:جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔بلکہ سوروپے کا نوٹ اس نفع کے لئے جس پر دونوں باہم رضامند ہوں مدت مقررہ تك اس کے ہاتھ فروخت کریں مثلا وہ سو کا نوٹ ایك سال کے لئے ایك سو دس روپے کے بدلے فروخت کریں تو اس طرح یہ نفع بیع کا نفع ہوگا اور بیع کا نفع حلال ہے جبکہ قرض کا نفع حرام۔اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:کہا ان لوگوں نے کہ بیع تو سود کی طرح ہی ہے جبکہ اللہ تعالی نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام۔اس مسئلہ کو ہم نے اپنی کتاب " کفل الفقیہ الفاہم" میں مکمل طور پر تفصیلی رنگ دیا ہےاس طریقے سے حلال نفع بھی ہاتھ آئیگا اور وہ قرض لینے والا بھی اپنے مقصد کو حاصل کرلے گا۔(ت)
مسئلہ ۲۱۳: مرسلہ احمد خان صاحب وکیل دربار مارواڑ متعینہ ریذیڈ نسی او دیپور میواڑ ۳شعبان ۱۳۳۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین دریں باب کہ گورنمنٹ جو قرضہ کا منافع دے رہی ہے اس کا لینا جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب:
سود کی نیت سے لینا جائز نہیں لاطلاق قولہ وحرم الربو (کیونکہ اللہ تعالی کا یہ ارشاد کہ"اللہ تعالی نے سود کو حرام کیا" مطلق ہے۔ت) اور اگر کسی گورنمنٹ پر اس کی رعیت خواہ
حوالہ / References کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۶/ ۲۳۸
القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
#13071 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
اور شخص کا شرعا کچھ آتا ہے اس میں وصول سمجھنا بلا شبہہ روا"لانہ ظفر بجنس حقہ کما فی ردالمحتار وغیرہ (اس لئے کہ یہ اپنے حق کی جنس کو حاصل کرنے کی کامیابی ہے جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ت) یونہی اگر بیت المال میں حقدار ہوتو اس میں لے سکتا ہے کما فی ردالمحتار عن السید السمہودی وغیرہ(جیسا کہ سید سمہودی وغیرہ سے ردالمحتارمیں ہے۔ ت)اور اگر کچھ نہ ہو اور اسے سود نہ سمجھے بلکہ یہ تصور کرے کہ ایك جائز مال برضائے مالك بلا غدر و بدعہدی ملتا ہے تو وہ بھی روا ہے کما حققناہ فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کردی ہے۔ت)واللہ تعالی اعلم۔اصل حکم یہ ہے مگر اہل تقوی خصوصا مقتداء کوان دو صورتوں خصوصا اخیرہ سے احتراز چاہئے کہ ناواقف اسے متہم نہ کریںحدیث میں ہے:اتقوا مواضع التھم (تہمت کی جگہوں سے بچو۔ت)واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۴: ازبریلی محلہ چك مرسلہ محمدرضاقادری متصل چوکی چنگی رجب۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے مراؤ کو کچھ روپیہ واسطے بونے چنا کےلئے دیا اور بروقت دینے روپیہ یہ اس مراؤ سے ٹھہرالیا کہ چنا فصل کاٹنے پر فی روپیہ تین سیر چنا زائد بازار کے نرخ سے تم سے لئے جائیں گےفصل کاٹنے پر مراؤ نے بجائے چنے کے جتنا روپیہ زائد ہوا بالعوض چنے کے دیا۔اب ایسی صورت میں اس روپیہ کا کیا کیا جائے اور روپیہ دینے والے کو اول اس کا علم نہ تھالہذا اب معلوم ہونے پر اس زائد روپیہ کو علیحدہ رکھ لیا گیا ہے جو حکم ہو ا سکی تعمیل بسر و چشم کی جائے کیونکہ ایمان ہے تو سب کچھ ہے ورنہ کچھ نہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
ایسا عقد شرعا ضرورناجائز ہے مگر اگر وہ مراؤ کافر ہے جیساکہ یہی ظاہر ہے تو یہ روپیہ کہ بغیر غدر اسے ملا اسے واپس دینا ضرور نہیں البتہاور بہتر یہ ہےکہ فقیر مسلمان پر تصدق کردے۔واللہ تعالی اعلم۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ داراحیاء الترا ث العربی بیروت ۲ /۱۲
α α کشف الخفاء حدیث۸۸ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ /۴۵
#13074 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
مسئلہ ۲۱۵: از لکھنؤ مدرسہ فرقانیہ مرسلہ مولوی سید مظفر صاحب مدرس مدرسہ مذکور ۲۱/ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
زید نے عمرو کو چھ سات ہزار روپیہ قرض دیا اور قرض دینے کے وقت زید کا اراد ہ اشارۃ یا کنایۃ یا صراحۃ سود لینے کا نہ تھا اور وعدہ عمرو نے ادائیگی روپیہ کا دوماہ کا کیا تھابعد میں رقعہ تحریر کیا گیا تو اس میں سود اس وجہ سے زید نے لکھوایا کہ قانون مروجہ گورنمنٹی کے رقعہ مذکورہ ناجائز نہ ہو اور ضرورت کے وقت بیکار نہ ہو عمرو نے دوماہ کی جگہ پندرہ ماہ میں نصف روپیہ تو بمشکل تمام زید کو ادا کیا اور نصف نہیں حتی کہ قریب سال کے ہوگئے چونکہ میعاد رقعہ تین سال ہوتی ہے اس لئے زید کو عمرو کی نالش کرنی پڑی تو اس نالش کرنے میں زید کا روپیہ بہت ساخرچ ہوا اور زید کی ڈگری عمرو پر مع سود کچہری مجاز سے ہوگئی اور عمرو نے اصل روپیہ مع سود داخل کچہری بھی کردیا تو اب عندالشرع زید کو اپنا روپیہ مع سود لینا جائز ہے یانہ اگر کل سود سے پرہیز کرے تو بقدر اپنے خرچ نالش کے لینا جائز ہوگا یانہ اور روپیہ کچہری سے کل زید کو بلا سود وا پس بھی نہیں مل سکتا تو ایسی مجبوری میں زید کو اپنا روپیہ مع سود لینا جائز ہوگااور اگر کچہری سے روپیہ اس کو مع سود ملا تو کیا طریقہ احتراز کا ہوگا اور بقدر اپنے خرچ کچہری کے نکال کر باقی کو صدقہ کردے یا اصل مالك کو واپس مجموعہ فتاوی مولوی عبدالحی لکھنؤ ی میں عدم جواز کا فتوی لکھا ہوا ہے کہ مدعی مسبب ہے نہ مباشراور ضمان مباشر پر ہوتا نہ کہ مسبب پرجیساکہ واقف فقہ پر مخفی نہیںجواب مع حوالہ کتب ودلائل کے تحریر ہو۔
جواب دیوبندی
اس صورت میں زید کواپنا اصل روپیہ رکھ کر باقی جو سود کے نام سے وصول ہوا ہے عمرو کو واپس کردینا چاہئے کیونکہ خرچہ مقدمہ کا مدعی علیہ سے وصول کرنے نہ کرنے کے بارے میں اختلاف ہےایك یہ ہے کہ قول جو مولانا عبدالحی صاحب نے لکھا ہےاور دوسرا یہ کہ بصورت تعنت مدعا علیہ اور بلا نالش کسی طرح وصول نہ ہوسکنے کی صورت میں خرچہ مدعا علیہ سے لیا جائے تو صورت مذکورہ میں چونکہ مدعی نے محض قانونی قاعدہ کو پیش نظر کھ کر نالش کی ہے اورعمرو کا کوئی تعنت اور سرکشی و انکار ظاہر نہیں ہوا اس لئے زید کو مناسب نہیں کہ وہ عمرو مدعا علیہ سے خرچہ وصول کرےواللہ تعالی اعلم۔کتبہ عزیز الرحمن عفی عنہ مفتی مدرسہ دیوبند ۸/ ربیع الثانی ۱۳۳۶ھ
الجواب:
سود کا ایك حبہ لینا حرام قطعی کہ سو د لینے والے پر اللہ و رسول کی لعنت ہے۔صحیح حدیثوں
#13076 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
میں فرمایا:
الربا ثلثۃ وسبعون حوبا ایسر ھن کان یقع الرجل علی امہ ۔
سود کھانا تہتر گناہوں کا مجموعہ ہے جن میں سب سے ہلکا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے(ت)
دوسری حدیث میں ہے:
من اکل درھم ربا وھو یعلم کان کمن زنی بامہ ستا و ثلثین مرۃ ۔ جو دانستہ ایك درہم سود کھائے وہ اس کے مثل ہو جس نے چھتیس بار اپنی ماں سے زنا کیا۔(ت)
ایك درہم تقریبا یہاں کے ۴ ۰/ کے برابر ہوتا ہے جس کے اٹھارہ پیسے ہوئے تو فی دھیلا ایك بار ماں سے زنا ہوا۔اگر وہ اس بیان میں سچا ہے کہ کچہری سے بلا سود روپیہ اسے نہیں مل سکتا تھا تو روپیہ واپس لے اور اس میں سے صرف اپنا زر اصل اٹھالے باقی تمام وکمال عمرو کو واپس دے مدعا علیہ سے خرچہ لینا بھی مطلقا حرام ہے اگر چہ اس نے تعنت کیا ہواسے مختلف فیہ بتانا دیوبندی مفتی کا کذب محض ہے ہر گز کسی کتاب میں اس کا جواب نہیںخرچہ کہ اس سے کچہر ی نے لیا دو حال سے خالی نہیں اس کے نزدیك حقا لیا یا ظلما لیااگر حقا لیا تو اس کا معاوضہ دوسرے سے کیا چاہتا ہے اور اگر اس کے نزدیك ظلما لیا تو کونسی شریعت کا مسئلہ ہے کہ مظلوم دوسرے پر ظلم کرےعقد نہیں وراثت نہیں مال مباح نہیں کوئی وجہ شرعی اس سے لینے کی نہیں تو نہ ہوامگر باطلاور اللہ عزوجل فرماتا ہے :
و لا تاكلوا اموالكم بینكم بالباطل و تدلوا بها الى الحكام لتاكلوا فریقا من اموال الناس بالاثم و انتم تعلمون(۱۸۸)" ۔
آپس میں ایك دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤاور اس کو حاکموں کے پاس اس نیت سے مت لے جاؤ کہ تم لوگوں کا کچھ مال جان بوجھ کر گناہ کے ساتھ کھا جاؤ۔(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
حوالہ / References المستدرك کتاب البیوع دارالفکر بیروت ۲ /۳۷،شعب الایمان حدیث۵۵۱۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۳۹۴
المعجم الاوسط للطبرانی حدیث ۲۷۰۳ مکتبۃ المعارف الریاض ۳ /۳۳۰،الترغیب والترہیب الترہیب من الربا حدیث۱۴ مصطفی البابی مصر ۳ /۷
القرآن الکریم ۲ /۱۸۸
#13078 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
رجل کفل اخر عن زید بدین معلوم ثم طالبہ زید بہ والزمہ بہ لدی القاضی فطلب الرجل من زید ان یمھلہ بہ فابی الاان یدفع لہ الرجل قدر ماصرفہ فی کلفۃ الالزام فدفع لہ ثم دفع لہ المبلغ المکفول بہ ویرید الرجل مطالبۃ زید بما قبضہ زید منہ من کلفۃ الالزام فلہ ذلك ۔واللہ تعالی اعلم۔
ایك شخص دوسرے شخص کا معین قرض کے بارے میں زید کے پاس ضامن بناپھر زید نے ضامن شخص سے اس قرض کا مطالبہ کیا اور قاضی کے پاس اس پر اس کا لزوم ثابت کیا اب اس شخص(ضامن)نے زید سے مہلت مانگی تو زید نے اس وقت مہلت دینے سے انکار کردیا جب تك وہ زید کو اس مقدمہ پر کیا ہواخر چہ نہ دے چنانچہ اس نے زید کو وہ خرچہ دے دیاپھر وہ قرض بھی زید کو اس نے ادا کردیا جس کا وہ ضامن بنا تھااب وہ ضامن شخص چاہتا ہے کہ زید نے جو مقدمہ کا خر چ اس سے لیا تھا زید سے اس کا مطالبہ کرے تو اس کو ایسا کرنے کا حق ہے۔واللہ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۱۶: ازبمبئی دکان ایس کریم نمبر ۹ مسئولہ مولوی عبدالعلیم صاحب میرٹھ ۱۳۳۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارہ میں کہ مسجد کے کرایہ کے روپے ورثاء واقفہ مکان کے مقدمہ دائر کرنے کے سبب کورٹ کے رسیور یعنی محافظ کے پاس جمع ہیں آٹھ ہزار روپوں کی مذکور محافظ نے پرامیسری نوٹیں خریدیںجب مقدمہ ورثاء واقفہ اور متولیان مسجد نے آپس میں اتفاق کرکے کورٹ سے(کننٹ ڈگری لی)یعنی مقدمہ اٹھالیا اس وقت محافظ مذکور کے پاس سے پرامیسری نوٹوں کا بیاج سالانہ سیکڑے ساڑھے تین ٹکے کے حساب سے ایك ہزار اٹھارہ روپے چودہ آنے دو پائی نقد اور چار ہزار ایك سو سینتالیس روپے نوآنے نقد بابت کرایہ متولیان مسجد کو دئیے متولیان مسجد کے قبضہ میں مذکور نوٹیں کئی مہینوں تك مسجد کی تجوری میں رہیں جن کے رہنے سے مذکورنوٹوں کا ایك سو باسٹھ روپیہ آٹھ آنہ دس پائی بیاج بڑھااکثر متولیان مسجد نے آپس میں اتفاق کر کے یہ ٹھہراؤ کیا کہ موجودہ جنگ کے سبب آپس میں اطمینان نہ ہونے کی وجہ قیمت اس وقت کم ہوئی ہے اور آئندہ اس سے بھی کم ہونے کا خوف ہے اس وجہ سے مذکور نوٹوں کو جلد فروخت کیا جائے اس وقت ایك متولی نے ترمیم کی کہ موجودہ جنگ کی وجہ سے ان کی قیمت کم ہوئی ہے اس لئے فی الحال فروخت نہ کریں۔جنگ ختم ہونے کے بعد مذکور نوٹوں کی پوری قیمت آئے گی اس وقت فروخت کیا جائے کہ
حوالہ / References العقود الدریۃ کتاب الکفالۃ حاجی عبدالغفار قندھار افغانستان ۱ /۳۰۸
#13080 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
مسجد کا نقصان بھی نہ ہو گااس ترمیم کی کسی نے تائید نہیں کی اور مذکورہ نوٹوں کو فروخت کرنےکےلئے نا ظر مسجد کو اجازت دی اور اس وقت یہ بھی ٹھہراؤ کیا کہ مذکورہ بیاج کے روپیوں کو مسجد کے دفتر میں بیاج کے نام سے درج کیا جائے اس وقت ایك متولی نے ترمیم کی کہ جس تاریخ کو مذکورہ نوٹیں محافظ نے خرید کی ہیں اس تاریخ سے جس تاریخ کو بکیں ______ _______________اس تاریخ تك مذکور نوٹوں کے بیاج کے روپے مسجد کے دفتر میں بیاج کے نام سے جمع نہیں کئے جائیں بلکہ وہ رقم مذکور محافظ کے حوالے کئے جائیں(مذکور محافظ گبر پارسی ہے)مذکور ترمیم کی بھی کسی نے تائید نہیں کیکیا متولیان مسجد مذکور بیاج کی رقم کولینا اور مسجد کے دفتر میں بیاج کے نام سے درج کرنا شرعا جائز ہے دیگر ہماری گورنمنٹ عالیہ مذکورہ نوٹوں کی جو اصل قیمت ہے وہی سمجھتی ہے اور اسی کے موافق آج تك مذکور نوٹوں کا بیاج پورا دے رہی ہے کیا اس وجہ سے مذکور بیاج کی رقم کو مذکور نوٹوں کی پوری قیمت نہ ملنے کی وجہ سے مذکور نوٹوں کی گھٹی ہوئی رقم میں داخل کرسکتے ہیں دیگر متولیان مسجد کو مذکور بیاج کے روپے مذکور محافظ سے مسجد کے لئے لینا یا ورثاء واقفہ کے شرعی حصہ میں بطور رضامندی باہمی کے دینا جائز ہے یانہیں لہذا ازراہ ہمدردی ملی واحساس دینی مذکورہ بالا کی بابت شرعی حکم بصورت فتوی تحریر فرما کر مسلمانوں کو ورطہ گمراہی سے نجات دیں اور خدا وند عالم سے دینی و اخروی اجر حاصل فرمائیں وما علینا الاالبلاغ خیر خواہ اسلام۔
الجواب :
سودحرام ہے قال اللہ تعالی" و حرم الربوا- " (اللہ تعالی نے فرمایا:اللہ تعالی نے سود کو حرام کیا۔ت)مسجد اسے قبول نہیں کرسکتی
قال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان اللہ طیب لایقبل الا طیبا ۔
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا:بیشك اللہ تعالی پاك ہے اور وہ قبول نہیں فرماتا مگر پاك کو۔(ت)
مسجد کے دفتر میں سود کے نام سے جمع کرنا اسے نجاست سے آلودہ کرنا ہےقیمت اگر گھٹ گئی تو گورنمنٹ نے کوئی مال مسجد کا نہ لے لیا جس کے تاوان میں یہ رقم لی جائے ملازم کورٹ کو اس کا دینا کوئی معنی نہیں رکھتا کہ وہ کسی طرح اس روپے کا مستحق نہیں۔سود سمجھ کر لینے کا جواب تو یہ ہےہاں اگر نہ اسے سود سمجھیں
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب صلوٰۃ الاستسقاء باب الخروج من المظالم الخ دارصادر بیروت ۳ /۳۴۶،صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۶
#13082 · بابُ الرّبٰو (سُود کابیان)
نہ سود کہیںنہ سود کے نام سے دفتر مسجد میں جمع کریں بلکہ یہ جانیں کہ گورنمنٹ اپنی خوشی سے بغیر ہمارے غدر کے(کہ غدر شرعا حرام ہے)ایك مال زائد ہمیں مسجد کے لئے دیتی ہے تو اس کے لینے اور مسجد میں صرف کرنے اور دفتر مسجد میں بنام "رقم زائد از گورنمنٹ"لکھنے میں کوئی حرج نہیں
قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۔واللہ تعالی اعلم۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ بیشك عملوں کا دار و مدار نیتوں پر ہے اورہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔اور اللہ تعالی بہتر جانتا ہے۔(ت)
______________________
حوالہ / References صحیح البخاری با ب کیف بدء الوحی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲
#13122 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
رسالہ
کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الدراھم ۱۳۲۴ھ
(کاغذی نوٹ کے احکام کے بارے میں سمجھدار فقیہ کا حصہ)
مسئلہ ۲۱۷:
ما قولکم دام طولکم فی ھذا القرطاس المسکوك المسمی بالنوط والسؤال عنہ فی مواضع الاول ھل ھو مال ام سند من قبیل الصکالثانی ھل تجب فیہ الزکوۃ اذا بلغ نصابا فاضلا وحال علیہ الحول ام لا الثالث ھل یصح مھراالرابع ھل یجب القطع بسرقتہ من حرزالخامس ھل یضمن بالاتلاف بمثلہ او بالدراہمالسادس ھل یجوز بیعہ بدراہم او دنانیر او فلوسالسابع اذا استبدل
آپ کا کیا ارشاد ہے آپ کا فضل ہمیشہ رہے اس کا غذ کے باب میں جس پر سکہ ہوتا ہے اور اسے نوٹ کہتے ہیںاور اس میں متعدد باتیں دریافت کرنی ہیں۱اول کیا وہ مال ہے یا دستاویز کی طرح کوئی سند۲دوم جب وہ بقدر نصاب ہوا اور اس پرسال گزرجائے تو اس پر زکوہ واجب ہوگی یانہیں۳سوم کیا اسے مہر مقرر سکتے ہیں۴چہارم اگر کوئی اسے محفوظ جگہ سے چرائے تو اس کا ہاتھ کاٹنا واجب ہوگا یانہیں۵پنجم اگر اسے کوئی تلف کردے تو عوض میں اسے نوٹ ہی دینا ٹھہرے گا یا روپے ۶ششم کیا روپوں یا اشرفیوں یا پیسوں کے عوض اس کی بیع جائز ہے۷ہفتم اگر مثلا کسی کپڑے سے
#13123 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
بثوب مثلا یکون مقایضۃ او بیعا مطلقاالثامن ھل یجوز اقراضہ وان جاز فیقضی بالمثل او بالدراہم التاسع ھل یجوز بیعہ بدراہم نسئۃ الی اجل معلوم العاشر ھل یجوز السلم فیہ بان تعطی الدراہم علی نوط معلوم نوعا وصفۃ یؤدی بعد شہر مثلا الحادی عشر ھل یجوز بیعہ بازید مماکتب فیہ من عدد الربابی کان یباع نوط عشرۃ باثنی عشر او عشرین او بانقص منہ کذلکالثانی عشرا ن جاز ھذا فہل یجوز اذاا راد زید استقراض عشرۃ ربابی من عمرو ان یقول عمرو لادراہم عندی ولکن ابیعك نوط عشرۃ باثنتی عشرۃ ربیۃ منجمۃ الی سنۃ تؤدی کل شہر ربیۃ وھل ینھی عن ذلك لانہ احتیال فی الربا وان لم ینہ فما الفرق بینہ و بین الربا حتی یحل ھذا او یحرم ذلك مع ان المال وھو حصول الفضل واحد فیہما افید ونا الجواب تو جروایوم الحساب۔
اسے بدلیں تو یہ بیع مطلق ہوگی یا مقایضہ(جس میں دونوں طرف متاع ہوتی ہے)۸ہشتم کیا اسے قرض دینا جائز ہے اورا گر جائز ہے تو ادا کرتے وقت نوٹ ہی دیا جائے یا روپے۹نہم کیا روپوں کے عوض ایك وعدہ معینہ پر قرضوں اس کا بیچنا جائز ہے۱۰دہم کیا اس میں بیع سلم جائز ہے یوں کہ روپے پیشگی دئے جائیں کہ مثلا ایك مہینہ کے بعد اس قسم کا اور ایسا نوٹ لیا جائے گا۱۱یازدہم کیا یہ جائز ہے کہ جتنی رقم اس میں لکھی ہے اس سے زائد کو بیچا جائے مثلا دس کا نوٹ بارہ یا بیس کو یا اسی طرح اس سے کم۱۲دوازدہم اگر یہ جائز ہے کہ جب زید عمرو سے دس روپے قرض لینا چاہے تو عمرو کہے روپے تو میرے پاس نہیں ہیں ہاں میں دس کا نوٹ بارہ کو سال بھر کی قسط بندی پر تیرے ہاتھ بیچتا ہوں کہ تو ہر مہینے ایك روپیہ دیا کرےکیا اس کو منع کیا جائے گا کہ یہ سودکاحیلہ ہےاور اگر نہ منع کیا جائے تو اس میں اور ربا میں کیافرق ہے کہ یہ حلال ہو اور وہ حرام حالانکہ مآل دونوں کا ایك ہے یعنی زیادتی کا ملنا ہمیں جواب سے فائدہ بخشو قیامت کے دن تمہیں اجر ملے۔
الجواب:
اللھم لك الحمد یا وھاب صل وسلم علی السید الاواب وعلی الہ و
الہی ! تیرے ہی لئے حمد ہےاے بہت عطافرمانیوالے ! درود و سلام بھیج ان سردار پر جو تیری طرف بہت رجوع فرمانے والے ہیں اور ان کے
#13124 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ازواجہ والا صحاب اسئلك ھدایۃ الحق والصواب اعلم وفقنی اللہ وایاك والصوابوتولی ھدای و ھداك ان النوط من احدث الاشیاء واجدھالن تجد لہ ذکراو لا اثرافی شیئ من مؤلفات العلماء حتی العلامۃ الشامی ومن ضاھاہ من العلماء الماضین قریباولکن الائمۃ شکراللہ تعالی مساعیہم الجمیلۃ وافاض علینا من برکاتھم الجلیلۃ قد بینوا الملۃ الحنفیۃ بیانا شافیالیس دونہ خفاءوقد اضت بحمد اللہ تعالی غراء بیضاء لیلھا کنھا رھا فاصلوا اصولا و فصلو اتفصیلاوذکر و اکلیات تنطبق علی ما لا یحصی من جزئیاتفالحوادث وان ابت النہایۃ لا تکاد تخرج عما افادونا من الدرایۃ ولن یخلو لوجود ان شاء الملك الودودعمن یقدرہ المولی سبحنہ و تعالی علی استخراج تلك الخبایا و الاسترباح من تلك العطایا والمزایا نعم من الافہام بعید و قریب والانسان یخطی ویصیبوما العلم الانور یقذفہ اللہ فی قلب من یشاء من عبادہفلا حیلۃ الا التجاء الی توفیقہ سبحنہ و ارشادہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل
آل وازواج واصحاب پر میں تجھ سے حق وراستی کی رہنمائی چاہتاہوں جان اللہ تعالی مجھے اور تجھے توفیق دے اور میری او رتیری ہدایت کا والی ہو کہ نوٹ ایك سب سے زیادہ جدید اور نو پیدا چیز ہے تو تالیفات علماء میں اس کااصلا نام و نشان نہ پائیگا یہانتك کہ علامہ شامی اور ان کےمثل جن کا زمانہ ابھی قریب گزرا لیکن ہمارے اماموں نے(اللہ ان کی نیك کوششیں ٹھکانے لگائے اور ان کی عظیم برکتوں کا ہمیں فیض پہنچائے) اس دین حنیف کا شافی بیان فرمادیا جس میں اصلا پوشیدگی نہیں تو بحمد اللہ یہ شریعت ایسی روشن چمکتی ہوگئی کہ اس کی رات بھی دن کی طرح ہے تو انہوں نے قواعد مقرر فرمائے اور ہر بات جدا جدا دکھادی اور ایسے کلیے ذکر فرمائے کہ بیشمار جزیوں پر منطبق آئیں تو نئی پیدا ہونے والی باتیں اگر ختم ہونا نہیں مانتیں مگر وہ علم جو ائمہ ہم کو دے گئے ہیں اس سے کوئی باہر رہتی نہیں معلوم ہوتی اور اللہ نے چاہا تو زمانہ ایسوں سے خالی نہ ہوگا جسے اللہ تعالی ان پوشیدہ باتوں کے نکالنے اور ان بخششوں اور فضیلتوں سے نفع اٹھانے پر قدرت دے ہاں فہم بعضے بعید ہوتے ہیں اور بعضے قریباور آدمی خطا بھی کرتا ہے اور صواب بھیاور علم تو اسی نور کا نام ہے جو اللہ تعالی اپنے جس بندے کے چاہے قلب میں القافرماتا ہے تو سوا اس کے کوئی چارہ نہیں کہ اللہ عزوجل کی توفیق و ہدایت کی طرف التجا کی جائے اور اللہ ہم کو کافی ہے اور بہت اچھاکام
#13125 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
وعلیہ ثم علی رسولہ التعویلجل وعلا وتکرم و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فاقول: وباللہ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق اول اسئلتك اصل اسئلتك واذا علمت حقیقۃ ھذا القرطاس اتضحت الاحکام کلہا من دون التباساما اصلہ فمعلوم انہ قطعۃ کاغذ و الکاغذ مال متقوم و مازادتہ ھذہ السکۃ الارغبۃ للناس الیہ وزیادۃ فی صلوح ادخارہ للحاجات وھذا معنی المال ای مایمیل الیہ الطبع ویمکن ادخارہ للحاجۃ کما فی البحر والشامی وغیرہماو معلوم ان الشرع لم یرد بحجر المسلم عن التصرف فی قطعۃ قرطاس کیفما کانت کما ورد بہ فی الخمر والخنزیر وھذا ھو مناط التقوم کما فی ابن عابدین وفیہ عن التلویح المال مامن شانہ ان یدخر للانتفاع وقت الحاجۃ والتقویم یستلزم المالیۃ وفیہ
بنانے والا اور اسی پر اور پھر اس کے رسول پر بھروساوہ بزرگی و بلندی و کرم والااور ان پر اس کے درود و سلامفاقول:(تو میں کہتاہوں)اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے اور اسی سے تحقیق کی بلندیوں تك پہنچناآپ کا پہلا اسوال آپ کے سب سوالوں کی اصل ہے اور جب اس کاغذ کی حقیقت معلوم ہوجائیگی تو سب احکام واضح ہوجائینگے جن میں کوئی شبہہ نہ رہے گااس کی اصل تو معلوم ہے کہ وہ کاغذ کا ایك ٹکڑا ہے اور کاغذ مال متقوم ہے اور اس سکہ نے اسے کچھ زیادہ نہ کیا مگر یہی کہ لوگوں کی رغبتیں اس طرف بڑھ گئیں اور وقت حاجت کےلئے اٹھارکھنے کا زیادہ لائق ہوگیا اور مال کے یہی معنی ہیں یعنی وہ جس کی طرف طبیعت میل کرے اور حاجت کےلئے اٹھارکھنے کے قابل ہوجیساکہ بحر و شامی وغیرہما میں ہے اور معلوم ہے کہ شرع مطہر نے کبھی مسلمان کو اس سے نہ روکا کہ وہ اپنے پارہ کاغذ میں جس طرح چاہے تصرف کرے جیساکہ شراب و خوك کے بارے میں نہی وارد ہوئی اور مال کے قیمت والے ہونے کا اسی پر مدار ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہےاور اسی میں تلویح سے نقل فرمایا مال وہ چیز ہے جس کی شان یہ ہو کہ وقت حاجت اس سے نفع لینے کےلئے اٹھارکھا جائے اور قیمت والا ہونا مال ہونے کو مستلزم ہےاور اسی میں
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳
#13126 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
عن البحر عن الحاوی القدسی المال اسم لغیر الادمی خلق لمصالح الادمی وامکن احرازہ والتصرف فیہ علی وجہ الاختیار اھ وقد قال المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر لو باع کاغذ ۃ بالف یجوز ولا یکرہ اھ وھذہ ان حققت جزئیۃ النوط اتی بھا ھذا الامام قبل حدو ثہ بخمسمائۃ سنۃفانہ ھوا لکاغذ الذی یباع بالف ولا غر و فکم من مثل ھذہ الکرامات لعلمائنا الکرام نفعنا اللہ تعالی ببرکاتھم فی الدنیا و الاخرۃ امینفلا ریب ان النوط بنفسہ مال متقوم یباع ویشتری ویوھب ویورث ویجری فیہ جمیعہ مایجری فی الاموالاقول: ومن الظن بل من اردء الشکوك توھم انہ سند من قبیل الصکوك ای ان السلطنۃ التی تروج ھذہ القراطیس تستدین من اخذیہا الدراہم و تعطیھم ھذہ تذکرۃ لدیونھم و لمقادیرھا فاذا
بحوالہ بحرالرائق حاوی قدسی سے ہےمال آدمی کے سواہر شے کا نام ہے جو آدمی کی مصلحتوں کےلئے پیدا کی گئی اور اس قابل ہو کہ اسے محفوظ رکھیں اور باختیار خو داس میں تصرف کریںاور بیشك محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا اگر کوئی اپنے کاغذ کاٹکڑا ہزار روپے کو بیچے تو بلا کراہت جائز ہے انتہیاور اگر تحقیق کیجئے تو یہ بعینہ نوٹ کا جزئیہ ہے کہ ان امام نے اس کی پیدائش سے پانچسو برس پہلے فرمادیا کہ یہ وہ کاغذ ہے جو ہزار کو بکتا ہے اور کچھ اچنبھا نہیں ایسی کرامتیں ہمارے علماء کرام سے بکثرت ثابت ہوئیں اللہ ہمیں ان کی برکتوں سے دنیا و آخرت میں نفع پہنچائےآمین ! تو کوئی شك نہیں کہ نوٹ بذات خود قیمت والا مال ہے کہ بکتا ہے اور مول لیا جاتا ہے اور ہبہ کیا جاتا ہے اور وراثت میں آتا ہے اور جتنی باتیں مال میں جاری ہیں سب اس میں جاری ہوتی ہیں اقول:(میں کہتا ہوں)اور گمان فاسد بلکہ نہایت بدتر شك میں سے ہے یہ وہم کہ نوٹ دستاویز کے قبیل سے کوئی سند ہے یعنی وہ سلطنت جو ان کاغذوں کو رائج کرتی ہے ان کے لینے والوں سے روپے قرض لیتی ہے اور یہ ان کے قرضوں اور انکی مقداروں کی یادداشت ان کو دیتی ہے تو جب وہ لوگ
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳
فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۳۲۴
#13127 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
جاؤابھا الی السلطنۃ قضتھم دیونھم واخذت قراطیسہا وان اعطوھا غیر ھم من الرعایا فہم یستدینون من اولئك الاخرین و یحیلونھم علی السلطنۃ ویعطونھم تلك التذکرۃ علما علی الاحالۃ کی یتوصلوابھا الی اخذ مثل دیونھم من السلطنۃ المدیونۃ لمدیینھم وھکذا کلما تداولت الایدی تکررت الادانات والحوالات ھذا معنی کونہ سندا وکل طفل عاقل یعلم ان ھذہ المعانی مما لایخطر ببال احد من المتعاملین بھا و لایقصدون قط بھذا التداول ادانہ ولا استدانۃ ولا حوالۃ ولا یذہب خاطر ھم الی شیئ من ذلك اصلا ولاتری احدھم قط یذکر فی دفتر دیونہ علی الناس من اخذالدراہم منہ باعطاء النوط ولا یقول لہ مدۃ عمرہ انك استدنت منی کذا فاقضنی وخذتذکرتك منی ولا فی دفتر دیون الناس علیہ من اخذھو الدراہم منہ واعطاہ النوط ولا یذکر لاحد فیہ حیاتہ ولا عندمماتہ
سلطنت کے پاس وہ نوٹ لے کر آئیں _________سلطنت ان کے قرض ادا کردیتی اور اپنے کاغذ واپس لیتی ہے اور اگر نوٹ لینے والے رعیت میں اوروں کو نوٹ دیں تو وہ ان دوسروں سے روپے قرض لیتی ہیں اور اپنا قرضہ سلطنت پر اتار دیتے ہیں اور اس حوالہ کی نشانی کو وہی یا دداشت کا کاغذ ان کو دے دیتے ہیں تا کہ ان کے ذریعہ سے ان دوسروں نے جو قرض ان پہلوں کو دیا تھا اسے سلطنت سے وصول کرسکیں جو ان پہلوں کے مقروضوں کی مدیون ہے اور یونہی جتنے الٹ پھیر نوٹوں کے ہوں قرض اور حوالے مکرر ہوتے چلے جاتے ہیں اس کے سند ہونے کے یہ معنی ہیں اور ہر سمجھ وال بچہ بھی جانتا ہے کہ جتنے لوگ نوٹ کا معاملہ کرتے ہیں کسی کے دل میں ان باتوں کا خطرہ بھی نہیں گزرتا اور کبھی اس الٹ پھیر سے قرض دینے یا لینے یا حوالہ کا قصد نہیں کرتے اور کبھی ان باتوں میں سے کسی طرف ان کا خیال نہیں جاتا اور تو ان میں کبھی کسی کو نہ دیکھے گا کہ اپنے قرض کے بھی کھاتے میں اس کا نام لکھے جس نے نوٹ دے کر اس سے روپے لئے اور اپنی زندگی بھر اس سے یہ نہیں کہتا کہ تو نے مجھ سے قرض لیا ہے ادا کردے اور اپنی یادداشت مجھ سے لے لے اور جواوروں کا ا س پر دینا آتا ہے اس میں بھی اس کا نام کبھی نہیں لکھتا جسے نوٹ دے کر اس نے روپے لئے اور اپنی زندگی بھر یا مرتے وقت یہ نہیں
#13128 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ان لفلان علی کذا فاقضوہ وخذوا تذکرتی منہ والظلمۃ المھتکۃ المعتادۃ باکل الربا جھارا لایدینون احدا درھما الابربا یوضع علیہ کل شھرمالم یقض و تراھم یاخذون النوط و یعطون الدراہم ولایطلبون علیہا فلسا واحدا لاعلی شھر ولا علی سنین ولو علموا انہ ادانۃ لما ترکوہ قطعافالحق انہم جمیعا انما یقصدون المبادلۃ والبیع والشراء ومن اخذ النوط یعلم قطعا انہ مبلکہ بالدراہم ومن اعطاہ یعلم قطعا انہ اخرجہ من مبلکہ بالدراہم و صاحبہ یعدہ من مالہ و کنزہ کا لنقدین والفلوس و یدخرہ و یھبہ و یوصی بہ ویتصدق فلا یفھمون الاالبیع ولا یقصدون الا البیع والناس عند مقاصدہم وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی فمن المتیقن الذی لایحرم یحوم حومۃ شبھۃ انہ عند الناس مال
کہتا کہ فلاں کا مجھ پر اتنا آتا ہے اسے ادا کردینا اور میری یادداشت اس سے لے لینا اور وہ ظالم بیباك جو سود علانیہ کھانے کے عادی ہوئے ہیں ایك روپیہ کسی کو قرض نہ دیں گے جب تك تا ادائے دین اس پر ماہوار سود نہ مقرر کرلیں اور تو انہیں دیکھے گاکہ نوٹ لے کر روپے دیتے ہیں اور اس پر ایك پیسہ بھی نہیں مانگتے نہ مہینے پیچھے نہ برسوں بعداور اگر وہ جانتے کہ یہ قرض دینا ہے تو ہر گز نہ چھوڑتےتو حق یہ ہے کہ وہ سب کے سب اس سے مبادلہ اور خریدو فروخت ہی کا قصد کرتے ہیں جو نوٹ لیتا ہے اور وہ یقینا جانتا ہے کہ میں روپے دے کر اس کا مالك ہوگیا اور جو نوٹ دیتا ہے وہ یقینا جانتا ہے کہ میں نے روپے لے کر نوٹ اپنی ملك سے خارج کردیا اور نوٹ لینے والا اسے روپوں اشرفیوں پیسوں کی طرح اپنا مال اور اپنی جمع سمجھتا ہے اور اسے جوڑ کر رکھتا ہے اور ہبہ کرتا ہے اور اس میں وصیت کرتا ہے اور تصدیق کرتا ہے تو وہ بیع ہی سمجھتے ہیں اور بیع ہی کا قصد کرتے ہیں اور لوگوں کے معاملات وہی سمجھے جائیں گے جو ان کے مقصود ہیں اور اعمال کا مدار نیت ہی پر ہے اور ہر شخص کےلئے وہی ہے جو اس نے نیت کی تو ایسے یقین سے ثابت ہے جس کے گرد شبہہ کو اصلا بار نہیں کہ نوٹ لوگوں کے نزدیك
حوالہ / References صحیح البخاری باب کیف بدء الوحی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲
#13129 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
متقوم محرز مدخر مرغوب فیہ یباع ویشتری ویجری فیہ کل مافی المال جری اما ماتری من علو اثمانہ فقطعۃ بعشرۃ واخری بمائۃ واخری بالف فاقول: قدمنا عن الفتح ان قطعۃ قرطاس تصلح ان تباع بالف و ذلك بالتراضی بین العاقدین فقط فکیف اذاتراضی علیہ امم من الناس وجعلو اھذہ القطعات بھذہ الاثمان اصطلاحا منھم علا ان الضرب السلطانی لہ قیمۃ عند الشرع ایضاالاتری ان من سرق عشرۃ دراہم مضروبۃ قطع ومن سرق تبراغیر مضروب وزنہ قدر عشرۃ ولا تبلغ قیمۃ عشرۃ مضروبۃ لم یقطع کما نص علیہ فی الھدایۃ وغیرھا عامۃ کتب المذہب والفلوس المضروبۃ المقدرۃ بربیۃ ان اخذت قدرھا وزن من النحاس لایساوی ربیۃ قطعا بل قد لایساوی نصفہا بل تری مثل ذلك فی الفضۃ فقد کانت فی قریب من الزمان فضۃ تساوی
قیمت والا مال ہے جو محفوظ رکھا جاتا ہے جمع کیا جاتا ہے اس کی طرف رغبت ہوتی ہے بیچا جاتا ہے اور مول لیا جاتا ہے اور جو مال میں جاری ہے سب اس میں جاری ہوتا ہے اور یہ جو تم اس کی بڑی بڑی قیمتیں دیکھتے ہو کہ ایك نوٹ دس کا اور دوسر ا سو کا اور تیسرا ہزار کااقول:(میں کہتا ہوں)ہم فتح القدیر سے بیان کرآئے کہ کاغذ کا ایك ٹکڑا ہزار کو بك سکتا ہے اور اس کے لئے صرف اتنا درکا ہے کہ بائع و مشتری دونوں راضی ہوں تو اس کا کیا کہنا جس پر گروہ کے گروہ راضی ہوں اور ان قطعوں کی یہ قیمتیں اپنی اصطلاح میں ٹھہرالیںعلاوہ بریں سکہ شاہی شرع کے نزدیك بھی قیمتی ہے کیا نہیں دیکھتا کہ جو شخص دس درہم سکہ کے چرائے ہاتھ کاٹا جائے گا اور جو ایسی چاندی بے سکہ کی چرائے جس کا وزن دس درہم بھر ہو اور اس کی قیمت سکہ کے دس درہم تك نہ پہنچی اس کا ہاتھ نہ کٹے گاجیسا کہ ہدایہ وغیرہ عام کتب مذہب میں تصریح ہے اور ایك روپے کے سکہ دار پیسے جتنے آتے ہیں اگر توان کے وزن کا تانبالے تو ہر گز ایك روپے کا نہ ہوگا بلکہ بعض وقت اٹھنی کا بھی نہ ہوگا بلکہ ایسی حالت چاندی میں بھی دیکھو گے ابھی تھوڑا زمانہ گزرا ہے کہ دو روپے بھر چاندی ہمارے ملك میں ایك روپے کو
حوالہ / References الہدایۃ کتاب السرقۃ المکتبۃ العربیۃ کراچی ۲ /۵۱۸
#13130 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ربیتین وزنا بربیۃ واحدۃ فی بلادنا وکانت الجھلۃ یشترون ولا یعلمون مافیہ من وبال الربا فاذا حصل بالضرب التضعیف فالضعف والا ضعاف سواء ومن الجلی عند کل من ورد ولو عابر سبیل مشرع الشرع الجلیل او منھل العقل السلیم ان الشیئ التافۃ جدا ربما یعرض لہ ما یجعلہ اعلی من الوف امثالہ وربما اشتریت جاریۃ بما ئتی الف واکثرولایرغب فی اخری بثلثین درھما مع ان الاوصاف لا قسط لہا من الثمن حتی الاطراف مالم تصرمقصودۃ بالاتلاف فما ھی الاثمن الذات زادتہ الاوصاف لزیادۃ الرغبات ارأیتك ان کانت ورقۃ کاغذ فیہا علم نفیس عجیب نادر غریب وکان رجل یطلبہ ویعرف قدرہ فاشتراھا بعشرۃ الاف ھل فیہ من خلاف کلابل حلال طیب بنص القران والاجماع من دون نکیر ولا نزاعقال تعالی " الا ان تكون تجارة عن تراض منكم- " فھذ ہ العشرۃ الالاف ماھی ثمن المکتوب فانہ لا مالیۃ لہ اصلا کما نص علیہ فی الہدایۃ وسائر الکتب المعللۃ وھذا
بکتی تھی اور جاہل لوگ خریدتے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ اس میں سود کا کیسا وبال ہے تو سکہ سے جب دو نا دون قیمت ہوگئی تو دو چند ہزار چند سب یکساںاور ہر شخص کہ شرع مطہر یا عقل سلیم کے گھاٹ گزرا ہے اگرچہ راہ چلتا ہوا اس پر روشن ہے کہ ایك شیئ نہا یت حقیر میں ایك وصف لگ جاتا ہے کہ اسے اس جیسی ہزاروں سے بیش بہا کردیتا ہے اور بارہا ایك کنیز دولاکھ روپے اور اس سے زائد کو خریدی گئی اور دوسری کو کوئی تیس روپے کو نہیں پوچھتا حالانکہ اوصاف کےلئے ثمن میں سے کوئی حصہ نہیں یہاں تك کہ ہاتھ پاؤں جب تك کہ بالقصد نہ ہلاك کئے جائیں وہ ثمن ذات ہی کا ہے جسے رغبتیں بڑھنے کے سبب اوصاف نے بڑھا دیا بھلا بتا تو کہ ایك ورق کاغذ ہو جس میں ایك علم نفیس عجیب و غریب نادر ہو اور ایك شخص اس علم کا طلب گار ہو اور اس کی طلب جانتا ہو وہ اس ورق کو دس ہزار میں خریدلے تو کیا کوئی اس میں خلاف ہے ہر گز نہیں بلکہ حلال طیب ہے اس پر قرآن عظیم کا نص اور بلا انکار ومنازعت اجماع قائم ہےرب عزوجل فرماتا ہے مگر یہ کہ کوئی سودا تمہارے آپس کی خوشی کا ہو اور یہ دس ہزار اس لکھے ہوئے علم کی قیمت نہیں کہ وہ تو مال کے قبیل ہی سے نہیں جیسا کہ ہدایہ اور باقی تمام کتب میں تصریح ہے جن میں
حوالہ / References القرآن الکریم ۴ /۲۹
#13131 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
نصھا ولا قطع فی سرقۃ المصحف و ان کان علیہ حلیۃ لانہ لامالیۃ لہ علی اعتبار المکتوب واحرازہ لا جلہ لا للجلد والاوراق والحلیۃ وانما ھی توابعولا فی الدفاتر کلھا لان المقصود مافیہا وذلك لیس بمال الادفاتر الحساب لان مافیہا لایقصد بالاخذ فکان المقصود الکواغذ اھ ملتقطا فتبین ان الورقۃ الواحدۃ ھی التی بلغ ثمنھا لما فیہا عشرۃ الاف فای غرو فی بلوغ قیمۃ نوط عشرۃ اواکثر لاجل ماکتب فیہ مما استجلب رغبات الناس الیہ وای حجرمن الشرع علیہ وبالجملۃ فالمسألۃ اوضع من ان تحتاج الی ایضاح والی کم تبتغی المصباح وقد اسفر الاصباح ثم اقول: بل حقیقۃ الامر ان الاموال کما فی البحر و غیرہ اربعۃ اقسام۱الاول ثمن بکل حال وھو النقدان
مسائل مع دلائل مذکور ہیں اور یہ ہدایہ کی عبارت ہے قرآن مجید چرانے میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا اگرچہ اس پر سونا چڑھا ہو اس لئے کہ لکھے ہوئے کے اعتبار سے تو وہ از قبیل مال ہی نہیں اور اس کا محفوظ رکھنا اس مکتوب ہی کی غرض سے ہے نہ کہ جلد اور ورقوں اور نقوش زر کےلئے یہ چیزیں تو تابع ہیں اور کسی قسم کے دفتر کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا کہ ان سے مقصود وہ ہے کہ جو ان میں لکھا ہے اور وہ مال نہیں مگر حساب کی بہیاں کہ ان میں جو لکھا ہے وہ دوسرے کے کام کا نہیں ہوتا جو اس کالینا مقصود ہو تو ضرور کاغذ ہی مقصودہوئے انتہی ملخصاتوکھل گیاکہ ایك ورق کاغذ ہی کی قیمت اسکی تحریرکےباعث دس ہزارکو پہنچ گئی تو اس میں کیا تعجب ہے کہ اس لکھائی کے سبب نوٹ کی قیمت دس یا زائد کو پہنچ جائے جس کے باعث لوگوں کی رغبتیں اسکی طرف کھجچ گئیں اور شرع سے اس پر کون سی روك ہےخلاصہ یہ کہ مسئلہ اس سے زیادہ روشن ہے کہ روشن کرنے کا حاجتمندیہ ہواور کہاں تك تو چراغ مانگے جائے گا حالانکہ صبح روشن ہوگئیثم اقول: (پھرمیں کہتا ہوں)اصل بات یہ ہے کہ مال چار قسم ہے جیسا کہ بحرالرائق وغیرہ میں ہےاول وہ کہ ہر حال میں ثمن ہی ہے اور وہ سونا چاندی
حوالہ / References الہدایۃ کتاب السرقۃ باب مایقطع فیہ وما لایقطع المکتبۃ العربیۃ بیروت ۲/ ۲۱۔۵۲۰
#13132 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
فانھما اثمان ابدا صحبتھما الباء اولا وقوبلا بجنسھما اولا وعدھما العرف من الاثمان اولا کا لمصوغ منھما فانہ بسبب ما اتصل بہ من الصنعۃ لم یبق ثمنا صریحا و لہذا یتعین فی العقد و مع ذلك بیعہ صرف یشترط فیہ مایشترط فی الصرف لانھما خلقا للثمنیۃ ولا تبدیل لخلق اللہو۲الثانی مبیع بکل حال کالثیاب والدواب فانھا وان صحبتھا الباء وقو بلت بما تشاء لا تثبت دینا فی الذمۃ وھذا ھو المعنی بالثمنیۃ فلا یرد ان فی المقایضۃ کلا من العرضین ثمن من وجہ ھکذا وجہ ابن عابدین جوابا عن ایراد العلامۃ الطحطاویاقول: وفیہ ان المصوغ من الججرین ایضا لایثبت دینا فی الذمۃ بل یتعین فی العقود کما تقدم عن البحر فان سلم ھذا وردالنقض علی ذلك فلیتأمل والاظہر عندی الجواب
ہے کہ ہمیشہ ثمن ہی رہیں گے خواہ انکے عوض کوئی چیز بیچی یا انکو کسی چیز کے عوض بیچنا کہیں خواہ اپنی جنس سے بدلے جائیں یاغیر جنس سے خواہ اہل عرف انہیں ثمن کہیں یا نہیں جیسے چاندی سونے کے برتن کہ وہ اس گھڑت کے سبب جو ان میں ہوئی خالص ثمن نہ رہے ولہذا عقد بیع میں متعین ہو جائیں گے اور باینہمہ ان کی بیع شرعا صرف ٹھہرے گی(یعنی ثمن سے ثمن کا بیچنا)اور جو شرائط صرف کے وہ سب اس کے مشروط ہوں گے اس لئے کہ چاندی سونا ثمن ہونے کے لئے ہی بنائے گئے اور اللہ کی پیداکی ہوئی چیز بدلی نہیں جاتی۔قسم دوم وہ جو ہر حال مبیع ہے جیسے کپڑےچوپائے کہ اگر ان کے عوض کوئی چیز بیچنا کہیں اور ان کا مبادلہ کسی شیئ کے ساتھ ہو وہ کبھی ذمہ پر دین ہوکر لازم نہ ہوں گےاور ثمن ہونے کے یہی معنی ہیں تو یہ اعتراض وارد نہ ہوگا کہ بیع مقایضہ(جس میں متاع کے بدلے متاع بیچی جاتی ہے)ا س میں دونوں متاع ایك وجہ سے ثمن ہیںاعتراض علامہ طحطاوی کے جواب میں علامہ شامی نے اسی طرح توجیہ فرمائیاقول:(میں کہتا ہوں) اس میں یہ اعتراض ہے کہ چاندی سونے کی گھڑی ہوئی چیز مثلا برتن یا گہنا یہ بھی ذمہ پر دین نہیں ہوتے بلکہ عقد میں متعین ہوجاتے ہیں جیسا کہ بحرالرائق سے گزراتو اگر یہ تقریر سالم رہے تو اس پر نقض وارد ہوگافتاملاور میرے نزدیك صاف جواب
#13133 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
بان کل سلعۃ فی المقایضۃ مبیع ایضاولا یمکن ان تصیر ثمنا محضا وان کان لھا وجہۃ الی الثمنیۃ من حیث ان البیع لایقوم الابالبدلین بخلاف القسم الاتی فانہ تارۃ یصیر ثمنا بحتا و واخری مبیعا خالصا فمعنی القسمین انہ لا ینفك عنہ کونہ ثمنا او کونہ مبیعا بشیئ من الاحوال وان اعتراہ وجھۃ اخری ایضا فی بعض الحال ثم قولہ کالثیاب ارسلہا ارسا لاواقرہ الشرح والحواشی والمراد المختلفۃ افرادھا مالیۃ والاکانت من الثالث حیث امکن ضبطھا بذکر جنس کقطن وکتان وصنعۃ کعمل الشام و مصر ورقۃ او غلظۃ وذرع طولا و عرضا ووزن ان بیعت بہ وبذا یجوز السلم فیہا کما عرف فی محلہ و۳الثالث ما لوصف فی ذاتہ ثمن تارۃ و مبیع اخری ولا اقول: کقول التنویر ثمن من وجہ مبیع من وجہ لیعود حدیث المقایضۃاقول: وانما زدت لو صف فی ذاتہ احترازا عن قسم الرابع فانہ
یہ ہے کہ بیع مقایضہ میں ہر شے مبیع بھی ہے اور ثمن خالص نہیں ہوسکتی اگرچہ اس کا ایك رخ ثمنیت کی طرف بھی سہی اس لئےکہ بیع بغیر ثمن و مبیع دونوں کے نہیں ہوسکتی بخلاف قسم آیندہ کے کہ وہ کبھی خالص ثمن ہوتی ہے اور کبھی خالص مبیعتو ان دونوں قسموں کے معنی یہ ہیں کہ اس کا ثمن یا مبیع ہونا کسی حال اس سے جدا نہ ہو اگرچہ بعض او قات اسے دوسرا رخ بھی عارض ہو پھر وہ جو کپڑوں کی مثال گزری مصنف نے اسے یونہی مطلق چھوڑا اور شرح وحواشی میں اسے برقرار رکھا اور مراد وہ کپڑے ہیں جو مالیت میں ایك سے نہ ہوںورنہ تیسری قسم میں ہوں گے جبکہ ان کا ضبط ہوسکے ذکر جنس سے جیسے روئی اور کتانیا کارخانہ کے ذکر سے جیسے شام ومصر کا کامیا پیتل اور دبیز ہونے سے یا طول و عرض کی پیمائش سے یا وزن سے اگر تول کر بیچے جاتے ہوں اور اسی بنا پر ان میں بیع سلم یعنی بدلی جائز ہے جیسا کہ اپنے محل میں معلوم ہوچکا ہے۔قسم سوم وہ جن کی ذات میں کوئی کاایسا وصف ہے جس کے سبب کبھی ثمن کبھی مبیع ہوتے ہیں اور میں ویسا نہیں کہتا جیسا تنویر میں فرمایا کہ ایك جہت سے ثمن ہو اور ایك جہت سے مبیع کہ مقایضہ کی بات پلٹ پڑےاقول:(میں کہتاہوں)میں نے یہ قید کہ اس کی ذات میں کوئی وصف ایسا ہو اس لئے بڑھادی کہ
حوالہ / References درمختار باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۷
#13134 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ایضایصیر مرۃ ثمنا واخری لالا لو صف فی ذاتہ بل للاصطلاح وعدمہ وھذہ ھی المثلیات فانہا اما ان تقابل باحد النقدین او لا علی الاول مبیعات مطلقا سواء دخلتہا الباء اولا وتعینت اولا کقولك بعتك ھذا الذھب بکر بر او بھذ االکر فالکر مبیع مطلقا والبیع فی صورۃ التعیین مطلق وفی غیرہ سلم یشترط فیہ شرائطہ وعلی الثانی اما ان تدخلھا الباء اولا علی الاول اثمان مطلقا تعینت اولا کبعتك ھذا الثوب بکربر او بھذا الکر والبیع مطلق فی الوجہین والکر یثبت فی الذمۃ وعلی الثانی ان تعینت فاثمان کبعتك ھذاالکر بھذا الثوب اولا فمبیعات کبعتك کرا بھذا العبد والبیع سلم بشروطہ والحاصل ان المثلی ان قوبل بحجر فمبیع مطلقا والا فان دخلتہ الباء فثمن مطلقا والا فان تعین فثمن اولا
قسم چہارم نکل جائے کہ وہ بھی تو کبھی ثمن ہوتی ہے کبھی نہیں لیکن کسی اپنے وصف کے سبب نہیں بلکہ اصطلاح وعدم اصطلاح کی بناپر۔اور یہ وہ اشیاء ہیں جن کو مثلی کہتے ہیں اب ان کا مقابلہ یا تو چاندی سونے سے ہوگا یا اور چیز سے:پہلی صورت میں مطلقا مبیع ہیں چاہے خرید وفروخت میں ان کو عوض ٹھہرایا ہو یا سونے چاندی کو اور یہ شیئ مثلی معین ہو یا غیر معین جیسے کوئی یوں کہے میں نے یہ سونا اتنے من گیہوں کو بیچا یا ان گیہوؤں کے عوض بیچا تو گیہوں بہر حال مبیع ہے پھر وہ گیہوں اگر معین ہے تو بیع مطلق ہے اور اگر غیر معین ہے تو سلم کہ اس کے شرائط لازم ہوں گے اور دوسری صورت میں ان کے عوض کوئی چیز بیچنا کہی یا ان کو کسی شے کے عوض بیچنا کہا پہلی تقدیر پر ہر حالت میں ثمن ہوں گے خواہ معین ہوں یا نہیں جیسے یوں کہا کہ میں نے یہ کپڑا اتنے گیہوؤں یا ان گیہوؤں کے عوض بیچا اور بیع بہر حال مطلق ہے چاہے یہ معین ہوں یا نہیں اور وہ گیہوں ذمہ پر لازم ہونگے بر تقدیر دوم اگر یہ چیزیں معین ہوں تو ثمن ہیں جیسے یوں کہا کہ میں نے یہ گیہوں اس کپڑے کے عوض بیچے اور معین نہ ہوں تو مبیع ہیں جیسے یوں کہے کہ میں نے اتنے من گیہوں اس غلام کے بدلے بیچے اور بیع سلم ہے اس کے شرائط کے ساتھ اور خلاصہ کلام یہ ہے کہ مثلی چیز اگر سونے چاندی کے مقابل ہو تو مطلقا مبیع ہے ورنہ اگر اس کے عوض بیچنا کہیں
#13135 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
فمبیع وھذاایضاح ماحرر الشامی مع احسن ضبط لا یوجد فیہ والرابع ما ھو سلعۃ بالاصل وثمن بالاصطلاح کالفلوس فما دام یروج فکثمن والا عاد لاصلہ ولا شك ان المصطلحین اذا ارادوا ان یجعلوا سلعۃ ثمنا لا بد لھم ان یرجعوافی تقدیر ھا الی الثمن الخلقی فان ما بالعرض لا یتقوم الابما بالذات فیجعلون اربعۃ وستین من الفلوس الھندیۃ او احدی وعشرین من الھللات العربیۃ بربیۃ وھکذا فی غیرہا وھم فی ذلك بالخیار یصطلحون کیف یشاؤن اذلا مشاحۃ فی الاصطلاح وقد کان قبل نحو عشرین سنۃ فی الدیار الھندیۃ قسمان من الفلوس یروجان احدھما مضروب و الاخر قطعۃ نحاس مستطیلۃ الشکل نحو ضعف الفلس المضروب فی الوزن وکان من المضروب اربعۃ وستون بربیۃ لا تزید ولا تنقص ومن الاخر یختلف السعروربما صار ثمانون منہ بربیۃ الی ان کسد ونفد فکل ذلك راجع الی الاصطلاح ولا حجر فیہ من جھۃ الشرع الشریف اذا علمت ھذا فالنوط ھو من القسم الرابع سلعۃ باصلہ لانہ قرطاس وثمن بالاصطلاح لانہ
تو مطلقا ثمن ہے ورنہ اگر معین ہو تو ثمن ہے او رغیر معین ہو تو مبیع یہ اس کاایضاح ہے جو علامہ شامی نے یہاں منقح فرمایا مگر ایسے نفیس ضبط کے ساتھ جو شامی میں نہیںقسم چہارم وہ یہ کہ حقیقۃکوئی متاع ہو اور اصطلاحا ثمن جیسے پیسے تو وہ جب تك چلتے ہیں ثمن ورنہ اپنی اصل کی طرف لوٹ جائیں گے اور اصلا شبہہ نہیں کہ اہل اصطلاح جب کسی چیز کو ثمن کرنا چاہیں تو انہیں ان کے اندازہ میں ثمن پیدائشی کی طرف رجوع کرنے ناگزیر ہے کہ عرضی چیز کا قیام تو ذاتی ہی سے ہوتا ہے تو ۶۴ ہندی پیسے یا ۲۱عربی ہللے ایك روپے کے قرار دیتے ہیں یوں ہی اس کے ماسوا میںاور اختیار ہے جیسے چاہیں اصطلاح مقررکریں کیونکہ اصطلاح میں کوئی روك ٹوك نہیں۲۰ برس پہلے ہندوستان میں دو طرح کے پیسے رائج تھے ایك سکہ زدہ(ڈبل)دوسرے تانبے کے لمبے ٹکڑے وزن میں ڈبل پیسے سے قریبدونے کے(منصوری)ڈبل پیسے روپیہ کے ۶۴ سے نہ زائد ہوتے ہیں نہ کماور منصوری کا بھاؤ گھٹتا بڑھتا رہتا ہے اور کبھی ایك روپے کے اسی ہوجاتے تھے یہاں تك کہ چلن نہ رہا اور جاتے رہے تو یہ سب اصطلاح کی جانب راجع ہے اور اس میں شرع مطہر کی طرف سے کوئی روك نہیں۔ جب یہ معلوم ہولیا تو نوٹ چوتھی قسم سے ہےاصل میں یہ ایك متاع ہے اس لئے کہ ایك پرچہ کاغذ ہے اور اصطلاح میں ثمن ہے اس لئے کہ اس کے ساتھ ثمن کا سا
#13136 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
یعامل بہ معاملۃ الاثمان وھذہ الرقوم المکتوبۃ علیہ تقدیرات ثمنیۃ بالثمن الاصلی کما علمتفھو اصطلاح لامضایقۃ فیہ ولا یسأ ل لہ عن وجہ و توجیہ وقد تبین بھذا التقریر والحمد اللہ الفتاح القدیر حقیقۃ النوط وانما سائر الاحکام بھا منوط فاذن لایعتری ان شاء اللہ تعالی فی ابانۃ شیئ من الاحکام اشکال والحمدﷲ المھیمن المتعال۔
اما السوال الاول: فقد بان الجواب مع المزید ولا احتیاج الی ان نزید۔
واما الثانی
فاقول: نعم تجب فیہ الزکوۃ بشروطھا لما علمت انہ مال متقوم بنفسہ ولیس سنداو تذکرۃ للدین حتی لایجب اداؤھا مالم یقبض خمس نصاب ولا حاجۃ فیہ الی نیۃ التجارۃ لان الفتوی علی ان الثمن المصطلح تجب فیہ الزکوۃ مادام رائجابل لا انفکاك لہ عن نیۃ التجارۃ لانہ لا ینتفع بہ الا بالمبادلۃ کما لایخفی فی فتاوی قاری الھدایۃ الفتوی علی وجوب الزکوۃ فی
معاملہ کیا جاتا ہے اور یہ رقمیں کہ اس پر مرقوم ہیں یہ اس کی ثمنیت کا ثمن اصلی سے اندازہ ہے جیسا کہ معلوم ہوچکا تو یہ ایك اصطلاح ہے اس میں کچھ مضائقہ نہیں نہ اس کی وجہ توجیہ دریافت کی جائیگیبحمد اللہ القدیر اس تقریر سے نوٹ کی حقیقت واضح ہوگئی اور تمام احکام اسی پر مبنی تھے تو ان شاء اللہ تعالی اب کوئی دشواری کسی حکم کے اظہار میں آڑے نہ آئے گیاور سب خوبیاں اللہ کو جو ہر چیزکا نگہبان ہے بلندی والا۔
جواب سوال اول: مع شے زائد واضح ہو لیا اور بڑھانے کی ضرورت نہیں۔
جواب سوال دوم :
فاقول:(تو میں کہتا ہوں)ہاں نوٹ میں زکوۃ اپنی شرطوں کے ساتھ واجب ہے اس لئے کہ آپ نے جان لیا کہ وہ خود قیمتی مال ہے دستاویز و رسید قرض نہیں کہ جب تك نصاب کا پانچواں حصہ قبضہ میں نہ آئے زکوۃ دینا واجب نہ ہو اور نوٹ میں نیت تجارت کی بھی حاجت نہیں ا سلئے کہ فتوی اس پر ہے کہ ثمن اصطلاحی جب تك رائج ہے زکوۃ اس میں واجب ہے بلکہ نوٹ کو نیت تجارت سے اصلا جدائی نہیں کہ بغیر مبادلہ اس سے نفع لے ہی نہیں سکتے جیسا کہ ظاہر ہے فتاوی علامہ قاری الہدایۃ میں ہے فتوی اس پر ہے کہ پیسے جب تك رائج ہیں ان پر زکوۃ واجب
#13137 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
الفلوس اذا تعومل بھا اذا بلغت ماتساوی مائتی درہم من الفضۃ او عشرین مثقالا من الذہب اھ و النوط المستفاد قبل تمام الحول یضم الی نصاب من جنسہ او من احد النقدین باعتبار القیمۃ کا موال التجارۃ۔
واما الثالث
فاقول: نعم یصح مھرالما علمت اذاکانت قیمتہ وقت العقد سبع مثاقیل من فضۃ فان اقل یتم کما فی العروض۔
واما الرابع
فاقول: یجب القطع بشروطہ من تکلیف ونطق وبصر و حرز تام وغیرہا اذا بلغت قیمتہ کلا یومی السرقۃ والقطع عشرۃ دراہم مضروبۃ جیادا وذلك
کلہ لما بینا انہ مال متقوم بنفسہ۔
واما الخامس
فاقول: نعم یضمن باتلاف بمثلہ ولا یجبر المتلف
جبکہ دو سو درہم چاندی یا بیس مثقال سونے کی قیمت کوپہنچے ہوں انتہی اور نوٹ جو سال زکوہ تمام ہونے سے پہلے ملے وہ اپنی جنس کے نصاب یا قیمت لگا کر سونے چاندی سے ملایا جائے گا جیسا تجارتی مال کا حکم ہے۔
جواب سوال سوم :
فاقول:(تو میں کہتا ہوں)ہاں و ہ مہر ہوسکتا ہے اسی بنا پر کہ آپ جان چکے جبکہ وقت عقد اس کی قیمت سات مثقال چاندی ہو اگر کم ہوگی تو پوری کی جائے گی جس طرح اسباب میں ہے۔
جواب سوال چہارم:
فاقول:(میں کہتا ہوں)نوٹ کی چوری میں ہاتھ کاٹاجائے گا جب کہ اس کی شرطیں پائی جائیں یعنی چور عاقل بالغ ہو گونگانہ ہواندھا نہ ہونوٹ پوری حفاظت کی جگہ رکھا ہو اور اس کے سوا جو شرائط ہیں اور جس دن چرایا تھا اور جس دن کاٹیں دونوں دن اس کی قیمت دس درہم سکہ دار کھرے تك پہنچے اور یہ سب اسی بنا پر ہے کہ ہم بیان کرآئے کہ وہ بذات خود ایك قیمت والا مال ہے۔
جواب سوال پنجم :
فاقول:(میں کہتا ہوں ہاں کوئی کسی کا نوٹ تلف کردے تو ا سکے تاوان میں نوٹ
حوالہ / References فتاوٰی قارئ الھدایۃ
#13138 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
علی اداء الدراہم خاصۃ لان النوط عددی غیر متفاوت اصلا اذا اتحد دار ضربہنعم اذااختلف ولو اتحدت السلطنۃ فربما تختلف القیمۃ وذلك ان النوط الہ آباد او الہ آباد و کلکتۃ یروج فی ممالك الہند المشرقیۃ الشمالیۃ اکثر مما یروج نوط بمبئی و بالعکس ربما یشتری نوط مکان فی اخر بنقص عدۃ آنات من رقمہ المکتوب علیہ فلا یعد احدھما مثل الاخر الا اذا استویا رواجا۔
واما السادس
فاقول: نعم یجوز نعم کما تعاملہ الناس فی عامۃ البلاد وقد علمت تحقیقہ۔
تنبیہ:کنت قنعت فی الجواب بھذا القدر لوضوح الامر بما قررتہ فی الصدر فاذانہیت الرسالۃ بلغنی عن بعض عــــــہ الافاضل انہ حفظہ اللہ تعالی قال مذاکرۃ لامجادلۃ ان العلامۃ ابن عابدین ذکر فی رد المحتار تفریعا علی ان من شروط انعقاد البیع کون المعقود علیہ مالا متقوما انہ لم ینعقد بیع کسرۃ خبز لان ادنی القیمۃ التی تشترط
ہی دینا آئے گا اور تلف کنندہ کو خاص روپیہ ادا کرنے پر مجبور نہ کیا جائے گا کہ نوٹ وہ چیز ہے جس کا لین دین گن کر ہوتا ہے اور دو نوٹوں میں اصلا تفاوت نہیں سمجھتا جاتا ہے جبکہ وہ ایك ٹکسال کے ہوں ہاں ٹکسال جب مختلف ہو تو اگرچہ سلطنت ایك ہواکثر قیمت مختلف ہوجاتی ہے اور یہ اس لئے کہ نوٹ الہ آباد یا الہ آباد و کلکتہ کا چلن مشرقی شمالی ممالك ہند میں بمبئی کے نوٹ سے زیادہ ہے وبالعکس اور بیشتر ایك جگہ کا نوٹ دوسرے مقام پر کچھ آنوں کی کمی سے لیا جاتا ہے تو ایك دوسرے کے برابر شمار نہ کیا جائے گا تاوقتیکہ چلن میں برابر نہ ہوں۔
جواب سوال ششم
فاقول:(پس میں کہتا ہوں) ہاں جائز ہے جیسا کہ تمام شہروں میں عمل در آمد ہے اور تم اس کی تحقیق جان چکے۔
تنبیہ:میں نے جواب میں اسی پر اکتفاء کی تھی اس لئے کہ ابتدائے کلام میں جو تقریر گزری اس سے امر واضح ہوچکا تھا پھر جب میں رسالہ تمام کرچکا مجھے بعض علماء سلمہ اللہ تعالی سے خبر پہنچی کہ انہو ں نے بطور مذاکرہ نہ بطور مجادلہ یہ فرما یا کہ علامہ ابن عابدین نے ردالمحتار میں اس مسئلہ پر کہ بیع منعقد ہونے کی شرط مبیع کا مال متقوم ہونا ہے یہ تفریع ذکر کی کہ ایك ٹکڑ ے روٹی کی بیع باطل ہے کہ جواز بیع کےلئے کم سے کم ایك پیسہ قیمت

عــــــہ: یعنی فاضل حامد احمد محمد جدا دی سلمہ ۱۲۔
#13139 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
لجواز البیع فلس اھ ومعلوم ان ھذا القدر من القرطاس لایساوی فلسا ای فیکون البیع باطلا غیر منعقد اصلا فضلا عن الحرمۃ والکراھۃ۔اقول: و باللہ التوفیق ھذا قالہ قبل ان یطالع رسالتی ولذلك وددت انہ سلمہ ربہ طالعھا واطلع علی مافیہا والجواب ظاھر بملا حظۃ قولہ لایساوی فلسا فبون بین بین لا یساوی ولم یکن یساوی لانہ الان یساوی مائۃ و الفا وا لنظر للحال لا للاصل الا تری ان بیع اوانی الخزف والطین کبارھا وصغار ھا من الحب والجفنۃ الی نحو رأس الشیشۃ شائع ذائع بین عامۃ المسلمین ولم ینکرہ احد مع ان اصلہ تراب والتراب لیس بمال بل لو نظر للاصل لعادت مسألۃ الفلس المتمسك بھا علی نفسہا بالنقص لما علمت ان قطعۃ نحاس بوزن فلس لا تساوی فلسا قط بل لا تبلغ نصفہ ایضا و لذا اولعت المجازفون باصطناع قوالب کقالب دار الضرب
ہونا شرط ہے انتہیاور ظاہر ہے کہ اتنا ٹکڑا کاغذ کا ایك پیسہ کی قدر نہیں تو نوٹ کی بیع باطل ہونا چاہئے کہ اصلا ہوئی ہی نہیںحرام یا مکروہ ہونا تو درکناراقول:وباللہ التوفیق (میں کہتا ہوں اور توفیق اللہ تعالی سے ہے)ان عالم نے یہ بات میرا رسالہ دیکھنے سے پہلے کہی اور اسی لئے میں نے تمنا کی کہ کاش وہ میرا رسالہ دیکھ لیتے اور اس کے مضامین پر مطلع ہوتے اور اعتراض کا جواب تو خود ان کے اس کہنے ہی سے ظاہر ہے کہ یہ پرچہ کاغذ ایك پیسہ کا نہیں کہ ان دونوں باتوں میں کھلا فرق ہے کہ ایك پیسہ کا نہیں یا ایك پیسہ کا نہ تھا اس لئے کہ اب تو وہ سو روپے اور ہزار روپے کا ہے اور شے کی حالت موجودہ دیکھی جاتی ہے نہ یہ کہ اصل میں کیا تھیکیا نہیں دیکھتے کہ پکی اور کچی مٹی کے برتن چھوٹے بڑے گولی او ر کونڈے سے لے کر چلم تك ان کی بیع تمام مسلمانوں میں رائج و معروف ہے اور کوئی اس پر انکار نہیں کرتا حالانکہ ان کی اصل مٹی ہے اور مٹی مال نہیں اگر اصل کو دیکھیں تو وہ پیسہ کا مسئلہ خود اپنے ہی نفس کا ناقص ہوگا اس لئے کہ تمہیں معلوم ہوچکا کہ تانبے کا پتر جو وزن میں ایك پیسہ کے برابر ہو ہر گز ایك پیسے بلکہ دھیلے کا بھی نہیں ہوتا اور اسلئے بیباکوں کو پیسہ ڈھالنے کی بہت لت ہوتی ہے ٹکسال کی طرح سانچا بنا کر تانبا گلاکر اس میں
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۵
#13140 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
یذیبون النحاس ویقلبونہ فیہا فیصیر فلو سا و یربحون بہ ضعف ماخسروا ویقولون انہ انفع من ضرب الربابی فبا لنظر للاصل لایساوی الفلس نفسہ فلسافلایکون مالامتقوما فکیف یکون قیمۃ وثمنا ومن تأمل حدیث ورقۃ علم الذی قدمنا علم ان الشیئ انما ینظر الیہ بما ھو علیہ الان لابما قد کان الاتری ان العالم معظم شرعا وعقلا وعرفا ولا نظر الی انہ فی الاصل من الذین قال اللہ تعالی فیہم " واللہ اخرجکم من بطون امہتکم لا تعلمون شیـا " وما ذلك الا لانہ بحدوث وصف فیہ صار متقوما عند اللہ و عندالناس بعد ان لم یکن و کذلك ورقۃ العلم لما تجد د فیہا من کتابۃ ذلك العلم وکذلك النوط لما حدث فیہ بذاك الرقم و الطبع ما استجلب الرغبات الیہ للنفع وصار یمیل الیہ الطبع ویجری فیہ البذل والمنع ولا قیمۃ للایراد بانہ لایمشی فی کل البلاد فان ھذا لیس من لوازم المالیۃ عند احد
ڈالتے ہیں کہ پیسہ ہوجاتا ہے اور اس میں جتنا خرچ ہوتا ہے ا س سے دونا نفع مل جاتا ہے اور اسے روپے ڈھالنے سے زیادہ نافع بتاتے ہیں تو اصل پر نظر کرنے سے خود ایك پیسہ ایك پیسے کا نہیں تو مال متقوم نہ ہوا تو کیونکر قیمت اور ثمن ہوسکتا ہے اور ورق کی بات کہ اوپر گزری جو اسے دیکھے گا یقین کریگا کہ شے کی حالت موجودہ دیکھی جاتی ہے نہ کہ حالت گزشتہکیا نہیں دیکھتے کہ شرع میں عقل میں عرف میں عالم کی تعظیم ہے اور اس پر نظر نہیں کہ وہ اصل میں ان لوگوں سے ہے جن کی نسبت رب عزوجل نے فرمایا کہ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حال پر پیدا کیا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے تو یہ اسی سبب سے ہے کہ اس میں ایك وصف ایسا پیدا ہوگیا جس کے سبب خالق و خلق سب کے نزدیك اس کو وہ عزت ہوگئی جو پہلے نہ تھی ایسے ہی وہ علم کا ورق اس وجہ سے کہ اس میں وہ علم لکھ دیا گیا اور ایسے ہی نوٹ جس نے نفع کے باعث رغبتوں کو اس کی طرف کھینچ دیا ور طبیعتیں اس کی طرف میل کرنے لگیں اور اس میں دینا اور روکنا جاری ہوا اور یہ اعتراض کچھ حقیقت نہیں رکھتا کہ نوٹ سب شہروں میں نہیں چلتا کہ یہ تو کسی کے نزدیك مالیت کو لازم
حوالہ / References القرآن الکریم ۱۶ /۷۸
#13141 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
بل ھذا ھو حال اکثر العملۃ المضروبۃ الاتری ان الخمسات والعشرات والھللات الرائجۃ ھھنا لا تروج فی الھند اصلا وکذلك لاتمشی فلوس الھند ھنا بخلاف النوط فان نوط الھند نافق ھھنا بالمشاھدۃ وبعض النقصان لا یمنع المشی ولا یوجب الکساد بل قد اصطرفت انافی ذی الحجۃ ھذا بھذا البلد الامین نوطا افرنجیا معلما برقم خمسمائۃ ربیۃ بثلثۃ وثلثین جنیہا و خمس ربابی وھذا ثمنہ سواء بسواء فالجنھیات بار بعمائۃ وخمس و تسعین وھی مع الخمس خمسمائۃ(ربیۃ)وقد قال فی الکفایۃ اوائل باب البیع الفاسد ان صفۃ المالیۃ للشیئ بتمول کل الناس او بتمول البعض ایاہ اھ ومثلہ فی فتح القدیر وفی ردالمحتار عن البحرالرائق عن الکشف الکبیر المال مایمیل الیہ الطبع ویمکن ادخارہ لوقت الحاجۃ والمالیۃ تثبت بتمول الناس کافۃ او بعضھم اھ فتبین ان الفرع المذکور المتمسك بہ لا مساس لہ بما نحن فیہ ولکن العبد الضعیف
نہیں بلکہ سکہ کی اکثرچیزوں کا یہی حال ہے کیا نہیں دیکھتے کہ خمسے اور عشرے اور ہللے جویہاں(عرب شریف میں)رائج ہے ہند میں اصلا نہیں چلتے اور ایسے ہی ہندوستان کے پیسے یہاں نہیں چلتے بخلاف نوٹ کے کہ ہندوستان کا نوٹ یہاں آنکھوں دیکھا رائج ہے اور کچھ کم کو بکنا چلنے کے منافی نہیںنہ اس سے بے رواجی لازم ہے بلکہ میں نے اسی ذی الحجہ میں اسی امان والے شہر(مکہ معظمہ)میں ایك انگریزی نوٹ جس پر پانسو کی رقم لکھی تھی تینتیس اشرفی اور پانچ روپے کو بھنا یا اور یہ اس کا پورا ثمن ہوا کہ وہ اشرفیاں چار سو پچانوے روپے کی ہوئیں اور وہ ان پانچ روپوں سے مل کر پورے پانسو ہوگئے اور بیشك کفایہ کی اوائل باب بیع فاسد میں فرمایا کہ شیئ کا مال ہونا یوں ہوتا ہے کہ سب لوگ اسے مال بنائیں یا بعض انتہیاور ایسا ہی فتح القدیر میں ہے اور ردالمحتار میں بحوالہ البحرالرائق کشف کبیر سے نقل کیا کہ مال وہ ہے جس کی طرف طبیعت میل کرے اور وقت حاجت کے لئے اس کا اٹھا رکھنا ممکن ہو اور مالیت یوں ثابت ہوتی ہے کہ سب لوگ یا بعض اسے مال بتائیں انتہیتو ظاہر ہوگیا کہ وہ پیسہ کا مسئلہ جس سے ان عالم نے تمسك کیا ہمارے مسئلہ نوٹ سے کچھ علاقہ نہیں رکھتا مگر بندہ ضعیف
حوالہ / References الکفایۃ مع فتح القدیر باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۴۳
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۳
#13142 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
یحب ان یکشف الحجاب عن حالہ ایضا کیلا یغتر بہ فی محل اخر مع مافیہ من تحجیر ما وسعہ الشرع المطہرفاقول: وبہ استعین اصل الفرع للقنیۃ فرد المحتار نقلہ عن البحر والبحر نقلہ عنھا وتبعہ تلمیذہ العلامۃ الغزی وبالغ حتی ادخلہ فی متنہ فی متفرقات البیوع قبل الصرف مع خلو اصلہ اغنی الغرر والدرر عنہ وقد ردہ شارحہ العلامۃ العلائی الی القنیۃ بل اعترف بہ المصنف نفسہ فی شرحہ منح الغفار فقال بعد ایرادہ متنا نقلہ فی القنیۃ ایضا اھ ای کما نقل المسألۃ قبلہ فیہا وھی صح بیع خرء حمام کثیر وھبتہوالقنیۃ مشہورۃ بضعف الروایۃ وصرحواانہا اذاخالفت المشاھیر لم تقبل بل قد نصو ا انہا اذا خالفت القواعد لم تقبل مالم یعضد ھا نقل معتمد من غیر ھا والعبرۃ بالمنقول عنہ لا بالناقل وبکثرۃ
دوست رکھتا ہے کہ اس مسئلہ کا حال بھی کھول دے تاکہ کہیں دوسری جگہ اس سے دھوکا نہ کھائے باوصف اس دقت کے جو اس مں ہے کہ اس نے ایسی چیز کو تنگ کردیا جسے شرع مطہر نے وسیع فرمایا تھااقول: وبہ استعین(میں کہتا ہوں اور اللہ ہی سے مدد مانگتا ہوں)اصل اس مسئلہ کی قنیہ سے ہے رد المحتار نے اسے بحر سے نقل کیا اور بحر نے قنیہ سے اور ان کے شاگرد علامہ غزی نے ان کی متابعت کی اور یہاں تك مبالغہ کیا کہ اس مسئلہ کو اپنے متن تنویر الابصار کی متفرقات البیوع میں کتاب الصرف سے کچھ پہلے داخل فرمایا حالانکہ تنویر کی اصل یعنی درر وغرر اس سے خالی ہے اور اس کے شارح علامہ علائی نے اسے قنیہ ہی کی طرف پھیردیا بلکہ خود مصنف نے اس کی شرح منح الغفار میں اس کا اعتراف فرمایا متن کی اس عبارت کے بعد فرمایا کہ اسے بھی قنیہ میں نقل کیا ہے انتہی یعنی جیسے اس سے پہلے مسئلہ بھی قنیہ میں منقول ہے اور وہ یہ ہے کہ کبوتر کی بیٹ جو کثیر ہو اس کی بیع وہبہ صحیح ہے اور قنیہ مشہور ہے کہ اس کی روایتیں ضعیف ہوا کرتی ہیں اور علماء نے تصریح فرمائی کہ قنیہ جب مشہور کتابوں کی مخالفت کرے مقبول نہ ہوگی بلکہ نص فرمائی ہے کہ قنیہ اگر قواعد کی مخالفت کرے تو مقبول نہ ہوگی جب تك اس کی تائید میں کوئی اور نقل معتمد نہ پائی جائے اور اعتبار منقول عنہ کا ہوتا ہے نہ ناقل کا اور نقلوں
حوالہ / References منح الغفار شرح الدرالمختار
#13143 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
النقول لاتندفع الغرابۃ اذالم یکن مستند ھم الاواحدا کما بینت کل ذلك فی کتابی فی اداب المفتی سمیتہ فصل القضاء فی رسم الافتاء وحکم فی الظہیریۃ استحباب القیام بعد سجود التلاوۃ مثل ماقبلہ ونقلہ مافی التتارخانیۃ والغنیۃ والمضمرات وعنھا فی البحر و مشی علیہ فی الدر وغیرہ ومع ذلك حکم فی البحرانہ غریب قال الشامی وجہ غرابتہ انہ انفرد بذکرہ صاحب الظہیریۃ ولذا عزہ من بعدہ الیہا فقط اھ وانت تعلم ان فرع القنیۃ لم یرزق من النقول ھذا القدر ایضا ولا القنیۃ کالظہیریۃ فانی تغرب عنہ الغرابۃ ویالیتہ لم یکن الا غریبا فیکون کالشاذلکنہ کالمنکر لان کلتا الخالفتین نقد وقتہ مخالفۃ المشاھیر ومخالفۃ قواعد الشرع المنیراما ۱الاولی فلقد کان ناھیك فیہا قول الفتح والشرنبلالی والطحطاوی ورد المحتار وغیرہا من معتمدات الاسفار لو باع کاغذۃ بالف یجوز وجز اھم اللہ الحسنی وزیادۃ
کی کثرت سے مسئلہ کی غرابت دفع نہیں ہوئی جبکہ ایك ہی منقول عنہ ان سب کا منتہی ہو جیسے کہ میں نے ان تمام باتوں کا بیان اپنی اس کتاب میں کردیا جوآداب مفتی میں لکھی جس کا نام میں نے فصل القضاء فی رسم الافتاء رکھااور ظہیریہ میں حکم فرمایا کہ سجدہ تلاوت کے بعد بھی قیام مستحب ہے جیسا اس سے پہلے اور یہ مسئلہ اس سے تتارخانیہ اور قنیہ اور مضمرات نے نقل کیا اور ان سے بحر میں اور در وغیرہ میں اسی پر چلے باوصف اس کے بحر میں حکم فرمایا کہ وہ غریب ہے۔علامہ شامی نے فرمایا:اس کی غرابت کی وجہ یہ ہےکہ تنہا ظہیریہ نے اس مسئلہ کوذکر کیا اور اسی واسطے بعد والوں نے فقط اس کی طرف اسے نسبت کیا انتہیاور تو جانتا ہے کہ قنیہ کے اس مسئلہ کو اتنی نقول بھی نصیب نہ ہوئیں اور نہ قنیہ مثل ظہیریہ کے ہے تو غرابت اس سے کہاں جائیگی اور کاش وہ صرف غریب ہی ہوتا تو حدیث شاذ کے مثل ہوتا مگر یہ تو مثل حدیث منکر کے ہے اس لئے کہ دونوں مخالفین اس کی نقد وقت ہیں کتب مشہورہ کی بھی مخالفت اور قواعد شرع روشن کی بھی مخالفت پہلے مخالفت کے ثبوت کو یہی بس تھا کہ فتح القدیر اور شرنبلالی اور طحطاوی اور ردالمحتار وغیرہ معتمد کتابوں میں فرمایا اگر ایك کاغذ ہزار روپے کو بیچا تو جائز ہے تو اللہ تعالی انہیں بھلائی اور اس سے زیادہ
حوالہ / References ردالمحتار باب سجود التلاوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۵۱۵
فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴
#13144 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
علی زیادۃ تاءالوحدۃ فی کاغذۃ لکن ھھنا شیئ اخر اجل واکبر لایرد ولا یرام ولا یمس غبارہ الاوھام وھو اجماع ائمتنا جمیعا فی الروایات الظاہرۃ عنھم و اطباق متون المذہب و شروحہ و فتاواہ علی جواز بیع تمرۃ بتمرتین و جوزۃ بجوزتینوزادفی الفتح و الدر ابرۃ بابر تین وکل احد یعلم ان لیس شیئ منھا یسوی فلسا ففی بلادنا تکون عدۃ صالحۃ من التمر بفلس وھو ھھنا ارخص وکذلك الجوز وھو ارخص فی بلادنا وثمہ تجد الابر بفلس من ثمان الی خمس وعشرین فھذہ مخالفۃ بینۃ لجمیع المشاھیر بل لنصوص جمیع ائمۃ المذہب والمحقق حیث اطلق و ان رجح روایۃ المعلی عن محمد بکراھۃ تمرۃ بتمرتین لکنہ لاجل التفاضل لالان تمرۃ لایساوی فلسا فلو باع تمرۃ من
جزادے کہ انہوں نے کاغذ میں تائے وحدت بڑھادی(یعنی ایك کاغذ)لیکن یہاں تو ایك اور چیز ہے نہایت جلیل وعظیم کہ نہ رد ہوسکے نہ اس پر کوئی آنکھ اٹھاسکے نہ اوہام اس کی گرد پائیںاور وہ یہ ہے کہ ہمارے تمام ائمہ نے ان روایات میں جوان سے متواتر و مشہور ہیں اجماع فرمایا ہے اور متون و شروح و فتاوی مذہب کا اتفاق ہے کہ ایك چھوہارہ دو چھوہاروں کو اور ایك اخروٹ دو اخروٹوں کو بیچنا جائز ہے اورفتح القدیر و درمختار میں یہ بھی زائد کیا کہ دو سوئیوں کے بدلے ایك سوئی اور ہر شخص جانتا ہے کہ ان میں سے کوئی چیز ایك پیسہ کی نہیں ہوتی ہمارے شہروں میں معقول گنتی کے چھوہارے ایك پیسہ کے ہوتے ہیں اور یہاں اور بھی سستے ہیں اور ایسے ہی اخروٹ اور ہمارے شہروں میں زیادہ ارزاں ہیں اور ہندوستان میں ایك پیسہ کی آٹھ سے لے کر پچیس سوئیاں ملتی ہیں تو اس مسئلہ قنیہ کی یہ صریح مخالفت ہے تمام کتب مشہورہ بلکہ نصوص جمیع ائمہ مذہب سے اور محقق علی الاطلاق (امام ابن ہمام)نے اگرچہ امام محمد سے امام معلی کی اس روایت کوترجیح دی کہ دو چھوہاروں کے بدلے ایك چھوہارا بیچنا مکروہ ہے مگر وہ کراہیت ایك زیادتی کے سبب سے ہے نہ اس لئے کہ چھوہارا ایك پیسہ کی قیمت کا
حوالہ / References درمختار باب الربوٰ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۱
#13145 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
البرنی بتمرۃ من الجنیب مثلا لم تمسہ روایۃ المعلی ولا ترجیح المحقق ثم الروایۃ ایضا لا تقول الا بالکراھۃ فاین البطلان و عدم الانعقاد الذی کنتم تدعونو اما ۲الثانیۃ فاقول: اکثر تعیش الفقراء فی مملکۃ الھند علی کبرھا واتسا عھا(فان عمارتہا عرضا من ثمان درج شمالیۃ عن خط الاستواء الی خمس وثلثین درجۃ وطولامن ست و ستین درجۃ شرقیۃ عن قرینص الی اثنتین و تسعین درجۃ)انما ھو بالمبا یعات باجزاء فلس نصف وربع وثمن وغیرہا فرب فقیر یشتری لادامہ شیئا من البقول بنصف فلس ویصب فیہ دھن الشیرج بنصف فلس والتوابل الثلث جمیعا بربع فلس والثوم والبصل معا بربع فلس وکذالملح بربع فلس فیتھیؤلہ الادام فی فلسین الا ربعا ویأکلہ غداء وعشاء و یشتری لسراجہ الدہن بنصف فلس یکفیہ من المساء الی قریب نصف اللیل وقربۃ کبیرۃ من الماء العذب بنصف فلس وقد کانت قبیل ھذا بثلث فلس وتجدعلبۃ الکبریت بنصف فلس ویشتری لعیالہ من الذفواکہ نہیں ہوتا تو اگر مثلا ایك چھوہارہ قسم برنی کا قسم جنیب کے ایك چھوہارے سے بیچے تو اس سے نہ روایت معلی کو کچھ تعلق ہوگا نہ ترجیح محقق کوپھر وہ روایت بھی تو اتنا ہی کہتی ہے کہ مکروہ ہے بیع باطل اور اصلا منعقد نہ ہونا جس کا تمہیں دعوی تھا وہ کہاں گیارہی دوسری مخالفت اقول:(میں کہتا ہوں)ملك ہند کہ اس قدر کبیرو وسیع ہے(جس کا عرض خط استواء سے شمال کی جانب آٹھ درجے سے پینتیس درجے تك ہے اور طول گرینچ سے(کہ لندن کی رصدگاہ ہے)شرق کی جانب چھیاسٹھ درجے سے بانوے درجے تك ہے)اس میں اکثر فقراء کی معیشت اسی خریدو فروخت سے ہے جو پیسے کے حصے دھیلے چھدام دمڑی وغیرہ سے ہوتی ہے تو بہتیرے فقیر اپنے سالن کے لئے کوئی ساگ دھیلے کاخر ید لیتے ہیں اور اس میں دھیلے کا تلوں کا تیل ڈالتے ہیں اور تینوں مسالے چھدام کے اور لہسن پیاز چھدام کےاور یونہی چھدام کا نمکتو پونے دو پیسے میں اس کی ہانڈی تیار ہوجاتی ہے اور اسے صبح وشام دو وقت کرکے کھالیتا ہے اور اپنے چراغ کے لئے دھیلے کا تیل خریدتا ہے جو شام سے آدھی رات تك اس کے لئے کافی ہوتا ہے اور میٹھے پانی کی بڑی مشك دھیلے کواور تھوڑا ہی زمانہ گزرا کہ پیسے کی تین مشکیں تھیںاور دیا سلائی کی ڈبیا تمہیں دھیلے کو مل جائے گی اور اپنے بال بچوں کے لئے ہندوستانی میووں میں سب سے
#13146 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
الھند المشھورۃ عندا لعرب باسم العنب بفتح العین وسکون النون وبالفارسیۃ انبۃ وبالھندیۃ ام جملۃ کثیرۃ بنصف فلس وکذامن الجامون ومن التمر الھندی بربع فلسوان کان متعودا بالتامول والتتن فیکفیہ لیوم بلیۃ الوق بنصف فلس والفوفل والکات والتنباك الماکول کل بربع ربع فتنقضی حاجۃ یومہ فی فلس وربع وان کان یشرب الدخان فیکفیہ التتن بنصف فلس وامثال ذلك اشیاء کثیرۃ تباع باجزاء الفلس حتی الثمن ونصف الثمن ولو لا ذلك لضاق الامور و ثقل علی اخفاء ذات الید بحیث لا یطیقون ولو ابطلنا تلك البیاعات الشائعۃ فی الالف مولفۃ من المسلمین والزمنا ھم ان لایشتروا شیئا باقل من فلس قط مع ان حاجاتھم تندفع بالربع وبالثمن لکان ھذا من وضع الاصر علیہم وما جاءت ھذہ الشریعۃ السمحۃ السہلۃ الغراء الا برفعہ وربما لایجدون ھذا القدر من الفلوس فان الادام الذی کان تھیأفی فلس واحد وثلثۃ ارباع فلس الا ان لایتأتی الافی ثمانیۃ فلوس والتامول التام فی فلس و ربع لایتم الافی اربعۃ فلوس وقس علیہ فاذا لم یجد لادامہ الا فلسین والزمتموہ بثمانیۃ
مزہ دار میوہ(جسے اہل عرب عنب بفتح عین و سکون نون)کہتے ہیں اور فارسی میں انبہ اور ہندی میں آمبہت سے ایك دھیلے کو اور ایسے ہی جامن اور املیاں چھدام کواور اگر پان تمباکو کا عادی ہے تو اسے ایك رات دن کیلئے کفایت کرینگے دھیلے کے پان اور کتھا اور چھالیا اور کھانے کا تمبا کو چھدام چھدام کے تو اس کی ایك دن کی حاجت سوا پیسے میں نکل جائیگی اور اگر حقہ پیتا ہو تو دھیلے کی تمباکو کافی ہے اور اسی طرح بہت چیزیں پیسہ کے حصوں سے بکتی ہیں یہاں تك کہ دمڑی اور آدھی اور ایسا نہ ہو تو معاملہ تنگ ہوجائے اور کم استطاعت والوں پر ایسا گراں گزرے کہ اٹھا نہ سکیں اور یہ بیعیں کہ ہزاراں ہزار مسلمانوں میں شائع ہیں اگر ہم باطل کردیں اور ان پر لازم کریں کہ کبھی کوئی چیز پیسہ سے کم کی نہ خریدیں حالانکہ ان کی حاجتیں چھدام اور دمڑی میں پوری ہوجاتی ہیں تو یہ ان پر بھاری بوجھ ڈالنا ہوگا اور یہ روشن اور نرم و آسان شریعت تو نہ آئی مگر بوجھ کے دفع کرنے کو بلکہ اکثر اوقات اتنے پیسے انہیں ملیں گے بھی نہیں اس لئے کہ وہ سالن جو پونے دو پیسے میں تیار ہوتا تھا اب دو آنے سے کم میں نہیں تیار ہوگااور پان کہ سواپیسے میں جس کا کام پورا ہوتا تھا اب ایك آنہ میں ہوگا اور اسی پر قیاس کرو تو وہ جب اپنی ہانڈی کے لئے دو پیسے سے زائد نہ پائے اور تم اس پر دو آنے لازم کرو تو بتاؤ کیا کرے آیا روکھا
#13147 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
فماذا تامرون ایکتفی بسف التدقیق او قضم خبز الشعیر وحدہ بدون ادام یصلحہ و ویسیغہ ویعین علی ھضمہوالمعتادون بالادام وھم الناس کلھم او جلھم لو اکتفوا بھذا لم یلائمھم واورث اسقاما فیہم فان ترك العادۃ عداوۃ مستفادۃ ام یتکفف و التکفف ذل وحرام ام یغصب وفی الغصب اشد الغضب و الانتقام ام یؤمر البیاعون والبقالون و السقاؤن ان یعطوہ جمیع حاجاتہ مجانا لانھا لا تساوی فلساوما لا یساوی فلسا فلیس بمال ولا قیمۃ لہ فہم کیف یرضون بھذا وان رضوا فلا ترجیح لفقیر علی فقیر فلیعطو اکلا حوائجہ فتذہب متاجرھم بلا شیئ فاذن لا سبیل الافتح باب البیع وقد فتحہ القران بقولہ تعالی مطلقا " و احل الله البیع " وقولہ تعالی
" الا ان تكون تجارة عن تراض منكم- " آٹا پھانکے یا جو کی خشك روٹی چبائے جس کے ساتھ کوئی سالن ایسا نہ ہو کہ اس کی اصلاح کرے اور اسے نگلنے کے قابل بنائے اور اس کے ہضم پر اعانت کرے اور جنہیں سالن کی عادت پڑی ہوئی ہے اور تمام آدمی یا اکثر ایسے ہی ہیں اگر اس پر قناعت کریں تو انہیں راس نہ آئے اور ان میں بیماریاں پیدا کردے کہ عادت کا چھوڑنا خود اپنے ساتھ عداوت کرنا ہے یا یہ کہتے ہو کہ بھیك مانگے اور بھیك مانگنا ذلت و حرام ہے یا دوسروں کا مال چھین لے اور چھیننے میں سخت غضب اور سزا ہے یا بیچنے والوں اور ترکاری فروشوں اور بہشتیوں کو حکم دیا جائے گا کہ ان کی تمام حاجت کی چیزیں انہیں مفت دے دیں اور اس لئے کہ وہ ایك پیسہ کی قیمت کی نہیں اور جو ایك پیسہ کی نہیں وہ مال نہیں اور نہ اس کی کوئی قیمتتو بیچنے والے اس پر کیونکر راضی ہونگےاور اگر راضی ہوجائیں تو ایك فقیر کو دوسرے فقیر پر ترجیح نہیں تو چاہئے کہ ہرایك کو اس کی ضروریات مفت دیں تو ان کی تجارتیں یونہی جاتی رہیں تو ثابت ہوا کہ کوئی راستہ نہیں ہے سوا اس کے کہ بیع کا دروازہ کھولا جائے اور بیشك قرآن عظیم نے اسے اس مطلق ارشاد سے کھولا ہے کہ"حلال کی اللہ تعالی نے بیع"اور اس ارشاد سے"مگر یہ کہ کوئی سودا ہو تمہاری آپس کی رضامندی کا" اور
#13148 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ما کان شرع البیع الادفع تلك الشنائع ففی تحجیرہ وقد وسعہ اللہ اعادۃ لھا وعود علی مقصود الشرع بالنقض۔قال المحقق فی الفتح لولم یشرع البیع سببا للتملیك فی البدلین لاحتاج ان یؤخذعلی التغالب والمقاھرۃ او السؤال و الشحاذۃ او یصبر حتی یموت وفی کل منھا مالایخفی من الفساد وفی الثانی من الذل والصغار ما لایقدر علیہ کل احد ویزری بصاحبہ فکان فی شرعیتہ بقاء المکلفین المحتاجین و دفع حاجاتھم علی النظام الحسن اھ ومعلوم ان الشرع لم یحد فی ھذا حدا انما احل البیع وھو مبادلۃ مال بمال الخ والمال کما مرما یمیل الیہ الطبع ویمکن ادخارہ لو قت الحاجۃ وھذاصادق قطعا علی ماقصصنا ممایساوی نصف فلس وربعہ فایجاب ان لایکون الابفلس لایکون الاتحکما و زیادۃ فی الشرع فکیف یقبل ثم لعل لقائل ان یقول لم یات الشرع بتقدیر الفلس وھو مختلف باختلاف الزمان والمکان
بیع کا مشروع کرنا انہیں قباحتوں کے دفع کرنے کو تھا تو اس کے تنگ کرنے میں حالانکہ اللہ تعالی اسے واسع فرماچکا ہے انہیں قباحتوں کا پلٹ آنا ہے اور مقصود شرع پر اس کے توڑنے کے ساتھ عون کرنا ہےمحقق نے فتح القدیر میں فرمایا اگر بیع ثمن و مبیع دونوں کی تملیك کا سبب بناکر جائز نہ کی جاتی تو حاجت پڑتی کہ یا تو زبردستی یا دھینگا دھینگی لیتے یا بھیك مانگتے یا آدمی صبر کرتا یہاں تك کہ مرجائے اور ان سب باتوں میں کھلا ہوا فساد ہے بھیك میں وہ ذلت وخواری ہے جس پر ہر شخص قادر نہیں اور آدمی کو حقیر کرتی ہے تو بیع کی مشروع کرنے میں محتاج مکلفوں کی بقا ہے اور عمدہ انتظام کے ساتھ ان کی حاجتوں کو پورا کرنا ہے انتہیاور معلوم ہے کہ شرع مطہر نے اس بارہ میں کوئی حد مقرر نہ فرمائی بس بیع حلال کی ہے اور وہ ایك مال کا دوسرے مال سے بدلنا ہے الخ اور مال جیسا کہ گزرچکا وہ چیز ہے جس کی طرف طبیعت میل کرے اور وقت حاجت کے لئے اس کا اٹھارکھنا ممکن ہو اور یہ تعریف یقینا ان چیزوں پر صادق ہے جو ہم نے اوپر بیان کیں جو دھیلے اور چھدام کو آتی ہیں تو یہ واجب کرنا کہ پیسہ سے کم کو بیع نہ ہوگا مگر زبردستی حکم اور شرع پر زیادت تو کیونکر مقبول ہوپھر شاید کہنے والا کہہ سکے کہ شریعت نے پیسہ کی مقدار مقرر فرمائی نہیں اور وہ وقت اور جگہ کے بدلنے سے
حوالہ / References فتح القدیر کتاب البیوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۵۵
#13149 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ولا سبیل الی اعتبار کل فی محلۃ لماتقدم ان المالیۃ تثبت بتمول البعض فوجب الفحص کل حین عن اصغر فلس یروج فی الدنیا وفیہ حرج والحرج مدفوع بالنص فافھم وقال فی الکفایۃ اول البیع الفاسد قد تثبت صفۃ التقوم بدون المالیۃ فان حبۃ من الحنطۃ لیست بمال حتی لایصح بیعھا وان ابیح الانتفاع بھا شرعا لعدم تمول الناس ایاہ اھ ومثلہ فی الکشف الکبیر والبحرالرائق وردالمحتار وقال فی الفتح مکان حبۃ حبات ولم نراحدا منھم ذکر ان ما دون مایساوی فلسالیس بمال و کان مبنی الفرع علی انہ لم یکن فی زمنہ ثمن دون الفلس او لم یجدہ فی تقدیرات الشرع فحکم بان مادونہ لیس بشیئ کما حکم فی الاسرار بان مادون الحبۃ من الذھب والفضۃ لاقیمۃ لہ کما نقل عنہا فی الفتح لانھم لم یعرفوا
بدلتا ہے اور اس طرف راہ نہیں کہ ہر جگہ وہیں کا پیسہ معتبرہو کہ اوپر گزرچکا کہ مالیت بعض کے مال بنانے سے بھی ثابت ہوجاتی ہے تو واجب ہوا کہ ہر وقت اس کی تلاش کریں کہ تمام دنیا میں سب سے چھوٹا پیسہ کون سا ہے اور اس میں حرج ہے اور حرج کون نص نے دفع فرمایا ہے فافھم اور بیشك کفایہ کے شروع باب باب بیع فاسد میں فرمایاکہ کبھی شے میں باقیمت ہونے کی صفت بغیر مالیت بھی ثابت ہوجاتی ہے کہ گیہوں کا ایك دانہ مال نہیں ہے یہاں تك کہ اس کی بیع صحیح نہیں اگرچہ اس سے نفع حاصل کرنا شرعا جائز ہے اس لئےکہ لوگ اسے مال نہیں سمجھتے انتہیاور ایسا ہی کشف کبیر و بحر الرائق و ردالمحتار میں ہے اور فتح القدیر میں ایك دانہ کی جگہ چند دانے فرمایا اور ہم نے ان میں سے کسی کو یہ فرماتے نہ دیکھا کہ ا یك پیسے سے کم کی چیز مال نہیں اور شاید اس مسئلہ قنیہ کی بناء اس پر ہو کہ ان کے زمانے میں پیسے سے کم کوئی ثمن نہ تھا یا یہ کہ شرع مطہر نے جو اندازے مقرر فرمائے ان میں پیسے سے کم نہ پایا تو یہ حکم لگادیا کہ ایك پیسے سے کم کی جو چیز ہو وہ کچھ نہیں جیسے اسرار میں حکم فرمایا کہ جو چاندی یا سونا رتی بھر سے کم ہو اس کی کچھ قیمت نہیں جیسا کہ ان سے فتح القدیر میں نقل فرمایا اس لئے کہ ان علماء نے چاندی سونے
حوالہ / References الکفایۃ مع فتح القدیر باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۴۳
ردالمحتار بحوالہ فتح القدیر باب الربا داراحیاء التراث العربی بیروت ۶/ ۵۳۔۱۵۲
#13150 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
لھا مقدارا دون الحبۃ وقد عرفت فی دیارنا الی ثمن حبۃ وقیمۃ ذھب یساوی ثمن حبۃ فی بلادنا الان فلسان ای نحو ھللۃ واحدۃ ھھنا وھو لا شك مال متقوم فکیف بما فوقہ مما یساوی ربع حبۃ وکما حکم کثیرون بان مادون نصف صاع خارج عن المعیار فیجوز فیہ التفاضل مع اتحاد الجنس وعلیہ تتفرع مسألۃ حفنۃ بحفنتین وقدردہ المحقق فی الفتح قائلا لا یسکن الخاطر الی ھذا بل یجب بعد التعلیل بالقصد الی صیانۃ اموال الناس تحریم التفاحۃ بالتفاحتین والحفنۃ بالحفنتین اما ان کانت مکاییل اصغر منھا کما فی دیارنا من وضع ربع القدح وثمن القدح المصری فلا شك وکون الشرع لم یقدر بعض المقدرات الشرعیۃ فی الواجبات المالیۃ کالکفارات وصدقۃ الفطر باقل منہ لا یستلزم اھدار التفاوت المتیقن الخ واقرہ فی البحر والنھر
کے لئے رتی سے کم کوئی اندازہ نہ پہچانا اور ہمارے شہروں میں اس کا اندازہ رتی کے آٹھویں حصہ(ایك چاول)تك معروف ہے اور آج کل ہمارے یہاں چاول بھر سونے کی قیمت دو پیسے ہے یعنی یہاں کے ایك ہﷲ کے قریب وہ بلا شبہ قیمت والا مال ہے نہ کہ وہ جواس سے بھی زیادہ ہے جو پاؤ رتی یا نصف رتی یا اس سے زائد کا ہو ایك رتی تك اور جیسے بہت علماء نے حکم فرمایا کہ نصف صاع سےجو کم ہو وہ اندازہ سے باہر ہے تو اس میں ایك چیزاپنی جنس کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ بیچنا جائز ہے اور وہ مسئلہ کہ ایك لپ گیہوں دولپ کے بدلے بیچنا جائز ہے اسی پرمتفرع ہے اور محقق نے فتح القدیرمیں اس کارد کیا یہ فرماتے ہوئےکہ اس حکم پر دل کو اطمینان نہیں ہوتا بلکہ جب حرمت کی وجہ لوگوں کامال محفوظ رکھنا ہے تو اس پر نظر کرکے واجب ہے کہ دوسیب کے بدلے ایك سیب اور دولپ کے بدلے ایك لپ کا بیچنا حرام ہو اگر نصف سے چھوٹے پیمانے پائے جاتے ہوں جیسے ہمارے دیار مصر میں چہارم پیالہ اور پیالہ کا آٹھواں حصہ مقرر ہے جب تو کوئی شك نہیں اور یہ بات کہ شرع نے واجبات مالیہ مثل کفارہ وصدقہ فطر میں اندازے سے مقرر فرمائے ہیں ان میں نصف صاع سےکم کوئی اندازہ نہ رکھا اس سے یہ لازم نہیں آتاکہ وہ تفاوت جو یقینا معلوم ہے بے اثر کردیا جائے الخ اور محقق کے اس کلام کو بحر اور نہر
حوالہ / References فتح القدیر باب الربا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۵۳۔۱۵۲
#13151 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
والشرنبلالیۃ والدر والحواشی وغیرہا وھو حسن وجیہ کذلك نقول ھھنا یجب بعد تعریف المال بمامر ان یکون کل ماذکرنا ممالایساوی فلسا ما لا متقوما اما ان کانت اثمان اصغر من فلس کما فی دیارنا من وضع ربع الفلس وثمن الفلس فلا شک وکون الشرع لم یذکر مادون فلس لایستلزم اھدار المالیۃ المتیقنۃفھذاما عندی والعلم بالحق عند ربی واللہ سبحنہ وتعالی اعلم۔
واما السابع
فاقول:قد اذناك انہ ثمن اصطلاحی فاستبدالہ بالثوب لایکون مقایضۃ بل بیعا مطلقا ولا یتعین النوط بل یلزم فی الذمۃ کالفلوس۔
واما الثامن
فاقول:نعم یجوز اقراضہ لما تقدم انہ مثلی ولا یقضی الا بالمثل لانہ شان القرض بل کل دین لایقضی الابمثلہ الا ان یتراضیا۔
اور شرنبلالیہ اور درمختار اور حواشی وغیرہا میں مقرر رکھا اور وہ اچھا اور موجہ کلام ہے ایسا ہی ہم یہاں کہتے ہیں کہ جب مال کی تعریف وہ ٹھہری جو اوپر گزری تو واجب ہے کہ جتنی چیزیں اوپر ذکر کیں جو ایك پیسہ کی نہ تھیں سب قیمت والے مال ہونگے تواگر پیسہ سے چھوٹے ثمن پائے جاتے ہوں جیسے ہمارے شہروں میں چھدام اور دمڑی مقرر ہیں جب تو شك نہیں اوریہ کہ شرع مطہر نے پیسہ سے کم کا ذکر نہ فرمایا تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جو مالیت یقینا معلوم ہے باطل کردی جائے۔یہ وہ ہے جو میرے پاس ہے اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے واللہ سبحنہ وتعالی اعلم۔
جواب سوال ہفتم
فاقول:(میں کہتا ہوں)ہم تمہیں بتاچکے ہیں کہ نوٹ ثمن اصطلاحی ہے تو کپڑے سے اس کا بدلنا مقایضہ نہ ہوگا بلکہ بیع مطلق ہوگا اور خاص کوئی معین نوٹ دینا نہ آئے گا بلکہ پیسہ کی طرح ذمہ پر لازم ہوگا۔
جواب سوال ہشتم
فاقول:(پس میں کہتاہوں)ہاں نوٹ قرض دینا جائز ہے اس لئے کہ اوپر گزرچکا کہ وہ مثلی ہے اور مثل ہی کے دینے سے ادا کیا جائے گا کہ قرض کی یہی شان ہے بلکہ کوئی دین ادا نہیں کیاجاتا مگر اپنے مثل سے مگر یہ کہ طرفین(کسی دوسری چیز کے لینے دینے پر)راضی ہوجائیں۔
#13152 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
واما التاسع
فاقول: نعم یجوز اذا قبض النوط فی المجلس کیلا یفترقا عن دین بدین و تحقیق ذلك ان بیع النوط بالدراہم کالفلوس بھا لیس بصرف حتی یجب التقابض فان الصرف بیع ماخلق للثمنیۃ بما خلق لہا کما فسرہ بہ البحر والدروغیرہما ومعلوم ان النوط والفلوس لیست کذلك وانما عرض لھا الثمنیۃ بالاصطلاح مادامت تروج والا فعروض وبعدم کونہ صرفا صرح فی ردالمحتار عن البحر عن الذخیرۃ عن المشائخ فی باب الربا نعم لکونھا اثمانا بالرواج لابدمن قبض احد الجانبین و الاحرم لنھیہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عن بیع الکالئ بالکالئ والمسئلۃ منصوص علیہا فی مبسوط الامام محمد واعتمدہ فی المحیط عــــــہ والحاوی والبزازیۃ والبحر والنھر جواب سوال نہم
فاقول:(تو میں کہتاہوں)ہاں جائز ہے جبکہ اسی جلسہ میں نوٹ پر قبضہ کرلیا جائے تا کہ طرفین دین کے بدلے دین بیچ کر جدا نہ ہوں اور تحقیق اس مسئلہ کی یہ ہے کہ روپوں کے بدلے نوٹ بیچنا بیع صرف نہیں جیسے روپے کے بدلے پیسے تاکہ دونوں طرف کی قبضہ شرط ہو اس لئے کہ صرف یہ ہے کہ جو چیز ثمن ہونے کے لئے پیدا کی گئی ہے اسے ایسی ہی چیز کے ساتھ بیچیں جیساکہ اسکی یہ تعریف بحر ودر وغیرہ میں فرمائی اور معلوم کہ نوٹ اور پیسے ایسے نہیں ان میں تو ثمن ہونا اصطلاح کے سبب عارض ہوگیا جب تك چلتے رہیں ورنہ وہ متاع ہیں اور اس کے بیع صرف نہ ہونے کی ردالمحتار باب ربا میں بحراس میں ذخیرہاس میں مشائخ سے تصریح فرمائیہاں اس لئے کہ وہ چلن کے سبب ثمن ہے دونوں طرف میں سے ایك کا قبضہ ضرور ہے ورنہ حرام ہوجائے گا اس لئے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دین سے دین کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۔مبسوط امام محمد رحمۃ اللہ تعالی میں اس مسئلہ کی تصریح ہے اور اسی پر اعتماد کیا محیط اور حاوی اور بزازیہ اور بحر اور نہر

عــــــہ: ای محیط الامام السرخسی انتہی منہ۔
حوالہ / References درمختار باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۵
#13153 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
وفتاوی الحانوتی والتنویر والھندیۃ وغیرہا وھو مفاد کلام الاسبیجابی کمانقلہ الشامی عن الزین عنہ
ففی الھندیۃ عن المبسوط اذااشتری الرجل فلو سا بدراہم ونقد الثمن ولم تکن الفلوس عندالبائع فالبیع جائز اھ وفیہا عن الحاوی وغیرہ لو اشتری مائۃ فلس بدرہم فقبض الدرہم ولم یقبض الفلوس حتی کسدت لم یبطل البیع قیاسا ولو قبض خمسین فلسا فکسدت بطل فی النصف ولو لم تکسد لم یفسد وللمشتری مابقی من الفلوس اھ وفیہا عن محیط السرخسی نحوہ وفیہا عن الذخیرۃ لو اشتری فلوسا او طعاما بدراھم حتی لم یکن العقد صرفا وتفرقا بعد قبض احد البدلین حقیقۃ یجوز اما اذا حصل الافتراق بعد قبض احد البدلین حکما لاغیر لایجوز سواء کان العقد صرفا اولم یکن بیانہ فیما اذاکان لہ علیہ فلوس او طعام فاشتری من علیہ الفلوس او الطعام الفلوس اوالطعام بدراہم وتفرقا
اور فتاوی حانوتی اور تنویر اور در اور ہندیہ وغیرہا میںاور وہی مفاد ہے کلام امام اسبیجابی کا جیسا کہ شامی نے بحوالہ بحران سے نقل کیاہندیہ میں مبسوط سے ہے کہ کسی نے روپوں کے عوض پیسے خریدے روپے تو اس نے دے دئے اور پیسے بائع کے پاس نہ تھے تو بیع جائز ہے انتہینیز عالمگیری میں حاوی وغیرہ سے ہے جب ایك روپے کے سو پیسے خریدے روپے پر تو اس نے قبضہ کرلیا اور پیسوں پر اس کا قبضہ نہ ہوا یہاں تك کہ ان کا چلن جاتا رہا تو قیاس یہ ہےکہ بیع باطل نہ ہو اور اگر پچاس پیسوں پر قبضہ کرچکا تھااس کے بعد چلن جاتا رہا تو نصف میں بیع باطل ہوجائیگی اور اگر چلن رہے تو بیع فاسد نہ ہوگی اور خریدنے والا باقی پیسے لے لے گا انتہینیز اس میں محیط سرخسی سے اسی کے مثل ہے اسی میں ذخیرہ سے ہے اگر روپے کے بدلے پیسے یا غلہ خریدا یہاں تك کہ یہ عقد صرف نہ ہوا اور بائع مشتری ایك ہی طرف کا حقیقۃ قبضہ ہو کر جدا ہوگئے تو جائز ہے ہاں اگر کسی طرف کا قبضہ حقیقۃ نہ ہو صرف ایك طرف کا حکما ہو ا تو جائز نہیں خواہ وہ عقد صرف ہو یا نہ ہو بیان اس کا یہ ہے کہ ایك شخص کا دوسرے پر پیسہ یا غلہ آتا تھا تو اس نے جس پر پیسہ یا غلہ آتا ہے انہی پیسوں یا غلہ کو روپے سے خرید لیا اور روپے دینے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصرف الفصل الثالث فی بیع الفلو س نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۲۴
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصرف الفصل الثالث فی بیع الفلو س نورانی کتب خانہ پشاور ۳/۲۶۔۲۲۵
#13161 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
قبل نقد الدراہم کان العقد باطلا وھذا فصل یجب حفظہ والناس عنہ غافلون اھ وفیہا عنہا اعطی رجلا درہما وقال اعطنی بنصفہ کذا فلساو بنصفہ درہما صغیرا فھذا جائز فان تفرقا قبل قبض الدرہم الصغیر والفلوس فالعقد قائم فی الفلوس منتقض فی حصۃ الدرہم وان لم یکن دفع الدرہم الکبیر حتی افترقا بطل البیع فی الکل اھ وفیہا عنہا اشتری بفلوس واعطی الفلوس وافترقا ثم وجد فیہا فلسا لاینفق فردہ فاستبدلہ ففی ھذہ الصورۃ اذاکانت الفلوس ثمن متاع لایبطل العقد سواء کان المردود قلیلا ا وکثیر ااستبدل او لم یستبدل وان کانت الفلوس ثمن الدراہم مقبوضۃ فرد الذی لاینفق و استبدل اولم یستبدل فالعقد باق علی الصحۃ وکذ لك لو وجد الکل فی ھذہ الصورۃ لاینفق وردھا و استبدل ویستبدل فالعقد باق علی الصحۃ وان لم تکن الدراہم مقبوضۃ ان وجد کل
سے پہلے جدا ہوگئے تو بیع باطل ہوگئیاس مسئلہ کا یادرکھنا واجب ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں انتہیاور اسی میں ذخیرہ سے ہے کسی کو ایك روپیہ دیا اور کہا کہ آدھے کے اتنے پیسے دے دے اور آدھے کی اٹھنی تو یہ جائز ہے پھر اگر اٹھنی اور پیسوں پر قبضہ سے پہلے وہ دونوں جدا ہوگئے تو پیسوں میں بیع بر قرار ہے اٹھنی کے حصہ میں باطل ہوگئی اور اگر روپیہ بھی نہیں دیا تھا ویسے ہی دونوں جدا ہوگئے تو اٹھنی اور پیسے سب میں باطل ہوگئی انتہی و نیز اسی میں اس سے ہے کوئی چیز پیسوں کو خریدی اور پیسے دے دئے اور دونوں جدا ہوگئے پھر بائع نے ان میں ایك پیسہ کھوٹا پایا اسے واپس دیا اور اس کے بدلے اور پیسہ لیا تو اس صورت میں یہ پیسے اگر کسی متاع کے ثمن تھے تو عقد باطل نہ ہو اخواہ وہ جو واپس دئے تھوڑے پیسے تھے یا زیادہاور بدلے میں دوسرے پیسے لئے یا نہیںاور اگر وہ پیسے روپوں کے ثمن تھے اب اگر روپوں پر قبضہ ہوچکا تھا اس صورت میں کھوٹا پھیرا اور اس کے بدلے میں کھرالیا یا نہ لیا تو عقد بدستور صحیح ہے اسی طرح اس صورت میں سب پیسے کھوٹے پائے اور واپس دئے اور ان کے عوض کھرے لئے یا ابھی نہ لئے جب بھی بیع صحیح رہے گیاور اگر روپوں پر قبضہ نہیں ہوا تھا اگر سب پیسے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۰۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب الصرف الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۲۵
#13163 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
الفلوس لاینفق فردھا بطل العقد فی قول ابی حنیفۃ استبدل فی مجلس الرداو لم یستبدلوقالا ان استبدل فی مجلس الرد فھو صحیح علی حالہ وان لم یستبدل انتقض وان کان البعض لا ینفق فردھا فالقیاس ان ینتقض العقد بقدرہ لکن اباحنیفۃ رحمۃ اللہ تعالی استحسن فی القلیل اذاردہ واستبدل فی مجلس الرد ان لا ینقض العقد اصلا واختلفت الروایات عن ابی حنیفۃ رحمۃ اللہ تعالی فی تحدید القلیل ففی روایۃ اذا زاد علی النصف فکثیر وما دونہ قلیل وفی روایۃ النصف کثیر وفی روایۃ اذ زاد علی الثلث اھ کلہا ملخصا وانما اکثر نا النقول عن الذخیرۃ لانہ سیاتی عنہا نقل خلاف فی بیع فلس بفلسین فلیکن علی ذکر منك انہ جزم فی مسألتنا ھذہ اعنی بیع الفلوس بالدراہم فی غیر موضع بالجواز ولم یلم ھھنا بذکر خلاف اصلاوفی تنویر الابصار والدرالمختار باع فلوسا بمثلھا او بدراہم و بدنانیر
کھوٹے پائے اور واپس دئے تو بیع امام اعظم کے نزدیك باطل ہوگئی اگرچہ اسی مجلس میں کھرےبدل لئے ہوں یا نہیں اور صاحبین فرماتے ہیں اگر اسی مجلس میں کھرے بدل لئے تو بیع بدستور صحیح ہے اور اگر نہ لئے تو بیع ٹوٹ گئی اور کچھ پیسے کھوٹے پاکر واپس دئے تو قیاس یہ ہے کہ اتنے میں بیع باطل ہوجائے مگر امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ استحسانا فرماتے ہیں کہ اگر واپس دئے ہوئے پیسے تھوڑے ہوں اور اسی جلسے میں بدلے کے پیسے لے لئے جائیں تو عقد اصلا نہ ٹوٹے گا اور یہ کہ تھوڑے کتنے کو کہیں اس میں امام صاحب سے روایتیں مختلف آئیںایك روایت میں ہے کہ نصف سے زائد کثیر ہیں اور اس سے کم قلیلاور ایك روایت میں یہ ہے کہ نصف بھی زائد ہےاور ایك روایت میں تہائی سے زیادہ ہو تو کثیر ہے انتہی ملخصا۔اور ہم نے ذخیرہ سے نقول بکثرت اس واسطے ذکر کیں کہ اس سے ایك نقل اس کے مخالف آنے والی ہے ایك پیسہ دو پیسے سے بیچنے کے مسئلہ میں تویہ تجھے یادرہے کہ ذخیرہ نے ہمارے اس مسئلہ یعنی روپوں کے عوض پیسے بیچنے کے بارے میں متعدد جگہ جواز پر جزم فرمایا ہے اور یہاں اصلا کسی ذکر خلاف کے قریب بھی نہ گئے اور تنویر الابصار و ردالمحتار میں ہے کہ پیسوں یا روپوں یا اشرفیوں کے عوض پیسے بیچے اور ایك طرف کا
حوالہ / References فتاوی ہندیۃ کتاب البیوع الفصل الثالث فی بیع الفلوس نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۶۔۲۲۵
#13164 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
فان نقد احدھما جاز وان تفرقا بلا قبض احدھما لم یجز اھ ۔وبالجملۃ فالمسئلۃ ظاہرۃ والنقول متوافرۃ وان خالفھا العلامۃ قاری الھدایۃ فی فتاواہ فشرط التقابض وحرم النسئۃ وھذا نصھا(سئل) ھل یجوز بیع مثقال من الذہب بقنطار من الفلوس نسئۃ ام لا(اجاب)لایجوز بیع الفلوس الی اجل بذھب او فضۃ لان علماء نا نصوا علی انہ لایجوز اسلام موزون فی موزون الا اذاکان الموزون المسلم فیہ مبیعا کزعفران او غیرہ والفلوس لیست من المبیعات بل صارت اثمانا اھ وردہ العلامۃ الحانوتی حین سئل عن بیع الذہب بالفلوس نسئۃ فاجاب بانہ یجوز اذا قبض احدالبدلین لما فی البزازیۃ لو اشتری مائۃ فلس بدرہم یکفی التقابض من احد الجانبین قال و مثلہ مالو باع فضۃ او ذھبا بفلوس
قبضہ ہوگیا تو جائز ہے اور اگر کسی طرف کا قبضہ نہ ہوا کہ دونوں جدا ہوگئے تو ناجائز ہے انتہیالحاصل مسئلہ ظاہر ہے اور نقلین وافر ہیں اگرچہ علامہ قارئ الہدایہ نے اپنے فتاوی میں اس کی مخالفت فرمائی کہ دونوں جانب کا قبضہ شرط کیا اور کسی طرف ادھار ہونے کو حرام ٹھہرایا اس کی عبارت یہ ہے (سوال ہوا)کہ آیا ایك مثقال سونا پیسوں کی ڈھیری سے ادھار بیچنا جائز ہے یانہیں (جواب دیا)کہ پیسے سونے یا چاندی کے عوض ادھار بیچنا ناجائز ہے اس لئے کہ ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ دو چیزیں جو تول کر بیچی جاتی ہوں (جیسے سونا چاندی تانبا)ان میں ایك کی دوسرے سے بدلی جائز نہیں مگر اس صورت میں کہ وہ موزون چیز جو بذریعہ سلم وعدہ پر یعنی ٹھہری ہے مبیع ہو قسم ثمن سے نہ ہو جیسے زعفران وغیرہ اور پیسے جنس مبیع سے نہیں ہیں بلکہ ثمن ہوگئے ہیں انتہیاور علامہ حانوتی نے اس کا رد فرمایا جبکہ ان سے پیسوں کے عوض سونا اور ادھار بیچنے کی نسبت سوال ہواجواب دیا کہ جائز ہے اگر دونوں میں سے ایك کا قبضہ ہوگیا اس لئے کہ بزازیہ میں ہے کہ اگر ایك روپے کے سو پیسے خریدے تو ایك جانب کا قبضہ کافی ہےپھر فرمایا اگر اسی طرح چاندی یا سونا پیسوں کو بیچیں
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع باب الربوٰ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۲
ردالمحتاربحوالہ فتاوٰی قاری الہدایہ کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۸۴
#13165 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
کما فی البحر عن المحیط قال فلا یغتر بما فی فتاوی قاری الھدایۃ اھ واجاب عنہ فی النھر بان مرادہ بالبیع السلم والفلوس لھا شبہ بالثمن ولا یصح السلم فی الاثمان ومن حیث انہا عروض فی الاصل اکتفی بالقبض من احد الجانبین ۔اقول:وھذا ھو المستفاد من تعلیلہ بان علمائنا نصوا علی انہ لا یجوز اسلام موزون فی موزون الخ لکن لم یقنع بہ العلامۃ ابن عابدین فی ردالمحتار واجاب بحمل مافی فتاوی قاری الھدایۃ علی مادل علیہ کلام الجامع الصغیر من اشتراط التقابض من الجانبین قال فلا یعترض علیہ بما فی البزازیۃ المحمول علی مافی الاصل یعنی المبسوطو نقل قبیلہ عن البحر عن الذخیرۃ ان محمد اذکر مسئلۃ بیع فلس بفلسین باعیا نھما فی صرف الاصل ولم یشترط التقابض و ذکر فی الجامع مایدل علی انہ
جیسا کہ بحر میں محیط سے ہے فرمایا تو وہ جو فتاوی قاری ہدایہ میں واقع ہوا اس سے دھوکا نہ کھایا جائے انتہیاور اس اعتراض کا نہر میں یہ جواب دیا کہ یہاں قاری ہدایہ کی مراد بیع سے بدلی ہے اور پیسوں کو ایك مشابہت ثمن سے ہے اور ثمن کی ثمن سے بدلی صحیح نہیں اور اس حیثیت سے کہ پہلے اصل میں متاع ہیں ایك جانب کا قبضہ کافی سمجھا گیا۔اقول: (میں کہتا ہوں)یہی ان کی اس دلیل سے مستفاد ہے کہ ہمارے علماء نے نص فرمایا کہ دو چیزیں جو وزن سے بیچی جاتی ہوں ان میں بدلی جائز نہیں الخ مگر علامہ ابن عابدین نے ردالمحتار میں اس پر قناعت نہ فرمائی اور یوں جواب دیا کہ علامہ قاری ہدایہ کا کلام اس مسئلہ پر محمول ہے جو کلام جامع صغیر سے مفہوم ہوتا ہے کہ دونوں طرف سے قبضہ شرط ہے اور کہا تو اب اس مسئلہ بزازیہ سے اعتراض نہ ہوگا کہ وہ اس پر محمول ہے جو مبسوط امام محمد میں ہے اور اس سے پہلے بحوالہ بحر ذخیرہ سے نقل کیا کہ امام محمد نے مبسوط کی کتاب الصرف میں ایك پیسہ دو پیسے معین کے بدلے بیچے کا مسئلہ ذکر فرمایا اور طرفین کا قبضہ شرط نہ کیا اور جامع صغیر میں وہ عبارت ذکر فرمائی جو دلالت کرتی ہے کہ وہ
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ الحانوتی کتاب البیوع باب الربا داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۴
ردالمحتار بحوالہ النہر کتاب البیوع باب الربا داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۴
ردالمحتار کتاب البیوع باب الربا داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۴
#13166 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
شرط فمنھم من لم یصحح الثانی لان التقابض مع التعیین شرط فی الصرف ولیس بہ ومنھم من صححہ لان الفلوس لہا حکم العروض من وجہ وحکم الثمن من وجہ فجاز التفاضل للاول واشترط التقابض للثانی اھ اقول:وباللہ التوفیق ماجنح الیہ الشامی تبعا للبحر تبعا للذخیرۃ من دلالۃ کلام الجامع الصغیر علی اشتراط التقابض فللعبد الضعیف فیہ تأمل قوی وانی راجعت الجامع فوجدت نصہ ھکذا محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رضی اللہ تعالی عنھم رجل باع رطلین من شحم البطن برطل من الیۃ او باع رطلین من لحم برطل من شحم البطن او بیضۃ ببیضتین او جوزۃ بجوزتین او فلسا بفلسین او تمرۃ بتمرتین یدابیدبا عیانھا یجوز وھو قول ابی یوسف رحمۃ اللہ تعالی وقال محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ لایجوز فلس بفلسین ویجوز تمرۃ بتمرتین اھ
شرط ہے تو مشائخ میں بعض نے اس حکم ثانی کی تصحیح نہ کی کہ تعین کے ساتھ دونوں طر ف کا قبضہ بیع صرف میں شرط ہے اور یہ وہ نہیں اور بعض نے اس کی تصحیح کی اس لئے کہ پیسوں کے لئے ایك جہت سے متاع کا حکم ہے اور ایك جہت سے ثمن کا تو پہلی جہت کے سبب کمی بیشی جائز ہوئی اور دوسری کے سبب طرفین کا قبضہ شرط ہوا انتہیاقول:وباللہ التوفیق (میں کہتا ہوں اور توفیق اللہ سے ہے)وہ جس کی طرف شامی نے باتباع بحر اور بحر نے باتباع ذخیرہ میل کیا کہ جامع صغیر کا کلام قبضہ طرفین شرط ہونے پر دلالت کرتا ہے بندہ ضعیف کو اس میں تأمل قوی ہے اور میں نے جامع کی طرف رجوع کی تو اس کی عبارت یوں پائی امام محمد روایت کرتے ہیں امام ابویوسف سے اور وہ امام اعظم سے رضی اللہ تعالی عنہم ایك شخص نے پیٹ کی دو رطل چربی ایك رطل چکتی کو یادو رطل گوشت ایك رطل چربی کو یا ایك انڈا دو انڈے یا ایك اخروٹ دو اخروٹ یا ایك پیسہ دو پیسے یا ایك چھوہارا دو چھوہارے کو دست بدست کہ دونوں معین ہوں تو جائز ہے اور یہی قول ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا ہے اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ایك پیسہ دو پیسے کو جائز نہیں اور ایك چھوہارا دو چھوہارے کو جائز ہے ختم ہوا ان کا
حوالہ / References ردالمحتار کتا ب البیوع باب الربا داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۸۴
الجامع الصغیر کتا ب البیوع باب البیع فیما یکال او یوزن مطبع یوسفی لکھنؤ ص۹۷
#13167 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
کلامہ الشریف قدس سرہ المنیف فمحل الاستناد انما ھو قولہ رحمۃ اللہ تعالی ید ا بید لکن قد علم من مارس الفقہ ان ہذا اللفظ لیس نصا صریحا فی التقابض بالبراجم الاتری علمائنا رحمہم اللہ تعالی فسروہ فی الحدیث المعروف بالعینیۃ کما قال فی الھدایۃ ومعنی قولہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یدا بید عینا بعین کذا رواہ عبادۃ بن الصامت رضی اللہ تعالی عنہ اھ کیف وقد قال اصحابنا رضی اللہ تعالی عنہم ان التقابض انما یشترط فی الصرف واما ما سواہ ممایجری فیہ الربا فانما یعتبر فیہ التعیین کما فی الھدایۃ وغیرہا۔وقال فی التنویر المعتبر تعیین الربوی فی غیر الصرف بلا شرط تقابض قال فی الدر حتی لو باع براببر بعینھما وتفرقا قبل القبض جاز اھ فان کلام شریف پاك کیا گیا ان کا سر معظمتو موضع سند ان کا یہی قول ہے کہ دست بدست مگر جس نے فقہ کی مزاولت کی ہے اسے معلوم ہے کہ یہ لفظ اس میں صاف نص نہیں کہ دونوں جانب کا قبضہ ہاتھوں سے ہوجائے کیا نہیں دیکھتے کہ ہمارے علماء رحمۃ اللہ تعالی علیہ م اجمعین نے اس لفظ کو ربا کی حدیث مشہور میں تعیین کے ساتھ تفسیر کیا جیسا کہ ہدایہ میں فرمایا کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ارشاد میں لفظ دست بدست کے یہ معنی ہیں کہ دونوں جانب تعین ہوجائے(کسی طرف دین نہ رہے)جیسا کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ نے روایت کیا انتہیاور یہ کیونکر نہ ہو حالانکہ ہمارے اصحاب رضی اللہ تعالی عنہم نے فرمایا کہ قبضہ طرفین صرف صرف میں شرط ہے اور اس کے سوا اور صورتیں جن میں ربا جاری ہوسکتا ہے ان میں فقط تعین شرط ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہےاور تنویر الابصار میں ہے کہ جس مال میں ربا کا احتمال ہے وہاں ماورائے صرف میں مال کا فقط عین ہونا معتبر ہے قبضہ طرفین شرط نہیںدرمختار میں فرمایا یہاں تك کہ
حوالہ / References الہدایۃ کتاب البیوع باب الربا مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۸۳۔۸۲
الہدایۃ کتاب البیوع باب الربا مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۲
الدرالمختار شرح تنویر الابصار باب الربا مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۱
الدرالمختار شرح تنویر الابصار باب الربا مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۱
#13168 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
حمل قولہ ھذ ا فی العبارۃ التی ذکرنا علی التقابض واستجلب منہ اشتراط ذلك فی فلس بفلسین کان ایضا مشترطا فی تمرۃ بتمرتین وبیضۃ ببیضتین وجوزۃ بجوزتین عند من یقول ان القید راجع للمسائل جمیعا کالنھر والدر وغیرہما فان المسائل کلھا مسوقۃ سیا قا واحدا لا سیما فی عبارۃ الجامع فان القید مذکور فیہ بعد تمرۃ بتمرتین وانما ذکر فلسا بفلسین قبلہوھذا لم یقل بہ ائمتنا فوجب حملہ علی اشتراط التعیین وکان قولہ رضی اللہ تعالی عنہ باعیانھا تفسیرا لقولہ یدا بید والا لکان حشوا مستغنی عنہ لاطائل تحتہ اصلا فان التقابض فیہ التعین وازید فذکرہ بعدہ لغو ولذا لما نقل الامام برھان الدین صاحب الھدایۃ رحمۃ اللہ تعالی ھذہ المسئلۃ عن الجامع الصغیراسقط عنہا تلك الکلمۃ واقتصر علی ذکر العینیۃ حیث قال قال(ای محمد کما صرح بہ العلامۃ بدرالعینی فی البنایۃ)یجوز بیع البیضۃ
اگر گیہوں کے بدلے گیہوں بیچے اور ان دونوں کو معین کردیا اور بے قبضہ کئے ہوئے جدا ہوگئے تو جائز ہے انتہیتو امام محمد کا یہ قول عبارت مذکورہ میں اگر قبضہ طرفین پر حمل کیا جائے اور اس سے یہ مطلب نکالا جائے کہ پیسوں کی باہم بیع میں قبضہ طرفین شرط ہے تو خرموں اور انڈوں اور اخروٹوں کی باہم بیع میں بھی اس کا شرط ہونا لازم آئے گا انکے نزدیك جو کہتے ہیں کہ یہ قید ان تمام مسائل کی طرف راجع ہے جیسے نہر الفائق اور درمختار وغیرہما اس لئے کہ وہ سب مسئلے ایك ہی روش پر بیان میں آئے ہیں خصوصا عبارت جامع صغیر میں کہ اس میں تو یہ قید بیع خرما کے بعد مذکور ہے اور پیسوں کی بیع اس سے پہلے ذکر فرمائی ہے اور یہ ہمارے ائمہ میں سے کسی کا قول نہیںتو واجب ہوا کہ دست بدست بمعنی تعیین لیں اور امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ کا ارشاد کہ معین ہوں اس دست بدست کی تفسیر ہو ورنہ محض بیکار بھرتی ہوگا جس کا کچھ فائدہ نہیں کہ قبضہ طرفین میں تعین مع زیادت ہے تو اس کے بعد اس کا ذکر فضول ہے اس لئے جب امام برہان الدین صاحب ہدایہ نے جامع صغیر سے اس مسئلہ کو نقل کیاتو دست بدست کا لفظ اس سے ساقط فرمادیا اور صرف تعیین کا ذکر کیا جہاں کہ ہدایہ میں کہا کہ فرمایا(یعنی امام محمد جیسا کہ علامہ بدر الدین عینی نے بنایہ میں تصریح کی)ایك انڈا
حوالہ / References البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب البیوع باب الربوٰ المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ ۳ /۱۵۴
#13169 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
بالبیضتین والتمرۃ بالتمرتین والجوز بالجوزتین ویجوز بیع الفلس بالفلسین باعیانھما اھ ۔فظہر ظہور الشمس فی رابعۃ النھار ان لیس فی الجامع دلیل علی مافھم ھؤلاء الاعلام وان فرض فمع احتمال الغیر احتمالا اظہر وازھر لا یرد و لا یرام ولا حجۃ فی المحتمل بخلاف عبارۃ الاصل فانھا نص ای نص فی عدم اشتراط التقابض کما سمعت فعلیہ فلیکن التعویل والتوفیق باللہ الملك الجلیلثم لا یخفی علیك ان ھذ اکلہ کان مما شاۃ منامع العلامۃ الشامی والمقصود ابانۃ مفادا لجامع والا فالحق ان فتوی العلامۃ سراج الدین مابھا حاجۃ الی حمل کلام الجامع علی اشتراط التقابض ولا عــــــہ۱ ھو مدعاہ و لا عــــــہ۲ علیہ توقف لما ادعاہ فانہ
دو انڈے اور ایك خرما دو خرمے اور ایك اخروٹ دو اخروٹ کو بیچنا جائز ہے اور ایك پیسہ دو پیسے معین کو جائز ہے انتہیتو پہروں چڑھے آفتاب کی طرح روشن ہوگیا کہ جامع صغیر میں اس پر کچھ دلالت نہیں جو یہ اکابر سمجھے اور اگر فرض بھی کرلی جائے تو اس کے ساتھ دوسرا احتمال بھی موجود ہے ظاہرتر روشن ترکہ نہ رد ہو نہ اس کی طرف کوئی برا قصد کرسکے اور احتمالی بات حجت نہیں ہوتی بخلاف عبارت مبسوط کے کہ وہ قبضہ طرفین شرط نہ ہونے میں نص اور کیسی نص ہے جیسا کہ سن چکے تو اسی پر اعتماد ہونا چاہئےاور توفیق اللہ عظمت والے بادشاہ کی طرف سے ہےپھر اتنا معلوم رہے کہ یہ سب کچھ ہماری طرف سے علامہ شامی کے ساتھ ان کی روش پر چلنا تھا اور مقصود مفاد جامع صغیر کا ظاہر کرنا ورنہ حق یہ ہے کہ فتوی علامہ قاری الہدایہ کو اس کی طرف حاجت نہیں کہ عبارت جامع کو قبضہ طرفین شرط کرنے پر محمول کیجئے اور نہ وہ ان کا مدعی ہے اور نہ اس پر ان کا دعوی موقوف
عــــــہ۱: لانہ سلمہ سلما وانتم للصرف تصرفون اھ منہ۔
عــــــہ۲:لان السلم لا یجوز فی الثمن سواء کان فیما یشرط فیہ التقابض کثمن فی ثمن اولا کمبیع فی ثمن اھ منہ۔
عــــــہ۱:کہ وہ تو اسے سلم مان رہے ہیں اور تم صرف کی طرف پھیرتے ہو ۱۲ منہ۔
عــــــہ۲:کہ ثمن میں سلم اصلا جائز نہیں چاہے اس چیز میں ہو جس میں دونوں طرف کا قبضہ شرط ہے جیسے ثمن میں ثمن کی بدلی یا ایسا نہ ہوجیسے ثمن میں مبیع کی بدلی ۱۲منہ۔
حوالہ / References الھدایۃ کتاب البیوع باب الربا مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۳
#13172 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
انما حرم النسیئۃ وحرمتھا لاتوجب عــــــہ۱ عینیۃ الجانبین ایضا فضلا عن التقابض الاتری ان بیع ثوب بدرھم حالا لیس بنسیئۃ ولا فیہ العینیتان نعم ایجاب العینیۃ من الجانبین یوجب تحریم النسیئۃ لان التاجیل للترفیۃ فی التحصیل والعین متحصلۃ بالفعل فلو استدل لہ بعبارۃ الجامع علی ھذ االوجہ لکان عــــــہ۲ لہ وجہ وسلم من الاعتراض المذکورواذن اقول:وباللہ التوفیق لایخفی علیك ان اشتراط العینیۃ من الجانبین فی الربویات وھی المکیلات والموزونات دون المعدودات کما نص علیہ فی سلم الفتح وغیرہ حیث قال انما یمنع ذلك فی اموال الربا اذا قوبلت بجنسھا والمعدودلیس منھا اھ کما قال فی البحر تحت کہ وہ تو ادھار کو حرام بتارہے ہیں اور اس کی حرمت دونوں طرف عین ہونے کو بھی واجب نہیں کرتی نہ کہ قبضہ طرفینکیا نہیں دیکھتے کہ کوئی کپڑا ایك روپے نقد کو بیچنا نہ تو ادھار ہے نہ اس میں دونوں جانب عینہاں دونوں طرف عینیت کا واجب کرنا ادھار کی حرمت لازم کرتا ہے اس لئے کہ وعدہ مقرر کرنا اس غرض سے ہوتا ہے کہ شیئ کے حاصل کرنے میں آسانی ہو اور عین خود ہی فی الحال حاصل ہےتو اگر جامع کی عبارت سے علامہ قاری الہدایہ کے اس طرز پر استدلال کیا جاتا تو اس کی ایك وجہ ہوتی ہے اور اعتراض مذکور سے محافظت رہتی ہے۔ اور اب میں کہتا ہوں اور اللہ ہی سے توفیق ہے تم پرظاہر ہے کہ دونوں طرف سے تعین کی شرط اموال ربامیں ہے اور وہ وہ چیزیں ہیں جو ناپ یا تول سے بکتی ہیں نہ وہ کہ گنتی سے جیسا کہ فتح القدیر وغیرہ کی باب السلم میں تصریح ہے جہاں آیا کہ صرف اموال ربا میں منع ہے جبکہ اپنی جنس کے ساتھ بیچے جائیں اور گن کر بکنے کی چیزیں اموال ربا میں سے نہیں انتہیجیسا کہ کنز کے اس قول کی شرح میں

عــــــہ۱: وانما کانت توجب لو کان انتفاء النسئۃ مستلزما لوجود العینین ولیس کذلك بل قد ینتفیان معا کما فی المثال المذکور اھ منہ۔
عــــــہ۲:لکونہ دلیلا علی الحکم الذی افتی عــــــہ۱:واجب تو جب کرتی کہ ادھار نہ ہونے کو دونوں طرف معین ہونا لازم ہوتا اور ایسا نہیں بلکہ کبھی دونوں باتیں معدوم ہوتی ہیں کہ نہ ادھار ہو نہ دونوں جانب عین جیسے مثال مذکور میں ۱۲منہ۔ عــــــہ۲:کہ وہ اس حکم پر دلیل ہوتا جس کا انہوں نے (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References فتح القدیر باب البیع باب السلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/۲۰۸
#13173 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
قول الکنز " وحلا بعد مھما" ای الفضل والنسأ عند انعدام القدر و الجنس فیجوز بیع ثوب ھروی بمر وییین نسیئۃ والجوز بالبیض نسیئۃ و قال تحت قولہ " یعتبر التعیین دون التقابض فی غیر الصرف من الربویات"جب دونوں نہ ہوں تو دونوں حلال ہیں بحرالرائق میں فرمایا یعنی جب قدر و جنس دونوں نہ ہوں تو زیادتی اور ادھار دونوں حلال ہیں تو ہرات کے بنے ہوئے ایك کپڑے کو مرو کے بنے ہوئے دو کپڑوں کے عوض ادھار بیچنا جائز ہے اور انڈوں کے عوض اخروٹ ادھار بیچنا اور کنز نے جو فرمایا کہ سوا صورت صرف کے اموال ربا میں تعین معتبر ہے نہ کہ قبضہ طرفین اس

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بہ وھو عدم الجواز وان جاء من قبل الصرفیۃ دون السلمیہ و من ھذاالباب مافی الھندیۃ عن المحیط حیث ذکر مسائل شراء المستقرض الکرالقرض من المقرض بمائۃ وانہ یجوز اذا شری مافی ذمتہ و نقد الثمن فی المجلس والا لا لافترا قھما عن دین بدین ثم قال کذلك الجواب فی کل مکیل و موزون غیر الدراہم والفلوس اذاکان قرضا اھ۔فجعل الفلوس ما لا یجوز شراؤہ دینا فی الذمۃ بثمن مفقود کما فی الحجرین والصحیح ماقدمنا عن الھندیۃ فتوی دیا یعنی ناجائز ہونا اگرچہ یہاں صرف کے سبب ہوا نہ کہ سلم کی جہت سےاور اسی باب سے ہے جو ہندیہ میں محیط سے ہے ولہذا جہاں انہوں نے اس کے مسائل ذکر کئے ہیں کہ غلہ قرض لینے والا اس قرض غلہ کو قرض دینے والے سے سوروپے کو مول لے اور یہ وہ جائز ہے جبکہ وہ غلہ خرید لے جو اس کے ذمہ پر لازم ہوا ہے(نہ بعینہ وہ غلہ جو غلہ قرض آیا ہے)اور قیمت اسی جلسے میں ادا کردی ہو ورنہ حرام ہوگا کہ دونوں طرف ادھار چھوڑکر جداہوگئے پھر فرمایا ہر ناپ تول کی چیز میں یہ حکم ہے سوائے روپے اشرفی پیسوں کے جب وہ قرض ہوں انتہیتو پیسوں کو بھی روپوں اشرفیوں کی طرف انہیں چیزوں میں سے قرار دیا کہ جب وہ ذمہ پر قرض ہوں تو ان کا خریدنا ناجائز ہے۔(باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References بحر الرائق کتاب البیوع باب الربوٰ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/۱۲۹
فتاوٰی ہندیۃ الباب التاسع عشر فی القرض الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۰۵
#13175 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
بیانہ ماذکرہ الاسبیجابی بقولہ واذا تبایعا کیلیا بکیلی او وزنیا بوزنی کلاھما من جنس واحد او من جنسین مختلفین فان البیع لایجوز حتی یکون کلاھما عینا اضیف الیہ العقد وھو حاضر او غائب بعد ان یکون موجودا فی مبلکہ الخ وانما عللوا وجوبھا فی فلس بفلسین بان لو باع فلسا بعینہ بفلسین بغیر عینھما امسك البائع الفلس المعین وطالبہ بفلس اخر او سلم الفلس المعین وقبضہ بعینہ منہ مع فلس اخر لاستحقاقہ فلسین فی کے نیچے بحر نے فرمایا بیان اس کاوہ ہے جوامام اسبیجابی نے اپنے اس قول میں ذکر کیا کہ جب ناپ کی چیز ناپ کی چیز سے یا تول کی چیز تول کی چیز سے بیچی خواہ دونوں ایك جنس کی ہوں یا دو جنس مختلف تو بیع جائز نہ ہوگی مگر اس شرط سے کہ وہ دونوں ایك معین چیز ہوں جس پر عقد وارد کیا گیا خواہ وہیں حاضر ہوں یا غائبہاں اس کی ملك میں موجود ہونا چاہئے الخ پیسوں کی باہم بیع میں جو عینیت کو واجب کیا اس کی یہی دلیل بیان فرماتے ہیں کہ اگر ایك پیسہ معین دو پیسے غیر معین کے عوض بیچے گا تو بائع کو اختیا ہوگا کہ وہ معین پیسہ رکھ چھوڑے اور مشتری سے ایك پیسہ اور مانگے یا وہ معین پیسہ مشتری کو دےکر پھر وہی پیسہ مع ایك اور پیسےکے اس سے واپس لےکیونکہ مشتری
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
عن الذخیرۃ ان المنع فی غیر الصرف مختص بما اذا لم یقبض شیئ من البدلین قبضا حقیقیا وان قبض حکما اما اذا قبض احدھما حقیقۃ جاز و مثلہ فی ردالمحتار عن الوجیز و بالجملۃ جعلہ صرفا صرف لہ عما نص علیہ عامۃ الاصحاب فی غیرما کتابواللہ تعالی اعلم۔
اگرچہ قیمت اسی جلسے میں ادا ہوجائے اور صحیح وہ ہے جو ہم بحوالہ ہندیہ ذخیرہ سے نقل کرچکے کہ ماسوا صرف میں منع صرف یہ ہے کہ دونوں طرف میں سے کسی پر حقیقۃ قبضہ نہ کریں اگرچہ ایك پر قبضہ حکمی ہو(جیسے ذمہ پر کا قرض کہ حکما مقبوض ہے)مگر جب ایك پر قبضہ ہوجائے تو جائز ہے اور ایسا ہی ردالمحتار میں وجیز سے ہے غرض یہ کہ اسے صرف ٹھہرانا اس سے پھیرنا ہے جس پر ہمارے عام علماء نے متعدد کتابوں میں نص فرمایا واللہ تعالی اعلم۔
حوالہ / References بحرالرائق کتاب البیوع باب الربا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۱۳۰
#13179 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ذمتہ فیرجع الیہ عین مالہ و یبقی الفلس الاخر خالیا عن العوض وکذا لوباع فلسین باعیانھما بفلس بغیر عینہ قبض المشتری الفلسین و دفع الیہ احدھما مکان ما استوجب علیہ فیبقی الاخر فضلا بلا عوض استحق بعقد البیع کما فی الفتح و نحوہ فی العنایۃ وغیرہا وھذہ العلۃ لا جریان لھا فی الدراھم بالفلوس نسیئۃ کمالایخفی فضلا من النوط بالدراہم فعبارۃ قارئ الھدایۃ احسن محمل لھا ماذکر فی النھر ویکون اذن مبنیا علی روایۃ نادرۃ عن محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ کما سیأتی و ان لم یسلم فھی فتوی من دون سند ولاتعلم عــــــہ لہ سلفا فیہا وھو لم یستند لنقل
کے ذمہ پر اس کے دو پیسے آتے ہیں تو بائع کا اپنا مال تو اس کی طرف بعینہ لوٹ آیا اور دوسرا پیسہ بلا معاوضہ رہ گیا اور یونہی اگر دو معین پیسے ایك غیر معین پیسہ کو بیچے تو مشتری دونوں پیسے لے لے گا اور اس کے ذمہ جو ایك پیسہ لازم ہوا ہےاس کی ادا کو انہیں میں سے ایك پیسہ بائع کو پھیردے گا تو دوسرا پیسہ زائد رہ گیا بے ایسے معاوضہ کے جس کا استحقاق عقد بیع سے ہوا ہو جیسا کہ فتح القدیر میں ہے اور اس کے مثل عنایہ وغیرہ میں ہے اور ادھار پیسوں کے بدلے روپیہ بیچنے میں یہ علت جاری نہیں ہوسکتی جیسا کہ پوشیدہ نہیںنہ کہ روپوں کے بدلے نوٹ بیچنے میںتو عبارت قاری الہدایہ کا سب سے بہتر محمل وہ ہے جو نہر میں ذکر کیا اور اس وقت وہ ایك روایت نادرہ پر مبنی ہوگی جو امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے آئی اگر یہ نہ مانیں تو وہ علامہ کا ایك فتوی ہے جس کے ساتھ کوئی سند نہیں اور نہ اس میں ان سے پہلے ان کا کوئی مستند معلوم نہ وہ اس پر کسی نقل سے سند لائے
عــــــہ: ای بالوجہ الذی ذکر وان صرف الی الصرف فقد علمت مالہ من الضعف الصرف اھ منہ۔
یعنی اس طریقے سے جو انہوں نے ذکر کیا اور اگر صرف کی طرف پھیر وتو تمہیں معلوم ہوچکا جو اس میں نرا ضعف ہے ۱۲ منہ۔
حوالہ / References فتح القدیر کتاب البیوع باب الربا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۶۲
#13182 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
وما تجشم لہ الشامی فقد علمت حالہ فکیف یعارض بہ ماتطابقت علیہ کلمات اولئك الاجلۃ الکرام الذین قصصتھم علیك وامامھم فیہا نص محمد فی الاصل فہو القول۔ثم اقول: علاان ما ذکر العلامۃ قاری الھدایۃ ذھولین صریحین عن مسائل المذہب ۱ذھول عما نص علیہ علماؤنا ان الفلوس بالاصطلاح خرجت عن الوزنیۃ الی العددیۃ و ۲ذھول عما نصوا لییہ ان ثمنیتھا تبطل باصطلاح العاقدین وان بطلانھا لایبطل الاصطلاح علی العددیۃ وکل ذلك منصوص علیہ فی الھدایۃ وغیرہ وھذا نصھا ولھما ان الثمنیۃ فی حقھما تثبت باصطلاحھما واذا بطلت الثمنیۃ تتعین بالتعیین ولا یعود وزنیا لبقاء الاصطلاح علی العد اھ وسنلقی علیك ان محمدا ایضا سلم فی السلم بطلان الثمنیۃ وانما انکرہ فی البیع لعدم الدلیل
اور وہ جو انکے لئے علامہ شامی نے تکلف کیا اس کا حال معلوم ہوچکا تو اس سے کیونکر معارضہ ہوسکتا ہے اس حکم کا جس پر ان اکابر کرام کے کلمات متفق ہیں جن کے اسماء گرامی اوپر مذکور ہوئے اور اس میں ان کا امام مبسوط میں امام محمد کا نص ہے تووہی قول فیصل ہے۔ثم اقول:(پھرمیں کہتاہوں) علاوہ بریں وہ جو امام قاری الہدایہ نے ذکر کیا اس میں مسائل مذہب سے صاف دو۲ ذہول ہیں ۱ ایك ذہول تو اس سے جو ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ پیسے اصطلاح کے سبب وزن کی چیز ہونے سے خارج ہوکر گنتی کی چیز ہوگئےاور ۲دوسرا ذہول اس سے جو علماء نے نص فرمایا کہ پیسوں کا ثمن ہونا بائع و مشتری کی اپنی اصطلاح سے باطل ہو جاتا ہے اور ثمنیت کے بطلان سے وہ اصطلاح جو ٹھہری ہوئی ہے کہ پیسے گنتی کی چیز ہیں باطل نہیں ہوتیان تمام باتوں کی ہدایہ وغیرہ میں تصریح ہےہدایہ کی عبارت یہ ہے امام اعظم اور امام ابویوسف کی دلیل یہ ہے کہ ثمنیت بائع و مشتری کے حق میں ان کی اصطلاح سے ثابت ہوتی ہے اس لئے کہ اوروں کو ان پر کچھ ولایت نہیں تو وہ اپنی اصطلاح میں اسے باطل بھی کرسکتے ہیں اور جب ثمن ہونا باطل ہوگیا تو معین کئے سے معین ہوجائیں گے اور اس سے تول کی چیز نہ ہوجائیں گے کہ گنتی پر اصطلاح باقی ہے اھ اور عنقریب ہم تمہیں
حوالہ / References الہدایہ کتاب البیوع باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۳
#13185 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
فھو مجمع علیہ بین ائمتنا فاذن اسلام احد النقدین فی الفلوس لیس سلما فی ثمن ولا اسلام موزون فی موزون بلا موزون فی عددی متقارب مثمن ولا باس بہ باجماع علمائنا رحمھم اللہ تعالی وبالجملۃ فالعبد الضعیف لایعلم لہذہ الفتوی وجہ صحۃ اصلا تأمل لعل لکلامہ وجھا لست احصلہ بفھمی السخیف ولعلی انا الاولی بالخطأ من ھذا العلامۃ العریف رحمۃ اللہ تعالی ثم اقول: ولئن سلمنا فلنا ان نقول ماذکر انما یتمشی فی الفلوس اما النوط فلیس بموزون اصلا فان الورقات لا توزن عرفا قط فلم یشملھا المعیار کحفنۃ من حب وذرۃ من ذھب فمسئلتنا ھذہ سالمۃ عن الخلاف علی کل حال و الحمد ﷲ ذی الجلال ھکذا ینبغی التحقیق واللہ ولی التوفیق۔
بتائیں گے کہ امام محمد نے بھی سلم میں بطلان ثمنیت تسلیم فرمالیا ہے ہاں بیع میں دلیل نہ ہونے کے سبب اس کا انکار کیا ہے تو اس پر ہمارے سب اماموں کا اجماع ہے تو اس حالت میں روپے یا اشرفی سے پیسوں کی بدلی کرنا ثمن کی بدلی نہیں اور نہ باہم تول کی دو چیزوں میں بدلی بلکہ تول کی چیز کے عوض ایك متاع عددی کی بدلی ہے جس کے افراد باہم مشابہ ہیں اور ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالی کا اجماع ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیںالحاصل بندہ ضعیف اس فتوی کے لئے اصلا کوئی وجہ صحت نہیں جانتاتأمل کرشائدان کے کلام کے لئے کوئی ایسی وجہ ہو کہ میں اپنی فہم سست سے اسے نہیں سمجھتا اور کیا عجب کہ بہ نسبت ان علامہ کثیر المعرفۃ رحمۃ اللہ تعالی کے میں ہی غلطی سے زیادہ قریب ہوں۔ثم اقول:(تو میں کہتا ہوں) اگر تسلیم بھی کرلیں تو ہمیں اس کہنے کا اختیار ہے کہ وہ جو علامہ نے ذکر فرمایا وہ پیسوں ہی میں جاری ہوتا ہے اور نوٹ تو اصلا وزن کی چیز نہیں اس لئے کہ کاغذ کے پرچے عرف میں کبھی تو لے نہیں جاتے تو معیار انہیں شامل نہ ہوئی جیسےغلہ سے ایك ہتھیلی بھر اور سونے سے ایك ذرہتو ہمارا یہ مسئلہ بہر حال مخالفت سے محفوظ ہے اور حمداللہ کے لئے جو بزرگی والا ہے ایسی ہی تحقیق ہونی چاہئے اور توفیق کا مالك اللہ ہے۔
#13190 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
واما العاشر
فاقول: نعم یجوز السلم فی النوط و قد یقال لایجوز فانہ ثمن و لاسلم فی الاثمان کما تقدم عن النھر والتحقیق ان ھذا انما یبتنی علی روایۃ نادرۃ عن محمد والا فالمنصوص علیہ فی المتون جواز السلم فی الفلوس وانما لا یجوز فی الاثمان الخلقیۃ وھی النقدان لا غیر لعدم قدرۃ العاقدین علی ابطال ثمنیتھما بخلاف الاثمان الاصطلاحیۃ قال فی التنویر و الدر(یصح ای السلم فیما امکن ضبط صفتہ) کجودتہ و ردائتہ(ومعرفۃ قدرہ کمکیل و موزون و) خرج بقولہ(مثمن)الدراہم و الدنانیر لانھما اثمان فلم یجز فیہا السلم خلافا لمالك (وعددی متقارب کجوز و بیض وفلس الخ۔قال ابن عابدین قولہ وفلس الاولی وفلوس لانہ مفرد لا اسم جنسقیل
جواب سوال دہم
فاقول:(تو میں کہتا ہوں)ہاں نوٹ میں بدلی جائز ہے اور کبھی کہا جاتا ہے کہ جائز نہ ہو اس لئے کہ نوٹ ثمن ہے اور ثمن میں بدلی جائز نہیں جیسا کہ نہر سے گزرااور تحقیق یہ ہے کہ یہ قول صرف ایك روایت نادرہ پر مبنی ہے جو امام محمد سے آئی ورنہ متون میں تو یہ نص ہے کہ پیسوں میں بدلی جائز ہے ہاں جو ثمن ہونے کے لئے پیدا کئے گئے ان میں جائز نہیں اور وہ صرف چاندی سونا ہے وبساس لئے کہ بائع ومشتری ان کی ثمنیت باطل کرنے پر قدر ت نہیں رکھتے بخلاف ان چیزوں کے جو اصطلاحا ثمن قرار پائی ہیں۔تنویر الابصار اور درمختار میں فرمایا سلم جائز ہے ہر اس چیز میں جس کی صفت کا انضباط ہوسکے جیسے اس کا کھرا اور کھوٹا ہوناا ور اس کا اندازہ پہچان سکیں جیسے ناپ اور تول کی چیزاور یہ جو مصنف نے فرمایا کہ وہ چیز ثمن نہ ہو اس سے روپے اور اشرفی نکل گئے اس لئے کہ وہ ثمن ہیں تو ان میں بدلی جائز نہیں امام مالك کا اس میں خلاف ہے یا گنتی سے بکنے کی چیز ہو تو ایسی ہو کہ اس کے افراد باہم قریب قریب ہوتے ہوں جیسے اخروٹ اور انڈے اور پیسے الخ۔علامہ شامی نے فرمایا کہ مصنف نے جو پیسہ کہا اولی یہ ہے کہ پیسے کہیں اس لئے کہ فلس واحد کا صیغہ ہےاسم جنس نہیں
حوالہ / References الدرالمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۷
#13194 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
وفیہ خلاف محمد لمنعہ بیع الفلس بالفلسین الا ان ظاہر الروایۃ عنہ کقولھا وبیان الفرق فی النھر وغیرہ اھ فکان النھر انما ابداہ تاویلا لفتوی قاری الھدایۃ حتی یحصل لہ مستند ولو فی النوادر ولم یرد بہ تعویلا علیہوفی الھدایۃ وکذا فی الفلوس عددا وقیل ھذا عند ابی حنیفۃ و ابی یوسف رحمہما اللہ تعالی وعند محمد لا یجوز لانھا اثمان ولھما ان الثمنیۃ فی حقھما باصطلاحھما فتبطل باصطلاحھما ۔قال فی الفتح ای یجوز السلم فی الفلوس عددا ھکذا ذکرہ محمد رحمۃ اللہ تعالی فی الجامع من غیر ذکر خلاف فکان ھذا ظاہر الروایۃ عنہ و قیل بل ھذا قول ابی حنیفۃ وابی یوسف اما عندہ فلا یجوز بدلیل منعہ ببیع الفلس بالفلسین فی باب الربو لانھا اثمان واذا کانت اثما نالم یجز السلم فیہا لکن ظاہر الروایۃ
بعض نے کہا کہ اس مسئلہ میں امام محمد کا خلاف ہے اس لئے کہ وہ دو پیسوں کو ایك پیسہ بیچنا منع فرماتے ہیں مگر روایت مشہورہ ان سے بھی مثل قول امام اعظم اور ابویوسف کے ہے اور فرق کا بیان نہر وغیرہ میں ہے انتہی تو گویا نہر نے یہ بات فتوی قار ی الہدایہ کی تاویل کے لئے ظاہر کی تاکہ اس کے لئے کوئی سند ہوجائے اگرچہ نو ادر میں اور اس سے اس پر اعتماد کرنا نہ چاہااور ہدایہ میں ہے یونہی پیسوں میں بدلی جائز ہے ان کی گنتی مقرر کرکےاور کہا گیا کہ یہ امام اعطم اور امام ابویوسف کے نزدیك ہے اور امام محمد کے نزدیك جائز نہیں اس لئے کہ پیسے ثمن ہیں اور شیخین کی دلیل یہ ہے کہ ثمن ہونا بائع و مشتری کے حق میں ان کی اصطلاح کی بناء پر ہے تو ان کی اصطلاح سے باطل بھی ہوجائے گافتح القدیر میں فرمایا پیسوں میں گنتی سے بدلی جائز ہےاسی طرح امام محمدنے جامع میں ذکر فرمایااور کسی خلاف کا نام نہ لیاتو یہی امام محمد سے روایت مشہورہ ہوئیاور بعض نے کہا یہ قول شیخین کا ہے امام محمد کے نزدیك جائز نہیں اس دلیل سے کہ وہ دو پیسوں کو ایك پیسہ سے بیچنا منع فرماتے ہیں کہ وہ ثمن ہیں اور جب وہ ثمن ہوئے تو ان میں بدلی جائز نہ ہوئی مگر روایت مشہورہ میں
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع باب السلم داراحیا ء التراث العربی بیروت ۴ /۲۰۳
الہدایہ کتاب البیوع باب السلم مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۹۴
#13199 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
عنہ الجواز و الفرق لہ بین البیع و السلم ان من ضرورۃ السلم کون المسلم فیہ مثمنا فاذا اقدما علی السلم فقد تضمن ابطالھما اصطلاحھما علی الثمنیۃ ویصح السلم فیہا علی الوجہ الذی یتعامل فیہا بہ وھو العد بخلاف البیع فانہ یجوز ورودہ علی الثمن فلا موجب لخروجھا فیہ عن الثمنیۃ فلایجوز التفاضل فامتنع بیع الفلس بالفلسین اھ اقول:لکن فی الفرق نظر فان محمدا لایقول بخروجھاعن الثمنیۃ بمجرد قصد العاقدین مع اتفاق سائر الناس علیہا قال فی الھدایۃ یجوز بیع الفلس بالفلسین باعیا نھما عند ابی حنیفۃ وابی یوسف رحمھما اللہ تعالی وقال محمد رحمۃ اللہ تعالی لایجوز لان الثمنیۃ تثبت باصطلاح الکل فلا تبطل باصطلاحھما واذا بقیت اثمانا لا تتعین فصارکما اذا کانا بغیر اعیانھما وکبیع الدرھم بالدرھمین ولھما ان الثمنیۃ فی حقھما تثبت باصطلاحھما الی امام محمد سے بھی جوا ز ہے اور بیع اور بدلی میں وہ یہ فرق کرتے ہیں کہ بدلی میں تویہ امر ضرور ہے کہ جو چیز وعدہ پر لینی ٹھہرے وہ ثمن نہ ہو تو جب انہوں نے پیسوں کی بدلی پر اقدام کیا تو ضمنا ان کی اصطلاح ثمنیت کو باطل کردیا اور ان کی بدلی اسی طور پر جائز ہے جس طرح ان میں معاملہ کیا جاتا ہے یعنی گن کر بخلاف بیع کہ وہ ثمن پر بھی وارد ہوسکتی ہے تو بیع میں ان کو ثمنیت سے خارج کرنے کا کوئی موجب نہیں تو کمی بیشی جائز نہ ہوئی اور ایك پیسہ کی دو پیسے سے بیع منع ٹھہری انتہی۔
اقول:(میں کہتا ہوں)مگر اس فرق میں اعتراض ہے اس لئےکہ امام محمد اس کےقائل ہی نہیں کہ صرف عاقدین کے ارادہ سے وہ ثمنیت سے خارج ہوجائیں حالانکہ باقی تمام لوگ اس کے ثمن ہونے پر متفق ہیں ہدایہ میں فرمایا کہ امام اعظم و امام ابویوسف کے نزدیك ایك پیسہ دو پیسے معین کو بیچنا جائز ہے اور امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا جائز نہیں اس لئے ان کا ثمن ہونا سب لوگوں کی اصطلاح سے ثابت
حوالہ / References فتح القدیر کتاب البیوع باب السلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۹۔۲۰۸
الہدایۃ کتاب البیوع باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۳
#13206 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
اخر ماتقدم و قد اقرہ المحقق فی الفتح وقررہ علی ھذا النھج فکیف یقول محمد ھھنا ان اقدامھما علی السلم ابطال منھما لاصطلاح الثمنیۃ الاان یقال ان ھذا رجوع عن التعلیل الاول ولم یکن عن نص محمد وانما ابداہ المشایخ وظہر الان بھذاالفرق ان الوجہ لمحمد لم یکن ذلك بل ھو ایضا قائل بان لھما ابطال الاصطلاح فی حقھما ولکن اذا ثبت ھذا عنھما وقد ثبت فی السلم لان المسلم فیہ لایکون ثمنا قط فاقد امھما علی جعلھا مسلما فیہا دلیل علی الابطال ولم یثبت فی البیع اذلیس من ضرورتہ ان لایکون المبیع ثمنا فلم یثبت منھما ابطال البیوع وھذا التقریر علی ھذاالوجہ ربما یمیل الی ترجیح قول محمد فی البیع فافھم عــــــہ واللہ تعالی اعلم۔
ہو ا تھا تو صرف ان دو کی اصطلاح سے باطل نہ ہوجائےگا اور جبکہ وہ ثمنیت پر باقی رہے تو متعین نہ ہوں گے تو یہ ایسا ہی ہوگیا جیسے ایك پیسہ دو پیسے غیر معین کو بیچ لیا اور جیسے ایك معین روپیہ دو معین روپے کو بیچ لیا اور شیخین کی دلیل یہ ہے کہ ثمنیت عاقدین کے حق میں ان کی اصطلاح سے ثابت ہوتی ہے آخر تقریر گزشتہ تك اور بیشك محقق نے اسے فتح القدیر میں مقرر رکھا اور اسی طور پر اس کی تقریر کی تو امام محمد یہاں کس طرح فرمائیں گے کہ عاقدین کا ان کی بدلی پراقدام کرناان کی اصطلاح ثمنیت کو باطل مان لینا ہے مگر یہ کہا جائے کہ یہ پہلی تعلیل سے رجوع ہے اور وہ تعلیل خود امام محمد سے منقول نہ تھی مشائخ نے پیدا کی تھی اور اب اس فرق سے ظاہر ہو ا کہ امام محمد کے نزدیك وجہ وہ نہ تھی بلکہ وہ بھی اسی کے قائل ہیں کہ عاقدین کو اپنے حق میں ثمنیت باطل کرنے کا اختیار ہے مگر یہ جب ہےکہ عاقدین سے ابطال ثمنیت کا ارادہ ثابت ہوجائے اور وہ بدلی میں ضرور ثابت ہوگیا اس لئےکہ اس میں جو چیز وعدہ پر لینی ٹھہرے وہ کبھی ثمن نہیں ہوسکتی تو پیسوں میں بدلی پر ان کا اقدام ان کی ثمنیت باطل کرنے کی دلیل ہے اور بیع میں ان کا یہ ارادہ ثابت نہ ہوا کہ اس میں بیع کا ثمن نہ ہونا کچھ ضرور نہیں تو عاقدین سے ابطال اصطلاح ثابت نہ ہوا تو پیسے بحال خود ثمن رہے تو متعین نہ ہوئے تو بیع باطل ہوئیاور یہ تقریر اس طرز پر کبھی اس طرف جھکے گی کہ مسئلہ بیع میں امام محمد کے قول کو ترجیح دی جائےتو غور کروواللہ تعالی اعلم۔

عــــــہ: یشیر الی الجواب بان الحاجۃ الی یہ اس جواب کی طرف اشارہ ہے کہ عقد صحیح(باقی برصفحہ ائندہ)
#13212 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
واما الحادی عشر
فاقول: نعم یجوز بیعہ بازید من رقمہ بانقص منہ کیفما تراضیا لم علمت ان تقدیر ھا بھذا المقادیر انما حدث باصطلاح الناس وھما لاولایۃ للغیر علیہما کما تقدم عن الھدایۃ والفتح فلھما ان یقدرا بما شاءا من نقص وزیادۃ وقد تم الجواب بھذا القدر عند کل من لہ سلامۃ الفکر وقد افتیت بہ مرارا و افتی علیہ ناس من کبار علماء الھند کا لفاضل الکامل محمد ارشا د حسین الرامفوری رحمۃ اللہ تعالی
جواب سوال یازدہم
فاقول:(تومیں کہتا ہوں)ہاں نوٹ پر جتنی رقم لکھی ہے اس سے زیادہ یا کم کو جتنے پر رضا مندی ہوجائے اس کا بیچنا جائز ہے اس لئے کہ اوپر معلوم ہوچکا کہ نوٹ کا ان مقداروں سے اندازہ کرنا صرف لوگوں کی اصطلاح سے پیدا ہوا ہے اوربائع و مشتری پر ان کے غیر کی کوئی ولایت نہیںجیساکہ ہدایہ و فتح القدیر سے گزرا تو ان دونوں کو اختیار ہے کہ کم زیادہ جتنا چاہیں اندازہ مقرر کرلیں جو شخص فکر سلیم رکھتا ہے اس کے نزدیك جواب اتنے ہی سے پورا ہوگیا اور میں نے بارہا اس پر فتوی دیا اور اکابر علمائے ہند سے متعدد عالموں کا یہی فتوی ہوا جیسے فاضل کامل مولوی محمد ارشاد حسین صاحب رامپوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
تصحیح العقد یکفی قرینۃ علی ذلك ولایلزم کون ذلك ناشیا عن نفس ذات العقد کمن باع درھما ودینا رین بدرھمین ودینار یحمل علی الجواز صرف للجنس الی خلاف الجنس مع ان نفس ذات العقد لاتابی مقابلۃ الجنس بالجنس واحتمال الربا کتحققہ فما الحامل علیہ الا حاجۃ التصحیح وکم لہ من نظیر اھ منہ۔ کرنے کی حاجت اس پر کافی قرینہ ہے اور اس کی خود ذات عقد کی طرف سے ناشئی ہونا کچھ ضرور نہیں جیسے کوئی ایك روپیہ اور دواشرفیاں دو روپوں اور ایك اشرفی کو بیچے تو اسے صورت جواز پر حمل کرینگے جنس کو غیر جنس کی طرف پھیر کر حالانکہ خود ذات عقد میں جنس کے مقابل جنس ہونے سے انکار نہیں اور سود کا شبہ مثل حقیقت کے ہے تو اس پر یہی حاجت تصحیح عقد کا باعثاور اس کی نظیریں بکثر ت ہیں ۱۲منہ۔
#13218 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
وغیرہ وما خالفنی فیہا الارجل عــــــہ من لکنؤ ممن یعد من الاعیان ویشار الیہ بالبنان ولم اطلع علی خلافہ الابعد موتہ لماطبعت وریقات باسم فتاواہ ولو راجعتہ فی حیاتہ لرجوت ان یرجع لان الرجل کان اذا عرف عرف واذا عرف انصرف فالان ازیدك بیانا بعد بیان لایبقی ان شاء اللہ للحق الا القبول والاذعان۔فاقول اولا: نص علماؤنا قاطبۃ ان علۃ حرمۃ الربا القدر المعہود بکیل ا ووزن مع الجنس فان وجداحرم الفضل والنسأ وان عدما حلاوان وجد احدھما حل الفضل و حرم النسأ وھذہ قاعدۃ غیر منخرمۃ وعلیہا تدورجمیع فروع الباب و معلوم ان لااشتراك فی النوط والدراھم فی جنس ولاقدر اما الجنس فلان ھذا قرطاس و تلك فضۃ وما القدر فلان الدراہم
وغیرہ اور اس میں میرا خلاف نہ کیا مگر لکھنؤ کے ایك شخص نے جو عمائد سے گنے جاتے اور ان کی طرف انگلیاں اٹھتیں اور مجھے ان کے خلاف پر اطلاع نہ ہوئی مگر ان کی موت کے بعد جبکہ کچھ مختصر ورق ان کے فتاوی کے نام سے چھپے اور اگر میں ان کی زندگی میں اس بارے میں ان سے گفتگو کرتا تو امید تھی کہ وہ رجوع کرلیتے کہ ان صاحب کی عادت تھی جب سمجھا ئے جاتے تو سمجھ لیتے اور جب سمجھ لیتے تو واپس آتے اور اب میں تجھے ایضاح کے بعد اور ایضاح زیادہ کروں جو ان شاء اللہ تعالی حق کے لئے نہ باقی رکھے سوا قبول و تسلیم کے فاقول: (تو میں کہتا ہوں)اولا: ہمارے جمیع علماء رحمہم اللہ تعالی نے تصریح فرمائی کہ حرمت ربا کی علت وہ خاص اندازہ یعنی ناپ یا تول ہے اتحاد جنس کے ساتھتو اگر قدر و جنس دونوں پائی جائیں تو بیشی اور ادھار دونوں حرام ہیںاور اگر وہ دونوں نہ پائی جائیں تو حلال ہیںاور اگر دونوں میں سے ایك پائی جائے تو بیشی حلال اور ادھار حرام ہےاور یہ ایك عام قاعدہ ہے جو کہیں منتقض نہیں اور باب ربا کے جمیع مسائل اسی پر دائرہیں اور معلوم ہے کہ نوٹ اور روپوں میں شرکت نہ قدر میں سے نہ جنس میںجنس میں تو اس لئے نہیں کہ یہ کاغذ ہے اور وہ چاندی اور قدر میں اس لئے نہیں کہ روپے تول کی

عــــــہ: یدعی المولوی عبدالحی اللکنوی اھ منہ۔ عــــــہ:جن کو مولوی عبدالحی صاحب کہا جاتا ہے ۱۲منہ
#13224 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
موزونۃ ولا قدر للنوط اصلا لامکیل و لاموزون فیجب ان یحل الفضل والنسأ جمیعا فاذن لیس النوط من الاموال الربویۃ اصلا وسنزیدك تحقیق الامر فی ذلك عن قریب ان شاء اللہ تعالی۔ وثانیا: قال فی ردالمحتار وغیرہ کلما حرم الفضل حرم النسأ ولا عکس وکلما حل النسأ حل الفضل ولا عکس اھ وقد اقمنا البرھان القاطع فی جواب التاسع علی حل النسأ ھھنا فوجب حل الفضل و انتظرمایأ تی و ثالثا: ھذاسیدنا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یقول اذا اختلف ھذہ الاصناف فبیعوا کیف شئتم رواہ مسلم عن عبادۃ بن الصامت رضی اللہ تعالی عنہ فمن الحاجر بعد اذن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ورابعا: ھذہ دلائل واضحۃ لاتخفے حتی علی الصبیان والان اتیك بشیئ یکون لك فیہ مجال تکلم بحسب عقلك ثم اکشف الحجاب لابانۃ الصوابفاقول:ارأیتك ھل لیس من المعلوم عندك چیز ہیں اور نوٹ نہ تول کی نہ ناپ کیتو واجب ہوا کہ بیشی او رادھار دونوں جائز ہوںتو ظاہر ہوا کہ نوٹ سرے سے مال ربا ہی سے نہیں اور ہم ان شاء اللہ تعالی عنقریب زیادہ تحقیق بیان کریں گےثانیا:ردالمحتاروغیرہ میں فرمایا جہاں بیشی حرام ہوتی ہے ادھار بھی حرام ہے اور اس کا عکس نہیں اھاورجہاں ادھار حلال ہو بیشی بھی حلال ہوتی ہےاوراس کاعکس نہیں انتہی اورہم جواب سوال نہم میں دلیل قطعی قائم کرچکےہیں کہ نوٹ میں ادھار جائزہے تو واجب ہوا کہ بیشی بھی حلال ہو اور آئندہ تقریر کے منتظر رہو_____ثالثا: یہ ہیں ہمارے سردار رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کہ فرما رہے ہیں جب جنس مختلف ہو تو جیسے چاہو بیچو یہ حدیث صحیح مسلم میں عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اجازت کے بعد منع کرنے والا کون ہےرابعا یہ تو ایسی روشن دلیلیں ہیں کہ بچے پر بھی مخفی نہ رہیں اور اب میں تجھ سے ایك ایسی چیز بیان کروں جس میں تجھے اپنی عقل کے لائق کچھ کلام کی گنجائش ہو پھر اظہار صواب کےلئے اس کا پردہ کھولوںفاقول:(تو میں کہتا ہوں)بھلا بتا تو کیا تجھے اور ہر ذی عقل کو معلوم
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع باب الربوٰ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۸۰۔۱۷۹
صحیح مسلم کتاب البیوع باب الربوٰ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۵
#13228 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
وعند کل من لہ عقل ان المال الذی یکون فی السعر العام المعروف المجمع علیہ من الناس بعشرۃ دراہم یجوز لکل احد ان یبیعہ برضا المشتری بمائۃ او یعطیہ بفلس واحد ولاحجر فی شیئ من ذلك عن الشرع المطہر قال تعالی
" الا ان تكون تجارة عن تراض منكم- " وقد قال فی الفتح کما تقدم ان لوباع کاغذۃ بالف یجوز ولا یکرہ وکل احد یعلم ان قطعۃ قرطاس لا تبلغ قیمتہ الفا ولا مائۃ ولا درھما واحدا قط فما ذلك الا لان القیمۃ والثمن متغایران ولا یجب علیہما التقید بھا فیما ثامنا بل لھما ان یقدر الثمن باضعاف القیمۃ او بجز ء من مائۃ جزء لھا
فان قلت ھذا فی السلعۃ اما النوط فثمن اصطلاحا قلت اولا: فکان ماذا وقد ابنت الجواب بقولك اصطلاحا فان اصطلاح غیر ھما لیس مکرہا لھما فضاع الفرق وضاء الحق وثانیا: ان سلمنا انھما
نہیں کہ وہ مال کہ عام بھاؤ سے سب کے نزدیك دس روپے کی قیمت کا ہے ہر شخص کو جائز ہے کہ خریدار کی رضا مندی سے اسے سوروپے کو بیچے یا ایك پیسہ کو دے دے اور شرع مطہر کی طرف سے اس بارے میں کوئی روك نہیں۔اللہ عزوجل فرماتا ہے:مگر یہ کہ کوئی سودا ہو تمہاری آپس کی رضا مندی کااور بیشك فتح القدیر میں فرمایا جیسا کہ اوپر گزرا کہ اگر ایك کاغذ کے ایك ٹکڑے کی قیمت ہر گز نہ ہزار روپے تك پہنچتی ہے نہ سو تك نہ ایك روپے تکتو اس کا یہی سبب ہے کہ قیمت اور ثمن جد اجدا چیزیں ہیں اور بائع و مشتری پر قیمت (یعنی بازار کے بھاؤ)کی پابندی ثمن میں لازم نہیں(یعنی جوان کے ہاہم قرار داد ہوا)بلکہ انہیں اختیار ہے کہ بازار کے بھاؤ سے کئی گنے زائد پر رضامندی کرلیں یا ا سکے سوویں حصہ پراب اگر تو کہے کہ یہ تو متاع کا حکم ہے اور نوٹ تو اصطلاح میں ثمن ہے میں کہوں گا اولا: پھر کیا ہوا تو نے اصطلاحا کہہ کر خود ہی جواب ظاہر کردیا کہ اوروں کی اصطلاح عاقدین کو مجبور نہیں کرتی تو فرق ضائع ہوا اور حق واضح ہوگیا ثانیا: ہم نےنہ مانا
حوالہ / References القرآن الکریم ۴ /۲۹
فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴
#13245 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
لایقدر ان علی ابطال الثمنیۃ فمن این لك ان الا ثمان الاصطلاحیۃ لا یمکن التغییر فیہا عن التقدیر المصطلح الاتری ان فلوس ربیۃ متعینۃ بتعیین العرف ابدا فکل صبی عاقل یعقل ان ربیۃ بست عشرۃ آنۃ لابخمس عشرۃ ولا بسبع عشرۃ ثم ھذا التعیین العرفی وکونھما اثمانا مصطلحۃ لایحرم علی العاقدین النقص والزیادۃ قال فی التنویر وشرحہ للعلائی من اعطی صیر فیا درھما کبیرا فقال اعطنی بہ نصف درہم فلوسا ونصفا الاحبۃ صح ویکون النصف الاحبۃ بمثلہ وما بقی بالفلوس اھ ولفظ الہدایۃ لوقال اعطنی بنصفہ فلوسا وبنصفہ نصفا الاحبۃ جاز وثالثا: اعل عن الثمن الاصطلاحی ھذان حجر ان ثمنان خلقۃ و لا یقدر احد علی ابطال ثمنیتھا وقد عقل کل من عقل ان الدینار یساوی ابداعدۃ دراھم ولا یوجد دینار قط یقوم بدرھم واحد و مع ذلك نص ائمتنا
کہ عاقدین ابطال ثمنیت پر قادر نہ ہوں تو یہ تونے کہا ں سے نکالا کہ اصطلاحی ثمنوں کی مقدار مصطلح سے تغییر جائز نہیں کیا نہیں دیکھتا کہ ایك روپے کے پیسے عرف کی تعیین سے ہمیشہ متعین رہتے ہیں کہ ہر سمجھ والا بچہ جانتا ہے کہ ایك روپیہ سولہ آنے کا ہےنہ پندرہ کانہ سترہ کا۔پھر یہ عرفی تعین اور پیسوں کا ثمن اصطلاحی ہونا بائع ومشتری پر کمی بیشی حرام نہیں کرتا۔تنویر الابصار اور اس کی شرح درمختار میں فرمایا جس نے صراف کو ایك روپیہ دیا اور کہا اس کے عوض مجھے آٹھ آنے کے پیسے دے دے اور ایك سکہ کہ اٹھنی سے رتی بھر کم ہو تو ایسی بیع جائز ہے روپے کی اتنی چاندی جو اس چھوٹے سکہ کے برابر ہو وہ تو اس سکہ کے عوض رہے گی اور باقی کے عوض پیسے انتہیاور ہدایہ کی عبارت یوں ہے کہ اگر کہا آٹھ آنے پیسے دے دو اور رتی کم اٹھنی تو جائز ہے ثالثا:ثمن اصطلاحی سے اوپرچل یہ ہیں سونا چاندی کی ثمنیت باطل کرنے پر قادر نہیں اور ہر عاقل جانتا ہے کہ اشرفی ہمیشہ کئی روپے کی ہوتی ہے اور ہر گز کوئی اشرفی نہ پائی جائے گی جو ایك روپے قیمت کی ہو اور باوصف اس کے ہمارے ائمہ نے
حوالہ / References الدرالمختار شرح تنویرالابصار کتاب البیوع باب الربوٰ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۷
الہدایۃ کتاب الصرف مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۱۲
#13246 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ان بیع دینار بدرھم صحیح لاربا فیہ وما ذلك الالان الجنس اذا اختلف حل التفاضل واختلاف جنس النوط والربابی مما لایجھلہ الامجنون قال فی الھدایۃ والدر و عامۃ الاسفار الغر صح بیع درہمین و دینار بدرہم و دینارین بصرف الجنس بخلاف جنسہ وکذا بیع احد عشر درھما بعشرۃ دراہم و دینار اھقال ابن عابدین فتکون العشرۃ بالعشرۃ والدرھم بالدینار اھ فاذا صح بیع ربیۃ بجنیۃ قیمتہ بالعرف العام خمس عشرۃ ربیۃ ولم یکن ربا فکیف یکون بیع نوط مرقوم علیہ رقم عشرۃ باثنتی عشرۃ ربیۃ ربا ما ھذا الا بھت بحت فانقلت ماذکرتم من المسائل وان صح البیع فیہا لکنہ مکروہ والمکروہ ممنوع فلا یحل وان صح کذا ھذا قال فی الھدایۃ لو تبایعا فضۃ بفضۃ او ذھبا بذھب
تصریح فرمائی کہ ایك اشرفی ایك روپے کی بیچنا صحیح ہے اور اس میں اصلا ربا نہیں اور اس کے سوا اس کا کوئی سبب نہیں کہ جب جنس مختلف ہوں تو کمی بیشی جائز ہے اور نوٹ اور روپوں کی جنس مختلف ہونا ایسی بات ہے جس سے کوئی مجنون ہی ناواقف ہو۔ہدایہ اور درمختار اور عام نورانی کتابوں میں فرمایا دو روپوں اور ایك اشرفی کو ایك روپے اور دو اشرفی کے عوض بیچنا درست ہے کہ ہر جنس اپنی مخالف جنس کے مقابل کردی جائے گی اسی طرح گیارہ روپوں کو دس روپے اور ایك اشرفی کے عوض بیچنا انتہیردالمحتار میں فرمایا دس روپے تو دس روپے بدلے ہوجائیں گے اور گیارہویں روپے کے بدلے ایك اشرفی انتہیتو جب ایك روپیہ ایك اشرفی کو بیچنا درست ہوا جس کی قیمت عام طور پر پندرہ روپے ہیں اور ربا نہ ہوا تو دس کا نوٹ بارہ کو بیچنا کیونکر سود ہوگایہ تو نرا بہتان ہےاگر تو کہے کہ یہ جو مسئلے تم نے ذکر کئے ان میں اگرچہ بیع صحیح ہے مگر مکروہ ہے اور مکروہ ممنوع ہوتاہے توحلال نہ ہوگا اگرچہ صحیح ہوایسے ہی یہاں ہے۔ہدایہ میں فرمایا اگر سونے کو سونے یا چاندی کو چاندی
حوالہ / References الہدایہ کتاب الصرف مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۹۔۱۰۸،الدرالمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۵
ردالمحتار کتاب البیوع باب الصرف داراحیا ء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۳۹
#13247 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
واحد ھما اقل و مع اقلھما شیئ اخر تبلغ قیمتہ باقی الفضۃ جاز البیع من غیر کراہیۃ وان لم تبلغ فمع الکراھۃ وان لم یکن قیمۃ کالتراب لایجوز البیع لتحقق الربا اذا الزیادۃ لایقابلھا عوض فیکون ربا اھ واقرہ فی الفتح والشروح والبحر وردالمحتار وغیرہا و معلوم ان مطلق الکراھۃ ینصرف الی کراھۃ التحریم بل قال عبدالحلیم علی الدرر بعد نقل المسئلۃ واحالۃ تفصیلھا علی الفتح مانصہ "اذا عرفت ھذا فما یتداول فی الدولۃ العثمانیۃ من بیع قرش واحد بثمانین درھما عثمانیا لم یجز لزیادۃ القرش ولو کان مع الدراھم نحو فلس جازمع الکراھۃ فالواجب علی المحتاط تسویتھما وزنا ا و یکون قیمۃ ماکان مع الدراہم قدر قیمۃ الزیادۃ حتی یخلص عن عہدۃ الکراھۃ اھ فقد صرح
سے بیچا اور ایك طر ف کم ہے اور اس کے ساتھ کوئی اور چیز شامل ہے جس کی قیمت باقی چاندی کے برابر ہے جب تو بیع بلا کراہت جائز ہے اور اگر اتنی قیمت کی نہیں تو کراہت کے ساتھاور اگر اس کی قیمت کچھ نہیں جیسے مٹی تو اب بیع جائز ہی نہ ہوگی کہ سود موجود ہے اس لئے کہ جتنی زیادتی ایك طرف رہی اس کے مقابل دوسری طرف کچھ نہیں تو سود ہوگا انتہیاور اس کلام کو فتح القدیر اور دیگر شروح اور بحر اور رد المحتاروغیرہ میں برقرار رکھا اور معلوم ہے کہ لفظ کراہت جب مطلق بولتے ہیں تو اس سے کراہت تحریم مراد ہوتی ہے بلکہ فاضل عبدالحلیم نے حاشیہ درر میں یہ مسئلہ نقل کیااور اس کی تفصیل کو فتح القدیر پر حوالہ کرکے یوں کہا جب تجھے یہ معلوم ہوچکا تو وہ جو سلطنت عثمانیہ میں رائج ہے کہ ایك ایك قرش اسی روپے عثمانی کو بیچتے ہیں جائز نہیں اس لئے کہ قرش زائد ہے اور اگر روپوں کے ساتھ مثلا ایك پیسہ ہو تو کراہت کے ساتھ جائز ہے تو احتیاط والے پر واجب ہے کہ ان دونوں کا وزن برابر کرلے یا وہ چیز جو روپوں کے ساتھ ملائی جائے اتنی قیمت کو ہو جس قدر قرش میں روپوں پر زیادتی ہے تاکہ کراہت سے عہدہ بر آہو انتہیتو انہوں نے
حوالہ / References الہدایۃ کتاب البیوع باب الصرف مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۰۹
حاشیۃ الدرر لعبد الحلیم
#13248 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
بالوجوب فکان فی خلافہ کراھۃ تحریم وکفی بھا للتأثیمقلت:جئت لك بتقریر الاعتراض بمالو ابدیتہ من نصك لعلك لم تقدر علی احسن منہ الان اسمع الجواب بتوفیق الوھاب عزجلالہ اما اولا: فلانہ این ذھب عنك فرق الخلق والاصطلاح فان مالیۃ الذہب وکونہ اعز من اضعاف وزنہ من الفضۃ امر خلقی لامدخل فیہ لفرض احد وتقدیرہ ففی مقابلۃ دینار بدرہم ینقدح رجحان المالیۃ فی کل ذہن بخلاف النوط فان تقدیرہ بعشرۃ مثلا انما ھو مجرد اصطلاح من الناس والا فنفس القرطاس لا یساوی درھما ولو عشرۃ فان نظرت الی الاصل فبیع ماقدر بعشرۃ ایضا رجحان عظیم فی المالیۃ وان نظر الی الاصطلاح فاصطلاح غیر حاکم علی العاقدین کما اسمعناك نص الھدایۃ والفتح فاذا قدرہ الناس بعشرۃ وما ھو فی اصلہ الابفلس مثلا فما المانع لہما ان یقدراہ باثنی عشر فصا عدااوثمانیۃ فما دونھما فلا مساس لھذہ المسألۃ بما نحن فیہ واما ثانیا: فلان کلامھم فی مقابلۃ الجنس بالجنس اذفیہ یظہر الفضل الاتری الی قولہ
وجوب کی تصریح کردی تو ا س کا خلاف مکروہ تحریمی ہوا اور گناہ کے لئے کراہت تحریم کافی ہےمیں کہوں گا کہ تیرے لئے میں نے اس اعتراض کی اس طور پر تقریر کردی کہ اگر تو اپنی طرف سے کرتا تو شاید اس سے بہتر نہ کرسکتا اور اب وہاب جل جلالہ کی توفیق سے جواب سن اولا: پیدائش اور اصطلاح کا فرق تیرے ذہن سے کدھر جاتا رہا کہ سونے کی مالیت اور اس کا چاندی سے کئی گناہونا ایك خلقی بات ہے جس میں کسی کے فرض و قرار دادکو دخل نہیں تو ایك اشرفی ایك روپے سے بدلنے میں مالیت کی زیادتی ہر ذہن میں آجائے گی بخلاف نوٹ کے کہ مثلا اس کی قیمت دس روپے ہونا صرف لوگوں کی اصطلاح سے ہے ورنہ خود کاغذتو نہ ایك روپیہ کا ہے نہ روپے کے دسویں حصہ کاتو اگر تو اصل کو دیکھے تو دس کا نوٹ دس کو بیچنے میں بھی مالیت میں زیادتی ہے اور اگر اصطلاح کو دیکھیں تو اصطلاح بائع و مشتری پر حاکم نہیں جیساکہ ہم نے تجھ کو ہدایہ و فتح القدیر کا نص سنا دیا تو جب لوگوں نے اسے دس کا قرار دے لیا اور وہ اپنی اصل میں مثلا ایك ہی پیسے کا ہے تو بائع ومشتری کو اس سے کون منع کرتا ہے وہ اسے بارہ یا زیادہ یاآٹھ یا اس سے بھی کم کا ٹھہرالیں تو اس مسئلہ کو ہماری مبحث سے کوئی علاقہ نہیںثانیا: ان کا کلام اس صورت میں ہے جب جنس کے بدلے جنس ہو کہ اسی میں زیادتی ظاہر ہوتی ہے تو کیا تونے ہدایہ کا یہ قول نہ دیکھا
#13249 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
تبایعا فضۃ بفضۃ او ذھبا بذھب واحدھما اقل ولم یقل تبایعا فضۃ بذہب واحدھما اقل مالیۃ بالسعر المعہود فاذا قوبل الذہب بالذھب المساوی لہ ظہر الفضل وحینئذ یمیز العقل ان المضاف ھل یبلغ مقدار ھذاالفضل اولا بخلاف النوط بالدراھم فانھما جنسان مختلفان فانی یظہر الفضلومتی یطابق الفرع الاصل قال فی الفتح الربا ھو الفضل المستحق لاحد المتعاقدین فی المعاوضۃ الخالی عن عوض شرط فی العقدوعلمت ان الخلو فی المعاوضۃ لا یتحقق الاعند المقابلۃ بالجنس اھ وقد قال سیدنا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اذا اختلف النوعان فبیعو اکیف شئتم فھذا اطلاق منہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وھو الشارع والیہ المرجع والیہ المفزع
جب چاندی چاندی سے یا سونا سونے سے بیچا اور ایك طرف کمی ہےاوریوں نہ فرمایا کہ سونے چاندی سے بیچا اور نرخ معروف کے اعتبار سے ایك طرف مالیت کم ہے تو سونا اپنی برابر کے سونے کے برابر جب کیاجائے گا زیادتی ظاہر ہوجائیگی اور اس وقت عقل یہ تمیز کرے گی کہ وہ چیز جو کم کے ساتھ ملائی گئی ہے اس زیادت کے قدر کو پہنچتی ہے یانہیں بخلاف اس کے کہ نوٹ روپوں کو بیچیں کہ وہ دو جنس مختلف ہیں تو زیادتی کدھر سے ظاہر ہوگی اور یہ فرع اس اصل کے کیونکر مطابق آئے گیفتح القدیر میں فرمایا:ربا وہ زیادتی ہے کہ عقد معاوضہ میں عاقدین میں سے کسی کو اس کا مستحق قرار دیا جائے اور اس زیادتی کے مقابل کوئی عوض اس عقد میں شرط نہ کیا گیا ہو اور تجھے معلوم ہوگیا کہ عوض سے خالی ہونا اسی وقت متحقق ہوگا جبکہ شے کا اس کے جنس سے مقابلہ کیا جائے انتہی۔اور بیشك ہمارے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا جب دو چیزیں مختلف قسم کی ہوں تو جیسے چاہو بیچو۔ تو یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی کی طرف سے اجازت ہے اور حضور ہی صاحب شرع ہیں اور حضور ہی کی طرف رجوع اور حضور ہی کے یہاں پناہتو
حوالہ / References الہدایہ کتاب الصرف مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۰۹
فتح القدیر کتاب البیوع باب الربا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۱۵۱
نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ کتاب البیوع المکتبۃ الاسلامیۃ لصاحبہا الریاض ۴/۴
#13250 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
فمن حجرہ بعدہ ما سوغہ فیرد علیہ ولا یسمع
واما ثالثا: فان الکراھۃ فیما اذا لم یبلغ المضموم قیمۃ الفضل انما اثرت عن محمد اماالامام الاعظم والھمام الاقدم وصاحب المذہب الاکرم رضی اللہ تعالی عنہ فد نص علی عدم الکراھۃ فیہ قال فی الفتح بعد ذکر المسألۃ قیل لمحمد کیف تجدہ فی قلبك قال مثل الجبل ولم ترو الکراھۃ عن ابی حنیفۃ بل صرح فی الایضاح انہ لا باس بہ عند ابی حنیفۃ اھ و سیأ تی فی مثلہ عن البحر عن القنیۃ عن البقالی ان عدم الکراھۃ ھو مذہب ابی حنیفۃ وابی یوسف معا رضی اللہ تعالی عنہما وفی الھندیۃ قبیل الکفالۃ عن محیط السرخسی عن محمد رحمۃ اللہ تعالی انہ قال لو باع الدرہم بالدرہم وفی احدھما فضل من حیث الوزن وفی الاخر فلوس جاز ولکن اکرہہ لان الناس یعتادون التعامل بمثل ھذا ویستعملونہ فیما لا یجوزوقال ابوحنیفۃ رحمۃ اللہ تعالی لاباس بہ لانہ
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی جائز کی ہوئی چیز کو جو منع کرے تو اس کا منع کرنا اسی پر رد کردیا جائے گا اور مسموع نہ ہوگاثالثا جس حالت میں کم کے ساتھ ملائی ہوئی چیز کی قیمت مقدار زیادت کو نہ پہنچے حکم کراہت صرف امام محمد سے مروی ہے اور امام اعظم ہمام اقدم صاحب مذہب اکرم رضی اللہ تعالی عنہ نے تصریح فرمائی کہ اس میں کچھ کراہت نہیںفتح القدیر میں اس مسئلہ کو ذکر کرکے فرمایاامام محمد سے عرض کی گئی کہ اس کو آپ اپنے نزدیك کیسا پاتے ہیں فرمایا پہاڑ کی طرح گراںاور امام اعظم سے کراہت مروی نہیں بلکہ ایضاح میں تصریح فرمائی کہ اس میں امام اعظم کے نزدیك کچھ حرج نہیں انتہی۔اور اس صورت کے مثل میں عنقریب بحر سے بحوالہ قنیہ آتا ہے کہ امام بقالی نے فرمایا کہ اس میں کراہت نہ ہونا امام اعظم اور امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہما دونوں کا مذہب ہے ہے اور فتاوی عالمگیری میں کفالت سے کچھ پہلے بحوالہ محیط امام سرخسی امام محمد سے ہے کہ اگر ایك روپیہ ایك روپیہ کو بیچا اور ایك وزن میں زیادہ ہے اور کم وزن والے کے ساتھ کچھ پیسے ہیں تو جائز ہے مگر میں اسے مکروہ سمجھتا ہوں کہ لوگ اس قسم کے معاملے کے عادی ہوجائیں گے پھر ناجائز جگہ بھی یہ کارروائی کرنے لگیں گے اور امام اعظم نے فرمایا اسمیں کچھ حرج نہیں اور اس واسطے کہ اسے یوں
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الصرف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۲۷۱
#13251 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
امکن تصحیحہ بان یجعل الفضل بازاءالفلوس وبالجملۃ النقل عن الامام فاش مستفیض و معلوم ان العمل والفتوی علی قول الامام علی الاطلاق الا لضرورۃ کتعامل بخلافہ ونحوہ وقد فصلناہ فی کتاب النکاح من العطایا النبویۃ بما لامزید علیہواما رابعا وھو الطراز المعلم فلان الحق ان ھذہ الکراھۃ عــــــہ لیست الاکراھۃ تنزیہ صحیح ٹہہرانا ممکن ہے کہ وہ زیادتی پیسوں کے مقابل ہو جائے بالجملہ امام سے یہ روایت مشہور و معروف ہے اور معلوم ہے کہ عمل وفتوی ہمیشہ قول امام پر ہےمگرکسی ضرورت سےجیسے کہ عمل در آمد مسلمانوں کا اس کے خلاف پر ہوگیا ہواور ایسی ہی بات ہم نے العطایا النبویہ کی کتاب النکاح میں ایسی مفصل بیان کی ہے جس سے زیادہ کوئی بیان نہیں۔رابعا اور وہی سب سے زیادہ چمکتی بات ہے حق یہ کہ کراہت صرف کراہت تنزیہی ہے کراہت کے

عــــــہ: اقول: محمد وما ادرك ما محمدمحمد سید مسود محرر المذہب المسدد قال فی الجامع الکبیر الذی ھو من کتب ظاہر الروایۃ اذا کانت ھذہ الدراہم صنوفا مختلفۃ منھا ماثلثا ھا فضۃ ومنھا ما ثلثا ھا صفر و منھا نصفہا فضۃ فلا باس ببیع احدھا بالاخر متفا ضلا ید ابید بصرف فضۃ ھذا الی صفرذلك وبالعکس کما لو باع صفراو فضۃ بصفر وفضۃ ولا یجوز نسیئۃ لانہ یجمعھما الوزن وھما ثمنان فیحرم النسأ واما اذا باع جنسا منھا بذلك الجنس متفاضلا
اقول:(میں کہتا ہوں)محمداور تو نے کیا جانا کیا محمدمحمد سردار ہیں سردار کئے گئےمذہب مستقیم کی تحریر و تلخیص فرمانے والےوہ جامع کبیر میں(کہ کتب ظاہر الروایۃ میں سے ہے)فرماتے ہیں کہ جب کھوٹے روپے مختلف قسم کے ہوں کسی میں دو تہائی چاندی ہوکسی میں دو تہائی پیتلکسی میں آدھوں آدھ چاندیتو ان میں ایك قسم کا روپیہ دوسری قسم کے روپے سے کمی بیشی کے ساتھ بیچنے میں کچھ حرج نہیں جبکہ دست بدست ہو اس لئےکہ اس کی چاندی اس کے پیتل سے بیچنا قرار دیں گے اور اسکی چاندی اس کے پیتل سے جیسے کوئی شخص پیتل اور چاندی پیتل اور چاندی کے بدلے بیچےہاں ادھار بیچنا روا نہ ہوگا کہ دونوں کو وزن شامل ہے اور دونوں ثمن ہیں تو ادھار حرام ہے۔رہا ان میں کسی قسم کا روپیہ(باقی بر صفحہ ائندہ)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۵۱
#13252 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ولا تغتر بالاطلاق فانھم ربما یطلقون
مطلق چھوڑنے سے دھوکانہ کھانا کہ فقہاء بارہا اسے (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
فلو الفضۃ غالبۃ لایجوز لان المغلوب ساقط الاعتبار فکان الکل فضۃ فلا یجوز الامثل بمثل ولو الصفر غالبا اوکانا سواء جاز متفاضلا صرفا للجنس الی خلاف جنسہ و یشترط کونہ ید ابید نقلہ فی الفصل السادس من بیوع الذخیرۃ وقال وعلی ھذا قالو اذا باع من العدلیات التی فی زمانناواحد باثنین یجوز یدا بیداھ ۔اقول: واباحۃ التفاضل یشمل واحدا باثنین و بمائۃ وبالوف فلیکن واحد مما ثلثاہ صفر فی الوزن ثلثۃ ارباع مانصفہ فضۃ فیکون ثلثا ذاك و نصف ھذا مساویین فی الوزن وبیع واحد من ذاك بعشرۃ الاف من ھذا یدا بید ولا بد من
اسی قسم کے روپوں سے کمی بیشی کو بیچنا اس میں اگر اس روپے میں چاندی کا حصہ زیادہ ہے تو جائز نہیں کہ مغلو ب اعتبار سے ساقط ہے تو گویا وہ نری چاندی ہے تو برابر ہی کو بیچنی جائز ہوگی اور اگر پیتل زیادہ یا دونوں برابرہیں تو کمی بیشی جائز ہوگیاسی طرح کہ ہر ایك کی چاندی دوسرے کے پیتل کے مقابلہ کریں گے اور دست بدست ہونا ضروری ہوگا کہ دونوں طرف چاندی بھی ہے فقط پیتل نہیں کہ باعیا نہما ہونا یعنی تعیین شرط ہوگی اسے فتاوی ذخیرہ کی کتاب البیوع فصل ششم میں نقل کیااور کہا اسی بنا پر مشائخ نے فرمایا کہ ہمارے زمانے میں جو کھوٹے روپے عدلی نام سے چلتے ہیں ان میں ایك روپیہ دو روپوں سے دست بدست بیچنا جائز ہے انتہی۔ اقول:(میں کہتا ہوں)اور جب کمی بیشی روا ہوئی تو جیسے ایك روپیہ دو روپے کو بیچنا ویسے ہی سوویسے ہی ہزاروں کو۔اب فرض کیجئے کہ وہ روپیہ جس میں دو تہائی پیتل ہے تو ل میں اس روپے کا پونا ہے جس میں آدھی چاندی ہے تو اس کی دو تہائی اور ا سکا آدھا تول میں برابر ہونگے اور ان میں کا ایك روپیہ ان میں کے دس ہزار روپوں کو دست بدست بیچا اور یہ ضرور ہے کہ (باقی برصفحہ ایندہ)
حوالہ / References الجامع الکبیر
فتاوٰی ذخیرۃ کتاب البیوع فصل ششم
#13253 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ویریدون بہ ماھواعم من التنزیہ والتحریم وربما یطلقون ولا یریدون بہ الاکراھۃ تنزیہ کما لایخفی من عاشر نفائس عرائس کلما تھموقد نصو اعلیہ فی غیر موضع قال فی ردالمحتار قبیل باب الشہید ماذکرہ غیرہ(ای غیر الامام الطحطاوی)من کراھۃ الوطء والقعود ای علی القبور الخ یرادبہ کراھۃ التنزیہ عــــــہ فی غیر قضاء الحاجۃ وغایۃ
مطلق چھوڑتے ہیں اور اس سے مراد وہ معنی ہوتے ہیں جو کراہت تنزیہی اور تحریمی دونوں کو عام ہیں اور بارہا مطلق بولتے ہیں اور اس سے صرف کراہت تنزیہیہ مراد لیتے ہیں جیسا کہ اس پر پوشیدہ نہیں جس نے ان کے کلمات کی نفیس دلہنوں کے ساتھ زندگی بسرکی ہےاور علماء نے اس معنی کی متعدد مواضع میں تصریح فرمائی ردالمحتار میں باب شہید جو قبروں پر پاؤں رکھنے اور بیٹھنے کی کراہت ذکر فرمائی ہے الخ قضائے حاجت کے سوا اور صورتوں میں اس سے کراہت تنزیہ مراد ہے اور زیادہ سے زیادہ

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
صرف الجنس الی خلافہ فکانت عشرۃ الاف من الفضۃ بواحد من الصفر وای ارباء فی المالیۃ ترید اکثر من ھذا وھذا محرر المذہب محمد ناصا علی انہ لاباس فوجب ان لاتکون الکراھۃ ان کانت الاکراھۃ تنزیہ ولا کلام لاحد بعدنص صاحب المذہب فعلیك بہ وباللہ التوفیق ۱۲منہ۔
عــــــہ: ھذاما مال الیہ ھنا فالحق کراھۃ التحریم کما حققہ فی رسالتی "ا لامر باحترام المقابر "وقد اعترف بہ جنس کو خلاف جنس کے مقابل ٹھہرائیں تو چاندی کے دس ہزار پیتل کے ایك کو بکے اس سے زیادہ مالیت میں اور کیا بیشی چاہتا ہے اور یہ محرر مذہب ہیں کہ صاف فرمارہے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں تو واجب ہوا کہ اس میں اگر کراہت ہو تو صرف کراہت تنزیہ ہوا اور خود صاحب مذہب کی تصریح کے بعد کسی کو کلام کی کیا گنجائش ہے تو اسی پر جم جاؤ اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے ۱۲ منہ۔
عــــــہ: یہ وہ حکم ہے جس کی طر ف علامہ شامی یہاں مائل ہوئے اور حق یہ ہے کہ قبر پر پاؤں رکھنا یا بیٹھنا مکروہ تحریمی ہے جیسا کہ میں نے اپنے رسالہ (باقی برصفحہ ایندہ)
#13254 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
مافیہ اطلاق الکراھۃ علی مایشمل المعنیین وھذا کثیر فی کلامھم ومنہ قولھم مکروھات الصلوۃ اھ
بل قال فی الدرالمختار فی فصل الاستنجاء تحت قول الماتن یکرہ للمرأۃ امساك صغیر لبول نحو القبلۃ الخ ھذہ تعم التحریمیۃ والتنزیۃ اھ وقال الشامی فی مکروھات الوضوء لیست الکراھۃ مصروفۃ الی التحریم مطلقا اھوقال قبلہ بقلیل تحت قولہ و مکروہہ ھو ضد المحبوب قد یطلق علی الحرام وعلی المکروہ تحریما وعلی المکروہ تنزیہا ثم نقل عن البحر ان المکروہ فی ھذا الباب نوعان ماکرہ
اس متن میں یہ ہوا کہ کراہت ایك ایسے معنی پر بولی گئی جو تحریم و تنزیہ دونوں کو شامل ہے اور یہ ان کے کلام میں بکثرت ہے اسی باب سے ہے فقہاء کا مکروہات نماز فرمانا انتہیبلکہ درمختار کی فصل استنجا میں مصنف کے اس قول کے نیچے کہ عورت کو مکروہ ہے کہ بچے کو پیشاب کے لئے قبلہ کی طرف بٹھائے الخ یہ فرمایا کہ کراہت تحریم و تنزیہ یہ دونوں کو عام ہے انتہیاور شامی نے مکروہات وضو میں فرمایا کراہت مطلقا تحریم ہی کی طرف نہیں پھیری جاتی انتہیاور اس سے کچھ پہلے جہاں مصنف نے کہا کہ وضو کے مکروہ یہ یہ ہیں یہ فرمایا کہ مکروہ ضد ہے محبوب کیاور وہ کبھی حرام پر بولا جاتا ہے اور کبھی مکروہ تحریمی پر اور کبھی مکروہ تنزیہی پرپھر بحرالرائق سے نقل کیا کہ مکروہ اس باب میں دو قسم ہیں ایك مکروہ تحریمی اور جب (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ھذا المحقق اعنی الشامی فی کتابہ ھذا فی فصل الاستنجاء اذ قال انھم نصوا علی ان المرور فی سکۃ حادثۃ فی المقابر حرام اھ منہ ۱۲منہ۔ "الامر باحترام المقابر ۱۲۹۸ھ"میں اس کی تحقیق کی اور بیشك محقق شامی خود اپنی کتاب کی فصل استنجاء میں اس کے معترف ہوئے کہ فرمایا علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ قبروں میں جو نیا راستہ نکلا ہو اس میں چلنا حرام ہے ۱۲منہ۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجنائز داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۶۰۶
درمختار شرح تنویر الابصار فصل الاستنجاء مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۷
ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۹۰
ردالمحتار کتاب الطہارۃ فصل فی الاستنجا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۲۲۹
#13255 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
تحریما وھو المحمل عند اطلاقھم الکراھۃ والمکروہ تنزیہا وکثیر ا مایطلقونہ کما فی شرح المنیۃ فحینئذ اذا ذکروا مکروہا فلا بد من النظر فی دلیلہ فان کان نھیا ظنیا یحکم بکراھۃ التحریم الا لصارف فان لم یکن نہیا بل مفید اللترك الغیر الجازم نھی تنزیہیۃ اھ ملخصا
قلت: ومن الاخیر قول المتون کالتنویر وغیرہ یکرہ امامۃ عبد فی الدر تنزیہا قال ابن عابدین لقولہ فی الاصل امامۃ غیرہم احب الی بحر عن المجتبی والمعراج اھ اذا علمت ھذا وجب الفحص عن الدلیل انہ الی ای الکراہتین یمیل کما افادہ البحر فی البحر فرأینا ھم یستدلون علی الکراھۃ المذکورۃ بوجھین لایفید شیئ منھما کراھۃ التحریم وانما
وہ کراہت کو مطلق رکھتے ہیں تو اسی پر محمول ہوتی ہےدوسرا مکروہ تنزیہی اور بکثرت اسے بھی مطلق چھوڑتے ہیں جیسا کہ شرح منیہ میں ہے اور جب بات یہ ہے تو جس وقت فقہاء کسی شیئ کو مکروہ کہیں تو اس کی دلیل پر نظر لازم ہوگی اگر وہ دلیل کوئی ظنی نہی ہے تو کراہت تحریم کا حکم دیں گے مگر کسی اور دلیل کے باعث جو اس سے پھیردےاور اگر وہ دلیل نہی نہ ہو بلکہ غیر قطعی ترك چاہتی ہے تو وہ کراہت تنزیہی ہے انتہی ملخصامیں کہتا ہوں شکل اخیر سے ہے متون مثل تنویر وغیرہ کا یہ قول کہ غلام کی امامت مکروہ ہےدرمختار میں فرمایا تنزیہاشامی نے کہا اس کے تنزیہی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اما م نے مبسوط میں فرمایا ان کے غیر کی امامت مجھے زیادہ پسند ہے یہ بحرالرائق میں مجتبی اور معراج سے ہے انتہیجب تجھے یہ معلوم ہولیا تو واجب ہوا کہ دلیل تلاش کریں کہ وہ دونوں کراہتوں میں کس طرف جھکتی ہے جیسا کہ دریائے علم نے بحرالرائق میں افادہ فرمایااب ہم نے علماء کو دیکھا کہ اس کراہت پر دو وجہ سے استدلال کرتے ہیں اور ان میں کوئی بھی کراہت تحریم کا فائدہ نہیں دیتی ان کی نہایت
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۸۹
الدرالمختارشرح تنویر الابصار کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۸۳
الدرالمختارشرح تنویر الابصار کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۸۳
ردالمحتار کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۷۶
#13256 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
قصارھما التنزیہ قال فی العنایۃ الکراھۃ اما لانہ احتیال لسقوط الربا فیصیر کبیع العینۃ فی اخذ الزیادۃ بالحیلۃ واما لانہ یفضی الی ان یالف الناس فیستعملوا ذلك فیما لایجوز اھ ونقل فی الفتح عن الایضاح الوجہ الثانی ثم قال وھکذا ذکر فی المحیط ایضا ثم قال وقیل انما کرھہ لانھما باشراالحیلۃ الی اخر مامر فی الوجہ الاولوصاحب العنایۃ بعد ذکر الوجہین عاد فحصر فی الوجہ الاول حیث قال الکراھۃ انما ھی للاحتیال لسقوط ربا الفضل اھ وعلیہ اقتصر فی الکفایۃ قال انما کرہ لانہ احتیال لسقوط الربالیأ خذ الزیادۃ بالحیلۃ فیکرہ کبیع العینہ فانہ مکروہ لھذا اھ وانت تعلم ان فی الوجہ الثانی ترك مالا بأس بہ حذرا ممابہ باس فھو مقام الورع وترك الورع لا یوجب کراھۃ تحریم وقد قال
صرف کراہت تنزیہ ہے۔عنایہ میں فرمایا کراہت یا تو اس لئے ہے کہ وہ دفع ربا کا حیلہ ہے تو بیع عینہ کے مثل ہوجائے گا کہ حیلہ کرکے زیادہ لیا اور یا اس لئے ہے کہ لوگ اسکے خوگر ہوجائینگے تو پھر ناجائز جگہ بھی ایسی کارروائی کرنے لگیں گے انتہیفتح القدیر میں ایضاح سے وجہ دوم نقل فرمائیپھر فرمایا کہ اسی طرح محیط میں ذکر کیاپھر فرمایا بعض کہتے ہیں اس لئے مکروہ ہوا کہ انہوں نے ایك حیلہ کیا وہی تقریر جو وجہ اول میں گزری اور صاحب عنایہ نے دونوں وجہیں ذکر کرکے بالآخر وجہ اول میں حصر کردیا جہاں کہ فرمایا کراہت صرف اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اس سے زیادت ربا کے دفع کا حیلہ کیا ا نتہیاور اس پر کفایہ میں اقتصار فرمایا کہ وہ صرف اس لئے مکروہ ہے کہ وہ رباساقط کرنے کا حیلہ ہے تاکہ حیلہ سے زیادت حاصل کرے تو مکروہ ہوگا جیسے بیع عینہ کہ وہ بھی اسی سبب سے مکروہ ہے انتہیاور تو جانتا ہے کہ وجہ دوم کا حاصل تو صرف اس قدر ہے کہ خرابی کے ڈر سے اس چیز کو چھوڑے جس میں خرابی نہیں تو یہ مقام ورع کا ہے اور ورع چھوڑنے میں کراہت تحریمی نہیں آتی
حوالہ / References العنایۃ علٰی ہامش فتح القدیر کتاب الصرف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۷۲۔۲۷۱
فتح القدیر کتاب الصرف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۲۷۱
العنایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصرف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۲۷۲
الکفایۃ مع فتح القدیر کتاب الصرف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۲۷۱
#13257 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
یفضی الی ان یالفوہ فیستعملوہ فیما لا یجوز فافاد ان ھذا استعمالہ فیما یجوز انما کرہ خشیۃ التجاوز الی ما لا یجوز واما الوجہ الاول فابین واظہر فان الاحتیال لسقوط الربا فرار عنہ وھو غیر ممنوع بل الممنوع الوقوع فیہ وقد علم علماؤنا رحمھم اللہ تعالی عدۃ حیل لتحصیل الفضل من دون حصول الربا وقد عقد لھا الامام فقیہ النفس قاضی خان فی فتاواہ فصلا مستقلا فقال فصل فیما یکون فرارا عن الربا وقال فیہ رجل لہ علی رجل عشرۃ دراہم فارادان یجعلھا ثلثۃ عشر الی اجل قالوا یشتری من المدیون شیئا بتلك العشرۃ ویقبض المبیع ثم یبیع من المدیون بثلثۃ عشر الی سنۃ فیقع التجوز عن الحرام ومثل ھذا مروی عن رسول اللہ صلی تعالی علیہ وسلم انہ امر بذلك اھومثلہ فی البحر عن الخلاصۃ عن النوازل للامام الفقیہ ابی اللیث رحمۃ اللہ تعالی ثم قال فی الخانیۃ
اور خود فرمایا کہ وہ اس طرف لیجائے گی کہ اسکے عادی ہوجائیں تو ناجائز جگہ بھی اسے برتنے لگیں تو صاف بتادیا کہ یہ کارروائی جائز جگہ پر ہے اور کراہت فقط اس خوف سے ہو ئی کہ بڑھ کرنا جائز تك نہ پہنچ جائیںرہی پہلی وجہ وہ اور بھی زیادہ واضح و روشن ہے کہ رباساقط کرنے کے لئے حیلہ کرنا تو رباسے بھاگنا ہے اور وہ منع نہیں بلکہ ممنوع تو ربا میں پڑنا ہے اور بیشك ہمارے علماء رحمہم اللہ تعالی نے اس کے متعدد حیلے تعلیم فرمائے ہیں کہ زیادہ لیں اور سود نہ ہواور امام فقیہ النفس قاضی خان نے اپنے فتاوی میں اس کےلئے ایك مستقل فصل وضع کیفرمایا کہ یہ فصل ہے ان باتوں کے بیان میں جو سود سے گریز میں ہیں اور اس میں ایك حیلہ یہ بیان فرمایا کہ ایك شخص کے دوسرے پر دس روپے آتے تھے اس نے یہ چاہا کہ میں دس کے تیرہ کرلوں ایك میعاد تکعلماء نے فرمایا کہ وہ مدیون سے ان دس کے عوض کوئی چیز خریدلے اور اس پر قبضہ کرلے پھر وہی چیز اس مدیون کے ہاتھ سال بھر کے وعدہ پر تیرہ روپے کو بیچ ڈالے تو حرام سے بچ جائے گا اور اس کا مثل نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مروی ہوا کہ حضور نے ایسا کرنے کاحکم دیا انتہیاور اسی طرح بحرالرائق میں بحوالہ خلاصہنوازل امام فقیہ ابوللیث رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے ہے۔پھر خانیہ میں(دوسرا حیلہ)یہ فرمایا
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ ۲ /۴۰۶
#13258 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
رجل طلب من رجل دراہم لیقرضہ بدہ دوازدہ فوضع المستقرض متاعا بین یدی المقرض فیقول للمقرض بعت منك ھذا المتاع بمائۃ درہم فیشتری المقرض ویدفع الیہ الدراہم ویأخذ المتاع ثم یقول المستقرض بعنی ھذا المتاع بمائۃ وعشرین فیبیعہ لیحصل للمستقرض مائۃ درہم ویعود الیہ متاعہ ویجب للمقرض علیہ مائۃ وعشرون درھما والاوثق والاحوط ان یقول المستقرض للمقرض بعد ماقرر المعاملۃ کل مقالۃ و شرط کان بیننا فقد ترکتہ ثم یعقدان بیع المتاع اھ ثم قال فان کان المتاع للمقرض ولیس للمستقرض شیئ ویریدان یقرضہ عشرۃ بثلثۃ عشر الی اجل فان المقرض یبیع من المستقرض سلعۃ بثلثۃ عشر ویسلم السلعۃ الی المستقرض ثم ان المستقرض یبیع السلعۃ من اجنبی بعشرۃ
ایك شخص نے دوسرے سے کچھ روپے قرض مانگے اس طور کہ دینے والے کو دس کے بارہ ملیں تو یوں چاہئے کہ قرض لینے والا دینے والے کے سامنے کوئی متاع رکھے اور اس سے کہے میں نے یہ متاع تیرے ہاتھ سو روپے کو بیچی قرض دینے والا خرید لے اور روپے اسے دے دے اور متاع پر قبضہ کر لے پھر قرض لینےوالا اس سے کہے یہ متاع میرے ہاتھ ایك سو بیس روپے کو بیچ ڈال وہ بیع کردے تاکہ قرض لینے والے کو سوروپے مل جائیں اور اس کی متاع بھی اس کے پاس واپس آئے اور قرض دینے والے کے اس پر ایك سو بیس لازم آئیں اور زیادہ اطمینان واحتیاط کی بات یہ ہےکہ قرض لینے والا قرض دینے والے سے معاملہ مذکورہ کی قرار داد کرکے یوں کہہ دے کہ جو کچھ گفتگو اور شرط ہمارے آپس میں ٹھہری تھی وہ میں نے چھوڑدی پھر متاع کی خرید و فروخت کریں انتہی۔
تیسراحیلہ یہ فرمایا کہ وہ متاع بھی قرض دینے والے کی ہو قرض لینے والے کے پاس کوئی متاع بھی نہیں اور دینے والا چاہتا ہے کہ دس روپے قرض دے اور کسی میعاد پر تیرہ روپے اس سے وصول کرے تو قرض دینے والا لینے والے کے ہاتھ کوئی متاع تیرہ روپے کو بیچے اور متاع اس کے قبضہ میں دے دے پھر قرض لینے والا اس متاع کو کسی اجنبی کے ہاتھ دس ۱۰
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ ۲ /۴۰۶
#13259 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ویدفع السلعۃ الی الاجنبی ثم الاجنبیۃ یبیع السلعۃ من المقرض بعشرۃ ویأخذ بعشرۃ منہ ویدفعھا الی المستقرض فیبرأ الاجنبی من الثمن الذی کان علیہ للمستقرض و تصل السلعۃ الی المقرض بعشرۃ و للمقرض علی المستقرض ثلثۃ عشر الی اجل اھ ثم قال وحیلۃ اخری ان یبیع المقرض سلعۃ بثلثۃ عشر الی اجل معلوم و یدفع السلعۃ الی المستقرض ثم یبیعہ المستقرض من الاجنبی ثم ان المستقرض یقیل البیع مع الاجنبی قبل القبض اوبعدہ ثم یبیعھا المستقرض من المقرض بعشرۃ و یاخذ العشرۃ فیحصل للمستقرض عشرۃ وعلیہ للمقرض ثلثۃ عشر وتصل السلعۃ الی المقرض والمقرض وان صار مشتریا ماباع باقل مماباع قبل الثمن الا ان ذلك جائز لتخلل البیع الثانی وھو البیع الذی جری بین المستقرض والاجنبی اھثم قال وحیلۃ اخری ان
روپے کو بیچے اور وہ متاع اس اجنبی کو دے دے وہ اجنبی قرض دینے والے کے ہاتھ دس کو بیچ ڈالے اور وہ اجنبی اس سے دس روپے لے کر قرض لینے والے کو دے دے تو اجنبی پر جو قرض لینے والے کا دین تھا وہ اترجائے گا اور وہ متاع قرض دینے والے کے پاس دس میں پہنچ جائیگی اور قرض لینے والے پر اس کے تیرہ روپے ایك وعدہ پر لازم ہوجائیں گے انتہی۔
چوتھا حیلہ یہ فرمایا کہ قرض دینے والا لینے والے کے ہاتھ کوئی متاع ایك معین وعدہ پر تیرہ روپے کوبیچے او راس کے قبضہ میں دے دے اور قرض لینے والا اسے کسی اجنبی کے ہاتھ بیچے پھر قرض لینے والا اس اجنبی کے ساتھ بیع فسخ کرے خواہ متاع اس کے قبضہ میں دی ہو یا نہ دی ہو پھر قرض لینے والا دینے والے کے ہاتھ اسے دس کو بیچے تو قرض لینے والے کو دس روپے ملیں گے اور دینے والے کے اس پر تیرہ لازم ہوں گے اور متاع دینے والے کے پاس پہنچ جائے گی قرض دینے والے نے اس صورت میں اگرچہ اپنی بیچی ہوئی چیز ادائے ثمن سے پہلے جس قدر کو بیچی تھی اس سے کم کو خرید لی مگر یہاں یہ جائز ہے اس واسطے کہ بیچ میں دوسری بیع آگئی وہ جو قرض لینے والے اور اجنبی میں ہوئی انتہی۔پھر ایك حیلہ یہ فرمایا کہ
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنو ۲ /۴۰۶
فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنو ۲/ ۴۰۷
#13260 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
یبیع المقرض من المستقرض سلعۃ بثمن مؤجل ویدفع السلعۃ الی المستقرض ثم ان المستقرض یبیعھا من غیرہ باقل مما اشتری ثم ذلك الغیر یبیعھا من المقرض بما اشتری لتصل السلعۃ الیہ بعینہا ویأخذ الثمن و یدفعہ الی المستقرض فیصل المستقرض الی القرض ویحصل الربح للمقرض اھاقول:ھذہ ھی الحیلۃ الثالثۃ المارۃ قال "وھذہ الحیلۃ ھی العینۃ التی ذکرھا محمد رحمۃ اللہ تعالی و مشایخ بلخ بیع العینۃ فی زماننا خیر من البیوع التی تجری فی اسواقنا وعن ابی یوسف رحمۃ اللہ تعالی انہ قال العینۃ جائزۃ ماجورۃ وقال اجرہ لمکان الفرار من الحرام اھثم قال رجل لہ عشرۃ دراہم صحاح فاراد ان یبیعھا باثنی عشر درھما مکسرۃ یجوز لانہ ربافان ارادالحیلۃ یستقرض من المشتری اثنی عشرۃ درھما مکسرۃ ثم یقضیہ عشرۃ جیادا ثم ان
قرض دینے والا لینے والے کے ہاتھ کوئی متاع ادھار بیچے اور متاع اس کے قبضہ میں دے دے پھر قرض لینے والا اس متاع کو کسی اور کے ہاتھ اتنے سے کم کو بیچے جتنے کو خرید ی پھر وہ دوسر اشخص اس قرض دینے والے کے ہاتھ اتنے کو بیچے جتنے کو خود خریدی تاکہ وہ متاع بعینہا اسے پہنچ جائے اور اس سے قیمت لے کر قرض لینے والے کو دیدے تو قرض لینے والے کو قرض مل جائے گا اور دینے والے کو نفع حاصل ہوجائیگا انتہیاقول:(میں کہتا ہوں)یہ وہی تیسرا حیلہ ہے جو گزرچکاامام قاضیخان نے فرمایا کہ اس حیلہ کا نام بیع عینہ ہے جس کو امام محمد رحمۃ اللہ تعالی نے ذکر فرمایا اور مشائخ بلخ نے فرمایا کہ بیع عینہ ان بیعوں سے کہ ہمارے بازاروں میں آج کل رائج ہیں بہتر ہے اور امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالی سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا عینہ جائز ہے اور اس پر ثواب ملے گا اور فرمایا ثواب کی وجہ یہ ہے کہ اس میں حرام یعنی سود سے بھاگنا ہے انتہی۔پانچواں حیلہ یہ فرمایا کہ ایك شخص کے پاس دس روپے صحیح ہیں وہ چاہتا ہے کہ ان کو بارہ روپے پھوٹے ہوؤں سے بیچے تو جائز نہیں کہ سود ہے پھر اگر وہ حیلہ چاہے تو یہ چاہئے کہ مشتری سے بارہ روپے پھوٹے ہوئے قرض لے پھر دس کھرے اس کو ادا کرے پھر وہ
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربا نولکشورلکھنؤ ۲ /۴۰۷
#13261 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
المقرض یبرئہ من درھمین فیجوز ذلك اھ ثم قال ولوکان لہ علی رجل عشرۃ دراہم مکسرۃ الی اجل فلما حل الاجل جاء المدیون بتسعۃ صحاح فقال ھذہ التسعۃ بتلك العشرۃ لایجوز لانہ ربا فان اراد الحیلۃ یأخذ التسعۃ بالتسعۃ ویبرئہ عن الدرھم الباقی فان خاف المدیون ان لا یبرئہ عن الدرہم الباقی یدفع الی صاحب الدین تسعۃ دراہم صحاحا وفلسا او شیئا یسیراعوضا من الدرہم الباقی جاز ذلك و یقع الامن اھ وفیہا فوائد لاتخفی علیك و سنمر علیہا فیما یأتی ان شاء اللہ تعالی وکفانا تشبیہہ فی الوجہ الاول ببیع العینۃ وقولھم فانہ مکروہ لہذاو ذلك لانہ لایکرہ الاتنزیھا فکذا ھذاولا یھولنك قول محمد انہ یجدہ مثل الجبل فانہ قال مثلہ بل اشد منہ فی العینۃ وماثبت لھا الاکراھۃ
اسے باقی دو روپے معاف کردے تو یہ جائز ہےچھٹا حیلہ یہ فرمایا اگر کسی شخص پر دس روپے پھوٹے ہوئے ایك وعدہ پر آتے تھے جب وعدہ کا وقت آیا مدیون نو روپے کھرے لایا اور کہا کہ ان دس کے بدلے یہ نو ہیں تو یوں جائز نہیں اس لئے کہ سود ہےتو اگر حیلہ چاہے تو نو کے بدلے نو لے لے اور ایك معاف کردے پھر اگر مدیون کو اندیشہ ہوکہ وہ ایك جو باقی رہا یہ معاف نہ کرے گا تو قرض خواہ کو نوروپے کھرے اور ایك پیسہ یا کوئی اور تھوڑی سی چیز اس باقی روپے کے عوض دے دے تو اب جائز ہوگا اور وہ اندیشہ جاتا رہے گا انتہی اور اس عبارت میں وہ فائدے ہیں جو تجھ پر پوشیدہ نہ رہیں گے اور آئندہ تقریر میں ان شاء اللہ ہم اوپر گزرکریں گے اور ہم کو یہی کافی ہے کہ وجہ اول میں اسے بیع عینہ سے تشبیہ دی اور علماء نے فرمایا وہ بھی اسی وجہ سے مکروہ ہے اور یہ اس لئے کہ بیع عینہ نہیں مگر مکروہ تنزیہیتو ایسے ہی یہ بھی اورامام محمد کا یہ ارشاد کہ وہ ان کے نزدیك پہاڑ کی طرح گراں ہے تجھے ہول میں نہ ڈالے کہ انہوں نے ایسا ہی کہا بلکہ اس سے بھی سخت تربیع عینہ میں فرمایا ہے اوراس کے لئے
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ ۲ /۴۰۷
فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ ۲ /۴۰۷
فتح القدیر کتاب الصرف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۲۷۱
#13262 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
التنزیہ قال فی ردالمحتار عن الطحطاوی عن ابی یوسف العینۃ جائزۃ ماجور من عمل بھا کذا فی مختار الفتاوی ہندیۃ وقال محمد ھذاالبیع فی قلبی کا مثال الجبال ذمیم اخترعہ أکلۃ الربا وقال علیہ الصلوۃ والسلام اذ اتبایعتم بالعین واتبعتم اذناب البقر ذللتم وظہر علیکم عدوکمقال فی الفتح ولا کراھۃ فیہ الاخلاف الاولی لما فیہ من الاعراض من مبرۃ القرض اھ واقرہ علیہ فی البحر والنھر والدر و الشرنبلالیہ و غیرہا وقال ایضا فی فتح القدیر قال ابویوسف لایکرہ ھذا البیع لانہ فعلہ کثیر من الصحابۃ رضی اللہ تعالی عنہم وحمدواعلی ذلك ولم یعدوہ من الربا اھ اقول:قول ابی یوسف فعلہ کثیر من الصحابۃ رضی اللہ تعالی عنہم مرسل اصولی فانہ عندنا مالم یتصل سندہ مطلقا
ثابت نہ ہوئی مگر کراہت تنزیہردالمحتار میں طحطاوی اس میں عالمگیری اس میں مختار الفتوی ا س میں امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی سے ہے کہ عینہ جائز ہے اس کے کرنیوالے کو ثواب ملے گااور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی نے فرمایا اس بیع کی برائی میرے قلب میں پہاڑوں کے برابر ہے اسے سود خوروں نے ایجاد کیااورنبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا جب تم بطور عینہ خریدو فروخت کرو اور بیلوں کی دم کے پیچھے چلو تو ذلیل ہوجاؤگے اور تمہارا دشمن تم پر غالب آجائے گا۔ فتح القدیر میں فرمایا عینہ میں کوئی کراہت نہیں سوا خلاف اولی کےاس لئے کہ اس میں قرض دینے کے اچھے سلوك سے رو گردانی ہے انتہی۔اور اسے بحرالرائق اور نہر الفائق اور درمختار اور شرنبلالیہ وغیرہا نے برقرار رکھا نیز فتح القدیر میں ہے امام ابویوسف نے فرمایا یہ بیع مکروہ نہیں اسلئے کہ بہت سے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے اسے کیا اور اس کی تعریف کی اور اسے سود نہ ٹھہرایا انتہی اقول:(میں کہتا ہوں)امام ابویوسف کا فرمانا کہ اسے بہت سے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے کیااصول فقہ کی اصطلاح پرحدیث مرسل ہے کہ ہمارے نزدیك مرسل ہر اس حدیث کو کہتے ہیں جس
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۴۴
فتح القدیر کتاب الکفالہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴
#13263 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
والفرق بین انواعہ وتسمیتھا مرسلا ومنقطعا و مقطوعا ومعضلا مجرد اصطلاح من المحدثین لافادۃ مایقع فیہ من الصوراما الحکم فمتحد عندنا وھو القبول اذاکان من ثقۃ کما حققناہ فی کتابنا منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین ۱۳۱۳ھ ونص علیہ فی مسلم الثبوت وغیرہ وای ثقۃ او ثق ترید من ابی یوسف فاذاصح عن کثیر من الصحابۃ رضی اللہ تعالی عنہم فعلہ و مدحہ لا یعدل عنہ لان مذہب امامنا رضی اللہ تعالی عنہ تقلید ھم رضی اللہ تعالی عنہم وقد امرنا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم باقتدائھم اما الحدیث اذا اتبایعتم بالعینۃ رواہ احمد و ابوداؤد و البزار وابویعلی و البیہقی عن نافع عن ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما قال ابن حجر سندہ ضعیف ولہ عند احمداسناداخر امثل من ھذا اھ ۔
کی سند متصل نہ ہو اور اس کے اقسام میں فرق کرنا اور ان کے جدا جدا نام مرسل ومنقطع و مقطوع و معضل رکھنا یہ محدثین کی نری اصطلاح ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اس میں کتنی صورتیں ہوتی ہیںرہا حکم وہ ہمارے نزدیك ایك ہے اور وہ یہ ہے کہ ثقہ اگر کوئی حدیث مرسل لائے تو مقبول ہے جیساکہ ہم نے اپنی کتاب منیر العین فی حکم تقبیل الابہا مین میں اس کی تحقیق بیان کی اور مسلم الثبوت وغیرہ میں اس کی تصریح فرمائی اور امام ابویوسف سے بڑھ کر تجھے اور کون ساثقہ درکار ہےتوجب بکثر ت صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے اس کا کرنااور اس کی تعریف ثابت ہوئی تو اس سے عدول نہ ہو گا اس لیے کہ ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہ کا مذہب صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کی تقلید ہے اور بیشك رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ہمیں ان کی پیروی کا حکم دیا رہی وہ حدیث کہ جب تم بطور عینہ خرید و فروخت کروگے اسے امام احمد وابوداؤد و بزار و ابویعلی و بیہقی نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا امام ابن حجر نے فرمایا اس کی سند ضعیف ہے اور امام احمدکے یہاں اس کی ایك سند اور ہے اس سے بہتر انتہی۔
حوالہ / References سنن ابوداؤد باب فی النہی عن العینہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۳۴،مسند احمد بن حنبل مروی از عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۴۲،۸۴
منیران الاعتدال
#13264 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
وفی سند ہ ابوعبدالرحمن الخر اسانی اسحق بن اسید الانصاریقال ابن ابی حاتم لیس بالمشہور وقال ابوحاتم لا یشتغل بہ وقال الذھبی جائز الحدیث ثم اعادہ فی الکنی فعد الحدیث من مناکیرہ وقال فی التقریب فیہ ضعف اھ۔وقد رمز الامام السیوطی فی الجامع الصغیر لحسنہ وجاء من طرق کثیرۃ عقد لھا البیہقی بابافی سننہ وبین عللھا
اقول:وظاہر کلام الفتح ان محمدا احتج بھذا الحدیث فاذا ھو صحیح ولا شك لان المجتہد اذا استدل بحدیث کا ن تصحیحا لہ کما افادہ المحقق حیث اطلق فی التحریر وغیرہ فی غیرہ وعلی کل فلیس فی الحدیث مایدل علی منعہ الاتری الی قولہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم معہ واخذ تم اذناب البقر ای حرثتم
اور ابوداؤد کی سند میں ابوعبدالرحمن خراسانی اسحاق بن اسید انصاری ہیںابن ابی حاتم نے کہا وہ کچھ ایسے مشہور نہیںاور ابوحاتم نے کہا ان سے کام نہ رکھا جائےاور ذہبی نے کہا وہ جائز الحدیث ہیںپھر کنیتوں میں انہیں دو بارہ ذکرکیا اور اس حدیث کو ان کی احادیث منکرہ سے گنا اور تقریب میں فرمایا کہ ان میں ضعف ہے انتہی۔بالجملہ یہ حدیث درجہ حسن سے نازل نہیںاور بیشك امام سیوطی نے جامع صغیر میں اس کے حسن ہونے کی رمز لکھی اور یہ حدیث بہت سندوں سے آئی جن کیلئے بیہقی نےاپنی سنن میں ایك فصل خاص وضع کی اور ان کی علتیں بیان کیںاقول:کلام فتح القدیر سے ظاہر یہ ہے کہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس حدیث کو حجت ٹھہرایا ہے تو اس صورت میں تو وہ ضرور صحیح ہے اس لئے کہ مجتہد جب کسی حدیث سے استدلال کرے تو وہ اس حدیث کی صحت کاحکم ہے جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے تحریر اور ان کے غیر نے غیر میں افادہ فرمایا بہر حال حدیث میں بیع عینہ کی ممانعت پر کوئی دلالت نہیں کیا اس کے ساتھ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اس ارشاد کو نہیں دیکھتے کہ جب تم بیلوں کی دمیں پکڑو
حوالہ / References میزان الاعتدال فی نقد الرجال ترجمہ ۷۳۷ اسحاق بن اسید دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۸۴ و ۴ /۵۴۷
میزان الاعتدال فی نقد الرجال ترجمہ ۱۰۳۷۸ اسحاق بن اسید دارالمعرفۃ بیروت ۴ /۵۴۷
تقریب التہذیب ترجمہ ۳۴۲ اسحاق بن اسید دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۷۹
سنن ابوداؤد کتاب البیوع باب فی النہی عن العینۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۳۴
#13265 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
وزرعتم کما فسرہ بہ فی الفتح قال لانھم حینئذ یترکون الجہاد وتألف النفس الجبن اھ بل ھو فی نفس روایۃ بلفظ اخذتم اذناب البقر ورضیتم بالزرع و ترکتم الجہاد الحدیث و معلوم ان الزرع غیر منھی عنہ بل ھو افضل وجوہ الکسب بعد الجہاد عند الجمہور و قیل التجارۃ ثم الزراعۃ ثم الصناعۃ کما فی وجیز الکردری لاجرم لما احتج فی العنایۃ بالحدیث علی ذمہ قال العلامۃ سعدی افندی اقول: لوصح ذلك تکون الزراعۃ مذمومۃ ایضا اھ ولم یعلل الکراھۃ فی الھدایۃ والتبیین و الدرر وغیرہا الابالاعراض عن مبرۃ الاقراض زاد فی الھدایۃ مطاوعۃ لمذموم البخل ۔وانت تعلم ان الاعراض عن المبرۃ لاتوجب کراھۃ تحریم
یعنی کھیتی کرو زراعت میں پڑوجیسا کہ اس کی یہ تفسیر فتح القدیر میں فرمائیفرمایا اس لئے کہ وہ اس وقت جہاد چھوڑدینگے اور طبیعت نامردی کی عادی ہوجائے گی انتہی بلکہ وہ نفس روایت ابوداؤد میں ان لفظوں سے ہے کہ جب تم بیلوں کی دمیں پکڑو اور کشت کاری میں پڑجاؤ اور جہاد چھوڑ دو آخر حدیث تکاور معلوم ہے کہ کھیتی منع نہیں بلکہ وہ جمہور کے نزدیك جہاد کے بعد سب پیشوں سے افضل ہےاور بعض نے کہا کہ جہاد کے بعد تجارتپھر زراعتپھر حرفتجیسا کہ وجیز کردری میں ہے۔ولہذا جبکہ عنایہ میں اس حدیث سے بیع عینہ کی مذمت پردلیل لائےعلامہ سعدی آفندی نے فرمایا کہ میں کہتا ہوں اگر یہ دلیل صحیح ہوجائے تو زراعت بھی مذموم ہوجائے گی اور ہدایہ و تبیین و درمختار وغیرہا میں ا س کی کراہت کی صرف اتنی دلیل بتائی کہ اس میں قرض دینے کی نیك سلوك سے رو گردانی ہےہدایہ میں اتنا زیادہ فرمایا کہ بخل مذموم کی پیروی کرکےاور تجھے معلوم ہے کہ نیك سلوك سے رو گردانی کچھ کراہت تحریم کی
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴
سنن ابوداؤد کتاب البیوع باب فی النہی عن العینۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۳۴
حاشیہ آفندی ہامش فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴
الہدایہ کتاب الکفالۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۴۔۱۲۳
#13266 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ولذا قال فی الفتح لاباس فی ھذافان الاجل قابلہ قسط من الثمن والقرض غیر واجب علیہ دائما بل ھو مندوب اھ وقال فی العنایۃ الاعراض عن الاقراض لیس بمکروہ والبخل الحاصل من طلب الربح فی التجارات کذالك والالکانت المرابحۃ مکروھۃ اھ اقول: بل لیست التجارۃ الاان تبغوافضلا من ربکم والمماکسۃ فی المبایعۃ مسنونۃوقد قال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم المغبون لامحمود ولا ماجور رواہ اصحاب السنن عن الحسین بن علی والطبرانی فی الکبیر عن الحسن بن علی والخطیب عن سید نا علی کرم اللہ تعالی وجوھھم الکرامفغایۃ مافیہ کراھۃ التنزیہ والا فقد صح ان الصحابۃ فعلوہ وحمدوہ و فی حاشیۃ الفاضل عبد الحلیم معاصر العلامۃ الشرنبلالی رحمہما اللہ تعالی علی الدرر والمروی عن ابی یوسف انہ قال العینۃ جائزۃ مأجورۃ لمکان الفرار فیہا عن الحرام و
موجب نہیںلہذافتح القدیر میں فرمایا اس میں کچھ حرج نہیں کہ وعدہ کے مقابل تو ثمن کا ایك حصہ ہولیا اور آدمی پر واجب نہیں کہ ہمیشہ قرض دیا کرے بلکہ وہ ایك نیك بات ہے انتہی اور عنایہ میں فرمایا قرض دینے سے رو گردانی مکروہ نہیں اور اتنا بخل کہ آدمی تجارتوں میں نفع چاہے وہ بھی ایسا ہی ہے ورنہ نفع پر بیچنا مکروہ ہوتا انتہیاقول:بلکہ تجارت تو اسی کا نام ہے کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور خرید و فروخت میں قیمت کم کرانا سنت ہےاور بیشك نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ غبن کھانے میں نہ ماموری نہ ثوابیہ حدیث اصحاب سنن نے امام حسین اور طبرانی نے اپنی معجم میں امام حسن اور خطیب نے مولی علی کرم اللہ تعالی وجوھہم الکرام سے روایت کی تو اس میں انتہا درجہ کراہت تنزیہ ہے ورنہ بصحت ثابت ہولیا کہ صحابہ کرام نے اسے کیا اور تعریف فرمائی اور علامہ عبدالحلیم معاصر علامہ شرنبلالی رحمہما اللہ تعالی حاشیہ درر میں لکھتے ہیں امام ابویوسف سے روایت یوں ہے کہ بیع عینہ جائز اور ثواب کاکام ہے اس لئے کہ اس میں حرام سے بھاگنا ہے اور حرام
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴
العنایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۳
المعجم الکبیر للطبرانی حدیث ۲۷۳۲ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۳ /۸۳
#13267 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
الاحتیال للفرار عن الحرام مندوب ولانہ فعلہ کثیر من الصحابۃ و حمدواذلك اھوظاھر سیاقہ ان جملۃ ''والاحتیال للفرار عن الحرام مندوب'' من کلام الامام ابی یوسف رحمۃ اللہ تعالی واللہ تعالی اعلمھذا احدالدلائل علیہ والثانی:تصریحھم قاطبۃ ان القدر والجنس اذاعدم احدھما حل الفضل و معلوم قطعا ان الدینار والدرھم او الدینار و الفلس لایتجانسان فیجب الحل فمن این تأتی کراھۃ التحریموتحقیقہ ان للتفاضل اربع صور ۱الاول: ان یکون الاکثر مالیۃ ھو الاکثر قدرا و۲الثانی: ان یکون اقل ولکن مالیۃ بعد زائدۃ بل اضعاف مضاعفۃ کالجنیۃ مع الربیۃ و۳الثالث: ان یکون اقل الی حد تنقص مالیتہ ایضا البدل و۴الرابع: ان یقل الی ان یتساوی المالیتان وھم قاطبۃ قالوا عند اختلاف الجنس حل التفاضل ولم یقیدوہ بشیئ من الصور اصلا فیعمہا جمیعا ولو کانت ثم کراھۃ تحریم لم تحل الاصورۃ واحدۃ من الاربع وھی الرابعۃ ثم ھنا وجہ اخران یکون جنسان متحدی المالیۃ عند اتحاد القدر و ھم قد حکموا بحل التفاضل
سے بھاگنے کا حیلہ کرنا مستحب ہے اور اس لئے کہ بکثرت صحابہ نے اسے کیا اور اس کی تعریف فرمائی انتہیاور ان کی روشن عبارت سے ظاہر یہ ہے کہ یہ جملہ بھی امام ابویوسف کا کلام ہے کہ حرام سے بھاگنے کا حیلہ کرنا مستحب ہے واللہ تعالی اعلمیہ صورت مذکورہ کے مکروہ تحریمی نہ ہونے کی ایك دلیل ہےدلیل دوم:تمام علماء کی تصریح ہے کہ جب قدر یا جنس میں کوئی معدوم ہو تو زیادتی حلال ہے اور یقینا معلوم ہے کہ اشرفی اور روپیہ یا اشرفی اور پیسہ ایك جنس نہیں تو حلال ہونا واجب ہوا تو کراہت تحریمی کدھر سے آئیگیاور تحقیق یہ ہےکہ زیادتی کی چار صورتیں ہیں:اول: یہ کہ جس کی مالیت زیادہ ہو اسی کی مقدار زیادہ ہو۔دوسری: یہ کہ اسکی مقدار تو کم ہو مگر مالیت اب بھی زیادہ بلکہ کئی گنا بڑھ کرجیسے روپے کے ساتھ اشرفی۔تیسری: یہ کہ مقدار میں اتنی کم ہو کہ اس کی مالیت بھی اس کے مقابل سے گھٹ جائےچوتھی:یہ کہ اسکی مقدار اس حد تك کم ہو کہ دونوں مالیت میں برابر ہوجائیںاور تمام علماء نے اتنا ہی فرمایا ہے کہ جب جنس مختلف ہو تو کمی بیشی جائز ہے اور اسے کسی خاص صور ت کے ساتھ مقید نہ کیا تو چاروں صورتوں کو شامل ہوگا اور اگر وہاں کراہت تحریمی ہوتی تو چاروں صورتوں میں سے صرف ایك حلال ہوتی اور وہ چوتھی صورت ہے پھر یہاں ایك صورت اور ہے وہ یہ کہ دو جنس کی چیزیں مقدار میں برابر ہوں تو ان کی مالیت بھی یکساں ہو اور علماء نے کمی بیشی
حوالہ / References حاشیۃ الدرر لعبد الحلیم کتاب البیوع
#13268 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
وھو یستلزم التفاضل فی المالیۃ فوجب حلہو۳الثالث: قولہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اذا اختلف النوعان فبیعواکیف شئتم فمن ذالذی یعدہ معصیۃ و مکروھا تحریما مع اذن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فیہ و۴الرابع ماقدمنا انفا عن الخانیۃ انہ یدفع فلسا عوضا عن الدرہم فیجوز ذلك ویقع الامن ای امن بعد حصول المعصیۃو۵الخامس: لیس التفاضل بین درہم اودینار او فلس ودینار مثلا الابالمالیۃ فان کان ذلك موجبا لکراھۃ التحریم لانہ حصل لاحد العاقدین اکثر واربح مما حصل لاخر فاربی ھذا علیہ یجب ان یکون مساواۃ الجید والردی وزنا مکروھا تحریما اذااربی الجید علی الرد بمالایتغابن فیہ الناس کأن تکون مالیتہ ضعف مالیتہ او اضعافھا لان موجبھا المذکور حاصل ھھنا ایضا قطعاوالشیئ لایتخلف عن موجبہ مع ان المساواۃ ھو المامور بہ شرعا وکذلك مازاد بالصناعۃ حتی صارت
حلال ہونے کا حکم فرمایا اور وہ اس صورت میں مالیت کی کمی بیشی کو مستلزم ہے تو اس کا حلال ہونا واجب ہوادلیل سوم:نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد کہ جب جنس مختلف ہو تو جیسے چاہو بیچو تو وہ کون ہے جو اسے گناہ اور مکروہ تحریمی بتائے گا حالانکہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس کی اجازت فرماچکے۔دلیل چہارم وہ جو ابھی ہم فتاوی قاضی خان سے بیان کرآئے کہ روپے کے بدلے ایك پیسہ دے دے تو یہ جائز ہوجائے گا اور امان حاصل ہوگی اور گناہ ہونے کے بعد کون سی امان ہے۔دلیل پنجم:مثلا اشرفی اور روپے یا پیسہ اور اشرفی میں کمی بیشی نہیں مگر مالیت کیتو اگر اس سے کراہت تحریم لازم ہوتی اس بناء پر کہ دونوں عاقدوں میں سے ایك نے وہ پایا جو مالیت اور نفع میں زائد ہے تو اس کو اس پر زیادتی رہی تو واجب ہوگا کھرے اور کھوٹے کا وزن میں برابر ہونا مکروہ تحریمی ہو جبکہ کھرے کی قیمت کھوٹے سے اتنی زیادہ ہو جس میں لوگ ایك دوسرے سے غبن نہ کھائیں جیسے اس کی مالیت اس کی مالیت سے دونی یا کئی گناہو اس لئے کہ کراہت تحریم کاوہ موجب یہاں بھی یقینا حاصل ہے اور حکم اپنے موجب سے پیچھے نہیں ہٹتا حالانکہ کھوٹے کھرے کا وزن میں برابر ہونا اسی کا شرع نے حکم دیا ہے اور ایسے ہی وہ جو
حوالہ / References نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ کتاب البیوع المکتبۃ الاسلامیۃ لصاحبہا الحاج ریاض الشیخ ۴/۴
#13269 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
قیمتہ اضعاف قیمۃ مایساویہ وزنا من التبراو الدراہم یکون التساوی فیہ موجب لما او جبتم بہ کراھۃ التحریم مع انہ ھو الواجب شرعا فاذن یکون الشرع قد اوجب ماھو معصیۃ فان المکروہ تحریما منھی عنہ وارتکابہ اثم و معصیۃ وان کانت صغیرۃ کما نص علیہ فی البحر والدروغیرہما وبالاعتاد یصیر کبیرۃ ولا شك ان الشرع متعال عن ان یامر بمعصیۃ و یوجب ارتکاب اثم بخلاف المکروہ تنزیہا فانہ من المباح ولیس من المعصیۃ قطعا و ربما یتعمدہ الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام بیانا للجواز وقد زلت قدم ذاك اللکنوی فی رسالتہ فی الدخان فجعل المکروہ تنزیہا من المعاصی والاصرار علیہ من الکبائر وھذہ مزلۃ فاحشۃ بینت عوارھا فی رسالۃ مستقلۃ سمیتھا"جمل مجلیۃ ان المکروہ تنزیہا لیس بمعصیۃ ۱۳۰ھ"والاعتذار بان الشرع اھدر اعتبار المالیۃ عند اتحاد الجنس لایجدی نفعا فان ذلك اول الکلام ان لوکان الاربا فی المالیۃ موجب المعصیۃ فی نظر الشرع فلم اھدر اعتبارھا مع مافیہ من ابطال مقصد نفسہ اعنی الشرع وھو صیانۃ اموال
صناعی کے سبب بڑھائے یہاں تك کہ اسکی قیمت اس کے ہم وزن پتر یا روپوں سے کئی گنا ہوجائے تو اس میں وزن کی برابری اسی کراہت تحریم کی موجب ہوگی جو تم نے قراردی ہے حالانکہ وہی شرعا واجب ہے تو اس وقت یہ ہوگا کہ شرع نے وہ چیز واجب کی جو گناہ ہے اس لئے کہ مکروہ تحریمی ممنوع ہے اور اس کا کرنا گناہ اگرچہ صغیرہ ہے جیسا کہ بحرالرائق و درمختار وغیرہما نے تصریح کی اور عادت ڈالے سے کبیرہ ہوجائے گااور شك نہیں کہ شرع اس سے بلند وبالا ہے کہ معصیت کا حکم دے اور گناہ کرنا واجب کرے بخلاف مکروہ تنزیہی کے کہ وہ مباح میں سے ہے اور معصیت میں سے یقینا نہیںکبھی انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اسے قصدا کرتے ہیں کہ اس کا جائز ہونا ظاہر ہوجائے اور انہیں لکھنوی کا حقہ کے رسالہ میں قدم پھسلا تو مکروہ تنزیہی کو گناہ اور اس پر اصرار کو کبیرہ ٹھہرادیا اور یہ فاحش غلطی ہے کہ اس کا عیب میں نے ایك مستقل رسالہ میں بیان کیا اس کا نام "جمل مجلیۃ ان المکروہ تنزیہا لیس بمعصیۃ ۱۳۰۴ھ"رکھا اور یہ عذر کرناکہ ایك جنس ہونے کی حالت میں شرع نے مالیت کا اعتبار ساقط فرمادیا ہے کچھ نفع نہ دے گا اس لئے کہ یہی تو پہلی بحث ہے کہ اگر شرع کی نظر میں مالیت کی زیادتی موجب معصیت تھی تو کیوں اس کا اعتبار ساقط فرما دیا حالانکہ اس میں خود مقصود شرع کا باطل کرنا تھا مقصود کیا ہے لوگوں کا
#13270 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
الناس وانما الاموال بالمالیۃ وفیہ ایصال اکلۃ الربا الی قصدھم الفاسد فان غرضم انما یتعلق بالمالیۃ فاذااربوا فیہا فقد فاز وابمرادھم ولا نظر لھم الی زیادۃ الوزن وقلتہ فتبین ان الاربا فی المالیۃ لانظر الیہ للشرع ولایمکن ان یوجب کراھۃ تحریم اصلا وھو المقصودو۶السادس:طفحت المتون قاطبۃ بجواز بیع فلس بفلسین وقال فی البحر لیس مرادھم خصوص بیع الفلس بالفلسین بل بیان حل التفاضل حتی لوباع فلسا بمائۃ علی التعیین جاز عندھما ای عند الشیخین رضی اللہ تعالی عنہما وای نص ترید انص من ھذا علی حل التفاضل بالمالیۃ والحمدﷲنعم الحل قد یجامع کراھۃ التنزیہ کما نصواعلیہ ۷السابع: العینۃ المذکورۃ فانما مبناھا علی التفاضل فی المالیۃ ولا یتقید بنحوعشرۃ باثنی عشر او ثلثۃ عشر کما فی الخانیۃ او خمسۃ عشر کما فی الفتح بل صورت بصورت الضعف ایضا قال فی الفتح من
مال بچانا اورمال کی حقیقت مالیت ہی ہے اور اس میں سود خوروں کو ان کے قصد فاسد تك پہنچانا ہوگا کہ ان کی غرض تو مالیت ہی سے متعلق ہے جب انہوں نے مالیت زیادہ پالی تو اپنی مراد کو پہنچے اور وزن کی کمی بیشی کی طرف ان کی نظر نہیں تو ظاہر ہوگیا کہ مالیت میں زیادتی کی طرف شرع اصلا نظر نہیں فرماتی تو ممکن نہیں کہ اصلا کراہت تحریم واجب کرے اور یہی مقصود ہے۔دلیل ششم:تمام متون بالاتفاق اس تصریح سے لبریز ہیں کہ ایك پیسہ دو پیسے کو بیچنا جائز ہے اور بحرالرائق میں فرمایا کہ ان کی مراد خاص یہی نہیں ہے کہ ایك پیسہ دو پیسے کو بلکہ کمی بیشی حلال ہونے کا بیان مقصود ہے یہاں تك کہ اگر ایك پیسہ سو معین پیسے کو بیچے تو امام اعظم اور امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیك حلال ہے اور اس سے بڑھ کر تو اس پر اور کون سا روشن تر نص چاہتا ہے کہ مالیت میں کمی بیشی روا ہے والحمد ﷲہاں حلال ہونا کبھی کراہت تنزیہ کے ساتھ جمع ہوجاتا ہے جیساکہ علماء نے تصریح فرمائی۔دلیل ہفتم: عینہ مذکورہ کہ اسکی بناء ہی مالیت میں کمی بیشی پر ہےاور وہ کچھ اسی پر بند نہیں کہ دس کے بارہ یا تیرہ کریں جیسا کہ فتاوی قاضیخان میں ہے یا پندرہ جیسا کہ فتح القدیر میں بلکہ دو نادون کی صورت بھی اس میں بیان کی گئی ہےفتح القدیر میں فرمایا کہ عینہ کی ایك صورت
حوالہ / References بحرالرائق باب الربا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۳۲
#13271 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
صور العینۃ ان یبیع متاعہ بالفین من المستقرض الی اجل ثم یبعث متوسطا یشتریہ لنفسہ بالف حالۃ ویقبضہ ثم یبیعہ من البائع الاول بالف ثم یحیل المتوسط بائعہ علی البائع الاول بالثمن الذی علیہ وھو الف حالۃ فید فعھا الی المستقرض ویأخذ منہ الفین عند الحلول اھ واذجاز ضعف جازت الاضعافاقول:ولا یلزم المتوسط بل لہ ان یبیعہ من المستقرض بالفین یبیعہ المستقرض فی السوق بالف کیلا تعود العین الی المقرض فیکون مکروہا تحریما فی بحث المحقق وان کان فیہ للکلام مجال فان شراء ماباع باقل مما باع جائز عند توسط ثالث بالاجماع ولم یذکروا فیہ تأثیما وقد تقدم عن فقیہ النفس فی حیل الفرار عن الحرام وانی تتم الحیلۃ مع بقاء المعصیۃ لاجرم قال العلامۃ عبد الحلیم فی حواشی الدرر الظاہر کراھۃ تنزیہ سواء
یہ ہے کہ اپنی متاع قرض لینے والے کے ہاتھ ایك وعدپر دو ہزار کو بیچے پھر کسی درمیانی شخص کو بھیجے کہ وہ اس سے اپنے لئے ہزار نقد کو خرید کر قبضہ کرلے پھر یہ درمیانی شخص پہلے شخص سے اسے ہزار کو بیچ ڈالے پھر وہ درمیانی اپنے بائع یعنی قرض لینے والے کا ثمن پہلے بائع پر اتار دے اور وہ ہزار روپے نقد ہیں تو پہلا بائع ہزار روپے قرض لینے والے کو دے دے اور وعدہ پر دو ہزار اس سے لے انتہیاور جب دو نا جائز ہوا تو کئی گنا بھی جائز ہےاقول:(میں کہتا ہوں)اس درمیانی شخص کا ہونا ضرور نہیں بلکہ یہ بھی کرسکتاہے کہ قرض لینے والے سے(ہزار کی چیز)دو ہزار کو بیچے وہ بازار میں ہزار کو بیچ لے تاکہ وہ متاع قرض دینے والے کی طرف عود نہ کرے کہ عود کرنے کی حالت میں محقق کے نزدیك مکروہ تحریمی ہوجائے گیاگرچہ اس میں کلام کی گنجائش ہے کہ اپنی بیچی ہوئی چیز جتنے کو بیچی ہے اس سے کم کو خریدنا بالاجماع جائز ہے جبکہ تیسرا شخص متوسط ہے اور علماء نے اس میں کوئی گناہ تحریر نہیں فرمایا اور امام فقیہ النفس قاضی خان سے یہ امر اوپر گزر چکا جہاں انہوں نے حرام سے بھاگنے کے حیلے بیان فرمائے اور اگر معصیت باقی رہے تو حیلہ کہاں پورا ہولاجرم علامہ عبدالحلیم نے حواشی درر میں فرمایا ظاہر یہ ہے کہ کراہت تنزیہی ہے چاہے
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۶ /۳۲۴
#13272 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
کان فی صورۃ عود کل المدفوع او بعضہ الی الدافع اولا تدبرو۸الثامن:شرطوا الجواز شراء الوصی مال الیتیم لنفسہ او بیعہ مال نفسہ لہ الخیریۃ للیتیم و جعلوھا فی العقار بالضعف وفی غیرہا بمثل ونصف کما فی الخانیۃ والھندیہ وشرطوا الجواز بیعہ مال الیتیم من اجنبی ان لم تکن للصغیرہ حاجۃ الی ثمنہ ولا علی المیت دین لاوفاء لہ الابہ ان یبیعہ بضعف القیمۃ قال فی الھندیۃ عن محیط السرخسی وعلیہ الفتوی فھذا تفاضل فی المالیۃ مأ موربہ من جہۃ الشرعو۹التاسع: ماتقدم عن الفتح وغیرہ من المعتمدات من قولہ لو باع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ و۱۰العاشر:فی باب الربا من ردالمحتار عن الذخیرۃ اذادفع الحنطۃ الی خباز جملۃ واخذ الخبز مفر قا ینبغی ان یبیع صاحب الحنطۃ خاتما او سکینا من الخباز بالف من من
جو متاع دی وہ پوری دینے والے کی طرف عود کرآئے یا اس کا حصہ یا کچھ نہیںتدبردلیل ہشم:وصی اگر یتیم کامال خود خریدنا یا اپنا مال اس کے ہاتھ بیچنا چاہے تو اس کے جواز کے لئے علماء نے یہ شرط فرمائی ہے کہ اس خریدو فروخت میں یتیم کا نفع ہو اور اس نفع کی مقدار جائداد غیر منقولہ میں دو چند رکھی اور منقولہ میں ڈیوڑھیجیساکہ فتاوی قاضی خان اور فتاوی عالمگیری میں ہے اور وصی اگر یتیم کا مال کسی دوسرے کے ہاتھ میں بیچنا چاہے اور نابالغ کو اس کی قیمت کی ضرورت نہ ہو اور نہ مورث پر کوئی دین ہو کہ بغیر اس کے بیچے پورا نہ ہو تو اس صورت میں جواز بیع کی یہ شرط لگائی کہ دونی قیمت پر بیچےہندیہ میں محیط سرخسی سے نقل کیا کہ اسی پر فتوی ہے تو مالیت کی اس کمی بیشی کا خود شرع کی طرف سے حکم ہےدلیل نہم:وہ جو فتح القدیر وغیرہ معتمد کتابوں سے گزرا کہ اگر ایك کاغذ ہزار روپے کو بیچا تو جائز ہے اور مکروہ نہیں ___دلیل دہم:ردالمحتار کے باب ربا میں ذخیرہ سے ہے جب نانبائی کو گیہوں اکٹھے دے دئے اور روٹی تھوڑی تھوڑی کرکے لی تو یوں چاہئے کہ گیہوں والانانبائی کے ہاتھ ایك انگوٹھی یا چاقو مثلا ہزار من روٹی
حوالہ / References حاشیۃ الدرر لعبد الحلیم
فتاوٰی ہندیہ الباب السابع عشر فی بیع الاب الوصی الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۷۶
فتاوٰی ہندیہ الباب السابع عشر فی بیع الاب الوصی الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۷۶
فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴
#13273 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
الخبز مثلا الخ واین یقع سکین من الف من من الخبز ونظائر ھذ الوسرد نا ھالم نستطع احصاء ھا و انما تنزلنا بعد السادس الی ھنا لان کلامھم فی المضموم الاقل مطلق من ان یکون من الاثمان او الاعیان ومن الاموال الربویۃ او من غیرہا فھذا غایۃ تحقیق المسألۃاما کلام الشیخ عبدالحلیم فاقول: اولا: لیس الوجوب للاحتیاط وجوب الشیئ فی نفسہ ولا شك ان ترك مالابأس بہ حذرامما بہ باس من قبیل الاحتیاط فی الدین ولا یحصل ذلك الا بماذکر فکان من واجباتہ اذ الواجب للشیئ ھو الذی لا تحصل لہ الابہ وثانیا: ربما یطلق الواجب عرفا علی المندوب ومنہ قول الدر لاباس بہ ای بالتکبیر عقب العید لان المسلمین توارثوہ فوجب اتباعھم اھ ونظرلہ الشامی فی موضع اخر بقولھم حقك واجب علی وفی کتاب
کو بیچے الخ اور بھلا کہاں چاقو اور کہاں ہزار من روٹی اور اس کے نظائر اگر ہم بیان کرتے جائیں تو ان کا احاطہ نہ کرسکیں گے اور دلیل ششم کے بعد جو ہم یہاں تك اتر آئے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جو علماء نے فرمایا تھا کہ جس جانب وزن کی کمی ہے کوئی چیز ملادی جائے وہ ان کے کلام میں مطلق ہے خواہ ثمن ہو یا متاع اور اموال ربا سے ہویا نہیں تو یہ تحقیق مسئلہ کی انتہا ہےرہا فاضل عبدالحلیم رومی کا کلام اقول:اولا:حصول احتیاط کیلئے کسی شیئ کا وجوب اس کا فی نفسہ وجوب نہیں اور شك نہیں کہ خرابی کے ڈر سے جس چیز میں خرابی نہیں اسے چھوڑنا دین میں احتیاط کے قبیل سے ہے اور یہ اسی طور پر حاصل ہوگا جو انہوں نے ذکر کیا احتیاط کے واجبات سے ہو اکہ کسی شے کے لئے واجب وہی ہے جس کے بغیر شے حاصل نہ ہوثانیا: اکثر عرف میں مستحب کو واجب کہتے ہیں اوراسی میں سے ہے درمختار کا یہ قول کہ نماز عید کے بعد تکبیر کہنے میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ یہ مسلمانوں میں سلف سے چلا آتا ہے تو ان کی پیروی واجب ہوئی انتہیاور شامی نے دوسری جگہ اس کی ایك نظیر یہ بیان کی کہ عر ف میں کہتے ہیں تیرا حق مجھ پر واجب ہے اور
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع باب الربا داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۸۶
درمختار باب العیدین مجتبائی دہلی ۱ /۱۱۷
#13274 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ادب القاضی من الفتح تحت قولہ" ویشھد(ای القاضی) الجنازۃ ویعود المریض"ذکر حدیث البخاری فی الادب المفرد عن ابی ایوب الانصاری رضی اللہ تعالی عنہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یقول ان للمسلم علی اخیہ ست خصال واجبۃ ان ترك شیئا منھا فقد ترك حقا واجبا علیہ لاخیہ یسلم علیہ اذا لقیہ ویجبیہ اذا دعاہ ویشمتہ اذاعطس ویعودہ اذامرض ویحضرہ اذا مات وینصحہ اذا استنصحہ ثم قال ولا بدمن حمل الوجوب فیہ علی الاعم من الوجوب فی اصطلاح الفقہ الحادث فان ظاہرہ وجوب الابتداء بالسلام وکون الوجوب وجوب عین فی الجنازۃ فالمراد بہ امر ثابت علیہ اعم من ان یکون ندبا او وجوبا بالاصطلاح اھ ولا بدمن الحمل علیہ لما اقمنا من الادلۃ وان ابیت الاحملہ علی ظاہرہ فھذا فھم من الشیخ عبدالحلیم لم یستند فیہ
فتح القدیر کی کتاب ادب القاضی میں اس قول ماتن کے نیچے کہ قاضی جنازہ پر حاضر ہو اور بیمار کے پوچھنے کو جائے ادب المفرد میں بخاری کی یہ حدیث ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سے ذکر کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو فرماتے سنا مسلمان کے مسلمان پر چھ حق واجب ہیں اگر ان میں سے کوئی چیز ترك کرے تو اپنے بھائی کا ایك حق چھوڑیگا جو اس کے لئے اس پر واجب تھاملاقات کے وقت اسے سلام کرےاور وہ دعوت کرے تو قبول کرے یا وہ پکارے تو جواب دے اورجب اسے چھینك آئے(اور وہ حمدالہی بجالائے)تو یہ اسے"یر حمك اللہ"کہےاور بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جائےاور اس کی موت میں حاضر ہواور اگر اس سےنصیحت چاہے تو نصیحت کرے۔پھر محقق نے فرمایا ضرور ہے اس حدیث میں وجوب کو ایسے معنی پر حمل کریں جو وجوب کے اس معنی سے کہ فقہ کی اصطلاح حادث میں ہے عام ہو اصل کہ ظاہر حدیث یہ ہے کہ ابتداء بہ سلام واجب ہو اور نماز جنازہ فرض عین ہو تو حدیث کی مراد یہ ہے کہ یہ حقوق مسلمان پر ثابت ہیں خواہ مستحب ہوں یا واجب فقہی انتہیاور عبارت عبدالحلیم میں یہ معنی وجوب لینا ضرور ہے بسبب ان دلیلوں کے جو ہم قائم کرچکے اور تو اسے ظاہر پر محمول کئے بغیر نہ مانے تو یہ شیخ عبدالحلیم
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الادب القاضی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۷۳
#13275 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
لنقل وفہمہ غیر حجۃ فی الشرع لاسیما عند قیام البراھین علی خلافہوثالثا: ان لم یحمل علی ما قلنا یکون کلامہ قد ناقض نفسہ لانہ ذکر بعد ھذا بورقۃ واقعۃتحدث فی الدولۃ العثمانیۃ من تبدیل الدراہم العتیقۃ المغشوشۃ الغالبۃ فیہا الفضۃ بدراہم جدیدۃ جیدۃ و یمنع بظہور ھا التعامل بالعتیقۃ و من ردائۃ العتیقۃ ان الدرہم الکبیر الرومی وھو المسمی بالقرش یکون بمائۃ وعشرین درھما منھا والدینار بمائتین واربعین فاذا ظھرت الجدیدۃ ینزل القرش الی ثمانین من الجدیدۃ والدینار الی مائۃ وعشرین فیقع بین الناس نزاع کثیر فی دیونھم الواقعۃ فی زمن العتیقۃ قال فافتی اسلافنا من ساداتنا علماء قسطنطنیۃ المحمیۃ بتنزیل ثلث الدین فبمقابلۃ دین مائۃ وعشرین درھما یعطی المدیون الدائن ثمانین درھما جدیدا او قرشا واحدا وبمقابلۃ مأتین واربعین دینارا او قرشین الی ان جاء زمن افتاء استاذنا المرحوم اسعد بن سعد الدین فافتی بان یعطی قیمۃ العتیقۃ فی زمن العقدمن الدینار مثلا لکل
کی اپنی ایك سمجھ ہے جس پر انہوں نے کوئی نقلی سند پیش نہ کی اور ان کی فہم شرع میں حجت نہیں خصوصا جبکہ اس کے خلاف پر دلائل قائم ہوں۔ثالثا: اگر اس معنی پر محمول نہ کیا جائے تو ان کا کلام خود اپنے نفس کا مناقض ہوگااس لئے کہ انہوں نے اس کلام سے ایك ورق بعد دولت عثمانیہ کا ایك واقعہ بیان کیا ہےپرانے روپے جن میں میل ہے اور چاندی غالب ہوتی ہے انہیں نئے کھرے روپے سے بدلتے ہیں اور ان نیؤں کے بعد پرانوں سے معاملہ کرنا منع کردیا جاتا ہے اور پرانوں کا کھوٹا پن یہاں تك ہے کہ ایك بڑا روپیہ رومی جسے قرش کہتے ہیں ان پرانوں کے ایك سو بیس کے برابر ہوتاہے اور اشرفی دو سو چالیس کے برابرجب نئے روپے چل جاتے ہیں تو قرش کی قیمت ان نیؤں سے اسی روپے رہ جاتی ہے اور اشرفی ایك سو بیس کیتو لوگوں کا وہ لین دین جو پرانے روپیوں کے زمانے میں ہوا تھا اس میں بڑا جھگڑا پڑجاتا ہے تو علمائے محرسہ قسطنطنیہ سے ہمارے اگلوں سرداروں سے یہ فتوی دیا کہ تہائی دین اتاردیںتو ایك سو بیس پرانے روپے کی جگہ مدیون دائن کو نئے اسی روپے یا ایك قرش دے اور دو سو چالیس پرانے روپے کی جگہ ایك اشرفی یا دو قرش یہاں تك ہمارے استاذ مرحوم اسعد بن سعد الدین کے افتا کا وقت آیا تو انہوں نے یہ فتوی دیا کہ زمانہ عقد میں پرانے روپیوں کی جو قیمت تھی اتنی قیمت کی اشرفیاں دی جائیں مثلا ہر
#13276 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
مائتین واربعین درھما یعطی دینارا ولم یجوز اعطاہ درھما جیداولا قرشا و صرح بان فی المسلك السابق حقیقۃ الربا او شبھتہ ثم قال یقول العبد ان ما افتی بہ اولاصحیح ایضا مع ان فیہ یسراوتوسیع دائرۃ لاداء الدین اما صحتہ فان الدراہم العتیقۃ لما کانت رائجۃ کما یروج القرش والدینار من غیر فرق بینھن تقرر ان دین المدیون استقر فی ذمتہ علی ھذاالتفصیل وصرف الدین الی ماقدربہ فی الاداء من کل نوع ای نوع کان من العتیقۃ و القرش والدینار کماصرح الفقہاء بھذا فی صورۃ استواء رواج الاحادی و الثنائی والثلاثی فاذا منع تعاطی العتیقۃو القرش والدینار کما صرح الفقھاء بھذا فی صورۃ استواء رواج الاحادی والثنائی والثلاثی فاذا منع تعاطی العتیقۃ وظہر الجدیدۃ ورخص القرش و الدینار بالتنزیل الی ما سبق ذکرہ نزل الدین کذلك و فیہ توسیع دائرۃ ویسر تام اذ یؤدی المدیون من ای نوع قدر بخلاف ما افتی بہ ثانیا اذقد لایکون للمدیون دینار وقد لایجد وقد یکون الدین او الباقی غیر بالغ الی قیمۃ الدینار فیعسر الاداء مع
دو سو چالیس روپے کے بدلے ایك اشرفی دے اور یہ جائز نہ رکھا کہ اسے نیا روپیہ یا قرش دے اور تصریح فرمائی کہ اگلے مسئلہ میں یا تو حقیقۃ سود ہے یا اس کا شبہہ۔پھر شیخ عبدالحلیم نے کہا کہ وہ جو پہلوں نے فتوی دیا وہ بھی صحیح ہے اور اس کے ساتھ اس میں آسانی ہے اور ادائے دین کے دائرہ میں وسعتاس کی صحت تو اس سبب سے ہے کہ پرانے روپوں کا جب بعینہ ایسا ہی چلن تھا جیسے اشرفی اور قرش کاتوثابت ہوا کہ مدیون پر دین اسی تفصیل سے ٹھہرااور دین کاحاصل اس طرف پھیرے گا کہ اتنی مقدار کا مال لازم ہے کسی نوع میں سے ہوپرانے روپے ہوں یا قرش یا اشرفی جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصریح فرمائی ہے جب کہ مختلف سکوں کا ایك ساچلن ہوتو جب پرانوں کا چلن بند کردیا گیا اور نئے چلنے لگے اور قرش اور اشرفی کا بھاؤ اس مقدار پر کہ اوپر مذکور ہوئی اتر گیا دین بھی اتنا ہی اتر جائے گا اور اس میں دائرہ کی وسعت اور پوری آسانی ہے اس لئے کہ مدیون جس نوعیت پر قدرت پائیگا اس میں سے ادا کریگا بخلاف دوسرے فتوی کےاس لئے کہ کبھی مدیون کے پاس اشرفی نہیں ہوتی اور نہ اسے ملتی ہےاور کبھی کل دین یا باقی اتنا نہیں ہوتا کہ اشرفی کے مقدار کو پہنچے توادا دشوار
حوالہ / References حاشیۃ الدرر لعبدالحلیم
#13277 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ان الاثمان الرائجۃ فی زمن العقد سوی العتیقۃ باقیۃ علی رواجھا ولیس فیہا کساد ولا منع سوی الترخیص بالنسبۃ الی الجیدۃ فمن این التکلیف للمدیون باداء الدین بالدینار فقط فظہر ان ماافتی بہ اولا صحیح علی وجہ الیسر لا عسر فیہ نعم لو سلم وجدان الربا اما حقیقۃ او حکما فی الاداء بالجدیدۃ او بالقرش بان لا مساواۃ بینھما وزنا اولا یعلم فانہ یدفع بضم نحو فلس الی الجدیدۃ او القرش کما لایخفی اھ ملخصاوالمسئلۃ مذکورۃ فی الدر وغیرہ واختار العلائی ماافتی بہ سعدی افندی و ھو الالزام بالذھب ومال ابن عابدین الی نحو مامال الیہ عبدالحلیم وحاصلہ اولامنع ان اللازم علی ذمۃ المدیون عین العتیقۃ حتی یکون الاداء بالجدیدۃ او القرش مع عدم مساواتھا للعتیقۃ وزنا ربا بل الازم تلك المالیۃ المقدرۃ بای الثلثۃ شاء فاذا کسد منھا واحد جاز الاداء عن احدالباقین
ہوگی حالانکہ جو ثمن زمانہ عقد میں رائج تھے وہ پرانے روپیوں کے سوا بدستور رائج ہیں ان کا نہ چلن گھٹا نہ منع کیا گیا سوا اس کے کہ نئے روپیوں سے ان کا بھاؤ سستا ہوگیا تو کہاں سے مدیون کو مجبور کیا جائے گا کہ خاص اشرفی ہی سے اپنا دین ادا کرے تو ظاہر ہوا کہ وہ جو پہلا فتوی تھا صحیح اور آسان ہے اس میں کچھ دشواری نہیںہاں اگر یہ مان لیا جائے کہ نئے روپے یا قرش سے ادا کرنے میں حقیقۃ ربا ہے یا حکما یوں کہ دونوں کا وزن برابر نہیں یا برابری کا علم نہیں تو وہ یوں دفع ہوجائے گا کہ نئے روپے یا قرش کے ساتھ مثلا ایك پیسہ ملاکردیا جائے جیسا کہ پوشیدہ نہیں انتہی ملخصااور یہ مسئلہ درمختار وغیرہ میں مذکور ہے اور صاحب درمختار نے اسی کو اختیار کیا جو سعدی آفندی کا فتوی ہے کہ مدیون پر سونے ہی سے ادا کرنا واجب ہے اور علامہ شامی نے اس طرف میل کیا جس طرف شیخ عبدالحلیم کی رائے جھکی اور اس کا حاصل یہ ہے کہ اول تو ہم یہی نہیں مانتے کہ مدیون کےذمہ خاص پرانے روپے ہی دینا واجب تھے تاکہ نئے روپے یا قرش سے ادا کرنا جبکہ وہ پرانوں سے وزن میں برابر نہ ہوں ربا ٹھہرے بلکہ اتنی مالیت لازم تھی جس کا اندازہ ان تینوں سکوں میں سے جس سے چاہے کرلے تو جب ان میں سے ایك کا چلن جاتا رہا تو دو باقیوں میں سے جس سے
حوالہ / References حاشیۃ الدرر لعبدالحلیم
#13278 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
قلت وبہ ظھران تعبیر ھم بتنزیل ثلث الدین مسا محۃ نظرا الی ظاہر التغیر فی عدد الدراہم حیث یعطی من الجدیدۃ ثمانین مکان مائۃ وعشرین والافلا تنزیل فی المالیۃ اصلا و ثانیا ان سلم لزوم العتیقۃ عینا فیدفع بضم نحو فلس الی الجدیدۃ اوالقرش وقد افتی ھو بہ الناس و جعلہ یسرا تاما من دون عسر اتاما من دون عسر وای یسر بعد حصول کراھۃ التحریم فاذن لا محید عما ذکرنا وباللہ التوفیق وبالجملۃ ماکانت امثال ھذہ الشبہات لتذکر و تسطر لو لا ما فی جوابھا من فوائد تظہر و تزھراقول:وبہ تبین والحمدﷲ ان لیس فیہ اعنی فی بیع دینار بدرھم بل فلس فضلا عن بیع نوط عشرۃ باثنی عشر شبھۃ ربا ایضا فضلا عن الربا خلافا لما زعم اللکنوی اذ الشبھۃ فی المحرمات ملحقۃ بالیقین کما نص علیہ فی الھدایۃ وغیرہا فلو کانت لو جبت الحرمۃ فضلا عن کراھۃ التحریم وقد قامت الادلۃ ان لاکراھۃ تحریم ھھنا فضلا عن الحرمۃ فظہر ان لاربا و لاشبہۃ ھذا و انما جل
چاہے ادا کردے اقول: یہیں سے ظاہر ہوا کہ ان کا یہ فرمانا کہ تہائی دین اتار دیا جائے مسامحہ ہے روپیوں کی گنتی می جو ظاہر تغیر ہو اس پر نظر فرماکر ایسا کہا کہ ایك سو بیس کی جگہ نئے اسی دے گا ورنہ مالیت میں اصلا تغیر نہ ہوادوسرے یہ کہ اگر خاص پرانے روپے ہی لازم ہونا مان لیا جائے تو سود یوں دفع ہوجائے گا کہ نئے روپیوں یا قرش کے ساتھ مثلا! ایك پیسہ ملاکر دے اور فاضل عبدالحلیم نے لوگوں کو اس کا فتوی دیا ور اسے پوری آسانی بلا دشواری بتایا اور کراہت تحریم ہونے کے بعد کون سی آسانی ہے تو وہ معنی جو ہم نے ذکر کئے ان سے مفر نہیں اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے بالجملہ ایسے شبہات اس قابل نہ تھے کہ ذکر کئے جائیں اور لکھے جائیں اگر یہ نہ ہوتا کہ ان کے جوابوں سے چمکتے ہوئے فائدے ظاہر ہوئےاقول: الحمد ﷲ اس تقریر سے روشن ہوگیا کہ دس کا نوٹ بارہ کو بیچنا درکنار ایك اشرفی ایك روپے بلکہ ایك پیسہ کو بیچنے میں ربا تو ربا اس کا شبہہ بھی نہیں برخلاف اس کے جو لکھنؤ ی نے زعم کیا اس لئے کہ حرام چیزوں میں شبہہ بھی حکم یقین میں ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں منصوص ہے تو اگر یہاں شبہہ ہوتا تو حرمت واجب ہوتی چہ جائے کراہت تحریماور دلائل قائم ہوچکے کہ یہاں کراہت تحریم بھی نہیں چہ جائے حرمت توظاہر ہوا کہ یہاں نہ سود ہے نہ سو دکاشبہہیہ تو لیجئے اور آگے سنئے
#13279 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
مایتشبث بہ ھذاالمانع ان النوط عــــــہ ان منع کرنے والے کی بڑی سند جو کچھ ہے یہ ہے کہ نوٹ
عــــــہ: بل زعم ذاك اللکنوی ان من باع نوطا معلما برقم مائۃ مثلا فانما یرید بیع مائۃ ربیۃ واخذ بدلھا لا بدل النوط اقول:اولا لوکان الامر کما زعمت لماصح بیع النوط بالربابی اصلا لانہ اذن بیع مائۃ درھم افرنجی بمائۃ درھم افرنجی وھی لاتتفاوت فیما بینھما بشیئ فکان الاستبدال عبثا والشرع لا یشرع العبث فی الاشباہ العقود تعتمد صحتھا الفائدۃ فما لم یفد لم یصح فلا یصح بیع درھم بدرھم اذا تساویا وزناو صفۃ کما فی الذخیرۃ اھ وثانیا قم یوما عن اریکتك واذھب الی البیاعین فاذا رأیت زیداباع نوطا من عمرو فاسألہ ھل قلت لہ بعتك مائۃ ربیۃ فسیقول لا وانما قلت بعتك ھذا النوطفاسألہ ھل اردت ان تستبدل مائۃ ربیۃ لك بمائۃ ربیۃ لعمرو فسیقول لاوانما اردت استبدال
عــــــہ:بلکہ اس مولوی لکھنوی نے یہ زعم کیا کہ سو روپے کا نوٹ جب بیچا جاتا ہے تو مقصود اس سے قیمت ملنا اس کاغذ کی نہیں ہوتی ہے بلکہ مقصود سو روپے بیچنا اور اس کی قیمت لینا ہوتا ہےاقول:(میں کہتا ہوں)اولا: اگر معاملہ یوں ہوتا تو روپیوں کے بدلے نوٹ بیچنا اصلا جائز نہ ہوتا کہ اب یہ سو روپے انگریزی سوروپے انگریزی کو بیچنا ہوا اور انگریزی روپے باہم کچھ فرق نہیں رکھتے تو یہ سوروپے دے کر وہ سو روپے لینا نرا عبث ہوا اور شرع عبث کو مشروع نہیں فرماتیاشباہ میں ہے عقد جب صحیح ہوتاہے کہ اس سے کچھ فائدہ بھی ہو جومحض بے فائدہ ہے وہ عقد صحیح نہیں تو ایك روپیہ ایك روپے کو بیچنا ناجائز ہے جبکہ دونوں روپے وزن وحالت میں برابر ہوں جیسا کہ ذخیرہ میں ہے انتہی ثانیا:مولوی صاحب ذرا اپنی مسند سے اٹھ کر کسی دن بازار جائیے جب دیکھئے کہ زید نے عمرو کے ہاتھ کوئی نوٹ بیچا تو اس سے پوچھئے کیا تو نے اس سے یوں کہا تھا کہ میں نے تیرے ہاتھ سو روپے بیچے وہ ابھی ابھی جواب دے گا کہ نہبلکہ میں نے تو یہ کہا کہ یہ نوٹ تیرے ہاتھ بیچااب اس سے پوچھئے کیا تو نے یہ قصد کیا تھا کہ اپنے سو روپے عمرو کے سو روپیوں سے (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب البیوع ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ /۳۲۵
#13280 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
مغرق فی الربابی کانہ ھی من دون فرق روپوں میں غرق ہے گویا وہ بعینہ روپیہ ہے اور کچھ

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
نوطی بربا بیۃ فاسألہ ھل اخذت ثمن ربابیك فیسقول لابل ثمن نوطی فاسألہ ھل تنقد لہ مائۃ ربیۃ من کیسك فسیقول لابل اعطیہ نوطی فعند ذلك یتمیز لك النہار من اللیلوثالثا: لیتك تعرف المبیع من المعدوم فان البائع ربما لا تکون عندہ الربابی بل ولاربیۃ واحدۃ وبیع المعدوم باطل وقد نہی عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ورابعا: من احتاج الی النوط لیر سلہ فی البوسطۃ فان ارسالہ فیہا ایسر واقل مصروفا فباعہ زید نوطہ ثم ارادہ ان یعطیہ مائۃ ربیۃ لایقبلہ المشتری ویقول انما اشتریت منك النوط وقد کانت الربابی عندی فما کان یحوجنی الی شرائھا منك وعند ذلك تعرف
بدلےوہ ابھی جواب دے گا کہ نہبلکہ اپنا نوٹ اس کے روپیوں سے بدلنا چاہااب اس سے پوچھئے کیا تو نے اپنے روپیوں کی قیمت لی وہ ابھی جواب دیگا نہبلکہ اپنے نوٹ کی۔اب اس سے پوچھئے کیا تو اپنی تھیلی میں سے سو روپے اسے دے گاوہ ابھی جواب دے گا کہ نہ بلکہ اسے اپنا نوٹ دوں گا اس وقت آپ کو معلوم ہوجائے گاکہ دن اور رات میں یہ فرق ہےثالثا: کاش آپ کو مبیع و معدوم کا فرق معلوم ہوتا اس لئے کہ بارہا نوٹ بیچنے والے کے پاس روپے نہیں ہوتے بلکہ ایك روپیہ تك نہیں ہوتا تو اگر اسے سوروپے بیچنا مقصود ہوتے تو معدوم کی بیع کررہا ہےاور معدوم کی بیع باطل ہےاور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔رابعا: جسے ڈاك میں بھیجنے سے آسان بھی ہے اور خرچ بھی کم ہے اس کے ہاتھ جبکہ زید نوٹ بیچے اور پھر نوٹ نہ دے بلکہ اس کی جگہ سو روپے دینا چاہے تو خریدار ہر گز نہ لے گا اور اس سے کہے گا کہ میں نے تو تجھ سے نوٹ خریدا تھا روپے تو خود میرے پاس موجود تھے مجھے تجھ سے روپے خریدنے کی کیا حاجت تھی اس وقت آپ کو معلوم (باقی اگلے صفحہ پر)
#13281 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ولذا لایفرقون بینھما فی الاخذوالاعطاء فرق نہیں اسی واسطے لوگ معاملات میں روپے

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ان نسبۃ ذلك القصد الیہم فریۃ علیہموخامسا: بائع النوط اذا قبض دراہم الثمن واراد ردھا یعد ھذا عندھم اقالۃ البیع لاتسلیما للمبدل وھذا کلہ واضح جلی علی من یعرف الشمال من الیمین فسبحن اللہ من مبیع لم یعقد علیہ ولا قصد الیہ ولا نقد منہ بل ان نقد لم یقبل ولم یعد نقد المبدل بل ربما لایکون عند من باع فھل سمعت بمثلہ مبیعا فی الدنیا ولا عقد ولا نقد ولا قصد ولا وجد ولکن قلۃ الفھم و التدبر یأتی بعجائب نسأل اللہ العفو والعافیۃوبہ علم بطلان ماقصد بہ التفرقۃ بین الفلوس و النوط بان من اشتری شیئا بربیۃ او استقرض ربیۃ وارادان یعطی بدلھا فلوس ربیۃ فالدائن والبائع بالخیار فی قبولھا و
ہوجائیگا کہ نوٹ بیچنے میں ان کا یہ قصدقرار ینا کہ روپے بیچتے ہیں ان پر افتراء ہے۔خامسا: نوٹ بیچنے والا جب قیمت کے روپے لے کر نوٹ نہ دے بلکہ روپے ہی پھیرے تو یہ ان کے نزدیك بیع کا فسخ ٹھہرتا ہے نہ یہ کہ اس نے جو چیز بیچی تھی وہی خریدار کو دے رہا ہے اور یہ سب باتیں ہر اس شخص پر روشن و ظاہر ہیں جسے دہنے بائیں میں تمیز ہو تو سبحان اللہ وہ سو روپے جو بیچنے ٹھہرائے عجب مبیع ہیں کہ نہ ان پر خریدو فروخت کا لفظ واقع ہونہ ان کے لینے دینے کا ارادہ ہوانہ بائع نے وہ دئے بلکہ وہ دے تو خریدار لے نہیں اور مبیع کا دینا نہ ٹھہرے بلکہ بار ہا وہ بائع کے پاس ہوتے بھی نہیں تو دنیا میں ایسی کوئی مبیع سنی ہے کہ بك گئی اور نہ عقد نہ نقد نہ قصد نہ وجودمگر ہے یہ کہ فہم یا فکر کی کمی عجائب لاتی ہے ہم اللہ تعالی سے معافی وعافیت مانگتے ہیں اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ مولوی صاحب نے جو پیسوں اور نوٹ میں یوں فرق نکالنا چاہا ہے کہ اگر ایك روپیہ کے عوض کوئی چیز خریدے یا روپیہ کسی سے قرض لے اور بوقت ادا پیسے ایك روپیہ کے دے تو دائن اور فروخت کنندہ کو اختیار رہتا ہے لے یا (باقی اگلے صفحہ پر)
#13282 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
فی المعاملات فاذن کانہا عشر ربابی بیعت باثنی عشرۃ ربیۃ وھو ربا قطعا فھذاان لم یکن ربا فبشبھہ یلتحق بہ ویحرم۔اقول:وباللہ التوفیق ھذا اردء واخنع ولا غرو اذ القوس فی ید غیرباریہا قد علم کل من ترعرع عن الصبا ولو قلیلا ان الاثمان الاصطلاحیۃ انما تقدر بالحقیقۃ بل النقود کلھا لھا تقدیر بالدراہم دنانیر کانت او غیرہا ولا بدلھا من نسبۃ الی الربابی فجنیہ بخمسۃ عشر وقطعۃ صغیرۃ بثمن ربیۃ واخری بالربع واخری بالنصف و ست عشر انۃ بربیۃ و النوط الفلان بعشرۃ والفلان بمائۃ ھکذا واذا استوت رواجا ومالیۃ فاھل العرف لایفرقون
اور نوٹ کے لین دین میں کچھ فرق نہیں کرتے تو گویا وہ یوں ہواکہ دس روپے بارہ کو بیچے گئے اور وہ بلا شك رباہے تو یہ اگر سود نہ ہو تو اس کی مشابہت کے سبب سو د سے لاحق ہوکر حرام ہوجائے گا۔اقول:وباللہ التوفیق(میں کہتا ہوں اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے۔ت)یہ شبہہ تو اور بھی ردی اور بھونڈا ہے مگر کوئی تعجب نہیں کہ کمان انجان کے ہاتھ میں ہے ہر وہ شخص جو بچپن سے کچھ بھی آگے بڑھاہے جانتا ہے کہ اصطلاحی ثمنوں کے اندازے حقیقی ہی ثمن سے کئے جاتے ہیں بلکہ تمام نقدوں کے لئے روپیوں سے اندازہ ہے خواہ اشرفیاں ہوں یا اور کچھاور انہیں کچھ نہ کچھ روپیوں سے نسبت ضرور ہوگی تو ایك ساورن پندرہ روپے کی اور دوانی روپے کا آٹھواں حصہ اور چوانی چوتھائی اور اٹھنی آدھا اور ایك روپے کے سولہ آنے اور فلاں نوٹ دس روپے کا فلاں سو کاوعلی ھذا القیاس اور جب ان کا چلن اور مالیت یکساں ہو تو اہل عرف معاملات میں (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لا یجبرہ علیہ القاضی بخلاف النوط و من این لہ ادعاء ھذا ومن قال بہ وسیأ تیك و تحقیق الامر بعد اسطر و باللہ التوفیق اھ منہ۔
نہ لے اور حاکم کی طرف سے اس پر جبرنہیں ہوسکتا بخلاف نوٹ کے یہ فرق باطل ہےاور یہ ادعا انہوں نے کہاں سےنکالا اور کون اس کا قائل ہے اور عنقریب چند سطر کے بعد اس امر میں جو حق ہے اس کا بیان آتا ہے اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے ۱۲منہ۔
#13283 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
بینھا فی الاخذ والاعطاء فی معاملا تھم فمن شری ثوبا بجنیۃ افرنجی وادی خمس عشرربیۃ او بالعکس لا یعد ھذا تبدیلا ولا تحویلا ولاینکرہ البائع ولا غیرہ وکذا القطعۃ الصغیرۃ وثمانیۃ فلوسا افرنجیۃ لا یفرقون بینھما فی اخذ ولااعطاء وکذا ربع الربیۃ وستۃ عشر فلسا ومن اشتری شیئا بنصف ربیۃفاما ان یودی النصف بعینہ اوربیع ربیۃ او رابعۃ اثمانہ او ربع وثمنین او ربعا وثمنا و ثمانیۃ فلوس او ثلثۃ اثمان وثمانیۃ فلوس او ربعا وستۃ عشر فلسا او ثمنا واربع وعشرین فلسا اوالکل بالفلوس اثنین و ثلثین فلسا الصور عــــــہ التسع جمیعا سواء عندھم و لا یفرقون بینھا اصلا لا ستوائھاجمیعا فی المالیۃ و الرواج ولیس ھذا فی العرف فقط بل الشرع ایضا خیر المشتری ان یؤدی ایہا شاء ولو امتنع البائع من قبول بعضھا و اراد الزام المشتری باحدالوجوہ کان تعنتا منہ ولم یقبلقال ابن عابدین
ان کے لین دین میں کوئی فرق نہیں کرتے تو جو کوئی کپڑا ایك پونڈ انگریزی کو خریدے اور دے پندرہ روپے یا اس کا عکس تونہ اسے کوئی تبدیل کہے گا نہ قرارداد کا پھیرنا اور نہ اس سے بائع انکار کرے گا نہ کوئی اوریونہی دوانی اورآٹھ پیسے انگریزی ان کے لین دین میں بھی کوئی فرق نہیں کرتایونہی چونی اور سولہ پیسے اور جس نے کوئی چیز اٹھنی کو خریدی وہ یا تو خود اٹھنی دے یا دو۲ چونیاں یا چار دوانیاں یا ایك چوانی اور دو دوانیاں یا ایك چوانی اور ایك دوانی اور آٹھ پیسے یا ایك چوانی اور سولہ پیسے یا ایك دوانی اور چوبیس پیسے یا سب کے بتیس۳۲ پیسےیہ نوکی نو صورتیں سب ان کے نزدیك برابرہیں اور ان میں اصلا فرق نہیں کرتے اس لئے کہ سب میں مالیت اور چلن یکساں ہیں اور یہ کچھ عرف ہی میں نہیں بلکہ شریعت نے بھی خریدار کو اختیار دیا کہ ان میں سے جس صورت پر چاہے ادا کرے اور اگر بیچنے والا ان میں سے کسی صورت کو نہ مانے اور کوئی دوسری صورت مشتری پر لازم کرنا چاہے تو یہ اس کی طرف سے بیجا ہٹ ہوگی اور مانی نہ جائے گی۔تنویر الابصار میں جو
عــــــہ: والان اذقد راج تفریق جدید یسمی انۃ صح اداء نصف ربیۃ بستۃ وثلثین وجہا والکل سواء کما لا یخفی اھ منہ۔
عــــــہ:اور اب کہ ایك نئی ریز گاری چل گئی ہے جسے اکنی کہتے ہیں تو اٹھنی کے دام چھتیس طرح ادا ہوسکتے ہیں اور سب برابر ہیں جیساکہ پوشیدہ نہیں ۱۲منہ۔
#13284 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
تحت قول المتن ینصرف مطلقہ(ای مطلق الثمن)الی غالب نقد البلد وان اختلف النقود مالیۃ فسد العقد مع الاستواء فی رواجھا مانصہ اما اذا اختلف رواجا مع اختلاف مالیتہا او بدونہ فیصح وینصرف الی الاروج وکذایصح لو استوت مالیۃ ورواجا لکن یخیر المشتری بین ان یؤدی ایہما شاءومثل فی الھدایۃ مسئلۃ الاستواء فی المالیۃ والرواج بالثنائی و الثلاثی واعترضہ الشراح بان مالیۃ الثلثۃ اکثر من الاثنین واجاب فی البحر بان المراد بالثنائی ما قطعتان منہ بدرھم وبالثلاثی ماثلثۃ منہ بدرھم قلت وحاصلہ انہ اذااشتری بدرھم فلہ دفع درھم کامل او درھم مکسر قطعتین او ثلثۃ حیث تساوی الکل فی المالیۃ والرواجومثلہ فی زماننا الذھب یکون کاملا ونصفین واربعۃ ارباع وکلھا سواء فی المالیۃ والرواج ومنہ یعلم حکم ماتعورف فی زماننا
فرمایا کہ مطلق ثمن شہر کے اس نقد کی طرف پھرتا ہے جس کا چلن زیادہ ہو اور اگر وہ سکے مالیت میں مختلف ہوں اور چلن ایك سا ہو تو عقد فاسد ہوجائیگا اس کے تحت میں علامہ شامی نے فرمایا لیکن اگر چلن ایك سانہ ہو مالیت خواہ مختلف ہو یا نہیں تو عقد صحیح رہے گا اور جس کا چلن زیادہ ہے وہ مراد ٹھہریگا یونہی اگر مالیت اور چلن دونوں یکساں ہوں جب بھی عقدصحیح رہے گا مگر اس صورت میں خریدار کو اختیار ہوگا کہ دونوں میں سے جو چاہے ادا کرےاور ہدایہ میں چلن اور مالیت یکساں ہونے کی مثال ثنائی اور ثلاثی سے دی اور شارحوں نے ا س پر اعتراض کیا کہ تین کی مالیت دو سے زیادہ ہےاور بحرالرائق میں جواب دیا کہ ثنائی سے وہ مراد ہے جس کے دو ایك روپے کے برابر ہوںاور ثلاثی وہ جس میں تین ایك روپے کے برابر ہوں میں کہتا ہوں اس کا حاصل یہ ہے کہ جب اس نے کو ئی چیز ایك روپے کو خریدی توچاہے ایك روپیہ پورا دے چاہے دو اٹھنیاں چاہے تین تہائیاں جبکہ سب مالیت اور رواج میں برابر ہوں۔اسی طرح اشرفی ہمارے زمانے میں پوری اور دو نصف اور چار پاؤلی ہوتی ہے اور سب کی مالیت اور چلن یکساں ہیںاور اسی سے معلوم ہوگیا قرشوں کے عوض خریدنے کا حکم جو ہمارے زمانے میں
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷
#13285 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
من الشراء بالقروش فان القرش فی الاصل قطعۃ مضروبۃ من الفضۃ تقوم باربعین قطعۃ من القطع المصریۃ المسماۃ فی مصرنصفا ثم ان انواع العلمۃ المضروبۃ فی امر تقوم بالقروش فمنھا مایساوی عشرۃ قروش ومنھا اقل ومنھا اکثر فاذا اشتری بمائۃ قرش فالعادۃ انہ یدفع ماارادامامن القروش اوممایساویہا من بقیۃ انواع العلمۃ من ریال اوذھب ولا یفہم احدان الشراء وقع بنفس القطعۃ المسماۃ قرشا بل ھی او مایساویہا من انواع العملۃ متساویۃ فی الرواج المختلفۃ فی المالیۃ ولا یردان صورۃ الاختلاف فی المالیۃ مع التساوی فی الرواج ھی صورۃ الفساد لانہ ھنالم یحصل اختلاف مالیۃ الثمن حیث قدر بالقروش و انما یحصل الاختلاف اذالم یقدربھا کمالواشتری بمائۃ ذھب وکان الذھب انواعا کلھا رائجۃ مع اختلاف مالیتہا فقدصارالتقدیر بالقروش فی حکم ما اذا استوت فی المالیۃ والرواج وقد مران المشتری یخیر فی دفع ایھما شاء۔قال فی البحر فلو طلب البائع احدھما للمشتری دفع غیرہ لان امتناع
شائع کی ہے کہ قرش اصل میں ایك چاندی کا سکہ ہے جس کی قیمت چالیس قطعہ مصری ہوتی ہے جس کو مصر میں نصف کہتے ہیں پھر قسم قسم کے لئے سب کی قیمت قرشوں سے لگائی جاتی ہے تو ان میں کوئی دس قرش کا کوئی کم کا کوئی زیادہ کاتو جب کوئی چیز سو قر ش کو خریدی تو عادت یہ ہے کہ وہ جو چاہے دے خواہ قرش ہی دے دیا اور سکے جو مالیت میں اس کے برابر ہوں ریال یا گنیاور یہ کوئی نہیں سمجھتا ہے کہ خریداری خاص اس ٹکڑے پر واقع ہوئی ہے جس کا نام قرش ہے بلکہ قرش یا اور سکوں سے جو مالیت سے مختلف ہیں اور چلن میں یکساں ہیں اتنا کہ اس کی مالیت کے برابر ہوجائیں اور یہ اعتراض وارد نہ ہوگا کہ مالیت مختلف ہونا اور چلن میں یکساں ہونا یہی تو فساد عقد کی صورت ہے اسلئے کہ یہاں ثمن کی مالیت میں اختلاف نہ پڑا جب کہ ا سکا اندازہ قرشوں سے کیا گیاہاں اختلاف جب ہوتا کہ ان سے اندازہ نہ کرتے جیسے کہ سو اشرفیوں کو خریدے اور وہاں اشرفیاں کئی قسم کی ہوں چلن میں سب ایك سی اور مالیت میں مختلفاور جب قرشوں سے اندازہ کرلیا یہ ایسا ہوگیا گویا مالیت اور چلن سب برابر ہیںاور اوپر گزرچکا کہ مشتری کو اختیار ہوگا کہ ان میں سے جوچاہے دے۔بحرالرائق میں فرمایا اگر بائع ان میں سے ایك سکہ طلب کرے تو مشتری کو اختیار ہے کہ دوسرا دے اس لئے کہ جو
#13286 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
البائع من قبول مادفعہ المشتری ولا فضل تعنت اھ(ملخصا)وھذا کلہ واضح جلی وای تسویۃ وعدم تفرقۃ اعظم من ان یشتری المشتری بالقروش ثم یخیران یؤدی منھا او من الریا ل او من الذھب الکامل اومن التفاریق وان لم یقبل البائع کان متعنتا ومع ھذا لا یتوھم عاقل ان القروش والریال والجنیۃ والتفاریق کلھا صارت جنسا واحدالایحل فیہا التفاضل اوان بعضھا مغرق فی بعض کانہ ھو من دون فرق فالتفاضل ان لم یکن ربا فبشبھہ یلحق بہ ویحرم مع نصھم قاطبۃ اجمعین ان عند اختلاف الجنس یحل التفاضل بل مع قول رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اذا اختلف النوعان فبیعوا کیف شئتم وقد قدمنا تحقیق مسئلۃ دینار بدرھم وان لیس ربا و لاشبھۃ ربا بمالا مزید علیہ فاذا کان ھذا فی القروش والریال
مشتری دے رہا ہے اس کے لینے سے بائع کا انکار بے جا ہٹ ہے جبکہ مالیت میں تفاوت نہیں انتہی۔اور یہ سب ظاہر روشن باتیں ہیں اور اس سے بڑ ھ کرا ور کیا برابر جاننا اور فرق نہ کرنا ہے کہ مشتری خریدے تو قرشوں کوپھر اسے اختیار دیا جائے کہ چاہے قرش دے خواہ ریال چاہے سونے کا پورا سکہ یا اس کی ریزگاریاور بائع نہ مانے تو بے جاہٹ ٹھہرےبایں ہمہ کوئی یہ وہم نہیں کرسکتا کہ قرش اور ریال اور اشرفی اور ریزگاری سب کے سب ایك جنس ہوگئے ان میں سے ایك دوسرے کو بیچیں تو کمی بیشی جائز نہ ہو یا ان میں ایك دوسرے میں ایسا غرق ہے کہ گویا بعینہ بلا فرق دونوں ایك ہیں تو کمی بیشی اگر سود نہ ہو تو اس کی مشابہت کے سبب اس کے حکم میں ہوکر حرام ہوجائے حالانکہ تمام علماء بالاجماع تصریح فرمارہے ہیں کہ اختلاف جنس کے وقت کمی بیشی جائز ہے بلکہ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد موجود ہے کہ جب نوعیں بدلیں تو جیسے چاہو بیچواور ہم نے اس مسئلہ کی تحقیق کہ ایك روپے کو ایك اشرفی میں بیچنے میں نہ سود ہے نہ سود کا شبہہاوپر اس طرح بیان کی جس سے بڑھ کر کوئی بیان نہیں توجب یہ حکم قرشوں اور ریال
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۶
نصب الرایۃ لاحادیث الہدایۃ کتاب البیوع المکتبۃ الاسلامیہ،ریاض ۴/۴
#13287 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
والجنیۃ والتفاریق مع ان کلھا اثمان خلقیۃ وکلھا تشملھا احدی علتی الربا وھو الوزن فما ظنك بالنوط مع الربابی مع ان النوط لیس الا ثمنا مصطلحا ولا تقدیر مالیتہ الا بالاصطلاح الغیر اللازم علی العاقدین ولا یشملہ شیئ من علۃ الربا لا الجنس ولا القدر فالحکم ھھنا لایتأتی الامن احد ثلثۃ رفع عنہم القلم صبی ونائم ومجنوننسأل اللہ العفو و العافیۃ ھو تحقیق الجواب فی ھذا الباب وارجو اان لا عطر بعد عروس ولکن یاھذا ان ابیت الامااتیت من ان النوط مغرق فی الربابی کانہ ھی فانا اسئلك أبھذاالاغراق وعدم الافتراق صارالنوط حقیقۃ دراھم فضۃ او حکما بان اجری الشرع فی مبادلتہ بالدراہم ماھو حکم مبادلۃ الدراہم بالدراہم کما قلت کانھا عشر ربابی بیعت باثنی عشر اولا ولاعلی الثالث ماھذہ الشقاشق الفارغۃ عن منشاء و معنی وعلی الاولین یعود الرباعلیك انت اذا بعت نوط عشرۃ بعشرۃ وذلك لان حکم الدراہم بالدراہم لم یکن فی الشرع التساوی فی
اور اشرفی اور ریزگاری میں ہوا حالانکہ وہ سب کے سب خلقۃ ثمن ہیں اور ان سب میں رباکی دو علتوں میں سے ایك علت یعنی وزن موجود ہے تو روپیوں کے بدلے نوٹ پر تیرا کیا گمان ہے حالانکہ نوٹ تو صرف ثمن اصطلاحی ہے اور اس کا مالیت کا اندازہ بھی ایك اصطلاح ہے جس کی پابندی بائع مشتری پر لازم نہیں اور اس میں ربا کی دو علتوں میں سے کوئی نہیںنہ جنس نہ قدرتو یہاں ناجوازی کا حکم تین ہی شخصوں میں سے کوئی کرسکے گا جن پر سے قلم شرع اٹھالیا گیا ہےبچہ اور سوتا اور دیوانہ۔ہم اللہ تعالی سے معافی اور پناہ مانگتے ہیںاس باب میں یہی تحقیق جواب ہے اور امید کرتا ہوں کہ دولھا کے بعد عطر نہیں ولیکن اے شخص! اگر تو کچھ نہ مانے سوا ا پنی اسی بات کے کہ نوٹ روپیوں میں ایسا غرق ہے کہ گویا وہ روپے کا عین ہے تو اب میں تجھ سے پوچھتا ہوں کہ اس غرق ہونے اور فرق نہ ہونے کے سبب آیا نوٹ حقیقۃ چاندی کا روپیہ ہوا یا حکما بایں معنی کہ روپیوں سے نوٹ کی بیع میں شرع نے وہی حکم جاری فرمایا جو روپیوں سے روپیوں کی بیع میں ہے جیساکہ تونے کہا تھا کہ گویا وہ دس روپے ہیں کہ بارہ کو بیچے گئے یا حقیقۃ یا حکما کسی طرح نہیںتیسری تقدیر پر یہ کیا بے منشا و معنی لفاظیاں ہیں اور پہلی دونوں صورتوں میں ربا خود تجھ پر پلٹے گا جب کہ دس کا نوٹ دس کو بیچے اس لئے کہ روپیوں سے روپے کی بیع میں شرع کا حکم یہ نہ تھا کہ مالیت میں
#13288 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
المالیۃ لاجماع الامۃ ان الجید والردی ھھنا سواء وانما کان الحکم التساوی فی القدر فیجب علیك ان تضع النوط فی کفۃ والفضۃ من تفریق درھم اوغیرہ فی الکفۃ الاخری فلا تبیعہ الابما ساواہ وزنا ولا یکون ذلك الاقطعۃ صغیرۃ او قطعتین فان زدت علیہ شیئا فقد اکلت الربا واحللت الربا وان زعمت ان الحکم الساری الی النوط من الربابی لاجل ھذاالاغراق وعدم الافتراق ھو التساوی فی المالیۃ فھذا جہل منك عظیم یساوی ھزلاویتساوك ھزلا فان التسویۃ فی المالیۃ لم یکن حکم الربابی نفسھا فکیف یسری منھا الی شبھھا مالیس فیہا علاان النوط ان اتحد مع الربابی حقیقۃ او حکما لایتحد مع الذھب لامتناع الاتحاد بین نوعین متباینین فاذن ان بیع نوط عشرۃ باثنی عشرۃ جنیہا لایلزم فیہ مالزم ثمہ لعدم الاتحاد فی الجنس حقیقۃ ولا حکما فحینئذ یرجع مال فتواك الی ان من باع نوط عشرۃ باثنتی عشرۃ ربیۃ فھذا حرام لانہ حصل فضلا بلا عوض وان باعہ باثنی عشر جنیہا فھذا لاحرج علیہ لانہ لم یحصل فضلا یعتد بہ
برابر ہوںتمام امت کا اجماع ہے کہ یہاں کھرا کھوٹا برابر ہے بلکہ حکم تویہی تھاکہ وزن میں برابری ہو تو تجھ پر واجب ہے کہ ایك پلہ میں نوٹ رکھے اور دوسرے پلہ میں روپے کی ریز گاری یا اور کوئی چاندی بس اتنے ہی کو اسے بیچے جتنی چاندی وزن میں نوٹ کے برابر ہو اور یہ دوانی یا چوانی بھر سے زائد نہ ہوگی اور اگر اس پر کچھ زیادہ لے تو تو نے سود کھایا اور سود حلال کیا اور اگر تو یہ زعم کرے کہ اس غرق ہونے اور فرق نہ ہونے کے سبب روپوں سے جو حکم نوٹ کی طرف آیا وہ یہ ہے کہ مالیت میں برابر کرلو تو یہ تیرہ بڑا جہل ہے جو ٹھٹھے بازی کے مثل ہے اور دبلے پن سے لچك لچك ہورہا ہے کہ مالیت میں برابر کرنا خود روپیوں کا حکم نہ تھا تو روپیوں سے ان کے مشابہ نوٹ کی طرف وہ حکم کیونکر سرایت کرے گا جو خود ان میں نہیںعلاوہ بریں اگر نوٹ روپیوں کے ساتھ حقیقۃ یا حکما متحد ہوبھی جائے توسونے کے ساتھ متحد نہ ہوگا کہ دو متباین نوعیں متحد نہیں ہوسکتیں تو اس تقدیر پر اگر دس روپے کا نوٹ بارہ اشرفی کو بیچا جائے تو وہ حرج لازم نہ آئے گا جو بارہ روپے سے بیچنے میں تھا کہ یہاں نہ جنس حقیقۃ ایك ہے نہ حکما اب تیرے فتوی کا انجام یہ ٹھہرے گا کہ دس روپے کا نوٹ بارہ کو بیچنا تو حرام ہے اسلئے کہ اس نے بلا معاوضہ ایك زیادتی حاصل کی اور اگر بارہ اشرفی کو بیچے تو کوئی حرج نہیں اسلئے کہ اس نے کوئی ایسی زیادتی حاصل نہ کی جس کا اعتبار
#13289 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
فسبحن اللہ من ھذہ الفتوی ماادقھا نظراو احقھا رعایۃ لمقصد الشرع الشریف من تحریم الربا وھو صیانۃ اموال الناس ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم و بالجملۃ کلام ھذا لامانع لایرجع الی اصل شرعی ولا برھان وما ھو الاکلمۃ ھو قائلھا ما انزل اللہ بھا من سلطن والحمد ﷲ وعلیہ التکلان وھو المستعان۔
واما الثانی عشر
فاقول:نعم یجوز اذا قصدا البیع حقیقۃ دون القرض و ذلك لان البیع جائز والتفاضل جائز والتاجیل جائز کماحققنا کل ذلك وما التنجیم الانوع من التاجیل نعم ان اقرض نوط عشرۃ و شرط ان یرد المستقرض اثنتی عشرۃ ربیۃ او احدی عشرۃ او عشرۃ وقطعۃ مثلاحالا اوما لامنجما او غیر منجم فھذاحرام وربا قطعالانہ قرض جرنفعا وقد قال سیدنا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کل قرض جر منفعۃ فھو ربا رواہ
کیاجائے تو سبحان اللہ اس فتوی کا کیا کہناکس قدر اس کی نظر دقیق ہے اور رباکے حرام کرنے میں شرع شریف کے جو مقصد تھا یعنی لوگوں کے مال محفوظ رکھناکس درجہ اس نے اس کی رعایت کی ہے ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیمخلاصہ یہ ہےکہ اس منع کرنے والے کا کلام نہ کسی اصل کی طرف پلٹتا ہے نہ دلیل کی جانبوہ تو ایك بات ہے کہ وہی اس کا قائل ہے اللہ نے اس پر کوئی دلیل نہ اتاری سب خوبیاں خدا کو اور اسی پر بھروسا ہے اور اسی سے مدد کی طلب۔
جواب سوال دوازدہم
فاقول:(تومیں کہتا ہوں)ہاں جائزہے جبکہ دونوں حقیقۃ بیع کا ارادہ کریں نہ کہ قرض کا اس لئے کہ بیچنا جائز اور کمی بیشی جائز اور مدت معین پر ادھار جائزجیسا کہ ہم سب باتوں کی تحقیق بیان کرآئے اور قسط بندی بھی ایك قسم کی مدت ہی معین کرنا ہےہاں اگر دس کا نوٹ قرض دیا اور شرط کرلی کہ قرض لینے والا بارہ روپے یا گیارہ یا مثلا ایك دوانی اوپر دس اب یا کچھ مدت بعد قسط بندی سے یا بلا قسط واپس دے تو یہ ضرور حرام اور سود ہے اس واسطے کہ وہ ایك قرض ہے جس سے نفع حاصل کیااور بیشك ہمارے سردار رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جو قرض کوئی نفع کھینچ کر لائے وہ سود ہے۔یہ حدیث
حوالہ / References کنز العمال بحوالہ الحارث عن علی حدیث۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۶/ ۲۳۸
#13290 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
الحارث بن ابی اسامۃ عن امیر المؤمنین علی کرم اللہ تعالی وجہہ بخلاف ما اذااقرض ولم یشترط شیئا من الزیادۃ ولا کانت معہودۃ من تعاملھما لان المعروف کا لمشروط ثم ان المستقرض اوفاہ وزاد من عند نفسہ تکرما زیادۃ ممتازۃ منحازۃ کیلا تکون ھبۃ مشاع فیما یقسم فھذاجائز لابأس بہ بل ھو من باب"هل جزآء الاحسان الا الاحسان(۶۰) " و قد قال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم للوزان فی ثمن سراویل اشتراھا زن وارجح وکذااذاتقاضاہ المقرض فلم یکن عندہ النوط اولم یرد ردہ فوقع الصلح علی اثنتی عشرۃ ربیۃ عوضا عن النوط الذی فی ذمتہ وقبضت الدراہم فی المجلس کیلا یکون افتراقا عن دین بدین فھذا ایضا جائز بالا تفاق ان کان النوط الذی استقرضہ مستھلکا وعند الطرفین مطلقا حارث بن ابی اسامہ نے امیر المومنین علی کرم اللہ تعالی وجہہ سے روایت کی بخلاف اس کے جبکہ قرض دیا اور کچھ زیادہ لینا شرط نہ کیا اور نہ ان کے اگلے عمل درآمد سے زیادہ لینا معروف تھا(کیونکہ جو معروف ہے وہ تو مثل شرط کے ہے)پھر قرض لینے والے نے قرض ادا کیا اور اپنی طرف سے احسانا کچھ ایسا زیادہ دیا جو الگ ممتاز ہو(یہ اس لئے کہ قابل تقسیم شے میں ہبہ مشاع نہ ہو جائے)تو یہ جائز ہے اس میں کچھ حرج نہیں بلکہ اس قبیل سے ہے کہ احسان کا بدلہ کیا ہے سوا احسان کے۔ا ور بیشك حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے جو ایك پاجامہ خریدا(اور وہاں قیمت تول کردی جاتی تھی)تولنے والے سے فرمایا کہ تول اور زیادہ دےیونہی اگر نوٹ قرض دیا تھا اور قرض خواہ نے اس سے تقاضا کیا اس کے پاس ویسا نوٹ نہ تھا یا اس نے نوٹ دینا نہ چاہا عوض میں روپے دینے چاہے دس کے نوٹ کے بدلے بارہ روپے پر صلح ہوئی اور اسی جلسے میں روپے ادا کردئے(تاکہ عاقدین یوں جدانہ ہوں کہ دونوں طرف دین ہو)تو یہ بھی جائز ہے پھر اگر وہ نوٹ جو اس نے لیا تھا اس کے پاس نہ رہا جب تو بالاتفاق جائز ہے اور اگر نوٹ اس کے پاس موجو د ہے مگر خاص اس
حوالہ / References القرآن الکریم ۵۵ /۶۰
سنن النسائی کتاب البیوع المکتبۃ السلفیہ لاہور ۲/ ۲۱۷،جامع الترمذی ابواب البیوع امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۵۶
#13291 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
وان کان باقیا عندہ اذالم یورد العقد علیہنعم ان کان موجودا واشتراہ بعینہ باثنی عشر او بعشرۃ او بماشاء فھذا باطل لایجوز عندھما خلافا لابی یوسف رضی ﷲ تعالی عنہم لانہ قد مبلکہ بالاستقراض فکیف یشتری ملك نفسہ من غیرہ فی وجیز الکردری اذا کان لہ علی اخر طعام وفلوس فاشتراہ من علیہ بدراہم وتفرقا قبل قبض الدراہم بطل و ھذا مما یحفظ اھ۔وفی ردالمحتار عن الذخیرۃ اشتری من المقرض الکرالذی لہ علیہ بمائۃ دینار جاز لانہ دین علیہ لابعقد صرف و لاسلم فان کان مستھلکا وقت الشراء فالجواز قول الکل لانہ ملکہ بالاستھلاك وعلیہ مثلہ فی ذمتہ بلا خلاف وان کان قائما فکذلك عندھما وعلی قول ابی یوسف ینبغی ان لایجوز لانہ لایمبلکہ مالم یستھبلکہ فلم یجب مثلہ
نوٹ کو روپیوں سے نہ خریدا بلکہ ذمہ پر قرض تھا اسے خریدا تو امام اعظم اور امام محمد کے نزدیك جائز ہے ہاں اگر وہی نوٹ کہ قرض لیا تھا موجود ہے اور بعینہ اسی کو بارہ روپے یا دس یا جتنے سے چاہے خریدے تو یہ طرفین کے نزدیك باطل ہے اور امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہم اسے جائز کہتے ہیں باطل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جب اس نے یہ نوٹ قرض لیا تو قرض لیتے ہی اس کامالك ہوگیا تو خود اپنی مملوك چیز کو دوسرے سے کیونکر خریدے گاوجیز کردری میں ہے جب اس کا کسی پر غلہ یا پیسے آتے ہوں مدیون نے وہ دین اس سے روپیوں کو خریدلیا اور روپیوں پر قبضہ ہونے سے پہلے دونوں جدا ہوگئے تو یہ بیع باطل ہوگئی اور یہ ان مسائل میں سے ہے جن کا یادرکھنا لازم ہے انتہیاور ردالمحتار میں ذخیرہ سے ہے قرض دینے والے کا جو غلہ اس پر آتا تھا وہ اس نے اس سے سوا شرفی کو خرید لیا جائز ہے کہ یہ دین اس پر نہ عقد صرف سے تھا نہ عقد سلم سےپھر اگر وہ غلہ خریداری کے وقت خرچ ہوچکا تھا جب تو سب کے نزدیك جواز ہے اس لئے کہ وہ خرچ کردینے سے بالاتفاق اس کا مالك ہوگیا اور اس کے ذمہ پر اتنا غلہ واجب رہا اور اگر غلہ موجود ہے تو امام اعظم وامام ممحمد کے نزدیك اب بھی جائز ہے اور امام ابویوسف کے قول پر چاہئے کہ جائز نہ ہو اس لئے کہ ان کے نزدیك
حوالہ / References فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصرف نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶
#13292 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
فی ذمتہ فاذا اضاف الشراء الی الکرالذی فی ذمتہ فقد اضافہ الی معدوم فلا یجوز اھ وفیہ عنھا استقرض من رجل کرا وقبضہ ثم اشتری ذلك الکربعینہ من المقرض لایجوز علی قولھما لانہ مبلکہ بنفس القبض فیصیر مشتریا ملك نفسہ اما علی قول ابی یوسف فالکرباق علی ملك المقرض فیصیر المستقرض مشتریا ملك غیرہ فیصح اھ اما الاحتیال لدفع الربا فقد اسمعناك فیہ مایکفی ویشفی وقد تقدم قول ابی یوسف رحمۃ اللہ تعالی ان العینۃ جائزۃ ما جور من عمل بھا قال واجرہ لمکان الفرار من الحرام اھ وتقدم قولہ ان الصحابۃ فعلوا ذلك وحمدوہ و تقدم قول الخانیۃ ان مثل ھذا
جب تك خرچ نہ کرلے اس کا مالك نہ ہوگا تو اس غلہ کا مثل اس کے ذمہ پر واجب نہیںاب جو یہ کہا کہ وہ غلہ جو میرے ذمہ ہے میں نے خریدا تو معدوم چیز خریدی لہذا ناجائز ہوا انتہینیز ردالمحتار میں ذخیرہ سے ہے کسی سے ایك پیمانہ غلہ قرض لے کر قبضہ کرلیا پھر بعینہ وہی غلہ قرض دینے والے سے خریداامام اعظم اور امام محمد کے قول پر جائز نہیں کہ وہ تو قبضہ کرتے ہی اس غلہ کا خود مالك ہوگیا تو اب اپنی ملك دوسرے سے کیسے خرید سکتا ہےہاں امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی کے قول پر وہ غلہ ابھی قرض دینے والے کی ملك پر باقی ہے تو یوں ہوگا کہ پرائی ملك اس سے خریدی تو صحیح ہوگی انتہیرہا دفع رباکے لئے حیلہ کرنا اس میں ہم تجھے وہ کچھ سنا چکے جو کافی وشافی ہےاور امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی کا ارشاد گزرچکا کہ عینہ جائز ہے اور اس کا کرنے والا ثواب پائے گا فرمایا اس میں ثواب اس وجہ سے ہے کہ حرام سے بھاگنا ہے انتہیاور ان کا یہ ارشادبھی گزرا کہ صحابہ کرام نے اسے کیا اور اس کی تعریف فرمائی۔اور فتاوی قاضی خان کا قول گزرا کہ اس کا مثل
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی القرض داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۷۳
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی القرض داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۷۳
فتاوٰی قاضیخان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ ۲ /۴۰۷
فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۳۲۴
#13293 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
مروی عن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم انہ امر بذلك اھ فمن بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم واصحابہ وفی البحر عن القنیۃ لاباس بالبیوع التی یفعلھا الناس للتحرز عن الربا ثم رقم اخر ھی مکروھۃ ذکر البقالی الکراھۃ من محمد وعندھما لاباس بہ قال الزرنجری خلاف محمد فی العقد بعد القرض اما اذا باع ثم دفع الدراہم لابأس بالاتفاق اھ وکذلك حکی الاجماع الامام خواہر زادہ رحمہ اللہ تعالی اذا لم یکن البیع مشروطا فی القرض فاذا ثبت عن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تعلیمہ وصح عن الصحابۃ فعلہ وتمدیحہ واجمع ائمتنا علی جوازہ فای محل بقی للارتیاب واللہ الھادی الصواباقول:ثم ھذا ایضا فی اجتماع الببیع والقرض بان یقرضہ دراہم ویبیعہ شیئا یسیرا
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے مروی ہوا کہ حضور نے اس کا حکم دیا انتہیتو اب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور صحابہ کرام کے بعد اور کون ہےاور بحرالرائق میں قنیہ سے ہے کہ وہ بیعین جو لوگ ربا سے بچنے کے لئے کرتے ہیں ان میں کچھ حرج نہیں پھر ایك اور عالم کےنام کی رمز لکھی کہ انہوں نے کہا مکروہ ہےامام بقالی نے ان کی کراہت امام محمد سے روایت کی اور امام اعظم اور امام ابویوسف کے نزدیك ان میں کچھ حرج نہیںامام شمس الدین زرنجری نے فرمایا امام محمد کے خلاف اس صورت میں ہے جبکہ قرض دے کر پھر ایسی بیع کرے اور اگر بیع کردی پھر روپے دئے تو بالاتفاق کچھ حرج نہیں انتہیاور اسی طرح امام شیخ الاسلام خواہر زادہ نے اس کے جواز پر اتفاق نقل فرمایا جبکہ قرض میں بیع کی شرط نہ لگا لی ہوتو جب کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے اس کی تعلیم ثابت اور صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے اس کا کرنا اور اس کی تعریف ثابت اور ہمارے اماموں کا ا سکے جواز پر اجماع قائمتو اب شك کی کون سی جگہ باقی رہی اور اللہ ہی ٹھیك راستہ دکھانے والا ہے ۔اقول:(میں کہتاہوں)پھر یہ بھی اس صورت میں ہے کہ بیع اور قرض جمع ہوں یوں کہ اسے کچھ روپے قرض دے اور
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ ۲ /۴۰۶
بحرالرائق کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ ایچ ایم سعید کمپنی ۶/ ۱۲۶
#13294 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
بثمن کثیر فیقبلہ لحاجۃ القرض ففی ھذاان تقدم القرض قیل کرہ البیع لانہ قرض جر نفعا وان تقدم البیع لم یکن بہ باس اتفاقا لانہ بیع جر قرضاکما افادہ الامام شمس الائمۃ الحلوانی وبہ افتی کما فی ردالمحتار امامانحن فیہ من مسألۃ النوط فبیع خالص لاقرض فیہ اصلا لا بدأ ولا عودا فذا اولی واحری ان یحل بالاتفاق من دون نزاع ولا شقاق وان شئت الزیادۃ فی امرالحیل فھذا ربنا تبارك وتعالی قائلا لعبدہ ایوب علیہ الصلوۃ والسلام " و خذ بیدك ضغثا فاضرب به و لا تحنث " وھذا سیدنا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قد علم المخلص من الربا وطریق الوصول الی المرام مع التحرز عن الحرام روی الشیخان عن ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالی عنہ قال جاء بلال رضی اللہ تعالی عنہ الی النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بتمر برنی
تھوڑی سی چیز زیادہ قیمت کو اس کے ہاتھ بیچے تو حاجت قرض کے سبب اسے قبول کرے گا تو اس صورت میں اگر قرض پہلے ہے تو بعض نے بیع کو مکروہ کہا اس لئے کہ یہ وہ قرض ہوا جس نے ایك منفعت کھینچی اور اگر بیع پہلے ہو چکی تھی تو بالاتفاق اس میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ وہ ایك بیع ہے جو قرض کا نفع لائی جیساکہ امام شمس الائمہ حلوانی نے افادہ فرمایا اور اسی پر فتوی دیا جیسا کہ ردالمحتار میں ہے اور وہ مسئلہ جس میں ہم بحث کررہے ہیں یعنی نوٹ یہ تو خالص بیع ہے اس میں قرض اصلا نہیںنہ ابتدا میں نہ بعد کوتو اس کا بالاتفاق بلاخلاف وبلا نزاع جائز ہونا زیادہ لائق و مناسب ہےاور اگر تو مسئلہ حیلہمیں زیادت چاہے تو یہ ہے ہمارا رب عزوجل تبارك وتعالی اپنے بندہ ایوب علیہ الصلوۃ والسلام سے فرماتا ہوا اپنے ہاتھ میں ایك جھاڑو لے لے اس سے مار اور قسم نہ توڑاور یہ ہیں ہمارے سردار رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کہ انہوں نے ربا سے بچنے کا حیلہ اور ایسا طریقہ کہ مقصود حاصل ہوجائے اور حرام سے محافظت رہے تعلیم فرمایا اسے بخاری ومسلم نے ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا بلال رضی اللہ تعالی عنہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس خرمائے برنی
حوالہ / References القرآن الکریم ۳۸ /۴۴
#13295 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
فقال لہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم من این ھذاقال بلال کان عندنا تمرردی فبعت منہ صاعین بصاع فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اوہ عین الربا عین الربا لا تفعل ولکن اذا اردت ان تشتری فبع التمر ببیع اخر ثم اشتربہ و ایضا لھما عنہ وعن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہما ان رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم استعمل رجلا علی خیبر فجاء ہ بتمر جنیب فقال لہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اکل تمر خیبر ھکذا قال لا واللہ یارسول انا لنا خذ الصاع من ھذابالصاعین والصاعین بالثلث فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم لاتفعل بع الجمع بالدراہم ثم ابتع بالدراہم جنیبا ۔ اقول: اما کراھۃ من کرہ کمحمد فانما کان کما تقدم عن الفتح والایضاح
لائے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ یہ تم نے کہاں سے لئےبلا ل رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی ہمارے پاس خراب چھوہارے تھے ہم نے اس کے دو صاع کے بدلے ان کا ایك صاع خریدانبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا اف خاص ربا ہے خاص ربا ہے ایسا نہ کر۔مگر جب ان کو خریدنا چاہو تو اپنے چھوہاروں کو کسی اور چیز سے بیچ کراس شیئ کے بدلے ان کو خریدو نیز بخاری و مسلم نے ابوسعید خدر ی اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہما دونوں سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایك صاحب کو خیبر پر عامل صوبہ کرکے بھیجا وہ خدمت اقدس میں خرمائے جنیب لے کر حاضر ہوئے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا خیبر کے سب چھوہارے ایسے ہی ہیںعرض کی نہیں خدا کی قسم یارسول اللہ! ہم اس میں ایك صاع دو صاع کودو صاع تین صاع کو لیتے ہیں۔نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کرو اپنے چھوہارے روپیوں سے بیچ کر روپیوں سے یہ چھوہارے خریدلو۔اقول:(میں کہتاہوں) وہ جس نے اس میں کراہت سمجھی جیسے امام محمد ان کا سمجھنا تو صرف اس بنا پر تھا جیسا کہ فتح القدیر و
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب الوکالۃ باب اذا باع الوکیل شیئا فاسدا الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۱۱،صحیح مسلم کتاب المساقات باب الربا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۶
صحیح البخاری کتاب البیوع باب اذا ارادبیع تمر بتمر خیر منہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۹۳،صحیح مسلم کتاب المساقات باب الربا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۶
#13296 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
والمحیط کی لایألفہ الناس فیقعوا فی المحظور وفی زماننا قد انعکست الامور وفشا الربا فی اھل الھند جھارا لایستحیون منہ کانھم لایعد ونہ عیباولا عارا فمن نزلھم عن ھذا البلاء العظیم والکبیرۃ الشدیدۃ الی بعض ھذا الحیل الجائزۃ کبیع نوط عشرۃ باثنتی عشرۃ منجما وغیر ذلك مما تقدم عن الامام فقیہ النفس فلا شك انہ ناصح للمسلمین و ما الدین الاالنصح لکل مسلم وھم ان جاہر و ابا لمعاصی فالا سلام باق بعد وﷲ الحمد فاذاسمعواما یصلون بہ المرام مع النجاۃ عن الحرام فمالھم ان لایتوبوا فانھم غیر معاندین للشرع والاسلام و قد قال مشایخ بلخ منھم محمد بن سلمۃ للتجاران العینۃ التی جاءت فی الحدیث خیر من بیاعا تکم قال المحقق حیث اطلق وھو صحیح فلا شك ان البیع الفاسد بحکم الغصب المحرم فاین ھو من بیع العینۃ الصحیح المختلف فی کراہتہ اھ اما زعم الزاعم انہ ان لم ینہ عنہ فما الفرق بینہ وبین الربا مع حصول الفضل
الایضاح و محیط سے گزرا کہ لوگ اس کے خوگر ہوکر ناجائز بات میں نہ پڑیں اور ہمارے زمانے میں معاملہ الٹا ہوگیا اور ہندوستان میں سود علانیہ شائع ہوگیا کہ اس سے شرماتے نہیںگویا وہ ان کے نزدیك نہ کوئی عیب ہے نہ عارتو جوان کو اس عظیم بلا اور سخت کبیرہ سے ان جائز حیلوں میں کسی کی طرف اتار لائے جیسے دس کا نوٹ قسط بندی کرکے بارہ کو بیچنا اور اس کے سوا اورحیلے جو امام فقیہ النفس قاضی خاں سے گزرے تو کچھ شبھہ نہیں کہ وہ مسلمانوں کا خیر خواہ ہے اور دین نام نہیں مگر ہر مسلمان کی خیر خواہی کااور لوگ اگر چہ گناہ علانیہ کررہے ہیں مگر اسلام ابھی باقی ہے وﷲ الحمدتو جب وہ ایسی بات سنیں جس سے اپنی مراد پائیں اور حرام سے بچیں تو کیا وجہ ہے کہ توبہ نہ کریں کہ ان کو شریعت اور اسلام سے کچھ عداوت تو نہیں اور بیشك مشایخ بلخ مثل امام محمد بن سلمہ وغیرہ نے تاجروں سے فرمایا وہ عینہ جس کا ذکر حدیث میں ہے تمہاری ان بیعوں سے بہتر ہے۔محقق علی الاطلاق نے فرمایا یہ ٹھیك بات ہے اس لئے کہ بلا شبہہ بیع فاسد غصب حرام کے حکم میں ہے تو کہاں وہ اور کہاں بیع عینہ کہ صحیح ہے اور اس کی کراہت میں بھی اختلاف انتہی رہا زعم کرنے والے کا یہ زعم کہ اگر یہ منع نہ ہو تو اس میں اور ربا میں کیا فرق ہے حالانکہ زیادتی
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴
#13297 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
فیہما اقول:ھذا اعتراض اوردہ المشرکون وقد تکفل الجواب عنہ ربنا تبارك وتعالی فی القران العظیم " قالوا انما البیع مثل الربوا-و احل الله البیع و حرم الربوا " الم یرالمعترض انا انما احللنا الربح فی بیع جنسین متخالفین فان حرم ھذا لانسد باب البیاعات ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم انتہی الجواب بتوفیق الوھاب والحمدﷲ اولا واخرا وباطنا و ظاہرا وسمیتہ"کفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراھم ۱۳۲۴ھ"لیکون العلم علما علی عام التالیف وقد ابتدأ فیہ العبد الضعیف یوم السبت ثم عاودتنی الحمی یوم الاحد فانھیتہ ضحی یوم الاثنین لسبع بقین من المحرم الحرام ۱۳۲۴ھ وذلك فی بلد اللہ الحرام باقتراح الفاضل الصفی الوفی امام المقام الحنفی مولانا الشیخ عبداللہ بن شیخ الخطباء و سید الائمۃ العظماء العالم العامل الفاضل الکامل الزاہد الورع التقی النقی مجمع الفضائل و منبع الفواضل حضرۃ الشیخ احمد ابی الخیر حفظہما اللہ تعالی عن
دونوں میں حاصل ہوئی۔اقول:(میں کہتا ہوں)یہ وہ اعتراض ہے کہ کفار نے کیا تھا اور خود رب العزۃ تبارك و تعالی نے قرآن عظیم میں اس کا جواب دیاکافر بولے بیع بھی تو ایسے ہی ہے جیسے ربااور ہے یہ کہ اللہ نے حلال کی بیع اورحرام کیا سودکیا معترض نے یہ نہ دیکھا کہ ہم نے نفع وہیں حلال کیا جہاں دو جنسوں کی بیع ہو تو اگر یہ حرام ہو تو خرید و فروخت کا دروازہ ہی بند ہوجائے ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیموہاب جل جلالہ کی توفیق سے جواب تمام ہوا اوراللہ ہی کے لئے حمد ہے آگے اور پیچھے اور نہاں وعیاں اور میں نے اس کا نام"کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الدراہم" رکھا تاکہ نام سال تصنیف کی علامت ہو اور بندہ ضعیف نے شنبہ کے دن لکھنا شروع کیا تھا پھر اتوار کے دن بخار عود کرآیا تو پیر کے دن پہروں چڑھے میں نے اسے تمام کیامحرم شریف کی تئیس تاریخ ۱۳۲۴ھ اور یہ تصنیف اللہ کے حرمت والے (مکہ معظمہ) میں ہوئی ان کی خواہش سے جو فاضل کامل پاکیزہ مصلائے حنفی کےامام ہیں مولانا شیخ عبداللہ ان کے صاحبزادہ جو خطیبوں کے شیخ اور عظمت والے اماموں کے سردارہیں یعنی عالم باعملفاضل کاملزاہد متورعمتقی پاکیزہمجمع فضائل ومنبع فواضل حضرت شیخ احمد ابی الخیر اللہ تعالی ہر ضرر سے ان دونوں کا نگہبان ہو
حوالہ / References القرآن الکریم ۲/۲۷۵
#13298 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
کل ضیر ورزقھما من کل خیر و غفرلنا ذنوبنا وستر عیوبنا وخفف اثقالنا ووحقق امالنا ورزقنا العود بعد العود الی ھذا البیت الکریم وبیت الحبیب الرؤف الرحیم علیہ وعلی الہ افضل الصلوۃ والتسلیم بقبولہ ورضاہ حتی یجعل اخر ذلك موتنا علی الایمان فی المدینۃ المنورۃ والدفن بالبقیع والفوز بشفاعۃ الشفیع الرفیع صلی اللہ تعالی علیہ وعلی الہ وصحبہ وبارك وکرم امین والحمد ﷲ رب العلمین۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
عفی عنہ بمحمدن المصطفی النبی الامی
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ہر بھلائی سے ان کو حصہ دے اور ہمارے گناہ بخشے اور ہماری عیب چھپائے اور ہمارے بوجھ ہلکے کرے اور ہماری آرزو ئیں پوری کرے اور ہمیں باربار اس عزت والے گھر اور مزار نبی رؤف رحیم علی آلہ افضل الصلوۃ والتسلیم کی طرف اپنے قبول و رضا کے ساتھ عود کرنا نصیب فرمائے یہاں تك کہ آخر میں ہمیں ایمان کے ساتھ مدینہ منورہ میں مرنا اور بقیع میں دفن ہونا اور رفعت والے شفیع کی شفاعت پانا نصیب کرےاللہ تعالی ان پر درود وسلام بھیجے اور ان کی آل واصحاب پر اور اپنی برکت و تکریم ان پر اتارےآمین
والحمد ﷲ رب العالمین۔
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
عبدہ المذنب احمد رضا البریلوی
عفی عنہ بمحمد ن المصطفی النبی الامی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
________________
فتوی حامی سنت ماحی بدعت جناب مولنا مولوی شاہ محمد ارشاد حسین صاحب رامپوری رحمہ اللہ
مسئلہ ۲۱۸:کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نوٹ جو آج کل رائج ہے ان کا خرید و فروخت زیادہ و کم پر جائز ہے یانہیں بینواتوجروا۔
الجواب ھو الملہم للصواب
خرید وفروخت نوٹ مذکور کی زیادہ یا کم پر جائز ہے اس واسطے کہ حکام نے اس کو مال قرار دیا ہے اور جو شیئ کہ اصطلاح قوم میں مال قرار دی جائے خواہ فی اصلہ اس میں ثمنیت اور مالیت ثابت نہ ہو لیکن فقط قوم کے قرار دینے سے ثمنیت اور مالیت اس میں ثابت ہوجاتی ہے اور کم اور بیش پر اس کی
#13299 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
خرید و فروخت جائز ہے۔
قال فی الھدایۃ ویجوز بیع الفلس بالفلسین باعیا نھما عندابی حنیفۃ وابی یوسف وقال محمد لا یجوز لان الثمنیۃ تثبت باصطلاح الکل فلا تبطل باصطلاحھما واذا بقیت اثمانا لاتتعین فصار کما اذا کانا بغیر اعیانھما وکیبیع الدرہم بالدرھمین ولھما ان الثمنیۃ فی حقھما تثبت باصطلاحہما واذا بطلت الثمنیۃ تتعین بالتعین اھ۔ ہدایہ میں فرمایا اور ایك پیسہ کی دو معین پیسوں سے امام اعظم ابوحنیفہ او رامام ابویوسف رحمہما اللہ تعالی کے نزدیك بیع جائز ہے اور امام محمد نے فرمایا جائز نہیں اس لئے کہ ان کی ثمنیت تمام لوگوں کی اصطلاح سے باطل نہ ہوگیاور جب یہ ثمنیت تمام لوگوں کی اصطلاح سے ثابت ہوئی تو ان دو بیع کرنے والوں کی اصطلاح سے باطل نہ ہوگیاور جب یہ ثمنیت پر باقی ہیں تو متعین نہ ہوسکیں گے تو ایسے ہوئے جیسے غیر معین چیز ہواور ایك درہم کی بیع دو درہموں کے بدلے ہو اور امام اعظم اور امام ابویوسف رحمہما اللہ تعالی کی دلیل یہ ہے کہ دنوں کی ثمنیت ان خرید و فروخت کرنے والوں کی اصطلاح سے ہوگی کیونکہ غیر کو ان پر ولایت نہیں تو ان کی اصطلاح سے باطل ہوجائےگی توجب ثمنیت جاتی رہی تو اب متعین کرنے سے متعین ہوجائیں گے اھ(ت)
پس جبکہ نوٹ مذکور میں کہ کاغذ ہے مالیت ثابت ہوئی تو اس کا بھی خرید و فروخت ساتھ کمی اور بیشی کے جائز ہے۔
فی ردالمحتار فی باب العینۃ حتی لو باع کاغذۃ بالف یجوز ولا یکرہ انتہی۔
ردالمحتار کے باب العینہ میں ہے کہحتی اگر کاغذ کو ہزار روپے سے فروخت کرے جائز ہے اور کراہت نہیں ہے انتہی۔(ت)
واللہ اعلم وعلمہ اتمالعبد المجیب محمد ریاست علی
الجواب صواب الجواب صحیح الجواب صحیح الجواب صواب
احمدی محمد اعجاز حسین کتبہ محمد حسن
محمد ارشاد حسین حامد حسین عفی عنہ

yahan image hy
حوالہ / References الہدایہ کتاب البیوع باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۳
ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیا ء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۷۹
#13300 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
البتہ بیع وشراء مذکور جائز ہے فقط حکم کرنا مجیب کا نسبت صحت بیع مذکور کے صحیح اور درست ہے ۔
العبد محمد عبدالقادر عفی عنہ العبد محمد عنایت اللہ عفی عنہ
بلاشبہہ اصطلاح میں قرار دیا جاتا ہے الجواب ھوالجواب
اور بیع وشراء مذکور جائز ہے فقط (محمد نظر علی)
العبد ابو القاسم محمد مزمل عفی عنہ
الجواب صواب
___________________
محمد عبدالجلیل بن محمد عبدالحق خان
_____________________
#13301 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
رسالہ
کاسرالسفیہ الواھم فی ابدال قرطاس الدراھم ۱۳۲۹ھ
(کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا)
کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی

الذیل المنوط لرسالۃالنوط۱۳۲۹ھ
(رسالہ نوٹ کا معلق دامن)

مسئلہ۲۱۹:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
الحمد ﷲ رسالہ مبارکہ کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الدراھم۱۳۲۴ھ نوٹ کے متعلق جملہ مسائل ایسے بیان نفیس سے روشن کئے کہ اصلا کسی مسئلہ میں کوئی حالت منتظرہ باقی نہ رہی۔یہ رسالہ مکہ معظمہ میں وہیں کے دو علمائے کرام کے استفتاء پر نہایت قلیل مدت میں تصنیف ہوا اس وقت تك رقم سے کمزیادہ کو نوٹ بیچنے کے بارے میں مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی کا خلاف معلوم تھا ان کا فتوی اگرچہ وہاں موجود نہ تھا مگر اس کا مضمون ذہن میں تھا بفضلہ تعالی گیارہویں مسئلہ میں اس کا وافی و شافی
#13302 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ردگزرا کہ مصنف کو کافی اوراوہام کا نافی ہے وﷲ الحمدیہ معلوم بھی نہ تھا کہ دیوبندیوں کے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی آنجہانی نوٹ کو تمسك ٹھہراکر سرے سے مال سے خارج اور کم و بیش درکنار برابر کو بھی اس کی خرید و فروخت ناجائز کرچکے ہیں تاہم بالہام الہی شروع کتاب میں اس پر بقدر کفایت بحث ہوئی جس نے حق کے چہرے سے نقاب اٹھائی اور سفاہت سفہا گھر تك پہنچائی والحمد ﷲ۔حاجت نہ تھی کہ اباس وہم یا اس سفاہت کی طرف مستقل توجہ ہو لیکن نفع برادران دینی کے لئے مناسب معلوم ہوا کہ ان دونوں تحریروں کو ذکر کروں اور ان کے فقرے فقرے کا جہاں جہاں اس کتاب میں رد مذکور ہوا ہےس اس کا پتہ بتادوں اور باقتضائے توجہ مستقل جو بعض مباحث تازہ خیال میں آئیں اضافہ کروں اور اس کا تاریخ نام کاسرالسفیہ الواھم فی ابدال قرطاس الدراھم ۱۳۲۹ھ رکھوں۔سفاہت سے اشارہ تحریر جناب گنگوہی صاحب کی طرف ہےاور وہم سے فتوائے مولوی لکھنوی صاحب کی طرف۔اول کے لحاظ سے لفظ ابدال بکسر ہمزہ مصدر پڑھنا چاہئے کہ ان کو نفس مبادلہ وبیع نوٹ میں عروض سفاہت ہے اور دوم کے اعتبار سے اعتبار سے بفتح ہمزہ صیغہ جمع کہ یہ نوٹ کاصرف ایك بدل یعنی جو رقم کے برابر ہو جائز رکھتے ہیں اور دربارہ کم و بیش وہم ممانعت ہے ھذا وباللہ التوفیق۔
رد سفاہت
جناب گنگوہی صاحب کی جلد دوم فتاوی ص۱۶۹ میں ہے"نوٹ و ثیقہ اس روپے کا ہے جو خزانہ حاکم میں داخل کیا گیا ہے مثل تمسك کے اس واسطے کہ نوٹ میں نقصان آجائے تو سرکار سے بدلا سکتے ہیں اور گر گم ہوجائے تو بشرط بوت اس کا بدل لے سکتے ہیں اگر نوٹ بیع ہوتا تو ہر گز مبادلہ نہیں ہوسکتا تھا دنیا میں کوئی مبیع بھی ایساہے کہ بعد قبض مشتری کے اگر نقصان یا فنا ہوجائے تو بائع سے بدل لے سکیں پس اس تقریر سے آپ کو واضح ہوجائےگا کہ نوٹ مثل فلوس کے نہیں ہے فلوس مبیع ہے اور نوٹ نقدیں ان میں زکوۃ نہیں اگر بہ نیت تجارت نہ ہوں اور نوٹ تمسك ہے اس پر زکوۃ ہوگیاکثر لوگوں کو شبہہ ہورہا ہے کہ نوٹ کو مبیع سمجھ کر زکوۃ نہیں دیتے کاغذ کو مبیع سمجھ رہے ہیں سخت غلطی ہے فقط"۔ اور جلد اول ص۷۵ و۷۶ میں ہے :"نوٹ کی خرید و فروخت برابر قیمت پر بھی درست نہیں مگر اس میں حیلہ حوالہ ہوسکتا ہے اور بحیلہ عقد حوالہ کے جائز ہے مگر کم زیادہ پر بیع کرناربا ناجائز ہے یہ تفصیل اس کی ہے فقط"۔جناب
حوالہ / References فتاوٰی رشیدیہ کتاب الزکوٰۃ محمدسعید اینڈ سنز کراچی ص۳۵۶
فتاوٰی رشیدیہ کتاب البیوع محمدسعید اینڈ سنز کراچی ۴۱۸
#13303 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
گنگوہی صاحب نے اول نوٹ کو تمسك بنایا اور آخر میں صرف اس جرم پر کہ وہ کاغذ ہے اور کاغذ بھلا کہیں بکنے کی چیزہے وہ تو دریا کے پانینہیں نہیں بلکہ ہوا کی طرح ہے اس کی بیع ہو ہی نہیں سکتی اس کی خرید و فروخت کو مطلقا ناجائز ٹھہرایا اگرچہ برابرکو ہومگر خود ہی اسی جلد دوم کے ص۱۷۳ پر فرمانے والے تھے کہ"روپیہ بھیجنے کی آسان ترکیب نوٹ جو رجسٹری یا بیمہ کرادینا " ۔اب گھبرائے کہ نوٹ کی خرید و فروخت تو میں حرام کرچکا ہوں نوٹ آئیں گے کس گھرسے کہ رجسٹری کر اکر مرسل ہوں ناچار ادھر ادھر ٹٹولا حوالہ پر ہاتھ پڑا لہذا س حیلہ حوالہ کی گھڑدی کہ"بحیلہ عقد حوالہ جائز ہے" یعنی زید نے عمرو سے پانچ روپے کا نوٹ مول لے کر پانچ روپے سے اسے دئے وہ اگر چہ خریدم و فروختم(میں نے خرید ا اور میں نے بیچا۔ت)کہہ رہے ہیں مگر زبردستی ان کے سر یہ منڈھو کہ نہ بیچا نہ مول لیا نہ قیمت دی بلکہ زید نے عمرو کو پانچ روپے قرض دیے اور عمرو جو گورنمنٹی خزانے سے یہ نوٹ مول لے چکا تھا ہو بھی قرض کا لین دین تھاان کے نزدیك گورنمنٹ پر ایسا وقت پڑا تھا کہ وہ عمرو سے پانچ روپے قرض لینے بیٹھی تھی اور اس کی سند کے لئے یہ نوٹ کا تمسك اس کے ہاتھ میں تھما دیا تھا کہ سند باشد و عند الحاجۃ بکار آید(کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ت) اب جو عمرو سیٹھ پر وقت پڑا اس نے زید سے پانچ روپے ادھار لئے اور وہی تمسك اب اسے پکڑادیا کہ گورنمنٹ پر ہمارے پانچ روپے اگلے وقتوں کے قرض آتے ہیں جن کو برسیں گزریں اب تك گورنمنٹ نے ادا نہ کئے ہم نے اپنے اوپر کے گورنمنٹ پر اتار دئے تم اس سے وصول کرلینایہ حضرت کی اس ٹٹول کا حاصل ہے جسے ہر عاقل جانتا ہے کہ محض سفاہت و باطل ہے اس کاردکافی رسالہ کے صفحہ ۱۲۶۱۲۷و ۱۲۸و۱۲۹ میں گزرا پھر بھی اس کی بعض جہالتوں کا اظہار خالی از فائدہ نہیں کہ اس ضمن میں ناظر کو بہت سے مسائل و فوائد پر اطلاع ہوگی ان شاء اللہ تعالی۔
فاقول:وباللہ التوفیق(پس میں کہتا ہوں اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے۔ت)
اول: تو یہی سرے سے سخت حماقت ہے کہ جہاں بھر کے عاقدین جس عقد کاقصد کریں زبردستی اس سے تڑاکر وہ عقدان کے سر چپٹیو جوان کے خواب وخیال میں نہیںگنگوہ کے کردہ سے اٹھ کر تمام دنیا کے جس شہر قصبے میں چاہو جاؤ اور تمام جہان سے پوچھو کہ نوٹ کے لین دین میں تمہیں خرید وفروخت مقصود ہوتی ہے بیچا اور مول لیا کہتے ہوبائع اپنی ملك سے نوٹ کا خارج ہوکر مشتری کی ملك میں داخل ہونا مشتری اس کے عوض روپے دے کر نوٹ ا پنی ملك میں آنا سمجھتا ہےیا یہ کہ نوٹ دینے والا اس سے قرض مانگتا ہے۔
حوالہ / References فتاوٰی رشیدیہ باب الربا محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص۴۳۱
فتاوٰی رشیدیہ باب الربا محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص۴۳۱
#13304 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
اور قرض کی سند میں نوٹ بجائے تمسك دیتا ہے ہدایہ میں ہے:العبرۃ فی العقود للمعانی (عقو د میں معانی کا اعتبار ہے مگر یہ عجب عقد ہے کہ لفظ بھی بیچنے خریدنے کےقصد بھی بیچنے خریدنے کا یہی مقصود یہی مرادیہی مفہوم یہی مفاداور خواہی نخواہی جہان بھر کو پاگل بناکر کہہ دیجئے کہ اگر چہ نہ تم کہتے ہو نہ قصد رکھتے ہو مگر تمہاری مراد ہےکچھ اوراگر ایسی تصحیح ہو تو دنیا میں فاسد سے فاسد عقدٹھیك ہوجائے گا مثلا زید نے عمروکے ہاتھ ایك روپیہ میں سیر بھر چاندی کو بیع کیا تو اگرچہ انہوں نے کہا یہی کہ بیچا خریدا اور ان کا قصد بھی یہی تھا مگر یوں ٹھہرائے کہ وہ کچھ کہیں سمجھیں مگر یہ بیعنہ تھی بلکہ زید نے ایك روپیہ عمرو کو ہبہ کیا عمرونے اس کی جزا میں سیر بھر چاندی اس کو ہبہ کردی اس میں کیاحرج ہوا لہذاسود حلال طیب ہے ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ہدیہ میں زیادہ عوض دینا منع نہیں بلکہ سنت ہے کسی صاحب نے ایك اونٹنی نذر بارگاہ عالم پناہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس کے عوض چھ ناقے جوان عطا فرمائے
رواہ احمد والترمذی والنسائی بسند صحیح عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان فلانا اھدی الی ناقۃ فعو ضتہ منھا ست بکرات الحدیث۔
اس کو امام احمدترمذی کاور نسائی نے سند صحیح کے ساتھ سیدنا حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا:فلاں شخص نے مجھے ایك اونٹنی ہدیہ بھیجی تو میں نے اس کے بدلے اس کو چھ جوان اونٹنیاں ہدیہ بھیجی ہیںالحدیث(ت)
تو عقد ربا کو عاقدین کے لفظ و معنی سب کے خلاف عقد ہبہ میں کھینچ لائیے اور سود حلال کرلیجئے ایسے حیلے حوالے کوے کا گوشت اور بکرے کے کپورے کھاکر سوجھتے ہوں گے مگر علم وعقل وبصر و بصیرت والے ان کو محض مضحکہ سمجھتے ہیں۔ہدیہ میں ہے:
التصحیح انما یجب فی محل اوجبا العقد فیہ۔
عقد کو صحیح بنانا اسی محل میں واجب ہے جس میں عاقدین نے عقد ٹھہرایا۔(ت)
حوالہ / References الہدایۃ کتاب البیع باب السلم مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۹۳
جامع الترمذی ابواب المناقب باب فی فضل العجم امین کمپنی دہلی ۲/ ۲۳۳،مسند احمد بن حنبل مروی از ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۹۲
الہدایۃ کتاب البیوع باب السلم مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۹۳
#13305 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
فتح میں اس کی شرح میں فرمایا:
تصحیح العقد انما یکون فی المحل الذی اوجب المتعاقعدان البیع فیہ لافی غیرہ ۔
عقد کو صحیح بنانا صرف اسی محل میں متعاقدین(بائع ومشتری) نے بیع ٹھہرائی نہ کہ ا محل کے غیر میں۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
التغییرلایجوز وان کان فیہ تصحیح التصرف ۔
تغیر کرنا جائز نہن اگر چہ اس میں تصرف کو صحیح کرنا ثابت ہوتا ہو۔(ت)
فتح میں شرح میں فرمایا:
تغییر تصرفہما لایجوز وان کان فیہ تصحیح التصرف بدلیل الاجماع(الی ان قال)فہذاہ احکام اجماعیۃ کلھا دالۃ علی ان تغییر التصرف لایجوز وان کان یتوصل بہ الی تصحیحہ ۔
عاقدین کے تصرف میں تغیر کرناجائز نہیں اگرچہ اس میں تصرف کاصحیح کرنا ثابت ہوتا ہو اس پر دلیل اجماع ہے(یہاں تك کہ شارح نے کہا)تو یہ اجماعی احکام ہیں جو تمام اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ تصرف میں تبدیلی کرنا جائز نہیں اگرچہ تبدیلی تصرف کے صحیح کرنے کا ذریعہ بنتی ہو۔(ت)
ہدایہ میں اسی کے متعلق ہے:فیہ تغییر وصفہ لا اصلہ (اس میں وصف عقد کی تبدیلی ہے نہ کہ اصل عقد کی۔ت)عنایہ میں اس کی شرح میں فرمایا:
والجواب عن تغییرتصرفہ ان یقال فیہ تغییر وصف التصرف اواصلہ والاول مسلم ولا نسلم انہ مانع عن الجواز والثانی ممنوع ۔
اس کے تصرف میں تبدیلی کا جواب یہ ہےکہ یوں کہا جائے اس میں وصف تصرف کی تبدیلی ہے یا اصل عقد کی اول مسلم ہے مگر ہم یہ نہیں مانتے کہ جواز سے مانع ہے اور ثانی ممنوع ہے۔(ت)
حوالہ / References فتح القدیر کتاب البیوع باب السلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۲۰۶
الہدایہ کتاب الصرف مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۱۰۸
فتح القدیر کتاب الصرف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۲۶۸
الہدایہ کتاب الصرف مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۰۹
العنایۃ علی الہدایہ علی ھامش فتح القدیر کتاب الصرف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۲۷۰
#13306 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ہدایہ میں ہے:
اذاشتری قلبا بعشرۃ وثوبا بعشرۃ ثم باع ھما مرابحۃ لایجوز وان امکن صرف الربح الی الثوب لانہ یصیر تولیۃ فی القلب بصرف الربح کلہ الی الثوب ۔
کسی شخص نے ایك کنگن دس درہم کے بدلے ایك کپڑا دس درہم کے بدلے خریدا پھر ان دونوں کو اکٹھا بطور مرابحہ بیچا تو جائز نہیں کیونکہ تمام نفع کو کپڑے کی طرف پھیرنے سے کنگن میں بیع تولیہ ہوجائیگی۔(ت)
فتح میں ہے:
امامسألۃ المرابحۃ فعدم الصرف لانہ یتغیر اصل العقد اذ یصیر تولیۃ فی القلب۔
لیکن مسئلہ مرابحہ میں عدم صرف اس لئے ہے کہ اس میں اصل عقد میں تبدیلی لازم آتی ہے کیونکہ کنگن میں بیع تولیہ ہوجاتی ہے(ت)
ان تصریحات ائمہ سے روشن ہواکہ متعاقدین جو عقد کررہے ہیں وہ اگرچہ باطل وفاسد ہوا اور دوسرا عقد ٹھہرانے میں اسکی تصحیح ہوتی ہو ہر گز ایسی تصحیح جائز ہیں اور اس تصحیح کے بطلان پر اجماع قائم ہےجب کہ اس میں اصل عاقدین کی تغییر ہوتی ہے اورتصحیح فرمائی کہ بیع کو مرابحہ سے تولیہ قرار دینا بھی ایسی ہی تغییر ہے کہ بالاجماع جائز نہیں حالانکہ وہ رہی بیع کی بیع ہیتو بیع کی سرے سے کایا پلٹ کرکے حوالہ کردینا کیسے جاہل مخالف اجماع کاکام ہوگا آپ کے لکھے بیع نہ ہوئی افیونی کی ریوڑی ہوئی کہ گرتے ہی مزہ بدل گیا ولاحول ولاقوۃ الاباللہ۔
دوم: ہر عاقل جانتا ہے کہ تمسك ایك معین مثلا زید کی طرف سے دوسرے معین مثلا عمرو کے لئے ہوتا ہے کہ اگر زید عمرو کے دین سے منکر ہو تو عمرو بذریعہ تمسك اس سے وصول کرسکتے تمسك اس لئے نہیں ہوتا کہ عمرو جہاں چاہے جس ملك میں چاہے جس شخص سے چاہے اسکے دام وصول کرلے زید کے پاس عمروبکرخالدولید دنیا بھر کا کوئی شخص اسے لے کر آئے یہ اسے دام پر کہا دے بلکہ زید وعمرو ودائم و مدیون دونوں بالائے طاق رہیںتیسرا شخص اجنبیچوتھے شخص نرے بیگانے کو دے کر اس سے دام لے لے دنیا میں کوئی تمسك بھی ایسا سنا ہے اور نوٹ کی حالت یقینا یہی ہے کہ جو چاہے جہاں چاہے اگرچہ غیر ملك غیر سلطنت ہو جبکہ یہاں کا سکہ اس سلطنت میں چلتا ہو جس شخص سے چاہے اس کے دام لےلےگا
حوالہ / References الہدایہ کتا ب الصرف مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۹۔۱۰۸
فتح القدیر کتا ب الصرف مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۲۷۰
#13307 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
یہ حالت یقینا مال کی ہے نہ کہ تمسك کیتو اسے تمسك کہنا کیسا اندھا پن ہے بلکہ وہ بالیقین مال ہے سکہ ہے ولکن العمیان لایبصرون(لیکن اندھے نہیں دیکھتے۔ت)
سوم: ہر عاقل جانتا ہے کہ تمسك کے وجود وعدم پر دین کا وجود وعدم موقوف نہیں ہوتا بلکہ جب دین ثابت مدیون پر دینا لازم آئے گا تمسك رہے یا نہ رہے۔اب فرض کیجئے کہ زید نے لاکھ روپے دے کر خزانے سے ہزار ہزار روپے کے سو نوٹ لئے اور اپنا نام پتہ اور نوٹ کے نمبر سب درج کرادئے۔تو اب لازمہےکہ وہ جب چاہے خزانے روپے کے سو نوٹ لئے اور اپنانام پتہ اور نوٹ کے نمبر سب درج کرادئےتو اب لازم ہے کہ وہ جب چاہے خزانے سے اپنے آتے ہوئے لاکھ روپے وصول کرلے اگرچہ نوٹ اس کے پاس جل گئے یا ریزہ ریزہ ہوگئے یا چوری ہوگئے یا اس نے کسی کو دے دئے کہ خزانہ آپ کے نزدیك اس کا مدیون ہے اور تمسك نہ رہنے سے دین ساقط نہیں ہوتا اور جب نوٹوں کے نمبر لکھے ہوئے ہیں تو گورنمنٹ کو یہ اندیشہ نہیں ہوسکتا کہ مبادا نوٹ نہ جلے نہ پھٹے بلکہ اس کے پاس موجود ہوں یا اس نے کسی کو دے دئے ہوں تو جب وہ نوٹ یہ یا دوسرا لے کر آئے ہمیں دوبارہ دینا پڑے گادوبارہ کیونکہ دینا ہوگایہ لایا تو کہہ دیا جائے گاکہ ہم نے جو روپیہ تجھ سے قرض لیا تھا تجھے اداکردیا اب مکرر کیسے طلب کرتاہےاور دوسرا لایا تو کہہ دیاجائے گا کہ اس تمسك کا روپیہ ہم اصل قرضخواہ کو دے چکے ہیں اب ہم پر مطالبہ نہیں مگر ایسا ہر گز نہ ہوگا نوٹ خود جلا کر یا پھاڑ کر کسی کو دےکر گورنمنٹ سے روپیہ مانگئے تواگر اس نے پاگل جانا تو اتوار کوکھیر دے گی ورنہ بڑے گھر کی ہوا کھلائیگیاس وقت آپ کی آنکھیں کھلیں گی کہ نوٹ کیسا تمسك تھا یہ حالت صراحۃ مال کی ہے کہ جو شخص کسی سے ایك مال خریدکر پھر اسے تلف کردے یا کسی کو دے دے اور اپنے روپے بائع سے واپس مانگے تو کم از کم پاگل ٹھہرتا ہے۔
چہارم: یہیں سے آپ کے شبہہ کا کشف ہوگیا کہ گم جائے یا نقصان آجائے تو بدلو اسکتے ہیں یہ مطلقا ہر گز صحیح نہیں اور اگر تمسك ہوتا تو واجب تھا کہ ہمیشہ ہر حال میں بدل دیا جاتا کہ تمسك کے نقصان یا فقدان یا خود ہلاك یا تلکف کردینے سے دین پر کچھ اثر نہیں پڑتا اور بعض صورتوں میں اگر بدل دینے کا وعدہ ہو بھی تو اس سے تمسك ہونا لازم نہیں آتاسلطنتوں نے یہ ایك طرفہ اکسیر ایجاد کی کہ ہزاورں کیمیا کو اس سے کچھ نسبت نہیں چھدام کے کاغذ کو ہزار کا کردیں دس ہزار کا کردیں ایسی سخت مہم بات عام میں مقبول ہونے کے لئے بعض رعایتوں کی ضرورت تھی ملك کواندیشہ ہوتاکہ کاغذ بہت ناپائدار چیزہے آگ میں جل جائےپانی میں گل جائےاستعمال سے چاك ہوگم جائے کیا ہوکیا ہو تو ہمارا مال یوں ہی برباد ہو اس کی تسکین کیلئے کچھ وعدوں کی حاجت ہوئی ورنہ ملك ہرگز نوٹ کو ہاتھ نہ لگاتایہ تو اتنی بڑی کیمیا ہے سود اگر اپنے تھوڑے سے نفع کے لئے اس قسم کے وعدہ سے اطمینان دلاتے ہیں برسوں کے لئے گھڑیوں کی گارنٹیاں
#13308 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
کرتے ہیں کہ اس مدت میں بگڑے یا بیکار یا بیکار ہو تو بنادیں گے یہاں بھی کہہ دینا کہ"بھلادنیا میں کوئی بیع بھی ایسی ہے" آپ ایك کوردہ میں رہ کر دنیا بھر کا ناحق ٹھیکہ لیں ہاں یہ کہئے کہ تاجروں کا یہ کہنا خلاف شرع ہے پھر گورنمنٹ کے سب اقوال مطابق شرع ہونا کس نے لازم کیا۔
پنجم: سود دینے لینے میں گورنمنٹ کی حالت معلوم ہے کہ وہ اسے ہر قرض ودین کا لازم قطعی مانے ہوئے ہے یہاں تك کہ جو شخص سو تك بنك میں روپیہ جمع کرے یا وہ ملازم جن کی تنخواہ کا کچھ حصہ کٹ کر جمع ہوتا رہتا اور ختم ملازمت پر ان کو دیا جاتا ہے وہ مانگیں یا نہ مانگیں ساری مدت کا سود حساب لگاکر انہیں دیتی ہے بلکہ وہ کہے کہ میں سود نہ لوں گا جب بھی ماہوار سود اس کے نام سے درج ہوتا رہتا ہےاگر خزانہ سے نوٹ لینا روپیہ داخل کرکے اس کا وثیقہ لینا ہوتا تو لازم تھا کہ گورنمنٹ اس کے لئے سود لکھتی رہتی جب تك وہ نوٹ دےکر روپیہ واپس لیتا۔اب آپ کو تو یہ حیلہ ہوگا کہ ہائیں ہم اور سودمانگیں اگرچہ اللہ عزوجل کی تکذیبحضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی توہینابلیس کو خد اکی خاص صفت میں شریك ماننا کروڑوں درجہ سود بلکہ سؤر کھانے سے بدتر ہےخیر آپ نہ جائیے امتحان کے لے کسی بنئے کو بھیج دیکھئے کہ ہزار روپے کا نوٹ خزانے سے خریدے پھر سال بھر بعد وہ بنیا اپنے اس ہزار کا سود گورنمنٹ سے مانگنے جائے دیکھئے تو ابھی اسے آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجائے گا اور جتنی اس اس پر پڑیں گی حقیقۃ اس پر نہ وہگی بلکہ اس پر ہوں گی جس نے اسے یہ چکمہ دیا تھا کہ نوٹ کی خریداری نہیں بلکہ روپیہ قرض دے کرتمسك لینا ہے۔
ششم: زید عمرو سے وقتا فوقتا سو۱۰۰ اور دو سو۲۰۰ اور ہزار۱۰۰۰ قرض لیتا رہے اس تمام مدت وہ تمسکات لکھ کر عمرو کو دیتا رہے گا اور جس تمسك کی میعاد ختم ہونے آئے گی بدل دے گا یہاں تك کہ اس پر عمرو کے دس ہزار جمع ہوگئے اب اس نے ہزار ہزار کے دس نوٹ عمروکو دئے اسی وقت سے اس کا حساب بند ہوجائے گا عمرو سب تمسکات اسے پھیردے گا اسے فارغ خطی لکھ دے گا زید اور خود عمرو اور سارا جہان سمجھے گا کہ قرضہ دام دام وصول ہوگیامگر گنگوہی صاحب فرماتے ہیں دس ہزار کے نوٹ دئے تو کیا ہوا وصول ابھی ایك کوڑی بھی نہ ہوئیاس جہاں بھر سے نرالی مت کا کیا کہنا!
ہفتم: فرض کیجئے گورنمنٹ نے کسی بنك سے بیس لاکھ روپے قرض لئے اور تمسك لکھ دیا کہ دس برس کے اندر اداکیا جائے گا تین برس گزرنے پر بیس لاکھ کے نوٹ بنك کو دے دئیے تمام جہاں اور
حوالہ / References فتاوٰی رشیدیہ کتاب الزکوٰۃ محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص۳۵۶
#13309 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
بنك اور گورنمنٹ سب تو یہی سمجھیں گے کہ قرض ادا ہوگیامگر گنگوہی صاحب سے پوچھئے کہ اگر یہ نوٹ بھی تمسك ہی تھے تو اس فضول کاورائی کا محصل کیا ہوا تمسك تو پہلے سے لکھا ہوا موجود تھا اس جدید تمسك کی کیا حاجت ہوئیبھلا زید کو تو اتنا فائدہ ہوا بھی تھا کہ نوٹ کر اپنا قرض گورنمنٹ پر اتار دیا گورنمنٹ کو کیا نفع ہوا اس کا قرض اسی پر تو رہا اور بنك کی بیوقوفی تو دیکھئے نرے تمسك پرپھول کر حساب بند کر بیٹھاظاہرا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی بند تو سب کی بند۔
ہشتم: حوالہ اپنا قرض دوسرے پر اتارنے کو کہتےہیں تو اگر زید پر عمرو کا قرض نہ آتا ہو بلکہ زید کا قرض بکر پر ہوا اور اس صورت میں زید عمرو کو بکر پر حوالہ کرے تو یہ حقیقۃ حوالہ نہ ہوگا بلکہ عمرو کو اپنا قرض بکر سے وصول کرنے کا وکیل کرنااور اگر نہ عمرو کا قرض زید پر آتا ہو نہ زید کاقرض بکر پراور اس حالت میں زید عمرو کو بکر پر حوالہ کرے تو یہ محض باطل وبے اثر ہے اگرچہ اس حوالہ کو قبول بھی کرلے کہ اب نہ زید اپنا قرض دوسرے پر اتارتا ہے نہ دوسرے پر اپنا آتا وصول کرتا ہے بلکہ بلاوجہ عمرو سے کہتا ہے کہ بکر کے مال سے اتنے روپے لے لے بکر کا قبول کرنا وہ نرا ایك وعدہ ہوا کہ میں اتنا مال عمرو کو بخش دوں گا اور محض وعدہ پر جبر نہیںلہذا اس قول کا کچھ اثر نہیںعالمگیری میں ہے :
اذا احال رجلا علی غریمہ ولیس للمستحال لہ علی المحیل دین فھذہ وکالۃ ولیست بحوالۃ کذافی الخلاصۃ ۔ جب کسی شخص نے دوسرے کو اپنے مقروض پر حوالہ کیا(کہ اس سے قرض وصول کرے)حالانکہ جس کے لئے حوالہ کیا گیا اس کا حوالہ کرنے والے پر کوئی قرض نہیں تو یہ سکالت ہے حوالہ نہیںیونہی خلاصہ میں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
احال علیہ مائۃ من من حنطۃ ولم یکن للمحیل علی المحتال علیہ شیئ ولا للمحتال لہ علی المحیل فقبل المحتال علیہ ذلك لا شیئ علیہ کذا کسی شخص نے دوسرے پر سومن گندم کا حوالہ کیا حالانکہ جس پر حوالہ کیا اس پر حوالہ کرنیوالے کا کوئی قرض نہیں اور نہ ہی جس کے لئے حوالہ کیا گیا اس کا حوالہ کرنے والے پر کوئی قرض ہےاور جس پر حوالہ کیا گیا اس نے اس کو قول کرلیا تب بھی
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الحوالہ مشائل شتیٌ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۰۵
#13310 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
فی القنیۃ ۔ اس پر کوئی شیئ لازم نہیںقنیہ میں یونہی ہے(ت)
اب فرض کیجئے کہ اب بنك نے خزانہ سے بیس لاکھ کے نوٹ متفرق اوقات میں لئے تھے پھر گورنمنٹ کو قر ض لینے کی حاجت ہوئی اس نے بنك سے بیس لاکھ قرض مانگے بنك نےوہی نوٹ دے دئے تو تمام دنیا یہی جانے گی کہ بنك نے ضرور قرض دیا مگر آہ اپنی کہئےاب نوٹ دینا حوالہ تو ہو نہیں سکتاکہ گورنمنٹ کا بنك پر قرض نہ آتا تھا انتہا یہ کہ وکالت ہوگی جس کا حاصل اتنا کہ گورنمنٹ نے اس سے قرض مانگا اس نے بیس لاکھ کے نوٹ جو نرے تمسك تھے دے کر برات عاشقاں برشاخ آہو پر ٹال دیا یعنی گورنمنٹ کو وکیل کردیا کہ خود اپنے خزانہ سے وصول کرو ہم کچھ نہ دیں گے لطف یہ کہ گورنمنٹ بھی نہیں کہتی کہ ہم تجھ سے قرض چاہتے ہیںتو کہتا ہے اپنے ہی خزانہ سے لے لو یہ کیا قرض دینا ہوازید پر عمرو کے روپے آتے ہوں زید اس سے اور قرض لینے آئےاس پر عمرو کہے کہ میرا پہلا قرض جو تم پر آتا ہے اسی سے وصول کرلوتو اس نے یہ قرض دیا یا ٹال دیا بلکہ اسے یوں ٹھہراؤ کہ دین معاف کیا اور تمسك واپس دئیے معاملہ ختم ہوا گورنمنٹ بیس لاکھ کے نوٹ لے لے اور کوڑی نہ دے سستے چھوٹے۔
نہم: فرض کرو گورنمنٹ نے بیس لاکھ کسی کو انعام دئیے تھے پھر ایك وقت پر ا سے قرض مانگا اس نے وہی نوٹ دے دئیے دنیا جانے گی کہ گورنمنٹ پر اس کے بیس لاکھ قرض ہوگئے مگر گنگوہی صاحب کہیں گے ایك پیسہ بھی قرض نہ ہوا گورنمنٹ بیس لاکھ کے نوٹ مفت لے لے اور کچھ نہ دے اس لئے کہ یہ وہ صورت ہے کہ نہ حوالہ کرنے والے پر قرض آتا تھا نہ جس پر حوالہ کیا اس پر اس کا پہلے کوئی دین تھا تو کارروائی باطل ہوئی اور گورنمنٹ کوکچھ دینا نہ آئے گا ولا حول ولا قوۃ الا باللہغرض یہ آپ نے وہ گھڑی ہے کہ نہ گورنمنٹ کی خواب میں ہے نہ ملك بھر کے خیال میں آپ ہی اپنی ڈیڑھ چھٹانك کی الگ بگھار رہے ہیں۔
دہم: حوالہ میں مدیون محیل کہلاتا ہے اور دائن محتالاور جس پر قرض اتاراگیا کہ اس سے وصول کرلینا اسے محتال علیہ یا حویل کہئےیہاں جب زید نے عمرو کے ہاتھ ہزار روپے کے نوٹ بیچے تو آپ کے طور پر زید عمرو کا مدیون اور محیل ہوا اور عمرو زید کا دائن اور محتال ہوااور گورنمنٹ حویلاور شرعی مسئلہ ہے کہ ہر شخص حویل ہوسکتا ہے اگرچہ محیل کا اس پر کچھ نہ آتا ہو کہ اس نے جب حوالہ قبول کرلیا تو اس کا دین اپنے سر لیا اگرچہ ا کا اس پر کچھ مطالبہ نہیں لیکن جبکہ حویل محیل کا مدیون نہ ہو اور محیل کا حوالہ مان کر اس کا دین محتال کو
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الحوالہ مشائل شتیٌ نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۳۰۵
#13311 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ادا کردے تو اسی قدر محیل سے واپس لے گا کہ میں نے تیرے کہے سے تیرا دین ادا کیا ہے اور اگر محتال حویل کو دین ہبہ کردے یا کہے میں نے وہ دین تیرے لئے چھوڑدیا جب بھی حویل محیل سے بھر والے گا کہ ہبہ ہونا بھی ادا ہوجانے کی مثل ہے۔ فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
شرائطہا انواع بعضہا یرجع الی المحتال علیہ ومنہ رجاہ وقبول الحوالۃ سواء کان علیہ دین اولم یکن عند علمائنا رحمہم اللہ تعالی کذا فی المحیط اھ ملتقطا۔
حوالہ کی شرطیں کئی قسم کی ہیںان میں سے بعض محتال علیہ کی طرف لوٹتی ہیں جن میں سے محتال علیہ کی رضا مندی اور حوالہ کو قبول کرنا ہے چاہے اس پر قرض ہو یا نہ ہویہ ہمارے علماء کے نزدیك ہے رحمۃ اللہ تعالی علیہ میوں ہی محیط میں ہے اھ التقاط(ت)
اسی میں ہے:
اذا ادی المحتال علیہ الی المحتال لہ اووھبہ لہ اوتصدق بہ علیہ او مات المحتا لہ فورثہ المحتال علیہ یرجع فی ذلك کلہ علی المحیل ولو ابرأ المحتال لہ المحتال برئ ولم یرجع علی المحیل کذا فی الخلاصۃ واذا قال للمحتال علیہ قد ترکتہ لك کان للمحتال علیہ ان یرجع علی المحیل کذا فی خزانۃ الفتاوی ۔
جب محتال علیہمحتالہ لہ کو قرض ادا کردے یا محتال لہ وہ قرض محتال علیہ کو ہبہ کردے یا اس پر وہ قرض صدقہ کردے یا محتال لہ مرجائے اور محتال علیہ اس کا وارث بن جائے تو ان تمام صورتوں میں محتال علیہ محیل کی طرف رجوع کرے گا اور اگر محتال لہ نے محتال علیہ کو قرض سے بری کردیا تو وہ بری ہوگیا اور اب محیل کی طرف رجوع نہیں کرسکتا۔یہ خلاصہ میں ہے۔اور محتال لہ نے محتال علیہ سے کہاکہ میں نے وہ قرض تیرے لئے چھوڑدیا ہے تو اس صورت میں محتال علیہ کو محیل کی طرف رجوع کا حق ہے جیسا کہ خزانۃ الفتاوی میں ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
المحتال لہ لوابرأ المحال علیہ لم یرجع
اگر محتال لہ نے محتال علیہ کو قرض سے بری کردیا تو
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الحوالہ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور۳/ ۹۶۔۲۹۵
فتاوٰی ہندیہ کتاب الحوالہ الباب الثانی الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۹۸
#13312 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
علی المحیل وان کانت بامرہ کالکفالۃ ولو وہبہ رجع ان لم یکن للمحیل علیہ دین وتمامہ فی البحر ۔
محتال علیہ محیل کی طرف جوع نہیں کرے گا اگرچہ اس کے امر سے ایسا ہوا ہواو ر اگر محتال لہ نے قرض محتال علیہ کو ہبہ کردیا تو محتال علیہ محیل کی طرف رجوع کرسکتا ہے بشرطیکہ محیل کا اس پر قرض نہ ہواس کی مکمل بحث بحر میں ہے۔(ت)
اب فرض کیجئے کہ گورنمنٹ نےکسی خدمتگاری کے صلہ میں دس ہزار روپے کا نوٹ آپ کو انعام دیا ایك بنئے نے روپے دے کر وہ نوٹ آپ سے خریدلیا پھر کسی موقوع پر اس نے گورنمنٹ کی نذر کردیا اب وہی صورت آگئی آپ بنئے کے محیل تھے اور بنیا محتال اور گورنمنٹ حویل۔اور ظاہر ہے کہ گورنمنٹ آپ کی مدیون نہ تھی آپ بنئے کے مدیون تھے آپ نے اپنا دین نوٹ دے کر گورنمنٹ پر اتاردیا تھا اور گورنمنٹ نے اپنے قانون عام سے کہ جو نوٹ لائیگا روپیہ پائے گا حوالہ قبول کرچکی اور بنئے نے نوٹوں کا روپیہ یعنی وہ دین گورنمنٹ کو نذر کردیا ہبہ کردیا ترك کردیا تو لازم کہ گورنمنٹ چاند ٹھونك کر آپ سے دس ہزار وصول کرسکے اس سے آپ کو حوالہ ماننے کا مزہ آجاتا کہ نوٹ کے نوٹ غائب اور دس ہزارکھوپڑی پرواجببحمد اللہ اس سفاہت کا بہت طرح رد ہوسکتا ہےمگر آپ کےحوالہ کی مٹی پلید کرنےکو" تلك عشرة كاملة " (یہ پورے دس ہیں۔ ت)یہ پورےدس کیا کم ہیں وبا اللہ التوفیق۔
یازدہم:تمام جہان تو نوٹ کو مال مانے ہوئے ہے آپ کو اس میں کیا دکھتی سوجھی ہے کہ وہ کچھ محالاتا اوڑھئے عالم بھر کی آنکھوں میں خاك جھونکئے مگر اسے مال ماننا منظور نہیں آپ کی روش تو یہ تھی کہ جو امر محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم و سائر محبوبان خدا جل وعلا کی تعظیم و محبت کا پہلولئے ہوئے ہو اس میں اپنے حد کی تنگی دکھاؤ بنے نہ بنے شرك کفر حرام گاؤ اور اپنے معتقدوں کے لئے ذرائع اکل و معاش میں خوب وسعت لاؤکواکھانا حلال بلکہ ثواب (دیکھو جلد ۲ ص۱۷۹)بکرے کے خصیے کھانا حلال (دیکھو جلد ۳ص۱۹۰)تعجب ہے کہ اسے ثواب نہ لکھاکوا کالا کالا یہ گورے گورےان میں تو گنگوہی شریعت سے بڑا چمکتا ثواب چاہئے تھاپاخانہ اٹھانے کی اجرت مباح خالص حلال طیب جس میں
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحوالہ داراحیاء الترا ث العربی بیروت ۴ /۲۸۸
القرآن الکریم ۲ /۱۹۶
فتاوٰی رشیدیہ کتاب الحظر والاباحۃ محمد سعید اینڈ سنزکراچی ص۴۹۳
#13313 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
کراہت درکنار کراہت کاشبہہ بھی نہیں بھنگی نے پاخانہ اٹھا کر جو مال کمایا ایسا مقدس ہے کہ اسے تعمیر مسجد میں صرف کرنا بھی درست ہے (دیکھو جلد اول ص۱۰۵)واقعی آپ جیسے مقدسوں کے کھانے پہننے اور آپ حضرات کی مساجد مولثہ بد عات توہین و نتقیص کی لائق ایسی ہی کمائی تھی ع
ہر شکم و لقمہ شایان او
(ہر پیٹ کہی شان کے مطابق لقمہ چاہئے۔ت)
غرض ذرائع دنیا میں اپنوکے لئے آپ کی یہ وسعت تھینوٹ کی خریدو فروخت اور اسے مال سمجھن میں کون ساحصہ تعظیم و محبت محبوبان خدا پایا جسے باطل کرنا آپ پر لازم ہوا وجہ تو بتائے کہ یہ تمام عالم کا اسے مال ماننا کیوں نہ مقبول ٹھہرا ثمن اصطلاحی ٹھہرانےمیں اصطلاح قوم و ملك پر کاربندی واجب ہوتی ہے یہاں جملہ اقوام و تمام ممالك عالم اپنی اصطلاح روشن طور پر بتارہے ہیں اور آپ ہیں کہ ایك نہ ہزار نہ کوئی یہ تو پوچھے کہ آپ ہیں کون اصطلاح جملہ جہاں میں دخل دینے والےنوٹ کی مالیت کا ثبوت رسالہ میں ص ۱۲۶سے ۱۳۲تك سوجھئے۔
دوازدہم۱۲: پیسوں میں نیت تجارت کی حاجت اس وقت ہے جب وہ ثمن ہوکر نہ چلتے ہوں ورنہ ثمن میں ہر گز نیت تجارت کی حاجت نہیں اگرچہ ثمن اصطلاحی ہو نہ خلقیغنیہ ذوی الاحکام ور دالمحتار وغیرہما میں ہے:
الفلوس ان کانت اثمانا رائجۃ او سلعا للتجارۃ تجب الزکوۃ فی قیمتھا والافلا ۔
پیسے اگر ثمن ہوں اور رائج ہوں یا سامان تجارت ہوں تو ان کی قیمت میں زکوۃ واجب ہے ورنہ نہیں۔(ت)
درمختار وبحرالرائق ونہر الفائق میں ہے:
اغلب غشہ یقوم کالعروض ویشترط فیہ النیۃ الااذا کانت اثمانا رائجۃ ۔
جس میں ملاوٹ غالب ہو اس کی قیمت لگائی جائیگی جیسے سامان کی قیمت لگائی جاتی ہے اور اس میں نیت تجارت شرط ہے سوائے اس کے کہ وہ ثمن رائج ہوں۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی رشیدیہ کامل باب احکام المساجد محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص۴۰۸
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب المال داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۲
درمختار کتاب الزکوٰۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۵
#13314 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
شامی میں ہے:
ماکان ثمنا رائجا تجب زکاتہ سواء نوی التجارۃ اولا ۔
جو ثمن رائج ہو اس کی زکوۃ واجب ہے چاہے تجارت کی نیت ہو یا نہ ہو(ت)
اسی میں ہے:
عین النقدین لایحتاج الی نیۃ التجارۃ وکذا ماکان ثمنا رائجا۔
عین نقدین(سونا اور چاندی)میں تجارت کی نیت کی حاجت نہیں اسی طرح جو ثمن رائج ہو۔(ت)
بحرالرائق میں کتب کثیرہ سے ہے:
ان غلب الغش فلیس کالفضۃ کا لستوقۃ فینظر ان کانت رائجۃ اونوی التجارۃ اعتبرت قیمتھا فان بلغت نصابا وجبت فیہا الزکوۃ والا فلاء ملخصا۔
اگر ملاوٹ(کھوٹ)غالب ہو تو وہ چاندی کی طرح نہیں جیسے کھوٹے روپےپھر دیکھا جائیگا کہ وہ رائج ہیں یا ان میں نیت تجارت ہے تو ان کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گااگر وہ نصاب کو پہنچے تو اس میں زکوۃ ہے ورنہ نہیں(ت)
ص ۱۳۷ دیکھئے کہ اسی پر فتوی ہے ایك آدھ روایت ٹٹول میں آجانا اور محل ومحمل نہ دیکھنا اور راجح و مرجوح و شاذ ومشہورمیں فرق نہ کرنا فقہات نہیں ہوتا مگر حضرات وہابیہ کے نصیبوں تو فقہات بحمداللہ نصیب دشمنان ہے۔ان وجوہ قاہرہ کے علاوہ اس دو سطری تحریر گنگوہیت خمیر میں اور بھی مواخذات ہیں مثلا:
(۱۳)نوٹ نقدین بتیا یعنی نوٹ سونا چاندی ہےاور پھر اسی منہ میں یہ کہ تمسك ہے۔
(۱۴)تمسك کہ کہنا کہ اس پر زکوۃ ہے حالانکہ تمسك سرے سے مال ہی نہیںنہ اس کے عدم و وجود کو زکوۃ کے وجوب وعدم میں کچھ دخل۔
(۱۵)نوٹ کے مبیع سمجھنے پر اس کی زکوۃ نہ دینے کی بنا سمجھناکیا مبیع پر زکوۃ نہیں ہوتی۔ابھی تو آپ پیسوں کو مبیع کہہ کر بحال نیت تجارت زکوہ واجب مان چکے ہیں۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰہ المال داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۲
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰہ المال داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۲
بحرالرائق کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰہ المال ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۲۲۸
#13315 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
(۱۶)کاغذ کے مبیع سمجھنے کو سخت غلطی کہنا شاید عمر بھر کاغذ خریدنے کا اتفاق نہ ہوانہ ان کے گاؤں میں خبر پہنچی کہ دنیا میں کاغذبھی بکتا ہے۔
(۱۷)لطف یہ کہ ابھی تونوٹ کو اس جرم پر کہ کاغذ ہے مبیع سمجھنا سخت غلطی تھا اور ایك ہی ورق بعد صفحہ ۱۷۳پر خود فرماتے ہیں کہ"نوٹ خرید کر بھیج سکتا ہے "اے سبحان اللہ ! نوٹ تو بك سکتا ہی نہ تھا خرید اکیسے جائے گا مگر حضرت کی ان عظیم سفاہتوں کے آگے ایسی نزاکتوں کی کیا گنتی ع
ماعلی مثلہ یعد الخطاء
(اس کی مثل پر خطاؤ ں کا شمارنہیں کیاجاتا۔ت)
نسأل اللہ العفو والعافیۃولاحول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم۔
ہم اللہ تعالی سے معافی اور عافیت مانگتے ہیںاور گناہ سے بچنے اور نیکی کی طاقت نہیں مگر اللہ تعالی کی توفیق سے۔(ت)
(۱۸)آپ کی اجواب دیں گے اگر کوئی آپ کی پچھلی نزاکت پر کہے کہ جب آپ نے اس عقد کو کہ لفظ"میں"نیت میں قصد میں فہم میں قطعا بیع تھا تمام جہاں کے فہم و ارادہ کے خلاف کا یا پلٹ کرکے حوالہ تراش لیا تو آپ اب کس منہ سے کہت ہیں کہ کم زیادہ پر بیع کرنا ربا و ناجائز ہے زیادہ پر بیع کا یہ حاصل کیوں نہیں ٹھہراتے کہ زید نے جوعمرو کے سات سو روپے کا نوٹ سو اسو روپے کو بیچا ہے یہ بیع نہیں سوا سو کا سوسے بدلنا نہیں کہ رباناجائز ہو بلکہ زیدنے عمرو سے سوا سو قرض لئے ہیں اور زید کے گورنمنٹ پر سو آتے تھے وہ اس پر اتاردئیےرہے پچیس وہ عمرو نے زید کو چھوڑدئیے اور اس میں کون سار ہا ہے فتاوی امام قاضی خان سے رسالہ کے صفحہ ۱۷۳ میں گزرا:
فان ارادالحیلۃ یستقرض من المشتری اثنی عشر درہما مکسرۃ ثم یقضیہ عشرۃ جیادا ثم ان المقرض یبرءہ عن درھمین فیجوز ذلك ۔
اگرحیلہ کا ارادہ کرے تو مشتری سے بارہ درہم ٹوٹے ہوئے قرض لے پھر دس کھرے درہم اس کو واپس دے اور قرض دہندہ باقی دو درہموں سے اس کو بری کردے تو یہ جائز ہے۔ (ت)
حوالہ / References فتاوٰی رشیدیہ باب الربوٰ محمد سعید اینڈ سنز کراچی ص۴۳۱
فتاوٰی قاضی خان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ،انڈیا ۲/ ۴۰۷
#13316 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
نیز خانیہ سے اس کے متصل گزرا:
فان ارادہ الحیلۃ یا خذ التسعۃ بالتسعہ ویبرءہ عن الدرھم الباقی ۔
اگر حیلہ کرنا چاہے تو نو درہم نودرہموں کے بندلے میں لے لے اور باقی ایك درہم سے اس(مقروض)کو بری کردے۔ (ت)
اگر کہئے یہ قض بشرط ابراء عن البعض ہواتو اولا کیوں نہ کہئے کہ جب سرے سے سو کا نوٹ لے کر سو اسودے رہا ہے تو قرض بعض وہبہ بعض ہوا پھر اگر زیادتممتازہ یا تبعیض مضر ہو جب تو بلا خدشہ جائز و صحیح و روا ہے اور آپ کا حکم باطل و پادر ہوا ہے ورنہ غایت یہ کہ بوجہ شیوع ناتمام ہوربا کہاں سے آیا۔
ثانیا:قرض شروط فاسدہ سے فاسدنہہوتا بلکہ شرط باطل ہوجاتی ہے تو یہ کئے کہ زید پر پچیس روپے اور واجب رہے نہ کہ سود ہوا
فافھم ان کنت تفہم لکنك تفہم انك لاتفہم۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
تو سمجھ لے اگر تو سمجھتا ہے لیکن تو سمجھتا ہے کہ بیشك تو نہیں سمجھے گا۔واللہ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
رد وہم
بحمد اللہ تعالی مولوی صاحب لکھنؤ ی کے ردمین کلا مشبع گزرا مسئلہ یازدہم خاص انہیں کے رد میں تھا بلکہ کا اکثر حصہ ان کے رد میں ہے یہاں غالبا ان کا پتا دینے پر اکتفاہومولوی صاحب کی کی جلد دوم فتوی نمبر ۱۲۶:قولہ ھو المصوب (وہ درست بنانے والا۔ت)
اقول:(میں کہتا ہوں مولوی صاحب کی عادت ہے کہ ہر جواب سے پہلے یہی لکفظ لکھتے ہیں حالانکہاولا: اللہ عزوجل پر اس نام کا اطلاق واردنہیں ہوتا۔
ثانیا: معنی لغت بھی اس کے مساعد نہیں لغت میں مصوب وہ ہے جو دوسرے کی بات ٹھیك بتائےنہ وہ جو اس کی بات کو ٹھیك بنائے یعنی اسے توفیق صواب بخشےتصویب بعد وقوع قول
حوالہ / References فتاوٰی قاضیخان کتاب البیوع باب فی بیع مال الربوٰ نولکشور لکھنؤ انڈیا ۲ /۴۰۷
مجموعہ فتاوٰی کتاب الاکل والشرب مطبع یوسفی لکھنوی،انڈیا ۲/۱۱۵
#13317 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ہوتی ہے اور توفیق صواب اس سے مقدم۔
ثالثا:اس کے اور معنی بھی ہیں کہ باری عزوجل پر محال ہیںمصوب وہ جو سر جھکائے ہوئے ہومصوب وہ سوار کہ گھوڑا تیز چلائے۔قاموس میں ہے:
صوبہ قال لہ اصبت وراسہ خفضہ ۔
صوبہ کسی کو کہاکہ تونے ٹھیك بات کیصوب راسہ اس نے سرجھکا یا۔(ت)
تاج العروس میں ہے:
صوبت الفرس اذا ارسلتہ فی الجری ۔
صوبت الفرس یعنی میں نے گھوڑے کو تیزدوڑایا۔(ت)
ہاں مصوب وہ بھی ہے کہ دوسرے کا سر نیچا کرے یا بلندی سے پستی میں اتارے۔تاج العروس میں ہے:
التصویب خلاف التصعید ومن قطع سدرۃ صوب اللہ راسہ فی النار ای نکسہ اھ مختصرا۔
تصویبتصعید کے خلاف ہے اور جس نے بیری کا درخت کاٹا اللہ تعالی نے اس کا سر آگ میں جھکا دیا اھ مختصرا (ت)
یہ اگر ہوتا تو مثل خافض رافع سے جدا نہ بولا جاتا کما فی کتاب الاسماء والصفات للامام البیہقی(جیسا کہ امام بیہقی کی کتاب الاسماء والصفات میں ہے۔ت)پھر جبکہ مضاف الیہ مذکور نہیں توامثال مقام میں خود متکلم کی طر ف اس کی اضافت مفہوم ہوتی ہے جیسے ھو الھادی(وہی ہدایت دینے والا ہے۔ت)سے شروع کرنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ قائل اپنے لئے ہدایت مانگتا ہے اس تقدیر پر یہ کیا دعاہوئی کہ الہی ! قائل کا سرنیچا کردےالہی !اسے پستی میں ڈال دے۔یہ بحث اگرچہ مسئلہ نوٹ سے جدا تھی مگر منکر یا ناپسند یدہ پر اطلاع دینا مناسب ہے وباللہ التوفیق۔
قولہ: نوٹ ہر چند کہ خلقۃ ثمن نہیں مگرعرفا حکم ثمن میں ہے ۔
حوالہ / References القاموس المحیط فصل الصاد من باب الباء مصطفی الحلبی مصر ۱ /۹۷
تاج العروس فصل الصاد من باب الباء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۴۱
تاج العروس فصل الصاد من باب الباء داراحیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۳۴۱
مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/۳۹۷
#13318 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
اقول اولا: یونہی اکنیاں اور پیسے بھیپھر اس سے کیا حاصل ہوا۔
ثانیا:اگر یہ مرد کہ اہل عرف اس کے لئے ثمن کے جملہ احکام شرعیہ ثابت کرتے ہیں تو صریح غلط بلکہ عامہ اہل عرف ان احکام سے آگاہ بھی نہیں بلکہ یہ عرف مومنین و کافرین میں مشترکاور اگر یہ مقصود کہ ثمن سے جو اغراض اہل عرف متعلق ہیں ان سب میں نوٹ کو اس کا قائم مقام سجھتے ہیں جب بھی غلط۔ثمن کے مقاصد سے ایك عمدہ مقصد لباس میں تزین ظروف وغیرہا میں تجمل ہےاور نوٹ ہر گز اس میں قائم مقام ثمن نہیںاور اگر یہ مطلب کہ ثمن کے بعض اغراض یعنی تمول اور حوائج تك اس کے ذریعہ سےتوسل میں نائب مناب جانتےہیں تو ثمن اصطلاحی کے معنی ہی یہ ہیں کہ اہل عرف اپنی اصطلاح سے ان اغراض میں اسے مثل ثمن کام میں لائیں پھر اس سے جملہ احکام شرعیہ ثمن کا ثبوت کیونکرہوگیا کیا ثمن خلقی واصطلاحی میں شرعا فرق احکام نہیں۔
ثالثا: حکم شیئ میں ہونا جنس وقدر شیئ میں شیئ سے اتحاد نہیں اور یہاں بتصریح حدیث و جملہ کتب فقہ اسی پر مدار ہے۔
قولہ بلکہ عین ثمن سمجھا جاتا ہے ۔
اقول اولا:ثمن اصطلاحی سے عنیت مثل اتحاد خاص و عام مسلم مگر وہ آپ کو مفید نہیں اوثمن خلقی عینی زر وسیم سے عینیت مسلم نہیںکوئی سمجھ ولا بچہ بھی نہیں سمجھتا کہ نوٹ بعینہ چاندی سونا ہوگیااگر کہئے مراد یہ ہے کہ لین دین میں اے ایسا ہی سمجھتے ہیں جیسے روپیہ اشرفیتو یہ وہی عرفا حکم ثمن میں ہونا ہوا نہ کہ عین ثمن سمجھا جاناتو"بلکہ"لغو بلکہ غلط ہوا۔
ثانیا: نوٹ بداہۃ ثمن اصطلاحی ہے اور اصطلاحی و خلقی متباین اور متباینین میں عینیت محال اور اہل عرف مجانین نہیں اور تاویل مذکور"بلکہ"سے مہجور۔
ثالثا:اگر بفرض غلط اہل عرف ایسا سمجھ بھی لیتے تو شرع مطہر توعند یہ کا مذہب جنون روا نہیں رکھتی کہ ان کے سمجھ لینے سے خود بھی اسے عین ثمن قرار دے کر جملہ احکام ثمن نافذ فرمادے۔
رابعا:ثمن خلقی جنس ہے دو قسم ذہب و فضہ میں منحصراور نوٹ فی نفسہ ایك نو ع مستقل ہےاس کا عین مفہوم کلی معنی جنس سمجھا جانا تو بداہۃباطلاسی طرح انواع مباینہ و متباینہ سے عینیت اور جنس سے اتحاد خاص و عام کی عینیت تثلیث کرے گی اور وہ شرعا باطل ہونے کے علاوہ مقصود پر نص سے عود کرے گی کہ انواع مختلفہ ثمن میں بتصریح حدیث اجماع امت تفاضل حلال۔
حوالہ / References مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۷
#13319 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
قولہ: اس وجہ سے کہ اگر نوٹ سوروپے کا کوئی ہلاك کردے تو اصل مالك سو روپے تاوان لیتا ہے ۔
اقول اولا:اگر کوئی سو روپے کا گھوڑا ہلاك کردے جب بھی مالك سو روپے تاوان لیتا ہے تو کیا گھوڑا اور روپے بھی عین ہوگئے اور پھر نوٹ بھی گھوڑا ہوجائے گا کہ عین کا عین ہے۔اور لفظ اصل حشو ہے۔
ثانیا:یہ تو ظاہر عبارت پر تھا اب حل سنئے"لیتاہے"سے بخوشی لینا مراد یا یہ کہ وہی حکم شرع ہے کہ اس پر جبر ہوگا اول مسلم اور اس سے وہم عینیت مدفوعاور اگر فرق نہ سمجھنے کا پیوند لگائیے جب بھی لایغنی من جوع کوئی ۶۴ پیسے کسی کے تلف کر دے تو مالك بخوشی ایك روپیہ لے لے گا اور اس میں اور ۶۴ پیس لینے میں کچھ فرق نہ سمجھے گا اس سے روپیہ اور پیسے متحد نہ ہوگئے اور ثانی میں جبر متلف پر ہے یعنی اسے روپے ہی دینے پر مجبور کرینگے یا مالك پر کہ اسے قبول زر پر جبر کرینگے اول صراحۃ باطلوہ سو کا نوٹ بھی دے سکتا ہے اور مالك کو انکار کی کوئی وجہ نہیں بلکہ وہی حکم اصلی ہے کہ نوٹ مثلی ہے معہذا یہ مقصود پر نص کے ساتھ عائد ہوگا کہ اتلاف نوٹ میں ادائے دراہم پر جب ہو تو نوٹ قیمتی ٹھہرے اور روپیہ مثلی ہے اور قیمت و مثلی ایك نہیں سمجھے جاسکتے اور ثانی بر تقدیر تسلیم مفید عینیت نہیں کہ اثمان رائجہ میں بحال تساوی رواج و مالیت ادا کرنیوالا مخیر ہوتا ہے اور انکار تعنت۔اس کا بیان رسالہ کے ص ۱۸۵ سے ۱۹۰ تك دیکھئے۔
قولہ: اور سو روپے کا نوٹ جب بیچا جاتا ہے تو مقصود اس سے قیمت ملنا اس کا غذکی نہیں ہوتی ہے کیونکہ پر ظاہر ہے کہ وہ کاغذدو پیسہ کا بھی نہیں ہے بلکہ مقصود سو روپے کا بیچنا اور ا سکی قیمت لینا ہوتا ہے ۔
اقول:(۱۳تا۱۷)ا سکے پانچ رد حاشیہ ص ۱۸۴میں گزرےاور(۱۸تا۲۲)وہ جو کہا کہ وہ کاغذ دو۲ پیسہ کا بھی نہیں اس کے بھی پانچ رد گزرے ۴صفحہ ۱۲۴۱۲۵۱۲۸۱۲۹پراول یہ کہ حسب تصریح علماء کاغذ کا ایك ٹکڑا صرف عاقدین کی تراضی سے ہزار وپے کو بك سکتا ہے نہ یہ کہ یہاں لاکھوں آدمیوں کی اصطلاح۔دوم سکہ قیمتی ہےسوم حقیر شیئ کسی وصت کے سبب اپنے ہزاورں سے امثال سے گراں ہوجاتی ہے۔چہارم ورق علم کا مسئلہ اور پانچوں رد صفحہ ۱۳۸۱۳۹پرکہ تقوم
حوالہ / References مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۷
مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۷
#13320 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
میں حال پر نظر ہے نہ کہ اصل پر۔
قولہ: او رنوٹ سو روپے کا اگر کوئی شخص قرض لے تو بوقت ادا خواہ نوٹ سو روپے کا دیوے یا سو روپے دیوے دونوں امر مساوی سمجھے جاتے ہیں اور دائن کو کسی کے لینے میں مدیون سے عذر نہیں ہوتا حالانکہ اگر مدیون غیر جنس بوقت ادا دیوے تو دائن نہیں لیتا ہے ۔
اقول اولا:پندرہ روپے اگر کوئی قرض لےتو وقت ادا پندرہ روپے دے یا ایك ساورن دونوں امر مساوی سمجھے جاتے ہیں اور دائن کو کسی کے لینے میں عذر نہیں ہوتا حالانکہ مدیون غیر جنس دے تو دائن نہیں لیتا تو آپ کے نزدیك روپے اور اشرفی یعنی چاندی اور سونا بھی جنس واحد ہوئے اور قدر تو متحد تھی ہی تو فرض قطعی ہو ا کہ سونا جب چاندی سے بیچین دونوں کانٹے کی تول برابر کرلیں رتی بھر کمی وبیشی ہوئی تو سود حرام وگناہ کبیرہ و استحقاق نارجحیم و عاب الیم ہوگا یہ اجماع قطعی جمیع امت مرحومہ و تواتر قطعی و عقل جملہ عقلائے عالم سب کے خلاف ہے۔
ثانیا:آٹھ آنے پیسےاگر کوئی قرض لےتو وقت ادا پیسے ہی دئیےیا آٹھ اکنیاں یا ایك اٹھنی تینوں امرمساوی سمجھے جاتے ہیں دائن کو کسی کے لینے میں عذر نہیں ہوتا حالانکہ مدیون غیر جنس دے و دائن نہیں لیتا تو چاندی اور تانبا بھی جنس واحد ہوئے اور چاندی اور سونا پہلے متحد ہوچکے ہیں تو تانبا او سونا بھی ایك جنس ہوئے کہ متحد کا متحد متحد ہوتا ہے اور ان سب میں قدر تو متحد تھی ہی تو فرض قطعی ہوا کہ تولہ بھر سونا دو ہی پیسے کو بیچا جائے ایك چھدمابھی زیادہ ہوا تو سود کا سامنا اور جہنم کی آگ ہے والعیاذ باللہ تعالیاور تو کیا عرض کروں لیکن صراف اگر اس فتوے پر عمل کرلیں تو باز ار تو ایك ہی دن میں پٹ جائے۔
ثالثا:پندرہ روپے کے نوٹ اگر کوئی قرض لے ایکدس اور ایك پانچ کایا تینوں پانچ پاچن کےتو وقت ادا خواہ پندرہ کے نوٹ دے یا ایك سا ورندونوں مساوی سمجھے جاتے ہیں اور دائن کو کسی کے لینے میں عذر نہیں ہوتا حالانکہ مدیون غیر جنس دے تو دائن نہیں لیتا تو اب نوٹ اور سونا ایك جنس ہوئے اور آپ نوٹ اور چاندی ایك جنس کرچکے ہیں اور چاندی اور سونا قطعا دو جنس متباین ہیں ولہذا باجماع امت وتواتر قطعی ان میں تفاضل روا ہے تو شیئ واحد دو نوع متباین سےکیونکر متحد ہوگئی۔ظاہر ہوا کہ اس عذر نہ ہونے کو مفید اتحاد جنس سمجھنا سخت وہم باطل تھا بلکہ اس کی
حوالہ / References مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۷
#13321 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
وجہ وہی تساوی رواج و مالی تہے جس کا بیان صفحہ ۹۷ سے صفحہ ۱۰۱ تك گزرا۔
رابعا: حل یہ ہےکہ بے عذری یعنی قبول ذی حق واتحاد جنس میں عموم خصوص من وجہ ہے کہیں اتحادجنس ہے اور قبول نہیں جیسے سونے کا گہنا خریدنے والا اس کے بدلے اشرفیاں نہ لے گا اور کہیں قبول ہے اور اتحا دجنس نہیں جیسے پندرہ روپے اور اشرفیروپے اور نوٹ نوٹ اور اشرفیاٹھنی اور پیسےاٹھنی اور اکنیاں اور مادہ اجتماع ظاہر ہے تو ایك کے وجود سے دوسرے کے حصول پر استدلال ایسا ہے کہ یہ کاغذ ابیض ہے لہذا حیوان ہے کوا حیوان ہے لہذا ابیض ہے ولا حول ولا قوۃ الاباللہ۔
خامسا:یہ شبہہ وہی ہے جو نوٹ ہلاك کرنے پر فرمایا تھا وہاں اہلاك سے ضمان آئی تھی یہاں قرض سے بات ایك ہی ہے اور یہی مولوی صاحب کے سارے شبہہ کی جڑ ہے اس غرض کے لئے کہ کچھ تو شاندار ہوجائے اسے بار بار دو ایك لفظ بدل کر فرماتے ہیں ہاں بیان میں اتنا ضرور ہوا کہ پہلی عبارت نہایت ناقصہ قاصرہ تھی مگر پوری بات اب بھی ادانہ ہوئی عذر نہ ہونا عذرنہ ہوسکنے کو مستلزم نہیں اور ممکن کہ بوصف تغایر جنس کسی غرض ووجہ خاص کے سبب عذر نہ ہوں ہاں عذر نہ ہوسکنا کچھ وہم ڈالتا مگر ہم انہیں صفحات میں بحرالرائق وردالمحتار سے اس کا ازالہ کرآئے کہ شرعا بھی باوجود مغایرت جنس ہنگام استوائے رواج و مالیت قبول پر جبر کیا جاتا ہے اور عذر تعنت قرار پاتا ہے تواب جڑ کا شبہہ جڑ سے اکھڑ گیا وﷲالحمد۔
سادسا:طرفہ مزہ یہ ہےکہ ابھی تو نوٹ کو بے قدر ٹھہراکر کہ وہ کاغذ دو پیسے کا بھی نہیں اسے معاملہ سے جدا اور خود روپوں پر ورود عقد باین کرچکے ہیں اور یہ بلافصل اس کے متصل ہی نوٹ پر ورود عقد اور اسکے عین جنس نقد بنادینے کی کوشش ہورہی ہے یہ تناقض کتنا بالطف ہے۔
سابعا:میں ایك ہی تناقض کہہ رہا ہوں وہاں پہلے فقرے میں نوٹ کو سوروپے کا مال بتایا جس کا تاوان سو روپے آیادوسرے فقرہ میں اسے موار دعقد سے جلا وطن ہونے کا حکم فرمایا کہ حقیقۃ روپے بکتے ہیں وہ کاغذ تو ٹکے کا بھی نہیںتیسرے فقرہ میں وہی کاغذ جو کروٹ لے تو پھر سو روپے کا بلکہ سوروپے سے متحدالجنس ہوگیا۔
ثامنا:لطف یہ کہ دعوی تو وہ فرمایا کہ نوٹ عین ثمن سمجھا جاتا ہے اور اخیر تك بار بار اسی کی تکرار ہوگیاور اس کے دلائل میں یہ کہ روپیوں کا بیچنا مقصود ہوتا ہے نہ اس کاغذکااور ہر شخص جانتا ہے کہ نوٹ نہیں مگر یہ کاغذ تو اگر نوٹ عین ثمن سمجھا جاتا خود اس کاغذ ہی کا بیچنا مقصود ہوتا نہ کہ روپیوں کا تودلیل مناقض دعوی ہے فافھم عــــــہ (پس تو سمجھ)۔
عــــــہ:اس طرف اشارہ ہے کہ ان تین اور ۱۳ تا ۲۲ میں اکثر سے عذر خواہی کیلئے(باقی اگلے صفحہ پر)
#13322 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
قولہ: بخلاف پیسوں کے کہ وہ بھی اگر چہ عرفا ثمن ہیں مگر یہ کیفیت ان کی نہیںاگر ایك روپے کے عوض میں کوئی چیز خریدے یا ایك روپیہ کسی سے قرض لے اور وقت ادا پیسے ایك روپے کے دے تو دائن اور فروخت کنندہ کو اختیار رہتا ہے کہ وہ لے یا نہ لے اور حاکم کی طرف سے اس پر جبر نہیں ہوسکتا کہ خواہ مخواہ وہ پیسے لے لے۔
اقول اولا: خلاف منصو ص ہے جیساکہ گزرا۔
ثانیا:مشاہدہ کے خلاف یوں اعتبار نہ آئے تو اسکا عکس کردیکھئے کہ ۶۴ پیسے قرض لئے یا ثمن قرار دئیے ہوں اور ایك روپیہ دے تو دائن و بائع کو ہر گز کچھ عذر نہیں ہوتا بے تکلف قبول کرلیتا ہے اور عذر کرے تو متعنت ہے اور متعنت کی بات مردود۔
ثالثا:مولوی صاحب چوکےسو روپے کی مثال لاتے تو بات نظر عوام میں لگتی ہوئی ہوتیواقعی جو سو روپے قرض لے پھر ان کے بدلے چھ ہزار چار پیسے دینا چاہے تو دائن کہے گا کہ میں کہاں سیر بھر چاندی کی جگہ دو من پکے سے زیادہ تانبا لادتا پھروں صندوقچی کے ایك خانہ کی جگہ پیسوں سے مٹکا بھروں مگر ساتھ ہی دوانیچوانیاٹھنی سب نقص کو آموجود ہوتیں ہر شخص جانتا ہے کہ دوانی کا کچھ خریدکر دو آنے پیسے دیجئے تو اصلا جائے انکار نہیں ہوتی اور جب ریزگاری اور پیسے متحد الجنس ہوئے اور یرزگاری اور روپے ایك جنس ہیں تو روپے اور پیسے بھی ایك جنس ٹھہرے کہ متحد کا متحد متحد ہے بلکہ بالواسطہ عینیت کیوں لیجئے اسی کا عکس دیکھئے ۶۴۰۰ پیسے قرض لئے ہوں اور ادا میں سو روپے دیئے ابھی دیکھے بلا عذر قبول ہوں گے اور نہ مانے تو خبطی ٹھہرے تو ظاہر ہوا کہ یہاں بنائے عذر امر خارجی ہے مثلا منوں بوجھ وغیرہ۔
رابعا: اگر ہم آپ کی ارخائے عنان کو مان بھی لین کہ صحت عذر اگر چہ بعض صور میں ہونافی اتحاد جنس ہےتو اب نوٹ میں اتحاد کی خیر نہیں ادائے قرض کے وقت عذر نہ ہو تسلیم مبیع کے وقت ضرور متصورزیدکو سو روپے کا نوٹ ڈاك میں بھیجنا ہے کہ(۲ ۰/)کی رجسٹری بس ہوگی اور منی آرڈر ایک
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)شاید ایك تاویل گھڑتے کہ ہم نے اشارہ میں ذات من حیث المقدار مراد لی اورمع سائر الاوصاف اسی کو روپے جانامگر یہ گھڑت کے علاوہ بداہت سے صاف مکابرہ اوردعوی پر صریح مصادرہ ہے کما لایخفیلہذا نہ قابل سماعت نہ بعد سماعت اعتراض سے نجاتبات بن جائے یہ بہر حال ناممکن ۱۲ منہ حفظ ربہ۔
#13323 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
روپے میں ہوگا خصوصا اگر گنگوہی دھرم کجا ہو اتو وہ منی آرڈر کو حرام ہی جانے گا اس نے عمرو سےنوٹ خریدا عمرو تسلیم مبیع کے وقت روپے یا بیس بیس کی پانچ اشرفیاں دکھائے زید ہر گز نہ مانے گا تو معلوم ہوا کہ نوٹ اور ثمن ایك جنس نہیں
قولہ: پیس پیسے اگرچہ عرفا ثمن ہیں مگر عین ثمن خلقی نہیں سمجھے گئے ہیں بخلاف نوٹ کے کہ یہ عین ثمن خلقی ہے گو عینیت خلقیہ نہیں بلکہ عینیت عرفیہ ہو ۔
اقول اولا: اس"پس"کا حل بھی وہی ہے جو پیشتر گزرا کہ قبول و اتحاد جنسعام خاص من وجہ ہیں تو جس طرح ایك کے وجود سے دوسرے کے وجود پر استدلال باطلیونہی عدم سے عدم پر 'آپ کا پہلا استدلال اس طرز کا تھا کہ کوا حیوان ہے لہذا یہ بیض ہے یہ دوسرا رنگ کا ہواکہ کوا ابیض نہیں لہذا حیوان نہیں۔
ثانیا: آپ نے محنت بہت اٹھائی مگر افسوس کہ دعوی بے دلیل ہی رہاآپ کو چاہئے تھا کہ اولا عینیت عرفیہ کا مناط منقح کرتے نہ کہ ایسا جس پر اتنے نقض ہوں۔ثانیا اس مناط کا یہاں تحقق پایہ ثبوت کو پہنچاتے۔ثالثا کلام ائمہ سےاس کا ثبوت دیتےکہ جہاں عینیت عرفیہ ہو شرع اس اتحاد جنس مان لیتی ہے اور جب یہ کچھ نہیں تو خرط القتاد سے کیا حاصل۔
ثالثا:ساری کوشش اتحاد جنس کی طرف تو مبذول فرمائی اتحاد قدر کی شرط کہاں بھلائی نرے اتحاد جنس سے تفاضل حرام نہیں ہوجاتا اتحاد قدر بھی تو لازم ہے نوٹ کے سرے سے قدر ہی نہیں رکھتا کہ نہ مکیل ہے نہ موزون بلکہ معدود ہے تو بہزار خرابی اگر اتحاد جنس کا چاك رفو بھی ہوجائے تو اتحاد قدر کا پیوند کدھر سے آئے گا تفاضل تو اب بھی حلال رہا۔
رابعا:رسالہ نے ص۱۴۷ سے ص۱۵۷ تك دلیل قاہرہ سے ثبوت دے دیا کہ نوٹ روپیوں کے عوض ادھار بیچناجائز ہے اگر قدر یا جنس کوئی بھی ایك ہوتی تو نسیہ حرام ہوتا تو ثابت ہوا کہ یہاں اصلا کچھ متحد نہیں۔
قولہ پس تفاضل بیع فلوس میں جائز ہونے سے یہ نہیں لکازم کہ نوٹ بھی جائز ہوجائے کیونکہ پیسے غیر جنس ثمن ہیں حقیقۃ بھی اور عرفا بھیگوبوجہ اصطلاح اور عرف کے اس میں صفت ثنیت کی آگئی ہو ۔
حوالہ / References مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/۳۹۷
مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۷
#13324 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
اقول اولا: یہ دوسری"پس"اسی پس پیشین کی پس روہےجسے پیشتر پسپا کردیا گیا الشجرۃ تنبئی عن الثمرۃ(درخت پھل کی خبر دیتا ہے۔ت)
ثانیا:بعینہ یہی حال نوٹ کا ہے ولکن لاتعلمون(لیکن تم نہیں جانتے۔ت)
ثالثا:روپے اور اشرفی کا مسئلہ کہاں بھولے صفحہ ۱۶۳ دیکھئے ایك اشرفی کو ایك روپیہ بیچنا قطعا درست ہے حالانکہ وہ تو دونوں یقینا جنس ثمن ہیں حقیقۃ بھی اور عرفا بھیاگرکہئے وہ جس ثمن ضرور ہیں مگر باہم تو متباین نوعین ہیں اقول:یونہی نوٹ بھیکون عاقل کہے گا کہ روپیہ اوراشرفی دو چیزیں جدا ہیں مگر اشرفی اور نوٹ ایك ہی چیز ہے اور تفصیل تحقیق یہ ہے کہ ثمن ایك جنس ہے جس کے تحت دو جنسیں ہیخلقیاصطلاحیاصطلاحی کی نوعیں نوٹپیسے کوڑیاںاور خلقی پھر ایك جنس ہے جس کے نیچے دو جنسین ہیںسوناچاندی۔شرع میں جنس وہ کلی ہے جس کے افراد مختلفۃ الاغراض ہوںظاہر ہے کہ روپے یا اشرفی کی غرض اور ہےاور سونے چاندی کے گہنے کی اور برتنوں کی اورگوٹے پٹھے کندلے کی اورتونوٹ کہ نوع حقیقی ہے جس کے سبب افراد متفقۃ الاغراض ہیں کسی جنس کا بھی عین نہیں ہوسکتا کہ اتفاق و اختلاف متباین ہیں نہ کہ جنس الجنس کا او دخول تحت الجنس کا حال اوپر گزرا۔
رابعا:جانے دیجئے ثمن خلقی کی نوع سے ہی اتحاد سہی تو دو نوع متباین سے تو متحد نہیں ہوسکتا ورنہ مباین باہم متحد ہوجائیں گے اور شیئ اپنے نفس کی مباین ہوگی ناچار ایك سے اتحاد مانئے گا اور وہ نہیں مگر روپیہ کہ آپ دس کا نوٹ بارہ روپے کو بیچنا حرام کررہے ہیں تو اشرفی سے یقینا متحد نہ ہو گا اب دس روپے کا نوٹ ہزار اشرفی کو بیچنا حلال کیجئے او ر دوانی اوپر دس روپے کو بیچنا حرامدنیا میں اس سے بڑھ کر بھی کوئی عجیب فتوی ہوگا۔دیکھئے رسالہ کا صفحہ ۱۸۸: قولہ پس ہر گاہ نوٹ عرفا جمیع احکام میں عین ثمن خلقی سمجھا گیا ۔
اقول اولا: اغراض کہئے کہ یہی اہل عرف کے ہاتھ میں ہیں نہ کہ احکام شرعیہ جو نہ ان کے ہاتھ میں ہیں نہ ان کے اکثر کو معلومنہ ان کی طرف انہیں التفات بلکہ اکثر کو ان پر ایمان بھی نہیں تو احکام شرعیہ میں اہل عرف کا اسے عین سمجھنا محض کذب اور اپنی اغراض میں یکساں جاننا احکام شرعیہ میں اتحاد کو مستلزم نہیں اور بقیہ کلام رد قول اول میں گزرا۔
ثانیا:جیسی عینیت آپ یہاں بتاسکتے ہیں بیعینہا ویسی ہی اکنیون اور پیسوں کو دوانی چوانی اٹھنی
حوالہ / References مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۷
#13325 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
سے ہے وہاں تفاضل کیوں جائز ہوا۔
ثالثا: روپے اشرفیاں تو خود عین ثمن خلقی ہیں کسی کے سمجھنے پر موقوف نہیں ان میں کیونکہ درست ہوا۔
قولہ:باب تفاضل میں اسی بنا پرحکم دیا جائے گا اور تفاضل اس میں حرام ہوگا ۔
اقول اولا: یہاں آکر اس تیسری"پس"کا خاتمہ ہوا ور پہلی دلیل نے دم توڑا مگر یہ"پس"پسینہ تو سب پسہائے پشیینہ سے علاقہ بہ عقل میں پس اور وضوح بطلان بطلان میں پیش ہے سب خرابیاں اوڑھ کر فرض کرلیجئیے کہ ہان تفاضل حرام ہوا تو وہ تفاضل تو حرام ہوگا جو ثمن خلقی میں حرام تھا جس کا اسے عین سمجھا گیا یا دلیلل لاتے وقت تك عینیت تھی اور نتیجہ دیتے وقت غیر یت کا یا پلٹ ہوکر کوئی نیا حکم نکالے گی جوثمن خلقی میں اصلا نہیں آخر اس بنا پر تو حکم لگاتے تھے کہ نوٹ ثمن خلقی کا عین ہے تو وہی حکم لازم ہوگا جو ثمن خلقی میں تھانہ اس کاغیر کہ حکم لازم شیئ ہوتا ہے اور تغیر لازم نافی عینیت ملزوماب دیکھ لیجئے کہ ثم خلقی میں کون سا تفاضل حرام ہے قدر میں یعنی کانٹے کی تول وزن میں برابر ہونا لازم اگر چہ مالیت میں کتنا ہی فرق ہواب جو آپ سو روپے کا نوٹ سو روپے کو بیچنا حلال کررہے ہیں اپنے طور پر یقینا سود حلال کررہے ہیں کہ سو کا نوٹ کبھی وزن میں سیر بھر نہ ہوگادیکھئے رسالہ ص۱۹۰ تا ۱۹۲۔
ثانیا(۴۸ تا۵۷)تفاضل مالیت کے جواز پر دس دلیلیں رسالہ میں گزریں صفحہ ۱۷۵ تا ۱۸۰ملاحظہ ہو۔
قولہ فانما الاعمال بالنیات (اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ت)
اقول:جناب گرامی نے صفحہ بر کی دلیل میں محض اپنے تخیلات سے کام لیا کوئی حرف سند نہ لائے اور یہ بھی پسند نہ فرمایا کہ دلیل یونہی من گھڑت پر گزر جائے اصلا سند کانام نہ آئے لہذا یہ حدیث شریف صرف وزن بنانے دلیل کا بھرم رکھنے کو ذکر فرمادیاگر عرض کیجئے کہ اسے محل سے کیا علاقہ آپ کی دلیل کے کس مقدمہ کا اس سے ثبوتتو جواب یہی ہوگا کہ کچھ نہیں مگر آخر حدیث صحیح ہے اس کا پڑھنا ثواب سے توخالی نہیں اگرچہ محل سے بے علاقہ ہو اسی نیت سے ہم نے لکھ دی وانما الاعمال بالنیات ولکل امرئ مانوی(اعمال کا دار مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کےلئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ت)دلیل کا حاصل صرف اتنا ہے کہ نوٹ اہل عرف کے نزدیك جمیع احکام میں ثمن خلقی کا عین ہے کچھ تفاوت
حوالہ / References مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۷
مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۷
#13326 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
نہیں سمجھتے اور جو جمیع احکام میں بلاتفاوت عین ہو تفاضل میں بھی عین ہوگا کہ یہ بھی ایك حکم لہذا نوٹ میں تفاضل حراماس میں کبری تو واضح ہے کہ محتاج استدلال نہیںاور حدیث کا اس سے بے علاقہ ہونا بھی واضح۔ساری عرق ریزی ثبوت صغری میں فرمائی ہے جس کی خدمت گزاری گزری کہ ایك حرف بھی ٹھکانے کا نہیں مگر یہ فرمائیے کہ حدیث اس کا کیا ثبوت دیتی ہے اعمال نیتوں پر ہیں اور ہر شخص اور اس کی نیت اس سے کیا ثابت ہوا کہ نوٹ عرفا جمیع احکام میں ثمن خلقی کا عین ہیں ہاں یہ کہئے کہ جب اہل عرف نے دیدہ و دانستہ کاغذکوکاغذسیم و زر کو سیم و زر سمجھتے ہوئے نیت کرلی کہ یہ کاغذ جمیع احکام میں سونے چاند ی کا عین ہے تو ان کے حق میں عین ہوگیا کہ اعمال نیت پر ہیں اور ہرشخص اور اس کی نیت۔
اقول:نوٹ کا بعینہ سونا چاندی ہونا کوئی عمل نہیںبیع وشراء وغیرہ معاملات عمل ہیں اور نوٹ ان کا محل اور محل تابع نیت نہیں ورنہ عندیہ کا مذہب لازم آئے زوجہ میں ماں ہونے کی نیت اسے حرام ابدی کردے حالانکہ بنص قطعی قرآن اسے ماں کہنے کی صریح تصریح بھی حرام نہیں کرتی صرف یہ قول باطل و گناہ ہوتا ہے۔
قال تعالی" الذین یظهرون منكم من نسآىهم ما هن امهتهم-ان امهتهم الا اﻼ ولدنهم- و انهم لیقولون منكرا من القول و زورا-و ان الله لعفو غفور(۲) " ۔
اللہ تعالی نے فرمایا:تم میں جو اپنی عورتوں کو اپنی ماں کہیں وہ ان کی ماں نہیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہیں اور وہ بیشك ضرور بری اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور بیشك اللہ ضرور معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
اور عکس کی نیت او بھی شنیع و ناپاك تر ہے یوں ہی اگر بفرض غلط تسلیم کرلیا جائے کہ اہل عرف نے نیت کرلی کہ نوٹ بعینہ ثمن خلقی اور بذاتہ سونا چاندی ہے تو ان کی نیت سے نہ وہ کاغذ سے سونا چاندی ہوجائے گا نہ اصطلاحی سے خلقیان کا اختیار اصطلاح تك ہے تو اس سے ثمن اصطلاحی ہوگانہ خلق وآفرینش پر کہ ثمن خلقی ہوجائے۔" لا تبدیل لخلق الله " (اللہ تعالی کی خلق میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ت)پھر فرمائیے حدیث کو یہاں کیا علاقہ ہوا۔قولہ ولکل امرئ مانوی (ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۵۸ /۲
القرآن الکریم ۳۰ /۳۰
مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/۳۹۷
#13327 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
اقول:الحمدﷲ حدیث کایہ جملہ تو ہمیں کو مفید ہے آپ کی خاطر سے پہلا باطل یہ تسلیم کرلیں کہ اہل عرف نے وضو کرکے نیت باندھ لی ہے کہ نوٹ بعینہ سونا چاندی ہے دوسرا اس سے بڑھ کر اشد باطل __________یہ مان لیں کہ دیدہ و دانستہ ان کی اس غلط نیت سے شرع نے بھی ان کے حق میں اسے سونا چاندی کردیاتیسرا باطل یہ اوڑھ لیں کہ شر ع نے اسے سونا چاندی مان کر خود سونے چاندی میں جو حکم شرعی تھا کہ تفاضل وزن میں حرام ہے نہ کہ مالیت میںاس زبردستی کے سونے چاندی میں اسے بالکل پلٹ دیا کہ اس میں تفاضل مالیت میں حرام ہے نہ کہ وزن میںاب تو بالکل سب گھڑتیں آپ کی من مانتی مان لیں مگر الحمد اللہ یہ حدیث بتارہی ہے کہ اب بھی دس روپے کا نوٹ زید وعمرو باہم سوروپے کو بچیں مول لیں خواہ ایك روپیہ کو سب حلال جناب من! جب یہاں تفاضل کا مبنی مالیت پر ٹھہرا اور نوٹ کی یہ مالیت بھی خلقی نہیں محض اصطلاحی ہے آپ خود فرماچکے ہیں کہ وہ کاغذ دو پیسہ کا بھی نہیں تو اہل عرف ہی کی اصطلاح و نیت نے اسے دس روپے کا کردیا اور ان کی اصطلاح و نیت ان دونوں عاقدوں پر حاکم نہیں انہیں اپنی جدا اصطلاح و نیت کا اختیار ہے آپ خود حدیث نقل کرتے ہیں:لکل امرئ مانوی (اور ہر شخص کےلئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ت)ہر شخص کے حق میں اس کی نیت کا اعتبار ہے نیز رسالہ کا صفحہ ۱۵۵۱۵۶۱۵۷۱۵۸۱۵۹۱۳۴۱۶۴۱۶۵ملاحظہ ہوتو جب زید و عمرونے اپنے معاملہ میں اس اختیار کی بناء پر جو شرع مطہر نے ان کو دیا اصطلاح عام کی پیروی نہ کی بلکہ اس سے عدول کرکے جو نوٹ عرف عام نے دس روپے کا ٹھہرایا تھا سو روپے یا ایك ہی روپیہ کا قرار دیا ان پر اصلا اس میں مواخذہ نہیںنہ زنہار مالیت میں کچھ تفاضل ہوا کہ مالیت بربنائے اصطلاح تھیان کے حق میں وہی مالیت ہے جو انہوں نے باہم قرار دے لی اس لئے کہ لکل امرئ مانوی (ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ت)ہر شخص اور اس کی نیت حدیث سے اچھا استدلال کرنے چلے کہ اور لینے کے دینے پڑگئے۔
لطیفہ جلیلہ:یہ چمکتی ہوئی دلیل جسے مولوی صاحب ے گل سر سبد بنایا اور آخر میں ھذا سنح لی (یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا۔ت)فرمایا یعنی یہ وہ ہے جو اچانك میرے خیال
حوالہ / References α صحیح البخاری باب کیف کان بدؤ الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲
α صحیح البخاری باب کیف کان بدؤ الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲
α محموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۸
#13328 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
میں آیا مولوی صاحب کی انی سعی بازو نہیں بلکہ اسی فقیر بارگاہ قدیر غفرلہ کے فتوی سے اخذ کی ہے تیس برس ہوئے فقیر کے پاس اس کاسوال آیا تھا کہ نوٹ پر بٹا لگانا مثلا سو روپے کا نوٹ ننانوے میں خرید لینا جائزہے یا نہیںفقیر نے نظر فقہی کا مقتضی جواز بتایا اور تنویر الابصاورعامہ کتب سے اس پر استدلال کیامیرا یہ فتوی مولوی صاحب کے یہاں پہنچا جسے انہوں نے اپنے مجموعہ فتاوی میں درج کیا کہ اس کی جلد دوم میں میں فتوی حامی سنت جناب مولنا مولوی محمد ارشادحسین صاحب رامپوری رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ طبع ہوا اور وہیں سے مجھے ملا کہ اس وقت تك مجھے اپنے فتاوے رکھنے کا التزام نہ تھا اور اسی سے حضرت فاضل رامپوری کا فتوی معلوم ہوا جس پر مجموعہ فتاوی مولوی لکھنوی صاحب میں نمبر۱۲۳ہے اور میر فتوی نمبر ۱۲۴ ہےدونوں میں حکم جواز ہےپھر ایك چار سطری فتوی بعض علمائے مدراس کا نمبری ۱۲۵ ہے اس میں بھی جواز ہی کا حکم ہے اس کے متصل نمبر ۱۲۶ میں مولوی صاحب کا یہ فتوی ہے جس میں انہوں نے فتوی فقیر کے بعض کلموں سے تعرض کیا اور باقی کا کچھ جواب نہ دیا میں نے اس بنا پر کہ نوٹ بہت جدید حاد ث ہے کتب فقہیہ میں اس کا ذکر مصرح نہیں مگر تمام کتب کاضابطہ کلیہ حکم جواز بتارہا ہے حکم لکھ کر اوہام کا جواب دے کر آخر میں ماظہر لی واللہ سبحنہ وتعالی اعلم(یہ وہ ہے جو میرے لئے ہوااور اللہ سبحانہوتعالی بہتر جانتا ہے۔ت)مولوی صاحب نے اس بنا پر کہ میرا کا کوئی جواب کتاب سے نہ دے سکے اپنے مخیلات پر عامل ہوئے آخر میں ھذا ماسنح لی واللہ اعلم بالصواب (یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا اور اللہ سبحنہ اللہ تعالی علیہ بہتر جانتا ہے۔ت)لکھا یہ دلیل کہ مولوی صاحب کی معتمد ہوئی فقیر نے پہلے ہی اپنے فتوی میں بنام وہم لکھ کر رد کردی تھی مولوی صاحب نے دلیل تو اٹھالی اور رد کے جواب سے عہدہ برآئی نہ کی میرے فتوی میں بعد بیان حکم و عبارت کتب تھا"مسئلہ کاجواب تو اسی قدر سے ہوگیا لیکن غیر فقیہ کو ایسی جگہ یہ وہم گزرتا ہے کہ ہر چند اصل حقیقت میں نوٹ صرف ایك چھپے ہوئے کاغذکا نام ہے مگر عرف واصطلاح میں گویا وہ بعینہ روپیہ ہے اس لئے ہر جگہ روپے کا کام دیتا ہے لین دین میں سو روپے کا نوٹ دینے اور سو روپے دینے میں ہر گز تفاوت نہیں سمجھا جاتا عموما اس کے ساتھ معاملہ اثمان برتا جاتا ہے تو گویا وہ سو روپے تھے کہ بعوض ننانوے کے خریدے گئے اور اس کی حرمت میں کچھ شبہہ نہیں تو صورت مستفسرہ میں حکم تحریر دینا چاہئے"۔دیکھئے اسی وہم کو مولوی صاحب نے اخذ کیا اور دلیل بنایا جس مضمون کو میں نے چار پانچ سطر میں ادا کیا تھا مولوی صاحب نے اسی کو
حوالہ / References α مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۸
#13329 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
صفحہ بھر میں پھیلا یا مگر افسوس کہ پھربھی ویسا ادا نہ ہوسکااولا:مولوی صاحب نے ثمن خلقی سے عینیت لی جس کے تحت میں اجناس داخلاور اس کے سبب جو اعتراضات ہوئے آپ نے سنے میں نے ابتداء ہی روپے کی تخصیص کی کہ گویا وہ بعینہ روپیہ ہے۔
ثانیا:مولوی صاحب نے عینیت فی الواقع ثابت مان لی کہ بار بار فرمایا"عین ثمن سمجھا جاتا ہے"فرمایا"عین ثمن خلقی ہے"اس پر جو اعتراضات قاہرہ وارد ہوئے ناظرین کے پیش نظر ہیں فقیر نے انہیں کے انسداد کو لفظ گویا زائد کردیا تھا"گویا بعینہ روپیہ ہےگویا وہ سوروپے تھے"۔
ثالثا:ولوی صاحب نے اہل عرف کے سر یہ تھوپاکہ نوٹ عرفا جمیع احکام میں عین ثمن خلقی سمجھا گیا جس کا رد سن چکےمیں نے اسے ان لفظوں میں ادا کیا تھا کہ"عموما اس کے ساتھ معاملہ اثمان برتا جاتا ہے"جس سے وہ اعتراض کہ بربنائے لفظ احکام واردہے وارد نہ ہواہاں میں نے غیر فقیہ کےلئے بی یہ وہم پسند نہ کیا تھا کہ نوٹ بیچنے میں اس کی قیمت لینی مقصود نہیں ہوتی بلکہ سو روپے بیچنا اور روپیوں کی قیمت لینا منظور ہوتا ہے یہ خاص مولوی صاحب کا حصہ ہے اس کے اعتبار سے ان کا ما سنح لی فرمانا بجا ہے لکل ساقطۃ لاقطۃ(ہر گری پڑی شیئ کو کوئی اٹھانے والا ہوتا ہے۔ت)اب جواب کی طرف چلئےفقیر نے دفع دخل کے لئے وہ وہم ذکر کرکے لکھا"مگرجسے فن شریف فقہ میں کچھ بھی بصیرت حاصل ہے اس کے نزدیك اس وہم کا ازالہ نہایت آسان ہے"(پھر مال کی چاورں قسمیں جورسالہ کے ص۱۳۳ سے۱۳۷تك گزریں بیان کرکے لکھا"نوٹ کے ساتھ اگر معاملہ اثمان برتا جاتا ہے تو غایت درجہ قسم رابع سے قرار پائے گا کہ اصل خلقت میں سلع ہے مگر بسبب تعارف ثمن ٹھہراہوا ہے اور ازانجا کہ اثمان اصلیہ سوا سیم وزر کے کچھ نہیں لہذا اہل عرف اگر غیر ثمن کو ثمن کرنا چاہیں تو ناچار اس کی تقدیر اثمان خلیقہ ہی سے کریں گے اس لئے پیسوں کی مالیت یونہی بتائی جاتی ہے کہ روپے کے سولہ آنے پس نوٹ کو جب عرفا ثمن کرنا چاہا اس کے اندازہ میں بھی اصل ثمن کی جانب رجوع ضرور ہوئی اور یوں ٹھہرایا گیا کہ فلاں نوٹ سو روپے کا فلاں دو سو کا فلاں ہزار کامگر یہ صرف تقدیر ہی تقدیر ہے اس سے اتحاد جنس و قدر ہر گز لاز نہیں آتا جیسے اندازہ فلس سے چونسٹھ پیسے کا عین نہ ہوگئے یونہی اس قرار داد سے وہ نوٹ حقیقۃ سو روپے یا چاندی نہ ہوجائے گا پس علت ربا کا تحقق ممکن نہیںباقی رہا عرف و اصطلاح اس کا اتباع عاقدین پر بایں معنی ضرور نہیں کہ جو قیمت انہوں نے ٹھہرادی ہے یہ اس سے کم و بیش نہ کرسکیںیہ دونوں اپنے معاملہ میں مختار ہیں چاہے سو روپے کی چیز ایك پیسے کو بیچ ڈالیں یا ہزار اشرفی کو خریدلیں صرف تراضی درکار ہے و بس۔ امام علامہ محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
#13330 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
لو باع کاغذۃ بالف یجوز ولا یکرہ الخ۔
اگر کسی نے ایك کاغذ ہزار کا بیچا تو بلا کراہت جائز ہے۔الخ (ت)
آخر نہ دیکھا ایك روپے کے پیسے بتعیین عرف ہمیشہ معین رہتے ہیں مگر علماء نے اٹھنی سے زیادہ کے عوض میں آٹھ آنے بیچنا روارکھا اور سب جانتے ہیں کہ ایك اشرفی کئی روپے کی ہوتی ہے لیکن فقہاء نے ایك روپے کے عوض ایك اشرفی خریدنا جائز ٹھہرایا تو وجہ کیا ہے وہی اختلاف جنس جس کے بعد تفاضل میں کچھ حرج نہیں رہتا(پھر ان مسائل کے ثبوت میں درمختار کی عبارتیں لکھ کر کہا"جب یہاں تك شرعا جائزرہا تو سوروپے کا نوٹ ننانوے کے عوض خریدنے میں کیا حرج ہوسکتا ہے کہ یہاں نہ تو قدر متحد نہ جنس واحد الی اخرہ"۔یہ ہے بحمد اللہ تعالی وہ نفیس منیر تقریر کہ بنگاہ اولیں قلب فقیر پر فیض قدیر سے فائز ہوئی تمام رسالہ گویا اسی کی شرح اسی کے اجمال کی تفصیل ہے والحمدﷲ رب العالمین میرے بیان کا حاصل چند امر تھے:
(۱)نوٹ اور روپے ایك جنس نہیں۔
(۲)ان میں قدر مشترك نہیں۔
(۳)نوٹ کے ساتھ اہل عرف کا معاملہ اثمان برتنا اسے اصطلاحی کرے گا نہ کہ خلقی۔
(۴)روپیوں سے اندازہ قیمت نے اسے روپے نہ کردیا ہر اصطلاحی کا اندازہ خلقی ہی سے ہوتا ہے جیسے پیسے۔
(۵)اصطلاح کی پیروی عاقدین پر نہیں وہ اپنی تراضی سے جو چاہیں کم و بیش کریں۔
(۶)علماء نے کاغذ کا ٹکڑا ہزار روپے کو بیچنا جائز فرمایا۔
(۷)پیسوں میں اصطلاح عام کی مخالفت جائز فرمائی۔
(۸)خود ثمن خلقی روپے اشرفی میں مخالفت عرف عام کی اجازت دی کہ ایك روپیہ ایك اشرفی کو بیچیں۔
مولوی صاحب نے اولا یکم کے جواب کو وہی وہم سیکھا جسے لفظ گویا اڑاکر بالکل کھویامگر دوم سے کچھ تعرض نہ کیا یا شاید اپنے زعم میں عینیت عرفیہ فی الاحکام کہتے کہتے عینیت حقیقیہ فی الاجسام سمجھ لئے ہوں یعنی ہم نے کاغذ کو پیٹ پاٹ کر چاندی سونا کردیا پھر اتحاد قدر کیوں نہ ہوگا کہ شے اپنے نفس سے مختلف نہیں ہوسکتی۔
ثانیا: ادعائے عینیت پر وہی وہم والی ایك دلیل لائے کہ نوٹ عرفا جمیع احکام میں عین ثمن خلقی سمجھا گیا اور آخر فتوے میں اتنا اور بڑھائیں گے کہ اور تمام مقاصد ثمن خلقی کے اس کے ساتھ متعلق ہوئے
حوالہ / References α فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴
#13331 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
اسی کو میں نے ان صحیح و مختصر الفاظ سے تعبیر کیاکہ عموما اس کے ساتھ معاملہ اثمان برتا جاتا ہے میں نے امر سوم میں جو اس کا رد کیا تھا کہ اس سے ثمن اصطلاحی ہو ا نہ خلقی اس کا جواب غائب۔
ثالثا:اس پر دوسری دلیل بھی وہی وہم والی لائے جسے بیگھیوں میں پھیلایا اور بات اتنی ہی ہے جو میں نے لکھی کہ لین دین میں سو کانوٹ اور سو روپے میں تفاوت نہیں سمجھا جاتا اور میں نے امر چہارم میں جو اس کا رد کیا کہ عرف نے اسے ثمن بنایا اور اصطلاحی کا اندازہ خلقی ہی سے ہوگا لہذا اس نوٹ کا اندازہ سو سے کیا اور سو روپے کی جگہ کام آیا جیسے سولہ آنو ں کا اندازہ روپے سے کیا اور روپے کی جگہ کام آئے نہ یہ کہ نوٹ یا پیسے روپے کا عین ہوگئے اس کا جواب غائب۔
رابعا:امر پنچم میں جو میں نے ایك عظیم قاہر رد کی طرف اشارہ کیا تھا جو سب کچھ مسلم ٹھہرکر لگی نہ رکھی جس کا بیان ابھی صفحہ ۱۳۴ میں گزرا اور جس پر نصوص جلیلہ کتب مذہب اور خود قرآن عظیم واحادیث نبی کریم علیہ و علی آلہ افضل الصلوۃ والتسلیم شاہد اس کا جواب غائب۔
خامسا:تین امر باقی کہ میں نے اسی امر پنچم کے نظائر دکھائے تھے ان میں بھی امر پنچم یعنی روپے اشرفی کی کری مثال کا جواب غائباور ہفتم کے جواب کی خدمت گزاری سن چکے اور ششم کا جو مزہ دار جواب سب میں آخر میں دیا ہے اس کا لطف ان شاء اللہ تعالی عنقریب اٹھائیے گاغرض آٹھ باتوں میں پانچ کا جواب کچھ نہ دیا اور تین کا جواب وہ دیا کہ نہ دینا اس سے ہزار جگہ بہتر تھا۔
الحمد ﷲ اہل انصاف ملا حظہ فرمائیں گستاخی معاف وہ اجلہ اکابر فضلاء کہ ائمہ مجتہدین عظام رضی اللہ تعالی عنہم کے اقوال کو پرکھنے کا ادعارکھیں کہ قال ابوحنیفۃ کذا والحق کذا(ابوحنیفہ نے یوں کہا اور حق یوں ہے)"استدلو ا لابی حنیفۃ بوجوہ والکل باطل(ابوحنیفہ کے لئے متعدد دلائل بیان کئے گئے اور سب باطل ہیں)"ھھنا وھم اخر لصاحب الکتاب"(یہاں اس کتاب والے(یعنی سیدنا امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ)کاایك اور وہم ہے)ایسے گرانمایہ اجتہاد پایہ حضرات کسی مسئلہ میں ابوحنیفہ کے گدایان در کے غلامان غلام کے خاك پاکے زلہ رباؤں کے ادنی خوشہ چیں سے خلاف کریں تو اپنے لئے دلیل اسی سے سیکھ کر لکھیں اور وہ بھی جس رو ش پر اس نے ادا کی ادا نہ کرسکیں پھر اس نے جو اس کے جواب دیئے ان سے عہدہ بر آنہ ہوںاس کے کلام کے مقاصد و فوائد تك نہ پہنچیں اکثر سے سکوت کریں اور بعض کا جواب محض ناصواب دیںطولانی تقریر فرمائیں جس کا فقرہ فقرہ جملہ جملہ والکل باطل(اور سب باطل ہے۔ت)کے گہرے رنگ میں رنگا ہوا ایك ایك لفظ ایك حرف پرھھنا وھم آخر(یہاں ایك اور وہم ہے۔ت)کا ویرا پڑا ہو یہ امام الائمہ سراج الامہ کاشف الغمہ مالك الازمہ نائل العلم
#13332 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
من الثریا ابوحنیفہ اور ان کے چھوٹے بیٹے امام ربانی محرر المذہب محمد بن الحسن شیبانی رضی ا ﷲ تعالی عنہما کی کرامت نہیں توکیا ہے۔حاشا میں اس سے مولوی صاحب کی کسر شان نہیں چاہتاوہ ایك وسیع الباع طویل الذراع فاضل طباع ہیں او رفقیر حقیر ایك غریب طالب علم قاصر القدرۃ قلیل المقدار اپنے مولائے کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کی بشارت عظیم فطو باللغرباء (غریبوں کے لئے خوشخبری ہے۔ت)کا بلا استحقاق محض ان کے فضل سے امید واربلکہ مقصود اپنے ائمہ کرامت عالیہ کا اظہار ہے وبسالہی ! تیری بے شمار رضائیں ابوحنیفہ پر اور ان سب پر جو عقائد میں ان کے موافق ہو کر اعمال میں ان کے مقلد ہیں یونہی بقیہ ائمہ مجتہدین کرام اور ان کے ایسے ہی مقلدوں پر تار وز قیام وعلی حبیبنا وشفیعنا افضل الصلوۃ والسلام(ہمارے حبیب اور شفاعت فرمانے والے پر بہترین درود سلام ہو۔ت)
تنبیہ:اتنا ملحوظ رہے کہ میدان بحمد اللہ تعالی ہمارے ہاتھ ہے مقاصد بحث پر ہمارے سب اعتراض حق ولا جواب ہیں اور بعض کے بیان مولوی صاحب پر ہیں اگر اہل تاویل تبدیل وتحویل کریں تو بعد ورود اعتراض تسلیم اعتراض ہےکاش مولوی صاحب اس شبہہ کا بیان ہم سے کرالیتے تو بہت بادی چھنٹ جاتی اور ہمارے قلم کو بھی آرام ملتا کہ رد میں ایك مختصر ساکلام ہوتااور کوئی آپ کو یہ بھی نہ کہتا کہ کہا اور کہہ نہ جانا مگر مولوی صاحب کی عنایات نے وسعت دکھائی کہ یہاں تك نوبت آئی بہر حال ہمیں ہر طرح نفع ہے وﷲالحمد۔
تسجیل جلیل:چلتے وقت سب سے بھاری خود اپنی دھوم دھامی گواہی لیتے جائیے کہ نوٹ اور روپوں میں ربا ممکن ہی نہیں آپ کے فتاوی کی تیسری جلد جس کے سوالات خود آپ نے پیدا کرکے انکے جواب لکھے اور ان میں دو جلدیں پیشین کے اغلاط کی جا بجا اصلاح کیجیساکہ ناظرین پر مخفی نہیں اسی کے باب الربا کا پہلا سوال وجواب دیکھئے جس میں آپ نے ربا کی تعریف لکھی اور دل ہی دل میں انصاف کرلیجئے کہ یہ تعریف مسئلہ نوٹ میں کیونکر صادق آسکتی ہےآپ فرماتے ہیں:
سوال:ربا چیست
جواب:فضل احدالمتجا نسین کیلا یا وزنا بردیگرے درمعاوضہ مالیہ بلا عوضدربحرالرائق آورد ولیس المراد مطلق الفضل بالاجماع فان فتح الاسواق فی سائر بلاد المسلمین للاستفضال والاسترباح وانما المراد فضل مخصوص سوال:سود کیا ہے
جواب:مالی معاوضہ میں دوہم جنس چیزوں سے ایك کی کیل یا وزن کے اعتبار سے دوسری پر بلا عوض زیادتی۔بحرالرائق میں وارد ہے کہ مطلق زیادتی بالاجماع مرا دنہیں کیونکہ تمام مسلم ممالك میں بازاروں اور منڈیوں کا کھلنا زیادتی اور نفع کے حصول کےلئے ہوتا ہے بلکہ بیشك مخصوص زیادتی
#13333 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
وھو فضل مال بلا عوض فی معاوضۃ مال بمال ای فضل احد المتجانس علی الاخر بالمعیار الشرعی ای الکیل و الوزن انتہی۔
مراد ہے اور وہ مال کے عوض مال میں بلا عوض مالی اضافہ اور زیادتی ہے یعنی دوہم جنس چیزوں میں سے ایك کی دوسری پر زیادتی معیار شرعی یعنی کیل ووزن کے ساتھانتہی۔(ت)
دیکھئے کیسی کھلی تصریح ہے کہ ہر زیادت سو دنہیںبازار کھلے ہی اس لئے ہیں کہ زیادت ملے نفع ہاتھ لگے بلکہ سود ہونے کو ضرور ہے کہ دو متحد الجنس چیزوں میں کہ دونوں وزنی یا دونوں کیلی ہوں کہ تول یا ناپ سے بکتی ہوں ایك دوسری سے خاص اسی ناپ یا وزن میں زائد ہو اس کے سوا کسی اور بات میں زیادتی کایہاں لحاظ نہیںبیشك ہمارے علماء کے اجماع سے ربا کی یہی تعریف ہے شکر ہے کہ اس کے آپ مقر ہوئے اور والکل باطل(اور سب باطل ہے۔ت)نہ فرما دیا مگر اس اقرار نے اس تقریر کو والکل باطل(اور سب باطل ہے۔ت)بنادیانوٹ اور روپے سرے سے ایك جنس ہی نہیںبچہ بھی جانے گا کہ چاندی اور کاغذ ایك جنس نہیں ہوسکتےاور بفرض باطل مجانست سہی تو نوٹ تول کر نہیں بکتااور اگر تول بھی موجود ہو تو سو کا نوٹ سوکوبیچنا بھی قطعی سود ہو کہ سوروپے بلا شبہ تول میں نوٹ سے کہیں زائد ہیں اور آپ اسی کو واجب کررہے ہیں تو آپ نے سود نہ صرف حلال بلکہ واجب کردیا تو مفردہی ہے کہ نوٹ اور روپیہ ایك جنس نہیں یا تو ل نہیں یا دونوں نہیں بہرحال آپ ہی کے اقرار سے کھل گیا کہ چاہے دس کا نوٹ لاکھ روپے کو بیچیے یہاں ربا آہی نہیں سکتا کہ یہ اس کی تعریف ہی میں داخل نہیںوھو المقصود(اور وہی مقصود ہے۔ت)
قولہ: اور اگر اسمیں ربا حقیقۃ نہ ہو تو شبہ ربا سے تو مفر نہیں اور تمام کتب فقہ میں مرقوم ہے شبہہ رباباعث حرمت ہے ۔
اقول اولا: یہ مولوی صاحب کا دوسرا پہلو ہےخود بھی سمجھے کہ یہاں ربا کی گاڑی چلتی نظر نہیں آتی لہذا شبہہ کے ٹھیلے کی طرف جھکے مگر کیوں مفر نہیں اس کا ثبوت فی البطن۔مولوی صاحب کو اولا منقح کرنا تھا کہ شبہہ ربا کا مناط یہ ہے جہاں یہ پایا جائے شبہہ متحقق ہوگا۔ثانیا ادھر ادھر خواب جھانك لینا تھا کہ تصریحات ائمہ سے اس پر نقض تو نہیں پڑتا کہ تنقیح کا تنقیہ کردے۔ظاہر ہے
حوالہ / References α مجموعہ فتاوٰی باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۹۴،۹۵
α مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۷
#13334 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
کہ نوٹ میں تحقق شبہہ منصوص نہیں کہ تقلیدا حکم مان لینا پڑے اگرچہ دلیل پر ہمارے فہم میں ہزار شبہے ہوں ہم حکم کے مقلد ہیں نہ کہ دلیل کے منقد۔بہت دلائل علمائے متاخرین شکر اللہ تعالی سعہیم نے اپنے فہم سے استنباط فرمائے ہیں ان میں کسی دلیل کا تزلزل حکم کا بطلان نہیںممکن کہ مجتہد کے پاس اور دلیل ہو اور یہاں تو آپ کو خود اثبات حکم کرناہے تو جب تك مناط کامل طور پر مضبوط اور تمام نقوض و شبہات سے منزہ نہ کرلیجئے نرازبانی قیاس محض و سواس۔ثالثااس سب کے بعد یہ ثبوت دینا تھا کہ وہ مناط نوٹ میں متحققاس وقت آپ کا فرمانا قابل سماعت ہوتا اور خالی دعوی تو پادر ہوا
ثانیا اپنی جلد سوم باب الربا کا فتوی یاد کیجئے کہ چھٹانك بھر گیہوں سواسیر گیہوں کے عوض بیچنا آپ نے جائز مانایونہی ایك سیب دو سیب کویہاں تو جنس یقینا متحد تھی اور زیادتی بداہۃ معلومیہاں شبہہ ربا کیوں نہ جاناآپ کی عبارت یہ ہے:
سوال:بیع یك سیب عوض دو سیب یا بیع یك مشت گندم عوض دو مشت گندم جائز ست یا نہ
جواب:جائز ست چہ معیار شرعی نصف صاع ست نہ کم ازاں پس درکم از نصف صاع تفاضل درست ستدرعالمگیریہ می آرد یجوز بیع الحفنۃ بالحفنتین والتفاحۃ بالتفاحتین ومادون نصف الصاع فی حکم الحفنۃ انتہی۔ سوال:ایك سیب کی بیع دو سیبوں کے بدلے میں یا ایك مٹھی گندم کی بیع دو مٹھی گندم کے بدلے میں جائز ہے یانہیں
جواب:جائز ہے کیونکہ معیا ر شرعی نصف صاع ہے نہ کہ اس سے کملہذا نصف صاع سے کم میں زیادتی جائز ہے عالمگیری میں آتا ہے کہ مٹھی بھر کی بیع دو مٹھی بھر سے ایك سیب کی بیع دو سیبوں سے جائز ہے او رنصف صاع سے کم ایك مٹھی کے حکم میں ہے۔(ت)
ثالثا:رسالہ صفحہ ۱۶۹۱۷۰ پر بحرالرائق کا ارشاد دیکھئے کہ ایك پیسہ سو پیسے کو بیچناجائزیہاں بھی اتحاد جنس قطعی اور زیادت بدیہیپھر شبہہ ربا کیوں نہ ہوا۔
رابعا:آپ کو اگر کاغذ اور چاندی کا دو جنس ہونا نہ معلوم ہو تو انہیں اہل عرف سے پوچھ دیکھئے جن پر آپ کے خیال کا سارا دار ومدار ہے کہ وہ جس طرح یوں کہتے ہیں کہ یہ اشرفی پندرہ کی ہے یہ بیس کی یہ پیسے اٹھنی کے ہیں یہ چوانی کےیہ نہیں کہتے کہ یہ اشرفی پندرہ روپے ہے یہ پیسے اٹھنی چوانی
حوالہ / References α مجموعہ فتاوٰی باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۹۵
#13335 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ہیں اسی طرح یوں کہتے ہیں کہ یہ نوٹ دس کا ہے یہ سوکایہ نہیں کہتے کہ یہ نوٹ دس روپے ہےخود آپ نے فرمایا ہے کہ "نوٹ سو روپے کا کوئی ہلاك کردے"اور فرمایا"سوروپے کا نوٹ جب بیچا جاتا ہے"اور فرمایا"نوٹ سوروپے کا دیوے" اتحاد جنس کا نشہ اس سے اتار کروہ مسائل یاد کیجئے جوائمہ کرام نے فرمائے کہ:
۱۔ایك روپیہ ایك اشرفی بلکہ سو اشرفیوں کو بیچنا جائز۔ص۱۶۳۔
۲۔ایك پیسہ ایك روپیہ بلکہ ہزار روپیہ کو بیچنا جائز ص۱۷۷۱۸۳۱۸۴۔
۳۔ایك اشرفی ایك پیسہ کو خریدنے میں نہ ربا ہے نہ شبہہ ربا۔ص۱۸۳و۱۸۴۔
ان میں شبہہ ربا کیوں نہ ہوا۔
خامسا:بتصریح ائمہ یہاں شبہہ علت مثل علت اور حکم علت لازم علتتو یہاں علت ہو یا شبہہ علتبہر حال لزوم حکم علت اور حکم علت تحریم تفاضل فی القدر ہے تو سو کا نوٹ جو آپ سو کو بیچنا جائز کررہے ہیں صراحۃ سود حلال کررہے ہیں۔
قولہ: علاوہ ازیں جو بیع و شرائے نوٹ میں تفاضل اختیار کرے گا مقصود اس کو بجز اس کے کہ بعوض کم روپے کے زیادہ روپے حاصل ہوجائیں اور کچھ نہ ہوگا مگربطورحیلہ کے وہ نوٹ کامعاملہ کرے گا اور پر ظاہر ہے کہ ایسے ارتکاب حیلہ سے حکم حلت کا نہیں ہوسکتا ۔
اقول اولا: قصور معاف ع
مستی ازبادہ شبانہ ہنوز
(جوانی کی مستی ابھی موجود ہے۔ت)
بعوض کم روپیہ کے کہنا باطل ہے نوٹ والے کی طرف سے تو نوٹ ہےروپیہ ایك بھی نہیں نہ کم نہ زائد۔ہاں یوں کہے کہ کم روپیوں کا مال دے کر زیادہ روپے حاصل کرنا۔ہاں یہ بیشك مقصود ہے پھر اس میں کیا گناہ ہے دنیا بھر کی تجارتیں اسی لئے ہوتی ہیں آپ خود جلد ۳ میں بحرالرائق سے نقل کرچکے ہیں کہ مطلقا زیادتی بالاجماع حرام نہیںتمام جہاں میں بازار اسی لئے کھولے گئے ہیں کہ زیادتی ملے نفع حاصل ہو۔
ثانیا: آپ کی"علاوہ ازیں"کہہ رہی ہے کہ اب ربا وشبہہ ربا دونوں سے قطع نظر فرماکر
حوالہ / References α مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۹۸۔۳۹۷
#13336 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
یہ تیسر ا پہلو لیا ہے کہ اگرچہ یہاں ربا سے کچھ علاقہ نہ ہوربا تو ربا اس کا شبہہ بھی نہ ہومگر اس نے زیادہ ملنے کا حیلہ کیا اس لئے (زبردستی)حرام ہےاب فرمائیے اگر زید عمرو سے سو روپے قرض مانگے عمرو کا غذ کا ایك سادہ پرچہ اس کے ہاتھ مثلا سال بھر کے وعدہ پر یا نقد پچیس روپے کو بیچے وہ قبول کرلے پھر عمرو سو روپے زید کو قرض دے اور قرض کے بدلے سو ہی لے پچیس اپنے اس کاغذ کے جدا لازم کرے تو اس میں حرمت کدھر سے آئے گی آیا اس لئے کہ کاغذ کا سادہ پرچہ پچیس روپے کو بیچاتو آپ تو ابھی فرمانے والے ہیں کہ سادہ پرچہ ہزار روپیہ کو بیچنا جائز ہے پچیس کو کیوں حرام ہوایا اس لئے کہ اس نے اس فعل سے نفع حاصل کرنا چاہا تو وہ صورت بتائیے کہ کاغذ کا ٹکڑا ہزارروپے کو بیچے اور نفع لینانہ ہویا اس لئے کہ قرض پر نفع لیتا ہے قرض میں تو وہ پورے سو کے سولے رہا ہے اس پر نفع کہاںیا اسلئے کہ یہ نفع بسبب قرض ہے تو قرض تو اس وقت تك دیا بھی نہیں سبب کہاں سے متحقق ہوایا اس لئے کہ ان کے دل میں تو آئندہ قرض لینے دینے کی نیت ہے تو اس کا ثبوت شرع سے دیجئے کہ آئندہ سال قرض کا لین دین ہونے والا ہو تو آج بیع پر نفع لینا حرام ہوجائے وہ بیع کہ بلا شبہہ حلال تھی حکم تحریم پائےحالانکہ یہاں تو آیندہ لین دین ہونا بھی معلوم نہیں آئندہ غیب ہے اور غیب مجہول او رانسانی ارادہ ممکن التخلف نکاح میں کہے کہ میں نے تجھے مہینہ بھر یا دس برس بلکہ سو برس کے لئے اپنے نکاح میں لیا تو ناجائز وحراماور اگر نکاح کرے اور ارادہ صرف مہینہ بھر یا ایك ہی دن رکھنے کا ہو تو بیشك حلال۔
ثالثا: صحفہ ۱۹۴ پر وہ تصریحات ائمہ کرام مثل امام شمس الائمہ حلوانی وامام شمس الائمہ زر نجری و امام بکر خواہر زادہ و بحرالرائق وردالمحتار وغیرہا یا د کیجئے کہ پہلے بیع کرکے پھر قرض کا لین دین کریں تو ہمارے ائمہ مذہب امام اعظمامام ابویوسف اور امام محمد رضی اللہ تعالی عنہم سب کے نزدیك بالاتفاق بلا کراہت جائز وحلال ہےکہئے یہ کیوں حلال ہواظاہر ہے کہ یہ معاملہ اس نے زیادہ لینے ہی کے لئے بطور حیلہ کیا۔
رابعا:اپنی یاد کیجئے جلد دوم فتوی نمبری ۴۴ میں حکم تھا کہ گیہوں قرضوں نرخ بازار سے کم کو بیچنا جائز ہےاس پر سائل نے شبہہ کیا تھا کہ یہاں ربا نہیں تو شبہہ تو ہے اور شبہہ بھی مثل حقیقت حرام۔اس کا آپ نے جواب فرمایا کہ"خدشہ ربا کا یوں مدفوع ہے کہ گندم وغیرہ اقسام غلہ بعوض دراہم و دنانیر کے فروخت کرنے میں ربا نہیں ہے اور نہ شبہہ ربااگر دو سیر گیہوں کہ بازار میں مثلا دو آنے کو ملتا ہے کوئی شخص بعوض ایك روپیہ نقد بیچے تو بھی درست ہے ایسے ہی اگر نسیہ میں قیمت بڑھائے اور مشتری راضی ہوجائے تب بھی درست ہے"
حوالہ / References α مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۱
#13337 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
اقول:یہ"اب بھی تب بھی"فقط اٹھ گنی قیمت تك حلال ہے یا بلا قید۔بر تقدیر اول کیا دلیل شرعی ہے کہ ۲ / کے گیہوں ایك روپے کو بیچنا حلال اور دو یا دس یا سو کو حرام۔چو آب از سر گزشت چہ یك نیزہ چہ یك دست(جب پانی سر سے گزرگیا تو کیا ایك نیزہ اور کیا ایك ہاتھیعنی دونوں برابر ہیں۔ت)برتقدیر ثانی ہر عاقل جانتا ہے کہ کوئی ذی عقل دوآنے کے گیہوں سو روپے بلکہ انصافا ایك روپے کو بھی ہر گز خریدنے نہ بیٹھے گا جب تك کوئی دباؤ نہ ہو اوربیچنے والا۲/کا مال دے کر سو روپے لینے میں ضرور براہ حیلہ زیادہ ستانی ہی چاہے گاپھر ربا و شبہہ ربانہ سہی جیسا کہ اب آپ کو اس تیسرے پہلو پر نوٹ میں بھی ملحوظ نہیں مگر معاملہ حیلہ کے سبب حکم حرمت آنا لازم تھا۔
خامسا:(۸۰تا۸۵)وہ چھ حیلے یاد کیجئے جو ائمہ کرام نے ارشاد فرمائے اور رسالہ ص۱۷۰سے ۱۷۴ تك گزرے یہاں ارتکاب حیلہ سے حکم حلت کیسے ہوگیا۔
سادسا: یہی چھ کیا ہزار حیل ہیں جن کی تصریحات جلیلہ کلمات ائمہ میں مذکور اگر ان کو جمع کیجئے تو آپ کی اس جلد بھر سے زیادہ ہونگے سر دست عالمگیری کی کتاب الحیل ہی ملاحظہ وہ کہ ساری کتاب کی کتاب اسی میں ہے۔
سابعا:آپ خود اپنی ہی نہ کہئےسید ناامام محمد رضی اللہ تعالی عنہ نے مؤطا میں روایت فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا:"خرما خرما برابر کرکے بیچو"۔اس پر عرض کی گئی کہ یا رسول اللہ! خیبر پرحضورکے صوبہ دار تو دو صاع کو ایك صاع لیتے ہیںارشاد ہوا:انہیں بلاؤ۔وہ حاضر ہوئےرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا:ایسا نہ کرو۔عرض کیا: یا رسول اللہ!وہ قسم جمع کی دو ہی صاع کو جنیب کی ایك صاع بیچتے ہیں یعنی برابر کو مل ہی نہیں سکتیرسول اللہ صلیﷲتعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
بع الجمع بالدراہم ثم ابتع بالدراہم جنیبا ۔
یہ قسم(جمع)روپوں سے بیچ کر وہ قسم(جنیب)روپوں سے خریدلے۔
اس پر آپ حاشیہ لکھتے ہیں:
علمہ صورۃ لاتدخل فیہ الربا مع حصول المقصود ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کو وہ صورت سکھا دی جس میں ربانہ آنے پائے اور مطلب حاصل ہوجائے۔
حوالہ / References α المؤطا للامام محمد باب الربوٰ فیمایکال ویؤ زن نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص۵۴۔۳۵۳
α التعلیق الممجد علی مؤ طا محمد باب الربوٰ فیمایکال ویؤ زن نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۳
#13338 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
جناب من ! اسی کا نام تو حیلہ شرعیہ ہے پھر اس سے حکم حلت نہ ہو سکنا کیا معنیکیا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وہ بات بتارہے ہیں جس سے حلت نہ حاصل ہو حرام کا حرام رہےوالعیاذ باللہ تعالی۔
ثامنا: اس کے متصل امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ نے ابو سعید خدری و ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہما کی وہ حدیث روایت فرمائی جو رسالہ کے ص۱۹۵و۱۹۶ پر گزری اس میں بھی حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہی حیلہ تعلیم فرمایا ہے جس پر آپ نے خود حاشیہ لکھا کہ:
اشارالیہ بما یجتنب عن الربا مع حصول المقصود ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انہیں ایسی بات کا اشارہ فرمایا جس میں ربا سے بچ جائے اور مطلب ہاتھ آئے۔
سیدنا امام محمد نے یہ حدیثیں روایت کرکے فرمایا:
بھذاکلہ ناخذ وھو قول ابی حنیفۃ و العامۃ من فقہائنا ۔
یہ سب باتیں ہماری مختار ہیں اور یہی قول امام اعظم ابوحنیفہ اور ہمارے سب فقہاء کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا ہے۔
رہا حاشیہ میں آپ کا فرمانا کہ حنفیہ وغیرہم نے اس سے جواز حیلہ پر استدلال کیا اور حق یہ کہ ایسی جگہ اعتبار نیت کا ہے ۔
اقول اولا: یہاں کی کیا تخصیص ہے سبھی جگہ اعتبار نیت کا ہے بایں معنی کہ بدنیت فاسد ارادے سے جو کام کیاجائےگا ممنوع ہوگا حیلہ تو حیلہ اگر بدنیت سے نماز پڑھئے تو وہ بھی حرام ہو
کلید دردوزخ ست آں نماز کہ در چشم مردم گزاری دراز
(وہ نماز دوزخ کی چابی ہے جس کو تو لوگوں کے دکھلاوے کیلئے لمبا کرکے پڑھے)
ثانیا: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تعلیم فرمارہے ہیں جس کا خود آپ نے اقرار کیاتمام
حوالہ / References α الموطاللامام محمد باب الربوٰ فیما یکال ویوزن نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۴
α التعلیق الممجد علی موطال محمد باب الربوٰ فیما یکال ویوزن نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۴
α الموطا للامام محمد باب الربوٰ فیما یکال ویوزن نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۴
α التعلیق الممجد علی موطا محمد باب الربوٰ فیما یکال ویوزن نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۴
#13339 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ائمہ مذہب اس پر عمل فرمارہے ہیں جس کا امام محمد نے اظہار کیااب یہ آپ کی"والحق"اگر اس کے موافق ہے چشم ماروشن دل ماشاد(ہماری آنکھیں روشن اور ہمارا دل خوش ہے۔ت)اور اگر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ارشاد اور ائمہ مذہب کے اتفاق کے خلاف کچھ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ چننی چاہتے ہیں جیسا کہ ظاہر عبارت ہے تو وہ آپ ہی کو مبارك رہے اہل حق کے نزدیك بجوئے نیر زد"(ایك جو کے لائق بھی نہیں۔ت)
ثالثا: آپ نے کچھ کھولی نہیں کہ کیا نیت ہو تو حیلہ جائز ہے اور کیا ہو تو ناجائزاگر یہ مقصود کہ بیچ میں مبادلہ دراہم صرف برائے نام ہونہ یہ قسم خرما دراہم سے بیچنی مقصود ہو نہ وہ قسم دراہم خریدنیبلکہ منظور انہیں دو قسم کا باہم مبادلہ ہو اور ذکر دراہم بیع تلجیہ کے طور پر محض اسم فرضی تو یہ ضرور صحیح ہےمگر امام اعظم وامام محمد وجملہ ائمہ مذہب نے معاذاللہ اسے کب جائز کیا تھاحضرت وہ توحیلہ شرعیہ کو جائز فرمارہے ہیں جس کی خود آپ کے اقرار سے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تعلیم دی یہ ناپاك حرکت"حیلہ شرعیہ ہی کب ہوئی"بلکہ قصدا شرع کی مخالفت اور صورۃ عالم الغیب کو دھوکا دیناپھر آپ نے جملہ ائمہ مذہب کے مقابل اپنی"والحق"کی الگ چنائی کا ہے پرچنی۔اور اگر یہ مقصود کہ اگرچہ یہ قسم روپیوں سے بیچ کر وہ قسم روپیوں سے خریدنی مقصود ہو مگر اس فعل پر باعث وہی غرض ہو کہ یہ قسم ہماری ملك سے خارج ہو کر وہ قسم داخل ہوجائے اسے ناجائز کہتے ہو تو قصور معافیہ معاذاللہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اصلاح دینی ہے ابوحنیفہ وغیرہ ائمہ تو درکنار رہے ظاہر ہے کہ اسی غرض کی تحصیل کےلئے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ طریقہ تعلیم فرمایاخود حدیث صحیح مسلم و صحیح بخاری سے صفحہ ۱۹۵و۱۹۶پر گزرا کہ جب تو مول لینا چاہے تو یوں کر۔حدیث کی نہ سنئے اپنی ہیدونوں جگہ لفظ دیکھئے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے وہ صورت سکھادی جس میں ربا سے بچ جائے اور مقصود حاصل ہوجائےکہئے تو وہ کیا مقصود تھاجس کا حاصل کرنا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے تعلیم فرمایااس کے بعد جو آپ نے امام اعظم و امام محمد وائمہ مذہب کے رد میں ابن قیم گمراہ کی ایك نقل اس کے استاذ ابن تیمیہ بد مذہب سے ذکر کی ہے اس کا ایك ایك حرف حرف ہذیان یا مجنون کی بڑ ہےآپ خود اس کے بعد اتنا لکھ گئے کہ یہاں طویل بحثیں ہیں کہ مبسوط کتابوں میں ملیں گی جس سے آپ کو کہنے کی گنجائش رہی کہ میں نے اس نقل کو مقبول نہ رکھا لہذا ہم بھی اس کے رد سے تطویل نہ کریں کہ یہاں تو غرض آپ سے مکالمہ ہے۔
حوالہ / References α التعلیق الممجد علٰی مؤطا اما م محمد باب الربوٰ فیما یکال ویؤزن نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۷
#13340 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
تاسعا جانے دیجئے گول ہی رہیں اور نیت کا پردہ نہ کھولیں اتنا تو آپ کے بیان سے بھی ثابت ہوا کہ حیہ نیك نیت سے حلال ہےجناب من ! پھر یہاں یہ مطلق جبروتی حکم کیسا کہ ایسے ارتکاب حیلہ سے حکم حلت نہیں ہوسکتا ۔
قولہ:تہذیب الایمان میں ہے ۔
اقول:مولوی صاحب ! عجب ہے کہ آپ جیسا محقق جو اتنے اعلی پائے پر ہو کہ ائمہ مجتہدین کی جانچ پڑتال کرے ان کا حق وباطل نکالے وہ اور مسائل شرعیہ کے لئے سند لانے میں ایسا گرے کہ مجاہیل وبے قدر و بے وقعت زید و عمرو سب سے استناد کرے کہیں آپ مجالس الابرار سے سند لاتے ہیں کہیں رسالہ اسلمی سےاور اترکر اربعین میاں اسحق دہلوی سےکہیں اور گھٹ کر ان کے کسی شاگرد کی عمدۃ التحریر سےکہیں سب سے بدتر صراط مستقیم اسمعیل دہلوی سےانہیں مجاہیل میں یہ آپ کی تہذیب الایمان ہوگی جس پر بعض اصحاب نے کہا کہ آج تك تہذیب المنطقتہذیب الکلامتہذیب الاخلاقتہذیب الآثارتہذیب النحو سنی تھیمعلوم نہیں ان بزرگ کو ایمان میں کیا بے تہذیبی سوجھی کہ اس کی تہذیب لکھی آپ استناد کرتے وقت جب ایسوں کی تقلید تك اترآتے ہیں تو مسئلہ نوٹ میں حضرت مولنا مولوی محمد ارشاد حسین صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا فتوی آپ کے سامنے تھا اوروہ آپ کے ان اکثر مستندین سے ہر طرح اعلی و اعلم و افضل واکمل تھےکاش اس میں ان کی تقلید فرمالیتے تو جھگڑا چکتا۔
قولہ: انما المحرم ان یقصد بالعقود الشرعیۃ غیر ماشر عہا اللہ لہ فیصیر مخادعا لدینہ کائدالشرعہ ۔
قولہ: بے شك حرام یہ ہے کہ عقود شرعیہ سے اس شے کا غیر مقصود ہونا جس کے لئے اللہ تعالی نے ان عقود کو مشروع فرمایا کیونکہ ایسا کرنیوالا اسکے دین سے دھوکا اور اسکی شرع سے مکر کرنیوالا ہوگا۔(ت)
اقول:یہ بالکل ہمارے موافق ہے وہ حصر کرتا ہے کہ حیلہ وہی حرام ہے جس میں عقد شرعی سے اس کا مقصود شرعی مرا د نہ ہو یہ وہی صورت ہوئی کہ بیچ میں بیع دراہم کا نام بلا قصد مبادلہ محض بطور اسم فرضی لے اس کی حرمت میں کیا کلام ہےاور جب بیع سے حقیقۃ مبادلہ ملك کا قصد کیا تو یہی مقصود شرعی ہے جس کےلئے شرع نے اسے مشروع فرمایا تو جب آپ کی اسی سندکی رو سے اس کی حرمت ناممکن۔پھر نوٹ میں تو اس کو کچھ دخل ہی نہیںنوٹ بیچنے خریدنے والے یقینا یہی چاہتے ہیں کہ بائع کی ملك سے
حوالہ / References α مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۸
α مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۸
α مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۸
#13341 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
نوٹ خارج ہوکر مشتری کی ملك میں آئے اور مشتری کی ملك سے روپے خارج ہوکر بائع کی ملك میں آئیںشرع نے بیع اسی لئے مشروع کی ہے تو اسی عبارت کے حکم سے اسکی حلت واجب۔اگرکہئے مراد یہ ہے کہ اس نے تھوڑے روپوں کے بدلے زیادہ لینے چاہےمگر روپےدے کر زیادہ روپے لیتا تو سود ہوتا اسی لئے نوٹ بیچ کر روپے لئے کہ جنس بدل جانے سے رباجاتا رہے۔
قول:تو کیا گناہ کیااس نے گناہ سے بچنا ہی تو چاہاگناہ سے بچنے کی تدبیر بھی گناہ ہو تو مفر کدھرشرع نے بیع اس لئے مشروع فرمائی ہے کہ منہیات شرعیہ سے بچ کر اپنا مطلب جائز طریقہ سے حاصل کرلووہی اس نے چاہا تو مقصد شرعی کی نہ کہ مخالفتپھر حرمت کدھر سے آئی۔
قولہ فان مقصودہ حصول الذی حرم اللہ بتلك الحیلۃ او اسقاط مااوجبہ انتہی۔
قولہ کیونکہ اس حیلہ سے اس کا مقصد اس چیز کو حاصل کرنا ہے جس کو اللہ تعالی نے حرام کیا یا اس چیز کو ساقط کرنا ہے جس کو اللہ تعالی نے واجب کیاانتہی۔(ت)
اقول اولا: حرام مراد لازم المحرمۃ ہے جس سے حرمت کبھی جدا نہ ہو یا وہ جسے حرمت عارض منفك ہےبر تقدیر اول اسی لازم المحرمۃ کو اختیار کرے گا یا اس سے کسی امر جائز کی طرف عدول و فرار پہلے صورت پر حیلہ ہی کب ہواصراحۃ حرام میں پڑنا ہوا پھرا س سے تحریم حیلہ کیوں لازم آئیاور دوسری صورت میں شاید حرمت اس وجہ سے ہوگی کہ حرام سے کیوں بچا جائز کی طرف کیوں عدول کیا۔بر تقدیرثانی شکل کو وہ اختیار کرتا ہے جس میں وہ عارض منفك منفك ہوجائے اور شے حلال محض رہ جائے یا وہ کہ عارض حرمت باقی رہےصورت ثانیہ پھر حیلہ نہیں اور اولی پر حرمت کی کوئی وجہ نہیں۔
ثانیا:دور کیوں جائیے خود اپنی سنئےشراب حرام قطعی اور پیشاب کی طرح نجس بہ نجاست غلیظہ ہے مسلمان کو اس کا بیچناحرامچھونا حراماس سے کسی طرح کا نفع لینا حراماب فرض کیجئے کہ ایك مسلمان کی ملك میں ہزار مٹکے شراب آئی مثلا یوں کہ اول نصرانی تھا اب مسلمان ہوگیا وہ نہیں چاہتا کہ اتنا مال کثیر ضائع ہوجائےاس نے نمك ڈال کر سب کو سرکہ کرلیا آپ خود فرماتے ہیں کہ جائز و روا ہے اپنے رسالہ نفع المفتی میں دیکھئے:
الانتفاع بالمحرم لایجوز کذا قال البرجندی
حرام سے نفع حاصل کرنا جائزنہیںیونہی برجندی
حوالہ / References α مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۸
#13342 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
فان قلت یشکل ھذابالسرقین فانہ ینتفع بھا عــــــہ فی الایقاد قلت الانتفاع بالجنس بالاستھلاك جائز کا راقہ الخمر و تخلیل الخمر وھذا کذلك فیجوز اھ باختصار۔
میں کہا ہے اگر توکہے اس پر گوبر کے سبب سے اشکال وارد ہوتا ہے کیونکہ اس سے جلانے میں نفع حاصل کیا جاتا ہے تو میں کہوں گا کہ نجس سے نفع حاصل کرنا نجس کو ہلاك کرکے جائز ہے جیسے شراب کو بہا دینا اور شراب کو سرکہ بنانا اور یہ انہیں صورتو ں جیسی ہے لہذا یہ جائز ہے اھ اختصار۔(ت)
دیکھئے اس نے یہاں حرام خد اکو کام ہی میں لانا چاہا مگریوں کہ حرام نہ رہا پھر اس میں کیا حرج ہوا۔
قولہ:پس اگر نوٹ میں تفاضل قضاء جائز بھی ہو لیکن دیانۃ فیما بینہ وبین اللہ کسی طرح سے درست نہ ہوگا ۔
اقول:عجب کہ جو کاغذ کو کاغذ ہی جانے اور بوجہ عرف ثمن اصطلاحی مانے اور شرع مطہر سے یقینا معلوم ہوا کہ اصطلاح عامہ کی پابندی اس پر لازم نہیں وہ سو کے نوٹ کو روپوں سے کم وبیش پر بیچے تو عند اللہ کسی طرح درست نہ ہواور جو اپنے زعم میں کاغذ کو ثمن خلقی کا عین مانے اور اسے بعینہ چاندی سمجھے وہ یہ ماشہ دو ماشہ بھر چاندی سیر پکی چاندی کو بیچے اور سود نہ ہو حلال طیب رہےاس زبردستی کی کوئی حد ہےخیر یہ تو پہلے معروض ہوچکا مگر یہاں یہ بات یادرکھنے کی ہے کہ اب مولوی صاحب ربا و شبہہ رباسے قطعی گزرگئے"علاوہ ازیں"کہہ کر تو ان کے لحاظ ہی سے گزرے تھے اب یہ صورت لیتے ہیں کہ کوئی ایسا وصف ہے ہی نہیں جس میں ربا یا شبہہ ربا ہو ورنہ قضاء جائز ہونا محال تھا اور اس سے ظاہر کہ حکم عینیت کا تسمہ لگانہ رکھا ورنہ ربایا شبہہ ربا ہوکر دیانۃقضاء ہر طرح حرام ہونالازم تھا تو عینیت عرفیہ کا اگر نام لیا بھی جائے محض اسم بے مسمی و لفظ بے معنی ہوگا کہ اس کا حکم واثر شرعی منتفی ہے اور جب ایسا ہے تو حقیقۃ و شرعا غیریت محضہ رہی اب خود ہی حاصل اسی قدر ٹھہرا دیا کہ کم روپیوں کا مال برضائے خریدار زیادہ کو بیچ لیاکہئے اس میں کون سا خلاف دیانت ہے۔
قولہ: اسی وجہ سے کتب فقہ میں بیع عینہ اور شراء باقل مماباع وغیرہ ذلک(کسی چیز
عــــــہ:الاصوب بہ ۱۲۔
حوالہ / References α نفع المفتی والسائل مایتعلق بالانتفاع بالاشیاء النجسۃ الخ مطبع مجتبائی دہلی ص۱۳۶
α مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۸
#13343 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
کو اس سے کم پر خریدنا جتنے پر بیچاہے وغیرہ ذلک۔ت)کی ممانعت مذکور ہے۔
اقول اولا: الحمد اللہ! اب تو آپ کنارے پر آیا چاہتے ہیںجی ہاں یہ بیع عینہ کے مثل ہے پھر بیع عینہ کوہمارے ائمہ کرام نے کیا ٹھہرایا ہےکیا ممنوعناجائزحراممکروہ تحریمی۔حاشا ہرگز نہیںیہ محض غلط و باطل ہے بلکہ جائزحلالروادرست غایت درجہ ا س میں اختلاف ہواکہ خلاف اولی بھی ہے یا نہیںہمارے امام اعظم بلا کراہت مانتے ہیںامام ابویوسف خود ثواب ومستحب جانتے ہیںامام محمد احتیاط کیلئے صرف خلاف اولی ٹھہراتےیہ تمام مباحث رسالہ میں صفحہ ۱۶۹ ۱۷۰و۱۷۱و۱۷۳تا۱۷۶و۱۷۸و۱۷۹۱۸۰بلکہ ۱۶۴تا۱۶۶ میں گزرےاب تو اپنے ہی اقرار پر قائم رہ کر بول اٹھئے کہ سو کا نوٹ دو سو کو بیچنا امام اعظم کے نزدیك جائز و مباحامام ابویوسف کے نزدیك اجر وثوابامام محمد کے نزدیك صرف خلاف اولی۔
ثانیا:وہ خلاف اولی بھی اس لئے تھا کہ اس وقت تك مسلمان سود کو سوئر سمجھتے تھے اس کے سایہ سے بھاگتے تھے تو اس امر کی جائز عادت ڈالنے سے اندیشہ تھا کہ مباد ا آگے بڑھ جائیں جیسا کہ اس کا بیان صفحہ ۱۷۹و۱۷۰۱۷۱ وغیرہما پر گزرااب کہ علانیہ سود مسلمانوں میں رائج ہوگیا جیتا نگلتے ہیں اور شرمانا درکنار آنکھ تك نہیں جھپکاتےتو انہیں ایك جائز بات بتانا جس سے ان کا مقصود حاصل ہو او راللہ واحد قہار کے عذاب سے بچیں عین خیر خواہی مسلمین ہے اور اس میں ناحق کے شاخسانے نکالنا مسلمانوں کی صریح بدخواہیذرا انصاف درکار ہے کہ خود آپ کے اقرار سے صبح آشکار ہےوالحمد ﷲ رب العلمین۔
ثالثا:شراء ماباع باقل مما باع عندالتحقیق ربح ما لم یضمن(کسی چیز کو اس سے کم پر خریدنا جتنے پر بیچا ہے تحقیق کی رو سے اس لئے حرام ہے کہ اس میں اس چیز پر نفع لینا ہے جس کا ضامن نہیں بنا۔ت)کے سبب حرام ہے یعنی جو چیز اپنی ضمان میں نہ آئی اس پر نفع لینا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس سے منع فرمایاظاہرہے کہ قیمت جب تك ادا نہ ہوئی خود بائع کی ضمان پر باقی ہے ہلاك ہوجائے تو اس کی جائے مشتری پر اس کا اثر نہ ہوولہذا یہاں درہم و دینار ایك جنس ہیں کما فی الدر وغیرہ(جیسا کہ در وغیرہ میں ہے۔ت)حالانکہ باب ربا میں دو جنس ہیں کما فی جمیع الکتب(جیسا کہ تمام کتابوں میں ہے۔ ت)ہاں ثمن اول وثانی ایك ہی جنس ہو تو شبہہ ربا بھی ہے
حوالہ / References α مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۸
#13344 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
بعض نے اسی سے مسئلہ کی تعلیل کییوں کہ اس نے ہزار کو بیچی اور ابھی قیمت وصول نہ ہوئی ممکن تھا کہ عیب کے سبب واپس ہوکر ثمن نہ ملے اب کہ خود اس نے پانچ سو کو خرید لیاحتمال سقوط ساقط ہوگیا تو اس نے پانچ سو دے کر اپنے وہ ہزار پکے کرلئے یوں شبہہ ربا آیا بہرحال ان وجوہ کو یہاں سے کیا علاقہ آپ خواہی نخواہی اسی وجہ سے کہہ رہے ہیںہدایہ میں ہے:
من اشتری جاریۃ بالف درہم حالۃ اونسئۃ فقبضہا ثم باعہا من البائع بخمسمائۃ قبل ان ینقد الثمن الاول لایجوز البیع الثانیلان الثمن لم یدخل فی ضمانہ فاذاوصل الیہ المبیع ووقعت المقاصۃ بقی لہ فضل خمس مائۃ وذلك بلاعوض ۔
جس شخص نے ہزار درہم نقد یا ادھار کے بدلے لونڈی خریدی اور اس پر قبضہ کرلیا پھر پہلے ثمن کی ادائیگی سے قبل وہی لونڈی پانچ سو درہم کے بدلے بائع کے ہاتھ فروخت کردی تو دوسری بیع جائز نہ ہوگی کیونکہ ثمن ابھی تك بائع کی ضمان میں داخل نہیں ہوئے تو جب مبیع دوبارہ اس کے پاس پہنچ گیا اور پانچ سو درہم اس کے بدلے میں ہوگئے تو باقی پانچ سو درہم اس کے زائد بچ گئے اور وہ بلاعوض ہیں۔(ت)
فتح القدیر میں ہے:
الذی عقل من معنی النہی انہ استربح مالیس فی ضمانہ ونہی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عن ربح مالم یضمن وھذا لان الثمن لایدخل فی ضمانہ قبل القبض ۔
وہ جونہی کے معنی سے سمجھا گیا یہ ہے کہ اس نے اس چیز پر نفع لیا جو اس کی ضمان میں نہیں اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس چیز پر نفع سے منع فرمایا جو اس کے ضمان میں نہ ہو اور یہ اس لئے ہے کہ قبضہ سے پہلے ثمن بائع کی ضمان میں داخل نہیں ہوتا۔(ت)
اسی میں ہے:
وھذا احسن من تقریر قاضی خاں اعتبارالشبہۃ بان الالف
یہ قاضی خاں کی اس تقریر سے بہترہے جو شبہ ربا کا اعتبار کرتے ہوئے انہوں نے کی بایں طور
حوالہ / References α الہدایہ کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۳ /۶۰
α فتح القدیر کتاب البیوع باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۷۱
#13345 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
وھو الثمن الاول علی شرف السقوط لاحتمال ان یجد المشتری بہا عیبا فیردہ فیسقط الثمن عن المشتری وبالبیع الثانی یقع الامن عنہ فیکون البائع بالعقد الثانی مشتریا الفا بخمسمائۃ انتہی ۔
کہ ہزار درہم جو کہ ثمن اول تھا وہ ساقط ہوسکتا تھا اس احتمال کی بنا پر مشتری اس لونڈی میں کوئی عیب پاکر واپس کردیتا تو اس طرح مشتری سے ثمن ساقط ہوجاتا اور بیع ثانی کی وجہ سے سقوط کا خوف جاتا رہا تو اس طرح بائع عقد ثانی کے ساتھ پانچ درہم کے عوض ہزار کو خریدنے والا ہوا۔انتہی۔(ت)
رابعا: وجہ متحقق سے گزر کر دوسری ہی وجہ لیجئے اوریہاں اس کے عدم جریان سے بھی قطع نظر کیجئے جب بھی آپ کو مفید نہیں کہ اس وجہ پر علت حرمت شبہ ربا ہے آپ ربا وشبہ ربا سے اتر کر تیسری وجہ سے تحریم لے رہے ہیں تو جہاں شبہ ربا ہے اس سے اس پر استناد کیونکر کرسکتے ہیں۔
خامسا: آپ"اسی وجہ سے"کہہ کر دونوں مسئلوں میں علت حکم ایك بتارہے ہیں تو واجب تھا کہ حکم بھی ایك ہوتا۔کیا شراء ماباع با قل مما باع(کسی چیز کو اس سے کم پر خریدنا جتنے پر بیچا ہے۔ت)بھی صرف دیانۃ حرام ہے قضاء جائزفافہم
سادسا: آپ نے سنا ہو کہ یہ شراء باقل قیمت ادا ہونے کے بعد بلا شبہ جائز ہے مثلا ایك چیز زید نے عمرو کے ہاتھ ہزارو روپے کو بیچی عمرو نے روپے ادا کردئے پھر زید نے وہی چیز عمرو سے پانچسو کو خریدلی کہ چیز کی چیز واپس آگئی اور پانچ سو مفت بچ رہے یہ جائز وحلال ہے۔ درمختار میں ہے:
فسد شراء ماباع بالاقل قبل نقد الثمن وجاز بعد النقد اھ ملتقطا۔
اپنی ہی فروخت کی ہوئی چیز پہلے ثمن سے کم کے بدلے خریدنا ادائیگی ثمن سے پہلے ہو تو جائزنہیں اور اگر ادائیگی کے بعد ہو تو جائز ہے۔اھ ملتقطا(ت)
آپ کی وجہ پر قیمت ادا ہونے نہ ہونے سے کیا فرق ہوگیا کم روپے دے کر زیادہ حاصل کرنے کا مقصود بہر حال موجودمولوی صاحب! مشکل یہ ہے کہ آپ اپنی تحقیق کے زور میں فقہ حنفی سے بیخبر ہیں ورنہ آپ جیسے محقق پر ایسی باتیں مخفی نہ رہتیں۔
حوالہ / References α فتح القدیر کتاب البیوع باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۷۳
α درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶
#13346 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
قولہ: اور احادیث اس باب میں بکثرت وارد ہیں جن سے حرمت ایسے حیل کی ثابت ہوتی ہے ۔
اقول اولا: احادیث اس باب میں بکثرت وارد ہیں جن سے حلت ایسے حیل کی ثابت ہوتی ہے دو بلکہ تین حدیثیں رسالہ کے صفحہ ۱۹۵۱۹۶ میں گزریں اور ایك حدیث مؤطا یہاں مذکور ہوئی
ثانیا: خود آیہ کریمہ جواز پر شاہد ہے کہ صفحہ ۱۸۹۱۹۰ پر تلاوت ہوئیفتاوی ذخیرہفتاوی ہندیہ میں ہے:
الاصل فی جواز ھذا النوع من الحیل قول اللہ تعالی وخذ بیدك ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث وہذا تعلیم المخرج لایوب النبی علیہ وعلی نبینا الصلوۃ والسلام عن یمینہ التی حلف لیضربن امرأتہ مائۃ عود وعامۃ المشایخ علی ان حکمہا لیس بمنسوخ وھوالصحیح من المذھب ۔
اس طرح کے حیلے جائز ہونے کی اصل اللہ عزوجل کا یہ اراد ہے کہ اپنے ہاتھ میں ایك جھاڑو لے کر مارو اور قسم نہ توڑوحضرت ایوب نبی اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے جو اپنی زوجہ مقدسہ کی نسبت قسم کھالی تھی کہ سو لکڑیاں ماریں گے یہ اللہ عزوجل نے اس قسم سے عہدہ برآئی کا طریقہ تعلیم فرمایا(کہ قسم بھی پوری ہوجائے اور ایذا بھی نہ پہنچے)اور مشایخ کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت کا حکم منسوخ نہیں اور یہی صحیح مذہب حنفی ہے۔
قولہ: اگر یہ شبہ ہو کہ نوٹ ہر گاہ ثمن خلقی نہیں ہے پس حکم اس کا بعینہ کیونکر ہو سکتا ہے تو جواب اس کا یہ ہے کہ چونکہ عرفا وہ عین ثمن خلقی سمجھا گیا اور تمام مقاصد ثمن خلقی کے اس کے ساتھ متعلق ہوئے لاجرم باب تفاضل میں اسی کا اعتبار ہوگا لاسیما دیانۃ فانہا متعلقۃ بالمقاصد وان کانت خفیۃ (خصوصا دیانت کے اعتبار سے کیونکہ یہ مقاصد سے تعلق رکھتی ہے اگرچہ وہ(مقاصد)پوشیدہ ہوں۔ت)
اقول اولا: یہ ہرگاہ اور چونکہ سرگاہ میں گزرچکیں اگر پہلا بیان صحیح تھا تو یہ شبہ وہیں دفع
حوالہ / References α مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنو ۱ /۳۹۸
α فتاوٰی ہندیہ کتاب الحیل الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۳۹۰
α مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۸
#13347 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
ہوچکاپھر"اگریہ شبہہ ہو"کا محل کیا اور غلط تھا تو اب تو وہی جواب دیا ہے اب کیوں صحیح ہوگیا بات وہی ہے کہ لے دے کر ایك یہی شبہہ آپ کے ہاتھ میں ہے باربار بتکرار اس کا اعادہ فرماتے ہیں کہ معنی تو سہی عبارت تو وزنی ہوجائےہاں یہاں تمام مقاصد کا لفظ زائد فرمایا ہے جس کا صاف ابطال اوپر گزرا اور کشف شبہہ بھی بروجہ اتم کردیا گیا اور یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ بہت اچھا باب تفاضل میں اسی کا اعتبار کیجئے تو تفاضل فی القدر حرام مانئے اور خود اپنی ذات گرامی کو سو د حلال کرنے والی جانئے مگر جناب تو اپنی ایك دھن میں کسی کی سنتے ہیں نہیں۔
ثانیا:ہاں ایك لاسیما یہاں اور بڑھائی ہے یعنی جب نوٹ سے تمام مقاصد ثمن متعلق ہیں اور دیانت میں نظر مقاصد ہی پر ہے اگرچہ خفی ہوں نہ صورت پر تو کاغذ اور چاندی کا فرق صورت سے نہ دیکھا جائیگا مقاصد میں دونوں ثمن خلقی ہیں اس پرنظر ہوگی اور حرمت لازم۔
اقول: بجا ہے پھر ایك اشرفی کو ایك روپیہ کیسے حلال ہوگیا وہ تو نہ صرف مقاصد بلکہ اصل حقیقت میں ثمن خلقی ہیں اور مقاصد میں بھی پندرہ روپے اور ایك پونڈ میں کچھ فرق نہیں سمجھا جاتا۔
ثالثا:حل کروں آپ مقاصد شرعیہ واغراض انسانیہ میں فرق نہ سمجھےمقاصد شرع وہ ہیں جن پر صحت وفساد حلت وحرمت کا مدار ہے اور اغراض انسانیہ وہ نتائج کہ انکے نزدیك انہیں حاصل ہوں مقاصد باختلاف عقود مختلف ہوجاتے ہیں اور نتائج بارہا عقود متباینہ میں متحد رہتے ہیں مثلا زید اپنا نصف مکان قابل قسمت بلاتقسیم اپنے شریك مساوی کو ہبہ کرکے اپنا قبضہ اٹھائے کہ سارا مکان قبض وتصرف شریك میں رہے یا اس کے ہاتھ بیچ کر ثمن اس کو معاف کردے دونوں صورتوں میں نتیجہ واحد ہے انسانی غرض ان میں فرق نہیں کرتی مگر مقصد شرعی کا اختلاف شدید ہے کہ پہلی صورت فاسد وحرام اور دوسری صحیح وحلالیونہی اگر کوئی شخص دس کے پندرہ لینا چاہے اب دس روپوں کو خواہ پندرہ روپوں کے عوض بیچے خواہ ایك ساورن کے بدلےاس کی غرض دونوں طرح بلاتفاوت حاصل ہے مگر مقاصد شرعیہ اتنے مختلف ہیں کہ صورت اولی سودرباگناہ کبیرہ حرام قطعی موجب دخول ناراور دوسری شکل درستصحیححلالروابے اعتراضبلا انکارنوٹ سے اگر اغراض انسانیہ ثمن خلقی کی طرح بلاتفاوت متعلق ہوں تو اس سے احکام ومقاصد شرعیہ میں اتحاد سمجھ لینا کیسی سخت نادانی ہےاحسان تو نہ مانئے گا کہ کیسے کیسے جواہر زواہر میرا قلم جناب کے قلب پر القاء کرتاہے انصاف کیجئے تو ایك ہی نکتہ آپ کی ساری عرق ریزی کا علاج کافی ووافی ہے ﷲ الحمد۔
#13348 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
رابعا:ایك ذرا اور بھی انصاف کی سہی آپ تو کمال مقاصد شناسی دیانت پرور ہیں۔اسی جلد دوم کے فتوی نمبری ۹۷ میں جو بایں خلاصہ تحریر ہے"خرید کرنا مال کفا رسے بایں طور کہ نقد روپیہ ادا کرے تو پوری قیمت معینہ دے اور بعد ایك یادو یا تین مہینے کے ادا کرے تو فی سیکڑا تین روپے فی ماہ زیادہ اس قیمت معینہ سے دینا ہوگا۔یہ فی الحقیقت بیان ہے نرخ مال کا بھی نقد خریدے تو مثلا سو روپے قیمت دے اور بعد ایك یا دو ماہ یا سہ ماہ کے ادا کرے تو قیمت ایك سو تین یا چھ سو نودے پس یہ عقد حق خریدار میں جائز ہے اور زیادت ثمن کی فی سیکڑا تین روپے ہر ماہ میں اس میں بھی خریدار کو شرعا کوئی قباحت نہیں اور درمیان میعاد مذکورہ کے قیمت ادا کرے تو بائع کو اختیار ہے چاہے لے چاہے علی المیعاد لےاس واسطے کہ رجوع اس کا جانب بائع سے طرف حط بعض قیمت کے اور جانب خریدار سے طرف حط اجل کے ہوگا اور ان دونوں میں شرعا کوئی قباحت نہیںصح الجواب واللہ اعلم۔حررہ محمد عبدالحی عفی عنہ ذرا فرمائے تو یہ تین روپے سیکڑا ہر مہینے پیچھے بڑھانے کا مقصد سوا سود کے کیا ہے خصوصا وہ بھی کفا رکی طرف سے جو بغیر سود کبھی ٹکڑا نہیں توڑتے اور سود کا لینا دینا دونوں قطعی حرام ہیں دونوں پر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے اور فرمایا وہ سب برابرہیں اسے آپ نے کیا سمجھ کر حلال کردیا اور بلا دغدغہ صح الجواب جڑدیاپھر ائمہ کرام کی صاف تصریح ہے کہ اگرچہ قرضوں بیچنے میں نقد سے قیمت زائد لینا جائز ہے"والاجل یقابلہ قسط من الثمن"مگر ایك بات قطع ہونا لازماس طور پر بیع کہ بحال نقد اتنے پر بیچی اور بصورت فلاں میعاد اتنے پر یہ حرام وفاسد ہے فتح القدیر میں ہے:
لابد ان یکون الاجل معلوما لان جہالتہ تفضی الی المنازعۃ فی التسلم والتسلیم وعلی کل ذلك انعقد الاجماع واماالبطلان فیما اذا قال بعتکہ بالف حالا وبالفین الی سنۃ فلجہالۃ الثمن ۔
میعاد کا معلوم ہونا ضروری ہے کیونکہ اس کی جہالت لینے اور دینے میں جھگڑے کا سبب بنتی ہے اس تمام پر ائمہ کرام کا اجماع منعقد ہےرہا اس صورت کا بطلان کہ کسی نے کہا میں یہ چیز تیرے ہاتھ نقد ایك ہزار کی اور ایك سال کے ادھار پر دو ہزار کی فروخت کی تو یہ جہالت ثمن کی وجہ سے(باطل)ہے۔ (ت)
حوالہ / References α مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۵۔۳۹۴
α فتح القدیر کتاب البیوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۴۶۸۔۴۶۹
#13349 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
پھر اس سے بھی قطع نظر ہو تو خود اجل میں تردید ہے یہ خود مفسد ہے اگر چہ نقد واجل کی تردید نہ ہواور صرف دو ہی شقیں مفسد ہیں یہاں تو تین ہیں کہ ایك مہینہ میں دے تو قیمت اور دو میں یہ اور تین میں یہ۔فتاوی خلاصہ وفتاوی عالمگیری میں ہے:
رجل باع علی انہ بالنقد بکذا و بالنسئیۃ بکذا اوالی شہر بکذا والی شہرین بکذا لم یجز ۔
ایك شخص نے کوئی چیز یوں بیچی کہ نقد اتنے کی اور ادھار اتنے کییا ایك ماہ کے ادھا ر پر اتنے کی اور دو ماہ کے ادھار پر اتنے کیتو یہ بیع جائز نہ ہوئی(ت)
عجب کہ آپ نے حرام درحرام طرح طرح حرام کو کیسے حلال کردیاپھر بین المیعاد ثمن قبول کرلینے کو بائع کی طرف سے بعض ثمن کا حط قراردینا کس قدر عجیب ہے کم میعاد پر اتناہی ثمن ٹھہرا تھا اس نے کم کیا کیاپھر اگر مشتری تین مہینے کے اندر روپیہ دے تو بائع کو اختیار دینا کہ قبول نہ کر جب تك پوری میعاد گزر کر سود کا پیٹ پورا نہ بھر جائے سب سے عجیب تر ہے میعاد تو خالص حق مشتری ہےکتب ائمہ میں تصریح ہے کہ مدیون میعاد سے پہلے دین ادا کرے تودائن کو جبرا قبول کرنا ہوگااشباہ میں ہے:
الدین المؤجل اذا قضاہ قبل حلول الاجل یجبر الطالب علی تسلیمہ لان الاجل حق المدیون فلہ ان یسقطہ ھکذا ذکر الزیلعی فی الکفالۃ وھی ایضا فی الخانیۃ والنہایۃ ۔
اگر مقروض میعادی قرض کو میعاد پوری ہونے سے قبل ادا کرے تو قرض دہندہ کو اس کے وصول کرنے پر مجبور کیا جائے گا کیونکہ میعاد تو مقروض کا حق ہے اور اس کو اختیار ہے کہ وہ اس کو ساقط کردےزیلعی نے باب الکفالہ میں یونہی ذکر کیااور یہ خانیہ اور نہایہ میں بھی ہے۔(ت)
خیریہ چار تو جملہ معترضہ تھےاب ذرا مقاصد شناسی کی خبریں کہئےایك مقلد عالم سے بھی ایسی لغزش ضرور تعجب خیز ہے مگروہ گرانمایہ اجتہاد پایہ محقق کہ امام اعظم کے ارشادات پرکھنے کا ادعارکھےاس سے ایك اپنے معاصر مقلد کی ایسی جامد تقلید کیسا سخت نمونہ قیامت ہےولا حول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم(گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں سوائے اللہ تعالی کی توفیق کے۔ت)اس کی نظر یہی ہوسکتی ہے کہ مولوی عالم علی صاحب مرادآبادی نے براہ خطاء صریح دودھ کے چچا کو
حوالہ / References α فتاوی ہندیہ کتاب البیوع الباب العاشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۳۶
α الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب المداینات ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۳۸
#13350 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
بھتیجی حلال لکھ دیخیر وہ تو لکھ گئے اب فتوی پہنچا دہلیامام غیر مقلدان مولوی نذیر حسین صاحب نے بھی بے دھڑك الجواب صحیح لکھ کر اس پر مہر چپکا دی اور اپنے اہالی موالی سب کی لگوادیںفتوی یہاں آیا فقیر نے تحریم کا حکم دیا اور بعض طلبہ نےمجتہد صاحب کی مزاج پرسی کیاب غیر مقلدوں کے کل فی الکل کی آنکھیں کھلیں سونے سے جاگے مجتہد جی کو بخاری ومسلم کی حدیثیں سجھائے سے سوجھیں اور دوسرا فتوی حرمت پر لکھا اور پہلے فتوی کا یہ عذر بدتر ازگناہ پیش کیا کہ:
قبل ازیں بر فتوائے مولوی عالم علی صاحب کی در حلت آں نوشتہ بودند بر اعتماد ایشاں بنظر سرسری مہر من کردہ باشد ۔
قبل ازیں مولوی محمد عالم صاحب جنھوں نے حلت لکھ دی تھی ان پر اعتماد کرتے ہوئے سرسری نظر سے مہرلگادی گئی۔(ت)
حلال وحرام خصوصا معاملہ فروج میں نظر سرسری کا عذر اپنی کیسی صریح بد دیانتی اور آتش جہنم پر سخت جرأت و بیباکی کا کھلا اقرار ہےحدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اجرؤکم علی الفتیا اجرؤکم علی النار ۔
تم میں سے جو فتوی میں زیادہ بیباك ہیں وہ جھنم کی آگ پر زیادہ بیباك ہیں(ت)
خیر یہ تو غیر مقلدی کے لئے لازم بین ہے"مگر بر اعتماد ایشاں"نے ان کے اجتہا د کی پوری قیامت توڑدی اے سبحان اللہ ! مجتہدی کا دعوی اور ایك ادنی سے ادنی مقلد پر حلال وحرام میں یہ تکیہ بھروسااور اس کردہ شد کے لطف کو تو دیکھئے کیا شرمایا ہوا صیغہ مجھول ہے گویا انھوں نے خود اس پر مہر نہ کی کوئی اور کرگیااللہ یوں اپنی نشانیاں دکھاتا اور ائمہ کے مقابلہ کا مزہ چکھا تا ہے نسأل اللہ العفو و العافیۃ(ہم اللہ تعالی سے معافی اور عافیت مانگتے ہیں۔ت)
قولہ:باقی رہا فتح القدیر کا لوباع کاغذۃ بالف یجوز انتھی(اگر کسی نے ایك کاغذ ہزار درہم پر بیچا تو جائز ہے انتھی۔ت)
اقول:انتہی نہیں اس کے بعد ولا یکرہ (اور مکروہ نہیں ہے۔ت)بھی ہے اور خود میرا
حوالہ / References α فتاوی نذیریہ
α سنن الدارمی باب الفتیا وما فیہ من الشدۃ نشرالسنۃ ملتان ۱/ ۵۳
α مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۸
α فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۳۲۴
#13351 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
فتوی آپ کے پیش نظر ہے اس میں بھی منقول یعنی"کاغذ کا ایك پرچہ ہزار روپے کو بیچنا ایسا جائز ہے جس میں اصلا کراہت بھی نہیں"اسے پردہ انتھی میں نہ چھپائیے یہ بہت کام کی چیز ہے آپ کو یہ"لایکرہ"مکروہ لگتا ہے تو محققی کی شان یہ تھی کہ اسے نقل کرکے رد فرماتےآخر امام ابن ہمام اور ان کے ساتھ کے علمائے کرام جنھوں نے اس لایکرہ کی تصریح فرمائی امام الائمہ امام اعظم سے تو اعظم نہ تھے یہ نہ ہوسکا تھا اور اس کا نقل کرنا ناگوار تھا تو الی آخرہ لکھ دیا ہوتا یہ بھی نہ سہی"یجوز"تك لکھ کے یونہی چھوڑدیا ہوتا کہ اخفائے ظاہر کا الزام تو نہ آتا انتھی نے تو موضع تہمت میں غلط بیانی کییہ جناب کی شان سے بعید واقع ہوئی۔
قولہ: پس مراد اس کی یہ کاغذ نہیں کہ عین ثمنی خلقی سمجھاگیا کیونکہ اس کا وجود ان زمانوں میں نہ تھا بلکہ سادہ کاغذ ۔
اقول اولا: عینیت تو بار ہا گھر تك پہنچا دی گئی اس کی آڑ تو چھوڑئیے اور اب فرمائیے کہ نوٹ اور اس پرچہ کاغذ میں وجہ فرق کیا ہے سادہ پرچہ تو ہزار روپے کو بك سکے مگر جس پر پانچ روپے کا لفظ و ہندسہ لکھ دیا وہ پانچ سے زیادہ کو بیچنا حرام ہوجائے بڑی منحوس گھڑی سے چھاپا تھا کہ چھپتے ہی نو سو پچانوےاڑ گئے۔
ثانیا:عینیت کے جو قاہر رد ہوئے انھیں جانے دیجئے تو آپ خود اپنے تنزل اخیر میں اس سے یکسر گزرچکے ہیں مہربانی فرماکر اپنی اس اخیر تقدیر پر فرق کی تقریر سنادیجئےجی ہاں سادہ کا غذ ہزار کو بیچنا جائزبتایا اورکیسا کاغذ ناجائز ہے ذرا بتائیے۔
ثالثا: صاف انصاف تو یہ ہے کہ علماء نے مطلق کاغذ فرمایا ہے جو سادہ اور لکھے قلمی اور چھپے نوٹ اور غیر نوٹ سب کو شامل ہے یہ سادگی تو آپ کی زیادت ہے اور مطلق کا کوئی مقید نیا پیدا ہوتو صرف اس بنا پر اسے حکم مطلق سے اخراج سراسر خلاف فقاہت ہےہزارہا حوادث نئے پیدا ہوتے جاتے ہیںاور تا قیامت ہوتے رہیں گےان کے احکام اطلاقات ائمہ کرام سے لئے جاتے ہیںاور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ چیزیں اس زمانے میں کب تھیں لہذا یہ ان کی مراد وزیرحکم نہیں۔
رابعا:سنئے تو جناب نے اس جرم پر کہ وہ کاغذ دو پیسہ کا بھی نہیں بیچارے نوٹ کو قصد بیع کے قابل نہ سمجھا بلکہ خود سوروپے بیچنا مقصود بتایا تھااب یہ سادہ پرچہ کہ دھیلے چھدام کا بھی نہیں یہ کیسے ہزار روپے کو بکنے لگا یہاں کو ن سے روپے لائیےگا جن کا بیچنا مقصود بنائیے گا ایك محقق عالم
حوالہ / References مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۸
#13352 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
کولکھتے وقت خود اپنے آگے پیچھے کا خیال تو رہےنہ یہ کہ ایك ہی صفحہ میں نسی ماقدمت یداہ(بھول گیا وہ جو اسی کے ہاتھوں نے مقدم کیا۔ت)
خامسا: جناب نے یہ بھی ملاحظہ کیا کہ امام ابن الہمام نے یہ یجوز ولایکرہ بلاکراہت جائز ہے کس بحث میں فرمایا ہے۔بیع عینہ کی بحث میںاب وہ بیع عینہ کی ممانعت کدھر گئی یہ تو پانچ ہی سطر میں"نسی ماقدمت یداہ"ہوگیاکیا اسی دن کے لئے جناب نے"لایکرہ"چھوڑکر انتہی لکھ دی تھی اب تو کہہ دیجئے کہ سو کا نوٹ دو سو کو بیچنا ایسا جائز ہے جس میں کراہت بھی نہیںآپ کی اسی انتہی پر انتہا کروں کہ رد واعتراض کا عدد بفضلہ تعالی ایك سو بیس تك تو پہنچ گیا وﷲ الحمد۔
قولہ: ھذا ماسنح لی (یہ وہ ہے جومجھ پر ظاہر ہوا۔ت)
اقول: ای من دون دلیل و مایلی لاخفی ولاجلی۔
میں کہتاہوں بغیر دلیل خفی اور دلیل جلی ہے۔(ت)
قولہ:واللہ اعلم بالصواب وعندہ ام الکتاب
(اللہ تعالی درست بات کو خوب جانتاہے اور اس کے پاس ام الکتاب ہے۔ت)
اقول: ھو المصوب سے یہاں تك فتوی بھرمیں ایك یہ جملہ حق وبجا ہے بیشك اللہ عزوجل اعلم بالصواب ہے اور اسی کے پاس ام الکتاب اور اسی ام الکتاب میں یہ پاك خطاب ہے جس سے بیع مذکور برضائے عاقدین کا جواز حجاب ہے
" الا ان تكون تجارة عن تراض منكم- " ۔اللہم ربنا ارض عنا بکر مك و منك ورأفۃ حبیبك محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ووفقنا لتجارۃ لن تبور یاعزیز مگریہ کہ ہو وہ تجارت تمھاری باہمی رضامندی سےاے اللہ ہمارے پروردگار! اپنے فضل واحسان کے صدقے سے اور اپنے محبوب محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مہربانی کے طفیل ہم سے راضی ہوجا اور ہمیں ایسی تجارت کی توفیق عطا فرما جس
حوالہ / References α فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۳۲۴
α مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۸
α مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۸
α القرآن الکریم ۴ /۲۹
#13353 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
یا غفور امین والحمد ﷲ رب العلمین وافضل الصلوۃ واکمل السلام علی سیدالمرسلین محمد و الہ وصحبہ اجمعین امین سبحنك اللہم وبحمدك اشہدان لا الہ الاانت استغفرك واتوب الیك سبحن ربك رب العزۃ عما یصفون و سلم علی المرسلین و الحمد ﷲ رب العلمین۔
میں خسارہ نہ ہو اے عزت والے اے بخشنے والے! ہماری دعا قبول فرماتمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جو تما م جہانوں کا پروردگار ہےبہترین درود اور کامل ترین سلام ہو رسولوں کے سردار محمد مصطفی اور آپ کی تمام آل واصحاب پر اے اللہ ! ہماری دعا قبول فرماتو پاك ہے اور ہم تیری ہی تعریف کرتے ہیںمیں گواہی دیتاہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تجھ سے مغفرت طلب کرتاہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوںتیرا رب رب العزت پاك ہے ان اوصاف سے جو وہ لوگ بیان کرتے ہیں اور سلام ہو رسولوں پر اور تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگارہے۔ (ت)
الحمدﷲ! کلام اپنے منتہی کو پہنچا اور تحقیق مسئلہ ذروہ اعلی کو تیس سال ہوئے کہ اس کا سوال فقیر سے ہوا اور مسئلہ بالکل حادث تازہ اوراپنی بے بضاعتی کا خوف واندیشہ لہذا آغاز جواب ان لفظوں سے کیاظاہر ہے کہ نوٹ ایك ایسی حادث چیزہے جسے پیدا ہوئے بہت قلیل زمانہ گزرا فقہائے مصنفین کے وقت میں اس کا وجود اصلا نہ تھا کہ ان کے کلام میں اس کا جزئیہ بالتصریح پایا جائے مگر اس وقت جہاں تك خیال کیا جاتا ہے نظر فقہی میں صورت مسئولہ کا جواز ہی معلوم ہوتاہےاور عدم جواز کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی اور انتہا ان لفظوں پرکہ ھذاما ظہر لی واللہ سبحنہ وتعالی اعلم(یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا اور اللہ سبحانہ وتعالی بہتر جانتاہے۔ت)پھر بفضل رب قدیر عزجلالہ برابر اس کے مؤیدات ظاہر ہوتے رہے:
مؤید اول: محرم ۱۳۲۴ھ میں مکہ معظمہ کے دو علمائے کرام مولانا عبداللہ احمد میرداد امام مسجد الحرام اور ان کے استاذ مولانا حامد احمد محمد جداوی دوامابالاکرام نے نوٹ کے متعلق جملہ مسائل فقہیہ کا سوال اس فقیر سے کیا جس کے جواب میں بفضل وہاب عزجلالہ ڈیڑھ دن سے کم میں رسالہ کفل الفقیہ وہیں لکھ دیاپہلا فتاوی ایك خفیف ساعت کی نظر تھا یہ رسالہ بفضلہ تعالی پہروں کا خوض کامل جہاں تك غور کیا وہی رنگ کھلتا گیا اور کوئی شك سد راہ نہ ہوایہ نظر اولین کا پہلا مؤید تھا۔
#13354 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
مؤید دوم: اس سے پہلے فتوائے مولوی لکھنؤی صاحب چھپ کر زیر نظر آچکا تھارسالہ میں اس پر بھی خوض تام کیا اور نظر انصاف نے وہی حکم صاف دیایہ دوسرا مؤید اقوی ہوا ایك ذکی طباع عالم کی دلیل خلاف آگے رکھ کر تنقیح کامل کی اور اس کی بے اثری ظاہر ہوئی۔
مؤید سوم: مکہ معظمہ کے اجلہ علمائے کرام ومفتیان عظام نے کفل الفقیہ کو ملاحظہ فرمایا پڑھواکر سنا اس کی نقلیں لیں ا ور بحمد اللہ سب نے یك زبان مدحیں کیںجسے حضرت شیخ الائمہ والخطباء کبیر العلماء حضرت مولانا احمد ابوالخیر میرداد حنفی حضرت عالم العلماء مفتی سابق وقاضی حال علامہ مولنا شیخ صالح کمال حنفیحضرت مولانا حافظ کتب الحرم فاضل سید اسمعیل خلیل حنفی حضرت مولانا مفتی حنفیہ عبداللہ صدیق حفظہم اللہ تعالیان فاضل جلیل نے کہ اس وقت یہی جانب سلطانی سے افتائے مذہب حنفی کے عہدہ جلیلہ پر ممتاز تھےکتب خانہ حرم محترم میں کفل الفقیہ رکھا دیکھ کر بطور خود مطالعہ فرمانا شروع کیا فقیر بھی حاضر تھامگر ان سے کوئی تعارف نہ تھانہ اس سے پہلے میں نے ان کونہ انہوں نے مجھ کو دیکھاحضرت مولانا سید اسمعیل افندی اور ان کے بھائی سید مصطفی افندی وغیرہما بھی تشریف فرماتھےحضرت مفتی حنفیہ نے رسالہ مطالعہ کرتے کرتے دفعۃ نہایت تعجب کے ساتھ اپنے زانوپر ہاتھ مارا اور فرمایا:
این کان الشیخ جمال بن عبداللہ بن عمر من ہذا البیان اولفظا ہذا معناہ۔ شیخ جمال ابن عبداللہ ابن عمر اس بیان تك کیوں نہ پہنچ سکے یا اس کے ہم معنی لفظ کہے۔(ت)
حضرت مفتی اعظم مکہ معظمہ مولانا جمال بن عبداللہ بن عمر حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کہ سند حدیث وفقہ میں اس فقیر کے استاذ الاستاذ ہیںاور اپنے زمانہ مبارك میں وہی مفتی حنفیہ تھے اس جناب رفیع سے نوٹ کے بارے میں استفتاء ہوا تھا حضرت ممدوح قدس سرہ نے علمائے ربانی کی جو شان ہے اس کے مطابق صرف اتنا تحریر فرما دیا کہ"العلم امانۃ فی اعناق العلماء واللہ تعالی اعلم۔علم علماء کی گردنوں میں امانت ہے واللہ تعالی اعلم یعنی کچھ جواب عطا نہ فرمایاحنفیہ کے مفتی حال نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا کہ حضرت ممدوح قدس سرہ کا ذہن مبارك ان دلائل کو کیوں نہ پہنچا جو اس رسالہ کا مصنف لکھ رہا ہے حضرت مولانا سید اسمعیل افندی نے تعریف فرمائی کہ مصنف رسالہ یہ موجود ہے حضرت مفتی حنفیہ نہایت کرم واکرام سے ملے اور بہت دیر تك بفضلہ تعالی علمی تذکروں کی مجلس گرم رہیان تمام حضرات علماء کے مدائح وقبول کیسے مؤید جلیل ہوئےوالحمد ﷲ رب العلمین۔
مؤید چہارم: اب کہ کفل الفقیہ دوباہ مع ترجمہ چھپامولوی گنگوہی صاحب کا فتوی نظر پڑا اس کی طرف توجہ کی اور ساتھ ہی چاہا کہ فتوائے جناب مولوی لکھنوی صاحب پر بھی مستقل نظر ہوجائے خیال تھا کہ مباحث
#13355 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
تورسالے ہی میں تمام ہوچکے ہیں غایت درجہ چھ ورق بس ہوں گےمگر فیض قدیر سے اضافہ مضامین کی لگاتار بارش ہوئی اور قلم روکتے روکتے چھ ورق کی جگہ تین جزء کا رسالہ ہوگیا جس نے دونوں کلام مخالف میں کوئی فقرہ لگانہ رکھا یہ بحمداللہ تعالی اور بھی قوی تر مؤید عظیم ہوا۔رائیں ملنے سے علم پختگی پاتے ہیں اور اس کی دو صورتیں ہیں ایك یہ کہ ذی رائے اثر ثابت ہوں یہ پہلی صورت سے بھی اقوی ہے کہ جب مخالفانہ کوششیں اثبات خلاف میں عرق ریزی کرکے ناکام رہیں واضح ہوجاتاہے کہ بحمداللہ تعالی مسئلہ حق ہے اور خلاف کی طرف راہ مسدودبفضلہ تعالی اس مسئلہ نے دونوں قسم سے حظ وافی پایا بالجملہ جہاں تك نظر کی جاتی ہے ہے آسمان فیض مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے متواتر تائیدوں کا نزول ظاہر ہے وﷲ الحمدبایں ہمہ حاشا فقیر مجتہد ہے نہ ائمہ مجتہدین کے ادنی غلاموں کا پاسنگ ان کی خاك نعل کے برابر بھی منہ نہیں رکھتا۔نہ معاذ اللہ شرع الہی میں اپنی عقل قاصر کے بھروسے پر کچھ بڑھاسکتا۔اس فتوی اور ان دونوں رسالوں میں جو کچھ ہے جہد المقل ہے یعنی ایك بےنوا محتاج کی اپنی طاقت بھر کوششاگر حق ہے تو محض میرے مولا پھر اس کے حبیب اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا کرم ہے اور اسی کے وجہ کریم کے لئے حمدا وراس کے فضل سے امید ہے کہ ان شاء اللہ الکریم ضرور حق ہے اس کے گھر کی برکات دلکشا اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے کرم جانفزا نے اپنے گدائے بیقدر پر یہ فیضان کئے ہیں ورنہ کہاں یہ عاجز اورکہاں ڈیڑھ دن سے کم میں یہ رسالہ تصنیف کردیناپھر اس کے شہر کریم کے اکابر علمائے کرام نے اس درجہ پسند فرمایا یہ بفضلہ عزوجل سب آثارقبول ہیں اوراگر شاید یہاں علم الہی میں کوئی دقیقہ ایسا ہے جس تك نہ میری نظر پہنچی نہ ان علمائے کرام بلداللہ الحرام کی تو میں اپنے رب عزوجل کی طرف انابت کرتااور ہر مسئلہ میں اس پر اعتقاد رکھتا ہوں جو اس کے نزدیك حق ہے اور وہ کہتاہوں جو میرے امام اعظم حضور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:
فان یك صوابا فمن اللہ تعالی وان یك خطأ فمنی ومن الشیطان واللہ ورسولہ برئیان ۔ واقول:کما قال ابونا ادم علی نبینا
اگریہ درست ہے تو اللہ تعالی کی طرف سے اوراگر غلط ہے تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہےاللہ تعالی اوراس کا رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس سے بری ہیں۔ (ت)
اور میں کہتاہوں جیسے ہمارے باپ آدم نے کہا
حوالہ / References سنن ابوداؤد کتاب النکاح باب فیمن تزوج آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۸۸
#13356 · کَاسِرُالسَّفِیْہِ الْوَاھِمْ فِیْ اَبْدَالِ قِرْطَاسِ الدَّرَاھِمْ ۱۳۲۹ھ (کاغذی نوٹ کے بدلنے سے متعلق بیوقوف وہمی کو شکست دینے والا) کا ترجمہ ملقب بلقب تاریخی اَلذَّیْلُ الْمَنُوْطِ لِرِسَالَۃِالنُّوْط۱۳۲۹ھ (رسالہ نوٹ کا معلق دامن)
الکریم وعلیہ افضل الصلوۃ والتسلیم اللہم انك تعلم سری وعلانیتی فاقبل معذرتی وتعلم حاجتی فاعطنی سؤلی وتعلم مافی نفسی فاغفرلی ذنوبی وصلی اللہ تعالی علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ وبارك وسلم ابدا ابدا واخردعونا ان الحمدﷲ رب العلمین سبحنك اللہم وبحمدك اشہدان لاالہ الا انت استغفرك واتوب الیك قال الفقیر احمد رضا القادری البرکاتی البریلوی غفراللہ تعالی لہ وحقق املہ واصلح عملہ والحمدﷲ والصلوۃ والسلام علی مصطفاہ اخرکل کلام واولہ امین۔
(اللہ تعالی ہمارے نبی کریم اور حضرت آدم پر بہترین درود و سلام نازل فرمائے)اے اللہ! تو میرے ظاہر وباطن کو جانتا ہے پس میری معذرت قبول فرمااور تومیری حاجت کو جانتا ہے پس میری مراد مجھے عطا فرمااور تو اس کو جانتاہے جو میرے دل میں ہے پس میرے گناہ معاف فرما۔اور اللہ تعالی ہمارے سردار اورآقا محمد مصطفیآپ کی آلاصحاب اولاد اور جماعت پر ہمیشہ ہمیشہ درودبرکت اورسلام نازل فرمائےاورہماری دعا کا خاتمہ یہ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے تو پاك ہے اے اللہ!اور تیری حمد کے ساتھ میں گواہی دیتاہوں کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیںمیں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتاہوں یہ بات فقیر احمد رضا قادری برکاتی بریلوی نے کہیاللہ تعالی اس کی مغفرت فرمائے اور اس کی امید کو پورا فرمائے اور اس کے عمل کو درست رکھےاور تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں اور درود وسلام ہو اس کے منتخب نبی(محمد صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم )پر ہر کلام کے اول وآخر میںآمین۔(ت)
#13357 · باب الاستحقاق (استحقاق کا بیان)
باب الاستحقاق
(استحقاق کا بیان)

مسئلہ ۲۲۰: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئل میں کہ غلام حسین نے زوجہ نیازن اور ہمشیرہ بنی وارث اپنے اور دومکان ایك پختہ اور ایك خام جن کی قیمت بقدر چھ سو روپے کے ہے ترکہ چھوڑ کر اتنقال کیانیاز بی بی کا ایك ہزار روپیہ مہر ذمہ غلام حسین واجب الادا تھا۔نیاز بی بی نے بذریعہ مہر دونوں مکانوں پر قبضہ کیا اور مکان پختہ بعوض ساڑھے چار سو روپیہ کے شیخ محمد وزیر کے ہاتھ بیع کیااور بیعنامہ میں حسب معمول صرف اپنامالك وقابض ومتصرف ہونا لکھا اور مشتری کو قبضہ دلادیا بعدہبائعہ حج کو گئی اس کے پیچھے بنی نے بذریعہ وارثت تین ربع کا مکان پر دعوی کیا اور کچہری سے ڈگری پائی ایك ربع مشتری کے پاس رہانیاز بی بی حج سے واپس آکر انتقال کرگئی وارثان نیاز بی بی نے دعوی مہر کیا ثابت ہوا بنی پر ڈگری ہوئی تو تین ربع مکان پختہ اور کل مکاں خام مہر میں نیلام ہوگئے اب وارثان نیاز بی بی ایك ربع پر باقی ماندہ کو بھی مہر میں نیلام کرلینا چاہتے ہیںاس صورت میں شرعا کیا حکم ہے آیا وہ بیع کہ نیاز بی بی نے کی تھی جائزہے یا نہیں اور دعوی وارثان صحیح ہے یا باطل اور تین ربع کہ مشتری سے نکل گئے اور یہ ربع باقی ماندہ بھی اگر بحکم شرع نکل جائے تو آیا وہ ثمن کہ مشتری نے نیاز بی بی کو دیا قابل واپسی ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ یں نیاز بی بی نے جس کا مہر مال غلام حسین سے زائد تھا کل متروکہ پوجو بذریعہ مہر
#13358 · باب الاستحقاق (استحقاق کا بیان)
قبضہ کیا صحیح تھااور اس مذہب پر جس پر اب علماء کا فتوی ہے نیاز بی بی ان مکانوں کی مالك مستقل ہوچکی اور وہ بیع کہ اس نے بدست محمد وزیر کی صحیح ونافذ تھی نہ بنی کو اپنا دعوی وارثت پہنچا تھا کہ ادائے مہر تقسیم ترکہ پر مقدم ہے نہ وارثان نیازبی بی دعوی مہر کرسکتے تھے کہ نیاز بی بی اپنی حیات میں اپنا مہر پاچکی آخر کل متروکہ پر اس کا قبضہ کرلینا بذریعہ مہری تھا تو اب دین اداشدہ کا دعوی کا یعنی نہ اس جائداد کامہر میں نیلام ہونا چاہئے تھا بلکہ حکم یہ تھا کہ نیاز بی بی اپنا مہر پاچکی اور دونوں مکانوں کی وہی مالك ٹھہری ایك مکان وہ اپنی حیات میں بیع کرچکی وہ تمام مالك مشتری ہے دوسر ا مکان خام کہ باقی رہا متروکہ نیاز بی بی ٹھہرکر وارثان نیازبی بی پر تقسیم ہوجائے۔
فی الشامی والطحطاوی عن شرح الکنز العلامۃ الحموی عن الامام العلامۃ علی المقدسی عن جدہ الاشقرعن شرح القدوری للامام الاخصب ان عدم جواز الاخذ من خلاف الجنس کان فی زمانہم لمطاوعتہم فی الحقوق والفتوی الیوم علی جواز الاخذ عند القدرۃ من ای مال کان ۔ شامی اور طحطاوی میں علامہ حموی کی شرح کنز سے بحوالہ امام علامہ علی مقدسی منقول ہےانہوں نے اپنے دادا اشقر سے بحوالہ شرح قدوری از امام اخصب ذکر کیا کہ خلاف جنس سے وصول کرنے کا عدم جواز مشائخ کے زمانہ میں تھاکیونکہ وہ لوگ حقوق میں باہم متفق تھے آج کل فتوی اس پر ہے کہ جب اپنے کی وصولی پر قادرہو چاہے کسی بھی مال سے ہو تو وصول کرلینا جائز ہے۔(ت)
اور بالفرض اگر اس فتوی کو ماخوذ نہ رکھیں تو متروکہ غلام حسین کسی وارث کی ملك نہ تھا نہ نیاز بی بی کی نہ بنی کی۔
فان الدین المحیط یمنع ملك الوارث کما فی الاشباہ وغیرہا کیونکہ تمام مال کااحاطہ کرنے والا قرض وارث کی ملکیت سے مانع ہے جیسا کہ اشباہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
تو بیع کہ نیاز بی بی نے کی اس شے کی بیع تھی جس کی وہ مالك نہ تھی اور ثمن مشتری سے لے کر اپنے تصرف میں لائی اس صورت میں جبکہ ادائے مہر کے لئے بیع کو ناجائز ٹھہرا کر جائداد مشتری سے نکال لی جائے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۹۵
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۲۰۴
#13359 · باب الاستحقاق (استحقاق کا بیان)
قطعا مشتری زرثمن کی واپسی کا استحقاق رکھتا ہے وجہ کیا ہے کہ مبیع بھی اس سے لے لیں اور ثمن اداکروہ بھی واپس نہ دین پس جو کچھ روپیہ مہر نیاز بی بی سے حاصل ہوا یا اب ہو اس میں سے اول ساڑھے چار سو مشتری کو دئیے جائے جو بچے وارثان نیاز بی بی تقسیم کرلیں۔
فی الخانیہ وغیرہا اشتری شیئا فاستحسن من یدہ رجع المشتری علی البائع بالثمن اھ ملتقطا۔واللہ تعالی اعلم۔ خانیہ میں ہے کہ کسی نے کوئی شے خریدی پھر اس کے قبضہ میں اس شیئ میں استحقاق ثابت ہوگیا(تو وہ اس کے قبضہ سے نکل گئی)تو مشتری بائع سے ثمن واپس لے گا اھ التقاط۔واللہ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۲۱: از شہر کہنہ مرسلہ سید فرحت علی صاحب ۱۰ رمضان المبارك ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص فوت ہوا اس نے ایك زوجہ اور تین پسر نابالغ اور ایك دختر نابالغہ چھوڑ ی تھی منجملہ ان ورثاء کے زوجہ اور دختر نے کل مکان متوفی اپنا قائم کرکے فروخت کردیااب پسران اپنے حصہ شرعی کے واپسی کےخواستگار ہیں اس اثناء میں مشتری نے کچھ مکان میں جدید تعمیر کیا اگر حصص پسران عدالت سے قابل واپسی قرارپائیں تو صڑرفہ تعمیر ومرمت جدید مذکورہ ازروئے شرع ادا کرنے کے سزاوار ہیں جبکہ پسران استطاعت ادائے صرفہ نہیں رکھتے ہیں یا مشتری مستوجب اس امر کا ہے کہ وہ اپنی عمارت جدید توڑلے جائے۔
الجوب:
اگر ثابت ہوکہ شرعا مدعیوں کا بھی بیع میں حصہ ہے تو بعد ثبوت حکم تقسیم کردیں گے اگر وہ جدید تعمیر جو مشتری نے کی خود مشتری کے حصہ میں پڑے فبہا ورنہ مدعیوں کو جائز ہوگا کہ مشتری سے کہیں اپنی تعمیر جدید ہماری زمین سے توڑ کر لے جا اور وہ کوئی خرچ عمارت ومرمت ان مدعیوں سے لینے کا مستحق نہ ہوگا اور رضامندی باہمی سے یہ بھی جائز ہوگا کہ مشتری مدعیوں سے عمارت جدید کے دام لے کر عمارت انہیں چھوڑدے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۲: مرسلہ شاہزادہ میاں از ریاست رامپور مسئولہ علی بہادر خاں صاحب ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکرنے زید کے ہاتھ ایك زمین معافی کی دو نمبروں پر مشتمل بایں الفاظ بیع کی کہ "موازی(۱۷ للعہ)پختہ اراضی نمبری(۴۲۴ معہ ۵)(۴۳۵ معہ ۱۲)بعوض چار سو روپے بدست زید
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خاں کتاب البیع فصل فی الاستحقاق مطبع نولکشور لکنھو ۲ /۳۷۸
#13360 · باب الاستحقاق (استحقاق کا بیان)
بیع شرعی کیا اگرکوئی سہیم وشریك پیدا ہو ضمان ذمہ بائع ہے مشتری سے تعلق نہیں فقط"بکرنے زر ثمن تمام وکمال وصول کر لیا مبیعہ پر مشتری کو قبضہ کرادیا جب زید نے داخل خارج چاہاحاکم ریاست کو معلوم ہوا کہ بائع کی ملك واقع میں صرف (۳للعہ) تھی ۱۴ بسوۃ زائد پر اس نے دخل کیا ہے اور کاغذات تحصیل میں بھی اس کا اندراج بنام بکر ہوگیا ہے اور اس نے وہ مجموعہ(۱۷ للعہ)بیچ ڈالی جس میں ۱۴ بسوہ زمین سرکاری ہے لہذا حکم صادر ہواکہ جنتا قطعہ زمین اس نے بڑھالیا ہے اس کے نام سے خارج کرکے ضبط سرکارہوباقی(۳للعہ)کا داخل خارج بنام مشتری ہو چنانچہ حکم کا عملدرآمد ہوا اور اتنا ٹکڑا قبضہ مشتری سے نکال کر باقی کاداخل خارج اس کے نام ہوگیا اب مشتری اس چودہ بسوہ خارج شدہ کی رسدی قیمت بائع سے واپس لینا چاہتاہے شرعا اسے اس کا حق ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
اگر بکر ایك زمین(۱۷للعہ)بتاکر زید کے ہاتھ بیچتا اور وہ زمین جتنی بیچی تھی زید کو تمام وکمال ملتی مگر پیمائش میں ۱۴ بسوہ خواہ بیگھوں کم آئی تو زید کو بکرسے ایك پائی واپس لینے کا اختیار نہ ہوتا۔
لان المساحۃ وصف فی الممسوح ولم تصر مقصودہ کان یقول کل ذراع بکذا فلم یقابلہا الثمن کیونکہ پیمائش وصف ہے اس چیز میں جس کی پیمائش کی جاتی ہےاور وہ مساحت مقصود نہیں ہوتی جیسے یوں کہے کہ ہرگز انتےکا ہے تو اس کے مقابل ثمن نہیں ہوتے۔(ت)
بلکہ اس پر کم پر مشتری کی رضا ظاہر نہ ہوتی تو اسے یہ اختیار دیا جاتا کہ یا تو اس کو پوری قیمت پر قبول کر یا مبیع پھیر کر ثمن واپس لے لانہ فات علیہ وصف مرغوب فیہ فیتخیر(کیونکہ اس پر پسندیدہ وصف فوت ہوگیا ہے لہذا اس کو اختیار ملے گا۔ت) درمختارمیں ہے:
ان باع صبرۃ علی انہا مائۃ قفیز بمائۃ درہم وہی اقل اواکثر اخذ المشتری الاقل بحصتہ ان شاء اوفسخ وما زاد للبائعوان باع المذروع علی انہ مائۃ ذراع مثلا اخذ المشتری الاقل بکل اگرڈھیر بیچا اس شرط پر کہ یہ سوبوری ہے سودرہم کے بدلے میںحالانکہ وہ ڈھیر سوبوری سے کم یا زیادہ ہے تو مشتری کو اختیار ہے کہ کمتر کو اس کے حصے کی قیمت کے بدلے میں لے لے یا بیع کو فسخ کردےاور جو سو بوری سے زائد ہے وہ بائع کاہےاور اگر مذروع کو مثل سابق بیچا کہ یہ مثال کے طور پر سوگز ہے سودرہم کے بدلے میں تو مشتری کواختیار ہوگا
#13361 · باب الاستحقاق (استحقاق کا بیان)
الثمن واترك واخذالاکثر بلاخیار للبائع ۔
کہ وہ کمتر کو پورے ثمن کے عوض لے لے یا چھوڑدے اور اکثر کو مشتری لے لے گابائع کو اس میں اختیار حاصل نہ ہوگا۔(ت)
مگریہاں یہ صورت نہیں مبیع بتمامہ قبضہ میں رہ کر پیمائش میں کم نہ آئی بلکہ مبیع سے ایك قطعہ ملك ریاست قرار پاکر قبضہ سے نکل گیایہ صورت استحقاق کی ہے اور استحقاق میں ضرور مشتری کو اتنے کی قیمت بائع سے واپس لینے کا اختیار ہوتاہےجتنا مستحق کے دعوے پر اس کے قبضہ سے نکل گیا اور اس میں مثلی وقیمی مذروع ومعدود وغیرہا سب برابرہیںعالمگیری میں ہے:
اذا کان المشتری شیئا واحدا کالثوب الواحد والعبد فاستحق بعضہ قبل القبض اوبعدہ فللمشتری الخیار فی الباق ان شاء اخذہ بالحصۃ وان اء ترك الخ وعزاہ للمحیط وظاہر ان الثوب قیمی مذروع قال فی ردالمحتار وان بع المذروع کثوب وارض درمنتقی اھ وقد حکم فی استحقاق بعضہ باخذ الباقی بالحصہ۔
جب خریدی ہوئی چیزایك ہو جیسے ایك کپڑا یاغلامپھر قبضہ سے پہلے یا بعد اس کے بعض میں استحقاق ثابت ہوگیا تومشتری کو اختیار ہے چاہے تو باقی کو اس کے حصہ کی قیمت کے بدلے میں لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑدے الخ اور اس کومحیط کی طرف منسوب کیا ہے اور ظاہر ہے کہ کپڑا قیمتی مذروع ہےردالمحتارمیں کہا کہ اگرمذروع کوبیچا جیسے کپڑا اور زمین درمنتقی اھبے شك اسکے بعض میں استحقاق ثابت ہونے کی صورت میں باقی کو اس کے حصے کی قیمت کے بدلے میں لنے کا حکم کیا گیا ہے۔(ت)
جامع الفصولین میں ہے:
استحق بعض المبیع فلم لو یمیز الابضرر کدار او کرم الارض وزوجی خف ومصراعی باب
بعض مبیع میں استحقاق ثابت ہوگیا تو(دیکھیں گے کہ)اگر وہ بلانقصان جدا نہیں ہوسکتا جیسے مکانانگورکی بیلزمین موزوں کا جوڑا اور ایك
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الخامس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۶۶
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۱
#13362 · باب الاستحقاق (استحقاق کا بیان)
وفق یتخیر المشتری والا فلاثم لواورث الاستحقاق عیبا فیما بقی یخیر المشتری کما مرولولم یورث عیبا کثوبین استحق احدھما فالمشتری یاخذ الباقی بحصتہ بالاخیار ۔ملتقطا
دروازے کے دوپٹ تو اس صورت میں مشتری کو اختیار ملے گاورنہ نہیںپھر اگر استحقاق باقی مبیع میں عیب پیدا کردے تو مشتری کو اختیار ملے گاجیسا کہ گزر چکا ہے اور اگر وہ عیب پیدا نہ کرے جیسے دوکپڑوں میں سے ایك میں استحقاق ثابت ہوجائے تو مشتری باقی کو اس کے حصے کی قیمت کے بدلے میں لے گا اس صورت میں اس کو اختیار نہیں ملے گا۔ملتقطا۔ (ت)
پس صورت مستفسرہ میں زید بکر سے ثمن کے ۱۴/۹۷ یعنی ستاون روپے پونے بارہ آنے واپس لے سکتاہے ایك خفیف مقدار کم جس کی مقدار نصف پائی تك بھی نہیں یعنی ۴۵/۵۷ پائییہ سوال کا جواب تھا مگر ملاحطہ بیعنامہ سے واضح ہوا کہ یہ بیع فاسدہ واقع ہوئی کہ اس کے آخر میں شرائط فاسد مذکور ہیں مثلا یہ کہ اگر جز کل اراضی قبضہ مشتریان سے نکل جائے تو اس کا بارہرجہ وخردچہ ذمہ بایعان ہے اور جو درخت اراضی میں کھڑے ہیں ان کو آخر سال ۱۳۱۸ف تك قطع کرکے اراضی مکشوف کردیں گے ورنہ درخت بھی قیمت مذکورہ بالا میں بیع متصور ہوں گے اس کے دعوی چوب درختان نہ رہے گابعینامہ میں شرط فاسد کے ذکر سے بیع پرحکم فساد ہوگادرمختارمیں ہے:
لوکتب فی الصك فما اتفق المشتری فیہا من نفقۃ اورم فیہا من مرمۃ فعلی البائع یفسد البیع ۔
اگر بیعنامہ میں لکھا گیا کہ جو کچھ مشتری مبیع پر خرچ کرے گا یا اس میں حرمت کرے گا وہ بائع کے ذمے ہوگا تو بیع فاسد ہو جائی گی۔(ت)
تو بائع ومشتری دونوں پر واجب ہے کہ توبہ کریں اوراگر موانع فسخ سے کوئی مانع نہ پایا گیا ہو تو واجب ہے کہ بیع فسخ کردیںزید زمین واپس دے اور بکر پوری قیمت پھیردےاگروہ دونوں نہ مانیں حاکم جبرا فسخ کردے۔درمختارمیں ہے:
یجب علی کل واحد منہما فسخہ فسادکوختم کرنے کے لئےقبضہ سے پہلے یا قبضہ
حوالہ / References جامع الفصولین الفصل السادس عشر اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۔۲۱۹
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۶
#13363 · باب الاستحقاق (استحقاق کا بیان)
قبل القبض اوبعدہ مادام المبیع بحالہ فی ید المشتری اعداما للفساد لانہ معصیۃ فیجب رفعہا بحرو اذا اصر احدھما علی امساکہ وعلم بہ القاضی فلہ فسخہ جبرا علیہما حقاللشرعبزازیۃ ۔ کے بعد جب تك مبیع مشتری کے پاس اپنے حال میں موجود ہے بیع فاسد کوفسخ کرنا بائع اورمشتری میں سے ہر ایك پر واجب ہے کیونکہ یہ معصیت ہے اس لئے اس کو دور کرنا واجب ہے بحراور اگرا ن میں سے کوئی ایك اس کو برقرار رکھنے پر اصرار کرے اور قاضی کو اس کا علم ہو تو وہ حق شرع کے لئے ان دونوں پر جبر کرتے ہوئے فسخ کرسکتاہے بزازیہ۔ (ت)
اس کے بع پھر چاہیں تو آپس میں صحیح بیع کرلیں جتنے ثمن پر تراضی ہو۔والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۸
#13364 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
باب البیع السلم
(بیع سلم کا بیان)

مسئلہ ۲۲۳:از فیروز پور ۲۹جمادی الآخرہ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کٹوتی کا روپیہ پیشگی دے دیا اور ناج فصل پرلینا ٹھہرا کن کن شرطوں سے جائز ہے۔ بینوا توجروا
الجواب:
اسے بیع سلم کہتے ہیںیہ بارہ شرطوں سے جائز ہوتی ہے اگر ان میں سے ایك بھی کم ہوگی تو بالکل ناجائز اور سود ہوجائے گی:
(۱)اس شیئ کی جنس بیان کردی جائے مثلا گیہوں یا چاول یا گھی یاتیلاگر ایك عام بات کہی مثلا غلہ میں لیں گے تو ناجائز ہے۔
(۲)وہ جنس اگر کئی قسم کی ہوتی ہے تو اس کی قسم معین کردی جائے جیسے چاول میں باسمتی ہنس راجاگر نرے چاول کہے بیع صحیح نہ ہوگی۔
(۳)اس کی صفت بیان کردی جائے مثلا عمدہ یاناقص جیسے چنوں میں فردیا کسیلے
(۴)اس کی مقدار معین کردی جائے مثلا اتنے مناوریہ بات بھاؤ کاٹ دینے سے بھی حاصل ہوجاتی ہے یعنی فی روپیہ اتنے سیر کہ روپوں کی گنتی معلوم ہونے سے کل مقدار خود معلوم ہوجائیگی۔
#13365 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
اور جہاں مختلف پسیروں کا رواج ہو وہاں پسیری کی تعیین بھی ضروری ہے کہ فلاں پسیری سے اتنے من اور جہاں کچا پکا دونوں من بولا جائے وہاں اس کی تعین بھی لازم ہے غر ض کوئی بات وہ نہ رہے جس میں آئندہ جھگڑا اٹھنے کی صورت ہو۔
(۵)میعاد معین کردی جائے جو یاك مہینہ سے کم نہ ہو اگر تعیین نہ کی مثلا جب چاہیں گے لے لیں گے یا سفر کو جاتاہوں جب پلٹ کر آؤں گا لے لوں گا تو ناجائز ہوگا۔
(۶)اگر وہ چیز باربرداری کی ہے جس کے یہاں سے وہاں لے جانے میں خرچ ہوگا تو وہ جگہ بھی معین کی جائے جہاں پہنچنا منظورہے مثلا فلاں شہر یا فلاں گاؤں میں پہنچتے ہوئےاس میں بیچنے واسے کو اختیار ہے گاکہ اس گاؤں یا شہر کے جس مقام و محلہ میں چاہے پہنچادے وار جو مکان بھی خاص کردیا تو وہی پہنچنا پڑے گا۔
(۷)ثمن کی بھی تعین ہوجائے مثلا روپے یااشرفی ۔
(۸)اگر وہ ثمن چند قسم کا ہوتا ہے تو قسم بھی معین کردے مثلا اشرفی محمد شاہی یا انگریزی۔
(۹)کھرے کھوٹئے کا بیان بھی ہو جیسے لکھنؤ کا روپیہ یاانگریزی چہرہ دار یا جے پور کی چاندی یا اینٹ کا سونا۔
(۱۰)اگر ثمن اس قسم کا ہے کہ اس کے ہر ٹکڑے کے مقابل شے مبیع کاٹکڑا ہوتہے جیسے سوناچاندیروپیہ اشرفی کہ گیہوں روپیہ کے من بھر ہوئے تواٹھنی کے بیس سیرچونی کے دس سیر ہوں گے تو ایسی ثمن کی تعیین مقدار بھی ضرورہے مثلا اتنے تولہ چاندی یا اس قدر روپے اور اگر وہاں مختلف وزن کے سکے چلتے ہوں جیسے حیدرآباد میں نوابی وانگریزی روپیہ وہاں سکہ کی تعیین بھی چاہئے۔
یہ دسوں۱۰ باتیں خاص عقد ایجاب وقبول میں بیان کرنی ضروری ہےںمثال اس کی یہ ہے کہ زید وعمر سے کہے میں نے تجھ سے بریلی کی تول سے دس من پختہ چاول ہنسراج کھرے بالعوض سوروپے انگریزی چہرہ دار کے آج سے چارمہینے کے وعدہ پر بریلی پہنچتے ہوئے خرید ےوہ کہے میں نے بیچے یا میں نے تجھ سے بدایوں کے وزن سے چارمن پکا گھی بھینس کا خالص آج سے دومہینے کے دعدہ پر مرادآباد پہنچتاہوا بالعوض چھ اشرفی محمد شاہی بیس بیس روپے والی کے خریداوہ کہے میں نے بیچایہ سب باتیں خوب خال کرلی جائیں کہ لوگوں میں آج کل بیع سلم کا بہت رواج ہےان زبانی شرطوں کے ترك سے حلال کوناحق اپنے لئے حرام کرلیتے اور خدا کے گناہ میں گرفتارہوتے ہیں ۔
(۱۱)شرط یہ کہ اسی جلسہ میں ثمن ادا کردیا جائے ورنہ اگر یہ ساری گفتگو کرکے ثمن دیئے بغیر متفرق ہوگئے تو بنابنایا عقد فاسد وناجائز ہوجائے گا یہاں تك کہ اگر وہاں سے آٹھ کر گھر میں روپے لینے گیا اور
#13366 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
بیچنے والے کی نگاہ سے آڑ ہوگئی عقد فاسد ہوگیا۔
(۱۲)وہ چیز اس قسم کی ہو کہ روز عقد سے ختم میعاد تك ہر وقت بازار میں مل سکے ورنہ عقد ناجائز ہوگا اسی لئے اگر گیہوں کی کٹوتی میں یہ لفظ کہہ دیئے کہ نئے گیہوں لیں گے اور اس وقت نیا گیہوں بازار میں نہیں تو ناجائز وگناہ ہے اور اسی سبب سے رس کی کٹوتی جو ایکھوں کے وقت کرتے ہیں حرام ہوئی کہ رس اس وقت بازار میں نہیں ہوتا۔
فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار بالتلفیق والاختصارشرطہ ای شروط صحتہ التی تذکر فی العقد سبعۃ(اجمالا والافالاربعۃ الاول منہا تشترط فی کل من راس المال والمسلم فیہ ثمانیۃ بالتفصیل بحر)بیان جنس کبر او تمروبیان نوع کمسقی(ما سقتہ الماءوفیہ عن الخلاصۃ لایشترط بیان النوع ما لا نوع لہ وفیہ عن المعراج انما یشترط بیان النوع فی رأس المال اذا کان فی البلد نقود مختلفہ والا فلا)وصفۃ کجید اوردیوقد ککذا کیلاواجل واقلہ شہر بہ یفتی و قد رأس المال ان تعلق العقد بمقدارہ (بان تنقسم اجزاء السلم فیہ علی اجزاءہ فتح ای بان یقابل النصف تنویر الابصاردرمختارا ور ردالمحتار میں مخلوط عبارت بطور اختصار یوں ہے کہ بیع سلم کے صحیح ہونے کی وہ شرطیں سات ہیں جن کا عقد میں ذکر کیا جانا(یہ تعداد اجمالی ہے ورنہ پہلی چار شرطیں راس المال(ثمن)اور مسلم فیہ(مبیع)دونوں میں پائی جاتی ہیں تو اس طرح تفصیلا یہ چار کے بجائے آٹھ ہوئیں بحر)(۱)مسلم فیہ کی جنس کا بیان جیسے گندم یا کھجور (۲)نوع کا بیان جیسے نہری پانی سے اس کو سیراب کیا گیا ہے یا بارش کے پانی سے سیراب ہوئی ہے اور اس میں خلاصہ سے منقول ہے کہ جسمیں کوئی نوع نہ ہو اس میں نوع کا بیان شرط نہیں اور اس میں معراج سے منقول ہے کہ راس المال میں نوع کا بیان کرنا شرط ہے جبکہ شہر میں مختلف نقود رائج ہوں ورنہ نہیں۔ (۳)مفسلم فیہ کی صفت کا بیان جیسے عمدہ یا ناقص(۴)مسلم فیہ کی مقدار کا بیان جیسے کیل کے اعتبار سے اتنی(۵)مدت کا بیان اور سلم میں کم از کم مدت ایك ماہ ہے اسی پر فتوی ہے۔ (۶)راس المال کی مقدار کابیان اگر عقد کا تعلق راس المال کی مقدار سے ہو بایں طور کہ مسلم فیہ کے اجزاء راس المال کے اجازء پر منقسم ہوتے ہوں (فتح)اس تقسیم کی صورت یہ ہے
#13367 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
بالنصف والربع بالربع وھکذا وذلك انما یکون فی المثلی)والسابع بیان مکان الایفاء للمسلم فیہ فیمالہ حمل ومؤنۃ شرط الایفاء فی مدینۃ فکل محلاتہا سواء فیہ حتی لو اوفاہ فی محلۃ منہا برئ ولیس لہ ان یطالبہ فی محلۃ اخری بزازیۃ ولو عین مکانا تعین فی الاصح فتحوبقی من الشروط قبض رأس المال ولو عینا قبل الافتراق بابدانہما وان ناما او سارفرسخا اواکثر ولودخل لیخرج الدراھم ان تواری عن المسلم الیہ بطل وان بحیث یراہ لاو ھو شرط بقائہ علی الصحۃ لاشرط انعقادہ بوصفہا فینعقد صحیحا ثم یبطل بالافتراق بلاقبض ۔ کہ نصف مسلم فیہ نصف راس المال کے بدلے میں اور چوتھائی چوتھائی کے بدلے میں ہو اسی طرح یہ سلسلہ چلتا جائے اور یہ صورت صرف مثلی چیزوں میں متحقق ہوسکتی ہے(۷)اس جگہ کا بیان جہاں مسلم فیہ پہنچانا منظور ہے جبکہ مسلم فیہ میں باربرداری اور مشقت ہےکسی شہر سے پہنچانے کی شرط لگائی تو اس شہر کے تمام محلے اس مسئلہ میں برابر ہیں اگر کسی محلہ میں بائع نے مسلم فیہ کو پہنچادیا تو بری الذمہ ہوگیا مشتری کو یہ حق حاصل نہیں کہ و ہ دوسرے محلہ میں پہنچانے کا مطالبہ کرے(بزازیہ)اوراگر کوئی مکان معین کردیا تو وہی معین ہوگا اصح مذہب پر(فتح)اور باقی رہا شرطوں میں سے راس المال پر قبضہ کرنا اگرچہ راس المال معین ہواوریہ قبضہ عاقدین کے بدنی طوپر جدا ہونے سے قبل شرط ہے اگرچہ وہ دونوں مجلس میں سو گئے ہوں یا ایك فرسخ یا اس سے کچھ زیادہ اکٹھے چلتے گئے ہوں (اس کے بعد قبضہ کیا ہو)اوراگر رب السلم(مشتری)درہم لینے گھر میں اس طرح داخل ہو ا کہ مسلم الیہ(بائع)کی نظر سے اوجھل ہوگیا توعقد باطل ہوگیا اور اگر وہ نظرآتا رہا تو عقد باطل نہیں ہوا اور راس المال پر مجلس میں قبضہ کرنا عقد سلم کے صحت پر باقی رہنے کی شرط ہے نہ کہ وصف صحت پر اس کے منعقد ہونے کی شرط ہےتو بیع کا انعقاد صحیح ہوجائے گا پھر راس المال پر قبضہ کئے بغیر دونوں کے جدا ہونے سے باطل ہوجائے گی۔(ت)
اسی میں ہے:
لایصح فی منقطع لایوجد فی الاسراق من وقت العقد الی وقت الاستحقاق ۔
ایسی چیز میں عقد سلم صحیح نہیں جو وقت عقد سے وقت استحقاق یعنی ختم میعاد تك بازارمیں موجود نہ رہے۔(ت)
حوالہ / References درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۸،ردالمحتار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۴ /۷۔۲۰۶
درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۷
#13368 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
اسی میں ہے:
ولافی حنطۃ حدیثۃ قبل حدوثہا لانہا منقطعۃ فی الحال ۔واللہ تعالی اعلم۔
عقد سلم نئی گندم میں ا سکے پیدا ہونے سے پہلے صحیح نہیں کیونکہ وہ فی الحال موجود نہیں۔(ت)
مسئلہ ۲۲۴: از شہر کہنہ دہم ربیع الثانی شریف ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر گیہوں کی کٹوتی جسے بدنی بھی کہتے ہیں اس طور پر کریں کہ روپے دے دے اور بھاؤ معین نہ کیا بلکہ یہ ٹھہرا کہ فصل کا بھاؤ یا اس سے مثلا دوسیر زائد لیں گے تویہ صورت جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:محض ناجائز ہے جب تك مقدار معین نہ کردی جائے۔
فی الدرالمختار شرط صحتہ بیان جنس وقدر ککذا کیلا اھ ملخصا۔واللہ تعالی اعلم۔
درمختارمیں ہے عقد سلم کے صحیح ہونے کی شرط جنس کو بیان کرنا اورمقدار کو بیان کرنا ہے جیسے کیل کے اعتبار سے انتی ہے اھ تلخیص۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۲۵: از شہر کہنہ دہم ربیع الثانی شریف ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رس کی خریداری اس طور پر کہ ابھی ایکھ کھڑی ہے اور اسے خرید لیا اور روپیہ دے دیاجائز ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب:
محض ناجائز ہےکہ صورت بیع سلم کی ہے اور بیع سلم انھیں چیزوں میں جائز ہے جو ہنگام عقد سے میعاد استحقاق تك ہر وقت بازار میں موجود ہیںگھروں میں موجود ہونا کفایت نہیں کرتا اور ظاہرہے کہ رس اس وقت بازار میں نہیں ہوتا۔ ہدایہ میں ہے:
لایجوز المسلم حتی یکون المسلم فیہ موجود امن حین العقد الی جب تك مسلم فیہ وقت عقد سے لیے کر وقت استحقاق تك مسلسل بازار میں موجود نہ رہے بیع سلم
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۷
درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۸
#13369 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
حین المحل ۔ جائز نہیں۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
حد الانقطاع ان لا یوجد فی الاسواق وان کان فی البیوت کذا فی التبیین شرنبلالیہ ومثلہ فی الفتح والبحر والنھر ۔والله تعالی اعلم۔ نایاب ہونے کا معنی یہ ہے کہ چیز بازار میں موجود نہ ہو اگرچہ گھر میں موجود ہو تبیین شرنبلالیہ میں یونہی ہے اور اس کی مثل بحرنہراور فتح میں ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۶: ۸ رجب ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنے یاغیر گاؤں کے اسامیوں کو روپیہ کٹوتی پر دیا اور نرخ کاٹ کر غلہ ٹھہرا لیا اب اگر کسی آفت ارضی یا سماوی کی وجہ سے غلہ نہ پیدا ہو تو یہ شخص اسی نرخ معین کے حساب سے قیمت پانے کا مستحق ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب:
جب عدم پیداوار وغیرہ کی وجہ سے بائع ومشتری اسی عقد کو فسخ کریں تو مشتری کو صرف اتنا ہی روپیہ لینا جائز ہےجس قدر اس نے دیا تھا اس سے زیادہ ایك حبہ لینا حرام اور سود ہےرسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتاخذ الاسلمك او رأس مالك او کما قال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ۔واللہ تعالی اعلم۔ یعنی ایا تو وہ چیز لے یا جتنا روپیہ دیا تھا وہ واپس کرلے اس کے سوا کچھ نہ لےجیسا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے۔
مسئلہ ۲۲۷: ۴ رمضان المبارک
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اسامیان کو بدنی پر روپیہ اور فی روپیہ ۲۰ ثاریا ۹ا ثار گندم عمدہ ماہ فلاں میں لینے ٹھہرے لیکن اسامی کے یہاں پیداوار کم ہوئی اور غلہ مذکور ادا نہ کرسکا تو اسے زر قیمت غلہ لینا جائز ہے یا ناجائز۔یاکہ جو روپیہ دیا ہے وہ لیا جائے اوراگر غلہ وقت معینہ پر لیا جائے تو آیا صاف
حوالہ / References الہدایہ کتاب البیوع باب السلم مطبع یوسفی لکھنؤ ۲ /۹۵
ردالمحتار کتاب البیوع باب السلم داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۰۵
درمختار باب السلم ۲/ ۴۹ و تبین الحقائق باب السلم ۴ /۱۱۴
#13370 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
کراکر عمدہ لیا جائے یا جیسا پیدا ہوا ہےکس طور پر اوراگر بحالت باقی آئندہ سال پر غلہ لیا جائے تو کس شرح سے یعنی کہ زرقیمت بقیہ غلہ کے گندم بحساب بدنی مذکور لئے جائیں یا کہ بقیہ زردادہ کے گندم بحساب بدنی لئے جائیں بینوا توجروا
الجواب:
روپیہ دینے والے کو دوہی بات کا اختیار ہے چاہے جو غلہ جتنا لینا ٹھہرا ہے اب خواہ آئندہ سال اسی قدر لے کر دانہ بڑھانے کا اختیار نہیں ہے اور چاہے تو اس صورت میں اپنا اتنا ہی روپیہ جس قدر دیا تھا پوراخواہ حساب سے کہ مثلا سو روپے پچاس من گیہوں پر دئے تھے پچیس من ملے تو باقی پچاس روپے واپس لے ایك کوڑی زیادہ حلال نہیں اوریہ جو کرلیتے ہیں کہ جو باقی رہا اس وقت کے بھاؤ سے اس کے دام کاٹے اور بدنی کے حساب سے ان داموں کا غلہ اس کے ذمہ کردیا یہ نرا سود قطعی حرام بلکہ سود درسود ہے۔
فی الدرالمختار لو انقطع بعد الاستحقاق خیر رب السلم بین انتظار وجودہ والفسخ واخذ راس مالہ اھ وفیہ لایجوز التصرف للمسلم الیہ فی رأس المال و لالرب السلم فی المسلم فیہ قبل قبضہ بنحوبیع و شرکۃ ومرابحۃ و تولیۃ ولوممن علیہ حتی لووھبہ منہ کان اقالۃ اذا قبل وفی الصغری اقالۃ بعض السلم جائزۃ الخ۔ درمختار میں ہے کہ اگر مسلم فیہ استحقاق کے بعد نایاب ہوگئی تو رب السلم کو اختیار دیا جائے گا کہ یا تو اس کے دستیاب ہونے کا اتنظار کرے یا عقد فسخ کرکے راس المال واپس لے لے اھاور اسی میں ہے قبضہ سے پہلے مسلم الیہ کے لئے راس المال میں اور رب السلم کے لئے مسلم فیہ تصرف جیسے بیعشرکت مرابحہ اور تولیہ جائز نہیں اگرچہ یہ تصرفات اسی شخص سے کئے جائیں جس پر راس المال یا مسلم فیہ ہے یہاں تك کہ اگر رب السلم نے مسلم الیہ کو مسلم فیہ ہبہ کردیا تو یہ اقالہ ہوگا جبکہ مسلم الیہ اسی کو قبول کرے اور صغری میں ہے کہ بعض سلم کااقالہ جائز ہے الخ(ت)
اور گیہوں جیسے ٹھہرے تھے ویسے لینے کا مستحق ہے اگر عمدہ صاف کی شرط تو عمدہ صاف ہی لے گا۔
فی الہندیۃ اسلم فی کندم نیکواو ہندیہ میں ہے اگر کسی نے نے گندم میں عقد سلم کیا اور
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۷
درمختار کتاب البیوع باب السلم ۲ /۴۹۔۴۸
#13371 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
قال نیك او قال سرہ یجوز ھذا ھوالصحیح والماخوذ بہ کذا فی الغیاثیۃ اھ واللہ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ کہا گندم نیکو یا کہا نیك یا کہا سرہ یعنی کھری تو جائز ہے اور یہی صحیح اور مختار ہےیوں غیاثیہ میں ہے اھوالله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ ۲۲۸: غرہ محرم الحرام ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اینٹوں کی بیع سلم جائز ہے یانہیں ایسی صورت میں کہ ابھی بیچنے والے نے صرف زمین اس نیت سے لی ہے کہ بعد چار ماہ کے اسی سے مٹی کھود کر اینٹ بنائی جائے گیخالد نے ابھی سے دو روپیہ ہزار کا نرخ کاٹ کر چار ماہ کے وعدہ پر دوسو روپے اسے دے دئے یہ صورت شرعا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
جائز ہے جبکہ سانچا معین کردیا گیا ہو اور باقی شرائط بیع سلم متحقق ہوں اور یہ شرط نہ کی گئی ہو کہ اس مٹی سے جو اینٹ بنے گی وہ لی جائے گی۔
لانہ منقطع فی الحال کحنطۃ جدیدہ قبل وجودھا وفی التنویر یصح فیما امکن ضبط صفتہ ومعرفۃ قدرہ کمکیل وموزون ومثمن وعددی متقارب کجوز وبیض وفلس و لبن واجربملبن معین واللہ تعالی اعلم۔ کیونکہ وہ فی الحال نایاب ہے جیسے نئی گندم کی بیع اس کے وجود سے قبل اور تنویرمیں ہے کہ جس چیز کی صفت کوضبط کرنا اور اس کی مقدار کی پہچان ممکن ہو اس میں سلم جائز ہے جیسے کیلی چیز ایسی وزنی چیز جومبیع ہو اور عددی متقارب اشیاء مثلا اخروٹانڈےپیسے اورمعین سانچے کی بنی ہوئی کچی پکی اینٹیں(ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۹: از آنولہ شفاخانہ مرسلہ شیخ محمد بخش صاحب ڈاکٹر ۶ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شر ع متین اس بارہ میں کہ فلوس سکہ رائج الوقت بحساب فی روپیہ ساڑھے سولہ آنہ یعنی تینتیس۳۳ ٹکہ فروخت ہوتے ہیں اگر زید کسی قدر روپیہ عمرو کو دے اور عمرو سے بحساب فی روپیہ ساڑھے سولہ آنہ یعنی تینتیس۳۳ ٹکہ بلا تعیین وقت روزیاماہ کے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الباب الثامن عشرالفصل الاول نورانی کب خانہ پشاور ۳ /۱۷۹
درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۷
#13372 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
کٹوتری کرلے اور عمرو بتدریج فلوس ادا کرے توکٹوتی فلوس اس صورت سے شرعا درست ہے یانہیں اور اگر عمرو فلوس کے ہمراہ دونی یا چونی زید کو دے تو دونی یا چونی ہمراہ فلوس کے عمرو سے لینا جائز ہے یانہیں ا ور اگر عمرو باجازت زید کے کسی قدر فلوس کٹوتری شدہ بہ نرخ رائج الوقت خود فروخت کرکے زید کو نقد روپیہ بعوض فلوس دے تو درست ہے یانہیں
الجواب:
پیسوں کی بیع سلم(یعنی کٹوتی)میں یہ تینوں صورتیں ناجائز وگناہ ہیںبیع سلم کی ایك ضروری شرط یہ بھی ہے کہ میعاد عقد میں معین کردی جائے جب یہاں تعین وقت نہ ہوا بیع حرام ہوگئی۔
فی الدرالمختار شروط صحتہ التی تذکر فی العقد بیان جنس ونوع وصفۃ و قدر واجل اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے عقد سلم کے صحیح ہونے کی وہ شرطیں جن کو عقد میں ذکر کیا جاتاہے یہ ہیں:جنسنوعصفتمقدار اور اجل کا بیان کرنا اھ تلخیص(ت)
پھر بیع سلم جس چیز کی ہو اسے بدل کر دوسری شے لینی جائزنہیںتو کل یا بعض پیسوں کے عوض میں دو نی چونی اٹھنی وغیرہا نہیں لے سکتا بلکہ خاص پیسے ہی لئے جائیں گے۔
لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام لاتاخذ الاسلمك او رأس مالك ای الا سلمك حال قیام العقد اورأس المال عند انفساخہ فامتنع الاستبدال اھ درمختار۔
کیونکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہےکہ سوائے اپنے مسلم(مسلم فیہ)یاراس المال کے کچھ مت لےیعنی اگر عقد قائم رہے تو مسلم فیہ اورا گر عقد فسخ ہوجائے تو راس المال لے لےچنانچہ بدلےمیں کوئی اور چیز لینا ممتنع ہو اھ درمختار(ت)
نہ یہ روا ہے کہ اپنے قبضہ میں آجانے سے پہلے اس میں کوئی تصرف مثل بیع وغیرہ کیا جائے تو عمرو کا باجازت زید خواہ بلااجازت پیسے بیچ کر روپے وغیرہ ان کے بدلہ کی کوئی شے زید کو دینا درست نہیں نہ زید اسے لے سکتا ہے
فی الدالمختار لا یجوز التصرف للمسلم الیہ فی راس المال ولا لرب السلم
درمختار میں ہے کہ قبضہ سے پہلے مسلم الیہ کے لئے راس المال میں اور رب السلم کے لئے مسلم فیہ
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۸
درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۹
#13373 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
فی المسلم فیہ قبل قبضہ بنحو بیع وشرکۃ ۔
میں تصرف جیسے بیع اور شرکت ناجائز ہے والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۳۰:کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ میں کے مثلا زید نے بکر کو دس رپے دئیے اس شرط پر کہ آئندہ فصل میں فی روپیہ بیس سیر گندم لوں گا خصوصی شرط مذکور زید نے فصل مقررہ پر گندم وصول کئے فصل معین میں گندم فی روپیہ(۵ ما/)فروخت ہوتے تھے تو زید کو پندرہ سیر گندم جو کہ خلاف نرخ مل رہے ہیں یہ جائز ہے یاناجائز بینوا توجروا
الجواب:
اگر یہ روپے زید نے بکر کو قرض دئے تھے اور شرط یہ کی کہ آئندہ فصل میں فی روپیہ بیس سیر گیہوں لیں گے تو یہ ناجائز اورحرام ہے اور اگر روپیہ گیہوؤں کو قیمت قرار دے کر دئے تھے تو اس کہنے سے کہ بیس سیر گندم لوں گا بیع نہ ہوئی نرا وعدہ ہوا اب جب گیہوں موجود ہوئے بکر اگر اس بھاؤپر نہ دے تو اسے اختیار ہے زید جبر نہیں کرسکتا اور اپنی خوشی سے بکر دے توحلال ہے اور اگر اس وقت گیہوں کی بیع کرلی کہ اس نے کہا بیچے اور اس نے کہا خریدے تو بیع سلم کی سب شرطیں"اگر کرلی ہیں اور وہ متحقق ہیں تو جائز ہے اور فی روپیہ دس من زیادہ ملے تو حلال(عہ)ہے ورنہ حرام۔والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۱: از میرانپور کٹرہ ضلع شاہجہانپور مسئولہ محمد صدیق بیگ صاحب ۲۵ محر م ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك اسامی کو پانچ روپے دے دئے ہیں اور اس سے یہ قرار پایا ہے کہ بیساکھ میں ساڑھے چاروپے من فروچنے دیں گے یہ بیع کیسی ہے
الجواب:
یہ صورت بیع سلم کی ہے اور ا س میں بارہ شرطیں ہیں جن کی تفصیل فـــــــ ہمارے فتاوی میں ہے ان میں سے ایك بھی کم ہو تو حرام ہے اور سب جمع ہوں تو جائز ہے اوراگر وہ آسامی مسلمان نہیں تو جو معاہدہ اس سے ٹھہرجائے حرج نہیں کما مرمرارا۔ والله تعالی اعلم۔
عــــــہ: اصل میں اسی طرح ہے ہونا چاہئے"توبھی حلال ہے"
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع با ب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۸
فـــــ: تفصیل کے لیئے جلد ہذا میں مسئلہ ۲۲۳ملاحظہ ہو۔
#13374 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
مسئلہ ۲۳۲: از موضع خورد مئوڈاکخانہ بدوسرائے ضلع بارہ بنکی مرسلہ صفدر علیہ صاحب ۶ ربیع الاول ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روپیہ اس شرط پر کسی کو دینا اور مال لینا جائزہے کہ فصل میں جونرخ ہوگا ہم فلاں غلہ لیں گے۔
الجواب:
فلاں غلہ لیں گےیہ تو ایك وعدہ ہے کوئی عقد نہیں ہے اس کی پابندی پر جبر نہیں ہوسکتا اسے اختیار ہے کہ وروپیہ پھیردے اور غلہ نہ دےاوراگر عقد بیع کیا تو یہ بیع سلم ہے اس کی بارہ فـــــــ شرطیں اگر جمع ہیں حلال ہیں ورنہ حراماور اس طور پر کہ فصل کے نرخ پر بیچا خریدا مطلقاحرام ہے کہ وہ مجہول ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۳: از شہر مرسلہ شوکت علی صاحب ۱۴ جمادی الآخر ۱۳۳۷ھ
کیاحکم ہے اہل شریعت کا اس مسئلہ میں کہ زید کچھ روپیہ دہقانوں کو فصل سے پہلے اس شرط پر تقسیم کردیتاہے مثلا جس وقت روپیہ یا اس وقت گندم خواہ کوئی غلہ(۱۰ ما/)کا تھا اور اس نے(۱۴ ما/)فی روپیہ نرخ ٹھہرا کر روپیہ دے دیا اب فصل پر خواہ کوئی نرخ کم وبیش(۱۴ ما/)سے ہو لیکن وہ فی روپیہ(۱۴ ما/)کے حساب سے غلہ لے لے گا۔بکر کہتا ہے کہ تونے سودلیا کیونکہ نرخ سے زیادہ ٹھہرا لیا۔بینوا توجروا
الجواب:
یہ صورت بیع سلم کی ہے اگر اس کے سب شرائط پائے گئے تو بلاشبہ جائز ہے اور کسی طرح سود نہیں اگرچہ دس سیر کی جگہ دس من قرار دےہان اگر جبر ہے تو حرام ہے اگر دس سیر کی جگہ سیر ہی بھرلے
لقولہ تعالی " الا ان تكون تجارة عن تراض منكم- "
الله تعالی کے اس ارشاد کی وجہ سےمگریہ کہ ہو تمھارے درمیان تجارت تمھاری باہمی رضامندی سے۔(ت)
اورا گر بیع رضامندی سے ہوئی مگر کوئی شرط رہ گئی مثلا غلہ کی جنس یا نوع یا صفت یا وزن کی تعیین نہ ہوئی یا وہ چیز ٹھہری جو اس وقت سے وقت وعدہ تك ہر وقت بازار میں موجود نہ رہے گی یا میعاد مجہول رکھی یا اسی جلسہ میں روپیہ تمام وکمال ادانہ کردیا تو ضرور حرام وسود ہے اگرچہ نرخ بازار سے کچھ زیادہ نہ ٹھہرا ہو اور اگر خرید وفروختم(میں نے خریدا میں نے فروخت کیا۔ت)کا مضمون درمیان نہ آیا مثلا اس نے
حوالہ / References القرآن الکریم ۴ /۲۹
فـــــ: یہ بارہ شرطیں جلدہذا کے مسئلہ ۲۲۳ کے تحت مندرج ہیں۔
#13375 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
کہا کہ روپیہ کے چودہ سیر لیں گے اس نے کہا دوں گا تو یہ نہ سود ہے نہ حرامنہ اس کے لئے کسی وجہ شرط کی حاجتنہ اسے اس پر مطالبہ پہنچےاس کی خوشی پر ہے چاہے دے یا نہ دے کہ یہ سرے سے بیع ہی نہ ہوئی نرا وعدہ ہوا۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۴ تا ۲۳۵: از گھٹنگاہ میو بند باغات ضلع جورہاٹ آسام مسئولہ عبیدالله ۱۷ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ:
(۱) زید نے بکر کو دو روپے دئے اور غلہ کا دینا بروقت درو زراعت بہ تعیین وزن مثلا فی روپیہ کا بیس سیردھاناور حال یہ ہے کہ اس وقت بازار کے نرخ سے دوچند ہوتاہے اب یہ بیع شرعاجائز ہے یانہیں
(۲)زید نے دس بیگھ زمین خرید کر زراعت کار کو خزانہ پر دیا ہے مگر خزانہ کاروپیہ نقد نہیں وصول کیا یہ بندوبست کیا کہ جب خزانہ کاروپیہ کے ہر روپیہ میں بعد درو زراعت بیس روپے کرکے دھان لوں گا اب یہ بھی نرخ بازار سے دوچند ہوتاہے۔یہ شرعا جائزہے یانہیں
الجواب:
(۱)یہ صورت بیع سلم کی ہے اگراس کی سب شرطیں ادا ہولیں جائز ہے ورنہ حرام منجملہ ان شرائط کے میعاد معلوم ہو کہ ایك مہینہ سے کم نہ ہو اور وقت درومیعاد غیر معلوم ہو کہ آگے پیچھے ہوتارہتاہے لہذا صورت مذکور ناجائز وحرام ہوئیدرمختارمیں ہے:
لایصح البیع الی الحصاد والدیاس والقطاف لاہا تتقدم وتتاخر واللہ تعالی اعلم۔
فصل کاٹنےگاہنے اور پھل چننے کی وجہ میعاد پر بیع کرناصحیح نہیں کیونکہ ان میں تقدم وتاخر ہوتارہتاہے والله تعالی اعلم (ت)
(۲)یہ صورت پہلی سے بھی زیادہ حرام ہے
لانہ بیع الکائی بالکائی وقد نہی عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم واللہ تعالی اعلم۔
کیونکہ یہ ادھار کی ادھار سے بیع ہے حالانکہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہےوالله تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۷
سنن الداقطنی حدیث ۲۶۹ نشرالسنۃ ملتان ۳ /۷۱
#13376 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
مسئلہ ۲۳۶: از موضع گہگورہ ڈاکخانہ سندر گنج ضلع رنگپور مرسلہ منشی سفیر الدین صاحب ۲۶ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
زید نے بکر کے پاس ۲۳ من پٹوادینے کی شرط پر(معہ/)روپے لئے جب موسم پٹواآیا تو بکر نے اپنے دئے ہوئے روپے کے عوض پٹوانا مانگا اس وقت پٹوا دینے سے مجبور ہوا ور قرض ادا کرنے کے خیال سے اپنے دوبیل فروخت کرنے پر آمادہ ہوگیا یہاں تك کہ ایك بیل کو فروخت کردیا قیمت اس کی پچاس روپے ہوئی اس بیل کی فروخت کی بات بکر نے سنتے ہی زید کو کہا اگر بیل کو فروخت کرنا چاہتے ہو تو وہ بیل ہم کو دوتب زید نے فروخت کیا ہوا ۵۰ روپے قیمت والا بیل ۴۵ روپے قیمت مقرر کرکے اور دیگر ایك بیل ۲۵ روپے قیمت کیے ہوئے بیل کو ۲۰ روپے مقرر کرکے پہلے خریدار سے واپس لاکر بکر کودے دیا اور بکر نے رسید بھی لے لی اور زید نے ۲۰ روپے نقد بھی دئے تھے جبکہ زید نے دو بیل دئے اور(عہ ۲۰)بھی دئے تو اب مبلغ(صہ لہ) روپے ہوئے اصل سے(مہ عہ/)روپے زیادہ ہوتے ہیں اب مطلب یہ ہے کہ بیع سلم صحیح ہوئی یا کہ نہیں اور اس زیادہ روپےکاکیاحکم ہے
الجواب:
بیع سلم صحیح تھی اگر سب شرائط جمع ہوئے تھے مگر جبکہ وہ پٹوادینے سے عاجز آیا اورروپیہ واپس دینا قرار پایا تو بکر پر فرض تھا کہ صرف وہی(معہ ۷۰)روپے واپس لے ان کے عوض بیل لئے یہ حرام پندہ روپے زیادہ لئے یہ حرام او نرا سود۔
قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم لاتأخذ الاسلمك او رأس مالك ۔واللہ تعالی اعلم۔ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ سوائے اس چیزکے جس میں تو نے عقد سلم کیا(مسلم فیہ)یا سوائے راس المال کے کچھ مت لے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۳۷ و ۲۳۹: از کچھوچھہ شریف مرسلہ مولانامولوی سید محمد صاحب سلمہ ۹صفر ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں:
(۱)زید نے بکر کو ایك من گیہوں وایك آنہ پیسہ دے کر کہا کہ ایك من گیہوں تم کو بلا معاوضہ چیز ےدیتاہوں اورایك آنہ پیسہ کے عوض فلاں مہینہ میں گیہوں اوسط درجہ کا یا کہا کہ عمدہ ایك من بیس ثاءلوں گا۔
(۲)زید نے بکر کو ایك گنی دے کر کہاں کہ فلاں مہینہ میں دو نوٹ دس دس روپے کا لوں گا یا بیس روپیہ کے
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب البیوع باب السلم المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۴ /۱۱،درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۹
#13377 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
پیسے لوں گا۔
(۳)زید نے بکر کو دس روپیہ قرض دیاکہ بعد ایك سال کے اداکردے اور ایك آنہ پیسہ دیا کہ کہ اس کے عوض بعد ایك سال کے دو روپیہ دےیہ تینوں صورتیں شرعا جائز ہیں یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
(۱)ایك من گیہوں دینا نہ دینا کچھ ضرور نہین جملہ شرائط بیع کا تحقق ضرور ہے جن کی تفصیل توتمثیل ہمارے فتوی میں ہے ان میں سے ایك بھی کم ہے تو حرام ہے۔
لان بیع معدوم لم یرد الشرع بجوازہ وقد نہی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عن بیع مالیس عندہ ۔ کیونکہ یہ معدوم کی بیع ہے جس کے جواز پر شرع وارد نہیں ہوئی اور تحقیق رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس چیز کی بیع سے منع فرمایا جوبائع کے پاس موجود نہ ہو۔(ت)
اوراگرشرائط مجتمع ہوں تو جائز ہے اگرچہ ایك پیسہ کو ہزار من گیہوں خریدے
قال اللہ عزوجل" الا ان تكون تجارة عن تراض منكم- " وقال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اذا اختلف النوعان فبیعوا کیف شئتم ۔
الله تعالی نے ارشاد فرمایا مگر یہ کہ ہو تمہارے درمیان تجارت باہمی رضامندی سے اور رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا جب بدلین مختلف نوعوں کے ہوں تو جیسے چاہو بیچو۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فی الذخیرۃ اذا اخذ الخبز مفرقا ینبغی ان یبیع صاحب الحنطۃ خاتما اوسکینا من الخبازبالف من الخبز ۔
ذخیرہ میں ہے کہ اگر کوئی شخص(گندم(اکٹھی دے کر اس کے بدلے میں)روٹیاں متفرق طور پر لینا چاہے تو گندم والے کو چاہئے کہ وہ انگوٹھی یا چھری ہزار روٹیوں کے بدلے میں روٹیاں پکانے والے کے ہاتھ فروخت کرے(پھر روٹیوں والا گندم والے کے
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴
القرآن الکریم ۴ /۲۹
نصب الرایہ کتاب البیوع المکتبۃ الاسلامیہ الریاض ۴/۴
ردالمحتار باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۶
#13378 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
ہاتھ انگوٹھی یا چھری گندم کی مطلوبہ مقدار کے عوض بیچ کو گندم لے لے)۔(ت)غمزالعیون والبصائر میں ہے:
جواز بیع المقرض من المستقرض مما یساوی طسو جابعشرۃ دنانیر فانہ علی وفاق الدلیل لانہ بیع موجود مملوك لہ بالقاضی ۔ قرض دینے والے کو قرض مانگنے والے کے ہاتھ دورتی برابر کوئی چیز دس دینا رکے عوض فروخت کرنےکا جواز دلیل کے موافق ہے کیونکہ یہ اپنی موجود ملکیت کا قاضی کے حکم سے سودا ہے۔(ت)
یہ سب اس حالت میں ہے کہ بیع ہو"بعت اشتریت فروختم خریدم"(میں نے بیچا میں نے خریدا۔ت)کہیںلوں گا دوں گا عقد نہیں وعدہ ہے اوراس کے لئے کوئی اثر نہیں کما بیناہ فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوی میں بیان کردیا ہے۔ ت)والله تعالی اعلم۔
(۲)نوٹ ہوں یا پیسے دونوں کی بیع سلم جائز ہے کہ ثمن اصطلاحی ہیں نہ خلقیتنویر الابصار و درمختارباب السلم میں ہے:
(یصح فیما امکن ضبط صفتہ ومعرفۃ قدرہ کمکیل وموزون)خرج بقولہ(مثمن)الدراھم والدنانیر لانہا اثمان فلم یجز فیہا السلم(وعددی متقارب کجوزوبیض وفلس عقد سلم اس چیز میں صحیح ہے جس کی صفت کو ضبط کرنا اور اس کی مقدار کو پہچاننا ممکن ہو جیسے کیلی چیزاور ایسی وزنی چیز جو مثمن یعنی مبیع بنےاس قید سے دراہم ودنانیر خارج ہوگئے کیونکہ وہ ثمن ہیں جن میں بیع سلم جائز نہیںاور ایسی چیز جو عددی متقارب ہو جیسے اخروٹانڈےاور پیسے(ت)
شرائط بیع سلم موجود ہوں اور ایجاب وقبول ہو لوں گا دوں گا کوئی چیز نہیں والله تعالی اعلم۔
(۳)ایسی بیع حرام ہے کہ یہ روپے کی بیع سلم ہوگی اور وہ جائز نہیں کما تقدم انفا عن الدرالمختار(جیسا کہ ابھی درمختار کے حوالہ سے گزرا ہے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴۰: از کرتولی ضلع بدایوں مرسلہ جناب مولوی محمدرضاخاں صاحب ۲۰ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
بیع سلم بحساب فی روپیہ ۱۲ سیر ربیع گزشتہ میں ولید سے کہ کافر ہے قرار پائی اب خریف
حوالہ / References غمزالعیون البصائر الفن الاول بیان ان المعتبر العرف العام لا الخاص ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۳۵
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۷
#13379 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
موجودہ ہیں عمرو کو جس کا روپیہ تھا وہ جنس طے شدہ نہیں دیتا عمرو اگر یہ کرے کہ جس قدر گیہوں ولید کافر اور زید مسلمان کے ذمہ چاہئے ہیں کسی دوسرے شخص کو اپنی ملکیت کے ہبہ کردے اور وہ شخص جس پر واجب الادا ہے عمرو کو خرید کر شخص موہوب لہ کو دے دے یہ جائز ہوگا یانہیں
الجواب:
بیع سلم میں حکم ہے کہ جنس قرار یافتہ لے یا جتنا روپیہ دیا تھا واپس لے دوسری چیز عوض میں لینا حرام ہے ہاں اگر بائع کے پاس گیہوں نہیں اورمشتری اپنے پاس سے گیہوں ثالث کو ہبہ کردے پھر بائع اسی ثالث سے خرید کر مشتری کے مطالبہ میں دے تو جائز ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۱:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك کھنڈ ساری نے ایك موضع کا رس وہاں کے اسامیوں سے ۲۵ روپیہ کے نرخ سے خریدا اور روپیہ دے دیا پھر اس کھنڈ ساری نے اپنے رس خریدے ہوئے کو وہاں کے زمیندار کے ہاتھ فروخت کردیا ۲۵ روپیہ کے حساب سےاور کچھ نفع یا نقصان نہیں ہواپھر زمیندار نے کوشش کی کہ میرا رس کوئی شخص خریدلے اور دوسرے کھنڈساریوں نے ۲۸ روپے تك لگائے جب زمیندار نے دیکھاکہ مجھ کو ۲۸ روپیہ سے زائد نہیں ملتا تو اس نے اپنے اسامیوں سے کہا کہ تم لوگ اپنے اپنے رس کا گڑ بنالو میرا روپیہ ۳۰ روپیہ کے نرخ حساب سے مجھ کو ادا کردینا پہلے بائع کو معلوم ہے کہ اس میں اختلاف ہے مگر یہ معاہدہ زمیندار کا اسامیوں سے کہ ۳۰ روپیہ کے حساب سے ادا کردینا جائز ہے یانہیں بینوا بالدلیل توجروا عندالجلیل(دلیل کے ساتھ بیان کریں جلال والے الله تعالی کے ہاں اجر دئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
پہلی دوسری تیسری یہ سب بیعیں ناجائز وحرام ہوئیں جبکہ رس موجود ہونے سے پہلے عمل میں آئیں جیسا کہ یہاں دستور ہےحدیث میں ہے:
نھی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عن بیع مالیس عندہ اما ما رخص فی السلم فلہ شرائط منہا عدم انقطاع المسلم فیہ یوم العقد الی یوم الوعد رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس چیز کی بیع سے منع فرمایاجو بائع کے پاس موجود نہ ہوںبیع سلم میں جو رخصت دی گئی ہے تو اس کے لئے کچھ شرطیں ہیں جن میں سے ایك یہ ہے کہ مسلم فیہ عقد والے دن سے لے کر وعدہ والے دن تك بازار سے منقطع نہ ہو۔(ت)
حوالہ / References درمختار باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴
#13380 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
اور خاص تیسری بیع اگر رس کے باوجود پر بھی ہوئی تو ناجائز ہے۔
لان المشتری فاسد الایملك قبل القبض وبعدہ ایضا لایرتفع الاثم۔واللہ تعالی اعلم۔ کیونکہ بیع فاسد کے ساتھ خریدی ہوئی چیز مملوك نہیں بنتی قبضہ سے اور بعد بھی اس کا گناہ مرتفع نہیں ہوتا۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۴۲: از پیلی بھیت محلہ شیرمحمدمرسلہ شیخ نادر حسین صاحب ۲۳ جمادی الآخر ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرعی مبین اس مسئلہ میں کہ فی زمانہ جیسا رواج رس نیشکر کے فروخت کاہےکہ ادھر کھیت میں درخت نمود ہوئے ادھر اس وقت کے نرخ بموجب پیشگی روپیہ دے دیا آیا کسی حیلہ شرعی سے یہ بات جائز ہے یانہیں اور اگر وقت تیار ہونے نیشکر کے اس وقت کے نرخ بموجب رس خریدا جائے تو بھی جائز ہے یانہیں اوراگر جائز نہیں ہے توضرورت کے لئے کوئی حیلہ شرعی بھی ہے یانہیں کیونکہ زمانہ کا رواج بہت مجبور کررہاہے۔ بینوا توجروا
الجواب:
نہ درختوں کے نمود پر جائز نہ نیشکر کی تیاری پر جائز نہ یہ جائز کہ جب رس موجودہوجائے اور بکنے لگے اس آئندہ سال کے رس کی بیع کرلیں کہ بیع سلم میں شرط ہے کہ وہ شے عقد سے وقت قرار داد تك کس وقت بازار سے منقطع نہ ہو پہلی دو صورتوں میں تو اس وقت عقد منقطع تھاگنے کی تیاری سے رس بازار میں تو نہ آگیا جو شرط جواز متحقق ہو اور پچھلی صورت میں اگرچہ رس وقت عقد موجود ہے مگر وقت قرارداد یعنی آئندہ سال تك موجود نہ رہے گا چند روز بعد بازار سے ختم ہوجائے گا ہمارے تمام ائمہ مذہب کا ان سب صورتوں کے ناجائز وحرام ہونے پر اجماع ہے متون وشروح وفتاوی ان کی تحریر سے مالا مال ہیں ہمیں خلاف مذہب فتوی دینے کی کسی طرح اجازت نہیںہاں اگر رس کہیں تیار ہوگیاکہیں ابھی ایکھ کھڑی ہے ایسے زمانہ میں جن کے یہاں ہنوز رس نہیں ان سے رس کی بیع سلم کرلینا بلا شہبہ جائز ہے جبکہ وعدہ اتنی قریب مدت تك کا کیا جائے جس میں اس سال کا رس بازار میں سے ختم نہ ہونے پائےبحرالرائق ودرمختار میں ہے:
مایکتب فی وثیقۃ السلم من قولہ جدید عامہ مفسد لہ ای قبل وجود الجدید اما بعد فیصح کما لا یخفی ۔
وہ جو عقد سلم کے وثیقہ میں لکھا جاتاہے کہ اس سال کی جدید(گندم)تو یہ جدید کے موجود ہونے سے مفسد عقد ہے لیکن اس کے موجود ہونے کے بعد صحیح ہے۔(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۸،بحرالرائق کتاب البیع باب السلم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۱۶۰
#13381 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
اور اس تیاری وغیر تیاری میں کچھ گاؤں یا پرگنہ یا ضلع کااتحاد بھی شرط نہیں بلکہ اگر اس ضلع بھرمیں ابھی کہیں رس بلکہ گنا بھی تیار نہیں اوردوسرے ضلع میں رس بکنے لگا ہے تو جہاں ہنوز معدوم ہے وہاں والے بھی بیع سلم کرسکتے ہیں جبکہ ان دونوں ضلعوں میں اتنابعد عظیم نہ ہو کہ ان کے یہاں کی ایکھ ماری جائے یا رس پرکوئی افت آئے تو وہاں سے رس منگا کر دینے میں سخت شدید مشقت ہو جیسے ہندوستان میں ابھی مفقود ہے اور مثلا مصر یا برہما میں تیار ہوگیا تو ایسی تیاری پر ہندوستان میں اس کی بیع سلم حلال نہیں درمختارمیں ہے:
لوانقطع فی اقلیم دون آخر لم یجز فی المنقطع ۔
اگر ایك ملك میں مسلم فیہ نایاب ہے دوسرے میں نہیں ہے تو جہاں نایاب ہے وہاں سلم جائز نہیں۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ای المنقطع فیہ لانہ لایمکن احضارہ الابمشقۃ عظیمۃ فیعجز عن التسلیمبحر ۔
یعنی جس ملك میں نایاب ہے کیونکہ سوائے سخت مشقت کے وہاں سے لانا ممکن نہیں لہذا تسلیم سے عجز لازم آئے گا۔ بحر۔ (ت)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ واقع میں وہ عقد بیع شرعی ہو بعض دستاویزیں رس کی جواج کل دیکھنے میں آئیں ان کا مضمون یہ ہے کہ(جو کہ مبلغ اس قدر یا فتنی فلان بن فلاں کے میرے ذمہ واجب الادا ہیں اقرار کرتاہوں اور لکھے دیتاہوں کہ بعض مبلغان مذکور کے مال اس کا شت ۱۳۰۰ ف جس کا پیداوار ۱۳۰۱ف میں ہوگا وقت تیار ہوجانے بیل کے اس نرخ سے فلاں ماہ تك ادا کروں گا اپنے خرچ میں کسی طرح نہ لاؤں گا)اور سنا گیا کہ عام دستاویز اسی مضمون کی ہوتی ہیں اگر فی الواقع زبانی بھی کلمات بیع درمیان نہیں آتے نہ وہ کہتاہے کہ میں نے رس تیرے ہاتھ بیچانہ یہ کہتاہے کہ میں نے خریدا بلکہ اسی قسم کی گفتگو ہوتی ہے تو اسے بیع سے اصلا علاقہ نہیںیہ تو ایك وعدہ واقرار ہے کہ زرمطالبہ اس راہ سے ادا کروں گا یہ صورت فی نفسہ اصلا جواز کی تھیاگر کسی کا کسی پر کچھ قرض آتا ہو اورمدیون برضائے خود وعدہ کرلے کہ اس کے بدلے میں تجھے فلاں چیز اس نرخ سے دوں گا تو اس میں کوئی حرج نہیں جس وقت دے گا اس وقت بعوض اس قرض کے بیع ہوجائے گی اس طریقہ میں نہ پہلے سے کسی قرارداد کی حاجت ہوئی نہ کوئی شرط درکارفقط اتنا چاہیے کہ دیتے وقت انہیں باہم معلوم ہوکہ اس بھاؤ پر دی گئیفتاوی علامہ خیرالدین رملی میں ہے:
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۷
ردالمحتار کتاب البیوع باب السلم داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۰۵
#13382 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
سئل فی رجل استلم من اخر الفی قرش دینادوعدہ ان یعطیہ بہازیتا بالسعر الواقع یوم کذا فلما جاء الیوم الموعود وکان سعر الزیت معلوما فیہ ارسل یطلبہ منہ فارسل بہ زیتا ہل یکون بیعا بالسعر المعلوم یومئذ ام لا یکون بیعا وللمدیون طلب الزیت (اجاب)نعم یکون بیعانافذ والحال ہذا کما صرح بہ مجمع الفتاوی والقنیۃ والمجتبی معزیاالی النصاب وقد افتی بذلك المرحوم صاحب منح الغفار (الی قولہ)والاصل فی ذلك ان البیع عندنا یعقد بالتعاطی فافہم واللہ تعالی اعلم۔ ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ اقول:انما انعقد بالتعاطی لان الذی جری بینہما من قبل انما کان وعدا اما لوکان ذلك عقدا لماصح لعدم اجتماع شرائط السلم کمالا یخفی واذالم یصح ذلك لم یجز التعاطی المبنی علیہ کما صرح بہ فی البحر والدروغیرہما۔
اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جس نے دوسرے سے دوہزار(ترکی سکے)قرش بطور قرض وصول کئے اور وعدہ کیا کہ اس کے بدلے فلاں دن روغن زیتون دوں گا اس بھاؤ پر جو اس دن ہوگاپھر جب وعدے کادن آگیا اور اس دن زیتوں کا بھاؤ معلوم تھا چنانچہ قرض دہندہ نے مدیون سے روغن زیتون مانگ بھیجا اوراس نے روغن زیتون بھیج دیا تو کیا یہ اس دن کے معلوم بھاؤ پر بیع ہوگی یا نہیں ہوگی اور مدیون کو روغن زیتون واپس مانگنے کا حق ہوگا آپ نے جواب دیا ہاں بیع نافذ ہوگی اورحال یہی ہے جیسا کہ نصاب کی طرف منسوب کرتے ہوئے مجمع الفتاوی قنیہ اور مجتبی میں اس کی تصریح کی گئی ہے اور تحقیق اسی پرمرحوم صاحب منح الغفار نے فتوی دیا(اس کے اس قول تك کہ)اور اس میں اصل یہ ہے کہ ہمارے نزدیك تعاطی(باہمی لین دین)کے ساتھ بیع منعقد ہوجاتی ہے پس سمجھ اور الله تعالی بہتر جانتا ہے اھ مجھے یاد پڑتاہے کہ میں نے اس پریوں حاشیہ لکھا میں لکھتاہوں کہ تعاطی سے صرف اس لئے بیع منعقد ہوئی کہ جو گفتگو اس سے پہلے ان کے درمیان ہوچکی تھی وہ وعدہ تھا لیکن اگر وہ عقد ہوتا تو صحیح نہ ہوتا کیونکہ اس میں عقد سلم کے شرائط جمع نہیں ہیں جیسا کہ پوشیدہ نہیں تو جب عقد صحیح نہیں تو تعاطی بھی جائز نہیں جس کی بناء پر اسی عقد پر ہے جیسا کہ بحراور در وغیرہ میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی خیریہ کتاب البیع باب السلم دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۲۵
#13383 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
مگر یہاں اور دقت درپیش ہے یہ صورت یوں نہیں کہ پہلے سے بسبب قرض وغیرہ کسی پر کچھ دین آتا تھا جس کے عوض کوئی شے دیگر لینا نہ قرار پایا تھا اس کے بعد مدیون نے بطور خود وعدہ کرلیا کہ میں بعوض دین یہ شے دوں گا یہاں تو وہ روپیہ اسی لئے دیا جاتا ہے کہ اس کے عوض رس لیں گے اور اسی بناء پر لیتا ہے تو اگرچہ بیع نہ سہی مگر قرض کے ذریعہ سے نفع حاصل کرنا ہا اور وہ سود ہےحدیث میں ہے رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جومنفعۃ فہو ربا ۔
جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔(ت)
اب اس عقد کا حاصل یہ ہوا کہ اتنا روپیہ تجھے قرض دیتاہوں اس شرط پر کہ تو اس کے عوض مجھے اتنا رس دے قرض اگرچہ شرط فاسد سے فاسد نہیں ہوتا بلکہ وہ شرط ہی باطل ہوجاتی ہے۔
علی مافی الدر ومتنہ عن الخانیۃ القرض لایتعلق بالجائز من الشروط فالفاسد منہا لا یبطلہ ولکنہ یلغو شرط ردشیئ اخرفلو استقرض الدراھم المکسورۃ علی ان یؤدی صحیحا کان باطلا وکذا لو اقرضہ طعاما بشرط ردہ فی مکان اخر وکان علیہ مثل ماقبض الخ
اس بنا پر جو در اور اس کے متن میں خانیہ سے منقول ہے کہ قرض جائز شرط کے ساتھ متعلق نہیں ہوتا تو فاسد شرط قرض کو باطل نہیں کرتی لیکن دوسری شے لوٹانے کی شرط ہوجاتی ہے چنانچہ اگر کسی نے پھوٹے درہم قرض لئے اس شرط پر کہ صحیح درہم واپس کرے گا تو یہ شرط باطل ہے اور یوں ہی اگر کسی کو اناج قرض دیا اس شرط پر کہ دوسرے شہر میں واپس لوٹا ئے گا اس صورت میں مقروض پر واجب ہے کہ جیسی چیز اس نے قرض لی تھی ویسی ہی واپس لوٹائے الخ۔(ت)
مگر ایسا قرض خود ہی معصیت وحرام ہے۔
فی الدرعن الخلاصۃ القرض بالشرط حرام والشرط لغو بان یقرض علی ان یکتب بہ الی بلد کذا
درمیں خلاصہ سے منقول ہے کہ شرط کرکے قرض دینا حرام ہے اور شرط لغو ہے جیسے کوئی شخص اس شرط پر قرض دے کہ مقروض اس کو فلاں شہر کی طرف
حوالہ / References کنزالعمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسستہ الرسالۃ بیروت ۶ /۲۳۸
درمختار کتاب البیوع باب القرض مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۰
#13384 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
لیوفی دینہ الخ لکھ دے تاکہ وہاں اس کا قرض ادا کیا جائے۔(ت)
اور یہاں صراحۃ شرط نہ بھی کریں تاہم بحکم عرف اس کا مشروط ہونا قرض دینے لینے والے دونوں پر ظاہر وآشکارہ ہوتاہے۔
والمعہود عرفا کالمشروط لفظا فی ردالمحتار من اخر الحوالۃ عن الفتح عن الواقعات قالوانما یحل ذلك عند عدم الشرط اذا لم یکن فیہ عرف ظاہر فان کان یعرف ان ذلك یفعل کذلك فلا ۔
جو عرف میں معہود ہو وہ ایسے ہی ہے جیسے لفظ شرط لگائی گئی ہو ردالمحتار میں باب الحوالہ کے آخر میں فتح سے بحوالہ واقعات منقول ہےفقہاء نے کہا ہے کہ عدم شرط کے وقت یہ قرض اس وقت حلال ہے جب اس میں(دوسرے شہر کی طرف لکھنے کا)عرف ظاہر نہ ہو چنانچہ اگر معروف ہے کہ وہ ایسا کرے گا تو حلال نہیں۔(ت)
غرض یوں بھی جواز حاصل نہ ہواہاں اس کی صورت یہ ہے کہ جس قدر کا رس خریدنا ہو اتنے روپوں کے عوض اپنی کوئی چیز اس کا شتکار کے ہاتھ ایك قریب وعدہ پر بیچے مثلا کہے میں نے یہ شیئ تیرے ہاتھ سو روپے کو بیچی اس شرط پر کہ یہ روپے ایك گھنٹہ کے بعد ادا کئے جائیں گے وہ کہے میں نے خریدی اس سے زائد کوئی رس وغیرہ کا ان لفظوں می نہ ہو پھر وہ شیئ مبیع اس کاشتکار کے قبضہ میں دے دے اور اس سے زرثمن نہ لے جب وہ قابض ہوجائے اسی چیز کو اب کاشت کار اس بائع کے ہاتھ سو روپے پر بیع کردےء اور اس میں کوئی میعاد ادائے ثمن مقرر نہ کرے یہ خریدے اور اس وقت کاشتکار کو روپے دے کر شیئ مبیع لے لےیہ مبیع ثانی اور اس کے روپے ادا کرنے کی کاروائی اس مدت وعدہ سے پہلے ہولے جس مدت تك کاشتکار کے لئے بیع سابق میں ثمن مؤجل کیا ہے مثلا وہاں ایك گھنٹہ کا وعدہ ٹھہرا تھا تو یہ کاروائی گھنٹہ گزرنے سے پہلے ہولے وعلی ہذا القیاساور بہت ضرور ہے کہ ان دونوں بیعوں سے حقیقۃ خرید وفروخت کا قصد کریںفقط فرضی طور پر نہ ہوں اب اس کی چیز تو اس کے پاس واپس آئی اور کاشکار کو سو روپے مل گئے اور اس کے سو روپے اس کے ذمہ پر دین رہےجب گھنٹہ یامیعاد جو قرار پائی تھی گزر جائے یہ اپنے اس دین کا کاشتکار سے مطالبہ کرے وہ کہے گھڑی بھر میں تیرا دین دیتاہوں اگرنہ دوں گا تو معاہدہ کرتاہوں کہ اس دین کے عوض فلاں مہینے میں اس نرخ سے اتنا رس ادا کروں گا بعدہ اسی
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب القرض مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۰
ردالمحتار کتاب الحوالہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۹۶
#13385 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
مضمون کا اقرار نامہ لکھا جائے جیسا کہ کھنڈ ساری میں رائج ہے جس کی نقل عبارت اوپر گزری اس طور پر نہ تو بیع سلم ہوئی جس میں اس شے کابازر میں ہونا مشروط ہوتا نہ قرض ہوا جس سے انتفاع مشروط حرام ٹھہرتا بلکہ بذریعہ بیع صحیح ایك دین اس کا شتکار پر لازم ہوا بعدہاس دین کی نسبت یہ وعدہ ومعاہدہ قرار پایا بیع سابق کے بعد جو یہ قرار داد ہوئی اس عقد کی شرط نہ ٹھہرے گی کہ بوجہ شرط فاسد بیع فاسد ہوکر پھر گناہ لازم آئے۔
فانہ لیس بشرط رأسابل وعد مستأنف و قد قال فی ردالمحتار ذکر فی البحر انہ لو اخرجہ مخرج الوعد لم یفسد وصورتہ کما فی الولوالجیۃ قال اشترحتی ابنی الحوائط اھقلت والذی فی الہندیۃ عن الظہیریۃ اشتربصیغۃ الامرفاذا کان ھذا فی الوعد لمقارن فکیف فی المفارق فہذا یوجب الصحۃ اجماعا و لوسلم فالشرط المتأخر لایلتحق باصل العقد عندھماوفی روایۃ عنہ رضی اللہ تعالی عنہم وفی اخری لہ یلتحق وقد صححتا فعند اختلاف التصحیح لك العمل بایتہما شئت لاسیما ماوافق علیہ الصاحبان رضی اللہ تعالی عن الجمیع قال فی ردالمحتار قولہ ولا بیع بشرط اشار بقولہ
کیونکہ یہ سرے سے شرط ہی نہیں بلکہ نیا وعدہ ہے تحقیق رد المحتار میں بحوالہ بحر فرمایاکہ اگر اس نے بطور وعدہ اس کو ذکر کیا تو بیع فاسد نہ ہوگی اور اس کی صورت جیسا کہ ولو الجیہ میں ہے یوں ہے کہ بائع نے کہا تو(انگور کے خوشے)خریدلے میں (باغ کی)دیواریں بنادوں گا اھ میں کہتاہوں کہ ہندیہ میں بحوالہ ظہیریہ امر کے صیغہ کے ساتھ ہے یعنی "اشتر" (توخرید) یہ اس وعدے کے بارے میں ہے جو عقد سے مقترن ہو اگر اس سے جدا ہو تو کیسے بیع فاسد ہو سکتی ہے تو یہ صحت بیع کو بالاجماع ثابت کرتی ہے اور اگر تسلیم کرلیا جائے (کہ یہ شرط ہے)تو شرط مؤخر صاحبین کے نزدیك اصل عقد کے ساتھ لاحق نہیں ہوئیاورامام اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے منقول ایك روایت یوں ہی ہے اور ان سے منقول دوسری روایت میں ہے کہ لاحق ہوتی ہےتحقیق دونوں روایتوں کی تصحیح کی گئی ہےاور جب تصحیحیں مختلف ہوجائیں تو تجھے اختیار ہے ان میں سے جس پر چاہے عمل کرے خصوصا وہ تصحیح جس پر صاحبین بھی امام اعظم سے متفق ہوں رضی الله تعالی عنہم اجمعینردالمحتار
حوالہ / References ردالمحتار باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲۰
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب العاشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۳۶
#13386 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
بشرط الی انہ لابد من کونہ مقارنا للعقد لان الشرط الفاسد لو التحق بعدالعقد قیل یلتحق عند ابی حنیفۃ وقیل لا وھوالاصح کما فی جامع الفصولین فی فصل ۳۹ لکن فی الاصل انہ یلتحق عند ابی حنیفۃ وان کان الالحاق بعد الافترق عن المجلس وتمامہ فی البحر قلت ہذہ الروایۃ الاخری عن ابی حنیفۃ وقد علمت تصحیح مقابلہا وہی ولہما ویؤیدہ ماقدمہ المصنف تبعاللہدایۃ وغیرہا من انہ لوباع مطلقا عن ہذہ الاجال ثم اجل الثمن الیہا صح فانہ فی حکم الشرط الفاسد کما اشرنا الیہ ھناك اھ۔
میں کہا کہ ماتن نے اپنے قول"ولابیع بالشرط"میں لفظ بشرط سے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ شرط کا عقد کے مقارن ہونا ضروری ہے کیونکہ شرط فاسد اگر عقد کے بعد لگائی گئی تو ایك قول یہ ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك عقد کولاحق ہوگی اور ایك قول یہ ہے کہ لاحق نہیں ہوگی اوریہی زیادہ صحیح ہے جیسا کہ جامع الفصولین فصل ۳۹ میں ہے لیکن اصل میں ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك لاحق ہوگی اگرچہ اس کا الحاق مجلس سے عاقدین کے جدا ہونے کے بعد ہو اور اس کی پوری بحث بحرمیں ہےمیں کہتاہوں یہی امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکی دوسری روایت ہے حالانکہ اس کے مقابل روایت کی تصحیح تومعلوم کرچکا ہے اور وہ صاحبین کا قول ہے اور اس کی تائید کرتا ہے وہ جو ہدایہ وغیرہ کی اتباع میں مصنف پہلے ذکر کر چکے ہیں وہ یہ کہ اگر کسی نے مذکورہ مدتوں کا عقدمیں ذکر کئے بغیر بیع کی پھر ثمن کو ان میعادوں کے ساتھ مؤجل کردیا تو بیع صحیح ہے کیونکہ یہ شرط فاسد کے حکم میں ہے جیساکہ ہم نے وہاں اس کی طرف اشارہ کردیا ہے۔ اھ(ت)
اس طریقہ سے ایك اور نفع عظیم کی امید ہے وہ دستاویز جو بطور مذکور لکھی جاتی ہیں نراوعدہ ہی وعدہ ہوتی ہیں کہ اس شخص کو اس پر جبر کا اصلا اختیار نہیں ہوتا اگروہ رس نہ دے تو یہ صرف اپنے روپے کا اس سے تقاضا کرسکتاہے رس کا مطالبہ نہیں پہنچتا کہ وعدہ کی وفا پر قضاء جبر نہیں کما نصوا علیہ قاطبۃ(جیسا کہ اس پر تمام فقہاء نے نص کی ہے۔ ت)اور یہ صورت جو ہم نے لکھی علماء فرماتے ہیں ایسی شکل کا وعدہ وعدہ لازمہ ہوجاتاہے کہ اس کے ایفاء پر جبر پہنچتاہےجامع الفصولین میں ہے:
حوالہ / References ردالمحتار باب البیع الفاسد مطلب فی البیع بشرط فاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۲۰
#13387 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
لوذکر البیع بلا شرط ثم ذکر الشرط علی وجہ العدۃ جاز البیع ولزم الوفاء بالوعد اذ المواعید قد تکون لازمۃ فیجعل لازما لحاجۃ الناس ۔
اگر بائع اور مشتری نے بغیر شرط کے بیع کا ذکر کیا پھر بطور وعدہ شرط کا ذکر کیا تو بیع صحیح ہے اور وعدہ کو پورا کرنا لازم ہے کیونکہ وعدہ کو پورا کرنا کبھی ضروری ہوتاہے لہذا لوگوں کی حاجت کے لئے اس کے پورا کرنے کو ضروری قرار دیا جائے گا۔ (ت)
فتاوی خیریہ میں ہے:
قد صرح علماؤنا بانہما لوذکرا البیع بلاشرط ثم ذکر الشرط علی وجہ العدۃ جاز البیع ولزم الوفاء بالوعد ۔
ہمارے علماء نے اس بات کی تصریح فرمائی کہ اگر بائع اور مشتری نے بیع کو بلاشرط ذکر کیا پھر بعدمیں شرکاء کاذکر وعدہ کے طور پر کیا تو بیع جائز ہے اور وعدہ کو پورا کرنا لازم ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
لوبعدہ علی وجہ المیعاد جاز ولزم الوفاء بہ لان المواعید قد تکون لازمۃ لحاجۃ الناس وھوالصحیح کما فی الکافی والخانیۃ واقرہ خسرو ھنا والمصنف فی باب الاکراہ وابن المالك فی باب الاقالۃ الخ ۔
اگر عقد کے بعد شرط کاذکر بطور وعدہ کیا تو بیع جائز ہے اور وعدہ کو پورا کرنا لازم ہے کیونکہ وعدوں کو پورا کرنا لوگوں کی حاجت کے پیش نظر کبھی لازم ہوتاہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ خانیہ اور کافی میں ہے خسرو نے یہاں مصنف نے باب الاکراہ میں اور بن الملك نے باب الاقالہ میں اس کو برقرار رکھا الخ(ت)
بزازیہ میں ہے:
اذا قال معلقا بان قال ان لم یؤد فلان فانا ادفعہ الیك ونحوہ یکون کفالۃ لماعلم ان
اگر کوئی بطور تعلیق ضامن بنایا بایں صورت کہ کہا اگر فلان نے قرض کی ادائیگی نہ کی تو میں تجھے ادا کروں گا یا اس جیسی کوئی اور صورت کی تویہ کفالت درست ہے
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ جامع الفصولین باب البیع الفاسد داراحیاء الترا ث العربی بیروت ۴/ ۱۲۰
فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع باب البیع الفاسد دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۳۸
درمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۸،۵۷
#13388 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
المواعید باکتساء صورالتعلیق تکون لازمۃ فان قولہ انا احج لایلزم لہ شیئ ولو علق وقال ان دخلت الدار فانا احج یلزم الحج ۔ کیونکہ تجھے معلوم ہوچکا ہے کہ وعدے تعلیق کی صورت میں لازم ہوتے ہیں چنانچہ کسی کے یوں کہنے سے کہ میں حج کروں گا اس پر کچھ لازم نہیں ہوتا اور اگر یوں کہاکہ اگر میں گھرمیں داخل ہوا تو حج کروں گا یعنی تعلیق کی تو اس صورت میں(دخول دار سے)اس پر حج لازم ہوگا(ت)
اہل اسلام اس نفیس طریقہ کے بجالانے میں کابلی نہ کریں اس میں نہ کوئی خرچ ہے نہ حرج نہ وقت صرف زبانی دو تین لفظوں میں مطلب کامل مراد حاصل گناہ زائلدستاویز تو لکھواتے ہی ہیں صرف اتنا زائد ہے کہ اس سے پہلے ایك چیز اس کے ہاتھ گھنٹہ بھر کے وعدے پر بیچ کر قبضہ میں دے کر فورا خریدلے اور روپیہ دے دے اور گھنٹہ کزرنے کے بعد دین کی نسبت اس کا وہ وعدہ لے لےاس الٹ پھیر میں نہ کچھ وقت ومحنت ہوگی نہ کوئی پیسہ خرچ ہوگا اور معصیت الہی سے بچ کر مال حلال ہاتھ آئے گا الله عزوجل توفیق بخشےآمین!
تنبیہ:یہ قیدیں جوہم نے ذکر کیں کہ پہلی بیع میں ثمن مؤجل ہو دوسری میں معجل اور دوسری میں بیع اور اس کے ثمن کا ادا کر دینا پہلے ثمن کے میعاد مثلا گھنٹہ گزرنے سے پیشتر ہولے اور دوسری بیع کاشتکار کی طرف سے شیئ بیع پر قبضہ کرلینے کے بعد ہو انھیں ضرور ملحوظ رکھیں زائد وبیکار تصور نہ کریں یہاں منظور تو یہ ہے کہ کہ کاشکار کو روپیہ پہہچ جائے او اس کا دین اس پر قائم رہے تاکہ اس کی نسبت وہ عدہ ہوسکے اگر دونوں ثمن معجل ہوتے تو جیسے بیع ثانی میں سوروپے اس پر لازم ہوئے اور اس کے سو روپے اس پر لازم تھے دونوں پرسے برابر ہوکر اتر جاتےیونہی اگر یہ بیع ثانی اور اس کے ثمن دے دینے کی کاروائی اس میعاد مقررہ سے پہلے نہ ہو لیتی تو میعاد گزر کرو وہ دین پر معجل ہوجاتا اور دونوں بری الذمہ ہوجاتے اب کہ کاشتکار کا دین اس پر معجل ہوا او راس کا دین اس پر ہنوز مؤجل ہے کہ اس کی میعاد نہ آئی اور اس نے اس کے روپے دے دئے اس نے لے لئے تو اس کا دین اس پر قائم رہے گا۔
فی ردالمحتار عن الحلی عن البحر سائر الدیون ای ماسوی النفقۃ یقع التقاص فیہا تقاصا اولا بشرط
ردالمحتار میں حلی سے بحوالہ بحر منقول ہے کہ نفقہ کے سوا تمام قرضوں میں ادلہ بدلہ ہوسکتاہے چاہے فریقین خود ایسا کریں نا نہ کریں بشرطیکہ دونوں طر ف کا
حوالہ / References فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالہ نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳
#13389 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
التساوی فلواختلفا کما اذا کان احدہما جیدا وردیا فلا بد من رضا صاحب الجید وفی الاشباہ علیہ الف قرض فباع من مقرضہ شیئا بالف مؤجلۃ ثم حلت فی مرضہ وعلیہ دین تقع المقاصۃ الخ قال فی غمز العیون انما قید بالحلول لانہا لو لم تحل تقع المقاصۃ لاختلاف الوصف کالجید مع الردی ۔
قرض باہم برابرہواور اگر مختلف ہو مثلا ایك طر ف عمدہ اور دوسری طرف ردی ہو تو عمدہ والے کی رضامندی ضروری ہےاور اشباہ میں ہے کہ ایك شخص پر ہزارو روپے قرض ہے اس نے قرض دہندہ کے ہاتھ کوئی چیز ہزارو رپے کے بدلے میں ادھار فروخت کردی پھر مقروض کے مرض الموت میں ادھار کی مدت پوری ہوگئی درانحالیکہ ابھی تك اس پر قرض موجود ہے تو اب یہ قرض ثمن مؤجل کا بدلہ ہوکر اتر جائے گا الخغمز العیون میں کہا کہ اس کو مدت کے پورے ہونے کے ساتھ مقید کیا گیا کیونکہ اگر مدت پوری نہ ہوئی تو ادلہ بدلہ نہ ہوگا کیونکہ وصف مختلف ہے جیسا کہ عمدہ اور ردی میں ہوتا ہے۔(ت)
اور کاشتکار کی طرف سے بیع ثانی بعد قبضہ ہونے کے ضرورت یہ ہے کہ اگر پیش از قبضہ بائع کے ہاتھ بیع کردے گا تو بیع فاسدوناجائز ہوگی غیر کے ہاتھ بیچنے میں تو صرف اشیائے منقولہ پر قبضہ شرط ہے مثلا عمرو نے زید سے کوئی منقول چیز مول لی اور ہنوز اپنے قبضہ میں نہ آئی کہ بکر کے ہاتھ بیچ ڈالی یہ بیع فاسد ہوئی اورجائداد غیر منقولہ لے کر پیش ازقبضہ غیر بائع کے ہاتھ بیع کردی تو جائز ہے مگر جس سے مول لی تھی اس کے ہاتھ قبضہ سے پہلے اشیائے غیر منقولہ کی بیع بھی جائز نہیں لہذا قبضہ لازم ہے۔
فی الدرالمختار صح بیع عقار لایخشی ھلاکہ قبل قبضہ من بائعہ(متعلق بقبض لاببیع لان بیعہ من بائعہ قبل قبضہ فاسد کما فی المنقول)ولا یصح درمختارمیں ہے غیر منقول جائداد کو اس کے بائع سے لے کر اپنے قبضہ میں کرنے سے پہلے فروخت کرنا صحیح ہے جبکہ اس جائداد کی ہلاکت کا خوف نہ ہو(من بائعہ کا تعلق قبض کے ساتھ ہے بیع کے ساتھ نہیں کیونکہ غیر منقول کو قبضہ سے پہلے اس کے بائع کے ہاتھ فروخت کرنا فاسد ہے جیسا کہ
حوالہ / References ردالمحتار
الاشباہ والنظائر کتاب المداینات ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۴۷
غمز عیون البصائر کتاب المداینات ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۴۷
#13390 · باب البیع السلم (بیع سلم کا بیان)
اتفاقا بیع منقول قبل قبضہ ولو من بائعہ بخلاف ھبتہ واقراضہ ورھنہ واعارتہ من غیر بائعہ فانہ صحیح علی الاصح اھ ملخصا مزیدا من ردالمحتار۔ واللہ تعالی اعلم۔
مال منقول میں ہوتاہے)اور مال منقول کی بیع قبضہ سے پہلے اگر چہ اس کے بائع کے ہاتھ ہو بالاتفاق صحیح نہیں بخلاف اس منقول کے غیر بائع کو ہبہ کرنے قرض دینے رہن رکھنے اور عاریت پر دینے کے کہ یہ اصح قول کے مطابق درست ہے۔ اھ تلخیص(مع ردالمحتار سے کچھ اضافہ کے)۔(ت)
مسئلہ ۲۴۳: ۲۹ شعبان ۱۳۳۳ھ مرسلہ حافظ ایاز نجیب آباد ضلع بجنور محلہ پورہ
ماہ جون میں جو زراعت نیشکر پر کرلہو بدلی ہوتی ہے اور نرخ بال کی یہ شرط قرار داد ہوئی کہ شاہ نگر کے سے ایك روپیہ یا(۸/)کم یا زیادہ طرفین کی رضامندی سے تحریر ہوجاتی ہے اور جو روپیہ اس وقت بوقت تحریر لینا ٹھہرتاہے وہ دے دیا جاتاہے باقی آئندہ مال آتا رہتاہے اورروپیہ جاتا رہتا آخر اختتام پر کل مال کا حساب وکتاب ہوجاتاہے اگر صورۃ مذکورہ جائز ہے و فبہا ورنہ اس کے جواز کے واسطے کیا حیلہ ہے کیونکہ اس کا عام رواج ہے۔
الجواب:
نیشکر کے بدلے جس طرح کہ رائج ہے محض بے اصل وبوجوہ ناجائز ہے اس وقت گنا بھی موجود نہیں ہوتا اور نہ رساس کے جواز کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ مثلا سوروپیہ کے بدلی کرنی منظور ہے تو اس کی خرید وفروخت کا کچھ نام نہ لیں بلکہ اپنی کوئی چیز سو روپے کی اس کے ہاتھ ایك معین مدت مثلا گھنٹے بھر کے وعدہ پر بیع کریں اور وہ شے اس کے قبضے میں دے دیں اور وہ ابھی گھنٹہ نہ گزرنے پائے کہ شخص مذکور وہی شے سو روپیہ نقد کو مالك اول کے ہاتھ بیع کردے اور یہ اسی وت سو روپیہ اس کے ادا کردے اب اس کی چیز اس کے پاس آگئی اور سو نقد اسے پہنچ گئے اور اس کے سوروپیہ اس پر دین رہے جب وہ وعدہ کا گھنٹہ گزرے یہ اپنے روپیوں کا ا سے تقاضا کرے وہ کہے میں تیرے روپے دس منٹ میں دوں گا اگر نہ دوں تو وعدہ کرتاہوں کہ اپنے روپیوں کے عوض اس نرخ سے رس دوں گا اس کے دستاویز جیسے لکھی جاتی ہے لکھالیں اب اس کی خریداری جائز ہوگئی اس حیلہ شرعیہ کی تحقیق وتفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔ والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع فصل فی التصرف فی المبیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۷،ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی التصرف فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۶۱
#13391 · باب الاستصناع (بیع استصناع کا بیان)
باب الاستصناع
(بیع استصناع کا بیان)

مسئلہ ۲۴۴: مسئولہ حافظ یعقوب خاں صاحب ۱۶ ربیع الآخر ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بڑھئی نے اقرار کیا کہ فلاں قسم کی کرسیاں ایك درجن ایك ماہ کے اندربقیمت مبلغ کودوں گا اور جب تك تمھاری کرسیاں تیار نہ کروں اور کسی کا یااپنا مال نہ بناؤں گا اگر وعدہ خلافی کروں تو کرسیاں مذکورہ بقیمت(للعہ عہ/)کو دوں گاپس بڑھئی نے وعدہ خلافی کی یعنی اور کسی کامال بنایا اور کرسیاں بھی ایك ماہ کے بعد دیں پس اس صورت میں حسب اقرار(للعہ عہ/)کو درجن لینا درست ہے یانہیں
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ کرسیاں اس عقد کی بنا پر نہ(للعہ عہ /)درجن کو لینا جائز نہ کو بلکہ اس عقد کا فسخ کرنا واجب ہے کہ یہ عقد فاسد ہوا اور عقد فاسد گناہ ہے اور گناہ کا ازالہ فرضہاں اگر چاہیں تو عقد کو فسخ کرکے اب یہ کرسیاں بعقد جدید باہمی رضامندی سے جتنے کو ٹھہر جائیں خریدلیںوجہ یہ ہے کہ کسی سے کوئی چیز اس طرح بنوانا کہ وہ اپنے پاس سے اتنی قیمت کو بنادے یہ صورت استصناع کہلاتی ہے کہ اگر اس چیز کے یوں بنوانے کا عرف جاری ہے اوراس کی قسم وصفت وحال وپیمانہ وقیمت وغیرہا کی ایسی صاف تصریح ہوگئی ہے کہ کوئی جہالت آئندہ منازعت کے قابل نہ رہے اوراس میں کوئی میعاد
#13392 · باب الاستصناع (بیع استصناع کا بیان)
مہلت دینے کے لئے ذکر نہ کی گئی تو یہ عقد شرعا جائز ہوتا ہے اور اس میں بیع سلم کی شرطیں مثلا روپیہ پیشگی اس جلسہ میں دے دینا یا اس کا بازار میں موجودرہنا یا مثلی ہونا کچھ ضرور نہیں ہوتا مگر جب اس میں میعاد ایك مہینہ یا زائد کی لگادی جائے تو وہ عقد بیعنہ بیع سلم ہوجاتاہے اور اس وقت تمام شرائط بیع سلم کا متحقق ہونا ضروری ہوتاہے۔ اگرا یك بھی رہ گئی عقد فاسد ہوگیا۔
فی رد المحتار عن البدائع من شروطہ بیان جنس المصنوع ونوعہ وقدرہ وصفتہ وان یکون ممافیہ تعامل وان لایکون مؤجلا والاکان سلما الخ وفیہ المراد بالاجل ماتقدم وھو شہر فما فوقہ الخ وفی الطحطاوی الاجل تارۃ یکون کاجل السلم بان کان شہرا فازید وھو عندہ سلم من غیر تفصیل الخ
وفی الہندیۃ ان ضرب الاجل صار مسلما(حتی لایجوز الابشرائط السلم)ھذا اذا کان ضرب المدۃ علی وجہ الاستمہال بان قال شہرا ومااشبہ ذلك امااذا ذکر علی وجہ الاستعجال بان قال علی ان تفرغ منہ غدا اوبعد غد لایصیر سلما کذا فی الصغری اھ ملخصا۔
ردالمحتار میں بحوالہ بدائع ہے استصناع کی شرطوں میں سے یہ ہے کہ مصنوع(جو چیز بنوانا مطلوب ہے)کی جنسنوع صفت اور مقدار کو بیان کرنا اوریہ کہ اس میں لوگوں کا عرف جاری ہو اور یہ کہ اس کی کوئی میعاد مقرر نہ کی جائے ورنہ وہ عقد سلم ہوجائے گا الخ اور اسی میں ہے کہ میعاد سے مراد وہی ہے جس کا پہلے ذکر ہوچکا ہے یعنی ایك ماہ یا اس سے زیادہ الخ طحطاوی میں ہے کہ میعاد کبھی سلم کی میعاد جیسی ہوتی ہے یعنی ایك ماہ یا اس سے زائد تو اس صورت میں بغیر کسی تفصیل کے یہ سلم ہے الخہندیہ میں ہے کہ اگر میعاد مقرر کی تویہ عقد سلم ہوگاجو کہ سلم کی شرطوں کے بغیر جائز نہیں) یہ اس وقت ہے جب بیان مدت مہلت طلب کرنے کے طور پر ہو مثلا ایك ماہ یا اس کی مثل ذکر کیا اور اگر مدت کا بیان طلب عجلت کے طور پر ہو مثلا کہا تجھ سے یہ چیز اس شرط پر بنواتا ہوں کہ توکل یا پرسوں اس کو بناکر فارغ ہوجائیں تو یہ عقد سلم نہ ہوگا یہ صغری میں ہے اھ تلخیص(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع باب السلم داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۱۲
ردالمحتار کتاب البیوع باب السلم داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۱۲
الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب البیوع باب السلم دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۲۶
فتاوٰی ہندیہ ابواب التاسع عشرفی القرض الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۰۸
#13393 · باب الاستصناع (بیع استصناع کا بیان)
یہاں کہ میعاد ایك مہینہ یا زائد ہی کی تھی عقد بیع سلم ہوگیا اور بوجہ تردید کہ ایك مہینہ میں تیس اور زیادہ میں چوبیس نہ قیمت معین ہوگی نہ مدتحالانکہ ان کی تعیین سلم میں ضرور ہے لہذا عقد فاسد ہوگیا بلکہ عند التحقیق استصناع ہر حال میں بیع ہی ہے۔
کما نص علیہ فی المتون وصححہ المحققون من الشراح ففی النقایۃ الاستصناع باجل سلم تعاملوا فیہ او لاوبلا اجل فیما یتعامل فیہ بیع والمبیع العین لاالعمل اھ ومثلہ فی الاصلاح والملتقی والتنویر وغیرھا وفی الہدایۃ الصحیح انہ یجوز بیعا لاعدۃ والمعدوم قد یعتبر موجودا حکما و المعقود علیہ العین دون العمل ھوالصحیح اھ مل خصا ونحوہ فی الایضاح والدر وغیرھما من الاسفار الغر و قد اوضحنا المقام مع ازالۃ الاوھام بتوفیق الملك العلام فیما علقناہ علی ردالمحتار۔
جیسا کہ متون میں اس پر نص کی گئی اور محقق شارحین نے اس کی تصحیح فرمائیچنانچہ نقایہ میں ہے استصناع میں اگر مدت مقرر کی جائے تو وہ سلم ہوجاتاہے چاہے لوگوں کا عرف اس میں جاری ہویا نہ ہو اور بغیر مدت مقرر کرنے کے اگر اس میں عرف جاری ہو وہ بیع ہے اور مبیع عین(مصنوع)ہے نہ کہ عمل اھ اور اصطلاحملتقی اور تنویر وغیرہ میں اس کی مثل ہےہدایہ میں ہے کہ یہ بطور بیع جائز ہے نہ کہ بطور وعدہ اور معدوم کو کبھی کبھی حکمی طورپر موجود اعتبار کرلیا جاتاہے اور معقود علیہ(مبیع)عین ہے نہ کہ عملاور یہی صحیح ہے اھ تصحیحاور اسی کی مثل ہے ایضاح اور در وغیرہ روشن کتابوں میں اور ہم نے الله تعالی کی توفیق سے ردالمحتار پر اپنی تعلیقات میں اس مقام کی وضاحت کرتے ہوئے تمام وہموں کا ازالہ کردیا ہے۔(ت)
اور بیع ہر گز ایسی جہالت ثمن کا تحمل نہیں کرسکتی کہ اتنی مدت ہو تو یہ قیمت اور اتنی ہو تو وہ
فی الخلاصہ رجل باع شیئا علی انہ بالنقد بکذا وبالنسئۃ بکذا اوالی شہر بکذا اوالی شہرین بکذا لم یجز ۔
خلاصہ میں ہے ایك شخص نے کسی شیئ کی بیع اس طرح کی نقد اتنے کی اورادھار اتنے کی یا ایك ماہ کے ادھار پر اتنے کی اوردو ماہ کے ادھار پر اتنے کیتو جائز نہیں۔(ت)
حوالہ / References مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایہ کتاب البیع نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۰۳
الہدایہ کتاب البیوع باب السلم مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۰۲
خلاصہ الفتاوٰی کتاب البیوع فصل فی خامس الجنس الاول فیما یتعلق بالثمن مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۶۰
#13394 · باب الاستصناع (بیع استصناع کا بیان)
تو استصناع میں اگرچہ ایك مہینہ یا اس سے زائد نہ ہو جب ایسی تردید کی جائیگی عقد فاسد ہوگا اور فسخ واجبھذا ماظہر لی واللہ تعالی اعلم(یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا۔ اورالله تعالی بہتر جانتاہے۔ ت)
مسئلہ ۲۴۵:زید کے دوست نے فرمائش لکھی کہ مجھ کو کحل الجواہر بھیج دوزید عمروکے دکان سے قرض خرید لایااور بعد دو ایك روزکے واپس کردیااس کے یہاں جاکر اورخیال دل میں یہ تھاکہ شاید وہ دوست قیمت نہ بھیجے تو مجھ کو دینا ہوگیغرض اس کے سامنے یعنی مالکان دکان کو دے دیا اور یہ اس سے کہا بھی مالك کحل الجواہر نےمیاں ذراسی بات کے لئے پھر شرمندہ ہونا پڑا ہےاورقیمت تومیری پڑیا کحل الجواہر پر لکھی ہوئی ہے وہ بھیج دیں گے تم کو قیمتتم ان کوکحل الجواہر بھیج دوپس بامر بائع دوبارہ زید نے اس کو لاکر بھیج دیا اپنے دوست کے پاسسوال یہ ہے کہ اس صورت میں مالك کحل الجواہر زید سے قیمت وصو ل کرنے کا مجاز ہے یانہیں اب زید نے اس کے امر سے بھیجا ہے۔ بینوا توجروا
الجواب:
ضرورت وصول کرسکتاہے کہ فرمائش دوست کا حاصل اگر فرمائش نہ بھی ہو جس میں حقیقۃ خود زید مشتری ٹھہرے تو غایت درجہ توکیل سہی
والحقوق فی البیوع ترجع الی الوکیل بخلاف النکاح فلیس فیہ الامعبرا اوسفیرا کما صرحوا بہ فی عامۃ الکتب۔ بیوع میں حقوق وکیل کی طرف لوٹتے ہیں بخلاف نکاح کے کہ اس میں وکیل محض تعبیر کرنے والا سفیر ہوتاہےجیسا کہ فقہاء نے عام کتابوں میں اس کی تصریح کردی۔(ت)
توکیل سے قیمت وصول کرنے کا یقینا اختیار ہے اوراس کے کہنے سے خریدنا اس کا مانع نہیں ہوسکتا۔
فانہ اشارۃ لااکراہ فالشراء انما وقع من زید برضاہ واللہ سبحنہ وتعالی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم
کیونکہ یہ مشورہ ہے اکراہ نہیں ہے اور زید سے بیع اس کی رضامندی سے ہوئی ہے اور الله تعالی بہتر جانتاہے اور اس کا علم اتم ومستحکم ترین ہے۔(ت)
#13395 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
باب الصرف
(بیع صرف کا بیان)

مسئلہ ۲۴۶: از شاہجہان پور
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نوٹ پر بٹہ لگانا مثلا سو(ما/)روپے کا نوٹ ننانوے(لع لعہ)کو خریدنا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
ظاہر ہے کہ نوٹ ایك ایسی حادث چیز ہے جسے پیدا ہوئے بہت قلیل زمانہ گزرا فقہائے مصنفین کے وقت میں اس کا وجود اصلا نہ تھا کہ ان کے کلام میں اس کا جزیہ بالتصریح پایا جائے مگراس وقت جہاں تك خیال کیا جاتاہے نظر فقہی میں صورت مسئولہ کا جواز ہی معلوم ہوتاہے اور عدم جواز کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی پرظاہر کہ علت تحریم ربا قدرمع الجنس ہے یہ اگر دونوں متحقق ہوں تو فضل ونسیہ دونوں حرام اور ایك ہو تو فضل جائز نسیہ حرام اور دونوں نہ ہو تو دونوں حلال۔
کما فی عامۃ الاسفار وفی تنویر الابصار علتہ القدر مع الجنس فان وجدا حرم الفضل والنساء و ان جیسا کہ عام کتابوں میں ہےاور تنویر الابصارمیں ہے کہ زیادتی کے حرام ہونے کی علت قدر مع الجنس ہے اور یہ دونوں موجود ہوں تو زیادتی اور ادھار
#13396 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
عدماحلا وان وجد احدھما حل الفضل وحرم النساء ۔
دونوں حرام ہیں اور اگر ایك موجود ہو تو زیادتی حلال اور ادھار حرام ہے اور اگر دونوں معدوم ہو تو زیادتی اور ادھار دونوں حلال ہیں۔(ت)
اور مانحن فیہ میں بالبداہۃ دونوں مفقود عدم مجانست اس لئے کہ یہ کاغذ ہے وہ چاندیاور انعدام قدر اس طرح کہ یہ نہ مکیل ہے نہ موزونپس حسب ضابطہ مقررہ یہاں فضل ونسیہ دونوں حلال ہونا چاہئےمسئلہ کا جواب تو اسی قدر سے ہوگیا لیکن غیر فقیہ کو اس جگہ یہ وہم گزرتاہے کہ ہر چند اصل حقیقت میں نوٹ صرف ایك چھپے ہوئے کانام ہے مگر عرف واصطلاح میں گویا وہ بعینہ روپیہ ہے اسی لئے ہر جگہ روپیہ کا کام دیتاہے لین دین میں سوروپے کا نوٹ دینے اور سو روپیہ نقد دینے میں ہرگز تفاوت نہیں سمجھا جاتا عموما اس کے ساتھ معاملہ اثمان برتاجاتا ہے تو گویا وہ سورپے تھے کہ بعض ننانوے کے خریدے گئے اور اس کی حرمت میں کچھ شبہ نہیں توصورت مسئولہ میں حکم تحریم دیا چاہئے۔
اقول:جسے فن شریف فقہ میں کچھ بھی بصیرت حاصل ہے اس کے نزدیك اس کا وہم کا ازالہ نہایت آساننوٹ کے ساتھ تومعاملہ اثمان برتا جانا اسے حقیقۃ ثمن یعنی احدالنقدین نہ کردے گا غایت یہ کہ اثمان مصطلحہ سے ٹھہرے یعنی وہ کہ اصل خلقت میں سلع وکالا ہیں مگر عرف واصطلاح نے انھیں ثمن ٹھہرالیا ہے جیسے پیسے یا بعض بلاد ہند میں کوڑیاں بھیاور ازا نجا کہ اثمان اصلیہ سوا زروسیم کے کچھ نہیں تو اہل عرف اگر غیر ثمن کو ثمن کرنا چاہیں ناچار اس کی تقدیر اثمان خلقیہ سے کریں گےاسی لئے پیسوں کی مالیت یونہی بتائی جاتی ہے کہ روپے کے سولہ آنے پس نوٹ کو جب عرفا ثمن کرنا چاہا اس کے اندازے میں بھی اصل ثمن کی جانب رجوع ضرور ہوئی اور یوں قرار دیاگیا کہ فلاں نوٹ سوروپے کافلاں دو سو کافلاں ہزار کامگر یہ صرف تقدیر ہی تقدیر ہے اس سے اتحاد جنس وقدر ہرگز لازم نہیں آتا جیسے اندازہ فلوس سے چونسٹھ پیسے روپے کا عین نہ ہوگئے یوں ہی اس قرارداد سے وہ نوٹ حقیقۃ سوروپے یاچاندی نہ ہوجائے گاپس علت ربا کا تحقق ممکن نہیں نہ عاقدین اتباع عرف واصطلاح پر مجبور کہ جو قیمت انہوں نے ٹھہرادی یہ اس سے کم وبیش نہ کرسکیں یہ اپنے معاملہ کے مختار ہیں چاہیں سو روپے کی چیز ایك پیسے کو بیچیں یا ہزار اشرفی کو خریدیں صرف تراضی درکار ہےآخر نہ دیکھا کہ ایك روپے کے پیسے بہ تعیین عرف ہمیشہ معین رہتے ہیں مگر علماء نے اٹھنی سے زیادہ کے عوض میں آٹھ آنے بیچناروا رکھااور سب جانتے ہیں کہ ایك اشرفی کئی روپے کی ہوتی ہے لیکن فقہا نے ایك روپے
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب الربٰو مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۱
#13397 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
کے عوض ایك اشرفی خریدنا جائز ٹھہرا یا تو یہ وجہ کیا ہے وہی اختلاف جنس جس کے بعد تفاضل میں کچھ حرج نہیں
فی الدرالمختار ومن اعطی صیر فیا درہما کبیر افقال اعطنی بہ نصف درہم فلوسا(بالنصف صفۃ نصف) ونصفا(من الفضۃ صغیرا)الاحبۃ صح(ویکون النصف الاحبۃ بمثلہ وما بقی من الفلوس )
درمختار میں ہے کہ کسی نے صراف کو ایك بڑا درہم دیتے ہوئے کہا کہ مجھے نصف درہم کے عوض ایك چھوٹا درہم جو بڑے درہم کے نصف سے ایك حبہ کم ہو دے دے تو یہ بیع صحیح ہے اور چھوٹا درہم جو بڑے کے نصف سے ایك حبہ کم ہووہ اپنے مثل کے مقابل ہوجائیگا اور باقی پیسوں کے مقابل ہوگا۔(ت)
اور اسی میں ہے:
صح بیع درہمین ودینار بدرہم ودینارین لصرف الجنس بخلاف جنسہ ۔
دو درہم اور ایك دینار کی بیع ایك درہم اور دو دیناروں کے بدلے میں صحیح ہے کیونکہ ہر جنس کو اپنی جنس کے خلاف کے مقابل قرار دیاجائے گا۔(ت)
جب یہاں تك شرعا جائز رہا تو سوروپے کا نوٹ ننانوے کے عوض خریدنے میں کیاحرج ہوسکتاہے کہ یہاں تو نہ قدر متحد نہ جنس واحدیہ حکم بیع وشراء کا ہے جہاں نفع وانتفاع شرعارواالبتہ قرض اس طرح پر دینا کہ ننانوے روپے دیتاہوں اور ان کے بدلے سور وپے کا نوٹ لے گا بے شك ممنو ع ہوگا
فان کل قرض جرمنفعۃ فہو ربو نطق بذلك الحدیث و الفقہ ۔ کیونکہ جو قرض نفع کو کھینچے وہ سود ہے حدیث اور فقہ اس پر ناطق ہیں(ت)
یہاں تك کہ علمانے تو منفعت سقوط خطر طریق کے سبب ہنڈوی کو ناجائز ٹھہرایا کما ذکروہ اخر کتاب الحوالۃ(جیسا کہ فقہا نے اس کا ذکر کتاب الحوالہ کے آخر میں کیا ہے۔ ت)اوراسی طرح بقال کے پاس اس شرط پر روپیہ پیشگی رکھ دینا کہ حسب حاجت وقتا فوقتا چیزیں خریدتے رہیں گے صرف اسی نفع کی وجہ سے مکروہ فرمایا
کما فی الکراہیۃ الہدایۃ وغیرہا قبیل مسائل متفرقۃ۔
جیساکہ ہدایہ وغیرہ میں کتاب الکراہیۃ کے تحت مسائل متفرقہ سے تھوڑا پہلے مذکورہے۔(ت)
حالانکہ یہ منفعتین کوئی مال نہیں تو مالیت میں رجحان کیونکر درست ہوگا بیشك یہ امر مقصد شرع کے(کہ صیانت
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۷
درمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۵
کنزالعمال حدیث ۱۵۵۱۶ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۶/ ۲۳۸
#13398 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
اموال ناس ہے اور وہی علت تحریم ربا کما فی الفتح(جیسا کہ فتح میں ہے۔ ت)بالکل خلاف ہے ھذا ماظہرلی(یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۷: مرسلہ شیخ حسین بخش صاحب رضوی فاروقی خیر آبادی ۲۹ رجب ۱۳۰۵ھ
چہ میفرمایند مسند آرایان شرع مبین ومولویان دین متین درباب کہ زید یك درم نزدبکر آورد گفت کہ این درم برگیرد فلوس بدہ بکر منجملہ نرخ فلوس رائج الوقت زید راداد گفت کہ فلوسے چند بموجب نرخ کم اند بازآمد برگیرید آید وقت دوم آمدہ باقی ماندہ فلوس برگرفت بموجب شرع لطیف ایں عمل نامشروع ست یا جائز وفلوسہائے باقی ماندہ از روئے شرع شریف ربو باشد یا نہ بینوا توجروا بحوالہ کتاب والیہ المرجع والمآب واللہ تعالی اعلم بالصواب مسند شریعت پر جلوہ افروز ہونے والے دین متین کے علمائے کرام اس مسئلہ میں کیا ارشاد فرماتے ہیں کہ زید ایك درہم بکر کے پاس لایا اور کہا یہ درہم لے لو اوراس کے پیسے دے دوبکر نے بازار کے نرخ کے مطابق رائج الوقت پیسے زید کو دیتے ہوئے کہا کچھ پیسے کم ہیں پھر کسی وقت آکر لے جاناچنانچہ زید بعد میں کسی وقت آیا اور باقی پیسے لے لئے شریعت لطیفہ کی رو سے یہ عمل جائز ہے یا ناجائز بقیہ پیسے جو بعد میں لئے گئے سودہونگے یانہیں بحوالہ کتب بیان فرمائیں اور اجر پائیںالله تعالی کی طرف ہی لوٹ کر جاناہے اوروہی بہتر جانتاہے۔(ت)
الجواب:
دربیع فلوس بدرہم برمذہب راجح تقابض شرط نیست ہمیں قبضہ یك جانب کافیست پس چوں زید درہم بہ بکر داد قبضہ از یك طرف متحقق شداگرزید آن دم یك پول ہم نگرفتے روابودے حالانکہ بعض آں وقت وبعض دیگر وقت دیگر گرفت وہنوز فلس رائج بودہ کاسد نشدہ ہم جائز ماند وہیچ احتمال ربو رانیافت فی الھندیۃ عن المبسوط اذا اشتری الرجل فلوسا بدراہم ونقد الثمن راجح مذہب کے مطابق پیسوں کی درہم کے ساتھ بیع میں دو طرفہ قبضہ شرط نہیں بلکہ صرف ایك طرف کا قبضہ کافی ہے لہذ جب زید نے بکر کو درہم دے دیا تو ایك طرف سے قبضہ متحقق ہوگیااگرزید اس وقت ایك پیسہ بھی نہ لیتا تب بھی جائز تھا حالانکہ یہاں تو کچھ پیسے اس وقت اورکچھ دوسرے وقت اس نے لئے اور دوسرے وقت تك وہ پیسے رائج تھے کھوٹے نہیں ہوئے تو یہ جائز ہےاور سود کا اس میں کوئی احتمال نہیںہندیہ میں مبسوط کے حوالہ سے مذکور ہے کہ ایك شخص نے درہموں کے بدلے
#13399 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
ولم تکن الفلوس عندالبائع بالبیع جائز اھ وفیہا عن الحاوی وغیرہ لو اشتری مائۃ فلس بدرہم فقبض الدرہم و قبض خمسین فلسا فکسدت بطل فی النصف ولولم تکسد لم یفسد وللمشتری مابقی من الفلوس اھ ملخصا وایں مسئلہ رادر فتوائے دیگر ہر چہ تمامتر رنگ تفصیل دادہ ام۔ واللہ تعالی اعلم۔
میں پیسے خریدے اور ثمن نقد ادا کردئے جبکہ بائع کے پاس اس وقت پیسے موجود نہیں تھے تو یہ بیع جائز ہے اھاسی میں حاوی وغیرہ کے حوالہ سے مذکور ہے کہ اگر کسی نے ایك درہم کے عوض سو پیسے خریدے بائع نے درہم پرقبضہ کرلیا اور مشتری نے پچاس پیسوں پر قبضہ کرلیا اب پیسے کھوٹے ہوگئے تو نصف میں بیع فاسد ہوگئی اگروہ کھوٹے نہ ہوتے تو بیع فاسد نہ ہوتی اور مشتری کو باقی پیسے لینے کاحق ہوتا اھ تلخیص اس مسلہ کومیں نے دوسرے فتوی میں تمام تر تفصیل کا رنگ دیا ہےاور الله تعالی بہتر جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۲۴۸: از پکسرانوالہ ڈاکخانہ رسول پور ضلع رائے بریلی مسئولہ عبدالوہاب ۲۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بکر سے ایك روپیہ کے پیسے بھنائے بکر نے روپیہ لے کر بارہ آنے اسی وقت زید کو دے دئے اورکہا چارآنے اس وقت نہیں کل یا پرسوں دے دوں گا اب بقیہ پیسہ زیدکو دوسرے یاتیسرے دن لینا جائز ہے یاربا لازم آئے گا۔ بینوا توجروا
الجواب:
روپے اورپیسوں کے مبادلہ میں ایك طرف کا قبضہ کافی ہے صورت مسطور ہ میں کوئی ربانہ ہوگاوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۹: از کانپور گورکھپور دکان مرسلہ محمد حی صاحب ۱۵ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نوٹ مروجہ مبلغ یك صد روپیہ کا ہے اس کا خوردہ نوٹ لیا جائے کم بیش پر جائز ہے یانہیں خوردہ میں نقد روپیہ ہو یا چھوٹے نوٹ ہوں سو روپے نقدکے مقابلہ میں سوروپے کا نوٹ لیا جائے یا اس پر کچھ بٹہ لے کر کمی بیشی جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الصرف الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۲۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب الصرف الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۲۵
#13400 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
الجواب
نوٹ کی بیع اور مبادلہ میں کمی بیشی برضامندی فریقین مطلقا جائز ہے کہ وہ اموال ربویہ سے نہیں۔ ہاں سو روپے کا نوٹ قرض دیا جائے اور یہ ٹھہرا لیا جائے کہ پیسہ اوپر سو لیں گے یہ سود اور حرام قطعی ہےاوراس کے تمام مسائل کی تفصیل اگر درکار ہو تو ہمارے رسالہ کفل الفقیہ الفاھم میں ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۰: از گونڈل معرفت قاضی قاسم صاحب مرسلہ سید غلام محی الدین صاحب راندیری ۱۱ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ موتی کے بیوپاری موتیوں کی خریدوفروخت کرتے ہیں سو روپیہ اور بروقت قیمت لینے دینے کے فیصدی دس روپے کم کے حساب سے معاملہ طے ہوتاہے پھر بھی اگر خریدنے والا نقد روپے ادا کرے تو فی صد پندرہ روپے کم سے معاملہ طے ہوتاہے ورنہ مہینے کی میعاد کے بعد ادا کرے تو وہی فیصدی دس روپے کم لینے دینے کا رواج ہےآیا اس طرح کامعاملہ طے کرنا اور خرید وفروخت کرنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
جبکہ باہمی تراضی سے ایك امر متعین منقطع ہوکوئی حرج نہیں
قال تعالی " الا ان تكون تجارة عن تراض منكم- " ۔
واللہ تعالی اعلم۔ الله تعالی نے فرمایا: مگر یہ کہ ہو تمھارے درمیان تجارت باہمی رضامندی سے والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۵۱: مرسلہ الف خاں مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ سانگور ریاست کوٹہ راجپوتانہ ۲۳ صفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان کرام اندریں معاملہ کہ قصبہ سانگور کے مدرسہ انجمن اسلامیہ کا روپیہ عرصہ دراز سے جمع رہتاہے اس سے کوئی تجارت وغیرہ نہیں ہوتی ہے کہ جس سے روپے کی افزائش کی صورت ہولہذا اگر ان روپوں کی اشرفیاں کسی قدر کہ جن کا نرخ اس وقت کمی بیشی ہوجاتاہے خرید کر ہمراہ روپیہ ان اشرفیوں کا نرخ اس وقت کے حساب سے زیادہ قیمت پرلگا کر ادھار میں بیع کی جائیں تویہ عمل شرعا درست ہے کہ نہیں یا کہ برائے اطمینان اس عمل کے ساتھ زیور رہن لیاجائے تو یہ طریقہ بیع اشرفیوں کا درست تونہیں ہے جواب بطریق مذہب حنفی دیا جائےآفرید گار عالم جزائے خیرعنایت فرمائے گا۔ بینوا توجروا
حوالہ / References القرآن الکریم ۴ /۲۹
#13401 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
الجواب:
صورت مذکورہ سوال حرام ہے
قال صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم الاھاء وھاء ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا:مگر(یہ اس وقت جائز ہے)جب ہاتھوں ہاتھ ہو یعنی مجلس میں دونوں طرف سے قبضہ کرلیا جائے۔(ت)
ہاں یہ جائز ہے کہ اشرفیاں وقت ارزانی خریدیں اور وقت گرانی بیچیں یا باجازت اہل چندہ نوٹ خرید کر ادھا ر زیادہ کو بیچیں مگرعقد ہو جس میں ثمن ایك مدت معینہ کے بعد دینا قرارپائےیہ ہو کہ اس کانوٹ دو مہینہ کے وعدے پر قرض دیا اور پیسہ اوپر لینا قرار پایا کہ یہ حرام ہےحدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فہو ربو ۔
جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔(ت)
بخلاف بیع کہ اس پر نفع لینا جائز ہے۔
قال اللہ تعالی " و احل الله البیع و حرم الربوا " ۔
الله تعالی نے فرمایا:اور الله تعالی نے بیع کو حلال اور سود کو حرام کیا۔(ت)
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا اختلف النوعان فبیعوا کیف شئتم ۔
جب نوعیں مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیع کرو۔(ت)اور اس کی کامل تفصیل ہمارے رسالہ"کفل الفقیہ الفاھم"میں ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۲: از بیرم نگر ڈاکخانہ سرگدا مرسلہ غلام صدیق صاحب مدرس ۱۰ شوال ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید پیسے کوڑی بیچنے کا پیشہ کرتاہے جووقت خریداری روپیہ قیمت کا دیتاہے اس کو پونے سولہ گنڈے پیسے دیتاہے اور جو روپیہ قیمت کا اسی وقت نہیں دیتے ہیں دوسرے وقت کا وعدہ کرتے ہیں ان کو یازدہ گنڈے پیسے دیتاہے اور مدت وعدہ اور کمی بیشی نرخ کا جیسے سودکا شبہ پڑے کچھ حساب نہیں کرتا بطور نوٹ فروشی یہ بیع بھی صحیح ہے یانہیں بینوا توجروا
حوالہ / References صحیح البخاری کتاب البیوع باب بیع الشعیر بالشعیر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۹۰
کنزالعمال حدیث ۱۵۵۱۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۲۳۸
القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
نصب الرایہ کتاب البیوع المکتبۃ الاسلامیہ ریاض ۴/۴
#13402 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
الجواب:
صراف کہ نقد روپیہ دینے والے کو پونے سولہ آنے دے یہ بیع بلاکراہت جائز ہے اور جوروپیہ اس وقت نہ دے دوسرے وقت کا وعدہ کرے اسے روپے کے عوض بارہ آنے دینا بھی جائز ہےسود وحرام وگناہ نہیںصرف مکروہ تنزیہی یعنی خلاف اولی ہے کہ نہ کرے تو بہتر ہے او رکرے تو حرج نہیں۔
فی فتح القدیر وردالمحتار وغیرہما من الاسفار لا کراھۃ فیہ الاخلاف الاولی لما فیہ من الاعراض عن مبرۃ القرض ۔ واللہ تعالی اعلم۔
فتح القدیر اور ردالمحتاروغیرہ کتابوں میں مذکور ہے کہ اس میں کراہت نہیں تاہم یہ خلاف اولی ہے کیونکہ اس میں یہ قرض دینے کے احسان سے اعراض ہےاور الله تعالی بہتر جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۲۵۳ تا ۲۵۴: از بدایوں محلہ سوتہنہ مرسلہ مولوی حامد بخش صاحب خان بہادر ۲۷ رمضان المبارك ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)زید نے دس روپیہ کاسرکاری نوٹ بکرکے ہاتھ بارہ روپے میں اس شرط سے بیچا کہ بکر اس کو ایك سال میں بارہ روپیہ باقساط یاکل یکشمت ادا کردے تویہ بیع صحیح ہے اور سود تونہیں ہے
(۲)زید نے مختلف دھات کے سکہ دس روپیہ کے جمع کرکے بکر کے ہاتھ(صہ عہ/)روپیہ میں بیع کئے او ر یہ روپیہ چار ماہ کے بعدلینا چاہا تو یہ بیع صحیح ہے یانہیں یا اس پندرہ روپیہ کاغلہ کسی قسم کا کسی نرخ پر ٹھہرالیا تو وہ جائز ہے یانہیں
الجواب:
(۱)نوٹ اگرقرض دیا جائے اور ایك پیسہ زیادہ لینا ٹھہرالیا جائے تو قطعی حرام ہے قال اللہ تعالی " و حرم الربوا " (الله تعالی نے فرمایا:اور الله تعالی نے سود کو حرام کیا۔ ت) اور اگر نوٹ روپیہ کے عوض بیع کریں اور اس پر جو قیمت مکتوب ہے اس سے کم یا زیادہ برضائے باہمی معجل خواہ مؤجل باجل معلوم ثمن قرار دیں تو ضرور حلال ہے قال اللہ تعالی " و احل الله البیع " (الله تعالی نے فرمایا:اور الله تعالی نے بیع کو حلال کیا۔ ت) جس شخص نے یہ گمان کیا کہ نوٹ عرفا چاندی کا عین ہو رہا ہے تو
حوالہ / References α ردالمحتار کتاب البیوع باب الصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۴۴
α القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
α القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
#13403 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
دس کا نوٹ بارہ کو بیچنا گویا دس روپے بارہ روپیہ کو بیچنا ہے اور سود ہے یہ اس کی محض نافہمی اور قواعد شرعی سے بیگانگی بہ استیلا ئے وہمی ہے نوٹ اگر چاندی کا ہم جنس نہیں اور قطعا نہیں جب تو کمی بیشی حرام ٹھہرانا کیا معنی کہ ہمارے ائمہ کرام رضوان الله تعالی علیہم اجمعین کے اجماع سے اختلاف جنس کی حالت میں تفاضل حلال ہے اور اگر بفرض غلط اسے چاندی کا عین سمجھ لیجئے تو اب دس کانوٹ دس کو بیچنا عین سود اور حرام مردود ہوگااموال ربویہ میں شرع نے مالیت کالحاظ نہیں فرمایا بلکہ وزن وکیل میں برابری کاحکم دیا ہے تمام کتب میں تصریح ہے کہ جیدہ وردیہ سواء(اس کا عمدہ اور ردی برابر ہیں۔ ت)سادہ کاری کا زیور ایك ماشہ وزن کا ایك ایك روپیہ کی مالیت کا ہوتاہے پھر کیا شرعا ماشہ بھر چاندی کی انگوٹھی ایك روپے کی بیچنی حلال ہوگیحاشا بلکہ قطعا سود ہوگی واجب یہ کہ تول میں بلا تفاوت یکساں ہوں تو نوٹ بھی اگر چاندی ہی کا قرار پاگیا تو ہرگز اس کا لحاظ جائز نہیں کہ مالیت میں دس یا سو یا ہزار روپے کا ہے بلکہ وزن معتبر ہوگا کانٹے میں ایك طرف نوٹ دوسری طرف چاندی رکھئے دونی چونی جو کچھ چڑھے بس اتنے کو بیچنا حلال ا ورا س سے ایك پیسہ زیادہ لیا اور سود کا وبال تو ظاہر ہوا کہ نوٹ کو چاندی ٹھہرا کر جو لوگ دس کا نوٹ دس ہی کو بیچنا بتارہے ہیں اب اپنے منہ آپ سود کو حلال کرتے اور بندگان خدا کو حرام کا راستہ سکھا رہے ہیںجانے دیں ان کی خاطر ہم نے تسلیم کرلیا کہ نوٹ بالکل چاندی ہے اور روپے سے بدلنے میں اس کی مالیت ہی کی برابر لازم ہے بہت اچھاجب وہ چاندی ٹھہرا تو سونا تونہ ہوسکے گا یا ایك ہی چیز یا سونے دونوں کی عین ہے اور جب سونا نہیں تو نوٹ اور اشرفی ضرور مختلف الجنس ہیں اور اب تفاضل یقینا سود نہیں دو روپے اور ایك اشرفی کو دو اشرفیوں اور ایك روپے کے عوض بیچنے کا جزئیہ درمختار وغیرہ کتب مذہب میں مصرح ہے صرفا للجنس الی خلاف الجنس (جنس کو خلاف جنس کی طرف پھیرتے ہوئے۔ ت)یعنی یہ قرار دینگے کہ ایك اشرفی ایك روپے کو بیچی اور دو۲ روپے دو۲ اشرفیوں کے عوض بیع کئے اور یہ صحیح ہے کہ جنس مختلف ہے تو دس روپے کا نوٹ بارہ اشرفیوں کو بیچنا تو سود نہ ہوگا اب اپنے اس مسئلہ کا اندازہ خود وہی کرسکیں گے کہ دس روپے کا نوٹ بارہ روپے کو بیچنا تو سود اور بارہ اشرفیوں کو بیچنا صحیح وغیر مردود۔
بالجملہ یہ سب ہوسات بے معنی ہیں جن پر شرع مطہر سے اصلا دلیل نہیں اور ہمارے علمائے کرام قدست اسرارہم کی کرامت ہے کہ حدوث نوٹ سے صدہا سال پہلے اس کا جزئیہ ارشاد فرماگئے۔ فتح القدیر میں فرمایا:
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۵
#13404 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
لوباع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ ۔
یعنی اگر کسی نے کاغذ کا ٹکڑا ہزارروپے کو بیچا جا ئز ہے اور اصلا کراہت بھی نہیں۔
اس وقت کاغذ کا ٹکڑا ہزار کو بکتا کہاں تھا وہ یہی نوٹ کہ اب حادث ہوا اور علماء نے صدہا سال پیشتر اس کا حکم بتایایہ اجمال ہے اور اس مسئلہ کی باقی تفصیل فتاوی فقیر میں ہے اور اہل انصاف کو اسی قدر کافی۔ والله تعالی اعلم۔
(۲)غلہ کہ ابھی نہ لیا جائے گا اور وعدہ پر ٹھہرا لیا گیا اس میں تو بیع سلم کی شرائط درکارہیں جن کی تفصیل و تمثیل سب بتکمیل فتاوی فقیرمیں مذکوراور اگر ان دھاتوں میں سونا چاندی دونوں میں سے کچھ نہیں تو دس کی مالیت کی پندرہ روپے کو چارماہ کے وعدہ پر بیچنا جائز جبکہ ایك طرف سے قبضہ ہوجائے اوراگر سونا یا چاندی بھی ہے تو وعدہ پر بیچنا حرامہاں نقد پندرہ روپے کو دس روپے کے مختلف دھاتوں کے سکے دے دینا صحیح ہے اور سود نہیں
لما مرصرف الجنس الی خلاف الجنس ای فیکون بالفضۃ مایساویہا وزنا من الدراہم وبالباقی الباقی واللہ تعالی اعلم۔
جیساکہ گزرا کہ جنس کو خلاف جنس کی طرف پھیرا جائیگا یعنی چاندی کے بدلے درہم میں سے اس وزن کے برابر ہوگا اور باقی باقی کے بدلےاور الله تعالی بہتر جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۲۵۵: از شہر کہنہ مرسلہ حمایت الله خاں صاحب ۲۹ رجب ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ دس روپے کا نوٹ دے کر بارہ روپیہ عوض میں لینا حلال ہے یا حرام بینوا توجروا
الجواب:
بیع میں حلال ہے یعنی دس کانوٹ بارہ یا بیس کو برضائے مشتری بیچے تو کچھ مضائقہ نہیں فتح القدیرو ردالمحتار وغیرہما کتب معتمدہ میں ہے:
لوباع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ ۔
اگر کاغذ کا ٹکڑا ہزاروپے میں بیچا تو جائز ہے اور ا س میں کوئی کراہت نہیں۔(ت)
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴
درمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی۲ /۵۵
فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۳۲۴
#13405 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
اور اصطلاحی طورپر اس کی قیمت معین ہونا بائع اور مشتری کی باہمی رضامندی کو نہیں روکتاہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنا مال جو عام نرخ سے دس روپے کا ہو برضائے مشتری سو روپیہ کو بیچے یا ایك ہی پیسہ کو دے دے۔
قال اللہ تعالی" الا ان تكون تجارة عن تراض منكم- " ۔
الله تعالی نے فرمایا:مگر یہ کہ ہو تمھارے درمیان تجارت تمھاری باہمی رضامندی سے۔(ت)
نوٹ کا ثمن اصلاحی ہونا بھی اس کا مانع نہیں کہ اختلاف جنس کی حالت میں ہمارے ائمہ کے اجماع سے تفاضل جائز ہے ایك روپے کے پیسے بہ تعین عرف ہمیشہ معین رہتے ہیں ہر بچہ جانتاہے کہ روپے کے صرف سولہ آنہ آتے ہیں نہ پندرہ نہ سترہیہ عرفی تعیین اور اس کا ثمن مصطلح ہونا عاقدین پر کمی بیشی حرام نہیں کرسکتا۔ علماء نے تصریح فرمائی کہ اٹھنی سے زیادہ کے عوض آٹھ آنے پیسے بیچنا حلال ہے درمختارمیں ہے:
من اعطی صیر فیادرہما کبیرا فقال اعطنی بہ نصف درہم فلوساونصفا الاحبۃ صح ویکون النصف الاحبۃ بمثلہ ومابقی بالفلوس ۔ کسی نے صراف کو ایك بڑا درہم دیتے ہوئے کہا کہ نصف درہم کے پیسے دے دو اور نصف درہم دے دو جس میں سے ایك حبہ کم تر ہو تو بیع صحیح ہوگی نصف درہم ایك حبہ کم اپنی مثل کے مقابل ہوجائے گا اور باقی پیسوں کے مقابل ہوگا۔ (ت)
نوٹ اور پیسے تو اصطلاحی ثمن ہیں سونا چاندی ثمن خلقی ہیں اور ہر شخص جانتاہے کہ ایك اشرفی کئی روپے کی ہوتی ہےمگر علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ایك روپیہ ایك اشرفی کو بیچنا صحیح ہے تو وجہ وہی ہے کہ اختلاف جنس کے بعد تفاضل جائز ہے۔ درمختارمیں ہے:
صح بیع درہمین ودینار بدرہم ودینارین بصرف الجنس بخلاف جنسہ ۔
دودرہموں اور ایك دینار کو دو دیناروں اور ایك درہم کے بدلے فروخت کرنا صحیح ہے جنس کو خلاف جنس کی طرف پھیرنے کی وجہ سے۔(ت)
عام اشیاء کی قیمت کا اندازہ روپوں ہی کے ساتھ کیا جاتاہے اس سے وہ روپے کے عین یا چاندی کی جنس نہیں ہوجاتیں اشرفیوں کا اندازہ بھی یونہی ہے کہ فلاں اشرفی سولہ روپے کی فلاں بیس کی فلاں
حوالہ / References القرآن الکریم ۴ /۲۹
درمختار باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۷
درمختار باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۵
#13406 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
پچیس کی پیسوں کا اندازہ بھی یہی ہے کہ روپے کے سولہ آنے چونسٹھ پیسے اس سے اگر پیسے یا اشرفی روپے کے عین یاچاندی کی جنس ہوجاتے تو ایك اشرفی ایك روپیہ کو کیونکر جائز ہوتی جبکہ بیس روپے کی اشرفی ایك روپے کو بیچنا یایوں کہئے کہ مشتری کی طرف سے ایك روپیہ پچیس روپے کی اشرفی کو بیچنا صحیح ہوا اور ربا نہ ٹھہرا تو دس کانوٹ بارہ کو دینا کہاں سے رباہوجائیگا پچیس کے اشرفی کہنے نے جس طرح اشرفی کو چاندی نہ کردیا تھا یونہی دس کا نوٹ کہنا کاغذ کو نقرہ نہ بنادے گا۔ عام کتب مذہب میں تصریح ہے کہ علت ربا اتحاد وقدروجنس ہے اس کے بعد وزن میں برابری فرض ہے مالیت کا کچھ لحاظ نہیں مثلا کھری چاندی کا عمدہ زیور کہ صناعی کے باعث اپنے وزن سے دوچند قیمت کا ہوگیا ہو جب چاندی کے عوض بیچیں تو فرض ہے کہ دونوں کانٹے کے تول برابر ہوں اختلاف مالیت پر نظر کرکے کمی بیشی کی تو حرام اور ربا ہوجائے گا یونہی عمدہ سونا پچیس روپے تولے والاخراب سونے دس روپے تولے والے سے بیچیں جب بھی فرض ہے کہ وزن بالکل یکساں ہو اس کا خیال نہ کریں گے کہ اس کی مالیت تو اس سے ڈھائی گئی ہےہدایہ ودرمختار میں ہے:
لایجوز بیع الجید بالردی ممافیہ الربا الا مثلا بمثل لاھدار التفاوت فی الوصف۔
اموال ربویہ میں عمدہ کی بیع ردی کے ساتھ صرف اسی صورت میں جائز ہے کہ وہ برابر برابر ہوں کیونکہ یہاں وصف میں تفاوت معتبر نہیں(ت)
اگر نوٹ عرف میں بفرض غلط روپے کا عین ہی سمجھا جاتاہو تواب ہم پوچھتے ہیں کہ شرعا بھی اس پر روپے کی تمام احکام جاری ہونا ضروری ہے یانہیںاگرنہیں تو ربا کدھرسے آیاابھی فتح القدیروردالمحتار وغیرہا سے تصریح گزری کہ کاغذ کاا یك پرچہ ہزار روپے کو بیچنا جائز ہے اور جائز بھی ایسا جس میں نام کو کراہت تك نہیںخدا انصاف دے تو یہ نوٹ کی بیع مذکور کا صریح جزئیہ ہے جسے علمائے کرام حدوث نوٹ سے صدہا سال پیشتر تحریر فرماگئے اور ثمنیت اصطلاحیہ سے فرق محض جہالت ہے جس کا بیان مشرح گزرا اور اگر آپ کے زعم میں شرعا بھی نوٹ پرروپے ہی کے احکام ہیں تواب الٹا ربا تم پروارد ہوگا روپے کا حکم یہ نہ تھا کہ دوسرے روپے سے اسے بدلو تو مالیت برابر دیکھ لو بلکہ وزن برابر کرنے کاحکم تھا تو چاہئے کہ جولوگ دس کا نوٹ دس کوبیچیں حرام قطعی اور سود ہو کہ ایك طرف ماشہ بھر وزن ہے اور دوسری طرف دس تولہ بلکہ واجب ہوکہ کانٹے میں نوٹ رکھ کر جتنی چاندی اس پر چڑھے اسی قدر کو بیچیں تو نوٹ میں برابری فرض کرنے والے خود ہی اپنے زعم کے رو سے سود حلال کررہے ہیں اس سے بھی قطعی نظر سہی نوٹ اگر عین
حوالہ / References الہدایہ کتاب البیوع باب الربٰو مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۱
#13407 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
ہوگیا تو روپے کا ہوا اشرفی کا تونہ ہوگا یا ایك ہی چیز سونے اور چاندی دونوں کا عین ہوجائے گی اور ابھی درمختار سےگزرا کہ ایك روپےکی بیع ایك اشرفی سےصحیح ہےاور ہر گز ربا نہیں۔ نوٹ جبکہ روپے کا عین ٹھہرا تو دس روپے کا نوٹ بارہ اشرفیوں کوبیچنا قطعا ربا نہ ہوگا اب یہ عجیب حکم پیدا ہوگا کہ دس کا نوٹ بارہ روپے کو بیچو جب تو سوداور دس کے نوٹ پر بارہ اشرفیاں لے جاؤ تو اصلا سود نہیںغرض ان لوگوں کی مخالفت اصلا کسی اصل شرعی کی طرف راجع نہیں محض اپنے تخیلات بے سروپا ہیں یہ حکم بیع کا تھا البتہ دس کا نوٹ قرض دینا اور یہ ٹھہرا لینا کہ ادائے قرض کے وقت بارہ روپے یا پیسہ او پردس روپے لوں گا یہ حرام اور سود ہے۔ حدیث میں ہے:
قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کل قرض جرمنفعۃ فہو ربا ۔ رواہ الحارث بن ابی اسامۃ عن امیر المؤمنین علی کرم اللہ تعالی وجہہ۔
رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہےاس کو حارث بن ابواسامہ نے سیدنا امیر المؤمنین حضرت علی کرم الله وجہہ الکریم سے روایت کیا۔(ت)
اوریہ خیال کہ بیع میں زیادہ کو بیچنا کیوں جائز ہوا اور قرض دے کر زیادہ ٹھہرالینا کیوں حرام ہوا تو دونوں ایك ہی سے ہیں یہ وہ مہمل اعتراض ہے کہ کافروں نے شریعت مطہرہ پر کیا اور قرآن عظیم نے اس کا جواب دیا:
قال اللہ تعالی " قالوا انما البیع مثل الربوا-و احل الله البیع و حرم الربوا " ۔
الله تعالی نے فرمایا:کافر بولے بیع تو ایسے ہی ہےجیسے سود اور ہے یہ کہ الله نے حلال فرمائی بیع اور حرام فرمایا سود۔
فقیر ان مضامین عالیہ کی تفصیل میں بعونہ تعالی ایك رسالہ لکھ سکتاہے مگر عاقل ذی انصاف کو یہی جملے بس ہیں مسلمان انھیں بغور وانصاف دیکھیں اور اہل حق پر جاہلانہ اعتراض سے احتراز کریں والھادی وولی الایادی۔ واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۶: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك نوٹ قیمتی(عہ/)روپے کا زید نے عمرو کے ہاتھ مبلغ(ع عہ/) روپے کو اس شرط پر بیع کیا کہ ایك روپیہ ماہوار قسط کرکے بارہ مہینہ میں اس زرثمن کو
حوالہ / References α کنزالعمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۲۳۸
α القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
#13408 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
پورا کردے جو زید نےعمرو سے مقرر کی ہے اور اس کے اطمینان کے لئے عمرو نے اپنے مکان وغیرہ کو مستغرق کردیا کہ اگر روپیہ نہ ادا ہو تو اس سے وصول کرسکے۔ بینوا توجروا
الجواب:
جبکہ حقیقۃ بائع ومشتری دونوں کو فی الواقع بیع صحیح شرعی مقصود ہو اور فریقین کی سچی رضامندی سے عقد واقع ہو اور نوٹ اسی جلسہ میں مشتری کے قبضہ میں دے دیا جائے تو اختلاف جنس کی حالت میں شرع مطہر نے بازار کے بھاؤ پر کمی بیشی منع نہ کی اور جہاں قرض دینا اور اس پر زیادہ لینا ہو وہ ضرور سودا ور حرام ہے جہال اگر اس فرق کو نہ جانیں تو یہ وہی امر ہے جس کی خود قرآن عظیم میں تصریح ہے:
قال اللہ تعالی" قالوا انما البیع مثل الربوا-و احل الله البیع و حرم الربوا " ۔
الله تعالی نے فرمایا:کافر بولے بیع تو ایسے ہی ہے جیسے سود اور ہے یہ کہ الله نے حلال فرمائی بیع اور حرام فرمایا سود۔
اورخالی استغراق بے قبضہ شرعا کوئی چیز نہیں قال اللہ تعالی " فرهن مقبوضة-" (الله تعالی نے فرمایا:پس رہن قبضہ کیا ہوا۔ ت) اور بعد قبضہ اس سے نفع اٹھانا حلال نہیں مثلا زید کو اس مکان میں رہنا یا کرایہ پر دے کر اس کا کرایہ لینا حرام ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۷: از مارہرہ مطہر ضلع ایٹہ مرسلہ حضرت سید ارتضاحسین صاحب ۱۴ رجب ۱۳۲۶ھ
بیع الفلس بالفلسین جائز یا ناجائز زیادہ نیاز
الجواب:
راجح یہ کہ ناجائز ہے
کما حققہ المحقق علی الاطلاق فی الفتح واقرہ علیہ من بعدہ من المحققین کالبحر والنہر والغزی و المقدسی و الشرنبلالی وفی الدر المختار حرم الکل محمد وصحح ۔ واللہ تعالی اعلم۔
جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فتح میں اس کی تحقیق فرمائی اور بعد میں آنے والے محققین نے اس کو برقرار رکھا جیسے بحر نہرغزی مقدسی اور شرنبلالیاور درمختار میں ہے کہ امام محمد نے سب کو حرام کہا اور اس قول کو صحیح قرار دیا والله تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
القرآن الکریم ۲ /۲۸۳
درمختار کتاب البیوع باب الربٰو مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۱
#13409 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
مسئلہ ۲۵۷:از ملك بنگال ضلع نواکھالی مقام ہتیا مرسلہ مولوی عباس علی عرف مولوی عبدالسلام صاحب ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دس روپے دے کر پندرہ روپے کا پیسہ لینا جائز ہوگا یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
بیع میں جائز ہے قال اللہ تعالی " و احل الله البیع " (الله تعالی نے فرمایا:اور حلال کیا ہے الله تعالی نے بیع کو۔ ت) در مختارمیں ہے:
صح بیع درہمین ودینار بدرہم و دینارین بصرف الجنس بخلاف الجنس ومثلہ بیع کربروکر شعیر بکر بروکر شعیر وکذا بیع احد عشردرہما بعشرۃ دراہم ودینار جنس کو خلاف جنس کی طر ف پھیرنے کی وجہ سے دو درہموں اور ایك دینار کو دو دیناروں اورایك درہم کے عوض بیچناصحیح ہےاور اسی کی مثل ہے ایك بوری گندم او ایك بوری جو کو دو بوری گندم اور دو بوری جو کے عوض فروخت کرنا اور اسی طرح گیارہ درہموں کو دس درہم اور ایك دینار کے عوض بیچنا۔(ت)
اورقرض میں حرام قال اللہ تعالی و حرم الربوا (الله تعالی نے فرمایا:اور اس نے سود کوحرام کیا۔ ت)رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جرمنفعۃ فہو ربا ۔ جوقرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔(ت)
یعنی اگر دس روپے دو سوچالیس آنے کو بیچے تو حلال اور اگر دس روپے قرض دئے اس شرط پر کہ د و سوچالیس یا ایك سو اکسٹھ ہی آنے لوں گا توحرام۔ والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
درمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۵
القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
کنزالعمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۶/ ۲۳۸
#13410 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
مسئلہ ۲۵۹: مرسلہ مولوی احسان حسین ۲۳ شعبان ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی شخص نے بہ نیت تجارت ہزار پانسو کے نوٹ کچہری سے خرید کرکے دس روپے کا نوٹ بارہ روپے کو قرض فروخت کرکے ایك روپیہ ماہوار سال بھر تك مدیون سے لے لینا مقرر کیا اور اگر دو نوٹ دس دس روپے کے فروخت کئے تو دو روپے ماہوار قسط ایك سال تك مقرر کیا اور مدیون سے تمسك لکھا کہ شرط کرلیتے ہیں کہ سال بھر میں ادا نہ کرو گے تو نالش کرکے مع خرچہ کے مدیون کی جائداد سے یا اس کے ضامن سے وصول کیا جائے گا۔ بینوا توجروا
الجواب:
یہ صورت ناجائز ہے کہ شرط فاسد مفسد بیع ہے اور بیع فاسدحرام وواجب الفسخ اور مدار اعمال کانیت پر ہے
" و الله یعلم المفسد من المصلح " (اور الله تعالی جانتاہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے۔ ت)جو فعل سو د کی نیت سے کیا جائے قطعا موجب گناہ ہوگا اگر چہ فی نفسہ ربا نہ اور قرض زیادہ کو بیچنا بھی کراہت سے خالی نہیں اورنوٹ کی خریدوفروخت پر کمی بیشی بلا شبہہ جائز ہے والتفصیل فی فتاونا(اورتفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔ ت)والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶۰: ۸رمضان المعظم ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نوٹ رائج الوقت سو روپیہ کا ایك سو بیس روپیہ کو کسی شخص کے ہاتھ فروخت کیا جائے اور دس روپے ماہوار مشتری سے وصول کیا جائے تویہ فروخت جائز ہے یاناجائز
الجواب:
نوٹ مثل اور اشیاء فروختنی کے ایك چیز ہے مالك کو اپنی ملك پر نفع لینے بیع وشراء شرعی میں اختیار ہے جبکہ مشتری کی رضامندی ہو دس روپے کا تھان مشتری کی رضامندی سے سوروپے کو بیچے تو کچھ مضائقہ نہیں پھر وہ روپے چاہے نقد ٹھہریں خواہ قسط بندی سےامام ابن الہمام فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:
لو باع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ ۔
اگرکاغذ کا ایك ٹکڑا ہزار درہم کے بدلے میں بیچا تو جائزہے اور اس میں کراہت نہیں ہے۔(ت)
حوالہ / References α القرآن الکریم ۲ /۲۲۰
α فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۳۲۴
#13411 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
ہاں یوں کہ سوروپے قرض دئے اوریہ ٹھہرالیا کہ اس کے عوض ایك سودس روپے کا نوٹ لوں گا یا سو روپے کا نوٹ ایك سودس کو بیچا اور قرار داد کیا کہ یہ زر ثمن اگر بتدریج دو تو سال بھر تك دس روپے ماہوار یہ صورتیں قطعی سود وحرام ہیںحدیث میں ہے:
کل قرض جرمنفعۃ فہو ربا ۔ جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔(ت)
اوریہ خیال کہ بیع میں زیادہ بیچنا کیوں جائز ہوااور قرض دے کر زیادہ ٹھہرالینا کیوں حرام ہوادونوں ایك ہی سے ہیںیہ وہ مہمل اعتراض ہے کہ کافروں نے شریعت مطہرہ پر کیا اور قرآن عظیم نے اس کا جواب دیا:
قال اللہ تعالی " قالوا انما البیع مثل الربوا-و احل الله البیع و حرم الربوا " ۔واللہ تعالی اعلم۔
الله تعالی نے فرمایا:کافر بولے بیع تو ایسی ہی ہے جیسے سود اور ہے یہ کہ الله تعالی نے حلال فرمائی بیع اور حرام فرمایا سود۔(ت)
مسئلہ ۲۶۱:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے بقال کو ایك روپیہ دیا کہ اس کے پیسے دے دے اس نے ۸ /دئے اور کہا کہ ۸/ کل دوں گایہ چھوڑ دینا گناہ ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
اس صورت کے جواز میں روایات مختلف ہیں لیکن اکثر معتبرات مثل تنویرا لابصار ودرمختار وفتاوی بزازیہ ومبسوط ومحیط وذخیرہ وبحرالرائق ونہر الفائق وفتاوی علامہ حانوتی وفتاوی ہندیہ وغیرہا میں جواز پر جزم فرمایا تو بہتر بچنا ہے خروجا عن الخلاف (اختلاف سے نکلنے کے لئے۔ ت)اور اگر ایسا کرے تو کچھ گناہ بھی نہیں لجنوح عامۃ العلماء الی الجواز(عام علماء کا جواز کی طرف بیان ہونے کی وجہ سے۔ ت)تنویر الابصارمیں ہے:
باع فلو سا بمثلہا او بدراہم اوبدنانیر فان نقد احدہما جازوان تفرقا بلاقبض احدہما لم یجز انتہی۔
کسی نے پیسے فروخت کئے اپنی مثل کے عوض یا درہموں یا دیناروں کے عوضاگر دونوں میں سے ایك نے نقد ادائیگی کی تو جائز ہے اور اگرقبضہ سے پہلے بائع اور مشتری دونوں جدا ہوگئے تو ناجائز ہے۔انتہی۔(ت)
حوالہ / References α کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۶ /۲۳۸
α القرآن الکریم ۲ /۲۷۵
α درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع باب الربٰو مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۲
#13412 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
اذا اشتری الرجل فلو سابدراہم و نقد الثمن ولم تکن الفلوس عند البائع فالبیع جائز کذا فی المبسوط وروی الحسن عن ابی حنیفۃ اذا اشتری فلوسا بدراہم ولیس عند ھذا فلوس ولا عند الاخر دراہم ثم ان احدہما دفع و تفرقاجازوان لم ینقد واحد منہما حتی تفرقا لم یجز کذا فی المحیط اھ ملخصا۔ اگر کسی نے درہموں کے بدلے پیسے خریدے اور ثمن نقد ادا کردئے مگر بائع کے پاس اس وقت پیسے موجود نہ تھے تو بیع جائز ہے یونہی مبسوط میں ہےاورحسن نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ اگر کسی نے درہموں کے عوض پیسے خریدے جبکہ نہ اس(بائع)کے پاس پیسے ہیں نہ دوسرے(مشتری)کے پاس درہم ہیں پھر اگر ان میں سے ایك نے ادائیگی کردی اور وہ جدا ہوگئے تو جائز اور اگر جدا ہونے تك دونوں میں سے کسی نے بھی ادائیگی نہ کی تو ناجائز ہے محیط میں یوں مذکور ہے اھ تلخیص۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
سئل الحانوتی عن بیع الذہب بالفلوس نسئۃ فاجاب بانہ یجوز اذا قبض احد البدلین لما فی البزازیۃ لو اشتری مائۃ فلس بدرہم یکفی التقابض من احد الجانبین قال ومثلہ لو باع فضۃ اوذھبا بفلوس کما فی البحر عن المحیط قال فلا یغتر بما فی فتاوی قاری الہدایۃ من انہ لایجوز بیع الفلوس الی اجل بذھب اوفضۃ اھ قلت
حانوتی سے سونے کے پیسوں کے عوض ادھار بیع کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر بدلین میں سے ایك پر قبضہ کرلیا گیاہے تو جائز ہے اس دلیل کی وجہ سے جو بزازیہ میں ہے کہ اگر کسی نے ایك درہم کے عوض سو پیسے خریدے تو صرف ایك طرف سے قبضہ کافی ہے اور اگر کوئی پیسوں کے بدلے سونا یا چاندی بیچے تو اس کاحکم بھی یہی ہے جیسا کہ محیط کے حوالے سے بحر میں مذکور ہے اور فرمایا کہ جو فتاوی قاری الہدایہ میں ہے اس سے دھوکہ مت کھانا یعنی یہ کہ پیسوں کی سونے یا چاندی کے عوض ادھار بیع ناجائز ہے اھ میں کہتاہوں
حوالہ / References α فتاوٰی ہندیہ کتاب الصرف الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۲۴
#13413 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
والجواب حمل مافی فتاوی قاری الہدایۃ علی مادل علیہ کلام الجامع الصغیر من اشتراط التقابض فی الجانبین فلا یعترض علیہ بما فی البزازیۃ المحمول علی مافی الاصل الخ اھ ملخصا۔
جواب یہ ہے کہ جو جو فتاوی قاری الہدایہ میں ہے وہ اس پر محمول کیا جائے گا جس پر جامع کا کلام دلالت کرتا ہے یعنی ایك طرف سے قبضہ کرنا شرط ہے لہذا اس پر بزازیہ کی اس عبارت سے اعتراض نہیں کیا جائے گا جو کہ مبسوط کے بیان پر محمول ہے الخ تلخیص(ت)
اسی میں ہے:
لو باع فضۃ بفلوس فانہ یشترط قبض احدا البدلین قبل الافتراق لاقبضہما کمافی البحر عن الذخیرۃ ونقل فی النہر عن فتاوی قاری الہدایۃ انہ لایصح تاجیل احدھما ثم اجاب عنہ الخ۔واللہ تعالی اعلم۔
اگر کوئی چاندی کو پیسوں کے عوض بیچے تو اس میں افتراق سے پہلے بدلین میں سے صرف ایك پرقبضہ شرط ہے دونوں پر قبضہ شرط نہیں جیسا کہ بحرمیں بحوالہ ذخیرہ مذکور ہےنہر میں فتاوی قاری الہدایہ سے منقول ہے کہ بدلین میں سے ایك کو مؤجل کرنا صحیح نہیںپھر صاحب نہر نے اس کا جواب دیا۔ الخاور الله تعالی بہتر جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۲۶۲:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ڈبل پیسہ کہ وزن میں کم ہے منصوری پیسے سے بدلنا اور کچھ کوڑیاں اوپرلینا جائز ہے یانہیں
الجواب:
ناجائز ہے اگرچہ کوڑیاں بھی نہ لے
کما ہومذھب الامام محمد وھوالراجح والاقرب الی الصواب لتحقق العلۃ اعنی القدروالجنس ووجود التفاضل قطعا وورود الشرع بحرمتہ یقینا واما ما ذکر وا من حدیث التفرقۃ
جیسا کہ امام محمد کا مذہب ہے او روہی راجح اور حق کے قریب ترین کیونکہ اس میں علت ربا یعنی قدروجنس متحقق ہے اور قطعی طورپر تفاضل موجودہےاور اس کی یقینی حرمت پر شرع وارد ہے اور وہ جو فقہاء نے فرق والی بات ذکر کی ہے کہ اگر کوئی چیز
حوالہ / References α ردالمحتار کتاب البیوع باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۴
α ردالمحتار باب الصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۳۵
#13414 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
بین مااذادخل تحت المعیار فلا یجوز وامااذالم یدخل کفنۃ بحفنتین وفلس بفلسین فیجوز فقد زیفہ العلامۃ المحقق علی الاطلاق فی الفتح بما ترکن الیہ البصائر وتسکن لدیہ الخواطر فلیراجعہ من شاءقال الشامی وقد نقل من بعدہ کلامہ ھذا و اقروہ علیہ کصاحب البحر والنہر والمنح والشرنبلالیۃ والمقدسی انتہی قال العلائی وحرم الکل محمد و صححہ کما نقلہ الکمال انتہی فافہم واللہ تعالی اعلم۔
معیار کے تحت داخل ہو تو بیع ناجائز اور اگر نہ داخل ہوجیسے ایك مٹھی دو مٹھی کے بدلے میں اور ایك پیسہ دوپیسوں کے بدلے میں تو جائز ہے اس کا رد علامہ محقق علی الاطلاق نے فتح میں کیا ہے جس کی طرف نظریں مائل ہوتی ہیں اور دل سکون پاتے ہیں تو جو چاہے اس کی طرف رجوع کرےشامی نے کہا کہ اس کے بعد والوں نے اس کا یہ کلام نقل کیا ہے اور انہوں نے اس کوبرقرار رکھا ہے جیسے صاحب البحرنہر منح شرنبلالیہ اور مقدسی(انتہی)علائی نے کہاامام محمد نے اس سب کو حرام کہا اور ان کے قول کی تصحیح کی گئی جیسا کہ کمال نے اس کو نقل کیا(انتہی)پس سمجھاور الله تعالی بہتر جانتاہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۶۳ تا ۲۶۵: از کاٹھیا واڑ دھوراجی محلہ سیاہی گران مسئولہ حاجی عیسی خان محمد صاحب ۸ جمادی الاولی ۱۳۳۰ھ
(۱)زیدنے عمرو کے ہاتھ روپے سے نوٹ ایك وعدہ پر بیچا عمرو بوقت ادا نوٹ لایاا ور اس نوٹ کے عوض زید سے روپے لے کر قبضہ کرلیا پھر روپے زید کو اداکردئے یہ جائزہے یانہیں
(۲)زیدنے عمرو کے ہاتھ ہزار وپے کا نوٹ گیارہ سو کو آٹھ ماہ کے وعدہ پر بیچا اور عمرو سے تمسك لکھا لیا پھر زید نے یہ تمسك بکر کو دے دیاکہ تم روپے وصول کرلو عمرو نے بجائے گیارہ سو روپوں کے گیارہ سو کانوٹ دیایہ جائز ہے یانہیں
(۳)زید نے دلال سے کہا میں ہزار کانوٹ گیارہ سو کو بیچتاہوں تم خرید ار تلاش کردودلال عمرو کے
حوالہ / References α ردالمحتار کتاب البیوع باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۸۱،فتح القدیر باب الربٰو مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۶۳۔ ۱۶۲
α ردالمحتار کتاب البیوع باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۸۱
α درمختار کتاب البیوع باب الربٰو مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۱
#13415 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
پاس آیا عمرو نے دلال سے کہا میرے لئے خرید لاؤ دلال نے عمرو سے تمسك لکھوالیا اور زید سے نوٹ خرید کر تمسك دے دیا اور نوٹ لاکر عمرو کو دے دیایہ جائز ہے یانہیں
الجواب:
(۱)جائز ہے مگر ایك صورت میں کہ وہی نوٹ لے کر آئے اور پہلی قیمت سے کم کو بیچے تو یہ ناجائز ہے
لکونہ شراء ماباع باقل مما باع فان قلت ھو ثمن و الاثمان لاتتعین فی العقود فلا یحکم بانہ یبیع ما شری قلت المناط ثمہ ایراد العقد علی عین ما مبلکہ سابقا وھذا منتف عند عدم التعین اماھہنا فالمناط ان یعود الیہ عین مبلکہ کما خرج قال فی التبیین فی تعلیل المسألۃ لان الثمن لم یدخل فی ضمان البائع قبل قبضہ فاذا عادالیہ عین مالہ بالصفۃ التی خرج من مبلکہ وصار بعض الثمن قصاصا ببعض بقی لہ علیہ فضل بلا عوض فکان ذلك ربح ما لم یضمن وھو حرام بالنص اھ وقال فی الفتح وھذا الان الثمن
کیونکہ یہ اپنی ہی فروخت کردہ شیئ کو اس قیمت سے کم پر خریدنا ہے جس پر اس نے فروخت کی تھی اور تو کہے کہ وہ ثمن ہے اور ثمن عقود میں متعین نہیں ہوتے چنانچہ یہ حکم نہیں لگایا جائے گا کہ وہ اسی چیز کو بیچ رہا ہے جس کو اس نے خریدا۔ میں کہتاہوں کہ وہاں دارومدار عقد کے بعینہ اس چیز پر وار دکرنے پر ہے جس کا وہ سابق عقد میں مالك ہواا ور وہ عدم تعین کے وقت منتفی ہے لیکن یہاں دارومدار اس پر ہے کہ اس کا مملوك بعینہ اس کے پاس لوٹ آئے جیسے اس کی ملك سے خارج ہوا تھاتبیین میں اس مسئلہ کی تعلیل یوں فرمائی کہ چونکہ ثمن قبضہ سے پہلے بائع کی ضمان میں داخل نہیں ہوا اورجب اس کا مال بعینہ اس کے پاس لوٹ آیا اسی صفت کے ساتھ جس کے ساتھ اس کی ملك سے خارج ہوا تھا اور بعض ثمن بعض کا بدلہ ہوگئے تو اس کے لئے دوسرے پر کچھ زیادتی بلاعوض رہ گئی تو یہ نفع ہے اس چیز پر جو ابھی ضمان میں نہیں آئیاور یہ نص سے حرام ہے اھفتح میں کہا یہ حکم اس لئے ہے کہ ثمن
حوالہ / References α تبیین الحقائق باب البیع الفاسد المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۴ /۵۴
#13416 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
لایدخل فی ضمانہ قبل البقض فاذا عادالیہ الملك الذی زال عنہ بعینہ وبقی لہ بعض الثمن فہو ربح حصل لا علی ضمانہ من جہۃ من باعہ اھ ومثلہ فی سائر الکتب المعللۃ ومعلوم ان الاثمان لاسیما الاصطلاحیۃ وان لم تتعین فی العقود متعینۃ فی الملك قطعا فلیس للمودع ان یبدل دراہم الودیعۃ بدراہم من عندہ فعود ماملك کما خرج ثابت قطعا وعلیہ تدور رحی المنع کما علمت ھذا ماظہر لی وارجوان یکون صوابا ان شاء اللہ تعالیواللہ تعالی واعلم۔
قبضہ سے پہلے بائع کی ضمان میں داخل نہیں ہوتے پھر اس کی مملوك جواس کی ملکیت سے زائل ہوئی تھی بعینہ اس کی طرف لوٹ آئی اورا س کے بعض ثمن باقی رہے تویہ ایسا نفع ہے جو اس چیز پر حاصل ہوا جو اس کی ضمان میں نہیں اور اس شخص کی طرف سے حاصل ہوا جس کو اس نے یہ چیز بیچی تھی اھ اور اس کی مثل تمام تعلیل بیان کرنے والی کتابوں میں ہےاور یہ معلوم ہے کہ ثمن خصوصا اصطلاحی ثمن اگر چہ عقود میں متعین نہیں ہوتے مگر ملك میں قطعی طور پر متعین ہوتے ہیں لہذا جس کے پاس امانت کے طور پر درہم رکھے گئے ہوں وہ ان کو اپنے پاس سے دوسرے درہموں سے بدل نہیں سکتا چنانچہ مملوك کا لوٹ کر آنا جیسا کہ وہ ملك سے خارج ہوا تھا قطعی طور پر ثابت ہوگیا اور ممانعت کی چکی اس پر گھومتی ہے جیسا کہ تو جان چکا ہے یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا اور مجھے امید ہے کہ ان شاء الله تعالی یہ درست ہوگااور الله تعالی بہتر جانتا ہے۔(ت)
(۲)جائز ہے خواہ زید نے بکر کو صرف وصول کرنے کا وکیل کیا ہو یا اس دین کا مالك کرکے قبضہ کرنے کا حکم دیا ہوغمز العیون میں ہے:
یفہم من فروع الواقعات الحسامیۃ ان لصاحب الدراہم الدین استبدال الدنانیر بہا وعکسہ وھو ظاہر وکثیر الوقوع وھی مسألۃ بیع الدین من المدیون ۔ فروع واقعات حسامیہ سے مفہوم ہوتاہے دراہم کے قرض والے کو اختیار ہے کہ وہ اس کے بدلے دینار لے لے اور اسی طرح اس کا عکساور یہ ظاہر اور کثیر الوقوع ہے اور یہ دین کو مدیون کے ہاتھ بیچنے کا مسئلہ ہے۔(ت)
حوالہ / References α فتح القدیر باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۷۱
α غمز العیون البصائر مع اشباہ والنظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲/ ۲۱۳
#13417 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
اشباہ میں ہے:
فی وکالۃ الواقعات الحسامیۃ لوقال وھبت منك الدراھم التی علی فلان فاقبضہا منہ فقبض مکانہا دنانیر جاز لانہ صارالحق للموھوب لہ فیملك الاستبدال ۔
واقعات حسامیہ کے باب الوکالۃ میں ہے کہ اگر کسی نے دوسرے کو کہا میں نے تجھے وہ درہم ہبہ کردئے جومیرے فلاں پر ہیں تو ان پر قبضہ کرلےپھر اس نے دراہم کے بدلے دنانیر وصول کرلئے تو جائز ہے کیونکہ یہ موہوب لہ کا حق بن گیا لہذا وہ تبدیل کرسکتاہے۔(ت)
نیز یہاں اگر عمرو وہی نوٹ جو زید سے خریدا سو روپے کانوٹ اپنے پاس سے ملاکر یوں گیارہ سو کے عوض دے تو یہ بھی دونوں صورتوں میں جائز ہےاگر زید نے بکر کو اس دین کا مالك کردیا تھا جب تو ظاہر لان من باع لم یشرو من شری لم بیع (کیونکہ جس نے بیچا اس نے خریدا نہیں اور جس نے خریدا اس نے بیچا نہیں۔ ت)اور اگر زید نے بکر کو وکیل کیا تو ہمارے امام مذہب رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك جائز ہے کہ جو چیز کسی قیمت کو بیچی اور قیمت ہنوز ادانہ ہوئی ہو کسی کو اپنا وکیل کرکے اس کے ذریعہ سے وہ چیز کم قیمت کو خریدےہاں اگر بکر وکیل نہ ہوتا صرف رسول ہوتا مثلا زید بکر سے کہتا کہ یہ تمسك لے جاؤ اور عمرو سے میری طرف سے کہو کہ میرا روپیہ دے دے بکر آکر اس سے کہتا کہ زید تجھ سے اپنا روپیہ مانگتا ہے اس پر عمرو وہی نوٹ جو زیدسے خریدا تھا سو کا نوٹ ملا کر بھیج دیتا تو یہ زید کو ناجائز ہوتا کہ یہ خود زید کا خریدنا ہوتا رسول تو بیچ میں نرا ایلچی تھا بخلاف وکیل کہ حقوق بیع اسی کی طرف راجع ہوتے ہیں تو یوں ہوا کہ عمرو سے اس نے خریدا اور اس سے زید نے لیا بیچ میں ایك بیع کا توسط ہوگیا لہذا زید کو لینا حلال ہواغایۃ البیان علامہ اتقانی میں مختصرا مام ابوالحسن کرخی سے ہے:
ان وکل البائع من یشتریہ باقل من الثمن الاول فاشتراہ فالشراء جائز عند ابی حنیفۃ رضی اللہ تعالی عنہ وقال ابویوسف الشراء لازم للوکیل ولایلزم الامروقال محمد للامر بشراء اگر بائع نے وکیل بنایا کہ وہ بائع کی فروخت کردہ چیز کو ثمن اول سے کم پر خریدے اور اس نے خریدلیا تو یہ خریداری امام اعظم ابوحنفیہ رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك جائز ہےامام ابویوسف رحمۃ الله تعالی علیہ نے فرمایا کہ یہ خریداری وکیل کے لئے لازم ہوگی آمر کے لئے لازم نہ ہوگیاور امام محمد رحمۃ الله تعالی علیہ
حوالہ / References اشباہ والنظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲/ ۲۱۳
#13418 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
فاسد الی ھنالفظ الکرخی وجہ قول محمد انہ امرہ بمالو باشرہ بنفسہ یکون فاسداووجہ قول ابی یوسف العقد لہ زیادۃ فساد بدلیل ابطال الجہاد فلم یجز التوکیل بہ ولابی حنیفۃ رضی اللہ تعالی عنہ ان الموکل فی المعنی مشتری من الوکیل قاصداکما اذا اشتری من غیرہ ۔
نے فرمایا یہ خریداری فاسد ہےیہاں تك کرخی کے لفظ ہیںامام محمد کے قول کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اس کام کا وکیل بنایا جس کو اگر یہ خود کرتا تو فاسد ہوتاامام ابویوسف کے قول کی وجہ یہ ہے کہ عقد میں زیادہ فساد ہے اس دلیل کی وجہ سے کہ اس پر ابطال جہاد کی وعید حدیث میں آئی ہے لہذا اس کی توکیل جائز نہیںاور امام ابوحنیفہ کے قول کی وجہ یہ ہے کہ مؤکل دراصل وکیل سے خریدتاہے تو یہ ایسے ہی ہوگا جیسے وہ کسی غیر سے خریدے۔(ت)
فتاوی خلاصہ وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لوباع ثم وکل اخر حتی یشتری باقل جاز عندہ ۔
اگر کسی نے کوئی چیز بیچی پھر کسی کو وکیل بنایا تاکہ وہ اس کو پہلے سے کم قیمت پر خریدے تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك جائز ہے۔(ت)
تبیین الحقائق میں ہے:
لواشتراہ الوکیل صح لانہ ماباع ولابیع لہ ولو باع الوکیل ثم اشتراہ احدہما لایصح اما الوکیل فلانہ باع واما المؤکل فلانہ بیع لہ اھ مختصرا ۔ اگر وکیل نے اس کو خریدا تو درست ہے کیونکہ نہ تو وکیل نے اس چیز کو بیچا اور نہ ہی اس کے لئے بیچا گیااور اگر وکیل نے اس چیز کو بیچا پھر ان دونوں میں سے کسی ایك نے اس کو(ثمن اول سے کم پر)خریدا تو درست نہیں کیونکہ وکیل نے تو خود اسے بیچا اور مؤکل کے لئے وہ چیز بیچی گئی اھ اختصار(ت)
فتح القدیر میں ہے:
لواشتری وکیل البائع باقل من الثمن
اگر بائع کے وکیل نے ثمن اول سے کم پر خریدا تو
حوالہ / References حاشیہ الشلبی علی تبیین الحقائق بحوالہ مختصرا لکرخی باب البیع الفاسد المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۴ /۵۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الفصل العاشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳/۱۳۳
تبیین الحقائق باب البیع الفاسد المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۴ /۵۵
#13419 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
الاول جاز عندہ خلافا لہما لان تصرف الوکیل عندہ یقع لنفسہ الخ اقول:وبالجملۃ النقل فی المسألۃ فاش مستفیض فما وقع فی ردالمحتار لواشتروا بالوکالۃ عن البائع لایجوز لوکانوا اجانب عنہ کما فی قول المصنف اوبوکیلہ اھ سہو عظیم یجب التجنب عنہ ومنشأہ ان المصنف قال فسد شراء ماباع بنفسہ اوبوکیلہ الخ والظرف کان متلعقا بباع وحدہ وتوھم العلامۃ رحمۃ اللہ تعالی تعلقہ بکلا لفظی الشراء وباع علی سبیل التنازع حیث قال قولہ بنفسہ اووکیلہ تنازع فیہ کل من شراء وباع الخ ثم نقل من البحر کلاما لایوھم مابتخیلہ اصلا انما فیہ منع شراء البائع
امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك جائز ہے بخلاف صاحبین کے کیونکہ امام صاحب کے نزدیك وکیل کا تصرف اپنی ذات کے لئے واقع ہوتاہے اھ۔میں کہتاہوں خلاصہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں نقل عام تواتر کے ساتھ ہے اور جو ردالمحتار میں واقع ہوا ہے کہ اگر بائع کے وکیل ہوکر انہوں نے خریدا تو ناجائز ہے اگرچہ وہ بائع سے اجنبی ہوں _____ جیسا کہ مصنف کے قول"اوبوکیلہ"میں ہے اھ یہ بہت بڑا سہو ہے جس سے بچنا واجب ہےاس سہو کا منشا یہ ہے کہ مصنف نے کہا اس چیز کو خریدنا فاسد ہے جس کو بائع نے بذات خود بیچا یا اس کے وکیل نے بیچا الخ اس عبارت میں ظرف(جارمجرور)صرف"باع"سے متعلق تھا جبکہ علامہ شامی رحمۃ الله تعالی علیہ نے وہم کیا کہ یہ بطور تنازع"باع" اور "شراء"دونوں لفظوں سے متعلق ہے اسی لئے علامہ نے فرمایا کہ شراء اور باع میں سے ہر ایك نے مصنف کے قول "بنفسہ او وکیلہ"میں تنازع کیا الخ اس کے بعد علامہ شامی نے بحر سے ایسا کلام نقل فرمایا جو علامہ شامی کے تخیل کاوہم تك نہیں رکھتا کیونکہ اس میں تو بائع
حوالہ / References فتح القدیر باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۶۸
ردالمحتار باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۱۵
درمختار باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۳ /۲۶
ردالمحتار باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت۴ /۱۱۴
#13420 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
سواء باع لنفسہ اولغیرہ ومن باع لہ وکیلہ وسواء کان شراء لنفسہ اولغیرہ اماالذی لم یبع ولا بیع لہ فلا تعرض فیہ لمنعہ من الشراء اصلا سواء شری لنفسہ او لغیرہ کوکیل البائع بالشراء اما مافی مختصرا لکرخی فی صدرالکلام المذکور لایجواز ان یشتری ذلك وکیل البائع فی قولہم جمیعا (ملخصا) فمعناہ وکیلہ بالبیع کما قدمناہ عن التبیین وفیہ لو وکل رجلا ببیع غیرہ فباع ثم اراد الوکیل ان یشتری باقل لنفسہ اولغیرہ بامرہ لم یجز اھ(ملخصا) ومثلہ فی الہندیۃ عن المحیط نعم وکیل البائع فی کلام الفتح المذکور بمعنی وکیلہ بالشراء فتثبت ولا تزل وباللہ التوفیق واللہ سبحنہ وتعالی اعلم۔
کی خریداری کو ممنوع قرار دیا گیا ہے چاہے بائع نے بذات خود بیچا ہو یا اس کے وکیل نے اور چاہے اپنے لئے خریداری کرے یا غیر کے لئے لیکن وہ شخص جس نے نہ تو خود بیچا نہ ہی اس کے لئے اس چیز کو بیچا گیا اس کی خریداری کی ممانعت سے اس عبارت میں بالکل کوئی تعرض نہیں چاہے وہ اپنے لئے خریدے یا غیر کے لئے جیسے خریداری کے لئے مقرر کردہ وکیل اور وہ جو کلام مذکور کے شروع میں مختصر کرخی میں مذکور ہے کہ بائع کے وکیل کا اس چیز کو خریدنا تمام فقہاء کے قول میں ناجائز ہے اس کا معنی وہ وکیل جس کو بیع کے لئے مقرر کیا گیا تھا جیسا کہ تبیین کے حوالے سے ہم اس کا ذکر پہلے کر چکے ہیںاسی میں ہے کہ کسی نے دوسرے کو کسی چیز کی بیع کا وکیل بنایا اور اس نے وہ چیز فروخت کردی پھر اسی وکیل کا ارادہ ہوا کہ اس چیز کو ثمن اول سے کمتر ثمن کے عوض اپنی ذات کے لئے یا کسی اور کے لئے اس کے حکم پر خریدے تو یہ ناجائز ہے اھ اور اس کی مثل ہندیہ میں بحوالہ محیط ہےفتح کے کلام مذکور میں وکیل بائع سے مراد بائع کا وہ وکیل ہے جس کو خریداری کے لئے اس نے مقرر کیا چنانچہ ثابت قدم رہ مت ڈگمگااور توفیق الله تعالی ہی کی طرف سے اور الله تعالی سبحنہ وتعالی بہتر جانتاہے۔ (ت)
(۳)جائز ہے اگر عمرو نے کہا کہ خرید لاؤ اور اس نے زید سے خرید کر اس جلسہ میں قبضہ کرلیا اس صورت میں عمرو کا تمسك لکھ دینا خریداری نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ دلال زید سے خریدنے کے بعد روپے کے اطمینان کے لئے یہ تمسك اسے دے دے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے ہاں اگر دلال نے آکر عمرو سے کہا اور عمرو نے جواب دیا کہ میں نے خریدا یعنی عقد بیع وشراء یہیں ہولیا اور تمسك لکھ گیا بعدہ دلال نے نوٹ زید سے
حوالہ / References حاشیہ الشلبی تبیین الحقائق بحوالہ مختصر الکرخی باب بیع الفاسد الطبعۃ الکبرٰی مصر ۴ /۵۴
تبیین الحقائق باب البیع الفاسد المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۴ /۵۴
#13421 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
لاکردیا تو حرام وباطل ہے کہ جلسہ بیع میں نہ نوٹ پر قبضہ ہوا نہ روپوں پر۔
فکان افتراقا عن دین بدین وقد نہی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عن بیع الکائی بالکائی واللہ تعالی اعلم۔
تو یہ دین سے دین کے بدلے جدائی ہے حالانکہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ادھار کی ادھار کے بدلے بیع سے منع فرمایا ہے اور الله تعالی بہتر جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۲۶۶: از بنارس محلہ کندی گرٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ حکیم عبدالغفور صاحب ۱۶ جمادی الاولی ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کلابتوں کی بیع ادھار جائز ہے یانہیں۔ بظاہر معلوم ہوتاہے کہ ناجائز ہوگی کہ گو اس میں تین جز وشریك ہیں یعنی سونا چاندی ریشم لیکن چونکہ حصہ چاندی کا زیادہ ہے لہذا کلابتوں مذکور حکما چاندی قرار دیا جائے گا اب بوجہ اتحاد جنس یعنی چاندی درمیان کلابتوں اورروپیہ کے بیع ادھارناجائز ہونا چاہئےیہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ ہزار ہا بندہ خدا اس معاملہ میں مبتلا ہیں اگر واقعی بیع مرقومہ بالاناجائز ہے اور اشخاص مرتکب فعل ہذا بیع مذکور سے روك دئے جائیں تو باب تجارت خصوصا اہالیان بنارس پارچہ فروش کا مسدود ہوجائے گا نوبت فاقہ کشی کی پہنچے گیبینوا بالکتاب توجروا یوم الحساب۔
الجواب:
کلابتوں میں سونے کا تو صرف رنگ ہی رنگ ہے اور نرے رنگ کا کچھ اعتبار نہیں جبکہ جلانے سے سونا اس میں سے جدا نہ ہو سکتاہے۔
فان ح تمویہ والتمویہ لاعبرۃ بہ لانہ مستہلك کما صرحوا بہ قاطبۃ وفی کافی الامام الحاکم الشہید اذا اشتری لجاما مموہا بفضۃ بدراہم اقل مما فیہ او اکثر فہو جائز لان التمویہ کیونکہ اس صورت میں یہ سونے کا پانی چڑھانا ہے اوراس کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ یہ ہلاك ہونے والی چیز ہے جیسا کہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے امام حاکم شہید کی کافی میں مذکور ہے اگر کسی نے ایسا لگام خریدا جس پر چاندی کا پانی چڑھا یا گیا تھا کچھ درہموں کے بدلے میں جو اس چاندی سے کم
حوالہ / References سنن الدارقطنی کتاب البیوع حدیث ۲۶۹ نشرالسنۃ ملتان ۳/ ۷۱
#13422 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
لایخلص الا تری انہ اذا اشتری الدار المموہۃ بالذہب بثمن مؤجل یجوز ذلك وان کان مافی سقوفہا من التمویۃ بالذھب اکثر من الذھب فی الثمن ۔ہوں جس کا پانی لگام پر چڑھا یا گیا یا اس سے زیادہ ہوں تو یہ بیع جائز ہے کیونکہ پانی چڑھانے میں مستعمل چاندی لگام سے الگ نہیں ہوسکتی۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ اگر کوئی ثمن مؤجل کے بدلے ایسا مکان خریدے جس پر سونے کا پانی چڑھایا گیاہے تو یہ بیع جائز ہوگی اگرچہ پانی چڑھانے میں مستعمل سونا ثمن کے سونے سے زیادہ ہو اھ۔(ت)
مگر چاندی کا خود عین مستقل طو ر پر اس میں قطعا موجود کہ وہ چاندی اور ریشم یا سوت کے تار ہیں ایك دوسرے پر بٹے ہوئے تو اس کی بیع غایت یہ کہ چاندی اور اس کے ساتھ ایك اور چیز کی بیع ہوئی یہ اسے حکم صرف سے خارج نہ کرے گا جبکہ دوسری جانب بھی ثمن خلقی یعنی سونا یاچاندی یا روپیہ یا اشرفی ہو پس صورت اتحاد جنس کہ روپیہ یاچاندی کے عوض کلابتوں بیچیں تماثل وتقابض دونوں اور بحالت اختلاف کہ سونے یا اشرفی سے مبادلہ کریں صرف تقابض بدلین بلاشبہہ لازم ہوگا تماثل یہاں یوں کہ ثمن کی طرف چاندی ان تاروں کی چاندی سے جو کلابتوں میں ہیں وزن میں زیادہ ہوتاکہ اس میں سے ان کے مقابل اورباقی اس دوسری چیز ریشم یاسوت کے مقابل ہوجائے اگر ثمن کی طرف چاندی اس کلابتوں کی چاندی سے وزن میں کم یا برابر ہے یا کمی بیشی معلوم نہیں تو بیع حرام وباطل ہےاور تقابض یوں کہ اس مجلس میں خریدنے والا کلابتوں اور بیچنے والا اس کی قیمت پر قبضہ کرلے اگر کسی طرف سے ایك لمحہ کے لئے بھی ادھار ہو تو بیع باطل و حرام ہے درمختار میں ہے:
الاصل انہ متی بیع نقد مع غیرہ کمفضض ومزرکش بنقد من جنسہ شرط زیادۃ الثمن فلو مثلہ اواقل اوجہل بطل ولو بغیر جنسہ شرط التقابض فقط۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب نقد کوغیر کے ساتھ ملاکر بیچا جائے جیسے مفضض اور مزر کش(جن چیزوں پر سونے یا چاندی کے پتر چڑھائے گئے ہوں تو اگر نقد مبیع کے ہم جنس نقد کے بدلے بیچا جائے تو ثمن کا زیادہ ہونا شرط ہے اگر برابر ہو یا ثمن اس سے کم ہو یا کمی بیشی مجہول ہو توبیع باطل ہے اور اگر غیر جنس کے نقد کے بدلے میں بیچا جائے تو فقط تقابض(دو طرفہ قبضہ) شرط ہے۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار بحوالہ کافی الحاکم کتاب البیوع باب الصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۳۷
درمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۵
#13423 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
احکام الہیہ جل وعلا کے اتباع وامتثال سے ہر گز باب رزق مسدود نہیں ہوسکتا جبکہ وہ رب کریم رؤف رحیم احکام نفس وشیطان کی پیروی اپنی شدید شنیع نافرمانی پر دروازہ رزق بند نہیں کرتا ع
گناہ بیند وناں برقرار میدارد
(وہ گناہ دیکھتاہے اور اس کے باوجود روزی برقرار رکھتاہے۔ ت)
تو اپنے احکام کریمہ کے اتباع پر کیوں بند فرمائے گا مگر ہمارے مسلمان بھائیوں کی حالت سخت قابل افسوس ہے جو شخص جس کام میں ہاتھ ڈالے اس پر فرض عین ہے کہ اس کے متعلق جو احکام شرع ہیں انہیں سیکھ لے تاکہ معصیت الہی میں نہ پڑے ہمارے بھائیوں نے یہ مسئلہ دنیاوی قانونی میں جاری کیا اور قانون ربانی میں چھوڑدیا اگر کوئی مقدمہ دو روپے کا دائر کریں گے پانچ وکیلوں سے پوچھیں گے کہ اس میں کوئی خامی نہ رہ جائے کسی طرح قانون انگریزی کی مخالفت نہ آئے کہ مقدمہ ہاتھ سے جائے مگر کسی دینی کام میں علماء سے دریافت کرنے کی اصلا حاجت نہیں کہ یہ کیونکر حلال ہے کس طرح حرام کس صورت میں صحیحکس طورپر فاسدتو وجہ کیا کہ دو روپے استغفرالله بلکہ دو۲ پیسے کا نقصان گراں گزرتا ہے دین کی پرواہ کیاہےیہاں بھی اپنی ناواقفی سے یہ گناہ عظیم سر پر لیا ہےاگر علم رکھیں یا علماء سے پوچھیں تویہ کارخانہ بدستور یوں ہی جاری رہے اور خالص حلال وطیب ہو فقط اتنا کریں کہ قیمت میں سونے چاندیروپیہاشرفیاٹھنیچونیدونی نہ کہیں بلکہ جتنے روپوں کو بیچنا ہو اتنے کے پیسوں یا نوٹ کانام لیں مثلا سو روپیہ کا کلابتوں بیچنا ہے تو یوں کہے کہ میں نے یہ کلابتوں تیرے ہاتھ ایك ہزار چھ سوآنے فلوس رائحۃ الوقت کو بیچا یا بعوض نوٹ احاطہ فلاں رقمی صد روپیہ کے بیع کیا اب نہ اتحاد جنس ہے کہ تماثل شرط ہوظاہر ہے کہ کلابتوں میں چاندی ہے اور یہاں پیسے یا کاغذ نہ یہ بیع صرف ہے کہ قرضوں مطلقا حرام ہوتابنائے کاغذ اصل آفرینش میں ثمن نہیں اور صرف وہی کہ ثمن خلقی ثمن خلقی سے بیع کی جائےیہ صرف سونا یا چاندی ہے وبسہاں ازانجا کہ فلوس ونوٹ اصطلا حا ثمن ہیں ایك جانب سے قبضہ ضرور ہے کیلا یلزم الافتراق عن دین بدین(تاکہ دین کے بدلے میں دین سے جدا ہونا لازم نہ آئے۔ ت)لہذا اگر روپیہ کے پیسے خریدے روپیہ دے دیا اور پیسے پھر دئے جائیں گے تو مذہب راجح ومعتمد میں کچھ مضائقہ نہیں بعینہ یہی حال کلابتوں اور پیسوں یانوٹ کی ہے کہ صرف ایك طرف سے قبضہ ہوجانا کافی اگرچہ دوسری جانب قرض ہودرمختار میں ہے:
الصرف شرعا بیع الثمن بالثمن ای ماخلق للثمنیہ اھ ملخصا
صرف اصطلاح شرع میں ثمن کے بدلے ثمن کی بیع ہے یعنی جسے ثمنیت کےلئے پیدا کیا گیا اھ تلخیص۔
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۵
#13424 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
وفی رد المحتار عن البحر عن الذخیرۃ فی مسألۃ بیع فلس بفلسین باعیانہما ان محمداذکر ھا صرف الاصل ولم یشترط التقابض(وعلله من اعتمد من المشائخ)بان التقابض مع التعیین شرط فی الصرف و لیس بہ کما فیہ عنہ عنہما عنہم قلت وقد حققنا المسألۃ بتوفیق اللہ تعالی فی فتاونا العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ بمایتعین الوقوف علیہ فانہ بحمدہ تعالی نفیس لہم قال ابن عابدین سئل الحانوتی عن بیع الذھب بالفلوس نسیئۃ فاجاب بانہ یجوز اذا قبض احد البدلین لما فی البزازیۃ لواشتری مائۃ فلس بدرہم یکفی التقابض من احد الجانبین قال ومثلہ مالو باع فضۃ اوذھبا بفلوس کما فی البحر عن المحیط الخ۔
اور ردالمحتارمیں ایك معین پیسے کی دو معین پیسوں کے عوض بیع کے مسئلہ کے ضمن میں بحوالہ بحر ذخیرہ سے منقول ہے کہ بیشك امام محمد نے اس کو اصل کے باب الصرف میں ذکر کیا اور تقابض کو شرط قرار نہیں دیااور معتمد مشائخ نے اس کی تعلیل یوں بیان کی تعیین کے ساتھ تقابض تو صرف میں شرط ہے حالانکہ یہ صرف نہیںجیسا کہ اس میں امام ابوحنیفہ صاحبین اور ان تمام سے منقول ہے قلت(میں کہتاہوں) بے شك ہم نے اس مسئلہ کی تحقیق اپنے فتاوی"العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ"میں اس اندازسے کردی ہے جس پر واقفیت حاصل کرنا متعین ہے کیونکہ بحمدالله یہ ان کے لئے بہت عمدہ ہےامام ابن عابدین نے کہا کہ حانوتی سے سونے کی پیسوں کے عوض ادھار بیع کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ جائز ہے بشرطیکہ بدلین میں سے ایك پر قبضہ کرلیا گیا ہو اس دلیل کی وجہ سے جو بزازیہ میں ہے کہ اگر کسی نے سو پیسے ایك درہم کے عوض خریدے تو صرف ایك طرف سے قبضہ کافی ہے اور فرمایا کہ اگر کسی نے پیسوں کے عوض سونا یا چاندی بیچا تو اس کاحکم بھی ایسا ہی ہے بحر میں محیط کے حوالے سے یونہی منقول ہے۔ الخ(ت)
پھر لیتے وقت یہ ضرور نہ ہوگا کہ خاص پیسے یانوٹ ہی لیں بلکہ برضائے مشتری ان پیسوں یا نوٹوں کے روپے بھی لے سکتے ہیں
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۴
ردالمحتار کتاب البیوع باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۴
#13425 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
فانہ بیع عین بدین کان علیہ فیجوز برضاہ وقد علمت انہ لیس بصرف ولا سلم قال فی الدرالمختار لوباع ابلا بدراہم اوبکربرجاز اخذ بدلہما شیئا اخروکذا الحکم فی کل دین قبل قبضہ کمہرواجرۃ و ضمان متلف وبدل خلع وعتق بمال وموروث و موصی بہ والحاصل جواز التصرف فی الاثمان و الدیون کلہا قبل قبضہما عینی سوی صرف وسلم فلا یجوز اخذ خلاف جنسہ لفوات شرطہ ھ۔
کیونکہ عین کی اس دین کے بدلے میں بیع ہے جو بائع پرہے تو اس کی رضامندی سے جائز ہے حالانکہ تو جان چکا ہے کہ یہ صرف اورسلم نہیں ہےدرمختار میں کہا گیا کہ اگر کسی نے درہموں کے بدلے یا ایك بوری گندم کے بدلے اونٹ بیچا تو ان دونوں کے بدلے کوئی اور شے بھی لے سکتاہے اور یہی حکم ہے قبضہ سے پہلے دین کاجیسے مہراجرتضائع شدہ شیئ کا تاوانخلع کا بدلمال کے بدلے آزاد کرنامال مورث اور وہ مال جس کی وصیت کی گئی ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ تمام ثمنوں اور دینوں میں قبضہ سے پہلے تصرف جائز ہے(عینی)سوائے صرف اور سلم کے کہ ان میں خلاف جنس ثمن لینا ناجائز ہے بسبب فوت ہوجانے اس کی شرط کے اھ(ت)
ہاں یہ ضرور ہے کہ جس مجلس میں ان کے عوض روپیہ دینا ٹھہرے اسی مجلس میں تمام وکمال روپیہ اد ا کردیا جائے ورنہ یہ معاوضہ یعنی پیسوں یانوٹوں کے بدلے جوروپیہ دینا قرار پایا ہے ناجائز ہوجائیگا۔
للافتراق عن الکائی بالکائی فی ردالمحتار قولہ جاز اخذ بدلہما شیئا اخر لکن بشرط ان لایکون افتراقا بدین کما یاتی فی القرض اھ(وقال فی قرض الدر)جاز شراء المستقرض القرض ولوقائما من المقرض بدراہم مقبوضۃ فلو تفرقا قبل قبضہا بطل لانہ افتراق عن دین بزازیۃ فلیحفظ۔
دین کے بدلے دین کی بیع سے جدا ہونے کی وجہ سے ردالمحتارمیں ہے کہ مصنف کا قول کہ ان دونوں کے بدلے کوئی شے لینا جائز ہے مشروط ہے اس شرط کے ساتھ کہ دین کے ساتھ بائع اور مشتری میں جدائی نہ ہو جیسا کہ قرض کے باب میں آرہا ہے اھ اور در کے باب القرض میں فرمایا مستقرض کے لئے جائز ہے کہ قرض دہندہ سے درہم مقبوضہ کے عوض قرض کو خریدے اگر قائم ہو پھر اگر وہ دونوں ان دراہم مذکورہ پر قبضہ سے پہلے متفرق ہوگئے تو خریداری باطل ہوجائے گی کیونکہ یہ قرض سے افتراق ہے(بزایہ)اس کو
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع فصل فی التصرف فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۸۔ ۳۷
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی التصرف فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۶۶
درمختار کتاب البیوع فصل فی القرض مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۹۔ ۴۰
#13426 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
محفوظ کرلینا چاہئے۔(ت)
تو دیکھئے صورت بعینہا وہی رہی جو ان بائعوں میں جاری ہے صرف ایك لفظ کے تغیر میں حرمت سے حلت ہوگئی اس مسئلہ کو خوب شائع کرنا چاہئے کہ اہل اسلام جو بلاوجہ گناہ میں مبتلا ہیں معصیت سے نجات پائیںوبالله التوفیق۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۷: از بجنور درحدود ۱۳۰۰ھ مرسلہ مولوی غلام مصطفی صاحب تلمیذ حضرت والاعلام قدس سرہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بیع فلوس رائجہ کی جو حکم ثمن میں ہیں بمقابلہ روپیہ کے بیع صرف ہے یانہیں اور اگر صراف کو روپیہ دیا اس کے پاس کل روپیہ کے پیسے نہ تھے موجود دئے باقی کا وعدہ کردیا تو یہ بیع جائز ہوگی یانہیں اور جبکہ یہ بیع صرف بسبب صدق تعریف کے کہ بیع الثمن بالثمن ہے قرار دی جائے گی تو اس میں شرائط بیع صرف کے کہ متحد الجنسین میں تماثل اور تقابض اور مختلف الجنسین میں تقابض ہے درصورت جواز کے پائے جائیں گے یانہیں بینواتوجروا
الجواب:
بیع الفلوس بالدارہم صرف نہیں نہ اس میں سب احکام صرف جاری۔
فان الصرف بیع ماخلق الثمنیۃ بماخلق لہا کما فسرہ بذلك فی البحر وتبعہ فی الدرالمختار واقرہ الشامی وغیرہ و معلوم ان الفلوس لیست کذا وانما عرض لہاحکم الاثمان بالاصطلاح مادامت رائجۃ والافہی عروض کما فی اصل خلقتہا وبعدم کونہ صرفا صرح العلامۃ الشامی عن البحر وصاحب البحر عن الذخیرۃ عن المشائخ فی باب الربو من رد المحتار ۔
کیونکہ صرف تو خلقی ثمن کو خلقی ثمن کے عوض بیچنے کا نام ہے جیسا کہ اس کی تفسیر بیان کی بحر نے اور درمختار میں اس کی اتباع ہے اور شامی وغیرہ نے اس کو برقرار رکھا اور یہ بات معلوم ہے کہ پیسے ثمن خلقی نہیں انہیں تو جب تك وہ رائج ہیں اصطلاح میں ثمنوں کاحکم عارض ہے ورنہ تویہ سامان ہیں جیسا کہ اصل خلقت میں تھے اور اسکے بیع صرف نہ ہونے کی تصریح علامہ شامی نے ردالمحتار کے باب الربو میں بحر کے حوالہ سے کی اور صاحب بحر نے بحوالہ ذخیرہ عن مشائخ نقل کیا۔(ت)
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الصرف ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۱۹۲،درمختار کتا ب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۵
ردالمحتار کتاب البیوع باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۴
#13427 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
مگر اس قدر میں شك نہیں کہ جب تاعین رواج ان کے لئے حکم اثمان ہے تو احدالجانبین میں قبض بالید ہونا ضروری ہے۔
والالکان افتراقا عن دین بدین و قد نہی النبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عن بیع الکائی بالکائی ۔
ورنہ یہ دین کے بدلے دین سے افتراق ہوگا حالانکہ رسول اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ادھار کے بدلے ادھار کی بیع سے منع فرمایا ہے۔(ت)
اختلاف اسی میں ہے کہ آیا یہ قبضہ جانبین سے مشروط یا ایك ہی جانب میں کافی جس نے اصل خلقت پر نظر کی کہا صرف نہیں پھر تقابض کی کیا حاجت۔
وھم الاکثرون وعلیہ نص محمد فی المبسوط و اعتمدہ فی المحیط والحاوی والبزازیۃ والبحر الرائق والنہر الفائق وفتاوی الحانوتی وتنویر الابصار و الدر المختار والفتاوی الہندیۃ وغیرہا من متون المذھب وشروحہ و فتاوہ وھو مفاد کلام الامام الاسبیجابی کما نقلہ الشامی عن الزین عن الامام
اور وہ اکثر ہیں اسی پر امام محمد نے مبسوط میں نص فرمائی اور اسی پر اعتماد کیا گیا ہے محیطحاویبزازیہالبحرالرائقالنہر الفائقفتاوی
حانوتیتنویر الابصاردرمختار اور فتاوی ہندیہ وغیرہ مذہب کے متونشروح اور فتاوی میںاور یہی مفا دہے امام اسبیجابی کے کلام کا جیساکہ اس کو شامی نے بحوالہ زین امام اعظم سے نقل کیا ہے۔(ت)
اور جس نے ثمنیت مصطلحہ پر لحاظ کیا تقابض شرط ٹھہرایا۔
کما افتی بہ العلامۃ قاری الہدایۃ واولہ الفاضل عمر بن نجیم بما یخرجہ عن الخلاف ونازعہ المحقق الشامی قائلا انہ محمول علی مادل علیہ کلام الامام محمد فی الجامع الصغیر من اشتراط التقابض من الجانبین وکل ذلك مشرح فی ردالمحتار
جیسا کہ اس پر فتوی دیا علامہ قاری الہدایہ نے اور فاضل عمر بن نجیم نے اس کی ایسی تاویل کی جو اس کو خلاف سے نکالتی ہے اور محقق شامی نے یہ کہتے ہوئے اس کے ساتھ منازعت کی کہ اس کو اس معنی پر محمول کیا جائے گا جس پر جامع صغیر میں امام محمد کاکلام دلالت کرتاہے یعنی دونوں جانبوں سے تقابض شرط ہے اور اس تمام کی تفصیل ردالمحتار
حوالہ / References سنن الدارقطنی کتا ب البیوع حدیث ۲۶۹ نشرالسنۃ ملتان ۳ /۷۱
ردالمحتار کتاب البیوع باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۴
#13428 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
وغیرہ من الاسفارقال العبد الضعیف غفراللہ تعالی لہ وما جنح الیہ الفاضل الشامی سیدی محمد بن امین الدین افندی ابن عابدین رحمۃ اللہ تعالی علیہ من دلالۃ کلام الجامع الصغیر علی ذلك الاشتراط فقد تبع فیہ صاحب البحر والعلامۃ زین الدین عول علی ماوقع فی الذخیرۃکما ھو ایضا مذکور فی الحاشیۃ الشامیۃ ولکن لی فیہ تأمل بعد فانی راجعت الجامع فوجدت نصہ ھکذا محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رضی اللہ تعالی عنہم رجل باع رطلین من شحم البطن برطل من الیۃ اوباع رطلین من لحم برطل من شحم البطن اوبیضۃ ببیضتین اوجوزۃ بجوزتین اوفلسا بفلسین اوتمرۃ بتمرتین یدابید باعیانہا یجوز وھو قول ابی یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ وقال محمد رحمۃ اللہ علیہ لایجوز فلس بفلسین ویجوز تمرۃ بتمرتین انتہی کلامہ الشریف نفعنا اللہ تعالی ببرکاتہ فی الدنیا والاخرۃ امین۔
وغیرہ ضخیم کتابوں میں ہےیہ عبدضعیف(الله تعالی اس کی مغفرت فرمائے)کہتاہے کہ جس معنی کی طرف علامہ سید محمد امین الدین آفندی ابن عابدین شامی رحمۃ الله تعالی مائل ہوئے اس میں انہوں نے صاحب البحر کی پیروی کی اور علامہ زین الدین نے اس پر اعتماد کیا جو ذخیرہ میں واقع ہوا جیساکہ حاشیہ شامیہ میں بھی مذکور ہے لیکن ابھی تك مجھے اس میں تأمل ہے بیشك میں نے جامع صغیر کی طرف رجوع کیا تو اس کی نص کو یوں پایا کہ محمد نے یعقوب سے اور اس نے ابوحنیفہ سے روایت کیا(رضی الله تعالی عنہم)کہ ایك شخص نے دورطل پیٹ کی چربی ایك رطل الیہ کی چربی کے عوض یا دو رطل گوشت ایك رطل پیٹ کی چربی کے عوض بیچا یا ایك انڈہ دوانڈوں کے عوض یا ایك اخروٹ دواخروٹوں کے عوض یا ایك پیسہ دوپیسوں کے عوض یا ایك چھوہارا دو چھوہاروں کے عوض فروخت کیا اس طور پر کہ ان تمام چیزوں کا لین دین ہاتھوں ہاتھ ہوا اور یہ تمام چیزیں معین تھیں تو یہ بیع ہے اور یہی قول امام ابویوسف رحمۃالله تعالی علیہ کااو رامام محمد رحمۃالله تعالی نے فرمایا کہ ایك پیسے کی بیع دو پیسوں کے عوض ناجائز اور ایك چھوہارے کی بیع دو چھوہاروں کے عوض جائز ہےامام صاحب کا کلام شریف ختم ہواالله تعالی ہمیں دنیاوآخرت
حوالہ / References الجامع الصغیر کتاب البیوع باب البیع فیما یکال اویوزن مطبع یوسفی لکھنؤ ص۹۷
#13429 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
فمحمل الاستباط انما ھوقولہ رضی اللہ تعالی عنہ یدا بید ولکن قددری من مارس الفقہ ان ھذا اللفظ لیس نصاصریحا فی التقابض بالبراجم الاتری علمائنا رحمہم اللہ تعالی فسروہ فی الحدیث معروف بالعینیۃ کما قال فی الہدایۃ ومعنی قولہ علیہ الصلوۃ والسلام یدابید عینابعین کذا رواہ عبادۃ بن الصامت رضی اللہ تعالی عنہ انتہی کیف وقد قال اصحابنا رضی اللہ تعالی عنہم ان التقابض انما یشترط فی الصرف واما ماسواہ ممایجری فیہ الربوا فانما یعتبر فیہ التعین فان حمل قول ھذا فی العبارۃ التی ذکر نا علی التقابض واستجلب منہ اشتراط ذلك فی فلس بفلسین کان ایضا مشترطا فی تمرۃ بتمرتین و بیضۃ ببیضتین وجوزۃ بجوزتین فان المسائل کلہا مسوقۃ بسیاق واحد وہذا لم یقل بہ ائمتنا فوجب حملہ
میں اس کی برکات سے نفع عطا فرمائے آمینتومحل استدلال امام صاحب رضی اللہ تعالی عنہکا قول"یدابید"(ہاتھ ہاتھ) ہے لیکن فقہی مہارت والاجانتاہے کہ بیشك یہ لفظ انگلیوں کے پوروں کے ساتھ قبضہ کرنے میں نص صریح نہیں کیا تو نہیں دیکھتا کہ ہمارے علمائے کرام رحمہم الله تعالی نے حدیث معروف میں اس کی تفسیر عینیت کے ساتھ فرمائی ہے جیسا کہ ہدایہ میں کہا کہ رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے قول "یدابید""عینا بعین"ہےیونہی روایت فرمایا ہے اس کو حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہنےانتہیاور یہ کیسے ہوسکتاہے حالانکہ ائمہ رضی الله تعالی عنہم نے فرمایا ہے کہ بے شك باہمی قبضہ تو فقط بیع صرف میں شرط ہے اس کے علاوہ جس میں ربا جاری ہوتاہے وہاں فقط تعیین معتبر ہے اگر ہمای ذکر کردہ عبارت میں اس کے قول کو تقابض (دو طرفہ قبضہ)پر محمول کیا جائے اور اس سے ایك پیسے کی دو پیسوں کے عوض بیع میں تقابض کا شرط ہونا اخذ کیا جائے تو پھر ایك کھجور کی دو کے عوضایك انڈے کی دو کے عوض اور ایك اخروٹ کی دو کے عوض بیع میں بھی تقابض شرط ہوگا کیونکہ ان تمام مسائل کا سیاق ایك ہی ہے(لہذا حکم بھی ایك ہوگا)حالانکہ ہمارے ائمہ کرام اس کے قائل نہیں ہیں لہذا
حوالہ / References الہدایہ کتاب البیوع باب الربا مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۳۔ ۸۲
#13431 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
علی اشتراط التعین وکان قولہ رضی اللہ تعالی عنہ باعیانہا تفسیر القولہ یدا بید و الا لکان حشوا مستغنی عنہ فان التقابض فیہ التعیین مع شیئ زائد فذکرہ بعدہ خال عن الفوائد ولذا لما نقل الامام صاحب الہدایۃ ھذہ المسئلۃ عن الجامع الصغیر اسقط عنہا تلك الکلمۃ واقتصر علی ذکر العینیۃ حیث قال قال (ای محمد کما صرح بہ العلامۃ بدرالعینی فی البنایۃ ) یجوز بیع البیضۃ بالبیضتین والتمرۃ بالتمرتین و الجوزۃ بالجوزتین ویجوز بیع الفلس بالفلسین باعیانہما انتہی فلیس فی الجامع ان شاء اللہ تعالی دلیل علی ماذکر ھؤلاء الاعلام وان کان فمع احتمال الغیر احتمالا بینا لایراد ولایرام بخلاف عبارۃ الاصل اعنی المبسوط فانہا نص ای نص فی عدم اشتراط التقابض کما ستری ان شاء اللہ تعالی فعلیہ فلیکن التعویل واللہ تعالی ولی التوفیق ہذا ما سنح للعبد القاصر
اس کو اشتراط تعیین پر محمول کرنا واجب ہے اور امام صاحب رضی اللہ تعالی عنہکا قول"باعیانہا"ان کے قول"یدا بید" کی تفسیر ہوگا ورنہ یہ قول لغوا ور بلاضرورت ہوگا کیونکہ تقابض میں تعیین کچھ اضافے سمیت موجود ہے توپھر اس (تعیین)کو تقابض کے بعد ذکر کرنا فائدہ سے خالی ہوگایہی وجہ ہے کہ جب امام صاحب ہدایہ نے اس مسئلہ کو جامع صغیر سے نقل کیا تو اس میں سے یہ کلمہ(یدابید)ساقط کرکے فقط عینیت کے ذکر پر اکتفا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یعنی امام محمدرحمۃ الله تعالی علیہ(بنایہ علامہ عینی)نے فرمایا کہ جائز ہے بیع ایك انڈے کی دو انڈوں کے عوض اور ایك کھجورکی دو کجھوروں کے عوض اورایك اخروٹ کی دو اخروٹوں کے عوض اورایك معین پیسے کی دو معین پیسوں کے عوضانتہی چنانچہ جامع صغیر میں تو ان شاء الله اس پر کوئی دلیل نہ ہوگی جوان بزرگوں نے فرمایا اور اگر ہو بھی تب بھی غیر کا احتمال بین ہوتے ہوئے اس کا ارادہ نہیں کیاجائے گا بخلاف اصل یعنی مبسوط کی عبارت کے کہ وہ تقابض کے شرط نہ ہونے پر نص ہے جیسا کہ عنقریب ان شاء الله تعالی تو دیکھے گا چنانچہ اسی پر اعتماد کرنا چاہئے اور الله تعالی ہی مالك توفیق ہے یہ وہ ہے جو اس قاصر بندے
حوالہ / References البنایۃ فی شرح الہدایۃ کتاب البیوع باب الربٰو المکتبۃ الامدادیہ مکہ مکرمہ ۳ /۱۵۴
الہدایہ کتاب البیوع باب الربٰو مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۳
#13433 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
فتاملہ فان وجدتہ حقا فعلیك بہ والافارم بہ الجدار۔
پر منکشف ہوا اس میں غور کر اگرتو اس کو حق پائے تو عمل کرنا تجھ پر لازم ہے ورنہ اس کودیوار پر دے مار۔(ت)
بالجملہ مذہب راجح پر بیع الفلوس بالدراہم والدنانیر میں ایك ہی جانب کا قبضہ کافیپس صورت مستفسرہ میں بیع بلا تردد صحیح اور صراف پر مشتری کے لئے باقی پیسے لازم
فی المبسوط اذا اشتری الرجل فلوسا بدراہم ونقد الثمن ولم تکن الفلوس عندالبائع فالبیع جائز اھ کذا فی الہندیۃ و فیہا عن الحاوی وغیرہ لواشتری مائۃ فلس بدرہم فقبض الدرہم و لم یقبض الفلوس حتی کسدت لم یبطل البیع قیاسا و لوقبض خمسین فلسا فکسدت بطل البیع فی النصف ولو لم تکسد لم یفسد وللمشتری مابقی من الفلوس اھ ملتقطا وفی التنویر وشرحہ باع فلوسا بمثلہا او بدراہم او بدنانیر فان نقد احدہما جازوان تفرقا بلا قبض احدہما لم یجز اھ ومسئلۃ المقام یستدعی اکثر من ھذا وفیما ذکرنا کفایۃ۔ واللہ تعالی اعلم۔
مبسوط میں ہے کہ جب کسی نے درہموں کے عوض پیسے خریدے اور ثمن نقدا ادا کردئے مگر بائع کے پاس اس وقت پیسے موجود نہیں تو بیع جائز ہے اھ ہندیہ میں یونہی ہےاسی میں حاوی وغیرہ سے منقول ہے اگرکسی نے ایك درہم کے عوض سو پیسے خریدےبائع نے درہم پر قبضہ کرلیا مگر مشتری نے ابھی پیسوں پر قبضہ نہیں کیا تھا کہ وہ کھوٹے ہوگئے تو قیاس کی رو سے بیع باطل نہیں ہوئی اوراگر پچاس پیسوں پر قبضہ کیا تھا کہ وہ کھوٹے ہوگئے تو نصف میں بیع باطل ہوگئی اگر وہ کھوٹے نہ ہوتے بیع فاسد نہ ہوتی اور مشتری باقی پیسے لینے کا حقدار ہوتا اھ تلخیص تنویر اور اس کی شرح میں ہے کہ کسی نے پیسوں کو ان کی مثل کے عوض یا درہموں کے عوض یا دیناروں کے عوض بیچا پس اگر دونوں میں سے ایك نے نقد ادائیگی کردی توبیع جائز ہے اور اگر دونوں قبضہ کئے بغیر متفرق ہوگئے تو ناجائز ہے اھ اس مقام کا مسئلہ اس سے زیادہ تفصیل کا تقاضا کرتاہے اورجو کچھ ہم نے ذکر کیا اس میں کفایت ہے اور الله تعالی بہتر جانتاہے۔(ت)
حوالہ / References المبسوط للسرخسی کتاب البیوع باب البیع بالفلوس دارالمعرفۃ بیروت الجزء الرابع عشرص۲۴،فتاوی ہندیہ کتاب الصرف الفصل الثالث فی بیع الفلوس نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۲۵
فتاوی ہندیہ کتاب الصرف الفصل الثالث فی بیع الفلوس نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۲۵
درمختار کتاب البیوع با ب الربٰو مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۲
#13436 · باب الصرف (بیع صرف کا بیان)
مسئلہ ۲۶۸: از دھوراجی ملك کاٹھیا وار کوچہ کھٹچرا سٹریٹ مسئولہ عبدالکریم ابن قاسم ۷ ربیع الثانی ۱۳۳۱ھ
بخدمت شریف جناب مخدوم ومکرم مجدد مائۃ حاضرہتکلیف دینے کا باعث یہ ہے کہ جو رسالہ کفل الفقیہ آپ کی جانب سے شائع ہوا ہے اس میں بعض لوگوں کو شك ہے کہ یہ رسالہ مولاناصاحب کے نام سے کسی دوسرے نے چھپواکر شائع کردئے ہیں اس بات کا بہت چرچا ہورہا ہے کہ نوٹ کو مال قرار دیا ہے وہ کس طرح سے ہوسکتاہےہمارا اعتماد آپ کے اوپر ہےمطلب ہمارا یہ ہے کہ اگر حضور کی جانب سے کفل الفقیہ شائع ہوا ہو تو آپ اپنے دست مبارك سے ہم کو جواب دیں تاکہ ان پر عمل کریں اورشك دورہوجائے اور جب تك آپ کی طرف سے جوا ب نہیں آئے گا وہاں تك لوگوں کو بحث بھی رہے گی اور ہم لوگوں کے دل پر شك رہے گا توآپ برائے خدا جلد جواب تحریر کریں۔
الجواب:
رسالہ کفل الفقیہ الفاھم فقیر ہی کی تصنیف ہے مکہ معظمہ میں وہاں کے ایك عالم جدہ نے فقیر سے اس کا سوال کیا اور فقیر نے وہیں تصنیف کیا اور متعدد علمائے کرام مکہ مکرمہ نے اس کی نقلیں لیں پھر بعد واپسی فقیر نے اسے طبع کرایا پھر حاجی عیسی خاں محمد صاحب نے مع ترجمہ چھپوایامدینہ طیبہ میں مصر کے دو جلیل عالموں مدرسین جامع ازہر نے اسے دیکھا اور فرمائش کی کہ اس کے نسخے ہم کو ضرور بھیج دوان کو بھیج دئے گئےنوٹ کا مال ہونا اس رسالہ میں دلائل ساطعہ سے روشن کردیاہے۔
و الله تعالی اعلم۔
#13438 · باب بیع التلجیۃ (دکھلاوے کی بیع کا بیان)
باب بیع التلجیۃ
(دکھلاوے کی بیع کا بیان)

مسئلہ ۲۶۹:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین صورت مسئولہ میں کہ زید نے ایك قطعہ مکان جس کا وہ مالك تھا بدست عمرو اپنی کسی مصلحت سے بلاوصول زرثمن فرضی طریق سے بیعنامہ تصدیق کرادیا اور قبضہ اپنا مبیعہ پرنہیں دیا ہےاور عمرو کی اب یہ خواہش ہے کہ میں اسی مکان کو زید کے فوت ہونے پر اس کے ورثہ کو ہبہ کردوںدریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا اسی مکان کو ہبہ کرنا شرعا جائز ہے یانہیں اور اگر ہبہ جائز ہے تو کن کن وجوہات میں واپس ہوسکتاہے اور کس صورت سے واپس نہیں ہوسکتا۔بینوا توجروا
الجواب:
عمروکو اگر اقرار وتسلیم یا بینہ عادلہ شرعیہ سے ثابت ہے کہ یہ بیع محض بطورفرضی کی گئی ہے جسے بیع تلجیہ کہتے ہیں تو بیع شرعا منعقد ہوگئی ولہذا اگر عاقدین اسے جائز کردیں نافذ ہوجائیگی۔
فی الدر المختار انہ بیع منعقد غیر لازم کالبیع بالخیار الخ وفی ردالمحتار
درمختار میں ہے کہ وہ بیع منعقدہے مگر لازم نہیں جیسے خیار کے ساتھ بیع الخاور ردالمحتار میں
حوالہ / References درمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۷
#13440 · باب بیع التلجیۃ (دکھلاوے کی بیع کا بیان)
انہما لواجازاہ جازوالباطل لاتلحقہ الاجازۃ الخ و قولہم باطل ای سیبطل ان لم یجز کما حققناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار۔
ہے کہ اگر عاقدین نے اس کی اجازت دے دی تو جائز ہوگی حالانکہ باطل کو اجازت لاحق نہیں ہوتی الخ اورفقہاء کا قول کہ وہ بیع باطل ہے اس کا معنی یہ ہے کہ عنقریب باطل ہوجائے گی اگر اس کی اجازت نہ دی گئی جیسا کہ ہم نے ردالمحتار پر اپنی تعلیق میں اس کی تحقیق کی ہے۔(ت)
مگر جبکہ قبل اجازت زیدنے وفات پائی اب بیع باطل محض ہوگئی۔
فان البیع الموقوف یبطل بموت المالك بل والعاقد و ان لم یکن مالکا کالفضولی ولاتصح اجازۃ ورثتہ بعدہ فی الدرالمختار حکمہ قبول الاجازۃ اذاکان البائع والمشتری والمبیع قائما وکذا یشترط قیام صاحب المتاع ایضا فلا تجوز اجازۃ وارثہ لبطلانہ بموتہ ۔ (ملخصا)
کیونکہ موقوف بیع مالك کی موت سے باطل ہوجاتی ہے بلکہ عاقد اگرچہ وہ مالك نہ ہو اس کی موت سے بھی باطل ہوجاتی ہے جیسے فضولی کی موت سےاور اس کی موت کے بعد اس کے وارث کی اجازت سے بیع صحیح نہیں ہوتیدرمختار میں ہے اس کا حکم یہ ہے کہ یہ اجازت کو قبول کرتی ہے جبکہ بائع مشتری اورمبیع قائم ہوں اور اسی طرح مالك کا قائم ہونا بھی شرط ہے چنانچہ اسکی موت سے بیع کے باطل ہوجانے کی وجہ سے اس کے وارث کی اجازت نہیں۔(ت)
تو عمرو غیر مالك کا اس مکان کو وارثان زید خود مالکان کے نام ہبہ کرنا محض بے معنی ہے اور اگر براہ دیانت و امانت اپنے ورثہ یا ائندہ خود اپنی بریت کے اندیشہ سے چاہتاہے کہ بیعنامہ مصدقہ جو محض فرضی تھا بے اثر ہوجائے تواس کے لئے بھی اس ہبہ بے معنی کی ضرورت نہیں اعلان کردے اور گواہ کرالے یا اقرار نامہ تصدیق کرادے کہ میں اس مکان کا مالك نہیں میرے نام بیع صرف بیع فرضی تھی یہ اظہار ہبہ محکم تر بھی ہوگا کہ ہبہ کے لئے شروط ہیں پھر جب تك موانع ہبہ سے کوئی مانع نہ ہواختیار رجوع بھی ہوتاہے اور اگر صورت ہبہ ہی اختیار کرے اس کی شکلیں اس طور پر کردے کہ کوئی شرعی اعتراض نہ رہے نہ آئندہ اختیار رجوع ہوتو یہ
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۷
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲
#13443 · باب بیع التلجیۃ (دکھلاوے کی بیع کا بیان)
بھی ایك صورت اس مقصود محمودکے حصول کی ہے
وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی
بیشك عملوں کا دارومدار تو نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔(ت)
جس طرح نظر خلق میں وہ بیع صحیح نافذ ظاہر کی گئی یونہی نظر خلق میں یہ ہبہ تامہ لازمہ ظاہر ہوگا تو اندیشہ سے تحفظ ہوجائے گا واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۰:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے مثلا ایك قطعہ مکان وایك حصہ دکان بدست بکر کسی وجہ خاص سے بیع فرضی کرکے قبضہ تام واسطے بکرکے حاصل کرادیادریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا بکر بہ سبب اس عقد فرضی کے مالك مکان وحصہ دکان کا شرعا ہوگایا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
فی الواقع اگر بینہ شرعیہ یا اقرار بکر سے ثابت ہے کہ بیع فرضی طور پر کی گئی ہے تو بکر ہر گز مالك مبیع نہیں اگر چہ قبضہ برضائے بائع کیا ہو
فانہ بیع منعقد موقوف علی اجازتہما الموقوف لا یقدر الملك بالقبض کما حققناہ فیما علقناہ فی رد المحتارواللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
کیونکہ یہ بیع منعقد عاقدین کی اجازت پر موقوف ہے او رموقوف میں قبضہ سے ملکیت حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ ہم نے ردالمحتار پر اپنی تعلیق میں اس کی تحقیق کردی ہے اوراللہ سبحانہ وتعالی بہتر جانتاہے۔(ت)
حوالہ / References صحیح بخاری باب کیف کان بدء الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲
#13444 · باب بیع الوفاء (بیع وفاء کا بیان)
باب بیع الوفاء
(بیع وفاء کا بیان)
مسئلہ ۲۷۱:از ریاست رامپور بزریہ ملاظریف بنگلہ متصل مسجد مرسلہ مولوی محمد علیم الدین صاحب اسلام آبادی ۱۸ جمادی الآخر ۱۳۱۴ھ
ما قولکم رحمکم اللہ ربکم فی جواز بیع الوفاء و الانتفاع بہ ھل ھو جائز اما لابینوا بادلۃ الکتاب توجروا من الوہاب فی یوم الحساب آپ کا کیا ارشاد ہے اللہ تعالی آپ پر رحم فرمائے بیع الوفاء کے جواز اور اس سے نفع حاصل کرنے کے بارے میں کیا یہ جائز ہے یانہیں کتابوں کے حوالہ سے مدلل بیان فرمائیں حساب والے دن بہت عطا فرمانے والے اللہ تعالی سے اجر دئے جاؤ گے۔(ت)
الجواب:
المسئلۃ طویلۃ الاذیال کثیرۃ الاقوال وسیعۃ المجال بعیدۃ المنال وقد فصلنا ھا بتوفیق اللہ تعالی فی بعض تحریر اتنا والذی تقررو یہ مسئلہ لمبے دامنوں والابہت زیادہ اقوال والا اور وسیع مباحث والا ہےاور ہم نے اللہ تعالی کی توفیق سے اپنی بعض تحریروں میں اس کی تفصیل بیان کردی ہے اور وہ بات جو اس میں ثابت و
#13446 · باب بیع الوفاء (بیع وفاء کا بیان)
تحرر ان بیع الوفاء رھن لایزید علیہ بشیئ ولا یخالفہ فی شیئ قال العلامۃ خیر الدین رملی فی فتاواہ الذی علیہ الاکثر انہ رھن لا یفترق عن الرھن فی حکم من الاحکام قال السید الامام قلت للامام الحسن الماتریدی قد فشا ھذا البیع بین الناس وفیہ مفسدۃ عظیمۃ و فتواك انہ رھن وانا ایضا علی ذلك فالصواب ان نجمع الائمۃ ونتفق علی ھذا و نظہرہ بین الناس فقال المعتبر الیوم فتونا وقد ظہر بین الناس ذلك فمن خالفنا فلیبرز نفسہ ولیقم دلیلہ وفیہ اقوال ثمانیۃ وعلی کونہ رھنا اکثر الناس اھ وفیھا ایضا بیع الوفاء رھن الخوفی العقود الدریۃ من کتاب النکاح باب الولی بیع الوفاء منزل منزلۃ الرھن الخ وفیہا من الرھن بیع الوفاء منزل منزلۃ الرھن کما صرحوا بہ ثم ذکر نصوصا تدل علیہ فاذن لا یجوز لہذا الذی
ثابت شدہ ہے یہ ہے کہ بیع الوفاء رہن ہے نہ اس سے کچھ زائد اورنہ ہی کسی شیئ میں اس کے مخالف ہےعلامہ خیرالدین رملی نے اپنے فتاوی میں فرمایا کہ اکثر فقہاء اسی پر ہیں کہ یہ رہن ہے اور کسی حکم میں رہن سے جدا نہیں ہے سیدامام کا قول ہے کہ میں نے امام ابوالحسن ماتریدی سے کہا کہ یہ بیع لوگوں میں پھیل گئی اوراس میں فساد عظیم ہے جبکہ آپ کا فتوی ہے کہ یہ رہن ہے اورمیں بھی اسی کا قائل ہوں تو بہتر ہے کہ ہم ائمہ کوجمع کرکے اس پر متفق کریں اور اس کو لوگوں میں ظاہر کریں تو انہوں نے فرمایا کہ آج ہمارا فتوی معتبر اور لوگوں میں ظاہر ہے لہذا جو ہماری مخالفت کرے اس کو چاہئے کہ وہ خود کو سامنے لائے اور دلیل قائم کرے بیع الوفاء میں آٹھ اقوال ہیں اور اس کے رہن ہونے پر لوگوں کی اکثریت متفق ہے اھ اور یہ بھی اسی میں ہے کہ بیع الوفاء رہن ہے الخ عقودالدریۃ کتاب النکاح کے باب الولی میں ہے کہ بیع الوفاء بمنزلہ رہن کے ہے الخ اور اسی میں ہے کہ بیع الوفاء رہن کے بمنزلہ ہے جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے پھر اس میں ایسی نصوص ذکر کی گئی ہیں جو اس کے رہن ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو ایسی صورت میں اس
حوالہ / References فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۶۔۲۲۵
فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۲۶
العقود الدریۃ کتاب النکاح ارگ بازار قندہارافغانستان ۱ /۱۸
العقود الدریۃ کتاب الرہن ارگ بازار قندہارافغانستان ۲/ ۲۵۴
#13448 · باب بیع الوفاء (بیع وفاء کا بیان)
ھو مشتر صورۃ مرتہن معنی الانتفاع بمشریہ المرھون مطلقا علی ما ھو الفتوی الان للعلم بمقاصد اھل الزمان وقد علم شرعا ان المعہود عرفا کالمعہود شرطا کما افادہ ھھنا العلامۃ السید الطحطاوی ثم العلامۃ السید الشامی فی حواشی الدروقد افتیت بہ و ھو الحق الواضح جہاراواللہ تعالی اعلم۔
اس شخص کے لئے جو بظاہر مشتری اور درحقیقت مرتہن ہے بالکل جائز نہیں کہ وہ اس خریدی ہوئی مرتہن شے سے نفع حاصل کرے اور اب اہل زمانہ کے مقاصد کو جانتے ہوئے اسی پر فتوی ہےاور تحقیق یہ بات شرعا معلوم ہے کہ جو چیز عرف میں طے شدہ ہو وہ ایسے ہی ہوتی ہے جیسے اس کی شرط لگائی گئی ہو جیسا کہ اس مقام پر علامہ سید طحطاوی نے پھر علامہ شامی نے در کے حواشی میں اس کا فائدہ دیا اور بیشك میں نے اسی پر فتوی دیا اور یہی واضح اورکھلا حق ہےاوراللہ تعالی بہتر جانتاہے۔(ت)
مسئلہ ۲۷۲: ازقصبہ منڈوا ضلع فتحپور مرسلہ حافظ محی الدین صاحب ۱۰ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نےعمرو کی کچھ جائداد اس طرح پر لیا کہ عمروجب روپیہ زید کاادا کر دے تو اپنی جائداد واپس لے اور جب تك روپیہ ادا نہ ہو تب تك زید اس جائداد کا لگان گورنمنٹی اسی جائداد سے ادا کرے اور جو روپیہ اس جائداد کا لگان گورنمنٹی سے بڑھے وہ روپیہ زید اپنے تصرف میں لاکر یا کرے تو روپیہ بڑھتی کا زید کو لینا جائز ہے یانہیں سود ہوگا یانہیں اگر سود ہوگا تو ان لوگوں کی نماز جو سود لیتے نہیں ہیں صرف مہاجنوں کو سود دیتے ہیں زید کے پیچھے ہوگی یانہیں
الجواب:
یہ صورت بیع بالوفاء کی ہے او ر اس کاحکم مثل رہن کے ہے اور اس سے جو منفعت حاصل ہو حرام ہےحدیث میں فرمایا:
کل قرض جرمنفعۃ فہو ربو ۔
جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔(ت)
اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے اگر چہ مقتدی بھی سود لینے یا دینے والے ہوں۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۳: از ریاست چھتاری مدرسہ محمودیہ ضلع بلند شہر مرسلہ امیر حسن طالبعلم ۱۴ رجب ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی کوئی زمین یا مکان یا دکان عمرو کے ہاتھ
حوالہ / References کنزا لعمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسستہ الرسالہ بیروت ۶ /۲۳۸
#13451 · باب بیع الوفاء (بیع وفاء کا بیان)
بعوض سو۱۰۰ روپے کے فروخت کی اور باقاعدہ بیعنامہ لکھ پڑھ دیا مگر بیعنامہ سے پہلے یا بعد بائع مشتری سے یہ وعدہ پختہ لے لیا کہ جب میں تجھے تیرا زرثمن پورا پورا ادا کروں تو تو مجھے میری بیع واپس کر دینا اور تاواپسی تو مبیع سے فائدہ اٹھاتے جانامشتری نے اس بات کو بطیب خاطر پسند کرلیا تو کیایہ بیع جائزہے اور مشتری کو تاواپسی مبیع سے فائدہ اٹھانا جائز ہے یاکیا
الجواب:
اگر واقع میں انھوں نے بیع قطعی کی ہے اور اس میں یہ شرط ملحوظ نہیںبیع سے جدا یہ ایك وعدہ ہو لیا تھا بیع صحیح ہوئی اور اس سے انتفاع مشتری کو جائزورنہ تحقیق یہ ہے کہ وہ بیع نہیں بلکہ رہن ہے اور مشتری کو اس سے انتفاع حرامیہ بیع صحیح بلا دغدغہ ہونے کی صورت یہ ہے کہ اگر یہ قرار داد عقد سے پہلے ہوا تھا تو عقد کرتے وقت یہ کہہ لیں کہ ہم اس قرار داد سے باز آئے اب بیع قطعی کرتے ہیں اور اگر عقد کے بعدیہ قرارداد ہو تو بصورت شرط نہ ہو بلکہ صرف ایك وعدہردالمحتار میں ہے:
وفی جامع الفصولین ایضا لو ذکر البیع بلاشرط ثم ذکر الشرط علی وجہ العدۃ جاز البیع ۔
جامع الفصولین میں ہے کہ اگر بیع کا ذکر بلا شرط کیا پھر شرط کو بطور وعدہ ذکر کیا تو بیع جائز ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
فی جامع الفصولین ایضا لوشرطا شرطا فاسداقبل العقد ثم عقدا لم یبطل العقد اھ قلت وینبغی الفساد لو اتفقا علی بناء العقد علیہ کما صرحوا بہ فی بیع الہزل کما سیأتی اخر البیوع وقد سئل الخیر الرملی عن رجلین تواضعا علی بیع الوفاء قبل عقدہ وعقدا البیع خالیا عن الشرط فاجاب بانہ صرح
جامع الفصولین میں یہ بھی ہے کہ اگرعاقدین نے عقد سے پہلے کوئی شرط فاسد لگائی پھر عقد کیا تو عقدباطل نہ ہوگا۔اھ میں کہتاہوں کہ اگر وہ دونوں عقد کی بناء اس شرط فاسد پر کرنے پر متفق ہوئے تو عقد فاسد ہونا چاہئے جیسا کہ فقہاء نے بیع ہزل کے بارے میں تصریح کی ہے جیساکہ عنقریب بیع کی بحث کے آخر میں آئے گاعلامہ خیر الدین رملی سے ان دو شخصوں کے بارے میں سوال کیا گیا جنہوں نے عقد سے پہلے بیع الوفاء کی شرط ٹھہرائی پھر اس شرط سے خالی عقد کیا تو آپ نے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع مطلب فی الشرط الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۱۔۱۲۰
#13452 · باب بیع الوفاء (بیع وفاء کا بیان)
فی الخلاصۃ والفیض والتتارخانیۃ وغیرہا بانہ یکون علی ماتواضعا واللہ تعالی اعلم۔ وہی جواب دیا جس کی تصریح خلاصہفیض اور تتارخانیہ وغیرہ میں کی گئی ہے یعنی یہ بیع اس شرط پر ہوگی جو انھوں نے ٹھہرائی تھیاور اللہ تعالی بہتر جانتاہے۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب البیوع مطلب فی الشرط الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲۱
#13455 · باب متفرقات البیع (بیع کے متفرق احکام)
باب متفرقات البیع
(بیع کے متفرق احکام)

مسئلہ ۲۷۴:از موضع دیورنیاں:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قیمت مقررہ اسٹامپ سے زیادہ لینا رشوت ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
یہ رشوت نہیں بلکہ اپنی خرید پر نفع لینا ہے مگر کلام اس میں ہے اسٹامپ بیچنا خود ہی کراہت سے خالی معلوم نہیں ہوتا۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی جائداد بدست زید اپنے سوتیلے بیٹے کے فروخت کی اور قیمت اس کی وصول پاکر پھر زید کے پاس امانت رکھ دی زیدنے مہ عہ/ ماہوار مقرر کردیہندہ نے کہاکہ مشاہرہ مجھے کیونکر دیتے ہوکہا اسے آپ اس جائداد کی توفیر تصور فرمائے اس کا جواب ہندہ نے دیا کہ جب اس کی میں مالك نہ رہی تو توفیر کیسیاس پر کہا کہ میں اپنے پاس سے یہ خدمت کرتاہوںہندہ نے کہا یہ معلل بالغرض ہے اور میرے لئے ناجائزآیاہندہ کے لئے یہ رقم لینا ناجائز ہے یاجائز بینوا توجروا
#13457 · باب متفرقات البیع (بیع کے متفرق احکام)
الجواب:
جائداد مبیعہ کی توفیر لینی تو صریح ناجائز جس سے ہندہ خود انکار کرتی ہے اور بطور خدمت اگر دینا واقعی ہو لینا جائزاوراس کی واقعیت کی یہ نشانی ہے کہ زید اس سے پہلے بھی ہندہ کی اس قدر خدمت کرتاہویا اب ہندہ اپنا روپیہ واپس لے لے تو بھی بدستور خدمت کرتا رہے اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کا یہ کہنا بطور خدمت دیتاہوں زبانی کہناہے بلکہ اس صورت میں ہندہ کاخیال صحیح ہے کہ وہ اسی غرض سے دیتاہے کہ ہندہ اپنی یہ رقم کثیرنہ مانگے اور تاحیات ہندہ اسی ماہوار پر ٹالےاس نیت سے دینا دینے والے کو تو صریح ناجائزاور ہندہ اسے اگر اپنے زرامانت میں مجرا کرکے لیتی رہے تو مضائقہ نہیں ورنہ اس کالینا بھی روانہیں واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۶: مرسلہ مولوی احسان صاحب از مسجد جامع ۹ رجب ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ ایك تاجر کتب فروش نے دوسرے تاجر مشتری کو بقلم خود یہ عبارت تحریر کی کہ قرآن مجید مرتضوی مترجم کی اگر آپ سو جلد طلب فرمائیں گے تو بارہ آنے فی جلد کے حساب سے دیا جائے گا اور قرآن شریف مرتضوی کا نرخ تاجرانہ خاص آپ کو لکھا گیا ہے انتہی عبارتہ اور اس کا رڈ پر اپنے دستخط کئے علاوہ اس کے اور کارڈوں پر بھی ان کے دستخط موجود ہیںجب ان سے جلدیں قرآن شریف کی حسب التحریر ان کے طلب کیں تو اپنی تحریر سے صاف انکار کرگئے کہ نہ میں نے لکھا اور نہ دستخط کئے توآ یا شرع شریف میں ایسے شخص کے واسطے کیا حکم ہےاور ایفائے وعدہ واجب اور لازم ہے یانہیں اور معہود کو حق مطالبہ پہنچ سکتاہے یانہیں اور فیما بین تجاروں کے ہزاروں روپیہ کا تبادلہ ہوا کرتا ہے اور اس سے کوئی منحرف نہیں ہوتا اور یہ فیما بین تجار کے قرارداد واثق ہوتاہےبینوا توجروا
الجواب:
اگر واقع میں اس نے لکھا اور دستخط کئے تھے تو انکار کرنے سے جھوٹ بولنے کا گنہگار ہوا مگر وفائے وعدہ پر جبری مطالبہ نہیں پہنچتافتاوی خانیہ وفتاوی ظہیریہ وفتاوی عالمگیریہ وغیرہا میں ہے:
ان انجز وعدہ کان حسنا والا فلا یلزم الوفاء بالمواعید واللہ تعالی اعلم۔
اور اگر وعدہ کو پورا کرے تو بہتر ہے ورنہ وعدوں کو پورا کرنا اس پر لازم نہیں۔اور اللہ تعالی بہتر جانتاہے۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب السابع نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۲۵
#13459 · باب متفرقات البیع (بیع کے متفرق احکام)
مسئلہ ۲۷۷: از سرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۲ رجب ۱۳۳۱ھ
اکثر لوگ ترکاری خریدنے کے بعد جھگڑا کرکے زیادہ لیتے ہیں ۔
الجواب:
جھگڑا کی اجازت نہیںاور زیادہ مانگنا بھی سوال میں داخل ہےہاں بطور خوداپنی خوشی سے زیادہ دے دے تو حرج نہیں۔واللہ تعالی اعلم
#13464 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
کتاب الکفالۃ
(ضامن بننے کا بیان)

مسئلہ ۲۷۸:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی قدر قرض بکر کا ذمہ عمرو کے ہےزید نے کہا اسے میں ادا کردوں گاعمرونے بھی اسے قبول کرلیابکر نے کہا عمرو میرے مطالبہ سے بری ہوا میں تجھ سے لوں گااس صورت میں بکر کو زید سے اس قرضہ کے مطالبہ کااختیار ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں زید اس قرضہ بکر کا جس کے ادا کا اس نے وعدہ کیا اگر لفظ صرف اس قدر تھے کفیل نہ ہوا کہ یہ مجرد وعدہ ہے اور وعدہ بے تعلیق بشرط لازم نہیں ہوتااور بکر کا اس سے کہنا کہ عمرو میرے مطالبہ سے بری ہوا میں تجھ سے لوں گا اور زید کا اس پر سکوت کرنا اول تو سکوت قول نہیں اور ہو بھی تو اس کی غایت اس قدر کہ زید نے قول بکر قبول کیا گویا اس نے کہا تو مجھ سے لینا یہ بھی ایك امر ہے جس کا حاصل وعدہ ہے کہ میں دوں گا اور اس قدر سے کفالت ثابت نہیں ہوتی۔عالمگیری میں محیط سے ہے:
اذا قال انچہ ترابر فلان ست من بدہم فہذا وعد لا کفالۃ ۔
اگر کہا جو کچھ تمہارا فلاں پر لاز م ہے وہ میں دوں گا تو یہ وعدہ ہے کفالہ نہیں۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۶
#13468 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
اسی میں بنقل محیط فتاوی امام نسفی سے ہے:
من قال لغیرہ ان الدین الذی لك علی فلان انا ادفعہ الیك انا اسلمہ الیك انااقضیہ لایصیر کفیلا مالم یتکلم بلفظ یدل علی الالتزام نحو قولہ کفلت ضمنت علی الی وکان الشیخ الامام ظہیر الدین الحسن بن علی المرغینانی یقول اذا اتی بہذہ الالفاظ منجز الا یکون کفالۃ واذا اتی بہا معلقا بان قال ان لم یؤد فلان مالك علیہ فانا اودی فانا ادفع یصیر کفیلا ۔
کسی نے دوسرے سے کہا تیرا وہ قرض جو فلاں پر ہے وہ میں دوں گا میں تیرے سپرد کروں گامیں ادا کروں گاوہ کفیل نہیں بنے گا جب تك کوئی ایسا لفظ نہ کہے جو التزام پردلالت کرتا ہو مثلا میں کفیل ہوں میں ضامن ہوںمجھ پر لازم ہے یا میرے ذمے ہےامام ظہیر الدین حسن بن علی مرغینانی کہتے تھے اگر یہ الفاظ بطور تنجیر کہے تو کفیل نہ ہوگا اور اگر بطورتعلیق کہے مثلا یوں کہے کہ تیرا جو دین فلاں پر ہے اگر اس نے نہ دیا تو میں ادا کروں گا یا میں دوں گاتو کفیل ہو جائے گا۔(ت)
ایسا ہی خزانۃ المفتین میں ہے اور اسی پربزازیہ میں جزم فرمایا:
قائلا لما علم ان المواعید باکتساء صورۃ التعلیق تکون لازمۃ اھ ونقلہ فی الحامدیۃ واقرہ فی العقود الدریۃ۔ یہ کہتے ہوئےیہ بات معلوم ہے کہ وعدے جب تعلیق کی صورت اختیار کریں تو ان کو پوراکرنا لازم ہوتاہے اھ اس کو حامدیہ میں نقل کیا اور عقود دریہ میں برقرار رکھا۔(ت)
ہاں اگر زید نے یہ کہا کہ یہ نہ دے تو میں اد اکروں گا تو بلاشبہ بکر اس قدر روپیہ کا زید سے مطالبہ کرسکتاہے اور بکر کا عمرو کو مطالبہ سے بری کردینا زید کو بری نہ کردے گا اگر البتہ عمرو کو قرضہ سے بری کردیتا تو زید پر بھی مطالبہ نہ رہتا۔
فی الدرالمختار من القنیۃ طالب الدائن الکفیل فقال لہ اصبر حتی یجیئ الاصیل فقال لاتعلق
درمختارمیں قنیہ سے منقول ہے کہ قرض دہندہ نے کفیل سے قرض کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا کہ صبر کرو تاکہ اصیل آجائے اس پر قرض دہندہ نے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکفالۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۵۷
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوی ہندیہ کتاب الکفالۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۳
#13471 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
لی علیہ انما تعلق علیك ھل یبرأ اجاب نعم وقیل لا وھو المختار ۔
کہامیرا اس سے کوئی تعلق نہیں میرا تعلق تو تیرے ساتھ ہےکیا اس صورت میں اصیل بری ہوجائے گا جواب دیا ہاں ا ور ایك قول یہ ہے کہ بری نہیں ہوگا اور یہی مختارہے۔(ت)
اور جبکہ وقت کفالت عمرونے بھی اسے جائز رکھا تواب زید اس سے اس قدر زر میں رجوع کرسکتاہے گویہ کفالت بامر عمرو واقع نہ ہوئی
فی الدرالمختار ولوکفل بامرہ رجع علیہ بماادی وان بغیرہ لایرجع لتبرعہ الااذا اجازفی المجلس فیرجع عمادیۃ واللہ تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے اگر مدیون کے امر سے کفیل بنا تو اس پر رجوع کرسکتاہے اوراگر اس کے امر کے بغیر کفیل بنا تو رجوع نہیں کرسکتا تبرع اور احسان کی وجہ سے مگر جب مجلس کے اندر مدیون نے اجازت دے دی تو رجوع کرسکتاہے عمادیہواللہ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۷۹: از ریاست رام پور مرسلہ منشی محمد واحد علی صاحب پیشکار حاکم مال ریاست ۲۸ ذی الحجہ ۱۳۱۶ھ
مطاع ومخدوم عالم جناب معظم ومحترم زید افضالہ بصدادب تسلیم اوصاف حمیدہ جناب عالی مخدومنا جناب حافظ محمد عنایت اللہ صاحب سے سن کر عزم ہوا کہ خود ہی حاضر ہوکر اپنا ماجرا عرض کرو ں لیکن"ارادۃ اللہ غالبۃ علی ارادۃ العباد" اسی وقت ایك تار ضروری لکھنؤ سے آگیا جس نے اس وقت حاضری سے مجبور کردیا مجبورا اپنے معتمد محمد رضاخاں صاحب کو خدمت عالی میں ضرورت حال کے لئے بھیجنا پڑا۶فروری ۱۸۹۹ء کو ایك شخص کی حاضر ضمانت کرلی۱۸ فروری تك کے لئے جس کے الفاظ بعینہ سوال فتوی میں درج ہیں۱۸ فروری گزر گئی نہ عدالت نے مکفول عنہ کو مجھ سے کسی وقت ۱۸ یا ۱۸ کے اندر طلب کیانہ مدعی نے اس مدت میں کسی قسم کی اطلاع عدالت میں کیاب ڈھائی مہینے کے بعد ہنگام اجراء ڈگری مدعی مجھ سے روپیہ طلب کرتاہے اور شرعا مدعی کا وکیل یہ ثابت کرتاہے کہ چونکہ ضمانت نامہ میں لفظ "من"نہیں درج ہے لہذا بعد ۱۸ فروری بھی یہ ضمانت باقی رہیحضور والا! اس زمانے میں ان قیود کے ساتھ الفاظ کسی جگہ ضمانت میں نہیں دیکھے گئے عرف کے مطابق یہ نیت خالص صرف ۱۸ فروری تك کے لئے ضمانت
حوالہ / References درمختار کتاب الکفالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۶۵
درمختار کتاب الکفالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۶۴
#13472 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
کی تھی مخدومی جناب حافظ عنایت اللہ صاحب کی خدمت میں ارادت ہے میں نے سچی کیفیت اپنی عرض کی فرمایا کہ جو کچھ یہاں ممکن ہے لکھا جاتا ہے لیکن ہندوستان میں اگر کوئی قوت ان جزئیات کی کرسکتاہے تو جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب ہیںبنظر رحم حضور کی چشم کرم سے امید ہے کہ میری اس وقت کی پریشانی میں جو امداد ہو دریغ نہ فرمائیں گے تابعدار محمد واحد علی عبارت ضمانت نامہ بعینہ درج ذیل ہے جو کہ محمدی بیگم نے دعوی ال ما صہ عہ/ بنام سید محمد امیر دائر عدالت کیا ہے اور ان سے ضمانت حاضری طلب ہے لہذا اقرار کرتاہوں کہ ۱۸ فروری سنہ حال تك کاحاضر ضامن ہوں ۱۸ تاریخ مدعا علیہ شہر سے نہیں بھاگیں گے اگر بھاگ گئے تو مطالبہ مدعیہ کا میں ذمہ دار ہوں۔۶ فروری ۱۸۹۹ء
الجواب:
مکرمی محترمی منشی صاحب زید مجدھم بعدادائے مراسم سنت ملتمسفتوی نظر فقیر سے گزرا میں اس امر میں یکسر متفق ہوں کہ صورت مذکورہ میں ضمانت حاضری ۱۸ فروری تك منتہی ہوگئی اگرچہ جواب ظاہر الروایۃ اس کے خلاف ہے مگر اب عرف ومقاصد ناس قطعا اسی پر حاکم اوراتباع عرف واجب لازمتو یہ حقیقۃ مخالفت ظاہر نہیں بلکہ زمان برکت نشان حضرات ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم میں عرف دائر وسائر یوں ہوتا تو ہم جز م کرتے ہیں کہ حکم ظاہر الروایۃ ضرور مطابق روایت امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہ ہوتاولہذا ائمہ تصحیح نے اس روایت پر اسی وجہ سے فتوی دیا ہے کہ وہ اشبہہ بعرف ناس ہےاسی لئے علماء نے فرمایا:
من لم یعرف اہل زمانہ فہو جاھل ۔
جو اہل زمانہ کونہیں جانتا وہ جاہل ہے۔(ت)
علامہ محقق شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس کی تحقیق بروجہ شافی وکافی فرمادی ہے مگر یہاں حقیقت امر یہ ہے کہ دو کفالتیں ہیںایك کفالۃ بالنفس یعنی حاضری ضامنیوہ ۱۸ فروری تك موقت ہے اور اس روایت وعرف کی رو سے بعد ۱۸ کے ختم ہوگئیدوسری کفالت بالمال کہ اگر بھاگ گئے تو مطالبہ مدعیہ کامیں ذمہ دار ہوں اس میں اگرتوقیت بنظر ماسبق ہے تو جانب شرط میں ہے اگر ۱۸ فروری تك بھاگ گئے تو مال کا ضامن میں ہوں اور کفالت کی ایسی شرط کے ساتھ تعلیق جائز ہے۔
فی الہدایۃ الاصل انہ یصح تعلیقہا بشرط ملائم لہا مثل ان یکون شرطا لوجوب
ہدایہ میں مذکور ہے کہ کفالت کو اس کی مناسب شرط کے ساتھ معلق کرنا صحیح ہے مثلا وہ شرط وجوب حق
حوالہ / References درمختار باب الوتروالنوافل مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۹۹
#13475 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
الحق کقولہ اذا استحق المبیع اولامکان الاستیفاء مثل قولہ اذا قدم زید وھو مکفول عنہ اولتعذر الاستیفاء مثل قولہ اذا غاب من البلدۃ ۔
کے لئے ہو جیسے ا سکا کہنا کہ جب مبیع میں استحقاق ثابت ہوجائے یا وہ شرط وصولی کے امکان کے لئے ہو جیسے اس کا کہنا کہ جب زیدآجائے جبکہ وہ زید ہی مکفول عنہ ہو یا وہ شرط وصولی کے تعذر کے لئے ہو جیسے اس کا کہنا کہ وہ شہر سے غائب ہوگیا۔(ت)
او ریہ صاحب جو آپ کا لطف نامہ لائے ان کے بیان سے معلوم ہوا کہ مدعا علیہ مدت کے اندر ہی فرار ہوگئے اگر یہ حق ہے تو شرط متحقق ہولیپس اگر مطالبہ سے مراد زردعوی تھا تو اس صورت میں فقیر کے نزدیك مال لازم ہو گیا اگرچہ بعد ۱۸ فروری کے کفالت نفس زائل ہوجائے اگرچہ یہاں اصل وہی تھی اور کفالت بالمال اس کی تابع وتاکید تھی کہ جب بوجہ وجود شرط مال لازم ہوگیا تواب اس کی سبیل ادا ہونا ہے یا طالب کی طرف سے معانی وگرہیچ
فی البزازیۃ کفل بنفسہ علی ان المکفول عنہ اذا غاب فالمال علیہ فغاب المکفول عنہم ثم رجع وسلمہ الی الداین لایبرأ لان المال بحلول المشروط لزمہ فلا یبرأ بالاداء اوالابراء وا ﷲ تعالی اعلم۔
بزازیہ میں ہے کہ اگر کوئی شخص کفیل بالنفس بنا اس شرط پر کہ اگر مکفول عنہ غائب ہوگیا تو مال اس(کفیل)کے ذمے ہے بعد ازاں مکفول عنہ غائب ہوگیا پھر لوٹ آیا اور کفیل نے اس کو دائن کے حوالہ کردیا تب بھی بری نہ ہوگا کیونکہ مشروط کے پائے جانے سے مال اس پر لازم ہوگیا تو اب ادائیگی یاصاحب حق کی طرف سے معافی کے بغیر بری نہ ہوگا۔واللہ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ۲۸۰: از ریاست رامپور متصل موتی مسجد مرسلہ منشی واحد علی صاحب پیشکار محکمہ مال غرہ محرم الحرام۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے زید پر محکمہ دیوانی میں الہ ما مہ عہ/ کی نالش کیحاکم نے بغرض امتحان زید سے حاضری ضامنی طلب کیخالد نے ۶ فروری ۱۸۹۹ء کو ضمانت نامہ بآں عبارت
حوالہ / References الہدایۃ کتاب الکفالۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۱۸
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۸
#13477 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
لکھ دیا جو کہ محمدی بیگم نے دعوی ال ماصہ عہ/ کابناسیدمحمد امیردائر عدالت کیا ہے اور ان سے ضمانت حاضری طلب ہےلہذا اقرار کرتاہوں کہ ۱۸ فروری سنہ حال تك میں ان کا حاضرضامن ہوں ۱۸ تاریخ تك مدعاعلیہ شہر سے نہیں بھاگیں گے اگر بھاگ گئے تو مطالبہ مدعیہ کا میں ذمہ دارہوںبنابراں یہ حاضر ضامنی لکھ دی کہ سند ہوالمرقوم ۶فروری ۱۸۹۹ء/ مگر جس وقت خالد نے زید کی ضمانت حاضر کی اور کفالت نامہ مذکور لکھا اور اس وقت نہ مدعیہ موجود تھی نہ اس کا کوئی وکیل نہ پیروکار بلکہ حاکم دیوانی بھی نہ تھےخالد نے بمواجہ زید مکفول عنہ کفالت نامہ لکھا جس پر سرشتہ دار نے بہ حکم ضابطہ لکھ دیا کہ مقر نے بحاضری خود اصالۃ شناخت گواہان حاشیہ تصدیق کی حکم ہوا کہ ناظر مدعا علیلہ کو سپرد حاضر ضامن کریں ۶ فروری ۱۸۹۹ء اس پر ناظر نے یہ کیفیت لکھی کہ منشی واحد علی صاحب ضمانت تصدیق کراکر محکمہ مال میں چلے گئے مدعا علیہ بھی بعد داخل ہوجانے ضمانت کے عدالت سے چلا گیا لہذا تعمیل سپردگی سے معذور ہوں ۶ فروری ۱۸۹۹ء اس پر حکم لکھا گیا کہ شامل مسل ہوفروری ۱۸۹۹ء اس کے سوا نہ کوئی قبول منجانب مدعیہ واقع ہوا نہ اسے کوئی اطلاع اس کفالت کی دی گئی نہ ۱۸ فروری تك مدعیہ خواہ حاکم کسی نے مدعا علیہ کو کفیل سے طلب کیا نہ اس سےکچھ تعرض واقع ہوا۱۸ فروری کوحاکم نے مدعیہ سے بوجہ کمی اسٹامپ دعوی نامکمل قراردے کر تکمیل اسٹامپ چاہی۔جب مدعا علیہ نے دیکھا کہ ۱۸ فروری خالد کے منشائے کفالت تھی گزر گئی اور ضمانت ختم ہوگئی اور اس وت تك کوئی مطالبہ نہ ہوا اپنے نفس کو قید ضمانت سے فارغ پاکر شہر سے فرار کیا ایك مدت کے بعد جب مدعیہ نے دیکھا کہ مدعاعلیہ پر قابو نہ رہا بحیلہ کفالت خالد سے مواخذہ شروع کیا اب مدعیہ کی طرف سے اس اقرار پر زوردیا جاتاہے کہ ضمانت نامہ میں صرف انتہائے مدت کا ذکر ۱۸فروری تك میں ضامن ہوں ابتدائے مدت کانام نہیں کہ اب سے یاآج سے یا فلاں تاریخ سے ۱۸ تك میں ضامن ہوں ایسی صورت میں ظاہر الروایۃ یہ ہے کہ ضمانت اس تاریخ پر منتہی نہ ہوگی بلکہ اس کے بعد ہمیشہ کے لئے ضامن ہے لہذا ہمیں اس سے مطالبہ کرنا پہنچتاہے مدعیہ نے جو فتوی لکھوایا اس میں بطور تقدم بالحفظ یہ بھی ذکر کیا ہے کہ مدعا علیہ ۱۸ فروری سے پہلے فرار ہوگئے حالانکہ اس وقت تك کچہری میں اس کا کوئی ذکرنہ کیا نہ ہر گز ۱۸ سے پہلے فرار کا کوئی ثبوت ہے بلکہ حاکم بالا نے ۱۸ کے بعد ایك حکم میں زید کی نسبت اب فرار ہونالکھا ہے پس علمائے دین کی خدمت میں استفسار ہے کہ اس صورت میں بعد ۱۸ فروری کے مدعیہ کو خالد پر حاضر ضامنی مدعاعلیہ کا یا زردعوی کا مطالبہ پہنچتاہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
اللہم ھدایۃ الحق والصواب صورت مستفسرہ میں کفالت بالنفس بھی بعد ۱۸ فروری کے زائل اور کفالت بالمال کا خالد سے مطالبہ بھی بے اصل وباطلتحقیق مقام یہ کہ کفالت دو۲ ہیں
#13479 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
(۱)کفالت بالنفس یعنی حاضر ضامنی جو اس کفالت نامہ کا اصل مفاد ومقصود مراد ہے۔
(۲)کفالت بالمال یعنی مال ضامنی جو اگرمستفادہو تو ان لفظوں سے کہ ۱۸ تك مدعاعلیہ شہر سے نہ بھاگیں گے مطالبہ مدعیہ کا میں ذمہ دارہوں
ہم یہاں دونوں کفالتوں پر کلام محققانہ کریں کہ بطور بعونہ تعالی حکم شرع واضح ہو وباللہ التوفیق۔
کفالت بالمال کا مطالبہ ہندہ کوخالد پر اصلا نہیں پہنچتا بوجوہ:
وجہ اول:خالد نے یہ نہ لکھا کہ اگر زید بھاگ جائے تو ہندہ کے دین یا مال یا زر دعوی یا اس قدرروپے کامیں ذمہ دار ہوں بلکہ مطالبہ کا ذمہ دار ہوا اور مطالبہ ودین میں فرق بدیہی ہے۔بزازیہ میں فرمایا:
الکفالۃ فی اللغۃ الضم وذلك قدیکون فی المطالبۃ لا فی اصل الدین کما فی الوکیل مع المؤکل الدین للمؤکل و المطالبۃ للوکیل ۔
کفالہ لغت میں ملانے کو کہتے ہیں اور وہ کبھی مطالبہ میں ہوتاہے اصل دین میں نہیں ہوتا جیسے مؤکل کے ساتھ وکیل کہ دین مؤکل کے لئے ہے اور مطالبہ وکیل کے لئے۔(ت)
اور مطالبہ کے معنی حقیقی طلب وتقاضا اصل زبان عربی میں بھی اسی لئے وضع ہے اور فارسی واردو میں بھی اس معنی حقیقی پر عام محاورات میں علی وجہ الاشتہار دائروسائراگرچہ اردو میں مجازا آتے ہوئے مال کو بھی کہتے ہوںمطالبہ یعنی مال قابل مطالبہ مگر معنی حقیقی یقینا معروف ومشہور ہیں جن کی نسبت کسی جاہل کو بھی ہجر کا وہم تك نہیں ہوسکتا اور اصول فقہ میں مبرہن ہوچکا کہ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك مطلقا اور ایسی جگہ باتفاق ائمہ کرام حقیقت مجاز پر واجب التقدیم ہے جب تك معنی اصلی بنیں مجاز پر حمل جائز نہیں تو حاصل کلام خالد صرف اس قدرہوا کہ وہ ۱۸ تك شہر سے بھاگ گئے تو مدعیہ کے لئے ان سے طلب وتقاضے کا میں ذمہ دار ہوں اسے کفالت مال سے کچھ تعلق نہیں بلکہ صرف تقاضے کا وعدہ ہے خالدکو چاہئے زید سے تقاضا کرے نہ یہ کہ زید سے نہ ملے تو خالداپنے پاس سے دے
فی الہندیۃ عن المحیط نوادر ابن سماعۃ عن الامام محمد رضی اللہ تعالی عنہ رجل لہ علی رجل
ہندیہ میں محیط کے حوالہ سے نوادرابن سماعہ میں منقول اما م محمد رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ قول مذکور ہے کہ ایك شخص کا دوسرے کے ذمے کچھ مال
حوالہ / References فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۲
#13481 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
مال فقال رجل للطالب ضمنت لك ماعلی فلان انا اقبضہ منہ وادفعہ الیك قال لیس علی ہذا ضمان المال ان یدفعہ من عندہ انما ہذا علی ان یتقاضاہ و یدفعہ الیہ وعلی ہذا معانی کلام الناس اھ ونحوہ فی الخلاصۃ وغیرہا۔
قرض تھاایك تیسرے شخص نے طالب قرض سے کہا جو تمھارا فلاں پر قرض ہے میں تیرے لئے اس کا ضامن ہوںمیں اس سے وصول کروں گا اور تجھے دے دوں گاامام محمد رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اس پرمال کاضمان لازم نہ ہوگا کہ اپنے پاس سے دے بلکہ یہ مدیون سے طلب کرکے طالب کو دے گا اورانہی معانی پر لوگوں کاکلام جاری ہے اھ اور خلاصہ وغیرہ میں اسی کی مثل ہے۔ (ت)
امام شمس الائمہ کردری وجیز میں فرماتے ہیں:
قال للطالب ضمنت لك ماعلی فلان ان اقبضہ منہ وادفعہ الیك لیس بکفالۃ ومعناہ ان یتقاضاہ لہ ویدفع الیہ اذا قبضہ منہ علی ہذا معانی کلام الناس ۔اھ
کسی شخص نے طالب دین سے کہا جو تیرا فلاں پر قرض ہے میں تیرے لئے اس کا ضامن ہوں کہ اس سے وصول کرکے تجھے دوں گا تویہ کفالہ نہیں بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ مدیون سے مطالبہ کرے گا اور جب اس سے وصول کرلے گا تو طالب قرض کو دے دیگا اوریہی مطلب ہوتاہے لوگوں کے کلام کا اھ (ت)
نیز اس میں اور فتاوی انقرویہ وغیرہ میں ہے:
قال رجل لصاحب المال من ضمان کردم و پذیرفتم کہ باغ ویرافروشم وایں مال بتودہم اوقال ضمنت ان اخذا لمال من ترکتہ واوفیك لا تصح الکفالۃ وان ضمن علی ان یبیع مال نفسہ ویوفیہ ھذا المقدار صح ویجبر علی البیع وقضاء المقدار ۔
کسی شخص نے صاحب مال سے کہا میں ضامن ہوں اور میں اس بات کو قبول کرتاہوں کہ میں مدیون کے باغ کو فروخت کروں گا اوریہ مال تجھے دوں گایا یوں کہا کہ میں اس کے ترکہ سے مال لے کر تجھ کو دوں گاتوکفالہ صحیح نہیں او راگر وہ ضامن بنااس طورپر کہ اپنا مال بیچ کر قرض کی مقدار طالب قرض کو دے گا تو کفالہ صحیح ہے چنانچہ اس کو مال بیچنے اور قرض کی مقدار طالب کو دینے پر مجبور کیا جائے گا۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃالباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۷
فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش ہندیۃ کتاب الکفالۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۸
فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش ہندیۃ کتاب الکفالۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۵۔۱۴
#13482 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
وجہ دوم:اگر بالفرض حکم متفق علیہ خواہی نخواہی معنی مجازہی پر حمل کیجئے تو یہ کفالت بالمال ۱۸ تك بھاگنے پر معلق تھی جب اس مدت میں فرار ثابت نہیں تو لزوم مال کی کوئی صورت نہیں کہ تعلیق کفالت کی ایسی شرط پر صحیح ہے اور اذا فات الشرط فات المشروط اصل کلی صریح(جب شرط فوت ہوجائے تو مشروط بھی فوت ہوجاتاہےیہ واضح کلیہ ہے۔ت)
وجہ سوم:یہ بھی فرض کیجئے کہ مطالبہ سے مراد مال ہی تھا اور فرار ۱۸ سے پہلے ہی ہوا تو مدعیہ خود اپنے بیان وتسلیم سے کفالت بالمال کو باطل محض مان رہی ہے اسے اپنی ہی قرار دادہ باتوں سے مطالبہ مال کا کوئی استحقاق نہیں اس کی جانب سے یہاں عمل ظاہر الروایۃپر زور دیا جاتاہے اور ۱۸ سے پہلے فرار ظاہر کیا گیا جمہور ائمہ کرام کے نزدیك ظاہر الروایۃ کے یہ معنی ہیں کہ جب ابتدائے مدت مذکور نہ ہو صرف انتہا کا ذکرآئے تو کفالت اس وقت کے بعد محقق ہوکر تاحصول برأت ہمیشہ رہے گی اور روز اقرار سے اس وقت تك اصلا کفالت نہ ہوگی بالجملہ ظاہر الروایۃ میں ایسی جگہ(تک)بمعنی بعد کے ہے ۱۸ فروری تك ضامن ہوں یعنی ۱۸ کے بعد ضمانت شروع ہوگی فتاوی خانیہ وظہیریہ وخزانۃ المفتین میں ہے:
الکفالۃ متی جعلت الی اجل فانما یصیر کفیلا بعد انقضاء الاجل ۔
کفالت جب کسی مدت تك ٹھہرائی جائے تو اس مدت کے گزرنے کے بعد کفیل بنے گا۔(ت)
سراجیہ میں ہے:
کفل بنفسہ الی شھر یصیر کفیلا بعد شھر ھو الاصح ۔
اگر ایك ماہ تك کسی کا کفیل نفس بنا تو ماہ کے گزرنے کے بعد کفیل بنے گا اور وہی صحیح ہے(ت)۔
خانیہ میں ہے:
رجل کفل بنفس رجل الی ثلثۃ ایام ذکرفی الاصل انہ یصیر کفیلا بعد الایام الثلثۃ وقال الفقیہ ابو جعفر یصیر کفیلا فی الحال قال وذکر الایام الثلثۃ لتاخیر المطالبۃ الی ثلثۃ ایام
ایك شخص دوسرے کے نفس کاتین دن تك ضامن ہوا تو اصل میں مذکور ہے کہ تین دن گزرنے کے بعد کفیل بنے گااور فقیہ ابوجعفر نے کہا کہ فی الحال کفیل بن جائے گا اور ایام ثلثہ کاذکر تین دن تك مطالبہ کی تاخیر کے لئے ہے اور فقیہ ابوجعفر کے
حوالہ / References خزانۃ المفتین کتاب الکفالۃ الباب الثانی قلمی نسخہ ۲/ ۵۹
فتاوٰی سراجیہ کتاب الکفالۃ الباب الثانی نولکشور لکھنو، ص۱۲۹
#13484 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
وغیرہ من المشائخ اخذوابظاہر الکتاب وقالوا لا یصیر کفیلا فی الحال واذا مضت الایام الثلثۃ قبل تسلیم النفس یصیر کفیلا ابدالا یخرج عن الکفالۃ مالم یسلم اھ مختصرا علاوہ بعض دوسرے مشائخ نے ظاہر کتاب کو اختیار کیا اور کہا فی الحال کفیل نہیں بنے گا پھر جب تین دن گزرگئے اور وہ مکفول لہ کے حوالے اس شخص کونہ کرسکا جسکا ضامن بنا تھا تو اب ہمیشہ کے لئے کفیل بن جائے گااور جب تك اس شخص کو مکفول لہ کے حوالہ نہ کرے گا کفالت سے خارج نہ ہوگا اھ مختصرا(ت)
علامہ انقروی نے اپنے مجموعہ میں اسے نقل فرماکر وغیرہ من المشائخ اخذ وابظاھر الکتاب (اوراس کے علاوہ دیگر مشائخ نے ظاہر کتاب کو اختیار کیا۔ت)یہ تحریر فرمایا:
فی السراجیۃ وہوالاصح و بہ یفتی کذا فی السادس من التاتارخانیۃ وکذا فی التتمۃ ۔
اور سراجیہ میں ہے کہ وہی اصح ہے اور اسی پر فتوی دیاجاتاہے تاتارخانیہ اور تتمہ میں یوں ہی ہے۔(ت)
وجیز کردری میں ہے:
کفل الی شہر طالبہ بعد شہر ویصیر کفیلا فی الحال وبہ یفتی اھ ملتقطا
ایك ماہ تك کفیل بنا تو ایك ماہ کے بعد اس کا مطالبہ کرے اور فی الحال وہ کفیل بن جائے گا اور اسی پر فتوی دیا جاتاہے اھ التقاط(ت)
جامع الفصولین اواخر فصل ثلثین میں ہے:
لوارادان یکفل بنفسہ ولایصیر کفیلا فالحیلۃ علی ظاہر الروایۃ ان یقول کفلت بنفسہ الی شہر علی ان ابرأہ بعدہ
اگر کوئی چاہے کہ دوسرے کا کفیل بالنفس اس طرح بنے کہ درحقیقت کفیل نہ بنے تو ظاہر الروایۃ پر اس کا حیلہ یہ ہے کہ یوں کہے میں اس کے نفس کا ایك ماہ تك کفیل بنتاہوں اس شرط پر کہ بعد میں اس سے بری ہوجاؤں گا
حوالہ / References فتاوٰی قاضیخاں کتاب الکفالۃ نولکشورلکھنؤ ۳ /۵۸۳
فتاوٰی انقرویہ کتاب الکفالۃ دارالاشاعۃ العربیۃ افغانستان ۱/ ۳۱۷
حواشی انقرویہ فتاوٰی انقرویہ کتاب الکفالۃ دارالاشاعۃ العربیۃ افغانستان ۱ /۳۱۷
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکفالۃ نوع فی الفاظ نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴
#13486 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
فلایصیر کفیلا اصلاللحال فی الظاہر اذ فیہ یصیر کفیلا بعدہ فلما شرط ان یبرأ بعدہ بطل اصلا ۔
تو وہ بالکل فی الحال ہی کفیل نہ بنے گا کیونکہ ظاہرا لروایۃ کے مطابق ایك ماہ کے بعد اس نے کفیل بننا تھا مگر جب یہ شرط لگائی کہ ایك ماہ بعد اس سے بری ہوجائیگا تو کفالت اصلا باطل ہوگئی۔(ت)
ہامش انقروی میں ہے:
وہذا الحیلۃ انما تمشی علی ماقال عامۃ المشائخ انہ لایصیر کفیلا فی الحال وہو ظاہر الروایۃ علی ماقالہ ابوجعفر ۔
اوریہ حیلہ اس بنیاد پر جاری ہے کہ جو عام مشائخ نے کہا وہ فی الحال کفیل نہ ہوگا اوریہی ظاہر الروایۃ ہےجیساکہ امام ابوجعفر نے کہا۔(ت)
اورپر ظاہر کہ یہاں اصل مقصود کفالۃ بالنفس تھی وہی مطلوب تھی وہی مکتوب ہوئیخالد نے لکھا ان سے ضمانت حاضری طلب ہے لہذا میں حاضر ضامن ہوںحکم لکھا گیا ناظر مدعا علیہ کو سپرد حاضر ضامن کریں کفالت بالمال کا ذکر محض تبعا بغرض توثیق وتاکید اصل کفالت بالنفس واقع ہوا او ر تابع متبوع پر مقدم نہیں ہوسکتا کما فی الدرالمختار عــــــہ نہ بحال عدم متبوع موجود ہو لہذا ایسی صورت میں جب کفیل کفالت مقصودہ یعنی کفالت بالنفس سے بری ہو کفالت تابعہ یعنی کفالت بالمال سے بری ہوجاتاہے درمختارمیں ہے:
ان قال ان لم ات بہ غدا فہو ضامن لما علیہ من المال فلم یواف بہ مع قدرتہ علیہ ضمن المال لانہ علق الکفالۃ بالمال بشرط متعارف فصح ولایبرؤ
اگر کہا کہ اگر میں اس کو کل نہ لے کر آیا تو اس پر جو مال ہے میں اس کا ضامن ہوں گا اب قدرت کے باوجود اس نے مطلوب کو حاضر نہ کیا تو کفیل اس مال کا ضامن ہوگا کیونکہ اس نے کفالت بالمال کو ایسی شرط کے ساتھ معلق کیا جو لوگوں میں
عــــــہ: فی الاصل بیاض واظنہ الدرالمختار ۱۲۔ (اصل میں بیاض ہے اور میرے گمان میں یہاں درمختار ہے۱۲۔ ت)
حوالہ / References جامع الفصولین الفصل الثلاثون اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۶
حواشی فتاوٰی انقروی کتاب الکفالۃ دارلاشاعۃ العربیہ قندہار افغانستان ۱ /۳۱۷
#13488 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
عن کفالۃ النفس لعدم التنافی فلو ابرأہ عنہا فلم یواف بہ لم یجب المال لفقد شرطہ اھ باختصار
متعارف ہےتویہ صحیح ہےاور وہ کفالت نفس سے بھی بری نہ ہوگا کیونکہ ان دونوں میں کوئی منافات نہیں اگر طالب نے اس کو کفالت نفس سے بری کردیا حالانکہ اس نے مطلوب کو حاضر نہیں کیاتو اب شرط فوت ہوجانے کی وجہ سے مال اس کے ذمہ واجب نہ رہا اھ اختصار۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
شرطہ ھو بقاء الکفالۃ بالنفس ۔
اس کی شرط یہ ہے کہ کفالت نفس باقی رہے۔(ت)
تو ظاہر الروایۃ کے لحاظ سے ۱۸ فروری تك نہ کفالت بالنفس تھی نہ بالمالتو اس فرار پرکہ حصول کفالت سے پہلے واقع ہوا ہو الزام مال محض خیال محال۔
وجہ چہارم:اس سے بھی تنزل کیجئے اور بفرض غلط یہ بھی مان لیجئے کہ یہاں کفالت بالمال کفالت مستقلہ غیر تابعہ ہے تو کفالت بالنفس بنظرظاہر الروایۃ گو بعد ۱۸ کے محقق ہو کفالت بالمال اول تھی او ر وہ اس کے حال ثبوت میں فرار واقع ہو ا تو کیوں نہ موجب مال ہوگا مگر یہ خیال خیال اول سے زیادہ فاسد وباطل ہےہمارے امام اعظم وامام ثالث رضی اللہ تعالی عنہما کے مذہب مفتی بہ میں ایجاب وقبول دونوں رکن کفالت ہیں اگر مکفول لہ مجلس ایجاب میں حاضر نہ ہو اور اسی مجلس میں قبول نہ پایا جائے کفالت باطل محض وبے اثر ہوتی ہے کہ اس کے بعد اگر مکفول لہ کو خبر پہنچے اور وہ قبول بھی کرلے جب بھی اصلا مفید نہیںمبسوط امام محمد سے خلاصہ میں ہے:
اذا کفل رجل لرجل والمکفول لہ غائب فہو باطل وقال ابویوسف اخراھو جائز ۔
اگر کوئی شخص دوسرے کےلئے کفیل بنا درانحالیکہ مکفول لہ غائب ہے تو یہ کفالت باطل ہے اور امام ابویوسف نے دوسرے قول میں فرمایا کہ وہ جائز ہے۔(ت)
قدوری وہدایہ میں ہے:
لاتصح الکفالۃ الابقبول المکفول لہ
مکفول لہ کے مجلس میں قبول کئے بغیر کفالت
حوالہ / References درمختار کتاب الکفالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۶۱
ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۵۹
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الکفالۃ جنس آخر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ۴ /۱۶۵
#13489 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
فی المجلس صحیح نہیں ہوتی۔(ت)
بزازیہ میں ہے:
اذا کان المکفول لہ غائبا فہی باطلۃ خلافا للثانی ۔
جب مکفول لہ غائب ہو تو کفالت باطل ہے بخلاف امام ثانی(ابویوسف)کے۔(ت)
جامع الفصولیں وانقرویہ میں ہے:
لاتصح الکفالۃبلاقبول الطالب ۔
طالب کے قبول کئے بغیر کفالت صحیح نہیں۔(ت)
تنویر میں ہے:
لاتصح(الکفالۃ)بلا قبول الطالب فی مجلس العقد
مجلس عقدمیں طالب کے قبول کئے بغیر کفالت صحیح نہیں۔ (ت)
منح الغفار میں امام طرطوسی سے ہے:الفتوی علی قولہما (فتوی طرفین کے قول پر ہے۔ت)ردالمحتارمیں ہے:
واختارہ الشیخ قاسم حیث نقل اختیار ذلك عن اھل الترجیح کالمحبوبی والنسفی وغیرہما و اقرہ الرملی وظاھر الہدایۃ ترجیحہ لتاخیرہ دلیلہما و علیہ المتون اھ ومن المتقرران الفتوی متی اختلف وجب المصیر الی قول الامام
اور شیخ قاسم نے اس کو اختیار کیا کیونکہ انہوں نے اہل ترجیح سے اس کا مختار ہونا نقل کیا جیسے محبوبی اور نسفی وغیرہ اورخیرالدین رملی نے اس کو برقرار رکھا۔اورظاہر ہدایہ سے بھی اس کی ترجیح معلوم ہوتی ہےکیونکہ صاحب ہدایہ نے طرفین کی دلیل کو مؤخر کیا اور اسی پرمتون وارد ہیں الخ اور یہ بات مسلم ہے کہ فتوی میں جب اختلاف ہو تو امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ
حوالہ / References الہدایہ کتاب الکفالۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۲۱
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃ نوع آخر نورانی کتب خانہ پشاور ۶/۶
فتاوٰی انقرویہ کتاب الکفالۃ داراشاعۃ العربیہ قندہار افغانستان ۱/ ۳۱۷
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الکفالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۳
درمختار بحوالہ طرطوسی کتاب الکفالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۳
ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۲۹
#13491 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
مالم یکن الاختلاف اختلاف الزمان و ان المتون مقدمۃ علی غیرہا فترجح من وجہین ولیس من العلمالعدول عن الراجح الی المرجوح کما قد تبین فی محلہ
کے قول کے طرف رجوع لازم ہوتاہے جبکہ وہ اختلاف اختلاف زمانہ کی وجہ سے نہ ہواور یہ بات بھی مسلم ہے کہ متون غیر متون پرمقدم ہیں تو دو وجہوں سے اس کو ترجیح ہوگئی اور راجح سے مرجوح کی طرف عدول کرنا علم نہیں جیسا کہ اپنے محل میں واضح ہوچکا ہے۔(ت)
سراجیہ میں ہے:
اذا قال لقوم اشہدواانی کفیل فلان بنفس فلان والمکفول بہ حاضر و الطالب غائب فالکفالۃ باطلۃ فان قبل انسان عنہ توقف علی اجازتہ ۔
جب کسی نے قوم سے کہا کہ گواہ ہوجاؤ میں فلاں کے لئے فلاں کے نفس کا کفیل ہوں درانحالیکہ مکفول یہ حاضر اورمکفول لہ غائب ہوتو کفالہ باطل ہے اگرکسی شخص نے مکفول لہ کی طرف سے قبول کیا تو اس کی اجازت پر موقوف ہوگا۔(ت)
ہندیہ میں محیط سے ہے:
رکنہا الایجاب والقبول عند ابی حنیفۃ ومحمد وہو قول ابی یوسف اولاحتی ان الکفالۃ لاتتم بالکفیل وحدہ سواء کفل بالمال اوبالنفس مالم یوجد قبول المکفول لہ اوقبول الاجنبی عنہ فی المجلس العقد امااذا لم یوجد شیئ من ذلك فلا تقف علی ماوراء المجلس حتی لو بلغ الطالب فقبل لم تصح اھ مختصرا
کفالہ کارکن امام اعظم ابوحنیفہ اور امام محمد رضی اللہ تعالی عنما کے نزدیك ایجاب وقبول ہے اور امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کا پہلا قول بھی یہی ہے یہاں تك کہ اکیلے کفیل سے کفالہ تام نہیں ہوتا چاہے مال کا کفیل ہے یا نفس کا جب تك کہ مجلس عقد میں مکفول لہ یا اس کی طرف سے کوئی اجنبی شخص قبول نہ کرے اور جب ان دونوں میں سے کسی کی طرف سے قبول نہ پایا گیا تو کفالہ مجلس سے خارج پر موقوف نہ ہوگا یہاں تك کہ اگر طالب(مکفول لہ)کو اس کی خبر پہنچی اور اس نے قبول کرلیا تو صحیح نہ ہوگا اھ اختصار(ت)
یہاں کفالت بالنفس اگرچہ نائب حاکم نے قبول کرلی جس کے لئے اگر جانب ہندہ سے حاضر ضامنی لینے
حوالہ / References فتاوٰی سراجیہ کتاب الکفالۃ نولکشور لکھنؤ ص۱۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۵۲
#13493 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
کی توکیل ثابت ہو تو نافذا واقع ہوئی ورنہ اجازت ہندہ پر موقوف رہی مگر مجلس عقد میں کفالت بالمال کا قبول اصلا کسی سے واقع نہ ہوا اور اسے قرار دیا مستقلہ کہ طے کفالت بالنفس من۔۔(عہ)۔۔۔لاجرم کفالت مال باطل محض ہوگئی اور کسی وجہ پرایجاب مال کی صورت نہ رہی بالجملہ تحقیقا والزاما ہر طرح یہاں کفالت بالمال ممنوع ومدفوع ہی رہی کفالت بالنفس یہاں انظار ظاہرہ کا حصہ اس قدر کہ اگر چہ ظاہر الروایۃ وہ ہے مگر روایت امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہ اوفق بالعرف ہے اور کلام کا عرف متکلم پر حمل واجب تو یہی مرجح ہے اور اسی پر حکم وافتامناسبخلاصہ وانقرویہ میں ہے:
قول ابی یوسف اشبہ بعرف الناس ۔
امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی کا قول عرف کے زیادہ مناسب ہے۔(ت)
تتمہ وصغری وانقرویہ میں ہے:
ھوا شبہ بعرفنا ونفتی انہ اذا مضت المدۃ المذکور فالقاضی یخرجہ عن الکفالۃ ۔
وہ ہمارے عرف کے زیادہ مناسب ہے اور ہم فتوی دیتے ہیں کہ جب مدت مذکورہ گزر جائے تو قاضی اس کو کفالہ سے خارج کردے۔(ت)
ذخیرہ میں ہے:
قال وکان القاضی الامام اجل ابوعلی النسفی یقول قول ابی یوسف اشبہ بعرف الناس اذا کفلوا الی مدۃ یفہمون بضرب المدۃ انہم یطالبون فی المدۃ لا بعدھا الخ
قاضی امام الاجل ابو علی النسفی فرماتے تھے کہ امام ابویوسف کا قول لوگوں کے عرف کے زیادہ مناسب ہے کیونکہ لوگ جب کسی مدت تك کفیل بنیں تو وہ بیان مدت سے ہی سمجھتے ہیں کہ مدت کے اندر ان سے مطالبہ کیا جائے گا نہ کہ اس کے بعد الخ۔(ت)
خانیہ میں ہے:
قال شمس الائمۃ الحلوانی فی قول ابی یوسف انہ یطالب الکفیل بتسلیم النفس فی
شمس الائمہ حلوانی نے کہا امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول کہ کفیل سے تسلیم نفس کا مطالبہ تین دن کا

عــــــہ: فی الاصل ھکذا واظنہ کہ کفالت بالنفس کے ضمن میں حاصل نہیں ہوسکتی۔
حوالہ / References فتاوٰی انقرویہ کتاب الکفالۃ داراشاعۃ العربیہ قندہار افغانستان ۱ /۳۱۷
حواشی فتاوٰی انقرویہ کتاب الکفالۃ داراشاعۃ العربیہ قندہار افغانستان ۱ /۳۱۷
ردالمحتاربحوالہ ذخیرہ کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۵۵
#13494 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
الایام الثلثۃ ولایطالب بعد ھا اشبہ بعرف الناس ۔
اندر کیا جائے گا بعد میں نہیں لوگوں کے عرف کے زیادہ مناسب ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
قال شمس الائمۃ الحلوانی کان القاضی الامام الاستاذ ابو علی النسفی یقول کان الشیخ الامام ابوبکر محمد بن الفضل یعجبہ ھذہ الروایۃ وکان یقول لو قال بالفارسیۃ پذیرفتم تن فلاں راتادہ روز یصیر کفیلا فی الحال واذا مضت المدۃ لایبقی کفیلا ولوقال پذیرفتم تن فلاں رادہ روزیصیر کفیلا بعد عشرۃ ایامو بعض المشائخ قالوا اذا قال پذیرفتم تن فلاں راتادہ روز ولم یسلم حتی مضت عشرۃ ایام یرفع الکفیل الامر الی القاضی حتی یخرجہ عن الکفالۃ وبہ کان یفتی الشیخ الامام الاجل ظہیرا لدین ویحکی ذلك عن جدی رحمہم اللہ تعالی ۔
شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا قاضی امام استاذ ابوعلی نسفی فرمایاکرتے تھے کہ شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل اس روایت کو پسند کرتے اور کہتے تھے کہ اگر کسی نے فارسی میں کہا کہ میں نے دس روز تك فلاں کے بدن کو قبول کیا تو وہ فی الحال کفیل بن جائے گا اور جب مدت گزر جائے گی تو دس دن کے بعد وہ بطور کفیل باقی نہ رہے گااوراگر کہا کہ میں نے دس روز فلاں کے بدن کوقبول کیا تو وہ دس دن کے بھی کفیل رہے گااوربعض مشائخ نے کہا اگر کسی نے یوں کہا کہ میں نے فلاں کے بدن کو دس دن تك قبول کیا پھر دس دن گزرگئے اور اس نے مطلوب کو طالب کے حوالہ نہ کیا تو اب کفیل یہ مطالبہ قاضی کے پاس لے جائے گا تاکہ وہ اس کو کفالت سے خارج کردےاسی پر شیخ امام اجل ظہیر الدین فتوی دیتے تھے اور میرے جدا مجد سے بھی یہی منقول ہے اللہ تعالی اب سب پر رحم فرمائے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قلت وینبغی عدم الفرق بین الصور الثلث فی زماننا (ای مااذا قال شہرا
میں کہتاہوں ہمارے زمانے میں ان تینوں صورتوں میں فرق نہیں ہونا چاہئے(یعنی اگر کہے ایك مہینہ
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان کتاب الکفالۃ نولکشور لکھنؤ ۳ /۵۸۳
فتاوٰی قاضی خان کتاب الکفالۃ نولکشور لکھنؤ ۳ /۵۸۴
#13495 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
اوالی شہر اومن الیوم الی شہر)کما ھو قول ابی یوسف و الحسن لان الناس الیوم لایقصدون بذلك الا توقیت الکفالۃ بالمدۃ وانہ لاکفالۃ بعدہا وقد تقدم ان مبنی الفاظ الکفالۃ علی العرف والعادۃ ان لفظ عندی للامانۃ وصار فی العرف للکفالۃ بقرینۃ الدین وقالوا ان کلام کل عاقدوناذر وحالف و واقف یحمل علی عرفہ سواء وافق عرف اللغۃ اولا الخ
یا ایك مہینے تك یا آج سے ایك مہینے تک)جیسا کہ امام ابویوسف اورحسن کا قول ہے کیونکہ آج کل لوگ اس سے سوائے کفالت کی توقیت بالمدۃ کے کچھ ارادہ نہیں کرتے اور یہ کہ اس مدت کے بعد کفالہ نہیں اور تحقیق گزرچکا ہے کہ کفالہ کے الفاظ کا دارومدار عرف اورعادت پرہے۔بیشك لفظ "عندی"امانت کے لئے ہے مگر عرف مین دین کے قرینہ کے ساتھ کفالہ کےلئے ہوگیااور فقہاء نے کہا کہ ہر عقد کرنے والےنذر ماننے والےقسم کھانے والے اور وقف کرنے والے کا کلام اس کے عرف پر محمول ہوگا چاہے اس کا عرف لغت کے موافق ہو یا نہ ہو الخ(ت)
وانا اقول:(اورمیں کہتاہوں)حقیقت امر یہ ہے کہ ظاہر الروایۃ کوان واقعات سے اصلا تعلق نہیں ان میں بلا شبہہ روایت امام ابی یوسف ہی پر افتاء وحکم واجب ہے اور اس کا خلاف محض باطلآخر اس قدر پر تو اجماع ہے کہ ایجاب رکن کفالت ہے اور جب عر ف میں قطعا یقینا دس روز تك یا فلاں تاریخ تك کفیل ہونے سے یہی معنی مقصود مراد مفہوم ومفاد ہوتے ہیں کہ کفالت اس وقت تك موقت کی جاتی ہے اس کے بعد کفالت نہیں تو بالیقین کفیل نے ہرگز ایجاب نہ کیا مگر کفالت موقتہ ممدود کااب اگر بعد اس وقت وحد کے کفالت باقی مانیں تو یہ وہ کفالت ہے جس کا ایجاب ہر گز نہ ہوااور کوئی عقد بے اپنے رکن کے محقق ہونا بالاجماع باطل ہے تو ظاہر الروایۃ کو ہمارے عرف دائر سائر سے اصلا تعلق نہیں اور یہاں اس پر حکم سراسر مقاصد شرع سے جدا وظلم ہوگاولہذا علامہ محقق نے فرمایا:
ماذکرہ الامام النسفی مبنی علی ان المذکور ظاہر الروایۃ انما ھو حیث لاعرف اذ لا وجہ للحکم علی المتعاقدین بمالم یقصد أفلیس قضاء بخلاف
امام نسفی نے جو ذکر فرمایا وہ اس بات پر مبنی ہے کہ مذکور ظاہر الروایۃ وہاں ہے جہاں کوئی عرف نہ ہو کیونکہ متعاقدین پر ان کے مقصود کے خلاف حکم کی کوئی وجہ نہیں چنانچہ یہ ظاہر الروایۃ کے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۵۵
#13496 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
ظاہر الروایۃ ۔ خلاف قضاء نہ ہوئی۔(ت)
پس صورت مستفسرہ میں قطعا حکم یہی ہے کہ ۱۸ فروری کے بعد کفالت نہ رہیبالجملہ اسی مسئلہ میں حق ناصح یہ ہے کہ کفالت بالنفس تو ۱۸ فروری کو جزما حتما ختم ہوگئی اوراس کے بعد مطالبہ ظلم ہے اور لفظ مطالبہ سے کفالت بالمال کا ایجاب محض بے دلیل ہے اگرچہ ۱۸ فروری سے پہلے فرار ثابت بھی ہو اوراگر اس کا ثبوت نہ ہو جب تو مطالبہ مال کا معنی مجازی پر بھی اصلا احتمال ہی نہیںغرض صورت مستفسرہ میں کفالت بالنفس یقینا زائل اور خالد پر مطالبہ مال کا بھی حکم باطل یہ حکم قضا ہےرہی دیانت اگر فی الواقع خالد نے مطالبہ سے مال مراد لیااور یہی مقصود مفہوم ہوا اور ۱۸ سے پہلے فرار کی شرط محقق ہوئی او رہندہ کا زید پر دین دین صحیح تھا تو عنداللہ خالد پر مال لازم آچکا اگرچہ قاضی بوجہ مذکورہ حکم نہیں کرسکتا اللہ سے ڈرے اور بیجا حیلہ وعذر نہ کرے اور اگر ان تینوں امر سے ایك بھی منتفی ہو تو عنداللہ بھی وہ مطالبہ مال سے بری ہےھذا ھوالتحقیق واللہ ولی التوفیق وھوسبحانہ وتعالی اعلم(یہ ہی تحقیق ہے اور اللہ تعالی مالك توفیق ہے اور وہ سبحنہ وتعالی بہتر جانتاہے۔ت)
مسئلہ ۲۸۱: ازرام پور مقام مذکور ۷ ربیع الاول شریف ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ہندہ دائنہ کے لئے ایك مدت معہودہ تك عمرو مدیون کا کفیل بالنفس ہوا اور حسب تعارف ومعنی مقصودومفہوم بین الناس اس مدت کے گزرنے تك انتہائے کفالت قرار پایا زید نے اس کفالت کے ضمن میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر مدیون اس مدت تك شہر سے بھاگ جائے تومیں مطالبہ مدعیہ کا ذمہ دارہوںاب کہ مدت گزرگئی اور کفالت بالنفس ختم ہوچکی تو آیا وہ کفالت بالمال بھی جو اس کے ضمن میں ذکر کی تھی اس کے ختم سے منتہی ہوگئی یا وہ باقی رہے گی بینوا توجروا
الجواب:
ہاں صورت مستفسرہ میں کفالت بالنفس کے ختم ہوتے ہی کفالت بالمال بھی ختم ہوگئی کہ یہ اسی کی تاکید وتوثیق کے لئے اس کی تابع محض تھی جب اصل نہ رہی یہ بھی نہ رہی۔
کیف وان زوال الموقتۃ بمرورالوقت زوال من کل وجہ کالابراء فیعمل فی الاصل والفرع کیسے کفالت بالمال ختم نہ ہوگی حالانکہ وقت گزرنے کے سبب سے کفالت موقتہ کا زوال ہر لحاظ سے اس کا زوال ہوتاہے جیسے کہ بری کرنا لہذا وہ
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الکفالۃ مطلب فی الکفالۃ الموقتۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۵۵
#13497 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
جمیعا بخلاف موت المطلوب لعدم وضعہ للفسخ کما بینہ فی الفتح وغیرہ۔
اصل وفروع دونوں میں عمل کرے گا بخلاف مطلوب کی موت کے کیونکہ اس کی وضع فسخ کے لئے نہیں ہے جیسا کہ فتح وغیرہ میں اس کو بیان کیاہے۔(ت)
درمختارو ردالمحتارمیں ہے:
لوابراہ عنہا فلم یواف بہ ولم یجب المال لفقد شرطہ وھو بقاء الکفالۃ بالنفس ۔
اگر طالب نے کفیل کو کفالت نفس سے بری کردیا اور اس نے ادائیگی نہیں کی توکفیل پر مال دینا واجب نہ ہوگا کیونکہ اس کی شرط یعنی کفالت نفس کی بقاء فوت ہوگئی ہے۔(ت)
حواشی ہدایہ میں ہے:
الکفالۃ بالنفس اذا سقطت وجب ان یسقط ما یترتب علیہا من الکفالۃ بالمال لکونہا کالتاکید لہا ولیست بمقصودۃ ولہذا لوابرأ الکفیل الطالب عن الکفالۃ بالنفس قبل انقضاء المدۃ بطلت الکفالۃ بالمال ۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
جب کفالت بالنفس ساقط ہوجائے تو اس پر مرتب ہونے والی کفالۃ بالمال کا ساقط ہونا واجب ہے کیونکہ وہ تو کفالت نفس کی تاکید ہے مقصو دنہیںیہی وجہ ہے کہ اگر مدت گزرنے سے پہلے طالب نے کفیل کو کفالت نفس سے بری کردیا کفالت بالمال باطل ہوجائے گیواللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۸۲: از ریاست رامپور مسئولہ حاجی نوشہ علی وشید اعلی وچھنو ۲۸ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ
(زید)ڈگری دارنے بصیغہ اجراء ڈگری(عمرو)اپنے کو گرفتار کرایا بکر وخالد وحامد عمرو مدیون کی حاضری عدالت کے بلا تعین تاریخ حاضر ضامن ہوئے اور ضمانت نامہ بایں شرائط لکھا گیا کہ جس تاریخ کو عدالت(عمرو)مدیون کو طلب کرے گی ضامنان اس کو حاضرکریں گے اگر نہ حاضر کریں گے تو زر ڈگری ذمگی مدیون مذکور ادا کریں گے ضمانت نامہ مذکورہ بعد تکمیل شامل مسل ہوکر مدیون سپرد ضامنان کیا گیا ہر سہ ضامنان
حوالہ / References درمختار کتاب الکفالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۱،ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۵۹
حواشی ہدایہ کتاب الکفالۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۱۵
#13499 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
اپنی اپنی ضرورتوں سے حدود عدالت مذکور یعنی اپنے مسکنوں سے باہر دور دراز چلے گئے ان کی عدم موجودگی میں عدالت سے ایك حکم اس مضمون کا جاری ہواکہ تاریخ اطلاع یابی حکم ہذا سے ایك ہفتہ کے اندر مدیون کو حاضر عدالت کریںیہ حکم بوجہ عدم موجودگی ضامنان ان کے مکانوں پرآویزان ہوا ہے کسی ضامن کی ذات پر حکم مذکورکی تعمیل نہیں ہوئی ہے میعاد ہفتہ مندرجہ حکم مذکور گزر جانے پرڈگری دارنے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ضامنان نے مدیون کو میعا د مقررہ عدالت کے اندر نہیں حاضر کیا ہے پس بموجب شرط مندرجہ ضمانت نامہ ڈگری کا ایفاء ضامنان سے کرایا جائے اور بذریعہ قرقی ونیلامی جائداد ضامنان زرڈگری وصول کرایا جائے اورضامنان کے قصورنہ حاضر کرنے مدیون کی تائید میں چنداشخاص کے بیانات عدالت میں کرائے ہیں جنہوں نے بحلف بیان کیا ہے کہ تاریخ تعمیل حکمنامہ مجریہ عدالت پر ہم نے ضامنان کو اسی شہر میں جوان کا مسکن ہے دیکھا ہے اس شہادت کے پیش نظر ہونے پر عدالت سے حکم قرقی مال احدالضامن جاری ہوا ہے اور قرقی حسب قاعدہ عمل میں آئی ہے قرقی سے دوسرے روز ہر سہ ضامنان نے مدیون کو حاضر عدالت کیا ہے اور میعاد مندرجہ حکم مجریہ عدالت کے اندر نہ حاضر کرنے مدیون کی نسبت یہ عذر کیا ہے کہ ہم ضامنان اپنے مسکنوں پر اس شہرمیں موجود نہیں تھے بلکہ اپنے مسکنوں سے باہر دور دراز گئے ہوئے تھے اس وجہ سے ہم کو اطلاع اجراء حکم عدالت کی نہیں ہوئی بہ یوم قرقی واپس آئے ہیں اور فعل قرقی سے علم اجرائے حکم عدالت کا ہواہے کہ بہ مجرد علم دوسرے ہی روز مدیون کو فورا عدالت میں حاضر کردیا ہے علم طلبی مدیون کے بعد کوئی توقف منجانب ضامنان وقوع میں نہیں آیاہے اور اپنے عذر عدم موجودگی شہر یعنی بہ مساکن خودہا موجودگی مقامات دیگر کی تائید میں ہر سہ ضامنان نے حلف نامہ جات اقراری خود ہا عدالت میں داخل کئے ہیں کہ عدالت نے مدیون حاضر کردہ کو ضامنان سے لے کرجیل خانہ دیوانی میں بھیج کر ضمانت بالنفس سے تو ضامنان کو بری کردیا ہے مگر ضمانت بالمال کا مواخذہ ضمان پر قائم رکھا ہے پس سوال قابل تصفیہ یہ ہے کہ جبکہ عدالت سے ضمانت کے وقت یا ضمانت نامہ میں کوئی تاریخ حاضر ی مدیون کی معین ومقرر نہیں ہوئی تھی اورحکم مجریہ عدالت جس کے ذریعہ سے طلبی مدیون کی ضامنان سے ہوئی ہے ضامنان کی ذات پر تعمیل نہیں ہواہے اور اسی حکم مجریہ عدالت میں بھی حاضری مدیون کے لئے کوئی تاریخ معین ومقرر نہیں کی گئی ہے بلکہ حکم مذکور کے یہ الفاظ ہیں (تاریخ اطلاع یابی حکم ہذا سے ایك ہفتہ کے اندرمدیون کو حاضر عدالت کرو)اور ان کا روائیات کے مقابلہ میں ضامنان بذریعہ حلف نامجات تاریخ اجراء حکمنامہ عدالت اور اس میعاد ایك ہفتہ کے اندر جو اس میں نسبت حاضری مدیون مقرر تھی اپنی عدم موجودگی بمسکنہائے خودہا وموجودگی بمقامات دیگر جو بفاصلہ واقع ہیں ظاہر وثابت کرتے ہیں توکیا ان حالات کی موجودگی میں بھی ضامنان پر مواخذہ ضمانت بالمال کا شرعا عائد وقائم رہ سکتاہے درحالیکہ مدیون کو بھی بمجرد علم طلبی عدالت حاضر عدالت کردیا اور وہ جیل خانہ دیوانی
#13500 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
میں بھی بھیج دیا گیا ہے او رقید بھگت رہا ہے یایہ کہ بحالت مذکورہ بالا ضامنان پر مواخذہ ضمانت بالمال کا شرعا قائم وباقی نہیں رہ سکتا ہے اور وہ سبکدوش ہوسکتے ہیں۔
الجواب:
دارالافتاء نے بیان سائل پر اکتفانہ کرکے اظہارات گواہان کی نقول باضابطہ طلب کیں جو سال ۱۳ جمادی الاولی کو حاضر لایا وہ سات گواہ ہیں جن میں ایك ہندو ہے اس کی شہادت تو مسلمانو ں پر اصلا مسموع نہیں لہذا اس سے بحث فضول ہے باقی چھ کا خلاصہ یہ ہے:
(۱)گمن خاں چپراسی مظہر نے بتاریخ ۱۸ دسمبر تین قطعہ نوٹس بمکان شیخ چھنو شید ا علی ونوشہ خان چسپاں کردئے اس لئے کہ گواہان کی زبانی مظہر کو معلوم ہوا کہ ضامن شہرمیں نہیں نوٹس کی خبر معلوم کرکے روپوش ہوگئے ہیں۔ہنگام دریافت عورات ضامنان نے کہا تھا کہ ضامنان گھرمیں نہیں کہیں چلے گئے ہیں ۔
(۲)جلن خان گواہ تعمیل نوٹس ۴ جنوری عرصہ ۱۸ یا ۱۹ دن کا ہوا مظہر اپنے کھیتوں پر جارہا تھا چھنو خان کے مکان پر شیداعلی نوشہ خاں کھڑے تھے مظہر جنگل کو چلا گیا پھر جس وقت ادھر سے لوٹ کر آیا اس وقت گمن خاں نے کاغذ کچہری کے چھنوخاں کے مکان پر وہ لگادئے مظہر چھنوخاں اور شیدا علی کی ولدیت نہیں جانتا ان دونوں کو پہچانتاہے بجواب سوال کچہری بیان کیا جس وقت کاغذ چسپاں ہوئے ہیں اس وقت شیدا علی جنگل کو بھینس لے کر گیا تھا اور چھنو خاں کی نسبت سنا کہ بابو کے یہاں گئے ہیں
(۳)چھمن گواہ تعمیل نوٹس کوئی انتیس دن کا عرصہ ہوا جمعہ کے روز مظہر اپنے گھر کے باہر کھڑ اتھا وقت دن کے ۱۰۱۱ بجے کا تھا شیدا علی وچھنو پسران چھٹن اپنے گھر کے پاس کھڑے باتیں کررہے ہیںتھوڑی دیر کے بعد اسی روز گمن خاں شیدا علی وچھنو مذکور کے مکان پر دو کاغذ لگارہے تھے اس وقت شیدا علی جنگل کو بھینس لے گیا تھا اور چھنو کہیں گیا تھا۔
(۴)شرف الدینعرصہ کوئی ۱۹ دن کا ہوا چھنوخاں شیدا علی خاں پسران چھٹن خاں نوشہ ولد بنن خان بیٹھے کنوین کے پاس جہاں چھنوخاں وشیدا علی خاں کا مکان ہے کھڑے باتیں کررہے تھے بس مظہر نے اتناہی دیکھا۔
(۵)لڈن خاںکوئی ۱۹ دن ہوئے گمن خاں سمن لئے محبوب جان کی مسجد کے پاس کھڑے تھے اور بھی کئی آدمی تھے مذکوری نے کہا نوشدخاں کے گھرپر چسپاں کرتاہوں مذکوری نے نوشہ خاں ولدبنن خان کےگھر پر آواز دی کہ نوشہ خاں کہاں ہیں گھر میں سے ایك لڑکی نکلی اس نے کہا یا تو بابوجی کے یہاں
#13502 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
گئے ہوں گے یا قلعہ کومذکوری نے سمن نوشہ خاں کے گھر پر چسپاں کردیا مظہر چلا گیا
(۶)امجد حسینچپراسی سمن لئے محبو ب جان کی مسجد کے پاس ۱۹ روز ہوئے جمعہ کے دن پھر رہے تھے نوشہ خاں کو معلوم ہوا کہ قلعہ کو گئے ہیں مذکوری نے نوشہ خان کے مکان پر سمن چسپاں کردیامظہر چلا گیا۔مظہر نوشہ خاں کی ولدیت نہیں جانتا ان کو پہنچانتا ہےیہ تمام شہادتیں بوجوہ کثیرہ محض ناکافی ہیں۔
اول: چپراسی ۱۸ دسمبر کو سمن چسپاں کرنا بتاتاہے اور چھمن اور امجد حسین جمعہ کے دن ۱۸ دسمبر کو شنبہ تھا نہ کہ جمعہ۔
ثانی: یہ شہادتیں چوتھی جنوری کوہوئیںحسب بیان چپراسی آویزانی سمن کو اس وقت تك سترہ دن ہوئے تھےامجد حسین ۱۹ دن کہتاہے لڈن اور شرف الدین کوئی ۱۹ دناور اظہار چھمن کے باضابطہ نقل میں صاف انتیس دن لکھے ہیںجلن خاں ۱۸ یا ۱۹ کہتاہےیوں بھی کم از کم وہی جمعہ کا دن پڑتا ہے۔
ثالث: شہادت علی الغائب میں بیان ولدیت بالاتفاق لازم ہے اور ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب میں تو بیان جد بھی ضرور ہے جبکہ صرف ولدیت موجب معرفت نہ ہواور یہی صحیح ہے۔عالمگیری میں ہے:
یحتاج فی الشہادۃ علی المیت اوالغائب الی تسمیۃ الشہود اسم المیت والغائب وابیہا وجدھا وعلی قول ابی یوسف ذکر الاب یکفی کذا فی الذخیرۃ والصحیح ان النسبۃ الی الجد لا بدمنہ کذا فی البحرالرائق ۔
میت اور غائب پر گواہی کے لئے ضروری ہے کہ گواہ میت اور غائب کا نام ان کے باپ کانام اور ان کے دادا کانام ذکر کریں اور امام ابویوسف کے قول پر صرف باپ کاذکر کافی ہے ذخیرہ میں یوں مذکور ہے اور صحیح یہ ہے کہ دادا کی طرف نسبت کرنا ضروری ہےیونہی بحرالرائق میں ہے۔(ت)
یہاں بیان ولدیت درکنار جلن خانچھنو وشیداعلی کی نسبتامجد حسین خاں نوشہ خاں کی نسبت ولدیت جاننے ہی سے منکر ہےنہ مشہور علیہم کو ان کے سامنے لاکر شناخت کرائی گئی ایسی مجہول گواہی ناقص ومختل ہے۔
رابع: چپراسی کہتاہے گواہان کی زبانی معلوم ہوا کہ ضامن شہر میں ہیں یہ سماعی بیان ہے اور ان مستشنیات میں نہیں جن میں شہادت بالتسامع مقبول ہے۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادت الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۴۵۹
#13504 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
خامس: وہ بھی مجہولکون گواہ کس کی زبانی
سادس:کہتاہے کہ عورات ضامنان نے کہا تھا چپراسی نے کیونکر جانا کہ یہ کہنے والیاں عورات ضامنان ہیں
سابع:عورات کا کہنا ضامنوں کے شہر میں نہ ہونے کے کیا منافیگھر میں نہیں کہیں چلے گئے ہر طرح صادق ہے۔
ثامن: جلن کابیان کہ چھنو خان کی نسبت کہ بابو کے یہاں گئے ہیں سماعی ہے
تاسع: وہ بھی مجہول
عاشر: لڈن خان ایك لڑکی کے بیان کا حاکی ہے
حادی عشر: وہ بھی مجہولہ بلکہ بظاہر نابالغہ بھی
ثانی عشر: امجد حسین کا بیان بھی سماعی ہے
ثالث عشر: مجہولنوشہ خاں کا معلوم ہوا کیونکر معلوم ہواکس سے معلوم ہوا
رابع عشر: شرف الدین کا بیان محض خالی ہے اس سے صرف اتنا نکلتا ہے کہ کوئی ۱۶ دسمبر کو ضامن شہر میں تھےخامس عشر ان چھ گواہیوں میں یہ بیس نقص ہیںچپراسی کے بیان میں چار یعنی ۴۵۶۷جلن خاں کے بیان میں چار ۲۳۸۹۔ چھمن کے بیان میں دو ۱۲شرف الدین کے بیان میں دو ۲۱۴۔لڈن خان کے بیان میں تین ۲۱۰۱۱۔امجد حسین کے بیان میں پانچ ۱۲۳۱۲۱۳۔
ان سب سے قطع نظر کرکے ان میں ایك شہادت بھی موافق دعوی نہیںسماعی ومجہول بیان چپراسی کی تائید میں جتنی گواہیاں گزریں سب مدعا کے اجنبی وبے علاقہ ہیںمدعا یہ ہے کہ ضامنوں نے نوٹس دیکھا یا مضمون نوٹس پر اطلاع پائی اور وقت اطلاع سے سات دن کے اندر مدیون کو حاضر نہ کیا تاکہ حسب شرائط مطالبہ مال ان پر عائد ہو شہادتوں میں اس کا کون سا حرف ہےدو دن پہلے ۱۶ دسمبر کو شہر میں ہونا جوبیان شرف الدین میں ہے یا ایك دن پہلے روز جمعہ کو شہر میں رہنا جو بیان چھمن وامجد حسین میں ہے اس سے تو خود اس دن بھی شہر میں ہونا لازم نہیں آتا باقی حاصل اس قدر کہ نوٹس آنے سے پہلے اس دن ضامن شہر میں دیکھے گئے جب نوٹس آئے اور مکان پر چسپاں ہوئے اس وقت شید اعلی جنگل کوبھینس لے گیا چھنوخان کو سنا کہ بابو کے یہاں گئے ہیںنوشہ خاں کو معلوم ہوا کہ قلعہ کو گئے ہیں ان سے زیادہ کوئی حرف بھی شہادتوں میں ہے اس میں اصل مقصود یعنی جنگل یا بابو کے پا س یا قلعہ سے ضامنوں کے لوٹ کر مکان پر آنے اور مضمون
#13505 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
نوٹس پر اطلا ع ہونے پر شہادت کہاں ہے کیا قبل آویزانی نوٹس جنگل وغیرہ میں ہونا اسے وجوبا مستلزم ہے کہ پلٹ کر بھی آئیں اور مضمون پر اطلاع پائیں کیا ممکن نہیں کہ وہی وقت ضامنوں کے باہر جانے کا ہوجاتے وقت چھنوں خان بابو سے ملانوشہ خاں قلعہ میں گیاشیدا علی جنگل میں بھینس کسی کو سپر کرنے گیااور ان کاموں سے فارغ ہوکر ویسے ہی باہر جہاں جہاں جانا تھا چلے گئے اور اس روز واپس آئے جس دن وہ اپنا آنا بتاتے ہیںکیا ہزار بار ایسا نہیں ہوتا کہ آدمی شہرسے جاتے وقت شہرمیں کہیں ہوتا جائےاور جب یہ یقینا ممکن ہے اور شہادتوں میں اس کے خلاف کوئی حرف نہیں تو شہادات موافق دعوی کب ہوئیں لہذا واجب الرد ہیںالشہادۃ ان وافقت الدعوی قبلت والالا(شہادت اگر دعوی کے موافق ہو تو قبول کی جائے گی ورنہ نہیں۔ت)اگریہ کہئے کہ اگر چہ اس دن ان کی واپسی واطلاع مضمون جو مدعاہے شہادات سے ثابت نہیں مگر ظاہر تو ہے کہ ایسا ہی ہوا ہوہوا ہو سے دعوی ثابت نہیں ہوتا اور اگر اس کا ظاہر ہونا تسلیم بھی کرلیں توقاعدہ مستمرہ فقہیہ ہے کہ الظاھر یصلح حجۃ للدفع لاللا ستحقاق(ظاہر دفاع کےلئے حجت ہے نہ استحقاق کے لئے۔ت)پھر کس بنا پر اسے استحقاق مال کی حجت بناسکتے ہیں لاجرم حکم شرعی یہی ہے کہ ضامنین صورت مذکورہ میں ضمانت نفس وضمانت مال دونوں سے مطلقا بری ہیں۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۳ تا ۲۸۶:ازریاست رام پور مرسلہ میرسید انوارحسین صاحب بذریعہ مرزا نظر بیگ سابق نائب تحصیلدار بریلی ۹ر بیع الآخر ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)کفالت بالمال یعنی کوئی شخص کسی کے مطالبہ میں اپنا مکان مکفول کرے تو یہ کفالت شرعا جائز ہے یانہیں
(۲)نالش بربنائے کفالت بالمال یعنی اس بناء پر کہ کفیل نے اپنا مکان دوسرے کے مطالبہ میں مکفول کیا تو شرعا قابل سماعت ہے یانہیں
(۳)زید نے ٹھیکہ کسی حقیت کالیا اور عمرو نے بلا استدعا خواہش زید کے اپنا مکان کفالت میں دے دیاتو اس صورت میں عمرو مستحق پانے رقم کا زید سے ہے یانہیں یعنی اس رقم کی ضمانت تبرع اوراحسان سمجھی جائے گی یا کیا
(۴)جب کفیل یعنی ضامن خلاف معاہدہ مندرجہ کفالت نامہ کے دیگر نہج پر روپیہ دائن کو اداکرے تووہ مستحق لینے رقم مذکور کا مدیون سے ہے یانہیں صورت کفالت یہ ہے کہ زید نے ایك موضع مستاجری میں لیا
#13507 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
اورعمرو نے اپنا مکان ضمانت میں مستغرق کرادیا اور ضمانت نامہ میں یہ لکھا کہ اگر زید کے ذمہ روپیہ باقی مالگزاری کا رہ جائے اور وہ ادانہ کرے تو جائداد مکفولہ سے نیلام جائداد مالك موضع وصول کرلے مجھ کو نیلام جائیداد مکفولہ میں کوئی عذرنہ ہوگا زید کے ذمہ کچھ باقی رہے مالك موضع نے بموجب شرط مندرجہ ضمانت نامہ نیلام کرنے کا قصد کیا توعمرو مالك مکان نے اپنے مکان کو خلاف شرط مندرجہ ضمانت کے نیلام نہ ہونے دیا بلکہ روپیہ باقیماندہ ذمگی زید عمرو نے قبل نیلام مالك موضع کو دے دیا اس وجہ سے اس روپیہ کا دینا خلاف دستاویز ضمانت کے وقوع میں آیا۔بینوا توجروا
الجواب:
(۱)کفالت بالمال تویقینا جائز ہے مگر شرعا اس کے معنی یہ ہیں کہ زید کا جو مطالبہ مالی عمرو پر ہوا سے اپنے ذمہ پر لے یوں کہ ایك مال کا مطالبہ عمرو وبکر دونوں کے ذمہ پر ہونقایہ میں ہے:
الکفالۃ اما بالنفس وینعقد بکفلت بنفسہ اوعلی اوالی واما بالمال فتصح وان جہل المکفول بہ اذ صح دینہ نحو کفلت بمالك علیہ اوبما یدرکك فی ھذا لبیع (ملتقطا)
کفالت یاتونفس کی ہوتی ہے اور وہ ان لفظوں سے منعقد ہوتی ہے کہ میں اس کے نفس کا کفیل بنا ہوں یا وہ میرے ذمے یا کفالت مال کی ہوتی ہے اور یہ مال مکفول کے مجہول ہونے کے باوجود صحیح ہوجاتی ہے جبکہ دین صحیح ہو مثلا یوں کہے کہ جو تیرا مال فلاں پر ہے یا جو تجھے اس بیع میں حاصل ہوگا میں اس کا ضامن ہوں۔(ملتقطا)(ت)
یہ جدید ومحدث طریقہ کہ جہاں میں رائج ہے کہ کوئی مکان دکان زمین جائداد کسی کے مطالبہ میں کہ اپنے اوپر یا دوسرے پر ہو مستغرق کرتے ہیں کہ وہ اس سے اپنا مطالبہ وصول کرےاور اس جائداد کو مکفول یا مستغرق کہتے ہیں اور بآنکہ جائداد قبضہ مالك ہی میں رہتی ہے اس وقت سے مالك کو اس میں تصرفا ت انتقالیہ بیع وہبہ سے ممنوع جانتے ہیں اور اگر کرے تو باطل سمجھتے اوردائن کو اس کے واپس لینے کا اختیار بتاتے ہیں یہ سب محض بدعت واختراع فی الشریعۃ وہوس باطل ومردود ہے شرعا اس جائداد سے کوئی حق دائن کاکسی وقت متعلق نہیں ہوتانہ مالك اس بیع وہبہ سے ممنوع ہوسکتاہے شرع مطہر نے تو ثیق دین کے لئے صرف دو عقد رکھے ہیںکفالت ورہناس کا رہن نہ ہونا تو بدیہی کہ رہن
حوالہ / References مختصر الوقایہ فی مسائل الہدایہ(النقایہ) کتاب الکفالۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۴۔۱۲۳
#13509 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
کی شرط قبضہ مرتہن ہے رہن بے قبضہ کوئی شے نہیں قال اللہ تعالی "فرهن مقبوضة " (اللہ تعالی نے فرمایا:تو رہن قبضہ کیا ہوا۔ت)بدائع امام ملك العلماء میں ہے:
وصف سبحنہ وتعالی الرھن بکونہ مقبوضہ فیقتضی ان یکون القبض شرطا فیہ صیانۃ لخبرہ تعالی عن الخلف ولانہ عقد تبرع للحال فلا یفید الحکم بنفسہ کسائر التبرعات ولو تعاقد اعلی ان یکون الرھن فی یدصاحبہ لایجوز الرہن حتی لو ھلك فی یدہ ولایسقط الدین ولوارادالمرتہن ان یقبضہ من یدہ لیحبسہ رھنا لیس لہ ذلك ۔
اللہ سبحانہ وتعالی نے رھن کو مقبوض ہونے کے ساتھ موصوف فرمایا تو یہ اس بات کا مقتضی ہے کہ قبضہ رھن میں شرط ہو تاکہ اللہ تعالی کی خیر خلاف واقع ہونے محفوظ رہے اور اس لئے بھی کہ یہ تبرع و احسان ہے لہذا باقی تبرعات کی طرح یہ خود مفید حکم نہ ہوگااوراگر وہ دونوں اس شرط پر عقد کرے کہ رہن مالك قبضہ میں رہے گا تو رہن جائز نہ ہوگا یہاں تك کہ اگر وہ مالك کے قبضہ میں ہلاك ہوگیا تودین ساقط نہ ہوگااوراگرمرتہن ارادہ کرے کہ وہ اس کو مالك کے قبضہ سے لے کر بطور رہن محبوس رکھے تو اس کو ایسا کرنے کا اختیار نہیں۔(ت)
یہ لوگ خود بھی اسے نہ رہن کہتے ہیں نہ رہن سمجھتے بلکہ کفالت اوراس کا کفالت ہونا رہن ٹھہرنے سے بھی باطل ترہے کفالت بے کفیل محال اور س عقد مخترع میں نفس جائداد کفیل ٹھہرتی ہے نہ مالك جائداد اکثر یہ استغراقات صاحب جائدادان دیون میں کرتاہے جو خود اس پر ہیں اور کوئی شخص خود اپنا کفیل نہیں ہوسکتا کہ کفالت ہے۔
ضم الذمۃ الی الذمۃ کما فی البدائع والہدایۃ وعامۃ الکتب۔
ایك ذمہ کو دوسرے ذمہ کے ساتھ ملانا جیساکہ بدائعہدایہ اور عام کتابوں میں ہے۔(ت)
یہاں دو ذمہ کہاں ہیں کہ ایك دوسرے سے ضم ہوولہذا شرح جامع الصغیر لشیخ الاسلام علی الاسبیجابی پھر فصول استروشی پھر فتاوی عالمگیری میں ہے:
اذا قال المطلوب للطالب ان لم اوافک
جب مطلوب طالب سے کہے کہ اگرمیں کل اپنے آپ کو
حوالہ / References القرآن الکریم ۲ /۲۸۳
بدائع الصنائع کتاب الرھن فصل اما الشرائط ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۱۳۵
الہدایہ کتاب الکفالۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۱۲
#13512 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
بنفسی غد افعلی المال الذی تدعی فلم یواف لا یلزمہ شیئ ۔
تیرے پاس حاضر نہ کروں تو جس مال کا تو دعوی کررہاہے وہ مجھ پر لازم ہوگا پھر وہ پانے آپ کو حاضر نہ کرے تو اس صورت میں اس پر کچھ بھی لازم نہ ہوگا۔(ت)
او رخود یہ اختراع کرنے والے بھی اتنا سمجھتے ہیں کہ آدمی اپ اپنا ضامن نہیں ہوسکتا لاجرم جائداد کو ذمہ دار مانتے ہیںاور شك نہیں کہ جو معنی استغراق یہاں سمجھتے ہیں وہی دوسرے خود اس مدیون کے عوض جائداد مستغرق کرنے میں ولہذا جائداد ہی پر مطالبہ عائد مانتے ہیں اور اس میں مالك کے تصرفات انتقال ناجائز جانتے ہیں لیکن جائداد جماد ہے اور ذمہ مکلفین کے ساتھ خاص جانور تو کوئی خاص ذمہ رکھتا نہیںرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
العجماء جبار رواہ مالك واحمد والستۃ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ۔
جانوروں پر ضمان نہیں۔اس کا مالکا مام احمد اور ائمہ ستہ نے سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
نہ کہ سنگ وخشتجامع الرموز میں ہے:
الذمۃ لغۃ العہد وشرعا محل عہد جری بینہ وبین اللہ تعالی یوم المیثاق اووصف صاربہ الانسان مکلفا ۔
ذمہ لغت میں عہد کوکہتے ہیں اورشرع میں اس عہدکے محل کو کہتے ہیں جو یوم میثاق کو اللہ تعالی اس محل عہد کے درمیان جاری ہوا یا اس وصف کوکہتے ہیں کہ جس کے ساتھ انسان مکلف ہوا۔(ت)
تحریر امام ابن الہمام پھر نہر الفائق پھر ردالمحتار میں ہے:
الذمۃ وصف شرعی بہ الاھلیۃ لوجوب مالہ وعلیہ وفسرھا فخرالاسلام
ذمہ میں وہ وصف شرعی ہے جس کے ساتھ مالہاور ماعلیہ کی اہلیت وجوب حاصل ہوتی ہے اور
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃالفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۷۷
صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ ۱ /۲۰۳ و کتاب الدیات ۲/ ۱۰۲۱ قدیمی کتب خانہ کراچی،صحیح مسلم کتاب الحدود قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۳،مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲ /۲۲۸
جامع الرموز کتاب الکفالۃ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۱۹۵
#13514 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
بالنفس والرقبۃ لہا عہد ۔
فخر الاسلام نے اس کی تفسیر یوں کی کہ وہ نفس یا وہ رقبہ جس کے لئے عہد ہے۔(ت)
تو جائداد کا ذمہ دار ہونا محال تو کفالت لغو و واجب الابطالمخترعین اسے مکفول کہتے ہیں یہ بھی ان کا اختراع ہے ورنہ وہ بھی ان کے طور پر کفیل ہے کما بینا وایضا _________ یہاں پانچ چیزیں ہیںکفیلمکفولمکفول عنہمکفول لہمکفول بہمکفول بمعنی مضمون بہ تو ذمہ کفیل ہے کما تقدم انفامن کتب المذھب(جیسا کہ مذب کی کتب کے حوالہ سے ابھی گزرا ہے۔ت)اور کفالت دیون میں مکفول منہ مدیون مکفول لہ دائن مکفول بہ وہ دیندرمختارمیں ہے:
الدائن مکفول والمدیون مکفول عنہ والنفس او المال مکفول بہ ومن لزمتہ المطالبۃ کفیل ۔
دائن کو مکفول لہمدیون کو مکفول عنہنفس یامال کو مکفول بہ اور جس پر مطالبہ لازم ہے اس کو کفیل کہتے ہیں۔(ت)
ظاہر ہے کہ جائداد نہ دین ہے نہ دائن نہ مدیون نہ وہ وصف شرعی کہ انسان مکلف کےلئے ہوتاہے تو وہ اخیر کے چاروں سے کچھ نہیںلاجر م کفیل ہےاوریہ باطل ومستحیل ہےاگرکہیں کہ ہم صاحب جائداد کو کفیل مانیں گے اور جائداد زیادت اطمینان کے لئے ہے کہ دائن اس سے وصول کرے۔
اقول اولا: یہ بداہۃ غلط ہے غالب استغراق صاحب جائداد مدیون کے دیون میں ہوتے ہیں اسے کیونکر اپنا کفیل کہا جاسکتاہے کما تقدم(جیسے پہلے گزرا۔ت)
ثانیا: ان استغراقوں میں جائداد ہی پر مطالبہ لکھا جاتاہےصاحب جائداد اپنا ذمہ اس سے مشغول نہیں کرتاکوئی حرف ایسا نہیں ہوتا جس سے اس کی ذات ذمہ دار ہوتو وہ کفیل کیونکہ ہوسکتاہے جامع الفصولین پھر بحرالرائق اور فتاوی ظہیریہ پھر خزانۃ المفتین اور فتاوی نسفی پھر محیط پھر ہندیہ میں ہے:
قال دینك الذی علی فلان انا ادفعہ الیك انا اسلمہ الیك انا اقبضہ لایصیر کفیلا مالم یتکلم
کسی نے دوسرے کو کہا کہ تیرا جو فلاں پر دین ہے وہ میں تجھے دوں گامیں تیرے حوالے کروں گامیں اس کو وصول کروں گاتو ان الفاظ کے
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۴۹
درمختار کتاب الکفالۃ مطبع مجتبا ئی دہلی ۲ /۵۹
#13516 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
بلفظ یدل علی الالتزام ۔
ساتھ وہ کفیل نہ ہوگا جب تك کوئی ایسا لفظ نہ بولے جو التزام پر دلالت کرتاہو۔(ت)
ثالثا: خود ان لوگوں کامزعوم بھی یہی مقصود بھی یہیجوشخص اپنے خواہ پرائے دین میں جائداد کا استغراق کردے اور دائن ڈگری پاکرمطالبہ میں اسے حبس کرانا چاہے ہر گز نہ سنیں گےاوریہی جواب دیاجائے گا کہ جائدا د ذمہ دارہےاس کی ذات ذمہ دار نہیں صاف تصریح ہوئی کہ وہ کفیل نہیں جائداد کفیل ہے ذمہ دار ہی کفیل ہوتاہے۔
رابعا:بالفرض اگر یوں ہی کہتا کہ تیرا دین عمروپر آتا ہے اس کا میں کفیل ہوں میں ضامن ہوں میں ذمہ دار ہوں اور یہ جائداد اس میں مستغرق کرتاہوں جب بھی جائداد بلا شبہ آزاد رہتی کفیل کا ذمہ مشغول ہوتا اور اسے جائداد کے بیع وہبہ سے کوئی نہ روك سکتاکہ حجر عن التصرف مقتضائے کفالت نہیں کما اوضحنا ہ فی فتاونا(جیساکہ ہم نے اپنے فتوی میں اس کی وضاحت کردی ہے۔ت)بلکہ فقہائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ اگر خود اس شرط پر کہ کفالت کی کہ اپنے اس مکان کی قیمت سے زر کفالت اداکروں گا جب بھی مکان آزادہے اور اس کا بیچنا کچھ لازم نہیںوجیز امام کردری پھر بحرالرائق اور فتاوی ذخیرہ پھر عالمگیریہ میں ہے:
ضمن الفاعلی ان یؤدیہا من ثمن الدارہذہ فلو یبیعا لاضمان علی الکفیل ولایلزمہ بیع الدار ۔
کوئی شخص ہزار روپے کاضامن بنا اس شرط پر کہ وہ اس گھرکے ثمن سے ہزار روپے ادا کرے گا پھراس نے وہ گھر فروخت نہ کیا تو کفیل پر ضمان لازم نہیں اور نہ ہی گھر کو فروخت کرنا اس پر لازم ہے۔(ت)
بالجملہ یہ کفالت واستغراق سراسربطلان میں مستغرق وباطل وبے اثر وخلاف حق ہیں ان سے اس جائداد پر کوئی مطالبہ اصلا قائم نہیں ہوسکتااوراگر اپنی ذات کو ذمہ دار بنانے کاکوئی لفظ نہ کہا ہو جیسا کہ اکثر یہی ہے تو اس کی ذات وجائداد دونوں آزاد۔واللہ تعالی اعلم۔
(۲)ہر گز قاابل سماعت نہیں ہم جواب سوال اول میں تحقیق کرآئے کہ یہ کفالت باطل محض تو باطل بنیاد پر دعوی بھی باطل اور دعوی باطلہ مسموع نہیںنہ مدعاعلیہ پر اس کا جواب واجب
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالہ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۷
بحرالرائق کتاب الکفالۃ الباب الثانی ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۲۱۸
#13517 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
درمختار میں ہے:
(یسأل القاضی المدعی علیہ)عن الدعوی فیقول انہ ادعی علیك کذا فما ذاتقول(بعد صحتہا والا)تصدر صحیحۃ(لا)یسأل لعدم وجوب جوابہ واللہ تعالی اعلم۔
قاضی مدعاعلیہ سے دعوی کے بارے میںسوال کرے گا اورکہے گا کہ اس شخص نے تجھ پر یہ دعوی کیاہے تو اس کے بارے میں کیا کہتاہے بشرطیکہ دعوی صحیح ہوا ور اگر دعوی صحیح طوپر دائر نہ ہو تو قاضی سوال نہیں کریگا کیونکہ اس کا جواب دینا مدعاعلیہ پر واجب نہیںاور اللہ تعالی بہتر جانتاہے۔ (ت)
(۳)ہم ثابت کرآئے کہ یہ کفالت ہی نہیں محض باطل ہے کفالت صحیحہ جبکہ بے اذن مکفول عنہ بطورخود ہو نہ اول اس نے اس سے کفالت کوکہا نہ اسی مجلس میں دائن کے قبول سے پہلے اس پر رضا دی اگرچہ بعد تبدیل مجلس اظہار رضا کیا یامجلس ہی میں مگر کفول لہ پہلے رضا دے چکا تو ان سب صورتوں میں وہ تبرع محض ہے اور کفیل کو اصیل سےرقم ادا کردہ لینے کا اصلا استحقاق نہیں ردالمحتارمیں ہے:
لوکفل بامر المطلوب بشرط قولہ عنی اوعلی انہ علی رجع علیہ بما ضمن وان ادی ارد أعینی وان بغیرہ لا یرجع لتبرعہ الااذا اجاز فی المجلس فیر جع عمادیۃ (ملتقطا)
اگر مطلوب کے امر سے کفیل بنا بشرطیکہ مطلوب نے کہا ہو کہ تو میری طرف سے ضامن بن یا اس شرط پر کہ وہ مجھ پر لازم الادا ہے تو ادا کردہ دین کے بارے میں مطلوب مطلوب کی طرف رجوع کرے گا اگرچہ ا س نے مکفول بہ سے بدتر ادا کیا ہو(عینی)اور اگر مطلوب کے امر کے بغیر کفیل بنا ہو تو رجوع نہیں کرے گاکیونکہ یہ اس کی طرف سے تبرع واحسان ہےمگر جب مجلس کے اندر ہی مطلوب نے اس کو کفالت کی اجازت دے دی ہو تو رجوع کرسکتاہے (عمادیہ) (ملتقطا)۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ای قبل قبول الطالب فلو کفل بحضر تہما بلاامرہ فرضی
یعنی طالب کے قبول کرنے سے پہلے(مطلوب نے اجازت دی ہو)اگر وہ دونوں(طالب و
حوالہ / References درمختار کتاب الدعوٰی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۱۶
درمختار کتاب الکفالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۴
#13519 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
المطلوب اولا رجع ولو رضی الطالب اولا لالتمام العقد بہ فلا یتغیر قہستانی عن الخانیۃ وقد منہا ایضا عن السراج ۔ مطلوب)کی موجودگی میں بلا امر مطلوب کفیل بنا پھر مطلوب نے پہلے رضامندی ظاہر کردی تو کفیل اس کی طرف رجو ع کرسکتاہے اوراگر طالب نے پہلے رضامندی ظاہر کردی تو رجوع نہیں کرسکتا کیونکہ طالب کی رضامندی کے ساتھ عقد تمام ہوگیا اب اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی(قہستانی بحوالہ خانیہ)ہم سراج کے حوالے سے بھی اس کا ذکر پہلے کرچکے ہیں۔(ت)
اقول:(میں کہتاہوں)ہمارے نزدیك یہ تفصیل بھی عندالتحقیق قول طرفین پر مبنی ہے کہ کفالت بے قبول طالب ناتمام مانتے ہیں قول مفتی بہ پرجبکہ کفالت صرف قول کفیل سے تمام ہوجاتی ہے اگر چہ طالب کی رضا نہ ہو تو مطلوب کی اجازت لاحقہ نہ ہوگی مگر بعد تمام عقد اور وہ تبرعا واقع ہولیا تو اب متغیر نہ ہوگا۔عالمگیریہ میں ہے:
الکفالۃ رکنہا الایجاب والقبول عند ابی حنیفۃ ومحمد وھو قول ابی یوسف اولا ثم رجع وقال تتم بالکفیل وحدہ کذا فی المحیطورضا الطالب لیس بشرط عندہ وھو الاصح کذا فی الکافی وھو الاظہر کذ افی فتح القدیر وفی البزازیۃ وعلیہ الفتوی کذا فی النہر الفائقوھکذا فی البحر الرائق ۔
کفالت کارکن طرفین کے نزدیك ایجاب وقبول ہے اور امام ابویوسف کا پہلا قول بھی یہی ہے پھر آپ نے اس سے رجوع کرتے ہوئے کہا کہ اکیلے کفیل سے ہی کفالت تام ہوجاتی ہے یونہی محیط میں ہےاور طالب کی رضامندی شرط نہیں ہے اما م ابویوسف کے نزدیك اوروہی اصح ہے(کافی)اور ہی اظہر ہے(فتح القدیر)اور بزازیہ میں ہے کہ اس پر فتوی ہے اسی طرح النہر الفائق اور البحرالرائق میں ہے۔(ت)
تو ثابت ہوا کہ صرف وہی کفالت موجب رجوع ہوتی ہے جو امر وحکم مدیون کے بعد ہو ولہذا جملہ متون و عامہ شروح نے صرف امر پر بنائے کارکھی اور تفصیل مذکور کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ متن ملتقی وغرر میں فرمایا:
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۷۲
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۲
#13521 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
وان کفل بلا امرہ لایرجع علیہ وان جازھا بعد العلم اھ وھذا باطلاقہ یشمل العلم فی المجلس و بعدہ۔
اگر کوئی حکم مطلوب کے بغیر کفیل بنا تو وہ مطلوب کی طرف ر جوع نہیں کرسکتا اگر چہ مطلوب نے علم ہونے پر کفالت کی اجازت دے دی ہو اھ یہ عبارت اپنے اطلاق کے ساتھ دونوں صورتوں کو شامل ہے یعنی مجلس کے اندرعلم ہوا ہویابعد میں۔(ت)
کافی امام نسفی میں ہے:
شل ما اذا اکفل بغیر امرہ ثم اجازھا لان الکفالۃ لزمتہ ونفذت علیہ غیر موجبۃ للرجوع فلا تنقلب موجبۃ لہ ۔
یہ حکم مطلوب کے بغیر کفیل بننے اور بعد میں مطلوب کے اجازت دینے کو شامل ہے کیونکہ کفالت اس حال میں لازم ونافذ ہوچکی ہےکہ وہ غیر موجب رجوع ہے لہذا اب موجوب رجوع ہونےکی طرف منقلب نہیں ہوگی۔(ت)
اسی طرح دررمیں غایہ سے ہے بلکہ خود فتاوی امام قاضی خاں میں ہے:
رجل کفل عن رجل بمال بغیرہ امرہ ثم اجاز المکفول عنہ الکفالۃ فادی الکفیل شیئا لایرجع علی المکفول عنہ ۔
ایك شخص بغیر حکم مطلوب کے اس کی طرف سے کفیل بالمال بناپھر مکفول عنہ یعنی مطلوب نے کفالت کی اجازت دے دی اور کفیل نے اس کی طرف سے قرض ادا کردیا تو مکفول عنہ کی طرف رجوع نہیں کریگا۔(ت)
بہر حال یہ حکم کفالت واقعیہ کا ہے یہاں کہ شرعا کفالت نہیں کچھ مہمل وباطل لفاظ ہیں جن کا نام کفالت واستغراق رکھا ہے یہاں اگر زید کا امر بھی ہوتا عمرو کو زید پر اس رقم کادعوی نہ پہنچتا کہ اگر زید نے کفالت کا امر کیا تھا مثلا فلاں کا جو مطالبہ مجھ پر ہے اس میں میرا کفیل ہوجایا اس میں میری ضمانت کرلےاور اسی نے یہ مکان مستغرق کردیاکوئی لفظ التزام کا جس سے اس کی ذات ذمہ دار ہو نہ کہا جب تو ظاہر ہے کہ یہ اس نے یہ مکان مستغرق کردیا کوئی التزام کاجس سے اس کی ذات ذمہ دار ہوں نہ کہاجب تو ظاہر ہےکہ یہ اس کے امر سے نہیں کہ اس نے کفالت کا امر کیا تھا او ر یہ کفالت نہیںاور اگر خود زید نے اس سے استغراق مکان ہی کو کہاتھا تو یہ ایك باطل کا حکم دیانہ کہ اپنی طرف سے قضائے دین کا جس کے تضمن کے سبب کفالت بالا مر کے سبب کفیل کو مکفول عنہ سے وصول کرنے کا اختیار ملتاہے۔ ہدایہ میں ہے:
حوالہ / References غرر الاحکام متن الدررالحکام کتاب الکفالۃ مطبعہ احمد کامل مصر ۲/ ۳۰۲
بحرالرائق کتاب الکفالۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۲۲۴
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الکفالۃ نولکشورلکھنؤ ۳/ ۵۸۷
#13523 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
ان کفل بامرہ رجع بما ادی علیہ لانہ قضی دینہ بامرہ ۔
اگرکوئی مکفول عنہ کے امر سے کفیل بناتو اس کی طرف رجوع کرسکتاہے کیونکہ اس نے مکفول عنہ کا قرض اس کے حکم سے ادا کیا۔(ت)
ایسے امر میں کفیل کو مکفول لہ یعنی دائن سے اپنی دی ہوئی رقم واپس لینے کااختیار ہوتاہے کہ اس نے اپنے آپ کو کفیل سمجھ کر ادا کی اوریہ خیال باطل تھا۔
ومن دفع شیئا ظانا انہ علیہ ولم یکن علیہ کان لہ ان یستردہ کما فی العقود الدریۃ وغیرھا۔
اگر کسی نے دسرے کو یہ سجھتے ہوئے کوئی شے دی کہ وہ دینا اس پر لازم ہے حالانکہ وہ لازم نہ تھی تو اس کو واپس لینے کا حق ہے جیسا کہ عقود الدریہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
مدیون پر اس کو کوئی دعوی نہیں پہنچتا فتاوی قاضی خاں وفتاوی ہندیہ میں ہے:
رجل قال لغیرہ ولیس بخلط لہ ادفع لایرجع الف درہم فد فع المامور لایرجع بہ علی الامر لکن یرجع بہ علی القابض لانہ لم یدفع الیہ علی وجہ یجوز دفعہ واللہ تعالی اعلم۔
ایك شخص نے دوسرے کو جوا س کا شریك نہیں ہے کہا کہ فلاں کو ہزارروپے دے دو اور اس نے دے دئے تو آمر کی طرف رجوع نہیں کر سکتا البتہ قابض کی طرف رجوع کرسکتاہے کیونکہ مامور نے اس کو ایسی وجہ سے ہزار روپے نہیں دئے جس وجہ سے دینے جائز ہوں اور اللہ تعالی بہتر جانتاہے۔(ت)
(۴)اگر یہ کفالت صحیح وجائز ہوتی اور بامر مکفول عنہ وقوع پاتی تو صورت مذکورہ میں ضرور عمرو اس رقم کو زید سے واپس لے سکتاہے نیلام نہ ہونے دیتااور روپیہ ادارکردینا کوئی خلاف قضیہ کفالت نہیں بلکہ عین اس کا مقتضاہے کفالت توثیق دین کے لئے ہوتی ہے وہ حاصل ہے نہ کہ نیلام جائداد کفیل کے لئےرہن کے توعین سے حق مرتہن متعلق ہوتاہےولہذا اس میں اور سب دائنوں پر مقدم رہتاہے اور رہن سے غرض یہی ہے کہ راہن سے دین وصول نہ ہو تو اس کی قیمت سے وصول ہوجائے پھر اگردین کی میعاد
حوالہ / References الہدایہ کتاب الکفالہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۱۹
العقود الدریۃ کتاب الشرکۃ ۱/ ۹۱ وکتاب الوقف ۱/ ۲۲۷ وکتاب المدانیات ۲/ ۲۴۹ ارگ بازار قندہار افغانستان
فتاوٰی قاضی خان کتاب الکفالۃ فصل فی الکفالۃ بالمال مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۵۸۹
#13525 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
گزر جائے اور مرتہن اس کی بیع چاہے راہن بادائے دین بلا شك فك رہن کراسکتاہے کفیل کیوں ممنوع ہوگا مگرہم بیان کرآئے کہ نہ یہ کفالت ہے نہ یہاں زید پر عمرو کو کسی قسم کا دعوی پہنچتاہے تو اس سے بحث کی حاجت نہ رہی واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۷: از شہر بریلی مرسلہ حافظ حضور احمدخاں منصرم نقل ساکن ریاست رام پور واردحال بریلی
کہ زید کی درخواست پر عمرو نے اس کی ضمانت مستاجری اپنی جائداد سے کرکے باضابطہ تصدیق کرادی زید نے پہلے سال میں بدنیتی سے سرکاری روپیہ ادانہیں کیااور جائدا دمکفولہ کے نیلام کی درخواست دے دی عمرو نے مجبورہوکر بعذر داری منجملہ(الہ ما مہل۰۲)زر ضمانت کہ بموجب پر تہ(ماسہ عہ)داخل سرکار کرکے جائداد مکفولہ اپنے نیلام سے واگزاشت کرالی اور عمرو کے نام عدالت دیونی میں زر ضمانت ادا کردہ(صمالہ /)کی بر بنائے ضمانت نامہ مصدقہ وداخلہ سرکاری کی نالش رجوع کردی زید مدعاعلیہ کو یہ عذر ہے کہ کفالت بالمال شرعا ناجائز ہے اور حکم دفعہ ۷۹ آئیں حامدیہ قانون مجریہ اور عملدرآمدریاست یہ ہے کہ صیغہ مال میں جو شخص مطالبہ سرکاری کی ضمانت کرکے روپیہ سرکارمیں داخل کرے اس کو اصل مستاجر پر دعوی رجوع کرکے زر مدخلہ اپنا وصول کرانے کا اختیار حاصل ہے پس ایسے حکم قانون مجریہ اورعمل درآمد ریاست کے مقابلہ میں وہ ضمانت نامہ شرعا جائز ہوسکتاہےیاکیا اور قاضی وقت حکم سلطان العصر کے خلاف تجویز فرمانے میں بموجب روایت درمختار:
ولو امر السلطان بعدم سماع الدعوی فلا تسمع الدعوی الخ
اگر سلطان دعوی کی عدم سماعت کاحکم دے تو دعوی نہیں سنا جائے گاالخ۔(ت)ممنوع ہے کیا
الجواب:
کفالت بالمال بلاشبہ شرعا جائز ہے مدعا علیہ کا عذر باطل ہے یہاں تك کہ ناجائز مطالبوں کی کفالت صحیح ہے تو مستاجری رائجہ دیہات کا شرعا ناجائز ہونا صحت کفالت کا مانع نہیںدرمختارمیں ہے:
صح ضمان الخراج وکذا النوائب ولوبغی حق کجیایات زماننا فانہا فی المطالبۃ کالدیون بل فوقہا حتی لواخذت
صحیح ہے ضمان اخراج کا اور اسی طرح نوائب(حکام کی طرف سے مقررہ کردہ اموال)کا اگرچہ وہ نوائب ناحق ہو۔جیسے ہمارے زمانے کے مظالم سلطانیکیونکہ یہ مطالبہ میں دیون کی مثل ہیں بلکہ اس سے
حوالہ / References درمختار کتاب القضاء فصل فی الحبس مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۸۱
#13527 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
من الاکار فلہ الرجوع علی مالك الارض و علیہ الفتوی ۔
فوق ہیں یہاں تك کہ اگر کاشتکار سے ایسے اموال جبرا لئے جائیں تو وہ مالك زمین کی طرف رجوع کرسکتاہے اوراسی پرفتوی ہے۔(ت)
اور کفالت جبکہ بامر مطلوب ہو جیسا صورت سوال میں ہے تو بلا شبہہ کفیل کو اصیل سے وصول کرنے کا اختیار ہے تنویر الابصار میں ہے:
لوکفل بامرہ رجع بما ادی وان بغیرہ لاولا یطالب کفیل بمال قبل ان یؤدی عنہ (ملتقط)
اگر کوئی مطلوب کے حکم سے کفیل بناتو قرض ادا کرکے مطلوب کی طرف رجوع کرسکتاہے اور اگر اس کے حکم کے بغیر کفیل بنا تو رجوع نہیں کرسکتا اورمطلوب کی طرف سے قرض ادا کرنے سے پہلے کفیل اس سے مطالبہ نہیں کرسکتا۔(ملتقطا)۔ (ت)
اور یہی مطلب اس قانون کی عبارت منقولہ سوال کا ہے کہ اس کو مستاجر پر دعوی کرکے زرمدخلہ وصول کرنے کا اختیارہے تو اصل منشأ سوال کہ حکم شرع و قانون کا اختلاف ہے یہاں منتفی ہے۔واللہ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۸۸: از مراد آباد محلہ کسرول متصل مسجد مولسری مرسلہ مولوی حفظ الرشید صاحب ۲۴ شعبان ۱۳۲۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ علاقہ ریاست پورمیں حاکم وقت کا یہ حکم ہے کہ جو دیہات مستاجری سرکاری میں جائداد ضمانت میں مکفول کرے اسے بیع ورہن وہبہ نہیں کرسکتا زید نے اپنی جائداد کا جو ضمانت میں مکفول تھی ہبہ نامہ لکھ دیا اور قبضہ موھوب لہ کاکرایہ دیااور ہبہ نامہ میں یہ لکھ دیا کہ جائداد موہوبہ پر جو مطالبہ برآمد ہو ذمہ موھوب لہ رہے سرکار نے بمنظوری اس امر کے کہ جائداد بدستور مکفول رہے اس ہبہ نامہ کو منظور کرلیا تویہ ہبہ جائز رہا یا نہیں اور وہ جائداد یا موھوب لہ اس مطالبہ کے ذمہ دار ہوئے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
ہبہ جائز ونافذ تام ہوگیا لصدورھا عن اھلہا فی محلہا وقد تمت بلحوق القبض(کیونکہ وہ ہبہ کے اہل سے ہبہ کے محل میں صادر ہوا او قبضہ لاحق ہونے کے ساتھ وہ تام ہوگیا۔ت)او وہ کفالت اس کے لئے مانع نہیں ہوسکتی کہ جائداد کی کفالت اصلا کوئی چیز نہیں جب تك جائداد کسی دین موجود کے مقابل قبضہ دین میں نہ دی جائے تو جائداد جسے لوگ آج کل مکفول یا مستغرق کہتے ہیں شرعا آزاد محض ہوتی ہے۔
حوالہ / References درمختار کتاب الکفالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۶
ردمختار شرح تنویر الابصار کتاب الکفالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۴
#13528 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
مالك کو اس میں ہر گونہ تصرف کا اختیار ہوتا ہے پھر ہبہ نامہ میں جو یہ شرط لگائی کہ جائداد موھوبہ پر جو مطالبہ برآمد ہو ذمہ موھوب لہ رہے ظاہر ہے کہ شرط باطل ہے مگرشرط فاسد سے ہبہ فاسد نہیں ہوتا بلکہ خود وہ شرط باطل و بے اثر رہتی ہے اور موھوب لہ کا اس ہبہ کوقبول کرنا اسے اس شرط فاسد کا پابند نہیں کرتا نہ اس کا یہ قبول کسی طرح بطور خود قبول کفالت کا اثر رکھتا ہے پس صورت مستفسرہ میں ہبہ قطعا صحیح وتام ہے اور جائداد موہوبہ اور ذات موھوبہ لہ دونوں مطالبہ ریاست بری وآزادتو ضیح مقام یہ ہے کہ شرح میں کفالت کے معنی ہیں کسی کے ذمہ سے اپنا ذمہ ملا دینا دین میں جیسے بعض کا قول ہے یا مطالبہ میں جیسا کہ قول اصح ہےہدایہ وہندیہ وغیرہمامیں ہے:
قیل ھی ضم الذمۃ الی الذمۃ فی المطالبۃ و قیل فی الدین والاول اصح انتہیاقول والمراد اعم عن مطالبۃ حاضرۃ کما علی مدیون اومتوقعۃ کما فی ضمان الدرك وغیرہ ففی الہندیۃ عن محیط السرخسی لو قال لرجل مابایعت فلانا فہو علی جاز لانہ اضاف الکفالۃ الی سبب وھو مبایعۃ والکفالۃ المضافۃ الی وقت فی المستقبل جائزۃ لتعامل الناس فی ذلك اھ وفیہا عن الکافی یصح تعلیق الکفالۃ بالشروط کمالوقال مابایعت فلانا فعلی وما ذاب لك علیہ فعلی وما غصبك فلان فعلی ۔
ایك قول یہ ہے کہ کفالت دین میں ذمہ کو ذمہ کے ساتھ ملانا ہے اور ایك قول یہ ہے کہ وہ مطالبہ میں ذمہ کو ذمہ کے ساتھ ملانا ہے او ر قول اول زیادہ صحیح ہے انتہی میں کہتاہوں مطالبہ سے مراد عام ہے چاہے حاضر ہو جیسے مدیون پریا متوقع ہو جیسے ضمان درك وغیرہ میںہندیہ میں محیط سرخسی کے حوالے سے ہے کہ اگر کسی نے دوسرے شخص سے کہا جو تم فلان پر بیچوں وہ مجھ پر لازم ہے تو یہ جائز ہے کیونکہ یہ کفالہ کی سبب وجوب یعنی مبایعت کی طرف اضافت ہے اور وہ کفالہ جس کومستقبل کے کسی وقت کی طرف منسوب کیا جائے جائز ہوتاہے اس لئے کہ اس میں لوگوں کا تعامل جاری ہے اھاور اسی میں کافی سے منقول ہے کہ کفالہ کو شروط کے ساتھ معلق کرنا صحیح ہے جیسے کہا کہ جو تم فلاں کے ساتھ بیع کرو وہ مجھ پر لازم ہے اور تیرا جو حق اس پر ثابت ہو وہ مجھ پر لازم ہے اور جو فلاں نے تجھ سے غصب کیا وہ مجھ پر لازم ہے۔ (ت)
حوالہ / References فتاوی ہندیہ کتاب الکفالۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۲
فتاوی ہندیہ کتاب الکفالۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۶
فتاوی ہندیہ کتاب الکفالۃ الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۷۱
#13530 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
اور ظاہر ہےکہ جائداد کوئی صاحب ذمہ نہیں تو زید پر کے مطالبہ میں عمرو کا اپنی جائداد کو مکفول یا مستغرق کردینا بے معنی ہے عمرو خود اس مطالبہ کا کفیل بنتاہے یانہیںا ور اگر نہیں تو وہ کون سا ذمہ ہے کہ ذمہ زید کے ساتھ ضم ہوا اور اگر ہاں تو مطالبہ ذمہ عمرو پر ہوا نہ کہ جائداد پر ولہذا گر کفیل کی کلی جائداد تلف ہوجائے کفیل مطالبہ سے بری نہیں ہوتا جب اس کے پاس مال آئے گا مطالبہ ممکن ہوگا بخلاف رہن اس میں حق مرتہن خاص شے مرہون سے متعلق ہوجاتاہے حتی کہ اگر مرہون اس کے پاس ہلاك ہوجائے تو بقدر اس کی قیمت کے دین ساقط ہوجاتاہے یہاں تك کہ اگر روز قبضہ مرتہن مرہون دین کے برابر یا اس سے اکثر تھی اور شے مرہون اس کے پاس تلف ہوگئی تو کل دین جاتا رہاذخیرہ وہندیہ میں ہے:
اذا ھلك المرھون فی یدالمرتہن او فی ید العدل ینظر الی قیمتہ یوم القبض والی الدین فان کانت قیمتہ مثل الدین سقط الدین بھلاکہ وان کانت قیمتہ اکثر من الدین سقط الدین وھو فی الفضل امین وان کانت قیمتہ اقل من من الدین سقط من الدین قدر قیمۃ الرھن ویرجع المرتھن علی الراہن بفضل الدین ۔
اگر مرہون شے مرتہن کے قبضہ میں ہلاك ہوگئی یا عادل کے قبضہ میں ہلاك ہوگئی تو قبضہ والے دین اس شی کی قیمت اور قرض کودیکھا جائے گا اگر اس شے کی قیمت قض کی مثل ہے توقرض ساقط ہوجائے گا اور اگرقیمت زیادہ ہے تو قرض ساقط ہوجائے گا جو زائد ہے اس میں مرتہن امین ہوگااورقیمت قرض سے کم ہے مرہون کی قیمت کے برابر ساقط ہوجائے گا اور باقی قرض کے سلسلہ میں مرتہن راہن کی طرف رجوع کرے گا۔(ت)
مگریہ اس حالت میں ہے کہ وہ شے دائن کے قبضہ میں دے دی جائے اور دین موجود ومتحقق ہو نہ کہ موھوم و متوقع
قال اللہ تعالی "فرهن مقبوضة "
(اللہ تعالی نے فرمایا:تو رہن قبضہ کیا ہوا۔ت)
کافی وہندیہ میں ہے:
لایصح الرہن الابدین واجب ظاھرا وباطنا اوظاھرا فاما بدین معدوم فلایصح ۔
نہیں صحیح ہے رہن مگر دین واجب کے بدلے میںچاہے ظاہر ہو یا باطن لیکن دین موہوم کے بدلے میں صحیح نہیں۔(ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الرھن الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۴۷
القرآن الکریم ۲ /۲۸۳
فتاوٰی ہندیہ کتاب الرھن الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۳۱
#13531 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
اس کفالت واستغراق مخترع میں کہ جائداد اس کے قبضہ میں نہیں دی جاتی اور بارہا کوئی دین بالفصل موجود بھی نہیں ہوتا جائداد کیونکہ اس کے حق میں محبوس ہوسکتی ہے۔اس کاحاصل تو یہ ہوگا کہ کفیل کو اس کے اس مال مملوك میں تصرفات مالکانہ سے محجور وممنوع کردیں حالانکہ خود وہ مدیون بھی نہیں بلکہ بہت جگہ ابھی دین کااصلا وجود ہی نہیں اور شرعا خود مدیون بھیاوروہ بھی ایسا کہ دیون اس کے تمام املاك کومستغرق ومحیط ہوں اپنی ملك میں کسی تصرف مالکانہ سے ممنوع نہیں ہوتا حتی کہ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك تواگر قرضخواہ نالشی ہو(کہ یہ اپنی جائداد تلف کئےڈالتا ہے حاکم اسے تصرفات سے روك دے)اور قاضی ان کی نالش قبول کرکے ممانعت کاحکم قطعی صادر کردے جب بھی وہ اصلا ممنوع نہ ہوگا جس مال کو ہبہ کرے گا ہبہ ہوجائے گا بیع کرے گا بك جائے گاوقف کرے گا وقف ہوجائے گاقرضخواہوں کوجو حق حبس وملازمت کا دیا گیا وہ اپنے ان طریقوں سے چارہ جوئی کریں اس کے تصرفات کہ اس کی اہلیت سے ناشئ ہیں کسی کے روکے نہ رکیں گےاورصاحبین کے نزدیك اگر چہ وہ صرف اپنے مال موجود میں بعض تصرفات سے ممنوع ہوسکتاہے جبکہ دین اس کے اموال کو محیط ہوجائے مگر کب جبکہ بعد نالش قرضخواہان قاضی اس کے ممنوع ہونے کی قضا کردے اور اسے اس قضا کی اطلاع بھی پہنچ پائے اس سے قبل بالاجماع وہ بھی کسی طرح سے ممنوع نہیں۔محیط وعالمگیری میں ہے:
الحجر بسبب الدین ان یرکب الرجل دیون تستغرق اموالہ اوتزید علی موالہ فطلب الغرماء من القاضی ان یحجر علیہ حتی لایہب مالہ ولا یتصدق بہ ولا یقربہ لغریم آخر فالقاضی یحجر علی عند ھما وعند ابی حنیفۃ لا یحجر علیہ ولا یعمل حجرہ حتی تصح منہ ھذا التصرفات کذا فی المحیطویصح ھذا الحجر عند ھما و ان کان المحجور المدیون غائب ولکن یشترط علم قرض کی وجہ سے تصرفات سے روك دینا اس طرھ ہے کہ کسی شخص پر اتنے قرض ہوگئے جو اس کے تمام اموال کو محیط ہوگئے یا ا س سے زیادہ ہوگئے اور قرضخواہوں نے قاضی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پر پابندی لگائے تاکہ وہ اپنے مال کو نہ توہبہ کرےنہ اس کو صدقہ کرے اورنہ ہی اس کے بارے میں کسی اور قرضخواہ کا اقرار کرے تو صاحبین کے نزدیك قاضی اس پر پابندی عائد کردے گا جبکہ امام ابوحنیفہ کے نزدیك پابندی عائد نہیں کرے گا اورنہ اس پر پابندی نافذ ہوگی یہاں تك کہ اس کے تصرفات مذکورہ صحیح ہوں گے اور صاحبین کے نزدیك ا س پریہ پابندی صحیح ہوگی اگرچہ وہ مدیون جس پر پابندی لگائی گئی غائب ہو بشرطیکہ پابندی کے بعد اس کو
#13532 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
المحجور علیہ بعد الحجر حتی ان کل تصرف باشرہ بع الحجر قبل العلم بہ یکون صحیحا عندہما ۔
پابندی کا علم ہوجائے یہاں تك پابندی کے بعد اس کا علم ہونے سے پہلے جو تصرف اس نے کیا وہ صاحبین کے نزدیك صحیح ہوگا۔(ت)
فتاوی قاضیخاں میں ہے:
انما یحجر بعد الحکم لا قبلہ ۔
بیشك مدیون قاضی کے فیصلہ کے بعد ہی تصرفات سے پابند ہوگا اس سے پہلے نہیں۔(ت)
یہاں دین محیط ہونا درکنار یہ شخص خود مدیون بھی نہیں بلکہ ہنوز سرے سے دین ہی نہیںنہ نالش نہ قضااور اپنی جائداد میں اس کے تصرفات ناروایہ محض باطل وبے اصل وبے معنی ہے پھر یہ کلام بھی اس صورت میں تھا کہ زید پر مطالبہ ہو یا ہوگااور عمرو نے اپنی جائداد مکفول کی یہاں تو اس پھر بھی طرہ یہ ہے کہ خود زید ہی کامعاملہ اوروہ آپ ہی اپنی جائداد مکفول کررہا ہے یہاں کون سادوسرا ذمہ اس کے ذمہ کے ساتھ ملا یا گیا ایسی مخترع باتیں شرع مطہر کے نزدیك اصلا قابل التفات نہیں ہوسکتیاس مسئلہ کو خوب سمجھ لینا چاہئےکہ آج کل یہ نئی وضع کی کفالت بہت شائع ہوگئی ہے حالانکہ وہ صرف ایجاد قانون ہے شرع مطہر میں اس کا کہیں نشان نہیںپس روشن ہوا کہ زیدکا وہ جائیداد دوسرے کو ہبہ کردینا قطعا صحیح ونافذ تھا اور مکفول ہونے سے اس پر اصلا کوئی اثر نہ آسکتا تھارہی ہبہ نامہ کی وہ شرط کہ جائداد موھوبہ پر جو مطالبہ برآمدہو ذمہ موھوب لہ رہے
اولا: شرط فاسد ہے کہ نہ مقتضائے عقد ہبہ ہے کہ بلا شرط خود لازم ہوجاتی ہے نہ اس کے ملائم ہےکہ موجب ہبہ یعنی ملك موھوب لہ کی تاکید کرتی اور اس میں احدالعاقدین یعنی واہب کا نفع ہےایسی شرط فاسدہوتی ہے اور ہبہ شرط فاسد سے فاسد نہیں ہوتا بلکہ وہ شرط ہی خود باطل ہوجاتی ہے۔ درمختارمیں ہے:
الاصل الجامع فی فساد العقد شرط لایقتضیہ العقد ولایلائمہ وفیہ نفع لاحد ہما الخ ۔
فساد عقد میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ وہ شرط ایسی ہو جس کا تقاضہ عقد نہیں کرتا اورنہہ ہی وہ عقد کے ملائم ہے اور اس میں عاقدین میں سے کسی کا نفع ہو الخ(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الحجر الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶۱
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحجر مطبع نولکشو رلکھنؤ ۴/ ۹۱۸
درمختار باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷
#13533 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
قال فی البحر معنی کون الشرط یقتضیہ العقد ان یجب بالعقد من غیر شرط و معنی کونہ ملائما ان یؤکد موجب العقد کذا فی الذخیرۃ ۔
بحر میں کہاکہ شرط کے مقتضائے عقد ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ شرط ایسی ہوکہ شرط لگائے بغیر ہی عقد کے ساتھ واجب ہواور اس کے ملائم ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ موجب عقد کی تاکید کرےیوں ہی ذخیرہ میں ہے۔(ت)
تنویر البصار ودرمختاروردالمحتارمیں ہے:
مایصح ولایبطل باالشرط الفاسد و یلغواالشرط القرض والھبۃ والصدقۃ الخ۔
وہ جو صحیح ہوتی ہے اور شرط فاسد کے ساتھ باطل نہیں ہوتی بلکہ خود شرط لغو ہوجاتی ہے وہ قرضہبہ اور صدقہ ہے۔ الخ۔ (ت)
عالمگیری میں ہے:
الھبہ و الصدقۃ والکتابۃ بشرط متعارف وغیر متعارف یصح ویبطل الشرط ۔
ہبہصدقہ اور کتابت شرط متعارف اور غیر متعارف کے ساتھ صحیح ہوجاتے ہیں اور شرط باطل ہوجاتی ہے۔(ت)
موھوب لہ کا اس ہبہ نامہ کو قبول کرنا اس شرط کا پابند نہ کرے گا ورنہ شرط باطل نہ ہوئی بلکہ موثر ٹھہری حالانکہ باطل ولغو تھیشرح اسبیجابی وفتاوی تاتارخانیہ وفتاوی عالمگیرہ میں ہے:
رجل وھب لرجل ھبۃ اوتصدق علیہ بصدقۃ علی ان یرد علی ثلثہا اوربعہا اوبعضہا فالھبۃ جائزۃ ولایرد علیہ ولایعوضہ بشیئ ۔
کسی شخص نے دوسرے کو کوئی چیز ہبہ کی یا صدقہ دیا اس شرط پرکہ وہ اس کا تیسرا حصہ یا چوتھا حصہ یا بعض حصہ اس کو لوٹا دے گا تو ہبہ جائز ہے اور موھوب لہ واہب کو واپس نہیں لوٹا ئے گا اور نہ ہی ا سکے عوض کوئی شے دے گا۔(ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲۱
ردالمحتار باب السلم داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۲۸،درمختار شرح تنویر الابصار باب المتفرقات مطبع مجتبائی دہلی ۲/
فتاوٰی ہندیہ کتاب الہبہ الباب الثامن نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۹۶
فتاوٰی ہندیہ کتاب الہبہ الباب الثامن نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۹۶
#13534 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
ثانیا: اس سب سے قطع نظر ہو تو اس نے قبول ہبہ نامہ سے کیا شرط قبول کی ہے وہ مطالبہ کہ جائداد پر برآمد ہواپنے ذمہ لینا اورہم سب ثابت کرآئے کہ ایسی صورت میں جائداد پرکوئی مطالبہ برآمد ہو ہی نہیں سکتا تو اس نے ایك امر محال کو قبول کیا قبول نامہ سے جدا اگر بطور خود وہ ایسی مہمل و باطل بات کو قبول کرتا تو باطل ہی ہوتاکہ باطل کسی کے قبول کئے سے حق نہیں ہوجاتا تو صورت مستفسرہ میں اس کی ذات وجائداد دونوں ایسے مطالبہ باطلہ سے قطعا بری ہیں کہ بلکہ اگر فرض کرلیں کہ اس نے(نہ وہ مطالبہ باطلہ کہ جائداد پر برآمد ہو بلکہ)خود وہ مطالبہ کہ واہب پر نکلے(نہ جائداد موہوبہ کے ذمہ باطلہ پر بلکہ)خود اپنے ذمہ پر(نہ قبول ہبہ نامہ میں بلکہ)خود مستقل طور پر قبول کیا ہو تا جب بھی صورت مذکورہ میں وہ کفالت محض باطل وبے اثر رہتیہم اگر چہ ایسے مطالبہ کی کفالت جائز مانیں حالانکہ یہ مطالبہ اس مستاجر سے بھی بارہا محض باطل طورپر ہوتا ہے اس لئے کہ دیہات کا ٹھیکہ جس طرح رائج ہےکہ زمین اجارہ مزارعان میں رہتی ہے اور توفیر ٹھیکہ میں دی جاتی ہے قطعہ باطل محض ہے جس کے بطلان کا روشن بیان ہمارے فتاوی میں ہے۔فتاوی خیریہ میں ہے:
الاجارۃ اذا وقعت علی استھلاك الاعیان قصدا وقعت باطلۃ فعقد الاجارۃ المذکورۃ حیث لم یقع علی الانتفاع بالارض بالزرع ونحوہ بل علی اخذ المتحصل من الخراج المؤظف والمقاسمۃ وما علی الاشجار من الدراھم المضروبۃ فہو باطل باجماع ائمتنا والباطل لاحکم لہ باطباق علمائنا ۔
اجارہ جب اعیان کو قصدا ہلاك کرنے پر واقع ہو تو وہ باطل واقع ہوتاہے چنانچہ اجارہ مذکورہ جب کھیتی سے انتفاع پر واقع نہیں ہوا بلکہ اخراج کی دونوں نوعوں یعنی مؤظف ومقاسمہ سے حاصل ہونے والی پیداوار لینے اور کچھ درختوں پر ہے بصورت رائج درہموں کے اس کی اجرت لینے پرواقع ہوا ہے اور یہ ہمارےائمہ کے اجماع سے باطل ہے اور ہمارے علماء اس پر متفق ہیں کہ باطل کا کوئی حکم نہیں۔(ت)
توجس سال جس قدر نشتت ہو اسی قدر تمام وکمال حق مالك ہے زیادہ حاصل ہو تو مستاجر کا اس میں کوئی پیسہ نہیں اورکمی پڑے تومستاجر پر ہرگز اپنے گھر سے اس کا پورا کرنا نہیں اور یہ کفالتیں اسی وقت کے لئے رکھی جاتی ہے جب مستاجر سے پوری رقم مقررہ شدہ وصول نہ ہوا گر مستاجر خود نہ کھاگیا بلکہ فی الواقع کمی ہوئی تو اس سے پوری رقم لینی حرام ہے اور مطالبہ باطلمگر از انجا کہ مطالبہ ضرور ہوتاہےاور قانونی طور
حوالہ / References فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارہ دارالمعرفۃ بیروت ۲/۳۔۱۳۵
#13535 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
سے اس پر جبر پہنچتاہے اور بزور کچہری حاصل کرلیتے ہیں تو اس کی کفالت کی گنجائش ہے۔فتاوی عالمگیری میں ہے:
مالیس بحق کالجبایات الموظفۃ فی زماننا علی الخیاط والصباغ وغیرھما للسلطانی فی کل یوم اوشہر فانما ظلماختلف المشائخ فی صحۃ الکفالۃ بہا کذا فی فتح القدیروالفتوی علی الصحۃ کذا فی شرح الوقایہوممن یمیل الی الصحۃ الشیخ الامام علی البزدوی کذا فی الہدایۃوقال النسفی وشمس الائمہ قاضیخاں مثل قول فخر الاسلام لانہا فی حق توجہ المطالبۃ فوق سائر الدیون والعبرۃ فی باب الکفالۃ للمطالبۃ لانہا شرعت لالتزامہا ولہذا قلنا ان من قام بتوزیغ ھذہ النوائب بالقسط یؤجر وان کان الاخذ فی الاخذ ظالما کذا فی المعراج الدرایۃ ۔
وہ جو ناحق ہے جیسے ہمارے زمانے میں بادشاہ کے لئے درزی اوررنگساز وغیرہ پر یومیہ ماہانہ مقررکردہ ٹیکس یہ ظلم ہےان کی کفالت صحیح ہونے کے بارے میں ہمارے مشائخ میں اختلاف ہےفتح القدیر میں یوں ہی ہے اور فتوی صحیح ہونے پر ہےشرح وقایہ میں یونہی ہے اور صحت کی طرف میلان کرنے والوں میں سے شیخ الاسلام علی البزدوی ہیں یونہی ہدایہ میں سے نسفیشمس الائمہ اورقاضی خاں نے فخر الاسلام کے قول کی مثل کہا کیونکہ یہ توجہ مطالبہ میں تمام دیون سے فوق ہے اور کفالہ کے باب میں اعتبار مطالبہ کا ہے کیونکہ یہ اس کے التزام کے لئے مشروع ہوا اسی وسطے ہم نے کہا کہ جو کوئی ان ٹیکسوں کی عادلانہ تقسیم کے لئے کم بستہ ہوا ماجورہوگا اگرچہ لینے والا ان کولینے میں ظالم ہو معراج الدرایہ میں یوں ہی ہے۔(ت)
تو اس مطالبہ مشتبہ کی جوکبھی صحیح کبھی باطل طور پر ہوتا ہے کفالت بدرجہ اولی صحیح ہوگی لیکن ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب میں ایجاب وقبول دونوں رکن کفالت میں تنہاکفیل کے قبول والتزام مطالبہ سے وہ کفیل نہیں ہوجاتا جب تك اس کے ساتھ مکفول لہ کا اسے قبول کرنابھی نہ ہو خواہ وہ خود قبول کرے یا اس کی طر ف سے دوسرا اگر چہ فضولیولہذا اگر اس مجلس میں قبول نہ پایا جائے توکفالت باطل ہوجاتی ہے پھر بعد مجلس اگر مکفول لہ سو بار قبول کرے کچھ مفید نہیں۔فتوی یہاں مختلف ہے اورفتوی جب مختلف ہو تو قول امام پر عمل واجب
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃ مسائل شتی نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۹۱
#13536 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
کما نص علیہ فی البحرالرائق والخیریۃ و غیرہما و قدبیناہ فی النکاح من فتاونا
جیسا کہ بحر المرائق اورخیریہ وغیرہ میں ہے اوراہم اس کو اپنے فتاوی کی کتاب النکاح میں بیان کرچکے ہیں۔(ت)
محیط وہندیہ میں ہے:
اما رکنہا فالا یجااب والقبول عند ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما اللہ تعالی وھو قول ابی یوسف رحمۃ اللہ تعالی اولاحتی ان الکفالۃ لاتتم بالکفیل وحدہ سواء کفل بالمال اوبالنفس مالم یوجد قبول المکفول لہ او قبول اجنبی عنہ فی مجلس العقد اوخطاب المکفول لہ اوخطاب اجنبی عنہ اما اذا لم یوجد شیئ من ذلك فانہا لاتقف علی ماوراء المجلس حتی لو بلغ الطالب فقبل لم تصح ۔
امام ابوحنیفہ وامام محمد رحمۃاللہ تعالی علیہما کے نزدیك کفالہ کا رکن ایجاب وقبول ہے اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی کا پہلا قول بھی یہاں تك اکیلے کفیل سے کفالہ تام نہیں ہونا چاہئے وہ مال کی کفالت کرے یا نفس کی جب تك مکفول لہ یا اس کی جانب سے کسی اجنبی شخص کا قبول یا خطاب نہ پایا جائے اگر ان میں سے کچھ بھی نہ پایا گیا تو یہ ماورائے مجلس پر موقوف نہ ہوگا یہاں تك کہ اگر طالب تك خبر پہنچی اور اس نے قبول کرلیا تو کفالہ صحیح نہ ہوگا۔(ت)
منح الغفار میں امام طرطوسی ہے:الفتوی علی قولہما (فتوی طرفین کے قول پر ہے۔ت)ردالمحتارمیں ہے:
فی الدرر والبزازیۃ وبقول الثانی یفتی و فی انفع الوسائل وغیرہ الفتوی علی قولہما ۔
درر اور بزازیہ میں ہے کہ امام ثانی(ابویوسف)کے قول پر فتوی دیا جاتاہے اور انفع الوسائل وغیرہ میں ہے کہ فتوی طرفین کے قول پر ہے۔(ت)
ظاہر ہے کہ قبول ہبہ یا اخذ ہبہ نامہ کے وقت رئیس کی طرف سے کوئی قبول کرنے والانہ تھا اور ہبہ نامہ کے لفظ اس کے ایجاب نہیں ہوسکتے کہ اس میں مطالبہ باطلہ ذمگی جائداد کاذکر ہے نہ کہ مطالبہ ذمگی واہب کا۔
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالہ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۲
درمختاربحوالہ الطر طوسی کتاب الکفالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۳
ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت۴/ ۲۵۱
#13537 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
اور اگر فرض کیجئے کہ جانب ریاست سے اس وقت اس کفالت جائزہ کا ایجاب یاقبول واہب خواہ کسی شخص اجنبی نے کیا تو اب ایك رکن کفالت جانب فضولی سے پایا گیا کفالت منعقدہوکر اجازت ریاست پر موقوف رہی محیط وہندیہ میں ہے:
قال اجنبی لغیرہ اکفل بنفس فلان اوبمال عن فلان لفلان فیقول ذلك الغیر کفلت تصح الکفالۃ و تقف علی ماوراء المجلس علی اجازۃ المکفول لہ و للکفیل ان یخرج عن الکفالۃ قبل ان یجیز الغائب کفالتہ ۔
اجنبی نے غیرسے کہا کہ تو فلان کے نفس کا یا فلاں کے لئے فلاں کے مال کا کفیل بن جاؤں اور وہ غیر کہے کہ میں کفیل بن گیا توکفالہ صحیح ہوگا اورمجلس کے بعد مکفول لہکی اجازت پر موقوف رہے گا اورکفیل کو اختیار ہوگا کہ مکفول لہ کے کفالہ کی اجازت دینے سے پہلے خود کو کفالہ سے خارج کرلے۔(ت)
مگرریاست کو اس امر جائز کی اطلاع نہ دی گئی نہ اس کی جانب سے اس کی منظوری ہوئی بلکہ منظوری اسی امر باطل کی ہوئی کہ جائداد بدستور مکفول رہے پھر یہ کفالت بے اثر رہیھکذاینبغی التحقیق واللہ سبحانہ ولی التوفیق(یونہی تحقیق چاہئے اور اللہ تعالی ہی توفیق کامالك ہے۔ت)واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۹: مرسلہ سید مقبول عیسی صاحب سادات نومحلہ ازریاست جاورہ ملك مالوہ ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مسلمان جو تابع شریعت محمدی ہے جس کا نام جمعہ ہے اس نے مسماۃ بنت پیاری سے مہر شرعی پر عقد برضامندی خود بہ اقرار کہ علاوہ نان ونفقہ زوجہ کے میں جمعہ اپنی خوشدامن کو بھی بوجہ عسرت خوردونوش کے تکلیف ہوگی تو میں ان کے خوردونوش کا صرفہ بھی اپنے ذمہ لوں گا اور گھرمیں صفر خورد ونوش خوشدامن یعنی مسماۃ پیاری کانہ دوں تو خدا بخش ضامن جس کے اقرار نامہ ہذا پر دستخط ہیں دے گا اب مسماۃ پیاری کو خوردونوش واقعہ ہوئے تو جمعہ اور اس کا ضامن بالاصالہ مضمون دستاویز سے اقراری ہیں مگر صرفہ خوردونوش دینے سے حجت وحیلہ حوالہ کرتے ہیں چنانچہ نقل دستاویز بھی بناپر ملاحظہ مفتیان کرام ارسال ہے ازروئے احادیث جواب مرحمت فرمایا جائے۔بینو ا توجروا
حوالہ / References α فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۲
#13538 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
الجواب:
پیاری کا نفقہ شرعا ذمہ جمعہ واجب نہ تھا اور اس کا یہ لکھ دیناکہ اگرمیری خوشدامن کوکبھی خوردونوشی کی تکلیف ہوگی تو ان کے خوردونوش کا بھی صرف ہ اپنے پاس سے دوں گا محض ایك احسان کا وعدہ تھا اور احسان پر جبر نہیں پہنچتا۔
فقد صرحوا قاطبۃ ان لاجبر علی المتبرع وقال اللہ تعالی " ما علی المحسنین من سبیل " ۔
تحقیق تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی کہ احسان کرنے والے پرکوئی جبرنہیں ہوگا اور اللہ تعالی نے فرمایا:احسان کرنے والوںپر کوئی راہ نہیں۔(ت)
او روہ جب خود جمعہ پر واجب نہ تھا تو خدا بخش جس نے ضمانت کی اور اقرار نامہ پر یوں دستخط کئے کہ بموجب اقرار نامہ نوشتہ جمعہ جی میں خدا بخش ضامن ہوں مجھ کویہ ضمانت منظور ہے یہ ضمانت بھی محض باطل وبے اثر ہوئی کہ جب اصل ہی پر مطالبہ نہیں ضامن پر کیا ہوگا۔
کما ھوا فی ردالمحتار عن البحر عن البدائع اما شرائط المکفول بہ فالاول ان یکون مضمونا علی الاصل الخ ۔ جیسا کہ ردالمحتار میں بحر سے بحوالہ بدائع منقول ہے کہ مکفول بہ کی شرطوں میں سے پہلی یہ کہ وہ اصل پر قابل ضمان ہو۔ الخ(ت)
درمختارمیں ہے:
شرطہا فی الدین کونہ صحیحا لاضعیفا کبدل کتابۃ فما لیس دینا بالاولی نہر ۔
دین میں کفالہ کی شرط یہ ہے کہ وہ دین صحیح ہو ضعیف نہ ہوجیسے بدل کتابت اور جو دین ہی نہیں اسکی کفالت بدرجہ اولی صحیح نہیں نہر(ت)
البتہ جمعہ کے حق میں اولی یہ ہے کہ اگر کوئی عذر صحیح نہ ہو تو اپنا وعدہ پورا کرے فان الوفاء من مکارم الاخلاق(کیونکہ وعدہ کو پورا کرنا اعلی خلاق کریمانہ میں سے ہے۔ت)واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۰:ازریاست رام پور مرسلہ سید محمد انوار حسین متوطن قدیم قصبہ کندر کی حال مقیم ریاست رام پور ۲۵جمادی الاولی ۱۳۲۷ھ
بسم اللہ الرحمن الرحیمبحضرت اقدس علامہ محقق وفہامہ مدقو فاضل بریلی فیضہم العالی
حوالہ / References α القرآن الکریم ۹ /۹۱
α ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۵۱
α درمختار کتاب الکفالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۹
#13539 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
علی کافۃ المسلمینالسلام علیکمبصد ادب حضوروالا میں عرض پرداز ہوں کہ حضور نے تین فتوے متعلق استغراق جائداد عطافرمائے جو عدالت دیوانی ریاست رام پور میں پیش کئے گئے جن کی بنیاد پر جناب مفتی صاحب عدالت دیوانی ریاست رام پور نے بحوالہ فتووں حضور کے ڈگری بحق مدعا علیہ کے صادر فرمائی اوریہ تجویز فرمایا(یہ مقدمہ بربنائے کفالت مستاجری دائرہےکہ مدعی نے مدعا علیہ کی مستاجری میں اپنی جائدادمکفول کی تھی لہذا سب سے پہلے اس امر کا انفصال ضروری ہے مدعا علیہ نے جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب بریلوی کے چند فتو ے پیش کئے ہیں فاضل بریلوی نے اس امر کو ثابت کیا ہے کہ ایسی کفالت بالمال جو اس مقدمہ میں زیر بحث ہے شرعا ناجائز ہے منجانب مدعی ان کی تردید میں کوئی شرعی استدلال یاحکم ریاست پیش نہیں کیاعدالت نے مسائل شرعیہ پر غور کیا تو فتوی پیش کردہ مدعا علیہ صحیح ولائق پابندی ہیں پس ایسی حالت میں جبلہ کفالت مذکورہ بھی جائز نہیں تو مدعی نے جو روپیہ بوجہ کفالت مذکور داخل سرکار کیا ہے اس کا دین دارمدعا علیہ شرعا نہیں ہوسکتا اور دفعہ ۷۱۷۹قانون حامدیہ مفید مدعی نہیں ہے بلکہ صورت مقدمہ سے غیر متعلق ہے)لچھمی نرائن مدعی ناکامیاب نے بناراضی تجویز مفتی صاحب دیوانی اپیل دائر کیا اور عدالت اپیل میں ایك فتوی حضور والا کا اس تائید میں پیش کیا کہ ایسی کفالت شرعا جائز ہے اور اپنے سوال میں چند واقعات غیر صحیح تحریر کرکے جناب والا سےفتوی حاصل کیا سوال مذکور میں جو امور خلاف واقعہ درج کئے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:
(۱)دفعہ ۷۹ آئیں حامدیہ کایہ مضمون تحریر کیا ہےکہ صیغہ مال میں جو شخص مطالبہ سرکاری کی ضمانت کرکے روپیہ سرکارمیں داخل کرے اس کواس اصل مستاجر پر دعوی رجوع کرکے زر مدخلہ اپنا وصول کرنے کا اختیار حاصل ہے یہ مضمون دفعہ ۷۹ آئین حامدی کا ہر گز نہیں ہے بلکہ دفعہ مذکور تابع دفعہ ۷۷۷۸ کے ہےدفعہ ۷۷ کا منشا یہ ہے کہ جب کوئی جائداد مستاجر مکفول کرے تو مالك جائداد کو حق عذرداری مابین میعاد پندرہ روز حاصل ہے اور جب استغراق منطور ہوجائے تو حسب منشا دفعہ ۷۹ بعد منظوری ضمانت کے استغراق کی نسبت کسی شخص کی عذرداری بارجاع نالش کسی عدالت میں قابل سماعت نہ ہوگی البتہ بمقابلہ مالگزاری کے عذر دار مجازی دعوی ہر جہ کا عدالت دیوانی میں حسب ضابطہ ہوسکتاہےجس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر مستاجر کسی شخص کیی جائدادبلا اسکی مرضی کے خود مکفول کردے تو مالك جائداد بعد منظوری واگذاشت کی نالش نہیں کرسکتا بلکہ ہرجہ کی نالش کرسکتا ہے یہاں ایسانہیں ہے کیونکہ مالك جائداد نے خود اپنی جائداد مکفول کرائی ہے جیسا کہ مفتی صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ دفعہ ۷۹ آئین حامدیہ متعلق نہیں۔
(۲)سائل نے اپنے سوال میں یہ بھی تحریر کیا ہے کہ عمرونے ضمانت اپنی جائداد سے کی جس کا مفہوم ہوتاہے کہ عمرونے ضمانت کی حالانکہ عمرو نے ضمانت نہیں کی ہے بلکہ اپنی جائداد کو مکفول کرایا ہے کفالت نامہ
#13540 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
کی نقل شامل عرضداشہ ہذا ہے اس کے ملاحظہ سے واضح ہے کہ عمرو نے ضمانت نہیں کی ہے بلکہ جائداد کو مکفول کرایاہے
(۳)تیسرا مضمون سوال میں یہ غلط ظاہر کیا ہے کہ زید کا یہ عذر ہے کہ کفالت بالمال شرعا ناجائز ہے مجھ مدعا علیہ کا ہر گز عذر نہیں ہے بلکہ میرا عذر یہ ہے کہ کسی مطالبہ کی بابت جائداد کو مکفول کرانا شرعا ناجائز ہے یعنی ضمانت میں جائداد کا استغراق کرانا شرعا ناجائز ہے۔
(۴)چوتھا مضمون سوال میں یہ بھی خلاف درج کیا ہے کہ زید کی درخواست پر عمرو نے اس کی ضمانت مستاجری اپنی جائداد سے کییہ واقعہ بالکل غلط ہےمفتی صاحب نے اس واقعہ کو ثابت شدہ نہیں قرار دیا ہے اس غلط اور غیر مطابق سوال کی بنیاد پر حضور نے یہ تجویز فرمایاہےکہ کفالت بالمال شرعا ناجائز ہے لہذا حضور والا ! میں نقول ہرسہ فتوی حضور جو سادہ کاغذ پر ہے اورنقل فیصلہ جناب مفتی صاحب دیوانی اورنقل فتوی آخر جو باضابطہ عدالت سے حاصل کیا گیا ہے اور نقل اقرار نامہ کفالت اور قانون آئین حامدیہ معطوفہ عرضہ داشت ہذا درگاہ والا میں پیش کرکے امیدوار ہوں کہ حضور ہر سہ فتوی سابق وفتوی مابعد نظر ثانی فرماکر اور فیصلہ مفتی صاحب دیوانی اور نقل اقرارنامہ کفالت ودفعہ ۷۷ لفایت ۷۹ قانون مذکورہ ملاحظہ فرماکر ارشاد فرمائیں کہ ہر سہ فتاوی سابق پیش کردہ انوار حسین مدعا علیہ مطابق نالش مدعی ہیں یا فتوی آخر پیش کردہ لچھمی نرائن مدعی متعلق مقدمہ ہے اور عذر مدعا علیہ کا شرعا قابل منظوری ہے یاعذر مدعی کا زیادہ حد ادب
الجواب:
دارالافتادہ دارالقضاء نہیں یہاں کوئی تحقیق واقعہ نہیں ہوتیصورت سوال پرجواب دیا جاتاہےسوال اخیر کے حضور احمد خاں رامپوری ملازم کچہری بریلی منصرم نقل نے پیش کیا(جسے اس سوال حال و ملاحظہ تجویز مفتی صاحب ودیگر کاغذات مدخلہ سائل نے بتایا کہ ہندومدعی کا سوال تھا اوراسی مقدمہ سے متعلق جس کی نسبت کئی سوال منشی سید انوار حسین مدعی رامپوری نے بوساطت مرزا نظیر بیگ صاحب سابق نائب تحصیلدار بریلی دارالافتاءمیں پیش کئے اور ۹ ربیع الاخر ۱۳۳۶ھ کو جواب دئے گئے تھے)اس میں یہ تھاکہ زید وعمرو سے درخواست ضمانت کی اور عمرو نے اس کی درخواست پر اس کی ضمانت کی اور زید کفالت بالمال کو ناجائز کہتاہے اس میں حکم کیاہےاس کا جواب یہی تھا کہ کفالت بالمال یقینا صحیح ہے اورجبکہ کفیل حسب درخواست مکفول عنہ ضامن ہوا تو بلا شبہ مطالبہ زر ادہ کردہ کرسکتاہے ہے اپنی جائداد سے دو لفظ سوال میں فضول تھاکہ جب عمرو زید کی درخواست پر ضامن ہوا یعنی اپنا ذمہ زید سے ضم کیا ضمانت مکمل ہوگئی خواہ زر نقد سے کی ہو یا جائداد سے یا صرف زبانیتینوں طریقے رائج ہیںاور اصل وہی ضم ذمہ ہے اس کے
#13541 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
بعدنہ زر نقد داخل کرنے کی ضرورت نہ جائداد کی ضروررت نہ ان کے ہونے سے ضمانت میں کوئی خلل کہ یہ ایك امر زائد غیر متعلق ہیںہندو مدعی نے سائل ایك مسلمان کوٹھہرایا اور اصلاپتہ نہ دیا کہ سوال اس مقدمہ سے متعلق ہے کہ سال گزشہ کی نسبت دارالافتاء سے فتوی جاچکا ہے نہ سوالات سابقہ وسوال مدعی میں مفصل صورت واقعہ یکساں بتائی گئی تھی جس سے دونوں کا خصومت واحدہ سے تعلق ظاہر ہوتا اور علمائے کرام نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جس عقد کا سوال ذکر ہو اسے صحت پر محمول کرکے جواب دیا جائےوجیز امام کردری میں ہے:
لوسئل عن صحتہ یفتی بصحتہ حملا علی استیفاء الشرائط اذالمطلق یحمل علی الکمال الخالی عن موانع الصحۃ ۔ اگر کسی عقد کی صحت سے متعلق سوال کیا جائے تو تمام شرائط کے پائے جانے پرمحمول کرتے ہوئے اس کی صحت کافتوی دیا جائے گا کیونکہ مطلق کو ایسے کمال پر محمولکیا جاتاہے جو موانع صحت سے خالی ہو۔(ت)
دو سوالوں میں ایسا اختلاف ہونے سے جواب مختلف ہوجانا لازم ہے جس کی ذمہ داری اس پر ہے جس نے سوال مجمل یا غلط پیش کیافتاوی خیریہ میں ایسے ہی اختلاف سوال کے بارے میں کہ علامہ رملی سے ایك بار سوال ایك طور پر ہوا دوبارہ اس کے خلاف تھا ارشاد فرمایا:
لاشك فی ان المفتی انما یفتی بما الیہ السائل ینہی ۔
اس میں کوئی شك نہیں کہ مفتی اسی پر فتویدیتاہے جو خبر سائل اس کے پاس پہنچائے۔(ت)
نیز دوبارہ ایسے ہی واقعہ میں فرمایا:
السوال الاول لم یذکرلنا فیہ ان الاجارہ وقعت علی تناول الخراج ونحوہ من الاعیاب ومسئلتنا فیہ عن الاجارۃ مطلقا فانصرفت الی تملك المنفعۃ وقسمنا الاحکام علی الصحیحۃ والفاسدۃ
پہلے سوال میں ہمارے لئے اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا تھا کہ اجارہ اخراج یا اس کی مثلی اعیان کے حصول پر موقوف ہے بلکہ اجارہ مطلقہ کے بارے میں سوال کیا تھا تو وہ تملك منفعت کی طرف لوٹا اور ہم نے احکام کودو قسموں یعنی صحیح اور فاسد پر تقسیم کیا۔
حوالہ / References α فتاوٰی خیریہ بحوالہ البزازیہ کتاب الصلح دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۰۳،فتاوی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الصلح الفصل السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۵۲۔۵۱
α فتاوٰی خیریہ کتاب الوکالۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۳۹
#13542 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
اما حیث کان الواقع انہا علی اتلاف الاعیان فہی باطلۃ ۔
مگر جب وہ اعیان کے اتلاف پرواقع ہوا ہے تو وہ باطل ہے۔(ت)
اسی کے ایك تیسرے واقعہ میں ہے:
قدیختلف الجواب باختلاف المرضوع المرفوع لاہل الفتوی فلا اعتراض علی المجیب فی الجواب ۔
کبھی فتوی پوچھنے والوں کو موضوع مرفوع میں اختلاف کی وجہ سے جواب مختلف ہوجاتاہے اس لئے اس جواب میں مجیب پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔(ت)
اسی میں ایك چوتھے واقعہ پر ہے۔
قد استفتی فی ہذہ الحادثۃ بماہو مختلف الموضوع فی السوال فاختلف الجواب بسبب ذلك فلا یتوھم معارضۃ الافتاء فیہ ۔
تحقیق اسی حادثہ میں سوال میں مذکور موضوع سے مختلف صورت میں فتوی پوچھا گیاتھا لہذا اسی سبب سے جواب مختلف ہوا چنانچہ اس میں افتاء کے معارضہ کاوہم نہ کیا جائے۔(ت)
ان سب ارشاد شریفہ کاحاصل یہ ہے کہ پہلے اور طرح سوال کئے گئے تھے پچھلے سوال ان کی خلاف تھے لہذا جواب مختلف ہوئے کہ مفتی اسی پر فتوی دے گا جو اس کے سامنے پیش کیاجائے گا اس سے کوئی فتووں میں تعارض کاوہم نہ کرےہاں اگر اسی وقت معلوم ہوتاکہ یہ سوال مدعی اس مقدمہ سوالات سابقہ سے متعلق ہے جس میں اس نے صورت واقعہ غلط لکھی ہے توہر گز جواب نہ دیا جاتا کہ جب مفتی کو سوال کا خلاف واقع ہونا معلوم ہوجائے تو حکم ہے کہ جواب نہ دے۔عقود الدریہ میں ہے:
اذاعلم المفتی حقیقۃ الامر ینبغی لہ ان لایکتب للسائل لئلا یکون معینا لہ علی الباطل ۔
جب مفتی کو معاملہ کی حقیت معلوم ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ (جھوٹے)سائل کے لئے فتوی نہ لکھے تاکہ وہ باطل پر اس کا مدد گار نہ ہو۔(ت)
ملاحظہ کفالت نامہ تجویز سے ظاہر ہے کہ سوال مدعی محض غلط وفریب ہے اس میں ضمانت اپنی جائداد
حوالہ / References α فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۳۶
α فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۵۹
α فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۸۳
α العقود الدریۃ فوائد فی آداب المفتی قبل کتاب الطہارۃ ارگ بازار قندہار افغانستان ۱/ ۳
#13543 · کتاب الکفالۃ (ضامن بننے کا بیان)
سے کرنے کے یہ معنی نہیں کہ عمرو ضامن ہوا اور زیادت وثوق کو اپنی جائداد پیش کی جس کاحکم وہ تھا کہ ضمانت جب زید کی درخواست پر ہے بلاشبہ صحیح ہوگئی کہ ذکر جائداد نہ ہونا فضولی ہے بلکہ یہ معنی ہے کہ آپ ضمانت نہ کی جو اپنا ذمہ مشغول نہ کیا خود نفس جائداد کو کفیل بنایا یہ قطعاباطل محض ہے جیسا کہ جوابات سابقہ میں روشن کردیا گیا مدعی نے کفالت بالمال کو پوچھا اس کا جواب قطعا یہی تھا کہ صحیح ہےاب ملاحظہ کاغذات سے ظاہر ہواکہ اس کی غلط بیانی ہے یہاں صورت واقعہ کفالت بالمال نہ تھی جسے شرع میں کفالت بالمال کہتے ہیں اور اس سے جو معنی خادمان شرع سمجھتے ہیں کہ مامکفول بہ ہو یعنی وہ چیز جس کا مطالبہ کفیل نےاپنے ذمہ لیا بلکہ یہاں کفالت المال باضافت الی الفاعلی تھی یعنی خود مال وجائداد کسی مطالبہ کی کفیل ہو یہ قطعا باطل ہے او ر وہ قطعا صحیحلاجرم فتوی کہ مدعی نے غلط بیانیوں سے حاصل کیا ہر گز متعلق مقدمہ نہیںمتعلق مقدمہ وہی فتاوی سابقہ مدخلہ مدعا علیہ ہیں اور عذر مدعی باطل محض اور عذر مدعاعلیہ صحیح وواجب القبول۔واللہ تعالی اعلم۔
#13544 · کتاب الحوالہ (حوالہ کا بیان)
کتاب الحوالہ
(حوالہ کا بیان)

مسئلہ ۲۹۱:از خیر آباد ضلع سیتا پور محلہ میانسرائے مدرسہ عربی قدیم مرسلہ سید فخر الحسن صاحب اوائل رمضان المبارك ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی زید سنی وحنفی المذہب ہے اور نسبت حرام وناجائز ہونے لین دین سودی وجملہ کاروائی متعلقہ معاملہ سود کے اپنے ملت کے موافق عقیدہ رکھتاہے کہ اتفاق زمانہ سے ایك ضرورت نے زید کو ایسا مجبور کیاکہ باوجود عقیدت وحرمت معاملہ سودی مبلغ پانچ ہزار روپیہ بحساب ۱۲ فیصدی ماہواری سود زید نے مسمی منوسنگھ مہاجن سے قرض لئے بوجہ حاجتمندی زید کے مہاجن مذکو ر نے دستاویز میں یہ شرط تحریر کرائی کہ ڈیڑھ سال کے وعدہ پر روپیہ دیا جاتاہے ششماہی وار سود ادا کرنا ہوگا بصورت عدم ادائے ششماہی وہ زر سود شامل اصل ہوکر سود در سود دینا پڑے گا اگر زید اندر ڈیڑھ سال زراصل دینا چاہے گا تو سود پورے ڈیڑھ سلا کا لیا جاوے گاتحریر دستاویز کے ایك ماہ بعد زید کو اس قدر روپیہ مل گیا کہ پانچ ہزار روپیہ زراصل وچھ سونواسی روپیہ ایك آنہ زر سود ڈیڑھ سال جملہ(صمہ سمالعہ لہ /)اصل وسود دے کرمنوسنگھ مہاجن سے دستاویز واپس لے لے مگر زید کویہ پریشانی لاحق ہے کہ مہاجن کا روپیہ صرف ایك ماہ میرے پاس رہا ہے جس کا سود صرف(مہ سہ۴./)ہوتے ہیں بجائے اس کے(سما لعہ لہ۱/)دے کر(سما مہ ۱۲./)کا تاوان اٹھانا پڑتاہے زید نے اپنی
#13545 · کتاب الحوالہ (حوالہ کا بیان)
پریشانی کی کیفیت مسمیان محمود قوم سیدوبدری پرشاد کھتری مہاجن سے بیان کیمسمی محمود نے یہ صلاح دی کہ بالفعل اس روپیہ سے ٹھیکہ داری یاتجارت کی جائے اور بعد انقضائے ایك سال وپانچ ماہ بقیہ مدت مندرجہ دستاویز سلسلہ ٹھیکہ داری وغیرہ منقطع کرکے اور منوسنگھ مہاجن کا قرضہ ادا کرکے دستاویز واپس کرلی جائے امید ہے کہ ٹھیکہ داری یاتجارت کے ذریعہ سے مقدارتاوان(سما ۰۱۲)سے زائد منفعت حاصل ہوجائے گی مسمی بدری پرشاد مہاجن یہ مشورہ دیتاہے کہ سلسلہ ٹھیکہ داری یاتجارت قائم کرنے میں احتمال نفع ونقصان دونوں قسم کا ہے نقصان کی صورت میں جائداد موجود کے جو ظاہری ذریعہ ہے تلف ہوجانے کا اندیشہ ہے پس اگر شریعت اجازت دے تومبلغ پانچ ہزار زراصل اور(معہ ۰۴/)زرسودیکماہہ جملہ(صمہ معہ ۰/)جواس وقت آپ کے واجب الادا ہیں مجھ کو دے کر قرضہ کی اتروائی مجھ پر کرادیجئے اب منوسنگھ میرے ذمہ عائد ہوجائے گا میں شخص مہاجنی پیشہ ہوں مبلغ(صمہ معہ ۰۴/)جو آپ سے ملیں گے اس کو سودی قرضہ میں لگاکر تھوڑے عرصہ میں کل روپیہ(صمہ سما لعہ )پوراکرکے اور منوسنگھ کو دے کر دستاویز واپس کرلوں گا یہ یہ ایسی تدبیر ہے جس سے آپ کو قرضہ سے سبکدوشی بھی ہوجائے گی اور جائداد موجودہ کا بھی کچھ نقصان نہ ہوگا بلکہ اس حیلہ میں یہ نفع ہوگا کہ آپ جس قدر دینے(سما ۰۱۲/)زرسود کے مواخذہ میں مبتلا ہوتے اس سے محفوظ رہیں گے بظاہر مشورت مسمی بدری پرشاد مناسب اور موجب منفعت دینی و دنیوی معلوم ہوتی ہے لہذا استصواب ہے کہ مسمی زید کو بروئے ملت حنفیہ وشریعت غرامشورہ بدری پرشاد پرعمل کرناجائز ہے یا اس صورت میں علاوہ مواخذہ سوددینے کے مواخذہ سودخوری مبتلا ہوناہوگاجواب تفصیلی بحوالہ کتب ملت حنفیہ بہت جلد ارقام فرمایاجائے کہ اس مسئلہ کے دریافت ہونے کی سخت ضرورت درپیش ہے نیز یہ بھی ہدایت فرمایاجائے کہ اگرزید کوصرف دوہزار روپیہ مل جائے اور موافق مشورہ بدری پرشاد کے بقدرمبلغ دوہزار روپیہ کے قرضہ کی اترائی بدری پرشاد پر کردی جائے تو اس صورت میں وہی حکم ہوگا جو کل قرضہ کہ اترائی میں ہوگا یا اس کے علاوہ کچھ دوسراحکم ہوگا
الجواب:
قرض تحویل کرادینے کی رائے بالکل خیرہے زید اس دوسرے ہندو کو پانچ ہزار اڑتیس خالص قرض کی نیت سے دے پانچ ہزار سے جتنا زیادہ دیتاہے اس میں پہلے ہندو کے سود کی نیت نہ کرے پھر پہلے ہندو سے کہہ کر اس کا قرضہ دوسرے پر اتروادے اور اس میں قانونی احتیاط کرلے کہ دھوکانہ پائے یوں بالکل سوددینے سے زید بچ جائے گا چالیس بچاس روپیہ جوزیادہ جائے گا وہ یوں ہوگا کہ قرض دیاتھا اور ماراگیا یاقرض دار پرچھوڑدیاسوددینے میں محسوب نہ ہوگا۔رہا یہ کہ وہ دوسراہندو اس روپے کو سود پر چلائے گا یہ اس کا فعل ہے بلکہ تنہا اس کا بھی فعل نہیں جب تك اسے کوئی قرض لینے والا نہ لے تو اس کا الزام زید پر نہیں
#13546 · کتاب الحوالہ (حوالہ کا بیان)
آسکتاہے
قال تعالی " و لا تزر وازرة وزر اخرى " ۔
اللہ تعالی نے فرمایا:کوئی بوجھ اٹھانے والا نفس دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
انما المعصیۃ بفعل المستاجر وھو مختار فیہ فقطع نسبتہ عنہ ۔
بیشك گناہ تومستاجرکے فعل سے ہے اور وہ مختار ہے(مکروہ نہیں)لہذا اس کی نسبت مالك مکان سے منقطع ہوگئی۔(ت)
یوں ہی اگربعض قرض کے ساتھ ایسا کرسکے توبعض ہی سے سہی کہ جتنی معصیت سے بچے یاجتنا مال حرام میں دینے سے محفوظ رہ سکے اس قدر کی تدبیر واجب ہے۔واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۲: ازخیرآباد مقام مذکور مرسلہ مولوی سیدفخرالحسن صاحب ۱۹ شوال ۱۳۲۷ھ
شریعت بے استعدادی کومجبوری میں جائے پناہ اگرنظرآتی ہے تو صرف ذات بابرکات قدسی صفات عالی ہے لہذا باوجود وقوف عدم الفرصتی تکلیف دہی والا پرمجبور ہوکر نہایت ادب سے معافی کا مترصدہوں استفتاء منسلك عریضہ ہذاوالاحضوراقدس میں بھیجاتھا دیر رسی جواب کی وجہ سے اس کی نقل رامپور بھی بھیجی تھی پیش گاہ والا سے جو از صورت مسئولہ کاحکم پاکر سائل کوہدایت تدبیر فراہمی روپیہ کی گئی تھی کہ
قسمت کودیکھئے کہ کہاں ٹوٹی جاکمند
دوچارہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا
پورے روپے کی تدبیر نہ ہونے پائی تھی کہ رامپور سے جواب خلاف حکم والاملایہ امرمیرے عرض کرنے کا محتاج نہیں ہے کہ امورخیرواصلاح کار میں بھی کچھ وساوس وابلیس آدم رو ومانع پیش آتے ہیں صاحب معاملہ کے خیالات وجوابات رامپور سے ایسے تبدیل کئے گئے کہ وہ کہتاہے کہ جب تك رامپور کی تردید میں براہین قاطعہ ودلائل مستحکم ازروئے ملت حنفیہ نہ دیکھوں گا کسی طرح جواز تحویل کو تسلیم نہیں کرسکتا مجھ ہیچمدان کو بجز اس کے کہ ذات بندگان عالی سے پناہ چاہوں کوئی چارہ کارنہیں ہے لہذا نقل جوابات مرسلہ علمائے رامپور
حوالہ / References α القرآن الکریم ۶ /۱۶۴
α الہدایۃ کتاب الکراہیۃ فصل فی البیع مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۷۰
#13547 · کتاب الحوالہ (حوالہ کا بیان)
ارسال خدمت کرکے گزارش ہےکہ جس قدرجلد ممکن ہو کمترین کو اس ضغطہ سے نجات دیجئے
پناہ جوبدرت آمدم بعجز ونیاز کہ آستان توحاجت روائے من باشد
(پناہ ڈھونڈتے ہوئے عجزونیاز کے ساتھ تیرے دروازے پرآیاہوں تاکہ تیرا آستانہ میراحاجت روابن جائے۔(ت)
زیادہ بجزتمنائے حصول قدمبوسی کے کیاعرض کروںعریضہ ادب کمترین فخرالحسن عفاعنہ ازخیرآباد ۱۹ شوال ۱۳۲۷ھ
(جواب علمائے ریاست رامپور)
الجواب:
واللہ سبحنہ موفق للصدق والصواب(اللہ سبحانہوتعالی سچائی اور درستگی توفیق عطا فرمانے والاہے۔ت)ایسی صورت میں زید کو بروئے ملت حنفیہ مشورہ بدری پرشاد عمل ناجائز وحرام ہے بیشك اس صورت میں علاوہ مواخذہ سوددینے سے مواخذہ سودخوری میں مبتلا ہوناہےتفصیل یہ ہے کہ زید کا مبلغ(صمہ معہ )بدری پرشاد کودے کے منوسنگھ کے قرضہ کی اترائی بدری پرشاد پر کردینے کے معنی بظاہر یہ ہیں کہ زید مبلغ(صمہ معہ ۰۴/)بدری پرشاد کو اس شرط پر قرض دے کہ وہ منوسنگھ والے قرض مبلغ(صمہ سالعہ لہ ۱/)ذمگی زید کو زید کی طرف سے اداکرکے دستاویز واپس لے لے اور منوسنگھ کے دین کو بدری پرشاد پر حوالہ کردے
قال فی تنویر الابصار فی تفسیرالحوالۃ ھی نقل الدین من ذمۃ المحیل الی ذمۃ المحتال علیہ انتھی۔ تنویرالابصار میں حوالہ کی تفسیر میں کہا کہ وہ دین کو محیل کے ذمہ سے محیل علیہ کے ذمہ کی طرف منتقل کرناہے انتہی۔ (ت)
توبدری پرشاد کا(صمہ معہ ۰۴/)لے کے اور(سامہ۰۱۲/)بڑھاکے(صمہ سالعہ لہ)اداکرنا زید کو(سا۰۱۲/)سوددینا ہے کیونکہ یہ(سامہ۰۱۲/)جو بدری پرشاد زید کی طرف سے منورسنگھ کواداکرے گا یہ رقم کسی مال کے عوض میں ثابت نہیں ہوئی توبالضرور زید کے(صمہ معہ ۰۴/)قرض دئے ہوئے روپوں کا نفع ہوگا
وفی الاشباہ کل قرض جرنفعا حرام انتھی در مختار فی جواھر الفتاوی اذاکان مشروطاصار قرضا فیہ منفعۃ
اشباہ میں ہے کہ جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے انتہی(درمختار) جواہرالفتاوی میں ہے کہ اگر وہ مشروط ہو تو ایساقرض ہوگا جس میں نفع ہو اور
حوالہ / References α درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الحوالہ مطبع مجتبائی دہلی ۶/ ۶۹
α درمختار شرح تنویرالابصار فصل فی القرض مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۵
#13548 · کتاب الحوالہ (حوالہ کا بیان)
وھو رباانتھی شامی قال فی الکفایۃ الربو فی الشرع عبارۃ عن فضل مال لایقابلہ عوض فی معاوضۃ مال بمال انتھی۔ وہ سود ہے انتہی(شامی)کفایہ میں کہا سودشرع میں اس مالی زیادتی کو کہتے ہیں جس کے مقابل کوئی عوض نہ ہو جبکہ یہ مالی معاوضات میں ہو انتہی(ت)
اور اس صورت میں سوددینے کا مواخذہ توظاہرہے کیونکہ(سالعہ ۱/)جومنجانب زیدمنوسنگھ کو پہنچیں گے یہ رقم سود ہے جو زید نے اپنے ذمہ دین تسلیم کرکے بدری پرشاد پرحوالہ کئےغایت یہ ہے کہ زید نے خود نہیں دئیے دلوائے اور چونکہ برتقدیر صرف دوہزار کی اترائی کے موافق شرط مذکور بقدردوہزار کے سودبھی بدری پرشاد اپنے پاس سے ادا کرے گا تو اس صورت میں وہی وجہ عدم جواز کی ہے جو پہلی صورت میں تھی لہذا یہ اور وہ دونوں ناجائزہیںھذہ صورۃ الجواب واللہ تعالی اعلم بالصواب۔
المجیب فقیہ الدین عفاعنہ
اصاب من اجاب ذلك کذلك ذلك کذالک
محمد معزاللہ مدرس مدرسہ عالیہ رامپور محمد منورعلی(مہر) محمدعنایت اللہ عفی عنہ
الجواب صحیح والرای نجیح واللہ تعالی اعلم الجواب الجواب واللہ سبحانہ اعلم بالصواب
محمدلطف اللہ مہر ابوالافضال محمدفضل حق
بیشك صورت مذکورہ میں دونوں صورتیں ناجائزہیں فقط
ہدایت اللہ خاں ولدحافظ عنایت اللہ خاں
استفتاء:برضمیر معدلت پیرائے ارباب شریعت غرامخفی مبادکہ ایك سوال کے دوجواب متضاد موصول ہوئے یعنی حضرات دارالافتاء اہل سنت وجماعت بریلی نے جوازصورت مسئولہ کاحکم دے کر بنظر عمل بالخیر ہونے کے اس امر کو واجب العمل فرمایا اور حضرات علمائے رامپور نے اس امرواجب العمل کو ناجائز وحرام تحریر فرمایاہے زیادہ مصیبت یہ ہے کہ جس ضرورت کے واسطے استفتاء کیاگیاتھا اس کا کچھ چارہ کارنہیں بتلایا حالانکہ بفحوائے الدین یسرپیرو ملت اسلام کے واسطے آسانی کا دروازہ کھول دیا گیاہے اب نہایت ضرورہوا کہ منجملہ ہردوجوابات کے ایك جواب غلط ہوکر اس کی غلطیاں براہین قاطعہ
حوالہ / References α ردالمحتار فصل فی القرض داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۷۴
α الکفایۃ مع فتح القدیر باب الربائ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۱۴۷
#13549 · کتاب الحوالہ (حوالہ کا بیان)
سے ثابت کی جائیں اور بعد قائم ہوجانے امرحق کے اس کی تعمیل کی ہدایت فرمائی جائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصواببملاحظہ مولانا المکرم جناب مولوی سیدمحمد فخرالحسن صاحب اکرمکم اللہ تعالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نوازش نامہ اس وقت تشریف لایا اہالی دارالافتاء بعزم آرہ شاہ آباد جلسہ مدرسہ فیض الغربا پابرکاب ہیں اجمالی جواب فوری گزارش ہے کہ تکلیف انتظار بھی نہ ہو اور ایك مسلمان کہ سود کی بلا سے بچتا ہے مبادا تاخیر میں وہ معاملہ ہاتھ سے نکل جائے اگرضرورت ہوگی ان شاء اللہ تعالی اور تفصیل کردی جائے گی وباللہ التوفیق۔
مولنا آپ نے بنظرعجلت سوال وہاں ارسال فرمایا اگریہ جواب لکھ کر بھیجتے تومامول تھا کہ ان صاحبوں کی نظرلغزش نہ کرتی بطور خود زلت نظربعید نہیں مگربعد علم بالحق مخالفت مظنون نہیں ہوتی الامن عند وھواہ عبد(سوائے اس شخص کے جو عناد اختیار کرے اور اپنی نفسانی خواہش کی پرستش کرے۔ت)ان صاحبوں کابڑا منشاء غلط یہ ہے کہ بعد اس حوالہ کے بھی زید ہی کو مدیون سمجھے ہوئے ہیں اور وہ دوسرا ہندو جو اداکرے گا اسے زید کی طرف سے اداکرنا گمان کررہے ہیں کہ لکھتے ہیں بدری پرشاد منوسنگھ والے قرضہ ذمگی زید کو زید کی طرف سے ادا کرکے دستاویز واپس لے نیز لکھتے ہیں یہ(سامہ ۰۱۲/)بدری پرشاد زید کی طرف سے منوسنگھ کو ادا کرے گا نیز لکھتے ہیں(سالعہ ۱/)منجانب زیدمنوسنگھ کوپہنچیں گے ان کے سارے خیالات کامنبع بلکہ سراپا تحریر کامحصل یہی زعم ہے اور وہ اصلا صحیح نہیں حوالہ میں(جسے قرضہ کی اترائی کہتے ہیں)اصل مدیون(جسے محیل کہتے ہیں)دین سے بری ہوجاتاہے دین اس پرنہیں رہتا اس دوسرے پرہوجاتاہے جس نے اپنے اوپر کادین دائن کو(جسے محتال علیہ کہتے ہیں)محتال علیہ وہ دین محیل کی طرف سے ادا نہیں کرتا بلکہ خود اپنے اوپر کا دین دائن کو جسے محتا ل ومحتال لہ کہتے ہیں دیتاہے۔تنویرالابصار میں ہے:
الحوالۃ نقل الدین من ذمۃ المحیل الی ذمۃ المحتال علیہ ۔
حوالہ محیل کے ذمہ سے دین کو محتال علیہ کے ذمہ کی طرف منتقل کرنے کانام ہے۔(ت)
نہرالحقائق پھرعالمگیریہ میں ہے:ھوالصحیح
حوالہ / References α درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الحوالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۹
α فتاوٰی ہندیہ بحوالہ النہرالفائق نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۹۵
#13550 · کتاب الحوالہ (حوالہ کا بیان)
تنویرمیں ہے:
برئ المحیل من الدین بالقبول ۔
محتال علیہ کی طرف سے قبول کے بعد محیل قرض سے بری ہوجاتاہے۔(ت)
فتح القدیر ودرمختارمیں ہے:
ھل توجب البرأۃ من الدین المصحح نعم ۔
کیاحوالہ دین صحیح سے براءت کاموجب ہےجواب ہاں۔ (ت)
محیط سرخسی وفتاوی عامگیریہ میں ہے:
اما احکامھا فمنھا برأۃ المحیل عن الدین ۔
حوالہ کے احکام میں سے ایك یہ ہے کہ محیل قرض سے بری ہوجاتاہے۔(ت)
یہاں تك کہ اب اگردائن اصل مدیون کو دین بخش دے یامعاف کرے توباطل ہے کہ جو دین اس پررہا ہی نہیں اس کی بخشش یامعافی کیا معنیاور اگر محتال علیہ کو معاف کردے معاف ہوجائے گا۔فتاوی ظہیریہ و فتاوی ہندیہ میں ہے:
فلوابرأ المحتال المحیل عن الدین او وھبہ لہ لا یصح علیہ الفتوی ۔
اگرمحیل کومحتال علیہ قرض سے بری کرے یاقرض اس کو ہبہ کرے توصحیح نہیںاسی پرفتوی ہے(ت)
ردالمحتار میں ہے:
اجماع علی ان المحتال لوابرأالمحتال علیہ من الدین اووھبہ منہ صح ولو ابرأ المحال علیہ من الدین او وھبہ منہ صح ولو ابرأ المحیل او وھبہ لم یصح۔
اس پر اجماع ہے کہ اگرمحتالمحتال علیہ کو قرض سے بری کردے یا اس کو قرض سے بری کردے یا اس کو قرض ہبہ کردے تو صحیح ہے اور اگرمحیل کو بری کیا یا اس کو قرض ہبہ کیاتوصحیح نہیں۔(ت)
حوالہ / References α درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الحوالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۹
α درمختار بحوالہ فتح القدیر کتاب الحوالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۹
α فتاوٰی ہندیہ بحوالہ محیط السرخسی کتاب الحوالہ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۶۹
α فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الظہیریہ کتاب الحوالہ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۹۶
α ردالمحتار کتاب الحوالہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۸۸
#13551 · کتاب الحوالہ (حوالہ کا بیان)
ولہذا اب اگر اصل مدیون اس اترے ہوئے دین کے بدلے کوئی چیز دائن کے پاس رہن رکھے صحیح نہیں کہ دین اس پر رہا ہی نہیں یہ رہن کاہے کے عوض رکھتاہے کافی شرح وافی پھرعالمگیریہ میں ہے:
لواحال بدینہ فرھن لایصح
اگرمحیل نے قرض پرکسی کاحوالہ کردیا پھردائن کے پاس کچھ رہن رکھا تو صحیح نہیں۔(ت)
اور اگرپہلے سے اس دین کے بدلے کوئی رہن دائن کے پاس رکھا ہواتھا حوالہ ہوتے ہی دائن سے واپس لے لے گا کہ اب دین اس پر نہ رہامحیط امام شمس الائمہ سرخسی پھرہندیہ میں ہے:
اذا احال الراھن المرتہن بالدین علی غیرہ یسترد الرھن ۔
جب راہن نے مرتہن کاقرض کسی اور پر حوالہ کردیا تواب رہن واپس لے سکتاہے۔(ت)
حوالہ کے بعد دائن کواصلا اختیارنہیں رہتا کہ اصل مدیون سے اپنے دین کامطالبہ کرےہاں اگر محتال علیہ حوالہ ہونے سے مکرجائے اور قسم کھالے اور محیل ومحتال کسی کے پاس گواہ نہ ہوں یامحتال علیہ مفلس مرجائے کہ جائداد یامال نقد یاقرض نہ چھوڑےنہ کوئی اس کی طرف سے ضامن ہو تو صرف اس صورت میں حوالہ باطل ہوکر دین پھر اصل مدیون پرعود کرتاہےعود کرنے کے معنی ہی خود یہ ہیں کہ اس سے پہلے اس پر دین نہ رہاتھاتبیین الحقائق شرح کنزالدقائق للامام الزیلعی میں ہے:
لم یرجع المحتال علی المحیل الا ان یتوی حقہ فاذا توی علیہ عاد الدین الی ذمۃ المحیل والتوی عندابی حنیفۃ رضی اللہ تعالی عنہ احدالامرین اما ان یجحد المحتال علیہ الحوالۃ ویخلف ولابینۃ للمحیل ولاللمحتال لہ اویموت مفلسا بان لم یترك ما لا عینا لادینا ولاکفیلا ۔(ملخصا)
محتال محیل کی طرف رجوع نہیں کرسکتا مگر اس وقت کرسکتاہے جب اس کا حق ہلاك ہوجائےہلاکت کی صورت میں دین محیل کے ذمہ کی طرف لوٹ آتاہےاور ہلاکت کی امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیك دوصورتیں ہیں یا یہ کہ محتال علیہ حوالہ کا انکار کرے اور قسم کھا جائے جبکہ محیل اور محتال لہ کے پاس گواہ نہ ہوں یا محتال علیہ مفلس ہو کرمرجائے نہ کوئی عین چھوڑے نہ دین اور نہ ہی کوئی کفیل۔(ت)
حوالہ / References α فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الکافی کتاب الحوا لہ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۹۶
α فتاوٰی ہندیہ بحوالہ محیط السرخسی کتاب الحوا لہ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۹۶
α تبیین الحقائق کتاب الحوا لہ المطبعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر ۴/ ۷۳۔۱۷۲
#13552 · کتاب الحوالہ (حوالہ کا بیان)
تنویرالابصار ودرمختارمیں ہے:
لایرجع المحتال علی المحیل الابالتوی و ھوباحد امرین ان یجحد المحال علیہ الحوالۃ ویحلف ولا بینۃ لہ اویموت مفلسا بغیرعین ودین وکفیل وقالا بھما وبان فلسہ الحاکم ۔
ہلاکت کی صورت کے علاوہ محتال محیل کی طرف رجوع نہیں کرسکتا اور ہلاکت دومیں سے ایك امر کے ساتھ ہوتی ہے یامحتال علیہ حوالہ کاانکار کرکے قسم کھاجائے اور محتال لہکے پاس گواہ نہ ہوں یا محتال علیہ مفلس ہوکرمرجائے اور کوئی عیندین یا کفیل نہ چھوڑےاو ر صاحبین نے کہا ان دو صورتوں سے بھی اور ہلاکت متحقق ہوتی اور حاکم کے اس (محتال علیہ)کو مفلس قراردینے سے بھی۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
ظاھرکلامھم متوناوشروحا تصحیح قول الامام ونقل تصحیحہ العلامۃ قاسم ولم ارمن صحح قولھما ۔
متون وشیروح میں فقہاء کے کلام سے ظاہرامام ابوحنیفہ کے قول کی تصحیح ہے اور علامہ قاسم نے امام صاحب کے قول کی تصحیح کو نقل کیامیں نےکسی کو نہیں دیکھا جس نے صاحبین کے قول کی تصحیح کی ہو(ت)
ان تصریحات وتصحیحات وھوالصحیح وعلیہ الفتوی(وہی صحیح ہے اور اسی پرفتوی ہے۔ت)کے بعد پھر یہ گمان کرنا کہ بدری پرشاد زید کی طرف سے اداکرے گا وہ سودزید کی طرف سے منوسنگھ کودیاجائے گا کیسی فاحش غلطی ہےسبحان اللہ! جب نہ یہ مدیون رہا نہ اس پر مطالبہنہ یہ دیتاہے نہ دائن اب اس سے لے سکتاہے تویہ سوددینے والا کس حساب سے ٹھہراطرفہ یہ کہ تنویرالابصارکی عبارت خود نقل کی کہ حوالہ اس کے ذمہ دین سے مشغول ہے یا اس کی طرف سے اداکرے گا جس کے ذمہ پردین نہیں اور اس صورت میں زید کوسودخور ٹھہرانا اور بھی عجیب ترہےبفرض غلط ہوتا تو اتناہوتا جس کا خود ان صاحبوں نے اعتراف کیا کہ زید نے خود نہیں دئے دلوائےنہ یہ کہ معاذ اللہ اس نے خود سودلیاتفصیل کے لئے عرض کرچکاہوں کہ ضرورت ہوئی تو پھرگزارش ہوگیذی انصاف کے لئے اسی قدرکافی ہے وباللہ التوفیق واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
حوالہ / References α درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الحوالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۹
α ردالمحتار کتاب الحوالہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۹۳
#13553 · کتاب الحوالہ (حوالہ کا بیان)
مسئلہ ۲۹۳ تا۲۹۷: ازکاٹھیاواڑ مسئولہ حاجی عیسی خان محمدصاحب ۸جمادی الاولی ۱۳۳۰ھ
(۱)زید نے عمروسے کہا میرے بکرپر روپے آتے ہیں تم وصول کرکے اپنے پاس جمع اور تصرف کاتمہیں اس میں اختیارہے جب مجھے ضرورت ہوگی لے لوں گایہ جائزہے یانہیں
(۲)زید نے عمرو کے ہاتھ ہزارکانوٹ بارہ سو کو چارمہینے کے وعدہ پربیچا اور تمسك لکھا لیاپھرزید نے بکر سے گیارہ سوکانوٹ بارہ سو کوخریدا اور کہہ دیا کہ عمرو پرمیرے بارہ سو آتے ہیں وصول کرلو اور اطمینان کے لئے وہ تمسك کہ عمرو نے لکھاتھا بکرکودے دیا یہ جائزہے یانہیں
(۳)زید نے ہزارکانوٹ گیارہ سو کو عمرو کے ہاتھ وعدہ پربیچا اور یہ شرط کرلی کہ سوروپے نقدابھی لوں گا اور باقی ہزار روپے میعاد پراور ہزار کاتمسك لکھالیا پھرزید نے بکر سے ہزار کانوٹ ساڑھے دس سوکو خریدا اور پچاس فورا اداکردئیے اور ہزار کاعمرو پرحوالہ کردیا اور اطمینان کے لئے وہی عمرو کا لکھاہواتمسك بکرکودے دیایہ جائزہے یانہیں
(۴)ہنڈی کی کیاتعریف ہے
(۵)جبکہ ہنڈی حرام ہے تو کوئی صورت شرعا ایسی ممکن ہے کہ جائزطورپرہنڈی کامطلب اس سے حاصل ہوجائے۔
الجواب:
(۱)جائزہے فانہ توکیل بالقبض وتسویغ للقرض(کیونکہ یہ قبض کے لئے وکیل بنانا اور قرض دیناہے۔ت)واللہ تعالی اعلم۔
(۲)جائزہےلانہ حوالۃ ومقابلۃ الاجل بقسط من الثمن والکل یجوز کمافی فتح القدیر۔واللہ تعالی اعلم۔
کیونکہ یہ حوالہ ہے اور اجل کے مقابلہ میں ثمن کاکچھ حصہ ہے اور یہ سب جائزہے جیسا کہ فتح القدیر میں ہے۔(ت)واللہ تعالی اعلم
(۳)جائزہےیہ وہی صورت سابقہ ہے فقط اتنافرق ہے کہ اس میں بعض ثمن معجل اور باقی مؤجل ہے اور اس میں کل مؤجل اور بحال اختلاف جنس وقدریہ سب جائزہے۔واللہ تعالی اعلم
(۴)زیدعمروکے پاس کچھ روپیہ بطورقرض اس شرط پرجمع کرے کہ یہ روپیہ فلاں شہرمیں فلاں شخص کواداکیاجائے یایہ کہ میں خود فلاں شہر میں پاؤںاس کانام ہنڈی ہےیہ ناجائزوگناہ ہے اور اس پرجوبعض وقت کمی بیشی ہوتی ہے جسے متی کہتے ہیں وہ نراسود حرام قطعی ہے اور بطورقرض دینے سے
#13554 · کتاب الحوالہ (حوالہ کا بیان)
یہ مرادنہیں کہ قرض کہہ کردے بلکہ جب معاملہ یوں ہوا کہ اگریہ روپیہ عمر کے پاس سے بے اس کے قصور کے گم جائے چوری ہوجائے کسی طرح جاتارہے جب بھی زیداپناروپیہ اس سے بھروالے تو اسی کانام قرض ہے اگرچہ دیتے وقت قرض کالفظ نہ کہا ہو جمع کرنا کہا ہو جو امانت کوبھی شامل ہے اور یہاں عام طور پر یہی ہے کہ عمرو کو ہرطرح اس روپے کادیندار جانیں گے اور کسی طرح ضائع ہو بے تاوان لئے نہ مانیں گے تومعلوم ہوا کہ امانت نہیں بلکہ قرض ہے امانت ہوتی تو بے اس کے قصور کے اگرروپیہ جاتارہتا تو اس سے کچھ نہ لیاجاتا معہذا یہاں جمع کرنا اور دوسری جگہ اس کا عوض لینایہ خود ہی حاصل قرض ہے امانت توبعینہا واپس لی جاتی ہے نہ اس کا عوضاور جب یہ قرض دینا ہوا اور زید اس میں یہ فائدہ پاتاہے کہ اگر روپیہ کسی کے ہاتھ اس شہر کوبھیجتا یا اپنے ساتھ لے جاتا تو راستے میں جاتے رہنے کااندیشہ تھا عمرو کوبطور قرض دینے سے یہ اندیشہ جاتارہا تویہ ایك نفع ہے کہ زید نے قرض دے کر حاصل کیا اور قرض دینے والے کو قرض پرجو نفع جوفائدہ حاصل ہو وہ سب سود اورنراحرام ہے۔حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں:
کل قرض جرمنفعۃ فھوربا ۔ قرض سے جوفائدہ حاصل کیاجائے وہ سودہے۔
لہذا ہنڈی ناجائزہوئی۔ردالمحتار میں ہے:
صورتھا ان یفع الی تاجر مالاقرضا لیدفعہ الی دیقہ و انما یدفعہ قرضا لاامانۃ لیستفیدبہ سقوط خطر الطریق وقیل ھی ان یقرض انسانا لیقضیہ المستقرض فی بلد یریدہ المقرض لیستفیدبہ سقوط خطر الطریق کفایۃ ۔
اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص تاجر کو کچھ مال قرض دے تاکہ وہی اس کے دوست کو دے دے تو بلاشبہ یہ مال اس کو بطورامانت نہیں بلکہ بطورقرض دیتاہے اور اس سے راستہ کے خطرہ کے سقوط کافائدہ اٹھاتاہےاور ایك قول میں اس کی صورت یہ ہے کہ کسی کو قرض دے تاکہ مقروض وہی قرض اس شہر میں قرض دہندہ کو واپس کرے جس شہر میں وہ لینا چاہتاہے تو اس سے وہ راستہ کے خطرہ کے سقوط کافائدہ اٹھاتا ہے۔(کفایہ)۔(ت)
(۵)ہاں ممکن ہے روپیہ نہ دے بلکہ نوٹ اور قرض نہ دے بلکہ بیع کرے اس شرط پرکہ کہ خریدار اس کی قیمت کا حوالہ فلاں شہر کے فلاں تاجر پرکردے کہ ہم خود یا اپنے کسی وکیل کے ذریعہ سے وہاں وصول
حوالہ / References α کنزالعمال حدیث ۱۵۵۱۶ فصل فی لواحق کتاب الدین موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۳۸
α ردالمحتار کتاب الحوالہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۹۵
#13555 · کتاب الحوالہ (حوالہ کا بیان)
کرلیں یہ جائزہے اورمطلب پوراحاصل ہے اور اب کمی بیشی بھی رواہے سوکانوٹ ننانوے کو بیچیں خواہ ایك سو ایك کو۔کما حققناہ فی کفل الفقیہ(جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے کفل الفقیہ میں کردی ہے۔ت)درمختار میں ہے:
باع بشرط ان یحیل علی المشتری بالثمن غریمالہ ای للبائع بطل ولو باع بشرط ان یحتال بالثمن صح لانہ شرط ملائم کشرط الجودۃ بخلاف الاول ۔
اگرکسی نے کوئی چیز اس شرط پرفروخت کی ثمن کے بدلے میں بائع اپنے کسی قرضخواہ کاحوالہ مشتری پرکرے گا توبیع باطل ہے اور اگر اس شرط پربیع کی مشتری ثمن کاحوالہ کسی اور شخص پرکرے گا توجائزہے کیونکہ یہ شرط عقد کے مناسب و ملائم ہے جیسے کہ جودت کی شرط بخلاف پہلی صورت کے۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ لانہ شرط ملائم لانہ یؤکد موجب العقد اذا الحوالۃ فی العادۃ تکون علی الاملاء والاحسن قضاء فصار کشرط الجودۃ درر ۔
ماتن کاقول کہ بیشك یہ شرط عقد کے ملائم ہےاس کی وجہ یہ ہے کہ یہ موجب عقد کو پکاکرتی ہے کیونکہ حوالہ عام طورپر صاحب ثروت اور بہتر ادائیگی کرنے والوں پرکیاجاتاہےتویہ شرط جودت کی مثل ہوگیادرر۔(ت)
ہاں اس شرط پر بیچنا کہ تو اس کی قیمت فلاں شہر میں مجھے دینایہ ناجائزہے۔ردالمحتارمیں ہے:
ومنہ(ای الشروط الفاسدۃ المفسدۃ للبیع)ان یدفع الثمن فی بلداخر او یھب البائع منہ کذا بخلاف ان یحط من ثمنہ کذالان الحط ملحق بما قبل العقد بحر ۱ھ مختصرا۔
بیع کو فاسد کرنے والی شروط فاسدہ میں سے یہ ہے کہ شرط لگائی جائے کہ مشتری کسی دوسرے شہر میں ثمن ادا کرے گا یابائع ثمن میں سے اتنے مشتری کو ہبہ کرے گا بخلاف اس کے کہ بائع ثمن سے اتنے گھٹائے گا کیونکہ گھٹانا عقد کے ماقبل کو لاحق ہوتاہےبحر۱ھ مختصرا(ت)
حوالہ / References α درمختار کتاب الحوالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۷۰
α ردالمحتار کتاب الحوالہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۹۵۔۲۹۴
α ردالمحتار باب بیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۲۱
#13556 · کتاب الحوالہ (حوالہ کا بیان)
یہ فرق خوب یاد رہے کہ غلطی ہوکر حرام میں وقوع نہ ہوجائے واللہ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم۔
مسئلہ ۲۹۸: ازچتوڑگڑھ علاقہ اودے پورراجپوتانہمسئولہ عبدالکریم صاحب ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ شنبہ
زید نے پانچ سو روپے بکر کے پاس اس غرض سے جمع کئے کہ بذریعہ ہنڈی کے سالم کے نام بمبئ پہنچ جائے اور بکر نے ہنڈی کو سالم کے پاس بمبئ روانہ بھی کردیا اور سالم کو مل بھی گیا اور سالم اس ہنڈی کو خالد ساہوکار کے پاس لے گیا اور کہا کہ اس ہنڈی کے روپے دیجئےخالد ساہوکار نے روپے دینے سے انکار کیا لہذا سالم نے ہنڈی مذکور کو واپس کیا اور واپس آنے میں پندرہ یوم کی دیربھی ہوئیاور ساہوکاروں کاقاعدہ ہےکہ جتنے روز میں ہنڈی واپس آتی ہے اتنے روزکاہرجاجمع کنندہ کو دیاجاتاہے توآیا اس ہرجاکالیناجائزہے یا نہیں اگرجائزنہیں ہے تو زید کو بہت نقصان پہنچے گا کیونکہ کافرتاجر مسلمان تاجر سے اپنے مذہب کے موافق ہرجانہ ضرور لے گا اور مسلمان اس سے بازرہے گااور ایسا ہونہیں سکتا کہ تمام مسلمان تجارت کو چھوڑ دیںتجارت توکتاب وسنت سے ثابت ہےعلاوہ اس کے تمام علماء ودانشمند اہل اسلام اس وقت مسلمانوں کوتجارت کرنے پر زوردے رہے ہیں تو اگریہ ہرجانہ مذکور ناجائزہے رکھاجائے گا تومسلمانوں کو دوطرفہ نقصان ہوگا ایك تودینے کی وجہ سے اور دوسرے نہ لینے کی وجہ سے فقط۔
الجواب:
ہنڈی سرے سے خود ہی ناجائز ہے متون میں السفنجۃ حرام(ہنڈی حرام ہے۔ت)حدیث میں ہے:کل قرض جر منفعۃ فہو ربا (جوقرض نفع حاصل کرے وہ سود ہے۔ت)اور پھر اس پر جرمانہ دوسراناجائزہے مگریہ عمل اگرمحض کفار سے ہے کہ اس دکان میں اصالۃ یابالواسطہ کسی مسلمان کی شرکت نہیں تونہ بنیت اس عقد فاسد کے بلکہ اسی نیت سے کیہ یہی مسلمان سے لیتے ہیں اور غیرمسلم کابلاغدرملتاہے لینے میں حرج نہیں۔واللہ تعالی اعلم۔
________________
___________________________
نوٹ:
سترھویں جلد کتاب الحوالہ پر ختم ہوئی
اٹھارھویں جلد کا اغاز کتاب الشھادۃ سے ہوگا۔
_______________________
حوالہ / References α کنزالعمال فصل فی لواحق کتاب الدین حدیث ۱۵۵۱۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۳۸
Scroll to Top