بسم الله الرحمن الرحیم
پیش لفظ
الحمدﷲ! اعلیحضرت امام المسلمین مولانا الشاہ احمد رضاخاں فاضل بریلوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عہدحاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظرعام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضافاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ ماہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہواتھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہاہے اب تک یہ ادارہ امام احمدرضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکاہے مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ "العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ" کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔ فتاوی مذکورہ کی اشاعت کا آغاز شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ/مارچ ۱۹۹۰ء میں ہواتھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الکریم تقریبا گیارہ۱۱ سال کے مختصر عرصہ میں انیسویں جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے اس سے قبل کتاب الطہارت کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب الحج کتاب النکاح کتاب الطلاق کتاب الایمان کتاب الحدود والتعزیر کتاب السیر کتاب الشرکۃ کتاب الوقف کتاب البیوع کتاب الحوالہ کتاب الشہادۃ اور کتاب القضاء والدعاوی پر مشتمل اٹھارہ جلدیں شائع ہوچکی ہیں جن کی تفصیل سنین مشمولات مجموعی صفحات اور ان میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار حسب ذیل ہے :
پیش لفظ
الحمدﷲ! اعلیحضرت امام المسلمین مولانا الشاہ احمد رضاخاں فاضل بریلوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ کے خزائن علمیہ اور ذخائر فقہیہ کو جدید انداز میں عہدحاضر کے تقاضوں کے عین مطابق منظرعام پر لانے کے لئے دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور میں رضافاؤنڈیشن کے نام سے جو ادارہ ماہ مارچ ۱۹۸۸ء میں قائم ہواتھا وہ انتہائی کامیابی اور برق رفتاری سے مجوزہ منصوبہ کے ارتقائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہاہے اب تک یہ ادارہ امام احمدرضا کی متعدد تصانیف شائع کرچکاہے مگر اس ادارے کا عظیم ترین کارنامہ "العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ المعروف بہ فتاوی رضویہ" کی تخریج وترجمہ کے ساتھ عمدہ وخوبصورت انداز میں اشاعت ہے۔ فتاوی مذکورہ کی اشاعت کا آغاز شعبان المعظم ۱۴۱۰ھ/مارچ ۱۹۹۰ء میں ہواتھا اور بفضلہ تعالی جل مجدہ وبعنایت رسولہ الکریم تقریبا گیارہ۱۱ سال کے مختصر عرصہ میں انیسویں جلد آپ کے ہاتھوں میں ہے اس سے قبل کتاب الطہارت کتاب الصلوۃ کتاب الجنائز کتاب الزکوۃ کتاب الصوم کتاب الحج کتاب النکاح کتاب الطلاق کتاب الایمان کتاب الحدود والتعزیر کتاب السیر کتاب الشرکۃ کتاب الوقف کتاب البیوع کتاب الحوالہ کتاب الشہادۃ اور کتاب القضاء والدعاوی پر مشتمل اٹھارہ جلدیں شائع ہوچکی ہیں جن کی تفصیل سنین مشمولات مجموعی صفحات اور ان میں شامل رسائل کی تعداد کے اعتبار حسب ذیل ہے :
جلد عنوان جوابات اسئلہ تعداد رسائل سنین اشاعت صفحات
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر(ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
۱۵ کتاب السیر(ب) ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
۱۸ کتاب الشھادۃکتاب القضاء و الدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱___________جولائی ۲۰۰۰ ۷۴۰
انیسویں جلد
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلد ہشتم مطبوعہ المجدد احمدرضااکیڈمی کراچی کے شروع سے صفحہ ۲۵۵ تک ۲۹۶ سوالوں کے جوابات اور ۶۹۲ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کاترجمہ راقم الحروف
۱ کتاب الطہارۃ ۲۲ ۱۱ شعبان المعظم ھ ______مارچ ء ۸۳۸
۲ کتاب الطہارۃ ۳۳ ۷ ربیع الثانی ___________نومبر ء ۷۱۰
۳ کتاب الطہارۃ ۵۹ ۶ شعبان المعظم _________فروری ۷۵۶
۴ کتاب الطہارۃ ۱۳۲ ۵ رجب المرجب ۱۱۳ ________جنوری ۷۶۰
۵ کتاب الصلوۃ ۱۴۰ ۶ ربیع الاول ___________ستمبر ۶۹۲
۶ کتاب الصلوۃ ۴۵۷ ۴ ربیع الاول ___________اگست ۷۳۶
۷ کتاب الصلوۃ ۲۶۹ ۷ رجب المرجب _________دسمبر ۷۲۰
۸ کتاب الصلوۃ ۳۳۷ ۶ محرم الحرام___________جون ۶۶۴
۹ کتاب الجنائز ۲۷۳ ۱۳ ذیقعدہ______________اپریل ۹۴۶
۱۰ کتاب زکوۃصومحج ۳۱۶ ۱۶ ربیع الاول___________اگست ۸۳۲
۱۱ کتاب النکاح ۴۵۹ ۶ محرم الحرام___________مئی ۷۳۶
۱۲ کتاب نکاحطلاق ۳۲۸ ۳ رجب المرجب_________نومبر ۶۸۸
۱۳ کتاب طلاقایمان اور حدود و تعزیر ۲۹۳ ۲ ذیقعدہ _____________مارچ ۶۸۸
۱۴ کتاب السیر(ا) ۳۳۹ ۷ جمادی الاخری ۱۴۱۹_________ستمبر ۱۹۹۸ ۷۱۲
۱۵ کتاب السیر(ب) ۸۱ ۱۵ محرم الحرام۱۴۲۰__________ اپریل ۱۹۹۹ ۷۴۴
۱۶ کتاب الشرکۃکتاب الوقف ۴۳۲ ۳ جمادی الاولی ۱۴۰ __________ستمبر ۱۹۹۹ ۶۳۲
۱۷ کتاب البیوعکتاب الحوالہکتاب الکفالہ ۱۵۳ ۲ ذیقعد ۱۴۲۰ _____________فروری ۲۰۰۰ ۷۲۶
۱۸ کتاب الشھادۃکتاب القضاء و الدعاوی ۱۵۲ ۲ ربیع الثانی ۱۴۲۱___________جولائی ۲۰۰۰ ۷۴۰
انیسویں جلد
یہ جلد فتاوی رضویہ قدیم جلد ہشتم مطبوعہ المجدد احمدرضااکیڈمی کراچی کے شروع سے صفحہ ۲۵۵ تک ۲۹۶ سوالوں کے جوابات اور ۶۹۲ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس جلد کی عربی وفارسی عبارات کاترجمہ راقم الحروف
نے کیاہے۔ اس سے قبل گیارہویں بارہویں تیرہویں سولہویں سترہویں اور اٹھارویں جلد بھی راقم کے ترجمہ کے ساتھ شائع ہوچکی ہیں۔ پیش نظر جلد بنیادی طور پر کتاب الوکالہ کتاب الاقرار کتاب الصلح کتاب المضاربہ کتاب الامانات کتاب العاریہ کتاب الہبہ کتاب الاجارہ کتاب الاکراہ کتاب الحجر اور کتاب الغصب کے مباحث جلیلہ پر مشتمل ہے تاہم متعدد ابواب فقہیہ وکلامیہ وغیرہ کے مسائل ضمنا زیربحث آئے ہیں مسائل ورسائل کی مفصل فہرست کے علاوہ مسائل ضمنیہ کی الگ فہرست بھی قارئین کرام کی سہولت کے لئے تیارکردی گئی ہے۔ انتہائی وقیع اور گرانقدر تحقیقات وتدقیقات پرمشتمل مندرجہ ذیل تین رسالے بھی اس جلد کی زینت ہیں:
(۱) فتح الملیک فی حکم التملیک (۱۳۰۸ھ)
ہبہ اور تملیک میں فرق کا بیان
(۲) اجود القری لطالب الصحۃ فی اجارۃ القری (۱۳۰۲ھ)
دیہات کے ٹھیکہ کی صحت کے طلبگار کے لئے بہترین مہمانی
(۳) المنی والدررلمن عمد منی آردر (۱۳۱۱ھ)
منی آرڈر کی فیس کا شرعی حکم
ذیقعد ۱۴۲۱ھ حافظ محمد عبدالستارسعیدی
فروری ۲۰۰۱ ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
(۱) فتح الملیک فی حکم التملیک (۱۳۰۸ھ)
ہبہ اور تملیک میں فرق کا بیان
(۲) اجود القری لطالب الصحۃ فی اجارۃ القری (۱۳۰۲ھ)
دیہات کے ٹھیکہ کی صحت کے طلبگار کے لئے بہترین مہمانی
(۳) المنی والدررلمن عمد منی آردر (۱۳۱۱ھ)
منی آرڈر کی فیس کا شرعی حکم
ذیقعد ۱۴۲۱ھ حافظ محمد عبدالستارسعیدی
فروری ۲۰۰۱ ء ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
بسم الله الرحمن الرحیم
کتاب ا لوکالۃ
(وکالت کا بیان)
مسئلہ ۱: از کمیپ میرٹھ لال کرتی بازار محلہ گھوسیاں مرسلہ شیخ غلام احمد صاحب ۴ رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
جناب مولنا! بعد تقدیم سلام عرض یہ ہے کہ اس مسئلہ کی ضرورت ہے جلد مشرف فرمائیں۔
بعض شخصوں نے کچھ روپے زید کو دئے کہ ان کی کتابیں دینیہ لے کر طالبعلموں کو دے دو۔زید کے پاس خود وہ کتابیں دینیہ موجودتھیں اس نے اپنے پاس سے حسب نرخ بازار کتابیں لے کر طالبعلموں کو تقسیم کردیں اور وہ روپے اپنی کتابوں کی قیمت میں آپ رکھ لئے اور یہ سمجھا کہ میں نے یہ بیع اصالۃ اور خرید وکالۃ کی ہے اور مقتضائے حال سے قطعا معلوم ہے کہ مالکوں کو ہر گز کچھ غرض اس سے متعلق نہ تھی کہ بازار ہی سے کتابیں خریدی جائیں اسی واسطے انھوں نے معاملہ میں یہ قیدنہیں لگائی ان کا اصل مقصد تقسیم کتب سے تھا وہ زید نے بخوبی کردیا۔اب سوال یہ ہے کہ یہ تقسیم کتب مالکوں کی طرف سے ہوگئی یا نہیں اور اگر نہیں ہوئی تو اب کیا کیا جائے کتابیں واپس نہیں ہوسکتیںبالکل یادنہیں رہاکہ وہ طالبعلم کون کون تھےزیادہ زمانہ گزر گیا۔اور مسئلہ میں شبہ اب پڑا اور وہ روپے بھی باقی نہیں رہےبینوا توجروا(بیان کیجئے اجر دئے جاؤ گے۔ت)
کتاب ا لوکالۃ
(وکالت کا بیان)
مسئلہ ۱: از کمیپ میرٹھ لال کرتی بازار محلہ گھوسیاں مرسلہ شیخ غلام احمد صاحب ۴ رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
جناب مولنا! بعد تقدیم سلام عرض یہ ہے کہ اس مسئلہ کی ضرورت ہے جلد مشرف فرمائیں۔
بعض شخصوں نے کچھ روپے زید کو دئے کہ ان کی کتابیں دینیہ لے کر طالبعلموں کو دے دو۔زید کے پاس خود وہ کتابیں دینیہ موجودتھیں اس نے اپنے پاس سے حسب نرخ بازار کتابیں لے کر طالبعلموں کو تقسیم کردیں اور وہ روپے اپنی کتابوں کی قیمت میں آپ رکھ لئے اور یہ سمجھا کہ میں نے یہ بیع اصالۃ اور خرید وکالۃ کی ہے اور مقتضائے حال سے قطعا معلوم ہے کہ مالکوں کو ہر گز کچھ غرض اس سے متعلق نہ تھی کہ بازار ہی سے کتابیں خریدی جائیں اسی واسطے انھوں نے معاملہ میں یہ قیدنہیں لگائی ان کا اصل مقصد تقسیم کتب سے تھا وہ زید نے بخوبی کردیا۔اب سوال یہ ہے کہ یہ تقسیم کتب مالکوں کی طرف سے ہوگئی یا نہیں اور اگر نہیں ہوئی تو اب کیا کیا جائے کتابیں واپس نہیں ہوسکتیںبالکل یادنہیں رہاکہ وہ طالبعلم کون کون تھےزیادہ زمانہ گزر گیا۔اور مسئلہ میں شبہ اب پڑا اور وہ روپے بھی باقی نہیں رہےبینوا توجروا(بیان کیجئے اجر دئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں زید کو اصلا یہ اختیارنہ تھا۔نہ وہ بیع ان روپیہ دینے والوں کے ہاتھ ہوئی۔
فان الواحد لایتولی طرفی العقد فی البیع وامثالہ بخلاف النکاح۔ کہ بیشك ایك ہی شخص بیع جیسے عوض کے معاملات میں خرید اور فروخت دونوں کا ولی نہیں بن سکتا بخلاف نکاح کہ اس میں بن سکتا ہے۔(ت)
تویہ کتابیں اس کی اپنی گئیں روپے کے مالکوں کو ان کا روپیہ واپس کرے۔
فی الدرالمختار لایعقد وکیل البیع والشراء والاجارۃ ونحوھامع من ترد شہادتہ لہ الا اذا اطلق لہ المؤکل کبع ممن شئت فیجوز بمثل القیمۃ وفی السراجیۃ لوصرح بہم جاز اجماعا الا من نفسہ اھ مختصرا وفی ردالمحتار عن منح الغفار عن السراج الوھاج لو امرہ بالبیع من ھؤلاء فانہ یجوز اجماعا الا ان یبیعہ من نفسہ فلا یجوز قطعا وان صرح بہ الموکل اھ باختصار۔واﷲ سبحنہ تعالی اعلم۔ درمختارمیں ہے بیع شراء اور اجارہ ان جیسے معاملات کاوکیل ایسے لوگوں سے عقد نہیں کرسکتا جن کی شہادت اس کے حق میں مقبول نہیں مگر اس صورت میں جبکہ موکل نے اسے عام اختیار دیا ہو مثلا یہ کہہ دے تو جس سے چاہے بیع کرتو ایسی صورت میں وہ ان لوگوں سے بازاری قیمت پر عقد کرسکتاہے اور سراجیہ میں ہے اگر موکل نے ایسے لوگوں سے عقد کی صراحتا اجازت دی تو بالاجماع بیع جائز ہے لیکن خود اپنے لئے خرید نہیں کرسکتا اھ مختصرا۔اور ردمحتار میں ہے منح الغفار کے حوالہ سے السراج الوھاج سے منقول ہے کہ اگر موکل نے ایسے لوگوں سے بیع کا اختیار دیا ہو تو بالاجماع ان لوگوں سے بیع جائز ہے لیکن اپنی ذات کے لئے خریدنا تو یہ قطعا جائز نہیں اگرچہ مؤکل نے اس کو صراحۃ یہ اجازت بھی دی ہو اھ مختصرا۔والله سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲: از دولت پور ضلع بلند شہر مرسلہ بشیر محمد خاں صاحب ۵ شعبان ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں وکیل مطلق اگر کسی کو کچھ معاف کردے اور اس کو اختیارات کامل معاف کردینے کے حاصل ہوں توپھر وہ رقم معاف شدہ از روئے شرع شریف کے پانے کا مستحق
صورت مستفسرہ میں زید کو اصلا یہ اختیارنہ تھا۔نہ وہ بیع ان روپیہ دینے والوں کے ہاتھ ہوئی۔
فان الواحد لایتولی طرفی العقد فی البیع وامثالہ بخلاف النکاح۔ کہ بیشك ایك ہی شخص بیع جیسے عوض کے معاملات میں خرید اور فروخت دونوں کا ولی نہیں بن سکتا بخلاف نکاح کہ اس میں بن سکتا ہے۔(ت)
تویہ کتابیں اس کی اپنی گئیں روپے کے مالکوں کو ان کا روپیہ واپس کرے۔
فی الدرالمختار لایعقد وکیل البیع والشراء والاجارۃ ونحوھامع من ترد شہادتہ لہ الا اذا اطلق لہ المؤکل کبع ممن شئت فیجوز بمثل القیمۃ وفی السراجیۃ لوصرح بہم جاز اجماعا الا من نفسہ اھ مختصرا وفی ردالمحتار عن منح الغفار عن السراج الوھاج لو امرہ بالبیع من ھؤلاء فانہ یجوز اجماعا الا ان یبیعہ من نفسہ فلا یجوز قطعا وان صرح بہ الموکل اھ باختصار۔واﷲ سبحنہ تعالی اعلم۔ درمختارمیں ہے بیع شراء اور اجارہ ان جیسے معاملات کاوکیل ایسے لوگوں سے عقد نہیں کرسکتا جن کی شہادت اس کے حق میں مقبول نہیں مگر اس صورت میں جبکہ موکل نے اسے عام اختیار دیا ہو مثلا یہ کہہ دے تو جس سے چاہے بیع کرتو ایسی صورت میں وہ ان لوگوں سے بازاری قیمت پر عقد کرسکتاہے اور سراجیہ میں ہے اگر موکل نے ایسے لوگوں سے عقد کی صراحتا اجازت دی تو بالاجماع بیع جائز ہے لیکن خود اپنے لئے خرید نہیں کرسکتا اھ مختصرا۔اور ردمحتار میں ہے منح الغفار کے حوالہ سے السراج الوھاج سے منقول ہے کہ اگر موکل نے ایسے لوگوں سے بیع کا اختیار دیا ہو تو بالاجماع ان لوگوں سے بیع جائز ہے لیکن اپنی ذات کے لئے خریدنا تو یہ قطعا جائز نہیں اگرچہ مؤکل نے اس کو صراحۃ یہ اجازت بھی دی ہو اھ مختصرا۔والله سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲: از دولت پور ضلع بلند شہر مرسلہ بشیر محمد خاں صاحب ۵ شعبان ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں وکیل مطلق اگر کسی کو کچھ معاف کردے اور اس کو اختیارات کامل معاف کردینے کے حاصل ہوں توپھر وہ رقم معاف شدہ از روئے شرع شریف کے پانے کا مستحق
حوالہ / References
& درمختار کتاب الوکالۃ باب الوکالۃ بالبیع والشراء €∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۰۷€
ردالمحتار کتاب الوکالۃ باب الوکالۃ بالبیع والشراء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۰۷€
ردالمحتار کتاب الوکالۃ باب الوکالۃ بالبیع والشراء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۰۷€
ہے یانہیں
الجواب:
اگر صراحۃ معاف کردینے کی اجازت مؤکل نے دے دی تھی جب تو اس کامعاف کیا ہوا بعینہ موکل کامعاف کیا ہوا ہے جہاں خود اپنی معافی کو واپس نہیں لے سکتا وکیل کی معافی بھی واپس نہ ہوسکے گی اور شرعا اس رقم کا مستحق نہ رہے گااگر صرف وکیل عام کیا یا کہہ دیا کہ اس کا جملہ ساختہ پر داختہ مثل میرے ذات کے ہے تو معاف کردینے کا وکیل کو اختیار نہ ہوگاموکل اگر قبول نہ کرے تو رقم معاف کر دہ لے سکتا ہے۔درمختار میں ہے :
اعلم ان الوکیل وکالۃ عامۃ مطلقۃ مفوضۃ انما یملك المعاوضات لاالطلاق والعتاق والتبرعات بہ یفتی زواہر الجواہرتنویر البصائر۔ واضح رہےکہ جس وکیل کو مطلق عام وکالت تفویض کی گئی ہو وہ صرف عوض والے معاملات میں مختار ہوگاطلاقعتاق اور تبرعات کا اختیار اسے نہ ہوگااسی پر فتوی دیا جائےزواہر الجواہرتنویر البصائر(ت)
اور بزازیہ میں ہے :
انت وکیل فی کل شیئ جائز امرك ملك الحفظ و البیع والشراء الا العتق و التبرع وعلیہ الفتوی اھ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم۔ تجھے ہر جائز معاملہ میں میری وکالت ہے۔تو اس سے وکیل کو حفاظتبیع اور شراء کا اختیار حاصل ہوگاعتق اور تبرعات کا اختیار نہ ہوگا اور اسی پر فتوی ہے اھ ملخصا۔والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳: ازدفتر محکمہ زراعت پنجاب لاہور مسئولہ محمد نصرالله صاحب ۲۱ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ پیشتر وکالت ازروئے شرع شریف جائز ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
وکالت جس طرح رائج ہے کہ حق کو ناحقناحق کو حق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگروہ سچ
الجواب:
اگر صراحۃ معاف کردینے کی اجازت مؤکل نے دے دی تھی جب تو اس کامعاف کیا ہوا بعینہ موکل کامعاف کیا ہوا ہے جہاں خود اپنی معافی کو واپس نہیں لے سکتا وکیل کی معافی بھی واپس نہ ہوسکے گی اور شرعا اس رقم کا مستحق نہ رہے گااگر صرف وکیل عام کیا یا کہہ دیا کہ اس کا جملہ ساختہ پر داختہ مثل میرے ذات کے ہے تو معاف کردینے کا وکیل کو اختیار نہ ہوگاموکل اگر قبول نہ کرے تو رقم معاف کر دہ لے سکتا ہے۔درمختار میں ہے :
اعلم ان الوکیل وکالۃ عامۃ مطلقۃ مفوضۃ انما یملك المعاوضات لاالطلاق والعتاق والتبرعات بہ یفتی زواہر الجواہرتنویر البصائر۔ واضح رہےکہ جس وکیل کو مطلق عام وکالت تفویض کی گئی ہو وہ صرف عوض والے معاملات میں مختار ہوگاطلاقعتاق اور تبرعات کا اختیار اسے نہ ہوگااسی پر فتوی دیا جائےزواہر الجواہرتنویر البصائر(ت)
اور بزازیہ میں ہے :
انت وکیل فی کل شیئ جائز امرك ملك الحفظ و البیع والشراء الا العتق و التبرع وعلیہ الفتوی اھ ملخصا۔ واﷲ تعالی اعلم۔ تجھے ہر جائز معاملہ میں میری وکالت ہے۔تو اس سے وکیل کو حفاظتبیع اور شراء کا اختیار حاصل ہوگاعتق اور تبرعات کا اختیار نہ ہوگا اور اسی پر فتوی ہے اھ ملخصا۔والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳: ازدفتر محکمہ زراعت پنجاب لاہور مسئولہ محمد نصرالله صاحب ۲۱ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ پیشتر وکالت ازروئے شرع شریف جائز ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
وکالت جس طرح رائج ہے کہ حق کو ناحقناحق کو حق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگروہ سچ
حوالہ / References
درمختار کتاب الوکالۃ باب الوکالۃ بالبیع والشراء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۰۹€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الوکالۃ الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۶۰۔۴۵۹€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ کتاب الوکالۃ الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۶۰۔۴۵۹€
بولنا چاہے تو کہتے ہیں اگر سچ کہو گے تو تمھارا مقدمہ سرسبزنہ ہوگاجھوٹی گواہیاں دلواتے ہیں۔جھوٹے حلف اٹھواتے ہیں۔قطعی حرام ہےاور ایسی ہی وکالت آج کل فروغ پاسکتی ہےوہ جو کامل تحقیقات کے بعد جسے حق پر جان لے صرف اس کی وکالت کرےمحض بطور حق کرےجھوٹ بولنے یا بلوانے سے پرہیز کرے اس کی وکالت اس زمانے میں اصلا نہیں چل سکتی۔والله تعالی اعلم۔
کتاب الاقرار
(اقرار کا بیان)
مسئلہ ۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك امرکا پیش قاضی اقرار کیا اور اس اقرارکا معترف تھااب اس امر سے انکار کرتاہےآیا یہ انکار اس کا معتبر ہوگا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
صورت مسئولہ میں زید اپنے اقرار پرماخوذ اور انکار اس کا مردود ہوگا
فی العالمگیریۃ ان کان الواھب اقر بذلك عندالقاضی والعبد فی یدہ اخذ باقرارہ وفی الاشباہ والنظائر اذا اقربشیئ ثم ادعی الخطألم تقبل کمافی الخانیۃ واﷲ تعالی اعلم۔ عالمگیری میں ہے اگر ہبہ کرنے والے نے یہ اقرار کیا حالانکہ غلام اس کے قبضہ میں ہے تو وہ اپنے اقرار کی بناء پرماخوذ اور پابند ہوگا۔اور الاشباہ والنظائر میں ہے جب کوئی کسی چیز کا اقرار کرلے پھر اقرار کے خطا ہونے کا دعوی کرے تو یہ دعوی مقبول نہ ہوگاجیسا کہ خانیہ میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(اقرار کا بیان)
مسئلہ ۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك امرکا پیش قاضی اقرار کیا اور اس اقرارکا معترف تھااب اس امر سے انکار کرتاہےآیا یہ انکار اس کا معتبر ہوگا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
صورت مسئولہ میں زید اپنے اقرار پرماخوذ اور انکار اس کا مردود ہوگا
فی العالمگیریۃ ان کان الواھب اقر بذلك عندالقاضی والعبد فی یدہ اخذ باقرارہ وفی الاشباہ والنظائر اذا اقربشیئ ثم ادعی الخطألم تقبل کمافی الخانیۃ واﷲ تعالی اعلم۔ عالمگیری میں ہے اگر ہبہ کرنے والے نے یہ اقرار کیا حالانکہ غلام اس کے قبضہ میں ہے تو وہ اپنے اقرار کی بناء پرماخوذ اور پابند ہوگا۔اور الاشباہ والنظائر میں ہے جب کوئی کسی چیز کا اقرار کرلے پھر اقرار کے خطا ہونے کا دعوی کرے تو یہ دعوی مقبول نہ ہوگاجیسا کہ خانیہ میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الہبۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۹۸€
الاشباہ والنظائر کتاب الاقرار الفن الثانی ادارۃالقرآن ∞کراچی ۲ /۲۰€
الاشباہ والنظائر کتاب الاقرار الفن الثانی ادارۃالقرآن ∞کراچی ۲ /۲۰€
مسئلہ۵: از گورکھپور محلہ گھوسی پورہ مرسلہ مولوی حکیم محمد عبداﷲ صاحب ۲۹ ربیع الآخر ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرعی متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے مرض موت میں بحضور ایك جماعت معز زین زوجہ کے مہر کا اقرارکیا اور کہا کہ میرے ذمہ پچاس ہزار روپیہ دین مہر میری زوجہ کا واجب الادا ہے وہ اب تك مجھ سے ادا نہیں ہوا اب ادا ہونا اس کا ضروری ہےلہذا میں اپنی زوجہ کو اختیار دیتاہوں کہ وہ دین مہر اپنا میری جائداد منقولہ وغیر منقولہ سے وصول کرلےبعدہ زوجہ نے بناء برہدایت شوہر اپنے کل جائداد شوہری پر قبضہ اپنا کرلیابعدہ ورثہ مقرباہم مختلف ہوئےاکثر نے اقرار اپنے مورث کا تسلیم کیا۔اور بعض کا بیان ہے کہ دعوی اقرار غلط ہے اور مہر زوجہ کا اس قدرنہیں بندھا تھا۔اب استفسار یہ ہے کہ اقرارمورث جو کہ بشہادت معزز لوگوں کے ثابت ہے شرعا قابل اعتبارہے یانہیںاورمقدار مہر مطابق اقرار مورث کے شرعا واجب الثبوت ہے یانہیںاور قبضہ زوجہ مقر کا بعوض دین مہر اپنے جائداد شوہری پر شرعا قابل نفاذ ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
اصل یہ ہے کہ مرض موت میں وارث کے لئے اقرار بے تصدیق دیگر ورثہ معتبرنہیں۔
کما نصواعلیہ قاطبۃ وعللوہ بان حقہم تعلق بمالہ ففی تخصیص البعض بہ ابطال حق الباقین۔ جیسا کہ اس پرسب نے نص فرمائی ہے اور انہوں نے اس کی علت یہ بیان فرمائی کہ تمام ورثاء کا حق میت کے تمام ترکہ سے متعلق ہے تو ترکہ سے کچھ ورثاء کی تخصیص میں باقی ورثاء کے حق کو باطل کرناہے(ت)
مگر جبکہ نکاح معروف ہو تو عورت کے لئے مہر مثل تك اقرار صحیح ومقبول ہے وجہ اس کی یہ کہ مہر مثل موجب اصلی نکاح ہے کما صرح فی الہدایۃ وغیرھا(جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں اس کی تصریح ہے۔ت)تو خود ثبوت نکاح اس کے اثبات میں کافی فان الشیئ اذا ثبت ثبت باحکامہ(کیونکہ جب کوئی شے ثابت ہوتی ہے تو وہ اپنے احکام سمیت ثابت ہوتی ہے۔ت)ولہذا عورت کی بلابینہ اس مقدار تك تصدیق کی جاتی ہے۔
فی وصایا الخانیۃ رجل مات عن اولادہ الصغار وادعت المرأۃ مہرھا قالو ان کان النکاح معروفا کان القول قول المرأۃ الی مھر مثلہا یدفع ذلك خانیہ کے وصایا میں ہے ایك شخص فوت ہوا نابالغ اولاد چھوڑی او رعورت نے ترکہ پر اپنے مہر کا دعوی کیا تو فقہاء کرام نے فرمایا اگر عورت سے میت کا نکاح معروف ومعلوم ہے تو عورت کامہر مثل تك دعوی قبول کیا جائے گا اور اتنا مہر عورت کو
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرعی متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے مرض موت میں بحضور ایك جماعت معز زین زوجہ کے مہر کا اقرارکیا اور کہا کہ میرے ذمہ پچاس ہزار روپیہ دین مہر میری زوجہ کا واجب الادا ہے وہ اب تك مجھ سے ادا نہیں ہوا اب ادا ہونا اس کا ضروری ہےلہذا میں اپنی زوجہ کو اختیار دیتاہوں کہ وہ دین مہر اپنا میری جائداد منقولہ وغیر منقولہ سے وصول کرلےبعدہ زوجہ نے بناء برہدایت شوہر اپنے کل جائداد شوہری پر قبضہ اپنا کرلیابعدہ ورثہ مقرباہم مختلف ہوئےاکثر نے اقرار اپنے مورث کا تسلیم کیا۔اور بعض کا بیان ہے کہ دعوی اقرار غلط ہے اور مہر زوجہ کا اس قدرنہیں بندھا تھا۔اب استفسار یہ ہے کہ اقرارمورث جو کہ بشہادت معزز لوگوں کے ثابت ہے شرعا قابل اعتبارہے یانہیںاورمقدار مہر مطابق اقرار مورث کے شرعا واجب الثبوت ہے یانہیںاور قبضہ زوجہ مقر کا بعوض دین مہر اپنے جائداد شوہری پر شرعا قابل نفاذ ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
اصل یہ ہے کہ مرض موت میں وارث کے لئے اقرار بے تصدیق دیگر ورثہ معتبرنہیں۔
کما نصواعلیہ قاطبۃ وعللوہ بان حقہم تعلق بمالہ ففی تخصیص البعض بہ ابطال حق الباقین۔ جیسا کہ اس پرسب نے نص فرمائی ہے اور انہوں نے اس کی علت یہ بیان فرمائی کہ تمام ورثاء کا حق میت کے تمام ترکہ سے متعلق ہے تو ترکہ سے کچھ ورثاء کی تخصیص میں باقی ورثاء کے حق کو باطل کرناہے(ت)
مگر جبکہ نکاح معروف ہو تو عورت کے لئے مہر مثل تك اقرار صحیح ومقبول ہے وجہ اس کی یہ کہ مہر مثل موجب اصلی نکاح ہے کما صرح فی الہدایۃ وغیرھا(جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں اس کی تصریح ہے۔ت)تو خود ثبوت نکاح اس کے اثبات میں کافی فان الشیئ اذا ثبت ثبت باحکامہ(کیونکہ جب کوئی شے ثابت ہوتی ہے تو وہ اپنے احکام سمیت ثابت ہوتی ہے۔ت)ولہذا عورت کی بلابینہ اس مقدار تك تصدیق کی جاتی ہے۔
فی وصایا الخانیۃ رجل مات عن اولادہ الصغار وادعت المرأۃ مہرھا قالو ان کان النکاح معروفا کان القول قول المرأۃ الی مھر مثلہا یدفع ذلك خانیہ کے وصایا میں ہے ایك شخص فوت ہوا نابالغ اولاد چھوڑی او رعورت نے ترکہ پر اپنے مہر کا دعوی کیا تو فقہاء کرام نے فرمایا اگر عورت سے میت کا نکاح معروف ومعلوم ہے تو عورت کامہر مثل تك دعوی قبول کیا جائے گا اور اتنا مہر عورت کو
الیہا اھ ملخصا دے دیا جائے گا اھ ملخصا(ت)
تو اس قدر میں مریض کی تصدیق اس کے اقرار سے کسی امر غیر ثابت کا ثابت کرنا نہیں بناء براں واجب القبول ہوا۔فتاوی امام خیرالدین رملی میں ہے:
سأل فیما اذا اقربحضرۃ بینۃ شرعیۃ فی مرضہ بان فی ذمتہ لزوجتہ خمسۃ وعشرین دینارا ذھبا مہرا مؤجلا و صدقتہ فیہ وصدق علی ذلك بعد موتہ بعض ورثتہ وکذب البعض فہل الاقرار المذکور صحیح ام لا(اجاب)الاقرار بالمہرصحیح صحیح حیث کانت ممن یؤجل لہا مثل المقربہ کما صرح بہ فی جامع الفصولین وغیرہ معللا بقولہ اذ یقبل قولہا الی تمام مہر مثلہا بلااقرار الزوج اھ بتلخیص۔ ان سے سوال ہوا اس صورت کے متعلق کہ جب کوئی شخص اپنی مرض موت میں شرعی گواہوں کی موجودگی میں یہ اقرار کرے کہ اس کی بیوی کا اس کے ذمہ پچیس دینار سونامہر مؤجل ہے اور بیوی اس اقرار کی تصدیق کرتی ہے اور اس کی موت کے بعد اس کے بعض ورثاء بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں جبکہ بعض ورثاء اس کو جھوٹ قرار دیتے ہیں توکیا مذکورہ اقرار صحیح ہوگا یانہیںتو امام خیر الدین رملی نے جواب دیاکہ وہ عورت ایسی ہوکہ اس کےلئے اقرار میں بیان کردہ مہرکی مقدار مؤجل ہوتی ہے۔تومہر کا یہ اقرار صحیح ہے جیسا کہ جامع الفصولین وغیرہ میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے یہ علت بیان فرمائی کہ خاوند کے اقرار کے بغیر بھی مہر مثل کی حدتك عورت کا قول قبول کیا جائے گا اھ ملخصا(ت)
پس اگر پچاس ہزار روپے عورت کے مہر مثل سے زائد نہیں تو اس پوری مقدارمیں مریض کا اقرار مقبول ہوگا اور زائد ہیں تو صرف مقدارمہر مثل تك معتبراور قدر زائد میں تصدیق ورثہ یا اقامت بینہ عادلہ شرعیہ کی حاجت ہوگی۔
فان البینۃ کاسمہا مبینۃ والثابت بالشہادۃ کالثابت بالمشاھدۃ۔ کیونکہ بینہ اپنے عنوان کے مطابق واضح کرنےوالا ہے اور شہادت کے ساتھ ثابت شدہ چیزگویا وہ مشاہدہ سے ثابت ہے۔ (ت)
خیریہ کے فتوی مذکورہ میں ہے:
تو اس قدر میں مریض کی تصدیق اس کے اقرار سے کسی امر غیر ثابت کا ثابت کرنا نہیں بناء براں واجب القبول ہوا۔فتاوی امام خیرالدین رملی میں ہے:
سأل فیما اذا اقربحضرۃ بینۃ شرعیۃ فی مرضہ بان فی ذمتہ لزوجتہ خمسۃ وعشرین دینارا ذھبا مہرا مؤجلا و صدقتہ فیہ وصدق علی ذلك بعد موتہ بعض ورثتہ وکذب البعض فہل الاقرار المذکور صحیح ام لا(اجاب)الاقرار بالمہرصحیح صحیح حیث کانت ممن یؤجل لہا مثل المقربہ کما صرح بہ فی جامع الفصولین وغیرہ معللا بقولہ اذ یقبل قولہا الی تمام مہر مثلہا بلااقرار الزوج اھ بتلخیص۔ ان سے سوال ہوا اس صورت کے متعلق کہ جب کوئی شخص اپنی مرض موت میں شرعی گواہوں کی موجودگی میں یہ اقرار کرے کہ اس کی بیوی کا اس کے ذمہ پچیس دینار سونامہر مؤجل ہے اور بیوی اس اقرار کی تصدیق کرتی ہے اور اس کی موت کے بعد اس کے بعض ورثاء بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں جبکہ بعض ورثاء اس کو جھوٹ قرار دیتے ہیں توکیا مذکورہ اقرار صحیح ہوگا یانہیںتو امام خیر الدین رملی نے جواب دیاکہ وہ عورت ایسی ہوکہ اس کےلئے اقرار میں بیان کردہ مہرکی مقدار مؤجل ہوتی ہے۔تومہر کا یہ اقرار صحیح ہے جیسا کہ جامع الفصولین وغیرہ میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے یہ علت بیان فرمائی کہ خاوند کے اقرار کے بغیر بھی مہر مثل کی حدتك عورت کا قول قبول کیا جائے گا اھ ملخصا(ت)
پس اگر پچاس ہزار روپے عورت کے مہر مثل سے زائد نہیں تو اس پوری مقدارمیں مریض کا اقرار مقبول ہوگا اور زائد ہیں تو صرف مقدارمہر مثل تك معتبراور قدر زائد میں تصدیق ورثہ یا اقامت بینہ عادلہ شرعیہ کی حاجت ہوگی۔
فان البینۃ کاسمہا مبینۃ والثابت بالشہادۃ کالثابت بالمشاھدۃ۔ کیونکہ بینہ اپنے عنوان کے مطابق واضح کرنےوالا ہے اور شہادت کے ساتھ ثابت شدہ چیزگویا وہ مشاہدہ سے ثابت ہے۔ (ت)
خیریہ کے فتوی مذکورہ میں ہے:
حوالہ / References
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الوصایا فصل فی تصرفات الوصی ∞نولکشور لکھنؤ ۴/۸۵۹€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاقرار دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۰۰€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاقرار دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۰۰€
والحاصل ان الاقرار لہا بالدنانیر المذکورۃ مہرا صحیح حیث لا زیادۃ فیہ علی مایؤجل لمثلہا ولا یحتاج فیہ الی تصدیق الورثۃ وان کان فیہ زیادۃ لایصح بہا الابہ ویصح فیما ھو مہر مثلہا ۔ حاصل یہ کہ بیوی کے لئے مذکورہ دنانیر مہر کا اقرار تب صحیح ہوگا جب اس جیسی عورت کے مہر مؤجل کے برابرہو زائد نہ ہو اور اس میں ورثاء کی تصدیق کی ضرورت نہیںاور اگر اس سے زائد ہو تو پھر ورثائے کی تصدیق کے بغیر اقرار صحیح نہ ہوگا اور یہ بھی مہر مثل کی حد تك صحیح ہوگا۔
اس قدر سے سوال کہ دو امر کاجواب منکشف ہوگیا۔رہا امر ثالث یعنی زوجہ کا جائداد مورث پر بعوض مہر بے رضائے ورثہ قبضہ کرلیناواضح ہو کہ دین ایك مال حکمی ہے کہ ذمہ پر ثابت ہوتاہے کما فی الحاوی القدسی(جیسا کہ الحاوی القدس میں ہے۔ ت)اور اس کی ادا اس کے مثل ہی سے ہوتی ہے
فقد نصوا ان الدیون تقضی بامثالہا کما فی الاشباہ وغیرھا۔ تو بیشك سب نے تصریح کی ہے کہ دیون کی ادائیگی اس کی مثل سے ہوگی جیساکہ الاشباہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
اور دین وعین محض متبائن ہیں نہ مثلینولہذا باجماع ائمہ حق دائن مالیت میں ہے نہ عین میں۔
نص علیہ فی غیر موضع من الہدایۃ وغیرھا عامۃ کتب المذھب منہا فی اقرار المریض ان حق الغرماء تعلق بالمالیۃ لابالصورۃ اھ۔ اس پر ہدایہ وغیرہ کتب مذہب میں متعدد مقامات پرنص ہے ان میں ایك مقام اقرار المریض میں ہے کہ حق کا مطالبہ کرنے والوں کا تعلق مالیت سے ہوتاہے کسی معین مال کی صورت سے نہیں ہوتا اھ(ت)
تو بطور خود اخذ عین بعوض دین تجارت بے تراضی ہے کہ بنصوص قطعی قرآن عظیم ممنوع وناجائز۔
" یایہا الذین امنوا لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل الا ان تکون تجرۃ عن ہمارے رب تعالی نے فرمایا:اے ایمان والو! آپس کے مال کوناجائز طریقے سے نہ کھاؤ مگر
اس قدر سے سوال کہ دو امر کاجواب منکشف ہوگیا۔رہا امر ثالث یعنی زوجہ کا جائداد مورث پر بعوض مہر بے رضائے ورثہ قبضہ کرلیناواضح ہو کہ دین ایك مال حکمی ہے کہ ذمہ پر ثابت ہوتاہے کما فی الحاوی القدسی(جیسا کہ الحاوی القدس میں ہے۔ ت)اور اس کی ادا اس کے مثل ہی سے ہوتی ہے
فقد نصوا ان الدیون تقضی بامثالہا کما فی الاشباہ وغیرھا۔ تو بیشك سب نے تصریح کی ہے کہ دیون کی ادائیگی اس کی مثل سے ہوگی جیساکہ الاشباہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
اور دین وعین محض متبائن ہیں نہ مثلینولہذا باجماع ائمہ حق دائن مالیت میں ہے نہ عین میں۔
نص علیہ فی غیر موضع من الہدایۃ وغیرھا عامۃ کتب المذھب منہا فی اقرار المریض ان حق الغرماء تعلق بالمالیۃ لابالصورۃ اھ۔ اس پر ہدایہ وغیرہ کتب مذہب میں متعدد مقامات پرنص ہے ان میں ایك مقام اقرار المریض میں ہے کہ حق کا مطالبہ کرنے والوں کا تعلق مالیت سے ہوتاہے کسی معین مال کی صورت سے نہیں ہوتا اھ(ت)
تو بطور خود اخذ عین بعوض دین تجارت بے تراضی ہے کہ بنصوص قطعی قرآن عظیم ممنوع وناجائز۔
" یایہا الذین امنوا لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل الا ان تکون تجرۃ عن ہمارے رب تعالی نے فرمایا:اے ایمان والو! آپس کے مال کوناجائز طریقے سے نہ کھاؤ مگر
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الاقرار دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۰۰€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث کتاب الوکالۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۱۵€
الہدایۃ باب اقرار المریض ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۴۰€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث کتاب الوکالۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۱۵€
الہدایۃ باب اقرار المریض ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۴۰€
تراض منکم " یہ کہ رضا مندی پر مبنی تجارت ہو۔(ت)
ہدایہ میں بیع مال مدیون بے رضائے مدیون کی نسبت فرمایا:
انہ تجارۃ لاعن تراض فیکون باطلا بالنص ۔ کہ یہ رضامندی کے بغیر تجارت ہے تواس کا باطل ہونا نص سے ثابت ہے۔(ت)
اسی لئے ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ دائن مال مدین عــــــہ سے خلاف جنس دین بے رضائے مدیوندین میں نہیں لے سکتاہدایہ میں ہے:
ان کان دینہ دراہم ولہ عروض لم یکن لصاحب الدین ان یاخذہ جبرا اھ ملتقطا۔ اگر اس پر دراہم قرض ہیں جبکہ اس کے اس موجود صرف سامان ہے تو قرض خواہ کو وہ سامان جبرا حاصل کرنا جائز نہیں اھ ملتقطا(ت)
اور عبارت وصایائے خلاصہ:
المرأۃ تاخذ مہرہا من الترکۃ من غیر رضا الورثۃ ان کانت الترکۃ دراھم او دنانیر وان کانت شیأا مما یحتاج الی البیع تبیع ماکان اصلح ویستوفیہ صداقتہا سواء کانت الوصیۃ من جہۃ زوجہا اولم تکن وتاخذ من غیر رضا الورثۃ ۔ اگر ترکہ میں دراہم یا دینار ہیں تو بیوی ترکہ سے اپنا مہر ورثاء کی رضامندی کے بغیر حاصل کرسکتی ہےاور اگر وہ ترکہ ایسا سامان ہے جس کی فروخت کرنے کی ضرورت ہے تو بیوی مناسب نقد پر فروخت کرے اور پنا مہر پورا کرلے خواہ خاوند کی طرف سے وصیت ہویا نہ ہواور بیوی ورثاء کی رضاء کے بغیر حاصل کرے۔(ت)
کہ اس قبضہ کی تجویز جو مفید زوجہ خیال کی گئی ہرگز مفیدنہیں بلکہ صاف خلاف پر نص ہے۔
عــــــہ:فی الاصل ھکذا لعلہ مدیون۔
ہدایہ میں بیع مال مدیون بے رضائے مدیون کی نسبت فرمایا:
انہ تجارۃ لاعن تراض فیکون باطلا بالنص ۔ کہ یہ رضامندی کے بغیر تجارت ہے تواس کا باطل ہونا نص سے ثابت ہے۔(ت)
اسی لئے ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ دائن مال مدین عــــــہ سے خلاف جنس دین بے رضائے مدیوندین میں نہیں لے سکتاہدایہ میں ہے:
ان کان دینہ دراہم ولہ عروض لم یکن لصاحب الدین ان یاخذہ جبرا اھ ملتقطا۔ اگر اس پر دراہم قرض ہیں جبکہ اس کے اس موجود صرف سامان ہے تو قرض خواہ کو وہ سامان جبرا حاصل کرنا جائز نہیں اھ ملتقطا(ت)
اور عبارت وصایائے خلاصہ:
المرأۃ تاخذ مہرہا من الترکۃ من غیر رضا الورثۃ ان کانت الترکۃ دراھم او دنانیر وان کانت شیأا مما یحتاج الی البیع تبیع ماکان اصلح ویستوفیہ صداقتہا سواء کانت الوصیۃ من جہۃ زوجہا اولم تکن وتاخذ من غیر رضا الورثۃ ۔ اگر ترکہ میں دراہم یا دینار ہیں تو بیوی ترکہ سے اپنا مہر ورثاء کی رضامندی کے بغیر حاصل کرسکتی ہےاور اگر وہ ترکہ ایسا سامان ہے جس کی فروخت کرنے کی ضرورت ہے تو بیوی مناسب نقد پر فروخت کرے اور پنا مہر پورا کرلے خواہ خاوند کی طرف سے وصیت ہویا نہ ہواور بیوی ورثاء کی رضاء کے بغیر حاصل کرے۔(ت)
کہ اس قبضہ کی تجویز جو مفید زوجہ خیال کی گئی ہرگز مفیدنہیں بلکہ صاف خلاف پر نص ہے۔
عــــــہ:فی الاصل ھکذا لعلہ مدیون۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴ /۲۹€
الہدایہ کتاب الحجر باب الحجر بسبب الدین ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۳۵€۶
الہدایہ کتاب الحجر باب الحجر بسبب الدین ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۳۵۷€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوصایا الفصل السابع ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ /۲۴۱€
الہدایہ کتاب الحجر باب الحجر بسبب الدین ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۳۵€۶
الہدایہ کتاب الحجر باب الحجر بسبب الدین ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۳۵۷€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوصایا الفصل السابع ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ /۲۴۱€
الاتری انہ رحمہ اﷲ تعالی خص اخذ العین بما اذا کانت الترکۃ دراھم اودنانیر وفی غیرہ انما اجازا لاستیفاء بالبیع لااخذ العین فی الدین ونص انہ لابدفیہ من البیع حیث قال وان کانت شیئا مما یحتاج الی البیع الخ۔فمعنی قولہ وتأخذ الثانی تأخذ المہر من الثمن وان لم یرض الورثۃ بل اظن وارجو ان اکون فی ظنی صادقا ان"لا"سقطت من تاخذ الثانی من قلم الناسخ وانما العبارۃ"ولاتاخذ من غیر رضا الورثۃ"اذبہ یحسن المقابلۃ بین ھذا وبین ماقدم من قولہ"تاخذ من غیر رضا الورثۃ ان کانت دراھم او دنانیر"فالمعنی تبیع وتستوفی قہرا علیہم ولا تاخذ العین الابرضا ھم فلتراجع نسخ الخلاصۃ فان النسخۃ التی عندی قد تقطعت اوراقہا من ھذا المقام ومن المحال ان آپ دیکھ رہے ہیں کہ صاحب خلاصہ رحمہ اﷲ تعالی نے تخصیص کی ہے کہ اگر ترکہ دراہم ودنیار ہیں تو عین ترکہ کولیناجائز ہے۔اور اگر ترکہ دراہم ودنانیر کا غیر ہو تو انہوں نے فروخت کرکے حق کی وصولی کو جائز کہاہے نہ کہ اس عین سامان ترکہ کو فروخت کرنے کی ضرورت پرنص فرمائی ہے جہاں انہوں نے فرمایا کہ اگر کوئی ایسی چیز ہو جس کو فروخت کرنے کی ضرورت ہے الخ اور عبارت میں دوسرے"تاخذ"کا معنی یہ ہے کہ بیوی اس چیز کے ثمن سے مہر وصول کرے اگر چہ ورثاء کی رضانہ ہو بلکہ میرا ظن ہے اور مجھے امید ہے کہ میں اس ظن میں صادق ہوںوہ یہ کہ یہاں"تاخذ"سے قبل"لا"نقل کرنے والے کے قلم سے ساقط ہوگیا ہے جبکہ اصل عبارت یوں تھی:ولاتاخذ من غیر رضا الورثۃیعنی ورثاء کی رضا کے بغیر نہ لے۔کیونکہ یوں اس عبارت کا پہلی عبارت سے مقابلہ درست ہوجاتاہے پہلی عبارت کہ اگر ترکہ دراہم ودینار ہو تو ورثاء کی رضا کے بغیر وصول کرلے تو اب دوسری عبارت کا معنی یہ ہوا کہ سامان کو فروخت کرے اور حق کو اس کے ثمن سے جبرا وصول کرے اور عین سامان کو ان کی مرضی کے بغیر نہ لے۔آپ خلاصہ کے مختلف نسخوں کی طرف مراجعت کریں میرے پاس جو نسخہ ہے اس مقام کے
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوی کتاب الوصایا الفصل السابع ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ /۲۴۱€
یکون المرأۃ تاخذ العین من غیر رضاہم فانہ علی ھذا لایبقی الفرق بین النقد وغیرہ وھوانما فتح الکلام علی التفرقۃ فلو کان مرادہ ھذا لقال"تاخذ الترکۃ فی مہرھا و لو عروضا وعقارا وان لم یرض الورثۃ" وبالجملۃ فہذا مما لا یرضی بہ فقیہ ثم لاغرض لنا ھہنا یتعلق بنقد مااطلق فی اجازۃ البیع"وان لم تکن وصیۃ من قبل زوجہا"والا ففیہ مجال نظر فانہا اذا لم تکن وصیۃ کان بیعہا بیع مال الغیر من دون اذن منہ ولا من الشرع بخلاف بیع الوصی فانہ مختار المالك وبیع القاضی عند الصاحبین فانہ ماذون لہ من جہۃ الشرع دفعا للظلم وایصالا للحق الی المستحق واذا رأینا الامام الاجل فقیہ النفس استاذ صاحب الخلاصۃ مولینا القاضی الامام فخر الدین رحمہما اﷲ تعالی فرض المسئلۃ فی الخانیۃ اوراق اس میں سے کٹے ہوئے ہیںاور یہ بات محال ہے کہ بیوی ورثاء کی رضا کے بغیر عین سامان کو حاصل کرے کیونکہ اس صورت میں نقد اور غیر نقد کافرق نہ رہے گا حالانکہ صاحب خلاصہ نے یہ کلام دونوں میں فرق کے لئے جاری کیا ہے۔اگر ان کی مراد یہی ہوتی تو پھر کلام یوں ہونا چاہئے تھا:"ترکہ سے مہر وصول کرے اگر چہ سامان ہو یا جائداد ہو خواہ ورثاء راضی نہ بھی ہوں"خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس ظاہر عبارت پر کوئی فقیہ راضی نہ ہوگا پھر مطلق اجازت والی عبارت جس میں ہے اگر چہ خاوند کی وصیت نہ ہوسے ہماری غرض کا تعلق نہیں ہے ورنہ یہاں اعتراض کی گنجائش موجود ہےکیونکہ جب خاوند کی مہر کی ادائیگی کے متعلق وصیت نہیں ہے توپھر بیوی کا سامان کو فروخت کرنا اور شرع کی اجازت کے بغیر فروخت لازم آتاہے بخلاف وصی کا ترکہ کے سامان کو فروخت کرنا کہ اس میں وہ مالك کی طرف سے مختارہےاور صاحبین کے نزدیك قاضی کے فروخت کرنے کا جواز بھی شرعی طور پر ماذون ہونے کی وجہ سے ہے تاکہ قاضی کے عمل سے ظلم ختم اور مستحق کو حق دیا جاسکےاور جب ہم نے صاحب خلاصہ کے استاد امام اجل فقیہ النفس مولانا قاضی امام فخر الدین رحمہما اﷲ تعالی کو دیکھا کہ انہوں نے اس مسئلہ کو خانیہ میں عورت کے وصی ہونے پر بیان فرمایاجہاں انہوں نے خوب فائدہ مند کلام فرمایا(اﷲ تعالی ان پر رحم فرمائے)
فیما اذا کانت المرأۃ وصیۃ حیث افاد واجاد رحمہ الجواد میت اوصی الی امرأتہ وترك مالا وللمرأۃ علیہ مہر ھا ان ترك المیت صامتا عــــــہ مثل مہرہ اکان لہا ان تبیع ماکان اصلح للبیع وتستوفی صداقہا من الثمن اھ(ملخصا)۔ کہ ایك میت نے اپنی بیوی کو وصیت کی اور مال ترکہ چھوڑا جبکہ خود اس بیوی کا میت کے مال میں مہر باقی ہو تو اگر میت نے ترکہ میں صامت مال یعنی نقد وسامان چھوڑا جو مہر کی مثل ہو توبیوی کو(وصی ہونے کی حیثیت سے)اختیار ہوگا کہ وہ مناسب مال کو فروخت کرے اور اپنا حق مہر اس سامان کے ثمن سے پورا کرلے اھ(ملخصا)(ت)
اور زید کا کہنا"میں اپنی زوجہ کو اختیار دیتاہوں کہ دین مہر اپنامیری جائداد منقولہ وغیر منقولہ سے وصول کرلے"ہر گز اس معنی میں نص نہ تھا جو زوجہ نے خواہی نخواہی قرار دے لئےکہاں جائداد سے وصول کرنا ور کہاں عین جائداد اپنے دین میں لینا آخر علماء یہی عامہ کتب میں فرماتے ہیں کہ ترکہ سے پہلے میت کے دیون ادا کئے جائیں پھر ثلث مابقی سے وصایاکیا اس کے یہ معنی کہ عین جائداد متروکہ دائنین وموصی لہم کو دے دی جائے جو معنی ادا کے کلام علماء میں ہیں بعینہ وہی معنی وصول کرلینے کے کلام زید میںمع ھذا عین بعوض دین دینا نہیں مگر بیع لکونہ مبادلۃ مال بمال(مال کامال سے تبادلہ ہونے کی وجہ سے۔ (ت)او رمرض نہ بالفعل وارث کے ہاتھ بیع کرسکتاہے جب تك باقی ورثہ اجازت نہ دیں۔جامع الفصولین میں ہے:
اعطاھا بیتا عوض مہر مثلہا لم یجز اذا البیع من الوارث لم یجز فی المرض ولم بثمن المثل (الا اذا اجاز وارثہ) خاوند نے مرض موت میں بیوی کو مہر کے عوض مکان دیا تو جائز نہیں کیونکہ مرض موت میں کسی وارث کو بیع کردینا جائز ہے اگر چہ وہ بیع مساوی ثمن کے عوض ہوہاں اگر باقی ورثاء جائز کردیں تو جائز ہوجائے گی۔(ت)
عــــــہ:الصامت من المال الذھب والفضۃ والناطق ھو الحیوان(منجد)۔ صامت مال سے مرادہونا چاندی اور ناطق سے مراد حیوانات ہیں (المنجد)(ت)
اور زید کا کہنا"میں اپنی زوجہ کو اختیار دیتاہوں کہ دین مہر اپنامیری جائداد منقولہ وغیر منقولہ سے وصول کرلے"ہر گز اس معنی میں نص نہ تھا جو زوجہ نے خواہی نخواہی قرار دے لئےکہاں جائداد سے وصول کرنا ور کہاں عین جائداد اپنے دین میں لینا آخر علماء یہی عامہ کتب میں فرماتے ہیں کہ ترکہ سے پہلے میت کے دیون ادا کئے جائیں پھر ثلث مابقی سے وصایاکیا اس کے یہ معنی کہ عین جائداد متروکہ دائنین وموصی لہم کو دے دی جائے جو معنی ادا کے کلام علماء میں ہیں بعینہ وہی معنی وصول کرلینے کے کلام زید میںمع ھذا عین بعوض دین دینا نہیں مگر بیع لکونہ مبادلۃ مال بمال(مال کامال سے تبادلہ ہونے کی وجہ سے۔ (ت)او رمرض نہ بالفعل وارث کے ہاتھ بیع کرسکتاہے جب تك باقی ورثہ اجازت نہ دیں۔جامع الفصولین میں ہے:
اعطاھا بیتا عوض مہر مثلہا لم یجز اذا البیع من الوارث لم یجز فی المرض ولم بثمن المثل (الا اذا اجاز وارثہ) خاوند نے مرض موت میں بیوی کو مہر کے عوض مکان دیا تو جائز نہیں کیونکہ مرض موت میں کسی وارث کو بیع کردینا جائز ہے اگر چہ وہ بیع مساوی ثمن کے عوض ہوہاں اگر باقی ورثاء جائز کردیں تو جائز ہوجائے گی۔(ت)
عــــــہ:الصامت من المال الذھب والفضۃ والناطق ھو الحیوان(منجد)۔ صامت مال سے مرادہونا چاندی اور ناطق سے مراد حیوانات ہیں (المنجد)(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الوصایا فصل فی تصرفات الولی ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۸۵۹€
جامع الفصولین الفصل الرابع والثلاثون کتاب النکاح ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۴€
جامع الفصولین الفصل الرابع والثلاثون کتاب النکاح ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۴€
نہ وارث کے لئے وصیت کا اختیار رکھتاہے کہ فلاں شئی اس کے ہاتھ بیع کی جائے یا یہ خود اپنے ہاتھ بیع کرلے الا لاوصیۃ لوارث الا ان یجیز ھا الورثۃ(خبرداروارث کے لئے وصیت جا ئز نہیں مگر جب ورثاء جائز قرار دیں تو جائز ہوگی۔ت)بہر حال زید کا کلام بھی کچھ بکار آمدنہیںبالجملہ اگر دین ترکہ کو محیط نہیں جب تو امر نہایت ظاہر کہ دین غیر مستعرق مانع ملك ورثہ نہیں ہوتا۔ اشباہ کے قول فی الدین میں ہے:
قدمنا انہ لایمنع ملك الوارث للترکۃ ان لم یکن مستغرقا ویمنعہ ان کان مستغرقا ۔ ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ جب ترکہ قرض میں مستغرق نہ ہو تو وارث کے مالك بننے کو مانع نہیں ہاں اگر ترکہ قرض میں مستغرق ہو تو اس کی ملکیت میں رکاوٹ بنے گا۔(ت)
تو زوجہ ملك ورثہ بے رضائے ورثہ کیونکر بطور خود بالجبر لے سکتی ہے اور اگر محیط ہے تاہم ورثہ شارعا اختیار رکھتے ہیں کہ دین اپنے پاس سے اداکرکے ترکہ کو خالص کرلیں۔اشباہ کے قول فی الملك میں ہے:
للوراث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین ولو مستغرقا ۔ وارث کو قرض اد ا کرکے ترکہ کو خلاص کراناجائز ہے اگر چہ ترکہ قرض میں مستغرق ہو۔(ت)
تو ان کی بے رضا قبضہ کرلینے میں اس کے اس حق کا ابطال ہے اور یہ جائز نہیں۔ولہذا علامہ حموی نے تصریح فرمائی کہ قاضی جب ترکہ کو دین محیط میں بیچے تو بیع بحضور ورثہ ہونا چاہئے کہ وہ حق استخلاص رکھتے ہیں۔
قال فی الاشباہ لاینفذ بیع الوارث الترکۃ المستغرقۃ بالدین وانما یبیعہ القاضی اھ فقال فی الغمز ینبغی ان یکون البیع بحضرۃ الورثۃ لما لہم من حق امساکھا وقضاء الدین من مالھم الخ۔ الاشباہ میں فرمایا کہ دین میں مستغرق ترکہ کو وارث کا فروخت کرنا جائز نہیں اور صرف قاضی اسے فروخت کرسکتاہے اھ تو غمز العیون میں فرمایا مناسب ہے کہ قاضی کی بیع ورثاء کی موجودگی میں ہو کیونکہ ورثاء کو حق ہے کہ قرض میں اپنا مال دے کر ترکہ کو روك لیں۔(ت)
قدمنا انہ لایمنع ملك الوارث للترکۃ ان لم یکن مستغرقا ویمنعہ ان کان مستغرقا ۔ ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ جب ترکہ قرض میں مستغرق نہ ہو تو وارث کے مالك بننے کو مانع نہیں ہاں اگر ترکہ قرض میں مستغرق ہو تو اس کی ملکیت میں رکاوٹ بنے گا۔(ت)
تو زوجہ ملك ورثہ بے رضائے ورثہ کیونکر بطور خود بالجبر لے سکتی ہے اور اگر محیط ہے تاہم ورثہ شارعا اختیار رکھتے ہیں کہ دین اپنے پاس سے اداکرکے ترکہ کو خالص کرلیں۔اشباہ کے قول فی الملك میں ہے:
للوراث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین ولو مستغرقا ۔ وارث کو قرض اد ا کرکے ترکہ کو خلاص کراناجائز ہے اگر چہ ترکہ قرض میں مستغرق ہو۔(ت)
تو ان کی بے رضا قبضہ کرلینے میں اس کے اس حق کا ابطال ہے اور یہ جائز نہیں۔ولہذا علامہ حموی نے تصریح فرمائی کہ قاضی جب ترکہ کو دین محیط میں بیچے تو بیع بحضور ورثہ ہونا چاہئے کہ وہ حق استخلاص رکھتے ہیں۔
قال فی الاشباہ لاینفذ بیع الوارث الترکۃ المستغرقۃ بالدین وانما یبیعہ القاضی اھ فقال فی الغمز ینبغی ان یکون البیع بحضرۃ الورثۃ لما لہم من حق امساکھا وقضاء الدین من مالھم الخ۔ الاشباہ میں فرمایا کہ دین میں مستغرق ترکہ کو وارث کا فروخت کرنا جائز نہیں اور صرف قاضی اسے فروخت کرسکتاہے اھ تو غمز العیون میں فرمایا مناسب ہے کہ قاضی کی بیع ورثاء کی موجودگی میں ہو کیونکہ ورثاء کو حق ہے کہ قرض میں اپنا مال دے کر ترکہ کو روك لیں۔(ت)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الدین ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۱۵€
الاشباہ والنظائر القول فی الملک ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۵€
الاشباہ والنظائر القول فی الملک ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۵€
غمز العیون البصائر مع الاشباہ القول فی الملک ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۰۵€
الاشباہ والنظائر القول فی الملک ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۵€
الاشباہ والنظائر القول فی الملک ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۵€
غمز العیون البصائر مع الاشباہ القول فی الملک ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۰۵€
پس روشن ہوگیا کہ قبضہ زوجہ محض بے جاہ وبے معنی ہے
وھھنا فتوی للاخصب ماانا بغافل عنہا ولا ناس لہا لکنہا محمولۃ عندی علی اموال خفیۃ یظفر بہا الدائن الائس من الوصول الی حقہ دون الظاھرۃ و الاسترسال فی تحقیقہ یطول فلتضرب عنہا الذکر صفحا اقتداء بجمیع ائمتنا الاقدمین وجماھیر الاجلۃ المتأخرین حیث لا تیر لہا فی کلامہم عینا ولا اثرا ولا ذکرا ولا خبرا کیف وقد وقعت مخالفۃ للمذہب المجمع علیہ بین ائمتنا ومضادۃ لما اطبقت علیہ المتون قاطبۃ مع الشروح والفتاوی من کتب مذھبنا نعم لاباس بالمصیر الیہاعندی الضرورۃ دفعا للحرج وذلك انما یکون عندا الیأس مع القدرۃ علی الاستیفاء بالاخذ وقلما یجتمعان الا فی مال خفی کما لایخفی علی ذی فہم ذکیواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدۃ اتم واحکم۔ یہاں الاخصب کا فتوی ہے جس سے میں غافل نہیں اور بھولا بھی نہیں لیکن میرے نزدیك اس فتوی کا محمل وہ مخفی اموال ہیں جن پر وصولی سے مایوس قرضخواہ قابو پالے نہ کہ اموال ظاہرہ اس کی واضح تحقیق طویل ہے اس لئے متقدمین تمام ائمہ اور جلیل القدر جمہور متاخرین کی اقتداء میں اس سے پہلو تہی مناسب کیونکہ آپ ان کے کلام میں اس کا ذکرحکایت اور خبر تك نہ پائیں گےاور ہو بھی کیسے جبکہ یہ بات ہمارے ائمہ کے متفق علیہ مذھب کے مخالف اور تمام متون بمع شروح وفتاوی ہمارے مذھب کی کتب سے متضادہےہاں دفع حرج کے لئے ضرورت کے وقت اس کو اپنانے میں کوئی مضائقہ نہیں اور یہ اس وقت جب وصولی سے مایوسی ہو اوراپنے حق کو حاصل کرنے پر قدرت بھی ہواور یہ دونوں باتیں اموال خفیہ کے بغیر بہت کم مجمتمع ہوتی ہیں جیسا کہ ذکی فہم والے پرمخفی نہیں۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ ۶: ۱۰ ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفیتان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حسینی بیگم بریلوی نے بارادہ حج بیت اﷲ شریف کو جاتے وقت بیس روپیہ اور ایك جگنو طلائی اور ایك زنجیر نقرئی بمبئی میں پاس جمیل النساء کے بایں شرط بطور امانت چھوڑی کہ جس وقت جو شے میں طلب کروں تم بھیج دینا۔اور درصورت میرے مرجانے کے وہ بیت اﷲ شریف میں خیرات کردینا۔اس کے بعد مکہ معظمہ پہنچ کر بیس روپے حسینی بیگم نے جمیل النساء سے منگوالئے اور جگنو اور زنجیر جمیل النساء کے پاس امانت رہااور زنجیر کی نسبت کہا تھا کہ یہ میری ایك نواسی کی ہے
وھھنا فتوی للاخصب ماانا بغافل عنہا ولا ناس لہا لکنہا محمولۃ عندی علی اموال خفیۃ یظفر بہا الدائن الائس من الوصول الی حقہ دون الظاھرۃ و الاسترسال فی تحقیقہ یطول فلتضرب عنہا الذکر صفحا اقتداء بجمیع ائمتنا الاقدمین وجماھیر الاجلۃ المتأخرین حیث لا تیر لہا فی کلامہم عینا ولا اثرا ولا ذکرا ولا خبرا کیف وقد وقعت مخالفۃ للمذہب المجمع علیہ بین ائمتنا ومضادۃ لما اطبقت علیہ المتون قاطبۃ مع الشروح والفتاوی من کتب مذھبنا نعم لاباس بالمصیر الیہاعندی الضرورۃ دفعا للحرج وذلك انما یکون عندا الیأس مع القدرۃ علی الاستیفاء بالاخذ وقلما یجتمعان الا فی مال خفی کما لایخفی علی ذی فہم ذکیواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدۃ اتم واحکم۔ یہاں الاخصب کا فتوی ہے جس سے میں غافل نہیں اور بھولا بھی نہیں لیکن میرے نزدیك اس فتوی کا محمل وہ مخفی اموال ہیں جن پر وصولی سے مایوس قرضخواہ قابو پالے نہ کہ اموال ظاہرہ اس کی واضح تحقیق طویل ہے اس لئے متقدمین تمام ائمہ اور جلیل القدر جمہور متاخرین کی اقتداء میں اس سے پہلو تہی مناسب کیونکہ آپ ان کے کلام میں اس کا ذکرحکایت اور خبر تك نہ پائیں گےاور ہو بھی کیسے جبکہ یہ بات ہمارے ائمہ کے متفق علیہ مذھب کے مخالف اور تمام متون بمع شروح وفتاوی ہمارے مذھب کی کتب سے متضادہےہاں دفع حرج کے لئے ضرورت کے وقت اس کو اپنانے میں کوئی مضائقہ نہیں اور یہ اس وقت جب وصولی سے مایوسی ہو اوراپنے حق کو حاصل کرنے پر قدرت بھی ہواور یہ دونوں باتیں اموال خفیہ کے بغیر بہت کم مجمتمع ہوتی ہیں جیسا کہ ذکی فہم والے پرمخفی نہیں۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ ۶: ۱۰ ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفیتان شرع متین اس مسئلہ میں کہ حسینی بیگم بریلوی نے بارادہ حج بیت اﷲ شریف کو جاتے وقت بیس روپیہ اور ایك جگنو طلائی اور ایك زنجیر نقرئی بمبئی میں پاس جمیل النساء کے بایں شرط بطور امانت چھوڑی کہ جس وقت جو شے میں طلب کروں تم بھیج دینا۔اور درصورت میرے مرجانے کے وہ بیت اﷲ شریف میں خیرات کردینا۔اس کے بعد مکہ معظمہ پہنچ کر بیس روپے حسینی بیگم نے جمیل النساء سے منگوالئے اور جگنو اور زنجیر جمیل النساء کے پاس امانت رہااور زنجیر کی نسبت کہا تھا کہ یہ میری ایك نواسی کی ہے
سہوا میرے ہاتھ چلی آئی ہےاب حسینی بیگم کا مکہ شریف میں انتقال ہوگیا لہذا زروئے شرع شریف کے جگنو اور زنجیر کا کیا کا جائے گا اور یہ بھی کہا تھا کہ میرے وارث کو مت دینا۔بینوا توجروا۔
الجواب:
یہاں دو چیزیں ہیںزنجیر کا نواسی کے لئے اقرار اور جگنو کی نسبت کی خیرات کی وصیت سائل مظہر کی حسینی بیگم کی تین نواسیاں ہیں ان سے کہا گیا تو سب نے انکار کیا کہ وہ زنجیر ہماری نہیں پس صورت مستفسرہ میں اگرچہ بربنائے قول اصح کہ مقرلہ کی جہالت غیر فاحشہ مانع صحت اقرار نہیں کیا۔نص علیہ فی الھندیۃ من التبیین(ہندیہ میں تبیین الحقائق کے حوالے سے اس پر تصریح فرمائی گئی ہے۔ت)اقرار مذکورہ صحیح واقع ہوا مگر جبکہ نواسیوں نے انکار کردیا رد ہوگیا۔یہاں تك کہ اب نواسیاں تصدیق بھی کردیں تاہم معتبر نہ ہوگی۔
فی الدرالمختار المقرلہ اذا کذب المقر بطل اقرارہ لما تقررانہ یرتد بالرد الافی ست الخ وفیہ لورد المقرلہ اقرارہ ثم قبل لایصح الخ۔ درمختارمیں ہے کہ مقرلہ جب مقرکو جھوٹا قرار دے تو مقر کا اقرار باطل قرار پاتاہے کیونکہ ثابت شدہ امر ہے کہ مقر کا اقرار مقرلہ کے رد کرنے سے رد ہوجاتاہے ماسوائے چھ امور کے الخاورا س میں یہ بھی ہے کہ جب مقرلہ اقرار کو رد کرکے پھر بعدمیں اسے صحیح قرار دے تو یہ تصحیح جائز نہیں۔ الخ(ت)
پس وہ زنجیر تو بشرائط فرائض وارث حسینی بیگم کوملے گی۔رہا جگنواگر حسینی بیگم پر کوئی دین نہیں تویہ کل متروکہ کی تہائیاور دین ہے تو بعد ادائے دین جس قدر بچے اس کی تہائی سے زائد نہیں یا زائد ہے اور ورثہ وصیت جائز رکھتے ہیں جب توکل جگنو تصدق کردیا جائے ورنہ اس کا اس قدر حصہ جو ثلث مال باقی بعد ادائے دین کے قدرہو تصدق کریں باقی وارث کودیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷: از ریاست رامپور مرسلہ امیر احمد صاحب ۱۱محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس معاملہ میں کہ ایك مسماۃ نے ایك مختار نامہ اس مضمون کا ایك شہر میں تصدیق کرایا کہ میں دوسرے شہر کو بوجہ پورے ہونے ایام حمل کے نہیں جاسکتی ہوں اور اس دوسرے شہر میں مجھ کو ایك اقرار نامہ اس مضمون کا تصدیق کرانا
الجواب:
یہاں دو چیزیں ہیںزنجیر کا نواسی کے لئے اقرار اور جگنو کی نسبت کی خیرات کی وصیت سائل مظہر کی حسینی بیگم کی تین نواسیاں ہیں ان سے کہا گیا تو سب نے انکار کیا کہ وہ زنجیر ہماری نہیں پس صورت مستفسرہ میں اگرچہ بربنائے قول اصح کہ مقرلہ کی جہالت غیر فاحشہ مانع صحت اقرار نہیں کیا۔نص علیہ فی الھندیۃ من التبیین(ہندیہ میں تبیین الحقائق کے حوالے سے اس پر تصریح فرمائی گئی ہے۔ت)اقرار مذکورہ صحیح واقع ہوا مگر جبکہ نواسیوں نے انکار کردیا رد ہوگیا۔یہاں تك کہ اب نواسیاں تصدیق بھی کردیں تاہم معتبر نہ ہوگی۔
فی الدرالمختار المقرلہ اذا کذب المقر بطل اقرارہ لما تقررانہ یرتد بالرد الافی ست الخ وفیہ لورد المقرلہ اقرارہ ثم قبل لایصح الخ۔ درمختارمیں ہے کہ مقرلہ جب مقرکو جھوٹا قرار دے تو مقر کا اقرار باطل قرار پاتاہے کیونکہ ثابت شدہ امر ہے کہ مقر کا اقرار مقرلہ کے رد کرنے سے رد ہوجاتاہے ماسوائے چھ امور کے الخاورا س میں یہ بھی ہے کہ جب مقرلہ اقرار کو رد کرکے پھر بعدمیں اسے صحیح قرار دے تو یہ تصحیح جائز نہیں۔ الخ(ت)
پس وہ زنجیر تو بشرائط فرائض وارث حسینی بیگم کوملے گی۔رہا جگنواگر حسینی بیگم پر کوئی دین نہیں تویہ کل متروکہ کی تہائیاور دین ہے تو بعد ادائے دین جس قدر بچے اس کی تہائی سے زائد نہیں یا زائد ہے اور ورثہ وصیت جائز رکھتے ہیں جب توکل جگنو تصدق کردیا جائے ورنہ اس کا اس قدر حصہ جو ثلث مال باقی بعد ادائے دین کے قدرہو تصدق کریں باقی وارث کودیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷: از ریاست رامپور مرسلہ امیر احمد صاحب ۱۱محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس معاملہ میں کہ ایك مسماۃ نے ایك مختار نامہ اس مضمون کا ایك شہر میں تصدیق کرایا کہ میں دوسرے شہر کو بوجہ پورے ہونے ایام حمل کے نہیں جاسکتی ہوں اور اس دوسرے شہر میں مجھ کو ایك اقرار نامہ اس مضمون کا تصدیق کرانا
حوالہ / References
درمختار کتاب الاقرار فصل فی مسائل شتّٰی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۳۹€
درمِختار کتاب الاقرار فصل فی مسائل شتّٰی ∞۲/ ۱۳۰€
درمِختار کتاب الاقرار فصل فی مسائل شتّٰی ∞۲/ ۱۳۰€
منظور ہےکہ میرے شوہر نے جو زمینداری اس شہرکی اپنے روپیہ سے خرید کر بیعنامہ اس کا میرے نام اسم فرضی کرایا ہے میں اقرار کرتی ہوں اورلکھے دیتی ہوں کہ وہ زمینداری میرے شوہر کی ہے۔میرا شوہر اس زمیندزری کا اصلی مالك ہے لہذا بدرستی جمیع حواس خمسہ برضاو رغبت خود اپنی جانب سے فلاں مختار کو مختار خاص اپنا قرار دے کر اقرار کرتی ہوں کہ مختار خاص میرا میری جانب سے اقرار نامہ مضمون مندرجہ بالا کی تصدیق کرادے اور جملہ ساختہ وپرداختہ مختار مذکورکا مثل کردہ ذات خود قبول ومنظورہے۔پس بعد تصدیق ہونے مختار نامہ کے مختار نے دوسرے شہر میں جاکر اقرار نامہ تصدیق کرادیا اور مضمون اس اقرار نامہ کا مسماۃ کودکھلادیا اور پڑھ کر سنادیا تھا۔مسماۃ نے سن کر ثبت مہر کی اجازت دی تھی اور مسماۃ علیل نہیں تھی صحیح وسالم تھی بلکہ بہ سواری ڈولی محکمہ رجسٹری میں خود جاکر بزبان خود رجسٹر صدر سے مختار نامہ تصدیق کرایا تھا تکمیل ہونے مختار نامہ مذکور کے ایك روز بعد اولاد پیدا ہوئی تھی اور اولاد کے پیدا ہونے سے ایك ہفتہ بعد اولاد کے پیدا ہونے کی وجہ سے انتقال کیا کیونکہ بہت دشواری سے اولاد ہوئی تھی ہرگاہ بعد فوت مسماۃ مذکورہ وارثان مسماۃ دعوی باوجود ہونے دستاویز مصدقہ کے بوراثت حقیت مذکورہ بالا کا کرتے ہیں۔اس صورت میں وہ کلمات کہ جو اقرار نامہ میں اسم فرضی کے ساتھ ملکیت شوہر اپنے کی ازروئے عدالت تصدیق کرچکی ہے نسبت نہ ہونے دعوی کے تحریر ہیں واسطے بری ہونے شوہر مسماۃ کے دعوی وراثت سے کافی ہوں گے یا نہ ہوں گے۔عنداﷲ وعندالرسول نظر غور فرماکر عاجز مسکین امیرا حمد پر بروایت صحیح جواب باصواب تحریر فرمائیں کہ موجب ثواب اجر عظیم کا ہوگا۔بینو اتوجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں جبکہ ثبوت شرعی سے ثابت ہوکہ عورت نے یہ اقرار اپنی صحت میں کیا تو اب شرعا کوئی دعوی وراثت وارثان زن کا جائداد میں مسموع نہیں ہوسکتا اگرچہ تصدیق اقرار نامہ مختار نے دوسرے شہر میں بحالت مرض الموت زن کی ہو کہ شرعا ملك شوہر ثابت ماننے کے لئے یہی لفظ کافی ووافی تھے جوعورت نے بحالت صحت اس مختارنامہ میں لکھے۔عقود دریہ میں ہے:
سئل فیما اذا اقرفی صحتہ لدی بینۃ شرعیۃ انہ اشتری المبیع لاختہ والثمن من مالہا واسمہ فی الصك عاریۃ وصدقتہ اختہ علی ذلك فہل یعمل باقرارہ المزبورالجواب نعمسئل فی رجل اقر ان سے سوال ہوا کہ جب کوئی شخص اپنی تندرستی میں شرعی گواہوں کی موجودگی میں یہ اقرار کرے کہ فلاں چیز میں نے اپنی بہن کے لئے اسی کی رقم سے خریدی ہے جبکہ رسید میں میرا نام عاریۃ ہے اور اس کی بہن نے اس بات کی تصدیق کردی ہو تو کیا اس کے مذکورہ اقرار پر عمل کیا جائے گا(تو انہوں نے جواب
الجواب:
صورت مستفسرہ میں جبکہ ثبوت شرعی سے ثابت ہوکہ عورت نے یہ اقرار اپنی صحت میں کیا تو اب شرعا کوئی دعوی وراثت وارثان زن کا جائداد میں مسموع نہیں ہوسکتا اگرچہ تصدیق اقرار نامہ مختار نے دوسرے شہر میں بحالت مرض الموت زن کی ہو کہ شرعا ملك شوہر ثابت ماننے کے لئے یہی لفظ کافی ووافی تھے جوعورت نے بحالت صحت اس مختارنامہ میں لکھے۔عقود دریہ میں ہے:
سئل فیما اذا اقرفی صحتہ لدی بینۃ شرعیۃ انہ اشتری المبیع لاختہ والثمن من مالہا واسمہ فی الصك عاریۃ وصدقتہ اختہ علی ذلك فہل یعمل باقرارہ المزبورالجواب نعمسئل فی رجل اقر ان سے سوال ہوا کہ جب کوئی شخص اپنی تندرستی میں شرعی گواہوں کی موجودگی میں یہ اقرار کرے کہ فلاں چیز میں نے اپنی بہن کے لئے اسی کی رقم سے خریدی ہے جبکہ رسید میں میرا نام عاریۃ ہے اور اس کی بہن نے اس بات کی تصدیق کردی ہو تو کیا اس کے مذکورہ اقرار پر عمل کیا جائے گا(تو انہوں نے جواب
فی صحتہ ان المبلغ المکتتب باسمہ بذمۃ فلان بموجب صك لفلانۃ واسمہ فی صك الدین عاریۃ فہل یکون اقرارہ المذکور صحیحا الجواب نعم (ملخصا) میں فرمایا)ہاں عمل ہوگا ان سے سوال ہواکہ ایك شخص نے اپنی تندرستی میں اقرار کیا کہ میرے نام کی لکھی ہوئی رسید کہ اتنی رقم فلاں کے ذمہ ہے وہ رقم فلاں عورت کی ہے میرانام رسید میں عاریۃ ہے تو کیا اس کا مذکور اقرا رصحیح ہوگا الجواب ہاں صحیح ہے۔(ملخصا)(ت)
شوہر جانتا ہے کہ واقع میں بھی یہ اقرار زن سچاہے فی الحقیقۃ اس کانام فرضی تھا جب تو عنداﷲ بھی وہ اس جائداد کا مالك ہے اور ورثہ زن کا دعوی باطلاور اگر اسے معلوم ہے کہ فی الواقع عورت ہی اس جائداد کی مابلکہ تھی یہ اقرار اس نے غلط لکھ دیا اگرچہ اپنی صحت ونفاذ تصرف کی حالت میں برضا ورغبت ہی لکھا تو عنداﷲ اس کے لئے اپنے حصہ سے زیادہ حلال نہیں اس پر فرض ہے کہ وارثان شرعی کا حصہ نہ روکے مگر بحالت اقرار مذکور قاضی وحاکم دعوی وارثان کو اصلا نہ سنے گا واقع کا علم اﷲ عزوجل کو ہے۔ خانیہ و خلاصہ وبزازیہ وانقرویہ وہندیہ وغیرہا عامہ کتب میں ہے:
اقر فی صحتہ وکمال عقلہ ان جمیع ماھوا داخل منزلہ لامرأتہ غیر ماعلیہ من الثیاب ثم مات الرجل و ترك ابنا فادعی الا بن ان ذلك ترکۃ ابیہ قال ابو القاسم الصفار ان علمت المرأۃ ان جمیع ما اقرابہ الزوج کان لہا ببیع اوھبۃ کان لہا ان تمنع عن الا بن بحکم اقرار الزوج وان علمت انہ لم یکن بینہما بیع ولاہبۃ لا یصیر ملکا لہا بھذا الاقرار ۔ ایك شخص نے اپنی تندرستی اور کامل عقل میں اقرار کیا کہ میرے لباس کے ماسوامیرے گھرمیں موجود تمام سامان میری بیوی کی ملکیت ہے پھرا قرار کے بعد فوت ہوگیا اور اپنا ایك بیٹا چھوڑا جس نے دعوی کیاکہ گھرکاسامان میرے میرے والد کا ترکہ ہے اس پر ابوالقاسم صفار نے فرمایا کہ اگر بیوی اس یقین کا اظہار کرے کہ گھر کا تمام سامان بیع یاہبہ کے طور میری ملکیت ہے تو بیوی کو حق ہوگاکہ خاوند کے اقرار کی بنا پر اس سامان کو بیٹے سے روك لے اور اگر وہ مذکورہ یقین کا اظہار نہ کرپائے تو پھر وہ خاوند کے مذکورہ اقرار کی بناء پر بیوی کی ملکیت نہ بنے گا۔(ت)
شوہر جانتا ہے کہ واقع میں بھی یہ اقرار زن سچاہے فی الحقیقۃ اس کانام فرضی تھا جب تو عنداﷲ بھی وہ اس جائداد کا مالك ہے اور ورثہ زن کا دعوی باطلاور اگر اسے معلوم ہے کہ فی الواقع عورت ہی اس جائداد کی مابلکہ تھی یہ اقرار اس نے غلط لکھ دیا اگرچہ اپنی صحت ونفاذ تصرف کی حالت میں برضا ورغبت ہی لکھا تو عنداﷲ اس کے لئے اپنے حصہ سے زیادہ حلال نہیں اس پر فرض ہے کہ وارثان شرعی کا حصہ نہ روکے مگر بحالت اقرار مذکور قاضی وحاکم دعوی وارثان کو اصلا نہ سنے گا واقع کا علم اﷲ عزوجل کو ہے۔ خانیہ و خلاصہ وبزازیہ وانقرویہ وہندیہ وغیرہا عامہ کتب میں ہے:
اقر فی صحتہ وکمال عقلہ ان جمیع ماھوا داخل منزلہ لامرأتہ غیر ماعلیہ من الثیاب ثم مات الرجل و ترك ابنا فادعی الا بن ان ذلك ترکۃ ابیہ قال ابو القاسم الصفار ان علمت المرأۃ ان جمیع ما اقرابہ الزوج کان لہا ببیع اوھبۃ کان لہا ان تمنع عن الا بن بحکم اقرار الزوج وان علمت انہ لم یکن بینہما بیع ولاہبۃ لا یصیر ملکا لہا بھذا الاقرار ۔ ایك شخص نے اپنی تندرستی اور کامل عقل میں اقرار کیا کہ میرے لباس کے ماسوامیرے گھرمیں موجود تمام سامان میری بیوی کی ملکیت ہے پھرا قرار کے بعد فوت ہوگیا اور اپنا ایك بیٹا چھوڑا جس نے دعوی کیاکہ گھرکاسامان میرے میرے والد کا ترکہ ہے اس پر ابوالقاسم صفار نے فرمایا کہ اگر بیوی اس یقین کا اظہار کرے کہ گھر کا تمام سامان بیع یاہبہ کے طور میری ملکیت ہے تو بیوی کو حق ہوگاکہ خاوند کے اقرار کی بنا پر اس سامان کو بیٹے سے روك لے اور اگر وہ مذکورہ یقین کا اظہار نہ کرپائے تو پھر وہ خاوند کے مذکورہ اقرار کی بناء پر بیوی کی ملکیت نہ بنے گا۔(ت)
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الاقرار ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۴۶€
فتاوٰی قاضی خان کتاب الاقرار ∞نولکشورلکھنؤ ۳ /۶۱۶،€خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الاقرار الفصل الاول ∞مکتبہ حبیہ کوئٹہ ۴ /۱۴۴،€فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاقرار الباب الثانی ∞نوانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۶۳€
فتاوٰی قاضی خان کتاب الاقرار ∞نولکشورلکھنؤ ۳ /۶۱۶،€خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الاقرار الفصل الاول ∞مکتبہ حبیہ کوئٹہ ۴ /۱۴۴،€فتاوٰی ہندیۃ کتاب الاقرار الباب الثانی ∞نوانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۶۳€
درمختارمیں ہے:
لواقر کاذبا لم یحل لہ لان الاقرار لیس سببا للملك ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر کوئی جھوٹا اقرار کرے تو مقرلہ کے لئے حلال نہ ہوگا کیونکہ محض اقرارکسی کی ملکیت کا سبب نہیں واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۸: از رام پور متصل شفاخانہ کلاں سرکاری
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مثلا زید وغیرہ نے کرایہ کی زمین میں مکان تعمیر کیا اور زمین آبچك نہیں چھوڑیمسمی عمرو جارکہ جس کے مکان کی زمین میں اولتی ٹپکتی مزاحم ومانع ہوا تو زید نے بمعیت مالك زمین میر محلہ کہ جس کی زمین میں زید نے مکان تعمیر کیا تھا سات گرہ زمین واسطے آبچك بجہت عاریت کے استدعا کی چونکہ عمرو کی زمین زر خرید تھی اور ایك اقرار نامہ اس مضمون کا لکھ دیا کہ تعدادی ہفت گرہ زمین عمرو سے واسطے آبچك بجہت عاریت کے مستعارلی ہم نےاور جس وقت عمرو یاوارثان عمرو چاہیں زمین آبچك مذکورہ رجوع کرکے بیدخل کردیں ہم مستعیران یا وارثان مستعیران دعوی ملکیت زمین وباحق آبچك یا بیدخل ہونے میں کوئی عذرو حیلہ کریں تو عندالشرع نامسموع وباطل ہوگا اوراقرار نامہ مع گواہی ومواہیر اہل ثقہ ومیر محلہ یعنی مالك زمین مکان زید مذکور مثبت ہیں اور اقرر نامہ کو تخمینا ساٹھ باسٹھ برس کا زمانہ گزرا ہوگا حتی کہ معیر ومستعیران فوت ہوگئے زمین کرایہ مذکورہ کہ جس میں زید وغیرہ نے مکان تعمیر کیا تھا وارثان زید نے اب وہ زمین خریدلی باوصف ہمسائیگی وجارکے بیعنامہ پر گواہی وارثان عمرو معیر مذکور نہیں ہے فی الحال وارثان مستعیر نے جو مکان منہدم ہوگیا ہے از سر نو تعمیر کرناچاہا تو وارثان معیر نے کہا کہ زمین آبچك بجہت عــــــہ چھوڑ کے تعمیر کردیااولتی ہمارے مکان کی طرف نہ ٹپکا ؤتم کو خوب معلوم ہے کہ ہمارے مورث نے عاریت زمین آبچك تمھارے مورث کو دی تھی بنا اول سے بھی ہم کو بہت ضرر تھا اب بناء نو سے نہایت ضرر ہوگا اور پاخانہ کا راستہ تمام گھر کے آدمیوں کا ہے اور اولتی پاخانہ میں بیٹھنے سے سر پر گرتی ہے ہم آبچك مذکور کو رجوع کرتے ہیں اور ہمارا اس طر ف مکان بنانے کا بھی ارادہ ہے وارثان مستعیر بمعائنہ اقرار نامہ مذکورہ بالا کے چند اشخاص کے روبرو اقبال واقرار کیا کہ ہم بموجب اقرارنامہ یعنی مورث مستعیر کی اولتی وارثان معیر
عــــــہ:فی الاصل ھکذا اظنہ پچھیت ای خلف الدار۔ اصل میں اسی طرح ہے میرے گمان میں یہ الفاظ پچھیت ہے یعنی گھر کے پیچھے۔(ت)
لواقر کاذبا لم یحل لہ لان الاقرار لیس سببا للملك ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر کوئی جھوٹا اقرار کرے تو مقرلہ کے لئے حلال نہ ہوگا کیونکہ محض اقرارکسی کی ملکیت کا سبب نہیں واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۸: از رام پور متصل شفاخانہ کلاں سرکاری
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مثلا زید وغیرہ نے کرایہ کی زمین میں مکان تعمیر کیا اور زمین آبچك نہیں چھوڑیمسمی عمرو جارکہ جس کے مکان کی زمین میں اولتی ٹپکتی مزاحم ومانع ہوا تو زید نے بمعیت مالك زمین میر محلہ کہ جس کی زمین میں زید نے مکان تعمیر کیا تھا سات گرہ زمین واسطے آبچك بجہت عاریت کے استدعا کی چونکہ عمرو کی زمین زر خرید تھی اور ایك اقرار نامہ اس مضمون کا لکھ دیا کہ تعدادی ہفت گرہ زمین عمرو سے واسطے آبچك بجہت عاریت کے مستعارلی ہم نےاور جس وقت عمرو یاوارثان عمرو چاہیں زمین آبچك مذکورہ رجوع کرکے بیدخل کردیں ہم مستعیران یا وارثان مستعیران دعوی ملکیت زمین وباحق آبچك یا بیدخل ہونے میں کوئی عذرو حیلہ کریں تو عندالشرع نامسموع وباطل ہوگا اوراقرار نامہ مع گواہی ومواہیر اہل ثقہ ومیر محلہ یعنی مالك زمین مکان زید مذکور مثبت ہیں اور اقرر نامہ کو تخمینا ساٹھ باسٹھ برس کا زمانہ گزرا ہوگا حتی کہ معیر ومستعیران فوت ہوگئے زمین کرایہ مذکورہ کہ جس میں زید وغیرہ نے مکان تعمیر کیا تھا وارثان زید نے اب وہ زمین خریدلی باوصف ہمسائیگی وجارکے بیعنامہ پر گواہی وارثان عمرو معیر مذکور نہیں ہے فی الحال وارثان مستعیر نے جو مکان منہدم ہوگیا ہے از سر نو تعمیر کرناچاہا تو وارثان معیر نے کہا کہ زمین آبچك بجہت عــــــہ چھوڑ کے تعمیر کردیااولتی ہمارے مکان کی طرف نہ ٹپکا ؤتم کو خوب معلوم ہے کہ ہمارے مورث نے عاریت زمین آبچك تمھارے مورث کو دی تھی بنا اول سے بھی ہم کو بہت ضرر تھا اب بناء نو سے نہایت ضرر ہوگا اور پاخانہ کا راستہ تمام گھر کے آدمیوں کا ہے اور اولتی پاخانہ میں بیٹھنے سے سر پر گرتی ہے ہم آبچك مذکور کو رجوع کرتے ہیں اور ہمارا اس طر ف مکان بنانے کا بھی ارادہ ہے وارثان مستعیر بمعائنہ اقرار نامہ مذکورہ بالا کے چند اشخاص کے روبرو اقبال واقرار کیا کہ ہم بموجب اقرارنامہ یعنی مورث مستعیر کی اولتی وارثان معیر
عــــــہ:فی الاصل ھکذا اظنہ پچھیت ای خلف الدار۔ اصل میں اسی طرح ہے میرے گمان میں یہ الفاظ پچھیت ہے یعنی گھر کے پیچھے۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الاقرار ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۳۰€
کے مکان کی طرف نہ ٹپکائیں گے اور اپنا مکان بالکل پختہ بنادیں گےبعد تیاری مکان وارثان مستعیراغوائے بعض کسان اولتی طرف مکان وارثان معیرٹپکانا چاہتے ہیں اور اپنے اقرار سے کہ چندآدمی ثقہ کے روبرو کیا تھا کہ اولتی طرف مکان وارثان معیرنہ ٹپکا وینگے اب منحرف ہوتے ہیں اقرار چند آدمیوں کے سامنے کرکے انکار کرنا مقبول ہے یامردود۔پس عندالشرع شریف دخل رجوع عاریت کا وارثان معیرکو حاصل ہے یا نہیں
الجواب:
وارثان معیرکو بلاشبہ عاریت میں رجوع کاا ختیار ہے اور وارثان مستعیر پر واپس دینافرض ہےجبکہ عاریت ثابت ہے۔
قال اﷲ تعالی" ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اہلہا ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ تعالی حکم فرماتاہے کہ امانتوں کو ان کے مالکوں کے سپرد کردو۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
علی الید مااخذت حتی تردھا ۔ ہاتھ نے جولیا وہ اس کا ذمہ دار ہے جب تك واپس نہ کرے۔(ت)
باقی ان کا کہناکہ اس طرف اولتی نہ ٹپکائیں گے اقرار نہیں وعدہ ہے او ر وعدہ کے ایفاء پرحکما جبرنہیں۔ اشباہ وعالمگیریہ وغیرہا میں ہے:
لاجبر علی الوفاء بالوعد ۔ وعدہ کے ایفاء پر جبر نہیں۔(ت)
ہاں اگرتسلیم کیاہو کہ واقعی یہ زمین زمان مورث سے ہمارے اور ہمارے مورث کے ہاتھ میں عاریت ہے اس کامالك عمرو ہے تو یہ اقرارہے اور اس سے پھرنا کسی طرح جائز نہیںاگر بشہادت شرعیہ ان کا اقرار ثابت ہوگا وہ ضرور اس کی پابندی پرمجبور کئے جائیں گے۔لان المرء مواخذ باقرارہ(کیونکہ اقرار کرنے والا اپنے اقرار پر ماخوذ ہوتاہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
الجواب:
وارثان معیرکو بلاشبہ عاریت میں رجوع کاا ختیار ہے اور وارثان مستعیر پر واپس دینافرض ہےجبکہ عاریت ثابت ہے۔
قال اﷲ تعالی" ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اہلہا ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ تعالی حکم فرماتاہے کہ امانتوں کو ان کے مالکوں کے سپرد کردو۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
علی الید مااخذت حتی تردھا ۔ ہاتھ نے جولیا وہ اس کا ذمہ دار ہے جب تك واپس نہ کرے۔(ت)
باقی ان کا کہناکہ اس طرف اولتی نہ ٹپکائیں گے اقرار نہیں وعدہ ہے او ر وعدہ کے ایفاء پرحکما جبرنہیں۔ اشباہ وعالمگیریہ وغیرہا میں ہے:
لاجبر علی الوفاء بالوعد ۔ وعدہ کے ایفاء پر جبر نہیں۔(ت)
ہاں اگرتسلیم کیاہو کہ واقعی یہ زمین زمان مورث سے ہمارے اور ہمارے مورث کے ہاتھ میں عاریت ہے اس کامالك عمرو ہے تو یہ اقرارہے اور اس سے پھرنا کسی طرح جائز نہیںاگر بشہادت شرعیہ ان کا اقرار ثابت ہوگا وہ ضرور اس کی پابندی پرمجبور کئے جائیں گے۔لان المرء مواخذ باقرارہ(کیونکہ اقرار کرنے والا اپنے اقرار پر ماخوذ ہوتاہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴ /۵۸€
سنن ابن ماجہ ابواب الصدقات باب العاریۃ ایچ ∞ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۴۱ و ۴۲۷،€العقود الدریۃ مسائل وفوائد شتی من الحظروالاباحۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۳۵۳€
سنن ابن ماجہ ابواب الصدقات باب العاریۃ ایچ ∞ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۴۱ و ۴۲۷،€العقود الدریۃ مسائل وفوائد شتی من الحظروالاباحۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۳۵۳€
مسئلہ ۹ و ۱۰: از بریلی شہر کہنہ مسئولہ صفدر علی ومبارك علی خاں ربیع الآخر ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں:
(۱)زید نے ۱۶ اپریل ۱۸۱۸ میں ایك ہبہ نامہ بحق اپنے بیٹے عمرو کے کیا اور دستاویز میں یہ اقرار کیا کہ وہ مالك ومختار جائداد ہے ہبہ پورا موہوب لہ کو کر دیا اورقابض ودخیل کرکے دخل اپنا مطلقا اٹھالیالہذا اقرار یہ ہے کہ بعد تحریر ہبہ ھذا کے کچھ حق میرا یا قائم مقامان میرے کا اس جائداد موہوبہ میں جزء وکلا باقی نہیں رہا بعدہ ۲۱ جون ۱۹۱۲ء میں بعد انتقال عمرو پسر مذکور زیدواہب نے دوسرا ہبہ نامہ اس ایك جز وجائداد موہوبہ کا اپنی مان کر اورہبہ نامہ مذکور کو فرضی ٹھہرا کر بنام اپنے نبیرہ گان پسران متوفی کے کیا اس میں اقرار اول سے رجوع کیا کہ اس جزوجائداد کامیں مالك وقابض ہوں اور ہبہ نامہ اگر چہ بنام عمرو متوفی تحریرکا تھا مگر قبضہ نہں دیا اس لئے وہ انتقال شرعا باطل وکالعدم ہےآیا یہ رجوع زید صحیح ہے یا نہیں
(۲)دوسرے ۷ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو عمرو نے ایك بیعنامہ چند مواضع کا بنام اپنے والد زید کے کیا جس کے متعلق ۱۱ جنوری ۱۹۰۸ء کو زید نے ایك اقرار نامہ بایں الفاظ تحریر کیا کہ بیعنامہ مذکور محض فرضی تھا اور س کے ذریعے سے کوئی انتقال ملکیت بحق میرے وقوع میں نہیں آیا اور کل جائداد مندرجہ بیعنامہ مذکور کا مالك وقابض واقعی میرا لڑکا عمرو ہے مجھے کوئی دعوی ملکیت نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہوگا پھر بعد وفات عمرو زید نے ایك ہبہ نامہ اپنے نبیرہ گان کے بوجہ مساوی بالاشتراك کیاا ور اس میں بیعنامہ عمرو مورخہ ۷ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو اصلی واقعی مانا ہے لہذا اس صورت میں بیعنامہ عمرو فرضی متصورہوگا یا واقعی وہ جائداد ورثائے عمرو کی ملك ٹھہرے گی یا ورثائے زید متوفی کیاور یہ ہبہ زید کا مشاع ہونے کے بعث باطل ہوگا یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
شریعت مطہر ہ کا قاعدہ ہےکہ کوئی مقر اقرار کرکے اپنے اقرار سے پھر نہیں سکتا نہ اس کے خلاف اسکی بات تسلیم ہوسکے۔ہدایہ و اشباہ ودرمختاروغیرہا عامہ اسفار میں ہے لاعذر لمن اقر (اقرار کرنے والے کو عذر کا حق نہیں۔ت)دستاویز اول میں جبکہ صاف اقرار کیا کہ میں نے موہوب لہ کو قابض ودخیل کرکے اپنا دخل مطلقا اٹھالیا تو اب بعد موت موہوب لہ یہ کہنا کہ میں نے قبضہ نہیں دیا تھا محض باطل ونامسموع ہے اور پہلی دستاویز ہبہ تام ونافذ وناقابل رجوع ہے۔ درمختارمیں موانع رجوع
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں:
(۱)زید نے ۱۶ اپریل ۱۸۱۸ میں ایك ہبہ نامہ بحق اپنے بیٹے عمرو کے کیا اور دستاویز میں یہ اقرار کیا کہ وہ مالك ومختار جائداد ہے ہبہ پورا موہوب لہ کو کر دیا اورقابض ودخیل کرکے دخل اپنا مطلقا اٹھالیالہذا اقرار یہ ہے کہ بعد تحریر ہبہ ھذا کے کچھ حق میرا یا قائم مقامان میرے کا اس جائداد موہوبہ میں جزء وکلا باقی نہیں رہا بعدہ ۲۱ جون ۱۹۱۲ء میں بعد انتقال عمرو پسر مذکور زیدواہب نے دوسرا ہبہ نامہ اس ایك جز وجائداد موہوبہ کا اپنی مان کر اورہبہ نامہ مذکور کو فرضی ٹھہرا کر بنام اپنے نبیرہ گان پسران متوفی کے کیا اس میں اقرار اول سے رجوع کیا کہ اس جزوجائداد کامیں مالك وقابض ہوں اور ہبہ نامہ اگر چہ بنام عمرو متوفی تحریرکا تھا مگر قبضہ نہں دیا اس لئے وہ انتقال شرعا باطل وکالعدم ہےآیا یہ رجوع زید صحیح ہے یا نہیں
(۲)دوسرے ۷ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو عمرو نے ایك بیعنامہ چند مواضع کا بنام اپنے والد زید کے کیا جس کے متعلق ۱۱ جنوری ۱۹۰۸ء کو زید نے ایك اقرار نامہ بایں الفاظ تحریر کیا کہ بیعنامہ مذکور محض فرضی تھا اور س کے ذریعے سے کوئی انتقال ملکیت بحق میرے وقوع میں نہیں آیا اور کل جائداد مندرجہ بیعنامہ مذکور کا مالك وقابض واقعی میرا لڑکا عمرو ہے مجھے کوئی دعوی ملکیت نہ اب ہے اور نہ آئندہ ہوگا پھر بعد وفات عمرو زید نے ایك ہبہ نامہ اپنے نبیرہ گان کے بوجہ مساوی بالاشتراك کیاا ور اس میں بیعنامہ عمرو مورخہ ۷ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو اصلی واقعی مانا ہے لہذا اس صورت میں بیعنامہ عمرو فرضی متصورہوگا یا واقعی وہ جائداد ورثائے عمرو کی ملك ٹھہرے گی یا ورثائے زید متوفی کیاور یہ ہبہ زید کا مشاع ہونے کے بعث باطل ہوگا یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
شریعت مطہر ہ کا قاعدہ ہےکہ کوئی مقر اقرار کرکے اپنے اقرار سے پھر نہیں سکتا نہ اس کے خلاف اسکی بات تسلیم ہوسکے۔ہدایہ و اشباہ ودرمختاروغیرہا عامہ اسفار میں ہے لاعذر لمن اقر (اقرار کرنے والے کو عذر کا حق نہیں۔ت)دستاویز اول میں جبکہ صاف اقرار کیا کہ میں نے موہوب لہ کو قابض ودخیل کرکے اپنا دخل مطلقا اٹھالیا تو اب بعد موت موہوب لہ یہ کہنا کہ میں نے قبضہ نہیں دیا تھا محض باطل ونامسموع ہے اور پہلی دستاویز ہبہ تام ونافذ وناقابل رجوع ہے۔ درمختارمیں موانع رجوع
حوالہ / References
درمختار کتاب الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
میں ہے:الیم موت احد المتعاقدین (م سے مراد عاقدین میں سے ایك کی موت ہے۔ت)اسی میں ہے:القاف قرابتہ (ق سے مراد اس کی قرابت ہے۔ت) یونہی جب اس بیع کی نسبت زید صحیح اقرر کرچکا کہ وہ محض فرضی تھی اور اس کے سبب مجھے کوئی ملك حاصل نہ ہوئی وہ بیعنامہ اس کے اقرار سے باطل ہوگیا اسے اس سے رجوع کا کچھ اختیار نہیں اور یہ ہبہ بنام نبیرگان کیا ہے محض باطل ہے کہ یہ جائداد بوجہ ظہور بطلان بیع ملك عمرو متوفی پسر زید ہے زید اس میں سے صرف سدس کا مالك ہے اور اس نے کل کا ہبہ کیا اور اس کا سدس منقسم الممتاز نہ تھا تویہ مشاع ہوا ور اس سدسس میں بھی تمام نہ ہوا اور انتقال زید بلاتقسیم وتسلیم سدس سے باطل ہوگیا۔درمختارمیں ہے:
الاستحقاق شیوع مقارن لاطارئ فیفسد الکل ۔ واﷲتعالی اعلم۔ استحقاق غیر منقسم قارن ہے بعد میں لاحق وطاری نہیں ہے تو کل کو فاسد کردے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۱:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ محمد علی خاں ومظہر حسین خان وسید ضیاء الحق ومسماۃ نجم النساء بیگم چارشخصوں نے اولا بتاریخ ۱۱ مارچ ۱۹۰۸ء کو ایك جائداد کےدو سہام منجملہ سات سہام کے مسمی امداد الرحمان باعث مشترکا بحصہ مساوی خریدے پھر ۱۶ /اگست ۱۹۰۸ء کو اشخاص مذکورہ نے چار سھام اسی جائداد کے منجملہ سات سھام کے مسمی عبدالرحمن بائع سے بحصہ مساوی مول لئے اور ایك سہم منجملہ سات سہام کے سید سکندر علی نے بلقیس بیگم سے ۱۳ اگست ۱۹۰۸ء کو خریدکیا پھر باہم ہر چہار مشتریان چھ سہام کے جو ذریعہ بیعنامہ ۱۱ مارچ ۱۹۰۸ء۱۶ اگست ۱۹۰۸ خریدی گئی تھی ایك تقسیم نامہ لکھا گیا جس میں ہر ایك شریك کا ڈیڑھ ڈیڑھ سہام قائم ہوکر چارقطعہ معین ہوگئے جو محمد علی خاں ومظہر حسین خان وسید ضیاء الحق نے تو محکمہ رجسٹری میں تصدیق کرادیا لیکن مسماۃ عــــــہ احد الشراکاء نے تقسیم نامہ مذکورہ کسی وجہ
عــــــہ:اصل میں قلم ناسخ سے نجم النساء کا لفظ چھوٹ گیا ہے ۱۲۔
الاستحقاق شیوع مقارن لاطارئ فیفسد الکل ۔ واﷲتعالی اعلم۔ استحقاق غیر منقسم قارن ہے بعد میں لاحق وطاری نہیں ہے تو کل کو فاسد کردے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۱:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس باب میں کہ محمد علی خاں ومظہر حسین خان وسید ضیاء الحق ومسماۃ نجم النساء بیگم چارشخصوں نے اولا بتاریخ ۱۱ مارچ ۱۹۰۸ء کو ایك جائداد کےدو سہام منجملہ سات سہام کے مسمی امداد الرحمان باعث مشترکا بحصہ مساوی خریدے پھر ۱۶ /اگست ۱۹۰۸ء کو اشخاص مذکورہ نے چار سھام اسی جائداد کے منجملہ سات سھام کے مسمی عبدالرحمن بائع سے بحصہ مساوی مول لئے اور ایك سہم منجملہ سات سہام کے سید سکندر علی نے بلقیس بیگم سے ۱۳ اگست ۱۹۰۸ء کو خریدکیا پھر باہم ہر چہار مشتریان چھ سہام کے جو ذریعہ بیعنامہ ۱۱ مارچ ۱۹۰۸ء۱۶ اگست ۱۹۰۸ خریدی گئی تھی ایك تقسیم نامہ لکھا گیا جس میں ہر ایك شریك کا ڈیڑھ ڈیڑھ سہام قائم ہوکر چارقطعہ معین ہوگئے جو محمد علی خاں ومظہر حسین خان وسید ضیاء الحق نے تو محکمہ رجسٹری میں تصدیق کرادیا لیکن مسماۃ عــــــہ احد الشراکاء نے تقسیم نامہ مذکورہ کسی وجہ
عــــــہ:اصل میں قلم ناسخ سے نجم النساء کا لفظ چھوٹ گیا ہے ۱۲۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الاقرار داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۵۶€
درمختار کتاب الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۳€
درمختار کتاب الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰€
درمختار کتاب الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۳€
درمختار کتاب الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰€
تصدیق نہیں کرایا جس کی وجہ سے ہر ایك شرہك کا حصہ جدا جدا تقسیم نہ ہوسکا۔ بعدہاحمد علی خاں برادر محمد علی خاں نے بعینامہ دوسہام کا منجملہ چار سہام فروخت شدہ ۱۶ اگست ۱۹۰۸ء کے ایك شخص مسمی فیض الرحمان سے بنام اپنے لکھا لیا بعدہاحمد علی خاں برادر محمد علی خاں مرگیا۔اب محمد علی خاں یہ کہتاہے کہ بیعنامہ ۱۶اگست ۱۹۰۸ بابت چارسہام کے بنام چاروں مشتریان ناجائز ہوا۔عبادالرحمن خان نے ہم کو دھوکا دے کر چار سہام کا بیعنامہ کیا ہے درحقیقت وہ مالك دو سھام کا تھا اس لئے میں ایك سہام کا ذریعہ شرا اور دو سہام کا ذریعہ ارث برادری کے مالك ہوں اور باقی تینوں شرکاء بھی ایك ایك سہمکے مالك ہیں ڈیڑھ ڈیڑھ سھام کے مالك نہیں ہیں ہر سہ شرکاء بقیہ یہ کہتے ہیں کہ جب محمد علی خاں نے چار سھام بشرکت باقی تین مشتریان کے بحصہ مساوی خریدے تو اس خرید کے ذریعہ سے عباد الرحمن بائع کی ملکیت محمد علی خاں نے تسلیم کرلی اور سب شرکاء کا مساوی حصہ بھی تسلیم کرلیااور یہ اقرار نامہ بھی ڈیڑھ ڈیڑھ سہام ہر ایك شریك کا تسلیم کرلیا اور ہر ایك شریك کی ملکیت ڈیڑھ ڈیڑھ سہام کا اقرار کرلیااب ہر ایك شریك کے ڈیڑھ ڈیڑھ سہام سے محمد علی خاں کا انکار جائز نہیں ہے مظہر حسین خان احدا الشرکاء نے جو نالش تقسیم ڈیڑھ سہام بنام بقیہ تین شریکوں کے عدالت دیوانی میں دائر کی تو محمد علی نے خاں احد الشریك نے وہی عذرات پیش کئے بالاخر عدالت دیوانی سے یہ تجویز فرماگیا بیعنامہ مصدقہ ۱۶ اگست ۱۹۰۸ء اقراری عبادالرحمن میں خود محمد علی خاں مدعا علیہ زمرہ مشتریان میں داخل ہے اور شرعا بیعنامہ عاقدین پر حجت ہے اس لئے وہ محمد علی خاں مذکور پر بھی حجت ہے پس جس طرح محمد علی خاں مدعا علیہ نے بذریعہ بیعنامہ عباد الرحمن بائع کی چارسہام مملوك ہونا تسلیم کیا اسی طرح ان چار سہام میں سے ہر ہر مشتری کی ملك بقدر ایك ایك سہم تسلیم کرلیا اورا ب اس سے انحراف کا مدعا علیہ مذکور کو کوئی حق نہیں۔انکار بعد الاقرار شرعا معتبر(نہیں عــــــہ)ہے اسی کے ساتھ تقسیم نامہ مصدقہ ۱۶ اگست ۱۹۰۸ء مشمولہ مثل میں محمد علی خاں مذکور نے ہر ہر شریك کا ڈیڑھ ڈیڑھ سہام بالتصریح تسلیم کرلیا ب اس کا مدعی کو صرف ایك سہم کا مالك بتانا محض اتلاف حق پر مبنی ہے اس لئے دعوی مدعی نسبت دخلیابی ڈیڑھ سہام منجملہ سات سہام کے بذریعہ تقسیم وعلیحدگی حصہ مدعی از چار سہام مشترك بنام مدعا علیہم ڈگری ہوخرچہ مدعی ذمہ محمد علی خان مدعا علیہ عائد ہو۔بعد قائم وثابت ہوجانے ڈیڑھ سہام ہر ایك شرکاء اربعہ عدالت دیوانی کے فیصلہ سے پونے دو سال بعد محمد علی خاں احدالشریك نے ہر ایك شرکاء ثلثہ کا ایك ایك سہم اور اپنے تین سہام قائم کرکے نالش تقسیم خلاف بیعنامہ جات و اقرار نامہ وفیصلہ عدالت دیوانی دائر کی اس لئے استفسار
عــــــہ:یہاں بھی قلم ناسخ سے لفظ معتبر"نہیں"چھوٹ گیا۔۱۲
عــــــہ:یہاں بھی قلم ناسخ سے لفظ معتبر"نہیں"چھوٹ گیا۔۱۲
امور ذیل کا مطلوب ہے:
(۱)انکارملکیت کسی شخص کا بعد اقرار ملکیت شخص مذکور کے شرعا جائز ہے یانہیں
(۲)بیعنامہ عاقدین پر شرعا حجت ہوتاہے یانہیں
(۳)محمد علی خاں کو شرعا یہ حق حاصل ہے یانہیں کہ اس بیعنامہ کو جس میں وہ خود ہی مشتری ہے اور اقرار نامہ تقسیم کو جو بحق ہر سہ مشتریان وہ تحریر وتکمیل وتصدیق کراچکا ہے باطل وناجائز قرار دے کر ہر سہ مشتریان دیگر کی ملکیت ڈیڑھ ڈیڑھ سہام سے بعد اقرار کے انکار کرسکے۔
الجواب:
مدت ہوئی کہ یہ سوال آیا تھا اور سائلوں سے دریافت کیا گیاتھا کہ جو فیاض الرحمن نے احمد علی خان کے نام بیع کیا آیا اس کا کوئی مقدمہ دار القضاء تك پہنچا اور بحکم قاضی وہ سہام ملك فیاض الرحمن قرار پاکر ملك احمد علی خاں ٹھہری یا یونہی خانگی طور پر محمد علی خاں نے اس بیع کو مان لیا مگر اس کا کوئی جواب نہ ملااب ملاحظہ تجویز سے ظاہر یہی ہوتاہے کہ استحقاق احمد علی خاں بذریعہ قضا ثابت نہ کیا گیا کہ محمد علی خاں شرعا مکذب ہوجاتا بلکہ اس نے بطور خود اپنے نفع کے لئے استحقاق تسلیم کرلیا اگر ایسا ہے تو تجویز کہ ذی علم مفتی صاحب نے دی بالکل حق وبجا ہے محمد علی خاں کو اپنے اقرار سے پھرنے کا کوئی اخیتار نہیں۔
لاعذر لمن اقر من سعی فی نقض ماتم من جہتہ فسعیہ مردود علیہ ۔ جس نے اقرار کیااس کا کوئی عذر قبول نہیںجو شخص اپنی طرف سے تام کئے ہوئے معاملہ کو توڑنے کی سعی کرے تو اس کی یہ سعی مردود ہوگی۔(ت)
اشباہ میں ہے:
اذا اقربشیئ ثم ادعی الخطألم تقبل ۔واﷲ تعالی اعلم جب کسی چیز کا اقرار کرے پھر اس اقرار کو خطا قرار دے تو خطا قرار دینا قبول نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۱)انکارملکیت کسی شخص کا بعد اقرار ملکیت شخص مذکور کے شرعا جائز ہے یانہیں
(۲)بیعنامہ عاقدین پر شرعا حجت ہوتاہے یانہیں
(۳)محمد علی خاں کو شرعا یہ حق حاصل ہے یانہیں کہ اس بیعنامہ کو جس میں وہ خود ہی مشتری ہے اور اقرار نامہ تقسیم کو جو بحق ہر سہ مشتریان وہ تحریر وتکمیل وتصدیق کراچکا ہے باطل وناجائز قرار دے کر ہر سہ مشتریان دیگر کی ملکیت ڈیڑھ ڈیڑھ سہام سے بعد اقرار کے انکار کرسکے۔
الجواب:
مدت ہوئی کہ یہ سوال آیا تھا اور سائلوں سے دریافت کیا گیاتھا کہ جو فیاض الرحمن نے احمد علی خان کے نام بیع کیا آیا اس کا کوئی مقدمہ دار القضاء تك پہنچا اور بحکم قاضی وہ سہام ملك فیاض الرحمن قرار پاکر ملك احمد علی خاں ٹھہری یا یونہی خانگی طور پر محمد علی خاں نے اس بیع کو مان لیا مگر اس کا کوئی جواب نہ ملااب ملاحظہ تجویز سے ظاہر یہی ہوتاہے کہ استحقاق احمد علی خاں بذریعہ قضا ثابت نہ کیا گیا کہ محمد علی خاں شرعا مکذب ہوجاتا بلکہ اس نے بطور خود اپنے نفع کے لئے استحقاق تسلیم کرلیا اگر ایسا ہے تو تجویز کہ ذی علم مفتی صاحب نے دی بالکل حق وبجا ہے محمد علی خاں کو اپنے اقرار سے پھرنے کا کوئی اخیتار نہیں۔
لاعذر لمن اقر من سعی فی نقض ماتم من جہتہ فسعیہ مردود علیہ ۔ جس نے اقرار کیااس کا کوئی عذر قبول نہیںجو شخص اپنی طرف سے تام کئے ہوئے معاملہ کو توڑنے کی سعی کرے تو اس کی یہ سعی مردود ہوگی۔(ت)
اشباہ میں ہے:
اذا اقربشیئ ثم ادعی الخطألم تقبل ۔واﷲ تعالی اعلم جب کسی چیز کا اقرار کرے پھر اس اقرار کو خطا قرار دے تو خطا قرار دینا قبول نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الاقرار داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۵۶€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء والشہادات الخ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۳۷۰€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء والشہادات الخ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۳۷۰€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰€
مسئلہ ۱۲: ۲ ربیع الثانی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرعی متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك مکان بکر کے ہاتھ بیع کیا اور قبضہ مبیعہ پر مشتری کا کرادیا اور بیعنامہ تصدیق ورجسٹری کرادیابیعنامہ میں مبیعہ کی حد غربی میں زید نے دیوار عمرو تسلیم کی بعد بیع وقبضہ بکر مشتری نے جب عمرو کی دیوار مذکور میں تصرفات ناجائز شروع کئے اور عمرو مانع آیا تب بکر نے زید بائع سے ایك اقرار نامہ بطور تصحیح نامہ اس مضمون سے لکھا یا کہ(بیع کے وقت دیوار غربی کا مشترك ہونا تحریر سے رہ گیا تھا دیورا مذکورمکان مبیعہ ومکان عمرو میں مشترك ہے)سوال یہ ہے کہ بیعنامہ میں عمرو کی دیوار لکھنے سے اقرار نسبت وملکیت عمرو کی ثابت ہوتاہے یانہیں اور بیعنامہ مذکور شرعا عاقدین پر حجت ہے یانہیں اور اقرار نامہ مابعد جو بطور تصحیح نامہ کے مرتب ہوا ہے اس سے کل دیوار مذکور کی بابت عمرو کا زوال ملکیت لازم آتاہے یانہیں اور شرعا یہ انکار بعد الاقرار ہے یانہیں
الجواب:
تحریر بیعنامہ عاقدیم پر حجت ہے اور اس سے پھر نے کا ان کو کچھ اختیار نہیں جس سے وہ شخص ثالث کوضرر پہنچا سکیںقاعدہ شرعیہ ہے:
المرء مواخذ باقرارہ ولا عذر لمن اقر ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اقرار کرنے والا شخص اپنے اقرار میں ماخوذہوگا اور اقرار کرنے والے کو عذر کا حق نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۳: از شہر بریلی محلہ ملوکپور مسئولہ احمد حسین صاحب ۵اشوال ۱۳۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسماۃ نے ایك قطعہ جائداد خریدی اور مسماۃ کے چار بیٹے تھے کچھ دنون کے بعد وہ مسماۃ انتقال کرگئیں اور ان چاروں بھائیوں میں آپس میں مقدمہ داری ہوئی اسی جائداد پر جو کہ مسماۃ نے خریدی تھیاس میں کسی وجہ سے ایك بھائی نے کچہری کے روبرو بیان کیا کہ میں اس جائداد میں حقدار نہیں ہوں میرا حق نہیں ہےتو شرعا یہ بیان اس کا لغو ہے یا جائز ہے وہ حقدار اس جائداد میں ہے یانہیں
الجواب:
وہ اس میں حقدار نہ مانا جاتا لا عذر لمن اقر (جس نے اقرار کیا اس کا کوئی عذرمقبول نہیں۔ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرعی متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك مکان بکر کے ہاتھ بیع کیا اور قبضہ مبیعہ پر مشتری کا کرادیا اور بیعنامہ تصدیق ورجسٹری کرادیابیعنامہ میں مبیعہ کی حد غربی میں زید نے دیوار عمرو تسلیم کی بعد بیع وقبضہ بکر مشتری نے جب عمرو کی دیوار مذکور میں تصرفات ناجائز شروع کئے اور عمرو مانع آیا تب بکر نے زید بائع سے ایك اقرار نامہ بطور تصحیح نامہ اس مضمون سے لکھا یا کہ(بیع کے وقت دیوار غربی کا مشترك ہونا تحریر سے رہ گیا تھا دیورا مذکورمکان مبیعہ ومکان عمرو میں مشترك ہے)سوال یہ ہے کہ بیعنامہ میں عمرو کی دیوار لکھنے سے اقرار نسبت وملکیت عمرو کی ثابت ہوتاہے یانہیں اور بیعنامہ مذکور شرعا عاقدین پر حجت ہے یانہیں اور اقرار نامہ مابعد جو بطور تصحیح نامہ کے مرتب ہوا ہے اس سے کل دیوار مذکور کی بابت عمرو کا زوال ملکیت لازم آتاہے یانہیں اور شرعا یہ انکار بعد الاقرار ہے یانہیں
الجواب:
تحریر بیعنامہ عاقدیم پر حجت ہے اور اس سے پھر نے کا ان کو کچھ اختیار نہیں جس سے وہ شخص ثالث کوضرر پہنچا سکیںقاعدہ شرعیہ ہے:
المرء مواخذ باقرارہ ولا عذر لمن اقر ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اقرار کرنے والا شخص اپنے اقرار میں ماخوذہوگا اور اقرار کرنے والے کو عذر کا حق نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۳: از شہر بریلی محلہ ملوکپور مسئولہ احمد حسین صاحب ۵اشوال ۱۳۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسماۃ نے ایك قطعہ جائداد خریدی اور مسماۃ کے چار بیٹے تھے کچھ دنون کے بعد وہ مسماۃ انتقال کرگئیں اور ان چاروں بھائیوں میں آپس میں مقدمہ داری ہوئی اسی جائداد پر جو کہ مسماۃ نے خریدی تھیاس میں کسی وجہ سے ایك بھائی نے کچہری کے روبرو بیان کیا کہ میں اس جائداد میں حقدار نہیں ہوں میرا حق نہیں ہےتو شرعا یہ بیان اس کا لغو ہے یا جائز ہے وہ حقدار اس جائداد میں ہے یانہیں
الجواب:
وہ اس میں حقدار نہ مانا جاتا لا عذر لمن اقر (جس نے اقرار کیا اس کا کوئی عذرمقبول نہیں۔ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الاقرار داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۵۶€
ردالمحتار کتاب الاقرار داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۵۶€
ردالمحتار کتاب الاقرار داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۵۶€
اگر یہ قول کسی مدعی کے مقابل ہوتایہاں یہ صورت نہیںسائل نے بیان کیا کہ چاروں بھائی اس مکان پر قابض تھےایك نے صرف اپنا حصہ تقسیم کرانے کا دعوی کیا تھا نہ کہ اوروں کے حصوں کااس کے جواب میں دوسرے نے کہا اس مکاں میں ہمارا حق نہیں یعنی چاروں بھائیوں کانہیں تاکہ وہ تقسیم نہ کراسکے اس صورت میں اس کا یہ کہنا محض لغو ہے اور اس کا حق بدستور باقی ہے۔ عالمگیریہ میں ہے:
اذا قال ذوالید لیس ھذا لی اولیس ملکی اولا حق لی او لیس لی فیہ حق اوماکان لی اونحو ذلك ولا منازع حیثما قال ثم ادعی ذلك احد فقال ذوالید ھو لی صح ذلك منہ والقول قولہ الخ واﷲ تعالی اعلم۔ جب قابض خود کہے کہ یہ میری ملکیت نہیں یامیرا نہیں یا میرا حق نہیں یا میرا نہ ہے اس قسم کے الفاظ کہےاوریہ الفاظ کہتے وقت کوئی دعویدار نہ بناپھر بعد میں ایك شخص نے اس چیز پر دعوی کیا تو اس کےجواب میں اب قابض کہے کہ چیزیں میری اپنی ہے تو قابض کی بات صحیح قرار پائے گی اور اس کی وضاحت مان لی جائیگی الخ۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۴: از مراد آباد محلہ کٹھگر بیچ مرسلہ سید شرافت حسین صاحب ۵ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بعوض مبلغ یکصد روپے کے اپنا حصہ واقعہ مکان بدست مسماۃ ہندہ رہن کیا۔ رہن نامہ میں بوقت تصدیق روبرو رجسٹرار صاحب(صہ معہ)نقد وصول پاکر مبلغ(صہ عہ/)کا رجسٹری سے پہلے وصول پانے کا اقرار کیاہےاسی تفصیل سے وصول زر رہن کی کیفیت عبارت تصدیق میں درج ہے ہندہ نے واپسی زر رہن کا دعوی کیا ہے۔ زید مدعا علیہ نے جواب داخل کیا ہے کہ رہن نامہ فرضی ہےوجہ تحریر کی یہ ہے کہ مدعا علیہ کے خسرال والے مسرتھے کہ زید اپنا حصہ واقعہ مکان مذکوربحق اپنی زوجہ کے تحریر کردیں۔اس اندیشہ کی وجہ سے بمشورت باہمی فرضی رہن نامہ بنام ہندہ تحریر کردیا گیا تھا(مہ لعہ/)جو رجسٹری میں بذریعہ عمرو وصول پائے تھے وہ روپیہ بیرون رجسٹری عمرو کو مدعا علیہ نے واپس کردئے تھے اور دستاویز مذکورہ کے فرض ہونے کا مدعا علیہ کو بس بیرون کچہری اقرار ہے اس پر کچہری نے صرف ایك تنقیح قائم کی ہے آیا مبلغ(صہ معہ/)منجملہ سو روپیہ زر ہرن کے جو مدعا علیہ کو ذریعہ عمرو روبررو رجسٹرار صاحب مدعیہ سے وصول ہوئے تھے وہ اسی وقت بیرون رجسٹری عمرو مذکور کو واپس دئے تھے ثبوت ذمہ مدعا علیہ
اذا قال ذوالید لیس ھذا لی اولیس ملکی اولا حق لی او لیس لی فیہ حق اوماکان لی اونحو ذلك ولا منازع حیثما قال ثم ادعی ذلك احد فقال ذوالید ھو لی صح ذلك منہ والقول قولہ الخ واﷲ تعالی اعلم۔ جب قابض خود کہے کہ یہ میری ملکیت نہیں یامیرا نہیں یا میرا حق نہیں یا میرا نہ ہے اس قسم کے الفاظ کہےاوریہ الفاظ کہتے وقت کوئی دعویدار نہ بناپھر بعد میں ایك شخص نے اس چیز پر دعوی کیا تو اس کےجواب میں اب قابض کہے کہ چیزیں میری اپنی ہے تو قابض کی بات صحیح قرار پائے گی اور اس کی وضاحت مان لی جائیگی الخ۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۴: از مراد آباد محلہ کٹھگر بیچ مرسلہ سید شرافت حسین صاحب ۵ ذی الحجہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بعوض مبلغ یکصد روپے کے اپنا حصہ واقعہ مکان بدست مسماۃ ہندہ رہن کیا۔ رہن نامہ میں بوقت تصدیق روبرو رجسٹرار صاحب(صہ معہ)نقد وصول پاکر مبلغ(صہ عہ/)کا رجسٹری سے پہلے وصول پانے کا اقرار کیاہےاسی تفصیل سے وصول زر رہن کی کیفیت عبارت تصدیق میں درج ہے ہندہ نے واپسی زر رہن کا دعوی کیا ہے۔ زید مدعا علیہ نے جواب داخل کیا ہے کہ رہن نامہ فرضی ہےوجہ تحریر کی یہ ہے کہ مدعا علیہ کے خسرال والے مسرتھے کہ زید اپنا حصہ واقعہ مکان مذکوربحق اپنی زوجہ کے تحریر کردیں۔اس اندیشہ کی وجہ سے بمشورت باہمی فرضی رہن نامہ بنام ہندہ تحریر کردیا گیا تھا(مہ لعہ/)جو رجسٹری میں بذریعہ عمرو وصول پائے تھے وہ روپیہ بیرون رجسٹری عمرو کو مدعا علیہ نے واپس کردئے تھے اور دستاویز مذکورہ کے فرض ہونے کا مدعا علیہ کو بس بیرون کچہری اقرار ہے اس پر کچہری نے صرف ایك تنقیح قائم کی ہے آیا مبلغ(صہ معہ/)منجملہ سو روپیہ زر ہرن کے جو مدعا علیہ کو ذریعہ عمرو روبررو رجسٹرار صاحب مدعیہ سے وصول ہوئے تھے وہ اسی وقت بیرون رجسٹری عمرو مذکور کو واپس دئے تھے ثبوت ذمہ مدعا علیہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوٰی الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۶۴€
تردید ذمہ مدعیہاور روبکار تنقیح مذکورہ میں یہ عبارت بھی درج ہے(مدعا علیہ بہ نسبت وصولیابی مبلغ(صہ عہ/)منجملہ زر رہن کے اقرار کاذبہ کرنا بیان کرتاہے اس کی نسبت مدعا علیہ چاہے تو مدعیہ سے حلف لے سکتاہے)سوال یہ ہے کہ بحالت مذکورہ مدعیہ پر شرعا حلف عائدہوسکتاہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
ہاں ہوسکتاہے اب مدعا علیہ حقیقۃ مدعی اور مدعیہ مدعا علیہ ہے والیمین علی من انکر(قسم منکر پر ہے۔ت)درمختار میں ہے:
اقر ثم ادعی المقرانہ کاذب فی الاقرار یحلف المقرلہ ان المقرلم یکن کاذبا فی اقرارہ عند الثانی وبہ یفتی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اقرار کرنے کے بعد اپنے اقرار میں جھوٹا ہونے کا دعوی کرے تو مقرلہ سے قسم لی جائے کہ قرار کرنے والا اپنے اقرار میں جھوٹا نہیں ہے۔یہ حکم امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك ہے اور اسی پر فتوی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
الجواب:
ہاں ہوسکتاہے اب مدعا علیہ حقیقۃ مدعی اور مدعیہ مدعا علیہ ہے والیمین علی من انکر(قسم منکر پر ہے۔ت)درمختار میں ہے:
اقر ثم ادعی المقرانہ کاذب فی الاقرار یحلف المقرلہ ان المقرلم یکن کاذبا فی اقرارہ عند الثانی وبہ یفتی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اقرار کرنے کے بعد اپنے اقرار میں جھوٹا ہونے کا دعوی کرے تو مقرلہ سے قسم لی جائے کہ قرار کرنے والا اپنے اقرار میں جھوٹا نہیں ہے۔یہ حکم امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك ہے اور اسی پر فتوی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الاقرار ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۳۳€
کتاب الصلح
(صلح کا بیان)
مسئلہ ۱۵: ۱۸ جمادی الآخرہ ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کلو نے دو زوجہ رینا ومنی اور بطن منی سے دختر صغری اور دو بھائی چھٹنعبداللہ۔ اور تین بہنیں چھوٹیملوکیسینا۔اور چودہ سو روپے نقد اور کچھ غلہ اور پونے دو سو روپے ایك شخص پر قرض چھوڑ کر انتقال کیاعبدالله نے مال متروکہ میں سے سو روپے نقد لے کر باقی وارثوں سے فیصلہ کرلیا کہ اب مجھے ترکہ سے کچھ تعلق نہیں۔ پھر ملوکی نے دو پسرامام بخش ویار محمد اور دو دختر کہ ان کانام بھی رینا ومنی ہے چھوڑ کر وفات پائیاس صورت میں ترکہ کلو کا کس طرح منقسم ہوگااور کلو نے اپنا ایك بھتیجا بیٹا کرکے پالا تھا وہ بھی وارث ہوگا یانہیں۔بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر دئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ فیصلہ کہ عبدالله نے کیا دو وجہ سے باطل ہے
اما اولا فلمکان الدین فی الترکۃ وقد صالح علی ان لا یکون لہ حق فی شیئ مما بقی فینتظم العین و الدین جمیعا والصلح عن دین لیکن اولا اس لئے کہ ترکہ میں قرض ہے اور اس نے صلح باقی تمام ترکہ سے لاتعلق پر کی ہے تویہ موجود مال اور قرض دونوں کو شامل ہے جبکہ قرض پر قرضخواہ اور مقروض کے بغیر ہر ایك کی صلح
(صلح کا بیان)
مسئلہ ۱۵: ۱۸ جمادی الآخرہ ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کلو نے دو زوجہ رینا ومنی اور بطن منی سے دختر صغری اور دو بھائی چھٹنعبداللہ۔ اور تین بہنیں چھوٹیملوکیسینا۔اور چودہ سو روپے نقد اور کچھ غلہ اور پونے دو سو روپے ایك شخص پر قرض چھوڑ کر انتقال کیاعبدالله نے مال متروکہ میں سے سو روپے نقد لے کر باقی وارثوں سے فیصلہ کرلیا کہ اب مجھے ترکہ سے کچھ تعلق نہیں۔ پھر ملوکی نے دو پسرامام بخش ویار محمد اور دو دختر کہ ان کانام بھی رینا ومنی ہے چھوڑ کر وفات پائیاس صورت میں ترکہ کلو کا کس طرح منقسم ہوگااور کلو نے اپنا ایك بھتیجا بیٹا کرکے پالا تھا وہ بھی وارث ہوگا یانہیں۔بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر دئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ فیصلہ کہ عبدالله نے کیا دو وجہ سے باطل ہے
اما اولا فلمکان الدین فی الترکۃ وقد صالح علی ان لا یکون لہ حق فی شیئ مما بقی فینتظم العین و الدین جمیعا والصلح عن دین لیکن اولا اس لئے کہ ترکہ میں قرض ہے اور اس نے صلح باقی تمام ترکہ سے لاتعلق پر کی ہے تویہ موجود مال اور قرض دونوں کو شامل ہے جبکہ قرض پر قرضخواہ اور مقروض کے بغیر ہر ایك کی صلح
باطل الا بین الدائن ومدیونہفی الدارالمختار بطل الصلح ان اخرج احد الورثۃ وفی الترکۃ دیون بشرط ان تکون الدین لبقیتہم لان تملیك الدین من غیر من علیہ الدین باطل اھ اقول:ولا یقتصر الفساد علی التصریح بھذا الشرط کما یوھمہ ظاھر تقیید التنویر بل ھو ومایؤدی مؤداہ سواء فان المدار علی وقوع تملیك الدیون من غیر المدیون وھو حاصل فیما لوصالح بشیئ عن کل مابقی من الترکۃ کما قررنا ویرشدك الیہ ما فی ردالمحتار لوظہر فیہا دین ان کان الصلح وقع علی غیر الدین لایفسد وان وقع علی جمیع الترکۃ یفسد کما لو کان الدین ظاھرا وقت الصلح اھ ملخصافقد جعل الصلح علی جمیع الترکۃ کالصلح بتصریح الشرط المذکور وبالجملۃ فالفساد لایتوقف علی التنصیص بادخال الدین فی الصلح بل الجواز متوقف علی الافصاح باخراجہ و لہذا قال البزازی کما فی الشامی ان کان مخرجا من الصلح لایفسد و الا یفسد اھ علق الصحۃ علی باطل ہےدرمختارمیں ہے جب ترکہ میں قرض شامل ہوں تو کسی ایك وارث کو بقیہ ترکہ سے لاتعلق کرکے باقی وارثوں کے لئے کرنے کیصلح باطل ہے کیونکہ مقروض کے غیر کو قرض کا مالك بنانا باطل ہے اھاقول:(میں کہتاہوں کہ) فساد کا انحصار اس تصریح کردہ شرط پر نہیں جیسا کہ تنویر الابصار کے قید کے بیان پر ظاہرا وہم ہوتاہے بلکہ یہ اور جو اس کا ہم معنی ہو متساوی الحکم ہیں کیونکہ فساد کا دار ومدار غیر مقروض کو قرض کا مالك بنانا ہے اور وہ باقی وارثوں کو ترکہ کی کسی شئی پر صلح میں حاصل ہے جیساکہ ہم نے تقریر کی ہے اور اس میں ردالمحتار کا بیان تیری رہنمائی کرے گا کہ اگر ترکہ میں دین معلوم ہے اور صلح دین کے غیر پر ہوئی تو فاسد نہ ہوگیاور اگر تمام ترکہ پر صلح ہوئی تو فاسد ہوگی جیسا کہ صلح کے وقت دین ظاہر ہونے پر وہ فاسد ہوتی ہے اھ ملخصا۔تو ردالمحتار نے جمیع ترکہ پر صلح کر شرط مذکور پر صریحاصلح جیسا قرار دیا خلاصہ یہ ہے کہ صراحتا قرض کو صلح میں شامل کرنے پر فساد موقوف نہیں بلکہ صلح کا جواز صراحتا قرض کو صلح سے خارج کرنے پر موقوف ہے جیسا کہ فتاوی شامی میں البزازی کا قول ہے کہ قرض کو صلح سے خارج کیا تو صلح فاسد نہ ہوگی ورنہ فاسد ہوگی اھانہوں نے جواز کو صراحتا
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلح فصل فی التخارج ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴۵€
ردالمحتار کتاب الصلح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۸۳€
ردالمحتار کتاب الصلح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۸۳€
ردالمحتار کتاب الصلح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۸۳€
ردالمحتار کتاب الصلح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۸۳€
الاخراج وعمم فی الباقی الفسادثم رأیت التصریح بہ فی الہندیۃ عن الظہیریۃ حیث قال ان کان فی الترکۃ دین علی الناس فصولحت(یعنی المرأۃ)علی الکل علی ان یکون نصیبہا من الدین للورثۃ او صولحت عن الترکۃ ولم ینطقوا بشیئ اخر کان الصلح باطلا اھ واما ثانیا: فلان نصیب عبداﷲ من نقود الترکۃ اکثر مما صالح علیہ وذلك لان حصتہ من الف و اربعمائۃ مثلا وھی سبعا لباقی بعد اخراج الفرضین مائۃ وخمسون درھما وانما اعطی مائۃ فکان البقیۃ شروا مائۃ وخمسین درھما وزیادۃ بمائۃ درھم وھذا ھوالربا المحرم قال فی الدرالمختار اخرجت الورثۃ احد ہم عن نقدین وغیرہما باحدا النقدین لایصح الا ان یکون مااعطی لہ اکثر من حصتہ من ذلك الجنس تحرز عن الربا اھ ملخصاو ھذ اظاھر اذا لم یکن للازواج مہر علی المورث فان قرض کے خارج ہونے پر معلق فرمایا اور باقی تمام صورتوں کو فساد میں شامل فرمایا۔پھر میں نے ظہریہ کے حوالہ سے ہندیہ میں اس پر تصریح دیکھی جہاں انہوں نے فرمایا کہ اگر ترکہ میں لوگوں پرقرض بھی شامل ہے اور بیوی سے یہ صلح ہوئی کہ باقی تمام ترکہ حتی کہ قرض میں بیوی کا حصہ یہ سب ورثاء کا ہوگا یا ورثاء نے بیوی کی باقی تمام ترکہ سے لاتعلقی پر صلح اور اس سے زائد کوئی وضاحت نہ کی تو صلح باطل ہوگی اھ لیکن ثانیا: اس لئے کہ عبدالله کا نقد ترکہ میں صلح کی مقدار کے مقابلہ میں حصہ زیادہ بنتاہے یہ اس لئے کہ مثلا چودہ سو نقدمیں سے بیوی اور بیٹی کے دو فرض(حصے)نکالنے کے بعد عبدالله کلا حصہ دو ساتے جو کہ ڈیڑھ سو درہم ہیں جبکہ عبدالله کو صرف ایك سودیا گیا تو باقی ورثاء نے گویا ڈیڑھ سو اور کچھ زائد کو ایك سو درہم کے بدلہ میں خریدا اوریہ حرام و سود ہے۔ درمختارمیں فرمایا کہ ورثاء نے ایك وارث کو سونا و چاندی (نقدین)اور دیگر ترکہ سے سونا یا چاندی میں سے ایك پر صلح کرکے خارج کیا تو یہ صلح صحیح نہ ہوگی مگر اس صورت میں جبکہ جس نقد پر صلح کی ہو اس میں اس کے حصہ سے زائد اس کو دیا گیا ہوتاکہ ربا سے بچاؤ ہوسکے اھ ملخصا۔یہ بیان اس صورت میں ظاہر ہے کہ جب مورث کے ذمہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصلح الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۲۶۹€
درمختار کتاب الصلح فصل فی التخارج ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴۵€
درمختار کتاب الصلح فصل فی التخارج ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴۵€
کان وکان بحیث یکون حصۃ عبداﷲ مما یبقی بعد اداء الدین اقل من مائۃ تکون الترکۃ مشغولۃ بالدین مانع بنفسہ عن صحۃ الصلح الا اذا عزل مقدار مابقی بہ و اجری الصلح فی مابقیفی الشامیۃ عن البزازیۃ عن شمس الاسلام التخارج لایصح اذا کان علی المیت دین ای یطلبہ رب الدین لان حکم الشرع ان یکون الدین علی جمیع الورثۃ اھ۔وقد کنت اوضحت معنی قولہ ای یطلبہ رب الدین فیما علقتہ علی ھوامش ردالمحتار ثم رأیت التصریح بعینہ فی الہندیۃ عن الظہیریۃ و نصھا ان کان علیہ دین فصولحت المرأۃ عن ثمنہا علی شئی لا یجوز ھذا الصلح لان الدین فی الترکۃ وان قل یمنع جواز التصرف فان طلبوا الجواز فطریق ذلك ان یضمن الوارث دین المیت یشترط ان لایرجع فی الترکۃ او یضمن اجنبی بشرط براءۃ المیت او یؤدوا دین المیت من مال اخر ثم یصالحوھا بیویوں کا مہر نہ ہواگراس کے ذمہ مہر باقی ہو تو اب ترکہ میں سے یہ دین ادا کرنے کے بعد عبدالله کا ترکہ میں حصہ ایك سو درہم سے کم ہوجائے تو بھی ترکہ کا دین میں مشغول ہونا صلح کی صحت سے مانع ہے الا یہ کہ قرض ودین کو منہا کرنے کے بعد مابقی پر صلح ہو تو جائز ہوگی۔فتاوی شامیہ میں بزازیہ سے شمس الاسلام کے حوالے سے ہے کہ کسی وارث کو صلح کے طورپر وارثت سے خارج کرنا صحیح نہیں جبکہ میت پر کوئی دین ہو یعنی قرضخواہ کا مطالبہ ہو کیونکہ شرعی حکم یہ ہے کہ میت پر دین تمام ورثاء کے ذمہ ہوتاہے اھحالانکہ میں نے ان کے قول کہ"قرض خواہ طالب ہو"کا معنی ردالمحتار پر اپنے حاشیہ میں واضح کردیا تھا۔پھر میں نے بعینہ اس کی تصریح ہندیہ میں ظہیریہ کے حوالہ سے دیکھی جس کی عبارت یہ ہے اگر میت پر قرض ہو اور بیوی سے کسی چیز کے بدلے اس کے مہر کی رقم پر صلح کرلی گئی ہو یہ صلح جائز نہ ہوگی کیونکی ترکہ پر قرض کم بھی ہو تو وہ تصرف کے جواز سے مانع ہے اور ورثاء جواز کے طالب ہوں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی وارث میت کے قرض کا ضامن بن جائے اس شرط کے ساتھ کہ وہ اس ضمان میں ترکہ سے کچھ نہ لے گایا کوئی اجنبی شخص اس شرط پر ضامن ہوجائے کہ ضمان سے میت بری ہے یا ورثاء میت کا دین اپنے کسی اور مال
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصلح فصل فی التخارج داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۴۸۱€
عن ثمنھا او صداقھا علی نحوما قلنا وان لم یضمن الوارث ولکن عزلوا عینا فیہا لدین المیت وفاء ثم صالحوہا فی الباقی علی نحوما قلنا جاز اھ ۔ سے اداکرکے پھر بیوی سے اس کی رقم کے بدلے صلح کرلیں جیسا کہ ہم نے بتایا اور اگر کوئی وارث ضامن نہ بنے لیکن پہلے عین ترکہ میں سے میت پرقرض کی مقدار علیحدہ کرلیں پھر باقی میں بیوی سے صلح کا عمل کریں جیسے ہم نے بتایا ہے تو جائز ہے۔اھ(ت)
پس صورت مستفسرہ میں برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات اگر زنان کلو دونوں خواہ ایك کا مہر یا اس کے سوا اور کچھ دین ذمہ کلو ہو تو پہلے ادا کریں جو بچے اس کے تہائی سے کلو کی وصیت اگر اس نے کی ہو نافذ کرکے باقی کو ایك سو بارہ۱۱۲ سہام پر تقسیم کریں سات۷ سات۷ کلو کی ہز زوجہ اور چھپن۵۶ صغری اور بارہ۱۲ بارہ۱۲ چھٹن وعبدالله اور چھ۶ چھ۶ چھوٹی سینا اور دو دو امام بخش و یارمحمد اور ایک۱ ایک۱ دختران ملو کی کودیں اگر عبدالله کو اس تقسیم میں سو روپے سے زیادہ پہنچیں تو اس کا حصہ پورا کردیں اورکم ملیں تو جتنا زیادہ پہنچ گیا ہے واپس لیں اورکلو کا بھتیجا جسے اس نے بیٹا کرکے پالا اصلا وارث نہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے زوجہ شہزادی بیگم اور نظام بیگم پدر حیدر علی دختر اعجاز فاطمہ وارث اور چارہزار دو سو باون۴۲۵۲ روپیہ نقد ایك مکان قیمتی ڈیڑھ ہزار روپیہ کا چھوڑ کر انتقال کرگیا شہزادی بیگم کا مہر پانچ ہزار روپے تھا اس کے سوا کوئی قرضہ زید پر نہ تھا اور نہ کچھ متروکہ زید ہےباہم جملہ ورثاء مذکورین میں یہ فیصلہ وقرارداد ہوا کہ نظام بیگم وحیدر علی ساڑھے سات سو روپے لےلیں اور بقیہ زر نقد ومکان دختر وزوجہ کے حصص شرعی میں اور زوجہ کے مہر میں کردیں زوجہ بھی اس پر راضی ہوئی اب دعوی مہر نہ رہاپس صورت مستفسرہ میں وہ مکان اور بقیہ روپیہ تین ہزار پانسو دو زوجہ دختر میں کس طرح تقیسم ہوگا بینوا توجروا
الجواب:
زوجہ دختر کا مہر وحصتین کے عوض مکان وبقیہ زر پر راضی ہونا تین احتمال رکھتاہے:
(۱)زوجہ مہر سے دست بردار ہوئی اور اس بقیہ کو اپنی اور دختر پر حسب وارثت تقسیم ہونے پر
پس صورت مستفسرہ میں برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین وصحت ترتیب اموات اگر زنان کلو دونوں خواہ ایك کا مہر یا اس کے سوا اور کچھ دین ذمہ کلو ہو تو پہلے ادا کریں جو بچے اس کے تہائی سے کلو کی وصیت اگر اس نے کی ہو نافذ کرکے باقی کو ایك سو بارہ۱۱۲ سہام پر تقسیم کریں سات۷ سات۷ کلو کی ہز زوجہ اور چھپن۵۶ صغری اور بارہ۱۲ بارہ۱۲ چھٹن وعبدالله اور چھ۶ چھ۶ چھوٹی سینا اور دو دو امام بخش و یارمحمد اور ایک۱ ایک۱ دختران ملو کی کودیں اگر عبدالله کو اس تقسیم میں سو روپے سے زیادہ پہنچیں تو اس کا حصہ پورا کردیں اورکم ملیں تو جتنا زیادہ پہنچ گیا ہے واپس لیں اورکلو کا بھتیجا جسے اس نے بیٹا کرکے پالا اصلا وارث نہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے زوجہ شہزادی بیگم اور نظام بیگم پدر حیدر علی دختر اعجاز فاطمہ وارث اور چارہزار دو سو باون۴۲۵۲ روپیہ نقد ایك مکان قیمتی ڈیڑھ ہزار روپیہ کا چھوڑ کر انتقال کرگیا شہزادی بیگم کا مہر پانچ ہزار روپے تھا اس کے سوا کوئی قرضہ زید پر نہ تھا اور نہ کچھ متروکہ زید ہےباہم جملہ ورثاء مذکورین میں یہ فیصلہ وقرارداد ہوا کہ نظام بیگم وحیدر علی ساڑھے سات سو روپے لےلیں اور بقیہ زر نقد ومکان دختر وزوجہ کے حصص شرعی میں اور زوجہ کے مہر میں کردیں زوجہ بھی اس پر راضی ہوئی اب دعوی مہر نہ رہاپس صورت مستفسرہ میں وہ مکان اور بقیہ روپیہ تین ہزار پانسو دو زوجہ دختر میں کس طرح تقیسم ہوگا بینوا توجروا
الجواب:
زوجہ دختر کا مہر وحصتین کے عوض مکان وبقیہ زر پر راضی ہونا تین احتمال رکھتاہے:
(۱)زوجہ مہر سے دست بردار ہوئی اور اس بقیہ کو اپنی اور دختر پر حسب وارثت تقسیم ہونے پر
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصلح الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/۲۶۹€
رضا دیاس صورت میں اس باقی کے ۵ سہام ہوکر ایك زوجہ اور چار دختر کو ملیں۔
(۲)یہ قرار پایا کہ اس بقیہ سے زوجہ اپنا کل مہر لے لے جو بچے زن ودختر میں وراثۃ تقسیم ہو اس صورت میں بقیہ سے پانچ ہزار مہر کے زوجہ لے گی اور دوایك روپے کی جو مالیت بچی زن ودختر میں انھیں پانچ سہام پر تقسیم ہوجائیگی لیکن اس تقدیر پر دختر کا وقت فیصلہ بالغہ اور اس معنی پر راضی ہونا ضرور ہوگا۔
(۳)یہ ٹھہرا کہ باقی مذکور مہر وحصہ زوجہ وحصہ دختر سب پر حصہ رسد منقسم ہواس صورت میں مکان و زر بقیہ سب کے ۸۵۹۵ سہام ہوکر ۵۷۱۹ زوجہ کو ملیں اور ۲۸۷۶ دختر کو ملیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷: از ریاست رامپور پیش کردہ مفتی عبدالقادر خان صاحب حاکم ریاست ۱۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا انتقال ہوا اس کی دو زوجہ ہندہ اور زبیدہ تھیں۔زبیدہ کا انتقال اس کی زندگی میں ہوگیا تھا مگر چنداوالادیں اس کے بطن سے تھیں اور ہندہ اسکی بیوہ اب تك موجود ہے اور اس سے بھی چند اولادیں ہیں۔زبیدہ اور ہندہ کی اولادوں میں بعض بالغ ہیں اور بعض نابالغپس بعد فوت زید کے اس کی بیوہ نے بوجہ نااتفاقی جملہ وارثان کے اپنے دین مہر کی نالش دائر کرکے عدالت سے متروکہ زید پر ڈگری حاصل کرلیلیکن ابھی تك ڈگری کا اجراء نہیں ہوا تھا کہ جملہ وارثان میں اتفاق ہوگیا اور ہندہ نے ایك اقرار نامہ متروکہ زید کے بابت رجسٹری میں تصدیق کرادیا جس کی نقل شامل سوال ھذا ہےاس کے بموجب عملدرآمد ہوگیا اور اپنے تین سہام میں سے ہندہ نے دو سہام بدست بکر کے بالعوض ڈھائی سو روپیہ کے رہن بھی کردیئےاس کے ایك سال کے بعد اب ہندہ اسی متروکہ پر جس کے بابت اقرارنامہ تصدیق کراکر رجسٹری کراچکی ہے اور عمل درآمد بھی ہوچکا ہے اپنی وہی ڈگری دین مہر کی جاری کرانا چاہتی ہے جس میں سراسر حق تلفی نابالغان متصور ہے اور خلاف اس اقرار نامہ کے اس متروکہ پر اس کا اثر پڑتاہےدیافت طلب یہ امر ہے کہ ایسے حالت میں ہندہ کو یہ حق حاصل ہے کہ ڈگری جس کا تصفیہ کرچکی ہے جاری کراکر اسی متروکہ کو نیلام کراکے نابالغان کی جائداد کو نقصان پہنچائے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
چند ہفتے ہوئے یہ سوال اور اس پر محبنا مولوی نواب سلطان احمد خاں صاحب کالکھا ہوا جواب سائل نے پیش کیا اس کے ساتھ کوئی نقل اقرار نامہ نہ تھی عبارت سوال سے کہ اسی متروکہ کو نیلام کراکے نابالغان کی جائداد کو نقصان پہنچائے واضح تھا کہ متروکہ جائداد ہے سائل سے مقدار مہر ڈگری شدہ ومقدار جائداد متروکہ دریافت کیاس نے بیان کی اس کے بیان کے حوالہ سے یہ عبارت اس جواب پر لکھ دی گئی۔
(۲)یہ قرار پایا کہ اس بقیہ سے زوجہ اپنا کل مہر لے لے جو بچے زن ودختر میں وراثۃ تقسیم ہو اس صورت میں بقیہ سے پانچ ہزار مہر کے زوجہ لے گی اور دوایك روپے کی جو مالیت بچی زن ودختر میں انھیں پانچ سہام پر تقسیم ہوجائیگی لیکن اس تقدیر پر دختر کا وقت فیصلہ بالغہ اور اس معنی پر راضی ہونا ضرور ہوگا۔
(۳)یہ ٹھہرا کہ باقی مذکور مہر وحصہ زوجہ وحصہ دختر سب پر حصہ رسد منقسم ہواس صورت میں مکان و زر بقیہ سب کے ۸۵۹۵ سہام ہوکر ۵۷۱۹ زوجہ کو ملیں اور ۲۸۷۶ دختر کو ملیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷: از ریاست رامپور پیش کردہ مفتی عبدالقادر خان صاحب حاکم ریاست ۱۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا انتقال ہوا اس کی دو زوجہ ہندہ اور زبیدہ تھیں۔زبیدہ کا انتقال اس کی زندگی میں ہوگیا تھا مگر چنداوالادیں اس کے بطن سے تھیں اور ہندہ اسکی بیوہ اب تك موجود ہے اور اس سے بھی چند اولادیں ہیں۔زبیدہ اور ہندہ کی اولادوں میں بعض بالغ ہیں اور بعض نابالغپس بعد فوت زید کے اس کی بیوہ نے بوجہ نااتفاقی جملہ وارثان کے اپنے دین مہر کی نالش دائر کرکے عدالت سے متروکہ زید پر ڈگری حاصل کرلیلیکن ابھی تك ڈگری کا اجراء نہیں ہوا تھا کہ جملہ وارثان میں اتفاق ہوگیا اور ہندہ نے ایك اقرار نامہ متروکہ زید کے بابت رجسٹری میں تصدیق کرادیا جس کی نقل شامل سوال ھذا ہےاس کے بموجب عملدرآمد ہوگیا اور اپنے تین سہام میں سے ہندہ نے دو سہام بدست بکر کے بالعوض ڈھائی سو روپیہ کے رہن بھی کردیئےاس کے ایك سال کے بعد اب ہندہ اسی متروکہ پر جس کے بابت اقرارنامہ تصدیق کراکر رجسٹری کراچکی ہے اور عمل درآمد بھی ہوچکا ہے اپنی وہی ڈگری دین مہر کی جاری کرانا چاہتی ہے جس میں سراسر حق تلفی نابالغان متصور ہے اور خلاف اس اقرار نامہ کے اس متروکہ پر اس کا اثر پڑتاہےدیافت طلب یہ امر ہے کہ ایسے حالت میں ہندہ کو یہ حق حاصل ہے کہ ڈگری جس کا تصفیہ کرچکی ہے جاری کراکر اسی متروکہ کو نیلام کراکے نابالغان کی جائداد کو نقصان پہنچائے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
چند ہفتے ہوئے یہ سوال اور اس پر محبنا مولوی نواب سلطان احمد خاں صاحب کالکھا ہوا جواب سائل نے پیش کیا اس کے ساتھ کوئی نقل اقرار نامہ نہ تھی عبارت سوال سے کہ اسی متروکہ کو نیلام کراکے نابالغان کی جائداد کو نقصان پہنچائے واضح تھا کہ متروکہ جائداد ہے سائل سے مقدار مہر ڈگری شدہ ومقدار جائداد متروکہ دریافت کیاس نے بیان کی اس کے بیان کے حوالہ سے یہ عبارت اس جواب پر لکھ دی گئی۔
"بیان سائل سے معلوم ہوا کہ مہر کی ڈگری تین ہزار کی ہوئی اور جائداد وتقریبا چارہزار کی ہے لہذا ہندہ کا تین سہام پر فیصلہ کرلینا حق نابالغان پر کچھ برااثر نہیں ڈالتا بلکہ ان کو مفید ہے لہذا صلح نافذ ہے اور اب ہندہ کو اس سے رجوع کرنے کا اختیار نہیں"والله تعالی اعلم۔
کاغذ فتوی میں جگہ نہ تھی یہ عبارت حاشیہ پر لکھی گئیسائل نے کہا یہ کچہری میں پیش ہوگاحسب دستور لکھ کر مہر ہوجاتی۔کہا گیا نقل کر لاؤ نقل آئی جس میں سائل نے جواب نواب صاحب بھی باقی نہ رکھا سوال اور صرف یہاں کی تحریر نقل کردیمہر کردی گئی۔اب یہ سوال مع نقل تقسیم نامہ پیش ہوا جس میں مقدار مہر کا کوئی ذکر نہیں اور جائداد متروکہ تین ہزار کی مالیت بتائی ہے اور اس کے دیکھنے سے واضح ہوا کہ متروکہ صرف جائداد نہیں بلکہ پانسو روپیہ متوفی کا یافتنی ایك عورت کے ذمہ دین ہے وہ بھی شامل ترکہ ہے اور تقسیم میں یہ تحریر ہے کہ:
"باہم منمقرہ ودیگر وارثان اس طرح رضامند ہوگئے کہ کل متروکہ متوفی مالیتی تین ہزار پانچ سو روپے کی تقسیم اس طورپر ہوئی کہ زرثمن پانسو روپے مذکور برائے صرف شادی وحیدن بیگم بنت متوفی بطنی زوجہ اولی کو دئے گئے اور بقیہ تین ہزار دس سہام ہو کر تین سہام منمقرہ کے حصے میں آئے الی آخرہ۔"
باقی سات سہام میں دو سہام متوفی کے پسر کو دئے ہیں اور ایك ایك اس کی چار دختران موجودہ کو جن میں دو کہ بطن ہندہ مقرہ سے ہیں نابالغہ ہیں اور یك سہام متوفی کی پانچویں دختر متوفیہ کے وارثوں کو ظاہر ہے کہ اس صلح سے ہر نابالغہ کو اپنے حق سے کئی حصے زائد پہنچا تو صلح ان کے حق میں بہت نافع تھی اس کا حکم وہی تھا کہ نافذ ہے اور ہندہ کو رجوع کا اختیار نہیں اس لئے سوال میں ذکر دین نہ تھا بلکہ جائداد ونیلام کے الفاظ تھے کہ دین سے علاقہ نہیں رکھتے۔ایسی صور ت میں مفتی عقد صحیح ہی پر حمل کرے گا۔درمختارمیں ہے:
لو لم یذکر فی صك التخارج ان فی الترکۃ دینا ام لا فالصك صحیح وکذا لو لم یذکرہ فی الفتوی فیفتی بالصحۃ ویحمل علی وجود شرائطہامجمع الفتاوی ۔ اگر لاتعلقی کے صلح نامہ میں ترکہ میں قرض ہونے نہ ہونے کا ذکر نہ ہو تو صلح نامہ صحیح ہے اور یوں ہی اگر فتوی میں اس کا ذکر نہ ہو تو صحت کا فتوی ہوگا اور اس کو صحت کی شرائط کے وجود پر محمول کیا جائے گا۔مجمع الفتاوی۔(ت)
مگر اب ملاحظہ تقسیم نامہ سے ظاہر ہو اکہ ترکہ میں دین بھی ہے اور وہ صلح سے جدا نہ کیا گیا بلکہ یوں داخل کیا گیا کہ
کاغذ فتوی میں جگہ نہ تھی یہ عبارت حاشیہ پر لکھی گئیسائل نے کہا یہ کچہری میں پیش ہوگاحسب دستور لکھ کر مہر ہوجاتی۔کہا گیا نقل کر لاؤ نقل آئی جس میں سائل نے جواب نواب صاحب بھی باقی نہ رکھا سوال اور صرف یہاں کی تحریر نقل کردیمہر کردی گئی۔اب یہ سوال مع نقل تقسیم نامہ پیش ہوا جس میں مقدار مہر کا کوئی ذکر نہیں اور جائداد متروکہ تین ہزار کی مالیت بتائی ہے اور اس کے دیکھنے سے واضح ہوا کہ متروکہ صرف جائداد نہیں بلکہ پانسو روپیہ متوفی کا یافتنی ایك عورت کے ذمہ دین ہے وہ بھی شامل ترکہ ہے اور تقسیم میں یہ تحریر ہے کہ:
"باہم منمقرہ ودیگر وارثان اس طرح رضامند ہوگئے کہ کل متروکہ متوفی مالیتی تین ہزار پانچ سو روپے کی تقسیم اس طورپر ہوئی کہ زرثمن پانسو روپے مذکور برائے صرف شادی وحیدن بیگم بنت متوفی بطنی زوجہ اولی کو دئے گئے اور بقیہ تین ہزار دس سہام ہو کر تین سہام منمقرہ کے حصے میں آئے الی آخرہ۔"
باقی سات سہام میں دو سہام متوفی کے پسر کو دئے ہیں اور ایك ایك اس کی چار دختران موجودہ کو جن میں دو کہ بطن ہندہ مقرہ سے ہیں نابالغہ ہیں اور یك سہام متوفی کی پانچویں دختر متوفیہ کے وارثوں کو ظاہر ہے کہ اس صلح سے ہر نابالغہ کو اپنے حق سے کئی حصے زائد پہنچا تو صلح ان کے حق میں بہت نافع تھی اس کا حکم وہی تھا کہ نافذ ہے اور ہندہ کو رجوع کا اختیار نہیں اس لئے سوال میں ذکر دین نہ تھا بلکہ جائداد ونیلام کے الفاظ تھے کہ دین سے علاقہ نہیں رکھتے۔ایسی صور ت میں مفتی عقد صحیح ہی پر حمل کرے گا۔درمختارمیں ہے:
لو لم یذکر فی صك التخارج ان فی الترکۃ دینا ام لا فالصك صحیح وکذا لو لم یذکرہ فی الفتوی فیفتی بالصحۃ ویحمل علی وجود شرائطہامجمع الفتاوی ۔ اگر لاتعلقی کے صلح نامہ میں ترکہ میں قرض ہونے نہ ہونے کا ذکر نہ ہو تو صلح نامہ صحیح ہے اور یوں ہی اگر فتوی میں اس کا ذکر نہ ہو تو صحت کا فتوی ہوگا اور اس کو صحت کی شرائط کے وجود پر محمول کیا جائے گا۔مجمع الفتاوی۔(ت)
مگر اب ملاحظہ تقسیم نامہ سے ظاہر ہو اکہ ترکہ میں دین بھی ہے اور وہ صلح سے جدا نہ کیا گیا بلکہ یوں داخل کیا گیا کہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلح فصل فی التخارج ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴۶€
احدا لورثہ وحیدن بیگم کو اس کا مالك ٹھہرایا تو یہ غیر مدیون کو دین کا مالك کرنا ہوا او روہ باطل ہے تو صلح کا یہ حصہ باطل ہوااور جبکہ عقد واحد ہے تواس کے بطلان نے بقیہ صلح کی طرف سرایت کی اور تمام صلح وتقسیم باطل ہوگئی درمختارمیں ہے:
بطل الصلح ان اخرج احد الورثۃ وفی الترکۃ دیون بشرط ان تکون الدیون لبقیتہم لان تملیك الدین من غیر من علیہ الدین باطل ۔ ترکہ میں دین ہو تو کسی وارث کی لاتعلقی کی صلح اس شرط پر دین باقی وارثوں کے حصہ میں ہیں تو یہ صلح باطل ہے کیونکہ مقروض کے غیر کو قرض کا مالك بنانا باطل ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ثم یتعدی البطلان الی الکل لان الصفقۃ واحدۃ ۔ پھریہ بطلان تمام میں سرایت کرے گا کیونکہ معاملہ ایك ہے۔(ت)
اور جب صلح باطل ہوئی تو اس کی بناء پر جو باہمی ابراء ٹھہرا تھا کہ"بعد تقسیم مذکورہ بالا ایك وارث کو دوسرے کے حصہ سے کوئی تعلق نہ رہا اگر بعد تقسیم ایك شخص دوسرے پر دعوی کرے تو ناجائز ہوگا۔یہ بھی باطل ہوگیا۔
لا لما فی الاشباہ اذا بطل الشیئ بطل مافی ضمنہ وھو معنی قولہم اذا بطل المتضمن بالکسر بطل المتضمن بالفتح قالوا لوابراءہ اواقرلہ ضمن عقد فاسد فسد الابراء کما فی البزازیۃ اھ لان ھذا الابراء یکتب فی الصك عادۃ بعد ماجری بینہم الصلح فلم یثبت کونہ فی صلب الاشباہ میں مذکور کی وجہ سے نہیں کہ جب کوئی چیز باطل ہوتی ہے تو اس کے ضمن والے امور بھی باطل ہوتے ہیں فقہاء کے قول کہ جب متضمن(کسرہ کے ساتھ)بطل ہو تو متضمن(فتح کے ساتھ)بھی باطل ہوتاہے۔انہوں نے فرمایا (اگر معاملہ میں فریقین نے معاہدہ کیا)کہ اگر اس کو مالك نے بری کردیا یا اس کے حق میں اقرار کیا تو یہ ضامن ہوگاتو یہ عقد فاسدہوگابراءت بھی فاسد ہوگی جیسا کہ بزازیہ میں ہے اھکیونکہ ایسی براءت صلح نامہ میں عقد صلح
بطل الصلح ان اخرج احد الورثۃ وفی الترکۃ دیون بشرط ان تکون الدیون لبقیتہم لان تملیك الدین من غیر من علیہ الدین باطل ۔ ترکہ میں دین ہو تو کسی وارث کی لاتعلقی کی صلح اس شرط پر دین باقی وارثوں کے حصہ میں ہیں تو یہ صلح باطل ہے کیونکہ مقروض کے غیر کو قرض کا مالك بنانا باطل ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ثم یتعدی البطلان الی الکل لان الصفقۃ واحدۃ ۔ پھریہ بطلان تمام میں سرایت کرے گا کیونکہ معاملہ ایك ہے۔(ت)
اور جب صلح باطل ہوئی تو اس کی بناء پر جو باہمی ابراء ٹھہرا تھا کہ"بعد تقسیم مذکورہ بالا ایك وارث کو دوسرے کے حصہ سے کوئی تعلق نہ رہا اگر بعد تقسیم ایك شخص دوسرے پر دعوی کرے تو ناجائز ہوگا۔یہ بھی باطل ہوگیا۔
لا لما فی الاشباہ اذا بطل الشیئ بطل مافی ضمنہ وھو معنی قولہم اذا بطل المتضمن بالکسر بطل المتضمن بالفتح قالوا لوابراءہ اواقرلہ ضمن عقد فاسد فسد الابراء کما فی البزازیۃ اھ لان ھذا الابراء یکتب فی الصك عادۃ بعد ماجری بینہم الصلح فلم یثبت کونہ فی صلب الاشباہ میں مذکور کی وجہ سے نہیں کہ جب کوئی چیز باطل ہوتی ہے تو اس کے ضمن والے امور بھی باطل ہوتے ہیں فقہاء کے قول کہ جب متضمن(کسرہ کے ساتھ)بطل ہو تو متضمن(فتح کے ساتھ)بھی باطل ہوتاہے۔انہوں نے فرمایا (اگر معاملہ میں فریقین نے معاہدہ کیا)کہ اگر اس کو مالك نے بری کردیا یا اس کے حق میں اقرار کیا تو یہ ضامن ہوگاتو یہ عقد فاسدہوگابراءت بھی فاسد ہوگی جیسا کہ بزازیہ میں ہے اھکیونکہ ایسی براءت صلح نامہ میں عقد صلح
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلح فصل فی التخارج ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴۵€
ردالمحتار کتاب الصلح فصل فی التخارج داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۸۱€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث قواعد فوائد شتی الخ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۷۰€
ردالمحتار کتاب الصلح فصل فی التخارج داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۸۱€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث قواعد فوائد شتی الخ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۷۰€
عقد الصلح حتی یکون متضمنا بالفتح ولا لما فی غمز العیون عن الزاہدی عن استاذہ بدیع الدین انہ اختیار ان الاقرار وان لم یکن فی صلب عقد الصلح لکنہ بناء علی الصلح الفاسد لایمنع الدعوی بعد ذلك اھ لان حکم الاقرار لایجب ان یکون حکم الابراء فان الاقرار تملیك من وجہ فیحتمل الارتفاع والابراء اسقاط والساقط لایعود بل لما فی الاشباہ من قولہم المبنی علی الفاسد فاسد اھ حتی لو اقر بطلاق زوجتہ ظانا الوقوع بافتاء المفتی فتبیین عدمہ لم یقح کما فی الاشباہ والدر وغیرھما۔ اقول: و لایرد علیہ مافی الحموی عن القنیۃ ان ابرأہ بعد الصلح عن جمیع دعواہ وخصوماتہ صحیح وان لم یحکم بصحۃ الصلح اھ لان الابراء
کے بعد لکھنے کی عادت ہے تو صلب عقد میں اس کا پایا جانا ثابت نہ ہوگا تاکہ اس کے ضمن میں پائی جانے والی متضمن (بالفتح) ہوسکےاورنہ ہی غمز العیون میں مذکور کی وجہ سے انہوں نے زاہدی سے ان کے استاد بدیع الدین کے حوالے سے ذکر کیا کہ ان کا مختار یہ ہے کہ اقرار اگر چہ عقد صلح کے صلب میں نہ ہو تو بھی بعد میں دعوی کے لئے مانع نہیں کیونکہ اس کی بناء فاسد صلح پر ہے اھ کیونکہ ضروری نہیں کہ جو اقرار کا حکم ہے وہ بری کرنے کاحکم ہوکیونکہ اقرار من وجہ تملیك ہے جو کہ ختم ہوسکتی ہے جبکہ ابراء وہ تو اسقاط کا نام ہے جو بحال نہیں ہوسکتا۔بلکہ اشباہ میں مذکور فقہاء کے اس قول کی وجہ سے کہ "فاسد پر مبنی چیز بھی فاسد ہوتی ہے"اھ حتی کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کی طلاق کا اقرار اس گما ن پر کیا کہ مفتی کے فتوی سے فوطلاق ہوگئی جبکہ بعدمیں واضح ہوگیا کہ ایسا نہیں ہے تو اس اقرار سے طلاق نہ ہوگی جیسا کہ اشباہ اور درمختاروغیرہما میں ہے۔ اقول:(میں کہتاہوں)اس پرحموی میں قنیہ کے حوالے سےمذکور بطور اعتراض وارد نہ ہوگاکہ صلح کےبعداس کا تمام دعاوی اور خصومات سے بری کرنا صحیح ہے اگر چہ صلح کے صحیح ہونے کا حکم نہ دیا جائے گا اھ یہ اعتراض اس لئے
کے بعد لکھنے کی عادت ہے تو صلب عقد میں اس کا پایا جانا ثابت نہ ہوگا تاکہ اس کے ضمن میں پائی جانے والی متضمن (بالفتح) ہوسکےاورنہ ہی غمز العیون میں مذکور کی وجہ سے انہوں نے زاہدی سے ان کے استاد بدیع الدین کے حوالے سے ذکر کیا کہ ان کا مختار یہ ہے کہ اقرار اگر چہ عقد صلح کے صلب میں نہ ہو تو بھی بعد میں دعوی کے لئے مانع نہیں کیونکہ اس کی بناء فاسد صلح پر ہے اھ کیونکہ ضروری نہیں کہ جو اقرار کا حکم ہے وہ بری کرنے کاحکم ہوکیونکہ اقرار من وجہ تملیك ہے جو کہ ختم ہوسکتی ہے جبکہ ابراء وہ تو اسقاط کا نام ہے جو بحال نہیں ہوسکتا۔بلکہ اشباہ میں مذکور فقہاء کے اس قول کی وجہ سے کہ "فاسد پر مبنی چیز بھی فاسد ہوتی ہے"اھ حتی کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کی طلاق کا اقرار اس گما ن پر کیا کہ مفتی کے فتوی سے فوطلاق ہوگئی جبکہ بعدمیں واضح ہوگیا کہ ایسا نہیں ہے تو اس اقرار سے طلاق نہ ہوگی جیسا کہ اشباہ اور درمختاروغیرہما میں ہے۔ اقول:(میں کہتاہوں)اس پرحموی میں قنیہ کے حوالے سےمذکور بطور اعتراض وارد نہ ہوگاکہ صلح کےبعداس کا تمام دعاوی اور خصومات سے بری کرنا صحیح ہے اگر چہ صلح کے صحیح ہونے کا حکم نہ دیا جائے گا اھ یہ اعتراض اس لئے
حوالہ / References
غمز عیون البصائر الفن الثالث قواعد وفوائد شتی ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۷۰€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث قواعد وفوائد شتی ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۷۱€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۱€
غمز عیون البصائر الفن الثالث قواعد فوائد شتی ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۷۰€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث قواعد وفوائد شتی ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۷۱€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۱€
غمز عیون البصائر الفن الثالث قواعد فوائد شتی ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۷۰€
عن جمیع الدعاوی والخصومات شیئ زائد علی مفاد الصلح فانہ انما یقطع نزاعا خاصا لاکل خصومۃ بل اذا ادعی دارا ثم صالح مثلا علی نصفہا او قیمتہ فانما تجاوز عن نصف دعواہ لاعن جمعیہا لوصول بعضہا الیہ عینا او بدلاواذاکان ھذا زائدا علی قضیۃ الصلح کان کلاما مستقلا غیر مبتن علی الصلح فلا یضرہ بطلان الصلح ونظیرہ اذا زادفی الکلام علی قدر الجواب لم یجعل مجیب بل صار مبتدئا فلا یعاد السول فیہ کما نصوا علیہ۔ نہ ہوگا کہ تمام دعادی اور خصومات سے ابراء صلح کے مفاد سے زائد چیز ہے کیونکہ صلح ایك خاص نزاع کو قطع کرتی ہے نہ کہ تمام خصومات کو بلکہ جب کوئی شخص پورے مکان کا دعوی کرکے پھر نصف مکان یا نصف کی قیمت پر صلح کرے تو اس نے صلح میں اپنے نصف دعوی سے اعراض کیا نہ کہ تمام دعوی سےکیونکہ اس سےاس کو بعض عین یا اس کےبدل کو وصولی ہوئیتو جب یہ ابراء صلح سےزائد امر ہےتو یہ ایك مستقل کلام ہوگا جو کہ صلح پر مبنی نہ ہوا تو اس لئے صلح کا بطلان اس ابراء کو مضر نہ ہوگا اس کی نظیر یہ ہے کہ جب کوئی کلام قدرجواب سے زائد ہوتو اس کلام والے کو مجیب نہیں بلکہ ایك مستقل ابتداء والا اقرار دیا جاتاہے۔لہذا اس کلام میں سوال کا اعادہ متصورنہیں کیا جاتا جیسا کہ اس پر فقہاء نے نص فرمائی ہے(ت)
لہذا صورت مستفسرہ میں ہندہ کو اجراء ڈگری سے کوئی مانع نہیں ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی(یہ میرے فہم میں ہے جبکہ حق کا علم میرے رب کے پاس ہے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸: از رامہ تحصیل گوجر خاں ضلع راوالپنڈی ڈاکخانہ جاتلی۔مسئولہ تاج محمود صاحب ۱۵ محرم ۱۳۳۹ھ
جو کہ صلح ہے وہ واقع منازعہ حق انسان میں ہے یا حق خدائے تعالی میں بھی ہے
الجواب:
صلح اگر برضا ہے تو عندالله بھی ہوگئی اور دب کرہے تو دنیا میں ہوئی آخرت میں مطالبہ باقی ہے والله تعالی اعلم۔
____________________
لہذا صورت مستفسرہ میں ہندہ کو اجراء ڈگری سے کوئی مانع نہیں ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی(یہ میرے فہم میں ہے جبکہ حق کا علم میرے رب کے پاس ہے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸: از رامہ تحصیل گوجر خاں ضلع راوالپنڈی ڈاکخانہ جاتلی۔مسئولہ تاج محمود صاحب ۱۵ محرم ۱۳۳۹ھ
جو کہ صلح ہے وہ واقع منازعہ حق انسان میں ہے یا حق خدائے تعالی میں بھی ہے
الجواب:
صلح اگر برضا ہے تو عندالله بھی ہوگئی اور دب کرہے تو دنیا میں ہوئی آخرت میں مطالبہ باقی ہے والله تعالی اعلم۔
____________________
کتاب المضاربۃ
(مضاربت کا بیان)
مسئلہ ۱۹: از میران پور کٹرہ ضلع شاہجہان پور مسئولہ محمد صدیق بیگ صاحب ۲۵ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی اہل ہنود کو روپیہ تجارت کے لئے دیا جائے او ر اس طرح پر کہ وہ کہے کہ جو نفع ہو اس میں سے نصف نصف تقسیم کرلیں گے۔اکثر اس طریقہ سے روپیہ دیا بھی تھا۔
الجواب:
یہ طریقہ مضاربت کا ہے۔مسلمان کے ساتھ بھی جائز ہے۔مگر اس پر نقصان کی شرط حرام ہے۔اور ہندو کے ساتھ شرط نقصان بھی کرلینا جائز۔
لانہ من عقد فاسد وھم لیسوابا ھل ذمۃ ولا مستامنین۔واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ یہ عقد فاسد ہے اور یہ ہند و نہ تو ذمی ہیں او رنہ ہی مستامن ہیں۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۰: ا زموضع مخدوم پور دیہہ ڈاکخانہ مخدوم پور گیا ضلع گیا مرسلہ سید مخدوم بخش صاحب حنفی ۲۹ شوال ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص تجارت کرتاہے دوسرے لوگو ں کے روپے سے اس طریقہ پر کہ ہر سال بعد تمام اخراجات کے جو نفع ہوتا ہے اس میں سے ایك ربع خود اجرت محنت
(مضاربت کا بیان)
مسئلہ ۱۹: از میران پور کٹرہ ضلع شاہجہان پور مسئولہ محمد صدیق بیگ صاحب ۲۵ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی اہل ہنود کو روپیہ تجارت کے لئے دیا جائے او ر اس طرح پر کہ وہ کہے کہ جو نفع ہو اس میں سے نصف نصف تقسیم کرلیں گے۔اکثر اس طریقہ سے روپیہ دیا بھی تھا۔
الجواب:
یہ طریقہ مضاربت کا ہے۔مسلمان کے ساتھ بھی جائز ہے۔مگر اس پر نقصان کی شرط حرام ہے۔اور ہندو کے ساتھ شرط نقصان بھی کرلینا جائز۔
لانہ من عقد فاسد وھم لیسوابا ھل ذمۃ ولا مستامنین۔واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ یہ عقد فاسد ہے اور یہ ہند و نہ تو ذمی ہیں او رنہ ہی مستامن ہیں۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۰: ا زموضع مخدوم پور دیہہ ڈاکخانہ مخدوم پور گیا ضلع گیا مرسلہ سید مخدوم بخش صاحب حنفی ۲۹ شوال ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص تجارت کرتاہے دوسرے لوگو ں کے روپے سے اس طریقہ پر کہ ہر سال بعد تمام اخراجات کے جو نفع ہوتا ہے اس میں سے ایك ربع خود اجرت محنت
لیتاہے اور بقیہ تین ربع میں جن لوگوں کا روپیہ ہے انہیں دیتاہے۔اگر یہ شخص شرکاء سے یہ معاہدہ کرے کہ اگر تم کو ہر سال ایك معین مقدار مثلا بارہ روپے فیصدی سے کم نفع ہوگا تو اس کمی کو ہم پورا کردیں گے اور اس سے زیادہ جو کچھ نفع ہو وہ بھی تمہارا ہے آیا اس معاہدے کے سبب سے نفع تجارت داخل رباہو جائے گایا نہیں امید کہ جواب باصواب مسئلہ کے بحوالہ کتب فقہیہ بقید ابواب وفصول وصفحہ ومطبع سرفراز فرمائیں گے۔بینوا توجروا
الجواب:
یہ معاہدہ حرام ہے۔مال والے اور یہ تاجر سب گنہگارہوں گے اگر چہ کبھی کمی نہ واقع ہو اور کمی جو یہ پوری کرے گا اس کا پورا کرنا اسے حرام ہے اور اس زیادت کا لینا ان مال والوں کو حرام و رباہے۔درمختارصدر کتاب المضاربہجلد چہارم وردالمحتار مطبع قسطنطنیہ ص ۷۴۲ ذکر شرائط مفادات میں ہے:
وکون الربح بینہا شائعا فلو عین قدرا فسدت وکون نصیب کل منہما معلوما عندالعقد ۔ فریقین میں شائع ہونا(مقدار عین نہ ہونا)اگر کوئی مقدار معین ہوئی تو مضاربت فاسد ہوگی اور عقد کے وقت دونوں کا حصہ معلوم ہونا۔(ت)
ہندیۃ کتاب المضاربۃ باب اول مطبع قاہرہ ملك مصر جلد چہارم ص ۲۸۷میں ہے:
فان قال علی ان لك من الربح مائۃ درہم اوشرط مع النصف اوالثلث عشرۃ دراہم لاتصح المضاربۃ کذا فی محیط السرخسی ۔ اگر ایك نے دوسرے کو کہا نفع میں ایك سو درہم تیرے ہونگے یا نصف یا ثلث کے ساتھ مزید دس درہم کی شرط لگائی تو مضاربت صحیح نہ ہوگی۔محیط سرخسی میں ایسے ہے۔(ت)
ہدایہ کتاب البیوع باب الربا مطبع مصطفائی جلد دوم ص ۴۳ میں ہے:
الربا ھو الفضل المستحق لاحد المتعاقدین فی المعاوضۃ الخال عن عوض شرط فیہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ سود یہ ہے کہ عقد معاوضہ میں کسی فریق کے لئے ایسی زیادتی کی شرط ٹھہرانا جو عوض سے خالی ہو۔والله تعالی اعلم۔(ت)
الجواب:
یہ معاہدہ حرام ہے۔مال والے اور یہ تاجر سب گنہگارہوں گے اگر چہ کبھی کمی نہ واقع ہو اور کمی جو یہ پوری کرے گا اس کا پورا کرنا اسے حرام ہے اور اس زیادت کا لینا ان مال والوں کو حرام و رباہے۔درمختارصدر کتاب المضاربہجلد چہارم وردالمحتار مطبع قسطنطنیہ ص ۷۴۲ ذکر شرائط مفادات میں ہے:
وکون الربح بینہا شائعا فلو عین قدرا فسدت وکون نصیب کل منہما معلوما عندالعقد ۔ فریقین میں شائع ہونا(مقدار عین نہ ہونا)اگر کوئی مقدار معین ہوئی تو مضاربت فاسد ہوگی اور عقد کے وقت دونوں کا حصہ معلوم ہونا۔(ت)
ہندیۃ کتاب المضاربۃ باب اول مطبع قاہرہ ملك مصر جلد چہارم ص ۲۸۷میں ہے:
فان قال علی ان لك من الربح مائۃ درہم اوشرط مع النصف اوالثلث عشرۃ دراہم لاتصح المضاربۃ کذا فی محیط السرخسی ۔ اگر ایك نے دوسرے کو کہا نفع میں ایك سو درہم تیرے ہونگے یا نصف یا ثلث کے ساتھ مزید دس درہم کی شرط لگائی تو مضاربت صحیح نہ ہوگی۔محیط سرخسی میں ایسے ہے۔(ت)
ہدایہ کتاب البیوع باب الربا مطبع مصطفائی جلد دوم ص ۴۳ میں ہے:
الربا ھو الفضل المستحق لاحد المتعاقدین فی المعاوضۃ الخال عن عوض شرط فیہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ سود یہ ہے کہ عقد معاوضہ میں کسی فریق کے لئے ایسی زیادتی کی شرط ٹھہرانا جو عوض سے خالی ہو۔والله تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب المضاربۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۷۔۱۴۶€
فتاوی ہندیۃ کتاب المضاربۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۲۸۷€
الہدایۃ کتاب البیوع باب الربوٰ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۰€
فتاوی ہندیۃ کتاب المضاربۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۲۸۷€
الہدایۃ کتاب البیوع باب الربوٰ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۰€
مسئلہ ۲۱الف: ۷ محرم الحرام ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے تجارت بمضاربت بکرکے کی یعنی روپیہ زید کا تھا اور زید وبکر کے درمیان یہ اقرار پایا تھا کہ تجارت مذکور میں جو نفع ونقصان ہوگا تو بکر تیسرے حصہ کا نفع ونقصان اپنے ذمہ لے گااور زید دو حصہچنانچہ تجارت مذکورہ میں چونکہ قبل آنے مال کے روپیہ زیادہ مال سے ازروئے تخمینہ کے مال والوں کے پاس پہنچ گیا تھا وقت وصول ہونے مال کے روپیہ پہنچے ہوئے سے مال کم آیا۔اب جو روپیہ کہ باقی مال والوں کے ذمہ رہ گیا ہے تو اس صورت میں اگر وہ روپیہ وصول نہ ہوسکے تو زید بکر سے تیسرے حصہ کے نقصان لینے کا ازروئے شریعت کے مستحق ہے یانہیں دوسرے یہ کہ ایك عرصہ سے بکر بوجہ کوشش وصول کرنے روپیہ مذکور کے اپنی فکر معاش سے بھی معذور ہورہا ہے۔کچھ اس کا بدلہ زید پر ہے یانہیں
تیسرے بکر نے باجازت زید ان اشخاص پر نالش وصول کرنے روپیہ کی کی۔روپیہ وصول نہ ہوا تو جو خرچہ نالش میں صرف ہوا زید بکر سے اس خرچہ کے بھی تیسرے حصہ کے نقصان لینے کا مستحق ہوگا یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
مضارب کے ذمہ نقصان کی شرط باطل ہے وہ اپنی تعدی ودست درازی وتضییع کے سوا کسی نقصان کا ذمہ دار نہیں جو نقصان واقع ہو سب صاحب مال کی طرف رہے گانہ مضاربت صحیحہ میں مضارب اپنی محنت وکوشش کا کوئی بدلہ صاحب مال سے پانے کا مستحق ہے اس کا بدلہ یہی ہے کہ نفع ہو تو حسب قرار داد اس میں شریك ہوگا۔پس صورت مستفسرہ میں جو روپیہ وصول نہ ہوا یا نالش میں جو خرچہ ہوا زید اس کا کوئی حصہ بکر سے نہیں لے سکتا۔اور جو محنت بکر پر پڑے وہ اس کا بدلہ زید سے نہیں لے پاسکتا۔ہندیہ میں ہے:
اما الشروط الفاسدۃ فمنہا ماتبطل المضاربۃ ومنہا مالا تبطلہا و تبطل بنفسہا کذا فی النہایۃ قال القدوری فی کتابہ کل شرط یوجب جہالۃ الربح او قطع الشرکۃ فی الربح یوجب فساد المضاربۃ وما فاسد شرطوں میں سے بعض مضاربت کو باطل کرتی ہیں اور بعض باطل نہیں کرتیں بلکہ یہ خود باطل ہوجاتی ہیں۔نہایہ میں یوں ہے۔قدوری نے کتاب المضاربہ میں فرمایا ہر ایسی شرط جو نفع میں جہالت یا نفع میں قطع شرکت کا باعث بنے۔تو وہ مضاربت کو فاسد کرنے کا موجب بنے گیاور
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے تجارت بمضاربت بکرکے کی یعنی روپیہ زید کا تھا اور زید وبکر کے درمیان یہ اقرار پایا تھا کہ تجارت مذکور میں جو نفع ونقصان ہوگا تو بکر تیسرے حصہ کا نفع ونقصان اپنے ذمہ لے گااور زید دو حصہچنانچہ تجارت مذکورہ میں چونکہ قبل آنے مال کے روپیہ زیادہ مال سے ازروئے تخمینہ کے مال والوں کے پاس پہنچ گیا تھا وقت وصول ہونے مال کے روپیہ پہنچے ہوئے سے مال کم آیا۔اب جو روپیہ کہ باقی مال والوں کے ذمہ رہ گیا ہے تو اس صورت میں اگر وہ روپیہ وصول نہ ہوسکے تو زید بکر سے تیسرے حصہ کے نقصان لینے کا ازروئے شریعت کے مستحق ہے یانہیں دوسرے یہ کہ ایك عرصہ سے بکر بوجہ کوشش وصول کرنے روپیہ مذکور کے اپنی فکر معاش سے بھی معذور ہورہا ہے۔کچھ اس کا بدلہ زید پر ہے یانہیں
تیسرے بکر نے باجازت زید ان اشخاص پر نالش وصول کرنے روپیہ کی کی۔روپیہ وصول نہ ہوا تو جو خرچہ نالش میں صرف ہوا زید بکر سے اس خرچہ کے بھی تیسرے حصہ کے نقصان لینے کا مستحق ہوگا یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
مضارب کے ذمہ نقصان کی شرط باطل ہے وہ اپنی تعدی ودست درازی وتضییع کے سوا کسی نقصان کا ذمہ دار نہیں جو نقصان واقع ہو سب صاحب مال کی طرف رہے گانہ مضاربت صحیحہ میں مضارب اپنی محنت وکوشش کا کوئی بدلہ صاحب مال سے پانے کا مستحق ہے اس کا بدلہ یہی ہے کہ نفع ہو تو حسب قرار داد اس میں شریك ہوگا۔پس صورت مستفسرہ میں جو روپیہ وصول نہ ہوا یا نالش میں جو خرچہ ہوا زید اس کا کوئی حصہ بکر سے نہیں لے سکتا۔اور جو محنت بکر پر پڑے وہ اس کا بدلہ زید سے نہیں لے پاسکتا۔ہندیہ میں ہے:
اما الشروط الفاسدۃ فمنہا ماتبطل المضاربۃ ومنہا مالا تبطلہا و تبطل بنفسہا کذا فی النہایۃ قال القدوری فی کتابہ کل شرط یوجب جہالۃ الربح او قطع الشرکۃ فی الربح یوجب فساد المضاربۃ وما فاسد شرطوں میں سے بعض مضاربت کو باطل کرتی ہیں اور بعض باطل نہیں کرتیں بلکہ یہ خود باطل ہوجاتی ہیں۔نہایہ میں یوں ہے۔قدوری نے کتاب المضاربہ میں فرمایا ہر ایسی شرط جو نفع میں جہالت یا نفع میں قطع شرکت کا باعث بنے۔تو وہ مضاربت کو فاسد کرنے کا موجب بنے گیاور
لا یوجب شیئا من ذلك لایوجب فسادھا نحوان یشترطا ان تکون الوضیعۃ علیہما کذا فی الذخیرۃ ۔ جو چیز ایسی چیز کا باعث نہ ہو تو مضاربت کو فاسد نہ کرے گی مثلا دونوں نے شرط لگائی کہ نقصان کو دونوں خود برداشت کریں گے جیسا کہ ذخیرہ میں ہے۔(ت)
ہدایہ میں ہے:
کل شرط یوجب جہالۃ فی الربح یفسدہ لاختلال مقصودہ وغیر ذلك من الشروط الفاسدۃ لایفسدھا ویبطل الشرط کاشتراط الوضیعۃ علی المضارب ۔ ہر ایسی شرط جو نفع میں جہالت کا موجب بنے وہ مضاربت کو فاسد کردے گی کیونکہ یہ مقصود میں اختلال ہے اور جو شرائط فاسدہ ایسی نہ ہوں وہ مضاربت کو فاسد نہ کریں گی بلکہ خود باطل ہوجائینگی مثلایہ شرط کہ نقصان مضارب پر ہوگا۔(ت)
عقود دریہ میں ہے:
سئل فیما اذا اخسر المضارب فہل یکون الخسران علی رب المالالجواب نعم ۔ ان سے سوال ہوا کہ جب مضارب کو خسارہ ہوا ہو تو کیا رب المال خسارہ میں شریك ہوگا الجواب:ہاں!(ت)
درمختارمیں ہے:
المضاربۃ ایداع ابتداء وتوکیل مع العمل لتصرفۃ بامرہ وشرکۃ ان ربح وغصب ان خالف وان اجاز رب المال بعدہ واجارۃ فاسدۃ ان فسدت فلا ربح للمضارب حینئذ بل لہ اجر مثل عملہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ مضاربت ابتداء میں امانت کی کارروائی ہے اور عمل کے بعد وکیل بنانے کا معاملہ بن جاتاہے کیونکہ مضارب رب المال کے حکم سے اس کے مال میں تصرف کرتاہے اور جب نفع حاصل ہوجائے تو شراکت بن جاتی ہے اور اگر مضارب خلاف ورزی کرے تو غصب بن جاتی ہے خواہ بعد میں رب المال اس کارروائی کو جائز بھی کردے۔اور مضاربت فاسد ہوجائے تو اجارہ فاسدہ بن جاتا ہے۔اس
ہدایہ میں ہے:
کل شرط یوجب جہالۃ فی الربح یفسدہ لاختلال مقصودہ وغیر ذلك من الشروط الفاسدۃ لایفسدھا ویبطل الشرط کاشتراط الوضیعۃ علی المضارب ۔ ہر ایسی شرط جو نفع میں جہالت کا موجب بنے وہ مضاربت کو فاسد کردے گی کیونکہ یہ مقصود میں اختلال ہے اور جو شرائط فاسدہ ایسی نہ ہوں وہ مضاربت کو فاسد نہ کریں گی بلکہ خود باطل ہوجائینگی مثلایہ شرط کہ نقصان مضارب پر ہوگا۔(ت)
عقود دریہ میں ہے:
سئل فیما اذا اخسر المضارب فہل یکون الخسران علی رب المالالجواب نعم ۔ ان سے سوال ہوا کہ جب مضارب کو خسارہ ہوا ہو تو کیا رب المال خسارہ میں شریك ہوگا الجواب:ہاں!(ت)
درمختارمیں ہے:
المضاربۃ ایداع ابتداء وتوکیل مع العمل لتصرفۃ بامرہ وشرکۃ ان ربح وغصب ان خالف وان اجاز رب المال بعدہ واجارۃ فاسدۃ ان فسدت فلا ربح للمضارب حینئذ بل لہ اجر مثل عملہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ مضاربت ابتداء میں امانت کی کارروائی ہے اور عمل کے بعد وکیل بنانے کا معاملہ بن جاتاہے کیونکہ مضارب رب المال کے حکم سے اس کے مال میں تصرف کرتاہے اور جب نفع حاصل ہوجائے تو شراکت بن جاتی ہے اور اگر مضارب خلاف ورزی کرے تو غصب بن جاتی ہے خواہ بعد میں رب المال اس کارروائی کو جائز بھی کردے۔اور مضاربت فاسد ہوجائے تو اجارہ فاسدہ بن جاتا ہے۔اس
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب المضاربہ باب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۸۸۔۲۸۷€
الہدایہ کتاب المضاربہ ∞مطبع یوسفی لکھنو ۳ /۲۵۶€
العقود الدریۃ کتاب المضاربہ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۷۲€
درمختار کتاب المضاربہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۴۶€
الہدایہ کتاب المضاربہ ∞مطبع یوسفی لکھنو ۳ /۲۵۶€
العقود الدریۃ کتاب المضاربہ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۷۲€
درمختار کتاب المضاربہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۴۶€
صورت میں مضارب نفع کا حقدرا نہ ہوگا بلکہ اپنے عمل کے مطابق اجرت کا حقدار ہوگا۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۱۔ب: ۲۷ محرم الحرام ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایك شخص کے کارخانہ تجارت میں تھوڑے روپے دے کر شریك ہوجانا چاہتاہے اور یہ کہتا ہے کہ چھتیس روپے سال مجھ کو اس کے منافع میں سے دیا کرو اور اس سے زیادہ جو کچھ ہو تم لے لیا کرو بحق مضاربتاور اگر کم ہو توا س کے بھی تم متحمل ہو۔شرعا یہ امر جائز ہے یانہیںبینوا توجروا۔
الجواب:
ناجائز اور گناہ ہے
لقطع الشرکۃ فی الربح ولالزام مانقص منہ علی المضارب وکل ذلك شرط فاسد والاول مفسد ایضا کما نصوا علیہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ نفع میں شرکت ختم ہوجانے کی بناء پر اور نقصان مضارب پر لازم کرنے کی بناء پر جبکہ دونوں صورتیں شرط فاسد ہیں۔اور پہلی تو مضاربت کے لئے مفسد بھی ہے۔جیسا کہ فقہاء کرام نے تصریح فرمائی ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۲: ۱۴ ربیع الآخر ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے مبلغ ایك سو پچاس روپیہ بکر کو بہ نیت تجارت دئے کیونکہ بکر میز کرسی کا تاجر تھا اس نے مبلغان مذکورہ کا ساٹھ من بیت خریدا اور سال تمام پر ساٹھ روپے منافع ہوئے لیکن بکر زید کو بایں حساب پانچ روپے ماہوار دیتارہا۔اس عرصہ میں بیت بکر نے بھی خریدا او ر کبھی نہیں خریدا لیکن ہمیشہ پانچ روپے ماہوار دیتا رہا۔بعد ایك عرصہ کے بکر نے قضا کی۔ایك وارث بکر نے وہ مبلغان مذکورہ اپنے ذمے لے کر موافق بکر کے پانچ روپے ماہوار دیئےلیکن چند ماہ کے بعد وارث بکر نے یہ کہا کہ اس طرح روپیہ دینا ماہوار جائز نہیں۔لہذا جو روپیہ ذمہ بکر کے تھا میں ادا کرتاہوں چونکہ زید ایك ضعیف شخص ہے اور طاقت تجارت وغیرہ کی خود نہیں رکھتا ہے۔اس کی غرض یہ ہے کہ یہ روپیہ وارث بکر کے پاس باقی رہے یا شرع مطہر کوئی طریقہ اس ایسا ارشاد فرمائے کہ ہم کو موافق سابق کے یا اس سے کم وبیش ملے۔بینوا توجروا
الجواب:
ایك رقم تعین کردینا کہ نفع ہو یانہ ہوکم ہو یازائد۔ہر طرح اس قدر ماہوار دیں گے ضرور حرام ہے بلکہ وارث بکر زر زیدکو تجارت میں لگائے زید نفع ونقصان دونوں کا متحمل رہے۔نفع ہو تو جس قدر ہو
مسئلہ ۲۱۔ب: ۲۷ محرم الحرام ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایك شخص کے کارخانہ تجارت میں تھوڑے روپے دے کر شریك ہوجانا چاہتاہے اور یہ کہتا ہے کہ چھتیس روپے سال مجھ کو اس کے منافع میں سے دیا کرو اور اس سے زیادہ جو کچھ ہو تم لے لیا کرو بحق مضاربتاور اگر کم ہو توا س کے بھی تم متحمل ہو۔شرعا یہ امر جائز ہے یانہیںبینوا توجروا۔
الجواب:
ناجائز اور گناہ ہے
لقطع الشرکۃ فی الربح ولالزام مانقص منہ علی المضارب وکل ذلك شرط فاسد والاول مفسد ایضا کما نصوا علیہ۔واﷲ تعالی اعلم۔ نفع میں شرکت ختم ہوجانے کی بناء پر اور نقصان مضارب پر لازم کرنے کی بناء پر جبکہ دونوں صورتیں شرط فاسد ہیں۔اور پہلی تو مضاربت کے لئے مفسد بھی ہے۔جیسا کہ فقہاء کرام نے تصریح فرمائی ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۲: ۱۴ ربیع الآخر ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے مبلغ ایك سو پچاس روپیہ بکر کو بہ نیت تجارت دئے کیونکہ بکر میز کرسی کا تاجر تھا اس نے مبلغان مذکورہ کا ساٹھ من بیت خریدا اور سال تمام پر ساٹھ روپے منافع ہوئے لیکن بکر زید کو بایں حساب پانچ روپے ماہوار دیتارہا۔اس عرصہ میں بیت بکر نے بھی خریدا او ر کبھی نہیں خریدا لیکن ہمیشہ پانچ روپے ماہوار دیتا رہا۔بعد ایك عرصہ کے بکر نے قضا کی۔ایك وارث بکر نے وہ مبلغان مذکورہ اپنے ذمے لے کر موافق بکر کے پانچ روپے ماہوار دیئےلیکن چند ماہ کے بعد وارث بکر نے یہ کہا کہ اس طرح روپیہ دینا ماہوار جائز نہیں۔لہذا جو روپیہ ذمہ بکر کے تھا میں ادا کرتاہوں چونکہ زید ایك ضعیف شخص ہے اور طاقت تجارت وغیرہ کی خود نہیں رکھتا ہے۔اس کی غرض یہ ہے کہ یہ روپیہ وارث بکر کے پاس باقی رہے یا شرع مطہر کوئی طریقہ اس ایسا ارشاد فرمائے کہ ہم کو موافق سابق کے یا اس سے کم وبیش ملے۔بینوا توجروا
الجواب:
ایك رقم تعین کردینا کہ نفع ہو یانہ ہوکم ہو یازائد۔ہر طرح اس قدر ماہوار دیں گے ضرور حرام ہے بلکہ وارث بکر زر زیدکو تجارت میں لگائے زید نفع ونقصان دونوں کا متحمل رہے۔نفع ہو تو جس قدر ہو
اتناہی زید کو دیا جائے اس سے زیادہ اصلا نہ لے۔یہ بھی اس صورت میں جبکہ وارث بکر محض احسانا اس کا روپیہ تجارت میں لگائے اور اس کے نفع میں اپنا حصہ نہ چاہے ورنہ جو باہم قرارداد ہوجائے اتنا حصہ نفع میں اپنا لے کر باقی زید کو دے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳:کیا ارشاد ہے علمائے دین کا اس مسئلہ میں کہ رب المال اور مضارب میں وقت دینے مال کے نفع کی تعیین ہوجانی چاہئے کہ مضارب نفع میں سے نصف لے گا یا ثلث وغیرہ یا بعد حصول نفع کے دونوں باہم تراضی سے طے کرلیں اگربوقت مال دینے کے طے کریں تو اسی جلسہ میں ہواگر جلسہ بدل جائے تو حرج تو نہیں رب المال نے مضارب کو ایك شہر معین میں بھیجا اس نے وہاں جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہاں فروخت کرنے میں کوئی فائدہ نہ ہوگا تو اب اس کو کیا کرنا چاہئے۔رب المال کے پاس واپس جانے یا دوسرے شہر میں جہاں مناسب جانے کام کرے۔یا شہر معین میں فروخت کرتے کرتے مال بچ رہا تو مابقی کو لوٹا لائے یا دوسری جگہ مناسب پر فروخت کردے۔اگر رب المال وقت عقد کے توسیع کردے کہ جہاں مناسب سمجھے بیچے اور جو بات مفید دیکھے وہ کرے تو اس کے اختیارات وسیع ہوجائیں گے یا نہیں۔رب المال کے ذمہ سفر خرچ وخورد ونوش مضارب کا ہے اس سے مراد طعام بقدرضرورت ہے یا دیگر اشیاء بھی مثلا اس کا جی چاہا فصل کی کوئی شیئ کھالی یا روٹی سالن کافی تھا کہ اس نے پلاؤ زردہ کھایا یا کسی مسکین کو خیرات میں کچھ دیا یا لباس کی ضرورت پر کپڑا خرید کر استعمال کیا مثلا ٹوپی کافی ہوسکتی تھی کہ اس نے عمامہ خریدا یا اس کی حیثیت کے موافق ایك آنہ کی ٹوپی مناسب تھی کہ اس نے چارآنے کی خریدی۔
الجواب:
نفع میں جو حصہ شائعہ مضارب کا تعین نفس عقدمیں ضرورہے۔اگر عقد بلا تعیین حصہ شائعہ کیا مثلا تجھے مضارب کیاا س شرط پر کہ کچھ نفع مجھے دے دیا کر نا اس شرط پر کہ جتنا چاہوں اتنا نفع تجھے دیا کروں تو عقد فاسد وحرام ہے۔بلکہ اگر یوں کہا کہ زید وعمر میں باہم جتنے نفع پر مضاربت ہوئی ہے اسی قدر پر میں نے تجھ سے مضاربت کی اور عاقدین میں ایك کو اس کی مقدار معلوم نہیں۔عقد فاسد ہوگا اگر چہ دوسرے کو معلوم ہوہاں اسی جلسہ میں تعیین کرلیں یا علم ہوجائے توجائز ہوجائے لان المجلس یجمع الکلمات(کیونکہ مجلس متفرق کلام کی جامع ہوتی ہے۔ت)تبدل جلسہ ہوتے ہی فساد متقرر اور گناہ مستقر ہوجائے گا و المسائل کلہا معلومۃ من الفقہ (یہ تمام مسائل فقہ میں واضح
مسئلہ ۲۳:کیا ارشاد ہے علمائے دین کا اس مسئلہ میں کہ رب المال اور مضارب میں وقت دینے مال کے نفع کی تعیین ہوجانی چاہئے کہ مضارب نفع میں سے نصف لے گا یا ثلث وغیرہ یا بعد حصول نفع کے دونوں باہم تراضی سے طے کرلیں اگربوقت مال دینے کے طے کریں تو اسی جلسہ میں ہواگر جلسہ بدل جائے تو حرج تو نہیں رب المال نے مضارب کو ایك شہر معین میں بھیجا اس نے وہاں جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہاں فروخت کرنے میں کوئی فائدہ نہ ہوگا تو اب اس کو کیا کرنا چاہئے۔رب المال کے پاس واپس جانے یا دوسرے شہر میں جہاں مناسب جانے کام کرے۔یا شہر معین میں فروخت کرتے کرتے مال بچ رہا تو مابقی کو لوٹا لائے یا دوسری جگہ مناسب پر فروخت کردے۔اگر رب المال وقت عقد کے توسیع کردے کہ جہاں مناسب سمجھے بیچے اور جو بات مفید دیکھے وہ کرے تو اس کے اختیارات وسیع ہوجائیں گے یا نہیں۔رب المال کے ذمہ سفر خرچ وخورد ونوش مضارب کا ہے اس سے مراد طعام بقدرضرورت ہے یا دیگر اشیاء بھی مثلا اس کا جی چاہا فصل کی کوئی شیئ کھالی یا روٹی سالن کافی تھا کہ اس نے پلاؤ زردہ کھایا یا کسی مسکین کو خیرات میں کچھ دیا یا لباس کی ضرورت پر کپڑا خرید کر استعمال کیا مثلا ٹوپی کافی ہوسکتی تھی کہ اس نے عمامہ خریدا یا اس کی حیثیت کے موافق ایك آنہ کی ٹوپی مناسب تھی کہ اس نے چارآنے کی خریدی۔
الجواب:
نفع میں جو حصہ شائعہ مضارب کا تعین نفس عقدمیں ضرورہے۔اگر عقد بلا تعیین حصہ شائعہ کیا مثلا تجھے مضارب کیاا س شرط پر کہ کچھ نفع مجھے دے دیا کر نا اس شرط پر کہ جتنا چاہوں اتنا نفع تجھے دیا کروں تو عقد فاسد وحرام ہے۔بلکہ اگر یوں کہا کہ زید وعمر میں باہم جتنے نفع پر مضاربت ہوئی ہے اسی قدر پر میں نے تجھ سے مضاربت کی اور عاقدین میں ایك کو اس کی مقدار معلوم نہیں۔عقد فاسد ہوگا اگر چہ دوسرے کو معلوم ہوہاں اسی جلسہ میں تعیین کرلیں یا علم ہوجائے توجائز ہوجائے لان المجلس یجمع الکلمات(کیونکہ مجلس متفرق کلام کی جامع ہوتی ہے۔ت)تبدل جلسہ ہوتے ہی فساد متقرر اور گناہ مستقر ہوجائے گا و المسائل کلہا معلومۃ من الفقہ (یہ تمام مسائل فقہ میں واضح
ہیں۔ت)درمختار میں ہے:
شرطہا کون الربح بینہا شائعا فلو عین قدرا فسدت و کون نصیب کل منہما معلوما عند العقد ۔ مفاربت میں نفع غیر معین مقدار ہونا شرط ہے اور اگر کوئی معین مقدار طے ہوئی تو مضاربت فاسد ہوگی اور عقد کے وقت دونوں کا حصہ معلوم بھی شرط ہے۔(ت)
ہندیہ میں ہے:
دفع الی غیرہ الف درہم مضاربۃ علی مثل ما شرط فلان لفلان من الربح فان علم رب المال والمضارب بما شرط فلان لفلان من الربح تجوز المضاربۃ وان لم یعلما لاتجوز وکذا اذا علم احدھما وجہل الاخر ھکذا فی المحیطولو دفع الیہ مضاربۃ علی ان یعطی المضارب رب المال ماشاء من الربح فھذہ مضاربۃ فاسدۃ کذا فی المبسوط ۔ کسی نے دوسرے کو ہزار درہم مضاربت کے طورپر دیا کہ جیسے جیسے فلاں فلاں نے آپس میں نفع شرط کیا اس شرط کے مطابق یہ عقد ہے تو اگر رب المال اور مضارب دونوں کو ان کی شرط معلوم تھی تو یہ مضاربت جائز ہوگی اور ان کو فلاں فلاں کی شرط معلوم نہ تھی تو جائز نہ ہوگی اور یونہی اگر ایك کو وہ شرط معلوم تھی اور دوسرے کو معلوم نہ تھی۔محیط میں یوں ہے اور اگر دوسرے کو مضاربت کے لئے اس شرط پر مال دیا کہ مضارب جو چاہے نفع میں سے رب المال کو دے تو یہ مضاربت فاسدہوگی جیسا کہ مبسوط میں ہے۔(ت)
مضارب جہاں مناسب جانے مال لے جاسکتاہے اس میں اذن رب المال کی حاجت نہیں جبکہ رب المال اسے مقید نہ کردے۔ہاں مقید کردے گا کہ اسی شہر یا خاص فلاں شہر ہی میں خرید وفروخت کرویا صرف فلاں موسم میں یا خاص فلاں شخص یا اشخاص سےیا خاص فلاں مال کی تجارت کرو تو مضارب اس کے اتباع کا پابند ہوجائیگا مخالفت کرے گا تو تاوان دے گا اگرچہ رب المال نے عقد مضاربت کے بعد یہ تقییدات کردی ہو۔جب تك روپیہ بدستور باقی ہے ابھی مضارب نے اس سے مال نہ خریدا۔خریداری کے بعد پھر رب المال مطلق ومقید نہیں کرسکتا۔درمختارمیں ہے:
شرطہا کون الربح بینہا شائعا فلو عین قدرا فسدت و کون نصیب کل منہما معلوما عند العقد ۔ مفاربت میں نفع غیر معین مقدار ہونا شرط ہے اور اگر کوئی معین مقدار طے ہوئی تو مضاربت فاسد ہوگی اور عقد کے وقت دونوں کا حصہ معلوم بھی شرط ہے۔(ت)
ہندیہ میں ہے:
دفع الی غیرہ الف درہم مضاربۃ علی مثل ما شرط فلان لفلان من الربح فان علم رب المال والمضارب بما شرط فلان لفلان من الربح تجوز المضاربۃ وان لم یعلما لاتجوز وکذا اذا علم احدھما وجہل الاخر ھکذا فی المحیطولو دفع الیہ مضاربۃ علی ان یعطی المضارب رب المال ماشاء من الربح فھذہ مضاربۃ فاسدۃ کذا فی المبسوط ۔ کسی نے دوسرے کو ہزار درہم مضاربت کے طورپر دیا کہ جیسے جیسے فلاں فلاں نے آپس میں نفع شرط کیا اس شرط کے مطابق یہ عقد ہے تو اگر رب المال اور مضارب دونوں کو ان کی شرط معلوم تھی تو یہ مضاربت جائز ہوگی اور ان کو فلاں فلاں کی شرط معلوم نہ تھی تو جائز نہ ہوگی اور یونہی اگر ایك کو وہ شرط معلوم تھی اور دوسرے کو معلوم نہ تھی۔محیط میں یوں ہے اور اگر دوسرے کو مضاربت کے لئے اس شرط پر مال دیا کہ مضارب جو چاہے نفع میں سے رب المال کو دے تو یہ مضاربت فاسدہوگی جیسا کہ مبسوط میں ہے۔(ت)
مضارب جہاں مناسب جانے مال لے جاسکتاہے اس میں اذن رب المال کی حاجت نہیں جبکہ رب المال اسے مقید نہ کردے۔ہاں مقید کردے گا کہ اسی شہر یا خاص فلاں شہر ہی میں خرید وفروخت کرویا صرف فلاں موسم میں یا خاص فلاں شخص یا اشخاص سےیا خاص فلاں مال کی تجارت کرو تو مضارب اس کے اتباع کا پابند ہوجائیگا مخالفت کرے گا تو تاوان دے گا اگرچہ رب المال نے عقد مضاربت کے بعد یہ تقییدات کردی ہو۔جب تك روپیہ بدستور باقی ہے ابھی مضارب نے اس سے مال نہ خریدا۔خریداری کے بعد پھر رب المال مطلق ومقید نہیں کرسکتا۔درمختارمیں ہے:
حوالہ / References
درمختار کتاب المضاربۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۷۔۱۴۶€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب المضاربۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۲۸۸€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب المضاربۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۲۸۸€
یملك المضارب فی المطلقۃ التی لم تقید بمکان او زمان اونوع(ای اوشخص ش)البیع بنقد ونسیئۃ متعارفۃ و الشراء والتوکیل بہما والسفر برا و بحرا لا تجاوز بلدا وسلعۃ اووقف اوشخص عینہ المالك لان المضاربۃ تقبل التقیید المفید ولو بعد العقد مالم یصرالمال عرضا لانہ حینئذ لایملك عزلہ فلا یملك تخصیصہ فان فعل ضمن بالمخالفۃ اھ ملتقطا۔ مضاربہ مطلقہ جو کسی مکانزمانقسم(یا شخص ش)سے مقید نہ ہو تو اس میں مضارب کو ہر طرح بیع نقدادھار معروف اور خریدنے اور بیع وشراء میں وکیل بنانے اور بری و بحری سفر کرنے کا اختیار ہوگا اور اگر مالك نے علاقہ سامان وقف یا شخص کو معین کردیا تو مضارب اس پابندی سے تجاوز نہیں کرسکتاکیونکہ مال کے سامان تجارت بننے سے قبل مضاربت مفید پابندی کے قابل ہے اگرچہ یہ پابندی عقد کے بعدلگائی ہو مگر مال جب سامان تجارت میں بدل جائے تو اس وقت پابندی موثر نہ ہوگی کیونکہ اس موقعہ پر مالك مضارب کو معزول کرنے کا اختیار نہیں رکھتا تو کسی تخصیص وپابندی کا مالك بھی نہ ہوگا۔اگر مالك نے قیود کا پابند کیا ہو تو مضارب مخالفت کرنے پر مال کا ضامن ہوگا اھ ملتقطا (ت)
رب المال اگر مضارب کی رائے پر چھوڑ دے کہ جو مناسب جانے کرے تو ضرور اس کے بعض اختیارات وسیع ہوجائیں گے مثلا مطلق مضاربت میں اسے یہ اختیار نہ ہوتا کہ دوسرے کو اپنی طرف سے یہ مال مضاربت دے یا راس المال اپنے روپے میں ملالے اور جب رب المال نے یہ کہا کہ تیری رائے پر چھوڑا تو ان امور کا بھی مختار ہوجائیگا ہاں کسی کو روپیہ قرض دینا یا کسی سے قرض لینا اب بھی جائز نہ ہوگا جب کہ مالك صراحۃ اس کا اذن نہ دے۔درمختار میں ہے:
لایملك المضاربۃ والشرکۃ والخلط بمال نفسہ الا باذن او اعمل برایك اذ الشیئ لایتضمن مثلہ ولا الاقراض والا ستدانۃ وان قیل لہ اعمل برایك لانہما لیسا من صنیع التجار فلم یدخلا فی التعمیم مالم ینص المالك علیہما مضارب مالك کی اجازت کے بغیر آگے مضاربہشرکت اور اپنے مال کے ساتھ خلط کرنے کا مالك نہ بنے گا۔اجازت یا اپنی رائے سے عمل کرکہہ دینے سے مالك بن سکے گا کیونکہ کوئی چیزاپنی مثل کو متضمن نہیں ہوتی اور اپنی رائے سے عمل کر۔کہہ دینے کے باوجود مضارب قرض دینے
رب المال اگر مضارب کی رائے پر چھوڑ دے کہ جو مناسب جانے کرے تو ضرور اس کے بعض اختیارات وسیع ہوجائیں گے مثلا مطلق مضاربت میں اسے یہ اختیار نہ ہوتا کہ دوسرے کو اپنی طرف سے یہ مال مضاربت دے یا راس المال اپنے روپے میں ملالے اور جب رب المال نے یہ کہا کہ تیری رائے پر چھوڑا تو ان امور کا بھی مختار ہوجائیگا ہاں کسی کو روپیہ قرض دینا یا کسی سے قرض لینا اب بھی جائز نہ ہوگا جب کہ مالك صراحۃ اس کا اذن نہ دے۔درمختار میں ہے:
لایملك المضاربۃ والشرکۃ والخلط بمال نفسہ الا باذن او اعمل برایك اذ الشیئ لایتضمن مثلہ ولا الاقراض والا ستدانۃ وان قیل لہ اعمل برایك لانہما لیسا من صنیع التجار فلم یدخلا فی التعمیم مالم ینص المالك علیہما مضارب مالك کی اجازت کے بغیر آگے مضاربہشرکت اور اپنے مال کے ساتھ خلط کرنے کا مالك نہ بنے گا۔اجازت یا اپنی رائے سے عمل کرکہہ دینے سے مالك بن سکے گا کیونکہ کوئی چیزاپنی مثل کو متضمن نہیں ہوتی اور اپنی رائے سے عمل کر۔کہہ دینے کے باوجود مضارب قرض دینے
حوالہ / References
درمختار کتاب المضاربۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴۷€
فیملکھما (ملخصا) اورا دھار دینے کا مجاز نہ ہوگا کیونکہ یہ دونوں عمل تجار کا طریقہ نہیں تودی ہوئی تعمیم میں یہ چیزیں شامل نہ ہوں گی جب تك مالك ان دونوں کی تصریح نہ کردے۔اگر ان کی تصریح کردی تو ان کا مجاز بنے گا(ملخصا)۔(ت)
مضاربۃ صحیحہ میں جبکہ مضارب مال مضاربت لے کر بغرض مضاربت سفر کرے اگرچہ ایك ہی دن کا سفر ہو تو ایام سفر کا نفقہکھانا۔پینا۔پہنناسواریبچھوناتکیہتیلبتیکپڑوں کی دھلائیخط بنوائیخدمت گزاری کی اجرتسواری کا دانہ چارہ سرا کی کوٹھریچارپائی کا کرایہاور ان کے مثل ہر معمولی ودوامی حاجت حسب عادت تجار بقدر معروف مضارب پر ہوگی یہ خرچ مال پر ڈالا جائیگا جو اسے مجرا دے کر بچا وہ نفع سمجھا جائے گا اور اگر نفع نہ ہوا تو یہ خرچ اصل مال پر پڑے گا اور مضارب اس کا کچھ عوض نہ دے گا۔درمختار میں ہے:
واذا سافرولو یوما فطعامہ وشرابہ و کسوتہ ورکوبہ ولوبکراء وکل مایحتاج فی عادۃ التجار بالمعروف فی مالہا لو صحیحۃ لا فاسدۃ لانہ اجیرفلا نفقۃ لہ وان عمل فی المصر فنفقتہ فی مالہ کدوائہ علی الظاہرا مااذا نوی الاقامۃ بمصر ولم یتخذہ دارافلہ النفقۃ ابن عــــــہ ملك ویاخذ المالك قدر ماانفقہ المضارب من راس المال ان کان ثمہ ربح فلا شیئ علی المضارب (ملخصا) جب مضارب سفر کرے خواہ ایك دن کا ہو تو خوراکشراب لباسسواری جب کرایہ کی ہواورتمام اخراجات جو تجار کی عادت معروفہ ہوں وہ سب مضاربت کے مال سے ہوں گے بشرطیکہ مضاربت صحیح ہو فاسد نہ ہو کیونکہ فاسد ہو تو مضارب اجیر ہے نفقہ کا مستحق نہ ہوگااور اگر وہاں شہر میں ہی کام کیا تو اپنے مال سے نفقہ برداشت کریگا جیسا کہ علاج کی صوت میں ظاہر قول کی بناء پر خود کرے گا۔اور سفر کے دوران کسی شہر میں اقامت کی نیت کی لیکن مستقل وطن نہ بنایا تب بھی نفقہ مضاربہ پر ہوگا(ابن ملک)اور اگر مضاربت میں نفع حاصل ہوا اور مضارب نے راس المال(اصل مال)سے نفقہ کیا تو مالك اتنا خرچہ نفع سے وصول کرلے گا تو مضارب کے ذمہ کچھ نہ آئے گا۔ملخصا(ت)
عــــــہ:لعل المراد منہ عبداللطیف ابن عبدالعزیز الشہیر بابن ملک۔
مضاربۃ صحیحہ میں جبکہ مضارب مال مضاربت لے کر بغرض مضاربت سفر کرے اگرچہ ایك ہی دن کا سفر ہو تو ایام سفر کا نفقہکھانا۔پینا۔پہنناسواریبچھوناتکیہتیلبتیکپڑوں کی دھلائیخط بنوائیخدمت گزاری کی اجرتسواری کا دانہ چارہ سرا کی کوٹھریچارپائی کا کرایہاور ان کے مثل ہر معمولی ودوامی حاجت حسب عادت تجار بقدر معروف مضارب پر ہوگی یہ خرچ مال پر ڈالا جائیگا جو اسے مجرا دے کر بچا وہ نفع سمجھا جائے گا اور اگر نفع نہ ہوا تو یہ خرچ اصل مال پر پڑے گا اور مضارب اس کا کچھ عوض نہ دے گا۔درمختار میں ہے:
واذا سافرولو یوما فطعامہ وشرابہ و کسوتہ ورکوبہ ولوبکراء وکل مایحتاج فی عادۃ التجار بالمعروف فی مالہا لو صحیحۃ لا فاسدۃ لانہ اجیرفلا نفقۃ لہ وان عمل فی المصر فنفقتہ فی مالہ کدوائہ علی الظاہرا مااذا نوی الاقامۃ بمصر ولم یتخذہ دارافلہ النفقۃ ابن عــــــہ ملك ویاخذ المالك قدر ماانفقہ المضارب من راس المال ان کان ثمہ ربح فلا شیئ علی المضارب (ملخصا) جب مضارب سفر کرے خواہ ایك دن کا ہو تو خوراکشراب لباسسواری جب کرایہ کی ہواورتمام اخراجات جو تجار کی عادت معروفہ ہوں وہ سب مضاربت کے مال سے ہوں گے بشرطیکہ مضاربت صحیح ہو فاسد نہ ہو کیونکہ فاسد ہو تو مضارب اجیر ہے نفقہ کا مستحق نہ ہوگااور اگر وہاں شہر میں ہی کام کیا تو اپنے مال سے نفقہ برداشت کریگا جیسا کہ علاج کی صوت میں ظاہر قول کی بناء پر خود کرے گا۔اور سفر کے دوران کسی شہر میں اقامت کی نیت کی لیکن مستقل وطن نہ بنایا تب بھی نفقہ مضاربہ پر ہوگا(ابن ملک)اور اگر مضاربت میں نفع حاصل ہوا اور مضارب نے راس المال(اصل مال)سے نفقہ کیا تو مالك اتنا خرچہ نفع سے وصول کرلے گا تو مضارب کے ذمہ کچھ نہ آئے گا۔ملخصا(ت)
عــــــہ:لعل المراد منہ عبداللطیف ابن عبدالعزیز الشہیر بابن ملک۔
حوالہ / References
درمختار کتاب المضاربۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴۷€
درمختار فصل فی المتفرقات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۰€
درمختار فصل فی المتفرقات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۰€
مگر بقدر معروف کی قید لگی ہوئی ہے روٹی سالن معروف تھا تو پلاؤ زردہ کی اجازت نہیں۔ٹوپی کی عادت ہے عمامہ نہیں لے سکتا ایك آنہ کی ٹوپی معتاد ہے دو آنہ کی نہ لے گا۔فصل کے میوےبرف کی قلفیاںمٹھائی کے دونےسوڈے کی بوتلیںیہ اپنی جیب خاص سے کھائے پئےمال مضاربت پر حوائج ڈالتے ہیں یہ حوائج نہیں۔اسی طرح کنگھیسرمہپھلیلدوامال مضاربت سے نہ کرے گا۔عالمگیری میں ہے:
النفقۃ ھی مایصرف الی الحاجۃ الراتبۃ وھی الطعام والشراب والکسوۃ وفراش ینام علیہ والرکوب و علف دابتہمحیط السرخسیوغسل ثیابہ والدھن فی موضع یحتاج الیہ واجرۃ الحمام والحلاق وانما یطلق فی جمیع ذلك بالمعروف حتی یضمن الفضل ان جاوزہ ھکذا فی الکافیوروی عن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی انہ سئل عن اللحم فقال کما کان یاکل ذخیرۃواما الدواء والحجامۃ والکحل ونحو ذلك فی مالہ خاصۃ دون مال المضاربۃولو استاجرا جیرا یخدمہ فی سفرہ احتسب بذلك علی المضاربۃ مبسوط واﷲ تعالی اعلم۔ نفقہ وہ عام حاجت کے مصارف ہیں اور وہ کھاناپینالباس بستر زیر استعمالسواریجانور کی خوراك ہےمحیط سرخسی اور کپڑوں کی دھلائیضرورت کے مقام پر تیلحجام کی اجرت ان تمام امور کی معروف اجازت ہوگی حتی کہ اگر معروف مقدار سے زائد خرچ کیا تو ضامن ہوگا کافی میں یوں ہےاور امام ابویوسف رحمہ الله تعالی سے مروی ہے کہ ان سے خوراك میں گوشت کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں جو کھانے کی اسے عادت ہوذخیرہلیکن ذاتی دوائیسینگی لگانے اور سرمہ وغیرہ جیسی چیزیں مضارب کے اپنے ذاتی مال سے ہونگی مضاربت سے نہ ہونگیاور اگر سفر کے دوران خدمت کے لئے اجیر کرایہ پر رکھا تو یہ مضاربت کے حساب سے ہوگامبسوطوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۴: از موضع سابق
جواب کی بعض عبارات کی تشریح مطلوب ہے:
(۱)جبکہ مضارب کو اختیار دے دیا کہ جہاں چاہے کام کراور اس نے شہرہی میں فروخت کرنا شروع کیا اور مضارب فقیر ہے یعنی اپنے پاس سے خرچ نہیں کرسکتا تو اس صورت میں اس کا نفقہ رب المال
النفقۃ ھی مایصرف الی الحاجۃ الراتبۃ وھی الطعام والشراب والکسوۃ وفراش ینام علیہ والرکوب و علف دابتہمحیط السرخسیوغسل ثیابہ والدھن فی موضع یحتاج الیہ واجرۃ الحمام والحلاق وانما یطلق فی جمیع ذلك بالمعروف حتی یضمن الفضل ان جاوزہ ھکذا فی الکافیوروی عن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی انہ سئل عن اللحم فقال کما کان یاکل ذخیرۃواما الدواء والحجامۃ والکحل ونحو ذلك فی مالہ خاصۃ دون مال المضاربۃولو استاجرا جیرا یخدمہ فی سفرہ احتسب بذلك علی المضاربۃ مبسوط واﷲ تعالی اعلم۔ نفقہ وہ عام حاجت کے مصارف ہیں اور وہ کھاناپینالباس بستر زیر استعمالسواریجانور کی خوراك ہےمحیط سرخسی اور کپڑوں کی دھلائیضرورت کے مقام پر تیلحجام کی اجرت ان تمام امور کی معروف اجازت ہوگی حتی کہ اگر معروف مقدار سے زائد خرچ کیا تو ضامن ہوگا کافی میں یوں ہےاور امام ابویوسف رحمہ الله تعالی سے مروی ہے کہ ان سے خوراك میں گوشت کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں جو کھانے کی اسے عادت ہوذخیرہلیکن ذاتی دوائیسینگی لگانے اور سرمہ وغیرہ جیسی چیزیں مضارب کے اپنے ذاتی مال سے ہونگی مضاربت سے نہ ہونگیاور اگر سفر کے دوران خدمت کے لئے اجیر کرایہ پر رکھا تو یہ مضاربت کے حساب سے ہوگامبسوطوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۴: از موضع سابق
جواب کی بعض عبارات کی تشریح مطلوب ہے:
(۱)جبکہ مضارب کو اختیار دے دیا کہ جہاں چاہے کام کراور اس نے شہرہی میں فروخت کرنا شروع کیا اور مضارب فقیر ہے یعنی اپنے پاس سے خرچ نہیں کرسکتا تو اس صورت میں اس کا نفقہ رب المال
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب المضاربۃ الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۳۔۳۱۲€
کے ذمہ ہوگا یا نہیں قال یہ خرچ مال پر ڈالا جائے گا جو اسے مجراد ے کر بچا وہ نفع سمجھا جائیگا اقول اس کی دو صورتیں اس وقت خیال میں آتی ہیں ایك یہ کہ رب المال نے ایك مجمل رقم مضارب کو دی تھی اس نے اس میں سے اکثر کامال خریدا اور قلیل اپنے خرچ کے واسطے رکھ لیجب یہ خرچ ہوگئی مال کی آمدنی میں سے صرف میں لایادوسرے یہ کہ رب المال نے ایك رقم معین مال خریدنے کے واسطے دیمضارب نے اس سب کا مال خریداا ور سفر خرچ وغیرہ اپنے گھر سے کیا۔ان دو صورتوں میں تو بیشك مضارب مصارف مجرا کرکے نفع کی تقسیم کرے۔تیسری صورت یہ کہ رب المال نے ایك رقم خاص واسطے خریداموال کے معین کردی اور ایك رقم خاص واسطے نفع وسفر خرچ وغیرہ کے دے دی تو اب یہ مصارف مال مضاربت پر کیوں پڑیں گے۔بلکہ اس رقم صرف میں سے بعد خرچ کے جتنا بچ رہے گا وہ واپس دینا ہوگا ہاں اگر رقم سب صرف میں آگئی اور کچھ زائد خرچ کرنے کی ضرورت ہوئی تو اب جو کچھ خرچ ہو وہ مال مضاربت پرپڑے روپیہ بدستور رہنے کی صور ت میں جیسے اخیتار مطلق کو مقید کرسکتاہے یوں ہی مقید کو مطلق بھی کرسکتاہے یانہیں افیدونا رحمکم اﷲ تعالی۔
الجواب:
(۱)جب تك اپنے وطن میں ہوگا نفقہ نہ پائے گا اگر چہ خرید وفروخت وکار مضاربت کرتا رہے اگر چہ رب المال دوسری جگہ کا ساکن ہو اور وہیں اس سے عقد مضاربت کیا ہواسے سفرخرچ دیا جاتاہے اوریہ جب تك وطن میں ہے مسافر نہیں۔اسی طرح اگر اس کے غیر وطن میں رب المال نے اسے روپیہ دیا یہ وہاں بطور مسافرت گیا ہوا تھا تو فی الحال جب تك اس شہر میں ہے نفقہ نہ پائے گا اگر چہ کار مضاربت انجام دے کہ اس بار اس کا یہ سفر مضاربت کے لیے نہ تھا بلکہ قبل عقد مضاربت تھاہاں جب وہاں سے چلا جائے گا اور پھر بغرض مضاربت وہاں آئے گا تو سفر خرچ پائے گا کہ اب یہ سفر بغرض مضاربت ہے بخلاف وطن مضارب کہ اگر جائے مضاربت سے سفر ہی کرکے خاص کار مضاربت ہی کے لئے اپنے وطن کو آئے جب تك وطن میں رہے گا نفقہ نہ ملے گا کہ وطن میں آدمی کسی طرح آئے مسافر نہیں رہ سکتا۔بدائع ومحیط و فتاوی ظہیریہ وبحرالرائق وردالمحتارمیں ہے:
لو اخذ مالا بالکوفۃ وھومن اھل البصرۃ وکان قدم الکوفۃ مسافرا فلا نفقۃ لہ فی المال مادام فی الکوفۃ اگر مضارب نے مالك سے کوفہ میں مال وصول کیا جبکہ مضارب بصرہ کارہنے والا ہے وہ کوفہ میں بطور مسافر آیا تھا تو جب تك وہ کوفہ میں قیام پذیر رہے گا اس وقت تك مال مضاربت پر اس کا نفقہ نہ آئے گا
الجواب:
(۱)جب تك اپنے وطن میں ہوگا نفقہ نہ پائے گا اگر چہ خرید وفروخت وکار مضاربت کرتا رہے اگر چہ رب المال دوسری جگہ کا ساکن ہو اور وہیں اس سے عقد مضاربت کیا ہواسے سفرخرچ دیا جاتاہے اوریہ جب تك وطن میں ہے مسافر نہیں۔اسی طرح اگر اس کے غیر وطن میں رب المال نے اسے روپیہ دیا یہ وہاں بطور مسافرت گیا ہوا تھا تو فی الحال جب تك اس شہر میں ہے نفقہ نہ پائے گا اگر چہ کار مضاربت انجام دے کہ اس بار اس کا یہ سفر مضاربت کے لیے نہ تھا بلکہ قبل عقد مضاربت تھاہاں جب وہاں سے چلا جائے گا اور پھر بغرض مضاربت وہاں آئے گا تو سفر خرچ پائے گا کہ اب یہ سفر بغرض مضاربت ہے بخلاف وطن مضارب کہ اگر جائے مضاربت سے سفر ہی کرکے خاص کار مضاربت ہی کے لئے اپنے وطن کو آئے جب تك وطن میں رہے گا نفقہ نہ ملے گا کہ وطن میں آدمی کسی طرح آئے مسافر نہیں رہ سکتا۔بدائع ومحیط و فتاوی ظہیریہ وبحرالرائق وردالمحتارمیں ہے:
لو اخذ مالا بالکوفۃ وھومن اھل البصرۃ وکان قدم الکوفۃ مسافرا فلا نفقۃ لہ فی المال مادام فی الکوفۃ اگر مضارب نے مالك سے کوفہ میں مال وصول کیا جبکہ مضارب بصرہ کارہنے والا ہے وہ کوفہ میں بطور مسافر آیا تھا تو جب تك وہ کوفہ میں قیام پذیر رہے گا اس وقت تك مال مضاربت پر اس کا نفقہ نہ آئے گا
فاذاخرج منہا مسافرا فلہ النفقۃ حتی یاتی البصرۃ لان خروجہ لاجل المال ولاینفق من المال مادام بالبصرۃ لان البصرۃ وطن اصلی لہ فکانت اقامتہ فیہ لاجل الوطن لا لاجل المال فاذا خرج من البصرۃ لہ وان ینفق ایضا مااقام بالکوفۃ حتی یعود الی البصرۃ لان وطنہ بالکوفۃ کان وطن اقامۃ یبطل بالسفر فاذا عاد الیہاولیس لہ بہا وطن کانت اقامتہ فیہا لاجل المال ۔ تو جب وہاں سے سفر کرتے ہوئے نکلے گا تو بصرہ پہنچنے تك اس کا نفقہ ہوگا کیونکہ اس کا اب کوفہ سے نکلنا مضارب کے طوپر ہے اور پھر جب تك بصرہ میں رہے گا وہ خرچہ نہ پائے گا کیونکہ بصرہ اس کا وطن اصلی ہے تویہاں اس کی اقامت وطن کی وجہ سے ہے مضاربت کے لئے نہیں۔توا ب اگر وہ بصرہ سے نکل کر کوفہ آیا تو واپس بصرہ پہنچنے تك نفقہ اس کا حق ہے کیونکہ پہلے کوفہ میں اس کا قیام وطن اقامت کے طور پر تھا تو وہاں سے سفر کرنے پر وہ وطن باطل ہوگیا تو اب دوبارہ اس کا کوفہ آنا مضاربت کے لئے کیونکہ کوفہ اس کا وطن نہیں تو وہاں اس کا قیام صرف مال کے لئے ہے۔(ت)
(۲)مجمل رقم دینا بے معنی ہے مضاربت میں راس المال کا معلوم ہونا شرط ہے ورنہ عقد فاسد وگناہ ہوگا۔عالمگیری میں ہے:
اما شرائطہا الصحیحۃ فمنہا ان یکون راس المال معلوما عند العقد حتی لایقعان فی المنازعۃ فی الثانی الخ۔ مضاربت کے صحیح شرائط میں سے ایك یہ ہے کہ عقد کے وقت راس المال کا معلوم ہونا ہے تاکہ بعد میں دونوں کا اختلاف نہ ہو الخ(ت)
(۳)مضارب اگر اپنے پاس سے خرچ کرے گا جب بھی مال مضاربت سے مجرا پائے گا مگر رب المال سے مجرا لینے کا حق نہیں رکھتا یہاں تك کہ اگر مال مضاربت تلف ہوجائے تو اس کا خرچ بھی گیا۔رب المال سے اس کا مطالبہ نہ کرسکے گا۔عالمگیری میں ہے:
ان انفق المضارب من مال نفسہ اواستدان علی المضاربۃ اگر مضارب نے اپنے ذاتی مال سے نفقہ لیا یا اس نے مضاربت کے معاملہ میں قرض لیا تو وہ اسے
(۲)مجمل رقم دینا بے معنی ہے مضاربت میں راس المال کا معلوم ہونا شرط ہے ورنہ عقد فاسد وگناہ ہوگا۔عالمگیری میں ہے:
اما شرائطہا الصحیحۃ فمنہا ان یکون راس المال معلوما عند العقد حتی لایقعان فی المنازعۃ فی الثانی الخ۔ مضاربت کے صحیح شرائط میں سے ایك یہ ہے کہ عقد کے وقت راس المال کا معلوم ہونا ہے تاکہ بعد میں دونوں کا اختلاف نہ ہو الخ(ت)
(۳)مضارب اگر اپنے پاس سے خرچ کرے گا جب بھی مال مضاربت سے مجرا پائے گا مگر رب المال سے مجرا لینے کا حق نہیں رکھتا یہاں تك کہ اگر مال مضاربت تلف ہوجائے تو اس کا خرچ بھی گیا۔رب المال سے اس کا مطالبہ نہ کرسکے گا۔عالمگیری میں ہے:
ان انفق المضارب من مال نفسہ اواستدان علی المضاربۃ اگر مضارب نے اپنے ذاتی مال سے نفقہ لیا یا اس نے مضاربت کے معاملہ میں قرض لیا تو وہ اسے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب المضاربۃ فصل فی المتفرقات داراحیاء التراث العربی بروت ∞۴ /۴۹۰€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب المضاربۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۸۶۔۲۸۵€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب المضاربۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۸۶۔۲۸۵€
رجع فی مال المضاربۃ بذلك ویبدأ براس المال ثم یثنی بالنفقۃ ثم یثلث بالربح وان ھلك مال المضاربۃ لم یرجع علی رب المال بشیئ کذا فی الذخیرۃ ۔ مضاربت کے مال سے وصول کرے گا یہ مجرائی اولا راس المال سے پھر ثانیا نفقہ سے اور پھر ثالثا نفع سے ہوگی اور اگر مضاربت کا تمام مال ہلاك ہوجائے تو مضارب کچھ بھی رب المال سے وصول نہ کرسکے گاذخیرہ میں یوں ہے۔(ت)
(۴)رقم خاص جو سفر خرچ کے لئے اسی عقد مضاربت کی بناء پر دی وہ مضاربت ہی میں شامل ہےہاں اگر جدا رقم دے کر تصریح کردی کہ میں تیرا سفر خرچ تبرعا اپنے پاس سے دیتاہوںجو کچھ راس المال پر بڑھے گا وہ تمام وکمال نفع سمجھا جائے گا اور تو اس سے جدا پائے گا تو یہ اس کا احسان ہے اسے اختیار ہے پھر اگروہ منع کردے تو اس پر جبر نہیں ما علی المحسنین من سبیل۔
(۵)مقید کو ہر وقت مطلق کرسکتاہے کہ منع رب المال ہی کے حق کے لئے تھاصاحب حق کو اپنے حق سے درگزر کرنے کا اختیار ہے
یاحق یاصاحب کل حق بغناك وفقرنا تجاوز عمالك من الحقوق علینا و بکرمك تحمل عناما لعبید فانك اکرم الاکرمین وصلی اﷲ تعالی علی اکرم الخلق محمد والہ الکرماء اجمعین امین و الحمد ﷲ رب العالمینواﷲ تعالی اعلم۔ یاذات حقاے ہر حق کے مالکاپنے غنا اور ہمارے فقرکے وسیلہ سے ہمارے ذمہ جو بھی تیرے حقوق ہیں معاف فرما اوراپنے کرم کے ذریعہ اپنے بندوں کے حقوق کو ہم سے ختم فرماکیونکہ تو تمام کریموں سے بڑا کریم ہے اور الله تعالی کی رحمتیں مخلوق کے بڑے کریم محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم پر اور ان کی کرم والی سب آل پرآمینالحمد لله رب العلمین والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۵: از الہ آباد محلہ حمام حکیم سید قنبر علی صاحب ۲۱ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
زید نے خالد کو جو کہ سوداگر ہے پانچ سو روپے بدیں معاہدہ قرض دیا کہ اس پانسو روپے سے خالد جو کاروبار تجارت مناسب جانے کرے اور جو منافعہ تجارت ہو اس مں سے صرف ایك آنہ فی روپیہ زید کو دے باقی کل رقم منافع خالد اپنے حق المحنت میں لے اور جو نقصان تجارت میں ہو اس میں بعد فہمید وحساب وکتاب زید صرف فی روپیہ کے حساب سے اصل میں مجرا دے گاباقی کل تاوان خالد ادا کرے گا
(۴)رقم خاص جو سفر خرچ کے لئے اسی عقد مضاربت کی بناء پر دی وہ مضاربت ہی میں شامل ہےہاں اگر جدا رقم دے کر تصریح کردی کہ میں تیرا سفر خرچ تبرعا اپنے پاس سے دیتاہوںجو کچھ راس المال پر بڑھے گا وہ تمام وکمال نفع سمجھا جائے گا اور تو اس سے جدا پائے گا تو یہ اس کا احسان ہے اسے اختیار ہے پھر اگروہ منع کردے تو اس پر جبر نہیں ما علی المحسنین من سبیل۔
(۵)مقید کو ہر وقت مطلق کرسکتاہے کہ منع رب المال ہی کے حق کے لئے تھاصاحب حق کو اپنے حق سے درگزر کرنے کا اختیار ہے
یاحق یاصاحب کل حق بغناك وفقرنا تجاوز عمالك من الحقوق علینا و بکرمك تحمل عناما لعبید فانك اکرم الاکرمین وصلی اﷲ تعالی علی اکرم الخلق محمد والہ الکرماء اجمعین امین و الحمد ﷲ رب العالمینواﷲ تعالی اعلم۔ یاذات حقاے ہر حق کے مالکاپنے غنا اور ہمارے فقرکے وسیلہ سے ہمارے ذمہ جو بھی تیرے حقوق ہیں معاف فرما اوراپنے کرم کے ذریعہ اپنے بندوں کے حقوق کو ہم سے ختم فرماکیونکہ تو تمام کریموں سے بڑا کریم ہے اور الله تعالی کی رحمتیں مخلوق کے بڑے کریم محمد صلی الله تعالی علیہ وسلم پر اور ان کی کرم والی سب آل پرآمینالحمد لله رب العلمین والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۵: از الہ آباد محلہ حمام حکیم سید قنبر علی صاحب ۲۱ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ
زید نے خالد کو جو کہ سوداگر ہے پانچ سو روپے بدیں معاہدہ قرض دیا کہ اس پانسو روپے سے خالد جو کاروبار تجارت مناسب جانے کرے اور جو منافعہ تجارت ہو اس مں سے صرف ایك آنہ فی روپیہ زید کو دے باقی کل رقم منافع خالد اپنے حق المحنت میں لے اور جو نقصان تجارت میں ہو اس میں بعد فہمید وحساب وکتاب زید صرف فی روپیہ کے حساب سے اصل میں مجرا دے گاباقی کل تاوان خالد ادا کرے گا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب المضاربۃ الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۱۳€
ایسا معاہدہ داخل سود وناجائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
ایسا معاہدہ بلاشبہ ناجائز ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶: از پاٹن شمال گجرات مرسلہ عبدالقادر محمد فضل صاحب ۱۳ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
ماقولکم نفع الانام بکم فی زید وعمرو اتفقا علی ان یتجرا بان یکون راس المال من زید وان یکون عمرو مضاربا وشرع عمرو فی العمل فانتخب التجارۃ بالربح اولا عقب الحساب بینہا اقتسما علی موجب شرطہما ثم اضاف ما نابہ من الربح علی مال زید واخذ فی اسباب التصرف وسار ینفق من مال الشرکۃ علی نفسہ ماکلہ ومشربہ وکسوتہ ویھب ویتصدق ویزور النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویحج کل ذلك بغیر اذن شریکہ ولہ یظھر الربح بل لحق راس المال خسارۃ فہل یضمن عمرو ما انفق فی الوجوہ المذکورۃ حیث کان ذلك بغیر اذن الشریك یکون الضمان فی مالہ خاصۃ ام یکون دینا اذا بقیافتونا ماجورین۔ آپ کا کیا ارشاد ہے(الله تعالی آپ کے ذریعہ مخلوق کو نفع دے)اس مسئلہ میں کہ زید اور عمرو نے تجارت کرنے پر بایں طور اتفاق کیا کہ اصل رقم زید کی ہوگی اور عمرو مضارب ہوگا اور عمرو نے کام شروع کردیا تو اس نے تجارت میں نفع کمایا حساب کے بعد طے شدہ شرط کے مطابق دونوں نے نفع کوتسلیم کرلیاپھر عمرو نے اپنے حاصل شدہ نفع کو زید کے مال (راس المال)میں شامل کردیا اور کاروباری ذرائع میں مشغول ہوگیا او رمشترکہ مال سے اپنے مصارف کھانےپینے لباسہبہصدقہ اور حج وزیارت پر صرف کیا اور یہ تمام اخراجات اپنے شریك کی اجازت کے بغیر کئے جبکہ نفع نہ ہو ا بلکہ راس المال میں خسارہ ہوگیاتو کیامذکورہ مصارف پر اپنے شریك کی اجازت کے بغیر خرچ شدہ مال کا عمرو ضامن ہوگا اور یہ ضمان خاص عمرو کے اپنے مال سے ادا ہوگا یا بقایا ہونے کی صورت میں اس کے ذمہ دین ہوگااجر پاتے ہوئے ہمیں فتوی دیں۔(ت)
الجواب:
کل ماانفق فی الہبات والصدقات والحج والزیارۃ الشریفۃ یحسب علیہ من مال عمرو نے ہبہصدقہحج وزیارت پر جو کچھ صرف کیا وہ عمرو کے ذاتی مال سے شمار ہوگا اس میں سے
الجواب:
ایسا معاہدہ بلاشبہ ناجائز ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶: از پاٹن شمال گجرات مرسلہ عبدالقادر محمد فضل صاحب ۱۳ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
ماقولکم نفع الانام بکم فی زید وعمرو اتفقا علی ان یتجرا بان یکون راس المال من زید وان یکون عمرو مضاربا وشرع عمرو فی العمل فانتخب التجارۃ بالربح اولا عقب الحساب بینہا اقتسما علی موجب شرطہما ثم اضاف ما نابہ من الربح علی مال زید واخذ فی اسباب التصرف وسار ینفق من مال الشرکۃ علی نفسہ ماکلہ ومشربہ وکسوتہ ویھب ویتصدق ویزور النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ویحج کل ذلك بغیر اذن شریکہ ولہ یظھر الربح بل لحق راس المال خسارۃ فہل یضمن عمرو ما انفق فی الوجوہ المذکورۃ حیث کان ذلك بغیر اذن الشریك یکون الضمان فی مالہ خاصۃ ام یکون دینا اذا بقیافتونا ماجورین۔ آپ کا کیا ارشاد ہے(الله تعالی آپ کے ذریعہ مخلوق کو نفع دے)اس مسئلہ میں کہ زید اور عمرو نے تجارت کرنے پر بایں طور اتفاق کیا کہ اصل رقم زید کی ہوگی اور عمرو مضارب ہوگا اور عمرو نے کام شروع کردیا تو اس نے تجارت میں نفع کمایا حساب کے بعد طے شدہ شرط کے مطابق دونوں نے نفع کوتسلیم کرلیاپھر عمرو نے اپنے حاصل شدہ نفع کو زید کے مال (راس المال)میں شامل کردیا اور کاروباری ذرائع میں مشغول ہوگیا او رمشترکہ مال سے اپنے مصارف کھانےپینے لباسہبہصدقہ اور حج وزیارت پر صرف کیا اور یہ تمام اخراجات اپنے شریك کی اجازت کے بغیر کئے جبکہ نفع نہ ہو ا بلکہ راس المال میں خسارہ ہوگیاتو کیامذکورہ مصارف پر اپنے شریك کی اجازت کے بغیر خرچ شدہ مال کا عمرو ضامن ہوگا اور یہ ضمان خاص عمرو کے اپنے مال سے ادا ہوگا یا بقایا ہونے کی صورت میں اس کے ذمہ دین ہوگااجر پاتے ہوئے ہمیں فتوی دیں۔(ت)
الجواب:
کل ماانفق فی الہبات والصدقات والحج والزیارۃ الشریفۃ یحسب علیہ من مال عمرو نے ہبہصدقہحج وزیارت پر جو کچھ صرف کیا وہ عمرو کے ذاتی مال سے شمار ہوگا اس میں سے
نفسہ لاشیئ منہ علی صاحبہ وکذا ما انفق علی نفسہ وھو مقیم بمصر المضاربۃ ای البلد الذی اخذ فیہ المال مضاربۃ او بوطنہ سواء کان مولدہ اواتخذہ داراوکذا ماانفق فی الخروج الی موضع یغدوالیہ ثم یروح ویبیت باھلہ وکذا جمیع النفقات علی الاطلاق ان کانت المضاربۃ فاسدۃ فانہ لیس فیہا للمضارب الااجر مثل عملہ نعم اذا کانت صحیحۃ و خرج المضارب للتجارۃ الی حیث لایؤویہ اللیل بمنزلہ وان قفل فنفقتہ بالمعروف طعامہ وشرابہ و لباسہ وفراشہ ورکوبہ وخادمہ ونفقۃ خادمہ کل ذلك فی مال المضاربۃ حتی یؤب لاالزائد علی المعروف فانہ مضمون علیہ غیر ان عمرا اضاف الیہ شیئا من مال نفسہ فینقسم النفقات المعروفۃ علی کلا المالین بحسبہما فما اصاب مال المضاربۃ فذلك وما اصاب مال عمرو حسب علیہ من مال نفسہ وکل ماذکرنا انہ یحسب علیہ ان کفاہ مالہ فبہا وما فضل وتعدی الی مال المضاربۃ یضمنہ و ھودین علیہ یوخذ منہ حیث لاربحھذا کلہ اذا لم یخلط اوخلط و کان زید قال لہ ان اعمل فیہ کما کچھ بھی دوسرے ساتھی پر نہ ہوگا اور یونہی جو کچھ اس نے مضاربہ والے شہر یعنی جس شہر میں اس نے مضاربہ کامال وصول کیایا اپنے وطن خواہ اس کا مولد ہو یا وہاں گھر بنالیا ہو میں اپنی ذات پر خرچ کیا او ریونہی تمام اخراجات علی الاطلاق اگر مضاربہ فاسدہ ہو کیونکہ فساد کی صورت میں مضارب مثلی اجر کے بغیر کسی چیز کا مستحق نہیں ہوتاہاں جب مضاربہ صحیح ہو اور مضارب نے تجارت کی غرض سے ایسی جگہ سفر کیا جہاں سے وہ صبح وشام واپس اپنے گھر نہیں پہنچ سکتا تو اس کا معروف نفقہ بطور خوراك ولباسبسترسواری خادمخادم کا نفقہ یہ سب مضاربت کے مال پر ہوگا حتی کہ واپس گھر پہنچ جائےمعروف سے زائد نفقہ نہ ہو کیونکہ زائد ہو تو اس پر اس کا ضمان لازم ہوگاعلاوہ ازیں عمرو نے اپنا مال چونکہ تجارت میں شامل کرلیا تو اب تمام معروف اخراجات دونوں مالوں پر علی الحساب منقسم ہوں گے جو مضاربت کے حصہ میں آیا وہ مضاربت پر اور اس کے اپنے مال کے حصہ آئے وہ اس پر ہوگا جو ہم نے ذکر کیا کہ حساب سے اخراجات اس کے مال پراگر اس کا مال ان اخراجات کو کفایت کرتاہے فبہا ورنہ اخراجات زائد ہونے کی صورت میں جو مضاربت پر پڑے ہیں ان کا وہ ضامن ہوگا اور اس کے ذمہ وہ دین پر ہوں گے اور اس سے وصول کئے جائیں گے جبکہ نفع کامال نہ ہویہ تمام بیان ا س صورت میں ہے جبکہ اس نے اپنا ذاتی
تری اوکان الخلط ھناك معروفا بین التجار اما اذا عری عن ھذہ الوجود ضمن مال زید تماما لانہ استھبلکہ بالخلط بغیر اذن ولاعرف فعاد غاصبا بعد ماکان مضاربا فعلیہ وضیعۃ ولہ ربحہ ولایطہر لہ ربح مال المضاربۃ عندالامام ومحمد رضی اﷲ تعالی عنہما فیتصدق بہ الا اذا اختلف الجنس فان الربح لایظہر الا عند اتحادہ فی الدرالمختار اذا سافر ولو یوما(المرادان لایمکنہ المبیت فی منزلہ فان امکن ان یعود الیہ فی لیلۃ فہو کالمصر لانفقۃ لہ بحر اھ شامی)فطعامہ وشرابہو کسوتہ ورکوبہ ولوبکراء وکل مایحتاجہ فی عادۃ التجار بالمعروف فی مالہا لو صحیحۃ لا فاسدۃ لانہ اجیر فلا نفقۃ لہ وان عمل فی المصر سواء ولد فیہ اواتخذہ دار افنفقتہ فی مالہ کدوائہاما اذا نوی الا قامۃ بمصر ولم یتخذہ دارافلہ مال مضاربت کے مال میں خلط نہ کیاہو یا اس نے خلط کردیا اور زید نے اسے کہہ رکھا تھا کہ اپنی رائے سے جو چاہو کرو یا وہاں تجار میں اس طرح خلط کرنا معروف ہے ورنہ اس کے بغیر خلط سے عمرو زیدکے تمام مال کا ضامن ہوگا کیونکہ اجازت او رعرف کے بغیر خلط کرکے اس نے مضاربت کے مال کو ہلاك کردیا اور مضارب کی بجائے وہ غاصب بن گیا اب نفع ونقصان اس کا ہے او رمضاربت سے حاصل شدہ نفع اس کے لئےامام ابوحنیفہ اور امام محمد رضی الله تعالی عنہما کے نزدیك مال مضاربت کا نفع اس کے لئے پاك نہ ہوگا او رصدقہ کرے گا ہاں اگر نفع اور راس المال کی جنس مختلف تو پاك ہوگاکیونکہ نفع اتحاد وجنس میں ظاہر ہوتاہے۔درمختار میں ہے جب مضارب سفر خواہ ایك دن کا کرے(اس سے مراد یہ ہے کہ اتنا سفر ہو کہ واپس آکر رات گزارنا ممکن نہ ہو اگر رات گھر آنا ممکن ہو تو یہ اپنے شہر کی طرح ہوگا لہذا وہ نفقہ کا مستحق نہ ہوگا بحراھ شامی)تو کھاناپینالباس سواریاگر کرایہ کی ہو اور تجار میں معروف تمام اخراجات مضاربت پر ہوں گے بشرطیکہ مضاربت صحیح ہوگا فاسد نہ ہو کیونکہ فاسد ہونے کی صورت میں مضارب اجیربن جاتاہے اس کا نفقہ نہیں اور اگر اس نے اپنے وطن جس میں پیدا ہوا یا جس کو اس نے گھر بنالیا وہاں کے اخراجات اس کے اپنے مال سے ہوں گے جیسا کہ علاج معالجہ ذاتی ہوتاہےاگر سفر کے دوران کسی شہر میں اقامت
النفقۃ مالم یاخذ مالا(یعنی اما اذا کان قد اخذ مال المضاربۃ فی ذلك المصر فلا نفقۃ لہ مادام فیہ ولا یخفی مافیہ من الایجاز الملحق بالغاز اھ شامی اقول:مثلہ لیس من الایجاز فی شیئ بل وقع من القلم اقتصار امخلا)ولو سافر بمالہ ومالہا اوخلط باذن انفق بالحصۃ واذاقدم رد مابقی"مجمع" ویضمن الزائد علی المعروفویأخذ المالك قدر ما انفقہ المضارب من راس المال(متعلق بانفق اھ ش) ان کان ثمۃ ربح فان استوفاہ وفضل شیئ اقتسماہ علی الشرط لان ماانفقہ یجعل کالہا لك والہالك یصرف الی الربح وان لم یظہر ربح فلا شیئ علی المضارب اھ(باختصارین)وفیہ لایملك الخلط بمال نفسہ الا باذن اواعمل برأیک اھ (باختصار)۔ قال ش وھذا اذا لم یغلب التعارف بین التجار فی مثلہ کما
کی نیت ہو اور وہاں گھر نہ بنایا ہو تو وہاں نفقہ کا مستحق ہوگا بشرطیکہ اس شہر میں اس نے مال مضاربت وصول نہ کیا ہو یعنی اس شہر میں اگر مال وصول کیا تو وہاں بھی نفقہ کا استحقاق نہ ہوگا جب تك وہاں رہے گااس کلام میں جو ایجاز ہے مخفی نہیں اھ شامیاقول: میں کہتاہوں ایسا کلام کسی طرح ایجاز نہیں بلکہ یہ مخل قسم کا اقتصار قلم سے صادر ہوا)اگر مضارب نے مضاربت کے مال اور اپنے مال سمیت سفرکیا اور رب المال کی اجازت سے خلط کیا ہو تو خرچہ حصہ کے مطابق ہوگا جب واپس پہنچے تو بقیہ نفقہ واپس کرےمجمع اور معروف سے زائد خرچہ کا ضامن ہوگا اور راس المال سے زائد خرچہ کو رب المال وصول کرے گا(راس المال کا تعلق انفق سے ہے اھ شامی)اگر اس میں نفع ہو تو اور خرچہ اس سے پورا کرلینے کے بعد کچھ بچا تو دونوں شرط کے مطابق تسلیم کرلیں کیونکہ خرچ شدہ کو ہلاك شدہ قرار دیا جاتاہے اور ہلاك شدہ کو نفع کی طرف پھیرا جاتاہے اور اگر وہاں نفع نہ ہو تو مضارب پر کوئی ذمہ نہیں اھ(باختصارین)اوراسی میں ہے کہ مضارب کو اپنے مال کے ساتھ خلط کا اختیار نہیں الایہ کہ اجازت صریح ہو یا کہا گیا ہو"اپنی رائے سے عمل کر"اھ(باختصار)۔شامی نے فرمایا یہ جب ہے کہ وہاں تجار کا غالب عرف ایسا نہ ہو جیسا کہ
کی نیت ہو اور وہاں گھر نہ بنایا ہو تو وہاں نفقہ کا مستحق ہوگا بشرطیکہ اس شہر میں اس نے مال مضاربت وصول نہ کیا ہو یعنی اس شہر میں اگر مال وصول کیا تو وہاں بھی نفقہ کا استحقاق نہ ہوگا جب تك وہاں رہے گااس کلام میں جو ایجاز ہے مخفی نہیں اھ شامیاقول: میں کہتاہوں ایسا کلام کسی طرح ایجاز نہیں بلکہ یہ مخل قسم کا اقتصار قلم سے صادر ہوا)اگر مضارب نے مضاربت کے مال اور اپنے مال سمیت سفرکیا اور رب المال کی اجازت سے خلط کیا ہو تو خرچہ حصہ کے مطابق ہوگا جب واپس پہنچے تو بقیہ نفقہ واپس کرےمجمع اور معروف سے زائد خرچہ کا ضامن ہوگا اور راس المال سے زائد خرچہ کو رب المال وصول کرے گا(راس المال کا تعلق انفق سے ہے اھ شامی)اگر اس میں نفع ہو تو اور خرچہ اس سے پورا کرلینے کے بعد کچھ بچا تو دونوں شرط کے مطابق تسلیم کرلیں کیونکہ خرچ شدہ کو ہلاك شدہ قرار دیا جاتاہے اور ہلاك شدہ کو نفع کی طرف پھیرا جاتاہے اور اگر وہاں نفع نہ ہو تو مضارب پر کوئی ذمہ نہیں اھ(باختصارین)اوراسی میں ہے کہ مضارب کو اپنے مال کے ساتھ خلط کا اختیار نہیں الایہ کہ اجازت صریح ہو یا کہا گیا ہو"اپنی رائے سے عمل کر"اھ(باختصار)۔شامی نے فرمایا یہ جب ہے کہ وہاں تجار کا غالب عرف ایسا نہ ہو جیسا کہ
حوالہ / References
درمختار کتاب المضاربۃ فصل فی المتفرقات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۰،€ردالمحتار کتاب المضاربۃ فصل فی المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۹۱۔۴۹۰€
درمختار کتاب المضاربۃ فصل فی المتفرقات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۴۷€
درمختار کتاب المضاربۃ فصل فی المتفرقات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۴۷€
فی التاتارخانیۃ اھ ثم ذکر عنہا مااذا دفع الی رجل الفا بالنصف ثم الفا اخری کذلك فخلط المضارب المالین وفصل صورھا واحکامہا وھی ستۃ عشروجہا قد بسطہا فی الھندیۃ عن المحیط باوضح لما عــــــہ نا۔
اقول:واستخرجت لہا ضابطۃ ھی ان الخلط اذا وقع علی مال لہ فیہ اذن ولو عرفا او ربح فیہ خاصۃ اولا ربح فی شیئ من مالی المضاربۃ لم یضمنہ والا ضمن تمت الضابطۃ ای اذا وقع علی مالیس لہ فیہ اذن ولاربح یختص بہ ولا عدم ربح یعمہما بان ربح فی المال الاخر خاصۃ اوفیہما معا فانہ یضمنہ فان کان کلا المالین علی الوجہ الاول لم یضمن شیئا منہما او علی الثانی ضمنہما معا او احدھما علی الاول و
تاتارخانیہ میں ہے اھ پھر علامہ شامی نے تاتارخانیہ سے نقل کرتے ہوئے کہاکہ ایك شخص نے کسی کو نصف نفع کی شرط پر ہزار بطور مضاربت دیا پھر ایك اور ہزار اسی شر ط پر دیا تو مضارب نے ان دونوں مالو ں کو خلط کردیایہاں انہوں نے صورتوں اور ان کے احکام کی تفصیل بیان کی اور یہ سولہ وجوہ ہیں جن کو ہندیہ نے محیط کے حوالے سے مبسوط طوپر بیان کیا اور ہمارے بیان کردہ سے زیادہ واضح ہے۔میں کہتاہوں میں نے اس کے لئے ایك ضابطہ بنایا ہے وہ یہ کہ اگر خلط اس مال میں کیا جس میں یہ اجازت تھی اگر چہ عرفا ہو یا خاص طورپر اس مال میں ہی نفع ہوا یا مضاربت کے دونوں مالوں میں کوئی نفع نہ ہو تو ضامن نہ ہوگا ورنہ ضامن ہوگاضابطہ مکمل ہوا ور نہ ضامن ہوگا کا مطلب یہ ہے کہ خلط ایسے مال میں کیا جس میں یہ اجازت نہ تھی اور نہ ہی اس مال سے مختص نفع تھا اور نہ ہی دونوں مالوں کو شامل نفع ہو بلکہ یوں ہو کہ دوسرے مال سے مختص نفع ہو یا دونوں کو شامل نفع ہو توضامن ہوگاا ور اگر دونوں مال پہلی وجہ والے یعنی عدم ضمان والی صورت پرتھے تو دونوں کا کوئی ضمان نہیں یا دونوں دوسری وجہ پر تھے تو دونوں کا ضامن ہوگایا ایك مال
عــــــہ:فی الاصل ھکذا لعلہ مما بیناہ۔ اصل میں اسی طرح ہے غالبا یہ لفظ مما بیناہ ہے(ت)
اقول:واستخرجت لہا ضابطۃ ھی ان الخلط اذا وقع علی مال لہ فیہ اذن ولو عرفا او ربح فیہ خاصۃ اولا ربح فی شیئ من مالی المضاربۃ لم یضمنہ والا ضمن تمت الضابطۃ ای اذا وقع علی مالیس لہ فیہ اذن ولاربح یختص بہ ولا عدم ربح یعمہما بان ربح فی المال الاخر خاصۃ اوفیہما معا فانہ یضمنہ فان کان کلا المالین علی الوجہ الاول لم یضمن شیئا منہما او علی الثانی ضمنہما معا او احدھما علی الاول و
تاتارخانیہ میں ہے اھ پھر علامہ شامی نے تاتارخانیہ سے نقل کرتے ہوئے کہاکہ ایك شخص نے کسی کو نصف نفع کی شرط پر ہزار بطور مضاربت دیا پھر ایك اور ہزار اسی شر ط پر دیا تو مضارب نے ان دونوں مالو ں کو خلط کردیایہاں انہوں نے صورتوں اور ان کے احکام کی تفصیل بیان کی اور یہ سولہ وجوہ ہیں جن کو ہندیہ نے محیط کے حوالے سے مبسوط طوپر بیان کیا اور ہمارے بیان کردہ سے زیادہ واضح ہے۔میں کہتاہوں میں نے اس کے لئے ایك ضابطہ بنایا ہے وہ یہ کہ اگر خلط اس مال میں کیا جس میں یہ اجازت تھی اگر چہ عرفا ہو یا خاص طورپر اس مال میں ہی نفع ہوا یا مضاربت کے دونوں مالوں میں کوئی نفع نہ ہو تو ضامن نہ ہوگا ورنہ ضامن ہوگاضابطہ مکمل ہوا ور نہ ضامن ہوگا کا مطلب یہ ہے کہ خلط ایسے مال میں کیا جس میں یہ اجازت نہ تھی اور نہ ہی اس مال سے مختص نفع تھا اور نہ ہی دونوں مالوں کو شامل نفع ہو بلکہ یوں ہو کہ دوسرے مال سے مختص نفع ہو یا دونوں کو شامل نفع ہو توضامن ہوگاا ور اگر دونوں مال پہلی وجہ والے یعنی عدم ضمان والی صورت پرتھے تو دونوں کا کوئی ضمان نہیں یا دونوں دوسری وجہ پر تھے تو دونوں کا ضامن ہوگایا ایك مال
عــــــہ:فی الاصل ھکذا لعلہ مما بیناہ۔ اصل میں اسی طرح ہے غالبا یہ لفظ مما بیناہ ہے(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب المضاربۃ فصل فی المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/۴۸۵€
ردالمحتار کتاب المضاربۃ فصل فی المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/۴۸۵€
ردالمحتار کتاب المضاربۃ فصل فی المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/۴۸۵€
الاخر علی الثانی لم یضمن الاول وضمن الاخرھذا اذا خلط احد مالی زید بالاخر فکیف اذا خلط بمال نفسہ وفی البحر لیس لہ ان یخلط مال المضاربۃ بمالہ و لامال غیرہ الا ان یقول لہ اعمل برأیك اھ وقال بعد ثلثۃ اوراق انما لایضمن لان رب المال قال لہ اعمل برأیك فیملك الخلط بخلاف مااذا لم یقل فانہ لایکون شریکا بل یضمن کالغاصب اھوفی الہدایۃ مایفعلہ المضارب انواعنوع لایمبلکہ بمطلق العقد ویمبلکہ اذا قال لہ اعمل برأیك مثل خلط مال المضاربۃ بمالہ اومال غیرہ اھ (باختصار) و فیہا انتظم قولہ اعمل برأیك الخلط فلا یضمنہ اھ (باختصار)وفی العنایۃ اعمل برأیك یتناول الخلط فصار شریکا
پہلی وجہ پر اور دوسرا دوسری وجہ پر تھا تو پہلے میں ضامن نہ ہوگادوسرے میں ضامن ہوگایہ تمام صورتیں زید کے دونوں مالوں کو آپس میں خلط کرنے میں ہیں تو مضارب کے اپنے ذاتی مال کو اس میں خلط کرنے سے کیونکر نہ ہوںبحر میں ہے مضارب کو جائز نہیں کہ مضاربۃ کے مال کو اپنے مال یا غیر کے مال سے خلط کرے الایہ کہ اس کو"جوچاہے کر"کہہ کر عام اجازت دی گئی ہو اھاور تین ورق کے بعد فرمایا کہ ضامن نہ ہوگا کیونکہ رب المال نے اسے کہہ کر رکھا ہے کہ"جو چاہے کر"تو وہ خلط کامالك ہوگا بخلاف جب یہ نہ کہا تو پھر خلط سے شریك نہ بنے گا بلکہ غاصب کی طرح ضامن ہوگااھہدایہ میں ہے کہ مضارب کی کارروائی مختلف اقسام پر ہےبعض وہ جن کاعقد کے مطلق ہونے سےمالك بن جاناہے اور بعض وہ کہ"جو چاہے کر"کہنے سے ان کا مالك بن جاتاہے مثلا مضاربت کے مال کو اپنے یاغیر کے مال میں خلط کرنا اھاور ہدایہ میں ہی ہے کہ مالك کا"جو چاہے کر"کہنا خلط کو شامل ہے لہذا ضامن نہ ہوگا اھ(ملخصا)اور عنایہ میں ہے "جو چاہے کر"خلط کو شامل ہے تو خلط کرنے پر شریك بن جائیگا
پہلی وجہ پر اور دوسرا دوسری وجہ پر تھا تو پہلے میں ضامن نہ ہوگادوسرے میں ضامن ہوگایہ تمام صورتیں زید کے دونوں مالوں کو آپس میں خلط کرنے میں ہیں تو مضارب کے اپنے ذاتی مال کو اس میں خلط کرنے سے کیونکر نہ ہوںبحر میں ہے مضارب کو جائز نہیں کہ مضاربۃ کے مال کو اپنے مال یا غیر کے مال سے خلط کرے الایہ کہ اس کو"جوچاہے کر"کہہ کر عام اجازت دی گئی ہو اھاور تین ورق کے بعد فرمایا کہ ضامن نہ ہوگا کیونکہ رب المال نے اسے کہہ کر رکھا ہے کہ"جو چاہے کر"تو وہ خلط کامالك ہوگا بخلاف جب یہ نہ کہا تو پھر خلط سے شریك نہ بنے گا بلکہ غاصب کی طرح ضامن ہوگااھہدایہ میں ہے کہ مضارب کی کارروائی مختلف اقسام پر ہےبعض وہ جن کاعقد کے مطلق ہونے سےمالك بن جاناہے اور بعض وہ کہ"جو چاہے کر"کہنے سے ان کا مالك بن جاتاہے مثلا مضاربت کے مال کو اپنے یاغیر کے مال میں خلط کرنا اھاور ہدایہ میں ہی ہے کہ مالك کا"جو چاہے کر"کہنا خلط کو شامل ہے لہذا ضامن نہ ہوگا اھ(ملخصا)اور عنایہ میں ہے "جو چاہے کر"خلط کو شامل ہے تو خلط کرنے پر شریك بن جائیگا
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب المضاربۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۶۵۔۲۶۴€
بحرالرائق کتاب المضاربۃ باب المضارب یضارب ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۲۷۱€
الہدایۃ کتاب المضاربۃ فصل فیما یفعلہ المضارب ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۶۵€
الہدایۃ کتاب المضاربۃ فصل فیما یفعلہ المضارب ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۶۸€
بحرالرائق کتاب المضاربۃ باب المضارب یضارب ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۲۷۱€
الہدایۃ کتاب المضاربۃ فصل فیما یفعلہ المضارب ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۶۵€
الہدایۃ کتاب المضاربۃ فصل فیما یفعلہ المضارب ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۶۸€
فلم یکن غاصبا فلا یضمن اھ(ملخصا)وثمہ قال فی الخانیۃ لیس لہ ان یخلط مال المضاربۃ بمالہ اومال غیرہ و لوکان رب المال قال لہ اعمل فیہ برأیك کان لہ ان یخلط اھ(ملخصا)وفیہا لو لم یقل اعمل برأیك الا ان معاملۃ التجار فی تلك البلاد ان المضاربین یخلطون المال و لاینہا ھم رب المال قالوا ان غلب التعارف بینہم فی مثلہ نرجو ان لایضمن وتکون المضاربۃ بینہما علی العرف اھ۔وفیہا وفی وجیز الکردری واللفظ لہا۔رجل دفع الی غیرہ مالا مضاربۃ ثم ان المضارب شارك رجلا اخر بدراہم من غیر مال المضاربۃ ثم اشتری المضارب وشریکہ عصیرا من شرکتہما ثم جاء المضارب بدقیق من المضاربۃ فاتخذ منہ ومن العصیر فلا یج عــــــہ قال ان اتخذ الفلایج باذن
غاصب نہ ہوگا تو ضمان نہ دے گا اھ(ملخصا)اور خانیہ کے اسی مقام پر فرمایا مضارب کو اختیار نہیں کہ وہ مضاربہ کے مال کو اپنے یا غیر کے مال میں خلط کرےاور اگر رب المال نے اسے"جو چاہے کر"کہہ دیا تھا تو اس کوخلط کا اختیار ہوگا اھ (ملخصا)اور اسی میں ہے اگر مالك نے"جو چاہے کر"نہ کہا ہو مگر اس علاقہ کے تجار کامعاملہ یوں ہے کہ مضاربت والے لوگ مال کو خلط کرتے ہیں اس کے باوجود رب المال لوگ ان پر اعتراض نہیں کرتے۔فقہاء کرام نے فرمایا اگر اس معاملہ میں عرف غالب ہوچکا ہے تو ہمیں امید ہے کہ مضارب ضامن نہ ہوگا اورعرف کے مطابق مضاربت دونوں میں باقی رہے گی اھ۔خانیہ اور وجیز کردری میں ہے جبکہ عبارت خانیہ کی ہے کہ ایك شخص نے کسی کو مضاربۃ پر مال دیا پھر مضارب نے دوسرے شخص کو اس کے کچھ دراہم لے کر شریك بنالیا جبکہ یہ دراہم مضاربۃ میں شامل نہیں کئے پھر مضارب او راس کے ہم شریك نے اپنی شراکت کے مال سے جوس خریدا پھر مضارب مضاربت کے مال سے آٹا لایا اور آٹے او ر جوس سے پیڑے بنائے تو فقہاء کرام نے فرمایا اگر یہ پیڑے شریك کی اجازت
عــــــہ: الذی فی البزازیۃ فلا تج بالتاء بزازیہ میں جو مذکور ہے وہ فلا تج(ت کے (باقی برصفحہ ایندہ)
غاصب نہ ہوگا تو ضمان نہ دے گا اھ(ملخصا)اور خانیہ کے اسی مقام پر فرمایا مضارب کو اختیار نہیں کہ وہ مضاربہ کے مال کو اپنے یا غیر کے مال میں خلط کرےاور اگر رب المال نے اسے"جو چاہے کر"کہہ دیا تھا تو اس کوخلط کا اختیار ہوگا اھ (ملخصا)اور اسی میں ہے اگر مالك نے"جو چاہے کر"نہ کہا ہو مگر اس علاقہ کے تجار کامعاملہ یوں ہے کہ مضاربت والے لوگ مال کو خلط کرتے ہیں اس کے باوجود رب المال لوگ ان پر اعتراض نہیں کرتے۔فقہاء کرام نے فرمایا اگر اس معاملہ میں عرف غالب ہوچکا ہے تو ہمیں امید ہے کہ مضارب ضامن نہ ہوگا اورعرف کے مطابق مضاربت دونوں میں باقی رہے گی اھ۔خانیہ اور وجیز کردری میں ہے جبکہ عبارت خانیہ کی ہے کہ ایك شخص نے کسی کو مضاربۃ پر مال دیا پھر مضارب نے دوسرے شخص کو اس کے کچھ دراہم لے کر شریك بنالیا جبکہ یہ دراہم مضاربۃ میں شامل نہیں کئے پھر مضارب او راس کے ہم شریك نے اپنی شراکت کے مال سے جوس خریدا پھر مضارب مضاربت کے مال سے آٹا لایا اور آٹے او ر جوس سے پیڑے بنائے تو فقہاء کرام نے فرمایا اگر یہ پیڑے شریك کی اجازت
عــــــہ: الذی فی البزازیۃ فلا تج بالتاء بزازیہ میں جو مذکور ہے وہ فلا تج(ت کے (باقی برصفحہ ایندہ)
حوالہ / References
العنایۃ علی ھامش فتح القدیر کتاب المضاربۃ فصل فیما یفعلہ المضارب ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۷/ ۴۴۳€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب المضاربۃ فصل فیما یجوز للمضارب ∞نولکشور لکھنؤ ۴ / ۳۷۔۶۳۶€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب المضاربۃ فصل فیما یجوز للمضارب ∞نولکشور لکھنؤ ۴ / ۳۷۔۶۳۶€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب المضاربۃ فصل فیما یجوز للمضارب ∞نولکشور لکھنؤ ۴ / ۳۷۔۶۳۶€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب المضاربۃ فصل فیما یجوز للمضارب ∞نولکشور لکھنؤ ۴ / ۳۷۔۶۳۶€
الشریك ینظر الی قیمۃ الدقیق قبل ان تتخذ منہ الفؤلا یج والی قیمۃ العصیر فما اصاب حصۃ الدقیق فھو علی المضاربۃ سے بنے تو پیڑے بنانے سے قبل آٹے کی قیمت کا اندازہ کیا جائے گا اور یوں جوس کی قمیت کا بھی اندازہ کیا جائے تو جتنا حصہ آٹے کا بنے وہ مضاربہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الفوقانیۃ وذکر فیہا مانصہ اعطاہ الفا وقال اعمل برأیك ثم اشتری المضارب مع شریکہ عصیرا علی الشرکۃ فاتخذ المضارب من دقیق المضاربۃ و العصیرا لمشترك فلا تج باذن الشریك فالفلا تج علی المضاربۃ وضمن المضارب لشریکہ قیمۃ العصیر ما یخصہ الخ وکتبت علیہ مانصہ اقول ھذا سبق قلم وانما ھو حکم مااذا فعل باذن رب المال دون الشریك کما سیذکرہ بقولہ وان یاذن رب المال لاالشریك فالفلاتج علی المضاربۃ ویضمن حصۃ العصیر لشریکہ الخ اما حکم ھذا فما ذکر فی الخانیۃ انہ ینظر الی قیمۃ الدقیق الخ ۱۲ منہ غفرلہ۔ ساتھ ہے اور انہوں نے جو ذکر کیا عبارت یہ ہے مالك نے مضارب کو ہزار دے کر کہا"جوچاہے کر"پھر مضارب نے اپنے شریك سے مل کر جوس خریدا شراکت کے طور پرتو مضارب نے مضاربہ کا آٹا اور شراکت کا جوس ملا کر شریك کی اجازت سے پیڑے بنائےتو پیڑے مضاربت میں شمار ہوں گے اور مضارب جوس کی قیمت کے برابر شریك کو ضمان دے گا الخاو رمیں نے اس پر حاشیہ لکھا جس کی عبارت یہ ہے میں کہتاہوں یہ قلم کی سبقت ہے حالانکہ یہ حکم صرف اس صورت میں ہے جب مضارب نے یہ کارروائی رب المال کی اجازت اور شریك کی اجازت کے بغیر کی ہو جیسا کہ وہ خود اس کو قریب ہی ذکر کریں گے اپنے اس قول میںکہ اگر رب المال نے اجازت دی اور شریك نے نہ دی تو پیڑے مضاربہ میں شمار ہوں گے اور جوس کے حصہ میں برابر شریك کو ضمان دے گا الخلیکن اس مذکور صورت کاحکم وہ ہے جو خانیہ نے ذکر کیا ہے کہ آٹے کی قیمت کا اندازہ کیا جائے گا الخ ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الفوقانیۃ وذکر فیہا مانصہ اعطاہ الفا وقال اعمل برأیك ثم اشتری المضارب مع شریکہ عصیرا علی الشرکۃ فاتخذ المضارب من دقیق المضاربۃ و العصیرا لمشترك فلا تج باذن الشریك فالفلا تج علی المضاربۃ وضمن المضارب لشریکہ قیمۃ العصیر ما یخصہ الخ وکتبت علیہ مانصہ اقول ھذا سبق قلم وانما ھو حکم مااذا فعل باذن رب المال دون الشریك کما سیذکرہ بقولہ وان یاذن رب المال لاالشریك فالفلاتج علی المضاربۃ ویضمن حصۃ العصیر لشریکہ الخ اما حکم ھذا فما ذکر فی الخانیۃ انہ ینظر الی قیمۃ الدقیق الخ ۱۲ منہ غفرلہ۔ ساتھ ہے اور انہوں نے جو ذکر کیا عبارت یہ ہے مالك نے مضارب کو ہزار دے کر کہا"جوچاہے کر"پھر مضارب نے اپنے شریك سے مل کر جوس خریدا شراکت کے طور پرتو مضارب نے مضاربہ کا آٹا اور شراکت کا جوس ملا کر شریك کی اجازت سے پیڑے بنائےتو پیڑے مضاربت میں شمار ہوں گے اور مضارب جوس کی قیمت کے برابر شریك کو ضمان دے گا الخاو رمیں نے اس پر حاشیہ لکھا جس کی عبارت یہ ہے میں کہتاہوں یہ قلم کی سبقت ہے حالانکہ یہ حکم صرف اس صورت میں ہے جب مضارب نے یہ کارروائی رب المال کی اجازت اور شریك کی اجازت کے بغیر کی ہو جیسا کہ وہ خود اس کو قریب ہی ذکر کریں گے اپنے اس قول میںکہ اگر رب المال نے اجازت دی اور شریك نے نہ دی تو پیڑے مضاربہ میں شمار ہوں گے اور جوس کے حصہ میں برابر شریك کو ضمان دے گا الخلیکن اس مذکور صورت کاحکم وہ ہے جو خانیہ نے ذکر کیا ہے کہ آٹے کی قیمت کا اندازہ کیا جائے گا الخ ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیۃ کتاب المضاربۃ الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۸€۶
فتاوٰی بزازیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیۃ کتاب المضاربۃ الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۸۶€
فتاوٰی بزازیہ علٰی ہامش فتاوٰی ہندیۃ کتاب المضاربۃ الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۸۶€
وما اصاب حصۃ العصیر فہو بین المضارب وبین الشریك لکن ہذا اذا کان رب المال قال لہ اعمل فیہ برأیك فان لم یکن قال ذلك وفعل المضارب ذلك بغیر اذن الشریك فالفلایج تکون للمضارب وھو ضامن مثل الدقیق لرب المال ومثل حصۃ الشریك من العصیر للشریك فان کان رب المال اذن لہ فی ذلك والشریك لم یاذن فالفلایج تکون للمضاربۃ والمضارب ضامن حصۃ شریکہ من العصیر وان کان الشریك اذن لہ بذلك ورب المال لم یاذن لہ فالفلایج تکون بینہ وبین الشریك وھو ضامن لرب المال مثل الدقیق اھ فلا ادری مافیہا من قولہ المضارب اذا سافر بمال المضاربۃ ومال نفسہ توزع النفقۃ علی المالین سواء خلط المالین اولم یخلط او قال لہ رب المال اعمل فیہ برأیك اولم یقل لہ ذلك و السفر و مادون السفر فی ذلك سواء اذاکان لایبیت فی اھلہ اھ لانہ ھذا حکم المضاربۃ واذاخلط بغیر اذن ضمن و الضمان والمضاربۃ ہوگا جو حصہ جو س کا ہے وہ مضارب اور اس کے شریك کا ہوگا لیکن یہ اس صورت میں ہے جب رب المال نے مضارب کو "جو چاہے کر"کہا ہو اور اگر اس نے یہ نہ کہا ہو اور مضارب نے یہ کارروائی اس کی اجازت کے بغیر کی ہو تو اس صورت میں پیڑے مضارب کے ہوں گے اور وہ آٹے کی مثل رب المال کا ضامن ہوگااور جوس کے حصہ کا شریك کو ضمان دے گا اور اگر رب المال کی اجازت تھی اور شریك کی اجازت نہ تھی تو پیڑے مضاربت میں شمار ہوں گے اور جوس کے حصہ کے برابر شریك کو ضمان دے گااور اجازت کا معاملہ بالعکس ہو تو پیڑے مضارب اور اس کے شریك کے ہوں گے اور آٹے برابر رب المال کو ضمان دیگا اھاورخانیہ میں جو یہ ہےکہ مضارب جب مضاربۃ اور ذاتی مال کے ہمراہ سفرکرےگا تو نفقہ دونوں مالوں پر منقسم ہوگاخواہ دونوں مالوں کوخلط کیایا نہ کیارب المال نے اس کو"جو چاہے کر" کہا ہو یا نہ کہا ہو حد سفر ہویاکم ہو جب وہ رات کو واپس گھر نہ لوٹ سکتا ہو الخ۔یہ میری سمجھ سے بالاہے کیونکہ یہ حکم تو مضاربت کا ہے حالانکہ اگر رب المال کی اجازت کے بغیر خلط کیا ہو تو ضامن ہوتاہے جبکہ ضمان اور مضاربت اپنے حال
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب المضاربۃ فصل فیما یجوز للمضارب ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۶۳۷€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب المضاربۃ فصل فیما یجوز للمضارب ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۶۳۸€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب المضاربۃ فصل فیما یجوز للمضارب ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۶۳۸€
لایجتمعان کما فی البزازیۃ من نوع فی ھلاك مالہا فلیحرر وبقیۃ الاحکام واضحۃ دائرۃ فی الکتب کالخیریۃ والہندیۃ وغیرھما وذکرت غیر مرۃ فی فتاونا۔واﷲ تعالی اعلم۔ پر جمع نہیں ہو سکتے جیسا کہ بزازیہ میں مضاربت کے مال کی ہلاکت کی نوعیت کے بیان میں ہےاس کی تحقیق ہونی چاہئے اور باقی احکام واضح ہیں اور کتب فقہ خیریہہندیہ وغیرہما میں مذکور ہیں اور متعدد بار میں نے ان کو اپنے فتاوی میں ذکر کیاہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۷: از بازار جام تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مسئولہ محمد سعید صاحب ۱۸ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شرکت کرنا اس طرح سے روزگار میں کہ زید نے عمرو کو سو روپے دئے اورکہا کہ اس سے جو چاہو روزگارجو چاہو کریا فلاںلیکن مجھ کو دس۱۰ روپے تم فیصدی دینایا یوں کہا کہ جو تیری طبیعت میں آئے وہ دینا یا آنہ روپیہ کا نفع تعین کردیاآیاعمرو کو بیشی ہو کہ کمیخالد کہتاہے کہ تعین کرنا سود ہے۔فقط
الجواب:
یہ کہ جو طیبعت میں آئے دیناناجائز ہے کہ تعین نہ ہوا اور یہ کہ دس فیصدی یا آنہ روپیہ دینااگر اس سے مراد ہے کہ جتنے روپے اس کو تجارت کے لئے دئے ہیں ان پر فیصدی دس یا فی روپیہ ایك آنہ مانگتا ہے توحرام قطعی اور سود ہے اور اگر یہ مراد کہ جو نفع ہو اس میں سے سواں یا سولھواں حصہ دیناتو یہ حلال ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷: از بازار جام تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مسئولہ محمد سعید صاحب ۱۸ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ شرکت کرنا اس طرح سے روزگار میں کہ زید نے عمرو کو سو روپے دئے اورکہا کہ اس سے جو چاہو روزگارجو چاہو کریا فلاںلیکن مجھ کو دس۱۰ روپے تم فیصدی دینایا یوں کہا کہ جو تیری طبیعت میں آئے وہ دینا یا آنہ روپیہ کا نفع تعین کردیاآیاعمرو کو بیشی ہو کہ کمیخالد کہتاہے کہ تعین کرنا سود ہے۔فقط
الجواب:
یہ کہ جو طیبعت میں آئے دیناناجائز ہے کہ تعین نہ ہوا اور یہ کہ دس فیصدی یا آنہ روپیہ دینااگر اس سے مراد ہے کہ جتنے روپے اس کو تجارت کے لئے دئے ہیں ان پر فیصدی دس یا فی روپیہ ایك آنہ مانگتا ہے توحرام قطعی اور سود ہے اور اگر یہ مراد کہ جو نفع ہو اس میں سے سواں یا سولھواں حصہ دیناتو یہ حلال ہے۔والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیۃ کتاب المضاربۃ الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۸۳€
کتاب الامانات
(امانت کا بیان)
مسئلہ ۲۸: ۲۶ محرم الحرام ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ محمد یعقوب خاں کے مبلغ چھ۶ روپے نیاز احمد کے ذمہ عرصہ کے چاہئے تھےنیاز احمد کے پاس یعقوب خاں نے مبلغ بیس روپے دیکھ کر مبلغ چھ روپے اپنے لے لئےنیاز احمد نے کہا کہ یہ روپے میرے نہیں ہیں عنایت الله کے ہیںیہ کہنا نیاز احمد کا یعقوب خاں نے کچھ نہ سناروپے اپنے لے لئےپھر عنایت الله یعقوب خان کے پاس آئے کہ روپے میرے تھے واپس کردویعقوب خان نے جواب دیا کہ میں نے نیاز احمد سے روپے لئے ہیں تم نیاز احمد سے طلب کرو مجھ سے کیا واسطہپس موافق شرع شریف کے یعقوب خاں کو روپے لینا جائز ہوئے یانہیں اور عنایت الله اپنے روپے کا نیاز احمد سے تقاضا کرے یا یعقوب خان سے بینوا توجروا۔
الجواب:
اگر یعقوب خاں کو معلوم تھا یاثابت ہوگیا تھا کہ فی الواقع یہ روپے نیاز احمد کے نہیں دوسرے شخص کے ہیںتو لینا ناجائز وگناہ ہوا ورنہ قبضہ دلیل ملك ہےاور دائن جب مدیون کا مال اپنے حق کی جنس سے پائے او روہ دین از قبیل قرض یا معجل یا اجل گزشتہ ہو تو ہرطرح لے لینے کا اختیار رکھتاہے۔
(امانت کا بیان)
مسئلہ ۲۸: ۲۶ محرم الحرام ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ محمد یعقوب خاں کے مبلغ چھ۶ روپے نیاز احمد کے ذمہ عرصہ کے چاہئے تھےنیاز احمد کے پاس یعقوب خاں نے مبلغ بیس روپے دیکھ کر مبلغ چھ روپے اپنے لے لئےنیاز احمد نے کہا کہ یہ روپے میرے نہیں ہیں عنایت الله کے ہیںیہ کہنا نیاز احمد کا یعقوب خاں نے کچھ نہ سناروپے اپنے لے لئےپھر عنایت الله یعقوب خان کے پاس آئے کہ روپے میرے تھے واپس کردویعقوب خان نے جواب دیا کہ میں نے نیاز احمد سے روپے لئے ہیں تم نیاز احمد سے طلب کرو مجھ سے کیا واسطہپس موافق شرع شریف کے یعقوب خاں کو روپے لینا جائز ہوئے یانہیں اور عنایت الله اپنے روپے کا نیاز احمد سے تقاضا کرے یا یعقوب خان سے بینوا توجروا۔
الجواب:
اگر یعقوب خاں کو معلوم تھا یاثابت ہوگیا تھا کہ فی الواقع یہ روپے نیاز احمد کے نہیں دوسرے شخص کے ہیںتو لینا ناجائز وگناہ ہوا ورنہ قبضہ دلیل ملك ہےاور دائن جب مدیون کا مال اپنے حق کی جنس سے پائے او روہ دین از قبیل قرض یا معجل یا اجل گزشتہ ہو تو ہرطرح لے لینے کا اختیار رکھتاہے۔
وذالك بالاجماع وانما النزاع فی خلاف الجنس کما فی الدرالمختار وغیرہ۔ یہ بالاجماع ہے اور اختلاف صرف جنس کے خلاف میں ہے جیسا کہ درمختا روغیرہ میں ہے۔(ت)
رہا عنایت الله کا مطالبہاگر نیاز احمد نے یعقوب خاں کو خود روپے نہ دئے بلکہ یعقوب خاں نے بالجبر چھین لئے تونیاز احمد سے مطالبہ نہیں یعقوب خان سے ہے فانہ امین ولا ضمان علی الامین الا بالتعدی ولا تعدی من المقہور المغلوب(کیونکہ یہ امین ہے اور امین پر ضمان نہیں ہوتا ماسوائے تعدی کے جبکہ مجبور ومغلوب تعدی کرنے والا نہیں ہوتا۔ت)اور اگر یعقوب خاں کے مانگنے پر یا زبانی اصرار پر دے دئے اگر چہ کتناہی اصرار کیا ہو یا یعقوب خاں نے چھیننے چاہے یہ اگر چاہتا تو بچا لیتا مگر نہ بچائے بلکہ دے دئے تو نیاز احمد ویعقوب خاں دونوں ضامن ہیں عنایت الله جس سے چاہے مطالبہ کرے فان الثانی غاصب بالاخذ والاول بالدفع وترك الحفظ(کیونکہ دوسرا لینے کی بناء پر غاصب اور پہلو دینے اور حفاظت نہ کرنے پر۔ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹: از کٹھور ضلع سورت اسٹیشن سائن مرسلہ مولوی عبدالحق صاحب ۱۴ ربیع الآخر ۱۳۱۲ھ
ماقولکم دام فضلکم ایھا العلماء العظام والفقہاء الکرام زادکم اﷲ تعالی تعظیما و تکریما لدیہ(اے علماء کرام اور فقہاء عظام! الله تعالی آپ کو اپنے دربار میں زیادہ تعظیم وتکریم دےآپ کا کیا ارشاد ہے۔ت)اس صورت میں کہ مثلا ''زید کو ہندہ نے پانچ گنی فروخت کرنے کو دیںزید نے وہ گنی لے کر اپنے پیسے کی تھیلی میں کہ چہار آنیاں اور دو آنیاں جس میں رکھی تھیں کپڑے میں باندھ کر رکھ دئے اور ہنوز ان گنیوں کو فروخت کرنے کی نوبت نہ آئی تھی کہ زید مذکور کہتاہے کہ ایك شخص کو روپیہ دینے کو تھیلی مذکو رمیں نے صندوق سے نکال کر بالکل خالی کردی اور الٹ دی اورشخص مذکور کو روپیہ دے کر اس خالی تھیلی کو اسی صندوق میں ڈال دیا اور صندوق کو بند کرکے میں دوسرے کام میں مشغول ہوگیا اور ان گنیوں کا میں نے کچھ خیال نہ کیااور میں باہر صندوق کے ان کو بھول گیا۔جب بعد چند روز کے ہندہ مجھ سے وہ گنیاں یا اس کے روپے طلب کرنے کو آئی تو میں نے تلاش گنیوں کی کی لیکن اب وہ گنیاں مجھے نہیں پاتی ہیںاور مجھے نہیں یاد ہے کہ وہ گنیاں باہر رہ گئیں یا او رکوئی اٹھا لے گیا یا میرے کم خیالی سے اس روپیہ طلب کرنے والے کو دے دییہ مقولہ زید مذکور وکیل کا ہےلہذا صورت مذکورہ مسئولۃ الصدر میں گنیاں مؤکلہ ہندہ مذکورہ کی جائینگی یا وکیل زید مذکور کے ذمہ ضمانت دینی لازم آئے گیبینوا بیانا شافیا توجروا اجرکم الله اجراوافیا(شافی بیان فرماؤاپنا اجر کامل الله تعالی سے پاؤ۔ت)
رہا عنایت الله کا مطالبہاگر نیاز احمد نے یعقوب خاں کو خود روپے نہ دئے بلکہ یعقوب خاں نے بالجبر چھین لئے تونیاز احمد سے مطالبہ نہیں یعقوب خان سے ہے فانہ امین ولا ضمان علی الامین الا بالتعدی ولا تعدی من المقہور المغلوب(کیونکہ یہ امین ہے اور امین پر ضمان نہیں ہوتا ماسوائے تعدی کے جبکہ مجبور ومغلوب تعدی کرنے والا نہیں ہوتا۔ت)اور اگر یعقوب خاں کے مانگنے پر یا زبانی اصرار پر دے دئے اگر چہ کتناہی اصرار کیا ہو یا یعقوب خاں نے چھیننے چاہے یہ اگر چاہتا تو بچا لیتا مگر نہ بچائے بلکہ دے دئے تو نیاز احمد ویعقوب خاں دونوں ضامن ہیں عنایت الله جس سے چاہے مطالبہ کرے فان الثانی غاصب بالاخذ والاول بالدفع وترك الحفظ(کیونکہ دوسرا لینے کی بناء پر غاصب اور پہلو دینے اور حفاظت نہ کرنے پر۔ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹: از کٹھور ضلع سورت اسٹیشن سائن مرسلہ مولوی عبدالحق صاحب ۱۴ ربیع الآخر ۱۳۱۲ھ
ماقولکم دام فضلکم ایھا العلماء العظام والفقہاء الکرام زادکم اﷲ تعالی تعظیما و تکریما لدیہ(اے علماء کرام اور فقہاء عظام! الله تعالی آپ کو اپنے دربار میں زیادہ تعظیم وتکریم دےآپ کا کیا ارشاد ہے۔ت)اس صورت میں کہ مثلا ''زید کو ہندہ نے پانچ گنی فروخت کرنے کو دیںزید نے وہ گنی لے کر اپنے پیسے کی تھیلی میں کہ چہار آنیاں اور دو آنیاں جس میں رکھی تھیں کپڑے میں باندھ کر رکھ دئے اور ہنوز ان گنیوں کو فروخت کرنے کی نوبت نہ آئی تھی کہ زید مذکور کہتاہے کہ ایك شخص کو روپیہ دینے کو تھیلی مذکو رمیں نے صندوق سے نکال کر بالکل خالی کردی اور الٹ دی اورشخص مذکور کو روپیہ دے کر اس خالی تھیلی کو اسی صندوق میں ڈال دیا اور صندوق کو بند کرکے میں دوسرے کام میں مشغول ہوگیا اور ان گنیوں کا میں نے کچھ خیال نہ کیااور میں باہر صندوق کے ان کو بھول گیا۔جب بعد چند روز کے ہندہ مجھ سے وہ گنیاں یا اس کے روپے طلب کرنے کو آئی تو میں نے تلاش گنیوں کی کی لیکن اب وہ گنیاں مجھے نہیں پاتی ہیںاور مجھے نہیں یاد ہے کہ وہ گنیاں باہر رہ گئیں یا او رکوئی اٹھا لے گیا یا میرے کم خیالی سے اس روپیہ طلب کرنے والے کو دے دییہ مقولہ زید مذکور وکیل کا ہےلہذا صورت مذکورہ مسئولۃ الصدر میں گنیاں مؤکلہ ہندہ مذکورہ کی جائینگی یا وکیل زید مذکور کے ذمہ ضمانت دینی لازم آئے گیبینوا بیانا شافیا توجروا اجرکم الله اجراوافیا(شافی بیان فرماؤاپنا اجر کامل الله تعالی سے پاؤ۔ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۹۵€
الجواب:
صورت مستفسرہ میں زید پر ضمان لازم ہے کہ ضائع ہونا اس کی تقصیر سے ہے
فی الہندیۃ رجل دفع الی دلال ثوبا لیبیعہ ثم قال الدلال نسیت ولا ادری فی ای حانوت وضعت یکون ضامنا کذا فی فتاوی قاضیخان ولو قال وضعت بین یدی فی داری ثم قمت ونسیتھا فضاعت ینظر ان کانت الودیعۃ مالا یحفظ فی عرصۃ الدار ولا تعد حرزالہ کصرۃ الدراہم و الذہب ونحوہما یضمن والا فلا کذا فی محیط السرخسی اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہندیہ میں ہے ایك شخص نے دلال کو فروخت کرنے کے لئے کپڑا دیابعدمیں دلال نے کہہ دیا کہ میں بھول گیا مجھے یادنہیں کہ میں نے وہ کپڑا کس دکان میں رکھا ہے تودلال ضامن ہوگافتاوی قاضی خاں میں یونہی ہےاور اگر دلال نے یوں کہا کہ میں نے کپڑا اپنے گھر اپنی نگرانی میں رکھا پھر میں چلا گیا اور بھول گیا تو ضائع ہوگیا تو غور کیا جائے گا کہ وہ امانت ایسی ہے جس کی حفاظت کہا جاسکتاہےمثلا دراہم کی تھیلی اور سونے اور اس کی مثل چیزتو ضامن ہوگا ورنہ نہیںجیسا کہ محیط سرخسی میں ہےاھ ملخصاوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۰: از کمپ بریلی لال کرتی مرسلہ شیخ کریم بخش صاحب ۸ رمضان ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك نوٹ بکر کو اس غرض سے دیا کہ اس کا روپیہ اپنے آقا کی دکان سے لے کر بھیج دینا اور بکر سے کوئی اجرت کسی قسم کی نہیں ٹھہری تھی اور وہ نوٹ راستہ میں گر کر گم گیا ہے تو روپیہ اس کا بکر کے ذمہ ہوگا یا نہیں اور نیز آقا سے اس کا تعلق ہے یا نہیں فقط
الجواب:
آقا سے اس کا کچھ تعلق نہیںنہ بکر پرتاوان آسکتاہے جبکہ اس نے اپنی بے احتیاطی سے نہ گمایا ہو کما ھو معلوم من حکم الامین (جیسا کہ امین کے حکم سے معلوم ہے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱: مسئولہ کرامت خاں بریلی غرہ محرم الحرام ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے زید سے کچھ زیور عاریت لئے اور وہ
صورت مستفسرہ میں زید پر ضمان لازم ہے کہ ضائع ہونا اس کی تقصیر سے ہے
فی الہندیۃ رجل دفع الی دلال ثوبا لیبیعہ ثم قال الدلال نسیت ولا ادری فی ای حانوت وضعت یکون ضامنا کذا فی فتاوی قاضیخان ولو قال وضعت بین یدی فی داری ثم قمت ونسیتھا فضاعت ینظر ان کانت الودیعۃ مالا یحفظ فی عرصۃ الدار ولا تعد حرزالہ کصرۃ الدراہم و الذہب ونحوہما یضمن والا فلا کذا فی محیط السرخسی اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہندیہ میں ہے ایك شخص نے دلال کو فروخت کرنے کے لئے کپڑا دیابعدمیں دلال نے کہہ دیا کہ میں بھول گیا مجھے یادنہیں کہ میں نے وہ کپڑا کس دکان میں رکھا ہے تودلال ضامن ہوگافتاوی قاضی خاں میں یونہی ہےاور اگر دلال نے یوں کہا کہ میں نے کپڑا اپنے گھر اپنی نگرانی میں رکھا پھر میں چلا گیا اور بھول گیا تو ضائع ہوگیا تو غور کیا جائے گا کہ وہ امانت ایسی ہے جس کی حفاظت کہا جاسکتاہےمثلا دراہم کی تھیلی اور سونے اور اس کی مثل چیزتو ضامن ہوگا ورنہ نہیںجیسا کہ محیط سرخسی میں ہےاھ ملخصاوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۰: از کمپ بریلی لال کرتی مرسلہ شیخ کریم بخش صاحب ۸ رمضان ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك نوٹ بکر کو اس غرض سے دیا کہ اس کا روپیہ اپنے آقا کی دکان سے لے کر بھیج دینا اور بکر سے کوئی اجرت کسی قسم کی نہیں ٹھہری تھی اور وہ نوٹ راستہ میں گر کر گم گیا ہے تو روپیہ اس کا بکر کے ذمہ ہوگا یا نہیں اور نیز آقا سے اس کا تعلق ہے یا نہیں فقط
الجواب:
آقا سے اس کا کچھ تعلق نہیںنہ بکر پرتاوان آسکتاہے جبکہ اس نے اپنی بے احتیاطی سے نہ گمایا ہو کما ھو معلوم من حکم الامین (جیسا کہ امین کے حکم سے معلوم ہے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۱: مسئولہ کرامت خاں بریلی غرہ محرم الحرام ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے زید سے کچھ زیور عاریت لئے اور وہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الودیعۃ الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۳۔۳۴۲€
زیورات گم ہوگئے اب وہ اس کے بدلے میں بخوشی نیا زیور بنادینا چاہتے ہیں۔وہ لینا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
جبکہ وہ زیور بغیر اس شخص کے تقصیر کے گم ہوگئے تو اس کے بدلے میں اس سے کچھ لینا ہی ناجائزو تاوان ہے اور ناجائز بات میں کسی کی خوشی وناخوشی کو دخل نہیں۔بہت لوگ سو دبخوشی دیتے ہیںپھر کیا اس کا لینا حلال ہوجائے گا۔
" اتاخذونہ بہتنا و اثما مبینا ﴿۲۰﴾ " " لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل " کیا جھوٹ اور گناہ سے لیتے ہوآپس کا مال باطل طریقے سے مت کھاؤ۔(ت)
لہذا علماء فرماتے ہیں اگر باہم شرط اقرارپائی ہو کہ جاتا رہا تو تاوان دیں گے تو یہ شرط بھی مردود و باطل ہے۔درمختا رمیں ہے:
لاتضمن بالہلاك من غیر تعد وشرط الضمان باطل واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ تعدی کے بغیر ہلاك پرضامن نہ ہوں گے اور ضمان کی شرط باطل ہے۔والله سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۲: ۲۷ محرم الحرام ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ کسی شخص نے کسی شخص کو کہا کہ تم مجھ کو پچاس روپیہ کی ہنڈی منگا دوانہوں نے اقرار کیا کہ میں منگا دوں گااس نے جاکر ان کے ملازم کو پچاس روپیہ دے دیاان کے ملازم نے یہ کہا کہ ہنڈی اس وقت نہیں ملی صبح کو لادوں گااس نے کہا کہ اچھا روپیہ تمھارے پاس رہےاس نے کہا کہ میں نہیں رکھ سکتا ہوں کیونکہ دکان کا کچھ اعتبار نہیں۔اس نے جواب دیاکہ میں نہیں لے سکتاہوں کیونکہ میں جن کے واسطے ہنڈی منگاتاہوں ان کا نام دفتر میں لکھ چکا۔اس نے یعنی ملازم نے جاکر اپنے مالك کو روپیہ سپرد کردیا کہ میں صبح کہ ہنڈی لادوں گا مالك نے اپنے روپیہ کی صندوقچی میں وہ روپیہ رکھ دیا اور اس صندوقچی کو کھلا چھوڑ کر دکان بند کرکے چلا گیا۔رات دکان قفل بے شکستہ کھلاپایا اور روپیہ جاتا رہا اور کسی چیز میں نقصان نہیں پہنچاا ور رات کو
الجواب:
جبکہ وہ زیور بغیر اس شخص کے تقصیر کے گم ہوگئے تو اس کے بدلے میں اس سے کچھ لینا ہی ناجائزو تاوان ہے اور ناجائز بات میں کسی کی خوشی وناخوشی کو دخل نہیں۔بہت لوگ سو دبخوشی دیتے ہیںپھر کیا اس کا لینا حلال ہوجائے گا۔
" اتاخذونہ بہتنا و اثما مبینا ﴿۲۰﴾ " " لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل " کیا جھوٹ اور گناہ سے لیتے ہوآپس کا مال باطل طریقے سے مت کھاؤ۔(ت)
لہذا علماء فرماتے ہیں اگر باہم شرط اقرارپائی ہو کہ جاتا رہا تو تاوان دیں گے تو یہ شرط بھی مردود و باطل ہے۔درمختا رمیں ہے:
لاتضمن بالہلاك من غیر تعد وشرط الضمان باطل واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ تعدی کے بغیر ہلاك پرضامن نہ ہوں گے اور ضمان کی شرط باطل ہے۔والله سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۲: ۲۷ محرم الحرام ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ کسی شخص نے کسی شخص کو کہا کہ تم مجھ کو پچاس روپیہ کی ہنڈی منگا دوانہوں نے اقرار کیا کہ میں منگا دوں گااس نے جاکر ان کے ملازم کو پچاس روپیہ دے دیاان کے ملازم نے یہ کہا کہ ہنڈی اس وقت نہیں ملی صبح کو لادوں گااس نے کہا کہ اچھا روپیہ تمھارے پاس رہےاس نے کہا کہ میں نہیں رکھ سکتا ہوں کیونکہ دکان کا کچھ اعتبار نہیں۔اس نے جواب دیاکہ میں نہیں لے سکتاہوں کیونکہ میں جن کے واسطے ہنڈی منگاتاہوں ان کا نام دفتر میں لکھ چکا۔اس نے یعنی ملازم نے جاکر اپنے مالك کو روپیہ سپرد کردیا کہ میں صبح کہ ہنڈی لادوں گا مالك نے اپنے روپیہ کی صندوقچی میں وہ روپیہ رکھ دیا اور اس صندوقچی کو کھلا چھوڑ کر دکان بند کرکے چلا گیا۔رات دکان قفل بے شکستہ کھلاپایا اور روپیہ جاتا رہا اور کسی چیز میں نقصان نہیں پہنچاا ور رات کو
حوالہ / References
لقرآن الکریم ∞۴ /۲۰€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۸۸€
درمختار کتاب العاریۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۶€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۸۸€
درمختار کتاب العاریۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۶€
پہرہ والا پھر تا تھا انہوں نے دیکھا کہ دکان کا قفل کھلا ہوا ہےاس نے چوکیدار سے دریافت کیا کہ اس دکان کا مالك کون ہے اور اس کا گھر کہاں پر ہے۔ان کا گھر دور ہونے کی وجہ سے چوکیدار نے ملازم کا گھر بتادیا پہرہ والا نے ملازم سے کہا کہ تمھاری دکان کا قفل کھلا ہےاس نے کہا کہ میں تو دکان بند کرکے آیا تھا۔غرض کہ وہ ملازم پہرہ والا کے ساتھ آیا اور پہرہ والا نے پوچھا کہ کچھ مال وغیرہ تو نہیں گیا۔پھر اس نے دکان بند کرنا چاہاپہرہ والا نے منع کیا کہ جب تك کوتوالی میں یہ احوال نہ لکھا لو بند نہ کرواس نے کرتوالی میں بھی لکھوا دیا کہ دکان بے نقصان کھلا ہوا پایا اورصبح انہوں نے کہا کہ روپیہ جاتا رہا اور اکثر دکان کا ایسا اتفاق ہوا کہ دکان بند رہا روپیہ جاتا رہا اور اسی روز کی صبح کو مالك دکان نے دو۲ ملازموں کو موقوف کیاایك ان میں روپیہ لے جانے والا تھا اور دوسرا اور کوئی تھابعد اس کے ہنڈی کے روپیہ والے کو نہ ملازم نے اطلاع دی نہ مالك نےکوئی بیس روز کے عرصہ کے بعد یہ عذر پیش کیا کہ روپیہ جاتا رہا اب اس صورت پر ازروئے شرع شریف کے روپیہ اس سے لینا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ روپیہ ملازم پر عائد ہوتاہے اس سے تاوان لیا جاسکتاہے کہ جب اس نے اس شب صراحۃ کہا کہ کچھ نہیں گیا تو یہ اقرار ہوا کہ زرامانت موجود ہے پھر بعد کو یہ دعوی کہ اس وقت روپیہ جا چکا تھا اگلے قول کا صریح خلاف ہے جو ہرگز مسموع نہ ہوگا۔اور اگر اس کے بعد جانے کا دعوی کرے جب بھی اس پر تاوان لازم ہے کہ جب زر امانت اس وقت تك موجود تھا رات کے وقت ایسی حالت میں کہ بازار بند ہےکھلی دکان چھوڑ کر کوتوالی کو چلاجانا حفاظت میں تقصیر ہےہاں اگر اس کا یہ بیان ہو کہ اس وقت تك روپیہ نہ گیا تھا اوروہ جب کوتوالی لکھوانے کے لئے گیا تو دکان کا مالك یا او رکوئی محافظ جو اس کا اورملازم کا اجنبی نہ ہو بیٹھا رہا حفاظت کرتا رہا پھر اس نے دکان بند کردی اور اس کے بعد صبح تك میں کسی وقت جاتا رہا تو تاوان نہ آتا۔
فی الہندیۃ عن الفصول العمادیۃ اذا طلب الودیعۃ فقال اطلبہا غدا ثم قال فی الغدضاعت فانہ یسئل ان قال ضاعت قبل قولہ اطلبہا غدا یضمن وان قال ضاعت بعدہ ہندیہ میں فصول العمادیۃ کے حوالہ سے ہے جب مالك نے اپنی امانت طلب کی تو رکھنے والے نے کہا کل لیناپھر کل کو کہا وہ ضائع ہوگئی ہے تو اس سے پوچھا جائے گا کہ کب وہ ضائع ہوگئی ہےاگر کہے میرے جواب کا کل لے جانا سے پہلے ضائع ہوئی تو ضامن
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ روپیہ ملازم پر عائد ہوتاہے اس سے تاوان لیا جاسکتاہے کہ جب اس نے اس شب صراحۃ کہا کہ کچھ نہیں گیا تو یہ اقرار ہوا کہ زرامانت موجود ہے پھر بعد کو یہ دعوی کہ اس وقت روپیہ جا چکا تھا اگلے قول کا صریح خلاف ہے جو ہرگز مسموع نہ ہوگا۔اور اگر اس کے بعد جانے کا دعوی کرے جب بھی اس پر تاوان لازم ہے کہ جب زر امانت اس وقت تك موجود تھا رات کے وقت ایسی حالت میں کہ بازار بند ہےکھلی دکان چھوڑ کر کوتوالی کو چلاجانا حفاظت میں تقصیر ہےہاں اگر اس کا یہ بیان ہو کہ اس وقت تك روپیہ نہ گیا تھا اوروہ جب کوتوالی لکھوانے کے لئے گیا تو دکان کا مالك یا او رکوئی محافظ جو اس کا اورملازم کا اجنبی نہ ہو بیٹھا رہا حفاظت کرتا رہا پھر اس نے دکان بند کردی اور اس کے بعد صبح تك میں کسی وقت جاتا رہا تو تاوان نہ آتا۔
فی الہندیۃ عن الفصول العمادیۃ اذا طلب الودیعۃ فقال اطلبہا غدا ثم قال فی الغدضاعت فانہ یسئل ان قال ضاعت قبل قولہ اطلبہا غدا یضمن وان قال ضاعت بعدہ ہندیہ میں فصول العمادیۃ کے حوالہ سے ہے جب مالك نے اپنی امانت طلب کی تو رکھنے والے نے کہا کل لیناپھر کل کو کہا وہ ضائع ہوگئی ہے تو اس سے پوچھا جائے گا کہ کب وہ ضائع ہوگئی ہےاگر کہے میرے جواب کا کل لے جانا سے پہلے ضائع ہوئی تو ضامن
لا للتناقض فی الاول دون الثانی وفیہا من التتارخانیۃ قال لفلان عندی الف درہم ودیعۃ ثم قال بعد ذلك قد ضاعت قبل اقراری فہو ضامن ولو قال کانت لہ عندی الف درہم وضاع فالقول قولہ ولاضمان وفی العقود الدریۃ عن الخلاصۃ والبزازیۃ یلزمہ الضمان للتناقض لان قولہ اطلبہا غدا اقرار منہ انہا ماضاعت فاذا قال ضاعت کان تناقضا ۔وفی الہندیۃ عن الخانیۃ اذا سرقت الودیعۃ من دار المودع وباب الدار مفتوح والمودع غائب عن الدار قال محمد بن سلمۃ رحمہ اﷲ تعالی کان ضامنا و قال ابونصر رحمہ اﷲ تعالی اذا لم یکن اغلق الباب فسرق منہ الودیعۃ لایضمن یعنی اذا کان فی الدارحافظ ۔وفیہا عن التاتارخانیۃ عن النہایۃ استحفظ المودع الودیعۃ فی بیتہ بغیرہ بان ترك الودیعۃ والغیر فی بیتہ وخرج ھو بنفسہ ضمن اھ
ہوگااوراگر کہے اس سے بعد ضائع ہوئی تو ضامن نہ ہوگا کیونکہ پہلی صور ت میں تناقض ہے اور دووسری صورت میں نہیں ہے اور اسی میں تاتارخانیہ سے ہے کہ اس نے کہا میرے پاس فلاں کے ہزار درہم امانت ہیں پھر اس کے بعد کہتا ہے وہ ضائع ہوگئے اور میرے اقرار سے قبل ضائع ہوئے تو وہ ضامن ہوگا اور اگریوں کہا کہ فلاں کے میرے پاس ہزار امانت تھے جو ضائع ہوگئے تو اس کی بات مان لی جائےگی اور ضمان نہ ہوگاعقود الدریہ میں خلاصہ اور بزازیہ سے منقول ہے کہ تناقض کی صورت میں ضمان ہوگا کیونکہ اس کا کہنا مجھ سے کل لے لینایہ ضائع نہ ہونے کا اقرار ہے تو اب کہنا ضائع ہوگئےدونوں باتوں میں تناقص ہےاور ہندیۃ میں خانیہ سے منقول ہے کہ جب مودع(جس کے پاس امانت رکھی) کے گھر سے امانت چوری ہوگئی درانحالیکہ دروازہ کھلا رہا اور مودع غائب تھا تو محمد بن سلمہ رحمہ الله تعالی کا قول یہ ہے کہ وہ ضامن ہوگا اور ابونصر رحمہ الله تعالی نے فرمایا کہ جب دروازہ کھلا رہتا ہو تو چوری ہونے پر ضامن نہ ہوگایعنی اس صورت میں کہ گھر پر محافظ موجود رہتا ہواور اسی میں تاتارخانیہ سے بحوالہ
ہوگااوراگر کہے اس سے بعد ضائع ہوئی تو ضامن نہ ہوگا کیونکہ پہلی صور ت میں تناقض ہے اور دووسری صورت میں نہیں ہے اور اسی میں تاتارخانیہ سے ہے کہ اس نے کہا میرے پاس فلاں کے ہزار درہم امانت ہیں پھر اس کے بعد کہتا ہے وہ ضائع ہوگئے اور میرے اقرار سے قبل ضائع ہوئے تو وہ ضامن ہوگا اور اگریوں کہا کہ فلاں کے میرے پاس ہزار امانت تھے جو ضائع ہوگئے تو اس کی بات مان لی جائےگی اور ضمان نہ ہوگاعقود الدریہ میں خلاصہ اور بزازیہ سے منقول ہے کہ تناقض کی صورت میں ضمان ہوگا کیونکہ اس کا کہنا مجھ سے کل لے لینایہ ضائع نہ ہونے کا اقرار ہے تو اب کہنا ضائع ہوگئےدونوں باتوں میں تناقص ہےاور ہندیۃ میں خانیہ سے منقول ہے کہ جب مودع(جس کے پاس امانت رکھی) کے گھر سے امانت چوری ہوگئی درانحالیکہ دروازہ کھلا رہا اور مودع غائب تھا تو محمد بن سلمہ رحمہ الله تعالی کا قول یہ ہے کہ وہ ضامن ہوگا اور ابونصر رحمہ الله تعالی نے فرمایا کہ جب دروازہ کھلا رہتا ہو تو چوری ہونے پر ضامن نہ ہوگایعنی اس صورت میں کہ گھر پر محافظ موجود رہتا ہواور اسی میں تاتارخانیہ سے بحوالہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الودیعۃ الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۵۲€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الودیعۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۵۶€
العقود الدریۃ کتاب الودیعۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۷۴€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الودیعۃ ا لباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۴۴€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الودیعۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۴۱€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الودیعۃ الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۵۶€
العقود الدریۃ کتاب الودیعۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۷۴€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الودیعۃ ا لباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۴۴€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الودیعۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۴۱€
واﷲ سبحانہ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ نہایہ منقول ہے کہ گھر میں امانت کی حفاظت کے لئے دوسرے کو مقرر کیا اور پھر امانت اس کے سپرد کرکے خود چلاگیا تو ضامن ہوگا اھوالله سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ ۳۳: ۱۸ ربیع الثانی ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بتقریب نیاز جناب پیران پیر غوث الاعظم دستگیر علیہ السلام عمرو سے دیگ کرایہ پر لی۔وہ دیگ اسی شب کو زید کے مکان سے چوری ہوگئیاب عمرو اس کی قیمت مانگتا ہےبموجب حکم شرع شریف زید کو اس کی قیمت واجب الادا ہے یانہیں زید نے چوری جانے کے دیگ کی اطلاع سرکارمیں کردی اور اس کی تحقیقات بھی ہوئی لیکن ابھی تك دیگ نہیں ملیفقط
الجواب:
اگر زید نے دیگ حفاظت کے مکان میں رکھی ہے جہاں وہ اپنے برتن وغیرہ رکھتا ہے تو اس پر الزام نہیں اور اس سے تاوان لینا جرم ہے۔ہاں اگر بے خیالی بے پروائی کی ہو غیر محفوظ مکان میں رکھی باہر چھوڑی ہوتو اس صورت میں زید کو ضرور اس کی قیمت دینی آئے گیاور"علیہ السلام"لفظ بالاستقلال حضرات انبیائے کرام وملائکہ عظام علیہم الصلوۃ والسلام کے لئے خاص ہے ان کے غیر کے لئے استقلالا جائز نہیں۔حضور پر نور سیدناغوث اعظم رضی الله تعالی عنہ کے لئے رضی الله تعالی عنہ کہنا چاہئے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴: از بدایوں مسئولہ سید حسین علی صاحب بدایونی ۱۵ شعبان ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کچھ فقیر سیدحسین کا جمع کیا ہوا پاس حاجی ذاکر علی صاحب کے موجود ہے جو بغرض اخراجات حج بیت الله شریف وبصورت بقائے حیات بنا برخورد ونوش بھائی مولوی سید اشفاق علی حقیقی چچا اہلیہ سیدحسین مذکور بایں بیان جمع کیا گیا ہے کہ بھائی صاحب موصوف کو کسی قسم کی تاحیات تکلیف نہ ہو اگر ضرورت ہوگی تو میں سید حسین اور بھیجوں گا اور حسب بیان حاجی ذاکر علی صاحب کے سید حسین نے حاجی صاحب سے کہا کہ اگر خدا نخواستہ سید اشفاق علی ممدوح کاا نتقال ہوجائے اور زر مجتمعہ مذکور سے کچھ بچ رہے تو بچا ہوا روپیہ سید حسین مذکور کو دیا جائےاس کے بعد سید اشفاق علی صاحب بہ ہمراہی حاجی ذاکر علی صاحب حج بیت الله شریف کو تشریف لے گئے اور تمامی اخراجات سید اشفاق علی صاحب موصوف کے حاجی ذاکر علی صاحب اسی رقم مجتمعہ سے کرتے رہے بقضائے الہی بعد ادائے حج شریف
مسئلہ ۳۳: ۱۸ ربیع الثانی ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بتقریب نیاز جناب پیران پیر غوث الاعظم دستگیر علیہ السلام عمرو سے دیگ کرایہ پر لی۔وہ دیگ اسی شب کو زید کے مکان سے چوری ہوگئیاب عمرو اس کی قیمت مانگتا ہےبموجب حکم شرع شریف زید کو اس کی قیمت واجب الادا ہے یانہیں زید نے چوری جانے کے دیگ کی اطلاع سرکارمیں کردی اور اس کی تحقیقات بھی ہوئی لیکن ابھی تك دیگ نہیں ملیفقط
الجواب:
اگر زید نے دیگ حفاظت کے مکان میں رکھی ہے جہاں وہ اپنے برتن وغیرہ رکھتا ہے تو اس پر الزام نہیں اور اس سے تاوان لینا جرم ہے۔ہاں اگر بے خیالی بے پروائی کی ہو غیر محفوظ مکان میں رکھی باہر چھوڑی ہوتو اس صورت میں زید کو ضرور اس کی قیمت دینی آئے گیاور"علیہ السلام"لفظ بالاستقلال حضرات انبیائے کرام وملائکہ عظام علیہم الصلوۃ والسلام کے لئے خاص ہے ان کے غیر کے لئے استقلالا جائز نہیں۔حضور پر نور سیدناغوث اعظم رضی الله تعالی عنہ کے لئے رضی الله تعالی عنہ کہنا چاہئے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۴: از بدایوں مسئولہ سید حسین علی صاحب بدایونی ۱۵ شعبان ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کچھ فقیر سیدحسین کا جمع کیا ہوا پاس حاجی ذاکر علی صاحب کے موجود ہے جو بغرض اخراجات حج بیت الله شریف وبصورت بقائے حیات بنا برخورد ونوش بھائی مولوی سید اشفاق علی حقیقی چچا اہلیہ سیدحسین مذکور بایں بیان جمع کیا گیا ہے کہ بھائی صاحب موصوف کو کسی قسم کی تاحیات تکلیف نہ ہو اگر ضرورت ہوگی تو میں سید حسین اور بھیجوں گا اور حسب بیان حاجی ذاکر علی صاحب کے سید حسین نے حاجی صاحب سے کہا کہ اگر خدا نخواستہ سید اشفاق علی ممدوح کاا نتقال ہوجائے اور زر مجتمعہ مذکور سے کچھ بچ رہے تو بچا ہوا روپیہ سید حسین مذکور کو دیا جائےاس کے بعد سید اشفاق علی صاحب بہ ہمراہی حاجی ذاکر علی صاحب حج بیت الله شریف کو تشریف لے گئے اور تمامی اخراجات سید اشفاق علی صاحب موصوف کے حاجی ذاکر علی صاحب اسی رقم مجتمعہ سے کرتے رہے بقضائے الہی بعد ادائے حج شریف
بتاریخ۱۴ ذی الحجہ ۱۳۱۹ھ بھائی سید اشفاق علی صاحب موصوف کا انتقال ہوگیامرحوم کی تجہیز وتکفین و تدفین میں بھی جو کچھ صرف ہوا وہ بھی رقم مجتمعہ مذکور سے ہوا اس کے بعد حبہ حبہ اخراجات سید اشفاق علی صاحب مرحوم از یوم روانگی ہندوستان تایوم تدفین سید اشفاق علی صاحب مجرا ہوکر پاس حاجی ذاکر علی صاحب حسب تحریرو بیان حاجی صاحب موصوف مبلغ چار سو پچیس روپے دو آنے باقی بچے وہ بھائی سید لیاقت علی صاحب نے واسطے دینے سید حسین مذکور کے حاجی صاحب موصوف سے طلب کئےحاجی ذاکر علی صاحب نے فرمایا کہ یہ روپیہ مجھ کو سوائے سید حسین کسی کو نہیں دینا چاہئے وہ مجھ سے کہہ گئے ہیں سوائے میرے کسی کونہ دیجئے گا میں ذاکر علی سوائے سید حسین مذکور کے کسی کونہیں دوں گااس گفتگو میں کچھ طول ہوا کہ مولوی عزیز بخش صاحب بدایونی جنہوں نے بذریعہ ہجرت سکونت متصل مکہ معظمہ میں کرلی ہے فرمایا جھگڑا ہر گز مت کرو میں بھی بدایون کا رہنے والا ہوں اور اب یہاں رہتاہوں بدایونی کی سخت ذلت ہوگینزاع تو صرف اس بات پر ہے کہ روپیہ سید حسین نے جمع کیا اور ان کو ملنا چاہئے سو آپ سید لیاقت علی صاحب اطمینان فرمائےابھی حاجی ذاکر علی صاحب کا مال فروخت نہیں ہوا جس وقت حاجی صاحب ممدوح کا مال فروخت ہوگیا میں عزیز بخش ذمہ دار ہوتاہوں اور آپ سید لیاقت علی صاحب سے وعدہ کرتاہوں کہ یہ مبلغ چار سو پچیس روپے دوآنے سید حسین مذکور کے نام سے دہلی والوں کی دکان پر جو یہاں ہے جمع کرادوں گاہندوستان میں یہ روپیہ سید حسین مذکور کو مل جائے گاچنانچہ مطمئن ہوکر بھائی سید لیاقت علی صاحب مکہ معظمہ سے بشوق دیدار روضہ مبارك حضور سرور کائنات علیہ الصلوۃ والتسلیمات روانہ مدینہ منورہ ہوگئے اور جو تحریر حضور والا کے پاس مرسلہ حاجی ذاکر علی صاحب موصوف معرفت حاجی عبدالرزاق صاحب آئی اس میں تحریر تھا کہ سید حسین مذکو رکے جمع کیے ہوئے روپے میں سے بعد تمامی اخراجات سید اشفاق علی صاحب ذمہ حاجی ذاکر علی کے پاس(اماصہ عہ/۲)بچا ہے اور جمع ہے تحریر ہذا کی صداقت میں حاجی لیاقت علی شہادت دیتاہوں کہ میں نے اپنا نام شروع تحریر میں بھی لکھ دیا ہے فقط راقم سید حسین قادریدستخط گواہ بیان تحریر ہذا سید لیاقت علی ۱۰ شعبان ۱۳۳۰ھ
الجواب:
اگر بیان مذکور واقعی ہے تو اس روپیہ کا مستحق سوائے سید حسین کے کوئی نہیں ہےوارثان سید اشفاق علی کا اس میں کچھ حق نہیںحاجی ذاکر علی امین پر فرض ہے کہ بقیہ چارسو پچیس روپیہ دو آنہ تمام وکمال سید حسین کو ادا کرےظاہر ہے کہ صورت مذکور ہ میں یہ روپیہ سید حسین نے سید اشفاق علی کو قرض نہ دیا کہ بحال انتقال بقیہ کو واپسی کو کہا تھا۔قرض ہوتا تو بہر حال تمام وکمال واپس ہونا لازم ہوتا
الجواب:
اگر بیان مذکور واقعی ہے تو اس روپیہ کا مستحق سوائے سید حسین کے کوئی نہیں ہےوارثان سید اشفاق علی کا اس میں کچھ حق نہیںحاجی ذاکر علی امین پر فرض ہے کہ بقیہ چارسو پچیس روپیہ دو آنہ تمام وکمال سید حسین کو ادا کرےظاہر ہے کہ صورت مذکور ہ میں یہ روپیہ سید حسین نے سید اشفاق علی کو قرض نہ دیا کہ بحال انتقال بقیہ کو واپسی کو کہا تھا۔قرض ہوتا تو بہر حال تمام وکمال واپس ہونا لازم ہوتا
لاجرم یہ روپیہ ایك امر خیر میں اعانت کے لئے دیا جس طرح مصارف خیر کے چندے ہوتے ہیں ایسی حالت میں وہ روپیہ ملك مالك پر رہتاہے اور اس کی اجازت سے اسی مصرف خیر میں صرف ہوتاہے یہاں تك کہ اگر کچھ باقی بچے تو اسے واپس دینا یا اس کی اجازت ورضا سے کسی اور مصرف میں صرف کرنا لازم ہوتاہے۔فتاوی قاضی خاں پھر فتاوی عالمگیری میں ہے:
رجل مات فی مسجد قوم فقام احدہم وجمع الدراہم ففضل من ذلك شیئ ان عرف صاحب الفضل ردہ علیہ ۔ اگر کسی قوم کی مسجد میں مسافر فوت ہوگیا اور ایك شخص نے اس کے کفن کے چندہ سے کچھ دراہم جمع کئے اور کچھ بچ گئے تو اس کو معلوم ہے کہ بچے ہوئے دراہم فلاں کا چندہ ہے تو اس کو واپس کردے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
ان فضل شیئ رد للمتصدق ۔ اگر بچ جائیں تو جس کا چندہ ہواسے واپس کرے۔(ت)
بلکہ جو کچھ سید اشفاق علی کی موت وتجہیز وتکفین میں صرف کیا اس کا بھی ضمان حاجی ذاکر علی پر لازم ہے کہ سید حسین نے صرف حیات سید اشفاق علی تك اجازت دی اور باقی کی واپسی کو کہا تھا بلکہ مولوی عزیز بخش کا جواب کہ حاجی ذاکر علی کا مال بك جائے تو دیں گے دلالت کر رہا ہے کہ وہ مال حاجی مذکور نے خرچ کردیا جس کی نسبت بیان سائل ہے کہ بمبئی میں اس کا کل مال حاجی ذاکر علی نے خرید لیا پھر اپنے پاس سے مصارف سید اشفاق علی میں صرف کیا اگر واقعہ یہ ہے جب تو سارا زر ضمانت جس قدر سپرد کیا تھا سب کا تاوان حاجی ذاکر علی پر حسین کے کے لئے لازم ہے پورا واپس دے اور جو کچھ مصارف حیات ووفات سید اشفاق علی میں اٹھایا وہ حاجی ذاکر علی صاحب کا تبرع واحسان تھا جس کے عوض وہ کسی سے مطالبہ نہیں کرسکتاعالمگیری میں ہے:
رجل جمع ما لا من الناس لینفقہ فی بناء المسجد فانفق من تلك الدراہم فی حاجتہ ثم رد بدلہا فی نفقۃ المسجد ایك شخص نے لوگوں سے چندہ جمع کیا تاکہ مسجد تعمیر کی جائے تو اس نے چندہ کی کچھ رقم اپنی ضرورت میں خرچ کرلی اور اس کے بدلے رقم چندہ میں دے دی
رجل مات فی مسجد قوم فقام احدہم وجمع الدراہم ففضل من ذلك شیئ ان عرف صاحب الفضل ردہ علیہ ۔ اگر کسی قوم کی مسجد میں مسافر فوت ہوگیا اور ایك شخص نے اس کے کفن کے چندہ سے کچھ دراہم جمع کئے اور کچھ بچ گئے تو اس کو معلوم ہے کہ بچے ہوئے دراہم فلاں کا چندہ ہے تو اس کو واپس کردے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
ان فضل شیئ رد للمتصدق ۔ اگر بچ جائیں تو جس کا چندہ ہواسے واپس کرے۔(ت)
بلکہ جو کچھ سید اشفاق علی کی موت وتجہیز وتکفین میں صرف کیا اس کا بھی ضمان حاجی ذاکر علی پر لازم ہے کہ سید حسین نے صرف حیات سید اشفاق علی تك اجازت دی اور باقی کی واپسی کو کہا تھا بلکہ مولوی عزیز بخش کا جواب کہ حاجی ذاکر علی کا مال بك جائے تو دیں گے دلالت کر رہا ہے کہ وہ مال حاجی مذکور نے خرچ کردیا جس کی نسبت بیان سائل ہے کہ بمبئی میں اس کا کل مال حاجی ذاکر علی نے خرید لیا پھر اپنے پاس سے مصارف سید اشفاق علی میں صرف کیا اگر واقعہ یہ ہے جب تو سارا زر ضمانت جس قدر سپرد کیا تھا سب کا تاوان حاجی ذاکر علی پر حسین کے کے لئے لازم ہے پورا واپس دے اور جو کچھ مصارف حیات ووفات سید اشفاق علی میں اٹھایا وہ حاجی ذاکر علی صاحب کا تبرع واحسان تھا جس کے عوض وہ کسی سے مطالبہ نہیں کرسکتاعالمگیری میں ہے:
رجل جمع ما لا من الناس لینفقہ فی بناء المسجد فانفق من تلك الدراہم فی حاجتہ ثم رد بدلہا فی نفقۃ المسجد ایك شخص نے لوگوں سے چندہ جمع کیا تاکہ مسجد تعمیر کی جائے تو اس نے چندہ کی کچھ رقم اپنی ضرورت میں خرچ کرلی اور اس کے بدلے رقم چندہ میں دے دی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصلٰوۃ الفصل الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۶۱€
درمختار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجنائز ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۲۱€
درمختار کتاب الصلٰوۃ باب صلٰوۃ الجنائز ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۲۱€
لایسعہ ان یفعل ذلك فان فعل فان عرف صاحب ذلك المال رد علیہ اوسألہ تجدید الاذن فیہ(الی قولہ) لکن ھذا یجب ان یکون فی رفع الوبال اما الضمان فواجب کذا فی الذخیرۃ ۔واﷲ تعالی سبحانہ وتعالی اعلم۔ تویہ جائز نہیں۔اگر اس نے ایسا کیا تو وہ رقم دینے والے کو واپس کرے اگر اس کا علم ہو یا پھر اس سے دوبارہ مسجد میں صرف کی اجازت لےاس کے آخرمیں فرمایا لیکن یہ مذکور حکم گناہ کے وبال کو ختم کرنے کے لئے ہے تاہم ضمان تو وہ اس پر بہر صورت واجب ہے۔یوں ذخیرہ میں ہے۔والله سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۵: مستفسرہ مظہر حسین بہاری پور بریلی رز دوشنبہ ۲۲ رجب ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بی بی منکوحہ کے پاس مبلغ پچیس عدد اشرفی بطور امانت کے رکھ دی تھیبعد چند روز کے جب اس سے وہ اشرفی طلب کی تو اس نے کہا کہ میں نے اپنی ماں کے پاس رکھ دی ہیں میں جاکر لادوں گییہ کہہ کر لینے کو گئیجب اپنی ماں کے مکان سے واپس آئی تو کہا کہ میری والدہ نے کہا کہ وہ اشرفیاں تیرے باپ نے مجھ سے لے کر تیرے بھائی کے مقدمہ میں صرف کردی ہیں اوریہ کہا ہے کہ بہت جلدی ان کی فکر کردی جائے گی اطمینان رکھوپھر دوبارہ چند روز کے بعد لینے کو گئی تو پندرہ یوم کے بعد واپس آئی تو جو زیور کہ خود پہنے ہوئے تھی اور اس کے خاوند کا بنوایا ہوا تھا قریب دو سورپے کے وہ ہیں وہ اپنے والدین میں چھوڑ آئیجب اس سے دریافت کیا کہ تو نے زیور کس کو دیاتو کہا کہ ایك عورت قرابت کی ہے اور وہ شادی میں گئی ہے مجھ سے مانگ کر لے گئیاس کے خاوند نے اس سے کہا کہ تو نے بلااجازت میری اپنا زیور بھی دے دیا اور اشرفیاں بھی دے دیں اور اکثر کام تومیری بلااجازت کرتی ہے تو میرے کام کی نہیں میں تم کو طلاق دیتاہوں یہ کہہ کر طلاق دے دی اور وہ عورت اپنے والدین میں مع اپنے اسباب کے چلی گئی تو اب وہ اشرفیاں کا روپیہ اور وہ زیور خاوند اس کا کس سے پاسکتاہےآیا اس عورت یا اس کی ماں سے بینوا توجروا
الجواب:
زیور کا مطالبہ خاص عورت سے ہے اس کی ماں سے تعلق نہیں۔اشرفیوں کے بارے میں سائل نے بیان کیا کہ جب عورت سے مانگیں تو اس نے کہا کہ میں نے اپنی ماں کے پاس رکھ دی ہیں اس پر
مسئلہ ۳۵: مستفسرہ مظہر حسین بہاری پور بریلی رز دوشنبہ ۲۲ رجب ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی بی بی منکوحہ کے پاس مبلغ پچیس عدد اشرفی بطور امانت کے رکھ دی تھیبعد چند روز کے جب اس سے وہ اشرفی طلب کی تو اس نے کہا کہ میں نے اپنی ماں کے پاس رکھ دی ہیں میں جاکر لادوں گییہ کہہ کر لینے کو گئیجب اپنی ماں کے مکان سے واپس آئی تو کہا کہ میری والدہ نے کہا کہ وہ اشرفیاں تیرے باپ نے مجھ سے لے کر تیرے بھائی کے مقدمہ میں صرف کردی ہیں اوریہ کہا ہے کہ بہت جلدی ان کی فکر کردی جائے گی اطمینان رکھوپھر دوبارہ چند روز کے بعد لینے کو گئی تو پندرہ یوم کے بعد واپس آئی تو جو زیور کہ خود پہنے ہوئے تھی اور اس کے خاوند کا بنوایا ہوا تھا قریب دو سورپے کے وہ ہیں وہ اپنے والدین میں چھوڑ آئیجب اس سے دریافت کیا کہ تو نے زیور کس کو دیاتو کہا کہ ایك عورت قرابت کی ہے اور وہ شادی میں گئی ہے مجھ سے مانگ کر لے گئیاس کے خاوند نے اس سے کہا کہ تو نے بلااجازت میری اپنا زیور بھی دے دیا اور اشرفیاں بھی دے دیں اور اکثر کام تومیری بلااجازت کرتی ہے تو میرے کام کی نہیں میں تم کو طلاق دیتاہوں یہ کہہ کر طلاق دے دی اور وہ عورت اپنے والدین میں مع اپنے اسباب کے چلی گئی تو اب وہ اشرفیاں کا روپیہ اور وہ زیور خاوند اس کا کس سے پاسکتاہےآیا اس عورت یا اس کی ماں سے بینوا توجروا
الجواب:
زیور کا مطالبہ خاص عورت سے ہے اس کی ماں سے تعلق نہیں۔اشرفیوں کے بارے میں سائل نے بیان کیا کہ جب عورت سے مانگیں تو اس نے کہا کہ میں نے اپنی ماں کے پاس رکھ دی ہیں اس پر
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثالث عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۴۸۰€
زید ناراض ہوا کہ کیوں بے اجازت اسے دیں اور ماں باپ کے پاس دوسرے کی امانت رکھ دینے میں اکثر علماء کا اختلاف ہے
فتاوی قاضی خاں وفتاوی خلاصہ وغیرہما میں اس کا جواز اس شرط پر ہے کہ وہ اور یہ ایك ہی ساتھ رہتے ہوں ورنہ نہیں۔عالمگیریہ میں ہے:
الابوان کالاجنبی حتی یشترط کونہما فی عیالہ کذا فی الخلاصۃ ۔ امانت کی حفاظت کے معاملہ میں والدین اجنبی کے حکم میں ہیں جب تك کہ وہ اس کی عیال میں نہ ہوں عیال میں ہونا شرط ہے۔یوں خلاصہ میں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
وتفسیر من فی عیالہ فی ھذا الحکم ان یساکن معہ سواء کان فی نفقتہ اولا کذا فی الفتاوی الصغری و ھکذا فی فتاوی قاضی خاں ۔ اس حکم میں عیال کی تفسیر یہ ہے کہ جو لوگ اس کے ساتھ سکونت پذیر ہوں اس کے نفقہ میں شامل ہوں یا نہ ہوں فتاوی صغری اور فتاوی قاضیخان میں ایسے ہی ہے۔(ت)
اور علامہ مقدسی نے فتوی اس پر نقل کیا کہ اس کا ساتھ رہنا شرط نہیں۔ ردالمحتارمیں ہے:
وفیہ ای فی المقدسی لایشترط فی الابوین کونہما فی عیالہ وبہ یفتی ۔ اس میں یعنی مقدسی میں ہے والدین کے معاملہ میں ان کا اس کی عیال میں ہونا شرط نہیں ہے۔اور اسی پر فتوی ہے۔(ت)
مگر حقیقت امر یہ ہے کہ یہ امین جس کے پاس امانت رکھی اس کا اس مال کی نسبت قابل اطمینان ہونا بھی ضروری ہے اور اس کے لئے فقط اس امین کے ذاتی مال پر امین ہونا کافی نہیں کہ یہ امر باختلاف مالك مال بدلتا ہے مثلا اکثر زنان زمانہ اپنی دختر کے مال میں ضرور قابل وثوق ہیں مگر اس سے داماد کے مال پر اطمینان ہونا لازم نہیں آتا بلکہ بارہا ماں بیٹی دونوں اس کے تلف میں ہم زبان ہوجاتی ہیں۔ہندیہ میں ہے:
للمودع ان یدفع الودیعۃ الی من کان فی عیالہ کان المدفوع مودع کو جائز ہے کہ امانت اپنے عیال کو سپر د کردے اور عیال میں سے بیوی یا اولاد یا والدین ہوں
فتاوی قاضی خاں وفتاوی خلاصہ وغیرہما میں اس کا جواز اس شرط پر ہے کہ وہ اور یہ ایك ہی ساتھ رہتے ہوں ورنہ نہیں۔عالمگیریہ میں ہے:
الابوان کالاجنبی حتی یشترط کونہما فی عیالہ کذا فی الخلاصۃ ۔ امانت کی حفاظت کے معاملہ میں والدین اجنبی کے حکم میں ہیں جب تك کہ وہ اس کی عیال میں نہ ہوں عیال میں ہونا شرط ہے۔یوں خلاصہ میں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
وتفسیر من فی عیالہ فی ھذا الحکم ان یساکن معہ سواء کان فی نفقتہ اولا کذا فی الفتاوی الصغری و ھکذا فی فتاوی قاضی خاں ۔ اس حکم میں عیال کی تفسیر یہ ہے کہ جو لوگ اس کے ساتھ سکونت پذیر ہوں اس کے نفقہ میں شامل ہوں یا نہ ہوں فتاوی صغری اور فتاوی قاضیخان میں ایسے ہی ہے۔(ت)
اور علامہ مقدسی نے فتوی اس پر نقل کیا کہ اس کا ساتھ رہنا شرط نہیں۔ ردالمحتارمیں ہے:
وفیہ ای فی المقدسی لایشترط فی الابوین کونہما فی عیالہ وبہ یفتی ۔ اس میں یعنی مقدسی میں ہے والدین کے معاملہ میں ان کا اس کی عیال میں ہونا شرط نہیں ہے۔اور اسی پر فتوی ہے۔(ت)
مگر حقیقت امر یہ ہے کہ یہ امین جس کے پاس امانت رکھی اس کا اس مال کی نسبت قابل اطمینان ہونا بھی ضروری ہے اور اس کے لئے فقط اس امین کے ذاتی مال پر امین ہونا کافی نہیں کہ یہ امر باختلاف مالك مال بدلتا ہے مثلا اکثر زنان زمانہ اپنی دختر کے مال میں ضرور قابل وثوق ہیں مگر اس سے داماد کے مال پر اطمینان ہونا لازم نہیں آتا بلکہ بارہا ماں بیٹی دونوں اس کے تلف میں ہم زبان ہوجاتی ہیں۔ہندیہ میں ہے:
للمودع ان یدفع الودیعۃ الی من کان فی عیالہ کان المدفوع مودع کو جائز ہے کہ امانت اپنے عیال کو سپر د کردے اور عیال میں سے بیوی یا اولاد یا والدین ہوں
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الودیعۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور۴/ ۳۳۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الودیعۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۳۳۹€
ردالمحتار کتاب الایداع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۵۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الودیعۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۳۳۹€
ردالمحتار کتاب الایداع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۵۱€
الیہ زوجتہ او ولدہ او والدیہ اذالم یکن متہما یخاف منہ علی الودیعۃ ھکذا فی فتاوی قاضیخاں ۔ بشرطیکہ ان کے پاس امانت کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔ فتاوی قاضیخاں میں یوں ہے۔(ت)
لہذا عورت کا یہ فعل کہ اشرفیاں اپنی ماں کو دے آنا بتاتی ہے مسلم نہ ہوگا۔عورت پر اشرفیوں کا تاوان ہے اگر معلوم ہو کہ واقعی اپنی ماں کو دے آئی تھی اور ماں نے اس کے باپ کو دیں اس نے مقدمہ میں صرف کیںگو زید کو اختیار ہے کہ عورت یا اس کی ماں یا اس کے باپ جس سے چاہے اس کا تاوان لے۔
لانہما کغاصب الغاصب فللمالك ان یضمن من شاء واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ وہ دونوں غاصب کے غاصب کی طرح ہیں تو مالك کو اختیار ہے جس کو چاہے ضامن بنائےوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۶: مرسلہ عبدالرحیم وابوالفضل محمد مظہر از ضلع ہگلی وانمباڑی ۶ شعبان ۱۳۳۳ھ روز شنبہ
ایك شخص نے زید کو دو سورپے دئے کہ اس کا سونا خرید کر زیور بنوادینااس نے سونا خرید کر جیب میں رکھاسنار کو دینے جارہا تھا کہ جیب سے نکل گیا یا کسی نے جیب کترلی تویہ نقصان کس کا ہوا۔
الجواب:
وہ شخص امین ہے جبکہ اس نے حفظ میں قصور نہ کیا اور جاتارہا اس پر تاوان نہیں۔ہاں اگر اس نے غفلت کی مثلا جیب پھٹی ہوئی تھی اس میں سے نکل جانے کا احتمال تھا اس نے ڈال لیا اور وہ نکل گیا تو ضرور اس پر تاوان ہے لانہ متعدوالمتعدی ضامن (کیونکہ یہ تعدی کرنیوالا ہوا اور تعدی کرنیوالا ضامن ہوتاہے)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۷:از مقام چتوڑ گڑھ علاقہ اودے پور مسئولہ مولوی عبدالکریم صاحب روز شنبہ ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
کافر مرگیا اور کوئی وارث قریب و بعید نہ چھوڑا اور مسلمان اس کا مدیون قرض ادا کرنا چاہتا ہے اب وہ کس کو دے کیونکہ اگرا س کی طرف سے صدقہ کرتاہے تو اس کو آخرت میں ملنے کی امید نہیں اور اگر اس کے مذھب کے مطابق مندر میں اس کی طرف سے صرف کردے یا مندر کے پجاری کو دے دے تو کفر کی اعانت ہوتی ہے۔تو اب اس قرض سے کیونکر سبکدوش ہو
لہذا عورت کا یہ فعل کہ اشرفیاں اپنی ماں کو دے آنا بتاتی ہے مسلم نہ ہوگا۔عورت پر اشرفیوں کا تاوان ہے اگر معلوم ہو کہ واقعی اپنی ماں کو دے آئی تھی اور ماں نے اس کے باپ کو دیں اس نے مقدمہ میں صرف کیںگو زید کو اختیار ہے کہ عورت یا اس کی ماں یا اس کے باپ جس سے چاہے اس کا تاوان لے۔
لانہما کغاصب الغاصب فللمالك ان یضمن من شاء واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ وہ دونوں غاصب کے غاصب کی طرح ہیں تو مالك کو اختیار ہے جس کو چاہے ضامن بنائےوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۳۶: مرسلہ عبدالرحیم وابوالفضل محمد مظہر از ضلع ہگلی وانمباڑی ۶ شعبان ۱۳۳۳ھ روز شنبہ
ایك شخص نے زید کو دو سورپے دئے کہ اس کا سونا خرید کر زیور بنوادینااس نے سونا خرید کر جیب میں رکھاسنار کو دینے جارہا تھا کہ جیب سے نکل گیا یا کسی نے جیب کترلی تویہ نقصان کس کا ہوا۔
الجواب:
وہ شخص امین ہے جبکہ اس نے حفظ میں قصور نہ کیا اور جاتارہا اس پر تاوان نہیں۔ہاں اگر اس نے غفلت کی مثلا جیب پھٹی ہوئی تھی اس میں سے نکل جانے کا احتمال تھا اس نے ڈال لیا اور وہ نکل گیا تو ضرور اس پر تاوان ہے لانہ متعدوالمتعدی ضامن (کیونکہ یہ تعدی کرنیوالا ہوا اور تعدی کرنیوالا ضامن ہوتاہے)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۷:از مقام چتوڑ گڑھ علاقہ اودے پور مسئولہ مولوی عبدالکریم صاحب روز شنبہ ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
کافر مرگیا اور کوئی وارث قریب و بعید نہ چھوڑا اور مسلمان اس کا مدیون قرض ادا کرنا چاہتا ہے اب وہ کس کو دے کیونکہ اگرا س کی طرف سے صدقہ کرتاہے تو اس کو آخرت میں ملنے کی امید نہیں اور اگر اس کے مذھب کے مطابق مندر میں اس کی طرف سے صرف کردے یا مندر کے پجاری کو دے دے تو کفر کی اعانت ہوتی ہے۔تو اب اس قرض سے کیونکر سبکدوش ہو
حوالہ / References
فتاویٰ ہندیہ کتاب الودیعۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۳۹€
الجواب:
جبکہ اس کی نیت ادا کی تھی اور اس نے اپنی طرف سے کوئی عذر نہ کیا اور اس مال کا کوئی مستحق نہ رہا تو فقرائے مسلمین اس کے مستحق ہیںاوریہ بایں معنی نہ ہوگا کہ کافر کی طرف سے تصدق کیا جائے یہ تو حرام ہے اور اگر اسے اجر وثواب سمجھے تو کفرہے بلکہ اس معنی پر زوردیا جائے گا کہ کافر مرگیا اور وارث کوئی نہیں اور موت قاطع ملك ہے اور خلافت نہیں کہ اس کی طرف منتقل ہو تو اب یہ محض لاوارثی مال رہ گیا جو خالص ملك خدا ہے لہذا فقراء کو دیا جائے گا یا مساجد یا مصارف دینیہ میں صرف کیا جائے اور اگر فقیر ہے تو اگیا عــــــہ فیصل ہوگیا۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۸: مسئولہ حافظ تعین صاحب ملوکپور بریلی روز یك شنبہ ۳ ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے پاس اس کی بھاوج ہندہ نے دوہزار روپیہ جمع کردیا ہے زید دس روپے ماہوار اپنی بھاوج وہندہ کو دیتاہے زید نے کئی مرتبہ ہندہ سے اجازت چاہی کہ روپیہ تجارت میں لگا دے مگر ہندہ نے اس وجہ سے کہ تجارت میں روپیہ لگا دینے سے ہر وقت نہیں مل سکتا ہے اجازت نہ دیزید نے یہ روپیہ تجارت ہی میں لگا دیا ہے مگر ہندہ اپنا روپیہ جس وقت طلب کرے زید دے سکتاہے نفع زیادہ ہونے کی حالت میں دس روپے کے علاوہ بھی زید دیتا رہتا ہے مگرکبھی حساب کرکے روپیہ نہیں دیا۔زید کا قصد ہے اگراس کی بھاوج اپنا روپیہ لے لے تب بھی کچھ خدمت کرنے کا ہےایسی حالت میں یہ دس روپیہ ماہوار کیا سو دہوگا اگر سود ہوگا تو بچنے کی کیا صورت ہے فقط
الجواب:
جبکہ ہندہ نے تجارت کی اجازت نہ دی تو یہ مضاربت نہیں ہوسکتی۔ہندہ نے اپنا روپیہ اس کے پاس جمع کیا تھا تو یہ قرض نہ تھا ودیعت تھا اس وقت تك زید اگر بطور خود اسے کچھ دیتا رہا تو وہ نہ قرض کا نفع تھا نہ کسی عقد معاوضہ میں زیادتیلہذا سود نہیں ہوسکتا تھا بلکہ زید کی طرف سے ایك تبرع واحسان تھااب کہ زید نے بلااجازت ہندہ اسے تجارت میں لگا دیا تو زید غاصب ہوگیا اس پر تاوان آیا اب وہ ہندہ کا مدیون ہوا اگرچہ اس دین کی وجہ سے دیتاہے تو دینا اور لینا حرام اور سود ہے۔اور اگرتصریح کردے کہ اس کی وجہ سے نہیں بلکہ خود ایك خدمت کرتاہے اور اگر روپیہ ادابھی ہوجائے گا تب بھی کرتا رہے گا تو سود نہیں مگر احتیاط اولی ہے۔والله تعالی اعلم۔
عــــــہ: اصل میں اسی طرح ہے لیکن سیاق عبارت سے اندازہ ہوتاہے کہ عبارت یہ ہوگی کہ"اگر وہ خود فقیر ہے تو اپنے مصرف میں لاسکتاہے۔
جبکہ اس کی نیت ادا کی تھی اور اس نے اپنی طرف سے کوئی عذر نہ کیا اور اس مال کا کوئی مستحق نہ رہا تو فقرائے مسلمین اس کے مستحق ہیںاوریہ بایں معنی نہ ہوگا کہ کافر کی طرف سے تصدق کیا جائے یہ تو حرام ہے اور اگر اسے اجر وثواب سمجھے تو کفرہے بلکہ اس معنی پر زوردیا جائے گا کہ کافر مرگیا اور وارث کوئی نہیں اور موت قاطع ملك ہے اور خلافت نہیں کہ اس کی طرف منتقل ہو تو اب یہ محض لاوارثی مال رہ گیا جو خالص ملك خدا ہے لہذا فقراء کو دیا جائے گا یا مساجد یا مصارف دینیہ میں صرف کیا جائے اور اگر فقیر ہے تو اگیا عــــــہ فیصل ہوگیا۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۸: مسئولہ حافظ تعین صاحب ملوکپور بریلی روز یك شنبہ ۳ ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے پاس اس کی بھاوج ہندہ نے دوہزار روپیہ جمع کردیا ہے زید دس روپے ماہوار اپنی بھاوج وہندہ کو دیتاہے زید نے کئی مرتبہ ہندہ سے اجازت چاہی کہ روپیہ تجارت میں لگا دے مگر ہندہ نے اس وجہ سے کہ تجارت میں روپیہ لگا دینے سے ہر وقت نہیں مل سکتا ہے اجازت نہ دیزید نے یہ روپیہ تجارت ہی میں لگا دیا ہے مگر ہندہ اپنا روپیہ جس وقت طلب کرے زید دے سکتاہے نفع زیادہ ہونے کی حالت میں دس روپے کے علاوہ بھی زید دیتا رہتا ہے مگرکبھی حساب کرکے روپیہ نہیں دیا۔زید کا قصد ہے اگراس کی بھاوج اپنا روپیہ لے لے تب بھی کچھ خدمت کرنے کا ہےایسی حالت میں یہ دس روپیہ ماہوار کیا سو دہوگا اگر سود ہوگا تو بچنے کی کیا صورت ہے فقط
الجواب:
جبکہ ہندہ نے تجارت کی اجازت نہ دی تو یہ مضاربت نہیں ہوسکتی۔ہندہ نے اپنا روپیہ اس کے پاس جمع کیا تھا تو یہ قرض نہ تھا ودیعت تھا اس وقت تك زید اگر بطور خود اسے کچھ دیتا رہا تو وہ نہ قرض کا نفع تھا نہ کسی عقد معاوضہ میں زیادتیلہذا سود نہیں ہوسکتا تھا بلکہ زید کی طرف سے ایك تبرع واحسان تھااب کہ زید نے بلااجازت ہندہ اسے تجارت میں لگا دیا تو زید غاصب ہوگیا اس پر تاوان آیا اب وہ ہندہ کا مدیون ہوا اگرچہ اس دین کی وجہ سے دیتاہے تو دینا اور لینا حرام اور سود ہے۔اور اگرتصریح کردے کہ اس کی وجہ سے نہیں بلکہ خود ایك خدمت کرتاہے اور اگر روپیہ ادابھی ہوجائے گا تب بھی کرتا رہے گا تو سود نہیں مگر احتیاط اولی ہے۔والله تعالی اعلم۔
عــــــہ: اصل میں اسی طرح ہے لیکن سیاق عبارت سے اندازہ ہوتاہے کہ عبارت یہ ہوگی کہ"اگر وہ خود فقیر ہے تو اپنے مصرف میں لاسکتاہے۔
مسئلہ ۳۹: مرسلہ الف خاں صاحب مہتمم مدرسہ اسلامیہ سانگود ریاست کوٹہ راجپوتانہ ۲۶ صفر ۱۳۳۵ھ
روپیہ مدرسہ اسلامیہ کا اگر کسی مسلمان سیٹھ کے یہاں پر امانت اس کے کاغذات میں جمع کردیا جائے اور وہ رقم بشمول اس کے دیگر کے صرف میں آگئی مگر کاغذات میں امانت ہی جمع ہے اور جب اس کے محافظ اس رقم کو طلب کریں تو فورا دے سکتاہے تو ایسا استعمال رقم مذکورہ میں سیٹھ مذکور پر شریعت میں کوئی گناہ تو نہیں ہے یا کہ اس رقم کو وہ سیٹھ علیحدہ شمار کرکے رکھ چھوڑے۔بینوا توجروا
الجواب:
زر امانت میں اس کو تصرف حرام ہے۔یہ ان مواضع میں ہے جن میں دراہم ودنانیر متعین ہوتے ہیں اس کو جائز نہیں کہ اس روپے کے بدلے دوسرا روپیہ رکھ دے اگر چہ بعینہ ویسا ہی ہو اگر کرے گا امین نہ رہے گا اور تاوان دینا آئے گا والمسئلۃ منصوص علیہ فی الدرالمختار وکثیر من الاسفار(یہ مسئلہ درمختاراور بہت سی کتابوں میں منصوص ہے۔ت)مہتممان انجمن نے اگر صراحۃ بھی اجازت دے دی ہو کہ تم جب چاہنا صرف کرلینا پھر اس کا عوض دے دیناجب بھی نہ سیٹھ کوتصرف جائز نہ مہتمموں کو اجازت دینے کی اجازت تو مہتمم مالك نہیں۔اور قرض تبرع ہے اور غیر مالك کو تبرع کااختیار نہیںہاں چندہ دہندہ اجازت دے جائیں تو حرج نہیںاس حالت میں جب سیٹھ تصرف کرے گا روپیہ امانت سے نکل کر اس پر قرض ہوجائے گا جو عندالطلب دینا آئے گا اگرچہ کوئی میعاد مقرر کردی ہو۔
فان التاجیل فی القرض باطل کما فی الدرالمختار وغیرہ۔ کیونکہ قرض میں ادائیگی کی مدت مقرر کرنا باطل ہے۔جیسا کہ درمختاروغیرہ میں ہے۔(ت)
مسئلہ ۴۰:از جبلپور چھاؤنی مرسلہ عبدالوحید خان صاحب اسسٹنٹ ماسٹر اسکول لیس نائك نمبر ۳۴۳ پلاٹون نمبر ۸ کمپنی بی پلٹن(۲ /۹۱)۶ شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بکر کو چند قطعات نوٹ پانچ پانچ روپیہ کے اور دس دس روپیہ کے بطور امانت کے رکھنے کو دئے اور یہ بھی اجازت دے دی کہ تو اس امانت
روپیہ مدرسہ اسلامیہ کا اگر کسی مسلمان سیٹھ کے یہاں پر امانت اس کے کاغذات میں جمع کردیا جائے اور وہ رقم بشمول اس کے دیگر کے صرف میں آگئی مگر کاغذات میں امانت ہی جمع ہے اور جب اس کے محافظ اس رقم کو طلب کریں تو فورا دے سکتاہے تو ایسا استعمال رقم مذکورہ میں سیٹھ مذکور پر شریعت میں کوئی گناہ تو نہیں ہے یا کہ اس رقم کو وہ سیٹھ علیحدہ شمار کرکے رکھ چھوڑے۔بینوا توجروا
الجواب:
زر امانت میں اس کو تصرف حرام ہے۔یہ ان مواضع میں ہے جن میں دراہم ودنانیر متعین ہوتے ہیں اس کو جائز نہیں کہ اس روپے کے بدلے دوسرا روپیہ رکھ دے اگر چہ بعینہ ویسا ہی ہو اگر کرے گا امین نہ رہے گا اور تاوان دینا آئے گا والمسئلۃ منصوص علیہ فی الدرالمختار وکثیر من الاسفار(یہ مسئلہ درمختاراور بہت سی کتابوں میں منصوص ہے۔ت)مہتممان انجمن نے اگر صراحۃ بھی اجازت دے دی ہو کہ تم جب چاہنا صرف کرلینا پھر اس کا عوض دے دیناجب بھی نہ سیٹھ کوتصرف جائز نہ مہتمموں کو اجازت دینے کی اجازت تو مہتمم مالك نہیں۔اور قرض تبرع ہے اور غیر مالك کو تبرع کااختیار نہیںہاں چندہ دہندہ اجازت دے جائیں تو حرج نہیںاس حالت میں جب سیٹھ تصرف کرے گا روپیہ امانت سے نکل کر اس پر قرض ہوجائے گا جو عندالطلب دینا آئے گا اگرچہ کوئی میعاد مقرر کردی ہو۔
فان التاجیل فی القرض باطل کما فی الدرالمختار وغیرہ۔ کیونکہ قرض میں ادائیگی کی مدت مقرر کرنا باطل ہے۔جیسا کہ درمختاروغیرہ میں ہے۔(ت)
مسئلہ ۴۰:از جبلپور چھاؤنی مرسلہ عبدالوحید خان صاحب اسسٹنٹ ماسٹر اسکول لیس نائك نمبر ۳۴۳ پلاٹون نمبر ۸ کمپنی بی پلٹن(۲ /۹۱)۶ شعبان المعظم ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بکر کو چند قطعات نوٹ پانچ پانچ روپیہ کے اور دس دس روپیہ کے بطور امانت کے رکھنے کو دئے اور یہ بھی اجازت دے دی کہ تو اس امانت
حوالہ / References
درمختار کتاب البیوع فصل فی التصرف فی المبیع والثمن ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۹€
میں سے حسب ضرورت اپنی خرچ کرسکتاہے لیکن آئندہ ماہ میں یہ سب امانت مجھ کو واپس دینا ہوگی بکر نے وہ سب نوٹ اپنی جیب میں رکھ لئے حالانکہ سوائے اس امانت کے بکر کی جیب میں کچھ نوٹ یا نقدی بالکل نہیں تھی بکر بموجب اجازت زید کے ڈاکخانہ کو واسطے کرنے منی آرڈر اپنے مکان کو گیا اور اسی امانتی نوٹوں میں سے منی آرڈر اپنے مکان کو کیاوہاں پر آدمیوں کا اژدحام زیادہ تھا یقینا کسی چور نے ایك نوٹ دس روپیہ والا جیب سے نکال کیا کیونکہ اسی وقت ڈاکخانہ پر ہی حساب کرنے سے معلوم ہوگیا کہ نوٹ چوری گیاایسی حالت میں بکر نوٹ مسروقہ کا تاوان کا ذمہ دار ہے یا نہیں اور زید بکر سے لینے کا مستحق ہے یا نہیں حالانکہ زید کو بھی یقین ہے کہ نوٹ ضرورچوری گیا۔
الجواب:
وہ روپیہ امانت تھا۔اور زید نے بکر کو وقت حاجت صرف کرنے کی اجازت دی تھی تو جس قدر کااس نے منی آرڈر اپنے گھر کو بھیجا وہ امانت سے نکل کر قرض ہوگیا اور جتنے نوٹ باقی رہے وہ بدستور امانت رہے ان میں سے جو نوٹ جاتا رہا اگر بکر کی بے احتیاطی سے گیا تو ضرور اس پر تاوان ہے ورنہ ہر گز نہیں۔
مسئلہ ۴۱: ۱۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکو ایك ضرورت سے بانکی پور جانا ہے۔۹ ربیع الاول شریف کو گیا سے اس کے پاس ایك شخص آیا اور ایك خط دیا جس کا مضمون یہ ہے کہ گریڈیہہ میں ۱۰اا ریبع الاول کو وعظ و میلاد کا جلسہ ہےمتعدد علماء کے پاس خطوط گئے ہیں مگر کسی کے آنے کی امید نہیںآپ ضرور تشریف لائے ورنہ ہماری سخت ذلت ہوگیزید نے عذر کیا کہ مجھے مجبوری ہے میں جس کا نوکر ہوں وہ یہاں نہیں ہیں بغیر ان کی اجازت کےمیں نہیں جاسکتا۔اس پر عمرو نے رائے دی کہ وہ تو کوئی دورجگہ نہیں ہے۔یہ صاحب وہاں جاکر اجازت لاسکتے ہیں۔چنانچہ وہ شخص وہاں گیا اور اجازت لے آیا۔(عہ/)وہاں جانے آنے کاکرایہ یکہ کا ہوااس کے بعد ۹ بجے شب کی گاڑی سے دونوں روانہ ہوکر گیا پہنچے(عہ۸/)سہسرام سے گیا تك کرایہ ہوا۔جب وہ شخص اجازت لینے کے لئے گیا تو زید نے ٹائم ٹیبل دیکھا معلوم ہوا کہ یہاں سے گریڈیہہ جانے کے لئے تین راستہ ہے۔ایك براہ کیول۔دوم براہ بانکی پورسوم براہ آسنسولزید نے خیال کیا کہ اچھاموقع ہے اسی ضمن میں بانکی پور ہوتے چلیں گےگیا سے ۹ بجے دن کو ایك گاڑی چھوٹتی ہے جو براہ کیول ۸ بج کر ۴۴ منٹ شب کو گریڈیہہ پہنچتی ہے۔زید نے گیا میں یہ رائے قائم کی اگرا س گاڑی سے
الجواب:
وہ روپیہ امانت تھا۔اور زید نے بکر کو وقت حاجت صرف کرنے کی اجازت دی تھی تو جس قدر کااس نے منی آرڈر اپنے گھر کو بھیجا وہ امانت سے نکل کر قرض ہوگیا اور جتنے نوٹ باقی رہے وہ بدستور امانت رہے ان میں سے جو نوٹ جاتا رہا اگر بکر کی بے احتیاطی سے گیا تو ضرور اس پر تاوان ہے ورنہ ہر گز نہیں۔
مسئلہ ۴۱: ۱۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکو ایك ضرورت سے بانکی پور جانا ہے۔۹ ربیع الاول شریف کو گیا سے اس کے پاس ایك شخص آیا اور ایك خط دیا جس کا مضمون یہ ہے کہ گریڈیہہ میں ۱۰اا ریبع الاول کو وعظ و میلاد کا جلسہ ہےمتعدد علماء کے پاس خطوط گئے ہیں مگر کسی کے آنے کی امید نہیںآپ ضرور تشریف لائے ورنہ ہماری سخت ذلت ہوگیزید نے عذر کیا کہ مجھے مجبوری ہے میں جس کا نوکر ہوں وہ یہاں نہیں ہیں بغیر ان کی اجازت کےمیں نہیں جاسکتا۔اس پر عمرو نے رائے دی کہ وہ تو کوئی دورجگہ نہیں ہے۔یہ صاحب وہاں جاکر اجازت لاسکتے ہیں۔چنانچہ وہ شخص وہاں گیا اور اجازت لے آیا۔(عہ/)وہاں جانے آنے کاکرایہ یکہ کا ہوااس کے بعد ۹ بجے شب کی گاڑی سے دونوں روانہ ہوکر گیا پہنچے(عہ۸/)سہسرام سے گیا تك کرایہ ہوا۔جب وہ شخص اجازت لینے کے لئے گیا تو زید نے ٹائم ٹیبل دیکھا معلوم ہوا کہ یہاں سے گریڈیہہ جانے کے لئے تین راستہ ہے۔ایك براہ کیول۔دوم براہ بانکی پورسوم براہ آسنسولزید نے خیال کیا کہ اچھاموقع ہے اسی ضمن میں بانکی پور ہوتے چلیں گےگیا سے ۹ بجے دن کو ایك گاڑی چھوٹتی ہے جو براہ کیول ۸ بج کر ۴۴ منٹ شب کو گریڈیہہ پہنچتی ہے۔زید نے گیا میں یہ رائے قائم کی اگرا س گاڑی سے
جاتاہوں تو ۹ بجے شب کو پہنچوں گا اس وقت میں تکان سفر کی وجہ سے آج تقریر نہ کرسکوں گا سوا اس کے کہ جو کچھ کہنا ہوکل کہوں مجھے ضرورت بانکی پور کی بھی ہے بہترہے کہ اس وقت ۷ بجے روانہ ہوجاؤں اور بانکی پور پہنچ کردن بھر ٹھہروں پھر شب کی گاڑی سے روانہ ہوکر صبح گریڈیہہ پہنچوں پھر خیال کیا کہ شب کی گاڑی سے روانگی میں وہاں ۵ بجے صبح کو گاڑی پہنچے گی وہ وقت تکلیف کا ہے لوگ اسٹیشن تك آئیں یانہ آئیں بہترہےکہ بانکی پور سے صبح کی گاڑی سے روانہ ہوں تاکہ وہاں ایك بچے پہنچتاہوں۔چنانچہ اسی مضمون کا تار ۱۲ کا وہاں دینے کو کہہ دیا کہ زید کل ایك بچے پہنچے گا اس کے بعد صبح ۷بجے زید بانکی پور روانہ ہوا(عہ عہ۱۵./)اس کو سفرخرچ دیا گیا اس کا مصم قصد تھا کہ حسب قراداد میں صبح کو ضرور روانہ ہوجاؤں گا مگر ایك ضرورت کی وجہ سے نہ جاسکا پھر بھی قصد کیا کہ ۱۰ بجے دن کو ایك گاڑی جاتی ہے اس سے جائیں جو وہاں ۸ بج کر ۲۴ منٹ کوپہنچے گی مگر جس کے یہاں جانا تھا نہ اس کا محلہ معلوم نہ نام ہی معلوم ہے۔تار کے اعتماد اور استقبال کے خیال پر زید نے یہ دریافت نہ کیا تھااب سخت پریشان ہوا کہ کیا کروں کہ اب آگے جانا مفت میں پریشانی اٹھانا ہے یا اگر منزل مقصود تك رسائی ہوگی تو تھکا ہوا ہوں تقریر نہ کرسکوں گا مفت میں بلانے والے کا روپیہ صرف کرنا ہے اسی ہیص بیص میں اس گاڑی کا وقت بھی نکل گیا اس لئے وہ واپس سہسرام آگیا اس(عہ عہ ۱۵./)میں سے(صہ ۲/)گیا سے بانکی پور اور بانکی پور سے سہسرام تك صرف ہوا اب سوال یہ ہے کہ صورت مسئولہ میں زید کو کس قدر روپیہ واپس کرنا ہوگا(لعہ ۱۳./)جو بچا ہے یاپورے(عہ عہ۱۵./)یا(عہ _۴ــ./)جس میں کل خرچ اجازت لینے والے کا یکہ وتار وٹکٹ تاسہسرام تاگیا وقلی کی اجرت ہے او رجو کچھ واپس دے گا اس کی فیس منی آرڈر کس پر ہے بینوا توجروا
الجواب:
بانکی پور سے سہسرام تك واپسی میں جو صرف ہوا وہ ضرور ذمہ زید ہے کہ روپیہ اسے جس سفر کے لئے دیا گیا یہ وہ سفر نہیں بلکہ اس کا نقض ہے۔او رموضع مقصود کی راہ معہور میں اگر بانکی پور نہیں پڑتا بلکہ اس میں پھر اور صرف زائد ہے جسے زید نے گیا سے اپنی حاجت کے لئے اختیار کیا توقدر زیادت کا واپس دینا تو ہوگا ہیاوراظہر یہ ہے کہ گیا سے بانکی پور تك کا کل کرایہ واپس دے کر یہ سفر اس کا اپنی غرض کے لئے تھا۔
ففی الدرالمختار من متفرقات البیوع المرأۃ اذا کفنت بلااذن الورثۃ تو درمختارکے متفرقات البیوع میں ہےبیوی نے ورثاء کی اجازت کے بغیر خاوند کو کفن دیا اور وہ
الجواب:
بانکی پور سے سہسرام تك واپسی میں جو صرف ہوا وہ ضرور ذمہ زید ہے کہ روپیہ اسے جس سفر کے لئے دیا گیا یہ وہ سفر نہیں بلکہ اس کا نقض ہے۔او رموضع مقصود کی راہ معہور میں اگر بانکی پور نہیں پڑتا بلکہ اس میں پھر اور صرف زائد ہے جسے زید نے گیا سے اپنی حاجت کے لئے اختیار کیا توقدر زیادت کا واپس دینا تو ہوگا ہیاوراظہر یہ ہے کہ گیا سے بانکی پور تك کا کل کرایہ واپس دے کر یہ سفر اس کا اپنی غرض کے لئے تھا۔
ففی الدرالمختار من متفرقات البیوع المرأۃ اذا کفنت بلااذن الورثۃ تو درمختارکے متفرقات البیوع میں ہےبیوی نے ورثاء کی اجازت کے بغیر خاوند کو کفن دیا اور وہ
کفن مثلہ رجعت فی الترکۃ ولوا کثر لاترجع بشیئ قال رحمہ اﷲ تعالی ول قیل ترجع بقیمۃ کفن المثل لایبعد اھ وفی وجیز الکردری لاترجع وان قیل ترجع بقدر کفن المثل فلہ وجہ اھوفی الخلاصۃ لا ترجع بقدر کفن المثل ایضا فان قال قائل ترجع بقدر کفن المثل فلہ وجہ اھ وفی وصایا التنویر و الدر لو زاد الوصی علی کفن مثلہ فی العدد ضمن الزیادۃ وفی القیمۃ وقع الشراء لہ وحنیئذ ضمن مادفعہ من مال الیتیم والوالجیۃ اھ ۔وفی العقود الدریۃ فی معین المفتی اذا زادفی عدد الکفن ضمن الزیادۃ فان زاد فی قیمۃ الکفن ضمن الکل کذا فی السراجیۃ
کفن بازاری قیمت کے مساوی تھا تو ترکہ سے اس کی قیمت واپس لے سکے گیاور اگر بازاری قیمت سے زائد کیا تو کچھ بھی واپس نہ لے سکے گیاور الله تعالی ان پر حم فرمائے انہوں نے فرمایا اگر کہا جائے کہ مثلی قیمت میں رجوع کرسکتی ہے تو بعید نہ ہوگااھاور وجیز الکردری میں ہے کہ زائد قیمت کی صورت میں رجوع نہیں کرسکتا اور اگر یہ کہا جائے کہ مثلی قیمت تك رجوع کرسکتاہے تو اس کی وجہ ہوسکتی ہے اھاور خلاصہ میں ہے کہ مثلی کفن تك بھی رجوع نہیں کرسکتی اور اگر کوئی یہ کہے کہ مثلی کفن تك رجوع کرسکتی ہے تو اس کی وجہ ہے اھ اور تنویر الابصار اور درمختارکے وصایا کے بیان میں ہے کہ اگر وصی نے کفن کی تعداد میں زیادتی کی تو زائد کا ضامن ہوگا اور یہ عدد مثلی کفن کی قیمت میں خریدہوا تو خرید ا س کی ہوگی اور اس وقت اس کی خرید میں یتیم کا جتنا مال خرچ ہو اس کا ضامن ہوگاوالوالجیہ اھ۔اور عقود الدریہ میں ہے کہ معین المفتی میں فرمایا اگر کفن کے عدد میں زیادتی کی ہو تو صرف زیادتی کا ضامن ہوگا اور اگر قیمت زائد دی ہو تو کل قیمت کا ضامن ہوگاایسے ہی سراجیہ میں ہے
کفن بازاری قیمت کے مساوی تھا تو ترکہ سے اس کی قیمت واپس لے سکے گیاور اگر بازاری قیمت سے زائد کیا تو کچھ بھی واپس نہ لے سکے گیاور الله تعالی ان پر حم فرمائے انہوں نے فرمایا اگر کہا جائے کہ مثلی قیمت میں رجوع کرسکتی ہے تو بعید نہ ہوگااھاور وجیز الکردری میں ہے کہ زائد قیمت کی صورت میں رجوع نہیں کرسکتا اور اگر یہ کہا جائے کہ مثلی قیمت تك رجوع کرسکتاہے تو اس کی وجہ ہوسکتی ہے اھاور خلاصہ میں ہے کہ مثلی کفن تك بھی رجوع نہیں کرسکتی اور اگر کوئی یہ کہے کہ مثلی کفن تك رجوع کرسکتی ہے تو اس کی وجہ ہے اھ اور تنویر الابصار اور درمختارکے وصایا کے بیان میں ہے کہ اگر وصی نے کفن کی تعداد میں زیادتی کی تو زائد کا ضامن ہوگا اور یہ عدد مثلی کفن کی قیمت میں خریدہوا تو خرید ا س کی ہوگی اور اس وقت اس کی خرید میں یتیم کا جتنا مال خرچ ہو اس کا ضامن ہوگاوالوالجیہ اھ۔اور عقود الدریہ میں ہے کہ معین المفتی میں فرمایا اگر کفن کے عدد میں زیادتی کی ہو تو صرف زیادتی کا ضامن ہوگا اور اگر قیمت زائد دی ہو تو کل قیمت کا ضامن ہوگاایسے ہی سراجیہ میں ہے
حوالہ / References
درمختار کتاب البیوع باب المتفرقات ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۲€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی ہندیہ کتاب الوصایا الفصل الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۳۹€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوصایا الفصل الرابع ∞مکتبہ حبیبہ کوئٹہ ۴ /۲۳۶€
درمختار شرح تنویر الابصار باب الوصی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۸€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی ہندیہ کتاب الوصایا الفصل الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴۳۹€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الوصایا الفصل الرابع ∞مکتبہ حبیبہ کوئٹہ ۴ /۲۳۶€
درمختار شرح تنویر الابصار باب الوصی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۳۸€
قلت وقد علله بانہ اذا زادنی القیمۃ یکون مشتریا لنفسہ وھو ضامن لمال المیت اھ نھج النجاۃ من الوصایاووجہ کونہ مشتریا لنفسہ ان الوصی اذا زاد فی القیمۃ صار متعدیافی الزیادۃ وھی غیر متمیزۃ فیکون مشتریا لنفسہ متبرعا فی تکفینہ بخلاف ما اذا زادفی عدد الکفن فانہ یضمن الزیادۃ فقط لانھا متمیزۃ ۔ میں کہتاہوں اس کی علت انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ قیمت جب زائد دی تو وہ خریدار اپنے لئے ہوا اور میت کے مال کا ضامن ہوااھ نہج النجاۃ من الوصایا۔اس کے ذاتی خریدار بننے کی وجہ یہ ہے کہ وصی نے جب قیمت زائد دی تو اس مقدارمیں وہ متعدی ہوا جبکہ اس مقدار کا قیمت میں امتیاز نہیں تو تمام قیمت اس کی ذاتی خریداری میں صرف ہوئیاو ریہ کفن اس کی طر ف سے بطور تبرع ہوگا بخلاف کہ جب عدد میں زیادتی کرے تو صرف زائد عدد کا ضامن ہوگا کیونکہ یہ زائد ممتاز ہے۔(ت)
واپسی کے یکوں اور قلیوں کا کرایہ زید پر ہے۔یونہی گیا سے بانکی پور جانے میں جو یکہ اسٹیشن تك آیا اسٹیشن سے بانکی پور تك گیا یا قلی کو دیا ہو کہ یہ اس کا اپنا ذاتی سفر ہے سہسرام سے گیا تك جانا جبکہ موضع مقصود تك جانے میں بحرحال تھا اور اس تك وہ موضع مقصود کی نیت سے گیا اور ضرورت جومانع سفر وموجب رجو ع ہوئی صحیح ضرورت و مجبوری تھی تو اتنا کرایہ واپس نہ دے گا ریلیکہقلیکسی کا کہ یہاں تك ان کے اذن سے ان کے کام میں صرف ہوا۔اور اگر اپنا کوئی کام پیش آیا جو قطع سفر کے لئے عذر شرعی نہ ہوسکتا ہو اس کے لئے چھوڑ دیا تو اس کے مناسب کوئی جزئیہ اس وقت خیال میں نہیں اور ظاہریہ کہ اب بھی سہسرام سے گیا تك کا کرایہ واپس کرنا نہ ہوگا کہ جس وقت صرف ہوا جائز طور پر ہوا اور وہ اجیر نہ تھا کہ کام نہ ہونے سے اجرت نہ پائےکہ اتمام سفر اس پر واجب نہ تھا تو قطع جائز سے وہ صرف کو جائز واقع ہوا ناجائزو مضمون نہ ہوجائے گایکہ جس پر بلانے والا اجازت لینے گیا اور تارکہ اس نے دیا اگرچہ زید کے کہنے سے دیایہ زید پر نہیںجتنا روپیہ واپس کرنا ہو اس کی فیس منی آرڈر اسی روپیہ سے دے کر وہ اس کے ہاتھ میں امانت ہے اور رد امانت کو مؤنت امین پر نہیں۔ عالمگیریہ میں ہے:
مؤنۃ رد الودیعۃ علی المالك لا علی المودع کذا فی السراجیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ امانت واپس کرنے کا خرچہ مالك پر ہے نہ کہ مودع پرسراجیہ میں یوں ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
واپسی کے یکوں اور قلیوں کا کرایہ زید پر ہے۔یونہی گیا سے بانکی پور جانے میں جو یکہ اسٹیشن تك آیا اسٹیشن سے بانکی پور تك گیا یا قلی کو دیا ہو کہ یہ اس کا اپنا ذاتی سفر ہے سہسرام سے گیا تك جانا جبکہ موضع مقصود تك جانے میں بحرحال تھا اور اس تك وہ موضع مقصود کی نیت سے گیا اور ضرورت جومانع سفر وموجب رجو ع ہوئی صحیح ضرورت و مجبوری تھی تو اتنا کرایہ واپس نہ دے گا ریلیکہقلیکسی کا کہ یہاں تك ان کے اذن سے ان کے کام میں صرف ہوا۔اور اگر اپنا کوئی کام پیش آیا جو قطع سفر کے لئے عذر شرعی نہ ہوسکتا ہو اس کے لئے چھوڑ دیا تو اس کے مناسب کوئی جزئیہ اس وقت خیال میں نہیں اور ظاہریہ کہ اب بھی سہسرام سے گیا تك کا کرایہ واپس کرنا نہ ہوگا کہ جس وقت صرف ہوا جائز طور پر ہوا اور وہ اجیر نہ تھا کہ کام نہ ہونے سے اجرت نہ پائےکہ اتمام سفر اس پر واجب نہ تھا تو قطع جائز سے وہ صرف کو جائز واقع ہوا ناجائزو مضمون نہ ہوجائے گایکہ جس پر بلانے والا اجازت لینے گیا اور تارکہ اس نے دیا اگرچہ زید کے کہنے سے دیایہ زید پر نہیںجتنا روپیہ واپس کرنا ہو اس کی فیس منی آرڈر اسی روپیہ سے دے کر وہ اس کے ہاتھ میں امانت ہے اور رد امانت کو مؤنت امین پر نہیں۔ عالمگیریہ میں ہے:
مؤنۃ رد الودیعۃ علی المالك لا علی المودع کذا فی السراجیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ امانت واپس کرنے کا خرچہ مالك پر ہے نہ کہ مودع پرسراجیہ میں یوں ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الوصایا باب الوصی ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۳۲۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الودیعۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۶۲€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الودیعۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۶۲€
مسئلہ ۴۲: خادم نعمت خاکی بوڑاہا ازپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور ۹ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کسی سے ہم نے کوئی چیز لی کہ لاؤ ہم بطور امانت رکھیں گے اور پھر بعد کو دے دیں گے اس میں سے کچھ غائب ہوگئی اور وہ شخص دینے والا طلب بھی نہیں کرتا ہے اب اس کے لئے قیامت میں نہ دینے پر جوابدہ ہوں گے یانہیں ہاں اس شے پر اس کا پتہ نشان مرقوم ہے۔
الجواب:
اگر اس کی بے احتیاطی سے اس میں سے کچھ غائب ہوگیا تو اس پر اس کا تاوان لازم ہے بے اس کے معاف کئے معاف نہ ہوگااور اگر اس نے پوری احتیاط کی اور وہ شے کل یا بعض جاتی رہی تو اس پر الزام نہیں بلکہ اس کا تاوان لینا حرام ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۳: از شہر بانس منڈی مسئولہ محمد صدیق بیگ ۲۵ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسلمان سے دوسرے مسلمان کی شے گم ہوجائے تو اس چیز کے دام لینا چاہئے یانہیں
الجواب:
اگر وہ شیئ اس کے پاس امانت تھی اور اس نے پوری احتیاط کی اور اتفاقا گم ہوگئی تو اس کا تاوان لینا حرام ہے۔اور اس کی بے احتیاطی سے گم ہوئی تو جائز ہےاور اگر امانت محض نہ تھی مثلا کوئی چیز خریدنی چاہی اور مول چکا کر اسے دکھانے کے لئےلے گیا اور وہ گم ہوگئی اس کے دام دے گاا گر چہ بے احتیاطی نہ کی ہو۔والله تعالی اعلم
کسی سے ہم نے کوئی چیز لی کہ لاؤ ہم بطور امانت رکھیں گے اور پھر بعد کو دے دیں گے اس میں سے کچھ غائب ہوگئی اور وہ شخص دینے والا طلب بھی نہیں کرتا ہے اب اس کے لئے قیامت میں نہ دینے پر جوابدہ ہوں گے یانہیں ہاں اس شے پر اس کا پتہ نشان مرقوم ہے۔
الجواب:
اگر اس کی بے احتیاطی سے اس میں سے کچھ غائب ہوگیا تو اس پر اس کا تاوان لازم ہے بے اس کے معاف کئے معاف نہ ہوگااور اگر اس نے پوری احتیاط کی اور وہ شے کل یا بعض جاتی رہی تو اس پر الزام نہیں بلکہ اس کا تاوان لینا حرام ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۳: از شہر بانس منڈی مسئولہ محمد صدیق بیگ ۲۵ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسلمان سے دوسرے مسلمان کی شے گم ہوجائے تو اس چیز کے دام لینا چاہئے یانہیں
الجواب:
اگر وہ شیئ اس کے پاس امانت تھی اور اس نے پوری احتیاط کی اور اتفاقا گم ہوگئی تو اس کا تاوان لینا حرام ہے۔اور اس کی بے احتیاطی سے گم ہوئی تو جائز ہےاور اگر امانت محض نہ تھی مثلا کوئی چیز خریدنی چاہی اور مول چکا کر اسے دکھانے کے لئےلے گیا اور وہ گم ہوگئی اس کے دام دے گاا گر چہ بے احتیاطی نہ کی ہو۔والله تعالی اعلم
کتاب العاریۃ
(عاریت کا بیان)
مسئلہ ۴۴:
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك زمین بکر سے مول لی اور اسی زمین میں سے کچھ بکر کی باقی رہیایك مکان زید کی زمین میں برضامندی زید کے بکر نے بنالیا جو زمین باقی رہی وہ صحن بکر کا ہےجب زید نے اپنی زمین کو طلب کیا تو بکر قیمت دیتاہے زمین نہیں دیتا ہے زید اس کے مکان کی قیمت دینے پر امادہ ہے اور پنچ بھی چاہتے ہیں کہ زمین کی قیمت زید کو دلادی جائے۔اس مسئلہ کی بابت عرض کیا جاتاہے زید اپنی زمین لینا چاہتاہے قیمت نہیں لینا چاہتا۔بینوا توجروا
الجواب:
صور ت مذکورہ میں زید پر جبر نہیں ہوسکتا کہ وہ خواہی نخواہی اپنی زمین بیچ ڈالے اور قیمت لے لے پنچ اگر اس کا جبراس پر کریں گے خلاف شرع اور ظلم ہوگا بلکہ حکم یہی ہے کہ زید کی زمین کو دے دی جائےرہا وہ مکان کہ بکر نے برضائے زید زمین زید میں بنایا اگر اس کے عملہ اکھیڑ لینے میں زمین زید کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا تو بکر کو مجبور کیا جائے گا کہ اپنا عملہ اکھیڑ لے اور زید کی زمین خالی کردے یا زید راضی ہو تو اپنا عملہ اس کے ہاتھ بیچ ڈالے اور اگر عملہ اکھیڑنے میں زمین کو ضرر پہنچے گا تو زید کو اختیار ہے کہ چاہے تو اپنے نقصان پرراضی ہو کر بکر کو جبر کرے کہ اپنا عملہ اکھیڑ کر زمین خالی کردے یانہ چاہے تو عملہ خود لے لے
(عاریت کا بیان)
مسئلہ ۴۴:
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك زمین بکر سے مول لی اور اسی زمین میں سے کچھ بکر کی باقی رہیایك مکان زید کی زمین میں برضامندی زید کے بکر نے بنالیا جو زمین باقی رہی وہ صحن بکر کا ہےجب زید نے اپنی زمین کو طلب کیا تو بکر قیمت دیتاہے زمین نہیں دیتا ہے زید اس کے مکان کی قیمت دینے پر امادہ ہے اور پنچ بھی چاہتے ہیں کہ زمین کی قیمت زید کو دلادی جائے۔اس مسئلہ کی بابت عرض کیا جاتاہے زید اپنی زمین لینا چاہتاہے قیمت نہیں لینا چاہتا۔بینوا توجروا
الجواب:
صور ت مذکورہ میں زید پر جبر نہیں ہوسکتا کہ وہ خواہی نخواہی اپنی زمین بیچ ڈالے اور قیمت لے لے پنچ اگر اس کا جبراس پر کریں گے خلاف شرع اور ظلم ہوگا بلکہ حکم یہی ہے کہ زید کی زمین کو دے دی جائےرہا وہ مکان کہ بکر نے برضائے زید زمین زید میں بنایا اگر اس کے عملہ اکھیڑ لینے میں زمین زید کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا تو بکر کو مجبور کیا جائے گا کہ اپنا عملہ اکھیڑ لے اور زید کی زمین خالی کردے یا زید راضی ہو تو اپنا عملہ اس کے ہاتھ بیچ ڈالے اور اگر عملہ اکھیڑنے میں زمین کو ضرر پہنچے گا تو زید کو اختیار ہے کہ چاہے تو اپنے نقصان پرراضی ہو کر بکر کو جبر کرے کہ اپنا عملہ اکھیڑ کر زمین خالی کردے یانہ چاہے تو عملہ خود لے لے
اور اس کی جو قیمت بازار کے بھاؤ سے اکھڑنے کی حالت میں ہوتی ہو وہ بکر کو دے دےجس حالت میں عملہ اکھڑوا دیا جائے جو نقصان اس اکھیڑنے سے عملے کو پہنچے زید پر اس کا کچھ تاوان نہیں مگر اس حالت میں کہ زید نے ایك مدت معین تك مکان بنانے کی اجازت دی ہو اور اس مدت کے گزرنے سے پہلے اکھڑوانا چاہے تو عملے کا نقصان دے گا۔ہدایہ میں ہے:
اذا استعار ارضا لیبنی فیہا اولیغرس جاز وللمعیران یرجع فیہا و یکلفہ قلع البناء والغرس ثم ان لم یکن وقت العاریۃ فلا ضمان علیہ وان وقت ورجع قبل الوقت صح رجوعہ ویکرہ و ضمن المعیر مانقص البناء والغرس بالقلع وذکر الحاکم الشہیدانہ یضممن رب الارض للمستعیر قیمۃ غرسہ وبنائہ و یکونان لہ الاان یشاء المستعیر ان یرفعہما ولا یضمنہ قیمتہما فیکون لہ ذلك لانہ ملکہقالوا اذا کان فی القلع ضرر بالارض فالخیار الی رب الارض لانہ صاحب الاصل اھ باختصار۔واﷲ تعالی اعلم۔ جب تعمیر یا پودے لگانے کے لئے زمین عاریۃ لی تو جائز ہے تو عاریۃ دینے والے مالك کو واپس لینے کا اختیار ہوگا اور عمارت اور پودے کی مدت مقرر نہ کی ہو تو مالك پرکوئی ضمان نہ ہوگا اور اگر وقت مقرر کیا تھا اور وقت سے پہلے اس نے رجوع کیا تو جوع صحیح ہے اورمکروہ ہے اور مکان و درخت اکھاڑنے کے نقصان کا ضامن ہوگا اور حاکم الشہید نے ذکر فرمایا کہ زمین کا مالك اس صور ت میں مستعیر کی عمارت اور درختوں کی قیمت کا ضامن ہوگا اوریہ اس کی ملکیت قرار پائیں گے ہاں اگر مستعیر خود رکھنا چاہے تو اکھاڑلے اور زمین والے کو ضامن نہ بنائے تو ایسا کرسکتاہے کیونکہ وہ خود نقصان کا ذمہ دار بنا ہے فقہاء کرام نے فرمایا اگر ان کے اکھاڑنے میں زمین کو نقصان ہو تو پھر اختیار زمین والے کو ہوگا کیونکہ وہ اصل کا مالك ہے اھمختصرا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۴۵: ازشہر محلہ بہاری پور مرسلہ رضا علی صاحب ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك چادر جو منگنی لی تھی یعنی بطور عاریت
اذا استعار ارضا لیبنی فیہا اولیغرس جاز وللمعیران یرجع فیہا و یکلفہ قلع البناء والغرس ثم ان لم یکن وقت العاریۃ فلا ضمان علیہ وان وقت ورجع قبل الوقت صح رجوعہ ویکرہ و ضمن المعیر مانقص البناء والغرس بالقلع وذکر الحاکم الشہیدانہ یضممن رب الارض للمستعیر قیمۃ غرسہ وبنائہ و یکونان لہ الاان یشاء المستعیر ان یرفعہما ولا یضمنہ قیمتہما فیکون لہ ذلك لانہ ملکہقالوا اذا کان فی القلع ضرر بالارض فالخیار الی رب الارض لانہ صاحب الاصل اھ باختصار۔واﷲ تعالی اعلم۔ جب تعمیر یا پودے لگانے کے لئے زمین عاریۃ لی تو جائز ہے تو عاریۃ دینے والے مالك کو واپس لینے کا اختیار ہوگا اور عمارت اور پودے کی مدت مقرر نہ کی ہو تو مالك پرکوئی ضمان نہ ہوگا اور اگر وقت مقرر کیا تھا اور وقت سے پہلے اس نے رجوع کیا تو جوع صحیح ہے اورمکروہ ہے اور مکان و درخت اکھاڑنے کے نقصان کا ضامن ہوگا اور حاکم الشہید نے ذکر فرمایا کہ زمین کا مالك اس صور ت میں مستعیر کی عمارت اور درختوں کی قیمت کا ضامن ہوگا اوریہ اس کی ملکیت قرار پائیں گے ہاں اگر مستعیر خود رکھنا چاہے تو اکھاڑلے اور زمین والے کو ضامن نہ بنائے تو ایسا کرسکتاہے کیونکہ وہ خود نقصان کا ذمہ دار بنا ہے فقہاء کرام نے فرمایا اگر ان کے اکھاڑنے میں زمین کو نقصان ہو تو پھر اختیار زمین والے کو ہوگا کیونکہ وہ اصل کا مالك ہے اھمختصرا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۴۵: ازشہر محلہ بہاری پور مرسلہ رضا علی صاحب ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك چادر جو منگنی لی تھی یعنی بطور عاریت
حوالہ / References
الہدایہ کتاب العاریۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۰۔۲۷۹€
چند روز کے لئے لی تھی اس کو زید نے بعد انقضائے مدت عاریت ایك امین آدمی کے ہاتھ چادرمذکور کو اصل مالك کے پاس بھجوادیا بعدکو معلوم ہوا کہ وہ چادر جو زید نے آمین کے ہاتھ بھجوادی تھی اصل مالك کو نہیں ملی اس پر زید نے امین اول سے پوچھا وہ چادر اصل مالك کو کیوں نہیں ملیامین نے جواب دیا کہ میں اصل مالك کے مکان پر دے آیا ہوں اصل املك تو مجھ کونہ ملا تھا اس کے مکان کے اندر سے ایك لڑکا چھوٹا نکلا تب میں نے اس سے اصل مالك کو پوچھ کر کہ گھرمیں ہے۔اس کے ہاتھ وہ چادر بھجوادی ہے اس بیان پر مالك نے اپنے لڑکوں کو آمین کے روبرو پیش کیا کہ ان لڑکوں میں کس لڑکےکو دیامیں نے سب لڑکوں کو دیکھ کر یہ کہا کلہ ان میں وہ لڑکا نہیں ہے جس کو میں نے چادر دی ہے اصل مالك تو کہتاہے کہ چادرمیرے پاس نہیں پہنچیاور امین کہتاہےکہ چادر میں دے آیااو رامین کے پاس اس امر کا ثبوت محض ایك طالب علم بالغ کی شہادت ہےاس صورت میں دریافت طلب امریہ ہےکہ چادر کا شرعی فیصلہ کیا ہے یعنی اس کا تاوان امین پر ہے یا زید پر جس نے چادر عاریت لی تھی یا کسی پر نہیں۔مالك کو صبر کرنا چاہئے۔
الجواب:
شخص متوسط جبکہ ایك چھوٹے لڑکے کو چادر دے آیا جسے یہ بھی نہ جانا کہ مالك چادر کا بیٹا ہےنوکرہےاسی گھرمیں رہتابھی ہےیا دوسرے جگہ سے آیا ہوایا راہ چلتاہےتو بیشك چادر ضائع کرنے کا اس پرالزام ہےاور اس پر بہرحال تاوان لازم۔اگر وہ چادر اشیائے نفیسہ میں سے تھی جب تو ضاہر کہ ایسی چیز خاص مالك کے ہاتھ دینے سے صحیح واپسی ہوتی ہے۔تنویر الابصار میں ہے:
ان ردالمستعیر الدایۃ مع عبدہ او اجیرہ مشاھرۃ او مع عبد ربہا اواجیرہ برئ بخلاف نفیس ۔(ملخصا) اگر مستعیر نے جانور اپنے غلام یا ماہانہ اجیرکے ہاتھ واپس کیا یا مالك کے غلام اور اجیر کے ہاتھ واپس دیا تو بری ہوگا بخلاف کسی نفیس چیز کے۔(ملخصا)(ت)
اور اگر ایسی نہ بھی تھی توغیر نفیس اشیاء کی واپسی بھی اس وقت معتبر ہے کہ اس کے غلام یا نوکر یا اہل وعیال میں سے کسی کو دے یا اس کے گھر میں حفاظت کی جگہ رکھ دے ناواقف انجان صغیر السن کو دے دینا کسی عاریت میں متعارف نہیںغایۃ البیان میں ہے:
قال الحاکم الشہید فی الکافی ردالمستعیر الدابۃ فلم یجد صاحبھا حاکم الشہید نے کافی میں فرمایا:مستعیر نے جانور واپس کیا تو مالك کو وہاں نہ پاکر حویلی میں
الجواب:
شخص متوسط جبکہ ایك چھوٹے لڑکے کو چادر دے آیا جسے یہ بھی نہ جانا کہ مالك چادر کا بیٹا ہےنوکرہےاسی گھرمیں رہتابھی ہےیا دوسرے جگہ سے آیا ہوایا راہ چلتاہےتو بیشك چادر ضائع کرنے کا اس پرالزام ہےاور اس پر بہرحال تاوان لازم۔اگر وہ چادر اشیائے نفیسہ میں سے تھی جب تو ضاہر کہ ایسی چیز خاص مالك کے ہاتھ دینے سے صحیح واپسی ہوتی ہے۔تنویر الابصار میں ہے:
ان ردالمستعیر الدایۃ مع عبدہ او اجیرہ مشاھرۃ او مع عبد ربہا اواجیرہ برئ بخلاف نفیس ۔(ملخصا) اگر مستعیر نے جانور اپنے غلام یا ماہانہ اجیرکے ہاتھ واپس کیا یا مالك کے غلام اور اجیر کے ہاتھ واپس دیا تو بری ہوگا بخلاف کسی نفیس چیز کے۔(ملخصا)(ت)
اور اگر ایسی نہ بھی تھی توغیر نفیس اشیاء کی واپسی بھی اس وقت معتبر ہے کہ اس کے غلام یا نوکر یا اہل وعیال میں سے کسی کو دے یا اس کے گھر میں حفاظت کی جگہ رکھ دے ناواقف انجان صغیر السن کو دے دینا کسی عاریت میں متعارف نہیںغایۃ البیان میں ہے:
قال الحاکم الشہید فی الکافی ردالمستعیر الدابۃ فلم یجد صاحبھا حاکم الشہید نے کافی میں فرمایا:مستعیر نے جانور واپس کیا تو مالك کو وہاں نہ پاکر حویلی میں
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب العادیۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۷€
فربطہا فی دارصاحبھا الی معلقہا فضاعت قال ھو ضامن لہا فی القیاس ولکن استحسن ان الا اضمنہ الی ھذا لفظ الحاکم و وجہ القیاس انہ لم یوجد الرد الی المالك وجہ الاستحسان انہ اتی بالتسلیم للمعتادبہ بین الناس لان الناس یستعیرون الدواب فیردونہا الی اصطبل المالک والجیران یستعیرون الۃ البیوت ویردونہا الی دار صاحبہا ویسلمونہا الی من فیہ دون صاحب الدار فلو ردالی المالك کان المالك ایضا یحفظھابھذا المکان فقد اسقط عند المستعیر عــــــہ کلفۃ زائدۃفترك القیاس بالعاد ولہذا قال مشائخنا لوکانت العاریۃ عقد الجوھر لم یجز ان یردہا الا الی المعیر لان العادۃ لم تجربطرحہ فی الدار ولادفعہ الی الغلام ۔ کھرلی پر باندھ دیا تو ضائع ہوگیا تو انہوں نے فرمایا قیاس میں توضامن ہوگا ولیکن میں استحسان کرتے ہوئے ضامن نہ بناؤں گایہاں تك حاکم کے الفاظ ہیںقیاس کی وجہ یہ ہے کہ مالك کو جانور واپس نہیں پہنچااور استحسان کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کی عادت کے اعتبارسے واپس کردیا ہے کینکہ لوگوں میں عادت ہے کہ جانوروں کو عاریۃ لے جاتے ہیں اور واپس مالك کے اصطبل میں چھوڑ جاتے ہں اور پڑوسی حضرات گھر کے آلات مانگ کر لے جاتے ہیں اور مالك کے گھر واپس چھوڑ جاتے ہیں اور مالك کاغیر جو بھی گھر میں ہو اس کو دے جاتے ہیں اور اگر مالك کو دیا جائے تو بھی اسی مکان میں حفاظت کے طورپر رکھتاہے تو گھر میں واپس کرنے پر مستعیر نے مالك کو مزید تکلیف سے بچایاتوحاکم شہیدنے قیاس کو عادت کی وجہ سے ترك کردیااس لئے ہمارے مشائخ نے فرمایا کہ اگر عاریہ جواہر کا ہارہو تو پھر مالك کے بغیر کسی اور کو واپسی جائز نہیں کیونکہ ایسی چیز کے متعلق گھر میں چھوڑ جانے یا غلام کو دی جانے کی عادت جاری نہیں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
وذلك لان العبد صالح یہ اس لئے کہ غلام حفاظت کا اہل ہے
عــــــہ: فی الاصل ھکذا اوظنہ عنہ (اصل میں اسی طرح ہے اور میرے گمان کے مطابق یہ لفظ "عنہ" ہے۔ت)
اسی میں ہے:
وذلك لان العبد صالح یہ اس لئے کہ غلام حفاظت کا اہل ہے
عــــــہ: فی الاصل ھکذا اوظنہ عنہ (اصل میں اسی طرح ہے اور میرے گمان کے مطابق یہ لفظ "عنہ" ہے۔ت)
حوالہ / References
غایۃ البیان
للفظ عــــــہ کالمربوط اذا ردھا الی المربط لایضمن کذا ھذا بخلاف مااذردھا الی ارض لان الارض لیست بصالحۃ للحفظ ۔ جیسا کہ اصطبل ہے تو جب اصطبل میں باندھ جائے تو ضیاع پر ضامن نہ ہوگا اور یہاں بھی ایسے ہے بخلاف جب اس کی زمین پر چھوڑ جائے کیونکہ زمین حفاظت کی اہل نہیں ہے۔(ت)
رہا زیداگر یہ متوط اس کا نوکر یا اس کی عیال میں تھا اور اس نے ایسی بے احتیاطی کو اسی سے نہ کہہ دیا تھا کہ مالك یا اس کامعتمد ملے نہ ملے کوئی بھی پاؤ پھینك کر چلے آنا بلکہ یہ بے احتیاطی اس متوسط نے خود کی تو زید پرکوئی تاوان نہیں اور اگر ختم مدت عاریت کے بعد اجنبی کے ہاتھی بھیجی تو بیشك یہ بھی زیر مطالبہ تاوان ہے یونہی اگر اس کے کہے سے وہ بے احتیاطی ہوئی اگر چہ وہ متوسط اس کا بیٹا یانوکر ہی ہوان دونوں صورتوں میں مالك چادر کو اختیار ہے چاہے زید سے تاوان لے چاہے اس متوسط سے تنویر الابصار میں بعد عبارت مذکورہ ہے:
بخلاف الردمع الاجنبی بان کانت العاریۃ موقتۃ فمضمت مدتہا ثم بعثہا مع الاجنبی بخلاف جبکہ اجنبی کے ہاتھ واپس کرے اس طرح کہ عاریۃ مقرر وقت کے لئے ہو تو وقت گزرجانے پر عاریہ کو اجنبی کے ہاتھ بھیج دے۔(ت)
ہندیہ میں ہے:
ستورے عاریت خواست وکس فرستاد تا ازنزد معیر بیارد مامورستور رادر راہ برنشت وھلك یضمن المأمور ولا یرجع علی الامراذا لم یکین مامور امن جہتہ وھذا اذا کانت تنقاد من غیر رکوب کچھ پردے کسی سے مانگے او ریہ ایك شخص کو مالك کے پاس پردے لینے بھیج دیا تو اس شخص نے پردے راستہ میں رکھ دئے تو وہ ضائع ہوگئے تو مامور شخص ضامن ہوگا اور وہ ضمان میں آمر پر رجوع نہ کرے گا جبکہ مستعیر کی طرف سے یہ راستہ میں رکھنے پر مامور نہ تھا یہ صورت وہ ہے کہ
عــــــہ: فی الاصل ھکذا واظنہ للحفظ (اصل میں اس طرح ہے اورمیرے گمان کے مطابق لفظ "للحفظ" ہے۔ت)
رہا زیداگر یہ متوط اس کا نوکر یا اس کی عیال میں تھا اور اس نے ایسی بے احتیاطی کو اسی سے نہ کہہ دیا تھا کہ مالك یا اس کامعتمد ملے نہ ملے کوئی بھی پاؤ پھینك کر چلے آنا بلکہ یہ بے احتیاطی اس متوسط نے خود کی تو زید پرکوئی تاوان نہیں اور اگر ختم مدت عاریت کے بعد اجنبی کے ہاتھی بھیجی تو بیشك یہ بھی زیر مطالبہ تاوان ہے یونہی اگر اس کے کہے سے وہ بے احتیاطی ہوئی اگر چہ وہ متوسط اس کا بیٹا یانوکر ہی ہوان دونوں صورتوں میں مالك چادر کو اختیار ہے چاہے زید سے تاوان لے چاہے اس متوسط سے تنویر الابصار میں بعد عبارت مذکورہ ہے:
بخلاف الردمع الاجنبی بان کانت العاریۃ موقتۃ فمضمت مدتہا ثم بعثہا مع الاجنبی بخلاف جبکہ اجنبی کے ہاتھ واپس کرے اس طرح کہ عاریۃ مقرر وقت کے لئے ہو تو وقت گزرجانے پر عاریہ کو اجنبی کے ہاتھ بھیج دے۔(ت)
ہندیہ میں ہے:
ستورے عاریت خواست وکس فرستاد تا ازنزد معیر بیارد مامورستور رادر راہ برنشت وھلك یضمن المأمور ولا یرجع علی الامراذا لم یکین مامور امن جہتہ وھذا اذا کانت تنقاد من غیر رکوب کچھ پردے کسی سے مانگے او ریہ ایك شخص کو مالك کے پاس پردے لینے بھیج دیا تو اس شخص نے پردے راستہ میں رکھ دئے تو وہ ضائع ہوگئے تو مامور شخص ضامن ہوگا اور وہ ضمان میں آمر پر رجوع نہ کرے گا جبکہ مستعیر کی طرف سے یہ راستہ میں رکھنے پر مامور نہ تھا یہ صورت وہ ہے کہ
عــــــہ: فی الاصل ھکذا واظنہ للحفظ (اصل میں اس طرح ہے اورمیرے گمان کے مطابق لفظ "للحفظ" ہے۔ت)
حوالہ / References
غایۃ البیان
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب العاریۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۷€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب العاریۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۷€
فان کانت لانتقاد الا بالرکروب لایضمن کما فی الفصول العمادیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم پردوں کو اٹھانے میں سواری کی ضرورت نہ ہواگر وہ ایسے ہیں کہ سواری کے بغیر منتقل نہیں ہوسکتے تو پھر مامور شخص ضامن نہ ہوگافصول العمادیہ میں یوں ہے۔
واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الودیعۃ الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۶۷€
کتاب الھبۃ
(ہبہ کا بیان)
مسئلہ ۴۶: از ریاست رامپور محلہ موتی خان مرسلہ طوطا رام ۲۷ شوال ۱۳۳۶ھ
زید نے اپنی کل جائداد مملوکہ مقبوضہ اپنے بھتیجے کے نام تملیك کراکر اس کو مالك وقابض کرایہ اور دستاویز میں لکھ دیا کہ جائداد تملیك شدہ کو میں نے اپنی ملکیت سے خارج کردیا اور مجھے میرے کسی وارث کو اس میں دعوی نہ رہاجس وقت زید نے یہ دستاویز لکھی تھی اس وقت سے اس کے مرنے کے وقت تك زید کی کوئی اولاد نہ ذکور یا اناث موجود نہ تھی بس چار بھتیجے اور ایك نواسہ تھا اب بعد وفات زید نواسہ دعوی کرتاہے کہ دستاویز تملیك نامہ کے ذریعہ سے جو جائداد زید نے ایك بھتیجےکے نام منتقل کی تھی وہ قابل جواز ونفاذ کے نہیں اور وہ جائداد مندجہ دستاویز تملیك نامہ ملکیت زید قرار دی جائے اور متروکہ قائم ہوکر اس میں وراثت جاری کی جائے۔دوسرا فریق کہتاہےکہ جب زید اپنی زندگی میں اس کو بذریعہ دستاویز تملیك منتقل کرگیا اور لکھ گیا کہ اس میں میری ملکیت باقی نہیں رہی تو وہ زید کی ملکیت قرار پاکر اس کا متروکہ قائم نہیں ہوگا نہ اس میں وراثت جاری ہوگیشریعت اسلام کے بموجب ایسی صورت میں کیا ہوگا بینوا توجروا
الجواب:
تملیك عین بلاوعوض ہبہ ہے اور ہبہ بعد قبضہ تام پھر بعدموت احدالعاقدین مطلقا لازم اگرچہ
(ہبہ کا بیان)
مسئلہ ۴۶: از ریاست رامپور محلہ موتی خان مرسلہ طوطا رام ۲۷ شوال ۱۳۳۶ھ
زید نے اپنی کل جائداد مملوکہ مقبوضہ اپنے بھتیجے کے نام تملیك کراکر اس کو مالك وقابض کرایہ اور دستاویز میں لکھ دیا کہ جائداد تملیك شدہ کو میں نے اپنی ملکیت سے خارج کردیا اور مجھے میرے کسی وارث کو اس میں دعوی نہ رہاجس وقت زید نے یہ دستاویز لکھی تھی اس وقت سے اس کے مرنے کے وقت تك زید کی کوئی اولاد نہ ذکور یا اناث موجود نہ تھی بس چار بھتیجے اور ایك نواسہ تھا اب بعد وفات زید نواسہ دعوی کرتاہے کہ دستاویز تملیك نامہ کے ذریعہ سے جو جائداد زید نے ایك بھتیجےکے نام منتقل کی تھی وہ قابل جواز ونفاذ کے نہیں اور وہ جائداد مندجہ دستاویز تملیك نامہ ملکیت زید قرار دی جائے اور متروکہ قائم ہوکر اس میں وراثت جاری کی جائے۔دوسرا فریق کہتاہےکہ جب زید اپنی زندگی میں اس کو بذریعہ دستاویز تملیك منتقل کرگیا اور لکھ گیا کہ اس میں میری ملکیت باقی نہیں رہی تو وہ زید کی ملکیت قرار پاکر اس کا متروکہ قائم نہیں ہوگا نہ اس میں وراثت جاری ہوگیشریعت اسلام کے بموجب ایسی صورت میں کیا ہوگا بینوا توجروا
الجواب:
تملیك عین بلاوعوض ہبہ ہے اور ہبہ بعد قبضہ تام پھر بعدموت احدالعاقدین مطلقا لازم اگرچہ
موہوب لہ اجنبی ہو اور بھتیجے کے نام تو فی الحال لازملہذا وہ جائداد بشرط قبضہ نامہ ملك موہوب لہ ہے۔وارثان واھب کا اس پر دعوی باطل ہے۔
ولنارسالۃ فی تحقیق ھذا المرام سمیناھا"فتح الملیك فی حکم التملیک"من اختلج فی صدرہ شئی فلیطا لعہا۔ اس مقصد کی تحقیق میں ہمارا ایك رسالہ ہے اس کانام ہم نے "فتح الملیك فی حکم التملیک"رکھا ہے۔اس مسئلہ میں کسی کو شبہ ہو تو وہ اس رسالے کا مطالعہ کرے۔(ت)
تنویر الابصار میں ہے:
الھبۃ ھی تملیك العین مجانا ۔ ھبہ مفت میں عین چیز کا کسی کو مالك بنانا ہے۔(ت)
اسی میں ہے :وتتم بالقبض (اور قبضہ دینے پر تام ہوجاتاہے۔ت)اسی میں ہے:
ویمنع الرجوع فیہا موت احد المتعاقدین والقرابۃ فلو وھب لذی رحم محرم منہ ولو ذمیا اومستامنا یرجع ۔(باختصار)۔واﷲ تعالی اعلم۔ ھبہ کے دونوں فریقوں میں سے کسی ایك کی موت او ر قرابت ہوناھبہ میں رجوع(واپسی لینے)کے لئے مانع ہے۔ تواگر اپنے ذی محرم کو ھبہ کیا اگر چہ وہ محرم ذمی یا مستامن ہو تو رجوع نہ کرسکے گا(باختصار)۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۴۷: از مارہرہ منورہ مرسلہ سیدنا سید ابوالحسن نوری میاں صاحب دامت برکاتہم ۱۲۹۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفیتان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید مالك اصلی نے اپنے پسر عمرو کو دو باغ دئے پھر بعد چند روز کے عمرو سے واپس لے کر بکر اور خالد پسر وعمرو کو دئے یعنی پہلے خانہ ملکیت دفترحاکم میں نام عمرو کا قائم کرایا اور عمرو باذن واھب اس پر قابض ہو اور محاصل اس کا لیتا رہا اور احداث واشجار وغیرہا ہر طرح کا تصرف کرتا رہا پھر عمرو سے واپس کرکے یعنی عمرو کا خانہ ملکیت دفتر حاکم
ولنارسالۃ فی تحقیق ھذا المرام سمیناھا"فتح الملیك فی حکم التملیک"من اختلج فی صدرہ شئی فلیطا لعہا۔ اس مقصد کی تحقیق میں ہمارا ایك رسالہ ہے اس کانام ہم نے "فتح الملیك فی حکم التملیک"رکھا ہے۔اس مسئلہ میں کسی کو شبہ ہو تو وہ اس رسالے کا مطالعہ کرے۔(ت)
تنویر الابصار میں ہے:
الھبۃ ھی تملیك العین مجانا ۔ ھبہ مفت میں عین چیز کا کسی کو مالك بنانا ہے۔(ت)
اسی میں ہے :وتتم بالقبض (اور قبضہ دینے پر تام ہوجاتاہے۔ت)اسی میں ہے:
ویمنع الرجوع فیہا موت احد المتعاقدین والقرابۃ فلو وھب لذی رحم محرم منہ ولو ذمیا اومستامنا یرجع ۔(باختصار)۔واﷲ تعالی اعلم۔ ھبہ کے دونوں فریقوں میں سے کسی ایك کی موت او ر قرابت ہوناھبہ میں رجوع(واپسی لینے)کے لئے مانع ہے۔ تواگر اپنے ذی محرم کو ھبہ کیا اگر چہ وہ محرم ذمی یا مستامن ہو تو رجوع نہ کرسکے گا(باختصار)۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۴۷: از مارہرہ منورہ مرسلہ سیدنا سید ابوالحسن نوری میاں صاحب دامت برکاتہم ۱۲۹۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفیتان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید مالك اصلی نے اپنے پسر عمرو کو دو باغ دئے پھر بعد چند روز کے عمرو سے واپس لے کر بکر اور خالد پسر وعمرو کو دئے یعنی پہلے خانہ ملکیت دفترحاکم میں نام عمرو کا قائم کرایا اور عمرو باذن واھب اس پر قابض ہو اور محاصل اس کا لیتا رہا اور احداث واشجار وغیرہا ہر طرح کا تصرف کرتا رہا پھر عمرو سے واپس کرکے یعنی عمرو کا خانہ ملکیت دفتر حاکم
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵€۸
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۶۳۔۱۶۱€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۶۳۔۱۶۱€
سے علیحدہ کراکے بکر اور خالد کانام اس خانہ میں قائم کرایا او روہ باغ دونوں کو عطا کئے اور عمرو نے جو یہ فعل اس کی غیبت میں ہوا تھا وقت اپنی حاضری کے بطوع ورغبت جائز رکھا اور کچھ تعرض نہ کیا مگر اس کے محاصل پر عمرو بدستور متصرف رہا اور تمتع ہر نوع کا ان باغات سے اٹھاتا رہااور بکر وخالد نے بربنا اس انبساط واتحاد کے کہ انہیں عمرو کے ساتھ تھا اس امر کا تعرض عمرو سے نہ کیا اور پٹہ جات ان باغات کے بکر اورخالد کے نام سے ہوتے رہےگاہے بکر پٹہ کردیتاہے گا ہے خالدگاہے دونوں کی طرف سے عمرو بقلم خود لکھ دیتا ہےگاہے عمرو خود اپنے نام سے لکھ دیتاتھاان امور میں کبھی کوئی ایك دوسرے سے معترض نہ ہوتااور اسی طرح مختلف طور سے رسیدات پٹہ داروں کو بابت زرا قساط محاصل ملاکرتے تھےاگر چہ زر اقساط صرف عمرو تحصیل کرتا اور اسی کے تصرف میں آتاپھر بعد چند روز وقت بندوبست حال جو منجانب حکام ہوا بدستور خانہ ملکیت دفتر حاکم میں نام بکر وخالد قائم رہا یعنی انہیں دونوں کے نام سے زید مالك اصلی نے وہ بات دفتر بندوبست میں قائم کرائے اور اس امر کو عمرو نے بھی پھر بدستور جائز رکھا بلکہ خود تصدیق بھی دفتر میں اس امر کی کردی کہ بکر وخالد ان باغات کے مالك ہیں مگر پھر بھی محاصل باغات وہی عمرو بدستور قدیم پاتا رہا اور باغات اسی کے زیر تصرف رہے اور بکر وخالد نے اسی اتحاد ویکجہتی کے سبب سے کوئی اعتراض پھر بھی اس امر پر نہیں کیا اور نہ معترض ہوئےاور گاہے گاہے محاصل ایك باغ کاخالد بھی لیتا رہا اور گاہ گاہ ایك باغ میں خود بھی زراعت بطور شیر کرلیتا تھا مگر بکر نے کبھی نہ محاصل پایا اور نہ کھبی زراعت بطور شیر کی بلکہ خود ہی کبھی قصد بھی نہ کیا اور اگر اس امر کا کبھی ذکر بھی آیا تو عمرو نے جواب دیا مالك تم ہو مگر تمھیں چنداں حاجت نہیں ہے اور میرا خرچ زائد ہے اور معاش کمیہ محاصل میری ہی تصرف میں رہنے دوبکر نے اسے یکجہتی کی بنا پر منظور رکھا پھر بعد چند مدت کے بکر نے محاصل نصفی ان باغات کا لینا چاہا اور عمرو سے تعرض کیا تو عمرو مانع آیا غرض کہ بعد گفتگوئے بسیار عمرو نے یہ استدعا کی کہ بکر نصف سے ثلث لے لے یعنی کل میں جو نصف اس کا ہے اس میں وہ ثلث پر اقتصار کرے اور باقی اپنے طور پر خالد کے لئے چھوڑ دےبکر نے بغرض قطع نزاع اپنے حق سے اس قدر نقصان گوارا کیا اور عمرو سے کہا ہم دونوں یعنی بکر و خالد کہ مالك باغات ہیں آپس میں فیصلہ کرلیں گےچنانچہ اس امر پر باہم رضامند ہوکر تصفیہ ہوگیا یعنی درمیان بکر وخالد کے یہ صلح باستدعائے عمرو واقع ہوئی کہ ایك ثلث بکر لے لے اور دو ثلث خالد فرزند عمرو کو چھوڑ دےچنانچہ اس صلح کا اقرار نامہ بکر وخالد کی طرف سے بہ ثبت گواہی عمرو بنام ایك حکم ثالث کے تحریر ہوا اور ثالث نے بموجب اقرار نامہ فریقین فیصلہ لکھ دیا کہ ایك ثلث بکر لے لے اور دو ثلث خالد اور اسے بموجب سوالات داخل خارج حکام وقت کے یہاں گزر گئے اور بربنائے اس صلح کے فصل ربیع وخریف گزشتہ
کا ایك ثلث بکر نے پایاہنوز معاملہ داخل خارج ختم ہوا تھا کہ پھر بعد چند روز کے عمرو مع خالد کے پسر اپنے کے اس سے اعراض کرکے بکر کو اخذ محاصل ثلث سے مانع آئے اور دربارہ داخل خارج کے عمرو نے سوال دے دیا کہ مالك اصل میں ہوں ہمیشہ سے محاصل پاتا رہا ہوں بکر کوئی چیز نہیں ہے اور خالد نام میراخانہ ملکیت میں بجائے دونوں کے داخل ہوجائے اور اپنے بیٹے خالد کو راضی کرکے اس سے سوال دلادیا کہ واقع میں عمرو مالك ہے میں برائے نام ہوں چنانہ حکام وقت نے نام دونوں کا خانہ ملکیت سے اپنے دفتر میں سے خارج کرکے نام عمرو کا قائم کردیاپس اس صورت میں بکر کا یہ سوال ہے کہ آیا حق میرا قائم رہا یا نہ رہااور اگر رہا تو کس حساب سے آیا نصفی بموجب عطائے قدیم زید مورث اصلی یا ثلث بموجب صلح حال کے یا دونوں صورت کا حق نہ رہا۔بینوا توجروا
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصوابجبکہ حضرت مالك اصلی نے وہ باغ عمرو کو عطا فرما ددئے تھے اور عمرو نے ان پرقبضہ کامل پایا تھا کہ احداث واشجار وغیرہا ہر طرح کا تصرف کرتے اور اس کی تحصیل وتشخیص فرماتے رہے تو وہ باغ ملك مالك اصلی سے نکل کر ملك عمرو میں آئے اور اب مالك حقیقی عمرو قرار پائے بعدہجب غیبت عمرو میں مالك اول نے نام عمرو خانہ ملکیت سے خارج کرکے نام بکر وخالد داخل فرمایاا ور وہ باغ انہیں عطا فرمادیئے تو یہ ھبہ ھبہ ملك غیر ٹھہرا اور اجازت عمرو پر موقوف رہاپھر جب عمرو نے بعد حضور اس امرکو بطوع ورغبت جائز رکھا ھبہ اگرچہ صحیح ہوگیا ہو مگر اس کے تمامیاور بکر وخالد کے ثبوت ملك محل کلام ہے اگر ھبہ ان دونوں حضرات کو مشاعا تھا یعنی ہر باغ دونوں صاحبوں کو مشترکہ عطا فرمایا گیا جب تو ناتمامی ھبہ وعدم ثبوت ملك موہوب لہا ظاہر ہے کہ واھب حقیقی یعنی عمرو نے اب تك تقسیم کرکے مجوزا ممیزا تسلیم نہ کی۔
فی تنویر الابصار وتتم بالقبض فی یدہ محوز مقسوم ومشاع لایقسم لافیما یقسم فان قسمہ و سلمہ صح اھ ملخصاوقلت وھبۃ المشاع قیل فاسدۃ فیثبت بہا الملك تنویر الابصار میں ہے ھبہ ایسے قبضہ سے تام ہوتاہے جو تقسیم ہوکر محفوظ ہوجائےاور غیر منقسم جس کی تقسیم کی ضرورت نہیں ہے اور وہ غیر منقسیم ہے جس کی تقسیم کرنی ہو وہ قبضہ سے تام نہ ہوگا ہاں اگر اس کی تقسیم کردی اور قبضہ میں دے دیا تو صحیح ہے اھ ملخصامیں کہتاہوں مشاع یعنی
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصوابجبکہ حضرت مالك اصلی نے وہ باغ عمرو کو عطا فرما ددئے تھے اور عمرو نے ان پرقبضہ کامل پایا تھا کہ احداث واشجار وغیرہا ہر طرح کا تصرف کرتے اور اس کی تحصیل وتشخیص فرماتے رہے تو وہ باغ ملك مالك اصلی سے نکل کر ملك عمرو میں آئے اور اب مالك حقیقی عمرو قرار پائے بعدہجب غیبت عمرو میں مالك اول نے نام عمرو خانہ ملکیت سے خارج کرکے نام بکر وخالد داخل فرمایاا ور وہ باغ انہیں عطا فرمادیئے تو یہ ھبہ ھبہ ملك غیر ٹھہرا اور اجازت عمرو پر موقوف رہاپھر جب عمرو نے بعد حضور اس امرکو بطوع ورغبت جائز رکھا ھبہ اگرچہ صحیح ہوگیا ہو مگر اس کے تمامیاور بکر وخالد کے ثبوت ملك محل کلام ہے اگر ھبہ ان دونوں حضرات کو مشاعا تھا یعنی ہر باغ دونوں صاحبوں کو مشترکہ عطا فرمایا گیا جب تو ناتمامی ھبہ وعدم ثبوت ملك موہوب لہا ظاہر ہے کہ واھب حقیقی یعنی عمرو نے اب تك تقسیم کرکے مجوزا ممیزا تسلیم نہ کی۔
فی تنویر الابصار وتتم بالقبض فی یدہ محوز مقسوم ومشاع لایقسم لافیما یقسم فان قسمہ و سلمہ صح اھ ملخصاوقلت وھبۃ المشاع قیل فاسدۃ فیثبت بہا الملك تنویر الابصار میں ہے ھبہ ایسے قبضہ سے تام ہوتاہے جو تقسیم ہوکر محفوظ ہوجائےاور غیر منقسم جس کی تقسیم کی ضرورت نہیں ہے اور وہ غیر منقسیم ہے جس کی تقسیم کرنی ہو وہ قبضہ سے تام نہ ہوگا ہاں اگر اس کی تقسیم کردی اور قبضہ میں دے دیا تو صحیح ہے اھ ملخصامیں کہتاہوں مشاع یعنی
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۹€
للموھب لہ اذا قبضہ کذلك شائعا لکن ملکا خبیثا واجب الرد قائما والضمان ھالکا وبہ افتی البعض والحق انہ لایثبت بہا الملك اصلاما لم یسلم مقسوما ھوالصحیح المعتمد کما حققہ فی ردالمحتار و بہ افتی الجم الغفیر وھو ظاہر الروایۃ عن ائمتنا الثلثۃ فعلیہ التعویل۔واﷲ تعالی اعلم۔ غیر منقسم کا ھبہ بعض کے نزدیك فاسدہ ہے لہذا اس پر قبضہ سے موہوب لہ کی ملکیت ثابت ہوجائیگی جبکہ اس نے اسی مشاعی حالت میں قبضہ کیا ہو تاہم یہ ملکیت خبیثہ ہوگی موجود رہنے کی صورت میں واجب الرد اور ہلاك ہونے کی صورت میں قابل ضمان ہوگیاسی قول پر بعض نے فتوی دیا ہے جبکہ حق یہ ہے اس پر قبضہ سے ملکیت ہر گز ثابت نہ ہوگی جب تك اس کو تقسیم کرکے نہ دیا جائے یہی صحیح اور قابل اعتماد ہے جیسا کہ ردالمحتار میں اس کی تحقیق فرمائی اور اسی پر جم غفیر نے فتوی دیا ہے اور ہمارے تینوں ائمہ کرام سے یہی ظاہر الروایت ہے تو اسی پر اعتماد ہے۔(ت)
اور اگر ایك ایك باغ ہر موہوب لہ کو جدا گانہ دیا گیا تھا تاہم اس قدر تقریر سوال سے ظاہر کہ جس طرح وہ باغ اس ھبہ سے پہلے قبض وتصرف عمرو میں تھے یونہی بعد ھبہ رہے اور آج تك عمرو نے اپنا ہاتھ ان پر سے نہ اٹھایا اور کسی دن بکروخالد کے قبضہ میں تسلیم نہ کیا اگر چہ رسید وپٹہ جات گاہے بکر وخالد بھی اپنی طرف سے تحریر فرمایا کرتے رہے ہوں کہ جب تك عمرو کا رفع ید اور قبضہ حضرات موہو لہما میں تسلیم ثابت نہ ہو ھبہ ہر گز تمام اورتملك موہوب لہما ثابت نہیں ہوسکتا۔
فی الہندیۃ ومنہا ان یکون الموہوب مقبوضا حتی لا یثبت الملك للموہوب لہ قبل القبض انتھی ومثلہ فی الہدایۃ وغیرھا۔ ہندیہ میں ہے ایك صورت ان میں سے یہ ہے کہ موہوب کسی کے قبضہ میں ہو تو اس پر موہوب لہ کی ملکیت نہ ہوگی جب تك قبضہ نہ کرلے اھاس کی مثل ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ (ت)
مانا کہ کسی وقت حضرات موہوب لہما یا ان میں سے ایك کا وضع یہ ثابت بھی ہوجائے مگر عمرو کا رفع یدہرگز پایہ ثبوت تك نہیں پہنچتااور یہ شرط اول ہے۔
الاتری لو وھب داراوسلمہا حتی وضع الموھوب لہ یدہ علیھا آپ دیکھیں کہ اگر مکان ھبہ کیا اور سونپ بھی دیا اورموہوب لہ نے قبضہ میں لے لیا حالانکہ مکان ابھی
اور اگر ایك ایك باغ ہر موہوب لہ کو جدا گانہ دیا گیا تھا تاہم اس قدر تقریر سوال سے ظاہر کہ جس طرح وہ باغ اس ھبہ سے پہلے قبض وتصرف عمرو میں تھے یونہی بعد ھبہ رہے اور آج تك عمرو نے اپنا ہاتھ ان پر سے نہ اٹھایا اور کسی دن بکروخالد کے قبضہ میں تسلیم نہ کیا اگر چہ رسید وپٹہ جات گاہے بکر وخالد بھی اپنی طرف سے تحریر فرمایا کرتے رہے ہوں کہ جب تك عمرو کا رفع ید اور قبضہ حضرات موہو لہما میں تسلیم ثابت نہ ہو ھبہ ہر گز تمام اورتملك موہوب لہما ثابت نہیں ہوسکتا۔
فی الہندیۃ ومنہا ان یکون الموہوب مقبوضا حتی لا یثبت الملك للموہوب لہ قبل القبض انتھی ومثلہ فی الہدایۃ وغیرھا۔ ہندیہ میں ہے ایك صورت ان میں سے یہ ہے کہ موہوب کسی کے قبضہ میں ہو تو اس پر موہوب لہ کی ملکیت نہ ہوگی جب تك قبضہ نہ کرلے اھاس کی مثل ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ (ت)
مانا کہ کسی وقت حضرات موہوب لہما یا ان میں سے ایك کا وضع یہ ثابت بھی ہوجائے مگر عمرو کا رفع یدہرگز پایہ ثبوت تك نہیں پہنچتااور یہ شرط اول ہے۔
الاتری لو وھب داراوسلمہا حتی وضع الموھوب لہ یدہ علیھا آپ دیکھیں کہ اگر مکان ھبہ کیا اور سونپ بھی دیا اورموہوب لہ نے قبضہ میں لے لیا حالانکہ مکان ابھی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبہ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۴€
وکانت الدار مشغولۃ یمتاع الواھب لم تتم الھبۃ لعدم الرتفاع ید الواھب فلم یکمل القبض وفی ردالمختار ان کان الموھوب مشغولا بحق الواھب لم یجز کما اذا ووھب السرج علی الدابۃ لان استعمال السرج انما یکون للدابۃ فکانت للواھب علیہ یدمستعملۃ فتوجب نقصانا فی القبض ۔ واھب کے سامان میں مشغول ہے تو ھبہ تام نہ ہوگا کیونکہ واھب کا قبضہ ابھی ختم نہیں ہواتو موہوب لہ کا قبضہ تام نہ ہواردالمحتار میں ہے اگر موہوب ابھی واھب کے حق میں مشغول ہے تو جائز ہوگا مثلا کوئی شخص گھوڑے پر لگی کاٹھی کسی کو ھبہ کرے کیونکہ کاٹھی کا استعمال جانور پر ہوتاہے تو واھب کا ابھی قبضہ باقی اور زیر استعمال ہے تو اس سے قبضہ میں ابھی نقص باقی ہے۔(ت)
بالجملہ عمرو جب تك اپنا قبضہ بالکلیہ اٹھا کر موہوب لہما کو قبض کامل نہ کرادے ھبہ ہرگز تمام نہ ہوگا اور موہوب ملك عمرو سے باہر نہ آئے گااسی طرح عمرو کا متعدد پیرایوں میں ملکیت بکرو خالد کا اقرار دیانۃ کچھ مفید نہیں کہ یہ اقرار صرف بربنائے ھبہ ہے کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)اوربہ سبب ناتمامی یہ ھبہ شرعا مثبت ملك نہ ہوا تو عنداﷲ اقرار غلط کہ شرعا وجہ صحت نہیں رکھتا اثبات ملك کے لئے کافی نہ ہوگا۔
فی الدرالمختار لواقر کاذبالم یحل لہ لان الاقرار لیس سبب للملك نعم لوسلمہ برضاہ کان ابتداء ھبۃ وھو الاوجہ ۔بزازیۃ اھفی حاشیۃ الطحطاویۃ قولہ لم یحل لہ ای لایجوز لہ اخذہ جبرادیانۃ کاقرارہ لامرأتہ بجمیع مافی منزلہ ولیس لہا علیہ شیئ انتھیواﷲ تعالی اعلم۔ درمختار میں ہے اگر مالك کسی کے لئے ھبہ کا جھوٹااقرار کرے تو مقرلہ کے لئے وہ حلال نہیں ہوگا کیونکہ اقرار دوسرے کی ملکیت کا سبب نہیں ہے ہاں اگر بعد میں اپنی رضا سے اس کو قبضہ دے دے تو یہ نیا ھبہ ہوگایہی وجہ قابل اعتبار ہے بزازیہ حاشیہ طحطاوی میں ہے ماتن کا قول"مقرلہ کے لئے حلال نہیں"یعنی اس کو دیانۃ جبرا قبضہ کا حق نہیں ہے۔جیسے کوئی شخص گھر کے تمام سامان کو بیوی کے حق میں اقرار کرے حالانکہ بیوی کا کوئی حق خاوند کے ذمہ نہیں ہےاھ۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
بالجملہ عمرو جب تك اپنا قبضہ بالکلیہ اٹھا کر موہوب لہما کو قبض کامل نہ کرادے ھبہ ہرگز تمام نہ ہوگا اور موہوب ملك عمرو سے باہر نہ آئے گااسی طرح عمرو کا متعدد پیرایوں میں ملکیت بکرو خالد کا اقرار دیانۃ کچھ مفید نہیں کہ یہ اقرار صرف بربنائے ھبہ ہے کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)اوربہ سبب ناتمامی یہ ھبہ شرعا مثبت ملك نہ ہوا تو عنداﷲ اقرار غلط کہ شرعا وجہ صحت نہیں رکھتا اثبات ملك کے لئے کافی نہ ہوگا۔
فی الدرالمختار لواقر کاذبالم یحل لہ لان الاقرار لیس سبب للملك نعم لوسلمہ برضاہ کان ابتداء ھبۃ وھو الاوجہ ۔بزازیۃ اھفی حاشیۃ الطحطاویۃ قولہ لم یحل لہ ای لایجوز لہ اخذہ جبرادیانۃ کاقرارہ لامرأتہ بجمیع مافی منزلہ ولیس لہا علیہ شیئ انتھیواﷲ تعالی اعلم۔ درمختار میں ہے اگر مالك کسی کے لئے ھبہ کا جھوٹااقرار کرے تو مقرلہ کے لئے وہ حلال نہیں ہوگا کیونکہ اقرار دوسرے کی ملکیت کا سبب نہیں ہے ہاں اگر بعد میں اپنی رضا سے اس کو قبضہ دے دے تو یہ نیا ھبہ ہوگایہی وجہ قابل اعتبار ہے بزازیہ حاشیہ طحطاوی میں ہے ماتن کا قول"مقرلہ کے لئے حلال نہیں"یعنی اس کو دیانۃ جبرا قبضہ کا حق نہیں ہے۔جیسے کوئی شخص گھر کے تمام سامان کو بیوی کے حق میں اقرار کرے حالانکہ بیوی کا کوئی حق خاوند کے ذمہ نہیں ہےاھ۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۷€
درمختار کتاب الاقرار ∞مطبع مجتبائی دہلی ۳ /۱۳۰€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الاقرار دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۳۲۷€
درمختار کتاب الاقرار ∞مطبع مجتبائی دہلی ۳ /۱۳۰€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الاقرار دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۳۲۷€
مسئلہ ۴۸: از بڑودہ مرسلہ جناب نواب سید نور الدین حسن خاں بہادر ۱۳۰۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حمیدہ نے اپنے بیٹے محمود بن حمید کی شادی رشیدہ بنت سعید سے کی اور ۲۷ محرم الحرام ۱۲۷۸ھ کو محمود کی طرف سے بدعوی ولایت ایك دستاویز میں جائداد اور موروثی محمود کا تملیك نامہ بنام رشیدہ مع دیگر چند شروط لکھ دیاجب محمود بالغ ہوا ۲۵ ذیقعدہ ۱۲۸۵ھ کو اس نے دستاویز نوشۃ حمیدہ کی تسلیم وقبول کے ساتھ از سر نو ایك وثیقہ انھیں شروط پر متضمن تحریر کیا جس کے عنوان میں خلاصہ عبارت یہ ہے:
"اقرار صحیح شعی می تمایم بریں معنی کہ والدہ ماجدہ عقد بمن بارشیدہ بنت سعید بستہ ودستاویز از طرف منمقروکالۃ نوشتہ داد وراں حین بحد بلوغ نہ رسیدہ بودم اکنوں دستاویز مذکوررا مسلم و قبول داشتہ باز اصالۃ شروط چند نوشتہ میدہم"۔ میں صحیح شرعی اقرار کرتاہوں کہ میری والدہ ماجدہ نے میرا نکاح رشیدہ بنت سعید سے کیا اور مجھ مقر کی طرف سے وکالۃ انھوں نے ایك دستاویز لکھ کردی جبکہ میں ابھی بلوغ کی حد کو نہ پہنچا تھااب اس دستاویز مذکورہ کو تسلیم اور قبول کرتاہوں نیز اصالۃ چند شرائط لکھ کر دے رہاہوں۔(ت)
پھر شرط میں خلاصہ مضمون ان الفاظ سے ہے:
"از آمدنی موضع پوناگاؤں وغیرہ واقع بندرسورت بعداخراج سہم شرعی والدہ صاحبہ کہ ثمن است باقی انچہ کہ حصہ جاگیر موروثیم باندازہ مبلغ پنچ ہزارروپیہ بمن می رسد مالکش مسماۃ رشیدہ مع اولاد بطنا بعد بطن است از روز عقد نکاح از آمدن حصہ موروثیم مسماۃ مذکورہ درقبض وتصرف خود درآردو دراں من مقرو وارثانم رادعوی وحقے نیست و نماندہ است"۔ سورت بندرگاہ میں واقع موضع پوناگاؤں وغیرہ کی آمدنی سے اپنی والدہ کے شرعی حصہ جو کہ آٹھواں ہے کو نکال کر باقی اپنے موروثی جاگیر کے حصہ مبلغ پانچ ہزار اندازا جو مجھے آتا ہے اس کی مالك مسماۃ رشیدہ مع اولادبطن در بطن ہے میرے موروثی حصہ کی آمدن پر مسماۃ مذکورہ نکاح کے روز سے قابض اور متصرف ہے اور اس میں مجھ مقر اور میرے ورثاء کا کوئی دعوی اور حق نہیں ہے اور نہ باقی ہے۔(ت)
بعدہیکم جولائی ۱۸۶۹ء کو اسی شرط کی توثیق وتاکید کے لئے دوسری تحریر جداگانہ لکھی جس کی تلخیص ان کلمات سے ہے:
"از شرائط مذکورہ ایں یك شرط علیحدہ نوشتہ میدہم مذکورہ شرائط میں سے ایك علیحدہ شرط لکھ کر دے رہاہوں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حمیدہ نے اپنے بیٹے محمود بن حمید کی شادی رشیدہ بنت سعید سے کی اور ۲۷ محرم الحرام ۱۲۷۸ھ کو محمود کی طرف سے بدعوی ولایت ایك دستاویز میں جائداد اور موروثی محمود کا تملیك نامہ بنام رشیدہ مع دیگر چند شروط لکھ دیاجب محمود بالغ ہوا ۲۵ ذیقعدہ ۱۲۸۵ھ کو اس نے دستاویز نوشۃ حمیدہ کی تسلیم وقبول کے ساتھ از سر نو ایك وثیقہ انھیں شروط پر متضمن تحریر کیا جس کے عنوان میں خلاصہ عبارت یہ ہے:
"اقرار صحیح شعی می تمایم بریں معنی کہ والدہ ماجدہ عقد بمن بارشیدہ بنت سعید بستہ ودستاویز از طرف منمقروکالۃ نوشتہ داد وراں حین بحد بلوغ نہ رسیدہ بودم اکنوں دستاویز مذکوررا مسلم و قبول داشتہ باز اصالۃ شروط چند نوشتہ میدہم"۔ میں صحیح شرعی اقرار کرتاہوں کہ میری والدہ ماجدہ نے میرا نکاح رشیدہ بنت سعید سے کیا اور مجھ مقر کی طرف سے وکالۃ انھوں نے ایك دستاویز لکھ کردی جبکہ میں ابھی بلوغ کی حد کو نہ پہنچا تھااب اس دستاویز مذکورہ کو تسلیم اور قبول کرتاہوں نیز اصالۃ چند شرائط لکھ کر دے رہاہوں۔(ت)
پھر شرط میں خلاصہ مضمون ان الفاظ سے ہے:
"از آمدنی موضع پوناگاؤں وغیرہ واقع بندرسورت بعداخراج سہم شرعی والدہ صاحبہ کہ ثمن است باقی انچہ کہ حصہ جاگیر موروثیم باندازہ مبلغ پنچ ہزارروپیہ بمن می رسد مالکش مسماۃ رشیدہ مع اولاد بطنا بعد بطن است از روز عقد نکاح از آمدن حصہ موروثیم مسماۃ مذکورہ درقبض وتصرف خود درآردو دراں من مقرو وارثانم رادعوی وحقے نیست و نماندہ است"۔ سورت بندرگاہ میں واقع موضع پوناگاؤں وغیرہ کی آمدنی سے اپنی والدہ کے شرعی حصہ جو کہ آٹھواں ہے کو نکال کر باقی اپنے موروثی جاگیر کے حصہ مبلغ پانچ ہزار اندازا جو مجھے آتا ہے اس کی مالك مسماۃ رشیدہ مع اولادبطن در بطن ہے میرے موروثی حصہ کی آمدن پر مسماۃ مذکورہ نکاح کے روز سے قابض اور متصرف ہے اور اس میں مجھ مقر اور میرے ورثاء کا کوئی دعوی اور حق نہیں ہے اور نہ باقی ہے۔(ت)
بعدہیکم جولائی ۱۸۶۹ء کو اسی شرط کی توثیق وتاکید کے لئے دوسری تحریر جداگانہ لکھی جس کی تلخیص ان کلمات سے ہے:
"از شرائط مذکورہ ایں یك شرط علیحدہ نوشتہ میدہم مذکورہ شرائط میں سے ایك علیحدہ شرط لکھ کر دے رہاہوں
کہ دردیہات جاگیر موروثی محدودہ ذیل کہ شرعا از ترکہ پدری خالصا بہ منمقر رسیدہ منجملہ آں مبلغ چہار ہزار روپیہ منمقراہل خانہ خود مسماۃ رشیدہ بنت سعد را بطوع ورغبت بلااکراہ واجبار بطنا بعد بطن ونسلا بعد نسل علی سبیل الدوام والاستمرار ملك گردانیدم چوں وہیوٹ ومختاری آں از قدیم الایام بقبضہ من است وحصہ داراں دیگر کہ دریں جاگیر شریك اند باوشاں زر نقد موافق حصہ ہائے مقسومہ آنہا ہموارہ می رسانم ہمیں طور اند آمدنی مملوکہ واہل خانہ خود مثل دیگر حصہ داراں بہ اہل خناہ موصوفہ واولادش ہمیشہ بلاعذر وتکرار خواہم رسانید اگر از جانب منمقر مسماۃ بلاعذر وتکرار خواہم رسانید اگر از جانب منمقر مسماۃ مذکورہ دروصول حق خود کہ معین ومقرر کردہ شود فتورے وتہاونے بیند پس اوشاں را اختیار کل ست بہ نہجیکہ خواہندہ از منمقر حق خود بگیرند ومسماۃ مذکورہ رادر صورت زر مذکور اختیارکلی ست منمقرووارثانم رادرآں حقے ودخلے ودعوی و نزاعے نیست ونماندہ ایں چند کلمہ بطریق اقرار نامہ و وثیقہ وتملیك نامہ نوشتہ شد کہ عند الحاجۃ سند باشد۔
کہ دیہات میں موروثی جاگیر جس کی حدود ذیل ہیں میں سے جو مجھے شرعی طور پر والد کے ترکہ سے حصہ پہنچتاہے اس میں سے مبلغ چار ہزار روپیہ کا میں مقر اپنے اہل خانہ مسماۃ رشیدہ بنت سعید کو اپنی خوشی اور رغبت سے بلاجبر واکراہ بطن دربطن نسلا بعد نسل دائمی اور استمرار کے طور پر مالك بناتاہوں جس طرح قدیم ایام سے اپنے کھاتہ اور مختاری جو میرے قبضہ میں ہے اور اس جاگیر میں دیگر حصہ دار شریك حضرات کو مساوی نقد زر کے موافق حصہ پہنچاتاہوں اسی طرح اپنی مملوکہ اور اپنے اہل خانہ کے دوسرے حصہ داروں کی طرح موصوفہ اہل خانہ اور اس کی اولاد کو ہمیشہ بلاعذر وتکرار حصہ پہنچاتارہوں گا اگر من مقر کی طر ف سے معین ومقرر حصہ کی وصولی میں مسماۃ مذکورہ کوئی کوتاہی اور سستی دیکھے تو اس پر اس کو کلی اختیار ہوگا کہ جس طرح چاہے مجھ مقر سے اپنا حق وصول کرے اور مسماۃ مذکورہ کو زرمذکور کے صرف میں کلی اختیار ہے من مقر اور میرے ورثاء کو اس میں کوئی دخلحق دعوی اور نزاع نہیں ہے اور نہ ہوگا۔یہ چند کلمات بطور اقرار نامہ وثیقہ اورتملیك نامہ لکھا ہے کہ عندالضرورت سند رہے (ت)
اور یہ جائداد جس کا ان دستاویزوں میں تذکرہ ہے محمود ودیگر ورثائے حمیدہ میں مشترکہ وغیرہ منقسم ہے اب شرع مطہر سے استفسار ہےکہ یہ تحریرات شرعامقبول ہوبکار آمد ہے یانہیں اور ان کی رو سے رشیدہ اس جائداد یا اس کی آمدنی کی مالك ہوئی یا نہیں اور یہ عقد کہ محمود سے بہ تکرار واقع ہوا بدیں لحاظ کہ اس کی والدہ نے جائداد موروثی کا تملیك نامہ لکھا تھا اور اس نے اسے منظور ومسلم رکھا اور خود اس کی تحریروں کے بعض الفاظ سے رشیدہ کوخاص حصہ جاگیر کامالك کرنا نکلتا ہے(اصل رقبہ دیہات کی تملیك ہے یا بلحاظ دیگر
کہ دیہات میں موروثی جاگیر جس کی حدود ذیل ہیں میں سے جو مجھے شرعی طور پر والد کے ترکہ سے حصہ پہنچتاہے اس میں سے مبلغ چار ہزار روپیہ کا میں مقر اپنے اہل خانہ مسماۃ رشیدہ بنت سعید کو اپنی خوشی اور رغبت سے بلاجبر واکراہ بطن دربطن نسلا بعد نسل دائمی اور استمرار کے طور پر مالك بناتاہوں جس طرح قدیم ایام سے اپنے کھاتہ اور مختاری جو میرے قبضہ میں ہے اور اس جاگیر میں دیگر حصہ دار شریك حضرات کو مساوی نقد زر کے موافق حصہ پہنچاتاہوں اسی طرح اپنی مملوکہ اور اپنے اہل خانہ کے دوسرے حصہ داروں کی طرح موصوفہ اہل خانہ اور اس کی اولاد کو ہمیشہ بلاعذر وتکرار حصہ پہنچاتارہوں گا اگر من مقر کی طر ف سے معین ومقرر حصہ کی وصولی میں مسماۃ مذکورہ کوئی کوتاہی اور سستی دیکھے تو اس پر اس کو کلی اختیار ہوگا کہ جس طرح چاہے مجھ مقر سے اپنا حق وصول کرے اور مسماۃ مذکورہ کو زرمذکور کے صرف میں کلی اختیار ہے من مقر اور میرے ورثاء کو اس میں کوئی دخلحق دعوی اور نزاع نہیں ہے اور نہ ہوگا۔یہ چند کلمات بطور اقرار نامہ وثیقہ اورتملیك نامہ لکھا ہے کہ عندالضرورت سند رہے (ت)
اور یہ جائداد جس کا ان دستاویزوں میں تذکرہ ہے محمود ودیگر ورثائے حمیدہ میں مشترکہ وغیرہ منقسم ہے اب شرع مطہر سے استفسار ہےکہ یہ تحریرات شرعامقبول ہوبکار آمد ہے یانہیں اور ان کی رو سے رشیدہ اس جائداد یا اس کی آمدنی کی مالك ہوئی یا نہیں اور یہ عقد کہ محمود سے بہ تکرار واقع ہوا بدیں لحاظ کہ اس کی والدہ نے جائداد موروثی کا تملیك نامہ لکھا تھا اور اس نے اسے منظور ومسلم رکھا اور خود اس کی تحریروں کے بعض الفاظ سے رشیدہ کوخاص حصہ جاگیر کامالك کرنا نکلتا ہے(اصل رقبہ دیہات کی تملیك ہے یا بلحاظ دیگر
الفاظ تحریر اول وتصریحات تحریر دوم)صرف آمدنی وزر توفیر کا دینا اور عطا کرنا ہے اور اس عقد کو ھبہ کہا جائیگا اور اسی کے شرائط اس کی صحت میں درکار ہوں گے(یا اس خیال سے کہ محمود نے صرف رشیدہ ہی کو مالك نہ کیا بلکہ بطنا بعد بطن ونسلا بعد نسل اس کی اولاد کے نام بھی تملیك کی)وصیت قرار پائے گا وبہر تقدیر شرعا صحیح رہے گا یا باطل۔اگر باطل ٹھہرے تو محمود کے یہ الفاظ (کہ من مقرو وارثانم رادرآں دخلے وحقے ونزاعے نیست ونماندہ)اس کے یا اس کے ورثہ کے حق کو زائل کریں گے یانہیں اور ان تحریرات کا شرعا کیا نام ہے ھبہ نامہ یا اقرار نامہ یا تملیك یا کچھ اور بینوا توجروا
الجواب:
اللہم ھدایۃ الحق والصواب ان انت العزیز الوھابیہ توظاہرہے کہ ابتداء حمیدہ والدہ محمود ہ کا بنام رشیدہ جائداد محمود نابالغ کا تملیك نامہ لکھ دینا کوئی شے نہ تھا کہ نہ ماں دربارہ مالی ولی نہ خود ولی تھی کہ باپ کو مال صغیر سے ایك ذرہ کسی کو ڈالنے کااختیار نہیں۔
فی الدرالمختار ولیہ ابوہ دون الام فی المال اھ ملخصا۔وفیہ من الھبۃ لایجوز ان یھب شیئا من مال طفلہ ولو بعوض لانہا تبرع ابتداء اھ۔ درمختار میں ہے کہ مال میں نابالغ کا ولی اس کا باپ ہے ماں ہے اھ ملخصااور اسی میں ھبہ کے متعلق ہے والدہ کو حق نہیں کہ وہ بچے کے مال سے کوئی چیز ہبہ کرے خواہ بالعوض کیوں نہ ہو کیونکہ ھبہ ابتداء تبرع ہوتاہے۔اھ(ت)
تو وہ عقد محض باطل واقع ہوا یہاں تك کہ خود محمود کے بعد بلوغ جائز ومسلم رکھنے سے بھی اس کی اصلاح ممکن نہیں
لانہ عقد فضولی صدر ولامجیزفی حجر العقود الدریۃ عن جامع الفصولین لو طلق الصبی امرأتہ او وھب مالہ اوعقد عقدا ممالو فعلہ ولیہ فی صباء کیونکہ یہ فضولی کا عقد ہے جس کا جائز کرنے والا کوئی نہیںاور عقود الدریۃ کے باب الحجر میں جامع الفصولین سے منقول ہے کہ اگر بچہ بیوی کو طلاق دے یا کوئی ھبہ کرے یا کوئی ایساعقد کرے کہ اگر وہ عقد اس کا ولی اس کے بچپن میں
الجواب:
اللہم ھدایۃ الحق والصواب ان انت العزیز الوھابیہ توظاہرہے کہ ابتداء حمیدہ والدہ محمود ہ کا بنام رشیدہ جائداد محمود نابالغ کا تملیك نامہ لکھ دینا کوئی شے نہ تھا کہ نہ ماں دربارہ مالی ولی نہ خود ولی تھی کہ باپ کو مال صغیر سے ایك ذرہ کسی کو ڈالنے کااختیار نہیں۔
فی الدرالمختار ولیہ ابوہ دون الام فی المال اھ ملخصا۔وفیہ من الھبۃ لایجوز ان یھب شیئا من مال طفلہ ولو بعوض لانہا تبرع ابتداء اھ۔ درمختار میں ہے کہ مال میں نابالغ کا ولی اس کا باپ ہے ماں ہے اھ ملخصااور اسی میں ھبہ کے متعلق ہے والدہ کو حق نہیں کہ وہ بچے کے مال سے کوئی چیز ہبہ کرے خواہ بالعوض کیوں نہ ہو کیونکہ ھبہ ابتداء تبرع ہوتاہے۔اھ(ت)
تو وہ عقد محض باطل واقع ہوا یہاں تك کہ خود محمود کے بعد بلوغ جائز ومسلم رکھنے سے بھی اس کی اصلاح ممکن نہیں
لانہ عقد فضولی صدر ولامجیزفی حجر العقود الدریۃ عن جامع الفصولین لو طلق الصبی امرأتہ او وھب مالہ اوعقد عقدا ممالو فعلہ ولیہ فی صباء کیونکہ یہ فضولی کا عقد ہے جس کا جائز کرنے والا کوئی نہیںاور عقود الدریۃ کے باب الحجر میں جامع الفصولین سے منقول ہے کہ اگر بچہ بیوی کو طلاق دے یا کوئی ھبہ کرے یا کوئی ایساعقد کرے کہ اگر وہ عقد اس کا ولی اس کے بچپن میں
حوالہ / References
درمختار کتاب الماذون ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۳€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰€
لم یجز علیہ فہذہ کلہا باطلۃوان اجازہا الصبی بعد بلوغہ لم تجز لانہ لا مجیز لہا وقت العقد فلم تتوقف علی الاجازۃ الااذاکان لفظ اجازتہ بعد البلوغ مایصلح لابتداء العقد فیصح ابتداء لااجازۃ کقولہ اوقعت ذلك الطلاق فیقع لانہ یصلح للابتداء اھ ملتقطا۔ کرتا تو بچے پر لاگو نہ ہوتاتو بچے کے یہ تمام امور باطل ہیں۔ اور بلوغ کے بعد اگر وہ ان امور کو جائز کرے تو بھی جائز نہ ہوں گےکیونکہ عقد کے وقت ان کو جائز کرنے والا کوئی نہ تھا لہذا وہ اجازت پر موقوف نہ ہوئےہاں اگر بلوغ کے بعد ایسے لفظ سے جائز کرے جس سے ابتداء عقد ہوسکے تو ابتداء عقد کے طور پر یہ صحیح ہوجائے گی تاہم اجازت نہ کہیں گےمثلا بلوغ کے بعد یوں کہے میں نے وہ طلاق واقع کی۔تو طلاق اب ہوگئی کیونکہ یہ لفظ ابتدائے طلاق کی صلاحیت رکھتا ہے اھ ملتقطا۔(ت)
اوریہیں سے ظاہر ہوا کہ محمود کا بعد بلوغ دستاویز نوشتہ حمیدہ کو مسلم مقبول رکھنا بھی محض مہمل و بے سود اور شرعا نامقبول ومردوداب اس نے جو خودابتداء دوبار تملیك نامہ لکھا وہ عبارتیں صراحۃ نص ہیں کہ محمود نے صرف زر آمدنی وتوفیر رشیدہ کو دینا چاہا اصل رقبہ جائداد کی ھبہ وتملیك کا ان میں کہیں ذکر نہیںتحریر اول میں کہ ایك جگہ یہ لفظ واقع ہوا"آنچہ کہ حصہ جاگیر موروثیم بمن میرسد مالکش رشیدہ است"وہاں بھی حصہ سے مراد صرف حصہ توفیر ہے کہ اس سے پہلے تصریحا لفظ آمدنی مذکور اوریہاں بھی باندازہ مبلغ پنچ ہزار روپیہ کا لفظ اسی طرف ناظراور یہ عقد وصیت تو کس طرح نہیں ہوسکتا کہ وصیت میں فی الحال مالك نہیں کیا جاتا۔
لانہا تملیك مضاف الی ما بعد الموت کما فی التنویر وغیرھا ۔ کیونکہ یہ تملیك مابعد الموت کی طرف منسوب ہوتی ہے جیسا کہ تنویر الابصارمیں وغیرہ میں ہے۔(ت)
اور عبارات زید صریح ہیں کہ رشیدہ فی الحال مالك ٹھہرائی گئی کما لایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)نہ یہ ممکن کہ بلحاظ لفظ نسلا بعد نسل جو لوگ نسل رشیدہ سے بعد کو پیداہوں ان کے حق میں وصیت قرار دی جائے کہ وہ وقت عقد معدوم تھی اور معدوم کے لئے وصیت باطل
اوریہیں سے ظاہر ہوا کہ محمود کا بعد بلوغ دستاویز نوشتہ حمیدہ کو مسلم مقبول رکھنا بھی محض مہمل و بے سود اور شرعا نامقبول ومردوداب اس نے جو خودابتداء دوبار تملیك نامہ لکھا وہ عبارتیں صراحۃ نص ہیں کہ محمود نے صرف زر آمدنی وتوفیر رشیدہ کو دینا چاہا اصل رقبہ جائداد کی ھبہ وتملیك کا ان میں کہیں ذکر نہیںتحریر اول میں کہ ایك جگہ یہ لفظ واقع ہوا"آنچہ کہ حصہ جاگیر موروثیم بمن میرسد مالکش رشیدہ است"وہاں بھی حصہ سے مراد صرف حصہ توفیر ہے کہ اس سے پہلے تصریحا لفظ آمدنی مذکور اوریہاں بھی باندازہ مبلغ پنچ ہزار روپیہ کا لفظ اسی طرف ناظراور یہ عقد وصیت تو کس طرح نہیں ہوسکتا کہ وصیت میں فی الحال مالك نہیں کیا جاتا۔
لانہا تملیك مضاف الی ما بعد الموت کما فی التنویر وغیرھا ۔ کیونکہ یہ تملیك مابعد الموت کی طرف منسوب ہوتی ہے جیسا کہ تنویر الابصارمیں وغیرہ میں ہے۔(ت)
اور عبارات زید صریح ہیں کہ رشیدہ فی الحال مالك ٹھہرائی گئی کما لایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)نہ یہ ممکن کہ بلحاظ لفظ نسلا بعد نسل جو لوگ نسل رشیدہ سے بعد کو پیداہوں ان کے حق میں وصیت قرار دی جائے کہ وہ وقت عقد معدوم تھی اور معدوم کے لئے وصیت باطل
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الحجر ∞حاجی عبدالغفار وپسران تاجران کتب قندہار ۲ /۱۶۶€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۷€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۷€
فی الدرالمختار شرائطہا کون الموصی اھلا للتملیك و کون الموصی لہ حیا وقتہا اھ ملخصا۔ درمختارمیں ہے اس کی شرائط میں ہے کہ وصیت کرنے والا اس تملیك کا اہل ہواور وصیت کے وقت جس کے لئے وصیت کی ہے وہ زندہ ہو اھ ملخصا(ت)
تو لاجرم ھبہ ہی ہوگااو ریوں ھبہ کرنا کہ اس گاؤں کی آمدنی جو ہواکرے گی میں نے تجھے ھبہ کیشرعا صحیح نہیں
فی الفتاوی الخیریۃ بہذا علم عدم صحۃ ھبۃ ما سیتحصل من محصول القریتین بالاولی لان الواھب نفسہ لم یقبضہ بعد فکیف یمبلکہ وھذا ظاہر اھ ۔ فتاوی خیریہ میں ہے اس سے معلوم ہوا کہ جس کو دونوں قریوں سے حاصل کرے گا اس کا ھبہ صحیح نہیں کیونکہ ھبہ کرنے والا ابھی تك خود اس پرقابض نہیں تو دوسرے کو کیسے مالك بنائےگایہ ظاہر بات ہے۔اھ(ت)
اوراگر بالفرض اصل جائداد ہی کا ھبہ ہوتا جب بھی نراباطل تھا کہ وہ جائداد حسب بیان سائل مشاع وغیر منقسم ہے اور اسی طرح عــــــہ مشیر ہے محمود کا وہ بیان کہ چوں وہیوٹ ومختاری آں ازقدیم الایام بقبضہ من است اھ کہ پٹے بانٹ کے بعد تو ہر ایك شریك حصہ کا مختار ہوجاتاہے اورھبہ مشاع مذھب صحیح پر محض باطل
فی الفتاوی الخیریۃ(سئل)فی رجل وھب ابنالہ بالغا نصف مایملک(اجاب)الھبۃ باطلۃ عند ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالی قال فی مشتمل الاحکام نقلا عن تتمۃ الفتاویان ھبۃ فتاوی خیریہ میں ہے ان سے سوال ہوا کہ ایك شخص نے اپنے بالغ بیٹے کو اپنی نصف ملکیت ھبہ کی ہے تو جواب دیا کہ یہ ھبہ باطل ہے امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك اور مشتمل الاحکام میں انہوں نے تمتۃ الفتاوی سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ
عــــــہ:فی الاصل ھکذا و اظنہ اسی طرفبدر۔
تو لاجرم ھبہ ہی ہوگااو ریوں ھبہ کرنا کہ اس گاؤں کی آمدنی جو ہواکرے گی میں نے تجھے ھبہ کیشرعا صحیح نہیں
فی الفتاوی الخیریۃ بہذا علم عدم صحۃ ھبۃ ما سیتحصل من محصول القریتین بالاولی لان الواھب نفسہ لم یقبضہ بعد فکیف یمبلکہ وھذا ظاہر اھ ۔ فتاوی خیریہ میں ہے اس سے معلوم ہوا کہ جس کو دونوں قریوں سے حاصل کرے گا اس کا ھبہ صحیح نہیں کیونکہ ھبہ کرنے والا ابھی تك خود اس پرقابض نہیں تو دوسرے کو کیسے مالك بنائےگایہ ظاہر بات ہے۔اھ(ت)
اوراگر بالفرض اصل جائداد ہی کا ھبہ ہوتا جب بھی نراباطل تھا کہ وہ جائداد حسب بیان سائل مشاع وغیر منقسم ہے اور اسی طرح عــــــہ مشیر ہے محمود کا وہ بیان کہ چوں وہیوٹ ومختاری آں ازقدیم الایام بقبضہ من است اھ کہ پٹے بانٹ کے بعد تو ہر ایك شریك حصہ کا مختار ہوجاتاہے اورھبہ مشاع مذھب صحیح پر محض باطل
فی الفتاوی الخیریۃ(سئل)فی رجل وھب ابنالہ بالغا نصف مایملک(اجاب)الھبۃ باطلۃ عند ابی حنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالی قال فی مشتمل الاحکام نقلا عن تتمۃ الفتاویان ھبۃ فتاوی خیریہ میں ہے ان سے سوال ہوا کہ ایك شخص نے اپنے بالغ بیٹے کو اپنی نصف ملکیت ھبہ کی ہے تو جواب دیا کہ یہ ھبہ باطل ہے امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك اور مشتمل الاحکام میں انہوں نے تمتۃ الفتاوی سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ
عــــــہ:فی الاصل ھکذا و اظنہ اسی طرفبدر۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۷€
فتاوٰی خیریۃ کتاب الھبہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۱۱€
فتاوٰی خیریۃ کتاب الھبہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۱۱€
المشاع باطلۃ وھو الصحیح انتہی اھ۔ غیر منقسم حصہ کا ھبہ باطل ہے اور یہی صحیح ہے انتہی اھ(ت)
اسی لئے اگر موہوب لہاسی حالت سے قبضہ بھی پالے تاہم وہ اس کا مالك نہیں ہوجاتا نہ اس کے تصرفات اس میں رواہوں اور واھب کے تصرف سراسر نافذ رہتے ہیں
کما صرح بہ فی تنویر الابصار مغنی المستفتی و الفتاوی التاجیۃ والمبتغی والجوھرۃ والبحرالرائق و نقلہ الامام الزیلعی عن الامام الہمام ابی جعفر الطحاوی و الامام فخر الملۃ والدین قاضیخان و الامام ابن رستم وفی نور العین عن الوجیز نص علیہ محمد فی المبسوط وھو قول ابی یوسف ومذھب ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ فی القہستانی ھو الصحیحوعن المضمرات ھوالمختار وکذا صححہ فی العمادیۃ قال فی ردالمحتار فحیث علمت انہ ظاھر الروایۃ وانہ نص علیہ محمد رحمہ اﷲ تعالی ورووہ عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ظہر انہ الذی علیہ العمل الخ وتمامہ فیہ۔ جیساکہ اس کی تصریح تنویر الابصارمغنی المستفتی فتاوی تاجیہالمتبغیجوہرہ اوربحرالرائق میں ہے اور اس کو امام زیلعی نے امام ہمام ابو جعفر طحطاوی اور امام فخر الملۃ والدین قاضیخان اور امام ابن رستم سے نقل کیااور نورالعین میں وجیز سے منقول ہے کہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے مبسوط میں اس پر نص فرمائی ہے اوریہی امام ابویوسف کا قول اورامام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی کا مذھب ہے اور قہستانی میں ہے کہ یہی صحیح ہے اورمضمرات میں اس کا مختار ہونا منقول ہے اور ایسے ہی عمادیہ میں اس کی تصحیح کی ہےردالمحتارمیں فرمایا جہاں تك میرا علم ہے یہ ظاہر الروایۃ ہے اور بیشك اس پر امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے نص فرمائی ہے اور امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے انہوں نے اس کو روایت کیا ہے توظاہر ہوا کہ اسی پر عمل ہے الخ اس کا مکمل بیان ردالمحتارمیں ہے۔(ت)
اسی لئے اگر موہوب لہاسی حالت سے قبضہ بھی پالے تاہم وہ اس کا مالك نہیں ہوجاتا نہ اس کے تصرفات اس میں رواہوں اور واھب کے تصرف سراسر نافذ رہتے ہیں
کما صرح بہ فی تنویر الابصار مغنی المستفتی و الفتاوی التاجیۃ والمبتغی والجوھرۃ والبحرالرائق و نقلہ الامام الزیلعی عن الامام الہمام ابی جعفر الطحاوی و الامام فخر الملۃ والدین قاضیخان و الامام ابن رستم وفی نور العین عن الوجیز نص علیہ محمد فی المبسوط وھو قول ابی یوسف ومذھب ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ فی القہستانی ھو الصحیحوعن المضمرات ھوالمختار وکذا صححہ فی العمادیۃ قال فی ردالمحتار فحیث علمت انہ ظاھر الروایۃ وانہ نص علیہ محمد رحمہ اﷲ تعالی ورووہ عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ ظہر انہ الذی علیہ العمل الخ وتمامہ فیہ۔ جیساکہ اس کی تصریح تنویر الابصارمغنی المستفتی فتاوی تاجیہالمتبغیجوہرہ اوربحرالرائق میں ہے اور اس کو امام زیلعی نے امام ہمام ابو جعفر طحطاوی اور امام فخر الملۃ والدین قاضیخان اور امام ابن رستم سے نقل کیااور نورالعین میں وجیز سے منقول ہے کہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے مبسوط میں اس پر نص فرمائی ہے اوریہی امام ابویوسف کا قول اورامام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی کا مذھب ہے اور قہستانی میں ہے کہ یہی صحیح ہے اورمضمرات میں اس کا مختار ہونا منقول ہے اور ایسے ہی عمادیہ میں اس کی تصحیح کی ہےردالمحتارمیں فرمایا جہاں تك میرا علم ہے یہ ظاہر الروایۃ ہے اور بیشك اس پر امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے نص فرمائی ہے اور امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے انہوں نے اس کو روایت کیا ہے توظاہر ہوا کہ اسی پر عمل ہے الخ اس کا مکمل بیان ردالمحتارمیں ہے۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۱۳€
تبیین الحقائق کتاب الھبۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۵ /۹۴€
ردالمحتار بحوالہ نور العین کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۱€
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۱€
تبیین الحقائق کتاب الھبۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۵ /۹۴€
ردالمحتار بحوالہ نور العین کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۱€
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۱€
بلکہ اس قدر تو بالاجماع ثابت ہے کہ اس قسم کے ھبہ میں خود واھب او ر اس کے بعد ورثہ کو اختیاررجوع رہتاہے اگر چہ موہوب لہ کا قبضہ ہوگیا ہو اگرچہ ھبہ زوجہ یا ذورحم محرم کے نام ہو باوجود یہ کہ زوجیت و رحم موانع رجوع سے ہیں
فی الخیریۃ اجمع الکل علی ان للواھب استردادہا من الموہو لہ ولوکان ذراحم محرم من الواھب لہ ولو کان ذارحم محرم من الواھب وکمایکون اللواھب الرجوع فیہا یکون الوارثۃ بعد موتہ اھ ملتقطا فتاوی خیریہ میں ہےکہ اس پر اس کا اجماع ہےکہ واھب کو موہوب لہسے واپس لینے کا حق ہے اگرچہ وہ واھب کاذی رحم محرم ہواور جس طرح واھب کو رجوع کا حق ہے ایسے ہی اس کی موت کے بعد اس کے ورثاء کو حق ہے اھ ملتقطا(ت)
اور اگر صورت مستفسرہ میں شیوع نہ بھی پایا جائے(جیسا کہ محمود کا لفظ"خالصا بمن مقرر شدہ"اور لفظ"موافق حصہ ہائے مقسومہ آنہا"اس کا ایہام کرتاہے)تاہم ھبہ محض ناتمام ہے اوررشیدہ کی ملك اس میں ہرگز ثابت نہ ہوگی کہ ان دستاویزوں کی عبارت خود صریح نص ہےکہ محمود نے رشیدہ کو جائداد پر قبضہ نہ دلایا بلکہ صراحۃ قبضہ دینے سے انکار کیا حیث قال چوں وہیوٹ ومختاری آں الی قولہ ہمیں طور از آمدنی مملوکہ اہل خانہ خود الخ"اور ھبہ بے قبضہ تمام نہیں ہوتا۔
فی الدرالمختار تتم الھبۃ بالقبض الکامل اھ۔ درمختار میں ہے مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے اھ۔(ت)
یہاں تك کہ اگر ھبہ صحیحہ میں واھب بے قبضہ دئے مرجائے تو ھبہ باطل ہوتا ہے اور فرائض اﷲ پر تقسیم پاتی ہے۔
فی موانع الرجوع من شرح التنویر والمیم عــــــہ موت احد المتعاقدین بعدا لتسلیم فلو قبل بطل ۔ شرح تنویر الابصارمیںرجوع سے موانعمیں ذکر کیا"م" فریقین میں سے سونپ دینے کے بعد کسی کی موت ہو اور موت اس سے پہلے ہو تو پھر باطل ہے۔(ت)
عــــــہ: اشارۃ فی قول صاحب التنویر"دمع خزفہ۔عبدالمنان۔
فی الخیریۃ اجمع الکل علی ان للواھب استردادہا من الموہو لہ ولوکان ذراحم محرم من الواھب لہ ولو کان ذارحم محرم من الواھب وکمایکون اللواھب الرجوع فیہا یکون الوارثۃ بعد موتہ اھ ملتقطا فتاوی خیریہ میں ہےکہ اس پر اس کا اجماع ہےکہ واھب کو موہوب لہسے واپس لینے کا حق ہے اگرچہ وہ واھب کاذی رحم محرم ہواور جس طرح واھب کو رجوع کا حق ہے ایسے ہی اس کی موت کے بعد اس کے ورثاء کو حق ہے اھ ملتقطا(ت)
اور اگر صورت مستفسرہ میں شیوع نہ بھی پایا جائے(جیسا کہ محمود کا لفظ"خالصا بمن مقرر شدہ"اور لفظ"موافق حصہ ہائے مقسومہ آنہا"اس کا ایہام کرتاہے)تاہم ھبہ محض ناتمام ہے اوررشیدہ کی ملك اس میں ہرگز ثابت نہ ہوگی کہ ان دستاویزوں کی عبارت خود صریح نص ہےکہ محمود نے رشیدہ کو جائداد پر قبضہ نہ دلایا بلکہ صراحۃ قبضہ دینے سے انکار کیا حیث قال چوں وہیوٹ ومختاری آں الی قولہ ہمیں طور از آمدنی مملوکہ اہل خانہ خود الخ"اور ھبہ بے قبضہ تمام نہیں ہوتا۔
فی الدرالمختار تتم الھبۃ بالقبض الکامل اھ۔ درمختار میں ہے مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے اھ۔(ت)
یہاں تك کہ اگر ھبہ صحیحہ میں واھب بے قبضہ دئے مرجائے تو ھبہ باطل ہوتا ہے اور فرائض اﷲ پر تقسیم پاتی ہے۔
فی موانع الرجوع من شرح التنویر والمیم عــــــہ موت احد المتعاقدین بعدا لتسلیم فلو قبل بطل ۔ شرح تنویر الابصارمیںرجوع سے موانعمیں ذکر کیا"م" فریقین میں سے سونپ دینے کے بعد کسی کی موت ہو اور موت اس سے پہلے ہو تو پھر باطل ہے۔(ت)
عــــــہ: اشارۃ فی قول صاحب التنویر"دمع خزفہ۔عبدالمنان۔
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الھبہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۱۲€
درمختار کتاب الھبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۹€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
درمختار کتاب الھبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۹€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
غرض جہاں تك نگاہ کی جائے اس عقد کے لئے کوئی وجہ صحت نہیںنہ جائداد کا ھبہ ٹھیك آتا ہے نہ توفیر کانہ وصیت نہ کوئی صورتپھر محمود کے یہ الفاظ"کہ منمقر ووارثانم را"الخ کیا کام دے سکتے ہیںآخر جس بنا پر اس نے یہ الفاظ لکھے تھے جب راسا وہی منعدم ہے تو یہ جواس پر مبنی تھے خود منعدم ہوگئےبھلا یہ عقد تو شرعا کچھ اصل ہی نہیں رکھتا خاص ھبہ صحیحہ میں شرع مطہر کا حکم ہے کہ جب تك موہوب لہ کاقبضہ نہ ہوجائے واھب کو ہر وقت نہ دینے کا اختیار ہے اور اس پر قبضہ دلانے کا جبرنہیں ہوسکتا
لانہ متبرع والمتبرع لاجبر علیہ فی الدرالمختار صح الرجوع فیہا بعدالقبض اما قبلہ فلم تتم الھبۃ اھ ای والرجوع انما یکون عن شیئ وقع وتم وقبل عــــــہ التمام دفع لارفع۔ کیونکہ وہ متبرع(بھلائی کے طور پر مفت دینے والا)ہے اور متبرع پر جبر نہیں ہوسکتا۔درمختارمیں ہے ھبہ میں قبضہ دینے کے بعد رجوع صحیح ہے جبکہ قبضہ سے قبل توھبہ تام ہی نہیں ہے اھ یعنی شیئ کے وقوع اور تام ہونے کے بعد رجوع ہوتاہے جبکہ تام ہونے سے قبل دفاع ہوتاہے رفع نہیں ہوتا۔ (ت)
اور کوئی شخص اپنی کسی تحریر خواہ تقریر سے احکام شرع مطہر کو نہیں بدل سکتا۔دیکھو جہاں موانع نہ ہوں تو شرع نے واجب کو بعد قبضہ بھی رجوع کا اختیار دیا اگر چہ وہ ہزار بار کہے میں نے اپنا حق رجوع ساقط کیامجھے رجوع کا اختیار نہ رہا اگر رجوع کروں تو نامقبول ہو کچھ مسموع نہیں۔اور حق رجوع بدستور باقی۔
فی فتاوی الامام قاضیخان رجل وھب لرجل شیئا ثم قال الواھب اسقطت حقی فی الرجوع لایسقط حقہ اھ ومثلہ فی البزازیۃ وغیرھا۔ امام قاضی خان کے فتاوی میں ہے ایك شخص دوسرے کو ھبہ کرکے کہے میں نے اس سے رجوع کا ساقط کردیا ہے تو اس کا یہ حق ساقط نہ ہوگا اھ اور اسی طرح بزازیہ وغیرہ میں ہے۔ (ت)
اور جب اس کے کہنے سے خود اس کا حق زائل نہیں ہوتا تو ورثہ کو نزاع ودعوی سے کون مانع ہوسکتاہے فان الرجل اقدر علی نفسہ منہ علی غیرہ کما لایخفی(کیونکہ دوسرے کی نسبت انسان کو اپنی ذات پر قدرت زیادہ ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ت)
بالجملہ صورت مستفسرہ میں خلاصہ حکم یہ ہے کہ محمود وحمیدہ کی یہ سب دستاویزیں محض لغو ومہمل و
عــــــہ:لیس فی الاصل الواو قبل قبل ولابدمنہ ۱۲ عبدالمنان (اصل میں قبل سے پہلے واؤ نہیں ہے حالانکہ یہاں واؤ ضروری ہے)
لانہ متبرع والمتبرع لاجبر علیہ فی الدرالمختار صح الرجوع فیہا بعدالقبض اما قبلہ فلم تتم الھبۃ اھ ای والرجوع انما یکون عن شیئ وقع وتم وقبل عــــــہ التمام دفع لارفع۔ کیونکہ وہ متبرع(بھلائی کے طور پر مفت دینے والا)ہے اور متبرع پر جبر نہیں ہوسکتا۔درمختارمیں ہے ھبہ میں قبضہ دینے کے بعد رجوع صحیح ہے جبکہ قبضہ سے قبل توھبہ تام ہی نہیں ہے اھ یعنی شیئ کے وقوع اور تام ہونے کے بعد رجوع ہوتاہے جبکہ تام ہونے سے قبل دفاع ہوتاہے رفع نہیں ہوتا۔ (ت)
اور کوئی شخص اپنی کسی تحریر خواہ تقریر سے احکام شرع مطہر کو نہیں بدل سکتا۔دیکھو جہاں موانع نہ ہوں تو شرع نے واجب کو بعد قبضہ بھی رجوع کا اختیار دیا اگر چہ وہ ہزار بار کہے میں نے اپنا حق رجوع ساقط کیامجھے رجوع کا اختیار نہ رہا اگر رجوع کروں تو نامقبول ہو کچھ مسموع نہیں۔اور حق رجوع بدستور باقی۔
فی فتاوی الامام قاضیخان رجل وھب لرجل شیئا ثم قال الواھب اسقطت حقی فی الرجوع لایسقط حقہ اھ ومثلہ فی البزازیۃ وغیرھا۔ امام قاضی خان کے فتاوی میں ہے ایك شخص دوسرے کو ھبہ کرکے کہے میں نے اس سے رجوع کا ساقط کردیا ہے تو اس کا یہ حق ساقط نہ ہوگا اھ اور اسی طرح بزازیہ وغیرہ میں ہے۔ (ت)
اور جب اس کے کہنے سے خود اس کا حق زائل نہیں ہوتا تو ورثہ کو نزاع ودعوی سے کون مانع ہوسکتاہے فان الرجل اقدر علی نفسہ منہ علی غیرہ کما لایخفی(کیونکہ دوسرے کی نسبت انسان کو اپنی ذات پر قدرت زیادہ ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ت)
بالجملہ صورت مستفسرہ میں خلاصہ حکم یہ ہے کہ محمود وحمیدہ کی یہ سب دستاویزیں محض لغو ومہمل و
عــــــہ:لیس فی الاصل الواو قبل قبل ولابدمنہ ۱۲ عبدالمنان (اصل میں قبل سے پہلے واؤ نہیں ہے حالانکہ یہاں واؤ ضروری ہے)
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبہ باب الرجوع فی الھبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الھبہ فصل فی الرجوع فی الھبہ ∞مطبع نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۰۴€
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الھبہ فصل فی الرجوع فی الھبہ ∞مطبع نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۰۴€
بیکار ہیں اور اس کا غذ کانام شرع میں کچھ نہیں کہ جب شرعا یہ کوئی عقد ہی نہ ہوا تو اس کا نام کیا رکھا جائے اور رشیدہ اور اس کی اولاد کو ان تحریرات کی رو سے مطلق کسی طرح کا استحقاق نہ اصل جائداد میں حاصل ہوا نہ زر تو فیر میںنہ انھیں دعوی کرنا شرعا جائز بلکہ حرام وممنوعواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۹: ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں زید نے بحالت نوکری سرکاری اپنے بیٹے بکر کے نام جو کہ اس وقت محض نابالغ تھا اپنے روپیہ سے کچھ جائداد خریدی اور کچھ جائداد اپنی بی بی منکوحہ کے نام خریدی اور اس وقت ایك بیٹی بابالغ بھی تھی اس کے نام نہیں خریدی پھر زید کے ایك اور لڑکا پیدا ہوا اس کے نام بھی کچھ جائداد خریدی مگر وہ لڑکا بحالت نابالغی ہی میں فوت ہوگیا جب اس فوت شدہ لڑکے کے نابالغ کی جائداد کے کرایہ دار کو بیدخل عدالت سے زید نے کرایا تو عدالت میں زید نے بیان کیا کہ جائداد میری ہے اور میرے روپیہ سے خریدی گئی ہے لڑکے کا نام اسم فرض تھاجب زید نوکری سے علیحدہ ہوکر اپنے مکان پر رہا تو اس وقت زید کی دو اور لڑکیاں بھی نابالغ تھیں ان کے نام بھی جائداد نہیں خریدی اس وقت اپنے نام جائداد خریدی اور کچھ بیٹے بکر کے نام سے بھی(جوکہ اس وقت قریب بلوغیت کے تھا)خریدی مگر زید کل جائداد کی آمدنی جو اپنے نام اور بکر کے نام اور بیٹے متوفی کے نام اور اپنی بی بی کے نام تھی از خود وصول کرتا تھا اور اپنے تحت اوراختیار میں رکھتا تھا کسی کو اس میں مداخلت نہ تھی اور زید کی زندگی میں بکرکو جو کہ اس وقت بالغ تھا یہ اختیار نہ تھا کہ جائداد یا جائدادکی آمدنی سے کچھ کسی صرف روٹی کپڑے سے جیسا کہ دنیا میں باپ بیٹوںکو کھلاتے ہیں کھاتے اور پہنتے گو زید نے بکر کی شادی بھی کردی تھی مگر اس حالت میں بھی بکر کو آمدنی جائداد سے کچھ سروکار نہ تھا جو جائداد بکر کے نام سے خریدی تھی اس کے نالشات کی پیروی میں بکر ہمراہ زید کے جایا کرتا تھا کہ بکر کے نام سے ہوتی تھی چنانچہ زید کی زندگی میں حالت مذکورہ بالا رہیجب زید نے وفات پائی تو اس وقت یہ کل جائداد اور اسباب اور نقدی بکر اور والدہ بکر کے پاس رہی اور بکر تحصیل آمدنی کرنے لگاجب والدہ بکر نے بھی انتقال کیا تو سب جائداد وجنس ونقد بکر کے ہاتھ آئی اس وقت سے آج تك بکر قابض ومتصرف ہےبکر نے اب کل جائداد کی آمدنی کی توفیر اور اس روپیہ سے جو کہ زید چھوڑ کر مرا اور جائداد اپنے نام اور اپنے دوبیٹوں کے نام خریدیاب اگر تقسیم جائداد کی ہو اور بہنیں اپنا حصہ طلب کریں تو ازروئے شرع شریف آیا کل جائداد میں سے جو کہ بکر کے نام پہلے تھی اور اب بکر نے زید کے روپیہ اور کل جائداد کی آمدنی کی توفیر سے اپنے نام اور اپنے بیٹے کے نام سے خریدی تھی حصہ مل سکتاہے یا صرف اس
مسئلہ ۴۹: ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں زید نے بحالت نوکری سرکاری اپنے بیٹے بکر کے نام جو کہ اس وقت محض نابالغ تھا اپنے روپیہ سے کچھ جائداد خریدی اور کچھ جائداد اپنی بی بی منکوحہ کے نام خریدی اور اس وقت ایك بیٹی بابالغ بھی تھی اس کے نام نہیں خریدی پھر زید کے ایك اور لڑکا پیدا ہوا اس کے نام بھی کچھ جائداد خریدی مگر وہ لڑکا بحالت نابالغی ہی میں فوت ہوگیا جب اس فوت شدہ لڑکے کے نابالغ کی جائداد کے کرایہ دار کو بیدخل عدالت سے زید نے کرایا تو عدالت میں زید نے بیان کیا کہ جائداد میری ہے اور میرے روپیہ سے خریدی گئی ہے لڑکے کا نام اسم فرض تھاجب زید نوکری سے علیحدہ ہوکر اپنے مکان پر رہا تو اس وقت زید کی دو اور لڑکیاں بھی نابالغ تھیں ان کے نام بھی جائداد نہیں خریدی اس وقت اپنے نام جائداد خریدی اور کچھ بیٹے بکر کے نام سے بھی(جوکہ اس وقت قریب بلوغیت کے تھا)خریدی مگر زید کل جائداد کی آمدنی جو اپنے نام اور بکر کے نام اور بیٹے متوفی کے نام اور اپنی بی بی کے نام تھی از خود وصول کرتا تھا اور اپنے تحت اوراختیار میں رکھتا تھا کسی کو اس میں مداخلت نہ تھی اور زید کی زندگی میں بکرکو جو کہ اس وقت بالغ تھا یہ اختیار نہ تھا کہ جائداد یا جائدادکی آمدنی سے کچھ کسی صرف روٹی کپڑے سے جیسا کہ دنیا میں باپ بیٹوںکو کھلاتے ہیں کھاتے اور پہنتے گو زید نے بکر کی شادی بھی کردی تھی مگر اس حالت میں بھی بکر کو آمدنی جائداد سے کچھ سروکار نہ تھا جو جائداد بکر کے نام سے خریدی تھی اس کے نالشات کی پیروی میں بکر ہمراہ زید کے جایا کرتا تھا کہ بکر کے نام سے ہوتی تھی چنانچہ زید کی زندگی میں حالت مذکورہ بالا رہیجب زید نے وفات پائی تو اس وقت یہ کل جائداد اور اسباب اور نقدی بکر اور والدہ بکر کے پاس رہی اور بکر تحصیل آمدنی کرنے لگاجب والدہ بکر نے بھی انتقال کیا تو سب جائداد وجنس ونقد بکر کے ہاتھ آئی اس وقت سے آج تك بکر قابض ومتصرف ہےبکر نے اب کل جائداد کی آمدنی کی توفیر اور اس روپیہ سے جو کہ زید چھوڑ کر مرا اور جائداد اپنے نام اور اپنے دوبیٹوں کے نام خریدیاب اگر تقسیم جائداد کی ہو اور بہنیں اپنا حصہ طلب کریں تو ازروئے شرع شریف آیا کل جائداد میں سے جو کہ بکر کے نام پہلے تھی اور اب بکر نے زید کے روپیہ اور کل جائداد کی آمدنی کی توفیر سے اپنے نام اور اپنے بیٹے کے نام سے خریدی تھی حصہ مل سکتاہے یا صرف اس
جائداد میں سے جو کہ زی کے نام اور زید کی بی بی کے نام اور عمرو متوفی کے نام تھی مل سکتاہےلہذا التماس ہے کہ فتوی بموجب حکم خدا اور رسول دیا جائے تاکہ اس پر عملدرآمد کیا جائے۔
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصوابوہ جائداد کہ زید نابالغ بیٹے بکر کے نام بدفعات اپنے روپیہ سے خریدی خاص ملك بکر کی ہے جس میں دیگر وارثان زید کا اصلا کچھ حق نہیں عقودا لدریہ فی تنقیح الحامدیہ میں ہے:
فی الذخیرۃ والتجنیس امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالہا وقع الشراء للام لانہا لاتملیك الشراء للولد وتکون الضیعۃ للولد لان الام تصیر واھبۃ اھ مافی العقود اقول:فشراء الاب باسم الولد یقع رأسا للولد لان الاب یملك ذلك فالولد ملك العقار ابتداء والاب متبرع باداء الثمن حیث لم یظہر قصد الرجوع۔ ذخیرہ اور تجنیس میں ہےعورت نے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے کوئی زمین اپنے مال سے خریدی تو یہ خریداری ماں کی اپنی ہوگی کیونکہ وہ نابالغ بیٹے کے لئے خریداری کی مالك نہیں تو یہ زمین بیٹےکی ہوگی کیونکہ ماں نے اسے ھبہ کیا ہے عقود الدریہ کی عبارت ختم ہوئی اقول:(میں کہتاہوں)تو باپ کی ایسی خریداری ابتداء سے بیٹے کے لئے ہوگی اور زمین بیٹے کی ہی ہوگی کیونکہ باپ کو نابالغ بیٹے کے لئے خریداری کا اختیار ہے اور باپ رقم کی ادائیگی میں بیٹے کے حق میں متبرع ہوگاکیونکہ اس نے رجوع کااظہار نہیں کیا۔(ت)
اور جائداد کا تاحیات زید قبضہ بکر میں نہ آنا کچھ مضر نہیں کہ اول تو زید کی ملك بربنائے ھبہ نہیں بلکہ بربنائے خرید پدر ہے کما علمت انفا(جیسا کہ تونے ابھی جانا۔ت)اور ملك بذریعہ شراء قبضہ پر موقوف نہیں اور بالفرض ھبہ ہی ٹھہرائے تو قبضہ پدر بعینہ قبضہ پسر نابالغ ہےمجمع الانہر میں ہے:
ھبۃ الاب لطفلہ تتم بالعقد لانہ فی قبض الاب فینوب عن قبض الصغیر نابالغ بچے کے لئے باپ کا ھبہ صرف عقد سے ہی تام ہوجا تاہے کیونکہ وہ ھبہ باپ کے قبضہ میں بیٹے کے نائب ہونے کی حیثیت سے ہے
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصوابوہ جائداد کہ زید نابالغ بیٹے بکر کے نام بدفعات اپنے روپیہ سے خریدی خاص ملك بکر کی ہے جس میں دیگر وارثان زید کا اصلا کچھ حق نہیں عقودا لدریہ فی تنقیح الحامدیہ میں ہے:
فی الذخیرۃ والتجنیس امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالہا وقع الشراء للام لانہا لاتملیك الشراء للولد وتکون الضیعۃ للولد لان الام تصیر واھبۃ اھ مافی العقود اقول:فشراء الاب باسم الولد یقع رأسا للولد لان الاب یملك ذلك فالولد ملك العقار ابتداء والاب متبرع باداء الثمن حیث لم یظہر قصد الرجوع۔ ذخیرہ اور تجنیس میں ہےعورت نے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے کوئی زمین اپنے مال سے خریدی تو یہ خریداری ماں کی اپنی ہوگی کیونکہ وہ نابالغ بیٹے کے لئے خریداری کی مالك نہیں تو یہ زمین بیٹےکی ہوگی کیونکہ ماں نے اسے ھبہ کیا ہے عقود الدریہ کی عبارت ختم ہوئی اقول:(میں کہتاہوں)تو باپ کی ایسی خریداری ابتداء سے بیٹے کے لئے ہوگی اور زمین بیٹے کی ہی ہوگی کیونکہ باپ کو نابالغ بیٹے کے لئے خریداری کا اختیار ہے اور باپ رقم کی ادائیگی میں بیٹے کے حق میں متبرع ہوگاکیونکہ اس نے رجوع کااظہار نہیں کیا۔(ت)
اور جائداد کا تاحیات زید قبضہ بکر میں نہ آنا کچھ مضر نہیں کہ اول تو زید کی ملك بربنائے ھبہ نہیں بلکہ بربنائے خرید پدر ہے کما علمت انفا(جیسا کہ تونے ابھی جانا۔ت)اور ملك بذریعہ شراء قبضہ پر موقوف نہیں اور بالفرض ھبہ ہی ٹھہرائے تو قبضہ پدر بعینہ قبضہ پسر نابالغ ہےمجمع الانہر میں ہے:
ھبۃ الاب لطفلہ تتم بالعقد لانہ فی قبض الاب فینوب عن قبض الصغیر نابالغ بچے کے لئے باپ کا ھبہ صرف عقد سے ہی تام ہوجا تاہے کیونکہ وہ ھبہ باپ کے قبضہ میں بیٹے کے نائب ہونے کی حیثیت سے ہے
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الوصایا باب الوصی ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۳۳۷€
لانہ ولیہ ۔ کیونکہ یہ اس کا ولی ہے۔(ت)
اورآمدنی جائداد سے بکر کو سروکار نہ ہونا بھی ملك بکر کے منافی نہیں نابالغ کی خود اپنی جائداد خاص غیر عطائے پدرہوتی ہے تو اس پر اور اس کی آمدنی پر بھی باپ ہی کا تصرف واختیار ہوتا نابالغ کو اس سے بھی کچھ سروکار نہ ہوتا اور بعد بلوغ بھی عام طورپر دیکھا جاتاہے کہ جو جائدادیں لوگ اپنے بیٹوں کو لکھ دیتے اور تکمیل ھبہ کے لئے بھی قبضہ کرادیتے ہیں بلکہ در پردہ بیع صحیح شرعی وھبہ ثمن تملیك بلاعوض کی تکمیل کرتے ہیں ان پر بھی تاحیات آباء ان مالکان واقعی کا کچھ اختیار اور باپ کی دست نگری کے ساتھ روٹی کپڑے کے سوا کسی چیز سے سروکار نہیں ہوتا اور اتفاقا جو حیات پدر میں اپنا مستقل اختیار رکھنا چاہتاہے بدوضع وآوارہ ناسعادت مند گنا جاتاہےنظیر اس کی اس کا عکس ہے کہ جب بیٹے لائق وہوشیار وقابل کار ہوتے اور باپ اپنا فارغ البال رہنا چاہتے ہیں تمام املاك پدر قبضہ وتصرف ابناء میں رہتے ہیں۔مالکوں کو روٹی کپڑے کے سوا کچھ تعلق نہیں ہوتا جبکہ اس سے بیٹوں کا مالك ہونا لازم نہیں آتا اس سے باپ کا مالك ہونا ہی سمجھا جائے گا بلکہ بدرجہ اولی کہ بیٹوں کا قبضہ نہ ہونا توکراہت قلبی سے بھی ہوسکتاہے کہ دل میں قبضہ پدر سے راضی نہ ہو مگر لحاظ کے باعث مانع نہیں آتےخصوصا نابالغ کہ اس کی رضا بھی کوئی شے نہیں بخلاف آباء کہ ان کی املاك پر تصرفات ابناء ان کی رضاہی سے ہوتے ہیں باوجود اس کے یہ قبضہ واختیار وتصرف واقتدار دلیل ملك نہیں ہوتا
کما فی الخیریۃ وفی القنیۃ فع(ای فتاوی العصر للامام علی السندی)عن(ای الامام عمر النسفی) امراوالادہ ان یقسموا ارضہ التی فی ناحیۃ کذا بینہم ففعلوا لایثبت الملك لہمظم(ای الامام ظہیر الدین المرغینانی)مثلہ بخ(ای الامام بکر خواہر زادہ)قال لولدہ تصرف ھذہ الارض فاخذ یتصرفہا جیسا کہ فتاوی خیریہ میں ہےاور قنیہ میں"فع"یعنی فتاوی العصر امام علی سندی عن یعنی امام عمر نسفیباپ نے بیٹوں سے کہا کہ فلاں علاقہ میں واقع میری زمین کو آپس میں تقسیم کرلوانہوں نے ایساکیا تو بیٹوں کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔ "ظم"یعنی امام ظہیر الدین المرغینانیاس کی مثل"بخ"یعنی امام بکر خواہر زادہایك شخص نے اپنے بیٹے سے کہا اس زمین میں تصرف کرلوتو بیٹے نے تصرف شروع
اورآمدنی جائداد سے بکر کو سروکار نہ ہونا بھی ملك بکر کے منافی نہیں نابالغ کی خود اپنی جائداد خاص غیر عطائے پدرہوتی ہے تو اس پر اور اس کی آمدنی پر بھی باپ ہی کا تصرف واختیار ہوتا نابالغ کو اس سے بھی کچھ سروکار نہ ہوتا اور بعد بلوغ بھی عام طورپر دیکھا جاتاہے کہ جو جائدادیں لوگ اپنے بیٹوں کو لکھ دیتے اور تکمیل ھبہ کے لئے بھی قبضہ کرادیتے ہیں بلکہ در پردہ بیع صحیح شرعی وھبہ ثمن تملیك بلاعوض کی تکمیل کرتے ہیں ان پر بھی تاحیات آباء ان مالکان واقعی کا کچھ اختیار اور باپ کی دست نگری کے ساتھ روٹی کپڑے کے سوا کسی چیز سے سروکار نہیں ہوتا اور اتفاقا جو حیات پدر میں اپنا مستقل اختیار رکھنا چاہتاہے بدوضع وآوارہ ناسعادت مند گنا جاتاہےنظیر اس کی اس کا عکس ہے کہ جب بیٹے لائق وہوشیار وقابل کار ہوتے اور باپ اپنا فارغ البال رہنا چاہتے ہیں تمام املاك پدر قبضہ وتصرف ابناء میں رہتے ہیں۔مالکوں کو روٹی کپڑے کے سوا کچھ تعلق نہیں ہوتا جبکہ اس سے بیٹوں کا مالك ہونا لازم نہیں آتا اس سے باپ کا مالك ہونا ہی سمجھا جائے گا بلکہ بدرجہ اولی کہ بیٹوں کا قبضہ نہ ہونا توکراہت قلبی سے بھی ہوسکتاہے کہ دل میں قبضہ پدر سے راضی نہ ہو مگر لحاظ کے باعث مانع نہیں آتےخصوصا نابالغ کہ اس کی رضا بھی کوئی شے نہیں بخلاف آباء کہ ان کی املاك پر تصرفات ابناء ان کی رضاہی سے ہوتے ہیں باوجود اس کے یہ قبضہ واختیار وتصرف واقتدار دلیل ملك نہیں ہوتا
کما فی الخیریۃ وفی القنیۃ فع(ای فتاوی العصر للامام علی السندی)عن(ای الامام عمر النسفی) امراوالادہ ان یقسموا ارضہ التی فی ناحیۃ کذا بینہم ففعلوا لایثبت الملك لہمظم(ای الامام ظہیر الدین المرغینانی)مثلہ بخ(ای الامام بکر خواہر زادہ)قال لولدہ تصرف ھذہ الارض فاخذ یتصرفہا جیسا کہ فتاوی خیریہ میں ہےاور قنیہ میں"فع"یعنی فتاوی العصر امام علی سندی عن یعنی امام عمر نسفیباپ نے بیٹوں سے کہا کہ فلاں علاقہ میں واقع میری زمین کو آپس میں تقسیم کرلوانہوں نے ایساکیا تو بیٹوں کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔ "ظم"یعنی امام ظہیر الدین المرغینانیاس کی مثل"بخ"یعنی امام بکر خواہر زادہایك شخص نے اپنے بیٹے سے کہا اس زمین میں تصرف کرلوتو بیٹے نے تصرف شروع
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر کتاب الھبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۳۵۷€
لاتصیر ملکالہ ۔ کردیا اس سے بیٹے کی ملکیت نہ بنے گی۔(ت)
یوہیں زید کا جائداد عمرو پسر دوم کی نسبت اس کی مرگ کے بعد یہ ظاہر کرنا کہ جائداد میری ہے میرے روپیہ سے خریدی گئیعمرو کانام فرضی تھا کچھ مضرت نہیں کرتا کہ اول تو یہ صرف اس کا زبانی دعوی تھا ملك عمرو شرعا ثابت ہوئی صرف اس کے اسم فرضی بتانے سےکیونکر زائل ہوسکتی تھینہ اس کے روپیہ سے خریدا جانا اس کے ملك پر دلیل تھا جبکہ صراحۃ اس نے پسر نابالغ کے نام خریدی فتاوی خیریہ میں ہے:
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب ۔ باپ کے مال سے خریداری کرنے سے لازم نہیں کہ وہ مبیع باپ کی ملك ہو۔(ت)
اور بالفرض ہوبھی تو اس سے بکر کا نام بھی فرض ہونالازم نہیں۔تو بلاوجہ دلیل شرعی سے کیونکہ عدول ہوسکتاہےپس لاجرم یہ جائدادیں کہ زید نے بکر کے نام خریدیں ہر گز محل توریث نہیں۔اسی طرح وہ بھی جو بکر نے اپنے یا اپنے نابالغ بیٹوں کے نام مول لیں اگرچہ قیمت زر مشترك سے ادا کی ہو
فان الشراء متی وجد نفاذا علی عاقد نفذ کما فی الھدایۃ والدرالمختار وغیرھا من الاسفار۔ کیونکہ خریداری جب خریدار پر نافذ ہوتو وہ نافذ ہی قرار پائے گیجیسا کہ ہدایہدرمختار وغیرہما کتب میں ہے۔(ت)
خیریہ میں ہے:
لاتثبت الدار للاب بقول الا بن اشتریتھا من مال ابی ۔ بیٹے کے یہ کہنے سے کہ میں نے یہ گھر باپ کے مال سے خریدا ہےباپ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔(ت)
غایت یہ کہ اگر ثابت ہوجائے کہ زرثمن مال مشترك سے دیا گیا تو باقی ورثاء کا اس قدر روپیہ بقدر اپنے اپنے حصص کے بکر پر قرض رہے گا جس کے مطالبہ کے وہ مستحق ہیں نہ کہ جائداد کا کوئی پارہ ان کی ملك ٹھہرےردالمحتار میں ہے:
یوہیں زید کا جائداد عمرو پسر دوم کی نسبت اس کی مرگ کے بعد یہ ظاہر کرنا کہ جائداد میری ہے میرے روپیہ سے خریدی گئیعمرو کانام فرضی تھا کچھ مضرت نہیں کرتا کہ اول تو یہ صرف اس کا زبانی دعوی تھا ملك عمرو شرعا ثابت ہوئی صرف اس کے اسم فرضی بتانے سےکیونکر زائل ہوسکتی تھینہ اس کے روپیہ سے خریدا جانا اس کے ملك پر دلیل تھا جبکہ صراحۃ اس نے پسر نابالغ کے نام خریدی فتاوی خیریہ میں ہے:
لایلزم من الشراء من مال الاب ان یکون المبیع للاب ۔ باپ کے مال سے خریداری کرنے سے لازم نہیں کہ وہ مبیع باپ کی ملك ہو۔(ت)
اور بالفرض ہوبھی تو اس سے بکر کا نام بھی فرض ہونالازم نہیں۔تو بلاوجہ دلیل شرعی سے کیونکہ عدول ہوسکتاہےپس لاجرم یہ جائدادیں کہ زید نے بکر کے نام خریدیں ہر گز محل توریث نہیں۔اسی طرح وہ بھی جو بکر نے اپنے یا اپنے نابالغ بیٹوں کے نام مول لیں اگرچہ قیمت زر مشترك سے ادا کی ہو
فان الشراء متی وجد نفاذا علی عاقد نفذ کما فی الھدایۃ والدرالمختار وغیرھا من الاسفار۔ کیونکہ خریداری جب خریدار پر نافذ ہوتو وہ نافذ ہی قرار پائے گیجیسا کہ ہدایہدرمختار وغیرہما کتب میں ہے۔(ت)
خیریہ میں ہے:
لاتثبت الدار للاب بقول الا بن اشتریتھا من مال ابی ۔ بیٹے کے یہ کہنے سے کہ میں نے یہ گھر باپ کے مال سے خریدا ہےباپ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔(ت)
غایت یہ کہ اگر ثابت ہوجائے کہ زرثمن مال مشترك سے دیا گیا تو باقی ورثاء کا اس قدر روپیہ بقدر اپنے اپنے حصص کے بکر پر قرض رہے گا جس کے مطالبہ کے وہ مستحق ہیں نہ کہ جائداد کا کوئی پارہ ان کی ملك ٹھہرےردالمحتار میں ہے:
حوالہ / References
القینۃ المنیۃ لتتمیم الغنیۃ کتاب الھبہ باب فی الفاظ التی ضیعقد بہاالھبۃ ∞کلکتہ بھارت ص۲۱۴€
فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۲۱۹€
درمختار کتاب الوکالۃ فصل لا یعقد وکیل البیع الخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۰۹€
فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۱ /۲۱۹€
فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۲۱۹€
درمختار کتاب الوکالۃ فصل لا یعقد وکیل البیع الخ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۰۹€
فتاوٰی خیریہ کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۱ /۲۱۹€
ما اشتراہ احدہم لنفسہ یکون لہ ویضمن حصۃ شرکائۃ من ثمنہ اذا دفعہ من المال المشترك ۔ ان میں سے جو بھی اپنی ذات کے لئے خریدے گا وہ اسی کی ہوگیاور اس کے شرکاء حضرات اتنے ثمن کا اس کو ضامن بنائیں بشرطیکہ اس نے مشترکہ مال سے ادائیگی کی ہو۔(ت)
پس ثابت ہوا کہ زید نے جو نقد روپیہ چھوڑا یا زید عمرو وزوجہ زید کے نام جو جائدادیں تھیں پس وہی متروکہ زید وزوجہ زید ہیں باقی جائدادیں کہ زید نے بکر کے نام یا بکر نے خود اپنے نام یا اپنے بیٹوں کے نام خریدیں ملك بکر وپسران بکر ہیں جن میں باقی ورثہ زید کا کوئی حق نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۰: ۶صفر ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے منجملہ جائداد موروثی اور خود خرید مقبوضہ مملوکہ اپنے کے بنظر حق تلفی دیگر ورثاء شرعی کے نصف جائداد بطریق ساز اور مصلحت وقت اپنی زوجہ مدخولہ نومسلم شیعہ کے نام تاحین حیات اس کے ھبہ کردی اور اختیار انتقال اور قبضہ جائداد موہوبہ پر موہوب الیہا کونہ دیا اور تحصیل وتشخیص ومصارف ضروری وغیر ضروری اپنے اختیار میں رکھی اور یہ شرط ھبہ نامہ میں لکھی کہ بالعوض حق الخدمت یہ جائداد ھبہ کی جاتی ہے تاحین حیات اپنے موہوب الیہا مالك اس جائدا کی گردانی جائے اس کے بعد دختر متوفیہ کی اولاد کہ محجوب الارث ہے مالك ہوگی اور وہ شیعہ مذھب ہےبعد تملیك ھبہ نامہ کے زید نے ایك جزء موہوبہ کا بیع کرڈالا اور بقیہ موہوبہ کو بشمول جز منجملہ نصف جائداد وغیرہ موہوبہ کے اپنی اور زوجہ مدخولہ کی طرف سے اس نواسہ شیعہ محجوب الارث کے نام بلاکسی استحقاق ھبہ مکر رکیا اور تاحین حیات اپنے خود قابض ومتصرف رہا اور مرگیاایسی صورت میں یہ ھبہ شرعا جائز ہے یاناجائز
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ دونوں ھبہ محض باطل وبے اثر ہیں اور جائداد میں اس عورت خواہ نواسے کا کوئی استحقاق بذریعہ ھبہ نہیں بلکہ تمام وکمال وہ جائداد خاص متروکہ زید قرار پاکر بحکم فرائض اس کے وارثوں پر تقسیم کی جائے گی یہاں بطلان ھبہ کے لئے اگر اور کوئی وجہ نہ ہو تو اسی قدر بس ہے کہ حیات واھب میں قبضہ نہ ملاعالمگیریہ میں ہے:
پس ثابت ہوا کہ زید نے جو نقد روپیہ چھوڑا یا زید عمرو وزوجہ زید کے نام جو جائدادیں تھیں پس وہی متروکہ زید وزوجہ زید ہیں باقی جائدادیں کہ زید نے بکر کے نام یا بکر نے خود اپنے نام یا اپنے بیٹوں کے نام خریدیں ملك بکر وپسران بکر ہیں جن میں باقی ورثہ زید کا کوئی حق نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۰: ۶صفر ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے منجملہ جائداد موروثی اور خود خرید مقبوضہ مملوکہ اپنے کے بنظر حق تلفی دیگر ورثاء شرعی کے نصف جائداد بطریق ساز اور مصلحت وقت اپنی زوجہ مدخولہ نومسلم شیعہ کے نام تاحین حیات اس کے ھبہ کردی اور اختیار انتقال اور قبضہ جائداد موہوبہ پر موہوب الیہا کونہ دیا اور تحصیل وتشخیص ومصارف ضروری وغیر ضروری اپنے اختیار میں رکھی اور یہ شرط ھبہ نامہ میں لکھی کہ بالعوض حق الخدمت یہ جائداد ھبہ کی جاتی ہے تاحین حیات اپنے موہوب الیہا مالك اس جائدا کی گردانی جائے اس کے بعد دختر متوفیہ کی اولاد کہ محجوب الارث ہے مالك ہوگی اور وہ شیعہ مذھب ہےبعد تملیك ھبہ نامہ کے زید نے ایك جزء موہوبہ کا بیع کرڈالا اور بقیہ موہوبہ کو بشمول جز منجملہ نصف جائداد وغیرہ موہوبہ کے اپنی اور زوجہ مدخولہ کی طرف سے اس نواسہ شیعہ محجوب الارث کے نام بلاکسی استحقاق ھبہ مکر رکیا اور تاحین حیات اپنے خود قابض ومتصرف رہا اور مرگیاایسی صورت میں یہ ھبہ شرعا جائز ہے یاناجائز
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ دونوں ھبہ محض باطل وبے اثر ہیں اور جائداد میں اس عورت خواہ نواسے کا کوئی استحقاق بذریعہ ھبہ نہیں بلکہ تمام وکمال وہ جائداد خاص متروکہ زید قرار پاکر بحکم فرائض اس کے وارثوں پر تقسیم کی جائے گی یہاں بطلان ھبہ کے لئے اگر اور کوئی وجہ نہ ہو تو اسی قدر بس ہے کہ حیات واھب میں قبضہ نہ ملاعالمگیریہ میں ہے:
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الشرکۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳ /۳۳۸€
لایثبت الملك للموہوب لہ قبل القبض ۔ قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی (ت)
درمختارمیں ہے:
المیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل ۔واﷲ تعالی اعلم۔ "م"فریقین میں سےکسی ایك کی سونپ دینے کے بعد موت ہو اور سونپنے سے پہلے ہو تو ھبہ باطل ہےواﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۵۱: ۳ ربیع الثانی ۱۳۰۸ھ
جناب مولوی صاحب قبلہ! بعد تسلیم نیاز کے گزارش ہے اگر زید نے عمرو کو کوئی چیز ھبہ بلا عوض کی اور اس کو دس بارہ برس کا عرصہ بھی گزر گیا وہ جب سے قابض ودخیل ہے تو زید اس کو واپس کرسکتاہے یا نہیں فقط راقم خاکسار عزیز اللہ۔
الجواب:
اگر ۱وہ شخص اس کا ذی رحم محرم نہیں یعنی نسب کے رو سے ان میں باہم وہ رشتہ نہیں جو ہمیشہ ہمیشہ حرمت نکاح کا موجب ہوتاہے جیسے ماںباپدادادادینانانانیچچاماموںخالہپھوپھیبیٹابیٹیپوتاپوتینواسہبھائیبہنبھتیجابھتیجی بھانجا بھانجی۲نہ یہ واھب وموہوب لہ وقت ھبہ باہم زوج وزوجہ تھے۳نہ موہوب لہ وقت ہبہ فقیر تھا۴نہ اب تك موہوب لہ اس ھبہ کے عوض میں کوئی چیز یہ جتا کرواہب کود ے چکا ہے کہ یہ تیرے ہبہ کا معاوضہ ہے۵نہ اس عین شیئ موہوب میں کوئی ایسی زیادت موہوب لہ کے پاس حاصل ہوئی اور اب تك باقی ہے جس سے قیمت بڑھ جائے جیسے زمین میں عمارت یا پیڑ یاکپڑے میں رنگ یا جاندار میں فربہی یاکنیز میں حسن یا اسے کوئی صنعت یا علم آجانا تو ان سب شرائط کے ساتھ ۶جب تك وہ شے موہوب اس موھب لہ کی ملك میں باقی و۷قائم اور ۸واہب وموہوب لہ دونوں زندہ ہیں اگرچہ ھبہ کو سوبرس گزر چکے ہوں واپس لینے کا اختیار ہے بایں معنی کہ یا تو موہوب لہ خود واپسی پر راضی ہوجائے یا یہ بحکم حاکم شرع واپس کرالے ورنہ آپ جبرا لے لینے کا کسی غیر حاکم شرعی کے حکم سے واپس کرانے کا اصلا اخیتار نہیں یونہی اگر ان آٹھ شرطوں میں سے کوئی بھی کم ہے توواپسی کا مطلقا اختیار نہ ہوگاپھر یہاں اختیار کا صرف اتنا حاصل کہ واپسی صحیح
درمختارمیں ہے:
المیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل ۔واﷲ تعالی اعلم۔ "م"فریقین میں سےکسی ایك کی سونپ دینے کے بعد موت ہو اور سونپنے سے پہلے ہو تو ھبہ باطل ہےواﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۵۱: ۳ ربیع الثانی ۱۳۰۸ھ
جناب مولوی صاحب قبلہ! بعد تسلیم نیاز کے گزارش ہے اگر زید نے عمرو کو کوئی چیز ھبہ بلا عوض کی اور اس کو دس بارہ برس کا عرصہ بھی گزر گیا وہ جب سے قابض ودخیل ہے تو زید اس کو واپس کرسکتاہے یا نہیں فقط راقم خاکسار عزیز اللہ۔
الجواب:
اگر ۱وہ شخص اس کا ذی رحم محرم نہیں یعنی نسب کے رو سے ان میں باہم وہ رشتہ نہیں جو ہمیشہ ہمیشہ حرمت نکاح کا موجب ہوتاہے جیسے ماںباپدادادادینانانانیچچاماموںخالہپھوپھیبیٹابیٹیپوتاپوتینواسہبھائیبہنبھتیجابھتیجی بھانجا بھانجی۲نہ یہ واھب وموہوب لہ وقت ھبہ باہم زوج وزوجہ تھے۳نہ موہوب لہ وقت ہبہ فقیر تھا۴نہ اب تك موہوب لہ اس ھبہ کے عوض میں کوئی چیز یہ جتا کرواہب کود ے چکا ہے کہ یہ تیرے ہبہ کا معاوضہ ہے۵نہ اس عین شیئ موہوب میں کوئی ایسی زیادت موہوب لہ کے پاس حاصل ہوئی اور اب تك باقی ہے جس سے قیمت بڑھ جائے جیسے زمین میں عمارت یا پیڑ یاکپڑے میں رنگ یا جاندار میں فربہی یاکنیز میں حسن یا اسے کوئی صنعت یا علم آجانا تو ان سب شرائط کے ساتھ ۶جب تك وہ شے موہوب اس موھب لہ کی ملك میں باقی و۷قائم اور ۸واہب وموہوب لہ دونوں زندہ ہیں اگرچہ ھبہ کو سوبرس گزر چکے ہوں واپس لینے کا اختیار ہے بایں معنی کہ یا تو موہوب لہ خود واپسی پر راضی ہوجائے یا یہ بحکم حاکم شرع واپس کرالے ورنہ آپ جبرا لے لینے کا کسی غیر حاکم شرعی کے حکم سے واپس کرانے کا اصلا اخیتار نہیں یونہی اگر ان آٹھ شرطوں میں سے کوئی بھی کم ہے توواپسی کا مطلقا اختیار نہ ہوگاپھر یہاں اختیار کا صرف اتنا حاصل کہ واپسی صحیح
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۴€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
ہوجائے گی لیکن گناہ ہرطرح ہوگا کہ دے کر پھیرناشرعا منع ہےنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے اس کی مثال ایسی فرمائی جیسے کتاقے کرکے چاٹ لیتاہے والعیاذ باﷲ تعالی والمسائل کلہا مبسوطۃ فی الدرالمختار وغیرہ من الاسفار(اﷲ تعالی کی پناہاور یہ تمام مسائل درمختار وغیرہ کتب میں بسط سے مذکور ہیں۔ت) صحیح بخاری وصحیح مسلم میں ہےحضور پرنور سید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
العائد فی ھبتہ کالقلب یعود فی قیئہ لیس لنا مثل السوء رویاہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ ہبہ دے کر رجوع کرنے والا اپنی قے میں عود کرنے والے کتے کی طرح ہے۔بری مثال ہمارے شایان شان نہیں دونوں نے اسے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔(ت)
سنن اربعہ میں ہے حضور اقدس سید العالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مثل الذی یعطی العطیۃ ثم یرجع فیہا کمثل الکلب أکل حتی اذا شبع قاء ثم عاد فی قیئہ رواہ عن ابن عمر و ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم وصححہ الترمذیواﷲ تعالی اعلم۔ اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر پھر اس میں رجوع کرتاہے اس کتے کی طرح ہے جو سیر ہوکر کھاتا ہے پھر سیر ہوجانے پر قے کرتاہے اور قے میں رجوع کرتاہے یعنی چاٹتا ہے۔ انہوں نے اس کو ابن عمر اور ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم نے روایت کیا اور ترمذی نے اس کی تصحیح کی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
العائد فی ھبتہ کالقلب یعود فی قیئہ لیس لنا مثل السوء رویاہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ ہبہ دے کر رجوع کرنے والا اپنی قے میں عود کرنے والے کتے کی طرح ہے۔بری مثال ہمارے شایان شان نہیں دونوں نے اسے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا۔(ت)
سنن اربعہ میں ہے حضور اقدس سید العالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مثل الذی یعطی العطیۃ ثم یرجع فیہا کمثل الکلب أکل حتی اذا شبع قاء ثم عاد فی قیئہ رواہ عن ابن عمر و ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم وصححہ الترمذیواﷲ تعالی اعلم۔ اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر پھر اس میں رجوع کرتاہے اس کتے کی طرح ہے جو سیر ہوکر کھاتا ہے پھر سیر ہوجانے پر قے کرتاہے اور قے میں رجوع کرتاہے یعنی چاٹتا ہے۔ انہوں نے اس کو ابن عمر اور ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہم نے روایت کیا اور ترمذی نے اس کی تصحیح کی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب البیوع باب ماجاء فی کراھیۃ الرجوع من الھبۃ ∞امین کمپنی کراچی ۱ /۱۵۵،€صحیح البخاری کتاب الھبۃ ∞۱ /۳۵۷€ و کتاب الحیل ∞۲ /۱۰۳۲ قدیمی کتب خانہ کراچی،€صحیح مسلم کتاب الھبات باب تحریم الرجوع فی الصدقۃ بعد القبض الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۶€
جامع الترمذی ابواب البیوع باب ماجاء فی کراھیۃ الرجوع من الھبۃ ∞امین کمپنی کراچی ۱ /۱۵۵،€صحیح البخاری کتاب الھبۃ ∞۱ /۳۵۷€ و کتاب الحیل ∞۲ /۱۰۳۲ قدیمی کتب خانہ کراچی،€صحیح مسلم کتاب الھبات باب تحریم الرجوع فی الصدقۃ بعد القبض الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۶€
جامع الترمذی ابواب البیوع باب ماجاء فی کراھیۃ الرجوع من الھبۃ ∞امین کمپنی کراچی ۱ /۱۵۵،€صحیح البخاری کتاب الھبۃ ∞۱ /۳۵۷€ و کتاب الحیل ∞۲ /۱۰۳۲ قدیمی کتب خانہ کراچی،€صحیح مسلم کتاب الھبات باب تحریم الرجوع فی الصدقۃ بعد القبض الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۶€
مسئلہ ۵۲: ۴ ربیع الثانی ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے ایك بھائی حقیقی اور تین حقیقی بھتیجوں کو ایك مکان ہبہ بلاعوض کیا اور بیعنامہ رجسٹری کراکر ان کے حوالے کیا جس کو عرصہ دس بارہ برس کا گزر گیا کہ یوم ہبہ سے وہ ہرطرح اب تك اس پر قابض اور دخیل ہیں اور مرمت اور شکست وریخت وغیرہ سب انہیں کے اختیار اور ہاتھ سے ہوتے رہے اور اس درمیان تین بھتیجوں میں سے دو نے قضا کی ان کی جگہ ان کی اولاد خورد سال اور ان کی بیویاں قائم وقابض ہوئیںاب زید ہبہ کو فسخ کیا چاہتاہے تو اب اس کو واپس لینے کا اختیار حاصل ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
اگر زید نے وہ مکان تقسیم کرکے ہر موہوب لہ کو ایك محدود ومعین وممتاز ٹکڑے پر جداجدا قبضہ کامبلکہ کرادیا تھا یا وہ مکان کوئی چھوٹی سی دکان یا کوٹھری تھا کہ قابلیت تقسیم نہ رکھتا تھا یا چاروں موہوب او وقت ہبہ فقیر تھے(اور فقر کے معنی بالغوں کے لئے یہ ہیں کہ مال بقدر نصاب کے خود مالك نہ ہوں اگرچہ ان کے والدین غنی یعنی مالك نصاب ہوں اور نابالغ کے فقر میں یہ بھی شرط ہے کہ اس کا غنی باپ زندہ موجود نہ ہواگر ماں غنیہ ہوکر بچہ اپنے باپ کی زندگی میں اس کے غنا سے غنی قرار پاتاہے یہاں تك کہ اسے زکوۃ وصدقہ واجبہ دینا روانہیں اورماں کے غنا سے غنی نہیں ٹھہرتا)ان صورتوں میں وہ ہبہ قطعا صحیح وتام ونافذ ولازم ہوگیا جس میں رجوع کا زید کو ہر گز اختیار نہیں کہ موہوب لہم فقیر ہیں تو ہبہ صدقہ ہے اور صدقہ میں رجوع نہیں۔ورنہ وہ سب واہب کے ذی رحم محرم ہیں اور ایسی قرابت میں ہبہ سے رجوع ناجائزخصوصا بھتیجوں کے حصہ میں تو رجوع سے ایك اور مانع بھی پیش آیا یعنی موہوب لہم کا مرجانا کہ جواز رجوع کے لئے زندگی عاقدین میں شرط ہے۔
فی الدر المختار تتم الھبۃ بالقبنض الکامل فی محوز مقسوم ومشاع لا یبقی منتفعا بہ بعد ان یقسم کبیت وحمام صغیرین لانہا لاتتم بالقبض فیما یقسم لعدم تصور القبض الکامل فان قسمہ وسلمہ صح لزوال المانع وھب درمختار میں ہے کامل قبضہ سے ہبہ تام ہوتاہے اس میں جو تقسیم ہوکر محفوظ چیز اور ایسی غیر منقسم چیز جو تقسیم ہوکر محفوظ اور قابل اتنفاع نہ رہے جیسے چھوٹا کمرہ اور چھوٹا حمام کیونکہ قابل تقسیم چیز میں قبضہ تام نہیں ہوتا اس لئے کہ کامل قبضہ متصور نہیں ہوسکتاہاں اگر قابل تقسیم کو تقسیم کرکے سونپا تو صحیح ہے کیونکہ مانع زائل ہوگیا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے ایك بھائی حقیقی اور تین حقیقی بھتیجوں کو ایك مکان ہبہ بلاعوض کیا اور بیعنامہ رجسٹری کراکر ان کے حوالے کیا جس کو عرصہ دس بارہ برس کا گزر گیا کہ یوم ہبہ سے وہ ہرطرح اب تك اس پر قابض اور دخیل ہیں اور مرمت اور شکست وریخت وغیرہ سب انہیں کے اختیار اور ہاتھ سے ہوتے رہے اور اس درمیان تین بھتیجوں میں سے دو نے قضا کی ان کی جگہ ان کی اولاد خورد سال اور ان کی بیویاں قائم وقابض ہوئیںاب زید ہبہ کو فسخ کیا چاہتاہے تو اب اس کو واپس لینے کا اختیار حاصل ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
اگر زید نے وہ مکان تقسیم کرکے ہر موہوب لہ کو ایك محدود ومعین وممتاز ٹکڑے پر جداجدا قبضہ کامبلکہ کرادیا تھا یا وہ مکان کوئی چھوٹی سی دکان یا کوٹھری تھا کہ قابلیت تقسیم نہ رکھتا تھا یا چاروں موہوب او وقت ہبہ فقیر تھے(اور فقر کے معنی بالغوں کے لئے یہ ہیں کہ مال بقدر نصاب کے خود مالك نہ ہوں اگرچہ ان کے والدین غنی یعنی مالك نصاب ہوں اور نابالغ کے فقر میں یہ بھی شرط ہے کہ اس کا غنی باپ زندہ موجود نہ ہواگر ماں غنیہ ہوکر بچہ اپنے باپ کی زندگی میں اس کے غنا سے غنی قرار پاتاہے یہاں تك کہ اسے زکوۃ وصدقہ واجبہ دینا روانہیں اورماں کے غنا سے غنی نہیں ٹھہرتا)ان صورتوں میں وہ ہبہ قطعا صحیح وتام ونافذ ولازم ہوگیا جس میں رجوع کا زید کو ہر گز اختیار نہیں کہ موہوب لہم فقیر ہیں تو ہبہ صدقہ ہے اور صدقہ میں رجوع نہیں۔ورنہ وہ سب واہب کے ذی رحم محرم ہیں اور ایسی قرابت میں ہبہ سے رجوع ناجائزخصوصا بھتیجوں کے حصہ میں تو رجوع سے ایك اور مانع بھی پیش آیا یعنی موہوب لہم کا مرجانا کہ جواز رجوع کے لئے زندگی عاقدین میں شرط ہے۔
فی الدر المختار تتم الھبۃ بالقبنض الکامل فی محوز مقسوم ومشاع لا یبقی منتفعا بہ بعد ان یقسم کبیت وحمام صغیرین لانہا لاتتم بالقبض فیما یقسم لعدم تصور القبض الکامل فان قسمہ وسلمہ صح لزوال المانع وھب درمختار میں ہے کامل قبضہ سے ہبہ تام ہوتاہے اس میں جو تقسیم ہوکر محفوظ چیز اور ایسی غیر منقسم چیز جو تقسیم ہوکر محفوظ اور قابل اتنفاع نہ رہے جیسے چھوٹا کمرہ اور چھوٹا حمام کیونکہ قابل تقسیم چیز میں قبضہ تام نہیں ہوتا اس لئے کہ کامل قبضہ متصور نہیں ہوسکتاہاں اگر قابل تقسیم کو تقسیم کرکے سونپا تو صحیح ہے کیونکہ مانع زائل ہوگیا
اثنان دارا لواحد صح وبعکسہ لا لشیوع فیما یحتمل القسمۃ واذا تصدق بعشرۃ دراھم اووھبھا الفقیرین صح لان الھبۃ للفقیر صدقہ والصدقۃ یراد بہا وجہ اﷲ تعالی وہو واحد فلا شیوعویمنع الرجوع فیہا موت احد المتعاقدین بعد التسلیم و القرابۃ فلو وھب لذی رحم محرم منہ نیسا لا یرجع اھ ملتقطا وفی ردالمحتار عن التتارخانیۃ عن المضمرات لوقال وھبت منکما ھذہ الدار والموہوب لہما فقیران صحت الھبۃ بالاجماع اھ وفی مختصر القدوری لایصح الرجوع فی الصدقۃ بعد القبض اھ ۔ دو حضرات نے ایك مکان ایك شخص کو ہبہ کیا تو صحیح ہے۔اگر عکس ہو یعنی ایك نے دو کو ہبہ کیا تو صحیح نہیں کیونکہ قابل تقسیم غیر منقسم ہوااور اگر دس درہم صدقہ کئے یا دو فقیروں کو ہبہ کئے صحیح ہے کیونکہ فقیر کو ہبہ بھی صدقہ ہوتاہے اور صدقہ اﷲ تعالی کے لئے ہوتاہے اور وہ ایك ہی ذات ہےتو غیر منقسم ہونا نہ پایا گیااور فریقین سے ایك کا سونپ دینے کے بعد فوت ہوجا نا اور قرابت رجوع کے لئے مانع ہے تو اگر اپنے کسی نسبی ذی رحم محرم کو ہبہ کیا تو رجوع نہ کرے گا اھ ملتقطااور ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے مضمرات کے حوالہ سے منقول ہے اگر کہا کہ میں تم دونوں کو یہ مکان ہبہ کرتاہوں حالانکہ موہوب لہ دونوں فقیر ہیں تو ہبہ صحیح ہے بالاجماع اھ اور مختصر القدوری میں ہے قبضہ کے بعد صدقہ میں رجوع صحیح نہیں اھ۔(ت)
اور اگروہ مکان بڑا یعنی قابل تقسیم تھا اور زید نے مشاعا چاروں کو ہبہ کیا اور تقسیم کرکے خاص خاص معین حصوں پر جدا جدا قابض نہ کردیا اور موہوب لہم سب یا بعض اس وقت غنی بمعنی مذکور تھے(یعنی ان میں کوئی بذات خود مالك نصاب تھا یا ان میں کسی نابالغ کا باپ مالك نصاب زندہ موجود تھا)تو رجوع وواپسی درکنار یہ ہبہ صحیح ومعتمد وظاہر الروایۃ پر سرے سے مفید ملك واقع نہ ہوا مکان بدستور ملك زید پر باقی ہے جس میں موہوب لہم خواہ ان کے ورثہ کا کوئی حق نہیں ان پر لازم ہے کہ سارامکان زید کو واپس دیں اور زید قطعا اختیار رکھتاہے کہ جس وقت چاہے بے ان کی رضامندی کے بطور خود قبضہ کرلے جس سے نہ ان کی قرابت منع کرسکے نہ بعض عاقدین کا مرجاناکہ مکان ان کی ملك میں
اور اگروہ مکان بڑا یعنی قابل تقسیم تھا اور زید نے مشاعا چاروں کو ہبہ کیا اور تقسیم کرکے خاص خاص معین حصوں پر جدا جدا قابض نہ کردیا اور موہوب لہم سب یا بعض اس وقت غنی بمعنی مذکور تھے(یعنی ان میں کوئی بذات خود مالك نصاب تھا یا ان میں کسی نابالغ کا باپ مالك نصاب زندہ موجود تھا)تو رجوع وواپسی درکنار یہ ہبہ صحیح ومعتمد وظاہر الروایۃ پر سرے سے مفید ملك واقع نہ ہوا مکان بدستور ملك زید پر باقی ہے جس میں موہوب لہم خواہ ان کے ورثہ کا کوئی حق نہیں ان پر لازم ہے کہ سارامکان زید کو واپس دیں اور زید قطعا اختیار رکھتاہے کہ جس وقت چاہے بے ان کی رضامندی کے بطور خود قبضہ کرلے جس سے نہ ان کی قرابت منع کرسکے نہ بعض عاقدین کا مرجاناکہ مکان ان کی ملك میں
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۳ /۱۵۹ تا ۱۶۳€
ردالمحتار کتاب الھبۃ دراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۴€
مختصر القدوری کتاب الھبۃ ∞مطبع مجیدی کانپور ص۱۵۷€
ردالمحتار کتاب الھبۃ دراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۴€
مختصر القدوری کتاب الھبۃ ∞مطبع مجیدی کانپور ص۱۵۷€
ایا ہی نہ تھا جو شرائط رجوع دیکھےجائیں بلکہ بعض علماء کو ہبہ مشاع کو فاسد اور بعد قبضہ ناقصہ مفید ملك خبیث مانتے ہیں ان کے نزدیك بھی اس کا رد واجباور واہب کو ہمیشہ اختیار رجوع رہتاہے جس سے قرابت خواہ موت احدالعاقدین وغیرہما کوئی مانع اصلا منع نہیں کرسکتا۔بہرحال اس صور ت میں ان لوگوں کا قبضہ اگرچہ سالہاسال ہے محض ناجائز وبے اثر اکہ تقادم مدت سے حق ساقط نہیں ہوتا۔ فتاوی خیریہ میں ہے:
لاتصح ھبۃ المشاع الذی یحتمل القسمۃ کالدار و الارض ولوصدق الوارث علی صدورھا من المورث ولا تفید الملك فی ظاھر الروایۃ قال الزیلعی ولوسلمہ شائعا لایملکہ حتی لاینفذ تصرفہ فیہ فیکون مضمونا علیہ وینفذ فیہ تصرف الواھب ذکرہ الطحاوی و قاضی خاں وروی عن ابن رستم مثلہ و ذکر عصام انہا تفید الملك وبہ اخذ بعد المشائخ انتہیومع فادتہا للملك عندھذا البعض اجمع الکل علی ان اللواھب استرداد ھا من الموھوب لہ ولو کان ذارحم محرم من الواھب وکما یکون للواہب الرجوع فیہا یکون لوارثہ بعد موتہ لکونہا مستحقۃ الرد وتضمن بعد الھلاك اھ ملخصا۔ قابل تقسیم چیز کا مشاعی طورپر(غیر منقسم)ہبہ صحیح نہیں جیسے مکان اور زمین اگر چہ موروث کے مرنے کے بعد اس کے وراث تصدیق بھی کردیں کہ مورث نے یہ ہبہ کیا تھااور ظاہر الروایۃ میں یہ ہبہ مفید ملك ہیں ہےامام زیلعی نے فرمایا اگر بطور شیوع ہبہ کیا تو موہوب لہ مالك نہ ہوگا حتی کہ اس کا تصرف اس میں نافذ نہ ہوگا تو وہ مضمون بنے گا جبکہ واہب تصرف کرے تو نافذ ہوگا یہ طحاوی اور قاضیخاں نے ذکر کیا ہےابن رستم سے یہی منقول ہے جبکہ عصام نے ذکر کیا کہ مفید ملك ہوگااسی کو بعض نے لیا ہے اھان بعض حضرات کے مفید ملك ہونے کے باوجود سب کا اس پر اتفاق ہےکہ اگر واہب واپس لینا چاہےتو لےسکتاہے اگرچہ موہوب لہ واہب کا ذی رحم محرم ہواور جس طرح خود واہب رجوع کرسکتاہے اس کی موت کے بعد اس کے ورثاء بھی رجوع کا حق رکھتے ہیں کیونکہ وہ قابل رد ہے اور ہلاك ہوجائے تو اس کا ضمان دیا جائے گا اھ ملخصا۔(ت)
لاتصح ھبۃ المشاع الذی یحتمل القسمۃ کالدار و الارض ولوصدق الوارث علی صدورھا من المورث ولا تفید الملك فی ظاھر الروایۃ قال الزیلعی ولوسلمہ شائعا لایملکہ حتی لاینفذ تصرفہ فیہ فیکون مضمونا علیہ وینفذ فیہ تصرف الواھب ذکرہ الطحاوی و قاضی خاں وروی عن ابن رستم مثلہ و ذکر عصام انہا تفید الملك وبہ اخذ بعد المشائخ انتہیومع فادتہا للملك عندھذا البعض اجمع الکل علی ان اللواھب استرداد ھا من الموھوب لہ ولو کان ذارحم محرم من الواھب وکما یکون للواہب الرجوع فیہا یکون لوارثہ بعد موتہ لکونہا مستحقۃ الرد وتضمن بعد الھلاك اھ ملخصا۔ قابل تقسیم چیز کا مشاعی طورپر(غیر منقسم)ہبہ صحیح نہیں جیسے مکان اور زمین اگر چہ موروث کے مرنے کے بعد اس کے وراث تصدیق بھی کردیں کہ مورث نے یہ ہبہ کیا تھااور ظاہر الروایۃ میں یہ ہبہ مفید ملك ہیں ہےامام زیلعی نے فرمایا اگر بطور شیوع ہبہ کیا تو موہوب لہ مالك نہ ہوگا حتی کہ اس کا تصرف اس میں نافذ نہ ہوگا تو وہ مضمون بنے گا جبکہ واہب تصرف کرے تو نافذ ہوگا یہ طحاوی اور قاضیخاں نے ذکر کیا ہےابن رستم سے یہی منقول ہے جبکہ عصام نے ذکر کیا کہ مفید ملك ہوگااسی کو بعض نے لیا ہے اھان بعض حضرات کے مفید ملك ہونے کے باوجود سب کا اس پر اتفاق ہےکہ اگر واہب واپس لینا چاہےتو لےسکتاہے اگرچہ موہوب لہ واہب کا ذی رحم محرم ہواور جس طرح خود واہب رجوع کرسکتاہے اس کی موت کے بعد اس کے ورثاء بھی رجوع کا حق رکھتے ہیں کیونکہ وہ قابل رد ہے اور ہلاك ہوجائے تو اس کا ضمان دیا جائے گا اھ ملخصا۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الہبہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۱۲€
قہستانی میں ہے:
وکمالا یمنع الرجوع فی الھبۃ الفاسدۃ القرابۃ فکذا غیرھا من الموانع اھ اقول:فقد ظہر الجواب اذا کانوا جمیعا اغنیاء وکذا اذا کان بعضہم غنیا و البعض فیقر لان الشیوع انما لایعمل فی الصدقۃ اذا تصدق بالکل فقیرین اوفقراء لکون المراد بالکل ح ھو وجہ الواحد الاحد الفرد جل جلالہ کما مرعن الدرالمختار ۔امااذاکان بعضہ ھبۃ لغنی فلم یکن المراد بکلہ وجہہ تعالی فتحقق المعنی المانع عن افادۃ الملك الاتری الی ماصرح بہ فی تنویر الابصار و شرحہ الدرالمختار من ان الصدقۃ کالھبۃ بجامع التبرع وح لاتصح غیرمقبوضۃ ولا فی مشاع یقسم اھ قال فی البحر فان قلت تقدم ان الصدقۃ لفقیرین جائزۃ فیما یحتمل القسمۃ بقولہ وصح تصدق عشرۃ لفقیرین قلت المراد ھھنا
جس طرح قرابت فاسدہ ہبہ کو واپس لینے میں مانع نہیں اسی طرح دیگر امور بھی مانع نہیں اھاقول:(میں کہتاہوں)تو جواب واضح ہوگیا کہ صدقہ کی صورت میں سب غنی ہوں یا بعض غنی اور بعض فقیر ہوں تو رجوع صحیح نہیں ہے کیونکہ شیوع صدقہ میں موثر نہیں اسی لئے جب کل دو۲ یا کئی فقیروں پر صدقہ کیا تو صحیح ہے کیونکہ صدقہ واحد احد جل جلالہ کے لئے ہوتاہے جیسا کہ درمختار سے گزرا اور اگراس کل کا بعض حصہ کسی غنی کو ہبہ کیا تو صحیح نہیں کیونکہ اب کل اﷲ وحدہ کے لئے نہ ہوا تو صحیح معتمد مذہب کے مطابق مفید ملك ہونے سے مانع پایا گیا۔آپ نے دیکھا تنویر الابصار اور اس کی شرح درمختار نے جوتصریح کی کہ صدقہ ہبہ کی طرح تبرع کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے تو مفید ملك نہ ہونے کی صور ت میں غیر مقبوض اور قابل تقسیم مشاعی چیز کا ہبہ صحیح نہ ہوگا اھبحر میں فرمایا اگر اعتراض ہوکہ پہلے یہ گزرا کہ قابل تقسیم غیر منقسم چیز کا صدقہ دو۲فقیروں کو جائز ہے جو اس عبارت میں بیان کیا کہ دس دراہم دو۲ فقیروں کو جائز ہے تو میں جواب دیتاہوں
وکمالا یمنع الرجوع فی الھبۃ الفاسدۃ القرابۃ فکذا غیرھا من الموانع اھ اقول:فقد ظہر الجواب اذا کانوا جمیعا اغنیاء وکذا اذا کان بعضہم غنیا و البعض فیقر لان الشیوع انما لایعمل فی الصدقۃ اذا تصدق بالکل فقیرین اوفقراء لکون المراد بالکل ح ھو وجہ الواحد الاحد الفرد جل جلالہ کما مرعن الدرالمختار ۔امااذاکان بعضہ ھبۃ لغنی فلم یکن المراد بکلہ وجہہ تعالی فتحقق المعنی المانع عن افادۃ الملك الاتری الی ماصرح بہ فی تنویر الابصار و شرحہ الدرالمختار من ان الصدقۃ کالھبۃ بجامع التبرع وح لاتصح غیرمقبوضۃ ولا فی مشاع یقسم اھ قال فی البحر فان قلت تقدم ان الصدقۃ لفقیرین جائزۃ فیما یحتمل القسمۃ بقولہ وصح تصدق عشرۃ لفقیرین قلت المراد ھھنا
جس طرح قرابت فاسدہ ہبہ کو واپس لینے میں مانع نہیں اسی طرح دیگر امور بھی مانع نہیں اھاقول:(میں کہتاہوں)تو جواب واضح ہوگیا کہ صدقہ کی صورت میں سب غنی ہوں یا بعض غنی اور بعض فقیر ہوں تو رجوع صحیح نہیں ہے کیونکہ شیوع صدقہ میں موثر نہیں اسی لئے جب کل دو۲ یا کئی فقیروں پر صدقہ کیا تو صحیح ہے کیونکہ صدقہ واحد احد جل جلالہ کے لئے ہوتاہے جیسا کہ درمختار سے گزرا اور اگراس کل کا بعض حصہ کسی غنی کو ہبہ کیا تو صحیح نہیں کیونکہ اب کل اﷲ وحدہ کے لئے نہ ہوا تو صحیح معتمد مذہب کے مطابق مفید ملك ہونے سے مانع پایا گیا۔آپ نے دیکھا تنویر الابصار اور اس کی شرح درمختار نے جوتصریح کی کہ صدقہ ہبہ کی طرح تبرع کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے تو مفید ملك نہ ہونے کی صور ت میں غیر مقبوض اور قابل تقسیم مشاعی چیز کا ہبہ صحیح نہ ہوگا اھبحر میں فرمایا اگر اعتراض ہوکہ پہلے یہ گزرا کہ قابل تقسیم غیر منقسم چیز کا صدقہ دو۲فقیروں کو جائز ہے جو اس عبارت میں بیان کیا کہ دس دراہم دو۲ فقیروں کو جائز ہے تو میں جواب دیتاہوں
حوالہ / References
جامع الرموز
درمختار کتاب البہۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبۃ فصل فی مسائل متفرقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۶€
درمختار کتاب البہۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبۃ فصل فی مسائل متفرقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۶€
من المشاع ان یہب بعضہ لواحد فقط فح ھو مشاع یحتمل القسمۃ بخلاف الفقیرین فانہ لا شیوع کما تقدم اھ فما نحن فیہ عین عــــــہ تلك الصورۃ المصرح کہ یہاں مشاع سے مرادیہ ہے کہ ایك چیز کا بعض ایك کو دیا جائے تو یہ مشاع قابل تقسیم ہے بخلاف جب دو فقیروں کو ہبہ کیا جائے تو شیوع نہ ہوگاجیساکہ گزرا ہے اھ تو ہماری زیر بحث صورت بعینہ یہی ہے۔
عــــــہ: ثم رأیت بحمد اﷲ تعالی نفس الجزئیۃ فی العقود الدریۃ حیث قال وجہ صحتہا اذا کانت لفقیرین ما صرحوا بہ من ان الصدقۃ یراد بہا وجہ اﷲ تعالی وھو واحد فلا شیوع والا فقد صرحوا فی المتون ایضا بان الصدقۃ کالھبۃ لاتصف فی مشاع یقسم ای بان انہ لووھب دارہ مثلا التی تحتمل القسمۃ من غنیین لایصح للشیوع خلافالھما لو تصدق بہا علی فقیرین یصح اتفاقا لما مرولووھب نصفہا لواحد وتصدق بہ علی فقیر واحد لم یصح لتحقق الشیوع اھ ھکذا ھو بالواؤ فی و تصدق فی النسخۃ المطبوعۃ ببولاق مصر ۱۲۷۳ من الھجرۃ المطہرۃ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ پھر میں نے بحمد اﷲ تعالی بعینہ یہ جزئیہ العقود الدریۃ میں دیکھا جہاں انہوں نے فرمایااس کی صحت دو فقیروں کی صورت میں ان کی تصریح کے مطابق یہ ہے کہ صدقہ سے اﷲ تعالی کی رضا مطلوب ہے اور وہ ذات واحد احد ہے توشیوع نہ ہواورنہ تو خود فقہائے نے متون میں تصریح فرمائی ہے کہ صدقہ ہبہ کی طرح قابل تقسیم شیوع میں صحیح نہیں کہ ایك چیز کا بعض حصہ ایك کو صدقہ کرےالحاصل اگر ایك مکان جو قابل تقسیم ہے دو غنی حضرات کوہبہ کیا تو شیوع کی وجہ سے صحیح نہیںاس میں صاحبین کا اختلاف ہےجبکہ یہ مکان دو فقیروں کو صدقہ کیا تو بالاجماع جائز ہے جسیا کہ گزراہےاوراگراس مکان کا بعض غیر منقسم حصہ ایك فقیر کوصدقہ دیا اور بعض حصہ دوسرے ایك کو ہبہ کیا تو صحیح نہ ہوگا کیونکہ شیوع پایا گیا(بولاق مصر کے مطبوعہ ۱۲۷۳ھ کے نسخے میں "وتصدق"ہےتصدق سے قبل واؤ ہے(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
عــــــہ: ثم رأیت بحمد اﷲ تعالی نفس الجزئیۃ فی العقود الدریۃ حیث قال وجہ صحتہا اذا کانت لفقیرین ما صرحوا بہ من ان الصدقۃ یراد بہا وجہ اﷲ تعالی وھو واحد فلا شیوع والا فقد صرحوا فی المتون ایضا بان الصدقۃ کالھبۃ لاتصف فی مشاع یقسم ای بان انہ لووھب دارہ مثلا التی تحتمل القسمۃ من غنیین لایصح للشیوع خلافالھما لو تصدق بہا علی فقیرین یصح اتفاقا لما مرولووھب نصفہا لواحد وتصدق بہ علی فقیر واحد لم یصح لتحقق الشیوع اھ ھکذا ھو بالواؤ فی و تصدق فی النسخۃ المطبوعۃ ببولاق مصر ۱۲۷۳ من الھجرۃ المطہرۃ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ پھر میں نے بحمد اﷲ تعالی بعینہ یہ جزئیہ العقود الدریۃ میں دیکھا جہاں انہوں نے فرمایااس کی صحت دو فقیروں کی صورت میں ان کی تصریح کے مطابق یہ ہے کہ صدقہ سے اﷲ تعالی کی رضا مطلوب ہے اور وہ ذات واحد احد ہے توشیوع نہ ہواورنہ تو خود فقہائے نے متون میں تصریح فرمائی ہے کہ صدقہ ہبہ کی طرح قابل تقسیم شیوع میں صحیح نہیں کہ ایك چیز کا بعض حصہ ایك کو صدقہ کرےالحاصل اگر ایك مکان جو قابل تقسیم ہے دو غنی حضرات کوہبہ کیا تو شیوع کی وجہ سے صحیح نہیںاس میں صاحبین کا اختلاف ہےجبکہ یہ مکان دو فقیروں کو صدقہ کیا تو بالاجماع جائز ہے جسیا کہ گزراہےاوراگراس مکان کا بعض غیر منقسم حصہ ایك فقیر کوصدقہ دیا اور بعض حصہ دوسرے ایك کو ہبہ کیا تو صحیح نہ ہوگا کیونکہ شیوع پایا گیا(بولاق مصر کے مطبوعہ ۱۲۷۳ھ کے نسخے میں "وتصدق"ہےتصدق سے قبل واؤ ہے(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الھبۃ فصل بمنزلہ مسائل شتی ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۲۹۷€
العقود الدریۃ کتاب الھبۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۹۷€
العقود الدریۃ کتاب الھبۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۹۷€
ببطلانہا اعنی التصدق بالبعض وابقاء البعض علی ملك نفسہ فان الھبۃ فی حصۃ الاغنیاء لما لم تفد شیئا للشیوع بقیت تلك الحصۃ علی ملك الواہب فلم یکن الا تصدقا بالبعض وابقاءللبعض الباقی فلم یصح ای لم یفد ملکا للفقیر ایضا وبہ تبین ان لیس ھذا رجوعا فی الصدقۃ حتی لاتجوز بعد القبض فان الرجوع انما ھو بعد ثبوت الملك للفقیر وھھنا لاملك فلا رجوع فلا منع ھکذا ینبغی التحقیق اذا ساعد التوفیق۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ جس کے بطلان کی تصریح ہے یعنی ایك چیز کے بعض کہ صدقہ کرنا اور بعض کو اپنی ذاتی ملك میں رکھنا کیونکہ اغنیاء کے حصے کا ہبہ جب شیوع کی وجہ سے مفید ملك نہ ہوا تو وہ حصہ واہب کی اپنی ملك میں رہا تو یہ صرف بعض کا صدقہ اور بعض کا اپنی ملك میں باقی رکھنا ہوا تو صحیح نہ ہوگایعنی فقیر کی ملکیت کے لئے بھی مفید نہ ہوا تو واضح ہوگیا کہ مذکورہ صورت میں صدقہ میں رجوع نہ بنا حتی کہ بعدقبضہ بھی ناجا ئز ہےاور رجوع تب ہوتا کہ فقیرکی ملکیت پہلے ثابت ہوتی جبکہ یہاں فقیر کی ملکیت ثابت نہ ہوئیتو ملك نہیں ہوئی تو رجوع بھی نہ ہوا تو ممنوع صورت نہ ہوئیجب تو فیق ساتھ دے تو تحقیق یوں چاہئےواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
مسئلہ ۵۳: ۲۵ رجب ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك مکان خرید کر اپنی دختر دہندہ عاقلہ بالغہ کو ہبہ کامل مع قبضہ کردیازید خود دوسرے مکان میں رہتا تھا اس مکان موہوب میں ہندہ ہبہ سالہا سال سے رہا کی اور اور رہتی ہے مگر زید نے اس ہبہ کی کوئی دستاویز نہ لکھیہاں کل عزیز اور چند ورثاء اور تمام اہل محلہ اس ہبہ سے اگاہ ہیں اور گواہی دینے کو موجود ہیں اس صورت میں وہ ہبہ تمام وکامل ہوگیا یا نہیں اور مکان ہندہ دختر زید ہے یا ملك زید قرارپاکر اس کے ترکہ میں تقسیم ہوگا۔بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ مکان خالص ملك ہندہ دختر زید ہے جس میں زید کا اصلا کوئی استحقاق نہیں۔نہ وہ زید کا ترکہ قرار پاسکے کہ شریعت مطہرہ میں ہبہ وغیرہ تمام عقود صرف زبان سے ہیں تحریر کوئی ایسی چیز نہیں کہ اس کے بغیر کسی عقد کو ناتمام وغیر مکمل تصور کیا جائے
مسئلہ ۵۳: ۲۵ رجب ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك مکان خرید کر اپنی دختر دہندہ عاقلہ بالغہ کو ہبہ کامل مع قبضہ کردیازید خود دوسرے مکان میں رہتا تھا اس مکان موہوب میں ہندہ ہبہ سالہا سال سے رہا کی اور اور رہتی ہے مگر زید نے اس ہبہ کی کوئی دستاویز نہ لکھیہاں کل عزیز اور چند ورثاء اور تمام اہل محلہ اس ہبہ سے اگاہ ہیں اور گواہی دینے کو موجود ہیں اس صورت میں وہ ہبہ تمام وکامل ہوگیا یا نہیں اور مکان ہندہ دختر زید ہے یا ملك زید قرارپاکر اس کے ترکہ میں تقسیم ہوگا۔بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ مکان خالص ملك ہندہ دختر زید ہے جس میں زید کا اصلا کوئی استحقاق نہیں۔نہ وہ زید کا ترکہ قرار پاسکے کہ شریعت مطہرہ میں ہبہ وغیرہ تمام عقود صرف زبان سے ہیں تحریر کوئی ایسی چیز نہیں کہ اس کے بغیر کسی عقد کو ناتمام وغیر مکمل تصور کیا جائے
فتاوی خیریہ لنفع البریہ میں ہے:
اما اشترط کونہ یکتب فی حجۃ ویقید فی سجلات فلیس بلا زم شرعا ومخالف للموضوع الشرعی فان اللفظ بانفرادہ کاف فی صحۃ ذلك شرعا والزیادۃ لا یحتاج الیہا اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔ لیکن شرط لگانا کہ اشٹام لکھا جائے اور رجسٹروں میں درج کیا تو شرعا یہ ضروری نہیںاور شرعی وضع کے خلاف ہے کیونکہ اکیلا لفظ ہی اس کی صحت کے لئے کافی ہے اور زیادہ کی ضرورت نہیں اھ ملخصاواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۵۴: شعبان ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صور ت میں کہ زید نے ایك اراضی اپنے بیٹے کے نام خریدیبعد ایك مدت کے وہ زمین ایك طبیب کوہبہ کی پسر زید اصل مالك زمین نے کہ عاقل بالغ تھا اس فعل کو جائز رکھا اور کہا مجھے منظور ہے چنانچہ وہ طبیب ایك مدت تك برضائے واہب ومالك اس زمین پر قابض ودخیل رہااب بعد انتقال زید وپسر زید نبیرہ زید اس زمین کو واپس لینا چاہتا ہےآیا وہ اسے واپس لے سکتاہے اور اس واپس لینے کا اسے شرعا اختیار ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگرچہ زید کا ہبہ ہبہ فضولی تھا مگر جب اصل مالك نے اس کی اجازت دی اور موہوب لہ نے برضائے مالك قبضہ پالیا تو وہ زمین اس طبیب کی ملك تام ہوگئی اب کہ مالك نے انتقال کیا اصلا حق رجوع کسی کو نہ رہا نبیرہ زید کا ارادہ واپسی محض مہمل ہے اسے خواہ کسی کو اس زمین کو واپس لینے کااصلا اختیار نہیں۔درمختارمیں ہے:
باب موانع الرجوع یجمعہا حروف دمع خزفۃ و المیم موت احد المتعاقدین اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔ رجوع سے موانع کویہ حروف جامع ہیں دمع خزقہاور"م" سے مراد عاقدین میں سے ایك کی موت ہے اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
اما اشترط کونہ یکتب فی حجۃ ویقید فی سجلات فلیس بلا زم شرعا ومخالف للموضوع الشرعی فان اللفظ بانفرادہ کاف فی صحۃ ذلك شرعا والزیادۃ لا یحتاج الیہا اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔ لیکن شرط لگانا کہ اشٹام لکھا جائے اور رجسٹروں میں درج کیا تو شرعا یہ ضروری نہیںاور شرعی وضع کے خلاف ہے کیونکہ اکیلا لفظ ہی اس کی صحت کے لئے کافی ہے اور زیادہ کی ضرورت نہیں اھ ملخصاواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۵۴: شعبان ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صور ت میں کہ زید نے ایك اراضی اپنے بیٹے کے نام خریدیبعد ایك مدت کے وہ زمین ایك طبیب کوہبہ کی پسر زید اصل مالك زمین نے کہ عاقل بالغ تھا اس فعل کو جائز رکھا اور کہا مجھے منظور ہے چنانچہ وہ طبیب ایك مدت تك برضائے واہب ومالك اس زمین پر قابض ودخیل رہااب بعد انتقال زید وپسر زید نبیرہ زید اس زمین کو واپس لینا چاہتا ہےآیا وہ اسے واپس لے سکتاہے اور اس واپس لینے کا اسے شرعا اختیار ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگرچہ زید کا ہبہ ہبہ فضولی تھا مگر جب اصل مالك نے اس کی اجازت دی اور موہوب لہ نے برضائے مالك قبضہ پالیا تو وہ زمین اس طبیب کی ملك تام ہوگئی اب کہ مالك نے انتقال کیا اصلا حق رجوع کسی کو نہ رہا نبیرہ زید کا ارادہ واپسی محض مہمل ہے اسے خواہ کسی کو اس زمین کو واپس لینے کااصلا اختیار نہیں۔درمختارمیں ہے:
باب موانع الرجوع یجمعہا حروف دمع خزفۃ و المیم موت احد المتعاقدین اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔ رجوع سے موانع کویہ حروف جامع ہیں دمع خزقہاور"م" سے مراد عاقدین میں سے ایك کی موت ہے اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارلمعرفۃ بیروت ∞۱ /۲۱۶€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
مسئلہ ۵۵: ۲۹ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بعد انتقال مورث اعلی کے ترکہ مشترکہ سے جزوعمرو کو زبانی دیا یا بخشا یاکل حصہ خالد اور ولید کو بذریعہ تحریر ہبہ کیا اور جز ویا کل غیر منقسم پر قبضہ دیابعد اس کے دیگر شرکاء اور زید میں بابت ترکہ مشترکہ غیر منقسم مورث اعلی کے نزاع ہوکر تقسیم جائداد ہوئیزید مذکور نے ازروئے تقسیم اپنا وہ حصہ کہ جس کا جزو یاکل ہبہ کر چکا تھا پایا اس کل کو بیع کردیا صورت مذکورہ بالا میں دہندگی اور بخشندگی اور ہبہ زبانی وتحریر ی جائز اور قابل نفاذ ہے یانہیں بیان کرو تم اجر پاؤتم۔
الجواب:
شے مشترکہ صالح تقسیم کا ہبہ قبل تقسیم ہر گز صحیح نہیں اور اگر یوں ہی مشاعا یعنی بے تقسیم موہوب لہ کو قبضہ بھی دے دیا جائے تاہم وہ شیئ بدستور ملك واہب پر رہتی ہے موہوب لہ کا اصلا کوئی استحقاق اس میں ثابت نہیں ہوتانہ وہ ہر گز بذریعہ ہبہ اس کا مالك ہوسکے جب تك واہب تقسیم کرکے خاص جزء موہوب معین محدود وممتاز جداگانہ پر قبضہ کاملہ نہ دےیہاں تك کہ ایسے قبضہ ناقصہ کے بعد بھی اگر موہوب لہ اس شیئ میں بیع وغیرہ کوئی تصرف کرے محض باطل وناقابل نفاذ ہے اور واہب کے سب تصرفات جیسے قبل ہبہ نافذ تھے اب بھی بدستور تام ونافذ ہیں۔یہی حق وصحیح معتمد ہے اور اسی پر تعویل واعتماد لازم پھر یہ شیوع چاہے یوں ہو کہ سرے سے خود واہب کی جائداد میں ایك حصہ غیر منقسم کا مالك ہے یہی حصہ کل یا بعض قبل تقسیم ہبہ کیا یا یہ تو اس کل چیز کا مالك تھا مگر ہبہ اس میں سے ایك جز وغیر منقسم کا کیا یا ہبہ بھی کل کا کیا مگر دو شخصوں کو دیا اور ہر موہوب لہ کا حصہ جداوممتاز کرکے قبضہ نہ دلایاتینوں صورتوں کا وہی حکم ہے کہ ہبہ محض ناتمام اور ایسے قبضہ کے بعد بھی موہوب لہ کو اصلا ملك حاصل نہیں۱تنویر الابصارمیں ہے:
تتم الہبہ بالقبض فی محوز مقسوم ومشاع لایقسم لافیما یقسم ولولشریکہ فان قسمہ وسلمہ صح و لو سلمہ شائعا لایملکہ فلا ینفذتصرفہ فیہ اھ ملتقطا۔ مقسوم محفوظ اور ناقابل تقسیم مشاعی چیز کا ہبہ قبضہ سے تام ہوتاہے جبکہ مشاع قابل تقسیم ہوتو اگرچہ شریك کو ہی ہبہ کیا وہ صحیح نہ ہوگاہاں اگر تقسیم کردیا اورقبضہ دے دیا تو صحیح ہوگااور مشاع کو ہی سونپ دیا تو موہوب لہ مالك نہ ہوگا لہذا اس کا تصرف اس میں نافذ نہ ہوگا اھ ملتقطا(ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بعد انتقال مورث اعلی کے ترکہ مشترکہ سے جزوعمرو کو زبانی دیا یا بخشا یاکل حصہ خالد اور ولید کو بذریعہ تحریر ہبہ کیا اور جز ویا کل غیر منقسم پر قبضہ دیابعد اس کے دیگر شرکاء اور زید میں بابت ترکہ مشترکہ غیر منقسم مورث اعلی کے نزاع ہوکر تقسیم جائداد ہوئیزید مذکور نے ازروئے تقسیم اپنا وہ حصہ کہ جس کا جزو یاکل ہبہ کر چکا تھا پایا اس کل کو بیع کردیا صورت مذکورہ بالا میں دہندگی اور بخشندگی اور ہبہ زبانی وتحریر ی جائز اور قابل نفاذ ہے یانہیں بیان کرو تم اجر پاؤتم۔
الجواب:
شے مشترکہ صالح تقسیم کا ہبہ قبل تقسیم ہر گز صحیح نہیں اور اگر یوں ہی مشاعا یعنی بے تقسیم موہوب لہ کو قبضہ بھی دے دیا جائے تاہم وہ شیئ بدستور ملك واہب پر رہتی ہے موہوب لہ کا اصلا کوئی استحقاق اس میں ثابت نہیں ہوتانہ وہ ہر گز بذریعہ ہبہ اس کا مالك ہوسکے جب تك واہب تقسیم کرکے خاص جزء موہوب معین محدود وممتاز جداگانہ پر قبضہ کاملہ نہ دےیہاں تك کہ ایسے قبضہ ناقصہ کے بعد بھی اگر موہوب لہ اس شیئ میں بیع وغیرہ کوئی تصرف کرے محض باطل وناقابل نفاذ ہے اور واہب کے سب تصرفات جیسے قبل ہبہ نافذ تھے اب بھی بدستور تام ونافذ ہیں۔یہی حق وصحیح معتمد ہے اور اسی پر تعویل واعتماد لازم پھر یہ شیوع چاہے یوں ہو کہ سرے سے خود واہب کی جائداد میں ایك حصہ غیر منقسم کا مالك ہے یہی حصہ کل یا بعض قبل تقسیم ہبہ کیا یا یہ تو اس کل چیز کا مالك تھا مگر ہبہ اس میں سے ایك جز وغیر منقسم کا کیا یا ہبہ بھی کل کا کیا مگر دو شخصوں کو دیا اور ہر موہوب لہ کا حصہ جداوممتاز کرکے قبضہ نہ دلایاتینوں صورتوں کا وہی حکم ہے کہ ہبہ محض ناتمام اور ایسے قبضہ کے بعد بھی موہوب لہ کو اصلا ملك حاصل نہیں۱تنویر الابصارمیں ہے:
تتم الہبہ بالقبض فی محوز مقسوم ومشاع لایقسم لافیما یقسم ولولشریکہ فان قسمہ وسلمہ صح و لو سلمہ شائعا لایملکہ فلا ینفذتصرفہ فیہ اھ ملتقطا۔ مقسوم محفوظ اور ناقابل تقسیم مشاعی چیز کا ہبہ قبضہ سے تام ہوتاہے جبکہ مشاع قابل تقسیم ہوتو اگرچہ شریك کو ہی ہبہ کیا وہ صحیح نہ ہوگاہاں اگر تقسیم کردیا اورقبضہ دے دیا تو صحیح ہوگااور مشاع کو ہی سونپ دیا تو موہوب لہ مالك نہ ہوگا لہذا اس کا تصرف اس میں نافذ نہ ہوگا اھ ملتقطا(ت)
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۹€
اسی میں ہے:
وھب اثنان دارا لواحد صح وبعکسہ لا۔ اگر دو حضرات نے ایك مکان ایك ہی شخص کو ہبہ کیا صحیح ہے اگر عکس کیا تو صحیح نہ ہوگا۔(ت)
۲فتاوی خیریہ میں ہے:
قال فی ۳مشتمل الاحکام نقلا عن ۴تتمۃ الفتاوی ان ہبۃ المشاع باطلۃ وھو الصحیح ۔ مشتمل الاحکام میں تتمۃ الفتاوی سے منقول ہے کہ مشاع چیز کا ہبہ باطل ہےیہی صحیح ہے۔(ت)
۵ردالمحتار میں ہے:
ولو سلمہ شائعا قال فی الفتاوی الخیریۃ لا تفید الملك فی ظاھر الروایۃ قال ۶الزیلعی ولو سلمہ شائعا لا یملکہ حتی لاینفذ تصرف فیہ فیکون مضمونا علیہ و ینفذ فیہ تصرف الواھب ذکرہ ۷الطحاوی و ۸قاضیخان و روی عن ابن ۹رستم مثلہ وافتی بہ فی ۱۰الحامدیۃ و ۱۱ التاجیۃ وبہ جزم فی ۱۲الجوہرۃ والبحر و۱۳ نقل عن ۱۴المتبغی انہ لو باعہ الموھوب لہ یصح وفی ۱۵نور العین عن ۱۶الوجیز الھبۃ الفاسدۃ مضمونۃ بالقبض و لا یثبت الملك فیہا الاعند اداء العوض نص علیہ محمد فی ۱۷المبسوط اگر مشاع کا قبضہ دیا خیریہ میں فرمایا کہ وہ ظاہر الروایۃ میں مفید ملك نہ ہوگاامام زیلعی نے فرمایااگر مشاع پر قبضہ دیا تو موہوب لہ مالك نہ بنے گالہذا اس کا تصرف بھی صحیح نہ ہوگا اگر کیا تو ضمان دے گااس میں واہب کا تصرف نافذ رہے گایہ طحاوی اور قاضیخان نے ذکر کیا ہے اور ابن قاسم سے ایسی ہی روایت ہے اور اسی پر حامدیہ اور تاجیہ میں فتوی دیا ہے اور اسی پر جوہرہ اور بحر میں جزم فرمایا ہےاور المتبغی سے منقول ہے کہ اگر موہوب لہ نے اس کو فروخت کیا تو جائز نہ ہوگا اور نورالعین میں وجیز سے منقول ہے کہ فاسدہبہ پر قبضہ باعث ضمان ہوگا اس پر موہوب لہ کی ملکیت عوض ادا کئے بغیر ثابت نہ ہوگی اس پر امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے مبسوط میں نص فرمائی ہے۔
وھب اثنان دارا لواحد صح وبعکسہ لا۔ اگر دو حضرات نے ایك مکان ایك ہی شخص کو ہبہ کیا صحیح ہے اگر عکس کیا تو صحیح نہ ہوگا۔(ت)
۲فتاوی خیریہ میں ہے:
قال فی ۳مشتمل الاحکام نقلا عن ۴تتمۃ الفتاوی ان ہبۃ المشاع باطلۃ وھو الصحیح ۔ مشتمل الاحکام میں تتمۃ الفتاوی سے منقول ہے کہ مشاع چیز کا ہبہ باطل ہےیہی صحیح ہے۔(ت)
۵ردالمحتار میں ہے:
ولو سلمہ شائعا قال فی الفتاوی الخیریۃ لا تفید الملك فی ظاھر الروایۃ قال ۶الزیلعی ولو سلمہ شائعا لا یملکہ حتی لاینفذ تصرف فیہ فیکون مضمونا علیہ و ینفذ فیہ تصرف الواھب ذکرہ ۷الطحاوی و ۸قاضیخان و روی عن ابن ۹رستم مثلہ وافتی بہ فی ۱۰الحامدیۃ و ۱۱ التاجیۃ وبہ جزم فی ۱۲الجوہرۃ والبحر و۱۳ نقل عن ۱۴المتبغی انہ لو باعہ الموھوب لہ یصح وفی ۱۵نور العین عن ۱۶الوجیز الھبۃ الفاسدۃ مضمونۃ بالقبض و لا یثبت الملك فیہا الاعند اداء العوض نص علیہ محمد فی ۱۷المبسوط اگر مشاع کا قبضہ دیا خیریہ میں فرمایا کہ وہ ظاہر الروایۃ میں مفید ملك نہ ہوگاامام زیلعی نے فرمایااگر مشاع پر قبضہ دیا تو موہوب لہ مالك نہ بنے گالہذا اس کا تصرف بھی صحیح نہ ہوگا اگر کیا تو ضمان دے گااس میں واہب کا تصرف نافذ رہے گایہ طحاوی اور قاضیخان نے ذکر کیا ہے اور ابن قاسم سے ایسی ہی روایت ہے اور اسی پر حامدیہ اور تاجیہ میں فتوی دیا ہے اور اسی پر جوہرہ اور بحر میں جزم فرمایا ہےاور المتبغی سے منقول ہے کہ اگر موہوب لہ نے اس کو فروخت کیا تو جائز نہ ہوگا اور نورالعین میں وجیز سے منقول ہے کہ فاسدہبہ پر قبضہ باعث ضمان ہوگا اس پر موہوب لہ کی ملکیت عوض ادا کئے بغیر ثابت نہ ہوگی اس پر امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے مبسوط میں نص فرمائی ہے۔
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
فتاوٰی خیریہ کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۱۱۳€
فتاوٰی خیریہ کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۱۱۳€
وھو قال ۱۸ابی یوسف وذکر قبلہ ہبۃ المشاع فیما یقسم لا تفید الملك عند ۱۹ابی حنیفۃ و۲۰فی القہستانی ھو المختار کما فی ۲۱المضمرات وہو الصحیح فحیث علمت انہ ظاہر الروایۃ وانہ نص علیہ محمد و رووہ عن ابی حنیفۃ ظہرانہ الذی علیہ العمل ونص فی الاصل انہ لووہب نصف دارہ عن اخروسلمہا الیہ فباعہا الموھوب لہ لم یجزدل انہ لایملك حیث ابطل البیع بعد القبض ونص فی الفتاوی انہ ھوالمختار اھ ملخصا۔ اور یہی امام ابویوسف کا قول ہےاس سے قبل ذکر فرمایا کہ مشاع جو قابل تقسیم ہو امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك وہ مفید ملك نہ ہوگا اور قہستانی میں فرمایا یہی مختار ہے جیسا کہ مضمرات میں ہے یہی صحیح ہے اور میرے علم کے مطابق یہ ظاہر الروایۃ ہے اور اس پر امام محمد رحمہ اﷲ تعالی کی نص ہے اسی کو انہوں نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہےتو واضح ہوا کہ اسی پر عمل ہےاور مبسوط میں نص فرمائی ہے کہ اگر کسی کو نصف مکان ہبہ کیا اور سونپ دیا اور موہوب لہ نے اسے فروخت کردیا تو یہ کارروائی جائز ہوگی یہ کلام دال ہے کہ موہوب لہ اس کا مالك نہ ہو ا کیونکہ انہوں نے قبضہ کے باوجود بیع کو باطل کہا ہےاور فتاوی میں منصوص ہے کہ یہی مختار ہے اھ ملخصا۔(ت)
صورت مستفسرہ میں زید نے جو اپنے حصہ کا ایك جز عمرو کو دیا یاخالد وولید کو کل حصہ ہبہ کیا دونوں حالتوں میں یہ نہ صرف ایك وجہ سے مشاع بلکہ ہر طرح مشاع درمشاع تھا عمرو کو دینے میں یوں کہ اصل حصہ زید ہی ہنوز مشاع تھا پھر اس مشاع میں کا ایك جز غیر منقسم عمرو کو بخشا اور خالد وولید کے نام ہبہ میں یوں کہ ایك تو اصل حصہ مشاع دوسرے دوشخصوں کو بے تقسیم دیناپس بہرحال حکم یہی ہے کہ یہ سب ہبہ تحریری ہوں خواہ زبانی محض باطل وبے اثر ہوئے اور عمرو وخالد وولید کو کوئی استحقاق اس موہوب میں نہ ملااور بیع کہ زیدنے کی بے تامل صحیح ونافذ وتام وکامل ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی نصف جائداد کا اپنے پسر متوفی کی زوجہ کو اپنی حیات وصحت میں مالك کردیا اور وہ جائداد جب ہی منقسم ہوگئی کہ بہو نے حیات زید میں اس پرقبضہ کاملہ پالیا اور بعد زید بھی بدستور پچاس برس بلکہ زائد تك اس پر قابض رہی اب عورت
صورت مستفسرہ میں زید نے جو اپنے حصہ کا ایك جز عمرو کو دیا یاخالد وولید کو کل حصہ ہبہ کیا دونوں حالتوں میں یہ نہ صرف ایك وجہ سے مشاع بلکہ ہر طرح مشاع درمشاع تھا عمرو کو دینے میں یوں کہ اصل حصہ زید ہی ہنوز مشاع تھا پھر اس مشاع میں کا ایك جز غیر منقسم عمرو کو بخشا اور خالد وولید کے نام ہبہ میں یوں کہ ایك تو اصل حصہ مشاع دوسرے دوشخصوں کو بے تقسیم دیناپس بہرحال حکم یہی ہے کہ یہ سب ہبہ تحریری ہوں خواہ زبانی محض باطل وبے اثر ہوئے اور عمرو وخالد وولید کو کوئی استحقاق اس موہوب میں نہ ملااور بیع کہ زیدنے کی بے تامل صحیح ونافذ وتام وکامل ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی نصف جائداد کا اپنے پسر متوفی کی زوجہ کو اپنی حیات وصحت میں مالك کردیا اور وہ جائداد جب ہی منقسم ہوگئی کہ بہو نے حیات زید میں اس پرقبضہ کاملہ پالیا اور بعد زید بھی بدستور پچاس برس بلکہ زائد تك اس پر قابض رہی اب عورت
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۱€
نے اپنا بھائی چھوڑ کر انتقال کیا زید کے دوسرے پسر کی اولاد اس جائداد میں دعوی کرتے ہیں اس صورت میں دعوی ان کا قابل سماعت ہے یا وہ صرف حق وارثان عورت ہے اور اولاد پسر زید کا اس میں کچھ حق نہیں۔بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ نصف جائداد کہ زید نے اپنی بہو کو دی اس کی مالك مستقل بہو ہوگئی وارثان زید کا اس میں کچھ حق نہ رہانہ ان کا دعوی مسموع ہوسکتا ہےوہ صرف حق وارثان عورت ہے
فان التملیك ان کان بیعا فظاہر وان کان ہبۃ فقد تمت بالتقسیم والقبض و لزمت بالموت۔واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ یہ تملیك بطور بیع ہو تو ظاہر ہے اور اگر بطور ہبہ ہو تو تقسیم اورقبضہ دینے سے تام ہوگیا اور موت سے لازم ہوگیا۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۵۷: ۲۳ شعبان المعظم ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عرصہ چودہ برس کا ہوا مسماۃ ہندہ نے انتقال کیااور بعد اپنے دو بیٹے نام کلاں کا زید اور نام ثانی بکر تھااور بکر کا خالد نام ایك لڑکا بعمر دس سال تھا چھوڑاجائداد متروکہ ہندہ میں بموجب ادخال فوتی نامہ پٹواری دیہہ محکمہ نظامت میں بجائے ہندہ زید پسر اور بجائے بکر خالد پوتا کا نام درج ہولیا بکر نے بخیال مصلحت خاص بغرض حفظ جائداد کہ وہ مقروض تھا اور اپنا نام لکھوانے میں خوف تلف ہونے اس جائداد کا تھا اس وقت سکوت اختیار کیا اور کوئی لفظ تملیك نہ کہااورنہ تملیك منظور تھی نہ کوئی تحریر مثل ہبہ نامہ یا بیعنامہ(مثل دیگر جائداد کہ اپنے روپے سے خالد کو اور اس کی ماں کو بذریعہ خرید وہبہ کے لکھ چکا)اس حقیت کی کیاور نہ اس وقت تك باجود بالغ ہونے کے خالد کواس جائداد پرقبضہ دیا بخلاف دیگر جائداد کے جو دینا منظور تھی اس پر قابض ودخیل کردیا اور اس حقیت میں بطور فرضی نام درج رہا بکر کارکن اور قابض متصرف مالکانہ اس حقیت کا اس وقت تك ہےاب خالد یعنی پسر بکر اس پر بھی قبضہ کرنا چاہتاہے اور بکر چاہتاہے کہ نام خالد کا محکمہ موصوف سے خارج ہوکر ترکہ مادری پر میرا نام درج ہولہذا بموجب شرع شریف بکر مستحق درج کرانے نام اپنے کا ہے یانہیں اور بموجودگی پسر کے پوتا کو ترکہ دادی پہنچتا ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
محکمہ مال میں نام خالد کا اندراج جس کی بنا تحریر پٹواری پر تھی کوئی چیز نہیں کہ پٹواری خواہ
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ نصف جائداد کہ زید نے اپنی بہو کو دی اس کی مالك مستقل بہو ہوگئی وارثان زید کا اس میں کچھ حق نہ رہانہ ان کا دعوی مسموع ہوسکتا ہےوہ صرف حق وارثان عورت ہے
فان التملیك ان کان بیعا فظاہر وان کان ہبۃ فقد تمت بالتقسیم والقبض و لزمت بالموت۔واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ یہ تملیك بطور بیع ہو تو ظاہر ہے اور اگر بطور ہبہ ہو تو تقسیم اورقبضہ دینے سے تام ہوگیا اور موت سے لازم ہوگیا۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۵۷: ۲۳ شعبان المعظم ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عرصہ چودہ برس کا ہوا مسماۃ ہندہ نے انتقال کیااور بعد اپنے دو بیٹے نام کلاں کا زید اور نام ثانی بکر تھااور بکر کا خالد نام ایك لڑکا بعمر دس سال تھا چھوڑاجائداد متروکہ ہندہ میں بموجب ادخال فوتی نامہ پٹواری دیہہ محکمہ نظامت میں بجائے ہندہ زید پسر اور بجائے بکر خالد پوتا کا نام درج ہولیا بکر نے بخیال مصلحت خاص بغرض حفظ جائداد کہ وہ مقروض تھا اور اپنا نام لکھوانے میں خوف تلف ہونے اس جائداد کا تھا اس وقت سکوت اختیار کیا اور کوئی لفظ تملیك نہ کہااورنہ تملیك منظور تھی نہ کوئی تحریر مثل ہبہ نامہ یا بیعنامہ(مثل دیگر جائداد کہ اپنے روپے سے خالد کو اور اس کی ماں کو بذریعہ خرید وہبہ کے لکھ چکا)اس حقیت کی کیاور نہ اس وقت تك باجود بالغ ہونے کے خالد کواس جائداد پرقبضہ دیا بخلاف دیگر جائداد کے جو دینا منظور تھی اس پر قابض ودخیل کردیا اور اس حقیت میں بطور فرضی نام درج رہا بکر کارکن اور قابض متصرف مالکانہ اس حقیت کا اس وقت تك ہےاب خالد یعنی پسر بکر اس پر بھی قبضہ کرنا چاہتاہے اور بکر چاہتاہے کہ نام خالد کا محکمہ موصوف سے خارج ہوکر ترکہ مادری پر میرا نام درج ہولہذا بموجب شرع شریف بکر مستحق درج کرانے نام اپنے کا ہے یانہیں اور بموجودگی پسر کے پوتا کو ترکہ دادی پہنچتا ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
محکمہ مال میں نام خالد کا اندراج جس کی بنا تحریر پٹواری پر تھی کوئی چیز نہیں کہ پٹواری خواہ
حکام مال ایك کے مال کا مالك دوسرے کو نہیں کرسکتے جبکہ جائداد ترکہ ہندہ والدہ بکر تھی بلاشبہہ زید وبکر بحکم وراثت اس کے مالك ہوئے اور خالد کو کوئی استحقاق ابتدائی نہ ملا کہ بیٹے کے ہوتے پوتے کا کچھ حق نہیںاب جو حصہ ملك بکر ہوا دوسرا بے اس کے تملیك کے کیونکر اس کا مالك ہوسکتاہے
فی ردالمحتار عن الکرمانی لان ملك الانسان لا ینقل الی الغیر بدون تملیکہ ۔ ردالمحتار میں کرمانی سے منقول ہے کہ تملیك کئے بغیر کسی کی ملکیت دوسرے کو منتقل نہ ہوگی۔(ت)
اورتملیك کی یہاں دو ہی صورتیں متصوریا تو مالك آپ انشاء وایجاب ہبہ کرے یا دوسرا شخص یعنی فضولی اس کی چیز کو ہبہ کرے اور یہ اس تصرف کو اپنی اجازت سے نافذ کردے یہاں تك کہ جو کچھ بکر سے صادر ہوا وہ محض سکوت ہےاور پر ظاہر کہ سکوت خود توکسی عقد کا ایجاب ہو نہیں سکتا کہ ایجاب کلام اول ہے اور سکوت ترك کلاماوریہاں اسے اجازت قرار دینے کی بھی کوئی سبیل نہیں کہ اجازت کے لئے کوئی عقد فضولی ہونا تو درکار ہے جسے جائز کیا جائے اور بداہۃ واضح کہ صیغہ مال والوں کا خانہ ملکیت میں کسی کانام لکھنا کوئی انشائے ہبہ نہیں ہوتا وہ تو صرف ایك یادداشت مالکیت ثابتہ ہےنہ احداث ملك جدیدتو یہاں سرے سے کوئی عقد فضولی پایا ہی نہ گیا کہ سکوت بکر کو اس کی اجازت قرار دیں قطع نظر اس سے کہ مجرد سکوت مطلقا دلیل اجازت ہو بھی سکتاہے یانہیں خصوصا وہ بھی ایسا کہ محض ایك مصلحت کی بناپر ہوپس ثابت ہوا کہ یہاں اصلا کوئی صورت تملیك متحقق نہ ہوئی اور حقیت بدستور بکر ہےخالد کا دعوی اصلا قابل سماعت نہیں۔پھر اس تقریر کی حاجت بھی اس حالت میں ہے کہ وفات ہندہ کے بعد زید وبکر کا حصہ جداجدا منقسم ہوگیا ہو اس کے بعد بجائے بکر حصہ بکر میں نام خالد مندرج ہوا اور اگر قبل از تقسیم یونہی جائداد متروکہ غیر منقسمہ میں اندراج نام خالد ہوا(جیسا کہ ظاہر یہی ہے کہ فوتی نامہ بعد فوت معا داخل ہوتاہے نہ جب جائداد کا ورثہ میں پٹے بانٹ ہوجائے)جب تو خالد کے لئے ملك ثابت نہ ہونا کسی بیان کا محتاج ہی نہیں اگر چہ نہ پٹواری بلکہ خود بکر نے نہ بلحاظ مصلحت بلکہ خاص بقید تملیك ہی خالد کانام درج کرایا ہو کہ اس حالت میں یہ اگر ہوگا تو غایت درجہ ہبہ مشاع ہوگا اور ہبہ مشاع اصلا مفید ملك نہیں اگر چہ اپنے بیٹے کے لئے ہو جب تك واہب تقسیم کرکے موہوب لہ کو قبضہ کاملہ نہ دے یہاں کہ اب تك قبضہ نہ ہوا ملك خالد کے کوئی معنی نہیں۔فتاوی خیریہ وعقود الدریہ میں ہے:
فی ردالمحتار عن الکرمانی لان ملك الانسان لا ینقل الی الغیر بدون تملیکہ ۔ ردالمحتار میں کرمانی سے منقول ہے کہ تملیك کئے بغیر کسی کی ملکیت دوسرے کو منتقل نہ ہوگی۔(ت)
اورتملیك کی یہاں دو ہی صورتیں متصوریا تو مالك آپ انشاء وایجاب ہبہ کرے یا دوسرا شخص یعنی فضولی اس کی چیز کو ہبہ کرے اور یہ اس تصرف کو اپنی اجازت سے نافذ کردے یہاں تك کہ جو کچھ بکر سے صادر ہوا وہ محض سکوت ہےاور پر ظاہر کہ سکوت خود توکسی عقد کا ایجاب ہو نہیں سکتا کہ ایجاب کلام اول ہے اور سکوت ترك کلاماوریہاں اسے اجازت قرار دینے کی بھی کوئی سبیل نہیں کہ اجازت کے لئے کوئی عقد فضولی ہونا تو درکار ہے جسے جائز کیا جائے اور بداہۃ واضح کہ صیغہ مال والوں کا خانہ ملکیت میں کسی کانام لکھنا کوئی انشائے ہبہ نہیں ہوتا وہ تو صرف ایك یادداشت مالکیت ثابتہ ہےنہ احداث ملك جدیدتو یہاں سرے سے کوئی عقد فضولی پایا ہی نہ گیا کہ سکوت بکر کو اس کی اجازت قرار دیں قطع نظر اس سے کہ مجرد سکوت مطلقا دلیل اجازت ہو بھی سکتاہے یانہیں خصوصا وہ بھی ایسا کہ محض ایك مصلحت کی بناپر ہوپس ثابت ہوا کہ یہاں اصلا کوئی صورت تملیك متحقق نہ ہوئی اور حقیت بدستور بکر ہےخالد کا دعوی اصلا قابل سماعت نہیں۔پھر اس تقریر کی حاجت بھی اس حالت میں ہے کہ وفات ہندہ کے بعد زید وبکر کا حصہ جداجدا منقسم ہوگیا ہو اس کے بعد بجائے بکر حصہ بکر میں نام خالد مندرج ہوا اور اگر قبل از تقسیم یونہی جائداد متروکہ غیر منقسمہ میں اندراج نام خالد ہوا(جیسا کہ ظاہر یہی ہے کہ فوتی نامہ بعد فوت معا داخل ہوتاہے نہ جب جائداد کا ورثہ میں پٹے بانٹ ہوجائے)جب تو خالد کے لئے ملك ثابت نہ ہونا کسی بیان کا محتاج ہی نہیں اگر چہ نہ پٹواری بلکہ خود بکر نے نہ بلحاظ مصلحت بلکہ خاص بقید تملیك ہی خالد کانام درج کرایا ہو کہ اس حالت میں یہ اگر ہوگا تو غایت درجہ ہبہ مشاع ہوگا اور ہبہ مشاع اصلا مفید ملك نہیں اگر چہ اپنے بیٹے کے لئے ہو جب تك واہب تقسیم کرکے موہوب لہ کو قبضہ کاملہ نہ دے یہاں کہ اب تك قبضہ نہ ہوا ملك خالد کے کوئی معنی نہیں۔فتاوی خیریہ وعقود الدریہ میں ہے:
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۰۹€
المشاع فیما یحتمل القسمۃ وھو ما یجبر القاضی فیہ الابی عن القسمۃ عند طلب الشریك لہا لا تفید الملك الموہوب لہ فی المختار مطلقا شریکا کان او غیرہ ابنا اوغیرہ الخ۔ قابل تقسیم مشاع یعنی قاضی شریك کے مطالبہ پر اس منکرکو تقسیم پر مجبور کرے تو مختار قول میں ایسا مشاع موہوب لہ کی ملك نہ بنے گایہ حکم عام ہے شریك ہویا غیر ہوبیٹا ہو یا غیر ہوالخ۔(ت)
مجموعہ علامہ انقروی میں ہے:
فی المنتقی وھب نصف بیتہ لابنہ الصغیر لم یجز مالم یقسمہ ویبین ماوھب لہ من فتاوی التمرتاشی فی اخر کتاب الھبۃ اھواﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم منتقی میں ہے اگر کسی نے اپنے نابالغ بیٹے کو نصف مکان ہبہ کیا تو تقسیم کرکے دیئے اور واضح کئے بغیر صحیح نہ ہوگایہ فتاوی تمر تاشی کی کتاب الھبہ کے آخر سے منقول ہے اھ۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۵۷: ۴ جمادی الآخرہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید نے حالت مرض الموت میں اپنی جائداد یعنی ایك دکان اور ایك مکان اپنے پسرعمرو کو اور اس کی زوجہ کو نصف نصف ہبہ بلاتقسیم کردی اس وجہ سے کہ زوجین میں نااتفاقی رہتی تھی بعد کو عمرو مذکور تابمرگ پورا کرایہ دکان مذکور کا لیتا رہا اور تقسیم پر راضی نہ رہا اور اب عمرو نے وفات پائی ایك زوجہ اور ایك ہمشیر زادہ وارث چھوڑے اب ترکہ عمرو کا کیونکر تقسیم ہوگا یعنی دکان اورمکان پورا پورا عمرو کا سمجھا جائے گا یانصف نصف بینوا توجروا
الجواب:
جبکہ زید نے مکان ودکان دوشخصوں کو نصف نصف ہبہ کئے اور تقسیم کرکے ہر ایك کو جدا جدا قبضہ نہ دلایا یہاں تك کہ مرگیاتو مکان کا ہبہ تو یقینا باطل ہوایونہی دکان کا بھیاگر وہ بعد تقسیم قابل انتفاع ہو یعنی اتنی گنجائش رکھتی ہو کہ اس کے دو حصے جدا کردئے جائیں تو ہر حصہ
مجموعہ علامہ انقروی میں ہے:
فی المنتقی وھب نصف بیتہ لابنہ الصغیر لم یجز مالم یقسمہ ویبین ماوھب لہ من فتاوی التمرتاشی فی اخر کتاب الھبۃ اھواﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم منتقی میں ہے اگر کسی نے اپنے نابالغ بیٹے کو نصف مکان ہبہ کیا تو تقسیم کرکے دیئے اور واضح کئے بغیر صحیح نہ ہوگایہ فتاوی تمر تاشی کی کتاب الھبہ کے آخر سے منقول ہے اھ۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۵۷: ۴ جمادی الآخرہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید نے حالت مرض الموت میں اپنی جائداد یعنی ایك دکان اور ایك مکان اپنے پسرعمرو کو اور اس کی زوجہ کو نصف نصف ہبہ بلاتقسیم کردی اس وجہ سے کہ زوجین میں نااتفاقی رہتی تھی بعد کو عمرو مذکور تابمرگ پورا کرایہ دکان مذکور کا لیتا رہا اور تقسیم پر راضی نہ رہا اور اب عمرو نے وفات پائی ایك زوجہ اور ایك ہمشیر زادہ وارث چھوڑے اب ترکہ عمرو کا کیونکر تقسیم ہوگا یعنی دکان اورمکان پورا پورا عمرو کا سمجھا جائے گا یانصف نصف بینوا توجروا
الجواب:
جبکہ زید نے مکان ودکان دوشخصوں کو نصف نصف ہبہ کئے اور تقسیم کرکے ہر ایك کو جدا جدا قبضہ نہ دلایا یہاں تك کہ مرگیاتو مکان کا ہبہ تو یقینا باطل ہوایونہی دکان کا بھیاگر وہ بعد تقسیم قابل انتفاع ہو یعنی اتنی گنجائش رکھتی ہو کہ اس کے دو حصے جدا کردئے جائیں تو ہر حصہ
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الہبہ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۹۱€
فتاوٰی انقرویہ کتاب الہبہ دارالاشاعت العربیہ ∞قندہار ارگ بازار افغانستان ۲ /۲۸۴€
فتاوٰی انقرویہ کتاب الہبہ دارالاشاعت العربیہ ∞قندہار ارگ بازار افغانستان ۲ /۲۸۴€
تنہا بکار آمد رہے اس صورت میں وہ مکان ودکان ترکہ زید رہے اور بعد زید اگر اس کا کوئی وارث سوا عمرو کے نہ تھا تو بشرط تقدیم دین ووصیت وہ دونوں صرف عمرو کے ملك ہوئے زوجہ عمرو کا ان میں کچھ حق نہ تھا اب کہ عمرو مرا اگر اس کے وارث سے یہی دو شخص ہیں تو بعدا دائے مہر ودیگر دیون و انفاذ وصایا چار حصے کرکے ایك سہم زوجہ عمرو اور تین سہم ہمشیر زادہ عمرو کو دیںاور اگر دکان ایسی کوتاہ وتنگ ہے کہ تقسیم کے بعد ہر حصہ جدا قابل انتفاع نہ رہے تومکان کاہبہ تو باطل تھا اس کی حالت تو وہی ہے جو اوپر بیان ہوئی مگر دکان کا ہبہ ناجائز نہ ہوااب دیکھا جائے گا کہ زید نے اپنی حیات میں زوجہ عمرو کو اس دکان پر قبضہ کرادیا تھا یانہیںاگر نہیں تو ہبہ پھر باطل ہوگیا۔
کما فی الدر المختار ان موت احد المتعاقدین قبل التسلیمات مبطل الہبۃ ملخصا۔ جیسا کہ درمختارمیں ہے کہ فریقین میں سے ایك کی موت قبضہ سے پہلے ہو تو وہ ہبہ کو باطل کردیتی ہے۔(ملخصا)(ت)
اور اگر قبضہ کرادیا تھا تو اس نصف دکان کو اندازہ کیا جائے زید کا جس قدر ترکہ بعد ادائے دیون باقی رہا یہ نصف اس کل ترکہ کے ثلث سے زائد تونہیں۔اگر زائد نہیں تو ہبہ نصف بنام زوجہ عمرو صحیح و تام ولازم ہوگیا۔یہ نصف دکان خاص ملك زوجہ ہے اور نصف باقی ومکان ودیگر متروکات کا وہی حال ہے جو اوپر گزرااور اگر ثلث سے زائد ہے تو ازانجا کہ عمرو اس تقسیم پر راضی نہ تھا ثلث سے زائد کی مقدار میں ہبہ رد ہوگیا۔
فان الھبۃ فی مرض الموت فی حکم الوصیۃ من جہۃ التوقف علی اجازۃ الوارث فیما زاد علی الثلث وان لم تکن وصیۃ فی الحقیقۃ حتی بطلت فی المشاع وعند عدم القبض کما بینہ فی ردالمحتار ۔ کیونکہ مرض الموت میں تہائی ترکہ سے زائدہبہ کیا تو وہ ورثاء کی اجازت پر موقوف ہونے میں وصیت کے حکم میں ہے اگرچہ حقیقتا وصیت نہ بھی ہو حتی کہ وہ مشاع ہونے اور قبضہ نہ ہونے پر باطل ہوجاتاہے جیساکہ اس کو ردالمحتار میں بیان فرمایا ہے۔(ت)
اس تقدیر پر صرف بقدر ثلث متروکہ کے جتنا حصہ اس نصف دکان کا ہو وہی ملك زوجہ
کما فی الدر المختار ان موت احد المتعاقدین قبل التسلیمات مبطل الہبۃ ملخصا۔ جیسا کہ درمختارمیں ہے کہ فریقین میں سے ایك کی موت قبضہ سے پہلے ہو تو وہ ہبہ کو باطل کردیتی ہے۔(ملخصا)(ت)
اور اگر قبضہ کرادیا تھا تو اس نصف دکان کو اندازہ کیا جائے زید کا جس قدر ترکہ بعد ادائے دیون باقی رہا یہ نصف اس کل ترکہ کے ثلث سے زائد تونہیں۔اگر زائد نہیں تو ہبہ نصف بنام زوجہ عمرو صحیح و تام ولازم ہوگیا۔یہ نصف دکان خاص ملك زوجہ ہے اور نصف باقی ومکان ودیگر متروکات کا وہی حال ہے جو اوپر گزرااور اگر ثلث سے زائد ہے تو ازانجا کہ عمرو اس تقسیم پر راضی نہ تھا ثلث سے زائد کی مقدار میں ہبہ رد ہوگیا۔
فان الھبۃ فی مرض الموت فی حکم الوصیۃ من جہۃ التوقف علی اجازۃ الوارث فیما زاد علی الثلث وان لم تکن وصیۃ فی الحقیقۃ حتی بطلت فی المشاع وعند عدم القبض کما بینہ فی ردالمحتار ۔ کیونکہ مرض الموت میں تہائی ترکہ سے زائدہبہ کیا تو وہ ورثاء کی اجازت پر موقوف ہونے میں وصیت کے حکم میں ہے اگرچہ حقیقتا وصیت نہ بھی ہو حتی کہ وہ مشاع ہونے اور قبضہ نہ ہونے پر باطل ہوجاتاہے جیساکہ اس کو ردالمحتار میں بیان فرمایا ہے۔(ت)
اس تقدیر پر صرف بقدر ثلث متروکہ کے جتنا حصہ اس نصف دکان کا ہو وہی ملك زوجہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الہبہ باب الرجوع فی الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
ردالمحتارکتاب الوصایا باب العتق فی المرض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/۴۳۵€
ردالمحتارکتاب الوصایا باب العتق فی المرض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/۴۳۵€
از روئے ہبہ ہے باقی دکان ومکان وغیرہما بدستور سابق تقسیم ہوں گےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۵۹:از بنارس محلہ کندیگر ٹولہ شفاخانہ مسجد بی بی راجی مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاب ونیز از بنارس محلہ پتر کنڈہ مرسلہ مولوی محمد عبدالحمید صاحب ۱۴ رجب المرجب ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہے علمائے دین ومفتیان شرع متین ابقاہم اﷲ تعالی الی یوم الدین اس مسئلہ میں کہ زید کے تین بیٹے تھےعمروبکر خالدزید نے عمرو کے نام سے ایك مکان خریدکیا اور قبالہ وغیرہ امور متعلقہ بیع بھی سب اسی کے نام سے کئےبعد اس کے عمرو اپنے باپ زیدا ور برادران خالد وبکر کی حیات میں قضا کرگیا تو اب عمرو کے بال بچے اس مکان میں سے حصہ پائیں گے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگر عمرو اس وقت نابالغ تھا تو ہر طرح وہ مکان ملك عمرو ہوگیاعمرو کے ورثہ پر حسب فرائض شرعیہ منقسم ہوگا
فانہ ان وجدت اضافۃ العقد الی عمرو وقع الشراء لہ والاب یملکہ فملکہ عمرو ابتداء والا وقع الشراء لزید ثم جعلہ باسم عمرو صار ہبۃ منہ بحکم العرف واستغنت عن القبض لان ہبۃ الاب لولدہ الصغیر تتم بمجرد الایجاب وفی الہندیۃ عن القنیۃ اشتری ثوبا فقطعہ لولدہ الصغیر صار واہبا بالقطع مسلما الیہ قبل الخیاطۃ ولو قال اشتریت ھذالہ صار ملکا لہ اھ ملخصاوفی کیونکہ اگر مکان کی خریداری عمرو کی طر ف منسوب کی گئی تھی تو عمرو کے لئے وہی ہوئی جبکہ باپ اس کارروائی کا مختارہےتو اس مکان کا عمرو ابتداء مالك بنا ورنہ خریداری باپ زید کی ہوئی پھر اس نے عمرو بیٹے کے نام کی تویہ باپ کی طرف سے عرف کے لحاظ سے ہبہ ہوا اور اس ہبہ میں قبضہ دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ نابالغ بیٹے کو ہبہ کردینے سے ہی تام ہوجاتاہے ہندیہ میں قنیہ سے مروی ہے کسی نے کپڑا خرید کر نابالغ بیٹے کے لئے اسے کاٹ دیا تو وہ واہب بن گیا اور بیٹے کو سونپا گیا اگرچہ ابھی سلا یانہ ہواور اگر باپ کہہ دے کہ میں نے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے خریدا ہے توبیٹا مالك ہوگیا اھ ملخصا۔اور علامہ استروشنی
مسئلہ ۵۹:از بنارس محلہ کندیگر ٹولہ شفاخانہ مسجد بی بی راجی مرسلہ مولوی حکیم عبدالغفور صاب ونیز از بنارس محلہ پتر کنڈہ مرسلہ مولوی محمد عبدالحمید صاحب ۱۴ رجب المرجب ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہے علمائے دین ومفتیان شرع متین ابقاہم اﷲ تعالی الی یوم الدین اس مسئلہ میں کہ زید کے تین بیٹے تھےعمروبکر خالدزید نے عمرو کے نام سے ایك مکان خریدکیا اور قبالہ وغیرہ امور متعلقہ بیع بھی سب اسی کے نام سے کئےبعد اس کے عمرو اپنے باپ زیدا ور برادران خالد وبکر کی حیات میں قضا کرگیا تو اب عمرو کے بال بچے اس مکان میں سے حصہ پائیں گے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگر عمرو اس وقت نابالغ تھا تو ہر طرح وہ مکان ملك عمرو ہوگیاعمرو کے ورثہ پر حسب فرائض شرعیہ منقسم ہوگا
فانہ ان وجدت اضافۃ العقد الی عمرو وقع الشراء لہ والاب یملکہ فملکہ عمرو ابتداء والا وقع الشراء لزید ثم جعلہ باسم عمرو صار ہبۃ منہ بحکم العرف واستغنت عن القبض لان ہبۃ الاب لولدہ الصغیر تتم بمجرد الایجاب وفی الہندیۃ عن القنیۃ اشتری ثوبا فقطعہ لولدہ الصغیر صار واہبا بالقطع مسلما الیہ قبل الخیاطۃ ولو قال اشتریت ھذالہ صار ملکا لہ اھ ملخصاوفی کیونکہ اگر مکان کی خریداری عمرو کی طر ف منسوب کی گئی تھی تو عمرو کے لئے وہی ہوئی جبکہ باپ اس کارروائی کا مختارہےتو اس مکان کا عمرو ابتداء مالك بنا ورنہ خریداری باپ زید کی ہوئی پھر اس نے عمرو بیٹے کے نام کی تویہ باپ کی طرف سے عرف کے لحاظ سے ہبہ ہوا اور اس ہبہ میں قبضہ دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ نابالغ بیٹے کو ہبہ کردینے سے ہی تام ہوجاتاہے ہندیہ میں قنیہ سے مروی ہے کسی نے کپڑا خرید کر نابالغ بیٹے کے لئے اسے کاٹ دیا تو وہ واہب بن گیا اور بیٹے کو سونپا گیا اگرچہ ابھی سلا یانہ ہواور اگر باپ کہہ دے کہ میں نے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے خریدا ہے توبیٹا مالك ہوگیا اھ ملخصا۔اور علامہ استروشنی
حوالہ / References
فتاوی ہندیہ کتاب الہبہ الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۹۲€
احکام الصغار للعلامۃ الاستروشنی عن الذخیرۃ والتجنیس امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالہا وقع الشراء للام لانہا لاتملك الشراء للولد وتکون الضعیۃ للولد لانہا تصیر واہبۃ والام تملك ذلك ویقع قبضہا عنہ ۔ کے احکام الصغار میں ذخیرہ اورتجنیس سے منقول ہے عورت نے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے زمین خریدی تو یہ خریداری اس عورت کی اپنی ذات کے لئے ہوگی اور زمین بیٹے کی ملك ہوگی کیونکہ اس نے بیٹے کو ہبہ کردی جبکہ ماں کو یہ اختیار حاصل ہے توماں کا قبضہ بیٹے کے لئے ہوگا(ت)
اورا گر بالغ تھا تو زید مشتری اور بائع مکان کے باہم عقد بیع وشراء میں جو لفظ زبان پرآئے ان پر نظر کی جائے گی اگر ان میں عمرو کی طرف اضافت عقد تھی مثلا بائع نے کہا یہ مکان میں نے تیرے بیٹے عمرو کے ہاتھ بیچا زید نے کہا میں نے اس کے لئے خریدا یا اس کے جواب میں اتنا ہی کہا کہ میں نے خریدا یا زید نے کہا یہ مکان میں نے اپنے بیٹے عمرو کے لئے خرید کیابائع نے کہا میں نے عمرو کے ہاتھ بیچایا اسی قدر کہا کہ میں نے بیچا
فان الاضافۃ فی احد الکلامین کافیۃ اذا لم یوجد فی الاخر خلافہا کما صححہ فی وجیز الکردری وحققناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار خلافالما فہم العلامۃ الشامی رحمہ اﷲ تعالی وصورۃ الخلاف ان تقع الاضافۃ فی احد الشطرین الی احد وفی الاخر کان قال اشتریت لفلان فقال بعت منك حیث یبطل العقد فی الاصح لانہ خاطب المشتری فردہ لغیرہ فلایکون جوابا فما بقی الابشرط واحد افادہ فی فروق الکرابیسی عقد کرنے والے فریقین میں سے ایك کے کلام میں اضافت ہو توکافی ہے بشرطیکہ دوسرے کاکلام اس کے منافی نہ ہو جیسا کہ وجیز کردری میں اس کی تصحیح ہے اور ہم نے اس کی تحقیق ردالمحتار کے حاشیہ میں کی ہے جبکہ علامہ شامی کا فہم اس کے خلاف ہے حالانکہ خلاف کی صورت یہ ہے کہ ایجاب قبول میں سے ایك میں اضافت ایك کی طرف ہو اور دوسرے میں دوسرے شخص کی طرف اضافت ہو مثلا خریدار کہے میں نے یہ چیز فلاں کے لئے خریدی تو اس کے جواب میں بائع یوں کہے یہ چیز میں نے تجھے فروخت کیتو صحیح ترین قول میں یہ عقد باطل ہے کیونکہ بائع نے مشتری کوخطاب کرکے عقد دوسرے کی طرف پھیردیا
اورا گر بالغ تھا تو زید مشتری اور بائع مکان کے باہم عقد بیع وشراء میں جو لفظ زبان پرآئے ان پر نظر کی جائے گی اگر ان میں عمرو کی طرف اضافت عقد تھی مثلا بائع نے کہا یہ مکان میں نے تیرے بیٹے عمرو کے ہاتھ بیچا زید نے کہا میں نے اس کے لئے خریدا یا اس کے جواب میں اتنا ہی کہا کہ میں نے خریدا یا زید نے کہا یہ مکان میں نے اپنے بیٹے عمرو کے لئے خرید کیابائع نے کہا میں نے عمرو کے ہاتھ بیچایا اسی قدر کہا کہ میں نے بیچا
فان الاضافۃ فی احد الکلامین کافیۃ اذا لم یوجد فی الاخر خلافہا کما صححہ فی وجیز الکردری وحققناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار خلافالما فہم العلامۃ الشامی رحمہ اﷲ تعالی وصورۃ الخلاف ان تقع الاضافۃ فی احد الشطرین الی احد وفی الاخر کان قال اشتریت لفلان فقال بعت منك حیث یبطل العقد فی الاصح لانہ خاطب المشتری فردہ لغیرہ فلایکون جوابا فما بقی الابشرط واحد افادہ فی فروق الکرابیسی عقد کرنے والے فریقین میں سے ایك کے کلام میں اضافت ہو توکافی ہے بشرطیکہ دوسرے کاکلام اس کے منافی نہ ہو جیسا کہ وجیز کردری میں اس کی تصحیح ہے اور ہم نے اس کی تحقیق ردالمحتار کے حاشیہ میں کی ہے جبکہ علامہ شامی کا فہم اس کے خلاف ہے حالانکہ خلاف کی صورت یہ ہے کہ ایجاب قبول میں سے ایك میں اضافت ایك کی طرف ہو اور دوسرے میں دوسرے شخص کی طرف اضافت ہو مثلا خریدار کہے میں نے یہ چیز فلاں کے لئے خریدی تو اس کے جواب میں بائع یوں کہے یہ چیز میں نے تجھے فروخت کیتو صحیح ترین قول میں یہ عقد باطل ہے کیونکہ بائع نے مشتری کوخطاب کرکے عقد دوسرے کی طرف پھیردیا
حوالہ / References
جامع احکام الصغارعلی ہامش جامع الفصولین مسائل البیوع ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۸۷€
کمانقلہ عنہا فی البحر ۔ تو مشتری کے ایجاب کے مطابق جواب نہ ہوا تو یہ عقد صرف ایك طرف ہوااس کا افادہ الکرابیسی کے فروق میں ہے۔جیسا کہ اس کو وہاں سے بحر میں نقل کیا۔(ت)
تو اس صورت میں یہ شرائے فضولی ہوا اور اجازت عمرو پر موقوف رہااگر اس نے اجازت دی مکان ابتداء ملك عمرو ہوا اور اسی کے ورثہ پر تقسیم ہوگا اور اگر پیش از اجازت مرگیا بیع با طل ہوکر مکان ملك بائع پر رہا۔
فی الدرالمختار لو اشتری لغیرہ نفذ علیہ اذا لم یضفہ الی غیرہ فلواضافہ توقف بزازیہ وغیرہا اھ مختصرا وفی البزازیۃ الصحیح وانہ اذا اضیف العقد فی احد الکلامین الی فلان یتوقف علی اجازتہ اھ وفی الدر لاتجوز اجازۃ وارثہ لبطلانہ بموتہ اھ۔ درمختار میں ہے اگر کسی نے غیر کے لئے خریدا تو خریدار پر نافذ ہوگی بشرطیکہ اس کو غیر کی طرف منسوب نہ کیا اگر خریدکو غیر کی طرف منسوب کرتے ہوئے عقد کیا تو اس غیر کی اجازت پر عقد موقوف ہوگابزازیہ اھ مختصرااور بزازیہ میں ہے کہ صحیح یہ ہے کہ جب فریقین میں سے کسی ایك کے کلام میں غیر کی طرف اضافت ہوگئی تو اس غیر کی اجازت پر موقوف ہوگااور درمختار میں ہے یہ موقوف عقد اس غیر کی موت کے بعد اس کے وراث کی اجازت سے جائز نہ ہوگا کیونکہ اس کی موت سے یہ اختیار ختم ہوگیا اھ۔(ت)
اور اگر لفظوں میں عمرو کی طرف اضافت نہ تھی اگر چہ قبالہ میں عمرو ہی کے ہاتھ بیچنا لکھا ہو
(فان العبرۃ بما تلظ بہ لا بما کتباہ)کما نص علیہ فی الخیریۃ ۔ فریقین نے جو تلفظ کیا اس کا اعتبار ہوگا ان کے لکھے کا اعتبار نہ ہوگا جیسا کہ اس پر خیریہ میں نص کی ہے۔(ت)
تو اس صورت میں یہ شرائے فضولی ہوا اور اجازت عمرو پر موقوف رہااگر اس نے اجازت دی مکان ابتداء ملك عمرو ہوا اور اسی کے ورثہ پر تقسیم ہوگا اور اگر پیش از اجازت مرگیا بیع با طل ہوکر مکان ملك بائع پر رہا۔
فی الدرالمختار لو اشتری لغیرہ نفذ علیہ اذا لم یضفہ الی غیرہ فلواضافہ توقف بزازیہ وغیرہا اھ مختصرا وفی البزازیۃ الصحیح وانہ اذا اضیف العقد فی احد الکلامین الی فلان یتوقف علی اجازتہ اھ وفی الدر لاتجوز اجازۃ وارثہ لبطلانہ بموتہ اھ۔ درمختار میں ہے اگر کسی نے غیر کے لئے خریدا تو خریدار پر نافذ ہوگی بشرطیکہ اس کو غیر کی طرف منسوب نہ کیا اگر خریدکو غیر کی طرف منسوب کرتے ہوئے عقد کیا تو اس غیر کی اجازت پر عقد موقوف ہوگابزازیہ اھ مختصرااور بزازیہ میں ہے کہ صحیح یہ ہے کہ جب فریقین میں سے کسی ایك کے کلام میں غیر کی طرف اضافت ہوگئی تو اس غیر کی اجازت پر موقوف ہوگااور درمختار میں ہے یہ موقوف عقد اس غیر کی موت کے بعد اس کے وراث کی اجازت سے جائز نہ ہوگا کیونکہ اس کی موت سے یہ اختیار ختم ہوگیا اھ۔(ت)
اور اگر لفظوں میں عمرو کی طرف اضافت نہ تھی اگر چہ قبالہ میں عمرو ہی کے ہاتھ بیچنا لکھا ہو
(فان العبرۃ بما تلظ بہ لا بما کتباہ)کما نص علیہ فی الخیریۃ ۔ فریقین نے جو تلفظ کیا اس کا اعتبار ہوگا ان کے لکھے کا اعتبار نہ ہوگا جیسا کہ اس پر خیریہ میں نص کی ہے۔(ت)
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب البیع فصل فی بیع الفضولی ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۱۴۹،€ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی بیع الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۳۷€
درمختار کتاب البیوع فصل فی بیع الفضولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱€
فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب البیوع الفصل العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۹۱€
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲€
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ∞۱ /۴۰۔۱۳۹€
درمختار کتاب البیوع فصل فی بیع الفضولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱€
فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب البیوع الفصل العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۹۱€
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲€
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ∞۱ /۴۰۔۱۳۹€
تو یہ شراء زید کے لئے واقع اور زید ہی اس کا مالك ہوا اب بعد اس کے جبکہ تحریر قبالہ وغیرہا کارروائیاں بنام عمرو کرائیں تو یہ بحکم عرف شائع کی طرف سے عمرو کے لئے ہبہ ہوا
فان مثل ھذا یدل دلالۃ واضحۃ علی التملیك وھی المثبتۃ للہبۃ فی ردالمحتار التلفظ بالایجاب والقبول لایشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیك الخ فی احکام الصغاران المعتبر فی الباب التعارف وفی العرف یراد بہ البرو الصلۃ ۔الخ۔ کیونکہ اس جیسی صورت کی تملیك پر واضح دلالت ہے اور اسی سے ہبہ کا ثبوت ہوتاہےردالمحتار میں ہے کہ ایجاب وقبول کا تلفظ ضروری نہیں بلکہ ایسے قرائن کا وجود کافی ہے جو تملیك پر دال ہو الخ۔اوراحکام الصغار میں ہے کہ اس باب میں تعارف معتبر ہے اور عرف میں ہبہ سے بھلائی اور صلہ مراد ہوتاہے۔الخ(ت)
پس اگر عمرو نے بربنائے ہبہ قبضہ کاملہ پالیا تھا تومکان ملك عمرو ہوگیا اس کے ورثہ پر تقسیم ہوگا ورنہ ملك زید پر باقی ہے وارثان عمرو کا اس میں کچھ حق نہیں۔
فی ردالمحتار عن البزازیۃ اتخذ لولدہ الصغیر ثوبا یمبلکہ وکذا الکبیر بالتسلیم اھ واﷲ تعالی اعلم۔ ردالمحتار میں بزازیہ کے حوالہ سے ہے نابالغ بیٹے کے لئے کپڑا لیا تو بیٹا مالك ہوجائے گا اور یوں بالغ کے لئے بشرطیکہ اس کو سونپ دیا ہوا ھ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۶۰: از بڑوئچ ملك مالوہ علاقہ دربار ٹونك مرسلہ سید محمد شاہ صاحب ۳۰ شعبان ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ کلو بی بی مورث اعلی نے بذریعہ ہبہ نامہ اپنی جائداد مملوکہ ومقبوضہ میر جعفر علی داماد خود کے قبضہ میں دے دی اور مسماۃ بگو بی بی دختر کلو بی بی مورث اعلی سے مسماۃ کنیز بانو ایك لڑکی از نطفہ میر جعفر علی پیدا ہوئی اور وہ مسمی نجیب شاہ کے عقد میں دی گئی اور بحیات میر جعفر علی وکلو بی بی مورث اعلی کے بگو بی بی وکنیز بانو لاولد ہر دونوں کاا نتقال ہوگیامیر جعفر علی حیات رہے ان کی دوسری زوجہ مسماۃ حاکم بی بی سے دولڑکی کنیز فاطمہ وکنیز صغری
فان مثل ھذا یدل دلالۃ واضحۃ علی التملیك وھی المثبتۃ للہبۃ فی ردالمحتار التلفظ بالایجاب والقبول لایشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیك الخ فی احکام الصغاران المعتبر فی الباب التعارف وفی العرف یراد بہ البرو الصلۃ ۔الخ۔ کیونکہ اس جیسی صورت کی تملیك پر واضح دلالت ہے اور اسی سے ہبہ کا ثبوت ہوتاہےردالمحتار میں ہے کہ ایجاب وقبول کا تلفظ ضروری نہیں بلکہ ایسے قرائن کا وجود کافی ہے جو تملیك پر دال ہو الخ۔اوراحکام الصغار میں ہے کہ اس باب میں تعارف معتبر ہے اور عرف میں ہبہ سے بھلائی اور صلہ مراد ہوتاہے۔الخ(ت)
پس اگر عمرو نے بربنائے ہبہ قبضہ کاملہ پالیا تھا تومکان ملك عمرو ہوگیا اس کے ورثہ پر تقسیم ہوگا ورنہ ملك زید پر باقی ہے وارثان عمرو کا اس میں کچھ حق نہیں۔
فی ردالمحتار عن البزازیۃ اتخذ لولدہ الصغیر ثوبا یمبلکہ وکذا الکبیر بالتسلیم اھ واﷲ تعالی اعلم۔ ردالمحتار میں بزازیہ کے حوالہ سے ہے نابالغ بیٹے کے لئے کپڑا لیا تو بیٹا مالك ہوجائے گا اور یوں بالغ کے لئے بشرطیکہ اس کو سونپ دیا ہوا ھ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۶۰: از بڑوئچ ملك مالوہ علاقہ دربار ٹونك مرسلہ سید محمد شاہ صاحب ۳۰ شعبان ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ کلو بی بی مورث اعلی نے بذریعہ ہبہ نامہ اپنی جائداد مملوکہ ومقبوضہ میر جعفر علی داماد خود کے قبضہ میں دے دی اور مسماۃ بگو بی بی دختر کلو بی بی مورث اعلی سے مسماۃ کنیز بانو ایك لڑکی از نطفہ میر جعفر علی پیدا ہوئی اور وہ مسمی نجیب شاہ کے عقد میں دی گئی اور بحیات میر جعفر علی وکلو بی بی مورث اعلی کے بگو بی بی وکنیز بانو لاولد ہر دونوں کاا نتقال ہوگیامیر جعفر علی حیات رہے ان کی دوسری زوجہ مسماۃ حاکم بی بی سے دولڑکی کنیز فاطمہ وکنیز صغری
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۰۸€
جامع احکام الصغار علی ہامش جامع الفصولین مسائل البیوع ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۷۶€
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۰۹€
جامع احکام الصغار علی ہامش جامع الفصولین مسائل البیوع ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۷۶€
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۰۹€
از نطفہ میر جعفر علی پیدا ہوئیں اور بذریعہ اس ہبہ نامہ کے کہ جو کلو بی بی نے بنام میر جعفر علی کیا تھا جائداد موہوبہ ومقبوضہ میر جعفر علی پر کہ جس کو عرصہ ۵۵ سال کا ہوا بلکہ زائد قابض ومتصرف ہیں اور بموجب اسی ہبہ نامہ کے احکام منظوری ریاست شرع شریف یعنی مفتی محکمہ قضا سے استخلاصہ صادر ہوئی کہ ہبہ نامہ نوشہ کلو بی بی موسومہ میر جعفر علی صحیح ودرست ہے بموجب اس کے قبضہ کنیز فاطمہ وکنیز صغری دختران میر جعفر علی موحوم کارہے۔اب بعد مرور عرصہ مذکور کے مسمی امام شاہ برادر نجیب شاہ نے کہ نجیب شاہ شوہر کنیز بانو دختر میر جعفر علی مرحوم کا ہے عدالت شرع شریف میں دعوی دائر کیا کہ مسماۃ کنیز بانو نواسی کلو بی بی مورث اعلی میرے بھائی نجیب شاہ کے عقد میں تھی اسی وجہ سے جائداد متروکہ میر جعفر علی کے جو کلو بی بی سے بذریعہ ہبہ نامہ ان کے قبضہ میں ہے مجھ کو ملنا چاہئے دختران میر جعفر علی کا قبضہ نسخ فرمایا جائےپس اندریں صورت جائداد موہوبہ کلو بی بی بنام میر جعفرعلی عند الشرع کس کو پہنچ سکتی ہے بینوا توجروا
الجواب:
وہ جائداد بذریعہ ہبہ صحیحہ تامہ ملك جعفر علی ہوگئی کلو بی بی یا اس کے ورثہ کا اس میں کچھ حق نہ رہا امام شاہ کا دعوی محض باطل ونامسموع ہےعالمگیریہ میں ہے:
اماحکمہا فثبوت الملك للموہوب لہ ۔ لیکن اس کا حکم یہ ہے کہ موہوب لہ کے لئے ملکیت کا فائدہ دیتا ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
اما العوارض المانعۃ من الرجوع فمنہا موت الواہب کذا فی البدائع اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔ رجوع سے موانع میں ایك یہ ہے کہ واہب فوت ہوجائے جیسا کہ بدائع میں ہے اھ ملخصاواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۶۱: از بیجناتھ پارہ ضلع رائے پور مرسلہ شیخ اکبر حسین صاحب متولی مسجد بیجناتھ پارہ ۱۳ ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
ایك عورت نے انتقال کیا اور ایك لڑکا چھوڑااس کے خاوند نے جب دوسرے نکاح کا
الجواب:
وہ جائداد بذریعہ ہبہ صحیحہ تامہ ملك جعفر علی ہوگئی کلو بی بی یا اس کے ورثہ کا اس میں کچھ حق نہ رہا امام شاہ کا دعوی محض باطل ونامسموع ہےعالمگیریہ میں ہے:
اماحکمہا فثبوت الملك للموہوب لہ ۔ لیکن اس کا حکم یہ ہے کہ موہوب لہ کے لئے ملکیت کا فائدہ دیتا ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
اما العوارض المانعۃ من الرجوع فمنہا موت الواہب کذا فی البدائع اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔ رجوع سے موانع میں ایك یہ ہے کہ واہب فوت ہوجائے جیسا کہ بدائع میں ہے اھ ملخصاواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۶۱: از بیجناتھ پارہ ضلع رائے پور مرسلہ شیخ اکبر حسین صاحب متولی مسجد بیجناتھ پارہ ۱۳ ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
ایك عورت نے انتقال کیا اور ایك لڑکا چھوڑااس کے خاوند نے جب دوسرے نکاح کا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۴€
فتاوٰی ہندیۃ الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۸۶€
فتاوٰی ہندیۃ الباب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۸۶€
قصد کیا تو عورت متوفیہ کی ماں مانع ہوئی کہ پہلے میری بیٹی کا مہر دے دو بعد میں نکاح کرو چنانچہ اس شخص نے بروقت نکاح اپنے لڑکے کے نام جائداد لکھ دی یا صرف اقرار ہی کیا اور بیان کیا کہ آئندہ جو کچھ از نقد یا جائداد حاصل کروں گا وہ اس عورت اور اس کی اولاد کاحق ہوگااس شخص نے ایك لڑکا اور ایك لڑکی پیدا ہونے کے بعد انتقال کیا اور اس عورت ثانی نے بھی انتقال کیا اب ایك لڑکا پہلی بی بی کا ہے جس کے قبضہ میں کل جائداد ہے اور ایك لڑکا اور ایك لڑکی دوسری بی بی سے ہیں جن کے پاس کچھ نہیں ہےیہ اولاد ثانی اس ورثہ سے جو پہلے لڑکے کے تصرفات میں ہے کچھ پاسکتے ہیں یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
تمامی ہبہ کے لئے واہب کا موہوب لہ کو شے موہوب پرقبضہ کاملہ دلانا شرط ہے قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائداد یا ۱تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو(یعنی کسی اور شخص کی ملك سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام)اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دےیا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملك سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایك چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترك کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہےیا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔او رپسر موہوب لہ اگر وقت ہبہ بالغ ہو تو خود اس کا اپنا قبضہ شرط ہے ورنہ باپ کا قبضہ اسی کا قبضہ ہے کل ذلك مصرح بہ فی الکتب الفقہیۃ عن اخرہا(یہ تمام بحث کتب فقہ میں تصریح شدہ ہے۔ت)پس صورت مستفسرہ میں اگر شخص مذکور نے وہ جائداد اپنے پسر کو تحریری خواہ زبانی ہبہ کردی اور بشرائط ومعانی مذکورہ پسر کو قبضہ کاملہ دلا دیا تو وہ جائداد خاص اس پسر کی ملك ہوگئی دیگر ورثہ کا اس میں استحقاق نہ رہااور اگر ہبہ نہ تھا نرا اقرار ہی اقرار تھا کہ اسے دے دوں گایا ہبہ زبانی خواہ تحریری کیا مگر قبضہ نہ دیا تو وہ قبضہ کاملہ نہ تھا اگر چہ پسر نے بعد موت پدرقبضہ کاملہ کرلیا ہو تو ان صورتوں میں وہ جائداد بدستور ملك پدر پر باقی رہی تمام ورثہ حسب فرائض اس سے حصہ پائیں گے فان موت الواہب قبل التسلیم یبطل الھبۃ کما فی الدرالمختار (کیونکہ قبضہ دینے سے قبل واہب کی موت ہبہ کو باطل کردیتی ہے جیسا کہ درمختار
الجواب:
تمامی ہبہ کے لئے واہب کا موہوب لہ کو شے موہوب پرقبضہ کاملہ دلانا شرط ہے قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائداد یا ۱تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو(یعنی کسی اور شخص کی ملك سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام)اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دےیا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملك سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایك چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترك کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہےیا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔او رپسر موہوب لہ اگر وقت ہبہ بالغ ہو تو خود اس کا اپنا قبضہ شرط ہے ورنہ باپ کا قبضہ اسی کا قبضہ ہے کل ذلك مصرح بہ فی الکتب الفقہیۃ عن اخرہا(یہ تمام بحث کتب فقہ میں تصریح شدہ ہے۔ت)پس صورت مستفسرہ میں اگر شخص مذکور نے وہ جائداد اپنے پسر کو تحریری خواہ زبانی ہبہ کردی اور بشرائط ومعانی مذکورہ پسر کو قبضہ کاملہ دلا دیا تو وہ جائداد خاص اس پسر کی ملك ہوگئی دیگر ورثہ کا اس میں استحقاق نہ رہااور اگر ہبہ نہ تھا نرا اقرار ہی اقرار تھا کہ اسے دے دوں گایا ہبہ زبانی خواہ تحریری کیا مگر قبضہ نہ دیا تو وہ قبضہ کاملہ نہ تھا اگر چہ پسر نے بعد موت پدرقبضہ کاملہ کرلیا ہو تو ان صورتوں میں وہ جائداد بدستور ملك پدر پر باقی رہی تمام ورثہ حسب فرائض اس سے حصہ پائیں گے فان موت الواہب قبل التسلیم یبطل الھبۃ کما فی الدرالمختار (کیونکہ قبضہ دینے سے قبل واہب کی موت ہبہ کو باطل کردیتی ہے جیسا کہ درمختار
حوالہ / References
درمختار کتاب الہبہ باب الرجوع فی الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
میں ہے۔ت)
مسئلہ ۶۲:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك جائداد قابل قسمت بشرکت اور تین شخصوں کے روپے سے خرید کرکے بلا تقسیم اپنی زوجہ کے نام لکھا دی اور اس کی زندگی تك وہ جائداد منقسم نہ ہوئی اب بعد وفات اس کی مالك اس جائداد کی فقط زوجہ مذکورہ ہے یا مثل اس کے اور ترکہ کے سب ورثہ پر تقسیم ہوجائیگی۔بینوا توجروا
الجواب:
صورت مسئولہ میں وہ جائداد مثل اس کے اور ترکہ کے سب ورثہ پر منقسم ہوجائے گی اور صرف زوجہ مذکورہ اس کی مالك نہیں ہوسکتی کہ یہ نام لکھا دینا ہبہ جائداد صالح قسمت کا بلا تقسیم صحیح ونافذ نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۳:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك ملك دو بیٹوں پر منقسم تھیایك پٹی ہندہ اور ایك اس کے پسر زید کی تھیہندہ نے زید پسر اور اس کے ایك بیٹا کہ سامنے فوت ہوا تھا دو پوتے اور دو پوتیاں چھوڑ کر انتقال کیا زید نے ہندہ کی بیٹی میں صرف اپنے بھتیجے عمرو کے نام جس کی عمر قریب ۲۳۲۴ سال کی تھی لکھوادیا مگر اب تك اسے قبضہ نہ دیادونوں پٹیاں زید کے قبضہ میں ہیں۔وہ پٹی بھتیجے کو دینا نہیں چاہتااس صورت میں ترکہ ہندہ مکان وملك وغیرہ کا مالك کون ہے اور پوتے پوتیوں کو بھی اس میں کچھ حق ہے یانہیں اور عمرو اس نام لکھوادینے سے اس پٹی کا مالك ہوگیا یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث ووارث آخر وادائے دیون ونفاذ وصایا کل متروکہ ہندہ کامالك صرف اس کا بیٹا زید ہے اور نام لکھا دینا اگرچہ دلیل تملیك ہے اور یہ تملیك ہبہ ہے مگر ہبہ بے قبضہ کے تمام نہیں ہوتانہ بغیر اس کے موہوب لہ کو ملك حاصل ہو ایسی عــــــہ کہ زید نے اپنے بھتیجے کوقبضہ نہ دلادیا وہ پٹی بھی بدستور زید کی ملك ہے عمرو اس سے
عــــــہ: اصل میں اسی طرح ہے شاید قلم ناسخ سے لفظ"ایسی"کے بعد"صورت میں"چھوٹ گیا ۱۲۔
مسئلہ ۶۲:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك جائداد قابل قسمت بشرکت اور تین شخصوں کے روپے سے خرید کرکے بلا تقسیم اپنی زوجہ کے نام لکھا دی اور اس کی زندگی تك وہ جائداد منقسم نہ ہوئی اب بعد وفات اس کی مالك اس جائداد کی فقط زوجہ مذکورہ ہے یا مثل اس کے اور ترکہ کے سب ورثہ پر تقسیم ہوجائیگی۔بینوا توجروا
الجواب:
صورت مسئولہ میں وہ جائداد مثل اس کے اور ترکہ کے سب ورثہ پر منقسم ہوجائے گی اور صرف زوجہ مذکورہ اس کی مالك نہیں ہوسکتی کہ یہ نام لکھا دینا ہبہ جائداد صالح قسمت کا بلا تقسیم صحیح ونافذ نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۳:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك ملك دو بیٹوں پر منقسم تھیایك پٹی ہندہ اور ایك اس کے پسر زید کی تھیہندہ نے زید پسر اور اس کے ایك بیٹا کہ سامنے فوت ہوا تھا دو پوتے اور دو پوتیاں چھوڑ کر انتقال کیا زید نے ہندہ کی بیٹی میں صرف اپنے بھتیجے عمرو کے نام جس کی عمر قریب ۲۳۲۴ سال کی تھی لکھوادیا مگر اب تك اسے قبضہ نہ دیادونوں پٹیاں زید کے قبضہ میں ہیں۔وہ پٹی بھتیجے کو دینا نہیں چاہتااس صورت میں ترکہ ہندہ مکان وملك وغیرہ کا مالك کون ہے اور پوتے پوتیوں کو بھی اس میں کچھ حق ہے یانہیں اور عمرو اس نام لکھوادینے سے اس پٹی کا مالك ہوگیا یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں برتقدیر صدق مستفتی وعدم موانع ارث ووارث آخر وادائے دیون ونفاذ وصایا کل متروکہ ہندہ کامالك صرف اس کا بیٹا زید ہے اور نام لکھا دینا اگرچہ دلیل تملیك ہے اور یہ تملیك ہبہ ہے مگر ہبہ بے قبضہ کے تمام نہیں ہوتانہ بغیر اس کے موہوب لہ کو ملك حاصل ہو ایسی عــــــہ کہ زید نے اپنے بھتیجے کوقبضہ نہ دلادیا وہ پٹی بھی بدستور زید کی ملك ہے عمرو اس سے
عــــــہ: اصل میں اسی طرح ہے شاید قلم ناسخ سے لفظ"ایسی"کے بعد"صورت میں"چھوٹ گیا ۱۲۔
جبرا نہیں لے سکتاہدایہ میں ہے:
القبض لابدمنہ لثبوت الملك لانہ عقد تبرع وفی الاثبات الملك قبل القبض الزام المتبرع شیئا لم یتبرع بہ وھو التسلیم فلا یصح ولان القبض تصرف فی ملك الواہب اذ مبلکہ قبل القبض باق اھ قلت ومن ھھنا ظہران امتناعہ عن التسلیم عــــــہ لیس فی شیئ من الرجوع فان الرجوع فیہ بعد القبض اما قبلہ فلم تتم الھبۃ۔ ہبہ میں ملکیت کے ثبوت کے لئے قبضہ ضروری ہے کیونکہ یہ مفت عطیہ کا عقد ہے جبکہ قبضہ سے قبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت کرنا تبرع کرنے والے پر ایسی چیز کو لازم کرنا جس کا ابھی اس نے تبرع نہیں کیا اور یہ قبضہ دینا تبرع ہے تو قبل قبضہ درست نہ ہوادوسری وجہ یہ ہے قبضہ دینے سے قبل واہب کی ملکیت ابھی باقی ہے تو قبضہ سے قبل اس کی ملکیت میں تصرف لازم آئے گا اھمیں کہتاہوںیہاں سے واضح ہوگیا کہ واہب کا قبضہ نہ دینا ہبہ سے رجوع نہ کہلائے گا کیونکہ ہبہ میں رجوع قبضہ دینے کے بعد ہوسکتاہے اس سے قبل تو ہبہ تام نہیں ہوا۔(ت)اور اب اگر عمرو بغیر اجازت زید کے خود قبضہ کرلے گا اصلا بکارآمد نہ ہوگاواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں زید وہندہ دونوں حیاتان کے تین بیٹے:احمد و محمد و حامد۔احمد مختار عام محمد روزگار پیشہحامد نابالغ۔محمد سرمایہ روزگار اپنا معرفت زید وہندہ بالاشتراك صرف کرتارہا زید نے منجملہ اپنی جائداد کے ایك اراضی افتادہ واسطے تعمیر مکان کے محمد کو دے دی اس نے منجملہ اپنے سرمایہ روزگارکے جو اس کے پاس جمع تھا اور اپنی زوجہ اور ماموں سے کچھ روپیہ اور چوب قرض لے کر مکان پختہ تعمیر کرایا او ریوم تعمیر سے آج تك اس پر قابض ہے اور کسی قدر چوب متفرقہ تعمیر ہذا زید منجملہ تین باغات مملوکہ اپنے کے ایك قطعہ باغ ازروئے تقسیم بلالحاظ کم وبیش محمد کو دیں کہ وہ صرف تعمیر ہوئے
عــــــہ: فی الاصل بیاض بین لفظ التسلیم ولفظ فی شیئ ولفظ"کان"مرقوم بین فان الرجوع ۱۲ یہاں اصل میں لفظ"تسلیم"اور لفظ"فی شیئ"کے درمیان بیاض ہے اور لفظ"فان الرجوع کے درمیان"کان"لکھا ہوا ہے۔ ۱۲۔ (ت)
القبض لابدمنہ لثبوت الملك لانہ عقد تبرع وفی الاثبات الملك قبل القبض الزام المتبرع شیئا لم یتبرع بہ وھو التسلیم فلا یصح ولان القبض تصرف فی ملك الواہب اذ مبلکہ قبل القبض باق اھ قلت ومن ھھنا ظہران امتناعہ عن التسلیم عــــــہ لیس فی شیئ من الرجوع فان الرجوع فیہ بعد القبض اما قبلہ فلم تتم الھبۃ۔ ہبہ میں ملکیت کے ثبوت کے لئے قبضہ ضروری ہے کیونکہ یہ مفت عطیہ کا عقد ہے جبکہ قبضہ سے قبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت کرنا تبرع کرنے والے پر ایسی چیز کو لازم کرنا جس کا ابھی اس نے تبرع نہیں کیا اور یہ قبضہ دینا تبرع ہے تو قبل قبضہ درست نہ ہوادوسری وجہ یہ ہے قبضہ دینے سے قبل واہب کی ملکیت ابھی باقی ہے تو قبضہ سے قبل اس کی ملکیت میں تصرف لازم آئے گا اھمیں کہتاہوںیہاں سے واضح ہوگیا کہ واہب کا قبضہ نہ دینا ہبہ سے رجوع نہ کہلائے گا کیونکہ ہبہ میں رجوع قبضہ دینے کے بعد ہوسکتاہے اس سے قبل تو ہبہ تام نہیں ہوا۔(ت)اور اب اگر عمرو بغیر اجازت زید کے خود قبضہ کرلے گا اصلا بکارآمد نہ ہوگاواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں زید وہندہ دونوں حیاتان کے تین بیٹے:احمد و محمد و حامد۔احمد مختار عام محمد روزگار پیشہحامد نابالغ۔محمد سرمایہ روزگار اپنا معرفت زید وہندہ بالاشتراك صرف کرتارہا زید نے منجملہ اپنی جائداد کے ایك اراضی افتادہ واسطے تعمیر مکان کے محمد کو دے دی اس نے منجملہ اپنے سرمایہ روزگارکے جو اس کے پاس جمع تھا اور اپنی زوجہ اور ماموں سے کچھ روپیہ اور چوب قرض لے کر مکان پختہ تعمیر کرایا او ریوم تعمیر سے آج تك اس پر قابض ہے اور کسی قدر چوب متفرقہ تعمیر ہذا زید منجملہ تین باغات مملوکہ اپنے کے ایك قطعہ باغ ازروئے تقسیم بلالحاظ کم وبیش محمد کو دیں کہ وہ صرف تعمیر ہوئے
عــــــہ: فی الاصل بیاض بین لفظ التسلیم ولفظ فی شیئ ولفظ"کان"مرقوم بین فان الرجوع ۱۲ یہاں اصل میں لفظ"تسلیم"اور لفظ"فی شیئ"کے درمیان بیاض ہے اور لفظ"فان الرجوع کے درمیان"کان"لکھا ہوا ہے۔ ۱۲۔ (ت)
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب الھبۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۲۔۲۸۱€
عندالضرورت واسطے انجام تعمیر مکان مذکورہ معرفت زید کسی قدر روپیہ قرض لیا گیا کہ محمد نے بعدتعمیر اپنے سرمایہ روزگار سے زید کو دے دیا اب زید چاہتاہے کہ مکان مذکور احمد ومحمد وحامد سب کو تقسیم کردے یہ فعل اس کا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
تعمیر مکان کے لئے زمین دینا ہبہ نہیںاگر زید نے زمین دیتے وقت کوئی لفظ ایسا جو شرعا مفید ہبہ ہو نہ کہا تو صرف عاریت اور زمین بدستور ملك زید ہے اسے اختیار جسے چاہے تقسیم کردے ہاں عمارت کسی پر تقسیم نہیں ہوسکتی کہ وہ خاص ملك محمد ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فاطمہ نے کہ زید کی خالہ ہے ایك باغ زید کو ہبہ کیا اور قابض کرادیاآیا یہ ہبہ صحیح اور وہ باغ زید کا قرار پائے گا یانہیں اور فاطمہ اب اسے واپس لے سکتی ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
بر تقدیر وجود سائر شرائط ہبہ اگر فاطمہ نے باغ سے اپنا قبضہ بالکل اٹھالیا اور زید کو قابض کرادیا تو ہبہ صحیح ہے اور وہ باغ زید کا قرار پائے گا اور فاطمہ کو اس وجہ سے کہ وہ زید کی خالہ ہے رجوع ہبہ سے صحیح نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گورنمنٹ انگریزی نے زید کے دیہات جاگیر ضبط کرکے کچھ روپیہ سالانہ مقرر کردیا کہ بعد انتقال زید حسب فرائض منقسم ہوتا رہا منجملہ اس کے ستاسی روپیہ سالانہ ہندہ پاتی تھیاس نے اپنے انتقال سے ۲۵ دن پہلے اپنا روزینہ اپنے نواسے کو ہبہ کیاا ور بنام موہوب لہ اس کے منتقل ہوجانے کی درخواست دیہندہ کا بھتیجا یعنی اس کے چچا زاد بھائی کا بیٹا کہ اس کے سوا او ر کوئی وارث نہیںاس روپیہ کا دعوی کررہا ہےآیا اس صورت میں وہ ہبہ صحیح ونافذ اور بھتیجا کا دعوی باطل وناجائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
تعمیر مکان کے لئے زمین دینا ہبہ نہیںاگر زید نے زمین دیتے وقت کوئی لفظ ایسا جو شرعا مفید ہبہ ہو نہ کہا تو صرف عاریت اور زمین بدستور ملك زید ہے اسے اختیار جسے چاہے تقسیم کردے ہاں عمارت کسی پر تقسیم نہیں ہوسکتی کہ وہ خاص ملك محمد ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فاطمہ نے کہ زید کی خالہ ہے ایك باغ زید کو ہبہ کیا اور قابض کرادیاآیا یہ ہبہ صحیح اور وہ باغ زید کا قرار پائے گا یانہیں اور فاطمہ اب اسے واپس لے سکتی ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
بر تقدیر وجود سائر شرائط ہبہ اگر فاطمہ نے باغ سے اپنا قبضہ بالکل اٹھالیا اور زید کو قابض کرادیا تو ہبہ صحیح ہے اور وہ باغ زید کا قرار پائے گا اور فاطمہ کو اس وجہ سے کہ وہ زید کی خالہ ہے رجوع ہبہ سے صحیح نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۶۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گورنمنٹ انگریزی نے زید کے دیہات جاگیر ضبط کرکے کچھ روپیہ سالانہ مقرر کردیا کہ بعد انتقال زید حسب فرائض منقسم ہوتا رہا منجملہ اس کے ستاسی روپیہ سالانہ ہندہ پاتی تھیاس نے اپنے انتقال سے ۲۵ دن پہلے اپنا روزینہ اپنے نواسے کو ہبہ کیاا ور بنام موہوب لہ اس کے منتقل ہوجانے کی درخواست دیہندہ کا بھتیجا یعنی اس کے چچا زاد بھائی کا بیٹا کہ اس کے سوا او ر کوئی وارث نہیںاس روپیہ کا دعوی کررہا ہےآیا اس صورت میں وہ ہبہ صحیح ونافذ اور بھتیجا کا دعوی باطل وناجائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ ہبہ باطل وبے اثر اور برادر زادہ دہندہ کا دعوی صحیح ومعتبراولا اس ہبہ کا یہ محصل کہ وہاں سے جو روزینہ جب جب آوے ا س کا مالك موہوب لہ ہےاور وہ روزینہ ہندہ بالفعل موجود نہیں۔اورہبہ معدوم وباطل ہے۔(جواب نامکمل ملا)
مسئلہ ۶۷:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید کے تین بیٹےعمروبکرخالدبکر نے ایك اراضی افتادہ مقبوضہ مملوکہ زید میں حسب اجازت زید اپنے سرمایہ روزگار سے ایك مکان پختہ تعمیرکرایا اور کچھ روپیہ اپنی زوجہ اورماموں سے قرض لے کر لگا یا کسی قدروپیہ بطور قرض زید نے بھی دیا کہ بکر نے اسے ادا کردیااگر زید مکان معمرہ بکرکو عمر و و خالد پر ہی تقسیم کرنا چاہے تو بکر مستحق پانے سرمایہ ذاتی اور اس روپیہ کے جو اس نے اپنی زوجہ اور ماموں سے قرض لے کر لگایا ہے عمرو وخالد سے ہے یا نہیں اور وہ اراضی ہبہ ہوئی تھی یا نہیں اور اگر ہبہ تھی تو زید کا رجوع تعمیر مکان وقبضہ بکر کے بعد صحیح ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
باپ کا اپنے بیٹے کو ایك زمین افتادہ تعمیر مکان کے لئے بتادینا تنہا مثبت ہبہ نہیں تاوقتیکہ اس کے ساتھ الفاظ ہبہ سے کوئی لفظ نہ پایا جائے مثلا یہ زمین نے تجھے دے دی یا ہبہ کی یا تمھیں اس کا مالك کیا یا یہ زمین تیری ہے وامثال ذلك مما یدل علی تملیك العین بلاعوض(اس کی مثل اور الفاظ جو بغیر عوض تملیك پر دلالت کریں۔ت)پس اگر ان الفاظ سے کوئی لفظ پایا گیا تو بیشك صورت مستفسرہ میں ہبہ صحیح وتام ولازم ہوگیا زید کو رجوع کااختیار نہیں۔نہ وہ اس مکان کو عمرو وخالد پر تقسیم کرسکتاہے ورنہ بعد اجازت تعمیر سے صرف عاریت ثابت ہوگی زمین بدستور مملوك زید ہے بکر کا اس میں کچھ حق نہیں اور جب وہ اسی کی مملوك ہے تو نفس زمین میں اسے ہر طرح کے تصرف مالکانہ کا اختیار ہے جسے چاہے دے سکتاہے جو چاہے کرسکتاہے اور جبکہ بکر کسب ومعاش مستقل رکھتا تھا تو جو عمارت اس نے اپنے زر خالص سے بنائی اس کا وہی مالك ہے زید کا اس میں کچھ حق ملك نہیں صورت سوال کہ زید کا کچھ روپیہ بغرض تعمیر بکر کو قرض دینا پھر اس سے وصول کرنا نص صریح ہے کہ زید بھی اس عمارت کے مملوك بکر ہونے پر متفق ہے۔
فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں
صورت مستفسرہ میں وہ ہبہ باطل وبے اثر اور برادر زادہ دہندہ کا دعوی صحیح ومعتبراولا اس ہبہ کا یہ محصل کہ وہاں سے جو روزینہ جب جب آوے ا س کا مالك موہوب لہ ہےاور وہ روزینہ ہندہ بالفعل موجود نہیں۔اورہبہ معدوم وباطل ہے۔(جواب نامکمل ملا)
مسئلہ ۶۷:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس صورت میں کہ زید کے تین بیٹےعمروبکرخالدبکر نے ایك اراضی افتادہ مقبوضہ مملوکہ زید میں حسب اجازت زید اپنے سرمایہ روزگار سے ایك مکان پختہ تعمیرکرایا اور کچھ روپیہ اپنی زوجہ اورماموں سے قرض لے کر لگا یا کسی قدروپیہ بطور قرض زید نے بھی دیا کہ بکر نے اسے ادا کردیااگر زید مکان معمرہ بکرکو عمر و و خالد پر ہی تقسیم کرنا چاہے تو بکر مستحق پانے سرمایہ ذاتی اور اس روپیہ کے جو اس نے اپنی زوجہ اور ماموں سے قرض لے کر لگایا ہے عمرو وخالد سے ہے یا نہیں اور وہ اراضی ہبہ ہوئی تھی یا نہیں اور اگر ہبہ تھی تو زید کا رجوع تعمیر مکان وقبضہ بکر کے بعد صحیح ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
باپ کا اپنے بیٹے کو ایك زمین افتادہ تعمیر مکان کے لئے بتادینا تنہا مثبت ہبہ نہیں تاوقتیکہ اس کے ساتھ الفاظ ہبہ سے کوئی لفظ نہ پایا جائے مثلا یہ زمین نے تجھے دے دی یا ہبہ کی یا تمھیں اس کا مالك کیا یا یہ زمین تیری ہے وامثال ذلك مما یدل علی تملیك العین بلاعوض(اس کی مثل اور الفاظ جو بغیر عوض تملیك پر دلالت کریں۔ت)پس اگر ان الفاظ سے کوئی لفظ پایا گیا تو بیشك صورت مستفسرہ میں ہبہ صحیح وتام ولازم ہوگیا زید کو رجوع کااختیار نہیں۔نہ وہ اس مکان کو عمرو وخالد پر تقسیم کرسکتاہے ورنہ بعد اجازت تعمیر سے صرف عاریت ثابت ہوگی زمین بدستور مملوك زید ہے بکر کا اس میں کچھ حق نہیں اور جب وہ اسی کی مملوك ہے تو نفس زمین میں اسے ہر طرح کے تصرف مالکانہ کا اختیار ہے جسے چاہے دے سکتاہے جو چاہے کرسکتاہے اور جبکہ بکر کسب ومعاش مستقل رکھتا تھا تو جو عمارت اس نے اپنے زر خالص سے بنائی اس کا وہی مالك ہے زید کا اس میں کچھ حق ملك نہیں صورت سوال کہ زید کا کچھ روپیہ بغرض تعمیر بکر کو قرض دینا پھر اس سے وصول کرنا نص صریح ہے کہ زید بھی اس عمارت کے مملوك بکر ہونے پر متفق ہے۔
فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں
سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ ویکون کالمستعیر الجواب نعم کما صرح بذلك فی حاشیۃ الاشباہ من الوقف عند قولہ کل من بنی فی ارض غیرہ بامرہ فہو لما لکھا اھ ومسئلۃ العمارۃ کثیرۃ ذکرہا فی الفصول العمادیۃ و الفصولین وغیرہا وعبارۃ المحشی بعد قولہ ویکون کالمستعیر فیکلف قلعہ متی شاء انتہی ۔ مذکور ہےایك ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے محل بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ محل اس بانی کا ہوگیا اور گویا باپ سے زمین عاریۃ لینے والا ہواالجوابہاں۔جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ کے وقف میں اس قول سے ہے جس نے غیر کی زمین میں تعمیر کی تو وہ زمین کے مالك کے اختیار میں ہوگی اھ جبکہ عمارت کا مسئلہ کثیر الوقوع ہےفصول عمادیہ وفصولین وغیرہما میں مذکور ہے اور ماتن کے قول یکون"کالمستعیر"گویا عاریۃ لینے والا ہواکے بعد محشی کی یہ عبارت ہے تو اس بیٹے کو مکان اکھاڑ لینے کا مکلف بنائے گا جب مالك چاہے اھ(ت)
فتاوی علامہ خیر الدین میں ہے:
سئل فی ابن کبیر ذی زوجۃ وعیال لہ کسب مستقل حصل بسببہ اموالااجاب ھی للابن حیث کان لہ کسب مستقل بنفسہ واما قول علمائنا اب وابن یکتسبان فی صنعۃ واحدۃ ولم یکن لہما شیئ ثم اجتمع لہما مال یکون کلہ للاب ان سے بالغ شادی شدہ وعیال والے بیٹے کے متعلق سوال ہوا کہ اس کا پنا مستقل کام وکسب ہے جس سے اس نے کثیر مال حاصل کیا(تو وہ خود مالك ہوگا)انہوں نے جواب میں فرمایا ہاں یہ اموال بیٹے کے ہیں کیونکہ اپنا مستقل کام وکسب ہے لیکن ہمارے علماء کا یہ ارشاد ہے باپ اور بیٹا دونوں ایك صنعت میں مل کام کرتے ہیں اور ابتداء میں ان دونوں کا کوئی مال نہ تھا پھر دونوں مالدار ہوگئے تو تمام مال باپ کا قرارپائے گا
فتاوی علامہ خیر الدین میں ہے:
سئل فی ابن کبیر ذی زوجۃ وعیال لہ کسب مستقل حصل بسببہ اموالااجاب ھی للابن حیث کان لہ کسب مستقل بنفسہ واما قول علمائنا اب وابن یکتسبان فی صنعۃ واحدۃ ولم یکن لہما شیئ ثم اجتمع لہما مال یکون کلہ للاب ان سے بالغ شادی شدہ وعیال والے بیٹے کے متعلق سوال ہوا کہ اس کا پنا مستقل کام وکسب ہے جس سے اس نے کثیر مال حاصل کیا(تو وہ خود مالك ہوگا)انہوں نے جواب میں فرمایا ہاں یہ اموال بیٹے کے ہیں کیونکہ اپنا مستقل کام وکسب ہے لیکن ہمارے علماء کا یہ ارشاد ہے باپ اور بیٹا دونوں ایك صنعت میں مل کام کرتے ہیں اور ابتداء میں ان دونوں کا کوئی مال نہ تھا پھر دونوں مالدار ہوگئے تو تمام مال باپ کا قرارپائے گا
حوالہ / References
العقود الدریۃ فی تنقیح الحامدیۃ کتاب العادیۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/۸۸€
اذا کان الابن فی عیالہ فہو مشروط کما یعلم من عبارتہم بشروط منہا اتحاد الصنعۃ الخ اھ ملتقطا۔ یہ اس صورت میں ہے جب بیٹا اپنے باپ کی عیال میں شامل ہو یہ شرط فقہاء کی عبارت میں معلوم شدہ ہے جہاں انہوں نے فرمایا ان شرائط میں سے ایك یہ ہے کہ صنعت میں اتحاد ہوالخاھ ملتقطا(ت)
پس اس صورت میں زمین زید کی اور عمارت بکر کی زید کو اختیار ہے جس وقت چاہے بکر پر جبر کرے کہ اپنا عملہ اکھیڑ لے جائے اور زمین خالی کردے
کما مرمن العقود عن العلامۃ السید الحموی من قولہ یکلف قلعہ متی شاء ۔ جیسا کہ عقود میں علامہ سید حموی سے منقول گزرااس کا یہ قول کہ مالك جب چاہے اس کو اکھاڑ نے کا مکلف بنائے گا۔ (ت)
اور اگر قلع بنا سے زمین کو کوئی ضرر فاحش نہ پہنچے توبکر خود بھی اپنا عملہ اکھیڑ لینے کا اختیار رکھتاہے اگرچہ زید نہ کہے
فی حاشیۃ الطحطاویۃ عن شرح الکنز الزیلعی ایتہما طلب القلع اجیب ۔ طحطاوی کے حاشیہ میں کنز الدقائق کی شرح امام زیلعی سے منقول ہے کہ جب بھی اکھاڑنے کا مطالبہ کرے تو ماننا ہوگا۔ (ت)
اور ان دونوں صورتوں میں یعنی زید جبرا اکھڑوادے یا بکر خود اکھیڑ لے جائے زید کو عملہ کی قیمت یا اکھیڑنے سے جو اس میں نقصان آئے اس کا تاوان کچھ نہ دینا پڑے گا۔
فی الہندیۃ عن البدائع اذا استعار من اخرارضا لیبنی فیہا اویغرس فیہا ثم بداللمالك ان یخرجہ فلہ ذلك سواء کانت العاریۃ مطلقۃ اوموقتۃ غیر انہا ہندیہ میں بدائع سے منقول ہے جب کسی سے زمین عاریۃ لی تاکہ اس پر عمارت بنائے یا پودے لگائے تو بعد میں مالك کو زمین خالی کرانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو وہ خالی کراسکتاہے خواہ عاریۃ مطلقہ ہو یا مقررہ وقت کے لئے ہو
پس اس صورت میں زمین زید کی اور عمارت بکر کی زید کو اختیار ہے جس وقت چاہے بکر پر جبر کرے کہ اپنا عملہ اکھیڑ لے جائے اور زمین خالی کردے
کما مرمن العقود عن العلامۃ السید الحموی من قولہ یکلف قلعہ متی شاء ۔ جیسا کہ عقود میں علامہ سید حموی سے منقول گزرااس کا یہ قول کہ مالك جب چاہے اس کو اکھاڑ نے کا مکلف بنائے گا۔ (ت)
اور اگر قلع بنا سے زمین کو کوئی ضرر فاحش نہ پہنچے توبکر خود بھی اپنا عملہ اکھیڑ لینے کا اختیار رکھتاہے اگرچہ زید نہ کہے
فی حاشیۃ الطحطاویۃ عن شرح الکنز الزیلعی ایتہما طلب القلع اجیب ۔ طحطاوی کے حاشیہ میں کنز الدقائق کی شرح امام زیلعی سے منقول ہے کہ جب بھی اکھاڑنے کا مطالبہ کرے تو ماننا ہوگا۔ (ت)
اور ان دونوں صورتوں میں یعنی زید جبرا اکھڑوادے یا بکر خود اکھیڑ لے جائے زید کو عملہ کی قیمت یا اکھیڑنے سے جو اس میں نقصان آئے اس کا تاوان کچھ نہ دینا پڑے گا۔
فی الہندیۃ عن البدائع اذا استعار من اخرارضا لیبنی فیہا اویغرس فیہا ثم بداللمالك ان یخرجہ فلہ ذلك سواء کانت العاریۃ مطلقۃ اوموقتۃ غیر انہا ہندیہ میں بدائع سے منقول ہے جب کسی سے زمین عاریۃ لی تاکہ اس پر عمارت بنائے یا پودے لگائے تو بعد میں مالك کو زمین خالی کرانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو وہ خالی کراسکتاہے خواہ عاریۃ مطلقہ ہو یا مقررہ وقت کے لئے ہو
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۵۸€
العقود الدریۃ کتاب العاریۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۸۸€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب العاریۃ درالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۳۸۸€
العقود الدریۃ کتاب العاریۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۸۸€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب العاریۃ درالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۳۸۸€
ان کانت مطلقۃ لہ ان یجبر المستعیر علی قلع الغرس ونقض البناء واذا قلع ونقض لایضمن المعیر شیئا من قیمۃ الغرس البناء اھ۔ ہاں اگر مطلقہ ہو تو مالك کو جبرامکان اور درخت اکھاڑنے کا حق ہے اگر عمارت اور درخت اکھاڑدئے تو مالك پر کوئی ضمان نہ ہوگا اھ(ت)
طحطاوی میں ہے:
ولایضمن مانقص من البناء والغرس لعدم الغرور عند عدم التوقیت افادہ الزیلعی ۔ عاریۃ دینے والا مالك عمارت او ر درختوں کے نقصان کا ضامن ہوگاکیونکہ مقررہ وقت تك عاریۃ نہ ہونے کی وجہ سے عمارت اور درخت باقی رکھنے کا جواز نہیں امام زیلعی نے یہ افادہ فرمایا ہے۔(ت)
اور اگر بکر چاہے کہ میں عملہ برقرار رہنے دوں اور زید مجھے قیمت دے دے تو یہ امررضامندی زید پر موقوف رہے گا اس پر بکر کو جبر نہیں پہنچتا۔
فی الہندیۃ فان طلب المستعیران یضمن المعیر قیمۃ البناء والغرس مقلوعا فانہ لایجبر علی ذلك ویکلفہ علی القلع ۔ ہندیہ میں ہے اگر مستعیر چاہے کہ مالك عمارت اور درختوں کے ملبے کی قیمت برابر ضمان دے تو اس پر مالك کو مجبور نہیں کیا جاسکتا اس کو بہر حال عمارت اور درخت اکھاڑنے ہوں گے۔(ت)
اور اگر قلع بناسے زمین کو ضرر بین پہنچے تو بکر خود اختیار قلع نہیں رکھتا بلکہ اب اختیار زید کو ہے چاہے اپنے نقصان زمین پر راضی ہو اور بکر پر جبر کرے کہ عملہ اکھیڑلے جائے یاعملہ کو اپنی ملك کرلے اور بکر کو بنائے مقلوعہ کی قیمت دے یعنی یہ عملہ اگر اکھیڑ کر بیچا جائے تو اس حالت میں خریدار اس کے کیا دام لگائیں گےاسی قدر حوالہ زید کرے باقی زید کی لاگت کا کچھ اعتبار نہیںنہ وہ زوجہ اور ماموں کے
طحطاوی میں ہے:
ولایضمن مانقص من البناء والغرس لعدم الغرور عند عدم التوقیت افادہ الزیلعی ۔ عاریۃ دینے والا مالك عمارت او ر درختوں کے نقصان کا ضامن ہوگاکیونکہ مقررہ وقت تك عاریۃ نہ ہونے کی وجہ سے عمارت اور درخت باقی رکھنے کا جواز نہیں امام زیلعی نے یہ افادہ فرمایا ہے۔(ت)
اور اگر بکر چاہے کہ میں عملہ برقرار رہنے دوں اور زید مجھے قیمت دے دے تو یہ امررضامندی زید پر موقوف رہے گا اس پر بکر کو جبر نہیں پہنچتا۔
فی الہندیۃ فان طلب المستعیران یضمن المعیر قیمۃ البناء والغرس مقلوعا فانہ لایجبر علی ذلك ویکلفہ علی القلع ۔ ہندیہ میں ہے اگر مستعیر چاہے کہ مالك عمارت اور درختوں کے ملبے کی قیمت برابر ضمان دے تو اس پر مالك کو مجبور نہیں کیا جاسکتا اس کو بہر حال عمارت اور درخت اکھاڑنے ہوں گے۔(ت)
اور اگر قلع بناسے زمین کو ضرر بین پہنچے تو بکر خود اختیار قلع نہیں رکھتا بلکہ اب اختیار زید کو ہے چاہے اپنے نقصان زمین پر راضی ہو اور بکر پر جبر کرے کہ عملہ اکھیڑلے جائے یاعملہ کو اپنی ملك کرلے اور بکر کو بنائے مقلوعہ کی قیمت دے یعنی یہ عملہ اگر اکھیڑ کر بیچا جائے تو اس حالت میں خریدار اس کے کیا دام لگائیں گےاسی قدر حوالہ زید کرے باقی زید کی لاگت کا کچھ اعتبار نہیںنہ وہ زوجہ اور ماموں کے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب العاریۃ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷€۰
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب العاریۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۳۸۸€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب العاریۃ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۰€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب العاریۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۳۸۸€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب العاریۃ الباب السابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۰€
اس قرض کا مطالبہ زید خواہ عمرو وخالد سے کرسکتاہے کہ مدیون یہ ہے نہ وہ۔
فی تنویر الابصار لو اعار ارضا للبناء والغرس صح ولہ ان یرجع متی شاء ویکلفہ قلعہما الا اذا کان فیہ مضرۃ بالارض فیترکان بالقیمۃ مقلوعین ۔ تنویر الابصارمیں ہے اگر عمارت اور درخت لگانے کے لئے زمین عاریۃ دی تو صحیح ہے اور اس کو جب چاہے واپس لینے کا حق ہے اور وہ مستعیر کو اکھاڑنے کا پابند بناسکے گا ہاں اگر عمارت ودرخت اکھاڑنے میں زمین کو نقصان ہو تو دونوں باہمی رضامندی سے ملبہ کی قیمت پر زمین پر ان کو باقی رکھ سکتے ہیں۔(ت)
طحطاوی میں ہے:
وان رضی رب الارض بالنقص قلعہما ولا یجبر علی الضمان اھواﷲ تعالی اعلم۔ اگر مالك زمین کے نقصان پر راضی ہے تو مستعیر کو اکھاڑنے ہوں گےمالك کو ملبہ کی قیمت برابر ضمان پر مجبورنہیں کیا جاسکتا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۶۸:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو عرصہ دس بارہ سال سے عارضہ دمہ کا تھاکبھی شدت ہوجاتی کبھی کم ہوجاتاسوا اس کے کوئی اور مرض نہ تھانہ زید صاحب فراش ہوا بلکہ مثل تندرستوں کے چلتا پھرتااسی حالت میں اس نے کل جائداد اپنی ہندہ اپنی زوجہ کو بعوض اس کے مہر کے بحالت ثبات ہوش وحواس کے ہبہ کی اور بغیر قابض کرائے دوسرے روز انتقال کیااس صورت میں یہ ہبہ صحیح ونافذ ہوگا یا نہیں۔اور ایسی ہبہ میں قبضہ مشروط ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
مرض موت کی تفسیر میں اختلاف ہےبعض کے نزدیك صاحب فراش ہونا ضرورتجرید میں اسی مذہب کو معتمد قرار دیا اور مختار یہ ہے کہ اس مرض کا قاتل ہونا چاہئے کہ مبتلا اس کا غالبا نہ بچتا ہو جب تك خوف موت غالب رہے مرض موت ہے اگرچہ مثل تندرستوں کے چلے پھرے
فی تنویر الابصار لو اعار ارضا للبناء والغرس صح ولہ ان یرجع متی شاء ویکلفہ قلعہما الا اذا کان فیہ مضرۃ بالارض فیترکان بالقیمۃ مقلوعین ۔ تنویر الابصارمیں ہے اگر عمارت اور درخت لگانے کے لئے زمین عاریۃ دی تو صحیح ہے اور اس کو جب چاہے واپس لینے کا حق ہے اور وہ مستعیر کو اکھاڑنے کا پابند بناسکے گا ہاں اگر عمارت ودرخت اکھاڑنے میں زمین کو نقصان ہو تو دونوں باہمی رضامندی سے ملبہ کی قیمت پر زمین پر ان کو باقی رکھ سکتے ہیں۔(ت)
طحطاوی میں ہے:
وان رضی رب الارض بالنقص قلعہما ولا یجبر علی الضمان اھواﷲ تعالی اعلم۔ اگر مالك زمین کے نقصان پر راضی ہے تو مستعیر کو اکھاڑنے ہوں گےمالك کو ملبہ کی قیمت برابر ضمان پر مجبورنہیں کیا جاسکتا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۶۸:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو عرصہ دس بارہ سال سے عارضہ دمہ کا تھاکبھی شدت ہوجاتی کبھی کم ہوجاتاسوا اس کے کوئی اور مرض نہ تھانہ زید صاحب فراش ہوا بلکہ مثل تندرستوں کے چلتا پھرتااسی حالت میں اس نے کل جائداد اپنی ہندہ اپنی زوجہ کو بعوض اس کے مہر کے بحالت ثبات ہوش وحواس کے ہبہ کی اور بغیر قابض کرائے دوسرے روز انتقال کیااس صورت میں یہ ہبہ صحیح ونافذ ہوگا یا نہیں۔اور ایسی ہبہ میں قبضہ مشروط ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
مرض موت کی تفسیر میں اختلاف ہےبعض کے نزدیك صاحب فراش ہونا ضرورتجرید میں اسی مذہب کو معتمد قرار دیا اور مختار یہ ہے کہ اس مرض کا قاتل ہونا چاہئے کہ مبتلا اس کا غالبا نہ بچتا ہو جب تك خوف موت غالب رہے مرض موت ہے اگرچہ مثل تندرستوں کے چلے پھرے
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب العاریۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۶€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب العاریۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۳۸۸€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب العاریۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۳۸۸€
فی الدرالمختار مرض الموت ان لایخرج لحوائج نفسہ وعلیہ اعتمد فی التجریدبزازیۃوالمختار انہ ماکان الغالب منہ الموت وان لم یکن صاحب فراشقہستانی عن ہبۃ الذخیرۃ ۔ درمختار میں مرض الموت کی تفسیر میں فرمایا گیا(کہ موت سے قبل)اپنی ضروری بنیادی حوائج کے لئے گھر سے نکل نہ سکےتجرید میں اسی پر اعتماد کیا ہےبزازیہقہستانی نے ذخیرہ کے باب الہبہ کے حوالہ سے کہا ہے کہ مختاریہ ہے کوئی بھی ایسا عارضہ جس سے غالبا موت واقع ہوجاتی ہو اگر چہ صاحب فراش نہ ہوا ہو۔(ت)
صورت مسئولہ میں جبکہ زید صاحب فراش نہ تھا اور دمہ مرض قاتلہ سے نہیں بلکہ غالب اس میں سلامت ہے تو یہ مرض اس کا باتفاق تفسیرین مرض موت نہ قرارپائے گا علی الخصوص جبکہ اسے عرصہ دس بارہ برس کا گزر چکا تھا۔
فی الدرالمختار وھبۃ مقعد ومفلوج واشل ومسلول من کل مالہ ان طالت مدتہ سنۃ ولم یخف موتہ منہ والا تطل وخیف موتہ فمن ثلثہ لانہا امراض مزمنۃ لاقاتلۃ اھ ملخصا۔ درمختار میں ہے کہ جڑا ہوا ہومفلوج ہوشل ہواور مرض سل والا ہو تویہ امراض ایك سال طویل ہوں اور موت کا اندیشہ نہ ہو توان کا ہبہ کیا ہوا ان کے کل مال سے ادا ہوگا اور اگریہ امراض طویل نہ ہوں موت کا اندیشہ ہوتو اس حال میں ان کا ہبہ تہائی مال سے ادا ہوگا کیونکہ یہ امراض لا چار کرتے ہیں فوری مہلك نہیں ہیں۔(ت)
پس یہ ہبہ بلا شبہ صحیح ونافذ ہوگا اور قبضہ نہ ہونا کچھ مضر نہیں کہ ہبہ بالعوض حقیقۃ بیع ہے اور بیع میں قبضہ غیر مشروط
فی الدرالمختار لو قال وھبتك بکذا فہو بیع ابتداء و انتہاء اھ۔واﷲ تعالی اعلم۔ درمختار میں ہے اگر کسی نے ہبہ کرتے ہوئے کہا فلاں چیز کے عوض تجھے ہبہ کیا تو اول آخر وہ بیع قرار پائے گا اھ۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
صورت مسئولہ میں جبکہ زید صاحب فراش نہ تھا اور دمہ مرض قاتلہ سے نہیں بلکہ غالب اس میں سلامت ہے تو یہ مرض اس کا باتفاق تفسیرین مرض موت نہ قرارپائے گا علی الخصوص جبکہ اسے عرصہ دس بارہ برس کا گزر چکا تھا۔
فی الدرالمختار وھبۃ مقعد ومفلوج واشل ومسلول من کل مالہ ان طالت مدتہ سنۃ ولم یخف موتہ منہ والا تطل وخیف موتہ فمن ثلثہ لانہا امراض مزمنۃ لاقاتلۃ اھ ملخصا۔ درمختار میں ہے کہ جڑا ہوا ہومفلوج ہوشل ہواور مرض سل والا ہو تویہ امراض ایك سال طویل ہوں اور موت کا اندیشہ نہ ہو توان کا ہبہ کیا ہوا ان کے کل مال سے ادا ہوگا اور اگریہ امراض طویل نہ ہوں موت کا اندیشہ ہوتو اس حال میں ان کا ہبہ تہائی مال سے ادا ہوگا کیونکہ یہ امراض لا چار کرتے ہیں فوری مہلك نہیں ہیں۔(ت)
پس یہ ہبہ بلا شبہ صحیح ونافذ ہوگا اور قبضہ نہ ہونا کچھ مضر نہیں کہ ہبہ بالعوض حقیقۃ بیع ہے اور بیع میں قبضہ غیر مشروط
فی الدرالمختار لو قال وھبتك بکذا فہو بیع ابتداء و انتہاء اھ۔واﷲ تعالی اعلم۔ درمختار میں ہے اگر کسی نے ہبہ کرتے ہوئے کہا فلاں چیز کے عوض تجھے ہبہ کیا تو اول آخر وہ بیع قرار پائے گا اھ۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتا ب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۰€
درمختار کتا ب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۰€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۴€
درمختار کتا ب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۰€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۴€
مسئلہ ۶۹:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنا مکان جو بلا شرکت غیرے اس کا مملوك تھا اپنے پسر نابالغ کو ہبہ کیا اور شرط لگائی کہ اپنی زندگی تك اس مکان میں بطور مالکانہ سکونت رکھوں گا اور بلوغ پسر تك اس کی مرمت میرے ذمہ رہے گی اور اس مضمون کا ہبہ نامہ لکھ دیا۔آیا اس صورت میں ہبہ تمام و کامل ہوگیا یا بوجہ اس کے کہ زید نے مکان خالی نہ کیا اور سکونت ومرمت کی شرطیں لگائیں فاسد و ناجائز رہا۔بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ہبہ صحیح ونافذ تام وکامل ہوگیا زید کا اصلا حق مالکانہ اس میں نہ رہاپسر زید مالك مستقل ہوگیا۔یہاں تك کہ خود بھی اب اس ہبہ کے نقص وابطال پر قادر نہیں فان البنوۃ من موانع الرجوع عــــــہ (کیونکہ بیٹا ہونا موانع رجوع سے شمار ہوتاہے)اور زید کا مکان خالی نہ کرنا کچھ مضر نہیں کہ باپ اپنے پسر نابالغ کو جو ہبہ کرے وہ صرف ایجاب سے تمام ہوجاتاہے باپ کا قبضہ بعینہ پسر کا قبضہ قرار پاتاہے سکونت پدر تمامی ہبہ کے منافی نہیں ہوتی۔
فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار ھبۃ من لہ ولایۃ علی الطفل فی الجملۃ تتم بالعقد(ای الایجاب فقط)لان قبض الولی ینوب عنہ والاصل ان کل عقد یتولاہ الواحد یکتفی فیہ بالایجاب اھ ملتقطا۔ تنویر الابصاردرمختار اور ردالمحتار میں ہے جس کو نابالغ پر ولایت حاصل ہے تو اس کا بچے کو عقد ہبہ ہی ہبہ کو تام کردیتاہے یعنی صرف ایجاب ہی کافی ہے کیونکہ ولی کا قبضہ بچے کی نیابت سے ہے۔اورقاعدہ یہ ہے کہ ایسا عقد جس میں ایك شخص ہی فریقین کے قائم ہوسکتاہے اس میں اس کا ایجاب ہی کافی ہے۔اھ ملتقطا(ت)
درمختار میں اشباہ سے ہے:
ھبۃ المشغول لاتجوز الا اذا وھب کسی مشغول چیز کا ہبہ صحیح نہیں الایہ کہ باپ نابالغ
عــــــہ: لفظ"رجوع"اندازہ سے بنایا گیا اصل میں بیاض ہے۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں ہبہ صحیح ونافذ تام وکامل ہوگیا زید کا اصلا حق مالکانہ اس میں نہ رہاپسر زید مالك مستقل ہوگیا۔یہاں تك کہ خود بھی اب اس ہبہ کے نقص وابطال پر قادر نہیں فان البنوۃ من موانع الرجوع عــــــہ (کیونکہ بیٹا ہونا موانع رجوع سے شمار ہوتاہے)اور زید کا مکان خالی نہ کرنا کچھ مضر نہیں کہ باپ اپنے پسر نابالغ کو جو ہبہ کرے وہ صرف ایجاب سے تمام ہوجاتاہے باپ کا قبضہ بعینہ پسر کا قبضہ قرار پاتاہے سکونت پدر تمامی ہبہ کے منافی نہیں ہوتی۔
فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار ھبۃ من لہ ولایۃ علی الطفل فی الجملۃ تتم بالعقد(ای الایجاب فقط)لان قبض الولی ینوب عنہ والاصل ان کل عقد یتولاہ الواحد یکتفی فیہ بالایجاب اھ ملتقطا۔ تنویر الابصاردرمختار اور ردالمحتار میں ہے جس کو نابالغ پر ولایت حاصل ہے تو اس کا بچے کو عقد ہبہ ہی ہبہ کو تام کردیتاہے یعنی صرف ایجاب ہی کافی ہے کیونکہ ولی کا قبضہ بچے کی نیابت سے ہے۔اورقاعدہ یہ ہے کہ ایسا عقد جس میں ایك شخص ہی فریقین کے قائم ہوسکتاہے اس میں اس کا ایجاب ہی کافی ہے۔اھ ملتقطا(ت)
درمختار میں اشباہ سے ہے:
ھبۃ المشغول لاتجوز الا اذا وھب کسی مشغول چیز کا ہبہ صحیح نہیں الایہ کہ باپ نابالغ
عــــــہ: لفظ"رجوع"اندازہ سے بنایا گیا اصل میں بیاض ہے۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰،€ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۲€
الاب لطفلہ ۔ بچے کو ہبہ کرے۔(ت)
اور سکونت ومرمت کی شرطیں اگرچہ بیجاہیں مگر ہبہ شروط فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتا بلکہ خود وہ شرطیں فاسد و بے اثر ٹھہرتی ہیں۔درمختار میں ہے:
وحکمہا انہا لاتبطل بالشروط الفاسدۃ فہبۃ عبد علی ان یعتقہ تصح وتبطل الشرط اھ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہبہ کا حکم یہ ہے کہ وہ فاسد شرطوں سے فاسد نہیں ہوتا لہذا غلام کو ہبہ کرتے ہوئے شرط لگانا کہ موہوب لہ اسے آزاد کرے گاصحیح ہوگا اور شرط باطل ہوگی اھ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۷۰:(نوٹ:اصل میں بیاض ہےسوال دستیاب نہ ہوسکا)
الجواب:
صورت مسئولہ میں اگر قبضہ مال موہوب پر قبل موت واہب کے ہوگیا تو ہبہ تمام ہے مگر ثلث مال میں صحیح ہوگا کہ ہبہ مرض موت میں ہوا پس ثلث مال موہوب لہا کو ملے گا اور دو ثلث ورثہ کواور اگر قبضہ بعد موت واہب کے ہوا تو ہبہ باطل ہے کل مال ورثہ واہب کو ملے گا۔
قال فی العالمگیریۃ قال فی الاصل ولاتجوز ہبۃ المریض ولاصدقتہ الامقبوضۃ فاذا قبضت فجازت من الثلث واذا مات الواہب قبل التسلیم بطلت ۔ عالمگیری میں فرمایا کہ مبسوط میں ہے کہ مریض کا ہبہ اور اس کا صدقہ جائز نہیں الایہ کہ موہوب لہ کو وہ قبضہ دے دے اگرقبضہ دیا تو تہائی مال سے شمار ہوگا اور اگر یہ واہب مریض قبضہ دینے سے قبل فوت ہوگیا تو ہبہ باطل ہوجائیگا(ت)
پھرا گر زوجیت موہوب لہا کی ثابت ہوگئی تو وہ اور زوجہ اولی ثمن حق ورثہ میں خواہ دو ثلث ہو یا کل شریك ہیں ورنہ عــــــہ ثمن بتمامہ زوجہ اولی کا ہے اور مابقی اس کی اولاد کا اور موہوب لہا کو وارثوں
عــــــہ:فی الاصل"ورثہ"وھوزلۃ من قلم الناسخ ۱۲۔
اور سکونت ومرمت کی شرطیں اگرچہ بیجاہیں مگر ہبہ شروط فاسدہ سے فاسد نہیں ہوتا بلکہ خود وہ شرطیں فاسد و بے اثر ٹھہرتی ہیں۔درمختار میں ہے:
وحکمہا انہا لاتبطل بالشروط الفاسدۃ فہبۃ عبد علی ان یعتقہ تصح وتبطل الشرط اھ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہبہ کا حکم یہ ہے کہ وہ فاسد شرطوں سے فاسد نہیں ہوتا لہذا غلام کو ہبہ کرتے ہوئے شرط لگانا کہ موہوب لہ اسے آزاد کرے گاصحیح ہوگا اور شرط باطل ہوگی اھ واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۷۰:(نوٹ:اصل میں بیاض ہےسوال دستیاب نہ ہوسکا)
الجواب:
صورت مسئولہ میں اگر قبضہ مال موہوب پر قبل موت واہب کے ہوگیا تو ہبہ تمام ہے مگر ثلث مال میں صحیح ہوگا کہ ہبہ مرض موت میں ہوا پس ثلث مال موہوب لہا کو ملے گا اور دو ثلث ورثہ کواور اگر قبضہ بعد موت واہب کے ہوا تو ہبہ باطل ہے کل مال ورثہ واہب کو ملے گا۔
قال فی العالمگیریۃ قال فی الاصل ولاتجوز ہبۃ المریض ولاصدقتہ الامقبوضۃ فاذا قبضت فجازت من الثلث واذا مات الواہب قبل التسلیم بطلت ۔ عالمگیری میں فرمایا کہ مبسوط میں ہے کہ مریض کا ہبہ اور اس کا صدقہ جائز نہیں الایہ کہ موہوب لہ کو وہ قبضہ دے دے اگرقبضہ دیا تو تہائی مال سے شمار ہوگا اور اگر یہ واہب مریض قبضہ دینے سے قبل فوت ہوگیا تو ہبہ باطل ہوجائیگا(ت)
پھرا گر زوجیت موہوب لہا کی ثابت ہوگئی تو وہ اور زوجہ اولی ثمن حق ورثہ میں خواہ دو ثلث ہو یا کل شریك ہیں ورنہ عــــــہ ثمن بتمامہ زوجہ اولی کا ہے اور مابقی اس کی اولاد کا اور موہوب لہا کو وارثوں
عــــــہ:فی الاصل"ورثہ"وھوزلۃ من قلم الناسخ ۱۲۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۸€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الھبۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۰۰€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۸€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الھبۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۰۰€
کے حصہ میں سے کچھ نہ ملے گا البتہ بر تقدیر ثبوت ہبہ ثلث مال بوجہ ہبہ کے لے گیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۱: از مراد آباد ۱۸ شعبان ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے دو دختر اور دو پسر ہیں وہ چاہتاہے کہ اپنا مال اپنی زندگی میں بحالت صحت نفس ان چاروں کو عطا کرے۔آیا برابر تقسیم کرے یا بطور فرائض " للذکر مثل حظ الانثیین " (مرد کودو عورتوں کے برابر حصہ ہے۔ت)بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں مذہب مفتی بہ پر افضل یہی ہے کہ بیٹوں بیٹیوں سب کو برابر دےیہی قول امام ابویوسف کا ہے اور " للذکر مثل حظ الانثیین " (مرد کو عورتوں کے برابر حصہ ہے۔ت)دینا بھی جیسا کہ قول امام محمد رحمہ اﷲ کاہے ممنوع وناجائز نہیں اگر چہ ترك اولی ہے۔ردالمحتار میں علامہ خیرالدین رملی سے ہے:
الفتوی علی قول ابی یوسف من ان التنصیف بین الذکر والانثی افضل من التثلیث الذی ہو قول محمد ۔ فتوی امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے قول پر ہے کہ مرد اور عورت کو نصف نصف دینامرد کو دو اور عورت کو ایکتین حصے بنانے سے بہتر ہے اور یہ تین حصے امام محمد رحمہ اﷲ تعالی کا مذہب ہے(ت)
حاشیہ طحطاوی میں فتاوی بزازیہ سے ہے:
الافضل فی ہبۃ البنت والابن التثلیث کالمیراث و عند الثانی التنصیف وھو المختار ۔ بیٹی اور بیٹے کو ہبہ دینے میں تین حصے میراث کے طورپر افضل ہے۔اور امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك نصف نصف دینا افضل ہے اور یہی مختار ہے۔(ت)
بالجملہ خلاف افضلیت میں ہے اور مذہب مختار پر اولی تسویہہاں اگر بعض اولاد فضل دینی میں بعض سے زائد ہو تو اس کی ترجیح میں اصلا باك نہیں۔علامہ طحطاوی نے فرمایا:
مسئلہ ۷۱: از مراد آباد ۱۸ شعبان ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے دو دختر اور دو پسر ہیں وہ چاہتاہے کہ اپنا مال اپنی زندگی میں بحالت صحت نفس ان چاروں کو عطا کرے۔آیا برابر تقسیم کرے یا بطور فرائض " للذکر مثل حظ الانثیین " (مرد کودو عورتوں کے برابر حصہ ہے۔ت)بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں مذہب مفتی بہ پر افضل یہی ہے کہ بیٹوں بیٹیوں سب کو برابر دےیہی قول امام ابویوسف کا ہے اور " للذکر مثل حظ الانثیین " (مرد کو عورتوں کے برابر حصہ ہے۔ت)دینا بھی جیسا کہ قول امام محمد رحمہ اﷲ کاہے ممنوع وناجائز نہیں اگر چہ ترك اولی ہے۔ردالمحتار میں علامہ خیرالدین رملی سے ہے:
الفتوی علی قول ابی یوسف من ان التنصیف بین الذکر والانثی افضل من التثلیث الذی ہو قول محمد ۔ فتوی امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے قول پر ہے کہ مرد اور عورت کو نصف نصف دینامرد کو دو اور عورت کو ایکتین حصے بنانے سے بہتر ہے اور یہ تین حصے امام محمد رحمہ اﷲ تعالی کا مذہب ہے(ت)
حاشیہ طحطاوی میں فتاوی بزازیہ سے ہے:
الافضل فی ہبۃ البنت والابن التثلیث کالمیراث و عند الثانی التنصیف وھو المختار ۔ بیٹی اور بیٹے کو ہبہ دینے میں تین حصے میراث کے طورپر افضل ہے۔اور امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك نصف نصف دینا افضل ہے اور یہی مختار ہے۔(ت)
بالجملہ خلاف افضلیت میں ہے اور مذہب مختار پر اولی تسویہہاں اگر بعض اولاد فضل دینی میں بعض سے زائد ہو تو اس کی ترجیح میں اصلا باك نہیں۔علامہ طحطاوی نے فرمایا:
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴ /۱۱€
القرآن الکریم ∞۴ /۱۱€
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۳€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الھبۃ دارلمعرفۃ بیروت ∞۳ /۴۰۰€
القرآن الکریم ∞۴ /۱۱€
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۳€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الھبۃ دارلمعرفۃ بیروت ∞۳ /۴۰۰€
یکرہ ذلك عند تساویہم فی الدرجۃ کما فی المنح والنہدیۃ اما عند عدم التساوی کما اذا کان احدھم مشتغلا بالعلم لابالکسب لاباس ان یفضلہ علی غیرہ کما فی الملتقط ای ولایکرہ وفی المنح روی عن الامام انہ لاباس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل لہ فی الدین الخ۔واﷲ تعالی اعلم۔ درجہ میں برابر ہونے کی صورت میں مکروہ ہے جیسا کہ منح اورہندیہ میں ہے لیکن مساوی نہ ہوں مثلا ایك علم دین میں مشغول ہے اور کسب نہیں کرتا تو اس کو دوسروں پر فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ ملتقط میں ہے یعنی مکروہ نہیں ہے۔اورمنح میں ہے کہ امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی سے مروی ہے کہ جب دین میں فضیلت رکھتاہو تو اس کو فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے الخ۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۷۲:
چہ مے فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندرین صورت کہ مسماۃ ہندہ بحضور گواہان از زید خود گفت کہ من تمام مہر خویش بشما بخشیدم زید قبول ساخت بعد ازاں زید از ہندہ زوجہ خویش گفت کہ انچہ شے من است بشمابخشیدم ودادم ہندہ گفت کہ من گرفتم جملہ شاہدان کلام طرفین مذکورہ شنیدہ رفتند وکدام کاغذ از جانب ہندہ وزید تحریر نہ گشت بعدہ زید بگذاشتن عمرو برادر خود وہندہ زوجہ متروکہ مشترکہ فیما بین خواہرزادہ وبرادر زادہ وبیوہ برادر خوردوبرادر حقیقی مذکور فوت ساخت زاں بعد ہندہ فوت شد اوپس مرگ خود و علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ مسماۃ ہندہ نے گواہوں کی موجودگی میں اپنے خاوند زید کو کہامیں تمھیں اپنا تمام مہر بخشتی ہوںزید نے یہ بات قبول کرلیاس کے بعد زید نے اپنی بیوی ہندہ کو کہا کہ جو کچھ میرا حق ہے میں تمھیں بخش دیتاہوں۔اس کے جواب میں ہندہ نے کہا میں نے لے لیاتمام گواہوں نے فریقین کا یہ کلام سنا اور چلے گئےاور زید اورہندہ کی طرف سے کوئی تحریر نہ ہوئیاس کے بعد زید فوت ہوا اور اس نے اپنے پیچھے اپنا بھائی عمرو اور ہندہ بیوی چھوڑے اور جو ترکہ چھوڑا وہ برادر زادہ خواہر زادہچھوٹے بھائی کی بیوہ اور بھائی حقیقی مذکور میں مشترکہ تھا
مسئلہ ۷۲:
چہ مے فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندرین صورت کہ مسماۃ ہندہ بحضور گواہان از زید خود گفت کہ من تمام مہر خویش بشما بخشیدم زید قبول ساخت بعد ازاں زید از ہندہ زوجہ خویش گفت کہ انچہ شے من است بشمابخشیدم ودادم ہندہ گفت کہ من گرفتم جملہ شاہدان کلام طرفین مذکورہ شنیدہ رفتند وکدام کاغذ از جانب ہندہ وزید تحریر نہ گشت بعدہ زید بگذاشتن عمرو برادر خود وہندہ زوجہ متروکہ مشترکہ فیما بین خواہرزادہ وبرادر زادہ وبیوہ برادر خوردوبرادر حقیقی مذکور فوت ساخت زاں بعد ہندہ فوت شد اوپس مرگ خود و علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ مسماۃ ہندہ نے گواہوں کی موجودگی میں اپنے خاوند زید کو کہامیں تمھیں اپنا تمام مہر بخشتی ہوںزید نے یہ بات قبول کرلیاس کے بعد زید نے اپنی بیوی ہندہ کو کہا کہ جو کچھ میرا حق ہے میں تمھیں بخش دیتاہوں۔اس کے جواب میں ہندہ نے کہا میں نے لے لیاتمام گواہوں نے فریقین کا یہ کلام سنا اور چلے گئےاور زید اورہندہ کی طرف سے کوئی تحریر نہ ہوئیاس کے بعد زید فوت ہوا اور اس نے اپنے پیچھے اپنا بھائی عمرو اور ہندہ بیوی چھوڑے اور جو ترکہ چھوڑا وہ برادر زادہ خواہر زادہچھوٹے بھائی کی بیوہ اور بھائی حقیقی مذکور میں مشترکہ تھا
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۲۹۹€
خواہر ودو برادرگزاشت پس دادن زید شے خویش مشترکہ رابمسماۃ ہندہ زوجہ عندالشرع صحیح است یا نہ وبخشیدین مہر ہندہ بمسمی زید شوہر صحیح یا غیر صحیح وترکہ زیدبرکدام کس بموجب فرائض ہبہ تقسیم خواہد شد وترکہ ہندہ برکدام کدامتقسیم خواہدشدبینوا توجروا پھر اس کے بعد ہندہ فوت ہوگئی اس نے اپنے پیچھے دوبہنیں اور دو بھائی چھوڑےتو کیا زید کا اپنا مشترکہ مال اپنی بیوہ ہندہ کو دینا شرعا صحیح ہے یانہیں اور کیا ہندہ کا اپنے شوہر زید کو اپنا مہر بخش دینا صحیح ہے یانہیںاورزید کا ترکہ کن لوگوں میں بطور وارثت تقسیم ہوگا اور ہندہ کا ترکہ کن کن پر تقسیم ہوگا بینوا توجروا(ت)
الجواب:
شرع مطہر ما اسلامیان رزقنا اﷲ اتباعہ ہچ عقدے وفسخے راموقوف بہ تحریر نداشتہ است پس ہندہ کہ مہر خود رابزید بخشید در صحت ونفاذ ایں سخنے نیست تنہا ایجاب ہندہ اینجا بسندمی بود اگر زید رد نہ کردے فکیف کہ تنصیص برقبول نمود فی تنویر الابصار ہبۃ الدین ممن علیہ الدین وابراءہ عنہ یتم من غیر قبول ۔وہبہ زید دراملاك مشاعہ مشترکہ غیر منقسمہ کہ زید بے آنکہ آنہا راتقسیم وافراز کردہ بقبض ہندہ سپار دہ مرو وہندہ برانہا دست نیافت باطل شدو ہبہ ہیچ وجہ ہندہ رااختیار تملك آنہا نماند فی الدرالمختار فی ذکر موانع الرجوع والمیم ہم مسلمانوں کی شریعت مطہرہ(اﷲ تعالی ہمیں اس کی اتباع نصیب فرمائے)نے کوئی عقد یا فسخ تحریر پر موقوف نہ چھوڑا پس ہندہ نے اپنی صحت میں مہر زید کوبخشا تو اس ہبہ کا نفاذ بلا شبہ ہوگیااس میں ہندہ کی طرف سے صرف ایجاب کافی تھا بشرطیکہ زید نے اس کو رد نہ کیا ہوتو جب زید نے قبول کرنے کی تصریح کردی تو کیا شبہ ہوسکتاہےتنویر الابصار میں کہ جس پر دین ہو اس کو دین ہبہ کرنا اور بری کردینا قبول کے بغیر تام ہوجاتاہے اور زید نے اپنا مشترکہ مشاع مال بغیر تقسیم کئے اور جدا کئے ہبہ کیا اور جداشدہ ہندہ کے قبضہ میں نہ آیااور وہ فوت ہوگیالہذا وہ ہبہ باطل ہوا اور کسی صورت میں ہندہ کی ملکیت اس پر ثابت نہ ہوئیدرمختار میں رجوع کے موانع میں مذکور ہے"میم"سے مراد قبضہ
الجواب:
شرع مطہر ما اسلامیان رزقنا اﷲ اتباعہ ہچ عقدے وفسخے راموقوف بہ تحریر نداشتہ است پس ہندہ کہ مہر خود رابزید بخشید در صحت ونفاذ ایں سخنے نیست تنہا ایجاب ہندہ اینجا بسندمی بود اگر زید رد نہ کردے فکیف کہ تنصیص برقبول نمود فی تنویر الابصار ہبۃ الدین ممن علیہ الدین وابراءہ عنہ یتم من غیر قبول ۔وہبہ زید دراملاك مشاعہ مشترکہ غیر منقسمہ کہ زید بے آنکہ آنہا راتقسیم وافراز کردہ بقبض ہندہ سپار دہ مرو وہندہ برانہا دست نیافت باطل شدو ہبہ ہیچ وجہ ہندہ رااختیار تملك آنہا نماند فی الدرالمختار فی ذکر موانع الرجوع والمیم ہم مسلمانوں کی شریعت مطہرہ(اﷲ تعالی ہمیں اس کی اتباع نصیب فرمائے)نے کوئی عقد یا فسخ تحریر پر موقوف نہ چھوڑا پس ہندہ نے اپنی صحت میں مہر زید کوبخشا تو اس ہبہ کا نفاذ بلا شبہ ہوگیااس میں ہندہ کی طرف سے صرف ایجاب کافی تھا بشرطیکہ زید نے اس کو رد نہ کیا ہوتو جب زید نے قبول کرنے کی تصریح کردی تو کیا شبہ ہوسکتاہےتنویر الابصار میں کہ جس پر دین ہو اس کو دین ہبہ کرنا اور بری کردینا قبول کے بغیر تام ہوجاتاہے اور زید نے اپنا مشترکہ مشاع مال بغیر تقسیم کئے اور جدا کئے ہبہ کیا اور جداشدہ ہندہ کے قبضہ میں نہ آیااور وہ فوت ہوگیالہذا وہ ہبہ باطل ہوا اور کسی صورت میں ہندہ کی ملکیت اس پر ثابت نہ ہوئیدرمختار میں رجوع کے موانع میں مذکور ہے"میم"سے مراد قبضہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الہۃ فصل فی مسائل متفرقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۵€
موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل ۔ودرعالمگیریہ از کتاب الاصل می آورد اذا مات الواہب قبل التسلیم بطلت سائل از ہمیں قدرمے پر سداماتمام حکم و حق انصاف دریں جا آنست کہ زید ہبہ اش رابرہمیں اشیائے مشاعہ مقصورنگزاشتہ بود بلکہ ہر انچہ ازان دے باشد ہمہ را ہبہ نمود وایں چنیں ہبہ شرعا رواست وبعد قبضہ تام ونافذ ومفید ملك شد فی الخانیۃ لوقال جمیع مالی او جمیع مااملك لفلان فہو ہبۃ لایجوز الا بالتسلیم وعادت آنچناں ست کہ چیز از املاك خالصہ شوہر مانند نقود عروض لباس واثاث وزیور وظروف وغیرہا امتعہ ورقمش از جانب شوہر بدست زناں برسبیل ودیعت یا اباحت می باشد ودرہمچوں مقام اگر ہبہ واقع شود حاجت بقبض جدید نمی افتد فان قبض الودیعۃ و الاباحۃ کل واحد منہما قبض غیر مضمون ہوجانے کے بعد فریقین میں سے ایك کا فوت ہوجانا اوراگر قبضہ سے پہلے فوت ہو تو ہبہ باطل ہوگا۔اور عالمگیری میں مبسوط کے حوالہ سے مذکو رہے جب ہبہ کرنیوالا قبضہ دینے سے قبل فوت ہوجائے ہبہ باطل ہوجاتاہےسائل کا سوال اسی قدر تھالیکن مکمل حکم اور پوراانصاف اس میں یوں ہے کہ زید نے اپنا ہبہ صرف مشترکہ مشاع تك محدود نہ رکھا بلکہ اس نے اپنی ہر چیز کو ہبہ میں شامل کردیا جبکہ ایسا ہبہ شرعا جائز ہے اور قبضہ دینے پر تام اور نافذ ہوکر مفید ملك ہوجاتا ہےخانیہ میں ہے اگر کسی نے کہا میرا تمام مال یا جس چیز کا میں مالك ہوں وہ فلاں کے لئے ہے تو ہبہ ہوگا جو صرف قبضہ دینے پر جائز ہوگااور عادتا شوہر کی طرف سے بیوی کے پاس امانت یا اباحت کے طور پر بیوی کے پاس بہت سا سامان مثلا نقدلباساثاثہزیوربرتنوغیرہا ہوتاہے۔ایسی صورت میں اگر خاوند ان چیزوں کا ہبہ بیوی کو کرے تو بیوی کو جدید قبضہ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ امانت اور اباحت کا قبضہ غیر مضمون ہوتاہے اور ہبہ کا قبضہ بھی ایسا ہے تو یہ قبضہ ایك دوسرے کے قائم مقام
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الھبۃ الباب العاشر ∞نوانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۰۰€
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الاقرار ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۶۱۶€
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الھبۃ الباب العاشر ∞نوانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۰۰€
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الاقرار ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۶۱۶€
وکذلك قبض الھبۃ فینوب احدہما عن الاخر من دون حاجۃ الی قبض جدید قال فی التنویر وشرحہ الدر وملك بالقبول بلاقبض جدید لو الموھوب فی یدالموہوب لہ ولو بقبض اوامانۃ لانہ ح عامل لنفسہ والاصل ان القبضین اذا تجانسا ناب احدہما عن الاخر واذا تغایر اناب الاعلی عن الادنی پس ازیں قسم اشیاء ہر چہ کہ بدست ہندہ بود بمجرد ایجاب و قبول از دائرہ ملك زید بحوزہ تملك ہندہ انتقال نمود ہمچنیں اگر زید درحیات خودش چیزے بقبض کامل ہندہ داد یاہندہ باذن او خواہ درمجلس ہبہ بلااذن وے بر چیزے قبضہ تامہ کردآنہمہ مملوك ہندہ گردید وانچہ مطلقا بے قبض مشاع باشد خواہ مفرز در آنہا ہبہ باطل شد کما ثبت من انہا لا تفید الملك الا بالقبض وتبطل بموت احد ہما قبل التسلیم وگمان بزند کہ چوں عقد واحد دربعض معقود علیہ کہ اشیائے غیر مقبوضہ است بود بطلان گرفت درباقی نیز از حلہ صحت
ہوجاتا ہے جدید قبضہ کی ضرورت نہیں ہوتیتنویر الابصار اور اس کی شرح درمختار میں ہے کہ صرف قبول کرنے سے مالك ہوجائے گا جدید قبضہ کی ضرورت نہ ہو گی جب وہ چیز پہلے ہی موہوب لہ کے قبضہ میں ہو اگرچہ وہ قبضہ بطورقابض یا امانت ہی کیوں نہ ہوکیونکہ اس میں اس نے خود اپنے لئے عمل کرناہے اور قاعدہ یہ ہے کہ دونوں قبضے ہم جنس ہوں یا ایك قوی اور ایك ادنی ہوتو ہم جنس ایك دوسرے اور اقوی ادنی کے قائم مقام ہوجاتاہےپس ازیں قسم اشیاء جوہندہ کے قبضہ میں اس وقت تھیں وہ سب محض ایجاب وقبول کرلینے پر زید کی ملکیت سے نکل کر ہندہ کی ملکیت ہوگئیں اور یونہی وہ چیزیں جن کا زید نے اپنی زندگی میں ہندہ کو مکمل قبضہ دے دیا خود ہندہ نے اس کی اجازت سے مجلس ہبہ یا اس کے بعد جس چیز کو قبضہ میں مکمل لے لیا بلکہ بلااجازت بھی قبضہ سے وہ مالك ہوگئی لیکن وہ مال مشاع غیر منقسم خواہ منقسم ہو قبضہ نہ دیا ہو ان سب میں ہبہ باطل ہوگیا جیسا کہ ثابت ہے کہ ہبہ قبضہ کے بغیر مفید ملك نہیں ہوتا اور قبضہ دینے سے قبل ایك فریق کے فوت ہوجانے سے باطل ہوجاتاہے۔اور یہ خیال کرنا کہ ایك عقد کی بعض غیر مقبوضہ اشیاء میں ہبہ باطل ہوجانے پر تمام اشیاء میں باطل
ہوجاتا ہے جدید قبضہ کی ضرورت نہیں ہوتیتنویر الابصار اور اس کی شرح درمختار میں ہے کہ صرف قبول کرنے سے مالك ہوجائے گا جدید قبضہ کی ضرورت نہ ہو گی جب وہ چیز پہلے ہی موہوب لہ کے قبضہ میں ہو اگرچہ وہ قبضہ بطورقابض یا امانت ہی کیوں نہ ہوکیونکہ اس میں اس نے خود اپنے لئے عمل کرناہے اور قاعدہ یہ ہے کہ دونوں قبضے ہم جنس ہوں یا ایك قوی اور ایك ادنی ہوتو ہم جنس ایك دوسرے اور اقوی ادنی کے قائم مقام ہوجاتاہےپس ازیں قسم اشیاء جوہندہ کے قبضہ میں اس وقت تھیں وہ سب محض ایجاب وقبول کرلینے پر زید کی ملکیت سے نکل کر ہندہ کی ملکیت ہوگئیں اور یونہی وہ چیزیں جن کا زید نے اپنی زندگی میں ہندہ کو مکمل قبضہ دے دیا خود ہندہ نے اس کی اجازت سے مجلس ہبہ یا اس کے بعد جس چیز کو قبضہ میں مکمل لے لیا بلکہ بلااجازت بھی قبضہ سے وہ مالك ہوگئی لیکن وہ مال مشاع غیر منقسم خواہ منقسم ہو قبضہ نہ دیا ہو ان سب میں ہبہ باطل ہوگیا جیسا کہ ثابت ہے کہ ہبہ قبضہ کے بغیر مفید ملك نہیں ہوتا اور قبضہ دینے سے قبل ایك فریق کے فوت ہوجانے سے باطل ہوجاتاہے۔اور یہ خیال کرنا کہ ایك عقد کی بعض غیر مقبوضہ اشیاء میں ہبہ باطل ہوجانے پر تمام اشیاء میں باطل
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰€
عاری وعاطل باشد زیراکہ ہبہ ہمچو بیع نیست وبشرط فاسد فساد نمی پزیرد فی الاشباہ من قاعدۃ اذا اجتمع الحلال و الحرام غلب الحرام ومنہا الھبۃ وھی لاتبطل بالشرط الفاسد فلا یتعدی الی الجائز اھ متروکہ زید بر تقدیم عدم موانع ارث ووارث آخر وتقدیم مقدم کالدین و الوصیۃ برچار سہم انقسام یافتہ سہمے بزن وسہ برادر مے رسد و ترکہ ہندہ از موہوبہ زید و حصہ ترکہ زید وغیرہا انچہ کہ شرعا ملك ہندہ قرار یابد بشرائط مذکورہ شش پارہ شد پنج عــــــہ برادر دوبخش وبہر خواہر بخشے خواہد رسیدواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ ہوجائے گا یہ گمان درست نہیں ہے کیونکہ ہبہ بیع کی طرح نہیں ہے کہ فاسد شرط سے فاسد ہوجائےالاشباہ میں ایك قاعدہ مذکور ہے کہ حلال وحرام جمع ہوجائیں تو حرام کو غلبہ ہوتاہے اور ان میں سے ایك ہبہ ہے کہ یہ فاسد شرط سے فاسد نہیں ہوتا لہذا فاسد شرط جائز پر اثراندازنہ ہوگی اھ باقی رہا معاملہ ورثاء میں تقسیم کا وراثت سے موانع نہ ہونےدوسرا وارث بھی نہ ہونے کی صور ت میں اور پیشگی حق مثلا قرض اور وصیت کی ادائیگی کے بعد زید کا ترکہ چارحصو ں میں منقسم ہوگاایك حصہ بیوی کوباقی تین حصے بھائی کوملیں گےاور ہندہ کا ترکہ جو کہ زید کا ہبہ کردہ اس کے قبضہ میں آیا اور جو اس کو زید کی وارثت میں ملا وغیرہ جو بھی اس کی ملکیت شرعی طور پر ہے وہ بھی مذکورشرائط سے چھ حصوں میں منقسم ہوگا دو دو حصے فی بھائی اور ایك ایك حصہ فی بہن ملے گاواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۷۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر ایك دستاویز میں ابومحمد وفاطمہ کا اپنی ایك جائداد مشترکہ بنام اپنے تین بیٹوں احمد وحامد بالغان ومحمود نابالغ کے اس طور پر لکھا کہ نصف جائداد بنام احمد پسر کبیر کے جو فضل دینی میں اور اولاد سے زائد ہے اورنصف باقی بنام حامدو محمود کے
عــــــہ: قد زل قلم الناسخ الصواب بہر برادرو بخش وبہر خواہر بخشے خواہد رسید ۱۲ عبدالمنان۔
مسئلہ ۷۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر ایك دستاویز میں ابومحمد وفاطمہ کا اپنی ایك جائداد مشترکہ بنام اپنے تین بیٹوں احمد وحامد بالغان ومحمود نابالغ کے اس طور پر لکھا کہ نصف جائداد بنام احمد پسر کبیر کے جو فضل دینی میں اور اولاد سے زائد ہے اورنصف باقی بنام حامدو محمود کے
عــــــہ: قد زل قلم الناسخ الصواب بہر برادرو بخش وبہر خواہر بخشے خواہد رسید ۱۲ عبدالمنان۔
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدہ الثانیہ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۴۹€
ابومحمد نے وفات پائیفاطمہ زندہ ہے ان کا ان امور میں شریك ہونا اور دستاویز لکھوانا اور اس تقسیم متفاوت پر راضی ہونا یقینا ثابت ہےاسی طرح حامد بالغ کا بھی اپنے برادر کلاں احمد کی ترجیح پر راضی ہونا یقینیآیا ایسی صورت میں بعد انتقال ابومحمد کے صرف اس وجہ پر بیٹوں کے دینے میں باہم فرق کیا گیا اگر وہ خود دیتا تو برابر دیتا یہ گمان ہوسکتا ہے کہ یہ فعل ابومحمد کا نہیں یا اس نے دستاویز نہ لکھوائی یا وہ اس تفاوت پر راضی نہ تھا یا اس کا فعل مانا بھی جائے تو اس بنا پر گمان کرسکیں کہ اس کی عقل میں اختلال تھا ورنہ تفاوت نہ کرتا یا ایسا نہیں ہے۔اور اولاد میں کسی کو بوجہ فضل دینی کے ترجیح دی جائے تو شرعا جائزاور یہ تصرف نافذ ہے۔یا اس خیال سے کہ بعض اولاد نابالغ ہیں یا کیا معلوم بقیہ اولاد سے آیندہ کوئی اور شخص فضل میں زیادہ ہوجائے اجازت نہ دیں گے۔بینوا توجروا
الجواب:
نفاذ کے لئے تو اگر کوئی شخص غیر محجور اپنی ساری جائداد ایك ہی بیٹے کو دے دے اور باقی اولاد کو کچھ نہ دے تو یہ تصرف بھی قطعا صحیح ونافذ ہے اگرچہ عنداﷲ گنہگارہوگا گناہگاری کو عدم نفاذ تصرف سے کچھ علاقہ نہیں درمختار میں ہے:
ولووہب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم ۔ اگر اپنی صحت میں تمام مال بیٹے کو ہبہ کردیا تو جائز ہے اور گنہگار ہوگا۔(ت)
اورا گر فضل دینی کے سبب بعض اولاد کو ترجیح دی جائے تو یہ بلاکراہت جائز ہے اس میں عنداﷲ بھی کچھ مواخذہ نہیں
فی الخانیۃ روی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ انہ لاباس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل لہ فی الدین وان کانا سواء یکرہ ۔ خانیہ میں ہےکہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سےمروی ہےاگر اس کو دینی فضیلت حاصل ہو تو اس کو زیادہ دینے میں حرج نہیں ہے اور سب مساوی ہوں پھر ایك کو زائد دینا مکروہ ہے۔(ت)
عالمگیریہ میں ہے:
الجواب:
نفاذ کے لئے تو اگر کوئی شخص غیر محجور اپنی ساری جائداد ایك ہی بیٹے کو دے دے اور باقی اولاد کو کچھ نہ دے تو یہ تصرف بھی قطعا صحیح ونافذ ہے اگرچہ عنداﷲ گنہگارہوگا گناہگاری کو عدم نفاذ تصرف سے کچھ علاقہ نہیں درمختار میں ہے:
ولووہب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم ۔ اگر اپنی صحت میں تمام مال بیٹے کو ہبہ کردیا تو جائز ہے اور گنہگار ہوگا۔(ت)
اورا گر فضل دینی کے سبب بعض اولاد کو ترجیح دی جائے تو یہ بلاکراہت جائز ہے اس میں عنداﷲ بھی کچھ مواخذہ نہیں
فی الخانیۃ روی عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ انہ لاباس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل لہ فی الدین وان کانا سواء یکرہ ۔ خانیہ میں ہےکہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ سےمروی ہےاگر اس کو دینی فضیلت حاصل ہو تو اس کو زیادہ دینے میں حرج نہیں ہے اور سب مساوی ہوں پھر ایك کو زائد دینا مکروہ ہے۔(ت)
عالمگیریہ میں ہے:
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الھبۃ فصل فی ہبۃ الوالد لوالدہ ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۰۵€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الھبۃ فصل فی ہبۃ الوالد لوالدہ ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۰۵€
لوکان الولد مشتغلا بالعلم لابالکسب فلا باس بہ ان یفضلہ علی غیرہ کذا فی الملتقط ۔ اگر کوئی بیٹا علم دین میں مشغول ہونے کی وجہ سے کسب نہیں کرتا تو اس کو دوسروں سے زائد دینے میں حرج نہیں ہے جیسا کہ ملتقط میں ہے۔(ت)
اور جب یہ تفاوت شرعا جائز ہے اور صورت مسئولہ میں جس بیٹے کو ترجیح دی گئی حسب بیان سائل فضل دینی میں زیادہ ہے تو اس بنا پر کیونکر گمان ہوسکتاہے کہ وہ فعل ابو محمد کا نہ تھا یا وہ اس تفاوت پر راضی نہ تھایا تھا تو اس کی عقل میں کچھ اختلال تھا ہم بتصریح علماء نقل کرآئے کہ تمام اولاد کو محروم کرکے کل مال ایك کو دے دینا بھی صحیح ونافذ ہے پھر جب شرع ایسے مکروہ تصرف کو جس میں عنداﷲ مواخذہ ہے صحیح وتمام مانتی ہے اور اس قسم کے خیالات کو گنجائش نہیں دیتی تو یہ تصرف جس میں کسی طرح حرج شرعی نہں کیونکر مورد ان خیال کا ہوسکتاہے اسی طرح یہ احتمال بھی کہ ممکن ہے کہ آئندہ بعض اولاد باقیں سے کوئی شخص فضل دینی میں اس پر بڑھ جائے تو اس وقت اس کے فضل پر خیال کرکے کیونکر اسے ترجیح دیں ہرگز ٹھیك نہیں کہ شرع مطہر حالت موجودہ پر حکم دیتی ہے آخر علم غیب خدا کو ہے ایسے ہی خطرات کو جگہ دی جائے تو علماء کے اس حکم کا کوئی محل نہ ملے کہ جب اس مسئلہ پر عمل کرکے ایك ولد کو زیادہ دینا چاہیں فورا یہ احتمال قائم ہوسکتاہے کہ کیا معلوم آئندہ باقین میں سے اس سے کوئی بڑھ جائےعلماء نے کہ ترجیح افضل کی اجازت دی ہے حکم مطابق رکھا ہے کسی کے بلوغ وعدم بلوغ کی قید نہیں لگائی ہرگز کوئی شخص کسی ایك کتاب میں بھی نہیں دکھا سکتا کہ یہ حکم اس صورت میں ہے کہ جب بقیہ اولاد میں کوئی بالغ ہو اور وجہ اس کی نہایت ظاہر کہ حیات مورث میں ورثاء اس کی جائداد کے مالك نہیں ہوجاتے جو ایك کو زیادہ دینا نابالغ کے مال میں تصرف ٹھہرے ہر شخص اپنی صحت میں اپنے مال کامختار ہے اگر کسی اجنبی کو دے دے تو کون ہاتھ روك سکتاہے علی الخصوص فاطمہ کا کہ زندہ وموجود ہے اس تفاوت پر راضی ہونا بالکل ایسے خیالات کو دفع کرتاہے کہ یہی علت بعینہ وہاں موجود ہے اب کیا یہ گمان کرسکتے ہیں کہ فاطمہ اس فعل پر راضی نہیں یا راضی ہے تو اس کی عقل میں کچھ اختلال ہےاور جب یہاں ایسا خیال نہیں کرسکتے اور باوجود یہ کہ ماؤں کو اولاد صغر کی محبت سب سے زیادہ ہوتی ہے وہ اس تفاوت پر بوجہ احمد کے فضل دینی کے صریح رضامند ہے تو ابومحمد کی رضا مندی بدرجہ اولی قابل تسلیم ہوسکتی ہے اور حامد پسر بالغ کا اپنے برادر کلاں کی ترجیح
اور جب یہ تفاوت شرعا جائز ہے اور صورت مسئولہ میں جس بیٹے کو ترجیح دی گئی حسب بیان سائل فضل دینی میں زیادہ ہے تو اس بنا پر کیونکر گمان ہوسکتاہے کہ وہ فعل ابو محمد کا نہ تھا یا وہ اس تفاوت پر راضی نہ تھایا تھا تو اس کی عقل میں کچھ اختلال تھا ہم بتصریح علماء نقل کرآئے کہ تمام اولاد کو محروم کرکے کل مال ایك کو دے دینا بھی صحیح ونافذ ہے پھر جب شرع ایسے مکروہ تصرف کو جس میں عنداﷲ مواخذہ ہے صحیح وتمام مانتی ہے اور اس قسم کے خیالات کو گنجائش نہیں دیتی تو یہ تصرف جس میں کسی طرح حرج شرعی نہں کیونکر مورد ان خیال کا ہوسکتاہے اسی طرح یہ احتمال بھی کہ ممکن ہے کہ آئندہ بعض اولاد باقیں سے کوئی شخص فضل دینی میں اس پر بڑھ جائے تو اس وقت اس کے فضل پر خیال کرکے کیونکر اسے ترجیح دیں ہرگز ٹھیك نہیں کہ شرع مطہر حالت موجودہ پر حکم دیتی ہے آخر علم غیب خدا کو ہے ایسے ہی خطرات کو جگہ دی جائے تو علماء کے اس حکم کا کوئی محل نہ ملے کہ جب اس مسئلہ پر عمل کرکے ایك ولد کو زیادہ دینا چاہیں فورا یہ احتمال قائم ہوسکتاہے کہ کیا معلوم آئندہ باقین میں سے اس سے کوئی بڑھ جائےعلماء نے کہ ترجیح افضل کی اجازت دی ہے حکم مطابق رکھا ہے کسی کے بلوغ وعدم بلوغ کی قید نہیں لگائی ہرگز کوئی شخص کسی ایك کتاب میں بھی نہیں دکھا سکتا کہ یہ حکم اس صورت میں ہے کہ جب بقیہ اولاد میں کوئی بالغ ہو اور وجہ اس کی نہایت ظاہر کہ حیات مورث میں ورثاء اس کی جائداد کے مالك نہیں ہوجاتے جو ایك کو زیادہ دینا نابالغ کے مال میں تصرف ٹھہرے ہر شخص اپنی صحت میں اپنے مال کامختار ہے اگر کسی اجنبی کو دے دے تو کون ہاتھ روك سکتاہے علی الخصوص فاطمہ کا کہ زندہ وموجود ہے اس تفاوت پر راضی ہونا بالکل ایسے خیالات کو دفع کرتاہے کہ یہی علت بعینہ وہاں موجود ہے اب کیا یہ گمان کرسکتے ہیں کہ فاطمہ اس فعل پر راضی نہیں یا راضی ہے تو اس کی عقل میں کچھ اختلال ہےاور جب یہاں ایسا خیال نہیں کرسکتے اور باوجود یہ کہ ماؤں کو اولاد صغر کی محبت سب سے زیادہ ہوتی ہے وہ اس تفاوت پر بوجہ احمد کے فضل دینی کے صریح رضامند ہے تو ابومحمد کی رضا مندی بدرجہ اولی قابل تسلیم ہوسکتی ہے اور حامد پسر بالغ کا اپنے برادر کلاں کی ترجیح
حوالہ / References
فتاویٰ ہندیۃ الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۹۱€
پر رضامند ہونا اور زیادہ مؤید کہ وہ توخاص معاملہ اس کی ذات کا تھاجب اس نے اپنے بھائی کے فضل دینی کا خیال کیا تو اگر باپ تفاوت کرے تو کون سا محل تعجب ہوسکتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۴: نوٹ:اصل میں سوال منقول نہیں ۱۲۔
الجواب:
ہبہ مرض الموت میں جب غیر وارث کے نام ہو تو قطعا صحیح وجائز ہے اور وہ حقیقۃ ہبہ ہی قرار پائے گا اور اسی کے شرائط اس میں معتبر ہوں گے نہ یہ کہ دراصل وصیت ٹھہرجائے۔
فی رد المحتار عن الطحطاوی عن المکی عن الامام قاضیخاں وغیرہ ھبۃ المریض ھبۃ حقیقۃ وان کانت وصیۃ حکما اھ وفیہ ایضا عن تبیین الامام الزیلعی حکمہ کحکم وصیۃ ای من حیث الاعتبار من الثلث لاحیققۃ الوصیۃ لان الوصیۃ ایجاب بعد الموت و ھذہ التصرفات منجزۃ فی الحال اھ۔ ردالمحتار میں طحطاوی سے انہوں نے مکی سے انہوں نے امام قاضیخان وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ مریض کا ہبہ کرنا حقیقتا ہبہ ہے اور حکما وصیت ہے اھ اور اسی میں تبیین الحقائق امام زیلعی سے ہے کہ اس کاحکم وصیت والا ہے کہ تہائی حصہ میں نافذ ہوگااور حقیقتا وصیت نہیں کیونکہ وصیت کا نفاذ موت کے بعد ہوتاہے اور ہبہ کے تصرفات فورا نافذہوجاتے ہیں۔اھ (ت)
اور ہبہ کے لئے حیات واہب میں موہوب لہ کا قبضہ ہونا ضرور ہے ورنہ باطل ہوجاتاہے
فی الدرالمختار ان عــــــہ موت احد العاقدین قبل التسلیم مبطل للھبۃ ۔ درمختار میں ہے کہ قبضہ دینے سے قبل فریقین میں سے ایك کی موت ہبہ کو باطل کردیتی ہے۔(ت)
عــــــہ: فی الاصل بیاض لکنا نقلنا ھذہ العبارۃ اعتمادا علی داب المصنف فی نقل ھذہ العبارۃ فی مثل ھذا المقام۔ اصل میں بیاض ہے لیکن ہم نے اس جیسے مقام میں اس عبارت کو نقل کرنے میں مصنف کے طریقہ پر اعتماد کرتے ہوئے اس عبارت کو نقل کیا ہے۔(ت)
مسئلہ ۷۴: نوٹ:اصل میں سوال منقول نہیں ۱۲۔
الجواب:
ہبہ مرض الموت میں جب غیر وارث کے نام ہو تو قطعا صحیح وجائز ہے اور وہ حقیقۃ ہبہ ہی قرار پائے گا اور اسی کے شرائط اس میں معتبر ہوں گے نہ یہ کہ دراصل وصیت ٹھہرجائے۔
فی رد المحتار عن الطحطاوی عن المکی عن الامام قاضیخاں وغیرہ ھبۃ المریض ھبۃ حقیقۃ وان کانت وصیۃ حکما اھ وفیہ ایضا عن تبیین الامام الزیلعی حکمہ کحکم وصیۃ ای من حیث الاعتبار من الثلث لاحیققۃ الوصیۃ لان الوصیۃ ایجاب بعد الموت و ھذہ التصرفات منجزۃ فی الحال اھ۔ ردالمحتار میں طحطاوی سے انہوں نے مکی سے انہوں نے امام قاضیخان وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ مریض کا ہبہ کرنا حقیقتا ہبہ ہے اور حکما وصیت ہے اھ اور اسی میں تبیین الحقائق امام زیلعی سے ہے کہ اس کاحکم وصیت والا ہے کہ تہائی حصہ میں نافذ ہوگااور حقیقتا وصیت نہیں کیونکہ وصیت کا نفاذ موت کے بعد ہوتاہے اور ہبہ کے تصرفات فورا نافذہوجاتے ہیں۔اھ (ت)
اور ہبہ کے لئے حیات واہب میں موہوب لہ کا قبضہ ہونا ضرور ہے ورنہ باطل ہوجاتاہے
فی الدرالمختار ان عــــــہ موت احد العاقدین قبل التسلیم مبطل للھبۃ ۔ درمختار میں ہے کہ قبضہ دینے سے قبل فریقین میں سے ایك کی موت ہبہ کو باطل کردیتی ہے۔(ت)
عــــــہ: فی الاصل بیاض لکنا نقلنا ھذہ العبارۃ اعتمادا علی داب المصنف فی نقل ھذہ العبارۃ فی مثل ھذا المقام۔ اصل میں بیاض ہے لیکن ہم نے اس جیسے مقام میں اس عبارت کو نقل کرنے میں مصنف کے طریقہ پر اعتماد کرتے ہوئے اس عبارت کو نقل کیا ہے۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوصایا باب العتق فی المرض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۳۵€
ردالمحتار کتاب الوصایا باب العتق فی المرض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۳۵€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
ردالمحتار کتاب الوصایا باب العتق فی المرض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۳۵€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
مگر صورت مسئولہ میں جبکہ موہوب لہما نابالغ ہیں تو ان کے باپ کا قبضہ بعینہ ان کا قبضہ ہے۔
فی الدرالمختار ان وھب لہ اجنبی تتم بقبض ولیہ وھوا حداربعۃ الاب ثم وصیہ الخ۔ درمختار میں ہے اگر نابالغ کو اجنبی شخص ہبہ کرے تو اس کے ولی کے قبضہ سے تام ہوجاتاہے اور چار ولیوں میں سے ایك باپ پھر وصی ہے الخ(ت)
اور پیش از ہبہ فرزند ہندہ جواز جانب ہندہ ان دیہات ودکانات پر قبضہ رکھتا تھا اسی قبضہ کا باقی ہونا اس قبضہ ہبہ کے لئے کافی ہے۔
لان کل واحد قبض امانۃ فکانا من جنس واحد وفی الدرالمختار الاصل ان القبضین اذا تجانسا ناب احدہما عن الاخر اھ وفی ردالمحتار قولہ عن الاخر کما اذا کان عندہ ودیعۃ فاعارھا صاحبہا لہ فان کلا منہما قبض امانۃ فناب احدہما عن الاخراھ ۔ کیونکہ ان سب پر قبضۃ بطور امانت ہے تو ایك جنس کا ہوا اور درمختار میں ہے قاعدہ یہ ہے کہ جب دونوں قبضے ایك جنس ہوں تو ایك دوسرے کے قائم مقام ہوجاتاہے اھ اور ردالمحتار میں ہے اس کا قول کہ دوسرے کے قائم مقام ہوتاہے جیسے پہلے اس کے پاس بطور امانت تھا پھر اس نے عاریۃ لیاتو دونوں ایك جیسی امانت کے طوپر ہیںتو یہ ایك دوسرے کے قائم مقام ہوئے۔(ت)
از سرنو قبضہ جداگانہ حاصل کرنے کی حاجت نہیں۔
فی تنویر الابصار ملك بلاقبض جدید لوالموھوب فی یدالموھوب لہ اھ۔ تنویر الابصار میں ہے ہبہ شدہ چیز موہوب لہ کے قبضہ میں پہلے ہو تو جدید قبضہ کے بغیر مالك ہوجائے گا اھ(ت)
البتہ یہ ہبہ مرض الموت میں ہونے کی وجہ سے اس بات میں حکم وصیت پیدا کرگیا کہ بلااجازت ورثہ فقط ایك ثلث میں نافذ ہوگا۔
فی تنویر الابصار ھبتہ کوصیۃ فیعتبر تنویر الابصار میں ہے اس کا ہبہ وصیت کی
فی الدرالمختار ان وھب لہ اجنبی تتم بقبض ولیہ وھوا حداربعۃ الاب ثم وصیہ الخ۔ درمختار میں ہے اگر نابالغ کو اجنبی شخص ہبہ کرے تو اس کے ولی کے قبضہ سے تام ہوجاتاہے اور چار ولیوں میں سے ایك باپ پھر وصی ہے الخ(ت)
اور پیش از ہبہ فرزند ہندہ جواز جانب ہندہ ان دیہات ودکانات پر قبضہ رکھتا تھا اسی قبضہ کا باقی ہونا اس قبضہ ہبہ کے لئے کافی ہے۔
لان کل واحد قبض امانۃ فکانا من جنس واحد وفی الدرالمختار الاصل ان القبضین اذا تجانسا ناب احدہما عن الاخر اھ وفی ردالمحتار قولہ عن الاخر کما اذا کان عندہ ودیعۃ فاعارھا صاحبہا لہ فان کلا منہما قبض امانۃ فناب احدہما عن الاخراھ ۔ کیونکہ ان سب پر قبضۃ بطور امانت ہے تو ایك جنس کا ہوا اور درمختار میں ہے قاعدہ یہ ہے کہ جب دونوں قبضے ایك جنس ہوں تو ایك دوسرے کے قائم مقام ہوجاتاہے اھ اور ردالمحتار میں ہے اس کا قول کہ دوسرے کے قائم مقام ہوتاہے جیسے پہلے اس کے پاس بطور امانت تھا پھر اس نے عاریۃ لیاتو دونوں ایك جیسی امانت کے طوپر ہیںتو یہ ایك دوسرے کے قائم مقام ہوئے۔(ت)
از سرنو قبضہ جداگانہ حاصل کرنے کی حاجت نہیں۔
فی تنویر الابصار ملك بلاقبض جدید لوالموھوب فی یدالموھوب لہ اھ۔ تنویر الابصار میں ہے ہبہ شدہ چیز موہوب لہ کے قبضہ میں پہلے ہو تو جدید قبضہ کے بغیر مالك ہوجائے گا اھ(ت)
البتہ یہ ہبہ مرض الموت میں ہونے کی وجہ سے اس بات میں حکم وصیت پیدا کرگیا کہ بلااجازت ورثہ فقط ایك ثلث میں نافذ ہوگا۔
فی تنویر الابصار ھبتہ کوصیۃ فیعتبر تنویر الابصار میں ہے اس کا ہبہ وصیت کی
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶€۰
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۰€
ردالمحتار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۲€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۰€
ردالمحتار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۲€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰€
من الثلث اھ۔ طرح ہے لہذا تہائی حصہ میں معتبر ہوگا اھ(ت)
اور اس کے یہ معنی ہیں کہ اگر موصی پر کوئی فرض نہیں تو اس کے کل اشیائے متروکہ منقولہ وغیر منقولہ کو ملا کر ان سب کا ثلث نکالیں گے اور اگر کچھ قرض ہے قلیل خواہ کثیر کتنا ہی ہو تو اسے مجرا دے کر باقی تمام متروکہ کا ثلث نکالیں گے اس مقدار سے موصی کی ساری وصیتیں نافذ کریں گے پس اگر یہ مقدار اور وصایابرابر ہوں فبہااور اگر یہ زائد اور وصایا کم ہوں جب بھی ہر موصی لہ کو پورا پورا بقدر ادائے وصیت کے دیں گے نہ یہ کہ عــــــہ ثلث کامل انہیں دے دیں گے اگرچہ ان کی وصیتیں کم سے ہی پوری ہوجائیں وھذا واضح جدا(یہ بہت واضح ہے۔ت) اور اگر وصیتیں زائد اور مقدار ثلث کم ہوں تو بلااجازت ورثہ تہائی سے زیادہ انہیں نہ دیا جائے گا بلکہ اسی قدر کو تمام موصی لہم پر بحساب ان کے وصایا کے حصہ رسد تقسیم کردیں گے۔
فی تنویر الابصار ھبتہ کوصیۃ ویزاحم اصحاب الوصایا فی الضرب الخ ملخصا فی الحاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار ای الموھوب لہ یضرب فی الثلث مع اصحاب الوصایا فان وفی بالثلث بالجمیع والا تخاصموا فیہ ویعتبر فی القسمۃ قدر ما لکل من الثلث اھ ملخصا قلت ومما قررت ظہرلك المجیب تنویر الابصار میں ہے ہبہ وصیت کی طرح ہےتو وہ نفاذ میں وصیت والے دوسرے حضرات کے لحاظ سے ہوگا الخ ملخصااور درمختارپرطحطاوی کے حاشیہ میں ہے یعنی موہوب لہ دوسرے اصحاب وصایا کے ساتھ تہائی حصہ میں شریك ہوگا اگر وہ سب وصیت والے اور موہوب لہ تہائی حصہ میں پورا ہوجائیں تو بہترورنہ تہائی میں ایك دوسرے کے مقابل ہوں گے اور تہائی میں سے ہر ایك اپنا حصہ کے مطابق تقسیم پائیگا اھ ملخصا میں کہتاہوں میں نے جو تقریر کی ہے اس سے
عــــــہ: خط کشیدہ عبارت اندازے سے درست کی گئی ۱۲ عبدالمنان۔
اور اس کے یہ معنی ہیں کہ اگر موصی پر کوئی فرض نہیں تو اس کے کل اشیائے متروکہ منقولہ وغیر منقولہ کو ملا کر ان سب کا ثلث نکالیں گے اور اگر کچھ قرض ہے قلیل خواہ کثیر کتنا ہی ہو تو اسے مجرا دے کر باقی تمام متروکہ کا ثلث نکالیں گے اس مقدار سے موصی کی ساری وصیتیں نافذ کریں گے پس اگر یہ مقدار اور وصایابرابر ہوں فبہااور اگر یہ زائد اور وصایا کم ہوں جب بھی ہر موصی لہ کو پورا پورا بقدر ادائے وصیت کے دیں گے نہ یہ کہ عــــــہ ثلث کامل انہیں دے دیں گے اگرچہ ان کی وصیتیں کم سے ہی پوری ہوجائیں وھذا واضح جدا(یہ بہت واضح ہے۔ت) اور اگر وصیتیں زائد اور مقدار ثلث کم ہوں تو بلااجازت ورثہ تہائی سے زیادہ انہیں نہ دیا جائے گا بلکہ اسی قدر کو تمام موصی لہم پر بحساب ان کے وصایا کے حصہ رسد تقسیم کردیں گے۔
فی تنویر الابصار ھبتہ کوصیۃ ویزاحم اصحاب الوصایا فی الضرب الخ ملخصا فی الحاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار ای الموھوب لہ یضرب فی الثلث مع اصحاب الوصایا فان وفی بالثلث بالجمیع والا تخاصموا فیہ ویعتبر فی القسمۃ قدر ما لکل من الثلث اھ ملخصا قلت ومما قررت ظہرلك المجیب تنویر الابصار میں ہے ہبہ وصیت کی طرح ہےتو وہ نفاذ میں وصیت والے دوسرے حضرات کے لحاظ سے ہوگا الخ ملخصااور درمختارپرطحطاوی کے حاشیہ میں ہے یعنی موہوب لہ دوسرے اصحاب وصایا کے ساتھ تہائی حصہ میں شریك ہوگا اگر وہ سب وصیت والے اور موہوب لہ تہائی حصہ میں پورا ہوجائیں تو بہترورنہ تہائی میں ایك دوسرے کے مقابل ہوں گے اور تہائی میں سے ہر ایك اپنا حصہ کے مطابق تقسیم پائیگا اھ ملخصا میں کہتاہوں میں نے جو تقریر کی ہے اس سے
عــــــہ: خط کشیدہ عبارت اندازے سے درست کی گئی ۱۲ عبدالمنان۔
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الوصایا باب العتق فی المرض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲€۷
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الوصایا باب العتق فی المرض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۷€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الوصایا باب الفن فی المرض دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۳۲۹€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الوصایا باب العتق فی المرض ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۷€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الوصایا باب الفن فی المرض دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۳۲۹€
الاول اخطا فی ایجاب القبض الجدید الموصی لہما بثلث المال مطلقا واما المجیب الثانی فقد اخطا خطأ من وجوہواﷲ تعالی اعلم۔ ظاہر ہوا کہ پہلے مجیب نے جدید قبضہ کو واجب کرنے میں خطا کی ہے کہ دونوں تہائی حصہ والوں کے لئے مطلقا یہ بات کہہ دی لیکن دوسرے مجیب نے بہت سی خطائیں کی ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
فتح الملیك فی حکم التملیك ۱۳۰۸ھ
(بادشاہ کا اظہار تملیك کے حکم میں)
مسئلہ ۷۵: نزدیك علمائے حنفیہ ایدھم اﷲ تعالی کے ہبہ وتملیك میں کیا فرق ہے اور جو احکام ہبہ مشاع اور ہبہ مرض الموت اور ہبہ غیر مقبوض کے ہیں وہی بحالت ہائے مذکورہ تملیك سے بھی متعلق ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
اصل وضع میں تملیك ہبہ سے عام ہے کہ وہ تملیك اعیان ومنافع وبعوض وبے عوض ومنجز و مضاف للموت سب کو شامل ہے جس کی رو سے بیع وہبہ واجارہ واعارہ ووصایا سب اس کے تحت میں داخل ہیں اورہبہ خاص تملیك عین بلاعوض کانام ہے۔
فی الدرالمختار الھبۃ تملیك العین مجانا اھ ملخصا۔ درمختار میں ہے ہبہ مفت میں کسی چیز کا مالك بنانا ہے اھ ملخصا۔ (ت)
مگر عرف میں ان لفظوں سے کہ میں نے ایك شے کا تجھے مالك کیایا اس چیز کے تجھے تملیك کی ظاہراہبہ
فتح الملیك فی حکم التملیك ۱۳۰۸ھ
(بادشاہ کا اظہار تملیك کے حکم میں)
مسئلہ ۷۵: نزدیك علمائے حنفیہ ایدھم اﷲ تعالی کے ہبہ وتملیك میں کیا فرق ہے اور جو احکام ہبہ مشاع اور ہبہ مرض الموت اور ہبہ غیر مقبوض کے ہیں وہی بحالت ہائے مذکورہ تملیك سے بھی متعلق ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر پائیے۔ت)
الجواب:
اصل وضع میں تملیك ہبہ سے عام ہے کہ وہ تملیك اعیان ومنافع وبعوض وبے عوض ومنجز و مضاف للموت سب کو شامل ہے جس کی رو سے بیع وہبہ واجارہ واعارہ ووصایا سب اس کے تحت میں داخل ہیں اورہبہ خاص تملیك عین بلاعوض کانام ہے۔
فی الدرالمختار الھبۃ تملیك العین مجانا اھ ملخصا۔ درمختار میں ہے ہبہ مفت میں کسی چیز کا مالك بنانا ہے اھ ملخصا۔ (ت)
مگر عرف میں ان لفظوں سے کہ میں نے ایك شے کا تجھے مالك کیایا اس چیز کے تجھے تملیك کی ظاہراہبہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۸€
ہی متبادر ہوتاہے حتی کہ امام اجل شمس الائمہ رخسی رحمہ اﷲ تعالی نے محیط میں اسے ان الفاظ سے گنا جو بحسب وضع افادہ ہبہ کرتے ہیں۔فتاوی ہندیہ میں ہے:
اما الالفاظ التی تقع وبہا الھبۃ فانواع ثلثۃ نوع تقع بہ الھبۃ وضعا ونوع تقع بہ الھبۃ کنایۃ وعرفا ونوع یحتمل الھبۃ والعاریۃ مستویا اما الاول فکقولہ وھبت ھذا الشیئ لك اوملکتہ منك الخ۔ لیکن جن الفاظ سے ہبہ ہوتاہے وہ تین قسم ہیں۔ایك قسم وہ ہیں جن سے ہبہ کا وقوع وضعا ہوتاہے اور ایك قسم وہ ہے جن سے کنایۃ اور عرفا ہبہ ہوتاہے اور ایك قسم وہ جن سے ہبہ اور عاریۃ دونوں مساوی طور پر واقع ہوتے ہیں۔پہلی قسم کی مثال "میں نے یہ چیز تجھے ہبہ کی"یا یہ کہنا"میں نے تجھے اس کامالك بنایا"الخ(ت)
ولہذا کلمات علماء میں اکثر جگہ تملیك سے ہبہ پر استدلال پایا جاتاہے مع ظھور ان الاستدلال بالعام علی الخاص باطل لجواز وجودہ فی ضمن فرد اخر(باوجود ظاہر ہونے کہ عام سے خاص پر استدلال باطل ہے کیونکہ ہوسکتاہے کہ عام کا وجود کسی دوسرے میں پایا جائے۔ت)امام علامہ فقیہ النفس قاضی خان فرماتے ہیں:
رجل غرس کرما ولہ ابن صغری فقال جعلتہ لابنی فلان یکون ھبۃ لان الجعل عبارۃ عن التملیك ۔ ایك شخص نے انگور کے پودے لگائے اس کا نابالغ بیٹا ہےتو اس نے کہا کہ میں نے اس کو اپنے فلاں بیٹے کے لئے کیا تو ہبہ ہوگا کیونکہ بنانا اور کرنا تملیك کا معنی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
ان قال جعلتہ باسم ابنی یکون ھبۃ ظاھرا لان الناس یریدون بہذا التملیك والھبۃ ۔ کسی نے کہا میں نے یہ بیٹے کے نام سے بنایا تو ظاہرا یہ ہبہ ہوگا کیونکہ لوگ اس سے تملیك اور ہبہ مراد لیتے ہیں۔(ت)
اور علامہ بیری شارح اشباہ والنظائر فرماتے ہیں:
اما الالفاظ التی تقع وبہا الھبۃ فانواع ثلثۃ نوع تقع بہ الھبۃ وضعا ونوع تقع بہ الھبۃ کنایۃ وعرفا ونوع یحتمل الھبۃ والعاریۃ مستویا اما الاول فکقولہ وھبت ھذا الشیئ لك اوملکتہ منك الخ۔ لیکن جن الفاظ سے ہبہ ہوتاہے وہ تین قسم ہیں۔ایك قسم وہ ہیں جن سے ہبہ کا وقوع وضعا ہوتاہے اور ایك قسم وہ ہے جن سے کنایۃ اور عرفا ہبہ ہوتاہے اور ایك قسم وہ جن سے ہبہ اور عاریۃ دونوں مساوی طور پر واقع ہوتے ہیں۔پہلی قسم کی مثال "میں نے یہ چیز تجھے ہبہ کی"یا یہ کہنا"میں نے تجھے اس کامالك بنایا"الخ(ت)
ولہذا کلمات علماء میں اکثر جگہ تملیك سے ہبہ پر استدلال پایا جاتاہے مع ظھور ان الاستدلال بالعام علی الخاص باطل لجواز وجودہ فی ضمن فرد اخر(باوجود ظاہر ہونے کہ عام سے خاص پر استدلال باطل ہے کیونکہ ہوسکتاہے کہ عام کا وجود کسی دوسرے میں پایا جائے۔ت)امام علامہ فقیہ النفس قاضی خان فرماتے ہیں:
رجل غرس کرما ولہ ابن صغری فقال جعلتہ لابنی فلان یکون ھبۃ لان الجعل عبارۃ عن التملیك ۔ ایك شخص نے انگور کے پودے لگائے اس کا نابالغ بیٹا ہےتو اس نے کہا کہ میں نے اس کو اپنے فلاں بیٹے کے لئے کیا تو ہبہ ہوگا کیونکہ بنانا اور کرنا تملیك کا معنی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
ان قال جعلتہ باسم ابنی یکون ھبۃ ظاھرا لان الناس یریدون بہذا التملیك والھبۃ ۔ کسی نے کہا میں نے یہ بیٹے کے نام سے بنایا تو ظاہرا یہ ہبہ ہوگا کیونکہ لوگ اس سے تملیك اور ہبہ مراد لیتے ہیں۔(ت)
اور علامہ بیری شارح اشباہ والنظائر فرماتے ہیں:
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الھبۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۵€
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الھبۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۶۹۷€
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الھبۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۶۹۷€
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الھبۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۶۹۷€
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الھبۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۶۹۷€
فی خزانۃ الفتاوی اذا دفع لابنہ مالا فتصرف فیہ الا بن یکون للاب الا ان دلت دلالۃ التملیك ۔ خزانۃ الفتاوی میں ہے اگر کسی نے بیٹے کو مال دیا اور بیٹے نے اس میں تصرف کیا تو یہ مال باپ کا ہوگا الایہ کہ کوئی دلالت تملیك پر پائی جائے۔(ت)
محقق شامی فرماتے ہیں:
قلت فقد اذادان التلفظ بالایجاب و القبول لا یشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیک اھ۔ میں کہتاہوں کہ اس عبارت نے فائدہ دیا کہ اس میں ایجاب وقبول شر ط نہیں بلکہ تملیك پر دلالت کرنے والے قرائن کافی ہوتے ہیں۔(ت)
فقیہ علامہ نوازل میں تصریح فرماتے ہیں جو لفظ تملیك رقبہ پر دال وہہبہ ہے۔
فی الدرالمختار اللفظ ان انبأ عن تملك الرقبۃ فھبۃ اوالمنافع فعاریۃ اواحتمل اعتبر النیۃنوازل ۔ درمختار میں ہے اگر الفاظ غلام پر تملك کی خبر دیں توہبہ ہوگا اگر الفاظ منافع پر دال ہوں تو عاریۃ ہوگا اور لفظ محتمل فیہ ہو تو قائل کی نیت کا اعتبار ہوگا۔نوازل(ت)
درباب افتا جابجا علامہ خیر الملۃ والدین رملی وغیرہ علماء رحمہم اﷲ تعالی نے سوال تملیك پر ہبہ کا جواب عطا فرمایا اور اس پر مشاع وغیرہ کے وہی احکام جاری کئے اور تملیك نامہ کو صریحا ہبہ نامہ ٹھہرایافتاوی خیریہ لنفع البریہ میں ہے:
سئل فیما اذا ملك زوجتہ نصف جمل و نصف بقرۃ و نصف غراس زیتون تملیکا شرعیا بایجاب منہ و قبول منہا و قبضت الزوجۃ وتسلمت ثم مات الزوج ویرید وارثہ ان یجعل المملکات ان سے سوال ہوا کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو نصف اونٹ نصف بیلنصف باغ زیتون کا شرعی تملیك کے طور پر مالك بنائے باقاعدہ ایجاب و قبول ہو اور بیوی قبضہ کرلے پھر وہ خاوند فوت ہوجائے اور ورثاء چاہیں کہ ان تمام تملیك بنائی ہوئی چیزوں کو
محقق شامی فرماتے ہیں:
قلت فقد اذادان التلفظ بالایجاب و القبول لا یشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیک اھ۔ میں کہتاہوں کہ اس عبارت نے فائدہ دیا کہ اس میں ایجاب وقبول شر ط نہیں بلکہ تملیك پر دلالت کرنے والے قرائن کافی ہوتے ہیں۔(ت)
فقیہ علامہ نوازل میں تصریح فرماتے ہیں جو لفظ تملیك رقبہ پر دال وہہبہ ہے۔
فی الدرالمختار اللفظ ان انبأ عن تملك الرقبۃ فھبۃ اوالمنافع فعاریۃ اواحتمل اعتبر النیۃنوازل ۔ درمختار میں ہے اگر الفاظ غلام پر تملك کی خبر دیں توہبہ ہوگا اگر الفاظ منافع پر دال ہوں تو عاریۃ ہوگا اور لفظ محتمل فیہ ہو تو قائل کی نیت کا اعتبار ہوگا۔نوازل(ت)
درباب افتا جابجا علامہ خیر الملۃ والدین رملی وغیرہ علماء رحمہم اﷲ تعالی نے سوال تملیك پر ہبہ کا جواب عطا فرمایا اور اس پر مشاع وغیرہ کے وہی احکام جاری کئے اور تملیك نامہ کو صریحا ہبہ نامہ ٹھہرایافتاوی خیریہ لنفع البریہ میں ہے:
سئل فیما اذا ملك زوجتہ نصف جمل و نصف بقرۃ و نصف غراس زیتون تملیکا شرعیا بایجاب منہ و قبول منہا و قبضت الزوجۃ وتسلمت ثم مات الزوج ویرید وارثہ ان یجعل المملکات ان سے سوال ہوا کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو نصف اونٹ نصف بیلنصف باغ زیتون کا شرعی تملیك کے طور پر مالك بنائے باقاعدہ ایجاب و قبول ہو اور بیوی قبضہ کرلے پھر وہ خاوند فوت ہوجائے اور ورثاء چاہیں کہ ان تمام تملیك بنائی ہوئی چیزوں کو
حوالہ / References
ردالمحتار بحوالہ بیری کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۰۸€
ردالمحتار بحوالہ بیری کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۰۸€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/۱۵۹€
ردالمحتار بحوالہ بیری کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۰۸€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/۱۵۹€
میراثابینہ وبین الزوجۃ اجاب ھی ملك للزوجۃ بالتملیك علی الوجہ المذکور وھبۃ المشاع الذی لا یحتمل القسمۃ صحیحۃ والجمل والبقرۃ مما لایمکن قسمۃ الواحد منہا فصحت فیہا الھبۃ المذکورۃ اھ ملتقطا۔ بیوی سمیت تمام ورثاء کے لئے وراثت بنالیںتو جواب دیا کہ مذکورہ تملیك کی بنا پر بیوی کو ملك ہیں جبکہ ناقابل تقسیم مشاع کا ہبہ صحیح ہوتا ہے اور اونٹ اور بیل قابل تقسیم نہیں ہیں۔تو ان کا ہبہ صحیح ہوا۔اھ ملتقطا(ت)
اسی میں ہے:
سئل فی رجل اشہد علی نفسہ انہ ملك اولاد ابنہ و سماھم فی حجۃ جمیع الستۃ قراریط فی الدارین الفلانیتین اجاب الحنفی لایری جواز الھبۃ المشاع اھ ملخصا۔ ان سے سوال ہوا کہ ایك شخص نے یہ اقرار کیا کہ میں نے اپنے پوتوں کو مالك بنایا اور فلاں دو مکانوں میں چھ قراریط سب کی حجت میں پوتوں کا نام لیاتو جواب دیا کہ حنفی حضرات قابل تقسیم مشاع کا ہبہ جائز نہیں مانتے اھ ملخصا(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
سئل فیما اذا کان لزید ابنان واملاك تقبل القسمۃ و حصۃ فی مشاع تقبل القسمۃ فملك جمیع ذلك من ابنیہ المذکورین سویۃ بینہما من غیر قسمۃ وکتب ذلك صك ویرید زید الرجوع عن التملیك فہل لہ ذلك الجواب نعم ھبۃ واحد من اثننین لایصح اھ بالالتقاط۔ ان سے سوال ہوا کہ زید کے دو بیٹے ہیں اور کچھ املاك قابل تقسیم ہیں اور ایك مشاع چیز میں اس کا حصہ بھی ہے تو اپنی ملکیت ان تمام چیزوں کا دونوں بیٹوں کو مالك بنادیا جبکہ دونوں کو مساوی طور پر بغیر تقسیم حصہ دار بنایا اور رسید بھی لکھ دی اور اب زید اس ہبہ سے رجوع کرنا چاہتاہے تو کیا اسے یہ حق ہےالجواب ہاں حق ہے کیونکہ ایك کا دو حضرات کو ہبہ مشترکہ بغیر تقسیم صحیح نہیں اھ ملتقطا(ت)
اسی میں ہے:
سئل فی رجل اشہد علی نفسہ انہ ملك اولاد ابنہ و سماھم فی حجۃ جمیع الستۃ قراریط فی الدارین الفلانیتین اجاب الحنفی لایری جواز الھبۃ المشاع اھ ملخصا۔ ان سے سوال ہوا کہ ایك شخص نے یہ اقرار کیا کہ میں نے اپنے پوتوں کو مالك بنایا اور فلاں دو مکانوں میں چھ قراریط سب کی حجت میں پوتوں کا نام لیاتو جواب دیا کہ حنفی حضرات قابل تقسیم مشاع کا ہبہ جائز نہیں مانتے اھ ملخصا(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
سئل فیما اذا کان لزید ابنان واملاك تقبل القسمۃ و حصۃ فی مشاع تقبل القسمۃ فملك جمیع ذلك من ابنیہ المذکورین سویۃ بینہما من غیر قسمۃ وکتب ذلك صك ویرید زید الرجوع عن التملیك فہل لہ ذلك الجواب نعم ھبۃ واحد من اثننین لایصح اھ بالالتقاط۔ ان سے سوال ہوا کہ زید کے دو بیٹے ہیں اور کچھ املاك قابل تقسیم ہیں اور ایك مشاع چیز میں اس کا حصہ بھی ہے تو اپنی ملکیت ان تمام چیزوں کا دونوں بیٹوں کو مالك بنادیا جبکہ دونوں کو مساوی طور پر بغیر تقسیم حصہ دار بنایا اور رسید بھی لکھ دی اور اب زید اس ہبہ سے رجوع کرنا چاہتاہے تو کیا اسے یہ حق ہےالجواب ہاں حق ہے کیونکہ ایك کا دو حضرات کو ہبہ مشترکہ بغیر تقسیم صحیح نہیں اھ ملتقطا(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۱۰€
فتاوٰی خیریہ کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۱۲€
العقود الدریۃ کتاب الھبۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۹۵€
فتاوٰی خیریہ کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۱۲€
العقود الدریۃ کتاب الھبۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۹۵€
لیکن محل غور اس قدر ہے کہ مسئلہ خاص جزء میں ظاہرا کلمات علماء مختلف سے نظر آتے ہیں بعض نے وہی تصریح فرمائی کہ عقد تملیك عین ہبہ ہے اور بعض بنظر عموم لفظ تعیین ہبہ کے لئے قرینہ کی حاجت اور در صورت انعدام قرینہ تملیك کو ناجائز وغیر صحیح مانتے ہیں
فی ردالمحتار لو قال ملکتك ھذا لثوب مثلا فان قامت قرینۃ علی الھبۃ صحت والا فلا لان التملیك اعم منہا لصدقہ علی المبیع والوصیۃ والا جارۃ وغیرھا انظر ما کتبناہ فی اخرالھبۃ الحامدیۃ وفی الاکازروفی انہا ھبۃ اھ ردالمحتار میں ہے اگر کہا میں نے تجھے اس کپڑے کا مالك بنایا مثلا اگر ہبہ پر قرینہ ہو تو صحیح ہے ورنہ نہیںکیونکہ تملیك ہبہ سے عام ہے اس لئے کہ تملیك مبیعوصیتاجارہ وغیرہ پر بھی صادق آتی ہے۔ہم نے حامدیہ میں ہبہ کے آخر میں جو لکھا ہے اسے دیکھو اور زرونی میں ہے کہ یہ ہبہ ہے اھ(ت)
فقیر کہتاہے غفراﷲ تعالی لہبتصریح علماء مہما امکن دفع تخالف وتحصیل توفیق لازم اور وجہ تطبیق کی تقریر علی الخصوص جب بے تکلف ہو متعین ومتحتماصل وضع میں تملیك کا عموم کسے نہیں معلوم اور بے قیام قرینہ احدالافراد کی تعیین کسی کا قول نہیں اور جس طرح یہ باتیں متفق علیہ ہی یونہی یہ بھی متقین کہ خاص جہت لفظ سے قرینہ کا ناشی ہونا ضروری نہیں بلکہ قرینہ حالیہ بھی کافی ہے۔
وقد سمعت ماقال العلامۃ البیری و المحقق الشامی رحمہما اﷲ تعالی۔ تو نے علامہ بیری اور محقق شامی رحمہما اﷲ تعالی کا کلام سن لیا۔ (ت)
اب جو ہم دیکھتے ہیں تو مقام اخبار میں بیشك لفظ تملیك بیع وہبہ ووصیت وغیرہا سب جگہ بولا جاتا ہے عام ازیں کہ وہ اخبار اپنے نفس سے ہو یا غیر سےمثلا زید نے ایك مکان عمرو کے ہاتھ بیع کیا تو اب وہ کہ کہتاہے کہ میں نے فلاں مکان عمرو کی ملك کردیا بکرو خالد کہہ سکتے ہیں زید نے خود کو اپنے مکان کا مالك کیا عمرو کہہ سکتاہے کہ مکان زید بتملیك زید میری ملك میں آیا اور سامع ان لفظوں سے ہر گز سوا نقل ملك کے کچھ نہیں سمجھ سکتا کہ یہ امر بعوض واقع ہوا یا بلاعوضاور مکان ملك عمرو میں بیعا آیا یاہبۃعموم تملیك کا یہ صاف اثرواضح ہے مگر خاص انشائے عقد ایجاب وقبول کے وقت جب ان لفظوں پر اقتصار ہوگا یعنی میں نے تجھے فلاں شے کا مالك کیا عمرو کہے میں نے قبول کیاتو بیشك متفاہم عرف میں اس سے ہبہ ہی
فی ردالمحتار لو قال ملکتك ھذا لثوب مثلا فان قامت قرینۃ علی الھبۃ صحت والا فلا لان التملیك اعم منہا لصدقہ علی المبیع والوصیۃ والا جارۃ وغیرھا انظر ما کتبناہ فی اخرالھبۃ الحامدیۃ وفی الاکازروفی انہا ھبۃ اھ ردالمحتار میں ہے اگر کہا میں نے تجھے اس کپڑے کا مالك بنایا مثلا اگر ہبہ پر قرینہ ہو تو صحیح ہے ورنہ نہیںکیونکہ تملیك ہبہ سے عام ہے اس لئے کہ تملیك مبیعوصیتاجارہ وغیرہ پر بھی صادق آتی ہے۔ہم نے حامدیہ میں ہبہ کے آخر میں جو لکھا ہے اسے دیکھو اور زرونی میں ہے کہ یہ ہبہ ہے اھ(ت)
فقیر کہتاہے غفراﷲ تعالی لہبتصریح علماء مہما امکن دفع تخالف وتحصیل توفیق لازم اور وجہ تطبیق کی تقریر علی الخصوص جب بے تکلف ہو متعین ومتحتماصل وضع میں تملیك کا عموم کسے نہیں معلوم اور بے قیام قرینہ احدالافراد کی تعیین کسی کا قول نہیں اور جس طرح یہ باتیں متفق علیہ ہی یونہی یہ بھی متقین کہ خاص جہت لفظ سے قرینہ کا ناشی ہونا ضروری نہیں بلکہ قرینہ حالیہ بھی کافی ہے۔
وقد سمعت ماقال العلامۃ البیری و المحقق الشامی رحمہما اﷲ تعالی۔ تو نے علامہ بیری اور محقق شامی رحمہما اﷲ تعالی کا کلام سن لیا۔ (ت)
اب جو ہم دیکھتے ہیں تو مقام اخبار میں بیشك لفظ تملیك بیع وہبہ ووصیت وغیرہا سب جگہ بولا جاتا ہے عام ازیں کہ وہ اخبار اپنے نفس سے ہو یا غیر سےمثلا زید نے ایك مکان عمرو کے ہاتھ بیع کیا تو اب وہ کہ کہتاہے کہ میں نے فلاں مکان عمرو کی ملك کردیا بکرو خالد کہہ سکتے ہیں زید نے خود کو اپنے مکان کا مالك کیا عمرو کہہ سکتاہے کہ مکان زید بتملیك زید میری ملك میں آیا اور سامع ان لفظوں سے ہر گز سوا نقل ملك کے کچھ نہیں سمجھ سکتا کہ یہ امر بعوض واقع ہوا یا بلاعوضاور مکان ملك عمرو میں بیعا آیا یاہبۃعموم تملیك کا یہ صاف اثرواضح ہے مگر خاص انشائے عقد ایجاب وقبول کے وقت جب ان لفظوں پر اقتصار ہوگا یعنی میں نے تجھے فلاں شے کا مالك کیا عمرو کہے میں نے قبول کیاتو بیشك متفاہم عرف میں اس سے ہبہ ہی
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۰۹€
متبادر ہوگا جب تك کوئی قرینہ اس کے خلاف پر قائم نہ ہواور فارق یہ ہے کہ عقد واقع سے خبر دینے میں اس کے متعلقات کا استیفاء واستقصا ضرور نہیں بخلاف ایقاع عقد کے کہ اگر اسے بیع منظور ہوتی ثمن کا ذکر لاتا وصیت چاہتا تو بعد موت کے تصریح کرتا اجارہ اعارہ مقصود ہوتا تو عقد کو خاص اس شیئ کی طرف اضافت نہ کرتا بلکہ منافع کانام لیتا یا ایسی عبارت بولتا جس سے تملیك منافع مفہوم ہوتی اخر دیکھو اصل وضع کے اعتبار سے ان لفظوں میں بھی کہ یہ شیئ میں نے اپنے بیٹے کے لئے کردی یا بنام او کردم بعینہ وہی احتمالات پیدا ہیں جو لفظ تملیك میں نکلتے ہیں مگر ائمہ نے تصریح فرمائی کہ یہ ہبہ ہے۔
کما اسفلنا من الخانیۃ وقد نقلہ عنہا العلامۃ الغزی فی المنح وغیرہ فی غیرھا مذعنین لہا۔ جیساکہ ہم نے پہلے خانیہ سے نقل کیا ہے اور خانیہ سے علامہ غزی نے منح میں اور دوسروں نے اپنی کتب میں اس پر اعتماد کرتے ہوئے نقل کیا ہے۔(ت)
بلکہ امام فقیہ النفس نے جعلتہ لابنی کے ہبہ ٹھہرانے کی وجہ یہ ارشاد فرمائی کہ جعل بمعنی تملیك ہے تو جب تك باقتضائے مقام تمام احتمالات منقطع ہوکر ملکت بمعنی وہبت نہ رہے گا جعلت کا بمعنی ملکت ہونا کیا فائدہ بخشے گا کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ت)پس ان بعض کا یہ فرمانا کہ ارادہ ہبہ کے لئے قرینہ درکا ہے نہایت بجاودرستبیشك کوئی عام اپنے فرد میں بلا قرینہ معین نہیں ہوسکتامگریہاں طرز گفتگو خود ہی ہبہ کا قرینہ ہے کما بیننا(جیسا کہ بیان کیا ہے۔ت)ہاں مثلا ایسی صورت میں کہ زید وعمروباہم کسی شے کے خرید وفروخت پر گفتگو کرتے ہوں اب زید کہے وہ شے میں نے تیری ہی ملك میں دی یا تجھے اس کا مالك کیا ہبہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کی باہمی حالت تملیك بلاعوض پر قرینہ نہیں ہوسکتینہ بیع درست ہو کہ وہ مبادلہ مال بمال ہے اور یہاں مال دوم کا نام نہیں ناچار عقد کو غیر صحیح مانیں گےاور وہ بعض جو تملیك کوہبہ فرماتے ہیں اس صورت میں فرماتے ہیں جب کوئی ایسی حالت واقع نہ پس تمام کلمات ایك ہی طرف راجع اور سارا اختلاف بحمداﷲ مرتفع۔
قلت ومن ھھنا ظہرانہ لایتعلق بما نحن فیہ مافی اخر العقود الدریۃ میں کہتاہوں یہاں سے ظاہر ہوا کہ جو عقود الدریہ کے آخر میں ہے وہ ہماری بحث سے خارج
کما اسفلنا من الخانیۃ وقد نقلہ عنہا العلامۃ الغزی فی المنح وغیرہ فی غیرھا مذعنین لہا۔ جیساکہ ہم نے پہلے خانیہ سے نقل کیا ہے اور خانیہ سے علامہ غزی نے منح میں اور دوسروں نے اپنی کتب میں اس پر اعتماد کرتے ہوئے نقل کیا ہے۔(ت)
بلکہ امام فقیہ النفس نے جعلتہ لابنی کے ہبہ ٹھہرانے کی وجہ یہ ارشاد فرمائی کہ جعل بمعنی تملیك ہے تو جب تك باقتضائے مقام تمام احتمالات منقطع ہوکر ملکت بمعنی وہبت نہ رہے گا جعلت کا بمعنی ملکت ہونا کیا فائدہ بخشے گا کما لایخفی(جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ت)پس ان بعض کا یہ فرمانا کہ ارادہ ہبہ کے لئے قرینہ درکا ہے نہایت بجاودرستبیشك کوئی عام اپنے فرد میں بلا قرینہ معین نہیں ہوسکتامگریہاں طرز گفتگو خود ہی ہبہ کا قرینہ ہے کما بیننا(جیسا کہ بیان کیا ہے۔ت)ہاں مثلا ایسی صورت میں کہ زید وعمروباہم کسی شے کے خرید وفروخت پر گفتگو کرتے ہوں اب زید کہے وہ شے میں نے تیری ہی ملك میں دی یا تجھے اس کا مالك کیا ہبہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کی باہمی حالت تملیك بلاعوض پر قرینہ نہیں ہوسکتینہ بیع درست ہو کہ وہ مبادلہ مال بمال ہے اور یہاں مال دوم کا نام نہیں ناچار عقد کو غیر صحیح مانیں گےاور وہ بعض جو تملیك کوہبہ فرماتے ہیں اس صورت میں فرماتے ہیں جب کوئی ایسی حالت واقع نہ پس تمام کلمات ایك ہی طرف راجع اور سارا اختلاف بحمداﷲ مرتفع۔
قلت ومن ھھنا ظہرانہ لایتعلق بما نحن فیہ مافی اخر العقود الدریۃ میں کہتاہوں یہاں سے ظاہر ہوا کہ جو عقود الدریہ کے آخر میں ہے وہ ہماری بحث سے خارج
حوالہ / References
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الھبۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۶۹۷€
ممانصہ قال المؤلف کتبت علی صورۃ دعوی ماصورتہ حیث بین اقرارہ انہ بجھۃ التملیك فدعوی التملیك لاتسمع لما قالہ الخیرا لرملی رحمہ اﷲ تعالی ناقلا عن جامع الفصولین فی خلل المحاضر والسجلات برمز التتمۃ عرض علی محضر کتب فیہ ملکہ تملیکا صحیحا ولم یبین انہ ملکہ بعوض اوبلا عوض قال اجبت انہ لاتصح الدعوی ثم رمز لشروط عــــــہ الحاکم اکتفی بہ فی مثل ھذا بقولہ وھب لہ ھبۃ صحیحۃ و قبضہا ولکن ماافاد فی التتمۃ اجود واقرب الی الاحتیاط اھ فان ھذا نقل واخبار لا عقد وایجاب کما لایخفی ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق۔ ہے جس کی عبارت یہ ہیے مؤلف نے فرمایا میں نے دعوی کی صورت پر لکھاکہ صورت کیا ہے جہاں اس نے اپنا اقرار کیا ہے کہ یہ تملیك کے طور پر ہے اگر یہی ہے تو تملیك کے دعوی کی مانند یہ قابل سماعت نہیں ہے اس کی وجہ وہ جوخیر الدین رملی رحمہ اﷲ تعالی نے جامع الفصولین کی ماحضرات اور سجلات میں خلل والی بحث سے تتمہ کے عنوان میں نقل کیا ہے کہ مجھ پر ایك محضر نامہ پیش کیا گیا جس میں لکھا تھا اس کو صحیح تملیك کے ساتھ مالك بنایا اور یہ نہ بیان کیا عوض کے ساتھ یا بلاعوض مالك بنایا تو فرماتے ہیں میں نے جواب دیا کہ دعوی صحیح نہیں ہے۔پھر انہوں نے شروط الحاکم میں صرف اس صورت پر اکتفا فرمایاجیسے کوئی لکھے اس کو صحیح ہبہ کرکے دے دیالیکن انہوں نے تمتہ میں جو فائدہ دیا وہ بہتر اور احتیاط سے اقرب ہے اھ کیونکہ یہ حکایت اور اخبار ہیں۔ عقد اور ایجاب نہیں ہیں۔جیسا کہ مخفی نہیں۔تحقیق یوں چاہئے اﷲ تعالی ہی توفیق کا مالك ہے۔(ت)
یہ ساری بحث تملیك زبانی ہے دستاویز تملیك نامہ تو قطعا تمام اقوال پر ہبہ نامہ ہے جس میں کسی طرح نزاع کا احتمال نہیں کہ بالیقین ا س کا لکھنے والا تملیك عین بلاعوض کا قصد کرتاہے اور بالتعین یہی اس سے سمجھا جاتاہے ووصیت وغیرھا احتمالات کی بو بھی نہیں آتی یہاں تك کہ اگر کوئی شخص ایسی دستاویز لکھ کر کہے میں نے تو اس سے عقد بیع کاقصد کیا ہے تو کوئی اس کی تصدیق
عــــــہ: اسم کتاب ۱۲ عبدالمنان۔
یہ ساری بحث تملیك زبانی ہے دستاویز تملیك نامہ تو قطعا تمام اقوال پر ہبہ نامہ ہے جس میں کسی طرح نزاع کا احتمال نہیں کہ بالیقین ا س کا لکھنے والا تملیك عین بلاعوض کا قصد کرتاہے اور بالتعین یہی اس سے سمجھا جاتاہے ووصیت وغیرھا احتمالات کی بو بھی نہیں آتی یہاں تك کہ اگر کوئی شخص ایسی دستاویز لکھ کر کہے میں نے تو اس سے عقد بیع کاقصد کیا ہے تو کوئی اس کی تصدیق
عــــــہ: اسم کتاب ۱۲ عبدالمنان۔
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الھبۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/۱۔۱۰۰€
نہ کرے گا اور سب کے نزدیك وہ بات بدلنے والا ٹھہرے گاا تو اس کے ہبہ ہونے میں کوئی شك نہیں تملیك زبانی میں مدار کا قرینہ پر ہے اگر کوئی قرینہ قائم ہو جو معنی ہبہ سے ابا کرے تو اسے ہبہ نہ ٹھہرائیں گے اور دستاویز تملیك نامہ قطعا ہبہ اور جو عقد ہبہ ٹھہرے گا تمام احکام ہبہ متعلقات شیوع وقبضہ ومرض وغیرہ سب بدستور اس میں جاری ہوں گے فان العبرۃ للمعنی کما فی الہدایۃ وغیرھا(کیونکہ معنی کا اعتبار ہوتاہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ت)یہ ہے جو کلمات علماء کرام سے منقح ہوا اور وہ جو زعم کیا جاتاہے کہ تملیك کوئی عقد خاص جدا گانہ ہبہ سے مبائن اور اس کے احکام احکام ہبہ سے علیحدہ ہیں اصلا قابل تسلیم نہیں کہ قواعد شرع مطہرہ اس کی مساعدت ہر گز نہیں کرتے
وما وقع ھھنا من العلامۃ ط رحمہ اﷲ تعالی حیث قال قال السید الحموی اعلم ان التملیك یکون فی معنی الھبۃ ویتم بالقبض واذا عری عن القبض و التسلیم اختلف العلماء فیہ فقیل یجوز وقیل لا یجوز قیاسا علی الھبۃ واکثرالمشائخ علی انہ یجوز بدون التسلیم وانہ غیر الھبۃ لان التملیك والھبۃ شیئان اسما وحکما اما الاسم فظاھر واما حکما فلان لو وھب الثمار علی رؤس الاشجار لاتجوز ولواقر بالتملیك یجوز فثبت ان التملیك یصح بدون التسلیم وانہ غیر الھبۃ وعلیہ الفتوی وعمل الناس و موت المقر بمنزلۃ التسلیم بالاتفاق کذا اس مقام پر علامہ طحطاوی رحمہ اﷲ تعالی سے جو وقوع پذیر ہوا جہاں انہوں نے فرمایا کہ سید حموی نے فرمایا:جاننا چاہئے کہ تملیك ہبہ کے معنی میں ہوتی ہے اور قبضہ سے تام ہوتی ہے اور جب یہ قبضہ اور تسلیم سے خالی ہو تو پھر علماء کا اس میں اختلاف ہے بعض نے کہا جائز ہے اور بعض نے کہا ناجائز ہے ہبہ پر قیاس کی وجہ سے اور اکثر مشائخ اس پر ہیں کہ بغیر قبضہ دئیے جائز ہے اور تملیك ہبہ سے جدا چیز ہے کیونکہ تملیك اور ہبہ دو علیحدہ چیزیں حکم اور نام کے اعتبار سے نام کے لحاظ سے ظاہر ہے حکم کے اعتبار سے اس لئے کہ اگر کوئی درختوں پر پھل کو ہبہ کرے تو ناجائز ہے اوراگر تملیك کے طور پر کسی کے لئے اقرار کرے تو جائز ہے تو ثابت ہوا کہ تملیك بغیر قبضہ دئے صحیح ہے اور ہبہ کاغیر ہے اور اسی پر فتوی ہے اور لوگوں کا عمل بھی اور اقرار کرنے والے کی موت بمنزلہ قبضہ ہے اھ مفتاح میں
وما وقع ھھنا من العلامۃ ط رحمہ اﷲ تعالی حیث قال قال السید الحموی اعلم ان التملیك یکون فی معنی الھبۃ ویتم بالقبض واذا عری عن القبض و التسلیم اختلف العلماء فیہ فقیل یجوز وقیل لا یجوز قیاسا علی الھبۃ واکثرالمشائخ علی انہ یجوز بدون التسلیم وانہ غیر الھبۃ لان التملیك والھبۃ شیئان اسما وحکما اما الاسم فظاھر واما حکما فلان لو وھب الثمار علی رؤس الاشجار لاتجوز ولواقر بالتملیك یجوز فثبت ان التملیك یصح بدون التسلیم وانہ غیر الھبۃ وعلیہ الفتوی وعمل الناس و موت المقر بمنزلۃ التسلیم بالاتفاق کذا اس مقام پر علامہ طحطاوی رحمہ اﷲ تعالی سے جو وقوع پذیر ہوا جہاں انہوں نے فرمایا کہ سید حموی نے فرمایا:جاننا چاہئے کہ تملیك ہبہ کے معنی میں ہوتی ہے اور قبضہ سے تام ہوتی ہے اور جب یہ قبضہ اور تسلیم سے خالی ہو تو پھر علماء کا اس میں اختلاف ہے بعض نے کہا جائز ہے اور بعض نے کہا ناجائز ہے ہبہ پر قیاس کی وجہ سے اور اکثر مشائخ اس پر ہیں کہ بغیر قبضہ دئیے جائز ہے اور تملیك ہبہ سے جدا چیز ہے کیونکہ تملیك اور ہبہ دو علیحدہ چیزیں حکم اور نام کے اعتبار سے نام کے لحاظ سے ظاہر ہے حکم کے اعتبار سے اس لئے کہ اگر کوئی درختوں پر پھل کو ہبہ کرے تو ناجائز ہے اوراگر تملیك کے طور پر کسی کے لئے اقرار کرے تو جائز ہے تو ثابت ہوا کہ تملیك بغیر قبضہ دئے صحیح ہے اور ہبہ کاغیر ہے اور اسی پر فتوی ہے اور لوگوں کا عمل بھی اور اقرار کرنے والے کی موت بمنزلہ قبضہ ہے اھ مفتاح میں
فی الفتاح انتہیفاقول:نقل مجہول لامعقول ولا مقبول اما لجہل فلان المفتاح لیس من الکتب المتداولۃ ولاالشہیرۃ و لاعلم من ھو مصنفہ وما درجتہ فی کتب المذھبواما انہ غیرمعقول فلان التملیك حالا اماللعین اوللمنافع وکل امابعوض اومجانا ھذا تقسم حاصر عقلی لاامکان لخروج قسم عنہ ومعلوم بداھۃ ان ھذاالشیئ الذی لیس تملیك المنافع وتملیك العین بعوض فاذن لیس الاتملیك العین حالا مجانا وما ھوا الا الھبۃ وفسرت فی المتون وقال قاضی زادہ فی تنائج الافکار الھبۃ فی الشریعۃ تملیك المال بلاعوض کذا فی عامۃ الشروح بل المتون وما عہد من الشرع المطہر ما ھو عقد یکون تملیك العین فی الحال بلاعوض ولا یکون ھبۃ ولوکان لوجب ان یعقد لہ کتاب او باب او فصل اواقل شیئ فی کتب المذہب کما عقدت الکتب البیع و الھبۃ والعاریۃ والاجارۃ یوں ہے اھفاقول:(تومیں کہتاہوں۔ت)یہ نقل مجہول غیر مقبول اور غیرمعقول ہے۔مجہول اسی لئے کہ مفتاح مشہور اور متداول کتب میں نہیں ہے اور یہ معلوم نہیں کہ اس کا مصنف کون ہے اور کتب مذہب میں اس کا کیا مقام ہے غیر معقول اسی لئے کہ مذکورہ تملیك عین چیز کی ہوگی یامنافع کی ہوگی پھر ہر صورت عوض کے بدلے یا بلاعوض ہوگی یہ تقسیم عقلی طور پر چارصورتوں کوحاصر ہے اور اس سے خارج کسی قسم کا احتمال نہیں ہے اور بداہۃ معلوم ہے کہ یہ چیز جو منافع اور عین چیز کی تملیك بالعوض نہیں تو لامحالہ پھر صرف تملیك العین مفت میں ہوگی تو اسی کانام ہبہ ہے اور متون میں اسی کی یہی تفسیر کی گئی ہے۔قاضی زادہ نے نتائج الافکار میں فرمایا:شریعت میں ہبہ مال کی بلاعوض تملیك کو کہتے ہیں۔ یونہی عام شروح میں مذکور ہے بلکہ تمام متون میں ہے شرع شریف سے کوئی ایسا عقد معلوم نہیں ہوا جس میں موقعہ پر بلاعوض عین چیز کا مالك بنانا ہو اور وہ ہبہ نہ ہوگا اگر کوئی اور چیز ہوتی تو کتب فقہ میں اس کے لئے کوئی کتاب باب یا فصل یا اور کوئی اس سے کم عنوان ضرور قائم کیا جاتا جیسا کہ کتب میں بیعہبہعاریہ اور اجارہ وغیرہ کے لئے
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الھبۃ فصل فی مسائل متفرقۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۴۰۹€
نتائج الافکار فی کشف الرموز والاسرار تکملہ فتح القدیر کتاب الھبۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۷ /۴۷۹€
نتائج الافکار فی کشف الرموز والاسرار تکملہ فتح القدیر کتاب الھبۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۷ /۴۷۹€
لکن نری کتب المذہب عن اخرھا خالیۃ عن اولی ایماء الی ذلك فاذن ھو عقد غیرہ معہود من الشرع بل ولامعروف فی عرف الناس قاطبۃ فانك لواخبرت احدا ان زید املك دارہ من عمرو مجانا فی الحال لم یفھم منہ احد الاالھبۃ ولایخطر ببال صبی عاقل ولا عالم فاضل شیئ غیرھا وقد علل فی الھدایۃ وغیرھا عامۃ الکتب المعللۃ اشتراط القبض فی الھبۃ بانہ عقد تبرع وفی اثبات الملك قبل القبض الزام المتبرع شیئا لم یتبرع بہ وہو التسلیم فلا یصح اھ والتمسك بمسئلۃ الاقرار اول دلیل علی ان ھذا الکلام لم یصدر عن فقہ فانہ انما المرء مواخذ باقرارہ الا تری ان لولم یملکہ اصلا واقراخذ باقرارہ فہل یستدل بہ علی ان التملیك یصح من دون ایجاب من المملك اصلا ثم لاشك
عنوان قائم ہیں لیکن ہم اول تا آخر تمام کتب مذہب کو دیکھ رہے ہیں کہ تمام کی تمام اس عنوان سے خالی بلکہ اس کی طرف کسی ادنی اشارہ تك سے خالی ہیں تو معلوم ہوا کہ نری تملیك شرع میں کوئی عقد نہیں ہے بلکہ لوگوں کے عرف تك میں کہیں موجود نہیںکیونکہ اگر تو خبر دے کہ زید نے مفت میں عمرو کو مکان کا مالك بنادے تو اس سے ہر کوئی یہی سمجھے گا کہ یہ ہبہ ہے اور کسی بچے اور عالم فاضل تك کے دل میں ہبہ کے علاوہ کوئی چیز نہ کھٹکے گیاور ہدایہ اور تمام ان کتب میں جو علل کو بیان کرتی ہیں انہوں نے ہبہ میں قبضہ کی شرط کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ چونکہ یہ تبرع کا عقد ہے اور قبضہ سے قبل ملك کے ثبوت میں تبرع کرنے والے پر ایسی چیز کا الزام ہوگا جس کا اس نے تبرع نہیں کیا اور وہ تبرع سونپ دینے کا نام ہے(جو ابھی واقعی نہیں ہوا)لہذا قبضہ سے قبل ملك صحیح نہ ہوگی اھاور اقرار کے مسئلہ سے اس کا استدلال کر نا یہی اس بات کی بڑی دلیل ہے کہ اس کا یہ کلام سمجھ کے بغیر صادر ہوا ہے کیونکہ یہ تو صرف کسی کا اپنے اقرار میں ماخوذ ہونے کی بات ہے آپ غور کریں کہ اگر کوئی شخص قطعا کسی کو مالك نہ بنائے اس کے باوجود وہ اقرار رکرے تو اپنے اقرار میں ماخوذ ہوگا تو کیا اس اقرار سے یہ استدلال کیا جائے گا کہ مالك بنانے والے کی
عنوان قائم ہیں لیکن ہم اول تا آخر تمام کتب مذہب کو دیکھ رہے ہیں کہ تمام کی تمام اس عنوان سے خالی بلکہ اس کی طرف کسی ادنی اشارہ تك سے خالی ہیں تو معلوم ہوا کہ نری تملیك شرع میں کوئی عقد نہیں ہے بلکہ لوگوں کے عرف تك میں کہیں موجود نہیںکیونکہ اگر تو خبر دے کہ زید نے مفت میں عمرو کو مکان کا مالك بنادے تو اس سے ہر کوئی یہی سمجھے گا کہ یہ ہبہ ہے اور کسی بچے اور عالم فاضل تك کے دل میں ہبہ کے علاوہ کوئی چیز نہ کھٹکے گیاور ہدایہ اور تمام ان کتب میں جو علل کو بیان کرتی ہیں انہوں نے ہبہ میں قبضہ کی شرط کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ چونکہ یہ تبرع کا عقد ہے اور قبضہ سے قبل ملك کے ثبوت میں تبرع کرنے والے پر ایسی چیز کا الزام ہوگا جس کا اس نے تبرع نہیں کیا اور وہ تبرع سونپ دینے کا نام ہے(جو ابھی واقعی نہیں ہوا)لہذا قبضہ سے قبل ملك صحیح نہ ہوگی اھاور اقرار کے مسئلہ سے اس کا استدلال کر نا یہی اس بات کی بڑی دلیل ہے کہ اس کا یہ کلام سمجھ کے بغیر صادر ہوا ہے کیونکہ یہ تو صرف کسی کا اپنے اقرار میں ماخوذ ہونے کی بات ہے آپ غور کریں کہ اگر کوئی شخص قطعا کسی کو مالك نہ بنائے اس کے باوجود وہ اقرار رکرے تو اپنے اقرار میں ماخوذ ہوگا تو کیا اس اقرار سے یہ استدلال کیا جائے گا کہ مالك بنانے والے کی
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب الھبۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۸۱€
ان لو اقر بالبیع جاز فہل یستدل بہ علی ان البیع یتم من جانب البائع وحدہ لانہ لیس ھھنا شیئ من جانب المشتری بل السرالذی غفل عنہ ھذا المستدل ان الاقرار اخبار من وجہ کما انہ انشاء من وجہ فلشبہ الاخبار یواخذ بامثال الاقرار لا لانہ انشاء عقد لایحتاج الی القبض الا تری انہ لو اقر لغیرہ بنصف دارہ مشاعا صح کما فی الدر وغیرہ و ماذلك الا لشبہ الاخبار ولوکان انشاء لم یصح کما نصوا مع وجوب الصحۃ علی وھم ھذا الواھم وتقدم فی الاقرار متناوشرحا جمیع مالی اومااملکہ لہ ھبۃ لااقرار فلا بد من التسلیم بخلاف الاقرار اھ فقد افاد ان لام التملیك طرف سے ایجاب کے بغیر ہی تملیك صحیح ہوجاتی ہے(ہر گز نہیں) پھر اس میں بھی شك نہیں کہ اگر کوئی بیع کااقرار کرے تو یہ اقرار صحیح ہے تو کیا اس سے بھی یہ استدلال کیا جاسکے گا کہ بیع کا انعقاد صرف اکیلے بائع کی طرف تام ہوگا کیونکہ اس میں مشتری کے کسی عمل کا ذکر نہیں(جبکہ ایسا نہیں ہے)بلکہ و ہ نکتہ جس سے یہ استدلال والاغافل ہے وہ یہ ہے کہ اقرار من وجہ خبر ہے جیسا کہ وہ من وجہ انشاء ہے تو خبر والے پہلو کے اعتبار سے اقرار کی وجہ سے وہ ماخوذ ہوتاہے اس وجہ سے نہیں کہ یہ عقد کا انشاء ہے جس میں قبضہ کی ضرورت نہیں ہے تو آپ دیکھیں کہ اگر وہ غیر کے لئے اپنے نصف مکان کا مشاع کے طور پر اقرار کرے تو صحیح ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے تو یہ صرف اس لئے کہ اس میں خبر کا شبہ ہے حالانکہ اگر اس کو انشاء کہا جائے تو صحیح نہ ہوگا جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصریح فرمائی ہے حالانکہ مذکور اقرار کی صحت اس شخص کے ہاں مسلمہ ہے اور پہلے گزرا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ اقرار کرے کہ میرا تمام مال یا جس چیز کا میں مالك ہوں وہ فلاں کی ہے تمام متون اور شروح میں اس اقرار کو ہبہ قرار دیا ہے اس کو اقرار نہیں کہاتو اس میں قبضہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الاقرار ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۳€۰
درمختار کتاب الاقرار ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۳۱€
درمختار کتاب الاقرار ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۳۱€
یفید الھبۃ ویشترط التسلیم وان عدم اشتراطہ فی الاقرار جاء من جہۃ انہ اخبار من وجہ لا ان ھھنا عقدا لایحتاج الی التسلیم والنکتۃ فیہ ان التملیك یعم البیع والھبۃ فاذا اقربانہ ملك الثمار وھی علی الاشجار صرف الامر الی البیع مواخذۃ لہ باقرارہ وتصحیحا للکلام مہما امکن بخلاف ما اقربھبتھا فانہ قد صرح بما لایتم مشغولا فلم یفد وکذلك فی کل شیئ اذا اقربانی قد ملکتہ من فلان قبل ولم یبحث عن القبض و الشغل وغیرھا لان الاقرار بالتملیك اقرار بخروجہ عن ملکہ الی ملك المقر لہ و لایتم ذلك فی التبرعات لابالقبض للمقرلہ فالاقرار بہ اقرار بالھبۃ وبالاقباض معا بخلاف مالو اقرانی وھبتہ فان صدور الھبۃ من الواھب دینا ضروری ہے بخلاف اقرار کے اھ تو اس مسئلہ نے فائدہ ظاہر کیا کہ اقرار میں لام تملیك کے لئے ہے جو ہبہ کا فائدہ دیتاہے اور تسلیم کو شرط بناتا ہے اور اقرار بنانے کی صورت میں تسلیم کا واجب نہ ہونا اس وجہ سے ہوا کہ من وجہ خبر ہے اس لئے نہیں کہ اقرار ایك عقد ہے جس میں تسلیم وقبضہ دینا ضروری نہیں ہے اس میں نکتہ یہ ہے تملیك کاعنوان بیع اور ہبہ دونوں کو شامل ہےتوجب اس نے یہ اقرارکیا کہ"درختوں پر پھل کا مالك بنایا"تو اس کو بیع کی طرف پھیرا جائے گا تاکہ اس کو اپنے اقرار میں ماخوذ کیا جائے اور کلام کو حتی الامکان صحیح بنایا جائے بخلاف اس صورت کے کہ وہ ہبہ کا اقرار کرے تو اس کا کلام درست نہ ہوگا کیونکہ وہ پھل اس کے درختوں کے ساتھ مشغول ہے اور اسی طرح ہر وہ چیز جس کے متعلق وہ یہ اقرار کرے کہ میں نے اس کا فلاں کو مالك بنایا اور قبضہ اور مشغول ہونے نہ ہونے کا ذکر نہ ہو تو یہ اقرار قبول کر لیا جائے گا کیونکہ تملیك کا اقرار اس بات کا اعتراف ہے کہ میں نے یہ چیز اپنی ملکیت سے نکال کر مقرلہ کی ملکیت میں دے دی اور تبرعات میں یہ معاملہ اس وقت تك تام اور درست نہیں ہوتا جب تك قبضہ مقرلہ کے لئے نہ مانا جائے تو لازما یہ اقرار ہبہ مع قبضہ ماننا ہوگا بخلاف جبکہ وہ ہبہ کا اقرار کرے اور یوں کہے میں نے یہ چیز اس کو ہبہ کی ہے اور
لایستلزم الاقباض فلا یکون اقرار بحصول الملك للموہوب لہ ھذا ھو الفرق بین الاقرارین لامازعم ان التملیك لایحتاج الی القبض ولو لا ذکرہ من الدلیل لایقنا ان ھذا النقل والفتوی مکذوب علی المشائخ ولکن باستدلالہ تبین ان الخطأ فی الفہم وقد قدمنا نصوصا قاضیۃ بان التملیك ھھنا ھوالھبۃ وقد اعترف بہ ھذا الناقل فی صدر کلامہ ان التملیك یکون فی معنی الھبۃ ویتم بالقبض فاذا کان تمامہ بالقبض فکیف یجوز یدون التسلیم ثم العجب اشد العجب ان الاختلاف کان فی انہ لو قال ملکتك ھذا الشیئ ھل یکون ھبۃ ام لایصح اصلا لان التملیك اعم کما قد منا من ردالمحتار والان جاءتنا الفتوی بانہ صحیح مطلقا حتی بلاقبض ھل ھذا الاعجب عجابوقد اسمحناك نص التتمہ وجامع الفصولین والخیر الرملی و
تملیك کا لفظ کہا یہ تو اقرار قبضہ کو مستلز م نہیں کیونکہ واہب کی طرف سے ہبہ کے صدور کو یہ لازم نہیں تو ہبہ کے اقرار سے موہوب لہ کے لئے ملکیت ثابت نہ ہوگیتملیك اور ہبہ کے اقراروں میں یہ فرق ہے نہ یہ کہ تملیك میں قبضہ کی ضرورت نہیں جیسے اس نے گمان کرلیااگر یہ اس دلیل کو ذکر نہ کرتا تو ہم یقین کرلیتے کہ نقل اور فتوی مشائخ کی طرف غلط منسوب ہے لیکن مسئلہ اقرار سے اس کے استدلال نے واضح کردیا کہ خطأ اس کے فہم کی ہے جبکہ نقل اور فتوی صحیح ہے حالانکہ ہم پہلے نصوص کے ذریعہ واضح کرچکے ہیں کہ یہاں تملیك سے مرادہ ہبہ ہے جبکہ یہ ناقل بھی اپنے کلام کی ابتداء میں اعتراف کرچکا ہے کہ تملیك ہبہ کے معنی میں ہوتی ہے اور وہ قبضہ سے تام ہوتی ہے تو جب یہ قبضہ سے تام ہوتی ہے تو پھر تسلیم کے بغیر کیسے جائز ہوگیپھر انتہائی تعجب کی بات یہ ہے کہ اختلاف یہ بیان کیا کہ اگر کوئی یوں کہے"میں نے تجھے اس چیز کا مالك بنایا"تو یہ ہبہ ہوگا یا سرے سے کلام صحیح نہ ہوگا اور ہبہ نہ ہوگا کیونکہ تملیك ہبہ سے عام ہے جیسا کہ ہم ردالمحتار سے بھی ثابت کرچکے ہیں تو اب انہوں نے فتوی ظاہر کردیا کہ یہ مطلقا صحیح ہے خواہ قبضہ بھی نہ ہوتویہ عجائب سے عجیب پر ہے ہم نے آپ کو تتمہ کی نص اور جامع الفصولینخیر الدین رملی اور عقود الدریہ سے بتایا کہ وہ
تملیك کا لفظ کہا یہ تو اقرار قبضہ کو مستلز م نہیں کیونکہ واہب کی طرف سے ہبہ کے صدور کو یہ لازم نہیں تو ہبہ کے اقرار سے موہوب لہ کے لئے ملکیت ثابت نہ ہوگیتملیك اور ہبہ کے اقراروں میں یہ فرق ہے نہ یہ کہ تملیك میں قبضہ کی ضرورت نہیں جیسے اس نے گمان کرلیااگر یہ اس دلیل کو ذکر نہ کرتا تو ہم یقین کرلیتے کہ نقل اور فتوی مشائخ کی طرف غلط منسوب ہے لیکن مسئلہ اقرار سے اس کے استدلال نے واضح کردیا کہ خطأ اس کے فہم کی ہے جبکہ نقل اور فتوی صحیح ہے حالانکہ ہم پہلے نصوص کے ذریعہ واضح کرچکے ہیں کہ یہاں تملیك سے مرادہ ہبہ ہے جبکہ یہ ناقل بھی اپنے کلام کی ابتداء میں اعتراف کرچکا ہے کہ تملیك ہبہ کے معنی میں ہوتی ہے اور وہ قبضہ سے تام ہوتی ہے تو جب یہ قبضہ سے تام ہوتی ہے تو پھر تسلیم کے بغیر کیسے جائز ہوگیپھر انتہائی تعجب کی بات یہ ہے کہ اختلاف یہ بیان کیا کہ اگر کوئی یوں کہے"میں نے تجھے اس چیز کا مالك بنایا"تو یہ ہبہ ہوگا یا سرے سے کلام صحیح نہ ہوگا اور ہبہ نہ ہوگا کیونکہ تملیك ہبہ سے عام ہے جیسا کہ ہم ردالمحتار سے بھی ثابت کرچکے ہیں تو اب انہوں نے فتوی ظاہر کردیا کہ یہ مطلقا صحیح ہے خواہ قبضہ بھی نہ ہوتویہ عجائب سے عجیب پر ہے ہم نے آپ کو تتمہ کی نص اور جامع الفصولینخیر الدین رملی اور عقود الدریہ سے بتایا کہ وہ
العقود الدریۃ ان المحضر المکتوب فیہ ملکہ تملیکا صحیحا فاسد غیر مقبول لان وجہ التملیك فیہ مجہول ومن قبلہ قبلہ حملالہ علی الھبۃ و الان صار مقبولا لان عقد جدیدمخترع لم یعہد فی شرع و لا عرف ومن ھھنا عرف ان قولہ موت المقر بمنزلۃ التسلیم بالاتفاق خرق الاجماع الناطق بان موت احد المتعاقدین قبل التسلیم مبطل فالحق ان ھذا النقل المجہول غیر المعقول مما لایحل الاعتماد علیہ بل لایسوغ الالتفات الیہ وباﷲ العصمۃ والتوفیق۔ واﷲ تعالی اعلم۔ محضر نامہ جس میں لکھا تھا"اس کا صحیح تملیك کے ساتھ اس کو مالك بنایا"کہ یہ تحریر فاسد ہے اور غیر مقبول ہے کیونکہ اس میں تملیك کی وجہ مجہول ہے اور جس نے اس تحریر کو مقبول مانا تو اس نے اس کو ہبہ پر محمول کرکے مانا ہے اور اب انہوں نے اس کو مقبول مانا تو اس لئے کہ یہ جدید اور من گھڑت عقد ہے جس کا شرع اور عرف میں کوئی ثبوت نہیں ہے اور اس سے واضح ہوگیا کہ طحطاوی کا کہنا کہ مقرکی موت بمنزلہ تسلیم ہے بالاتفاق یہ بالکل اجماع کے منافی بات ہے کیونکہ تسلیم سے قبل بالاجماع فریقین میں سے ایك کی موت ہبہ کو باطل کردیتی ہے تو ثابت ہوا اکہ یہ نقل مجہول غیر معقول ہے جس پر اعتماد جائز نہیںبلکہ یہ التفات کے قابل بھی نہیںتو توفیق اور حفاظت اﷲ تعالی سے ہی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۷۶: از بنارس مسجد چوك کہنہ مرسلہ محمد سلیمان ومحمد صاحبان ۲۰ جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے اس مسئلہ میں کہ خالد کے پانچ پسر اور تین دختر ہیں۔پسروں میں زید سب سے بڑا ہےزید کی نابالغی اور حالت طالب علمی میں جس وقت کہ اس کو کسی قسم کی آمدنی نہ تھیخالد نے اپنے خاص روپے سے ایك زمین پرتی زید کے نام خریدی اوراپنے ہی خاص روپے سے ایك مکان اس زمین پر تعمیر کرایا اور کرایا پر دیاخالد کرایہ خود تحصیل کرتا تھا اور ضرورت کے وقت مکان کی مرمت کرتا تھا۱۴ برس بعد خرید مکان مذکور خالد نے کل جائدا منقولہ وغیر منقولہ اپنی زوجہ ہندہ کے نام ہبہ کردی مگر وہ مکان جوزید کے نام خریدا تھا ہبہ نامہ میں مندرج نہیں کیا ہبہ نامہ سے حفاظت جائداد منظور تھیہبہ نامہ کے لکھنے کے بعد تین برس تك خالد زندہ رہامگر جائداد پر جس کو
مسئلہ ۷۶: از بنارس مسجد چوك کہنہ مرسلہ محمد سلیمان ومحمد صاحبان ۲۰ جمادی الاولی ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے اس مسئلہ میں کہ خالد کے پانچ پسر اور تین دختر ہیں۔پسروں میں زید سب سے بڑا ہےزید کی نابالغی اور حالت طالب علمی میں جس وقت کہ اس کو کسی قسم کی آمدنی نہ تھیخالد نے اپنے خاص روپے سے ایك زمین پرتی زید کے نام خریدی اوراپنے ہی خاص روپے سے ایك مکان اس زمین پر تعمیر کرایا اور کرایا پر دیاخالد کرایہ خود تحصیل کرتا تھا اور ضرورت کے وقت مکان کی مرمت کرتا تھا۱۴ برس بعد خرید مکان مذکور خالد نے کل جائدا منقولہ وغیر منقولہ اپنی زوجہ ہندہ کے نام ہبہ کردی مگر وہ مکان جوزید کے نام خریدا تھا ہبہ نامہ میں مندرج نہیں کیا ہبہ نامہ سے حفاظت جائداد منظور تھیہبہ نامہ کے لکھنے کے بعد تین برس تك خالد زندہ رہامگر جائداد پر جس کو
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الھبۃ فصل فی مسائل متفرقہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۴۰۹€
ہندہ کے نام ہبہ کرچکا تھا خود اس طرح پرقابض رہا جیسا کہ وہ تحریر ہبہ نامہ کے قبل تھاخالد کے انتقال کے بعد سے زید کا قبضہ اس مکان پر جو اس کے نام سے اس کے پدر خالد نے خریدا تھا شروع ہوا خالد کی حیات میں گو زید بالغ تھا نوکر سرکار تھا اور صاحب اولا دتھا مگر اس کا قبضہ اس مکان پر نہ تھا زید جب تك زندہ رہا اس مکان کا کرایہ تحصیل کرتا رہا اس کی مرمت بھی کرتا تھا اور دو بار اس کو رہن بھی رکھا تھا اس کی بیوہ سلیمہ بعد زید کے انتقال کے اسی طور سے جیسا کہ اس کا شوہر تھا برابر اب تك قابض ہےاب وارثان خالد وہندہ میں نزاع درپیش ہے موافق شرع شریف مکان مذکور زید کا ہے یاخالد کاتاایں دم جائداد خالد وہندہ کی تقسیم نہیں ہوئی ہے اور جو صورت زید وسلیمہ کے وقت تھی اس وقت تك قائم ہے کوئی تعمیر جدید نہیں ہوئی اگر مکان مذکور زید کا قرار نہ پایا تو جوآمدنی اس کو اور اس کی بیوی سلیمہ کو اس مکان سے آج تك ہوئی ہے واپس کی جائے گی یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ زمین کہ خالد نے اپنے پسر نابالغ زید کے نام خریدی فورا ملك زید ہوگئیتاحیات خالد اس پر قبضہ زید نہ ہونا کچھ مضر نہیں کہ باپ جو چیز اپنے نابالغ بچہ کو ہبہ کرے اس میں موہوب لہ کو قبضہ دینا شرط نہیں باپ ہی کا قبضہ اس کا قبضہ قرار پاتاہے۔
فی ردالمحتار عن المنح عن الولوالجیۃ ان کان الاب اشتری لہا فی صغرھا وذلك فی صحتہ فلا سبیل للورثۃ علیہ ویکون للبنت خاصۃ ۔ ردالمحتار میں منح سے انہوں نے ولوالجیہ سے نقل فرمایا کہ اگر باپ نے بالغہ بیٹی کے لئے کوئی چیز اپنی صحت میں خریدی تو ورثاء کا اس پر کوئی حق نہیں ہے اور وہ خاص اس بیٹی کی ہوگی(ت)
درمختار میں ہے:
ھبۃ من لہ ولایۃ علی الطفل فی الجملۃ وھو کل من یعولہ فدخل الاخ والعم عند عدم الاب لو فی عیالہم تتم بالعقد لو الموھوب معلوما وکان فی یدہ اوید نابالغ کا ولی وہ ہے جو نابالغ کو اپنے عیال میں داخل کرے خواہ باپ کی عدم موجودگی میں بھائی ہو یا چچا ہوتو اس کا اس نابالغ کو ہبہ عقد سے ہی تام ہوجاتا ہے جب موہوب چیز معلوم اور ولی کے قبضہ میں ہو یا اس نے کسی کے پاس امانت رکھی ہو
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ زمین کہ خالد نے اپنے پسر نابالغ زید کے نام خریدی فورا ملك زید ہوگئیتاحیات خالد اس پر قبضہ زید نہ ہونا کچھ مضر نہیں کہ باپ جو چیز اپنے نابالغ بچہ کو ہبہ کرے اس میں موہوب لہ کو قبضہ دینا شرط نہیں باپ ہی کا قبضہ اس کا قبضہ قرار پاتاہے۔
فی ردالمحتار عن المنح عن الولوالجیۃ ان کان الاب اشتری لہا فی صغرھا وذلك فی صحتہ فلا سبیل للورثۃ علیہ ویکون للبنت خاصۃ ۔ ردالمحتار میں منح سے انہوں نے ولوالجیہ سے نقل فرمایا کہ اگر باپ نے بالغہ بیٹی کے لئے کوئی چیز اپنی صحت میں خریدی تو ورثاء کا اس پر کوئی حق نہیں ہے اور وہ خاص اس بیٹی کی ہوگی(ت)
درمختار میں ہے:
ھبۃ من لہ ولایۃ علی الطفل فی الجملۃ وھو کل من یعولہ فدخل الاخ والعم عند عدم الاب لو فی عیالہم تتم بالعقد لو الموھوب معلوما وکان فی یدہ اوید نابالغ کا ولی وہ ہے جو نابالغ کو اپنے عیال میں داخل کرے خواہ باپ کی عدم موجودگی میں بھائی ہو یا چچا ہوتو اس کا اس نابالغ کو ہبہ عقد سے ہی تام ہوجاتا ہے جب موہوب چیز معلوم اور ولی کے قبضہ میں ہو یا اس نے کسی کے پاس امانت رکھی ہو
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب العاریۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۰۶€
مودعہ لان قبض الولی ینوب عنہ ۔ کیونکہ ولی کا قبضہ نابالغ کے قائم مقام ہے۔(ت)
اسی طرح وہ عمارت کہ اس زمین پر خالد نے اپنے روپے سے بنائی اگر ظاہر کردیا تھا کہ یہ عمارت میں اپنے پسر نابالغ زید کے لئے بناتاہوں یا بننے کے بعد کہہ دیا کہ یہ عمارت میں نے اس کے لئے بنائی یا بنانے کے بعد مکان کا عقد اجارہ زید کی طرف سے کیا کرایہ دار سے کہا میں نے یہ مکان اپنے پسرزید کا تجھے اتنے کرایہ پر دیا یا کرایہ نامہ زید کے نام لکھوا یا کہ یہ بھی عرفا مرتفع تملیك اور قرینہ کافی ہے یا زید سمجھ وال تھا اس نے درخواست کی کہ اس زمین میں میرا مکان بنادو خالد نے قبول کیا اور اس بنا پر بنایا غرض کسی طرح دلیل تملیك ظاہر ہوئی تو وہ عمارت بھی ملك زید ہوگئی اور سارا مکان اسی کا قرار پایا۔
فی ردالمحتار التلفظ بالایجاب والقبول لایشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیك الخ وفی جامع الصغار للاستروشنی المعتبر فی الباب التعارف ۔ ردالمحتار میں ہے کہ ہبہ میں ایجاب وقبول ضروری نہیں بلکہ اس کی تملیك پر دال قرائن ہی کافی ہیں۔الخاور جامع الصغار میں ہے اس باب میں تعارف معتبر ہے۔(ت)
ہاں اگر کوئی دلیل تملیك نہ پائی گئی خالد نے اس کا زید کے لئے ہونا اصلا ظاہر نہ کیا تو نفس عمارت مالك خالد پررہی کہ اپنے بچہ کے لئے ہبہ بھی صرف نیت سے تمام نہیں ہوتا جب تك اسے ظاہر نہ کرےنہ بے اظہار نیت پر علم کا کوئی ذریعہ ہے
فی ردالمحتار تحت قول الدرالمار"تتم بالعقد"ھذا اذا اعلمہ اواشہد علیہ والاشہاد للتحرز عن الجحود بعد موتہ والاعلام لازم لانہ بمنزلۃ القبض بزازیۃ ۔ درمختار کے مذکور قول کے تحت ردالمحتار میں ہے کہ عقد کے ساتھ تام ہوجاتا ہے یہ اس وقت جبکہ ولی اس کوبتادے یا گواہ بنالے اور گواہی اس لئے تاکہ اس کی موت کے بعد انکار نہ ہوسکے اور اطلاع دینا ضروری ہے کیونکہ یہ بمنزلہ قبضہ کے ہے بزازیہ۔(ت)
اسی طرح وہ عمارت کہ اس زمین پر خالد نے اپنے روپے سے بنائی اگر ظاہر کردیا تھا کہ یہ عمارت میں اپنے پسر نابالغ زید کے لئے بناتاہوں یا بننے کے بعد کہہ دیا کہ یہ عمارت میں نے اس کے لئے بنائی یا بنانے کے بعد مکان کا عقد اجارہ زید کی طرف سے کیا کرایہ دار سے کہا میں نے یہ مکان اپنے پسرزید کا تجھے اتنے کرایہ پر دیا یا کرایہ نامہ زید کے نام لکھوا یا کہ یہ بھی عرفا مرتفع تملیك اور قرینہ کافی ہے یا زید سمجھ وال تھا اس نے درخواست کی کہ اس زمین میں میرا مکان بنادو خالد نے قبول کیا اور اس بنا پر بنایا غرض کسی طرح دلیل تملیك ظاہر ہوئی تو وہ عمارت بھی ملك زید ہوگئی اور سارا مکان اسی کا قرار پایا۔
فی ردالمحتار التلفظ بالایجاب والقبول لایشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیك الخ وفی جامع الصغار للاستروشنی المعتبر فی الباب التعارف ۔ ردالمحتار میں ہے کہ ہبہ میں ایجاب وقبول ضروری نہیں بلکہ اس کی تملیك پر دال قرائن ہی کافی ہیں۔الخاور جامع الصغار میں ہے اس باب میں تعارف معتبر ہے۔(ت)
ہاں اگر کوئی دلیل تملیك نہ پائی گئی خالد نے اس کا زید کے لئے ہونا اصلا ظاہر نہ کیا تو نفس عمارت مالك خالد پررہی کہ اپنے بچہ کے لئے ہبہ بھی صرف نیت سے تمام نہیں ہوتا جب تك اسے ظاہر نہ کرےنہ بے اظہار نیت پر علم کا کوئی ذریعہ ہے
فی ردالمحتار تحت قول الدرالمار"تتم بالعقد"ھذا اذا اعلمہ اواشہد علیہ والاشہاد للتحرز عن الجحود بعد موتہ والاعلام لازم لانہ بمنزلۃ القبض بزازیۃ ۔ درمختار کے مذکور قول کے تحت ردالمحتار میں ہے کہ عقد کے ساتھ تام ہوجاتا ہے یہ اس وقت جبکہ ولی اس کوبتادے یا گواہ بنالے اور گواہی اس لئے تاکہ اس کی موت کے بعد انکار نہ ہوسکے اور اطلاع دینا ضروری ہے کیونکہ یہ بمنزلہ قبضہ کے ہے بزازیہ۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/۱۶۰€
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۰۸€
جامع الصغار علی ہامش جامع الفصولین مسائل البیوع ∞اسلامی کتب خانہ بنوری ٹاؤن کراچی ۱/ ۱۷۶€
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۱۲€
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۰۸€
جامع الصغار علی ہامش جامع الفصولین مسائل البیوع ∞اسلامی کتب خانہ بنوری ٹاؤن کراچی ۱/ ۱۷۶€
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۱۲€
صرف اس قدر کہ یہ عمارت زمین مملوکہ زید میں خالد نے بنائی دلیل تملیك ہونے کے لئے کافی نہیں جبکہ تعمیر زید نے خاص اپنے مال سے کی
کما فی ردالمحتار عن جامع الفصولین عن العدۃ(عہ) کل من بنی فی دار غیرہ بامرہ فالبناء لامرہ ولولنفسہ بلاامرہ فہو لہ الخ جیسا کہ ردالمحتار میں جامع الفصولین کے حوالہ سے عدہ سے منقول ہے جوکسی کی زمین میں مالك کے حکم سے عمارت بنائے تو عمارت مالك کی ہوگی اور اگر مالك کی اجازت کے بغیر اپنے لئے بنائی تو بنانے والے کی ہوگی الخ(ت)
اگر واقع یہ صورت ثانیہ ہے تو زمین ملك زید اورعمارت بعد انتقال خالد زید اور دیگر ورثاء میں مشترکہ ٹھہرے گی مگر آمدنی جو زید وسلیمہ نے حاصل کی باقی شرکاء اس کے واپس لینے کا دعوی نہیں کرسکتے کہ عقد اجارہ میں جو شخص کسی شیئ کو کرایہ پر چلاتاہے اجرت کا مالك وہی ہوتا ہے اگرچہ وہ شے ملك غیر ہی ہوہاں اس پر دو باتوں میں سے ایك واجب ہوتی ہے یا تو ملك غیر کی اجرت اس مالك کو واپس دے اور یہی بہتر ہے یا محتاجوں پر تصدق کردے کہ اس کے حق میں وہ ملك خبیث ہے مگر جبکہ شرعا مالك شے مالك اجرت نہیں اور اس اجارہ دینے والے پرخاص مالك ہی کو واپس کرنا واجب نہیں بلکہ تصدق کا بھی اختیار رکھتا ہے تو مالك اس پر واپسی کا دعوی نہیں کرسکتافتاوی خیریہ میں ہے:
سئل فی رجل اجر محدودات مملوکۃ مشترکۃ و تناول اجرتہا مدۃ سنین والان الشرکاء یطالبونہ بحصتہم منہا ھل یحکم القاضی علیہ بھا لھم ام لا حیث لم یکن ذلك بوکالۃ سابقۃ علی ان سے سوال ہوا کہ ایك شخص نے چند محدود اشیاء جو کہ اس کی ملکیت میں دوسروں کی مشترکہ اشیاء تھیں وہ اس نے اجرت پر دے کر کئی سال ان کی اجرت کھاتا رہا اور اب اس کے شرکاء اس سے اپنے حصہ کا مطالبہ کرتے ہیںتو کیا قاضی اس پر شرکاء حصہ کی ادائیگی لازم کرے گا یانہیں جبکہ اس کی یہ
عــــــہ: ھی رمز تصنیف اومصنف ۱۲ عبدالمنان۔
کما فی ردالمحتار عن جامع الفصولین عن العدۃ(عہ) کل من بنی فی دار غیرہ بامرہ فالبناء لامرہ ولولنفسہ بلاامرہ فہو لہ الخ جیسا کہ ردالمحتار میں جامع الفصولین کے حوالہ سے عدہ سے منقول ہے جوکسی کی زمین میں مالك کے حکم سے عمارت بنائے تو عمارت مالك کی ہوگی اور اگر مالك کی اجازت کے بغیر اپنے لئے بنائی تو بنانے والے کی ہوگی الخ(ت)
اگر واقع یہ صورت ثانیہ ہے تو زمین ملك زید اورعمارت بعد انتقال خالد زید اور دیگر ورثاء میں مشترکہ ٹھہرے گی مگر آمدنی جو زید وسلیمہ نے حاصل کی باقی شرکاء اس کے واپس لینے کا دعوی نہیں کرسکتے کہ عقد اجارہ میں جو شخص کسی شیئ کو کرایہ پر چلاتاہے اجرت کا مالك وہی ہوتا ہے اگرچہ وہ شے ملك غیر ہی ہوہاں اس پر دو باتوں میں سے ایك واجب ہوتی ہے یا تو ملك غیر کی اجرت اس مالك کو واپس دے اور یہی بہتر ہے یا محتاجوں پر تصدق کردے کہ اس کے حق میں وہ ملك خبیث ہے مگر جبکہ شرعا مالك شے مالك اجرت نہیں اور اس اجارہ دینے والے پرخاص مالك ہی کو واپس کرنا واجب نہیں بلکہ تصدق کا بھی اختیار رکھتا ہے تو مالك اس پر واپسی کا دعوی نہیں کرسکتافتاوی خیریہ میں ہے:
سئل فی رجل اجر محدودات مملوکۃ مشترکۃ و تناول اجرتہا مدۃ سنین والان الشرکاء یطالبونہ بحصتہم منہا ھل یحکم القاضی علیہ بھا لھم ام لا حیث لم یکن ذلك بوکالۃ سابقۃ علی ان سے سوال ہوا کہ ایك شخص نے چند محدود اشیاء جو کہ اس کی ملکیت میں دوسروں کی مشترکہ اشیاء تھیں وہ اس نے اجرت پر دے کر کئی سال ان کی اجرت کھاتا رہا اور اب اس کے شرکاء اس سے اپنے حصہ کا مطالبہ کرتے ہیںتو کیا قاضی اس پر شرکاء حصہ کی ادائیگی لازم کرے گا یانہیں جبکہ اس کی یہ
عــــــہ: ھی رمز تصنیف اومصنف ۱۲ عبدالمنان۔
حوالہ / References
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۷۶€
العقد ولااجازۃ لاحقۃ بعدہ اجاب لایقضی علیہ لہم بحصتہ منہا لان المنافع لاتتقوم الابالعقد وھو صادر منہ بلا وکالۃ سابقۃ ولا اجازۃ لاحقۃ فملکہا الشریك العاقد لکن ملکہ فی غیر ملکہ ملك خبیث فیجب علیہ التصدق بہ اودفعہ لشرکائہ خروجا من الاثم والثانی افضل لخروجہ من الخلاف ایضا واﷲ تعالی اعلم اھ قلت وھہنا مزلۃ تنبہت علیہا بتوفیق المولی تبارك وتعالی فیما علقت علی العقود الدریۃ من کتاب الشرکۃ و ﷲ الحمد والمنۃ۔ کارروائی نہ وکالت سابقہ سے تھی اور نہ ہی اجازت لاحقہ سے ہوئی انہوں نے جواب دیا کہ قاضی کو یہ اختیار نہیں کیونکہ اجارہ کے منافع صرف عقد کے ذریعہ ہی قیمتی بنتے ہیں جبکہ عقد اس کا ہے اور بغیر وکالت سابقہ اور اجازت لاحقہ کے ہوا ہے تو ان منافع کا مالك صرف عقد کرنے والا ہی بنے گا تاہم یہ اس کی ملك خبیث ہوگی تو اس پر لازم ہے کہ اس اجرت کو صدقہ کرے یا پھر اپنے شرکاء حضرات کو دے دےآخری صورت بہتر ہے تاکہ خلاف سے بھی بچ جائےواﷲ تعالی اعلم۔ میں کہتاہوں یہاں ایك خطاء ہے اس پر میں نے اﷲ تعالی کی توفیق سے عقود الدریہ پر اپنے حاشیہ میں تنبیہ کردی ہے۔(ت)
پھر یہ حکم وجوب بھی سلیمہ زندہ پر اس آمدنی کے باب میں ہے جو اس نے خود حاصل کی اور جس قدر زید حاصل کرگیا اس کے بعد اس کے وارثوں پر نہ دیگر شرکاء کو بقدر حصص واپس دینا لازم رہا نہ تصدق کرنا مگر یہ کہ زید اس کی وصیت کر گیا ہو
فان کل دین علی المیت لامطالب بہ من جہۃ العباد لا یلزم الورثۃ اداؤہ الابالایصاء کما نص علیہ فی الدر المختار وغیرہ من الاسفار ھکذا ینبغی ان یفہم ہذا المقام والحمدﷲ ولی الانعامواﷲ کیونکہ میت کے ذمہ ایسا دین جس کا مطالبہ بندوں کی طرف سے نہ ہو اس کا ورثاء پر اداکرنا میت کی وصیت کے بغیر لازم نہیں ہے جیسا کہ اس پر درمختار وغیرہ میں نص ہےاس مقام کو یوں سمجھنا چاہئےاور سب تعریفیں انعام کے مالك اﷲ تعالی کے لئے ہیںواﷲ
پھر یہ حکم وجوب بھی سلیمہ زندہ پر اس آمدنی کے باب میں ہے جو اس نے خود حاصل کی اور جس قدر زید حاصل کرگیا اس کے بعد اس کے وارثوں پر نہ دیگر شرکاء کو بقدر حصص واپس دینا لازم رہا نہ تصدق کرنا مگر یہ کہ زید اس کی وصیت کر گیا ہو
فان کل دین علی المیت لامطالب بہ من جہۃ العباد لا یلزم الورثۃ اداؤہ الابالایصاء کما نص علیہ فی الدر المختار وغیرہ من الاسفار ھکذا ینبغی ان یفہم ہذا المقام والحمدﷲ ولی الانعامواﷲ کیونکہ میت کے ذمہ ایسا دین جس کا مطالبہ بندوں کی طرف سے نہ ہو اس کا ورثاء پر اداکرنا میت کی وصیت کے بغیر لازم نہیں ہے جیسا کہ اس پر درمختار وغیرہ میں نص ہےاس مقام کو یوں سمجھنا چاہئےاور سب تعریفیں انعام کے مالك اﷲ تعالی کے لئے ہیںواﷲ
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۵€
سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل جدہ اتم واحکم(ت)
مسئلہ ۷۷: از بری پورہ پرگنہ بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ مناخاں ۹ ربیع الاول ۱۳۱۵ھ
علماء دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیںعرصہ پندرہ سال کا ہوا کہ زید نے بکر ایك پسر بالغ کے نام جائداد اپنے روپے سے خرید کر دیبعد خریداری اور جملہ تکمیل داخل خارج وغیرہ کرادینے کے بکر نے دو تین سال بعد اپنی زوجہ کے نام بعوض دین مہر بیع کردیپانچ سال کے بعد زوجہ بکر نے ایك غیر کے ہاتھ بیچ ڈالی پھر اسی زرثمن سے اپنے شوہر بکر کی معرفت کچھ حقیت خریدی یہ سب باتیں زید کی حیات تك رہیں اور ان جملہ انتقالات کے وقت وارثان زید سے کوئی مزاحم نہ ہوا اسی طرح زید نے بکر کو ایك مکان تعمیر کراکر عطا کیا اور قبضہ وغیرہ دے کرعلیحدہ کردیا ورثہ زید آج تك نسبت جائداد ومکان مذکور مزاحم نہ ہوئے انتقال زید کو تین برس گزرے اب ورثائے زید خواستگار ترکہ جائداد و مکان ہیںاس صورت میں یہ دعوی ان کا صحیح ہے یانا مسموع بینوا توجروا
الجواب:
مکان بناکر کسی کو عطا کردینا اور ماں باپ کا کوئی شے اپنے روپے سے اولاد کے نام خرید دینا دونوں ہبہ ہیں اول ظاہر ہے اور ثانی یوں کہ عرفا اس سے تملیك ہی مقصود ہوتی ہے اور تملیك بلاعوض ہبہ ہے ردالمحتارمیں منح الغفار سے ہے:
ان کان الاب اشتری لہا فی صغرھا اوبعد ماکبرت و سلم الیہا وذلك فی صحتہ فلاسبیل للورثۃ علیہ و یکون للبنت خاصۃ ۔ اگر باپ نے نابالغہ کے لئے یا بالغہ کے لئے بشرطیکہ بالغہ کو قبضہ دیا ہو کوئی چیز اپنی صحت میں خریدی تو ورثاء کا اس چیز میں کوئی حق نہیں ہے وہ خاص بیٹی کی ہوگی۔(ت)
عقود الدریہ میں ذخیرہ وتجنیس سے ہے:
امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالہا تکون الضیعۃ للولدلان الام تصیر واھبۃ ۔ اگر ماں نے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے کوئی چیز خریدی تو وہ چیز بیٹے کی ہوگی کیونکہ وہ ماں کی طرف سے اس کو ہبہ ہے۔ (ت)
مسئلہ ۷۷: از بری پورہ پرگنہ بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ مناخاں ۹ ربیع الاول ۱۳۱۵ھ
علماء دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیںعرصہ پندرہ سال کا ہوا کہ زید نے بکر ایك پسر بالغ کے نام جائداد اپنے روپے سے خرید کر دیبعد خریداری اور جملہ تکمیل داخل خارج وغیرہ کرادینے کے بکر نے دو تین سال بعد اپنی زوجہ کے نام بعوض دین مہر بیع کردیپانچ سال کے بعد زوجہ بکر نے ایك غیر کے ہاتھ بیچ ڈالی پھر اسی زرثمن سے اپنے شوہر بکر کی معرفت کچھ حقیت خریدی یہ سب باتیں زید کی حیات تك رہیں اور ان جملہ انتقالات کے وقت وارثان زید سے کوئی مزاحم نہ ہوا اسی طرح زید نے بکر کو ایك مکان تعمیر کراکر عطا کیا اور قبضہ وغیرہ دے کرعلیحدہ کردیا ورثہ زید آج تك نسبت جائداد ومکان مذکور مزاحم نہ ہوئے انتقال زید کو تین برس گزرے اب ورثائے زید خواستگار ترکہ جائداد و مکان ہیںاس صورت میں یہ دعوی ان کا صحیح ہے یانا مسموع بینوا توجروا
الجواب:
مکان بناکر کسی کو عطا کردینا اور ماں باپ کا کوئی شے اپنے روپے سے اولاد کے نام خرید دینا دونوں ہبہ ہیں اول ظاہر ہے اور ثانی یوں کہ عرفا اس سے تملیك ہی مقصود ہوتی ہے اور تملیك بلاعوض ہبہ ہے ردالمحتارمیں منح الغفار سے ہے:
ان کان الاب اشتری لہا فی صغرھا اوبعد ماکبرت و سلم الیہا وذلك فی صحتہ فلاسبیل للورثۃ علیہ و یکون للبنت خاصۃ ۔ اگر باپ نے نابالغہ کے لئے یا بالغہ کے لئے بشرطیکہ بالغہ کو قبضہ دیا ہو کوئی چیز اپنی صحت میں خریدی تو ورثاء کا اس چیز میں کوئی حق نہیں ہے وہ خاص بیٹی کی ہوگی۔(ت)
عقود الدریہ میں ذخیرہ وتجنیس سے ہے:
امرأۃ اشترت ضیعۃ لولدھا الصغیر من مالہا تکون الضیعۃ للولدلان الام تصیر واھبۃ ۔ اگر ماں نے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے کوئی چیز خریدی تو وہ چیز بیٹے کی ہوگی کیونکہ وہ ماں کی طرف سے اس کو ہبہ ہے۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب العاریۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۰۶€
العقود الدریۃکتاب الوصی ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۳۳۷€
العقود الدریۃکتاب الوصی ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۳۳۷€
اور ہبہ بعد قبضہ تمام ہوجاتاہے شے موہوب ملك واہب سے نکل کر ملك موہوب لہ میں داخل ہوجاتی ہے واہب ووارثان واہب کی ملك و وراثت اس میں نہیں رہتی خصوصا جبکہ موہوب لہ واہب کا ذی رحم محرم مثلا بیٹابھائیبھتیجا ہو خصوصا جبکہ شیئ موہوب موہوب لہ نے دوسرے کے نام منتقل کردی خصوصا جبکہ واہب کا انتقال ہوچکا کہ ان میں سے ہر صورت ہبہ کولازم کردیتی ہے جس کے سبب اس میں رجوع کا بھی امکان نہیں رہتا نہ کہ جہاں اتنے وجوہ جمع ہوںدرمختار میں ہے:
یمنع الرجوع فیہا موت احد المتعاقدین بعد التسلیم وخروج الھبۃ من الملك الموھوب لہ و قرابۃ ذی رحم محرم اھ ملتقطا۔ ہبہ میں رجوع سے فریقین میں سے کسی کی موت مانع ہے بشرطیکہ ہبہ پر قبضہ دے دیا ہو اور موہوب لہ کی ملکیت سے موہوب کا خارج ہوجانا اور قرابت ذی رحم محرم بھی رجوع سے مانع ہے اھ ملخصا۔(ت)
پس صورت مسئولہ میں اس مکان وجائداد پر وارثان زید کا دعوی محض باطل وناقابل سماعت ہے خصوصا بعد اس کے کہ سالہا سال تصرفات انتقال دیکھتے اور سکوت کرتے رہے کما نصوا علیہ وبیناہ فی فتاونا(جیساکہ اس پر نص کی گئی ہے اور اسے ہم نے اپنے فتوی میں بیان کیا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۸: ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے دو بیٹے ایك زید سے علیحدہ کاروبار کرتا تھا اور ایك زید کے ساتھ بشرکت جب زید ضعیف ہوا کل کام اور اسباب تجارت اس شریك بیٹے کو حوالہ کیا اور کل اختیارات نیك وبد دے کر مالك کردیا اور تاحیات زید اس کا خورد ونوش اسی بیٹے کے متعلق رہا اور اس نے تجہیز وتکفین کی اس صورت میں بیٹے کا اس مال میں حق ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
سائل خود مظہر کہ اس بیٹے کی شرکت ایسی نہ تھی کہ کچھ مال یا روپیہ اس کا ہو مال سب
یمنع الرجوع فیہا موت احد المتعاقدین بعد التسلیم وخروج الھبۃ من الملك الموھوب لہ و قرابۃ ذی رحم محرم اھ ملتقطا۔ ہبہ میں رجوع سے فریقین میں سے کسی کی موت مانع ہے بشرطیکہ ہبہ پر قبضہ دے دیا ہو اور موہوب لہ کی ملکیت سے موہوب کا خارج ہوجانا اور قرابت ذی رحم محرم بھی رجوع سے مانع ہے اھ ملخصا۔(ت)
پس صورت مسئولہ میں اس مکان وجائداد پر وارثان زید کا دعوی محض باطل وناقابل سماعت ہے خصوصا بعد اس کے کہ سالہا سال تصرفات انتقال دیکھتے اور سکوت کرتے رہے کما نصوا علیہ وبیناہ فی فتاونا(جیساکہ اس پر نص کی گئی ہے اور اسے ہم نے اپنے فتوی میں بیان کیا ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۷۸: ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے دو بیٹے ایك زید سے علیحدہ کاروبار کرتا تھا اور ایك زید کے ساتھ بشرکت جب زید ضعیف ہوا کل کام اور اسباب تجارت اس شریك بیٹے کو حوالہ کیا اور کل اختیارات نیك وبد دے کر مالك کردیا اور تاحیات زید اس کا خورد ونوش اسی بیٹے کے متعلق رہا اور اس نے تجہیز وتکفین کی اس صورت میں بیٹے کا اس مال میں حق ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
سائل خود مظہر کہ اس بیٹے کی شرکت ایسی نہ تھی کہ کچھ مال یا روپیہ اس کا ہو مال سب
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۳۔۱۶۱€
باپ کا تھا یہ اس کاکام کرتا اور اس کے ساتھ رہتا تھااب زید کے وہ الفاظ قابل لحاظ ہیں جن سے اس نے اس پسر کو کل اختیارات دے کر مالك کردیا اگر خود ان الفاظ یادیگر قرائن واضحہ سے تملیك کل مال واسباب تجارت مفہوم تھی تو ضرور یہی بیٹا اس تمام مال کا مالك ہوگیا کہ ہبہ پایا گیا اور قبضہ خود ظاہراور اگر تصرفات تاجرانہ کامالك کر دینا تھا کہ سب سیاہ وسپید تیرے اختیار ہے خرید وفروخت لین دین کا تو مالك ہے اس سے زیادہ اصل مالك کی تملیك پر کوئی دلیل نہ تھی تو اس قدر سے صرف وکالت حاصل ہوگی مال کی ملك نہ ہوگی۔
فی ردالمحتار عن حاشیۃ الاشباہ للعلامۃ بیری زادہ عن خزانۃ الفتاوی اذا دفع لابنہ مالافتصرف فیہ الا بن یکون للاب الااذا دلت دلالۃ التملیك اھ(قال الشامی)قلت فقد افادان التلفظ بالایجاب والقبول لایشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیك کمن دفع لفقیر شیئا وقبضہ ولم یتلفظ واحد منہما بشیئ وکذا یقع فی الہدیۃ ونحوہا فاحفظہ ومثلہ ما یدفعہ لزوجتہ اوغیرہا . اھ ردالمحتار میں الاشباہ کے حاشیہ علامہ بیری زادہ سے بحوالہ خزانۃ الفتاوی منقول ہے جب بیٹے کو مال دیا تو بیٹے نے اس میں تصرف کرلیا تومال باپ کا ہوگاہاں اگر وہاں بیٹے کے لئے تملیك پر کوئی قرینہ ہو تو بیٹے کا ہوگا اھ علامہ شامی نے فرمایا میں کہتاہوں کہ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ ہبہ میں ایجاب قبول شرط نہیں بلکہ تملیك پر دال قرائن کافی ہیںجیسے کہ کوئی شخص فقیر کو کوئی چیز دے اور فقیر قبضہ کرلےاور دونوں میں سے کوئی بھی کوئی بات نہ کرے ہدیہ وغیرہ میں بھی یہی حکم ہےاس کو محفوظ کرلواور اسی کی مثل ہے جب اپنی بیوی وغیرہ کو کچھ دے دے اھ(ت)
اس تقدیر پر دوسرا بیٹا بھی اس مال میں برابر کا حقدار ہے اس پسر نے جو کچھ تجہیز وتکفین بقدر مسنون میں صرف کیا اتنا ترکہ سے لے سکتاہے
لکونہ وارثا والوارث لایجعل متبرعا فیہ کما فی الدر المختار وغیرہ من الاسفارواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ اس کے وارث ہونے کی بناء پر کیونکہ اس میں وارث کے لئے تبرع نہیں شمار ہوتاجیسا کہ درمختاروغیرہ کتب میں ہےواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
فی ردالمحتار عن حاشیۃ الاشباہ للعلامۃ بیری زادہ عن خزانۃ الفتاوی اذا دفع لابنہ مالافتصرف فیہ الا بن یکون للاب الااذا دلت دلالۃ التملیك اھ(قال الشامی)قلت فقد افادان التلفظ بالایجاب والقبول لایشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیك کمن دفع لفقیر شیئا وقبضہ ولم یتلفظ واحد منہما بشیئ وکذا یقع فی الہدیۃ ونحوہا فاحفظہ ومثلہ ما یدفعہ لزوجتہ اوغیرہا . اھ ردالمحتار میں الاشباہ کے حاشیہ علامہ بیری زادہ سے بحوالہ خزانۃ الفتاوی منقول ہے جب بیٹے کو مال دیا تو بیٹے نے اس میں تصرف کرلیا تومال باپ کا ہوگاہاں اگر وہاں بیٹے کے لئے تملیك پر کوئی قرینہ ہو تو بیٹے کا ہوگا اھ علامہ شامی نے فرمایا میں کہتاہوں کہ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ ہبہ میں ایجاب قبول شرط نہیں بلکہ تملیك پر دال قرائن کافی ہیںجیسے کہ کوئی شخص فقیر کو کوئی چیز دے اور فقیر قبضہ کرلےاور دونوں میں سے کوئی بھی کوئی بات نہ کرے ہدیہ وغیرہ میں بھی یہی حکم ہےاس کو محفوظ کرلواور اسی کی مثل ہے جب اپنی بیوی وغیرہ کو کچھ دے دے اھ(ت)
اس تقدیر پر دوسرا بیٹا بھی اس مال میں برابر کا حقدار ہے اس پسر نے جو کچھ تجہیز وتکفین بقدر مسنون میں صرف کیا اتنا ترکہ سے لے سکتاہے
لکونہ وارثا والوارث لایجعل متبرعا فیہ کما فی الدر المختار وغیرہ من الاسفارواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ اس کے وارث ہونے کی بناء پر کیونکہ اس میں وارث کے لئے تبرع نہیں شمار ہوتاجیسا کہ درمختاروغیرہ کتب میں ہےواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۰۸€
مسئلہ ۷۹: از جالندھرمحلہ راستہ مرسلہ منشی محمد احمد صاحب ۲۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ایك شخص ملازم جب عرصہ سہ سال میں مرشد سے سلوك باطنی نقشبندیہ مجددیہ طے کرچکا تو ایك روز مرشد نے اس سے کہا کہ جناب رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے حکم ہوا کہ اس سے کوئی ایسی چیز اﷲ واسطے خرچ کرائی جائے کہ جو اس کے دل کو چبھےصبح کو مرشد نے اس ارشاد عالی کے بموجب اس سے کہا کہ تو ایك تنخواہ وغیرہ اﷲ واسطے خرچ کروہ مرید گھر میں جاکر ایك زیور طلائی لے آیا جس کی قیمت مبلغ(معہ ۸/)تھی اور اس کی تنخواہ مبلغ(صہ سہ)روپیہ تھی اس نے مرشد سے کہا میں آپ کو یہ زیور اﷲ واسطے دیتاہوں آپ منظور فرمالیںتو مرشد نے کہا ایك تنخواہ کاحکم ہوا ہے زیو ر کا نہیںاس نے کہا اگر میں اس کو بازار میں فروخت کروں تو مجھ کو شرم آتی ہے اب میں لاچکا ہوں آپ اﷲ واسطے یہی قبول فرمالیںمرشد نے وہ زیور بدیں اصرار منظور کرلیا اور وہ زیور مرشد نے اپنے گھر کے خرچ میں صرف کرلیا اور اس میں سے کچھ اﷲ واسطے خرچ نہ کیاکچھ عرصہ کے بعد اس کو دستار خلافت بھی دے دی گئیتھوڑی مدت کے بعد اس نے مرشد سے کہا کہ مجھ کو یقین نہیں ہے کہ جناب رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہو اور نیز آپ نے اس میں سے کچھ اﷲ واسطے خیرات نہیں کی اس واسطے میرا اعتقاد آپ سے فسخ ہوگیا ہے میرا زیور وہ آپ واپس کردواس پر مرشد نے اس کے بدلے زیور دوسرا سیم و طلائی گھر سے اس کو دے دیا اور مرید نے یہ عبارت ایك پرچہ کاغذ پر اپنے قلم سے لکھ دی جو کہ میں نے پیر کو یہ زیور اﷲ واسطے دیا تھا مجھ کو اس کے دینے کی برداشت نہیں ہوئی اب میں نے ان سے واپس لے لیا اور اس بزرگ نے اس کو عاق بھی کردیا ہے۔
(۱)آیا اب یہ مرید عاق ہوا بھی یا نہیںاور بصورت عقوق اس پر کوئی تنبیہ شرعی وارد ہوتی ہے یانہیں
(۲)اﷲ واسطے وہ زیور دے کر واپس لینا درست ہے یانہیں
(۳)اگر وہ زیور ایك جگہ اﷲ واسطے دے کر پھر وہاں سے واپس لے کر دوسری جگہ اﷲ واسطے یا اپنے گھر میں صرف کرسکتاہے یانہیںاگر کرسکتاہے تو پہلے سے واپس کرنے کے گناہ سے بری ہوسکتاہے یانہیں
(۴)مرشد نے اس مال سے کچھ اﷲ واسطے نہیں دیا آیا مرشد اس میں خطا وار ہے یانہیں
(۵)اگر مرشد کی اس میں خطا ہے تو مرید اس مال کے واپس کرنے کا حقدار ہے یانہیں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ ایك شخص ملازم جب عرصہ سہ سال میں مرشد سے سلوك باطنی نقشبندیہ مجددیہ طے کرچکا تو ایك روز مرشد نے اس سے کہا کہ جناب رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے حکم ہوا کہ اس سے کوئی ایسی چیز اﷲ واسطے خرچ کرائی جائے کہ جو اس کے دل کو چبھےصبح کو مرشد نے اس ارشاد عالی کے بموجب اس سے کہا کہ تو ایك تنخواہ وغیرہ اﷲ واسطے خرچ کروہ مرید گھر میں جاکر ایك زیور طلائی لے آیا جس کی قیمت مبلغ(معہ ۸/)تھی اور اس کی تنخواہ مبلغ(صہ سہ)روپیہ تھی اس نے مرشد سے کہا میں آپ کو یہ زیور اﷲ واسطے دیتاہوں آپ منظور فرمالیںتو مرشد نے کہا ایك تنخواہ کاحکم ہوا ہے زیو ر کا نہیںاس نے کہا اگر میں اس کو بازار میں فروخت کروں تو مجھ کو شرم آتی ہے اب میں لاچکا ہوں آپ اﷲ واسطے یہی قبول فرمالیںمرشد نے وہ زیور بدیں اصرار منظور کرلیا اور وہ زیور مرشد نے اپنے گھر کے خرچ میں صرف کرلیا اور اس میں سے کچھ اﷲ واسطے خرچ نہ کیاکچھ عرصہ کے بعد اس کو دستار خلافت بھی دے دی گئیتھوڑی مدت کے بعد اس نے مرشد سے کہا کہ مجھ کو یقین نہیں ہے کہ جناب رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہو اور نیز آپ نے اس میں سے کچھ اﷲ واسطے خیرات نہیں کی اس واسطے میرا اعتقاد آپ سے فسخ ہوگیا ہے میرا زیور وہ آپ واپس کردواس پر مرشد نے اس کے بدلے زیور دوسرا سیم و طلائی گھر سے اس کو دے دیا اور مرید نے یہ عبارت ایك پرچہ کاغذ پر اپنے قلم سے لکھ دی جو کہ میں نے پیر کو یہ زیور اﷲ واسطے دیا تھا مجھ کو اس کے دینے کی برداشت نہیں ہوئی اب میں نے ان سے واپس لے لیا اور اس بزرگ نے اس کو عاق بھی کردیا ہے۔
(۱)آیا اب یہ مرید عاق ہوا بھی یا نہیںاور بصورت عقوق اس پر کوئی تنبیہ شرعی وارد ہوتی ہے یانہیں
(۲)اﷲ واسطے وہ زیور دے کر واپس لینا درست ہے یانہیں
(۳)اگر وہ زیور ایك جگہ اﷲ واسطے دے کر پھر وہاں سے واپس لے کر دوسری جگہ اﷲ واسطے یا اپنے گھر میں صرف کرسکتاہے یانہیںاگر کرسکتاہے تو پہلے سے واپس کرنے کے گناہ سے بری ہوسکتاہے یانہیں
(۴)مرشد نے اس مال سے کچھ اﷲ واسطے نہیں دیا آیا مرشد اس میں خطا وار ہے یانہیں
(۵)اگر مرشد کی اس میں خطا ہے تو مرید اس مال کے واپس کرنے کا حقدار ہے یانہیں
(۶)اگر بالفرض مرشد کو جناب رسول مقبول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے نہیں فرمایا اپنے طمع نفسانی کے واسطے جھوٹ کہہ دیا اور مرید وہ زیور اﷲ واسطے دے چکا آیا اس صورت میں وہ مرید اگر زیور واپس لے تو درست ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
پیرو مرید کے جو کمالات سوال میں مذکور ان میں کہیں نہیں کہ پیرنے اس سے کہا ہو کہ وہ چیز میں تجھ سے اجنبی مساکین پر تقسیم کرنے کو لیتاہوں یا اجانب پر تقسیم کا مجھے حکم ہوا ہے نہ مرید کے کلام میں کہیں اس کی تصریح پیر نے اتنا کہا کہ اﷲ کے واسطے خرچ کرائی جائےیہ پیرو متعلقین پیرواجانب سب کو شامل ہےپیر کی خدمت جو کچھ پیر ہونے کے سبب کی جائے وہ بھی اﷲ ہی کے لئے خرچ ہےصحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم جو چیزیں بارگاہ عرش جاہ حضور پرنور سلطان دوعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں نذر حاضر لاتے کیا اس سے بہتر کوئی خرچ اﷲ عزوجل کے لئے متصور ہے حالانکہ حضور غنی مغنی اغنی العلمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے غلامان آزاد شدہ تك اصلا محل صدقہ نہیں بخلاف اغنیائے دنیا کہ من وجہ محل صدقہ ہیں۔صحیحین کی حدیث تصدق اللیلۃ علی غنی (رات کے وقت غنی پر صدقہ کیا گیا۔ت)مشہور ومعروف ہےردالمحتار میں بحرالرائق سے ہے:
الصدقۃ تکون علی الاغنیاء ایضا وان کانت مجاز اعن الھبۃ عند بعضہم ۔ صدقہ کبھی غنی کے لئے بھی ہوتا اگرچہ بعض کے نزدیك وہ ہبہ سے مجاز ہوتا۔(ت)
بحرالرائق میں ذخیرہ سے ہے:
فی التصدق علی الغنی نوع قربۃ دون قربۃ الفقیر ۔ غنی پر صدقہ قربت ہے جو کہ فقیر پر صدقہ سے قربت میں کم ہے۔(ت)
یہاں تك تو لفظ عام تھے آگے چیز دیتے وقت جو ایجاب وقبول پیرو ومرید میں واقع ہوئے
الجواب:
پیرو مرید کے جو کمالات سوال میں مذکور ان میں کہیں نہیں کہ پیرنے اس سے کہا ہو کہ وہ چیز میں تجھ سے اجنبی مساکین پر تقسیم کرنے کو لیتاہوں یا اجانب پر تقسیم کا مجھے حکم ہوا ہے نہ مرید کے کلام میں کہیں اس کی تصریح پیر نے اتنا کہا کہ اﷲ کے واسطے خرچ کرائی جائےیہ پیرو متعلقین پیرواجانب سب کو شامل ہےپیر کی خدمت جو کچھ پیر ہونے کے سبب کی جائے وہ بھی اﷲ ہی کے لئے خرچ ہےصحابہ کرام رضوان اﷲ تعالی علیہم جو چیزیں بارگاہ عرش جاہ حضور پرنور سلطان دوعالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم میں نذر حاضر لاتے کیا اس سے بہتر کوئی خرچ اﷲ عزوجل کے لئے متصور ہے حالانکہ حضور غنی مغنی اغنی العلمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے غلامان آزاد شدہ تك اصلا محل صدقہ نہیں بخلاف اغنیائے دنیا کہ من وجہ محل صدقہ ہیں۔صحیحین کی حدیث تصدق اللیلۃ علی غنی (رات کے وقت غنی پر صدقہ کیا گیا۔ت)مشہور ومعروف ہےردالمحتار میں بحرالرائق سے ہے:
الصدقۃ تکون علی الاغنیاء ایضا وان کانت مجاز اعن الھبۃ عند بعضہم ۔ صدقہ کبھی غنی کے لئے بھی ہوتا اگرچہ بعض کے نزدیك وہ ہبہ سے مجاز ہوتا۔(ت)
بحرالرائق میں ذخیرہ سے ہے:
فی التصدق علی الغنی نوع قربۃ دون قربۃ الفقیر ۔ غنی پر صدقہ قربت ہے جو کہ فقیر پر صدقہ سے قربت میں کم ہے۔(ت)
یہاں تك تو لفظ عام تھے آگے چیز دیتے وقت جو ایجاب وقبول پیرو ومرید میں واقع ہوئے
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الزکوٰۃ باب اذتصدق علی غنی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۹۱،€صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب ثبوت اجر المتصدق ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۲۹€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۵۷€
بحرالرائق کتاب الوقف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۸۷ و ۱۸۸€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۵۷€
بحرالرائق کتاب الوقف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۱۸۷ و ۱۸۸€
ان کے صاف لفظ یہ ہیں کہ مرید نے پیر سے کہا میں آپ کو یہ زیور اﷲ واسطے دیتاہوں آپ منظور فرمالیں آپ اﷲ واسطے یہی قبول فرمالیںپیر نے باصرار منظور کرلیایہ صراحۃ پیر کو دیناہوا اور پیرہی اس کا مالك ہوگیا اور اس کا اپنے گھرمیں خرچ کردینا جائز ہوا اگرچہ وہ اور اس کے اہل اغنیاء ہی ہوں وہ اس میں کسی طرح خطاوار نہیں ٹھہر سکتابالفرض اگر اس وقت مرید کے دل میں یہی تھا کہ میں اجانب کے بانٹنے کو دیتاہوں اور پیر کو وکیل تقسیم کرتاہوں تاہم جبکہ اس نے صریح الفاظ ہبہ ایجاب کیا پیر سے اسی کی منظوری پر مصرہوا اس نے منظور کرلیا تو انعقاد ہبہ میں کوئی شك نہیں ہوسکتا عقود میں نظر معانی مدلولہ پر ہے نہ کہ مجرد خیالات باطنیہ پروجیز امام کردری کتاب الاجارہ فصل ثانی میں ہے:
اراداستیجار کرم اودار فدفع الذھب الی المالك ثم قال لہ گرو کردی ملکت ذا بکذا فقال کردم فہذا رہن لا اجارۃ لان المتعبر اللفظ لاالعزم ۔ ایك شخص انگور کے درخت یا مکان کرایہ پر حاصل کرنا چاہتاہے تو اس نے مالك کو دینار دے کر کہاتویہ گروی کردیا اس رقم کے عوضتو مالك نے کہا میں نے گروی کردیا تو یہ رہن ہوگا اجارہ نہ ہوگا کیونکہ عقد میں الفاظ کا اعتبار ہے عزم کا اعتبار نہیں۔(ت)
یہاں تك کہ اگر زید بیٹے کے لئے عمرو کی بیٹی مانگنے آیا عمرو نے کہا میں نے اپنی دختر نکاح میں دیزید نے کہا میں نے قبول کی زید سے نکاح ہوگیاجبکہ اس سے نکاح ہوسکتا ہو کہ ایجاب وقبول میں پسر زید کا کوئی ذکر نہ آیا اگرچہ خیال یہی تھا کہ بیٹے کے لئے قبول کروں۔فتاوی ظہیریہ پھر ردالمحتار میں ہے:
لو قال ابوالصغیر لابی الصغیر زوجت ابنتی ولم یزد علیہ شیئا فقال ابوالصغیر قبلت یقع النکاح للاب ھوا لصحیح و یجب ان یحتاط فیہ فیقول قبلت نابالغہ کے باپ نے نابالغ کے والد کو کہا میں نے اپنی بیٹی نکاح کرکے دے دیاس سے زائد کچھ نہ کہااس نے جواب میں نابالغ لڑکے کے والد نے کہا میں نے قبول کیاتو یہ نکاح نابالغ کے والد سے ہوگایہی صحیح ہےلہذا اس معاملہ میں احتیاط ضروری ہے اسے کہنا چاہئے تھا
اراداستیجار کرم اودار فدفع الذھب الی المالك ثم قال لہ گرو کردی ملکت ذا بکذا فقال کردم فہذا رہن لا اجارۃ لان المتعبر اللفظ لاالعزم ۔ ایك شخص انگور کے درخت یا مکان کرایہ پر حاصل کرنا چاہتاہے تو اس نے مالك کو دینار دے کر کہاتویہ گروی کردیا اس رقم کے عوضتو مالك نے کہا میں نے گروی کردیا تو یہ رہن ہوگا اجارہ نہ ہوگا کیونکہ عقد میں الفاظ کا اعتبار ہے عزم کا اعتبار نہیں۔(ت)
یہاں تك کہ اگر زید بیٹے کے لئے عمرو کی بیٹی مانگنے آیا عمرو نے کہا میں نے اپنی دختر نکاح میں دیزید نے کہا میں نے قبول کی زید سے نکاح ہوگیاجبکہ اس سے نکاح ہوسکتا ہو کہ ایجاب وقبول میں پسر زید کا کوئی ذکر نہ آیا اگرچہ خیال یہی تھا کہ بیٹے کے لئے قبول کروں۔فتاوی ظہیریہ پھر ردالمحتار میں ہے:
لو قال ابوالصغیر لابی الصغیر زوجت ابنتی ولم یزد علیہ شیئا فقال ابوالصغیر قبلت یقع النکاح للاب ھوا لصحیح و یجب ان یحتاط فیہ فیقول قبلت نابالغہ کے باپ نے نابالغ کے والد کو کہا میں نے اپنی بیٹی نکاح کرکے دے دیاس سے زائد کچھ نہ کہااس نے جواب میں نابالغ لڑکے کے والد نے کہا میں نے قبول کیاتو یہ نکاح نابالغ کے والد سے ہوگایہی صحیح ہےلہذا اس معاملہ میں احتیاط ضروری ہے اسے کہنا چاہئے تھا
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۲€
لابنی ۔ میں نے اپنے بیٹے کے لئے قبول کی۔(ت)
التجنیس والمزید پھر فتح القدیر پھر شامیہ میں ہے:
رجل خطب لابنہ الصغیر امرأۃ فلما اجتمعا للعقد قال اب المرأۃ لاب الزوج دادم بزنی ایں دختر رابہزار درم فقال اب الزوج پذیر فتم یجوز النکاح علی الاب و ان جری بینہما مقدمات النکاح للابن ھوالمختار لان الاب اضافہ الی نفسہ وھذا امر یجب ان یحتاط فیہ ۔ ایك شخص نے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے ایك عورت سے منگنی کیجب نکاح کی مجلس ہوئی تو عورت کے باپ نے لڑکے کے باپ کو کہا میں نے بیوی بناکر یہ لڑکی ہزار درہم کے بدلے میں دیجواب میں لڑکے کے باپ نے کہا میں نے قبول کی تویہ نکاح باپ سے ہوگا اگرچہ پہلے تمام مقدمات بیٹے کے نکاح کے لئے تھےیہی مختار ہے کیونکہ لڑکے کے باپ نے قبولیت اپنی طرف منسوب کیاورایسا معاملہ ہے جس میں احتیاط ضروری ہے۔(ت)
یوہیں اگر دوسرے کے لئے کوئی چیز خریدی مگر ایجاب وقبول میں اس کی طرف اضافت نہ ہوئی شراء اسی عاقد پر نافذ ہوجائے گا اور یہی مالك مبیع قرار پائے گا جبکہ اس پر نفاذ کی گنجائش ہودرمختارمیں ہے:
لواشتری لغیرہ نفذ علیہ الا اذا کان المشتری صبیا او محجورا علیہ ہذا اذا لم یضفہ الفضولی الی غیرہ فلو اضافہ بان قال بع ہذا العمل لفلان فقال البائع بعتہ لفلان توقف بزازیۃ وغیرھا فضولی شخص نے کسی کے لئے کوئی چیز خریدی تو اگر یہ فضولی نابالغ یامحجور علیہ یعنی خود خریدوفروخت سے ممنوع نہ ہو تو یہ عقد خریداری اس کی اپنے لیے ہوگی بشرطیکہ اس نے خریداری غیر کی طرف منسوب نہ کی ہو اور اگر خریداری کو غیر کی طرف منسوب کیا مثلا یوں کہا کہ یہ چیز فلاں کے لئے فروخت کر تو بائع نے کہا میں نے یہ چیز فلاں کے لئے فروخت کی تو پھر یہ فلاں کی اجازت پر موقوف ہوگیبزازیہ وغیرہ(ت)
التجنیس والمزید پھر فتح القدیر پھر شامیہ میں ہے:
رجل خطب لابنہ الصغیر امرأۃ فلما اجتمعا للعقد قال اب المرأۃ لاب الزوج دادم بزنی ایں دختر رابہزار درم فقال اب الزوج پذیر فتم یجوز النکاح علی الاب و ان جری بینہما مقدمات النکاح للابن ھوالمختار لان الاب اضافہ الی نفسہ وھذا امر یجب ان یحتاط فیہ ۔ ایك شخص نے اپنے نابالغ بیٹے کے لئے ایك عورت سے منگنی کیجب نکاح کی مجلس ہوئی تو عورت کے باپ نے لڑکے کے باپ کو کہا میں نے بیوی بناکر یہ لڑکی ہزار درہم کے بدلے میں دیجواب میں لڑکے کے باپ نے کہا میں نے قبول کی تویہ نکاح باپ سے ہوگا اگرچہ پہلے تمام مقدمات بیٹے کے نکاح کے لئے تھےیہی مختار ہے کیونکہ لڑکے کے باپ نے قبولیت اپنی طرف منسوب کیاورایسا معاملہ ہے جس میں احتیاط ضروری ہے۔(ت)
یوہیں اگر دوسرے کے لئے کوئی چیز خریدی مگر ایجاب وقبول میں اس کی طرف اضافت نہ ہوئی شراء اسی عاقد پر نافذ ہوجائے گا اور یہی مالك مبیع قرار پائے گا جبکہ اس پر نفاذ کی گنجائش ہودرمختارمیں ہے:
لواشتری لغیرہ نفذ علیہ الا اذا کان المشتری صبیا او محجورا علیہ ہذا اذا لم یضفہ الفضولی الی غیرہ فلو اضافہ بان قال بع ہذا العمل لفلان فقال البائع بعتہ لفلان توقف بزازیۃ وغیرھا فضولی شخص نے کسی کے لئے کوئی چیز خریدی تو اگر یہ فضولی نابالغ یامحجور علیہ یعنی خود خریدوفروخت سے ممنوع نہ ہو تو یہ عقد خریداری اس کی اپنے لیے ہوگی بشرطیکہ اس نے خریداری غیر کی طرف منسوب نہ کی ہو اور اگر خریداری کو غیر کی طرف منسوب کیا مثلا یوں کہا کہ یہ چیز فلاں کے لئے فروخت کر تو بائع نے کہا میں نے یہ چیز فلاں کے لئے فروخت کی تو پھر یہ فلاں کی اجازت پر موقوف ہوگیبزازیہ وغیرہ(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۲۷۵€
فتح القدیر کتاب النکاح ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۱۰۳،€ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۲۷۵€
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱€
فتح القدیر کتاب النکاح ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۱۰۳،€ردالمحتار کتاب النکاح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۲۷۵€
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱€
اور جب پیر اس زیو ر کامالك ہوگیا اور صرف کرلیا تو اب اس سے رجوع وواپسی کا اصلا کوئی اختیار اس دینے والے کو نہ رہا
فان ہلاك الموھوب من موانع الرجوع کمانصوا علیہ فی جمیع الکتب۔ کیونکہ موہوب چیز کی ہلاکت رجوع کے موانع میں سے ہے جیسا کہ اس پر تمام کتب میں فقہاء نے نص فرمائی ہے۔(ت)
پیر کا اس کے مانگنے پر اس کے معاوضہ میں اور زیور اپنے پاس سے دے دیتا اگر اس بنا پر ہو کہ اس نے سمجھا کہ جب دینے والا مجھ سے واپس مانگتا ہے تو شرعا اس کا عوض دینا مجھ پر لازم جب تو یہ دینا محض باطل ہوا مرید کو اس زیور کا لینا حرام ہے نہ اسے خیرات کرسکتاہے نہ اپنے صرف میں لاسکتاہے بلکہ اس پر لازم کہ وہ زیور پیر کو واپس دے اور اگر خرچ کرلیا تو اس کا تاوان دے کر اس تقدیر پر پیر کا یہ زیور دینا ایك غلط فہمی پر مبنی تھا کہ یہاں عوض دینا مجھ پر شرعا لازم ہے حالانکہ شرعا ہر گز لزوم نہ تھا تو یہ زیور کسی عقد شرعی کے ذریعہ سے ملك مرید نہ ہوا اور بدستور ملك پیر پر باقی رہا اس کا ایسا فہم معتبر نہیں۔ عقود الدریہ کتاب الشرکۃ میں ہے:
تبین ان مادفعہ من ذلك بناء علی ظن انہ واجب علیہ ومن دفع شیئا لیس بواجب علیہ فلہ استردادہ الا اذا دفعہ علی وجہ الھبۃ واستہبلکہ القابض کما فی شرح النظم الوہبانی وغیرہ من المعتبرات ۔ تو واضح ہوا کہ اس نے جو دیا تو اس بنا پر دیا کہ یہ اس پرواجب تھااور اگر کوئی شخص ایسی چیز دے جس کا دینا اس پر واجب نہ تھا تو اس کو واپس لینے کا حق ہے الایہ کہ اس نے بطور ہبہ دی ہو اور قابض سے ہلاك ہوچکی ہو جیسا کہ نظم وھبانی کی شرح وغیرہ معتبر کتب میں ہے۔(ت)
خیریہ کتاب الوقف میں ہے:
یرجع بہ قائما ویضمن بدلہ مستہلکا لانہ مادفعہ علی وجہ الھبۃ وانما دفعہ علی انہ حق موجود ہو تو رجوع کرے اگر اس نے ہلاك کردی ہو تو ضمان لےکیونکہ اس نے ہبہ کے طور پر نہیں دی بلکہ اس لئے دی کہ جس کو دی گئی ہے اس کا
فان ہلاك الموھوب من موانع الرجوع کمانصوا علیہ فی جمیع الکتب۔ کیونکہ موہوب چیز کی ہلاکت رجوع کے موانع میں سے ہے جیسا کہ اس پر تمام کتب میں فقہاء نے نص فرمائی ہے۔(ت)
پیر کا اس کے مانگنے پر اس کے معاوضہ میں اور زیور اپنے پاس سے دے دیتا اگر اس بنا پر ہو کہ اس نے سمجھا کہ جب دینے والا مجھ سے واپس مانگتا ہے تو شرعا اس کا عوض دینا مجھ پر لازم جب تو یہ دینا محض باطل ہوا مرید کو اس زیور کا لینا حرام ہے نہ اسے خیرات کرسکتاہے نہ اپنے صرف میں لاسکتاہے بلکہ اس پر لازم کہ وہ زیور پیر کو واپس دے اور اگر خرچ کرلیا تو اس کا تاوان دے کر اس تقدیر پر پیر کا یہ زیور دینا ایك غلط فہمی پر مبنی تھا کہ یہاں عوض دینا مجھ پر شرعا لازم ہے حالانکہ شرعا ہر گز لزوم نہ تھا تو یہ زیور کسی عقد شرعی کے ذریعہ سے ملك مرید نہ ہوا اور بدستور ملك پیر پر باقی رہا اس کا ایسا فہم معتبر نہیں۔ عقود الدریہ کتاب الشرکۃ میں ہے:
تبین ان مادفعہ من ذلك بناء علی ظن انہ واجب علیہ ومن دفع شیئا لیس بواجب علیہ فلہ استردادہ الا اذا دفعہ علی وجہ الھبۃ واستہبلکہ القابض کما فی شرح النظم الوہبانی وغیرہ من المعتبرات ۔ تو واضح ہوا کہ اس نے جو دیا تو اس بنا پر دیا کہ یہ اس پرواجب تھااور اگر کوئی شخص ایسی چیز دے جس کا دینا اس پر واجب نہ تھا تو اس کو واپس لینے کا حق ہے الایہ کہ اس نے بطور ہبہ دی ہو اور قابض سے ہلاك ہوچکی ہو جیسا کہ نظم وھبانی کی شرح وغیرہ معتبر کتب میں ہے۔(ت)
خیریہ کتاب الوقف میں ہے:
یرجع بہ قائما ویضمن بدلہ مستہلکا لانہ مادفعہ علی وجہ الھبۃ وانما دفعہ علی انہ حق موجود ہو تو رجوع کرے اگر اس نے ہلاك کردی ہو تو ضمان لےکیونکہ اس نے ہبہ کے طور پر نہیں دی بلکہ اس لئے دی کہ جس کو دی گئی ہے اس کا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ البا ب الخامس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۲۸۶€
العقود الدریۃ کتاب الشرکۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۱/ ۹۱€
العقود الدریۃ کتاب الشرکۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۱/ ۹۱€
المدفوع الیہ وہذا اصح الوجوہ ففی شرح النظم الوہبانی لشیخ الاسلام عبد البر ان من دفع شیئا لیس بواجب فلہ استردادہ الا اذا دفعہ علی وجہ الھبۃ واستہبلکہ القابض اھ وقد صرحوا بان من ظن ان علیہ دینا فبان خلافہ یرجع بماادعی ولو کان قد استھبلکہ رجع ببدلہ اھ۔ یہ حق ہے یہی تمام وجوہ میں بہتر ہے شیخ الاسلام عبدالبر کی شرح نظم وہبانی میں ہے کہ جس نے کوئی چیز دی حالانکہ اس پر اس کا دینا واجب نہ تھا تو واپس لینے کا حق ہے سوائے اس صورت کے کہ بطور ہبہ دی ہو اور قابض نے ہلاك کردی ہو اھ اور فقہاء نے تصریح فرمائی کہ جو اس گمان پر دے کہ اس پر یہ دیناواجب ہے اور پھر اس کا خلاف معلوم ہوا تو اپنے دئے ہوئے میں رجوع کرسکتاہے اوراگر لینے والے نے ہلاك کردی ہو تو اس کا بدل وصول کرے اھ(ت)
ہاں اگر اس گمان سے نہ دیا بلکہ دیدہ دانستہ اپنی خوشی سے اپنا زیور اس کے عوض میں ہبہ کردیا اگرچہ یہ ہبہ اسی بنا پر واقع ہوا ہو کہ ایسے اوچھے کا احسان نہ رکھنا چاہئے تو اس صور ت میں مرید اس زیور کا مالك ہوگیا۔درمختارمیں ہے:
(اتفقا)الواہب والموھوب لہ(علی الرجوع فی موضع لایصح)رجوعہ من المواضع السبعۃ السابقۃ(کالھبۃ لقرابتہ جاز)ھذا الاتفاق منہماجوہرۃ ۔ ایسی صورتیں جن میں رجوع صحیح نہ ہو مذکورہ سات صورتوں میں سے کسی میں رجوع پر واہب اور موہوب لہ دونوں اتفاق کرلیں(مثلا قریبی ذی محرم کوہبہ)تویہ اتفاق جائزہے جوہرہ(ت)
حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے:
ویکون الرجوع فی العوض بالتراد وفی الہلاك برد البدل ۔ عوض میں رجوع واپس لینے سے ہوگا اور ہلاکت کی صورت میں بدل لینے سے ہوگا۔(ت)
اب اسے اختیار ہوگا جو چاہے کرے۔
فانہ انما ھلکہ ملکہ بھبۃ کیونکہ اس نے ابتدائی طورپر ہبہ والی ملکیت کو
ہاں اگر اس گمان سے نہ دیا بلکہ دیدہ دانستہ اپنی خوشی سے اپنا زیور اس کے عوض میں ہبہ کردیا اگرچہ یہ ہبہ اسی بنا پر واقع ہوا ہو کہ ایسے اوچھے کا احسان نہ رکھنا چاہئے تو اس صور ت میں مرید اس زیور کا مالك ہوگیا۔درمختارمیں ہے:
(اتفقا)الواہب والموھوب لہ(علی الرجوع فی موضع لایصح)رجوعہ من المواضع السبعۃ السابقۃ(کالھبۃ لقرابتہ جاز)ھذا الاتفاق منہماجوہرۃ ۔ ایسی صورتیں جن میں رجوع صحیح نہ ہو مذکورہ سات صورتوں میں سے کسی میں رجوع پر واہب اور موہوب لہ دونوں اتفاق کرلیں(مثلا قریبی ذی محرم کوہبہ)تویہ اتفاق جائزہے جوہرہ(ت)
حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے:
ویکون الرجوع فی العوض بالتراد وفی الہلاك برد البدل ۔ عوض میں رجوع واپس لینے سے ہوگا اور ہلاکت کی صورت میں بدل لینے سے ہوگا۔(ت)
اب اسے اختیار ہوگا جو چاہے کرے۔
فانہ انما ھلکہ ملکہ بھبۃ کیونکہ اس نے ابتدائی طورپر ہبہ والی ملکیت کو
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ∞۱ /۱۳۰€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۴€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۴۰۶€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۴€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۴۰۶€
مبتدءۃ کما افادہ الدر عن المجتبی فلیس عین ما انفق ﷲ ولا بدلہ حقیقۃ فیفعل بہ مایشاء۔ ہلاك کیا ہے جیسا کہ اس کا افادہ مجتبی سے درمختار میں منقول کیا ہےتوعین وہ چیز نہیں جو اس نے اﷲ تعالی کی رضا کے لئے دی ہے حالانکہ اس کی کوئی حقیقت ضروری ہے لہذا جو چاہے کرے۔(ت)
اورجہاں بیعت وارادت بروجہ صحیح ومعتبر واقع ہو وہاں ایسی صورت میں مرید کے لئے سعادت اسی میں ہے کہ وہ زیور شیخ کو واپس کرے اور اپنی تقصیرات شدیدہ وجرائم عدیدہ کا عفو چاہے اس کا یہ خیال کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایسا نہ فرمایا پیر نے دل سے بناکر معاذاﷲ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر افتراء کردیا محض بدگمانی ہے جو ہر مسلمان پر حرام نہ کہ پیر ومرشد پر خصوصا اگر لفظ اسی قدر ہیں جو سوال میں مذکور تو اس کے انکار کا تو کوئی احتمال ہی نہیںبیشك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے پیروں کو مطابق شرع مطہر اپنے مریدوں کی تربیت کے لئے حکم دیا اور صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا:
کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ ۔ تم میں سے ہر ایك نگران ہے اور ہر ایك سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال ہوگا(ت)
اور بیشك شرع مطہر کا حکم ہے کہ ایسی چیز راہ خدا میں صرف کرو جو دل میں چبھے جسے عزیز رکھتے ہو۔
قال اﷲ عزوجل"لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون ۬" ۔ اﷲ عزوجل نے فرمایا:جب تك محبوب چیز خرچ نہ کرو گے بھلائی کو ہر گز نہ پاؤ گے۔(ت)
جہاں ارادت صحیحہ معتبرہ ہو وہاں شك نہیں کہ مرید کا اتنا ہی کہنا کہ میرا اعتقاد آپ سے فسخ ہوگیا اس کے فسخ بیعت اور عاق ہوجانے کے لئے بس ہے نہ کہ اور کلمات شدیدہ مزید برآں اور اس صورت میں وہ ضرور تنبیہ شرعی کا مورد ہوگا کہ وہ سخت محسن کش وبے ادب ہوا عام مسلمانوں میں کسی متنفس کی ایذا بلاوجہ شرعی حرام ہے نہ کہ پیر کی ایذا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے
اورجہاں بیعت وارادت بروجہ صحیح ومعتبر واقع ہو وہاں ایسی صورت میں مرید کے لئے سعادت اسی میں ہے کہ وہ زیور شیخ کو واپس کرے اور اپنی تقصیرات شدیدہ وجرائم عدیدہ کا عفو چاہے اس کا یہ خیال کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے ایسا نہ فرمایا پیر نے دل سے بناکر معاذاﷲ حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم پر افتراء کردیا محض بدگمانی ہے جو ہر مسلمان پر حرام نہ کہ پیر ومرشد پر خصوصا اگر لفظ اسی قدر ہیں جو سوال میں مذکور تو اس کے انکار کا تو کوئی احتمال ہی نہیںبیشك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے پیروں کو مطابق شرع مطہر اپنے مریدوں کی تربیت کے لئے حکم دیا اور صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا:
کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ ۔ تم میں سے ہر ایك نگران ہے اور ہر ایك سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال ہوگا(ت)
اور بیشك شرع مطہر کا حکم ہے کہ ایسی چیز راہ خدا میں صرف کرو جو دل میں چبھے جسے عزیز رکھتے ہو۔
قال اﷲ عزوجل"لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون ۬" ۔ اﷲ عزوجل نے فرمایا:جب تك محبوب چیز خرچ نہ کرو گے بھلائی کو ہر گز نہ پاؤ گے۔(ت)
جہاں ارادت صحیحہ معتبرہ ہو وہاں شك نہیں کہ مرید کا اتنا ہی کہنا کہ میرا اعتقاد آپ سے فسخ ہوگیا اس کے فسخ بیعت اور عاق ہوجانے کے لئے بس ہے نہ کہ اور کلمات شدیدہ مزید برآں اور اس صورت میں وہ ضرور تنبیہ شرعی کا مورد ہوگا کہ وہ سخت محسن کش وبے ادب ہوا عام مسلمانوں میں کسی متنفس کی ایذا بلاوجہ شرعی حرام ہے نہ کہ پیر کی ایذا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اذی مسلما فقد اذانی جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۵€
صحیح البخاری باب الجمعہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۲€
القرآن الکریم ∞۳/۹۲€
صحیح البخاری باب الجمعہ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۲€
القرآن الکریم ∞۳/۹۲€
ومن اذانی فقد اذی اﷲ ۔ ایذادی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اﷲ عزوجل کو ایذا دی۔والعیاذ باللہواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۰: از فرید پور مرسلہ شیخ نبی بخش صاحب جمعدار ۲۲ رجب ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو دو بھائیوں نے اپنا مشترکہ روپیہ گیارہ سو ایك شخص کو قرض دیا اور اس کی ایك جائداد رہن دخلی لی دستاویز میں برادر زید نے بجائے زیدزید کے نابالغ بیٹے بکر کانام درج کرایا اور بعد رجسٹری دستاویز وہ کل روپیہ راہن کو دے دیا گیا بعدہ زمانہ نابالغی بکر میں ایك اور جائداد دونوں بھائیوں نے اپنے مشترکہ روپے سے رہن دخلی لی اور اس دستاویز میں بجائے عمرو اس کے بیٹے کا اور بجائے زید اس کے دو نابالغ بیٹوں بکر اور خالد کانام درج ہوا اور بعد رجسٹری کل زر قرض چار ہزار روپے راہن کو دے دئے یہ جائداد رہن دخلی لے کر خود مالك کو بطور اجارہ داری اور فصل بفصل زراجارہ یہ مرتہن پاتے رہے کئی برس کے بعد بکر نے ایك بیٹا نابالغ ولید اور ایك زوجہ چھوڑ کر انتقال کیا زید نے بعد انتقاال پسر ایك باغ اپنے روپے سے خریدا اور بیعنامہ بنام اپنے نابالغ پوتے ولید کو لکھوایا پھر ولید نے بحال نابالغی ماں اور دادا کو وارث چھوڑ کر انتقال کیازید نے اس باغ کے داخل خارج میں صرف اپنی بہو کا نام درج کرایااب وہ دعوی کرتی ہے کہ وہ دونوں روپے جن سے وہ جائدادیں رہن لیں ان میں سے زراسمی بکر اور یہ باغ میرا ہے کہ ان دستاویزوں میں بکر کانام لکھوادینے سے ان روپوں کی تملیك بکر کو ہوگئی اور اب بذریعہ دین مہر وہ میرے حق میں ہے اور اس باغ کے داخل خارج میں میرا نام درج کرانے سے یہ میری ملك ہوگیااس صور ت میں کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
صورت واقعہ اگر یونہی ہے کہ وہ روپے زید وعمرو کے مشترك تھے اور یونہی یکجائی طور پر مدیون کو دئے گئے تو ان میں بہو کادعوی اصلا مسموع نہیں جبکہ وہ روپے زید کی ملك تھی تو بکر کے نام ان کا انتقال یونہی ہوسکتا ہے کہ زید بکر کو ہبہ کرکے مالك کردیتا دستاویز رہن دخلی میں اگر بکر کانام خود زید ہی لکھا تھا اور بالفرض اس سے تملیك وہ ہبہ سمجھا جاتا جب بھی یہ ہبہ جائز نہیں۔
مسئلہ ۸۰: از فرید پور مرسلہ شیخ نبی بخش صاحب جمعدار ۲۲ رجب ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو دو بھائیوں نے اپنا مشترکہ روپیہ گیارہ سو ایك شخص کو قرض دیا اور اس کی ایك جائداد رہن دخلی لی دستاویز میں برادر زید نے بجائے زیدزید کے نابالغ بیٹے بکر کانام درج کرایا اور بعد رجسٹری دستاویز وہ کل روپیہ راہن کو دے دیا گیا بعدہ زمانہ نابالغی بکر میں ایك اور جائداد دونوں بھائیوں نے اپنے مشترکہ روپے سے رہن دخلی لی اور اس دستاویز میں بجائے عمرو اس کے بیٹے کا اور بجائے زید اس کے دو نابالغ بیٹوں بکر اور خالد کانام درج ہوا اور بعد رجسٹری کل زر قرض چار ہزار روپے راہن کو دے دئے یہ جائداد رہن دخلی لے کر خود مالك کو بطور اجارہ داری اور فصل بفصل زراجارہ یہ مرتہن پاتے رہے کئی برس کے بعد بکر نے ایك بیٹا نابالغ ولید اور ایك زوجہ چھوڑ کر انتقال کیا زید نے بعد انتقاال پسر ایك باغ اپنے روپے سے خریدا اور بیعنامہ بنام اپنے نابالغ پوتے ولید کو لکھوایا پھر ولید نے بحال نابالغی ماں اور دادا کو وارث چھوڑ کر انتقال کیازید نے اس باغ کے داخل خارج میں صرف اپنی بہو کا نام درج کرایااب وہ دعوی کرتی ہے کہ وہ دونوں روپے جن سے وہ جائدادیں رہن لیں ان میں سے زراسمی بکر اور یہ باغ میرا ہے کہ ان دستاویزوں میں بکر کانام لکھوادینے سے ان روپوں کی تملیك بکر کو ہوگئی اور اب بذریعہ دین مہر وہ میرے حق میں ہے اور اس باغ کے داخل خارج میں میرا نام درج کرانے سے یہ میری ملك ہوگیااس صور ت میں کیا حکم ہے بینوا توجروا
الجواب:
صورت واقعہ اگر یونہی ہے کہ وہ روپے زید وعمرو کے مشترك تھے اور یونہی یکجائی طور پر مدیون کو دئے گئے تو ان میں بہو کادعوی اصلا مسموع نہیں جبکہ وہ روپے زید کی ملك تھی تو بکر کے نام ان کا انتقال یونہی ہوسکتا ہے کہ زید بکر کو ہبہ کرکے مالك کردیتا دستاویز رہن دخلی میں اگر بکر کانام خود زید ہی لکھا تھا اور بالفرض اس سے تملیك وہ ہبہ سمجھا جاتا جب بھی یہ ہبہ جائز نہیں۔
حوالہ / References
المعجم الاوسط ∞حدیث ۳۶۳۲€ مکتبۃ المعارف ∞ریاض ۴/ ۳۷۳€
بکر اگرچہ نابالغ تھا مگر زر مشترك کا ہبہ بے تقسیم نہیں ہوسکتا اور یہاں بے جدائی وتقسیم یکجائی طورپر مدیونوں کو دے دئے گئے کہ وہ روپے ان کی ملك میں داخل ہوگئے اور ہبہ باطل ہوکر بکر ومستحقان بکر کا کچھ حق نہ رہااور چار ہزار والے عقد میں ایك قول پر دوسرا نقص اور ہے کہ یہ حصہ زید کا زید کے دو بیٹوں کے نام بلا تقسیم لکھا گیا تو مشاع درمشاع ہوابہرحال ان روپوں میں بہو کا کچھ حق نہیںفتاوی انقرویہ میں ہے:
فی المنتقی وہب نصف بیتہ لابنہ الصغیر لم یجز ما لم یقسمہ ویبین ماوہب لہ من فتاوی التمرتاشی فی اخر کتاب الھبۃ ۔ منتقی میں فتاوی تمر تاشی کی کتاب الھبۃ کے آخر سے ہے اگر اپنے نابالغ بیٹے کو اپنا نصف مکان ہبہ کیا تو جب تك تقسیم کرکے جدا نہ کردے جائز نہ ہوگا۔(ت)
اسی میں ہے:
لو تصدق بدارہ علی ولدین لہ صغیرین اوکبیرین او احدہما صغیر والاخر کبیر لم یجزوکذا لو تصدق علیہما بکیس فیہ الف درہم وقبضاہ لم یجزخزانۃ الاکمل فی الھبۃ عن المجرد ۔ اگر کسی نے دو نابالغ یا ایك یا دو بالغ یا ایك بالغ اور ایك نابالغ بیٹوں کو اپنا مکان مشترکہ طور پر ہبہ کیا تو جائز نہ ہوگا اور یونہی ان کو ایك تھیلی ہبہ کی جس میں ہزار درہم تھے اور دونوں کو قبضہ بھی دے دیا ہو تو جائز نہ ہوگایہ خزانۃ الاکمل کے ہبہ میں مجرد سے منقول ہے۔(ت)
بلکہ جس قدر روپیہ زید نے ان ایام میں رہن میں بنام اجارہ پایا ہے زید پر فرض ہے کہ اسے اصل میں مجرا دے اگر کل آگیا تو اب ایك پیسہ لینا حرام ہے اور اگر کچھ باقی ہے تو اسی قدر زید کا حق رہااور اگر زید پر فرض ہے کہ اتنا مدیون کو واپس دےاسی طرح دوسری جائداد جو رہن دخلی لی اس سے بھی اب تك جو وصول ہوا زید کے لئے خیر اسی میں ہے کہ اسے سب کو زراصل میں محسوب جانےرہا باغ وہ اپنے نابالغ پوتے کے لئے خریدا
فی المنتقی وہب نصف بیتہ لابنہ الصغیر لم یجز ما لم یقسمہ ویبین ماوہب لہ من فتاوی التمرتاشی فی اخر کتاب الھبۃ ۔ منتقی میں فتاوی تمر تاشی کی کتاب الھبۃ کے آخر سے ہے اگر اپنے نابالغ بیٹے کو اپنا نصف مکان ہبہ کیا تو جب تك تقسیم کرکے جدا نہ کردے جائز نہ ہوگا۔(ت)
اسی میں ہے:
لو تصدق بدارہ علی ولدین لہ صغیرین اوکبیرین او احدہما صغیر والاخر کبیر لم یجزوکذا لو تصدق علیہما بکیس فیہ الف درہم وقبضاہ لم یجزخزانۃ الاکمل فی الھبۃ عن المجرد ۔ اگر کسی نے دو نابالغ یا ایك یا دو بالغ یا ایك بالغ اور ایك نابالغ بیٹوں کو اپنا مکان مشترکہ طور پر ہبہ کیا تو جائز نہ ہوگا اور یونہی ان کو ایك تھیلی ہبہ کی جس میں ہزار درہم تھے اور دونوں کو قبضہ بھی دے دیا ہو تو جائز نہ ہوگایہ خزانۃ الاکمل کے ہبہ میں مجرد سے منقول ہے۔(ت)
بلکہ جس قدر روپیہ زید نے ان ایام میں رہن میں بنام اجارہ پایا ہے زید پر فرض ہے کہ اسے اصل میں مجرا دے اگر کل آگیا تو اب ایك پیسہ لینا حرام ہے اور اگر کچھ باقی ہے تو اسی قدر زید کا حق رہااور اگر زید پر فرض ہے کہ اتنا مدیون کو واپس دےاسی طرح دوسری جائداد جو رہن دخلی لی اس سے بھی اب تك جو وصول ہوا زید کے لئے خیر اسی میں ہے کہ اسے سب کو زراصل میں محسوب جانےرہا باغ وہ اپنے نابالغ پوتے کے لئے خریدا
حوالہ / References
فتاوٰی انقرویہ کتاب الھبۃ دارالاشاعۃ العربیۃ ∞قندہارافغانستان ۲/ ۲۸۴€
فتاوٰی انقرویہ کتاب الھبۃ دارالاشاعۃ العربیۃ ∞قندہار افغانستان ۲/ ۲۸۳€
فتاوٰی انقرویہ کتاب الھبۃ دارالاشاعۃ العربیۃ ∞قندہار افغانستان ۲/ ۲۸۳€
پوتے کی ملك ہوگیا اس کے مرنے کے بعد ایك ثلث زید کی بہو کا ہوا اور دو ثلث باغ زید کازید نے جو کاغذ داخل خارج میں صرف بہو کانام لکھا دیا یہ اگر دلیل ہبہ وتملیك بھی قرار دیں جب بھی معتبر وصحیح نہیں کہ ہبہ مشاع بے تقسیم باطل ہے۔در مختار میں ہے:
لاتتم بالقبض فیما یقسم ولووہبہ لشریکہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ قابل تقسیم چیز پر قبضہ دینے سے بھی ہبہ تام نہ ہوگا خواہ اس میں شرکت والے کو ہبہ دے واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۸۱: از شہر کنہ ۲۲ ذیعقدہ ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے ایك لڑکی اور تین لڑکے ہیں ان میں ایك لڑکا زید کا خدمت گزارزیادہ تر ہے اور دو لڑکے فراخی سے بسر کرتے ہیں تنگ دست نہیں ہیں اس صورت میں زید یہ چاہتاہے کہ میں اپنے خدمت گزار لڑکے کو نصف اپنی ملکیت کا دوں اور نصف بقیہ دونوں لڑکوں اور لڑکی کو بحصہ مساوی دے دوں۔یہ بلاحق تلفی کے جائز ہوگا یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
جبکہ یہ لڑکا باپ کا خدمت گزار زیادہ ہے تو ان دو پر ایك طرح کا فضل دینی رکھتاہے اگر اور کوئی وجہ اس کے منافی نہ ہو تو ایسی صورت میں باتفاق روایات اس کو ترجیح دینے میں مضائقہ نہیں جبکہ دوسروں کو ضرر پہنچانے کی نیت نہ ہوبزازیہ میں ہے:
لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رشد لاباس بہ وان کانا سواء لایفعلہ ۔ اگر اولاد میں سے بعض کو اس کی نیکی کی بناء پر زیادہ دینے میں خصوصیت برتے تو کوئی حرج نہیں ہے اور سب مساوی ہوں تو پھر امتیاز نہ برتے۔(ت)
ہندیہ میں ہے:
لووھب رجل شیئا لاولادہ فی الصحۃ و ارادہ تفضیل البعض علی البعض اگر کوئی شخص صحت وتندرستی میں اپنی اولاد کو ہبہ دے اور اس میں وہ بعض کو دوسروں پر فضیلت
لاتتم بالقبض فیما یقسم ولووہبہ لشریکہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ قابل تقسیم چیز پر قبضہ دینے سے بھی ہبہ تام نہ ہوگا خواہ اس میں شرکت والے کو ہبہ دے واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۸۱: از شہر کنہ ۲۲ ذیعقدہ ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے ایك لڑکی اور تین لڑکے ہیں ان میں ایك لڑکا زید کا خدمت گزارزیادہ تر ہے اور دو لڑکے فراخی سے بسر کرتے ہیں تنگ دست نہیں ہیں اس صورت میں زید یہ چاہتاہے کہ میں اپنے خدمت گزار لڑکے کو نصف اپنی ملکیت کا دوں اور نصف بقیہ دونوں لڑکوں اور لڑکی کو بحصہ مساوی دے دوں۔یہ بلاحق تلفی کے جائز ہوگا یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
جبکہ یہ لڑکا باپ کا خدمت گزار زیادہ ہے تو ان دو پر ایك طرح کا فضل دینی رکھتاہے اگر اور کوئی وجہ اس کے منافی نہ ہو تو ایسی صورت میں باتفاق روایات اس کو ترجیح دینے میں مضائقہ نہیں جبکہ دوسروں کو ضرر پہنچانے کی نیت نہ ہوبزازیہ میں ہے:
لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رشد لاباس بہ وان کانا سواء لایفعلہ ۔ اگر اولاد میں سے بعض کو اس کی نیکی کی بناء پر زیادہ دینے میں خصوصیت برتے تو کوئی حرج نہیں ہے اور سب مساوی ہوں تو پھر امتیاز نہ برتے۔(ت)
ہندیہ میں ہے:
لووھب رجل شیئا لاولادہ فی الصحۃ و ارادہ تفضیل البعض علی البعض اگر کوئی شخص صحت وتندرستی میں اپنی اولاد کو ہبہ دے اور اس میں وہ بعض کو دوسروں پر فضیلت
حوالہ / References
درمختار کتاب الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۲۳۷€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۲۳۷€
فی ذلك لاروایۃ لھذا فی الاصل عن اصحابناوروی عن ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی انہ لاباس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل لہ فی الدینوان کانا سواء یکرہ روی المعلی عن ابی یوسف رحمھما اﷲ تعالی انہ لاباس بہ اذا لم یقصد بہ الاضرار وان قصد بہ الاضرار سوی بینھم یعطی الابنۃ مثل مایعطی للابن وعلیہ الفتوی ھکذا فی فتاوی قاضیخاں وھو المختار کذا فی الظھیریۃ اھاقول: وقع ھھنا فی النقل عن الخانیۃ اختصار مخل اوھمتعلق الافتاء بروایۃ ابی یوسف نظرا الی مامر عن الامام ولیس کذالك وانما ھو لروایتہ بالنظر الی المروی عن محمد من التثلیث رضی اﷲ تعالی عنہم جمیعا و اصل عبارۃ الخانیۃ بعد قول مثل مایعطی للابن ھکذا و قال محمد رحمہ اﷲ تعالی یعطی للذکر ضعف ما یعطی للانثی و
دے تو اس میں ہمارے اصحاب سے مبسوط میں کوئی روایت نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی سے روایت کیا گیا ہے کہ اس میں اس وقت کوئی حرج نہیں جبکہ دینی فضیلت کی وجہ سے زیادہ دے اور اگر تمام مساوی ہوں تو یہ مکروہ ہےاور معلی نے امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی سے روایت کیا ہے کہ اس میں دوسروں کو ضرر دینا مقصود نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیںاور اگر دوسروں کو ضرر مقصو ہو تو پھر ایسا نہ کرے اورسب کو مساوی دے اور بیٹی کو بیٹے کے مساوی دے اسی پر فتوی ہے اور فتاوی قاضیخاں میں اسی طرح ہے اور یہی مختار ہےظہریہ میں یونہی ہے اھاقول:(میں کہتاہوں) یہاں خانیہ کی نقل میں خلل انداز اختصار کردیا ہے اور فتوی کا تعلق امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے قول سے کردیا امام اعظم رحمہ اﷲ تعالی کے مذکور قول کے مقابلہ میںحالانکہ ایسا نہیں بلکہ یہ فتوی امام محمد رحمہ اﷲ تعالی کے قول کے مقابلہ میں ہے جس میں انہوں نے بیٹے اور بیٹی کے لئے تین حصوں کا قول کیا ہےاور خانیہ کی اصل عبارت یوں ہےجوکہ امام یوسف کے بیٹی اور بیٹے کے لئے مساوات والے قول کے بعد ہےامام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا لڑکے کو لڑکی سے دوگنا دیا جائے اور
دے تو اس میں ہمارے اصحاب سے مبسوط میں کوئی روایت نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی سے روایت کیا گیا ہے کہ اس میں اس وقت کوئی حرج نہیں جبکہ دینی فضیلت کی وجہ سے زیادہ دے اور اگر تمام مساوی ہوں تو یہ مکروہ ہےاور معلی نے امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی سے روایت کیا ہے کہ اس میں دوسروں کو ضرر دینا مقصود نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیںاور اگر دوسروں کو ضرر مقصو ہو تو پھر ایسا نہ کرے اورسب کو مساوی دے اور بیٹی کو بیٹے کے مساوی دے اسی پر فتوی ہے اور فتاوی قاضیخاں میں اسی طرح ہے اور یہی مختار ہےظہریہ میں یونہی ہے اھاقول:(میں کہتاہوں) یہاں خانیہ کی نقل میں خلل انداز اختصار کردیا ہے اور فتوی کا تعلق امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے قول سے کردیا امام اعظم رحمہ اﷲ تعالی کے مذکور قول کے مقابلہ میںحالانکہ ایسا نہیں بلکہ یہ فتوی امام محمد رحمہ اﷲ تعالی کے قول کے مقابلہ میں ہے جس میں انہوں نے بیٹے اور بیٹی کے لئے تین حصوں کا قول کیا ہےاور خانیہ کی اصل عبارت یوں ہےجوکہ امام یوسف کے بیٹی اور بیٹے کے لئے مساوات والے قول کے بعد ہےامام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا لڑکے کو لڑکی سے دوگنا دیا جائے اور
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۹۱€
الفتوی علی قول ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی اھ قال العلامۃ الشامی نقلا عن العلامۃ الخیر الرملی مانصہ ای علی قول ابی یوسف من ان التنصیف بین الذکرو الانثی افضل من التثلیث الذی ھو قول محمد اھ وقال فی البزازیۃ الافضل فی ھبۃ الابن والبنت التثلیث کالمیراث ومنہ الثانی التنصیف وھوالمختار اھوقال العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ الدریکرہ ذلك عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ الخفانظر کیف عزا الکراہۃ الی الہندیۃ فقد علم ان الفتوی لیست ناظرۃ الی قول ابی یوسف بالنظر الی ما روی عن الامام والا لما ساغ ان یعزوالیہا مانصت فیہ ان الفتوی علی خلافہ وہذا ہو الصواب فلیتنبہ ثم اقول:وباﷲ التوفیق فتوی امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے قول پر ہےعلامہ شامی نے علامہ خیر الدین رملی سے نقل کرتے ہوئے فرمایا جس کی عبارت یہ ہےیعنی امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے قول پر لڑکے لڑکی کوبرابر دینا ان پر تین حصے بنانے کی بجائے افضل ہے اور تین حصے بنانا امام محمد رحمہ اﷲ تعالی کا قول ہے اھاور بزازیہ میں ہے بیٹی اور بیٹے کو ہبہ میں تین حصے کرنا بہترہے اور امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك دو حصوں میں (برابر)دینا بہتر ہے اور یہی مختار ہے اھاور علامہ طحطاوی نے درمختار کے حاشیہ میں فرمایا درجہ میں مساوی اولاد میں کسی کو زیادہ دینا مکروہ ہے جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے الخغور فرمائیں انہوں نے کس طرح کراہت کو ہندیہ کی طرف منسوب کیاتوواضح ہوگیا کہ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے قول پر فتوی امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی کے مقابلہ میں نہیں ہے ورنہ ہندیہ کی طرف ایسی چیز کا منسوب کرنا جس کے خلاف اس نے فتوی ہونے کی تصریح کی ہے درست نہ ہوتا یہی درست بات ہے خبردار رہوثم اقول:(پھر میں کہتاہوں) اور توفیق
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الہبۃ فصل فی ھبۃ الوالدلولدہ ∞مطبع نولکشور لکھنؤ ۴ / ۶۔۷۰۵€
درمختار کتاب الہبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۱۳€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الہبۃ الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۲۳۷€
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۳۹۹€
درمختار کتاب الہبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۱۳€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الہبۃ الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۲۳۷€
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۳۹۹€
یترا ای لی ان لاخلف بین ما عن الامامین الشیخین رضی اﷲ تعالی عنہما فان تفضیل احدالولدین لا تحقق لہ الابتنقیص الاخر والتنقیص اضرار اذ لیس المراد بہ ایصال سوء الیہ فی دینہ اونفسہ او بدنہ او عرضہ اوملکہ ولاالتنقیص من حق لہ ثابت فانہ لاحق للورثۃ فی صحۃ المورث فلم یرد بہ الا حجبہ حجب نقصان اوحرمان وہذا لازم التفضیل لاانفکاك لہ عنہبیدان القصد اولا و بالذات قد یتعلق بتفضیل ھذا دون تنقیص ذلك وقد یکون بالعکس فانك اذا اعطیت احد ہما ازید لانہ اطوع لك وابربك فانما مطمح نظرك فی ہذا صلتہ بمقابلۃ ماوقع منہ لاتنقیص غیرہ وان لزمہ لزوما کلیا واذا کنت غضبان علی احدہما فاعطیت الاخرازید کیلا یصل الیہ الا القلیل فانما ملمح بصرك فی ہذا اضرارہ بما اساء الیك لاتفضیل غیرہ قصدا اولیا کما لا زیخفیثم التفضیل لابدلہ من حامل علیہ وداع الیہ فان العاقل اﷲ سے ہےمجھ پر واضح ہوا کہ شیخین رحمہما اﷲ تعالی دونوں اماموں کے قول میں کوئی اختلاف نہیںکیونکہ دو بیٹوں میں سے ایك کو زیادہ دینا دوسرے کو کم دینے کے بغیر متحقق نہیں اور کم دینا ہی ضرر دینا ہواکیونکہ یہاں دین یا بدن یاعزت یا ملك میں تکلیف دینا مراد نہیں ہے اورنہ اس کے لئے ثابت شدہ حق کو کم کرنا مرا دہے کیونکہ اولاد کا باپ کی صحت میں کوئی حق نہیں تو یہاں صرف ایك کا دوسرے کے لیے نقصان یا محرومی کا باعث بننا ہے اور یہ بات دوسرے پر فضیلت دینے کو لازم ہےاس سے جدا نہیں ہوسکتیہاں یہ بات ضرور ہے کہ کبھی مقصود بالذات ایك کو صرف فضیلت دینا ہوتاہے دوسرے کی تنقیص پیش نظر نہیں ہوتی۔اور کبھی معاملہ بالعکس ہوتاہے کیونکہ جب توایك کو اس لئے زیادہ دے کہ وہ تیرا زیادہ مطیع اور خدمت گار ہے تو اس میں تیرا مطمح نظر صرف اس کو صلہ دینا ہے دوسرے کی تنقیص مقصود نہیں ہوتی اگرچہ یہ لازم ضرور ہے اور تو جب ایك پر ناراض ہو کر دوسرے کو اس لئے زیادہ دے کہ پہلے کو کم ملے تو اس میں تیری نظر یہ ہے کہ اس کو نالائقی کی سزاملے دوسرے کو فضیلت مقصود بالذات نہیں ہوتی جیسا کہ مخفی نہیں ہےپھر تفضیل کا کوئی باعث اور داعی ضرور ہوتاہے کیونکہ عاقل کا کوئی فعل غرض کے بغیر نہیں ہوتا۔
لایقصد الفعل الالغرض صحیح فان رجح ولا مرجح لم یکن المقصود ترجیحہ لعدم مایدعوالیہ بل تنقیص غیرہ و ھو قصد الاضرار والداعی ان کان امرا دنیویا لااثرلہ فی الدین فالشرع لایعتبرہ و یجعلہ کلاداع واذاکان امرادینیا فہو المقصد الصحیح المعتبر وبقصدہ یخرج الانسان عن قصد الاضرار کما قد تقرر فظہران مآل الکلامین واحد و ان کلامہما کالشرح لصاحبہا وانما لم یقید فیما روی عن الامام بان لایقصد الاضرار کان الکلام فیہ مفروض فیما قصد تفضیل بعض فبین مایصح منہ وما لابل یؤل قصد اضرار ثم الذی یظھران مسئلۃ التثلیث اوالتسویۃ بین الابن والبنت مسئلۃ علی حدۃ لامتفرعۃ علی قصد الاضرار الاتری الی ما اسمعناك عن نص البزازیۃ ولذالما اوہم عبارۃ الدر ذاك التفریع عقبہ العلامۃ السید الطحطاوی لعبارۃ البزازیۃ وقال فانت تری نص البزازیۃ خالیا عن قصد الاضرار اھ۔ کیونکہ مرجح کے بغیر ترجیح ہو تو پھر ترجیح مقصود نہ ہوگی بلکہ دوسرے کی تنقیص مراد ہوگی تو ضرر رسانی ہوگی۔اور اگر داعی ترجیح کوئی دنیاوی امر ہو جس کا دین میں کوئی اثر نہ ہو تو شریعت اس کا اعتبار نہیں کرتی اور اس داعی کو کالعدم قراردیتی ہےاور اگر کوئی ایسا دینی معاملہ ہو جو شرعا مقصود ومطلوب ہو تو انسان اس کا قصد کرکے ضرر کے قصد سے بچ جاتاہے جیسا کہ ثابت ہے تو معلوم ہوا دونوں امام شیخین کی کلام کا نتیجہ ایك ہے اور دونوں ایك دوسرے کی شرح قرارپاتی ہیں۔ اورامام صاحب رحمہ اﷲ تعالی سے روایت کہ وہ کلام میں ضررکے قصد کی قید نہیں بتائی کیونکہ ان کے کلام میں ایك کی فضیلت مفروض ہے جس کی صحت اور عدم صحت بیان ہورہی ہے بلکہ یہ کلام ضرر رسانی کی طرف عائد ہےپھر بیٹی اور بیٹے میں تین حصے یا برابری کا مسئلہ علیحدہ مسئلہ ہے یہ ضرر رسانی کے قصد پر متفرع نہیں ہے تو نے دیکھ لیا جو ہم نے تجھے بزازیہ کی نص سنائی ہے اسی لئے جب درمختار کی عبارت نے یہ وہم پیدا کیا تو علامہ طحطاوی نے اس کے بعد بزازیہ کی عبارت ذکر کردی جس کا مقصد یہ ہے کہ تو بزازیہ کی عبارت کو ضرررسانی کی قید سے خالی پارہا ہے اھ۔اس تقریر سے معلوم ہوا کہ صحت کی
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۴۰۰€
فتحرر مما تقرر ان العدل بین الابن والبنت فی حال الصحۃ عند الامام الثالث ھو التثلیث وعند الامام الثانی التنصیف وعلیہ الفتوی والکلام فی الافضیلۃ و الکل جائز والعدل بین بین اوبنات ھو التسویۃ بالاجماع ولایجوز العدول عنہ فی ابن لافی بنت اصلا لو قصد الاضرار اولا بالذات الا ان یکون فاسقا کما افادہ فی الخلاصۃ والبزازیۃ وخزانۃ المفتین و الہندیۃ وغیرہا وان قصد التفضیل فان الفضل دینی جائز ولم یکرہ والاکرہ لاو لہ عــــــہ الی قصد الاضرار وہذا ماظہرلی والعلم بالحق عند عالم الغیوب و الاسرار واﷲسبحنہ وتعالی اعلم۔ حالت میں بیٹی اور بیٹے کے درمیان عدل تیسرے امام(محمد) رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك تین حصے بنانے میں ہےاور امام ثانی یعنی ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك برابر دینے میں ہے اوراسی پر فتوی ہے حالانکہ یہ کلام افضیلت میں ہے جبکہ جواز دونوں صورتوں میں ہے بالاجماع بیٹوں اور بیٹیوں میں عدل بہرحال برابر دینے میں ہے کسی لڑکے یا لڑکی کو ضرر رسانی قصدا وبالذات جائز نہیں سوائے اس کے کہ وہ فاسق ہو جیسا کہ اس کا افادہ بزازیہ خزانۃ المفتین اورہندیہ وغیرہ کے بیان نے دیا ہے اوراگر فضیلت دینا چاہے تو کسی دینی فضیلت کی بناء پر جائزہے مکروہ نہیں ہے ورنہ مکروہ ہے کیونکہ یہ ضرر رسانی کی طرف رجوع ہوگامجھ پر یہ ظاہر ہواہے حقیقی علم غیوب واسرار کے عالم کے پاس ہےواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۸۲: از پیلی بھیت مرسلہ مولانا مولوی وصی احمد صاحب غرہ رجب ۱۳۱۸ھ
ایك شخص نے اپنی جائداد مشترکہ برضا مندی اپنے اوراپنے شرکاء کے اپنے عزیزوں کو تقسیم کردییہ تقسیم بموجب شرع شریف کے صحیح ہے یانہیں اور بقدر تقسیم کے وہ جائداد واپس کرنا چاہے تو واپس ہونا اس کا نادرست ہے یانہیں
الجواب:
اگر شرکاء سے تقسیم کراکر اپنا حصہ جدا نہ کرالیا یا جن عزیزوں کو دی ان کا حصہ جدا تقسیم نہ کردیا اور وہ شے اس قابل تھی کہ بعد تقسیم لائق انتفاع رہتی جب تو یہ تقسیم سرے سے باطل ہے
عــــــہ:الاول ھوالرجوع(منجد)
مسئلہ ۸۲: از پیلی بھیت مرسلہ مولانا مولوی وصی احمد صاحب غرہ رجب ۱۳۱۸ھ
ایك شخص نے اپنی جائداد مشترکہ برضا مندی اپنے اوراپنے شرکاء کے اپنے عزیزوں کو تقسیم کردییہ تقسیم بموجب شرع شریف کے صحیح ہے یانہیں اور بقدر تقسیم کے وہ جائداد واپس کرنا چاہے تو واپس ہونا اس کا نادرست ہے یانہیں
الجواب:
اگر شرکاء سے تقسیم کراکر اپنا حصہ جدا نہ کرالیا یا جن عزیزوں کو دی ان کا حصہ جدا تقسیم نہ کردیا اور وہ شے اس قابل تھی کہ بعد تقسیم لائق انتفاع رہتی جب تو یہ تقسیم سرے سے باطل ہے
عــــــہ:الاول ھوالرجوع(منجد)
اوراگر اپنا حصہ جدا کرکے حصص شرکاء بھی جدا جدا کردے یا وہ شیئ صالح قسمت نہ تھی تو تقسیم میں خلل نہیں ہے اب اگر عزیزوں کا ہنوز قبضہ نہ ہوا تو اس تقسیم سے اسے رجوع کااختیار ہےکہ ہبہ بے قبضہ تمام نہیں ہوتا اور اگر قبضہ ہوگیا اور وہ عزیز اس کے محارم ہیں جیسے بھائیبہنچچاماموںخالہپھوپھیبھتیجےبھانجے تو واپس لینا ممکن اور غیر محارم ہیں اورموانع سبعہ رجوع سے اور کوئی مانع بھی متحقق نہیں تو ان کی رضا یا قاضی کی قضا سے رجوع کرسکتاہے مگر گناہ گار ہوگا کہ دے کرپھرنا مکروہ تحریمی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۳: از رچھا ضلع بریلی تھانہ بہیڑی ۱۵ذیقعدہ ۱۳۱۸ء
کیا حکم ہے اس صورت میں کہ باپ نے اپنے بیٹوں کو جدا کردیا اور جو کچھ جائدا دتھی وہ سب کچھ تقسیم کردی اب بعد مدت کے باپ یہ چاہتاہے کہ جو کچھ مال لڑکوں کو دیا ہے وہ سب واپس لے لے اور لڑکوں کو تہی دست چھوڑ دےاب فرمائیے کہ عندالشرع یہ امر جائز ہے یانہیں اور ابھی کسی لڑکے کا نکاح نہیں ہوا تو یہ حق ذمہ باپ کے ہے یانہیں
الجواب:
اگر جائدادجداجدا کرکے ہر لڑکے کوقبضہ دلادیا تو وہ اس کے مالك مستقل ہوگئے ان سے واپس لینے کا باپ کو اختیارنہیںنہ ان کانکاح کرنا اس پر لازم اول لڑکوں کے نکاح میں شرعی مصارف کچھ نہیں اور جوہوں تو جبکہ وہ مال رکھتے ہیں انہیں کے مال سے کئے جائیںاور اگر تقسیم جدا جدا کرکے قبضہ نہ دلاگیا اور وہ مال قابل قسمت تھا توبدستور باپ کے ملك باقی ہے اسے لے لینے کا اختیار ہےواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۴: ۲۷ جمادی الآخرہ ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مولوی محمد حسن صاحب نے اپنی زندگی میں بحیات اپنی بی بی منکوحہ مسماۃ منیر النساء کل جائداد ۱۸۸۷ء میں دو۲ بیٹیوں اور ایك نواسہ اور ایك نواسی کو دی اور کاغذ لکھ دئیے صرف رجسٹری کرانی رہیزوجہ مولوی صاحب موصوف نے وقت قضا اپنا مہر معاف نہ کیا بعد لکھنے اور دینے جائدادکے بحیات زوجہ مذکورہ اور جائداد خریدی جو کسی کو نہ لکھی ۱۸۹۱ء میں مولوی صاحب نے قضاء کیدو۲ دختر جن کو جائداد تحریر کی اور وہی نواسہنواسیاور حقیقی بہن چھوڑیترکہ بموجب فرائض ہر سہ وارثان یعنی دو۲ دختر اور ایك بہن کو کس طرح تقسیم ہوگا بموجب تحریر کاغذات ہوگا قبضہ مولوی صاحب مرحوم نے اپنی حیات میں کسی کو نہ دیا بعد کو وہ لوگ بموجب تحریر قابض رہےبعد
مسئلہ ۸۳: از رچھا ضلع بریلی تھانہ بہیڑی ۱۵ذیقعدہ ۱۳۱۸ء
کیا حکم ہے اس صورت میں کہ باپ نے اپنے بیٹوں کو جدا کردیا اور جو کچھ جائدا دتھی وہ سب کچھ تقسیم کردی اب بعد مدت کے باپ یہ چاہتاہے کہ جو کچھ مال لڑکوں کو دیا ہے وہ سب واپس لے لے اور لڑکوں کو تہی دست چھوڑ دےاب فرمائیے کہ عندالشرع یہ امر جائز ہے یانہیں اور ابھی کسی لڑکے کا نکاح نہیں ہوا تو یہ حق ذمہ باپ کے ہے یانہیں
الجواب:
اگر جائدادجداجدا کرکے ہر لڑکے کوقبضہ دلادیا تو وہ اس کے مالك مستقل ہوگئے ان سے واپس لینے کا باپ کو اختیارنہیںنہ ان کانکاح کرنا اس پر لازم اول لڑکوں کے نکاح میں شرعی مصارف کچھ نہیں اور جوہوں تو جبکہ وہ مال رکھتے ہیں انہیں کے مال سے کئے جائیںاور اگر تقسیم جدا جدا کرکے قبضہ نہ دلاگیا اور وہ مال قابل قسمت تھا توبدستور باپ کے ملك باقی ہے اسے لے لینے کا اختیار ہےواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۴: ۲۷ جمادی الآخرہ ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مولوی محمد حسن صاحب نے اپنی زندگی میں بحیات اپنی بی بی منکوحہ مسماۃ منیر النساء کل جائداد ۱۸۸۷ء میں دو۲ بیٹیوں اور ایك نواسہ اور ایك نواسی کو دی اور کاغذ لکھ دئیے صرف رجسٹری کرانی رہیزوجہ مولوی صاحب موصوف نے وقت قضا اپنا مہر معاف نہ کیا بعد لکھنے اور دینے جائدادکے بحیات زوجہ مذکورہ اور جائداد خریدی جو کسی کو نہ لکھی ۱۸۹۱ء میں مولوی صاحب نے قضاء کیدو۲ دختر جن کو جائداد تحریر کی اور وہی نواسہنواسیاور حقیقی بہن چھوڑیترکہ بموجب فرائض ہر سہ وارثان یعنی دو۲ دختر اور ایك بہن کو کس طرح تقسیم ہوگا بموجب تحریر کاغذات ہوگا قبضہ مولوی صاحب مرحوم نے اپنی حیات میں کسی کو نہ دیا بعد کو وہ لوگ بموجب تحریر قابض رہےبعد
تحریر کاغذات سوادوبسو ے کسری زائد مولوی صاحب نے اورخریدی جو کسی کے نہ لکھےزوجہ مولوی صاحب کے دو بیٹیاں اور ایك بہن وقت وفات زندہ موجود ہیں۔
تفصیل تحریر جائداد مولوی صاحب موصوف
مسماۃ بی بی جان دختر کلاں ۵بسوہ ۱۰بسوانسی ۳کچوانسی ۴ تنوانسی کسی زائد زمینداری موضع نودیا ایك مکان پختہ مشرق روپیہ واقع محلہ خواجہ قطب ونصف قطعہ اراضی اڈاواقع بریلی کٹرہ ہان رائے۔
مسماۃ غفورالنساء دختر خورد ۵بسوہ ۱۰ بسوانسی ۳کچوانسی ۴ تنوانسی کسی زائد زمینداری موضع نو دیاایك مکان پختہ واقع نالاونصف قطعہ اراضی اڈا واقع بریلی کٹرہ مان رائے۔
یہ حقیقت مولوی صاحب نے پہلے ہی بنام غفورالنساء خرید کی تھی وہ حصے میں مجرا کیغفورالنساء اس وقت ناکتخدانابالغہ تھی۔
قمرالدین نواسہ یك بسوہ موضع راجوپور ومکان مسکون واقع کٹرہ مان رائے
مسماۃ چھمن نواسی یك دکان واقع بازار کٹرہ مان رائے۔
الجواب:
یہ جس قدر ہبہ مولوی صاحب مرحوم نے اپنی صاحبزادیوں اور ایك صاحبزادی کو کئے ہیں سوا اس مکان کے جو غفورالنساء کے نام اس کی نابالغی میں خریداسب شرعا باطل وبے اثر ہیں جو جائدادیں مشاع ومشترك بلاتقسیم ہبہ کیں اورانہیں میں وہ نصف قطعہ اراضی اڈا داخل ہے جو نصف مشاعا بنام غفورالنساء خریدا تھایہ سب تو بوجہ مشاع ہونے کے باطل ہیں اور جو جدا گانہ ومسلم تھیں جیسے مکانات دکان کہ بی بی جان وغفورن وچھمن کو ایك ایك پورا دیا گیا ان کاہبہ یوں باطل ہوا کہ موہوب لہم نے حیات مولوی صاحب مرحوم میں قبضہ نہ پایابعد کا قبضہ شرعا بکار آمد نہیںدرمختارمیں موانع الرجوع میں ہے:
المیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلوقبلہ بطل الھبۃ ۔ میم سے مراد قبضہ دینے کے بعد فریقین میں سے کسی کی موت ہے اور قبضہ سے قبل موت ہوجائے تو ہبہ باطل ہوگا۔ (ت)
تفصیل تحریر جائداد مولوی صاحب موصوف
مسماۃ بی بی جان دختر کلاں ۵بسوہ ۱۰بسوانسی ۳کچوانسی ۴ تنوانسی کسی زائد زمینداری موضع نودیا ایك مکان پختہ مشرق روپیہ واقع محلہ خواجہ قطب ونصف قطعہ اراضی اڈاواقع بریلی کٹرہ ہان رائے۔
مسماۃ غفورالنساء دختر خورد ۵بسوہ ۱۰ بسوانسی ۳کچوانسی ۴ تنوانسی کسی زائد زمینداری موضع نو دیاایك مکان پختہ واقع نالاونصف قطعہ اراضی اڈا واقع بریلی کٹرہ مان رائے۔
یہ حقیقت مولوی صاحب نے پہلے ہی بنام غفورالنساء خرید کی تھی وہ حصے میں مجرا کیغفورالنساء اس وقت ناکتخدانابالغہ تھی۔
قمرالدین نواسہ یك بسوہ موضع راجوپور ومکان مسکون واقع کٹرہ مان رائے
مسماۃ چھمن نواسی یك دکان واقع بازار کٹرہ مان رائے۔
الجواب:
یہ جس قدر ہبہ مولوی صاحب مرحوم نے اپنی صاحبزادیوں اور ایك صاحبزادی کو کئے ہیں سوا اس مکان کے جو غفورالنساء کے نام اس کی نابالغی میں خریداسب شرعا باطل وبے اثر ہیں جو جائدادیں مشاع ومشترك بلاتقسیم ہبہ کیں اورانہیں میں وہ نصف قطعہ اراضی اڈا داخل ہے جو نصف مشاعا بنام غفورالنساء خریدا تھایہ سب تو بوجہ مشاع ہونے کے باطل ہیں اور جو جدا گانہ ومسلم تھیں جیسے مکانات دکان کہ بی بی جان وغفورن وچھمن کو ایك ایك پورا دیا گیا ان کاہبہ یوں باطل ہوا کہ موہوب لہم نے حیات مولوی صاحب مرحوم میں قبضہ نہ پایابعد کا قبضہ شرعا بکار آمد نہیںدرمختارمیں موانع الرجوع میں ہے:
المیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلوقبلہ بطل الھبۃ ۔ میم سے مراد قبضہ دینے کے بعد فریقین میں سے کسی کی موت ہے اور قبضہ سے قبل موت ہوجائے تو ہبہ باطل ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الہبۃ باب الرجوع فی الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
وہ مکان کہ غفور النساء بیگم کے نام اس کی نابالغی میں خریدا از انجا کہ مسلم بھی تھا اور نابالغ کے ہبہ میں باپ کا قبضہ نابالغ کا قبضہ قرار پاتاہے اس کا ہبہ صحیح وتمام ہوگیاپس صرف وہ ایك مکان بحق غفورالنساء مسلم رہے گا اور باقی تمام جائداد مکتوبہ موہوبہ وغیر موہوبہ سب یکساں حالت میں ترکہ مولوی صاحب مرحوم قرار پائے گی اس میں سے اولا دین مہر ادا کیا جائے گا یوں کہ مہر سے ایك چہارم خود بحق مولوی صاحب ساقط ہوکر باقی تین ربع مہر کے نوحصوں پر تقسیم ہوں گے چار چار حصے ہر دختر اور ایك حصہ زوجہ کی بہن کوملے گا اس سے فارغ ہو کر جو جائدادبچے مولوی صاحب مرحوم کی دونوں بیٹیوں اور ہمشیرہ مولوی صاحب پر بحصہ مساوی تقسیم ہوجائے گیواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۵: ۲۸ شعبان المعظم ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك مکان بنام ہندہ اپنی دختر کے ہبہ کرکے قبضہ دلادیا تھا کہ اب تك قابضہ ہے اب زید نے بدست عمرو وہی مکان بیع کردیاکیا یہ بیع صحیح ونافذ وجائز ہےبینواتوجروا
الجواب:
یہ بیع صحیح ونافذ نہیں بعد تکمیل ہبہ زید کواپنی بیٹی سے رجوع کا اصلا اختیار نہیں۔
فان القرابۃ من موانع الرجوع علی مانص علیہ فی جمیع الکتب ۔ کیونکہ قرابت رجوع کے موانع میں سے ہے تمام کتب میں اس پر نص موجود ہے۔(ت)
ہندہ کو اختیار ہے کہ اس بیع کو رد کردے تو محض باطل ہوجائے گی اور چاہے تو قبول کرے اس وقت یہ بیع نافذ ہوجائے گی اورقیمت جو کچھ ٹھہری ہے خودہندہ پائے گی زید کو اس سے کچھ تعلق نہ ہوگا کہ ہبہ دلانے سے کامل ہوگیا اب مکان کا مالك زید نہیں ہندہ ہےہاں اگر زید محتاج حاجتمند ہو اپنی ضرورت کے لئے اس مال کو بیچنا چاہے تو اس کا اختیارباپ کو اولاد کے خود اپنے ذاتی مال میں بھی ہے مگر بیان سائل سے معلوم ہوا کہ یہاں یہ صورت نہیںزید کو کوئی ضرورت نہیں صرف دختر سے لے کر پسر کو دینا چاہتاہے اس کا ہرگز اختیارنہیںواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۶: ازٹھریاموہن پور مرسلہ حافظ عبدالرب خان یکم جمادی الاولی ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذامیں کہ ایك شخص حافظ قرآن بالعوض پڑھنے قران کے
مسئلہ ۸۵: ۲۸ شعبان المعظم ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك مکان بنام ہندہ اپنی دختر کے ہبہ کرکے قبضہ دلادیا تھا کہ اب تك قابضہ ہے اب زید نے بدست عمرو وہی مکان بیع کردیاکیا یہ بیع صحیح ونافذ وجائز ہےبینواتوجروا
الجواب:
یہ بیع صحیح ونافذ نہیں بعد تکمیل ہبہ زید کواپنی بیٹی سے رجوع کا اصلا اختیار نہیں۔
فان القرابۃ من موانع الرجوع علی مانص علیہ فی جمیع الکتب ۔ کیونکہ قرابت رجوع کے موانع میں سے ہے تمام کتب میں اس پر نص موجود ہے۔(ت)
ہندہ کو اختیار ہے کہ اس بیع کو رد کردے تو محض باطل ہوجائے گی اور چاہے تو قبول کرے اس وقت یہ بیع نافذ ہوجائے گی اورقیمت جو کچھ ٹھہری ہے خودہندہ پائے گی زید کو اس سے کچھ تعلق نہ ہوگا کہ ہبہ دلانے سے کامل ہوگیا اب مکان کا مالك زید نہیں ہندہ ہےہاں اگر زید محتاج حاجتمند ہو اپنی ضرورت کے لئے اس مال کو بیچنا چاہے تو اس کا اختیارباپ کو اولاد کے خود اپنے ذاتی مال میں بھی ہے مگر بیان سائل سے معلوم ہوا کہ یہاں یہ صورت نہیںزید کو کوئی ضرورت نہیں صرف دختر سے لے کر پسر کو دینا چاہتاہے اس کا ہرگز اختیارنہیںواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۶: ازٹھریاموہن پور مرسلہ حافظ عبدالرب خان یکم جمادی الاولی ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذامیں کہ ایك شخص حافظ قرآن بالعوض پڑھنے قران کے
حوالہ / References
درمختار کتاب الہبۃ باب الرجوع فی الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۴€
کچھ جائداد مسماتوں زمیندار سے ہبہ کرائیواہبان نے ہبہ نامہ میں یہ شرط درج کرائی ہے کہ موہوب لہ کو تاحیات ہماری قرآن مجید اب وجد مرحوم کو پڑھنا ہوگا مگر یہ شرط نہیں ڈالی گئی کہ دویا ایك پارہ دو یا ایك ختم پڑھے وہی حافظ امامت کرتاہے تمام گاؤں کیآیا اس شخص کے پیچھے نماز درست ہے یانادرستایك مسماۃ ان واہبان میں سے فوت ہوگئی ہے اورغیر شخص مردہ یا زندہ کو اگرحافظ قرآن پڑھ کر ثواب بخشیں پہنچ سکتاہے یانہیں اورواہبان کے مرنے پر حافظ قرآن رہا اس شرط سے ہوسکتاہے یانہیں نقل ہبہ نامہ کی اس خط میں حضور ملاحظہ فرمائیںفقط پہلے اس مسئلہ کا سوال گنگوہ کو بھیجا تھا وہاں سے جوا ب آیا تھا کہ اس کی امامت نادرست ہےدوبارہ پھر سوال کیا گیا کہ اب کس طرح پر حافظ مذکور کی امامت درست ہوسکتی ہےاس کا جواب یہ آیا جس کی نقل بعینہ یہ ہے۔
الجواب:
اس امام کی توبہ یہی ہے کہ وہ زمین واہب کو واپس کردےواہب مرگیا ہو تو اس کے وارثوں کو لوٹا دےپھراس کو ایصال ثواب کااختیار ہے لوجہ اﷲ ایصال ثواب روح میت کو کرے یانہ کرےاگر وہ زمین واپس کردے اور اپنے فعل پر نادم ہو تو پھر اس کی امامت میں مضائقہ نہیں ہےفقطواﷲ تعالی اعلم۔بندہ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ رشید احمد ۱۳۰۱ھ
اصل مسئلہ گنگوہ کا بھی مرسل خدمت ہے جو حکم ہو مطلع فرمائیں۔فقط
الجواب:
ملاحظہ ہبہ نامہ سے ظاہر ہواکہ یہ زمین جو ہیبت خان زمیندار ٹھریاکی زوجہ ودختر نے کہ باہم اس کی زمینداری میں شریك تھیں موہوب لہ کو ہبہ کی تین نمبرمستقل جداگانہ غیر مشاع ہیںوہ نمبر توخود ہی جدا تھے اورتیسرے کی نسبت بیان سائل سے معلوم ہوا کہ وہ ایك نمبر مملوك واہبات سے ایك ٹکڑا تھا جسے واہبات نے کھائی کھدواکر علیحدہ کردیا اور ہر سہ نمبر موہوب پر موہوب بلہ کو قبضہ کا ملہ دے دیاپس صورت مستفسرہ میں وہ ہبہ صحیح وتام ونافذ ہوگیا کہ موہوب کا دو واہبوں میں مشترك ہونا مانع صحت ہبہ نہیںدرمختارمیں ہے:
وھب اثنان دارا لواحد صح لعدم الشیوع ۔ دو حضرات نے ایك مکان کسی ایك کو ہبہ کیا تو صحیح ہے شیوع نہ ہونے کی وجہ سے(ت)
الجواب:
اس امام کی توبہ یہی ہے کہ وہ زمین واہب کو واپس کردےواہب مرگیا ہو تو اس کے وارثوں کو لوٹا دےپھراس کو ایصال ثواب کااختیار ہے لوجہ اﷲ ایصال ثواب روح میت کو کرے یانہ کرےاگر وہ زمین واپس کردے اور اپنے فعل پر نادم ہو تو پھر اس کی امامت میں مضائقہ نہیں ہےفقطواﷲ تعالی اعلم۔بندہ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ رشید احمد ۱۳۰۱ھ
اصل مسئلہ گنگوہ کا بھی مرسل خدمت ہے جو حکم ہو مطلع فرمائیں۔فقط
الجواب:
ملاحظہ ہبہ نامہ سے ظاہر ہواکہ یہ زمین جو ہیبت خان زمیندار ٹھریاکی زوجہ ودختر نے کہ باہم اس کی زمینداری میں شریك تھیں موہوب لہ کو ہبہ کی تین نمبرمستقل جداگانہ غیر مشاع ہیںوہ نمبر توخود ہی جدا تھے اورتیسرے کی نسبت بیان سائل سے معلوم ہوا کہ وہ ایك نمبر مملوك واہبات سے ایك ٹکڑا تھا جسے واہبات نے کھائی کھدواکر علیحدہ کردیا اور ہر سہ نمبر موہوب پر موہوب بلہ کو قبضہ کا ملہ دے دیاپس صورت مستفسرہ میں وہ ہبہ صحیح وتام ونافذ ہوگیا کہ موہوب کا دو واہبوں میں مشترك ہونا مانع صحت ہبہ نہیںدرمختارمیں ہے:
وھب اثنان دارا لواحد صح لعدم الشیوع ۔ دو حضرات نے ایك مکان کسی ایك کو ہبہ کیا تو صحیح ہے شیوع نہ ہونے کی وجہ سے(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
اورخلاصہ عبارت ہبہ نامہ یہ ہے:"اراضی نمبران مندرجہ ذیل مع درختان بنام حافظ عبداﷲ خاں بالعوض خواندن قرآن شریف عزیزخاں دادا وہیبت خاں والد کے ہبہ کیاور بخشی ہم نے موہوب کو تاحیات ہماری قرآن شریف واسطے مورثان موصوفان کے پڑھنا ہوگالہذا یہ ہبہ نامہ لکھ دیا کہ سند ہو۔"ظاہر ہے کہ واہبات وموہوب لہ نے اسے ہبہ ہی کہاا ور یہی سمجھا اور ہبہ ہی کا ارادہ کیا بعوض قرآن خوانی کہہ دینے سے وہ عقد ہبہ سے نکل کر بیع نہیں ہوسکتا کہ باطل ٹھہرے اور موہوب لہ پر اس کا واپس دینا لازم ہو اور نہ اس کی امامت میں مضائقہقرآن خوانی کوئی مال نہیںہبہ بالعوض اس وقت بیع ہوتاہے کہ بعوض کسی مال کے ہو ولہذا قرۃ العیون میں زیر قول شارح اما لوقال وھبت بکذا فھو بیع(لیکن اگر یوں کہا تجھے اتنے کے عوض ہبہ کیا تو بیع ہوگئی۔ت)لکھا:
لان الباء للمقابلۃ والمال المقابل بالمال بیع ۔ کیونکہ یہاں باء مقابلہ کے لئے ہے مال بمقابلہ مال بیع ہے۔(ت)
تبیین الحقائق وبحرالرائق واشباہ والنظائر وغایۃ البیان وغیرہاشروح ہدایا وغیرہا میں تصریح فرمائی کہ ہبہ بالعوض کا بیع ہونابوجہ عبرت معانی ہےاورپرظاہر کہ معنی بیع اس وقت متحقق ہوں گے کہ مقابلہ مال بمال ہوتو بے تحقیق معنی خواہ اسے ابطال تصرف عاقد واہمال کلام عاقل کے لئے بیع کی طرف پھیرلے جانا اور لفظ کہ عاقد نے بولے اپنے صحیح سلم سے بلاوجہ توڑکر معنی ناممکن کی طرف ڈھالنا محض مہمل بے معنی ہےحالانکہ قاعدہ شرع اعمال الکلام اولی من اہمالہ (کسی کلام کو بالمعنی بنانا اس کو مہمل بنانے سے بہترہے۔ت)نہ کہ عکس:
وقد حققنا فیما علقنا علی ہامش قرۃ العیون وغمز العیون من ھذا المقام ان مثل الھبۃ ھبۃ صحیحۃ لا بیع باطل بما یتعین المراجعۃ الیہ فارجع ہم نے اس کی تحقیق قرۃ العیون اور غمزالعیون پر اس مقام کے حاشیہ پر کی ہے کہ ہبہ کی مثلصحیح ہبہ ہوتاہے وہ باطل بیع نہیںہماری تحقیق قابل مراجعت ہے اس کی طرف
لان الباء للمقابلۃ والمال المقابل بالمال بیع ۔ کیونکہ یہاں باء مقابلہ کے لئے ہے مال بمقابلہ مال بیع ہے۔(ت)
تبیین الحقائق وبحرالرائق واشباہ والنظائر وغایۃ البیان وغیرہاشروح ہدایا وغیرہا میں تصریح فرمائی کہ ہبہ بالعوض کا بیع ہونابوجہ عبرت معانی ہےاورپرظاہر کہ معنی بیع اس وقت متحقق ہوں گے کہ مقابلہ مال بمال ہوتو بے تحقیق معنی خواہ اسے ابطال تصرف عاقد واہمال کلام عاقل کے لئے بیع کی طرف پھیرلے جانا اور لفظ کہ عاقد نے بولے اپنے صحیح سلم سے بلاوجہ توڑکر معنی ناممکن کی طرف ڈھالنا محض مہمل بے معنی ہےحالانکہ قاعدہ شرع اعمال الکلام اولی من اہمالہ (کسی کلام کو بالمعنی بنانا اس کو مہمل بنانے سے بہترہے۔ت)نہ کہ عکس:
وقد حققنا فیما علقنا علی ہامش قرۃ العیون وغمز العیون من ھذا المقام ان مثل الھبۃ ھبۃ صحیحۃ لا بیع باطل بما یتعین المراجعۃ الیہ فارجع ہم نے اس کی تحقیق قرۃ العیون اور غمزالعیون پر اس مقام کے حاشیہ پر کی ہے کہ ہبہ کی مثلصحیح ہبہ ہوتاہے وہ باطل بیع نہیںہماری تحقیق قابل مراجعت ہے اس کی طرف
حوالہ / References
قرۃ عیون الاخیار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الہبۃ مصطفی البابی ∞مصر ۲/ ۳۷۸€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدہ التاسعہ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۶۸€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدہ التاسعہ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۶۸€
الیہ ان شئت وباﷲ التوفیق۔ رجوع کر اگر توچاہےاورتوفیق اﷲ تعالی سے ہے۔(ت)
تو اس عوض کا حاصل نہ رہا مگر ایك شرط فاسداور ظاہر ہے کہ ہبہ شرط فاسد سے فاسدنہیں ہوتا بلکہ وہ شرط ہی باطل ہوجاتی ہے تو ہر گز موہوب لہ پر لازم نہیں کہ وہ زمین واپس کرےنہ اس کی وجہ سے اس کی امامت میں کوئی نقصان ہے کہ اس نے مال حرام نہ لیا کوئی عقد جائز نہ کیا ہاں اتنا ہوا کہ اس احسان کے عوض یہ شرط قبول کرلی کہ تاحیات واہبات ان کے مورثوں کو ایصال ثواب کروں گایہ کوئی محظور شرعی نہیں بلکہ احسان کے عوض احسان کرنا شرع پسند فرماتی ہے
قال اﷲ تعالی "ہل جزاء الاحسن الا الاحسن ﴿۶۰﴾ " و لئن فرض انہ ارتکب الاجارۃ عن التلاوۃ للمیت مع انہ لاعین لہا ہہنا ولااثرولاذکر ولاخبر فالمحقق و ان کان بطلانہا ولکن کثیر من العلماء صرحوا بجوازہا وبہ نص فی السراجیۃ و الہندیۃ والدر المختار و غیرہا فمن اتبع امثال ہؤلاء کیف یحکم علیہ بمنع امامتہ لاسیما الحکم"بنادرست" الذی ہو بمعنی لا تصح فان غایتہ الاثم فان فرض فسقا فامامۃ الفاسق و ان کرھت عندالتحقیق تحریما صحیحۃ قطعا ولکن مفاسدالجہل واخنی اﷲ تعالی نے فرمایا:احسان کا بدلہ احسان ہےاوراگر فرض کیا جائے کہ میت کے لیے تلاوت پر اجارہ ہے حالانکہ نہ یہ معین ہے اور نہ یہاں حکایتنہ اس کاذکر اور نہ اس کی کوئی خبر ہے تو اگرچہ تحقیق یہ ہے کہ یہ باطل ہے لیکن بہت سے علماء کرام نے اس کے جواز کی تصریح کی ہے اور اسی پر سراجیہہندیہ اور درمختار وغیرہ میں نص فرمائی ہے تو جو شخص ان فقہاء کرام کی اتباع میں ایسا کرے تو اس پر یہ حکم کیسے ہوسکتاہے کہ اس کی امامت ناجائز ہے خصوصا"نادرست" کے لفظ سے حکم لگانا جس کا معنی"لاتصح"ہے غلط ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ اگر ہے تو وہ گناہ ہے اورا گر اس کو فسق بھی کہا جائے تو اگرچہ فاسق کی امامت تحقیق میں مکروہ تحریمہ ہے لیکن صحیح ضرور ہے لیکن جہالت کے مفاسد کثیر ترین اور قابل نفرت
تو اس عوض کا حاصل نہ رہا مگر ایك شرط فاسداور ظاہر ہے کہ ہبہ شرط فاسد سے فاسدنہیں ہوتا بلکہ وہ شرط ہی باطل ہوجاتی ہے تو ہر گز موہوب لہ پر لازم نہیں کہ وہ زمین واپس کرےنہ اس کی وجہ سے اس کی امامت میں کوئی نقصان ہے کہ اس نے مال حرام نہ لیا کوئی عقد جائز نہ کیا ہاں اتنا ہوا کہ اس احسان کے عوض یہ شرط قبول کرلی کہ تاحیات واہبات ان کے مورثوں کو ایصال ثواب کروں گایہ کوئی محظور شرعی نہیں بلکہ احسان کے عوض احسان کرنا شرع پسند فرماتی ہے
قال اﷲ تعالی "ہل جزاء الاحسن الا الاحسن ﴿۶۰﴾ " و لئن فرض انہ ارتکب الاجارۃ عن التلاوۃ للمیت مع انہ لاعین لہا ہہنا ولااثرولاذکر ولاخبر فالمحقق و ان کان بطلانہا ولکن کثیر من العلماء صرحوا بجوازہا وبہ نص فی السراجیۃ و الہندیۃ والدر المختار و غیرہا فمن اتبع امثال ہؤلاء کیف یحکم علیہ بمنع امامتہ لاسیما الحکم"بنادرست" الذی ہو بمعنی لا تصح فان غایتہ الاثم فان فرض فسقا فامامۃ الفاسق و ان کرھت عندالتحقیق تحریما صحیحۃ قطعا ولکن مفاسدالجہل واخنی اﷲ تعالی نے فرمایا:احسان کا بدلہ احسان ہےاوراگر فرض کیا جائے کہ میت کے لیے تلاوت پر اجارہ ہے حالانکہ نہ یہ معین ہے اور نہ یہاں حکایتنہ اس کاذکر اور نہ اس کی کوئی خبر ہے تو اگرچہ تحقیق یہ ہے کہ یہ باطل ہے لیکن بہت سے علماء کرام نے اس کے جواز کی تصریح کی ہے اور اسی پر سراجیہہندیہ اور درمختار وغیرہ میں نص فرمائی ہے تو جو شخص ان فقہاء کرام کی اتباع میں ایسا کرے تو اس پر یہ حکم کیسے ہوسکتاہے کہ اس کی امامت ناجائز ہے خصوصا"نادرست" کے لفظ سے حکم لگانا جس کا معنی"لاتصح"ہے غلط ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ اگر ہے تو وہ گناہ ہے اورا گر اس کو فسق بھی کہا جائے تو اگرچہ فاسق کی امامت تحقیق میں مکروہ تحریمہ ہے لیکن صحیح ضرور ہے لیکن جہالت کے مفاسد کثیر ترین اور قابل نفرت
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۵۵/ ۶۰€
نسأل اﷲ العافیۃ۔ ہیںہم اﷲ تعالی سے عافیت کے طالب ہیں۔(ت)
مسلمان زندہ یامردہ جسے چاہیں تلاوت قرآن وغیرہ جس نیك کام کا ثواب چاہیں پہنچاسکتے ہیںبفضلہ تعالی پہنچتاہے اور اسے نفع دیتاہےحافظ قرآن پر اس شرط کی پابندی نہ حیات واہبات میں واجب ہے نہ ان کے بعد
کما تقدم ان الشرط فی الھبۃ ھو الذی یبطل والباطل لاعمل لہ۔ کیونکہ پہلے گزرا ہے ہبہ میں فاسد شرط خود باطل ہوجاتی ہے اور باطل شرط کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔(ت)
مگر ایفائے وعدہ اور احسان بعوض احسان کے طورپر اسے مناسب ہے کہ جب تك یہ دوسری واہبہ زندہ ہے ان مورثوں کو جتنا چاہے پڑھ کر بخشتارہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۷: ۷ربیع الآخر ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے مرض الموت میں اپنے شوہر زید کو اپنا دین مہر معاف کردیااب زید بری ہوگیا یا یہ معافی وصیت متصور ہوکر زید دوثلث کے ادا کا عنداﷲ مواخذہ داررہے گا اگرچہ ورثہ دنیا میں شرم سے نہ مانگیں۔ بینوا توجروا
الجواب:
مرض الموت میں اپنا دین دائن کوہبہ یا معاف کرنا حکم وصیت میں ہے اور زوج وارث ہے اوروارث کے لئے وصیت بے اجازت دیگر ورثہ باطل ہے کہ ثلث وغیرہ کسی حصے میں نافذ نہیں ہوسکتی۔پس صورت مسئولہ میں اگر کل وارث عاقل بالغ ہوں اور اس معانی مہر کوجائز رکھیں معاف ہوجائیگااوربعض اجازت دیں تو بقدر انہیں کے حصہ کے ساقط ہوگا اور کوئی اجازت نہ دیں تو دیگر ورثاء کا حصہ کہ نصف یا تین ربع مہر ہے تمام وکمال واجب الادا رہے گاعورت کا معاف کرنا کچھ معتبر نہ ہوگا خزانۃ المفتین وہندیہ میں ہے:
مریضۃ قالت لزوجھا ان مت من مرضی ھذا فمھری علیك صدقۃ اوفانت فی حل من مھری فماتت من ذلك المرض فقولھا باطل والمھر علی الزوج ۔ مریضہ بیوی نے خاوند کو کہا اگرمیں اس مرض میں فوت ہوجاؤں تو میرامہر تجھ پر صدقہ ہےیا کہے"تومہرسے آزاد ہے" تووہ اس مرض میں فوت ہوگئی تو بیوی کا یہ قول باطل ہوگا اورمہر خاوند کے ذمہ لازم رہے گا۔(ت)
مسلمان زندہ یامردہ جسے چاہیں تلاوت قرآن وغیرہ جس نیك کام کا ثواب چاہیں پہنچاسکتے ہیںبفضلہ تعالی پہنچتاہے اور اسے نفع دیتاہےحافظ قرآن پر اس شرط کی پابندی نہ حیات واہبات میں واجب ہے نہ ان کے بعد
کما تقدم ان الشرط فی الھبۃ ھو الذی یبطل والباطل لاعمل لہ۔ کیونکہ پہلے گزرا ہے ہبہ میں فاسد شرط خود باطل ہوجاتی ہے اور باطل شرط کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔(ت)
مگر ایفائے وعدہ اور احسان بعوض احسان کے طورپر اسے مناسب ہے کہ جب تك یہ دوسری واہبہ زندہ ہے ان مورثوں کو جتنا چاہے پڑھ کر بخشتارہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۷: ۷ربیع الآخر ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے مرض الموت میں اپنے شوہر زید کو اپنا دین مہر معاف کردیااب زید بری ہوگیا یا یہ معافی وصیت متصور ہوکر زید دوثلث کے ادا کا عنداﷲ مواخذہ داررہے گا اگرچہ ورثہ دنیا میں شرم سے نہ مانگیں۔ بینوا توجروا
الجواب:
مرض الموت میں اپنا دین دائن کوہبہ یا معاف کرنا حکم وصیت میں ہے اور زوج وارث ہے اوروارث کے لئے وصیت بے اجازت دیگر ورثہ باطل ہے کہ ثلث وغیرہ کسی حصے میں نافذ نہیں ہوسکتی۔پس صورت مسئولہ میں اگر کل وارث عاقل بالغ ہوں اور اس معانی مہر کوجائز رکھیں معاف ہوجائیگااوربعض اجازت دیں تو بقدر انہیں کے حصہ کے ساقط ہوگا اور کوئی اجازت نہ دیں تو دیگر ورثاء کا حصہ کہ نصف یا تین ربع مہر ہے تمام وکمال واجب الادا رہے گاعورت کا معاف کرنا کچھ معتبر نہ ہوگا خزانۃ المفتین وہندیہ میں ہے:
مریضۃ قالت لزوجھا ان مت من مرضی ھذا فمھری علیك صدقۃ اوفانت فی حل من مھری فماتت من ذلك المرض فقولھا باطل والمھر علی الزوج ۔ مریضہ بیوی نے خاوند کو کہا اگرمیں اس مرض میں فوت ہوجاؤں تو میرامہر تجھ پر صدقہ ہےیا کہے"تومہرسے آزاد ہے" تووہ اس مرض میں فوت ہوگئی تو بیوی کا یہ قول باطل ہوگا اورمہر خاوند کے ذمہ لازم رہے گا۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ خزانۃ المفتین کتاب الھبۃ الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۹۸€
نہر الفائق وعقود الدریہ میں مسئلہ مذکورہ خانیہ سے نقل کرکے فرمایا:
وکان ینبغی ان یقال ان اجازت الورثۃ تصح لان المانع من صحۃ الوصیۃ کونہ وارثا ۔ مناسب یہ تھا کہ یوں کہتے اگر باقی ورثاء جائز کردیں تو صحیح ہے کیونکہ وصیت کے موانع میں سے وارث ہونا بھی ہے۔(ت)
جامع المضمرات شرح قدوری وعالمگیریہ میں ہے:
مریضۃ وھبت صداقھا من زوجھا ان کانت مریضۃ مرض الموت لایصح الاباجازۃ الورثۃ اھ مختصرا۔ واﷲ تعالی اعلم۔ مریضہ نے اپنا مہر خاوند کو ہبہ کیااور وہ مرض الموت کی مریضہ ہے تو یہ ہبہ ورثاء کی اجازت کے بغیر صحیح نہیں اھ مختصرا۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۸۸: ۲۱ جمادی الآخرہ ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ظہورن نے اپنی ایك دکان کی تعمیر عملہ کے نسبت اپنے داماد عبدالوہاب خان کو اجازت دی کہ اسے تم اپنے روپے سے درست کرلو جو کچھ کرایہ تمہارے عملے کی وجہ سے بڑھ جائے گا وہ تم لیا کرناعبدالوہاب خاں نے اس ایك دکان کو دو دکانیں کردیا بڑی اور چھوٹیدکان کا پہلا عملہ جو تھا اس میں سے کڑیاں بیکار نکل گئیںعبدالوہاب خاں نے کڑیاں اپنے ہی پاس سے ڈالیں مگر اینٹیں اگلی اور اپنے پاس سے نئی ملاکر دونوں دکانیں بنائیںیہ تعیین نہیں ہوسکتی کہ کس دکان میں کتنی اینٹ پہلی اور کتنی نئی ہےپھر عبدالوہاب خاں نے دونوں دکانوں پر خاص اپنے روپے سے بالاخانہ بنایا۔اب ان دکانوں کا کرایہ دس روپے ماہوار ہوگیا پہلے پانچ روپے تھاحسب قرارداد ظہورن اور عبدالوہاب خاں پانچ روپے ماہوار لیتے رہےیہ تمام عملہ عبدالوہاب خان نے ظہورن کی اجازت سے اپنے روپے سے اپنے لئے بنایا۱۸۹۸ء میں اس دکان کا ہبہ نامہ ظہورن وعبدالوہاب خاں کی طرف سے اس کی دختر اور اس کی زوجہ آبادی کے نام بایں تفصیل لکھا گیا کہ بڑی دکان ظہورن کی طرف سے اور چھوٹی دکان اور بالاخانہ عبدالوہاب خاں کی طر ف سے آبادی کے نام ہبہ ہواآبادی نے وصیت کی کہ جو کچھ میری ملك ہے اس کا مالك میرا خاوند ہے
وکان ینبغی ان یقال ان اجازت الورثۃ تصح لان المانع من صحۃ الوصیۃ کونہ وارثا ۔ مناسب یہ تھا کہ یوں کہتے اگر باقی ورثاء جائز کردیں تو صحیح ہے کیونکہ وصیت کے موانع میں سے وارث ہونا بھی ہے۔(ت)
جامع المضمرات شرح قدوری وعالمگیریہ میں ہے:
مریضۃ وھبت صداقھا من زوجھا ان کانت مریضۃ مرض الموت لایصح الاباجازۃ الورثۃ اھ مختصرا۔ واﷲ تعالی اعلم۔ مریضہ نے اپنا مہر خاوند کو ہبہ کیااور وہ مرض الموت کی مریضہ ہے تو یہ ہبہ ورثاء کی اجازت کے بغیر صحیح نہیں اھ مختصرا۔ واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۸۸: ۲۱ جمادی الآخرہ ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ظہورن نے اپنی ایك دکان کی تعمیر عملہ کے نسبت اپنے داماد عبدالوہاب خان کو اجازت دی کہ اسے تم اپنے روپے سے درست کرلو جو کچھ کرایہ تمہارے عملے کی وجہ سے بڑھ جائے گا وہ تم لیا کرناعبدالوہاب خاں نے اس ایك دکان کو دو دکانیں کردیا بڑی اور چھوٹیدکان کا پہلا عملہ جو تھا اس میں سے کڑیاں بیکار نکل گئیںعبدالوہاب خاں نے کڑیاں اپنے ہی پاس سے ڈالیں مگر اینٹیں اگلی اور اپنے پاس سے نئی ملاکر دونوں دکانیں بنائیںیہ تعیین نہیں ہوسکتی کہ کس دکان میں کتنی اینٹ پہلی اور کتنی نئی ہےپھر عبدالوہاب خاں نے دونوں دکانوں پر خاص اپنے روپے سے بالاخانہ بنایا۔اب ان دکانوں کا کرایہ دس روپے ماہوار ہوگیا پہلے پانچ روپے تھاحسب قرارداد ظہورن اور عبدالوہاب خاں پانچ روپے ماہوار لیتے رہےیہ تمام عملہ عبدالوہاب خان نے ظہورن کی اجازت سے اپنے روپے سے اپنے لئے بنایا۱۸۹۸ء میں اس دکان کا ہبہ نامہ ظہورن وعبدالوہاب خاں کی طرف سے اس کی دختر اور اس کی زوجہ آبادی کے نام بایں تفصیل لکھا گیا کہ بڑی دکان ظہورن کی طرف سے اور چھوٹی دکان اور بالاخانہ عبدالوہاب خاں کی طر ف سے آبادی کے نام ہبہ ہواآبادی نے وصیت کی کہ جو کچھ میری ملك ہے اس کا مالك میرا خاوند ہے
حوالہ / References
العقو د الدریۃ کتاب الوصایا ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۳۱۵€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ المضمرات کتاب الھبۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۰۲€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ المضمرات کتاب الھبۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۰۲€
پھر اس نے انتقال کیاشوہر اور ماں باپ اور دو۲بیٹیاں وارث چھوڑےباپ نے اس جائداد کو یوں تقسیم کیا کہ بڑی دکان نصف نصف دونوں نواسیوں کو دی اور چھوٹی دکان میں سے آدھی نواسی کے بیٹے کو اور آدھی اپنے دور کے رشتہ کواور بالاخانہ کی نسبت یہ لکھا کہ جیتے جی میں مالك اور میرے بعد میرا دادا مالکاس کے بعد اس کی لڑکیاں مالکسوال یہ ہے کہ تقسیم مذکورہ بالا اور یہ تحریر ٹھیك ہوئی یانہیں اور عبدالوہاب خاں نے اپنا روپیہ جو دکانوں اور بالاخانے کی تعمیر میں صرف کیا تو ان میں عبد الوہاب کا کوئی حق ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مسئولہ میں عبدالوہاب خان نے جو عملہ اپنے روپے سے اپنے لئے بنایا خاص ملك عبدالوہاب خان ہوابالاخانہ کہ تمام و کمال زر عبدالوہاب خاں سے بنا کل عبدالوہاب خاں کا ہے اور دونوں دکانوں میں کڑیاں بھی انھیں کی ہیں اور چنائی کہ مشترکہ اینٹوں سے ہوئی ظہورن اور عبدالوہاب خان کی حصہ رسد مشترکہ ہےاگرکمی بیشی معلوم ہوسکے مثلا دو تہائی اینٹیں ظہورن کی ہیں اور ایك تہائی عبدالوہاب خان کییا بالعکسجب تو اسی حساب سےورنہ نصفا نصف مشترك رہے گی۔
کما ھو الطریق حیث لا علم بالتفاضل کما نصوا علیہ فی غیر ما مسئلۃ من الشرکۃ وغیرھا۔ جیسا کہ یہ طریقہ ہے جہاں زائد کا علم نہ ہو فقہاء کرام نے شرکت وغیرہ کے کئی مسائل میں یہ تصریح فرمائی ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
لوعمر لنفسہ بلا اذنھا فالعمارۃ لہ و یکون غاصبا للعرصۃ ۔ اگر عورت کی زمین پر اس نے عمارت بغیر اجازت بنائی تو عمارت بنانے والے کی ہے اور خالی زمین کا غاصب قرار پائے گا۔(ت)
طحطاوی میں ہے:
فلو باذنھا تکون عاریۃ ۔ تو اگر اجازت سے تعمیر کی تو زمین عاریۃ ہوگی۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
الجواب:
صورت مسئولہ میں عبدالوہاب خان نے جو عملہ اپنے روپے سے اپنے لئے بنایا خاص ملك عبدالوہاب خان ہوابالاخانہ کہ تمام و کمال زر عبدالوہاب خاں سے بنا کل عبدالوہاب خاں کا ہے اور دونوں دکانوں میں کڑیاں بھی انھیں کی ہیں اور چنائی کہ مشترکہ اینٹوں سے ہوئی ظہورن اور عبدالوہاب خان کی حصہ رسد مشترکہ ہےاگرکمی بیشی معلوم ہوسکے مثلا دو تہائی اینٹیں ظہورن کی ہیں اور ایك تہائی عبدالوہاب خان کییا بالعکسجب تو اسی حساب سےورنہ نصفا نصف مشترك رہے گی۔
کما ھو الطریق حیث لا علم بالتفاضل کما نصوا علیہ فی غیر ما مسئلۃ من الشرکۃ وغیرھا۔ جیسا کہ یہ طریقہ ہے جہاں زائد کا علم نہ ہو فقہاء کرام نے شرکت وغیرہ کے کئی مسائل میں یہ تصریح فرمائی ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
لوعمر لنفسہ بلا اذنھا فالعمارۃ لہ و یکون غاصبا للعرصۃ ۔ اگر عورت کی زمین پر اس نے عمارت بغیر اجازت بنائی تو عمارت بنانے والے کی ہے اور خالی زمین کا غاصب قرار پائے گا۔(ت)
طحطاوی میں ہے:
فلو باذنھا تکون عاریۃ ۔ تو اگر اجازت سے تعمیر کی تو زمین عاریۃ ہوگی۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
حوالہ / References
درمختار مسائل شتی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۴۸€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر مسائل شتی دارالمعرفۃ بیروت ∞۴/ ۳۵۹€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر مسائل شتی دارالمعرفۃ بیروت ∞۴/ ۳۵۹€
قولہ فالعمارۃ لہ ھذا لو الالۃ کلھا لہ فلو بعضھا لہ وبعضھا لھا فھی بینھما ط عن المقدسی ۔ ماتن کا قول کہ"عمارتبنانے والے کی ہوگی"یہ تب ہے جب تعمیر کا سارا سامان اس کا ہوتو اگر کچھ اس کا اور کچھ عورت کا ہو تو عمارت مشترکہ ہوگی یہ طحطاوی میں مقدسی سے منقول ہے۔(ت)
ہبہ نامہ کہ ظہورن اور عبدالوہاب خاں نے آبادی کے نام کیا محض باطل ہوگیادونوں دکانوں کے عملے تویوں ہبہ نہ ہوئے کہ ہر عملہ ظہورن وعبدالوہاب خاں دونوں میں مشترکہ تھا عملہ کا دونوں کی طرف سے ہبہ ہونا چاہئے تھااور ہوا ایك ایك کی طرف سےتو ہر عملے میں دوسرے کا حصہ بے ہبہ رہااور وہ مشاع قابل تقسیم ہےاور ایسی شے کا ہبہ بلا تقسیم باطل ہےاور زمینیں یوں ہبہ نہ ہوئیں کہ چھوٹی دکان کی زمین مابلکہ زمین یعنی ظہورن نے ہبہ ہی نہ کیعبدالوہاب خاں جس کی طرف سے اس کا ہبہ لکھا گیا مالك زمین نہ تھا اور بڑی دکان کی زمین اگرچہ ظہورن نے ہبہ کی مگر اس پر مشترکہ عملہ قائم ہے جس کا ہبہ صحیح نہ ہوا او موہوب جب غیر موہوب سے یوں متصل ہو تو ہبہ مثل ہبہ مشاع منقسم باطل ہوجاتاہے بعینہ اسی دلیل سے بالاخانے کا ہبہ بھی اگرچہ مالك یعنی عبدالوہاب خاں نے کیا باطل ہوا کہ وہ بھی باقی رکھنے کے لئے ہبہ ہوا تھا نہ یوں آبادی عملہ تو ڑ کر اینٹ کڑی تختے پر قبضہ کرلےیوں ہوتا تو بالاخانہ کا ہبہ صحیح ہوجاتا جبکہ آبادی باذن عبدالوہاب خاں اسے توڑ کر عملے پر قبضہ کرلیتی مگر نہ وہ توڑ اگیا نہ یہ مقصود تھا اور اسے غیر موہوب سے اتصال تھالہذا وہ بھی باطل ہوگیاعقود الدریہ میں ہے:
ھبۃ البناء دون الارض لاتصح الا اذاسلطہ الواھب علی نقضہ ۔ زمین کے بغیر عمارت کا ہبہ صحیح نہیں الا یہ کہ واہب اس کو اکھاڑنے پر لگا دے۔(ت)
ہندیہ میں ہے:
وھب زرعافی ارض اوثمرا فی شجر اوحلیۃ فی سیف او بناء فی دار اوقفیزا من صبرۃ وامرہ بالحصاد والجزاز والنزع والنقض کھیت کے فصل یا پھل درخت پر یا تلوار میں جڑا ہوا سونا چاندی یا حویلی میں کوئی عمارت یا کھلیان میں سے قفیز غلہ ہبہ کیا اور فصل کاٹنےپھل کوتوڑنےتلوار سے جداکرناعمارت کو
ہبہ نامہ کہ ظہورن اور عبدالوہاب خاں نے آبادی کے نام کیا محض باطل ہوگیادونوں دکانوں کے عملے تویوں ہبہ نہ ہوئے کہ ہر عملہ ظہورن وعبدالوہاب خاں دونوں میں مشترکہ تھا عملہ کا دونوں کی طرف سے ہبہ ہونا چاہئے تھااور ہوا ایك ایك کی طرف سےتو ہر عملے میں دوسرے کا حصہ بے ہبہ رہااور وہ مشاع قابل تقسیم ہےاور ایسی شے کا ہبہ بلا تقسیم باطل ہےاور زمینیں یوں ہبہ نہ ہوئیں کہ چھوٹی دکان کی زمین مابلکہ زمین یعنی ظہورن نے ہبہ ہی نہ کیعبدالوہاب خاں جس کی طرف سے اس کا ہبہ لکھا گیا مالك زمین نہ تھا اور بڑی دکان کی زمین اگرچہ ظہورن نے ہبہ کی مگر اس پر مشترکہ عملہ قائم ہے جس کا ہبہ صحیح نہ ہوا او موہوب جب غیر موہوب سے یوں متصل ہو تو ہبہ مثل ہبہ مشاع منقسم باطل ہوجاتاہے بعینہ اسی دلیل سے بالاخانے کا ہبہ بھی اگرچہ مالك یعنی عبدالوہاب خاں نے کیا باطل ہوا کہ وہ بھی باقی رکھنے کے لئے ہبہ ہوا تھا نہ یوں آبادی عملہ تو ڑ کر اینٹ کڑی تختے پر قبضہ کرلےیوں ہوتا تو بالاخانہ کا ہبہ صحیح ہوجاتا جبکہ آبادی باذن عبدالوہاب خاں اسے توڑ کر عملے پر قبضہ کرلیتی مگر نہ وہ توڑ اگیا نہ یہ مقصود تھا اور اسے غیر موہوب سے اتصال تھالہذا وہ بھی باطل ہوگیاعقود الدریہ میں ہے:
ھبۃ البناء دون الارض لاتصح الا اذاسلطہ الواھب علی نقضہ ۔ زمین کے بغیر عمارت کا ہبہ صحیح نہیں الا یہ کہ واہب اس کو اکھاڑنے پر لگا دے۔(ت)
ہندیہ میں ہے:
وھب زرعافی ارض اوثمرا فی شجر اوحلیۃ فی سیف او بناء فی دار اوقفیزا من صبرۃ وامرہ بالحصاد والجزاز والنزع والنقض کھیت کے فصل یا پھل درخت پر یا تلوار میں جڑا ہوا سونا چاندی یا حویلی میں کوئی عمارت یا کھلیان میں سے قفیز غلہ ہبہ کیا اور فصل کاٹنےپھل کوتوڑنےتلوار سے جداکرناعمارت کو
حوالہ / References
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۷۶€
العقود الدریۃ کتاب الہبۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۹۳€
العقود الدریۃ کتاب الہبۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۹۳€
والکیل وفعل صح استحساناویجعل کانہ وھبہ بعد الجزاز والحصاد ونحوھما و ان لم یأذن لہ بالقبض و فعل ضمن کذا فی الکافی ۔ اکھاڑنے اور کھلیان سے قفیر کے کیل کرنے کاحکم دے دیا اور موہوب لہ نے عمل کرلیا تو استحسانا ہبہ صحیح ہے اور یوں سمجھا جائے گا گویا کہ اس نے کاٹنے اور توڑنے وغیرہ کے بعد ہبہ کیا اور اگر واہب مذکورہ نے کارروائی کی اجازت نہ دی ہواور موہوب لہ خود مذکورہ کارروائی کرے گا تو وہ ضامن ہوگاکافی میں یوں ہے۔(ت)
مغنی المستفتی میں ہے:
افتی جد جدی المرحوم عمادالدین عن سوال رفع الیہ وصورتہ فیما اذا کان لزید عمارۃ قائمۃ فی ارض الغیر فملك زید العمارۃ المزبورۃ لزوجتہ و لم یأذن لھا بنقض العمارۃ فھل یکون التملیك غیر صحیح ام لا الجواب نعم یکون التملیك غیر صحیح کتبہ الفقیر عماد الدین عفی عنہ ۔ میرے پر دادا عماد الدین مرحوم نے فتوی دیا جب ان کو یہ سوال پیش کیا گیا کہ صورت یہ تھی کہ زید کی غیر کی زمین پر عمارت تھی جو اس نے اپنی زوجہ کی ملك کردی اور بیوی کو عمارت کا ملبہ اکھاڑنے کی اجازت نہ دی تو کیا تملیك صحیح ہوگییانہیں الجواب ہاں یہ تملیك صحیح نہ ہوگیکتبہ فقیر عماد الدین عفی عنہ۔(ت)
وجیز امام کردری میں ہے:
وھب ارضا فیھا زرع او نخیل او نخلا علیہ تمرا و وھب الزرع بدون الارض اوالنخل بلا ارض او نخلا بدون التمر لایجوز لان الموھوب متصل بغیر اتصال خلقۃ مع امکان القطع کسی نے ایسی زمین کا ہبہ کیا جس پر فصل یا کجھور کا درخت تھا یا کجھور کے درخت جن پر پھل تھا کا ہبہ کیایااس کا عکس یعنی فصل یا کجھور کا درخت بغیر زمین یا پھل بغیر درخت کا ہبہ کیا تو ناجائز ہوگا کیونکہ موہوب چیز غیر چیز کے ساتھ پیدائشی طور پر متصل ہے حالانکہ جدا کرنے کا امکان موجود ہے۔
مغنی المستفتی میں ہے:
افتی جد جدی المرحوم عمادالدین عن سوال رفع الیہ وصورتہ فیما اذا کان لزید عمارۃ قائمۃ فی ارض الغیر فملك زید العمارۃ المزبورۃ لزوجتہ و لم یأذن لھا بنقض العمارۃ فھل یکون التملیك غیر صحیح ام لا الجواب نعم یکون التملیك غیر صحیح کتبہ الفقیر عماد الدین عفی عنہ ۔ میرے پر دادا عماد الدین مرحوم نے فتوی دیا جب ان کو یہ سوال پیش کیا گیا کہ صورت یہ تھی کہ زید کی غیر کی زمین پر عمارت تھی جو اس نے اپنی زوجہ کی ملك کردی اور بیوی کو عمارت کا ملبہ اکھاڑنے کی اجازت نہ دی تو کیا تملیك صحیح ہوگییانہیں الجواب ہاں یہ تملیك صحیح نہ ہوگیکتبہ فقیر عماد الدین عفی عنہ۔(ت)
وجیز امام کردری میں ہے:
وھب ارضا فیھا زرع او نخیل او نخلا علیہ تمرا و وھب الزرع بدون الارض اوالنخل بلا ارض او نخلا بدون التمر لایجوز لان الموھوب متصل بغیر اتصال خلقۃ مع امکان القطع کسی نے ایسی زمین کا ہبہ کیا جس پر فصل یا کجھور کا درخت تھا یا کجھور کے درخت جن پر پھل تھا کا ہبہ کیایااس کا عکس یعنی فصل یا کجھور کا درخت بغیر زمین یا پھل بغیر درخت کا ہبہ کیا تو ناجائز ہوگا کیونکہ موہوب چیز غیر چیز کے ساتھ پیدائشی طور پر متصل ہے حالانکہ جدا کرنے کا امکان موجود ہے۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۸۰€
العقود الدریۃ بحوالہ مغنی المستفتی کتاب الھبۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۹۳€
العقود الدریۃ بحوالہ مغنی المستفتی کتاب الھبۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۹۳€
فقبض احدھما غیر ممکن فیما لہ الاتصال فیکون بمنزلۃ المشاع الذی یحتمل القسمۃ ۔ توایسی صورت میں موہوب پر قبضہ ناممکن ہے تو یہ مشاع چیز جو قابل تقسیم ہوکی طرح ہے۔(ت)
عالمگیری میں سراج وہاج سے ہے:
لان کل واحد منھما متصل بصاحبہ اتصال جزء بجزء فصار بمنزلۃ ھبۃ المشاع فیما یحتمل القسمۃ ۔ کیونکہ ہر ایك کا جز سے جز کا اتصال ہے تویہ قابل تقسیم مشاع چیز کے ہبہ کی طرح ہوگا۔(ت)
حاشیہ العلامۃ الحامدیۃ میں ہے:
والعمارۃ من ھذا القبیل وتمامہ فیہ وقد افاد و اجاد واوضح المرام وازاح الاوھام فان المسألۃ قد طغت فیھا اقلام وزلت فیھا اقدام والعبد الضعیف حرر فیھا الکلام علی ھامش التنقیح باحسن نظام وباﷲ العصمۃ وبہ الاعتصام۔ اور عمارت بھی اسی قبیل سے ہے اور مکمل بیان اس میں ہے اوراس نے خوب افادہ کیا اور مقصد کو واضح اوراوہام کا ازالہ کر دیاکیونکہ یہ مسئلہ ہے جس میں بہت سے قلم غلط راستے پر چل نکلے اورکئی قدم پھسل گئے اورعبد ضعیف نے تنقیح کے حاشیہ پر اس میں اچھے انداز پر کلام کیا ہے(ت)
پس صورت مستفسرہ میں وہ دونوں دکانیں بدستور ملك مالکان پر ہیں دونوں کی زمینیں پوری اور چنائی کا دوسرا حصہ اور سارابالاخانہ عبدالوہاب خان کا ہے آبادی کی وصیت یا اس کے باپ کی تقسیم کچھ قابل لحاظ نہیں سب مہمل وباطل ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۹: ۱۲ ربیع الاول شریف ۱۳۲۲ھ
نثار احمد مکان مسکن رابہ بچگان خورد سال ہبہ می کند الایك دختر کلاں کہ نکاحش کردہ آمد نام اوہم شامل کردن لازم ست یانہ نثار احمد اپنی سکونت والا مکان نابالغ بچوں کو ہبہ کرنا چاہتاہے اس کی ایك لڑکی شادی شدہ بالغ ہے اس کو بھی شامل کرنا ضروری ہے یانہیں
عالمگیری میں سراج وہاج سے ہے:
لان کل واحد منھما متصل بصاحبہ اتصال جزء بجزء فصار بمنزلۃ ھبۃ المشاع فیما یحتمل القسمۃ ۔ کیونکہ ہر ایك کا جز سے جز کا اتصال ہے تویہ قابل تقسیم مشاع چیز کے ہبہ کی طرح ہوگا۔(ت)
حاشیہ العلامۃ الحامدیۃ میں ہے:
والعمارۃ من ھذا القبیل وتمامہ فیہ وقد افاد و اجاد واوضح المرام وازاح الاوھام فان المسألۃ قد طغت فیھا اقلام وزلت فیھا اقدام والعبد الضعیف حرر فیھا الکلام علی ھامش التنقیح باحسن نظام وباﷲ العصمۃ وبہ الاعتصام۔ اور عمارت بھی اسی قبیل سے ہے اور مکمل بیان اس میں ہے اوراس نے خوب افادہ کیا اور مقصد کو واضح اوراوہام کا ازالہ کر دیاکیونکہ یہ مسئلہ ہے جس میں بہت سے قلم غلط راستے پر چل نکلے اورکئی قدم پھسل گئے اورعبد ضعیف نے تنقیح کے حاشیہ پر اس میں اچھے انداز پر کلام کیا ہے(ت)
پس صورت مستفسرہ میں وہ دونوں دکانیں بدستور ملك مالکان پر ہیں دونوں کی زمینیں پوری اور چنائی کا دوسرا حصہ اور سارابالاخانہ عبدالوہاب خان کا ہے آبادی کی وصیت یا اس کے باپ کی تقسیم کچھ قابل لحاظ نہیں سب مہمل وباطل ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۸۹: ۱۲ ربیع الاول شریف ۱۳۲۲ھ
نثار احمد مکان مسکن رابہ بچگان خورد سال ہبہ می کند الایك دختر کلاں کہ نکاحش کردہ آمد نام اوہم شامل کردن لازم ست یانہ نثار احمد اپنی سکونت والا مکان نابالغ بچوں کو ہبہ کرنا چاہتاہے اس کی ایك لڑکی شادی شدہ بالغ ہے اس کو بھی شامل کرنا ضروری ہے یانہیں
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علی ھامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۴۰۔۲۳۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۸۰€
العقود الدریہ کتاب الھبۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۹۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۸۰€
العقود الدریہ کتاب الھبۃ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۹۴€
ایں سہ بچگان از تمتع دنیاوی بہر نیافتہ اند وآں یکے متمتع شدہ۔ یہ تین نابالغ بچے دنیاوی سامان سے فائدہ حاصل کرنے کے اہل نہیں ہیں اور صرف وہ بالغ لڑکی اس کی اہل ہے۔(ت)
الجواب:
ہرچہ بیکے ازیں اطفال رسد اگر قیمتش برانچی بجہیز دختر کلاں دادہ شد زیادت واضح ندارد نام اوشامل کردن ضرورنیست لحصول ماارشد الیہ قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل بینك نحلت مثل ہذا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ان نابالغ بچوں کوجو حصہ ملتاہے اگر وہ شادی شدہ لڑکی کے جہیز سے واضح طورزائد نہ ہو تو اس لڑکی کو شامل کرنا ضروری نہیں ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کہ"کیا تم نے اپنے تمام بچوں کو اتنی مقدار ہبہ کیا ہے"پر عمل ہوگیا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۹۰: از پٹنہ محلہ لودی کٹرہ مرسلہ عبدالوحید صاحب ۱۳ذی الحجہ ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر شے موہوبہ کے ایك جز پر استحقاق ثابت ہو تو بہ نسبت شکل کے کیا حکم ہوگا اور یہ ہبہ با طل ہوگا یا کیا
الجواب:
استحقاق کے یہ معنی کہ ثابت ہوکہ شیئ موہوب تمام وکمال ملك واہب نہ تھی بلکہ اس کا ایك جز ملك مدعی نکلا مدعی نے دعوی کیا اورثبوت دیا اور وہ جز نکل گیا تو باقی میں بھی ہبہ باطل ہوجائے گا کہ ثابت ہو اکہ اول ہی سے ایك جز مشاع ہبہ ہوا تھا کہ ملك غیر کو ہبہ کردینے کا واہب کو کچھ اختیار نہ تھاپھر یہ اسی حالت میں ہے کہ شے موہوب قابل قسمت ہے ورنہ بعد استحقاق باقی کا ہبہ تام رہے گا کہ ناقابل قسمت کے ہبہ کو شیوع منع نہیں کرتااور اگر شیئ موہوب تمام وکمال بملك واہب تھی ہبہ میں ابتداء شیوع نہ تھا بعد کوکسی عارض کے سبب اس کا ایك جز ہبہ سے نکل گیامثلا واہب نے بتراضی یا قضائے قاضی نصف موہوب میں رجوع کرلییا ہبہ اجنبی کے ہاتھ تھا اورشیئ موہوب ثلث مال واہب سے زائد تھیورثہ نے ا جازت نہ دیثلث سے جس قدر زیادت تھی ہبہ سے خارج ہوگئی یا موہوب لہ وارث تھا دیگر ورثہ سے بعض نے اجازت دی بعض نے نہ دی کہ نہ دینے
الجواب:
ہرچہ بیکے ازیں اطفال رسد اگر قیمتش برانچی بجہیز دختر کلاں دادہ شد زیادت واضح ندارد نام اوشامل کردن ضرورنیست لحصول ماارشد الیہ قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل بینك نحلت مثل ہذا ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ان نابالغ بچوں کوجو حصہ ملتاہے اگر وہ شادی شدہ لڑکی کے جہیز سے واضح طورزائد نہ ہو تو اس لڑکی کو شامل کرنا ضروری نہیں ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کہ"کیا تم نے اپنے تمام بچوں کو اتنی مقدار ہبہ کیا ہے"پر عمل ہوگیا ہے۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۹۰: از پٹنہ محلہ لودی کٹرہ مرسلہ عبدالوحید صاحب ۱۳ذی الحجہ ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر شے موہوبہ کے ایك جز پر استحقاق ثابت ہو تو بہ نسبت شکل کے کیا حکم ہوگا اور یہ ہبہ با طل ہوگا یا کیا
الجواب:
استحقاق کے یہ معنی کہ ثابت ہوکہ شیئ موہوب تمام وکمال ملك واہب نہ تھی بلکہ اس کا ایك جز ملك مدعی نکلا مدعی نے دعوی کیا اورثبوت دیا اور وہ جز نکل گیا تو باقی میں بھی ہبہ باطل ہوجائے گا کہ ثابت ہو اکہ اول ہی سے ایك جز مشاع ہبہ ہوا تھا کہ ملك غیر کو ہبہ کردینے کا واہب کو کچھ اختیار نہ تھاپھر یہ اسی حالت میں ہے کہ شے موہوب قابل قسمت ہے ورنہ بعد استحقاق باقی کا ہبہ تام رہے گا کہ ناقابل قسمت کے ہبہ کو شیوع منع نہیں کرتااور اگر شیئ موہوب تمام وکمال بملك واہب تھی ہبہ میں ابتداء شیوع نہ تھا بعد کوکسی عارض کے سبب اس کا ایك جز ہبہ سے نکل گیامثلا واہب نے بتراضی یا قضائے قاضی نصف موہوب میں رجوع کرلییا ہبہ اجنبی کے ہاتھ تھا اورشیئ موہوب ثلث مال واہب سے زائد تھیورثہ نے ا جازت نہ دیثلث سے جس قدر زیادت تھی ہبہ سے خارج ہوگئی یا موہوب لہ وارث تھا دیگر ورثہ سے بعض نے اجازت دی بعض نے نہ دی کہ نہ دینے
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل حدیث نعمان بن بشیر المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/۲۶۸،€سنن النسائی کتاب النحل ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۱۳۵€
والوں کے حصے کے قدر جز موہوب سے آزاد ہوگیا تو ان صورتوں میں باقی کا ہبہ باطل نہ ہوگاعالمگیریہ میں ہے:
المفسد ھوالشیوع المقارن لا الشیوع الطاری ۔ ہبہ کا مفسد وہ شیوع ہے جو ہبہ کو مقارن ہو اور جو بعد میں لاحق ہو وہ شیوع مفسد نہیں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
لایمنع الشیوع صحۃ لاجازتہ ۔ شیوع اجازت کی صحت کو مانع نہیں ہےواﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۹۱: از لاہور مرسلہ مولوی عبداﷲ صاحب ۲۴ شعبان ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی دو منکوحہ میں سے ایك سے جب اس شخص نے نکاح کیااس کو ایك قبالہ نکاح لکھ کردیا جس میں چند مدات ہیںمنجملہ ان کے ایك مدیہ ہے جس کی عبارت(چھٹی یہ کہ جو کچھ مال واسباب میری ملك ہے اورہوگا اس سے بھی سوائے مضمون مرقومہ بالا کے نصفے دختر عموی صاحب مرحوم کا اور نصفے اہلیہ اول میری کاہے)اوراس قبالہ پر حاکم وقت کے دستخط ثبت کرادئےپس اب بعد مرنے اس شخص قبالہ نویس کے منکوحہ اس شخص کی باستدلال اس عبارت مندرجہ قبالہ کے جس پر دستخط حاکم ثبت ہیں اس شخص متوفی کے تمام اموال وجائداد متوفی پر دعوی کرے اور تقسیم اس کی بنام ہر دو منکوحہ متوفی کے چاہے اور اولاد متوفی کو محروم الارث قرار دے تو شرعا وہ جائداد ہر دومنکوحہ پر بموجب عبارت مذکورہ کے تقسیم ہوسکتی ہے یانہیں اور اولاد اس شخص متوفی کی محروم الارث رہ سکتی ہے یانہیں فقط بینوا توجروا۔
الجواب:
تحریر قبالہ مذکورہ محض بے اثر ہےوہ مال اس کی بنا پر تنہا دونوں زوجہ میں تقسیم نہیں ہوسکتانہ اولاد اس سے محروم ہوسکتی ہے۔
لانہ لیس باقرار لاضافتہ الملك الی نفسہولاوصیۃ لعدم الاضافۃ الی بعد الموت مع کونہ فی الصحۃ کیونکہ یہ اقرار نہیں اس لئے کہ اس نے ملکیت کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور وصیت بھی نہیں کیونکہ اپنی موت کے بعد کی طرف منسوب نہیں باوجود یکہ
المفسد ھوالشیوع المقارن لا الشیوع الطاری ۔ ہبہ کا مفسد وہ شیوع ہے جو ہبہ کو مقارن ہو اور جو بعد میں لاحق ہو وہ شیوع مفسد نہیں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
لایمنع الشیوع صحۃ لاجازتہ ۔ شیوع اجازت کی صحت کو مانع نہیں ہےواﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۹۱: از لاہور مرسلہ مولوی عبداﷲ صاحب ۲۴ شعبان ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی دو منکوحہ میں سے ایك سے جب اس شخص نے نکاح کیااس کو ایك قبالہ نکاح لکھ کردیا جس میں چند مدات ہیںمنجملہ ان کے ایك مدیہ ہے جس کی عبارت(چھٹی یہ کہ جو کچھ مال واسباب میری ملك ہے اورہوگا اس سے بھی سوائے مضمون مرقومہ بالا کے نصفے دختر عموی صاحب مرحوم کا اور نصفے اہلیہ اول میری کاہے)اوراس قبالہ پر حاکم وقت کے دستخط ثبت کرادئےپس اب بعد مرنے اس شخص قبالہ نویس کے منکوحہ اس شخص کی باستدلال اس عبارت مندرجہ قبالہ کے جس پر دستخط حاکم ثبت ہیں اس شخص متوفی کے تمام اموال وجائداد متوفی پر دعوی کرے اور تقسیم اس کی بنام ہر دو منکوحہ متوفی کے چاہے اور اولاد متوفی کو محروم الارث قرار دے تو شرعا وہ جائداد ہر دومنکوحہ پر بموجب عبارت مذکورہ کے تقسیم ہوسکتی ہے یانہیں اور اولاد اس شخص متوفی کی محروم الارث رہ سکتی ہے یانہیں فقط بینوا توجروا۔
الجواب:
تحریر قبالہ مذکورہ محض بے اثر ہےوہ مال اس کی بنا پر تنہا دونوں زوجہ میں تقسیم نہیں ہوسکتانہ اولاد اس سے محروم ہوسکتی ہے۔
لانہ لیس باقرار لاضافتہ الملك الی نفسہولاوصیۃ لعدم الاضافۃ الی بعد الموت مع کونہ فی الصحۃ کیونکہ یہ اقرار نہیں اس لئے کہ اس نے ملکیت کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور وصیت بھی نہیں کیونکہ اپنی موت کے بعد کی طرف منسوب نہیں باوجود یکہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۸€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/۳۷۸€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/۳۷۸€
فان کان فہبتہ مایوجد وھی باطلۃ وھبۃ الموجود مشاعا وقد بطلت بموت الواہب قبل التسلیم ولئن کانت وصیتہ لما نفذت للمرأتین الاجازۃ بقیۃ الورثاء کما لایخفی۔واﷲ تعالی اعلم۔ وہ صحت مندبھی ہے اور ہو بھی تو بعد میں موجود ہونے والی چیز کا ہبہ ہوگا جو کہ باطل ہے اور موجود چیز کا مشاع حالت میں ہے جو کہ قبضہ دینے سے قبل وفات سے باطل ہوگیا اور اگر وصیت ہو تو دونوں عورتوں کے لئے باقی ورثاء کی اجازت کے بغیر نافذ نہ ہوگا جیسا کہ مخفی نہیں ہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۲: از مرادآباد محلہ کسرول متصل مسجد مولسری مرسلہ مولوی حفظ الرشید صاحب ۴۵ شعبان ۱۳۲۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ مقروض ہےاس نے بحالت قرضدار ہونے کے اپنی جائداد غیر منقولہ کا ہبہ نامہ اپنے پسر بکر کے نام لکھ کر قبض دخل جائداد موہوبہ پر موہوب لہ کا کرادیاکیا شرعا ایسی حالت میں ہبہ مذکورہ جائز ہے یاناجائز دائن اپنے مطالبہ جائدادموہوبہ سے مواخذہ کرسکتاہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
جب تك دین کے عوض کوئی شیئ دائن کے پاس رہن نہ ہو دائن کا مطالبہ صرف ذات مدیون یعنی اس کے ذمہ پر ہو تاہے نہ کہ اس کے کسی مال معین پر تو ہبہ بوجہ قبضہ تام وکامل بلکہ محرومیت موہوب لہ لازم ہوگیا جس کا فسخ غیر ممکن ہے صرف تمامی ہبہ اس جائداد کو متورضہ عــــــہ دائن سے بری کرنے کے لئے بس تھی کہ ملك منتقل ہوگئیاب وہ شے ملك مدیون نہیں جس سے دائن اپنا دین وصول کرسکے نہ کہ اس صورت میں کہ عقد بوجہ امتناع رجوع ناقابل فسخ رہافتاوی ہندیہ میں ہے:
رکب الرجل دیون تستغرق اموالہ فطلب الغرماء من القاضی ان یحجر علیہ حتی لایہب مالہ و لا یتصدق بہ فالقاضی یحجر علیہ عندھما ویعمل حجرہ حتی لاتصح ھبتہ ایك شخص پر اتنے قرضے ہوگئے کہ اس کا تمام مال قرضوں میں گھر گیا اور قرضخواہ حضرات نے قاضی سے مطالبہ کیا کہ اس کو ہبہ اور تصدق سے روك دیا جائے اور قاضی نے اس پر پابندی لگادی تو صاحبین کے نزدیك جائز ہے اور یہ
عــــــہ: فی الاصل ھکذا اظنہ مواخذہ ۱۲ عبدالمنان۔
مسئلہ ۹۲: از مرادآباد محلہ کسرول متصل مسجد مولسری مرسلہ مولوی حفظ الرشید صاحب ۴۵ شعبان ۱۳۲۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ مقروض ہےاس نے بحالت قرضدار ہونے کے اپنی جائداد غیر منقولہ کا ہبہ نامہ اپنے پسر بکر کے نام لکھ کر قبض دخل جائداد موہوبہ پر موہوب لہ کا کرادیاکیا شرعا ایسی حالت میں ہبہ مذکورہ جائز ہے یاناجائز دائن اپنے مطالبہ جائدادموہوبہ سے مواخذہ کرسکتاہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
جب تك دین کے عوض کوئی شیئ دائن کے پاس رہن نہ ہو دائن کا مطالبہ صرف ذات مدیون یعنی اس کے ذمہ پر ہو تاہے نہ کہ اس کے کسی مال معین پر تو ہبہ بوجہ قبضہ تام وکامل بلکہ محرومیت موہوب لہ لازم ہوگیا جس کا فسخ غیر ممکن ہے صرف تمامی ہبہ اس جائداد کو متورضہ عــــــہ دائن سے بری کرنے کے لئے بس تھی کہ ملك منتقل ہوگئیاب وہ شے ملك مدیون نہیں جس سے دائن اپنا دین وصول کرسکے نہ کہ اس صورت میں کہ عقد بوجہ امتناع رجوع ناقابل فسخ رہافتاوی ہندیہ میں ہے:
رکب الرجل دیون تستغرق اموالہ فطلب الغرماء من القاضی ان یحجر علیہ حتی لایہب مالہ و لا یتصدق بہ فالقاضی یحجر علیہ عندھما ویعمل حجرہ حتی لاتصح ھبتہ ایك شخص پر اتنے قرضے ہوگئے کہ اس کا تمام مال قرضوں میں گھر گیا اور قرضخواہ حضرات نے قاضی سے مطالبہ کیا کہ اس کو ہبہ اور تصدق سے روك دیا جائے اور قاضی نے اس پر پابندی لگادی تو صاحبین کے نزدیك جائز ہے اور یہ
عــــــہ: فی الاصل ھکذا اظنہ مواخذہ ۱۲ عبدالمنان۔
ولاصدقتہ بعد ذلك لکن یشترط علم المحجور علیہ حتی ان کل تصرف باشرہ قبل العلم بہ یکون صحیحا (ملخصا) پابندی مؤثر ہوگی کہ وہ اپنے مال کو ہبہ یا صدقہ نہ کرسکے گا بشرطیکہ اس کو قاضی کی طرف سے پابندی کا علم ہو چکا ہو لہذاعلم سے قبل اس نے اپنے مال میں جو بھی تصرف کیا جائز ہوگا۔(ملخصا(ت)
اسی میں ہے:
رجل لہ ضیعہ تساوی عشرین الف درہم وعلیہ دیون فوقف الضیعۃ وشرط صرف غلاتہا الی نفسہ قصدا منہ الی المماطلۃ وشہد الشہود علی افلاسہ جاز الوقف والشہادۃ فان فضل عن قوتہ شیئ من ہذہ الغلات فللغرماء ان یاخذوا ذلك منہ کذا فی المضمرات واﷲ تعالی اعلم۔ ایك شخص بیس ہزار درہم کے مساوی زمین کامالك ہے اور اس پر قرضے ہیں تو اس نے قرض کی ادائیگی میں تاخیر کے لئے اپنی زمین وقف کرکے اس کی آمدنی کو اپنی ذات کے لئے مختص کر لیااور گواہوں نے اس کے مفلس ہونے کی شہادت دیتو وقف اور شہادت جائز ہوگی اور زمین کی آمدنی میں سے اس کے خرچہ سے اگر کچھ بچے گا تو قرض خواہ لیں گےمضمرات میں اسی طرح ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۳: از اندورملك مالوہ چھاؤنی نواب غفور خان مرسلہ حکیم محمد اکمل خاں صاحب یکم ربیع الاول شریف ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان اس مسئلہ میں کہ محمد اعظم خاں کو رئیس وقت نے ایك سند ملك بھوٹ کی تاحین حیات عطا کیمحمد اعظم خاں نے مصلحتا بطورا سم فرض کے ایك عرضی رئیس کی اجات میں پیش کی کہ اس ملك کی سند میرے فرزند افضل خاں کے نام نسلا بعد نسل عطا ہوجائےچنانچہ حسب استدعا محمد اعظم خاں کے افضل خاں کا قبضہ کبھی اور کسی وقت میں ایك آن واحد کے واسطے بھی نہیں ہوااور ہمیشہ قبضہ اور تصرف وصول واصلات وٹھیکہ وغیرہ وغیرہ جملہ قسم کا نظم ونسق محمد اعظم خان کرتے رہے اور سند میں بھی رئیس وقت نے یہ لفظ تحریر کئے کہ"بقبض وتصرف میں مغرئی الیہ واگزارند"
اسی میں ہے:
رجل لہ ضیعہ تساوی عشرین الف درہم وعلیہ دیون فوقف الضیعۃ وشرط صرف غلاتہا الی نفسہ قصدا منہ الی المماطلۃ وشہد الشہود علی افلاسہ جاز الوقف والشہادۃ فان فضل عن قوتہ شیئ من ہذہ الغلات فللغرماء ان یاخذوا ذلك منہ کذا فی المضمرات واﷲ تعالی اعلم۔ ایك شخص بیس ہزار درہم کے مساوی زمین کامالك ہے اور اس پر قرضے ہیں تو اس نے قرض کی ادائیگی میں تاخیر کے لئے اپنی زمین وقف کرکے اس کی آمدنی کو اپنی ذات کے لئے مختص کر لیااور گواہوں نے اس کے مفلس ہونے کی شہادت دیتو وقف اور شہادت جائز ہوگی اور زمین کی آمدنی میں سے اس کے خرچہ سے اگر کچھ بچے گا تو قرض خواہ لیں گےمضمرات میں اسی طرح ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۳: از اندورملك مالوہ چھاؤنی نواب غفور خان مرسلہ حکیم محمد اکمل خاں صاحب یکم ربیع الاول شریف ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان اس مسئلہ میں کہ محمد اعظم خاں کو رئیس وقت نے ایك سند ملك بھوٹ کی تاحین حیات عطا کیمحمد اعظم خاں نے مصلحتا بطورا سم فرض کے ایك عرضی رئیس کی اجات میں پیش کی کہ اس ملك کی سند میرے فرزند افضل خاں کے نام نسلا بعد نسل عطا ہوجائےچنانچہ حسب استدعا محمد اعظم خاں کے افضل خاں کا قبضہ کبھی اور کسی وقت میں ایك آن واحد کے واسطے بھی نہیں ہوااور ہمیشہ قبضہ اور تصرف وصول واصلات وٹھیکہ وغیرہ وغیرہ جملہ قسم کا نظم ونسق محمد اعظم خان کرتے رہے اور سند میں بھی رئیس وقت نے یہ لفظ تحریر کئے کہ"بقبض وتصرف میں مغرئی الیہ واگزارند"
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الحجر الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۸۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۸۹€
اس سے مراد خاص محمد اعظم خاں ہیں کہ افضل خاںاسی عرصہ میں محمد افضل خاں کا انتقال ہوگیااور افضل خاں کی دو بیبیاں اور ایك لڑکی اور ایك لڑکا باقی ہےمحمد افضل خاں اپنے والد اعظم خاں کی حیات میں فوت ہوئےاسی باعٹ ورثائے افضل خاں سب محروم الارث ہوگئے اور بدستور قدیم محمد اعظم خاں قابض اور مالك اور متصرف رہےایسی حالت میں اولاد افضل خاں مرحوم یا ان کی بیوی بچے مستحق ہوسکتے ہیں یانہیں افضل خاں کی جائداد منقولہ وغیر منقولہ کچھ بھی نہیںاور افضل خاں اور ان کی بیوی بچہ کی پرورش محمد اعظم خاں پدر افضل خاں کرتے رہےاور افضل خاں کا انتقال اپنے والدمحمد اعظم خان کی حیات میں ہوگیاتو ایسی صورت میں اس ملك بھوٹ میں افضل خاں مرحوم کی بیوی بچے مستحق ہوسکتے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
اس سوال کے ساتھ تحریر ونقول کہ سائل نے مرسل کیں ان کے ملاحظہ سے واضح ہوا کہ زوجہ محمد افضل خاں نے بدعوی وراثت شوہر اس بناء پر کہ تبدیل سند سے محمد افضل خان اس زمین کا مالك ہوگیا تھا اس پر دعوی ملك کیا ہےیہ دعوی شرعامحض باطل وبیجا ہےسند ثانی بنام محمد افضل خاں میں از جانب ریاست کوئی لفظ مفیدمعنی ہبہ وتملیك نہیںنہ ہبہ کرنا نہ عطا ہونانہ مالك بتانا نہ اور کوئی لفظ کہ ان کا مرادف ہوصرف اتنے الفاظ میں کہ
اراضی مذکورہ ازحضوربہ محمد افضل خاں خلف معزی الیہ نسلا بعد نسل بشرط لوازم اطاعت و فرمانبرداری معاف شد لازم کہ اراضی مذکور را از حضور معاف ومرفوع القلم دانستہ بقبض و تصرف معزی الیہ واگزارند۔ مذکور اراضی درخواست دہندہ کے بیٹے محمد افضل خاں کے لئے سرکار کی طرف سے نسلا بعد نسل بشرط اطاعت وفرمانبرداری معاف ہوئیلازم ہوا کہ مذکورہ اراضی سرکار کی طرف سے معاف اور مرفوع القلم قراردی گئی درخواست دہندہ کے قبضہ و تصرف میں آزاد چھوڑیں۔(ت)
معاف ہونا کوئی الفاظ ہبہ سے نہیں بلکہ عین سے اس کا تعلق ہی صحیح نہیںمعافی مطالبہ ودیون سے متعلق ہوتی ہے کہ اس کا حاصل ابراہےاور اعیان سے ابراباطلدرمختار میں ہے:الابراء عن الاعیان باطل (اعیان اشیاء سے بری کرنا باطل ہے۔ (ت)اشباہ میں ہے:
الجواب:
اس سوال کے ساتھ تحریر ونقول کہ سائل نے مرسل کیں ان کے ملاحظہ سے واضح ہوا کہ زوجہ محمد افضل خاں نے بدعوی وراثت شوہر اس بناء پر کہ تبدیل سند سے محمد افضل خان اس زمین کا مالك ہوگیا تھا اس پر دعوی ملك کیا ہےیہ دعوی شرعامحض باطل وبیجا ہےسند ثانی بنام محمد افضل خاں میں از جانب ریاست کوئی لفظ مفیدمعنی ہبہ وتملیك نہیںنہ ہبہ کرنا نہ عطا ہونانہ مالك بتانا نہ اور کوئی لفظ کہ ان کا مرادف ہوصرف اتنے الفاظ میں کہ
اراضی مذکورہ ازحضوربہ محمد افضل خاں خلف معزی الیہ نسلا بعد نسل بشرط لوازم اطاعت و فرمانبرداری معاف شد لازم کہ اراضی مذکور را از حضور معاف ومرفوع القلم دانستہ بقبض و تصرف معزی الیہ واگزارند۔ مذکور اراضی درخواست دہندہ کے بیٹے محمد افضل خاں کے لئے سرکار کی طرف سے نسلا بعد نسل بشرط اطاعت وفرمانبرداری معاف ہوئیلازم ہوا کہ مذکورہ اراضی سرکار کی طرف سے معاف اور مرفوع القلم قراردی گئی درخواست دہندہ کے قبضہ و تصرف میں آزاد چھوڑیں۔(ت)
معاف ہونا کوئی الفاظ ہبہ سے نہیں بلکہ عین سے اس کا تعلق ہی صحیح نہیںمعافی مطالبہ ودیون سے متعلق ہوتی ہے کہ اس کا حاصل ابراہےاور اعیان سے ابراباطلدرمختار میں ہے:الابراء عن الاعیان باطل (اعیان اشیاء سے بری کرنا باطل ہے۔ (ت)اشباہ میں ہے:
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۴۲€
اختص الدین باحکام منہا صحۃ الابراء عنہ فلا یصح الابراء عن الاعیان ۔ دین کے کچھ احکام مخصوص ہیں ان میں سے ایك اس سے بری کرنا ہے لہذا اعیان سے ابراء جائز نہ ہوگا۔(ت)
وجیز کردری میں ہے:
لایقبل لعدم صحۃ الابراء عن الاعیان ۔ قبول نہ ہوگا کیونکہ اعیان سے ابراء صحیح نہیں ہے۔(ت)
بخلاف سند بنام حکیم محمد اعظم خاں کہ اس میں لفظ"عطاشد"ہے اوریہ خاص ہبہ کے لئے موضوع ہے ۔عالمگیری میں ہے:
الفاظ الھبۃ انواع نوع تقع بہ الھبۃ وضعا کقولہ وھبت ھذا الشیئ لك او ملکتہ منك اواعطیتك فہذا کلہ ھبۃ اھ مختصرا ۔ ہبہ کے الفاظ مختلف ہیںایك قسم وہ ہے جس سے وضعا ہبہ واقع ہوجاتاہے وہ یہ الفاظ ہیں"یہ شیئ میں نے تجھے ہبہ کی تجھے مالك بنایا تجھے دے دی"یہ سب ہبہ کے الفاظ ہیں اھ مختصرا(ت)
سند بنام محمد افضل خاں میں بھی بنام محمد اعظم خاں کا ذکر ہے کہ
سابق ازیں بحکم محمد اعظم خاں از حضور عطا شدہ بود قبل ازیں سرکار نے محمد اعظم کو عطا کی۔(ت)
اورافضل خاں کوعطا ہونے کی درخواست از جانب محمد اعظم خاں میں اگرچہ مذکور ہے کہ
حالا عرضی معزی الیہ باستدعائے تبادل سند سابق وعطا شدن آن بنام محمد افضل خاں پسر خود موصول ملاحظہ گردید۔ پہلی سند کو تبدیل کرنے اور درخواست دہندہ کے بیٹے محمد افضل خان کے نام عطا کرنے کی عرضی موصول ہوئیملاحظہ ہوئی(ت)
مگرحکم میں لفظا"عطا"نہیں اسی قدر ہے کہ
چوں حضور را پرورش وپرداخت حکیم صاحب معزی الیہ منظور لہذا اراضی مذکور ازحضور بہ جب سرکار کو پرورش واختیار درخواست دہندہ حکیم صاحب کے لئے منظور ہے لہذا مذکورہ اراضی
وجیز کردری میں ہے:
لایقبل لعدم صحۃ الابراء عن الاعیان ۔ قبول نہ ہوگا کیونکہ اعیان سے ابراء صحیح نہیں ہے۔(ت)
بخلاف سند بنام حکیم محمد اعظم خاں کہ اس میں لفظ"عطاشد"ہے اوریہ خاص ہبہ کے لئے موضوع ہے ۔عالمگیری میں ہے:
الفاظ الھبۃ انواع نوع تقع بہ الھبۃ وضعا کقولہ وھبت ھذا الشیئ لك او ملکتہ منك اواعطیتك فہذا کلہ ھبۃ اھ مختصرا ۔ ہبہ کے الفاظ مختلف ہیںایك قسم وہ ہے جس سے وضعا ہبہ واقع ہوجاتاہے وہ یہ الفاظ ہیں"یہ شیئ میں نے تجھے ہبہ کی تجھے مالك بنایا تجھے دے دی"یہ سب ہبہ کے الفاظ ہیں اھ مختصرا(ت)
سند بنام محمد افضل خاں میں بھی بنام محمد اعظم خاں کا ذکر ہے کہ
سابق ازیں بحکم محمد اعظم خاں از حضور عطا شدہ بود قبل ازیں سرکار نے محمد اعظم کو عطا کی۔(ت)
اورافضل خاں کوعطا ہونے کی درخواست از جانب محمد اعظم خاں میں اگرچہ مذکور ہے کہ
حالا عرضی معزی الیہ باستدعائے تبادل سند سابق وعطا شدن آن بنام محمد افضل خاں پسر خود موصول ملاحظہ گردید۔ پہلی سند کو تبدیل کرنے اور درخواست دہندہ کے بیٹے محمد افضل خان کے نام عطا کرنے کی عرضی موصول ہوئیملاحظہ ہوئی(ت)
مگرحکم میں لفظا"عطا"نہیں اسی قدر ہے کہ
چوں حضور را پرورش وپرداخت حکیم صاحب معزی الیہ منظور لہذا اراضی مذکور ازحضور بہ جب سرکار کو پرورش واختیار درخواست دہندہ حکیم صاحب کے لئے منظور ہے لہذا مذکورہ اراضی
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الدین ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۱۔۲۱۰€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوی الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۳۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الہبۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۵€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الدعوی الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۳۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الہبۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۵€
محمد افضل خاں معاف شد۔ سرکار کی طرف سے محمد افضل خاں کو معاف ہوئی۔(ت)
اس کا حاصل اگر ٹھہرتا تو معانی محصول نہ کہ تملیك رقبہکما ھو شان الاقطاع علی المعنی المشھور(جیسا کہ مشہور معنی میں جاگیر عطیہ کرنے کی شان ہے۔ت)نہر الفائق پھر درمختار میں ہے:
الاقطاعات من اراضی بیت المال اذ حاصلھا ان الرقبۃ لبیت المال والخراج لہ ۔ بیت المال کی اراضی عطیہ کرنے کا حاصل یہ ہے کہ ملکیت بیت المال کی ہوگی اور آمدن اس کی ہوگی۔(ت)
اور بالفرض یہ صورت یہاں ہوتی تو بعد انتقال نواب خلد آشیاں مرحوم ومغفور ختم ہوجاتی خود افضل خاں کا کوئی حق نہ رہتا نہ کہ ان کے ورثاء کا ردالمحتارمیں ہے:
ھل تصیر لاولاد المقطع لہ عملا بقول السلطان ولا ولادہ فانہ بمعنی ان مات عن اولاد فلاولادہ من بعدہ فہو تعلیق معنی و الجواب انہا لا تکون لاولادہ لبطلان التعلیق المذکور بموت السلطان المعلق قال فی الاشباہ لومات المعلق بطل التقریر اھ مختصرا کیا جس کو عطیہ کیا گیا ہے حاکم کی طرف"اور اس کی اولاد کے لئے"کہہ دینے سے اس کی اولاد ہوجائے گی کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ عطیہ لینے والے کی موت کے بعد اگر اس کی اولاد ہوتو اولاد کی ہوگی۔تو یہ معنی تعلیق ہےالجواب یہ اولاد کے لئے نہ ہوگی کیونکہ معلق کرنے والے حاکم کی موت سے یہ تعلیق باطل ہوجائیگیاشباہ میں فرمایا:اگر تصدیق کرنے والا فوت ہوجائے تو اس کا یہ معلق حکم باطل ہوجائے گا اھ مختصرا (ت)
اور بالفرض اولاد کاحق رہتا بھیجب بھی زوجہ محمد افضل خان کے لئے کوئی حق نہ ہوتاکہ سند میں نسلا بعد نسل ہے اور زوجہ نسل شوہر سے نہیںاور اگر فرض کیجئے کہ ایسی سند والیان ملك کے عرف حال میں مطلقا تملیك رقبہ زمین سمجھی جاتی ہے اگرچہ "عطاشد"کے عوض"معاف شد"ہی لکھا گیا ہو جس کی بناء پر سند ثانی کو محمد افضل خاں کے لئے ہبہ وتملیك زمین قرار دیا جائے کہ زوجہ و اولاد سب ورثہ کا استحقاق قائم کرسکیںتو اس صورت میں بھی تمام وارثان افضل خاں کا محض نامستحق ہونا واضح وروشن ہے کہ زمین پہلے حکیم محمد اعظم خاں کو ہبہ ہوچکی اور حین حیات تك ہونا کچھ منافی نہیں کہ جو چیز کسی کو
اس کا حاصل اگر ٹھہرتا تو معانی محصول نہ کہ تملیك رقبہکما ھو شان الاقطاع علی المعنی المشھور(جیسا کہ مشہور معنی میں جاگیر عطیہ کرنے کی شان ہے۔ت)نہر الفائق پھر درمختار میں ہے:
الاقطاعات من اراضی بیت المال اذ حاصلھا ان الرقبۃ لبیت المال والخراج لہ ۔ بیت المال کی اراضی عطیہ کرنے کا حاصل یہ ہے کہ ملکیت بیت المال کی ہوگی اور آمدن اس کی ہوگی۔(ت)
اور بالفرض یہ صورت یہاں ہوتی تو بعد انتقال نواب خلد آشیاں مرحوم ومغفور ختم ہوجاتی خود افضل خاں کا کوئی حق نہ رہتا نہ کہ ان کے ورثاء کا ردالمحتارمیں ہے:
ھل تصیر لاولاد المقطع لہ عملا بقول السلطان ولا ولادہ فانہ بمعنی ان مات عن اولاد فلاولادہ من بعدہ فہو تعلیق معنی و الجواب انہا لا تکون لاولادہ لبطلان التعلیق المذکور بموت السلطان المعلق قال فی الاشباہ لومات المعلق بطل التقریر اھ مختصرا کیا جس کو عطیہ کیا گیا ہے حاکم کی طرف"اور اس کی اولاد کے لئے"کہہ دینے سے اس کی اولاد ہوجائے گی کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ عطیہ لینے والے کی موت کے بعد اگر اس کی اولاد ہوتو اولاد کی ہوگی۔تو یہ معنی تعلیق ہےالجواب یہ اولاد کے لئے نہ ہوگی کیونکہ معلق کرنے والے حاکم کی موت سے یہ تعلیق باطل ہوجائیگیاشباہ میں فرمایا:اگر تصدیق کرنے والا فوت ہوجائے تو اس کا یہ معلق حکم باطل ہوجائے گا اھ مختصرا (ت)
اور بالفرض اولاد کاحق رہتا بھیجب بھی زوجہ محمد افضل خان کے لئے کوئی حق نہ ہوتاکہ سند میں نسلا بعد نسل ہے اور زوجہ نسل شوہر سے نہیںاور اگر فرض کیجئے کہ ایسی سند والیان ملك کے عرف حال میں مطلقا تملیك رقبہ زمین سمجھی جاتی ہے اگرچہ "عطاشد"کے عوض"معاف شد"ہی لکھا گیا ہو جس کی بناء پر سند ثانی کو محمد افضل خاں کے لئے ہبہ وتملیك زمین قرار دیا جائے کہ زوجہ و اولاد سب ورثہ کا استحقاق قائم کرسکیںتو اس صورت میں بھی تمام وارثان افضل خاں کا محض نامستحق ہونا واضح وروشن ہے کہ زمین پہلے حکیم محمد اعظم خاں کو ہبہ ہوچکی اور حین حیات تك ہونا کچھ منافی نہیں کہ جو چیز کسی کو
حوالہ / References
درمختار کتاب الجہاد باب العشر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۰€
ردالمحتار کتاب الجہاد باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۲۶۶€
ردالمحتار کتاب الجہاد باب العشر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۲۶۶€
اس کی حیات تك ہبہ کی جائے وہ ہمیشہ کے لئے ہبہ ہوگئیاور حین حیات کی شرط شرعا باطل وبے اثر ہےدرمختارمیں ہے:
جاز العمری للمعمر لہ ولورثتہ بعدہ لبطلان الشرط ۔ عمر بھر کا ہبہ جائز ہے اور موہوب معمرلہ کی ملك ہوگا اوراس کے بعد اس کے وارث مالك ہونگے کیونکہ رد کی شرط باطل ہے۔(ت)
اور وہ ہبہ قبضہ محمد اعظم خاں سے تام وکامل ونافذ ہولیااب ریاست کو کیا اختیار رہا کہ پر ایامال دوبارہ کسی اور کو ہبہ کردےاس کی تصحیح کی دو ہی صورتیں موہوم ہوسکتی ہیںایك یہ کہ محمد اعظم خاں کی عرضی کہ"حسب استدعا تابعدار کے اس ملك بھوٹ کی دوسری سند میرے فرزند محمد افضل خاں کے نام نسلاوبعد نسل عطا فرمائی جائے"اسے گویا محمد اعظم خاں کی طر ف سے اس زمین کا رئیس کو واپس دینا اور اپنے بیٹے کے نام ہبہ جدید کی درخواست کرنا قرار دیںاور ہبہ جب باہمی تراضی یا قضائے قاضی سے واہب کو واپس ہو تو وہ دوسرے سے فسخ ہبہ ہےنہ کہ موہوب لہ کی طر ف سے واہب کوہبہولہذا واہب کا قبضہ اس پر شرط نہیںدرمختارمیں ہے:
اذارجع بقضاء اورضاء کان فسخا لعقد الھبۃ من الاصل لاھبۃ للواہب فلہذا لایشترط فیہ قبض الواہب ۔ جب قضا یا رضا سے ہبہ میں ر جوع ہو تویہ فسخ عقد ہبہ ہوگا نہ کہ واہب کو ہبہ ہوگا لہذا واہب کا قبضہ کرنا شرط نہیں ہوگا۔ (ت)
مگر عرضی مذکور کا ملاحظہ صراحۃ اس معنی سے اباء کرتاہے اس میں عبارت مذکور کے متصل ہے"ورنہ میں سند عطیہ سابقہ حضور اپنے ہمراہ لایا ہوں واپس پیش کردوں بدستور سابق ملك مذکور شریك خالصہ فرمائی جائے"اس سے صاف ظاہر کہ وہ اس وقت اپنا ہبہ واپس نہیں کرتا بلکہ اس درخواست کے قبول نہ ہونے پر واپسی ہبہ کہہ رہا ہےدوسرے یہ کہ اس درخواست کو محمد اعظم خاں کی طرف سے توکیل بالہبۃ قرار دیجئے گویا وہ اپنے پسر کو خود اپنی طر ف سے ہبہ کرتا اور ریاست کو اس ہبہ کا اختیار دیتاہےیہ معنی بھی نہ اس درخواست سے ظاہر نہ سند ثانی سےجس میں لفظ یہ ہیں کہ
از حضور بہ محمد ا فضل خان معاف شد لازم کہ اراضی مذکور را از حضور معاف ومرفوع القلم دانند۔ سرکار کی طر ف سے محمد افضل خاں کو معاف ہوئی تو اراضی مذکورہ کو سرکار کی طرف سے معاف اور مرفوع القلم لازم سمجھیں۔(ت)
جاز العمری للمعمر لہ ولورثتہ بعدہ لبطلان الشرط ۔ عمر بھر کا ہبہ جائز ہے اور موہوب معمرلہ کی ملك ہوگا اوراس کے بعد اس کے وارث مالك ہونگے کیونکہ رد کی شرط باطل ہے۔(ت)
اور وہ ہبہ قبضہ محمد اعظم خاں سے تام وکامل ونافذ ہولیااب ریاست کو کیا اختیار رہا کہ پر ایامال دوبارہ کسی اور کو ہبہ کردےاس کی تصحیح کی دو ہی صورتیں موہوم ہوسکتی ہیںایك یہ کہ محمد اعظم خاں کی عرضی کہ"حسب استدعا تابعدار کے اس ملك بھوٹ کی دوسری سند میرے فرزند محمد افضل خاں کے نام نسلاوبعد نسل عطا فرمائی جائے"اسے گویا محمد اعظم خاں کی طر ف سے اس زمین کا رئیس کو واپس دینا اور اپنے بیٹے کے نام ہبہ جدید کی درخواست کرنا قرار دیںاور ہبہ جب باہمی تراضی یا قضائے قاضی سے واہب کو واپس ہو تو وہ دوسرے سے فسخ ہبہ ہےنہ کہ موہوب لہ کی طر ف سے واہب کوہبہولہذا واہب کا قبضہ اس پر شرط نہیںدرمختارمیں ہے:
اذارجع بقضاء اورضاء کان فسخا لعقد الھبۃ من الاصل لاھبۃ للواہب فلہذا لایشترط فیہ قبض الواہب ۔ جب قضا یا رضا سے ہبہ میں ر جوع ہو تویہ فسخ عقد ہبہ ہوگا نہ کہ واہب کو ہبہ ہوگا لہذا واہب کا قبضہ کرنا شرط نہیں ہوگا۔ (ت)
مگر عرضی مذکور کا ملاحظہ صراحۃ اس معنی سے اباء کرتاہے اس میں عبارت مذکور کے متصل ہے"ورنہ میں سند عطیہ سابقہ حضور اپنے ہمراہ لایا ہوں واپس پیش کردوں بدستور سابق ملك مذکور شریك خالصہ فرمائی جائے"اس سے صاف ظاہر کہ وہ اس وقت اپنا ہبہ واپس نہیں کرتا بلکہ اس درخواست کے قبول نہ ہونے پر واپسی ہبہ کہہ رہا ہےدوسرے یہ کہ اس درخواست کو محمد اعظم خاں کی طرف سے توکیل بالہبۃ قرار دیجئے گویا وہ اپنے پسر کو خود اپنی طر ف سے ہبہ کرتا اور ریاست کو اس ہبہ کا اختیار دیتاہےیہ معنی بھی نہ اس درخواست سے ظاہر نہ سند ثانی سےجس میں لفظ یہ ہیں کہ
از حضور بہ محمد ا فضل خان معاف شد لازم کہ اراضی مذکور را از حضور معاف ومرفوع القلم دانند۔ سرکار کی طر ف سے محمد افضل خاں کو معاف ہوئی تو اراضی مذکورہ کو سرکار کی طرف سے معاف اور مرفوع القلم لازم سمجھیں۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الہبۃ فصل فی مسائل متفرقہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۵€
درمختار کتا ب الہبۃ باب الرجوع فی الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۴€
درمختار کتا ب الہبۃ باب الرجوع فی الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۴€
اور بالفرض ان دونوں میں سے کوئی صورت ہی قرار دیجئےجبکہ محمد افضل خاں نے اس پر ایك آن کو قبضہ نہ پایا اس کے نام ہبہ خواہ جانب ریاست سے مانیں خواہ طرف پدر سےبہرحال باطل محض ہوگیابرتقدیر اول تو ظاہر ہے اوربرتقدیر ثانی یوں کہ سائل نے اپنے خط میں اظہار کیا کہ محمد افضل خاں اس تبدیل سند کے وقت بالغ وصاحب اولا د تھا تو قبضہ پدرا س کا قبضہ نہیں ہوسکتا لاجرم اس کے نام ہبہ باطل ہوگیادرمختارمیں ہے:
والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل ۔ میم سے مراد قبضہ دینے کے بعد فریقین میں سے کسی کا فوت ہوجانا ہے اور قبضہ سے پہلے موت ہو تو ہبہ باطل ہے۔(ت)
بالجملہ کسی صورت کسی پہلو محمد افضل خاں یا اس کے کسی وارث کا اس زمین پردعوی نہیں پہنچ سکتا وہ اس میں سے کسی ذرہ کے مالك نہیںیہاں بعض ابحاث فقہیہ اور ہیں جن کو سوال سے تعلق نہیںلہذا ان کاذکر مطوی رہاواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۴: مرسلہ مولوی عبداﷲ خاں صاحب قصبہ بتیا ضلع چمپارن محلہ گنج اول ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی لڑکی ہندہ بالغہ کی شادی کی اور نکاح کے وقت میں بطور جہیز مع دیگر اثاث بیت ایك ہزار روپیہ بھی دیادینے کی صورت یہ تھی کہ زید نے مجلس نکاح میں اشیاء دادہ شدہ کو بنام ہندہ بحضور اصہار وشوہر ہندہ کے نامزد کیااور ایك فہرست اشیاء مذکورہ کی لکھ کر جو مشتمل بہ ایجاب بھی تھی ہندہ کے حوالے کیچونکہ ہندہ تاحین حیات زید مرحوم اپنے والد مرحوم کے ہم ماکل وہم مشرب عــــــہ رہیاور وہ اس کے کل مصارف کہئے اس لئے بوجہ عدم ضرورت ہندہ نے نقود مذکورہ کوقبضہ خاص میں نہیں لایا بلکہ تازندگی زید مرحومزید مرحوم کے پاس رکھ چھوڑابعد انتقال زید ہندہ کو جب ضرورت پڑی اس کو خرچ کیازید مرحوم نے نقود مذکور کو الگ ایك تھیلی میں وقت نکاح سے رکھ لیا تھااور اس سے کوئی نفع ذاتی نہیں
عــــــہ:اصل میں قلم ناسخ سے ایك لفظ چھوٹ گیا ہے۔۱۲
والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل ۔ میم سے مراد قبضہ دینے کے بعد فریقین میں سے کسی کا فوت ہوجانا ہے اور قبضہ سے پہلے موت ہو تو ہبہ باطل ہے۔(ت)
بالجملہ کسی صورت کسی پہلو محمد افضل خاں یا اس کے کسی وارث کا اس زمین پردعوی نہیں پہنچ سکتا وہ اس میں سے کسی ذرہ کے مالك نہیںیہاں بعض ابحاث فقہیہ اور ہیں جن کو سوال سے تعلق نہیںلہذا ان کاذکر مطوی رہاواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۴: مرسلہ مولوی عبداﷲ خاں صاحب قصبہ بتیا ضلع چمپارن محلہ گنج اول ۲۴ ربیع الآخر ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی لڑکی ہندہ بالغہ کی شادی کی اور نکاح کے وقت میں بطور جہیز مع دیگر اثاث بیت ایك ہزار روپیہ بھی دیادینے کی صورت یہ تھی کہ زید نے مجلس نکاح میں اشیاء دادہ شدہ کو بنام ہندہ بحضور اصہار وشوہر ہندہ کے نامزد کیااور ایك فہرست اشیاء مذکورہ کی لکھ کر جو مشتمل بہ ایجاب بھی تھی ہندہ کے حوالے کیچونکہ ہندہ تاحین حیات زید مرحوم اپنے والد مرحوم کے ہم ماکل وہم مشرب عــــــہ رہیاور وہ اس کے کل مصارف کہئے اس لئے بوجہ عدم ضرورت ہندہ نے نقود مذکورہ کوقبضہ خاص میں نہیں لایا بلکہ تازندگی زید مرحومزید مرحوم کے پاس رکھ چھوڑابعد انتقال زید ہندہ کو جب ضرورت پڑی اس کو خرچ کیازید مرحوم نے نقود مذکور کو الگ ایك تھیلی میں وقت نکاح سے رکھ لیا تھااور اس سے کوئی نفع ذاتی نہیں
عــــــہ:اصل میں قلم ناسخ سے ایك لفظ چھوٹ گیا ہے۔۱۲
حوالہ / References
درمختار کتاب الہبۃ باب الرجوع فی الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
اٹھایا تھاجب کبھی الماری کھولتے تھے تو تھیلی مذکور ہ کی طرف اشارہ کرکے فرماتے تھے ہندہ سے مخاصب ہو کر کہ یہ تیرا روپیہ ہےاور بسا دفعہ یوں فرماتے تھے کہ تیرا روپیہ میرے پاس امانت ہےاور بسا دفعہ روتے تھے اور کہتے تھے کہ ہندہ کا روپیہ میرے پاس بے فائدہ رکھا ہوا ہے امانت میںہم کو ڈر ہے کہ ضائع نہ ہو اور اسکی وجہ سے میرا مواخذہ نہ ہویہ حقیقت حال ہے اب ارشاد فرمائے کہ تخلیہ مذکورہ سے یعنی قول زید مرحوم سے بعدکھولنے صندوق کےیہ تیرا روپیہ ہے ہبہ تمام ہوا یانہیں کیونکہ دینا بطور جہیز کے ہبہ ہی کا محتمل ہےاگر اس تخلیہ سے ہبہ تمام ہوا اوریہ کہ تخلیہ معتبرہ کی کیا تعریف ہے حتی ینظر ان التعریف یصدق علی ھذا الصورۃ(تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس صورت پر تعریف صادق آتی ہے۔ت)اوراگر یہ ہبہ تمام نہیں اور تخلیہ مذکورہ تخلیہ معتبرہ نہیں تو عدم اعتبار کی کیا دلیل ہےاوریہاں کون شرط اعتبار کا منفی ہے۔
وھکذا ارشدونی فی الاقرار من حین اعتبار وعدمہ اذقول زید رحمہ اﷲ۔ یوں مجھے ارشاد فرماؤ اقرارکے متعلق کب معتبر ہے اور کب نہیںکیونکہ زید رحمہ اﷲ کا قول:(ت)
"تیرا روپیہ میرے پاس امانت ہے"
ظاھرہ اقرار بالامانۃ فھل یصح ھذا اقرار ام ھو باطل وکان زید المقر عارفا معنی الامانۃ عالما فقیھا ارجومنکم ان تنبھونی بجواب یروی العطشان و یذھب بالظمان اذ ھی مسئلۃ اختلف فیھا اراء الاقرارن و ما اتی احد بشیئ یزیل الخلجلان والان اریدان اسمعکم ماوقع بینہم حتی ترشدونی بسلیمۃ من سقیمۃ اجاب بعضہم بان الھبۃ لیست بصحیحۃ کما صرح بہ الکتب اس کا ظاہر امانت کا اقرارہےکیا یہ اقرار صحیح ہے یاباطل ہے جبکہ اقرار کرنے ولا زید عالم فقیہ ہونے کی وجہ سے امانت کا معنی جانتا تھامجھے امید ہے کہ آپ مجھے جواب سے وہ تبنیہ فرمائیں گے جوپیاسے کو سیراب کردے اور پریشانی کو دور کردے کیونکہ یہ ایسا مسئلہ ہے جس میں ہم زبان لوگ مختلف رائے رکھتے ہیں اور کسی نے کوئی چیز نہ بتائی جو خلجان کوختم کردےاب میں چاہتاہوں کہ ان کی آراء آپ کو سناؤ تاکہ آپ صحیح اور غلط کی مجھے رہنمائی فرمائیںبعض نے یہ جواب دیا کہ یہ ہبہ صحیح نہیں جیسا کہ کتب فقہ نے یہ تصریح کی ہے اور بعض نے
وھکذا ارشدونی فی الاقرار من حین اعتبار وعدمہ اذقول زید رحمہ اﷲ۔ یوں مجھے ارشاد فرماؤ اقرارکے متعلق کب معتبر ہے اور کب نہیںکیونکہ زید رحمہ اﷲ کا قول:(ت)
"تیرا روپیہ میرے پاس امانت ہے"
ظاھرہ اقرار بالامانۃ فھل یصح ھذا اقرار ام ھو باطل وکان زید المقر عارفا معنی الامانۃ عالما فقیھا ارجومنکم ان تنبھونی بجواب یروی العطشان و یذھب بالظمان اذ ھی مسئلۃ اختلف فیھا اراء الاقرارن و ما اتی احد بشیئ یزیل الخلجلان والان اریدان اسمعکم ماوقع بینہم حتی ترشدونی بسلیمۃ من سقیمۃ اجاب بعضہم بان الھبۃ لیست بصحیحۃ کما صرح بہ الکتب اس کا ظاہر امانت کا اقرارہےکیا یہ اقرار صحیح ہے یاباطل ہے جبکہ اقرار کرنے ولا زید عالم فقیہ ہونے کی وجہ سے امانت کا معنی جانتا تھامجھے امید ہے کہ آپ مجھے جواب سے وہ تبنیہ فرمائیں گے جوپیاسے کو سیراب کردے اور پریشانی کو دور کردے کیونکہ یہ ایسا مسئلہ ہے جس میں ہم زبان لوگ مختلف رائے رکھتے ہیں اور کسی نے کوئی چیز نہ بتائی جو خلجان کوختم کردےاب میں چاہتاہوں کہ ان کی آراء آپ کو سناؤ تاکہ آپ صحیح اور غلط کی مجھے رہنمائی فرمائیںبعض نے یہ جواب دیا کہ یہ ہبہ صحیح نہیں جیسا کہ کتب فقہ نے یہ تصریح کی ہے اور بعض نے
الفقہیہ واجاب بعضہم بان الھبۃ قد تمت لوجود شرطہا وشرطہا اما الایجاب فظاہر واما القبول فلو جودہ من الاصہار فی مجلس النکاح واجازۃ موھوب لھا فیصح کما فی الفضولی ولوجودہ من الموھوب لہا بنفسہا بعد بلوغ الکتاب الیہا ای الفہرست المذکور المشتمل علی الایجاب والموھوب وشرط العقد یتوقف علی الغائب اذا کان بکتابۃ اوبارسال و اما شرط تمامہا وھوا القبض فہو قد یکون حقیقیا و قد یکون حکمیا وھھنا وان لم یتحقق الاول لکن الثانی متحقق ذا الشرط فی اعتبار القبض الحکمی المعبر عنہ بالتخلۃ ان یکون المخلی عنہ بحیث یتمکن عن قبضہ المخلی لہ بعد ان یصدر من المخلی بالکسر قول اوفعل یدل علی اجازۃ القبض وقد تحقق فیما نحن فیہ ھذان الامران اما الثانی ای القول والفعل الدال علی الاجازۃ فکما مرفی تحریر السوال من قول الواھب یہ تیراروپیہ ہے بعد فتح الصندوق مشیرا الی الدراھم یہ جواب دیا کہ یہ ہبہ تام ہوچکا ہے شرط پائے جانے کی جوہ سے شرط ایجاب وقبول ہےایجاب کا وقوع توظاہر ہے لیکن قبول تو وہ سسرال نے مجلس نکاح میں کرلیا اورلڑکی نے اس کی ان کو اجازت دے دیتو قبول کرنا صحیح ہوگیا جیسا کہ فضولی کا معاملہ ہوتاہےنیز خود لڑکی کی طرف سے اس کو لکھی ہوئی فہرست مل جانے کے بعد قبول ہوگیا کیونکہ وہ فہرست ایجاب پر مشتمل تھی اور موہوب چیز بھی اس میں درج تھی اور عقد کی شرط غائب کے قبول کرنے پر موقوف ہوتی ہےجبکہ وہ بطور تحریر یا ارسال ہولیکن اس ہبہ کے تام ہونے کی شرط قبضہ ہوناہےاوریہ قبضہ کبھی حقیقی ہوتاہے اورکبھی حکمی ہوتاہے جبکہ یہاں حکمی صورت میں قبضہ پایا گیا ہے کیونکہ حکمی قبضہ تخلیہ سے ہوتاہے کہ چیز اس انداز سے موجود ہو کہ تخلیہ کرنیوالے واہب کے کسی قول یا فعل کی دلالت اجازت قبضہ پر پائی جائے اورموہوب لہ جس کے لئے تخلیہ ہوا کو قبضہ کرنا ممکن ہواورزیر بحث صورت میں یہ سب کچھ پایا گیا ثانی یعنی حکمی قبضہ کہ قول یا فعل اجازت پر دلالت کرےیہ بات سوال کی تحریر میں موجود ہے کہ واہب نے صندوقچی کھول کر موہوب دراہم جو علیحدہ تھیلی میں بندھے ہوئے تھےکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا"یہ تیرا روپیہ ہےکیونکہ اس کی اس بات کا مقصد صرف یہی تھا کہ لڑکی قبضہ کرے جیسا کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں فریقوں کو
الموھوبۃ المشدودۃ فی خریطۃ منفردۃ ممتازۃ اذا ما کان مقصودہ بھذا القول الا اجازۃ القبض کما ھو المسلم عند الفریقین من المدعی والمدعا علیہ وکذا الاول ای التمکمن وکون الموھوب بحیث یتمکن من قبضہ الموھوب لہ اذالمانع والحائل وہو القفل وغیرہ من اللوح الذی ھومدخل الصندووق وبابہ قدارتفع وقت الاجازۃ ولان القائل الواھب ھھنا مما یمتنع ان یتوہم فی شانہ انہ قال ذلك ھازلا بل یجب ان یتیقن بکونہ باذلا لما مرمن انہ کان عالما تقیا مقتدا لاھل ھذہ الاطراف وایضا ہذا ان الامران مسلمان عند الفریقین فھما مستفتیان عن الدلیل والبیان۔ یہ بات مسلم ہے اور یوں ہی پہلا عمل یعنی لڑکی کا قبضہ پر تمکن کہ موہوب اس طرح ہو کہ موہب لہ اس پر قبضہ کرلے تویہ متحقق ہوچکا کیونکہ واہب کا تالا کھول کر صندوق والماری کو کھلا رکھنا قبضہ کے لئے رکاوٹ اورمانع کودور کرنا اجازت پر دال ہے اور واہب کی اس بات کومذاق پر محمول کرنا ممکن نہیں بلکہ جیساکہ سوال میں گزراکہ وہ عالم متقی اوراہل علاقہ کا مقتداء ہے تو یقین کرنا ہوگا کہ وہ حقیقا دے رہا ہے نیز یہ باتیں دونوں فریقوں کو مسلم ہیں اس لئے بھی ان پر دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔(ت)
یعنی جو ورثہ موجود تھے ور عاقل بالغ تھے وقت حیات زید مرحوم کے وے تسلیم کرتے ہیں اس امر کا کہ زید مرحوم بارہا کہا کرتے تھے مذکورہ کواور یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اگر ہندہ نقد مذکورہ موہوب لہ کے قبض کرتی تو اس کے والد مرحوم ہو گز منع نہ کرتے۔
الا انہا لم تقبض قبل موتہ لعدم الحاجۃ بہا وقت حیاتہ وانما قبضت بعد موتہ ووقت القبض لم یزاحمہا احد من الورثۃ لتسلیھم ذین الامرین و کونہ تلك النقود ملکہ خاص الہندۃ وانما شرعت المنازعۃ والمزاحمۃ وقت طلب الھندۃ تاہم لڑکی نے والد کی زندگی میں عدم ضرورت کی بناء پرقبضہ نہ کیا اور اس کی موت کے بعد جب قبضہ کیا تو کسی وارث نے کوئی مزاحمت نہ کی کیونکہ وہ دونوں چیزوں کو تسلیم کئے ہوئے ہیں اوریہ بھی تسلیم کئے ہوئے ہیں کہ یہ نقد خاص ہندہ کی ملکیت ہے اور ورثاء کی طرف سے جھگڑا اور مزاحمت اس وقت شروع ہوا جب
یعنی جو ورثہ موجود تھے ور عاقل بالغ تھے وقت حیات زید مرحوم کے وے تسلیم کرتے ہیں اس امر کا کہ زید مرحوم بارہا کہا کرتے تھے مذکورہ کواور یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اگر ہندہ نقد مذکورہ موہوب لہ کے قبض کرتی تو اس کے والد مرحوم ہو گز منع نہ کرتے۔
الا انہا لم تقبض قبل موتہ لعدم الحاجۃ بہا وقت حیاتہ وانما قبضت بعد موتہ ووقت القبض لم یزاحمہا احد من الورثۃ لتسلیھم ذین الامرین و کونہ تلك النقود ملکہ خاص الہندۃ وانما شرعت المنازعۃ والمزاحمۃ وقت طلب الھندۃ تاہم لڑکی نے والد کی زندگی میں عدم ضرورت کی بناء پرقبضہ نہ کیا اور اس کی موت کے بعد جب قبضہ کیا تو کسی وارث نے کوئی مزاحمت نہ کی کیونکہ وہ دونوں چیزوں کو تسلیم کئے ہوئے ہیں اوریہ بھی تسلیم کئے ہوئے ہیں کہ یہ نقد خاص ہندہ کی ملکیت ہے اور ورثاء کی طرف سے جھگڑا اور مزاحمت اس وقت شروع ہوا جب
حصتہا من الترکۃ معترضین علیھا بقیۃ الورثۃ بان ماقبضت من النقود ہو محسوب من حصتك من الترکۃ والہندۃ تقول فی جوابھم بان النقود قد جھزئی بھا ابی فہولا یحسب من حصتی من الترکۃ بل یجب ان تکون لی حصہ غیرہا والدلیل الثانی علی تمام الہبۃ بالقبض الحکمی والتخلیۃ المذکورۃ اقرا زید بالامانۃ کمامرمن انہ ربما یبقی ویقول ان دراھم الہندۃ امانۃ عندی واخاف من ضیاعہا وبیان دلالتہ ان المقرکان عارفا معنی الھبۃ واحکامہا ومعنی الامانۃ واحکامہا لما مرمن فقاھتہ واتقائہ و لیس من اصطلاح الفقہاء ولا غیر ھم الاطلاق علی مال نفسہ بانہ امانۃ لزید مثلا فدل الاقرار بالامانۃ علی ان التخلیۃ المذکورۃ تخلیۃ معتبرۃ لاباعتبار المقر فقط بل باعتبار الشرع ایضا اذا الشرع ماحصر التخلیۃ فی امثلۃ معدودۃ محصورۃ حتی تنعدم بانعدامہا بل مبناہ عندالشرع علی ان یکون المخلی عنہ بحیث یتمکن من قبضۃ المخلی لہ بعد اجازۃ المخلی بالکسر وھو امرعام لایمکن انحصار نعم بختلف باختلاف المواد و ہندہ نے والدکے ترکہ میں اپنا حصہ طلب کیا تو انھوں نے یہ اعتراض کیا کہ تو نے جو نقد وصول کیا ہے وہ ترکہ کا حصہ ہے جواب میں ہندہ کہتی ہے کہ وہ نقد والد نے مجھے جہیز میں دیا ہےلہذا وہ ترکہ میں شمار نہیں ہے بلکہ ترکہ میں میرا حصہ الگ ہے حکمی قبضہ اور تخلیہ سے ہبہ کے تام ہونے پر دوسری دلیل یہ بھی ہے کہ زید کا اقرار تھا کہ یہ ہندہ کی امانت ہے اور کبھی روتا اورکہتا کہ یہ روپیہ میرے پاس ہندہ کی امانت ہے اور مجھے اس کے ضائع ہونے کا ڈر ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہےیہ دلالت اس لئے واضح ہے کہ زید ہبہ اور اس کے احکام اورامانت اور اس کے احکام سے بخوبی آگاہ تھا کیونکہ وہ متقی عالم تھا جیساکہ گزرا فقہاء کرام وغیرہ کی اصطلاح میں مثلا زید کے اپنے مال کو امانت نہیں کہا جاتا تو اس کے اقرار امانت کی یہ دلالت ہوئی کہ مذکورہ تخلیہ محض مقر کے اعتبار سے معتبر نہیںبلکہ شریعت نے تخلیہ کا چند مثالوں میں حصر نہیں کیا تاکہ ان کے معدوم ہونے سے تخلیہ معدوم ہوجائے بلکہ شریعت نے اس کا مبنی یہ قرار دیا کہ چیز اس انداز میں موجود ہو کہ تخلیہ کرنیوالے واہب کی اجازت کے بعد قبضہ کرنیوالے کو کوئی رکاوٹ نہ ہویہ مفہوم عام ہے جو کسی خاص صورت میں منحصر نہیں ہے۔ہاں مواد اور تخلیہ دینے والوں کے اختلاف سے تخلیہ مختلف
اختلاف المخلین وقد مران التمکن و الاجازۃ ہہنا مسلم ومدلل تم ماقال البعض الاخرۃومقولۃ السائل فی توجیہ من قال بعدم التمام۔اقول:وباﷲ التوفیق قول من قال بعدم اعتبار التخلیۃ المذکورۃ من قول زید یہ تیرا روپیہ ہے بعد فتح الصندوق کما مربتمامہ اعتصم بقول القاضیخان حیث قال (والتخلیۃ ان یخلی بین الموھوب لہ ویقول لہ اقبضہ ) اذ فیہ تصریح علی ان التخلیۃ انما تعتبرا ذا ایدت بالامر بالقبض وقول زید یہ تیرا روپیہ ہے لیس امرابالقبض بل فیہ اخبار عن کون تلك النقود ملکا للہندۃلکونہ جملۃ خبریۃ فان استدل بہذا القول علی تمام الھبۃ و ثبوت الملك فی النقود یلزم الدور کما لا یخفی اذا لیس للملك وجہ اخر غیر الھبۃ ولما بطل استدلالہ بقول زید یہ تیرا روپیہ ہے الخ لم یبق لتمام الھبۃ وجہ اخر غیر الاقرار بالامانۃ مع کون زید عارفا معنی الامانۃ واحکامھا ہوجاتاہے اور یہ گزرا کہ قبضہ پر تمکن اور اجازت یہاں مسلم امر ہےدوسرے بعض کا قول مکمل ہوا اور جس نے کہا یہ ہبہ تام نہیں ہے اس کی توجیہ میں سائل کا قولاقول:میں کہتاہوں اﷲ کی توفیق سےزید کے صندوق کھولنے اوریہ کہنے کہ یہ تیرا روپیہ ہے اس تمام واقعہ پر جس نے کہا یہ تخلیہ معتبرنہیں ہے اس نے قاضی خاں کے اس قول کو دلیل بنایا جہاں انہوں نے فرمایا:التخلیہ یہ ہے کہ موہوب چیز اورموہوب لہ میں تخلیہ کردے اور کہہ دے کہ توقبضہ کرلےکیونکہ اس قول میں یہ تصریح ہے کہ تخلیہ تب معتبر ہوگا جب وہ قبضہ کے حکم سے مؤید ہواور زید کا لڑکی کو کہنا کہ یہ تیرا روپیہ ہے ا س پر قبضہ کا حکم نہیں ہے بلکہ ان نقود پر ہندہ کی ملکیت کی خبر دینا ہے کیونکہ یہ جملہ خبریہ ہےاگر اس قول کو ہبہ کے تام ہونے اور ہندہ کی ملکیت کے ثبوت کے لئے دلیل بنایاجائے تو دور لازم آئے گا جیساکہ مخفی نہیں ہے کیونکہ ان نقود میں ہندہ کی ملکیت کی ہبہ کے بغیر کوئی دلیل نہیں ہے توجب زید کے قول کہ"یہ تیرا روپیہ ہے"سے استدلال باطل ہوگیا تو اب ہبہ کے تام ہونے پر ہبہ اور اس کے احکام اورامانت اور اس کے احکام
حوالہ / References
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الہبۃ فصل فی ھبۃ المشاع ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۰۰€
وھذا الاقرار ایضا غیر صالح للاستدلال بہ علی تمام الھبۃ وثبوت الملك فی النقود للھندۃ اما عدم صلاحیتہ للاول فظاھراذا لامانۃ لاتقتضی کونھا لھبۃ لخصوصہا انما تقتضی کونہا ملکا للمودع بالکسر فالدال عام والمدلول خاص و اما الثانی فلان الاقرار اخبار و حکایۃ موقوف علی المحکی عنہ و المخبر عنہ ھو کون المقربہ ملکا للمقرلہ قبل الاقرار فلو استدل بہ علی ثبوت الملك فیھا قبلہ لز م الدور ولیس الاقرار سببا للملك حتی تثبت بہ الملك من غیر نظر الی الحکایۃ ولان الاقرار انما یعتبرا اذا ادعی المقرلہ الاقرار وبین سببا للملك غیرہ اذا الدعوی الذی علی الاقرار من غیر بیان سبب الملك باطل کما لایخفی وھو معنی قول صاحب الدرالمختار ولاتسمع دعواہ بشیئ بناء علی الاقرار والجواب علی ماادی الیہ نظریواﷲ اعلم پر مطلع ہونے کے باوجود زید کا اقرار بالا مانت کرنا ہی دلیل رہ گئی ہے حالانکہ یہ اقرار اتمام ہبہ اور ہندہ کے لئے ان نقود کی ملکیت کے ثبوت پر دلیل نہیںاول یعنی امانت کا دلیل کے لئے صالح نہ ہونا ظاہر ہے کیونکہ امانت کا ہبہ ہونا لازمی تقاضا نہیں ہے بلکہ اس کا تقاضا صرف یہ ہے کہ وہ چیز امانت رکھنے والے کی ملکیت ہے تو دال عام اور مدلول خاص ہےاور ثانی یعنی نقود پر ہندہ کی ملکیتاس لئے دلیل بننے کی صالح نہیں کہ یہ اقرار خبر اورحکایت ہے جو محکی عنہ اور مخبر عنہ پر موقوف ہے اورمحکی عنہ اقرار سے قبل نقود کا ہندہ کی ملکیت ہونا ہے تو اگر اس خبر کو اقرار سے قبل ملکیت پر دلیل بنایا جائے تو دور لازم آئے گا نیز خود اقرارملکیت کا سبب نہیں توحکایت سے قطع نظر بھی اس سے ملکیت ثابت نہیں ہوگی اور اس لئے بھی کہ اقرار کا اعتبار تب ہوتا ہے جب مقرلہ اقرار کا دعوی کرے اور اقرار کے علاوہ کوئی ملکیت کا سبب بیان کئے بغیر باطل ہوتا ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے اور درمختار کے قول کہ وہ دعوی جوصرف اقرار پر مبنی ہو مسموع نہ ہوگاکایہی معنی ہے الجواب جہاں تك میری نظر ہےاوراﷲ تعالی ہی درستی کو
حوالہ / References
درمختار کتاب الاقرار ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۳۰€
بالصواب ان تعریف القاضیخاں اکثری لاحصری و لایشترط فی جمیع افراد التخلیۃ الامر بالقبض بل امدارھا علی ان یکون المخلی عنہ بحیث یتمکن من قبضہ بعد اجازۃ المخلی بالقول او بدلالۃ الحال ویدل علی ھذا اطلاقات القاضیخاں ایضا جلد ۲ صف ۳۹۴ حیث قال البائع اذا خلی بین المبیع وبین المشتری بحیث یتمکن المشتری من قبضہ یصیر المشتری قابضا للمبیع ففیہ تصریح ان الامر بالقبض غیر مشروط فیہا ولا قائل بالفرق بین التخلیۃ فی البیع والھبۃ حتی یقال بالاشتراط فیھا دونہ ولان عبارۃ القاضیخاں قبیل ھذا ص ۳۹۴ شاھدۃ بمساوات التخلیتین وایضا لایدل علی الاشتراط مفہوم التخلیۃ ولا اصطلاحھم ولا لما ذھلوا عنہ اکثر من ان یحصیوایضا لا یمکن الانکار لاحد عن التخلیۃ مع عدم الامر فیما اذا عدد المشتری الثمن عند بہتر جانتاہے کہ بیشك قاضی خاں کی تعریف اکثری ہے حصری نہیں ہے تخلیہ کے تمام افراد میں قبضہ کاحکم کرنا شرط نہیں بلکہ تخلیہ کا دارومدار اس بات پر ہے کہ تخلیہ دینے والے کی اجازت قولی یا حالی کے بعد چیزاس طرح موجود ہو کہ مشتری یا موہوب لہ کو اس پر قبضہ کا تمکن حاصل ہوجائے اس پر خود قاضی خاں کے اپنے اطلاقات دال ہیں انہوں نے جلد ۲ ص ۳۹۴ میں فرمایا کہ بائع نے جب مبیع چیز اور مشتری کے مابین تخلیہ یوں کردیا کہ مشتری کو قبضہ پر تمکن حاصل ہوجائے تو مشتری کو مبیع پرقابض قرار دیا جائے گا تو اس میں تصریح ہے کہ قبضہ کا حکم شرط نہیں ہے جبکہ بیع اور ہبہ میں تخلیہ کے اعتبار سے فرق کا کوئی قابل نہیں ہےتاکہ یہ کہا جاسکے کہ ہبہ کے تخلیہ میں شرط ہے اور بیع میں شرط نہیں اور اور اس لئے بھی کہ اس سے تھوڑا پہلے صفحہ ۳۹۴ پر قاضی خاں نے اپنی عبارت میں دونوں تخلیوں کو مساوی قراردیا ہےنیز تخلیہ کا مفہوم اور فقہاء کی اصطلاح اشتراط پر دال نہیں ہے ورنہ فقہاء کبھی اس کو نظرانداز نہ فرماتے حالانکہ ان کی بے شمار تصریحات اس کے ذکر سے خالی ہیںنیز جب مشتر ی ثمن کے دراہم کو مبیع کے پاس گنتی کرے اور بائع کو قبضہ کرنے کا نہ کہے تو کسی کو
حوالہ / References
فتاوٰی قاضیخاں کتاب البیع باب فی قبض المبیع ∞نولکشو ر لکھنؤ ۲ /۳۹۴€
المبیع ولم یقل لہ اقبضہ وبھذا اندفع الدورایضا اذ الاخبار یعنی قولہ یہ تیرا روپیہ ہے لیس علی حقیقتہ حتی یقتضی ثبوت المخبر عنہ وھوا لملك و الحال انہ موقوف علی ھذا القول اذ لیس لہ وجہ اخر غیر الھبۃ اذفی حملہ علی الاخبار یلزم الغاء الکلام و الواجب حملہ اذا صدر عن عاقل بالغ علی معنی یصح فحمل علی الانشاء واجازۃ القبض وہوشائع فی محاورات الہند کقولہم پان حاضر ہےحقہ حاضر ہے کھانا حاضر ہےحین کون ہذا الاشیاء موضوۃ لدی المخاطب فہم لا یریدون بہذا الاخبارات حقیقتہا والایلزم الالغاء بل مقصود ھم اجازۃ التناول منہا کما لایخبو علی البیب فلو کا المراد من قول زید المرحوم یہ تیرا روپیہ ہے اجازۃ التناول والقبض لا یلزم المحذور ایضا وبہ یصح الکلام ویتم المقصود من تمام الھبۃ بالتخلیۃ والقبض الحکمی وظہر وجہ الاستدلال بالقول الاول بقی الاقرار بالامانۃ ھل ہوصالح للاستدلال بہ ام الابل الاستدلال مستلزم للدور بھی اس تخلیہ کے معتبر ہونے سے نکار نہیں ہےاس بیان سے دور بھی ختم ہوگیا کیونکہ والد کا یہ کہنا"یہ تیرا روپیہ ہے"یہ خبر اپنے حقیقی معنی پر نہیں ہے تاکہ وہ مخبر عنہ یعنی سابقہ ملکیت کا ثبوت چاہے حالانکہ حالیہ ملکیت اس قول(یہ تیرا روپیہ ہے)پر موقوف ہے کیونکہ اس ملکیت کی ہبہ کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ تو جب اس قول کو خبر پر محمول کیا جائے تو کلام کا لغو ہونالازم آتاہے جبکہ عاقل بالغ کے کلام کوصحیح معنی پر محمول کرنا واجب ہےتو ایسے قول کو انشاء اور قبضہ کی اجازت پر محمول کرنا ہندوستان کے محاورات میں عام استعمال ہےمثلا وہ جب کہتے ہیں پان حاضرہےحقہ حاضر ہےیا کھانا حاضر ہےیہ اس وقت کہا جاتاہے جب یہ چیزیں مخاطب کے سامنے رکھی ہوئی ہوتی ہیں وہ اس سے خبر کا حقیقی معنی مراد نہیں لیتے ورنہ کلام کا لغو ہونا لازم آئے گا بلکہ ان کی مراد اس کو کھانے کی اجازت ہوتی ہے جیسا کہ یہ عقلمندپر مخفی نہیں ہے تو اگر زید مرحوم کے قول"یہ تیرا روپیہ ہے"سے بھی یہی معنی مرادلیا جائے تو کوئی خرابی نہ ہوگی جبکہ اس سے کلام صحیح ہوتا ہے اور ہبہ کے تام ہونے کا مقصد بھی تخلیہ اور حکمی اجازت قبضہ سے حاصل ہوتا ہے توظاہر ہواکہ وجہ استدلال پہلا امر یعنی ہندہ کی ملکیت ہوناہےباقی رہا یہ معاملہ کہ امانت کا اقرار وجہ استدلال بن سکتاہے یانہیں بن سکتا بلکہ یہ استدلال دور کو
کما قال المعترضاقول: وباﷲ التوفیق مدار الاعتراض علی ان الاقرار باطل لانہ یتوقف علی وجود المخبر عنہ وھو ثبوت الملك فلو استدل بہ علی تمام الھبۃ وثبوت الملك یلزم الدور محصل الجواب ان اشتراط نفوذ الاقرار ببیان سبب الملك غیر الاقرار مسلم لکن لا یجب بیانہ الا اذا رجع المقرعن اقرارہ واما اذا کان مصر ا علی اقرارہ فان بین فبہا وان لم یبین حتی مات علی اقرارہ لایبطل اقرارہ عند احد بل یجب ان یحمل علی سبب صالح حتی لا یلزم الالغاء والسبب الصالح للاقرار ھھنا موجود وھو الھبۃ مع التخلیۃ والھبۃ مع التخلیۃ والھبۃ وتمامہا لیستا موقوفتین علی الاقرار حتی یلزم الدور کما زعم المعترض بل ھما قد ثبتا بدلیل قدمربیانہ فالاقرار وان کان باعتبارذاتہ موقوفا علی تمام الھبۃ لکن باعتبار لازمہ وھو
مستلزم ہے جیساکہ معترض نے کہا ہےاورمیں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں کہ اعتراض کا دارومدار اس بات پرہے کہ یہ اقرار باطل ہے کیونکہ یہ مخبر عنہ اور محکی عنہ پر موقوف ہے اور وہ محکی عنہ پہلے سے ملکیت کا ثبوت ہے تو اگر اس قول سے ملکیت ثابت کی جائے اور ہبہ کا تام ہونا ثابت کی جائے اور ہبہ کا تام ہونا ثابت کیا جائے تو دور لازم آئے گاتو اس کے جواب کاخلاصہ یہ ہے کہ اقرار کے نافذ ہونے کے لئے اس اقرار کے علاوہ کسی اور سبب کا بیان ضروری ہےجو ملکیت کا باعث ہویہ بات مسلمہ ہے لیکن اس کا بیان صرف اس قت ضروری ہے جب مقر اپنے اقرار سے منحرف ہو_______ لیکن اگر وہ اپنے اقرار پر قائم ہے تو بیان کردے تو بہترورنہ وہ اپنے اس اقرار پر فوت ہوجائے تو کسی کے ہاں وہ اقرار باطل نہ ہوگا بلکہ اس اقرار کو صحیح محمل پرمحمول کرنا ضروری ہے تاکہ کلام کا لغو ہونا لازم نہ آئےاوریہاں صحیح سبب موجود ہے اوروہ ہبہ مع تخلیہ ہے جبکہ ہبہ اوراس کا تام ہونااقرار پر موقوف نہیں ہےتاکہ دور لازم آئے جیسا کہ معترض کا خیال ہےبلکہ ہبہ اور اسکا تمام ہونا یہ دونوں مذکورہ دلیل سے ثابت ہیں تو اقرار اگرچہ اپنی حقیقت میں ہبہ کے تام ہونے پر موقوف ہے لیکن وہ اپنے لازم جو کہ صحیح سبب پرمحمول کرنا ہےکے اعتبار سے مذکورہ صورت
مستلزم ہے جیساکہ معترض نے کہا ہےاورمیں اﷲ تعالی کی توفیق سے کہتاہوں کہ اعتراض کا دارومدار اس بات پرہے کہ یہ اقرار باطل ہے کیونکہ یہ مخبر عنہ اور محکی عنہ پر موقوف ہے اور وہ محکی عنہ پہلے سے ملکیت کا ثبوت ہے تو اگر اس قول سے ملکیت ثابت کی جائے اور ہبہ کا تام ہونا ثابت کی جائے اور ہبہ کا تام ہونا ثابت کیا جائے تو دور لازم آئے گاتو اس کے جواب کاخلاصہ یہ ہے کہ اقرار کے نافذ ہونے کے لئے اس اقرار کے علاوہ کسی اور سبب کا بیان ضروری ہےجو ملکیت کا باعث ہویہ بات مسلمہ ہے لیکن اس کا بیان صرف اس قت ضروری ہے جب مقر اپنے اقرار سے منحرف ہو_______ لیکن اگر وہ اپنے اقرار پر قائم ہے تو بیان کردے تو بہترورنہ وہ اپنے اس اقرار پر فوت ہوجائے تو کسی کے ہاں وہ اقرار باطل نہ ہوگا بلکہ اس اقرار کو صحیح محمل پرمحمول کرنا ضروری ہے تاکہ کلام کا لغو ہونا لازم نہ آئےاوریہاں صحیح سبب موجود ہے اوروہ ہبہ مع تخلیہ ہے جبکہ ہبہ اوراس کا تام ہونااقرار پر موقوف نہیں ہےتاکہ دور لازم آئے جیسا کہ معترض کا خیال ہےبلکہ ہبہ اور اسکا تمام ہونا یہ دونوں مذکورہ دلیل سے ثابت ہیں تو اقرار اگرچہ اپنی حقیقت میں ہبہ کے تام ہونے پر موقوف ہے لیکن وہ اپنے لازم جو کہ صحیح سبب پرمحمول کرنا ہےکے اعتبار سے مذکورہ صورت
وجوب حملہ علی سبب صالح یقتضی ان یحکم بتمام الھبۃ فی الصورۃ المذکورۃ بشرطہا وشطرھا المذکورین ولہذا حکمنا بان الاقرار ایضا دلیل علی تمام الھبۃ فقط ارجومنکم ان ترشدونی بصواب الجواب وتدقیق یؤمن بہ ویتیقن بہ اولوالالباب۔ میں ہبہ کے تام کے حکم کو اس کی شرط اور رکن سمیت چاہتاہے اور اسی لئے ہم نے حکم لگا دیاکہ اقرار بھی ہبہ کے تام ہونے کی دلیل ہے فقط(مذکورہ صورت حال کی روشنی میں) مجھے آپ سے امید ہے کہ آپ صحیح جواب کی رہنمائی فرمائیں گے اور ایسی تحقیق فرمائیں گے جس پر اصحاب علم وفہم کو یقین وتصدیق ہوجائے۔(ت)
(العبد عبداﷲ خاں عفی عنہ ازضلع چمپارن قصبہ بتیا محلہ گنج اول)
الجواب:
اللہم لك الحمد(یا اللہ! تمام حمدیں تیرے ہی لئے ہیں۔ت)صورت مشروحہ سوال سے ہندہ کے لئے ان نقود میں ملك اصلا ثابت نہیں۔
اولا:سائل نے زید کا مجلس عقد میں شوہر واصہار کے سامنے بعض اشیاء نامزد ہندہ کرنا بیان کیا مگر شوہر وغیرہ کے قبول کا کوئی ذکرنہیں کہ قبول فضولی سمجھ کر اجازت ہندہ پر موقوف رکھیںنہ بعد ہ کوئی اجازت ہندہ مذکورہ فہرست مطلقا تعریف ایجاب بالکتاب میں داخل خصوصا جبکہ تذکرہ ماوقع علیہ الانشاء ہونہ انشاءوالاول ھو المعہودالمتعارف فی امثال الفہارس (فہرستوں جیسی چیز میں امراول معلوم ومتعارف ہے۔ت)نہ وہ لفظ ہی سوال میں مسطور جو زید نے فہرست میں لکھے کہ ان پر نظر ہونہ یہی معلوم کہ ہندہ خواندہ ہےفہرست اس نے خود پڑھی یا کسی نے اس کے جملہ الفاظ مندرجہ پڑھ کر سنائےیا یوں ہی اجمالا اسے کاغذ دے دیا کہ یہ تمھارے جہیز کی فہرست ہےنہ یہی مذکور کہ ہندہ سے کوئی قول یا فعل کہ قبول یا اجازت فضولی پر صادر ہوا یانہیں
واذلا اثر لبیان شیئ منہا فی السوال فکیف یسوع الحمل فی الجواب علی احد الجوانب من دون علم و یحکم بتحقق الشطرین تحکما بوجود القبول من الحضار ثم اجازۃ من المرأۃ سوال میں مذکورہ شقوں کا بیان اورنشاندہی نہیں ہے تو جواب کو کسی ایك شق پر علم کے بغیر کیسے محمول کیا جائے اور کیسے حاضرین کے حکمی قبولیت کے وجود سے ہبہ کے دونوں رکن (ایجاب وقبول)کے پائے جانے پر حکم کیا جائے اور پھر عورت کی
(العبد عبداﷲ خاں عفی عنہ ازضلع چمپارن قصبہ بتیا محلہ گنج اول)
الجواب:
اللہم لك الحمد(یا اللہ! تمام حمدیں تیرے ہی لئے ہیں۔ت)صورت مشروحہ سوال سے ہندہ کے لئے ان نقود میں ملك اصلا ثابت نہیں۔
اولا:سائل نے زید کا مجلس عقد میں شوہر واصہار کے سامنے بعض اشیاء نامزد ہندہ کرنا بیان کیا مگر شوہر وغیرہ کے قبول کا کوئی ذکرنہیں کہ قبول فضولی سمجھ کر اجازت ہندہ پر موقوف رکھیںنہ بعد ہ کوئی اجازت ہندہ مذکورہ فہرست مطلقا تعریف ایجاب بالکتاب میں داخل خصوصا جبکہ تذکرہ ماوقع علیہ الانشاء ہونہ انشاءوالاول ھو المعہودالمتعارف فی امثال الفہارس (فہرستوں جیسی چیز میں امراول معلوم ومتعارف ہے۔ت)نہ وہ لفظ ہی سوال میں مسطور جو زید نے فہرست میں لکھے کہ ان پر نظر ہونہ یہی معلوم کہ ہندہ خواندہ ہےفہرست اس نے خود پڑھی یا کسی نے اس کے جملہ الفاظ مندرجہ پڑھ کر سنائےیا یوں ہی اجمالا اسے کاغذ دے دیا کہ یہ تمھارے جہیز کی فہرست ہےنہ یہی مذکور کہ ہندہ سے کوئی قول یا فعل کہ قبول یا اجازت فضولی پر صادر ہوا یانہیں
واذلا اثر لبیان شیئ منہا فی السوال فکیف یسوع الحمل فی الجواب علی احد الجوانب من دون علم و یحکم بتحقق الشطرین تحکما بوجود القبول من الحضار ثم اجازۃ من المرأۃ سوال میں مذکورہ شقوں کا بیان اورنشاندہی نہیں ہے تو جواب کو کسی ایك شق پر علم کے بغیر کیسے محمول کیا جائے اور کیسے حاضرین کے حکمی قبولیت کے وجود سے ہبہ کے دونوں رکن (ایجاب وقبول)کے پائے جانے پر حکم کیا جائے اور پھر عورت کی
او وجودہ منہا بعد بلوغ الکتاب مع عدم العلم بما فی الکتاب ایضا بمجرد السکوت فلا ینسب الی ساکت قولام باختیار من عند انفسنا احدالشقوق و لیس ھذا شان الجواب انما قصارہ فی امثال الصور التردید۔ اجازت اور اجازت کا وجود لکھے ہوئے کاغذ کی وصولی کے بعد باوجود یکہ اس میں لکھی ہوئی چیز کا بھی علم نہیں محض اس کے سکوت سے ثابت کرنا تو اس کی طرف کسی قول کا منسوب کرنانہ ہوگا یا ہم خود اپنی طرف سے کوئی ایك شق متعین کرلیںتو یہ جواب نہ ہوگا اب سوائے اس کے کہ سوال کی ایسی صورت کے جواب میں اگر مگر سے کام لیا جائے کوئی چارہ نہیں ہے۔(ت)
بالجملہ قبول کو شطر عقدمان کر مقدار مافی السوال پر حکم انعقاد رجم بالغیب وخرط القتاد۔
نعم ہو علی علی الاصح شرط ثبوت الملك واذن یقوم مقامہ القبض فی المجلس ولو بلااذن الواہب اوبعدہ لو باذنہ کما حققناہ فی فتاونا وحنیئذ یرجع الامر الی المباحث الاتیۃ فی تحقق التخلیۃ ویلغوا السعی فی تحقیقۃ بفرضہ من فضولی فی المجلس اواحالۃ الایجاب علی ما فی الکتاب لیتوقف الشطر علی ماوارء المجلس۔ ہاں قبول کرنا صحیح قول کے مطابق ثبوت ملکیت کی شرط ہے اور اس صورت میں ثبوت ملك سے قائم مقام قبضہ ہوسکتاہے مجلس میں ہو تو بلااجازت بھی ہوسکتاہے ورنہ مجلس کے بعد اجازت سےجیساکہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے اور اس صورت میں تخلیہ کی تحقیق میں آئندہ مباحث کی طرف راجع ہونا ہوگا جبکہ اس صورت میں فضولی سے مجلس میں قبولیت یاایجاب کو لکھی ہوئی فہرست کی طرف منسوب کرکے ماورائے مجلس شطر(رکن)کے پائے جانے کی کوشش لغو ہے۔(ت)
ثانیا ہاں ہبہ صحیحہ میں مذہب صحیح پر تخلیہ مثل قبض بالبراجم ہے۔
جزم بہ فی متن التنویر ونص فی الدررثم الدر انہ المختار قلت وقد اشار فی بیوع الاشباہ الی ضعف خلافہ وقدمہ فی ھبۃ الخانیۃ علی قول اس پر تنویر کے متن میں جزم فرمایا درر اور درمختار میں نص فرمائی اور مختار قرار دیامیں کہتاہوں اور اشباہ کی کتاب البیوع میں اس کے خلاف پر ضعف کا اشارہ کیا اور خانیہ کے کتاب الہبۃ میں اس کو مخالف قول پر مقدم ذکر کیا ہے
بالجملہ قبول کو شطر عقدمان کر مقدار مافی السوال پر حکم انعقاد رجم بالغیب وخرط القتاد۔
نعم ہو علی علی الاصح شرط ثبوت الملك واذن یقوم مقامہ القبض فی المجلس ولو بلااذن الواہب اوبعدہ لو باذنہ کما حققناہ فی فتاونا وحنیئذ یرجع الامر الی المباحث الاتیۃ فی تحقق التخلیۃ ویلغوا السعی فی تحقیقۃ بفرضہ من فضولی فی المجلس اواحالۃ الایجاب علی ما فی الکتاب لیتوقف الشطر علی ماوارء المجلس۔ ہاں قبول کرنا صحیح قول کے مطابق ثبوت ملکیت کی شرط ہے اور اس صورت میں ثبوت ملك سے قائم مقام قبضہ ہوسکتاہے مجلس میں ہو تو بلااجازت بھی ہوسکتاہے ورنہ مجلس کے بعد اجازت سےجیساکہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے اور اس صورت میں تخلیہ کی تحقیق میں آئندہ مباحث کی طرف راجع ہونا ہوگا جبکہ اس صورت میں فضولی سے مجلس میں قبولیت یاایجاب کو لکھی ہوئی فہرست کی طرف منسوب کرکے ماورائے مجلس شطر(رکن)کے پائے جانے کی کوشش لغو ہے۔(ت)
ثانیا ہاں ہبہ صحیحہ میں مذہب صحیح پر تخلیہ مثل قبض بالبراجم ہے۔
جزم بہ فی متن التنویر ونص فی الدررثم الدر انہ المختار قلت وقد اشار فی بیوع الاشباہ الی ضعف خلافہ وقدمہ فی ھبۃ الخانیۃ علی قول اس پر تنویر کے متن میں جزم فرمایا درر اور درمختار میں نص فرمائی اور مختار قرار دیامیں کہتاہوں اور اشباہ کی کتاب البیوع میں اس کے خلاف پر ضعف کا اشارہ کیا اور خانیہ کے کتاب الہبۃ میں اس کو مخالف قول پر مقدم ذکر کیا ہے
حوالہ / References
درمختار کتاب الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۹€
الخلاف وہوانما یقدم الاظہر الاشہر وبہ جزم الامام شمس الائمۃ الحلوانی ولم یمل الی ذکر الخلاف کما فی بیوع الخاقانیۃ جبکہ خانیہ اظہر واشہر کو مقدم ذکر کرتاہے اور اسی پر شمس الائمہ حلوانی نے جزم کیا اور مخالف قول کو ذکر تك نہ کیاجیسا کہ خاقانیہ کے بیوع کے باب میں ہے۔(ت)
مگریہاں اعتبار تخلیہ کے لئے جو تمکن قبض شرط ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ شیئ موہوب موہوب لہ سے اس قدر قریب ہوکہ یہ ہاتھ بڑھائے توا س تك پہنچ جائے اٹھ کر اس کے پاس جانے کی حاجت نہ ہو فقط الماری اور صندوق کا کھلاہونا ہرگز کافی نہیں۔
بحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
لواشتری ثوبا فامرہ البائع بقبضہ فلم یقبضہ حتی اخذہ انسان ان کان حین امرہ بقبضہ امکنہ من غیر قیام صح التسلیم وان کان لایمکنہ الابقیام لایصح ۔ اگر کسی نے کپڑا خریدا تو بائع نے اس کوقبضہ کرنے کاحکم دیا ابھی وہ قبضہ کرنہ پایاتھا کہ دوسر ے شخص نے وہ کپڑا پکڑ لیا اگر قبضہ کے حکم کے وقت مشتری کو اس کپڑے پر قبضہ کے لئے قیام کے بغیر قدرت تھی تو بائع کا یہ حکم تسلیم کے قائم مقام ہوگا اور قیام کے بغیرقبضہ پرقدرت نہ تھی تو تسلیم صحیح نہ ہوگا۔(ت)
فتاوی قاضیخاں وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
ان کان حین امرہ البائع بالقبض امکنہ ان یمد یدہ ویقبض من غیر قیام صح التسلیم والافلا ۔ جب بائع نے اس کو قبضہ کاحکم دیا اس وقت اس کو ہاتھ بڑھاکر بغیر قیام قبضہ پر قدرت تھی تو تسلیم صحیح ہے ورنہ نہیں۔(ت)
یہاں سائل نے کچھ بیان نہ کیا کہ الماری کھولتے وقت ہندہ کتنے فاصلہ پر ہوتی تھینہ اس نے کہاکہ کبھی زید نے اس وقت ہندہ کو بلاکر اتنا پاس بٹھاکر یہ الفاظ کہے کہ ہندہ ہاتھ بڑھاتی تو روپوں کی تھیلی ہاتھ میں آجاتی تو شرط تخلیہ کا تحقق سوال سے ظاہر نہیں بلکہ ظاہر عدم ہے کہ ایسا ہوا ہوتا تو اس کا بیان ترك نہ کرتا
لما یترا أی من کلام عن الاستقصاء کیونکہ پورا واقعہ بیان کرنے اور ہبہ کو تام
مگریہاں اعتبار تخلیہ کے لئے جو تمکن قبض شرط ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ شیئ موہوب موہوب لہ سے اس قدر قریب ہوکہ یہ ہاتھ بڑھائے توا س تك پہنچ جائے اٹھ کر اس کے پاس جانے کی حاجت نہ ہو فقط الماری اور صندوق کا کھلاہونا ہرگز کافی نہیں۔
بحرالرائق وردالمحتار میں ہے:
لواشتری ثوبا فامرہ البائع بقبضہ فلم یقبضہ حتی اخذہ انسان ان کان حین امرہ بقبضہ امکنہ من غیر قیام صح التسلیم وان کان لایمکنہ الابقیام لایصح ۔ اگر کسی نے کپڑا خریدا تو بائع نے اس کوقبضہ کرنے کاحکم دیا ابھی وہ قبضہ کرنہ پایاتھا کہ دوسر ے شخص نے وہ کپڑا پکڑ لیا اگر قبضہ کے حکم کے وقت مشتری کو اس کپڑے پر قبضہ کے لئے قیام کے بغیر قدرت تھی تو بائع کا یہ حکم تسلیم کے قائم مقام ہوگا اور قیام کے بغیرقبضہ پرقدرت نہ تھی تو تسلیم صحیح نہ ہوگا۔(ت)
فتاوی قاضیخاں وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
ان کان حین امرہ البائع بالقبض امکنہ ان یمد یدہ ویقبض من غیر قیام صح التسلیم والافلا ۔ جب بائع نے اس کو قبضہ کاحکم دیا اس وقت اس کو ہاتھ بڑھاکر بغیر قیام قبضہ پر قدرت تھی تو تسلیم صحیح ہے ورنہ نہیں۔(ت)
یہاں سائل نے کچھ بیان نہ کیا کہ الماری کھولتے وقت ہندہ کتنے فاصلہ پر ہوتی تھینہ اس نے کہاکہ کبھی زید نے اس وقت ہندہ کو بلاکر اتنا پاس بٹھاکر یہ الفاظ کہے کہ ہندہ ہاتھ بڑھاتی تو روپوں کی تھیلی ہاتھ میں آجاتی تو شرط تخلیہ کا تحقق سوال سے ظاہر نہیں بلکہ ظاہر عدم ہے کہ ایسا ہوا ہوتا تو اس کا بیان ترك نہ کرتا
لما یترا أی من کلام عن الاستقصاء کیونکہ پورا واقعہ بیان کرنے اور ہبہ کو تام
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فیما یدخل فی البیع الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۳€
فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۷€
فتاوٰی ہندیہ الباب الرابع الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۷€
فی بیان الواقعۃ وتفریغ الوسع فی الاتیان بکل ماظنہ مؤید التمام الھبۃ۔ قرارد ینے کی کوشش میں پوری مساعی کا ہر ممکن صرف کرنا اس کی کلام میں ملاحظہ کیا جاسکتاہے۔(ت)
نہ فریقین کا اتفاق کہ واہب ایسا کہاکرتا تھا یا ہندہ قبضہ کرتی تو کہہ سکتے ہیں کہ نہ روکتا اس شرط تمکن کے وجود پر اتفاق ہے ایسا کہنا یا نہ روکنا واہب کے قول وحال ہیں اور جو تمکن کہ یہاں شرط ہے یعنی شے موہوب سے اس قدر قریب ہونا وہ موہوب لہ کا وصف ہےتو نہ اس کا وجود اس کے وجود کو مستلزمنہ اس کی تسلیمبہرحال قدر مافی السوال پرثبوت تخلیہ کاحکم صحیح نہیں۔
فکان حقہ ان یردد اذا تردد وھہنا سہو فی بعض الصور وقع فی ش تبعا للبحر اوضحناہ وازحناہ فیما علقنا علیہ وباﷲ التوفیق ثم ہوایضالا یتعلق بما فی الباب قد نص انہ یشترط فی نحو ثوب کونہ بحیث لومد یدہ تصل الیہ ولا شك ان الدراہم فی ذلك مثل الثیاب۔ حق یہ تھا کہ تردد کی صورت میں تردد کا اظہار کیا جاتااوریہاں بعض صورتوں کے بیان میں شامی کو بحر کی پیروی میں سہو ہوا ہے ا س کوہم نے اس پر حاشیہ میں واضح کیا اور اس کا ازالہ بھی کیا ہےاور توفیق اﷲ تعالی سے ہےپھروہ بھی اس باب سے متعلق نہیں ہےانھوں نے یہ نص کی ہے کہ کپڑے جیسے معاملہ میں یہ شرط ہے کہ کپڑا یوں ہو کہ اگر ہاتھ بڑھائے تو ہاتھ اس تك پہنچ جائے تو شك نہیں کہ دراہم اس معاملہ میں کپڑے کی مانند ہیں۔(ت)
ثالثا: تحقق تخلیہ کے لئے صرف تمکن قبضہ فی الحال ہر گز کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ مخلی مخلی لہ کو قبضہ کاحکم کرےمثلا "خذہ"یا"اقبضہ"کہے یا"خلیت لك عنہ"یا اس کے مثل جو اس معنی کو ادا کرے۔
کلام یہاں طویل الذیل ہے اورمحل اجمال میں چند جملے وافیواﷲ الموفق
(۱)امام اجل فقیہ النفس قاضیخاں رحمہ اﷲ تعالی نے تخلیہ کی تعریف ہی میں امر بالقبض ماخوذ فرمایاکما ھو منقول فی السؤال وجعل الحد اکثر یا لاحصریاتحویل لاتاویل(جیسا کہ سوال میں منقول ہے۔اور قاضی خاں کی تعریف کو اکثری قرار دینا ان کی کلام کو تبدیل کرنا ہے یہ اس کی تاویل نہیں ہے۔ت)
نہ فریقین کا اتفاق کہ واہب ایسا کہاکرتا تھا یا ہندہ قبضہ کرتی تو کہہ سکتے ہیں کہ نہ روکتا اس شرط تمکن کے وجود پر اتفاق ہے ایسا کہنا یا نہ روکنا واہب کے قول وحال ہیں اور جو تمکن کہ یہاں شرط ہے یعنی شے موہوب سے اس قدر قریب ہونا وہ موہوب لہ کا وصف ہےتو نہ اس کا وجود اس کے وجود کو مستلزمنہ اس کی تسلیمبہرحال قدر مافی السوال پرثبوت تخلیہ کاحکم صحیح نہیں۔
فکان حقہ ان یردد اذا تردد وھہنا سہو فی بعض الصور وقع فی ش تبعا للبحر اوضحناہ وازحناہ فیما علقنا علیہ وباﷲ التوفیق ثم ہوایضالا یتعلق بما فی الباب قد نص انہ یشترط فی نحو ثوب کونہ بحیث لومد یدہ تصل الیہ ولا شك ان الدراہم فی ذلك مثل الثیاب۔ حق یہ تھا کہ تردد کی صورت میں تردد کا اظہار کیا جاتااوریہاں بعض صورتوں کے بیان میں شامی کو بحر کی پیروی میں سہو ہوا ہے ا س کوہم نے اس پر حاشیہ میں واضح کیا اور اس کا ازالہ بھی کیا ہےاور توفیق اﷲ تعالی سے ہےپھروہ بھی اس باب سے متعلق نہیں ہےانھوں نے یہ نص کی ہے کہ کپڑے جیسے معاملہ میں یہ شرط ہے کہ کپڑا یوں ہو کہ اگر ہاتھ بڑھائے تو ہاتھ اس تك پہنچ جائے تو شك نہیں کہ دراہم اس معاملہ میں کپڑے کی مانند ہیں۔(ت)
ثالثا: تحقق تخلیہ کے لئے صرف تمکن قبضہ فی الحال ہر گز کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ مخلی مخلی لہ کو قبضہ کاحکم کرےمثلا "خذہ"یا"اقبضہ"کہے یا"خلیت لك عنہ"یا اس کے مثل جو اس معنی کو ادا کرے۔
کلام یہاں طویل الذیل ہے اورمحل اجمال میں چند جملے وافیواﷲ الموفق
(۱)امام اجل فقیہ النفس قاضیخاں رحمہ اﷲ تعالی نے تخلیہ کی تعریف ہی میں امر بالقبض ماخوذ فرمایاکما ھو منقول فی السؤال وجعل الحد اکثر یا لاحصریاتحویل لاتاویل(جیسا کہ سوال میں منقول ہے۔اور قاضی خاں کی تعریف کو اکثری قرار دینا ان کی کلام کو تبدیل کرنا ہے یہ اس کی تاویل نہیں ہے۔ت)
(۲)امام اجل ممدوح ودیگر اجلہ نے صراحۃ عدم امرمذکور کی حالت میں عدم صحت تخلیہ پر نص فرمایافتاوی قاضیخاں وفتاوی ظہیریہ وفتاوی ہندیہ وبحرالرائق وردالمحتار وغیرہا میں ہے:
والللفظ للخانیۃ ان دفع الیہ المفتاح و لم یقل خلیت بینك وبین الدار فاقبضہ لم یکن ذلك قبضا ۔ خانیہ کے الفاظ میں۔اگر اس نے چابی دے دی اور یہ نہ کہا کہ میں نے تیرے اور گھر کے درمیان تخلیہ کردیا ہے تو قبضہ کرلے تویہ قبضہ نہ ہوگا(ت)
محیط پھرعالمگیریہ میں ہے:
اذا لم یقل اقبضہ فانما القبض ان ینقلہ ۔ جب قبضہ کرلے نہ کہا تو پھر وہاں سے منتقل کرنا ہی قبضہ قراردپائے گا۔(ت)
تو کلام امام قاضیخاں کو عدم اشتراط پر حمل کرنا خود ان کی تصریح صریح کےخلاف ہوگا
(۳)امام اجل موصوف ودیگر اکابر یہاں تك تصریح فرماتے ہیں کہ مطلقا امر بالقبض بھی کافی نہیں بلکہ خاص وہ امر بالقبض درکار ہے جو اس شیئ کی طرف مضاف ہومثلا ہبہ یا بیع کرکے کہا لے لے یا قبضہ کرلےتخلیہ نہ ہوا جب تك یوں نہ کہے کہ یہ چیز لے لے یا اس پر قبضہ کرلےفتاوی قاضی خاں و بحرالرائق وفتاوی ذخیرہ وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لو قال"خذ"لا یکون قبضا ولو"خذہ"فہو قبض اذا کان یصل الی اخذہ ویراہ ۔ اگر کہا"پکڑلے"تو قبضہ نہ ہوگااور یہ کہا کہ"اس کو پکڑلے"تو قبضہ ہوگا بشرطیکہ چیز کو ہاتھ پہنچ جائے اور اس کو نظر آئے۔(ت)
(۴)امام اجل مذکور کے فتاوی اور کتاب الاجناس وشرح الجمع لابن ملك وغمز العیون والبصائر وبحرالرائق وغیرہا میں تخلیہ کی شرائط شمار کیں اور ان میں قول مذکور کو ایك مستقل شرط گنا۔اورنہر الفائق ودرمختاروفتاوی ہندیہ وحاشیہ طحطاویہ وردالمحتار وغیرہا میں اسے مقرر رکھا۔امام ناطفی وابن فرشتہ وسید حموی کی عبارت یہ ہے:
والللفظ للخانیۃ ان دفع الیہ المفتاح و لم یقل خلیت بینك وبین الدار فاقبضہ لم یکن ذلك قبضا ۔ خانیہ کے الفاظ میں۔اگر اس نے چابی دے دی اور یہ نہ کہا کہ میں نے تیرے اور گھر کے درمیان تخلیہ کردیا ہے تو قبضہ کرلے تویہ قبضہ نہ ہوگا(ت)
محیط پھرعالمگیریہ میں ہے:
اذا لم یقل اقبضہ فانما القبض ان ینقلہ ۔ جب قبضہ کرلے نہ کہا تو پھر وہاں سے منتقل کرنا ہی قبضہ قراردپائے گا۔(ت)
تو کلام امام قاضیخاں کو عدم اشتراط پر حمل کرنا خود ان کی تصریح صریح کےخلاف ہوگا
(۳)امام اجل موصوف ودیگر اکابر یہاں تك تصریح فرماتے ہیں کہ مطلقا امر بالقبض بھی کافی نہیں بلکہ خاص وہ امر بالقبض درکار ہے جو اس شیئ کی طرف مضاف ہومثلا ہبہ یا بیع کرکے کہا لے لے یا قبضہ کرلےتخلیہ نہ ہوا جب تك یوں نہ کہے کہ یہ چیز لے لے یا اس پر قبضہ کرلےفتاوی قاضی خاں و بحرالرائق وفتاوی ذخیرہ وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لو قال"خذ"لا یکون قبضا ولو"خذہ"فہو قبض اذا کان یصل الی اخذہ ویراہ ۔ اگر کہا"پکڑلے"تو قبضہ نہ ہوگااور یہ کہا کہ"اس کو پکڑلے"تو قبضہ ہوگا بشرطیکہ چیز کو ہاتھ پہنچ جائے اور اس کو نظر آئے۔(ت)
(۴)امام اجل مذکور کے فتاوی اور کتاب الاجناس وشرح الجمع لابن ملك وغمز العیون والبصائر وبحرالرائق وغیرہا میں تخلیہ کی شرائط شمار کیں اور ان میں قول مذکور کو ایك مستقل شرط گنا۔اورنہر الفائق ودرمختاروفتاوی ہندیہ وحاشیہ طحطاویہ وردالمحتار وغیرہا میں اسے مقرر رکھا۔امام ناطفی وابن فرشتہ وسید حموی کی عبارت یہ ہے:
حوالہ / References
فتاوٰی قاضیخاں کتا ب البیع باب فی تنقیح المبیع ∞نولکشور لکھنؤ ۲/۳۹۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۷€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الذخیرۃ کتاب البیوع الباب الرابع الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۶€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۷€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الذخیرۃ کتاب البیوع الباب الرابع الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۶€
التخلیۃ بین المبیع والمشتری یکون قبضا بشروط احدھا ان یقول البائع خلیت بینك وبین المبیع و الثانی ان یکون المبیع بحضرۃ المشتری بحیث یتمکن من اخذہ بلامانعوالثالث ان یکون المبیع مفرزا غیر مشغول بحق غیرہ اھ باختصار مبیع چیزاور مشتری کے درمیان تخلیہ چند شرائط کے ساتھ قبضہ بن جاتاہے ایك یہ کہ بائع یوں کہے"میں نے تیرے اور مبیع کے درمیان تخلیہ کیا"دوسری یہ کہ مبیع مشتری کے پاس اس طرح ہوکہ بغیر رکاوٹ اسی کوپکڑ سکےاور تیسری شرط یہ کہ مبیع فارغ ہو اور کسی کے حق میں مشغول نہ ہواھ اختصار۔(ت)
شرط کا اکثری ہونا کیامعنیاور امام اجل موصوف نے تو صراحۃ اسے ارشادات عالیہ امام الائمہ صاحب المذہب سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے نقل کیا:
حیث قال قال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ التخلیۃ بین المبیع و المشتری تکون قبضا بشرائط ثلثۃ احدھا ان یقول البائع خلیت بینك وبین المبیع فاقبضہ ویقول المشتری قد قبضتوالثانی ان یکون المبیع بحضرۃ المشتری بحیث یصل الی اخذہ من غیر مانعوالثالث ان یکون المبیع مفرز اغیر مشغول بحق الغیر الخ جہاں انھوں نے فرمایا کہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا مبیع اور مشتری کے درمیان تخلیہ تین شرائط کے ساتھ قبضہ قرار پاتاہےایك یہ کہ وہ مشتری کو کہے کہ میں نے تیرے اور مبیع کے درمیان تخلیہ کردیا ہے تو قبضہ کرلےاور مشتری جواب میں کہے میں نے قبضہ کیادوسری یہ کہ مبیع اس طرح مشتری کے سامنے ہو کہ بغیر رکاوٹ اس کو لے سکےاور تیسری یہ کہ مبیع فارغ ہو کسی کے حق میں مشغول نہ ہو الخ۔(ت)
بحرالرائق میں ہے:
شرط کا اکثری ہونا کیامعنیاور امام اجل موصوف نے تو صراحۃ اسے ارشادات عالیہ امام الائمہ صاحب المذہب سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ سے نقل کیا:
حیث قال قال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ التخلیۃ بین المبیع و المشتری تکون قبضا بشرائط ثلثۃ احدھا ان یقول البائع خلیت بینك وبین المبیع فاقبضہ ویقول المشتری قد قبضتوالثانی ان یکون المبیع بحضرۃ المشتری بحیث یصل الی اخذہ من غیر مانعوالثالث ان یکون المبیع مفرز اغیر مشغول بحق الغیر الخ جہاں انھوں نے فرمایا کہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا مبیع اور مشتری کے درمیان تخلیہ تین شرائط کے ساتھ قبضہ قرار پاتاہےایك یہ کہ وہ مشتری کو کہے کہ میں نے تیرے اور مبیع کے درمیان تخلیہ کردیا ہے تو قبضہ کرلےاور مشتری جواب میں کہے میں نے قبضہ کیادوسری یہ کہ مبیع اس طرح مشتری کے سامنے ہو کہ بغیر رکاوٹ اس کو لے سکےاور تیسری یہ کہ مبیع فارغ ہو کسی کے حق میں مشغول نہ ہو الخ۔(ت)
بحرالرائق میں ہے:
حوالہ / References
غمز العیون البصائر مع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب البیوع ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۳۲۷€
فتاوٰی قاضی خان کتاب البیع باب فی تنقیح المبیع ∞نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۹۵€
فتاوٰی قاضی خان کتاب البیع باب فی تنقیح المبیع ∞نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۹۵€
کان ابوحنیفہ یقول القبض ان یقول خلیت بینك وبین المبیع فاقبضہ ویقول المشتری وہو عند البائع قبضتہ ۔ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ فرمایا کرتے تھے کہ تخلیہ کے ساتھ قبضہ یہ ہے کہ میں نے تیرے اور مبیع کے درمیان تخلیہ کردیا ہے اس کو لے لواور مشتری بائع کی موجودگی میں کہے میں نے قبضہ کیا۔(ت)
بالجملہ نقول اس مسئلہ میں متظافر ہیں اور سب سے اعظم یہ کہ وہ خود صاحب المذہب رضی اﷲ تعالی عنہ کا منصوص ہے:فایاك ان تتوھم ممافی الدر تبعا للنہر انہا من زیادات الناطفی۔درمختار میں نہر کی پیروی میں جوکہا کہ یہ ناطق کے زیادات میں سے ہےاس وہم سے بچ کر رہنا۔(ت)
(۵)یہیں سے ظاہر کہ عبارات علماء میں جہاں تخلیہ مذکو ر ہے یہ شرط منظورہے۔
فان الشیئ اذا اثبت ثبت بلوازمہ و من قال رجل صلی فلیس علیہ ان یقول بطاھر فی طاھر علی طاھر ناویا مستقبلا مکبرا فقد تضمن الکل قولہ صلیفلا تظن امثال قول الخانیۃ البائع اذا خلی بحیث یتمکن المشتری من قبضہ یصیر قابضا انہا خالیۃ عن ھذ الشرط فضلا عن کونہا صرائح فی انہ لیس بشرط۔ جب کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو اپنے تمام لوازمات کے ساتھ ثابت ہوتی ہےاور جو شخص کسی کے متعلق کہے کہ"فلاں نے نماز پڑھی ہے"تو اس کو یہ کہنے کی ضرورت نہیںپاك حالتپاك پانیپاك جگہنیت کے ساتھقبلہ کی طرف اور تکبیر کہہ کرکیونکہ نماز کا ذکر ہی ان سب کو متضمن ہےلہذا خانیہ کے قول کہ"بائع جب تخلیہ کردے اس اندازمیں مشتری کو قبضہ پر تمکن حاصل ہوجائے تو مشتری قابض قرار پائے گا" سے تجھے یہ گمان نہ ہوکہ یہ اس شرط سے خالی ہے چہ جائیکہ تو عدم شرط پر اس کوتصریح قرار دے۔(ت)
بالجملہ نقول اس مسئلہ میں متظافر ہیں اور سب سے اعظم یہ کہ وہ خود صاحب المذہب رضی اﷲ تعالی عنہ کا منصوص ہے:فایاك ان تتوھم ممافی الدر تبعا للنہر انہا من زیادات الناطفی۔درمختار میں نہر کی پیروی میں جوکہا کہ یہ ناطق کے زیادات میں سے ہےاس وہم سے بچ کر رہنا۔(ت)
(۵)یہیں سے ظاہر کہ عبارات علماء میں جہاں تخلیہ مذکو ر ہے یہ شرط منظورہے۔
فان الشیئ اذا اثبت ثبت بلوازمہ و من قال رجل صلی فلیس علیہ ان یقول بطاھر فی طاھر علی طاھر ناویا مستقبلا مکبرا فقد تضمن الکل قولہ صلیفلا تظن امثال قول الخانیۃ البائع اذا خلی بحیث یتمکن المشتری من قبضہ یصیر قابضا انہا خالیۃ عن ھذ الشرط فضلا عن کونہا صرائح فی انہ لیس بشرط۔ جب کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو اپنے تمام لوازمات کے ساتھ ثابت ہوتی ہےاور جو شخص کسی کے متعلق کہے کہ"فلاں نے نماز پڑھی ہے"تو اس کو یہ کہنے کی ضرورت نہیںپاك حالتپاك پانیپاك جگہنیت کے ساتھقبلہ کی طرف اور تکبیر کہہ کرکیونکہ نماز کا ذکر ہی ان سب کو متضمن ہےلہذا خانیہ کے قول کہ"بائع جب تخلیہ کردے اس اندازمیں مشتری کو قبضہ پر تمکن حاصل ہوجائے تو مشتری قابض قرار پائے گا" سے تجھے یہ گمان نہ ہوکہ یہ اس شرط سے خالی ہے چہ جائیکہ تو عدم شرط پر اس کوتصریح قرار دے۔(ت)
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب البیع یدخل البناء والمفاتیم الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ /۳۰۸€
فتاوٰی قاضیخاں کتاب البیع باب فی قبض المبیع ∞نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۹۴€
فتاوٰی قاضیخاں کتاب البیع باب فی قبض المبیع ∞نولکشور لکھنؤ ۲ /۳۹۴€
(۶)نصوص صریحہ مذہب وخود صاحب مذہب رضی اﷲ تعالی عنہ کے خلاف اگر کوئی روایت شاذہ پائی جاتی نامقبول ہوتی نہ کہ روایت مطلقہ کہ مخالف بھی نہ ٹھہرتی بلکہ اسی مقید پر محمول ہوتی۔
لانہ متفق علیہ فی کلمات العلماء وانما الخلاف فی نصوص الشارع کما فی ردالمحتار وغیرہ من المعتمدات کیونکہ یہ تمام علماء کے کلام میں متفق علیہ ہے صرف شارع کی نصوص میں خلاف ہےجیسا کہ ردالمحتار وغیرہ معتمد کتب میں ہے۔(ت)
نہ کے بے استناد روایت محض ذہنی حکایت کہ وہ کیا قابل التفات وعنایت
فالمشتری ان عددالثمن فی ید البائع اوذیلہ اوحجرہ لم یحتج البتۃ الی قولہ خذہ ونحوہ لان الحقیقی غنی عن شرائط الحکمی وان عددہ علی الارض بین یدی نفسہ فلایسلم انہ تخلیۃ مالم یقلہ اوینقلہ۔ جب مشتری نے رقم بائع کے ہاتھ یا جھولی یا دامن میں گنتی کرکے ڈالی تو اب اس کو یہ کہنے کی ضرورت ہر گزنہیں کہ "تو پکڑلے"کیونکہ حقیقی قبضہ کے بعد حکمی شرائط کی ضرورت نہیں ہے۔ہاں اگر مشتری اپنے سامنے زمین پر گن کر رکھ دے تو یہ تسلیم نہ ہوگا کہ یہ تخلیہ ہے جب تك پکڑ نہ لےنہ کہہ دے یا وہاں سے مشتری اٹھا نہ لے۔(ت)
(۷)زید کاکہنا"یہ تیرا روپیہ ہے"صراحۃ اقرار ہے فتاوی قاضیخان وفتاوی بزازیہ و فتاوی ہندیہ میں ہے:
لو قال لاخر"ایں چیز ترا"فہو ھبۃ یشترط فیھا القبض ولو قال"تراست"فاقرار ۔ اگردوسرے کو کہیا کہ یہ چیز تجھ کو تو ھبۃ ہوگا اور اس میں قبضہ شرط ہوگا اور اگر کہا کہ یہ چیز تیری ہے تواقرار ہوگا۔(ت)
تو اس سے انشائے اجازت قبض مراد لینا محض مجازا ور مجاز بے ضرورت ممنوع ونامجاز اور ضرورت معدومتو تخلیہ کی پہلی شرط تمکن قبض کا تو وجود معلوم نہ تھااس دوسری شرط یعنی امر بالقبض کا عدم معلوم
لانہ متفق علیہ فی کلمات العلماء وانما الخلاف فی نصوص الشارع کما فی ردالمحتار وغیرہ من المعتمدات کیونکہ یہ تمام علماء کے کلام میں متفق علیہ ہے صرف شارع کی نصوص میں خلاف ہےجیسا کہ ردالمحتار وغیرہ معتمد کتب میں ہے۔(ت)
نہ کے بے استناد روایت محض ذہنی حکایت کہ وہ کیا قابل التفات وعنایت
فالمشتری ان عددالثمن فی ید البائع اوذیلہ اوحجرہ لم یحتج البتۃ الی قولہ خذہ ونحوہ لان الحقیقی غنی عن شرائط الحکمی وان عددہ علی الارض بین یدی نفسہ فلایسلم انہ تخلیۃ مالم یقلہ اوینقلہ۔ جب مشتری نے رقم بائع کے ہاتھ یا جھولی یا دامن میں گنتی کرکے ڈالی تو اب اس کو یہ کہنے کی ضرورت ہر گزنہیں کہ "تو پکڑلے"کیونکہ حقیقی قبضہ کے بعد حکمی شرائط کی ضرورت نہیں ہے۔ہاں اگر مشتری اپنے سامنے زمین پر گن کر رکھ دے تو یہ تسلیم نہ ہوگا کہ یہ تخلیہ ہے جب تك پکڑ نہ لےنہ کہہ دے یا وہاں سے مشتری اٹھا نہ لے۔(ت)
(۷)زید کاکہنا"یہ تیرا روپیہ ہے"صراحۃ اقرار ہے فتاوی قاضیخان وفتاوی بزازیہ و فتاوی ہندیہ میں ہے:
لو قال لاخر"ایں چیز ترا"فہو ھبۃ یشترط فیھا القبض ولو قال"تراست"فاقرار ۔ اگردوسرے کو کہیا کہ یہ چیز تجھ کو تو ھبۃ ہوگا اور اس میں قبضہ شرط ہوگا اور اگر کہا کہ یہ چیز تیری ہے تواقرار ہوگا۔(ت)
تو اس سے انشائے اجازت قبض مراد لینا محض مجازا ور مجاز بے ضرورت ممنوع ونامجاز اور ضرورت معدومتو تخلیہ کی پہلی شرط تمکن قبض کا تو وجود معلوم نہ تھااس دوسری شرط یعنی امر بالقبض کا عدم معلوم
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ الوجیز الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۵€
وحدیث الالغاء لایستحق الاصغاء فان الاقرار لم یعرعن حکمہ من ان المقر مؤاخذ بہ قضاء ان لم یثبت بطلانہ حیث یصیر مکذبا شرعا فاین التعطیل حتی یجوز التجوز والتحویل اماانہ لایقوم بافادۃ الملك للمقرلہ فہذا عین حکمہ ولو کان فیہ الغاوہ لانمحی الاقرار من صفحۃ الدنیا لان لالفاء اذن یلزم حکمہ وحکم الشیئ لازمہ لہ فالالغاء یلزم الاقرار وما کان الغاؤہ لازم وجودہ فوجودہ عدم وبعبارۃ اوضح لوجوب حمل کل اقرار علی انشاء محضر کی یفید الملك والایلغوالاقرار غیرالانشاء فتبطل راساوانعدام
(۸)کفانا المؤنۃ مامرنی مباحث السؤال نفسھا ان اقرارہ یجب ان یحمل علی سبب صالح حتی لایلزم الالغاء فقد علم ان حملہ علی تقدم سبب مامصحح للاقرار یکفی لاعمالہ ویندفع الالغاء ومعلوم نہ یبقی بہ علی حقیقتہ فالعدول الی المجاز فرار عن الالغاء مما لاوجہ اصلا۔
(۹)بل الاقرار بشیئ انہ لفلان ان کی لغوکرنے والی بات قابل التفات نہیں ہےکیونکہ اقرار جب تك شرعا جھوٹا ہوکر باطل نہ قراردیا جائے تو اس وقت تك وہ اپنے حکم جو کہ مقرکا اپنے اقرار میں قضاء ماخوذ ہونا ہےسے خالی نہیں ہوتا تو یہاں وہ کب معطل ہے کہ مجاز کی طرف پھر ناجائز ہو اور یہ کہ وہ مقرلہ کے لئے ملکیت کا فائدہ نہیں دیتا(تو غلط ہے)کیونکہ یہی تو اقرار کا حکم ہے اورا گر یہی لغو قرارپائے تو پھر دنیا میں اقرار کا وجود نہ رہے گا کیونکہ اس طرح الغاء حکم کو لازم ہوگا اورحکم خود شیئ کو لازم ہے تو یوں الغاء خود اقرار کو لازم ہوگا اورجس چیز کو الغاء لازم الوجود تو اس کا وجو د معدوم قراپائے گا اور آسان عبارت میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہرا اقرار کو انشاء محض پرمحمول کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ملکیت کے لئے مفید ہوااور لغونہ ہو جبکہ اقرار انشاء نہیں ہوسکتا تو اقرار سرے سے باطل ہوگا اورختم ہوجائے گا۔(ت)
اورخود اس نے ہمیں سوال کی مباحث کی تکلیف سے فارغ کردیا جب اس نے کہہ دیا کہ اقرار کوکسی مناسب کردیا جب اس نے کہہ دیا کہ اقرار کوکسی مناسب سبب پرمحمول کرنا ضرورت ہے جو اقرار کو صحیح کرے یہ بات اقرار کی صحت وعمل کے لئے کافی ہے اور لغو نہ ہوگا تو ظاہر ہوگیا کہ اقرار اپنے حقیقی معنی پر ہے تو اب الغاء سے بچنے کے لئے مجاز کی طرف عدول کی کوشش بلاجواز ہے۔(ت)
بلکہ کسی چیز کے متعلق اقرار کہ یہ فلان کی ہے
(۸)کفانا المؤنۃ مامرنی مباحث السؤال نفسھا ان اقرارہ یجب ان یحمل علی سبب صالح حتی لایلزم الالغاء فقد علم ان حملہ علی تقدم سبب مامصحح للاقرار یکفی لاعمالہ ویندفع الالغاء ومعلوم نہ یبقی بہ علی حقیقتہ فالعدول الی المجاز فرار عن الالغاء مما لاوجہ اصلا۔
(۹)بل الاقرار بشیئ انہ لفلان ان کی لغوکرنے والی بات قابل التفات نہیں ہےکیونکہ اقرار جب تك شرعا جھوٹا ہوکر باطل نہ قراردیا جائے تو اس وقت تك وہ اپنے حکم جو کہ مقرکا اپنے اقرار میں قضاء ماخوذ ہونا ہےسے خالی نہیں ہوتا تو یہاں وہ کب معطل ہے کہ مجاز کی طرف پھر ناجائز ہو اور یہ کہ وہ مقرلہ کے لئے ملکیت کا فائدہ نہیں دیتا(تو غلط ہے)کیونکہ یہی تو اقرار کا حکم ہے اورا گر یہی لغو قرارپائے تو پھر دنیا میں اقرار کا وجود نہ رہے گا کیونکہ اس طرح الغاء حکم کو لازم ہوگا اورحکم خود شیئ کو لازم ہے تو یوں الغاء خود اقرار کو لازم ہوگا اورجس چیز کو الغاء لازم الوجود تو اس کا وجو د معدوم قراپائے گا اور آسان عبارت میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہرا اقرار کو انشاء محض پرمحمول کرنا ضروری ہے تاکہ وہ ملکیت کے لئے مفید ہوااور لغونہ ہو جبکہ اقرار انشاء نہیں ہوسکتا تو اقرار سرے سے باطل ہوگا اورختم ہوجائے گا۔(ت)
اورخود اس نے ہمیں سوال کی مباحث کی تکلیف سے فارغ کردیا جب اس نے کہہ دیا کہ اقرار کوکسی مناسب کردیا جب اس نے کہہ دیا کہ اقرار کوکسی مناسب سبب پرمحمول کرنا ضرورت ہے جو اقرار کو صحیح کرے یہ بات اقرار کی صحت وعمل کے لئے کافی ہے اور لغو نہ ہوگا تو ظاہر ہوگیا کہ اقرار اپنے حقیقی معنی پر ہے تو اب الغاء سے بچنے کے لئے مجاز کی طرف عدول کی کوشش بلاجواز ہے۔(ت)
بلکہ کسی چیز کے متعلق اقرار کہ یہ فلان کی ہے
انما ینبئ عن ملك مطلق لہ فیہ قبل الاقرار فلا یحتاج الی ابانۃ سبب اصلا فضلا عن ان یلزم المقرفی حیاتہ ببیان سبب صالح ھذا لم یقول بہ احد وانما قالوا ان الاتری ان مدعی الملك المطلق و شاھدیہ یکلفون بین السبب فکیف المقر الامااستثنی مما الظاھر فیہ بطلان الاقرار کالاقرار لحمل فمشیئ محمد علی الاصل ای یحمل علی سبب صالح من دون بیان والزمابیانہ کارث اووصیۃ بخلافہ الرضیع وان لم یبین شیئا بل بین مالا یصلح لہ کاقراض وبیع الکل کما فی الاشباہ والتنویر وغیرھما۔
(۱۰)بل لادلالۃ للاقرار علی ان ملك المقرلۃ المخبر عنہ فی الاقرار کان مستفادا من االمقر الاتری تویہ اقرار بتاتاہے کہ چیز فلاں کی ملکیت مطلقہ قبل از اقرار ہے تو کسی سبب کو ظاہر کرنے کی ضرورت ہی نہ رہی چہ جائیکہ مقر پر لازم کردیا جائے کہ وہ اپنی زندگی میں اس اقرار کے مناسب سبب کو بیان کرےحالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں اور انھوں نے تویہ فرمایا ہے کہ ہر مقر اپنے اقرار میں ماخوذ ہوتاہےآپ دیکھ رہے ہیں کہ ملکیت مطلقہ کا مدعی اور اسکے گواہ کسی سبب کو بیان کرنے کے پابند نہیں ہوتے تو مقر کیسے پابند ہوسکتاہے ہاں وہ صورت اس بحث سے خارج ہے جو ظاہرا باطل قرار بنے مثلا کوئی شخص ایسے بچے کے لئے اقرار کرے جو ابھی حمل میں ہے تو امام محمد رحمہ اﷲ تعالی اس اقرار کو اپنے اصل پر محمول کرتے ہوئے مناسب سبب کو بیان کرناضروری نہیں قرار دیتے جبکہ شیخین رحمہما اﷲ تعالی اس کو بیان کرنا ضروری قرار دیتے ہیں مثلا وصیت یاوراثت میں سے کسی کو بیان کرے بخلاف دودھ پینے والے بچے کے لئے اقرار ہو تو اس کے مناسب کوئی سبب نہ ہو تو بھی بیان کرنا ضروری نہیں مثلا اس کے لئے قرض یا اس کے لئے کل مال کی بیع کا اقرار کردےجیساکہ الاشباہ اور تنویر وغیرہما میں ہے۔ (ت)
بلکہ اقرار میں مقرلہ کی ملکیت پر دلالت ہی نہیں کہ مقرلہ اس کی خبر دے رہا ہے آپ دیکھ رہے ہیں کہ مسلم اگرچہ شراب کا مالك نہیں ہوتا اس
(۱۰)بل لادلالۃ للاقرار علی ان ملك المقرلۃ المخبر عنہ فی الاقرار کان مستفادا من االمقر الاتری تویہ اقرار بتاتاہے کہ چیز فلاں کی ملکیت مطلقہ قبل از اقرار ہے تو کسی سبب کو ظاہر کرنے کی ضرورت ہی نہ رہی چہ جائیکہ مقر پر لازم کردیا جائے کہ وہ اپنی زندگی میں اس اقرار کے مناسب سبب کو بیان کرےحالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں اور انھوں نے تویہ فرمایا ہے کہ ہر مقر اپنے اقرار میں ماخوذ ہوتاہےآپ دیکھ رہے ہیں کہ ملکیت مطلقہ کا مدعی اور اسکے گواہ کسی سبب کو بیان کرنے کے پابند نہیں ہوتے تو مقر کیسے پابند ہوسکتاہے ہاں وہ صورت اس بحث سے خارج ہے جو ظاہرا باطل قرار بنے مثلا کوئی شخص ایسے بچے کے لئے اقرار کرے جو ابھی حمل میں ہے تو امام محمد رحمہ اﷲ تعالی اس اقرار کو اپنے اصل پر محمول کرتے ہوئے مناسب سبب کو بیان کرناضروری نہیں قرار دیتے جبکہ شیخین رحمہما اﷲ تعالی اس کو بیان کرنا ضروری قرار دیتے ہیں مثلا وصیت یاوراثت میں سے کسی کو بیان کرے بخلاف دودھ پینے والے بچے کے لئے اقرار ہو تو اس کے مناسب کوئی سبب نہ ہو تو بھی بیان کرنا ضروری نہیں مثلا اس کے لئے قرض یا اس کے لئے کل مال کی بیع کا اقرار کردےجیساکہ الاشباہ اور تنویر وغیرہما میں ہے۔ (ت)
بلکہ اقرار میں مقرلہ کی ملکیت پر دلالت ہی نہیں کہ مقرلہ اس کی خبر دے رہا ہے آپ دیکھ رہے ہیں کہ مسلم اگرچہ شراب کا مالك نہیں ہوتا اس
ان المسلم یصح اقرارہ بخمر کما فی الدرر والبحر و التنویر وغیرھا حتی یؤمر بتسلیمھا کما فی ش و لا یصح کونہ ملکا لھا کما فی الہدایۃ۔
(۱۱)ولوتنزلنا فانما یکفی تصور سبب ماولیس علی احد تعیینہ بل لیس لاحد غیر المقر لان المجمل لابینہ الامن اجمل فظہر ان الاستدلال علی تمام الھبۃ المذکورۃ باقرارہ بالامانۃ لاتمام لہ اصلا۔
(۱۲)اذ الامر کما وصفنا ان الاقرار لیس دلیلا انیا علی تمام الھبۃ فلو کان دلیلا لکان لمیا والاقرار اظہار لااثبات فلو جعل اثباتا لداروالامناص۔ کے باوجود اگر وہ کسی کے لئے شراب کا اقرار کرے جیسا کہ درربحر اور تنویر وغیرہا میں ہے کہ اس کااقرار صحیح ہے اورشامی میں ہے کہ اس کو ادائیگی کاحکم دیا جائے گامسلمان کےلئے شراب کی ملکیت کا صحیح نہ ہونا ہدایہ میں مذکور ہے۔(ت)
اوراگر تنزل کے طور پر تسلیم بھی کرلیں تو صرف کسی سبب کا تصور ہی کافی ہوگا مقر کے علاوہ کسی کو بھی اس کی تعیین اوربیان کرنا لازم نہیں ہےکیونکہ مجمل کو صرف اجمال بولنے والا ہی بیان کرسکتاہے تو واضح ہوگیا کہ ہبہ کے تام ہونے پر اس کے اقررار بالامانت کو دلیل بنانا قطعا درست نہیں ہے۔(ت)
جب معاملہ وہ ہے جو ہم نے بیان کیا ہے توپھر اقرار ہبہ کے تام ہونے پردلیل انی نہ ہوگا اگرہوگ اتو دلیل لمی ہوگا یعنی اقرار محض ثبوت نہیں کہ اظہار ہوتاہے اثبات نہیں بنتا۔ہاں اگر اثبات قرادیا جائے تو ناچاردور لازم آئیگا۔(ت)
رابعا تخلیہ کی شرط ثالث سے مستفاد بلکہ حقیقۃ لفظ تخلیہ کا مفادیہ ہے کہ تخلیہ کرنے والا اسے اپنے قبضہ سے خالی کردے کہ شے جب تك خود اس کے قبضہ میں ہے تخلیہ کہاں ہوا۔ولہذا بحرالرائق نے تصور تخلیہ میں اس شیئ کا زمین پر رکھا ہونا ماخوذ کیاولہذا اگر گھوڑا بیچا اور بائع اس کی یال تھامے ہوئے مشتری سے کہہ رہا ہے کہ گھوڑے پر قبضہ کرمیں اس کی یال تیرے ہی لئے تھامے ہوئے ہوں کہ بھاگ نہ جائے اور تو قابو میں کرلے اور مشتری پاس کھڑا ہےکہ قبضہ کرسکتاہے مگر وہ اپنا ہاتھ نہ رکھنے پایا تھا کہ گھوڑا چھوٹ کر گم ہوگیابائع کے مال سے گیا کہ قبل قبض ہلاك ہوا تو بآنکہ مشتری قبضہ پر فی الحال قادر تھا اور بائع صاف حکم قبضہ کررہا تھا۔
(۱۱)ولوتنزلنا فانما یکفی تصور سبب ماولیس علی احد تعیینہ بل لیس لاحد غیر المقر لان المجمل لابینہ الامن اجمل فظہر ان الاستدلال علی تمام الھبۃ المذکورۃ باقرارہ بالامانۃ لاتمام لہ اصلا۔
(۱۲)اذ الامر کما وصفنا ان الاقرار لیس دلیلا انیا علی تمام الھبۃ فلو کان دلیلا لکان لمیا والاقرار اظہار لااثبات فلو جعل اثباتا لداروالامناص۔ کے باوجود اگر وہ کسی کے لئے شراب کا اقرار کرے جیسا کہ درربحر اور تنویر وغیرہا میں ہے کہ اس کااقرار صحیح ہے اورشامی میں ہے کہ اس کو ادائیگی کاحکم دیا جائے گامسلمان کےلئے شراب کی ملکیت کا صحیح نہ ہونا ہدایہ میں مذکور ہے۔(ت)
اوراگر تنزل کے طور پر تسلیم بھی کرلیں تو صرف کسی سبب کا تصور ہی کافی ہوگا مقر کے علاوہ کسی کو بھی اس کی تعیین اوربیان کرنا لازم نہیں ہےکیونکہ مجمل کو صرف اجمال بولنے والا ہی بیان کرسکتاہے تو واضح ہوگیا کہ ہبہ کے تام ہونے پر اس کے اقررار بالامانت کو دلیل بنانا قطعا درست نہیں ہے۔(ت)
جب معاملہ وہ ہے جو ہم نے بیان کیا ہے توپھر اقرار ہبہ کے تام ہونے پردلیل انی نہ ہوگا اگرہوگ اتو دلیل لمی ہوگا یعنی اقرار محض ثبوت نہیں کہ اظہار ہوتاہے اثبات نہیں بنتا۔ہاں اگر اثبات قرادیا جائے تو ناچاردور لازم آئیگا۔(ت)
رابعا تخلیہ کی شرط ثالث سے مستفاد بلکہ حقیقۃ لفظ تخلیہ کا مفادیہ ہے کہ تخلیہ کرنے والا اسے اپنے قبضہ سے خالی کردے کہ شے جب تك خود اس کے قبضہ میں ہے تخلیہ کہاں ہوا۔ولہذا بحرالرائق نے تصور تخلیہ میں اس شیئ کا زمین پر رکھا ہونا ماخوذ کیاولہذا اگر گھوڑا بیچا اور بائع اس کی یال تھامے ہوئے مشتری سے کہہ رہا ہے کہ گھوڑے پر قبضہ کرمیں اس کی یال تیرے ہی لئے تھامے ہوئے ہوں کہ بھاگ نہ جائے اور تو قابو میں کرلے اور مشتری پاس کھڑا ہےکہ قبضہ کرسکتاہے مگر وہ اپنا ہاتھ نہ رکھنے پایا تھا کہ گھوڑا چھوٹ کر گم ہوگیابائع کے مال سے گیا کہ قبل قبض ہلاك ہوا تو بآنکہ مشتری قبضہ پر فی الحال قادر تھا اور بائع صاف حکم قبضہ کررہا تھا۔
مگر تخلیہ صحیح نہ ہوا کہ گھوڑا دست بائع میں تھا
فی البحر الرائق وان کان غلاما اوجاریۃ فقال لہ المشتری تعال معی اوامش فخطی معہ فہو قبض و کذا لوارسلہ فی حاجتہوفی الثواب ان اخذہ بیدہ او خلی بینہ وبینہ وھو موضوع علی الارض فقال خلیت وبینك وبینہ فاقبضہ فقال قبضتہ فہو قبض وفی الذخیرۃ ثم الھندیۃ ان کانت الرمکۃ فی یدالبائع و لم تصل الیھا یدالمشتری فقال البائع للمشتری قد خلیت بینھا وبینك فاقبضھا فانی انما امسکہا لك فانفلتت من ید البائع قبل ان یقبض المشتری وھو یقدر علی اخذھا من البائع وضبطھا کان الہلاك علی البائع اھ(ملخصا)ومثلہ فی الخانیۃ وتمامہ تحقیقہ فیما علقنا علی ردالمحتار۔ بحرالرائق میں ہے اگر غلام یا لونڈی ہو اور مشتری اس کو اپنے ساتھ چلنے کو کہے اور وہ ساتھ چل پڑے تو مشتری قابض قرار پائے گا اور یوں ہی اگر اس غلام کو مشتری نے اپنے کام کے لئے بھیج دیا اور کپڑے کی صورت اگر مشتری کے ہاتھ میں دے دیا یا بائع نے اس کو اپنے اور مشتری کے درمیان زمین پررکھ دیا اور کہا میں نے تیرے لئے تخلیہ کردیا ہے قبضہ کرلےاور مشتری نے کہا میں نے قبضہ کرلیا تو قبضہ ہوجائے گا اور ذخیرہ پھر ہندیہ میں ہے کہ گھوڑی بائع کے قبضہ میں ہے اور مشتری کے ہاتھ سے دور ہے اور بائع کہہ دے کہ میں نے تیرے لئے اس کو پکڑ رکھا ہے میں نے تیرے اور اس کے درمیان تخلیہ کردیا پکڑلے تو قبل از قبضہ اس موقعہ پر اگر وہ گھوڑی بائع کے ہاتھ سے چھوٹ کر بھاگ جائے تو اگرچہ مشتری بائع سے لےکر قابو کرنے پر قادر بھی تھا تو بھی نقصان بائع پر ہوگا اھ(ملخصا)یہ تمام بحث خانیہ میں ہے اور مکمل تحقیق ردالمحتار پرہمارے حاشیہ میں ہے۔(ت)
اور بداہۃ ظاہر ہے کہ جو چیز اپنے صندوق میں رکھی ہے اور صندوق اپنی الماری میں ہے اور مالك نے آپ انھیں کھولا اور صندوق بدستور الماری میں رکھا ہے اور وہ خود انھیں کھولے ہوئے بیٹھاہے تو قطعا اسی کا قبضہ ہےپھر تخلیہ کہا متحقق ہواکہ روپیہ اصل قبضہ مالك سے ایك وقت بھی خاکی نہ ہوا بخلاف اس کے کہ صندوق کھول کر صندوق ہندہ کے ہاتھ میں دے دیتا کما فی
فی البحر الرائق وان کان غلاما اوجاریۃ فقال لہ المشتری تعال معی اوامش فخطی معہ فہو قبض و کذا لوارسلہ فی حاجتہوفی الثواب ان اخذہ بیدہ او خلی بینہ وبینہ وھو موضوع علی الارض فقال خلیت وبینك وبینہ فاقبضہ فقال قبضتہ فہو قبض وفی الذخیرۃ ثم الھندیۃ ان کانت الرمکۃ فی یدالبائع و لم تصل الیھا یدالمشتری فقال البائع للمشتری قد خلیت بینھا وبینك فاقبضھا فانی انما امسکہا لك فانفلتت من ید البائع قبل ان یقبض المشتری وھو یقدر علی اخذھا من البائع وضبطھا کان الہلاك علی البائع اھ(ملخصا)ومثلہ فی الخانیۃ وتمامہ تحقیقہ فیما علقنا علی ردالمحتار۔ بحرالرائق میں ہے اگر غلام یا لونڈی ہو اور مشتری اس کو اپنے ساتھ چلنے کو کہے اور وہ ساتھ چل پڑے تو مشتری قابض قرار پائے گا اور یوں ہی اگر اس غلام کو مشتری نے اپنے کام کے لئے بھیج دیا اور کپڑے کی صورت اگر مشتری کے ہاتھ میں دے دیا یا بائع نے اس کو اپنے اور مشتری کے درمیان زمین پررکھ دیا اور کہا میں نے تیرے لئے تخلیہ کردیا ہے قبضہ کرلےاور مشتری نے کہا میں نے قبضہ کرلیا تو قبضہ ہوجائے گا اور ذخیرہ پھر ہندیہ میں ہے کہ گھوڑی بائع کے قبضہ میں ہے اور مشتری کے ہاتھ سے دور ہے اور بائع کہہ دے کہ میں نے تیرے لئے اس کو پکڑ رکھا ہے میں نے تیرے اور اس کے درمیان تخلیہ کردیا پکڑلے تو قبل از قبضہ اس موقعہ پر اگر وہ گھوڑی بائع کے ہاتھ سے چھوٹ کر بھاگ جائے تو اگرچہ مشتری بائع سے لےکر قابو کرنے پر قادر بھی تھا تو بھی نقصان بائع پر ہوگا اھ(ملخصا)یہ تمام بحث خانیہ میں ہے اور مکمل تحقیق ردالمحتار پرہمارے حاشیہ میں ہے۔(ت)
اور بداہۃ ظاہر ہے کہ جو چیز اپنے صندوق میں رکھی ہے اور صندوق اپنی الماری میں ہے اور مالك نے آپ انھیں کھولا اور صندوق بدستور الماری میں رکھا ہے اور وہ خود انھیں کھولے ہوئے بیٹھاہے تو قطعا اسی کا قبضہ ہےپھر تخلیہ کہا متحقق ہواکہ روپیہ اصل قبضہ مالك سے ایك وقت بھی خاکی نہ ہوا بخلاف اس کے کہ صندوق کھول کر صندوق ہندہ کے ہاتھ میں دے دیتا کما فی
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب البیع فصل یدخل البناء والمفاتیح الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ /۳۰۸€
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الرابع الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۸€
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الرابع الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۸€
المحیط السرخسی والتنویر والھندیۃ وغیرھا(جیسا کہ محیط سرخسیتنویر اور ہندیہ وغیرہا میں ہے۔ت)کہ اب صندوق ومافیہ پر زید کا قبضہ نہ رہتا اور کھلے ہونے کے سبب ہندہ کو قبضہ زر پر فی الحال تمکن ہوتا مگر یہاں ایسا نہ ہوا تو تخلیہ نہ ہوا تو قبضہ حقیقی یا حکمی اصلا نہ ہوا تو ہبہ تمام نہ ہوااور قبل قبضہ موت واہب سے ہبہ باطل محض ہوگیا
فی الدرالمختار من موانع الرجوع والمیم موت احد المتعاقدین بعدا لتسلیم فلو قبلہ بطل ۔ درمختارمیں رجوع کے موانع کی بحث میں ہے میم سے مراد کسی کا قبضۃ دینے کے فوت ہونا ہے اور قبضہ سے قبل ہو تو ہبہ باطل ہے۔(ت)
اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ زید جبکہ حسب تحریر سوال عالم وعارف باحکام فقہیہ تھا تو اس کا علم ہی بتارہا ہے کہ اسے تکمیل ہبہ منظور نہ تھیوہ جانتا تھا کہ ہبہ بے قبضہ تمام نہیں ہوسکتا اور قبضہ ایك آن کو نہ دیاحسب تصریح سوال وقت نکاح سے ہی اس روپے کو اپنی گرہ اپنے صندوق اپنی الماری میں محبوس رکھا وہ جانتا تھا کہ اگر میں ہندہ کا قبضہ حقیقی نہیں کراتا تو کم از کم تخلیہ تو ضرور ہے اور وہ یونہی ہوگا کہ میں روپیہ صندوق سے نکال کر ہندہ کے نہایت قریب زمین پر رکھ اسے حکم قبضہ دوں مگراس نے کبھی روپے کو ہوانہ دیصندوق میں سے روپیہ درکنار الماری میں سے صندوق بھی نہ نکالا یہ تو سو بار کہا کہ یہ روپیہ تیرا ہے تیری امانت ہے او ریہ ایك بار بھی نہ کہا کہ میں تخلیہ کرتاہوں تو قبضہ کرلےتو بحال علم وفقاہت شرائط لازمہ متحقق نہ ہونے دینا صریح دلیل ہے کہ وہ قصدا تکمیل ہبہ سے باز رہا۔
فماذکر من ان کونہ عالما فاضلایقتضی کونہ باذلا لاھازلا یعارضہ صریحا ان علمہ ذلك ھوا لقاضی بکونہ عاضلا مع ان الاول لیس الاتحسین ظن بتخمین و ھذا علی تقدیر معرفتہ باحکم مثبت امتناعہ بیقین۔ اس کایہ کہنا کہ وہ عالم فاضل ہے ا س لئے اس کا یہ عمل دینے کے لئے ہوگا مذاق نہ ہوگااس کو صریح معارض ہے کہ عالم فاضل ہونے کے باوجود اس کایہ عمل فیصلہ کرتاہے کہ اس نے قصدا تکمیل ہبہ نہ کیحالانکہ پہلا احتمال(دینے کا ارادہ) صرف اندازے کی بنا پر حسن ظن کا اظہار ہے جبکہ اس کا معارض احکام سے واقف ہونے کی تقدیر پر ہبہ نہ دینے کا یقینی ثبوت ہے۔(ت)
اور اس پر دوسری روشن دلیل اس کا بارہا رونا اور خوف ضیاع بیان کرنا ہے عاقل جس چیز سے
فی الدرالمختار من موانع الرجوع والمیم موت احد المتعاقدین بعدا لتسلیم فلو قبلہ بطل ۔ درمختارمیں رجوع کے موانع کی بحث میں ہے میم سے مراد کسی کا قبضۃ دینے کے فوت ہونا ہے اور قبضہ سے قبل ہو تو ہبہ باطل ہے۔(ت)
اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ زید جبکہ حسب تحریر سوال عالم وعارف باحکام فقہیہ تھا تو اس کا علم ہی بتارہا ہے کہ اسے تکمیل ہبہ منظور نہ تھیوہ جانتا تھا کہ ہبہ بے قبضہ تمام نہیں ہوسکتا اور قبضہ ایك آن کو نہ دیاحسب تصریح سوال وقت نکاح سے ہی اس روپے کو اپنی گرہ اپنے صندوق اپنی الماری میں محبوس رکھا وہ جانتا تھا کہ اگر میں ہندہ کا قبضہ حقیقی نہیں کراتا تو کم از کم تخلیہ تو ضرور ہے اور وہ یونہی ہوگا کہ میں روپیہ صندوق سے نکال کر ہندہ کے نہایت قریب زمین پر رکھ اسے حکم قبضہ دوں مگراس نے کبھی روپے کو ہوانہ دیصندوق میں سے روپیہ درکنار الماری میں سے صندوق بھی نہ نکالا یہ تو سو بار کہا کہ یہ روپیہ تیرا ہے تیری امانت ہے او ریہ ایك بار بھی نہ کہا کہ میں تخلیہ کرتاہوں تو قبضہ کرلےتو بحال علم وفقاہت شرائط لازمہ متحقق نہ ہونے دینا صریح دلیل ہے کہ وہ قصدا تکمیل ہبہ سے باز رہا۔
فماذکر من ان کونہ عالما فاضلایقتضی کونہ باذلا لاھازلا یعارضہ صریحا ان علمہ ذلك ھوا لقاضی بکونہ عاضلا مع ان الاول لیس الاتحسین ظن بتخمین و ھذا علی تقدیر معرفتہ باحکم مثبت امتناعہ بیقین۔ اس کایہ کہنا کہ وہ عالم فاضل ہے ا س لئے اس کا یہ عمل دینے کے لئے ہوگا مذاق نہ ہوگااس کو صریح معارض ہے کہ عالم فاضل ہونے کے باوجود اس کایہ عمل فیصلہ کرتاہے کہ اس نے قصدا تکمیل ہبہ نہ کیحالانکہ پہلا احتمال(دینے کا ارادہ) صرف اندازے کی بنا پر حسن ظن کا اظہار ہے جبکہ اس کا معارض احکام سے واقف ہونے کی تقدیر پر ہبہ نہ دینے کا یقینی ثبوت ہے۔(ت)
اور اس پر دوسری روشن دلیل اس کا بارہا رونا اور خوف ضیاع بیان کرنا ہے عاقل جس چیز سے
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
ڈرتا ہے اس سے پرہیز کرتاہے نہ کہ اس پر مصر رہےہندہ نے اس سے کس دن کہا تھا کہ میرا روپیہ آپ امانت رکھیں اورکہا بھی تھا تو یہ اس کی تسلیم پرمجبور کیوں ہوا اور مجبور بھی تھا تو ہندہ کو ایك لمحہ کے لئے قبضہ دلاکر پھر اپنے پاس امانت رکھ لینا دشوار تھا مگر اس نے کھبی قبضہ نہ دیا تویقینا وہ کسی طرح قبضہ دینا نہ چاہتا تھا اور اس پرکوئی ایسا اندیشہ رکھتا تھا جو اس خوف امانت پر غالب تھا جس سے بچنے کو وہ اندیشہ گوار اکیا خواہ وہ خوف یہ ہو کہ ہندہ پھر واپس نہ دے گی اور وہ یا اس کا شوہر روپیہ ضائع کردیں گےبیجاخرچ کرڈالیں گےخواہ کوئی او روجہ ہوبہرحال قبضہ دینے سے امتناع واضح ہےپھر تمامی ہبہ کیامعنیتیسری او رواضح دلیل یہ ہے کہ اگر وہ واقعی جانتاکہ اس روپیہ پر ہندہ کی ملك تام ہوچکی ہے اور میرے پاس امانتا ہے پھر اپنے پاس رہنے میں اندیشہ مواخذہ لیا تھا جسے خیال کرکے رویا کرتا تو قطعا ہندہ کا روپیہ ہندہ کےحوالےکرتا کہ عالم تو عالم ہر عاقل کو اپنے دین کی احتیاط پرائے مال کی احتیاط پر غالب ہوتی ہےاپنی آخرت کا مواخذہ پرائی دنیا کے نقصان سے زیادہ گراں ہوتا ہے تو صاف ثابت ہے تو کسی مصلحت خاصہ کےباعث جسے وہ خود ہی خوب جانتا ہوگا۔اس کا اظہار ہبہ محض نمائش ودل دہی ہندہ کے لئے تھایہ کلام بضرورت جواب مذکور ہوا ور نہ شرعاجب کسی عقد کی ناتمامی ثابت ہو تو حال عاقد پر مجرد حس ظن باعث تبدیلی احکام نہیں ہوسکتاہمارے نزدیك الزامات مذکورہ سے یہ آسان ہے کہ یہاں بعض احکام سے زید کا ذہول مان لیجئے کہ یہ چنداں دشوار نہیں وہ اپنے گمان میں یہی جانتاتھا کہ صرف فتح صندوق سے تخلیہ ہولیا اور ہبہ تمام ہوگیاجیساکہ اس کے بعد بعض ذی علم مجیبوں کو عارض ہوا مگر وہ گمان خلاف تحقیق تھا تو حجت نہ رہا اذ لاعبرۃ بالظن البین خطؤہ(ایسے گمان کا اعتبار نہیں جس کا خطا ہونا واضح ہو۔ت)
بالجملہ ہبہ مذکورہ محض باطل ہےالبتہ زید کا اقرار باربار حاصل ہے مگر اقرار مفید ملك نہیںو لہذا اگر مقر غلط اقرار کرے مقرلہ کو شیئ مقربہ لینا حرام ہے ولہذا اگر محض بربنائے اقرار دعوی ملك کرے قضاء بھی مردود وناکام ہےاوریہاں جبکہ فریقین متفق ہیں کہ مالك زر زید ہی تھا اور ہندہ کی طرف انتقال ملك کاکوئی سبب سوا اس ہبہ باطلہ کے نہ ہوا تو یقینا وہ اقرار باطل تھا اور اقرار باطل کچھ اثر نہیں رکھتاتو اب نہ ہبہ رہا نہ اقراراور روپیہ ملك ہندہ سے برکنار
فی تنویر الابصار لاتسمع دعواہ علیہ بشیئ بناء علی الاقرار فی الدرالمختار حتی لو قرکاذبا لم یحل لہ لان الاقرار تنویر الابصار میں ہےکسی کے اقرار کی بناء پر اس پرکچھ بھی دعوی قابل سماعت نہ ہوگادرمختارمیں ہے حتی کہ اگر جھوٹا اقرارکرے تو مقرلہ کو اس سے
بالجملہ ہبہ مذکورہ محض باطل ہےالبتہ زید کا اقرار باربار حاصل ہے مگر اقرار مفید ملك نہیںو لہذا اگر مقر غلط اقرار کرے مقرلہ کو شیئ مقربہ لینا حرام ہے ولہذا اگر محض بربنائے اقرار دعوی ملك کرے قضاء بھی مردود وناکام ہےاوریہاں جبکہ فریقین متفق ہیں کہ مالك زر زید ہی تھا اور ہندہ کی طرف انتقال ملك کاکوئی سبب سوا اس ہبہ باطلہ کے نہ ہوا تو یقینا وہ اقرار باطل تھا اور اقرار باطل کچھ اثر نہیں رکھتاتو اب نہ ہبہ رہا نہ اقراراور روپیہ ملك ہندہ سے برکنار
فی تنویر الابصار لاتسمع دعواہ علیہ بشیئ بناء علی الاقرار فی الدرالمختار حتی لو قرکاذبا لم یحل لہ لان الاقرار تنویر الابصار میں ہےکسی کے اقرار کی بناء پر اس پرکچھ بھی دعوی قابل سماعت نہ ہوگادرمختارمیں ہے حتی کہ اگر جھوٹا اقرارکرے تو مقرلہ کو اس سے
حوالہ / References
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب الاقرار ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۳۰€
لیس سببا للملك نعم لو سلمہ برضاہ کان ابتداء ھبۃ وھو الاوجہ بزازیۃ اھوفی الاشباہ اقربالطلاق بناء علی ماافتی بہ المفتی ثم تبین عدم الموقوع فانہ لایقع کما فی جامع الفصولین والقنیۃ اھوفیھا ایضا الاقرار بشیئ محل باطل وعلی ھذا افتیت ببطلان اقرار انسان بقدر من السہام لوارث وھوا زید من الفریضۃ الشرعیۃ لکونہ محالاشرعا مثلامات عن ابن وبنت فاقرالابن ان الترکۃ بینہما نصفان اہ باختصاروفی غمز العیون یؤخذ من ھذا ان الرجل اذ ااقرلزوجتہ بنفقۃ مدۃ ماضیۃ ھی فیھا ناشزۃ اومن غیر سبق قضاء اوارضاء وھی معترفۃ بذلك
لینا جائز نہیں کیونکہ اقرار ملکیت کا سبب نہیں ہے ہاں اگر مقر اپنی رضامندی پردے دے تو یہ دینا ابتداء ہبہ قرار دیا جائےگا اوریہی زیادہ مناسب ہےبزازیہ۔اھالاشباہ میں ہےکسی مفتی کے فتوی کی بناء پر خاوند نے طلاق کا اقرار کیا پھر معلوم ہوا کہ اس فتوی کی وجہ سے طلاق نہ ہوئی ہے تو اقرار سے طلاق نہ واقع ہوگیجیساکہ جامع الفصولین اور قنیہ میں ہےاھاور اس میں یہ بھی ہے کہ کسی محال چیز کا اقرار کیا تو باطل ہوگا اسی وجہ سے میں نے فتوی دیا کہ اگر کوئی شخص دوسرے وارث کے لئے وراثت کے حصہ کا اقرار کرے اور وہ حصہ شرعی حصہ سے زائدہو تو ایسا اقرار باطل ہوگا کیونکہ یہ زائد شرعا محال ہےاس کی مثال یہ ہے کہ ایك شخص بیٹا اوربیٹی وارث چھوڑ کر فوت ہوا اور بیٹے نے یہ اقرار کیا کہ ترکہ ہم دونوں بہن بھائی میں نصف نصف ہے اھ مختصرااور غمز العیون میں ہے اس سے یہ ماخوذ ہوا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے لئے گزشتہ اس کے نافرمانی کے دور کے نفقہ یا ایسے گزشتہ وقت کے نفقہ جس کا قاضی نے فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی دینے پر راضی تھا اقرار کیا
لینا جائز نہیں کیونکہ اقرار ملکیت کا سبب نہیں ہے ہاں اگر مقر اپنی رضامندی پردے دے تو یہ دینا ابتداء ہبہ قرار دیا جائےگا اوریہی زیادہ مناسب ہےبزازیہ۔اھالاشباہ میں ہےکسی مفتی کے فتوی کی بناء پر خاوند نے طلاق کا اقرار کیا پھر معلوم ہوا کہ اس فتوی کی وجہ سے طلاق نہ ہوئی ہے تو اقرار سے طلاق نہ واقع ہوگیجیساکہ جامع الفصولین اور قنیہ میں ہےاھاور اس میں یہ بھی ہے کہ کسی محال چیز کا اقرار کیا تو باطل ہوگا اسی وجہ سے میں نے فتوی دیا کہ اگر کوئی شخص دوسرے وارث کے لئے وراثت کے حصہ کا اقرار کرے اور وہ حصہ شرعی حصہ سے زائدہو تو ایسا اقرار باطل ہوگا کیونکہ یہ زائد شرعا محال ہےاس کی مثال یہ ہے کہ ایك شخص بیٹا اوربیٹی وارث چھوڑ کر فوت ہوا اور بیٹے نے یہ اقرار کیا کہ ترکہ ہم دونوں بہن بھائی میں نصف نصف ہے اھ مختصرااور غمز العیون میں ہے اس سے یہ ماخوذ ہوا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے لئے گزشتہ اس کے نافرمانی کے دور کے نفقہ یا ایسے گزشتہ وقت کے نفقہ جس کا قاضی نے فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی دینے پر راضی تھا اقرار کیا
حوالہ / References
درمختار کتاب الاقرار ∞مجتبائی دہلی ۲ /۱۳۰€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۱€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/۲۵€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۱€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/۲۵€
فاقرارہ باطل لکونہ محالاشرعا الخ اقول:وھو ماخوذ عن العلامۃ شیخ الاسلام ابی عبداﷲ محمد بن عبد اﷲ الغزی کما رأیتہ منقولا عندی فی حاشیۃ الاشباہ للعلامۃ السید الشریف محمد بن محمد الحسینی افندی الشہیر بزیرك زادہ من رجال القرن العاشر قال وقد افتیت اخذا من قول العلامۃ الغزی بان اقرار ام الولد لمولاھا بدین لزمہا لہ بطریق شرعی باطل وان کتب بہ وثیقۃ لعدم تصور دین للمولی علی ام ولدہ اذ الملك لہ فیہ کامل والمملوك لایکون علیہ دین لما بلکہ واﷲ تعالی اعلم۔ اھ وھو المراد ھھنا یقول الحموی قال بعض الفضلاء وقد افتیت اخذ امن ذلك بان اقرار ام الولد الی اخر ماقدمنا۔ اوربیوی بھی گزشتہ ایسے نفقہ کی معترف ہو کہ واقعی نافرمانی یا بلا فیصلہ قاضی یہ نفقہ ہے توخاوند کا یہ اقرار باطل ہوگا کیونکہ ایسا نفقہ شرعا محال ہے الخ اقول:(میں کہتاہوں)یہ شیخ الاسلام علامہ ابوعبداﷲ محمد بن عبداﷲ الغزی سے ماخوذ ہے جیسا کہ میں نے علامہ سید شریف محمد بن محمد الحسینی افندی المعروف زیرك زادہ جو کہ دسویں صدی کے عالم ہیں کے حاشیہ الاشباہ میں دیکھا انھوں نے فرمایا کہ میں نے علامہ غزی کے قول سے اخذ کرتے ہوئے یہ فتوی دیا کہ جب ام الولد اپنے مالك کے حق میں اقرار کرے کہ میرے ذمہ شرعی حق کے طور پر اس کا قرض ہے تو یہ اقرار باطل ہے اگرچہ مالك نے وثیقہ بھی لکھ رکھا ہو کیونکہ ام الولد پر مالك کے قرض کا تصورنہیں ہوسکتا اس لئے کہ ام الولد پر مالك کی مکمل ملکیت ہے جبکہ مملوك پر اپنے مالك کا دین نہیں ہوسکتا واﷲ تعالی اعلم اھ اور اس مقام پر حموی کے قول کے"بعض فضلاء نے فرمایا کہ میں نے اس سے اخذ کرتے ہوئے یہ فتوی دیا کہ ام الولد کا مالك کےحق میں قرض کا اقرار باطل ہے"سے حوالہ مذکورہ مراد ہے۔(ت)
الحمد ﷲ ایضاح مسئلہ کے لئے اسی قدر کافی ہے باقی تخلیہ کی تحقیق تعریف وتنقیح شرائط و
الحمد ﷲ ایضاح مسئلہ کے لئے اسی قدر کافی ہے باقی تخلیہ کی تحقیق تعریف وتنقیح شرائط و
حوالہ / References
غمز العیون البصائرمع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۵€
غمز العیون البصائرمع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲€۵
غمز العیون البصائرمع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۵€
غمز العیون البصائرمع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲€۵
غمز العیون البصائرمع الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۵€
ابانت مرام وازاحت اوہام وتفضیل فروع وجزئیات وتمیز المرجوع والرجیح من الروایت فقیر غفرلہ المولی القدیر کے حواشی متعلقہ ردالمحتار میں ہے وباﷲ التوفیق والحمداﷲ رب العالمین و صلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین(امین)وا ﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۹۵: مرسلہ جناب قاضی فرزند صاحب رئیس گیا ۱۵ رجب المرجب ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسماۃ صاحب جائداد کثیر بیمار ہوئی کہ ان کو اور ان کے شوہر ثانی کو مایوسی ہوگئی اور تمام اطباء ڈاکٹروں نے جو معالج تھے بالاتفاق کہا کہ مرض مہلك ہے اس سے نجات مشکل ہےحالت یہ تھی کہ اکثر وہ مریضہ غشی میں رہتی تھی اور اٹھنا بیٹھنا بغیر اعانت غیر کے نہیں ہوسکتا تھا اور کھانا پینا معمولی موقوف ہوگیا تھایہی حالت بلکہ اس سے زیادہ ردی آخر موت تك رہیشوہر ثانی نے شوہر اول کی اولاد کی حق تلفی کی غرض سے اپنے نابالغ بیٹے کے نام مسماۃ سے اسی مرض میں جائداد کاکثیر حصہ جس کی لاکھوں روپیہ قیمت ہوتی ہے بعوض ایك جلد قرآن شریف اور انگشتری طلائی کے ہبہ نامہ بالعوض لکھوادیا اور اس وثیقہ کے استحکام کے واسطے شوہر اول کی اولاد میں سے صرف ایك لڑکے اور ایك لڑکی کو بھی بقیہ جائداد میں کچھ حصہ بعوض ایك دلائل الخیرت او ریك پنجسورہ شریف کے مسماۃ سے اس مرض مذکور میں ہبہ بالعوض لکھوا دیا اور بقیہ تین لڑکیاں اولاد شوہر اول کو محروم کردیااب مسماۃ نے اسی مرض مذکورہ میں تقریبا ایك مہینہ کے اند تعمیل وثائق کے انتقال کیااب یہ تینوں لڑکیاں آپ حضرات کی خدمت میں نہایت ادب سے عرض التجا کرتی ہیں کہ کیا ایسی کوئی صورت مطابق شرع شریف کے نکل سکتی ہے کہ ہم لوگ اپنے حق کو پہنچیں اور صورت وحیلہ مردود وباطل ہوجائےاس کا جواب شافی بحوالہ کتب وعبارات لکھا جائے اﷲ تعالی آپ حضرات کو اجر عظیم عطا فرمائے گمسماۃ مرحومہ مرض مذکورہ میں اندازا تین چار مہینہ مبتلا رہی اورکاروائی مذکورہ بالا کے ایك مہینہ کے بعد انتقال کرگئی فقط۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اس ہبہ بالعوض کی کاروائی مطلقا باطل ومردود ہےوہ تمام جائداد جس قدر ایك لڑکے کے نام ہبہ بالعوض کی اور جو شوہر اول کے دو بچوں کے نام لکھنے سے باقی رہی وہ تمام وکمال ترکہ مسماۃ ہے اور حسب فرائض اﷲ اس کی سب اولاد پر جو دونوں شوہروں سے ہے بعد
مسئلہ ۹۵: مرسلہ جناب قاضی فرزند صاحب رئیس گیا ۱۵ رجب المرجب ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسماۃ صاحب جائداد کثیر بیمار ہوئی کہ ان کو اور ان کے شوہر ثانی کو مایوسی ہوگئی اور تمام اطباء ڈاکٹروں نے جو معالج تھے بالاتفاق کہا کہ مرض مہلك ہے اس سے نجات مشکل ہےحالت یہ تھی کہ اکثر وہ مریضہ غشی میں رہتی تھی اور اٹھنا بیٹھنا بغیر اعانت غیر کے نہیں ہوسکتا تھا اور کھانا پینا معمولی موقوف ہوگیا تھایہی حالت بلکہ اس سے زیادہ ردی آخر موت تك رہیشوہر ثانی نے شوہر اول کی اولاد کی حق تلفی کی غرض سے اپنے نابالغ بیٹے کے نام مسماۃ سے اسی مرض میں جائداد کاکثیر حصہ جس کی لاکھوں روپیہ قیمت ہوتی ہے بعوض ایك جلد قرآن شریف اور انگشتری طلائی کے ہبہ نامہ بالعوض لکھوادیا اور اس وثیقہ کے استحکام کے واسطے شوہر اول کی اولاد میں سے صرف ایك لڑکے اور ایك لڑکی کو بھی بقیہ جائداد میں کچھ حصہ بعوض ایك دلائل الخیرت او ریك پنجسورہ شریف کے مسماۃ سے اس مرض مذکور میں ہبہ بالعوض لکھوا دیا اور بقیہ تین لڑکیاں اولاد شوہر اول کو محروم کردیااب مسماۃ نے اسی مرض مذکورہ میں تقریبا ایك مہینہ کے اند تعمیل وثائق کے انتقال کیااب یہ تینوں لڑکیاں آپ حضرات کی خدمت میں نہایت ادب سے عرض التجا کرتی ہیں کہ کیا ایسی کوئی صورت مطابق شرع شریف کے نکل سکتی ہے کہ ہم لوگ اپنے حق کو پہنچیں اور صورت وحیلہ مردود وباطل ہوجائےاس کا جواب شافی بحوالہ کتب وعبارات لکھا جائے اﷲ تعالی آپ حضرات کو اجر عظیم عطا فرمائے گمسماۃ مرحومہ مرض مذکورہ میں اندازا تین چار مہینہ مبتلا رہی اورکاروائی مذکورہ بالا کے ایك مہینہ کے بعد انتقال کرگئی فقط۔
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اس ہبہ بالعوض کی کاروائی مطلقا باطل ومردود ہےوہ تمام جائداد جس قدر ایك لڑکے کے نام ہبہ بالعوض کی اور جو شوہر اول کے دو بچوں کے نام لکھنے سے باقی رہی وہ تمام وکمال ترکہ مسماۃ ہے اور حسب فرائض اﷲ اس کی سب اولاد پر جو دونوں شوہروں سے ہے بعد
اخراج چہارم کےکہ حصہ زوج ثانی ہے " للذکر مثل حظ الانثیین " (لڑکوں کے واسطے لڑکیوں سے دگنا ہے۔ت)تقسیم ہوگیمسماۃ کی صورت مرض کہ سوال میں مذکور ہوئی باتفاق علماء مرض الموت ہےکہ روز بروز خوف ہلاك غالب بھی تھا اور نشست وبرخاست سے معذور بھی تھی اور ایك سال مرض ممتد بھی نہ رہا اور اسی میں موت عارض ہوئیتو یہ ہبہ مرض الموت میں تھا اور اپنی اولاد کے نام تھا اور ہبہ بالعوض ابتداء وانتہاء ہرطرح بیع ہے اور بیع کہ مرض الموت میں وارث کے ہاتھ ہو اگرچہ برابر قیمت پر ہو بے اجازت دیگر ورثہ باطل ومردود ہےنہ کہ ایسی بیع لاکھوں روپے کا مال آٹھ دس روپے کو یہ تو بالاجماع باطل ہےدرمختارمیں ہے:
من غالب حالہ الہلاك بمرض اوغیرہ بان اضناہ مرض عجزبہ عن اقامۃ مصالحۃ خارج البیت ھو الاصح کعجز الفقیہ عن الاتیان الی المسجد وعجز السوقی عن الاتیان الی دکانہوفی حقہا ان تعجز من مصالحہا داخلہ کما فی البزازیہومفادہ انہا لوقدرت علی نحوالطبخ دون صعود السطح لم تکن مریضۃ قال فی النہر وھو الظاہر قلت وفی اخر وصایا المجتبی المرض المعتبر المضنی المبیع لصلوتہ قاعدہ و المقعد والمفلوج والمسلول اذا تطاول ولم یقعدہ فی الفراش کالصحیح ثم رمز"شح"حد جس شخص کا غالب حال یہ ہو کہ وہ مرض وغیرہ سے ہلاك ہوجائے گا یوں کہ وہ مرض سے اتنا لاغر ہوگیا کہ گھر سے باہر اپنے ضروری امو رکو بجا نہیں لاسکتا۔مرض الموت کے حال کا یہ صحیح بیان ہےمثلا کوئی عالم فقیہ مسجد میں جانے سے عاجز ہوجائے یا دکاندار اپنی دکان پر جانے سے عاجز ہوجائے اور عورت گھرمیں داخلی ضرورت سے عاجز ہوجائےجیساکہ بزازیہ میں ہےعورت کے عجز کا معیار یہ ہو کہ اگر کھانا پکانے پر قادر ہواور چھت پر جانے کی قدرت نہ ہو تو مریضہ شمار نہ ہوگینہر میں فرمایا یہی ظاہر ہےمیں کہتاہوں المجتبی کے وصایا کے آخر میں ہے کمزور کردینے والا مرض جس میں کھڑے ہوکر نماز نہ پڑھ سکےجڑا ہوا مفلوج او سیل والا لمبی مہلت پالے اور بستر میں پابند نہ ہوجائے تو اس کو صحت مندجیسا شمار کیا جائے گا پھر انھوں نے"شح"کی رمز سے فرمایا لمبی مہلت
من غالب حالہ الہلاك بمرض اوغیرہ بان اضناہ مرض عجزبہ عن اقامۃ مصالحۃ خارج البیت ھو الاصح کعجز الفقیہ عن الاتیان الی المسجد وعجز السوقی عن الاتیان الی دکانہوفی حقہا ان تعجز من مصالحہا داخلہ کما فی البزازیہومفادہ انہا لوقدرت علی نحوالطبخ دون صعود السطح لم تکن مریضۃ قال فی النہر وھو الظاہر قلت وفی اخر وصایا المجتبی المرض المعتبر المضنی المبیع لصلوتہ قاعدہ و المقعد والمفلوج والمسلول اذا تطاول ولم یقعدہ فی الفراش کالصحیح ثم رمز"شح"حد جس شخص کا غالب حال یہ ہو کہ وہ مرض وغیرہ سے ہلاك ہوجائے گا یوں کہ وہ مرض سے اتنا لاغر ہوگیا کہ گھر سے باہر اپنے ضروری امو رکو بجا نہیں لاسکتا۔مرض الموت کے حال کا یہ صحیح بیان ہےمثلا کوئی عالم فقیہ مسجد میں جانے سے عاجز ہوجائے یا دکاندار اپنی دکان پر جانے سے عاجز ہوجائے اور عورت گھرمیں داخلی ضرورت سے عاجز ہوجائےجیساکہ بزازیہ میں ہےعورت کے عجز کا معیار یہ ہو کہ اگر کھانا پکانے پر قادر ہواور چھت پر جانے کی قدرت نہ ہو تو مریضہ شمار نہ ہوگینہر میں فرمایا یہی ظاہر ہےمیں کہتاہوں المجتبی کے وصایا کے آخر میں ہے کمزور کردینے والا مرض جس میں کھڑے ہوکر نماز نہ پڑھ سکےجڑا ہوا مفلوج او سیل والا لمبی مہلت پالے اور بستر میں پابند نہ ہوجائے تو اس کو صحت مندجیسا شمار کیا جائے گا پھر انھوں نے"شح"کی رمز سے فرمایا لمبی مہلت
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴ /۱۱€
التطاول سنہ ھ انتہی وفی القنیۃ المفلوج والمسلول والمقعد مادام یزداد کالمریض اھ وفیہ امالو قال وھبتك بکذا فہو بیع ابتداء وانتہاء اھ وفیہ وقف بیع المریض لوارثہ علی اجازۃ الباقی ولو مثلا القیمۃ اھ مزید امن ردالمحتار۔ کی حد ایك سال ہے اور قنیہ میں ہے مفلوج سل زدہ اور جڑا ہوا اگر ان کا مرض بڑھ رہا ہو تو مریض کی طرح شمار ہوں گے اھ اور اسی میں ہے اگر مریض کہے میں نے تجھے فلاں کے بدلہ میں ہبہ کیا تو یہ اول آخر بیع قرار پائے گی اھاور اسی میں ہے مریض کا اپنے وارث کوکوئی چیز فروخت کرنا باقی ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگا(اگرچہ مثلی قیمت پر فروخت کیا ہو اھ) یہ ردالمحتارکا اضافہ ہے۔(ت)
خانیہ وعالمگیریہ میں ہے:
اذا باع المریض فی مرض الموت من وارثہ عینا من اعیان مالہ ان صح جازبیعہ وان مات من ذلك المرض ولم تجز الورثۃ بطل البیع اھ واﷲ تعالی اعلم۔ جب کوئی چیز اپنی مرض الموت میں اپنے وارث کو فروخت کرے پھر تندرست ہوگیا تو بیع صحیح ہوگی اور اسی مرض میں فوت ہوجائے گی اور باقی ورثاء جائز نہ کریں تو بیع باطل ہوگی اھ۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۶: از ریاست رامپور محلہ کوچہ قاضی مرسلہ سید ولایت حسین وکیل ۳ شعبان المعظم ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك جائداد بدست عمرو بقیمت دو ہزار روپے کے بیع کرکے بیعنامہ میں یہ لکھ دیا کہ سات سو روپے میں نے وصول پائے اور تیرہ سو روپے منجملہ اس کے مشتری کو معاف کردئے تو یہ صورت ہبہ زر ثمن کی ہے یا نہیں اور زید بائع کو حق رجوع عن الہبہ شرعا حاصل ہے یانہیں
خانیہ وعالمگیریہ میں ہے:
اذا باع المریض فی مرض الموت من وارثہ عینا من اعیان مالہ ان صح جازبیعہ وان مات من ذلك المرض ولم تجز الورثۃ بطل البیع اھ واﷲ تعالی اعلم۔ جب کوئی چیز اپنی مرض الموت میں اپنے وارث کو فروخت کرے پھر تندرست ہوگیا تو بیع صحیح ہوگی اور اسی مرض میں فوت ہوجائے گی اور باقی ورثاء جائز نہ کریں تو بیع باطل ہوگی اھ۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۶: از ریاست رامپور محلہ کوچہ قاضی مرسلہ سید ولایت حسین وکیل ۳ شعبان المعظم ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك جائداد بدست عمرو بقیمت دو ہزار روپے کے بیع کرکے بیعنامہ میں یہ لکھ دیا کہ سات سو روپے میں نے وصول پائے اور تیرہ سو روپے منجملہ اس کے مشتری کو معاف کردئے تو یہ صورت ہبہ زر ثمن کی ہے یا نہیں اور زید بائع کو حق رجوع عن الہبہ شرعا حاصل ہے یانہیں
حوالہ / References
درمختار کتاب الطلاق باب الطلاق المریض ∞مجتبائی دہلی ۱ /۲۳۵€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۴€
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی ∞مجتبائی دہلی ۲ /۳۲،€ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۳۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۵۴€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۴€
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی ∞مجتبائی دہلی ۲ /۳۲،€ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۳۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۵۴€
الجواب:
اگر بیع واقع ہونے کے بعد بیعنامہ میں تیرہ سو کی معافی لکھی تو یہ صورت ہبہ ثمن کی نہیں بلکہ ابراء کی ہے اور ابراء میں شرعا حق رجوع نہیں۔اشباہ میں ہے:
ماافترق فیہ الھبۃ ولاابراء لہ الرجوع فیھا عند عدم المانع بخلافہ مطلقا واﷲ تعالی اعلم۔ ہبہ اور ابراء میں فرق یہ ہے کہ ہبہ میں مانع نہ ہونے کی صورت میں رجوع(واپس لینا)جائز ہےابراء اس کے خلاف ہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۷: از دیوبند ضلع سہارنپور محلہ مسجد کمال مرسلہ قاسم حسین صاحب تحصیلدار ۱۵ محرم شریف ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك جائداد اپنے دو لڑکوں نابالغ کے نام خرید کیبروقت خریداری جائداد کے جس کے نام جائداد خریدی کی گئی اور ایك لڑکی موجود تھی سوائے اولاد مذکورۃ الصدر کے اس وقت اور کوئی اولاد نہیں تھیبعد ازاں زید مذکور کے ایك لڑکا اور ایك لڑکی اور پیدا ہوئی۔اب جائداد سے وہ لڑکی جو اس وقت بوقت خرید کے موجود تھی اور وہ لڑکا اور لڑکی جو بعد خرید کے پیدا ہوئے شرعا حصہ پانے کے مستحق ہیں یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ دونوں نابالغ جن کے نام ان کے باپ نے جائداد خریدی اس جائداد کے مالك مستقل ہوگئےجو لڑکی اس وقت موجود تھی یا جو لڑکا لڑکی بعد کو پیدا ہوئے ان کا اس میں کچھ حق نہیں کہ اگر اصل ایجاب وقبول بیع انھیں لڑکوں کے نام ہوا جب تو ظاہر ہے کہ جائداد بائع نے ان لڑکوں کے ہاتھ بیع کی اگرچہ زرثمن ان کی طرف سے باپ نے ادا کیا جو اس کا تبرع واحسان ہوا جس کا معاوضہ نہ وہ لے سکتاہے نہ اس کے دیگر ورثہاورباپ کو اپنے نابالغ بچوں کے نام ایسی خریداری کا مطلقا اختیار ہے۔
فلاینفذ الشراء علیہ حتی یجعل واھبا کالام اذا شرت بما لہا لولدہا الصغیر باپ پر خریداری عائد نہ ہو بلکہ بچے کو ہبہ کرنے والا ہوگا جیسا کہ ماں اگر نابالغ کے لئے اپنے مال سے
اگر بیع واقع ہونے کے بعد بیعنامہ میں تیرہ سو کی معافی لکھی تو یہ صورت ہبہ ثمن کی نہیں بلکہ ابراء کی ہے اور ابراء میں شرعا حق رجوع نہیں۔اشباہ میں ہے:
ماافترق فیہ الھبۃ ولاابراء لہ الرجوع فیھا عند عدم المانع بخلافہ مطلقا واﷲ تعالی اعلم۔ ہبہ اور ابراء میں فرق یہ ہے کہ ہبہ میں مانع نہ ہونے کی صورت میں رجوع(واپس لینا)جائز ہےابراء اس کے خلاف ہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۹۷: از دیوبند ضلع سہارنپور محلہ مسجد کمال مرسلہ قاسم حسین صاحب تحصیلدار ۱۵ محرم شریف ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك جائداد اپنے دو لڑکوں نابالغ کے نام خرید کیبروقت خریداری جائداد کے جس کے نام جائداد خریدی کی گئی اور ایك لڑکی موجود تھی سوائے اولاد مذکورۃ الصدر کے اس وقت اور کوئی اولاد نہیں تھیبعد ازاں زید مذکور کے ایك لڑکا اور ایك لڑکی اور پیدا ہوئی۔اب جائداد سے وہ لڑکی جو اس وقت بوقت خرید کے موجود تھی اور وہ لڑکا اور لڑکی جو بعد خرید کے پیدا ہوئے شرعا حصہ پانے کے مستحق ہیں یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ دونوں نابالغ جن کے نام ان کے باپ نے جائداد خریدی اس جائداد کے مالك مستقل ہوگئےجو لڑکی اس وقت موجود تھی یا جو لڑکا لڑکی بعد کو پیدا ہوئے ان کا اس میں کچھ حق نہیں کہ اگر اصل ایجاب وقبول بیع انھیں لڑکوں کے نام ہوا جب تو ظاہر ہے کہ جائداد بائع نے ان لڑکوں کے ہاتھ بیع کی اگرچہ زرثمن ان کی طرف سے باپ نے ادا کیا جو اس کا تبرع واحسان ہوا جس کا معاوضہ نہ وہ لے سکتاہے نہ اس کے دیگر ورثہاورباپ کو اپنے نابالغ بچوں کے نام ایسی خریداری کا مطلقا اختیار ہے۔
فلاینفذ الشراء علیہ حتی یجعل واھبا کالام اذا شرت بما لہا لولدہا الصغیر باپ پر خریداری عائد نہ ہو بلکہ بچے کو ہبہ کرنے والا ہوگا جیسا کہ ماں اگر نابالغ کے لئے اپنے مال سے
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۴۸€
تصیر مشریۃ لنفسہا واھبۃ من ولدہا لعدم ولایتہا کما من العقود الدریۃ وغیرھا۔ کوئی چیز خریدے اورا قرار کرے میں نے اپنے مال سے خریدی ہے تو خریداری ماں کی ہوگی اور نابالغ کے لئے وہ چیز ہبہ قرار پائے گی کیونکہ ماں کی نابالغ بچے کے لئے خریداری کی ولایت نہیں ہے جیسا کہ عقود الدریہ وغیرہ میں ہے(ت)
اوراگر اصل خریداری میں لڑکوں کے نام نہ تھا اگرچہ بعد کو بیعنامہ میں ان کا نام لکھا دیا تو تو ابتداء مالك جائداد زید ہوا۔پھر بیٹوں کے نام بیعنامہ لکھانا ان کے انکے عــــــہ سے ہبہ ہوا اور باپ جو اپنے نابالغ بچہ کے نام ہبہ کرے وہ ہبہ کرتے ہی تام ولازم ہوجاتاہے۔نہ قبول نابالغ کی حاجت نہ دو کے نام بلاتقسیم ہبہ ہونا مضر کہ قبضہ والد یعنی خود واہب کاکافی وکامل بلاشیوع ہے در مختارمیں ہے:
وھب اثنان دارا لواحد صح لعدم الشیوع وبعکسہ لکبیرین لاعندہ للشیوع فیما یحتمل القسمۃ ۔ دوافراد نے ایك شخص کو مکان کا ہبہ کیا تو جائز ہے کیونکہ اس میں شیوع نہیں ہے اور عکس کی صورت میں کہ ایك شخص دو بالغ افراد کو ایك مکان دے تو جائز نہیں امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیککیونکہ اس صورت میں شیوع ہے قابل تقسیم ہونے کی وجہ سے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
افاد انہا للصغیرین تصح لعدم المرجح لسبق قبض احدھما وحیث اتحد ولیہما فلاشیوع فی قبضہ و یویدہ قول الخانیۃ الخ واﷲ تعالی اعلم۔ عکس والی صورت سے ظاہر ہوا کہ دو نابالغوں کو دے تو صحیح ہوگا کیونکہ دونوں میں سے کسی کو سبقت میں ترجیح نہ ہوئی اور ان کے لئے ایك ولی قبضہ کرے گا تو قبضہ تقسیم نہ ہوگا اور شیوع نہ ہوا۔اور خانیہ کا قول اس کی تائید کرتاہےالخ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
عــــــہ: فی الاصل ھکذالعل الصواب"نام"۔
اوراگر اصل خریداری میں لڑکوں کے نام نہ تھا اگرچہ بعد کو بیعنامہ میں ان کا نام لکھا دیا تو تو ابتداء مالك جائداد زید ہوا۔پھر بیٹوں کے نام بیعنامہ لکھانا ان کے انکے عــــــہ سے ہبہ ہوا اور باپ جو اپنے نابالغ بچہ کے نام ہبہ کرے وہ ہبہ کرتے ہی تام ولازم ہوجاتاہے۔نہ قبول نابالغ کی حاجت نہ دو کے نام بلاتقسیم ہبہ ہونا مضر کہ قبضہ والد یعنی خود واہب کاکافی وکامل بلاشیوع ہے در مختارمیں ہے:
وھب اثنان دارا لواحد صح لعدم الشیوع وبعکسہ لکبیرین لاعندہ للشیوع فیما یحتمل القسمۃ ۔ دوافراد نے ایك شخص کو مکان کا ہبہ کیا تو جائز ہے کیونکہ اس میں شیوع نہیں ہے اور عکس کی صورت میں کہ ایك شخص دو بالغ افراد کو ایك مکان دے تو جائز نہیں امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیککیونکہ اس صورت میں شیوع ہے قابل تقسیم ہونے کی وجہ سے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
افاد انہا للصغیرین تصح لعدم المرجح لسبق قبض احدھما وحیث اتحد ولیہما فلاشیوع فی قبضہ و یویدہ قول الخانیۃ الخ واﷲ تعالی اعلم۔ عکس والی صورت سے ظاہر ہوا کہ دو نابالغوں کو دے تو صحیح ہوگا کیونکہ دونوں میں سے کسی کو سبقت میں ترجیح نہ ہوئی اور ان کے لئے ایك ولی قبضہ کرے گا تو قبضہ تقسیم نہ ہوگا اور شیوع نہ ہوا۔اور خانیہ کا قول اس کی تائید کرتاہےالخ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
عــــــہ: فی الاصل ھکذالعل الصواب"نام"۔
حوالہ / References
العقود الدریۃ باب الوصی ∞ارگ بازارقندہار افغانستان ۲/ ۳۳۷€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲/۱۶۱€
ردالمحتار کتاب الھبۃ دارحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۱۴€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲/۱۶۱€
ردالمحتار کتاب الھبۃ دارحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۱۴€
مسئلہ ۹۸ تا ۱۰۲: از ریاست جاورہ مکان ہیڈماسٹر مرسلہ صاحبزادہ محمد صالح خاں ولد محمد یونس خاں ۲۳ ربیع الاول ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین:
(۱)محمد یوسف خاں صاحب کو وظیفہ رئیس جاورہ سے ماہ بماہ ملتا تھا اس تنخواہ کو تقسیم کرکے جملہ وارثوں کے نام ہبہ کردئے اور ایك ہبہ نامہ لکھ دیا اور تاحیات واہب مذکور تنخواہ پر قابض ومتصرف رہے اور جملہ موہوب لہم اور زوجگان کو اپنے شامل رکھا تنخواہ کا قبضہ کسی وارث کو نہیں کرایا تو ایسے قسم کا ہبہ نامہ بموجب کتاب ردالمحتار صفحہ ورق ۴۹۳ و ۴۹۴ کے بموجب ہبہ جائز ہے یاناجائز ہے
(۲)اسی قدر واہب نے حویلیاں زوجگان کو ہبہ کیں اور ہبہ نامہ میں قبضہ کالفظ یا منعقد(عہ)جلسہ ہبہ کے وقت جملہ وارثوں موہوب لہم سے ایجاب قبول نہیں کرایا اور نہ آپ واہب اس وقت اس سے دستبردار ہوا اور شامل موہوب لہم رہاایسے قسم کا ہبہ وہبہ نامہ بموجوب درمختار بغیرقبضہ دئے ہوئے عندالشرع جائز ہے یانہیں
(۳)ہبہ نامہ دستاویز واہب نے خود ایك وصیت نامہ بھی مندرج کیاجب تین جز فرضی اوریہ فرض شامل مندرجہ ہبہ نامہ ہوئے ایسے قسم کا ہبہ نامہ جائز ہے یاناجائز
(۴)تنخواہ جو بھی تھی یہ قسم فرائض سے نہیں ہے ملك غیرکا ہبہ کرادینا او ر اس پر فرائض تین چیزوں کو ملاکر ہبہ کردینا واہب کا سات دو قسموں میں پس ایسی قسم کا ہبہ وہبہ نامہ عندالشرع جائز ہے یاناجائز
(۵)کوئی شخص کسی شخص کو اپنی چیز ہبہ کردے اور اس موہوب لہ کو خبر بھی نہ ہو بغیر اس کی رضاوبغیر اس کی اجازت کےاور نہ اس کوعوض دیا ہواس موہوب لہ کو چیز ہبہ کی ہوئی کو دوسروں کو ہبہ کردے ایسی قسم کا ہبہ جائز ہے اور دستاویز واہب جائز ہے یاناجائز
الجواب:
(۱)تنخواہ آئندہ کا ہبہ باطل ہے۔فتاوی خیریہ میں ہے:
وبہذا علم عدم صحۃ ھبۃ ماسیتحصل من حصول القریتین بالاولی لان الواھب نفسہ لم یقبضہ بعد فکیف یملکہ اس سے معلوم ہوا کہ جو دو قریوں سے حاصل شدہ ہو اس کا بطریق اولی ہبہ صحیح نہ ہوگا کیونکہ ابھی واہب نے خود قبضہ نہیں کیا تو وہ دوسرے کو کیسے
عــــــہ: سوال کایہ فقرہ ناتمام ہے ہبہ نامہ میں ذکر قبضہ لازم نہیں ۱۲ فقیر احمد رضاخاں قادری غفرلہ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین:
(۱)محمد یوسف خاں صاحب کو وظیفہ رئیس جاورہ سے ماہ بماہ ملتا تھا اس تنخواہ کو تقسیم کرکے جملہ وارثوں کے نام ہبہ کردئے اور ایك ہبہ نامہ لکھ دیا اور تاحیات واہب مذکور تنخواہ پر قابض ومتصرف رہے اور جملہ موہوب لہم اور زوجگان کو اپنے شامل رکھا تنخواہ کا قبضہ کسی وارث کو نہیں کرایا تو ایسے قسم کا ہبہ نامہ بموجب کتاب ردالمحتار صفحہ ورق ۴۹۳ و ۴۹۴ کے بموجب ہبہ جائز ہے یاناجائز ہے
(۲)اسی قدر واہب نے حویلیاں زوجگان کو ہبہ کیں اور ہبہ نامہ میں قبضہ کالفظ یا منعقد(عہ)جلسہ ہبہ کے وقت جملہ وارثوں موہوب لہم سے ایجاب قبول نہیں کرایا اور نہ آپ واہب اس وقت اس سے دستبردار ہوا اور شامل موہوب لہم رہاایسے قسم کا ہبہ وہبہ نامہ بموجوب درمختار بغیرقبضہ دئے ہوئے عندالشرع جائز ہے یانہیں
(۳)ہبہ نامہ دستاویز واہب نے خود ایك وصیت نامہ بھی مندرج کیاجب تین جز فرضی اوریہ فرض شامل مندرجہ ہبہ نامہ ہوئے ایسے قسم کا ہبہ نامہ جائز ہے یاناجائز
(۴)تنخواہ جو بھی تھی یہ قسم فرائض سے نہیں ہے ملك غیرکا ہبہ کرادینا او ر اس پر فرائض تین چیزوں کو ملاکر ہبہ کردینا واہب کا سات دو قسموں میں پس ایسی قسم کا ہبہ وہبہ نامہ عندالشرع جائز ہے یاناجائز
(۵)کوئی شخص کسی شخص کو اپنی چیز ہبہ کردے اور اس موہوب لہ کو خبر بھی نہ ہو بغیر اس کی رضاوبغیر اس کی اجازت کےاور نہ اس کوعوض دیا ہواس موہوب لہ کو چیز ہبہ کی ہوئی کو دوسروں کو ہبہ کردے ایسی قسم کا ہبہ جائز ہے اور دستاویز واہب جائز ہے یاناجائز
الجواب:
(۱)تنخواہ آئندہ کا ہبہ باطل ہے۔فتاوی خیریہ میں ہے:
وبہذا علم عدم صحۃ ھبۃ ماسیتحصل من حصول القریتین بالاولی لان الواھب نفسہ لم یقبضہ بعد فکیف یملکہ اس سے معلوم ہوا کہ جو دو قریوں سے حاصل شدہ ہو اس کا بطریق اولی ہبہ صحیح نہ ہوگا کیونکہ ابھی واہب نے خود قبضہ نہیں کیا تو وہ دوسرے کو کیسے
عــــــہ: سوال کایہ فقرہ ناتمام ہے ہبہ نامہ میں ذکر قبضہ لازم نہیں ۱۲ فقیر احمد رضاخاں قادری غفرلہ۔
وھذا ظاھر واﷲ تعالی اعلم مالك بنائے گایہ ظاہر ہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۲)جملہ وارثوں سے ایجاب وقبول کرانا کچھ ضرور نہیںہاں واہب کا اپنا قبضہ تمام وکمال اٹھاکر موہوب لہ کا قبضہ کرادینا ضرور ہے اگر ذرا دیر کو بھی تاحیات ایسا نہ کیا ہبہ موت واہب قبل قبضہ زوجات سے باطل ہوگیااشباہ ودرمختارمیں ہے:
ھبۃ المشغول لاتجوز الااذا وھب الاب لطفلہ ۔ دوسرے کے حق میں مشغول چیز کا ہبہ جائز نہیں الایہ کہ والد اپنے نابالغ بچے کو ہبہ کرے تو جائز ہے۔(ت)
مگریہ ہبہ اگر دین مہر کے عوض کیا ہے تو صحیح ہوگیا اور قبضہ کی حاجت نہیں کہ ہبہ بالعوض بیع ہے۔درمختار میں ہے:
لوقال وھبتك بکذا فہو بیع ابتداء و انتہاء ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر یوں کہا میں نے تجھے فلاں چیز کے بدلے ہبہ کیا تو یہ اول آخر بیع ہوگیواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۳)ہبہ نامہ میں وصیت نامہ شامل کرنے سے ہبہ باطل نہیں ہوتا۔سوال بہت گول و مہمل ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۴)تنخواہ کا جواب اوپر گزرچکا کہ وہ ہبہ نہیں ہوسکتی نہ ملك غیر کا ہبہ کرنا نافذ ہو جب تك وہ اسے جائز نہ کردےمگر ایسی اشیاء کے ساتھ اپنی ملك خاص کاہبہ کردینا ملك خاص کے ہبہ کو ضرر نہ دے گا جبکہ وہ چیز جدا منقسم ہو اس غیر ملك کے ساتھ مخلوط ومشاع نہ ہو
لان الھبۃ لا تفسدبالشرائط الفاسدۃ بخلاف البیع۔ واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ ہبہ فاسد شرط سے فاسد نہیں ہوتا بخلاف بیع کے۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۵)جو چیز کسی کو ہبہ کردی اور قبضہ دے دیا اور ہبہ تام ہوگیا وہ شے موہوب لہ کی ملك ہوگئیاب جو اس دوسرے شخص کو ہبہ کرتاہے یہ پہلے ہبہ سے رجوع ہے اگر موانع رجوع سے کوئی شیئ پائی جاتی ہو مثلا جسے ہبہ کیا وہ اپنی زوجہ یا اپنا عزیز محرم مثل پسر یا برادروغیرہ ہےجب تو ظاہر ہے کہ اسے رجوع کا کچھ اختیار نہیں۔وہ ہبہ اسی موہوب لہ کی اجازت پر موقوف رہے گا۔
(۲)جملہ وارثوں سے ایجاب وقبول کرانا کچھ ضرور نہیںہاں واہب کا اپنا قبضہ تمام وکمال اٹھاکر موہوب لہ کا قبضہ کرادینا ضرور ہے اگر ذرا دیر کو بھی تاحیات ایسا نہ کیا ہبہ موت واہب قبل قبضہ زوجات سے باطل ہوگیااشباہ ودرمختارمیں ہے:
ھبۃ المشغول لاتجوز الااذا وھب الاب لطفلہ ۔ دوسرے کے حق میں مشغول چیز کا ہبہ جائز نہیں الایہ کہ والد اپنے نابالغ بچے کو ہبہ کرے تو جائز ہے۔(ت)
مگریہ ہبہ اگر دین مہر کے عوض کیا ہے تو صحیح ہوگیا اور قبضہ کی حاجت نہیں کہ ہبہ بالعوض بیع ہے۔درمختار میں ہے:
لوقال وھبتك بکذا فہو بیع ابتداء و انتہاء ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر یوں کہا میں نے تجھے فلاں چیز کے بدلے ہبہ کیا تو یہ اول آخر بیع ہوگیواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۳)ہبہ نامہ میں وصیت نامہ شامل کرنے سے ہبہ باطل نہیں ہوتا۔سوال بہت گول و مہمل ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۴)تنخواہ کا جواب اوپر گزرچکا کہ وہ ہبہ نہیں ہوسکتی نہ ملك غیر کا ہبہ کرنا نافذ ہو جب تك وہ اسے جائز نہ کردےمگر ایسی اشیاء کے ساتھ اپنی ملك خاص کاہبہ کردینا ملك خاص کے ہبہ کو ضرر نہ دے گا جبکہ وہ چیز جدا منقسم ہو اس غیر ملك کے ساتھ مخلوط ومشاع نہ ہو
لان الھبۃ لا تفسدبالشرائط الفاسدۃ بخلاف البیع۔ واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ ہبہ فاسد شرط سے فاسد نہیں ہوتا بخلاف بیع کے۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۵)جو چیز کسی کو ہبہ کردی اور قبضہ دے دیا اور ہبہ تام ہوگیا وہ شے موہوب لہ کی ملك ہوگئیاب جو اس دوسرے شخص کو ہبہ کرتاہے یہ پہلے ہبہ سے رجوع ہے اگر موانع رجوع سے کوئی شیئ پائی جاتی ہو مثلا جسے ہبہ کیا وہ اپنی زوجہ یا اپنا عزیز محرم مثل پسر یا برادروغیرہ ہےجب تو ظاہر ہے کہ اسے رجوع کا کچھ اختیار نہیں۔وہ ہبہ اسی موہوب لہ کی اجازت پر موقوف رہے گا۔
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الھبۃ دار المعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۱۱€
درمختاربحوالہ الاشباہ کتاب الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۴€
درمختاربحوالہ الاشباہ کتاب الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۴€
اگر جائز کردے گا جائز ہوجائے گا۔رد کردے گا باطل ہوجائے گا اور اگر موانع رجوع نہ ہو جب بھی رجوع کا خود بخود اختیار نہیں ہوتا بلکہ یا تو موہو ب لہ کی مرضی سے ہبہ واپس کرلے یا نالش کرکے بحکم حاکم رجوع کرے۔اس کے بعد دوسرے کو ہبہ کرسکتاہےبغیر اس کے وہی ملك غیر کا ہبہ ہے۔درمختارمیں ہے:
لایصح الرجوع الابتر اضیہما اوبحکم الحاکم ۔ دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی یاحکم حاکم کے بغیر رجوع صحیح نہیں ہے۔(ت)
عالمگیریہ میں ہے:
لاتجوز ھبۃ مال الغیر بغیر اذنہ واﷲ تعالی اعلم۔ غیرکے مال کا ہبہ اس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۳: از مقام کبیر کلاں ڈاکخانہ خاص علاقہ ڈبائی ضلع بلند شہر مرسلہ عطاء اﷲ ٹھیکدار ۲۸ صفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ والد نے اپنے فرزند کو اپنے گھر سے نکالا او رکچھ حقیت اپنے فرزند کے نہیں رکھیفرزند بحکم اپنے والد کے گھر سے نکل کر اجنبی مکان میں سکونت پذیر ہوا۔بعد اس کے ان کے والد مقروض ہوئے اور اپنے اسی فرزند سے کہا کہ تم میرا قرضہ ادا کردو اور میں اس کے عوض میں ایك قطعہ زمین واسطے مکان کے تمھارے نام لکھتا ہوںچنانچہ ولد نے اپنے والد کا قرضہ ادا کرکے اس زمین کی رجسٹری کرالیاب اس کے والد نے مکان کے واپس لینے کی درخواست عدالت میں دی ہے کہ میں نے اپنے فرزند کو مکان عاریتا دیا تھا ملکیت کے طور پر نہیں دیا تھااگر والد نے اپنا مکان واپس کرالیں تو ولد کوبحکم شرع مجاز ہے کہ اپنے والد سے ثمن واپس لیں یا نہیںیا اس قاعدہ میں ہوگا کہ والد فرزند کے مال کا مالك ہے۔
الجواب:
اگر وہ مکان اس شخص نے اپنے ولد کے نام بیع کیا جب تو ظاہر ہے کہ اسے فسخ بیع کا کوئی اختیار نہیں اور اگر واپس لے گا توثمن واپس دینا پڑے گا اور اگر ہبہ کیا اور قبضہ تامہ دلادیا جب
لایصح الرجوع الابتر اضیہما اوبحکم الحاکم ۔ دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی یاحکم حاکم کے بغیر رجوع صحیح نہیں ہے۔(ت)
عالمگیریہ میں ہے:
لاتجوز ھبۃ مال الغیر بغیر اذنہ واﷲ تعالی اعلم۔ غیرکے مال کا ہبہ اس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۰۳: از مقام کبیر کلاں ڈاکخانہ خاص علاقہ ڈبائی ضلع بلند شہر مرسلہ عطاء اﷲ ٹھیکدار ۲۸ صفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ والد نے اپنے فرزند کو اپنے گھر سے نکالا او رکچھ حقیت اپنے فرزند کے نہیں رکھیفرزند بحکم اپنے والد کے گھر سے نکل کر اجنبی مکان میں سکونت پذیر ہوا۔بعد اس کے ان کے والد مقروض ہوئے اور اپنے اسی فرزند سے کہا کہ تم میرا قرضہ ادا کردو اور میں اس کے عوض میں ایك قطعہ زمین واسطے مکان کے تمھارے نام لکھتا ہوںچنانچہ ولد نے اپنے والد کا قرضہ ادا کرکے اس زمین کی رجسٹری کرالیاب اس کے والد نے مکان کے واپس لینے کی درخواست عدالت میں دی ہے کہ میں نے اپنے فرزند کو مکان عاریتا دیا تھا ملکیت کے طور پر نہیں دیا تھااگر والد نے اپنا مکان واپس کرالیں تو ولد کوبحکم شرع مجاز ہے کہ اپنے والد سے ثمن واپس لیں یا نہیںیا اس قاعدہ میں ہوگا کہ والد فرزند کے مال کا مالك ہے۔
الجواب:
اگر وہ مکان اس شخص نے اپنے ولد کے نام بیع کیا جب تو ظاہر ہے کہ اسے فسخ بیع کا کوئی اختیار نہیں اور اگر واپس لے گا توثمن واپس دینا پڑے گا اور اگر ہبہ کیا اور قبضہ تامہ دلادیا جب
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۷۴€
بھی وہ مکان ملك ولد ہوگیا اور والد کو اس میں رجوع کا اصلا اختیارنہ رہا فان المحرمیۃ تمنع الرجوع(کیونکہ محرم ہونا رجوع کے لئے مانع ہے۔ت)پھر اگر کسی دھوکے سے رجوع کرلی تو ظاہر ہے کہ ولد نے جو اس کے کہنے سے اس کا قرضہ ادا کیا یہ ادا کرنا تبرعا نہ تھا کہ اس کے صلہ میں زمین دیناقرار پایا تھا۔جب زمین واپس ہوجائے گی بلاشبہ ولد کو اپنا روپیہ واپس لینے کا اختیار ہوگا۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۴: از شہر کانپور محلہ پریڈ مرسلہ محمد ابراہیم مسیح صدیقی ۲۸ صفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے منجملہ اپنی جائداد غیر منقولہ کے ایك مکان اپنے پسر عمرو کو دے دیا اس طرح پر کہ دفاتر سرکاری میں درخواست دے کہ زید نے اپنا نام رجسٹر مکانات میں خانہ ملکیت سے خارج کراکے اپنے پسر عمرو کا نام داخل کرادیا بعدہ کرایہ نامہ مکان مذکور جو درمیان کرایہ داران اورعمرو کے تحریر وتصدیق ہوتے رہے ان کا کرایہ ناموں پر دستخط بحیثیت مالك کے ثبت ہوا کئےاور زید اپنی شہادت گواہ شد لکھ کر تحریر کرتارہا۔رسید کرایہ کی عمرو کے دستخط اور نام سے دی جاتی تھی اورنالشان کرایہ داران پر صرف عمرو کی جانب سے ہوتی رہیں اور محصول سرکاری بھی از نام خزانہ سرکاری میں جمع ہوا کرتا ہے اور چند مرتبہ جب زیدنے اپنی مملوکہ ومقبوضہ جائداد کی فردمرتب کرکے داخل سرکار یا عدالت کی ہے تو ا س میں بھی اس مکان موہوبہ کو اپنی ملك درج وظاہر نہیں کیا مگر محاصل مکان مذکور یعنی کرایہ مکان موہوبہ سے کبھی بقدر ربع کبھی ثلث اورکبھی نصف زید مذکور عمرو سے واسطے مصارف خوردونوش اپنے و اپنے اہل وعیال کے جس میں عمرو پسر زید بھی شامل شریك تھا لے لیاکر تا تھا۔اور عمرو مذکور بلاعذر بخوشی تمام بہ تعمیل حکم اپنے پدریعنی زید کے جس قدر روپیہ وہ طلب کرتا تھا دے دیا کرتا تھا۔اس قسم کے عملدرآمد کے سولہ برس کے بعد زید نے وفات پائیخالدہ وحامدہ دختران زید کایہ بیان ہے کہ زید نے کسی مصلحت سے یہ مکان عمرو پسر کے نام درج رجسٹر سرکاری کراکے قبضہ عمرو کودے دیا تھا۔اور زید کا یہ قول بھی بیان کرتی ہیں کہ اس نے بارہا ظاہر کیا کہ اس نے یہ مکان عمرو کی ملك نہیں کردیا ہےزید کے اس قول کے شاہد بجز دختران مذکور زید کے جو وارث اور مستحق متروکہ زیدکے بنی ہیں اور کوئی نہیں ہےپس ایسی صورت میں ازروئے شرع شریف فقہ حنفی یہ مکان موہوبہ تنہا ملك عمرو متصور ہوگا اور اس کا مالك صرف عمرو قرار پائے گایا یہ مکان بھی متروکہ زید متصورہوکے جملہ وارثان پر قابل تقسیم ہوگا۔بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ مکان تنہا ملك عمرو ہے زید یا دیگر وارثان زید کا اس میں کچھ حق
مسئلہ ۱۰۴: از شہر کانپور محلہ پریڈ مرسلہ محمد ابراہیم مسیح صدیقی ۲۸ صفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے منجملہ اپنی جائداد غیر منقولہ کے ایك مکان اپنے پسر عمرو کو دے دیا اس طرح پر کہ دفاتر سرکاری میں درخواست دے کہ زید نے اپنا نام رجسٹر مکانات میں خانہ ملکیت سے خارج کراکے اپنے پسر عمرو کا نام داخل کرادیا بعدہ کرایہ نامہ مکان مذکور جو درمیان کرایہ داران اورعمرو کے تحریر وتصدیق ہوتے رہے ان کا کرایہ ناموں پر دستخط بحیثیت مالك کے ثبت ہوا کئےاور زید اپنی شہادت گواہ شد لکھ کر تحریر کرتارہا۔رسید کرایہ کی عمرو کے دستخط اور نام سے دی جاتی تھی اورنالشان کرایہ داران پر صرف عمرو کی جانب سے ہوتی رہیں اور محصول سرکاری بھی از نام خزانہ سرکاری میں جمع ہوا کرتا ہے اور چند مرتبہ جب زیدنے اپنی مملوکہ ومقبوضہ جائداد کی فردمرتب کرکے داخل سرکار یا عدالت کی ہے تو ا س میں بھی اس مکان موہوبہ کو اپنی ملك درج وظاہر نہیں کیا مگر محاصل مکان مذکور یعنی کرایہ مکان موہوبہ سے کبھی بقدر ربع کبھی ثلث اورکبھی نصف زید مذکور عمرو سے واسطے مصارف خوردونوش اپنے و اپنے اہل وعیال کے جس میں عمرو پسر زید بھی شامل شریك تھا لے لیاکر تا تھا۔اور عمرو مذکور بلاعذر بخوشی تمام بہ تعمیل حکم اپنے پدریعنی زید کے جس قدر روپیہ وہ طلب کرتا تھا دے دیا کرتا تھا۔اس قسم کے عملدرآمد کے سولہ برس کے بعد زید نے وفات پائیخالدہ وحامدہ دختران زید کایہ بیان ہے کہ زید نے کسی مصلحت سے یہ مکان عمرو پسر کے نام درج رجسٹر سرکاری کراکے قبضہ عمرو کودے دیا تھا۔اور زید کا یہ قول بھی بیان کرتی ہیں کہ اس نے بارہا ظاہر کیا کہ اس نے یہ مکان عمرو کی ملك نہیں کردیا ہےزید کے اس قول کے شاہد بجز دختران مذکور زید کے جو وارث اور مستحق متروکہ زیدکے بنی ہیں اور کوئی نہیں ہےپس ایسی صورت میں ازروئے شرع شریف فقہ حنفی یہ مکان موہوبہ تنہا ملك عمرو متصور ہوگا اور اس کا مالك صرف عمرو قرار پائے گایا یہ مکان بھی متروکہ زید متصورہوکے جملہ وارثان پر قابل تقسیم ہوگا۔بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ مکان تنہا ملك عمرو ہے زید یا دیگر وارثان زید کا اس میں کچھ حق
نہیں داخل خارج کرادینا اوروہ کارروائیاں کہ سوال میں مذکور ہیں قطعا دلیل تملیك ہیںاور ثبوت ہبہ کے لئے کافی ووافی ہیں۔
ردالمحتارمیں ہے:
اذا دفع لابنہ مالافتصرف فیہ الابن یکون للاب الا اذا دلت دلالۃ التملیکبیریقلت فقد افاد ان التلفظ بالایجاب و القبول لایشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیك اھ مافی الشامی قلت و مثل مافی بیری فی احکام الصغار وفی الباب السادس من الھندیۃ کلیہما عن الملتقط۔ جب بیٹے کو مال دیا اور اس نے تصر ف کیا تو وہ مال باپ کا ہوگا ہاں یہ کہ کوئی قرینہ ایسا ہو جو تملیك پر دلالت کرے تو بیٹا مالك ہوگا۔بیریمیں کہتاہوںاس سے یہ فائدہ ہوا کہ ہبہ میں ایجاب وقبول لفظا ضروری نہیں بلکہ تملیك کاکوئی قرینہ کافی ہے۔شامی کا بیان ختم ہوامیں کہتاہوں مثل بیری کے احکام الصغار اورہندیہ کے چھٹے باب کا بیان ملتقط سے منقول ہے۔(ت)
زید کا عمرو سے روپیہ مانگنا اور عمرو کا دینا کچھ منافی تملیك نہیں ہوسکتا جیسے عمرو ابتداء مالك مکان ہوتا اور باپ کو اس کے مانگنے پر بلکہ بے مانگے اس کا کرایہ دیا کرتااور حامدہ وخالدہ کا وہ بیان محض دعوی ہے اور کوئی دعوی بلا دلیل مقبول نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں ہے:
لویعطی الناس بدعوھم لذھبوا بدماء الناس و اموالہم ولکن البینۃ علی من یدعی محض دعوی کی بناء پر لوگوں کو دیا جائے تو لوگ عوام کا مال اور جان لوٹ لیں گے لیکن مدعی پر گواہ پیش کرنا لازم ہے۔ (ت)
بلکہ بعد ثبوت تملیك اگر زید کا انکار ثابت بھی ہوجائے تو اصلا نہ مفید نہ قابل اعتبار کہ بعد تمامی ہبہہبہ للولد سے والد کو رجوع کااختیار نہیں لان المحرمیۃ مانعۃ(کیونکہ محرم ہونا مانع ہے۔ت)نہ بعد عقد کوئی بلابینہ اس کے فرضی ہونے کا دعوی کرسکتاہے۔
لان من سعی فی نقض ماتم من جہۃ فسعیۃ مردود علیہ جو شخص اپنے تام کئے ہوئے کو توڑنے کی کوشش کرے تو اس کی یہ سعی مردودہے۔
ردالمحتارمیں ہے:
اذا دفع لابنہ مالافتصرف فیہ الابن یکون للاب الا اذا دلت دلالۃ التملیکبیریقلت فقد افاد ان التلفظ بالایجاب و القبول لایشترط بل تکفی القرائن الدالۃ علی التملیك اھ مافی الشامی قلت و مثل مافی بیری فی احکام الصغار وفی الباب السادس من الھندیۃ کلیہما عن الملتقط۔ جب بیٹے کو مال دیا اور اس نے تصر ف کیا تو وہ مال باپ کا ہوگا ہاں یہ کہ کوئی قرینہ ایسا ہو جو تملیك پر دلالت کرے تو بیٹا مالك ہوگا۔بیریمیں کہتاہوںاس سے یہ فائدہ ہوا کہ ہبہ میں ایجاب وقبول لفظا ضروری نہیں بلکہ تملیك کاکوئی قرینہ کافی ہے۔شامی کا بیان ختم ہوامیں کہتاہوں مثل بیری کے احکام الصغار اورہندیہ کے چھٹے باب کا بیان ملتقط سے منقول ہے۔(ت)
زید کا عمرو سے روپیہ مانگنا اور عمرو کا دینا کچھ منافی تملیك نہیں ہوسکتا جیسے عمرو ابتداء مالك مکان ہوتا اور باپ کو اس کے مانگنے پر بلکہ بے مانگے اس کا کرایہ دیا کرتااور حامدہ وخالدہ کا وہ بیان محض دعوی ہے اور کوئی دعوی بلا دلیل مقبول نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں ہے:
لویعطی الناس بدعوھم لذھبوا بدماء الناس و اموالہم ولکن البینۃ علی من یدعی محض دعوی کی بناء پر لوگوں کو دیا جائے تو لوگ عوام کا مال اور جان لوٹ لیں گے لیکن مدعی پر گواہ پیش کرنا لازم ہے۔ (ت)
بلکہ بعد ثبوت تملیك اگر زید کا انکار ثابت بھی ہوجائے تو اصلا نہ مفید نہ قابل اعتبار کہ بعد تمامی ہبہہبہ للولد سے والد کو رجوع کااختیار نہیں لان المحرمیۃ مانعۃ(کیونکہ محرم ہونا مانع ہے۔ت)نہ بعد عقد کوئی بلابینہ اس کے فرضی ہونے کا دعوی کرسکتاہے۔
لان من سعی فی نقض ماتم من جہۃ فسعیۃ مردود علیہ جو شخص اپنے تام کئے ہوئے کو توڑنے کی کوشش کرے تو اس کی یہ سعی مردودہے۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۰۸€
کنز العمال بحوالہ ق عن ابن عباس ∞حدیث ۱۵۲۹۶ و ۱۵۲۹۷€ موسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۶/ ۱۹۰€
کنز العمال بحوالہ ق عن ابن عباس ∞حدیث ۱۵۲۹۶ و ۱۵۲۹۷€ موسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۶/ ۱۹۰€
کما فی الاشباہ والدروغیرھما۔واﷲ تعالی اعلم۔ جیسا کہ اشباہ اور درمختار وغیرہمامیں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۰۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی پہلی زوجہ سے دو لڑکیاں اور ایك لڑکا بالغ موجود ہیں اور زوجہ اولی نے قضاء کیز ید نے نکاح ثانی کیااس سے کئی اولادیں پیدا ہوئیںزید نے زوجہ ثانیہ کے نام ایك مکان پختہ کلاں مسکونہ لکھ دیا۔اولاد زوجہ ثانیہ کی دو لڑکیاں بالغ جن کی شادی ہوگئی اپنے گھروں پر موجود ہیں۔اوردولڑکے ایك سات برس کا اور دوسرا پانچ برس کا نابالغ ہیں زید ان دونوں نابالغوں کو اپنی کل جائداد بقیہ لکھتاہے۔زید کا کچھ مال یا نقد سوائے اس جائداد کے باقی نہ رہے گااس صورت میں زید کی خدمت اورنابالغوں کی پرورش کون کرے گا ا ورکس چیز سے ان کا خرچ کیا جائے گا اور تجہیز وتکفین کون کرے گاکون حصہ پائے گا۔اور کون خدمت گزار بنے گا۔بینوا توجروا
الجواب:
اگر وہ اپنی جائداد بلاتقسیم ان دونوں کے نام ہبہ کردے گا جب تو ہبہ ہی صحیح نہ ہوگا۔تنویرالابصار میں ہے:
لووھب اثنان دارا لواحد صح وبعکسہ لا ۔ اگر دو افراد ایك شخص کو اپنا مکان ہبہ کریں توصحیح ہے اور اس کا عکس صحیح نہیں ہے۔(ت)
اوراگر تقسیم کرکے ہبہ کرے گا یا بعدہبہ تقسیم کردے گا تو بلاتقسیم ان کے نام بیع کرے گا تو ان صورتوں میں وہ لڑکے ضرور مالك ہوجائیں گے مگر زید دیگر ورثہ کومحروم کرنے کے سبب گنہ گار ہوگا۔حدیث میں ہے:
من فرمن میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ ۔ جوا پنے وارث کی میراث سے بھاگے گا اﷲ تعالی جنت سے اس کی میراث قطع فرمائے گا۔
پھر اگر زید اس بلائے عظیم کو اوڑھ لے تو بچوں کے خورد ونوش سے سوال کے کوئی معنی نہیں۔وہ بچے
مسئلہ ۱۰۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کی پہلی زوجہ سے دو لڑکیاں اور ایك لڑکا بالغ موجود ہیں اور زوجہ اولی نے قضاء کیز ید نے نکاح ثانی کیااس سے کئی اولادیں پیدا ہوئیںزید نے زوجہ ثانیہ کے نام ایك مکان پختہ کلاں مسکونہ لکھ دیا۔اولاد زوجہ ثانیہ کی دو لڑکیاں بالغ جن کی شادی ہوگئی اپنے گھروں پر موجود ہیں۔اوردولڑکے ایك سات برس کا اور دوسرا پانچ برس کا نابالغ ہیں زید ان دونوں نابالغوں کو اپنی کل جائداد بقیہ لکھتاہے۔زید کا کچھ مال یا نقد سوائے اس جائداد کے باقی نہ رہے گااس صورت میں زید کی خدمت اورنابالغوں کی پرورش کون کرے گا ا ورکس چیز سے ان کا خرچ کیا جائے گا اور تجہیز وتکفین کون کرے گاکون حصہ پائے گا۔اور کون خدمت گزار بنے گا۔بینوا توجروا
الجواب:
اگر وہ اپنی جائداد بلاتقسیم ان دونوں کے نام ہبہ کردے گا جب تو ہبہ ہی صحیح نہ ہوگا۔تنویرالابصار میں ہے:
لووھب اثنان دارا لواحد صح وبعکسہ لا ۔ اگر دو افراد ایك شخص کو اپنا مکان ہبہ کریں توصحیح ہے اور اس کا عکس صحیح نہیں ہے۔(ت)
اوراگر تقسیم کرکے ہبہ کرے گا یا بعدہبہ تقسیم کردے گا تو بلاتقسیم ان کے نام بیع کرے گا تو ان صورتوں میں وہ لڑکے ضرور مالك ہوجائیں گے مگر زید دیگر ورثہ کومحروم کرنے کے سبب گنہ گار ہوگا۔حدیث میں ہے:
من فرمن میراث وارثہ قطع اﷲ میراثہ من الجنۃ ۔ جوا پنے وارث کی میراث سے بھاگے گا اﷲ تعالی جنت سے اس کی میراث قطع فرمائے گا۔
پھر اگر زید اس بلائے عظیم کو اوڑھ لے تو بچوں کے خورد ونوش سے سوال کے کوئی معنی نہیں۔وہ بچے
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء والشہادات الخ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۳۷۰€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
سنن ابن ماجہ ابواب الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ ادارہ احیاء سنۃ النبویہ ∞سرگودھا ص ۱۹۸€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
سنن ابن ماجہ ابواب الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ ادارہ احیاء سنۃ النبویہ ∞سرگودھا ص ۱۹۸€
مالك جائداد ہوجائیں گے ان کے مصارف ا ن کے مال سے ہوں گے جسے ان کا باپ ولایۃ صرف کرے گا اور زید کہ اب فقیرہوگیا وہ بھی بقدر کفایت اپنا کھانا پہننا اس سے کرسکے گا۔
قال تعالی" ولا تاکلوہا اسرافا وبدارا ان یکبروا ومن کان غنیا فلیستعفف " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:جو ولی فقیر ہو وہ بھلائی کے طور کھائے اور جو غنی ہو تو وہ عفت اختیار کرے۔(ت)
رہااس کا کفن دفن وہ اس کے مالدار وارثوں پر ہوگا
لان کفن المیت علی من کانت نفقتہ علیہ اعتبار الکسوۃ الممات وسکناہ بکسوۃ الحیات وسکناہ کما فی ردالمحتار وغیرہ واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ میت کا کفن اس شخص کے ذمہ ہے جو اس کے نفقہ کا ذمہ دار تھامردوں کی سکونت ولباس کہ زندوں کے سکنہ ولباس پر قیاس کرتے ہوئے یہ حکم ہےجیسا کہ ردالمحتاروغیرہ میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۶: یکم جمادی الآخرہ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کہ مسماۃ زینب اپنا مکان اپنی اولاد پر ایك عرصہ سے اپنی زندگی میں تقسیم کرنا چاہتی ہےاور اس کے وارث حسب ذیل تھے:ایك لڑکی ہندہ اور زیدبکرعمرو تین لڑکےجن میں سے ہندہ نے انتقال کیا اور قبل انتقال اس نے کہا کہ میرا حصہ میرے بھائی عمرو کو ملنا چاہئےاور مسماۃ زینب اصل مابلکہ مکان ابھی زندہ ہے اور وہ خود چاہتی ہے کہ ہندہ کاحصہ عمرو کو دیا جائے۔توایسی حالت میں کتنا زید کتنا بکر کتنا عمرو کوحصہ ملنا چاہئے بینوا توجروا
الجواب:
تینوں کو برابر ملنا چاہئےہندہ کا کوئی حصہ نہ تھا نہ اس کی وصیت کا کچھ اثرہاں اگر زید وبکرراضی ہو تو جتنا حصہ چاہیں ہندہ کا قرار دے کر عمر وکو زیادہ دے دیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷ تا ۱۱۲: از رامپور گھیر نجوخاں مرسلہ حافظ قرۃ العین صاحب امام مسجد ۲۴ جمادی الثانی ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایك مسماۃ عمر تخمینا ۸۸ سال ساکنہ میرٹھ جو عرصہ سے
قال تعالی" ولا تاکلوہا اسرافا وبدارا ان یکبروا ومن کان غنیا فلیستعفف " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:جو ولی فقیر ہو وہ بھلائی کے طور کھائے اور جو غنی ہو تو وہ عفت اختیار کرے۔(ت)
رہااس کا کفن دفن وہ اس کے مالدار وارثوں پر ہوگا
لان کفن المیت علی من کانت نفقتہ علیہ اعتبار الکسوۃ الممات وسکناہ بکسوۃ الحیات وسکناہ کما فی ردالمحتار وغیرہ واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ میت کا کفن اس شخص کے ذمہ ہے جو اس کے نفقہ کا ذمہ دار تھامردوں کی سکونت ولباس کہ زندوں کے سکنہ ولباس پر قیاس کرتے ہوئے یہ حکم ہےجیسا کہ ردالمحتاروغیرہ میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۶: یکم جمادی الآخرہ ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کہ مسماۃ زینب اپنا مکان اپنی اولاد پر ایك عرصہ سے اپنی زندگی میں تقسیم کرنا چاہتی ہےاور اس کے وارث حسب ذیل تھے:ایك لڑکی ہندہ اور زیدبکرعمرو تین لڑکےجن میں سے ہندہ نے انتقال کیا اور قبل انتقال اس نے کہا کہ میرا حصہ میرے بھائی عمرو کو ملنا چاہئےاور مسماۃ زینب اصل مابلکہ مکان ابھی زندہ ہے اور وہ خود چاہتی ہے کہ ہندہ کاحصہ عمرو کو دیا جائے۔توایسی حالت میں کتنا زید کتنا بکر کتنا عمرو کوحصہ ملنا چاہئے بینوا توجروا
الجواب:
تینوں کو برابر ملنا چاہئےہندہ کا کوئی حصہ نہ تھا نہ اس کی وصیت کا کچھ اثرہاں اگر زید وبکرراضی ہو تو جتنا حصہ چاہیں ہندہ کا قرار دے کر عمر وکو زیادہ دے دیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۰۷ تا ۱۱۲: از رامپور گھیر نجوخاں مرسلہ حافظ قرۃ العین صاحب امام مسجد ۲۴ جمادی الثانی ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ایك مسماۃ عمر تخمینا ۸۸ سال ساکنہ میرٹھ جو عرصہ سے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴/ ۶€
بعوارض مختلفہ بیمارتھی اور محض لاولد اور صاحب جائداد منقولہ وغیر منقولہ تخمینا پندرہ سولہ ہزار روپے کے انتقال سے قبل تخمینا دو ماہ بعارضہ پیچش واسہال مبتلا ہوکر اس میں انتقال ہوگیاایك اس کی حقیقی بہن یعنی متوفیہ کی میرٹھ میں اس کے پاس رہا کرتی تھی اور ایك بہن اور ایك بھائی حقیقی شہر رامپور میں رہتے ہیںاس بہن نے جو میرٹھ میں رہتی ہے بطمع مال واسباب وجائداد رامپوروالے بھائی بہن کو اس مرض موت و انتقال سے خبر نہ کیاور ایك ہبہ نامہ متوفیہ کی طرف سے اس حالت مرض میں جان کرکہ یہ جانبر نہ ہوسکے گی اپنی ایك پوتی اورایك نواسی کہ ہردو نابالغ ہیں ہبہ نامہ تحریر کراکر اپنے میل کے دو آدمیوں سے کہ وہ محض اجنبی تھے اور کوئی رشتہ نہیں رکھتے تھے رشتہ دارمتوفیہ کا بنا کر بغرض شہادت ذریعہ کمیشن گھر بلاکر تصدیق کرادیا اور ہبہ نامہ میں ایك مکان مسکونہ کہ جو اس متوفیہ کا تھا اور تادم مر گ اسی مکان میں مع مال واسباب رہی اور ایك مکان مع چہار دکاکیں کہ جو تحت میں پشت پر واقع ہیں اور انھیں کی چھت پر مکان بنا ہوا ہے اور ان دکانوں میں ایك مدت سے کرایہ دار متوفیہ کی طر ف سے چلے آتے ہیں۔اس سب جائداد جزوکل کا ایك ہبہ نامہ مشاع دونوں نابالغوں کے نام مالیت پانچ ہزارروپیہ قرار دے کر بولایت اپنے اس بہن نے جو پاس متوفیہ کے رہا کرتی تھی تصدیق کرادیابشہادت انھیں اشخاص کے جن کو رشتہ دار متوفیہ کا بنایا تھا او رخود سب جائداد منقولہ وغیر منقولہ پر بعد وفات اپنی بہن کے قابض بن بیٹھیدوسرے روز مرنے سے متوفیہ کے چند اشخاص کہ جو بتقریب شادی سرکار والی ریاست رامپور کے آئے تھے ان سے خبر متوفیہ کے بھائی کو معلوم ہوئیبھائی بمجرد سننے خبر فوت بہن کے تیسرے روز سوم کے وہاں پہنچا تو یہ کارروائی دیکھی اور سنی کہ ہبہ نامہ لکھا گیااور ہم دونوں بہن بھائی کی حق تلفی میں کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا پس علمائے دین سے اب ۱سوال یہ ہے کہ یہ ہبہ مشاع جائز ہے یاناجائز اور۲نانی نے نابالغوں کی طرف سے ولی بن کر قبضہ کیا باوجود یکہ باپ نابالغہ کا وہیں میرٹھ میں موجود ہے یہ قبضہ کرلینا نانی کا شرعادرست ہے یا نہیں
۳سوم یہ کہ پوتی اس کی رامپور میں اپنی ماں کی پرورش میں ہے بغیر اطلاع وبلااجازت پوتی اور ہونے ماں کے قبضہ دادی کا صحیح یا نہیں
۴چہارم یہ کہ وہ متوفیہ اپنے مکان مسکونہ میں تادم حیات مع مال واسباب اپنے کے رہیتادم مرگ خالی نہیں گیااس صورت میں قبضہ ہوگیا یانہیں
۵پنجم یہ کہ بعض جائداد موہوبہ پر اگرقبضہ ہوجائے اور بعض پر نہ ہو تو موجب نقصان ہبہ ہے یانہیں
۳سوم یہ کہ پوتی اس کی رامپور میں اپنی ماں کی پرورش میں ہے بغیر اطلاع وبلااجازت پوتی اور ہونے ماں کے قبضہ دادی کا صحیح یا نہیں
۴چہارم یہ کہ وہ متوفیہ اپنے مکان مسکونہ میں تادم حیات مع مال واسباب اپنے کے رہیتادم مرگ خالی نہیں گیااس صورت میں قبضہ ہوگیا یانہیں
۵پنجم یہ کہ بعض جائداد موہوبہ پر اگرقبضہ ہوجائے اور بعض پر نہ ہو تو موجب نقصان ہبہ ہے یانہیں
۶ششم: یہ کہ اگر مکان مسکونہ میں متوفیہ تادم حیات خود رہی بعد تحریر ہبہ نامہ کے اور باقی مکان دکاکیں میں اسی متوفیہ کے کرایہ دار تھے اور کوئی امر جدید جو موجب قبضہ ہوتا تاحیات متوفیہ عمل میں نہیں آیا تو موجب بطلان ہبہ ہوا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ ہبہ جزء وکلا تمام وکمال باطل وبے اثرمحض ہے وہ سب جائداد متروکہ عورت ہے اس کے وارثوں پر حسب فرائض تقسیم ہوگی بہن کی پوتی نواسی اس میں سے اس عقد و تحریر کی بناء پر ایك حبہ نہیں پاسکتیںنہ ازروئے ہبہنہ بروئے وصیت کہ مرض الموت کا ہبہ اگرچہ حکما وصیت ہےحقیقۃ ہبہ ہے اگر موہو ب لہ کے قبضہ تامہ شرعیہ سے پہلے واہب کا انتقال ہوجائے باطل محض ہوجاتاہے۔ہندیہ میں محیط سے ہے:
قال فی الاصل ولاتجوز ھبۃ المریض ولاصدقتہ الامقبوضۃ فاذا قبضت جازت من الثلث واذا مات الواھب قبل التسلیم بطلت یجب ان یعلم ان ھبۃ المریض ھبۃ عقد اولیست بوصیۃ واعتبار ھا من الثلث ماکانت لانہا وصیۃ معنی لان حق الورثۃ یتعلق بمال المریض وقد تبرع بالھبۃ فیلزم تبرعہ بقدر ماجعل الشرع لہ وھو الثلث واذا کان ھذا التصرف ھبۃ عقدا شرط لہ سائر شرائط الھبۃ ومن جملۃ شرائطہا قبض الموھوب لہ قبل موت الواھب ۔ اصل میں فرمایا ہے مریض کا ہبہ یا صدقہ صرف وہی صحیح ہوگا جس پر اس نے قبضہ دے دیا ہو تو جب قبضہ دے دیا تو اس کے تہائی مال سے جائز ہوگا اور اگر وہ قبضہ دینے سے پہلے فوت ہوگیا تو ہبہ باطل ہوجائے گا یہ جاننا ضروری ہے کہ مریض کاہبہ عقدکے اعتبارسے ہبہ ہے وصیت نہیں ہے اور اس میں تہائی مال تك جتنا بھی اس کا اعتبار ہے اس لئے ہے کہ وہ معنی وصیت ہے اس لئے کہ اس کے مال سے ورثاء کاتعلق ہے اور ہبہ کرکے تبرع کیا ہے توتبرع میں اتنا ہی دیا جاسکتا ہے جتنا شریعت نے اس کو حق دیاہے اور وہ تہائی حصہ ہے اور جب مریض کا یہ تصرف عقدکے لحاظ سے ہبہ ہے تواس میں ہبہ کے شرائط معتبرہوں گے جبکہ اس کے جملہ شرائط میں سے ایك یہ ہے کہ واہب کی موت سے قبل موہوب لہ کا قبضہ ہو۔ (ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ ہبہ جزء وکلا تمام وکمال باطل وبے اثرمحض ہے وہ سب جائداد متروکہ عورت ہے اس کے وارثوں پر حسب فرائض تقسیم ہوگی بہن کی پوتی نواسی اس میں سے اس عقد و تحریر کی بناء پر ایك حبہ نہیں پاسکتیںنہ ازروئے ہبہنہ بروئے وصیت کہ مرض الموت کا ہبہ اگرچہ حکما وصیت ہےحقیقۃ ہبہ ہے اگر موہو ب لہ کے قبضہ تامہ شرعیہ سے پہلے واہب کا انتقال ہوجائے باطل محض ہوجاتاہے۔ہندیہ میں محیط سے ہے:
قال فی الاصل ولاتجوز ھبۃ المریض ولاصدقتہ الامقبوضۃ فاذا قبضت جازت من الثلث واذا مات الواھب قبل التسلیم بطلت یجب ان یعلم ان ھبۃ المریض ھبۃ عقد اولیست بوصیۃ واعتبار ھا من الثلث ماکانت لانہا وصیۃ معنی لان حق الورثۃ یتعلق بمال المریض وقد تبرع بالھبۃ فیلزم تبرعہ بقدر ماجعل الشرع لہ وھو الثلث واذا کان ھذا التصرف ھبۃ عقدا شرط لہ سائر شرائط الھبۃ ومن جملۃ شرائطہا قبض الموھوب لہ قبل موت الواھب ۔ اصل میں فرمایا ہے مریض کا ہبہ یا صدقہ صرف وہی صحیح ہوگا جس پر اس نے قبضہ دے دیا ہو تو جب قبضہ دے دیا تو اس کے تہائی مال سے جائز ہوگا اور اگر وہ قبضہ دینے سے پہلے فوت ہوگیا تو ہبہ باطل ہوجائے گا یہ جاننا ضروری ہے کہ مریض کاہبہ عقدکے اعتبارسے ہبہ ہے وصیت نہیں ہے اور اس میں تہائی مال تك جتنا بھی اس کا اعتبار ہے اس لئے ہے کہ وہ معنی وصیت ہے اس لئے کہ اس کے مال سے ورثاء کاتعلق ہے اور ہبہ کرکے تبرع کیا ہے توتبرع میں اتنا ہی دیا جاسکتا ہے جتنا شریعت نے اس کو حق دیاہے اور وہ تہائی حصہ ہے اور جب مریض کا یہ تصرف عقدکے لحاظ سے ہبہ ہے تواس میں ہبہ کے شرائط معتبرہوں گے جبکہ اس کے جملہ شرائط میں سے ایك یہ ہے کہ واہب کی موت سے قبل موہوب لہ کا قبضہ ہو۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ باب العاشر فی ھبۃ المریض ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۰۰€
یہاں جبکہ جائداد قابل قسمت ہے او ر دو شخصوں کوبلاتقسیم ہبہ کی گئی ہبہ مشاع ہوا او رہبہ مشاع ناجائز ہے۔تنویرمیں ہے:
وھب اثنان دارا لواحد صح و بعکسہ لا ۔ دو افراد نے ایك شخص کو مکان دیا تو صحیح ہے اور اس کا عکس ہوتو ناجائز ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
للشیوع فیما یحتمل القسمۃ قابل تقسیم چیز میں شیوع کی وجہ سے(ت)
اور جبکہ تسلیم بالتقسیم سے پہلے واھبہ نے انتقال کیا ہبہ بالاجماع باطل ہوگیا
ای علی مذہبہ رضی اﷲ تعالی عنہ و اشار بالاجماع الی ارتفاع النزاع فی ان ھبۃ المشاع فاسدۃ تفید الملك بالقبض ام باطلۃ فلاتفید اصلا و ذلك لان الموت قبل التسلیم مبطل اتفاقا ولوھبۃ صحیحۃ فضلا عن فاسدۃ۔ یعنی امام صاحب رضی اﷲ تعالی عنہ کے مذہب پر اور اجماع کا اشارہ اس لئے کیا کہ مشاع چیز کا ہبہ فاسد ہو تو قبضہ کے ساتھ مفید ملك ہوگا یا وہ باطل ہو تو ملکیت کےلئے اصلا مفید نہ ہوگا اس بات میں نزاع ختم ہوگیا۔یہ اس لئے ہے کہ قبضہ دینے سے قبل واہب کی موت ہبہ کو بالاجماع باطل کردیتی ہے اگرچہ ہبہ صحیح ہو توفاسد کا ذکر ہی کیا رہا۔(ت)
درمختارمیں ہے:
والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم ولو قبلہ بطل ۔ میم سے فریقین میں سے ایك کی موت قبضہ دینے کے بعد مراد ہےاور موت قبل از تسلم ہو تو باطل ہوجائے گا۔(ت)
سوال اول کا جواب ہوگیا بلکہ یہاں اسی قدر کافی تھا۔
دو م۲ نابالغہ نواسی اگر نانی کے پاس رہتی تھی نانی کے قبضہ میں تھی تو جوہبہ اس کے لئے ہوا
وھب اثنان دارا لواحد صح و بعکسہ لا ۔ دو افراد نے ایك شخص کو مکان دیا تو صحیح ہے اور اس کا عکس ہوتو ناجائز ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
للشیوع فیما یحتمل القسمۃ قابل تقسیم چیز میں شیوع کی وجہ سے(ت)
اور جبکہ تسلیم بالتقسیم سے پہلے واھبہ نے انتقال کیا ہبہ بالاجماع باطل ہوگیا
ای علی مذہبہ رضی اﷲ تعالی عنہ و اشار بالاجماع الی ارتفاع النزاع فی ان ھبۃ المشاع فاسدۃ تفید الملك بالقبض ام باطلۃ فلاتفید اصلا و ذلك لان الموت قبل التسلیم مبطل اتفاقا ولوھبۃ صحیحۃ فضلا عن فاسدۃ۔ یعنی امام صاحب رضی اﷲ تعالی عنہ کے مذہب پر اور اجماع کا اشارہ اس لئے کیا کہ مشاع چیز کا ہبہ فاسد ہو تو قبضہ کے ساتھ مفید ملك ہوگا یا وہ باطل ہو تو ملکیت کےلئے اصلا مفید نہ ہوگا اس بات میں نزاع ختم ہوگیا۔یہ اس لئے ہے کہ قبضہ دینے سے قبل واہب کی موت ہبہ کو بالاجماع باطل کردیتی ہے اگرچہ ہبہ صحیح ہو توفاسد کا ذکر ہی کیا رہا۔(ت)
درمختارمیں ہے:
والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم ولو قبلہ بطل ۔ میم سے فریقین میں سے ایك کی موت قبضہ دینے کے بعد مراد ہےاور موت قبل از تسلم ہو تو باطل ہوجائے گا۔(ت)
سوال اول کا جواب ہوگیا بلکہ یہاں اسی قدر کافی تھا۔
دو م۲ نابالغہ نواسی اگر نانی کے پاس رہتی تھی نانی کے قبضہ میں تھی تو جوہبہ اس کے لئے ہوا
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
درمختار کتاب الہبہ ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
درمختار کتاب الہبہ ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
نانی کا اس پر قبضہ جائز وموجب تمامی ہبہ تھااگرہبہ مشاع نہ ہوتا تو اس صورت میں باپ کا اسی شہر میں موجود ہونا نانی کے قبضہ کا مانع نہیں۔یہی صحیح ہے اور اسی پر فتویہاں اگر نواسی اس کے قبضہ میں نہ ہو تو باپ کے ہوتے نانی وغیرہ کسی کا قبضہ جائز نہیں۔
درمختارمیں ہے:
ان وھب لہ اجنبی تتم بقبض ولیہ وھو الاب ثم وصیہ ثم الجد ثم وصیہ وان لم یکن فی حجرھم وعند عدمہم تتم بقبض من یعولہ کعمہ واجنبی لو فی حجر ھما والالوبفوات الولایۃ لکن فی البرجندی اختلف فیما لوقبض من یعولہ والاب حاضر فقیل لا یجوز والصحیح ھو الجواز ۔ اگر نابالغ کو اجنبی نے ہبہ دیا تو اس کے ولی کے قبضہ سے ہبہ تام ہوجائے گا ولی ترتیب وارباپ پھر اس کا وصیپھر دادا پھر اس کا وصی اگر بچہ ان کے پاس نہ ہو اور مذکور لوگ نہ ہوں پھر جس نے بچے کو اپنا عیال بنایا بشرطیکہ بچہ ان کے پاس ہو مثلا چچا اور کوئی اجنبی کہ اس کے قبضہ سے بچے کے لئے ہبہ تام ہوگا اگرمؤخر الذکر لوگوں کے پاس بچہ نہ ہو تو ان کا قبضہ معتبر نہ ہوگا کیونکہ ایسی صورت میں ان کو ولایت نہیں ہے۔لیکن برجندی میں ہے کہ عیال میں لینے والا بچے کے والد کی موجودگی میں قبضہ کرے تو اختلاف ہے۔بعض نے کہا جائز نہیں اور صحیح یہ ہے کہ جائز ہوگا۔(ت)
عالمگیریہ میں ہے:
اختلف المشائخ فیہ والصحیح الجواز ھکذا فی فتاوی قاضی خاں وبہ یفتی ھکذا فی الفتاوی الصغری ۔ اس میں مشائخ کا اختلاف ہے اور صحیح یہ کہ جائز ہےفتاوی قاضی خاں میں یونہی ہے اور فتاوی صغری میں ہے کہ اسی پر فتوی ہے۔(ت)
سوم۳: پوتی کہ ماں کی پرورش میں ہے اس کے ہبہ پردادی کا قبضہ جائز نہیں اگرچہ اسی شہر میں ہو کما تقدم عن الدر من قولہ والالالفوات الولایۃ(جیسا کہ درمختار میں گزرا کہ عیال میں ہو تو جائز ورنہ نہیں کیونکہ ولایت نہ پائی گئی۔ت)
درمختارمیں ہے:
ان وھب لہ اجنبی تتم بقبض ولیہ وھو الاب ثم وصیہ ثم الجد ثم وصیہ وان لم یکن فی حجرھم وعند عدمہم تتم بقبض من یعولہ کعمہ واجنبی لو فی حجر ھما والالوبفوات الولایۃ لکن فی البرجندی اختلف فیما لوقبض من یعولہ والاب حاضر فقیل لا یجوز والصحیح ھو الجواز ۔ اگر نابالغ کو اجنبی نے ہبہ دیا تو اس کے ولی کے قبضہ سے ہبہ تام ہوجائے گا ولی ترتیب وارباپ پھر اس کا وصیپھر دادا پھر اس کا وصی اگر بچہ ان کے پاس نہ ہو اور مذکور لوگ نہ ہوں پھر جس نے بچے کو اپنا عیال بنایا بشرطیکہ بچہ ان کے پاس ہو مثلا چچا اور کوئی اجنبی کہ اس کے قبضہ سے بچے کے لئے ہبہ تام ہوگا اگرمؤخر الذکر لوگوں کے پاس بچہ نہ ہو تو ان کا قبضہ معتبر نہ ہوگا کیونکہ ایسی صورت میں ان کو ولایت نہیں ہے۔لیکن برجندی میں ہے کہ عیال میں لینے والا بچے کے والد کی موجودگی میں قبضہ کرے تو اختلاف ہے۔بعض نے کہا جائز نہیں اور صحیح یہ ہے کہ جائز ہوگا۔(ت)
عالمگیریہ میں ہے:
اختلف المشائخ فیہ والصحیح الجواز ھکذا فی فتاوی قاضی خاں وبہ یفتی ھکذا فی الفتاوی الصغری ۔ اس میں مشائخ کا اختلاف ہے اور صحیح یہ کہ جائز ہےفتاوی قاضی خاں میں یونہی ہے اور فتاوی صغری میں ہے کہ اسی پر فتوی ہے۔(ت)
سوم۳: پوتی کہ ماں کی پرورش میں ہے اس کے ہبہ پردادی کا قبضہ جائز نہیں اگرچہ اسی شہر میں ہو کما تقدم عن الدر من قولہ والالالفوات الولایۃ(جیسا کہ درمختار میں گزرا کہ عیال میں ہو تو جائز ورنہ نہیں کیونکہ ولایت نہ پائی گئی۔ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۹۳€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۹۳€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۰€
چہارم۴ اس صورت میں قبضہ نہ ہوادرمختارمیں ہے:
الموھوب ان مشغولایملك الواھب منع تمامہا ۔ کہ موہوب جب ملك واہب میں مشغول ہو تو تمامی ہبہ سے مانع ہوتاہے۔(ت)
پنجم۵ دو۲موہوب چیزوں میں ایك پر قبضہ تامہ مستقلہ اگر بغیر دوسرے پرقبضہ کے ہوجائے تو جس پر قبضہ ہوا اس کا ہبہ تمام ہوگیااور اگر دو شخصوں کو ہبہ مشاع تھا یا ایك شے دوسرے کی جز یا ا س سے مثل جز متصل یا مشغول ہے تو اس پر قبضہ نہیں۔ عالمگیریہ میں ہے:
لووھب دارافیھا متاع الواھب وسلم الدار الیہ اوسلمہا مع المتاع لم تصحولووھب المتاع دون الدار وخلی بینہ وبینہ صح وان وھب لہ الدار والمتاع جمیعا وخلی بینہ وبینہا صح فیھما جمیعا وان فرق فی التسلیم نحو ان یہب احدھما وسلم ثم وھب الاخر وسلم ان قدم ھبۃ الدار لاتصح وفی المتاع تصح وان قدم ھبۃ المتاع فالھبۃ صحیحۃ فیھما جمیعا ولو وھب الارض دون الزرع او الزرع دون الارض وخلی لم تصح فی الوجہین لان کل واحد منہما متصل لصاحبہ اتصال جزء بجزء فصار بمنزلۃ ھبۃ المشاع فیما یحتمل القسمۃولو وھب اگرایسے مکان کا ہبہ کیا جس میں واہب کا سامان موجود ہے اور مکان یامکان مع سامان کاقبضہ دیا تو صحیح نہ ہوگا۔اوراگر سامان صرف ہبہ کیا اورواہب نے سامان کا تخلیہ موہوب لہ کو کردیا تو ہبہ صحیح ہوگا۔اوراگرمکان مع سامان ہبہ کیا اور تخلیہ کردیا تو دونوں کا ہبہ صحیح ہوگا اورمکان اور سامان کا ہبہ معانہ کیا بلکہ یکے بعد دیگرے کیا تو اگر پہلے مکان ہبہ کیا اور قبضہ دے دیا تومکان میں ناجائز اور سامان میں جائز ہوگا اور اگر پہلے سامان ہبہ کرکے اس کا قبضہ دے دیا تو دونوں کا ہبہ صحیح ہوگا _____ اگر زمین کا بغیر فصل یا فصل کا بغیر زمین ہبہ کیا اور قبضہ کے لئے تخلیہ کردیا ہو تو دونوں صورتوں میں ہبہ صحیح نہ ہوگا کیونکہ زمین اور اس پر فصل کااتصال جزئیت والا ہے تویہ قابل تقسیم مشاع چیز کے ہبہ کی طرح ہے اور دونوں کو علیحدہ علیحدہ ہبہ کیا
الموھوب ان مشغولایملك الواھب منع تمامہا ۔ کہ موہوب جب ملك واہب میں مشغول ہو تو تمامی ہبہ سے مانع ہوتاہے۔(ت)
پنجم۵ دو۲موہوب چیزوں میں ایك پر قبضہ تامہ مستقلہ اگر بغیر دوسرے پرقبضہ کے ہوجائے تو جس پر قبضہ ہوا اس کا ہبہ تمام ہوگیااور اگر دو شخصوں کو ہبہ مشاع تھا یا ایك شے دوسرے کی جز یا ا س سے مثل جز متصل یا مشغول ہے تو اس پر قبضہ نہیں۔ عالمگیریہ میں ہے:
لووھب دارافیھا متاع الواھب وسلم الدار الیہ اوسلمہا مع المتاع لم تصحولووھب المتاع دون الدار وخلی بینہ وبینہ صح وان وھب لہ الدار والمتاع جمیعا وخلی بینہ وبینہا صح فیھما جمیعا وان فرق فی التسلیم نحو ان یہب احدھما وسلم ثم وھب الاخر وسلم ان قدم ھبۃ الدار لاتصح وفی المتاع تصح وان قدم ھبۃ المتاع فالھبۃ صحیحۃ فیھما جمیعا ولو وھب الارض دون الزرع او الزرع دون الارض وخلی لم تصح فی الوجہین لان کل واحد منہما متصل لصاحبہ اتصال جزء بجزء فصار بمنزلۃ ھبۃ المشاع فیما یحتمل القسمۃولو وھب اگرایسے مکان کا ہبہ کیا جس میں واہب کا سامان موجود ہے اور مکان یامکان مع سامان کاقبضہ دیا تو صحیح نہ ہوگا۔اوراگر سامان صرف ہبہ کیا اورواہب نے سامان کا تخلیہ موہوب لہ کو کردیا تو ہبہ صحیح ہوگا۔اوراگرمکان مع سامان ہبہ کیا اور تخلیہ کردیا تو دونوں کا ہبہ صحیح ہوگا اورمکان اور سامان کا ہبہ معانہ کیا بلکہ یکے بعد دیگرے کیا تو اگر پہلے مکان ہبہ کیا اور قبضہ دے دیا تومکان میں ناجائز اور سامان میں جائز ہوگا اور اگر پہلے سامان ہبہ کرکے اس کا قبضہ دے دیا تو دونوں کا ہبہ صحیح ہوگا _____ اگر زمین کا بغیر فصل یا فصل کا بغیر زمین ہبہ کیا اور قبضہ کے لئے تخلیہ کردیا ہو تو دونوں صورتوں میں ہبہ صحیح نہ ہوگا کیونکہ زمین اور اس پر فصل کااتصال جزئیت والا ہے تویہ قابل تقسیم مشاع چیز کے ہبہ کی طرح ہے اور دونوں کو علیحدہ علیحدہ ہبہ کیا
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۰۹€
کل واحد منہما علیحدۃ ان جمع فی التسلیم جازت فیہما وان فرق لاتجوز فیہما ایہما قدم کذا فی السراج الوہاج (ملخصا) اورقبضہ دونوں کا معا دیا تو دونوں کاہبہ جائز ہوگا اور قبضہ علیحدہ علیحدہ دیا دونوں کا ہبہ درست نہ ہوگا خواہ دونوں میں جس کو چاہے مقدم موخر کرےسراج الوہاج میں یوں ہے۔(ملخصا) (ت)
ششم ہاں اس صورت میں قبضہ نہ ہوااور قبل قبضہ موت موجب بطلان ہبہ ہے۔ درمختاراور ردالمحتارمیں ہے:
فی الاشباہ ھبۃ المشغول لاتجوز الااذا وھب الاب لطفلہ دارا والاب ساکنہا ولو وھب طفلہ دارایسکن فیھا قوم بغیر اجر جاز ویصیر قابضا لابنہ لالوکان باجر ۲ (ملخصا)واﷲ تعالی اعلم۔ الاشباہ میں ہے مشغول چیز کا ہبہ ناجائز ہے الایہ کہ باپ اپنے نابالغ بیٹے کو ہبہ کرکے خود سکون پذیر بھی ہو تو جائز ہےاگر نابالغ بیٹے کو باپ نے مکان ہبہ کیا جبکہ اس میں کوئی غیر سکون پذیر ہے اگر یہ سکونت پہلے سے بغیر اجارہ ہے تو ہبہ جائز ہوگا باپ کا قبضہ ہی بیٹے کاقبضہ ہوجائے گا۔اورغیر کی وہ سکونت اجارہ کے طور پر ہے تو ہبہ صحیح نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۱۳: از کانپور مرسلہ کریم احمد معرفت عم اونبی احمد سوداگر عطر بازار کلاں بریلی ۹ رجب ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے ذاتی روپے سے ایك قطعہ مکان اپنی اہلیہ کے نام خرید کیا تھا اور بیعنامہ اپنی بی بی کے نام لکھوایا نہ اپنے نام سے بعد خریداری مکان زید اور اس کی بی بی نے ایك ساتھ مکان مذکور کے بالاخانہ پر سکونت اختیار کی اور مکان مذکورہ کے کل حصہ زیریں میں زید کا تجارتی مال ہمیشہ رہا کیا اوراب تك موجود ہے۔ خریداری مکان سے عرصہ تین سال کے بعد ہاؤس ٹیکس جاری ہوا رجسٹر ہاؤس ٹیکس کے خانہ ملکیت میں زید نے اپنا نام خود درج کرایا او رٹیکس کا روپیہ بھی تاحین حیات خود اداکرتا رہا۔اور مرمت مکان بھی
ششم ہاں اس صورت میں قبضہ نہ ہوااور قبل قبضہ موت موجب بطلان ہبہ ہے۔ درمختاراور ردالمحتارمیں ہے:
فی الاشباہ ھبۃ المشغول لاتجوز الااذا وھب الاب لطفلہ دارا والاب ساکنہا ولو وھب طفلہ دارایسکن فیھا قوم بغیر اجر جاز ویصیر قابضا لابنہ لالوکان باجر ۲ (ملخصا)واﷲ تعالی اعلم۔ الاشباہ میں ہے مشغول چیز کا ہبہ ناجائز ہے الایہ کہ باپ اپنے نابالغ بیٹے کو ہبہ کرکے خود سکون پذیر بھی ہو تو جائز ہےاگر نابالغ بیٹے کو باپ نے مکان ہبہ کیا جبکہ اس میں کوئی غیر سکون پذیر ہے اگر یہ سکونت پہلے سے بغیر اجارہ ہے تو ہبہ جائز ہوگا باپ کا قبضہ ہی بیٹے کاقبضہ ہوجائے گا۔اورغیر کی وہ سکونت اجارہ کے طور پر ہے تو ہبہ صحیح نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۱۳: از کانپور مرسلہ کریم احمد معرفت عم اونبی احمد سوداگر عطر بازار کلاں بریلی ۹ رجب ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنے ذاتی روپے سے ایك قطعہ مکان اپنی اہلیہ کے نام خرید کیا تھا اور بیعنامہ اپنی بی بی کے نام لکھوایا نہ اپنے نام سے بعد خریداری مکان زید اور اس کی بی بی نے ایك ساتھ مکان مذکور کے بالاخانہ پر سکونت اختیار کی اور مکان مذکورہ کے کل حصہ زیریں میں زید کا تجارتی مال ہمیشہ رہا کیا اوراب تك موجود ہے۔ خریداری مکان سے عرصہ تین سال کے بعد ہاؤس ٹیکس جاری ہوا رجسٹر ہاؤس ٹیکس کے خانہ ملکیت میں زید نے اپنا نام خود درج کرایا او رٹیکس کا روپیہ بھی تاحین حیات خود اداکرتا رہا۔اور مرمت مکان بھی
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب لثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۸۰€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹،€ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۱۰€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹،€ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۱۰€
اپنے صرفہ ذاتی سے خود کرتا رہا۔اب زید کا انتقال ہوگیابموجب حکم شرع شریف کے وہ مکان مملوکہ خاص زوجہ زید کا ہوگا یا یہ کہ زید کے سب ورثہ میں مشترك ہوگا بینوا توجروا
الجواب:
اگر زید نے وقت ایجاب وقبول بیع بنام زوجہ کرائی مثلابائع سے کہا یہ مکان میں نے اپنی بی بی کے نام خریدا بائع نے کہا میں نے تیری بی بی کے ہاتھ بیچا جب تو اس مکان کی مالك زوجہ ہوئی جبکہ زوجہ نے وہ بیع اپنے نام جائز رکھیدرمختار میں ہے:
لو اشتری لغیرہ نفذ علیہ اذا لم یضفہ الی غیرہ فلو اضافہ بان قال بع لفلان فقال بعتہ لفلان توقف بزازیہ وغیرھا ۔ اگر غیر کے لئے کوئی چیز خریدی اور خریداری کو غیر کی طرف منسوب نہ کیا تو یہ خریدار کی ہوگیاگر یہ کہہ کر غیر کی طرف منسوب کی کہ یہ چیز فلاں کے لئے بیع کراور جواب میں دوسرا کہے میں نے یہ فلاں کے لئے بیع کیتو اس غیر کی اجازت پر موقوف رہے گیبزازیہ وغیرہا(ت)
اور اگر زید نے خریداری زوجہ کے نام نہ کی پھر بیعنامہ میں زوجہ کانام لکھا دیا تو مالك زید ہوا اور بیعنامہ میں زوجہ کانام لکھانا زوجہ کے لئے ہبہ کہ بے قبضہ تمام نہیں ہوسکتااور جبکہ زید خودبھی اس مکان میں رہا اور اپنا اسباب رکھا اور کبھی خالی کرکے زوجہ کو قبضہ نہ دیا یہاں تك کہ مرگیا تو وہ ہبہ باطل ہوگیامکان ملك زید ہے حسب فرائض ورثائے زید پرمنقسم ہوگا۔درمختار میں ہے:
تتم الھبۃ بالقبض الکامل ولو الموھوب شاغلالملك الواھب لامشغولابہ ۔ ہبہ کامل قبضہ سے تام ہوتاہے اگرچہ موہوب شاغل بملك واہب ہو اور اگرموہوب چیز واہب کی ملك میں مشغول ہے تو تام نہ ہوگا۔(ت)
اسی میں ہے:
والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل . واﷲ تعالی اعلم۔ "م"سے مراد فریقین میں سے ایك کی موت بعد قبضہ ہے اور اگر قبضہ سے قبل موت ہو تو ہبہ باطل ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
الجواب:
اگر زید نے وقت ایجاب وقبول بیع بنام زوجہ کرائی مثلابائع سے کہا یہ مکان میں نے اپنی بی بی کے نام خریدا بائع نے کہا میں نے تیری بی بی کے ہاتھ بیچا جب تو اس مکان کی مالك زوجہ ہوئی جبکہ زوجہ نے وہ بیع اپنے نام جائز رکھیدرمختار میں ہے:
لو اشتری لغیرہ نفذ علیہ اذا لم یضفہ الی غیرہ فلو اضافہ بان قال بع لفلان فقال بعتہ لفلان توقف بزازیہ وغیرھا ۔ اگر غیر کے لئے کوئی چیز خریدی اور خریداری کو غیر کی طرف منسوب نہ کیا تو یہ خریدار کی ہوگیاگر یہ کہہ کر غیر کی طرف منسوب کی کہ یہ چیز فلاں کے لئے بیع کراور جواب میں دوسرا کہے میں نے یہ فلاں کے لئے بیع کیتو اس غیر کی اجازت پر موقوف رہے گیبزازیہ وغیرہا(ت)
اور اگر زید نے خریداری زوجہ کے نام نہ کی پھر بیعنامہ میں زوجہ کانام لکھا دیا تو مالك زید ہوا اور بیعنامہ میں زوجہ کانام لکھانا زوجہ کے لئے ہبہ کہ بے قبضہ تمام نہیں ہوسکتااور جبکہ زید خودبھی اس مکان میں رہا اور اپنا اسباب رکھا اور کبھی خالی کرکے زوجہ کو قبضہ نہ دیا یہاں تك کہ مرگیا تو وہ ہبہ باطل ہوگیامکان ملك زید ہے حسب فرائض ورثائے زید پرمنقسم ہوگا۔درمختار میں ہے:
تتم الھبۃ بالقبض الکامل ولو الموھوب شاغلالملك الواھب لامشغولابہ ۔ ہبہ کامل قبضہ سے تام ہوتاہے اگرچہ موہوب شاغل بملك واہب ہو اور اگرموہوب چیز واہب کی ملك میں مشغول ہے تو تام نہ ہوگا۔(ت)
اسی میں ہے:
والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل . واﷲ تعالی اعلم۔ "م"سے مراد فریقین میں سے ایك کی موت بعد قبضہ ہے اور اگر قبضہ سے قبل موت ہو تو ہبہ باطل ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
مسئلہ ۱۱۴: از کانپور مچھلی بازار آوردہ محمد شریف صاحب ۱۰ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بکر نے اپنی حیات میں جو جائداد غیر منقولہ خرید کی وہ کچھ اپنے نام سے او رکچھ اپنے دو پسران نابالغ کے نام سے خرید کی اورہمیشہ ہردو جائداد پر بکر قابض رہا اور اس کی آمدنی کرایہ بھی بکر اپنے تصرف میں لایابکر نے جو جائداد نابالغ لڑکوں کے نام سے بیعنامہ کرائی تھی اس کی از سرنو تعمیر ومرمت بکر نے اپنے روپے سے کیجیسے اپنی جائداد کی کرتا تھاکوئی حساب علیحدہ نابالغان کے نام جائداد کانہیں رکھا۔بکر تجارت پیشہ تھا او راس کی تجارت کا مقام کلکتہ میں تھا اور جائداد دوسرے مقام میں تھیبکر نے انتظام جائداد غیرمنقولہ کل وصولیت کرایہ ومرمت واز سرنو تعمیر جن لوگوں کے سپرد کیا تھا ان کو بھی بکر کی کوئی ہدایت ایسی نہ تھی کہ ہر دوجائداد کی مرمت وکرایہ وغیرہ کا حساب علیحدہ رکھا جائےکچھ کرایہ دار ازنام نابالغان والی جائداد کے ایسے ہیں جن کا بکر سے تجارتی کاروبار تھاہمیشہ ان لوگوں نے کرایہ وآمد مال بکر کا ایك ہی ساتھ میں بکر کے نام سے جمع کیا یعنی اپنے بہی کھاتہ میں لکھا اور اس کا روپیہ بھی بکر ہی کو دیا اور بکر نے کبھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کیابکر نے ۱۹۰۹ء و ۱۹۱۰ء میں دو یادداشتیں بطور چٹھا کے بنائیں اور اس میں کل جائداد اپنی اور جو دولڑکوں کے نام ہے اس کی قیمت لکھیاور جو روپیہ نقد وازقسم نوٹ وغیرہ تھے وہ لکھے اور لینا دینا جو لوگوں کے ذمہ تھا وہ لکھابکر ۱۹۱۱ء میں بیمار ہوکرشروع ۱۹۱۲ء میں قضائے الہی سے فوت ہوگیا اور اپنے وارثان چند لڑکے اور لڑکیاں اور زوجہ کو چھوڑااب بحکم شرع شریف وہ جائداد جوان دوپسروں کے نام ہے وہ کل وارثان پر تقسیم ہوگی یا اس کے وہی دوپسران مالك رہے فقط
الجواب:
بکر نے اگرچہ جائداد خریدی مگر آپ خرید کر اپنے دو۲ بچوں کے نام بیعنامہ کرانا اس کی طرف سے ان کے لئے ہبہ ہےمنح الغفار و ردالمحتارمیں ہے:
اشتری لہا فی صغرھا اوبعد ماکبرت وسلم الیہا و ذلك فی صحتہ فلاسبیل للورثۃ علیہ ویکون للبنت خاصۃ ۔ بیٹی نابالغ یا بالغ کے لئے کوئی چیز والدنے خرید کر قبضہ دے دیا اور والد نے یہ عمل اپنی صحت و تندرستی میں کیا تو ورثاء کا اس چیز پر کوئی دخل نہ ہوگا وہ خالص بیٹی کی ہوگی۔(ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بکر نے اپنی حیات میں جو جائداد غیر منقولہ خرید کی وہ کچھ اپنے نام سے او رکچھ اپنے دو پسران نابالغ کے نام سے خرید کی اورہمیشہ ہردو جائداد پر بکر قابض رہا اور اس کی آمدنی کرایہ بھی بکر اپنے تصرف میں لایابکر نے جو جائداد نابالغ لڑکوں کے نام سے بیعنامہ کرائی تھی اس کی از سرنو تعمیر ومرمت بکر نے اپنے روپے سے کیجیسے اپنی جائداد کی کرتا تھاکوئی حساب علیحدہ نابالغان کے نام جائداد کانہیں رکھا۔بکر تجارت پیشہ تھا او راس کی تجارت کا مقام کلکتہ میں تھا اور جائداد دوسرے مقام میں تھیبکر نے انتظام جائداد غیرمنقولہ کل وصولیت کرایہ ومرمت واز سرنو تعمیر جن لوگوں کے سپرد کیا تھا ان کو بھی بکر کی کوئی ہدایت ایسی نہ تھی کہ ہر دوجائداد کی مرمت وکرایہ وغیرہ کا حساب علیحدہ رکھا جائےکچھ کرایہ دار ازنام نابالغان والی جائداد کے ایسے ہیں جن کا بکر سے تجارتی کاروبار تھاہمیشہ ان لوگوں نے کرایہ وآمد مال بکر کا ایك ہی ساتھ میں بکر کے نام سے جمع کیا یعنی اپنے بہی کھاتہ میں لکھا اور اس کا روپیہ بھی بکر ہی کو دیا اور بکر نے کبھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کیابکر نے ۱۹۰۹ء و ۱۹۱۰ء میں دو یادداشتیں بطور چٹھا کے بنائیں اور اس میں کل جائداد اپنی اور جو دولڑکوں کے نام ہے اس کی قیمت لکھیاور جو روپیہ نقد وازقسم نوٹ وغیرہ تھے وہ لکھے اور لینا دینا جو لوگوں کے ذمہ تھا وہ لکھابکر ۱۹۱۱ء میں بیمار ہوکرشروع ۱۹۱۲ء میں قضائے الہی سے فوت ہوگیا اور اپنے وارثان چند لڑکے اور لڑکیاں اور زوجہ کو چھوڑااب بحکم شرع شریف وہ جائداد جوان دوپسروں کے نام ہے وہ کل وارثان پر تقسیم ہوگی یا اس کے وہی دوپسران مالك رہے فقط
الجواب:
بکر نے اگرچہ جائداد خریدی مگر آپ خرید کر اپنے دو۲ بچوں کے نام بیعنامہ کرانا اس کی طرف سے ان کے لئے ہبہ ہےمنح الغفار و ردالمحتارمیں ہے:
اشتری لہا فی صغرھا اوبعد ماکبرت وسلم الیہا و ذلك فی صحتہ فلاسبیل للورثۃ علیہ ویکون للبنت خاصۃ ۔ بیٹی نابالغ یا بالغ کے لئے کوئی چیز والدنے خرید کر قبضہ دے دیا اور والد نے یہ عمل اپنی صحت و تندرستی میں کیا تو ورثاء کا اس چیز پر کوئی دخل نہ ہوگا وہ خالص بیٹی کی ہوگی۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتا ب العاریۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۰۶€
سائل نے زبانی اظہار کیا کہ وہ جائداد بچوں کے نام خریدی دو مکان ہیں ہر ایك بڑا اور قابل تقسیم ہے اور ہر ایك میں دونوں لڑکے بلاتقسیم شریك رکھے گئے ہیںایسا ہے تو یہ ہبہ مشاع ہوااور ہبہ مشاع باطل ہے۔جب بکر بلاتقسیم بے قبضہ تقسیم دینے کے مرگیا ہبہ معدوم محض ہوگیا۔اور ان مکانوں میں بچوں کا کوئی حق سوائے وراثت نہ رہاتنویرا لابصارمیں ہے:
وھب اثنان دارا لواحد صح وبعکسہ لا ۔ اگر دوافراد نے اپنا مکان ایك شخص کو ہبہ کیا تو یہ صحیح ہے اگر اس کا عکس ہو توصحیح نہیں۔(ت)
ردالمحتارمیں علامہ خیر رملی سے ہے:
لافرق بین ان یکون کبیرین اوصغیرین اواحد ھما کبیرا والاخر صغیرا ۔ دونوں بالغ ہوں یا نابالغ یا ایك بالغ دوسرا نابالغ ان سب صورتوں میں کوئی فرق نہیں۔(ت)
درمختار موانع رجوع میں ہے:
المیم موت احد العاقدین بعد التسلیم فلوقبلہ بطل۔ "م"سے مراد"فریقین میں سے ایك کی بعد از قبضہ موت ہے"اگر قبضہ سے قبل موت ہو تو ہبہ باطل ہوجائے گا۔(ت)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ زبانی خریداری میں بچوں کانام نہ لیا اپنے لئے یا مطلق خریدا اور بیعنامہ میں بچوں کا نام لکھا دیا کہ اس صورت میں ملك بکر کی ہوئی اور ان کے نام کرادینا بکر کی طرف سے ان کو ہبہ اور عام طور پر یہی طریقہ رائج ہےہاں اگر یہ صورت ہوئی ہو کہ نفس گفتگوئے خریداری میں بچوں کے نام خریدا مثلا بائع سے کہا کہ یہ مکان اتنی قیمت پرمیرے ان دو بچوں کے ہاتھ بیع کردےاس نے کہا میں نے ان کے ہاتھ بیع کئےاس نے کہا میں نے ان کی طر ف سے قبول کئےتو اس صورت میں اصل بیع ان دونوں کے نام ہوئی اور وہی اصالۃ ان مکانوں کے مالك ہوئےزرثمن کہ بکر نے اپنے پاس سے ادا کیا وہ تبرع و احسان ہوا جس کا معاوضہ نہیںاس تقدیر پر بیشك دونوں مکان ملك نابالغان ہیں اور تمام کاروبار و کاغذا ت حساب وکتاب میں بکر کا ان کو اپنی ملك سے جدا نہ شمار کرنا کچھ مضر نہیں کہ بحکم ولایت اسے اس کا
وھب اثنان دارا لواحد صح وبعکسہ لا ۔ اگر دوافراد نے اپنا مکان ایك شخص کو ہبہ کیا تو یہ صحیح ہے اگر اس کا عکس ہو توصحیح نہیں۔(ت)
ردالمحتارمیں علامہ خیر رملی سے ہے:
لافرق بین ان یکون کبیرین اوصغیرین اواحد ھما کبیرا والاخر صغیرا ۔ دونوں بالغ ہوں یا نابالغ یا ایك بالغ دوسرا نابالغ ان سب صورتوں میں کوئی فرق نہیں۔(ت)
درمختار موانع رجوع میں ہے:
المیم موت احد العاقدین بعد التسلیم فلوقبلہ بطل۔ "م"سے مراد"فریقین میں سے ایك کی بعد از قبضہ موت ہے"اگر قبضہ سے قبل موت ہو تو ہبہ باطل ہوجائے گا۔(ت)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ زبانی خریداری میں بچوں کانام نہ لیا اپنے لئے یا مطلق خریدا اور بیعنامہ میں بچوں کا نام لکھا دیا کہ اس صورت میں ملك بکر کی ہوئی اور ان کے نام کرادینا بکر کی طرف سے ان کو ہبہ اور عام طور پر یہی طریقہ رائج ہےہاں اگر یہ صورت ہوئی ہو کہ نفس گفتگوئے خریداری میں بچوں کے نام خریدا مثلا بائع سے کہا کہ یہ مکان اتنی قیمت پرمیرے ان دو بچوں کے ہاتھ بیع کردےاس نے کہا میں نے ان کے ہاتھ بیع کئےاس نے کہا میں نے ان کی طر ف سے قبول کئےتو اس صورت میں اصل بیع ان دونوں کے نام ہوئی اور وہی اصالۃ ان مکانوں کے مالك ہوئےزرثمن کہ بکر نے اپنے پاس سے ادا کیا وہ تبرع و احسان ہوا جس کا معاوضہ نہیںاس تقدیر پر بیشك دونوں مکان ملك نابالغان ہیں اور تمام کاروبار و کاغذا ت حساب وکتاب میں بکر کا ان کو اپنی ملك سے جدا نہ شمار کرنا کچھ مضر نہیں کہ بحکم ولایت اسے اس کا
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۱۴€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۱۴€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
اختیار تھا یہاں تك کہ متولی وقف کو بوجہ ولایت ہی اپنی ملك سے تعبیر کرتا ہے وکیل ملك موکل کو اپنی ملك کہتاہے۔ عالمگیریہ میں ہے:
لوادعی المحدود لنفسہ ثم ادعی انہ وقف الصحیح من الجواب ان کان دعوی الوقفیۃ بسبب التولیۃ یحتمل التوفیق لان فی العادۃ یضاف الیہ باعتبار ولایۃ التصرف والخصومۃ ۔ اگر محدود زمین پر اپنا دعوی کیا اور پھر بعد میں اس زمین کے وقف ہونے کا دعوی کیا تو اس صورت کا صحیح جواب یہ ہے کہ اگر اپنی تولیت میں وقف کا دعوی کیا تو دونوں دعووں میں موافقت ہوسکتی ہے کیونکہ عادتا وقف تصرف اور خصومت میں متولی کی طرف منسوب ہوتاہے۔(ت)
اور اگر فرض کیجئے کہ اس سے بکر کی مراد ان مکانوں کا خود مالك بننا ہی تھاجب اصل گفتگوئے بیع لڑکوں کے نام ہوئی ان کی ملك ثابت ہوگئیپھر بکر اسے اپنے نام کیونکر منتقل کرسکتا ہےاس صورت میں مکان وراثت سے بری ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۵: مستفسرہ عبداﷲ صاحب بہاری بروز چہارم شنبہ ۲ شعبان ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکے کی شادی ہوئیقریب عمر ۹۱۰ برس کے تھینکاح کی اجازت لڑکی کے والد نے دی اور اس برات میں آپس میں نزاع ہوگئینکاح دو دن نہیں ہواتیسرے دن وقت ۱۰ بجے دن کے نکاح ہوابعد مغرب ۸ بجے رات کو رخصت لڑکی کو کرکے ۹ بجے واپس چلی گئیبعد دو سال کے لڑکے کا انتقال ہوگیابروقت جنازہ تیار ہونے کے لڑکی کے باپ نے مہر معاف کیااب جو مال یعنی زیور جولڑکے کے والد نے شادی میں چڑھایا تھا وہ طلب کرتاہے تو لڑکی کا والد کہتا ہے کہ میرا مہر دو جب دوں گااب اس حالت میں جائز ہے یانہیں شرع سے جو حکم ہو وہ تحریر ہوجائے۔
الجواب:
اگرلڑکی نابالغہ تھی او رباپ نے مہر معاف کیا تویہ معافی محض باطل ہے اور مہر کا اپنی دختر کے لئے اسے مطالبہ پہنچتاہےیونہی اگر وقت معافی مہر دختر بالغہ تھی او رباپ نے اس کی اجازت کے بغیر معاف کیا بعد معافی عورت نے اسے جائز کہاجب بھی مہر معاف نہ ہوا اور مطالبہ صحیح ہے ہاں اگر وقت
لوادعی المحدود لنفسہ ثم ادعی انہ وقف الصحیح من الجواب ان کان دعوی الوقفیۃ بسبب التولیۃ یحتمل التوفیق لان فی العادۃ یضاف الیہ باعتبار ولایۃ التصرف والخصومۃ ۔ اگر محدود زمین پر اپنا دعوی کیا اور پھر بعد میں اس زمین کے وقف ہونے کا دعوی کیا تو اس صورت کا صحیح جواب یہ ہے کہ اگر اپنی تولیت میں وقف کا دعوی کیا تو دونوں دعووں میں موافقت ہوسکتی ہے کیونکہ عادتا وقف تصرف اور خصومت میں متولی کی طرف منسوب ہوتاہے۔(ت)
اور اگر فرض کیجئے کہ اس سے بکر کی مراد ان مکانوں کا خود مالك بننا ہی تھاجب اصل گفتگوئے بیع لڑکوں کے نام ہوئی ان کی ملك ثابت ہوگئیپھر بکر اسے اپنے نام کیونکر منتقل کرسکتا ہےاس صورت میں مکان وراثت سے بری ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۵: مستفسرہ عبداﷲ صاحب بہاری بروز چہارم شنبہ ۲ شعبان ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك لڑکے کی شادی ہوئیقریب عمر ۹۱۰ برس کے تھینکاح کی اجازت لڑکی کے والد نے دی اور اس برات میں آپس میں نزاع ہوگئینکاح دو دن نہیں ہواتیسرے دن وقت ۱۰ بجے دن کے نکاح ہوابعد مغرب ۸ بجے رات کو رخصت لڑکی کو کرکے ۹ بجے واپس چلی گئیبعد دو سال کے لڑکے کا انتقال ہوگیابروقت جنازہ تیار ہونے کے لڑکی کے باپ نے مہر معاف کیااب جو مال یعنی زیور جولڑکے کے والد نے شادی میں چڑھایا تھا وہ طلب کرتاہے تو لڑکی کا والد کہتا ہے کہ میرا مہر دو جب دوں گااب اس حالت میں جائز ہے یانہیں شرع سے جو حکم ہو وہ تحریر ہوجائے۔
الجواب:
اگرلڑکی نابالغہ تھی او رباپ نے مہر معاف کیا تویہ معافی محض باطل ہے اور مہر کا اپنی دختر کے لئے اسے مطالبہ پہنچتاہےیونہی اگر وقت معافی مہر دختر بالغہ تھی او رباپ نے اس کی اجازت کے بغیر معاف کیا بعد معافی عورت نے اسے جائز کہاجب بھی مہر معاف نہ ہوا اور مطالبہ صحیح ہے ہاں اگر وقت
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۴۳۱€
معافی دختر بالغہ تھی اور اس کی اجازت سے باپ نے معاف کیا یابعد کو اس نے یہ معافی منظور کرلی تو مہر معاف ہوگیا اب اس کا مطالبہ نہیں ہوسکتانہ اب اس کے لئے چڑھاوا روك سکتاہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۶: ا زشاہجہان پور محلہ باڑوزنی مرسلہ جناب عبدالغنی صاحب ۱۷ شعبان ۱۳۳۳ھ
زید نے اپنے حین حیات وصحت ذات وثبات عقل میں چند ظروف مسی وغیرہ پر اپنے بیٹے عمرو کا نام کندہ کرادیئے اور ظاہر کیا کہ یہ عمرو کے واسطے ہیںچند مدت کے بعد زید مرگیااب وہ ظروف وغیرہ جن پر نام کندہ کئے ہوئے ہیں آیا مال متروکہ مشترکہ میں شامل ہوکر سب وارثوں میں تقسیم ہونگے یا وہ ظروف مستثنی کرکے تقسیم ہوگی
الجواب:
اگر عمرو وقت ہبہ نابالغ تھا ہبہ تمام ہوگیا اور وہ ظروف ملك عمرو ہونگےترکہ میں شامل نہ ہوں گےیونہی اگر عمرو بالغ تھا اور زید نے وہ برتن خالی کرکے اس کے قبضہ میں دے دئے جب بھی وہ متروکہ نہیںملك عمرو ہیںہاں اگر اس وقت عمرو بالغ تھا اور زید نے ان ظروف کو عمرو کے قبضہ تامہ میں نہ دیا یہاں تك کہ زید کا انتقال ہوگیا تو وہ ہبہ باطل ہوگیا۔ظروف مثل باقی متروکات ورثہ پر تقسیم ہوں گےوالمسائل مشہورۃ وفی عامۃ الکتب مسطورۃ(اوریہ مسائل مشہور ہیں اور عام کتب میں موجودہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۷: از چند وسی ضلع مرادآبادسرتاج علی خاں طالب علم درجہ نہم(ایس۔ایس۔ایم)ہائی اسکول چندوسی ۴ ذوالقعدہ ۱۳۲۳ھ
ایك مسماۃ نے اپنا چھٹا حصہ جو کہ شرعا اسکے بیٹے کے ترکہ میں سے اس کی موجودگی میں مرجانے کی وجہ سے نکلتاتھا یہ صحت نفس وثبات عقل اپنے یتیم پوتوں اور بیوہ بہو پر از راہ شفقت بخشش کیا اور قبضہ مالکانہ بھی دلادیااب اس کا بیٹا یعنی اس کے پوتوں کا چچا اس چھٹا حصہ کو مانگتاہے اور مسماۃ کے انتقال کو عرصہ ۴ برس کا ہوادریافت طلب یہ امر ہے کہ شرع نے اس حق درحق کی میعاد کتنی مقرر کی ہے یعنی کتنے دنوں تك یہ حق لیا جاسکتاہے
الجواب:
سائل نے کچھ بیان نہ کیا کہ اس کا چھٹا حصہ کیا ۱ہے اور ۲اس کا چھٹاحصہ کہ عورت کو پہنچا تھا پوتوں اور بہو پر تقسیم کرنے سے ہر ایك حصہ میں جتنا ٹکڑا پڑے قابل انتفاع رہے گا یا نہیںاور
مسئلہ ۱۱۶: ا زشاہجہان پور محلہ باڑوزنی مرسلہ جناب عبدالغنی صاحب ۱۷ شعبان ۱۳۳۳ھ
زید نے اپنے حین حیات وصحت ذات وثبات عقل میں چند ظروف مسی وغیرہ پر اپنے بیٹے عمرو کا نام کندہ کرادیئے اور ظاہر کیا کہ یہ عمرو کے واسطے ہیںچند مدت کے بعد زید مرگیااب وہ ظروف وغیرہ جن پر نام کندہ کئے ہوئے ہیں آیا مال متروکہ مشترکہ میں شامل ہوکر سب وارثوں میں تقسیم ہونگے یا وہ ظروف مستثنی کرکے تقسیم ہوگی
الجواب:
اگر عمرو وقت ہبہ نابالغ تھا ہبہ تمام ہوگیا اور وہ ظروف ملك عمرو ہونگےترکہ میں شامل نہ ہوں گےیونہی اگر عمرو بالغ تھا اور زید نے وہ برتن خالی کرکے اس کے قبضہ میں دے دئے جب بھی وہ متروکہ نہیںملك عمرو ہیںہاں اگر اس وقت عمرو بالغ تھا اور زید نے ان ظروف کو عمرو کے قبضہ تامہ میں نہ دیا یہاں تك کہ زید کا انتقال ہوگیا تو وہ ہبہ باطل ہوگیا۔ظروف مثل باقی متروکات ورثہ پر تقسیم ہوں گےوالمسائل مشہورۃ وفی عامۃ الکتب مسطورۃ(اوریہ مسائل مشہور ہیں اور عام کتب میں موجودہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۷: از چند وسی ضلع مرادآبادسرتاج علی خاں طالب علم درجہ نہم(ایس۔ایس۔ایم)ہائی اسکول چندوسی ۴ ذوالقعدہ ۱۳۲۳ھ
ایك مسماۃ نے اپنا چھٹا حصہ جو کہ شرعا اسکے بیٹے کے ترکہ میں سے اس کی موجودگی میں مرجانے کی وجہ سے نکلتاتھا یہ صحت نفس وثبات عقل اپنے یتیم پوتوں اور بیوہ بہو پر از راہ شفقت بخشش کیا اور قبضہ مالکانہ بھی دلادیااب اس کا بیٹا یعنی اس کے پوتوں کا چچا اس چھٹا حصہ کو مانگتاہے اور مسماۃ کے انتقال کو عرصہ ۴ برس کا ہوادریافت طلب یہ امر ہے کہ شرع نے اس حق درحق کی میعاد کتنی مقرر کی ہے یعنی کتنے دنوں تك یہ حق لیا جاسکتاہے
الجواب:
سائل نے کچھ بیان نہ کیا کہ اس کا چھٹا حصہ کیا ۱ہے اور ۲اس کا چھٹاحصہ کہ عورت کو پہنچا تھا پوتوں اور بہو پر تقسیم کرنے سے ہر ایك حصہ میں جتنا ٹکڑا پڑے قابل انتفاع رہے گا یا نہیںاور
۳عورت نے اس کے جد اجدا ٹکڑے کرکے ہر موہوب لہ کو الگ الگ قابض کرایا یامجموعی حالت میں ان سب کو ہبہ کیااور ۴وہ پوتے بالغ ہیں یا بعض یا سب نابالغاور ۵جو نابالغ ہیں کسی کی پرورش میں ہیں۔اور ۶ان کی طرف سے کس نے قبضہ کیااور ۷وہ بہو اور پوتے سب صاحب نصاب ہیں یعنی ان میں ہر ایك چھپن روپے یا زیادہ کے مال کا مالك ہےیا بعض صاحب نصاب ہیں بعض فقیر یا سب فقرااور یہ چھٹا حصہ کہ ا س نے ہبہ کیا باقی جائداد میں ملا ہوا تھا یا الگ الگ کرلیا تھاان تمام باتوں پر جدا احکام ہوں جن کی تفصیل میں طول ہے اور سائل کی غرض صرف ایك صورت سے متعلق ہوگیلہذا ان آٹھوں باتوں کا جواب مفصل بیان لکھنے پر اس خاص صورت کا جو حکم ہو بتایا جائے گا ان شاء اﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۸: از شہر کہنہ مسئولہ سید نور اﷲ محرر دارالافتاء بروز دوشنبہ ۹ ذی الحجہ ۱۳۲۳ھ
(زید نے اپنے بیٹے بکر کے نام ایك مکان لکھا)بکر سے بحالت مرض الموت بکرکے اس کو رنج دے کر طوعا وکرہابکر کے نام کا مکان زید نے اپنی دوسری زوجہ غیر کفو کے نام لکھا دیاکیا یہ ہبہ جائز ہے یافاسد
الجواب:
اگر بکر کے نام کاہبہ صحیح اور قبضہ خالصہ سے تام ہوگیا تھا تو یہ ہبہ بے رضائے مالك ہوا باطل ہے اگر مالك بے اجازت مرگیا واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۹: ا ز بجنور مرسلہ مولوی محسن علی خاں صاحب منصف ۱۰ محرم الحرام ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے زیور نقرئی و طلائی اور ظروف دیگر وسامان اس نیت وارادہ سے تیار کرایا کہ وہ اپنی دختر ناکتخدا کے عقدنکاح کے بعد رخصت کے وقت جہیز میں دے گاچنانچہ بعض لوگوں کویہ سامان دکھلا کر یہی بیان بھی کیا مگر قبل اس کے کہ نوبت عقد ورخصت دختر مذکور کی پہنچے اس نے قضا کی ایسی حالت میں وہ زیور ظروف وسامان ترکہ متوفی قرار پائے یادختر مذکور تنہا اس کی مالك ومستحق سمجھی جائے۔
الجواب:
کوئی تملیك محض نیت وارادہ سے نہیں ہوسکتی نہ مجرد اظہار ارادہ کہ میں نے ا س لئے بنوائے یا یہ مال فلاں کو دوں گا کوئی اثر ملك پیدا کرسکے۔اصلاح وایضاح میں ہے:
الھبۃ ھی فی الشرع تملیك مال للحال بلاعوض ۔ شرع میں فی الحال مال کا بغیر عوض کے لئے مالك بنانا ہبہ کہلاتاہے۔(ت)
مسئلہ ۱۱۸: از شہر کہنہ مسئولہ سید نور اﷲ محرر دارالافتاء بروز دوشنبہ ۹ ذی الحجہ ۱۳۲۳ھ
(زید نے اپنے بیٹے بکر کے نام ایك مکان لکھا)بکر سے بحالت مرض الموت بکرکے اس کو رنج دے کر طوعا وکرہابکر کے نام کا مکان زید نے اپنی دوسری زوجہ غیر کفو کے نام لکھا دیاکیا یہ ہبہ جائز ہے یافاسد
الجواب:
اگر بکر کے نام کاہبہ صحیح اور قبضہ خالصہ سے تام ہوگیا تھا تو یہ ہبہ بے رضائے مالك ہوا باطل ہے اگر مالك بے اجازت مرگیا واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۱۹: ا ز بجنور مرسلہ مولوی محسن علی خاں صاحب منصف ۱۰ محرم الحرام ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے زیور نقرئی و طلائی اور ظروف دیگر وسامان اس نیت وارادہ سے تیار کرایا کہ وہ اپنی دختر ناکتخدا کے عقدنکاح کے بعد رخصت کے وقت جہیز میں دے گاچنانچہ بعض لوگوں کویہ سامان دکھلا کر یہی بیان بھی کیا مگر قبل اس کے کہ نوبت عقد ورخصت دختر مذکور کی پہنچے اس نے قضا کی ایسی حالت میں وہ زیور ظروف وسامان ترکہ متوفی قرار پائے یادختر مذکور تنہا اس کی مالك ومستحق سمجھی جائے۔
الجواب:
کوئی تملیك محض نیت وارادہ سے نہیں ہوسکتی نہ مجرد اظہار ارادہ کہ میں نے ا س لئے بنوائے یا یہ مال فلاں کو دوں گا کوئی اثر ملك پیدا کرسکے۔اصلاح وایضاح میں ہے:
الھبۃ ھی فی الشرع تملیك مال للحال بلاعوض ۔ شرع میں فی الحال مال کا بغیر عوض کے لئے مالك بنانا ہبہ کہلاتاہے۔(ت)
حوالہ / References
اصلاح وایضاح
بلکہ اگر دختر اس جہیز کے تیار کراتے وقت بالغہ تھی یعنی اسے حیض آلیا تھا یاپندرہ سال کامل کی عمر ہوچکی تھی او رجہیز بنواکر اس کے باپ نے صریح الفاظ تملیك بھی کہہ دئے ہوںمثلا میں نے اپنی دختر فلانہ کو اس مال کا مالك کیاجب بھی ازانجا کہ قبضہ دینے سے پہلے اس شخص کا انتقال ہوگیا کہ جہیز پر قبضہ وقت رخصت دیاجاتاہے۔یہاں ابھی عقد بھی نہ ہوا تھا وہ ہبہ باطل محض ہوگیابہرحال وہ مال تمام وکمال متروکہ متوفی ہےہاں اگر لڑکی اس وقت نابالغہ تھی یعنی نہ اسے آثار بلوغ پیدا ہوئے تھے نہ پورے پندرہ برس کی عمر ہوئی تھی اور اس نے اس کے واسطے جہیز بنوایا یاکہا میں نے اسے اس کامالك کیایا یہ اس کا ہے۔یا اتنا ہی کہا کہ یہ میں نے اس کے لئے بنوایا ہے۔تو ضرور کل مال یا ا س میں سے جس خاص شیئ کی نسبت یہ لفظ صادر ہوئے تھے ملك دختر ہے اگرچہ قبضہ دختر نہ ہوا کہ نابالغ کے لئے باپ کا قبضہ کافی ہے۔فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
اشتری ثوبا فقطعہ لولدہ الصغیر صار واھبا بالقطع مسلما الیہ قبل الخیاطۃ ولو کان کبیر ا لم یصر مسلما الیہ الابعد الخیاطۃ والتسلیم ولو قال اشتریت ھذا لہ صارملکا لہ کذا فی القنیۃ ۔ کپڑا خریدکر کاٹا اور نابالغ بیٹے کو سلے بغیر دے دیا تو ہبہ ہوگیا اور اگر بالغ بیٹے کے لئے ایسا کیا تو سلائی اور قبضہ دئے بغیر ہبہ نہ ہوگا اور اگر کہا میں نے بیٹے کے لئے خریدا ہے تو بیٹے کی ملك ہوجائے گا قنیہ میں یوں ہے۔(ت)
فتاوی ولوالجیہ پھر منح الغفار پھر ردالمحتار اورینابیع پھر ہندیہ میں ہے:
واللفظ للشامی جہز الاب ابنتہ ثم بقیۃ الورثۃ یطلبون القسمۃ منہا فان کان الاب اشتری لہا فی صغرہا اوبعد ماکبرت وسلم الیہا وذلك فی صحتہ فلا سبیل للورثۃ علیہ ویکون للبنت خاصۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ الفاظ شامی کے ہیںـ:والد نے بیٹی کو جہیزدیا اور والد کی وفات کے بعد باقی ورثاء اس جہیز میں حصہ کے طالب ہوئے تو اگر والد نے اپنی صحت میں بیٹی نابالغ یا بالغ کے لئے خرید کر قبضہ دے دیا تھا تو ورثاء کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور وہ بیٹی کے لئے خاص ہوگاواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
اشتری ثوبا فقطعہ لولدہ الصغیر صار واھبا بالقطع مسلما الیہ قبل الخیاطۃ ولو کان کبیر ا لم یصر مسلما الیہ الابعد الخیاطۃ والتسلیم ولو قال اشتریت ھذا لہ صارملکا لہ کذا فی القنیۃ ۔ کپڑا خریدکر کاٹا اور نابالغ بیٹے کو سلے بغیر دے دیا تو ہبہ ہوگیا اور اگر بالغ بیٹے کے لئے ایسا کیا تو سلائی اور قبضہ دئے بغیر ہبہ نہ ہوگا اور اگر کہا میں نے بیٹے کے لئے خریدا ہے تو بیٹے کی ملك ہوجائے گا قنیہ میں یوں ہے۔(ت)
فتاوی ولوالجیہ پھر منح الغفار پھر ردالمحتار اورینابیع پھر ہندیہ میں ہے:
واللفظ للشامی جہز الاب ابنتہ ثم بقیۃ الورثۃ یطلبون القسمۃ منہا فان کان الاب اشتری لہا فی صغرہا اوبعد ماکبرت وسلم الیہا وذلك فی صحتہ فلا سبیل للورثۃ علیہ ویکون للبنت خاصۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ الفاظ شامی کے ہیںـ:والد نے بیٹی کو جہیزدیا اور والد کی وفات کے بعد باقی ورثاء اس جہیز میں حصہ کے طالب ہوئے تو اگر والد نے اپنی صحت میں بیٹی نابالغ یا بالغ کے لئے خرید کر قبضہ دے دیا تھا تو ورثاء کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور وہ بیٹی کے لئے خاص ہوگاواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۹۲€
ردالمحتار کتاب العاریۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۰۶€
ردالمحتار کتاب العاریۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۵۰۶€
مسئلہ ۱۲۰:مسئولہ حاجی لعل خان صاحبتنقیح سوالات حسب بیان مسماۃ حبیبن بی بی و صحیبن بی بی دختران شیخ امیر بخش مرحوم بروز پنجشنبہ ۲ صفر ۱۳۳۴ھ
سوال اول:امیر بخش مرحوم نے بحالت حیات کسی مصلحت سے ایك لڑکے مسمی اصغر حسین کو جدا کردیا اور تجارتی مال کا پانچواں حصہ ان کو دے دیا اور چار حصہ یعنی بقیہ کل مال بلاتقسیم اپنے قبضہ میں رکھا اور چار لڑکیاں جو دو محل سے موجود تھیں ان کو کچھ نہیں دیاآیا ایسی تقسیم شرعا درست ہے اورباپ کے مال میں کیا لڑکیاں شرعا حقدرانہیں ہیں
الجواب:
ایك لڑکے کو پانچواں حصہ دینا باقی بیٹیوں کو نہ دینا اگر اس وجہ سے ہو کہ وہ لڑکا اوروں پر فضل دینی رکھتاہے تو حرج نہیں کما فی الدرالمختار والعالمگیریۃ(جیسا کہ درمختار اور عالمگیریہ میں ہے۔ت)ورنہ حدیث میں اسے ظلم فرمایا:
اکل بنیك نحلت مثل ھذا قال لاقال لاتشہد نی علی جور ۔ کیا تونے تمام بیٹوں کو اس کی مثل عطیہ دیا ہے عرض کی نہیں یا رسول اﷲ تو آپ نے فرمایا:مجھے ظلم پر گواہ نہ بنا۔(ت)
مگریہ امر دیانۃ ہےقضاء باقی اولاد اس پر دعوی نہیں کرسکتی لان الملك مطلق للتصرف(کیونکہ ملکیت تصرف کی آزادی دیتی ہے۔ت)نہ اس سے یہی سمجھ میں آ تا ہے کہ امیر بخش نے بیٹیوں کو محروم کرنا چاہا ہے کہ اس نے اور بیٹوں کو بھی نہ دیا نہ کل مال اصغر حسین کو دے دیا کہ اوروں کا حرمان مفہوم ہو واﷲ تعالی اعلم۔
ایضا سوال چہارم
مورث کے مشترکہ ترکہ کو اگر قبل تقسیم کے بعض وارث بلااسترضائے دیگر ورثہ کے کلا یا جزء کسی غیر کو ہبہ کردیں تو یہ ہبہ شرعا درست ہوگا یانہیں اگر درست نہیں ہے تو کیا ہمارے بھائیوں پر واجب نہیں ہے کہ اس غلط تقسیم کو مستردکرکے دوبارہ فرائض کے مطابق ترکہ تقسیم کردیں اور جس کا جس قدر حصہ رسدی ہواس کو پہنچادیں۔
سوال اول:امیر بخش مرحوم نے بحالت حیات کسی مصلحت سے ایك لڑکے مسمی اصغر حسین کو جدا کردیا اور تجارتی مال کا پانچواں حصہ ان کو دے دیا اور چار حصہ یعنی بقیہ کل مال بلاتقسیم اپنے قبضہ میں رکھا اور چار لڑکیاں جو دو محل سے موجود تھیں ان کو کچھ نہیں دیاآیا ایسی تقسیم شرعا درست ہے اورباپ کے مال میں کیا لڑکیاں شرعا حقدرانہیں ہیں
الجواب:
ایك لڑکے کو پانچواں حصہ دینا باقی بیٹیوں کو نہ دینا اگر اس وجہ سے ہو کہ وہ لڑکا اوروں پر فضل دینی رکھتاہے تو حرج نہیں کما فی الدرالمختار والعالمگیریۃ(جیسا کہ درمختار اور عالمگیریہ میں ہے۔ت)ورنہ حدیث میں اسے ظلم فرمایا:
اکل بنیك نحلت مثل ھذا قال لاقال لاتشہد نی علی جور ۔ کیا تونے تمام بیٹوں کو اس کی مثل عطیہ دیا ہے عرض کی نہیں یا رسول اﷲ تو آپ نے فرمایا:مجھے ظلم پر گواہ نہ بنا۔(ت)
مگریہ امر دیانۃ ہےقضاء باقی اولاد اس پر دعوی نہیں کرسکتی لان الملك مطلق للتصرف(کیونکہ ملکیت تصرف کی آزادی دیتی ہے۔ت)نہ اس سے یہی سمجھ میں آ تا ہے کہ امیر بخش نے بیٹیوں کو محروم کرنا چاہا ہے کہ اس نے اور بیٹوں کو بھی نہ دیا نہ کل مال اصغر حسین کو دے دیا کہ اوروں کا حرمان مفہوم ہو واﷲ تعالی اعلم۔
ایضا سوال چہارم
مورث کے مشترکہ ترکہ کو اگر قبل تقسیم کے بعض وارث بلااسترضائے دیگر ورثہ کے کلا یا جزء کسی غیر کو ہبہ کردیں تو یہ ہبہ شرعا درست ہوگا یانہیں اگر درست نہیں ہے تو کیا ہمارے بھائیوں پر واجب نہیں ہے کہ اس غلط تقسیم کو مستردکرکے دوبارہ فرائض کے مطابق ترکہ تقسیم کردیں اور جس کا جس قدر حصہ رسدی ہواس کو پہنچادیں۔
حوالہ / References
سنن النسائی کتا ب النحل ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲/ ۱۳۵،€مسند احمد بن حنبل حدیث نعمان بن بشیر دارالفکر بیروت ∞۴/ ۲۶۸€
الجواب:
مال مشترك اگر غیر قابل قسمت ہے اور اس نے صرف اپنا حصہ ہبہ کیا تو صحیح ونافذ ہوگیاباقی ورثاء اپنا حصہ اس میں سے لے سکتے ہیں اور اگر وہ کل شیئ مشترك ہے اور ایك شریك نے کسی کو ہبہ کردی تو اس کے اپنے حصہ میں ہبہ نافذ ہوگیا اور دوسرے شرکاء کے حصوں کا ہبہ ان کی اجازت پرموقوف رہااگر وہ عاقل بالغ ہوں ورنہ باطل
لانہ عقد صدر من فضولی ولامجیز لہ وقت العقد۔ کیونکہ یہ عقد فضولی سے صادر ہواجبکہ عقد کے وقت اس کو جائز قرار دینے والا کوئی نہ تھا۔(ت)
اوراگر وہ شے قابل قسمت ہے اور اس نے اپنا حصہ قبل تقسیم ہبہ کیا تو وہ ہبہ محض بے اثر ہے کہ قبضہ سے بھی مفید نہ ہوگا مگر اس کا فسخ اس پر لازم نہیںاسے جائز ہے کہ بعد تقسیم اپنے حصہ پر موہوب لہ کو قبضہ دے دے اور تکمیل ہبہ کردےا س کا استرداد واہب کا حق ہے نہ کہ واہب پر حقہاں دوسروں کے حصوں میں مزاحمت نہ کرنا اس پر واجب اور اگر شے قابل قسمت ہے اور اس نے کل ہبہ کردی تو یہ وہی ہبہ فضولی کی صورت ہےاوراگر بقیہ شرکاء سب عاقل بالغ ہوں اورجائز کردیں تو جائز ہوجائے گا۔
کما لو وھب اثنان دارا من واحد جاز کما فی الدروغیرہ جیسے دو افراد ایك شخص کو اپنا مکان ہبہ کریں تو جائز ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔(ت)
اور اگر اس میں ایك شخص بھی اجازت سے دست کش یا غیر مکلف ہوگا تو اس کل میں ہبہ باطل ہے یعنی بے اثر ونامفید ملکبہرحال کسی صورت میں بھائی یہ اختیار نہیں رکھتے کہ بہنوں کو محروم کردیںان کا مال بے اجازت کے کسی کو دے دیں
قال تعالی " لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل " ۔واﷲ تعالی اعلم اﷲ تعالی نے فرمایا:آپس کا مال باطل طریقے سے مت کھاؤ۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۲۲: از سنھبل محلہ کوٹ شرقی ضلع مرادآباد مسئولہ محمد جمیل صاحب ۱۱ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ روز دوشنبہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو زیور یالباس وقت عقد یا بعد عقد زوج اپنی زوجہ کو استعمال کے واسطے دے وہ امانت شمار ہوگا یا ہبہ او ران دونوں صورتوں
مال مشترك اگر غیر قابل قسمت ہے اور اس نے صرف اپنا حصہ ہبہ کیا تو صحیح ونافذ ہوگیاباقی ورثاء اپنا حصہ اس میں سے لے سکتے ہیں اور اگر وہ کل شیئ مشترك ہے اور ایك شریك نے کسی کو ہبہ کردی تو اس کے اپنے حصہ میں ہبہ نافذ ہوگیا اور دوسرے شرکاء کے حصوں کا ہبہ ان کی اجازت پرموقوف رہااگر وہ عاقل بالغ ہوں ورنہ باطل
لانہ عقد صدر من فضولی ولامجیز لہ وقت العقد۔ کیونکہ یہ عقد فضولی سے صادر ہواجبکہ عقد کے وقت اس کو جائز قرار دینے والا کوئی نہ تھا۔(ت)
اوراگر وہ شے قابل قسمت ہے اور اس نے اپنا حصہ قبل تقسیم ہبہ کیا تو وہ ہبہ محض بے اثر ہے کہ قبضہ سے بھی مفید نہ ہوگا مگر اس کا فسخ اس پر لازم نہیںاسے جائز ہے کہ بعد تقسیم اپنے حصہ پر موہوب لہ کو قبضہ دے دے اور تکمیل ہبہ کردےا س کا استرداد واہب کا حق ہے نہ کہ واہب پر حقہاں دوسروں کے حصوں میں مزاحمت نہ کرنا اس پر واجب اور اگر شے قابل قسمت ہے اور اس نے کل ہبہ کردی تو یہ وہی ہبہ فضولی کی صورت ہےاوراگر بقیہ شرکاء سب عاقل بالغ ہوں اورجائز کردیں تو جائز ہوجائے گا۔
کما لو وھب اثنان دارا من واحد جاز کما فی الدروغیرہ جیسے دو افراد ایك شخص کو اپنا مکان ہبہ کریں تو جائز ہے جیسا کہ درمختار وغیرہ میں ہے۔(ت)
اور اگر اس میں ایك شخص بھی اجازت سے دست کش یا غیر مکلف ہوگا تو اس کل میں ہبہ باطل ہے یعنی بے اثر ونامفید ملکبہرحال کسی صورت میں بھائی یہ اختیار نہیں رکھتے کہ بہنوں کو محروم کردیںان کا مال بے اجازت کے کسی کو دے دیں
قال تعالی " لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل " ۔واﷲ تعالی اعلم اﷲ تعالی نے فرمایا:آپس کا مال باطل طریقے سے مت کھاؤ۔ واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۲۲: از سنھبل محلہ کوٹ شرقی ضلع مرادآباد مسئولہ محمد جمیل صاحب ۱۱ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ روز دوشنبہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو زیور یالباس وقت عقد یا بعد عقد زوج اپنی زوجہ کو استعمال کے واسطے دے وہ امانت شمار ہوگا یا ہبہ او ران دونوں صورتوں
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۸۸€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۸۸€
میں واپس لے سکتا ہے یانہیں اور نیز وہ زیور کہ جو زوجہ کے باپ کے یہاں کا تھا او رشوہر نے اپنے پاس سے کچھ اور چاندی یا سونا ڈال کر بڑھادیا ہو اس کا کیاحکم ہے آیا ہبہ ہے یا امانت بینوا توجروا
الجواب:
جو کچھ شوہر نے استعمال کے لئے دیا وہ ملك شوہر ہے مگریہ کہ دلالت تملیك پائی جائے خواہ لفظا یا عرفااور عورت کا قبضہ ہوجائے تو اب وہ ملك زوجہ ہوجائے گا اور اب اسے کبھی واپس نہیں لے سکتا لان الزوجیۃ من موانع الرجوع(کیونکہ زوجیت موانع رجوع میں سے ہے۔ت)جہیز میں جو زیور وغیرہ عورت کو ملتاہے وہ یقینا ملك زن ہے۔ردالمحتارمیں ہے:
کل احد یعلم ان الجہاز ملك المرأ ۃ لاحق لاحد فیہ ۔ ہر ایك کو معلوم ہے کہ جہیز عورت کی ملك ہوتاہے اس میں کسی کاحق نہیں ہے۔(ت)
اس نے جو کچھ اور اس میں ڈلواکر بڑھوادیا ظاہرااس سے مقصود مالك کردینا ہی ہوتاہے اگر یوں ہو اور قبضہ تامہ پایا جائے تو ملك زوجہ ہوجائے گا ورنہ نہیں فان الظاھر حجۃ للدفع لا للاستحقاق (ظاہر دفاع کے لئے حجت ہوتاہے استحقاق کےلئے نہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۳:مشاع کی تعریف کیا ہے فقط
الجواب:
ایك شیئ دو یاچند اشخاص کو بلاتقسیم ہبہ کی جائے اگرچہ حصے نامزد کردے جائیں کہ نصف نصف یا ایك کو ثلث اور دوسرے کو دو ثلث یا اپنی ملك کا کوئی حصہ غیر معینہ غیر ممتازہ مثلانصفثلثربعوغیرہ کسی شخص کو ہبہ کرے یا اپنی پوری ملك ہبہ کرے مگریہ خود کسی شے کے ویسے ہی غیر معین حصے نصف وغیرہ کا مالك ہویہ سب ہبہ مشاع ہیں پھر اگر وہ چیز ناقابل تقسیم ہے تو جائز۔ورنہ نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۴: مرسلہ محمد نجم الدین صاحب محلہ رفعت پورہ مراد آباد ۱۶ صفر ۱۳۳۵ھ
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریمکیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدبقضائے الہی اچانك فوت ہوگیا او وہ ایك دولتمند شخص تھا اور اس نے جائداد
الجواب:
جو کچھ شوہر نے استعمال کے لئے دیا وہ ملك شوہر ہے مگریہ کہ دلالت تملیك پائی جائے خواہ لفظا یا عرفااور عورت کا قبضہ ہوجائے تو اب وہ ملك زوجہ ہوجائے گا اور اب اسے کبھی واپس نہیں لے سکتا لان الزوجیۃ من موانع الرجوع(کیونکہ زوجیت موانع رجوع میں سے ہے۔ت)جہیز میں جو زیور وغیرہ عورت کو ملتاہے وہ یقینا ملك زن ہے۔ردالمحتارمیں ہے:
کل احد یعلم ان الجہاز ملك المرأ ۃ لاحق لاحد فیہ ۔ ہر ایك کو معلوم ہے کہ جہیز عورت کی ملك ہوتاہے اس میں کسی کاحق نہیں ہے۔(ت)
اس نے جو کچھ اور اس میں ڈلواکر بڑھوادیا ظاہرااس سے مقصود مالك کردینا ہی ہوتاہے اگر یوں ہو اور قبضہ تامہ پایا جائے تو ملك زوجہ ہوجائے گا ورنہ نہیں فان الظاھر حجۃ للدفع لا للاستحقاق (ظاہر دفاع کے لئے حجت ہوتاہے استحقاق کےلئے نہیں۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۳:مشاع کی تعریف کیا ہے فقط
الجواب:
ایك شیئ دو یاچند اشخاص کو بلاتقسیم ہبہ کی جائے اگرچہ حصے نامزد کردے جائیں کہ نصف نصف یا ایك کو ثلث اور دوسرے کو دو ثلث یا اپنی ملك کا کوئی حصہ غیر معینہ غیر ممتازہ مثلانصفثلثربعوغیرہ کسی شخص کو ہبہ کرے یا اپنی پوری ملك ہبہ کرے مگریہ خود کسی شے کے ویسے ہی غیر معین حصے نصف وغیرہ کا مالك ہویہ سب ہبہ مشاع ہیں پھر اگر وہ چیز ناقابل تقسیم ہے تو جائز۔ورنہ نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۴: مرسلہ محمد نجم الدین صاحب محلہ رفعت پورہ مراد آباد ۱۶ صفر ۱۳۳۵ھ
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریمکیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زیدبقضائے الہی اچانك فوت ہوگیا او وہ ایك دولتمند شخص تھا اور اس نے جائداد
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب النکاح باب المہر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۳۶۸€
ردالمحتار کتاب النکاح باب النفقہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۶۵۳€
ردالمحتار کتاب النکاح باب النفقہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۶۵۳€
منقولہ وغیر منقولہ چھوڑی اور کل پانچ وارث چھوڑے دو دختران اور ایك پسراور ایك والدہ اور ایك زوجہ ثانی لاولد جو اس کے عقد میں قریب آٹھ برس کے تھیمتوفی مذکور نے نکاح کے وقت کچھ زیور تیار کراکر زوجہ مذکور کو دیا تھا وہ اس کے قبضہ میں ہےاس کے علاوہ اور زیور بھی تیار کراکر وقتافوقتا زوجہ مذکورہ کو دیتا رہا جو زوجہ مذکورہ کے قبضہ وتصرف میں ہے اور وہ اس کی زکوۃ بھی ادا کرتی ہے پھر پندرہ سو روپے نقد واسطے زیور تیار کرانے کے زوجہ مذکورہ کو دئے تھے جواس کے قبضہ میں ہےلیکن تعمیر مکان کی ضرورت سے بطور قرض کے متوفی مذکور نے زوجہ مذکور ہ سے لئے تھےاور کلکتہ جاکر ایك ہزاروپے کا نوٹ معرفت حاجی محمد خلیل کے زوجہ مذکورہ کے پاس بھیج دیاپانسو روپے منجملہ اس کے باقی رہ گئےنیز زوجہ مذکورہ اپنے والدین کے یہاں جب مراد آباد آتی تھی او را س کے عزیز واقارب سے اس کو نقد ملتا تھا اس کا پارچہ وبرتن وغیرہ خرید کر لے جاتی تھی جو اس کے تصرف میں ہےنیز نقد و زیور کے علاوہ متوفی مذکور زوجہ مذکورہ کو اکثر اشیاء لاکر دیتا رہتا تھا اور اپنی دختران وپسر کو اس کے علاوہ دیتا رہتا تھا۔
پس صورت مذکورہ میں جو اسباب ونقد زیور وغیرہ متوفی مذکور نے اپنی حیات میں زوجہ مذکورہ کو دیا ہے اور اب تك اس کے قبضہ وتصرف میں ہے وہ ترکہ متوفی سے علیحدہ ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
زیور خواہ نقد خواہ کسی قسم کا مال جو زید اپنی زوجہ کو بطور تملیك دیتا تھا اس کی مالك زوجہ ہےوہ ترکہ نہیں ہوسکتا۔تملیك ثابت ہونا درکار ہے خواہ صراحۃ یا دلالۃ بغیر اس کے دعوی ملك مسموع نہیںمثلا اگر وہ پندرہ سو روپے قرض کہہ کر مانگے تو ضرور ثابت ہوا کہ ملك کردئے تھےیوہیں اگر اس کی عادت سے ثابت ہو کہ ان لوگوں کو ایسا دینا بطور تملیك ہی کرتا تھا یہی لوگ اس کے مالك سمجھے جاتے تھے تو بیٹی بیٹے زوجہ جس کو جو دیا وہ اس کا مالك ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۵: ازسہارنپور محلہ قاضی مرسلہ ریاضت احمد صدیقی ۱۵ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت مرگئی اور اس نے ایك دختر ا ور ایك برادر حقیقی دو۲ وارث چھوڑےمتوفیہ کے بھائی نے اپنا شرعی حصہ جو اس کو بہن سے پہنچا تھا اپنی بھانجی کو دے دیا اور اس کے نام پر داخل خارج بھی کاغذات سرکاری میں کرایا اب چند سال کے بعدناراض ہوکر اس دی ہوئی جائداد واسباب کو واپس لینا چاہتاہے۔کیا شرعا اس اسباب وجائداد کو واپس لینے کا بھانجی سے حق حاصل ہے کہ جس کا اپنی خوشی ورضا مندی سے
پس صورت مذکورہ میں جو اسباب ونقد زیور وغیرہ متوفی مذکور نے اپنی حیات میں زوجہ مذکورہ کو دیا ہے اور اب تك اس کے قبضہ وتصرف میں ہے وہ ترکہ متوفی سے علیحدہ ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
زیور خواہ نقد خواہ کسی قسم کا مال جو زید اپنی زوجہ کو بطور تملیك دیتا تھا اس کی مالك زوجہ ہےوہ ترکہ نہیں ہوسکتا۔تملیك ثابت ہونا درکار ہے خواہ صراحۃ یا دلالۃ بغیر اس کے دعوی ملك مسموع نہیںمثلا اگر وہ پندرہ سو روپے قرض کہہ کر مانگے تو ضرور ثابت ہوا کہ ملك کردئے تھےیوہیں اگر اس کی عادت سے ثابت ہو کہ ان لوگوں کو ایسا دینا بطور تملیك ہی کرتا تھا یہی لوگ اس کے مالك سمجھے جاتے تھے تو بیٹی بیٹے زوجہ جس کو جو دیا وہ اس کا مالك ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۵: ازسہارنپور محلہ قاضی مرسلہ ریاضت احمد صدیقی ۱۵ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت مرگئی اور اس نے ایك دختر ا ور ایك برادر حقیقی دو۲ وارث چھوڑےمتوفیہ کے بھائی نے اپنا شرعی حصہ جو اس کو بہن سے پہنچا تھا اپنی بھانجی کو دے دیا اور اس کے نام پر داخل خارج بھی کاغذات سرکاری میں کرایا اب چند سال کے بعدناراض ہوکر اس دی ہوئی جائداد واسباب کو واپس لینا چاہتاہے۔کیا شرعا اس اسباب وجائداد کو واپس لینے کا بھانجی سے حق حاصل ہے کہ جس کا اپنی خوشی ورضا مندی سے
مالك بنادیا ہو۔
الجواب:
اگر اس نے اپنا حصہ جدا جدا تقسیم کراکر ہبہ کیا اور بھانجی کو قبضہ دے دیا یا ہبہ کے بعد تقسیم کرکے حصہ منقسمہ پر قبضہ دے دیا یا وہ مشترك جائداد قابل تقسیم نہ تھی اگر دو حصے کئے جاتے تو ہر حصہ قابل انتفاع نہ رہتاجیسے کوئی کوٹھری یا چھوٹی دکان تو ان صورتوں میں بعد قبضہ دختر ہبہ تمام ہوگیا اور ماموں کو اس سے واپس لینے کا کوئی حق نہیں اور اگر شیئ قابل قسمت تھی اوربلاتقسیم ہبہ کیا اور اب تك تقسیم کرکے قبضہ نہ دیا تو ہبہ تمام نہ ہوااور مالك بنانا ہبہ نہیں عــــــہ اسے واپس لے سکتاہے۔ درمختار میں ہے:
لاتتم بالقبض فیما یقسم ولووھبہ لشریکہ لعدم تصور القبض الکامل کما فی عامۃ الکتب فکان ھو المذھب ۔واﷲ تعالی اعلم۔ قابل تقسیم چیز کا ہبہ تام نہیں ہوتااگرچہ شریك کو ہبہ کیا ہو کیونکہ اس پر کامل قبضہ کا تصو ر نہیں ہوسکتا جیسا کہ عام کتب میں ہے لہذا یہی مذہب ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۲۶: از قصبہ کہورٹی ضلع ساگر قسمت جبل پور ممالك متوسط مرسلہ ابراہیم ولد قمر علی ۷ ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
ابراہیم کے والد قمر علی تین بھائی حقیقی تھےمنجملہ ہر سہ بھائیوں کے ایك لاولد تھے جن کا نام نعمان حسن تھامیرے چچا یعنی نعمان حسن نے نکاح ایك بیوہ عورت سے کیا جس کے ہمراہ لڑکا آیا۔لڑکے کی عمر اس وقت ۵ سال کی تھی۔
آپ کو تکلیف دیتاہوں کہ جو کاغذات نقل یعنی فیصلہ کچہری شرع شریف ہوا ہے وہ خدمت میں آنجناب کی ارسال ہے بہ نظر ترحم کاغذات کو ملاحظہ فرما کر اطلاع دیجئے گاآیا وہ جائداد کا مستحق ہوسکتا ہے یانہیں نعمان حسن نے اس لڑکے کو متبنی نہیں کیا تھا اور اس نے کچہری میں یہی بیان کیا کہ نعمان حسن نے مجھے متبنی کیاکاغذات متبنی کرنے کے موجود نہیں ہیں جو ہبہ نامہ پیش کیا گیا ہے وہ مصنوعی بناہوا ہےنہ تو اس میں کوئی گواہ ہے اور نہ حاکم وقت کے دستخط ہیںنہ تاریخ ہےغلام عباس متبنی فوت ہوچکا ہےاور زوجہ نعمان حسن بھی فوت ہوچکی ہے۔
عــــــہ: اصل میں"ہبہ نہیں"کالفظ قلم ناسخ سے چھوٹ گیا۔
الجواب:
اگر اس نے اپنا حصہ جدا جدا تقسیم کراکر ہبہ کیا اور بھانجی کو قبضہ دے دیا یا ہبہ کے بعد تقسیم کرکے حصہ منقسمہ پر قبضہ دے دیا یا وہ مشترك جائداد قابل تقسیم نہ تھی اگر دو حصے کئے جاتے تو ہر حصہ قابل انتفاع نہ رہتاجیسے کوئی کوٹھری یا چھوٹی دکان تو ان صورتوں میں بعد قبضہ دختر ہبہ تمام ہوگیا اور ماموں کو اس سے واپس لینے کا کوئی حق نہیں اور اگر شیئ قابل قسمت تھی اوربلاتقسیم ہبہ کیا اور اب تك تقسیم کرکے قبضہ نہ دیا تو ہبہ تمام نہ ہوااور مالك بنانا ہبہ نہیں عــــــہ اسے واپس لے سکتاہے۔ درمختار میں ہے:
لاتتم بالقبض فیما یقسم ولووھبہ لشریکہ لعدم تصور القبض الکامل کما فی عامۃ الکتب فکان ھو المذھب ۔واﷲ تعالی اعلم۔ قابل تقسیم چیز کا ہبہ تام نہیں ہوتااگرچہ شریك کو ہبہ کیا ہو کیونکہ اس پر کامل قبضہ کا تصو ر نہیں ہوسکتا جیسا کہ عام کتب میں ہے لہذا یہی مذہب ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۲۶: از قصبہ کہورٹی ضلع ساگر قسمت جبل پور ممالك متوسط مرسلہ ابراہیم ولد قمر علی ۷ ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
ابراہیم کے والد قمر علی تین بھائی حقیقی تھےمنجملہ ہر سہ بھائیوں کے ایك لاولد تھے جن کا نام نعمان حسن تھامیرے چچا یعنی نعمان حسن نے نکاح ایك بیوہ عورت سے کیا جس کے ہمراہ لڑکا آیا۔لڑکے کی عمر اس وقت ۵ سال کی تھی۔
آپ کو تکلیف دیتاہوں کہ جو کاغذات نقل یعنی فیصلہ کچہری شرع شریف ہوا ہے وہ خدمت میں آنجناب کی ارسال ہے بہ نظر ترحم کاغذات کو ملاحظہ فرما کر اطلاع دیجئے گاآیا وہ جائداد کا مستحق ہوسکتا ہے یانہیں نعمان حسن نے اس لڑکے کو متبنی نہیں کیا تھا اور اس نے کچہری میں یہی بیان کیا کہ نعمان حسن نے مجھے متبنی کیاکاغذات متبنی کرنے کے موجود نہیں ہیں جو ہبہ نامہ پیش کیا گیا ہے وہ مصنوعی بناہوا ہےنہ تو اس میں کوئی گواہ ہے اور نہ حاکم وقت کے دستخط ہیںنہ تاریخ ہےغلام عباس متبنی فوت ہوچکا ہےاور زوجہ نعمان حسن بھی فوت ہوچکی ہے۔
عــــــہ: اصل میں"ہبہ نہیں"کالفظ قلم ناسخ سے چھوٹ گیا۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹€
الجواب: شریعت میں متبنی کوئی چیز نہیں۔
قال اﷲ تعالی " وما جعل ادعیاءکم ابناءکم " ۔
وقال تعالی" لکی لا یکون علی المؤمنین حرج فی ازوج ادعیائہم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:تمھارے نرے دعووں نے ان کو تمھارے بیٹے نہ بنادیا۔(ت)
اﷲ تعالی نے فرمایا:تاکہ مومنین پر ان کی بیویوں کے دعاوی میں حرج نہ ہو۔(ت)
نرا کاغذ اگرچہ اس میں تاریخ وتحریر گواہان ودستخط حاکم بھی ہوں شرعا اصلا کوئی چیز نہیں اور محض اس کی بناء پر ہبہ ماننا باطل اور ایسا فیصلہ محض خلاف شرع۔اشباہ والنظائرمیں ہے:
لایعتمد علی الخط ولایعمل بہ فلایعمل بمکتوب الوقف الذی علیہ الخطوط القضاۃ الماضین لان القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار او النکول کما فی وقف الخانیۃ ۔ خط پر نہ اعتماد ہے نہ اس پر عمل کیا جائے گا لہذا وقف نامہ جس پر گزشتہ قاضیوں کے خطوط ہیں قابل عمل نہ ہوگاکیونکہ قاضی صرف حجت کی بناء پر فیصلہ کرتا ہے اور حجت صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار ہےجیسا کہ خانیہ کے وقف میں ہے۔(ت)
عجب تر یہ ہے کہ مفتی صاحب حاکم سرونج نے فیصلہ میں حکم یہ لکھا کہ"باغ وزمین مستدعویہ کے تین حصے مساوی کئے جائیںتیسرا حصہ ہبہ غلام عباس کو دلا یا جائے"جبکہ وہ باغ وزمین اب تك مشترك غیر منقسم تھی اور نعمان حسن بلاتقسیم مرگیا تو اگر غلام عباس کو واقعی ہبہ ہوا تھا تو باطل ہوگیا۔درمختارمیں ہے:
والمیم موت احد العاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل ۔ میم سے"فریقین میں سے ایك کی قبضہ کے بعد موت"مرا دہےاور اگر قبضہ سے پہلے موت ہو تو ہبہ باطل ہوجاتا ہے۔ (ت)
قال اﷲ تعالی " وما جعل ادعیاءکم ابناءکم " ۔
وقال تعالی" لکی لا یکون علی المؤمنین حرج فی ازوج ادعیائہم " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:تمھارے نرے دعووں نے ان کو تمھارے بیٹے نہ بنادیا۔(ت)
اﷲ تعالی نے فرمایا:تاکہ مومنین پر ان کی بیویوں کے دعاوی میں حرج نہ ہو۔(ت)
نرا کاغذ اگرچہ اس میں تاریخ وتحریر گواہان ودستخط حاکم بھی ہوں شرعا اصلا کوئی چیز نہیں اور محض اس کی بناء پر ہبہ ماننا باطل اور ایسا فیصلہ محض خلاف شرع۔اشباہ والنظائرمیں ہے:
لایعتمد علی الخط ولایعمل بہ فلایعمل بمکتوب الوقف الذی علیہ الخطوط القضاۃ الماضین لان القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار او النکول کما فی وقف الخانیۃ ۔ خط پر نہ اعتماد ہے نہ اس پر عمل کیا جائے گا لہذا وقف نامہ جس پر گزشتہ قاضیوں کے خطوط ہیں قابل عمل نہ ہوگاکیونکہ قاضی صرف حجت کی بناء پر فیصلہ کرتا ہے اور حجت صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار ہےجیسا کہ خانیہ کے وقف میں ہے۔(ت)
عجب تر یہ ہے کہ مفتی صاحب حاکم سرونج نے فیصلہ میں حکم یہ لکھا کہ"باغ وزمین مستدعویہ کے تین حصے مساوی کئے جائیںتیسرا حصہ ہبہ غلام عباس کو دلا یا جائے"جبکہ وہ باغ وزمین اب تك مشترك غیر منقسم تھی اور نعمان حسن بلاتقسیم مرگیا تو اگر غلام عباس کو واقعی ہبہ ہوا تھا تو باطل ہوگیا۔درمختارمیں ہے:
والمیم موت احد العاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل ۔ میم سے"فریقین میں سے ایك کی قبضہ کے بعد موت"مرا دہےاور اگر قبضہ سے پہلے موت ہو تو ہبہ باطل ہوجاتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۴€
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۳۷€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء والشہادۃ الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۳۸€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
القرآن الکریم ∞۳۳/ ۳۷€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء والشہادۃ الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۳۸€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
بہر حال فیصلہ غلط ہوا غلام عباس کا اس باغ وزمین میں حق نہیںوہ صرف وارثان شرعی کا حق ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۲۷: از شہر کہنہ گھیر جعفر خان مسئولہ حکیم عرفان علی صاحب ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید نے اپنی جائداد کو جو اس کی مملوکہ ومقبوضہ ہے اور اس پر متصرف ہے اور تنہا مالك بلاشرکت غیرے ہے باختیار جائز و مالکانہ اس جائداد کو بلااکراہ و اجبار اپنی خواہش سے بنظر دور اندیشی ورفع شر اس امر کے کہ بعدمیری وفات کے کسی قسم کا میری اولاد یعنی ایك بیٹااور ایك بیٹی کے درمیان نزاع اورمخالفت نہ ہو تقسیم کیا اس طور سے ایك حصہ تھوڑی مقدار کا لڑکی کو دیا اور زیادہ مقدار کا لڑکے کو دیا اس وجہ سے کہ لڑکی بالغ ہے اور اس کی شادی بھی ہوگئی ہے او وہ خوشحال حالت میں ہے اور اس کے حصہ کی جائداد پرکوئی خرچ کا بار بھی نہیں پڑے گااور لڑکا نابالغ ہے اور اس کی پرورش وتعلیم وشادی سب خرچ اس کا بھی اسی جائداد پر پڑنے والاہے اور نیز حسن سلوك شادی وغمی کا خرچ حسب رواج اس کا بار بھی لڑکے ہی کی جائدا د پر ہے اور اپنا اور اپنی زوجہ کابھی خرچ ماہانہ مقرر کرکے سب لڑکے ہی کے حصہ پر رکھاتو اب ایسی صورت میں یہ فعل اس کا یعنی تقسیم کرنا جائداد کا بلحاظ حصہ پورا ہونے نہ ہونے فرائض کے صحیح ہے یانہیں
الجواب:
صحیح بایں معنی کہ وہ کاروائی چل جائے یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اپنے تمام وارثوں کا بے خطا بے سبب نان شبینہ کے لئے محتاج چھوڑ کر اپنی تمام املاك کسی راہ چلتے کو دے دے اورا گر یہ مراد کہ ایسی کاروائی کرنی عنداﷲ اسے جائز ہے یا اس پر مؤاخذہ ہوگا تو جواب یہ ہے کہ جن مہمل وجوہ پر زید نے ایك قلیل جز بیٹی کو دیا اور باقی تمام جائداد کثیر بیٹے کود ییہ ضرور عنداﷲ ناجائز ہے اور زید گنہگار اور بیٹی کے حق میں گرفتار ہوا شرع مطہر نے بعد موت بیٹی کا ایك اور بیٹے کے دو حصے رکھے ہیں لیکن زندگی میں تقسیم کرے تو حکم ہے کہ پسر ودختر دونوں کو برابر برابر دے قصدا بلاوجہ شرعی بیٹی کو نقصان دینا جائزنہیں۔ درمختارمیں ہے:
فی الخانیۃ لابأس بتفضیل بعض الاولاد فی المحبۃ لانہا عمل القلب وکذا فی العطایا اذالم یقصد بہ خانیہ میں ہے:محبت میں بعض اولاد کو بعض پر فضیلت میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ دل کا عمل ہے اور یونہی عطیات میں بھی بشرطیکہ کسی کو
مسئلہ ۱۲۷: از شہر کہنہ گھیر جعفر خان مسئولہ حکیم عرفان علی صاحب ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید نے اپنی جائداد کو جو اس کی مملوکہ ومقبوضہ ہے اور اس پر متصرف ہے اور تنہا مالك بلاشرکت غیرے ہے باختیار جائز و مالکانہ اس جائداد کو بلااکراہ و اجبار اپنی خواہش سے بنظر دور اندیشی ورفع شر اس امر کے کہ بعدمیری وفات کے کسی قسم کا میری اولاد یعنی ایك بیٹااور ایك بیٹی کے درمیان نزاع اورمخالفت نہ ہو تقسیم کیا اس طور سے ایك حصہ تھوڑی مقدار کا لڑکی کو دیا اور زیادہ مقدار کا لڑکے کو دیا اس وجہ سے کہ لڑکی بالغ ہے اور اس کی شادی بھی ہوگئی ہے او وہ خوشحال حالت میں ہے اور اس کے حصہ کی جائداد پرکوئی خرچ کا بار بھی نہیں پڑے گااور لڑکا نابالغ ہے اور اس کی پرورش وتعلیم وشادی سب خرچ اس کا بھی اسی جائداد پر پڑنے والاہے اور نیز حسن سلوك شادی وغمی کا خرچ حسب رواج اس کا بار بھی لڑکے ہی کی جائدا د پر ہے اور اپنا اور اپنی زوجہ کابھی خرچ ماہانہ مقرر کرکے سب لڑکے ہی کے حصہ پر رکھاتو اب ایسی صورت میں یہ فعل اس کا یعنی تقسیم کرنا جائداد کا بلحاظ حصہ پورا ہونے نہ ہونے فرائض کے صحیح ہے یانہیں
الجواب:
صحیح بایں معنی کہ وہ کاروائی چل جائے یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اپنے تمام وارثوں کا بے خطا بے سبب نان شبینہ کے لئے محتاج چھوڑ کر اپنی تمام املاك کسی راہ چلتے کو دے دے اورا گر یہ مراد کہ ایسی کاروائی کرنی عنداﷲ اسے جائز ہے یا اس پر مؤاخذہ ہوگا تو جواب یہ ہے کہ جن مہمل وجوہ پر زید نے ایك قلیل جز بیٹی کو دیا اور باقی تمام جائداد کثیر بیٹے کود ییہ ضرور عنداﷲ ناجائز ہے اور زید گنہگار اور بیٹی کے حق میں گرفتار ہوا شرع مطہر نے بعد موت بیٹی کا ایك اور بیٹے کے دو حصے رکھے ہیں لیکن زندگی میں تقسیم کرے تو حکم ہے کہ پسر ودختر دونوں کو برابر برابر دے قصدا بلاوجہ شرعی بیٹی کو نقصان دینا جائزنہیں۔ درمختارمیں ہے:
فی الخانیۃ لابأس بتفضیل بعض الاولاد فی المحبۃ لانہا عمل القلب وکذا فی العطایا اذالم یقصد بہ خانیہ میں ہے:محبت میں بعض اولاد کو بعض پر فضیلت میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ دل کا عمل ہے اور یونہی عطیات میں بھی بشرطیکہ کسی کو
الاضرار وان قصدہ یسوی بینہم یعطی البنت کالابن عند الثانی وعلیہ الفتوی ۔ ضرور پہنچانا مقصود نہ ہواوریہ بات پیش نظر ہو تو پھر سب کو مساوی دے اور لڑکی کو لڑکے کے برابر دے امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك اسی پر فتوی ہے۔(ت)
طحطاوی میں ہے:
یکرہ ذلك عند تساویہم فی الدرجۃ کما فی المنح و الہندیۃ ۔ عطیہ میں فضیلت مکروہ ہے جب اولاد درجہ میں مساوی ہو جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے۔(ت)
لڑکی کا بالغہ ہونا اس کا کوئی جرم نہ تھانہ شادی ہوجانا اس کی خطا تھیاور اپنے گھر سے خوشحال ہونا زید کی بخشش نہیں جسے اپنی جائداد دینے میں مجرا لے اور لڑکی کا خرچ اور پر ہونا اور لڑکے پر اور کاخرچ ہونا شریعت زید سے زیادہ جانتی ہے پھر حکم دونوں کو برابر دینے کا فرمایااور یہ عذر کہ اپنا اور اپنی زوجہ کا خرچ لڑکے پر رکھا ہے بے معنی ہے اسے حکم شرع ماننا تھا تو دونوں کو برابر دیتا اوراپنا زوجہ کا خرچ دونوں پر یکساں رکھتا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۸: از شہر مرسلہ شیخ علی جان صاحب محلہ بھوڑ معرفت حمید اﷲ صاحب ۲۶ ربیع الاخر شریف ۱۳۳۷ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ شخصے املاك نقد وجنس منقولہ خویش باولاد ذکور واناث حسب قواعد شریعت نفقہ کردن می خواہد ویك پسر خود را ازیں تقسیم ارث محروم ساختہ عاق کردہ می شمرد کہ از اطاعت وفرمانبرداری انحراف و رزیدہ واز تعمیل احکام شرعیہ روگردانیدہ بفسق وفجور منہمك شدہ۔پس از شریعت اجازت کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنی تمام منقولہ وغیر منقولہ اور نقد املاك کو اپنی اولاد نرینہ ومؤنث میں شرعی قواعد کے مطابق نفقہ کے طور پردینا چاہتاہے اور ایك بیٹا جو کہ اس کی اطاعت اور فرمانبرداری سے انحراف اور شرعی حکم کی تعمیل سے روگردانی کرتا ہے اور فسق وفجور میں منہمك ہےپس شریعت اجازت
طحطاوی میں ہے:
یکرہ ذلك عند تساویہم فی الدرجۃ کما فی المنح و الہندیۃ ۔ عطیہ میں فضیلت مکروہ ہے جب اولاد درجہ میں مساوی ہو جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے۔(ت)
لڑکی کا بالغہ ہونا اس کا کوئی جرم نہ تھانہ شادی ہوجانا اس کی خطا تھیاور اپنے گھر سے خوشحال ہونا زید کی بخشش نہیں جسے اپنی جائداد دینے میں مجرا لے اور لڑکی کا خرچ اور پر ہونا اور لڑکے پر اور کاخرچ ہونا شریعت زید سے زیادہ جانتی ہے پھر حکم دونوں کو برابر دینے کا فرمایااور یہ عذر کہ اپنا اور اپنی زوجہ کا خرچ لڑکے پر رکھا ہے بے معنی ہے اسے حکم شرع ماننا تھا تو دونوں کو برابر دیتا اوراپنا زوجہ کا خرچ دونوں پر یکساں رکھتا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۸: از شہر مرسلہ شیخ علی جان صاحب محلہ بھوڑ معرفت حمید اﷲ صاحب ۲۶ ربیع الاخر شریف ۱۳۳۷ھ
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ شخصے املاك نقد وجنس منقولہ خویش باولاد ذکور واناث حسب قواعد شریعت نفقہ کردن می خواہد ویك پسر خود را ازیں تقسیم ارث محروم ساختہ عاق کردہ می شمرد کہ از اطاعت وفرمانبرداری انحراف و رزیدہ واز تعمیل احکام شرعیہ روگردانیدہ بفسق وفجور منہمك شدہ۔پس از شریعت اجازت کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنی تمام منقولہ وغیر منقولہ اور نقد املاك کو اپنی اولاد نرینہ ومؤنث میں شرعی قواعد کے مطابق نفقہ کے طور پردینا چاہتاہے اور ایك بیٹا جو کہ اس کی اطاعت اور فرمانبرداری سے انحراف اور شرعی حکم کی تعمیل سے روگردانی کرتا ہے اور فسق وفجور میں منہمك ہےپس شریعت اجازت
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الہبہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰€
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۳۹۹€
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۳۹۹€
می دہد کہ آں فرزند عاق کردہ ازیں ارث چیزے ندہم و او رامحجوب الارث شمرد واز املاك خویش جوے ندہم روز جزا درمواخذہ او ماراگرفت خواہد شد یانہ از اقوال فقہائے احناف جواب شافی عنایت فرمایند۔ دیتی ہے کہ اس بیٹے کو عاق کرکے اپنی وراثت سے کچھ نہ دوں اور اس کو محروم از وراثت قرار دوں اور اپنی املاك سے جو تك نہ دوںروز جزا اس میں ہمارا مؤاخذہ اور گرفت ہوگی یا نہ فقہائے احناف کے اقوال سے شافی جواب عنایت فرمائیں (ت)
الجواب:
اگر فی الواقع اوفاسق وفاجر است پدر رامیرسد کہ او رامحرم دارد کما فی الدروغیرہ من السفار الغرواﷲ تعالی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم اگر فی الواقع وہ فاسق وفاجر ہے تو باپ کو حق ہے کہ اس کو محروم رکھے جیساکہ درمختار وغیرہ روشن کتب میں ہےواﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ ۱۲۹: مرسلہ مولوی محمد علیم الدین از شہر کانپور مدرسہ دارالعلوم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی زندگی میں اپنی زمین مزروعہ(۴۵ بیگھ)کے تین حصے کرکے ایك حصہ بڑے لڑکے کو اور ایك حصہ چھوٹے لڑکے کو دے دیا اور ایك حصہ اپنے واسطے رکھا اور دونوں لڑکوں سے کہہ دیا کہ میرے حصے کو میرے مرنے کے بعد برابر تقسیم کرلینا بعد چند روز کے زید نے اپنا حصہ بڑے لڑکے کو ہبہ کردیایہ ہبہ شرعا ہوا یا نہیں درصورت صحت چھوٹا لڑکا مجاز فسخ ہے یانہیں
الجواب:
اگر وہ زمین نامقسم ہے اور بلاتقسیم ایك ایك ثلث دونوں بیٹوں کو دئیے پھر اپنا ثلث بھی ایك کو دے دیاتو یہ دونوں ہبہ باطل وبے اثر محض ہیں جب تك زید اپنی زندگی میں تقسیم کرکے ہر بیٹے کو اس کے منقسم حصے پر جدا گانہ قبضہ نہ دےاور اگر بیٹوں کو بلاتقسیم دو ثلث میں شریك کیا تھا اور اپنا حصہ جدا گانہ منقسم رکھا تھا اور اب یہ ثلث بڑے بیٹے کو دے کہ قابض کردیا تو پہلاہبہ باطل ہے جب تك زید اس ٹکڑے کا دوحصے جدا جدا کرکے ہر بیٹے کو قبضہ نہ دے لیکن اس تیسرے ثلث کا ہبہ بڑے بیٹے کے نام بوجہ تقسیم صحیح وتام ہوگیا اس تہائی کا بڑا بیٹا مالك ہوگیا اور وہ دو تہائی اب تك زید کی ملك ہیںہاں اگر وہ دونوں حصے جدا جدا پٹی بانٹ کرکے ہر بیٹے کو اس کے حصہ پر قبضہ دے دیا تھا پھر اپنا تہائی بڑے بیٹے کو دے کر قابض کردیا تھا تو ان دو ثلث کا بڑا بیٹا مالك ہوگیااپنے ثلث کا چھوٹا بیٹا مالك رہا۔
الجواب:
اگر فی الواقع اوفاسق وفاجر است پدر رامیرسد کہ او رامحرم دارد کما فی الدروغیرہ من السفار الغرواﷲ تعالی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم اگر فی الواقع وہ فاسق وفاجر ہے تو باپ کو حق ہے کہ اس کو محروم رکھے جیساکہ درمختار وغیرہ روشن کتب میں ہےواﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ ۱۲۹: مرسلہ مولوی محمد علیم الدین از شہر کانپور مدرسہ دارالعلوم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی زندگی میں اپنی زمین مزروعہ(۴۵ بیگھ)کے تین حصے کرکے ایك حصہ بڑے لڑکے کو اور ایك حصہ چھوٹے لڑکے کو دے دیا اور ایك حصہ اپنے واسطے رکھا اور دونوں لڑکوں سے کہہ دیا کہ میرے حصے کو میرے مرنے کے بعد برابر تقسیم کرلینا بعد چند روز کے زید نے اپنا حصہ بڑے لڑکے کو ہبہ کردیایہ ہبہ شرعا ہوا یا نہیں درصورت صحت چھوٹا لڑکا مجاز فسخ ہے یانہیں
الجواب:
اگر وہ زمین نامقسم ہے اور بلاتقسیم ایك ایك ثلث دونوں بیٹوں کو دئیے پھر اپنا ثلث بھی ایك کو دے دیاتو یہ دونوں ہبہ باطل وبے اثر محض ہیں جب تك زید اپنی زندگی میں تقسیم کرکے ہر بیٹے کو اس کے منقسم حصے پر جدا گانہ قبضہ نہ دےاور اگر بیٹوں کو بلاتقسیم دو ثلث میں شریك کیا تھا اور اپنا حصہ جدا گانہ منقسم رکھا تھا اور اب یہ ثلث بڑے بیٹے کو دے کہ قابض کردیا تو پہلاہبہ باطل ہے جب تك زید اس ٹکڑے کا دوحصے جدا جدا کرکے ہر بیٹے کو قبضہ نہ دے لیکن اس تیسرے ثلث کا ہبہ بڑے بیٹے کے نام بوجہ تقسیم صحیح وتام ہوگیا اس تہائی کا بڑا بیٹا مالك ہوگیا اور وہ دو تہائی اب تك زید کی ملك ہیںہاں اگر وہ دونوں حصے جدا جدا پٹی بانٹ کرکے ہر بیٹے کو اس کے حصہ پر قبضہ دے دیا تھا پھر اپنا تہائی بڑے بیٹے کو دے کر قابض کردیا تھا تو ان دو ثلث کا بڑا بیٹا مالك ہوگیااپنے ثلث کا چھوٹا بیٹا مالك رہا۔
اس صورت میں چھوٹا بیٹا فسخ کرانے کا مجاز نہیںاور پہلی دو صورتوں میں فسخ کی حاجت ہی نہیں کہ ہنوز ہبہ ہی تام نہ ہوا والمسألۃ دوارۃ متونا وشروحا وفتاوی(یہ مسئلہ متونشروح اور فتاوی میں دائر ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۰: از بزم حنفیہ لاہور مرسلہ محمد عبدالحمید صاحب سیکریٹری بزم مذکور ۲۹ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۷ھ
بحضرت فیض درجتعظیم البرکتفاضل کبیر کامل نحریرامام العلماء المحقیقینمقدام الفضلاء المدققینعالم عظیم الشان اعیلحضرتمولانا المکرمذوالمجدوالکرممولانامولویحاجیصوفیحافظمفتی محمد احمد رضاخاں صاحب ادام اﷲ فیوضہم السلام علیکم وعلی من لدیکممزاج مقدس!
آج یہ فقیر بار شاد فیض رشاد فرمان واجب الاذعان سیدی وآقائی مولنا المحترم ذواللطف والکرم حضرت مولوی محمد اکرام الدین البخاری خطیب وامام مسجد وزیر خاں خدمت میں اعلیحضرت دام فیضہم کے چند سطور بتاکید مولنا ممدوح تحریر کرتا کہ اعلیحضرت اس مسئلہ متنازعہ کو بہ تشریح تامہ وتفصیل کاملہ صاف وشستہ مبسوط تحریر فرماکر متنازعین کے شکوك کو بدلائل واضحہ رفع فرمادیں گے اور مولنا ممدوح نے یہ فرمایا کہ اس مسئلہ کی مختلف صور کی مرجح ومفتی بہ اشکال کے اظہار کا حق صرف اعلیحضرت کے قلم فصیح رقم کو حاصل ہے اور اس پر بہ اثبات حکم محکم فریقین متنازعین کے قلوب میں نورانی جوہر محبت بھرنے گوہر ڈال دینے نااتفاقی وکشیدگی کے توہمات کو نکال دینے کا اعلیحضرت ہی کو شرف حاصل ہے پس ارشاد مولنا ممدوح معروض بخدمت حق اقدس ہوں کہ جس ہبہ وتملیك کی رجسٹری بذریعہ گورنمنٹ ہوچکی ہے اور وہ برائے ملاحظہ حضرت بلفظہ ناقل رجسٹری ہبہ شدہ ارسال خدمت ہے کہ بعد وفات موہوب لہ کے واہب نے بھی زندہ رہ کر اس موہوبہ مکان کو واپس نہ کیا اور وہ موہوب لہ کی اولاد کے قبضہ میں ہی رہااب واہب کے مرجانےکے بعد عــــــہ ہمشیرہ دعوی دخلیابی کا کرکے موہوب لہ کے پسماندگان بیوہ و یتامی سے موہوبہ مکان کو بعد گزرجانے ۲۷ برس ہبہ شدہ کا رجوع کرانا چاہتی ہے بحالیکہ ہبہ وتملیك کردینے کے بعد واہب نے اگرچہ موہوب لہ کا وہ باپ تھا علیحدہ کرایہ نامہ تحریر کردیا اور واپس نہ کرایا اور بطور کرایہ دار اسی میں سکونت کرتارہا اور ۶ برس تك زندہ رہا۔ اب مفصل صورت سوال حسب ذیل ہے۔
زید عمرو بکر ہندہ
(نظر محمد) (جان محمد) (خیر محمد)
عــــــہ: لفظ"بعد"قلم ناسخ سے چھوٹ گیاعبدالمنان اعظمی
مسئلہ ۱۳۰: از بزم حنفیہ لاہور مرسلہ محمد عبدالحمید صاحب سیکریٹری بزم مذکور ۲۹ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۷ھ
بحضرت فیض درجتعظیم البرکتفاضل کبیر کامل نحریرامام العلماء المحقیقینمقدام الفضلاء المدققینعالم عظیم الشان اعیلحضرتمولانا المکرمذوالمجدوالکرممولانامولویحاجیصوفیحافظمفتی محمد احمد رضاخاں صاحب ادام اﷲ فیوضہم السلام علیکم وعلی من لدیکممزاج مقدس!
آج یہ فقیر بار شاد فیض رشاد فرمان واجب الاذعان سیدی وآقائی مولنا المحترم ذواللطف والکرم حضرت مولوی محمد اکرام الدین البخاری خطیب وامام مسجد وزیر خاں خدمت میں اعلیحضرت دام فیضہم کے چند سطور بتاکید مولنا ممدوح تحریر کرتا کہ اعلیحضرت اس مسئلہ متنازعہ کو بہ تشریح تامہ وتفصیل کاملہ صاف وشستہ مبسوط تحریر فرماکر متنازعین کے شکوك کو بدلائل واضحہ رفع فرمادیں گے اور مولنا ممدوح نے یہ فرمایا کہ اس مسئلہ کی مختلف صور کی مرجح ومفتی بہ اشکال کے اظہار کا حق صرف اعلیحضرت کے قلم فصیح رقم کو حاصل ہے اور اس پر بہ اثبات حکم محکم فریقین متنازعین کے قلوب میں نورانی جوہر محبت بھرنے گوہر ڈال دینے نااتفاقی وکشیدگی کے توہمات کو نکال دینے کا اعلیحضرت ہی کو شرف حاصل ہے پس ارشاد مولنا ممدوح معروض بخدمت حق اقدس ہوں کہ جس ہبہ وتملیك کی رجسٹری بذریعہ گورنمنٹ ہوچکی ہے اور وہ برائے ملاحظہ حضرت بلفظہ ناقل رجسٹری ہبہ شدہ ارسال خدمت ہے کہ بعد وفات موہوب لہ کے واہب نے بھی زندہ رہ کر اس موہوبہ مکان کو واپس نہ کیا اور وہ موہوب لہ کی اولاد کے قبضہ میں ہی رہااب واہب کے مرجانےکے بعد عــــــہ ہمشیرہ دعوی دخلیابی کا کرکے موہوب لہ کے پسماندگان بیوہ و یتامی سے موہوبہ مکان کو بعد گزرجانے ۲۷ برس ہبہ شدہ کا رجوع کرانا چاہتی ہے بحالیکہ ہبہ وتملیك کردینے کے بعد واہب نے اگرچہ موہوب لہ کا وہ باپ تھا علیحدہ کرایہ نامہ تحریر کردیا اور واپس نہ کرایا اور بطور کرایہ دار اسی میں سکونت کرتارہا اور ۶ برس تك زندہ رہا۔ اب مفصل صورت سوال حسب ذیل ہے۔
زید عمرو بکر ہندہ
(نظر محمد) (جان محمد) (خیر محمد)
عــــــہ: لفظ"بعد"قلم ناسخ سے چھوٹ گیاعبدالمنان اعظمی
زید نے اپن حیں حیات میں بلاکراہ واجبار برضامندی خود اپنا ایك مکان زر خریدہ خود اپنے بیٹے خورد نامی عمرو(جان محمد)کے نام ہبہ تملیك بشرائط چندے رجسٹری کردیا جس کا خود واہب بدیں الفاظ مقر ہے کہ:
(۱)مکان موہوبہ ملکیت عمرو ہے۔
(۲)عمرو کو ہر طرح کا حق حاصل ہے کہ میری حیات میں اور بعد ممات کے اس مکان کو بیع ورہن کرکراسکتاہے۔
(۳)مکان مذکور میں میرا یامیرے دیگر کسی لواحق کا حق خا خدشہ ہرگزنہیںمکان مذکور میرا ذاتی ملکیت ہے جو عمرو کے نام ہبہ کردیا ہے کہ اب اصل مالك وہی ہے۔
(۴)زید کی حین حیات میں اس کا بیٹاعمرو فوت ہوگیا اور دوسرا بیٹابکر زندہ رہا اور عمرو کا باپ زید عرصہ ۶ سال بعد وفات عمرو زندہ رہا اور موہوب شدہ مکان کو زید واہب نے اپنی حین حیا ت میں بھی واپس نہیں لیا بلکہ زید کی موجودگی میں بھی وہ مکان صرف عمرو کی اولاد وبیوہ کے قبضہ میں رہا اور وہی اس کے کرایہ وغیرہ کوحاصل کرتے رہےپھر زید یعنی اصل واہب فوت ہوگیا موجودگان از زید اصل واہب متوفیبکر(خیر محمد)ہندہبکر جو واہب متوفی کا بڑا بیٹا ہے اور ہندہ جوواہب کی بیٹی ہے اور موہوب لہ متوفی کے یہ ہر دو موجودہ حقیقی ہیں اور ہندہ موہوب لہ متوفی کی اولاد کی پھوپھی ہے زندہ موجود ہیں۔
(۵)بکر کا بیان ہے کہ جو کچھ میرا باپ زید میرے حقیقی بھائی عمرو کے نام مکان مذکور ہبہ و تملیك کرچکا ہے اور نیز اس نے بعد وفات عمرو کے اس ہبہ وتملیك کو واپس نہیں لیالہذا یہ ساختہ پر داختہ میرے باپ زید متوفی کا مجھ کو منظور ومقبول ہےیہ مکان ملکیت عمرو کا ہوچکا ہے اس کے بعد اس کی اولاد وارث ہے۔
(۶)عمرو کی بہن ہندہ یہ دعوی کرتی ہے کہ یہ ہبہ وتملیك رجوع ہوسکتاہے اور اس ہبہ شدہ مکان کو عمرو کی اولاد کے قبضہ میں جائز گردانتی ہے۔
پس مندرجہ بالاصورت متنازعہ میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہبہ جو تملیك بنام عمرو ہوچکا ہے اور جس کو خود واہب زید نے بعد فوتگی عمرو موہوب لہ کے واپس لینے کا ارادہ ہی نہ کیا اب موہوب لہ اور واہب کے فوت ہوجانے کے بعد جس کو ۱۲ برس سے زیادہ گزر گئے اجبار قابل رجوع ہے یانہیں(اجبارا)اور ان صورتوں میں شریعت مطہرہ کو کیا حکم ہے پس اس اہم
(۱)مکان موہوبہ ملکیت عمرو ہے۔
(۲)عمرو کو ہر طرح کا حق حاصل ہے کہ میری حیات میں اور بعد ممات کے اس مکان کو بیع ورہن کرکراسکتاہے۔
(۳)مکان مذکور میں میرا یامیرے دیگر کسی لواحق کا حق خا خدشہ ہرگزنہیںمکان مذکور میرا ذاتی ملکیت ہے جو عمرو کے نام ہبہ کردیا ہے کہ اب اصل مالك وہی ہے۔
(۴)زید کی حین حیات میں اس کا بیٹاعمرو فوت ہوگیا اور دوسرا بیٹابکر زندہ رہا اور عمرو کا باپ زید عرصہ ۶ سال بعد وفات عمرو زندہ رہا اور موہوب شدہ مکان کو زید واہب نے اپنی حین حیا ت میں بھی واپس نہیں لیا بلکہ زید کی موجودگی میں بھی وہ مکان صرف عمرو کی اولاد وبیوہ کے قبضہ میں رہا اور وہی اس کے کرایہ وغیرہ کوحاصل کرتے رہےپھر زید یعنی اصل واہب فوت ہوگیا موجودگان از زید اصل واہب متوفیبکر(خیر محمد)ہندہبکر جو واہب متوفی کا بڑا بیٹا ہے اور ہندہ جوواہب کی بیٹی ہے اور موہوب لہ متوفی کے یہ ہر دو موجودہ حقیقی ہیں اور ہندہ موہوب لہ متوفی کی اولاد کی پھوپھی ہے زندہ موجود ہیں۔
(۵)بکر کا بیان ہے کہ جو کچھ میرا باپ زید میرے حقیقی بھائی عمرو کے نام مکان مذکور ہبہ و تملیك کرچکا ہے اور نیز اس نے بعد وفات عمرو کے اس ہبہ وتملیك کو واپس نہیں لیالہذا یہ ساختہ پر داختہ میرے باپ زید متوفی کا مجھ کو منظور ومقبول ہےیہ مکان ملکیت عمرو کا ہوچکا ہے اس کے بعد اس کی اولاد وارث ہے۔
(۶)عمرو کی بہن ہندہ یہ دعوی کرتی ہے کہ یہ ہبہ وتملیك رجوع ہوسکتاہے اور اس ہبہ شدہ مکان کو عمرو کی اولاد کے قبضہ میں جائز گردانتی ہے۔
پس مندرجہ بالاصورت متنازعہ میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہبہ جو تملیك بنام عمرو ہوچکا ہے اور جس کو خود واہب زید نے بعد فوتگی عمرو موہوب لہ کے واپس لینے کا ارادہ ہی نہ کیا اب موہوب لہ اور واہب کے فوت ہوجانے کے بعد جس کو ۱۲ برس سے زیادہ گزر گئے اجبار قابل رجوع ہے یانہیں(اجبارا)اور ان صورتوں میں شریعت مطہرہ کو کیا حکم ہے پس اس اہم
اولا:موہوب لہ واہب کا بیٹا ہے اور ذی رحم محرم سے رجوع کا خود واہب کو بھی اختیار نہیں
ثانیا: موہوب لہ مرگیا
ثالثا:واہب بھی گزر گیا اور اس میں ہر ایك کی موت مانع رجوع ہے تو اب رجوع ناممکن ہے اور وہ شرط قبضہ تخلیہ اس صورت میں ہے کہ موہوب لہ وقت ہبہ بالغ ہواور اگر نابالغ تھا تو باپ نے جس وقت ہبہ نامہ لکھ دیا اس سے پہلے جس وقت زبانی کہا میں نے ہبہ کیا معا ہبہ کرتے ہی بیٹا مالك ہوگیا اگر چہ باپ نے ایك آن کو مکان نہ خالی کیا نہ قبضہ دیا کہ اس صورت میں باپ کا قبضہ ہی بیٹے کا قبضہ ہے اور رجوع ناممکندرمختارمیں ہے:
یمنع الرجوع فیہا موت احد العاقدین بعد التسلیم والقرابۃ فلو وھب الذی رحم محرم منہ نسبا لا یرجع (ملخصا) قبضہ دینے کے بعد کسی فریقین کی موت اور قرابت رجوع سے مانع ہے تو اگر کسی مجر م کوھبہ کیا رجوع نہ ہوگا(ملخصا)۔ (ت)
اسی میں ہے:
الاصل ان الموہوب ان مشغولابملك الواھب منع تمامہا وان شاغلا لاوفی الاشباہ ھبۃ المشغول لاتجوز الااذا وھب الاب لطفلہ (ملخصا) ضابطہ یہ ہے موہوب چیز اگر واہب کی ملك میں مشغول ہو تو ہبہ کے تام ہونے سے مانع ہے اگر وہ شاغل ہو تو مانع نہ ہوگا۔ اور الاشباہ میں ہے مشغول چیز کاہبہ کرنا جائز نہیں۔ہاں اگر والد اپنے طفل کو ہبہ کرے تو جائز ہے۔(ملخصا)(ت)
ثانیا: موہوب لہ مرگیا
ثالثا:واہب بھی گزر گیا اور اس میں ہر ایك کی موت مانع رجوع ہے تو اب رجوع ناممکن ہے اور وہ شرط قبضہ تخلیہ اس صورت میں ہے کہ موہوب لہ وقت ہبہ بالغ ہواور اگر نابالغ تھا تو باپ نے جس وقت ہبہ نامہ لکھ دیا اس سے پہلے جس وقت زبانی کہا میں نے ہبہ کیا معا ہبہ کرتے ہی بیٹا مالك ہوگیا اگر چہ باپ نے ایك آن کو مکان نہ خالی کیا نہ قبضہ دیا کہ اس صورت میں باپ کا قبضہ ہی بیٹے کا قبضہ ہے اور رجوع ناممکندرمختارمیں ہے:
یمنع الرجوع فیہا موت احد العاقدین بعد التسلیم والقرابۃ فلو وھب الذی رحم محرم منہ نسبا لا یرجع (ملخصا) قبضہ دینے کے بعد کسی فریقین کی موت اور قرابت رجوع سے مانع ہے تو اگر کسی مجر م کوھبہ کیا رجوع نہ ہوگا(ملخصا)۔ (ت)
اسی میں ہے:
الاصل ان الموہوب ان مشغولابملك الواھب منع تمامہا وان شاغلا لاوفی الاشباہ ھبۃ المشغول لاتجوز الااذا وھب الاب لطفلہ (ملخصا) ضابطہ یہ ہے موہوب چیز اگر واہب کی ملك میں مشغول ہو تو ہبہ کے تام ہونے سے مانع ہے اگر وہ شاغل ہو تو مانع نہ ہوگا۔ اور الاشباہ میں ہے مشغول چیز کاہبہ کرنا جائز نہیں۔ہاں اگر والد اپنے طفل کو ہبہ کرے تو جائز ہے۔(ملخصا)(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱ تا ۱۶۲€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۹€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۹€
ردالمحتارمیں ہے:
کان وھبہ دار والاب ساکنہا اولہ فیہا متاع لانہا مشغولۃ بمتاع القابض و ھو مخالف لما فی الخانیۃ فقد جزم اولابانہ لاتجوز ثم قال وعن ابی حنیفۃ فی المجرد تجوز ویصیر قابضا لابنہ ۔ مثلایہ کہ والد ایسے مکان کا ہبہ کرے کہ خود اس میں سکونت پذیر ہو یا سامان بھی رکھتا ہو کیونکہ یہ قابض کے حق میں مشغول ہے یہ بات خانیہ کے بیان کے خلاف ہےتو شك نہیں کہ پہلے انھوں نے عدم جواز کا جزم کیا اور پھر کہا امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی کے علیہ سے روایت ہے کہ خالی مکان ہو تو جائز ہے اور اپنے طفل کے لئے قابض قرار پائے گا۔(ت)
اس پر حاشیہ فقیر جدالممتار میں ہے
اقول:جزم فی وجیز الکردری والولوالجیۃ والذخیرۃ وغیرہا باطلاق الجواز وفی الہندیۃ عن العتابیۃ الماخوذ بہ وعلیہ الفتوی وفیہا عن السراجیۃ علیہ الفتوی وفی الحموی عن الوالوالجیۃ علیہ الفتوی وعن البزازیۃ تجوز و علیہ الفتوی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ میں کہتاہوں وجیز الکردری ولوالجیہ اور ذخیرہ وغیرہا میں مطلق جو از پر جزم کیا اورہندیہ میں عتابیہ سے منقول ہے کہ یہی ماخوذ اور اسی پر فتوی ہے اور ہندیہ میں ہی سراجیہ سے منقول ہے کہ اسی پر فتوی ہے اور حموی میں ولوالجیہ سے ہے کہ اسی پر فتوی ہے اوربزازیہ سے منقول ہے کہ جائز ہے اور اسی پر فتوی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۳۱: از پروچڑان موضع کوٹلہ مدہو ڈاکخانہ غوث پور ریاست بہاولپور تحصیل خان پور مرسلہ مولوی ابوالمنظور محمد غوث بخش صاحب ۱۱ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
مع دو جواب بغرض تصحیح:کیا فرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی بروہی ومسماۃ بہرائی کل متروکہ"سماء"متوفی مورث پربروئے وراثت وغیرہ قابض ومتصرف رہے فوتیدگی مسماۃ بہرائی پر جس کو عرصہ ۱۶ سال کا گزر گیا ہے مسمی بروہی بدستور قابض رہا بعد فوت ہونے بروہی کے
کان وھبہ دار والاب ساکنہا اولہ فیہا متاع لانہا مشغولۃ بمتاع القابض و ھو مخالف لما فی الخانیۃ فقد جزم اولابانہ لاتجوز ثم قال وعن ابی حنیفۃ فی المجرد تجوز ویصیر قابضا لابنہ ۔ مثلایہ کہ والد ایسے مکان کا ہبہ کرے کہ خود اس میں سکونت پذیر ہو یا سامان بھی رکھتا ہو کیونکہ یہ قابض کے حق میں مشغول ہے یہ بات خانیہ کے بیان کے خلاف ہےتو شك نہیں کہ پہلے انھوں نے عدم جواز کا جزم کیا اور پھر کہا امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی کے علیہ سے روایت ہے کہ خالی مکان ہو تو جائز ہے اور اپنے طفل کے لئے قابض قرار پائے گا۔(ت)
اس پر حاشیہ فقیر جدالممتار میں ہے
اقول:جزم فی وجیز الکردری والولوالجیۃ والذخیرۃ وغیرہا باطلاق الجواز وفی الہندیۃ عن العتابیۃ الماخوذ بہ وعلیہ الفتوی وفیہا عن السراجیۃ علیہ الفتوی وفی الحموی عن الوالوالجیۃ علیہ الفتوی وعن البزازیۃ تجوز و علیہ الفتوی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ میں کہتاہوں وجیز الکردری ولوالجیہ اور ذخیرہ وغیرہا میں مطلق جو از پر جزم کیا اورہندیہ میں عتابیہ سے منقول ہے کہ یہی ماخوذ اور اسی پر فتوی ہے اور ہندیہ میں ہی سراجیہ سے منقول ہے کہ اسی پر فتوی ہے اور حموی میں ولوالجیہ سے ہے کہ اسی پر فتوی ہے اوربزازیہ سے منقول ہے کہ جائز ہے اور اسی پر فتوی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۳۱: از پروچڑان موضع کوٹلہ مدہو ڈاکخانہ غوث پور ریاست بہاولپور تحصیل خان پور مرسلہ مولوی ابوالمنظور محمد غوث بخش صاحب ۱۱ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
مع دو جواب بغرض تصحیح:کیا فرماتےہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی بروہی ومسماۃ بہرائی کل متروکہ"سماء"متوفی مورث پربروئے وراثت وغیرہ قابض ومتصرف رہے فوتیدگی مسماۃ بہرائی پر جس کو عرصہ ۱۶ سال کا گزر گیا ہے مسمی بروہی بدستور قابض رہا بعد فوت ہونے بروہی کے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۰€
جدالممتار علی ردالمحتار
جدالممتار علی ردالمحتار
پسر اس کا الہی بخش بھی بدستور قابض رہامسماۃ شرم خاتون بنت مسماۃ متوفی کو جو حق وراثت اپنے والدین سے بروئے شرع شریف آتا تھا لیکن قبضہ الہی بخش میں پہلے سے تھا پھر اس کو ہبہ کرکے قبضہ سابقہ اس کے کو بحال رکھا اور اقرار ہبہ کا اسٹام گورنمنٹی پر بھی لکھ دے کر براءت دعوی اپنے کی بالفاظ ذیل ظاہر کی(کہ بعد دخل نہیں ہے ونہ ہوگا)اب عرصہ تین سال سے الہی بخش فوت ہے اور پسران ان کے جندوڈہ وغیرہ قابض و متصرف ہیں مسماۃ شرم خاتون مدعیہ اپنے حصہ وراثت پرکسی وقت میں قابض ومتصرف نہیں رہی جس کو تخمینا عرصہ چالیس سال کا گزر گیا ہے بلکہ تصرف مالکانہ باپ مدعا علیہ ودادا اس کے کاجائداد مستدعویہ پر باوجود قرب جواری ورشتہ داری کے دیکھتی رہ کرساکت رہی اب مدعیہ بعد عرصہ طویل کےحصہ موہوبہ خود مقبوضہ مدعا علیہ کو بعد فوتیدگی اصل موہوب لہ کے بعد از ہبہ مشاع استرجاعا واپس لینا چاہتی ہےکیا باوجود قبضہ قدیم کے اس کو بعذر مذکور دیانۃ حق رجوع ہوسکتاہے اور باوجود اطلاع علی التصرف و ابراء عن الدعوی ومرورمیعاد سماعت دعوی شرع اقدس میں قضاء دعوی اس کا قابل سماعت ہے یانہ
جواب بہاول پور
ہبہ مشاع کا شریك وغیر شریك کہ قدیم سے ائمہ دین میں اختلافی ہے۔صاحبین رضی اﷲ تعالی عنہما جوازوصحت اس کے قائل ہیں اور امام صاحب رحمۃ اﷲ تعالی علیہ فساد کے(روایت)
ھبۃا لمشاع فیما یحتمل القسمۃ من رجلین اومن جماعۃ صحیحۃ عندہما وفاسدۃ عندا لامام ولیست بباطلۃ حتی تفید الملك بالقبض کذا فی جواہر الاخلاطی (بعد سطر)ھبۃ المشاع فیما یتمل القسمۃ لایجوز سواء کانت من شریکہ اومن غیر شریکہ ولو قبضھا ہل تفید الملك ذکر حسام الدین فی کتاب الواقعات مشاع چیز کو جب دو افراد یا جماعت کو ہبہ کرے صاحبین کے نزدیك صحیح ہے اور امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك فاسد ہے اور باطل نہیں حتی کہ قبضہ ہوجانے پر ملك کے لئے مفید ہوگا یوں جواہر اخلاطی میں ہے(اور ایك سطربعد فرمایا کہ)قابل تقسیم مشاع چیز کا ہبہ خواہ شریك یا غیر شریك کو ہو اور قبضہ دے دیا تو مفید ملك ہوگا یانہیںحسام الدین نے کتاب الواقعات میں ذکر کیا کہ مختار
جواب بہاول پور
ہبہ مشاع کا شریك وغیر شریك کہ قدیم سے ائمہ دین میں اختلافی ہے۔صاحبین رضی اﷲ تعالی عنہما جوازوصحت اس کے قائل ہیں اور امام صاحب رحمۃ اﷲ تعالی علیہ فساد کے(روایت)
ھبۃا لمشاع فیما یحتمل القسمۃ من رجلین اومن جماعۃ صحیحۃ عندہما وفاسدۃ عندا لامام ولیست بباطلۃ حتی تفید الملك بالقبض کذا فی جواہر الاخلاطی (بعد سطر)ھبۃ المشاع فیما یتمل القسمۃ لایجوز سواء کانت من شریکہ اومن غیر شریکہ ولو قبضھا ہل تفید الملك ذکر حسام الدین فی کتاب الواقعات مشاع چیز کو جب دو افراد یا جماعت کو ہبہ کرے صاحبین کے نزدیك صحیح ہے اور امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك فاسد ہے اور باطل نہیں حتی کہ قبضہ ہوجانے پر ملك کے لئے مفید ہوگا یوں جواہر اخلاطی میں ہے(اور ایك سطربعد فرمایا کہ)قابل تقسیم مشاع چیز کا ہبہ خواہ شریك یا غیر شریك کو ہو اور قبضہ دے دیا تو مفید ملك ہوگا یانہیںحسام الدین نے کتاب الواقعات میں ذکر کیا کہ مختار
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۸€
ان المختار انہ لاتفید الملك وذکر فی موضع اخر انہ تفید الملك ملکافاسدا وبہ یفتی کذا فی السراجیۃ ۔ یہ ہے کہ مفید ملك نہ ہوگااور دوسرے مقام میں ذکر کیا ملکیت فاسدہ کا فائدہ دے گااور اسی پر فتوی ہے جیسا کہ سراجیہ میں ہے۔(ت)
(عالمگیریہ جلد ثالث ص ۷۲۱)اور صاحب درمختارنے مذہب صاحبین کو ترجیح دی ہے(بروایت ذیل):
ولو سلمہ شائعا لایملکہ فلاینفذ تصرفہ فیہ اھ لکن فیہا عن الفصولین الھبۃ الفاسدۃ تفید الملك بالقبض و بہ یفتی ومثلہ فی البزازیۃ علی خلاف ماصححہ فی العمادیۃ لکن لفظ الفتوی اکد من لفظ الصحیح کما بسطہ المصنف قولہ لکن لفظ الفتوی استدراك علی مایستفید من قولہ ماصحہ فی العمادیۃ من ان القولین سواء حیث کان لفظ الفتوی اکد فیکون العمل علی مافی الفصول والبزازیۃ لانہ قال وبہ یفتی وھو اکد فی الصحیح اھ ۔ اگر شائع حالت میں قبضہ رہا تو مالك نہ ہوگا تو اس کا تصرف نہ نافذ ہوگا اھ لیکن اسی میں فصولین سے منقول ہے کہ فاسد ہبہ پر قبضہ ملك کا فائدہ دیتاہے اور اسی پر فتوی ہے اور اسی کی مثل بزازیہ میں ہے جوکہ عمادیہ کی تصحیح کے خلاف ہےلیکن فتوی کا لفظ زیادہ مؤکد ہے صحیح کے مقابلہ میں جیسا کہ مصنف نے اپنے قول کو مبسوط ذکر کیا کہ لفظ فتوی عمادیہ کے قول تصحیح سے مستفاد پر استدراك ہے کہ دونوں قول مساوی ہوں تو فتوی والاقول زیادہ قوی ہوتاہےتو عمل فصولین اور بزازیہ کے بیان پر ہوگا کیونکہ ان میں فتوی کا ذکر ہے اور اسی پر فتوی کا لفظ زیادہ قوی ہے صحیح مذہب میں اھ(ت)
(تکلمہ شامی جلد ثانی کتاب الھبۃ ص ۳۴۴)بہر کیف ہبہ مشاع کا مسئلہ اختلافی ہے کوئی اہل فہم اس کا اتفاق میں نہیں ڈال سکتا لیکن فی الواقع پہلے سے قبضہ موہوب لہ کا بطور امانت کے ہے(بروایت ذیل):
(عالمگیریہ جلد ثالث ص ۷۲۱)اور صاحب درمختارنے مذہب صاحبین کو ترجیح دی ہے(بروایت ذیل):
ولو سلمہ شائعا لایملکہ فلاینفذ تصرفہ فیہ اھ لکن فیہا عن الفصولین الھبۃ الفاسدۃ تفید الملك بالقبض و بہ یفتی ومثلہ فی البزازیۃ علی خلاف ماصححہ فی العمادیۃ لکن لفظ الفتوی اکد من لفظ الصحیح کما بسطہ المصنف قولہ لکن لفظ الفتوی استدراك علی مایستفید من قولہ ماصحہ فی العمادیۃ من ان القولین سواء حیث کان لفظ الفتوی اکد فیکون العمل علی مافی الفصول والبزازیۃ لانہ قال وبہ یفتی وھو اکد فی الصحیح اھ ۔ اگر شائع حالت میں قبضہ رہا تو مالك نہ ہوگا تو اس کا تصرف نہ نافذ ہوگا اھ لیکن اسی میں فصولین سے منقول ہے کہ فاسد ہبہ پر قبضہ ملك کا فائدہ دیتاہے اور اسی پر فتوی ہے اور اسی کی مثل بزازیہ میں ہے جوکہ عمادیہ کی تصحیح کے خلاف ہےلیکن فتوی کا لفظ زیادہ مؤکد ہے صحیح کے مقابلہ میں جیسا کہ مصنف نے اپنے قول کو مبسوط ذکر کیا کہ لفظ فتوی عمادیہ کے قول تصحیح سے مستفاد پر استدراك ہے کہ دونوں قول مساوی ہوں تو فتوی والاقول زیادہ قوی ہوتاہےتو عمل فصولین اور بزازیہ کے بیان پر ہوگا کیونکہ ان میں فتوی کا ذکر ہے اور اسی پر فتوی کا لفظ زیادہ قوی ہے صحیح مذہب میں اھ(ت)
(تکلمہ شامی جلد ثانی کتاب الھبۃ ص ۳۴۴)بہر کیف ہبہ مشاع کا مسئلہ اختلافی ہے کوئی اہل فہم اس کا اتفاق میں نہیں ڈال سکتا لیکن فی الواقع پہلے سے قبضہ موہوب لہ کا بطور امانت کے ہے(بروایت ذیل):
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۸€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۹€
قرۃ عیون الاخیار(تکملہ ردالمحتار)کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۳۱۲€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۹€
قرۃ عیون الاخیار(تکملہ ردالمحتار)کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۳۱۲€
اقول:بیانہ ان الترکۃ فی یداحد الورثۃ امانۃ فاذا انکرھا اومنعہا صار غاصبا میں کہتاہوں اس کا بیان یہ ہے کہ ترکہ کسی ایك وارث کے قبضہ میں ہو تو وہ امانت ہے اگر وہ اس سے انکا ر کردے یانہ تو غاصب ہوجائیگا۔(ت)
(تکملہ شامی جلد ثانی ص ۱۷۵ سطر ۱۸ فصل التخارج)اور قبضہ امین موہوب لہ کے لئے تجدید قبض کی ضرورت نہیں تو ہبہ صحیح وتام ہوگیا(روایت):
وملك بالقبول بلاقبض جدید لوالموھوب فی ید الموھوب ولو قبض اوامانۃ لانہ عامل لنفسہ ۔ اگر موہوب چیز موہوب لہ کے قبضہ میں ہو تو قبول کرنے سے قبضہ جدید کے بغیر مالك ہوجائے گا اگر چہ بطور قبضہ سابق ہو یا بطور امانت ہو کیونکہ قبول کا عمل اپنے لئے ہی ہوگا۔ (ت)
(درمختار کتا ب الہبہ)اور مدعیہ جب تصرف مدعاعلیہ پر مطلع رہ کر ساکت رہی ہے اور ابراء عن الدعوی بھی لکھ دیا ہے اور میعاد سماعت دعوی کا بھی گزر گیا ہے تو قضاء دعوی ا س کا قاتل سماعت نہیں(بروایت ذیل):
وفی الحامدیۃ عن الولوالجیۃ رجل تصرف زمانا فی الارض ورجل اخر رأی الارض والتصرف ولم یدع و مات علی ذلك لم تسمع بعد ذلك دعوی ولدہ تترك علی ید التصرف لان الحال شاھد (وبعد اسطر)واذ ا کان المدعی ناظر اومطلعا علی تصرف المدعی علیہ الی ان مات المدعی علیہ لاتسمع الدعوی حامدیہ میں ولوالجیہ سے منقول ہےایك شخص زمانہ سے ایك زمین میں تصرف کررہاہے اور دوسرا شخص زمین اور تصرف کو دیکھ رہا ہے اور کوئی دعوی کئے بغیر فوت ہوگیا تو اس کی اولاد کا دعوی اس میں مسموع نہ ہوگا اور وہ تصرف کرنے والے کے قبضہ میں رہے کیونکہ حال شاہد ہے(اور چند سطروں بعد فرمایا) جب مدعیمدعی علیہ کے تصرف پر مطلع اور دیکھ رہا ہو حتی کہ مدعی علیہ اپنے تصرف پر فوت ہوا تو اب اس کے ورثاء پر مدعی کا دعوی
(تکملہ شامی جلد ثانی ص ۱۷۵ سطر ۱۸ فصل التخارج)اور قبضہ امین موہوب لہ کے لئے تجدید قبض کی ضرورت نہیں تو ہبہ صحیح وتام ہوگیا(روایت):
وملك بالقبول بلاقبض جدید لوالموھوب فی ید الموھوب ولو قبض اوامانۃ لانہ عامل لنفسہ ۔ اگر موہوب چیز موہوب لہ کے قبضہ میں ہو تو قبول کرنے سے قبضہ جدید کے بغیر مالك ہوجائے گا اگر چہ بطور قبضہ سابق ہو یا بطور امانت ہو کیونکہ قبول کا عمل اپنے لئے ہی ہوگا۔ (ت)
(درمختار کتا ب الہبہ)اور مدعیہ جب تصرف مدعاعلیہ پر مطلع رہ کر ساکت رہی ہے اور ابراء عن الدعوی بھی لکھ دیا ہے اور میعاد سماعت دعوی کا بھی گزر گیا ہے تو قضاء دعوی ا س کا قاتل سماعت نہیں(بروایت ذیل):
وفی الحامدیۃ عن الولوالجیۃ رجل تصرف زمانا فی الارض ورجل اخر رأی الارض والتصرف ولم یدع و مات علی ذلك لم تسمع بعد ذلك دعوی ولدہ تترك علی ید التصرف لان الحال شاھد (وبعد اسطر)واذ ا کان المدعی ناظر اومطلعا علی تصرف المدعی علیہ الی ان مات المدعی علیہ لاتسمع الدعوی حامدیہ میں ولوالجیہ سے منقول ہےایك شخص زمانہ سے ایك زمین میں تصرف کررہاہے اور دوسرا شخص زمین اور تصرف کو دیکھ رہا ہے اور کوئی دعوی کئے بغیر فوت ہوگیا تو اس کی اولاد کا دعوی اس میں مسموع نہ ہوگا اور وہ تصرف کرنے والے کے قبضہ میں رہے کیونکہ حال شاہد ہے(اور چند سطروں بعد فرمایا) جب مدعیمدعی علیہ کے تصرف پر مطلع اور دیکھ رہا ہو حتی کہ مدعی علیہ اپنے تصرف پر فوت ہوا تو اب اس کے ورثاء پر مدعی کا دعوی
حوالہ / References
قرۃ عیون الاخیار(تکملہ ردالمحتار) کتاب الصلح فصل فی التخارج داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۱۸۵€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰€
قرۃ عیون الاخیار تکملہ ردالمحتار کتاب الدعوی باب التخالف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۳۴۷€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰€
قرۃ عیون الاخیار تکملہ ردالمحتار کتاب الدعوی باب التخالف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۳۴۷€
علی ورثۃ کما مرعن الخلاصۃ (و بعد سطر)والظاھر ان الموت لیس بقید وانہ لاتقدیر بمدۃ مع الاطلاع علی التصرف لما ذکرہ المصنف والشارح فی مسائل شتی اخر الکتاب(وبعد اسطر)اقول:وعلی ھذا الوادعی علی اخردارا مثلا وکان المدعی علیہ متصرفا فیہا ھدماوبناء او مدۃ ثلثین سنۃ وسواء وبناء او مدۃ ثلثین سنۃ وسواء فیہ الوقف و الملك ولوبلانھی سلطانی اوخمس عشر سنۃ ولابلاھدم وبناء فیھما والمدعی مطلع علی التصرف فی الصور الثلاث مشاھد لہ فی بلدۃ واحدۃ ولم یدع ولم یمنعہ من الدعوی مانع الشرعی لاتسمع دعواہ علیہ اما الاول فلا طلاعہ علی تصرفہ ھدما وبناء وسکوتہ وھو مانع من الدعوی المدۃ المذبورۃ وسکوتہ وھو دلیل علی عدم الحق لہ ولان صحۃ الدعوی شرط لصحۃ القضاء و المنع منہ حکم اجتہادی کما علمت واما الثالث فلمنع من السلطان مسموع نہ ہوگا جیسا کہ خلاصہ کے حوالے سے گزرا(اور ایك سطر بعدفرمایا)اور ظاہر یہ ہے کہ موت شرط نہیں اور مطلع رہنے کی مدت کا تعین بھی نہیں ہےیہ مصنف اور شارح نے مسائل شتی آخرالکتاب میں ذکر کیا ہے(اورچند سطر بعد فرمایا)میں کتاہوں اس بناء پر اگر کوئی دوسرے پر مکان کا دعوی کرے حالانکہ مدعی علیہ اس مکان میں تیس سال سے گرانے بنانے جیساتصرف کرتا رہاخواہ یہ مکان وقف ہو یا ملك اگر چہ حکمران کی ممانعت نہ ہویا پندرہ سال تك تصرف گرانے بنانے والانہ بھی ہو اور مدعی یہ سب کچھ دیکھ رہا ہو اس شہر میں ہونے کے باوجود نہ دعوی کرتے نہ ہی دعوی سے کوئی شرعی مانع ہو تو اب مدعی کا اس مکان پر دعوی مسموع نہ ہوگاان تینوں صورتوں میں سے پہلی صورت میں اس لئے کہ وہ گرانے بنانے والے تصرف پر مطلع ہونے کی باوجود خاموش رہا یہ چیز دعوی سے مانع ہوگئی جیسا کہ تو معلوم کرچکا لیکن دوسری صورت میں اس لئے کہ مذکورہ مدت تك دعوی سے خاموشی اس بات کی دلیل ہے کہ اس مکان میں اس کا حق نہیں ہےاور اس لئے بھی کہ دعوی کاصحیح ہونا صحت قضا کے لئے شرط ہے اور دعوی ہے باز رہنا اجتہادی معاملہ ہے جیسا کہ تو معلوم کرچکااور تیسری صورت میں
حوالہ / References
قرۃ عیون الاخیار تکملہ کتاب الدعوٰی التخالف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۳۴۷€
قرۃ عیون الاخیار تکملہ کتاب الدعوٰی التخالف داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ ∞/۳۴۷€
قرۃ عیون الاخیار تکملہ کتاب الدعوٰی التخالف داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ ∞/۳۴۷€
نصرالرحمن قضاءۃ فی سائر ممابلکہ عن سماعہا بعد خمس عشر سنۃ اذا کان ترکہا بغیر عذر شرعی فی الملك ۔تکملہ شامی جلد اول باب التخالف ص ۳۷۷ سطر ۲
واماالابراء من دعوی العین فجائر کما فی الدرر وھوان یقول برئت عنہا اوعن خصوصی فیہا او عن دعوای ھذہ الدار لاتسمع دعواہ ولابینۃ ۔
تکملہ شامی جلد ثانی ص ۱۸۰ سطر۳۱ کتاب الصلح۔
فی البزازیۃ عن المحیط لوابراء احد الورثۃ الباقیۃ ثم ادعی الترکۃ وانکرلاتسمع دعواہ ۔
تنقیح حامدیہ جلد ثانی ص ۵۴ سطر ۹ کتاب الاقرار۔
فی البزازیۃ ابراء عن الدعاوی ثم ادعی علیہ ارثان عن ابیہ ان کان مات ابوہ قبل الابراء لاتصح والدعوی ۔
عقود الدریہ فی تنقیح الحامدیہ جلد ثانی کتاب الدعوی۔ اس لئے کہ حکمران کی پندرہ سال کے بعد سماعت کی ممانعت اﷲ تعالی کی طرف سے اس کے تمام حکومتی علاقہ کے قاضیوں کے لئے رحمت ہے خصوصا کوئی عذر نہ ہونے کی صورت میں یہ تاخیر ہو۔(ت)
لیکن کسی معین چیز کے دعوی میں بری کردینا جائز ہے جیسا کہ درر میں ہےاور ابراء یہ ہے کہہ دے کہ میں نے بری کردیا یا اس مکان کے جھگڑے سے یا اپنے دعوی سے میں نے بری کردیاتو اب ا س کا دعوی اور گواہی قابل سماعت نہ ہوگی۔(ت)
کتا ب الصلح میں بزازیہ سے بحولہ محیط منقول ہےکہ اگر ایك وارث باقی وارثوں کو بری کرکے پھر بعد میں ترکہ پر دعوی کرے تو مسموع نہ ہوگا(ت)
بزازیہ میں ہے کہ اگر کہا میں اپنے دعووں سے بری کرتاہوںپھر اس نے دوسرے پر والد کی وراثت کا دعوی کردیاتو اگر بری کرنے سے قبل واد فوت ہو ا تو دعوی مسموع نہ ہوگا۔(ت
واماالابراء من دعوی العین فجائر کما فی الدرر وھوان یقول برئت عنہا اوعن خصوصی فیہا او عن دعوای ھذہ الدار لاتسمع دعواہ ولابینۃ ۔
تکملہ شامی جلد ثانی ص ۱۸۰ سطر۳۱ کتاب الصلح۔
فی البزازیۃ عن المحیط لوابراء احد الورثۃ الباقیۃ ثم ادعی الترکۃ وانکرلاتسمع دعواہ ۔
تنقیح حامدیہ جلد ثانی ص ۵۴ سطر ۹ کتاب الاقرار۔
فی البزازیۃ ابراء عن الدعاوی ثم ادعی علیہ ارثان عن ابیہ ان کان مات ابوہ قبل الابراء لاتصح والدعوی ۔
عقود الدریہ فی تنقیح الحامدیہ جلد ثانی کتاب الدعوی۔ اس لئے کہ حکمران کی پندرہ سال کے بعد سماعت کی ممانعت اﷲ تعالی کی طرف سے اس کے تمام حکومتی علاقہ کے قاضیوں کے لئے رحمت ہے خصوصا کوئی عذر نہ ہونے کی صورت میں یہ تاخیر ہو۔(ت)
لیکن کسی معین چیز کے دعوی میں بری کردینا جائز ہے جیسا کہ درر میں ہےاور ابراء یہ ہے کہہ دے کہ میں نے بری کردیا یا اس مکان کے جھگڑے سے یا اپنے دعوی سے میں نے بری کردیاتو اب ا س کا دعوی اور گواہی قابل سماعت نہ ہوگی۔(ت)
کتا ب الصلح میں بزازیہ سے بحولہ محیط منقول ہےکہ اگر ایك وارث باقی وارثوں کو بری کرکے پھر بعد میں ترکہ پر دعوی کرے تو مسموع نہ ہوگا(ت)
بزازیہ میں ہے کہ اگر کہا میں اپنے دعووں سے بری کرتاہوںپھر اس نے دوسرے پر والد کی وراثت کا دعوی کردیاتو اگر بری کرنے سے قبل واد فوت ہو ا تو دعوی مسموع نہ ہوگا۔(ت
حوالہ / References
قرۃ عیون الاخیار تکملہ ردالمحتار کتاب الدعوٰی باب التخالف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱/ ۴۸۔۳۴۷€
قرۃ عیون الاخیار تکملہ ردالمحتار کتاب الصلح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۱۶۲€
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیہ کتاب الاقرار ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۵۴€
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیہ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۶۳€
قرۃ عیون الاخیار تکملہ ردالمحتار کتاب الصلح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۱۶۲€
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیہ کتاب الاقرار ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۵۴€
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیہ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۶۳€
وکذلك لو قال وھبت الذی لی علیہ من مالی فہو برئ من ذلك ۔ اور یوں ہی اگر کہا میں نے اس پر اپنا مال اس کو ہبہ کیا تو بری ہوجائے گا۔(ت)
عالمگیریہ جلد ثالث کتا ب الاقرار ص ۵۸۴ اور مدعاعلیہ کا قبضہ قدیم سے بطور امانت یاغصب کے جب ثابت ہے تو شرعا مدعیہ کو کسی طرح حق رجوع حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ رجوع بعد التسلیم کے واسطے قضا یا رضا شرط ہے(بروایت ذیل):
وبعد التسلیم لیس لہ حق الرجوع فی ذی الرحم المحرم وفیما سوی ذلك لہ حق الرجوع الاان بعد التسلم لاینفرد الواھب بالرجوع بل یحتاج فیہ الی القضاء اوالرضاء ۔ قبضہ دینے کے بعد محرم سے واپس لینے کا اس کو حق نہ ہوگااور غیر محرم سے واپسی کاحق ہے مگر قبضہ دینے کے بعد واہب کو خود واپس لینے کا اختیار نہ ہوگا بلکہ قضاء یا باہمی رضامندی ضروری ہوگی۔(ت)
تکملہ شامی جلد ثانی ص۳۵۸ سطرباب الرجوع فی الہبہصورت مسئولہ میں رضا مدعا علیہ کی تو ہے نہیں اور صحت قضا کے واسطے صحت دعوی شرط ہے اور وہ یہاں نہیں پائی جاتی کمامرپس بوجوہات قویہ بالامدعیۃ کونہ حق رجوع حاصل ہے اور نہ دعوی اس کا قابل سماعت ہے خاص کر سلطنت انگلشیہ میں میعاد سماعت ۱۲ سال مقرر ہے اور بناء نہی سلطانی پر سماع دعوی زائد المیعاد قضاء تو نافذ نہیں قبضہ مدعا علیہ کا اگر وفات مسماۃ بہرائی سے قرض کیا جائے تب بھی دعوی مدعیہ زائد المیعادہے کیونکہ وفات اس کی کو ۱۶ سال گزر گئے ہیں اورہبہ نامہ مرقومہ اگر چہ ظاہرا ہبہ مشاع ہے مگر حقیقت میں ابراء ہے(بروایت ذیل):
وحاصل ان الابراء المتعلق بالاعیان اماا ن یکون عن دعواہا وہو صحیح مطلقا وان تعلق بنفسہا فان کانت مغصوبۃ ہالکۃ صح اسی کا حاصل یہ ہے کہ معین موجود چیز سے متعلق بری کرنایہ اس پر دعوی ہے براءت میں تو وہ مطلقا صحیح ہےاور اگر نفس چیز معین سے براءت کا تعلق ہو تو اگر چہ وہ چیز مغصوب ہلاك شدہ
عالمگیریہ جلد ثالث کتا ب الاقرار ص ۵۸۴ اور مدعاعلیہ کا قبضہ قدیم سے بطور امانت یاغصب کے جب ثابت ہے تو شرعا مدعیہ کو کسی طرح حق رجوع حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ رجوع بعد التسلیم کے واسطے قضا یا رضا شرط ہے(بروایت ذیل):
وبعد التسلیم لیس لہ حق الرجوع فی ذی الرحم المحرم وفیما سوی ذلك لہ حق الرجوع الاان بعد التسلم لاینفرد الواھب بالرجوع بل یحتاج فیہ الی القضاء اوالرضاء ۔ قبضہ دینے کے بعد محرم سے واپس لینے کا اس کو حق نہ ہوگااور غیر محرم سے واپسی کاحق ہے مگر قبضہ دینے کے بعد واہب کو خود واپس لینے کا اختیار نہ ہوگا بلکہ قضاء یا باہمی رضامندی ضروری ہوگی۔(ت)
تکملہ شامی جلد ثانی ص۳۵۸ سطرباب الرجوع فی الہبہصورت مسئولہ میں رضا مدعا علیہ کی تو ہے نہیں اور صحت قضا کے واسطے صحت دعوی شرط ہے اور وہ یہاں نہیں پائی جاتی کمامرپس بوجوہات قویہ بالامدعیۃ کونہ حق رجوع حاصل ہے اور نہ دعوی اس کا قابل سماعت ہے خاص کر سلطنت انگلشیہ میں میعاد سماعت ۱۲ سال مقرر ہے اور بناء نہی سلطانی پر سماع دعوی زائد المیعاد قضاء تو نافذ نہیں قبضہ مدعا علیہ کا اگر وفات مسماۃ بہرائی سے قرض کیا جائے تب بھی دعوی مدعیہ زائد المیعادہے کیونکہ وفات اس کی کو ۱۶ سال گزر گئے ہیں اورہبہ نامہ مرقومہ اگر چہ ظاہرا ہبہ مشاع ہے مگر حقیقت میں ابراء ہے(بروایت ذیل):
وحاصل ان الابراء المتعلق بالاعیان اماا ن یکون عن دعواہا وہو صحیح مطلقا وان تعلق بنفسہا فان کانت مغصوبۃ ہالکۃ صح اسی کا حاصل یہ ہے کہ معین موجود چیز سے متعلق بری کرنایہ اس پر دعوی ہے براءت میں تو وہ مطلقا صحیح ہےاور اگر نفس چیز معین سے براءت کا تعلق ہو تو اگر چہ وہ چیز مغصوب ہلاك شدہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاقرار الباب الرابع عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۲۰۴€
قرۃ عیون الاخیار تکملہ ردالمحتار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الہبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۳۲۴€
قرۃ عیون الاخیار تکملہ ردالمحتار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الہبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۳۲۴€
ایضا کالدین وان کانت قائمۃ فہی بمعنی البراءۃ عنہا عن ضمانہا لو ھلکت وتصیر بعد البراءۃ من عینہا کالامۃ اتضمن الابالتعدی علیہا و ان کانت العین امانۃ فالبراءۃ لاتصح دیانۃ بمعنی انہ اذا ظفر بھا مالکھا اخذھا وتصح قضاء فلایسمع القاضی دعواہ بعد ابراء ھذا ملخص مااستفید من ھذا المقام ۔ ہے تو دین کی طرح اس کی براءت صحیح ہے اوروہ چیز موجود ہو تو پھر اس چیز سے براءت کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ہلاك ہوجائے تو اس کے ضمان سے براءت ہے اور اس موجود سے برائت کے بعد تو پھر وہ چیز امانت کی طرح ہوگی تو ہلاك کئے بغیر ضمان نہ دے گااور وہ چیز امانت پر ہوتو براءت دیانۃ صحیح نہ ہوگی اس معنی سے کہ اگر مالك اس چیز پر قابو پالے تو حاصل کرسکتاہے۔لیکن قضاء یہ براءت صحیح ہوگی تو برائت کے بعد قاضی اس کے دعوی کو نہ سنے گااس مقام میں حاصل شدہ فائدہ کا یہ خلاصہ ہے۔(ت)
(تکملہ شامی جلد ثانی ص ۱۸۳ سطر ۵ کتا ب الصلح)ہبہ نامہ میں اگر چہ لفظ براءت کا صریح نہیں مگر لفظ ہبہ سے بھی براءت ہوسکتی ہے کما مرعن العالمگیریۃ(جیسا کہ عالمگیریہ سے گزرا۔ت)خصوصا لفظ مندرجہ ہبہ نامہ(کہ کوئی دعوی ودخل نہیں ہے اورنہ ہوگا)نص صریح براءت عن الدعوی پر ہے جو بالاتفاق صحیح ہےلہذا شرعا قبضہ مالکانہ مدعاعلیہ رکھ کر دعوی مدعیہ کا قضاء قابل اخراج ہے واﷲ تعالی اعلم۔
جواب دیوبند
اقول:قال فی الدرالمختار لاتتم بالقبض فیما بقسم ولووھبہ لشریکہ اولاجنبی لعدم تصور القبض الکامل کما فی عامۃ الکتب فکان ھوا لمذھب الخ ولو سلمہ شائعا الا یملکہ الخ درمختار وفی ردالمحتار میں کہتاہوں درمختار میں فرمایا:قابل تقسیم چیز کا ہبہ قبضہ دینے سے تام نہ ہوگا خواہ شریك کو ہبہ کیا یا اجنبی کوکیونکہ اس میں کامل قبضہ کا تصور نہیں جیسا کہ عام کتب میں ہے تویہی مذہب ہے الخ اور اگر مشاع کا قبضہ دیا تو موہوب لہ مالك نہ بنے گا الخ درمختار اور
(تکملہ شامی جلد ثانی ص ۱۸۳ سطر ۵ کتا ب الصلح)ہبہ نامہ میں اگر چہ لفظ براءت کا صریح نہیں مگر لفظ ہبہ سے بھی براءت ہوسکتی ہے کما مرعن العالمگیریۃ(جیسا کہ عالمگیریہ سے گزرا۔ت)خصوصا لفظ مندرجہ ہبہ نامہ(کہ کوئی دعوی ودخل نہیں ہے اورنہ ہوگا)نص صریح براءت عن الدعوی پر ہے جو بالاتفاق صحیح ہےلہذا شرعا قبضہ مالکانہ مدعاعلیہ رکھ کر دعوی مدعیہ کا قضاء قابل اخراج ہے واﷲ تعالی اعلم۔
جواب دیوبند
اقول:قال فی الدرالمختار لاتتم بالقبض فیما بقسم ولووھبہ لشریکہ اولاجنبی لعدم تصور القبض الکامل کما فی عامۃ الکتب فکان ھوا لمذھب الخ ولو سلمہ شائعا الا یملکہ الخ درمختار وفی ردالمحتار میں کہتاہوں درمختار میں فرمایا:قابل تقسیم چیز کا ہبہ قبضہ دینے سے تام نہ ہوگا خواہ شریك کو ہبہ کیا یا اجنبی کوکیونکہ اس میں کامل قبضہ کا تصور نہیں جیسا کہ عام کتب میں ہے تویہی مذہب ہے الخ اور اگر مشاع کا قبضہ دیا تو موہوب لہ مالك نہ بنے گا الخ درمختار اور
حوالہ / References
قرۃ عیون الاخیار تکملہ ردالمحتار کتاب الصلح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۱۶۴€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۹€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۹€
وکما یکون للواھب الرجوع فیہا یکون الوارثۃ بعد موتہ الخ فہذا یفیدان للواھب استردادہ من ورثۃ الموھوب لہ وایضا لحق لایسقط بتقادم الزمان کما حققہ المحقق الشامی فی مسائل شتی من اخر الکتاب۔واﷲتعالی اعلم بالصوابکتب عزیز الرحمن عفی عنہ ۲۰ رجب ۱۳۲۷ھ ردالمحتار میں ہے کہ جس طرح خود واہب کو رجوع کا حق ہے اسی طرح اس کی موت کے بعد اس کے وارثوں کو حق ہے الخاس سے یہ فائدہ ہوا کہ واہب کو موہوب لہ کی موت کے بعد اس کے وارثوں سے واپس لینے کاحق ہے اور نیزکوئی حق پرانا زمانہ ہونے کی وجہ سے ساقط نہ ہوگا۔جیسا کہ کتاب کے آخرمیں علامہ شامی نے مسائل شتی میں اس کی تحقیق فرمائی واﷲ تعالی اعلم بالصوابکتبہ عزیز الرحمان عفی عنہ ۲۰ رجب ۱۳۲۷ھ(ت)
باسمہ تعالی
از ابو المنظور محمد غوث بخش مقیم بیت العلم والحکم پر وچڑان موضع کوٹلہ مدہو ڈاکخانہ غوث پور ریاست بہاولپور تحصیل خانپور۔
بعالی خدمت اسم درجت مدراء سجال العلوم علی العمود حضرت مولنا ومخدومنا قبلہ آمال وآمال خیار عباداﷲ المتعال حضرت احمد رضا خاں صاحب مدظلہ
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ مزاج شریف عنصر لطیف
خدمت میں ضروری عرض ہے توجہ سے سن کر جواب بتدقیق وغور تمام بعجلت عطا فرمائیں ایك استفتاء متعلق ہبہ مشاع وطلاق صبی بمعہ ٹکٹ کچھ عرصہ سے خدمت میں بھیجا تھامولنا امجد علی صاحب اعظمی کے خط سے معلوم ہواکہ نہیں ملاپس حسب الایماء ان کے دوسری نقل ارسال ہے کرم نوازی من ! عدالت ڈسٹرکٹ ججی خانپور میں دعوی عن الہبہ کا گزرا ہے کہ جس کا رجوع شرع مقدس کی طرف ہے علماء علاقہ ہذا آپس میں مختلف ہیںحضرت اعلی کی خدمت اقدس میں فتوی مع الجواب ارسال ہے براہ کرم بخشی و حسبۃ ﷲ بامعان نظر فتوی مرسلہ پر دستخط ومہر ہالشمولیت جماعت علمائے کرام ثبت فرمادیں بمعہ مزید تائید جواب اس کے کہ واقعات صورت حال از کتاب القضاء مخالف دعوی وغیرہ وغیرہ رجوع عن الہبہ سے مانع ہےاپنی ذات باحسنات سے اضافہ فرمادیںجناب والاایك نقل دیوبند بھی ارسا ل کی گئی تھی
باسمہ تعالی
از ابو المنظور محمد غوث بخش مقیم بیت العلم والحکم پر وچڑان موضع کوٹلہ مدہو ڈاکخانہ غوث پور ریاست بہاولپور تحصیل خانپور۔
بعالی خدمت اسم درجت مدراء سجال العلوم علی العمود حضرت مولنا ومخدومنا قبلہ آمال وآمال خیار عباداﷲ المتعال حضرت احمد رضا خاں صاحب مدظلہ
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ مزاج شریف عنصر لطیف
خدمت میں ضروری عرض ہے توجہ سے سن کر جواب بتدقیق وغور تمام بعجلت عطا فرمائیں ایك استفتاء متعلق ہبہ مشاع وطلاق صبی بمعہ ٹکٹ کچھ عرصہ سے خدمت میں بھیجا تھامولنا امجد علی صاحب اعظمی کے خط سے معلوم ہواکہ نہیں ملاپس حسب الایماء ان کے دوسری نقل ارسال ہے کرم نوازی من ! عدالت ڈسٹرکٹ ججی خانپور میں دعوی عن الہبہ کا گزرا ہے کہ جس کا رجوع شرع مقدس کی طرف ہے علماء علاقہ ہذا آپس میں مختلف ہیںحضرت اعلی کی خدمت اقدس میں فتوی مع الجواب ارسال ہے براہ کرم بخشی و حسبۃ ﷲ بامعان نظر فتوی مرسلہ پر دستخط ومہر ہالشمولیت جماعت علمائے کرام ثبت فرمادیں بمعہ مزید تائید جواب اس کے کہ واقعات صورت حال از کتاب القضاء مخالف دعوی وغیرہ وغیرہ رجوع عن الہبہ سے مانع ہےاپنی ذات باحسنات سے اضافہ فرمادیںجناب والاایك نقل دیوبند بھی ارسا ل کی گئی تھی
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۱€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۳،€ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۷۴€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۳،€ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۷۴€
مگر مفتی دیوبند نے بڑی بے غوری سے جواب مختصر لکھ کر استفتاء واپس کردیا ہے جس پر بڑی حیرت دامنگیر ہے کہ یہ کیاجواب ہے کہ کتاب القضاء مخالف ومخالف دعوی وغیرہ پر کچھ بھی غور وتوجہ نہیں کیمرکز فتاوی جناب اقدس میں التجا ہےکہ بنجنسہ استفتار جس پر مفتی دیوبند کا جواب ہے غور فرمار بجلدی جواب مفصل بحوالہ صفحہ کتاب وغیرہ معززفرمائیں اور چند پیشی پہلے گزرگئی ہیں فقط۱۰ شعبان ۱۳۳۷ھ / ۱۱ مئی ۱۹۱۹ء
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصوابیہاں چند امورپر لحاظ ضرور جن سے انکشاف جواب وظہور صواب ہووباﷲ التوفیق۔
اولا:ے صالح قسمت میں ہبہ مشاع باجماع ائمہ حنفیہ غیر نافذ ہےصاحبین وغیرہما کسی کو خلاف نہیںامام شافعی کا خلاف ہے رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔بدائع امام ملك العلماء جلد ششم ص ۱۱۹:
لاتجوز ھبۃ المشاع فیمایقسم وھذا عندنا وعند الشافعی تجوز ۔ قابل تقسیم مشاع چیز کاہبہ ہمارے نزدیك جائز نہیں اورامام شافعی کے نزدیك جائز ہے۔(ت)
ہدایہ ج ۲ ص ۲۱۲:
لاتجوز الھبۃ فیما یقسم الامجوزۃ مقسومۃ وقال الشافعی یجوز ۔ قابل تقسیم چیز کاہبہ تقسیم شدہ ہوئے بغیر جائز نہیںاور امام شافعی نے فرمایا جائزہے۔(ت)
تبیین الحقائق جلد ۵ ص ۹۳:
لاتجوز فی مشاع یقسم وقال الشافعی تجوز ۔ قابل تقسیم مشاع چیز کا ہبہ جائز نہیں اور امام شافعی رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا جائز ہے۔(ت)
ہاں اختلاف اس میں ہے کہ صرف وقت قبضہ وجود شیوع مانع جواز ہبہ ہے یاجبکہ وقت عقد بھی ہو اول قول امام ہے اور ثانی قول صاحبین رضی اﷲ تعالی عنہم اورقول ہمیشہ قول امام ہے کما حققناہ فی اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام(جیسا کہ ہم نے اس پر تحقیق"اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام"میں کی ہے۔ت)بدائع الصنائع ج ۲ ص۱۲:
الجواب:
اللھم ھدایۃ الحق والصوابیہاں چند امورپر لحاظ ضرور جن سے انکشاف جواب وظہور صواب ہووباﷲ التوفیق۔
اولا:ے صالح قسمت میں ہبہ مشاع باجماع ائمہ حنفیہ غیر نافذ ہےصاحبین وغیرہما کسی کو خلاف نہیںامام شافعی کا خلاف ہے رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔بدائع امام ملك العلماء جلد ششم ص ۱۱۹:
لاتجوز ھبۃ المشاع فیمایقسم وھذا عندنا وعند الشافعی تجوز ۔ قابل تقسیم مشاع چیز کاہبہ ہمارے نزدیك جائز نہیں اورامام شافعی کے نزدیك جائز ہے۔(ت)
ہدایہ ج ۲ ص ۲۱۲:
لاتجوز الھبۃ فیما یقسم الامجوزۃ مقسومۃ وقال الشافعی یجوز ۔ قابل تقسیم چیز کاہبہ تقسیم شدہ ہوئے بغیر جائز نہیںاور امام شافعی نے فرمایا جائزہے۔(ت)
تبیین الحقائق جلد ۵ ص ۹۳:
لاتجوز فی مشاع یقسم وقال الشافعی تجوز ۔ قابل تقسیم مشاع چیز کا ہبہ جائز نہیں اور امام شافعی رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا جائز ہے۔(ت)
ہاں اختلاف اس میں ہے کہ صرف وقت قبضہ وجود شیوع مانع جواز ہبہ ہے یاجبکہ وقت عقد بھی ہو اول قول امام ہے اور ثانی قول صاحبین رضی اﷲ تعالی عنہم اورقول ہمیشہ قول امام ہے کما حققناہ فی اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام(جیسا کہ ہم نے اس پر تحقیق"اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام"میں کی ہے۔ت)بدائع الصنائع ج ۲ ص۱۲:
حوالہ / References
بدائع الصنائع کتاب الھبۃ فصل فاما الشرائط الخ ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶ /۱۱۹€
الہدایۃ کتاب الھبۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۸۳€
تبیین الحقائق کتاب الھبۃ المطبعۃالکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر۵ /۹۳€
الہدایۃ کتاب الھبۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۸۳€
تبیین الحقائق کتاب الھبۃ المطبعۃالکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر۵ /۹۳€
ابوحنیفۃ یعتبر الشیوع عندالقبض وھما یعتبرانہ عندالعقد والقبض وھما جوز اھا لانہ لم یوجد الشیاع فی الحالین بل وجد احدھما دون الاخر ۔ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ قبضہ کے وقت شیوع کا اعتبار کرتے ہیں اور صاحبین عقد اور قبضہ دونوں میں اعتبار کرتے ہیں تو امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ ایك شخص کا دو افراد کو قابل تقسیم چیز کا ہبہ کرنا جائز نہیں کرتے کیونکہ قبضہ میں شیوع پایا جائے گا۔اورصاحبین اس کو جائز فرماتے ہیں کیونکہ عقد اور قبضہ میں شیوع نہیں ہےبلکہ صرف قبضہ میں شیوع ہے عقد میں نہیں۔ (ت)
بالجملہ اگر شیوع صرف وقت عقد ہونہ وقت قبض جیسے دو شخص اپنا مکان مشترك جس میں تیسرا شریك نہیں شخص واحد کو ہبہ کرکے ایك سابقہ قبضہ دے دیں یہ صورت بالاجماع جائز ہےکنزو تنویر وعامہ متون میں ہے:وھب اثنان دارالواحد صح (دوافراد نے ایك شخص کو مکان ہبہ کیا تو جائز ہے۔ت)اوراگر صرف وقت قبض ہو نہ وقت عقد جیسے ایك شخص اپنا مسلم مکان دو کو ہبہ کرے یہ امام کے نزدیك ناجائز اور صاحبین کے جائزمتون میں بعد عبارت مذکورہ ہےلاعکسہ (ا س کا عکس نہیں ہے۔ت)تبیین وغیرہ شروح میں ہے:ھذا عندہ وقالایجوز (یہ امام صاحب کے نزدیك ہے۔صاحبین فرماتے ہیں جائز ہے۔ت) اور اگر عقد وقبض دونوں میں شیوع ہو جیسے ایك شخص کسی مکان یا گاؤں میں اپنا غیر منقسم حصہ کسی کو ہبہ کرے یا ایك مکان کے دو شریك ہیں ایك اپنا حصہ زید کو دوسرا عمرو کو ہبہ کریں اگر چہ معا ہبہ کیا اور معا قضہ دیا ہویہ صورتیں بالاجماع ناجائز ہیں تبیین ج ۵ ص ۹۷:
الاتری ان رجلین لووھبا رجلین علی ان نصیب احدہما لاحدہما بعینہ ونصیب الاخر للاخر لایجوز الاجماع ۔ آپ دیکھیں گے کہ دو حضرات اگردو اشخاص کو اس طرح ہبہ کریں کہ ایك کاحصہ ایك کو اور دوسرے کا حصہ دوسرے کو معین طوپر ملے تو بالاتفاق جائز نہیں۔(ت)
بالجملہ اگر شیوع صرف وقت عقد ہونہ وقت قبض جیسے دو شخص اپنا مکان مشترك جس میں تیسرا شریك نہیں شخص واحد کو ہبہ کرکے ایك سابقہ قبضہ دے دیں یہ صورت بالاجماع جائز ہےکنزو تنویر وعامہ متون میں ہے:وھب اثنان دارالواحد صح (دوافراد نے ایك شخص کو مکان ہبہ کیا تو جائز ہے۔ت)اوراگر صرف وقت قبض ہو نہ وقت عقد جیسے ایك شخص اپنا مسلم مکان دو کو ہبہ کرے یہ امام کے نزدیك ناجائز اور صاحبین کے جائزمتون میں بعد عبارت مذکورہ ہےلاعکسہ (ا س کا عکس نہیں ہے۔ت)تبیین وغیرہ شروح میں ہے:ھذا عندہ وقالایجوز (یہ امام صاحب کے نزدیك ہے۔صاحبین فرماتے ہیں جائز ہے۔ت) اور اگر عقد وقبض دونوں میں شیوع ہو جیسے ایك شخص کسی مکان یا گاؤں میں اپنا غیر منقسم حصہ کسی کو ہبہ کرے یا ایك مکان کے دو شریك ہیں ایك اپنا حصہ زید کو دوسرا عمرو کو ہبہ کریں اگر چہ معا ہبہ کیا اور معا قضہ دیا ہویہ صورتیں بالاجماع ناجائز ہیں تبیین ج ۵ ص ۹۷:
الاتری ان رجلین لووھبا رجلین علی ان نصیب احدہما لاحدہما بعینہ ونصیب الاخر للاخر لایجوز الاجماع ۔ آپ دیکھیں گے کہ دو حضرات اگردو اشخاص کو اس طرح ہبہ کریں کہ ایك کاحصہ ایك کو اور دوسرے کا حصہ دوسرے کو معین طوپر ملے تو بالاتفاق جائز نہیں۔(ت)
حوالہ / References
بدائع النصائع کتاب الھبۃ فصل واما الشرائط الخ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۱۲۱€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
کنزالدقائق کتاب الھبۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۰۹€
تبین الحقائق کتاب الھبۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۵ /۹۶€
تبین الحقائق کتاب الھبۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۵ /۹۷€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
کنزالدقائق کتاب الھبۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۰۹€
تبین الحقائق کتاب الھبۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۵ /۹۶€
تبین الحقائق کتاب الھبۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۵ /۹۷€
عالمگیریہ جلد ۴ ص ۳۷۸ ذخیرہ سے:
الشیوع من الطرفین فیما یحتمل القسمۃ مانع عن جواز الھبۃ بالاجماع ۔ دونوں طرف سے شیوع ہو تو وہ قابل تقسیم ہونے کی وجہ سے بالاتفاق جواز ہبہ کے لئے مانع ہے۔(ت)
ظاہر ہے کہ صورت مذکورہ سوال صورت ثالثہ ہے کہ صالح قسمت میں غیر منقسم ہبہ کیا ہے تو باجماع امام و صاحبین ناجائز ہے۔
ثانیا:روایت ظاہرہ اصل مذہب میں ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اﷲ تعالی عنہم کے نزدیك ہبہ مشاع کہ ناجائز ہے اور بعد قبض بھی مفید ملك نہیں ہوتا بلکہ شے بدستور ملك واہب پر رہتی ہے ہاں بعض مشایخ کے نزدیك ملك فاسد خبیث حاصل ہوجاتی ہےاسے بھی خلاف امام وصاحبین سے کچھ علاقہ نہیںبعض مشائخ کا خلاف ہے اورصحیح ومعتمد اول کہ وہی قول اما م بلکہ قول ائمہ ثلثہ اور وہی ظاہر الروایہ مصححہ ومرجحہ ہے تو اس سے عدول جائزنہیں اگرچہ بعض اس کے خلاف کو بہ یفتی(اسی پر فتوی ہے۔ت)کہیںفتاوی خیریہ میں ج ۲ ص ۱۰۱:
لاتصح ہبہ المشاع الذی یحتمل القسمۃ ولو صدق الوارث علی صدورھا من المورث فیہ لان تصدیقہ لا یصیر الفاسد صحیحا وکما لاتصح ھبتہ من الاجنبی لاتصح من الشریك کما فی اغلب الکتب ولاعبرۃ بمن شذ بمخالفتہم ولاتفید الملك فی ظاھر الروایۃ قال الزیلعی لو سلمہ شائعا لایملکہ حتی لاینفذ تصرفہ فیہ فیکون مضمونا علیہ وینفذ فیہ تصرف الواھب ذکرہ الطحطاوی وقاضی خاں وروی عن ابن رستم مثلہ وذکر عصام قابل تقسیم مشاع چیز ہو توھبہ صحیح نہ ہوگا اگرچہ وارث تصدیق کرے کہ مورث نے یہ ہبہ کیا ہے کیونکہ اس کی تصدیق فاسد کو صحیح نہیں بنا سکتی اور جس طرح اجنبی کے لئے صحیح نہیں ہے اس طرح شریك کے لئے بھی صحیح نہیں جیسا کہ عام کتب میں ہے اور جو ان کی مخالفت میں اکیلاہو تو اس کا اعتبار نہیں اور ظاہر روایت میں یہ مفید ملك نہ ہوگازیلعی نے فرمایا اگرشیوع کی حالت میں قبضہ دیا تو ملك نہ بنے اس لئے اگر تصرف کرے تو نافذ نہ ہوگا اور موہوب لہ کو ضمان دینا ہوگا۔واہب کا تصرف اس میں نافذ رہے گایہ طحطاوی اور قاضیخاں نے ذکر فرمایاہے اور ابن رستم سے اس طرح روایت ہے اور عصام نے
الشیوع من الطرفین فیما یحتمل القسمۃ مانع عن جواز الھبۃ بالاجماع ۔ دونوں طرف سے شیوع ہو تو وہ قابل تقسیم ہونے کی وجہ سے بالاتفاق جواز ہبہ کے لئے مانع ہے۔(ت)
ظاہر ہے کہ صورت مذکورہ سوال صورت ثالثہ ہے کہ صالح قسمت میں غیر منقسم ہبہ کیا ہے تو باجماع امام و صاحبین ناجائز ہے۔
ثانیا:روایت ظاہرہ اصل مذہب میں ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اﷲ تعالی عنہم کے نزدیك ہبہ مشاع کہ ناجائز ہے اور بعد قبض بھی مفید ملك نہیں ہوتا بلکہ شے بدستور ملك واہب پر رہتی ہے ہاں بعض مشایخ کے نزدیك ملك فاسد خبیث حاصل ہوجاتی ہےاسے بھی خلاف امام وصاحبین سے کچھ علاقہ نہیںبعض مشائخ کا خلاف ہے اورصحیح ومعتمد اول کہ وہی قول اما م بلکہ قول ائمہ ثلثہ اور وہی ظاہر الروایہ مصححہ ومرجحہ ہے تو اس سے عدول جائزنہیں اگرچہ بعض اس کے خلاف کو بہ یفتی(اسی پر فتوی ہے۔ت)کہیںفتاوی خیریہ میں ج ۲ ص ۱۰۱:
لاتصح ہبہ المشاع الذی یحتمل القسمۃ ولو صدق الوارث علی صدورھا من المورث فیہ لان تصدیقہ لا یصیر الفاسد صحیحا وکما لاتصح ھبتہ من الاجنبی لاتصح من الشریك کما فی اغلب الکتب ولاعبرۃ بمن شذ بمخالفتہم ولاتفید الملك فی ظاھر الروایۃ قال الزیلعی لو سلمہ شائعا لایملکہ حتی لاینفذ تصرفہ فیہ فیکون مضمونا علیہ وینفذ فیہ تصرف الواھب ذکرہ الطحطاوی وقاضی خاں وروی عن ابن رستم مثلہ وذکر عصام قابل تقسیم مشاع چیز ہو توھبہ صحیح نہ ہوگا اگرچہ وارث تصدیق کرے کہ مورث نے یہ ہبہ کیا ہے کیونکہ اس کی تصدیق فاسد کو صحیح نہیں بنا سکتی اور جس طرح اجنبی کے لئے صحیح نہیں ہے اس طرح شریك کے لئے بھی صحیح نہیں جیسا کہ عام کتب میں ہے اور جو ان کی مخالفت میں اکیلاہو تو اس کا اعتبار نہیں اور ظاہر روایت میں یہ مفید ملك نہ ہوگازیلعی نے فرمایا اگرشیوع کی حالت میں قبضہ دیا تو ملك نہ بنے اس لئے اگر تصرف کرے تو نافذ نہ ہوگا اور موہوب لہ کو ضمان دینا ہوگا۔واہب کا تصرف اس میں نافذ رہے گایہ طحطاوی اور قاضیخاں نے ذکر فرمایاہے اور ابن رستم سے اس طرح روایت ہے اور عصام نے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۷۸€
انہا تفید الملك وبہ اخذ بعض المشائخ انتھی ذکر کیا ہے کہ یہ مفیدملك ہوگااور بعض مشائخ نے اس کو اپنا یاہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے فتوی مذکورہ علامہ خیرالدین رملی کوھبہ مشاع مفید ملك موہوب لہ نہیں ذکرکرکے فرمایا ج ۴ ص ۷۸۱:
وافتی بہ فی الحامدیۃ ایضا والتاجیۃ وبہ جزم فی الجوہرۃ والبحر ونقل عن المبتغی بالغین المعجمۃ انہ لو باعہ الوھوب لہ لا یصح وفی نور العین عن الوجیز الھبۃ الفاسدۃ مضمونۃ بالقبض ولایثبت الملك فیھا الاعند اداء العوض نص علیہ محمد فی المبسوط و ھو قول ابی یوسف اھ وذکر قبلہ ھبۃ المشاع فیمایقسم لاتفید الملك عند ابی حنیفۃ وفی القھستانی لاتفید اللملك وھوالمختار کما فی المضمرات وھذا مروی عند ابی حنیفۃ وھوالصحیح اھ فحیث علمت انہ ظاھر الروایۃ وانہ نص علیہ محمد و رووہ عن ابی حنیفۃ ظہرانہ الذی علیہ العمل وان صرح بان المفتی بہ خلافہ ۔ اس پر حامدیہ وتاجیہ نے بھی فتوی دیا ہے اور اسی پر جوہرہ اور بحر میں جزم کیا ہےاور مبتغی(غین کے ساتھ)سے منقول ہے کہ اگر موہوب لہ کے نے اسے فروخت کردیا تو صحیح نہ ہوگا اور نورالعین میں وجیز سے منقول کہ فاسد ہبہ قبضہ کی وجہ سے مضمون ہوگااوراس میں ملکیت عوض کی ادائیگی کے بغیر ثابت نہ ہوگیاس پر امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے مبسوط میں نص فرمائی ہے اور یہی امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کا قول ہے اھ اور اس سے قبل ذکر فرمایا کہ قابل تقسیم مشاع کا ہبہ امام اعظم رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك مفید ملك نہیں ہےاور قہستانی میں ہے کہ وہ مفید ملك نہیں ہے اور یہی مختار ہے جیسا کہ مضمرات میں ہے اور یہ امام صاحب سے مروی ہے اور وہی صحیح ہے اھ)تو جب معلوم ہوگیا کہ یہ ظاہر الروایت ہے اور امام محمد رحمہ اﷲ تعالی کی اس پر نص ہے اور انھوں نے یہ امام صاحب سے روایت کیا ہے تو یہ صحیح ہے اگرچہ تصریح کی گئی ہو کہ اس کے خلاف پر فتوی ہے۔(ت)
ثالثا: بعض کے نزدیك اگر چہ مفید ملك ہو مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ واہب کو اس پر دعوی نہ رہا۔نہیں نہیں بلکہ اسے دعوی
ردالمحتارمیں ہے فتوی مذکورہ علامہ خیرالدین رملی کوھبہ مشاع مفید ملك موہوب لہ نہیں ذکرکرکے فرمایا ج ۴ ص ۷۸۱:
وافتی بہ فی الحامدیۃ ایضا والتاجیۃ وبہ جزم فی الجوہرۃ والبحر ونقل عن المبتغی بالغین المعجمۃ انہ لو باعہ الوھوب لہ لا یصح وفی نور العین عن الوجیز الھبۃ الفاسدۃ مضمونۃ بالقبض ولایثبت الملك فیھا الاعند اداء العوض نص علیہ محمد فی المبسوط و ھو قول ابی یوسف اھ وذکر قبلہ ھبۃ المشاع فیمایقسم لاتفید الملك عند ابی حنیفۃ وفی القھستانی لاتفید اللملك وھوالمختار کما فی المضمرات وھذا مروی عند ابی حنیفۃ وھوالصحیح اھ فحیث علمت انہ ظاھر الروایۃ وانہ نص علیہ محمد و رووہ عن ابی حنیفۃ ظہرانہ الذی علیہ العمل وان صرح بان المفتی بہ خلافہ ۔ اس پر حامدیہ وتاجیہ نے بھی فتوی دیا ہے اور اسی پر جوہرہ اور بحر میں جزم کیا ہےاور مبتغی(غین کے ساتھ)سے منقول ہے کہ اگر موہوب لہ کے نے اسے فروخت کردیا تو صحیح نہ ہوگا اور نورالعین میں وجیز سے منقول کہ فاسد ہبہ قبضہ کی وجہ سے مضمون ہوگااوراس میں ملکیت عوض کی ادائیگی کے بغیر ثابت نہ ہوگیاس پر امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے مبسوط میں نص فرمائی ہے اور یہی امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کا قول ہے اھ اور اس سے قبل ذکر فرمایا کہ قابل تقسیم مشاع کا ہبہ امام اعظم رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك مفید ملك نہیں ہےاور قہستانی میں ہے کہ وہ مفید ملك نہیں ہے اور یہی مختار ہے جیسا کہ مضمرات میں ہے اور یہ امام صاحب سے مروی ہے اور وہی صحیح ہے اھ)تو جب معلوم ہوگیا کہ یہ ظاہر الروایت ہے اور امام محمد رحمہ اﷲ تعالی کی اس پر نص ہے اور انھوں نے یہ امام صاحب سے روایت کیا ہے تو یہ صحیح ہے اگرچہ تصریح کی گئی ہو کہ اس کے خلاف پر فتوی ہے۔(ت)
ثالثا: بعض کے نزدیك اگر چہ مفید ملك ہو مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ واہب کو اس پر دعوی نہ رہا۔نہیں نہیں بلکہ اسے دعوی
حوالہ / References
فتوٰی خیریہ کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۱۲€
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۱€
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۱€
پہنچتا ہے اور بالاجماع رجوع کرسکتاہے اگر چہ یہ ہبہ ذورحم محرم کو کیا ہو حالانکہ وہ مانع رجوع ہے اور جس طرح واہب کودعوی پہنچتاہے اگر وہ مرجائے اس کا وارث دعوی کرسکتاہے حالانکہ موت احدالعاقدین بھی مانع رجوع ہے اور اگر شیئ موہوب موہوب لہ کے پاس تلف ہوجائے اس کا تاوان واہب کو دے حالانکہ موہوب بھی مانع رجوع ہے اور وجہ وہی ہے کہ ان بعض کے نزدیك بھی یہ ملك صحیح نہیں بلکہ خبیث ہے اور عقد فاسد وواجب الرد ہےفتاوی خیریہ ج ۲ ص۱۰۲ بعد عبارت مذکورہ:
ومع افادتھا اللملك عندھذا البعض اجمع الکل علی ان للواہب استرداداھا من الموھوب لہ ولو کان ذارہم محرم من الواھب قال فی جامع الفصولین رامز الفتاوی الفضی ثم اذا ھلکت افتیت بالرجوع للواھب ھبۃ فاسدۃ لذی رحم محرم منہ اذا الفاسدۃ مضمونۃ علی مامرۃ ذاکانت مضمونۃ بالقیمۃ بعد الہلاك کانت مستحققۃ الرد قبل الھلاك انتہی وکما یکون للواھب الرجوع فیھا یکون لوارثہ بعد موتہ لکونھا مستحقۃ الرد وتضمن بعد الھلاك کالبیع الفاسد اذا مات احد المتبایعین فلورثتہ نقضہ لانہ مستحق الرد و مضمون بالھلاك ۔ اس کے باوجود کہ بعض کے نزدیك یہ ہبہ مفید ملك ہے اس پر سب کا اتفاق ہے کہ وھب کو اس میں رجوع کا حق ہے اگر چہ موہوب لہ واہب کا ذی رحم محرم ہوجامع الفصولین میں فتاوی فضلی کی رمز سے فرمایا کہ پھر اگر ہلاك ہوجائے تو میں نے فتوی دیا کہ محرم کو فاسد ہبہ دینے ہیں واہب کو رجوع کا حق ہے کیونکہ فاسد ہبہ مضمون ہوتاہے جیسا کہ گزرا تو جب ہلاك ہوجانے پر قیمت برابر ضمان ہے تو ہلاك ہونے سے قبل واپس لینے کا حق ہے اھ اور جیسے واہب کو رجوع کا حق ہے تو اس کی موت کے بعد اس کے ورثاء کو رجوع کا حق ہوگا کیونکہ وہ قابل واپسی ہے او ایسا ہوجانے پر اس کا ضمان دینا ہوگا جیسا کہ فاسد بیع میں کوئی فریق فوت ہوجائے تو ا س کے ورثاء کو بیع ختم کرنے کا اختیار ہے کیونکہ وہ قابل واپسی ہے اورہلاك ہوجانے پر مضمون ہے۔(ت)
ولہذا ردالمحتار ص ۷۸۱ میں بعد عمارت مذکورہ بحال تنزل بقول دیگر اس کا محض نامفید ہونا یوں ظاہر فرمایا:
ومع افادتھا اللملك عندھذا البعض اجمع الکل علی ان للواہب استرداداھا من الموھوب لہ ولو کان ذارہم محرم من الواھب قال فی جامع الفصولین رامز الفتاوی الفضی ثم اذا ھلکت افتیت بالرجوع للواھب ھبۃ فاسدۃ لذی رحم محرم منہ اذا الفاسدۃ مضمونۃ علی مامرۃ ذاکانت مضمونۃ بالقیمۃ بعد الہلاك کانت مستحققۃ الرد قبل الھلاك انتہی وکما یکون للواھب الرجوع فیھا یکون لوارثہ بعد موتہ لکونھا مستحقۃ الرد وتضمن بعد الھلاك کالبیع الفاسد اذا مات احد المتبایعین فلورثتہ نقضہ لانہ مستحق الرد و مضمون بالھلاك ۔ اس کے باوجود کہ بعض کے نزدیك یہ ہبہ مفید ملك ہے اس پر سب کا اتفاق ہے کہ وھب کو اس میں رجوع کا حق ہے اگر چہ موہوب لہ واہب کا ذی رحم محرم ہوجامع الفصولین میں فتاوی فضلی کی رمز سے فرمایا کہ پھر اگر ہلاك ہوجائے تو میں نے فتوی دیا کہ محرم کو فاسد ہبہ دینے ہیں واہب کو رجوع کا حق ہے کیونکہ فاسد ہبہ مضمون ہوتاہے جیسا کہ گزرا تو جب ہلاك ہوجانے پر قیمت برابر ضمان ہے تو ہلاك ہونے سے قبل واپس لینے کا حق ہے اھ اور جیسے واہب کو رجوع کا حق ہے تو اس کی موت کے بعد اس کے ورثاء کو رجوع کا حق ہوگا کیونکہ وہ قابل واپسی ہے او ایسا ہوجانے پر اس کا ضمان دینا ہوگا جیسا کہ فاسد بیع میں کوئی فریق فوت ہوجائے تو ا س کے ورثاء کو بیع ختم کرنے کا اختیار ہے کیونکہ وہ قابل واپسی ہے اورہلاك ہوجانے پر مضمون ہے۔(ت)
ولہذا ردالمحتار ص ۷۸۱ میں بعد عمارت مذکورہ بحال تنزل بقول دیگر اس کا محض نامفید ہونا یوں ظاہر فرمایا:
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۱۲€
ولاسیما انہ یکون ملکا خیبثا کما یأتی ویکون مضمونا کما علمتہ فلم یجد نفعا للموھوب لہ فاغتمہ ۔ خصوصا خبیث ملکیت ہوجیسا کہ عنقریب آئیگا اور مضمون ہوجیسا کہ تو معلوم کرچکا ہےتو وہ موہوب لہ کو مفید نہیں ہےاسے غنیمت سمجھو۔(ت)
رابعا مسئلہ ابراء عن الاعیان اگر یہاں سے متعلق ہوتا تو اس کا اثر صرف قضا پر تھا دیانۃ اپنی مملوکہ عین سے سو بار ابراء کرے ملك زائل نہ ہوگی اورجب ملے لے سکے گادرمختار اوائل الصلح۔
قولھم الابراء عن الاعیان بطل معناہ لم یصر ملکا للمدعی علیہ ولذالو ظفر بتلك الاعیان حل لہ اخذھا لکن لاتسمع دعواہ فی الحکم ۔ ان کافرمانا کہ عین موجود چیز سے بری کرنا باطل ہےاس کا معنی یہ ہے کہ مدعی علیہ کی ملك نہ بنے گا لہذا دینے والااگر قابو پاکر اسے لے لے تو لینا جائز ہوگا لیکن قاضی کے ہاں اس کا دعوی مسموع نہ ہوگا۔(ت)
ردالمحتار ج ۴ ص ۷۲۷:
نقل الحموی عن حواشی صدرالشریعۃ للحفید معنی قولنا البرأۃ عن الاعیان لاتصح ان العین لا تصیر ملکا للمدعی علیہ لاان یبقی المدعی علی دعواہ الخ ابوالسعود وھذا اوضح مما ھنا قال السائحانی و الاحسن ان یقال الابراء عن الاعیان باطل دیانۃ لاقضاء ۔ حموی نے صدرالشریعۃ کے پوتے کے لئے حواشی سے نقل کیا اعیان اشیاء سے براءت صحیح نہیں ہمارے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ عین چیز مدعی علیہ کی ملك نہ بنے گیاس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مدعی کا دعوی قائم ہے الخ ابو السعود نے کہا یہاں پر سائحانی نے جو فرمایا اس سے یہ زیادہ واضح ہے اور یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ اعیان اشیاء سے بری کرنادیانۃ باطل ہے قضاء باطل نہیں۔(ت)
مگر صورت مسئولہ میں کوئی ابراء ابتداء نہیں بلکہ اس ہبہ ناجائز پر مبنی ہے جس پر اس کی یہ عبارت شاہد ہے کہ بعد الیوم سے مظہرہ وورثائے مظہرہ کا بابت کل حصص یعنی جمیع جائداد کے کوئی دعوی ودخل نہیں ورنہ ہوگا
رابعا مسئلہ ابراء عن الاعیان اگر یہاں سے متعلق ہوتا تو اس کا اثر صرف قضا پر تھا دیانۃ اپنی مملوکہ عین سے سو بار ابراء کرے ملك زائل نہ ہوگی اورجب ملے لے سکے گادرمختار اوائل الصلح۔
قولھم الابراء عن الاعیان بطل معناہ لم یصر ملکا للمدعی علیہ ولذالو ظفر بتلك الاعیان حل لہ اخذھا لکن لاتسمع دعواہ فی الحکم ۔ ان کافرمانا کہ عین موجود چیز سے بری کرنا باطل ہےاس کا معنی یہ ہے کہ مدعی علیہ کی ملك نہ بنے گا لہذا دینے والااگر قابو پاکر اسے لے لے تو لینا جائز ہوگا لیکن قاضی کے ہاں اس کا دعوی مسموع نہ ہوگا۔(ت)
ردالمحتار ج ۴ ص ۷۲۷:
نقل الحموی عن حواشی صدرالشریعۃ للحفید معنی قولنا البرأۃ عن الاعیان لاتصح ان العین لا تصیر ملکا للمدعی علیہ لاان یبقی المدعی علی دعواہ الخ ابوالسعود وھذا اوضح مما ھنا قال السائحانی و الاحسن ان یقال الابراء عن الاعیان باطل دیانۃ لاقضاء ۔ حموی نے صدرالشریعۃ کے پوتے کے لئے حواشی سے نقل کیا اعیان اشیاء سے براءت صحیح نہیں ہمارے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ عین چیز مدعی علیہ کی ملك نہ بنے گیاس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مدعی کا دعوی قائم ہے الخ ابو السعود نے کہا یہاں پر سائحانی نے جو فرمایا اس سے یہ زیادہ واضح ہے اور یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ اعیان اشیاء سے بری کرنادیانۃ باطل ہے قضاء باطل نہیں۔(ت)
مگر صورت مسئولہ میں کوئی ابراء ابتداء نہیں بلکہ اس ہبہ ناجائز پر مبنی ہے جس پر اس کی یہ عبارت شاہد ہے کہ بعد الیوم سے مظہرہ وورثائے مظہرہ کا بابت کل حصص یعنی جمیع جائداد کے کوئی دعوی ودخل نہیں ورنہ ہوگا
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۱€
درمختار کتاب الصلح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴۲€
ردالمحتار کتاب الصلح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۷۵€
درمختار کتاب الصلح ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴۲€
ردالمحتار کتاب الصلح داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۷۵€
یہ وہی عبارت ہے جو بیعنامہ کے آخر میں لوگوں نے معمول کرلی ہے کہ آج سے میرا مبیع اور مشتری کا زرثمن میں کوئی دعوی نہ رہایہ اسی بیع پر مبنی ہوتی ہے نہ کہ کوئی ابرائے ابتدائی اگر بیع با طل ثابت ہو تو بلاشبہ مبیع وثمن واپس دئیے جائیں گےاور وہ الفاظ کہ دعوی نہ رہا کچھ خلل انداز نہ ہوگابعینہ یہی حالت یہاں سے اس ہبہ کی بناء پر کہہ رہی ہے کہ آج سے کوئی دعوی نہیں جب وہ ہبہ شرعا ناجائز ہے ان الفاظ کا بھی کچھ اثر نہیںعقود الدریۃ ج ۲ ص ۵۹:
اذا جری الصلح بین المتداعین وکتب الصك وفیہ ابراء کل واحد منہا صاحبہ عن الدعوی ثم ظہران الصلح وقع باطلا بفتوی الائمۃ فارادالمدعی ان یدعی ماادعی لاتصح دعواہ للابراء السابق والمختار ان تسمع لان ھذا ابراء فی ضمن صلح فاسد فلا یعمل مجمع الفتاوی ۔ جب دونوں مدعی حضرات آپس میں صلح کرکے صلحنامہ لکھ دیں جس میں ہر ایك نے دوسرے کو بری کردینا لکھ دیا پھر بعد میں معلوم ہوا کہ ائمہ کرام کے فتوی کی رو سے صلح باطل ہے تو اب ایك مدعی اپنے دعوی کو بحال کرے تو یہ درست نہ ہوگا کیونکہ پہلے برأت کرچکا ہے اورمختار یہ ہے کہ اس کا دعوی قابل سماعت نہ ہوگا کیونکہ یہ ابراء صلح فاسد کے ضمن میں ہے لہذا وہ معتبر نہ ہوگیمجمع الفتاوی(ت)
فتاوی اما م قاضیخان ج ۲ص ۲۳۸جامع احکام الصغار ص ۱۰۷:
لاتحرم ھواالصحیح لانہ ما اقربالحرمۃ ابتداء و انما اقر بالسبب الذی تصادقا علیہ وذلك السبب باطل ۔ دوبارہ دعوی حرام نہیں ہے کیونکہ پہلا اقرار صلح کے اس سبب پر جس پر دونوں نے اتفاق کیا تھا اور وہ باطل ہوچکا ہے۔(ت)
خامسا بفرض غلط اگر یہ ابتدائی ابراء بھی ہوتا تو اس چیز کی نسبت ہے کہ اس وقت تك اس کی ملك ہے جو خود معلوم اور بعد الیوم کی قید سے مفہوم اور نہ کسی منازعت میں ہے نہ کسی خاص کے نام تو محض باطل وبے اثر ہےعقود الدریہ ج ۲ ص ۴۵:
وفی العمادیۃ قال ذوالید لیس ھذا لی اولیس ملکی اولاحق لی فیہ اونحوذلك عمادیۃ میں ہے قابض نے کہا یہ میرا نہیںیا میری ملك نہیں۔ یامیراحق نہیںیا اور ایسے
اذا جری الصلح بین المتداعین وکتب الصك وفیہ ابراء کل واحد منہا صاحبہ عن الدعوی ثم ظہران الصلح وقع باطلا بفتوی الائمۃ فارادالمدعی ان یدعی ماادعی لاتصح دعواہ للابراء السابق والمختار ان تسمع لان ھذا ابراء فی ضمن صلح فاسد فلا یعمل مجمع الفتاوی ۔ جب دونوں مدعی حضرات آپس میں صلح کرکے صلحنامہ لکھ دیں جس میں ہر ایك نے دوسرے کو بری کردینا لکھ دیا پھر بعد میں معلوم ہوا کہ ائمہ کرام کے فتوی کی رو سے صلح باطل ہے تو اب ایك مدعی اپنے دعوی کو بحال کرے تو یہ درست نہ ہوگا کیونکہ پہلے برأت کرچکا ہے اورمختار یہ ہے کہ اس کا دعوی قابل سماعت نہ ہوگا کیونکہ یہ ابراء صلح فاسد کے ضمن میں ہے لہذا وہ معتبر نہ ہوگیمجمع الفتاوی(ت)
فتاوی اما م قاضیخان ج ۲ص ۲۳۸جامع احکام الصغار ص ۱۰۷:
لاتحرم ھواالصحیح لانہ ما اقربالحرمۃ ابتداء و انما اقر بالسبب الذی تصادقا علیہ وذلك السبب باطل ۔ دوبارہ دعوی حرام نہیں ہے کیونکہ پہلا اقرار صلح کے اس سبب پر جس پر دونوں نے اتفاق کیا تھا اور وہ باطل ہوچکا ہے۔(ت)
خامسا بفرض غلط اگر یہ ابتدائی ابراء بھی ہوتا تو اس چیز کی نسبت ہے کہ اس وقت تك اس کی ملك ہے جو خود معلوم اور بعد الیوم کی قید سے مفہوم اور نہ کسی منازعت میں ہے نہ کسی خاص کے نام تو محض باطل وبے اثر ہےعقود الدریہ ج ۲ ص ۴۵:
وفی العمادیۃ قال ذوالید لیس ھذا لی اولیس ملکی اولاحق لی فیہ اونحوذلك عمادیۃ میں ہے قابض نے کہا یہ میرا نہیںیا میری ملك نہیں۔ یامیراحق نہیںیا اور ایسے
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الصلح ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۷۰€
جامع احکام الصغار علی ہامش جامع الفصولین مسائل الطلاق ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۷€
جامع احکام الصغار علی ہامش جامع الفصولین مسائل الطلاق ∞نورانی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۷€
ولامنازع لہ حنیئذ ثم ادعاہ احد فقال ذوالید ھو لی فالقول لہ لان الاقرار بمجہول باطل والتناقض انما یمنع اذا تضمن ابطال حق علی احد اھ ومثلہ فی الفیض وخزانۃ المفتین ۔ الفاظ کہے جبکہ اس وقت کسی نے تعرض نہ کیا پھر کسی نے اس مقبوضہ چیز پر دعوی کردیا تو اس کے جواب میں اس نے کہا یہ میری چیز ہے تو اس کایہ کہنا معتبر ہوگاکیونکہ پہلااقرار تھا جوباطل ہے۔اورتناقض تب ہوتا کہ وہ کسی کے لئے حق کااقرار کرتا اھ اوراس کی مثل فیض اورخزانۃ المفتین میں بھی ہے۔(ت)
سادسا: ایك شخص دوسرے کو مدت تك کسی شے میں مالکانہ تصرف کرتے دیکھے اور بلاعذر ساکت رہے پھر کہنے لگے کہ یہ تومیری ملك ہے علماء کرام نے قطع تزویر وحیل کے لئے اس کا دعوی نامسموع رکھا ہے اوریہ حکم فقہی ہےنہ بربنائےمنع سلطانی۔اس کی بعض عبارات فتاوی بہاولپور میں ہیں اور کثیر ووافر ہمارے فتاوی میں یہ حکم دیانۃ نہیں محض قضاء ہے کہ نظر بظاہر حال ممانعت فرمائی کما نصوا علیہ(جیسا کہ اس پر نص کی گئی ہے۔ت)سائل نے سوال ہی میں اس کااشعار کردیا تھا کہ باوجود اطلاع علی التصرف قضاء دعوی اس کا قابل سماعت ہے نہمجیب نے تصریح کردی تھی کہ صحت قضاء کے لئے دعوی شرط ہےاور وہ یہاں نہیں دعوی قضاء قابل اخراج ہےاور یہ عبارت کہ الحق لایسقط بتقادم الزمان (زمانہ گزر جانے پر حق ساقط نہیں ہوتا۔ت)حکم دیانت ہے تو اس کے مقابل اسے پیش کرنا فتوی دیوبند کی حماقت ہے ان محقق شامی نے جن کے مسائل شتی آخر الکتاب کا حوالہ دیا اس جگہ فرمادیا تھا۔ج ۵ ص ۷۲۶:
ثم اعلم ان عدم سماعہا لیس مبینا علی بطلان الحق حتی یردان ھذا قول مہجور لانہ لیس ذلك حکماببطلان الحق وانما ھو ا متناع من القضاۃ عن سماعہا خوفا من التزویر پھر معلوم ہونا چاہئے کہ اس کا عدم اسماع کسی حق کے بطلان پر مبنی نہیں تاکہ اعتراض ہوسکے کہ ا س کایہ دوسرا قول مہجور ہے کیونکہ یہ کسی حق کے بطلان کا حکم نہ تھا بلکہ یہ تو قاضیوں کا ترکہ سماع اس خوف کی بناء پر تھا کہ من گھڑت معاملہ ہوسکتا ہے۔
سادسا: ایك شخص دوسرے کو مدت تك کسی شے میں مالکانہ تصرف کرتے دیکھے اور بلاعذر ساکت رہے پھر کہنے لگے کہ یہ تومیری ملك ہے علماء کرام نے قطع تزویر وحیل کے لئے اس کا دعوی نامسموع رکھا ہے اوریہ حکم فقہی ہےنہ بربنائےمنع سلطانی۔اس کی بعض عبارات فتاوی بہاولپور میں ہیں اور کثیر ووافر ہمارے فتاوی میں یہ حکم دیانۃ نہیں محض قضاء ہے کہ نظر بظاہر حال ممانعت فرمائی کما نصوا علیہ(جیسا کہ اس پر نص کی گئی ہے۔ت)سائل نے سوال ہی میں اس کااشعار کردیا تھا کہ باوجود اطلاع علی التصرف قضاء دعوی اس کا قابل سماعت ہے نہمجیب نے تصریح کردی تھی کہ صحت قضاء کے لئے دعوی شرط ہےاور وہ یہاں نہیں دعوی قضاء قابل اخراج ہےاور یہ عبارت کہ الحق لایسقط بتقادم الزمان (زمانہ گزر جانے پر حق ساقط نہیں ہوتا۔ت)حکم دیانت ہے تو اس کے مقابل اسے پیش کرنا فتوی دیوبند کی حماقت ہے ان محقق شامی نے جن کے مسائل شتی آخر الکتاب کا حوالہ دیا اس جگہ فرمادیا تھا۔ج ۵ ص ۷۲۶:
ثم اعلم ان عدم سماعہا لیس مبینا علی بطلان الحق حتی یردان ھذا قول مہجور لانہ لیس ذلك حکماببطلان الحق وانما ھو ا متناع من القضاۃ عن سماعہا خوفا من التزویر پھر معلوم ہونا چاہئے کہ اس کا عدم اسماع کسی حق کے بطلان پر مبنی نہیں تاکہ اعتراض ہوسکے کہ ا س کایہ دوسرا قول مہجور ہے کیونکہ یہ کسی حق کے بطلان کا حکم نہ تھا بلکہ یہ تو قاضیوں کا ترکہ سماع اس خوف کی بناء پر تھا کہ من گھڑت معاملہ ہوسکتا ہے۔
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الاقرار ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۵۳€
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۷۴،€ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۳€
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۷۴،€ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۳€
ولد لالۃ الحال کمادل علیہ التعلیل والافقد قالوا ان الحق لایسقط بالتقادم کما فی قضاء الاشباہ فلا تسمع الدعوی فی ھذا المسائل مع بقاء الحق الاخر ولذا لواقر بہ الخصم یلزمہ ۔ اورحال کی دلالت کی وجہ سے جیسا کہ اس کی بیان کردہ علت سے معلوم ہوتاہے ورنہ تو زمانہ گزرنے کے وجہ سے کوئی حق ساقط نہیں ہوتا جیسا کہ الاشباہ کی بحث قضاء میں ہےتو ان مسائل میں دوسرے کے حق کے باوجود دعوی مسموع نہ ہوگا۔ اسی لئے اگر فریق مخالف اس کااقرار کرے اس کو لازم ہو جائیگا۔ (ت)
یہاں علامہ شامی نے الحق لایسقط بالتقادم(زمانہ گزر جانے سے حق ساقط نہیں ہوتا۔ت)جواب دینے کے لئے نقل فرمایا ہے اس کی کوئی تحقیق نہ کیتحقیق اسی کی لکھی ہے کہ اس صورت میں دعوی مسموع نہیں اور یہ اس پر الحق لایسقط بالتقادم(زمانہ گزر جانے سے حق ساقط نہیں ہوتا۔ت)وارد نہیںیہ سب کچھ دیکھ کر شامی کا الٹاحوالہ دینا جس سے وہ جواب دے چکے اسی کوپیش کرنا اور ان کے سردھرنا عجیب جہالت ہے بلکہ جواب صحیح ی ہے کہ یہ مسئلہ صورت مسئولہ سے متعلق نہیں جہاں مدعی علیہ کا اقرار موجودہواگر سوبرس بھی گزر جائیں مانع دعوی نہیں۔یہاں اس مال کامتروکہ سماء او شرم خاتون کاوارث سماد ہونا امر مسلم ہے جس میں کسی کو نزاع نہیںپھر الہی بخش کا شرم خاتون سے ہبہ نامہ لکھوانا صراحۃ ملك شرم خاتون کا اقرار ہے تو مسئلہ مذکور یہاں سے اصلا متعلق نہیںفتاوی خیریہ ج ۲ ص ۷۳:
سئل فیما ادعی زیدعلی عمر و محدودا انہ ملکہ ورثہ عن والدہ فاجابہ المدعی علیہ انی اشتریت من والدك بکذا اوانی ذوید علیہ من مدۃ تزید علی اربعین سنۃ وانت مقیم معی فی بلدۃ ساکت من غیر عذر یمنعك عن الدعوی ھل یکون ذلك من باب الاقرار بالتلقی من مورثہ فیحتاج الی بینۃ تشہدلہ بالشراء ولاینفعہ ان سے سوال ہوا کہ زید نے عمرو پر دعوی کیا کہ یہ محدود رقبہ میرے والد کی وراثت میں میری ملك ہے تو مدعی علیہ نے جواب میں کہا میں نے یہ رقبہ اتنے میں تیرے والد سے خریداہے اور چالیس سال سے زائد عرصہ میرے قبضہ میں چلا آرہاہے اور تو شہر میں میرے پاس مقیم اور عذر کے بغیر تو خاموش رہا اور دعوی نہ کیاتو کیا مدعی علیہ کا یہ جواب مدعی کے مورث سے خرید کے ثبوت کے لئے گواہی کی ضرورت ہوگی اور مدت مذکورہ سے اس کا قبضہ اس کو مفید نہ ہوگا۔
یہاں علامہ شامی نے الحق لایسقط بالتقادم(زمانہ گزر جانے سے حق ساقط نہیں ہوتا۔ت)جواب دینے کے لئے نقل فرمایا ہے اس کی کوئی تحقیق نہ کیتحقیق اسی کی لکھی ہے کہ اس صورت میں دعوی مسموع نہیں اور یہ اس پر الحق لایسقط بالتقادم(زمانہ گزر جانے سے حق ساقط نہیں ہوتا۔ت)وارد نہیںیہ سب کچھ دیکھ کر شامی کا الٹاحوالہ دینا جس سے وہ جواب دے چکے اسی کوپیش کرنا اور ان کے سردھرنا عجیب جہالت ہے بلکہ جواب صحیح ی ہے کہ یہ مسئلہ صورت مسئولہ سے متعلق نہیں جہاں مدعی علیہ کا اقرار موجودہواگر سوبرس بھی گزر جائیں مانع دعوی نہیں۔یہاں اس مال کامتروکہ سماء او شرم خاتون کاوارث سماد ہونا امر مسلم ہے جس میں کسی کو نزاع نہیںپھر الہی بخش کا شرم خاتون سے ہبہ نامہ لکھوانا صراحۃ ملك شرم خاتون کا اقرار ہے تو مسئلہ مذکور یہاں سے اصلا متعلق نہیںفتاوی خیریہ ج ۲ ص ۷۳:
سئل فیما ادعی زیدعلی عمر و محدودا انہ ملکہ ورثہ عن والدہ فاجابہ المدعی علیہ انی اشتریت من والدك بکذا اوانی ذوید علیہ من مدۃ تزید علی اربعین سنۃ وانت مقیم معی فی بلدۃ ساکت من غیر عذر یمنعك عن الدعوی ھل یکون ذلك من باب الاقرار بالتلقی من مورثہ فیحتاج الی بینۃ تشہدلہ بالشراء ولاینفعہ ان سے سوال ہوا کہ زید نے عمرو پر دعوی کیا کہ یہ محدود رقبہ میرے والد کی وراثت میں میری ملك ہے تو مدعی علیہ نے جواب میں کہا میں نے یہ رقبہ اتنے میں تیرے والد سے خریداہے اور چالیس سال سے زائد عرصہ میرے قبضہ میں چلا آرہاہے اور تو شہر میں میرے پاس مقیم اور عذر کے بغیر تو خاموش رہا اور دعوی نہ کیاتو کیا مدعی علیہ کا یہ جواب مدعی کے مورث سے خرید کے ثبوت کے لئے گواہی کی ضرورت ہوگی اور مدت مذکورہ سے اس کا قبضہ اس کو مفید نہ ہوگا۔
حوالہ / References
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۷۴۔۴۷۳€
کونہ واضعایدہ علیہ المدۃ المذکورۃ و لاتکون الحادثۃ من باب الدعاوی التی مرعلیہا خمس عشرۃ سنۃ اجاب نعم دعوی تلقی الملك من المورث اقرار بالملك لہ ودعوی الانتقال منہ الیہ فیحتاج المدعی علیہ الی بینۃ وصار المدعی علیہ مدعیاولاینفعہ وضع الید المدۃ المذکورۃ مع الاقرار المذکور ولیس من باب ترك الدعوی بل من باب المؤاخذۃ بالاقرار ومن اقربشیئ لغیرہ اخذ باقرارہ ولو کان فی یدہ احقا باکثیرۃ لاتعد وھذا مما لایتوقف فیہ واﷲ تعالی اعلم۔ اوریہ پندرہ سال پرانے کیس سے متعلق دعوی کے باب سے نہ ہوگا جواب دیاہاں مدعی علیہ کا یہ دعوی کہ میں نے تیرے مورث سے خریدا ہےیہ مورث سے حصول کا اقرار ہے اور اس سے اپنے لئے منتقل ہونے کا دعوی بنتاہے تو اس پر مدعی علیہ کو گواہی کی ضرورت ہوگیا ور اس بناء پر مدعی علیہ مدعی بن جائے گااورمذکورہ اقرار کی وجہ سے اس کا چالیس سالہ قبضہ اس کو مفید نہ ہوگااور یہ معاملہ پندرہ سالہ پرانے کیس والانہیں بلکہ یہ اقرار پر مؤاخذہ کے باب سے ہوگا جبکہ دوسرے کی چیز کا اقرار کرنے والا اپنے اقرار کی بناء پر پابند ہوجاتاہے اگرچہ اس کا قبضہ زمانوں سے ہو شمار نہ ہوگا اوریہ ایسا معاملہ ہے جس میں کوئی توقف نہیں ہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
عقود الدریۃ ج ۲ ص ۷:
اذا ادعی اخوات زید علیہ بحصتہن من دار ابیہن المتوفی من خمس عشرۃ سنۃ وھو معترف بان الدار مخلفۃ لھم عن ابیھم تسمع الدعوی علیہ لو طالت المدۃ کما افتی بذلك العلامۃ ابوالسعود العمادی ۔ جب زید کی بہنوں نے اس پردعوی کیا کہ اس مکان میں پندرہ سال قبل فوت شدہ ہمارے والد کی ورثت کے طور پر ہماراحق ہے اورزید اعتراف کرتاہے کہ یہ مکان والد کی وراثت میں ہے تو اس کی بہنوں کا دعوی قابل سماعت ہوگا اگرچہ لمبی مدت گزرچکی ہوجیسا کہ علامہ ابوالسعودعمادی نے یہ فتوی دیا۔(ت)
ایضا صفحہ ۴۶:
عقود الدریۃ ج ۲ ص ۷:
اذا ادعی اخوات زید علیہ بحصتہن من دار ابیہن المتوفی من خمس عشرۃ سنۃ وھو معترف بان الدار مخلفۃ لھم عن ابیھم تسمع الدعوی علیہ لو طالت المدۃ کما افتی بذلك العلامۃ ابوالسعود العمادی ۔ جب زید کی بہنوں نے اس پردعوی کیا کہ اس مکان میں پندرہ سال قبل فوت شدہ ہمارے والد کی ورثت کے طور پر ہماراحق ہے اورزید اعتراف کرتاہے کہ یہ مکان والد کی وراثت میں ہے تو اس کی بہنوں کا دعوی قابل سماعت ہوگا اگرچہ لمبی مدت گزرچکی ہوجیسا کہ علامہ ابوالسعودعمادی نے یہ فتوی دیا۔(ت)
ایضا صفحہ ۴۶:
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۸۰€
العقود الدریۃ کتاب الدعوی ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۶€
العقود الدریۃ کتاب الدعوی ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۶€
فی البزازیۃ عن المحیط لو ابراء احد الورثۃ الباقی ثم ادعی الترکۃ وانکر لاتسمع دعواہ وان اقروابالترکۃ امروابالرد علیہ ۔ بزازیہ میں محیط سے منقول ہے اگر ایك وارث نے باقی ورثاء کو بری کردیا اور پھر بعد میں اس نے ترکہ کا دعوی کردیا اور باقی ورثاء انکار کردیں تو اس کا دعوی مسموع نہ ہوگا اور ورثاء اقرار کریں تو ان کو ترکہ واپس کرنے کا حکم ہوگا۔(ت)
ابھی ردالمحتارسے گزرا:لواقربہ الخصم یلزمہ (اگر فریق مخالف اس کا اقرار کرے اس کو لازم ہوجائے گا۔ت)
سابعا: ان بیانات سے روشن ہوا کہ دعوی شرم خاتون شرعا دیانۃ اور قضاء ہر طرح مسموع ہےاب رہا نہی سلطانی کا شبہاگر قانون ریاست بہاولپور میں مسئلہ تمادی جب تو ظاہر کہ وہاں کے قضاۃ ہر گز ممنوع عن السماع نہیں ا ورا گر ہے لیکن بحال وجوداقرار مدعی علیہ موثر نہیں جیسا کہ حکم شرعی ہے جب بھی اسے یہاں سے تعلق نہیں کما تقدم۔ردالمحتارجلد ۴ص۵۳۱:
نقل فی الحامدیۃ فتوی ترکیۃ عن المولی ابی السعود وتعریبہا اذا اترکت دعوی الارث بلاعذر شرعی خمس عشرۃ سنۃ فھل لاتسمع الجواب لاتسمع الا اذا اعترف الخصم بالحق ونقل مثلہ شیخ مشائخنا الترکمانی عن فتاوی علی افندی مفتی الروم ونقل مثلہ ایضا شیخ مشائخنا ا لسائحانی عن فتاوی عبد اﷲ افندی مفتی الروم ۔ حامدیہ میں مولی ابی السعود کاترکی فتوی نقل کیا ہے جس کا عربی ترجمہ یہ ہے جب شرعی عذر کے بغیر پندرہ سال تك وراثت کادعوی نہ کیا ہو تو کیا اب قابل سماعت نہ ہوگا۔الجواب فریقن مخالف کے اعتراف کے بغیر قابل سماعت نہ ہوگااسی کی مثل مفتی روم علی آفندی کا فتوی ہمارے مشائخ کے شیخ ترکمانی سےنقل کیا ہے اور مفتی روم عبداﷲ آفندی کا فتوی ہمارے مشائخ کے شیخ سائحانی نے بھی اس کی مثل نقل کیاہے۔(ت)
ابھی ردالمحتارسے گزرا:لواقربہ الخصم یلزمہ (اگر فریق مخالف اس کا اقرار کرے اس کو لازم ہوجائے گا۔ت)
سابعا: ان بیانات سے روشن ہوا کہ دعوی شرم خاتون شرعا دیانۃ اور قضاء ہر طرح مسموع ہےاب رہا نہی سلطانی کا شبہاگر قانون ریاست بہاولپور میں مسئلہ تمادی جب تو ظاہر کہ وہاں کے قضاۃ ہر گز ممنوع عن السماع نہیں ا ورا گر ہے لیکن بحال وجوداقرار مدعی علیہ موثر نہیں جیسا کہ حکم شرعی ہے جب بھی اسے یہاں سے تعلق نہیں کما تقدم۔ردالمحتارجلد ۴ص۵۳۱:
نقل فی الحامدیۃ فتوی ترکیۃ عن المولی ابی السعود وتعریبہا اذا اترکت دعوی الارث بلاعذر شرعی خمس عشرۃ سنۃ فھل لاتسمع الجواب لاتسمع الا اذا اعترف الخصم بالحق ونقل مثلہ شیخ مشائخنا الترکمانی عن فتاوی علی افندی مفتی الروم ونقل مثلہ ایضا شیخ مشائخنا ا لسائحانی عن فتاوی عبد اﷲ افندی مفتی الروم ۔ حامدیہ میں مولی ابی السعود کاترکی فتوی نقل کیا ہے جس کا عربی ترجمہ یہ ہے جب شرعی عذر کے بغیر پندرہ سال تك وراثت کادعوی نہ کیا ہو تو کیا اب قابل سماعت نہ ہوگا۔الجواب فریقن مخالف کے اعتراف کے بغیر قابل سماعت نہ ہوگااسی کی مثل مفتی روم علی آفندی کا فتوی ہمارے مشائخ کے شیخ ترکمانی سےنقل کیا ہے اور مفتی روم عبداﷲ آفندی کا فتوی ہمارے مشائخ کے شیخ سائحانی نے بھی اس کی مثل نقل کیاہے۔(ت)
حوالہ / References
العقود الدریہ کتاب الاقرار ∞ارگ بازار قندہرار افغانستان ۲ /۵۴€
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۷۴€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۲۳€
ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۷۴€
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی الحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۲۳€
ایضا ص ۵۳۲:
عدم سماع القاضی لہا انما ہوعندانکار الخصم فلو اعترف تسمع ۔ قاضی کادعوی نہ سننا صر ف اس صورت میں ہوگا جب فریق مخالف انکار کرے وہ اگر اعتراف کرے تو دعوی سناجائے گا۔ (ت)
اور اگر وہاں مطلقا ممانعت ہے کہ مثلا ۱۲ سال کے بعد کوئی دعوی نہ سناجائے گا اگرچہ مدعا علیہ کا اقرار موجود ہو تو البتہ وہاں کے قاضی نہ سن سکیں گے کہ وہ قدر تولیت سے زائد میں معزول وکاحد من الناس ہیں مگر خود رئیس پر فرض ہوگا کہ آپ سنے یا کسی کوسننے کی اجازت دے کہ حق ضائع نہ ہودرمختارقبیل التحکیم:
القضاء یتخصص بزمان ومکان وخصومۃ حتی لو امرا السلطان بعد سماع الدعوی بعد خمسۃ عشر سنۃ فسمعہالم ینفذ ۔ زمانمکان اور واقعہ کی وجہ سے قضا کا تخصص ہوسکتاہے حتی کہ اگر حاکم پندرہ سال بعد دعوی کی سماعت سے منع کردے تو قاضی کی کاروائی کے باوجود نافذ ہوگا۔(ت)
خیریہ ج ۲ ص ۱۰۲ شامی ج ۴ ص ۷۸۱:
لانہ معزول عنہ بتخصیصہ فالتحق فیہ بالرعیۃ نص علیہ ذلك علمائنا رحمہم اﷲ تعالی ۔ کیونکہ قاضی اس میں بے اختیار ہوجاتاہے تو رعیت ہوجانے کی بناء پر قاضی پابند ہوجاتاہے ہمارے علماء رحمہم اﷲ تعالی نے اس پر نص کی ہے۔(ت)
غمز العیون ص ۲۲۳:
یجب علیہ عدم سماعہا لان امر السلطان یصیر المباح واجبا ولکن یجب السلطان ان یسمعہا قاضی پر سماعت نہ کرنا لازم ہوجاتاہے کیونکہ حاکم کےحکم سے مباح چیز واجب ہوجاتی ہے تاہم حکم پر لازم ہے کہ خود سماعت کرے۔
عدم سماع القاضی لہا انما ہوعندانکار الخصم فلو اعترف تسمع ۔ قاضی کادعوی نہ سننا صر ف اس صورت میں ہوگا جب فریق مخالف انکار کرے وہ اگر اعتراف کرے تو دعوی سناجائے گا۔ (ت)
اور اگر وہاں مطلقا ممانعت ہے کہ مثلا ۱۲ سال کے بعد کوئی دعوی نہ سناجائے گا اگرچہ مدعا علیہ کا اقرار موجود ہو تو البتہ وہاں کے قاضی نہ سن سکیں گے کہ وہ قدر تولیت سے زائد میں معزول وکاحد من الناس ہیں مگر خود رئیس پر فرض ہوگا کہ آپ سنے یا کسی کوسننے کی اجازت دے کہ حق ضائع نہ ہودرمختارقبیل التحکیم:
القضاء یتخصص بزمان ومکان وخصومۃ حتی لو امرا السلطان بعد سماع الدعوی بعد خمسۃ عشر سنۃ فسمعہالم ینفذ ۔ زمانمکان اور واقعہ کی وجہ سے قضا کا تخصص ہوسکتاہے حتی کہ اگر حاکم پندرہ سال بعد دعوی کی سماعت سے منع کردے تو قاضی کی کاروائی کے باوجود نافذ ہوگا۔(ت)
خیریہ ج ۲ ص ۱۰۲ شامی ج ۴ ص ۷۸۱:
لانہ معزول عنہ بتخصیصہ فالتحق فیہ بالرعیۃ نص علیہ ذلك علمائنا رحمہم اﷲ تعالی ۔ کیونکہ قاضی اس میں بے اختیار ہوجاتاہے تو رعیت ہوجانے کی بناء پر قاضی پابند ہوجاتاہے ہمارے علماء رحمہم اﷲ تعالی نے اس پر نص کی ہے۔(ت)
غمز العیون ص ۲۲۳:
یجب علیہ عدم سماعہا لان امر السلطان یصیر المباح واجبا ولکن یجب السلطان ان یسمعہا قاضی پر سماعت نہ کرنا لازم ہوجاتاہے کیونکہ حاکم کےحکم سے مباح چیز واجب ہوجاتی ہے تاہم حکم پر لازم ہے کہ خود سماعت کرے۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء فصل فی المحبس داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۴۳€
درمختار کتاب القضاء فصل فی المحبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۱€
فتاوٰی خیریہ کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۱۲€
درمختار کتاب القضاء فصل فی المحبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۸۱€
فتاوٰی خیریہ کتاب الھبۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۱۲€
کذا فی معین الفتوی ۔واﷲ تعالی اعلم۔ معین المفتی میں یوں ہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۳۲: از موضع گھرپیا تحصیل وڈاکخانہ کچھا ضلع نینی تال مرسلہ مسماۃ افضل بیگم ۲ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی نیازعلی کی بیوی منکوحہ قضائے الہی سے وفات ہوئیاس نے اپنا ایك بیٹا محمد ولی خان چھوڑاجب کچھ عرصہ کے بعد نیاز علی خاں نے دوسری بیوی کرنا چاہی تو قبل زوجہ ثانیہ کے کرنے سے نیاز علی خان نے اپنی کل جائداد اپنے لڑکے محمد ولی خاں کے نام اسٹام پرتحریر کرادی اور اس کے بعد نکاح ثانی افضل بیگم کے ساتھ کیا لیکن وقت نکاح نیاز علی خان نے یہ امر افضل بیگم سے پوشیدہ بھی نہیں رکھا تھاصاف ظاہر کردیا تھا کہ جائداد جو کچھ ہے وہ محمد ولی خاں کے نام تحریر ہے میرے پاس صرف ہاتھ پیر ہے تمھاراد ل چاہے نکاح کرو یا مت کرو۔لیکن افضل بیگم نے نکاح کرنا اسی حالت میں قبول کیا اور نکاح ہوگیااب کچھ عرصہ کے بعد نیاز علی خاں فوت ہوگیا ہے تو اب مسماۃ افضل بیگم نے لڑکے محمد ولی خاں سے اپنا مہر چاہنے کی خواہش کی بلکہ دعوی کچہری میں داخل کردیا اورمحمد ولی خاں وہ اسٹام جو قبل نکاح نیاز علی تحریر کرچکا ہے اس کو پیش کرتاہے کہ جائداد میری ہے نیاز علی خاں کی نہیں کہ میں مہر ادا سکوںفریقین نے اس امر کو پنچائت پر قبول کیا ہےپنچ فیصلہ خلاف حکم شرع شریف نہیں کرنا چاہتیاس لئے خلاصہ معلوم ہونے کی ضرورت ہے کہ بحالت مذکورہ بالا افضل بیگم اپنا دین مہر محمد ولی خاں پسر نیاز علی خاں متوفی سے پانے کی مستحق ہے یانہیں مطابق حکم شرع شریف خلاصہ احکام سے آگہی بخش جائے دیگر یہ بھی کہے کہ تحریر اسٹام سے اور نیاز علی خاں کے فوت ہونے تك کمی بیشی اس جائداد کی ہوئی ہےاس میں جو مناسب ہوتحریر فرمایا جائے۔
الجواب:
اگر ۱جائداد کسی کی شرکت میں نہ تھی خالص نیازعلی کی تھی اور اس نے بیٹے کے نام لکھ کر اپنے قبضہ سے بالکل خالی کرکے بیٹے کا قبضہ کرادیا تھا تو وہ کل جائداد محمد ولی کی ہوگئیافضل بیگم کا اس پر دعوی باطل ہےاور اگر اس میں کوئی جائداد دوسرے کی شرکت میں تھی کہ نیاز علی کا حصہ جدا تقسیم شدہ ممتاز نہ تھا یا کسی جائداد سے اپنا قبضہ نہ اٹھایا مثلا مکان تھا بیٹے کانام اسٹامپ میں کرادیا اور خود ایك آن کے لئے بھی اپنی ذات اور اپنے اسباب سے خالی نہ کیا یا نام کرادیا اور بیٹے کا قبضہ نیاز علی کی زندگی تك نہ ہواتو ان صورتوں میں ایسی جائدادیں نیاز علی ہی کی ملك ہیں اور افضل بیگم کا دعوی مہران پر بجا ہے اس کا مہر اور
مسئلہ ۱۳۲: از موضع گھرپیا تحصیل وڈاکخانہ کچھا ضلع نینی تال مرسلہ مسماۃ افضل بیگم ۲ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی نیازعلی کی بیوی منکوحہ قضائے الہی سے وفات ہوئیاس نے اپنا ایك بیٹا محمد ولی خان چھوڑاجب کچھ عرصہ کے بعد نیاز علی خاں نے دوسری بیوی کرنا چاہی تو قبل زوجہ ثانیہ کے کرنے سے نیاز علی خان نے اپنی کل جائداد اپنے لڑکے محمد ولی خاں کے نام اسٹام پرتحریر کرادی اور اس کے بعد نکاح ثانی افضل بیگم کے ساتھ کیا لیکن وقت نکاح نیاز علی خان نے یہ امر افضل بیگم سے پوشیدہ بھی نہیں رکھا تھاصاف ظاہر کردیا تھا کہ جائداد جو کچھ ہے وہ محمد ولی خاں کے نام تحریر ہے میرے پاس صرف ہاتھ پیر ہے تمھاراد ل چاہے نکاح کرو یا مت کرو۔لیکن افضل بیگم نے نکاح کرنا اسی حالت میں قبول کیا اور نکاح ہوگیااب کچھ عرصہ کے بعد نیاز علی خاں فوت ہوگیا ہے تو اب مسماۃ افضل بیگم نے لڑکے محمد ولی خاں سے اپنا مہر چاہنے کی خواہش کی بلکہ دعوی کچہری میں داخل کردیا اورمحمد ولی خاں وہ اسٹام جو قبل نکاح نیاز علی تحریر کرچکا ہے اس کو پیش کرتاہے کہ جائداد میری ہے نیاز علی خاں کی نہیں کہ میں مہر ادا سکوںفریقین نے اس امر کو پنچائت پر قبول کیا ہےپنچ فیصلہ خلاف حکم شرع شریف نہیں کرنا چاہتیاس لئے خلاصہ معلوم ہونے کی ضرورت ہے کہ بحالت مذکورہ بالا افضل بیگم اپنا دین مہر محمد ولی خاں پسر نیاز علی خاں متوفی سے پانے کی مستحق ہے یانہیں مطابق حکم شرع شریف خلاصہ احکام سے آگہی بخش جائے دیگر یہ بھی کہے کہ تحریر اسٹام سے اور نیاز علی خاں کے فوت ہونے تك کمی بیشی اس جائداد کی ہوئی ہےاس میں جو مناسب ہوتحریر فرمایا جائے۔
الجواب:
اگر ۱جائداد کسی کی شرکت میں نہ تھی خالص نیازعلی کی تھی اور اس نے بیٹے کے نام لکھ کر اپنے قبضہ سے بالکل خالی کرکے بیٹے کا قبضہ کرادیا تھا تو وہ کل جائداد محمد ولی کی ہوگئیافضل بیگم کا اس پر دعوی باطل ہےاور اگر اس میں کوئی جائداد دوسرے کی شرکت میں تھی کہ نیاز علی کا حصہ جدا تقسیم شدہ ممتاز نہ تھا یا کسی جائداد سے اپنا قبضہ نہ اٹھایا مثلا مکان تھا بیٹے کانام اسٹامپ میں کرادیا اور خود ایك آن کے لئے بھی اپنی ذات اور اپنے اسباب سے خالی نہ کیا یا نام کرادیا اور بیٹے کا قبضہ نیاز علی کی زندگی تك نہ ہواتو ان صورتوں میں ایسی جائدادیں نیاز علی ہی کی ملك ہیں اور افضل بیگم کا دعوی مہران پر بجا ہے اس کا مہر اور
حوالہ / References
غمز عیون البصائر الفن الثانی کتاب القضاء والشہادت الخ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۳۶۹€
پہلی بی بی کا مہر باقی ہو تو وہ بھی اور جو کچھ نیاز علی پر دین ہو وہ سب ایسی جائدادوں سے پہلے ادا کیا جائےگا اگر کچھ نہ بچے گا ان جائدادوں سے محمد ولی کچھ نہ پائے گااور جو جائداد تینوں شرطوں کے ساتھ محمد ولی کونیازعلی کی زندگی میں مل چکی وہ محمد ولی کی ہے اس پر کسی کا دعوی نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۳: از فریدآباد ڈاکخانہ غوث پور ریاست بہاولپور مرسلہ نوراحمد افریدی سجادہ نشین فریدآباد ۲۷ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی واحد بخش نے مرنے سے ایك ماہ پہلے بحالت بیماری بدرستی ہوش حواس و سلامتی عقل برضاورغبت خود بروئے گواہان کہا کہ میری کل جائداد کا مالك قابض میرا پتر حقیقی مسمی غلام احمد ہے اور اس نے قبول کرکے ایك ماہ تك اس کی حیات میں حسب قولش ایسا ہی کیا کہ مالك قابض متصرف جائداد پر اور بخانہ اش مقیم رہاہےاراضیات کی کلبہ رانی کاشت برداشت وتدارك آبادی وغیرہ بھی کرتارہا ہےایك ماہ کے بعد واحدبخش فوت ہوا اور خرچ اخراج تجہیز وتکفین تدفین وغیرہ مناسب اسی نے کی ہیں تیسرے روز قل خوانی پر حسب قول متوفی سب برادری وغیرہ نے دستاربندی اسی غلام احمد کی کرائی ہے کیونکہ واحد بخش کی اولاد نرینہ یہی تھی اسی لئے مرنے سے ایك ماہ پیشتر برضائے خود غلام احمد کو مالك قابض متصرف بناکر دارالبقا کو چلا گیا ہے بلکہ یہ بھی اس وقت اس نے کہا تھا کہ میری ہر دو دختران کی شادی کرانے کا بھی یہی مالك ہےواحد بخش کے اہل وراثت حسب ذیل موجود ہیں ذوی الفروض سے دو زوجہ مسماۃ غلام فاطمہ وجامل اور دودختران مسماۃخیران وامیران اوراقرب العصبات سے چار بنوعم مسمیان غلام احمد مذکور واحدبخش خدا بخش غلام رسول موجود ہیںبعد توفیت واحد بخش کے دو ماہ دیگر بھی یعنی کل تین ماہ تك برضائے کل مالك قابض ومتصرف رہا ہےپھر غلام فاطمہ جواس کی درونی ناخواہ تھی اس کو گھر سے نکال دیا ہے اور ایسا نہیں چاہئے الاقبضہ غلام احمد کا اراضیات پر تاحال بدستور موجود ہے خیران کانکاح مسمی لعل سے اور امیران کا نکاح غلام احمد مذکور سے شرعی طور پر ہوچکا ہے پس اب شرعا دریافت طلب امریہ ہے کہ آیا یہ قول واحد بخش کا غلام احمد کے لئے ہبہ ہوسکتاہے یاکیونکرفتاوی قاضیخان میں ہے:
رجل قال جمیع مااملکہ لفلان یکون ھبۃ حتی لا یجوز بدون القبض ۔ ایك شخص نے"میری تمام مملوکہ فلاں کے لئے ہے"کہا تو ہبہ قرار پائے گا حتی کہ قبضہ کے بغیر جائز نہ ہوگا۔(ت)
مسئلہ ۱۳۳: از فریدآباد ڈاکخانہ غوث پور ریاست بہاولپور مرسلہ نوراحمد افریدی سجادہ نشین فریدآباد ۲۷ صفر ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمی واحد بخش نے مرنے سے ایك ماہ پہلے بحالت بیماری بدرستی ہوش حواس و سلامتی عقل برضاورغبت خود بروئے گواہان کہا کہ میری کل جائداد کا مالك قابض میرا پتر حقیقی مسمی غلام احمد ہے اور اس نے قبول کرکے ایك ماہ تك اس کی حیات میں حسب قولش ایسا ہی کیا کہ مالك قابض متصرف جائداد پر اور بخانہ اش مقیم رہاہےاراضیات کی کلبہ رانی کاشت برداشت وتدارك آبادی وغیرہ بھی کرتارہا ہےایك ماہ کے بعد واحدبخش فوت ہوا اور خرچ اخراج تجہیز وتکفین تدفین وغیرہ مناسب اسی نے کی ہیں تیسرے روز قل خوانی پر حسب قول متوفی سب برادری وغیرہ نے دستاربندی اسی غلام احمد کی کرائی ہے کیونکہ واحد بخش کی اولاد نرینہ یہی تھی اسی لئے مرنے سے ایك ماہ پیشتر برضائے خود غلام احمد کو مالك قابض متصرف بناکر دارالبقا کو چلا گیا ہے بلکہ یہ بھی اس وقت اس نے کہا تھا کہ میری ہر دو دختران کی شادی کرانے کا بھی یہی مالك ہےواحد بخش کے اہل وراثت حسب ذیل موجود ہیں ذوی الفروض سے دو زوجہ مسماۃ غلام فاطمہ وجامل اور دودختران مسماۃخیران وامیران اوراقرب العصبات سے چار بنوعم مسمیان غلام احمد مذکور واحدبخش خدا بخش غلام رسول موجود ہیںبعد توفیت واحد بخش کے دو ماہ دیگر بھی یعنی کل تین ماہ تك برضائے کل مالك قابض ومتصرف رہا ہےپھر غلام فاطمہ جواس کی درونی ناخواہ تھی اس کو گھر سے نکال دیا ہے اور ایسا نہیں چاہئے الاقبضہ غلام احمد کا اراضیات پر تاحال بدستور موجود ہے خیران کانکاح مسمی لعل سے اور امیران کا نکاح غلام احمد مذکور سے شرعی طور پر ہوچکا ہے پس اب شرعا دریافت طلب امریہ ہے کہ آیا یہ قول واحد بخش کا غلام احمد کے لئے ہبہ ہوسکتاہے یاکیونکرفتاوی قاضیخان میں ہے:
رجل قال جمیع مااملکہ لفلان یکون ھبۃ حتی لا یجوز بدون القبض ۔ ایك شخص نے"میری تمام مملوکہ فلاں کے لئے ہے"کہا تو ہبہ قرار پائے گا حتی کہ قبضہ کے بغیر جائز نہ ہوگا۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الھبۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۶۹۶€
اور فتاوی عالمگیریہ مترجم جلد سوم میں ہے کہا:وھبت ھذا الشیئ لك اوملکتہ منك یعنی یہ شے تجھے ہبہ کی یا تجھے اس کا مالك کیا اور جعلتہ لك او ھذالك یا میں نے تیرے واسطے کردی یا یہ شے تیرے واسطے ہے اواعطیتك اونحلتك یا میں نے تجھے عطا کی یا نحلہ دی فہذا کلہ ھبۃ(یہ تمام صورتیں ہبہ کی ہیں۔ت)
اورنیز فتاوی عالمگیری مترجم مذکور میں ہے"کتاب الاصل میں مذکور ہے کہ مریض کاہبہ یا صدقہ جائز نہیں ہے مگر جبکہ اس پر قبضہ ہوجائے اور جب قبضہ ہوگیا تو تہائی مال سے جائز ہے اور اگر سپرد کرنے سے پہلے واہب مرگیا تو ہبہ باطل ہوگیا" ۔
اور جاننا چاہئے کہ مریض کاہبہ کرنا قصدا ہبہ ہے وصیت نہیں ہے اور تہائی مال اس کا اعتبار کرنا اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ وصیت ہے بلکہ اس واسطے ہے کہ وارثوں کا حق مریض کے مال سے متعلق ہوتاہے اور اس نے ہبہ کردینے میں احسان کیا تو اس کا احسان اس قدر مال سے ٹھہرایاجائےگا جتنا شرع نے اس کے واسطے قرار دیا ہے یعنی ایك تہائی اور جب یہ تصرف عقد ہبہ ٹھہرا یا گیاتو جو شرائط ہبہ کے ہیں وہ مرعی ہونگےاور از انجملہ ایك شرط یہ ہے کہ واہب کے مرنے سے پہلے موہوب لہ اس پرقبضہ کر لےیہ محیط میں ہے اور درمختار میں ہے:
یمنع الرجوع فیہا حروف دمع خزقہ ۔ ہبہ سے رجوع کرنے سے یہ حروف"دمع خزقہ"بین الورثہ شرعا منقسم ہونگی
پس ان عبارات کتب معتبرہ سے کیا استخراج ہو سکتا ہے اور کس طور حصص بطور ہبہ یا وراثت فیما بین الورثۃ شرعا منقسم ہونگی۔
الجواب:
مرض الموت میں ہبہ اگر چہ حقیقۃ ہبہ ہے فلہذا قبضہ شرط ہے اور مایقسم میں مشاع ناجائز مگر حکما وصیت ہے ولہذا بے اجازت ورثہ ثلث سے زائد میں نافذ نہیں اور وارث کے لئے بے اجازت
اورنیز فتاوی عالمگیری مترجم مذکور میں ہے"کتاب الاصل میں مذکور ہے کہ مریض کاہبہ یا صدقہ جائز نہیں ہے مگر جبکہ اس پر قبضہ ہوجائے اور جب قبضہ ہوگیا تو تہائی مال سے جائز ہے اور اگر سپرد کرنے سے پہلے واہب مرگیا تو ہبہ باطل ہوگیا" ۔
اور جاننا چاہئے کہ مریض کاہبہ کرنا قصدا ہبہ ہے وصیت نہیں ہے اور تہائی مال اس کا اعتبار کرنا اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ وصیت ہے بلکہ اس واسطے ہے کہ وارثوں کا حق مریض کے مال سے متعلق ہوتاہے اور اس نے ہبہ کردینے میں احسان کیا تو اس کا احسان اس قدر مال سے ٹھہرایاجائےگا جتنا شرع نے اس کے واسطے قرار دیا ہے یعنی ایك تہائی اور جب یہ تصرف عقد ہبہ ٹھہرا یا گیاتو جو شرائط ہبہ کے ہیں وہ مرعی ہونگےاور از انجملہ ایك شرط یہ ہے کہ واہب کے مرنے سے پہلے موہوب لہ اس پرقبضہ کر لےیہ محیط میں ہے اور درمختار میں ہے:
یمنع الرجوع فیہا حروف دمع خزقہ ۔ ہبہ سے رجوع کرنے سے یہ حروف"دمع خزقہ"بین الورثہ شرعا منقسم ہونگی
پس ان عبارات کتب معتبرہ سے کیا استخراج ہو سکتا ہے اور کس طور حصص بطور ہبہ یا وراثت فیما بین الورثۃ شرعا منقسم ہونگی۔
الجواب:
مرض الموت میں ہبہ اگر چہ حقیقۃ ہبہ ہے فلہذا قبضہ شرط ہے اور مایقسم میں مشاع ناجائز مگر حکما وصیت ہے ولہذا بے اجازت ورثہ ثلث سے زائد میں نافذ نہیں اور وارث کے لئے بے اجازت
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ مترجم کتاب الھبۃ باب اول حامد ∞اینڈ کمپنی لاہور ۷/ ۷۳€
فتاوٰی ہندیہ مترجم کتاب الھبۃ باب دہم ∞حامد اینڈ کمپنی لاہور ۷/ ۱۲۲€
درمختار باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
فتاوٰی ہندیہ مترجم کتاب الھبۃ باب دہم ∞حامد اینڈ کمپنی لاہور ۷/ ۱۲۲€
درمختار باب الرجوع فی الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
دیگر ورثہ باطل۔عالمگیری میں تاتارخانیہ سے ہے:
وھب الرجل فی مرضہ غلاما لابنہ ولابنہ علی ھذا الغلام دین فان صح فہو جائز وان مات فصار للورثۃ عاد دینہ ۔ ایك شخص نے اپنی مرض موت میں اپنے بیٹے کو غلام ہبہ کیا جبکہ اس بیٹے کا غلام پر دین تھا اگر صحیح ہوجائے تو جائز ہے اور اگراس مرض میں فوت ہوجائے تو غلام واپس اس کے ورثاء کی ملکیت بن جائے گا اور بیٹے کاغلام پر قرض بحال ہوجائے گا۔(ت)
اسی میں جامع المضمرات سے ہے:
مریضۃ وھبت صداقہا من زوجہا فان کانت مریضۃ مرض الموت لایصح الاباجازۃ الورثۃ ۔ مریضہ نے خاوند کو اپنا مہر ہبہ کیا اگر مرض الموت میں ہو تو ورثاء کی اجازت کے بغیر یہ ہبہ صحیح نہ ہوگا۔(ت)
عبارات مذکورہ سوال کابھی یہی مطلب ہے دوماہ بعد تك برضاء کل قابض متصرف رہنے سے اگریہ مراد ہے کہ بقیہ ورثہ نے اس کے نام اس ہبہ کو جائز کردیاا ور اس پر اپنی رضا کی تصریح کردی تو بلاشبہ غلام احمد مالك مستقل ہوگیا جبکہ باقی سب ورثہ عاقل بالغ اہل اجازت ہوں اور اب ان کو اس اجازت سے رجوع کا اختیار نہیںاوراگر ان کے مجرد سکوت وعدم منازعت کو رضا قرار دیا ہے تو اتنی قلیل مدت تك سکوت دلیل رضانہیں ان میں کل یا بعض جواجازت نہ دے چکا ہو منازعت کرسکتاہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۴: از شہر بریلی ۲۹ ربیع الاخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ڈیڑھ سوروپیہ کی ڈیڑھ سوگز زمین خرید کراپنی عورت کے نام کردی اس پر عملہ بھی شوہر نے بنوایابیاہتا عورت فوت ہوگئیاس کی اولاد ایك لڑکا ایك لڑکی جن کے تمامی حقوق سے ادا کرچکااب دوسری شادی کرلی ہے اس سے دولڑکے ہیں اب وہ شخص چاہتاہے کہ میری زندگی میں فیصلہ ہوجائے تاکہ بعد میرے مرنے کے جھگڑا نہ ہو توآیا پہلی عورت کی جو اولاد ہے ایك لڑکا ایك لڑکی ان کو اس جائداد سے کیا پہنچتا ہے اور جو دوسری عورت سے دو لڑکے ہیں ان کو اس جائداد سے کیا حق پہنچتاہےتعداد جائداد کی ایك ہزار روپیہ ہے۔
وھب الرجل فی مرضہ غلاما لابنہ ولابنہ علی ھذا الغلام دین فان صح فہو جائز وان مات فصار للورثۃ عاد دینہ ۔ ایك شخص نے اپنی مرض موت میں اپنے بیٹے کو غلام ہبہ کیا جبکہ اس بیٹے کا غلام پر دین تھا اگر صحیح ہوجائے تو جائز ہے اور اگراس مرض میں فوت ہوجائے تو غلام واپس اس کے ورثاء کی ملکیت بن جائے گا اور بیٹے کاغلام پر قرض بحال ہوجائے گا۔(ت)
اسی میں جامع المضمرات سے ہے:
مریضۃ وھبت صداقہا من زوجہا فان کانت مریضۃ مرض الموت لایصح الاباجازۃ الورثۃ ۔ مریضہ نے خاوند کو اپنا مہر ہبہ کیا اگر مرض الموت میں ہو تو ورثاء کی اجازت کے بغیر یہ ہبہ صحیح نہ ہوگا۔(ت)
عبارات مذکورہ سوال کابھی یہی مطلب ہے دوماہ بعد تك برضاء کل قابض متصرف رہنے سے اگریہ مراد ہے کہ بقیہ ورثہ نے اس کے نام اس ہبہ کو جائز کردیاا ور اس پر اپنی رضا کی تصریح کردی تو بلاشبہ غلام احمد مالك مستقل ہوگیا جبکہ باقی سب ورثہ عاقل بالغ اہل اجازت ہوں اور اب ان کو اس اجازت سے رجوع کا اختیار نہیںاوراگر ان کے مجرد سکوت وعدم منازعت کو رضا قرار دیا ہے تو اتنی قلیل مدت تك سکوت دلیل رضانہیں ان میں کل یا بعض جواجازت نہ دے چکا ہو منازعت کرسکتاہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۴: از شہر بریلی ۲۹ ربیع الاخر شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ڈیڑھ سوروپیہ کی ڈیڑھ سوگز زمین خرید کراپنی عورت کے نام کردی اس پر عملہ بھی شوہر نے بنوایابیاہتا عورت فوت ہوگئیاس کی اولاد ایك لڑکا ایك لڑکی جن کے تمامی حقوق سے ادا کرچکااب دوسری شادی کرلی ہے اس سے دولڑکے ہیں اب وہ شخص چاہتاہے کہ میری زندگی میں فیصلہ ہوجائے تاکہ بعد میرے مرنے کے جھگڑا نہ ہو توآیا پہلی عورت کی جو اولاد ہے ایك لڑکا ایك لڑکی ان کو اس جائداد سے کیا پہنچتا ہے اور جو دوسری عورت سے دو لڑکے ہیں ان کو اس جائداد سے کیا حق پہنچتاہےتعداد جائداد کی ایك ہزار روپیہ ہے۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۰۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۰۲€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۰۲€
الجواب:
پہلی عورت کا مہر اور وہ زمین کہ اس کے نام کردی تھی جبکہ اسے پورا قبضہ دے دیا ہو اور وہ عملہ بھی جبکہ اسی کے لئے بناہو اس عورت کے وارثوں کا ہے جن میں شوہر بھی اور عورت کے پسر ودختراوراگر مادرپدر ہوں تو وہ بھیاوراگر وہ زمین عورت کے نام نہ خریدی نہ خود خرید کر اسے دے کر اس کا پورا قبضہ کرایا تو زمین شوہر کی ہے اور عملہ بھی اسی کا ہے
لان ان وھب البناء قبل ان یبنی فھبۃ معدوم او بعدہ فہبۃ متصل وہی کھبۃ مشاع کما اوضحہ فی العقود الدریۃ وبیناہ علی ہامشہا وفی الخیرالرملی علی جامع الفصولین شجر اوبناء فی ارض الاخر وھبہ لمن الارض بیدہ لاتجوز الھبۃ اھ وفی الدرر تجوز ھبۃ البناء دون العرصۃ اذا اذن الواھب فی نقضہ ۔ کیونکہ اگر تعمیر سے قبل عمارت کا ہبہ ہو تویہ مقدوم چیز کا ہبہ ہوا اور اگر تعمیر کے بعد ہبہ کیا تو یہ اپنی ملکیت سے متصل چیز کا ہبہ ہوگا جو کہ مشاع چیز کے ہبہ کی طرح ہوا جیسا کہ عقود الدریہ میں اس کی وضاحت کی ہے اورہم نے اس کے حاشیہ پر بیان کردیا ہے اورجامع الفصولین پر خیر الدین رملی کے حاشیہ میں ہے دوسرے کی زمین میں اس کے درخت یا عمارت ہوں اور وہ اس کو زمین کے قابض کو ہبہ کردے تو یہ ہبہ صحیح نہ ہوگا اھ دررمیں ہے کہ اگر واہب اکھاڑلے جانے کی اجازت دے دے تو زمین کے بغیر عمارت کا ہبہ جائز ہوگا۔(ت)
پہلی صورت میں کہ زمین عورت کی تھی عملہ اس کا ہونے نہ ہونے کے لئے یہ معلوم ہونا درکار ہے کہ عملہ شوہر نے بطور خود بنایااورکیا کہہ کر بنایا کہ اپنے لئے بناتاہوں یا عورت کے لئے یا کچھ نہ کہا یا عورت کے کہنے سے بنایا اور عورت نے کیا کہا یہ کہ میرے لئے بنالےیا کچھ نہ کہااوربنانے کے لئے روپیہ عورت نے دیا یا شوہر کا تھا عورت نے دیا تو کہا کہہ کردیا۔
پہلی عورت کا مہر اور وہ زمین کہ اس کے نام کردی تھی جبکہ اسے پورا قبضہ دے دیا ہو اور وہ عملہ بھی جبکہ اسی کے لئے بناہو اس عورت کے وارثوں کا ہے جن میں شوہر بھی اور عورت کے پسر ودختراوراگر مادرپدر ہوں تو وہ بھیاوراگر وہ زمین عورت کے نام نہ خریدی نہ خود خرید کر اسے دے کر اس کا پورا قبضہ کرایا تو زمین شوہر کی ہے اور عملہ بھی اسی کا ہے
لان ان وھب البناء قبل ان یبنی فھبۃ معدوم او بعدہ فہبۃ متصل وہی کھبۃ مشاع کما اوضحہ فی العقود الدریۃ وبیناہ علی ہامشہا وفی الخیرالرملی علی جامع الفصولین شجر اوبناء فی ارض الاخر وھبہ لمن الارض بیدہ لاتجوز الھبۃ اھ وفی الدرر تجوز ھبۃ البناء دون العرصۃ اذا اذن الواھب فی نقضہ ۔ کیونکہ اگر تعمیر سے قبل عمارت کا ہبہ ہو تویہ مقدوم چیز کا ہبہ ہوا اور اگر تعمیر کے بعد ہبہ کیا تو یہ اپنی ملکیت سے متصل چیز کا ہبہ ہوگا جو کہ مشاع چیز کے ہبہ کی طرح ہوا جیسا کہ عقود الدریہ میں اس کی وضاحت کی ہے اورہم نے اس کے حاشیہ پر بیان کردیا ہے اورجامع الفصولین پر خیر الدین رملی کے حاشیہ میں ہے دوسرے کی زمین میں اس کے درخت یا عمارت ہوں اور وہ اس کو زمین کے قابض کو ہبہ کردے تو یہ ہبہ صحیح نہ ہوگا اھ دررمیں ہے کہ اگر واہب اکھاڑلے جانے کی اجازت دے دے تو زمین کے بغیر عمارت کا ہبہ جائز ہوگا۔(ت)
پہلی صورت میں کہ زمین عورت کی تھی عملہ اس کا ہونے نہ ہونے کے لئے یہ معلوم ہونا درکار ہے کہ عملہ شوہر نے بطور خود بنایااورکیا کہہ کر بنایا کہ اپنے لئے بناتاہوں یا عورت کے لئے یا کچھ نہ کہا یا عورت کے کہنے سے بنایا اور عورت نے کیا کہا یہ کہ میرے لئے بنالےیا کچھ نہ کہااوربنانے کے لئے روپیہ عورت نے دیا یا شوہر کا تھا عورت نے دیا تو کہا کہہ کردیا۔
حوالہ / References
العقود الدریہ کتاب الھبۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۹۵۔۹€۴
العقود الدریہ بحوالہ الرملی کتاب الھبۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۹۴،€اللآلی الدریۃ الفوائد الخیریہ حاشیہ جامع الفصولین الفصل الثلاثون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۵۸€
الدرالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الھبۃ ∞میرمحمد کتب خانہ کراچی ۲ /۲۲۱€
العقود الدریہ بحوالہ الرملی کتاب الھبۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۹۴،€اللآلی الدریۃ الفوائد الخیریہ حاشیہ جامع الفصولین الفصل الثلاثون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۵۸€
الدرالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الھبۃ ∞میرمحمد کتب خانہ کراچی ۲ /۲۲۱€
بہرحال وہ کل مکان یا صرف عملہ اور زمین کا حصہ یا دونوں کا حصہ جو کچھ ملك شوہر ٹھہرے اورایسے ہی اس کے اور املاك ان میں اسی کی حیات میں کسی کا دعوی نہیںہاں وہی تقسیم کرنا چاہئے توچاروں بیٹے بیٹی کو برابر دینا چاہئے۔پہلے جوان کے خرچ خوراك یا تعلیم یا شادی میں لگاچکا وہ اس حسے میں مجرا نہ ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۵: از بمبئی ڈاکخانہ نمبر ۹ ائسکریم ہوٹل مسئولہ مولوی احمد مختار صاحب ۵ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے منگنی کے وقت کچھ زیور وغیرہ اس عورت کےلئے دیا جس کے ساتھ اس کی منگنی قرار پائیچند ماہ بعد عقد نکاح کے لئے آیا تو کچھ کپڑے بھی پیش کئے بعد ازاں اس کا عقد سی عورت کے ساتھ ہوگیا زیور اور کپڑوں کا اس عورت کو جماعت کے سامنے پیش کئے بعد ازاں اس کا عقد اسی عورت کے ساتھ ہوگیا زیور اور کپڑوں کا اس عورت کو جماعت کے سامنے مالك بنادیا تھا اب کچھ عرصہ بعد اس نے عورت کو طلاق دے دی اور زیور کپڑے جو چڑھائے تھے وہ سب چھین لئےپس یہ واپسی جائز ہے یانہیںاکثر کتب فقہیہ میں ہے کہ قبل از عقد جو کچھ دیا ہے اس کی واپسی کا شوہر کو اختیار ہے بعد از عقد جو چاہے وہ نہیں لے سکتا۔
الجواب:
فی الواقع بعد نکاح جو کچھ تملیکا دیا اس سے رجوع نہیں کرسکتا اور قبل نکاح جو کچھ دیا اسے بے مرضی زن واپس لینا گناہ ہے اورخود چھین لینے کا ہرگز اختیار نہیں بلکہ عورت نہ دےنالش کرکے بحکم قاضی لے سکتا ہے اور گناہگاراس میں بھی ہوگا کہ صحیح حدیث میں فرمایا:
العائد فی ھبتہ کالکلب یعود فی قیئہ لیس لنا مثل السوء ۔ یعنی بری مثال مسلمان کے شایاں نہیں دے کر لینے والا کتے کی طرح ہے کہ قے کرکے پھر چاٹ لیتاہے۔
درمختارمیں دربارہ موانع رجوع ہے:
والزوجیۃ وقت الھبۃ فلووھب لامرأۃ ثم نکحہا رجع ولو وھب لامرأتہ لا ۔ ہبہ کے وقت منکوحہ بیوی ہونالہذا اگر کسی عورت کوھبہ کرکے بعد میں اس سے نکاح کیا تو ہبہ میں رجوع کرسکے گا اور اگر بیوی کوہبہ کیا رجوع نہ کرسکے گا۔(ت)
مسئلہ ۱۳۵: از بمبئی ڈاکخانہ نمبر ۹ ائسکریم ہوٹل مسئولہ مولوی احمد مختار صاحب ۵ صفر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے منگنی کے وقت کچھ زیور وغیرہ اس عورت کےلئے دیا جس کے ساتھ اس کی منگنی قرار پائیچند ماہ بعد عقد نکاح کے لئے آیا تو کچھ کپڑے بھی پیش کئے بعد ازاں اس کا عقد سی عورت کے ساتھ ہوگیا زیور اور کپڑوں کا اس عورت کو جماعت کے سامنے پیش کئے بعد ازاں اس کا عقد اسی عورت کے ساتھ ہوگیا زیور اور کپڑوں کا اس عورت کو جماعت کے سامنے مالك بنادیا تھا اب کچھ عرصہ بعد اس نے عورت کو طلاق دے دی اور زیور کپڑے جو چڑھائے تھے وہ سب چھین لئےپس یہ واپسی جائز ہے یانہیںاکثر کتب فقہیہ میں ہے کہ قبل از عقد جو کچھ دیا ہے اس کی واپسی کا شوہر کو اختیار ہے بعد از عقد جو چاہے وہ نہیں لے سکتا۔
الجواب:
فی الواقع بعد نکاح جو کچھ تملیکا دیا اس سے رجوع نہیں کرسکتا اور قبل نکاح جو کچھ دیا اسے بے مرضی زن واپس لینا گناہ ہے اورخود چھین لینے کا ہرگز اختیار نہیں بلکہ عورت نہ دےنالش کرکے بحکم قاضی لے سکتا ہے اور گناہگاراس میں بھی ہوگا کہ صحیح حدیث میں فرمایا:
العائد فی ھبتہ کالکلب یعود فی قیئہ لیس لنا مثل السوء ۔ یعنی بری مثال مسلمان کے شایاں نہیں دے کر لینے والا کتے کی طرح ہے کہ قے کرکے پھر چاٹ لیتاہے۔
درمختارمیں دربارہ موانع رجوع ہے:
والزوجیۃ وقت الھبۃ فلووھب لامرأۃ ثم نکحہا رجع ولو وھب لامرأتہ لا ۔ ہبہ کے وقت منکوحہ بیوی ہونالہذا اگر کسی عورت کوھبہ کرکے بعد میں اس سے نکاح کیا تو ہبہ میں رجوع کرسکے گا اور اگر بیوی کوہبہ کیا رجوع نہ کرسکے گا۔(ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الحیل باب فی الھبۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۳۲€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۳€
درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ∞مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۳€
اسی میں ہے:
لایصح الرجوع الابتراضیہما اوبحکم الحاکم واﷲ تعالی اعلم۔ باہمی رضامندی سے یاحاکم کے حکم سے ہی رجوع صحیح ہوگا۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۳۶:از اودے پور میواڑ راجپوتانہ اسٹیٹ محلہ افیم کاکانٹہ برمکان محمد حیات صاحب انجئیر مسئولہ نیاز الحسن صاحب ۶ جمادی الاخری ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں موافق مذہب حنفی کے کہ زید کے دولڑکے ہیں بکر وعمرواب زید نے اپنی جائداد عمرو کو ہبہ کرکے اس پر عمرو کا قبضہ کرادیا اور بعد وفات زید کے عمرو نے جائداد موہوبہ اپنی زوجہ مسماۃ امیرن کو بالعوض مہر بخشش کردی اور بعد وفات امیرن کے عمرو نے اپنے بھائی بکر کو ایك خط لکھا جس میں یہ لکھا ہے کہ جائداد مذکورہ کے تم مالك ہو اورعمرو کے امیرن کے بطن سے دو لڑکے ہیں خالد و ناصر اب بکر مدعی ہے کہ جائداد کا مالك میں ہوںاورخالد وناصر مدعی ہیں کہ مالك ہم ہیںشرعا مالك و وارث کون قرار دیاجاسکتاہے۔
الجواب:
جب زید نے عمرو کو ہبہ کرکے قابض کردیا اور عمرو نے امیرن کے مہر میں دے دی امیرن مالك ہوگئیعمرو کو کوئی اختیارنہ رہا کہ اپنے بھائی کو اس کا مالك کردےجائداد بقدر حصہ خالد وناصر کی ہےہاں چہارم عمرو کوحصہ شوہری میں ملی اسے اپنے بھائی کو یا جسے چاہے ہبہ کرسکتاہے مگر ابھی نہیں بلکہ بعد تقسیم اپنا چہارم الگ متمیز کراکر ہبہ کرسکے گا ورنہ اس کا ہبہ بھی باطل۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۷: از رائے بریلی یونانی دواخانہ کبیر گنج مسئولہ محمد عظیم عطار ۱۰ رمضان المبارك ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے جو اس کے ذاتی دو مکان تھے اور اس کی ایك لڑکی اور ایك لڑکا تھامنجملہ دو قطعہ مکان کے ایك مکان خورد لڑکی کواور مکان کلاں لڑکے نرینہ مع کل اسباب وغیرہ کے اپنی حیات میں ہبہ کرکے رجسٹری کرادی اور یہ الفاظ بھی رجسٹری میں تحریر کئے کہ چونکہ لڑکی مؤنث اور داماد میری خدمت گزاری کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ ہی رہتی ہوں اورحق شرع بھی قریب قریب اسی کے ہوتا بخیال دور اندیشی واقع متنازع آئندہ کے ہبہ کرتی ہوں اور قبضہ بھی دیتی ہوں لیکن بوجہ جھگڑا فساد کے کچھ عرصہ تك قیام کرکے لڑکی اپنے دوسرے ذاتی مکان میں اٹھ گئی اورنیز برادران نے زبردستی جبر
لایصح الرجوع الابتراضیہما اوبحکم الحاکم واﷲ تعالی اعلم۔ باہمی رضامندی سے یاحاکم کے حکم سے ہی رجوع صحیح ہوگا۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۳۶:از اودے پور میواڑ راجپوتانہ اسٹیٹ محلہ افیم کاکانٹہ برمکان محمد حیات صاحب انجئیر مسئولہ نیاز الحسن صاحب ۶ جمادی الاخری ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں موافق مذہب حنفی کے کہ زید کے دولڑکے ہیں بکر وعمرواب زید نے اپنی جائداد عمرو کو ہبہ کرکے اس پر عمرو کا قبضہ کرادیا اور بعد وفات زید کے عمرو نے جائداد موہوبہ اپنی زوجہ مسماۃ امیرن کو بالعوض مہر بخشش کردی اور بعد وفات امیرن کے عمرو نے اپنے بھائی بکر کو ایك خط لکھا جس میں یہ لکھا ہے کہ جائداد مذکورہ کے تم مالك ہو اورعمرو کے امیرن کے بطن سے دو لڑکے ہیں خالد و ناصر اب بکر مدعی ہے کہ جائداد کا مالك میں ہوںاورخالد وناصر مدعی ہیں کہ مالك ہم ہیںشرعا مالك و وارث کون قرار دیاجاسکتاہے۔
الجواب:
جب زید نے عمرو کو ہبہ کرکے قابض کردیا اور عمرو نے امیرن کے مہر میں دے دی امیرن مالك ہوگئیعمرو کو کوئی اختیارنہ رہا کہ اپنے بھائی کو اس کا مالك کردےجائداد بقدر حصہ خالد وناصر کی ہےہاں چہارم عمرو کوحصہ شوہری میں ملی اسے اپنے بھائی کو یا جسے چاہے ہبہ کرسکتاہے مگر ابھی نہیں بلکہ بعد تقسیم اپنا چہارم الگ متمیز کراکر ہبہ کرسکے گا ورنہ اس کا ہبہ بھی باطل۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۷: از رائے بریلی یونانی دواخانہ کبیر گنج مسئولہ محمد عظیم عطار ۱۰ رمضان المبارك ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے جو اس کے ذاتی دو مکان تھے اور اس کی ایك لڑکی اور ایك لڑکا تھامنجملہ دو قطعہ مکان کے ایك مکان خورد لڑکی کواور مکان کلاں لڑکے نرینہ مع کل اسباب وغیرہ کے اپنی حیات میں ہبہ کرکے رجسٹری کرادی اور یہ الفاظ بھی رجسٹری میں تحریر کئے کہ چونکہ لڑکی مؤنث اور داماد میری خدمت گزاری کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ ہی رہتی ہوں اورحق شرع بھی قریب قریب اسی کے ہوتا بخیال دور اندیشی واقع متنازع آئندہ کے ہبہ کرتی ہوں اور قبضہ بھی دیتی ہوں لیکن بوجہ جھگڑا فساد کے کچھ عرصہ تك قیام کرکے لڑکی اپنے دوسرے ذاتی مکان میں اٹھ گئی اورنیز برادران نے زبردستی جبر
حوالہ / References
درمختار کتاب الہبہ باب الرجوع فی الہبہ ∞مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۴€
کرکے مؤنث سے ایك ہبہ نامہ بھائی کو لکھوا لیا اور(عہ/)خرچ رجسٹری وغیرہ برادران نے دلوادیا بوجوہ اب تك لڑکی خامو ش رہیلیکن اب وہ مکان لینا چاہتی ہے آیا شرعا جائز ہے یانہیں لڑکی عرصہ تك اس مکان پر قابض رہی اور ماں بھی اس مکان میں رہتی رہی۔بینوا توجروا
الجواب:
ماں اگر اسی مکان میں رہتی رہی اور تھوڑی دیر کے لئے بھی اپنی ذات اور اپنے کل اسباب سے بالکل خالی کرکے لڑکی کوقابض نہ کردیا تھا جب تولڑکی کے نام وہ ہبہ ہی صحیح نہ ہواہندہ اگر زندہ ہے تو اپنے مکان کی وہ خود مالك ہےاور اگر مرچکی ہے تو لڑکی اس مکان میں سے تہائی لے سکتی ہےاور اگر ہندہ نے مکان بالکل خالی کرکے پورا قبضہ لڑکی کو دے دیا تھا وہ اس کی مالك ہوگئی پھر اہل برادری کے اصرار سے بغیر شرعی مجبوری کے اس نے بھائی کے نام ہبہ کردیا اور اپنی ذات اور اسباب سے بالکل خالی کرکے بھائی کو قبضہ دے دیا تو بھائی مالك ہوگیا اب لڑکی کو اس سے واپس لینے کا کوئی اختیار نہیں اور اگر واقعی اس کو مجبورشرعی کرکے بالجبر ہبہ نامہ لکھوایا یا لڑکی نے کچھ دیر کے لئے بھی مکان اپنی ذات اور بالکل اپنے اسباب سے خالی کرکے بھائی کو قبضہ نہ دیا تو لڑکی اس مکان کی مالك ہے جب چاہے بھائی سے واپس لے سکتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۸: از میرتہ سٹی ضلع جودھپور مسئولہ فخرالدین شاہ ۱۹ ذیقعدہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نہ اولاد ہے نہ بھائی حقیقینہ بیٹا ہےوہ اگر اپنا ورثہ مال یتیم کو دےدے تو جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
جس کا کوئی وارث شرعی نہ ہو وہ اپنا کل مال یتیم کو دے سکتاہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۹: از سنبھل محلہ دیپاسرائے ضلع مراد آباد مرسلہ حافظ عبدالرؤف
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے لڑکے لڑکا پیدا ہوازید کی ہمشیرہ ہندہ نے بوجہ خوشی زیدکے لڑکا پیدا ہونے کے زید کے لڑکے کو موافق رواج کے ہنسلی کھنڈوے چڑھائے جن کی قیمت ۶ روپے تھیزید اپنی بہن ہندہ کو اپنے لڑکے کی پیدائش کی خوشی ہنسلی کھنڈوے کے صلہ میں دو بھینسیں دیںایك بھینس ہندہ نے فروخت کرکے اس کی قیمت سے اپنے شوہر کے روپے میں ملاکر غلہ کی تجارت کی اور نفع ہوادوسری بھینس کا بچہ ہندہ نے اپنے گھر رکھا اور بھینس کو بیچ کر کچھ اور روپیہ شوہر کے روپیوں میں سے ملاکر اور بھینس شوہر سے خرید والی جو اب مع بچہ کے موجود ہےغرض فی الھال دو بھینسیں اور
الجواب:
ماں اگر اسی مکان میں رہتی رہی اور تھوڑی دیر کے لئے بھی اپنی ذات اور اپنے کل اسباب سے بالکل خالی کرکے لڑکی کوقابض نہ کردیا تھا جب تولڑکی کے نام وہ ہبہ ہی صحیح نہ ہواہندہ اگر زندہ ہے تو اپنے مکان کی وہ خود مالك ہےاور اگر مرچکی ہے تو لڑکی اس مکان میں سے تہائی لے سکتی ہےاور اگر ہندہ نے مکان بالکل خالی کرکے پورا قبضہ لڑکی کو دے دیا تھا وہ اس کی مالك ہوگئی پھر اہل برادری کے اصرار سے بغیر شرعی مجبوری کے اس نے بھائی کے نام ہبہ کردیا اور اپنی ذات اور اسباب سے بالکل خالی کرکے بھائی کو قبضہ دے دیا تو بھائی مالك ہوگیا اب لڑکی کو اس سے واپس لینے کا کوئی اختیار نہیں اور اگر واقعی اس کو مجبورشرعی کرکے بالجبر ہبہ نامہ لکھوایا یا لڑکی نے کچھ دیر کے لئے بھی مکان اپنی ذات اور بالکل اپنے اسباب سے خالی کرکے بھائی کو قبضہ نہ دیا تو لڑکی اس مکان کی مالك ہے جب چاہے بھائی سے واپس لے سکتی ہے۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۳۸: از میرتہ سٹی ضلع جودھپور مسئولہ فخرالدین شاہ ۱۹ ذیقعدہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نہ اولاد ہے نہ بھائی حقیقینہ بیٹا ہےوہ اگر اپنا ورثہ مال یتیم کو دےدے تو جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
جس کا کوئی وارث شرعی نہ ہو وہ اپنا کل مال یتیم کو دے سکتاہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۹: از سنبھل محلہ دیپاسرائے ضلع مراد آباد مرسلہ حافظ عبدالرؤف
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے لڑکے لڑکا پیدا ہوازید کی ہمشیرہ ہندہ نے بوجہ خوشی زیدکے لڑکا پیدا ہونے کے زید کے لڑکے کو موافق رواج کے ہنسلی کھنڈوے چڑھائے جن کی قیمت ۶ روپے تھیزید اپنی بہن ہندہ کو اپنے لڑکے کی پیدائش کی خوشی ہنسلی کھنڈوے کے صلہ میں دو بھینسیں دیںایك بھینس ہندہ نے فروخت کرکے اس کی قیمت سے اپنے شوہر کے روپے میں ملاکر غلہ کی تجارت کی اور نفع ہوادوسری بھینس کا بچہ ہندہ نے اپنے گھر رکھا اور بھینس کو بیچ کر کچھ اور روپیہ شوہر کے روپیوں میں سے ملاکر اور بھینس شوہر سے خرید والی جو اب مع بچہ کے موجود ہےغرض فی الھال دو بھینسیں اور
ایك بچہ موجود ہےمگر گوت یعنی چارہ وغیرہ کا خرچ بھینسوں کا شوہر کے ذمہ رہابلا کسی شرط کے اور گھی دودھ وغیرہ میاں بی بی دوونوں کے تصرف میں ہوتا رہا۔اور یہ معلوم نہیں ہنسلی کھنڈوے ہندہ کے روپیہ کے تھے یا شوہر کے داموں سے بنوائے گئے تھےصورت مسئولہ میں اس مال تجارت مع نفع اور ان تینوں جانوروں کا مالك شوہر ہوگا یا ہندہ
الجواب:
وہ خریداری ہندہ نے اگر اپنے لئے کی ہےمالك صرف ہندہ ہے اگرچہ قیمت میں شوہر کا روپیہ بھی شریك ہےپھر ی روپیہ اگر شوہر نے ھبۃ دیا فبہا ورنہ اس قدر روپیہ ہندہ سے واپس لے سکتاہےاور اگر قیمت میں شوہر کا روپیہ شامل کر نے سے اس شے میں شرکت مراد تھی تو وہ مال زن و شوہر دونوں میں مشترك ہےزوج زوجہ میں ابنساط کامل ہونے کے سبب یہ نہ دیکھا جائے گا کہ چارہ کس نے دیا اور دودھ دہی کس کے کام آیاہنسلی کڑے کسی کے روپیہ سے ہوںوہ بھینسیں کہ بھائی نے بہن کو دیں بہن کی ملك ہوئیںبہنوئی کا کچھ حق نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۰: از سیتا پور محلہ عالم نگر مدرسہ اسلامیہ مرسلہ عبدالقادر صاحب طالب علم ۱۴رجب المرجب ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی کچھ جائداد کو بعد انتقال اپنے لڑکے کے اس کے دو۲صغیر بچوں کے نام ہبہ کرکے تاحیات بحیثیت متولی قابض رہابعد وفات واہب عمرو مدعی ابنیت زید دعوی فسخ ہبہ وعدم جواز بنا بر مشاعیت موہوب وعدم قبضہ بذات خود صغیرین کرتا ہے سوال یہ ہے کہ اگر شخص نے اپنی جائداد بلا تقسیم وتفریق حصص بینھما مسلم دو موضع جس میں واہب نے اپنا کسی قسم کا کچھ قبضہ وشرکت باقی نہیں رکھیہبہ کرکے بحیثیت متولیکیونکہ یہ یتیم بچے اس کی پرورش میں تھے قابض رہےیہ ہبہ جائز ہے یاناجائز بالاتفاق یا باختلافا ور فتوی کس کے قول پر ہےاور قبضہ واہب منجا نب صغیرین ان کا قبضہ برائے جوازہبہ متصور ہوگا یانہیں اور قول مشہور ہے کہ وقت اختلاف ائمہ ثلثہ معاملات میں قول ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی مفتی بہ ہوتاہے اس کی کیا اصل ہے بوضاحت مع حوالہ کتب جواب باصواب سے مشرف وممتاز فرمائیے گا۔
الجواب:
اگر وہ دونوں بچے فقیر تھے اپنے باپ یا اور کسی سے ارثا یا ھبۃ کسی مال بقدر نصاب کے مالك نہ تھے تویہ جائداد کہ دادا نے بعد وفات پسرانھیں مشترکا ہبہ کی اور اپنا کوئی حصہ اس میں نہ رکھا یہ ہبہ
الجواب:
وہ خریداری ہندہ نے اگر اپنے لئے کی ہےمالك صرف ہندہ ہے اگرچہ قیمت میں شوہر کا روپیہ بھی شریك ہےپھر ی روپیہ اگر شوہر نے ھبۃ دیا فبہا ورنہ اس قدر روپیہ ہندہ سے واپس لے سکتاہےاور اگر قیمت میں شوہر کا روپیہ شامل کر نے سے اس شے میں شرکت مراد تھی تو وہ مال زن و شوہر دونوں میں مشترك ہےزوج زوجہ میں ابنساط کامل ہونے کے سبب یہ نہ دیکھا جائے گا کہ چارہ کس نے دیا اور دودھ دہی کس کے کام آیاہنسلی کڑے کسی کے روپیہ سے ہوںوہ بھینسیں کہ بھائی نے بہن کو دیں بہن کی ملك ہوئیںبہنوئی کا کچھ حق نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۰: از سیتا پور محلہ عالم نگر مدرسہ اسلامیہ مرسلہ عبدالقادر صاحب طالب علم ۱۴رجب المرجب ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زیدنے اپنی کچھ جائداد کو بعد انتقال اپنے لڑکے کے اس کے دو۲صغیر بچوں کے نام ہبہ کرکے تاحیات بحیثیت متولی قابض رہابعد وفات واہب عمرو مدعی ابنیت زید دعوی فسخ ہبہ وعدم جواز بنا بر مشاعیت موہوب وعدم قبضہ بذات خود صغیرین کرتا ہے سوال یہ ہے کہ اگر شخص نے اپنی جائداد بلا تقسیم وتفریق حصص بینھما مسلم دو موضع جس میں واہب نے اپنا کسی قسم کا کچھ قبضہ وشرکت باقی نہیں رکھیہبہ کرکے بحیثیت متولیکیونکہ یہ یتیم بچے اس کی پرورش میں تھے قابض رہےیہ ہبہ جائز ہے یاناجائز بالاتفاق یا باختلافا ور فتوی کس کے قول پر ہےاور قبضہ واہب منجا نب صغیرین ان کا قبضہ برائے جوازہبہ متصور ہوگا یانہیں اور قول مشہور ہے کہ وقت اختلاف ائمہ ثلثہ معاملات میں قول ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالی مفتی بہ ہوتاہے اس کی کیا اصل ہے بوضاحت مع حوالہ کتب جواب باصواب سے مشرف وممتاز فرمائیے گا۔
الجواب:
اگر وہ دونوں بچے فقیر تھے اپنے باپ یا اور کسی سے ارثا یا ھبۃ کسی مال بقدر نصاب کے مالك نہ تھے تویہ جائداد کہ دادا نے بعد وفات پسرانھیں مشترکا ہبہ کی اور اپنا کوئی حصہ اس میں نہ رکھا یہ ہبہ
بلا شبہ صحیح وتام ولازم ہوگیانہ مشاع ہونا اس کی صحت کو مضرنہ موہوب لھما کا قبضہ ہونا اس کی تمامی کوضرور کہ جب وہ دونوں مالك نصاب نہ تھے تو ان کے لئے ہبہ صدقہ ہوا اور ایسا شیوع صحت صدقہ کا مانع نہیں اور جبکہ وہ یتیم ونابالغ ہیں تو دادا کا قبضہ بعینہ ان کا قبضہ ہےہبہ کرتے ہی تام ولازم ہوگیا درمختارمیں ہے:
(او وھبہا لفقیرین صح)لان الھبۃ للفقیر صدقۃ والصدقۃ یرادبہا وجہ اﷲ وھو واحد فلا شیوع (یامشاع چیز دو فقیروں کوہبہ کرے تو صحیح ہے)کیونکہ فقیر کو ہبہ کرنا صدقہ ہوتاہے اور صدقہ اﷲ تعالی کی رضا جوئی کےلئے ہوتاہے جبکہ وہ وحدہ لاشریك ہےتو شیوع نہ ہوگا۔(ت)
اسی میں ہے:
وھبۃ من لہ ولایۃ علی الطفل فی الجملۃ تتم بالعقدۃ لو الموھوب معلوما وکان فی یدہ او فی ید مودعہ لان قبض الولی ینوب عنہ والاصل ان کل عقد یتولاہ الواحد یکتفی فیہ بالایجاب ۔ اوربچے کے والی کا بچے کو ہبہ کرنا عقد سے تام ہوجاتاہے بشرطیکہ موہوب چیز معلوم ہو اور ولی کے قبضہ میں ہویا اس کی امانت والے کے قبضہ میں ہوکیونکہ ولی کا قبضہ بچے کے قبضہ کے قائم مقام ہوگااور اس میں ضابطہ یہ ہے کہ ایسا عقد جس میں ایك شخص فریقین کی طر ف سے ولی بن سکتاہو تو ایسے عقد میں صرف ایجاب کافی ہوا ہے)(ت)
ہاں اگر وہ دونوں یتیم یا ایك غنی ومالك نصاب تھا تو سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك یہ ہبہ صحیح نہ ہوا اور موت واہب سے باطل ہوگیاتنویر الابصار میں ہے:
وھب اثنان دارا لواحد صح وبقلبہ لا ۔ دو افراد نے ایك شخص کو مشاع چیز ہبہ کی تو جائز ہے اور اگر عکس ہوتو ناجائز ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
(او وھبہا لفقیرین صح)لان الھبۃ للفقیر صدقۃ والصدقۃ یرادبہا وجہ اﷲ وھو واحد فلا شیوع (یامشاع چیز دو فقیروں کوہبہ کرے تو صحیح ہے)کیونکہ فقیر کو ہبہ کرنا صدقہ ہوتاہے اور صدقہ اﷲ تعالی کی رضا جوئی کےلئے ہوتاہے جبکہ وہ وحدہ لاشریك ہےتو شیوع نہ ہوگا۔(ت)
اسی میں ہے:
وھبۃ من لہ ولایۃ علی الطفل فی الجملۃ تتم بالعقدۃ لو الموھوب معلوما وکان فی یدہ او فی ید مودعہ لان قبض الولی ینوب عنہ والاصل ان کل عقد یتولاہ الواحد یکتفی فیہ بالایجاب ۔ اوربچے کے والی کا بچے کو ہبہ کرنا عقد سے تام ہوجاتاہے بشرطیکہ موہوب چیز معلوم ہو اور ولی کے قبضہ میں ہویا اس کی امانت والے کے قبضہ میں ہوکیونکہ ولی کا قبضہ بچے کے قبضہ کے قائم مقام ہوگااور اس میں ضابطہ یہ ہے کہ ایسا عقد جس میں ایك شخص فریقین کی طر ف سے ولی بن سکتاہو تو ایسے عقد میں صرف ایجاب کافی ہوا ہے)(ت)
ہاں اگر وہ دونوں یتیم یا ایك غنی ومالك نصاب تھا تو سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك یہ ہبہ صحیح نہ ہوا اور موت واہب سے باطل ہوگیاتنویر الابصار میں ہے:
وھب اثنان دارا لواحد صح وبقلبہ لا ۔ دو افراد نے ایك شخص کو مشاع چیز ہبہ کی تو جائز ہے اور اگر عکس ہوتو ناجائز ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
حوالہ / References
درمختار،کتاب الھبۃ،∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
درمختار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۰€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الھبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۶۱€
اطلق ذلك فافادانہ لافرق بین ان یکون کبیرین اوصغیرین اواحدھما کبیرا والاخرصغیرا وفی الاولین خلافھما ۔ اس کو مطلق بیان کیا تو اس کا فائدہ یہ ہے کہ موہوب لہ دونوں بالغ ہوں یا نابالغ یا ایك بالغ اورایك نابالغ ہو پہلی دو صورتوں میں صاحبین کا خلاف ہے۔(ت)
اور فتوی ہمیشہ قول امام پر ہوتاہے
کما حققناہ فی رسالتنا اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے رسالہ"اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام"میں کی ہے(ت)
امام اجل برہان الملۃ والدین صاحب ہدایہ کتاب التجنیس والمزید میں فرماتے ہیں:
الواجب عندی ان یفتی بقول ابی حنیفۃ بکل حال ۔ میرے نزدیك واجب ہے کہ ہر حال میں فتوی امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول پر دیا جائے۔(ت)
یہ کہیں نہیں ہے کہ معاملات میں فتوی قول امام ابی یوسف پر ہےہاں مسائل وقف وقضا میں ایسا کہا گیا وہ بھی نہ کلیہ ہے نہ اعطائے قاعدہ کہ ائمہ ترجیح کافتوی دیکھو یا نہ دیکھو مسائل کتاب القضا وکتاب الوقف میں قول ابی یوسف پر فتوی سمجھ لو ایسا نہیں بلکہ بلحاظ کثرت بیان واقع ہے ان دونوں کتابوں کے خلافیات میں مشائخ نے بہت جگہ قول ابی یوسف اختیار کیا ہے یہ فتوی انھیں مواضع پر مقتصر رہے گاکما افادہ فی ردالمحتار ولا یمتری فیہ من لہ ممارثۃ بالفقۃ(جیساکہ افادہ ردالمحتار میں کیا اور جس کو فقہ میں ممارثت ہے وہ اس میں شك نہ کریگا۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۱: از شہر کانپور محلہ انور گنج مرسلہ سید محمد باقر حسین پسر سید علی حسین خاں بہادرمرحوم ۱۶ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنے کاروبار کے بہی کھاتے میں
اور فتوی ہمیشہ قول امام پر ہوتاہے
کما حققناہ فی رسالتنا اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق اپنے رسالہ"اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام"میں کی ہے(ت)
امام اجل برہان الملۃ والدین صاحب ہدایہ کتاب التجنیس والمزید میں فرماتے ہیں:
الواجب عندی ان یفتی بقول ابی حنیفۃ بکل حال ۔ میرے نزدیك واجب ہے کہ ہر حال میں فتوی امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول پر دیا جائے۔(ت)
یہ کہیں نہیں ہے کہ معاملات میں فتوی قول امام ابی یوسف پر ہےہاں مسائل وقف وقضا میں ایسا کہا گیا وہ بھی نہ کلیہ ہے نہ اعطائے قاعدہ کہ ائمہ ترجیح کافتوی دیکھو یا نہ دیکھو مسائل کتاب القضا وکتاب الوقف میں قول ابی یوسف پر فتوی سمجھ لو ایسا نہیں بلکہ بلحاظ کثرت بیان واقع ہے ان دونوں کتابوں کے خلافیات میں مشائخ نے بہت جگہ قول ابی یوسف اختیار کیا ہے یہ فتوی انھیں مواضع پر مقتصر رہے گاکما افادہ فی ردالمحتار ولا یمتری فیہ من لہ ممارثۃ بالفقۃ(جیساکہ افادہ ردالمحتار میں کیا اور جس کو فقہ میں ممارثت ہے وہ اس میں شك نہ کریگا۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۱: از شہر کانپور محلہ انور گنج مرسلہ سید محمد باقر حسین پسر سید علی حسین خاں بہادرمرحوم ۱۶ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدنے اپنے کاروبار کے بہی کھاتے میں
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الھبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۵۱۴€
التجنیس والمزید
التجنیس والمزید
بدفعات وبتواریخ سنہ وسال مختلف کبھی اپنے بڑے بیٹے اور کبھی چھوٹے بیٹے اور کبھی مشترکہ دونوں تینوں کے ناموں سے بھی کھاتہ جات میں اکثرر سومات مثل نقد یا آمدنی کمیشن یا منافع تجارت وغیرہ کو بمد جمع اندراج کرتا رہتاتھا اور بعد اندراج جملہ رقومات کو اپنے قبضہ تصرف میں رکھتا تھا چونکہ اسی درمیان میں زید دو۲ لڑکے اور دو۲ لڑکیاں چھوڑکر انتقال کرگیا لہذا اب جس قدر مال ومتاع ہے اس میں سے نمبر ۱ ونمبر ۲ ونمبر۳ کے ناموں سے جو رقومات بمد جمع اندراج بہی کھاتہ جات ہیں تو کیا وہ رقومات جن کے ناموں سے زید نے اندراج بہی کھاتہ جات کئے ہیں وہ انھیں کی خاص سمجھی جائیں گی جبکہ ان رقومات پر متوفی خود ہی قابض ودخیل تھا اوراپنے کاروبار می ں لگائے ہوئے تھا ورنہ خاص ان رقومات کا کوئی منافع علیحدہ کرتا تھایا جملہ رقومات شرعا زید کے کل ورثہ کا حق ترکہ قرار پائے گا۔
الجواب:
ان میں اگر اس کا کوئی بیٹا اس وقت نابالغ تھا تو اس کے نام سے جو رقم مندرج کی وہ اس بیٹے کی ٹھہرے گی باقی جو رقم کسی بالغ کے نام مندرج کیں اور اسے قبضہ نہ دیایا دو کے نام مشترکا درج کیں خواہ دونوں بالغ ہوں یا نابالغیا ایك بالغ ہو اور ایك نابالغ ان چاروں صورتوں میں وہ اندراج بے اثر محض ہےاور ایسی جملہ رقوم متروکہ زید ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۲: مرسلہ مولوی سید سلیمان اشرف صاحب علی گڑھ کالج ۲۴ شعبان ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی کوئی اولاد صلبی نہیں ہے ایك دختر زادی ہے ایك زوجہونیز علاتی بھائی ہیںوہ شخص عاقل بالغ ہے وہ اپنی جائداد دختر زادی کے نام بوجہ محبت ذاتی کےاور زوجہ کے نام بوجہ خدمات اور ادائے حقوق زوجیت کے منتقل کرنا چاہتاہےیہ شخص اس قسم کے تصرفات کا مستقل طور پر مجاز ہے یانہیں
دوسرے یہ کہ دوسرے ورثاء اس کے حین حیات اس کاروائی میں کسی قسم کے عذر اور مزاحمت کرنے کے مجاز ہوسکتے ہیں یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں شخص مذکور کوشرعا اختیار ہےاپنی جائداد اپنی بی بی اور نواسی کو خواہ جسے چاہے دے دے اس کے بھائی وغیرہم کسی کو اصلا حق مزاحمت نہیںاگر مزاحمت کریں باطل ونامسموع محض ہےملك ایك اختصاص حکمی ہے کہ انسان کو اس کے مال میں اطلاق تصرف کا ثمرہ دیتاہے کسی مالك کا اسکی ملك میں تصرف ممنوع النفاذ ہونا دوہی طور پر معقول ہےیا تو اس کی اہلیت میں قصور ہو
الجواب:
ان میں اگر اس کا کوئی بیٹا اس وقت نابالغ تھا تو اس کے نام سے جو رقم مندرج کی وہ اس بیٹے کی ٹھہرے گی باقی جو رقم کسی بالغ کے نام مندرج کیں اور اسے قبضہ نہ دیایا دو کے نام مشترکا درج کیں خواہ دونوں بالغ ہوں یا نابالغیا ایك بالغ ہو اور ایك نابالغ ان چاروں صورتوں میں وہ اندراج بے اثر محض ہےاور ایسی جملہ رقوم متروکہ زید ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۲: مرسلہ مولوی سید سلیمان اشرف صاحب علی گڑھ کالج ۲۴ شعبان ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی کوئی اولاد صلبی نہیں ہے ایك دختر زادی ہے ایك زوجہونیز علاتی بھائی ہیںوہ شخص عاقل بالغ ہے وہ اپنی جائداد دختر زادی کے نام بوجہ محبت ذاتی کےاور زوجہ کے نام بوجہ خدمات اور ادائے حقوق زوجیت کے منتقل کرنا چاہتاہےیہ شخص اس قسم کے تصرفات کا مستقل طور پر مجاز ہے یانہیں
دوسرے یہ کہ دوسرے ورثاء اس کے حین حیات اس کاروائی میں کسی قسم کے عذر اور مزاحمت کرنے کے مجاز ہوسکتے ہیں یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں شخص مذکور کوشرعا اختیار ہےاپنی جائداد اپنی بی بی اور نواسی کو خواہ جسے چاہے دے دے اس کے بھائی وغیرہم کسی کو اصلا حق مزاحمت نہیںاگر مزاحمت کریں باطل ونامسموع محض ہےملك ایك اختصاص حکمی ہے کہ انسان کو اس کے مال میں اطلاق تصرف کا ثمرہ دیتاہے کسی مالك کا اسکی ملك میں تصرف ممنوع النفاذ ہونا دوہی طور پر معقول ہےیا تو اس کی اہلیت میں قصور ہو
جیسے مجنون یا صبی لایعقل کہ ان کے تصرفات مطلقا باطل یا معتوہ یاصبی عاقل کہ ان کے تصرفات ضارہ باطل اور دائر بین النفع والضرر اجازت ولی پر موقوف قول صاحبین پر سفیہ بھی اسی کے ساتھ ملتحق ہے وہ کہ اپنا مال فضول ولغو باتوں میں برباد کرے گا امام محمد کے نزدیك بنفس سفہ اورامام ابویوسف کے نزدیك بعد حجر حاکم وھوالراجح۔یا اہلیت تو کاملہ ہے مگر حق غیر متعلق ہے یہ حق اگر بعینہ اس شے سے متعلق ہے جس میں تصرف کرنا چاہتاہے جب تو منع نفاذ ظاہر ہے۵جیسے راہن شے مرہون میں بے اذن مرتہن تصرف نہیں کرسکتایا ۶مواجر شے مواجر میں بے اذن مستاجر جب تك رہن واجارہ باقی ہیں۷بخلاف رعایت کہ وہ محض اس کی طرف سے تبرع ہے حق مستعیر اس سے متلق نہیں اور اگر عین شیئ سے تعلق حق نہ ہو تو منع نفاذ حجر حاکم پر موقوف ہے مثلا زید مدیون ہے اور دین اس کے جائداد کو مستغرق ہےتو ۸قبل حکم حجر اگر وہ اپنی جائداد کسی کو ہبہ کردےیقینا یہ تصرف نافذ ہوجائے گا کہ دین عین سے متعلق نہ تھابلکہ اس کے ذمہ پر ہاں اگر دائنوں نے درخواست دی کہ ہم کو اندیشہ ہے کہ یہ جائداد تلف کردے گا تو امام اعظم رضی اﷲ تعالی کے نزدیك اب بھی اسے تصرف سے منع نہ کیا جائے گا کہ وہ مالك ہے اپنی ملك میں جو چاہے تصرف کرے اس خیال سے کہ شائد تلف کردے دائنوں کا ضرر محتمل ہےاور اسے ممنوع التصرف کردینے میں اسے اہلیت سے خارج اور بہائم سے ملتحق کردینا اس کا شدید ضرر حاضر ہےایك ضرر خفیف موہوم سے بچنے کے لئے دوسرے کو بالفعل ضرر شدید پہنچانا متقضائے عدل وحکمت نہیںمگر صاحبین بنظر فساد زمانہ حاکم کو اس صورت میں اجازت حجر دیتے ہیں یعنی اس کے ممنوع التصرف ہونے کاحکم کردےاس حکم سے پہلے وہ بالاجماع ممنوع التصرف نہ ہوگا۔اور ۱۰امام کے نزدیك بعد حکم حاکم بھیبلکہ یہ حکم ہی باطل ہوگا اسی تعلق حق غیر سے ۱۱صورت مرض الموت ہے کہ مریض کے دو ثلث مال سے شرعا حق ورثہ بایں معنی متعلق ہوجاتاہے کہ وہ نہ اسے ہبہ کرسکتاہے نہ کسی ایك وارث کے ہاتھ بیع۱۲اگرچہ ثمن مثل کو ہو۱۳اور اگر کسی نے حالت مرض میں ایك وارث یا اجنبی کو اپنا کچھ مال یا کل ہبہ کردیا اور قبضہ دے دیا اور پھر وہ اچھا ہوگیا اگرچہ چند روز کے بعد مرگیاتواب وہ تصرف بالاجماع صحیح ونافذ ہوگیاتنہا موہوب لہ اس مال کا مالك قرار پائے گا اور ورثہ کو ا س پر کچھ دعوی نہ پہنچے گاکہ دو ثلث مال سے ان کے حق کا تعلق بحال مرض الموت تھا جب وہ اچھا ہوگیا ظاہر ہوا کہ وہ مرض الموت نہ تھا۱۴اور تندرست کر اختیار ہے کہ اپنا کل مال ایك وارث خواہ راہ چلتے کو دے دے کوئی اس سے مزاحمت نہیں کرسکتا نہ کوئی حاکم ایسا دعوی سن سکتاہے نہ اس کے ممانعت کاحکم دے سکتا ہےاو اگر دے گا تو بالاجماع باطل ہوگا کہ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی کے نزدیك حق عاقل بالغ پر حجر ہوسکتاہی نہیں اگرچہ سفیہ ہو اگرچہ مدیون ہو اور صاحبین رحمھما اﷲ تعالی کے طور پر
حجر ہے تو بوجہ سفہ یا دین اور یہاں دونوں مفقود توحجر محض باطل ومردودیہ حکم قضا ہےرہا حکم دیانت اس کا تعلق آخرت سے ہے قاضی اس میں دست اندازی نہیں کرسکتا اور دیانۃ بھی بعض ورثہ کو محروم کرنا اس حالت میں منع ہے جبکہ محض بلاوجہ شرعی ہواگر ایسا کرے گا گنہ گار ہوگاحدیث میں فرمایا:"جو اپنے وراث کے میراث سے بھاگے اﷲ تعالی جنت سے اس کی میراث قطع فرمائے گا"والعیاذ باللہ۔(رواہ ابن ماجہ وغیرہ)
ورنہ اگر۱۵وہ وارث مسرف ہے کہ مال فضول تباہ وبرباد کرے گا یا فاسق ہے کہ مال ملنے سے اس کے فسق وفجور کو مدد پہنچے گی یا بدمذہب ہے کہ فسق عقیدہ فسق عمل سے بد ترہے اور اسے مال ملنے سے دین پر احتمال ضرر ہے تو ان صورتوں میں دیانۃ بھی وہ ایسے وارثوں کو محروم کرسکتاہے۔
بہرحال کچھ بھی ہو کوئی دوسرا اس کے تصرف میں رکاوٹ نہیں کرسکتانہ کسی مدعی کو دعوی پہنچتا ہے نہ کسی حاکم کو حکم کہ وہ اپنے خاص ملك میں متصرف ہے ۱۶ان کہ نہ ملك ہے نہ حق پھر مزاحمت کیا معنیبشیر بن الخصاصیہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنے صاحبزادہ نعمان رضی اﷲ تعالی کو ایك غلام ہبہ کیا اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت انورمیں حاضرہوئے کہ ان کی ماں رضی اﷲ تعالی عنھا چاہتی ہیں کہ حضور اس پر گواہ ہوجائیں ارشاد فرمایا:اکل بنیك نحلت مثل ھذا کیا تم نے سب بیٹوں کو ایسا ہی ہبہ کیا ہے عرض کی:نہ۔فرمایا:لا تشہد نی علی جور مجھے جور پر گواہ نہ کریہ حکم دیانت کی طرف اشارہ تھا اسے قضاسے کوئی تعلق نہیں کہ نہ کوئی مدعی تھا نہ تنازع ا ور۱۸قضا بے خصم حاضر ناممکن ہے۔بالجملہ اس کا روائی پر کسی کو اختیار دعوی ومزاحمت اصلا نہیں ہے واﷲ تعالی اعلم۔۱الاشباہ ص ۲۶۳:
قال فی الفتح القدیر الملك قدرۃ یثبتہا الشارع ابتداء علی التصرف فخرج نحوالوکیل اہ وینبغی ان یقال فتح القدیرمیں ہے:ملك ایسی قدرت ہے جس کو شارع نے ابتداء تصرف کے لئے ثابت کیا ہو تو اس سے وکیل خارج ہو گیا اھ"بغیر مانع"
ورنہ اگر۱۵وہ وارث مسرف ہے کہ مال فضول تباہ وبرباد کرے گا یا فاسق ہے کہ مال ملنے سے اس کے فسق وفجور کو مدد پہنچے گی یا بدمذہب ہے کہ فسق عقیدہ فسق عمل سے بد ترہے اور اسے مال ملنے سے دین پر احتمال ضرر ہے تو ان صورتوں میں دیانۃ بھی وہ ایسے وارثوں کو محروم کرسکتاہے۔
بہرحال کچھ بھی ہو کوئی دوسرا اس کے تصرف میں رکاوٹ نہیں کرسکتانہ کسی مدعی کو دعوی پہنچتا ہے نہ کسی حاکم کو حکم کہ وہ اپنے خاص ملك میں متصرف ہے ۱۶ان کہ نہ ملك ہے نہ حق پھر مزاحمت کیا معنیبشیر بن الخصاصیہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے اپنے صاحبزادہ نعمان رضی اﷲ تعالی کو ایك غلام ہبہ کیا اور حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی خدمت انورمیں حاضرہوئے کہ ان کی ماں رضی اﷲ تعالی عنھا چاہتی ہیں کہ حضور اس پر گواہ ہوجائیں ارشاد فرمایا:اکل بنیك نحلت مثل ھذا کیا تم نے سب بیٹوں کو ایسا ہی ہبہ کیا ہے عرض کی:نہ۔فرمایا:لا تشہد نی علی جور مجھے جور پر گواہ نہ کریہ حکم دیانت کی طرف اشارہ تھا اسے قضاسے کوئی تعلق نہیں کہ نہ کوئی مدعی تھا نہ تنازع ا ور۱۸قضا بے خصم حاضر ناممکن ہے۔بالجملہ اس کا روائی پر کسی کو اختیار دعوی ومزاحمت اصلا نہیں ہے واﷲ تعالی اعلم۔۱الاشباہ ص ۲۶۳:
قال فی الفتح القدیر الملك قدرۃ یثبتہا الشارع ابتداء علی التصرف فخرج نحوالوکیل اہ وینبغی ان یقال فتح القدیرمیں ہے:ملك ایسی قدرت ہے جس کو شارع نے ابتداء تصرف کے لئے ثابت کیا ہو تو اس سے وکیل خارج ہو گیا اھ"بغیر مانع"
حوالہ / References
سنن ابن ماجہ ابواب الوصایا باب الحیف فی الوصیۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۹۸€
سنن النسائی کتاب النحل ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۱۳۵،€مسند احمد بن حنبل حدیث نعمان بن بشیر المکتب الاسلامی بیروت ∞۴ /۲۶۸€
سنن النسائی کتاب النحل ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ /۱۳۵،€مسند احمد بن حنبل حدیث نعمان بن بشیر المکتب الاسلامی بیروت ∞۴ /۲۶۸€
الالمانع کالمحجور علیہ فانہ مالك ولا قدرۃ لہ علی التصرف والمبیع المنقول مملوك للمشتری ولاقدرۃ لہ علی بیعہ قبل قبضہ وعرفہ فی الحاوی القدسی بانہ الاختصاص الحاجز وانہ حکم الاستیلاء ۔ کی قید لگانا مناسب ہے جیسا کہ محجور شخص کہ مالك ہے لیکن تصرف کی قدرت نہیںاور وہ مبیع جو منقولہ چیز ہو تو مشتری اس کا مالك ہوتا ہے لیکن قبضہ سے قبل فروخت کا تصرف نہیں کرسکتا اور حاوی قدسی میں اس کی تعریف یوں ہے وہ ایسا اختصاص ہے جو دوسرے کے دخل کو روك سکتاہے اوروہ غالب کردیتاہے۔(ت)
جوہرہ نیرہ جلد اول:
و۲لایجوز تصرف المجنون المغلوب علی عقلہ بحال والصبی والمجنون لایصح عقودھما ولا اقرار ھما لانہ لاقول لھما اماالنفع المحض فیصح منھما مباشرتہ مثل قبول الھبۃ والصدقۃ ۔ مجنون مغلوب العقل اور بچے کا تصرف جائز نہیں اور ان دونوں کا عقد صحیح نہیں ہے اورنہ ہی ان کا اقرار صحیح ہے کیونکہ ان کا قول معتبر نہیں ہے لیکن خالص نفع والے معاملہ کو اپنا نا ان کو جائز مثلا ہبہ اور صدقہ کو قبول کرنا۔(ت)
درمختار جلد ۵ ص ۱۲۸:
و۳تصرف الصبی والمعتوہ الذی یعقل البیع والشراء ان کان نافعا محضا کالاسلام صح بلااذن وان ضارا کالطلاق لا وان اذن وماتردد توقف (اختصار)۔ بچے اور معتوہ جو بیع وشراء کو سمجھتے ہوں اگر ن کا تصرف خالص فائدہ مند رہے جیسا اسلام قبول کرنا تو پھر ان دونوں کا تصرف صحیح ہے اور ان کے لئے وہ مضرہو تو ولی کی اجازت سے بھی جائز نہیں اور اگر نفع ونقصان دونوں کا احتمال ہو تو اجازت ولی پر موقوف ہوگا۔مضر کی مثال طلاق ہے۔(اختصار)(ت)
۴بدائع ج ۷ ص ۱۶۹:
واختلف ابویوسف ومحمد فی السفیہ بیوقوف کے متعلق امام ابویوسف اورامام محمد
جوہرہ نیرہ جلد اول:
و۲لایجوز تصرف المجنون المغلوب علی عقلہ بحال والصبی والمجنون لایصح عقودھما ولا اقرار ھما لانہ لاقول لھما اماالنفع المحض فیصح منھما مباشرتہ مثل قبول الھبۃ والصدقۃ ۔ مجنون مغلوب العقل اور بچے کا تصرف جائز نہیں اور ان دونوں کا عقد صحیح نہیں ہے اورنہ ہی ان کا اقرار صحیح ہے کیونکہ ان کا قول معتبر نہیں ہے لیکن خالص نفع والے معاملہ کو اپنا نا ان کو جائز مثلا ہبہ اور صدقہ کو قبول کرنا۔(ت)
درمختار جلد ۵ ص ۱۲۸:
و۳تصرف الصبی والمعتوہ الذی یعقل البیع والشراء ان کان نافعا محضا کالاسلام صح بلااذن وان ضارا کالطلاق لا وان اذن وماتردد توقف (اختصار)۔ بچے اور معتوہ جو بیع وشراء کو سمجھتے ہوں اگر ن کا تصرف خالص فائدہ مند رہے جیسا اسلام قبول کرنا تو پھر ان دونوں کا تصرف صحیح ہے اور ان کے لئے وہ مضرہو تو ولی کی اجازت سے بھی جائز نہیں اور اگر نفع ونقصان دونوں کا احتمال ہو تو اجازت ولی پر موقوف ہوگا۔مضر کی مثال طلاق ہے۔(اختصار)(ت)
۴بدائع ج ۷ ص ۱۶۹:
واختلف ابویوسف ومحمد فی السفیہ بیوقوف کے متعلق امام ابویوسف اورامام محمد
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۲۰۲€
الجوہرۃ النیرۃ کتاب الحجر ∞مکتبہ امدایہ ملتان ۱ /۹۳۔۲۹۲€
درمختار کتاب الماذون ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۳€
الجوہرۃ النیرۃ کتاب الحجر ∞مکتبہ امدایہ ملتان ۱ /۹۳۔۲۹۲€
درمختار کتاب الماذون ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۰۳€
قال ابویوسف لایصیر محجورا الابحجر القاضی و قال محمد ینحجر بنفس السفہ (باختصار) رحمھما اﷲ تعالی کا اپس میں اختلاف ہےامام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی فرماتے ہیں وہ محجور نہ بنے گا مگر قاضی محجور بنائے تو محجور ہوگا۔اور امام محمد رحمہ اﷲ تعالی فرماتے ہیں کہ سفاہت وبیوقوفی پائے جانے سے خود بخود محجور قرار پائے گا(باختصار)۔ (ت)
۵ردالمحتار میں ہے:
وظاھر کلامہم ترجیحہ علی قول محمد ۔ فقہاء کا ظاہر قول امام محمد رحمہ اﷲ تعالی کی ترجیح میں ہے۔(ت)
۶و۷انقرویہ جلد ۲ ص ۲۸۲:
بخلاف ما اذاکان فی یدالغاصب اوفی ید المرتھن اوفی یدالمستاجر حیث لاتجوز الھبۃ لعدم قبضہ لان کل واحد منہم قابض لنفسہ وعامل لنفسہ ۔ جب چیز غاصب یا مرتہن یا مستاجر کے قبضہ میں ہو تو اس کا ہبہ ان کا جائز نہیں کیونکہ موہوب لہ کا قبضہ نیا نہیں بلکہ پہلا قبضہ ہے جو ان کو اپنے حق کی وجہ سے ہے نیز وہ ہبہ کا قبضہ کریں بھی تو خود اپنے لئے عامل قرار پائیں گے۔(ت)
ایضا ص ۲۸۲:
ومالو کانت باعارۃ لعدم اللزومبزازیۃفی الجنس الثالث فی ھبۃ الصغیر ۔ اور لیکن عاریۃ قبضہ ہو تو جائز ہوگا کیونکہ اس میں لزوم نہیں ہےبزازیہ کی تیسری جنس نابالغ کے ہبہ کے بیان میں ہے۔ (ت)
۸ہندیہ میں ہے:
یرکب الرجل دیون تستغرق اموالہ فطلب الغرماء من القاضی ان یحجر علیہ حتی ایك شخص پر اتنا قرض ہوگیا جس میں اس کا تمام مال مستغرق ہوگیا تو قرض خواہوں نے قاضی سے مطالبہ کیا کہ مقروض پر پابندی عائد کردے تاکہ
۵ردالمحتار میں ہے:
وظاھر کلامہم ترجیحہ علی قول محمد ۔ فقہاء کا ظاہر قول امام محمد رحمہ اﷲ تعالی کی ترجیح میں ہے۔(ت)
۶و۷انقرویہ جلد ۲ ص ۲۸۲:
بخلاف ما اذاکان فی یدالغاصب اوفی ید المرتھن اوفی یدالمستاجر حیث لاتجوز الھبۃ لعدم قبضہ لان کل واحد منہم قابض لنفسہ وعامل لنفسہ ۔ جب چیز غاصب یا مرتہن یا مستاجر کے قبضہ میں ہو تو اس کا ہبہ ان کا جائز نہیں کیونکہ موہوب لہ کا قبضہ نیا نہیں بلکہ پہلا قبضہ ہے جو ان کو اپنے حق کی وجہ سے ہے نیز وہ ہبہ کا قبضہ کریں بھی تو خود اپنے لئے عامل قرار پائیں گے۔(ت)
ایضا ص ۲۸۲:
ومالو کانت باعارۃ لعدم اللزومبزازیۃفی الجنس الثالث فی ھبۃ الصغیر ۔ اور لیکن عاریۃ قبضہ ہو تو جائز ہوگا کیونکہ اس میں لزوم نہیں ہےبزازیہ کی تیسری جنس نابالغ کے ہبہ کے بیان میں ہے۔ (ت)
۸ہندیہ میں ہے:
یرکب الرجل دیون تستغرق اموالہ فطلب الغرماء من القاضی ان یحجر علیہ حتی ایك شخص پر اتنا قرض ہوگیا جس میں اس کا تمام مال مستغرق ہوگیا تو قرض خواہوں نے قاضی سے مطالبہ کیا کہ مقروض پر پابندی عائد کردے تاکہ
حوالہ / References
بدائع الصنائع کتاب الحجر والحبس ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/۱۶€۹
ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۹€۳
فتاوٰی انقرویہ کتا ب الھبۃ دارالاشاعۃ العربیہ ∞قندہار افغانستان ۲/ ۲۸€۲
فتاوٰی انقرویہ کتا ب الھبۃ دارالاشاعۃ العربیہ ∞قندہار افغانستان ۲/ ۲۸۲€
ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۹€۳
فتاوٰی انقرویہ کتا ب الھبۃ دارالاشاعۃ العربیہ ∞قندہار افغانستان ۲/ ۲۸€۲
فتاوٰی انقرویہ کتا ب الھبۃ دارالاشاعۃ العربیہ ∞قندہار افغانستان ۲/ ۲۸۲€
لایھب مالہ ولایتصدق بہ فالقاضی یحجر علیہ عندھما ویعمل حجرہ حتی لا تصح ھبتہ ولاصدقۃ بعد ذلك لکن یشترط علم المحجور علیہ بعد الحجر حتی ان کل تصرف باشرہ قبل العلم بہ یکون صحیحا (باختصار)۔ وہ ہبہ یا صدقہ نہ کرے تو صاحبین رحمھماﷲ تعالی کے نزدیك قاضی اس پر پابندی نافذ کردے تو وہ مؤثر ہوگی حتی کہ اس کا ہبہ اورصدقہ صحیح نہ ہوگا بشرطیکہ اس کو پابندی کاعلم ہوجائے لہذا اگر علم سے پہلے اس نے کوئی تصرف کیا تو صحیح ہوگا۔ (ت)
۹ایضا:
وقال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ لااحجر علی السفیہ اذ اکان حوابالغاعاقلا والسفیہ خفیف العقل الجاھل بالامور الذی لاتمیزلہ العامل بخلاف موجب الشرع وانما لم یحجر علیہ اند ابی حنیفہ لانہ مخاطب عاقل ولان فی سلب ولایتہ اھدار آدمیتہ و الحاقہ بالبہائم وذلك اشد علیہ من التبذیر فلا یحتمل الاعلی لدفع الادنی ۔ اور امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا میں بیوقوف کو پابند نہ کروں گا بشرطیکہ وہ آزاد عاقل بالغ ہواورامام صاحب کے نزدیك یہ حکم اس لئے ہے کہ وہ عاقل مخاطب ہے اوراس لئے کہ اس پابندی سے اس کی ولایت ختم ہوجانے سے اس کی آدمیت کو ضائع کرنا اور اس کو حیوانات سے ملحق کرنا لازم آتاہے اور یہ چیز اس کی فضول خرچی سے زیادہ شدید ہے لہذا ادنی کی وجہ سے اعلی سزا کا احتمال نہیں ہوگا اور سفیہ خفیف العقل امور سے ناواقف معاملات کی تمیز نہ رکھنے اور شریعت کے خلاف عمل کرنے والے کوکہا جاتاہے۔(ت)
۱۰بدائع جلد ۷ ص ۱۶۹:
ولو حجر القاضی علی السفیہ ونحوہ لم ینفذ حجرہ عندابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی حتی لو تصرف بعد اگر قاضی سفیہ کو تصرف سے روك دے تو پابندی نافذ نہ ہوگی کہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك اگر قاضی کی پابندی کے بعد
۹ایضا:
وقال ابوحنیفۃ رضی اﷲ تعالی عنہ لااحجر علی السفیہ اذ اکان حوابالغاعاقلا والسفیہ خفیف العقل الجاھل بالامور الذی لاتمیزلہ العامل بخلاف موجب الشرع وانما لم یحجر علیہ اند ابی حنیفہ لانہ مخاطب عاقل ولان فی سلب ولایتہ اھدار آدمیتہ و الحاقہ بالبہائم وذلك اشد علیہ من التبذیر فلا یحتمل الاعلی لدفع الادنی ۔ اور امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا میں بیوقوف کو پابند نہ کروں گا بشرطیکہ وہ آزاد عاقل بالغ ہواورامام صاحب کے نزدیك یہ حکم اس لئے ہے کہ وہ عاقل مخاطب ہے اوراس لئے کہ اس پابندی سے اس کی ولایت ختم ہوجانے سے اس کی آدمیت کو ضائع کرنا اور اس کو حیوانات سے ملحق کرنا لازم آتاہے اور یہ چیز اس کی فضول خرچی سے زیادہ شدید ہے لہذا ادنی کی وجہ سے اعلی سزا کا احتمال نہیں ہوگا اور سفیہ خفیف العقل امور سے ناواقف معاملات کی تمیز نہ رکھنے اور شریعت کے خلاف عمل کرنے والے کوکہا جاتاہے۔(ت)
۱۰بدائع جلد ۷ ص ۱۶۹:
ولو حجر القاضی علی السفیہ ونحوہ لم ینفذ حجرہ عندابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی حتی لو تصرف بعد اگر قاضی سفیہ کو تصرف سے روك دے تو پابندی نافذ نہ ہوگی کہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك اگر قاضی کی پابندی کے بعد
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۶€۱
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۶۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۶۱€
الحجر ینفذ تصرفہ عندہ ۔ وہ شخص کوئی تصرف کرے تو اس کا تصرف نافذ قرار پائے گا۔(ت)
۱۱ہدایہ میں ہے:
ولاتجوز بمازاد علی الثلث لانہ حتی الورثۃ (باختصار)۔ اورہبہ تہائی مال سے زائد جائزنہیں کیونکہ وہ ورثاء کاحق ہے(باختصار)۔(ت)
۱۲نتائج الافکار جلد ۸ص ۴۲۱ میں ہے:
واوضحہ صاحب الکافی بان قال ولانہ انعقد سبب زوال املاکہ عنہ الی غیرہ لان المرض سبب الموت وبالموت یزول ملکہ لاستغنائہ عنہ ولو تحقق السبب لزال من کل وجہ فاذا انعقدت ثبت ضرب حق اھ۔ اور اس کو صاحب الکافی نے مزید واضح فرمایا کہ مریض کے املاك کادوسروں کو منتقل ہونے کاسبب پایا گیا ہے اس لئے کہ یہ مرض موت کا سبب ہے اور موت سے اس کی ملك زائل ہوجاتی ہے۔کیونکہ وہ ملك سے مستغنی ہوجاتاہے اور جب یہ سبب پایا جائے تو مکمل طور پر اس کی ملك زائل ہوجاتی ہے اور جب سبب متحقق ہوگیا تو ایك طرح سے ورثاہ کا حق ہوگیا۔اھ(ت)
۱۳درمختارجلد ۴ ص ۶۱۵ میں ہے:
ووقف بیع المریض لوارثہ علی اجازۃ الباقی ۔ مریض کی اپنے وارث سے بیع باقی ورثاء کی اجازت پرموقوف ہوگی۔(ت)
۱۴ردالمحتارمیں ہے:
ای ولوبمثل القیمۃ وھذا عندہ ۔ یعنی اگرچہ وہ بیع مثلی قیمت پر ہو اور یہ امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك ہے۔(ت)
۱۱ہدایہ میں ہے:
ولاتجوز بمازاد علی الثلث لانہ حتی الورثۃ (باختصار)۔ اورہبہ تہائی مال سے زائد جائزنہیں کیونکہ وہ ورثاء کاحق ہے(باختصار)۔(ت)
۱۲نتائج الافکار جلد ۸ص ۴۲۱ میں ہے:
واوضحہ صاحب الکافی بان قال ولانہ انعقد سبب زوال املاکہ عنہ الی غیرہ لان المرض سبب الموت وبالموت یزول ملکہ لاستغنائہ عنہ ولو تحقق السبب لزال من کل وجہ فاذا انعقدت ثبت ضرب حق اھ۔ اور اس کو صاحب الکافی نے مزید واضح فرمایا کہ مریض کے املاك کادوسروں کو منتقل ہونے کاسبب پایا گیا ہے اس لئے کہ یہ مرض موت کا سبب ہے اور موت سے اس کی ملك زائل ہوجاتی ہے۔کیونکہ وہ ملك سے مستغنی ہوجاتاہے اور جب یہ سبب پایا جائے تو مکمل طور پر اس کی ملك زائل ہوجاتی ہے اور جب سبب متحقق ہوگیا تو ایك طرح سے ورثاہ کا حق ہوگیا۔اھ(ت)
۱۳درمختارجلد ۴ ص ۶۱۵ میں ہے:
ووقف بیع المریض لوارثہ علی اجازۃ الباقی ۔ مریض کی اپنے وارث سے بیع باقی ورثاء کی اجازت پرموقوف ہوگی۔(ت)
۱۴ردالمحتارمیں ہے:
ای ولوبمثل القیمۃ وھذا عندہ ۔ یعنی اگرچہ وہ بیع مثلی قیمت پر ہو اور یہ امام صاحب رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك ہے۔(ت)
حوالہ / References
بدائع الصنائع کتاب الحجر والحبس ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷/ ۱۶€۹
الہدایہ کتاب الوصایا باب فی صفۃ الوصیۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۶۵€۱
نتائج الافکار تکمہ فتح القدیر کتاب الوصایا باب فی صفۃ الوصیۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹ /۳۴۶€
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱ و ۳۲€
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۳۹€
الہدایہ کتاب الوصایا باب فی صفۃ الوصیۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۶۵€۱
نتائج الافکار تکمہ فتح القدیر کتاب الوصایا باب فی صفۃ الوصیۃ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹ /۳۴۶€
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱ و ۳۲€
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی الفضولی داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۳۹€
۱۵عالمگیری ج ۳ ص ۵۲:
ومن الموقوف اذا ماباع المریض فی مرض الموت من وارثہ عینا من اعیان مالہ ان صح جاز بیعہ وان مات من ذلك المرض ولم تجز المورثۃ بطل البیع ۔ بیع موقوف کی ایك صورت یہ ہے کہ جب مریض اپنی مرض الموت میں اپنے وارث کو اپنے مال میں سے کسی عین چیز کی بیع کرے اگر تندرست ہو جائے تو بیع جائز ہے اور اگر اس مرض میں فوت ہوجائے اور باقی ورثاء اجازت نہ دیں تو باطل ہوجائے گی۔(ت)
۱۶عالمگیری ج ۴ ص ۱۴۱:
مریضۃ وھبت صداقہا من زوجہا فان برئمت من مرضہا صح وان ماتت من ذلك المریض فان کانت مریضۃ غیر مرض الموت فکذلك الجواب وان کانت مریضۃ مرض الموت لایصح الاباجازۃ الورثۃ ۔ مریضہ نے اپنے خاوند کو مہر ہبہ کیااور اگر وہ تندرست ہوگئی تو جائز ہے اوراگر اس مرض میں فوت ہوجائے تو وہ مرض اگر موت کاباعث نہ ہو تو پھر بھی یہی حکم ہے اگر وہ مرض الموت ہو تو ورثاء کی اجازت کے بغیر ہبہ صحیح نہ ہوگا۔(ت)
۱۷بحر ج ۷ ص ۳۱۴:
وان وھب مالہ کلہ لواحد جاز قضاء وھواثم کذا فی المحیط ۔ اگر کسی نے اپنا تمام مال ایك شخص کو ہبہ کردیا تو قضاء جائز ہے جبکہ وہ گنہ گارہوگامحیط میں یوں ہے۔(ت)
۱۸ابوالسعود ج ۲ ص ۲۲۱:
ولووھب مالہ کلہ لواحد جازقضاء واثم والمختار التسویۃ بین الذکر اگر ایك ہی کو تمام مال ہبہ کردیا تو صحیح ہے اور گنہ گار ہوگااور مختار یہی ہے کہ مرد وعورت کو
ومن الموقوف اذا ماباع المریض فی مرض الموت من وارثہ عینا من اعیان مالہ ان صح جاز بیعہ وان مات من ذلك المرض ولم تجز المورثۃ بطل البیع ۔ بیع موقوف کی ایك صورت یہ ہے کہ جب مریض اپنی مرض الموت میں اپنے وارث کو اپنے مال میں سے کسی عین چیز کی بیع کرے اگر تندرست ہو جائے تو بیع جائز ہے اور اگر اس مرض میں فوت ہوجائے اور باقی ورثاء اجازت نہ دیں تو باطل ہوجائے گی۔(ت)
۱۶عالمگیری ج ۴ ص ۱۴۱:
مریضۃ وھبت صداقہا من زوجہا فان برئمت من مرضہا صح وان ماتت من ذلك المریض فان کانت مریضۃ غیر مرض الموت فکذلك الجواب وان کانت مریضۃ مرض الموت لایصح الاباجازۃ الورثۃ ۔ مریضہ نے اپنے خاوند کو مہر ہبہ کیااور اگر وہ تندرست ہوگئی تو جائز ہے اوراگر اس مرض میں فوت ہوجائے تو وہ مرض اگر موت کاباعث نہ ہو تو پھر بھی یہی حکم ہے اگر وہ مرض الموت ہو تو ورثاء کی اجازت کے بغیر ہبہ صحیح نہ ہوگا۔(ت)
۱۷بحر ج ۷ ص ۳۱۴:
وان وھب مالہ کلہ لواحد جاز قضاء وھواثم کذا فی المحیط ۔ اگر کسی نے اپنا تمام مال ایك شخص کو ہبہ کردیا تو قضاء جائز ہے جبکہ وہ گنہ گارہوگامحیط میں یوں ہے۔(ت)
۱۸ابوالسعود ج ۲ ص ۲۲۱:
ولووھب مالہ کلہ لواحد جازقضاء واثم والمختار التسویۃ بین الذکر اگر ایك ہی کو تمام مال ہبہ کردیا تو صحیح ہے اور گنہ گار ہوگااور مختار یہی ہے کہ مرد وعورت کو
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۵۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۰۲€
بحرالرائق کتاب الھبۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۲۸۸€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۰۲€
بحرالرائق کتاب الھبۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۷ /۲۸۸€
والانثی فی الھبۃ ۔وفی الخانیۃ لاباس بتفضیل بعض الاولاد علی البعض فی المحبۃ لان المحبۃ عمل القلب وکذا فی العطایا ان لم یقصد بہ الاضرار وان قصدہ یسوی بینہم یعطی البنت کالابن عند الثانی وعلیہ الفتوی ولووھب فی صحتہ کل المال للولد جازواثم انتہت (ملخصا) مساوی ہبہ دےاور خانیہ میں ہے اولاد میں سے بعض کو محبت میں فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہےکیونکہ یہ دل کا معاملہ ہے او یوں ہی عطیہ میں بشرطیکہ کسی دوسرے کو ضرر پہنچانا مقصود نہ ہواگر ضرر کی صورت ہو تو پھر لڑکی اور لڑکے کو مساوی دےیہ امام ابویوسف کا مذہب ہے اور اسی پر فتوی ہے۔اور اگر تمام مال بیٹے کو دینی صحت میں دے دے تو جائز ہے مگر گنہگار ہوگا(ت)
۱۹خلاصۃ الفتاوی:
ولواعطی بعض ولدہ شیئا دون البعض لزیادۃ رشدہ لاباس بہ وان کان سواء لاینبغی ان یفضل ولوکان ولدہ فاسقا فارادان یصرف بمالہ الی وجوہ الخیر ویحرمہ عن المیراث ھذا خیر من ترکہ لان فیہ اعانۃ علی المعصیۃ ولو کان ولدہ فاسقا لایعطی لہ اکثر من قوتہ انتہت وان کان بعض اولادہ مشتغلا بالعلم دون الکسب لاباس بان یفضلہ علی غیرہ وعلی جواب المتأخرین لاباس بان یعطی من اولادہ من اگر اولاد میں سےبعض کو دے اور بعض کو نہ دے اگر زیادہ نیك ہونے پر ایساکیا تو کوئی حرج نہیں اور اگر تمام مساوی ہوں تو ایسانہ کرےاگر بیٹافاسق ہو تو چاہے کہ اپنا تمام مال خیرات میں کردے اورفاسق کو محروم رکھے تو مال کو باقی رکھنے کے بجائے یہ بہتر ہے کیونکہ مال ترکہ چھوڑنے میں فاسق کی معصیت میں اعانت ہوگی اور اگر بیٹا فاسق ہوت و اس کو وقت کی خوراك سے زیادہ نہ دےاھ اور اولاد میں سے بعض علم میں مشغول ہوں اور کسب نہ کریں تو اسکو دوسروں پر فضیلت دینے میں حرج نہیں ہےاور متاخرین کے قول کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں کہ جو
۱۹خلاصۃ الفتاوی:
ولواعطی بعض ولدہ شیئا دون البعض لزیادۃ رشدہ لاباس بہ وان کان سواء لاینبغی ان یفضل ولوکان ولدہ فاسقا فارادان یصرف بمالہ الی وجوہ الخیر ویحرمہ عن المیراث ھذا خیر من ترکہ لان فیہ اعانۃ علی المعصیۃ ولو کان ولدہ فاسقا لایعطی لہ اکثر من قوتہ انتہت وان کان بعض اولادہ مشتغلا بالعلم دون الکسب لاباس بان یفضلہ علی غیرہ وعلی جواب المتأخرین لاباس بان یعطی من اولادہ من اگر اولاد میں سےبعض کو دے اور بعض کو نہ دے اگر زیادہ نیك ہونے پر ایساکیا تو کوئی حرج نہیں اور اگر تمام مساوی ہوں تو ایسانہ کرےاگر بیٹافاسق ہو تو چاہے کہ اپنا تمام مال خیرات میں کردے اورفاسق کو محروم رکھے تو مال کو باقی رکھنے کے بجائے یہ بہتر ہے کیونکہ مال ترکہ چھوڑنے میں فاسق کی معصیت میں اعانت ہوگی اور اگر بیٹا فاسق ہوت و اس کو وقت کی خوراك سے زیادہ نہ دےاھ اور اولاد میں سے بعض علم میں مشغول ہوں اور کسب نہ کریں تو اسکو دوسروں پر فضیلت دینے میں حرج نہیں ہےاور متاخرین کے قول کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں کہ جو
حوالہ / References
فتح المعین علی شرح الکنز لملا مسکین کتاب الھبۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۲۲۱€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الھبۃ فصل فی ھبۃ الوالد لولدہ ∞نولکشور لکھنؤ ۵/۶۔۷۰۴€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الھبۃ الفصل الاول ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ /۴۰۰€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الھبۃ فصل فی ھبۃ الوالد لولدہ ∞نولکشور لکھنؤ ۵/۶۔۷۰۴€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الھبۃ الفصل الاول ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ /۴۰۰€
کان عالما متاد باولایعطی منہم من کان فاسقا فاجرا و لوکان ولدھا فاسقا فاراد صرف مالہ فی الخیر فحرمانہ ھذا خیر من ترکہ لانہ فیہ اعانۃ علی المعصیۃ۔ عالم اور تربیت والا ہو اس کو دے اور جو فاسق فاجر ہو اس کو نہ دےاور اگر بیٹا فاسق ہو اورچاہے کہ تمام مال خیر میں صرف کردے تو اس طرح فاسق کو محروم کرنا بہتر ہے کیونکہ ترکہ چھوڑنے میں معصیت میں اعانت ہوگی۔(ت)
۲۰غنیہ ص ۵۱۴ میں ہے:
المبتدع فاسق من حیث الاعتقاد وھو اشد من الفسق من حیث العمل ۔ بدعقیدہ شخص اعتقادی فاسق ہے اور یہ عمل فسق سے زیادہ شدید ہے۔(ت)
۲۱تنویر الابصار جلد ۴ ص ۲۴۵ میں ہے:
الدعوی ھی قول مقبول یقصد بہ طلب حق قبل غیرہ اودفعہ عن حق نفسہ ۔ دعویایسا مقبول قول ہے جس کے ذریعہ غیر سے اپنا حق طلب کیا جائے یا اپنے حق کا دفاع کیا جائے۔(ت)
۲۱تنویر الابصار ج۴ ص ۴۵۹:
القضاء ھوفصل الخصومات وقطع المنازعات ۔ قضاءمنازعات کا فیصلہ اور جھگڑوں کو ختم کرنے کا نام ہے۔ (ت)
۲۲درمختار ج ۴ ص ۵۰۲ و ۵۰۳ تحت قول الماتن اذا رفع الیہ حکم قاض نفذہ(جب اس کو قاضی کا فیصلہ مل جائے تو نافذ کرے۔ت)فرمایا:
بعد دعوی صحیحۃ من خصم علی خصم حاضر وال اکان افتاء ۔ ایك فریق کا صحیح دعوی مخالف حاضر فریق پر ہو ورنہ وہ فتوی ہوگا۔(ت)
۲۳ردالمحتارمیں ہے:
۲۰غنیہ ص ۵۱۴ میں ہے:
المبتدع فاسق من حیث الاعتقاد وھو اشد من الفسق من حیث العمل ۔ بدعقیدہ شخص اعتقادی فاسق ہے اور یہ عمل فسق سے زیادہ شدید ہے۔(ت)
۲۱تنویر الابصار جلد ۴ ص ۲۴۵ میں ہے:
الدعوی ھی قول مقبول یقصد بہ طلب حق قبل غیرہ اودفعہ عن حق نفسہ ۔ دعویایسا مقبول قول ہے جس کے ذریعہ غیر سے اپنا حق طلب کیا جائے یا اپنے حق کا دفاع کیا جائے۔(ت)
۲۱تنویر الابصار ج۴ ص ۴۵۹:
القضاء ھوفصل الخصومات وقطع المنازعات ۔ قضاءمنازعات کا فیصلہ اور جھگڑوں کو ختم کرنے کا نام ہے۔ (ت)
۲۲درمختار ج ۴ ص ۵۰۲ و ۵۰۳ تحت قول الماتن اذا رفع الیہ حکم قاض نفذہ(جب اس کو قاضی کا فیصلہ مل جائے تو نافذ کرے۔ت)فرمایا:
بعد دعوی صحیحۃ من خصم علی خصم حاضر وال اکان افتاء ۔ ایك فریق کا صحیح دعوی مخالف حاضر فریق پر ہو ورنہ وہ فتوی ہوگا۔(ت)
۲۳ردالمحتارمیں ہے:
حوالہ / References
غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی الامامۃ ∞سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱€۴
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الدعوٰی∞ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۱€۴
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷€۱
درمختار شرح تنویر الابصار فصل فی الحبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۸€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الدعوٰی∞ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۱€۴
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب القضاء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷€۱
درمختار شرح تنویر الابصار فصل فی الحبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۸€
قال فی البحر اول کتاب القضاء فان فقد ھذا الشرط لم یکن حکما وانما ھو افتاء صریح بہ امام السرخسی ۔ بحرکی کتاب القضاء کے ابتداء میں فرمایا اگر یہ شرط مقصود ہوجائے تو یہ فیصلہ اورحکم نہ ہوگا وہ صر ف افتاء ہوگاامام سرخسی نے اس کی تصریح کی ہے۔(ت)
۲۴درمختار صفحہ ۴۷۳ و ۴۷۴:
فی ایمان البزازیۃ المفتی یفتی بالدیانۃ والقاضی یقضی بالظاھر ۔واﷲ تعالی اعلم۔ بزازیہ کی کتاب الایمان میں ہے مفتی دیانت پر فتوی دے گا اور قاضی ظاہر پر فیصلہ کرے گا واﷲ تعالی اعلم۔
۲۴درمختار صفحہ ۴۷۳ و ۴۷۴:
فی ایمان البزازیۃ المفتی یفتی بالدیانۃ والقاضی یقضی بالظاھر ۔واﷲ تعالی اعلم۔ بزازیہ کی کتاب الایمان میں ہے مفتی دیانت پر فتوی دے گا اور قاضی ظاہر پر فیصلہ کرے گا واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب ا لقضاء فصل فی الحبس داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۴ /۳۲۶€
درمختار کتاب ا لقضاء فصل فی الحبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۳€
درمختار کتاب ا لقضاء فصل فی الحبس ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۳€
کتاب الاجارۃ
(اجارہ کا بیان)
مسئلہ ۱۴۳: ا ز کرتولی مرسلہ حضرت مولوی رضاخاں صاحب یکم جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
بحضور میاں بھائی دام ظلھم العالی بجاہ النبی الکریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم آمین الہی آمین!
صورت مسئولہ یہ ہے کہ بیع ۲۵ ف میں بعداختتام کار ربیع فصل سے خالی زمین کرکے چند کا شتکار ان مرزاپور ساکن ضلع سلن نگر نے زبانی استعفا دیا جس میں سے ایك شخص نے مجھ سے خود کہا کہ میں نہیں کروں گا بجواب اس کے میں نے کہاکہ توہم سے ناتہ توڑ رہا ہے دو روپیہ فارغخطا نہ کے دے دےاس نے وہ بھی دے دئےقاعدہ یہ ہے کہ تاوقتیکہ زمیندار کا شتکار کو بے دخل نہ کرائے یا وہ استعفا باضابطہ مقررہ نہ دے اس وقت تك نام کاشتکار خارج نہیں ہوسکتااور کاشتکار بلااخراج نام بصورت مداخلت زمیندار اگر چاہے تو دعوی مال اور فوجداری میں کرسکتا ہے ۲۶ ف کے شروع میں سب کو دوبارہ اطلاع دی گئی کہ چاہے زمین کرو یا پڑی رکھو لگان دینا ہوگا۔اس پر بھی انھوں نے زمین کاشت کرنے کااقرار کیانہ کاشت کی ۲۶ خریف موجود ۲۷ کی نالش کردی گئی آج ن مقدمات کی تاریخ ہے کل حضو رکے اقبال سے چار قطعہ نالشات(ما لعہ عہ/) روپیہ ملازم کو دئے گئے اور(لہ /)انشا ء اﷲ العزیز انھیں دو چار یوم میں اور ملیں گےیہ روپیہ مجھ کو جائز ہے یانہیںبنظر احتیاط ناکارہ غلام دو عدد بہیلیاں قیمت(۱۴ /)کو ہرشخص کو اس کا روپیہ اس کے ہاتھ میں دے کر اور یہ کہہ کر ہم اپنا معاملہ پاك کرنا چاہتے ہیں
(اجارہ کا بیان)
مسئلہ ۱۴۳: ا ز کرتولی مرسلہ حضرت مولوی رضاخاں صاحب یکم جمادی الاولی ۱۳۳۸ھ
بحضور میاں بھائی دام ظلھم العالی بجاہ النبی الکریم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم آمین الہی آمین!
صورت مسئولہ یہ ہے کہ بیع ۲۵ ف میں بعداختتام کار ربیع فصل سے خالی زمین کرکے چند کا شتکار ان مرزاپور ساکن ضلع سلن نگر نے زبانی استعفا دیا جس میں سے ایك شخص نے مجھ سے خود کہا کہ میں نہیں کروں گا بجواب اس کے میں نے کہاکہ توہم سے ناتہ توڑ رہا ہے دو روپیہ فارغخطا نہ کے دے دےاس نے وہ بھی دے دئےقاعدہ یہ ہے کہ تاوقتیکہ زمیندار کا شتکار کو بے دخل نہ کرائے یا وہ استعفا باضابطہ مقررہ نہ دے اس وقت تك نام کاشتکار خارج نہیں ہوسکتااور کاشتکار بلااخراج نام بصورت مداخلت زمیندار اگر چاہے تو دعوی مال اور فوجداری میں کرسکتا ہے ۲۶ ف کے شروع میں سب کو دوبارہ اطلاع دی گئی کہ چاہے زمین کرو یا پڑی رکھو لگان دینا ہوگا۔اس پر بھی انھوں نے زمین کاشت کرنے کااقرار کیانہ کاشت کی ۲۶ خریف موجود ۲۷ کی نالش کردی گئی آج ن مقدمات کی تاریخ ہے کل حضو رکے اقبال سے چار قطعہ نالشات(ما لعہ عہ/) روپیہ ملازم کو دئے گئے اور(لہ /)انشا ء اﷲ العزیز انھیں دو چار یوم میں اور ملیں گےیہ روپیہ مجھ کو جائز ہے یانہیںبنظر احتیاط ناکارہ غلام دو عدد بہیلیاں قیمت(۱۴ /)کو ہرشخص کو اس کا روپیہ اس کے ہاتھ میں دے کر اور یہ کہہ کر ہم اپنا معاملہ پاك کرنا چاہتے ہیں
نصف بہیل تمھارے ہاتھ فروخت کرتے ہیں تم اس کو(للعہ)پر خرید کرتے ہو سب نے بخوشی اپنے مطالبہ میں قبول کیا اور عمل بیع واقع ہوگیایہ کاشتکار رئیس کھیڑہ کی زمینداری میں آباد ہیںان سات کس مدعا علیہم کے ہمراہ ایك کارندہ یا تھنپت زمیندار اور ایك اس کا رفیق تھایہ صورت میں نے حضور میں اس بناء پر پیش کی کہ بجز اس کے کہ پٹواری مطیع اور نالشات دائر ہیں اور زیادہ دباؤ کی صورت نہیںبیع خوشی سے عمل میں آئی کاشتکار سب کفار ہیں۔
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
جان برادر بلکہ از جان ہزار جابہتر مولوی محمدرضاخاں سلمہ الرحمن وحفظہ فی کل آن آمین! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہجبکہ قاعدہ یہ ہے کہ جب تك زمیندار بے دخل نہ کرائےیا کاشتکار باضابطہ استعفا نہ دے زبانی استعفا کاشت چھوڑنا نہیں سمجھا جاتا یہاں تك کہ زمیندار مداخلت کرے تو اس پر مال وفوجداری دونوں میں دعوی ہوسکےاور یہ قاعدہ خود ان کاشتکاروں کے علم میں بھی ہے اور باضابطہ استعفا نہ دیا تو ثابت ہوا کہ وہ اجارہ زمیں سے دستبردار نہ ہوئےاگر ہونا چاہتے باضابطہ استعفا دیتےپھر بھی اس میں شبہ رہتاکہ زبانی تو چھوڑ چکے تھے اگرچہ قانونا ان کا دعوی باقی رہتا مگر جب تم نے شروع سال میں یہ صاف کہہ دیا کہ لگان بہرحال دیناہوگا۔اورانھوں نے سکوت کیا اگرچہ کاشت بھی نہ کیتو یہ دوبارہ قبول اجارہ ہوگا اور لگان ان پر لازم آئییہ روپیہ بحمداﷲ تمھیں بروجہ حلال ملااس کے بعد اس احتیاط کی حاجت بھی نہ تھیاب کہ کرلی گئی وہ روپے اس بیع کے ہوگئےلگان ان پر بدستور رہتامگر ظاہرا تم نے روپے لگان میں لے کر پھر ان کے ہاتھ میں دے کر بیع کی بہیلی لگان میں لے لینے سے لگان اداہوگیااور وہ بھی مطالبہ سے بری ہوگئےبہرحال یہ روپیہ تمھارے لئے بفضلہ تعالی حلال طیب ہےمولی عزوجل اپنے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے صدقہ میں دین و دنیا میں تھمارا اقبال دن دونا رات سوایا کرتارہے۔ آمین!
مسئلہ ۱۴۴: از شہر کہنہ بریلی مسئولہ محمد ظہور صاحب ۱۰ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مزدری کرتاہےدن روز ہ کی مزدوری میں جب کام کرتاہے تو بدرجہ کمی اور ٹھیکہ میں جب کرتا ہے تو کوشش اس امر کی کرتاہے کہ زیادہ ہو ایسی صورت میں اس کی روزی کیسی ہوئی
الجواب:
بسم اﷲ الرحمن الرحیمنحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
جان برادر بلکہ از جان ہزار جابہتر مولوی محمدرضاخاں سلمہ الرحمن وحفظہ فی کل آن آمین! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہجبکہ قاعدہ یہ ہے کہ جب تك زمیندار بے دخل نہ کرائےیا کاشتکار باضابطہ استعفا نہ دے زبانی استعفا کاشت چھوڑنا نہیں سمجھا جاتا یہاں تك کہ زمیندار مداخلت کرے تو اس پر مال وفوجداری دونوں میں دعوی ہوسکےاور یہ قاعدہ خود ان کاشتکاروں کے علم میں بھی ہے اور باضابطہ استعفا نہ دیا تو ثابت ہوا کہ وہ اجارہ زمیں سے دستبردار نہ ہوئےاگر ہونا چاہتے باضابطہ استعفا دیتےپھر بھی اس میں شبہ رہتاکہ زبانی تو چھوڑ چکے تھے اگرچہ قانونا ان کا دعوی باقی رہتا مگر جب تم نے شروع سال میں یہ صاف کہہ دیا کہ لگان بہرحال دیناہوگا۔اورانھوں نے سکوت کیا اگرچہ کاشت بھی نہ کیتو یہ دوبارہ قبول اجارہ ہوگا اور لگان ان پر لازم آئییہ روپیہ بحمداﷲ تمھیں بروجہ حلال ملااس کے بعد اس احتیاط کی حاجت بھی نہ تھیاب کہ کرلی گئی وہ روپے اس بیع کے ہوگئےلگان ان پر بدستور رہتامگر ظاہرا تم نے روپے لگان میں لے کر پھر ان کے ہاتھ میں دے کر بیع کی بہیلی لگان میں لے لینے سے لگان اداہوگیااور وہ بھی مطالبہ سے بری ہوگئےبہرحال یہ روپیہ تمھارے لئے بفضلہ تعالی حلال طیب ہےمولی عزوجل اپنے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے صدقہ میں دین و دنیا میں تھمارا اقبال دن دونا رات سوایا کرتارہے۔ آمین!
مسئلہ ۱۴۴: از شہر کہنہ بریلی مسئولہ محمد ظہور صاحب ۱۰ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مزدری کرتاہےدن روز ہ کی مزدوری میں جب کام کرتاہے تو بدرجہ کمی اور ٹھیکہ میں جب کرتا ہے تو کوشش اس امر کی کرتاہے کہ زیادہ ہو ایسی صورت میں اس کی روزی کیسی ہوئی
الجواب:
کام کی تین حالتیں ہیں:سستمعتدلنہایت تیزاگر مزدوری میں سستی کے ساتھ کام کرتاہے گنہگار ہے اور اس پر پوری مزدوری لینا حراماتنے کام کے لائق جتنی اجرت ہے لےاس سے جو کچھ زیادہ ملا مستاجر کو واپس دے وہ نہ رہا ہو اس کے وارثوں کود ےان کا بھی پتہ نہ چلے تو مسلمان محتاج پر تصدق کرے اپنے صرف میں لانا یا غیر صدقہ میں اسے صرف کرنا حرام ہے اگرچہ ٹھیکے کے کام میں بھی کاہلی سے سستی کرتاہواور اگر مزدوری میں متعدل کام کرتاہے مزدوری حلال ہے اگرچہ ٹھیکے کے کام میں حد سے زیادہ مشقت اٹھاکر زیادہ کام کرتاہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك تاجر ایك اجیر پیشہ ور کو معتبر ومتدین سمجھ کر سالہا سال اجر ت پر کام بنانے کے لئے دیا وہ کاریگر ہمیشہ بہ دیانت تمام کام بنایا کیاکبھی اس سے تقصیر واقع نہ ہوئی اب برسوں کے بعد ایك مال اس کی حفاظت سے گم ہوگیااس صورت میں اس اجیر پر تاوان ڈالنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
ناجائز ہے
فی الوقایہ لایضمن ماھلك فی یدہ وان شرط علیہ الضمان وبہ یفتی وفی الاصلاح والتنویر بلفظہ وفی النقایۃ کذلك الا قولہ وبہ یفتی وفی الملتقی المتاع فی یدہ امانۃ لایضمن ان ھلك وان شرط ضمانہ وقایہ میں ہےاجیر کے قبضے سے گم شدہ چیز پر وہ ضامن نہ ہوگا اگرچہ ضمان کی شرط بھی لگائی ہواور اسی پر فتوی ہے اور اصلاح اور تنویر میں یہی الفاظ ہیں اور نقایہ میں یونہی ہے سوائے "بہ یفتی"کے۔اور ملتقی میں ہے اس کے قبضہ میں مال امانت ہےہلاك ہوجانے پر وہ ضامن نہ ہوگا اگرچہ ضمان کی شرط بھی ہو۔
کام کی تین حالتیں ہیں:سستمعتدلنہایت تیزاگر مزدوری میں سستی کے ساتھ کام کرتاہے گنہگار ہے اور اس پر پوری مزدوری لینا حراماتنے کام کے لائق جتنی اجرت ہے لےاس سے جو کچھ زیادہ ملا مستاجر کو واپس دے وہ نہ رہا ہو اس کے وارثوں کود ےان کا بھی پتہ نہ چلے تو مسلمان محتاج پر تصدق کرے اپنے صرف میں لانا یا غیر صدقہ میں اسے صرف کرنا حرام ہے اگرچہ ٹھیکے کے کام میں بھی کاہلی سے سستی کرتاہواور اگر مزدوری میں متعدل کام کرتاہے مزدوری حلال ہے اگرچہ ٹھیکے کے کام میں حد سے زیادہ مشقت اٹھاکر زیادہ کام کرتاہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك تاجر ایك اجیر پیشہ ور کو معتبر ومتدین سمجھ کر سالہا سال اجر ت پر کام بنانے کے لئے دیا وہ کاریگر ہمیشہ بہ دیانت تمام کام بنایا کیاکبھی اس سے تقصیر واقع نہ ہوئی اب برسوں کے بعد ایك مال اس کی حفاظت سے گم ہوگیااس صورت میں اس اجیر پر تاوان ڈالنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
ناجائز ہے
فی الوقایہ لایضمن ماھلك فی یدہ وان شرط علیہ الضمان وبہ یفتی وفی الاصلاح والتنویر بلفظہ وفی النقایۃ کذلك الا قولہ وبہ یفتی وفی الملتقی المتاع فی یدہ امانۃ لایضمن ان ھلك وان شرط ضمانہ وقایہ میں ہےاجیر کے قبضے سے گم شدہ چیز پر وہ ضامن نہ ہوگا اگرچہ ضمان کی شرط بھی لگائی ہواور اسی پر فتوی ہے اور اصلاح اور تنویر میں یہی الفاظ ہیں اور نقایہ میں یونہی ہے سوائے "بہ یفتی"کے۔اور ملتقی میں ہے اس کے قبضہ میں مال امانت ہےہلاك ہوجانے پر وہ ضامن نہ ہوگا اگرچہ ضمان کی شرط بھی ہو۔
حوالہ / References
شرح الوقایہ کتاب الاجارۃ باب من الاجارۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۳۰۶€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۸۰€
مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایہ کتاب الاجارۃ ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۱۳€
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۸۰€
مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایہ کتاب الاجارۃ ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۱۳€
بہ یفتی وفی الکنز المتاع فی یدہ غیر مضمون بالہلاك وفی الغرر لایضمن ماھلك فی یدہ وان شرط علیہ الضمان اھ وفی منح الغفار قد جعل الفتوی علیہ فی کثیر من المعتبرات وبہ جزم اصحاب المتون فکان ھوا لمذھب وفی الخانیۃ المختار فی اجیر المشترك قول ابی حنیفۃ وفیہا قال الفقیہ ابواللیث علی قول ابی حنیفۃ لایضمن وبہ ناخذ و الفتوی علی قول ابی حنیفۃ اھوفی الخلاصۃ من جنس القصار القاضی الامام یفتی بقول ابی حنیفۃ قال وانا افتی بہ وفی التاتارخانیۃ عن الابانۃ اخذ الفقیہ ابواللیث فی ھذہ المسئلۃ بقول اسی پر فتوی ہے اور کنز میں ہے اس کے قبضہ میں مال ہلاك ہوجائے تو مضمون نہیں ہےاور غرر میں ہے اس کے قبضہ میں ہلاك ہونے پر ضمان نہیں اگرچہ شرط بھی لگائی ہواھ اور منح الغفار میں ہے کثیر معتبر کتب میں اسی پر فتوی ہے اور اصحاب متون نے اسی پر جزم کیا ہے تویہی مذہب ہے اور خانیہ میں ہے مشترك اجبیر کے متعلق مختار امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی کا قول ہے اور اسی میں ہےکہ فقیہ ابوللیث نے فرمایا: امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول پر وہ ضامن نہ ہوگا۔ ہمارا یہی مختارہےاور فتوی امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول پر ہے۔اھ ملخصا۔اور خلاصہ کی جنس القصار میں ہے امام قاضی خاں امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول پر فتوی دیتے ہیںاور انھوں نے فرمایا میں اسی پر فتوی دیتاہوں۔اور تاتارخانیہ میں الابانۃ سے منقول ہے کہ فقیہ ابوللیث نے اس مسئلہ
حوالہ / References
ملتقی الابحر کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسد موسسۃ الرسالۃ بیروت ∞۲ /۱۶۴€
کنز الدقائق کتاب الاجارۃ باب فی بیان احکام ضمان الاجیر ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۱€۹
الدارلحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الاجارہ باب من الاجارہ ∞میر محمد کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۵€
منح الغفار
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الاجارۃ باب الاجارہ الفاسدۃ ∞نولکشور لکھنو ۳ /۴۴€۱
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الاجارۃ باب الاجارہ الفاسدۃ ∞نولکشور لکھنو ۳ /۴۴۴€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الاجارۃ الفصل السادس ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ /۱۳۶€
کنز الدقائق کتاب الاجارۃ باب فی بیان احکام ضمان الاجیر ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۱€۹
الدارلحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الاجارہ باب من الاجارہ ∞میر محمد کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۵€
منح الغفار
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الاجارۃ باب الاجارہ الفاسدۃ ∞نولکشور لکھنو ۳ /۴۴€۱
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الاجارۃ باب الاجارہ الفاسدۃ ∞نولکشور لکھنو ۳ /۴۴۴€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الاجارۃ الفصل السادس ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ /۱۳۶€
ابی حنیفہ وبہ افتی وفی الانقرویۃ قال القاضی فخر الدین الفتوی علی انہ لایضمن تاتارخانیہ . اھ وفی البزازیۃ نوع القضاء القاضی افتی بقول الامام اھ فیہا قال فی العون اخترت قول الامام اھ وفیہا لو شرط الضمان علی المشترك ان ھلکت قیل یضمن اجماعا والفتوی علی انہ لااثرلہ واشتراطہ وعدمہ سواء لانہ امین اھو فیہا بعیدہفی مسئلۃ لا یضمن وبہ یفتی اھ وفی الجامع الفصولین قال وفیہا علیہ قول البزازی ث (الفقیہ الاامام ابواللیث)بہ ناخذ قال ھذ(صاحب الذخیرۃ)۔وفی الہندیۃ اوائل الفصل الاول فی
میں امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کا قول لیا ہے اور اسی پر فتوی دیا ہےاور انقرویہ میں ہے قاضی فخر الدین نے فرمایا فتوی یہ ہے کہ وہ ضامن نہ ہوگاتاتارخانیہ اھاور بزازیہ کی نوع القضاء میں ہے قاضیخاں نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول پر فتوی دیاہے اھاور اس میں یہ بھی ہے انھوں نے العون میں فرمایا میں نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول کو اختیار کیا ہے اھ اوراسی میں ہے اگر مشترك اجیر پر شرط ضمان لگائی تو بعض نے کہا بالاتفاق ضامن ہوگااور فتوی یہ ہے کہ اس شرط کا کوئی اثرنہ ہوگا شرط لگانا نہ لگانا برابر ہے کیونکہ امین ہے اھاور اسی میں ایك مسئلہ میں تھوڑا بعد فرمایا ضامن نہ ہوگا اسی پر فتوی دیا جائے گا اھ اور جامع الفصولین میں فرمایا اور اس میں اس پر بزازی کا"ث" یعنی فقیہ ابواللیث کا قول ہم نے یہی اختیار کیا ہے اور"ھذ"کہا یعنی صاحب ذخیرہ نےہندیہ میں اجیر مشترك کی بحث کی ابتداء میں ہے
میں امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کا قول لیا ہے اور اسی پر فتوی دیا ہےاور انقرویہ میں ہے قاضی فخر الدین نے فرمایا فتوی یہ ہے کہ وہ ضامن نہ ہوگاتاتارخانیہ اھاور بزازیہ کی نوع القضاء میں ہے قاضیخاں نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول پر فتوی دیاہے اھاور اس میں یہ بھی ہے انھوں نے العون میں فرمایا میں نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول کو اختیار کیا ہے اھ اوراسی میں ہے اگر مشترك اجیر پر شرط ضمان لگائی تو بعض نے کہا بالاتفاق ضامن ہوگااور فتوی یہ ہے کہ اس شرط کا کوئی اثرنہ ہوگا شرط لگانا نہ لگانا برابر ہے کیونکہ امین ہے اھاور اسی میں ایك مسئلہ میں تھوڑا بعد فرمایا ضامن نہ ہوگا اسی پر فتوی دیا جائے گا اھ اور جامع الفصولین میں فرمایا اور اس میں اس پر بزازی کا"ث" یعنی فقیہ ابواللیث کا قول ہم نے یہی اختیار کیا ہے اور"ھذ"کہا یعنی صاحب ذخیرہ نےہندیہ میں اجیر مشترك کی بحث کی ابتداء میں ہے
حوالہ / References
الفتاوٰی التاتارخانیہ
فتاوٰی انقرویہ کتاب الاجارہ باب فی ضمان الاجیر المشترك دارالاشاعۃ العربیہ ∞قندہار افغانستان ۲ /۳۲۵€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ الفصل السادس نوع فی القصار ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۷€۸
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ الفصل السادس نوع فی القصار ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۷€۸
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ الفصل السادس نوع فی القصار ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۸€۸
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ الفصل السادس نوع فی القصار ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۸۸€
جامع الفصولین
فتاوٰی انقرویہ کتاب الاجارہ باب فی ضمان الاجیر المشترك دارالاشاعۃ العربیہ ∞قندہار افغانستان ۲ /۳۲۵€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ الفصل السادس نوع فی القصار ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۷€۸
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ الفصل السادس نوع فی القصار ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۷€۸
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ الفصل السادس نوع فی القصار ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۸€۸
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ الفصل السادس نوع فی القصار ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۸۸€
جامع الفصولین
الاجیر المشترك قال فخر الدین وعلیہ الفتوی وبہ ناخذ اھ وفیہا اواخر الفصل المذکور ایضا عن الکبری الفتوی علی انہ لاتضمن الاجیر المشترك الاماتلف بصنعہ ۔ فخر الدین نے فرمایا اسی پرفتوی ہے اور ہم نے اسی کو لیا ہے اھ اور اسی میں فصل مذکور کے آخر میں کہا کہ فتاوی کبری میں بھی ہے کہ مشترك اجیر ضامن نہ ہوگا مگر جبکہ وہ خود سامان کو ہلاك کرے۔(ت)
اگرچہ مسئلہ تضمین اجیرمشترك میں جبکہ مال بےاس کے فعل کے کسی ایسے سے ضائع ہوجائے جس سے احتراز ممکن تھا اقوال وفتاوی سخت مختلف ہےمگر ہمارے امام اعظم امام الائمہ مالك الازمہ کاشف الغمہ سراج الامہ ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك اس پر صورت مذکورہ میں مطلقا تاوان نہیں اور یہی مذہب ہے امام ہمام ۱قاضی شریح و۲امام عطا و۳امام طاؤس و۴امام مجاہد و۵امام ابراہیم نخعی و۶امام حماد بن ابی سلیمان استاذ امامنا الاعظم وغیرہم اکابر تابعین اور ۷امام زفر و۸امام حسن بن زیاد وغیرہم ائمہ دین کااور ایك قول میں ۹امام شافعی نے بھی ایسا فرمایا اور وہ ایك روایت ہے ۱۰امام احمد سے بلکہ کہا گیا ۱۱امام محمد سے بھی اس کے مثل منقول ہوااور حضرت امیر المومنین ۱۲عمر فاروق اعظم اور ۱۳امیر المومنین علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنھما سے بھی ایك روایت یونہی وارد ہوئی بلکہ امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ نے قول ضمان چھوڑکر اس طرف رجوع فرمائی بلکہ بعض علماء نے فرمایا یہ قول محل اجماع میں ہےامام اجل شریح رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سرکار مرتضوی کرم اﷲ تعالی وجھہ کے قاضی تھےہزار ہاصحابہ تابعین کے حضورہمیشہ یہی حکم دیتے اور کوئی انکار نہ فرماتاکہ خود حضور پر نور حکم عدل خبیرمحمدرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اس بارہ میں حدیث وارداور بعینہ یہی حکم حضوروالا علیہ افضل الصلوۃ والثناء سے مروی اور انھیں تك ہی سب غایتوں کی غایت اور وہی ہیں سب نہایتوں کی نہایت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
(ابوحنیفۃ)عن بشر الکرنی عن محمد بن علی عن ابیہ عن علی ابن ابی طالب رضی اﷲ تعالی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال لاضمان علی قصار ولا صباغ ۔ ابوحنیفہ بشر الکوفی سے اور وہ اپنے والد سے انھوں نے علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالی عنہ سے وایت کیا حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:دھوبی اور رنگریز پر ضمان نہیں۔(ت)
اگرچہ مسئلہ تضمین اجیرمشترك میں جبکہ مال بےاس کے فعل کے کسی ایسے سے ضائع ہوجائے جس سے احتراز ممکن تھا اقوال وفتاوی سخت مختلف ہےمگر ہمارے امام اعظم امام الائمہ مالك الازمہ کاشف الغمہ سراج الامہ ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك اس پر صورت مذکورہ میں مطلقا تاوان نہیں اور یہی مذہب ہے امام ہمام ۱قاضی شریح و۲امام عطا و۳امام طاؤس و۴امام مجاہد و۵امام ابراہیم نخعی و۶امام حماد بن ابی سلیمان استاذ امامنا الاعظم وغیرہم اکابر تابعین اور ۷امام زفر و۸امام حسن بن زیاد وغیرہم ائمہ دین کااور ایك قول میں ۹امام شافعی نے بھی ایسا فرمایا اور وہ ایك روایت ہے ۱۰امام احمد سے بلکہ کہا گیا ۱۱امام محمد سے بھی اس کے مثل منقول ہوااور حضرت امیر المومنین ۱۲عمر فاروق اعظم اور ۱۳امیر المومنین علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنھما سے بھی ایك روایت یونہی وارد ہوئی بلکہ امیر المومنین علی کرم اﷲ وجہہ نے قول ضمان چھوڑکر اس طرف رجوع فرمائی بلکہ بعض علماء نے فرمایا یہ قول محل اجماع میں ہےامام اجل شریح رحمۃ اﷲ تعالی علیہ سرکار مرتضوی کرم اﷲ تعالی وجھہ کے قاضی تھےہزار ہاصحابہ تابعین کے حضورہمیشہ یہی حکم دیتے اور کوئی انکار نہ فرماتاکہ خود حضور پر نور حکم عدل خبیرمحمدرسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اس بارہ میں حدیث وارداور بعینہ یہی حکم حضوروالا علیہ افضل الصلوۃ والثناء سے مروی اور انھیں تك ہی سب غایتوں کی غایت اور وہی ہیں سب نہایتوں کی نہایت صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔
(ابوحنیفۃ)عن بشر الکرنی عن محمد بن علی عن ابیہ عن علی ابن ابی طالب رضی اﷲ تعالی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال لاضمان علی قصار ولا صباغ ۔ ابوحنیفہ بشر الکوفی سے اور وہ اپنے والد سے انھوں نے علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالی عنہ سے وایت کیا حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:دھوبی اور رنگریز پر ضمان نہیں۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب الثامن والعشرون الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۵۰۲€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب الثامن والعشرون الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۵۱۱€
جامع المسانید الباب الثالث عشر درالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۴۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب الثامن والعشرون الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۵۱۱€
جامع المسانید الباب الثالث عشر درالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۴۹€
اور اسی پر جزم فرمایا:۱۴ملتقی و۱۵وقایہ و۱۶نقایہ و۱۷غرر وآاصلاح و۱۹تنویر وغیرھا متون میں اوریہی مقتضی ہے اطلاق ۲۰قدوری و ۲۱ہدایہ و۲۲کنز و۲۳مجمع وغیرہامتون کاغرض عامہ متون اسی پرہیںاور اسی پر فتوی دیا امام فقیہ ۲۴ابواللیث سمرقندی اور امام اجل ۲۵قاضیخاں اور ۲۶امام ظہیر الدین مرغینانی اور ۲۷امام افتخار الدین طاہر صاحب خلاصہ وغیرہم اکابر معتمدین نےبلکہ امام اجل ظہیر اول ا س کے قائل نہ تھے بعدہ اس طرف رجوع لائے اور اسی کو راجح ومختار ومعتمد و مفتی بہ ٹھہرایا۲۸مضمرات و۲۹ذخیرہ و۳۰ابانہ و۳۱عون و۳۲تاتارخانیہ وفتاوی کبری و ۳۳فتاوی بزازیہ و۳۴محیط ووقایہ وملتقی واصلاح وتتمہ و۳۵تنویر و۳۶منح و۳۷درر وغیرہا جمہور ائمہ کے تصانیف معتمدہ میںاور اس کی ترجیح مقتضی ۳۸ہدایہ کا ہے اور یہی امام سے ظاہرالروایۃ ہے۔عام معتبرات میں اسی پر فتوی دیااور اصحاب متون نے اسی پر جزم کیاتو یہی مذہب ٹھہراذرا چشم انصاف اس مذہب مذہب کی سطوت و شوکت ملاحظہ کرے۔
اماان شریحا یقول بہ(فمحمد)فی الاثار عن ابی حنیفۃ عن حماد عن ابراہیم ان شریحا لم یضمن اجیرا قط ۔(قلت)وارسلہ الامام فی المسند عن النخعیواما عطاء وطاؤس فعزاہ الیہما فی الخلاصۃ و الخیریۃ وغیرھماوالی مجاہد ایضافی الخلاصۃ والی ابراھیم فی الحاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار والی حماد فی غایۃ البیان عن مختصر الامام الکرخیو الی زفروالحسن فیہا والایضاح وفی الہندیۃ ومجمع الانہر واما انہ قول الشافعی وروایۃ عن احمد فیستفاد من شرح لیکن بیشك قاضی شریح اس کے قائل ہیںتو امام محمد نے آثار میں امام ابوحنیفہ انھوں نے حماد انھوں نے ابراہیم سے روایت کیا کہ قاضی شریح نے کبھی اجیر کو ضامن نہ بنایا قلت(میں کہتا ہوں)اور اس کو امام ابوحنیفہ نے مسند میں بطور ارسال ابراہیم نخعی روایت کیا امام طاؤس اور عطاء ان دونوں کی طرف خلاصہ اور خیریہ وغیرھما منسوب کیا اور مجاہد کی طرف بھی خلاصہ میں اور ابراہیم کی طرف درمختار پر حاشیہ طحطاوی میں اور حماد کی طرف غایۃ البیان میں مختصر الاما م الکرخی سے منقول اور امام زفر وامام حسن کی طرف غایۃ البیان ایضاحہندیہ اور مجمع الانہر میں منسوب ہے۔لیکن امام شافعی کا قول ہے اور امام محمد سے ایك روایت ہے تو یہ نسفی کے متن
اماان شریحا یقول بہ(فمحمد)فی الاثار عن ابی حنیفۃ عن حماد عن ابراہیم ان شریحا لم یضمن اجیرا قط ۔(قلت)وارسلہ الامام فی المسند عن النخعیواما عطاء وطاؤس فعزاہ الیہما فی الخلاصۃ و الخیریۃ وغیرھماوالی مجاہد ایضافی الخلاصۃ والی ابراھیم فی الحاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار والی حماد فی غایۃ البیان عن مختصر الامام الکرخیو الی زفروالحسن فیہا والایضاح وفی الہندیۃ ومجمع الانہر واما انہ قول الشافعی وروایۃ عن احمد فیستفاد من شرح لیکن بیشك قاضی شریح اس کے قائل ہیںتو امام محمد نے آثار میں امام ابوحنیفہ انھوں نے حماد انھوں نے ابراہیم سے روایت کیا کہ قاضی شریح نے کبھی اجیر کو ضامن نہ بنایا قلت(میں کہتا ہوں)اور اس کو امام ابوحنیفہ نے مسند میں بطور ارسال ابراہیم نخعی روایت کیا امام طاؤس اور عطاء ان دونوں کی طرف خلاصہ اور خیریہ وغیرھما منسوب کیا اور مجاہد کی طرف بھی خلاصہ میں اور ابراہیم کی طرف درمختار پر حاشیہ طحطاوی میں اور حماد کی طرف غایۃ البیان میں مختصر الاما م الکرخی سے منقول اور امام زفر وامام حسن کی طرف غایۃ البیان ایضاحہندیہ اور مجمع الانہر میں منسوب ہے۔لیکن امام شافعی کا قول ہے اور امام محمد سے ایك روایت ہے تو یہ نسفی کے متن
حوالہ / References
کتاب الآثار لامام محمد رحمہ اﷲ باب ضمان الاجیر المشترك ∞حدیث ۷۸۰€ ادارۃ القرآن ∞کراچی ص۱۷۳€
العینی علی متن النسفیوقد ذکر الاتقانی انہ الاصح عندھم نقل ذلك عن وجیزہموحکایتہ محمد ذکر ھا الامام قاضیخاں فی فتاواہواماروایۃ عن عمرو علی رضی اﷲ تعالی عنھما فالطوری فی شرح الکنز والسید احمد فی حاشیۃ الدر۔(قلت)ورأیت فی مسندالامام(ابوحنیفۃ)عن یونس بن محمد عن ابی جعفر محمد بن علی عن امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالی عنہ انہ کان لایضمن القصار والصباغ (واخری)زادفیہا والاالحائك واما رجوع علی ان ھذا فالطحطاوی عن الاتفانی عن شرح الکافی
(قلت)ای للامام شیخ الاسلام الاسبیجابی وقد رأیتہ فی غایۃ البیان نقلاعنہ واشار الیہ المولی بحر العلوم فی فواتح الرحموت واما حلولہ محل الاجماع فالاتقانی ایضا حیث قال کان حکم شریح بحضرۃ الصحابۃ والتابعین من
پر عینی کی شرح سے مستفاد ہے اور اتقائی نے ذکر کیا کہ ان کے ہاں اصح ہے یہ بات انھوں نے ان کی وجیز سے نقل کی ہے اور امام محمد سے اس نقل کو امام قاضیخاں نے اپنے فتاوی میں ذکر کیا ہے لیکن حضرت عمراور حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنھما سے روایت کو توطوری نے کنز کی شرح اور سید احمد نے حاشیہ درمختار میں ان دونوں سے روایت کیا۔
قلت(میں کہتاہوں)میں نے مسند امام ابوحنیفہ میں یونس بن محمد انھوں نے ابو جعفر محمد بن علی انھوں نے امیرالمومنین علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ سے دھوبی اور رنگریز اور دوسری روایت میں حجام کاذکر بھی ہےکہ آپ ان سے ضمان نہ لیا کرتے تھےلیکن حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ کا اس طرف رجوع کرنا تو اس کو طحطاوی نے اتقانی کےحوالہ سے شرح کافی سے نقل کیا ہے قلت(میں کہتاہوں)یعنی امام اشیخ الاسلام اسبیجابی کی شرح سےاور بیشك میں نے اس کو غایۃ البیان میں ان سے منقول پایا اور بحرالعلوم نے فواتح الرحموت میں اس کی طرف صرف اشارہ کیا ہے لیکن اس کا مرتبہ اجماع میں ہونا توا تقانی نے بھی کہا ہے جہاں انھوں نے بیان کیا کہ قاضی شریح کا فیصلہ صحابہ اور تابعین کی موجودگی میں ان کی
(قلت)ای للامام شیخ الاسلام الاسبیجابی وقد رأیتہ فی غایۃ البیان نقلاعنہ واشار الیہ المولی بحر العلوم فی فواتح الرحموت واما حلولہ محل الاجماع فالاتقانی ایضا حیث قال کان حکم شریح بحضرۃ الصحابۃ والتابعین من
پر عینی کی شرح سے مستفاد ہے اور اتقائی نے ذکر کیا کہ ان کے ہاں اصح ہے یہ بات انھوں نے ان کی وجیز سے نقل کی ہے اور امام محمد سے اس نقل کو امام قاضیخاں نے اپنے فتاوی میں ذکر کیا ہے لیکن حضرت عمراور حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنھما سے روایت کو توطوری نے کنز کی شرح اور سید احمد نے حاشیہ درمختار میں ان دونوں سے روایت کیا۔
قلت(میں کہتاہوں)میں نے مسند امام ابوحنیفہ میں یونس بن محمد انھوں نے ابو جعفر محمد بن علی انھوں نے امیرالمومنین علی مرتضی رضی اﷲ تعالی عنہ سے دھوبی اور رنگریز اور دوسری روایت میں حجام کاذکر بھی ہےکہ آپ ان سے ضمان نہ لیا کرتے تھےلیکن حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ کا اس طرف رجوع کرنا تو اس کو طحطاوی نے اتقانی کےحوالہ سے شرح کافی سے نقل کیا ہے قلت(میں کہتاہوں)یعنی امام اشیخ الاسلام اسبیجابی کی شرح سےاور بیشك میں نے اس کو غایۃ البیان میں ان سے منقول پایا اور بحرالعلوم نے فواتح الرحموت میں اس کی طرف صرف اشارہ کیا ہے لیکن اس کا مرتبہ اجماع میں ہونا توا تقانی نے بھی کہا ہے جہاں انھوں نے بیان کیا کہ قاضی شریح کا فیصلہ صحابہ اور تابعین کی موجودگی میں ان کی
حوالہ / References
جامع المسانید الباب الثالث عشر دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۵€۰
جامع المسانید الباب الثالث عشر دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۵۰€
جامع المسانید الباب الثالث عشر دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۲ /۵۰€
غیر نکیر فحل محل الاجماع اھ ۔قلت فیہ ان لا تکیر علی القضاۃ فی الاجتہادیات فالسکوت فی امثال المقام لایدل علی الوفاق ونقل الاتقانی نفسہ فقال قال شرح شیخ الاسلام الاسبیجابی فی شرح الکافی قبیل باب الرجل یستصنع الشیئ کانت المسئلۃ مختلفا فیہا بین الصحابۃ والتابیعن فابوحنیفۃ رجح اقوال البعض علی البعض اھ واما انصوص الملتقی والوقایۃ والنقایۃ والاصلاح والکنز الغرر والتنویر والمنح والتاتارخانیۃ و البزازیۃ وفتوی ابی اللیث وقاضیخان وابن عبدالرشید وصاحب الذخیرۃ والابانۃ والعون فقد سمعت کل ذلك واما مجمع البحار فعز الیہ فی ردالمحتار اثری الفتوی وعن الامام الظہیری فی الخلاصۃ والخیریۃ و العلمگیریۃ والعمدۃ والعمادیۃ والمنح وغیرھا و رجوعہ الی ھذافیہا الا الخبریۃ وعن المضمرات و الذخیرۃ ایضا فی شرح النقایۃ وعن التتمۃ والمحیط فی الایضاح شرح الاصلاح فی حاشیۃ الطحطاوی ورد المحتارواما ان ترجیحہ مقتضی صنیع الہدایۃ فلتقدیمہ القول طرف سےکسی انکار کے بغیر ہوا ہےتو یہ اجماع کےمرتبہ میں ہوا اھمیں کہتاہوں اس میں یہ اعتراض ہے کہ اجتہاد ات میں قاضیوں پر اعتراض نہیں ہوا کرتالہذا ایسے مقام میں سکوت تائید پر دال نہیں ہوگا جبکہ خود اتقانی نے نقل کیا ہے اور کہا کہ شیخ الاسلام اسبیجابی نے شرح کافی میں پیشگی آرڈر پر شیئ بنوانے کے باب سے تھوڑا پہلے ذکر کیا ہے کہ اجیر کے ضمان کا مسئلہ صحابہ اور تابعین کے دور میں مختلف فیہ رہا ہے تو امام ابوحنیفہ نے ان کے اقوال میں بعض کو ترجیح دی ہے اھ۔لیکن ملتقیوقایہنقایہاصلاحکنزغررتنویر منح تاتارخانیہ اور بزازیہ کی نصوص اور ابواللیث قاضیخاںابن عبدالرشید صاحب ذخیرہابانۃاورعون کے فتاوی تو آپ سن چکے ہیں لیکن مجمع البحار تو اس کی طرف ردالمحتار میں فتوی منسوب کیا ہےاور امام ظہیری سے خلاصہخیریہعالمگیریہ عمدہ عمادیہ اور منح وغیرہ میں نقل موجود ہےاور ان کا اس طرح رجوع کرنا خیریہ کے علاوہ تمام مذکورہ کتب میں موجود ہے اور مضمرات اورذخیرہ سے بھی شرح نقایہ میں منقول ہے اور تتمہ اور محیط سے ایضاح شرح اصلاح اور حاشیہ طحطاوی اور ردالمحتار میں منقول ہےاورلیکن اس کی ترجیح تویہ ہدایہ کی عادت کہ بطور قول مقدم کرنا
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی بحوالہ اتقانی کتاب الاجارات باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/۵۴€
غایۃ البیان
غایۃ البیان
وتاخیرہ الدلیل واماانہا ھی ظاھر الروایۃ عن الامام فالشامی وغیرہ فی العقود الدریۃ وغیرھا وامام الجزم بہ فی المتون والافتاء بہ فی عامۃ المعتنبرات حتی کان ھوالمذہب فقد سمعت نص المولی ابی عبداﷲ محمد بن عبداﷲ التمرتاشی وتبعہ افندی شیخی زادہ و المدقق الحصکفیو اﷲ تعالی اعلم۔ اور اس کی دلیل کو مؤخر کرنے کا مقتضی ہےلیکن یہ کہ امام سے یہ ظاہر روایت ہے تو یہ شامی وغیرہ کی عقود الدریۃ وغیرہ میں ہےلیکن اس پر متون اور فتوی کا جزم تویہ عام کتب میں موجود ہے حتی کہ اس کو مذہب کہا ہےآپ اس پر ابوعبداﷲ تمرتاشی کی نص سن چکے ہیں اور شیخی زادہ اور مدقق حصکفی نے ان کی اتباع کی ہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
بالجملہ مذہب امام غایت درجہ قوت وجلالت وثبات ومتانت پر واقع ہےبحیث لاتزعزع جوانبہ صیحۃ صائح ولا تزلزل ارکانہ صولۃ صائل وانا اقول:وﷲ التوفیق(ایسے کہ اس کے اطراف کو کسی کی چیخ نے متاثر نہ کیااور نہ ہی اس کے ستونوں کو کسی طاقتور کی طاقت نے جنبش دیاور میں کہتاہوں حالانکہ توفیق اﷲ تعالی ہی سے ہے۔ت)
ممارس فن جب بہ نگان امعان ہمارے اس تلخیص عبارت وتحسین اشارت پر نظر کریں تو انشاء اﷲ تعالی اس پر مہر نیمروز ماہ نیم ماہ کی روش روشن و بین ہوگا کہ یہاں مذہب امام رضی اﷲ تعالی عنہ بوجوہ کثیرہ اور اقوال پر جو اس کے مخالف ومنافی ہیں ترجیح واضح رکھتاہے۔اگرچہ وہ بھی مذیل بالافتاء والتصحیح ہوں کہ مطلقا اختلاف فتوی مستلزم تعادل واستواء نہیں۔
اولا: عامہ متون نے اس پر جزم کیا اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ متون شروع اور شروح فتاوی پر مقدم ہیں وھذا یعرفہ کل من لہ معرفۃ فی الفقہ(اس کو فقہ کی معرفت والا ہرایك جانتاہے۔ت) علامہ زین بن نجیم مصری بحرالرائق میں فرماتے ہیں:
اذا اختلف المتصحیح والفتوی فالعمل بما وافق اطلاق المتون اولی ۔ جب تصحیح اور فتوی میں اختلاف پایا جائے تو پھر متون کی موافقت میں عمل اولی ہے۔(ت)
علامہ بیری شرح اشباہ میں غیر مذہب امام پر بعض جگہ فتوی دیاجانا ذکر کرکے کہتے ہیں:
ینبغی ان یکون ھذا عند عدم ذکر اہل المتون للتصحیح والافالحکم بما فی المتون یہ اس وقت مناسب ہے جب متون میں تصحیح کا ذکر نہ ہو ورنہ حکم وہی ہوگاجو متون نے بیان کیا
بالجملہ مذہب امام غایت درجہ قوت وجلالت وثبات ومتانت پر واقع ہےبحیث لاتزعزع جوانبہ صیحۃ صائح ولا تزلزل ارکانہ صولۃ صائل وانا اقول:وﷲ التوفیق(ایسے کہ اس کے اطراف کو کسی کی چیخ نے متاثر نہ کیااور نہ ہی اس کے ستونوں کو کسی طاقتور کی طاقت نے جنبش دیاور میں کہتاہوں حالانکہ توفیق اﷲ تعالی ہی سے ہے۔ت)
ممارس فن جب بہ نگان امعان ہمارے اس تلخیص عبارت وتحسین اشارت پر نظر کریں تو انشاء اﷲ تعالی اس پر مہر نیمروز ماہ نیم ماہ کی روش روشن و بین ہوگا کہ یہاں مذہب امام رضی اﷲ تعالی عنہ بوجوہ کثیرہ اور اقوال پر جو اس کے مخالف ومنافی ہیں ترجیح واضح رکھتاہے۔اگرچہ وہ بھی مذیل بالافتاء والتصحیح ہوں کہ مطلقا اختلاف فتوی مستلزم تعادل واستواء نہیں۔
اولا: عامہ متون نے اس پر جزم کیا اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ متون شروع اور شروح فتاوی پر مقدم ہیں وھذا یعرفہ کل من لہ معرفۃ فی الفقہ(اس کو فقہ کی معرفت والا ہرایك جانتاہے۔ت) علامہ زین بن نجیم مصری بحرالرائق میں فرماتے ہیں:
اذا اختلف المتصحیح والفتوی فالعمل بما وافق اطلاق المتون اولی ۔ جب تصحیح اور فتوی میں اختلاف پایا جائے تو پھر متون کی موافقت میں عمل اولی ہے۔(ت)
علامہ بیری شرح اشباہ میں غیر مذہب امام پر بعض جگہ فتوی دیاجانا ذکر کرکے کہتے ہیں:
ینبغی ان یکون ھذا عند عدم ذکر اہل المتون للتصحیح والافالحکم بما فی المتون یہ اس وقت مناسب ہے جب متون میں تصحیح کا ذکر نہ ہو ورنہ حکم وہی ہوگاجو متون نے بیان کیا
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ باب فی قضاء الفوائت ∞ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۲ /۸۶€
کما لایخفی لانہا صارت متواترہ ۔ جیسا کہ مخفی نہیں کیونکہ ایسے میں وہ حکم متواتر ہوجاتاہے۔(ت)
محقق شامی آفندی حاشیہ درمیں بحث تخییرمفتی وقت اختلاف میں لکھتے ہیں:
اقول:وینبغی تقیید التخییر ایضابما ذا لم یکن احدالقولین فی المتون لما قد مناہ انفا عن البیری ولما فی قضاء الفوائت من البحر من انہ اذا اختلف التصحیح والفتوی فالعمل بما وافق المتون اولی ۔ میں کہتاہوں اور مفتی کے اختیار پر یہ پابندی بھی مناسب ہے کہ جب متون می کوئی قول نہ ہو تو پھر اسے اختیار ہے جیسا کہ ابھی ہم نے بیری سے نقل کیا ہے اور بحرکے قضاء الفوائت سے نقل کی وجہ سے کہ جب تصحیح اور فتاوی میں اختلاف پایا جائے تومتون کے موافق عمل بہترہے۔(ت)
ثانیا: یہ قول"قول امام ہے اور ہم قول امام سے عدول نہیں کرتے جب تك کوئی ضرورت یا ضعف حجت نہ ہو اوریہاں ضعف کیساجو قوت وشہرت ہےعلماء تصریح فرماتے ہیں کہ قول امام نہ ترك کیا جائے اگرچہ مشائخ دوسرے قول پر فتوی دیں چہ جائے آنکہ جمہور اکابر کا فتوی اسی طرف ہو۔پھر اسے مہجور کیا جائےبحرالرائق میں ہے:
بہذا ظہرانہ لایفتی ولایعمل الابقول الامام الاعظم ولایعدل عنہ الی قولھما اوقول احد ھما اوغیرھما الالضرورۃ من ضعف دلیل اوتعامل بخلافہ کالمزارعۃ وان صرح المشائخ بان الفتوی علی قولھما ۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول پر فتوی دیا جائے گا اور عمل کیا جائے گا اورصاحبین رحمھما اﷲ یا ان میں سے ایك یا کسی غیر کے قول کی طرف عدول نہ کیا جائے گا الا یہ کہ پیش کردہ دلیل کمزور ہو یاتعامل اس کے خلاف ہو مثلا مزارعت کا تعامل ورنہ مطلقا فتوی امام صاحب کے قول پر ہوگا اگرچہ مشائخ تصریح بھی کردیں کہ فتوی صاحبین کے قول پرہیں۔(ت)
اسی طرح علامہ فہامہ خیرالدین رملی نے اپنے فتاوی میں ذکر فرمایا:
محقق شامی آفندی حاشیہ درمیں بحث تخییرمفتی وقت اختلاف میں لکھتے ہیں:
اقول:وینبغی تقیید التخییر ایضابما ذا لم یکن احدالقولین فی المتون لما قد مناہ انفا عن البیری ولما فی قضاء الفوائت من البحر من انہ اذا اختلف التصحیح والفتوی فالعمل بما وافق المتون اولی ۔ میں کہتاہوں اور مفتی کے اختیار پر یہ پابندی بھی مناسب ہے کہ جب متون می کوئی قول نہ ہو تو پھر اسے اختیار ہے جیسا کہ ابھی ہم نے بیری سے نقل کیا ہے اور بحرکے قضاء الفوائت سے نقل کی وجہ سے کہ جب تصحیح اور فتاوی میں اختلاف پایا جائے تومتون کے موافق عمل بہترہے۔(ت)
ثانیا: یہ قول"قول امام ہے اور ہم قول امام سے عدول نہیں کرتے جب تك کوئی ضرورت یا ضعف حجت نہ ہو اوریہاں ضعف کیساجو قوت وشہرت ہےعلماء تصریح فرماتے ہیں کہ قول امام نہ ترك کیا جائے اگرچہ مشائخ دوسرے قول پر فتوی دیں چہ جائے آنکہ جمہور اکابر کا فتوی اسی طرف ہو۔پھر اسے مہجور کیا جائےبحرالرائق میں ہے:
بہذا ظہرانہ لایفتی ولایعمل الابقول الامام الاعظم ولایعدل عنہ الی قولھما اوقول احد ھما اوغیرھما الالضرورۃ من ضعف دلیل اوتعامل بخلافہ کالمزارعۃ وان صرح المشائخ بان الفتوی علی قولھما ۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے قول پر فتوی دیا جائے گا اور عمل کیا جائے گا اورصاحبین رحمھما اﷲ یا ان میں سے ایك یا کسی غیر کے قول کی طرف عدول نہ کیا جائے گا الا یہ کہ پیش کردہ دلیل کمزور ہو یاتعامل اس کے خلاف ہو مثلا مزارعت کا تعامل ورنہ مطلقا فتوی امام صاحب کے قول پر ہوگا اگرچہ مشائخ تصریح بھی کردیں کہ فتوی صاحبین کے قول پرہیں۔(ت)
اسی طرح علامہ فہامہ خیرالدین رملی نے اپنے فتاوی میں ذکر فرمایا:
حوالہ / References
ردالمحتار بحوالہ شرح البیری مقدمۃ الکتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۴۹€
ردالمحتار مقدمۃ الکتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۴۹€
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۴€
ردالمحتار مقدمۃ الکتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۴۹€
بحرالرائق کتاب الصلٰوۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۴€
واولہ المقرر عننا انہ لایفتی الخ واخرہ لانہ صاحب المذھب والامام المقدم ۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں مسلمہ امر ہے کہ فتوی اور عمل امام صاحب کے قول پر ہی ہوگااور دوسری بات یہ ہے کہ آپ ہی صاحب مذہب اور اول امام بھی۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
وکذا لایتخیر(ای المفتی فی الافتاء بماشاء عند اختلاف الفتیا)لوکان احدھما قول الامام والاخر قول غیرہ لانہ لماتعارض التصحیحان تساقطا فرجعنا الی الاصل وھو تقدیم قول الامام الخ۔ یونہی مختار نہ ہوگا(یعنی فتاوی میں اختلاف کے موقعہ پر مفتی کو اپنی مرضی کا فتوی دینے کا اختیار نہیں)جبکہ ایك امام صاحب کا قول ہو اور مقابلہ میں کسی میں دونوں قول ہوکیونکہ تعارض کی صورت میں دونوں قول ساقط ہوجاتے ہیں تو ہم اصل کی طرف راجع ہوں گے اور وہ امام کے قول کامقدم ہونا ہے الخ۔(ت)
ثالثا : جمہور صحابہ و تابعین کا یہی قول ہے یہاں تك کہ قریب اجماع کہا گیا:
ولاشك ان قول الجمہور الذین منہم امامناخیرلنا من بعض لیس ھومنھم۔ اس میں شك نہیں جمہور جن میں ہمارے امام بھی ہوں وہ ہمارے لئے بہتر ہیں ان لوگوں کے مقابلہ میں جمہور میں شامل نہ ہوں۔(ت)
رابعا:خود حضور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اس بارہ میں حدیث مروی ہے بخلاف اور مذاہب کےکہ وہاں حدیث مرفوع کا نام بھی سننے میں نہ آیا۔
خامسا:قول امام پرفتوی دینے والے اجلہ ائمہ مالکان ازمہ ترجیح وافتاء معروفین بالاتفاق مشارالیہم بالبنان ہیں جیسے امام ابوللیث سمرقندی وامام محقق برہان الدین مرغنیانی وامام ظہیر الدین مرغینانی وامام افتخار الملۃ والدین طاہربن بخاری وغیرہم من الجلۃ الاکابر رحمۃاﷲ تعالی علیہم اجمعین بخلاف مذہب صاحبین کہ اس پر فتوی غالبا بالفاظ نقارت وابہام منقول ہوا۔من الناس من افتی بقولھما (بعض لوگوں نے صاحبین کے قول پر فتوی دیا ہے۔ت)دوسری جگہ ہے:قول بعضہم بہ یفتی (بعض نے یہ
ردالمحتارمیں ہے:
وکذا لایتخیر(ای المفتی فی الافتاء بماشاء عند اختلاف الفتیا)لوکان احدھما قول الامام والاخر قول غیرہ لانہ لماتعارض التصحیحان تساقطا فرجعنا الی الاصل وھو تقدیم قول الامام الخ۔ یونہی مختار نہ ہوگا(یعنی فتاوی میں اختلاف کے موقعہ پر مفتی کو اپنی مرضی کا فتوی دینے کا اختیار نہیں)جبکہ ایك امام صاحب کا قول ہو اور مقابلہ میں کسی میں دونوں قول ہوکیونکہ تعارض کی صورت میں دونوں قول ساقط ہوجاتے ہیں تو ہم اصل کی طرف راجع ہوں گے اور وہ امام کے قول کامقدم ہونا ہے الخ۔(ت)
ثالثا : جمہور صحابہ و تابعین کا یہی قول ہے یہاں تك کہ قریب اجماع کہا گیا:
ولاشك ان قول الجمہور الذین منہم امامناخیرلنا من بعض لیس ھومنھم۔ اس میں شك نہیں جمہور جن میں ہمارے امام بھی ہوں وہ ہمارے لئے بہتر ہیں ان لوگوں کے مقابلہ میں جمہور میں شامل نہ ہوں۔(ت)
رابعا:خود حضور عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے اس بارہ میں حدیث مروی ہے بخلاف اور مذاہب کےکہ وہاں حدیث مرفوع کا نام بھی سننے میں نہ آیا۔
خامسا:قول امام پرفتوی دینے والے اجلہ ائمہ مالکان ازمہ ترجیح وافتاء معروفین بالاتفاق مشارالیہم بالبنان ہیں جیسے امام ابوللیث سمرقندی وامام محقق برہان الدین مرغنیانی وامام ظہیر الدین مرغینانی وامام افتخار الملۃ والدین طاہربن بخاری وغیرہم من الجلۃ الاکابر رحمۃاﷲ تعالی علیہم اجمعین بخلاف مذہب صاحبین کہ اس پر فتوی غالبا بالفاظ نقارت وابہام منقول ہوا۔من الناس من افتی بقولھما (بعض لوگوں نے صاحبین کے قول پر فتوی دیا ہے۔ت)دوسری جگہ ہے:قول بعضہم بہ یفتی (بعض نے یہ
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الشہادات دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۳۳€
ردالمحتار مقدمۃ الکتاب داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۱ /۴۹€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارات باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۳۹€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارات باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۴۱€
ردالمحتار مقدمۃ الکتاب داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۱ /۴۹€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارات باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۳۹€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارات باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۴۱€
فتوی دیاہے۔ت)شرح کنزمیں ہے:بہ یفتی بعضہم (اسی پر بعض نے فتوی دیا ہے۔ت)خلاصہ وبزازیہ میں ہے:بعض العلماء اخذوا بقولھما (بعض علماء نے صاحبین کا قول لیا ہے۔ت)شاید یہی وجوہ ہیں کہ جس قدر کتابیں اس وقت فقیر کے پیش نظر ہیں ان میں یہ تو بکثر ت ہے کہ صرف قول امام پر فتوی نقل کیا اورقول صاحبین کو ترجیح سے معری رکھا اور اس کا عکس ہر گز نہ فرمایا جس سے ظاہر کہ علماء قول صاحبین پر مطمئن نہیں رہے تبیین کاحکم بقولھما یفتی (صاحبین کے قول پر فتوی دیاجائے گا۔ت)سوان اکابر اساطین مذہ ب اورفاضل زیلعی میں جو فرق ہے کسے معلوم نہیں۔
سادسا: جمہور کا فتوی اسی طرف ہے
لما مران قد جعل الفتوی علیہ فی عامۃ المعتبرات۔ جیسا کہ گزراکہ عام معتبرکتب میں اس پر فتوی جاری ہوا۔ (ت)
اور قول جمہور ہمیشہ منصور وغیرمہجور۔
الشامی عن الحاوی القدسی ان اختلفوا یوخذ بقول الاکثرین ثم الاکثرین مما اعتمد علیہ الکبار المعروفون منہم کابی حفص وابی جعفر وابی اللیث و الطحطاوی وغیر ھم ممن یعتمد علیہ ۔ علامہ شامی نے حاوی قدسی سے نقل کیا کہ اگر فقہاء کا اختلاف ہو تو اکثریت کے قول کو لیا جائے گا پھر اکثریت ان لوگوں کی جن پر مشہور اکابر نے اعتماد کیا ہو ان میں جیسا کہ ابو حفص ابوجعفرابواللیث اور طحاوی وغیرہم معتمد علیہ لوگ ہیں۔ (ت)
سابعا: اس قول پر فتوی دینے والے ایك امام علامہ فخر الملۃ والدین حسن بن منصور اوزجندی ہیں رحمۃاﷲ تعالی علیہ اوریہ امام فارس میدان ترجیح وتصحیح ہیں جن کی نسبت علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ان کی تصحیح اوروں کی تصحیح پر مقدم ہےان کے فتوی سے عدول نہ کیا جائےعلامہ خیر الدین رملی حاشیہ جامع الفصولین میں فرماتے ہیں:
علیك بما فی الخانیۃ فان قاضیخان من اہل التصحیح والترجیح ۔ خانیہ کا بیان کردہ تجھ پر لازم ہے کیونکہ قاضیخاں اہل تصحیح وترجیح میں سے ہیں(ت)
سادسا: جمہور کا فتوی اسی طرف ہے
لما مران قد جعل الفتوی علیہ فی عامۃ المعتبرات۔ جیسا کہ گزراکہ عام معتبرکتب میں اس پر فتوی جاری ہوا۔ (ت)
اور قول جمہور ہمیشہ منصور وغیرمہجور۔
الشامی عن الحاوی القدسی ان اختلفوا یوخذ بقول الاکثرین ثم الاکثرین مما اعتمد علیہ الکبار المعروفون منہم کابی حفص وابی جعفر وابی اللیث و الطحطاوی وغیر ھم ممن یعتمد علیہ ۔ علامہ شامی نے حاوی قدسی سے نقل کیا کہ اگر فقہاء کا اختلاف ہو تو اکثریت کے قول کو لیا جائے گا پھر اکثریت ان لوگوں کی جن پر مشہور اکابر نے اعتماد کیا ہو ان میں جیسا کہ ابو حفص ابوجعفرابواللیث اور طحاوی وغیرہم معتمد علیہ لوگ ہیں۔ (ت)
سابعا: اس قول پر فتوی دینے والے ایك امام علامہ فخر الملۃ والدین حسن بن منصور اوزجندی ہیں رحمۃاﷲ تعالی علیہ اوریہ امام فارس میدان ترجیح وتصحیح ہیں جن کی نسبت علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ان کی تصحیح اوروں کی تصحیح پر مقدم ہےان کے فتوی سے عدول نہ کیا جائےعلامہ خیر الدین رملی حاشیہ جامع الفصولین میں فرماتے ہیں:
علیك بما فی الخانیۃ فان قاضیخان من اہل التصحیح والترجیح ۔ خانیہ کا بیان کردہ تجھ پر لازم ہے کیونکہ قاضیخاں اہل تصحیح وترجیح میں سے ہیں(ت)
حوالہ / References
رمز الحقائق شرح کنز الدقائق کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۱۵۶€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الاجارۃ الفصل السادس ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ /۱۳۶€
تبیین الحقائق کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۵ /۱۳۵€
ردالمحتار مقدمۃ الکتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۴۸€
اللآلی الدریۃ فی الفوائد الخیریۃ حاشیہ جامع الفصولین الفصل الثامن عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۴۶€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الاجارۃ الفصل السادس ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳ /۱۳۶€
تبیین الحقائق کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۵ /۱۳۵€
ردالمحتار مقدمۃ الکتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۱ /۴۸€
اللآلی الدریۃ فی الفوائد الخیریۃ حاشیہ جامع الفصولین الفصل الثامن عشر ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۴۶€
علامہ قاسم تصحیح القدوری میں فرماتے ہیں:
مایصححہ قاضیخاں من الاقوال یکون مقدما علی مایصححہ غیر لانہ کان فقیہ النفس ۔ قاضیخاں کا تصحیح کردہ قول دوسرے کی تصحیح پر مقدم ہے کیونکہ وہ فقیہ النفس ہیں۔(ت)
سید احمد حموی غمز العیون میں اسے نقل کرکے مقرر رکھتے ہیںفاضل سید احمد طحطاوی حاشیہ درمختارمیں لکھتے ہیں:
الذی یظہر اعتماد فی الخانیۃ لقولہم ان قاضیخان من اجل من یعمتد علی تصحیحاتہ ۔ قاضیخاں کے بیان پر اعتماد کی وجہ فقہاء کا یہ فرمان ہے کہ قاضیخاں جلیل الشان وہ شخص ہیں جن کی تصحیحات پر اعتما د کیا جاتاہے۔(ت)
فاضل محمد امین ابن عابدین عقود الدریہ میں فرماتے ہیں:
مایصححہ قاضی خان مقدم علی مایصححہ غیرہ ۔ قاضی خاں کی تصحیح شدہ غیر کی تصحیح شدہ پر مقدم ہے۔(ت)
اب تو بحمداﷲ عرش تحقیق مستقر ہوگیا کہ اس مسئلہ میں قول امام بلا شبہ امام الاقوال واقوی الاقوال ہے جس سے بلا ضرورت ہر گز تجاوز نہ چاہئےیہ تو اصل مذہب پر بحث تھیاگر بنظر تغیر زمان آرائے علمائے خلف پر نظر کیجئے تویہاں جماعت کثیرہ ائمہ متاخرین کا قول قوی باشوکت مرجح مصحح مفتی بہ یہ ہے کہ اگر اجیر مر دوصالح ومتدین ہے تو ضمان نہیںاور خائن دغاباز ہے تو ہے اور مستور الحال ہے تو نصف قیمت پر صلح کرلیںصاحب محیط نے فوائد میں اس پر جزم فرمایا:
کما فی الخیریۃ عن جامع الفصولین۔ جیسا کہ خیریہ میں جامع الفصولین سے منقول ہے۔(ت)
بہت بعد متاخرین نے اس پر فتوی دیاکما فی الحامدیۃ(جیسا کہ حامدیہ میں ہے۔ت)بلکہ علامہ حامد آفندی فرماتے ہیں فقیہین جلیلین ابوجعفر وابواللیث نے بھی اسی کو اختیار فرمایااور فرماتے ہیں یہ قول
مایصححہ قاضیخاں من الاقوال یکون مقدما علی مایصححہ غیر لانہ کان فقیہ النفس ۔ قاضیخاں کا تصحیح کردہ قول دوسرے کی تصحیح پر مقدم ہے کیونکہ وہ فقیہ النفس ہیں۔(ت)
سید احمد حموی غمز العیون میں اسے نقل کرکے مقرر رکھتے ہیںفاضل سید احمد طحطاوی حاشیہ درمختارمیں لکھتے ہیں:
الذی یظہر اعتماد فی الخانیۃ لقولہم ان قاضیخان من اجل من یعمتد علی تصحیحاتہ ۔ قاضیخاں کے بیان پر اعتماد کی وجہ فقہاء کا یہ فرمان ہے کہ قاضیخاں جلیل الشان وہ شخص ہیں جن کی تصحیحات پر اعتما د کیا جاتاہے۔(ت)
فاضل محمد امین ابن عابدین عقود الدریہ میں فرماتے ہیں:
مایصححہ قاضی خان مقدم علی مایصححہ غیرہ ۔ قاضی خاں کی تصحیح شدہ غیر کی تصحیح شدہ پر مقدم ہے۔(ت)
اب تو بحمداﷲ عرش تحقیق مستقر ہوگیا کہ اس مسئلہ میں قول امام بلا شبہ امام الاقوال واقوی الاقوال ہے جس سے بلا ضرورت ہر گز تجاوز نہ چاہئےیہ تو اصل مذہب پر بحث تھیاگر بنظر تغیر زمان آرائے علمائے خلف پر نظر کیجئے تویہاں جماعت کثیرہ ائمہ متاخرین کا قول قوی باشوکت مرجح مصحح مفتی بہ یہ ہے کہ اگر اجیر مر دوصالح ومتدین ہے تو ضمان نہیںاور خائن دغاباز ہے تو ہے اور مستور الحال ہے تو نصف قیمت پر صلح کرلیںصاحب محیط نے فوائد میں اس پر جزم فرمایا:
کما فی الخیریۃ عن جامع الفصولین۔ جیسا کہ خیریہ میں جامع الفصولین سے منقول ہے۔(ت)
بہت بعد متاخرین نے اس پر فتوی دیاکما فی الحامدیۃ(جیسا کہ حامدیہ میں ہے۔ت)بلکہ علامہ حامد آفندی فرماتے ہیں فقیہین جلیلین ابوجعفر وابواللیث نے بھی اسی کو اختیار فرمایااور فرماتے ہیں یہ قول
حوالہ / References
غمز عیون البصائر بحوالہ تصحیح القدوری الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۵۵€
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۲۵€
العقود الدریۃ کتاب الاجارات ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۱۰۳€
فتاوی خیریہ کتاب الاجارہ باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۴۱€
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب النکاح فصل فی المحرمات دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۲۵€
العقود الدریۃ کتاب الاجارات ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۱۰۳€
فتاوی خیریہ کتاب الاجارہ باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۴۱€
سب سے اولی اور اسلم ہے اور یہی فتوی ہے امام جلال الدین زاہدون کاکما فی المنح الغفار والطحطاویۃ (جیسا کہ منح الغفار اور طحطاوی میں ہے۔ت)علامہ خیر الدرین رملی استاد صاحب درمختارعلامہ سید اسعد مدنی مفتی مدینہ منورہ تلمیذ صاحب مجمع الانہر اپنے فتاویی میں فرماتے ہیں:مااحسن التفصیل الاخیر (آخری تفصیل کیا ہی اچھی ہے۔ت)فاضل شامی فرماتے ہیں:
قد اختلف الافتاء وقد سمعت مافی الخیریۃ ۔ فتوے مختلف ہیں جبکہ آپ نے خیریہ کا بیان سن لیا ہے۔(ت)
اور فی الواقع یہ اس اعلی درجہ نفاست ومتانت واحتیاط رزانت ومراعات جانبین وحفظ مذہب و لحاظ زمانہ پر وقع اور تمام خوبیوں کاجامع ہے کہ خواہی نخواہی قلوب اس خاطر جھك جائیں اور تشتت اقوال و فتاوی کے پریشان کئے ہوئے ذہن سے سنتے سکون و اطمینان پائیںہم امید کرتے ہیں کہ اگر امام یہ زمانہ پاتے اور اس قول کو ان کے حضور عرض کیا جاتا بیشك پسند فرماتےاس قول پر بھی مانحن فیہ(زیر بحث مسئلہ)میں ضمان لینا جائز نہیں کہ سائل تصریح کرتا ہے کہ وہ پیشہ ور معتبر دیانتدار ہے سالہاسال سے کام کرتارہا کبھی اس سے کوئی خیانت ماحفظ میں غفلت واقع نہ ہوئی برسوں کے بعد اتفاقا اس کے پاس سے یہ مال گم ہوگیایوں تو آدمی کے پاس اپنا مال باوجود حفظ تام و احتیاط کامل ضائع وہلاك ہوجاتاہےپھر یہ نہ کہاجائے گا کہ وہ اپنے مال میں خائن ہے۔
بالجملہ جہاں تك نظر فقہی کی مجال ہے صورت مستفسرہ میں ضمان نہ آنا ہی اقوی الاقوال ہے:
ولئن تتنزلنا فلاشك فی شدۃ قوتہ وانہ من احسن ما افتی بہ فلایمکن حجر المفتی عن الافتاء بہ ابدا فیاخیبۃ عــــــہ من حکم علیہ بالغلط اگر بطور تنزل مان بھی لیں پھر بھی اس کی قوت میں شك نہیں اور وہ فتوی کے لئے نہایت احسن ہے تو کسی وقت بھی مفتی اس پر فتوی سے باز نہ رہےخسارہ ہے اس شخص کو جس نے اس پر غلط ہونے کا
عــــــہ: مولوی امیر احمد سہسوانی۔
قد اختلف الافتاء وقد سمعت مافی الخیریۃ ۔ فتوے مختلف ہیں جبکہ آپ نے خیریہ کا بیان سن لیا ہے۔(ت)
اور فی الواقع یہ اس اعلی درجہ نفاست ومتانت واحتیاط رزانت ومراعات جانبین وحفظ مذہب و لحاظ زمانہ پر وقع اور تمام خوبیوں کاجامع ہے کہ خواہی نخواہی قلوب اس خاطر جھك جائیں اور تشتت اقوال و فتاوی کے پریشان کئے ہوئے ذہن سے سنتے سکون و اطمینان پائیںہم امید کرتے ہیں کہ اگر امام یہ زمانہ پاتے اور اس قول کو ان کے حضور عرض کیا جاتا بیشك پسند فرماتےاس قول پر بھی مانحن فیہ(زیر بحث مسئلہ)میں ضمان لینا جائز نہیں کہ سائل تصریح کرتا ہے کہ وہ پیشہ ور معتبر دیانتدار ہے سالہاسال سے کام کرتارہا کبھی اس سے کوئی خیانت ماحفظ میں غفلت واقع نہ ہوئی برسوں کے بعد اتفاقا اس کے پاس سے یہ مال گم ہوگیایوں تو آدمی کے پاس اپنا مال باوجود حفظ تام و احتیاط کامل ضائع وہلاك ہوجاتاہےپھر یہ نہ کہاجائے گا کہ وہ اپنے مال میں خائن ہے۔
بالجملہ جہاں تك نظر فقہی کی مجال ہے صورت مستفسرہ میں ضمان نہ آنا ہی اقوی الاقوال ہے:
ولئن تتنزلنا فلاشك فی شدۃ قوتہ وانہ من احسن ما افتی بہ فلایمکن حجر المفتی عن الافتاء بہ ابدا فیاخیبۃ عــــــہ من حکم علیہ بالغلط اگر بطور تنزل مان بھی لیں پھر بھی اس کی قوت میں شك نہیں اور وہ فتوی کے لئے نہایت احسن ہے تو کسی وقت بھی مفتی اس پر فتوی سے باز نہ رہےخسارہ ہے اس شخص کو جس نے اس پر غلط ہونے کا
عــــــہ: مولوی امیر احمد سہسوانی۔
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الاجارات ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۱۴۔۱۱۳€
حاشیۃ الطحطاوی کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۳۶€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۴۱،€الفتاوٰی الاسعدیۃ کتاب الاجارۃ المطبعۃ الخیریۃ ∞مصر ۲ /۲۷۶€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۱€
حاشیۃ الطحطاوی کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ∞۴ /۳۶€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۴۱،€الفتاوٰی الاسعدیۃ کتاب الاجارۃ المطبعۃ الخیریۃ ∞مصر ۲ /۲۷۶€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۴۱€
بغیا وحسدا وکیف یسوغ ذلك مع اختلاف الفتیا ھنالك ولکن الحسد حسك من تعلق بہ ھلك و فیما ذکرنا عبرۃ لمن اعتبر وتذکرۃ لمن ارادان یتذکر وھو جملۃ یسیرۃ من مباحث کثیرۃ فلئن قنع فقیہ مقنع والافعندنا بحمداﷲ افواج من الکلام فی میدان ھذا المقام فیہا العدود والعدۃ والباس والشدۃ فلئن لم ینتہ فسیری ان شاء اﷲ تعالی شوارق تحقیقات زھرت فبہرت عینو المنافقین و بوارق تدقیقات سطحت فقطعت قلوب العارضین و قولہ وانا متبری من الحول والقوۃ اذلاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا و مولنا محمد والہ وصحابہ اجمعین امین! حکم لگایا ہے حسد اور بغاوت کرتے ہوئے فتاوی کے اختلاف کے باوجود اس کی کیا گنجائش ہےلیکن حسد ایسی مرض ہے جس کو لاحق ہوجائے ہلاك کردیتی ہے اور جو کچھ ہم نے ذکر کردیا ہے اس میں سوچ والے کے لئے عبرت ہے اور نصیحت حاصل کرنے والے کے لئے اس میں تذکرہ ہے اور یہ کثیر مباحث کا آسان خلاصہ ہے اگر فہم والا اس پر قناعت کرلے تو یہ کافی ہوگا۔ورنہ بحمد اﷲ تعالی ہمارے پاس اس مقام میں کلام کا ذخیرہ ہے اس میں تعدادتیاریسختی اور شدت سب کچھ ہے اگر باز نہ آئے تو ان شاء اﷲ وہ ایسی روشن تحقیقات کو دیکھے گاجو رونق افروز ہوکر منافقین کی آنکھوں کو پریشان کردیں گی اور ایسی چمك دار تدقیقات کو بھی جو پھیل کر معاوضہ کرنے والوں کے دلوں کو کاٹ دیں گی اور اس کی بات کو ختم کردیں گی اور میں اس حول اور قوۃ سے برأت رکھتاہوں کیونکہ حول اور قوۃ اﷲ تعالی عظیم وبلند کے سوا کسی سے نہیں ہے وصلی اﷲ تعالی علی سیدنا ومولینا محمد والہ وصحبہ اجمعین آمین!(ت)
مسئلہ ۱۴۶:جناب مولوی صاحب! قبلہ وکعبہ وہ جہان سلامت! بعد آداب وتسلیمات کے فدوی خدمت مبارك میں یوں عرض کرتاہےکہ کمترین پہلے پیشہ معماری میں اپنی اوقات بسر کرتا تھا پھر منشی ثناء اﷲ صاحب نے ایك مدرسہ تکیہ میں واسطے تعلیم القرآن مجیدکے تعمیر کرادیا اس میں انھوں نے مجھ کو واسطے تعلیم اطفال کے مقررکیا اس طرح کہ تم ﷲ لڑکوں کو قرآن پڑھاؤ اور ہم تمھارے اہل عیال کے خورد ونوش کے واسطے مبلغ چار روپیہ ماہوار ﷲ دیا کریں گےمیں اس امر کو قبول ومنظور کرکے پڑھاتا رہااسی تنخواہ پر قانع رہا کسی لڑکے سے کچھ
مسئلہ ۱۴۶:جناب مولوی صاحب! قبلہ وکعبہ وہ جہان سلامت! بعد آداب وتسلیمات کے فدوی خدمت مبارك میں یوں عرض کرتاہےکہ کمترین پہلے پیشہ معماری میں اپنی اوقات بسر کرتا تھا پھر منشی ثناء اﷲ صاحب نے ایك مدرسہ تکیہ میں واسطے تعلیم القرآن مجیدکے تعمیر کرادیا اس میں انھوں نے مجھ کو واسطے تعلیم اطفال کے مقررکیا اس طرح کہ تم ﷲ لڑکوں کو قرآن پڑھاؤ اور ہم تمھارے اہل عیال کے خورد ونوش کے واسطے مبلغ چار روپیہ ماہوار ﷲ دیا کریں گےمیں اس امر کو قبول ومنظور کرکے پڑھاتا رہااسی تنخواہ پر قانع رہا کسی لڑکے سے کچھ
طلب نہ کیادو سال تو منشی صاحب تنخواہ برابر دیتے رہے بعد کو انھوں نے موقوف کردیاچونکہ اور کوئی میری معاش نہ تھی مجبورا مکتب کوبدستور قائم رکھااور درس دیتا رہالیکن کسی شاگرد سےکچھ ماہوار متعین نہ کیا کہ مواخذہ آخر ت نہ ہوہاں جو کسی نے دے دیا سو لے لیا اور جس نے نہ دیا اس سے طلب نہ کیااب لڑکے بہت قلیل رہ گئے ہیں ان میں سے بھی بعض دیتے ہیں اور بعض نہیں دیتے جس میں کوئی(۱۲/)ماہوار کا حساب ہوجاتاہے نوبت فاقہ کی بھی پہنچ جاتی ہےاس پر قناعت کرکے شکر الہی بجالاتاہوںاب مجھ پر ایك شخص نے یہ اعتراض کیا کہ جو کچھ لڑکوں سے مجھ کو ملتا ہے ہر طرح حرام ہے خواہ وہ اجرت سمجھ کردیں یا بطور عنداللہ۔
پس اس مسئلہ کو آپ سب صاحب سے دریافت کرتاہوں آیا یہ مال حلال ہے یا حرام براہ خدا ا س کا جواب مزین بمہر کرکے عنایت ہو کہ تردد رفع ہو اور وہ معترض حدیث کا قائل ہے فقہ کانہیں۔
الجواب:
سائل پر شرعا کوئی الزام نہیں اور جو کچھ اسے ماہوار مل جاتاہےحلال طیب ہےاور کیفیت مذکورہ سوال سے اس کے نہایت صبر استقلال وطلب وجہ حلال وخوف مولی ذوالجلال پر دال ہےجزاہ اﷲ تعالی خیرا بلکہ اگر وہ سب پڑھنے والوں سے اپنا ماہوار مقرر کرلے جب بھی جائز ہے اور مذہب مفتی بہ پر اصلا مضائقہ نہیں۔
فی حاشیۃ البحرالرائق للعلامہ خیرالدین الرملی فی کتاب الوقف المفتی بہ جوا زالاخذ استحسانا علی تعلیم القران الخ ومثلہ فی کثیر من الکتب۔ بحرالرائق پر خیر الدین رملی کے حاشیہ میں کتاب الوقف کی بحث میں ہے کہ تعلیم القرآن پر اجرت لینا مفتی بہ قول پر جائز ہے الخ ایسی عبارت کثیر کتب میں موجود ہے۔(ت)
معترض کا اعتراض محض بیجا ہے اور اس کا یہ کہنا کہ ﷲ سمجھ کردیتے ہیں جب بھی حرام ہے۔شریعت مطہر ہ پر کھلا ہوا افتراء اگر پڑھنے والوں نے اتنے تنگدست استاذ کی لوجہ اﷲ خدمت کی کیا گناہ ہوااور استاد کو اس کا لینا کیونکرحرام ٹھہرایہ محض جہالت و تعصب ہے اﷲ جل وعلا فرماتاہے:
" و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا اپنی زبانوں پر جاری جھوٹ والا قول نہ کرو کہ یہ حلال اور یہ حرام ہے کہ تم اﷲ تعالی پر
پس اس مسئلہ کو آپ سب صاحب سے دریافت کرتاہوں آیا یہ مال حلال ہے یا حرام براہ خدا ا س کا جواب مزین بمہر کرکے عنایت ہو کہ تردد رفع ہو اور وہ معترض حدیث کا قائل ہے فقہ کانہیں۔
الجواب:
سائل پر شرعا کوئی الزام نہیں اور جو کچھ اسے ماہوار مل جاتاہےحلال طیب ہےاور کیفیت مذکورہ سوال سے اس کے نہایت صبر استقلال وطلب وجہ حلال وخوف مولی ذوالجلال پر دال ہےجزاہ اﷲ تعالی خیرا بلکہ اگر وہ سب پڑھنے والوں سے اپنا ماہوار مقرر کرلے جب بھی جائز ہے اور مذہب مفتی بہ پر اصلا مضائقہ نہیں۔
فی حاشیۃ البحرالرائق للعلامہ خیرالدین الرملی فی کتاب الوقف المفتی بہ جوا زالاخذ استحسانا علی تعلیم القران الخ ومثلہ فی کثیر من الکتب۔ بحرالرائق پر خیر الدین رملی کے حاشیہ میں کتاب الوقف کی بحث میں ہے کہ تعلیم القرآن پر اجرت لینا مفتی بہ قول پر جائز ہے الخ ایسی عبارت کثیر کتب میں موجود ہے۔(ت)
معترض کا اعتراض محض بیجا ہے اور اس کا یہ کہنا کہ ﷲ سمجھ کردیتے ہیں جب بھی حرام ہے۔شریعت مطہر ہ پر کھلا ہوا افتراء اگر پڑھنے والوں نے اتنے تنگدست استاذ کی لوجہ اﷲ خدمت کی کیا گناہ ہوااور استاد کو اس کا لینا کیونکرحرام ٹھہرایہ محض جہالت و تعصب ہے اﷲ جل وعلا فرماتاہے:
" و لا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ہذا حلل و ہذا حرام لتفتروا اپنی زبانوں پر جاری جھوٹ والا قول نہ کرو کہ یہ حلال اور یہ حرام ہے کہ تم اﷲ تعالی پر
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الوقف ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ /۲۲۸€
علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون ﴿۱۱۶﴾ " جھوٹ افتراء بناؤبیشك وہ لوگ جو اﷲ تعالی پر جھوٹ افتراء بناتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے(ت)
اوراس سے بڑھ کر اس کا جہل مرکب یہ ہے کہ مسائل شرح سے انکار رکھتاہےسبحان اﷲ جہالت کی یہ حالت اور فقہاء سے نفرتبیشك ایسے ہی لوگ حدیث سے احکام سمجھنے کے قابل ہیں انا ﷲ وانا الیہ راجعون o خیر اگر وہ حدیث ہی مانگیں تو خاص بخاری شریف میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما سے روایت ہےسید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان احق مااخذ تم علیہ اجرا کتاب اﷲ ۔ یعنی قرآن مجید سب چیزوں سے زیادہ اس لائق ہے کہ تم اس پر اجرت لو۔
امام علامہ مناوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ تیسیر شرح جامع صغیر حدیثی میں اس حدیث کی شرح لکھتے ہیں:
فاخذ الاجرۃ علی تعلیمہ جائز الخ۔ یعنی اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قرآن پڑھانے پر اجرت لینا جائز ہے۔الخ(ت)
معترض پر فرض ہے کہ ان جہالتوں سے بازآئے اورمسائل شرع میں بے علم وفہم زبان کھولنے سے تو بہ کرےولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔واﷲ تعالی جل جلالہ اعلم۔
مسئلہ ۱۴۷ تا ۱۴۹: مرسلہ حاجی الہ یار خاں صاحب ۱۱ رجب ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ۱فی زماننا زمیندار اپنے اپنے گاؤں کے تالابوں یا جھیلوں یا دریا سے جو اپنے گاؤں کی حد میں ہوتاہے مچھلیاں پکڑواتے ہیں اور نصف حق زمین داری سے آپ لیتے ہیں اور نصف پکڑنے والے کو دیتے ہیںاور زمیندار تالاب یا جھیلوں یا دریا کو اپنا مملوکہ جانتے ہیں اور تالاب وغیرہ سے بغیر جال کے مچھلیاں پکڑنے پر قادر نہیں ہیں۲او رکبھی ایسا ہوتا ہے کہ مچھلیاں ان تالابوں یا جھیلوں کی فروخت کر ڈالتے ہیں یعنی کھار وغیرہوتالاب مول لے لیتے ہیں جس قدر مچھلیاں اس میں ہوتی ہیں وہ جال وغیرہ سے شکا ر کرکے لے جاتے ہیںجابجا گاؤں میں اس کارواج ہے۔
اوراس سے بڑھ کر اس کا جہل مرکب یہ ہے کہ مسائل شرح سے انکار رکھتاہےسبحان اﷲ جہالت کی یہ حالت اور فقہاء سے نفرتبیشك ایسے ہی لوگ حدیث سے احکام سمجھنے کے قابل ہیں انا ﷲ وانا الیہ راجعون o خیر اگر وہ حدیث ہی مانگیں تو خاص بخاری شریف میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالی عنھما سے روایت ہےسید عالم صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
ان احق مااخذ تم علیہ اجرا کتاب اﷲ ۔ یعنی قرآن مجید سب چیزوں سے زیادہ اس لائق ہے کہ تم اس پر اجرت لو۔
امام علامہ مناوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ تیسیر شرح جامع صغیر حدیثی میں اس حدیث کی شرح لکھتے ہیں:
فاخذ الاجرۃ علی تعلیمہ جائز الخ۔ یعنی اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قرآن پڑھانے پر اجرت لینا جائز ہے۔الخ(ت)
معترض پر فرض ہے کہ ان جہالتوں سے بازآئے اورمسائل شرع میں بے علم وفہم زبان کھولنے سے تو بہ کرےولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔واﷲ تعالی جل جلالہ اعلم۔
مسئلہ ۱۴۷ تا ۱۴۹: مرسلہ حاجی الہ یار خاں صاحب ۱۱ رجب ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ۱فی زماننا زمیندار اپنے اپنے گاؤں کے تالابوں یا جھیلوں یا دریا سے جو اپنے گاؤں کی حد میں ہوتاہے مچھلیاں پکڑواتے ہیں اور نصف حق زمین داری سے آپ لیتے ہیں اور نصف پکڑنے والے کو دیتے ہیںاور زمیندار تالاب یا جھیلوں یا دریا کو اپنا مملوکہ جانتے ہیں اور تالاب وغیرہ سے بغیر جال کے مچھلیاں پکڑنے پر قادر نہیں ہیں۲او رکبھی ایسا ہوتا ہے کہ مچھلیاں ان تالابوں یا جھیلوں کی فروخت کر ڈالتے ہیں یعنی کھار وغیرہوتالاب مول لے لیتے ہیں جس قدر مچھلیاں اس میں ہوتی ہیں وہ جال وغیرہ سے شکا ر کرکے لے جاتے ہیںجابجا گاؤں میں اس کارواج ہے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۱۶ /۱۱۶€
صحیح البخاری کتاب الطلب باب الشروط فی الرقیتہ بقطیع من الغنم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۵۴€
التیسیر شرح الجامع الصغیر للمناوی تحت حدیث ان حق ما اخذ علیہ الخ مکتبۃ الامام الشافعی ∞ریاض ۱ /۳۰۹€
صحیح البخاری کتاب الطلب باب الشروط فی الرقیتہ بقطیع من الغنم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۵۴€
التیسیر شرح الجامع الصغیر للمناوی تحت حدیث ان حق ما اخذ علیہ الخ مکتبۃ الامام الشافعی ∞ریاض ۱ /۳۰۹€
اور کسی اسامی کو اس میں کچھ عذر بھی نہیں ہوتا(۳)اور گھاس بھی گاؤں کی زمیندار فروخت کرتاہےاس کو بھی اپنا مملوکہ سمجھ رہا ہےاور رواج بھی ہےاس میں بھی کسی دوسرے گاؤں وغیرہ کی رعایا کو کچھ عذر نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ خود خرید لیتے ہیں یہ درست ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
اللہم ھدایۃ الحق والصواب۔یہ سوال تین مسئلوں پر شامل ہے:
مسئلہ اولی: زمینداروں کا اپنے دیہات کے تالابوں سے مچھلیاں نصف پر صیدکرانا۔
اقول:وباﷲ التوفیق اس کے جواب میں اول تنقیح اس امر کی ضرور ہے کہ آیا وہ مچھلیاں زمینداروں کی مملوك ہیں یا نہیں اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ اگر زمینداروں نے وہ تالاب اس غرض کے لئے مہیا کئے ہیں کہ برسات کے پانی جو ندیوں سے مچھلیاں بہا کر لائیں ان میں فراہم ہو کر ہمارے ملك میں آئیں تو بلاشبہ جو مچھلیاں ان میں جمع ہوں گی ان زمینداروں کی ملك خاص ہوں گیاور اگر تالاب اس لئے مہیا نہ کئے مگر جب پانی بہا کر لایا انھوں نے ان کی روك کرلیکوئی مینڈھا وغیرہ ایسا باندھ دیا کہ اب مچھلیاں بہاؤمیں نہ نکل جائیں تو بھی وہ مچھلیوں کے مالك ہوگئےان دونوں صورتوں میں کسی کو بلااذن زمینداران ان مچھلیوں کا پکڑنا اور اپنے تصرف میں لاناجائز نہیں یہاں تك کہ اگر کوئی صید کرے تو زمیندار کہ شرعا اس کا مالك ہے ایك ایك مچھلی اس سے واپس لے سکتاہے اور اگر ان صورتوں سے کچھ نہ تھانہ تالاب انھوں نے اس غرض کے لئے مہیا کئے نہ بعد مچھلیاں آنے کے ان کی روك کیتو البتہ وہ مچھلیاں اپنی اباحت اصلیہ پر باقی ہیں کہ انھیں جو پکڑے گا مالك ہوجائے گااور زمیندار کو اس سے واپس لینا جائز نہ ہوگا کہ وہ کسی خاص شخص کی ملك نہیںردالمحتار وفتح القدیر وغیرہما میں ہے:
اذا دخل السمك فی خطیرۃ فاما ان یعدھا لذلك اولا ففی الاول یملکہ ولیس لاحد اخذہ ثم ان امکن اخذہ بلاحیلۃ جازبیعہ لانہ مملوك مقدور التسلیم والا لم یجز لعدم القدرۃ علی التسلیمو جب مچھلی تالاب میں آجائے تو اگر جال اسی غرض سے لگایا گیا تھا تو مچھلی کا مالك ہوجائے گااس موقعہ پر دوسرے کو وہ مچھلی پکڑنے کا حق نہیں پھر اس حال میں وہ تالاب میں آئی مچھلی کوحیلہ سازی کے بغیر پکڑ سکتاہےتو اس حالت میں اس مچھلی کو فروخت کرسکتاہے کیونکہ وہ اس کی ملك ہوچکی ہے جس پرقبضہ دینا ممکن نہیں ہے اور اگر حیلہ
الجواب:
اللہم ھدایۃ الحق والصواب۔یہ سوال تین مسئلوں پر شامل ہے:
مسئلہ اولی: زمینداروں کا اپنے دیہات کے تالابوں سے مچھلیاں نصف پر صیدکرانا۔
اقول:وباﷲ التوفیق اس کے جواب میں اول تنقیح اس امر کی ضرور ہے کہ آیا وہ مچھلیاں زمینداروں کی مملوك ہیں یا نہیں اس بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ اگر زمینداروں نے وہ تالاب اس غرض کے لئے مہیا کئے ہیں کہ برسات کے پانی جو ندیوں سے مچھلیاں بہا کر لائیں ان میں فراہم ہو کر ہمارے ملك میں آئیں تو بلاشبہ جو مچھلیاں ان میں جمع ہوں گی ان زمینداروں کی ملك خاص ہوں گیاور اگر تالاب اس لئے مہیا نہ کئے مگر جب پانی بہا کر لایا انھوں نے ان کی روك کرلیکوئی مینڈھا وغیرہ ایسا باندھ دیا کہ اب مچھلیاں بہاؤمیں نہ نکل جائیں تو بھی وہ مچھلیوں کے مالك ہوگئےان دونوں صورتوں میں کسی کو بلااذن زمینداران ان مچھلیوں کا پکڑنا اور اپنے تصرف میں لاناجائز نہیں یہاں تك کہ اگر کوئی صید کرے تو زمیندار کہ شرعا اس کا مالك ہے ایك ایك مچھلی اس سے واپس لے سکتاہے اور اگر ان صورتوں سے کچھ نہ تھانہ تالاب انھوں نے اس غرض کے لئے مہیا کئے نہ بعد مچھلیاں آنے کے ان کی روك کیتو البتہ وہ مچھلیاں اپنی اباحت اصلیہ پر باقی ہیں کہ انھیں جو پکڑے گا مالك ہوجائے گااور زمیندار کو اس سے واپس لینا جائز نہ ہوگا کہ وہ کسی خاص شخص کی ملك نہیںردالمحتار وفتح القدیر وغیرہما میں ہے:
اذا دخل السمك فی خطیرۃ فاما ان یعدھا لذلك اولا ففی الاول یملکہ ولیس لاحد اخذہ ثم ان امکن اخذہ بلاحیلۃ جازبیعہ لانہ مملوك مقدور التسلیم والا لم یجز لعدم القدرۃ علی التسلیمو جب مچھلی تالاب میں آجائے تو اگر جال اسی غرض سے لگایا گیا تھا تو مچھلی کا مالك ہوجائے گااس موقعہ پر دوسرے کو وہ مچھلی پکڑنے کا حق نہیں پھر اس حال میں وہ تالاب میں آئی مچھلی کوحیلہ سازی کے بغیر پکڑ سکتاہےتو اس حالت میں اس مچھلی کو فروخت کرسکتاہے کیونکہ وہ اس کی ملك ہوچکی ہے جس پرقبضہ دینا ممکن نہیں ہے اور اگر حیلہ
فی الثانی لایمبلکہ فلایجوز بیعہ لعدم الملك الاان یسد الخطیرۃ اذا دخلفح یملکہ ثم ان امکن اخذہ بلاحیلۃ جاز بیعہ و الافلا ۔ کے بغیر پکڑی نہ جاسکے تو اس کی بیع ناجائز ہے کیونکہ وہ مقدور التسلیم نہیں ہے اور دوسری یعنی تالاب اس مقصد کے لئے نہ لگایا گیا ہواس صورت میں مچھلی کا مالك نہ بنے گا لہذا فروخت بھی نہ کرسکے گا ہاں اگر اس صورت میں مچھلی داخل ہوجانے پر تالاب کو بند کرلے تو اب مالك ہوجائے گا اور حیلہ کے بغیر پکڑنے پر قادر ہو تو جائز ورنہ نہیں(ت)
پس دو صورتوں پیشیں میں کہ زمیندار مالك ماہی ہیں اگر انھوں نے نصف خود لیں ہر گز ظلم نہ کیا کہ وہ کل انھیں کی ملك تھیں بلکہ اگر زمیندار بعد اخذ وشکار ایك نصف مچھلیوں کا جدا کرکے برضائے خود اپنی طرف سے ہبہ صحیحہ تامہ نہ کردیں تو ان کے پکڑنے والوں پر لازم کہ یہ نصف بھی زمینداروں ہی کو واپس دیں اگر چہ ان میں باہم اس شکار کی اجرت میں نصف مچھلیوں کا قرار داد ہولیا ہو کہ ایسا جارہ ہی شرعا فاسد ہےغایت یہ کہ اس عقد اجارہ کی صورت میں اپنی محنت کی اجرت مثل لے لیں جو ان نصف مچھلیوں کی قیمت سے زائد نہ ہوںمثلا جتنی دیر انھوں نے دام کشی کی اس کی اجرت مثل۴/ہوتے ہیں اور مچھلیاں۸/ یا اس سے زائد قیمت کی پکڑی گئیں جب تویہ پورے۴/کے مستحق ہیں اور کم کی شکار ہوئیں تو آدھی مچھلیوں کے جو دام ہوں اس سے زیادہ نہ پائیں گےفرض کیجئے جال میں۶/کی مچھلیاں آئیں تو انھیں۳/ملیں گے اور۲/کی تو ایك ہی آنہاور سو روپے کی تو وہی۴/ درمختارمیں ہے:
لودفع غزلا لاخر لینسجہ لہ بنصفہ ای بنصف الغزل او استاجر بغلالیحمل طعامہ ببعضہ اوثورا لیطحن برہ ببعض دقیقہفسدت فی الکل لانہ استاجرہ بجزء من عملہ ۔ اگر کسی دوسرے کو سوت دیا کہ نصف پر بن دےیاخچر والے کو کہا غلہ نصف کے بدلے اٹھالے جایا بیل والے کو کہا کہ گندم کو کچھ آٹے کے بدلے پیس دے تو کل میں اجرت فاسد ہوگی کیونکہ اجیر کے بعض عمل کے بدلے اجارہ ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
پس دو صورتوں پیشیں میں کہ زمیندار مالك ماہی ہیں اگر انھوں نے نصف خود لیں ہر گز ظلم نہ کیا کہ وہ کل انھیں کی ملك تھیں بلکہ اگر زمیندار بعد اخذ وشکار ایك نصف مچھلیوں کا جدا کرکے برضائے خود اپنی طرف سے ہبہ صحیحہ تامہ نہ کردیں تو ان کے پکڑنے والوں پر لازم کہ یہ نصف بھی زمینداروں ہی کو واپس دیں اگر چہ ان میں باہم اس شکار کی اجرت میں نصف مچھلیوں کا قرار داد ہولیا ہو کہ ایسا جارہ ہی شرعا فاسد ہےغایت یہ کہ اس عقد اجارہ کی صورت میں اپنی محنت کی اجرت مثل لے لیں جو ان نصف مچھلیوں کی قیمت سے زائد نہ ہوںمثلا جتنی دیر انھوں نے دام کشی کی اس کی اجرت مثل۴/ہوتے ہیں اور مچھلیاں۸/ یا اس سے زائد قیمت کی پکڑی گئیں جب تویہ پورے۴/کے مستحق ہیں اور کم کی شکار ہوئیں تو آدھی مچھلیوں کے جو دام ہوں اس سے زیادہ نہ پائیں گےفرض کیجئے جال میں۶/کی مچھلیاں آئیں تو انھیں۳/ملیں گے اور۲/کی تو ایك ہی آنہاور سو روپے کی تو وہی۴/ درمختارمیں ہے:
لودفع غزلا لاخر لینسجہ لہ بنصفہ ای بنصف الغزل او استاجر بغلالیحمل طعامہ ببعضہ اوثورا لیطحن برہ ببعض دقیقہفسدت فی الکل لانہ استاجرہ بجزء من عملہ ۔ اگر کسی دوسرے کو سوت دیا کہ نصف پر بن دےیاخچر والے کو کہا غلہ نصف کے بدلے اٹھالے جایا بیل والے کو کہا کہ گندم کو کچھ آٹے کے بدلے پیس دے تو کل میں اجرت فاسد ہوگی کیونکہ اجیر کے بعض عمل کے بدلے اجارہ ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۰۶،€فتح القدیر باب البیع الفاسد ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۴۹€
درمختار کتاب الاجارہ باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۷۹
درمختار کتاب الاجارہ باب الاجارۃ الفاسدۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۷۹
قولہ فسدت فی الکل ویجب اجر المثل لایجاوز بہ المسمی زیلعی قولہ بجزء من عملہای ببعض ما یخرج من عملہوالقدرۃ علی التسلیم شرطوھو لا یقدر بنفسہ زیلعی۔ ماتن کا قول"کل میں فاسد ہوگا"اورمثلی اجرت واجب ہوگی جو مقررہ سے زائد نہ ہو زیلعیاور اس کا قول"اس کے عمل کے بعض پر"یعنی اس کے عمل سے حاصل شدہ کے بعض کے بدلے اور قبضہ دینے کی قدرت شرط ہے جبکہ وہ خود بنفسہ اس پر قادرنہیں ہے۔زیلعی۔(ت)
اور صورت سوم میں جہاں زمیندار مالك ماہی نہیں ہوتے اگر زمینداروں نے ان شکار کرنے والوں کو اجارہ پر لیا اور وقت متعین کردیامثلا آج دوپہر یا شام تك جال ڈالوتو اس صورت میں جتنی مچھلیاں جال میں آتی جائیں گی سب ملك زمیندار ہوتی جائیں گی جن میں شکار کنندگان کا کوئی حق نہیںبلکہ وہی اپنے عمل کی اجرت پائینگے تو اب بھی نصف مچھلیاں لینا ہر گز ظلم نہیںبلکہ پکڑنے والے جو نصف لیں گے انھیں ناجائز ہےہاں اگر وقت معین نہ کیا تو بیشك مذہب راجح پر وہ مچھلیاں ملك شکار کنندگان ہوں گیاور وہ کسی اجرت کے مستحق نہ ہوں گے لکونہم عاملین لانفسہم(اس لئے کہ وہ اپنے لئے خود عامل بن گئے۔ت)صرف ا س چوتھی صورت میں یہ حکم ہے کہ زمینداروں کا نصف لینا ظلم ہے۔ تنویر الابصارودرمختارمیں ہے:
استاجرہ لیصید لہ فان وقت لذلك وقتا جاز والا لا مجتبیوبہ یفتی صیرفیۃ اھ ملخصا۔ اگر کسی شخص کو شکارکرنےکے لیے اجرت پر رکھا اگر اس کے لیےوقت مقرر کیا تو جائز ہےورنہ نہیںمجتبیاور اسی پر فتوی ہےصیرفیہ اھ ملخصا(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ بہ یفتی صیرفیۃ قال فیہا ان ذکر الیوم فالعلف للامروالافللما مورو ھذہ روایۃ الحاوی وبہ یفتی قال فی المنح وھذا یوافق ماقدمناہ عن المجتبی ومن ثم عولنا علیہ فی المختصر اھ واﷲ تعالی اعلم اس کا قولاسی پر فتوی صیرفیہاس کتاب میں ہےاگر آج دن کا ذکرکیا ہوتو چارہ آمر پر ہوگی ورنہ اجیر پر ہوگی یہ حاوی کی روایت ہے اور اسی پر فتوی ہےاور منح میں کہا مجتبی سے ہم نے جو پہلے نقل کیا ہے یہ اس کے موافق ہے اسی وجہ سے ہم نے مختصر میں اس پر اعتماد کیا ہے اھ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
اور صورت سوم میں جہاں زمیندار مالك ماہی نہیں ہوتے اگر زمینداروں نے ان شکار کرنے والوں کو اجارہ پر لیا اور وقت متعین کردیامثلا آج دوپہر یا شام تك جال ڈالوتو اس صورت میں جتنی مچھلیاں جال میں آتی جائیں گی سب ملك زمیندار ہوتی جائیں گی جن میں شکار کنندگان کا کوئی حق نہیںبلکہ وہی اپنے عمل کی اجرت پائینگے تو اب بھی نصف مچھلیاں لینا ہر گز ظلم نہیںبلکہ پکڑنے والے جو نصف لیں گے انھیں ناجائز ہےہاں اگر وقت معین نہ کیا تو بیشك مذہب راجح پر وہ مچھلیاں ملك شکار کنندگان ہوں گیاور وہ کسی اجرت کے مستحق نہ ہوں گے لکونہم عاملین لانفسہم(اس لئے کہ وہ اپنے لئے خود عامل بن گئے۔ت)صرف ا س چوتھی صورت میں یہ حکم ہے کہ زمینداروں کا نصف لینا ظلم ہے۔ تنویر الابصارودرمختارمیں ہے:
استاجرہ لیصید لہ فان وقت لذلك وقتا جاز والا لا مجتبیوبہ یفتی صیرفیۃ اھ ملخصا۔ اگر کسی شخص کو شکارکرنےکے لیے اجرت پر رکھا اگر اس کے لیےوقت مقرر کیا تو جائز ہےورنہ نہیںمجتبیاور اسی پر فتوی ہےصیرفیہ اھ ملخصا(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ بہ یفتی صیرفیۃ قال فیہا ان ذکر الیوم فالعلف للامروالافللما مورو ھذہ روایۃ الحاوی وبہ یفتی قال فی المنح وھذا یوافق ماقدمناہ عن المجتبی ومن ثم عولنا علیہ فی المختصر اھ واﷲ تعالی اعلم اس کا قولاسی پر فتوی صیرفیہاس کتاب میں ہےاگر آج دن کا ذکرکیا ہوتو چارہ آمر پر ہوگی ورنہ اجیر پر ہوگی یہ حاوی کی روایت ہے اور اسی پر فتوی ہےاور منح میں کہا مجتبی سے ہم نے جو پہلے نقل کیا ہے یہ اس کے موافق ہے اسی وجہ سے ہم نے مختصر میں اس پر اعتماد کیا ہے اھ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الاجارہ با ب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۳۶€
درمختار کتاب الاجارہ با ب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۸۰€
ردالمحتار کتاب الاجارہ با ب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۹€
درمختار کتاب الاجارہ با ب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۸۰€
ردالمحتار کتاب الاجارہ با ب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۹€
مسئلہ ثانیہ: تالاب کی مچھلیاں بیچ ڈالنا۔
اقول:یہاں بھی وہی تین صورتیں ملحوظ ہوں گی:صورت سوم میں کہ مچھلیاں ملك زمیندار نہیںیہ بیع بالاجماع باطل ہوگی لانہ بیع مالیس فی ملکہ(کیونکہ یہ ایسی چیز کی بیع ہے جو ملك میں نہیں ہے۔ت)اور مچھلیاں کہ خریدنے والوں نے پکڑیں ان کی ملك خاص ہوں گی جن میں زمینداروں کو مزاحمت نہیں پہنچتی لانہم سبقوا الی مباح(کیونکہ مباح چیز میں انھوں نے سبقت کرلی ہے۔ت)اور جو قیمت ان سے لی واپس کریں لانعدام العقد شرعا(شرعی عقدنہ ہونے کی وجہ سے۔ت) اور اگلی دو صورتوں میں کہ مچھلیاں ملك زمیندار ہیںاگر بلاحیلہ تالاب سے پکڑی جاسکتی ہیں تو بیع بالاجماع صحیح لانہ بیع مملوك مقدورالتسلیم(کیونکہ یہ مقدور التسلیم مملوکہ چیز کی بیع ہے۔ت)اس صورت میں قیمت زمینداروں اور مچھلیاں خریداروں کو بالاجماع حلال و طیب ہونگی کما لایخفیوقدمنا جوازہ عن الفتح وقا ل فی الذخیرۃ یجوز البیع عندھم جمیعا (جیسا کہ مخفی نہیں۔اور ہم اس کا جوا زفتح کے حوالے سے پہلے ذکرچکے ہیں اور ذخیرہ میں کہاکہ سب کے نزدیك بیع جائز ہے۔ت)اور اگر بغیر جال وغیرہ طرق شکار کے ہاتھ نہیں آسکتیں اوراکثر یہی ہوتا ہےتو بیع ناجائز ہونے پر اتفاقاور اس کے بطلان وفساد میں اختلافامام شیخ الاسلام ومشائخ بلخ اور اساتذہ امام شمس الائمہ سرخسی سے ایك جماعت کے مذہب پر ایسی بیع باطل ہے۔
لان محل البیع مال مقدور التسلیم فاذا انتفی انتفی کیونکہ بیع کا محل وہ چیز ہے جو مقدور التسلیم مال ہو تو جب یہ نہ ہو تو بیع نہ ہوگی۔(ت)
اسی پر امام بلخی عــــــہ یا ثلجی فتوی دیتے اور اسی کو امام برہان مرغینانی صاحب ہدایہ وغیرہ نے اختیار فرمایا
عــــــہ:علی اختلاف العزوففی الدر بالموحدۃ والخاء وفی الفتح بالمثلثۃ والجیم کما فی ش عن ط ۱۲ منہ نسبت کا اختلاف درمختارمیں ب اور خ کے ساتھ"بلخی"اور فتح میں ث اورج کے ساتھ"ثلجی"ہے جیسا کہ شامی نے طحطاوی سے نقل کیا ہے۔(ت)
اقول:یہاں بھی وہی تین صورتیں ملحوظ ہوں گی:صورت سوم میں کہ مچھلیاں ملك زمیندار نہیںیہ بیع بالاجماع باطل ہوگی لانہ بیع مالیس فی ملکہ(کیونکہ یہ ایسی چیز کی بیع ہے جو ملك میں نہیں ہے۔ت)اور مچھلیاں کہ خریدنے والوں نے پکڑیں ان کی ملك خاص ہوں گی جن میں زمینداروں کو مزاحمت نہیں پہنچتی لانہم سبقوا الی مباح(کیونکہ مباح چیز میں انھوں نے سبقت کرلی ہے۔ت)اور جو قیمت ان سے لی واپس کریں لانعدام العقد شرعا(شرعی عقدنہ ہونے کی وجہ سے۔ت) اور اگلی دو صورتوں میں کہ مچھلیاں ملك زمیندار ہیںاگر بلاحیلہ تالاب سے پکڑی جاسکتی ہیں تو بیع بالاجماع صحیح لانہ بیع مملوك مقدورالتسلیم(کیونکہ یہ مقدور التسلیم مملوکہ چیز کی بیع ہے۔ت)اس صورت میں قیمت زمینداروں اور مچھلیاں خریداروں کو بالاجماع حلال و طیب ہونگی کما لایخفیوقدمنا جوازہ عن الفتح وقا ل فی الذخیرۃ یجوز البیع عندھم جمیعا (جیسا کہ مخفی نہیں۔اور ہم اس کا جوا زفتح کے حوالے سے پہلے ذکرچکے ہیں اور ذخیرہ میں کہاکہ سب کے نزدیك بیع جائز ہے۔ت)اور اگر بغیر جال وغیرہ طرق شکار کے ہاتھ نہیں آسکتیں اوراکثر یہی ہوتا ہےتو بیع ناجائز ہونے پر اتفاقاور اس کے بطلان وفساد میں اختلافامام شیخ الاسلام ومشائخ بلخ اور اساتذہ امام شمس الائمہ سرخسی سے ایك جماعت کے مذہب پر ایسی بیع باطل ہے۔
لان محل البیع مال مقدور التسلیم فاذا انتفی انتفی کیونکہ بیع کا محل وہ چیز ہے جو مقدور التسلیم مال ہو تو جب یہ نہ ہو تو بیع نہ ہوگی۔(ت)
اسی پر امام بلخی عــــــہ یا ثلجی فتوی دیتے اور اسی کو امام برہان مرغینانی صاحب ہدایہ وغیرہ نے اختیار فرمایا
عــــــہ:علی اختلاف العزوففی الدر بالموحدۃ والخاء وفی الفتح بالمثلثۃ والجیم کما فی ش عن ط ۱۲ منہ نسبت کا اختلاف درمختارمیں ب اور خ کے ساتھ"بلخی"اور فتح میں ث اورج کے ساتھ"ثلجی"ہے جیسا کہ شامی نے طحطاوی سے نقل کیا ہے۔(ت)
حوالہ / References
فتح القدیر باب البیع الفاسد ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۴۹€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الذخیرۃ کتاب البیوع الباب التاسع الفصل الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۱۴€
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵€
ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۱۳€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الذخیرۃ کتاب البیوع الباب التاسع الفصل الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۱۴€
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵€
ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۱۳€
اوریہی من حیث الروایۃ اظہر ہے
یظہر ذلك بمراجعۃ الہندیۃ والدرالمختار ورد المحتار ۔ یہ بات ہندیہدرمختارردالمحتار وغیرہ کی طرف مراجعت کرنے پر ظاہر ہوگی۔(ت)
غیاثیہ میں فرمایا:
قالوا المختار ھذا نقل عنہا فی العالمگیریۃ ۔ فقہاء نے فرمایا مختار یہی ہے کہ عالمگیری میں یہ اس سے منقول ہے۔(ت)
اس مذہب پر مچھلیاں کہ مشتریوں نے پکڑیں بدستور ملك زمیندار ان پرہیں اور قیمت کہ زمینداروں نے لی بدستورملك مشتریانان پر فرض کہ قیمت پھیریںان پر لازم کہ پکڑی ہوئی مچھلیاں زمینداروں کو دیں اگر انھوں نے مچھلیاں صرف کرلیں تو بازار کے بھاؤ سے جو قیمت مچھلیوں کی ہو زمینداروں کے لئے ان کے ذمے واجب الادا ہوئیدرمختارمیں ہے:
البیع الباطل حکمہ عدم ملك المشتری ایاہ اذا قبضہ فلاضمان لو ھلك المبیع عندہ لانہ امانۃ الخ ۔ باطل بیع کاحکم یہ ہے کہ مشتری اس کا مالك نہ بنے گااس کے قبضہ میں ہلاك ہوجائے تو ضمان نہ ہوگا کیونکہ اس کے پاس یہ چیزامانت تھی الخ(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ لانہ امانۃ وذلك لان العقد اذا بطل بقی مجرد القبض باذن المالکوھو لایوجب الضمان الا بالتعدیدرر ۔ ماتن کا قول"کیونکہ امانت ہے"یہ اس لئے کہ جب عقد باطل ہوگیا تو اب نرا قبضہ رہ گیا جومالك کی اجازت سے حاصل ہوا تھا لہذا تعدی کے بغیر اس پر ضمان واجب ہوگا۔درر(ت)
یظہر ذلك بمراجعۃ الہندیۃ والدرالمختار ورد المحتار ۔ یہ بات ہندیہدرمختارردالمحتار وغیرہ کی طرف مراجعت کرنے پر ظاہر ہوگی۔(ت)
غیاثیہ میں فرمایا:
قالوا المختار ھذا نقل عنہا فی العالمگیریۃ ۔ فقہاء نے فرمایا مختار یہی ہے کہ عالمگیری میں یہ اس سے منقول ہے۔(ت)
اس مذہب پر مچھلیاں کہ مشتریوں نے پکڑیں بدستور ملك زمیندار ان پرہیں اور قیمت کہ زمینداروں نے لی بدستورملك مشتریانان پر فرض کہ قیمت پھیریںان پر لازم کہ پکڑی ہوئی مچھلیاں زمینداروں کو دیں اگر انھوں نے مچھلیاں صرف کرلیں تو بازار کے بھاؤ سے جو قیمت مچھلیوں کی ہو زمینداروں کے لئے ان کے ذمے واجب الادا ہوئیدرمختارمیں ہے:
البیع الباطل حکمہ عدم ملك المشتری ایاہ اذا قبضہ فلاضمان لو ھلك المبیع عندہ لانہ امانۃ الخ ۔ باطل بیع کاحکم یہ ہے کہ مشتری اس کا مالك نہ بنے گااس کے قبضہ میں ہلاك ہوجائے تو ضمان نہ ہوگا کیونکہ اس کے پاس یہ چیزامانت تھی الخ(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ لانہ امانۃ وذلك لان العقد اذا بطل بقی مجرد القبض باذن المالکوھو لایوجب الضمان الا بالتعدیدرر ۔ ماتن کا قول"کیونکہ امانت ہے"یہ اس لئے کہ جب عقد باطل ہوگیا تو اب نرا قبضہ رہ گیا جومالك کی اجازت سے حاصل ہوا تھا لہذا تعدی کے بغیر اس پر ضمان واجب ہوگا۔درر(ت)
حوالہ / References
درمختار باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۵€
ردالمحتار باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۱۳€
فتاوٰی غیاثیہ کتاب البیوع الفصل الثانی ∞مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۱۴۳€
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴€
ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۰۵€
ردالمحتار باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۱۳€
فتاوٰی غیاثیہ کتاب البیوع الفصل الثانی ∞مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۱۴۳€
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴€
ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۰۵€
اسی میں ہے:یکون مضمونا بالمثل اوبالقیمۃ (تعدی کی صورت میں ضمان بالمثل یابالقیمۃ ہوگا۔ت)پس اگر یہ قیمت اور وہ زرثمن کہ زمینداروں نے ان سے لیا تھا برابرہیں فبہا ورنہ جس کی طرف زیادتی ہو دوسرے کو اداکرےمثلا مشتریوں نے پانچ روپے دئے تھے اور مچھلیاں کہ صرف کرلیں بازار کے بھاؤ سے دس روپے کی تھیںتو پانچ روپے زمینداروں کو اور دیںاور ایك روپیہ کی تھیں تو چارروپے زمینداروں سے پھیرلیںاور اگر مشتریوں نے بیچ ڈالیں تو جن جن کے ہاتھ بیچیں وہ سب بیعیں اجازت زمینداروں پر موقوف رہیں گیجب تك مچھلیاں اور وہ بائع ومشتری وزمیندار باقی ہیں زمینداروں کو اختیار ہے چاہے بیع جائز کردیں اور قیمت خود لے لیں یا فسخ کردیں اور مچھلیاں واپس لیں
کما ھوحکم بیع الفضولیومعلوم ان الاجازۃ انما تلحق الموجوددون المعدومفیشترط لہا قیام العاقدین والمقعود علیہوکذا المجیزحتی لم یکن لوارثہ ان یجیز کمافی الدرالمختار وغیرہ۔ جیسا کہ بیع الفضولی کاحکم ہےاورظاہر ہے کہ اجازت موجود چیز کو لاحق ہوسکتی ہے معدوم چیز کو نہیںتو اس لئے اس وقت عاقدین اور معقود علیہ چیز کا موجود ہونا شرط ہے اور یوں اجازت دینے والے کا موجود ہونا بھی ضروری ہے اس لئے اس کے وارث کو اجازت دینے کاحق نہ رہے گا جیسا کہ در مختار وغیرہ میں ہے۔(ت)
اوراگرہنوز زمینداروں نے اجازت نہ دی تھی کہ مچھلیاں ان مشتریوں سے خریدنے والوں کے پاس صرف ہوگئیں تو زمیندار مختارہیںبازار نرخ سے ان مچھلیوں کی قیمت اپنے مشتریوںخواہ ان کے خریداروں جس سے چاہیں وصول کرلیںاگر اپنے مشتریوں سے لینا چاہیں تو وہی حکم ہوگا کہ ثمن ان سے لے چکے تھے اس کاحساب کرلیں اوردوسروں سے لیں تو وہ اپنا دیا ہوا ثمن مشتریوں یعنی اپنے بائعوں سے واپس لیں اور مشتری اپنا دیا ہوا ثمن زمینداروں سےغرض ان احکام کے بیان سے یہ ہے کہ اس قول پر کیا کچھ انقلاب ہوتے ہیں اورکیسی کیسی دقتیں لازم آتی ہیںجن کا اثر شہر کی عام مخلوق پرپہنچے گا ردالمحتارمیں ہے:
للمالك تضمین ایہما شاءثم ان ضمن المشتری بطل البیع مالك کو اختیار ہے دونوں میں سے جس کوچاہے ضامن بنائے پھر اگر مشتری کو ضامن بنایا تو بیع
کما ھوحکم بیع الفضولیومعلوم ان الاجازۃ انما تلحق الموجوددون المعدومفیشترط لہا قیام العاقدین والمقعود علیہوکذا المجیزحتی لم یکن لوارثہ ان یجیز کمافی الدرالمختار وغیرہ۔ جیسا کہ بیع الفضولی کاحکم ہےاورظاہر ہے کہ اجازت موجود چیز کو لاحق ہوسکتی ہے معدوم چیز کو نہیںتو اس لئے اس وقت عاقدین اور معقود علیہ چیز کا موجود ہونا شرط ہے اور یوں اجازت دینے والے کا موجود ہونا بھی ضروری ہے اس لئے اس کے وارث کو اجازت دینے کاحق نہ رہے گا جیسا کہ در مختار وغیرہ میں ہے۔(ت)
اوراگرہنوز زمینداروں نے اجازت نہ دی تھی کہ مچھلیاں ان مشتریوں سے خریدنے والوں کے پاس صرف ہوگئیں تو زمیندار مختارہیںبازار نرخ سے ان مچھلیوں کی قیمت اپنے مشتریوںخواہ ان کے خریداروں جس سے چاہیں وصول کرلیںاگر اپنے مشتریوں سے لینا چاہیں تو وہی حکم ہوگا کہ ثمن ان سے لے چکے تھے اس کاحساب کرلیں اوردوسروں سے لیں تو وہ اپنا دیا ہوا ثمن مشتریوں یعنی اپنے بائعوں سے واپس لیں اور مشتری اپنا دیا ہوا ثمن زمینداروں سےغرض ان احکام کے بیان سے یہ ہے کہ اس قول پر کیا کچھ انقلاب ہوتے ہیں اورکیسی کیسی دقتیں لازم آتی ہیںجن کا اثر شہر کی عام مخلوق پرپہنچے گا ردالمحتارمیں ہے:
للمالك تضمین ایہما شاءثم ان ضمن المشتری بطل البیع مالك کو اختیار ہے دونوں میں سے جس کوچاہے ضامن بنائے پھر اگر مشتری کو ضامن بنایا تو بیع
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۰۵€
وللمشتری ان یرجع علی البائع بثمنہلابما ضمنا اھ ملخصا۔ باطل ہوجائے گیاور مشتری کواختیار ہوگا کہ بائع سے ثمن واپس لے لےدیا ہوا ضمان نہ لے اھ ملخصا(ت)
یہ سب احکام اس مذہب پر تھے کہ بیع مذکور بوجہ عدم قدرت علی التسلیم باطل ٹھہرے اور حضرت امام مذہب سیدنا امام اعظم ومحرر مذہب امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہما سے ایك روایت پر ایسی بیع صرف فاسد ہوتی ہے نہ باطل۔
لقیام الملك والمالیۃ فکان عقدا صادرا عن اھلہ فی محلہ فلاوجہ لبطلانہ و یاتیك کلام الفتح لبیانہ۔ ملك اور مالیت موجود ہونے کی وجہ سے تویہ ایسا عقد ہے جواہل سے اپنے محل میں صادر ہوا لہذا اس کے باطل ہونے کی کوئی وجہ نہیں اور اس کے بیان میں فتح کا کلام آئے گا۔(ت)
اسی کو امام اجل قاضی اسبیجابی اور اساتذہ امام شمس الائمہ سرخسی سے دوسری جماعت نے اختیار کیاکما فی الھندیۃ(جیسا کہ ہندیہ میں ہے۔ت)اور اسی کو امام ابوالحسن کرخی نے اخذ فرمایا:کما فی الدر(جیسا کہ در میں ہے۔ت)اور اسی کو امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں ترجیح دی اور اس کی تحقیق میں بحث نفیس افادہ کیاور اسی کو متن تنویر میں مقدم ومرجح رکھادر مختار میں ہے:
القول بفسادہ رجحہ الکمال ۔ اس کے فساد کے قول کو کمال نے ترجیح دی ہے۔(ت)
رد المحتارمیں ہے:
حیث قال والوجہ عندی ان عدم القدرۃ علی التسلیم لامبطل واطال فی تحقیقہ ۔ جہاں انھوں نے فرمایا میرے نزدیك اس کی وجہ یہ ہے کہ قبضہ دینے کی قدرت نہ ہونا مفیدہے مبطل نہیں ہے اور انھوں نے اس کی تحقیق میں طویل کلام فرمایا۔(ت)
یہ سب احکام اس مذہب پر تھے کہ بیع مذکور بوجہ عدم قدرت علی التسلیم باطل ٹھہرے اور حضرت امام مذہب سیدنا امام اعظم ومحرر مذہب امام محمد رضی اﷲ تعالی عنہما سے ایك روایت پر ایسی بیع صرف فاسد ہوتی ہے نہ باطل۔
لقیام الملك والمالیۃ فکان عقدا صادرا عن اھلہ فی محلہ فلاوجہ لبطلانہ و یاتیك کلام الفتح لبیانہ۔ ملك اور مالیت موجود ہونے کی وجہ سے تویہ ایسا عقد ہے جواہل سے اپنے محل میں صادر ہوا لہذا اس کے باطل ہونے کی کوئی وجہ نہیں اور اس کے بیان میں فتح کا کلام آئے گا۔(ت)
اسی کو امام اجل قاضی اسبیجابی اور اساتذہ امام شمس الائمہ سرخسی سے دوسری جماعت نے اختیار کیاکما فی الھندیۃ(جیسا کہ ہندیہ میں ہے۔ت)اور اسی کو امام ابوالحسن کرخی نے اخذ فرمایا:کما فی الدر(جیسا کہ در میں ہے۔ت)اور اسی کو امام محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں ترجیح دی اور اس کی تحقیق میں بحث نفیس افادہ کیاور اسی کو متن تنویر میں مقدم ومرجح رکھادر مختار میں ہے:
القول بفسادہ رجحہ الکمال ۔ اس کے فساد کے قول کو کمال نے ترجیح دی ہے۔(ت)
رد المحتارمیں ہے:
حیث قال والوجہ عندی ان عدم القدرۃ علی التسلیم لامبطل واطال فی تحقیقہ ۔ جہاں انھوں نے فرمایا میرے نزدیك اس کی وجہ یہ ہے کہ قبضہ دینے کی قدرت نہ ہونا مفیدہے مبطل نہیں ہے اور انھوں نے اس کی تحقیق میں طویل کلام فرمایا۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵€
ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۱۳€
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵€
ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۱۳€
اور ظاہرا یہی من حیث الدلیل ازہر ہے۔فتح میں فرمایا:
وقول من قال المحلیۃ کونہ مالامملوکا مقدور التسلیم ان عنی محلیۃ البیع الصحیح فنعم والا فلابل محل البیع المال المملوك للبائع او لغیرہ فان کان لہ فنافذاولغیرہ فموقوفوالنافذ اما صحیح ان کان مبیعہ مقدورالتسلیم لیس فیہ شرط فاسدوالاففاسد اھ۔ جس نے یہ کہا کہ محل بیع چیز کا مملوك ہو کر مقدورالتسلیم ہونا ہے اگر اس سے مراد صحیح بیع کا محل ہے تو درست ہے ورنہ اس کو مطلق بیع کا محل قرار دینا درست نہیں ہے بلکہ مطلق بیع کا محل صرف مال کا بائع کی ملك ہونا یا غیر کی ملك ہونا ہے تو اگر بائع کی ملك ہو توبیع نافذ ہوگی اگرغیر کی ملك ہو تو نافذ نہ ہوگی بلکہ موقوف رہے گی اور بیع نافذ کبھی صحیح ہوتی ہے جب مبیع مقدورالتسلیم ہو اور اس میں کوئی فاسد شرط نہ ہو ورنہ فاسد ہوتی ہے۔اھ(ت)
اس مذہب پر اگرچہ یہ عقد ناجائز وممنوعاور عاقدین پر واجب کہ اسے فسخ کرلیںزمیندار مشتریوں کو ثمن پھیردیںمشتری تالابوں سے کنارہ کریں
لان الفساد لحق لشوع فیجب اعدامہ برفع العقد۔ کیونکہ یہ فساد شرعی حق کی بنا پر ہے تو عقد کو ختم کرکے اس فساد کو ختم کرنا ضروری ہے(ت)
مگراگر انھوں نے فسخ نہ کیا یہاں تك کہ مچھلیاں تالاب سے شکار ہوئیںاورقبضے میں آگئیں تو اب وہ بیع کہ فاسد تھی صحیح ہوگئی کہ سبب فساد کہ تعذرتسلیم وتسلم تھانہ رہاکہ ان سے جو مقصود تھا یعنی مشتری کا قبضہوہ حاصل ہوگیافتح القدیر میں ہے:
انك علمت ان ارتفاع المفسد فی الفاسد یردہ صحیحا لان البیع قائم مع الفساد و ارتفاع المبطل لا الخ تجھے معلوم ہے کہ فاسد میں مفسد کا ختم ہوجانا بیع کو صحیح بنا دیتاہے کیونکہ فاسد صورت میں بیع باقی مع الفساد رہتی ہے اور باطل صورت میں مبطل کے ختم ہوجانے پر بیع صحیح نہیں ہوسکتی الخ(ت)
وقول من قال المحلیۃ کونہ مالامملوکا مقدور التسلیم ان عنی محلیۃ البیع الصحیح فنعم والا فلابل محل البیع المال المملوك للبائع او لغیرہ فان کان لہ فنافذاولغیرہ فموقوفوالنافذ اما صحیح ان کان مبیعہ مقدورالتسلیم لیس فیہ شرط فاسدوالاففاسد اھ۔ جس نے یہ کہا کہ محل بیع چیز کا مملوك ہو کر مقدورالتسلیم ہونا ہے اگر اس سے مراد صحیح بیع کا محل ہے تو درست ہے ورنہ اس کو مطلق بیع کا محل قرار دینا درست نہیں ہے بلکہ مطلق بیع کا محل صرف مال کا بائع کی ملك ہونا یا غیر کی ملك ہونا ہے تو اگر بائع کی ملك ہو توبیع نافذ ہوگی اگرغیر کی ملك ہو تو نافذ نہ ہوگی بلکہ موقوف رہے گی اور بیع نافذ کبھی صحیح ہوتی ہے جب مبیع مقدورالتسلیم ہو اور اس میں کوئی فاسد شرط نہ ہو ورنہ فاسد ہوتی ہے۔اھ(ت)
اس مذہب پر اگرچہ یہ عقد ناجائز وممنوعاور عاقدین پر واجب کہ اسے فسخ کرلیںزمیندار مشتریوں کو ثمن پھیردیںمشتری تالابوں سے کنارہ کریں
لان الفساد لحق لشوع فیجب اعدامہ برفع العقد۔ کیونکہ یہ فساد شرعی حق کی بنا پر ہے تو عقد کو ختم کرکے اس فساد کو ختم کرنا ضروری ہے(ت)
مگراگر انھوں نے فسخ نہ کیا یہاں تك کہ مچھلیاں تالاب سے شکار ہوئیںاورقبضے میں آگئیں تو اب وہ بیع کہ فاسد تھی صحیح ہوگئی کہ سبب فساد کہ تعذرتسلیم وتسلم تھانہ رہاکہ ان سے جو مقصود تھا یعنی مشتری کا قبضہوہ حاصل ہوگیافتح القدیر میں ہے:
انك علمت ان ارتفاع المفسد فی الفاسد یردہ صحیحا لان البیع قائم مع الفساد و ارتفاع المبطل لا الخ تجھے معلوم ہے کہ فاسد میں مفسد کا ختم ہوجانا بیع کو صحیح بنا دیتاہے کیونکہ فاسد صورت میں بیع باقی مع الفساد رہتی ہے اور باطل صورت میں مبطل کے ختم ہوجانے پر بیع صحیح نہیں ہوسکتی الخ(ت)
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۶€۰
فتح القدیر کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مکتبہ نوریہ رضوسیہ سکھر ۶ /۶۰€
فتح القدیر کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مکتبہ نوریہ رضوسیہ سکھر ۶ /۶۰€
اسی میں ہے:
المقصود عن القدرۃ علی التسلیم ثبوت التسلم فاذا کان ثابتا حصل المقصود ۔ قدرۃ علی التسلیم سے مقصود قبضہ دینے کا ثبوت ہے تو جب یہ حاصل ہے تو مقصود حاصل ہے۔(ت)
بالجملہ یہ دو قول ہیں۔دونوں قوت پردونوں جانب ائمہ فتویدونوں طرف ترجیح وافتاایك اگر من حیث الروایۃ اقوی دوسرا من حیث الدرایۃ اجلیمگر قول اول یعنی بطلان پر وہ روپیہ کہ بنام ثمن زمینداروں نے لیا ان کے لئے حراممچھلیاں کہ مشتریوں نے لیں ان کے لیے حرامکھائیں تو حرامکھلائیں تو حرامبیچیں تو حرامبیچ کر جو ثمن حاصل کریں تو حرامان سے جولوگ مول لیں واقع میں ان کے لئے خریداری حرامکھاناحرامکھلانا حرامزمیندار غاصبتالاب لینے والے غاصبشہر بھر کی مچھلیاں مول لینے والے غاصبیہ عالمگیردقتیں ہیںبخلاف قول ثانی یعنی فساد ابتدائی وصحت انتہائی کہ اس میں یہ ساری خرابیاں مرتفع ہیںتو مسلمانوں پر آسانی کے لئے اگر اسی قول پر فتوی دیں بیشك انسب والیق ہےحضور پر نور سیدالمرسلین رحمۃ للعالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یسرواولاتعسرواوبشروا ولاتنفروا ۔اخرج احمد والشیخان والنسائی عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ آسانی کرو اور دشواری میں نہ ڈالواور خوشخبری د وا ور نفرت نہ دلاؤ(اس کو احمدبخاری ومسلم اور نسائی نے انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
اس تقدیر پر خلاصہ حکم یہ ٹھہرا کہ اگر مچھلیاں ملك زمینداران نہ تھیںتو بیع باطل اور مچھلیاں شکار کرنے والوں کی ملك ہوئیں اور ان سے خریدنا بلاتکلف روازمینداروں پر فرض ہے کہ جو روپیہ بنام قیمت ان سے لیا انھیں واپس دیں اور اگر مملوك زمینداران تھیں اور بے شکار کے قبضہ میں آسکتیں تو بیع صحیح اور ثمن وسمك ہر بائع ومشتری ومشتری مشتری کے واسطے حلال و طیباوربے شکار ہاتھ نہ آئیں تو زمیندار و مشتری اس بیع سے گنہ گار ہوئے مگر جب مچھلیاں عــــــہ شکار کرلی گئیں تو مچھلیوں
عــــــہ:اصل میں یہاں"ترک"کی علامت بنی ہوئی ہے اس لئے انداز ے سے عبارت بنادی گئی ۱۲۔
المقصود عن القدرۃ علی التسلیم ثبوت التسلم فاذا کان ثابتا حصل المقصود ۔ قدرۃ علی التسلیم سے مقصود قبضہ دینے کا ثبوت ہے تو جب یہ حاصل ہے تو مقصود حاصل ہے۔(ت)
بالجملہ یہ دو قول ہیں۔دونوں قوت پردونوں جانب ائمہ فتویدونوں طرف ترجیح وافتاایك اگر من حیث الروایۃ اقوی دوسرا من حیث الدرایۃ اجلیمگر قول اول یعنی بطلان پر وہ روپیہ کہ بنام ثمن زمینداروں نے لیا ان کے لئے حراممچھلیاں کہ مشتریوں نے لیں ان کے لیے حرامکھائیں تو حرامکھلائیں تو حرامبیچیں تو حرامبیچ کر جو ثمن حاصل کریں تو حرامان سے جولوگ مول لیں واقع میں ان کے لئے خریداری حرامکھاناحرامکھلانا حرامزمیندار غاصبتالاب لینے والے غاصبشہر بھر کی مچھلیاں مول لینے والے غاصبیہ عالمگیردقتیں ہیںبخلاف قول ثانی یعنی فساد ابتدائی وصحت انتہائی کہ اس میں یہ ساری خرابیاں مرتفع ہیںتو مسلمانوں پر آسانی کے لئے اگر اسی قول پر فتوی دیں بیشك انسب والیق ہےحضور پر نور سیدالمرسلین رحمۃ للعالمین صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
یسرواولاتعسرواوبشروا ولاتنفروا ۔اخرج احمد والشیخان والنسائی عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ آسانی کرو اور دشواری میں نہ ڈالواور خوشخبری د وا ور نفرت نہ دلاؤ(اس کو احمدبخاری ومسلم اور نسائی نے انس بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
اس تقدیر پر خلاصہ حکم یہ ٹھہرا کہ اگر مچھلیاں ملك زمینداران نہ تھیںتو بیع باطل اور مچھلیاں شکار کرنے والوں کی ملك ہوئیں اور ان سے خریدنا بلاتکلف روازمینداروں پر فرض ہے کہ جو روپیہ بنام قیمت ان سے لیا انھیں واپس دیں اور اگر مملوك زمینداران تھیں اور بے شکار کے قبضہ میں آسکتیں تو بیع صحیح اور ثمن وسمك ہر بائع ومشتری ومشتری مشتری کے واسطے حلال و طیباوربے شکار ہاتھ نہ آئیں تو زمیندار و مشتری اس بیع سے گنہ گار ہوئے مگر جب مچھلیاں عــــــہ شکار کرلی گئیں تو مچھلیوں
عــــــہ:اصل میں یہاں"ترک"کی علامت بنی ہوئی ہے اس لئے انداز ے سے عبارت بنادی گئی ۱۲۔
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۵۹€
صحیح البخاری کتاب العلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶€
صحیح البخاری کتاب العلم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶€
اورقیمتوں کا وہی حکم ہوگیا جو بیع صحیح میں تھا کہ سب کےلئے حلالغرض اس مذہب پر مشتریوں اور ان سے خریدنے والوں کے لئے مچھلیاں بہر صورت حقیقۃ وحکما حلال ہی رہتی ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ثالثہ:بنجروں کی گھاس بیچ ڈالنا
اقول:اگر زمینداروں نے وہ زمین ا س غرض کے لئے مہیا کی ہے کہ اس میں جو گھاس پید اہو ہم بیع کیا کریںاور انھوں نے گھاس کی افراط وعمدگی کے لئے اس زمین کو پانی دلوادیا جو گھاس جمنے کا باعث ہوایاخودرو گھاس آپ ہی جم آئیاورانھوں نے اس کی رکھوالی کرائیاس کے گرد کھائی کھدوادییا باڑھ رکھوادی کہ روك ہوجائےہر جانور وغیرہ کے تصرف سے بچےتو ان دونوں صورتوں میں وہ گھاس زمینداروں کی ملك ہوگئیاور اس کی بیع صحیح وجائزیہی قول راجح ومختار ہےاور اسی کی طرف اکثر ائمہ کبار اور اگر ان صورتوں سے کچھ نہ تھا تو بیشك وہ گھاس ہر شخص کے لئے مباح ہے اور جو کاٹ لے گا اسی کی ملك ہوجائے گیزمیندار اگر یونہی زمین میں قائم بیچ ڈالیں گے بیع باطل ہوگیاور قیمت واپس دیں گےفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لایجوز بیع الکلاء واجارتہ وان کان فی ارض مملوکۃ ھذا اذا نبتت بنفسہ فاما اذا کان سقی الارض واعدھا للانبات فنبت ففی الذخیرۃ والمحیط والنوازل یجوز بیعہ لانہ ملکہ وھو مختار الصدر الشہید ومنہ مالو خندق حول ارضہ وھیاھا للانبات حتی نبت القصب صار ملکالہ وعلیہ الاکثرھکذا فی البحر الرائق ولو احتشہ انسان بلااذنہ کان لہ الاستردادھوالمختار کذا فی جواہر الاخلاطی واﷲ سبحانہ و کھڑی گھاس فروخت کرنا اور اس کو اجرت پر دینا صحیح نہیں ہے اگر چہ ذاتی زمین میں ہویہ جب ہے کہ گھاس خود اگی ہو لیکن اگر زمین والے نے زمین کو سیراب کرکے گھاس کے لئے تیار کیا تو یہ گھاس فروخت کرنی جائز ہے کیونکہ اس عمل سے وہ گھاس کا مالك ہوگیایہ ذخیرہمحیط اور نوازل میں ہےاوریہی صدر شہید کا مختار ہےاور اسی صورت میں سے ایك یہ ہے کہ اپنی زمین کے ارد گرد کھائی کھودی اور پیداوار کےلئے تیار کیا حتی کہ وہاں ناڑ اگا تو وہ اس کی ملك ہوگا اھاور اسی پر اکثریت ہےبحرالرائق میں بھی یوں ہے۔اوراگر کسی نے اس کی اجازت کے بغیر کاٹا تو اس کو واپس لینے کا حق ہوگا یہی مختار ہے جواہر الاخلاطی میں یوں ہے۔واﷲ سبحانہ و
مسئلہ ثالثہ:بنجروں کی گھاس بیچ ڈالنا
اقول:اگر زمینداروں نے وہ زمین ا س غرض کے لئے مہیا کی ہے کہ اس میں جو گھاس پید اہو ہم بیع کیا کریںاور انھوں نے گھاس کی افراط وعمدگی کے لئے اس زمین کو پانی دلوادیا جو گھاس جمنے کا باعث ہوایاخودرو گھاس آپ ہی جم آئیاورانھوں نے اس کی رکھوالی کرائیاس کے گرد کھائی کھدوادییا باڑھ رکھوادی کہ روك ہوجائےہر جانور وغیرہ کے تصرف سے بچےتو ان دونوں صورتوں میں وہ گھاس زمینداروں کی ملك ہوگئیاور اس کی بیع صحیح وجائزیہی قول راجح ومختار ہےاور اسی کی طرف اکثر ائمہ کبار اور اگر ان صورتوں سے کچھ نہ تھا تو بیشك وہ گھاس ہر شخص کے لئے مباح ہے اور جو کاٹ لے گا اسی کی ملك ہوجائے گیزمیندار اگر یونہی زمین میں قائم بیچ ڈالیں گے بیع باطل ہوگیاور قیمت واپس دیں گےفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لایجوز بیع الکلاء واجارتہ وان کان فی ارض مملوکۃ ھذا اذا نبتت بنفسہ فاما اذا کان سقی الارض واعدھا للانبات فنبت ففی الذخیرۃ والمحیط والنوازل یجوز بیعہ لانہ ملکہ وھو مختار الصدر الشہید ومنہ مالو خندق حول ارضہ وھیاھا للانبات حتی نبت القصب صار ملکالہ وعلیہ الاکثرھکذا فی البحر الرائق ولو احتشہ انسان بلااذنہ کان لہ الاستردادھوالمختار کذا فی جواہر الاخلاطی واﷲ سبحانہ و کھڑی گھاس فروخت کرنا اور اس کو اجرت پر دینا صحیح نہیں ہے اگر چہ ذاتی زمین میں ہویہ جب ہے کہ گھاس خود اگی ہو لیکن اگر زمین والے نے زمین کو سیراب کرکے گھاس کے لئے تیار کیا تو یہ گھاس فروخت کرنی جائز ہے کیونکہ اس عمل سے وہ گھاس کا مالك ہوگیایہ ذخیرہمحیط اور نوازل میں ہےاوریہی صدر شہید کا مختار ہےاور اسی صورت میں سے ایك یہ ہے کہ اپنی زمین کے ارد گرد کھائی کھودی اور پیداوار کےلئے تیار کیا حتی کہ وہاں ناڑ اگا تو وہ اس کی ملك ہوگا اھاور اسی پر اکثریت ہےبحرالرائق میں بھی یوں ہے۔اوراگر کسی نے اس کی اجازت کے بغیر کاٹا تو اس کو واپس لینے کا حق ہوگا یہی مختار ہے جواہر الاخلاطی میں یوں ہے۔واﷲ سبحانہ و
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب التاسع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۰۹€
تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
مسئلہ ۲۵۰: از سنبھل ضلع مراد آباد مرسلہ محمدذکاوت حسین ۶صفر ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سنی حنفی نے طریقہ وعظ بغرض افشائے رسالت خاتم النبیین واعلان طریقہ سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ آلہ وسلم اختیار کیا ہےاور اس کے وعظ کے اثر سے شرك وبدعات وغیرہ کافور ہوتی چلی جاتی ہےاور ہزار ہا اہل اسلام جو ضروری شعائر اسلام اور ارکان صوم وصلوۃ سے بھی واقفیت نہ رکھتے تھے وہ خود معلم نماز و امام مساجد ہوگئےاوریہ شخص جابجا مواضع ومواسم میں بے تکلف علی رؤس الاشہاد بمقابلہ اعدائے دین جہاد لسانی کرتاہےاگر ایسے شخص کو اہل اسلام عالم باعمل اور منجملہ ورثہ انبیاء تصور کرکے بلحاظ اس کی حالت بیکاری اور فکر معاش کے غمخواری کے کچھ نقد وغیرہ بلااس کی طمع اور درخواست کے تعظیما نذر کریںتو یہ پیشکش اورنذر اس کے حق میں حلال وطیب ہے یانہیں اور اہل اسلام ایسے شخص کو معتقد علیہ تصورکریں یانہیں اور اس نذراور تحفہ کے بدلے اجر عظیم پائیں گے یانہیں استفتاء ہذا کو اپنے دستخط مبارك اور بمواہیر تلامذہ راشدہ سے مزین فرماکر ہدایت کیجئے۔
الجواب:
اگر فی الواقع وہ شخص علمائے اہلسنت وجماعت ایدہم اﷲ تعالی سے ہے اور جو باتیں حقیقۃ شرك ہیں انھیں کے معتقد کو مشرك کہتاہے اور احکام مشرکین میں داخل کرتاہےاور جو نوپیدا باتیں مخالف شریعت ومزاحم سنت ایجاد کی گئیں انھیں کو بدعت شرعیہ ومذمومہ وشنیعہ جانتا اور ان سے نہی وتحذیر کرتاہےاور شعائر اسلام صلوۃ وصیام وغیرہا کے احکام صحیح صحیح سکھاتا اور برعایت شرائط وقواعد احتساب امر بالمعروف اورنہی عن المنکر بجالا تاہےاو ر وعظ میں روایات باطلہ وجزافات مخترعہ وبیانات مشیرہ اوہامومفسدہ خیالات عوام سے احتراز رکھتااورعلم کافی وفہم صافی کے ساتھ ہدایت وارشاد میں ٹھیك معیار شرع پر چلتا ہےتو اسے نہ صرف عالم بلکہ اس زمانہ میں اراکین دین وسنت وخلفائے رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ واولیائے جناب احدیت آلاء جلت سے سمجھنا چاہئے اور اس کی جو خدمت ہوسکے صلاح وفلاح دارین ورضائے رب المشرقین وخوشنودی سید الکونین ہے جل جلالہوصلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم۔
قال تعالی " کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف اﷲ تعالی نے فرمایا:لوگوں کے لئے تمھیں بہترین امت ہونے کی حیثیت سے ظاہر کیا تم بھلائی
مسئلہ ۲۵۰: از سنبھل ضلع مراد آباد مرسلہ محمدذکاوت حسین ۶صفر ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید سنی حنفی نے طریقہ وعظ بغرض افشائے رسالت خاتم النبیین واعلان طریقہ سید المرسلین صلی اﷲ تعالی علیہ آلہ وسلم اختیار کیا ہےاور اس کے وعظ کے اثر سے شرك وبدعات وغیرہ کافور ہوتی چلی جاتی ہےاور ہزار ہا اہل اسلام جو ضروری شعائر اسلام اور ارکان صوم وصلوۃ سے بھی واقفیت نہ رکھتے تھے وہ خود معلم نماز و امام مساجد ہوگئےاوریہ شخص جابجا مواضع ومواسم میں بے تکلف علی رؤس الاشہاد بمقابلہ اعدائے دین جہاد لسانی کرتاہےاگر ایسے شخص کو اہل اسلام عالم باعمل اور منجملہ ورثہ انبیاء تصور کرکے بلحاظ اس کی حالت بیکاری اور فکر معاش کے غمخواری کے کچھ نقد وغیرہ بلااس کی طمع اور درخواست کے تعظیما نذر کریںتو یہ پیشکش اورنذر اس کے حق میں حلال وطیب ہے یانہیں اور اہل اسلام ایسے شخص کو معتقد علیہ تصورکریں یانہیں اور اس نذراور تحفہ کے بدلے اجر عظیم پائیں گے یانہیں استفتاء ہذا کو اپنے دستخط مبارك اور بمواہیر تلامذہ راشدہ سے مزین فرماکر ہدایت کیجئے۔
الجواب:
اگر فی الواقع وہ شخص علمائے اہلسنت وجماعت ایدہم اﷲ تعالی سے ہے اور جو باتیں حقیقۃ شرك ہیں انھیں کے معتقد کو مشرك کہتاہے اور احکام مشرکین میں داخل کرتاہےاور جو نوپیدا باتیں مخالف شریعت ومزاحم سنت ایجاد کی گئیں انھیں کو بدعت شرعیہ ومذمومہ وشنیعہ جانتا اور ان سے نہی وتحذیر کرتاہےاور شعائر اسلام صلوۃ وصیام وغیرہا کے احکام صحیح صحیح سکھاتا اور برعایت شرائط وقواعد احتساب امر بالمعروف اورنہی عن المنکر بجالا تاہےاو ر وعظ میں روایات باطلہ وجزافات مخترعہ وبیانات مشیرہ اوہامومفسدہ خیالات عوام سے احتراز رکھتااورعلم کافی وفہم صافی کے ساتھ ہدایت وارشاد میں ٹھیك معیار شرع پر چلتا ہےتو اسے نہ صرف عالم بلکہ اس زمانہ میں اراکین دین وسنت وخلفائے رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ واولیائے جناب احدیت آلاء جلت سے سمجھنا چاہئے اور اس کی جو خدمت ہوسکے صلاح وفلاح دارین ورضائے رب المشرقین وخوشنودی سید الکونین ہے جل جلالہوصلی اﷲ تعالی علیہ وآلہ وسلم۔
قال تعالی " کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف اﷲ تعالی نے فرمایا:لوگوں کے لئے تمھیں بہترین امت ہونے کی حیثیت سے ظاہر کیا تم بھلائی
وتنہون عن المنکر " الآیۃ کاحکم کرتے اور برائی سے روکتے ہو الآیۃ(ت)
اور جبکہ حسب اظہار سوال اس کی نیت خالص لوجہ اﷲ ہے اور ہر گز نہ کسی سے سوال کرتا نہ طمع رکھتاہےبلکہ مسلمان بطو رخود علماء کی اعانت اوراپنی سعادت کی نیت سے خدمت کرتے ہیں تو(بشرطیکہ یہ مال جو اسے دیا جائے بعینہ وجہ حرام سے نہ ہو) بلا شبہ اس کا لینا جائز اور وہ اس کے لئے حلال وطیب ہےحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا جاءك من ھذا المال شیئ وانت غیر مشرف ولا سائل فخذہ فتمولہ فان شئت کلہ وان شئت تصدق بہ وما لا فلاتتبعہ نفسک رواہ الشیخان عن ابن عمرر ضی اﷲ تعالی عنہما۔ جب تیرے پاس یہ مال آئے جبکہ تو اس کے انتظار میں نہ ہو اور نہ تو اس کے لئے سائل بنا تو اسے لے کر مال بنااگر چاہے تو کھالے اور اگر چاہے صدقہ کردے۔اورمال نہ ملے تو اس کا پیچھا نہ کر۔اس کو بخاری ومسلم نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔(ت)
ہاں وعظ کو کہ عمدہ طاعات وقربات سے ہے ذریعہ حطام دنیا بنانے پر احادیث میں سخت وعیدیں آئیںاور علماء نے بھی اس سے ممانعتیں فرمائیں خلاصہ پھر تاتارخانیہ پھر عالمگیریہ میں ہے:
الواعظ اذا سأ ل الناس شیئا فی المجلس لنفسہ لا یحل لہ ذلك لانہ اکتساب الدنیا بالعلم ۔ واعظ نے اگر مجلس میں لوگوں سے اپنے لئے کچھ سوال کیا تویہ عمل حلال نہیںکیونکہ یہ علم کے ذریعہ دنیا کا حصول ہے۔ (ت)
یہ امر ان لوگوں پر واردجنھوں نے وعظ کو پیشہ اور نجارہ دینا حاصل کرنے کا تیشہ بنا رکھا ہے اور شك نہیں کہ عبادات وحسنات پر اجرت لینا حرام اور اس کی تحریم علی الاطلاق پر احادیث ومذہب منصوص ائمہ کرام مگر جس کی نیت لوجہ اﷲ ہو اس پر اوروں کے فعل سے اعتراض نہیں
اور جبکہ حسب اظہار سوال اس کی نیت خالص لوجہ اﷲ ہے اور ہر گز نہ کسی سے سوال کرتا نہ طمع رکھتاہےبلکہ مسلمان بطو رخود علماء کی اعانت اوراپنی سعادت کی نیت سے خدمت کرتے ہیں تو(بشرطیکہ یہ مال جو اسے دیا جائے بعینہ وجہ حرام سے نہ ہو) بلا شبہ اس کا لینا جائز اور وہ اس کے لئے حلال وطیب ہےحضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اذا جاءك من ھذا المال شیئ وانت غیر مشرف ولا سائل فخذہ فتمولہ فان شئت کلہ وان شئت تصدق بہ وما لا فلاتتبعہ نفسک رواہ الشیخان عن ابن عمرر ضی اﷲ تعالی عنہما۔ جب تیرے پاس یہ مال آئے جبکہ تو اس کے انتظار میں نہ ہو اور نہ تو اس کے لئے سائل بنا تو اسے لے کر مال بنااگر چاہے تو کھالے اور اگر چاہے صدقہ کردے۔اورمال نہ ملے تو اس کا پیچھا نہ کر۔اس کو بخاری ومسلم نے ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔(ت)
ہاں وعظ کو کہ عمدہ طاعات وقربات سے ہے ذریعہ حطام دنیا بنانے پر احادیث میں سخت وعیدیں آئیںاور علماء نے بھی اس سے ممانعتیں فرمائیں خلاصہ پھر تاتارخانیہ پھر عالمگیریہ میں ہے:
الواعظ اذا سأ ل الناس شیئا فی المجلس لنفسہ لا یحل لہ ذلك لانہ اکتساب الدنیا بالعلم ۔ واعظ نے اگر مجلس میں لوگوں سے اپنے لئے کچھ سوال کیا تویہ عمل حلال نہیںکیونکہ یہ علم کے ذریعہ دنیا کا حصول ہے۔ (ت)
یہ امر ان لوگوں پر واردجنھوں نے وعظ کو پیشہ اور نجارہ دینا حاصل کرنے کا تیشہ بنا رکھا ہے اور شك نہیں کہ عبادات وحسنات پر اجرت لینا حرام اور اس کی تحریم علی الاطلاق پر احادیث ومذہب منصوص ائمہ کرام مگر جس کی نیت لوجہ اﷲ ہو اس پر اوروں کے فعل سے اعتراض نہیں
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۳ /۱۱۰€
صحیح البخاری کتاب الاحکام باب رزق الحاکم والعاملین علیہا الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۶۲،€صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب جواز الاخذ ∞بغیر سوال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ البا ب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۱۹€
صحیح البخاری کتاب الاحکام باب رزق الحاکم والعاملین علیہا الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۰۶۲،€صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب جواز الاخذ ∞بغیر سوال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۴€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ البا ب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۱۹€
انما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی ۔ " واللہ یعلم المفسد من المصلح " ۔وایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۔ اعمال کا مدارنیت پر ہےہر شخص کو وہی حاصل ہوگا جو اس نے نیت کیاور اﷲ تعالی مصلح اور مفسد کو جانتاہے۔اور تو بدگمانی سے پرہیز کر کیونکہ بدگمانی بری بات ہےالحدیث(ت)
بلکہ بعض علماء نے وعظ کو بھی ان امور مستثناۃ میں داخل کیا جن پر اس زمانہ میں اخذ اجرت مشائخ متاخرین نے بحکم ضرورت جائز رکھا۔ردالمحتارمیں ہے:
قال فی الہدایۃ وبعض مشائخنا رحمہم اﷲ تعالی استحسنوا الاستیجار علی تعلیم القران الیوم لظہور التوانی فی الامور الدینیۃ ففی الامتناع تضییع حفظ القران وعلیہ الفتوی اھ وقد اقتصر علی الاستثناء تعلیم القران ایضا فی متن الکنزومتن مواہب الرحمن وکثیر من الکتبوزاد فی مختصر الوقایۃ و متن الاصلاحتعلیم الفقۃوزاد فی متن المجمع الامامۃومثلہ فی متن الملتقی ودررالبحار و زاد بعضہم الاذان والاقامۃ والوعظ وذکر المصنف معظمہا ولکن الذی فی اکثر الکتب الاقتصار علی مافی الہدایۃ فہذا مجموع ماافتی بہ المتاخرون ہدایہ میں فرمایا ہمارے بعض مشائخ نے آج کل دینی امور میں سستی کی وجہ سے قرآن کی تعلیم پر اجرت لینے کو بہترقرار دیاہے تو اس سے پرہیز کرنے پر قرآن پاك کا حفظ خطرہ میں پڑ سکتاہے۔اور اسی پرفتوی ہے اھاورقرآن کی تعلیم پر اجرت کو عدم جواز سے مستثنی قرار دیا ہے کنزمواہب الرحماناور بہت سی کتب میں بھی اسی طرح ہے اور مختصروقایہ اور الاصلاح کے متن نے تعلیم القرآن کے ساتھ تعلیم فقہ کو زائد کردیا ہے۔اور مجمع کے متن میں امامت کو زائد ذکرکیا اور اسی طرح ملتقی ودررالبحار میں ہےاور بعض نے اذان واقامت اور وعظ کو بھی شامل کیا ہےاو رمصنف نے مذکور معظم امور کو ذکر کیالیکن اکثر کتب نے ہدایہ میں مذکور پر اکتفاء کیا ہے اور ہمارے مشائخ متاخرین کے فتووں کا یہ مجموعہ ہے
بلکہ بعض علماء نے وعظ کو بھی ان امور مستثناۃ میں داخل کیا جن پر اس زمانہ میں اخذ اجرت مشائخ متاخرین نے بحکم ضرورت جائز رکھا۔ردالمحتارمیں ہے:
قال فی الہدایۃ وبعض مشائخنا رحمہم اﷲ تعالی استحسنوا الاستیجار علی تعلیم القران الیوم لظہور التوانی فی الامور الدینیۃ ففی الامتناع تضییع حفظ القران وعلیہ الفتوی اھ وقد اقتصر علی الاستثناء تعلیم القران ایضا فی متن الکنزومتن مواہب الرحمن وکثیر من الکتبوزاد فی مختصر الوقایۃ و متن الاصلاحتعلیم الفقۃوزاد فی متن المجمع الامامۃومثلہ فی متن الملتقی ودررالبحار و زاد بعضہم الاذان والاقامۃ والوعظ وذکر المصنف معظمہا ولکن الذی فی اکثر الکتب الاقتصار علی مافی الہدایۃ فہذا مجموع ماافتی بہ المتاخرون ہدایہ میں فرمایا ہمارے بعض مشائخ نے آج کل دینی امور میں سستی کی وجہ سے قرآن کی تعلیم پر اجرت لینے کو بہترقرار دیاہے تو اس سے پرہیز کرنے پر قرآن پاك کا حفظ خطرہ میں پڑ سکتاہے۔اور اسی پرفتوی ہے اھاورقرآن کی تعلیم پر اجرت کو عدم جواز سے مستثنی قرار دیا ہے کنزمواہب الرحماناور بہت سی کتب میں بھی اسی طرح ہے اور مختصروقایہ اور الاصلاح کے متن نے تعلیم القرآن کے ساتھ تعلیم فقہ کو زائد کردیا ہے۔اور مجمع کے متن میں امامت کو زائد ذکرکیا اور اسی طرح ملتقی ودررالبحار میں ہےاور بعض نے اذان واقامت اور وعظ کو بھی شامل کیا ہےاو رمصنف نے مذکور معظم امور کو ذکر کیالیکن اکثر کتب نے ہدایہ میں مذکور پر اکتفاء کیا ہے اور ہمارے مشائخ متاخرین کے فتووں کا یہ مجموعہ ہے
حوالہ / References
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲€
القرآن الکریم ∞۲ /۲۲۰€
صحیح البخاری کتاب الوصایا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۸۴€
القرآن الکریم ∞۲ /۲۲۰€
صحیح البخاری کتاب الوصایا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۸۴€
من مشائخنا وھم البلخیون علی خلاف فی بعضہ مخالفین ماذھب الیہ الامام وصاحباہوقد اتفقت کلمتہم جمیعا فی الشروح والفتاوی علی التعلیل بالضرورۃ وھی خشیۃ ضیاع القران کما فی الہدایۃ الی اخرما افاد و اجاد رحمہ الجواد۔ اور بلخی حضرات ہیں جبکہ ان میں سے بعض نے بعض میں اختلاف بھی کیاہےان متاخرین نے خلاف کیا مسلك اما م اور صاحبین کےاور شروح و فتاوی سب نے جواز کی علت ضرورت کو قرار دیا ہے اور وہ قرآن کے ضیاع کا خطرہ ہے جیسا کہ ہدایہ میں تا آخر اس کا بہترین افادہ فرمایا۔اﷲ تعالی ان کواپنی رحمت سے نوازے۔(ت)
فتاوی امام اجل قاضیخاں میں ہے:
صاحب العلم اذا خرج الی القری لیذکر ھم فیجمعوا لہ شیئا حکی عن ابی اللیث رحمہ اﷲ تعالی انہ قال کنت افتی انہ لایخرج الی القری ثم رجعت عن ذلك ۔ عالم شخص جب دیہاتوں میں وعظ کے لئے جائے اور وہ اس کے لئے کچھ نذرانہ جمع کریں تو اسے چاہئے کہ وہ دیہات میں نہ جائےیہ بات ابواللیث رحمہ اﷲ تعالی سے منقول ہے انھوں نے فرمایامیں یہ فتوی دیاکرتا تھا پھر میں نے اس سے رجوع کرلیا۔(ت)
اسی طرح خلاصہ میں نقل کیا:
(وزاداخذ الاجرۃ علی تعلیم القران ودخول العالم علی السلطان)وقال فرجعت عن الکل تحرزا عن ضیاع القران(والعلم والحقوق)ولحاجۃ الخلق و لجہل اہل الرستاق اھ مانقلہ عن الفقیہ النبیہ رحمہ اﷲ تعالی۔ اور تعلیم قرآن پر اجرت اور عالم کا سلطان کےپاس جانا زائد بیان کیا اور فرمایا میں نے اس سے رجوع کرلیا قرآن علم حقوق کے ضیاع سے بچاؤ کے لئے اور عوام الناس کی حاجت اوردیہاتیوں کی جہالت کی وجہ سےانھوں نے جو بیدار مغز فقیہ ابولیث رحمہ اﷲ تعالی سے نقل کیا وہ ختم ہوا۔(ت)
پس اگر صورت مظہرہ فی السوال واقعی ہے اور حالت زید وہ ہے جو ہم نے اوپر ذکر کی تو بیشك
فتاوی امام اجل قاضیخاں میں ہے:
صاحب العلم اذا خرج الی القری لیذکر ھم فیجمعوا لہ شیئا حکی عن ابی اللیث رحمہ اﷲ تعالی انہ قال کنت افتی انہ لایخرج الی القری ثم رجعت عن ذلك ۔ عالم شخص جب دیہاتوں میں وعظ کے لئے جائے اور وہ اس کے لئے کچھ نذرانہ جمع کریں تو اسے چاہئے کہ وہ دیہات میں نہ جائےیہ بات ابواللیث رحمہ اﷲ تعالی سے منقول ہے انھوں نے فرمایامیں یہ فتوی دیاکرتا تھا پھر میں نے اس سے رجوع کرلیا۔(ت)
اسی طرح خلاصہ میں نقل کیا:
(وزاداخذ الاجرۃ علی تعلیم القران ودخول العالم علی السلطان)وقال فرجعت عن الکل تحرزا عن ضیاع القران(والعلم والحقوق)ولحاجۃ الخلق و لجہل اہل الرستاق اھ مانقلہ عن الفقیہ النبیہ رحمہ اﷲ تعالی۔ اور تعلیم قرآن پر اجرت اور عالم کا سلطان کےپاس جانا زائد بیان کیا اور فرمایا میں نے اس سے رجوع کرلیا قرآن علم حقوق کے ضیاع سے بچاؤ کے لئے اور عوام الناس کی حاجت اوردیہاتیوں کی جہالت کی وجہ سےانھوں نے جو بیدار مغز فقیہ ابولیث رحمہ اﷲ تعالی سے نقل کیا وہ ختم ہوا۔(ت)
پس اگر صورت مظہرہ فی السوال واقعی ہے اور حالت زید وہ ہے جو ہم نے اوپر ذکر کی تو بیشك
حوالہ / References
ردالمحتارکتاب الاجارۃ باب الاجارۃالفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۳۴،۳۵€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی التسبیح والتسلیم الخ ∞نولکشورلکھنؤ ۴ /۷۹۵€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الکراھیۃ الفصل الثانی ∞مکتبہ حبییہ کوئٹہ ۴ /۳۱۔۳۳۰€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی التسبیح والتسلیم الخ ∞نولکشورلکھنؤ ۴ /۷۹۵€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الکراھیۃ الفصل الثانی ∞مکتبہ حبییہ کوئٹہ ۴ /۳۱۔۳۳۰€
ایسے بندہ خدا کو بد و حرام خور کہنا سخت گناہ وناسزااور قائل شرعا مستوجب تعزیر وسزاہندیہ میں ذکر ہے:
ان ذکر اہل العلم بالتحقیر وجب علیہ التعزیر ۔ جو اہل علم کاذکر تحقیر سے کرے وہ واجب التعزیر ہے۔(ت)
بخلاف ان مبتدعا ن سنی نما کے جواس زمن فساد وفتن میں اضلال واغوائے جہال کو ادعائے تسنن کرتے اور اپنی ضلالت مخترعہ وجہالت مبتدعہ کو کہ قریب زمانے میں ان کے تازہ پیشواؤں نے تراشیںبنام سنت جلوہ دیتےاوران کی مخالفت کو بدعت ضالہ ومخل اصل ایمان بتاتےاو رصدہا امور جائزہ بلکہ مستحبہ کو بزور زبان و زور وبہتان شرك وبدعت ویقینی العقوبۃ وناقابل مغفرت ٹھہراتےاور شرقا و غرباعجما وعربا بلکہ سلفا وخلفا عامہ المسلمین واہل دیانت ودین کو مشرك بدعتی بتاتے ہیں ایسے لوگوں کے بدوبدتراز بد ہونے میں کوئی شبہ نہیںنہ وہ ہرگز تعظیم علم وعلماء کے مستوجببلکہ شرعا ان کی تحقیر واجب۔ حدیث میں ہے:
من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان ھدم الاسلام ۔ جس نے اہل بدعت کی توقیر کی اس نے اسلام کو کمزور کرنے میں مدد دی۔(ت)
پھر ایسے لوگوں کی تذکیر ضلالت تخمیر ہرگز اس فتوی بعض متاخرین میں داخل نہیں ہوسکتی کہ انھوں نے ضرورت دینی کے لئے جواز رکھا نہ کہ معاذاﷲ ضرر دینی کے لئےان کا وعظ معصیت ہے اور معاصی پر اجارہ مطلقا اجماعا بلااستثناء حرامتو یہ لوگ اگر اپنے وعظ پر اجرت لیں خواہ بتصریح شرط یا بصورت حال معہودومعروف فان المعہود عرفا کالمشروط لفظا(عرف میں معلوم چیز لفظی مشروط کی طرح ہے۔ت)تو بلاشبہ وہ ان کے لئے حرام او ریہ حرام خور ہوں گےجہاں یہ صورت ہو وہاں بد و حرام خور کہنے والے پر اصلاالزام نہیںبلکہ وہ ٹھیك کہتاہے۔اس امر کا لحاظ ضرور چاہئے۔نسأل اﷲ الہدایۃ الی سبیل الاقوم(ہم اﷲ تعالی سے مضبوط راستے کے طلبگار ہیں۔ت)واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۱: مسئولہ مولوی محمد حسین صاحب عظیم آبادی مدرس مدرسہ جعفر خانی ۱۰ شوال ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مدرسہ اسلامیہ کا نوکر تھا اور موافق دستور العمل
ان ذکر اہل العلم بالتحقیر وجب علیہ التعزیر ۔ جو اہل علم کاذکر تحقیر سے کرے وہ واجب التعزیر ہے۔(ت)
بخلاف ان مبتدعا ن سنی نما کے جواس زمن فساد وفتن میں اضلال واغوائے جہال کو ادعائے تسنن کرتے اور اپنی ضلالت مخترعہ وجہالت مبتدعہ کو کہ قریب زمانے میں ان کے تازہ پیشواؤں نے تراشیںبنام سنت جلوہ دیتےاوران کی مخالفت کو بدعت ضالہ ومخل اصل ایمان بتاتےاو رصدہا امور جائزہ بلکہ مستحبہ کو بزور زبان و زور وبہتان شرك وبدعت ویقینی العقوبۃ وناقابل مغفرت ٹھہراتےاور شرقا و غرباعجما وعربا بلکہ سلفا وخلفا عامہ المسلمین واہل دیانت ودین کو مشرك بدعتی بتاتے ہیں ایسے لوگوں کے بدوبدتراز بد ہونے میں کوئی شبہ نہیںنہ وہ ہرگز تعظیم علم وعلماء کے مستوجببلکہ شرعا ان کی تحقیر واجب۔ حدیث میں ہے:
من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان ھدم الاسلام ۔ جس نے اہل بدعت کی توقیر کی اس نے اسلام کو کمزور کرنے میں مدد دی۔(ت)
پھر ایسے لوگوں کی تذکیر ضلالت تخمیر ہرگز اس فتوی بعض متاخرین میں داخل نہیں ہوسکتی کہ انھوں نے ضرورت دینی کے لئے جواز رکھا نہ کہ معاذاﷲ ضرر دینی کے لئےان کا وعظ معصیت ہے اور معاصی پر اجارہ مطلقا اجماعا بلااستثناء حرامتو یہ لوگ اگر اپنے وعظ پر اجرت لیں خواہ بتصریح شرط یا بصورت حال معہودومعروف فان المعہود عرفا کالمشروط لفظا(عرف میں معلوم چیز لفظی مشروط کی طرح ہے۔ت)تو بلاشبہ وہ ان کے لئے حرام او ریہ حرام خور ہوں گےجہاں یہ صورت ہو وہاں بد و حرام خور کہنے والے پر اصلاالزام نہیںبلکہ وہ ٹھیك کہتاہے۔اس امر کا لحاظ ضرور چاہئے۔نسأل اﷲ الہدایۃ الی سبیل الاقوم(ہم اﷲ تعالی سے مضبوط راستے کے طلبگار ہیں۔ت)واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۱: مسئولہ مولوی محمد حسین صاحب عظیم آبادی مدرس مدرسہ جعفر خانی ۱۰ شوال ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مدرسہ اسلامیہ کا نوکر تھا اور موافق دستور العمل
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الحدود فصل فی التعزیر ∞نورنی کتب خانہ پشاور ۲/ ۶۹۔۱۶۸€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۶۷۶۸€ مکتبہ المعارض الریاض ∞۷ /۳۹۶€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۶۷۶۸€ مکتبہ المعارض الریاض ∞۷ /۳۹۶€
مدارس عربیہ کے بعد فراغ امتحان ایام تعطیل میں اپنے مکان کو چلاگیااور قبل اسے کے ایام تعطیل ختم ہوں حاضرخدمت ایك جلسہ مدرسہ اسلامیہ ہو کر ان سے درخواست کی کہ یا تو مجھے اجازت ہو کہ سابق دستور کا کام کروں یا مجھ کو جواب دیا جائے کہ اپنا اور کچھ بندوبست کروں لیکن کچھ جواب نہ ملااور نہ اثنائے تعطیل میں کوئی اطلاع نامہ قطع تعلق کا زید کو ملااس صورت میں زید مستحق پانے تنخواہ ایام تعطیل کا ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر پائے۔ت)
الجواب:
تعطیلات معہودہ میں مثل تعطیل ماہ مبارك رمضان وعیدین وغیرہا کی تنخواہ مدرسین کوبیشك دی جائے گیفان المعہود عرفاکالمشروط مطلقا(عرف میں معلوم متعین چیز مطلقا مشروط کی طرح ہے۔ت)اشباہ میں ہے:
البطالۃ فی المدارس کایام الاعیاد ویوم عاشورۃ و شہر رمضان فی درس الفقہ علی وجہین ان مشروطۃ لم یسقط من العلم شیئ والافینبغی ان یلحق ببطالۃ القاضی ففی المحیط انہ یاخذ فی یوم البطالۃ و قیل لاوفی المنیۃ یستحق فی الاصحواختارہ فی منظومۃ ابن وہبانوقال انہ الاظہر اھ ملخصا اقول:ھذہ الترجیحات حیث لم یشترط فکیف اذا شرط ھذالیس محل نزاع وقد علمت ان المعروف کالمشروط۔ عید کے دنوںعاشورہ اور ماہ رمضان جیسی مدارس میں فقہی تعلیم کی تعطیلات دو طرح سے ہے اگر معاہدہ میں مشروط ہیں تو مشاہرہ بالکل ساقط نہ ہوگا ورنہ قاضی کی تعطیلات کے موافق ہونامناسب ہےتو محیط میں ہے کہ مدرس ایام تعطیلات کا مشاہرہ حاصل کرے گااور بعض نے کہا حاصل نہ کرے گااور منیہ میں ہے اصح یہ ہے کہ وہ مستحق ہوگا اور ابن وہبان کے منظوم میں اسی کو مختار فرمایااورانھوں نے فرمایا یہی اظہر ہے اھ ملخصامیں کہتاہوں یہ ترجیحات مشروط نہ ہونے کی صورت میں ہیں مشروط ہوں تو کیسے مستحق نہ ہوگا حالانکہ محل نزاع یہی صورت ہے اورتو معلوم کرچکا کہ معروف چیز مشروط کی طرح ہوتی ہے۔(ت)
اورکسی شخص کو اصلا اختیارنہیں کہ بے اطلاع اجیر جب چاہے بطور خود عقد اجارہ فسخ کردے
الجواب:
تعطیلات معہودہ میں مثل تعطیل ماہ مبارك رمضان وعیدین وغیرہا کی تنخواہ مدرسین کوبیشك دی جائے گیفان المعہود عرفاکالمشروط مطلقا(عرف میں معلوم متعین چیز مطلقا مشروط کی طرح ہے۔ت)اشباہ میں ہے:
البطالۃ فی المدارس کایام الاعیاد ویوم عاشورۃ و شہر رمضان فی درس الفقہ علی وجہین ان مشروطۃ لم یسقط من العلم شیئ والافینبغی ان یلحق ببطالۃ القاضی ففی المحیط انہ یاخذ فی یوم البطالۃ و قیل لاوفی المنیۃ یستحق فی الاصحواختارہ فی منظومۃ ابن وہبانوقال انہ الاظہر اھ ملخصا اقول:ھذہ الترجیحات حیث لم یشترط فکیف اذا شرط ھذالیس محل نزاع وقد علمت ان المعروف کالمشروط۔ عید کے دنوںعاشورہ اور ماہ رمضان جیسی مدارس میں فقہی تعلیم کی تعطیلات دو طرح سے ہے اگر معاہدہ میں مشروط ہیں تو مشاہرہ بالکل ساقط نہ ہوگا ورنہ قاضی کی تعطیلات کے موافق ہونامناسب ہےتو محیط میں ہے کہ مدرس ایام تعطیلات کا مشاہرہ حاصل کرے گااور بعض نے کہا حاصل نہ کرے گااور منیہ میں ہے اصح یہ ہے کہ وہ مستحق ہوگا اور ابن وہبان کے منظوم میں اسی کو مختار فرمایااورانھوں نے فرمایا یہی اظہر ہے اھ ملخصامیں کہتاہوں یہ ترجیحات مشروط نہ ہونے کی صورت میں ہیں مشروط ہوں تو کیسے مستحق نہ ہوگا حالانکہ محل نزاع یہی صورت ہے اورتو معلوم کرچکا کہ معروف چیز مشروط کی طرح ہوتی ہے۔(ت)
اورکسی شخص کو اصلا اختیارنہیں کہ بے اطلاع اجیر جب چاہے بطور خود عقد اجارہ فسخ کردے
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۲۹€
مگر جب کوئی عذر بین واضح ظاہر ہوجس میں اصلا محل اشتباہ نہ ہو جب تك ایسا نہ ہو اجیر بیشك مستحق تنخواہ ہوگا۔
فی الدرالمختار الاجارۃ تفسخ بالقضاء والرضاء الخوفی ردالمحتار الاصح ان العذران کان ظاہر اینفرد وان مشتبہا لاینفرد ۔واﷲ تعالی اعلم۔ درمختارمیں ہےکہ اجارہ رضامندی یا قضاءکےذریہ فسخ ہوسکتاہے الخاور ردالمحتار میں ہےکہ اصح یہ ہےکہ اگر ناغہ کا عذر ظاہرہو تو مدرس کے اختیارمیں ہے اور اگر عذر مشتبہ ہو تو پھر وہ مختار نہیں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۵۲: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو"طفوہائے"آہنی نیشکر کے تجارۃ کرایہ پر چلاتاہے اور اہل دیہات سے معاملات اجارہ کے کرتاہے اور باشندگان دیہات کو جو دس دسبیس بیس کوس کے باشندے ہیںکولھوکرایہ پر دیتاہے۔اور تقرری کرایہ میعاد ادائیگی کرایہ اور زمانہ واپسی"کولھو"جملہ امورات وقت عقد طے ہوجاتے ہیں مگر بہت کم ایسا ہوتاہے کہ وہ لوگ اپنے وعدہ پر روپیہ ادا کریںبمجبوری ان سے روپیہ وصول کرنے کے واسطے نوکر رکھ کر ان کے مکانوں کو بھیجاجاتاہے اور وہ سپاہی تقاضا گیر چند چند بار ان کے مکان پرجاکر تقاضاکرتاہےبلکہ اپنی تنخواہ اورخوراك وغیرہ کا بار ان پر ظاہر کرتاہے اور قسم قسم کے خوف نالش اور خرچہ پڑنے کا دلاتاہے۔تب وہ لوگ روپیہ لاتے ہیںاس پر بعض مطلق خیال میں نہیں لاتےاور نالشوں وغیرہ کی نوبت آتی ہے۔
پس ایسی حالت میں کہ یہ سپاہی جو محض ان سے تقاضا کرنے کے واسطے رکھا گیا ہے جس کے مکانوں پر جاکر بضرورت تقاضا ٹھہرےاوران سے اپنی خوراك لےیااس کے سوا جس کے یہاں ٹھہرا ہےدوسروں سے اسی گاؤں میںاس کے قریب دوسرے گاؤں والوں سے اپنی خوراك لےیا زید ان کرایہ داران سے اصل کرایہ میں تنخواہ تقاضا گیر کے بقدر ایام آمدو شد کے یا اس تقاضا گیر کی خوراك شامل کرکے وصول کرےیا وقت کرایہ کے ان سے زید شرط کرے کہ روپیہ ہمارا کرایہ کا
فی الدرالمختار الاجارۃ تفسخ بالقضاء والرضاء الخوفی ردالمحتار الاصح ان العذران کان ظاہر اینفرد وان مشتبہا لاینفرد ۔واﷲ تعالی اعلم۔ درمختارمیں ہےکہ اجارہ رضامندی یا قضاءکےذریہ فسخ ہوسکتاہے الخاور ردالمحتار میں ہےکہ اصح یہ ہےکہ اگر ناغہ کا عذر ظاہرہو تو مدرس کے اختیارمیں ہے اور اگر عذر مشتبہ ہو تو پھر وہ مختار نہیں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۵۲: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو"طفوہائے"آہنی نیشکر کے تجارۃ کرایہ پر چلاتاہے اور اہل دیہات سے معاملات اجارہ کے کرتاہے اور باشندگان دیہات کو جو دس دسبیس بیس کوس کے باشندے ہیںکولھوکرایہ پر دیتاہے۔اور تقرری کرایہ میعاد ادائیگی کرایہ اور زمانہ واپسی"کولھو"جملہ امورات وقت عقد طے ہوجاتے ہیں مگر بہت کم ایسا ہوتاہے کہ وہ لوگ اپنے وعدہ پر روپیہ ادا کریںبمجبوری ان سے روپیہ وصول کرنے کے واسطے نوکر رکھ کر ان کے مکانوں کو بھیجاجاتاہے اور وہ سپاہی تقاضا گیر چند چند بار ان کے مکان پرجاکر تقاضاکرتاہےبلکہ اپنی تنخواہ اورخوراك وغیرہ کا بار ان پر ظاہر کرتاہے اور قسم قسم کے خوف نالش اور خرچہ پڑنے کا دلاتاہے۔تب وہ لوگ روپیہ لاتے ہیںاس پر بعض مطلق خیال میں نہیں لاتےاور نالشوں وغیرہ کی نوبت آتی ہے۔
پس ایسی حالت میں کہ یہ سپاہی جو محض ان سے تقاضا کرنے کے واسطے رکھا گیا ہے جس کے مکانوں پر جاکر بضرورت تقاضا ٹھہرےاوران سے اپنی خوراك لےیااس کے سوا جس کے یہاں ٹھہرا ہےدوسروں سے اسی گاؤں میںاس کے قریب دوسرے گاؤں والوں سے اپنی خوراك لےیا زید ان کرایہ داران سے اصل کرایہ میں تنخواہ تقاضا گیر کے بقدر ایام آمدو شد کے یا اس تقاضا گیر کی خوراك شامل کرکے وصول کرےیا وقت کرایہ کے ان سے زید شرط کرے کہ روپیہ ہمارا کرایہ کا
حوالہ / References
درمختار کتاب الاجارہ باب فسخ الاجارۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۸€۳
ردالمحتار کتاب الاجارہ باب فسخ الاجارۃ داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۵ /۴۸€
ردالمحتار کتاب الاجارہ باب فسخ الاجارۃ داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۵ /۴۸€
اگر تم وعدہ معینہ مقررہ پر نہ ادا کروگےاور ہم کو تمھارے پاس تقاضا گیر بھیجنا پڑے گاتو تم کو اجرت سے اس تقاضا گیر کی مثلا ۴/اور خوراك اس کی مثلا۲/یوم کے حساب سے دینا پڑے گیاورہم تم سے وصول کرلیں گے پس اول صورت میں خوراك اور اجرت تقاضا گیر کی بلاشرط کرایہ دار ان سے وصول کرنا۔اور دوسری صورت میں شرط مذکور کرنا اور حسب شرائط مذکور اجرت مقررہ اور خوراك سپاہی تقاضا گیر کی وصول کرنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر پائے۔ت)
الجواب:
یہ نوکر اسی شخص کا نوکر اور اسی کے کام پر مقرراس نے خود ہی اسے اپنے کام کے لئے رکھاتو تنخواہ یا خوراك جوکچھ ٹھہری ہو اسی پرہے۔قرضداروں سے کچھ تعلق نہیںنہ ان سے خواہ دوسرے اہل دیہہ سے کوئی جبرا لے سکےہاں وہ رضامند ی اپنا مہمان سمجھ کر کھانا دے دیں تویہ جدا بات ہےاور یہ خیال کہ آخر ان کی نادہندگی کے باعث نوکر رکھنا پڑا محض بے سودفان الحکم انمایضاف الی المباشردون المسبب(حکم مرتکب پر عائد ہوتاہے سبب مہیا کرنے والے پر نہیں ہوتا۔ت)ولہذا مدعی کو مدعا علیہ سے خرچہ لینا جائز نہیںاگرچہ بوجہ نادہندگی مدعا علیہ ضرورت نالش ہوئی ہواور اگر خود عقد اجارہ میں شرط مذکور فی السوال لگالی جب تو وہ عقد ہی فاسد ہوجائے گا اور اس کا فسخ کرنا واجب ہوگا کما ھو حکم کل عقد فاسد رفعا للاثم حقا للشرع(جیسا کہ ہر فاسد عقد کاحکم ہے کہ گناہ کو ختم کرنا شرعی حق کے طور پر لازم ہے۔ت)درمختارمیں ہے:
تفسدالاجارۃ بالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد فکل ما افسد البیع یفسدھا کشرط طعام عبد و مرمۃ دار اھ ملخصاواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ عقد کے مخالف شرائط سے اجارہ فاسد ہوجاتاہے اور جو شرط بیع کو فاسد کرتی ہے وہ اجارہ کوبھی فاسدکرتی ہے مثلا غلام کی خوراك اور مکان کی مرمت کی شرطاھ ملخصا۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۵۳: از میرٹھ بالائے کوٹ مکان قاضی صاحب مرسلہ مولوی ابومحمد صادق علی صاحب ۱۱رمضان المبارك ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متیندرباہ جواز وعدم جواز حصول منفعت بذریعہ کرایہ مکانات سکنیولگان اراضیات زرعیایسے لوگوں سے نصاری کے پادری ہنود کے
الجواب:
یہ نوکر اسی شخص کا نوکر اور اسی کے کام پر مقرراس نے خود ہی اسے اپنے کام کے لئے رکھاتو تنخواہ یا خوراك جوکچھ ٹھہری ہو اسی پرہے۔قرضداروں سے کچھ تعلق نہیںنہ ان سے خواہ دوسرے اہل دیہہ سے کوئی جبرا لے سکےہاں وہ رضامند ی اپنا مہمان سمجھ کر کھانا دے دیں تویہ جدا بات ہےاور یہ خیال کہ آخر ان کی نادہندگی کے باعث نوکر رکھنا پڑا محض بے سودفان الحکم انمایضاف الی المباشردون المسبب(حکم مرتکب پر عائد ہوتاہے سبب مہیا کرنے والے پر نہیں ہوتا۔ت)ولہذا مدعی کو مدعا علیہ سے خرچہ لینا جائز نہیںاگرچہ بوجہ نادہندگی مدعا علیہ ضرورت نالش ہوئی ہواور اگر خود عقد اجارہ میں شرط مذکور فی السوال لگالی جب تو وہ عقد ہی فاسد ہوجائے گا اور اس کا فسخ کرنا واجب ہوگا کما ھو حکم کل عقد فاسد رفعا للاثم حقا للشرع(جیسا کہ ہر فاسد عقد کاحکم ہے کہ گناہ کو ختم کرنا شرعی حق کے طور پر لازم ہے۔ت)درمختارمیں ہے:
تفسدالاجارۃ بالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد فکل ما افسد البیع یفسدھا کشرط طعام عبد و مرمۃ دار اھ ملخصاواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ عقد کے مخالف شرائط سے اجارہ فاسد ہوجاتاہے اور جو شرط بیع کو فاسد کرتی ہے وہ اجارہ کوبھی فاسدکرتی ہے مثلا غلام کی خوراك اور مکان کی مرمت کی شرطاھ ملخصا۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۵۳: از میرٹھ بالائے کوٹ مکان قاضی صاحب مرسلہ مولوی ابومحمد صادق علی صاحب ۱۱رمضان المبارك ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متیندرباہ جواز وعدم جواز حصول منفعت بذریعہ کرایہ مکانات سکنیولگان اراضیات زرعیایسے لوگوں سے نصاری کے پادری ہنود کے
حوالہ / References
درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۷۷€
پنڈت یہود کے معلمشیعوں کے مجتہدغیر مقلدوں کے واعظکسبیانڈھاریبھانڈشراب کھینچے بیچنے والےاور دیگر منشی اشیاء کے تاجرفساقفجارمشرك وکفارخصوصا وہ جو اپنے مذہب وغیرہ کی اشاعت پر مامور ہوںاور عموما وہ کہ مامور باشاعت ہوں۔ بینوا توجروا۔
الجواب:
یہاں دو مقام ہیںاول یہ کہ ان لوگوں کو سکونت کے لئے مکانزراعت کے لئے زمین کرایہ پر دینا جائز ہے یانہیں دوم برتقدیر جواز ان کے مال سے اجرت لینا کیسا۔
اول کا جواب جواز ہے کہ اس نے تو سکونت وزراعت پر اجارہ دیاہے نہ کسی معصیت پر اور رہنابونا فی نفسہ معصیت نہیں۔اگر چہ وہ جہاں رہیں معصیت کریں گےجو رزق حاصل کریں معصیت میں اٹھائیں گےیہ ان کا فعل ہے جس کا اس شخص پر الزام نہیں۔
" ولا تزر وازرۃ وزر اخری " قلت وبہ ظہر ان المسئلۃ ینبغی ان تکون علی الوفاق بین الامام و صاحبیہ رضی اﷲ تعالی عنہم وھوالمستفاد من کلمات العلماء۔ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی میں کہتاہوں اس سے ظاہر ہواکہ یہ مسئلہ امام صاحب اور صاحبین کے مسلك کے موافق ہے رضی اﷲ تعالی عنہماور علماء کے کلام سے یہی مستفاد ہے۔(ت)
ہندیہ میں بعد مسئلہ"اذا استاجر الذمی من المسلم بیتا یبیع فیہ الخمر جاز عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی خلافا لہما کذا فی المضمرات "(جب ذمی کسی مسلمان سے مکان کرایہ پر حاصل کرکے شراب فروشی کرے تو جائز ہوگا یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك بخلاف صاحبین کےمضمرات میں یوں ہے۔ت)نقل کیا:
و اذا استاجر الذمی من المسلم دارا لیسکنہا فلاباس بذلك وان شرب فیہا الخمر وعبد فیہا الصلیب او ادخل فیہا الخنازیر ولم یلحق المسلم جب ذمی نے مسلمان سے رہائش کے لئے مکان کرایہ پر لیا تو کوئی حرج نہیں اگرچہ وہ مکان میں شراب نوشی کرے یاصلیب کی پوجا کرے یا اس میں خنزیر لائےاس کا بوجھ مسلمان پر
الجواب:
یہاں دو مقام ہیںاول یہ کہ ان لوگوں کو سکونت کے لئے مکانزراعت کے لئے زمین کرایہ پر دینا جائز ہے یانہیں دوم برتقدیر جواز ان کے مال سے اجرت لینا کیسا۔
اول کا جواب جواز ہے کہ اس نے تو سکونت وزراعت پر اجارہ دیاہے نہ کسی معصیت پر اور رہنابونا فی نفسہ معصیت نہیں۔اگر چہ وہ جہاں رہیں معصیت کریں گےجو رزق حاصل کریں معصیت میں اٹھائیں گےیہ ان کا فعل ہے جس کا اس شخص پر الزام نہیں۔
" ولا تزر وازرۃ وزر اخری " قلت وبہ ظہر ان المسئلۃ ینبغی ان تکون علی الوفاق بین الامام و صاحبیہ رضی اﷲ تعالی عنہم وھوالمستفاد من کلمات العلماء۔ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی میں کہتاہوں اس سے ظاہر ہواکہ یہ مسئلہ امام صاحب اور صاحبین کے مسلك کے موافق ہے رضی اﷲ تعالی عنہماور علماء کے کلام سے یہی مستفاد ہے۔(ت)
ہندیہ میں بعد مسئلہ"اذا استاجر الذمی من المسلم بیتا یبیع فیہ الخمر جاز عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی خلافا لہما کذا فی المضمرات "(جب ذمی کسی مسلمان سے مکان کرایہ پر حاصل کرکے شراب فروشی کرے تو جائز ہوگا یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اﷲ تعالی کے نزدیك بخلاف صاحبین کےمضمرات میں یوں ہے۔ت)نقل کیا:
و اذا استاجر الذمی من المسلم دارا لیسکنہا فلاباس بذلك وان شرب فیہا الخمر وعبد فیہا الصلیب او ادخل فیہا الخنازیر ولم یلحق المسلم جب ذمی نے مسلمان سے رہائش کے لئے مکان کرایہ پر لیا تو کوئی حرج نہیں اگرچہ وہ مکان میں شراب نوشی کرے یاصلیب کی پوجا کرے یا اس میں خنزیر لائےاس کا بوجھ مسلمان پر
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۳۹ /۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب الخامس عشر الفصل الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۴۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب الخامس عشر الفصل الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۴۹€
فی ذلك باس لان المسلم لایواجر ھا لذلك انما اجرہا للسکنی کذا فی المحیط ۔ نہ ہوگا کیونکہ اس نے اس ارادہ سے کرایہ پر نہیں دیا اس نے تو رہائش کےلئے دیا ہے۔محیط میں یوں ہے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے زیر قول درمختار:
جاز اجارۃ بیت سواد الکوفۃ لیتخذ بیت نار اوکنیسۃ اوبیعۃ اویباع فیہ الخمر وقالالاینبغی ذلک۔زیلعی اھ ملخصا۔ کوفہ کی آبادی میں ذمی کو مکان کرایہ پر دینا تاکہ وہ آتشکدہ یا گرجاعبادت خانہ بنائے یا شراب فروخت کرے تو جائز ہے صاحبین نے فرمایایہ مناسب نہیں ہے زیلعی اھ ملخصا۔(ت)
انھیں علامہ زیلعی وعلامہ بدرالدین عینی وعلامہ حسام سغناقی وعلامہ جلال کرلامی صاحبان بنایہ و نہایہ وکفایہ شروح ہدایہ سے نقل کیا:
والدلیل علیہ انہ لواجرہ للسکنی جاز وھو لابدلہ من عبادتہ فیہ اھ۔ اس پردلیل یہ ہے کہ اگررہائش کے لئے کرایہ پر دے تو جائز ہے حالانکہ وہ اس میں ضرور عبادت کرے گا۔اھ(ت)
یہ جواب فقہ ہے باقی دیانۃ اس میں شك نہیں کہ جس کی سکونت سے مسلمانوں کے عقائد یا اعمال میں فتنہ وضلال کا اندیشہ وخیال ہو اسے جگہ دینا معاذاﷲ مسلمانوں کو فتنہ پر پیش کرنا ہےتو " یحبون ان تشیع الفحشۃ " (وہ چاہتے ہیں کہ فحاشی پھیلے۔ت)حقیقۃ نہ سہی اس کی طرف منجر ہے۔وانما الدین النصح لکل مسلم دین تو یہی ہے کہ سب مسلمانوں کی خیر خواہی کیجئے وباﷲ التوفیق۔
ردالمحتار میں ہے زیر قول درمختار:
جاز اجارۃ بیت سواد الکوفۃ لیتخذ بیت نار اوکنیسۃ اوبیعۃ اویباع فیہ الخمر وقالالاینبغی ذلک۔زیلعی اھ ملخصا۔ کوفہ کی آبادی میں ذمی کو مکان کرایہ پر دینا تاکہ وہ آتشکدہ یا گرجاعبادت خانہ بنائے یا شراب فروخت کرے تو جائز ہے صاحبین نے فرمایایہ مناسب نہیں ہے زیلعی اھ ملخصا۔(ت)
انھیں علامہ زیلعی وعلامہ بدرالدین عینی وعلامہ حسام سغناقی وعلامہ جلال کرلامی صاحبان بنایہ و نہایہ وکفایہ شروح ہدایہ سے نقل کیا:
والدلیل علیہ انہ لواجرہ للسکنی جاز وھو لابدلہ من عبادتہ فیہ اھ۔ اس پردلیل یہ ہے کہ اگررہائش کے لئے کرایہ پر دے تو جائز ہے حالانکہ وہ اس میں ضرور عبادت کرے گا۔اھ(ت)
یہ جواب فقہ ہے باقی دیانۃ اس میں شك نہیں کہ جس کی سکونت سے مسلمانوں کے عقائد یا اعمال میں فتنہ وضلال کا اندیشہ وخیال ہو اسے جگہ دینا معاذاﷲ مسلمانوں کو فتنہ پر پیش کرنا ہےتو " یحبون ان تشیع الفحشۃ " (وہ چاہتے ہیں کہ فحاشی پھیلے۔ت)حقیقۃ نہ سہی اس کی طرف منجر ہے۔وانما الدین النصح لکل مسلم دین تو یہی ہے کہ سب مسلمانوں کی خیر خواہی کیجئے وباﷲ التوفیق۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب الخامس عشر الفصل الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۵۰€
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۷€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۵۱€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۱۹€
صحیح البخاری کتاب الشروط باب مایجوز من الشروط الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۷۵،€صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان ان الدین النصیحۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۵۔۵۴€
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۷€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۵۱€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۱۹€
صحیح البخاری کتاب الشروط باب مایجوز من الشروط الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۷۵،€صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان ان الدین النصیحۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۵۔۵۴€
دوم کا جواب یہ کہ جس مال کا بعینہ حرام ہونا معلوم ہو اس سے اجرت لینا جائز نہیںمثلا اجارہ دینے والے کو خبر ہے کہ یہ روپیہ زید نے غصب یاسرقہیار شوت یا ہندہ نے زنا یا غنا کی اجرت یاکسی مسلمان نے خمروخنزیر کی قیمت میں حاصل کئے ہیںتو ان کا لینا اسے روانہیں نہ اپنے آتے میں نہ ویسے
فی الہندیۃ عن المحیط عن محمد فی کسب المغنیۃ ان قضی بہ دین لم یکن لصاحب الدین ان یأخذہ ۔ ہندیہ میں محیط اس میں امام محمد سے منقول ہے کہ مغنیہ عورت کی کمائی سے قرض کی ادائیگی کرنا چاہے تو قرضخواہ کو وہ لینا ناجائز ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قال فی النہایۃ قال بعض مشائخنا کسب المغنیۃ کالمغصوب لم یحل اخذہ ۔ نہایہ میں فرمایا کہ بعض مشائخ نے فرمایاکہ مغنیہ کی کمائی مغصوب چیز کی طرح ہے اس کا لینا جائز نہیں۔(ت)
درمختارمیں ہے:
جاز رزق القاضی من بیت المال لو بیت المال حلالا جمع بحق والالم یحل ۔ بیت المال سے قاضی کو وظیفہ جائز ہے بشرطیکہ بیت المال میں حلال مال کو حق کے طور پر جمع کیا گیا ہو ورنہ وہاں سے وظیفہ لینا جائز نہیں۔(ت)
تنویر الابصارمیں ہے:
جاز اخذ دین علی کافر من ثمن خمر بخلاف المسلم ۔ کافرسے قرض کی وصولی میں شراب فروشی سے حاصل شدہ رقم کولینا جائز ہےبرخلاف مسلمان کے(ت)
ورنہ فتوی مطلقا جواز پر ہےیعنی اگر چہ اس کے پاس اموال حرام ہونا یقینی ہومگریہ روپیہ کہ
فی الہندیۃ عن المحیط عن محمد فی کسب المغنیۃ ان قضی بہ دین لم یکن لصاحب الدین ان یأخذہ ۔ ہندیہ میں محیط اس میں امام محمد سے منقول ہے کہ مغنیہ عورت کی کمائی سے قرض کی ادائیگی کرنا چاہے تو قرضخواہ کو وہ لینا ناجائز ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قال فی النہایۃ قال بعض مشائخنا کسب المغنیۃ کالمغصوب لم یحل اخذہ ۔ نہایہ میں فرمایا کہ بعض مشائخ نے فرمایاکہ مغنیہ کی کمائی مغصوب چیز کی طرح ہے اس کا لینا جائز نہیں۔(ت)
درمختارمیں ہے:
جاز رزق القاضی من بیت المال لو بیت المال حلالا جمع بحق والالم یحل ۔ بیت المال سے قاضی کو وظیفہ جائز ہے بشرطیکہ بیت المال میں حلال مال کو حق کے طور پر جمع کیا گیا ہو ورنہ وہاں سے وظیفہ لینا جائز نہیں۔(ت)
تنویر الابصارمیں ہے:
جاز اخذ دین علی کافر من ثمن خمر بخلاف المسلم ۔ کافرسے قرض کی وصولی میں شراب فروشی سے حاصل شدہ رقم کولینا جائز ہےبرخلاف مسلمان کے(ت)
ورنہ فتوی مطلقا جواز پر ہےیعنی اگر چہ اس کے پاس اموال حرام ہونا یقینی ہومگریہ روپیہ کہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۹€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۴۷€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۶€
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۵€
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۴۷€
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۶€
درمختارشرح تنویر الابصار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴۵€
اس کرایہ میں دیتا ہے بعینہ اس کا حرام ہونا معلوم نہیں تو لینا جائزاگرچہ اس کا اکثرمال حرام ہی ہو۔
فی الہندیۃ عن الظہیریۃ عن الامام الفقیہ ابی اللیث قال بعضہم یجوز مالم یعلم انہ یعطیہ من حرام قال محمدو بہ نأخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی واصحابہ ۔ ہندیہ میں ظہیریہ کے حولے سے امام ابولیث سے منقول ہے کہ بعض نے فرمایا جب تك حرام سے ادائیگی کا علم نہیں ہے اس وقت تك لے سکتاہے امام محمد علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہمارا یہی مختارہے کہ جب تك بعینہ حرام ہونے کاعلم نہیں ہےیہی امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب رحمہم اﷲ تعالی کا قول ہے(ت)
خانیہ میں ہے:
ان لم یعلم الاخذ انہ من مال اومن مال غیرہ فہو حلال حتی یتبین انہ حرام ۔ اگرلینے والے کومعلوم نہیں کہ اس کا مال ہے یا غیر کا تو اس کو حلال ہے تاوقتیکہ حرام ہونا واضح نہ ہوجائے۔(ت)
مگرا س صورت میں یعنی بحالت غلبہ حرام تقوی احتراز ہے۔فان للاکثر حکم الکل بل منہم من نص عند ذلك علی عدم الجواز فالاسلم الاحتراز۔کیونکہ اکثرپر کل کاحکم ہوتا ہے بلکہ بعض نے نص فرمائی ہے کہ ایسی صورت میں ناجائز ہے تو پرہیز میں سلامتی ہے۔(ت)خصوصا مقتدی کے لئے حدیث:
ایاك ومایسوء الاذن عــــــہ ۔والحفظ دین العوام عن اقتحام الحرام۔ تو بدگمانی سے بچاور عوام کے دین کی حفاظت کے لئے حرام سے دور رہ۔(ت)
باقی ا س مسئلہ کے متعلق جلیل وتنقیح جمیل فتاوی فقیر سے کتاب الحظر والاباحۃ میں ہے فلینظر ثمہواﷲ سبحانہ و تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
عــــــہ: فی الاصل ھکذا لعل الصواب"الظن"۔
فی الہندیۃ عن الظہیریۃ عن الامام الفقیہ ابی اللیث قال بعضہم یجوز مالم یعلم انہ یعطیہ من حرام قال محمدو بہ نأخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی واصحابہ ۔ ہندیہ میں ظہیریہ کے حولے سے امام ابولیث سے منقول ہے کہ بعض نے فرمایا جب تك حرام سے ادائیگی کا علم نہیں ہے اس وقت تك لے سکتاہے امام محمد علیہ الرحمۃ نے فرمایا ہمارا یہی مختارہے کہ جب تك بعینہ حرام ہونے کاعلم نہیں ہےیہی امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب رحمہم اﷲ تعالی کا قول ہے(ت)
خانیہ میں ہے:
ان لم یعلم الاخذ انہ من مال اومن مال غیرہ فہو حلال حتی یتبین انہ حرام ۔ اگرلینے والے کومعلوم نہیں کہ اس کا مال ہے یا غیر کا تو اس کو حلال ہے تاوقتیکہ حرام ہونا واضح نہ ہوجائے۔(ت)
مگرا س صورت میں یعنی بحالت غلبہ حرام تقوی احتراز ہے۔فان للاکثر حکم الکل بل منہم من نص عند ذلك علی عدم الجواز فالاسلم الاحتراز۔کیونکہ اکثرپر کل کاحکم ہوتا ہے بلکہ بعض نے نص فرمائی ہے کہ ایسی صورت میں ناجائز ہے تو پرہیز میں سلامتی ہے۔(ت)خصوصا مقتدی کے لئے حدیث:
ایاك ومایسوء الاذن عــــــہ ۔والحفظ دین العوام عن اقتحام الحرام۔ تو بدگمانی سے بچاور عوام کے دین کی حفاظت کے لئے حرام سے دور رہ۔(ت)
باقی ا س مسئلہ کے متعلق جلیل وتنقیح جمیل فتاوی فقیر سے کتاب الحظر والاباحۃ میں ہے فلینظر ثمہواﷲ سبحانہ و تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
عــــــہ: فی الاصل ھکذا لعل الصواب"الظن"۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴€۲
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الحظروالاباحۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۷۸€
مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابی الغادیۃ رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۴ /۷۶€
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الحظروالاباحۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۷۸€
مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابی الغادیۃ رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۴ /۷۶€
مسئلہ ۱۵۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے"دعوی وراثت"میں قابضان متروکہ سے واصلات اپنے حصہ کی مانگیاس میں عذر تمادی کا از جانب مدعاعلیہم پیش ہوافقط تین برس کے دینا چاہتا ہےبموجب قانون کے چونکہ شرع میں تمادی نہیں ہےلہذا اس نے اپنے حصہ جائز سے محروم ہونے کے سبب یہ کہا کہ مجھ کو سود دواور یہ سمجھاکہ سود کے حیلہ سے بھی میری اصل رقم کا کوئی جز ہی مل جائےاس صورت میں یہ لینا جائز ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب:
اگر اس شریك نے جس نے واصلات نہ پائیشریك قابض کو اپنے حصہ کی تحصیل کاوکیل و مجاز کیا تھاتو جو توفیر حاصل ہوا کی اس سب میں اس کا بھی حصہ تھااور تمادی کوئی شیئ نہیںاگر ایسے نہیں لے سکتا جس نام سے ملے وصول کرسکتاہےاور اگر اس نے وکیل نہ کیا تھا بلکہ وہ بطور خود غصبا اس کے حصہ پر قابض رہا اور زمین اٹھاتا محصول لیتا رہا تو اسے حکم دیا جائے گا کہ اس کے حصہ کا روپیہ اسے دے یا تصدق کردے اور افضل وہی ہے کہ اسے دے مگر اس کو دعوی نہیں پہنچتا نہ یہ اس کا مالك ہوا بلکہ وہی غاصب بملك خبیث مالك ہے تو اسے اس سے بحیلہ ناجائزہ لینے کی اجازت نہیں ہوسکتی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۵: ۴ رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جب آسامیاں دیہہ سے لگتہ اراضی مفوضہ آسامیاں مقرر ہےتو سوالگتہ مقررہ کے اوگاہی بھوسہ ومورکین ورس وغیرہ کالینا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
ناجائز ہے کہ اجرت مقررہ سے زیادہ لینے کا کیا استحقاق ہے ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے دیتے تو جائز تھا اگر خوشی معلوم بلکہ صریح جبر ہوتا ہے اور اگر اس کی طرف سے جبر نہ بھی ہوا مگر انھوں نے اسے زمینداری یا ٹھیکداری کے دباؤ سے دیاتو بھی ناجائزومثل رشوت ہے۔
فی ردالمحتار(بعد نقل عبارۃ الفتح تعلیل النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دلیل علی تحریم الہدیۃ التی سببہا الولایۃ ذکر ما نصہ ردالمحتارمیں فتح کی عبارت نقل کرنے کے بعد فرمایاحضو رعلیہ الصلوۃ والسلام کا علت کو بیان کرنا ایسے ہدیہ کے حرام ہونے کی دلیل ہے جو ولایت کی وجہ سے حاصل ہو۔انکی ذکر کردہ
الجواب:
اگر اس شریك نے جس نے واصلات نہ پائیشریك قابض کو اپنے حصہ کی تحصیل کاوکیل و مجاز کیا تھاتو جو توفیر حاصل ہوا کی اس سب میں اس کا بھی حصہ تھااور تمادی کوئی شیئ نہیںاگر ایسے نہیں لے سکتا جس نام سے ملے وصول کرسکتاہےاور اگر اس نے وکیل نہ کیا تھا بلکہ وہ بطور خود غصبا اس کے حصہ پر قابض رہا اور زمین اٹھاتا محصول لیتا رہا تو اسے حکم دیا جائے گا کہ اس کے حصہ کا روپیہ اسے دے یا تصدق کردے اور افضل وہی ہے کہ اسے دے مگر اس کو دعوی نہیں پہنچتا نہ یہ اس کا مالك ہوا بلکہ وہی غاصب بملك خبیث مالك ہے تو اسے اس سے بحیلہ ناجائزہ لینے کی اجازت نہیں ہوسکتی۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۵: ۴ رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جب آسامیاں دیہہ سے لگتہ اراضی مفوضہ آسامیاں مقرر ہےتو سوالگتہ مقررہ کے اوگاہی بھوسہ ومورکین ورس وغیرہ کالینا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
ناجائز ہے کہ اجرت مقررہ سے زیادہ لینے کا کیا استحقاق ہے ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے دیتے تو جائز تھا اگر خوشی معلوم بلکہ صریح جبر ہوتا ہے اور اگر اس کی طرف سے جبر نہ بھی ہوا مگر انھوں نے اسے زمینداری یا ٹھیکداری کے دباؤ سے دیاتو بھی ناجائزومثل رشوت ہے۔
فی ردالمحتار(بعد نقل عبارۃ الفتح تعلیل النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم دلیل علی تحریم الہدیۃ التی سببہا الولایۃ ذکر ما نصہ ردالمحتارمیں فتح کی عبارت نقل کرنے کے بعد فرمایاحضو رعلیہ الصلوۃ والسلام کا علت کو بیان کرنا ایسے ہدیہ کے حرام ہونے کی دلیل ہے جو ولایت کی وجہ سے حاصل ہو۔انکی ذکر کردہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب القضاء داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۳۱۰€
قلت ومثلہم مشائخ القری والحرف وغیرھم ممن لہ قہر وتسلط علی من دونہم فانہ یھدی الیہم خوفا من شرھم اولیروج عندھم الخ واﷲ تعالی اعلم۔ عبارت یوں ہے میں کہتاہوں ان کی مثل دیہاتوں اور اہل حرفت وغیرہم کے چودھریوں کی ہے جن کو اپنے ماتحتوں پر تسلط اورغلبہ ہوتاہے کیونکہ ان چودھریوں کے شرکے خوف یارواج کی وجہ سے ان کو ہدیے ملتے ہیں الخ(ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۶: ۴ جمادی الآخرہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے پاس ایك عورت مطلقہ غیرہے جس کی ابھی عدت نہ گزریوہ بعد عدت اس سے نکاح چاہتاہے مگر خوف ہے کہ شاہد قبل عدت معصیت واقع ہوزید عمرو سے مکان کرایہ پر مانگتا ہےاس صورت میں عمرو کو جائز ہے یانہیں کہ زید کو اپنا مکان کرایہ پر دے بینوا توجروا
الجواب:
جائز ہے اگر چہ معصیت کا خوف نہیں بلکہ صراحۃ معصیت کرتاہےیہ اپنی جائز نیت سے کرایہ پر دےاس کی معصیت کا وبال اس پر ہے عمرو پر کوئی مواخذہ نہیں
لتخلل فعل فاعل مختارقال اﷲ تعالی " ولا تزر وازرۃ وزر اخری " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ فاعل مختار کا فعل درمیان میں آنے کی وجہ سےاﷲ تعالی نے فرمایا:کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گیواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۵۷: مسئولہ مولوی حافظ امیر اﷲ صاحب ۲۵ ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
" فان تنزعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول ان کنتم تؤمنون باللہ" ۔الآیۃ اگر تم کسی امر میں تنازع کرو تو اس کو اﷲ تعالی اور اس کے رسول(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کی طرف پھیرو اگر تم اﷲ پر ایمان رکھتے ہو۔الآیۃ(ت)
مسئلہ ۱۵۶: ۴ جمادی الآخرہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے پاس ایك عورت مطلقہ غیرہے جس کی ابھی عدت نہ گزریوہ بعد عدت اس سے نکاح چاہتاہے مگر خوف ہے کہ شاہد قبل عدت معصیت واقع ہوزید عمرو سے مکان کرایہ پر مانگتا ہےاس صورت میں عمرو کو جائز ہے یانہیں کہ زید کو اپنا مکان کرایہ پر دے بینوا توجروا
الجواب:
جائز ہے اگر چہ معصیت کا خوف نہیں بلکہ صراحۃ معصیت کرتاہےیہ اپنی جائز نیت سے کرایہ پر دےاس کی معصیت کا وبال اس پر ہے عمرو پر کوئی مواخذہ نہیں
لتخلل فعل فاعل مختارقال اﷲ تعالی " ولا تزر وازرۃ وزر اخری " ۔واﷲ تعالی اعلم۔ فاعل مختار کا فعل درمیان میں آنے کی وجہ سےاﷲ تعالی نے فرمایا:کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گیواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۵۷: مسئولہ مولوی حافظ امیر اﷲ صاحب ۲۵ ذیقعدہ ۱۳۱۲ھ
" فان تنزعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول ان کنتم تؤمنون باللہ" ۔الآیۃ اگر تم کسی امر میں تنازع کرو تو اس کو اﷲ تعالی اور اس کے رسول(صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم)کی طرف پھیرو اگر تم اﷲ پر ایمان رکھتے ہو۔الآیۃ(ت)
حوالہ / References
جدالممتار
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۶۴€
القرآن الکریم ∞۴ /۵۹€
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۶۴€
القرآن الکریم ∞۴ /۵۹€
کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت السہلہ الغراء ومفتیان ملت السمحۃ البیضاء کہ دومسلمانوں میں اجارہ تدریس فنون عربی بمشاہرہ(مہ عہ/)ایك اور(صہ/)دوسرے کی طرف سے بلاذکر ماہ قمری شرعی وشمسی انگریزی وغیرہ ہوادرصورت اختلاف مستاجرواجیر تعیین قرآنی یا تعیین انسانی عرفی یا عرف مدرسین عربی کی تعیین معتبر ہوگی اور جو اجیر تفسیر مدارك التنزیل شریف اور بیضاوی شریف اور صحیح بخاری شریف پڑھائے اس کی تعظیم او رکوئی ادب مستاجر متعلم پر شرعا عقلا عرفاہے یانہیں اور استاذین وشیوخ آباء معنوی ہیںاس کاکہاں تك شریعت مطہرہ میں اثر ہے بینوا توجروا
الجواب:
کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت السہلہ الغراء ومفتیان ملت السمحۃ البیضاء کہ دومسلمانوں میں اجارہ تدریس فنون عربی بمشاہرہ(مہ عہ/)ایك اور (صہ/) دوسرے کی طرف سے بلاذکر ماہ قمری شرعی وشمسی انگریزی وغیرہ ہوادرصورت اختلاف مستاجرواجیر تعیین قرآنی یا تعیین انسانی عرفی یا عرف مدرسین عربی کی تعیین معتبر ہوگی اور جو اجیر تفسیر مدارك التنزیل شریف اور بیضاوی شریف اور صحیح بخاری شریف پڑھائے اس کی تعظیم او رکوئی ادب مستاجر متعلم پر شرعا عقلا عرفاہے یانہیں اور استاذین وشیوخ آباء معنوی ہیںاس کاکہاں تك شریعت مطہرہ میں اثر ہے بینوا توجروا
الجواب:
قال اﷲ تعالی عزوجل " یسـلونک عن الاہلۃ قل ہی موقیت للناس والحج"۔ اے نبی! یہ تجھ سے پوچھتے ہیں نئے چاندوں کاحالتو فرمادو وقت ٹھہرائے ہیں لوگوں کے لئے اور حج کے واسطے۔
آیہ کریمہ شاہد ہے کہ اہل اسلام کے نہ صرف عبادات بلکہ معاملات میں بھی یہی قمری مہینے معتبر ہیں۔مدارك شریف میں ہے:
مواقیت الناس والحج ای معالم یوقت بہا الناس مزار عہم ومتاجرھم ومحال دیونہم وصومہم وفطرہم و عدۃ نسأھم و ایام حیضہن ومدۃ حملہن وغیر ذلك و معالم للحج یعرف بہا وقتہ ۔ مواقیت للناس والحج یعنی علامات جن سے لوگ اپنی مزارعت اجارہقرض اور دیون کی ادائیگیروزہ افطارعورتوں کی عدت حیض کے ایام اور حمل کی مدت وغیرہ کا وقت معلوم کریں گے اور حج کی علامت جن سے لوگ اس کا وقت پہچان سکیں گے۔(ت)
عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی حاشیہ خفاجی علی البیضاوی میں ہے:
اجیبوا ببیان الغرض من ھذا الاختلاف من بیان مواقیت العبادات والمعاملات ۔ صحابہ کو چاند کے بڑھنے اور گھٹنے کی غر ض سے جواب بیان فرمایا کہ عبادات اور معاملات مقرر اوقات کا بیان ہے۔(ت)
الجواب:
کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت السہلہ الغراء ومفتیان ملت السمحۃ البیضاء کہ دومسلمانوں میں اجارہ تدریس فنون عربی بمشاہرہ(مہ عہ/)ایك اور (صہ/) دوسرے کی طرف سے بلاذکر ماہ قمری شرعی وشمسی انگریزی وغیرہ ہوادرصورت اختلاف مستاجرواجیر تعیین قرآنی یا تعیین انسانی عرفی یا عرف مدرسین عربی کی تعیین معتبر ہوگی اور جو اجیر تفسیر مدارك التنزیل شریف اور بیضاوی شریف اور صحیح بخاری شریف پڑھائے اس کی تعظیم او رکوئی ادب مستاجر متعلم پر شرعا عقلا عرفاہے یانہیں اور استاذین وشیوخ آباء معنوی ہیںاس کاکہاں تك شریعت مطہرہ میں اثر ہے بینوا توجروا
الجواب:
قال اﷲ تعالی عزوجل " یسـلونک عن الاہلۃ قل ہی موقیت للناس والحج"۔ اے نبی! یہ تجھ سے پوچھتے ہیں نئے چاندوں کاحالتو فرمادو وقت ٹھہرائے ہیں لوگوں کے لئے اور حج کے واسطے۔
آیہ کریمہ شاہد ہے کہ اہل اسلام کے نہ صرف عبادات بلکہ معاملات میں بھی یہی قمری مہینے معتبر ہیں۔مدارك شریف میں ہے:
مواقیت الناس والحج ای معالم یوقت بہا الناس مزار عہم ومتاجرھم ومحال دیونہم وصومہم وفطرہم و عدۃ نسأھم و ایام حیضہن ومدۃ حملہن وغیر ذلك و معالم للحج یعرف بہا وقتہ ۔ مواقیت للناس والحج یعنی علامات جن سے لوگ اپنی مزارعت اجارہقرض اور دیون کی ادائیگیروزہ افطارعورتوں کی عدت حیض کے ایام اور حمل کی مدت وغیرہ کا وقت معلوم کریں گے اور حج کی علامت جن سے لوگ اس کا وقت پہچان سکیں گے۔(ت)
عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی حاشیہ خفاجی علی البیضاوی میں ہے:
اجیبوا ببیان الغرض من ھذا الاختلاف من بیان مواقیت العبادات والمعاملات ۔ صحابہ کو چاند کے بڑھنے اور گھٹنے کی غر ض سے جواب بیان فرمایا کہ عبادات اور معاملات مقرر اوقات کا بیان ہے۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲ /۱۸۹€
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی) آیت قل ھی مواقیت للناس الخ دارالکتب العربی بیروت ∞۱ /۹۷€
عنایۃ القاضی حاشیۃ الشہاب علی تفسیر البیضاوی آیت قل ھی مواقیت للناس الخ دارصادر بیروت ∞۲ /۲۸۴€
مدارك التنزیل(تفسیر النسفی) آیت قل ھی مواقیت للناس الخ دارالکتب العربی بیروت ∞۱ /۹۷€
عنایۃ القاضی حاشیۃ الشہاب علی تفسیر البیضاوی آیت قل ھی مواقیت للناس الخ دارصادر بیروت ∞۲ /۲۸۴€
وقال تبارك وتعالی" ان عدۃ الشہور عند اللہ اثنا عشر شہرا فی کتب اللہ یوم خلق السموت والارض منہا اربعۃ حرم" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:بیشك گنتی مہینوں کے اﷲ کے نزدیك بارہ مہینے ہیںکتاب اﷲ میں جس دن سے اس نے بنائے آسمان اور زمین اس میں سے چار ماہ حرام ہیں(ذوالقعدہ ذوالحجہ محرمرجب)۔
یہ آیت ارشاد فرماتی ہے کہ اﷲ عزوجل کے نزدیك یہی بارہ مہینے قمری ہلال عربی معتبر ہیں کہ چار ماہ حرام انھیں مہینوں میں ہیں۔تو اہل اسلام کو انھیں کا اعتبار چاہئےشرع مطہرہ کے سب احکام عبادات و معاملات انھیں پر مبنی ہیں معالم میں ہے:
المرادمنہ الشہور الہلالیۃ وھی الشہور التی یعتد بھا المسلمون فی صیامھم وحجہم واعیادھم وسائر امورھم ۔ اس سے مراد قمری مہینے ہیں اور ان مہینوں کے ذریعہ مسلمان اپنے روزوںحجعیدوں اور تمام امور کا حساب لگاتے ہیں۔ (ت)
نسفی میں ہے:
المراد بیان ان احکام الشرع تبتنی علی الشہور القمریۃ المحسوبۃ بالاھلۃ دون الشمسیۃ ۔ مراد یہ ہے کہ شرعی احکام قمری مہینوں پر مبنی ہیں جو چاندکے حساب سے ہوتے ہیں شمسی مہینوں پرنہیں۔(ت)
ولہذا بحمداﷲ اب تك عامہ مسلمین اپنے عامہ امور میں انھیں شہود کو جانتے۔انھیں پر مدار کار رکھتے ہیں کہ ان کے رب کے نزدیك مہینے یہی ہیں بلکہ حقیقۃ مہینہ کا لفظ انھیں پر صادق مہینہ منسوب بماہ ہےشہر شمسی مہینہ نہیںمہر ینہ ہےبلکہ تفسیر میں زیر کریمہ انما النسئ ہے:
اﷲ تعالی امرہم من وقت ابراہیم و اسمعیل علیہما الصلوۃ والسلام بناء الامر علی رعایۃ السنۃ القمریۃ اﷲ تعالی نے حضرت ابراہیم اور اسمعیل علیہم الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں قمری سال پر اپنے امور کی بناء کاحکم دیا تو انھوں نے قمری سال کی رعایت
یہ آیت ارشاد فرماتی ہے کہ اﷲ عزوجل کے نزدیك یہی بارہ مہینے قمری ہلال عربی معتبر ہیں کہ چار ماہ حرام انھیں مہینوں میں ہیں۔تو اہل اسلام کو انھیں کا اعتبار چاہئےشرع مطہرہ کے سب احکام عبادات و معاملات انھیں پر مبنی ہیں معالم میں ہے:
المرادمنہ الشہور الہلالیۃ وھی الشہور التی یعتد بھا المسلمون فی صیامھم وحجہم واعیادھم وسائر امورھم ۔ اس سے مراد قمری مہینے ہیں اور ان مہینوں کے ذریعہ مسلمان اپنے روزوںحجعیدوں اور تمام امور کا حساب لگاتے ہیں۔ (ت)
نسفی میں ہے:
المراد بیان ان احکام الشرع تبتنی علی الشہور القمریۃ المحسوبۃ بالاھلۃ دون الشمسیۃ ۔ مراد یہ ہے کہ شرعی احکام قمری مہینوں پر مبنی ہیں جو چاندکے حساب سے ہوتے ہیں شمسی مہینوں پرنہیں۔(ت)
ولہذا بحمداﷲ اب تك عامہ مسلمین اپنے عامہ امور میں انھیں شہود کو جانتے۔انھیں پر مدار کار رکھتے ہیں کہ ان کے رب کے نزدیك مہینے یہی ہیں بلکہ حقیقۃ مہینہ کا لفظ انھیں پر صادق مہینہ منسوب بماہ ہےشہر شمسی مہینہ نہیںمہر ینہ ہےبلکہ تفسیر میں زیر کریمہ انما النسئ ہے:
اﷲ تعالی امرہم من وقت ابراہیم و اسمعیل علیہما الصلوۃ والسلام بناء الامر علی رعایۃ السنۃ القمریۃ اﷲ تعالی نے حضرت ابراہیم اور اسمعیل علیہم الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں قمری سال پر اپنے امور کی بناء کاحکم دیا تو انھوں نے قمری سال کی رعایت
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۹ /۳۶€
معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن تحت آیۃ ان عدۃ الشہور الخ مصطفی البابی ∞مصر۳ /۸۹€
مدارك التزیل(تفسیر النسفی) تحت آیۃ ان عدۃ الشہور الخ دارالکتب العربی بیروت ∞۲ /۱۲۵€
معالم التنزیل علی ہامش تفسیر الخازن تحت آیۃ ان عدۃ الشہور الخ مصطفی البابی ∞مصر۳ /۸۹€
مدارك التزیل(تفسیر النسفی) تحت آیۃ ان عدۃ الشہور الخ دارالکتب العربی بیروت ∞۲ /۱۲۵€
فہم ترکوا امراﷲ تعالی فی رعایۃ السنۃ القمریۃ واعتبروا السنۃ الشمسیۃ رعایۃ لمصالح الدنیا ۔ کے حکم باری تعالی کو ترك کرکے اپنے مصالح کی بناء شمسی سال پر کرلی(ت)
بلکہ اسی میں ہے:
قال اہل العلم الواجب علی المسلمین بحکم ھذہ الایۃ ان یعتبروا فی بیوعہم ومد دیونہم واحوال زکاتہم وسائر احکامہم السنۃ العربیۃ بالاھلۃ ولا یجوز لھم اعتبار السنۃ العجمیۃ والرومیۃ اھاقول: فمن خلاف عندنا فی تأجیل العتین ھل ھو بالسنۃ القمر یۃ ھو المذھبخزانۃ وغیرھا وھو الصحیح ہدایۃ وغیرہا وعلیہ اکثر اصحابنا ایضاح الکرمانی اوبالسنۃ الشمسیۃ وھی روایۃ الحسن عن امامنا الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہوروایۃ ابن سماعۃ عن الامام محمدواختارہ شمس الائمۃ السرخسی و الامام فقیہ النفس قاضیخاں والامام ظہیر الدین المرغینانی فتحوقیل وبہ اہل علم نے فرمایا اس آیہ کریمہ کے حکم پر مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے کاروبار اور لین دینزکوۃ اور تمام احکام میں عربی قمری سال کااعتبار کریں اور ان کو عجمی اور رومی شمسی سال کا اعتبار جائز نہیں ہے اھمیں کہتا ہوں ہمارے ہاں نامرد شخص مہلت دینے کے مسئلہ میں اختلاف ہےخزانۃ وغیرہ میں ہے کہ قمری سال ہی مذہب ہےہدایہ وغیرہ میں فرمایا یہی صحیح ہےاورنیز فرمایا ہمارے اکثر اصحاب اس پر ہیںکرمانی کی ایضاح میںیا شمسی سال فرمایا یہ امام حسن رحمہ اﷲ تعالی علیہ کی امام صاحب رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے اورامام محمد علیہ الرحمۃ سے بھی ابن سماعۃ کی یہ روایت ہےاور شمس الائمہ امام سرخسیامام فقیہ النفس قاضیخاں اور امام ظہیر الدین مرغینانی نے اسے اختیار کیاہے۔ فتحاورا سی پر فتوی
بلکہ اسی میں ہے:
قال اہل العلم الواجب علی المسلمین بحکم ھذہ الایۃ ان یعتبروا فی بیوعہم ومد دیونہم واحوال زکاتہم وسائر احکامہم السنۃ العربیۃ بالاھلۃ ولا یجوز لھم اعتبار السنۃ العجمیۃ والرومیۃ اھاقول: فمن خلاف عندنا فی تأجیل العتین ھل ھو بالسنۃ القمر یۃ ھو المذھبخزانۃ وغیرھا وھو الصحیح ہدایۃ وغیرہا وعلیہ اکثر اصحابنا ایضاح الکرمانی اوبالسنۃ الشمسیۃ وھی روایۃ الحسن عن امامنا الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہوروایۃ ابن سماعۃ عن الامام محمدواختارہ شمس الائمۃ السرخسی و الامام فقیہ النفس قاضیخاں والامام ظہیر الدین المرغینانی فتحوقیل وبہ اہل علم نے فرمایا اس آیہ کریمہ کے حکم پر مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے کاروبار اور لین دینزکوۃ اور تمام احکام میں عربی قمری سال کااعتبار کریں اور ان کو عجمی اور رومی شمسی سال کا اعتبار جائز نہیں ہے اھمیں کہتا ہوں ہمارے ہاں نامرد شخص مہلت دینے کے مسئلہ میں اختلاف ہےخزانۃ وغیرہ میں ہے کہ قمری سال ہی مذہب ہےہدایہ وغیرہ میں فرمایا یہی صحیح ہےاورنیز فرمایا ہمارے اکثر اصحاب اس پر ہیںکرمانی کی ایضاح میںیا شمسی سال فرمایا یہ امام حسن رحمہ اﷲ تعالی علیہ کی امام صاحب رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے اورامام محمد علیہ الرحمۃ سے بھی ابن سماعۃ کی یہ روایت ہےاور شمس الائمہ امام سرخسیامام فقیہ النفس قاضیخاں اور امام ظہیر الدین مرغینانی نے اسے اختیار کیاہے۔ فتحاورا سی پر فتوی
حوالہ / References
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ انما النسئی زیادۃ الخ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ ∞مصر ۱۶ /۵۶€
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ ان عدۃ الشہور الخ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ ∞مصر ۱۶ /۵۳€
جامع الرموز بحوالہ الہدایۃ کتاب الطلاق فصل العنین ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۲ /۵۷۴€
جامع الرموز بحوالہ الہدایۃ بحوالہ کرمانی کتاب الطلاق فصل العنین ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۲ /۵۷۴€
جامع الرموز بحوالہ الہدایۃ بحوالہ کرمانی کتاب الطلاق فصل العنین ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۲ /۵۷۴،€فتح القدیر کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۱۳۲€
مفاتیح الغیب(التفسیر الکبیر) تحت آیۃ ان عدۃ الشہور الخ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ ∞مصر ۱۶ /۵۳€
جامع الرموز بحوالہ الہدایۃ کتاب الطلاق فصل العنین ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۲ /۵۷۴€
جامع الرموز بحوالہ الہدایۃ بحوالہ کرمانی کتاب الطلاق فصل العنین ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۲ /۵۷۴€
جامع الرموز بحوالہ الہدایۃ بحوالہ کرمانی کتاب الطلاق فصل العنین ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۲ /۵۷۴،€فتح القدیر کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۱۳۲€
یفتیدرمختار وعلیہ اکثر المشائخمحیطوعلیہ الفتویخلاصۃ اھ من ردالمحتار وجامع الرموز نعم عدم الجواز فی العبادات والعدد الشرعی مقطوع بہ مجمع علیہواﷲ تعالی اعلم۔ ہے۔درمختاراور اسی پر اکثر مشائخ ہیںمحیطاسی پر فتوی ہے خلاصہیہ ردالمحتار اور جامع الرموز سے منقول ہےہاں عبادات اورشرعی اعداد قمری سال ہی متفق علیہ ہےواﷲ تعالی علم۔ (ت)
بالجملہ اجارات وغیرہا معاملات میں مدار تعارف پرہےاور مسلمین میں متعارف یہی مہینے تو عندالاطلاق انھیں کی طرف انصرافردالمحتار وفتح القدیرمیں ہے:
اھل الشرع انما یتعارفون الاشہر السنین بالاھلۃ فاذا اطلقواالسنۃ انصرف الی ذلك مالم یصرحوا بخلافہ ۔ اہل شرع نے قمری مہینے اور سال اپنا عرف قراردیاہے۔تو جب وہ مطلق سال ذکر کرتے ہیں غیر کی تصریح نہ کریں تو قمری مراد ہوتاہے(ت)
اگر بعض مسلمانان باتباع نصاری شہورشمسیہ پر حساب رکھنے لگیں تو اس کااعتبار نہیں کہ معتبر عرف عام وشائع ہےنہ قرار داد خاص بعض ناس اشباہ والنظائر میں ہے:
انما تعتبر العادۃ اذا اطردت اوغلبتولذا قالوا فی البیع لو باع بدراہم ودنانیر وکانا فی بلد اختلف فیہ النقود مع الاختلاف فی المالیۃ والرواج انصرف البیع الی الاغلب قال فی الہدایۃ عادت جب عام اور غالب ہوجائے تو وہی معتبر ہوتی ہے اور اسی وجہ سے وہ بیع کے باب میں فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے مطلق دراہم یادنانیر کو بیع میں ذکرکیا تو شہر میں مالیت اور رواج کے لحاظ سے نقود کا اختلاف ہو تو وہاں غالب نقد پر بیع مانی جائے گیہدایہ میں فرمایاکیونکہ وہ
بالجملہ اجارات وغیرہا معاملات میں مدار تعارف پرہےاور مسلمین میں متعارف یہی مہینے تو عندالاطلاق انھیں کی طرف انصرافردالمحتار وفتح القدیرمیں ہے:
اھل الشرع انما یتعارفون الاشہر السنین بالاھلۃ فاذا اطلقواالسنۃ انصرف الی ذلك مالم یصرحوا بخلافہ ۔ اہل شرع نے قمری مہینے اور سال اپنا عرف قراردیاہے۔تو جب وہ مطلق سال ذکر کرتے ہیں غیر کی تصریح نہ کریں تو قمری مراد ہوتاہے(ت)
اگر بعض مسلمانان باتباع نصاری شہورشمسیہ پر حساب رکھنے لگیں تو اس کااعتبار نہیں کہ معتبر عرف عام وشائع ہےنہ قرار داد خاص بعض ناس اشباہ والنظائر میں ہے:
انما تعتبر العادۃ اذا اطردت اوغلبتولذا قالوا فی البیع لو باع بدراہم ودنانیر وکانا فی بلد اختلف فیہ النقود مع الاختلاف فی المالیۃ والرواج انصرف البیع الی الاغلب قال فی الہدایۃ عادت جب عام اور غالب ہوجائے تو وہی معتبر ہوتی ہے اور اسی وجہ سے وہ بیع کے باب میں فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے مطلق دراہم یادنانیر کو بیع میں ذکرکیا تو شہر میں مالیت اور رواج کے لحاظ سے نقود کا اختلاف ہو تو وہاں غالب نقد پر بیع مانی جائے گیہدایہ میں فرمایاکیونکہ وہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۵۳€
ردالمحتار کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۹۵،€جامع الرموز کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قامو س ایران ۲ /۵۷۴€
فتح القدیر کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۱۳۲،€ردالمحتار کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۹۵€
ردالمحتار کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۹۵،€جامع الرموز کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ ∞مکتبہ اسلامیہ گنبد قامو س ایران ۲ /۵۷۴€
فتح القدیر کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۴ /۱۳۲،€ردالمحتار کتاب الطلاق باب العنین وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲ /۵۹۵€
لانہ ھوالمتعارففینصرف المطلق الیہ ۔ متعارف ہے تو مطلق اس کی طرف ہی راجع ہوگا۔(ت)
اور بالفرض مان بھی لیا جائے کہ یہاں کے مسلمان میں شہود شمسیہ بھی بکثرت رواج پاگئے تاہم اس میں کلام نہیں کہ مدرسان علوم عربیہ دینیہ کا تقرر عام طور پر انھیں شہور الہیہ ہلالیہ پر متعارف ہے کہ وہ خاص دینی کام ہےاور عام مسلمین پر بحمداﷲ ہنوز اتباع نصاری ایسا غالب نہ ہوا کہ اپنے دینی امورمیں بھی ان کی تقلید کریںتو اس تقرر میں قطعا شہور ربانیہ ہی معتبر ہوں گے نہ کہ شہورنصرانیہکما لایخفی علی اولی النہی(جیسا کہ عقلمندوں پر مخفی نہیں ہے۔ت)تعلیم علوم دینیہ پر اجرت لینی صد ہاسال سے بمذہب مفتی بہ علماء نے نظر بفساد زمانہ حلال فرمائی یہ تحلیل اس لئے تھی کہ اہل علم ناشران علم دین کی خدمت ہوتی رہےوہ تلاش معاش میں پریشان ہو کر اس وراثت انبیاء کی اشاعت سے مجبور نہ رہیںنہ اس لئے کہ معاذاﷲ استاذ علم دین کی تعظیم وتوقیر نہ کی جائے۔اساتذہ وشیوخ علم شرعیہ بلاشبہ آبائے معنوی وآبائے روح ہیں جن کی حرمت وعظمت آبائے جسم سے زائد ہے کہ وہ پدر آب وگل ہے اور یہ پدر جان ودلعلامہ مناوی تیسیر جامع صغیر میں فرماتے ہیں:
من علم الناس ذاك خیراب ذا ابوالروح لاابوالنطف
یعنی استاد کا مرتبہ باپ سے زیادہ ہے کہ وہ روح کا باپ ہےنہ نطفہ کا
علامہ حسن شرنبلالی"غنیہ ذوی الارحام"حاشیہ"درر وغرر"میں فرماتے ہیں:
الوالد ھو والد التربیۃ فرتبتہ فائقۃ رتبۃ والد التبنیۃ ۔ یعنی اعلی درجہ کا باپ استاد مربی ہے۔اس کا مرتبہ پدر نسب کے مرتبہ سے زائد ہے۔
عین العلم شریف میں ہے:
یبرالوالدین فالعقوق من الکبائرویقدم حق المعلم علی ماں باپ کے ساتھ نیك برتاؤ کرے کہ انھیں ناراض کرنا گناہ کبیرہ ہے اوراستاد کے حق کو
اور بالفرض مان بھی لیا جائے کہ یہاں کے مسلمان میں شہود شمسیہ بھی بکثرت رواج پاگئے تاہم اس میں کلام نہیں کہ مدرسان علوم عربیہ دینیہ کا تقرر عام طور پر انھیں شہور الہیہ ہلالیہ پر متعارف ہے کہ وہ خاص دینی کام ہےاور عام مسلمین پر بحمداﷲ ہنوز اتباع نصاری ایسا غالب نہ ہوا کہ اپنے دینی امورمیں بھی ان کی تقلید کریںتو اس تقرر میں قطعا شہور ربانیہ ہی معتبر ہوں گے نہ کہ شہورنصرانیہکما لایخفی علی اولی النہی(جیسا کہ عقلمندوں پر مخفی نہیں ہے۔ت)تعلیم علوم دینیہ پر اجرت لینی صد ہاسال سے بمذہب مفتی بہ علماء نے نظر بفساد زمانہ حلال فرمائی یہ تحلیل اس لئے تھی کہ اہل علم ناشران علم دین کی خدمت ہوتی رہےوہ تلاش معاش میں پریشان ہو کر اس وراثت انبیاء کی اشاعت سے مجبور نہ رہیںنہ اس لئے کہ معاذاﷲ استاذ علم دین کی تعظیم وتوقیر نہ کی جائے۔اساتذہ وشیوخ علم شرعیہ بلاشبہ آبائے معنوی وآبائے روح ہیں جن کی حرمت وعظمت آبائے جسم سے زائد ہے کہ وہ پدر آب وگل ہے اور یہ پدر جان ودلعلامہ مناوی تیسیر جامع صغیر میں فرماتے ہیں:
من علم الناس ذاك خیراب ذا ابوالروح لاابوالنطف
یعنی استاد کا مرتبہ باپ سے زیادہ ہے کہ وہ روح کا باپ ہےنہ نطفہ کا
علامہ حسن شرنبلالی"غنیہ ذوی الارحام"حاشیہ"درر وغرر"میں فرماتے ہیں:
الوالد ھو والد التربیۃ فرتبتہ فائقۃ رتبۃ والد التبنیۃ ۔ یعنی اعلی درجہ کا باپ استاد مربی ہے۔اس کا مرتبہ پدر نسب کے مرتبہ سے زائد ہے۔
عین العلم شریف میں ہے:
یبرالوالدین فالعقوق من الکبائرویقدم حق المعلم علی ماں باپ کے ساتھ نیك برتاؤ کرے کہ انھیں ناراض کرنا گناہ کبیرہ ہے اوراستاد کے حق کو
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱ /۱۲۸€
التیسیر شرح جامع الصغیر تحت حدیث انما انا لکم بمنزلۃ الوالد الخ مکتبۃ الامام الشافعی ∞ریاض ۱ /۳۶۱€
غنیہ ذوی الاحکام حاشیۃ علی الدررالحکام
التیسیر شرح جامع الصغیر تحت حدیث انما انا لکم بمنزلۃ الوالد الخ مکتبۃ الامام الشافعی ∞ریاض ۱ /۳۶۱€
غنیہ ذوی الاحکام حاشیۃ علی الدررالحکام
حقہما فہو سبب حیاۃ الروح ۔ ماں باپ کے حق پر مقدم رکھے کہ وہ زندگی روح کا سبب ہے۔
امام شعبہ فرماتے ہیں:
ماکتبت عن احدحدیثا الاوکنت لہ عبدا ماحیی ۔ میں نے جس کسی سے ایك حدیث بھی لکھی میں عمر بھر ا س کاغلام ہوں۔
فتاوی بزازیہ وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
حق العالم علی الجاہل وحق الاستاذ علی التلمیذ و احد علی السواء وھو ان لایفتتح بالکلام قبلہ ولا یجلس مکانہ وان غاب ولا یرد علی کلامہ ولایتقدم علیہ فی مشیہ ۔ عالم کا جاہل پر اور استاد کا شاگرد پر برابر یکساں حق ہے کہ اس سے پہلے بات نہ کرےوہ موجود نہ ہو جب بھی اس کی جگہ پر نہ بیٹھے اس کی کوئی بات نہ الٹےنہ اس سے آگے چلے وباﷲ التوفیقواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۸: ۲۶ رجب ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کے کارندہ نے عمرو سے وعدہ کیا کہ جائداد آپ کی زید سے بکوادوں گا مگر مجھے محنتانہ دیجئے گااس نے اقرر کیااور زید کو بھی اس کا حال معلوم ہےکارندہ مذکور نے اس کی بیع میں بہت کوشش کی چنانچہ بیع تام ہوگئیاور مشتری کو دھوکا بھی کچھ نہ دیایہ اجرت جائز ہے یا ناجائز ہے
الجواب:
اگر کارندہ نے اس بارہ میں جو محنت وکوشش کی وہ اپنے آقا کی طرف سے تھی بائع کے لئے کوئی دوادوش نہ کیاگر چہ بعض زبانی باتیں اس کی طرف سے بھی کی ہوںمثلا آقا کو مشورہ دیا کہ یہ چیز اچھی ہے خرید لینی چاہئے یا اس میں آپ کا نقصان نہیں اور مجھے اتنے روپے مل جائیں گےاس نے خرید لی
امام شعبہ فرماتے ہیں:
ماکتبت عن احدحدیثا الاوکنت لہ عبدا ماحیی ۔ میں نے جس کسی سے ایك حدیث بھی لکھی میں عمر بھر ا س کاغلام ہوں۔
فتاوی بزازیہ وفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
حق العالم علی الجاہل وحق الاستاذ علی التلمیذ و احد علی السواء وھو ان لایفتتح بالکلام قبلہ ولا یجلس مکانہ وان غاب ولا یرد علی کلامہ ولایتقدم علیہ فی مشیہ ۔ عالم کا جاہل پر اور استاد کا شاگرد پر برابر یکساں حق ہے کہ اس سے پہلے بات نہ کرےوہ موجود نہ ہو جب بھی اس کی جگہ پر نہ بیٹھے اس کی کوئی بات نہ الٹےنہ اس سے آگے چلے وباﷲ التوفیقواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۸: ۲۶ رجب ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وشرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کے کارندہ نے عمرو سے وعدہ کیا کہ جائداد آپ کی زید سے بکوادوں گا مگر مجھے محنتانہ دیجئے گااس نے اقرر کیااور زید کو بھی اس کا حال معلوم ہےکارندہ مذکور نے اس کی بیع میں بہت کوشش کی چنانچہ بیع تام ہوگئیاور مشتری کو دھوکا بھی کچھ نہ دیایہ اجرت جائز ہے یا ناجائز ہے
الجواب:
اگر کارندہ نے اس بارہ میں جو محنت وکوشش کی وہ اپنے آقا کی طرف سے تھی بائع کے لئے کوئی دوادوش نہ کیاگر چہ بعض زبانی باتیں اس کی طرف سے بھی کی ہوںمثلا آقا کو مشورہ دیا کہ یہ چیز اچھی ہے خرید لینی چاہئے یا اس میں آپ کا نقصان نہیں اور مجھے اتنے روپے مل جائیں گےاس نے خرید لی
حوالہ / References
عین العلم الباب الثامن فی الصحبۃ والمؤلفۃ مطبع امرت ∞پریس لاہور ص۳۵۔۳۳۳€
المقاصد الحسنۃ ∞تحت حدیث ۱۱۶۴€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞ص۴۲۱€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الفتاوٰی البزازیہ کتاب الکراہیۃ الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۷۳€
المقاصد الحسنۃ ∞تحت حدیث ۱۱۶۴€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞ص۴۲۱€
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الفتاوٰی البزازیہ کتاب الکراہیۃ الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۷۳€
جب تو یہ شخص عمرو بائع سے کسی اجرت کا مستحق نہیں کہ اجرت آنے جانے محنت کرنے کی ہوتی ہے نہ بیٹھے بیٹھےدو چار باتیں کہنےصلاح بتانے مشورہ دینے کیردالمحتار میں بزازیہ وولوالجیہ سے ہے:
الدلالۃ والاشارۃ لیست بعمل یستحق بہ الاجر وان قال لرجل بعینہ ان دللتنی علی کذا فلك کذا ان مشی لہ فدلہ فلہ اجر المثل للمشی لاجلہلان ذلك عمل یستحق بعقد الاجارۃ الخ۔ محض بتانا اور اشارہ کرنا ایسا عمل نہیں ہے جس پر وہ اجرت کا مستحق ہواگر کسی نے ایك خاص شخص کو کہا اگر تو مجھے فلاں چیز پر رہنمائی کرے تو اتنا اجر دوں گااگر وہ شخص چل کر رہنمائی کرے تو اس کو مثلی اجرت دینا ہوگی کیونکہ وہ اس خاطر چل کرلے گا کیونکہ چلنا ایسا عمل ہے جس پر عقد اجارہ میں اجرت کا مستحق ہوتاہے۔الخ(ت)
غمز العیون میں خزانۃ الاکمل سے ہے:
امالودلہ بالکلام فلا شیئ لہ ۔ اگر صرف زبانی رہنمائی دے تو اس کے لئے کچھ نہیں(ت)
اور اگر بائع کی طرف سے محنت وکوشش ودوادوش میں اپنا زمانہ صرف کیا تو صرف اجر مثل کا مستحق ہوگایعنی ایسے کام اتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہے اس سے زائد نہ پائے گا اگر چہ بائع سے قرارداد کتنے ہی زیادہ کا ہواور اگر قرارداد اجر مثل سے کم کا ہو تو کم ہی دلائیں گے کہ سقوط زیادت پر خود راضی ہوچکاخانیہ میں ہے:
ان کان الدلال الاول عرض تعنی وذھب فی ذلك روزگارہ کان لہ اجر مثلہ بقدر عنائہ وعملہ ۔ اگر روزگار کے سلسلہ میں دلال نے محنت کی اور آیا گیا تو اس کی محنت اور عمل کے مطابق مثلی اجرت ہوگی۔(ت)
اشباہ میں ہے:
بعہ لی بکذا ولك کذا فباع فلہ اجر المثل ۔ اگر دوسرے کو کہا تو میرے لئے اتنے میں اس کو فروخت کر تو اس نے وہ چیز فروخت کردی تو دلال مثلی اجرت کا مستحق ہوگا۔(ت)
الدلالۃ والاشارۃ لیست بعمل یستحق بہ الاجر وان قال لرجل بعینہ ان دللتنی علی کذا فلك کذا ان مشی لہ فدلہ فلہ اجر المثل للمشی لاجلہلان ذلك عمل یستحق بعقد الاجارۃ الخ۔ محض بتانا اور اشارہ کرنا ایسا عمل نہیں ہے جس پر وہ اجرت کا مستحق ہواگر کسی نے ایك خاص شخص کو کہا اگر تو مجھے فلاں چیز پر رہنمائی کرے تو اتنا اجر دوں گااگر وہ شخص چل کر رہنمائی کرے تو اس کو مثلی اجرت دینا ہوگی کیونکہ وہ اس خاطر چل کرلے گا کیونکہ چلنا ایسا عمل ہے جس پر عقد اجارہ میں اجرت کا مستحق ہوتاہے۔الخ(ت)
غمز العیون میں خزانۃ الاکمل سے ہے:
امالودلہ بالکلام فلا شیئ لہ ۔ اگر صرف زبانی رہنمائی دے تو اس کے لئے کچھ نہیں(ت)
اور اگر بائع کی طرف سے محنت وکوشش ودوادوش میں اپنا زمانہ صرف کیا تو صرف اجر مثل کا مستحق ہوگایعنی ایسے کام اتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہے اس سے زائد نہ پائے گا اگر چہ بائع سے قرارداد کتنے ہی زیادہ کا ہواور اگر قرارداد اجر مثل سے کم کا ہو تو کم ہی دلائیں گے کہ سقوط زیادت پر خود راضی ہوچکاخانیہ میں ہے:
ان کان الدلال الاول عرض تعنی وذھب فی ذلك روزگارہ کان لہ اجر مثلہ بقدر عنائہ وعملہ ۔ اگر روزگار کے سلسلہ میں دلال نے محنت کی اور آیا گیا تو اس کی محنت اور عمل کے مطابق مثلی اجرت ہوگی۔(ت)
اشباہ میں ہے:
بعہ لی بکذا ولك کذا فباع فلہ اجر المثل ۔ اگر دوسرے کو کہا تو میرے لئے اتنے میں اس کو فروخت کر تو اس نے وہ چیز فروخت کردی تو دلال مثلی اجرت کا مستحق ہوگا۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الاجارۃ مسائل شتی من الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۵۸€
غمز عیون البصائر مع الاشباہ الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃالقرآن ∞کراچی ۲ /۶۰€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الاجارات باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع نولکشور لکھنؤ ۳ /۴۳۴€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاجارات اداراۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۶۱€
غمز عیون البصائر مع الاشباہ الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃالقرآن ∞کراچی ۲ /۶۰€
فتاوٰی قاضی خاں کتاب الاجارات باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع نولکشور لکھنؤ ۳ /۴۳۴€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاجارات اداراۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۶۱€
حموی میں ہے:
ای ولایتجاوزبہ ماسمی وکذالو قال اشترلی کما فی البزازیۃوعلی قیاس ھذا السماسرۃ والدلالین الواجب اجر المثل کما فی الولوالجیۃ ۔ یعنی مقررہ اجرت سے زائد نہ ہوگیاور یوں ہی اگر کہا تو مجھے خریددےجیسا کہ بزازیہ میں ہے اوراس پر قیاس ہوگا دلال حضرات کا معاملہ کہ ان کو مثلی اجرت دی جائے گی جیسا کہ ولولوالجیہ میں ہے۔(ت)
ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے ہے:
فی الدلال والسمسار یجب اجرالمثل و ماتواضعوا علیہ ان فی کل عشرۃ دنانیر کذا فذلك حرام علیہم ۔ آڑھتی اور دلال حضرات کے لئے مثلی اجرت ہوگی اور وہ جو دس دنانیر میں اتنا طے کرتے ہیں تو یہ حرام ہے۔(ت)
پھر از انجا کہ یہ شخص مشتر ی کا نوکر واجیر خاص تھا جتنی مدت اس نے بائع کے کام میں صرف کی اتنی تنخواہ ساقط ہوگئیمثلا دس۱۰ روپے ماہوار کا نوکر تھا تین دن بائع کی طرف سے اس سعی میں گزر گئے تو ایك روپیہ تنخواہ کا مستحق نہ رہااوراگر بائع سے یہ عقد اجارہ بے اذن واجازت مشتری ہواتو گناہ علاوہ کہ اجیر خاص کوبے اجازت آقا دوسرے کا کام کرنا جائز نہیںدرمختار میں ہے:
لیس للخاص ان یعمل لغیرہ ولو عمل نقص من اجرتہ بقدر ما عمل۔فتاوی النوازل۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اجیر خاص کو جائز نہیں کہ دوسروں کا کام کرے اگر اس نے ایسا کیا تو اتنا اس کی اجرت سے کاٹا جائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۵۹: از محمد گنج ضلع بریلی مرسلہ عبدالقادر خاں رامپوری ۲۲ صفر ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص کسی مزدور کو برائے مزدوری سو کو س یا پچاس کے فاصلہ پر لے جائےبعد ازاں اس سے چار پانچ ماہ تك کام کرالےاور بروقت حساب کے اس کو تیس۳۰ روپے کے کام کے بیس روپے اور اس پر سختی کرے اور اسے پریشان کرے
ای ولایتجاوزبہ ماسمی وکذالو قال اشترلی کما فی البزازیۃوعلی قیاس ھذا السماسرۃ والدلالین الواجب اجر المثل کما فی الولوالجیۃ ۔ یعنی مقررہ اجرت سے زائد نہ ہوگیاور یوں ہی اگر کہا تو مجھے خریددےجیسا کہ بزازیہ میں ہے اوراس پر قیاس ہوگا دلال حضرات کا معاملہ کہ ان کو مثلی اجرت دی جائے گی جیسا کہ ولولوالجیہ میں ہے۔(ت)
ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے ہے:
فی الدلال والسمسار یجب اجرالمثل و ماتواضعوا علیہ ان فی کل عشرۃ دنانیر کذا فذلك حرام علیہم ۔ آڑھتی اور دلال حضرات کے لئے مثلی اجرت ہوگی اور وہ جو دس دنانیر میں اتنا طے کرتے ہیں تو یہ حرام ہے۔(ت)
پھر از انجا کہ یہ شخص مشتر ی کا نوکر واجیر خاص تھا جتنی مدت اس نے بائع کے کام میں صرف کی اتنی تنخواہ ساقط ہوگئیمثلا دس۱۰ روپے ماہوار کا نوکر تھا تین دن بائع کی طرف سے اس سعی میں گزر گئے تو ایك روپیہ تنخواہ کا مستحق نہ رہااوراگر بائع سے یہ عقد اجارہ بے اذن واجازت مشتری ہواتو گناہ علاوہ کہ اجیر خاص کوبے اجازت آقا دوسرے کا کام کرنا جائز نہیںدرمختار میں ہے:
لیس للخاص ان یعمل لغیرہ ولو عمل نقص من اجرتہ بقدر ما عمل۔فتاوی النوازل۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اجیر خاص کو جائز نہیں کہ دوسروں کا کام کرے اگر اس نے ایسا کیا تو اتنا اس کی اجرت سے کاٹا جائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۵۹: از محمد گنج ضلع بریلی مرسلہ عبدالقادر خاں رامپوری ۲۲ صفر ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص کسی مزدور کو برائے مزدوری سو کو س یا پچاس کے فاصلہ پر لے جائےبعد ازاں اس سے چار پانچ ماہ تك کام کرالےاور بروقت حساب کے اس کو تیس۳۰ روپے کے کام کے بیس روپے اور اس پر سختی کرے اور اسے پریشان کرے
حوالہ / References
غمز عیون البصائر الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲ /۶۱€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۳۹€
درمختار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۸۱€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۳۹€
درمختار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۸۱€
جائز ہے یاناجائز بینوا توجروا
الجواب:
حرام حرامحرامکبیرہ کبیرہکبیرہ۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اﷲ تبارك وتعالی فرماتاہے:
ثلثۃ اناخصمہم یوم القیمۃ ومن کنت خصمہ خصمتہ رجل اعطی بی ثم غدرورجل باع حرا واکل ثمنہورجل استاجر اجیرافاستوفی منہ ولم یوفہ اجرہ۔رواہ الائمۃ احمد والبخاری وابن ماجۃ وابو یعلی وغیرہم عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال اﷲ تعالی فذکرہ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ قیامت کے دن تین شخصوں کامیں مدعی ہوں گا اور جس کامیں مدعی ہوں میں ہی اسی پر غالب آؤں گاایك وہ جس نے میرا عہد دیا پر عہد شکنی کیدوسرا وہ جس نے کسی آزاد کو غلام بناکر بیچ ڈالا اور اس کی قیمت کھائی تیسرا وہ جس نے کسی شخص کو مزدوری میں لے کر اپنا کام تو ا س سے پورا کرالیا اور مزدوری اسے پوری نہ دی(اسے امام احمدبخاریابن ماجہابویعلی وغیرہم ائمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیافرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے تو حدیث ذکر کیواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ت)
مسئلہ ۱۶۰: از ریاست رامپور شفاخانہ صدر یونانی مرسلہ عبدالکریم خاں صاحب تحویلدار ۲۷ ربیع الآخر ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو نے بتعین چند شرائط مفصلہ ذیل خالد سے ٹھیکہ اراضی کا بزمان واحد بغیر بیان کرنے شرکت نصف اور ربع کے لیاشرط اول یہ کہ زر ٹھیکہ بموجب اقساط معینہ مندرجہ قبولیت وپٹہ ادا کرینگےدوسری شرط یہ کی کہ ضمانت یا امانت
الجواب:
حرام حرامحرامکبیرہ کبیرہکبیرہ۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اﷲ تبارك وتعالی فرماتاہے:
ثلثۃ اناخصمہم یوم القیمۃ ومن کنت خصمہ خصمتہ رجل اعطی بی ثم غدرورجل باع حرا واکل ثمنہورجل استاجر اجیرافاستوفی منہ ولم یوفہ اجرہ۔رواہ الائمۃ احمد والبخاری وابن ماجۃ وابو یعلی وغیرہم عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم قال اﷲ تعالی فذکرہ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ قیامت کے دن تین شخصوں کامیں مدعی ہوں گا اور جس کامیں مدعی ہوں میں ہی اسی پر غالب آؤں گاایك وہ جس نے میرا عہد دیا پر عہد شکنی کیدوسرا وہ جس نے کسی آزاد کو غلام بناکر بیچ ڈالا اور اس کی قیمت کھائی تیسرا وہ جس نے کسی شخص کو مزدوری میں لے کر اپنا کام تو ا س سے پورا کرالیا اور مزدوری اسے پوری نہ دی(اسے امام احمدبخاریابن ماجہابویعلی وغیرہم ائمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیافرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ تعالی کا ارشاد ہے تو حدیث ذکر کیواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ت)
مسئلہ ۱۶۰: از ریاست رامپور شفاخانہ صدر یونانی مرسلہ عبدالکریم خاں صاحب تحویلدار ۲۷ ربیع الآخر ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو نے بتعین چند شرائط مفصلہ ذیل خالد سے ٹھیکہ اراضی کا بزمان واحد بغیر بیان کرنے شرکت نصف اور ربع کے لیاشرط اول یہ کہ زر ٹھیکہ بموجب اقساط معینہ مندرجہ قبولیت وپٹہ ادا کرینگےدوسری شرط یہ کی کہ ضمانت یا امانت
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب البیوع باب اثم من باع حرا ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۹۷€ وکتاب الاجارات ∞۱ /۳۰۲،€مسند امام احمد بن حنبل حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۲ /۳۵۸،€سنن ابن ماجہ ابواب الرھون باب اجرالاجراء ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۸€
حسب الطلب خالد کے دیں گےاور در صورت نہ دینے ضمانت اورنہ ادا کرنے کسی ایك قسط کے خالد کو اختیار فسخ اجارہ حاصل ہےپس ہردومستاجران نے دونوں شرطوں کووفا نہیں کیااور نوبت دعوی فسخ روبرو قاضی پہنچیتو ایك شریك کو دعوی خالد سے اقبال ہےاور دوسرے کو دعوی فسخ خالد سے انکار ہےآیا ایسی صورت میں خالد کو اختیار فسخ اجارہ ہر دومستاجران سے حاصل ہے یاکیا بینوا توجروا
بحضور لامع النورزبدۃ العلماء والفقہاء جناب مولانا مولو ی احمد رضاخاں صاحب دام فضلہم جناب عالی!
صورت مسئولہ میں یہاں پر مفتیان نے بموجب اقوال تحت فیصلہ فرمایاحضور نائب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیں لہذا استفتا منسبلکہ عرضداشت ہذا ابلاغ کرکے امیدوار کہ جواب جلد مرحمت فرمایا جائے
قال شمس الائمۃ السرخسی قال بعض اصحابنا اضافۃ الفسخ الی مجیئ الشہر وغیرذلك من الاوقات صحیح وتعلیق الفسخ بمجیئ الشہر وغیرہ ذلك لایصح والفتوی علی قولہ کذا فی فتاوی قاضیخاں ثانیوالشیوع الطارئ لایفسدہا اجماعا کما لو اجر ثم تفاسخا فی بعض اومات احدھما او استحق بعضھا تبقی فی الباقی ۱۲ عالمگیری۔مؤید آں وفی الغاثیۃ رجلان اجرادارھما من رجل جاز وان فسخ احدھما برضا المستاجر اومات لاتبطل فی النصف الاخر ۱۲ بحر الرائق۔ شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا ہمارے بعض اصحاب نے فرمایا ہے فسخ کی اضافت مہینہ کی آمد کی طرف کرنا اور ایسے ہی دیگر اوقات کی طرف کرنا صحیح ہےاور فسخ مہینہ وغیرہ اوقات کے ساتھ معلق کرناصحیح نہیںاورفتوی اس بعض کے قول پر ہے فتاوی قاضیخاں میں یوں ہےدوسرا یہ کہ بعد میں طاری ہونے ولا شیوع بالاجماع اجارہ کوفسخ نہ کرے گا۔مثلا اگر مکان اجارہ پر دیا پھر فریقین نے کچھ حصہ میں اجارہ فسخ کردیایا کوئی ایك فریق فوت ہوگیا یا مکان کا کچھ حصہ کسی غیر کا حق ظاہر ہواتو باقیماندہ حصہ میں اجارہ باقی رہے گا ۱۲ عالمگیریاس کی تائید ہے کہ غیاثیہ میں ہے دو۲ حضرات نے اپنے مشترکہ
بحضور لامع النورزبدۃ العلماء والفقہاء جناب مولانا مولو ی احمد رضاخاں صاحب دام فضلہم جناب عالی!
صورت مسئولہ میں یہاں پر مفتیان نے بموجب اقوال تحت فیصلہ فرمایاحضور نائب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ہیں لہذا استفتا منسبلکہ عرضداشت ہذا ابلاغ کرکے امیدوار کہ جواب جلد مرحمت فرمایا جائے
قال شمس الائمۃ السرخسی قال بعض اصحابنا اضافۃ الفسخ الی مجیئ الشہر وغیرذلك من الاوقات صحیح وتعلیق الفسخ بمجیئ الشہر وغیرہ ذلك لایصح والفتوی علی قولہ کذا فی فتاوی قاضیخاں ثانیوالشیوع الطارئ لایفسدہا اجماعا کما لو اجر ثم تفاسخا فی بعض اومات احدھما او استحق بعضھا تبقی فی الباقی ۱۲ عالمگیری۔مؤید آں وفی الغاثیۃ رجلان اجرادارھما من رجل جاز وان فسخ احدھما برضا المستاجر اومات لاتبطل فی النصف الاخر ۱۲ بحر الرائق۔ شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا ہمارے بعض اصحاب نے فرمایا ہے فسخ کی اضافت مہینہ کی آمد کی طرف کرنا اور ایسے ہی دیگر اوقات کی طرف کرنا صحیح ہےاور فسخ مہینہ وغیرہ اوقات کے ساتھ معلق کرناصحیح نہیںاورفتوی اس بعض کے قول پر ہے فتاوی قاضیخاں میں یوں ہےدوسرا یہ کہ بعد میں طاری ہونے ولا شیوع بالاجماع اجارہ کوفسخ نہ کرے گا۔مثلا اگر مکان اجارہ پر دیا پھر فریقین نے کچھ حصہ میں اجارہ فسخ کردیایا کوئی ایك فریق فوت ہوگیا یا مکان کا کچھ حصہ کسی غیر کا حق ظاہر ہواتو باقیماندہ حصہ میں اجارہ باقی رہے گا ۱۲ عالمگیریاس کی تائید ہے کہ غیاثیہ میں ہے دو۲ حضرات نے اپنے مشترکہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۰€۱
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب السادس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۴۸€
بحرالرائق کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۸ /۲۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب السادس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۴۸€
بحرالرائق کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۸ /۲۱€
مکان کو اجارہ پر ایك شخص کو دیا تا جائز ہے اور اگر ایك نے مستاجر کی رضامندی سے اپنے نصف حصہ کا اجارہ فسخ کردیایا ایك فوت ہوگیا تو باقی نصف میں اجارہ باقی رہے گا ۱۲ بحرالرائق(ت)
الجواب:
صورت مستفسرہ میں خالد کو ضرور اختیار ہے فسخ حاصل ہےبلکہ ہر فریق پر اجارہ مذکورہ کا فسخ واجب ہےاگر وہ نہ کریں حاکم جبرا فسخ کردےاگر نہ کرے گا گنہ گار ہوگاوجہ یہ کہ اجارہ مذکورہ شرعا بوجوہ فاسدہ ہے۔
اولا: اس میں ضمانت مجہولہ شرط کی گئی نہ ضامن حاضر تھانہ مجلس عقد میں قبل تفرق عاقدین حاضرین ہواایسی شرط ضمانت بیع واجارہ میں ناجائز ومفسد ہے۔
ثانیا:مجلس عقد میں کسی ضامن کی طرف سے قبول ضمانت واقع نہ ہواایسی ضمانت نامقبولہاگر چہ غیر مجہولہ ہو مفسد عقدہے۔
ثالثا:اگر امانت سے مراد رہن ہے تو اس کا بھی کوئی تعین پیش از تفرق عاقدین نہ ہواایسے رہن کی شرط بھی مفسد ہےدر مختار میں ہے:
یصح البیع بشرط یقتضیہ العقد او یلائمۃ کشرط رہن معلوم وکفیل حاضرابن ملك اھ ملتقطا جو عقد کا مقتضی ہویا عقد کے مناسب ہو ایسی شرط کے ساتھ بیع صحیح ہے مثلا بیع میں معلوم رہن یا حاضر کفیل کی شرط لگانا ابن ملك اھ ملتقطا(ت)
بحرالرائق میں ہے:
وان کان ملائما للبیع لایفسدہ کالبیع بشرط کفیل بالثمن اذاکان حاضرا وقبلہا اوغائبا فحضر وقبل قبل التفریق وکشرط رہن معلوم بالاشارۃ او التسمیۃ فان حاصلہما اگر شرط بیع کے مناسب ہو تو اس سے بیع فاسد نہ ہوگی مثلا بیع میں ثمن کے کفیل کی شرط جب کفیل موجود حاضر ہو اور قبول کرلے یا غائب تھا تو موقع پرحاضر ہوگیا اور فریقین کے متفرق ہونے سے قبل کفیل نے قبول کرلیا ہواور مثلا بیع میں اشارہ یا نام ذکر کے متعین
الجواب:
صورت مستفسرہ میں خالد کو ضرور اختیار ہے فسخ حاصل ہےبلکہ ہر فریق پر اجارہ مذکورہ کا فسخ واجب ہےاگر وہ نہ کریں حاکم جبرا فسخ کردےاگر نہ کرے گا گنہ گار ہوگاوجہ یہ کہ اجارہ مذکورہ شرعا بوجوہ فاسدہ ہے۔
اولا: اس میں ضمانت مجہولہ شرط کی گئی نہ ضامن حاضر تھانہ مجلس عقد میں قبل تفرق عاقدین حاضرین ہواایسی شرط ضمانت بیع واجارہ میں ناجائز ومفسد ہے۔
ثانیا:مجلس عقد میں کسی ضامن کی طرف سے قبول ضمانت واقع نہ ہواایسی ضمانت نامقبولہاگر چہ غیر مجہولہ ہو مفسد عقدہے۔
ثالثا:اگر امانت سے مراد رہن ہے تو اس کا بھی کوئی تعین پیش از تفرق عاقدین نہ ہواایسے رہن کی شرط بھی مفسد ہےدر مختار میں ہے:
یصح البیع بشرط یقتضیہ العقد او یلائمۃ کشرط رہن معلوم وکفیل حاضرابن ملك اھ ملتقطا جو عقد کا مقتضی ہویا عقد کے مناسب ہو ایسی شرط کے ساتھ بیع صحیح ہے مثلا بیع میں معلوم رہن یا حاضر کفیل کی شرط لگانا ابن ملك اھ ملتقطا(ت)
بحرالرائق میں ہے:
وان کان ملائما للبیع لایفسدہ کالبیع بشرط کفیل بالثمن اذاکان حاضرا وقبلہا اوغائبا فحضر وقبل قبل التفریق وکشرط رہن معلوم بالاشارۃ او التسمیۃ فان حاصلہما اگر شرط بیع کے مناسب ہو تو اس سے بیع فاسد نہ ہوگی مثلا بیع میں ثمن کے کفیل کی شرط جب کفیل موجود حاضر ہو اور قبول کرلے یا غائب تھا تو موقع پرحاضر ہوگیا اور فریقین کے متفرق ہونے سے قبل کفیل نے قبول کرلیا ہواور مثلا بیع میں اشارہ یا نام ذکر کے متعین
حوالہ / References
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۷ و ۲۸€
التوثق للثمنقیدنا بحضرۃ الکفیل لانہ لوکان غائبا فحضر وقبل بعد التفرق اوکان حاضرا فلم یقبل لم یجزوقیدنا بکون الرھن مسمی لانہ لولم یکن مسمی ولا مشاراالیہ لم یجز الااذا تراضیا علی تعیینہ فی المجلس ودفعہ الیہ قبل ان یتفرقا او یعجل الثمن ویبطلان الرھن اھ رہن کی شرط لگاناکیونکہ ان مذکورہ دونوں شرطوں کا مقصد ثمن کا وثوق حاصل کرنا ہوتاہے ہم نے کفیل کے حاضر ہونے کی قید ذکر کی کیونکہ اگروہ غائب ہو تو حاضر ہوکر قبول بھی کرلے لیکن فریقین کے تفرق کے بعد کرے یاحاضر ہوکر قبول ہی نہ کرے تو بیع جائز نہ ہوگی اور ہم نے رہن کے معین معلوم ہونے کی قید ذکر کی کیونکہ وہ معین ومعلوم نہ ہو اور نہ ہی اس کی طرف اشارہ کیا ہو تو بیع جائز نہ ہوگی الایہ کہ دونوں فریق اسی مجلس میں اس کے تعین پر راضی ہوجائیں اور تفرق سے قبل مرہون چیز دے دی جائے یا رہن کو باطل کردیں اور ثمن نقدادا ہوجائے۔اھ(ت)
درمختار میں ہے:
تفسد الاجارۃبالشرط المخالفۃ لمقتضی العقد فکل ماافسد البیع ممامر یفسدھا ۔ اجارہ میں ایسی شرائط سے فاسد ہوجاتاہے جو عقد کے مخالف ہوں تو جو شرائط مذکورہ بیع کو فاسد کرتی ہیں وہ اجارہ کو بھی فاسد کردیتی ہے۔(ت)
رابعا: ان شرئط کے انتفا پر خالد کو اختیار فسخ ملنے کی شرط معنی خیار شرط ہےردالمحتارمیں حواشی الدررللعلامہ خادمی افندی سے ہے:
قد قال صدرالشریعۃ انہ(ای خیار النقد)فرع مسئلۃ خیار الشرط لانہ انما شری لیدفع بالفسخ الضرر عن نفسہ سواء کان تاخیراداء الثمن اوغیرہ ۔ صدرالشریعۃ نے فرمایا کہ خیار نقد خیار شرط والے مسئلہ کی فرع ہے کیونکہ اس کو مشروع قرارد ینے کا مقصد یہ ہے کہ وہ فسخ کرکے اپنے پر عائد ہونے والے ضرر کو ختم کرسکے یہ ضرر ثمن کی تاخیر ہو یا کوئی اور(ت)
درمختار میں ہے:
تفسد الاجارۃبالشرط المخالفۃ لمقتضی العقد فکل ماافسد البیع ممامر یفسدھا ۔ اجارہ میں ایسی شرائط سے فاسد ہوجاتاہے جو عقد کے مخالف ہوں تو جو شرائط مذکورہ بیع کو فاسد کرتی ہیں وہ اجارہ کو بھی فاسد کردیتی ہے۔(ت)
رابعا: ان شرئط کے انتفا پر خالد کو اختیار فسخ ملنے کی شرط معنی خیار شرط ہےردالمحتارمیں حواشی الدررللعلامہ خادمی افندی سے ہے:
قد قال صدرالشریعۃ انہ(ای خیار النقد)فرع مسئلۃ خیار الشرط لانہ انما شری لیدفع بالفسخ الضرر عن نفسہ سواء کان تاخیراداء الثمن اوغیرہ ۔ صدرالشریعۃ نے فرمایا کہ خیار نقد خیار شرط والے مسئلہ کی فرع ہے کیونکہ اس کو مشروع قرارد ینے کا مقصد یہ ہے کہ وہ فسخ کرکے اپنے پر عائد ہونے والے ضرر کو ختم کرسکے یہ ضرر ثمن کی تاخیر ہو یا کوئی اور(ت)
حوالہ / References
بحرالرائق کتا ب البیوع باب البیع الفاسد∞ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶/ ۸€۵
درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۷۷€
ردالمحتار کتاب البیوع باب خیار الشرط داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۴ /۴۹€
درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۷۷€
ردالمحتار کتاب البیوع باب خیار الشرط داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۴ /۴۹€
اسی میں ہے:
الواقع فی الزیلعی کونھا من صورہ ۔ زیلعی میں شرط اجارہ کا شرط خیار کی طرح ہونا مذکور ہے۔(ت)
اوریہاں سے مشروط معلق بالحظر کیااورخیار شرط صالح تعلیق بالشرط نہیںبحرالرائق وردالمحتار میں ہے:لایصح تعلیق خیار الشرط بالشرط (خیار شرط کی تعلیق کسی شرط سے جائز نہیں۔ت) اور اشتراط شرط فاسد ان عقود کا مفسد۔
ولیس من باب خیار النقد المشروع ولولم یکن ھناك تعلیق بعدم الاتیان بضمانۃ وامانۃ اصلا و اقتصرا علی التعلیق بعدم نقدالاجرۃ علی النجوم المقدرۃ وذلك لان خیار النقد فی ھذہ الصورۃ انما یکون لمن بیدہ النقدوترکہ اذ ھو المتمکن من امضائہ وعدمہوھھنا علی خلاف ذلك شرط الخیار لمواجرفی البحرالرائق لوباع علی انہ ان لم ینقد الثمن الی ثلثہ ایام فلا بیع صحوالی اربع لایصح و الاصل فیہ ان ھذا فی معنی اشتراط الخیار اذالحاجۃ مست الی الانفساخ عند عدم النقد تحرزا عن المماطلۃ فی الفسخ فیکون اور خیار نقد جو مشروع ہے شرط فاسد اس کی طرح نہیں ہے خیا نقد جائز ہے اگر چہ وہاں ضمانت و امانت پیش نہ کرنے کی تعلیق نہ بھی ہوبحرا ور درمختار دونوں نے خیار نقد کی صورت میں مقررہ قسطوں پر نقد اجرت نہ دینے سے معلق کرنے پر اکتفاء کیا اس لئیے کہ خیار نقد اس صورت میں ایسے شخص کو ہوتاہے جس کو نقد دینے نہ دینے کا اختیار ہو کیونکہ وہی اجارہ کو قائم رکھنے نہ رکھنے پرقدرت رکھتاہےجبکہ یہاں معاملہ اس کے خلاف ہے کیونکہ خیار کی شرط اجرت پر دینےکے لئے ہے۔بحرالرائق میں ہے اگر کسی نے چیز کو اس شرط پر فروخت کیا کہ اگر مشتری تین دن تك ثمن نقد نہ دے تو بیع ختم ہوگییہ شرط صحیح ہےاور اگر چاردن تککہا تو صحیح نہیں ہےاور اس میں ضابطہ یہ ہے کہ یہ خیار شرط کے معنی میں ہے کیونکہ نقد نہ ملنے پر فسخ کی حاجت ہے تاکہ فسخ کامعاملہ موخر ہونے سے
الواقع فی الزیلعی کونھا من صورہ ۔ زیلعی میں شرط اجارہ کا شرط خیار کی طرح ہونا مذکور ہے۔(ت)
اوریہاں سے مشروط معلق بالحظر کیااورخیار شرط صالح تعلیق بالشرط نہیںبحرالرائق وردالمحتار میں ہے:لایصح تعلیق خیار الشرط بالشرط (خیار شرط کی تعلیق کسی شرط سے جائز نہیں۔ت) اور اشتراط شرط فاسد ان عقود کا مفسد۔
ولیس من باب خیار النقد المشروع ولولم یکن ھناك تعلیق بعدم الاتیان بضمانۃ وامانۃ اصلا و اقتصرا علی التعلیق بعدم نقدالاجرۃ علی النجوم المقدرۃ وذلك لان خیار النقد فی ھذہ الصورۃ انما یکون لمن بیدہ النقدوترکہ اذ ھو المتمکن من امضائہ وعدمہوھھنا علی خلاف ذلك شرط الخیار لمواجرفی البحرالرائق لوباع علی انہ ان لم ینقد الثمن الی ثلثہ ایام فلا بیع صحوالی اربع لایصح و الاصل فیہ ان ھذا فی معنی اشتراط الخیار اذالحاجۃ مست الی الانفساخ عند عدم النقد تحرزا عن المماطلۃ فی الفسخ فیکون اور خیار نقد جو مشروع ہے شرط فاسد اس کی طرح نہیں ہے خیا نقد جائز ہے اگر چہ وہاں ضمانت و امانت پیش نہ کرنے کی تعلیق نہ بھی ہوبحرا ور درمختار دونوں نے خیار نقد کی صورت میں مقررہ قسطوں پر نقد اجرت نہ دینے سے معلق کرنے پر اکتفاء کیا اس لئیے کہ خیار نقد اس صورت میں ایسے شخص کو ہوتاہے جس کو نقد دینے نہ دینے کا اختیار ہو کیونکہ وہی اجارہ کو قائم رکھنے نہ رکھنے پرقدرت رکھتاہےجبکہ یہاں معاملہ اس کے خلاف ہے کیونکہ خیار کی شرط اجرت پر دینےکے لئے ہے۔بحرالرائق میں ہے اگر کسی نے چیز کو اس شرط پر فروخت کیا کہ اگر مشتری تین دن تك ثمن نقد نہ دے تو بیع ختم ہوگییہ شرط صحیح ہےاور اگر چاردن تککہا تو صحیح نہیں ہےاور اس میں ضابطہ یہ ہے کہ یہ خیار شرط کے معنی میں ہے کیونکہ نقد نہ ملنے پر فسخ کی حاجت ہے تاکہ فسخ کامعاملہ موخر ہونے سے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع باب خیار الشرط داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴€۹
ردالمحتار کتاب البیوع باب خیار الشرط داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۵€
ردالمحتار کتاب البیوع باب خیار الشرط داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۵€
ملحقا بہ کذا فی الہدایۃ واشار المصنف الی جواز ھذاالشرط للبائعوفی الذخیرۃ اذا باع عبدا ونقد الثمن علی ان البائع ا ن ردالثمن الی ثلثۃ فلا بیع بینہما کان جائزاوھو بمعنی شرط الخیار للبائع اھ ففی مسألۃ الکتاب المنتفع بہذا الشرط ھو البائع مع انہم جعلوا الخیار للمشتری باعتبار انہ المتمکن من امضاء البیع بالنقد ومن فسخہ بعدمہ وفی عکسہ المنتفع بہذا الشرط ھوا لمشتری مع انہم جعلوا الخیار للبائع باعتباران البائع متمکن من الفسخ ان ردالثمن فی المدۃ ومن الامضاء ان لم یردہ اھ ملتقطاونحوہ فی ردالمحتار عن النہر۔ محفوظ رہےلہذایہ خیار شرط سے ملحق ہےایسے ہی ہدایہ میں ہےاور مصنف نے بائع کے لئے اس شرط کے جواز کا اشارہ کیا ہےاور ذخیرہ میں ہے کہ جب عبدکو فروخت کیا اور مشتری نے ثمن نقد دے کر شرط لگائی کہ اگر بائع نے تین دن تك ثمن واپس کردئے تو بیع ختم ہوگیتو یہ شرط جائز ہے اور یہ بائع کی شرط خیار معنا قرار پائے گی اھ تو کتاب کے مسئلہ میں اس شرط کا فائدہ بائع کو ہے حالانکہ خیار پر شرط انھوں نے مشتری کے لئے قرار دی ہےیہ اس اعتبار سے کہ مشتری ہی نقد دینے نہ دینے کی بناء پر بیع کو باقی رکھنے اور فسخ کرنے پر قادر ہےاور اس کے عکس والی صورت میں شرف کا فائدہ مشتری کو ہے اس کے باوجود انھوں نے خیار شرط بائع کے لئے قراردیا ہے یہ اس اعتبار سے کہ یہاں بائع تین دنوں میں ثمن واپس کرنے نہ کرنے کی بناء پر بیع کو فسخ یا قائم رکھنے پر قادر ہے اھ ملتقطااو ریوں ہی ردالمحتار میں ہے نہر سے منقول ہے۔(ت)
ان کے سوا اور بعض وجو ہ سے اس عقد کا فسادظاہر ہے کما لایخفی علی المتأمل الناظر وفیما ذکرنا کفایۃ للمتبصر۔
ان تقریرات سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ یہ صورت تعلیق الفسخ بالشرط کی نہیں بلکہ خیار الفسخ بالشرط ہےاوراول ہی فرض کیجئے تو جب بھی اس کا حکم یہ ہر گز نہ ہوگا کہ فسخ بوجہ تعلیق باطل اور اجارہ صحیح اب کہ ایك مستاجر فسخ پر راضی ہوا اسی کے حق میں فسخ ہوگیا دوسرے کے حق میں باقی ہے کہ شیوع طاری مفسد نہیں یہ تو اس وقت ہوتا کہ یہ فسخ فاسد معلق بالشرط عقد سے جداگانہ واقع ہوتا
ان کے سوا اور بعض وجو ہ سے اس عقد کا فسادظاہر ہے کما لایخفی علی المتأمل الناظر وفیما ذکرنا کفایۃ للمتبصر۔
ان تقریرات سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ یہ صورت تعلیق الفسخ بالشرط کی نہیں بلکہ خیار الفسخ بالشرط ہےاوراول ہی فرض کیجئے تو جب بھی اس کا حکم یہ ہر گز نہ ہوگا کہ فسخ بوجہ تعلیق باطل اور اجارہ صحیح اب کہ ایك مستاجر فسخ پر راضی ہوا اسی کے حق میں فسخ ہوگیا دوسرے کے حق میں باقی ہے کہ شیوع طاری مفسد نہیں یہ تو اس وقت ہوتا کہ یہ فسخ فاسد معلق بالشرط عقد سے جداگانہ واقع ہوتا
حوالہ / References
بحرالرائق کتاب البیوع باب خیار الشرط ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۶،۷€
جب نفس عقد اسی شرط فسخ فاسد سے مشروط تو قطعا اصل اجارہ فاسد
فانہا کالبیع لاتحتمل الاشتراط بالشروط الفاسدۃ وقد قال فی الہدایۃ فی مسئلۃ خیار العقد فی ھذا لمسئلۃ قیاس اخرمال الیہ زفروہو انہ بیع شرط فیہ اقالۃ فاسدۃ لتعلقہا بالشروطوالا شتراط الصحیح منہا فیہ مفسد العقد فاشتراط الفاسد اولیووجہ الاستحسان مابینا اھ وھو ماقدمنا عن البحرانہ فی معنی خیار الشرط فیصح الی ثلثۃ ایام لا ازید ولامجہولا ولامطلقا کما ھنا قال فی البحرا لایصح اشتراطہ الاکثرمن ثلثۃ ایام عنہ ابی حنیفۃ(الی ان قال واطلاق المدۃ عندہ کاشتراط لاکثر فی عدم الجواز وافساد البیع ولو قال المؤلف و لو اکثر اومؤبدا اوموقتا بوقت مجہول لکان اولی لان البیع فاسد فی ھذہ کلہا کما فی التتارخانیۃ اھ قتل والمعنی اذا کان مشروطا تو اجارہ بیع کی طرح فاسد شرائط سے مشروط نہیں ہوسکتا۔اور ہدایہ میں خیار نقد کے مسئلہ میں فرمایا اس مسئلہ میں ایك او ر قیاس بھی ہے کہ جس کی طرف امام زفر کا میلان ہے کہ یہ ایسی بیع ہے جس میں فاسد اقالہ کی شرط ہے کیونکہ اس کو شرائط سے معلق کیا گیا ہے جبکہ اس میں صحیح اقالہ کی شرط مفسد عقد ہے تو فاسد کی شرط بطریق اولی مفسد ہوگی اور استحسان کی وجہ وہ ہے جو ہم نے بیان کردی ہے او راس کو ہم بحر سے نقل کرچکے ہیں کہ خیارشرط کے معنی میں ہے لہذا تین دن کی شرط صحیح اس سے زائد کی صحیح نہیں اور نہ ہی مجہول شرط اور عام شرط صحیح ہوگی جیساکہ یہاں ہےبحر میں کہا ہے کہ تین دن سے زائد کی شرط امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك صحیح نہیں ہے اور آگے یہاں تك کہا کہ مطلق مدت کی شرط بھی امام صاحب رضی اﷲ تعالی کے نزدیك تین دن سے زائد کی طرح جائز نہیں اور بیع فاسد ہوگی اور اگر مؤلف یوں بیان کرتےاگر مدت تین دن سے زائد یا ہمیشہ یا کسی مجہول وقت کی ہو تو ناجائز ہے کیونکہ ان تینوں صورتوں میں بیع فاسد ہوتی ہے جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے اھ میں کہتاہوں مراد
فانہا کالبیع لاتحتمل الاشتراط بالشروط الفاسدۃ وقد قال فی الہدایۃ فی مسئلۃ خیار العقد فی ھذا لمسئلۃ قیاس اخرمال الیہ زفروہو انہ بیع شرط فیہ اقالۃ فاسدۃ لتعلقہا بالشروطوالا شتراط الصحیح منہا فیہ مفسد العقد فاشتراط الفاسد اولیووجہ الاستحسان مابینا اھ وھو ماقدمنا عن البحرانہ فی معنی خیار الشرط فیصح الی ثلثۃ ایام لا ازید ولامجہولا ولامطلقا کما ھنا قال فی البحرا لایصح اشتراطہ الاکثرمن ثلثۃ ایام عنہ ابی حنیفۃ(الی ان قال واطلاق المدۃ عندہ کاشتراط لاکثر فی عدم الجواز وافساد البیع ولو قال المؤلف و لو اکثر اومؤبدا اوموقتا بوقت مجہول لکان اولی لان البیع فاسد فی ھذہ کلہا کما فی التتارخانیۃ اھ قتل والمعنی اذا کان مشروطا تو اجارہ بیع کی طرح فاسد شرائط سے مشروط نہیں ہوسکتا۔اور ہدایہ میں خیار نقد کے مسئلہ میں فرمایا اس مسئلہ میں ایك او ر قیاس بھی ہے کہ جس کی طرف امام زفر کا میلان ہے کہ یہ ایسی بیع ہے جس میں فاسد اقالہ کی شرط ہے کیونکہ اس کو شرائط سے معلق کیا گیا ہے جبکہ اس میں صحیح اقالہ کی شرط مفسد عقد ہے تو فاسد کی شرط بطریق اولی مفسد ہوگی اور استحسان کی وجہ وہ ہے جو ہم نے بیان کردی ہے او راس کو ہم بحر سے نقل کرچکے ہیں کہ خیارشرط کے معنی میں ہے لہذا تین دن کی شرط صحیح اس سے زائد کی صحیح نہیں اور نہ ہی مجہول شرط اور عام شرط صحیح ہوگی جیساکہ یہاں ہےبحر میں کہا ہے کہ تین دن سے زائد کی شرط امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك صحیح نہیں ہے اور آگے یہاں تك کہا کہ مطلق مدت کی شرط بھی امام صاحب رضی اﷲ تعالی کے نزدیك تین دن سے زائد کی طرح جائز نہیں اور بیع فاسد ہوگی اور اگر مؤلف یوں بیان کرتےاگر مدت تین دن سے زائد یا ہمیشہ یا کسی مجہول وقت کی ہو تو ناجائز ہے کیونکہ ان تینوں صورتوں میں بیع فاسد ہوتی ہے جیسا کہ تاتارخانیہ میں ہے اھ میں کہتاہوں مراد
حوالہ / References
الہدایہ کتاب البیوع باب خیار الشرط ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۳۵€
بحرالرائق کتاب البیوع باب خیار الشرط ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۵۔۴€
بحرالرائق کتاب البیوع باب خیار الشرط ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۵۔۴€
فی صلب العقد کما ہنالابدہ ولاجاز الاطلاق وتقید بالمجلس کما فی البحروجازت الزیادۃ علی الثلثۃ فی الاجارۃ کما فی بیوع البحر عن الذخیرۃ ولسناہہنا بصدد تنقیح تلك المسائل۔ یہ ہے جب صب عقد میں یہ شرائط ہو ں جیسا کہ یہاں ہے عقد کے بعد والی شرائط مطلق ہو یا مقید ہو ں جائز ہوں گی اور اطلاق وتقیید مجلس میں ہوسکے گاجیسا کہ بحرمیں ہے۔اور اجارہ میں تین دن سے زائد کی شرط صحیح ہے جیساکہ بحر کے باب البیوع میں ذخیرہ سے منقول ہےاور ہم یہاں پر ان مسائل کی تنقیح کے درپے نہیں ہیں۔(ت)
بہرحال اس عقد کے فاسد ہونے میں کوئی کلام نہیںاور عقد فاسد کا یہی حکم ہےکہ ہر فریق باختیار خود اسے فسخ کرسکتاہے بلکہ ان پر اس کا فسخ واجب و ہ نہ مانیں تو حاکم پر لازم کما نصوا علیہ فی البیع وغیرہ(جیساکہ انھوں نے بیع وغیرہ میں اس پر نص فرمائی ہے۔ت)ہندیہ میں ہے:
ارادالاجران ینقض عقدہ بحکم الفساد فلہ ذلك کذا فی التتارخانیۃ ۔ اگر آجر فساد کے حکم پر عقد اجارہ کوختم کرنا چاہے تو کرسکتاہے تاتارخانیہ میں ایسے ہے۔(ت)
تنویر الابصار میں ہے:
فسخت الاجارۃ دفعا للفساد ۔ فساد کو ختم کرنے کے لئے اجارہ فسخ کردیا جائے گا۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ای ابطلھا القاضی لان العقد الفاسد یجب نقضہ و ابطالہذخیرۃ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ یعنی قاضی اسے باطل کردے کیونکہ فاسد عقد کو ختم کرنا ضروری ہےذخیرہواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
بہرحال اس عقد کے فاسد ہونے میں کوئی کلام نہیںاور عقد فاسد کا یہی حکم ہےکہ ہر فریق باختیار خود اسے فسخ کرسکتاہے بلکہ ان پر اس کا فسخ واجب و ہ نہ مانیں تو حاکم پر لازم کما نصوا علیہ فی البیع وغیرہ(جیساکہ انھوں نے بیع وغیرہ میں اس پر نص فرمائی ہے۔ت)ہندیہ میں ہے:
ارادالاجران ینقض عقدہ بحکم الفساد فلہ ذلك کذا فی التتارخانیۃ ۔ اگر آجر فساد کے حکم پر عقد اجارہ کوختم کرنا چاہے تو کرسکتاہے تاتارخانیہ میں ایسے ہے۔(ت)
تنویر الابصار میں ہے:
فسخت الاجارۃ دفعا للفساد ۔ فساد کو ختم کرنے کے لئے اجارہ فسخ کردیا جائے گا۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ای ابطلھا القاضی لان العقد الفاسد یجب نقضہ و ابطالہذخیرۃ واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ یعنی قاضی اسے باطل کردے کیونکہ فاسد عقد کو ختم کرنا ضروری ہےذخیرہواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب التاسع عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۶€۰
درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۷۹€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۳۸€
درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۷۹€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۳۸€
مسئلہ ۱۶۱: از ریاست رامپور شفاخانہ صدر یانونی مرسلہ عبدالکریم خاں صاحب تحویلدار ۲۳ جمادی الاولی ۱۳۱۶ھ
بحضورلامع النور جناب مستطاب معلی القاب دام فیضہسابق حضور نے بدرخواست فدوی فتوی ارسال فرمایاتھا ا س کو داخل عدالت کردیابجواب اس کے حاکم مرافعہ عدالت دیوانی کے حاکم سے صحت فتوی مرسلہ حضور کی طلب کی ہےعالیجاہا! یہ امر ضرور ثابت ہے کہ حاکم مجوز اپنی تجویز کو خراب نہیں کرسکتا ہےاور فتوی جوحضور نے کرم فرماکر رسال فرمایا تھا اس میں جس قدر روایتات مندرج ہیں بیع سے تعلق رکھتے ہیںاجارہ کے معاملہ میں کوئی روایت نہیں تھی جس کی صحت حاکم مرافعہ نے کرائی ہےاس واسطے حضور کو دوبارہ تکلیف دیتاہوںاور نقل روبکار کی من وعن بھیجتاہوں۔
الجواب:
فتوی سابقہ میں مفصلا ثابت کردیا گیا کہ یہ اجارہ فاسد اور اس کا فسخ واجب ہےوہ روایات سب متعلق اجارہ تھیںانھیں متعلق بیع کہنا ہی متعلق اجارہ ماننا ہے کہ یہاں اجارہ وبیع کا ایك ہی حکم ہے بلکہ اجارہ معنی بیع کی ایك قسم ہے۔ارشادات علماء برسبیل اختصارسنئے: ۱مغنی المستفتی پھر ۲عقودالدریہ میں ہے:
البیع والاجارۃ اخوان لان الاجارۃ بیع المنافع ۔ بیع واجارہ بھائی بھائی ہیں اس لئے کہ اجارہ منافع کی بیع ہے۔
۳ردالمحتارمیں ہے:
الاجارۃ نوع من البیع اذھی بیع المنافع ۔ اجارہ بیع کی ایك قسم ہے کہ وہ بیع منافع ہے۔
۴مختصرامام ابوالحسن قدوری ۵ہدایہ میں ہے:
(الاجارہ تفسدھا الشروط کما تفسدالبیع)لانہا بمنزلتہ ۔ اجارہ کوشرطیں فاسد کرتی ہیں جس طرح بیع کوکہ اجارہ بمنزلہ بیع ہے۔
۶کافی امام نسفی و۷کفایہ شرح ہدایہ و۸برجندی شرح نقایہ و۹طحطاوی علی الدرالمختار
بحضورلامع النور جناب مستطاب معلی القاب دام فیضہسابق حضور نے بدرخواست فدوی فتوی ارسال فرمایاتھا ا س کو داخل عدالت کردیابجواب اس کے حاکم مرافعہ عدالت دیوانی کے حاکم سے صحت فتوی مرسلہ حضور کی طلب کی ہےعالیجاہا! یہ امر ضرور ثابت ہے کہ حاکم مجوز اپنی تجویز کو خراب نہیں کرسکتا ہےاور فتوی جوحضور نے کرم فرماکر رسال فرمایا تھا اس میں جس قدر روایتات مندرج ہیں بیع سے تعلق رکھتے ہیںاجارہ کے معاملہ میں کوئی روایت نہیں تھی جس کی صحت حاکم مرافعہ نے کرائی ہےاس واسطے حضور کو دوبارہ تکلیف دیتاہوںاور نقل روبکار کی من وعن بھیجتاہوں۔
الجواب:
فتوی سابقہ میں مفصلا ثابت کردیا گیا کہ یہ اجارہ فاسد اور اس کا فسخ واجب ہےوہ روایات سب متعلق اجارہ تھیںانھیں متعلق بیع کہنا ہی متعلق اجارہ ماننا ہے کہ یہاں اجارہ وبیع کا ایك ہی حکم ہے بلکہ اجارہ معنی بیع کی ایك قسم ہے۔ارشادات علماء برسبیل اختصارسنئے: ۱مغنی المستفتی پھر ۲عقودالدریہ میں ہے:
البیع والاجارۃ اخوان لان الاجارۃ بیع المنافع ۔ بیع واجارہ بھائی بھائی ہیں اس لئے کہ اجارہ منافع کی بیع ہے۔
۳ردالمحتارمیں ہے:
الاجارۃ نوع من البیع اذھی بیع المنافع ۔ اجارہ بیع کی ایك قسم ہے کہ وہ بیع منافع ہے۔
۴مختصرامام ابوالحسن قدوری ۵ہدایہ میں ہے:
(الاجارہ تفسدھا الشروط کما تفسدالبیع)لانہا بمنزلتہ ۔ اجارہ کوشرطیں فاسد کرتی ہیں جس طرح بیع کوکہ اجارہ بمنزلہ بیع ہے۔
۶کافی امام نسفی و۷کفایہ شرح ہدایہ و۸برجندی شرح نقایہ و۹طحطاوی علی الدرالمختار
حوالہ / References
العقود الدریۃ کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۱۵۳€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۹€
الہدایۃ کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۹۹€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۲۹€
الہدایۃ کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۲۹۹€
میں ہے:
الاجارۃ کالبیع فتفسد بالشرط ۔ اجارہ بیع کی طرح ہے تو شرط لگانے سے فاسد ہوجائے گا۔
۱۰کنز اور اس کی شرح ۱۱تبیین الحقائق پھر ۱۲تکملۃ البحرللعلامۃ الطوری میں ہے:
(یفسد الاجارۃ الشرط)لانہا بمنزلۃ البیع ۔ اجارے کو شرط فاسد کردیتی ہے کہ وہ بمنزلہ بیع ہے۔
۱۳فتاوی خیریہ میں ہے:
الاجارۃ کالبیع یفسدھا الشرط الفاسد فیجب علیہم فسخھا ۔ اجارہ مثل بیع ہے شرط فاسد اسے فاسد کردیتی ہے تو ان پر اس کا فسخ کرنا واجب ہوجاتاہے۔
۱۴اختیار شرح مختار پھر ۱۵خزانۃ المفتین میں ہے:
الاجارہ تفسدبالشرط کما یفسد البیع وکل جہالۃ تفسد البیع تفسد الاجارۃ ۔ اجارہ شرطوں سے فاسد ہوجاتاہے جیسے بیع فاسد کرتی ہے اور جو جہالت بیع کو فاسد کرے گی اجارہ کو بھی فاسد کردے گی۔(ت)
۱۶فتاوی سراجیہ میں ہے:
الاجارۃ تفسدھا الشروط الفاسدۃ فکل جہالۃ تؤثر فی البیع توثر فی الاجارۃ ۔ اجارے کو فاسد شرطین فاسد کردیتی ہیں پس جوجہالت بیع میں خلل ڈالے گی اجارے میں بھی خلل انداز ہوگی۔
الاجارۃ کالبیع فتفسد بالشرط ۔ اجارہ بیع کی طرح ہے تو شرط لگانے سے فاسد ہوجائے گا۔
۱۰کنز اور اس کی شرح ۱۱تبیین الحقائق پھر ۱۲تکملۃ البحرللعلامۃ الطوری میں ہے:
(یفسد الاجارۃ الشرط)لانہا بمنزلۃ البیع ۔ اجارے کو شرط فاسد کردیتی ہے کہ وہ بمنزلہ بیع ہے۔
۱۳فتاوی خیریہ میں ہے:
الاجارۃ کالبیع یفسدھا الشرط الفاسد فیجب علیہم فسخھا ۔ اجارہ مثل بیع ہے شرط فاسد اسے فاسد کردیتی ہے تو ان پر اس کا فسخ کرنا واجب ہوجاتاہے۔
۱۴اختیار شرح مختار پھر ۱۵خزانۃ المفتین میں ہے:
الاجارہ تفسدبالشرط کما یفسد البیع وکل جہالۃ تفسد البیع تفسد الاجارۃ ۔ اجارہ شرطوں سے فاسد ہوجاتاہے جیسے بیع فاسد کرتی ہے اور جو جہالت بیع کو فاسد کرے گی اجارہ کو بھی فاسد کردے گی۔(ت)
۱۶فتاوی سراجیہ میں ہے:
الاجارۃ تفسدھا الشروط الفاسدۃ فکل جہالۃ تؤثر فی البیع توثر فی الاجارۃ ۔ اجارے کو فاسد شرطین فاسد کردیتی ہیں پس جوجہالت بیع میں خلل ڈالے گی اجارے میں بھی خلل انداز ہوگی۔
حوالہ / References
الکفایۃ مع فتح القدیر کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر ۸ /۳۴،€شرح النقایہ للبرجندی کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞نولکشور لکھنو، ۳ /۷۷،€حاشیۃ الطحطاوی علی الدارالمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ درالعرفۃ بیروت ∞۴ /۲۴€
تبیین الحقائق کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۵/ ۱۲۱€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۳۲€
خزانۃ المفتین کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞قلمی نسخہ ص۱۶€۵
فتاوٰی سراجیہ کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع نولکشور لکھنؤ ص۱۱۳€
تبیین الحقائق کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۵/ ۱۲۱€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲ /۱۳۲€
خزانۃ المفتین کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞قلمی نسخہ ص۱۶€۵
فتاوٰی سراجیہ کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع نولکشور لکھنؤ ص۱۱۳€
۱۷وقایہ امام برہان الشریعۃ و۱۸شرح امام صدر الشریعۃ و۱۹اصلاح متن و۲۰ایضاح شرح علامہ ابن کمال باشا میں بے تفاوت حرفے ہے:
(الشرط یفسدھا)المراد شرط یفسد البیع ۔ شرط اجارے کو فساسد کردیتی ہے مراد وہ شرط ہے جو بیع کو فاسد کرتی ہے۔
۲۱غرر الاحکام و۲۲درالحکام مولی خسرہ میں ہے:
تفسد بالشرط المفسد بالبیع ۔ اجارہ انھیں شرطوں سے فاسد ہوجاتا ہے جو بیع کو فاسد کرتی ہے۔
۲۳نقایہ امام صدرالشریعۃ میں ہے:یفسدھا شروط تفسد البیع (جارے کو فاسد کرتی ہیں وہ شرطیں کہ بیع میں فساد لاتی ہیں۔۲۴بحرالرائق پھر ۲۵فتح اﷲ المعین للسید الازہری میں ہے:
کل ماافسد البیع یفسدھا ۔ جو کچھ بیع فاسد کرے اجارہ کو بھی فاسد کرتاہے۔
۲۶تنویر الابصار و۲۷درمختارمیں ہے:
(کل ماافسد البیع)ممامر(یفسدھا) ۔ جتنی چیزوں کا ذکر بیع میں گزرا کہ اسے فاسد کرتی ہیں سب اجارےکو بھی فاسدکرتی ہیں۔
۲۸غایۃ البیان شرح ہدایہ للعلامۃ الاتقانی میں ہے:
الاجارۃ کالبیع فکل ماافسد البیع افسدھا ۔ اجارہ مانند بیع ہے تو جو کچھ بیع کو فاسد کرے گا اس میں بھی فساد لائے گا۔
یہ سردست بعد منازل قمر اٹھائیس۲۸ کتب معتمدہ کی روشن عبارات ہیںان عبارات جلیلہ سے واضح ہوا کہ شروط مفسدہ اجارہ کے باب میں روایات متعلقہ بیع کو ذکر کرناعین حق وصواب ہےیہ ہمارا قیاس نہیں بلکہ فقہائے کرام ہی یہاں ان کے بیان کو اسی بیان کتاب البیوع پر محول فرماتے ہیں وہان سے ان کے
(الشرط یفسدھا)المراد شرط یفسد البیع ۔ شرط اجارے کو فساسد کردیتی ہے مراد وہ شرط ہے جو بیع کو فاسد کرتی ہے۔
۲۱غرر الاحکام و۲۲درالحکام مولی خسرہ میں ہے:
تفسد بالشرط المفسد بالبیع ۔ اجارہ انھیں شرطوں سے فاسد ہوجاتا ہے جو بیع کو فاسد کرتی ہے۔
۲۳نقایہ امام صدرالشریعۃ میں ہے:یفسدھا شروط تفسد البیع (جارے کو فاسد کرتی ہیں وہ شرطیں کہ بیع میں فساد لاتی ہیں۔۲۴بحرالرائق پھر ۲۵فتح اﷲ المعین للسید الازہری میں ہے:
کل ماافسد البیع یفسدھا ۔ جو کچھ بیع فاسد کرے اجارہ کو بھی فاسد کرتاہے۔
۲۶تنویر الابصار و۲۷درمختارمیں ہے:
(کل ماافسد البیع)ممامر(یفسدھا) ۔ جتنی چیزوں کا ذکر بیع میں گزرا کہ اسے فاسد کرتی ہیں سب اجارےکو بھی فاسدکرتی ہیں۔
۲۸غایۃ البیان شرح ہدایہ للعلامۃ الاتقانی میں ہے:
الاجارۃ کالبیع فکل ماافسد البیع افسدھا ۔ اجارہ مانند بیع ہے تو جو کچھ بیع کو فاسد کرے گا اس میں بھی فساد لائے گا۔
یہ سردست بعد منازل قمر اٹھائیس۲۸ کتب معتمدہ کی روشن عبارات ہیںان عبارات جلیلہ سے واضح ہوا کہ شروط مفسدہ اجارہ کے باب میں روایات متعلقہ بیع کو ذکر کرناعین حق وصواب ہےیہ ہمارا قیاس نہیں بلکہ فقہائے کرام ہی یہاں ان کے بیان کو اسی بیان کتاب البیوع پر محول فرماتے ہیں وہان سے ان کے
حوالہ / References
شرح الوقایہ کتاب الاجارات باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۲۹€۷
الدالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳€۰
مختصرا لوقایہ فی مسائل الہدایہ کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۱€۱
فتح المعین علی شرح الکنز کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۲۴€۳
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۷۷€
غایۃ البیان
الدالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۳€۰
مختصرا لوقایہ فی مسائل الہدایہ کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۱€۱
فتح المعین علی شرح الکنز کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۲۴€۳
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۷۷€
غایۃ البیان
احکام دیکھنے کی ہمیں راہ بتاتے ہیںاسی لئے فتوائے سابقہ میں عبار ت مذکورہ درمختار نقل کردی تھی کہ جن چیزوں کا مفسد بیع ہونا کتاب البیوع میں مذکور ہوا وہ سب مفسد اجارہ بھی ہیںاسے پیش نظر رکھ کر یہ دیکھئے کہ اس عقد اجارہ میں ضمانت مجہول مشروط ہوئی امانت نامعینہ کی شرط کی گئی مجلس عقد میں پیش از تفرق عاقدین نہ کسی کفیل کی طرف سے قبول واقع ہوانہ رہن کی تعین یابہ بطال رہن اجرت کی تعجیل کی گئیاب صرف اتنا دیکھنا رہا کہ ایسی شرطیں مفسد بیع ہیں یا نہیںاگر ہیں تو یہی عبارات کثیرہ کذکورہ یك زبان شہادت عادلہ دیں گی کہ یہ شرطیں فساد اجارہ کا ذمہ لیں گیمگر ہم دیکھتے ہیں کہ ضروریہ امور مفسد بیع ہیںتو حسب تصریحات ائمہ قطعا مفسداجارہ بھی ہیںشرح مجمع ابن فرشتہ وشرح التنویر علائی وبحرالرائق کی عبارات فتوائے سابقہ میں گزریں۔اورردالمحتار وحاشیہ علامہ سید احمد مصری علی الدرالمختارمیں زیر قول شارح "یصح البیع بشرط رھن معلوم وکفیل حاضر"(معلوم رہن کی شرط پر اور کفیل حاضر ہونے کی شرط پر بیع جائز ہے۔ت)فرمایا:
فلو لم یکن مسمی ولامشار الیہ لم یجز الااذا تراضیا علی تعیینہ فی المجلس و دفع الیہ قبل ان یتفرقا اوان یعجل الثمن ویبطلان الرھن وقید بحضرہ الکفیل لانہ لوکان غائبا اوحاضرا لم یقبل لم یجز اھ بلفظ ط ملخصا۔ اگر نہ رہن معلوم اور اس کی طرف اشارہ بھی نہ ہو تو جائز نہیں۔ہاں اگر دونوں فریق مجلس میں ہی رہن کے تعین ہوجائیں اور وہ سپرد بھی کردیا گیا ہو تو جائز ہوجائے گایا پھر رہن کو باطل کرکے ثمن موقعہ پر ادا کردے اور کفیل کے حاضرہونے کی قید ذکر کی اس لئے کہ اگر وہ غائب ہویا حاضر ہو کفالت کوقبول نہ کرے توجائز نہ ہوگا۔اھ طحطاوی کے الفاظ ملخصا۔(ت)
پھر اس اجارہ کے فساد میں کیا شبہہ وکلام ہوسکتاہے معہذا جو کچھ اس عقد مبحوث عنہ میں شرط کیا گیا خود اسے فسخ اور فسخ بھی کیسا بوجوہ تعلیق بالشرط فاسد مان کر نفس اجارہ کو صحیح ٹھہرانے کی طرف اصلا کوئی سبیل نہیںاجارہ قطعا شروط فاسدہ سے فاسد ہوجاتا ہے جس پر ابھی نصوص واضحہ سن چکےخاص شرط فسخ کاجزئیہ لیجئے وجیز امام کردری تفریعات نوع اول فصل ثانی کتاب الاجارات میں محیط سے ہے:
اجرتك داری ھذہ واراضی ھذہ میں نے تجھے یہ مکان یایہ زمین اجرت پر اس لئے دی
فلو لم یکن مسمی ولامشار الیہ لم یجز الااذا تراضیا علی تعیینہ فی المجلس و دفع الیہ قبل ان یتفرقا اوان یعجل الثمن ویبطلان الرھن وقید بحضرہ الکفیل لانہ لوکان غائبا اوحاضرا لم یقبل لم یجز اھ بلفظ ط ملخصا۔ اگر نہ رہن معلوم اور اس کی طرف اشارہ بھی نہ ہو تو جائز نہیں۔ہاں اگر دونوں فریق مجلس میں ہی رہن کے تعین ہوجائیں اور وہ سپرد بھی کردیا گیا ہو تو جائز ہوجائے گایا پھر رہن کو باطل کرکے ثمن موقعہ پر ادا کردے اور کفیل کے حاضرہونے کی قید ذکر کی اس لئے کہ اگر وہ غائب ہویا حاضر ہو کفالت کوقبول نہ کرے توجائز نہ ہوگا۔اھ طحطاوی کے الفاظ ملخصا۔(ت)
پھر اس اجارہ کے فساد میں کیا شبہہ وکلام ہوسکتاہے معہذا جو کچھ اس عقد مبحوث عنہ میں شرط کیا گیا خود اسے فسخ اور فسخ بھی کیسا بوجوہ تعلیق بالشرط فاسد مان کر نفس اجارہ کو صحیح ٹھہرانے کی طرف اصلا کوئی سبیل نہیںاجارہ قطعا شروط فاسدہ سے فاسد ہوجاتا ہے جس پر ابھی نصوص واضحہ سن چکےخاص شرط فسخ کاجزئیہ لیجئے وجیز امام کردری تفریعات نوع اول فصل ثانی کتاب الاجارات میں محیط سے ہے:
اجرتك داری ھذہ واراضی ھذہ میں نے تجھے یہ مکان یایہ زمین اجرت پر اس لئے دی
حوالہ / References
حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتا ب البیوع باب البیع الفاسد دارالمعرفۃ بیروت ∞۳ /۷۷،€ردالمحتار کتا ب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۲۲€
علی انك تفسخ العقد متی اردت فالاجارۃ فاسدۃ ۔ کہ تو جب چاہے فسخ کردے تو اجارہ فاسد ہوگا۔(ت)
بالجملہ اس اجارے کا فاسد ہونا ایسا جلی وواضح ہے جس میں کسی خادم فقہ کو توقف نہیں ہوسکتا تو خالد کو ضرور اختیار فسخ حاصل ہےرضامندی فریقین کی حاجت عقد صحیح لازم میں ہوتی ہے عقود فاسدہ میں کیا ضرورتخالد کو اختیار ہونا کیسا اس پر اور نیر ہر مستاجر پر فسخ کرنا واجب ہے وہ نہ کریں حاکم پر لازم وہ بھی باز رہے تو سب گنہگاروآثمتنقیح الفتاوی حامدیہ میں ہے:
سئل فیما اذا کان لزید ثلاث جنینۃ معلومۃ وثلثہا الاخرملك عمر وفاجرزید ثلثیۃ من بکر فہل یملك المستاجر الدعوی بفسادھا الجواب نعم الاجارۃ والبیع اخوان لان الاجارۃ تملیك المنافع و البیع تملیك الایمان وقد قال فی الدرالمختار فی باب البیعم الفاسد یجب علی کل واحد منہا ای من البائع والمشتری فسخہ اعداما للفسادلانہ معصیۃ فیجب رفعہابحر۔واذاصراحدہما علی امساکہ و علم بہ القاضی فلہ فسخہ جبراعلیہما حقا للشرع بزازیۃ اھ باختصار۔ ان سے سوال ہوا کہ ایك باغ کا دو تہائی حصہ زید کا ہوا ور ایك تہائی حصہ کامالك عمرو ہو توزید نے اپنا دو تہائی بکر کو اجارہ پر دے دیا تو کیا مستاجر کو حق ہے کہ اجارہ کے فساد کا دعوی کرےالجواب ہاںکیونکہ بیع اور اجارہ ہم مثل ہیں کیونکہ اجارہ میں منافع کا مالك اور بیع میں عین شیئ کا مالك بنانا ہوتاہے اور درمختار میں بیع فاسد کے باب میں فرمایا کہ بائع اور مشتری دونوں پر فسخ کرنا واجب ہے تاکہ فساد ختم ہوسکے کیونکہ وہ گناہ ہے جس کو ختم کرنا ضروری ہوتاہے۔بحر۔اور اگر دونوں میں سے کوئی ایك اس کوقائم رکھنے پر مصر ہو اور قاضی کو معلوم ہوجائے تو وہ جبرا فسخ کردے تاکہ شرعی حق قائم ہوبزایہ اھ اختصار(ت)
خاص اس وجوب فسخ اجارہپر بوجہ فساد کے جزئیہ میں عبارات کثیرہ علماء فقیر کے پیش نظر موجودہیں جن سے بعض فتوائے سابقہ میں منقول ہوئیںاور عبارت خیریہ ابھی گزری مگریہاں بالقصد
بالجملہ اس اجارے کا فاسد ہونا ایسا جلی وواضح ہے جس میں کسی خادم فقہ کو توقف نہیں ہوسکتا تو خالد کو ضرور اختیار فسخ حاصل ہےرضامندی فریقین کی حاجت عقد صحیح لازم میں ہوتی ہے عقود فاسدہ میں کیا ضرورتخالد کو اختیار ہونا کیسا اس پر اور نیر ہر مستاجر پر فسخ کرنا واجب ہے وہ نہ کریں حاکم پر لازم وہ بھی باز رہے تو سب گنہگاروآثمتنقیح الفتاوی حامدیہ میں ہے:
سئل فیما اذا کان لزید ثلاث جنینۃ معلومۃ وثلثہا الاخرملك عمر وفاجرزید ثلثیۃ من بکر فہل یملك المستاجر الدعوی بفسادھا الجواب نعم الاجارۃ والبیع اخوان لان الاجارۃ تملیك المنافع و البیع تملیك الایمان وقد قال فی الدرالمختار فی باب البیعم الفاسد یجب علی کل واحد منہا ای من البائع والمشتری فسخہ اعداما للفسادلانہ معصیۃ فیجب رفعہابحر۔واذاصراحدہما علی امساکہ و علم بہ القاضی فلہ فسخہ جبراعلیہما حقا للشرع بزازیۃ اھ باختصار۔ ان سے سوال ہوا کہ ایك باغ کا دو تہائی حصہ زید کا ہوا ور ایك تہائی حصہ کامالك عمرو ہو توزید نے اپنا دو تہائی بکر کو اجارہ پر دے دیا تو کیا مستاجر کو حق ہے کہ اجارہ کے فساد کا دعوی کرےالجواب ہاںکیونکہ بیع اور اجارہ ہم مثل ہیں کیونکہ اجارہ میں منافع کا مالك اور بیع میں عین شیئ کا مالك بنانا ہوتاہے اور درمختار میں بیع فاسد کے باب میں فرمایا کہ بائع اور مشتری دونوں پر فسخ کرنا واجب ہے تاکہ فساد ختم ہوسکے کیونکہ وہ گناہ ہے جس کو ختم کرنا ضروری ہوتاہے۔بحر۔اور اگر دونوں میں سے کوئی ایك اس کوقائم رکھنے پر مصر ہو اور قاضی کو معلوم ہوجائے تو وہ جبرا فسخ کردے تاکہ شرعی حق قائم ہوبزایہ اھ اختصار(ت)
خاص اس وجوب فسخ اجارہپر بوجہ فساد کے جزئیہ میں عبارات کثیرہ علماء فقیر کے پیش نظر موجودہیں جن سے بعض فتوائے سابقہ میں منقول ہوئیںاور عبارت خیریہ ابھی گزری مگریہاں بالقصد
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارات الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۲۱€
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ کتاب الاجارات ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۳۱۔۱۳€
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ کتاب الاجارات ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲ /۳۱۔۱۳€
یہ عبارت لکھی جس میں علامہ حامدآفندی مفتی دمشق الشام نے حکم اجارے پر فرمایا اور روایت متعلق بیع ذکر کیاور علامہ منقح آفندی زین العابدین نے مقرر رکھی تاکہ روشن ہوکہ ایسی جگہ علمائے کرام کا داب کیارہاہے۔وباﷲ التوفیق واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۶۲: از بانکی پور ضلع پٹنہ محلہ باغ گل بیگم مرسلہ مولوی حکیم محمد یوسف حسن صاحب ۲۱ شعبان ۱۳۱۶ھ
چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ کہ زید مثلا حرفہ طبابت می کند باشخصے مثلا بکرچنیں قرار یافت کہ زید مداوات بکر مے کند"حالابلااجرت"اگر بکر صحت یافت درمدت معینہ و مرض زائل شدصدروپیہ ازو زید خواہد گرفت اجرۃ یا انعاما و گرنا ہیچ اجرت بروے عائد نخواہد شدایا ایں معاملہ صحیح ست یانہبعضے ایں جا می گویند کہ ایں معاملہ اصلا صحیح نیست وبعضے می گویند کہ ایں از قبیل قماربازی ستچہ صحت شخصے غیرا ختیاری ستازروئے شرع شریف ہر چہ حکم باشد فرمودشدہ تفصیلا۔بینوا توجروا علمائے دین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ مثلا زید طبیب ہے جس نے بکر سے طے کیا کہ فی الحال تیرا علاج مفت کرتاہوں اگر تو مقررہ مدت میں صحت یاب ہوجائے اور مرض ختم ہوجائے تو تجھ سے سوروپیہ بطور اجرت لوں یا بطور انعام حاصل کروں گا ورنہ کوئی اجرت تیرے ذمہ نہ ہوگیکیا یہ معاملہ صحیح ہے یانہیں جبکہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ معاملہ ہر گز درست نہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جو ااور قمارہے کیونکہ صحت شریعت کے مطابق جوحکم ہو ارشاد فرمایا جائے۔بینوا توجروا
الجواب:
قول قائل"حالات اجرت"سہ معنی رامحتمل ستیکے۱ نفی اجارہ یعنی حالاہیچ عقد اجارہ نیست زید ہمچناں بطور خود دار بے اجارہ کنددوم۲ نفی اجرت یعنی حالاعقد اجارہ بلا اجرت ست سوم۳ نفی حلول اجرت مقررہ فی الحال دادنی نیست ہمچناں درقول او"اجرۃ یا انعاما"یحتمل کہ تردید از جانب سائل باشد یہ کہنا کہ فی الحال کوئی اجرت نہ ہوگی اس میں تین احتمال ہیں ایک۱ یہ کہ فی الحال اجارہ کی نفی ہے اس وقت عقد اجارہ نہیں ہے اور زید اپنے طور پر خود علاج کرے گادوم۲ یہ کہ فی الحال عقد اجارہ ہے مگر اجرت فی الحال نہیں ہےسوم۳ یہ کہ عقد اجارہ اجرت مقررہ ہے مگر اجرت فی الحال دینی لازم نہیں ہے یونہی یہ کہنا کہ بطور اجرت یا انعام اس میں بھی ایك
مسئلہ ۱۶۲: از بانکی پور ضلع پٹنہ محلہ باغ گل بیگم مرسلہ مولوی حکیم محمد یوسف حسن صاحب ۲۱ شعبان ۱۳۱۶ھ
چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ کہ زید مثلا حرفہ طبابت می کند باشخصے مثلا بکرچنیں قرار یافت کہ زید مداوات بکر مے کند"حالابلااجرت"اگر بکر صحت یافت درمدت معینہ و مرض زائل شدصدروپیہ ازو زید خواہد گرفت اجرۃ یا انعاما و گرنا ہیچ اجرت بروے عائد نخواہد شدایا ایں معاملہ صحیح ست یانہبعضے ایں جا می گویند کہ ایں معاملہ اصلا صحیح نیست وبعضے می گویند کہ ایں از قبیل قماربازی ستچہ صحت شخصے غیرا ختیاری ستازروئے شرع شریف ہر چہ حکم باشد فرمودشدہ تفصیلا۔بینوا توجروا علمائے دین کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ مثلا زید طبیب ہے جس نے بکر سے طے کیا کہ فی الحال تیرا علاج مفت کرتاہوں اگر تو مقررہ مدت میں صحت یاب ہوجائے اور مرض ختم ہوجائے تو تجھ سے سوروپیہ بطور اجرت لوں یا بطور انعام حاصل کروں گا ورنہ کوئی اجرت تیرے ذمہ نہ ہوگیکیا یہ معاملہ صحیح ہے یانہیں جبکہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ معاملہ ہر گز درست نہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ جو ااور قمارہے کیونکہ صحت شریعت کے مطابق جوحکم ہو ارشاد فرمایا جائے۔بینوا توجروا
الجواب:
قول قائل"حالات اجرت"سہ معنی رامحتمل ستیکے۱ نفی اجارہ یعنی حالاہیچ عقد اجارہ نیست زید ہمچناں بطور خود دار بے اجارہ کنددوم۲ نفی اجرت یعنی حالاعقد اجارہ بلا اجرت ست سوم۳ نفی حلول اجرت مقررہ فی الحال دادنی نیست ہمچناں درقول او"اجرۃ یا انعاما"یحتمل کہ تردید از جانب سائل باشد یہ کہنا کہ فی الحال کوئی اجرت نہ ہوگی اس میں تین احتمال ہیں ایک۱ یہ کہ فی الحال اجارہ کی نفی ہے اس وقت عقد اجارہ نہیں ہے اور زید اپنے طور پر خود علاج کرے گادوم۲ یہ کہ فی الحال عقد اجارہ ہے مگر اجرت فی الحال نہیں ہےسوم۳ یہ کہ عقد اجارہ اجرت مقررہ ہے مگر اجرت فی الحال دینی لازم نہیں ہے یونہی یہ کہنا کہ بطور اجرت یا انعام اس میں بھی ایك
یعنی معامل کنندگان اجرۃ گفتند یا انعامایا ہم درکلام ایشاں باشد کہ گفتند اجرۃ یا انعاما خواہد گرفتایں نیز سہ صورت شد وکذلك قولش"وگرنہ ہیچ اجرت بردے عائد نخواہد شد"می شاید کہ بربنائے نفی اجارہ باشد یعنی اجارہ خود نبود کہ اجرت لازم آمدےو می تواند بربنائے انتقائے شرط مقرر فی الاجارہ بودبالجملہ ایں سخن پہلو ہائے بسیار دارد برتقدیریکہ زید وبکر اقتصار برلفظ اجرۃ کردہ باشند اجارہ خود معین ست والنفی ان کان کان نفی المطلقۃ لاالنفی المطلق لتحقق المشروط عیاناورنہ اثبات ونفیش ہر دو بدستورمحتملزیر اکہ انعام اگر چند عــــــہ صلہ ہا تبرع گویند درہمچو مقام بربدل و معاوضہ ہم اطلاقش کنندولفظ انعام تنہایا مردودااگر رودبعد اجارہ داردقیدحلا درسابق شرط "ورنہ"درلاحق رو بتحقیق اوستوسخن ضابطہ دریں مقام آنست کہ اگر زید وبکر ازیں کلام عقد اجارہ خواستہ اندو دادن اجرت مشروط بشرط مذکورہ داشتہوازہمیں قبیل ست تقرر معاوضہ وبدل برعملاگرچہ اجرتش احتمال یہ ہے کہ سال بھیجنے والے کا خیال ہے دونوں حضرات نے اجرت کی بات کی ہے یا انعام کہاہے جو اسے متعین طور پر معلوم نہیں ہے دوسرا احتمال یہ ہے کہ دونوں فریقوں نے اپنی گفتگو میں کہا ہے اجرت کے طورپر یاانعام کے طورپر لے گاپھر زید طبیب کا یہ کہنا کہ"لے گا"اس میں تین صورتیں ہیں اوریوں ہی زید کا کہنا کہ ورنہ کوئی اجرت بکر کے ذمہ نہ ہوگی کہ اجارہ کے طور پر نہ ہوگی یعنی اجارہ ہی نہیں تو اجرت کیا ہوگی اور ہوسکتاہے اجارہ میں مقررہ اجرت کی شرط کی نفی کی ہوغرضیکہ یہ بات بہت سے پہلو رکھتی ہے اس تقدیر پر کہ زید او ربکرنے صرف اجارہ کے ذکر پر اکتفا کیا ہو تو اجارہ کی صورت ہوگئی ہے اور(ورنہ کچھ اجرت نہ ہوگی)یہ نفی مطلق اجرت کی ہوگی مکمل نفی نہ ہوگیکیونکہ مشروط(مرض)واضح طور پر متحقق ہےورنہ مکمل نفی میں اثبات ونفی دونوں احتمال بدستور باقی ہوں گے کیونکہ انعام اگرچہ صلہ اورتبرع ہوتاہے مگر ایسے مقام میں بدل اور معاوضہ بھی مراد ہوتاہے اور انعام کا لفظ صورتا اگر عدم اجارہ ہے تو پہلے"فی الحال"کی قید اور بعد میں"ورنہ"کی شرط اجارہ کے تحقق کی صورت ہےاور ضابطہ کی بات یہاں یہ ہےکہ اگر زید وبکر نے یہ
عــــــہ: اظنہ"اگرچہ"۱۲۔
عــــــہ: اظنہ"اگرچہ"۱۲۔
نگویند وبنام انعام تعبیر کنند فان المعنی ھوا المعتبر فی ہذہ العقود کما نص علیہ فی الہدایۃ وغیرہا۔آنگاہ درفساد وحرمت ایں عقد سخنے نیستزیراکہ ایں تعلیق بالحظر ستوعقد اجارہ ہمچوں تعلیقات رابر نتابدونیز صحت خاصہ وایں قدر مدت مقدورر طیب نیستدریں صورت طیب مستحق اجرت مثل خواہد بود امابیش از قدر مقدور اعنی صدرویپہ نیابد اگر درہمچوں مدت ہمچو مرض راایں چنیں مداوا پیش مرودم بصد روپیہ ہابیش ازاں مے ارزدصد روپیہ دہندش وبس واگر مثلا یك روپیہ اجر مثل ست ہمیں یك دہندودگر ہیچ نہواگر مقصود سخن منفی اجارہ حقیقۃ ووعدہ مجردہ انعام محض بروجہ تبر ع باشد مثلا زید گفت حالاہمچناں مفت ورائگاں کارمے کنم ہیچ اجارہ درمیان نیست اگر بمدت معلومہ صحت دست نداد چیزے نہ دہند کہ کارباجرت خود نبودہ استورنہ بطور تبرع صدروپیہ انعام بخشندبکر گفت ہمچناں کنم ایں رواوبے غائلہ استزیرا کہ وعدے بیش نیست کلام عقد اجارہ کے طورپر کیا ہے اور اجرت کیا ادائیگی کو شرط مذکور سے مشروط کیااسی قبیل سے معاوضہ اور بدل کا تقرر عمل پر کرنا ہے اگرچہ اجرت نہ کہیں اور اس کانام انعام رکھیںتو ایسی صورت میں اس عقد کے فسادا ور حرام ہونے میں کوئی شك نہیں ہےکیونکہ ان عقود میں معانی کا اعتبار ہوتاہے جیسا کہ اس پر ہدایہ وغیرہا نص موجودہے اور فساد کی وجہ اس میں یہ ہے کہ اجرت کو ہونے نہ ہونے والی چیز سے معلق کیا گیا ہے جبکہ عقد اجارہ ایسی تعلیق کو قبول نہیں کرتا
نیز مکمل صحت او رمدت کی مقدار طبیب کا مقدور نہیں ہے لہذا ایسی صورت میں طبیب مثلی اجرت کا مستحق ہوگا تاہم وہ مثلی اجرت مقررہ سوروپیہ سے زائد نہ ہوگی یعنی اگر ایسی مرض کا اتنی مدت میں ایسا علاج لوگوں کے ہاں سوروپے یا اس سے زائد ہوتا ہو تو سوروپیہ ہی دیا جائے گا اور ایك روپیہ میں ہوتاہے ہو تو صرف ایك ہی روپیہ مثلی اجرت دی جائے گی اور اگر زید و بکر کا کلام حقیقی اجارہ کی نفی پر مبنی ہے اور انعام کا صرف وعدہ بطور تبرع ہے مثلا زید نے کہا فی الحال مفت علاج کرتاہوں او کوئی اجارہ نہیں ہے اور مد ت معینہ میں صحت یاتی نہ ہو تو کچھ نہ دینا کیونکہ یہ کام اجرت پر نہیں ہے ورنہ صحت یابی کی صورت میں تبرع کے طورپر سوروپیہ انعام بخشیش کردینابکر نے جوباب میں تسلیم کرلیا کہ ایسا کروں گا تویہ بالکل جائز ہے کیونکہ یہ ایك وعدہ ہے جس میں کوئی
نیز مکمل صحت او رمدت کی مقدار طبیب کا مقدور نہیں ہے لہذا ایسی صورت میں طبیب مثلی اجرت کا مستحق ہوگا تاہم وہ مثلی اجرت مقررہ سوروپیہ سے زائد نہ ہوگی یعنی اگر ایسی مرض کا اتنی مدت میں ایسا علاج لوگوں کے ہاں سوروپے یا اس سے زائد ہوتا ہو تو سوروپیہ ہی دیا جائے گا اور ایك روپیہ میں ہوتاہے ہو تو صرف ایك ہی روپیہ مثلی اجرت دی جائے گی اور اگر زید و بکر کا کلام حقیقی اجارہ کی نفی پر مبنی ہے اور انعام کا صرف وعدہ بطور تبرع ہے مثلا زید نے کہا فی الحال مفت علاج کرتاہوں او کوئی اجارہ نہیں ہے اور مد ت معینہ میں صحت یاتی نہ ہو تو کچھ نہ دینا کیونکہ یہ کام اجرت پر نہیں ہے ورنہ صحت یابی کی صورت میں تبرع کے طورپر سوروپیہ انعام بخشیش کردینابکر نے جوباب میں تسلیم کرلیا کہ ایسا کروں گا تویہ بالکل جائز ہے کیونکہ یہ ایك وعدہ ہے جس میں کوئی
والوعدہ لاحجر فیہ وماکان یخشی من جہۃ تعیین شیئ بازاء العمل علی تقدیر الصحۃ فقد زال بتصریح نفی الاجارۃ کون ذلك تبرع بلا عقد فان الصریح یفوق الدلالۃ کما لایخفیفی الہندیۃ سئل شمس الائمۃ الاوزجندی عمن دفع الی طبیب جاریۃ مریضۃ وقا لہ عالجھا بمالکفمایزداد من قیمتہا بسبب الصحۃ فالزیادۃ لك ففعل الطبیب و برئت الجاریۃ فلطبیب علی المالك اجر مثل المعالجۃ وثمن الادویۃ والنفقۃ ولیس لہ سوی ذلك شیئ کذا فی المحیطوفیہا عن البزازیۃ دفع جاریۃ مریضۃ الی طبیب وقال عالجہا فان برئت فمازاد من قیمتہا بالصحۃ بیننا فعالجہا حتی صحت لہ اجر المثل الخو فیہا عن المحیط الاصل ان العقد اذا فسد مع کون المسمی کل معلوما لمعنی اخر یجب اجر المثلی و لایزاد علی المسمیحتی ان المسمی اذا کان خمسۃ اجر المثل عشرۃ یجب خمسۃ لاغیر۔وینقص عن حرج نہیں ہے اور یہ احتمال کہ عمل کے مقابلہ میں اجرت کا تعین ہے تو ی احتمال اجارہ کی صراحۃ نفی سے ختم ہوجاتاہے کیونکہ صریح بات محض دلالت پر فائق ہوتی ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہے۔ہندیہ میں ہے کہ شمس الائمہ اورزجندی سے سوال ہوا کہ ایك شخص نے طبیب کو کہا میری مریضہ لونڈی کا اپنے خرچ سے علاج کرو اور صحت ہوجانے پر اس کی جتنی زائد قیمت ہوگی وہ تیری ہوگی تو طبیب کے علاج سے وہ تندرست ہوگئی تو مالك پر طبیب کےلئے مثلی اجرت ہوگی اور ساتھ ہی دوائیوں کی قیمت او رلونڈی کی خوراك کاخرچہ بھی طبیب کودے گاطبیب کو اس سے زائد کچھ استحقاق نہ ہوگا محیط میں یوں ہےہندیہ میں بزازیہ سے منقول ہے کہ مریض لونڈی طبیب کے سپرد کرکے کہا کہ اس کا علاج کرو او راس کی صحت پر جنتی قیمت زائد حاصل ہوگی وہ میرے اور تیرے درمیان تقسیم ہوگی۔تو اگر مریضہ تندرست ہوگئی تو معالج کو صرف مثلی قیمت دی جائیگی الخ اورہندیہ میں محیط سے منقول ہےقاعدہ یہ ہے کہ اگر عقد کسی خارجی وجہ سے فاسد ہوجائے تو مثلی اجرت لازم ہوتی ہےاو رمقررہ اجرت سے زائد نہ ہونی چاہئے حتی کہ اگر مقررہ اجرت پانچ درہم ہے اور مثلی اجرت دس درہم ہے تو پانچ ہی دئے جائیں گےزائد نہیںمثلی اجرت
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارات البا ب الثانی والثلاثون ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۵۲۸€
المسمی حتی انہ اذا کان اجر المثل خمسۃ والمسمی عشرۃ یجب خمسہ اھ مختصرا وفیہا عن الخانیۃ ذکر محمد رحمہ اﷲ تعالی الحیلۃ فی استیجار السمسار وقال یامرہ ان یشتری لہ شیئا معلوما اویبیع ولا یذکر لہ اجرا ثم یواسیہ بشیئ اماھبۃ اوجزاء للعمل فیجوز ذلك لمساس الحاجۃ اھ قلت فاذا جاز لعدم ذکر الاجر فلان یجوز بذکر عدم الاجر اولی کما لایخفی واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ مقررہ سے کم ہونے کی صور ت میں کم ہی دی جائیگیمثلا مثلی اجرت پانچ روپے ہے اور مقررہ اجرت دس درہم ہو تو پانچ دئے جائیں گے اھ مختصرا۔ اورہندیہ میں خانیہ سےمنقول ہے کہ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی علیہ نے فرمایا کہ آڑھتی کی اجرت کاحیلہ یہ ہے کہ اس کو کسی چیز کی خرید وفروخت کا آرڈر دے کر اس کو اجرت نہ بتائے پھر عمل کے بعد ا س کو کچھ امداد کے طور پر ہبہ یا جزاء کی صورت میں دےتو یہ ضرورت پڑنے پر جائز ہے اھمیں کہتاہوں جب اجرت کے ذکر نہ کرنے پر دینا جائز ہے تو اجرت کی نفی پر بطریق اولی کچھ نہیں دینا جائز ہوگا۔جیساکہ مخفی نہیں ہے واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۶۳: از شہر کہنہ ۱۰ جمادی الاولی ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ انگریزوں کی نوکری سلائی کے کام کی کرنا یا ان کا کپڑا مکان پر لاکر سینا جائز ہے یانہیں
الجواب:
انگریز کی سلائی کی نوکری کرنے یا گھر پر لاکر ا س کا کپڑا سینے میں کوئی مضائقہ نہیں جبکہ کسی محذور شرعی پر مشتمل نہ ہو فتاوی قاضیخاں میں ہے:
اجر نفسہ من نصرانی ان استاجرہ لعمل غیر الخدمۃ جاز الخوتمامہ فی غمز العیونواﷲ سبحانہ و تعالی اعلم۔ مسلمان نے اپنے آپ کو عیسائی کا اجیر بنایا اگر اس کی ذاتی خدمت کے علاوہ کوئی کام اجرت پرکرے تو جائز ہے الخاور اس کی مکمل بحث
مسئلہ ۱۶۳: از شہر کہنہ ۱۰ جمادی الاولی ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ انگریزوں کی نوکری سلائی کے کام کی کرنا یا ان کا کپڑا مکان پر لاکر سینا جائز ہے یانہیں
الجواب:
انگریز کی سلائی کی نوکری کرنے یا گھر پر لاکر ا س کا کپڑا سینے میں کوئی مضائقہ نہیں جبکہ کسی محذور شرعی پر مشتمل نہ ہو فتاوی قاضیخاں میں ہے:
اجر نفسہ من نصرانی ان استاجرہ لعمل غیر الخدمۃ جاز الخوتمامہ فی غمز العیونواﷲ سبحانہ و تعالی اعلم۔ مسلمان نے اپنے آپ کو عیسائی کا اجیر بنایا اگر اس کی ذاتی خدمت کے علاوہ کوئی کام اجرت پرکرے تو جائز ہے الخاور اس کی مکمل بحث
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارات الباب الخامس عشر الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۴€۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارات الباب الخامس عشر الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۴۱€
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الاجارات باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۳ /۴۳۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارات الباب الخامس عشر الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۴۴۱€
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الاجارات باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞نولکشور لکھنؤ ۳ /۴۳۳€
وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ غمز العیون میں ہےواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم(ت)
مسئلہ ۱۶۴: از شہر کہنہ غرہ محرم الحرام شریف ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے عمروسے ایك مکان معہ صحن واحاطہ کے ایك سال کے واسطے کرایہ پر لیا او راحاطہ کی دیواریں نصف بنی ہوئی تھیں۔____________________ زید نے عمرو سے کہا کہ احاطہ دیواریں بنوادوعمرو نے وعدہ کیا کہ میں دو تین روز میں دیواریں بنوادوں گاتم لکڑی ڈالوں او رکرایہ نامہ سال بھر کا لکھ دوزید نے کرایہ نامہ سال بھر کا لکھ دیاعہ۱۲// ماہواری حساب سےزید نے اپنا ایك شریك کرکے اس میں لکڑی ڈالیاو زید نے عمرو سے کہا کہ اپنے وعدہ کے موافق دیواریں بنوادوعمرو نے جواب دیا کہ اس وقت میرے پاس روپیہ نہیں ہےد و مہینے کے بعدبنوادوں گاتم ایك آدمی اپنے مال کی حفاظت کے واسطے نوکر رکھ لوجب تك دیواریں نہ تیارہوںزید نے کہاکہ میں غریب آدمی ہوں اس قدر مجھ میں طاقت نہیں ہے کہ میں نوکر بھی رکھوںاور کرایہ مکان بھی دوںاور جو شریك زید کا ہوا تھا وہ بھی دو چار روزکے بعد شرکت چھوڑ کر چلا گیابعد ایك ہفتہ کے زید نے مجبور ہوکر بوجہ اپنے نقصان کے لکڑی اس مکان سے اٹھالی او رکنجی عمرو کو دے دی عمرو نے زید سےکہا کہ میں تم سے کرایہ ایك سال کالوں گازید نےکہا جب دیواریں بنوادو گے اس قت میں ٹالی لکڑی ڈالوں گا تب کرایہ تم کو دوں گاپھر عمرو خاموش ہورہااور اب چارمہینے کے بعد عمرو نے دیواریں بنانے کا قصد کیا ہے اور زید سے کہا ہےکہ تم لکڑی ڈالوزید نے کہا کہ اب میرے پاس روپیہ نہیں ہے بوجہ ناداری کے مجبور ہوں
پس اس صورت میں زید سے جبرا کرایہ سال بھر کا عمرو کو لینا شرعا جائز ہے یانہیں مکرر یہ ہے کہ مقدار دیواروں کی ڈیڑھ گز رکی اونچائی اور ایك جانب مکان کا دروازہ اور بنیاددیوار ہے اور اس جانب کچھ حفاظت نہیں ہے دیواروں کا بنوادینا عقد سے پہلے ہوا تھا اور وقت فیصلہ کرایہ کے بھی عمرونے اقرارکیا تھا اورکہا تھا کہ میں تین تین گزر کی دیواریں اونچی کرادوں گا چاروں طرف اور بعد ایك ہفتہ کے چابی عمرونے زید سے طلب کیزید نے چابی دیعمروکی جانب سے خاموشی ہوئی فقطبینوا توجروا
الجواب:
یہ سوال مختلف وجوہ پر پیش کیا گیا۔اگر صورت واقعہ یہی ہے تو اس شکل میں زید پر سال بھر کا کرایہ لازم نہیں دیواریں اس قدر چھوٹی ہوناجس میں مال کی حفاظت نہ ہو بلاشبہ عذر صحیح ہے
مسئلہ ۱۶۴: از شہر کہنہ غرہ محرم الحرام شریف ۱۳۱۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے عمروسے ایك مکان معہ صحن واحاطہ کے ایك سال کے واسطے کرایہ پر لیا او راحاطہ کی دیواریں نصف بنی ہوئی تھیں۔____________________ زید نے عمرو سے کہا کہ احاطہ دیواریں بنوادوعمرو نے وعدہ کیا کہ میں دو تین روز میں دیواریں بنوادوں گاتم لکڑی ڈالوں او رکرایہ نامہ سال بھر کا لکھ دوزید نے کرایہ نامہ سال بھر کا لکھ دیاعہ۱۲// ماہواری حساب سےزید نے اپنا ایك شریك کرکے اس میں لکڑی ڈالیاو زید نے عمرو سے کہا کہ اپنے وعدہ کے موافق دیواریں بنوادوعمرو نے جواب دیا کہ اس وقت میرے پاس روپیہ نہیں ہےد و مہینے کے بعدبنوادوں گاتم ایك آدمی اپنے مال کی حفاظت کے واسطے نوکر رکھ لوجب تك دیواریں نہ تیارہوںزید نے کہاکہ میں غریب آدمی ہوں اس قدر مجھ میں طاقت نہیں ہے کہ میں نوکر بھی رکھوںاور کرایہ مکان بھی دوںاور جو شریك زید کا ہوا تھا وہ بھی دو چار روزکے بعد شرکت چھوڑ کر چلا گیابعد ایك ہفتہ کے زید نے مجبور ہوکر بوجہ اپنے نقصان کے لکڑی اس مکان سے اٹھالی او رکنجی عمرو کو دے دی عمرو نے زید سےکہا کہ میں تم سے کرایہ ایك سال کالوں گازید نےکہا جب دیواریں بنوادو گے اس قت میں ٹالی لکڑی ڈالوں گا تب کرایہ تم کو دوں گاپھر عمرو خاموش ہورہااور اب چارمہینے کے بعد عمرو نے دیواریں بنانے کا قصد کیا ہے اور زید سے کہا ہےکہ تم لکڑی ڈالوزید نے کہا کہ اب میرے پاس روپیہ نہیں ہے بوجہ ناداری کے مجبور ہوں
پس اس صورت میں زید سے جبرا کرایہ سال بھر کا عمرو کو لینا شرعا جائز ہے یانہیں مکرر یہ ہے کہ مقدار دیواروں کی ڈیڑھ گز رکی اونچائی اور ایك جانب مکان کا دروازہ اور بنیاددیوار ہے اور اس جانب کچھ حفاظت نہیں ہے دیواروں کا بنوادینا عقد سے پہلے ہوا تھا اور وقت فیصلہ کرایہ کے بھی عمرونے اقرارکیا تھا اورکہا تھا کہ میں تین تین گزر کی دیواریں اونچی کرادوں گا چاروں طرف اور بعد ایك ہفتہ کے چابی عمرونے زید سے طلب کیزید نے چابی دیعمروکی جانب سے خاموشی ہوئی فقطبینوا توجروا
الجواب:
یہ سوال مختلف وجوہ پر پیش کیا گیا۔اگر صورت واقعہ یہی ہے تو اس شکل میں زید پر سال بھر کا کرایہ لازم نہیں دیواریں اس قدر چھوٹی ہوناجس میں مال کی حفاظت نہ ہو بلاشبہ عذر صحیح ہے
اور اس کا مضر ومخل منفعت مقصودہ ہونا ظاہر وصریح ہےتومذہب اصح ومعتمد پر زید باختیار خود اس اجارے کو فسخ کرسکتاتھا اگر چہ عمرونہ مانےیہاں جبکہ خود عمرو نے کنجی مانگ لی اور زید نے دے دیجب عمرو نے کہا میں کرایہ سال بھر کالے لوں گااس نے وہ جواب دیا جس سے صاف ظاہرہوا کہ اس وقت اجارہ باقی نہیں رکھتا بعد دیواریں بنوادینے کے اس کا دعدہ کرتاہےاور عمرو اس جواب پرخاموش ہورہاتو ہرطرح اجارہ فسخ ہوگیااور روز سپردگی کلید سے زید کے ذمہ کرایہ لازم نہ رہا۔
فی ردالمحتار عن حاشیۃ الاشباہ للسید ابی السعود عن العلامۃ البیریالحاصل ان کل عذر لایمکن معہ استیفاء المعقود علیہ الا بضررہ یلحقہ فی نفسہ اومالہ یثبت لہ حق الفسخ ۔ ردالمحتار میں سید ابوسعود کے حاشیہ الاشباہ سے بحوالہ علامہ بیری منقول ہےحاصل یہ ہے کہ ایسا عذر جس کی وجہ سے معقود علیہ بغیر ضرر پورانہ ہو سکتاہو خواہ ضرر جان کا ہو یا مال کا ہو تو عذر والے کو اس عقد کے فسخ کا حق ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
عمارۃ الدرالمستأجرۃ وتطیینہا و اصلاح المیزاب و ما کان من البناء علی رب الدار وکذا کل مایخل فان ابی صاحبہا ان یفعل کان للمستاجر ان یخرج منہا الا ان یکون استأجرھا وھی کذلك وقدراہا لرضاہ بالعیب وفی الجوہرۃ ولہ ان یتفرد بالفسخ بلا قضا قلت و فی حاشیۃ الاشباہ معزیا للنہایۃ۔ان العذر ظاھرایتفردوان مشتبہا لاوھو الاصح ملخصا۔ قلت وظاھر کرایہ والے مکان کی تعمیرلپائی اور پرنالہ اور جو بھی مرمت مکان کی عمارت کی اصلاح کے لئے ہو وہ مالك مکان کے ذمہ ہےاگر وہ اس سے انکارکرے تو کرایہ دارکو حق ہےکہ وہ مکان چھوڑ دےہاں اگر کرایہ دار نے اس حالت میں دیکھ کر لیا تو اس کی یہ حق نہیں کیونکہ وہ عیب دیکھنے کے باجود لینے پر راضی ہو ا تھا او رجوہرہ میں ہے کہ کرایہ دار قضاء کے بغیر خود عقد کو فسخ کرسکتاہےمیں کہتاہوںاور الاشباہ کے حاشیہ میں نہایہ کی طرف منسوب ہے کہ اگر واضح عذر ہو تو اسے فسخ کا اختیار ہے اور اگر مشتبہ معاملہ ہو تو پھر اختیار نہیں
فی ردالمحتار عن حاشیۃ الاشباہ للسید ابی السعود عن العلامۃ البیریالحاصل ان کل عذر لایمکن معہ استیفاء المعقود علیہ الا بضررہ یلحقہ فی نفسہ اومالہ یثبت لہ حق الفسخ ۔ ردالمحتار میں سید ابوسعود کے حاشیہ الاشباہ سے بحوالہ علامہ بیری منقول ہےحاصل یہ ہے کہ ایسا عذر جس کی وجہ سے معقود علیہ بغیر ضرر پورانہ ہو سکتاہو خواہ ضرر جان کا ہو یا مال کا ہو تو عذر والے کو اس عقد کے فسخ کا حق ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
عمارۃ الدرالمستأجرۃ وتطیینہا و اصلاح المیزاب و ما کان من البناء علی رب الدار وکذا کل مایخل فان ابی صاحبہا ان یفعل کان للمستاجر ان یخرج منہا الا ان یکون استأجرھا وھی کذلك وقدراہا لرضاہ بالعیب وفی الجوہرۃ ولہ ان یتفرد بالفسخ بلا قضا قلت و فی حاشیۃ الاشباہ معزیا للنہایۃ۔ان العذر ظاھرایتفردوان مشتبہا لاوھو الاصح ملخصا۔ قلت وظاھر کرایہ والے مکان کی تعمیرلپائی اور پرنالہ اور جو بھی مرمت مکان کی عمارت کی اصلاح کے لئے ہو وہ مالك مکان کے ذمہ ہےاگر وہ اس سے انکارکرے تو کرایہ دارکو حق ہےکہ وہ مکان چھوڑ دےہاں اگر کرایہ دار نے اس حالت میں دیکھ کر لیا تو اس کی یہ حق نہیں کیونکہ وہ عیب دیکھنے کے باجود لینے پر راضی ہو ا تھا او رجوہرہ میں ہے کہ کرایہ دار قضاء کے بغیر خود عقد کو فسخ کرسکتاہےمیں کہتاہوںاور الاشباہ کے حاشیہ میں نہایہ کی طرف منسوب ہے کہ اگر واضح عذر ہو تو اسے فسخ کا اختیار ہے اور اگر مشتبہ معاملہ ہو تو پھر اختیار نہیں
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الاجارات باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۵۰€
درمختار کتاب الاجارۃ باب فسخ الاجارۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۸۳€
درمختار کتاب الاجارۃ باب فسخ الاجارۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۸۳€
ان الثنیا المذکورۃ بقولہ"الا ان یکون استأجرھا الخ"لایتعلق بما ھنا فانہ و ان راہ لم یرض بہ کان شارطہ ان یبنی الجدران واﷲ تعالی اعلم۔ اصح یہی ہےاھ ملخصا۔میں کہتاہوں ظاہر یہ ہےمگر دیکھ کرلیا ہو"الخ والااستثناء مذکور اس مسئلہ سے متعلق نہیں کیونکہ اگر دیکھ لیا ہو تو راضی نہ ہوا بلکہ اس نے اس وقت مالك سے مرمت کی شرط کرکے لیا ہو تو مالك کے انکار پر فتح کا اختیار ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۶۵: ۲۲ جمادی الاولی ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رنڈی کوجوکسبی ہےمکان کرایہ پردیناجائز ہےیا نہیں
الجواب:
ہرگز نہ دیاجائےاگر وہ زانیہ ہے اوراگر صرف ناچ گانےکا پیشہ رکھتی ہےتو حرج نہیں کہ فاسقہ ہے اور فاسق کو مکان اجارہ پردینے میں کچھ حرج نہیں بخلاف زنا پیشہ کہ وہ مکان اس لئے لیا جاتاہے کہ اس میں زنا ہو۔والعیاذ باﷲ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۶: از بنگالہ ۲۶ رجب ۱۳۲۰ھ
ماقولکم دام طولکم فی العہدۃ الرائجۃ فی بلادنا التی یقال لہا سب رجستراری"کیف ھی فی نفسہا نظرا الی ماھولازم لہا الان من حفظ صکوك الرباوغیرھا من العقود الفاسدۃ المحرمۃ شرعاو لایمکن لاحد ان یقوم بہاھھنا الاحتراز عن ذلك فہل ھی حرام ام لا۔بینوا توجروا آپ کی درازی عمر ہوآپ کا ارشاد کیا ہے۔مروجہ سب رجسٹراری جس کے لوازمات میں سود کی رسیدات اور دیگر شرعی طور پر حرام اور فاسد عقود کے ریکارڈ کی حفاظت ہےان لوازمات کے پیش نظر اس عہد ہ کا کیا حکم ہے جبکہ اس عہدہ پر فائذ کوئی شخص مذکورہ مفاسد سے بچ نہیں سکتا ______ بینوا توجروا
الجواب:
نعم ھی حرام شرعا والحال ماوصف فانہا احدی الشہادات علی تلك الصکوک ہاں یہ شرعا حرام ہے جبکہ صورت وہی ہے جو ذکر کی ہے کیونکہ یہ عہدہ ان سودی چیکوں ورسیدوں
مسئلہ ۱۶۵: ۲۲ جمادی الاولی ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رنڈی کوجوکسبی ہےمکان کرایہ پردیناجائز ہےیا نہیں
الجواب:
ہرگز نہ دیاجائےاگر وہ زانیہ ہے اوراگر صرف ناچ گانےکا پیشہ رکھتی ہےتو حرج نہیں کہ فاسقہ ہے اور فاسق کو مکان اجارہ پردینے میں کچھ حرج نہیں بخلاف زنا پیشہ کہ وہ مکان اس لئے لیا جاتاہے کہ اس میں زنا ہو۔والعیاذ باﷲ واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۶۶: از بنگالہ ۲۶ رجب ۱۳۲۰ھ
ماقولکم دام طولکم فی العہدۃ الرائجۃ فی بلادنا التی یقال لہا سب رجستراری"کیف ھی فی نفسہا نظرا الی ماھولازم لہا الان من حفظ صکوك الرباوغیرھا من العقود الفاسدۃ المحرمۃ شرعاو لایمکن لاحد ان یقوم بہاھھنا الاحتراز عن ذلك فہل ھی حرام ام لا۔بینوا توجروا آپ کی درازی عمر ہوآپ کا ارشاد کیا ہے۔مروجہ سب رجسٹراری جس کے لوازمات میں سود کی رسیدات اور دیگر شرعی طور پر حرام اور فاسد عقود کے ریکارڈ کی حفاظت ہےان لوازمات کے پیش نظر اس عہد ہ کا کیا حکم ہے جبکہ اس عہدہ پر فائذ کوئی شخص مذکورہ مفاسد سے بچ نہیں سکتا ______ بینوا توجروا
الجواب:
نعم ھی حرام شرعا والحال ماوصف فانہا احدی الشہادات علی تلك الصکوک ہاں یہ شرعا حرام ہے جبکہ صورت وہی ہے جو ذکر کی ہے کیونکہ یہ عہدہ ان سودی چیکوں ورسیدوں
بل اعظمہا فی القانون الرائج حیث لایقبل کثیر من الصکوك الابہافکان القائم بہا معینا فی ثبوت الربا الحرام شرعاوقد قال تعالی " ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ثم ھو ینسخ الصك ویحفظ نسختہ فی قمطرہ فکان احدالکاتبین بل الکاتب الاعظم لما مروقد اخرج مسلم فی صحیحہ عن جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ تعالی عنہما قال لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل الرباء ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء "۔واخراج ابوداؤد والترمذی و صححہ ابن ماجۃ وابن حبان فی صحاحہم عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہقال لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل الرباء و مؤکلہ وشاھدہ وکاتبہ واخرج احمد وابویعلی وابنا خزیمۃ وحبان فی صحیحہما عنہ پر بڑی شہادت ہے بلکہ رائج قانون میں کوئی بھی رسیدو چیك وغیرہ اس عہدہ کی شہادت کے بغیر قبول نہیں کئے جاتے تو اس عہد پر قائم شخص سودی اور حرام معاملاہت پر معاون ہو تاہے اور بیشك اﷲ تعالی نے فرمایا ہےگناہ اور عداوت پر باہمی تعاون نہ کروپھر یہ عہدیدار ان چیکوں کو لکھتاہے اور اپنے محافظ خاز میں اس کی تحریر کو محفوظ کرتاہے تو بھی ایك کاتب بلکہ بڑا کاتب ہے جیسا کہ گزرا حالانکہ مسلم رحمہ اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے انھوں نے کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے سود کھانے کھلانے اور اس کی شہادت دینے والوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا سب برابر مجرم ہیں اورابوداؤد ترمذیابن ماجہابن حبان نے انی اپنی صحاح میں اس کو صحیح کہاکہ عبداﷲ بن مسعود نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے سودکھانے کھلانےاس کی شہادت دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔اور احمد ابویعلیاور ابن خزیمہ ابن حبان دونوں نے اپنی اپنی صحیح میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیا
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۵/ ۲€
صحیح مسلم کتا ب المساقات والمزارعۃ باب الربٰو ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷€
جامع الترمذی ابواب البیوع باب ماجاء فی اکل الرب،∞و امین کمپنی دہلی ۱ /۱۴۵،€سنن ابی داؤد ∞۲/ ۱۱۷،€ سنن ابن ماجہ ∞ص ۱۱۶،€موارد الظلمان ∞حدیث ۱۱۱۲€ المطبعۃ السلفیہ ∞ص ۲۷۲€
صحیح مسلم کتا ب المساقات والمزارعۃ باب الربٰو ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۷€
جامع الترمذی ابواب البیوع باب ماجاء فی اکل الرب،∞و امین کمپنی دہلی ۱ /۱۴۵،€سنن ابی داؤد ∞۲/ ۱۱۷،€ سنن ابن ماجہ ∞ص ۱۱۶،€موارد الظلمان ∞حدیث ۱۱۱۲€ المطبعۃ السلفیہ ∞ص ۲۷۲€
رضی اﷲ تعالی عنہ قال اکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ و شاہداہ اذا علموا بہ ملعونون علی لسان محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ھذا مختصراواخراج الطبرانی فی الکبیر عنہ رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن مرفوعا الی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لعن اﷲ الرباء واکلہ ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدہ وھم یعلمون "الحدیث قدجمع ثلثۃ وجوہ للتحریم اعانۃ الاثم وکتابہ الربا والشہادۃ۔والعیاذ باﷲ تعالیواﷲ تعالی اعلم۔ کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:سو دکھانےکھلانے اس کے کاتب اور گواہ جانتے ہوئے یہ عمل کریںوہ محمد صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی زبان مبارك پر ملعون ہیں۔یہ مختصر ہےاور طبرانی نے اپنی کبیر میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالی عنہ سے حسن سندکے ساتھ مرفوع حدیث میں روایت کیا کہ اﷲ تعالی نے سود کھانے کھلانےلکھنے اور گواہی دینے والے پر جبکہ وہ جانتے ہوئے یہ عمل کریںلعنت فرمائی ہے الحدیثتو بیشك حرمت کے تین وجوہ گناہ میںاعانتسو د کی کتابتاور گواہیکاسب رجسٹرار جامع ہوتاہے والعیاذ باﷲ تعالیواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۶۷: از شہر کہنہ مسئولہ ظہور محمد خاں ۲۶ جمادی الآخرہ ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین وفضلائے شریعت آئین اس مسئلہ میں کہ دو شخصوں کے درمیان دوستی محض اﷲ واسطے ہو ایك شخص اپنے دوسرے دوست کی اولاد کو کلام مجید محض اﷲ واسطے پڑھاتاہےتنخواہ نہیں لیتالڑکوں کاباپ محض اپنے اخلاص ومحبت سے اس دوست کو کوئی چیز بلا قیمت کے دے اور یہ اس کا خیال نہ ہو کہ پڑھانےکا بدلہ کرتاہوںتو ایسی حالت میں عوض پڑھانےکا تو نہیں ہوجائیگا
الجواب:
جبکہ اس کی نیت نہ اجرت لینے کی ہے نہ اس کی نیت اجرت دینے کیتواجرت تو وہ ضرور نہیںنہ اس سے بچنا لازم مگر ورع کامقام برتنا چاہے تو ہی نظر کرے کہ بغیر اس علاقہ کے پہلے بھی وہ کبھی اس کو اس قسم کا ہدیہ دیتا تھاجب تو وہ بلادغدغہ ہدیہ خالصہ ہے۔ اس کا قبول کرنا
مسئلہ ۱۶۷: از شہر کہنہ مسئولہ ظہور محمد خاں ۲۶ جمادی الآخرہ ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین وفضلائے شریعت آئین اس مسئلہ میں کہ دو شخصوں کے درمیان دوستی محض اﷲ واسطے ہو ایك شخص اپنے دوسرے دوست کی اولاد کو کلام مجید محض اﷲ واسطے پڑھاتاہےتنخواہ نہیں لیتالڑکوں کاباپ محض اپنے اخلاص ومحبت سے اس دوست کو کوئی چیز بلا قیمت کے دے اور یہ اس کا خیال نہ ہو کہ پڑھانےکا بدلہ کرتاہوںتو ایسی حالت میں عوض پڑھانےکا تو نہیں ہوجائیگا
الجواب:
جبکہ اس کی نیت نہ اجرت لینے کی ہے نہ اس کی نیت اجرت دینے کیتواجرت تو وہ ضرور نہیںنہ اس سے بچنا لازم مگر ورع کامقام برتنا چاہے تو ہی نظر کرے کہ بغیر اس علاقہ کے پہلے بھی وہ کبھی اس کو اس قسم کا ہدیہ دیتا تھاجب تو وہ بلادغدغہ ہدیہ خالصہ ہے۔ اس کا قبول کرنا
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل مسند عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ∞۱ /۴۰۹،€موارد الضمان ∞حدیث ۱۱۵۴ ص ۲۸۱€ و مسند ابویعلٰی ∞۵ /۱۱۳€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۱۰۰۵۷€ المکتب الفیصلیہ بیروت ∞۱۰ /۱۱۳€
المعجم الکبیر ∞حدیث ۱۰۰۵۷€ المکتب الفیصلیہ بیروت ∞۱۰ /۱۱۳€
سنت ہےاوراگر پہلے کبھی ایسا معاملہ نہ تھااس علاقہ کے بعدہی اس نے ایسا کیا تو جواپنے لئے ثواب خالص رکھنا چاہئے اسے اس سے بچنااولی ہےامام حمزہ زیات رحمہ اﷲ تعالی علیہ کہ قرائے سبعہ سے ہیںپیاسے تھے راہ میں ایك محلہ پر گزر ہواچاہا کہ کسی مکان سے پانی منگا کر پی لوپھر یاد آیا کہ اس محلہ کے بعض لڑکوں نے مجھ سے قرآن عظیم پڑھا ہےخوف فرمایا کہ مبادا اس کا عوض نہ ہوجائےپیاسے تشریف لے گئےا ور وہاں پانی طلب نہ فرمایامگریہ مقام تقوی کے مقام سے بھی اعلی دقیق ورع کا ہےوباﷲا لتوفیقواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۸:زید نے اپنی ایك قطعہ زمین چار سال میعاد معین کرکے عمرو کے پاس اس شرط پر اجارہ دیا کہ ا س زمین کی پیداوار کے تم مالك ہو خواہ پیدا ہویانہ ہو صرف چارمن دھان ہر سال مجھ کو دینا۔
الجواب:
یہ اجارہ فاسد اور عقد حرام وواجب الفسخ ہےکہ اس میں مالك زمین کے لئے ایك مقدار معین دھان کی شرط کی گئی اور وہ قاطع شرکت ہے کہ ممکن ہے کہ چار ہی من دھان پید اہو ں یا اتنے بھی نہ ہوں
فی تنویرالابصار المزارعۃ تصح بشرط الشرکۃ فی الخارج فتبطل ان شرط لاحدھما قفزان مسماۃ اھ ملتقطا تنویر الابصار میں ہے زمین مزار عت پر دینا جائز ہے بشرطیکہ پیداوار میں دونوں کی شرکت ہو اوراگر ایك فریق کے لئے مقررہ مقدار مثلا دو فقیز کی شرط کی ہو تو مزارعت باطل ہے۔ اھ ملتقطا(ت)
بلکہ یوں کہنا لازم ہے کہ مثلا نصف یا ثلث یا ربع پیداوار پر یہ زمین تیرے اجارہ میں دی پھر اگر کچھ نہ عــــــہ پید اہو تو حسب قرار داد اس کا نصف یاثلث یا ربع مالك زمین کے لئے ہوگا اور کچھ نہ پیدا ہو تو کچھ نہیں۔یہ شرط لگانا کہ کچھ نہ پید اہو جب بھی مجھے اتنا ملے یہ بھی مفسد وحرام ہے۔
فی الدرالمختار واذا صحت فالخارج درمختار میں ہے مزارعت پر صحیح ہو تو پیداوار میں
عــــــہ: ھذا ذلۃ الناسخ والصحیح"کچھ پیدا ہو"۱۲۔
مسئلہ ۱۶۸:زید نے اپنی ایك قطعہ زمین چار سال میعاد معین کرکے عمرو کے پاس اس شرط پر اجارہ دیا کہ ا س زمین کی پیداوار کے تم مالك ہو خواہ پیدا ہویانہ ہو صرف چارمن دھان ہر سال مجھ کو دینا۔
الجواب:
یہ اجارہ فاسد اور عقد حرام وواجب الفسخ ہےکہ اس میں مالك زمین کے لئے ایك مقدار معین دھان کی شرط کی گئی اور وہ قاطع شرکت ہے کہ ممکن ہے کہ چار ہی من دھان پید اہو ں یا اتنے بھی نہ ہوں
فی تنویرالابصار المزارعۃ تصح بشرط الشرکۃ فی الخارج فتبطل ان شرط لاحدھما قفزان مسماۃ اھ ملتقطا تنویر الابصار میں ہے زمین مزار عت پر دینا جائز ہے بشرطیکہ پیداوار میں دونوں کی شرکت ہو اوراگر ایك فریق کے لئے مقررہ مقدار مثلا دو فقیز کی شرط کی ہو تو مزارعت باطل ہے۔ اھ ملتقطا(ت)
بلکہ یوں کہنا لازم ہے کہ مثلا نصف یا ثلث یا ربع پیداوار پر یہ زمین تیرے اجارہ میں دی پھر اگر کچھ نہ عــــــہ پید اہو تو حسب قرار داد اس کا نصف یاثلث یا ربع مالك زمین کے لئے ہوگا اور کچھ نہ پیدا ہو تو کچھ نہیں۔یہ شرط لگانا کہ کچھ نہ پید اہو جب بھی مجھے اتنا ملے یہ بھی مفسد وحرام ہے۔
فی الدرالمختار واذا صحت فالخارج درمختار میں ہے مزارعت پر صحیح ہو تو پیداوار میں
عــــــہ: ھذا ذلۃ الناسخ والصحیح"کچھ پیدا ہو"۱۲۔
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب المزارعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۲۳€
علی الشرط ولا شیئ للعامل ان لم یخرج شیئ فی الصحیحۃ فی ردالمحتار قبیل ہذا قولہ العامل المراد منہ من لابذر منہ اھ وفیہ ھھنا وانمالم یکن لہ شیئ لانہ یستحقہ شرکۃولا شرکۃ فی غیر المخارج بخلاف ما اذا فسدت لان اجر المثل فی الذمۃلاتفوت الذمۃ بعدم الخارج ہدایۃ ۔ مشروط تناسب کے مطابق حصہ ہوگااورا گر صحیح مزارعت میں کوئی پیدا وار نہ ہوئی تو کاشتکار کو کچھ نہ ملے گا الخاور اس سے تھوڑا پہلے ردالمحتار میں ہےماتن کا قول"العامل"اس سے مراد وہ فریق ہے جس کا بیچ نہ ہوا اھاو راسی میں اس مقام پر ہے کہ اس کو اس لئے کچھ نہ ملے گا کیونکہ وہ پیداوار میں شرکت کا حقدار تھا اور جب پیداوار نہ ہوئی تو اس کی شرکت نہ ہوئیاس کے برخلاف وہ صورت جس میں مزارعت فاسد ہوکیونکہ کاشتکار کے ذمہ پر زمین کی مثلی اجرت ہوگی وہاں اگر پیداوار نہ ہو تو بھی اجرت سے اس کے ذمہ میں ہوگی۔ہدایہ(ت)
یہ حکم کہ ہم نے بیان کیا اسی حالت میں ہوتا جب یہ اجارہ صحیح طور پر کیا جاتااب کہ فاسد ہوااس کا فسخ واجب ہےاور پس از فسخ جو سال گزرے اس میں حکم یہ ہے کہ پیداوار ہویا نہ ہو بہرحال مالك زمین کو اس کی زمین کا اجر مثل ملے گاجوچار من دھان کی قیمت سے زیادہ نہ ہومثلا اتنی زمین کی اجرت مثل ایك سال کی دس روپے ہوںاور چارمن دھان چار روپے کوآتے ہوں توچار ہی روپے دئیے جائیں گےزیادہ نہیںاور زمین کی اجرت مثلا دوروپے ہوں اور دھان چار روپے کے تو دوہی ملیں گےچار نہ ہوں گے
فی الدرالمختار متی فسدت فالخارج لرب البذر و للاخر اجر مثل ارضہ و لایذاد علی شرط وان لم یخرج شیئ فی الفاسدۃ فان کان البذر من العامل فعلیہ اجر مثل درمختارمیں ہے کہ جب مزارعت فاسد ہو تو پیداوار کا مالك بیچ والا ہوگا اور دوسرے فریق کو مثلی اجرت ملے گی تاہم یہ اجرت عقد میں طے شدہ سے زائد نہ ہوگی اوراگر فاسد مزارعت میں کوئی پیداوار نہ ہوئی تو اگر بیچ عامل
یہ حکم کہ ہم نے بیان کیا اسی حالت میں ہوتا جب یہ اجارہ صحیح طور پر کیا جاتااب کہ فاسد ہوااس کا فسخ واجب ہےاور پس از فسخ جو سال گزرے اس میں حکم یہ ہے کہ پیداوار ہویا نہ ہو بہرحال مالك زمین کو اس کی زمین کا اجر مثل ملے گاجوچار من دھان کی قیمت سے زیادہ نہ ہومثلا اتنی زمین کی اجرت مثل ایك سال کی دس روپے ہوںاور چارمن دھان چار روپے کوآتے ہوں توچار ہی روپے دئیے جائیں گےزیادہ نہیںاور زمین کی اجرت مثلا دوروپے ہوں اور دھان چار روپے کے تو دوہی ملیں گےچار نہ ہوں گے
فی الدرالمختار متی فسدت فالخارج لرب البذر و للاخر اجر مثل ارضہ و لایذاد علی شرط وان لم یخرج شیئ فی الفاسدۃ فان کان البذر من العامل فعلیہ اجر مثل درمختارمیں ہے کہ جب مزارعت فاسد ہو تو پیداوار کا مالك بیچ والا ہوگا اور دوسرے فریق کو مثلی اجرت ملے گی تاہم یہ اجرت عقد میں طے شدہ سے زائد نہ ہوگی اوراگر فاسد مزارعت میں کوئی پیداوار نہ ہوئی تو اگر بیچ عامل
حوالہ / References
درمختار کتاب المزارعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۲۴€
ردالمحتار کتاب المزارعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۷۵€
ردالمحتار کتاب المزارعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۷۷€
ردالمحتار کتاب المزارعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۷۵€
ردالمحتار کتاب المزارعۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۱۷۷€
الارض اھ مختصراوانما اقتصرنا علی ھذا لان الواقع فی بلادنا الہندیۃ ہوان البذر والبقر والعمل کلہا انما یکون من قبل المزارع ولیس من رب الارض الا الارض واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ ہے تو اس پر زمین کی مثلی اجرت ہوگی اھ مختصراہم نے اتنی عبارت پر اکتفاء اس لئے کیا کیونکہ ہمارے علاقہ ہندوستان میں بیچبیل اور عمل مزارع کی طرف سے ہوتاہے جبکہ زمین والے کی صرف زمین ہوتی ہےواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۶۹: زید کا ایك تالاب ہےاس کو بعوض ہبہ بیس روپے ایك ماہ کی میعاد مقرر کرکے عمرو کے تصرف میں دیااو رکہاکہ ایام معینہ کے اندر تم اس تالاب کے پانی سے بہر طور انتفاع حاصل کرسکتے ہو اورنیز اس تالاب کی مچھلی پکڑ سکتے ہو۔یہ درست ہے یانہیں
الجواب:
یہ مسئلہ معرکۃ الاراء ہے عامہ کتب میں اس اجارے کو محض حرام وناجائز وباطل فرمایا اور یہی موافق اصول وقواعد ومذہب ہے۔
کیف وھی اجارۃ وردت علی استھلاك عین اعنی الماء والسمکو الارض التی تحت الماء لاتصح للانتفاع بہا فی الحال و ہو شرط جوا زلاجارۃولذا لم یجز جاز الاجازۃولذا لم یجز اجارۃ الجحش للرکوبفی وجیز الامام الکردریالاجارۃ اذا وقعت علی العین لا یجوز فلا یصح استیجار الاجام والحیاض لصید السمك او جائز کیسے ہو جبکہ یہ اجارہ عین چیز کو ہلاك کرنے پر منعقد ہواہے یعنی پانی مچھلی کوحاصل کرنے پراور وہ زمین جو تالاب میں پانی کی تہہ ہے وہ پانی کی موجودگی میں ابھی قابل انتفاع نہیں ہے۔حالانکہ اجارہ کے جو ازکی شرط ہی یہ ہے کہ وہ چیز فی الحال قابل انتفاع ہو اسی لئے گھوڑی کا بچہ سواری کےلئے اجارہ پرلینا جائز نہیں ہے۔اور امام کردری کی وجیز میں ہے کہ اجارہ اگر کسی عین چیز کو ہلاك کرنے پر ہو وتو صحیح نہ ہوگااس لئے جھاڑیوں اور حوض کو اجارہ پر دینامچھلی پکڑنے یاکانے اکھاڑنے اورایندھن کاٹنے یا حوض کاپانی اپنے پینے یاجانوروں کو پلانے کے لئے کرایہ پر لینا جائز نہیں ہے اور یوں چراگاہ کو اجارہ پر دینا
مسئلہ ۱۶۹: زید کا ایك تالاب ہےاس کو بعوض ہبہ بیس روپے ایك ماہ کی میعاد مقرر کرکے عمرو کے تصرف میں دیااو رکہاکہ ایام معینہ کے اندر تم اس تالاب کے پانی سے بہر طور انتفاع حاصل کرسکتے ہو اورنیز اس تالاب کی مچھلی پکڑ سکتے ہو۔یہ درست ہے یانہیں
الجواب:
یہ مسئلہ معرکۃ الاراء ہے عامہ کتب میں اس اجارے کو محض حرام وناجائز وباطل فرمایا اور یہی موافق اصول وقواعد ومذہب ہے۔
کیف وھی اجارۃ وردت علی استھلاك عین اعنی الماء والسمکو الارض التی تحت الماء لاتصح للانتفاع بہا فی الحال و ہو شرط جوا زلاجارۃولذا لم یجز جاز الاجازۃولذا لم یجز اجارۃ الجحش للرکوبفی وجیز الامام الکردریالاجارۃ اذا وقعت علی العین لا یجوز فلا یصح استیجار الاجام والحیاض لصید السمك او جائز کیسے ہو جبکہ یہ اجارہ عین چیز کو ہلاك کرنے پر منعقد ہواہے یعنی پانی مچھلی کوحاصل کرنے پراور وہ زمین جو تالاب میں پانی کی تہہ ہے وہ پانی کی موجودگی میں ابھی قابل انتفاع نہیں ہے۔حالانکہ اجارہ کے جو ازکی شرط ہی یہ ہے کہ وہ چیز فی الحال قابل انتفاع ہو اسی لئے گھوڑی کا بچہ سواری کےلئے اجارہ پرلینا جائز نہیں ہے۔اور امام کردری کی وجیز میں ہے کہ اجارہ اگر کسی عین چیز کو ہلاك کرنے پر ہو وتو صحیح نہ ہوگااس لئے جھاڑیوں اور حوض کو اجارہ پر دینامچھلی پکڑنے یاکانے اکھاڑنے اورایندھن کاٹنے یا حوض کاپانی اپنے پینے یاجانوروں کو پلانے کے لئے کرایہ پر لینا جائز نہیں ہے اور یوں چراگاہ کو اجارہ پر دینا
حوالہ / References
درمختار کتاب المزارعۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۲۴€
رفع القصبوقطع الحطباولیسقی ارضہاو غنمہ منہا وکذا اجارۃ المرعی اھوفی الدرالمختار عن البحر الرائق لم تجز اجارۃ برکۃ لیصاد منہا السمك اھ وفی ردالمحتار نقل فی البحر عن الایضاح عدم جواز ہا قال و مافی الایضاح عدم جوازہا قال و مافی الایضاح بالقواعد الفقہیۃ الیق لعدم الصحۃ (ملخصا) بھی جائز نہیں اھ اور درمختارمیں بحرالرائق سے منقول ہے کہ جوہڑ کا اجارہ مچھلی پکڑنے کے لئے ناجائز ہےاھ اور ردالمحتار میں بحر سے انھوں نے ایضاح میں اس کا عام جواز نقل کیا ہے او ر انھوں نے کہا کہ ایضاح کا بیان قواعد فقہیہ کے مطابق عدم جواز کے زیادہ مناسب ہے۔(ملخصا)(ت)
اور جامع المضمرات میں جواز پر فتوی دیا
فی الدرالمختاروجاز اجارۃ القناۃ والنہر مع الماء بہ یفتی لعموم البلوی مضمرات انتہی ۔ درمختار میں مضمرات سے منقول ہے کہ نہر اور راجباہ کوپانی سمیت اجارہ پر دینا ہےعموم بلوی کی وجہ سے اسی پرفتوی ہے اھ۔(ت)
اور احوط یہ ہے کہ تالاب کے کنارے کی چند گز زمین محدود معین کرائے پر دے اور پانی وغیرہ سے انتفاع مبارك کردےیوں اسے کرایہ ا ور اسے پانی مچھلیگھاس جائز طور پر مل جائیں گے
فی البزازیۃ بعد ما قدمناہ عنہا والحیلۃ فی الکل ان یستاجر موضعا معلوما لعطن الماشیۃ ویبیع الماء و المرعی الخ۔ بزازیہ میں ہماری نقل کردہ عبارت کے بعد فرمایا ان سب چیزوں میں جواز کا حیلہ یہ ہے کہ وہاں جانور کے باڑہ کے لئے جگہ کو اجارہ پر دے اور حوض وغیرہ کا پانی اور چراگاہ کو جانوروں کے لئے مباح کردے۔(ت)
یازراعت کو کنارے کی زمین اور تالاب جس سے اس زمین کو پانی دیا جائے سب ملاکر کرائے پر
اور جامع المضمرات میں جواز پر فتوی دیا
فی الدرالمختاروجاز اجارۃ القناۃ والنہر مع الماء بہ یفتی لعموم البلوی مضمرات انتہی ۔ درمختار میں مضمرات سے منقول ہے کہ نہر اور راجباہ کوپانی سمیت اجارہ پر دینا ہےعموم بلوی کی وجہ سے اسی پرفتوی ہے اھ۔(ت)
اور احوط یہ ہے کہ تالاب کے کنارے کی چند گز زمین محدود معین کرائے پر دے اور پانی وغیرہ سے انتفاع مبارك کردےیوں اسے کرایہ ا ور اسے پانی مچھلیگھاس جائز طور پر مل جائیں گے
فی البزازیۃ بعد ما قدمناہ عنہا والحیلۃ فی الکل ان یستاجر موضعا معلوما لعطن الماشیۃ ویبیع الماء و المرعی الخ۔ بزازیہ میں ہماری نقل کردہ عبارت کے بعد فرمایا ان سب چیزوں میں جواز کا حیلہ یہ ہے کہ وہاں جانور کے باڑہ کے لئے جگہ کو اجارہ پر دے اور حوض وغیرہ کا پانی اور چراگاہ کو جانوروں کے لئے مباح کردے۔(ت)
یازراعت کو کنارے کی زمین اور تالاب جس سے اس زمین کو پانی دیا جائے سب ملاکر کرائے پر
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الاجارات الفصل االثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۴۷۔۴۸€
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴€
ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۰۷€
درمختار کتا ب الاجارات باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۸۰€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندی کتاب الاجارات الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۴۸€
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴€
ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۱۰۷€
درمختار کتا ب الاجارات باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۸۰€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندی کتاب الاجارات الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۴۸€
دے کر تالاب کا اجارہ بھی بالتبع جائز ہوجائے۔
فی البزازیۃ لم تصح الاجارہ الشرب لوقوع الاجارۃ علی استھلاك العین مقصودا الا اذا آجر اوباع مع الارض فحینئذ یجوز بیعاولوباع ارضا مع شرب ارض اخریعن ابن اسلام انہ یجوز عــــــہ ولو اجر ارضا مع شرب ارض اخری لایجوزلان الشرب فی البیع تبع من وجہ اصل من وجہ حیث انہ یقوم بنفسہ وتبع من حیث انہ لایقصد لعینہ فمن حیث انہ تبع لایباع من غیرارض ومن حیث انہ اصل یجوز مع ای ارض کانوالشرب فی الاجارۃ تبع من کل وجہ لان الانتفاع بالارض لایتھیا بدونہفلم تجزاجارۃ الشرب مع ارض اخریکما لم یجز بیع اطراف العبد تبعا رقبۃ اخری اھ_____ بزازیہ میں ہےکہ پانی کی باری کا اجارہ صحیح نہیں کیونکہ اس میں عین چیز کو مقصودا ہلاك کرنے پر اجارہ ہےہاں اگر زمین کے ساتھ پانی کو فروخت کیا جائے یااجارہ پر لیا جائے تو اس صورت میں جائزہے اور اگر زمین کے ساتھ دوسری زمین کے سیرابی پانی کو فروخت کرے تو ابن سلام سے مروی ہے کہ یہ جائز ہے اور اگر زمین کو اجارہ پر دوسری زمین کے سیرابی پانی کے ساتھ دے تو یہ ناجائز ہے کیونکہ سیرابی پانی زمین کی بیع میں من وجہ اصل ہے کیونکہ وہ بنفسہ قائم ہے اور من وجہ تابع ہے کیونکہ بنفسہ مقصودنہیں ہے۔توتابع ہونے کی حیثیت زمین کی بیع کے بغیر اس کی بیع ناجائز ہےاور اصل ہونے کی حیثیت سے اس کی بیع کسی بھی زمین کے ساتھ جائز ہے جبکہ سیرابی پانی اجارہ میں ہرلحاظ سے تابع ہے کیونکہ اجارہ میں زمین سے انتفاع پانی کے بغیر مہیانہیں ہوتا تو پانی کو دوسری زمین کے اجارہ کے تابع کرنا جائز نہیں ہے جیسا ایك غلام کے اعضاء کو دوسرے غلام کے تابع بناکر فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔اھ ____
عــــــہ: فی الاصل"یجز"لعلہ من قلم الناسخ عبدالمنان۔
فی البزازیۃ لم تصح الاجارہ الشرب لوقوع الاجارۃ علی استھلاك العین مقصودا الا اذا آجر اوباع مع الارض فحینئذ یجوز بیعاولوباع ارضا مع شرب ارض اخریعن ابن اسلام انہ یجوز عــــــہ ولو اجر ارضا مع شرب ارض اخری لایجوزلان الشرب فی البیع تبع من وجہ اصل من وجہ حیث انہ یقوم بنفسہ وتبع من حیث انہ لایقصد لعینہ فمن حیث انہ تبع لایباع من غیرارض ومن حیث انہ اصل یجوز مع ای ارض کانوالشرب فی الاجارۃ تبع من کل وجہ لان الانتفاع بالارض لایتھیا بدونہفلم تجزاجارۃ الشرب مع ارض اخریکما لم یجز بیع اطراف العبد تبعا رقبۃ اخری اھ_____ بزازیہ میں ہےکہ پانی کی باری کا اجارہ صحیح نہیں کیونکہ اس میں عین چیز کو مقصودا ہلاك کرنے پر اجارہ ہےہاں اگر زمین کے ساتھ پانی کو فروخت کیا جائے یااجارہ پر لیا جائے تو اس صورت میں جائزہے اور اگر زمین کے ساتھ دوسری زمین کے سیرابی پانی کو فروخت کرے تو ابن سلام سے مروی ہے کہ یہ جائز ہے اور اگر زمین کو اجارہ پر دوسری زمین کے سیرابی پانی کے ساتھ دے تو یہ ناجائز ہے کیونکہ سیرابی پانی زمین کی بیع میں من وجہ اصل ہے کیونکہ وہ بنفسہ قائم ہے اور من وجہ تابع ہے کیونکہ بنفسہ مقصودنہیں ہے۔توتابع ہونے کی حیثیت زمین کی بیع کے بغیر اس کی بیع ناجائز ہےاور اصل ہونے کی حیثیت سے اس کی بیع کسی بھی زمین کے ساتھ جائز ہے جبکہ سیرابی پانی اجارہ میں ہرلحاظ سے تابع ہے کیونکہ اجارہ میں زمین سے انتفاع پانی کے بغیر مہیانہیں ہوتا تو پانی کو دوسری زمین کے اجارہ کے تابع کرنا جائز نہیں ہے جیسا ایك غلام کے اعضاء کو دوسرے غلام کے تابع بناکر فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔اھ ____
عــــــہ: فی الاصل"یجز"لعلہ من قلم الناسخ عبدالمنان۔
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب الشرب الفصل الثالث ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۲۲۔۱۲۱€
اقول: ووقع فی ردالمحتار ھنا زلل قلم فانہ قال فی شرح قول المضمرات المارمانصہ قولہ مع الماء ای تبعا قال فی کتاب الشرب من البزازیۃ لم تصح اجارۃ الشرب الی اخرہ وذکر بعض ماذکرنامن عبارتہا فجعل موردالمضمرات والبزازیۃ معاواحد وعندی لیس کذلك فان اجازۃ البزازی فیما اذا اجر ارضا للزراعۃ ولہا شرب تسقی بہا فاجر شربہا معہا و جواز ھذا ماش علی الاصول غیر محتاج الی استناد لعموم البلوی فکم من شیئ یجوز ضمنا لاقصدا اما جامع المضمرات فانما حکم بجواز اجازۃ النھر و لم یقل مع الارض بل مع الماءوانما قالہ لان النھر الیابس ارض قراح فلا یعتری شك فی جواز اجارتہ قال فی الوجیز کما نقل عنہ فی ردالمحتار
اقول:(میں کہتاہوں)ردالمحتار میں اس مقام پر قلمی خطا واقع ہوئی ہے کیونکہ انھوں نے مضمرات کی مذکورہ عبارت کی شرح میں عبارت لکھی مع الماء ای تبعا پانی سمیت یعنی بالتبعاور انھوں نے کتاب الشرب میں لکھا بزازیہ سے منقول ہے کہ سیرابی پانی کی بیع جائز نہیں ہے الی آخرہ۔اور ساتھ ہی ہماری نقل کردہ عبارت ذکرکیاس طرح انھوں نے مضمرات اوربزازیہ دونوں کی ذکر کردہ مورد کو ایك ہی معنی دیا جبکہ میرے نزدیك ایسے نہیں ہے کیونکہ بزازیہ میں اجارہ کی صورت میں یہ ہے کہ زمین زراعت کے لئے اجارہ پر دی اور اس زمین کا سیرابی پانی ہو جس سے اس کو سیرابی کا اجارہ جائز ہے اور یہ جواز اصول پر مبنی ہے کسی عموم بلوی کی طر ف منسوب کرنے کی اسے ضرورت نہیں ہے بہت سے امور ضمنا جائز اور مقصودا ناجائز ہوتے ہیںلیکن مضمرات نے نہر کے اجارہ کے جواز کی بات کی ہے انھوں نے نہر کے ساتھ پانی کو ذکر کیا نہ کہ زمین کوانھوں نے یہ بات اس بناء پر فرمائی ہےکہ خشك نہر خالص زمین ہے اس کے اجارہ کے جواز میں کوئی شك نہیں ہےوجیز میں فرمایا جیسا کہ رد المحتارمیں ہے چند سطروں
اقول:(میں کہتاہوں)ردالمحتار میں اس مقام پر قلمی خطا واقع ہوئی ہے کیونکہ انھوں نے مضمرات کی مذکورہ عبارت کی شرح میں عبارت لکھی مع الماء ای تبعا پانی سمیت یعنی بالتبعاور انھوں نے کتاب الشرب میں لکھا بزازیہ سے منقول ہے کہ سیرابی پانی کی بیع جائز نہیں ہے الی آخرہ۔اور ساتھ ہی ہماری نقل کردہ عبارت ذکرکیاس طرح انھوں نے مضمرات اوربزازیہ دونوں کی ذکر کردہ مورد کو ایك ہی معنی دیا جبکہ میرے نزدیك ایسے نہیں ہے کیونکہ بزازیہ میں اجارہ کی صورت میں یہ ہے کہ زمین زراعت کے لئے اجارہ پر دی اور اس زمین کا سیرابی پانی ہو جس سے اس کو سیرابی کا اجارہ جائز ہے اور یہ جواز اصول پر مبنی ہے کسی عموم بلوی کی طر ف منسوب کرنے کی اسے ضرورت نہیں ہے بہت سے امور ضمنا جائز اور مقصودا ناجائز ہوتے ہیںلیکن مضمرات نے نہر کے اجارہ کے جواز کی بات کی ہے انھوں نے نہر کے ساتھ پانی کو ذکر کیا نہ کہ زمین کوانھوں نے یہ بات اس بناء پر فرمائی ہےکہ خشك نہر خالص زمین ہے اس کے اجارہ کے جواز میں کوئی شك نہیں ہےوجیز میں فرمایا جیسا کہ رد المحتارمیں ہے چند سطروں
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۳۹€
بعد اسطراستاجر نھرایابسااوارضااوسطحامدۃ معلومۃ ولم یقبل شیئا صحولہ ان یجری فیہ الماء اھاما النھر مع الماء فھذا ھوالذی تقتضی القواعد ببطلان اجارتہ لانہا اجارۃ وقع علی استھلاك عین فاحتاج الی الاستناد لعموم البلوی کما جاز اجارۃ الظئر مع انھا ایضا علی استھلاك عینوان قیل ان المراد اجارۃ ارض النہر التی تحت الماء ویکون الماء تبعا لہا وحمل علیہ قول البزازی"الااذا اجر اوباع مع الارض فمع ظہور بطلانہ بما ذکر نامن تمام کلام البزازی"فانہ نص صریح فی ان المراد تبعیۃ الشرب للارض تسقی منہ لالارض تحتہ لایستقیم ایضا قطعا لما قد منا الاشارۃ الیہ ان الاجارۃ تعتمد صلاحیۃ الانتفاع بالنفع المقصود المعتادفی الحال لا فی المال و لذالم تجز اجارۃ کے بعد فرمایا کہ کسی نے خشك نہریازمین یا چھت معینہ مدت کےلئے کرایہ پر لی اور کسی عمل وغیرہ کو ذکر نہ کا تو یہ اجارہ صحیح ہے اور وہ نہر میں پانی جاری کرلے تو جائز ہے اھ لیکن پانی سمیت نہر کا اجارہ یہ ایسی تو صورت ہے جس کوقواعد باطل قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ عین چیز کو ہلاك کرنے پر اجارہ ہے اس لئے اس اجارہ کے جواز کوعموم بلوی سے استناد کی ضرورت ہے جیساکہ دودھ پلانے والی عورت کا اجارہ جائز ہے حالانکہ یہ بھی عین چیز(دودھ)کو ہلاك کرنے پر اجارہ ہے اگر ردالمحتارمیں کی توجیہ میں یہ کہا جائے کہ ان کی مراد نہرکی وہ زمین جو پانی کے تحت ہے اس کے اجارہ میں پانی کا اجارہ بالتبع جائز ہے اور اسی معنی پر بزازیہ کے قول"الایہ کہ زمین سمیت پانی کااجارہ ہو"کو محمول کرتے ہوئے انھوںنے یہ بات کی ہے تو اس توجیہ کا بطلان بزازیہ کی مکمل عبارت جس کو ہم نے ذکر کیا ہے سے ظاہر ہے کیونکہ وہ صریح نص ہے کہ یہاں مراد وہ سیرابی پانی ہے جس سے وہ بیع شدہ یااجارہ پردی ہوئی زمین سیراب ہوتی ہے نہ کہ پانی کے تحت ولی زمین مراد ہے نیزہمارے پہلے اشارہ ذکر کردہ ضابطہ کہ اجازورہ کی بنیاد یہ ہے کہ وہ چیز مقصود نفع کی فی الحال صلاحیت رکھتی ہو نہ کہ بعد میں متوقع صلاحیت والی ہو کے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۳۹€
الجحشومعلوم ان ارض النھر مع الماء لاتصلح للانتفاع غیر الاتنفاع بالماء وھواستہلاك العین فاذا لم تستقم فی لاصل فکیف یجوز فی التبع وما تقدم من الحیلۃ فانما ھو فیما اذا اجر ارضا حول الماء فانہا الصالحۃ للعطن فیحصل لہ الاجربوجہ جائزوللمستاجر الماء والکلاءفالحق ان الماشی علی الاصول فی اجارۃ البرکۃ والقناۃ والنہر من دون الارضتسقی منہ ھو البطلان ونا ماذکر فی البزازیۃ وغیرھا من صورالجواز فلامساس لھابہ۔ولایمکن حمل مافی جامع المضمرات علی شیئ منہاولقد احسن اذ علل الافتاء بعموم للبلوی لابحصول الجواز بالتبعفاذن ان عمل بقول بہ یفتی فلا شك ان قضیۃ اطلاق الجوازوھو الایسروالاحوط مامر فعلیہ فلیتقصر ھذا ماعندی والعلم پیش نظر یہ توجہی قطعاباطل ہے کیونکہ پانی والی نہر کی زیریں زمین فی الحال انتفاع کی صلاحیت نہیں رکھتی جس کو مستقل طور پر اجارہ پر دیا جائےاسی قاعدہ کی بناء پر گھوڑی کا بچہ سواری کے لہئے اجارہ پر دینا ناجائز ہے پھر خالص پانی کا اجارہ ہوگا تو اس سے عین کو ہلاك کرنے پر اجارہ لازم آئیگانیز جب اصل نہر کی زمین کا اجارہ درست نہیں ہے تو اس سے تابع پانی کا کیسے جائز ہوگا اور گزشتہ حیلہ جواز وہ صرف اس صورت میں ہے کہ پانی والے حوض کے اردگرد والی زمین کو اجارہ پر حاصل کرے کیونکہ وہ فی الحال جانورں کو باندھنے اور رکھنے کے لئے قابل انتفاع ہے جس سے جائز طریقے پر اجرت حاصل ہوگی۔اور مستاجر کو پانی اور گھاس بالتبع حاصل ہوگااصول کے مطابق حق یہ ہے کہ جوہڑراجباہ اورنہرہ کے پانی کا اجارہ اس سے سیراب ہونے والی زمین کے اجارہ کے بغیر باطل ہےاور بزازیہ وغیرہ میں مذکور وجہ جواز سے اس کا کوئی علاقہ نہیں ہے اورنہ ہی مضمرات کے بیان کو کسی طرح اس پر محمول کیا جاسکتاہے تو بہت اچھا کیا کہ فتوی جواز کی وجہ عموم بلوی کو بنایا ہے بالتبع حصول کے جواز کو نہ بنایاتو اب اس کے قول بہ یفتی(اسی پر فتوی ہے)پر اگر عمل کیا جائے تو مطلق جواز کی راہ آسان ہےاو ر زیادہ احتیاط جو پہلے گزری ہےتو اسی کو اپنایا جائےیہ مذکورہ بحث میری ہے جبکہ حق
بالحق عن عزیز الاکبر واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کا علم اﷲ تعالی کے پاس ہے۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۱۷۰:ا زشہر میمن سنگھ ملك بنگالہ ڈاکخانہ پائکٹرا موضع کروا مرسلہ محمد زینت اللہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہمارے یہاں ملك بنگالہ میں جب کسی نے برائے ثواب رسانی اپنے میت کے ملاؤں یاطباؤں سے قرآن شریف پڑھوایایابعدکوجوکچھ ان کو دیا جاتاہے وہ خود نہیں مانگےتبلکہ خود پڑھوانے والا ان کو دیتاہےیہ طریقہ ہمارے یہاں عام رواج ہےتویہ رواج ہےتویہ لینا دینا جائز ہے یانہیں اگر جائز ہے تو کس طریقہ پر ہے اور ایسے ہی بعد پڑھوانے مولود شریف کےجو کچھ دیاجاتاہے بغیر طلب کرے مولود خوااں کے یہ بھی جائز ہے یانہیں بینوا توجروابحوالہ کتب جواب عنایت ہوبادلیل۔
الجواب:
اصل یہ ہے کہ طاعت وعبادات پر اجرت لینا دینا(سوائے تعلیم قرآن عظیم وعلوم دین و اذان وامامت وغیرہا معدودے چنداشیاء کو جن پر اجارہ کرنا متاخرین نے بنا چاری ومجبوری بنظر حال زمانہ جائز رکھا)مطلقا حرام ہےاور تلاوت قرآن عظیم بغرض ایصال ثواب وذکر شریف میلاد پاك حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ضرورت منجملہ عبادات وطاعت ہیں تو ان پر اجارہ بھی ضرور حرام ومحذور
کما حققہ السید المحقق محمد بن عابدین الشامی فی رد المحتار علی الدرالمختار ولہ رحمہ اﷲ تعالی رسالۃ مستقلۃ فی تحقق المسئلۃ سماہا"شفاء العلیل وبل الغلیل فی حکم الوصیۃ بالختمات والتہالیل" قال واطلع علیہا محشی ھذا الکتاب(یعنی الدر)فقیہ عصرہ ووحید دھرہ السید احمد الطحطاوی مفتی مصر سابقا فکتب علیہا واثنی الثناء الجمیل فاﷲ یجزیہ الاجرا الجزیل وکتب علیہا غیرہ من سید محقق محمد بن عابدین شامی نے درمختار کے حاشیہ ردا لمحتار میں جیسا کہ اس کی تحقیق فرمائیاس مسئلہ میں ان کا ایك مستقل رسالہ ہے جس کا نام"شفا العلیل وبل الغلیل فی حکم الوصیۃ بالختمات والتہالیل"رکھا ہے انھوں نے خود فرمایا کہ درمختار کے محشی اپنے زمانہ کے فقہیہ العصروحید دہر سید احمد طحطاوی سابق مفتی مصر نے اس رسالہ کا مطالعہ فرماکر اس پر تقریظ لکھی اور تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ان کو اﷲ تعالی اجر عظیم سے نوازےاور دیگر
مسئلہ ۱۷۰:ا زشہر میمن سنگھ ملك بنگالہ ڈاکخانہ پائکٹرا موضع کروا مرسلہ محمد زینت اللہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہمارے یہاں ملك بنگالہ میں جب کسی نے برائے ثواب رسانی اپنے میت کے ملاؤں یاطباؤں سے قرآن شریف پڑھوایایابعدکوجوکچھ ان کو دیا جاتاہے وہ خود نہیں مانگےتبلکہ خود پڑھوانے والا ان کو دیتاہےیہ طریقہ ہمارے یہاں عام رواج ہےتویہ رواج ہےتویہ لینا دینا جائز ہے یانہیں اگر جائز ہے تو کس طریقہ پر ہے اور ایسے ہی بعد پڑھوانے مولود شریف کےجو کچھ دیاجاتاہے بغیر طلب کرے مولود خوااں کے یہ بھی جائز ہے یانہیں بینوا توجروابحوالہ کتب جواب عنایت ہوبادلیل۔
الجواب:
اصل یہ ہے کہ طاعت وعبادات پر اجرت لینا دینا(سوائے تعلیم قرآن عظیم وعلوم دین و اذان وامامت وغیرہا معدودے چنداشیاء کو جن پر اجارہ کرنا متاخرین نے بنا چاری ومجبوری بنظر حال زمانہ جائز رکھا)مطلقا حرام ہےاور تلاوت قرآن عظیم بغرض ایصال ثواب وذکر شریف میلاد پاك حضور صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ضرورت منجملہ عبادات وطاعت ہیں تو ان پر اجارہ بھی ضرور حرام ومحذور
کما حققہ السید المحقق محمد بن عابدین الشامی فی رد المحتار علی الدرالمختار ولہ رحمہ اﷲ تعالی رسالۃ مستقلۃ فی تحقق المسئلۃ سماہا"شفاء العلیل وبل الغلیل فی حکم الوصیۃ بالختمات والتہالیل" قال واطلع علیہا محشی ھذا الکتاب(یعنی الدر)فقیہ عصرہ ووحید دھرہ السید احمد الطحطاوی مفتی مصر سابقا فکتب علیہا واثنی الثناء الجمیل فاﷲ یجزیہ الاجرا الجزیل وکتب علیہا غیرہ من سید محقق محمد بن عابدین شامی نے درمختار کے حاشیہ ردا لمحتار میں جیسا کہ اس کی تحقیق فرمائیاس مسئلہ میں ان کا ایك مستقل رسالہ ہے جس کا نام"شفا العلیل وبل الغلیل فی حکم الوصیۃ بالختمات والتہالیل"رکھا ہے انھوں نے خود فرمایا کہ درمختار کے محشی اپنے زمانہ کے فقہیہ العصروحید دہر سید احمد طحطاوی سابق مفتی مصر نے اس رسالہ کا مطالعہ فرماکر اس پر تقریظ لکھی اور تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ان کو اﷲ تعالی اجر عظیم سے نوازےاور دیگر
فقہاء العصر قلت وقد تشرف الفقیر بمطالعتہا فوجدتہ بحمد اﷲ تعالی کفی وشفی وصفا ووفی فرحمنا اﷲ وایاہ والمسلمین بعبادہ الذین اصطفیامین! فقہاء عصرنے بھی تقریضات لکھی ہیںمیں کہتاہوں اس فقیر نے اس کے مطالعہ کا شر ف حاصل کیا ہے تو میں نے بحمداﷲ تعالی اس کوکافیشافی اور بھرپور صاف پایاتو اﷲ تعالی ہم پر اور ان پرتما م مسلمانوں اور اپنے اہل دین بندوں پر رحم فرمائےآمین !(ت)
اور اجارہ جس طرح صریح عقد زبان سے ہوتاہےعرفا شرط معروف ومعہود سے بھی ہوجاتاہےمثلا پڑھنے پڑھوانے والوں نے زبان سےکچھ نہ کہا مگر جانتے ہیں کہ دینا ہوگا وہ سمجھ رہے ہیں کہ کچھ ملےگا۔انھوں نے اس طور پر پڑھاانھوں نے اس نیت سے پڑھوایااجارہ ہوگیااور اب دو وجہ سے حرام ہواایك تو طاعت پر اجارہ یہ خود حرامدوسرے اجرت اگر عرفامعین نہیں تو اس کی جہالت سے اجارہ فاسدیہ دوسرا حرام۔
ای ان الاجارۃ باطلۃ وعلی فرض الانعقاد فاسدۃ فللتحریم وجہان متعاقبانوذلك لما نصوا قاطبۃ ان المعہود عرفا کالمشروط لفظا ۔ یعنی اجارہ باطل ہے اور فرض انعقاد پر وہ فاسد ہے تو یہ اس کے حرام ہونے کی یکے بعددیگرے دو وجہیں ہیںاور یہ اس لئے کہ تمام فقہاء کی نص ہے کہ عرف میں مشہور ومسلم لفظوں میں مشروط کی طرح ہے۔(ت)
پس اگر قرارداد کچھ نہ ہونہ ہواں لین دین معہود ہوتاہو توبعد کو بطور صلہ وحسن سلوك کچھ دے دیناجائز بلکہ حسن ہوتا
" ہل جزاء الاحسن الا الاحسن ﴿۶۰﴾"
" واللہ یحب المحسنین﴿۱۳۴﴾ " احسان کی جزاء صرف احسان ہے اور اﷲ تعالی احسان کرنے والوں کو پسند فرماتاہے۔(ت)
مگر جبکہ اس طریقہ کا وہاں عام رواج ہے تو صورت ثانیہ میں داخل ہوکر حرام محض ہےاب اس کے
اور اجارہ جس طرح صریح عقد زبان سے ہوتاہےعرفا شرط معروف ومعہود سے بھی ہوجاتاہےمثلا پڑھنے پڑھوانے والوں نے زبان سےکچھ نہ کہا مگر جانتے ہیں کہ دینا ہوگا وہ سمجھ رہے ہیں کہ کچھ ملےگا۔انھوں نے اس طور پر پڑھاانھوں نے اس نیت سے پڑھوایااجارہ ہوگیااور اب دو وجہ سے حرام ہواایك تو طاعت پر اجارہ یہ خود حرامدوسرے اجرت اگر عرفامعین نہیں تو اس کی جہالت سے اجارہ فاسدیہ دوسرا حرام۔
ای ان الاجارۃ باطلۃ وعلی فرض الانعقاد فاسدۃ فللتحریم وجہان متعاقبانوذلك لما نصوا قاطبۃ ان المعہود عرفا کالمشروط لفظا ۔ یعنی اجارہ باطل ہے اور فرض انعقاد پر وہ فاسد ہے تو یہ اس کے حرام ہونے کی یکے بعددیگرے دو وجہیں ہیںاور یہ اس لئے کہ تمام فقہاء کی نص ہے کہ عرف میں مشہور ومسلم لفظوں میں مشروط کی طرح ہے۔(ت)
پس اگر قرارداد کچھ نہ ہونہ ہواں لین دین معہود ہوتاہو توبعد کو بطور صلہ وحسن سلوك کچھ دے دیناجائز بلکہ حسن ہوتا
" ہل جزاء الاحسن الا الاحسن ﴿۶۰﴾"
" واللہ یحب المحسنین﴿۱۳۴﴾ " احسان کی جزاء صرف احسان ہے اور اﷲ تعالی احسان کرنے والوں کو پسند فرماتاہے۔(ت)
مگر جبکہ اس طریقہ کا وہاں عام رواج ہے تو صورت ثانیہ میں داخل ہوکر حرام محض ہےاب اس کے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵ /۳۶€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۳۱€
القرآن الکریم ∞۵۵ /۶۰€
القرآن الکریم ∞۳ /۱۳۴€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۳۱€
القرآن الکریم ∞۵۵ /۶۰€
القرآن الکریم ∞۳ /۱۳۴€
حلال ہونے کے دو۲ طریقے ہیں:
اول: یہ کہ قبل قرأت پڑھنے والے صراحۃ کہ دیں کہ ہم کچھ نہ لیں گے پڑھوانے والے صاف انکار کردیں کہ تمھیں کچھ نہ دیا جائے گااس شرط کے بعد ہو پڑھیں اور پھر پڑھوانے ولاے بطو صلہ جو چاہیں دے دیںیہ لینادینا حلال ہوگا۔
لانتفاع الاجارۃ بوجہیہا اما اللفظ فظاھر واما العرف فلانہم نصواعلی نفیہا والصریح یفوق الدلالۃفلم یعارضہ العرف المعہود کما نص علیہ الامام فقیہ النفس قاضی خاں رحمہ اﷲ تعالی فی الخانیۃ وغیرہ فی غیرھا من السادۃ الربانیۃ۔ دووجہ سے اجارہ نہ ہونے کی وجہ سےایك لفظ کے اعتبار سے تو ظاہر ہےدوسرا عرف کی وجہ سے کیونکہ انھوں نے اس وجہ کی نفی پر نص کردی ہے اور صریح بات فائق ہوتی ہےتو عرف معہود اس کے معارض نہ ہوسکے گا جیسا کہ امام فقیہ النفس قاضیخاں نے اس پر اپنے فتاوی اور دیگر فقہاء نے دوسری کتب میں نص فرمائی ہے۔(ت)
دوم: پڑھوانے والے پڑھنے والوں سے بہ تعین وقت اجرت ان سے مطلق کا رخدمت پر پڑھنے والوں کو اجارے میں لے لیں مثلا یہ ان سے کہیں ہم نے کل صبح سات بچے سے بارہ بجے تك بعوض ایك روپیہ کے اپنے کام کاج کے لئے اجارہ میں لیاوہ کہیں ہم نے قبول کیا۔اب یہ پڑھنے والے اتنے گھنٹوں کے لئے ان کے نوکر ہوگئےوہ جو کام چاہیں لیںاس اجارہ کے بعد وہ ان سے کہیںاتنے پارے کلام اﷲ شریف کے پڑھ کر ثواب فلاں کو بخش دو یا مجلس میلاد مبارك پڑھ دویہ جائز ہوگا اورلینا دینا حلال۔ لان الاجارۃ وقعت علی منافع ایدانہم لاعلی الطاعات والعبادات واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کیونکہ یہ اجارہ ان کے ابدان سے انتفاع پر ہوا ہے نہ کہ ان کی عبادات اورطاعات پر ہواہےواﷲ سبحانہ وتعالی وعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۷۱: از شیوپوری سرولی ضلع بریلی مرسلہ واحد نور صاحب ۶ذیقعدہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اورشر ع متین اس مسئلہ میں زید نے ایك اراضی جو اس کی
اول: یہ کہ قبل قرأت پڑھنے والے صراحۃ کہ دیں کہ ہم کچھ نہ لیں گے پڑھوانے والے صاف انکار کردیں کہ تمھیں کچھ نہ دیا جائے گااس شرط کے بعد ہو پڑھیں اور پھر پڑھوانے ولاے بطو صلہ جو چاہیں دے دیںیہ لینادینا حلال ہوگا۔
لانتفاع الاجارۃ بوجہیہا اما اللفظ فظاھر واما العرف فلانہم نصواعلی نفیہا والصریح یفوق الدلالۃفلم یعارضہ العرف المعہود کما نص علیہ الامام فقیہ النفس قاضی خاں رحمہ اﷲ تعالی فی الخانیۃ وغیرہ فی غیرھا من السادۃ الربانیۃ۔ دووجہ سے اجارہ نہ ہونے کی وجہ سےایك لفظ کے اعتبار سے تو ظاہر ہےدوسرا عرف کی وجہ سے کیونکہ انھوں نے اس وجہ کی نفی پر نص کردی ہے اور صریح بات فائق ہوتی ہےتو عرف معہود اس کے معارض نہ ہوسکے گا جیسا کہ امام فقیہ النفس قاضیخاں نے اس پر اپنے فتاوی اور دیگر فقہاء نے دوسری کتب میں نص فرمائی ہے۔(ت)
دوم: پڑھوانے والے پڑھنے والوں سے بہ تعین وقت اجرت ان سے مطلق کا رخدمت پر پڑھنے والوں کو اجارے میں لے لیں مثلا یہ ان سے کہیں ہم نے کل صبح سات بچے سے بارہ بجے تك بعوض ایك روپیہ کے اپنے کام کاج کے لئے اجارہ میں لیاوہ کہیں ہم نے قبول کیا۔اب یہ پڑھنے والے اتنے گھنٹوں کے لئے ان کے نوکر ہوگئےوہ جو کام چاہیں لیںاس اجارہ کے بعد وہ ان سے کہیںاتنے پارے کلام اﷲ شریف کے پڑھ کر ثواب فلاں کو بخش دو یا مجلس میلاد مبارك پڑھ دویہ جائز ہوگا اورلینا دینا حلال۔ لان الاجارۃ وقعت علی منافع ایدانہم لاعلی الطاعات والعبادات واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کیونکہ یہ اجارہ ان کے ابدان سے انتفاع پر ہوا ہے نہ کہ ان کی عبادات اورطاعات پر ہواہےواﷲ سبحانہ وتعالی وعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۷۱: از شیوپوری سرولی ضلع بریلی مرسلہ واحد نور صاحب ۶ذیقعدہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اورشر ع متین اس مسئلہ میں زید نے ایك اراضی جو اس کی
حوالہ / References
ردالمحتار کتا ب الدعوٰی باب دعوٰی الرجلین داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴ /۴۳۴€
ملك ہےعمرو کو واسطے کاشت مدت پندرہ سال کو دخلی رہن دیاوراس کا لگان مبلغ ما(۱۵۰)میعاد معینہ کا پیشتر لے لینابعد مدت معینہ اراضی کا چھوڑ نا قرار پایامیعا مقررہ تك عمرو اس سے منفعت حاصل کرےلیکن زید کو پندرہ سال کے لگان بزخ ایك روپیہ بیگھہ خام دیا گیااوروہ اراضی عمرو کے قبضہ میں ایك دوروپیہ بیگھہ خام اٹھ سکتی ہےرہن اس حالت میں درست ہے یانہیں
الجواب:
رہن واجارہ دو عقد منافی میں جمع نہیں ہوسکتےجب اس نے ما۱۵۰ اجرت مانیرہن نہ ہوئی بلکہ اجارہ پر دی گئیعمرو کو اختیارہے کہ خود کاشت کرے جو پیدا ہو اس کا ہےخواہ دوسرے کو اجارہ پر اٹھادےمگر اس تقدیر پر اسے زیادہ لینا صرف تین صورت میں جائز ہوسکتاہے ورنہ حرام:
(۱)زمین میں نہر یا کنواں کھودے یا اور کوئی زیادت ایسی کرے جس سے اس کی حیثیت بڑھائےاب چاہے پانچ روپیہ بیگھ پراٹھادے
(۲)جس شے کے عوض خود اجارہ پرلی ہے اس کے خلاف جنس کے اجارہ کو دے مثلاما عہ/ دئےاب اپنے مستاجر کو اشرفیوں یا نوٹوں پر دے۔
(۳)زمین کے ساتھ کوئی اور شیئ ملاکر مجموعا زیادہ کرائے پر دے کہ اب یہ سمجھا جائے گا کہ زمین تو وہی روپیہ بیگھ کو دی گئی اور باقی زیادت جس قدر ہو دوسرے شے کے عوض رہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۲: ۱۲ صفر ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کی طر ف سے اس کے پیروکار نے ایك دکان زید کو کرائے پر دی مگر ابھی تك نہ کرایہ نامہ تحریر ہوا نہ کوئی اقرار کسی میعاد معین برس یا چھ مہینے کا ہوااورنہ مالك دکان کی جانب سے اظہار کسی مدت برس یا چھ مہینے کا ہوا تھا کہ زید کرایہ دار نے اپنے مصارف سے بقدرآرام مرمت دکان کی کرائیابھی بیٹھنے کی نوبت نہ آئی تھی کہ زید کو حاجت اس دکان کی نہ رہی اور عرصہ تخمینا ایك ہفتہ میں زید نے پیرو کار مالك دکان کے پاس تالی دکان کی واپس بھیج کر اطلاع دی کہ دکان دوسرے کو دے دومجھ کو حاجت نہ رہی اورآج تك کے دنوں کاکرایہ مجھ سے لے لو اس کے جواب میں سال بھر کے کرایہ کی طلب زید سے کی گئیبعد زیادہ گفتگو کے آخر تصفیہ حکم شرعی پر قائم ہوا ہے لہذا حکم فرمائے کہ اس حالت میں زید کے ذمہ ازروئے احکام شرعی
الجواب:
رہن واجارہ دو عقد منافی میں جمع نہیں ہوسکتےجب اس نے ما۱۵۰ اجرت مانیرہن نہ ہوئی بلکہ اجارہ پر دی گئیعمرو کو اختیارہے کہ خود کاشت کرے جو پیدا ہو اس کا ہےخواہ دوسرے کو اجارہ پر اٹھادےمگر اس تقدیر پر اسے زیادہ لینا صرف تین صورت میں جائز ہوسکتاہے ورنہ حرام:
(۱)زمین میں نہر یا کنواں کھودے یا اور کوئی زیادت ایسی کرے جس سے اس کی حیثیت بڑھائےاب چاہے پانچ روپیہ بیگھ پراٹھادے
(۲)جس شے کے عوض خود اجارہ پرلی ہے اس کے خلاف جنس کے اجارہ کو دے مثلاما عہ/ دئےاب اپنے مستاجر کو اشرفیوں یا نوٹوں پر دے۔
(۳)زمین کے ساتھ کوئی اور شیئ ملاکر مجموعا زیادہ کرائے پر دے کہ اب یہ سمجھا جائے گا کہ زمین تو وہی روپیہ بیگھ کو دی گئی اور باقی زیادت جس قدر ہو دوسرے شے کے عوض رہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۲: ۱۲ صفر ۱۳۲۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کی طر ف سے اس کے پیروکار نے ایك دکان زید کو کرائے پر دی مگر ابھی تك نہ کرایہ نامہ تحریر ہوا نہ کوئی اقرار کسی میعاد معین برس یا چھ مہینے کا ہوااورنہ مالك دکان کی جانب سے اظہار کسی مدت برس یا چھ مہینے کا ہوا تھا کہ زید کرایہ دار نے اپنے مصارف سے بقدرآرام مرمت دکان کی کرائیابھی بیٹھنے کی نوبت نہ آئی تھی کہ زید کو حاجت اس دکان کی نہ رہی اور عرصہ تخمینا ایك ہفتہ میں زید نے پیرو کار مالك دکان کے پاس تالی دکان کی واپس بھیج کر اطلاع دی کہ دکان دوسرے کو دے دومجھ کو حاجت نہ رہی اورآج تك کے دنوں کاکرایہ مجھ سے لے لو اس کے جواب میں سال بھر کے کرایہ کی طلب زید سے کی گئیبعد زیادہ گفتگو کے آخر تصفیہ حکم شرعی پر قائم ہوا ہے لہذا حکم فرمائے کہ اس حالت میں زید کے ذمہ ازروئے احکام شرعی
کس قدر کرایہ ادا کرنا واجب ہے بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگر ماہوار کرایہ قرار پایا تھا کہ ہر مہینے پر مثلا دس روپے جب تو اجارہ ایك مہینہ کیلئے صحیح ونافذ تھا۔اور باقی مہینوں کے لئے بوجہ عدم تعیین مدت ہنوز معدومتوجب تك یہ مہینہ ختم ہوکر دوسرے مہینے کی ایك رات ایك دن نہ ہوجائے دوسرے مہینے کا اجارہ ہی متحقق نہ ہوگا۔سال بھر کے توبارہ مہینے ہیںدرمختار میں ہے:
ان کان استاجرہ مشاہرۃ فانہا توجر لغیرہ اذا فرغ الشہران لم یقبلہا لانعقادھا عندراس کل شہر ۔ اگر ماہانہ کرایہ پر لیا تو اس ماہ کے بعد دوسرے کو کرایہ پر دے سکتا ہے جبکہ پہلے نے دوسرے ماہ کو قبول نہ کیا ہو کیونکہ ماہانہ کرایہ ہرماہ کی ابتداء میں منعقد ہوتاہے۔(ت)
اسی میں ہے:
(اجر حانوتاکل شہر بکذا صح فی واحد فقط)وفسد فی الباقی لجھا لتہاواذا تم الشہر فلکل فسخہا بشرط حضورالاخر لانتہاء العقد الصحیح(وفی شہر سکنہ فی اولہ)ھو اللیلۃ الاولی ویومہا عرفاوبہ یفتی (صح العقد فیہ)ایضا ۔ دکان فی ماہ مقرر اجارہ پر دی توپہلے ماہ میں صحیح ہے فقط اور باقی مہینوں کے لئے جہالت کی وجہ سے فاسد ہوگئی اور پہلامہینہ گزر جائے تو فریقین میں سے ایك کو دوسرے کی موجودگی میں فسخ کا حق ہے کیونکہ صحیح ختم ہوگیا ہے اور ماہانہ کرایہ پر لے کر ایك رات اور ایك دن سکونت کرلی یہ پہلی رات اور دن ہےاسی پر فتوی ہےتو اس نئے ماہ میں بھی عقد صحیح ہو جائے گا۔(ت)
اس صورت میں تو سال بھر کا کرایہ مانگنا ظاہر ہے کہ صریح ظلم وحرام ہےاور اگر سالانہ کرایہ قرار پاتاہواگر چہ ماہوار کی اجرت بھی بتادی گئی ہومثلا کہا یہ دکان ہر سال ساٹھ روپے کرائے پر تجھے دیہر مہینے پر پانچ روپےتو اس تقدیر پر اگر چہ پہلے سال کے لئے اجارہ صحیح ہوگیا۔
فی الدرالمختار واذا اجرھا سنۃ درمختارمیں ہے اگر سالانہ کرایہ پر لیا تو صحیح
الجواب:
صورت مستفسرہ میں اگر ماہوار کرایہ قرار پایا تھا کہ ہر مہینے پر مثلا دس روپے جب تو اجارہ ایك مہینہ کیلئے صحیح ونافذ تھا۔اور باقی مہینوں کے لئے بوجہ عدم تعیین مدت ہنوز معدومتوجب تك یہ مہینہ ختم ہوکر دوسرے مہینے کی ایك رات ایك دن نہ ہوجائے دوسرے مہینے کا اجارہ ہی متحقق نہ ہوگا۔سال بھر کے توبارہ مہینے ہیںدرمختار میں ہے:
ان کان استاجرہ مشاہرۃ فانہا توجر لغیرہ اذا فرغ الشہران لم یقبلہا لانعقادھا عندراس کل شہر ۔ اگر ماہانہ کرایہ پر لیا تو اس ماہ کے بعد دوسرے کو کرایہ پر دے سکتا ہے جبکہ پہلے نے دوسرے ماہ کو قبول نہ کیا ہو کیونکہ ماہانہ کرایہ ہرماہ کی ابتداء میں منعقد ہوتاہے۔(ت)
اسی میں ہے:
(اجر حانوتاکل شہر بکذا صح فی واحد فقط)وفسد فی الباقی لجھا لتہاواذا تم الشہر فلکل فسخہا بشرط حضورالاخر لانتہاء العقد الصحیح(وفی شہر سکنہ فی اولہ)ھو اللیلۃ الاولی ویومہا عرفاوبہ یفتی (صح العقد فیہ)ایضا ۔ دکان فی ماہ مقرر اجارہ پر دی توپہلے ماہ میں صحیح ہے فقط اور باقی مہینوں کے لئے جہالت کی وجہ سے فاسد ہوگئی اور پہلامہینہ گزر جائے تو فریقین میں سے ایك کو دوسرے کی موجودگی میں فسخ کا حق ہے کیونکہ صحیح ختم ہوگیا ہے اور ماہانہ کرایہ پر لے کر ایك رات اور ایك دن سکونت کرلی یہ پہلی رات اور دن ہےاسی پر فتوی ہےتو اس نئے ماہ میں بھی عقد صحیح ہو جائے گا۔(ت)
اس صورت میں تو سال بھر کا کرایہ مانگنا ظاہر ہے کہ صریح ظلم وحرام ہےاور اگر سالانہ کرایہ قرار پاتاہواگر چہ ماہوار کی اجرت بھی بتادی گئی ہومثلا کہا یہ دکان ہر سال ساٹھ روپے کرائے پر تجھے دیہر مہینے پر پانچ روپےتو اس تقدیر پر اگر چہ پہلے سال کے لئے اجارہ صحیح ہوگیا۔
فی الدرالمختار واذا اجرھا سنۃ درمختارمیں ہے اگر سالانہ کرایہ پر لیا تو صحیح
حوالہ / References
درمختار کتاب الاجارہ ∞مطبع مجتبائی دہلی۲/ ۱۷€۱
درمختار باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۸€
درمختار باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۸€
بکذاصح وان لم یسم اجر کل شہر ۔ ہے اگر چہ ماہانہ اجرت نہ ذکر کی ہو۔(ت)
مگر جبکہ ایك ہفتہ کے بعدکرایہ دار نے کنجی واپس بھیج دیاور مابلکہ کے کارکن نے لے لیاور اس کے فسخ اجارہ کوقبول کرلیاتو جبکہ یہ کارکن مابلکہ کا مختار عام ہو یا اس عقد خاص کے فسخ وقبول کا مابلکہ نے اسے اختیار دیا ہویا اسے اختیار نہ تھامگر اس نے مابلکہ کو اطلاع دی اور وہ فسخ پر راضی ہوگئیتو ان سب صوتوں میں صرف اسی ہفتہ کا کرایہ زید پر لازم آیازیادہ کی طلب محض بے معنی ہےیونہی اگر نہ اسے قبول فسخ کا اختیار تھانہ مابلکہ نے فسخ مانامگر زید نے یہ فسخ کسی ایسے عذر واضح صریح بلا اشتباہ کی بنا پر کیا کہ اس کے ساتھ اجارہ باقی رکھے تو اسے اس کی جان یا مال میں صریح ضرر لاحق ہوجس کے لحوق میں کوئی تردد وخفا نہ ہوتو اس صورت میں بھی صرف اسی ہفتہ کا کرایہ واجب رہااور عقد تنہا زید کے فسخ کردینے سے فسخ ہوگیالحدیث لا ضر ولا ضرار فی الاسلام (اسلام میں کوئی دکھ نہیں اور نہ کسی کو دکھ پہنچانا ہے۔)ردالمحتارمیں ہے:
والحاصل ان کل عذر لایمکن معہ استیفاء المعقود علیہ الابضرر یلحقہ فی نفسہ اومالہ یثبت لہ حق الفسخ ۔ حاصل یہ ہے کہ ایسا عذر جس کی بناء پر معقود علیہ کا پورا ہونا ایسا ضرر جو جان یا مال کولاحق ہو تو اس کی بنا پر اس کوفسخ کا حق ثابت ہوگا۔(ت)
درمختارمیں ہے:
ان العذر ظاھراینفرد وان مشتبہا لاینفرد وھو الاصح ۔ اگر ایسا عذر ظاہر ہے تو صاحب عذر فسخ میں خود مختار ہے اور اگر ظاہر نہ ہو تو وہ اکیلا مختار نہیں۔(ت)
اور اگریہ بھی نہ تھا بلکہ بلا عذر اس نے اجارہ چھوڑایا عذر واضح وصریح نہ تھااور خود مابلکہ یا اس کے وکیل نے کہ قبول فسخ کاا ختیار رکھتا ہواس فسخ کو قبول نہ کیانہ دکان اس کے قبضہ سے واپس لیتو بیشك اس صورت میں دکان بدستور زید کے کرایہ میں ہےپھر اگر صرف ماہوار کرایہ
مگر جبکہ ایك ہفتہ کے بعدکرایہ دار نے کنجی واپس بھیج دیاور مابلکہ کے کارکن نے لے لیاور اس کے فسخ اجارہ کوقبول کرلیاتو جبکہ یہ کارکن مابلکہ کا مختار عام ہو یا اس عقد خاص کے فسخ وقبول کا مابلکہ نے اسے اختیار دیا ہویا اسے اختیار نہ تھامگر اس نے مابلکہ کو اطلاع دی اور وہ فسخ پر راضی ہوگئیتو ان سب صوتوں میں صرف اسی ہفتہ کا کرایہ زید پر لازم آیازیادہ کی طلب محض بے معنی ہےیونہی اگر نہ اسے قبول فسخ کا اختیار تھانہ مابلکہ نے فسخ مانامگر زید نے یہ فسخ کسی ایسے عذر واضح صریح بلا اشتباہ کی بنا پر کیا کہ اس کے ساتھ اجارہ باقی رکھے تو اسے اس کی جان یا مال میں صریح ضرر لاحق ہوجس کے لحوق میں کوئی تردد وخفا نہ ہوتو اس صورت میں بھی صرف اسی ہفتہ کا کرایہ واجب رہااور عقد تنہا زید کے فسخ کردینے سے فسخ ہوگیالحدیث لا ضر ولا ضرار فی الاسلام (اسلام میں کوئی دکھ نہیں اور نہ کسی کو دکھ پہنچانا ہے۔)ردالمحتارمیں ہے:
والحاصل ان کل عذر لایمکن معہ استیفاء المعقود علیہ الابضرر یلحقہ فی نفسہ اومالہ یثبت لہ حق الفسخ ۔ حاصل یہ ہے کہ ایسا عذر جس کی بناء پر معقود علیہ کا پورا ہونا ایسا ضرر جو جان یا مال کولاحق ہو تو اس کی بنا پر اس کوفسخ کا حق ثابت ہوگا۔(ت)
درمختارمیں ہے:
ان العذر ظاھراینفرد وان مشتبہا لاینفرد وھو الاصح ۔ اگر ایسا عذر ظاہر ہے تو صاحب عذر فسخ میں خود مختار ہے اور اگر ظاہر نہ ہو تو وہ اکیلا مختار نہیں۔(ت)
اور اگریہ بھی نہ تھا بلکہ بلا عذر اس نے اجارہ چھوڑایا عذر واضح وصریح نہ تھااور خود مابلکہ یا اس کے وکیل نے کہ قبول فسخ کاا ختیار رکھتا ہواس فسخ کو قبول نہ کیانہ دکان اس کے قبضہ سے واپس لیتو بیشك اس صورت میں دکان بدستور زید کے کرایہ میں ہےپھر اگر صرف ماہوار کرایہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۸€
المعجم الاوسط حدیث ۵۱۸۹ مکتبۃ المعارف ∞ریاض ۶/ ۹۱€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۰€
درمختار کتاب الاجارۃ باب فسخ الاجارۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۸۳€
المعجم الاوسط حدیث ۵۱۸۹ مکتبۃ المعارف ∞ریاض ۶/ ۹۱€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۰€
درمختار کتاب الاجارۃ باب فسخ الاجارۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۸۳€
ٹھہرا تھا تو ہر ختم ماہ پر زید کو دکان چھوڑدینے کا اختیار ہوگاخواہ پہلے مہینے کے ختم پر چھوڑ دے خواہ کسی اور مہینے کے ختم پراور جس مہینے کے شروع میں ایك دن گزر جائے گا وہ مہینہ بھر پھر اجارہ صحیح ہوجائے گا۔اور زید کو تنہا اس کے فسخ کااختیار نہ ہوگا۔اور اگر سالانہ کرایہ ٹھہرا تھا تو بعد ختم سال زید کو دکان چھوڑنے کا اختیار ہوگا۔یوں سال دو سال یا ماہ دو ماہ جس قدر مدت تك دکان اس کے اجارہ میں رہے گیاس قدر کرایہ ا س پر لازم آئے گاواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اراضی کاشت اپنی بعوض مبلغ ایك سو روپے کے رہن رکھیاور مرتہن سے یہ شرط ٹھہر ی کہ اراضی تم اپنی کاشت میں رکھواور اس کی پیداوار سے لگان اراضی زمیندار کو ادا کرتے رہوبقیہ منافع تم لے لیا کرواور اگر کم پیدا وار ہو یا بالکل نہ ہوتو مجھ سے کچھ تعلق نہیںاس کا نفع نقصان سب تمھارے ذمہ ہےتو اب مرتہن اس اراضی کو خود کاشت کرے یا کسی ذیلی کاشتکار سے کاشت کرائےاوربعد ادائے لگان جو کچھ منافع ہو وہ منافع سود ہوا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
اگر زید نے بہ اجازت زمیندار کہ مالك زمین ہےیہ زمین رہن رکھی تو رہن صحیح ہوگیازمین زید کے اجارہ سے نکل گئی
وکان من باب رھن المستعار للرھن حیث یجوزقال فی الہندیۃ عن البدائعیجوز رھن مال الغیر باذنہ کما لوا ستعار من انسان لیرھنہ بدین علی المستعیر ۔ تویہ رہن کے لئے طلب کردہ کا رہن ہےیہ جائز ہےہندیہ میں بدائع کے حوالے سے فرمایا غیر کا مال اس کی اجازت سے رہن رکھنا جائز ہے جیسے کوئی شخص اپنے قرض میں رہن رکھنے کے لیے کسی سے کوئی چیز عاریۃ لے۔(ت)
اوراس کا یہ کہنا کہ زمین اپنی کاشت میں رکھوزمیندار کو لگان دیتے رہواجارہ فضولی کا ہےاگر زمین دار نے اسے جائز رکھا اجارہ نافذ ہوگیااور جب مرتہن نے اس پر کاشتکارانہ قبضہ کیا رہن باطل ہوگیازید کو کچھ تعلق نہ رہا مرتہن اصلی کاشتکار ہوگیاجو منافع بچے وہ اس کے لئے حلال ہیں
مسئلہ ۱۷۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اراضی کاشت اپنی بعوض مبلغ ایك سو روپے کے رہن رکھیاور مرتہن سے یہ شرط ٹھہر ی کہ اراضی تم اپنی کاشت میں رکھواور اس کی پیداوار سے لگان اراضی زمیندار کو ادا کرتے رہوبقیہ منافع تم لے لیا کرواور اگر کم پیدا وار ہو یا بالکل نہ ہوتو مجھ سے کچھ تعلق نہیںاس کا نفع نقصان سب تمھارے ذمہ ہےتو اب مرتہن اس اراضی کو خود کاشت کرے یا کسی ذیلی کاشتکار سے کاشت کرائےاوربعد ادائے لگان جو کچھ منافع ہو وہ منافع سود ہوا یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
اگر زید نے بہ اجازت زمیندار کہ مالك زمین ہےیہ زمین رہن رکھی تو رہن صحیح ہوگیازمین زید کے اجارہ سے نکل گئی
وکان من باب رھن المستعار للرھن حیث یجوزقال فی الہندیۃ عن البدائعیجوز رھن مال الغیر باذنہ کما لوا ستعار من انسان لیرھنہ بدین علی المستعیر ۔ تویہ رہن کے لئے طلب کردہ کا رہن ہےیہ جائز ہےہندیہ میں بدائع کے حوالے سے فرمایا غیر کا مال اس کی اجازت سے رہن رکھنا جائز ہے جیسے کوئی شخص اپنے قرض میں رہن رکھنے کے لیے کسی سے کوئی چیز عاریۃ لے۔(ت)
اوراس کا یہ کہنا کہ زمین اپنی کاشت میں رکھوزمیندار کو لگان دیتے رہواجارہ فضولی کا ہےاگر زمین دار نے اسے جائز رکھا اجارہ نافذ ہوگیااور جب مرتہن نے اس پر کاشتکارانہ قبضہ کیا رہن باطل ہوگیازید کو کچھ تعلق نہ رہا مرتہن اصلی کاشتکار ہوگیاجو منافع بچے وہ اس کے لئے حلال ہیں
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الرہن الباب الاول الفصل الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۳۲€
خود کاشت کرے یا اسے لگان پر ذیلی کاشتکار کو دے سب جائز ہے۔
فی الہندیۃ عن شرح الطحاوی لواستاجرہ المرتہن صحت الاجارۃ وبطل الرھن اذا جدد القبض للاجارۃ ۔ ہندیہ میں شرح طحاوی سے منقول ہے کہ اگر مرتہن رہن والی چیز کو اجارہ پر لے تو اجارہ صحیح ہوگا اوررہن باطل ہوجائے گا بشرطیکہ اجارہ کے لئے نیا قبضہ لے۔(ت)
اوراگر زمیندار نے اس اجارہ کوناجائز کردیااجارہ رد ہوگیامرتہن کو نہ خود کاشت کرنا جائز ہے نہ ذیلی کو دیناجو کچھ اس سے حاصل ہوگا خبیث ہوگامرتہن پر واجب ہے اسے تصدق کردےاور اگر سرے سے یہ رہن رکھنا ہی بے اجازت زمیندار ہے تو راہن مرتہن دونوں غاصب ہیںمرتہن کو کاشت وغیرہ حلال نہیںپھر اگر زمیندار کو لگان دی اور اس نے قبول کرلیتو زید کے اجارہ سے نکل گئیزمین مرتہن کے اجارہ میں آگئیاب جو منافع بچے اسے حلال ہوں گے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مالك مکان اورکرایہ دار سے ایك سال کے واسطے ایك مکان قرار پایا تھا بہ کرایہ دو روپے ماہوار کے کرایہ دارنے بالاجازت کرایہ نامہ دو سال کے واسطے پس غیبت مال مکان کے تحریر کراکر مالك مکان کے پاس بھیج دیااب چونکہ کرایہ دارنے بد عہدی کی اس واسطے کرایہ دارمذکور کودینا مکان منظور نہیں ہےاب اس حالت میں مالك مکان کے ذمہ کوئی مواخذہ شرعی ہے یانہیں فقط
الجواب:
تحریر کاغذ سے پہلے کچھ گفتگو عاقدین میں ہوتی ہے وہ گفتکو کبھی خود عقد ہوتی ہے اور تحریر کاغذ محض اس کی تائید وتوثیق ہوتی ہےاس صورت میں شرعا اس گفتگو کا اعتبارہےکاغذ اگر اس کے خلاف ہوبیکارہے۔
کمانص علیہ فی الفتاوی الخیریۃ ان العبرۃ بماتلفظ لا بما کتبت فی الصك ۔ جیسا کہ ہندیہ میں نص فرمائی ہے کہ زبانی بات کا اعتبار ہے اسٹام میں لکھی کا اعتبار نہیں ہے۔(ت)
فی الہندیۃ عن شرح الطحاوی لواستاجرہ المرتہن صحت الاجارۃ وبطل الرھن اذا جدد القبض للاجارۃ ۔ ہندیہ میں شرح طحاوی سے منقول ہے کہ اگر مرتہن رہن والی چیز کو اجارہ پر لے تو اجارہ صحیح ہوگا اوررہن باطل ہوجائے گا بشرطیکہ اجارہ کے لئے نیا قبضہ لے۔(ت)
اوراگر زمیندار نے اس اجارہ کوناجائز کردیااجارہ رد ہوگیامرتہن کو نہ خود کاشت کرنا جائز ہے نہ ذیلی کو دیناجو کچھ اس سے حاصل ہوگا خبیث ہوگامرتہن پر واجب ہے اسے تصدق کردےاور اگر سرے سے یہ رہن رکھنا ہی بے اجازت زمیندار ہے تو راہن مرتہن دونوں غاصب ہیںمرتہن کو کاشت وغیرہ حلال نہیںپھر اگر زمیندار کو لگان دی اور اس نے قبول کرلیتو زید کے اجارہ سے نکل گئیزمین مرتہن کے اجارہ میں آگئیاب جو منافع بچے اسے حلال ہوں گے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مالك مکان اورکرایہ دار سے ایك سال کے واسطے ایك مکان قرار پایا تھا بہ کرایہ دو روپے ماہوار کے کرایہ دارنے بالاجازت کرایہ نامہ دو سال کے واسطے پس غیبت مال مکان کے تحریر کراکر مالك مکان کے پاس بھیج دیااب چونکہ کرایہ دارنے بد عہدی کی اس واسطے کرایہ دارمذکور کودینا مکان منظور نہیں ہےاب اس حالت میں مالك مکان کے ذمہ کوئی مواخذہ شرعی ہے یانہیں فقط
الجواب:
تحریر کاغذ سے پہلے کچھ گفتگو عاقدین میں ہوتی ہے وہ گفتکو کبھی خود عقد ہوتی ہے اور تحریر کاغذ محض اس کی تائید وتوثیق ہوتی ہےاس صورت میں شرعا اس گفتگو کا اعتبارہےکاغذ اگر اس کے خلاف ہوبیکارہے۔
کمانص علیہ فی الفتاوی الخیریۃ ان العبرۃ بماتلفظ لا بما کتبت فی الصك ۔ جیسا کہ ہندیہ میں نص فرمائی ہے کہ زبانی بات کا اعتبار ہے اسٹام میں لکھی کا اعتبار نہیں ہے۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الرہن الباب الثامن ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۶۵€
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۴۰۔۱۳۹،€فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۶۷€
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۴۰۔۱۳۹،€فتاوٰی خیریہ کتاب الدعوٰی دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۶۷€
اور کبھی وہ گفتگو خود عقد ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتیتحریرہی سے تکمیل عقد ہوتی ہے پس صورت مذکورہ میں اگر سال بھر کے لئے عقد اجارہ ان کی گفتگو میں تمام ہوچکا تھامثلا زید نے عمرو سے کہا میں نے اپنا مکان ایك سال کے لئے اتنے کرایہ پر تجھے دیااس نے کہا میں نے قبول کیایامیں نے لے لیایا مجھے منظورہےجب تو عقد تمام ہوگیااورمکان ایك سال کے لئے دینا مالك پر ضرور ہوگافقطاس بدعہدی کے سبب کہ اس نے ایك سال کے بجائے دو سال لکھوا یاایك سال کے لئے دینے سے انکار نہیں کرسکتا کہ بد عہدی کی غایت فسق ہےاور فسق مستاجر فسخ اجارہ کے لئے عذر نہیں۔
فی مطالب ردالمحتار فسق المستاجر لیس عذر فی الفسخ ونقل نصہ فیہ عن لسان الحکام ۔ ردالمحتار کے مطالب میں ہے کہ مستاجر کا فسق فسخ کے لئے عذر نہیں ہے اورانھوں نے اس پر لسان الحکام سے نص نقل فرمائی ہے۔(ت)
اور اگر گفتگو میں تمامی عقد نہیں ہوئی تھیمثلا عمرو نے کہا اپنا فلاں مکان اتنے کرایہ میں ایك سال کے لئے مجھے کرایہ پر دو گے زید نے کہا ہاںعمرو نے کہا تو کرایہ نامہ لکھوالوزیدنے کہا ہاں فان ہذا وعدلا عقد(کیونکہ یہ وعدہ ہے عقد نہیں ہے۔ت)اب اس نے دو سال کے لئے کرایہ نامہ لکھا اور زید نے قبول نہیں کیا تو ایك دن کے لئے بھی مکان کرایہ دار کو دینا مالك پر لازم نہیں کہ پہلے عقد نہ ہوا تھا اور کرایہ نامہ بلارضا مالك لکھا گیا اور اس نے قبول نہیں کیاتو عقد اصلا موجود نہ ہوا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۵: از ملك بنگالہ ضلع نواکھالی موضع سندیپ مرسلہ محمد حسن
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہاجرت گرفتن بر تعلیم قرآن وزیارت قبور ومیلاد شریف واذان وامامت بدعوی یابغیر آں ازروئے شرع شریف جائز ست یانہبعضے بر ہر دو تقدیر حرام گویندبینوا توجروا کیا فرماتے ہیں علمائے دین اورمفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ تعلیم قرآنزیارت قبورمیلاد شریفاذان وامامت پر طلب کرکے یابغیر طلب اجرت لینا جائز ہے یانہیں جبکہ بعض حضرات دونوں صورتوں کو حرام کہتے ہیںبینوا توجروا (ت)
فی مطالب ردالمحتار فسق المستاجر لیس عذر فی الفسخ ونقل نصہ فیہ عن لسان الحکام ۔ ردالمحتار کے مطالب میں ہے کہ مستاجر کا فسق فسخ کے لئے عذر نہیں ہے اورانھوں نے اس پر لسان الحکام سے نص نقل فرمائی ہے۔(ت)
اور اگر گفتگو میں تمامی عقد نہیں ہوئی تھیمثلا عمرو نے کہا اپنا فلاں مکان اتنے کرایہ میں ایك سال کے لئے مجھے کرایہ پر دو گے زید نے کہا ہاںعمرو نے کہا تو کرایہ نامہ لکھوالوزیدنے کہا ہاں فان ہذا وعدلا عقد(کیونکہ یہ وعدہ ہے عقد نہیں ہے۔ت)اب اس نے دو سال کے لئے کرایہ نامہ لکھا اور زید نے قبول نہیں کیا تو ایك دن کے لئے بھی مکان کرایہ دار کو دینا مالك پر لازم نہیں کہ پہلے عقد نہ ہوا تھا اور کرایہ نامہ بلارضا مالك لکھا گیا اور اس نے قبول نہیں کیاتو عقد اصلا موجود نہ ہوا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۵: از ملك بنگالہ ضلع نواکھالی موضع سندیپ مرسلہ محمد حسن
چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہاجرت گرفتن بر تعلیم قرآن وزیارت قبور ومیلاد شریف واذان وامامت بدعوی یابغیر آں ازروئے شرع شریف جائز ست یانہبعضے بر ہر دو تقدیر حرام گویندبینوا توجروا کیا فرماتے ہیں علمائے دین اورمفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ تعلیم قرآنزیارت قبورمیلاد شریفاذان وامامت پر طلب کرکے یابغیر طلب اجرت لینا جائز ہے یانہیں جبکہ بعض حضرات دونوں صورتوں کو حرام کہتے ہیںبینوا توجروا (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب فسخ الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۰€
الجواب:
فی الواقع اخذ اجرت بر تعلیم قرآن عظیم ودیگر علوم واذان وامامت جائز ست علی ماافتی بہ الائمۃ المتأخرون نظرا الی الزمان حفظا علی شعائر الدین والایمان۔وبربقیہ طاعات مثل زیارت قبورسیپا رہ خوانی برائے امواتوقرأت میلاد پاك سید الکائنات علیہ وعلی الہ افضل الصلوۃ والتحیاتبراصل منع باقی است والمعہود عرفا کا لمشروط لفظا ۔پس اگر قرارداد اجرت کنند یابحسب عرف معلوم باشد کہ اینائے برائے گرفتن میخوانندو آناں برائے خواندن می دہند اگر ایناں نخوانند آناں نہ دہندواگر آناں نہ دہند ایناں نہ خوانند گرفتن ودادن ہر دو روا نیست الاخذ والمعطی اثماناگر نہ چناں باشد بلکہ ایناں لوجہ اﷲ تعالی می خوانند دروہیچ چیز بدل بہ دل ہم نہ خواہند تا آنکہ اگریقینا دانند کہ چیزے نیابند نیز بخوانند آنگاہ بے قرارداد لفظی و عرفی چیزے خدمت ایشاں کردہ شود مضائقہ نیست ہمچناں درجائیکہ گرفتن ودادن معہود بعرف شدہ استاگر خوانند گان پیش از خواندن صراحۃ شرط کنند کہ ماراہیچ نہ دہندہ قرآن عظیم کی تعلیمدیگر دینی علوم اذان اور امامت پر اجرت لینا جائز ہے جیسا کہ متاخرین ائمہ نے موجودہ زمانہ میں شعائر دین وایمان کی حفاظت کے پیش نظر فتوی دیا ہے اور باقی طاعات مثلا زیارت قبور اموات کے لئے ختم قرآنقرأت میلاد پاك سید الکائنات علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والتحیات پر اصل ضابطہ کی بناء پر منع باقی ہےاور عرف میں مقررہ و مشہور لفظا مشروط کی طرح ہےلہذا ان باقی امور پر اجرت مقرر کی گئی یا عرفا معلوم ہے کہ اجرت پر پڑھ رہے ہیں یا پڑھانے والے اجرت دیں گےاگر یہ نہ پڑھیں تو نہ دیںاور وہ نہ دیں تو یہ نہ پڑھیں تو ایسی صورت میں لینا اور دینا ناجائز ہےلینے والا اور دینے والا دونوں گنہ گار ہوں گےاگر عرف میں ایسے نہیں ہے بلکہ یہ لوگ اﷲ تعالی کی رضا کے لئے پڑھیں اور دل میں کسی عوض کا خیال نہ کریں حتی کہ یقین بھی ہو کہ نہ دینگے اسکے باوجود پڑھیںایسی صورت میں کسی لفظی یا عرفی تقرر کے بغیر پڑھنے والوں کو دیں تو کوئی مضائقہ نہیں ایسی جگہ جہاں عرف میں لینا دینا ہوتا ہوپڑھنے والے پہلے شرط کریں کہ ہم کچھ نہ لیں گے اور اس کے بعد اگر دینے والے دیں تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ صراحت فائق ہوتی دلالت پر۔
فی الواقع اخذ اجرت بر تعلیم قرآن عظیم ودیگر علوم واذان وامامت جائز ست علی ماافتی بہ الائمۃ المتأخرون نظرا الی الزمان حفظا علی شعائر الدین والایمان۔وبربقیہ طاعات مثل زیارت قبورسیپا رہ خوانی برائے امواتوقرأت میلاد پاك سید الکائنات علیہ وعلی الہ افضل الصلوۃ والتحیاتبراصل منع باقی است والمعہود عرفا کا لمشروط لفظا ۔پس اگر قرارداد اجرت کنند یابحسب عرف معلوم باشد کہ اینائے برائے گرفتن میخوانندو آناں برائے خواندن می دہند اگر ایناں نخوانند آناں نہ دہندواگر آناں نہ دہند ایناں نہ خوانند گرفتن ودادن ہر دو روا نیست الاخذ والمعطی اثماناگر نہ چناں باشد بلکہ ایناں لوجہ اﷲ تعالی می خوانند دروہیچ چیز بدل بہ دل ہم نہ خواہند تا آنکہ اگریقینا دانند کہ چیزے نیابند نیز بخوانند آنگاہ بے قرارداد لفظی و عرفی چیزے خدمت ایشاں کردہ شود مضائقہ نیست ہمچناں درجائیکہ گرفتن ودادن معہود بعرف شدہ استاگر خوانند گان پیش از خواندن صراحۃ شرط کنند کہ ماراہیچ نہ دہندہ قرآن عظیم کی تعلیمدیگر دینی علوم اذان اور امامت پر اجرت لینا جائز ہے جیسا کہ متاخرین ائمہ نے موجودہ زمانہ میں شعائر دین وایمان کی حفاظت کے پیش نظر فتوی دیا ہے اور باقی طاعات مثلا زیارت قبور اموات کے لئے ختم قرآنقرأت میلاد پاك سید الکائنات علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ والتحیات پر اصل ضابطہ کی بناء پر منع باقی ہےاور عرف میں مقررہ و مشہور لفظا مشروط کی طرح ہےلہذا ان باقی امور پر اجرت مقرر کی گئی یا عرفا معلوم ہے کہ اجرت پر پڑھ رہے ہیں یا پڑھانے والے اجرت دیں گےاگر یہ نہ پڑھیں تو نہ دیںاور وہ نہ دیں تو یہ نہ پڑھیں تو ایسی صورت میں لینا اور دینا ناجائز ہےلینے والا اور دینے والا دونوں گنہ گار ہوں گےاگر عرف میں ایسے نہیں ہے بلکہ یہ لوگ اﷲ تعالی کی رضا کے لئے پڑھیں اور دل میں کسی عوض کا خیال نہ کریں حتی کہ یقین بھی ہو کہ نہ دینگے اسکے باوجود پڑھیںایسی صورت میں کسی لفظی یا عرفی تقرر کے بغیر پڑھنے والوں کو دیں تو کوئی مضائقہ نہیں ایسی جگہ جہاں عرف میں لینا دینا ہوتا ہوپڑھنے والے پہلے شرط کریں کہ ہم کچھ نہ لیں گے اور اس کے بعد اگر دینے والے دیں تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ صراحت فائق ہوتی دلالت پر۔
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۳۱€
بعدہ عــــــہ دہند گان خدمت از پیش خویش کنند نیز روا ست لان الصریح یفوق الدلالہ کما فی الفتاوی امام قاضیخاں۔ واگر خواہند کہ شرط کنند وحلال باشدصورتش آنست کہ حافظاں وقاریان رابرائے وقت معینمثلا روز فلانے از ہفتہساعت صحیح تادہ ساعت برائے کار وخدمت خویش بر اجرت معینہ ہرچہ براں تراضی طرفین شوداجیر کنند برقدرآن ساعات ایناں نوکر شدند وتسلیم نفس برایناں واجب شد مستجراں رامی رسد کہ ہر خدمت کہ خواہند فرماینداز انجملہ کہ میلاد مبارك بخوانندیا قرآن عظیم خواندہ ثواب بفلاں مسلمان رسانندایں رواباشدودادن واجبو گرفتن حلالزیرا کہ حالااجارہ برمنافع نفس ایناں واقع شد نہ برطاعاتواﷲ تعالی اعلم۔ جیسا کہ فتاوی قاضیخان میں ہےاگر اجرت کی شرط پر پڑھنا حلال ہوجائے تو اس کی صورت یہ ہے کہ قراء اور حفاظ حضرات کو مقررہ وقت مثلا کوئی دن ہفتہ میں یا گھنٹے مثلا صبح سے دس بجے تك اپنی خدمت یا کام کے لئے مقررہ اجرت جس پر فریقین راضی ہوںاجیر بنالیںتو اتنے وقت کے لئے یہ حضرات نوکرہوں گے اور اپنے آپ کو پابند بنانا واجب ہوگا تو اجرت پر رکھنے والوں کو حق ہوگا کہ وہ جو خدمت ان سے چاہیں لیںانہی خدمات میں سے میلاد خوانی وقرآن خوانی برائے ایصال ثواب فلاں بھی ہوگیاس صورت میں دینا ضروری اور لینا جائز ہوگا کیونکہ اب ان کی ذات سے منافع پر اجارہ ہے طاعات وعبادات پر نہیں ہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۷۶ تا ۱۷۸:از قصبہ سیوہارہ ضلع بجنور مرسلہ مولوی محمد مہدی حسین بریلوی قانونگو ۱۴ ستمبر ۱۹۱۲ء
(۱)نوکری گرد اور قانونگوئی جس میں حسب ذیل کام کرنا ہوتاہے شرعا جائز ہے یانہیں
(۱)کاغذات پٹواری جن میں زمینداران وکاشتکاران کی صحت اندارج کی بابت موقع پر اور نیز کاغذات ماضیہ کی بابت جانچ کی جاتی ہے
(۲)تحقیقات موقع بابت حقوق کاشتکاران وزمینداران بمقدمات تنازع اراضیات لگان
(۳)تصدیق پٹہ وقبولیت وتیاری نقشہ جات متعلقہ وکوشش ادائے مالگذاری وزر تفاوی تقسیم شدہ وغیرہ۔
عــــــہ: دراصل بعض است وظنی انہ بعدہ است۔عبدالمنان۔
مسئلہ ۱۷۶ تا ۱۷۸:از قصبہ سیوہارہ ضلع بجنور مرسلہ مولوی محمد مہدی حسین بریلوی قانونگو ۱۴ ستمبر ۱۹۱۲ء
(۱)نوکری گرد اور قانونگوئی جس میں حسب ذیل کام کرنا ہوتاہے شرعا جائز ہے یانہیں
(۱)کاغذات پٹواری جن میں زمینداران وکاشتکاران کی صحت اندارج کی بابت موقع پر اور نیز کاغذات ماضیہ کی بابت جانچ کی جاتی ہے
(۲)تحقیقات موقع بابت حقوق کاشتکاران وزمینداران بمقدمات تنازع اراضیات لگان
(۳)تصدیق پٹہ وقبولیت وتیاری نقشہ جات متعلقہ وکوشش ادائے مالگذاری وزر تفاوی تقسیم شدہ وغیرہ۔
عــــــہ: دراصل بعض است وظنی انہ بعدہ است۔عبدالمنان۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الدعوٰی باب دعوٰی الرجلین داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۴۳۴€
(۲)جو گرد اور قانون گولینا پسند کرتے ہیںان کو حسب ذیل آمدنی ہوتی ہے یہ آمدنی جائز ہے یا نہیں
(۱)علاوہ تنخواہ معینہ کے پٹواریاں بعوض اس رعایت کے کہ ان کے کام میں جو تاخیر خلاف ان کے قواعد کے ظہور میں آئیں اس کی رعایت کی جائےاور ان کو جرمانہ سے بچایا جائے کچھ ماہوار یا سال تمام پردیتے ہیںلیکن سب کام سرکاری میعاد انتہائی کے اندر ختم کرلیاجاتاہے
(۲)تصدیق پٹہ وقبولیت میں مقر کچھ حقوق خوشی سے دیا کرتے ہیں
(۳)تحقیقات موقع میں جس فریق کے حقوق فائق متصور اور امیدکامیابی معلوم ہوتی ہے اس سے بعوض تحریر رپورٹ واجبی کے جو کچھ وہ دیتاہے لیا جاتاہے۔
(۴)دیہات میں منجابت زمیندار مقدموپدھان نذر دیتے ہیںبلحاظ افسری بلااس وقت کسی کام کے۔
(۳)اس تنخواہ مندرجہ سوال اول وآمدنی مندرجہ سوال دوم کے اندوختہ سے مصارف حج وزیارت ودیگر ضروریات دینی جائزہے یانہیںاور بحالت عدم جواز کوئی طریقہ اس روپے سے ادائے کارروائی مندرجہ بالا کا ہوسکتاہےمثلا تبادلہ اس روپے کا اگر اشرفی ہائے خزانہ سے کرلیا جائے وغیرہ۔بینوا توجروا
الجواب:
(۱)اگر ان کاموں کو دیانت وامانت سے انجام دےاور ان میں جو ظلم اور لوگ بڑھالیتے ہیں ان سے مخلوق کو بچانے کی نیت سے یہ نوکری کرے اور اس سے زائد اور کوئی ناجائز کام اسے کرنا نہ ہوتو یہ نوکری جائز ہے بلکہ خلق پر دفع ظلم ودیگر اہلکاران کی نیت پر ثواب پائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)یہ سب مدین رشوت وحرام ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)تنخواہ بشرائط مذکورہ حلال ہےاور اس سے ہر نیك کام جائز ہےاور آمدنی سوال دوم حرام ہے اور اسے کسی کام میں صرف کرنا جائز نہیںسوا اس کے کہ جن سے لی ہے ان کو واپس دےوہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو دےپتہ نہ چلے تو فقیروں پر تصدق کردےایسی آمدنی والا اگر حج وغیرہ چاہے تو روپیہ بے سودی قرض لے لےوہ حلال ہوگااور وہ قرض اگرچہ اس مجلس میں اپنے ناپاك روپے سے ادا کردے گا تو قرض لیئے ہوئے روپے میں خباثت نہ آئے گیواﷲ تعالی اعلم۔
(۱)علاوہ تنخواہ معینہ کے پٹواریاں بعوض اس رعایت کے کہ ان کے کام میں جو تاخیر خلاف ان کے قواعد کے ظہور میں آئیں اس کی رعایت کی جائےاور ان کو جرمانہ سے بچایا جائے کچھ ماہوار یا سال تمام پردیتے ہیںلیکن سب کام سرکاری میعاد انتہائی کے اندر ختم کرلیاجاتاہے
(۲)تصدیق پٹہ وقبولیت میں مقر کچھ حقوق خوشی سے دیا کرتے ہیں
(۳)تحقیقات موقع میں جس فریق کے حقوق فائق متصور اور امیدکامیابی معلوم ہوتی ہے اس سے بعوض تحریر رپورٹ واجبی کے جو کچھ وہ دیتاہے لیا جاتاہے۔
(۴)دیہات میں منجابت زمیندار مقدموپدھان نذر دیتے ہیںبلحاظ افسری بلااس وقت کسی کام کے۔
(۳)اس تنخواہ مندرجہ سوال اول وآمدنی مندرجہ سوال دوم کے اندوختہ سے مصارف حج وزیارت ودیگر ضروریات دینی جائزہے یانہیںاور بحالت عدم جواز کوئی طریقہ اس روپے سے ادائے کارروائی مندرجہ بالا کا ہوسکتاہےمثلا تبادلہ اس روپے کا اگر اشرفی ہائے خزانہ سے کرلیا جائے وغیرہ۔بینوا توجروا
الجواب:
(۱)اگر ان کاموں کو دیانت وامانت سے انجام دےاور ان میں جو ظلم اور لوگ بڑھالیتے ہیں ان سے مخلوق کو بچانے کی نیت سے یہ نوکری کرے اور اس سے زائد اور کوئی ناجائز کام اسے کرنا نہ ہوتو یہ نوکری جائز ہے بلکہ خلق پر دفع ظلم ودیگر اہلکاران کی نیت پر ثواب پائے گا۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)یہ سب مدین رشوت وحرام ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۳)تنخواہ بشرائط مذکورہ حلال ہےاور اس سے ہر نیك کام جائز ہےاور آمدنی سوال دوم حرام ہے اور اسے کسی کام میں صرف کرنا جائز نہیںسوا اس کے کہ جن سے لی ہے ان کو واپس دےوہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو دےپتہ نہ چلے تو فقیروں پر تصدق کردےایسی آمدنی والا اگر حج وغیرہ چاہے تو روپیہ بے سودی قرض لے لےوہ حلال ہوگااور وہ قرض اگرچہ اس مجلس میں اپنے ناپاك روپے سے ادا کردے گا تو قرض لیئے ہوئے روپے میں خباثت نہ آئے گیواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۹: از گونڈہ محلہ نبی گنج مکان مولوی نوازش احمد صاحب مرسلہ حافظ محمد اسحق
کوئی طوائف جو اپنے پیشہ میں مبتلا ہےقرآن شریف پڑھنے یا پڑھوانے کی خواہش رکھتی ہےاور اس کے عوض میں استاد معلم حافظ ناظرہ خوان کی کچھ خدمت کرے تو پیسہ جو طوائف پیشہ کا قطعا حرام ہےلینا استاد معلم کو جائز ہے یانہیں اور ایسے حافظ وقاری کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
عالمگیریہ وغیرہا میں تصریح ہے کہ یہ روپیہ جو اجرت زنایا غنا کا ان لوگوں کے پاس ہوتاہے وہ ان کے ہاتھ میں مثل غصب کے ہےوہ کسی شیئ کے معاوضہ میں لینا جائز نہیں۔امام اگر اس پر اصرار کرے تو اسے امامت سے معزول کرنا چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۰: ا زنواکھالی ڈاکخانہ رائے پور ملك بنگالہ مسئولہ فضل حق صاحب ۱۹ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ
علمائے کرام فضلائے عظام کی خدمت میں التما س یہ ہے کہ یہ استیجار علی الطاعات خصوصا تلاوت قرآن وتسبیح وتہلیلایصال ثواب کی نیت سے ارواح موتی کے واسطے ایك مدت دراز سے رواج چلاآرہا ہےفی الحال دیوبندی محصل بعض علماء نے حرام کہہ کر اٹھالینے میں بڑے کوشاں ہیںدریافت طلب یہ امر ہے کہ فی زماننا استیجار علی الطاعات خصوصا تلاوت قرآن وتسبیح وتہلیل پر اجرت لینا حسب الحکم کتب فقہیہ جائز ہے یانہیں برتقدیر جواز شامی وبرکوی وغیرہما رحمۃ اﷲ علیہم نے اپنی تحریرات جو حرمت استیجار علی التلاوۃ والتسبیح کو ثابت فرمائے ہیں اس کاکیا جواب ہےمترصد کہ حضور از راہ مہربانی استفتاء ہذا کا جواب مع اپنے مہر اور متعلقین علماء کی مہر ودستخط سے مزین کرکے جلد تکلیف ارسال منظور فرمائیں
الجواب:حق یہی ہے کہ استیجار علی الطاعات حرام وباطل ہےسوا تعلیم علوم دین واذان وامامت وغیرہا بعض امور کے کہ متاخرین نے بضرورت فتوائے جوازدیا تلاوت قرآن وتسبیح وتہلیل پر اجرت لینا دینا دونوں ناجائز وحرام ہیں
کما حققہ المولی المحقق السید امین الدین الشامی رحمہ اﷲ تعالی فی شفاء العلیل ۔ جیسا کہ محقق امین الدین شامی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے شفاء العلیل میں تحقیق فرمائی ہے۔(ت)
کوئی طوائف جو اپنے پیشہ میں مبتلا ہےقرآن شریف پڑھنے یا پڑھوانے کی خواہش رکھتی ہےاور اس کے عوض میں استاد معلم حافظ ناظرہ خوان کی کچھ خدمت کرے تو پیسہ جو طوائف پیشہ کا قطعا حرام ہےلینا استاد معلم کو جائز ہے یانہیں اور ایسے حافظ وقاری کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
عالمگیریہ وغیرہا میں تصریح ہے کہ یہ روپیہ جو اجرت زنایا غنا کا ان لوگوں کے پاس ہوتاہے وہ ان کے ہاتھ میں مثل غصب کے ہےوہ کسی شیئ کے معاوضہ میں لینا جائز نہیں۔امام اگر اس پر اصرار کرے تو اسے امامت سے معزول کرنا چاہئے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۰: ا زنواکھالی ڈاکخانہ رائے پور ملك بنگالہ مسئولہ فضل حق صاحب ۱۹ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ
علمائے کرام فضلائے عظام کی خدمت میں التما س یہ ہے کہ یہ استیجار علی الطاعات خصوصا تلاوت قرآن وتسبیح وتہلیلایصال ثواب کی نیت سے ارواح موتی کے واسطے ایك مدت دراز سے رواج چلاآرہا ہےفی الحال دیوبندی محصل بعض علماء نے حرام کہہ کر اٹھالینے میں بڑے کوشاں ہیںدریافت طلب یہ امر ہے کہ فی زماننا استیجار علی الطاعات خصوصا تلاوت قرآن وتسبیح وتہلیل پر اجرت لینا حسب الحکم کتب فقہیہ جائز ہے یانہیں برتقدیر جواز شامی وبرکوی وغیرہما رحمۃ اﷲ علیہم نے اپنی تحریرات جو حرمت استیجار علی التلاوۃ والتسبیح کو ثابت فرمائے ہیں اس کاکیا جواب ہےمترصد کہ حضور از راہ مہربانی استفتاء ہذا کا جواب مع اپنے مہر اور متعلقین علماء کی مہر ودستخط سے مزین کرکے جلد تکلیف ارسال منظور فرمائیں
الجواب:حق یہی ہے کہ استیجار علی الطاعات حرام وباطل ہےسوا تعلیم علوم دین واذان وامامت وغیرہا بعض امور کے کہ متاخرین نے بضرورت فتوائے جوازدیا تلاوت قرآن وتسبیح وتہلیل پر اجرت لینا دینا دونوں ناجائز وحرام ہیں
کما حققہ المولی المحقق السید امین الدین الشامی رحمہ اﷲ تعالی فی شفاء العلیل ۔ جیسا کہ محقق امین الدین شامی رحمۃ اﷲ تعالی علیہ نے شفاء العلیل میں تحقیق فرمائی ہے۔(ت)
حوالہ / References
شفاء العلیل وبل الغلیل فی حکم الوصیۃ الخ رسالہ من رسائل ابن عابدین∞ سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۷۶،۱۷۵€
دیوبندی عقیدے والے ضرور کفار مرتدین ہیں جن کے کفر وارتداد پر علمائے کرام حرمین شریفین نے فتوے دئےکہ حسام الحرمین وتمہید ایمان بایات قرآن میں شائع ہوئےمگریہ ضرور نہیں کہ کافر جو بات کہے باطل ہونصاری کہتے ہیں یہود کادین باطل ہےاور ان کایہ کہنا حق ہےیہود کہتے ہیں نصاری کادین باطل ہےاور ان کا یہ کہنا حق ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۱: مسئولہ ظہور محمد صاحب از شہر کہنہ ۲۸ محرم ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك اراضی کے چند مالك وزمیندار ہیںان میں سے ایك نمبردار ہےکل کارروائی تحصیل وصول وغیرہ کی نمبردار کرکے تقسیم کردیتاہےچنانچہ ایك اراضی کاکرایہ نامہ نمبردار نے ایك سال کے لئے ایك شخص کولکھ دیاکرایہ دار ونمبردا ر کی مرضی سے کرایہ نامہ میں کرایہ دار نے یہ بات تحریر کرادی کہ در صورت اراضی خالی پڑی رہنے کے بھی کرایہ مقررہ ادا کرے گااب وہ کرایہ دار بعد ۹ ماہ کے کہتاہے کہ اراضی میں نے خالی کردیتین ماہ کا کرایہ مجھ سے نہ لیا جائےایسی صورت میں نمبردار کو کرایہ دار سے ان تین ماہ کا کرایہ کہ جس سے کرایہ دار کو نفع نہیں پہنچا ہےلینا چاہئے یا نہیں دوسرے یہ کہ نمبردار کو بلامنشاء اپنے شرکاء یا ان کے کرایہ دار کو تین ماہ مذکور کا کرایہ اپنے اختیار سے چھوڑدینا چاہئے یانہیں
الجواب:
جبکہ کرایہ دار نے زمین باختیار خود خالی چھوڑیتو اس پر ان تین ماہ کا بھی کرایہ واجب ہےنمبردار کو اگر شرکاء کی طرف سے کرایہ پر دینے کا اختیاردیا گیا ہے تو وہ کرایہ سب کی طرف سے ہوا تین ماہ کاکرایہ اگر وہ کرایہ دار پر چھوڑدے گااور شریکوں کے حصہ کاکرایہ اسے دینا پڑے گااور اگر شرکاء کی طرف سے اسے اختیار نہ دیا گیابطور خود بزعم خود نمبرداری اس نے ایسا تصرف کیا تو اور شرکاء کے حصوں کا غاصب ہوامگر از انجا کہ عقد اجارہ اس نے کیا ہےکرایہ کامالك وہی ہوگااگر چہ حصہ شرکاء کے کرایہ میں ملك خبیث ہوگیاس صورت میں وہ تین ماہ کا کرایہ باختیار خود چھوڑ سکتاہےاور اس صورت میں اسے لازم ہے کہ باقی شرکاء کے حصے کاکرایہ یا تو ان کو دے اور یہی بہتر ہے یا فقراء پر تصدق کرےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۲: مسئولہ منشی مجید حسن صاحب از جنگل بن بٹول ڈاکخانہ بڑہا پور ضلع بجنور ۳۰ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیخ حبیب اﷲ صاحب کے یہاں کام ہنڈی کا
مسئلہ ۱۸۱: مسئولہ ظہور محمد صاحب از شہر کہنہ ۲۸ محرم ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك اراضی کے چند مالك وزمیندار ہیںان میں سے ایك نمبردار ہےکل کارروائی تحصیل وصول وغیرہ کی نمبردار کرکے تقسیم کردیتاہےچنانچہ ایك اراضی کاکرایہ نامہ نمبردار نے ایك سال کے لئے ایك شخص کولکھ دیاکرایہ دار ونمبردا ر کی مرضی سے کرایہ نامہ میں کرایہ دار نے یہ بات تحریر کرادی کہ در صورت اراضی خالی پڑی رہنے کے بھی کرایہ مقررہ ادا کرے گااب وہ کرایہ دار بعد ۹ ماہ کے کہتاہے کہ اراضی میں نے خالی کردیتین ماہ کا کرایہ مجھ سے نہ لیا جائےایسی صورت میں نمبردار کو کرایہ دار سے ان تین ماہ کا کرایہ کہ جس سے کرایہ دار کو نفع نہیں پہنچا ہےلینا چاہئے یا نہیں دوسرے یہ کہ نمبردار کو بلامنشاء اپنے شرکاء یا ان کے کرایہ دار کو تین ماہ مذکور کا کرایہ اپنے اختیار سے چھوڑدینا چاہئے یانہیں
الجواب:
جبکہ کرایہ دار نے زمین باختیار خود خالی چھوڑیتو اس پر ان تین ماہ کا بھی کرایہ واجب ہےنمبردار کو اگر شرکاء کی طرف سے کرایہ پر دینے کا اختیاردیا گیا ہے تو وہ کرایہ سب کی طرف سے ہوا تین ماہ کاکرایہ اگر وہ کرایہ دار پر چھوڑدے گااور شریکوں کے حصہ کاکرایہ اسے دینا پڑے گااور اگر شرکاء کی طرف سے اسے اختیار نہ دیا گیابطور خود بزعم خود نمبرداری اس نے ایسا تصرف کیا تو اور شرکاء کے حصوں کا غاصب ہوامگر از انجا کہ عقد اجارہ اس نے کیا ہےکرایہ کامالك وہی ہوگااگر چہ حصہ شرکاء کے کرایہ میں ملك خبیث ہوگیاس صورت میں وہ تین ماہ کا کرایہ باختیار خود چھوڑ سکتاہےاور اس صورت میں اسے لازم ہے کہ باقی شرکاء کے حصے کاکرایہ یا تو ان کو دے اور یہی بہتر ہے یا فقراء پر تصدق کرےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۲: مسئولہ منشی مجید حسن صاحب از جنگل بن بٹول ڈاکخانہ بڑہا پور ضلع بجنور ۳۰ محرم الحرام ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شیخ حبیب اﷲ صاحب کے یہاں کام ہنڈی کا
ہوتاہے اور بینك میں روپیہ کالین دین ہےروپیہ سود پر جو کہ بینك کو دیتے ہیں اور ایسے ہی جوکہ بینك سے لیتے ہیںان دونوں صورتوں میں سودکا برتاؤ ہےاوریہی قرضہ پر سود چلاتے ہیں فدوی کی یہ عرض خدمت شریف ہے کہ جبکہ شیخ صاحب کے یہاں سو دکا لین دین ہےایسی صورت میں ایسے شخص کے کارخانہ میں نوکری کا حکم خدا ورسول صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کے نزدیك کیا ہےاگر اجازت ہے تو اس کی بھی دلیل ارقام فرمائیںاگر ناجائز ہے اس کی وجہ بھی فرمادیںجب سے مجھ کو یہ معلوم ہوا ہے کہ اس کارخانہ کے مالك کے یہاں سود کالین دین ہے میرا دل ایك منٹ ٹھہرنے کونہیں چاہتا ہےاسی وجہ سے خدمت میں گزارش کی گئی خدا چاہے جیسا ارشاد فرمادیں گے اسی پر عمل کیا جائے گا۔
اور ایك یہ دریافت کرناہے کہ وکیلوں کے یہاں محرری کرنا جائز ہے یانہیں ہےان کے یہاں بھی مقدمات رجوع سود کے ہوتے اور بلا سود کے بھی ہوتے ہیںایك میر ے علم میں حافظ عبدالرشیدوکیل ہیںوہ کہتے ہیں جوکام بلا سو د کا ہوا کرے گا وہ تم سے کرالیاکروں گااور سودی دعوی میرا دوسرا محرر کرلیا کرے گامگر شرعا جیساحکم ہو ارشاد فرمائیں۔بینوا توجروا
الجواب:
جس کے پاس مال حلال وحرام مختلط ہو۔مثلا تجارت بھی کرتاہے اور سود بھی لیتا ہے اس کے یہاں کی نوکری شرعا جائز ہےاور جو کچھ بھی وہ دے اس کے لینے میں حرج نہیںجب تك یہ معلوم نہ ہو کہ یہ چیز جو ہمیں دے رہا ہےبعینہ مال حرام ہے۔
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ کذا فی الہندیۃ عن الظہیریۃ عن الامام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جب کسی چیز کے حرام ہونے کا ہمیں علم نہ ہو یہی ہمارا موقف ہےیوں ہندیہ میں ذخیرہ سے امام محمد رحمہ اﷲ تعالی علیہ کے حوالے سے منقول ہے۔(ت)
وکلاء کے یہاں محرری میں کچھ خیر نہیںسودی معاملہ کے سوا ان کے یہاں اور معاملات بھی اکثر خلاف شرع ہوتے ہیںاکثر دعاوی باطلہ ہوتے ہیں جن کو وہ حق کرنا چاہتے ہیںجو حق ہوتے ہیں انھیں بھی با طل کی آمیزش بغیر اپنے لئے سرسبزی نہیں جانتےغرض ان کے معاملات ناحق سے شاذونادر ہی شاید خالی ہوتے ہیںاور تحریراعانت ہےاور اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ۔ گناہ اور زیادتی پر تعاو ن نہ کرو۔(ت)
اور ایك یہ دریافت کرناہے کہ وکیلوں کے یہاں محرری کرنا جائز ہے یانہیں ہےان کے یہاں بھی مقدمات رجوع سود کے ہوتے اور بلا سود کے بھی ہوتے ہیںایك میر ے علم میں حافظ عبدالرشیدوکیل ہیںوہ کہتے ہیں جوکام بلا سو د کا ہوا کرے گا وہ تم سے کرالیاکروں گااور سودی دعوی میرا دوسرا محرر کرلیا کرے گامگر شرعا جیساحکم ہو ارشاد فرمائیں۔بینوا توجروا
الجواب:
جس کے پاس مال حلال وحرام مختلط ہو۔مثلا تجارت بھی کرتاہے اور سود بھی لیتا ہے اس کے یہاں کی نوکری شرعا جائز ہےاور جو کچھ بھی وہ دے اس کے لینے میں حرج نہیںجب تك یہ معلوم نہ ہو کہ یہ چیز جو ہمیں دے رہا ہےبعینہ مال حرام ہے۔
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ کذا فی الہندیۃ عن الظہیریۃ عن الامام محمد رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جب کسی چیز کے حرام ہونے کا ہمیں علم نہ ہو یہی ہمارا موقف ہےیوں ہندیہ میں ذخیرہ سے امام محمد رحمہ اﷲ تعالی علیہ کے حوالے سے منقول ہے۔(ت)
وکلاء کے یہاں محرری میں کچھ خیر نہیںسودی معاملہ کے سوا ان کے یہاں اور معاملات بھی اکثر خلاف شرع ہوتے ہیںاکثر دعاوی باطلہ ہوتے ہیں جن کو وہ حق کرنا چاہتے ہیںجو حق ہوتے ہیں انھیں بھی با طل کی آمیزش بغیر اپنے لئے سرسبزی نہیں جانتےغرض ان کے معاملات ناحق سے شاذونادر ہی شاید خالی ہوتے ہیںاور تحریراعانت ہےاور اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ۔ گناہ اور زیادتی پر تعاو ن نہ کرو۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ البا ب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲€
القرآن الکریم ∞۵/ ۲€
القرآن الکریم ∞۵/ ۲€
اورحدیث میں ہے:
وعلی الکاتب مثلہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اورکاتب پر بھی اس کی مثل ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۹۳: مسئولہ سید عبدالقادر حسن واعظ از سورت سیدواڑہ روز دوشنبہ ۶ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
مسلمان اپنا مکان شراب بیچنے کے لئے اور شراب نوشی کے لئے کرایہ سے دے تو درست ہے یا نہیں اور اس کی ایسی کمائی کا کھانا دوسرے مسلمان کے لئے درست ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
مسلمان مکان کرایہ پر دے اس کی غرض کرایہ سے ہےاور اعمال نیات پر ہیںیہ نیت کیوں کرے کہ اس لئے دیتاہے کہ اس میں شراب نوشی و شراب فروشی ہوایسی حالت میں کرایہ اس کے لئے حلال اور اس کے یہاں کھانا کھانے میں حرج نہیںہاں جو اس حرام نیت کو شامل کرلےکہ وہ اب خود ہی گنہگار بنتاہےاور اگر وہ مکان ایسی جگہ واقع ہے جہاں ان مفاسد کا اظہار باعث ضرر وخرابی ہمسائگان ہوگاتو ناجائزیہ باعث فتنہ ہوااور فتنہ حرامبہرحال نفس اجرت کے کسی فعل حرام کے مقابل نہو عــــــہ حرام نہیں ہےیہی معنی ہیں اس قول حنفیہ کے کہ:
یطیب الاجر وان کان السبب حراما کما فی الاشباہ وغیرھا فاحفظ فانہ علم عزیز فی نصف سطرواﷲ تعالی اعلم اجرت طیب ہوگی اگرچہ سبب حرام ہےجیسا کہ الاشباہ وغیرہ میں ہےاس کو محفوظ کرلویہ ایك سطر میں نادر علم ہے واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
عــــــہ: میرے خیال میں یہاں بھی ناسخ سے لغزش ہوگئیاس میں"نہو"کے بجائے"ہو"لکھا ہے
وعلی الکاتب مثلہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اورکاتب پر بھی اس کی مثل ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۹۳: مسئولہ سید عبدالقادر حسن واعظ از سورت سیدواڑہ روز دوشنبہ ۶ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
مسلمان اپنا مکان شراب بیچنے کے لئے اور شراب نوشی کے لئے کرایہ سے دے تو درست ہے یا نہیں اور اس کی ایسی کمائی کا کھانا دوسرے مسلمان کے لئے درست ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
مسلمان مکان کرایہ پر دے اس کی غرض کرایہ سے ہےاور اعمال نیات پر ہیںیہ نیت کیوں کرے کہ اس لئے دیتاہے کہ اس میں شراب نوشی و شراب فروشی ہوایسی حالت میں کرایہ اس کے لئے حلال اور اس کے یہاں کھانا کھانے میں حرج نہیںہاں جو اس حرام نیت کو شامل کرلےکہ وہ اب خود ہی گنہگار بنتاہےاور اگر وہ مکان ایسی جگہ واقع ہے جہاں ان مفاسد کا اظہار باعث ضرر وخرابی ہمسائگان ہوگاتو ناجائزیہ باعث فتنہ ہوااور فتنہ حرامبہرحال نفس اجرت کے کسی فعل حرام کے مقابل نہو عــــــہ حرام نہیں ہےیہی معنی ہیں اس قول حنفیہ کے کہ:
یطیب الاجر وان کان السبب حراما کما فی الاشباہ وغیرھا فاحفظ فانہ علم عزیز فی نصف سطرواﷲ تعالی اعلم اجرت طیب ہوگی اگرچہ سبب حرام ہےجیسا کہ الاشباہ وغیرہ میں ہےاس کو محفوظ کرلویہ ایك سطر میں نادر علم ہے واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
عــــــہ: میرے خیال میں یہاں بھی ناسخ سے لغزش ہوگئیاس میں"نہو"کے بجائے"ہو"لکھا ہے
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب البیوع باب الرباء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث الکلام فی مہر المثل ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۲۲€وغمز عیون البصائر الفن الثانی کتب الاجارات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۳/ ۶۱€وردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۸€
الاشباہ والنظائر الفن الثالث الکلام فی مہر المثل ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۲۲€وغمز عیون البصائر الفن الثانی کتب الاجارات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۳/ ۶۱€وردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۸€
مسئلہ ۱۸۴: مسئولہ بنے خاں سوداگر پارچہ محلہ نالہ متصل کٹرہ ماندرائے بریلی ۱۲ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
مجلس میلاد پڑھنے کے لئے پیشتر ٹھہرالینا کہ ایك روپیہ دو توہم پڑھیں گےاور اس سے کم پرنہیں پڑھیں گےاو ر وہ بھی اس سے بطور پیشگی بطور بیعنامہ یا سائی جمع کرالینا جائز ہے یانہیں
الجواب:
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا" ۔ میری آیات کے بدلے حقیر مال نہ لو۔(ت)
یہ ممنوع ہے اور ثواب عظیم سے محرومی مطلق۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۵: مسئولہ محمد لطف علی محکمہ سروے آف انڈیا رام نگر منڈی ضلع نینی تال ۹ رجب ۱۳۳۴ھ
جناب مولانا صاحب! السلام علیکم !بعد ادائے آداب کے عرض یہ ہے کہ کمترین محکہ سروے میں بملازمت سرکار ممتاز ہےاور اپنی زندگی کا بیمہ مبلغ چار ہزار روپیہ کے واسطے محکمہ ڈاك خانہ میں کیا ہے شرح ماہوار چند تیرہ روپیہ سات آنہ ہےکمترین نے شروع یکم اگست ۱۹۱۳ء کو کیا تھا اور شرط یہ تھی کہ اگر کمترین ۴۵ سال کی عمر تك زندہ رہے گا تو کمترین کو چار ہزارو روپے دئے جائیں گے اور اگر کمترین کا اس سے پہلے انتقال ہوا تو اتنقال ہونے پر کمترین کے عزیزوں کو چار ہزار روپے دے دئے جائیں گے۔
اب التجایہ ہے کہ مہربانی فرماکر آپ فتوی دیں کہ یہ شرعا درست ہے یانہیں اور اگر شرعا درست ہے تو اس کی زکوۃ واجب ہے یانہیں عنایت فرماکر مفصل تحریر فرمائیےعین نواز ش ہوگی فقط
الجواب:
یہ شرعاقمار محض ہےوہ ماہوار کہ اس میں دیا جاتاہے وقت مشروط سے پہلے واپس نہیں لیا جاسکتا نہ شرعا وہ محکمہ اس کا مالك ہوسکتاہےوقت واپسی جتنا جمع ہوا تھا اس کی ہر سال کی زکوۃ لازم آئے گیاور اگر اس سے زائد ملے گا تو اس کی زکوۃ نہیں کہ بیمہ کرانے والے کی ملك نہ تھاواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۶: ا ز شہر رجمنٹ اکاکور نمبر ۶۳ چھاؤنی مسئولہ محمد حسین صاحب مہارنپوری ۲۰ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
زید کا یہ عقیدہ ہے کہ کلام مجید کا پڑھنااور پڑھاناامامت کا کرنااور ماہواری یا فصل پر روپیہ وصول کرکے کلام مجید کے ذریعہ پر اپنی پرورش اپنے بال بچوں کی کرتے ہیںزید ان امامت
مجلس میلاد پڑھنے کے لئے پیشتر ٹھہرالینا کہ ایك روپیہ دو توہم پڑھیں گےاور اس سے کم پرنہیں پڑھیں گےاو ر وہ بھی اس سے بطور پیشگی بطور بیعنامہ یا سائی جمع کرالینا جائز ہے یانہیں
الجواب:
اﷲ عزوجل فرماتاہے:
" ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا" ۔ میری آیات کے بدلے حقیر مال نہ لو۔(ت)
یہ ممنوع ہے اور ثواب عظیم سے محرومی مطلق۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۵: مسئولہ محمد لطف علی محکمہ سروے آف انڈیا رام نگر منڈی ضلع نینی تال ۹ رجب ۱۳۳۴ھ
جناب مولانا صاحب! السلام علیکم !بعد ادائے آداب کے عرض یہ ہے کہ کمترین محکہ سروے میں بملازمت سرکار ممتاز ہےاور اپنی زندگی کا بیمہ مبلغ چار ہزار روپیہ کے واسطے محکمہ ڈاك خانہ میں کیا ہے شرح ماہوار چند تیرہ روپیہ سات آنہ ہےکمترین نے شروع یکم اگست ۱۹۱۳ء کو کیا تھا اور شرط یہ تھی کہ اگر کمترین ۴۵ سال کی عمر تك زندہ رہے گا تو کمترین کو چار ہزارو روپے دئے جائیں گے اور اگر کمترین کا اس سے پہلے انتقال ہوا تو اتنقال ہونے پر کمترین کے عزیزوں کو چار ہزار روپے دے دئے جائیں گے۔
اب التجایہ ہے کہ مہربانی فرماکر آپ فتوی دیں کہ یہ شرعا درست ہے یانہیں اور اگر شرعا درست ہے تو اس کی زکوۃ واجب ہے یانہیں عنایت فرماکر مفصل تحریر فرمائیےعین نواز ش ہوگی فقط
الجواب:
یہ شرعاقمار محض ہےوہ ماہوار کہ اس میں دیا جاتاہے وقت مشروط سے پہلے واپس نہیں لیا جاسکتا نہ شرعا وہ محکمہ اس کا مالك ہوسکتاہےوقت واپسی جتنا جمع ہوا تھا اس کی ہر سال کی زکوۃ لازم آئے گیاور اگر اس سے زائد ملے گا تو اس کی زکوۃ نہیں کہ بیمہ کرانے والے کی ملك نہ تھاواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۶: ا ز شہر رجمنٹ اکاکور نمبر ۶۳ چھاؤنی مسئولہ محمد حسین صاحب مہارنپوری ۲۰ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
زید کا یہ عقیدہ ہے کہ کلام مجید کا پڑھنااور پڑھاناامامت کا کرنااور ماہواری یا فصل پر روپیہ وصول کرکے کلام مجید کے ذریعہ پر اپنی پرورش اپنے بال بچوں کی کرتے ہیںزید ان امامت
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲/ ۴۱€
کرنے والوں سے بہت نفرت کرتاہے اور جو لوگ امامت اﷲ کے واسطے کرتے ہیں اور پرورش اپنے بچوں کی محنت مزدوری سے کرتے ہیں ان سے بہت خوش رہتاہے اور ان کو نگاہ عبرت سے دیکھتاہے۔
الجواب:
جواﷲ عزوجل کے لئے امامت وتعلیم وتعلم کرتے ہیں ان سے خوش ہونا بہت بجا ہےاور جو تنخواہ لیتے ہیں ان سے نفرت کرنا بیجا ہےکہ اب ان کاموں پر اجرت لینا رواہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۷: ازگوری ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور ۳۰ رجب ۱۳۳۶ھ
اجرت تعلیم قرآن وامام مسجد کو جائز ہے یانہیں
الجواب:
متاخرین نے تعلیم امامت پر اخذ اجرت کے جواز پر فتوی دیاہے۔
کتب الحنفیہ طافحۃ بذلك ومن لایعلم فحسبہ جواب من یعلمواﷲ تعالی اعلم۔ حنفی کتب اس سے لبریز ہیں او رجو نہیں جانتا اس کو جاننے والے کا جواب کافی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۸۸ تا ۱۸۹: از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی صاحب ۱۴ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)اجرت کی چیزوں کی مثل گاڑی وکشتی وغیرہ کی اجرت نہ دینا کیسا ہے
(۲)جس زمین کی مالگزاری مالك لیتاہے اس میں اگر پانی ٹھہر ااور مچھلی ٹھہری تو مالك کہتاہے یہ مچھلی ہماری ہے اگر رعایا نہ دے تو گنہ گار تو نہیں ہے
الجواب:
(۱)حرام ہے۔
(۲)مباح مچھلی جو پکڑلے اسی کی ہےمالك کو اس پر دعوی نہیں پہنچتا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۰: از شہر بریلی مسئولہ کفایت اﷲ یکم رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر لوگ پیشہ ور کام کراتے ہیں آدمیوں سےاور اس شر ط پر کہ آدھ آنہ روپیہ کے حساب سے گیارھویں شریف کے لئے کاٹتے رہیں گے اس
الجواب:
جواﷲ عزوجل کے لئے امامت وتعلیم وتعلم کرتے ہیں ان سے خوش ہونا بہت بجا ہےاور جو تنخواہ لیتے ہیں ان سے نفرت کرنا بیجا ہےکہ اب ان کاموں پر اجرت لینا رواہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۷: ازگوری ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور ۳۰ رجب ۱۳۳۶ھ
اجرت تعلیم قرآن وامام مسجد کو جائز ہے یانہیں
الجواب:
متاخرین نے تعلیم امامت پر اخذ اجرت کے جواز پر فتوی دیاہے۔
کتب الحنفیہ طافحۃ بذلك ومن لایعلم فحسبہ جواب من یعلمواﷲ تعالی اعلم۔ حنفی کتب اس سے لبریز ہیں او رجو نہیں جانتا اس کو جاننے والے کا جواب کافی ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۸۸ تا ۱۸۹: از پنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مرسلہ نعمت علی صاحب ۱۴ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)اجرت کی چیزوں کی مثل گاڑی وکشتی وغیرہ کی اجرت نہ دینا کیسا ہے
(۲)جس زمین کی مالگزاری مالك لیتاہے اس میں اگر پانی ٹھہر ااور مچھلی ٹھہری تو مالك کہتاہے یہ مچھلی ہماری ہے اگر رعایا نہ دے تو گنہ گار تو نہیں ہے
الجواب:
(۱)حرام ہے۔
(۲)مباح مچھلی جو پکڑلے اسی کی ہےمالك کو اس پر دعوی نہیں پہنچتا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۰: از شہر بریلی مسئولہ کفایت اﷲ یکم رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر لوگ پیشہ ور کام کراتے ہیں آدمیوں سےاور اس شر ط پر کہ آدھ آنہ روپیہ کے حساب سے گیارھویں شریف کے لئے کاٹتے رہیں گے اس
میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایسے نہیں دیتےہم چاہے اپنے گھر یا جیسے جی چاہے گا ویسے ہی دیں گے ایسی پابندی کا باندھنا جائز ہے یانہیں
الجواب:
اس کو جبر کا کوئی اختیا ر نہیںاگر جبرا کاٹے گا ظلم ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۱: از شہر مدسرسہ اہل سنت وجماعت مسئولہ مولوی محمد عثمان طالبعلم بنگالی ۲۳ شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك جائداد نیلام کی خریدی جس میں رنڈیاں رہا کرتی ہیں ان سے کرایہ لینا جائز ہے یانہیں
الجواب:
جوکرایہ وہ اپنے زرحرام سے دیں کہ زنا یا غنا کی اجرت میں ملا ہے اس کا لینا حرام ہےاور اگر زرحلال سے دیں مثلا کسی سے قرض لے کر یا وہ بلااجرت ورشوت محض انعام میں ملا تو حلال ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۲: از فیض آباد کھڑکی علی بیگ مسئولہ سید عبداﷲ صاحب سب انسپکٹر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ خالد کا ایك مقدمہ دس پندرہ ہزا رکاکچہری میں تھاخالد نے زید سے کہا کہ میری ڈگری ہوجائے زید نے بایں شرط دعا کرنے کا وعدہ کیا کہ درصورت ڈگری کے مبلغ دو ہزارروپیہ بطور حق الدعاء خالد زید کو دے گا۔خالدنے منطور کرلیااتفاق سے ڈگری ہوگئیخالد نے زید کو زر مذکورہ دے دیایہ روپیہ زید کو لینا جائزہے یانہیں
الجواب:
خالی دعا پر اجرت ٹھہرالینا بوجوہ حرام ہےاور وہ روپے کہ اسے ملے محض حرام ہےان کا لینا دینا سب حرام ہوااس پر فرض ہے کہ وہ روپے خالد کو واپس کردےواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۳: از شہر محلہ ملوکپور مسئولہ محمد شفیق احمد خاں صاحب ۲۶ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمان معمار کو بتکدہ کی نوتعمیر یامرمت کرنا شرعا درست ہوگا یانہیں اگر نہیں تو جوکوئی ایسا کرے تو اس کے لئے کیاحکم ہے
الجواب:
مکروہ ہے او رجوکرے مستحق سزا نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
الجواب:
اس کو جبر کا کوئی اختیا ر نہیںاگر جبرا کاٹے گا ظلم ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۱: از شہر مدسرسہ اہل سنت وجماعت مسئولہ مولوی محمد عثمان طالبعلم بنگالی ۲۳ شوال ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے ایك جائداد نیلام کی خریدی جس میں رنڈیاں رہا کرتی ہیں ان سے کرایہ لینا جائز ہے یانہیں
الجواب:
جوکرایہ وہ اپنے زرحرام سے دیں کہ زنا یا غنا کی اجرت میں ملا ہے اس کا لینا حرام ہےاور اگر زرحلال سے دیں مثلا کسی سے قرض لے کر یا وہ بلااجرت ورشوت محض انعام میں ملا تو حلال ہے واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۲: از فیض آباد کھڑکی علی بیگ مسئولہ سید عبداﷲ صاحب سب انسپکٹر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ خالد کا ایك مقدمہ دس پندرہ ہزا رکاکچہری میں تھاخالد نے زید سے کہا کہ میری ڈگری ہوجائے زید نے بایں شرط دعا کرنے کا وعدہ کیا کہ درصورت ڈگری کے مبلغ دو ہزارروپیہ بطور حق الدعاء خالد زید کو دے گا۔خالدنے منطور کرلیااتفاق سے ڈگری ہوگئیخالد نے زید کو زر مذکورہ دے دیایہ روپیہ زید کو لینا جائزہے یانہیں
الجواب:
خالی دعا پر اجرت ٹھہرالینا بوجوہ حرام ہےاور وہ روپے کہ اسے ملے محض حرام ہےان کا لینا دینا سب حرام ہوااس پر فرض ہے کہ وہ روپے خالد کو واپس کردےواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۱۹۳: از شہر محلہ ملوکپور مسئولہ محمد شفیق احمد خاں صاحب ۲۶ محرم الحرام ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمان معمار کو بتکدہ کی نوتعمیر یامرمت کرنا شرعا درست ہوگا یانہیں اگر نہیں تو جوکوئی ایسا کرے تو اس کے لئے کیاحکم ہے
الجواب:
مکروہ ہے او رجوکرے مستحق سزا نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۴: از چوہر کوٹ بارکھاں ملك بلالوچستان مرسلہ قادر بخش صاحب ۱۴ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ دریں ملك عرف است کہ یك شخص چند گو سفنداں یامادہ گاواں وغیرہم باجارہ بادیگر باایں وعدہ می دہد کہ تا سال چاریا ہفتہشتایں مال را بچرانداقرار این است کہ اصل مال خود ملك من استوہر چہ افزایدیعنی زایدنصف نصف استایں رانیم سودی می گویندآیا ایں اجارہ جائز است یانہ علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ ہمارے ملك میں عرف یہ ہے کہ بکریاں اور گائے وغیرہ دوسرے کو اس شرط پر بطور اجارہ دیتے ہیںایك یا سات یاآٹھ سال اس مال کو چراؤاور قراردیتے ہیں کہ اصل مال مالك کا اور زائد ہوجائیں تو زائد میں نصف نصف ہوگااسے نصف سود کہتے ہیںکیا یہ اجارہ جائزہے یانہیں(ت)
الجواب:
ایں اجارہ حرام است بوجوہ منہا الجہالۃومنہا الغرر و منہا معنی قفیز الطحان۔واﷲ تعالی اعلم۔ یہ اجارہ حرام ہے کئی وجوہ سےایك جہالتایك دھوکااور ایك چکی کی پسائی میں قفیز کا معنی ہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۹۵: از کھریرا ضلع مظفر پور ڈاکخانہ رائے پور مرسلہ شریف احسن صاحب ۳ شعبان ۱۳۳۶ھ
زید ایك انجمن اسلامیہ میں دس روپے کا تحصیلدار ہے چونکہ وہ امانت دارہےاو رمواخذہ آخرت سے بھی خرچ ہوجانے پر ڈرتاہےاس لئے انجمن سے استدعا کرکے(للعہ عہ)ماہانہ داخل انجمن کرنے پرٹھیکہ لیااور بقیہ آمدنی اپنے اور اپنے اہل وعیال وزادراہ وغیرہ کے لئے اپنی تنخواہ مقرر کرالی ہےشرعا جائز ہے یانہیں
الجواب:
حرام ہے کہ بوجہ عدم تعلیق تنخواہ اجارہ فاسد ہوااورعقود فاسدہ سب حرام ہےاور واجب الفسخ ہیں اس صورت میں وہ صرف اجر مثل لے سکے گااور وہ بھی اس کے حق میں خبیث ہوگااجر مثل سے زیادہ جو کچھ بچے انجمن میں داخل کرنا لازم ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۶: از لاہور انجمن نعمانیہ مرسلہ سلیم اﷲ خاں جنرل سیکریٹری انجمن ۱۴ ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دینی مجالس میں دینی تعلیم کے لئے جو مدرسین وغیرہ ملازم رکھے جاتے ہیں اور قواعد منضبط مجلس پر ان سے بوقت قبولیت ملازمت کے دستخط کرالئے جاتے
چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ دریں ملك عرف است کہ یك شخص چند گو سفنداں یامادہ گاواں وغیرہم باجارہ بادیگر باایں وعدہ می دہد کہ تا سال چاریا ہفتہشتایں مال را بچرانداقرار این است کہ اصل مال خود ملك من استوہر چہ افزایدیعنی زایدنصف نصف استایں رانیم سودی می گویندآیا ایں اجارہ جائز است یانہ علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ ہمارے ملك میں عرف یہ ہے کہ بکریاں اور گائے وغیرہ دوسرے کو اس شرط پر بطور اجارہ دیتے ہیںایك یا سات یاآٹھ سال اس مال کو چراؤاور قراردیتے ہیں کہ اصل مال مالك کا اور زائد ہوجائیں تو زائد میں نصف نصف ہوگااسے نصف سود کہتے ہیںکیا یہ اجارہ جائزہے یانہیں(ت)
الجواب:
ایں اجارہ حرام است بوجوہ منہا الجہالۃومنہا الغرر و منہا معنی قفیز الطحان۔واﷲ تعالی اعلم۔ یہ اجارہ حرام ہے کئی وجوہ سےایك جہالتایك دھوکااور ایك چکی کی پسائی میں قفیز کا معنی ہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۹۵: از کھریرا ضلع مظفر پور ڈاکخانہ رائے پور مرسلہ شریف احسن صاحب ۳ شعبان ۱۳۳۶ھ
زید ایك انجمن اسلامیہ میں دس روپے کا تحصیلدار ہے چونکہ وہ امانت دارہےاو رمواخذہ آخرت سے بھی خرچ ہوجانے پر ڈرتاہےاس لئے انجمن سے استدعا کرکے(للعہ عہ)ماہانہ داخل انجمن کرنے پرٹھیکہ لیااور بقیہ آمدنی اپنے اور اپنے اہل وعیال وزادراہ وغیرہ کے لئے اپنی تنخواہ مقرر کرالی ہےشرعا جائز ہے یانہیں
الجواب:
حرام ہے کہ بوجہ عدم تعلیق تنخواہ اجارہ فاسد ہوااورعقود فاسدہ سب حرام ہےاور واجب الفسخ ہیں اس صورت میں وہ صرف اجر مثل لے سکے گااور وہ بھی اس کے حق میں خبیث ہوگااجر مثل سے زیادہ جو کچھ بچے انجمن میں داخل کرنا لازم ہوگا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۶: از لاہور انجمن نعمانیہ مرسلہ سلیم اﷲ خاں جنرل سیکریٹری انجمن ۱۴ ذی الحجہ ۱۳۳۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دینی مجالس میں دینی تعلیم کے لئے جو مدرسین وغیرہ ملازم رکھے جاتے ہیں اور قواعد منضبط مجلس پر ان سے بوقت قبولیت ملازمت کے دستخط کرالئے جاتے
ہیں بعد میں اگر ایسے ملازم ان قواعد کی خلاف ورزی کرکے ملازمت بلا اطلاع چھوڑ کرچلے جائیںیا کوئی ایسا امر کریں جو قواعد مذکورہ کے خلاف ہو جس کو منظور کرچکے ہوں تو ایسے ملازمین کے کارگردگی کی تنخواہ ضبط کرلینے اور نہ دینے کا مجلس مذکورہ کو شرعا اختیار ہوگا یانہیں اور ایسے قواعد ہر ایك مجلس انجمن مدرسہ مکاتب اسلامی میں مندرج ہیںرائج ہیں۔کیا یہ شرعا بھی درست ہے اور قابل تعمیل ہے یا نہیں ملازمین کی طر ف سے حجت کی جاتی ہے کہ ان کی کارروائی کی تنخواہ ان کا حق واجبی ہےاور وہ کسی طرح رکھ لینا شرعا جائز نہیں ہوسکتابراہ کرم ان کے جواب سے بادلہ شرعیہ بہت جلد مطلع فرمائیں
المستفتیان:سلیم اﷲ جنرل سیکریٹریتاج الدین احمد سیکرٹرینوربخش سیکرٹری۔
الجواب:
مدرسین وامثالہم اجیر خاص ہیںاور اجیر خاص پر وقت مقررہ معہود میں تسلیم نفس لازم ہےاور اسی سے وہ اجرت کا مستحق ہوتاہے اگر چہ کام نہ ہومثلا مدرسین وقت معہود پر مہینہ بھر برابرحاضر رہااور طالب علم کوئی نہ تھا کہ سبق پڑھتامدرس کی تنخواہ واجب ہوگئیہاں اگر تسلیم نفس میں کمی کرے مثلا بلارخصت چلا گیایا رخصت سے زیادہ دن لگائےیا مدرسہ کاوقت چھ گھنٹے تھااس نے پانچ گھنٹے دئےیا حاضر تو آیا لیکن وقت مقرر خدمت مفوضہ کے سوا اور کسی اپنے ذاتی کام اگر چہ نماز نفل یادوسرے شخص کے کاموں میں صرف کیا کہ اس سے بھی تسلیم منتقض ہوگئییونہی اگر آتا اور خالی باتیں کرتا چلا جاتا ہے۔طلبہ حاضر ہیں اور پڑھاتا نہیں کہ اگرچہ اجرت کا م کی نہیں تسلیم نفس کی ہےمگریہ منع نفس ہےنہ کہ تسلیمبہر حال جس قدر تسلیم نفس میں کمی کی ہے اتنی تنخواہ وضع ہوگیمعمولی تعطیلیں مثلا جمعہو عیدین ورمضان المبارك کییا جہاں مدارس میں سہ شنبہ کی چھٹی بھی معمول ہےوہاں یہ بھی اس حکم سے مستثنی ہیں کہ ان ایام میں بے تسلیم نفس بھی مستحق تنخواہ ہےسوا اس کے او رکسی صور ت میں تنخواہ کل یا بعض ضبط نہیں ہوسکتیتسلیم نفس کامل کرکے اوربات میں باوصف قبول واقرار خلاف ورزی غایت یہ کہ جرم ہوجرم کی تعزیر مالی جائز نہیں کہ منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل حراممعہذا حقوق العباد میں مطلقا اور حقوق اﷲ میں جرم کرچکنے کے بعد تعزیر کا اختیار صور معدودہ کے سوا قاضی شرع کوہے نہ عام لوگوں کو اور امر ناجائز رائج ہو جانے سے جائز نہیں ہوسکتایونہی ملازمت بلااطلاع چھوڑ کر چلاجانا اس وقت تنخواہ قطع کرے گا نہ تنخواہ واجب شدہ کوساقط اور اس پرکسی تاوان کی شرط کرلینی مثلا نوکری چھوڑناچاہے تو اتنے دنوں پہلے سے اطلاع دےورنہ اتنی تنخواہ ضبط ہوگی یہ سب باطل وخلاف شرع مطہر ہےپھر اگر اس قسم کی شرطیں عقد اجارہ میں لگائی گئیں جیساکہ بیان سوال سے
المستفتیان:سلیم اﷲ جنرل سیکریٹریتاج الدین احمد سیکرٹرینوربخش سیکرٹری۔
الجواب:
مدرسین وامثالہم اجیر خاص ہیںاور اجیر خاص پر وقت مقررہ معہود میں تسلیم نفس لازم ہےاور اسی سے وہ اجرت کا مستحق ہوتاہے اگر چہ کام نہ ہومثلا مدرسین وقت معہود پر مہینہ بھر برابرحاضر رہااور طالب علم کوئی نہ تھا کہ سبق پڑھتامدرس کی تنخواہ واجب ہوگئیہاں اگر تسلیم نفس میں کمی کرے مثلا بلارخصت چلا گیایا رخصت سے زیادہ دن لگائےیا مدرسہ کاوقت چھ گھنٹے تھااس نے پانچ گھنٹے دئےیا حاضر تو آیا لیکن وقت مقرر خدمت مفوضہ کے سوا اور کسی اپنے ذاتی کام اگر چہ نماز نفل یادوسرے شخص کے کاموں میں صرف کیا کہ اس سے بھی تسلیم منتقض ہوگئییونہی اگر آتا اور خالی باتیں کرتا چلا جاتا ہے۔طلبہ حاضر ہیں اور پڑھاتا نہیں کہ اگرچہ اجرت کا م کی نہیں تسلیم نفس کی ہےمگریہ منع نفس ہےنہ کہ تسلیمبہر حال جس قدر تسلیم نفس میں کمی کی ہے اتنی تنخواہ وضع ہوگیمعمولی تعطیلیں مثلا جمعہو عیدین ورمضان المبارك کییا جہاں مدارس میں سہ شنبہ کی چھٹی بھی معمول ہےوہاں یہ بھی اس حکم سے مستثنی ہیں کہ ان ایام میں بے تسلیم نفس بھی مستحق تنخواہ ہےسوا اس کے او رکسی صور ت میں تنخواہ کل یا بعض ضبط نہیں ہوسکتیتسلیم نفس کامل کرکے اوربات میں باوصف قبول واقرار خلاف ورزی غایت یہ کہ جرم ہوجرم کی تعزیر مالی جائز نہیں کہ منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل حراممعہذا حقوق العباد میں مطلقا اور حقوق اﷲ میں جرم کرچکنے کے بعد تعزیر کا اختیار صور معدودہ کے سوا قاضی شرع کوہے نہ عام لوگوں کو اور امر ناجائز رائج ہو جانے سے جائز نہیں ہوسکتایونہی ملازمت بلااطلاع چھوڑ کر چلاجانا اس وقت تنخواہ قطع کرے گا نہ تنخواہ واجب شدہ کوساقط اور اس پرکسی تاوان کی شرط کرلینی مثلا نوکری چھوڑناچاہے تو اتنے دنوں پہلے سے اطلاع دےورنہ اتنی تنخواہ ضبط ہوگی یہ سب باطل وخلاف شرع مطہر ہےپھر اگر اس قسم کی شرطیں عقد اجارہ میں لگائی گئیں جیساکہ بیان سوال سے
ظاہر ہے کہ وقت ملازمت ان قواعد پر دستخط لے لئے جاتے ہیںیا ایسے شرائط وہاں مشہور ومعلوم ہو کرالمعروف کالمشروط ہوںجب تو وہ نوکری ہی ناجائز وگناہ ہےکہ شرط فاسد سے اجارہ فاسد ہوااور عقد فاسدحرام ہے۔اور دونوں عاقد مبتلائے گناہاور ان میں ہر ایك پر اس کا فسخ واجب ہےاور اس صورت میں ملازمین تنخواہ مقرر کے مستحق نہ ہوں گےبلکہ اجر مثل کے جو مشاہرہ معینہ سے زائد نہ ہوںاجر مثل اگر مسمی سے کم ہو تو اس قدرخود ہی کم پائیں گےاگرچہ خلاف ورزی اصلا نہ کریں
درمختارمیں ہے:
الاجیرالخاص ویسمی اجیر وحد وھو من یعمل لواحد عملا موقتا بالتخصیص و یستحق الاجر بتسلیم نفسہ فی المدۃ وان لم یعلم کمن استؤجر شہر للخدمۃولیس للخاص ان یعمل لغیرہ(بل ولا ان یصلی النافلۃ"شامی"ولو عمل نقص من اجرتہ بقدر ماعملفتاوی النوازل ۔ اجیر خاص کا نام اجیر وحد ہےاو ر جو کسی کے لئے خاص ہوکر مقررہ عمل کرے اور مقررہ مدت میں اپنے آپ اس کے سپرد کردے اگرچہ عمل نہ کرے مثلا کسی نے ایك ماہ خدمت کے لئے ملازم رکھا ہوا جیرخاص کو یہ جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے کاکام کرے بلکہ اس کو اس وقت میں نفل نماز بھی نہ چاہئےشامیاور اگر اس نے کسی اور کاکام کیا تو اس کی اجرت میں اتنی کمی کی جاسکے گی۔فتاوی نوازل۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
حیث کانت البطالۃ معروفۃ فی یوم الثلثاء والجمعۃ وفی رمضاں والعیدین یحل الاخذ ۔ جہاں منگل اور جمعہ اور رمضان وعیدین کی تعطیل مروج ہے وہاں ان کا مشاہرہ لینا جائزہے۔(ت)
بزازیہ پھر بحرپھر شامی میں ہے:
معنی التعزیر باخذ المال علی القول بہ امساك شیئ من مال عند مدۃ تعزیر بالمال کا جہاں قول ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ملزم کا وہ مال کچھ مدت کےلئے روك لیا جائے
درمختارمیں ہے:
الاجیرالخاص ویسمی اجیر وحد وھو من یعمل لواحد عملا موقتا بالتخصیص و یستحق الاجر بتسلیم نفسہ فی المدۃ وان لم یعلم کمن استؤجر شہر للخدمۃولیس للخاص ان یعمل لغیرہ(بل ولا ان یصلی النافلۃ"شامی"ولو عمل نقص من اجرتہ بقدر ماعملفتاوی النوازل ۔ اجیر خاص کا نام اجیر وحد ہےاو ر جو کسی کے لئے خاص ہوکر مقررہ عمل کرے اور مقررہ مدت میں اپنے آپ اس کے سپرد کردے اگرچہ عمل نہ کرے مثلا کسی نے ایك ماہ خدمت کے لئے ملازم رکھا ہوا جیرخاص کو یہ جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے کاکام کرے بلکہ اس کو اس وقت میں نفل نماز بھی نہ چاہئےشامیاور اگر اس نے کسی اور کاکام کیا تو اس کی اجرت میں اتنی کمی کی جاسکے گی۔فتاوی نوازل۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
حیث کانت البطالۃ معروفۃ فی یوم الثلثاء والجمعۃ وفی رمضاں والعیدین یحل الاخذ ۔ جہاں منگل اور جمعہ اور رمضان وعیدین کی تعطیل مروج ہے وہاں ان کا مشاہرہ لینا جائزہے۔(ت)
بزازیہ پھر بحرپھر شامی میں ہے:
معنی التعزیر باخذ المال علی القول بہ امساك شیئ من مال عند مدۃ تعزیر بالمال کا جہاں قول ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ملزم کا وہ مال کچھ مدت کےلئے روك لیا جائے
حوالہ / References
درمختار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۸۱€ وردالمحتار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۴€
ردالمحتار کتا ب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۰€
ردالمحتار کتا ب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۸۰€
لینزجرثم یعیدہ الحاکم الیہ الا ان یاخذہ الحاکم لنفسہ اولبیت المال۔کما یتوھمہ الظلمۃ۔اذا لایجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی ۔ تاکہ وہ جرم سے باز آجائے او رپھر حاکم مال واپس کردے یہ معنی نہیں کہ حاکم اس مال کو اپنے لئے یا بیت المال کے لئے وصول کرے جیسا کہ ظالم لوگوں نے خیال کررکھا ہے کیونکہ کسی مسلمان کو شرعی وجہ کے بغیر کسی کا مال لینا جائز نہیں ہے۔(ت)
شرح معانی الاثار امام طحاوی پھر مجتبی پھر ابن عابدین میں ہے:
التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ ۔ تعزیر بالمال ابتداء اسلام میں جائز تھی پھر منسوخ ہوگئی۔ (ت)
شرح ہدایہ امام عینی میں ہے:العمل بالمنسوخ حرام (منسوخ پر عمل حرام ہے۔ت)درمختارمیں ہے:
یقیمہ کل مسلم حال مباشرۃ المعصیۃ وبعدہ لیس ذلك لغیر الحاکم والزوج والمولی . گناہ میں مشغول کو ہر مسلمان تعزیر کرسکتاہے اور بعد میں حاکمخاوند آقائے غیر کو یہ حق نہیں ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
یقیمہ ای التعزیر الواجب حقا ﷲ تعالی بخلاف التعزیر الذی یجب حقا للعبد فانہ لتوقفہ علی الدعوی لایقیمہ الا الحاکم الا ان یحکما فیہ اھ فتح ۔ "ہر مسلمان تعزیر قائم کرسکتاہے"کا مطلب یہ ہے وہ تعزیر جو اﷲ تعالی کے حق پر واجب ہوبخلاف اس تعزیر کے جو بندے کے حق پر واجب ہو کیونکہ وہ بندے کے دعوی پر موقوف ہوتی ہے اس کو حاکم کے سوا کوئی نہیں قائم کرسکتا الایہ کہ دونون فریق اس کے لئے کسی کو ثالث بنالیں اھ فتح(ت)
شرح معانی الاثار امام طحاوی پھر مجتبی پھر ابن عابدین میں ہے:
التعزیر بالمال کان فی ابتداء الاسلام ثم نسخ ۔ تعزیر بالمال ابتداء اسلام میں جائز تھی پھر منسوخ ہوگئی۔ (ت)
شرح ہدایہ امام عینی میں ہے:العمل بالمنسوخ حرام (منسوخ پر عمل حرام ہے۔ت)درمختارمیں ہے:
یقیمہ کل مسلم حال مباشرۃ المعصیۃ وبعدہ لیس ذلك لغیر الحاکم والزوج والمولی . گناہ میں مشغول کو ہر مسلمان تعزیر کرسکتاہے اور بعد میں حاکمخاوند آقائے غیر کو یہ حق نہیں ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
یقیمہ ای التعزیر الواجب حقا ﷲ تعالی بخلاف التعزیر الذی یجب حقا للعبد فانہ لتوقفہ علی الدعوی لایقیمہ الا الحاکم الا ان یحکما فیہ اھ فتح ۔ "ہر مسلمان تعزیر قائم کرسکتاہے"کا مطلب یہ ہے وہ تعزیر جو اﷲ تعالی کے حق پر واجب ہوبخلاف اس تعزیر کے جو بندے کے حق پر واجب ہو کیونکہ وہ بندے کے دعوی پر موقوف ہوتی ہے اس کو حاکم کے سوا کوئی نہیں قائم کرسکتا الایہ کہ دونون فریق اس کے لئے کسی کو ثالث بنالیں اھ فتح(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحدود باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۱۷۸€
ردالمحتار کتاب الحدود باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۱۷۹€
البنایۃ فی شروح الہدایۃ
درمختار کتاب الحدود باب التعزیر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۶۷€
ردالمحتار کتاب الحدود باب التعزیر دارحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۳/ ۱۸۱€
ردالمحتار کتاب الحدود باب التعزیر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۱۷۹€
البنایۃ فی شروح الہدایۃ
درمختار کتاب الحدود باب التعزیر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۶۷€
ردالمحتار کتاب الحدود باب التعزیر دارحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۳/ ۱۸۱€
فتاوی غیاثیہ میں ہے:
الاتری انہم لو تعاملوا علی بیع الخمر اوعلی الربا لایفتی بالحل ۔ کیا دیکھ نہیں ر ہے کہ اگر لوگ شراب فروخت یا سود کے معاملات مروج کرلیں تو حلال ہونے کا فتوی نہ دیا جائے گا۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مابال رجال یشتروطون شروطا لیست فی کتاب اﷲ ماکان من شرط لیس فی کتاب اﷲ فہو باطلوان کان مائۃ شرط فقضاء اﷲ احق وشرط اﷲ اوثقرواہ الشیخاں عن ام المؤمنین رضی اﷲ تعالی عنہما ۔ لوگوں کوکیا ہوا کہ وہ ایسی شرطیں بناتے ہیں جو کتاب اﷲ میں نہیں ہیں اور جو شرط کتاب اﷲ کی رو سے جائز نہ ہو وہ باطل اگر چہ سو شرطیں ہوں اﷲ تعالی کا فیصلہ حق ہے اور اﷲ تعالی کی جائز کردہ شرط حق ہےاس کو شیخین(بخاری ومسلم)نے ام المومنین عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیاہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
تفسد الاجارہ بالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد ایسی شرائط اجارہ کو فاسد کردیتی ہیں جومقتضی کے مخالف ہوں۔ (ت)
اسی میں ہے:
ان فسدت بجہالۃ المسمی وبعدم التسمیۃ وجب اجر المثل باستیقاء المنفعۃ بالغاما بلغ والا تفسد بہما بل بالشروط او اگر اجارہ شیئ کی جہالت اور عدم ذکر کی وجہ سے فاسد ہو تو منافع حاصل کرنے پر مثلی اجرت لازم ہوگی خواہ جتنی بھی ہو ورنہ ان دونوں صورتوں میں بلکہ ایسی دیگر شرائط سے بھی فاسد ہوگا یا
الاتری انہم لو تعاملوا علی بیع الخمر اوعلی الربا لایفتی بالحل ۔ کیا دیکھ نہیں ر ہے کہ اگر لوگ شراب فروخت یا سود کے معاملات مروج کرلیں تو حلال ہونے کا فتوی نہ دیا جائے گا۔(ت)
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
مابال رجال یشتروطون شروطا لیست فی کتاب اﷲ ماکان من شرط لیس فی کتاب اﷲ فہو باطلوان کان مائۃ شرط فقضاء اﷲ احق وشرط اﷲ اوثقرواہ الشیخاں عن ام المؤمنین رضی اﷲ تعالی عنہما ۔ لوگوں کوکیا ہوا کہ وہ ایسی شرطیں بناتے ہیں جو کتاب اﷲ میں نہیں ہیں اور جو شرط کتاب اﷲ کی رو سے جائز نہ ہو وہ باطل اگر چہ سو شرطیں ہوں اﷲ تعالی کا فیصلہ حق ہے اور اﷲ تعالی کی جائز کردہ شرط حق ہےاس کو شیخین(بخاری ومسلم)نے ام المومنین عائشہ رضی اﷲ تعالی عنہا سے روایت کیاہے۔(ت)
درمختار میں ہے:
تفسد الاجارہ بالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد ایسی شرائط اجارہ کو فاسد کردیتی ہیں جومقتضی کے مخالف ہوں۔ (ت)
اسی میں ہے:
ان فسدت بجہالۃ المسمی وبعدم التسمیۃ وجب اجر المثل باستیقاء المنفعۃ بالغاما بلغ والا تفسد بہما بل بالشروط او اگر اجارہ شیئ کی جہالت اور عدم ذکر کی وجہ سے فاسد ہو تو منافع حاصل کرنے پر مثلی اجرت لازم ہوگی خواہ جتنی بھی ہو ورنہ ان دونوں صورتوں میں بلکہ ایسی دیگر شرائط سے بھی فاسد ہوگا یا
حوالہ / References
فتاوٰی غیاثیہ کتاب الاجارات نوع فی النساج ∞مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۱۶۰€
صحیح البخاری کتاب البیوع ∞۱/ ۹۰۔۲۸۹€ وکتاب المکاتب ∞۱/ ۳۴۸€ کتاب الشروط ∞۱/ ۳۷۷€وصحیح مسلم کتاب العتق ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۴€
درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۷€
صحیح البخاری کتاب البیوع ∞۱/ ۹۰۔۲۸۹€ وکتاب المکاتب ∞۱/ ۳۴۸€ کتاب الشروط ∞۱/ ۳۷۷€وصحیح مسلم کتاب العتق ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۹۴€
درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۷€
الشیوع مع العلم بالمسمی لم یزد اجر المثل علی المسمی لرضاہما بہ وینقص عنہ لفساد التسمیۃ ۔ مقررہ معاوضہ معلوم ہونے کے باوجود شیوع پایا جائے تو مثلی اجرت مقررہ سے زائد نہ ہوگی کیونکہ مقررہ پر دونوں راضی تھےکم ہو تو کم کردی جائے کیونکہ مقرر فاسد ہوچکاہے۔ (ت)
اسی میں ہے:
یجب علی کل واحد منہما فسخہ اعداما لفسادلانہ معصیۃ فیجب رفعہابحر۔ولذا لایشترط فیہ قضاء قاضلان الواجب شرعا لایحتاج للقضاء دررواذا اصراحدھما علی امساکہوعلم بہ القاضی فلہ فسخہ جبرا علیہما حقا للشرع بزازیۃ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ دونوں فریقوں پر واجب ہے کہ اس کو فسخ کریں کیونکہ گناہ کو ختم کرنا ضروری ہےبحر۔اور اسی لئے اس فسخ کےلئے قاضی کی قضاء ضروری نہیں ہے کیونکہ جو چیز شرعا واجب ہو وہ قضاء کی محتاج نہیںدررجب دونوں فریقین قائم رکھنے پر مصر ہوں اور قاضی کو معلوم ہوجائے تو وہ جبرا فسخ کردے تاکہ شرعی حق قائم ہوجائےبزازیہواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۹۷: مسئولہ محمد مسعود علی میر محلہ بدایوں بروز دوشنبہ ۲ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ممالك متحدہ میں ایك عرصہ سے جدید بنك کھولے گئے ہیں جن کو زبان اردو میں دیہاتی بنك کہا جاتاہےاور جن کے دفتروں میں صدہا مسلمان ملازم ہیںتنخواہ پاتے ہیںان بنکوں کی حقیقت یہ ہے کہ ان کی پونجی بالعموم حسب ذیل تین طریقوں سے فراہم کی جاتی ہے:
اول:دس دس یابیس بیس روپیہ کی قیمت کے حصص قائم کئے جاتے ہیں اور کم از کم ایك حصہ کا خریدار ممبر مانا جاتاہے اس ہر بنك میں صدہا ممبر ہوتے ہیں ہرحصہ کی قیمت بالعموم بیس چھ ماہی قسطوں میں یعنی دس سال میں قابل ادا ہوتی ہے۔
دوم:اکثر رقوم بمدامانت جمع ہواکرتے ہیں۔
اسی میں ہے:
یجب علی کل واحد منہما فسخہ اعداما لفسادلانہ معصیۃ فیجب رفعہابحر۔ولذا لایشترط فیہ قضاء قاضلان الواجب شرعا لایحتاج للقضاء دررواذا اصراحدھما علی امساکہوعلم بہ القاضی فلہ فسخہ جبرا علیہما حقا للشرع بزازیۃ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ دونوں فریقوں پر واجب ہے کہ اس کو فسخ کریں کیونکہ گناہ کو ختم کرنا ضروری ہےبحر۔اور اسی لئے اس فسخ کےلئے قاضی کی قضاء ضروری نہیں ہے کیونکہ جو چیز شرعا واجب ہو وہ قضاء کی محتاج نہیںدررجب دونوں فریقین قائم رکھنے پر مصر ہوں اور قاضی کو معلوم ہوجائے تو وہ جبرا فسخ کردے تاکہ شرعی حق قائم ہوجائےبزازیہواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۱۹۷: مسئولہ محمد مسعود علی میر محلہ بدایوں بروز دوشنبہ ۲ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ممالك متحدہ میں ایك عرصہ سے جدید بنك کھولے گئے ہیں جن کو زبان اردو میں دیہاتی بنك کہا جاتاہےاور جن کے دفتروں میں صدہا مسلمان ملازم ہیںتنخواہ پاتے ہیںان بنکوں کی حقیقت یہ ہے کہ ان کی پونجی بالعموم حسب ذیل تین طریقوں سے فراہم کی جاتی ہے:
اول:دس دس یابیس بیس روپیہ کی قیمت کے حصص قائم کئے جاتے ہیں اور کم از کم ایك حصہ کا خریدار ممبر مانا جاتاہے اس ہر بنك میں صدہا ممبر ہوتے ہیں ہرحصہ کی قیمت بالعموم بیس چھ ماہی قسطوں میں یعنی دس سال میں قابل ادا ہوتی ہے۔
دوم:اکثر رقوم بمدامانت جمع ہواکرتے ہیں۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارہ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷€۷
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۸€
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۸€
سوم:قرض لیا ہوا روپیہ بھی اس کی پونجی میں شامل ہوتاہے۔
اصل مقصد ان بنکوں کا یہ ہےکہ اپنے ممبروں کو سخت ضرور ت کے وقت سادہ سود کے کم نرخ پر قرض دے کر مہاجنوں کے سود در سود اور بھاری شرح کی مار سے ضرورتمند ممبروں کو جن میں مسلمان اور ہل ہنود دونوں ا ز قسم زمیندار وزراعت پیشہ وتجارت پیشہ ودیگر کاروباری شامل ہیں محفوظ رکھا جائےملازمان بنك کارہائے مفوضہ میں ممبران بنك کو کفایت شعاری کی ہدایت کرتے رہنا اور غیر ضروری کاموں کے لئے قرض نہ لینے دینا ایك اہم فریضہ ہےبنك جو اپنے ممبروں کو قرض ادا کرتاہے اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ممبران اپنا اپنا کاروبار چلانے کے لئے ضروری روپیہ بنك سے قرض لیتے ہیں جس کی شرح سود بالعموم ایك روپیہ سے سوا روپیہ سیکڑہ تك سادہ ہوتی ہےاور یہ قرض مع سود بالاقساط ادا کیا جاتاہےاس طرح پر قرضداروں کو مہاجنوں سے قرض لینے کے مقابلالہ میں بہت زیادہ منفعت رہتی ہے۔مثلا کسی معمولی حیثیت کے مسلمان ممبر نے سخت ضرورت کے وقت پانچسو روپیہ بنك سے قرض لےتو یہ قرض پانچ سال میں بالاقساط مع سادہ سود کے آٹھ سو پچھتر روپیہ کی تعداد میں بنك کوادا کیا جائے گا۔اور بالفرض اگر کوئی قسط کسی مجبوری سے نہ ادا ہوسکے توبلا کسی تاوان کے قرضدار کو مزید مہلت ملے گییعنی بجائے پانچ سال لے ساڑھے پانچ سال میں ادا ہوسکتی ہےدرانحالیکہ مہاجن سے پانچسو روپیہ قرض لینے میں دو روپیہ کی سود درسود کی شرح سے کم نہیں ملے گااورششماہی سود شامل اصل ہو کر پانچ برس کے عرصہ میں(ال صما للع للعہ)روپیہ یعنی بنك کے قرضہ سے دوگنا دینا پڑے گااورا گر پانچ سال کے بجائے ساڑھے پانچ برس تك یہ قرض رہ گیا تو تقریبا دو ہزار روپیہ دینا پڑینگے جیسا کہ اکثر مسلمان جو سودی قرض لینے کے عادی ہیںمہاجنوں کے چنگل میں پھنس کر بغیر تباہ ہوئے نہیں بچتےاس لحاظ سے یہ بنك ان مسلمان ممبروں کے لئے زیادہ مفید کہی جاسکتی ہےجو ضروری اور غیر ضروری کاموں کے لئے بلحاظ کفایت شعاری سودی قرض لینے کے عادی ہیں قرض پر سو د کی رقم جو بنك کو اصل کے ساتھ ادا کی جاتی ہے اس میں بیشتر حصہ اس رقم کا ہوتاہے جو بطریق ذیل پیدا کی جاتی ہیں:
ا۔زراعت پیشہ لوگ جس میں اکثر مشرکین ہوتے ہیںبغر زراعت ضروری روپیہ بنك سے قرض لے کر زراعت کرتے ہیں اور اس کے ماحصل سے جو مقدار قرض سے کئی حصہ زیادہ ہوتاہے کچھ جزوی رقم سود کے نام سے قرضہ بنك میں ادا کرتے ہیں۔
ب۔اسی طرح تجارت پیشہ لوگ اپنی تجارت کے ماحصل سے(یعنی منافع سے)۔
اصل مقصد ان بنکوں کا یہ ہےکہ اپنے ممبروں کو سخت ضرور ت کے وقت سادہ سود کے کم نرخ پر قرض دے کر مہاجنوں کے سود در سود اور بھاری شرح کی مار سے ضرورتمند ممبروں کو جن میں مسلمان اور ہل ہنود دونوں ا ز قسم زمیندار وزراعت پیشہ وتجارت پیشہ ودیگر کاروباری شامل ہیں محفوظ رکھا جائےملازمان بنك کارہائے مفوضہ میں ممبران بنك کو کفایت شعاری کی ہدایت کرتے رہنا اور غیر ضروری کاموں کے لئے قرض نہ لینے دینا ایك اہم فریضہ ہےبنك جو اپنے ممبروں کو قرض ادا کرتاہے اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ممبران اپنا اپنا کاروبار چلانے کے لئے ضروری روپیہ بنك سے قرض لیتے ہیں جس کی شرح سود بالعموم ایك روپیہ سے سوا روپیہ سیکڑہ تك سادہ ہوتی ہےاور یہ قرض مع سود بالاقساط ادا کیا جاتاہےاس طرح پر قرضداروں کو مہاجنوں سے قرض لینے کے مقابلالہ میں بہت زیادہ منفعت رہتی ہے۔مثلا کسی معمولی حیثیت کے مسلمان ممبر نے سخت ضرورت کے وقت پانچسو روپیہ بنك سے قرض لےتو یہ قرض پانچ سال میں بالاقساط مع سادہ سود کے آٹھ سو پچھتر روپیہ کی تعداد میں بنك کوادا کیا جائے گا۔اور بالفرض اگر کوئی قسط کسی مجبوری سے نہ ادا ہوسکے توبلا کسی تاوان کے قرضدار کو مزید مہلت ملے گییعنی بجائے پانچ سال لے ساڑھے پانچ سال میں ادا ہوسکتی ہےدرانحالیکہ مہاجن سے پانچسو روپیہ قرض لینے میں دو روپیہ کی سود درسود کی شرح سے کم نہیں ملے گااورششماہی سود شامل اصل ہو کر پانچ برس کے عرصہ میں(ال صما للع للعہ)روپیہ یعنی بنك کے قرضہ سے دوگنا دینا پڑے گااورا گر پانچ سال کے بجائے ساڑھے پانچ برس تك یہ قرض رہ گیا تو تقریبا دو ہزار روپیہ دینا پڑینگے جیسا کہ اکثر مسلمان جو سودی قرض لینے کے عادی ہیںمہاجنوں کے چنگل میں پھنس کر بغیر تباہ ہوئے نہیں بچتےاس لحاظ سے یہ بنك ان مسلمان ممبروں کے لئے زیادہ مفید کہی جاسکتی ہےجو ضروری اور غیر ضروری کاموں کے لئے بلحاظ کفایت شعاری سودی قرض لینے کے عادی ہیں قرض پر سو د کی رقم جو بنك کو اصل کے ساتھ ادا کی جاتی ہے اس میں بیشتر حصہ اس رقم کا ہوتاہے جو بطریق ذیل پیدا کی جاتی ہیں:
ا۔زراعت پیشہ لوگ جس میں اکثر مشرکین ہوتے ہیںبغر زراعت ضروری روپیہ بنك سے قرض لے کر زراعت کرتے ہیں اور اس کے ماحصل سے جو مقدار قرض سے کئی حصہ زیادہ ہوتاہے کچھ جزوی رقم سود کے نام سے قرضہ بنك میں ادا کرتے ہیں۔
ب۔اسی طرح تجارت پیشہ لوگ اپنی تجارت کے ماحصل سے(یعنی منافع سے)۔
ج۔اسی طرح کاروباری مثلا ایك نجار نے دس روپے قرض لے کر اوزار خریدے اور سال بھر میں دو سو روپیہ پیدا کئےاسی آمدنی سے ادائے قرض میں بجائے دس روپے کے بارہ روپے بنك میں داخل ہوتے ہیں۔
ملازمان بنك کے کارہائے متعلقہ یعنی فرائض حسب ذیل ہوتے ہیں:
اولا دفتر میں متعلقہ حساب وکتاب درست کرنا۔
ثانیا: اس بات کی سخت نگرانی کرنا کہ ممبران بنك کسی غیر ضروری کام کے لئے قرض نہ لیں اور فضول کام میں روپیہ خرچ نہ کریں۔
ثالثا: ماتحتوں کے کام کی نگرانی رکھناجانچ کرناسودی قرض وصول کرناتنخواہ جوان ملازموں کو ملتی ہے وہ بنك سے منافع سے ملا کرتی ہے جس میں مذکورہ بالا سود کا روپیہ بھی شامل ہےنظر براں ان بنکوں میں ملازمت کرنا جائز ہے یاجائزاورایك ضروتمند مسلمان ملازمت پیشہ جو اس بنك میں ملازم ہے اور اپنی محنت کے عوض مقرر تنخواہ پاتاہے اس کے لئے کیاحکم ہےاگر اس کی ایسی ملازمت ناجائز ہے تو کس حدتکاور حسب ذیل اشخاص کی حیثتوں اور ایسے ملازم بنك کی حیثیت میں کیا فرق ہے
(۱)ایك مسلام جو سرکاری بنك میں اپنا روپیہ امانتا جمع کراتاہے اور اسی امانت پر سو دکے نام سے منافع حاصل کرتاہے۔
(۲)ایك مسلمان جو محض مشرکین سے سود لیا کرتاہے۔
(۳)ایك مسلمان جو سود دیا کرتاہے۔
(۴)ایك مسلمان جو گورنمنٹ کے صیغہ مال میں ملازم ہے اور جس کو تنخواہ اس مالگزاری کی آمدنی سے ملتی ہے جس میں بقاعدہ زمینداری باقایا لگان پر کاشتکاروں سے بالعموم سودلیاہوا اور غیر مسلم مالگذار کا جائز وناجائز طریقہ پر پیدا کیا گیاہوا روپیہ شامل ہوتاہے کیونکہ یہ سب مخلوط آمدنی مالگزاری سرکاری میں داخل ہوا کرتی ہے۔
(۵)ایك مسلمان جو گورنمنٹ کے صیغہ دیوانی میں ملازم ہے اور جس کو تنخواہ کورٹ فیس وغیرہ کی آمدنی سے جس میں بیشتر حصہ اس رقم کا ہوتاہے جس کومہاجن سود کے ذریعہ سےحاصل کرتے ہیں ملا کرتی ہے۔
(۶)ایك مسلمان چنگی کا ملازم جس کی تنخواہ چنگی کی آمدنی سےجو بلحاظ ٹیکس وغیرہ بالعموم سو دخوار اقوام کی کمائی سے جمع کی جاتی ہے ملا کرتی ہے۔
ملازمان بنك کے کارہائے متعلقہ یعنی فرائض حسب ذیل ہوتے ہیں:
اولا دفتر میں متعلقہ حساب وکتاب درست کرنا۔
ثانیا: اس بات کی سخت نگرانی کرنا کہ ممبران بنك کسی غیر ضروری کام کے لئے قرض نہ لیں اور فضول کام میں روپیہ خرچ نہ کریں۔
ثالثا: ماتحتوں کے کام کی نگرانی رکھناجانچ کرناسودی قرض وصول کرناتنخواہ جوان ملازموں کو ملتی ہے وہ بنك سے منافع سے ملا کرتی ہے جس میں مذکورہ بالا سود کا روپیہ بھی شامل ہےنظر براں ان بنکوں میں ملازمت کرنا جائز ہے یاجائزاورایك ضروتمند مسلمان ملازمت پیشہ جو اس بنك میں ملازم ہے اور اپنی محنت کے عوض مقرر تنخواہ پاتاہے اس کے لئے کیاحکم ہےاگر اس کی ایسی ملازمت ناجائز ہے تو کس حدتکاور حسب ذیل اشخاص کی حیثتوں اور ایسے ملازم بنك کی حیثیت میں کیا فرق ہے
(۱)ایك مسلام جو سرکاری بنك میں اپنا روپیہ امانتا جمع کراتاہے اور اسی امانت پر سو دکے نام سے منافع حاصل کرتاہے۔
(۲)ایك مسلمان جو محض مشرکین سے سود لیا کرتاہے۔
(۳)ایك مسلمان جو سود دیا کرتاہے۔
(۴)ایك مسلمان جو گورنمنٹ کے صیغہ مال میں ملازم ہے اور جس کو تنخواہ اس مالگزاری کی آمدنی سے ملتی ہے جس میں بقاعدہ زمینداری باقایا لگان پر کاشتکاروں سے بالعموم سودلیاہوا اور غیر مسلم مالگذار کا جائز وناجائز طریقہ پر پیدا کیا گیاہوا روپیہ شامل ہوتاہے کیونکہ یہ سب مخلوط آمدنی مالگزاری سرکاری میں داخل ہوا کرتی ہے۔
(۵)ایك مسلمان جو گورنمنٹ کے صیغہ دیوانی میں ملازم ہے اور جس کو تنخواہ کورٹ فیس وغیرہ کی آمدنی سے جس میں بیشتر حصہ اس رقم کا ہوتاہے جس کومہاجن سود کے ذریعہ سےحاصل کرتے ہیں ملا کرتی ہے۔
(۶)ایك مسلمان چنگی کا ملازم جس کی تنخواہ چنگی کی آمدنی سےجو بلحاظ ٹیکس وغیرہ بالعموم سو دخوار اقوام کی کمائی سے جمع کی جاتی ہے ملا کرتی ہے۔
(۷)ایك مسلمان جو کسی ایسے غیر محتاط مسلمان رئیس کے پاس ملازم ہے جس نے اپنی آمدنی کے ذرائع کو عام احتیاط سے مستثنی کررکھاہے۔
(۸)کسی ایسے انگریز ی مدرسہ کا مدرس جس کا کاروبار چندہ پر مبنی ہے اور چندہ دہندگان میں سود خوار اقوام بھی شامل ہےںایسے چندہ کی آمدنی سے تنخواہ پانے والا مسلمان مدرس۔
(۹)ایك مسلمان تجارت پیشہ جو اپنے مال کو سود خوار اقوام کے ہاتھ فروخت کیا کرتاہے۔
(۱۰)ایك مسلمان زراعت پیشہ جس کو اپنا غلہ وغیرہ سود خوار اقوام کے ہاتھ فروخت کرنے سے کوئی عار نہیں ہے اور یہ بھی تحقیق طلب ہے کہ آیا ایسی جائداد یعنی زمینداری وغیرہ جس کو کسی ڈپٹی کلکٹر یا کسی جج یا کسی منصف یا کسی وکیل مختار نے اپنے ایسے پیشہ کی آمدنی سے پیدا کیا ہو اکل حلال سمجھی جاسکتی ہے یانہیں اور اس کی آمدنی محتاط لوگ جائز آمدنی سمجھ سکتے ہیں یانہیں فقط۔بینوا توجروا
الجواب:
بنك کی صور ت مذکورہ حرام قطعی ہےاور یہ فائدہ کہ بنیوں سے آدھا یا چہارم سودلیا جائے گا سود دینے والے کا یك دینوی فائدہ سہی مگر دینے والے اور لینے والے کے اخروی مضرت اور حرمت میں کوئی فرق نہیںاﷲ عزوجل فرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا ما بقی من الربوا " " فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ " ۔ اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا چھوڑدوپھر اگر نہ مانو تو اﷲ ورسول سے لڑائی کے لئے تیار ہوجاؤ۔
صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل الربو ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ وقال ھم سواء ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود لینے والے اور دینے والے اور اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہی کرنیوالوں پراور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔
(۸)کسی ایسے انگریز ی مدرسہ کا مدرس جس کا کاروبار چندہ پر مبنی ہے اور چندہ دہندگان میں سود خوار اقوام بھی شامل ہےںایسے چندہ کی آمدنی سے تنخواہ پانے والا مسلمان مدرس۔
(۹)ایك مسلمان تجارت پیشہ جو اپنے مال کو سود خوار اقوام کے ہاتھ فروخت کیا کرتاہے۔
(۱۰)ایك مسلمان زراعت پیشہ جس کو اپنا غلہ وغیرہ سود خوار اقوام کے ہاتھ فروخت کرنے سے کوئی عار نہیں ہے اور یہ بھی تحقیق طلب ہے کہ آیا ایسی جائداد یعنی زمینداری وغیرہ جس کو کسی ڈپٹی کلکٹر یا کسی جج یا کسی منصف یا کسی وکیل مختار نے اپنے ایسے پیشہ کی آمدنی سے پیدا کیا ہو اکل حلال سمجھی جاسکتی ہے یانہیں اور اس کی آمدنی محتاط لوگ جائز آمدنی سمجھ سکتے ہیں یانہیں فقط۔بینوا توجروا
الجواب:
بنك کی صور ت مذکورہ حرام قطعی ہےاور یہ فائدہ کہ بنیوں سے آدھا یا چہارم سودلیا جائے گا سود دینے والے کا یك دینوی فائدہ سہی مگر دینے والے اور لینے والے کے اخروی مضرت اور حرمت میں کوئی فرق نہیںاﷲ عزوجل فرماتاہے:
" یایہا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا ما بقی من الربوا " " فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ " ۔ اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا چھوڑدوپھر اگر نہ مانو تو اﷲ ورسول سے لڑائی کے لئے تیار ہوجاؤ۔
صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل الربو ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ وقال ھم سواء ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود لینے والے اور دینے والے اور اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہی کرنیوالوں پراور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۷۸€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۷۹€
صحیح مسلم کتاب البیوع باب الرباء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۷۹€
صحیح مسلم کتاب البیوع باب الرباء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷€
صحیح حدیثوں میں ہےنبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الرباء ثلثہ وسبعون حوباایسرھا ان ینکح الرجل علی امہ ۔ سود تہتر گناہوں کا مجموعہ ہےان میں سب سے ہلکایہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔
ایك حدیث میں ہیں:
من اکل درھما من الربا وھو یعلم انہ ربا فکانما زنی بامہ ستاوثلثین مرۃ ۔ جس نے دیدہ دانستہ سودکا ایك درہم کھایا(جویہاں کے تقریبا ساڑھے چارآنے کے برابر ہوتاہے)اس نے گویا چھتیس بار اپنی ماں سے زناکیا۔
اس حساب سے سودکے ہر دھیلے پر اپنی ماں سے زنا کرنا ہوتاہے۔تو یہ منفعت جتانا کہ بنئے کو دونا دینا ہوگا۔یہ ادھا لیں گےاس کا حاصل یہ ہے کہ بنئے کے یہاں نہ جاؤوہاں ہزار بار مثلا ماں سے زنا کرنا ہوگا۔یہاں آؤں کہ ہم تو پانسو باری کریںیہ کیا خاك فائدہ ہوا۔یا اس سے گزر کر یوں سمجھئے کہ بنئے کو یہاں نہ جاؤں وہاں اسی ہزار جوتے پڑینگےہم چالیس ہزار ما کر چھوڑدینگے ان کے سر کی خیر تو چالیس ہزار میں بھی نہیںیہ سب شیطانی دھوکے اور مہمل ہوسیں ہیںشرعی طریقہ برتیں کہ خود بھی ان عظیم آفتوں سے بچیںاور قرض لینے والے بھی اور بنك کو دل خواہ نفع بھی ہوجائے اور لینے والے بھی بنیوں کی مصیبت سے بچیںاس کے متعدد طریقے ہمارے رسالہ کفل الفقیہ الفاھم میں مذکور ہیں ازاں جملہ آساں تریہ کہ مثلا کوئی شخص سو روپیہ سال بھر کے وعدہ پر قرض لینا چاہتاہے اور بنك یہ چاہے کہ اسے روپیہ مل جائے اور مجھے نفع ہاتھ آئے تو اسے روپیہ قرض نہ دے بلکہ سوروپے کا نوٹ اس کے ہاتھ ایك سال کے وعدہ پر مثلا یك سودس یاایك سو باہر کو بیع کرےیہ بیع ہے ربانہیں
قال اﷲ تعالی " قالوا انما البیع مثل الربوا واحل اللہ البیع وحرم الربوا" ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)کافر بولے بیع بھی تو ایسی ہی ہے جیسے سود(اس کا جواب کہ)اﷲ نے حلال کی بیع اورحرام کیا سود۔
الرباء ثلثہ وسبعون حوباایسرھا ان ینکح الرجل علی امہ ۔ سود تہتر گناہوں کا مجموعہ ہےان میں سب سے ہلکایہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔
ایك حدیث میں ہیں:
من اکل درھما من الربا وھو یعلم انہ ربا فکانما زنی بامہ ستاوثلثین مرۃ ۔ جس نے دیدہ دانستہ سودکا ایك درہم کھایا(جویہاں کے تقریبا ساڑھے چارآنے کے برابر ہوتاہے)اس نے گویا چھتیس بار اپنی ماں سے زناکیا۔
اس حساب سے سودکے ہر دھیلے پر اپنی ماں سے زنا کرنا ہوتاہے۔تو یہ منفعت جتانا کہ بنئے کو دونا دینا ہوگا۔یہ ادھا لیں گےاس کا حاصل یہ ہے کہ بنئے کے یہاں نہ جاؤوہاں ہزار بار مثلا ماں سے زنا کرنا ہوگا۔یہاں آؤں کہ ہم تو پانسو باری کریںیہ کیا خاك فائدہ ہوا۔یا اس سے گزر کر یوں سمجھئے کہ بنئے کو یہاں نہ جاؤں وہاں اسی ہزار جوتے پڑینگےہم چالیس ہزار ما کر چھوڑدینگے ان کے سر کی خیر تو چالیس ہزار میں بھی نہیںیہ سب شیطانی دھوکے اور مہمل ہوسیں ہیںشرعی طریقہ برتیں کہ خود بھی ان عظیم آفتوں سے بچیںاور قرض لینے والے بھی اور بنك کو دل خواہ نفع بھی ہوجائے اور لینے والے بھی بنیوں کی مصیبت سے بچیںاس کے متعدد طریقے ہمارے رسالہ کفل الفقیہ الفاھم میں مذکور ہیں ازاں جملہ آساں تریہ کہ مثلا کوئی شخص سو روپیہ سال بھر کے وعدہ پر قرض لینا چاہتاہے اور بنك یہ چاہے کہ اسے روپیہ مل جائے اور مجھے نفع ہاتھ آئے تو اسے روپیہ قرض نہ دے بلکہ سوروپے کا نوٹ اس کے ہاتھ ایك سال کے وعدہ پر مثلا یك سودس یاایك سو باہر کو بیع کرےیہ بیع ہے ربانہیں
قال اﷲ تعالی " قالوا انما البیع مثل الربوا واحل اللہ البیع وحرم الربوا" ۔ (اﷲ تعالی نے فرمایا)کافر بولے بیع بھی تو ایسی ہی ہے جیسے سود(اس کا جواب کہ)اﷲ نے حلال کی بیع اورحرام کیا سود۔
حوالہ / References
المصنف لعبدالرزاق ماجاء فی الرباء ∞حدیث ۱۵۳۴۴ و ۱۵۳۴۵€ المکتب الاسلامی بیروت ∞۸/ ۳۱۴€وشعب الایمان ∞حدیث ۵۵۱۹€ دارالکتب العلمیہ بیروت ∞۴/ ۳۹۴€
الترغیب والترھیب الترھیب من الرباء مصطفی البابی ∞مصرف ۳/ ۷و ۸€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۷۵€
الترغیب والترھیب الترھیب من الرباء مصطفی البابی ∞مصرف ۳/ ۷و ۸€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۷۵€
ملازمت کی صورتیں جو سائل نے لکھیں اس کا جواب کلی کہ انھیں اور ان جیسے دس ہزار کو شامل ہویہ ہے کہ ملازمت دو قسم ہے:
ایك وہ جس میں خود ناجائز کام کرنا پڑےجیسے یہ ملازمت جس میں سودکالین دیناس کا لکھنا پڑھناتقاضا کرنا اس کے ذمہ ہوایسی ملازمت خود حرام ہےاگر چہ اس کی تنخواہ خالص مال حلال سے دی جائےوہ مال حلال بھی اس کے لئے حرام ہےاور مال حرام ہےتو حرام درحرام۔
دوسرے یہ کہ وہ ملازمت فی نفسہ امر جائز کی ہومگرتنخواہ دینے والا وہ جس کے پاس مال حرام آتاہےاس صورت کاحکم یہ ہے کہ اگر معلوم ہو کہ جو کچھ اسے تنخواہ میں دیا جارہا ہےبعینہ مال حرام ہے۔نہ بدلا نہ مخلوط ہوا نہ مستہلك ہوا تو اس کا لینا حرام ورنہ جائز۔
قال محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ ۔ہندیۃ عن الظہیریۃ۔ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایاہم اسی کو اختیار کریں گےجب تك عین حرام چیز کا علم نہ ہوہندیہ میں ظہیریہ سے منقول ہے۔(ت)
یہ حکم ملازمتوں کا ہےمزارع یا تاجر کا غلہ ومال کسی کے ہاتھ بیچنا اسی قسم اخیر کے حکم میں ہے اور سود لینا خواہ گورنمنٹ سے ہو یا مشرکین سے خود فعل ناجائز ہےیہ قسم اول کے حکم میں داخل ہےاور سود دینا اگر محض مجبوری شرعی سے ہو جس کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہےتو اجازت ہے۔
یجوز للمحتاج الاستقراض بالربا ۔ محتاج کو سودپر قرض لینا جائز ہے۔(ت)
ورنہ حراماور دینا لینا یکساںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۸: مولوی حشمت علی صاحب محلہ گڑھیاں بریلی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایك جگہ پڑھانے پر نوکر ہےجمعرات کو صبح کے وقت زید کی کچھ طبیعت علیل تھی مگر اس وجہ سے کہ پڑھائی میں حرج نہ ہو پڑھانے چلا گیاساڑھے نو بچے تك پڑھایابعدازاں زیادہ طبیعت خراب ہوئی اور پڑھایا نہ گیاتو زید نے اس سے جس کے یہاں پڑھاتا تھا کہا کہ مجھ سے اب باقی وقت کام نہیں ہوتا ہے مجھے چھٹی دے دیجئےتب اس شخص نے زید کو جواب دیا کہ اپنا وقت گیار ہ بجے تك پورا کردیجئے ورنہ رخصت یوم کی تنخواہ وضع ہوگیزید نے اس کے جواب میں کہا
ایك وہ جس میں خود ناجائز کام کرنا پڑےجیسے یہ ملازمت جس میں سودکالین دیناس کا لکھنا پڑھناتقاضا کرنا اس کے ذمہ ہوایسی ملازمت خود حرام ہےاگر چہ اس کی تنخواہ خالص مال حلال سے دی جائےوہ مال حلال بھی اس کے لئے حرام ہےاور مال حرام ہےتو حرام درحرام۔
دوسرے یہ کہ وہ ملازمت فی نفسہ امر جائز کی ہومگرتنخواہ دینے والا وہ جس کے پاس مال حرام آتاہےاس صورت کاحکم یہ ہے کہ اگر معلوم ہو کہ جو کچھ اسے تنخواہ میں دیا جارہا ہےبعینہ مال حرام ہے۔نہ بدلا نہ مخلوط ہوا نہ مستہلك ہوا تو اس کا لینا حرام ورنہ جائز۔
قال محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ ۔ہندیۃ عن الظہیریۃ۔ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایاہم اسی کو اختیار کریں گےجب تك عین حرام چیز کا علم نہ ہوہندیہ میں ظہیریہ سے منقول ہے۔(ت)
یہ حکم ملازمتوں کا ہےمزارع یا تاجر کا غلہ ومال کسی کے ہاتھ بیچنا اسی قسم اخیر کے حکم میں ہے اور سود لینا خواہ گورنمنٹ سے ہو یا مشرکین سے خود فعل ناجائز ہےیہ قسم اول کے حکم میں داخل ہےاور سود دینا اگر محض مجبوری شرعی سے ہو جس کی تفصیل ہمارے فتاوی میں ہےتو اجازت ہے۔
یجوز للمحتاج الاستقراض بالربا ۔ محتاج کو سودپر قرض لینا جائز ہے۔(ت)
ورنہ حراماور دینا لینا یکساںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۸: مولوی حشمت علی صاحب محلہ گڑھیاں بریلی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایك جگہ پڑھانے پر نوکر ہےجمعرات کو صبح کے وقت زید کی کچھ طبیعت علیل تھی مگر اس وجہ سے کہ پڑھائی میں حرج نہ ہو پڑھانے چلا گیاساڑھے نو بچے تك پڑھایابعدازاں زیادہ طبیعت خراب ہوئی اور پڑھایا نہ گیاتو زید نے اس سے جس کے یہاں پڑھاتا تھا کہا کہ مجھ سے اب باقی وقت کام نہیں ہوتا ہے مجھے چھٹی دے دیجئےتب اس شخص نے زید کو جواب دیا کہ اپنا وقت گیار ہ بجے تك پورا کردیجئے ورنہ رخصت یوم کی تنخواہ وضع ہوگیزید نے اس کے جواب میں کہا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۲۶€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۲۶€
کہ میں ربع یوم کی چھٹی چاہتاہوں اگر آپ منظور نہ کریں توصرف ربع یوم کی تنخواہ وضع کرلیںنصف یوم کی تنخواہ وضع کرنے کا کوئی قاعدہ نہیں ہے کہ میں نے ربع یوم کام کیاہے ربع باقی ہے۔
دریافت طلب یہ ہے کہ جب زید نے ربع یو م کام کیا اور ربع یوم نہیں کیا اور رخصت چاہیتو شرعا زید کی ربع یوم کی تنخواہ وضع ہونا چاہئے یا نصف یوم کی بینوا توجروا
الجواب:
اس روز جتنے گھنٹے کام میں تھا ان میں جس قدر کی کمی ہوئی صرف اتنی ہی تنخواہ وضع ہوگیربع ہو توربع یا کم زیادہ جس قدر کی کمی ہوئی صرف اتنی تنخواہ وضع ہوگیمثلا چھ گھنٹے کام کرنا تھا اور ایك گھنٹہ نہ کیا تو اس دن کی تنخواہ کا چھٹا حصہ وضع ہوگا۔زیادہ وضع کرنا ظلم ہے۔
مسئلہ ۱۹۹: از بدایوں مولوی محلہ مرسلہ شاہ حاجی اعجاز حسین صاحب ۱۷ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك شخص نے تین لڑکیاں اور دولڑکے اپنی وفات پر چھوڑےاور ایك حقیت چھوڑیبڑا لڑکا اس حقیت کا کاروبار کرتا رہااور بخوشی دیگر بھائی بہن کے اس کی آمدنی کو اپنے صرف میں لاتا رہااب اس کا انتقال ہوااس حقیت میں سے ایك کھیت برابر اپنی کاشت میں رکھا تھااب اس متوفی کا لڑکا وارث ہوالیکن وہ کھیت جس کا لگان جمع بندی میں(للعہ عہ)یا کچھ درج ہے اب دوسرے کا شتکار کو اٹھایا گیا تو بجائے(للعہ عہ)کے(عہ)میں اٹھااب اس موروثی کھیت کا لگان جو اور جس قدر(للعہ عہ/)سے زیادہ ہوااس کا مالك متوفی کا صرف لڑکا ہوایا وہ زیادتی لگان بھی شرعا سب میں تقسیم کرنا چاہئےمکرریہ ہے کہ وہ کھیت جو قانونا موروثی بھی ہے وہ علیحدہ کرنے پر لگان مندرجہ جمع بندی کے علاوہ ہر حال میں متوفی کے وارث کو پہنچتاہے۔
الجواب:
جبکہ وہ جائداد غیر منقسم ہےاس کا ہرجز جس میں یہ کیفیت بھی ہےجملہ ورثہ میں مشترك ہے نہ تنہا متوفی کا پسر اس کا مالك تھانہ اب پسر اس کا مالك ہوبرضائے دیگر ورثہ اس کی آمدنی صرف ایك کے صرف میں آناجائداد کا اس کو ہبہ نہیںاور بالفرض ہو بھی تو جائداد قسمت بلا تقسیم اپنے شریك کو بھی ہبہ کرنا باطل وناتمام ہےاب کہ موہوب لہ مرگیا ہبہ باطل محض ہوگیااور جائداد جملہ ورثاء باقین و وارثان پسر متوفی میں مشترك رہیدرمختارمیں ہے:
لا تتم بالقبض فیما یقسم ولو وہبہ لشریکہ ۔ ہبہ تام نہیں ہوتا قابل تقسیم چیز میں اگر چہ شریك کو ہبہ کیا ہو۔(ت)
دریافت طلب یہ ہے کہ جب زید نے ربع یو م کام کیا اور ربع یوم نہیں کیا اور رخصت چاہیتو شرعا زید کی ربع یوم کی تنخواہ وضع ہونا چاہئے یا نصف یوم کی بینوا توجروا
الجواب:
اس روز جتنے گھنٹے کام میں تھا ان میں جس قدر کی کمی ہوئی صرف اتنی ہی تنخواہ وضع ہوگیربع ہو توربع یا کم زیادہ جس قدر کی کمی ہوئی صرف اتنی تنخواہ وضع ہوگیمثلا چھ گھنٹے کام کرنا تھا اور ایك گھنٹہ نہ کیا تو اس دن کی تنخواہ کا چھٹا حصہ وضع ہوگا۔زیادہ وضع کرنا ظلم ہے۔
مسئلہ ۱۹۹: از بدایوں مولوی محلہ مرسلہ شاہ حاجی اعجاز حسین صاحب ۱۷ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایك شخص نے تین لڑکیاں اور دولڑکے اپنی وفات پر چھوڑےاور ایك حقیت چھوڑیبڑا لڑکا اس حقیت کا کاروبار کرتا رہااور بخوشی دیگر بھائی بہن کے اس کی آمدنی کو اپنے صرف میں لاتا رہااب اس کا انتقال ہوااس حقیت میں سے ایك کھیت برابر اپنی کاشت میں رکھا تھااب اس متوفی کا لڑکا وارث ہوالیکن وہ کھیت جس کا لگان جمع بندی میں(للعہ عہ)یا کچھ درج ہے اب دوسرے کا شتکار کو اٹھایا گیا تو بجائے(للعہ عہ)کے(عہ)میں اٹھااب اس موروثی کھیت کا لگان جو اور جس قدر(للعہ عہ/)سے زیادہ ہوااس کا مالك متوفی کا صرف لڑکا ہوایا وہ زیادتی لگان بھی شرعا سب میں تقسیم کرنا چاہئےمکرریہ ہے کہ وہ کھیت جو قانونا موروثی بھی ہے وہ علیحدہ کرنے پر لگان مندرجہ جمع بندی کے علاوہ ہر حال میں متوفی کے وارث کو پہنچتاہے۔
الجواب:
جبکہ وہ جائداد غیر منقسم ہےاس کا ہرجز جس میں یہ کیفیت بھی ہےجملہ ورثہ میں مشترك ہے نہ تنہا متوفی کا پسر اس کا مالك تھانہ اب پسر اس کا مالك ہوبرضائے دیگر ورثہ اس کی آمدنی صرف ایك کے صرف میں آناجائداد کا اس کو ہبہ نہیںاور بالفرض ہو بھی تو جائداد قسمت بلا تقسیم اپنے شریك کو بھی ہبہ کرنا باطل وناتمام ہےاب کہ موہوب لہ مرگیا ہبہ باطل محض ہوگیااور جائداد جملہ ورثاء باقین و وارثان پسر متوفی میں مشترك رہیدرمختارمیں ہے:
لا تتم بالقبض فیما یقسم ولو وہبہ لشریکہ ۔ ہبہ تام نہیں ہوتا قابل تقسیم چیز میں اگر چہ شریك کو ہبہ کیا ہو۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹€
اسی کے موانع الرجوع میں ہے:
والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل ۔ میم سے مراد فریقین میں سے کسی ایك کی موت قبضہ دینے کے بعد اور اگر قبضہ سے پہلے موت واقع ہوجائے تو باطل ہو جائے گا۔(ت)
یہ موروثیت شرعا کوئی چیز نہیںنہ پسر متوفی اسے جبرا اپنی کاشت میں رکھ سکتاتھا نہ اس کے بیٹے کو یہ دعوی پہنچتاہےرہا اس کھیت کا لگان سوال بصیغہ مجہول ہے کہ اب دوسرے کاشتکار کو اٹھایا گیامعلوم نہیں کہ کس نے اٹھایااگرسب ورثاء نے اٹھایا یاسب کے اذن سے ایك نے اٹھایایا ایك نے اٹھایا او رباقیوں نے اسے جائز کیاتو اس کا لگان حصہ رسد سب شرکاء کی ملك ہے (للعہ عہ/)ہو یا(عہ/)یا ایك پیسہ۔یا ہزارروپےاور ایك مثلا پسر متوفی نے بے رضائے باقی ورثہ اٹھایااور باقیوں نے اٹھانے کے بعد بھی اسے نافذ نہ کیا تو اس کا لگان اسی اٹھانے والے کی ملك ہوگامگر اپنے حصہ میں ملك طیب اور اوروں کے حصوں میں بھی ملك خبیث کہ اس پر فرض ہے کہ باقی شرکاء کو ان کے حصوں کی قدر اس میں سے دےاور یہی افضل ہے اور ان کے لئے طیب ہےورنہ فقراء پر تصدق کرےاپنے صرف میں لانا حرام ہے۔فتاوی خیریہ میں ہے:
المنافع لاتتقوم الابالعقدوھو صادر منہ بلاوکالۃ سابقہ ولا اجارۃ لاحقۃ فملکہا الشریك العاقدلکن ملکہ فی غیر ملکہ ملك خیبثفیجب علیہ التصدق بہ اودفعہ لشرکائہ خروجا من الاثم و الثانی افضل لخروجہ من الخلاف ایضا واﷲ تعالی اعلم۔ منافع صرف عقد سے قیمتی بنتتے ہیں جبکہ یہ عقد مالك سے صادر ہو بغیر سابق وکالت اور بغیر اجازت لاحق کے ہوتو شریك عقد کرنے والا مالك ہوگا لیکن غیر کے حصہ میں ملك خبیث ہوگی جس کا صدقہ کرنا یا اپنے شریك کو دینا واجب ہے تاکہ گناہ سے فارغ ہوجائےدوسری صورت(شریك کو دینا) افضل ہےتاکہ اختلاف سے بچ جائےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل ۔ میم سے مراد فریقین میں سے کسی ایك کی موت قبضہ دینے کے بعد اور اگر قبضہ سے پہلے موت واقع ہوجائے تو باطل ہو جائے گا۔(ت)
یہ موروثیت شرعا کوئی چیز نہیںنہ پسر متوفی اسے جبرا اپنی کاشت میں رکھ سکتاتھا نہ اس کے بیٹے کو یہ دعوی پہنچتاہےرہا اس کھیت کا لگان سوال بصیغہ مجہول ہے کہ اب دوسرے کاشتکار کو اٹھایا گیامعلوم نہیں کہ کس نے اٹھایااگرسب ورثاء نے اٹھایا یاسب کے اذن سے ایك نے اٹھایایا ایك نے اٹھایا او رباقیوں نے اسے جائز کیاتو اس کا لگان حصہ رسد سب شرکاء کی ملك ہے (للعہ عہ/)ہو یا(عہ/)یا ایك پیسہ۔یا ہزارروپےاور ایك مثلا پسر متوفی نے بے رضائے باقی ورثہ اٹھایااور باقیوں نے اٹھانے کے بعد بھی اسے نافذ نہ کیا تو اس کا لگان اسی اٹھانے والے کی ملك ہوگامگر اپنے حصہ میں ملك طیب اور اوروں کے حصوں میں بھی ملك خبیث کہ اس پر فرض ہے کہ باقی شرکاء کو ان کے حصوں کی قدر اس میں سے دےاور یہی افضل ہے اور ان کے لئے طیب ہےورنہ فقراء پر تصدق کرےاپنے صرف میں لانا حرام ہے۔فتاوی خیریہ میں ہے:
المنافع لاتتقوم الابالعقدوھو صادر منہ بلاوکالۃ سابقہ ولا اجارۃ لاحقۃ فملکہا الشریك العاقدلکن ملکہ فی غیر ملکہ ملك خیبثفیجب علیہ التصدق بہ اودفعہ لشرکائہ خروجا من الاثم و الثانی افضل لخروجہ من الخلاف ایضا واﷲ تعالی اعلم۔ منافع صرف عقد سے قیمتی بنتتے ہیں جبکہ یہ عقد مالك سے صادر ہو بغیر سابق وکالت اور بغیر اجازت لاحق کے ہوتو شریك عقد کرنے والا مالك ہوگا لیکن غیر کے حصہ میں ملك خبیث ہوگی جس کا صدقہ کرنا یا اپنے شریك کو دینا واجب ہے تاکہ گناہ سے فارغ ہوجائےدوسری صورت(شریك کو دینا) افضل ہےتاکہ اختلاف سے بچ جائےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتا ب ا لہبۃ باب الرجوع فی الہبۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۶۱€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۵€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۵€
مسئلہ ۲۰۰:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتاہے کہ اجیر اور ملازم میں کیا فرق ہےملازم کا ۲۴ گھنٹہ میں ایك گھنٹہ بھی ایسا نہیں جو ملازمت سے خالی ہواس کے آقا کو اختیار ہے کہ وہ اپنے غلام سے جتنے دن چاہے کام لےجنتے دن چاہے چھٹی دےیا کسی خاص کام پر مقرر کرےیا مختلف کام اس کے منصب کے موافق لےاگر کوئی شخص کسی خاص کام پر مقرر ہو تو اس کے آقا کو یہ بھی اختیارہے کہ وہ کام جس پر مقرر ہے چھڑا کر دوسرے کام پر ضرورۃ بھیج دےملازم کو کوئی عذر کرنے کا موقع نہیں۔نہ اس کام کے معاوضہ کا مستحقاجیر میں یہ بات نہیں ہے وہ مقید نہیںجتنی دیر کام کرے گا اتنی ہی دیر کی اجرت کا مستحق ہوگاجب تك چاہے کام کرے گاجب تك چاہے گا نہ کرے گا۔ہاں ملازم سے پہلا کام چھڑا کر دوسرے کام کے عوض میں خود آقا اس کا معاوضہ مقرر کرے تو اس کے لینے کا مستحق ہوجائے گاملازم مقررہ چھٹیوں میں کام نہ کرنے کی حالت میں تنخواہ کا مستحق اور اجیر کام نہ کرنے کی اجرت نہیں پاسکتااسی طرح اجیر مقررہ وقت میں جتنے گھنٹے کام کرے گا اتنے ہی گھنٹوں کی اجرت کا مستحق ہوگا او ر ملازم اگر مقررہ مدت سے ایك دو گھنٹہ کام کرکے بغیر منظوری چھوڑ دےتو اقا اس کے کل دن کی تنخواہ اس کی کاٹ سکتاہےیہ قول اس کا صحیح ہے یاغلط
الجواب:
یہ سب ہوس محضاور اس کا اختراع بے اصل ہے شرع میں اجیر اجیر خاص واجیر مشترك دونوں کو عام ہےاجیر خاص کو اردو میں ملازم اور نوکر کہتے ہیںاجیر مشترك پیشہ ورکہ اجرت پر ہر شخص کاکام کرتے ہیںکسی خاص کے نوکر نہیںجیسے راج مزدوربڑھئیدرزی وغیرہم ملازم کا اگر وقت معین کیاجائےمثلا صبح سے شام تکیا راتکے نوبجے تکیا مدرسوں کی نوکری ہےمثلا ۶ بجے سے ۱۲ بجے تك پھر ۲ بجے سے ۵ بجے تکتو وہ اتنے ہی گھنٹوں کا ملازم ہے۔مقررہ گھنٹوں کے علاوہ خود مختار ہے کہ اس کا اتنا ہی وقت بیکار ہےتو زید کاکہنا کہ ملازم کا ایك گھنٹہ بھی ملازمت سے خالی نہیںجہالت سے خالی نہیںملازم جوکسی کار خاص پر ہو جیسے مدرساس سے وہی خاص کام لیا جائے گادوسرے کام کو کہا جائے تو اس کا ماننا اس پر لازم نہیںہاں خدمت گارہر گونہ خدمت کرے گامقید نہ ہو نا صرف اجیر مشترك راجبڑھئیاور ان کے امثال میں ہے جن کا کام بکتا ہے وقت نہیں بکتااس میں یہ بات صحیح ہے کہ جب تك چاہے کام کرے۔
الجواب:
یہ سب ہوس محضاور اس کا اختراع بے اصل ہے شرع میں اجیر اجیر خاص واجیر مشترك دونوں کو عام ہےاجیر خاص کو اردو میں ملازم اور نوکر کہتے ہیںاجیر مشترك پیشہ ورکہ اجرت پر ہر شخص کاکام کرتے ہیںکسی خاص کے نوکر نہیںجیسے راج مزدوربڑھئیدرزی وغیرہم ملازم کا اگر وقت معین کیاجائےمثلا صبح سے شام تکیا راتکے نوبجے تکیا مدرسوں کی نوکری ہےمثلا ۶ بجے سے ۱۲ بجے تك پھر ۲ بجے سے ۵ بجے تکتو وہ اتنے ہی گھنٹوں کا ملازم ہے۔مقررہ گھنٹوں کے علاوہ خود مختار ہے کہ اس کا اتنا ہی وقت بیکار ہےتو زید کاکہنا کہ ملازم کا ایك گھنٹہ بھی ملازمت سے خالی نہیںجہالت سے خالی نہیںملازم جوکسی کار خاص پر ہو جیسے مدرساس سے وہی خاص کام لیا جائے گادوسرے کام کو کہا جائے تو اس کا ماننا اس پر لازم نہیںہاں خدمت گارہر گونہ خدمت کرے گامقید نہ ہو نا صرف اجیر مشترك راجبڑھئیاور ان کے امثال میں ہے جن کا کام بکتا ہے وقت نہیں بکتااس میں یہ بات صحیح ہے کہ جب تك چاہے کام کرے۔
کرے گا پائے گا ورنہ نہیںبخلاف اجیر خاص کہ اس کا وقت بکا ہوا ہےاس وقت میں اسے حرام ہے کہ بے مرضی مستاجر کام سے انکار کرےاو راگر کام نہ ہو اور وقت عــــــہ دے تنخواہ پائے گا۔اور وقت نہ دے تو نہ پائے گااگر وقت دس گھنٹے مقرر ہے اور ایك دن کی تنخواہ مثلا دس آنے ہے اور اجیر نے دو گھنٹے وقت دیاآٹھ گھنٹے غیر حاضر رہاتو یہ غلط اور جبر وظلم ہے کہ آقا اس کے کل دن کی تنخواہ کاٹے گاہر گز نہیں بلکہ صرف آٹھ گھنٹوں کی۸/شریعت کے احکام جو نہ جانتا ہو اس پر حرام ہے کہ احکام لگائےاس پر فرض ہے کہ جاننے والوں سے پوچھےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۱ تا۲۰۳: از لکھنؤ حضرت گنج سول اینڈ ملیٹری ہوٹل مرسلہ رزاق محمد ۸ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)زید مسلمان پیشہ ور اور تاجر ہے اور ہوٹل جس میں عموما انگریز لوگ ٹھہرتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں۔زید ان کے جملہ طعام وقیام کامنتظم ہےان سے نفع اٹھاتاہے۔اور ہر چیز مہیا کرتاہے۔اپنے مسافروں کا مثل شراب وسور وغیرہ کے پابندہے۔یعنی اس قسم کی چیزیں بھی وہ خرید کرتاہےاور ان کے ہاتھ فروخت کرتاہےلہذا مسلمان کو ایسی تجارت کرنا چاہئے یانہیں
(۲)زید ہوٹل کامالك ہے مگر ہوٹل وغیرہ خود نہیں کرتا بلکہ عمارت کرایہ پر دوسرے لوگوں کو دے رکھی ہے جو اس کومثل ہوٹل کے استعمال کرتے ہیں۔اور وہی کام کرتے ہیں جو زید کرتا تھالہذا اس کو جوکرایہ ملتاہے مکان ہوٹل کاوہ کیسا ہےجائز ہے یاناجائز
(۳)زید بوجہ مسلمان ہونے کے ہر قسم کی امداد اسلامی بھی کرتاہےاور حج وزکوۃ وصدقہ وخیرات و تعمیر مساجد ویتیم خانہ وکفن دفن ودعوت خاص وعام ومیلاد شریف وغیرہ کرتاہے شریعت حقہ کا آمدنی نمبر ۲ کی بابت کیاحکم ہے
الجواب:
(۱)حرام حرام حرام اور موجب لعنترسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ الخمر وشاربہا وساقیہا ومبتاعہا وبائعہا وعاصرھا ومعتصرھا وحاملہا یعنی اﷲ تعالی نے لعنت فرمائی ہے شراب پراور جو اسے پئے جو پلائےجو مول لے۔جو بیچےجو نچوڑےجو نچڑوائےجو اٹھاکر لائے۔
عــــــہ: اندزہ سے بنایا گیا ہے۔۱۲۔
مسئلہ ۲۰۱ تا۲۰۳: از لکھنؤ حضرت گنج سول اینڈ ملیٹری ہوٹل مرسلہ رزاق محمد ۸ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱)زید مسلمان پیشہ ور اور تاجر ہے اور ہوٹل جس میں عموما انگریز لوگ ٹھہرتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں۔زید ان کے جملہ طعام وقیام کامنتظم ہےان سے نفع اٹھاتاہے۔اور ہر چیز مہیا کرتاہے۔اپنے مسافروں کا مثل شراب وسور وغیرہ کے پابندہے۔یعنی اس قسم کی چیزیں بھی وہ خرید کرتاہےاور ان کے ہاتھ فروخت کرتاہےلہذا مسلمان کو ایسی تجارت کرنا چاہئے یانہیں
(۲)زید ہوٹل کامالك ہے مگر ہوٹل وغیرہ خود نہیں کرتا بلکہ عمارت کرایہ پر دوسرے لوگوں کو دے رکھی ہے جو اس کومثل ہوٹل کے استعمال کرتے ہیں۔اور وہی کام کرتے ہیں جو زید کرتا تھالہذا اس کو جوکرایہ ملتاہے مکان ہوٹل کاوہ کیسا ہےجائز ہے یاناجائز
(۳)زید بوجہ مسلمان ہونے کے ہر قسم کی امداد اسلامی بھی کرتاہےاور حج وزکوۃ وصدقہ وخیرات و تعمیر مساجد ویتیم خانہ وکفن دفن ودعوت خاص وعام ومیلاد شریف وغیرہ کرتاہے شریعت حقہ کا آمدنی نمبر ۲ کی بابت کیاحکم ہے
الجواب:
(۱)حرام حرام حرام اور موجب لعنترسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لعن اﷲ الخمر وشاربہا وساقیہا ومبتاعہا وبائعہا وعاصرھا ومعتصرھا وحاملہا یعنی اﷲ تعالی نے لعنت فرمائی ہے شراب پراور جو اسے پئے جو پلائےجو مول لے۔جو بیچےجو نچوڑےجو نچڑوائےجو اٹھاکر لائے۔
عــــــہ: اندزہ سے بنایا گیا ہے۔۱۲۔
والمحمولۃ الیہ (رواہ ابوداؤد وابن ماجۃ)وزاد الترمذی واکل ثمنہا واﷲ تعالی اعلم جس کے لئے اٹھاکر لائی جائے(اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا۔ت)اور ترمذی نے یہ زیادہ کیا جو اس کے دام کھائے ان سب پر واﷲ تعالی اعلم۔
(۲)جبکہ اس نے صرف مکان کرائے پر دیا ہےکرایہ داروں نے ہوٹل کیا اور افعال مذکورہ کرتے ہیں تو زید پر الزام نہیں " ولا تزر وازرۃ وزر اخری " (کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائیگی۔ت)اس صورت میں وہ کرایہ کے لئے جائز ہے۔اگر اس نے کسی اسلامی جگہ میں خاص اس غرض ناجائز کےلئے دیا تو گنہ گار ہےمگر کرایہ کہ منفعت مکان کے مقابل ہے نہ ان افعال کے اب بھی جائز ہےہدایہ میں ہے:
من اجر بیتا لیتخذ فیہ بیت ناراوکنیسۃ اویباع فیہ الخمر بالسواد فلا باس بہ لان الاجارۃ ترد علی منفعۃ البیت ولا معصیۃ فیہ انما المعصیۃ بفعل المستاجر ۱ھ(ملخصا)اقول: وھذا ھو محمل مافی الغمز عن القنیۃ وفی جامع الرموز عن المنیۃ وفی المنح عن شمس الائمۃ الحلوانیوفی ردالمحتار عن غرر الافکار عن المحیط عن الامام ان الاجر طیب و ان کان السبب حراما کما حققناہ فی ماعلی ردالمحتار علقناہ جس نے مکان کرایہ پر دیا کہ اس میں آتش کدہ یا گرجا یا وہاں شراب فروخت کی جائے توکوئی حرج نہیں کیونکہ اجارہ کا انعقاد مکان کی منفعت پر ہواہے اس میں کوئی گناہ نہیں ہےگناہ تو کرایہ دار کے فعل سے ہوا اھ(ملخصا)میں کہتاہوں جو غمز میں قنیہ سے اور جامع الرموز میں منیہ سے اور منح میں شمس الائمہ حلونی سے اور ردالمحتار میں غرر الافکار اس میں محیط سے اس میں حضرت امام اعظم رحمہ اﷲ تعالی سے منقول ہے کہ اجرت طیب ہوگی اگرچہ سبب حرام ہوکا یہی محمل ہے جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے ردالمحتار پر اپنے
(۲)جبکہ اس نے صرف مکان کرائے پر دیا ہےکرایہ داروں نے ہوٹل کیا اور افعال مذکورہ کرتے ہیں تو زید پر الزام نہیں " ولا تزر وازرۃ وزر اخری " (کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائیگی۔ت)اس صورت میں وہ کرایہ کے لئے جائز ہے۔اگر اس نے کسی اسلامی جگہ میں خاص اس غرض ناجائز کےلئے دیا تو گنہ گار ہےمگر کرایہ کہ منفعت مکان کے مقابل ہے نہ ان افعال کے اب بھی جائز ہےہدایہ میں ہے:
من اجر بیتا لیتخذ فیہ بیت ناراوکنیسۃ اویباع فیہ الخمر بالسواد فلا باس بہ لان الاجارۃ ترد علی منفعۃ البیت ولا معصیۃ فیہ انما المعصیۃ بفعل المستاجر ۱ھ(ملخصا)اقول: وھذا ھو محمل مافی الغمز عن القنیۃ وفی جامع الرموز عن المنیۃ وفی المنح عن شمس الائمۃ الحلوانیوفی ردالمحتار عن غرر الافکار عن المحیط عن الامام ان الاجر طیب و ان کان السبب حراما کما حققناہ فی ماعلی ردالمحتار علقناہ جس نے مکان کرایہ پر دیا کہ اس میں آتش کدہ یا گرجا یا وہاں شراب فروخت کی جائے توکوئی حرج نہیں کیونکہ اجارہ کا انعقاد مکان کی منفعت پر ہواہے اس میں کوئی گناہ نہیں ہےگناہ تو کرایہ دار کے فعل سے ہوا اھ(ملخصا)میں کہتاہوں جو غمز میں قنیہ سے اور جامع الرموز میں منیہ سے اور منح میں شمس الائمہ حلونی سے اور ردالمحتار میں غرر الافکار اس میں محیط سے اس میں حضرت امام اعظم رحمہ اﷲ تعالی سے منقول ہے کہ اجرت طیب ہوگی اگرچہ سبب حرام ہوکا یہی محمل ہے جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے ردالمحتار پر اپنے
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتاب الاشربہ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۶۱€وسنن ابن ماجہ ابواب الاشریہ باب لعنت الخمر علی عشرۃ اوجہ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۵۰€
جامع الترمذی ابواب البیوع باب ماجاء فی بیع الخمر الخ ∞امین کمپنی کراچی ۱/ ۱۵۵€
القرآن الکریم ∞۳۵/ ۱۸€
الہدایہ کتا ب الکراھیۃ فصل فی البیع ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۷۰€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۸€والاشباہ والظائر الفن الثالث الکلام فی مہر المثل ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۲۲€
جامع الترمذی ابواب البیوع باب ماجاء فی بیع الخمر الخ ∞امین کمپنی کراچی ۱/ ۱۵۵€
القرآن الکریم ∞۳۵/ ۱۸€
الہدایہ کتا ب الکراھیۃ فصل فی البیع ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۷۰€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۸€والاشباہ والظائر الفن الثالث الکلام فی مہر المثل ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۲۲€
فاحفظہ فانہ مزلۃ ومعضلۃ۔وا ﷲ تعالی اعلم۔ حاشیہ میں کی ہے اس کو محفوظ کرلویہ پھسلنے کا اور مشکل مقام ہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
(۳)یہ سب افعال اس سے جائز ہیں کہ صورت مذکورہ میں وہ آمدنی ناجائز نہیں۔کما تقدم۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۰۴ تا ۲۰۶: از پیلی بھیت محلہ احمد زئی مرسلہ مولوی عبدالسبحان صاحب ۱۲ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ:
(۱)امام جمعہ اور امام پنجوقتہ کا اکثر جگہوں پر تنخواہیں مقرر کرکے لینا جائز ہے یا نہیں
(۲)ختم کلام مبارك یعنی رمضان شریف میں نقدی ٹھہرانا جائز ہے یانہیں
(۳)تعلیم قرآن اور تعلیم فقہ واحادیث کی اجرت لینا جائز ہے یانہیں
الجواب:
(۱)جائز ہے مگر امامت کا ثواب نہ پائیں گے کہ امامت بیچ چکےواﷲ تعالی اعلم۔
(۲)تین چار باتیں کہ مستثنی ہیں ان میں ختم نہیںاس کے جواز کاحکم نہایت مشکل ہےواﷲ تعالی اعلم۔
(۳)جائز ہے اور ان کےلئے آخرت میں ان پر ثواب کچھ نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۷: از شفاخانہ فریدپور ڈاکخانہ خاص اسٹیشن پتیمبر پور ضلع بریلی مسئولہ عظیم اﷲ کمپونڈر ۸ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید نے ملازمت کیاور ملازمت کرنے کے بعد جو کچھ قاعدے تھے معلوم ہوئے کہ ان قانون پر نوکری کرنا ہوگااوقات کی پابندی بھی معلوم ہوگئیاگر زید ان قاعدوں کے خلاف کرے پورے وقت تك کام نہ کرے اورقاعدوں کے مطابق نہ کرےبلکہ کچھ وقت اپنے ذاتی کام میں صرف کردےتواس کو نوکری کاپیسہ کھانا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
جو جائز پابندیاں مشروط تھیں ان کا خلاف حرام ہےاور بکے ہوئے وقت میں اپنا کام کرنا بھی حرام ہے اور ناقص کام کرکے پوری تنخواہ لینا بھی حرام ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۸: از کلکتہ زکریا اسٹیٹ ۱۸ مسئولہ عبدالسعید ناگوری ۲۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند مسلمان اشخاص کی دکان شرکت میں کلکتہبمبئی یا کسی اور مقام پرہےدکان کی کل رقم میں تقریبا چہارم سود کا روپیہ لگاہواہےایسی دکان میں کسی مسلمان کو ملازمت
(۳)یہ سب افعال اس سے جائز ہیں کہ صورت مذکورہ میں وہ آمدنی ناجائز نہیں۔کما تقدم۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۰۴ تا ۲۰۶: از پیلی بھیت محلہ احمد زئی مرسلہ مولوی عبدالسبحان صاحب ۱۲ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ:
(۱)امام جمعہ اور امام پنجوقتہ کا اکثر جگہوں پر تنخواہیں مقرر کرکے لینا جائز ہے یا نہیں
(۲)ختم کلام مبارك یعنی رمضان شریف میں نقدی ٹھہرانا جائز ہے یانہیں
(۳)تعلیم قرآن اور تعلیم فقہ واحادیث کی اجرت لینا جائز ہے یانہیں
الجواب:
(۱)جائز ہے مگر امامت کا ثواب نہ پائیں گے کہ امامت بیچ چکےواﷲ تعالی اعلم۔
(۲)تین چار باتیں کہ مستثنی ہیں ان میں ختم نہیںاس کے جواز کاحکم نہایت مشکل ہےواﷲ تعالی اعلم۔
(۳)جائز ہے اور ان کےلئے آخرت میں ان پر ثواب کچھ نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۷: از شفاخانہ فریدپور ڈاکخانہ خاص اسٹیشن پتیمبر پور ضلع بریلی مسئولہ عظیم اﷲ کمپونڈر ۸ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید نے ملازمت کیاور ملازمت کرنے کے بعد جو کچھ قاعدے تھے معلوم ہوئے کہ ان قانون پر نوکری کرنا ہوگااوقات کی پابندی بھی معلوم ہوگئیاگر زید ان قاعدوں کے خلاف کرے پورے وقت تك کام نہ کرے اورقاعدوں کے مطابق نہ کرےبلکہ کچھ وقت اپنے ذاتی کام میں صرف کردےتواس کو نوکری کاپیسہ کھانا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
جو جائز پابندیاں مشروط تھیں ان کا خلاف حرام ہےاور بکے ہوئے وقت میں اپنا کام کرنا بھی حرام ہے اور ناقص کام کرکے پوری تنخواہ لینا بھی حرام ہےواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۸: از کلکتہ زکریا اسٹیٹ ۱۸ مسئولہ عبدالسعید ناگوری ۲۰ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند مسلمان اشخاص کی دکان شرکت میں کلکتہبمبئی یا کسی اور مقام پرہےدکان کی کل رقم میں تقریبا چہارم سود کا روپیہ لگاہواہےایسی دکان میں کسی مسلمان کو ملازمت
کرنا جائز ہے یا نہیںنیزاس کی آمدنی سے کسی مسجد یا مدرسہ وغیرہ کی اعانت ہوسکتی ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
اس دکان کی ملازمت اگر سود کی تحصیل وصول یا اس کا تقاضا کرنا یا اس کاحساب لکھنایا کسی اور فعل ناجائز کی ہے تو ناجائز ہے۔
قال تعالی " ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرو۔(ت)
صحیح مسلم شریف میں ہے:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل الربا و مؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ وقال ہم سواء ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سو دکھانے والےاورر سود دینے والے اور سودلکھنے والےاو ر سود کے گواہوں پراور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔
اوراگر کسی امر جائز کی نوکری ہے تو جائز ہےتنخواہ میں وہ روپیہ کہ بعینہ سود میں آیا ہو نہ لےاورمخلوط ونامعلوم ہو تو لے سکتاہے۔یونہی ایسے نامعلوم روپے سے مسجد ومدرسہ کی اعانت بھی ہوسکتی ہےخصوصا ایسی حالت میں کہ مال حلال غالب ہے۔
فی الہندیۃ عن الذخیرۃ عن محمد رضی اﷲ تعالی عنہ قال بہ نأخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہندیہ میں ذخیرہ سے وہاں امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے منقول ہے کہ ہمارا یہی موقف ہے جب تك کسی معین چیز کے حرام ہونے کا علم نہ ہو۔(ت)
مسئلہ ۲۰۹:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے معاہدہ اور وعدہ اقرار تقریری اور تحریری کیا تھا کہ اگر عمرو اپنے پاس سے خرچ کرکے کرے گا اور کامیابی ہوگی تو بجائے اس کے
الجواب:
اس دکان کی ملازمت اگر سود کی تحصیل وصول یا اس کا تقاضا کرنا یا اس کاحساب لکھنایا کسی اور فعل ناجائز کی ہے تو ناجائز ہے۔
قال تعالی " ولا تعاونوا علی الاثم والعدون ۪" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرو۔(ت)
صحیح مسلم شریف میں ہے:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اکل الربا و مؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ وقال ہم سواء ۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سو دکھانے والےاورر سود دینے والے اور سودلکھنے والےاو ر سود کے گواہوں پراور فرمایا وہ سب برابر ہیں۔
اوراگر کسی امر جائز کی نوکری ہے تو جائز ہےتنخواہ میں وہ روپیہ کہ بعینہ سود میں آیا ہو نہ لےاورمخلوط ونامعلوم ہو تو لے سکتاہے۔یونہی ایسے نامعلوم روپے سے مسجد ومدرسہ کی اعانت بھی ہوسکتی ہےخصوصا ایسی حالت میں کہ مال حلال غالب ہے۔
فی الہندیۃ عن الذخیرۃ عن محمد رضی اﷲ تعالی عنہ قال بہ نأخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہندیہ میں ذخیرہ سے وہاں امام محمد رحمہ اﷲ تعالی سے منقول ہے کہ ہمارا یہی موقف ہے جب تك کسی معین چیز کے حرام ہونے کا علم نہ ہو۔(ت)
مسئلہ ۲۰۹:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے معاہدہ اور وعدہ اقرار تقریری اور تحریری کیا تھا کہ اگر عمرو اپنے پاس سے خرچ کرکے کرے گا اور کامیابی ہوگی تو بجائے اس کے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۵/ ۲€
صحیحٰ مسلم کتاب البیوع باب الرباء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/۳۴۲€
صحیحٰ مسلم کتاب البیوع باب الرباء ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/۳۴۲€
دینے معاوضہ میں اپنے نصف مقدمہ میں سے مکان وغیرہ دوں گایعنی نصفا نصف پر تصفیہ ہوگیا تھااب جبکہ بفضلہ تعالی ابتداء تا انتہاء عمرو کی کوشش وجانفشانی اور کثیرروپیہ صرف کرنے کے بعد ہر طرح سے تمام و کمال کامیابی حاصل ہوگئیتو اب زید ایفائے وعدہ اور اقرارمعینہ کو پورا نہیں کرتاہے اور اوروں کے بہکانے سے گریز وانکار کرتاہےتو اس صور ت میں کل مسلمانوں کو زید اور اس کے بہکانے والوں سےکیا برتاؤکرناچاہئے اورجو زید اوراس کے بہکانے والے ایفائے وعدہ اور اقرارمعینہ کو پورا کریں توکیا اجر ملے گااور پورا نہ کرنے میں کیا سزا ہوگی بینوا توجروا
الجواب:
یہ معاہدہ شرعا فاسد ہےاور اس کا پورا کرنا شرعاجائز نہیںزید وعمرو دونوں کو ناجائز ہےعمرونے جتنا روپیہ صرف کیا وہ ذمہ زید قرض ہےاور جو کوشش کی اس کی اجرت مثل پائے گا یعنی ایسی کوشش پر کیا اجرت ہونی چاہئےیہ زرمجموعہ زید سے لے سکتاہے۔جائداد پر اس کا کوئی دعوی نہیں۔اور عقد فاسد کے ارتکاب سے دونوں گنہگار ہوئے توبہ کریںواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۱۰: از شہر بریلی محلہ کانکرٹولہ مسئولہ ظہور محمد خاں صاحب ۵ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو وبکر بذریعہ زمینداری ایك جگہ کے مالك ہیں اور زید مہتمم ومنتظم ذریعہ آمدنی زمینداری مذکور کا ہےاور خالد زید کی طرف سے کارپر داز ہےمنجملہ اراضی مذکورہ کے ایك قطعہ اراضی کی بابت باہم خالد کا رپرداز زید وعبداﷲ کے معاہدہ ہواکہ ایك مدت تك پاس عبداﷲ کرایہ پر رہے گی اور عبداﷲ کرایہ ماہ بماہ بحالت خالی رہنے اور کام لانے کی صورت میں زید کو ادا کرے گا اور قبل معاہدہ جو عیب کہ اراضی مذکورہ میں تھا خالد نے عبداﷲ پر ظاہر کردیا تھا یعنی عبداﷲ سے کہہ دیا تھا کہ سابق میں جو کرایہ دار اس اراضی پربیٹھا تھا اس پر اعتراض محکمہ چنگی کی طرف سے ثابت نہ بیٹھنے اس اراضی پر ہوچکا ہے چنانچہ اس کے جواب میں عبداﷲ نے خالد سے کہہ دیا تھا کہ اس معاملہ میں جو کچھ ہوگا میں دیکھ لوں گابعد گزرنے تخمینا چار ماہ کے وہ صورت عیب کی جس کو خالد نے عبداﷲ پر ظاہرکردیا تھا عبداﷲ پر پیش ہوئی اور حاکم وقت کی طرف سے عبداﷲ کو جو انتظام کہ اراضی مذکورہ میں عبداﷲ کرنا چاہتا تھاا ور کررہا تھا۔نہ کرنے پر مجبور کیا گیا اور عبداﷲ پر مقدمہ قائم ہوکر ایك روپیہ جرمانہ ہوااس واقعہ کے چند روز کے بعد اراضی مذکورہ کو خالی کردیاخالد کا رپرداز زیدنے عبداﷲ سے کوئی عہد شکنی نہیں کیاب عبداﷲ کو کرایہ خالی اراضی کا دینے میں عذر ہےبلکہ جنتی مدت عبداﷲ کا واقعی قبضہ رہا اس قدر بھی کرایہ دینے پر رضامند نہیںجرمانہ کا روپیہ اور خرچ مقدمہ میں جوروپیہ صرف ہوا ہے اس کی نسبت کہتے ہیں کہ
الجواب:
یہ معاہدہ شرعا فاسد ہےاور اس کا پورا کرنا شرعاجائز نہیںزید وعمرو دونوں کو ناجائز ہےعمرونے جتنا روپیہ صرف کیا وہ ذمہ زید قرض ہےاور جو کوشش کی اس کی اجرت مثل پائے گا یعنی ایسی کوشش پر کیا اجرت ہونی چاہئےیہ زرمجموعہ زید سے لے سکتاہے۔جائداد پر اس کا کوئی دعوی نہیں۔اور عقد فاسد کے ارتکاب سے دونوں گنہگار ہوئے توبہ کریںواﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۱۰: از شہر بریلی محلہ کانکرٹولہ مسئولہ ظہور محمد خاں صاحب ۵ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید وعمرو وبکر بذریعہ زمینداری ایك جگہ کے مالك ہیں اور زید مہتمم ومنتظم ذریعہ آمدنی زمینداری مذکور کا ہےاور خالد زید کی طرف سے کارپر داز ہےمنجملہ اراضی مذکورہ کے ایك قطعہ اراضی کی بابت باہم خالد کا رپرداز زید وعبداﷲ کے معاہدہ ہواکہ ایك مدت تك پاس عبداﷲ کرایہ پر رہے گی اور عبداﷲ کرایہ ماہ بماہ بحالت خالی رہنے اور کام لانے کی صورت میں زید کو ادا کرے گا اور قبل معاہدہ جو عیب کہ اراضی مذکورہ میں تھا خالد نے عبداﷲ پر ظاہر کردیا تھا یعنی عبداﷲ سے کہہ دیا تھا کہ سابق میں جو کرایہ دار اس اراضی پربیٹھا تھا اس پر اعتراض محکمہ چنگی کی طرف سے ثابت نہ بیٹھنے اس اراضی پر ہوچکا ہے چنانچہ اس کے جواب میں عبداﷲ نے خالد سے کہہ دیا تھا کہ اس معاملہ میں جو کچھ ہوگا میں دیکھ لوں گابعد گزرنے تخمینا چار ماہ کے وہ صورت عیب کی جس کو خالد نے عبداﷲ پر ظاہرکردیا تھا عبداﷲ پر پیش ہوئی اور حاکم وقت کی طرف سے عبداﷲ کو جو انتظام کہ اراضی مذکورہ میں عبداﷲ کرنا چاہتا تھاا ور کررہا تھا۔نہ کرنے پر مجبور کیا گیا اور عبداﷲ پر مقدمہ قائم ہوکر ایك روپیہ جرمانہ ہوااس واقعہ کے چند روز کے بعد اراضی مذکورہ کو خالی کردیاخالد کا رپرداز زیدنے عبداﷲ سے کوئی عہد شکنی نہیں کیاب عبداﷲ کو کرایہ خالی اراضی کا دینے میں عذر ہےبلکہ جنتی مدت عبداﷲ کا واقعی قبضہ رہا اس قدر بھی کرایہ دینے پر رضامند نہیںجرمانہ کا روپیہ اور خرچ مقدمہ میں جوروپیہ صرف ہوا ہے اس کی نسبت کہتے ہیں کہ
مالکان اراضی پر ہونا چاہئےایسی صورت میں عبداﷲ کو بموجب تحریر کرایہ نامہ کے کرایہ ادا کرنا چاہئے یا اراضی خالی کرنے کی تاریخ تکیا جرمانہ کا ایك روپیہ اور مقدمہ میں جو خرچ ہوا تھا وہ مجری کرکے ادا کرنا چاہئےاور خالد کو بھی بموجب کرایہ کے وصول کرنا چاہئے یا کس قدر اور عبداﷲ وزید وعمرو سب مسلمان بھی ہیں۔
الجواب:
جرمانہ وخرچ مقدمہ ذمہ مالکان ڈالنا ظلم محض ہے۔
قال اﷲ تعالی " ولا تزر وازرۃ وزر اخری
" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:کوئی بوجھ اٹھانے والی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔(ت)
فتاوی خیریہ میں ہے:
دفع مغارم سلطانیۃ بغیر اذن شریکہ لایلزم شریکہ شیئ ممادفع حیث لم یاذن لہ بالدفع لیرجع علیہ بحصۃ منہا ۔ اپنے شریك کی اجازت کے بغیر سرکاری جرمانہ دیا تو جو کچھ دیا شریك اس کا ذمہ دار نہ ہو گالہذا اداکرنے والا شریك سے جرمانہ کاحصہ وصول کرنے کا حقدار نہ ہوگا۔(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
لحقھم خسران بسبب الدعوی غرمہ احدھم بعد ماقال لہ الباقون ادفع ذلك مہما غرمت فعلینا بقدر حصتنا فدفعہ ویرید الرجوع علیہم بقدر حصتہم فلہ ذلك اھفقد شرط للرجوع فاذا کان ھذا فی الشرکاء فکیف ھنا۔ باقی شرکاء نےکہہ دیا کہ جو ٹیکس لاگو ہو تو ادا کردینا ہم اپنا حصہ ادا کردیں گے تو اس نے ادا کردیا اب یہ باقی حضرات سے ان کے حصے کے مطابق وصول کرنا چاہے تو اس کویہ حق ہے ان حضرات کے اس دعوی کے مطابق یہ ادائیگی برداشت کرنی ہوگی اھ تو جب وصول کرنے کی شرط مفقود ہو اور معاملہ بھی شرکاء میں ہے تو یہاں کیسے ہوسکتاہے۔(ت)
حسب بیان سائل زمین سے ٹال رکھنا مقصود تھااور چنگی نے اس سے ممانعت کردی
الجواب:
جرمانہ وخرچ مقدمہ ذمہ مالکان ڈالنا ظلم محض ہے۔
قال اﷲ تعالی " ولا تزر وازرۃ وزر اخری
" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:کوئی بوجھ اٹھانے والی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔(ت)
فتاوی خیریہ میں ہے:
دفع مغارم سلطانیۃ بغیر اذن شریکہ لایلزم شریکہ شیئ ممادفع حیث لم یاذن لہ بالدفع لیرجع علیہ بحصۃ منہا ۔ اپنے شریك کی اجازت کے بغیر سرکاری جرمانہ دیا تو جو کچھ دیا شریك اس کا ذمہ دار نہ ہو گالہذا اداکرنے والا شریك سے جرمانہ کاحصہ وصول کرنے کا حقدار نہ ہوگا۔(ت)
عقود الدریہ میں ہے:
لحقھم خسران بسبب الدعوی غرمہ احدھم بعد ماقال لہ الباقون ادفع ذلك مہما غرمت فعلینا بقدر حصتنا فدفعہ ویرید الرجوع علیہم بقدر حصتہم فلہ ذلك اھفقد شرط للرجوع فاذا کان ھذا فی الشرکاء فکیف ھنا۔ باقی شرکاء نےکہہ دیا کہ جو ٹیکس لاگو ہو تو ادا کردینا ہم اپنا حصہ ادا کردیں گے تو اس نے ادا کردیا اب یہ باقی حضرات سے ان کے حصے کے مطابق وصول کرنا چاہے تو اس کویہ حق ہے ان حضرات کے اس دعوی کے مطابق یہ ادائیگی برداشت کرنی ہوگی اھ تو جب وصول کرنے کی شرط مفقود ہو اور معاملہ بھی شرکاء میں ہے تو یہاں کیسے ہوسکتاہے۔(ت)
حسب بیان سائل زمین سے ٹال رکھنا مقصود تھااور چنگی نے اس سے ممانعت کردی
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۳۵/ ۱۸€
فتاوٰی خیریۃ
العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۴۳€
فتاوٰی خیریۃ
العقود الدریۃ کتاب الدعوٰی ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۴۳€
تو جب تك ٹال رہی اس کا کرایہ ضرور واجب ہےاور جب سے خالی کردی اس کا اصلا استحقاق نہیںاس بیچ میں جتنے دن عبداﷲ کے قبضے میں رہیاگر اس میں کوئی انتفاع اس نے زمین سے حاصل کیااس کے حساب سے کرایہ دے گا ورنہ نہیںاور دونوں صورتوں کا کرایہ مثل دے گا جو اجر مسمی یعنی کرایہ قرار یافتہ سے زائد نہ ہومثلا اجر مثلی یعنی بازاری نرخ سے اس کام کے لئے کرایہ مثل دے گا جو ماہوار ہےاور ٹھہرا روپیہ یا روپیہ سے زیادہ تو روپیہ دے گااور ٹھہرا بارہ آنے تو بارہ ہی آنے دے گا۔اس لئے کہ یہ اجارہ اس قرارداد پر ہو اکہ اگر چنگی ممانعت کردے مالکان زمین کو اس سے بحث نہیں عبداﷲ کرایہ دے گایہ شرط خلاف مقتضائے عقد ہے اس سے اجارہ فاسد ہوگا۔فریقین پر اس کا فسخ واجب تھا کہ ازالہ گناہ لازم ہےاور اجارہ فاسد میں اجر مثل لازم آتاہے کہ اجر مسمی سے زائد نہ ہومتن ہدایہ میں ہے:
لاانفطع ماء الرحی والبیت مما ینتفع بہ لغیرا الطحن فعلیہ من الاجر بحصتہ ۔ اگر آٹے کی چکی کاپانی منقطع ہوجائے اور وہ کمرہ پسائی کے بغیر بھی قابل انتفاع ہے تو اس نفع کے حصہ کا اجر کرایہ دارپر لازم ہے۔(ت)
تبیین الحقائق میں ہے:
فاذا استوفاہ لزمتہ حصتہ ۔ اگر اس نے فائدہ پایا ہو تو اتنے کا معاوضہ لازم ہوگا۔(ت)
اس مسئلہ کی غایت تحقیق وتنقیح فتاوی میں ملاحظہ ہوخلاصہ میں ہے:
وفی مجموع النوازل استاجر حماما بدل معلوم ان علیہ الاجر حال جریانہ وانقطاعہ فہذا الشرط مخالف لمقتضی عقد الاجارۃ فیفسد ۔ مجموع النوازل میں ہے کہ ایك حمام مقررہ کرایہ پر لیا ا س شرط پر کہ چالو ہو یا نہ ہو ہر حال میں کرایہ لازم ہوگا تو یہ شرط مقتضی عقد کے خلاف ہے لہذا اجارہ فاسد ہوگا۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
لاانفطع ماء الرحی والبیت مما ینتفع بہ لغیرا الطحن فعلیہ من الاجر بحصتہ ۔ اگر آٹے کی چکی کاپانی منقطع ہوجائے اور وہ کمرہ پسائی کے بغیر بھی قابل انتفاع ہے تو اس نفع کے حصہ کا اجر کرایہ دارپر لازم ہے۔(ت)
تبیین الحقائق میں ہے:
فاذا استوفاہ لزمتہ حصتہ ۔ اگر اس نے فائدہ پایا ہو تو اتنے کا معاوضہ لازم ہوگا۔(ت)
اس مسئلہ کی غایت تحقیق وتنقیح فتاوی میں ملاحظہ ہوخلاصہ میں ہے:
وفی مجموع النوازل استاجر حماما بدل معلوم ان علیہ الاجر حال جریانہ وانقطاعہ فہذا الشرط مخالف لمقتضی عقد الاجارۃ فیفسد ۔ مجموع النوازل میں ہے کہ ایك حمام مقررہ کرایہ پر لیا ا س شرط پر کہ چالو ہو یا نہ ہو ہر حال میں کرایہ لازم ہوگا تو یہ شرط مقتضی عقد کے خلاف ہے لہذا اجارہ فاسد ہوگا۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب الاجارۃ باب فسخ الاجارۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۳۱۳€
تبیین الحقائق کتاب الاجارۃ باب فسخ الاجارۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۵/ ۱۴۴€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الاجارۃ الفصل الثالث ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۱۲۱€
تبیین الحقائق کتاب الاجارۃ باب فسخ الاجارۃ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ ∞بولاق مصر ۵/ ۱۴۴€
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الاجارۃ الفصل الثالث ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۱۲۱€
لو شرط شرطا فاسد اقبل العقد ینبغی الفساد لو انتقا علی بناء العقد علیہ کما صرحوا بہ فی بیع الہزل۔وقدسئل الخیرا لرملی عن رجلین تواضعا علی بیع الوفاء قبل عقدہ وعقد اخالیا عن الشرط فاجاب بانہ صرح فی الخلاصۃ والفیض والتتارخانیۃ وغیرھا بانہ یکون علی ماتواضعا اھ اماما فی الدر استاجر رحی فمنعہ الجیران عن الطحن لتوہین البناء وحکم القاضی بمنعہ ھل تسقط حصتہ مدۃ المنع قال لا۔مالم یمنع حسامن الطحن اھ قال ط ثم ش المراد و اﷲ تعالی اعلم ان یحال بینہ وبین الدوارۃ فلا یقدر علیھا اھ فکتبت علیہ اقول: یجب حملہ علی مااذا کان منع القاضی جبرا لخاطر الجیران لا حکما حتما لو خالفہ اگر فاسد شرط لگائی اگرچہ عقد سے قبل لگائی ہو اور اس کو فریقین عقد کی بنیاد بنائیں تو فساد ہوگا جیسا کہ فقہاء نے مذاقیہ بیع میں اس کی تصریح کی ہےعلامہ خیر الدین رملی سے سوال ہوا کہ دو حضرات نے بیع الوفاء کو عقد سے قبل طے کرلیا اور پھر عقد کے وقت شرط کا ذکر نہ کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ خلاصہفیضتتارخانیہ وغیرہ میں تصریح کی گئی ہے کہ وہ بیع طےکردہ شرط پر مانی جائے گی اھلیکن جو درمختار میں ہے کہ کسی نے آٹے کی پن چکی کرایہ پرلی اور پڑوسی نے اپنی عمارت کے نقصان کے خدشہ سے پسائی سے روك دیا اور قاضی نے روك دینے کاحکم دیا ہو تو کیااس روکنے کی مدت کا کرایہ ساقط ہوگاتو فرمایا کہ ساقط نہ ہوگا جب تك عملا نہ روك دےاھ اس پر طحطاوی نے پھر شامی نے فرمایا کہ عملا روك دینے کا مطلب یہ ہےواﷲ تعالی اعلم۔کہ ایسی رکاوٹ ڈالی جائے کہ چکی چلانے پر قدرت نہ ہواھمیں نے اس پرلکھا ہے میں کہتاہوںاس کو اس صور ت پر محمول کرنا ضروری ہے جس میں قاضی پڑوسی کی درخواست پر منع کردے نہ کہ ایسی صورت پر کہ یہ قاضی کے
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۲۱€
درمختار کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۶€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۷€
درمختار کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۶€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب مایجوز من الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۷€
لصادرہ اور عزرہ کیف وقد صرحوا قاطبۃ ان لحوق ضرر غیر مستحق بالعقد عذر یفسخ بہوھذا منہ لاشکواﷲ تعالی اعلم۔ حکم کی خلاف ورزی کرئے اور قاضی اس کو تعزیر لگائے کیونکہ سب نے تصریح کی ہے کہ ایسا ضرر جو عقد میں شامل نہ ہواس کا پایا جانا ایسا عذر ہے جس کی وجہ سے فسخ ہوسکے گا اور تعزیر والی صورت ایسا ہی عذر ہےواﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۱۱: از موضع دلیل گنج تھانہ امریا پرگنہ جہاں آباد مسئولہ محب اﷲ صاحب ضلعدار ۲۵ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر مسلمان اس ضلع پیلی بھیت میں کاشت موروثی کو جس کی نقشی پختہ ہے گرو رکھتے ہیں اور کچھ روپیہ اصلی کا شتکار کو دے کر اس کی علیحدہ تحریر کرالیتے ہیںاو رزمین کو اپنی کاشت میں رکھ کر اس سے نفع اٹھاتے ہیں اور نقشی کا روپیہ زمیندار کو خود ادا کرتے رہتے ہیںاورا س میں معاہدہ ہوتاہے کہ دو سال تك یا پانچ سال تك باوجود موجود ہونے روپیہ کے اصلی کاشتکار زمین کو نہیں چھڑا سکتامگر بعدگزرنے معاہدہ کے کاشتکا ر اصلی روپیہ کل ادا کرکے زمین گروسے چھڑا سکتاہےاور بعض بعض شخص اصلی روپیہ میں سے ایك روپیہ سال یا ۸ سال کم بھی لے لیتے ہیںاور کہتے ہیں کہ علماء نے اس صور ت میں زمین کا گرو رکھنا جائز قرار دیا ہے بینوا توجروا
الجواب:
اصلی کاشتکار زمین کا مالك نہیں ہوتا ملك زمیندار ہے وہ مستاجر ہےجب اس نے دوسرے کے پاس گروی رکھی اور زمیندارکی باقی اس دوسرے نے دی اور زمیندارنے اس سے قبول کیتو یہ رہن کی اجازت نہ ہوئیرہن واجارہ جمع نہیں ہوسکتےبلکہ اب یہ دوسرا شخص مستاجر ہوگیااب وہ پہلا جدا ہے اس پر اس دوسرے کا صرف خالص قرض رہاوہ جب دے اسے قبول کرنا لازم ہوگااور زمین چھوڑنا کسی وقت ضرور نہیںاس زمین سے کاشت کار اصلی کو کوئی تعلق نہ رہاواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۱: از موضع دلیل گنج تھانہ امریا پرگنہ جہاں آباد مسئولہ محب اﷲ صاحب ضلعدار ۲۵ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر مسلمان اس ضلع پیلی بھیت میں کاشت موروثی کو جس کی نقشی پختہ ہے گرو رکھتے ہیں اور کچھ روپیہ اصلی کا شتکار کو دے کر اس کی علیحدہ تحریر کرالیتے ہیںاو رزمین کو اپنی کاشت میں رکھ کر اس سے نفع اٹھاتے ہیں اور نقشی کا روپیہ زمیندار کو خود ادا کرتے رہتے ہیںاورا س میں معاہدہ ہوتاہے کہ دو سال تك یا پانچ سال تك باوجود موجود ہونے روپیہ کے اصلی کاشتکار زمین کو نہیں چھڑا سکتامگر بعدگزرنے معاہدہ کے کاشتکا ر اصلی روپیہ کل ادا کرکے زمین گروسے چھڑا سکتاہےاور بعض بعض شخص اصلی روپیہ میں سے ایك روپیہ سال یا ۸ سال کم بھی لے لیتے ہیںاور کہتے ہیں کہ علماء نے اس صور ت میں زمین کا گرو رکھنا جائز قرار دیا ہے بینوا توجروا
الجواب:
اصلی کاشتکار زمین کا مالك نہیں ہوتا ملك زمیندار ہے وہ مستاجر ہےجب اس نے دوسرے کے پاس گروی رکھی اور زمیندارکی باقی اس دوسرے نے دی اور زمیندارنے اس سے قبول کیتو یہ رہن کی اجازت نہ ہوئیرہن واجارہ جمع نہیں ہوسکتےبلکہ اب یہ دوسرا شخص مستاجر ہوگیااب وہ پہلا جدا ہے اس پر اس دوسرے کا صرف خالص قرض رہاوہ جب دے اسے قبول کرنا لازم ہوگااور زمین چھوڑنا کسی وقت ضرور نہیںاس زمین سے کاشت کار اصلی کو کوئی تعلق نہ رہاواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۲ عــــــہ: از احمد آباد گجرات محلہ جمال پورہ متصل مسجد کارنج مرسلہ مولانا عبدالرحیم صاحب ۱۶ شوال ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ یہاں شہر احمد آباد میں بعض"حافظ القرآن"حضرات اہلسنت وجماعت کے مکانوں پر سوم وچہم منانے جاتے ہیںاور"کلام مجید"پڑھ کر اموات کی خدمت میں ایصال ثواب کرتے ہیں اور وہاں سے اجرت لیتے ہیں اور اس میں جہلاء بہت ثواب سمجھتے ہیںآیا یہ ایصال ثواب کرکے اجرت لنا جائز ہے یا حرام ہے۔
اجرت لے کر ایصال ثواب کرے تو اموات کی خدمات میں ثواب پہنچتاہے یانہیں
اور جو حافظ القرآن اجرت لے کر ثواب کرنے کے لئے احباب اہلسنت وجماعت کے مکانوں پر تشریف لے جاتے ہیں ان کے پیچھے نمازی پڑھنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
اجرت پر کلام اﷲ شریف بغرض ایصال ثواب پڑھنا پڑھوانا دونوں ناجائز ہےاور پڑھنے والا اور پڑھوانے والا دونوں گنہ گار۔اور اس میں میت کے لئے کوئی نفع نہیںبلکہ اس کی مرضی وصیت سے ہوتو وہ بھی وبال میں گرفتار۔
قال اﷲ تعالی " ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا ۫" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اورمیری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو۔(ت)
اور یہ کہنا کہ ہم اﷲ کے لئے پڑھتے ہیں اور دینے والے بھی ہمیں اﷲ کے لئے دیتے ہیں محض جھوٹ ہے۔اگریہ نہ پڑھیں تو وہ ایك حبہ ان کو نہ دیںاور اگر وہ نہ دیں تو یہ ایك صفحہ نہ پڑھیںاور شرع مطہر کا قاعدہ کلیہ المعروف کالمشروط (معروف مشروط کی طرح ہے۔ت)بلکہ اس ظاہری
عــــــہ: ھذہ الفتوی وثلثۃ بعدہ کانت متفرقۃ فی ابواب شتی ماعدا باب الاجارۃ فی الجلد الثامن ۱۲ عبدالمنان اعظمی آٹھویں جلد(قدیمجدید ۱۹)میں یہ او اس کے بعد کے تین فتوے مختلف ابواب میں متفرق تھے ان کو اجارہ میں یہاں منتقل کیا گیا ہے۔عبدالمنان اعظمی(ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ یہاں شہر احمد آباد میں بعض"حافظ القرآن"حضرات اہلسنت وجماعت کے مکانوں پر سوم وچہم منانے جاتے ہیںاور"کلام مجید"پڑھ کر اموات کی خدمت میں ایصال ثواب کرتے ہیں اور وہاں سے اجرت لیتے ہیں اور اس میں جہلاء بہت ثواب سمجھتے ہیںآیا یہ ایصال ثواب کرکے اجرت لنا جائز ہے یا حرام ہے۔
اجرت لے کر ایصال ثواب کرے تو اموات کی خدمات میں ثواب پہنچتاہے یانہیں
اور جو حافظ القرآن اجرت لے کر ثواب کرنے کے لئے احباب اہلسنت وجماعت کے مکانوں پر تشریف لے جاتے ہیں ان کے پیچھے نمازی پڑھنا جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
اجرت پر کلام اﷲ شریف بغرض ایصال ثواب پڑھنا پڑھوانا دونوں ناجائز ہےاور پڑھنے والا اور پڑھوانے والا دونوں گنہ گار۔اور اس میں میت کے لئے کوئی نفع نہیںبلکہ اس کی مرضی وصیت سے ہوتو وہ بھی وبال میں گرفتار۔
قال اﷲ تعالی " ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا ۫" ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اورمیری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو۔(ت)
اور یہ کہنا کہ ہم اﷲ کے لئے پڑھتے ہیں اور دینے والے بھی ہمیں اﷲ کے لئے دیتے ہیں محض جھوٹ ہے۔اگریہ نہ پڑھیں تو وہ ایك حبہ ان کو نہ دیںاور اگر وہ نہ دیں تو یہ ایك صفحہ نہ پڑھیںاور شرع مطہر کا قاعدہ کلیہ المعروف کالمشروط (معروف مشروط کی طرح ہے۔ت)بلکہ اس ظاہری
عــــــہ: ھذہ الفتوی وثلثۃ بعدہ کانت متفرقۃ فی ابواب شتی ماعدا باب الاجارۃ فی الجلد الثامن ۱۲ عبدالمنان اعظمی آٹھویں جلد(قدیمجدید ۱۹)میں یہ او اس کے بعد کے تین فتوے مختلف ابواب میں متفرق تھے ان کو اجارہ میں یہاں منتقل کیا گیا ہے۔عبدالمنان اعظمی(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲/ ۴۱€
درمختار کتاب الاجارہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۸۲،€الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۳۱€
درمختار کتاب الاجارہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۸۲،€الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۳۱€
شرط نہ کرنے سے ایك اور خباثت بڑھ جاتی ہے اجارہ جو امر جائز پر ہو وہ بھی اگر بے تعین اجرت ہو تو بوجہ جہالت اجارہ فاسدہ اور عقد حرام ہےنہ کہ وہ اجارہ کو خودناجائز تھاوہ تو حرام درحرام ہوگیایہ حاوی جس میں یہ بیہودہ حکم ۴۵ درم والا لکھا ہےحاوی قدسی نہیںحاوی زاہذا ہےکما فی ردالمحتار (جیسا کہ ردالمحتارمیں ہے۔ت)اور یہ زاہدی ایك معتزلی بدمذہب تھاکما فی الردالمختار فی الاسفار (جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ کتب میں ہے۔ت)اور اس کا یہ حکم قوانین شرع سے محض جدااو ر یہ تجدیدشرع مطہر پر صریح افتراء ہے۔
جو حافظ اس کا پیشہ رکھے فاسق معلن ہےاور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمیکہ اسے امام بنانا گناہ اور جو نماز اس کے پیچھے پڑھی ہو اس کا پھیرنا واجبہاں اگر اس کی حلت چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے یہ پڑھوانے والے وقت معین کے ساتھ مثلا روزانہ صبح کے ۷بجے سے ۱۰ بجے تك اور شام ۲ بجے سے ۴ بجے تکیا جو وقت مقرر کریںایك اجرت معینہ پر مثلا ۴ روز یا جو قرار پائےان حافظوں کو اپنے کار خدمت کے لئے نوکررکھیںاس وقت معین کے لئے یہ ان کے ملازم ہوگئے انھوں اختیار ہے جو کام چاہیں لیںازاں جملہ یہ کہ فلاں میت کے لئے قرآن عظیم پڑھواب یہ حلال ہےدینا واجب اور لینا رواکہ اب یہ اجارہ قرآن خوانی پر نہیںبلکہ ان حافظوں کے منافع نفس پر ہےیہاں تك کہ اگر یہ اس وقت مقرر پر پابندی کے ساتھ حاضر رہیں اور مستاجرین ان سے کچھ کام نہ لیںجب بھی تنخواہ واجب ہوگی۔
لان المستحق علیہم انما کان تسلیم النفس وقد حصل کما ھو حکم"اجیر الواحد"۔واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ وہ پابندتھے کہ اپنے نفس کو سونپ دیںاور یہ کام ہوگیا جیسا کہ اجیر خاص کا حکم ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۱۳: از شہر محلہ ملوکپور مسئولہ مولوی امیر اﷲ صاحب ۲۶ ذوالحجہ ۱۳۲۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص ۵ روپیہ ماہوار کا نوکر تھا اس نے خود نوکری ترك کردیرقعہ کے ذریعہ سے بقیہ تنخواہ مانگیذیقعدہ سنہ حال کی ۲۸ سے چھوڑیچنانچہ عبارات اس کی بلفظہ درج ہے:"میں نے ۲۸ ذیقعدہ بروز پنچشبنہ کو
جو حافظ اس کا پیشہ رکھے فاسق معلن ہےاور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمیکہ اسے امام بنانا گناہ اور جو نماز اس کے پیچھے پڑھی ہو اس کا پھیرنا واجبہاں اگر اس کی حلت چاہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے یہ پڑھوانے والے وقت معین کے ساتھ مثلا روزانہ صبح کے ۷بجے سے ۱۰ بجے تك اور شام ۲ بجے سے ۴ بجے تکیا جو وقت مقرر کریںایك اجرت معینہ پر مثلا ۴ روز یا جو قرار پائےان حافظوں کو اپنے کار خدمت کے لئے نوکررکھیںاس وقت معین کے لئے یہ ان کے ملازم ہوگئے انھوں اختیار ہے جو کام چاہیں لیںازاں جملہ یہ کہ فلاں میت کے لئے قرآن عظیم پڑھواب یہ حلال ہےدینا واجب اور لینا رواکہ اب یہ اجارہ قرآن خوانی پر نہیںبلکہ ان حافظوں کے منافع نفس پر ہےیہاں تك کہ اگر یہ اس وقت مقرر پر پابندی کے ساتھ حاضر رہیں اور مستاجرین ان سے کچھ کام نہ لیںجب بھی تنخواہ واجب ہوگی۔
لان المستحق علیہم انما کان تسلیم النفس وقد حصل کما ھو حکم"اجیر الواحد"۔واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ وہ پابندتھے کہ اپنے نفس کو سونپ دیںاور یہ کام ہوگیا جیسا کہ اجیر خاص کا حکم ہے۔واﷲ تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۲۱۳: از شہر محلہ ملوکپور مسئولہ مولوی امیر اﷲ صاحب ۲۶ ذوالحجہ ۱۳۲۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص ۵ روپیہ ماہوار کا نوکر تھا اس نے خود نوکری ترك کردیرقعہ کے ذریعہ سے بقیہ تنخواہ مانگیذیقعدہ سنہ حال کی ۲۸ سے چھوڑیچنانچہ عبارات اس کی بلفظہ درج ہے:"میں نے ۲۸ ذیقعدہ بروز پنچشبنہ کو
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۶€
ردالمحتار
ردالمحتار
کام چھوڑااسی ماہ مذکور کی تنخواہ چاہی ہے"چونکہ یہ ذیقعدہ ۳۰ کا ہوا تو ۲۸۲۹۳۰ تین دن کی تنخواہ منہا ہونی چاہئے یا یك دن ہفتہ کیجمعہ کی تعطیل تھیترك توروزگار کے بعد بھی تعطیل جمعہ وجمعرات ملنا چاہئےیا ۲۷ یو م کی واجب ہے اتنے دن کی تنخواہ مجموع آٹھ آنہ ہوئےایك دن کی ۰۲/۲ پائی ہوتے ہیںوہ کہتے ہیں ۰۲/۲ پائی کا ٹو اور دو دن تعطیل کے مجھے ملناچاہئےآیا یہ قاعدہ شرعی یا عرفی وغیرہ ہے بینوا توجروا
الجواب:
ایام تعطیل کی تنخوہ بحال ملازمت ملتی ہے۔شرعا عرفا یہی قاعدہ ہےاگر ترك ملازمت تاریخ ۲۸ سے ہوا تو تین دن کی تنخواہ کا وہ مستحق نہیں
فان البطالۃ ترفیۃ عما علیہ من الاشتغال وبعد ترك الاجارۃ لاشغل علیہ فلا ترفیۃ فلا اجرۃ۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ کیونکہ تعطیل لازمی مشغولیت سے آرام کے لئے ہوتی ہے تو اجارہ ختم ہونے کے بعد کوئی مشغولیت نہ رہی توآرام کا ہے کا تو اجرت کا استحقاق نہ رہا واﷲ تعالی اعل وعلمہ جل مجدہ واتم واحکم۔(ت)
مسئلہ ۲۱۴: مسئولہ احمد حنس بنگالی طالب علم مدرسہ اہل سنت وجماعت ۲۸ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
واعظ یا حافظ نے وعظ یا قرآن ختم کیا اور بغیر طلب کے اگر کسی نے کچھ دیا تو اس کے لئے جائز ہے یانہیں
الجواب:
جائز ہے اگر نہ مشروط ہو نہ معروفورنہ واعظ کے لئے علی الاختلاف جائزاور قرآن خوانی پر بالاتفاق ممنوع علی مانقلہ "ط" حققہ علامۃ الشامی فی ردالمحتار (طحطاوی کی نقل پر جس کو علامہ شامی نے ردالمحتار میں ثابت رکھاہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۵: از بنگالہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص کسی مقدمہ کے اندر گرفتار ہوکر کے کسی دوسرے شخص سے اپنی حالت کے واسطے دعا کروائےاور بھی اس دعاخواں کو کچھ روپیہ چاہئے یانہیں اور ان کو روپیہ لینا حلاال ہے یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
ایام تعطیل کی تنخوہ بحال ملازمت ملتی ہے۔شرعا عرفا یہی قاعدہ ہےاگر ترك ملازمت تاریخ ۲۸ سے ہوا تو تین دن کی تنخواہ کا وہ مستحق نہیں
فان البطالۃ ترفیۃ عما علیہ من الاشتغال وبعد ترك الاجارۃ لاشغل علیہ فلا ترفیۃ فلا اجرۃ۔واﷲ تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ کیونکہ تعطیل لازمی مشغولیت سے آرام کے لئے ہوتی ہے تو اجارہ ختم ہونے کے بعد کوئی مشغولیت نہ رہی توآرام کا ہے کا تو اجرت کا استحقاق نہ رہا واﷲ تعالی اعل وعلمہ جل مجدہ واتم واحکم۔(ت)
مسئلہ ۲۱۴: مسئولہ احمد حنس بنگالی طالب علم مدرسہ اہل سنت وجماعت ۲۸ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
واعظ یا حافظ نے وعظ یا قرآن ختم کیا اور بغیر طلب کے اگر کسی نے کچھ دیا تو اس کے لئے جائز ہے یانہیں
الجواب:
جائز ہے اگر نہ مشروط ہو نہ معروفورنہ واعظ کے لئے علی الاختلاف جائزاور قرآن خوانی پر بالاتفاق ممنوع علی مانقلہ "ط" حققہ علامۃ الشامی فی ردالمحتار (طحطاوی کی نقل پر جس کو علامہ شامی نے ردالمحتار میں ثابت رکھاہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۵: از بنگالہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص کسی مقدمہ کے اندر گرفتار ہوکر کے کسی دوسرے شخص سے اپنی حالت کے واسطے دعا کروائےاور بھی اس دعاخواں کو کچھ روپیہ چاہئے یانہیں اور ان کو روپیہ لینا حلاال ہے یا نہیں بینوا توجروا
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۴€
حلال ہے اگر کچھ نہ دینے کا ذکر آیانہ عرف ورواج کی راہ سے معاوضہ ثابت تھااو ریونہی بطور حسن سلوك اسے کچھ دے دیا جب تو خود ظاہر کہ اسے لینے میں اصلا حرج نہیں یہاں تك کہ اگر کوئی شخص کسی نمازی کو نماز عمدہ طور پر پڑھتے دیھے اس کا دل خوش ہو کچھ روپیہ بطور نذریا ہدیہ یا انعام کے اسے دےتو اس کے لینے میں کچھ مضائقہ نہیںکہ یہ اجرت سے اصلا تعلق نہیں رکھتااور اگرباہم قرارداد ہولیا کہ ہمارے مقدمہ کے لئے فلاں ختم پڑھواوروقت واجرت وغیرہ کی صحیح تعین کردی جس سے اجارہ میں جہالت نہ رہے تو یہاں یہ بھی حلال ہے کہ اس صورت میں ثواب مقصود نہیں بلکہ قضائے حاجت کی تدبیر و علاج تویہ اس طرح ہوا جیسے مریض پر پڑھ کر پھونکنے کی اجرت لےاس کا جواز صحیح حدیث سے ثابت ہےصحاب کرام رضی اﷲ تعالی عنہم ایك گاؤں میں ٹھہرےوہاں کے لوگوں نے برخلاف عادت عرب مہمانی نہ دیرئیس دیہہ کو سانپ نے کاٹہ لوگ ان کے پاس آئےانھوں نے سو دنبے ٹھہرالئےسوہ فاتحہ شریف پڑھ کر دم کردیاچھا ہوگیاپھر صحابہ کو خیال آیا کہ کہیں قرآن مجید پر اجرت لینا نہ ہوگیا ہوان بکرویوں کو نہ کھایاجب مدینہ طیبہ حاضر ہوئے حضور اقدس صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم سے حال عرض کیاحضور نے اجازت دی اور فرمایا:
ان احق مااخذتم علیہ اجرا کتاب اﷲ رواہ البخاری عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جس چیز پر اجرت لو اس میں سب سے زیادہ حق کتاب اﷲ کو ہے۔اس کو بخاری نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔(ت)
ردمحتار میں ہے:
ان المتقدمین المانعین الاستیجار مطلقاجوزو الرقیۃبالاجرۃ ولو بالقرآن کما ذکرہ الطحطاوی لانہا لیست عبادۃ محضۃ بل من التداوی ۔ متقدمین جو اجرت لینا منع فرماتے ہیں انھوں نے بھی دم کرنے پراجرت لینا جائز کہا ہے خواہ یہ دم قرآن کے ساتھ ہو جیسا کہ طحطاوی نے ذکر کیا ہے کیونکہ یہ خالص عبادت نہیں بلکہ ایك علاج ہے۔(ت)
ان احق مااخذتم علیہ اجرا کتاب اﷲ رواہ البخاری عن ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما۔ جس چیز پر اجرت لو اس میں سب سے زیادہ حق کتاب اﷲ کو ہے۔اس کو بخاری نے ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہما سے روایت کیا ہے۔(ت)
ردمحتار میں ہے:
ان المتقدمین المانعین الاستیجار مطلقاجوزو الرقیۃبالاجرۃ ولو بالقرآن کما ذکرہ الطحطاوی لانہا لیست عبادۃ محضۃ بل من التداوی ۔ متقدمین جو اجرت لینا منع فرماتے ہیں انھوں نے بھی دم کرنے پراجرت لینا جائز کہا ہے خواہ یہ دم قرآن کے ساتھ ہو جیسا کہ طحطاوی نے ذکر کیا ہے کیونکہ یہ خالص عبادت نہیں بلکہ ایك علاج ہے۔(ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب الطب با ب الشرط فی الروایۃ بقطیع من الغنم ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۵۴€وصحیح البخاری کتاب فضائل القرآن ∞۲/ ۷۴۹،€ کتاب الاجارۃ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۵۴€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۶€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۶€
ہاں اگر خالی دعا بغیر کسی ختم یاعمل کے ہو تو اس پر اجارہ ٹھہرانے کے کوئی معنی نہیں کہ اتنے کہنے میں اس کا کیا صرف ہوتا ہے کہ الہی فلاں کی حاجت برلاجس پر اجرت لے گا نہ اس پر اجارہ معہود ہے۔
والاجارۃ انما جوزت استحسانا علی خلاف القیاس لدفع حاجات الناس فمالیس من اجاراتہم لم یکن من حاجاتہم۔ اور اجارہ کا جواز خلاف قیاس لوگوں کی ضروریات کی وجہ سے اور لوگوں میں جو اجارہ مروج نہیں وہ لوگوں کی حاجت نہیں ہے۔(ت)
ہندیہ میں ذخیرہ سے ہے:
اذا استاجر موضعا معلوما من الارض لیتدفیہا الاوتادیصلح بہا الغذل کی ینسج جاز لانہ من اجارات االناسولو استاجر حائطا لیتدفیہا الاوتاد یصلح علیہا ابریسم لیسنج بہ شعرا اودیباجا لایجوز کذا ذکرہ بعض مشائخنا رحمہم الﷲ تعالی لان ھذا لیس من اجارات الناس فی عرف دیارنا ینبغی ان یجوز کذا ذکرہ بعض مشائخنا لان االناس تعاملوا ذلك فی فصلین جمیعا ۔ جب کوئی معین جگہ اجرت پر لی کہ وہاں کیلے گاڑکر سوت کو کپڑا بننے کے لئے درست کرے تو جائز ہے کیونکہ یہ اجارہ لوگوں کی عادت ہے اور اگر کوئی دیوار کرایہ پر لیا کہ وہاں کیلے گاڑ کر بننے کے لئے ریشم درست کرکے یا اونی یا دیبا جی کپڑا بنائے تو یہ جائز نہیںہمارے بعض مشائخ نے یوں ذ کر فرمایا ہے کیونکہ یہ لوگوں کے عادی اجار ہ نہیں ہے او رہمارے علاقہ کے عرف میں جائز ہونا چاہئے کیونکہ یہاں دونوں چیزوں میں لوگوں کا تعامل ہےبعض ہمارے مشائخ نے یوں ذکر فرمایاہے۔(ت)
خانیہ وکبری وعالمگیریہ میں ہے:
وللفظ لہذہ قال للدلال اعرض ضیعتی وبعہا علی انك اذا بعتہا فلك من لاجرکذا فلم یقدرالدلال علی اتمام لامر ثم باعہا دلال اخر قال ابولقاسم لو عرضہا الاول وصرف فیہ عالمگیریہ کے الفاظ میں ہےدلال کو کہا کہ میر زمین کو فروخت پر لگا جب تو فروخت کرے تو اتنی اجرت دوں گا تو دلال یہ کام مکمل نہ کرسکا پھر دوسرے دلال نے فروخت کردی ابوالقاسم نے فرمایا اگر پہلے دلال نے فروخت پر لگائی اور اس نے اس پر
والاجارۃ انما جوزت استحسانا علی خلاف القیاس لدفع حاجات الناس فمالیس من اجاراتہم لم یکن من حاجاتہم۔ اور اجارہ کا جواز خلاف قیاس لوگوں کی ضروریات کی وجہ سے اور لوگوں میں جو اجارہ مروج نہیں وہ لوگوں کی حاجت نہیں ہے۔(ت)
ہندیہ میں ذخیرہ سے ہے:
اذا استاجر موضعا معلوما من الارض لیتدفیہا الاوتادیصلح بہا الغذل کی ینسج جاز لانہ من اجارات االناسولو استاجر حائطا لیتدفیہا الاوتاد یصلح علیہا ابریسم لیسنج بہ شعرا اودیباجا لایجوز کذا ذکرہ بعض مشائخنا رحمہم الﷲ تعالی لان ھذا لیس من اجارات الناس فی عرف دیارنا ینبغی ان یجوز کذا ذکرہ بعض مشائخنا لان االناس تعاملوا ذلك فی فصلین جمیعا ۔ جب کوئی معین جگہ اجرت پر لی کہ وہاں کیلے گاڑکر سوت کو کپڑا بننے کے لئے درست کرے تو جائز ہے کیونکہ یہ اجارہ لوگوں کی عادت ہے اور اگر کوئی دیوار کرایہ پر لیا کہ وہاں کیلے گاڑ کر بننے کے لئے ریشم درست کرکے یا اونی یا دیبا جی کپڑا بنائے تو یہ جائز نہیںہمارے بعض مشائخ نے یوں ذ کر فرمایا ہے کیونکہ یہ لوگوں کے عادی اجار ہ نہیں ہے او رہمارے علاقہ کے عرف میں جائز ہونا چاہئے کیونکہ یہاں دونوں چیزوں میں لوگوں کا تعامل ہےبعض ہمارے مشائخ نے یوں ذکر فرمایاہے۔(ت)
خانیہ وکبری وعالمگیریہ میں ہے:
وللفظ لہذہ قال للدلال اعرض ضیعتی وبعہا علی انك اذا بعتہا فلك من لاجرکذا فلم یقدرالدلال علی اتمام لامر ثم باعہا دلال اخر قال ابولقاسم لو عرضہا الاول وصرف فیہ عالمگیریہ کے الفاظ میں ہےدلال کو کہا کہ میر زمین کو فروخت پر لگا جب تو فروخت کرے تو اتنی اجرت دوں گا تو دلال یہ کام مکمل نہ کرسکا پھر دوسرے دلال نے فروخت کردی ابوالقاسم نے فرمایا اگر پہلے دلال نے فروخت پر لگائی اور اس نے اس پر
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الفتاوٰی الکبرٰی کتاب الاجارہ الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۴۲€
روزجارا یعتد بہ فاجر مثلہ لہ واجب بقدر عنائہ و عملہقال ابوللیث رحمہ اﷲ تعالی ھذا ھوالقیاس و لایجب لہ استحسانا اذا ترکہ وبہ ناخذ وھو موافق قولہ یعقوب اذ اترکہ وبہ ناخذ وھو موافق قول یعقوب رحمہ اﷲ تعالی ھوالمختار ۔ روزانہ محنت کی ہو تو اس کا اعتبار کرتے ہوئے اس کو مثلی اجرت اس کی محنت اور کام کے مطابق دینی ضروری ہے حضرت ابواللیث رحمہ اﷲ تعالی نے فرمایا قیاس یہی ہے لیکن جب پہلے نے عمل تر ك کردیا تو اجرت واجب نہ ہوگی ہمارایہی موقف ہےاور امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالی کے قول کے یہی موافق ہےیہی مختار ہے۔(ت)
اسی میں تبیین سے ہے:
منہا(ای من شرائط صحۃ الاجارۃ)ان تکون المنفعۃ مقصودۃ معتاداستیفائہا بعقد الاجارۃ ولایجری بہا التعامل بین الناس فلا یجوز استیجار الاشجار لتجفیف الثیاب علیہا ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ ان میں بعض اجارہ کی صحت شرائط میں کہ مقصود منافع وہ ہوں جن کو عقد اجارہ میں حاصل کرنا لوگوں کی عادت ہو اور لوگوں کا اس پر تعامل نہ ہو اسی لئے کپڑے خشك کرنے کے لئے درخت کرایہ پر لیناد رست نہیں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۱۶ عــــــہ:از ضلع بارہ بنکی مرسلہ منشی کریم الدین ضلعدار کورٹ علاقہ سورج پور تمام ہتہونڈہ ضلع بارہ بنکی ۱۹ محرم ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بموجب قاعدہ مجریہ صاحبان بورڈ مال ممالك متحدہ آگرہ واودھملازمان محکمہ کورٹ آف وارڈ مین کی تنخواہ ماہانہ سے فی رواپیہ ۱/ وضع ہوتاہے۔اور اس وضع شدہ رقم کی نصف تعداد ریاست متلقہ سے لی جاتی ہے۔ مثلا عہ کے تنخواہ دار سے۴/عہ وضع کیا گیا۔اور ۱۰/ ریاست سے لیا گیا کل عہ/۴ وصول ہوکر سیونگ بینك ڈاکخانہ میں جمع کیا جاتاہے۔اور اس بینك مذکورہ کے قاعدہ سے سود لگایا جاتاہے۔جب ملازمت ختم ہوجائے تو یہ کل زراصل و
عــــــہ:ثلثہ مسائل کانت منثورات فی جلد سابع۔
عبد المنان اعظمی (یہ تین مسائل ساتویں جلد میں متفرق تھے۔ت)
اسی میں تبیین سے ہے:
منہا(ای من شرائط صحۃ الاجارۃ)ان تکون المنفعۃ مقصودۃ معتاداستیفائہا بعقد الاجارۃ ولایجری بہا التعامل بین الناس فلا یجوز استیجار الاشجار لتجفیف الثیاب علیہا ۔واﷲ سبحنہ وتعالی اعلم۔ ان میں بعض اجارہ کی صحت شرائط میں کہ مقصود منافع وہ ہوں جن کو عقد اجارہ میں حاصل کرنا لوگوں کی عادت ہو اور لوگوں کا اس پر تعامل نہ ہو اسی لئے کپڑے خشك کرنے کے لئے درخت کرایہ پر لیناد رست نہیں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۱۶ عــــــہ:از ضلع بارہ بنکی مرسلہ منشی کریم الدین ضلعدار کورٹ علاقہ سورج پور تمام ہتہونڈہ ضلع بارہ بنکی ۱۹ محرم ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بموجب قاعدہ مجریہ صاحبان بورڈ مال ممالك متحدہ آگرہ واودھملازمان محکمہ کورٹ آف وارڈ مین کی تنخواہ ماہانہ سے فی رواپیہ ۱/ وضع ہوتاہے۔اور اس وضع شدہ رقم کی نصف تعداد ریاست متلقہ سے لی جاتی ہے۔ مثلا عہ کے تنخواہ دار سے۴/عہ وضع کیا گیا۔اور ۱۰/ ریاست سے لیا گیا کل عہ/۴ وصول ہوکر سیونگ بینك ڈاکخانہ میں جمع کیا جاتاہے۔اور اس بینك مذکورہ کے قاعدہ سے سود لگایا جاتاہے۔جب ملازمت ختم ہوجائے تو یہ کل زراصل و
عــــــہ:ثلثہ مسائل کانت منثورات فی جلد سابع۔
عبد المنان اعظمی (یہ تین مسائل ساتویں جلد میں متفرق تھے۔ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ البا ب الاخامس عشر الفصل الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۵۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۱۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب الاول ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۱۱€
سود بجائے پنشن کے ملازم کو دیا جائے گا۔آیااس رقم کا لینا ملازم کو جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
ملازمت جائزہ کی تنخواہ ماہ بماہ خواہ اس کا کوئی جز جمع ہوکر بعدختم ملازمت دیا جائےہر طرح وہ اس ملازم کی ملك ہےاور جو تنخواہ گورنمنٹ سے مقرر ہوا س کا(۱/۳۲)کہ حسب قرارداد معروف و معہود ریاست متعلقہ کے ذمہ ہوتااور ملازم کے لئے جمع کیا جاتاہے۔وہ بھی حقیقۃ اسی تنخواہ کا جز ہے۔(عہ/)کا ملازم واقع میں برائے قاعدہ مقررہ(عہ/۱۰)ماہوار کا ملازم ہے جسے (عہ/)گورنمنٹ اور(۱۰/)ریاست سے ملیں گے اگر چہ ماہ بماہ سہ(عہ ۱۲/)پائے گااور(۲عہ/)گورنمنٹ کا اور(۱۰/)ریاست کا جملہ(۴ ۱عہ/)تنخواہ معینہ سے جمع ہوتے رہیں گےشرعا اگر چہ یہ صورت اجارہ فاسدہ ہے کہ ایك جزواجرت ایك مدت مجہولہ کے لئے مؤجل کیا گیاکیا معلوم کہ ختم ملازمت کب ہواور اجل مجہول سے مؤجل کرنا مفسد بیع واجارہ ہے جس کے سبب عقد فاسد وگناہ ہوجاگاہے۔اختیار شرح مختار وخزانتہ المفتین میں ہے:
کل جہالۃ تفسد البیع تضد الاجارۃ ہر وہ جہالت جو بیع کو فاسد کرتی ہے اجارہ کو بھی فاسد کرتی ہے۔ (ت)
فتاوی سراجیہ میں ہے:
جل جہالۃ تؤثر فی البیع تؤثر فی الاجارۃ جو جہالت بیع میں مؤثر ہے وہ اجارہ میں بھی مؤثر ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
کل ماافسد البیع یفسدھا ۔ جو بیع کو فاسد کرے وہ اجارہ کو بھی فاسد کرتی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
لایصح البیع بثمن مؤجل الی الحصاد للزرع و الدیاس للحب والقطاف للعنب وہ بیع جس کے ثمن کے لئے فصل کی کٹائی یا گہائی یا انگور کی اترائی کو میعاد بنایا گیا ہو صحیح نہیں کیونکہ
الجواب:
ملازمت جائزہ کی تنخواہ ماہ بماہ خواہ اس کا کوئی جز جمع ہوکر بعدختم ملازمت دیا جائےہر طرح وہ اس ملازم کی ملك ہےاور جو تنخواہ گورنمنٹ سے مقرر ہوا س کا(۱/۳۲)کہ حسب قرارداد معروف و معہود ریاست متعلقہ کے ذمہ ہوتااور ملازم کے لئے جمع کیا جاتاہے۔وہ بھی حقیقۃ اسی تنخواہ کا جز ہے۔(عہ/)کا ملازم واقع میں برائے قاعدہ مقررہ(عہ/۱۰)ماہوار کا ملازم ہے جسے (عہ/)گورنمنٹ اور(۱۰/)ریاست سے ملیں گے اگر چہ ماہ بماہ سہ(عہ ۱۲/)پائے گااور(۲عہ/)گورنمنٹ کا اور(۱۰/)ریاست کا جملہ(۴ ۱عہ/)تنخواہ معینہ سے جمع ہوتے رہیں گےشرعا اگر چہ یہ صورت اجارہ فاسدہ ہے کہ ایك جزواجرت ایك مدت مجہولہ کے لئے مؤجل کیا گیاکیا معلوم کہ ختم ملازمت کب ہواور اجل مجہول سے مؤجل کرنا مفسد بیع واجارہ ہے جس کے سبب عقد فاسد وگناہ ہوجاگاہے۔اختیار شرح مختار وخزانتہ المفتین میں ہے:
کل جہالۃ تفسد البیع تضد الاجارۃ ہر وہ جہالت جو بیع کو فاسد کرتی ہے اجارہ کو بھی فاسد کرتی ہے۔ (ت)
فتاوی سراجیہ میں ہے:
جل جہالۃ تؤثر فی البیع تؤثر فی الاجارۃ جو جہالت بیع میں مؤثر ہے وہ اجارہ میں بھی مؤثر ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
کل ماافسد البیع یفسدھا ۔ جو بیع کو فاسد کرے وہ اجارہ کو بھی فاسد کرتی ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
لایصح البیع بثمن مؤجل الی الحصاد للزرع و الدیاس للحب والقطاف للعنب وہ بیع جس کے ثمن کے لئے فصل کی کٹائی یا گہائی یا انگور کی اترائی کو میعاد بنایا گیا ہو صحیح نہیں کیونکہ
حوالہ / References
خزانۃ المفتین کتاب الاجارۃ ∞قلمی نسخہ ۲/ ۱۶۵€
فتاوٰی سراجیہ کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞نولکشور لکھنؤ ص۱۱۳€
درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۷€
فتاوٰی سراجیہ کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞نولکشور لکھنؤ ص۱۱۳€
درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۷€
لانہا تتقدم وتتاخر (ملخصا)۔ یہ امور آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں۔(ملخصا)(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
فی الزاھدی باعہ بثمن نصفہ نقد ونصفہ اذا رجع من بلد کذا فھو فاسد ۔ زاہدی میں ہے کسی چیزکو یوں فروخت کرنا کہ اس کی نصف قیمت نقد اور نصف فلاں شہر سے واپسی پر دوں گا تو وہ فاسد ہوگی۔(ت)
مگر اجارہ فاسدہ میں بھی بعد استیفائے منفعت اجرتکہ یہاں وہی اجر مثل ہےواجب ہوجاتی ہے۔ا ور وہ اجیر کی ملك ہے۔
درمختارمیں ہے:
حکم الفاسد وجوب اجر المثل بالاستعمال ۔ فاسد اجارہ کا حکم یہ ہے کہ استعمال کرلینے پر مثل اجرت واجب ہوتی ہے۔(ت)
بلکہ منیہ وقنیہ وجامع الرموز و محیط غرر الافکار وغیرہا کی رو سے اس ملك میں خبیث بھی نہیں ہوتا۔اجیر کے لئے طیب ہوتی ہے اگرچہ اصل عقد گناہ وفاسد تھا۔ردالمحتارمیں ہے:
الاجر یطیب وان کان السبب حراما کذا فی المنیۃ قہستانی اھ الخ ونقل منہ مثلہ السید الحموی فی غمز العیون عن القنیۃ ثم عقبہ بقولہ لم یذکر وجہہ فلینظر اھ وذکر الشامی عن منح الغفار الا شمس الائمۃ الحلوائی قال تطیب الاجرۃ فی الاجارۃ الفاسدۃ اذا کان اجر المثل وذکر فی المسئلۃ قولین واحدھما اصح فراجع نسخۃ صحیحۃ اھ۔ اجرت حلال ہے اگرچہ سبب حرام ہوجیسا کہ منیہ میں ہے قہستائی الخاور سید حموی نے غمز العیون میں قنیہ سے ا س کی مثل نقل کیا ہےاور پھر اس کے بعد ذکر کیاکہ انھوں نے اس کی وجہ ذکر نہ کی توغور کرناچاہئے اھعلامہ شامی نے منح الغفار سے نقل کیا ہے کہ شمس الائمہ حلوائی نے فرمایا ہے کہ اجارہ فاسدہ میں اجرت حلال ہے جب وہ مثلی اجر ت کے برابر ہوں اور انھوں نے مسئلہ میں دو قول ذکرکئے اور دونوں میں ایك اصح ہے تو صحیح نسخہ کی مراجعت چاہئے۔اھ(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
فی الزاھدی باعہ بثمن نصفہ نقد ونصفہ اذا رجع من بلد کذا فھو فاسد ۔ زاہدی میں ہے کسی چیزکو یوں فروخت کرنا کہ اس کی نصف قیمت نقد اور نصف فلاں شہر سے واپسی پر دوں گا تو وہ فاسد ہوگی۔(ت)
مگر اجارہ فاسدہ میں بھی بعد استیفائے منفعت اجرتکہ یہاں وہی اجر مثل ہےواجب ہوجاتی ہے۔ا ور وہ اجیر کی ملك ہے۔
درمختارمیں ہے:
حکم الفاسد وجوب اجر المثل بالاستعمال ۔ فاسد اجارہ کا حکم یہ ہے کہ استعمال کرلینے پر مثل اجرت واجب ہوتی ہے۔(ت)
بلکہ منیہ وقنیہ وجامع الرموز و محیط غرر الافکار وغیرہا کی رو سے اس ملك میں خبیث بھی نہیں ہوتا۔اجیر کے لئے طیب ہوتی ہے اگرچہ اصل عقد گناہ وفاسد تھا۔ردالمحتارمیں ہے:
الاجر یطیب وان کان السبب حراما کذا فی المنیۃ قہستانی اھ الخ ونقل منہ مثلہ السید الحموی فی غمز العیون عن القنیۃ ثم عقبہ بقولہ لم یذکر وجہہ فلینظر اھ وذکر الشامی عن منح الغفار الا شمس الائمۃ الحلوائی قال تطیب الاجرۃ فی الاجارۃ الفاسدۃ اذا کان اجر المثل وذکر فی المسئلۃ قولین واحدھما اصح فراجع نسخۃ صحیحۃ اھ۔ اجرت حلال ہے اگرچہ سبب حرام ہوجیسا کہ منیہ میں ہے قہستائی الخاور سید حموی نے غمز العیون میں قنیہ سے ا س کی مثل نقل کیا ہےاور پھر اس کے بعد ذکر کیاکہ انھوں نے اس کی وجہ ذکر نہ کی توغور کرناچاہئے اھعلامہ شامی نے منح الغفار سے نقل کیا ہے کہ شمس الائمہ حلوائی نے فرمایا ہے کہ اجارہ فاسدہ میں اجرت حلال ہے جب وہ مثلی اجر ت کے برابر ہوں اور انھوں نے مسئلہ میں دو قول ذکرکئے اور دونوں میں ایك اصح ہے تو صحیح نسخہ کی مراجعت چاہئے۔اھ(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷€
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث لعربی بیروت ∞۴/ ۱۱۹€
درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۷€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۸€
غمز عیون البصائر الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۶۱€
ردالمحتار کتاب لاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۸€
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث لعربی بیروت ∞۴/ ۱۱۹€
درمختار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۷۷€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۸€
غمز عیون البصائر الفن الثانی کتاب الاجارات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۶۱€
ردالمحتار کتاب لاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۸€
بہر حال اس میں شك نہیں کہ یہ رقم اصل جو گورنمنٹ وریاست سے لے کر بنك میں بنام ملازم جمع ہوتی ملك ملازم ہے۔وہی وہ زیادت کہ ڈاکخانہ بنام سوددیتاہے اسے بہ نیت سودلینا ہر گز جائز نہیں۔
قال اﷲ تعالی " واحل اللہ البیع وحرم الربوا " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ نے بیع کو حلال کیا اور سود کوحرام کیا۔(ت)
اور خودیہ نیت نہ کرے بلکہ مال گورنمنٹ سے برضائے گورنمنٹ ایك رقم جائز بحال استحقاق خود اپنے لئے ورنہ اپنے بھائیوں فقراء ومساکین ودیگر اہل استحقاق کے لئے بیت المال سے لینا سمجھے تو حرج نہیںاگرچہ دینے والے اسے کسی لفظ سے تعبیر کریں یا اپنے نزدیك کچھ سمجھیں۔
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی وقد فصلنا القول فی ھذا لمرام فی فتاوینا بما لامزید علیہ۔ اعمال کا دار ومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت پر ملے گیاور ہم نے اس مقصد میں تفصیلی قول اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔جس پر زائد کی گنجائش نہیں۔(ت)
اصل یہ ہے کہ بیت المال اسلامی ہو خواہ اسلامی نہ ہوجب اتنظامات شرعیہ کا اتباع نہ کرے تو اہل استحقاق مثلا طلبہ علم دین وعلمائے دین کہ اپنا وقت خدمات دینیہ مثلا درس وتدریس ووعظ و افتاد تصنیف میں صرف کررہے ہوں اگر چہ لکھو کھاروپے کےمالك اغنیا کثیر المال ہوں اور بیوہیتیملنجےاندھےفقراءمساکینجو کچھ اس میں سے برضائے سلطنت بے عذر وفتنہ وارتکاب جرائم پائیں ان کےلئے جائز ہےاگر چہ دینے والا کسی دوسری وجہ ناجائز کے نام سے دے۔
فانہم انمایأخذون وینوون ماھولہم فلا باس علیہم ممانوی غیرہم کیونکہ وہ لوگ لیتے ہیں اور اپنی نیت پر فائدہ پاتے ہیں تو غیر کی نیت کا ان پر کوئی بوجھ نہ ہوگا۔(ت)
درمختار میں ہے:
من لہ حظ فی بیت المال وظفر بما ہو موجہ لہ لہ اخذہ دیانۃوللمودع جس کا بیت المال میں جتنا حق ہے اس کے مطابق خود لے لینے میں دیانۃ جائز ہے۔اور جس کے
قال اﷲ تعالی " واحل اللہ البیع وحرم الربوا " ۔ اﷲ تعالی نے فرمایا:اﷲ نے بیع کو حلال کیا اور سود کوحرام کیا۔(ت)
اور خودیہ نیت نہ کرے بلکہ مال گورنمنٹ سے برضائے گورنمنٹ ایك رقم جائز بحال استحقاق خود اپنے لئے ورنہ اپنے بھائیوں فقراء ومساکین ودیگر اہل استحقاق کے لئے بیت المال سے لینا سمجھے تو حرج نہیںاگرچہ دینے والے اسے کسی لفظ سے تعبیر کریں یا اپنے نزدیك کچھ سمجھیں۔
فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی وقد فصلنا القول فی ھذا لمرام فی فتاوینا بما لامزید علیہ۔ اعمال کا دار ومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت پر ملے گیاور ہم نے اس مقصد میں تفصیلی قول اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔جس پر زائد کی گنجائش نہیں۔(ت)
اصل یہ ہے کہ بیت المال اسلامی ہو خواہ اسلامی نہ ہوجب اتنظامات شرعیہ کا اتباع نہ کرے تو اہل استحقاق مثلا طلبہ علم دین وعلمائے دین کہ اپنا وقت خدمات دینیہ مثلا درس وتدریس ووعظ و افتاد تصنیف میں صرف کررہے ہوں اگر چہ لکھو کھاروپے کےمالك اغنیا کثیر المال ہوں اور بیوہیتیملنجےاندھےفقراءمساکینجو کچھ اس میں سے برضائے سلطنت بے عذر وفتنہ وارتکاب جرائم پائیں ان کےلئے جائز ہےاگر چہ دینے والا کسی دوسری وجہ ناجائز کے نام سے دے۔
فانہم انمایأخذون وینوون ماھولہم فلا باس علیہم ممانوی غیرہم کیونکہ وہ لوگ لیتے ہیں اور اپنی نیت پر فائدہ پاتے ہیں تو غیر کی نیت کا ان پر کوئی بوجھ نہ ہوگا۔(ت)
درمختار میں ہے:
من لہ حظ فی بیت المال وظفر بما ہو موجہ لہ لہ اخذہ دیانۃوللمودع جس کا بیت المال میں جتنا حق ہے اس کے مطابق خود لے لینے میں دیانۃ جائز ہے۔اور جس کے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۷۵€
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲€
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲€
صرف ودیعۃ مات ربہا ولاوارث لنفسہ اوغیرہ من المصارف ۔ پاس امانت ہے اگر امانت رکھنے والا فوت ہوجائے تو اور اس کا کوئی وارث نہ مصرف ہے تو امانتدار کہ صرف کرنا جائز ہے۔(ت)
وجیز کردری وغیرہ میں ہے:
فاذا کان من اہلہ صرفہ الی نفسہ وان لم یکن من المصارف صرفہ الی المصرف ۔ جب امانتدار خود صرف کااہل ہے یعنی مصرف ہے تو خود صرف کرسکتاہے اگر خود مصرف نہ ہو تو مصرف صرف کرے۔ (ت)
اسی طرح تنویر الابصار مسائل شتی وغیرہ کتب کثیرہ میں ہے۔اور جب لینے والے کا دینے والے پر کوئی مطالبہ شرعیہ آتاہو کہ وجہ صحیح کے نام سے نہ مل سکتا جب تو یہ مسئلہ غایت تو سیع پاتاہے۔جس میں گورنمنٹ وغیر گورنمنٹ ومسلمان وغیر مسلمان کسی کا فرق نہیں رہتا۔مثلا زید نے عمرو کے سو روپے چرالئےعمرو کے پاس ثبوت قانونی نہیںاپنا مال یوں لینے عاجز ہے تو جائز ہے کہ سوروپے تك عمرو سے کسی وجہ جائز قانون کے نام سے وصول کرلےاگر چہ شرعا وہ نام ناجائز ہو درمختارمیں ہے:
لو امتنع والمدیون مدیدہ واخذہا لکونہ ظفر بجنس حقہ اھوالتفصیل الجیمل فی فتاونا بتوفیق اﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔ جب قرضدارقرض کی ادائیگی نہ کرے تو قرض خواہ اپنے حق کی جنس پر قبضہ میں کامیاب ہوجائے تو لے سکتاہے اھاور بہترین تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۱۷: ازاروہ بنگلہ ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مرسلہ صادق علی خاں ۲۸ شوال ۱۳۳۶ھ
بھنگ اور افیون کا گورنمنٹ سے ٹھیکہ لے کر دکان کرے تو بھنك لینا اور دکانداری کرنا جائز ہے یا ناجائز
الجواب:
بھنگ اور افیون بقدر نشہ کھانا پینا حرام ہے۔اور خارجی استعمال نیز کسی دوا میں قدر قلیل جز و ہو کہ روز کے قدر شربت میں قابل تفتیر نہ ہواندرونی بھی جائزتو وہ معصیت کےلئے متعین نہیںتو ان کی بیع حرام نہیںمگر اس کے ہاتھ کہ معصیت کے لئے اسے خریدےلیکن اکثر وہی
وجیز کردری وغیرہ میں ہے:
فاذا کان من اہلہ صرفہ الی نفسہ وان لم یکن من المصارف صرفہ الی المصرف ۔ جب امانتدار خود صرف کااہل ہے یعنی مصرف ہے تو خود صرف کرسکتاہے اگر خود مصرف نہ ہو تو مصرف صرف کرے۔ (ت)
اسی طرح تنویر الابصار مسائل شتی وغیرہ کتب کثیرہ میں ہے۔اور جب لینے والے کا دینے والے پر کوئی مطالبہ شرعیہ آتاہو کہ وجہ صحیح کے نام سے نہ مل سکتا جب تو یہ مسئلہ غایت تو سیع پاتاہے۔جس میں گورنمنٹ وغیر گورنمنٹ ومسلمان وغیر مسلمان کسی کا فرق نہیں رہتا۔مثلا زید نے عمرو کے سو روپے چرالئےعمرو کے پاس ثبوت قانونی نہیںاپنا مال یوں لینے عاجز ہے تو جائز ہے کہ سوروپے تك عمرو سے کسی وجہ جائز قانون کے نام سے وصول کرلےاگر چہ شرعا وہ نام ناجائز ہو درمختارمیں ہے:
لو امتنع والمدیون مدیدہ واخذہا لکونہ ظفر بجنس حقہ اھوالتفصیل الجیمل فی فتاونا بتوفیق اﷲ تعالی واﷲ تعالی اعلم۔ جب قرضدارقرض کی ادائیگی نہ کرے تو قرض خواہ اپنے حق کی جنس پر قبضہ میں کامیاب ہوجائے تو لے سکتاہے اھاور بہترین تفصیل ہمارے فتاوی میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۲۱۷: ازاروہ بنگلہ ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مرسلہ صادق علی خاں ۲۸ شوال ۱۳۳۶ھ
بھنگ اور افیون کا گورنمنٹ سے ٹھیکہ لے کر دکان کرے تو بھنك لینا اور دکانداری کرنا جائز ہے یا ناجائز
الجواب:
بھنگ اور افیون بقدر نشہ کھانا پینا حرام ہے۔اور خارجی استعمال نیز کسی دوا میں قدر قلیل جز و ہو کہ روز کے قدر شربت میں قابل تفتیر نہ ہواندرونی بھی جائزتو وہ معصیت کےلئے متعین نہیںتو ان کی بیع حرام نہیںمگر اس کے ہاتھ کہ معصیت کے لئے اسے خریدےلیکن اکثر وہی
حوالہ / References
درمختار کتاب الزکوٰۃ باب العشر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۴۰€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی الہندیہ الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۸۹€
درمختار کتاب الزکوٰۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۰€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی الہندیہ الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۸۹€
درمختار کتاب الزکوٰۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۰€
ہیں تو ان کی تجارت میں احتیاط سخت دشوار اور اسلم احترازاور ٹھیکہ یہاں غالبا بایں معنی ہے کہ گورنمنٹ سے ان کو اجازت دی جاتی ہےدوسرا نہیں بیچ سکتایہ ایك قانونی بات ہے جس کا ان پرالزام نہیںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۸: از شہر ڈونگر پور ملك میواڑ راجپوتانہ برمکان جمعدار سمندرخان مسئولہ عبدالرؤف خاں ۱۳ محرم ۱۳۳۹ھ
اگر مسجد کے احاطہ میں کوئی درخت پھولوں کا ہو اور وہ ٹھیکہ کسی ہندو کو دیا جائے اور وہ پھول بتوں پرچڑھائے جائیںاور اس کا پیسہ عمارت مسجدمیں لگاناروشنی وغیرہ میں صرف کرنا درست ہے یانہیں
الجواب:
ٹھیکہ دینا حرام ہے اور اس کا روپیہ حرامپھر بتوں پر چڑھانے کے نیت سے ہو تو اور سختاور اگریہ نہیں بلکہ ہندو کا مال اس کی رضاسے ایك نام عقد کے حیلہ سے حاصل کرنا ہواور ان پھولوں کے توڑنے کے لئے کافر کا مسجد میں آنا جانا نہ ہو تو حرج نہیں اور وہ روپیہ مسجد میں لگاسکتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۱۹ عــــــہ: مسئولہ محمد محمود از قصبہ باندہ ضلع شاسٹی متصل بمبئی ۲۲ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندریں مسئلہ کہ کوئی شخص مقرر کرکے بطور اجرت کے وعظ کرے اور وعظ گوئی کو پیشہ اور سلسلہ معاش جان کر بسر اوقات کرنی اختیار کرےجائز ہے یاناجائز تفسیر رؤفی والے اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں ناجائز اور قریب حرام کے فرماتے ہیں(آیہ کریمہ): " ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا ۫" (اور میری آیات کے بدلے حقیر مال نہ لو۔ت)فقط۔
الجواب:
اصل حکم یہ ہے کہ وعظ پر اجرت لینی حرام ہے۔درمختار میں اسے یہود ونصاری کی ضلالتوں میں سے گنا مگر کم من احکام یختلف باختلاف الزمانکما فی العلمگیریہ ۔
عــــــہ: مسئلتان من مجلدات سوی ماذکرت ۱۲ عبدالمنان اعظمی(یہ دو۲ مسئلے مختلف جلدوں میں تھے۔ت)
مسئلہ ۲۱۸: از شہر ڈونگر پور ملك میواڑ راجپوتانہ برمکان جمعدار سمندرخان مسئولہ عبدالرؤف خاں ۱۳ محرم ۱۳۳۹ھ
اگر مسجد کے احاطہ میں کوئی درخت پھولوں کا ہو اور وہ ٹھیکہ کسی ہندو کو دیا جائے اور وہ پھول بتوں پرچڑھائے جائیںاور اس کا پیسہ عمارت مسجدمیں لگاناروشنی وغیرہ میں صرف کرنا درست ہے یانہیں
الجواب:
ٹھیکہ دینا حرام ہے اور اس کا روپیہ حرامپھر بتوں پر چڑھانے کے نیت سے ہو تو اور سختاور اگریہ نہیں بلکہ ہندو کا مال اس کی رضاسے ایك نام عقد کے حیلہ سے حاصل کرنا ہواور ان پھولوں کے توڑنے کے لئے کافر کا مسجد میں آنا جانا نہ ہو تو حرج نہیں اور وہ روپیہ مسجد میں لگاسکتے ہیں۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۱۹ عــــــہ: مسئولہ محمد محمود از قصبہ باندہ ضلع شاسٹی متصل بمبئی ۲۲ ربیع الاول ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اندریں مسئلہ کہ کوئی شخص مقرر کرکے بطور اجرت کے وعظ کرے اور وعظ گوئی کو پیشہ اور سلسلہ معاش جان کر بسر اوقات کرنی اختیار کرےجائز ہے یاناجائز تفسیر رؤفی والے اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں ناجائز اور قریب حرام کے فرماتے ہیں(آیہ کریمہ): " ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا ۫" (اور میری آیات کے بدلے حقیر مال نہ لو۔ت)فقط۔
الجواب:
اصل حکم یہ ہے کہ وعظ پر اجرت لینی حرام ہے۔درمختار میں اسے یہود ونصاری کی ضلالتوں میں سے گنا مگر کم من احکام یختلف باختلاف الزمانکما فی العلمگیریہ ۔
عــــــہ: مسئلتان من مجلدات سوی ماذکرت ۱۲ عبدالمنان اعظمی(یہ دو۲ مسئلے مختلف جلدوں میں تھے۔ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲/ ۴۱€
درمختار الحظروابالاحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵€۳
ردالمحتار الحظروابالاحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۴۷€
درمختار الحظروابالاحۃ فصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵€۳
ردالمحتار الحظروابالاحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۴۷€
(بہت سے احکام زمانہ کے اختلاف سے مختلف ہوجاتے ہیں۔جیسا کہ عالمگیریہ میں ہے۔ت)کلیہ غیر مخصوصہ کہ طاعات پر اجرت لینا ناجائز ہے ائمہ نے حالات زمانہ دیکھ کر اس میں سے چند چیزیں بضرورت مستثنی کیں:امامتاذانتعلیم قرآن مجید تعلیم فقہکہ اب مسلمانوں میں یہ اعمال بلانکیر معاوضہ کے ساتھ جاری ہیںمجمع البحرین وغیرہ میں ان کا پانچواں وعظ گنا و بسفقیہ ابواللیث سمرقندی فرماتے ہیںمیں چند چیزوں پر فتوی دیتا تھااب ان سے رجوع کیازانجملہ میں فتوی دیتا تھا کہ عالم کو جائز نہیں کہ دیہات میں دورہ کرے اور وعظ کے عوض تحصیل کرے مگراب اجازت دینا ہوںلہذا یہ ایسی بات نہیں جس پر نکیر لازم ہو۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۰ الف:مسئولہ مولوی عبدالرحیم بخش صاحب مدرس مدرسہ فیض الغرباء ۳۰ محرم ۱۳۳۲ھ فیض الغرباء آرہ شاہ آباد
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کچہری کی ججیسب ججیمنصفیرجسٹراری کی نوکری شرعا جائزبلاکراہت ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
جس نوکری میں خلاف ماانزل اﷲ حکم کرنا پڑتا ہو ہر گز جا ئز نہیںاگر چہ سلطنت اسلام کی ہوائمہ دین نے تیسری صدی کے آخر میں اپنے زمانہ کے سلاطین اسلام کی نسبت فرمایا:من قال لسلطان زماننا عادل فقدکفر(جس نے ہمارے زمانہ کے حاکم کو عادل کہا وہ کافر ہے۔ت)ان قضاۃ کی نسبت قرآن عظیم میں تین الفاظ ارشاد ہوئے " الظلمون ﴿۴۵﴾" " الفسقون ﴿۴۷﴾" " الکفرون ﴿۴۴﴾ " جب قاضیاں اسلام سلطنت کی نسبت یہ احکام ہیں تو سلطنت غیر اسلامیہ کے حکام تو مقرر ہی اس لئے کئے جاتے ہیں کہ مطابق قانون فصیلہ کریںرہی رجسٹراریاس میں اگر چہ حکم نہیںمگر وہ دستاویزوں پر شہادت ہے اور انھیں رجسٹرپر چڑھانااور ان میں بہت دستاویزیں سو دکی بھی ہوتی ہیں اور صحیح حدیث میں ہے:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے لعنت
مسئلہ ۲۲۰ الف:مسئولہ مولوی عبدالرحیم بخش صاحب مدرس مدرسہ فیض الغرباء ۳۰ محرم ۱۳۳۲ھ فیض الغرباء آرہ شاہ آباد
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کچہری کی ججیسب ججیمنصفیرجسٹراری کی نوکری شرعا جائزبلاکراہت ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
جس نوکری میں خلاف ماانزل اﷲ حکم کرنا پڑتا ہو ہر گز جا ئز نہیںاگر چہ سلطنت اسلام کی ہوائمہ دین نے تیسری صدی کے آخر میں اپنے زمانہ کے سلاطین اسلام کی نسبت فرمایا:من قال لسلطان زماننا عادل فقدکفر(جس نے ہمارے زمانہ کے حاکم کو عادل کہا وہ کافر ہے۔ت)ان قضاۃ کی نسبت قرآن عظیم میں تین الفاظ ارشاد ہوئے " الظلمون ﴿۴۵﴾" " الفسقون ﴿۴۷﴾" " الکفرون ﴿۴۴﴾ " جب قاضیاں اسلام سلطنت کی نسبت یہ احکام ہیں تو سلطنت غیر اسلامیہ کے حکام تو مقرر ہی اس لئے کئے جاتے ہیں کہ مطابق قانون فصیلہ کریںرہی رجسٹراریاس میں اگر چہ حکم نہیںمگر وہ دستاویزوں پر شہادت ہے اور انھیں رجسٹرپر چڑھانااور ان میں بہت دستاویزیں سو دکی بھی ہوتی ہیں اور صحیح حدیث میں ہے:
لعن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے لعنت
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۵/ ۴۵€
القرآن الکریم ∞۵/ ۴۷€
القرآن الکریم ∞۵/ ۴۴€
القرآن الکریم ∞۵/ ۴۷€
القرآن الکریم ∞۵/ ۴۴€
اکل الربو ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء واﷲ تعالی اعلم۔ فرمائی سود کھانے والے اور سود دینے والے اور اس پر گواہی کرنے والوں پراور فرمایا سب برابر ہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب البیوع باب الربٰو ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷€
اجودالقری لطالب الصحۃ فی اجارۃ القری۱۳۰۲ھ
(دیہات کے ٹھیکہ کی صحت کے طلبگار کے لئے بہترین مہمانی)
مسئلہ ۲۲۰(ب): از بدایون ۷ جمادی الاولی ۱۳۰۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ ٹھیکہ دیہات کا جو فی زماننا شائع وذائع ہےجس کا حاصل یہ ہوتاہے کہ زمین تو مزارعین کے اجارہ میں بدستور ہےاور توفیر مستاجر کو ٹھیکہ میں دے دی گئی کہ اس قدر توفیر کا گاؤں اتنے میں ٹھیکہ دیابحساب اقساط اس قدر بلاعذر کمی وصول وغیرہ ادا کروپھر اگر ٹھیکہ دارنے رقم معین سے کسی قدر اگرچہ ایك پیسہ ہویا ہزار روپیہ زائد وصول پایا وہ اس کا حق سمجھا جاتاہے اور وصول میں کمی رہے تو اس مقدار کا اپنے گھر سے پورا کرنا پڑتاہے۔یہ طریقہ شرعاجائز ہے یا نہیں اور برتقدیر بیشی مستاجر کہ قدر زائد اور درصورت کمی مؤجر کو مقدار باقی لینا حلال ہے یا نہیں اوراگر اسے ناجائز کہا جائے تو کیا فرق ہے کہ مزارعین کو زمین ٹھیکہ پر دینا جائز ہے۔اور یہ
(دیہات کے ٹھیکہ کی صحت کے طلبگار کے لئے بہترین مہمانی)
مسئلہ ۲۲۰(ب): از بدایون ۷ جمادی الاولی ۱۳۰۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ ٹھیکہ دیہات کا جو فی زماننا شائع وذائع ہےجس کا حاصل یہ ہوتاہے کہ زمین تو مزارعین کے اجارہ میں بدستور ہےاور توفیر مستاجر کو ٹھیکہ میں دے دی گئی کہ اس قدر توفیر کا گاؤں اتنے میں ٹھیکہ دیابحساب اقساط اس قدر بلاعذر کمی وصول وغیرہ ادا کروپھر اگر ٹھیکہ دارنے رقم معین سے کسی قدر اگرچہ ایك پیسہ ہویا ہزار روپیہ زائد وصول پایا وہ اس کا حق سمجھا جاتاہے اور وصول میں کمی رہے تو اس مقدار کا اپنے گھر سے پورا کرنا پڑتاہے۔یہ طریقہ شرعاجائز ہے یا نہیں اور برتقدیر بیشی مستاجر کہ قدر زائد اور درصورت کمی مؤجر کو مقدار باقی لینا حلال ہے یا نہیں اوراگر اسے ناجائز کہا جائے تو کیا فرق ہے کہ مزارعین کو زمین ٹھیکہ پر دینا جائز ہے۔اور یہ
صورت ناجائز۔بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر حاصل کیجئے۔ت)
الجواب:
یہ ٹھیکہ شرعا محض باطل وناجائز ہے ہر گز ہر گز کوئی صورت اس کے جواز وحلت کی نہیںنہ یہ معاہدہ کسی قسم کا اثر پیدا کرسکے نہ عاقدین پر اس کی پابندی ضروربلکہ فی الفور اس کا ازالہ واجبنہ مقدار وصول میں ٹھیکہ دار کا کچھ حقنہ گاؤں سے اس کو کسی قسم کا تعلق۔اس پر فرض ہے کہ جس جس قدر منافع خالص وصول ہوکوڑی کوڑی مالك کو ادا کرےخواہ وہ رقم معین سے زائد ہو یا کماگر ایك پیسہ اس میں سے رکھ لے گا اس کے لئے حرام ہوگانہ مالك کا مقدار وصول سے زیادہ میں کچھ استحقاقمثلا ہزار کوٹھیکہ دیا نو سو وصول ہوئےتو اسی قدر مالك کےلئے حلال ہیں نو سوروپے سے کوڑی زائد لے گا تو اس کے لئے حرام محض ہے۔اور گیارہ سو کی نشست ہوئی تو یہ پورے گیار ہ سو خاص مالك کے ہیں ٹھیکہ دار عــــــہ کا ان میں ایك حبہ نہیں یہاں تك کہ اگر ٹھیکہ دار توفیر سے دست بردار ہو کر یہ چاہے کہ حق محنت میں کچھ اجرت ہی پاؤںتو اس کا بھی مطلق استحقاق نہیں۔
لانہ انما عمل لنفسہ والباطل شرعا لاینقلب صحیحا بالتراضی فیجب علیہما التخلی عنہ ازالۃ للمنکر وقد اوجبوا التفاسخ فی العقود الفاسدۃ تاثما فماظنك بالباطلات۔ کیونکہ اس نے اپنےلئے کام کیا ہے اور شرعا باطل چیز باہمی رضامندی سے صحیح نہیں بن سکتی تو دوونوں پر اس سے علیحدگی ضروری ہے تاکہ گناہ کاازالہ ہو سکے جبکہ فقہاء کرام نے فاسد عقود میں فسخ کرنا لازم قرار دیاہے تو باطل عقود میں تیرا کیا خیال ہے۔(ت)
جن لوگوں کے پاس کسی حقیت دیہی کا چند سال تك ٹھیکہ رہا ہو ان پر فرض ہے کہ تمام برسوں کی واصلباتی بلحاظ تحصیل خام لگا کر ایك دوسرے کے مواخذہ سے پاك ہوجائیں مثلا زید نے عمرو کو اپنا گاؤں بعوض ایك ہزارو رپے کے تین برس تك ٹھیکہ دیا اورتین ہزار روپے وصول پائے اب دیکھا جائے کہ عمرو کو ان برسوں میں کیا وصول ہوا تھااگر ہر سال مثلا بارہ سو روپے پائے تھے تو اس پر چھ سو روپے زید کے واجب الادا تھے اور ہر سال آٹھ سو روپے ملے تھے تو چھ سواس کے زید پر رہےاور ایك سال ہزارپائے تھےدوسرے سال آٹھ سو۔تیسرے سال بارہ سو۔تو دونوں بے باق ہیںافسوس کہ عام بندے یہاں تك کہ علماء اسی مسئلہ سے سخت غافل ہیں لاحول ولاقوۃ الا باﷲ
عــــــہ: فی الاصل"کٹکنہ دار"لعلہ زلۃ من الناسخ ۱۲۔
الجواب:
یہ ٹھیکہ شرعا محض باطل وناجائز ہے ہر گز ہر گز کوئی صورت اس کے جواز وحلت کی نہیںنہ یہ معاہدہ کسی قسم کا اثر پیدا کرسکے نہ عاقدین پر اس کی پابندی ضروربلکہ فی الفور اس کا ازالہ واجبنہ مقدار وصول میں ٹھیکہ دار کا کچھ حقنہ گاؤں سے اس کو کسی قسم کا تعلق۔اس پر فرض ہے کہ جس جس قدر منافع خالص وصول ہوکوڑی کوڑی مالك کو ادا کرےخواہ وہ رقم معین سے زائد ہو یا کماگر ایك پیسہ اس میں سے رکھ لے گا اس کے لئے حرام ہوگانہ مالك کا مقدار وصول سے زیادہ میں کچھ استحقاقمثلا ہزار کوٹھیکہ دیا نو سو وصول ہوئےتو اسی قدر مالك کےلئے حلال ہیں نو سوروپے سے کوڑی زائد لے گا تو اس کے لئے حرام محض ہے۔اور گیارہ سو کی نشست ہوئی تو یہ پورے گیار ہ سو خاص مالك کے ہیں ٹھیکہ دار عــــــہ کا ان میں ایك حبہ نہیں یہاں تك کہ اگر ٹھیکہ دار توفیر سے دست بردار ہو کر یہ چاہے کہ حق محنت میں کچھ اجرت ہی پاؤںتو اس کا بھی مطلق استحقاق نہیں۔
لانہ انما عمل لنفسہ والباطل شرعا لاینقلب صحیحا بالتراضی فیجب علیہما التخلی عنہ ازالۃ للمنکر وقد اوجبوا التفاسخ فی العقود الفاسدۃ تاثما فماظنك بالباطلات۔ کیونکہ اس نے اپنےلئے کام کیا ہے اور شرعا باطل چیز باہمی رضامندی سے صحیح نہیں بن سکتی تو دوونوں پر اس سے علیحدگی ضروری ہے تاکہ گناہ کاازالہ ہو سکے جبکہ فقہاء کرام نے فاسد عقود میں فسخ کرنا لازم قرار دیاہے تو باطل عقود میں تیرا کیا خیال ہے۔(ت)
جن لوگوں کے پاس کسی حقیت دیہی کا چند سال تك ٹھیکہ رہا ہو ان پر فرض ہے کہ تمام برسوں کی واصلباتی بلحاظ تحصیل خام لگا کر ایك دوسرے کے مواخذہ سے پاك ہوجائیں مثلا زید نے عمرو کو اپنا گاؤں بعوض ایك ہزارو رپے کے تین برس تك ٹھیکہ دیا اورتین ہزار روپے وصول پائے اب دیکھا جائے کہ عمرو کو ان برسوں میں کیا وصول ہوا تھااگر ہر سال مثلا بارہ سو روپے پائے تھے تو اس پر چھ سو روپے زید کے واجب الادا تھے اور ہر سال آٹھ سو روپے ملے تھے تو چھ سواس کے زید پر رہےاور ایك سال ہزارپائے تھےدوسرے سال آٹھ سو۔تیسرے سال بارہ سو۔تو دونوں بے باق ہیںافسوس کہ عام بندے یہاں تك کہ علماء اسی مسئلہ سے سخت غافل ہیں لاحول ولاقوۃ الا باﷲ
عــــــہ: فی الاصل"کٹکنہ دار"لعلہ زلۃ من الناسخ ۱۲۔
العلی العظیم۔
اصل کلی یہ ہے کہ جس طرح عقد بیع اعیان پر وارد ہوتاہے یونہی اجارہ ایك عقد ہے کہ خالص منافع پر ورود پاتاہے جس کا ثمرہ یہ ہوتاہے کہ ذات شیئ بدستور ملك مالك پر باقی رہے اور مستاجر اس سے نفع حاصل کرے۔جو اجارہ خاص کسی عین وذات کے استہلاك پر وار دہومحض باطل ہے اللہم الا ما استثناہ الشرع کاجارۃ الظئر للارضاع(ہاں مگر وہ جس کوشرع نے مستثنی کردیاہے جیسا کہ دودھ پلانے والی عورت کا اجارہ۔ت)وغیر ذلکاسی لئے اگر باغ کو بغرض سکونت اجارہ میں لیا جائز اور پھل کھانے کے لئے ناجائزکہ سکونت منفعت اور ثمر عین گائے کو لادنے کے لئے اجارہ میں لیا جائزدودھ پینے کو ناجائزکہ لادنا منفعت ہے اور دودھ عیں حوض سنگھاڑھے رکھنے کےلئے اجارہ میں لیا جائزمچھلیاں پکڑنے کو ناجائزکہ سنگھاڑھے بونا منفعت ہےمچھلیاں عین۔
فی ردالمحتار عن البزازیۃ الاجارۃ اذا وقعت علی العین لاتصح فلا یجوز استیجار الاجام والحیاض لصید السمك اورفع القصب وقطع الحطب اولسقی ارضہا اولغنمہ منہا وکذا اجارۃ المرعیوالحیلۃ فی الکل ان یستاجر موضعا معلوما لعطن الماشیۃ و یبیح الماء والمرعی الخوفی الفتاوی الخیریۃ لنفع البریۃ قد صرحوا بان عقد الاجارۃ علی اتلاف لاعیان مقصودا کمن استاجر بقرۃ لیشرب لبنہا لا ینعقد و کذلك لو استاجربستانا الیا کل ثمرتہ و المسئلۃ مصرح بہافی منح الغفار وکثیر من ردالمحتار میں بزازیہ سے منقول ہے کہ جب اجارہ عین کی ہلاکت پر ہو تو صحیح نہ ہوگاجیسے پودوں کے ذخیرے اور حوض مچھلی پکڑنے اور ناڑ کاٹنے اور لکڑی کاٹنے یا ان زمینوں کو سیراب یا جانوروں کو پلانے کے لئے اوریونہی چراگاہ اجارہ پر لینا اور ان سب امور کےلئے حیلہ یہ ہے کہ وہاں کوئی معین جگہ جانور رکھنے کے لئے کرایہ پر حاصل کرےاور پانی اور چارہ کو مالك مباح کردے الخاورفتای خیریہ لنفع البیریہ میں ہے کہ فقہاء کرام پر اجارہ منعقد نہ ہوگاجیسے گائے دودھ کے لئے اور باغ کو اس کاپھل کھانے کے لئے اجارہ پر لینا جبکہ یہ مسئلہ
اصل کلی یہ ہے کہ جس طرح عقد بیع اعیان پر وارد ہوتاہے یونہی اجارہ ایك عقد ہے کہ خالص منافع پر ورود پاتاہے جس کا ثمرہ یہ ہوتاہے کہ ذات شیئ بدستور ملك مالك پر باقی رہے اور مستاجر اس سے نفع حاصل کرے۔جو اجارہ خاص کسی عین وذات کے استہلاك پر وار دہومحض باطل ہے اللہم الا ما استثناہ الشرع کاجارۃ الظئر للارضاع(ہاں مگر وہ جس کوشرع نے مستثنی کردیاہے جیسا کہ دودھ پلانے والی عورت کا اجارہ۔ت)وغیر ذلکاسی لئے اگر باغ کو بغرض سکونت اجارہ میں لیا جائز اور پھل کھانے کے لئے ناجائزکہ سکونت منفعت اور ثمر عین گائے کو لادنے کے لئے اجارہ میں لیا جائزدودھ پینے کو ناجائزکہ لادنا منفعت ہے اور دودھ عیں حوض سنگھاڑھے رکھنے کےلئے اجارہ میں لیا جائزمچھلیاں پکڑنے کو ناجائزکہ سنگھاڑھے بونا منفعت ہےمچھلیاں عین۔
فی ردالمحتار عن البزازیۃ الاجارۃ اذا وقعت علی العین لاتصح فلا یجوز استیجار الاجام والحیاض لصید السمك اورفع القصب وقطع الحطب اولسقی ارضہا اولغنمہ منہا وکذا اجارۃ المرعیوالحیلۃ فی الکل ان یستاجر موضعا معلوما لعطن الماشیۃ و یبیح الماء والمرعی الخوفی الفتاوی الخیریۃ لنفع البریۃ قد صرحوا بان عقد الاجارۃ علی اتلاف لاعیان مقصودا کمن استاجر بقرۃ لیشرب لبنہا لا ینعقد و کذلك لو استاجربستانا الیا کل ثمرتہ و المسئلۃ مصرح بہافی منح الغفار وکثیر من ردالمحتار میں بزازیہ سے منقول ہے کہ جب اجارہ عین کی ہلاکت پر ہو تو صحیح نہ ہوگاجیسے پودوں کے ذخیرے اور حوض مچھلی پکڑنے اور ناڑ کاٹنے اور لکڑی کاٹنے یا ان زمینوں کو سیراب یا جانوروں کو پلانے کے لئے اوریونہی چراگاہ اجارہ پر لینا اور ان سب امور کےلئے حیلہ یہ ہے کہ وہاں کوئی معین جگہ جانور رکھنے کے لئے کرایہ پر حاصل کرےاور پانی اور چارہ کو مالك مباح کردے الخاورفتای خیریہ لنفع البیریہ میں ہے کہ فقہاء کرام پر اجارہ منعقد نہ ہوگاجیسے گائے دودھ کے لئے اور باغ کو اس کاپھل کھانے کے لئے اجارہ پر لینا جبکہ یہ مسئلہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳۹€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۹€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۹€
الکتاب۔ منح الغفار اور بہت سی کتب میں تصریح شدہ ہے۔(ت)
اب اسی اجارہ کو دیکھئے تویہ ہرگز کسی منفعت پر واردنہ ہواکہ زمیں بغرض زراعت تو مزارعین کے ٹھیکہ میں ہے۔بلکہ خاص توفیر یعنی زر حاصل یا بٹائی کاغلہ اجارہ میں دیا گیا اور اسی کا استہلاك مفاد عقد ہوااذمن المعلوم ان الحبوب والنقود ولاینتفع بہا الاباتلافہا(اور ظاہر ہے دانے او رنقد زر سے ان کی ہلاکت کے بغیر نفع حاصل کیا جاسکتاہے۔ت)اور پر ظاہر کہ زروطعام اعیان سے ہیں نہ منافع سے اگر چہ محاورہ ہندیان میں تمام حاصلات دیہی کو بلفظ منافع تعبیرکیا جاتاہے۔عین اشیائے قائمہ بالذات کو کہتے ہیںاو رمنفعت معانی حاصلہ فی الغیر عین امور محسوسہ کی جنس سے ہے اور مفنت معنی معقول عین کہ چند زمانے تك بقاہے۔او رمنفعت ہر آن متجدد۔
فی ردالمحتار المنفعۃ عرض لاتبقی زمانین ۔ ردالمحتار میں ہے نفع ایك عرض چیزہے جس کا وجود دو زمانوں میں باقی نہیں رہتا۔(ت)
اب نفس جزئیہ کی تصریح کلمات علمائے کرام سے لیجئےامام خیر الملۃ والدین رملی استاذ فاضل مدقق صاحب درمختار رحمہ اﷲ تعالی علیہما فتاوی خیریہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
ان کانت الاجارۃ وقعت علی اتلاف العین قصدا فہی باطلۃ کما صرحت بہ علماؤنا قاطبۃوصار کمن استاجر بقرۃ لیشرب لبنہا لاتنعقد فاذا استاجر زید القری و المزارع والحوانیت لا جل تناول خراج المقاسمۃ او خراج الوظیفۃ اوما یجب علی المتقبلین من اجرۃ الحوانیت اولا جل تناول ثمرۃ الاشجار من بساتین القری وحصۃ الوقف من الزرع الخارج فالاجارۃ باطلۃ باجماع علمائنا لافرق اگر اجارہ عین چیز کے اتلاف پر مقصود ہو توباطل ہوگاجیسا کہ تمام علماء نے تصریح فرمائی ہے۔اورجیسے گائے کہ دودھ کےلئے اجارہ پر ہوجائے گا جومنعقد نہ ہوگا تو جب زید نے دیہات زمین اور دکانیں اجارہ پر حاصل کیں تاکہ حصہ کی آمدنی یا مقررہ کرایہ وصول کرے یا دکانوں کا کرایہ حاصل کرے یا دیہاتوں کے باغات کے پھل کھائے یا اوقاف کی زمینوں کا فصلانہ وصول کرنے کے لئے اجارہ پر لے تو اجارہ باجماع علماء باطل ہے اس میں زیدوبکر کا
اب اسی اجارہ کو دیکھئے تویہ ہرگز کسی منفعت پر واردنہ ہواکہ زمیں بغرض زراعت تو مزارعین کے ٹھیکہ میں ہے۔بلکہ خاص توفیر یعنی زر حاصل یا بٹائی کاغلہ اجارہ میں دیا گیا اور اسی کا استہلاك مفاد عقد ہوااذمن المعلوم ان الحبوب والنقود ولاینتفع بہا الاباتلافہا(اور ظاہر ہے دانے او رنقد زر سے ان کی ہلاکت کے بغیر نفع حاصل کیا جاسکتاہے۔ت)اور پر ظاہر کہ زروطعام اعیان سے ہیں نہ منافع سے اگر چہ محاورہ ہندیان میں تمام حاصلات دیہی کو بلفظ منافع تعبیرکیا جاتاہے۔عین اشیائے قائمہ بالذات کو کہتے ہیںاو رمنفعت معانی حاصلہ فی الغیر عین امور محسوسہ کی جنس سے ہے اور مفنت معنی معقول عین کہ چند زمانے تك بقاہے۔او رمنفعت ہر آن متجدد۔
فی ردالمحتار المنفعۃ عرض لاتبقی زمانین ۔ ردالمحتار میں ہے نفع ایك عرض چیزہے جس کا وجود دو زمانوں میں باقی نہیں رہتا۔(ت)
اب نفس جزئیہ کی تصریح کلمات علمائے کرام سے لیجئےامام خیر الملۃ والدین رملی استاذ فاضل مدقق صاحب درمختار رحمہ اﷲ تعالی علیہما فتاوی خیریہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
ان کانت الاجارۃ وقعت علی اتلاف العین قصدا فہی باطلۃ کما صرحت بہ علماؤنا قاطبۃوصار کمن استاجر بقرۃ لیشرب لبنہا لاتنعقد فاذا استاجر زید القری و المزارع والحوانیت لا جل تناول خراج المقاسمۃ او خراج الوظیفۃ اوما یجب علی المتقبلین من اجرۃ الحوانیت اولا جل تناول ثمرۃ الاشجار من بساتین القری وحصۃ الوقف من الزرع الخارج فالاجارۃ باطلۃ باجماع علمائنا لافرق اگر اجارہ عین چیز کے اتلاف پر مقصود ہو توباطل ہوگاجیسا کہ تمام علماء نے تصریح فرمائی ہے۔اورجیسے گائے کہ دودھ کےلئے اجارہ پر ہوجائے گا جومنعقد نہ ہوگا تو جب زید نے دیہات زمین اور دکانیں اجارہ پر حاصل کیں تاکہ حصہ کی آمدنی یا مقررہ کرایہ وصول کرے یا دکانوں کا کرایہ حاصل کرے یا دیہاتوں کے باغات کے پھل کھائے یا اوقاف کی زمینوں کا فصلانہ وصول کرنے کے لئے اجارہ پر لے تو اجارہ باجماع علماء باطل ہے اس میں زیدوبکر کا
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۳€
بین زید وبکر فی ذلك لانہا باطلۃ والحال ھذہ والباطل یجب اعدامہ لاتقریرہ فترفع ید زیدو عمرو عن القوی والمزارع زید وعمرو عن القری و المزارع والحوانیت ۔ کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ یہ باطل ہے جب یہ صورت ہے تو اس باطل کا ازالہ ضروری ہے۔نہ کہ اس کو بحال رکھنا جائز توزید عمرو کا قبضہ ان سے ختم کرنا ضروری ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
سئل فی الالتزام والمقاطعۃ علی مایتحصل من قریۃ الوقف من خراج مقاسمۃ وغیر ذلك بمال معلوم من احدالنقدین یدفعہ الملتزم ویکون لہ مایتحصل منہا قلیلا کان اوکثیراھل یجوز ام لااجابالواقع علیہ فی المقاطعۃ المشروحۃ اعیان لامنانفع فہی باطلۃ المشروحۃ اعیان لامنافع فہی باطلۃ بالاجماع و اذا وقعت باطلۃ کانت کالعدم الخ ملخصا۔ آپ سے سوال ہوا کہ وقف گاؤں کے حصہ کی وصول کاٹھیکہ وغیرہ مقررہ مال کے بدلے حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں ٹھیکہ قلیل ماہو یا کثیر ہوتوجواب دیا کہ یہ ٹھیکہ عین اشیاء پر ہے منافع پر نہیں لہذا یہ بالاجماع باطل ہے تو جب باطل ہے تو کالعدم ہے۔الخ ملخصا(ت)
اسی میں ہے:
سئل ایضا فی تیماری اجر المتحصل من تیمارہ لاخر بمبلغ معلوم ھل تصح ام لااجاب لا تصح وعلی کل وحد منہا ردماتناولہ الخ۔ کجھور کے باغ والے نے حاصل ہونے والے پھل کا مقررہ نقد پر دوسرے کو ٹھیکہ دیا کیا یہ صحیح ہے یانہیں انھوں نے جواب دیا کہ یہ صحیح نہیں ہے اورفریقین پر لازم ہے کہ جوکچھ دیا ہے واپس کریں۔الخ۔(ت)
اسی میں ہے:
اسی میں ہے:
سئل فی الالتزام والمقاطعۃ علی مایتحصل من قریۃ الوقف من خراج مقاسمۃ وغیر ذلك بمال معلوم من احدالنقدین یدفعہ الملتزم ویکون لہ مایتحصل منہا قلیلا کان اوکثیراھل یجوز ام لااجابالواقع علیہ فی المقاطعۃ المشروحۃ اعیان لامنانفع فہی باطلۃ المشروحۃ اعیان لامنافع فہی باطلۃ بالاجماع و اذا وقعت باطلۃ کانت کالعدم الخ ملخصا۔ آپ سے سوال ہوا کہ وقف گاؤں کے حصہ کی وصول کاٹھیکہ وغیرہ مقررہ مال کے بدلے حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں ٹھیکہ قلیل ماہو یا کثیر ہوتوجواب دیا کہ یہ ٹھیکہ عین اشیاء پر ہے منافع پر نہیں لہذا یہ بالاجماع باطل ہے تو جب باطل ہے تو کالعدم ہے۔الخ ملخصا(ت)
اسی میں ہے:
سئل ایضا فی تیماری اجر المتحصل من تیمارہ لاخر بمبلغ معلوم ھل تصح ام لااجاب لا تصح وعلی کل وحد منہا ردماتناولہ الخ۔ کجھور کے باغ والے نے حاصل ہونے والے پھل کا مقررہ نقد پر دوسرے کو ٹھیکہ دیا کیا یہ صحیح ہے یانہیں انھوں نے جواب دیا کہ یہ صحیح نہیں ہے اورفریقین پر لازم ہے کہ جوکچھ دیا ہے واپس کریں۔الخ۔(ت)
اسی میں ہے:
حوالہ / References
فتاوٰی خیریۃ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۶€
فتاوٰی خیریۃ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۶۲۷€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۸€
فتاوٰی خیریۃ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۶۲۷€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۸€
المقرر فی کلام مشائخنا باجمعہم ان الاجارۃ تملیك نفع بعوض وانہا اذا وقعت علی استھلاك الاعیان فہی باطلۃ ومماصرحوا بہ ان من استاجر بقرۃ لیشرب لبنہا اوکرما لیاکل ثمرتہ فہو باطل ومما یقطع الشغب قولہم"جعل العین منفعۃ غیر متصور "فاذا علم ان الاجارۃ اذا وقعت علی استہلاك الاعیان قصدا وقعت باطلۃ فعقد الاجارۃ المذکورۃ حیث لم یقع علی الانتفاع بالارض بالزرع ونحوہ بل علی اخذ المتحصل من الخراج بنوعیہ اعنی الخراج الموظف والمقاسمۃ وما علی الاشجار من الدراھم المضروبۃ فہو باطل باجماع ائمتنا والباطل لاحکم لہ باطباق علمائنا واذا قلنا بطلانہ لزوم المستاجران یرد جمیع ماتناول من المزاعین من غلال ونقود وغیر ذلك ۔ ہمارے تمام مشائخ کے کلام میں ہے کہ اجارہ منافع کا عوض کے بدلے مالك بننے کانام ہے اور اگریہ عین چیز کو ہلاك کرنے پر منعقد ہو تو باطل ہوگااوران کی تصریحات میں ہے کہ جو شخص گائے کو دودھ پینے کے لئے یاانگور کا درخت پھل کھانے کئے لئے اجارہ پرلے تو یہ باطل ہے۔اور اس عمل کے غلط ہونے پر ان کا یہ قول قطعی ہے کہ عین چیز کو اجارہ قصدا عین چیز کو ہلاك کرنے پر واقع ہواہے تو باطل ہوگا تواجارہ مذکورہ جب زمین سے انتفاع پر نہیں بلکہ زمین سے حاصل آمدن کو وصول کرنے پر دو طرح سے ہے یعنی مقررہ حصہ کی وصولی اور درختوں کے پھل کی وصولی کے عوض مقررہ دراہمتویہ ہمارے ائمہ کے اجماع کے مطابق باطل ہے او باطل چیز کاہمارے علماء کے اتفاق کے مطابق کوئی حکم نہیں ہے اور جب ہم نے باطل کہہ دیا تو مستاجر پر لازم ہے کہ اس نے جو کچھ مزارعین سے غلہ یا نقد وصول کیا واپس کرے۔(ت)
اسی میں ہے:
اعلم ان الاجارۃ اذ اوقعت علی اتلاف الاعیان قصدا کانت باطلہ فلایملك المستاجر ماوجد من تلك الاعیان بل ھی معلوم ہونا چاہئے کہ کہ جب اجارہ قصدا عین چیز کو تلف کرنے پر ہو تو وہ باطل ہوگامستاجر جو کچھ بھی ان اعیان چیزوں میں سے حاصل کرے وہ اس کا مالك
اسی میں ہے:
اعلم ان الاجارۃ اذ اوقعت علی اتلاف الاعیان قصدا کانت باطلہ فلایملك المستاجر ماوجد من تلك الاعیان بل ھی معلوم ہونا چاہئے کہ کہ جب اجارہ قصدا عین چیز کو تلف کرنے پر ہو تو وہ باطل ہوگامستاجر جو کچھ بھی ان اعیان چیزوں میں سے حاصل کرے وہ اس کا مالك
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارہ درالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۳۶۔۱۳۵€
علی ماکانت علیہ قبل الاجارۃ فتؤخذ من یدہ اذا تناولہا ویضمنہا بالاستہلاك لان الباطل لایؤثر شیئا فیحرم علیہ التصرف فیہا لعدم مبلکہ وذلك کاستئجار بقرۃ لیشرب لبنہا اوبستان لیأکل ثمرتہ ومثلہ استئجار مافی یدالمزاعین لاکل خراجہ الذی یحصل بالمقاسدۃ فانہ عین وقع علیہا الاستیجار قصدا ومثلہ باطل کما علمت ۔ نہ بنے گا یہ اجارہ سے قبل کی حالت پر ہوں گی لہذا مستاجرکے قبضہ سے واپس لی جائیں گی اور اگر وہ ان کو ہلاکر کرچکا ہو تو ان کا ضمان اس سے وصول کیا جائیگا کیونکہ کسی چیز میں باطل موثر نہیں ہوتا اس لئےاس پر ان میں تصرف حرام ہوگا کیونکہ وہ ان کا مالك نہیں ہے اور یہ گائے کے دودھ یا باغ کو پھل کھانے کے لئے اجارہ پرلینے کی طرح ہوگا اور اسی کی مثل مزارعین سے مقررہ حصہ کی وصولی کا مالك بننے کےلئے ٹھیکہ لینا ہے کیونکہ یہ بھی عین چیز پر قصدا اجارہ ہے اور ایسی صورت باطل ہے جیسا کہ تو معلوم کرچکاہے۔(ت)
اسی میں ہے:
الاجارۃ المذکورۃ باطلۃ غیر منعقدۃ لما صرحرح بہ علماؤنا قاطبۃ من ان الاجارۃ اذا وقعت علی اتلاف الاعیان قصدا لاتنعقد ولا تفید شیئا من احکام الاجارۃ فاذا علم ذلك فلیس للمستاجر ان یتناول شیئا من الغلال اھ ۔ مذکورہ اجارہ باطل ہے اور غیر منعقد ہے جیسا کہ تمام علماء تصریح کرچکے ہیں کہ جب اجارہ قصدا عین چیز کو تلف کرنے کے لئے ہو تو وہ منعقد نہیں ہوتا او راجارہ کے احکام کے لئے مفید نہیں ہوتا۔جب یہ معلوم ہوگیا تو مستاجر کو حق نہیں کہ وہ کوئی آمدن وصول کرے اھ(ت)
ردالمحتار علی در مختار میں ہے:
امامایفعلونہ فی ھذا الازمان حیث یضمنہا من لہ ولایتہالرجل لیکن ووہ عمل جو اس زمانہ میں کیا جارہاہے کہ کارمختار کسی مقررہ معاوضہ پر زمینوں کےحصہ
اسی میں ہے:
الاجارۃ المذکورۃ باطلۃ غیر منعقدۃ لما صرحرح بہ علماؤنا قاطبۃ من ان الاجارۃ اذا وقعت علی اتلاف الاعیان قصدا لاتنعقد ولا تفید شیئا من احکام الاجارۃ فاذا علم ذلك فلیس للمستاجر ان یتناول شیئا من الغلال اھ ۔ مذکورہ اجارہ باطل ہے اور غیر منعقد ہے جیسا کہ تمام علماء تصریح کرچکے ہیں کہ جب اجارہ قصدا عین چیز کو تلف کرنے کے لئے ہو تو وہ منعقد نہیں ہوتا او راجارہ کے احکام کے لئے مفید نہیں ہوتا۔جب یہ معلوم ہوگیا تو مستاجر کو حق نہیں کہ وہ کوئی آمدن وصول کرے اھ(ت)
ردالمحتار علی در مختار میں ہے:
امامایفعلونہ فی ھذا الازمان حیث یضمنہا من لہ ولایتہالرجل لیکن ووہ عمل جو اس زمانہ میں کیا جارہاہے کہ کارمختار کسی مقررہ معاوضہ پر زمینوں کےحصہ
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتا ب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۱۹€
فتاوٰی خیریہ کتا ب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۱۷€
فتاوٰی خیریہ کتا ب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۱۷€
بمال معلوم لیکون لہ خراج مقاسمتہا ونحوہ فہو باطلاذ لایصح اجارۃ لوقوعہ علی اتلاف الاعیان قصدا و لابیعا لانہ معدوم اھقلت وھکذا افصح بہ الفاضل المحقق مولنا امین الملۃ والدین محمد بن عابدین الشامی الدین رحمہ اﷲ تعالی صاحب ردالمحتار علی ردالمختار فی کتابہ النفیس الجلیل الحری بان یکتب علی الحناجر ولو بالخناجر المسمی"بالعقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ" وغیرہ فی غیرہ والعبد الضعیف الان فی قریۃ بعیدۃ عن وطنی لیس عندی ھہنا من الکتب الفقہیۃ الارد المحتار و الخیریۃ لو لاذلك لاثبت بتصریحات جلیلۃ اخری تفتح اعین الغافلین وفیما اورد ناکفایۃ للعاقدین والحمد اﷲ رب العالمین۔ کی وصولی کو ٹھیکہ وغیر ہ پر دے دیتاہے تو یہ باطل ہے کیونکہ یہ اجارہ درست نہیں اس لئے کہ یہ عین چیز کو فنا کرنے پر اجارہ اور بیع بھی نہیں کیونکہ وہ قابل وصول حصہ ابھی معدوم ہے اھ۔ میں کہتاہوں اور یونہی فاضل محقق مولانا امین الملۃ والدین محمد بن عابدین شامی رحمہ اﷲ تعالی صاحب ردالمحتار حاشیۃ درمختار نے اپنی کتاب جو کہ نفیس جلیل اس قابل ہےکہ اس کوحلقوموں پر لکھاجائے اگرچہ خنجروں سے لکھا جاسکے جس کا نام"العقود الدریۃ فی تنقیح الحامدیہ" ہے اور دیگر علماء نے دیگر کتب میں فرمایا اور یہ ناتواں بندہ اس وقت اپنے وطن سے دور ایك قریہ میں ہے میرے پاس سوائے ردالمحتار اور خیریہ کوئی بھی فقہ کی کتاب نہیں ہے اگر یہ عذر ہ ہوتا تومیں ایسی مزید تصریحات جلیلہ کو بیان کرتا جو غافل حضرات کی آنکھوں کو کھول دیتیں اور جو کچھ میں نے ذکر کردیا ہے وہ عقل والوں کے لئے کافی ہے۔والحمداﷲ رب العالمین۔(ت)
ان نصوص صریحہ کے بعد بھی حکم میں کچھ خفا باقی ہے اوریہیں ظاہر ہوگیا وہ فرق جس سے سائل سوال کرتاہے کہ مزارعوں کو زمین بغرض زراعت دی جاتی ہےوہاں اجارہ بونے جوتنے پر وارد ہوتاہے کہ وہ منفعت ہے نہ کسی عین کے استہلاك پرفافترقا اسی لئے امام خیرالدین نے ارشاد فرمایا:
عقد الاجارۃ المذکورۃ حیث لم یقع مذکورہ عقد اجارہ زمین سے زراعت کے انتفاع وغیرہ
ان نصوص صریحہ کے بعد بھی حکم میں کچھ خفا باقی ہے اوریہیں ظاہر ہوگیا وہ فرق جس سے سائل سوال کرتاہے کہ مزارعوں کو زمین بغرض زراعت دی جاتی ہےوہاں اجارہ بونے جوتنے پر وارد ہوتاہے کہ وہ منفعت ہے نہ کسی عین کے استہلاك پرفافترقا اسی لئے امام خیرالدین نے ارشاد فرمایا:
عقد الاجارۃ المذکورۃ حیث لم یقع مذکورہ عقد اجارہ زمین سے زراعت کے انتفاع وغیرہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتا ب الاجارۃ مسائل شتی فی الاجارۃ داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۵/ ۵۷€
علی الانتفاع بالارض بالزرع ونحوہ بل اخذ المتحصل الخ کما اسمعناك نصہ۔ پر واقع نہیں بلکہ متحصل کی وصولی پر ہوتاہے الك جیساکہ ہم نے ان کو نص آپ کوسنادی ہے۔(ت)
معہذا کچھ فرق نہ سہی جب شرع مطہرسے اس کی حلت اور اس کی حرمت ثابتپھر مجال مقال کیاہے۔
" قالوا انما البیع مثل الربوا واحل اللہ البیع وحرم الربوا " واﷲ تعالی المسئول لاصلاح احوال الائمۃ المرحومۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ انھوں نے کہا کہ بیع بھی ربا کی طرح ہی ہے۔حالانکہ اﷲ تعالی نے بیع کوحلال اور ربا کوحرام فرمایا ہے۔اور اﷲ تعالی سے ہی امت مرحومہ کی اصلاح کے لئے سوال ہے۔بھلائی کی طرف پھرنا اورنیکی کی قوت صرف اﷲ بلند وعظیم سے ہے۔ (ت)
ہوایہ کہ جن لوگوں نے کسی وجہ سے اپنے دیہات کا کام خود نہ کرنا چاہااور دوسرے کو بطورکار پر دازی بتقرر تنخواہ سپرد کرینے میں غبن کثیر و محنت قلیل وبے پرواہی کا رندگان کا احتمال قوی سمجھا۔
کما ھو مشاھد فی کثیر من ابناء الزمان الامن عصمہ اﷲ وقلیل ماھم۔ جیساکہ بہت سے اہل زمانہ میں یہ مشاہدہ ہے۔ہاں اﷲ تعالی جس کو محفوظ فرمائےاور وہ قولیل لوگ ہیں۔(ت)
بخلاف اس صورت کے جب ایك شخص کے ذمہ رقم محدود باندھ دی جائے اور یہ قرار پائے کہ جہاں سے جانے اسے پورا کرے۔ یہاں تك کہ اس پر ضما نتیں یا ایك سال کی توفیر پیشگی لی جاتی ہے تو احتمال غبن کے تو کچھ معنی ہی نہ رہے۔کوشش دلسوزی اول توکیونکر نہ کرے گااو رنہ بھی کرے تو اپنا کیا نقصان اس قسم کی باتیں ذہن میں جماکر یہ عقد باطل عاطل ایجاد کیا حالانکہ ان کی نادانی کا نتیجہ تھاکاش ! اگر حضرات علماء لاخلاء الکون عنہم وکثر اﷲ فی بلادہ امثالہم(کائنات ان سے خالی نہیں ہے اﷲ تعالی نے ان جیسوں کی کثرت اپنے تمام بلاد میں فرمائے ہیں۔ت)کی طرف رجوع لائے تو ایسی صورت نکلنا ممکن تھی جس میں ان کا اطمینان بھی رہتاٹھیك دار کے سر رقم معین ہوجاتی غبن وغیرہ
معہذا کچھ فرق نہ سہی جب شرع مطہرسے اس کی حلت اور اس کی حرمت ثابتپھر مجال مقال کیاہے۔
" قالوا انما البیع مثل الربوا واحل اللہ البیع وحرم الربوا " واﷲ تعالی المسئول لاصلاح احوال الائمۃ المرحومۃ ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم۔ انھوں نے کہا کہ بیع بھی ربا کی طرح ہی ہے۔حالانکہ اﷲ تعالی نے بیع کوحلال اور ربا کوحرام فرمایا ہے۔اور اﷲ تعالی سے ہی امت مرحومہ کی اصلاح کے لئے سوال ہے۔بھلائی کی طرف پھرنا اورنیکی کی قوت صرف اﷲ بلند وعظیم سے ہے۔ (ت)
ہوایہ کہ جن لوگوں نے کسی وجہ سے اپنے دیہات کا کام خود نہ کرنا چاہااور دوسرے کو بطورکار پر دازی بتقرر تنخواہ سپرد کرینے میں غبن کثیر و محنت قلیل وبے پرواہی کا رندگان کا احتمال قوی سمجھا۔
کما ھو مشاھد فی کثیر من ابناء الزمان الامن عصمہ اﷲ وقلیل ماھم۔ جیساکہ بہت سے اہل زمانہ میں یہ مشاہدہ ہے۔ہاں اﷲ تعالی جس کو محفوظ فرمائےاور وہ قولیل لوگ ہیں۔(ت)
بخلاف اس صورت کے جب ایك شخص کے ذمہ رقم محدود باندھ دی جائے اور یہ قرار پائے کہ جہاں سے جانے اسے پورا کرے۔ یہاں تك کہ اس پر ضما نتیں یا ایك سال کی توفیر پیشگی لی جاتی ہے تو احتمال غبن کے تو کچھ معنی ہی نہ رہے۔کوشش دلسوزی اول توکیونکر نہ کرے گااو رنہ بھی کرے تو اپنا کیا نقصان اس قسم کی باتیں ذہن میں جماکر یہ عقد باطل عاطل ایجاد کیا حالانکہ ان کی نادانی کا نتیجہ تھاکاش ! اگر حضرات علماء لاخلاء الکون عنہم وکثر اﷲ فی بلادہ امثالہم(کائنات ان سے خالی نہیں ہے اﷲ تعالی نے ان جیسوں کی کثرت اپنے تمام بلاد میں فرمائے ہیں۔ت)کی طرف رجوع لائے تو ایسی صورت نکلنا ممکن تھی جس میں ان کا اطمینان بھی رہتاٹھیك دار کے سر رقم معین ہوجاتی غبن وغیرہ
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۳۵€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۷۵€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۷۵€
کے خدشوں سے نجات ہاتھ آئیاو رمؤجر ومستاجر دونوں اکل حلال کھاتے نافرمانی ملك جبار سے امان پاتے ہیں مگر کم ہیں وہ پاك مبارك بندے جنھیں اپنے دین کا اہتمام ہےالہی ! اس اذل وارذل کو اپنے ان محبوبوں کا خاکپابنا اور امت مصطفی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم کی اصلاح احوال فرما امین بجاہ ھذا النبی الکریم علیہ وعلی الہ وافضل الصلوۃ والتسلیم۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۲۲۱: از شاہجہانپور مدرسہ اسلامیہ مرسلہ شیخ بشیر الدین صاحب ۲۵ شعبان ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ زید کا ایك موضع ہے جس میں قدیم الایام سے ایك بت خانہ اور اس کے چڑھاوہ میں قریب تین سو روپیہ سالانہ کے رقم آتی ہے۔زید بورجہ قدامت کے بت خانہ کو دفع نہیں کرسکتا۔اور نہ اس کی پرستش کو بندکرسکتاہے اصل رقم آمدنی موضع مذکور کی دو سوروپیہ سالانہ ہےایك ہندوٹھیکہ دار موضع مذکور کاچار سوروپیہ پر لینا چاہتاہے۔ظاہر ہے کہ اصلی آمدنی کی موضع مذکور کی صرف دو سوروپیہ سالانہ ہے۔ٹھیکہ دار رقم چڑھاوہ کے خیال سے دو سوررپیہ اصل آمدنی پر بڑھاتاہے مگر زید کوئی تفصیل آمدنی موضع او رآمدنی چڑھاوہ کی نہیں کرتا ہے بلکہ یہی کہتاہے کہ میں ٹھیکہ موضع کا دیتاہوں تو زید کا چارسو روپیہ سالانہ پر موضع مذکور کا ٹھیکہ دینا ہندوکوجائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
سرے سے دیہات کا یہ ٹھیکہ ہی جس طرح آج کل رائج ہے کہ زمین زراعت پر مزارعین کے پاس رہتی ہے اور ٹھیکہ دار رتوفیر کا ٹھیکہ لیتاہے بالاتفاق حرام ہے۔فتاوی خیریہ میں ہے:
سئل فی تیماری اجر المتحصل من تیمارہ لاخر بمبلغ معلوم ھل تصح ام لااجاب لاتصحوعلی کل واحد منہما ردماتناولہ ۔ ان سے سوال کیاہوا ایك نے اپنے کھجور کے باغ سے حاصل ہونے والے پھل کو دوسرے کو مقررہ رقم سے ٹھیکہ پر دیا۔ کیایہ صحیح ہے یا نہیں جواب دیا کہ یہ صحیح نہیں۔اور فریقین پر لازم ہے کہ وہ لین دین واپس کریں۔(ت)
مسئلہ ۲۲۱: از شاہجہانپور مدرسہ اسلامیہ مرسلہ شیخ بشیر الدین صاحب ۲۵ شعبان ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں کہ زید کا ایك موضع ہے جس میں قدیم الایام سے ایك بت خانہ اور اس کے چڑھاوہ میں قریب تین سو روپیہ سالانہ کے رقم آتی ہے۔زید بورجہ قدامت کے بت خانہ کو دفع نہیں کرسکتا۔اور نہ اس کی پرستش کو بندکرسکتاہے اصل رقم آمدنی موضع مذکور کی دو سوروپیہ سالانہ ہےایك ہندوٹھیکہ دار موضع مذکور کاچار سوروپیہ پر لینا چاہتاہے۔ظاہر ہے کہ اصلی آمدنی کی موضع مذکور کی صرف دو سوروپیہ سالانہ ہے۔ٹھیکہ دار رقم چڑھاوہ کے خیال سے دو سوررپیہ اصل آمدنی پر بڑھاتاہے مگر زید کوئی تفصیل آمدنی موضع او رآمدنی چڑھاوہ کی نہیں کرتا ہے بلکہ یہی کہتاہے کہ میں ٹھیکہ موضع کا دیتاہوں تو زید کا چارسو روپیہ سالانہ پر موضع مذکور کا ٹھیکہ دینا ہندوکوجائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
سرے سے دیہات کا یہ ٹھیکہ ہی جس طرح آج کل رائج ہے کہ زمین زراعت پر مزارعین کے پاس رہتی ہے اور ٹھیکہ دار رتوفیر کا ٹھیکہ لیتاہے بالاتفاق حرام ہے۔فتاوی خیریہ میں ہے:
سئل فی تیماری اجر المتحصل من تیمارہ لاخر بمبلغ معلوم ھل تصح ام لااجاب لاتصحوعلی کل واحد منہما ردماتناولہ ۔ ان سے سوال کیاہوا ایك نے اپنے کھجور کے باغ سے حاصل ہونے والے پھل کو دوسرے کو مقررہ رقم سے ٹھیکہ پر دیا۔ کیایہ صحیح ہے یا نہیں جواب دیا کہ یہ صحیح نہیں۔اور فریقین پر لازم ہے کہ وہ لین دین واپس کریں۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۸€
اسی میں ہے:
قد اتفقت علماؤنا علی ان الاجارۃ اذا وقعت علی تناول الاعیان اواتلافہا فہی باطلۃ فاذا علم ذلك علم الحکم فی اجارۃ القری لتناول الخراج مقاسمۃ کان او وظیفۃ وانہ باطل وقد افتیت بذلك مرارا وصورۃ ما رفع الی فی قریۃ اجرھا المتکلم علیہا الاخر لینا ول ما یتحصل من خراجہا ورسوم انکحتھا وزکوۃ مواشیہا ھل یجوز فاجبت فانہا باطلۃ لاتجوز الخ ۔ ہمارے علماء کا اتفاق ہے کہ جب اجارہ عین چیز کو کھانے یا تلف کرنے پر ہو تو باطل ہوگا جب یہ معلوم ہوگیا تو اس سے دیہات کی آمدن یا وہاں سے حاصل ہونے والے حصہ کو ٹھیکہ پر دینے کا حکم معلوم ہوگیا کہ یہ باطل ہے۔اور اس پر متعدد بار فتوی دے چکا ہوں اور میرے پاس مسئلہ کی جو صورت پیش ہوئی وہ یہ تھی کہ ایك قریہ کے مختار نے وہاں سے حاصل ہونے والی آمدن وہاں ہونے والے نکاحوں کے مروجہ عطیات اور جانوروں کی زکوۃ کاٹھیکہ دوسرے شخص کو مقررہ رقم پر دے دیا تو کیا یہ جائزہےتومیں نے جواب دیا کہ یہ ناجائز اورباطل ہے۔الخ(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
امام مایفعلونہ فی ھذا الایمان حیث یضمنہا من لہ ولا یتہا الرجل بمال معلوم لیکون لہ خراج مقاسمتہا ونحوہ فہو باطل اذ لایصح اجارۃ لو قوعہ علی اتلاف الاعیان قصدا ولابیعا الانہ معدوم کما بینہ فی الخیریۃ ۔ لیکن وہ عمل جو آج کل لوگ کرتے ہیں کہ توقریہ سے حاصل ہونے والی آمدن کے حصے کو مختار کار شخص دوسرے کو ٹھیکہ پر دے دیتاہے تو یہ باطل ہےکیونکہ عین چیز کو تلف کرنے پر یہ قصدا اجارہ ہے بیع نہیں ہے کیونکہ محصولات ابھی معدوم ہیں جیسا کہ خیریہ میں اس کا بیان ہے۔(ت)
بلکہ جواز کی یہ صورت ہے کہ جس سے ٹھیکہ دے سال تمام پر خیال کرے کہ کتنے مزارعوں کا پٹہ ہنوز باقی ہے۔جس جس کا ہوان سے اجازت لے کہ اب ہم یہ ساراگاؤں یا اس کی فلاں پٹی یا فلاں فلاں معین نمبر تمام وکمال فلاں شخص کوزراعت کرنے کے لئے ٹھیکہ پر دیتے ہیں تم اجازت دے دو
قد اتفقت علماؤنا علی ان الاجارۃ اذا وقعت علی تناول الاعیان اواتلافہا فہی باطلۃ فاذا علم ذلك علم الحکم فی اجارۃ القری لتناول الخراج مقاسمۃ کان او وظیفۃ وانہ باطل وقد افتیت بذلك مرارا وصورۃ ما رفع الی فی قریۃ اجرھا المتکلم علیہا الاخر لینا ول ما یتحصل من خراجہا ورسوم انکحتھا وزکوۃ مواشیہا ھل یجوز فاجبت فانہا باطلۃ لاتجوز الخ ۔ ہمارے علماء کا اتفاق ہے کہ جب اجارہ عین چیز کو کھانے یا تلف کرنے پر ہو تو باطل ہوگا جب یہ معلوم ہوگیا تو اس سے دیہات کی آمدن یا وہاں سے حاصل ہونے والے حصہ کو ٹھیکہ پر دینے کا حکم معلوم ہوگیا کہ یہ باطل ہے۔اور اس پر متعدد بار فتوی دے چکا ہوں اور میرے پاس مسئلہ کی جو صورت پیش ہوئی وہ یہ تھی کہ ایك قریہ کے مختار نے وہاں سے حاصل ہونے والی آمدن وہاں ہونے والے نکاحوں کے مروجہ عطیات اور جانوروں کی زکوۃ کاٹھیکہ دوسرے شخص کو مقررہ رقم پر دے دیا تو کیا یہ جائزہےتومیں نے جواب دیا کہ یہ ناجائز اورباطل ہے۔الخ(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
امام مایفعلونہ فی ھذا الایمان حیث یضمنہا من لہ ولا یتہا الرجل بمال معلوم لیکون لہ خراج مقاسمتہا ونحوہ فہو باطل اذ لایصح اجارۃ لو قوعہ علی اتلاف الاعیان قصدا ولابیعا الانہ معدوم کما بینہ فی الخیریۃ ۔ لیکن وہ عمل جو آج کل لوگ کرتے ہیں کہ توقریہ سے حاصل ہونے والی آمدن کے حصے کو مختار کار شخص دوسرے کو ٹھیکہ پر دے دیتاہے تو یہ باطل ہےکیونکہ عین چیز کو تلف کرنے پر یہ قصدا اجارہ ہے بیع نہیں ہے کیونکہ محصولات ابھی معدوم ہیں جیسا کہ خیریہ میں اس کا بیان ہے۔(ت)
بلکہ جواز کی یہ صورت ہے کہ جس سے ٹھیکہ دے سال تمام پر خیال کرے کہ کتنے مزارعوں کا پٹہ ہنوز باقی ہے۔جس جس کا ہوان سے اجازت لے کہ اب ہم یہ ساراگاؤں یا اس کی فلاں پٹی یا فلاں فلاں معین نمبر تمام وکمال فلاں شخص کوزراعت کرنے کے لئے ٹھیکہ پر دیتے ہیں تم اجازت دے دو
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۳۰۔۱۲۹€
ردالمحتار کتاب الاجارہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۷€
ردالمحتار کتاب الاجارہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۷€
(اور انھیں سمجھادے کہ یہ زمیں ہمیشہ تامیعاد پٹہ تمھارے ہی پاس رہے گیہم اپنے ایك مسئلہ شرعی کے لحاظ سے یہ امر کرتے ہیں)جب وہ اجازت دے دیں تو مستاجر سے کہے اس سارے گاؤں یا اس میں فلاں پٹی یا فلاں فلاں معین نمبر کی زمین اس قدر روپے سالانہ پر زراعت کے لئے ہم نے تیرے اجارہ میں دی کہ تجھے اختیار ہے جو چاہے بوئے قبول کرلےاب اجارہ صحیح ہوگیا اور جو روپیہ قرار پایا مالك کو لینا حلال ہوگیا خواہ مستاجر خود زراعت کرے یا دوسروں کو اٹھادے۔
غرض زبانی عقد یوں کرلیا جائے کہ شرع میں اسی کا اعتبار ہےدستاویز میں اگریوں لکھا جانا انگریزی طو ر پر کچھ خلل انداز ہو تو اختیار کہ تحریر ٹھیکہ اسی قاعدہ پر کرے کہ شرعا وہ تحریر خلاف تقریر کوئی چیز نہیں۔خیریہ میں ہے:
امااشتراط کونہ یصدر من لفظہ فی محکمۃ ویکتب فی حجۃ فی سجلات فلیس بلازم شرعا واللفظ باانفرادہ کاف شرعا والزیادۃ لایحتاج الیہا ۔ لیکن محکمہ میں آرڈر اور رجسٹروں میں اندراج شرعا کوئی شرط نہیں صرف لفظی عقد ہی کافی ہے اس سے زائد کی ضرورت نہیں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
العبرۃ بما تلفظ لالما کتب الکاتب اھ ملخصین تلفظ کا اعتبار ہے نہ کہ کاتب کے لکھے ہوئے کا اھدونوں عبارتیں ملخص ہیں۔(ت)
رہا یہ کہ مستاجر کو اس پرنفع لینا مثلا سوروپے سال پر ٹھیکہ لےاب اپنی طرف سے ایك سو یاسوا سوپر اٹھا دینا کسی حالت میں روا ہوگا۔اس کی صورتیں جداہیں جن کے ذکر کی یہاں حاجت نہیں کہ وہ صورت مستفسرہ میں کافر ہے اسے احکام شرعیہ کی کیا پرواہ نہ ہمیں کوئی ضرورت کہ اس کے لئے اکل حلال کی تدبیر کریں
" الخبیثت للخبیثین و الخبیثون للخبیثت" ۔ خبیث چیزیں خبیث لوگوں کےلئے اور خبیث لوگ خبیث چیزوں کے لئے۔(ت)
غرض زبانی عقد یوں کرلیا جائے کہ شرع میں اسی کا اعتبار ہےدستاویز میں اگریوں لکھا جانا انگریزی طو ر پر کچھ خلل انداز ہو تو اختیار کہ تحریر ٹھیکہ اسی قاعدہ پر کرے کہ شرعا وہ تحریر خلاف تقریر کوئی چیز نہیں۔خیریہ میں ہے:
امااشتراط کونہ یصدر من لفظہ فی محکمۃ ویکتب فی حجۃ فی سجلات فلیس بلازم شرعا واللفظ باانفرادہ کاف شرعا والزیادۃ لایحتاج الیہا ۔ لیکن محکمہ میں آرڈر اور رجسٹروں میں اندراج شرعا کوئی شرط نہیں صرف لفظی عقد ہی کافی ہے اس سے زائد کی ضرورت نہیں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
العبرۃ بما تلفظ لالما کتب الکاتب اھ ملخصین تلفظ کا اعتبار ہے نہ کہ کاتب کے لکھے ہوئے کا اھدونوں عبارتیں ملخص ہیں۔(ت)
رہا یہ کہ مستاجر کو اس پرنفع لینا مثلا سوروپے سال پر ٹھیکہ لےاب اپنی طرف سے ایك سو یاسوا سوپر اٹھا دینا کسی حالت میں روا ہوگا۔اس کی صورتیں جداہیں جن کے ذکر کی یہاں حاجت نہیں کہ وہ صورت مستفسرہ میں کافر ہے اسے احکام شرعیہ کی کیا پرواہ نہ ہمیں کوئی ضرورت کہ اس کے لئے اکل حلال کی تدبیر کریں
" الخبیثت للخبیثین و الخبیثون للخبیثت" ۔ خبیث چیزیں خبیث لوگوں کےلئے اور خبیث لوگ خبیث چیزوں کے لئے۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃبیروت ∞۱/ ۲۱۶€
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃبیروت ∞۱/ ۴۰۔۱۳۹€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۲۶€
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف دارالمعرفۃبیروت ∞۱/ ۴۰۔۱۳۹€
القرآن الکریم ∞۲۴/ ۲۶€
اس طور پر اصل اجارہ بھی جائز ہوگیا۔اور وہ مندر کا خدشہ بھی دفع ہوا کہ اس نے تو زمین زراعت کے لئے ٹھیکہ پر دی ہے۔آگے جو نافرمانیاں ناحفاظیاں ٹھیکہ دار کرے اس کے سر ہیںاس سے کوئی تعلق نہیں۔
مسئلہ اجارہ دیہات کی تمام تحققیق فقیر غفر اﷲ تعالی لہ نے اپنے رسالہ"اجود القری لطالب الصحۃ فی اجارۃ القری"میں ذکر کی جس کی ضرورت نہایت اشد کہ آج کل ایك زمانہ اس سے غافلا ور صحیح وجائز طریقہ ملتے ہوئے صرف جہالت کے سبب گناہ عظیم واکل حرام میں مبتلانسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔واﷲ تعالی اعلم بالصواب۔
مسئلہ ۲۲۲: از شہر کہنہ نوادہ مرسلہ شیخ محمد حسین ولد حافظ اکرام اﷲ ۱۳ رجب ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی حقیت زمینداری کا ٹھیکہ تین سال کے واسطے اس شرط سے دیتاہے کہ آمدنی حقیت میں سے بعد ادائے مالگزاری سرکار بیس روپے سالانہ ٹھیکہ دار لیا کرے۔اور سوروپے سالانہ زید مالك زمینداری کو دیا کرے۔اورتین سال کا زر توفیر زید اپنے ٹھیکہ دار سے پیشگی لیتاہے۔تو ا س صورت میں ٹھیکہ دار کو بیس روپے سالانہ لینا شرعا جائز ہوگا یانہیں اگرنہیں تو اس کے جواز کی کیا صورت شرعا ممکن ہے بینوا توجروا
الجواب:
یہ صورت ناجائز وحرام ہے۔
کما حققناہ فی فتاونا ونص علیہ فی الفتاوی الخیریۃ و العقود الدریۃ والدرالمختار وردالمحتار وغیرہا من الاسفار۔ جیساکہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے اور فتاوی خیریہعقود الدریہدرمختار اور ردالمحتار وغیرہ کتبھ میں اس پر نص ہے۔(ت)
ہاں جواز یوں ہوسکتا ہے کہ زید کو یہ شخص تین سو روپے بلا سود دست گرداں دے دےاور زید اسے اپنی حقیت کی تحصیل تشخیص کے لئے بیس روپے سال پر اجیر مقرر کرے۔قرض دہندہ دیانت وامانت سے کام کرےجو منافع خالص ہو اس سے بیس روپے سال اپنی اجرت تحصیل کے لئے اور باقی جس قدر بچے سو روپے ہوں خواہ کم خواہ زائدوہ سب مالك کو پہنچائے یا اپنے قرض یا مجرالے یہاں تك کہ تین سو روپے ادا ہوجائیںاس کے بعد جو بچے سب مالك کو دے پھر تحصیل پر اس کے اجیر ہونے کو چاہیں دونوں شخص باقی رکھیں یا فسخ کریںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ اجارہ دیہات کی تمام تحققیق فقیر غفر اﷲ تعالی لہ نے اپنے رسالہ"اجود القری لطالب الصحۃ فی اجارۃ القری"میں ذکر کی جس کی ضرورت نہایت اشد کہ آج کل ایك زمانہ اس سے غافلا ور صحیح وجائز طریقہ ملتے ہوئے صرف جہالت کے سبب گناہ عظیم واکل حرام میں مبتلانسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔واﷲ تعالی اعلم بالصواب۔
مسئلہ ۲۲۲: از شہر کہنہ نوادہ مرسلہ شیخ محمد حسین ولد حافظ اکرام اﷲ ۱۳ رجب ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید اپنی حقیت زمینداری کا ٹھیکہ تین سال کے واسطے اس شرط سے دیتاہے کہ آمدنی حقیت میں سے بعد ادائے مالگزاری سرکار بیس روپے سالانہ ٹھیکہ دار لیا کرے۔اور سوروپے سالانہ زید مالك زمینداری کو دیا کرے۔اورتین سال کا زر توفیر زید اپنے ٹھیکہ دار سے پیشگی لیتاہے۔تو ا س صورت میں ٹھیکہ دار کو بیس روپے سالانہ لینا شرعا جائز ہوگا یانہیں اگرنہیں تو اس کے جواز کی کیا صورت شرعا ممکن ہے بینوا توجروا
الجواب:
یہ صورت ناجائز وحرام ہے۔
کما حققناہ فی فتاونا ونص علیہ فی الفتاوی الخیریۃ و العقود الدریۃ والدرالمختار وردالمحتار وغیرہا من الاسفار۔ جیساکہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق کی ہے اور فتاوی خیریہعقود الدریہدرمختار اور ردالمحتار وغیرہ کتبھ میں اس پر نص ہے۔(ت)
ہاں جواز یوں ہوسکتا ہے کہ زید کو یہ شخص تین سو روپے بلا سود دست گرداں دے دےاور زید اسے اپنی حقیت کی تحصیل تشخیص کے لئے بیس روپے سال پر اجیر مقرر کرے۔قرض دہندہ دیانت وامانت سے کام کرےجو منافع خالص ہو اس سے بیس روپے سال اپنی اجرت تحصیل کے لئے اور باقی جس قدر بچے سو روپے ہوں خواہ کم خواہ زائدوہ سب مالك کو پہنچائے یا اپنے قرض یا مجرالے یہاں تك کہ تین سو روپے ادا ہوجائیںاس کے بعد جو بچے سب مالك کو دے پھر تحصیل پر اس کے اجیر ہونے کو چاہیں دونوں شخص باقی رکھیں یا فسخ کریںواﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۳:از ریاست رامپور مرسلہ صاحبزادہ ابراہیم علی خان صاحب خلف صاحبزادہ عباس علی خاں صاحب ۳ ذی الحجہ ۱۳۱۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زیدنے ایك موضع کا ٹھیکہ بجمع(معمہ لالع عہ)ہندہ کو سات سال کے لئے دیا اور پٹہ میں چند شرائط کیںایك یہ کہ اگر کوئی قسط حسب تفصیل مندرج پٹہ ادا نہ ہوگی تو زید کو اختیارفسخ اجارہ وضبطی زر نقد امانت وضمانت کا ہوگا۔دوسرے یہ کہ گاؤں میں نکاسی آٹھ ہزار دو سو رپے کی ہےکٹکنہ دارموضع میں جاکر اسامیاں سے تحقیق کرے اگر اس نکاسی میں کچھ کمی ثابت ہوگی تو کٹکنہ دارکو جمع سے مجرادی جائےبعدہ زید نے ہندہ کو بے دخل کرکے قبضہ اپنا کرلیا ہندہ نے نالش کیمدعا علیہ نے حسب شرط پٹہ بوجہ نادہندی ہندہ اختیار فسخ حاصل ہونے کاعذرکیاحاکم نے بدیں بنا کہ شرط مجرائی کمی شرط نہیں وعدہ ہے اور عقد میں نہیں بعد عقد پٹے میں ہےاور بلفظ شرط نہیں بلفظ(اور)ہے۔اور شرط بھی ہو تو مطابق عرف مستاجران ہےنیز ملائم عقد ہے کہ سرکار میں دستور ہےاول رقبہ وتعداد قلبہ قائم کرکے تگد مہ آمدنی دیہہ کا نقشہ میں درج فرماتے ہیںاسی نقشے کے اطمینان پر مخلوق ٹھیکہ لیتی ہے اگر رقبہ یا شمار قلبہ میں کمی ہوئی تو وقت استغاثہ مستاجر عذر اس کا مقبول ہوکر مستاجر کو زر جمع سے کمی مجرا دلائی جاتی ہے۔اور قسط میں بدعہدی باعث فسخ اجارہ نہیں ہوسکتیشرع میں قاعدہ کلیہ ہے کہ مضاف کرنا فسخ کا طرف کسی زمانے کے صحیح ہے۔اور معلق کرنا عموما جائز نہیں یہ صورت تعلیق کی ہے۔ فیصلہ بحق مدعیہ کیادیگر علماء استفتاء ہواانھوں نے اس عقد کو بوجہ شرط فاسد کہ قسط نہ دینے سے ضمانت ضبط کرنا شرعا ممنوع ہے۔اور جبکہ بحال کمی نکاسی مقدار کمی اجرت سے مجرا ہونی ٹھہری تو اجرت میں جہالت ہے۔اجارہ فاسدقرار دیااب علماء دین کی خدمت میں معروض ہے کہ شرعا اس صورت میں حکم محقق کیاہے بینوا توجروا۔
الجواب:
انا ﷲ وانا الیہ راجعونالی اﷲ المشتکی من قلۃ العلم وذلۃ العلماء ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی رب الارض ورب السماء۔ ہم اﷲ تعالی کے لئے اوراس کی طرف لوٹنے والے ہیںاور اﷲ تعالی کے دربار میں ہی علم کی قلت اور علماء کی غلطی کی شکایت ہے۔نیکی ك طرف پھرنا اور اس کی قوت زمین و آسمان کے رب اﷲ تعالی بلند وبالا سے ہے۔(ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زیدنے ایك موضع کا ٹھیکہ بجمع(معمہ لالع عہ)ہندہ کو سات سال کے لئے دیا اور پٹہ میں چند شرائط کیںایك یہ کہ اگر کوئی قسط حسب تفصیل مندرج پٹہ ادا نہ ہوگی تو زید کو اختیارفسخ اجارہ وضبطی زر نقد امانت وضمانت کا ہوگا۔دوسرے یہ کہ گاؤں میں نکاسی آٹھ ہزار دو سو رپے کی ہےکٹکنہ دارموضع میں جاکر اسامیاں سے تحقیق کرے اگر اس نکاسی میں کچھ کمی ثابت ہوگی تو کٹکنہ دارکو جمع سے مجرادی جائےبعدہ زید نے ہندہ کو بے دخل کرکے قبضہ اپنا کرلیا ہندہ نے نالش کیمدعا علیہ نے حسب شرط پٹہ بوجہ نادہندی ہندہ اختیار فسخ حاصل ہونے کاعذرکیاحاکم نے بدیں بنا کہ شرط مجرائی کمی شرط نہیں وعدہ ہے اور عقد میں نہیں بعد عقد پٹے میں ہےاور بلفظ شرط نہیں بلفظ(اور)ہے۔اور شرط بھی ہو تو مطابق عرف مستاجران ہےنیز ملائم عقد ہے کہ سرکار میں دستور ہےاول رقبہ وتعداد قلبہ قائم کرکے تگد مہ آمدنی دیہہ کا نقشہ میں درج فرماتے ہیںاسی نقشے کے اطمینان پر مخلوق ٹھیکہ لیتی ہے اگر رقبہ یا شمار قلبہ میں کمی ہوئی تو وقت استغاثہ مستاجر عذر اس کا مقبول ہوکر مستاجر کو زر جمع سے کمی مجرا دلائی جاتی ہے۔اور قسط میں بدعہدی باعث فسخ اجارہ نہیں ہوسکتیشرع میں قاعدہ کلیہ ہے کہ مضاف کرنا فسخ کا طرف کسی زمانے کے صحیح ہے۔اور معلق کرنا عموما جائز نہیں یہ صورت تعلیق کی ہے۔ فیصلہ بحق مدعیہ کیادیگر علماء استفتاء ہواانھوں نے اس عقد کو بوجہ شرط فاسد کہ قسط نہ دینے سے ضمانت ضبط کرنا شرعا ممنوع ہے۔اور جبکہ بحال کمی نکاسی مقدار کمی اجرت سے مجرا ہونی ٹھہری تو اجرت میں جہالت ہے۔اجارہ فاسدقرار دیااب علماء دین کی خدمت میں معروض ہے کہ شرعا اس صورت میں حکم محقق کیاہے بینوا توجروا۔
الجواب:
انا ﷲ وانا الیہ راجعونالی اﷲ المشتکی من قلۃ العلم وذلۃ العلماء ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی رب الارض ورب السماء۔ ہم اﷲ تعالی کے لئے اوراس کی طرف لوٹنے والے ہیںاور اﷲ تعالی کے دربار میں ہی علم کی قلت اور علماء کی غلطی کی شکایت ہے۔نیکی ك طرف پھرنا اور اس کی قوت زمین و آسمان کے رب اﷲ تعالی بلند وبالا سے ہے۔(ت)
صور ت مستفسرہ میں فیصلہ بحق مدعیہ ہونا سراسر ناجائز وواجب الرد ہے۔اورعقد مذکور شرعا کوئی عقد ہی نہیںہر گز نہ اجارہ صحیحہ نہ فاسدہ بلکہ محض باطل ومسترد ہے۔اس وقت فریقین فتوی کے کلام و تحریرات فقیر کے پیش نظر ہیںاگر ان کے مدارك کی طر ف تنزل کیا جائے تو دونوں باوقعت فریق سے معارك فقہیہ میں بہت کچھ کہناہوگا۔مگر فضول وبے اصل امر میں اضاعت وقت کی حاجت نہیں صحیح فاسد ہونے میں خودغورو بحث کا موقع تو اس وقت بے شرعا وہ کوئی عقد بھی ہویہاں سوا ہو اکے عقد کانام بھی نہیں محض باطل وبے حقیقت ہے۔تو سرے سے دعوی مدعیہ اصلا قابل سماعت نہیں بلکہ لائق التفات ہی نہیںفیصلہ اس کے حق میں صادر ہونا کیا معنی۔
اصل یہ ہے کہ دیہات کایہ ٹھیکہ جو آج کل ہندوستان کثیر الجہل والطغیان میں جاری ہےکہ زمین دیہیہ مزارعین کے اجارہ میں رہتی ہے اور توفیر ومحاصل کٹکنہ دار کے اجارہ میں دئے جاتے ہیں اور یہی صورت اس مسئلہ دائرہ میں واقع ہوئی(جس پر پٹے کے الفاظ کہ نکاسی اس قد رہے۔کٹکنہ دار آسامیوں سے تحقیق کرلے۔اور تجویز حاکم کے الفاظ کہ سرکار میں دستور ہے۔اول رقبہ و تعداد قلبہ قائم کرکے الی آخرہ دلیل ورشن ہے محض ناجائز وباطل ہے علماءتصریح فرماتے ہیں کہ اس صورت کے بطلان پر ہمارے علماء کا اجماع ہے۔اس کا فانی ومعدوم کردینافرض ہے۔نہ کہ باقی رکھناکٹکنہ دار کا قبض فورا ٹھا دینالازم ہے۔یہ عقد کالعدم ہے محض بے اثر ہے۔
فقیر غفر اﷲ تعالی لہ نے اس مسئولہ کی تحقیق روشن اپنے فتاوی میں ذکر کییہاں چند نصوص علمائے کرام ذکر کروں کہ مولی عزوجل چاہے تو تنبیہ غافلین وایقاظ نائمین وہدایت مسلمین ہوں۔
امام علامہ خیر الملۃ والدین رملی اپنے فتاوی"خیریہ لنفع البریہ"میں فرماتے ہیں:
ان کانت الاجارۃ وقعت علی اتلاف العین قصدا فہی باطلۃ کما صرحت بہ علماؤنا قاطبۃ وصارکمن استاجر بقرۃ لیشرب لبنہا لاتنعقد فاذ استاجر زید القری و المزارع والحوانیت لاجل تناول خراج المقاسمۃ او خراج الوظیفۃ فالاجارۃ باطلۃ باجماع علمائنا و الباطل یجب عدامہ اجارہ جب قصدا عین چیزکے تلف کرنے پر ہو تو باطل ہے جیسا کہ ہمارے تمام علماء نے تصریح کی ہے اوریہ گائے کو دودھ پینے کے لئے اجارہ پر لینے کی طرح ہوگا جوناجائز ہے تو جب زید دیہاتباغاتزمینوں اور دکانوں کو وہاں سے حاصل ہونے والے ذرائع آمدن کو حاصل کرنے کے لئے ٹھیکہ پر لے تو ہمارے علماء کے مطابق یہ اجارہ باطل ہے جبکہ باطل کو ختم کرنا ضروری
اصل یہ ہے کہ دیہات کایہ ٹھیکہ جو آج کل ہندوستان کثیر الجہل والطغیان میں جاری ہےکہ زمین دیہیہ مزارعین کے اجارہ میں رہتی ہے اور توفیر ومحاصل کٹکنہ دار کے اجارہ میں دئے جاتے ہیں اور یہی صورت اس مسئلہ دائرہ میں واقع ہوئی(جس پر پٹے کے الفاظ کہ نکاسی اس قد رہے۔کٹکنہ دار آسامیوں سے تحقیق کرلے۔اور تجویز حاکم کے الفاظ کہ سرکار میں دستور ہے۔اول رقبہ و تعداد قلبہ قائم کرکے الی آخرہ دلیل ورشن ہے محض ناجائز وباطل ہے علماءتصریح فرماتے ہیں کہ اس صورت کے بطلان پر ہمارے علماء کا اجماع ہے۔اس کا فانی ومعدوم کردینافرض ہے۔نہ کہ باقی رکھناکٹکنہ دار کا قبض فورا ٹھا دینالازم ہے۔یہ عقد کالعدم ہے محض بے اثر ہے۔
فقیر غفر اﷲ تعالی لہ نے اس مسئولہ کی تحقیق روشن اپنے فتاوی میں ذکر کییہاں چند نصوص علمائے کرام ذکر کروں کہ مولی عزوجل چاہے تو تنبیہ غافلین وایقاظ نائمین وہدایت مسلمین ہوں۔
امام علامہ خیر الملۃ والدین رملی اپنے فتاوی"خیریہ لنفع البریہ"میں فرماتے ہیں:
ان کانت الاجارۃ وقعت علی اتلاف العین قصدا فہی باطلۃ کما صرحت بہ علماؤنا قاطبۃ وصارکمن استاجر بقرۃ لیشرب لبنہا لاتنعقد فاذ استاجر زید القری و المزارع والحوانیت لاجل تناول خراج المقاسمۃ او خراج الوظیفۃ فالاجارۃ باطلۃ باجماع علمائنا و الباطل یجب عدامہ اجارہ جب قصدا عین چیزکے تلف کرنے پر ہو تو باطل ہے جیسا کہ ہمارے تمام علماء نے تصریح کی ہے اوریہ گائے کو دودھ پینے کے لئے اجارہ پر لینے کی طرح ہوگا جوناجائز ہے تو جب زید دیہاتباغاتزمینوں اور دکانوں کو وہاں سے حاصل ہونے والے ذرائع آمدن کو حاصل کرنے کے لئے ٹھیکہ پر لے تو ہمارے علماء کے مطابق یہ اجارہ باطل ہے جبکہ باطل کو ختم کرنا ضروری
لاتقریرہ فترفع یدزید وعمرو عن القری والمزارع والحوانیت (ملخصا) ہے نہ کہ ان کو بحال رکھنا لہذا زید وعمرو کا قبضہ ان دیہات اور زمینون اوردکانوں سے ختم کرنا ضروری ہے۔(ملخصا)۔(ت)
اسی میں ہے:
عقد الاجارۃ المذکورۃ حیث لم یقع علی الانتفاع بالارض بالزرع ونحوہ بل علی اخذ المتحصل من الخراج بنوعیہ اعنی الخراج الموظف والمقاسمۃ وما علی الاشجار من الدراھم المضروبۃ فہو باطل باجماع ائمتنا والباطل لاحکم لہ باطباق علمائنا واذا قلنابطلانہ لزم المستاجر ان یرد جمیع ماتنا ولہ من المزارعین من غلال ونقود وغیرذلك ۔ مذکورہ اجارہ کا انعقاد زمینوں سے زراعت کے انتفاع پر نہیں ہے بلکہ ان سے حاصل ہونےوالی دونوں قسم کی آمدن یعنی مقررہ حصہ اور سرکاری لگان پرا جارہ ہے تو یہ مقررہ رقم پر اجارہ ہمارے ائمہ کے اجماع کے مطابق باطل ہے۔اورباطل چیز علماء کے اتفاق کے مطابق قابل حکم نہیں ہے اور جب ہم نے اس کو باطل قراردیاہے تو مستاجر پرلازم ہے کہ اس نے مزارع حضرات جوکچھ غلہ یا نقد وغیرہ وصول کیا ہے اس کو واپس کرے۔(ت)
اسی میں ہے:
الاجارۃاذا وقعت علی اتلاف الاعیان قصداکانت باطلۃ فلا یملك المستاجر ماوجد من تلك الاعیان بل ھی علی ماکانت علیہ قبل الاجارۃ فیوخذ من یدہ اذا تناولہا ویضمنہا بالاستہلاك لان الباطل لایؤثر شیئا فیحرم علیہ التصرف فیہا لعدم مبلکہ وذلك کاستیجار بقرۃ لیشرب لبنھا او اجارہ جب اتلاف اعیان پرقصدا واقع ہو تو باطل ہوگا اور مستاجران اعیان میں سے کسی چیز کا مالك نہ بنے گا بلکہ اجارہ سے قبل حالت پر باقی رہیں گے لہذ مستاجر کے قبضہ سے واپس لئے جائیں گے اورہلاك کردئے تو ان کا ضمان وصول کیا جائے گا کیونکہ باطل چیز کچھ اثر نہیں رکھتی اس لئے ملك نہ ہونے کی وجہ سے اس کا تصرف حرام ہوگا اور یہ ایسے ہوگا جیسے گائے دودھ پینے کے لئے یا
اسی میں ہے:
عقد الاجارۃ المذکورۃ حیث لم یقع علی الانتفاع بالارض بالزرع ونحوہ بل علی اخذ المتحصل من الخراج بنوعیہ اعنی الخراج الموظف والمقاسمۃ وما علی الاشجار من الدراھم المضروبۃ فہو باطل باجماع ائمتنا والباطل لاحکم لہ باطباق علمائنا واذا قلنابطلانہ لزم المستاجر ان یرد جمیع ماتنا ولہ من المزارعین من غلال ونقود وغیرذلك ۔ مذکورہ اجارہ کا انعقاد زمینوں سے زراعت کے انتفاع پر نہیں ہے بلکہ ان سے حاصل ہونےوالی دونوں قسم کی آمدن یعنی مقررہ حصہ اور سرکاری لگان پرا جارہ ہے تو یہ مقررہ رقم پر اجارہ ہمارے ائمہ کے اجماع کے مطابق باطل ہے۔اورباطل چیز علماء کے اتفاق کے مطابق قابل حکم نہیں ہے اور جب ہم نے اس کو باطل قراردیاہے تو مستاجر پرلازم ہے کہ اس نے مزارع حضرات جوکچھ غلہ یا نقد وغیرہ وصول کیا ہے اس کو واپس کرے۔(ت)
اسی میں ہے:
الاجارۃاذا وقعت علی اتلاف الاعیان قصداکانت باطلۃ فلا یملك المستاجر ماوجد من تلك الاعیان بل ھی علی ماکانت علیہ قبل الاجارۃ فیوخذ من یدہ اذا تناولہا ویضمنہا بالاستہلاك لان الباطل لایؤثر شیئا فیحرم علیہ التصرف فیہا لعدم مبلکہ وذلك کاستیجار بقرۃ لیشرب لبنھا او اجارہ جب اتلاف اعیان پرقصدا واقع ہو تو باطل ہوگا اور مستاجران اعیان میں سے کسی چیز کا مالك نہ بنے گا بلکہ اجارہ سے قبل حالت پر باقی رہیں گے لہذ مستاجر کے قبضہ سے واپس لئے جائیں گے اورہلاك کردئے تو ان کا ضمان وصول کیا جائے گا کیونکہ باطل چیز کچھ اثر نہیں رکھتی اس لئے ملك نہ ہونے کی وجہ سے اس کا تصرف حرام ہوگا اور یہ ایسے ہوگا جیسے گائے دودھ پینے کے لئے یا
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۲۷€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۳۶۔۱۳۵€
فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۳۶۔۱۳۵€
بستان لیأکل ثمرتہ ومثلہ استئجار مافی ید المزارعین لاکل خراجہ الخ۔ باغ پھل کھانے کے لئے اجارہ پر لیا ہواور اسی طرح اگر اس نے مزارعین میں سے محاصل کو اپنے کھانے کے لئے ٹھیکہ پر لیاہو تو باطل ہے۔الخ
مغنی المستفتی عن السوال المفتی میں ہے:
سئل فی تیماری اجر المتحصل من تیمارہ الاجر وقبض المستاجر قد را معلوما من متحصل تیمارہ فہل تکون الاجارۃ المزبورۃ غیر صحیحۃ اجاب نعم وقدافتی بذلك الخیر الرملی مرار اکما ھو مذکور فی فتاواہ من الاجارۃ ونقولہا کثیرۃ محصلہا انہا اجارۃ وقعت علی استہلاك الاعیان وھی باطلۃ ۔
ان سے سوال ہوا کھجور کے باغ والے نے اپنے باغ کی آمدن کو دوسرے کے پاس ٹھیکہ پر دیا اور مستاجر نے اس باغ کی آمدن کی کوئی مقررہ مقدار حاصل کی ہو تو کیا یہ اجارہ صحیح ہے یانہیں توانھوں نے جواب دیا کہ یہ صحیح نہیں ہے اس پر متعدد بار خیر الدین رملی رحمہ اﷲ تعالی نے فتوی دیا ہےجیسا کہ ان کے فتاوی کے باب الاجارہ میں مذکور ہے جس کی کثیر نقول موجود ہیںان فتاوی کا حاصل یہ ہے کہ یہ اجارہ عین چیز کو تلف کرنے پر ہے اوریہ اجارہ باطل ہے۔(ت)
عقود الدریۃ فی تنقیح الحامدیۃ میں ہے:
لایجوز استیجار الارض لذلك لانہ استیجار علی استھلاك العین والاجارۃ انما تنعقد علی استہلاك المنافع استہلاك عین پر اجارہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اجارہ منافع حاصل کرنے پر ہوتاہے۔الخ(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
الواقع فی زماننا ان المستاجر یستاجر ہا لاجل اخراجہا لاللزراعۃ ویسمی ذلك التراما و ہمارے زمانہ میں مروج ہے کہ مستاجر زمینوں کو زراعت کی بجائے ان کے محاصل کو مزارعین سے وصول کرنے کے لئے اجارہ پرلیتے ہیں اس
مغنی المستفتی عن السوال المفتی میں ہے:
سئل فی تیماری اجر المتحصل من تیمارہ الاجر وقبض المستاجر قد را معلوما من متحصل تیمارہ فہل تکون الاجارۃ المزبورۃ غیر صحیحۃ اجاب نعم وقدافتی بذلك الخیر الرملی مرار اکما ھو مذکور فی فتاواہ من الاجارۃ ونقولہا کثیرۃ محصلہا انہا اجارۃ وقعت علی استہلاك الاعیان وھی باطلۃ ۔
ان سے سوال ہوا کھجور کے باغ والے نے اپنے باغ کی آمدن کو دوسرے کے پاس ٹھیکہ پر دیا اور مستاجر نے اس باغ کی آمدن کی کوئی مقررہ مقدار حاصل کی ہو تو کیا یہ اجارہ صحیح ہے یانہیں توانھوں نے جواب دیا کہ یہ صحیح نہیں ہے اس پر متعدد بار خیر الدین رملی رحمہ اﷲ تعالی نے فتوی دیا ہےجیسا کہ ان کے فتاوی کے باب الاجارہ میں مذکور ہے جس کی کثیر نقول موجود ہیںان فتاوی کا حاصل یہ ہے کہ یہ اجارہ عین چیز کو تلف کرنے پر ہے اوریہ اجارہ باطل ہے۔(ت)
عقود الدریۃ فی تنقیح الحامدیۃ میں ہے:
لایجوز استیجار الارض لذلك لانہ استیجار علی استھلاك العین والاجارۃ انما تنعقد علی استہلاك المنافع استہلاك عین پر اجارہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اجارہ منافع حاصل کرنے پر ہوتاہے۔الخ(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
الواقع فی زماننا ان المستاجر یستاجر ہا لاجل اخراجہا لاللزراعۃ ویسمی ذلك التراما و ہمارے زمانہ میں مروج ہے کہ مستاجر زمینوں کو زراعت کی بجائے ان کے محاصل کو مزارعین سے وصول کرنے کے لئے اجارہ پرلیتے ہیں اس
حوالہ / References
فتاوٰی خیریۃ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۱۹€
مغنی المستفتی عن سوال المفتی
العقودالدریۃ کتاب الاجارۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۱۳۲€
مغنی المستفتی عن سوال المفتی
العقودالدریۃ کتاب الاجارۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۱۳۲€
ھو غیر صحیح کما افتی بہ الخیر الرملی فی عدۃ مواضع ۔ طریقہ کارکو وہ"التزام"کہتے ہیں اور یہ صحیح نہیں ہے جیسا کہ خیرالدین رملی رحمہ اﷲ تعالی عنہ متعدد مواقع پر یہ فتوی دیاہے۔(ت)
اسی میں ہے:
اماما یفعلونہ فی ھذہ الازمان حیث یضمنہا من لہ و لایتھا لرجل بمال معلوم لیکون لہ خراج مقاسمتہا ونحوہ فہو باطل۔اذ لایصح اجارۃ لوقوعہ علی اتلاف الاعیان قصدا ولابیعا لانہ معدوم کما بینہ فی الخیریۃ ۔ وہ جو ہمارے زمانہ میں لوگ التزام کا عمل کرتے ہیں کہ مختار کا مقررہ رقم زمینوں کی وصولیوں کو ٹھیکہ پردیتاہے تو یہ باطل ہے کیونکہ یہ اجارہ نہیں اس لئے کہ یہ عین چیز کو تلف کرنے پر قصدا واقع ہوا ہے اور بیع بھی نہیں ہے کیونکہ وہ چیز معدوم ہے جیساکہ فتاوی خیریہ میں یہ بیان ہے۔(ت)
یہاں نقول میں کثرت ہے اور قدر مذکور میں کفایتشرعاوہ صورت ممکن تھی کہ لوگ اگر اسے اختیار کرتے ان کا مقصودملتا اور مال حرام وعقد باطل کے وبال وآثام سے محفوظ رہتے مگر اتباع شرع مطہر کی فکرکسےجب علماء غافل ہوں جہاں سے کیا شکایترامپور اسلامی ریاست ہے کیا عجب کہ وہاں اس حق مبین کا اثرہو۔محوباطل واجرائے طریقہ جائز ہ پرنظر ہو ارشادات ائمہ کا اسی قدر سننا کارگر ہوواﷲ الھادی وولی الایادیواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۴ و ۲۲۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)دیہات کا ٹھیکہ دینا جائز ہے یانہیں
(۲)یہ کہ وزن کشی کا ٹھیکہ جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
(۱)اجارہ دیہات کی سبیل بھی چنداں دشوار نہیںزراعت کے لئے جیسا ایك کھیت کااجارہ پر دینا جائز یوں ہی سارے گاؤں کامگر وقت واحد میں زمین واحد دومستقل مزارعوں کے اجارہ میں
اسی میں ہے:
اماما یفعلونہ فی ھذہ الازمان حیث یضمنہا من لہ و لایتھا لرجل بمال معلوم لیکون لہ خراج مقاسمتہا ونحوہ فہو باطل۔اذ لایصح اجارۃ لوقوعہ علی اتلاف الاعیان قصدا ولابیعا لانہ معدوم کما بینہ فی الخیریۃ ۔ وہ جو ہمارے زمانہ میں لوگ التزام کا عمل کرتے ہیں کہ مختار کا مقررہ رقم زمینوں کی وصولیوں کو ٹھیکہ پردیتاہے تو یہ باطل ہے کیونکہ یہ اجارہ نہیں اس لئے کہ یہ عین چیز کو تلف کرنے پر قصدا واقع ہوا ہے اور بیع بھی نہیں ہے کیونکہ وہ چیز معدوم ہے جیساکہ فتاوی خیریہ میں یہ بیان ہے۔(ت)
یہاں نقول میں کثرت ہے اور قدر مذکور میں کفایتشرعاوہ صورت ممکن تھی کہ لوگ اگر اسے اختیار کرتے ان کا مقصودملتا اور مال حرام وعقد باطل کے وبال وآثام سے محفوظ رہتے مگر اتباع شرع مطہر کی فکرکسےجب علماء غافل ہوں جہاں سے کیا شکایترامپور اسلامی ریاست ہے کیا عجب کہ وہاں اس حق مبین کا اثرہو۔محوباطل واجرائے طریقہ جائز ہ پرنظر ہو ارشادات ائمہ کا اسی قدر سننا کارگر ہوواﷲ الھادی وولی الایادیواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۴ و ۲۲۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱)دیہات کا ٹھیکہ دینا جائز ہے یانہیں
(۲)یہ کہ وزن کشی کا ٹھیکہ جائز ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
(۱)اجارہ دیہات کی سبیل بھی چنداں دشوار نہیںزراعت کے لئے جیسا ایك کھیت کااجارہ پر دینا جائز یوں ہی سارے گاؤں کامگر وقت واحد میں زمین واحد دومستقل مزارعوں کے اجارہ میں
حوالہ / References
ردالمحتار باب العشروالخروج داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۲۶۶€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ مسائل شتی فی الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۷€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ مسائل شتی فی الاجارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۵۷€
نہیں ہوسکتیلہذا سال تمام پر جن کاشتکاروں کے پٹے کی میعاد ختم ہوگئی وہ تو زمین خالی ہی ہے جن کی میعادباقی ہے ان سے کہہ لیاجائے اور سمجھا دیا جائے کہ ہم جواز شرعی کے لئے ایسا کرتے ہیںزمین تم سے نکالی نہ جائے گیبلکہ مستاجر کی طرف سے تمھارے پاس رہے گیتم میں ہم میں جو معاہدہ تھا جس کے ابھی اتنے سال باقی ہیںوہ فسخ کرلوکہ ہم سارا گاؤں زراعت کے لئے فلاں کو اجارہ پر دے دیںفلاں کی طرف سے یہ زمین بدستور تا میعاد پٹہ تمھارے پاس رہے گیاس صورت میں ٹھیکہ توفیرکا نہ ہواجو بالاجماع حرام ہے۔بلکہ زراعت کے لئے زمین کا جوبالا جماع جائز ہے اور اگر اس صورت میں دقت سمجھی جائے اور ضرور کسانوں خصوصا ہنود عنود کو اس کا سمجھانااور ان کا راضی ہونا خالی از دقت نہیںتو وہی باغ وبہار والی تدبیر کی جائےیعنی گاؤں میں چوپال اور مکان سکونت اور افتادہ زمینیں اور کاشت سے خالی کھیت اور وہ کھیت جن کی میعاد پٹہ تمام ہوگئیاور بنجرغرض جس قدر اراضی کسی کے اجارہ میں نہیں وہ تمام وکمال مستاجر کو سنین معینہ کے لئے اجرت معینہ پر(جتنا زر ٹھیکہ رکھنا منظورہو) زراعت وسکونت وانتفاع کے لئے مباح کردی جائے اوراراضی مزروعہ مقبوضہ مزارعین کی توفیر نقد خواہ بٹائی جو کچھ ہومستاجر کو اتنے برسوں کے لئے مباح کردی جائےیوں بھی دونوں کے مطلب حاصل ہیںغرض ہے یہ کہ " من یـتق اللہ یجعل لہ مخرجا ﴿۲﴾" (جو اﷲ سے ڈرے اﷲ اس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گا۔ت)کوئی دشواری نہیں کہ اس شریعت مطہرہ سمحہ سہلہ غرہ بیضائے نے آسان نہ فرمادی ہو۔وﷲ الحمد۔
(۲)وزن کشی کے ٹھیکہ سے اگر یہ مراد ہے کہ"تولا"کچھ روپے زمیندار کو دے کہ اس سال گاؤں بھر کی"راسیں"وہی تولے دوسرانہ تولنے پائےاور وہ ہر کاشت کار سے اپنے تولنے کی اجرت لے تو یہ محض حراماور وہ روپیہ زمیندار کو دیا نری رشوت ہے۔اور دوسرے کو تول سے ممانعت محض ظلم ہے۔اس کی نظیر اسٹیشن پرسودا بیچنے کا ٹھیکہ ہے۔کہ بیع تو اس میں اور خریداروں میں ہوگییہ ریل والوں کو روپیہ صرف اس بات کا دیتاہے کہ میں ہی بیچوںدوسرانہ بیچنے پائےیہ شرعا خالص رشوت ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۶: مسئولہ نواب صاحب محلہ بہاری پور بریلی
عالمان شرع نے کیا حکم ہے اس میں دیا گر کسی نے ٹھیکہ دکانوں کا مالك سے لیا
(۲)وزن کشی کے ٹھیکہ سے اگر یہ مراد ہے کہ"تولا"کچھ روپے زمیندار کو دے کہ اس سال گاؤں بھر کی"راسیں"وہی تولے دوسرانہ تولنے پائےاور وہ ہر کاشت کار سے اپنے تولنے کی اجرت لے تو یہ محض حراماور وہ روپیہ زمیندار کو دیا نری رشوت ہے۔اور دوسرے کو تول سے ممانعت محض ظلم ہے۔اس کی نظیر اسٹیشن پرسودا بیچنے کا ٹھیکہ ہے۔کہ بیع تو اس میں اور خریداروں میں ہوگییہ ریل والوں کو روپیہ صرف اس بات کا دیتاہے کہ میں ہی بیچوںدوسرانہ بیچنے پائےیہ شرعا خالص رشوت ہے۔ واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۶: مسئولہ نواب صاحب محلہ بہاری پور بریلی
عالمان شرع نے کیا حکم ہے اس میں دیا گر کسی نے ٹھیکہ دکانوں کا مالك سے لیا
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۶۵/ ۲€
لے کے ٹھیکہ پھر یہ اس نے انتظام اپنا کیا سب دکانوں کا کرایہ اس نے زائد کرلیا
پس یہ زائد جو اسے حاصل ہواہے اس سے زر اس کے استعمال میں ہے فائدہ یا کچھ ضرر
اگر اس شخص کو ٹھیکہ سے کم آمد ہوئی او رپوری کردی اس نے پاس سے اپنے کمی
اس کمی کا لینا کیا مالك کو جائز ہوگیا اس میں جو حکم شریعت ہو مجھے دیجئے بتا
الجواب:
جتنی اجرت پر کہ مستاجرنے لی مالك سے شے ا سے زائد پر اٹھانا چاہے تو یہ شکل ہے
اپنا کوئی مال جو قابل اجارہ کے ہوئے اس کو اسی شیئ سے ملاکر دونوں کو ایك ساتھ دے
یازیادت شیئ میں کردے مثل تعمیر مکان کھونٹیاں کہگل کنواں چونہ مرمت ایں وآں
یا بدل دے جنس اجرت جیسے وہاں ٹھہرے روپے اس کے یاں آنے میں گوبدلے میں لے ان کے روپے
یا کوئی کام اپنے ذمہ کرلے اس ایجار میں تازیادت اس عمل کے بدلے ہو اقرار میں
جیسے جاروب دکان اصلاح اسباب دکاں اور جو خدمت کے ہو شایاں اجرت بے گمان
اور اگر یہ کم پہ دیتا ہے تو دے مختار ہے مالك اجرت پوری لے گا اس سے جو اقرار ہے
یوہیں خالی ڈال رکھتا جب بھی تو لیتاوہ دام
اب کمی سے کیا اسے واﷲ اعلم والسلام
مسئلہ ۲۲۷: مرسلہ نجم الحسن صاحب ا ز تحصیل بسواں ضلع سیتاپور ۱۵ صفر المظفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید وبکر وعمرو تینوں سنی حنفی پابند صوم وصلوۃ ہیں زید زمیندار بکر تاجرعمرونوکری پیشہزید کا عمرو قرابت دارہےاور بکر کا دوستعمرو کی معرفت زید وبکر میں یہ معاملہ ہوا کہ زید نے اپنے دوگاؤں پندرہ سو روے سالانہ پانچ سال کے لئے بکر کو ٹھیکہ دیابکر نے پندرہ سو روپے بلا سودی پیشگی زیدکو دئے جس کی ادائیگی سال اخیر میں قرار پائیبکر نے عمرو کو نوکر رکھ لیااور گاؤں کی تحصیل وصول سپرد کردیبروقت ٹھیکہ ہونے کے زید وبکر میں یہ حلف ہوا کہ ایك دوسرے کے نقصان کا روادار نہ ہوگااو ر کبھی کسی مفسد یامخالف کی دراندازی پرفریقین عمل نہ کریں گےدو سال دونوں گاؤں بکر کے ٹھیکہ میں رہےاور قریب قریب سات سو روپے کے منافع ہواعرصہ کے بعد زید وبکر کو عمرو کی چالاکی وبدنیتی عمرو کے افعال واقوال سے ثابت ہوگئیدونوں کو یقین ہوگیا کہ عمرو نے ضرور نقصان پہنچایااور پہنچائے گازید وبکر میں اتفاق ہےزید سے بکر نے کہا کہ میں گاؤں کاکام نہیں کرسکتا کیونکہ عمرو سے کام نہیں
پس یہ زائد جو اسے حاصل ہواہے اس سے زر اس کے استعمال میں ہے فائدہ یا کچھ ضرر
اگر اس شخص کو ٹھیکہ سے کم آمد ہوئی او رپوری کردی اس نے پاس سے اپنے کمی
اس کمی کا لینا کیا مالك کو جائز ہوگیا اس میں جو حکم شریعت ہو مجھے دیجئے بتا
الجواب:
جتنی اجرت پر کہ مستاجرنے لی مالك سے شے ا سے زائد پر اٹھانا چاہے تو یہ شکل ہے
اپنا کوئی مال جو قابل اجارہ کے ہوئے اس کو اسی شیئ سے ملاکر دونوں کو ایك ساتھ دے
یازیادت شیئ میں کردے مثل تعمیر مکان کھونٹیاں کہگل کنواں چونہ مرمت ایں وآں
یا بدل دے جنس اجرت جیسے وہاں ٹھہرے روپے اس کے یاں آنے میں گوبدلے میں لے ان کے روپے
یا کوئی کام اپنے ذمہ کرلے اس ایجار میں تازیادت اس عمل کے بدلے ہو اقرار میں
جیسے جاروب دکان اصلاح اسباب دکاں اور جو خدمت کے ہو شایاں اجرت بے گمان
اور اگر یہ کم پہ دیتا ہے تو دے مختار ہے مالك اجرت پوری لے گا اس سے جو اقرار ہے
یوہیں خالی ڈال رکھتا جب بھی تو لیتاوہ دام
اب کمی سے کیا اسے واﷲ اعلم والسلام
مسئلہ ۲۲۷: مرسلہ نجم الحسن صاحب ا ز تحصیل بسواں ضلع سیتاپور ۱۵ صفر المظفر ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید وبکر وعمرو تینوں سنی حنفی پابند صوم وصلوۃ ہیں زید زمیندار بکر تاجرعمرونوکری پیشہزید کا عمرو قرابت دارہےاور بکر کا دوستعمرو کی معرفت زید وبکر میں یہ معاملہ ہوا کہ زید نے اپنے دوگاؤں پندرہ سو روے سالانہ پانچ سال کے لئے بکر کو ٹھیکہ دیابکر نے پندرہ سو روپے بلا سودی پیشگی زیدکو دئے جس کی ادائیگی سال اخیر میں قرار پائیبکر نے عمرو کو نوکر رکھ لیااور گاؤں کی تحصیل وصول سپرد کردیبروقت ٹھیکہ ہونے کے زید وبکر میں یہ حلف ہوا کہ ایك دوسرے کے نقصان کا روادار نہ ہوگااو ر کبھی کسی مفسد یامخالف کی دراندازی پرفریقین عمل نہ کریں گےدو سال دونوں گاؤں بکر کے ٹھیکہ میں رہےاور قریب قریب سات سو روپے کے منافع ہواعرصہ کے بعد زید وبکر کو عمرو کی چالاکی وبدنیتی عمرو کے افعال واقوال سے ثابت ہوگئیدونوں کو یقین ہوگیا کہ عمرو نے ضرور نقصان پہنچایااور پہنچائے گازید وبکر میں اتفاق ہےزید سے بکر نے کہا کہ میں گاؤں کاکام نہیں کرسکتا کیونکہ عمرو سے کام نہیں
لیناچاہتاہوں عمرو پر اعتبار نہیں رہابہتریہ کہ میں ٹھیکہ چھوڑد وںپیشگی جو پندرہ سو روپیہ میں نے دیا ہے وہ دے دومیں تجارت میں لگادوںزیدنے کہا کہ میں ٹھیکہ چھڑانا نہیں چاہتااور تم جانتے ہو کہ میں نادار ہوںزرپیشگی بھی یکشمت ادانہیں کرسکتازید وبکر دونوں متردد ومشوش تھےایك رئیس مسلمان سنی وحنفی نے بطور ثالث یہ فیصلہ تجویز کیا کہ ٹھیکہ چھڑالیا جائےاو رپندرہ سو روپے قسط بندی کرکے چار سال میں ادا کردئے جائیں بکر کے اطمینان کو دستاویز ہوجائےاور ایك گاؤں مکفول کردیا جائے بجز اس کے کہ اس وقت منافع کا کچھ ذکر بکر نے نہیں کیاثالث کی تجویز کو زید وبکر دونوں نے بحلف منظور کرلیاہفتہ کے بعد ثالث کے روبرو زید سے بکر نے دستاویز کا مسودہ مانگا۔اس وقت زید سے بکر نے کہا کہ اگر اس وقت پندرہ سو روپے دو تو میں لے لوں اور تجارت میں لگادوں اور چار سال میں اگر روپیہ ادا ہوا تو منافع لوں گازید نے کہا منافع کیساکبھی ا س کا ذکر نہیں ہوااور نہ ثالث کے روبرو ذکرآیامحض پندرہ سو روپے کی ادائیگی ٹھہریبکر سود خوا ر نہیں ہےمگر جاہل ہےمفسدوں نے اس کو سمجھادیا کہ یہ ٹھیکہ کا منافع ہے سو دنہیں ہےبکر نے کہا کہ قبل ٹھیکہ ہونے کے مبلغ ڈھائی سو روپیہ کو ہم کو چھوٹ دیا گیا ہے۔زید نے کہا نہیں میں نے ایك گاؤں میں کل(عہ مہ /)چھوٹ دیاہے۔زید نے بکر سے پوچھا کہ میری تمھاری بالمشافہ گفتگو ہوکر چھوٹ دی گئی ہے۔بکر نے کہا کہ نہیں مجھ سے عمرو نے کہا ہےزید نے کہا کہ عمرو کو یقین تھا کہ ٹھیکہ ہوجانے کے بعد میں ضرور نوکر رکھ لیا جاؤں گااس طمع پر بکر نے جھوٹ کہہ دیا کہ ڈھائی سو روپے چھوٹ دے کر پندرہ سو روپے ٹھیکہ ہوتاہے۔زید نے عمرو سے دریافت کیا کہ ڈھائی سو روپے چھوٹ کیونکر دی گئیعمرو نے جواب صاف نہ دیازید نے چھوٹ کا اقبال نہ کیابکرنے کہا ہم منافع ضرورلیں گےزید نے دستاویز لکھ دیپندرہ سوروپے اصل اور چار سو منافع ٹھیکہزید وبکر پابند شریعت ہیںبدعہدی اور منہیات شرع سے بچنا چاہتے ہیں نیك نیتی سے یہ دریافت کیا جاتاہے کہ پندرہ سو روپے کے علاوہ جو بنام منافع ٹھیکہ چار سوروپیہ جو درج دستاویز ہوا ہے یہ جائز ہے یاسود ہے شرح وبسط کے ساتھ جواب عنایت ہوبینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ منافع قطع سود اور حرام ہیں۔حدیث میں ہے:کل قرض جرمنفعۃ فہو ربا قرض سے جو نفع حاصل کیا جائے وہ سو دہے۔بلکہ اس ٹھیکے کے دو سوبرسوں میں سات سو
الجواب:
صورت مستفسرہ میں وہ منافع قطع سود اور حرام ہیں۔حدیث میں ہے:کل قرض جرمنفعۃ فہو ربا قرض سے جو نفع حاصل کیا جائے وہ سو دہے۔بلکہ اس ٹھیکے کے دو سوبرسوں میں سات سو
حوالہ / References
کنزالعمال ∞حدیث نمبر ۱۵۵۱۶€ مؤسستہ الرسالۃ بیروت ∞۶/ ۲۳۸€
روپے جو منافع کے بکر کو ملے وہ بھی حرام ہیں کہ دیہات کا ٹھیکہ جس طرح رائج ہے محض حرام ہے۔جتنے پر ٹھیکہ دیا گیا اگر اس قدر نشست ہوئی اور وہ مالك کو دے دی گئیتو اس کےلئے حلال ہے کہ اس کی ملك کا نفع ہے۔اوراگر اس سے کم ہوئی اور مستاجر کو وہ رقم اپنے پاس سے پوری کرنی ہوئی تو یہ زیادت مالك کوحرام ہےاس کا حق اسی قدر ہے۔جس قدر نشست ہوئیمثلا پندرہ سو کو ٹھیکہ اور کسی سال ہزار ہی بیٹھے تویہ ہزارہی مالك کو حلال ہیںرقم قرارداد پوری کرنے کو پانچ سو اگر اورلے گا وہ حرام ہونگے اور اگر کسی سال دوہزار روپے بیٹھے اور مستاجر مالك کو صرف پندرہ سو دے گا پانسو خودلے گایہ پانسو ا س کا حرام ہیں۔
فان ہذہ اجارۃ علی استہلاك العین و ما الاجارۃ شرعا الا تملیك المنافع فکل اجارۃ وردت علی الاعیان فہی باطلۃ وحرام الاماخصہ النص وھوا جارۃ الظئر و المسئلۃ مصرح بہا فی کثیر من الاسفار کالفتاوی الخیریۃ والعقود الدریۃ والدرالمختار وردالمحتار۔ و اﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ یہ عین چیز کے تلف پر اجارہ ہے جبکہ شرعا صرف منافع کی تملیك پراجارہ ہوسکتاہے تو ہر ایسا اجارہ جو عین چیز کو تلف کرنے پرواقع ہو وہ باطل اورحرام ہے الاوہ کہ شرع نے اس کوخاص طورپر مشروع کیا ہو جیسے دایہ کو دودھ پلانے کے لئے اجارہ پر رکھنااور یہ مسئلہ بہت سی کتب میں تصریح کردہ ہے جیسے فتاوی خیریہعقود الدریۃدرمختار اور ردالمحتارمیں۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
فان ہذہ اجارۃ علی استہلاك العین و ما الاجارۃ شرعا الا تملیك المنافع فکل اجارۃ وردت علی الاعیان فہی باطلۃ وحرام الاماخصہ النص وھوا جارۃ الظئر و المسئلۃ مصرح بہا فی کثیر من الاسفار کالفتاوی الخیریۃ والعقود الدریۃ والدرالمختار وردالمحتار۔ و اﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ یہ عین چیز کے تلف پر اجارہ ہے جبکہ شرعا صرف منافع کی تملیك پراجارہ ہوسکتاہے تو ہر ایسا اجارہ جو عین چیز کو تلف کرنے پرواقع ہو وہ باطل اورحرام ہے الاوہ کہ شرع نے اس کوخاص طورپر مشروع کیا ہو جیسے دایہ کو دودھ پلانے کے لئے اجارہ پر رکھنااور یہ مسئلہ بہت سی کتب میں تصریح کردہ ہے جیسے فتاوی خیریہعقود الدریۃدرمختار اور ردالمحتارمیں۔ واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
کتاب المنی والدررلمن عمدمنی ارڈر ۱۳۱۱ھ
(خواہشات اورموتیوں کی فراہمی اس کےلئے جس نے منی آرڈر کا قصد کیا)
مسئلہ ۲۲۸: از کیمپ میرٹھ بازارلال کورتی مرسلہ جناب مولوی عبدالسمیع صاحب ۲۰ رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ
بخدمت شریف مخدوم ومکرم محقق و مدقق جناب مولانا محمد احمد رضاخاں صاحب ادام الله فیوضہ وبرکاتہ وضاعف اجورہ وحسناتہ۔
بعد اتحاف ہدیہ سلام مرفرع رائے خورشید انجلاء باداس مسئلہ میں آپ کی رائے دریافت کی جاتی ہے یہاں سے بعوض مساکین کے تنخواہ کسی کے دو رپےکسی کے تین روپے معین ہےان میں سے پانچ چار آدمیوں نے مجھ سے کہا کہ ہم کودوروپے کے واسطے سفر کرکے آنا دشوار ہے او ریہ دقت کہ اس قدر تنخواہ ہے اورا س قدرکرایہ لگ جائے گاتم ہم کو منی آرڈر کرکے روانہ کردیا کرومیں نے یہ دیکھاکہ صیغہ منی آرڈر جابجا جاری ہے مدارس وغیرہ میںپس ان بیچاروں شکستہ دلوں کا کام کرکے بہترہے کہ ثواب حاصل کروں جب نظر جواز وعدم جواز پرگئی تو بنظر سرسری یہ دیکھ لیا کہ ہم جو کچھ زیادہ دیتے ہیں وہ اجرت دیتے ہیں اس بات کےلئے ڈاك والوں نے مرسل الیہ کے گھرروپیہ پہنچا کر اس کے دستخط کرائے پھر وہ رسید اس سے وصول کرکے ہم تك پہنچائیبناء علیہ یہ رباء نہیںبرسوں سے لوگوں کی کارروائی اسی طرح ہوتی رہی اب بعض عــــــہ علماء نے فتوی حرمت منی ارڈر کا چھاپ دیا
عــــــہ: یعنی رشید احمد گنگوہی ۱۲۔
(خواہشات اورموتیوں کی فراہمی اس کےلئے جس نے منی آرڈر کا قصد کیا)
مسئلہ ۲۲۸: از کیمپ میرٹھ بازارلال کورتی مرسلہ جناب مولوی عبدالسمیع صاحب ۲۰ رمضان المبارك ۱۳۱۱ھ
بخدمت شریف مخدوم ومکرم محقق و مدقق جناب مولانا محمد احمد رضاخاں صاحب ادام الله فیوضہ وبرکاتہ وضاعف اجورہ وحسناتہ۔
بعد اتحاف ہدیہ سلام مرفرع رائے خورشید انجلاء باداس مسئلہ میں آپ کی رائے دریافت کی جاتی ہے یہاں سے بعوض مساکین کے تنخواہ کسی کے دو رپےکسی کے تین روپے معین ہےان میں سے پانچ چار آدمیوں نے مجھ سے کہا کہ ہم کودوروپے کے واسطے سفر کرکے آنا دشوار ہے او ریہ دقت کہ اس قدر تنخواہ ہے اورا س قدرکرایہ لگ جائے گاتم ہم کو منی آرڈر کرکے روانہ کردیا کرومیں نے یہ دیکھاکہ صیغہ منی آرڈر جابجا جاری ہے مدارس وغیرہ میںپس ان بیچاروں شکستہ دلوں کا کام کرکے بہترہے کہ ثواب حاصل کروں جب نظر جواز وعدم جواز پرگئی تو بنظر سرسری یہ دیکھ لیا کہ ہم جو کچھ زیادہ دیتے ہیں وہ اجرت دیتے ہیں اس بات کےلئے ڈاك والوں نے مرسل الیہ کے گھرروپیہ پہنچا کر اس کے دستخط کرائے پھر وہ رسید اس سے وصول کرکے ہم تك پہنچائیبناء علیہ یہ رباء نہیںبرسوں سے لوگوں کی کارروائی اسی طرح ہوتی رہی اب بعض عــــــہ علماء نے فتوی حرمت منی ارڈر کا چھاپ دیا
عــــــہ: یعنی رشید احمد گنگوہی ۱۲۔
ہے کہ ربا ہے اور حرام میں نے جو تاویل اپنے نزدیك سمجھی تھی اگر یہ درست ہے یاآپ اپنی رائے سے اس میں اور کوئی وجہ شرعی پیدا کرسکیں اس سے مطلع فرمائیں کہ بعض مساکین کا نہایت درجہ حرج ہےوالسلام
الجواب:
جناب مولانا وبالفضل اولنا زید مجدکمالسلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ
فقیر چار مہینہ سے اس قریہ میں ہے نامہ نامی بریلی ہوکریہاں آیاجواب حسب فہم قاصر حاضر رسید بریلی ارسال فرمائیں والسلام وہ فتوی مطبوعہ فقیر غفرالله تعالی لہ کی نظر سے گزراہے۔اس میں مفتی صاحب فرماتے ہیں۔یہ ربا ہے دوآنے دس کے عوض دس ملتے ہیں مگریہ بات وہی کہہ سکتاہے کہ جسے اتنی خبر نہیں کہ دو آنے کاہے کے دئے جاتے ہیںشاید انھیں معلوم نہیں کہ ڈاکخانہ ایك اجیر مشترك کی دکان ہے جو بغرض تحصیل اجرت کھولی گئی ہےدوآنے قطعا وہاں جانے اور روپیہ دینے اور واپس آنے اور رسید لانے ہی کی اجرت ہیں جیسے لفافہ پر اور پارسل پر ۴/ وغیرہ ذلك اس کو تو کوئی عاقل رباخیال ہی نہیں کرسکتا یہ ہر گز نہ اس کا معاوضہ نہ زنہار دینے والوں میں کسی کو اس روپیہ کے معاوضہ میں کمی بیشی مقصود۔
وھذا من البدیہات التی لایتوقف فیہا الاامثال المفتین الذین لابصرلہم فی الدین۔ یہ ان بدیہیات میں سے جس میں دینی بصیرت نہ رکھنے والے مفتیوں کے سوا کسی کو توقف نہیں ہے۔(ت)
ان بزرگوں کے اکثر فتاوی فقیر نے ایسے ہی عجائب پر مشتمل پائےابھی قریب زمانے میں ان کا ایك فتوی دربارہ جواز شہادت ہلال بذریعہ تاربرقی نظر سے گزرا جس میں تار کو خط پر قیاس کیاجامع یہ کہ لکھنا لکھنا ایك ساقلم سے لکھا خواہ بانس طویل سے گویا حضرت کے نزدیك تار کا طریقہ یہ ہے کہ کسی لمبے بانس سے لکھ دیتے ہیںپھر لطف یہ کہ خود اصل مقیس علیہ میں حکم غلطعلماء تصریح فرماچکےایسے امور شرعیہ میں خطوط کا اعتبارنہیںظلم پر ظلم یہ کہ وہ بانس طویل ہی کی تحریر سہی تار بھیجنے والا بیچارہ اس لمبے بانس سے خود نہیں لکھتا بلکہ تار بابو سے کہتا ہے وہ ایك واسطہ ہوا جہاں کو تار دیا گیا وہ دوسرا واسطہ بیچ میں تار موصول نہ ہوا تو وسائط کی گنتی ہی کیااور یہ اکثر کفار وفساق ومجہول الحال ہوتے ہیںاس نفیس سند سے جو خبر آئے اس پرامور شرعیہ کی بناء کرنی ان مفتیوں کا ادنی اجتہاد ہے۔
فقیر غفر الله تعالی لہ نے بے اعتباری میں ایك مفصل فتوی لکھا جس میں سے اس مسئلہ کی تحقیق تام
الجواب:
جناب مولانا وبالفضل اولنا زید مجدکمالسلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ
فقیر چار مہینہ سے اس قریہ میں ہے نامہ نامی بریلی ہوکریہاں آیاجواب حسب فہم قاصر حاضر رسید بریلی ارسال فرمائیں والسلام وہ فتوی مطبوعہ فقیر غفرالله تعالی لہ کی نظر سے گزراہے۔اس میں مفتی صاحب فرماتے ہیں۔یہ ربا ہے دوآنے دس کے عوض دس ملتے ہیں مگریہ بات وہی کہہ سکتاہے کہ جسے اتنی خبر نہیں کہ دو آنے کاہے کے دئے جاتے ہیںشاید انھیں معلوم نہیں کہ ڈاکخانہ ایك اجیر مشترك کی دکان ہے جو بغرض تحصیل اجرت کھولی گئی ہےدوآنے قطعا وہاں جانے اور روپیہ دینے اور واپس آنے اور رسید لانے ہی کی اجرت ہیں جیسے لفافہ پر اور پارسل پر ۴/ وغیرہ ذلك اس کو تو کوئی عاقل رباخیال ہی نہیں کرسکتا یہ ہر گز نہ اس کا معاوضہ نہ زنہار دینے والوں میں کسی کو اس روپیہ کے معاوضہ میں کمی بیشی مقصود۔
وھذا من البدیہات التی لایتوقف فیہا الاامثال المفتین الذین لابصرلہم فی الدین۔ یہ ان بدیہیات میں سے جس میں دینی بصیرت نہ رکھنے والے مفتیوں کے سوا کسی کو توقف نہیں ہے۔(ت)
ان بزرگوں کے اکثر فتاوی فقیر نے ایسے ہی عجائب پر مشتمل پائےابھی قریب زمانے میں ان کا ایك فتوی دربارہ جواز شہادت ہلال بذریعہ تاربرقی نظر سے گزرا جس میں تار کو خط پر قیاس کیاجامع یہ کہ لکھنا لکھنا ایك ساقلم سے لکھا خواہ بانس طویل سے گویا حضرت کے نزدیك تار کا طریقہ یہ ہے کہ کسی لمبے بانس سے لکھ دیتے ہیںپھر لطف یہ کہ خود اصل مقیس علیہ میں حکم غلطعلماء تصریح فرماچکےایسے امور شرعیہ میں خطوط کا اعتبارنہیںظلم پر ظلم یہ کہ وہ بانس طویل ہی کی تحریر سہی تار بھیجنے والا بیچارہ اس لمبے بانس سے خود نہیں لکھتا بلکہ تار بابو سے کہتا ہے وہ ایك واسطہ ہوا جہاں کو تار دیا گیا وہ دوسرا واسطہ بیچ میں تار موصول نہ ہوا تو وسائط کی گنتی ہی کیااور یہ اکثر کفار وفساق ومجہول الحال ہوتے ہیںاس نفیس سند سے جو خبر آئے اس پرامور شرعیہ کی بناء کرنی ان مفتیوں کا ادنی اجتہاد ہے۔
فقیر غفر الله تعالی لہ نے بے اعتباری میں ایك مفصل فتوی لکھا جس میں سے اس مسئلہ کی تحقیق تام
کما ینبغی منکشف ہوسکتی ہےخیر یہ تو جملہ معترضہ تھامسئلہ دائرہ کی طرف رجوع کروںاور توفیق الہی مساعدت فرمائے تو حقیقت منی آرڈر ایسی روشن وجہ پر بیان میں آئے جس سے ان صاحبوں کا شبہ باذنہ تعالی مستاصل ہوجائے۔
فاقول:وبالله التوفیق منشاء غلط منی آرڈر کو قرض محض بے عقد اجارہ سمجھناہےمتبوع نے اجمالا اس کا دعوی کیاتابع نے اس پر دودلیلیں قائم کیں مگر حقیقت امر سے بیگانگی رہیبات یہ ہے کہ منی آرڈر کرنے میں دو قسم کے دام دئے جاتے ہیں ایك وہ رقم جو مرسل الیہ کو ملنی منظور ہےدوسرا محصول مثلا دس روپے دو آنے اور جس طرح ہر عاقل فقیہ پر واضح کہ یہ پہلے دام اگر بعینہ پہنچائے جاتے جیسے پارسل میں تویہ خاص اجارہ ہوتا یا یوں ہوتا کہ مرسل بعینہ انھیں کاپہنچانا چاہتا اور ڈاك والے ان داموں کے یہاں رکھ لینے اور وہاں ان کی نظیر دینے کا ضابطہ مقررنہ کرلیتے بلکہ کبھی بعینہ انھیں کو پہنچاتے۔کبھی بطور خود انھیں یہاں رکھ کر مرسل الیہ کو وہاں کے خزانے سے دیتے تو بھی محض اجارہ رہتا اور صورت خلاف میں ان اجیروں کافعل ناجائز ہوتا جس کا الزام مستاجر پرکچھ نہ تھاہاں اتنا ہوتاکہ وہ بوجہ تصرف امانت غاصب ٹھہر کر مستحق اجرنہ رہتے۔
کما فی الہندیۃ عن التتارخانیۃ لواستاجر لیحمل ھذہ الدراہم الی فلان فانفقہا فی نصف الطریق ثم دفع مثلہا الی فلان فلا اجرلہ لانہ ملکہا باداء الضمان ۔ جیسا کہ ہندیہ میں تاتارخانیہ سے منقول ہے کہ اگر کسی دوسرے تك معینہ دراہم پہنچانے کے لیے اجیر بنایا تو اس نے آدھے راستے میں وہ دراہم خرچ کرلیے اور مرسل الیہ کو ان دراہم کی مثل اور دے دئے تو وہ اجرت کا مستحق نہ ہوگا کیونکہ خرچہ کردہ دراہم کا ضمان دے کر وہ ان کا خود مالك بن گیا۔(ت)
مگر جبکہ یہ امساك عین ودفع مثل ضابطہ معلومہ معہودہ ہے کہ واضعان قانون ڈاك نے اپنی آسانی کے لئے وضع کیا اگرچہ مرسل کو اس سے کچھ غرض نہ تھی اس کا مطلب بعینہ روپیہ بھیجنے میں بھی بداہۃ حاصل تھا تاہم بوجہ ضابطہ وتعارف جبکہ عاقدین کو وصول بدل معلوم تو یہاں تحقق معنی قرض ماننا غلط نہیں اگرچہ عاقدین بلفظ قرض تعبیر نہ کریں۔
فان العبرۃ للمعانی والمعہود عرفا کیونکہ معا نی کا اعتبار ہے اور عرف میں معین معلوم
فاقول:وبالله التوفیق منشاء غلط منی آرڈر کو قرض محض بے عقد اجارہ سمجھناہےمتبوع نے اجمالا اس کا دعوی کیاتابع نے اس پر دودلیلیں قائم کیں مگر حقیقت امر سے بیگانگی رہیبات یہ ہے کہ منی آرڈر کرنے میں دو قسم کے دام دئے جاتے ہیں ایك وہ رقم جو مرسل الیہ کو ملنی منظور ہےدوسرا محصول مثلا دس روپے دو آنے اور جس طرح ہر عاقل فقیہ پر واضح کہ یہ پہلے دام اگر بعینہ پہنچائے جاتے جیسے پارسل میں تویہ خاص اجارہ ہوتا یا یوں ہوتا کہ مرسل بعینہ انھیں کاپہنچانا چاہتا اور ڈاك والے ان داموں کے یہاں رکھ لینے اور وہاں ان کی نظیر دینے کا ضابطہ مقررنہ کرلیتے بلکہ کبھی بعینہ انھیں کو پہنچاتے۔کبھی بطور خود انھیں یہاں رکھ کر مرسل الیہ کو وہاں کے خزانے سے دیتے تو بھی محض اجارہ رہتا اور صورت خلاف میں ان اجیروں کافعل ناجائز ہوتا جس کا الزام مستاجر پرکچھ نہ تھاہاں اتنا ہوتاکہ وہ بوجہ تصرف امانت غاصب ٹھہر کر مستحق اجرنہ رہتے۔
کما فی الہندیۃ عن التتارخانیۃ لواستاجر لیحمل ھذہ الدراہم الی فلان فانفقہا فی نصف الطریق ثم دفع مثلہا الی فلان فلا اجرلہ لانہ ملکہا باداء الضمان ۔ جیسا کہ ہندیہ میں تاتارخانیہ سے منقول ہے کہ اگر کسی دوسرے تك معینہ دراہم پہنچانے کے لیے اجیر بنایا تو اس نے آدھے راستے میں وہ دراہم خرچ کرلیے اور مرسل الیہ کو ان دراہم کی مثل اور دے دئے تو وہ اجرت کا مستحق نہ ہوگا کیونکہ خرچہ کردہ دراہم کا ضمان دے کر وہ ان کا خود مالك بن گیا۔(ت)
مگر جبکہ یہ امساك عین ودفع مثل ضابطہ معلومہ معہودہ ہے کہ واضعان قانون ڈاك نے اپنی آسانی کے لئے وضع کیا اگرچہ مرسل کو اس سے کچھ غرض نہ تھی اس کا مطلب بعینہ روپیہ بھیجنے میں بھی بداہۃ حاصل تھا تاہم بوجہ ضابطہ وتعارف جبکہ عاقدین کو وصول بدل معلوم تو یہاں تحقق معنی قرض ماننا غلط نہیں اگرچہ عاقدین بلفظ قرض تعبیر نہ کریں۔
فان العبرۃ للمعانی والمعہود عرفا کیونکہ معا نی کا اعتبار ہے اور عرف میں معین معلوم
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارہ باب الثامن والعشرون ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۵۰۲€
کالمذکور لفظا۔ چیز لفظوں میں مذکور کی طرح ہے۔(ت)
یونہی ہر ذی عقل نبیہ پریہ بھی روشن ہے کہ یہ دوسرے دام اگر کسی کام کے عوض نہ دئے جاتے تو یہ عقد خالص قرض اور یہ زیادت بیشك ربا ہوتی یایوں ہوتاکہ جس کا م کے عوض دئے جاتے وہ کوئی منفعت مقصودہ صالح ورود عقد اجارہ نہ ہوتا تو بھی محض قرض رہتا مگر حاشایہاں ہر گز ایسا نہیں بلکہ وہ مثل سائر کا رروائیہائے ڈاکخانہ کے یقینا اجرت میں دینے والے اجرت ہی سمجھ کردیتےلینے والے اجرت ہی جان کرلیتے ہیں ہر گز کسی کے خواب میں بھی یہ خیال نہیں ہوتا کہ یہ ۲/سود کے ہیں جو الٹا مدیون دائن سے لیتا ہے ڈاکخانے کی اصل وضع ہی اس قسم کی اجارات کے لیے ہےتویہاں عقد اجارہ کا تحقق اور ان داموں کا اجرت ہونا اصلا محل تردد نہیںاگر کہے کا ہے کی اجرت ہاں مرسل الیہ کے گھر تك جانے اور اسے روپیہ دینے اور وہاں سے واپس آنے اور اس سے رسید لانے کی کیا یہ منفعت مقصودہ مباحہ نہیں جس پر شرعا ایراد وعقد اجارہ کی اجاز ت ہواو ر جب ہے بیشك ہے تو عجب عجب ہزار عجب کہ عاقدین ایك منفعت مقصودہ جائزہ پر قصد اجارہ کریں عوض منفعت جو کچھ دیں اور اسے اجرت ہی کہیں اجرت ہی سمجھیں او رخواہی نخواہی ان کے قصد جائز کو باطل کرکے اس اجرت کو معاوضہ قرض وربا قرار دیں شرع مطہر میں معاذ الله اس حکم کی کوئی نظیر ہےحاشالله بلکہ شرع میں مہما امکن تصحیح کلام وعقود پر نظر رہتی ہے کما لایخفی علی من خدم الفقہ(جیسا کہ فقہ کی خدمت کرنیوالے پر مخفی نہیں ہے۔ت)نہ کہ زبردستی ابطال وافساد وایقاع فی الفسادپرکہ صراحۃ عکس مراد شرع ہے ایك ہلکی سی مثال پیش پاافتادہ یہی ہے کہ دس روپے دوآنے کے عوض دو روپے دس آنے خریدیں تو مالیت میں کھلا تفاضل اور جنس کو جنس سے ملائے تو وہ عین ربا مگر شرع مطہر جنس کو خلاف جنس کے طرف صرف فرماکرربا سے بچاتی ہے کما نصوا علیہ قاطبۃ(جیسا کہ سب نے اس پر نص فرمائی ہے۔ت)پس ثابت ہوا کہ صورت منی آرڈر میں اگرچہ اجارہ محضہ نہیں مگر زنہار وزنہار قرض محض بھی نہیں جیسا کہ ان مفتی صاحبان نے توہم کیا او ر اسی بناء پر فیس کو اجرت سے نکال کر ربا کردیا بلکہ یہاں حقیقۃ دونوں متحقق ہیںاب شبہات حضرات تویکسر حل ہوگئےوہ ۲/ ربا کا خیال بدیہی الضلال صرف اسی توہم پر مبنی تھا کہ یہ قرض محض ہےجب ثابت ہوا کہ ایسانہیں بلکہ یہاں اجارہ بھی ہے اور یہ ۲/اجرت ہیں نہ فضل خالی عن العوضتو انھیں ربا کہنا محض جہالت
بحمدالله اتنی ہی تقریر سے وہ دو دلیلیں بھی کہ یہاں تابع نے انتفائے اجارہ پر قائم کیں منتفی ہوگئیں:
یونہی ہر ذی عقل نبیہ پریہ بھی روشن ہے کہ یہ دوسرے دام اگر کسی کام کے عوض نہ دئے جاتے تو یہ عقد خالص قرض اور یہ زیادت بیشك ربا ہوتی یایوں ہوتاکہ جس کا م کے عوض دئے جاتے وہ کوئی منفعت مقصودہ صالح ورود عقد اجارہ نہ ہوتا تو بھی محض قرض رہتا مگر حاشایہاں ہر گز ایسا نہیں بلکہ وہ مثل سائر کا رروائیہائے ڈاکخانہ کے یقینا اجرت میں دینے والے اجرت ہی سمجھ کردیتےلینے والے اجرت ہی جان کرلیتے ہیں ہر گز کسی کے خواب میں بھی یہ خیال نہیں ہوتا کہ یہ ۲/سود کے ہیں جو الٹا مدیون دائن سے لیتا ہے ڈاکخانے کی اصل وضع ہی اس قسم کی اجارات کے لیے ہےتویہاں عقد اجارہ کا تحقق اور ان داموں کا اجرت ہونا اصلا محل تردد نہیںاگر کہے کا ہے کی اجرت ہاں مرسل الیہ کے گھر تك جانے اور اسے روپیہ دینے اور وہاں سے واپس آنے اور اس سے رسید لانے کی کیا یہ منفعت مقصودہ مباحہ نہیں جس پر شرعا ایراد وعقد اجارہ کی اجاز ت ہواو ر جب ہے بیشك ہے تو عجب عجب ہزار عجب کہ عاقدین ایك منفعت مقصودہ جائزہ پر قصد اجارہ کریں عوض منفعت جو کچھ دیں اور اسے اجرت ہی کہیں اجرت ہی سمجھیں او رخواہی نخواہی ان کے قصد جائز کو باطل کرکے اس اجرت کو معاوضہ قرض وربا قرار دیں شرع مطہر میں معاذ الله اس حکم کی کوئی نظیر ہےحاشالله بلکہ شرع میں مہما امکن تصحیح کلام وعقود پر نظر رہتی ہے کما لایخفی علی من خدم الفقہ(جیسا کہ فقہ کی خدمت کرنیوالے پر مخفی نہیں ہے۔ت)نہ کہ زبردستی ابطال وافساد وایقاع فی الفسادپرکہ صراحۃ عکس مراد شرع ہے ایك ہلکی سی مثال پیش پاافتادہ یہی ہے کہ دس روپے دوآنے کے عوض دو روپے دس آنے خریدیں تو مالیت میں کھلا تفاضل اور جنس کو جنس سے ملائے تو وہ عین ربا مگر شرع مطہر جنس کو خلاف جنس کے طرف صرف فرماکرربا سے بچاتی ہے کما نصوا علیہ قاطبۃ(جیسا کہ سب نے اس پر نص فرمائی ہے۔ت)پس ثابت ہوا کہ صورت منی آرڈر میں اگرچہ اجارہ محضہ نہیں مگر زنہار وزنہار قرض محض بھی نہیں جیسا کہ ان مفتی صاحبان نے توہم کیا او ر اسی بناء پر فیس کو اجرت سے نکال کر ربا کردیا بلکہ یہاں حقیقۃ دونوں متحقق ہیںاب شبہات حضرات تویکسر حل ہوگئےوہ ۲/ ربا کا خیال بدیہی الضلال صرف اسی توہم پر مبنی تھا کہ یہ قرض محض ہےجب ثابت ہوا کہ ایسانہیں بلکہ یہاں اجارہ بھی ہے اور یہ ۲/اجرت ہیں نہ فضل خالی عن العوضتو انھیں ربا کہنا محض جہالت
بحمدالله اتنی ہی تقریر سے وہ دو دلیلیں بھی کہ یہاں تابع نے انتفائے اجارہ پر قائم کیں منتفی ہوگئیں:
دلیل اول:روپیہ تلف ہوجائے تو بھیجنے والا طالب ضمان اور انگریز ذمہ دارتو ثابت ہوا کہ اجارہ نہیں کہ محصول کو اجرت پر محمول کیاجائے۔
اقول اولا:کیاوجوب ضمان مطلق نافی اجارہ ہےکتب فقہ کا مطالعہ کیجئے صدہا صورتوں میں اجیر پر ایجاب ضمان کا حکم ہےاور خاص ید ضمان کی ضرورت ہو تو ذرا اجیر مشترك میں اقوال ائمہ واختلاف فتوی ازمہ پر نظر ہو۔
ثانیا:اطلاق نفی ضمان ہی مانئے تو غایت یہ ہے کہ طلب ضمان ناجائز ہو اور انگریزوں کا ذمہ بریاس سے اصل عقد کیوں بدل گیابہت لوگ عاریت پر تاوان لیتے اور جاہل مستعیر ذمہ دار بنتے ہیںکیا اس سے نفس عاریت منتفی ہوجائے گیہاں شاید یہ خیال کیا ہوکہ کلام مسلم حتی الامکان وجہ صحیح پر حمل کرنا چاہئےجبکہ ہم نے اجارہ میں مطلقا ضمان بحالت ہلاکت طالب ضمان نہ مانی تو یہ طلب خلاف شرع ہوگی لہذا اجارہ نہ ٹھہرا نا چاہئےمگر سبحان الله مسلمانوں کی اور طرفہ طرفداری کی کہ اسی خیال سے کہ صورت ہلاك میں جو بشدت نادرہےکہیں طلب ضمان نہ کر بیٹھیں جو ایك مختلف فیہ ممنوع ہےلہذا اصل عقد ہی ربا لازم ودائم مان کر مسلمانوں کو مرتکب حرام اجماعی ٹھہرا دیجئےیعنی کشتن باید تاتپ نباید فرمن المطر ووقف تحت المیزاب (بارش سے بھاگا اور پرنالے کے نیچے کھڑا ہوا۔ت)
ثالثا:کس نے کہاکہ اجارہ محضہ ہے معنی قرض یقینا متحقق اور رد مثل ا س کا خاص حکمتویہ تضمین بربنائے اجارہ نہ ہوبربنائے قرض سہیاب اسے اجارہ سے کیا تنافی رہی۔
دلیل دوم:اجارہ ہو تو بعینہ اسی روپے کا پہنچانا لازم ہولیکن یہ امر نہ بھیجنے والا ضرورخیال کرتاہے۔نہ ڈاك والے کرتے ہیں۔
اقول:قطع نظر اس سے کہ یہ قیاس استثنائی کس اعلی درجہ نفاست پر ہےتالی لزوم نفس الامری اور استثناء رفع خیال لزوم یارفع عمل کیا اگر عاقدین کسی حکم واقعی عقد کو اپنے ذہن میں لازم نہ سمجھیںیا اس پر عمل نہ کریں تو اس سے وہ عقدعقد ہی نہ رہے گاعدم حکم مستلزم عدم عقد ہے یا عدم اعتقاد وعملاصل کلام وہی ہے کہ بیشك لازم ہوتا۔اگر اجارہ محضہ ہوتا یہاں تو ڈاکخانہ فلاں جگہ جاکر ادائے زر اور وہاں سے لاکر ایصال رسید پر اجیر اور زر داخل کردہ کا مستقرض ومدیون ہے تو جو چیز وہاں دے گا عین نہیں دین کا بعینہ پہنچانا کیونکر متصور اور اس کا لزوم کہاں کا حکمبالجملہ ان داموں کی اجرت ہونے سے انکار کرنا اور عوض قراردے کر ربا ٹھہرانا یونہی صحیح تھا کہ اسے قرض محض خالی عن الاجارہ ثابت کرتے اور دونوں دلیلیں بغرض تمامی صرف اس قدر پر دال کہ وہ اجارہ محضہ نہیںتو دلیل کو دعوی سے
اقول اولا:کیاوجوب ضمان مطلق نافی اجارہ ہےکتب فقہ کا مطالعہ کیجئے صدہا صورتوں میں اجیر پر ایجاب ضمان کا حکم ہےاور خاص ید ضمان کی ضرورت ہو تو ذرا اجیر مشترك میں اقوال ائمہ واختلاف فتوی ازمہ پر نظر ہو۔
ثانیا:اطلاق نفی ضمان ہی مانئے تو غایت یہ ہے کہ طلب ضمان ناجائز ہو اور انگریزوں کا ذمہ بریاس سے اصل عقد کیوں بدل گیابہت لوگ عاریت پر تاوان لیتے اور جاہل مستعیر ذمہ دار بنتے ہیںکیا اس سے نفس عاریت منتفی ہوجائے گیہاں شاید یہ خیال کیا ہوکہ کلام مسلم حتی الامکان وجہ صحیح پر حمل کرنا چاہئےجبکہ ہم نے اجارہ میں مطلقا ضمان بحالت ہلاکت طالب ضمان نہ مانی تو یہ طلب خلاف شرع ہوگی لہذا اجارہ نہ ٹھہرا نا چاہئےمگر سبحان الله مسلمانوں کی اور طرفہ طرفداری کی کہ اسی خیال سے کہ صورت ہلاك میں جو بشدت نادرہےکہیں طلب ضمان نہ کر بیٹھیں جو ایك مختلف فیہ ممنوع ہےلہذا اصل عقد ہی ربا لازم ودائم مان کر مسلمانوں کو مرتکب حرام اجماعی ٹھہرا دیجئےیعنی کشتن باید تاتپ نباید فرمن المطر ووقف تحت المیزاب (بارش سے بھاگا اور پرنالے کے نیچے کھڑا ہوا۔ت)
ثالثا:کس نے کہاکہ اجارہ محضہ ہے معنی قرض یقینا متحقق اور رد مثل ا س کا خاص حکمتویہ تضمین بربنائے اجارہ نہ ہوبربنائے قرض سہیاب اسے اجارہ سے کیا تنافی رہی۔
دلیل دوم:اجارہ ہو تو بعینہ اسی روپے کا پہنچانا لازم ہولیکن یہ امر نہ بھیجنے والا ضرورخیال کرتاہے۔نہ ڈاك والے کرتے ہیں۔
اقول:قطع نظر اس سے کہ یہ قیاس استثنائی کس اعلی درجہ نفاست پر ہےتالی لزوم نفس الامری اور استثناء رفع خیال لزوم یارفع عمل کیا اگر عاقدین کسی حکم واقعی عقد کو اپنے ذہن میں لازم نہ سمجھیںیا اس پر عمل نہ کریں تو اس سے وہ عقدعقد ہی نہ رہے گاعدم حکم مستلزم عدم عقد ہے یا عدم اعتقاد وعملاصل کلام وہی ہے کہ بیشك لازم ہوتا۔اگر اجارہ محضہ ہوتا یہاں تو ڈاکخانہ فلاں جگہ جاکر ادائے زر اور وہاں سے لاکر ایصال رسید پر اجیر اور زر داخل کردہ کا مستقرض ومدیون ہے تو جو چیز وہاں دے گا عین نہیں دین کا بعینہ پہنچانا کیونکر متصور اور اس کا لزوم کہاں کا حکمبالجملہ ان داموں کی اجرت ہونے سے انکار کرنا اور عوض قراردے کر ربا ٹھہرانا یونہی صحیح تھا کہ اسے قرض محض خالی عن الاجارہ ثابت کرتے اور دونوں دلیلیں بغرض تمامی صرف اس قدر پر دال کہ وہ اجارہ محضہ نہیںتو دلیل کو دعوی سے
اصلا مس نہیں۔
ثم اقول: وبالله التوفیق۔وبہ الوصول الی ذری التحقیق(پھر میں کہتاہوں اور الله ہی کو طرف سے توفیق ہے۔اور اسی سے تحققیق کی بلالندیوں تك پہنچنا۔ت)حقیقت امریہ ہے کہ ڈاکخانہ قطعا اجیر مشترك اور اس میں جس قدر فیسیں ہیں سب اجرت عمل پھر ضوابط ڈاك نے ان پر اعمال دوقسم پر منقسم کئے:
ایك وہ جن میں آفس ذمہ دار وضمین قرار پاتاہے۔جیسے پارسلرجسٹریبیمہ ومنی آرڈر۔
دوسرے وہ جس میں ذمہ ضمان نہیںجیسے خطوط وپاکٹ بیرنگ وباٹکٹ۔
اوریہیں سے واضح ہوگیا کہ یہ ادائے ضمان بربنائے قرض نہیں بلکہ ضوابط کی اس تقسیم پر مبنی ہےولہذا بیمہ میں صرف ضمان دیتے ہیںحالانکہ وہاں قرض کا اصلا احتمال نہیں بلکہ انصاف کیجئے تو روپیہ لینے والے درکنار عا م روپیہ داخل کرنے والوں کا بھی ذہن اصلا اس طرف نہیں جاتاکہ یہ روپیہ جو ہم دیتے ہیں بوجہ قرار داد امساك عین ودفع مثل ڈاك خانہ کو قرض دے رہے ہیں ڈاکخانہ ہم سے دست گرداں لے رہا ہے بلکہ یقینا لینے دینے والے سب اس عقد کو مثل سائر عقود ڈاکخانہ عقد اجارہ ہی جانتے ہیںاور خود اسی کےلئے صیغہ ڈاك کی وضع اور فیس کو یقینا اجرت جان کر دیتے لیتےاور در صورت تلف تاوان کو مثل بیمہ وغیرہ اسی شرط ذمہ داری کی بناء پر سمجھتے ہیںنہ یہ کہ یہ لوگ سمجھیں ہم نے قرض دیا تھا اسے ڈاکخانہ سے لینا ہے ڈاك خانہ سمجھے میں ان کاقرضدا ر تھا مجھے ادا کرناہے۔ہاں بعد تلف ڈاك خانہ اسی ذمہ داری کے سبب اس وقت سے مدیون سمجھا جاتاہے نہ یہ کہ روپیہ بھیجنے کے لئے داخل کرتے ہی عاقدین اپنے آپ کو دائن ومدیون تصور کرتے ہوںیہ بدیہات واضحہ سے ہے جس کا انکار مکابرہ تویہ اقرارضمان ہر گز بنائے اقراض واستقراض نہیں بلکہ اجیر مشترك پر شرط ضمان ہے۔اب یہ مسئلہ مثلثہ بلکہ مربعہ ہے اور سب اقوال مصححہ سب مفتی بہا۔
قال العلامۃ خیر الدین الرملی فی فتاواہ وانا اقول: بل مخمسۃ بل مسدسۃ ۱عدم الضمان مطلقا ۲الضمان بشرط الصلح علی النصف ۳جواز الصلح جبرا۔ ۴التفصیل بکون الاجیر صالحا فیبرأ۵اوغیرہ فیضمن اومستورا فیصالح۔ یہ علامہ خیرالدین رملی نے اپنے فتاوی میں فرمایا ہے۔اور میں کہتاہوں بلکہ پانچ چھ۶ صورتیں ہیں:۱مطلقا عدم ضمان ۲نصف پر صلح کی شرط پر ضمان۳جبرا صلح کا جوازاور ۴اجیر کے صالح ہونے پر اس کا بری ہونایا ۵غیر صالح ہونے پر ضمان ہونایا ۶مستور الحال ہونے پر قابل صلح ہونا۔(ت)
امامین جلیلین صاحبین مذہب رضی الله تعالی عنہما کے نزدیك اجیر مشترك ضامن ہے۔ولہذا
ثم اقول: وبالله التوفیق۔وبہ الوصول الی ذری التحقیق(پھر میں کہتاہوں اور الله ہی کو طرف سے توفیق ہے۔اور اسی سے تحققیق کی بلالندیوں تك پہنچنا۔ت)حقیقت امریہ ہے کہ ڈاکخانہ قطعا اجیر مشترك اور اس میں جس قدر فیسیں ہیں سب اجرت عمل پھر ضوابط ڈاك نے ان پر اعمال دوقسم پر منقسم کئے:
ایك وہ جن میں آفس ذمہ دار وضمین قرار پاتاہے۔جیسے پارسلرجسٹریبیمہ ومنی آرڈر۔
دوسرے وہ جس میں ذمہ ضمان نہیںجیسے خطوط وپاکٹ بیرنگ وباٹکٹ۔
اوریہیں سے واضح ہوگیا کہ یہ ادائے ضمان بربنائے قرض نہیں بلکہ ضوابط کی اس تقسیم پر مبنی ہےولہذا بیمہ میں صرف ضمان دیتے ہیںحالانکہ وہاں قرض کا اصلا احتمال نہیں بلکہ انصاف کیجئے تو روپیہ لینے والے درکنار عا م روپیہ داخل کرنے والوں کا بھی ذہن اصلا اس طرف نہیں جاتاکہ یہ روپیہ جو ہم دیتے ہیں بوجہ قرار داد امساك عین ودفع مثل ڈاك خانہ کو قرض دے رہے ہیں ڈاکخانہ ہم سے دست گرداں لے رہا ہے بلکہ یقینا لینے دینے والے سب اس عقد کو مثل سائر عقود ڈاکخانہ عقد اجارہ ہی جانتے ہیںاور خود اسی کےلئے صیغہ ڈاك کی وضع اور فیس کو یقینا اجرت جان کر دیتے لیتےاور در صورت تلف تاوان کو مثل بیمہ وغیرہ اسی شرط ذمہ داری کی بناء پر سمجھتے ہیںنہ یہ کہ یہ لوگ سمجھیں ہم نے قرض دیا تھا اسے ڈاکخانہ سے لینا ہے ڈاك خانہ سمجھے میں ان کاقرضدا ر تھا مجھے ادا کرناہے۔ہاں بعد تلف ڈاك خانہ اسی ذمہ داری کے سبب اس وقت سے مدیون سمجھا جاتاہے نہ یہ کہ روپیہ بھیجنے کے لئے داخل کرتے ہی عاقدین اپنے آپ کو دائن ومدیون تصور کرتے ہوںیہ بدیہات واضحہ سے ہے جس کا انکار مکابرہ تویہ اقرارضمان ہر گز بنائے اقراض واستقراض نہیں بلکہ اجیر مشترك پر شرط ضمان ہے۔اب یہ مسئلہ مثلثہ بلکہ مربعہ ہے اور سب اقوال مصححہ سب مفتی بہا۔
قال العلامۃ خیر الدین الرملی فی فتاواہ وانا اقول: بل مخمسۃ بل مسدسۃ ۱عدم الضمان مطلقا ۲الضمان بشرط الصلح علی النصف ۳جواز الصلح جبرا۔ ۴التفصیل بکون الاجیر صالحا فیبرأ۵اوغیرہ فیضمن اومستورا فیصالح۔ یہ علامہ خیرالدین رملی نے اپنے فتاوی میں فرمایا ہے۔اور میں کہتاہوں بلکہ پانچ چھ۶ صورتیں ہیں:۱مطلقا عدم ضمان ۲نصف پر صلح کی شرط پر ضمان۳جبرا صلح کا جوازاور ۴اجیر کے صالح ہونے پر اس کا بری ہونایا ۵غیر صالح ہونے پر ضمان ہونایا ۶مستور الحال ہونے پر قابل صلح ہونا۔(ت)
امامین جلیلین صاحبین مذہب رضی الله تعالی عنہما کے نزدیك اجیر مشترك ضامن ہے۔ولہذا
جو کچھ اس کے کام کرنے میں ضائع ہوبالاجماع ا س کا تاوان دے گا اگر چہ شیئ میں اس کی طرف سے کوئی تعدی و تقصیر نہ واقع ہوئی ہو بخلاف اجیر خاص کہ امین ہے۔ولہذا جب تك تعدی نہ کرے اصلا ضمان نہیںاگرچہ اس کے فعل سے تلف ہویہ مذہب امیر المومنین فاروق اعظم ومرتضائے اکرم رضی الله تعالی عنہما سے مروی اور یہی امام دارالہجرۃ سید نا امام مالك کا مذہب اور امام شافعی کا ایك قول اور امام احمد سے ایك روایت ہے رضی الله تعالی عنہم اجمعینبدائع وغایۃ البیان وغیرہما میں قول امام عدم ضمان کو قیاس اور اس قول صاحبین کو استحسان قراردیا۔امام اجل فقیہ ابوجعفر ہندوائی اسی طرف میل فرماتے۔امام زیلعی نے تبین الحقائق پھر علامہ طوری نے شرح کنز الدقائق میں اس کو بہ یفتی فرمایا۔جامع الفصولین وخزانۃ المفتین وفتاوی انقرویہ وواقعات المفتین میں ہے:
قیل یفتی بقول(ابی حنیفہ)رحمہ اﷲ تعالی وقیل قول عطاء وطاؤس وھما من کبار التابعین وقول س وم ابی یوسف ومحمد)رحمہما اﷲ تعالی قول عمر و علی رضی اﷲ تعالی عنہما احتشاما وصیانۃ لاموال الناس ۔ بعض نے کہا کہ امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ کے قول پر فتوی دیا اور بتایا گیا آپ کے قول کی بنیاد حضرت عطاء اور طاؤس کے قول پر ہے جو کبار تابعین میں سے ہیںاورامام ابویوسف اور امام محمد رحمہما الله تعالی کا قول حضرت عمرفاروق او رعلی مرتضی رضی الله تعالی عنہما کے قول پر مبنی ہے لوگوں کے مال کے احترام اور حفاظت کو پیش نظر رکھتے ہوئے۔(ت)
شرح ہدایہ علامہ اتقائی میں ہے:
قول ابی حنیفۃ قیاس لان المال امانۃ فی یدہ وہلاك الامانۃ من غیر صنع لایوجب الضمان وقولہما استحسان ووجہہ اثر عمر رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ کا قول قیاس پر مبنی ہے کیونکہ اس کے پاس امانت ہے جبکہ بغیر دخل امانت کی ہلاکت موجب ضمان نہیں ہے اور صاحبین رحمہماالله تعالی کا قول استحسان ہے اور عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ سے مروی عمل کی وجہ سے۔(ت)
قیل یفتی بقول(ابی حنیفہ)رحمہ اﷲ تعالی وقیل قول عطاء وطاؤس وھما من کبار التابعین وقول س وم ابی یوسف ومحمد)رحمہما اﷲ تعالی قول عمر و علی رضی اﷲ تعالی عنہما احتشاما وصیانۃ لاموال الناس ۔ بعض نے کہا کہ امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ کے قول پر فتوی دیا اور بتایا گیا آپ کے قول کی بنیاد حضرت عطاء اور طاؤس کے قول پر ہے جو کبار تابعین میں سے ہیںاورامام ابویوسف اور امام محمد رحمہما الله تعالی کا قول حضرت عمرفاروق او رعلی مرتضی رضی الله تعالی عنہما کے قول پر مبنی ہے لوگوں کے مال کے احترام اور حفاظت کو پیش نظر رکھتے ہوئے۔(ت)
شرح ہدایہ علامہ اتقائی میں ہے:
قول ابی حنیفۃ قیاس لان المال امانۃ فی یدہ وہلاك الامانۃ من غیر صنع لایوجب الضمان وقولہما استحسان ووجہہ اثر عمر رضی اﷲ تعالی عنہ ۔ امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ کا قول قیاس پر مبنی ہے کیونکہ اس کے پاس امانت ہے جبکہ بغیر دخل امانت کی ہلاکت موجب ضمان نہیں ہے اور صاحبین رحمہماالله تعالی کا قول استحسان ہے اور عمر فاروق رضی الله تعالی عنہ سے مروی عمل کی وجہ سے۔(ت)
حوالہ / References
جامع الفصولین الفصل الثالث والثلاثون ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۷۱€وفتاوٰی انقرویہ کتاب الاجارۃ داراشاعۃ العربیہ ∞قندہار افغانستان ۲/ ۳۲۳€
غایۃ البیان
غایۃ البیان
شرح الکنز ملامسکین میں ہے:
المتاع فی یدہ غیر مضمون عندابی حنیفۃ و ھوالقیاس وقالا علیہ الضمان استحسانا ۔باختصار۔ اس کے ہاتھ میں سامان امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ کے موجب ضمان نہیں اور یہی قیاس ہے اور صاحبین رحمہماالله تعالی نے فرمایا اس پر ضمان ہوگا استحساناباختصار۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
فی البدائع لایضمن عندہ وھوالقیاس و قالا یضمن الامن حرق غالب اولصوص مکابرین وھو استحسان اھ مختصرین بدائع میں ہے امام صاحب کے نزدیك اس پر ضمان نہ ہوگا۔قیاس یہی ہے۔صاحبین رحمہما الله تعالی نے فرمایا:اس سے ضمان وصول کیا جائے گا الایہ کہ بے قابو آگ یا سرکش ڈاکو سے ضیاع ہوجائےیہ استحسان ہے اھ دونوں مذکورہ عبارتیں مختصرا(ت)
تبیین میں ہے:
بقولہما یفتی الیوم لتغیر احوال الناس وبہ یحصل صیانۃ اموالہم ۔ صاحبین کے قول پر آج کل فتوی دیا جائے کیونکہ لوگوں کے احوال میں تبدیلی ہوگئی ہے جبکہ اس فتوی سے لوگوں کے مال محفوظ ہوں گے۔(ت)
تکملہ طوری میں ہے:
قد تقدم ان بقولہما یفتی فی ھذا الزمان لتغیر احوال الناس ۔ یہ گزرا ہے کہ لوگوں کے حالات بد ل جانے کی وجہ سے صاحبین کے قول پر فتوی ہے۔(ت)
فتاوی امام قاضیخاں میں ہے:
قال الفقیہ ابوجعفر الضمان علی القصارو ابوجعفر فقیہ نے فرمایا کہ دھوبی پرضمان ہوگا اور
المتاع فی یدہ غیر مضمون عندابی حنیفۃ و ھوالقیاس وقالا علیہ الضمان استحسانا ۔باختصار۔ اس کے ہاتھ میں سامان امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ کے موجب ضمان نہیں اور یہی قیاس ہے اور صاحبین رحمہماالله تعالی نے فرمایا اس پر ضمان ہوگا استحساناباختصار۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
فی البدائع لایضمن عندہ وھوالقیاس و قالا یضمن الامن حرق غالب اولصوص مکابرین وھو استحسان اھ مختصرین بدائع میں ہے امام صاحب کے نزدیك اس پر ضمان نہ ہوگا۔قیاس یہی ہے۔صاحبین رحمہما الله تعالی نے فرمایا:اس سے ضمان وصول کیا جائے گا الایہ کہ بے قابو آگ یا سرکش ڈاکو سے ضیاع ہوجائےیہ استحسان ہے اھ دونوں مذکورہ عبارتیں مختصرا(ت)
تبیین میں ہے:
بقولہما یفتی الیوم لتغیر احوال الناس وبہ یحصل صیانۃ اموالہم ۔ صاحبین کے قول پر آج کل فتوی دیا جائے کیونکہ لوگوں کے احوال میں تبدیلی ہوگئی ہے جبکہ اس فتوی سے لوگوں کے مال محفوظ ہوں گے۔(ت)
تکملہ طوری میں ہے:
قد تقدم ان بقولہما یفتی فی ھذا الزمان لتغیر احوال الناس ۔ یہ گزرا ہے کہ لوگوں کے حالات بد ل جانے کی وجہ سے صاحبین کے قول پر فتوی ہے۔(ت)
فتاوی امام قاضیخاں میں ہے:
قال الفقیہ ابوجعفر الضمان علی القصارو ابوجعفر فقیہ نے فرمایا کہ دھوبی پرضمان ہوگا اور
حوالہ / References
شرح الکنز لمنلا مسکین مع فتح المعین کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳/ ۲۵۲€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۰€
تبیین الحقائق کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۵/ ۱۳۵€
بحرالرائق کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۸/ ۲۷€
ردالمحتار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۰€
تبیین الحقائق کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر المطبعۃ الکبرٰی ∞بولاق مصر ۵/ ۱۳۵€
بحرالرائق کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۸/ ۲۷€
قال الفقیہ ابو اللیث انما قال لانہ کان یمیل فی الاجیر المشترك الی قول ابی یوسف ومحمد ۔ فقیہ ابواللیث نے فرمایا انھوں نے یہ بات مشترك اجیر کے متعلق صاحبین کے قول کی طرف میلان کی وجہ سے فرمائی ہے۔(ت)
امام اجل ابوبکر بلخی فرماتے ہیں خلاف اس صورت میں ہے جبکہ اجیر مشترك پر ضمان ٹھہرانہ لی جائے ورنہ اگرپہلے سے شرط ہو جائے جب تو بالاجماع اس پر ضمان لازم۔جامع الفتاوی والنوازل واشباہ والنظائر وغیرہما میں اسی پر جزم فرمایا۔فتاوی خلاصہ میں ہے:
شرط علیہ الضمان اذا ھلك یضمن فی قولہم جمیعا لان الاجیر المشترك انما لایضمن عند ابی حنیفۃ اذا لم یشترط علیہ الضمان اما اذا شرط یضمن قال الفقیۃ ابواللیث الشرط وعدم الشرط سواء لانہ امین ۔ ہلاك ہوجانے پر ضمان کی شرط لگائی تو بالاتفاق ضمان لیا جائے گا کیونکہ مشترکہ اجیر کے متعلق جب شرط نہ لگائی ہو تو امام ابو حنیفہ کے نزدیك ضمان نہیں لیا جائے گا لیکن شرط لگانے پر ان کے نزدیك بھی ضمان ہوگا۔فقیہ ابواللیث نے فرمایا شرط لگانا نہ لگانا برابر ہے کیونکہ وہ امین ہے۔(ت)
انقرویہ میں شرح مجمع علامہ ابن فرشتہ سے ہے:
ان شرط ان یضمن لوہلك عندہ یضمن اتفاقا کذ ا فی الجامع وذکر فی الخانیۃ و تتمۃ الفتوی علی انہ لا یضمن ۔ اگر اس کے پاس ہلاك ہوجانے پر ضمان کی شرط لگائی تو بالاتفاق ضمان لیا جائے گاجامع میں یوں ہے۔اورخانیہ اور تتمۃ الفتاوی میں ہے کہ ضمان نہیں لیا جائے گا۔(ت)
شرح کنز ملامسکین میں ہے:
قیل اذا شرط الضمان علی الاجیر المشترك یصح عند ابی حنیفۃ وصار کان الاجر فی مقابلۃ العمل و الحفظ جمیعا۔ بعض نے کہا کہ مشترك اجیر پر ضمان کی شرط لگائی تو امام ابو حنیفہ رضی الله تعالی عنہ کے نزدیك صحیح ہے یوں وہ عمل اور حفاظت دونوں پر اجیر قرار پائے گا۔
امام اجل ابوبکر بلخی فرماتے ہیں خلاف اس صورت میں ہے جبکہ اجیر مشترك پر ضمان ٹھہرانہ لی جائے ورنہ اگرپہلے سے شرط ہو جائے جب تو بالاجماع اس پر ضمان لازم۔جامع الفتاوی والنوازل واشباہ والنظائر وغیرہما میں اسی پر جزم فرمایا۔فتاوی خلاصہ میں ہے:
شرط علیہ الضمان اذا ھلك یضمن فی قولہم جمیعا لان الاجیر المشترك انما لایضمن عند ابی حنیفۃ اذا لم یشترط علیہ الضمان اما اذا شرط یضمن قال الفقیۃ ابواللیث الشرط وعدم الشرط سواء لانہ امین ۔ ہلاك ہوجانے پر ضمان کی شرط لگائی تو بالاتفاق ضمان لیا جائے گا کیونکہ مشترکہ اجیر کے متعلق جب شرط نہ لگائی ہو تو امام ابو حنیفہ کے نزدیك ضمان نہیں لیا جائے گا لیکن شرط لگانے پر ان کے نزدیك بھی ضمان ہوگا۔فقیہ ابواللیث نے فرمایا شرط لگانا نہ لگانا برابر ہے کیونکہ وہ امین ہے۔(ت)
انقرویہ میں شرح مجمع علامہ ابن فرشتہ سے ہے:
ان شرط ان یضمن لوہلك عندہ یضمن اتفاقا کذ ا فی الجامع وذکر فی الخانیۃ و تتمۃ الفتوی علی انہ لا یضمن ۔ اگر اس کے پاس ہلاك ہوجانے پر ضمان کی شرط لگائی تو بالاتفاق ضمان لیا جائے گاجامع میں یوں ہے۔اورخانیہ اور تتمۃ الفتاوی میں ہے کہ ضمان نہیں لیا جائے گا۔(ت)
شرح کنز ملامسکین میں ہے:
قیل اذا شرط الضمان علی الاجیر المشترك یصح عند ابی حنیفۃ وصار کان الاجر فی مقابلۃ العمل و الحفظ جمیعا۔ بعض نے کہا کہ مشترك اجیر پر ضمان کی شرط لگائی تو امام ابو حنیفہ رضی الله تعالی عنہ کے نزدیك صحیح ہے یوں وہ عمل اور حفاظت دونوں پر اجیر قرار پائے گا۔
حوالہ / References
فتاوٰی قاضیخاں کتاب الاجارات فصل فی القصار ∞نولکشور لکھنؤ ۳/ ۴۴€۴
خلاصہ الفتاوٰی کتاب الاجارات الفصل السادس الجنس الاول ∞مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۱۳۷€
فتاوٰی انقرویہ کتا ب الاجارہ فی ضمان الاجیر المشترك داراشاعۃ العربیہ ∞قندھار افغانستان ۲/ ۳۲۳€
خلاصہ الفتاوٰی کتاب الاجارات الفصل السادس الجنس الاول ∞مکتبۃ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۱۳۷€
فتاوٰی انقرویہ کتا ب الاجارہ فی ضمان الاجیر المشترك داراشاعۃ العربیہ ∞قندھار افغانستان ۲/ ۳۲۳€
کذا فی شرح الوقایۃ وھو قول الفقیۃ ابی بکر والفقیۃ ابواللیث یفتی بانہ لو شرط علیہ الضمان لایصح ۔ شرح وقایہ میں یوں ہےاور یہ ابوبکر کا قول ہے۔اور فقیہ ابو اللیث کا فتوی یہ ہے کہ اگر اس پر ضمان کی شرط لگائی تو صحیح نہیں ہے۔(ت)
وجیز امام کردری نوع فی الحمامی میں نوازل سے ہے:
دخل الحمام وقال للحمامی احفظ ہذہ الثیاب فخرج ولم یجدھا ان شرط علیہ الضمان یضمن اجماعا ان سرق اوضاع والالا ۔ حمام میں داخل ہوا اور حمام والے کو کہاان کپڑوں کی حفاظت کرنا وہ حمام سے نکلا تو کپڑوں کو غیب پایااگر اس نے حمام والے پر ضمان کی شرط لگائی تھی تو بالاتفاق ضامن ہوگا اس نے چوری یا ضائع کئے ہوں ورنہ نہیں(ت)
اس کے بعد خود فرمایا:
وقد ذکرنا انہ لاتاثیرللشرط وتاویلہ انہ لما شرط علیہ الضمان فقد قابل الاجر بہما فیکون علی الخلاف فی المشترك ۔ ہم نے ذکر کردیا ہے کہ شرط کا کوئی اثر نہیں ہے تو اس کی تاویل یوں ہوگی کہ اگر اس نے شرط قبول کرلی تو گویا اس نے دو چیزوں پر اس کو اجیر بنالیا لہذا یہ مشترك اجیر کی صورت کے خلاف معاملہ ہوا۔(ت)
ذخیر ہ وخلاصہ وعمادیہ وغمز العیون وغیرہ میں ہے:
و ھذا اللفظ للذخیرۃ کان الفقیہ ابوبکر یقول ضمن الحمامی اجماعا وکان یقول انما لا یضمن الاجیر المشترك عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی اذا لم یشترط علیہ الضمان اما اذا شرط یضمن وکان الفقیہ ابو جعفر یستوی بین شرط الضمان وعدم الشرط ذخیرہ کے الفاظ میں ہے کہ ابوبکر فقیہحمام والے کو بالاجماع ضامن قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ کے نزدیك مشترك اجیر پر جب شرط ضمان نہ لگائی تو وہ ضامن نہ ہوگا لیکن اگر شرط لگادی تو ضامن ہوگا اور فقیہ ابوجعفر شرط اور عدم شرط کو مساوی قرار دیتے تھے اور ضمان
وجیز امام کردری نوع فی الحمامی میں نوازل سے ہے:
دخل الحمام وقال للحمامی احفظ ہذہ الثیاب فخرج ولم یجدھا ان شرط علیہ الضمان یضمن اجماعا ان سرق اوضاع والالا ۔ حمام میں داخل ہوا اور حمام والے کو کہاان کپڑوں کی حفاظت کرنا وہ حمام سے نکلا تو کپڑوں کو غیب پایااگر اس نے حمام والے پر ضمان کی شرط لگائی تھی تو بالاتفاق ضامن ہوگا اس نے چوری یا ضائع کئے ہوں ورنہ نہیں(ت)
اس کے بعد خود فرمایا:
وقد ذکرنا انہ لاتاثیرللشرط وتاویلہ انہ لما شرط علیہ الضمان فقد قابل الاجر بہما فیکون علی الخلاف فی المشترك ۔ ہم نے ذکر کردیا ہے کہ شرط کا کوئی اثر نہیں ہے تو اس کی تاویل یوں ہوگی کہ اگر اس نے شرط قبول کرلی تو گویا اس نے دو چیزوں پر اس کو اجیر بنالیا لہذا یہ مشترك اجیر کی صورت کے خلاف معاملہ ہوا۔(ت)
ذخیر ہ وخلاصہ وعمادیہ وغمز العیون وغیرہ میں ہے:
و ھذا اللفظ للذخیرۃ کان الفقیہ ابوبکر یقول ضمن الحمامی اجماعا وکان یقول انما لا یضمن الاجیر المشترك عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالی اذا لم یشترط علیہ الضمان اما اذا شرط یضمن وکان الفقیہ ابو جعفر یستوی بین شرط الضمان وعدم الشرط ذخیرہ کے الفاظ میں ہے کہ ابوبکر فقیہحمام والے کو بالاجماع ضامن قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ کے نزدیك مشترك اجیر پر جب شرط ضمان نہ لگائی تو وہ ضامن نہ ہوگا لیکن اگر شرط لگادی تو ضامن ہوگا اور فقیہ ابوجعفر شرط اور عدم شرط کو مساوی قرار دیتے تھے اور ضمان
حوالہ / References
شرح الکنز لمنلا مسکین مع فتح المعین کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳/ ۲۵€۲
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب الاجارات الفصل السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۹€۱
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب الاجارات الفصل السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۹۱€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب الاجارات الفصل السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۹€۱
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب الاجارات الفصل السادس ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۹۱€
وکان یقول بعدم الضمان قال الفقیہ ابواللیث رحمہ اﷲ تعالی وبہ ناخذ ونحن نفتی بہ اھقلت ومعنی ھذا الکلام ان الفقیہ ابا جعفر کان یستوی بینہما علی قول الامام وکان یقول لایضمن عندہ وان شرط اماھو بنفسہ فقد کان یمیل الی قولہما کما قدمنا عن الخانیۃ عن الفقیہ ابی اللیث۔ اور ضمان کا قول نہ کرتےاور فقیہ ابواللیث نے فرمایا ہمارایہی موقف ہےاور ہم یہی فتوی دیں گے۔اھ میں کہتاہوں اس کلام کا مطلب یہ ہے کہ فقیہ ابوجعفر فرماتے ہیں کہ امام صاحب کے قول پر دونوں صورتیں مساوی ہیں اگر چہ شرط بھی لگائی ہو ضامن نہ ہوگالیکن ان کا اپنا رجحان صاحبین کے قول پر ہے جیسا کہ ہم نے خانیہ سے ابواللیث کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔(ت)
قنیہ واشباہ میں ہے:
محلہ عندعدم اشتراط الضمان علیہ امامعہ فیضمن اتفاقا ۔ اس کا محل ضمان کی عوم شرط ہے لیکن شرط کی صورت میں بالاتفاق ضامن ہوگا۔(ت)
جمہورا ئمہ متاخرین نے ائمہ مذہب وصحابہ وتابعین رضی الله تعالی عنہم کے اختلافات دیکھ کر وہ قول فیصل اختیار فرمایا کہ اجیر اگر صلحائے متقین سے ہے تو قول امام مختار یا اس کے خلاف ہے تو قول صاحبین وایجاب ضمان اور مستور الحال ہے تو دونوں قول کے لحاظ سے نصف ضمان واجب نصف ساقطاور شك نہیں کہ یہ قول جامع الاقوال ومراعی احوال وارفق بالناس واحفظ للاموال ہے کہ تغیر حالات زمانہ اس پر حامل ہو اور اس میں ارفق واحتیاط دونوں پہلو کا لحاظ رہاامید کی جاتی ہے کہ اگر امام یہ زمانہ پاتے یونہی حکم فرماتے۔فتاوی خیریہ وفتاوی اسعدیہ میں ہے:
مسئلۃ الاجیر المشترك فیہا ثلثۃ اقوال بل اربعۃ عدم الضمان مطلقا و الضمان مطلقا والصلح علی النصف جبرا عملا بالقولین وفی جامع الفصولین رامزا لفوائد صاحب المحیط لوکان الاجیر صالحا مشترك اجیر کے مسئلہ میں تین بلکہ چار قول ہیںمطلقا عدم ضمانمطلقا ضماننصف نقصان پر جبرا ضمان تاکہ دونوں اقوال پر عمل ہواور جامع الفصولین میں صاحب محیط کے فوائد کا اشارہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر اجیر صالح شخص ہے تو قسم لے کر بری کیا جائے گا۔
قنیہ واشباہ میں ہے:
محلہ عندعدم اشتراط الضمان علیہ امامعہ فیضمن اتفاقا ۔ اس کا محل ضمان کی عوم شرط ہے لیکن شرط کی صورت میں بالاتفاق ضامن ہوگا۔(ت)
جمہورا ئمہ متاخرین نے ائمہ مذہب وصحابہ وتابعین رضی الله تعالی عنہم کے اختلافات دیکھ کر وہ قول فیصل اختیار فرمایا کہ اجیر اگر صلحائے متقین سے ہے تو قول امام مختار یا اس کے خلاف ہے تو قول صاحبین وایجاب ضمان اور مستور الحال ہے تو دونوں قول کے لحاظ سے نصف ضمان واجب نصف ساقطاور شك نہیں کہ یہ قول جامع الاقوال ومراعی احوال وارفق بالناس واحفظ للاموال ہے کہ تغیر حالات زمانہ اس پر حامل ہو اور اس میں ارفق واحتیاط دونوں پہلو کا لحاظ رہاامید کی جاتی ہے کہ اگر امام یہ زمانہ پاتے یونہی حکم فرماتے۔فتاوی خیریہ وفتاوی اسعدیہ میں ہے:
مسئلۃ الاجیر المشترك فیہا ثلثۃ اقوال بل اربعۃ عدم الضمان مطلقا و الضمان مطلقا والصلح علی النصف جبرا عملا بالقولین وفی جامع الفصولین رامزا لفوائد صاحب المحیط لوکان الاجیر صالحا مشترك اجیر کے مسئلہ میں تین بلکہ چار قول ہیںمطلقا عدم ضمانمطلقا ضماننصف نقصان پر جبرا ضمان تاکہ دونوں اقوال پر عمل ہواور جامع الفصولین میں صاحب محیط کے فوائد کا اشارہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر اجیر صالح شخص ہے تو قسم لے کر بری کیا جائے گا۔
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الاجارات الفصل السادس الجنس الرابع ∞مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۳/ ۱۳۷€
الاشباہ والنظائر کتاب الاجارات الفن الثانی ادراۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۶۲€
الاشباہ والنظائر کتاب الاجارات الفن الثانی ادراۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۶۲€
یبرأ بیمینہ ولوکان بخلافہ یضمنولو کان مستورا یؤمر بالصلح فہذہ اربعۃ اقوال کلہا مصححۃ مفتی بہا وامااحسن التفصیل الاخیر اھ مختصرا۔ اور غیر صالح ہو تو ضمان لیا جائے اور مستورالحال ہو تو صلح کا فیصلہ دیا جائے تو یہ چارقول ہوئےاور تمام کے تمام پر فتوی صحیح ہے اور آخری تفصیل کیا اچھی ہے اھ مختصرا۔(ت)
فتاوی حامدیہ میں ہے:
اختارابوجعفر وابواللیث رحمہما الله تعالی فیہ ان کان صالحا یبرء بیمینہ وان کان مستورا یؤمر بالصلح و افتی بذلك کثیر من المتاخرین وھو اولی من غیرہ و اسلم وبمثلہ افتی الخیر الرملی ۔ ابو جعفر اور ابواللیث کا مختار یہ ہے کہ اگر وہ صالح شخص ہو تو قسم لے کر بری کردیا جائےاور اگر وہ مستور الحال ہو تو صلح کا فیصلہ کیا جائے اس پر بہت سے متاخرین نے فتوی دیا ہے اور یہ قول دوسروں کی نسبت اولی ہے اور خیر الدین رملی نے اسی طرح فتوی دیا ہے۔(ت)
منح الغفار وطحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:
ھو فتوی القاضی الامام جلال الدین الزاھدون ۔ امام جلال الدین زاہدون کا یہی فتوی ہے۔(ت)
بالجملہ چار قول مفتی بہ سے دو قول پر بیمہ ومنی آرڈر وغیرہما میں ڈاکخانہ سے یہ قرارداد ضمان جائز وصحیح ومقبول ہے اور انسان کو عمل ونجات کے لئے ایك ہی قول مفتی بہ کافی نہ کہ متعدد نہ کہ جب وہی ارفق وہی استحسان ہونے کے علاوہ حالت زمانہ اسی کے داعی اور وہی حفظ اموال ناس کا مراعی ہوباوصف ان شدتوں سختیوں کے جو قوانین ڈاك میں ضیاع مال بیمہ ومنی آڈر پر رکھی ہیں کہ نوکریاں جائیں قیدیں اٹھائیں سزائیں پائیںپھر بھی خائنوں بددیانتوں کی کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں عدم ذمہ داری کی حالت میں ظاہر ہے جو کچھ ہوتاہے تو فقیہ نبیہ اس شرط پر ضمان کے جواز میں اصلا ترددنہ کرے گا۔وبالله التوفیق۔
فتاوی حامدیہ میں ہے:
اختارابوجعفر وابواللیث رحمہما الله تعالی فیہ ان کان صالحا یبرء بیمینہ وان کان مستورا یؤمر بالصلح و افتی بذلك کثیر من المتاخرین وھو اولی من غیرہ و اسلم وبمثلہ افتی الخیر الرملی ۔ ابو جعفر اور ابواللیث کا مختار یہ ہے کہ اگر وہ صالح شخص ہو تو قسم لے کر بری کردیا جائےاور اگر وہ مستور الحال ہو تو صلح کا فیصلہ کیا جائے اس پر بہت سے متاخرین نے فتوی دیا ہے اور یہ قول دوسروں کی نسبت اولی ہے اور خیر الدین رملی نے اسی طرح فتوی دیا ہے۔(ت)
منح الغفار وطحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:
ھو فتوی القاضی الامام جلال الدین الزاھدون ۔ امام جلال الدین زاہدون کا یہی فتوی ہے۔(ت)
بالجملہ چار قول مفتی بہ سے دو قول پر بیمہ ومنی آرڈر وغیرہما میں ڈاکخانہ سے یہ قرارداد ضمان جائز وصحیح ومقبول ہے اور انسان کو عمل ونجات کے لئے ایك ہی قول مفتی بہ کافی نہ کہ متعدد نہ کہ جب وہی ارفق وہی استحسان ہونے کے علاوہ حالت زمانہ اسی کے داعی اور وہی حفظ اموال ناس کا مراعی ہوباوصف ان شدتوں سختیوں کے جو قوانین ڈاك میں ضیاع مال بیمہ ومنی آڈر پر رکھی ہیں کہ نوکریاں جائیں قیدیں اٹھائیں سزائیں پائیںپھر بھی خائنوں بددیانتوں کی کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں عدم ذمہ داری کی حالت میں ظاہر ہے جو کچھ ہوتاہے تو فقیہ نبیہ اس شرط پر ضمان کے جواز میں اصلا ترددنہ کرے گا۔وبالله التوفیق۔
حوالہ / References
فتاوٰی خیریۃ کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ∞لبنان ۲/ ۱۴۱،€الفتاوٰی الاسعدیۃ کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر المطبعۃ المخربۃ ∞مصر ۲/ ۲۷۶€
العقود الدریۃ فی تنقیح الحامدیۃکتاب الاجارۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۱۴۔۱۱۳€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ∞۴/ ۳€
العقود الدریۃ فی تنقیح الحامدیۃکتاب الاجارۃ ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۱۴۔۱۱۳€
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر دارالمعرفۃ بیروت ∞۴/ ۳€
ثم اقول:وبہ استعین۔ان مفتیان زمانہ کے خیالات تو محض اباطیل مہملہ ومہملات باطلہ جن کی حاجت بھی نہ تھی مگر اس تقریر منیر سے بحمدالله سبحنہ وتعالی وہ شبہ بھی حل ہوگیا جسے نظر فقہی سے علاقہ ہے اور بادی النظر میں خادم فقہ کا ذہن اس طرف جاسکتا ہے یعنی سفاتج پر منی آرڈر کا قیاسہمارے علمائے کرام نے سفتیجہ یعنی ہنڈوی کو ناجائز رکھا کہ ہر مقرض اس قرض دینے سے سقوط خطرطریق کا استفادہ کرتاہے اور وہ فضل خالی عن العوض ہے کہ بربنائے قرض اس نے حاصل کیا وکل قرض جرمنفعۃ فھو ر با(جو قرض نفع مند ہو وہ ربا ہے۔ت)بظاہر منی آرڈر وہنڈوی دونوں دوسری جگہ روپیہ بھیجنے کے طریق ہیں جس کے باعث نظر دھوکا کھاتی ہے دونوں کا حال ایك ہے حالانکہ اگر ذرا تامل کو کام میں لائے تو آفتاب روشن کی طرح متجلی ہوکہ ان میں باہم زمین وآسمان کا فرق ہے۔ہنڈوی محض قرض ہے اور اس میں قرض دینا خاص مرسل کی غرض اور اس کے ذریعہ سے اسے سقوط خطر کی منفعت حاصلتو قرض جرمنفعۃ فہو ربا بلا شبہ صادقہنڈوی کرنے والوں کی کوٹھیاں دادوستد ہی کے لئے موضوع ہیںنہ اجیر بننے کے لئے مرسل اگر مال قرض نہ دیتا امانت رہتا اور بحال ہلاك تاوان نہ پاتا فلہذا قرض دیتا ہے اور اس سے یہ نفع حاصل کرتا ہےعلماء نے سفتیجہ کی تفسیر ہی یہی فرمائی ہندیہ میں کافی اور ردالمحتارمیں کفایہ سے ہے:
واللفظ للشامی صورتہا ان یدفع الی تاجر مالاقرضا لیدفعہ الی صدیقہ وانما یدفعہ قرضا لا امانۃ لیستفید بہ سقوط خطر الطریق ۔ شامی کے الفاظ میں ہے کہ اس کی صورت یہ ہے کہ تاجر کوقرض دیا کہ وہ یہ قرض میرے دوست کو پہنچا دے اور رقم امانت کی بجائے قرض کی صورت میں د ی تاکہ راہ کے خطرہ سے محفوظ رہے۔(ت)
بخلاف ڈاك خانہ کہ اجیر مشترك کی دکان ہے اور اس کی وضع ہی اجیر بننے کے لئے جو فیس دی جاتی ہے یقینا اجرت ہے اور اقرار ذمہ داری اور ان اقوال مفتی بہا کی بنا پر حکم شرعی وصحیح ومقبول ہی لزوم ضمان کے لئے کافی ووافیمرسل کی غرض نفس عقد اجارہ سے حاصلاور صرف اسی قدر افادہ سقوط خطر کے لئے متکفلقرض دینے سے اس کی کوئی غرض اصلا متعلق نہیںنہ اس کافائدہ اس کی طرف راجعفرض کیجئے اگر ڈاکخانہ زر منی آرڈر بعینہ بھیجا کرتا تو اس کا کیا حرج تھا کہ اسے تو روپیہ بھیجنے سے کام ہے اوراگر
واللفظ للشامی صورتہا ان یدفع الی تاجر مالاقرضا لیدفعہ الی صدیقہ وانما یدفعہ قرضا لا امانۃ لیستفید بہ سقوط خطر الطریق ۔ شامی کے الفاظ میں ہے کہ اس کی صورت یہ ہے کہ تاجر کوقرض دیا کہ وہ یہ قرض میرے دوست کو پہنچا دے اور رقم امانت کی بجائے قرض کی صورت میں د ی تاکہ راہ کے خطرہ سے محفوظ رہے۔(ت)
بخلاف ڈاك خانہ کہ اجیر مشترك کی دکان ہے اور اس کی وضع ہی اجیر بننے کے لئے جو فیس دی جاتی ہے یقینا اجرت ہے اور اقرار ذمہ داری اور ان اقوال مفتی بہا کی بنا پر حکم شرعی وصحیح ومقبول ہی لزوم ضمان کے لئے کافی ووافیمرسل کی غرض نفس عقد اجارہ سے حاصلاور صرف اسی قدر افادہ سقوط خطر کے لئے متکفلقرض دینے سے اس کی کوئی غرض اصلا متعلق نہیںنہ اس کافائدہ اس کی طرف راجعفرض کیجئے اگر ڈاکخانہ زر منی آرڈر بعینہ بھیجا کرتا تو اس کا کیا حرج تھا کہ اسے تو روپیہ بھیجنے سے کام ہے اوراگر
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحوالہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۹۵€
وہ راہ میں جاتا رہتا تو اس کا کیا نقصان تھا کہ بحکم قرارداد یہ ضمان کا مستحق ہوچکابلکہ یہ ضابطہ تو بعض اوقات بھیجنے والوں کو الٹا نقصان دیتاہےکہ مصرو عرب وشام وغیرہ ممالك کو روپیہ بھیجے تو یہاں سے لندن جاکر ازانجا کہ وہاں سکہ سیم نہیں سکہ زر سے تبدیل کیا جاتا اور اس پر بہت کچھ بٹالیا جاتاہےغرض اس فرض قرض میں مرسلوں کا کوئی نفع نہیں ہاں اجرایعنی ابالی ڈاك نے اپنے آسائش وتحفظ کے لئے یہ ضابطہ وضع کیاذمہ داری بیمہ ومنی آرڈر دونوں میں تھیمگر پارسل کا بند مال مہر میں لگا ہوا قابلیت تبدیل نہ رکھتا تھاروپے میں یہ صورت میسر تھی اور شك نہیں کہ مال بھیجنے سے کاغذ بھیجنا آسان اور اس میں ان ذمہ داروں کے لئے خطر طریق سے امانلہذ ایہ ٹھہرالیا کہ زرداخل کردہ یہیں رکھ کر وہاں لکھ بھیجیں گےاگر بفرض غلط اس صورت میں ڈاك خانہ کو مستقرض مانا جائے تو اس میں مستقرض نے استقراض سے نفع اٹھایا نہ کہ مقرض نے اقراض سےاور مستقرض انتفاع بالقرض سے ممنوع نہیں تو یہاں یدفعہ قرضا یستفید بہ(کسی فائدہ کے حصول کے لئے قرض دیا۔ت) صادق نہیں بلکہ یاخذ قرضا یستفید بہھکذا ینبغی التحقیق واﷲ ولی التوفیق(قرض فائدہ کے لئے لیتا ہےتحقیق یوں چاہئےاور توفیق کا مالك الله تعالی ہی ہے۔(ت)
بالجملہ یہ وجوہ تو جوازمنی ارڈر پر کچھ اثر نہیں ڈال سکتیںہاں یہاں ایك اور امر قابل نظر و غور تھا اذہان مفتیان اگر اس طرف جاتے توکہا جاتا کہ طرف فقہی پر کلام کیا وہ یہ کہ بلا شبہہ یہ عقد عقد اجارہ اور فیس اجرت عمل۔اور قرض تنہا پر نفع مستقرض اور سفاتج پر قیاس مختلمگر جبکہ یہ قرض مفروض و داخل ضابطہ ہے تو اجارہ ایسی شرط پر ہوا جس میں احدالعاقدین کا نفع ہے اور مقتضائے عقد نہیںاسی قدر منع وفساد عقد کے لئے بس ہے ولکنی اقول وبحول اﷲ تعالی اجول(لیکن میں الله تعالی کی توفیق سے کہتاہوں اور الله تعالی کی دی ہوئی طاقت سے لکھتاہوں۔ت)
ہنوز بلوغ شرط تاحدافساد میں اور شرط باقی ہے کہ عرف ناس اس شرط کے ساتھ جاری نہ ہوورنہ بحکم تعارف جائز رہے گی اور صحت جواز عقد میں کچھ خلل نہ ڈالے گیمنی آرڈر کا نہ صرف تمام بلاد وامصار واقطار ہندیہ بلکہ دیگرممالك اسلامیہ میں بھی دائر وسائر ہونا تو محتاج بیان نہیںمگر فقیر وہ کلمات علماء چند ابحاث میں ایراد کرے جو اس مسئلہ شرط کو واضح کرکے بعونہ تعالی مانحن فیہ کا حکم روشن کردیںبحث اول شرط سے اصل نہیں منصوص دربارہ بیع وارد کہ:
نہی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من بیع الشرط رواہ ابوحنیفۃ حضور نبی پاك صلی الله تعالی علیہ وسلم نے شرط والی بیع سے منع فرمایااس کو امام ابوحنیفہ
بالجملہ یہ وجوہ تو جوازمنی ارڈر پر کچھ اثر نہیں ڈال سکتیںہاں یہاں ایك اور امر قابل نظر و غور تھا اذہان مفتیان اگر اس طرف جاتے توکہا جاتا کہ طرف فقہی پر کلام کیا وہ یہ کہ بلا شبہہ یہ عقد عقد اجارہ اور فیس اجرت عمل۔اور قرض تنہا پر نفع مستقرض اور سفاتج پر قیاس مختلمگر جبکہ یہ قرض مفروض و داخل ضابطہ ہے تو اجارہ ایسی شرط پر ہوا جس میں احدالعاقدین کا نفع ہے اور مقتضائے عقد نہیںاسی قدر منع وفساد عقد کے لئے بس ہے ولکنی اقول وبحول اﷲ تعالی اجول(لیکن میں الله تعالی کی توفیق سے کہتاہوں اور الله تعالی کی دی ہوئی طاقت سے لکھتاہوں۔ت)
ہنوز بلوغ شرط تاحدافساد میں اور شرط باقی ہے کہ عرف ناس اس شرط کے ساتھ جاری نہ ہوورنہ بحکم تعارف جائز رہے گی اور صحت جواز عقد میں کچھ خلل نہ ڈالے گیمنی آرڈر کا نہ صرف تمام بلاد وامصار واقطار ہندیہ بلکہ دیگرممالك اسلامیہ میں بھی دائر وسائر ہونا تو محتاج بیان نہیںمگر فقیر وہ کلمات علماء چند ابحاث میں ایراد کرے جو اس مسئلہ شرط کو واضح کرکے بعونہ تعالی مانحن فیہ کا حکم روشن کردیںبحث اول شرط سے اصل نہیں منصوص دربارہ بیع وارد کہ:
نہی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم من بیع الشرط رواہ ابوحنیفۃ حضور نبی پاك صلی الله تعالی علیہ وسلم نے شرط والی بیع سے منع فرمایااس کو امام ابوحنیفہ
قال حدثنی عمر وبن شعیب عن جدہ عن النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ومن طریق الامام رواہ الطبرانی فی معجمعہ الاوسط والحاکم فی علوم الحدیث ومن جہتہ ذکرہ عبدالحق فی احکامہ وسکت عنہ قال ابن القطان(وھو علی بن محمد الحموی الفاسی ذاك المتاخر المیت ۶۲۸ ثمان وعشرین وستماۃ)فی کتاب الوھم والایہام(ولااری ھذا الاسم الابالہام فانہ قد وھم فیہ واوہم فی کثیر من المقام)بعد ماذکر الحدیث المذکور من کتاب الاحکام علتہ ضعف ابی حنیفۃ فی الحدیث اھ اقول: عفااﷲ عنك یاابن القطان الست ذلك المعروف المشہور بالتعنت فی الرجال حتی اخذت تلین ذلك الجبل الشامخ ھشام بن عروۃ ولو اجتمعت انت ومؤن من امثالك وامثال شیوخک رضی الله تعالی عنہ نے روایت کیاانھوں نے فرمایا مجھے یہ حدیث عمرو بن شعیب نے اپنے دادا سے انھوں نے نبی کریم صلی الله تعالی علیہ وسلم سے بیان کی اور امام صاحب رحمہ الله تعالی علیہ کے طریقہ سے اس کو طبرانی نے معجم الاوسط اور حاکم نے علوم حدیث میں اور امام صاحب کے طریقہ سے اس کوعبدالحق نے اپنے احکام میں ذکر کیا اور جرح نہ کیابن قطان(اور وہ علی بن محمد حمیر ی فاسی متاخرین میں ہیں ان کی وفات ۶۲۸ھ میں ہوئی ہے)نے اپنی کتاب"الوھم والایہام" میں کہا(میری رائے میں کتاب کایہ نام الہامی ہے کیونکہ ان کو اسی کتاب میں بہت سے وہم لاحق ہوئے اور کئی مقامات پر اس نے وہم پیدا کئے ہیں)اس نے اس کتاب میں اس حدیث کو"کتاب الاحکام"سے نقل کرکے کہا کہ اس حدیث میں کمزوری یہ ہے کہ اس کے روای ابوحنیفہ حدیث میں ضعیف ہیں اھ اقول:(میں کہتاہوں)ابن قطان تجھے الله تعالی معاف فرمائے کیا آپ وہی نہیں جو رجال حدیث کے متعلق ہٹ دھرمی میں مصروف ہیں۔تو نے ایك بلند پہاڑ(ہشام بن عروہ)پر طعن شروع کردیا ہے اور تو اور تیرے جیسے سیکڑوں اور تیرے مشائخ
حوالہ / References
جامع المسانید الباب التاسع الفصل الثانی دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۲/ ۲۲€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۴۳۵۸€ مکتبۃ المعارف ∞ریاض ۵/ ۱۸۴€
بیان الوہم والایہام فی کتاب الاحکام ∞حدیث ۱۳۰۱€ درطیبہ مکہ المکرمہ ∞۳/ ۵۲۷€
المعجم الاوسط ∞حدیث ۴۳۵۸€ مکتبۃ المعارف ∞ریاض ۵/ ۱۸۴€
بیان الوہم والایہام فی کتاب الاحکام ∞حدیث ۱۳۰۱€ درطیبہ مکہ المکرمہ ∞۳/ ۵۲۷€
وشیوخ مشایخك لم تبلغوا جمیعا قوۃ ابی حنیفۃ و لاقوۃ غلمانہ ولاقوۃ ہشام ولااقرانہ فی العلم و الحدیث ولکن علتکم انتم ایہا الناس التعنت و التقشف وقلۃ الدرایۃ لمسالك التعرف وھذا ابو محمد عبدالحق کان اعرف منك بالحق حیث صح الحدیث بایرادہ فی الاحکام والسکوت عنہ۔ اور مشائخ المشائخ جیسے سیکڑوں بھی جمع ہوجائیں تو امام ابوحنیفہ رحمہ الله تعالی کی قوت درکناران کے غلاموں اور ہشام اور ان کی ہم مثل علم اور حدیث والوں کونہیں پہنچ سکتے لیکن تم نے اپنی ہٹ دھرمی اور پراگندگی اور معرفت درایت کے راستوں کی کم علمی کی وجہ کو ذریعہ طعن بنالیا ہے حالانکہ صاحب کتاب الاحکام عبدالحق یہ تجھ سے حق کو بہتر جانتے ہیں جنھوں نے اس حدیث کو ذکر کرکے اس پر سکوت سے اس کی صحت بتادی۔(ت)
ہمارے ائمہ کرام رضی الله تعالی عنہم نے اجارہ کو اس پر قیاس فرمایا۔ ہدایہ میں ہے:
الاجارۃ تفسدھا الشروط کما تفسد البیع لانہ بمزلتہ الاتری انہ عقد یقال ویفسخ ۔ اجارہ کو شرطیں فاسد کردیتی ہیں جیسے بیع کوفاسد کرتی ہے کیونکہ یہ بیع کی طرح ہے آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس کے عقد کو اقالہ اور فسخ لاحق ہوتے ہیں۔(ت)
غایۃ البیان میں ہے:
قال القدوری فی مختصرہ وذلك لانہا عقد معاوضۃ محضۃ تقال وتفسخ فکانت کالبیع وکل افسد البیع افسدھا ۔ قدوری نے اپنی مختصر میں فرمایا:یہ اس لئے کہ خالص عقد معاوضہ ہے جو اقالہ اور فسخ کے قابل ہوتاہے تویہ بیع کی طرح ہے جو چیز بیع کو فاسدکرتی ہے وہ اس کو بھی فاسد کرے گی۔ (ت)
اور بیع میں شرط افسادیاشرط عدم تعارف شرط ہے۔ ہدایہ میں ہے:
کل شرط لایقتضیہ العقد وفیہ منفعۃ لاحد المتعاقدین ایسی شرط جس میں فریقین میں سےکسی ایك یا مبیع اگر فائدہ کااہل ہے تو اس کا فائدہ شرط
ہمارے ائمہ کرام رضی الله تعالی عنہم نے اجارہ کو اس پر قیاس فرمایا۔ ہدایہ میں ہے:
الاجارۃ تفسدھا الشروط کما تفسد البیع لانہ بمزلتہ الاتری انہ عقد یقال ویفسخ ۔ اجارہ کو شرطیں فاسد کردیتی ہیں جیسے بیع کوفاسد کرتی ہے کیونکہ یہ بیع کی طرح ہے آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس کے عقد کو اقالہ اور فسخ لاحق ہوتے ہیں۔(ت)
غایۃ البیان میں ہے:
قال القدوری فی مختصرہ وذلك لانہا عقد معاوضۃ محضۃ تقال وتفسخ فکانت کالبیع وکل افسد البیع افسدھا ۔ قدوری نے اپنی مختصر میں فرمایا:یہ اس لئے کہ خالص عقد معاوضہ ہے جو اقالہ اور فسخ کے قابل ہوتاہے تویہ بیع کی طرح ہے جو چیز بیع کو فاسدکرتی ہے وہ اس کو بھی فاسد کرے گی۔ (ت)
اور بیع میں شرط افسادیاشرط عدم تعارف شرط ہے۔ ہدایہ میں ہے:
کل شرط لایقتضیہ العقد وفیہ منفعۃ لاحد المتعاقدین ایسی شرط جس میں فریقین میں سےکسی ایك یا مبیع اگر فائدہ کااہل ہے تو اس کا فائدہ شرط
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۹۹€
غایۃ البیان
غایۃ البیان
اوللمعقود علیہ وھو من اہل الاستحقاق یفسدہ الا ان یکون متعارفالان العرف قاض علی القیاس ۔ کیا جائے تو وہ بیع کو فاسد کردے گی بشرطیکہ عرف میں وہ شرط معروف نہ ہو کیونکہ قیاس پر عرف غالب ہوتاہے۔ (ت)
تنویر الابصار ودرمختارمیں ہے:
الاصل الجامع فی فسادالعقد بسبب شرط(لا یقتضیہ العقد ولایلائمہ وفیہ نفع لاحدھما او لمبیع من اہل الاستحقاق ولم یجز العرف بہ ولم یرد الشرع بجوازہ)امالو جری العرف بہ کبیع نعل مع شرط تشریکہ او ورد الشرع بہ کخیار شرط فلا فساد ۔ کسی شرط کی وجہ سے عقد کے فساد کا سبب قاعدہ کی رو سے ایسی شرط ہے جس کونہ توعقد قبول کرے اورنہ ہی وہ عقد کے مناسب ہو اور اس شرط میں فریقین یا نفع کا مستحق ہو تو مبیع کا فائدہ ہوبشرطیکہ اس شرط پر عرف قائم نہ ہو اور نہ ہی شریعت نے اس کے جواز کو بیان کیا ہو لیکن اگر عرف میں اس کا جواز مروج ہو جیسے پیشگی آرڈر پر جو تاسلوانا یا اس شرط کے جواز پر شریعت وارد ہوجیسا کہ شرط خیارتو فساد نہ ہوگا۔(ت)
مسئلہ ظاہر ہے اور تمام کتب مذہب میں دائراور مقیس کی طرف وہی حکم متعدی ہوگا جو اصل مقیس علیہ میں تھا نہ کہ زائد لا جرم متن غرر میں فرمایا:
تفسد بالشرط المفسد للبیع ۔ اجارہبیع کی فاسد شرطوں سے فاسد ہوجاتاہے۔(ت)
متن نقایہ میں فرمایا:یفسدھا شروط تفسد البیع (بیع کو فاسد کرنیوالی شرطیں اجارہ کو فاسد کردیتی ہے۔ت)متن اصلاح میں تھا۔الشرط یفسدھا (مراد وہ شرط ہے جو بیع کو فاسد کردیتی ہے۔ت)شرح ایضاح میں فرمایا:المراد شرط یفسد البیع (مراد وہ شرط ہے جو بیع کو فاسد کردیتی ہے۔ت)
بحث ثانی:کیا لازم ہےکہ وہ عرف زمان اقدس حضور پر نور سیدالمرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم سے واقع ہواقول:بعض علماء کی تقریر میں ایسا واقع ہوا لیجعلہ من تقریر
تنویر الابصار ودرمختارمیں ہے:
الاصل الجامع فی فسادالعقد بسبب شرط(لا یقتضیہ العقد ولایلائمہ وفیہ نفع لاحدھما او لمبیع من اہل الاستحقاق ولم یجز العرف بہ ولم یرد الشرع بجوازہ)امالو جری العرف بہ کبیع نعل مع شرط تشریکہ او ورد الشرع بہ کخیار شرط فلا فساد ۔ کسی شرط کی وجہ سے عقد کے فساد کا سبب قاعدہ کی رو سے ایسی شرط ہے جس کونہ توعقد قبول کرے اورنہ ہی وہ عقد کے مناسب ہو اور اس شرط میں فریقین یا نفع کا مستحق ہو تو مبیع کا فائدہ ہوبشرطیکہ اس شرط پر عرف قائم نہ ہو اور نہ ہی شریعت نے اس کے جواز کو بیان کیا ہو لیکن اگر عرف میں اس کا جواز مروج ہو جیسے پیشگی آرڈر پر جو تاسلوانا یا اس شرط کے جواز پر شریعت وارد ہوجیسا کہ شرط خیارتو فساد نہ ہوگا۔(ت)
مسئلہ ظاہر ہے اور تمام کتب مذہب میں دائراور مقیس کی طرف وہی حکم متعدی ہوگا جو اصل مقیس علیہ میں تھا نہ کہ زائد لا جرم متن غرر میں فرمایا:
تفسد بالشرط المفسد للبیع ۔ اجارہبیع کی فاسد شرطوں سے فاسد ہوجاتاہے۔(ت)
متن نقایہ میں فرمایا:یفسدھا شروط تفسد البیع (بیع کو فاسد کرنیوالی شرطیں اجارہ کو فاسد کردیتی ہے۔ت)متن اصلاح میں تھا۔الشرط یفسدھا (مراد وہ شرط ہے جو بیع کو فاسد کردیتی ہے۔ت)شرح ایضاح میں فرمایا:المراد شرط یفسد البیع (مراد وہ شرط ہے جو بیع کو فاسد کردیتی ہے۔ت)
بحث ثانی:کیا لازم ہےکہ وہ عرف زمان اقدس حضور پر نور سیدالمرسلین صلی الله تعالی علیہ وسلم سے واقع ہواقول:بعض علماء کی تقریر میں ایسا واقع ہوا لیجعلہ من تقریر
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۶€۲
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷€
الدرالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞میر محمد کارخانہ کراچی ۲/ ۲۳۰€
مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ کتاب الاجارۃ ∞نور محمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۲۔۱۱۱€
اصلاح
شرح ایضاح
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷€
الدرالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الاجارۃ باب الاجارۃ الفاسدۃ ∞میر محمد کارخانہ کراچی ۲/ ۲۳۰€
مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ کتاب الاجارۃ ∞نور محمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۲۔۱۱۱€
اصلاح
شرح ایضاح
النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(تاکہ عرف اس کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تقریر و تائید بنادے۔ت)مگر حق یہ کہ یہ ہرگز ضرور نہیں ہزارہا فروع مذہب وصدہا کلمات ائمہ اس کے خلاف پر شاہد ہیں۔امام برہان الدین ہدایہ اورمحقق علی الاطلاق اس کی شرح فتح میں فرماتے ہیں:
(من اشتری نعلا علی ان یحذوھا البائع)المراد اشتری ادیما علی ان یجعلہ البائع نعلالہ ویمکن ان یراد حقیقتہ ای نعل رجل واحدۃ علی ان یحذوھا ای یجعل لہ شراکافلا بد ان یراد حقیقۃ النعل(فالبیع فاسد)قال المص(ماذکرہ)یعنی القدوری(جواب القیاس) ووجہہ مابیناہ من انہشرط لایقضیہ العقد وفیہ نفع لاحد المتعاقدین وفی الاستحسان یجوز البیع ویلزم الشرط(للتعامل)کذلك ومثلہ فی دیارنا شراء القبقاب علی ھذا الوجہ ای علی ان یسمرلہ سیرا ومن انواعہ شراء الصوف المنسوج علی ان یجعلہ البائع قلنسوۃ اوقلنسوۃ بشرط ان یبطن لہا البائع بطانۃ من عندہ اھ مختصرا۔ جس نے اس شرط پر جوتا خریدا کہ اس کوبائع سلائی کرکے بنائے اس سے مراد یہ ہے کہ خریدار نے چمڑا خریدا کہ اس کا جوتا سلائی کرکے بنادےاور ممکن ہے حقیقت مراد لے کر ایك پاؤں کا جوتا کہ ایك ہی پاؤں کی پیمائش کے مطابق تسمہ لگادے اس صورت میں حقیتا ایك ہی مراد ہوگا تو بیع فاسد ہوگیمصنف نے فرمایا کہ قدوری نے جوذکر کیا ہے وہ قیاس پر مبنی جواب ہے اور اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایسی شرط ہے کہ جو مقتضی عقد نہیں ہے اور اس شرط میں ایك فریق کا فائدہ بھی ہے اور جبکہ استحسان کے طور پریہ جائز ہے اورتعامل کی وجہ سے سلائی کی شرط لازم ہوجائیگی اور اسی طرح ہمارے علاقہ میں کھڑائیں اسی شرط پر خریدنا یعنی ان کو پٹے لگادے گا اور اسی قسم سے ہے بنی ہوئی اون ٹوپی بنانے کی شرط پر یا ٹوپی خریدنا استراپنے پاس سے لگانے کی شرط پر اھ مختصرا۔(ت)
ردالمحتارمیں اس کا بعض نقل کرکے فرمایا:
وفی البزازیۃ اشتری ثوبا اوخفا خلقا علی ان یرقعہ البائع ویسلمہ بزازیہ میں ہےکہ کپڑا یاپرانےموزے اس شرط پر خریدے کہ بائع مرمت کرکے دے تو
(من اشتری نعلا علی ان یحذوھا البائع)المراد اشتری ادیما علی ان یجعلہ البائع نعلالہ ویمکن ان یراد حقیقتہ ای نعل رجل واحدۃ علی ان یحذوھا ای یجعل لہ شراکافلا بد ان یراد حقیقۃ النعل(فالبیع فاسد)قال المص(ماذکرہ)یعنی القدوری(جواب القیاس) ووجہہ مابیناہ من انہشرط لایقضیہ العقد وفیہ نفع لاحد المتعاقدین وفی الاستحسان یجوز البیع ویلزم الشرط(للتعامل)کذلك ومثلہ فی دیارنا شراء القبقاب علی ھذا الوجہ ای علی ان یسمرلہ سیرا ومن انواعہ شراء الصوف المنسوج علی ان یجعلہ البائع قلنسوۃ اوقلنسوۃ بشرط ان یبطن لہا البائع بطانۃ من عندہ اھ مختصرا۔ جس نے اس شرط پر جوتا خریدا کہ اس کوبائع سلائی کرکے بنائے اس سے مراد یہ ہے کہ خریدار نے چمڑا خریدا کہ اس کا جوتا سلائی کرکے بنادےاور ممکن ہے حقیقت مراد لے کر ایك پاؤں کا جوتا کہ ایك ہی پاؤں کی پیمائش کے مطابق تسمہ لگادے اس صورت میں حقیتا ایك ہی مراد ہوگا تو بیع فاسد ہوگیمصنف نے فرمایا کہ قدوری نے جوذکر کیا ہے وہ قیاس پر مبنی جواب ہے اور اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایسی شرط ہے کہ جو مقتضی عقد نہیں ہے اور اس شرط میں ایك فریق کا فائدہ بھی ہے اور جبکہ استحسان کے طور پریہ جائز ہے اورتعامل کی وجہ سے سلائی کی شرط لازم ہوجائیگی اور اسی طرح ہمارے علاقہ میں کھڑائیں اسی شرط پر خریدنا یعنی ان کو پٹے لگادے گا اور اسی قسم سے ہے بنی ہوئی اون ٹوپی بنانے کی شرط پر یا ٹوپی خریدنا استراپنے پاس سے لگانے کی شرط پر اھ مختصرا۔(ت)
ردالمحتارمیں اس کا بعض نقل کرکے فرمایا:
وفی البزازیۃ اشتری ثوبا اوخفا خلقا علی ان یرقعہ البائع ویسلمہ بزازیہ میں ہےکہ کپڑا یاپرانےموزے اس شرط پر خریدے کہ بائع مرمت کرکے دے تو
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۷۵€
صح اھ ومثلہ فی الخانیۃ قال فی النہر بخلاف خیاطۃ الثوب العدم لتعارف اھ قال فی المنح فان قلت نہی النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم عن بیع وشرط فیلزم ان یکون العرف قاضیا علی الحدیث قلت لیس بقاج علیہ بل علی القیاس لان الحدیث معلول بوقوع النزاع المخرج للعقد عن المقصود بہ وھو قطع المنازعۃ والعرف ینفی النزاع فکان موافقا لمعنی الحدیث فلم یبق من الموانع الاالقیاس والعرف قاض علیہ اھ قلت وتدل عبارۃ البزازیۃ والخانیۃ و کذا مسئلۃ القبقاب علی اعتبار العرف الحادث و مقتضی ہذا انہ لوحدث عرف فی شرط غیرالشرط فی النعل و الثوب والقبقاب ان یکون معتبرا اذا لم یؤد الی المنازعۃ ۔ صحیح ہےاور اسی کی مثل خانیہ میں ہےنہر میں فرمایا بخلاف کپڑے کی سلائیکیونکہ اس میں تعارف نہیںاھ منح میں فرمایا کوئی یہ اعتراض کرے کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے بیع اور اس کے ساتھ شرط لگانے سے منح فرمایا ہے تو اس سے لازم آجائیگا کہ عرف حدیث پر غالب ہے۔میں کہتاہوں عرف حدیث پر غالب نہیں بلکہ عرف قیاس پر غالب ہے کیونکہ حدیث میں منع کی علت جھگڑا ہے جس کی وجہ سے عقد بے مقصد بن جاتاہے جبکہ عقد کا مقصد جھگڑے کو ختم کرنا ہوتاہے اور عرف اس جھگڑے کو ختم کرتا ہے تو اس طرح عرف حدیث کے موافق ہوا تو اب صرف قیاس مانع ہے جس پر عرف غالب ہوا اھ۔میں کہتاہوں اس پر بزازیہ اور خانیہ کی عبارت دال ہےاور یونہی کھڑاؤں کا مسئلہ جدید عرف پرمبنی ہے تو اس کا مقتضی یہ ہے کہ اگر جوتےکپڑے اور کھڑاؤں میں مذکورہ شرط کے علاوہ کوئی اور شرط عرف میں جاری ہوجائے تو وہ بھی معتبر ہوگی بشرطیکہ وہ جھگڑے کا باعث نہ ہو۔(ت)
ہندیہ میں تاتارخانیہ سے ہے:
ان اشترط صرما علی ان یخرز البائع لہ خفااوقلنسوۃ بشرط ان یبطن لہ البائع من عندہ فالبیع بہذا الشرط جائز للتعامل اگر چمڑے کا ٹکڑا جوتا بنادینے کی شرط پر خریدایا ٹوپی استرلگادینے کی شرط پر خریدی کہ بائع اپنے پاس سے لگائے تو تعامل کی وجہ سے اس شرط پر بیع جائز ہوگی(ت)
ہندیہ میں تاتارخانیہ سے ہے:
ان اشترط صرما علی ان یخرز البائع لہ خفااوقلنسوۃ بشرط ان یبطن لہ البائع من عندہ فالبیع بہذا الشرط جائز للتعامل اگر چمڑے کا ٹکڑا جوتا بنادینے کی شرط پر خریدایا ٹوپی استرلگادینے کی شرط پر خریدی کہ بائع اپنے پاس سے لگائے تو تعامل کی وجہ سے اس شرط پر بیع جائز ہوگی(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع باب فی البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۲۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۳۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۳۳€
اسی میں محیط مام سرخسی سے ہے:
وکذا لو اشتری خفابہ خرق علی ان یخرز البائع وثوبا من خلقانی وبہ خرق علی ان یخیطہ ویجعل علیہ الرقعۃ ۔ اوریونہی اگر پٹھا ہوا موزہ خریدا اس شرط پر کہ بائع پیوند لگا کردے یا پرانا پھٹا کپڑا پیوند لگانے کی شرط پر خریدا۔(ت)
اسی میں فتاوی ظہیریہ سے ہے:
لو اشتری کرباسا بشرط القطع والخیاطۃ لایجوز لعدم العرف ۔ اگرنیا کپڑا کٹائی اور سلائی کی شرط پر خریدا تو عرف نہ ہونے کی وجہ سے جائز نہ ہوگا۔(ت)
تنویر الابصارودرمختارمیں ہے:
صح وقف کل(منقول فی تعامل)للناس کفأس و قدوم ودراھم ودنانیر وقدرو جنازۃ وثیابہا و مصحف وکتب لان التعامل یترك بہ القیاس لحدیث ماراہ المسلمون حسنا فہو عنداﷲ حسن'' بخلاف مالا تعامل فیہ کثیاب متاع وھذا قول محمد وعلیہ الفتوی اختیار ۔(باختصار) ایسی منقولہ چیز کا وقف جائز ہے جس میں عرف ایسا ہو مثلا کلہاڑی تیشہدراہمدنانیرہانڈیجنازہ کی چارپائیاس کا کپڑاقرآن مجید اور کتبکیونکہ تعامل کی وجہ سے قیاس کو ترك کیاجائے گا اس لئے کہ حدیث شریف میں ہے کہ جس چیز کو مسلمان پسند کریں توہ عندالله پسندیدہ ہے بخلاف اس کے جس میں تعامل نہ ہومثلا سامان والے کپڑےیہ امام محمد رحمہ الله تعالی عنہ کا قول ہے۔اور اسی پر فتوی ہے۔اختیار (بالاختصار)(ت)
اسی میں خلاصہ سے ہے:
وقف کرا علی شرط ان یقرضہ لمن لابذرلہ لیزرعہ لنفسہ فاذا ادرك اخذ مقدارہ ثم اقرضہ لغیرہ و ھکذا گندم ایك کر(پیمانہ)وقف کی جس کے پاس بیچ نہ ہو اس کوقرض دی جائے تاکہ وہ اپنی زراعت کرلے اور جب گندم کی فصل اترے تو اتنی مقدار واپس کردےپھر وہ اسی طرح دوسرے کو قرض
وکذا لو اشتری خفابہ خرق علی ان یخرز البائع وثوبا من خلقانی وبہ خرق علی ان یخیطہ ویجعل علیہ الرقعۃ ۔ اوریونہی اگر پٹھا ہوا موزہ خریدا اس شرط پر کہ بائع پیوند لگا کردے یا پرانا پھٹا کپڑا پیوند لگانے کی شرط پر خریدا۔(ت)
اسی میں فتاوی ظہیریہ سے ہے:
لو اشتری کرباسا بشرط القطع والخیاطۃ لایجوز لعدم العرف ۔ اگرنیا کپڑا کٹائی اور سلائی کی شرط پر خریدا تو عرف نہ ہونے کی وجہ سے جائز نہ ہوگا۔(ت)
تنویر الابصارودرمختارمیں ہے:
صح وقف کل(منقول فی تعامل)للناس کفأس و قدوم ودراھم ودنانیر وقدرو جنازۃ وثیابہا و مصحف وکتب لان التعامل یترك بہ القیاس لحدیث ماراہ المسلمون حسنا فہو عنداﷲ حسن'' بخلاف مالا تعامل فیہ کثیاب متاع وھذا قول محمد وعلیہ الفتوی اختیار ۔(باختصار) ایسی منقولہ چیز کا وقف جائز ہے جس میں عرف ایسا ہو مثلا کلہاڑی تیشہدراہمدنانیرہانڈیجنازہ کی چارپائیاس کا کپڑاقرآن مجید اور کتبکیونکہ تعامل کی وجہ سے قیاس کو ترك کیاجائے گا اس لئے کہ حدیث شریف میں ہے کہ جس چیز کو مسلمان پسند کریں توہ عندالله پسندیدہ ہے بخلاف اس کے جس میں تعامل نہ ہومثلا سامان والے کپڑےیہ امام محمد رحمہ الله تعالی عنہ کا قول ہے۔اور اسی پر فتوی ہے۔اختیار (بالاختصار)(ت)
اسی میں خلاصہ سے ہے:
وقف کرا علی شرط ان یقرضہ لمن لابذرلہ لیزرعہ لنفسہ فاذا ادرك اخذ مقدارہ ثم اقرضہ لغیرہ و ھکذا گندم ایك کر(پیمانہ)وقف کی جس کے پاس بیچ نہ ہو اس کوقرض دی جائے تاکہ وہ اپنی زراعت کرلے اور جب گندم کی فصل اترے تو اتنی مقدار واپس کردےپھر وہ اسی طرح دوسرے کو قرض
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۳€۴
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۳۴€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب العاشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۱۳۴€
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸۰€
جازوقف بقرہ علی ماخرج من لبنہا اوسمنھا للفقراء ان اعتادوا ذلك رجوت ان یجوز ۔ دی جائےاو ر یوں ہی گائے وقف کی جائے کہ اس کا دودھ یا گھی فقراء کو دیا جائے اگر لوگ یہ عادت بنالیں تو مجھے امید ہے کہ جائز ہوگا۔(ت)
ہندیہ میں ظہیریہ سے ہے:
رجل وقف بقرۃ علی ان مایخرج من لبنہا وسمنہا وشیرازھا یعطی ابناء السبیل ان کان ذلك فی موضع تعارفوا ذلك جاز کما یجوز ماء السقایۃ ۔ کسی شخص نے گائے وقف کی کہ اس کا دودھ یا گھی اور دہی مسافروں کو دیا جائے اگر کسی علاقہ میں یہ تعارف ہو تو جائز ہے جیسے مشکیزے کا پانی۔(ت)
اسی میں ہے:
وقف المنقول مقصود فان کان کرادعا اوسلاحا یجوز ہ فیما سویذلك ان کان شیئا لم یجر التعارف بوقفہ کالثیاب والحیوان لایجوز عندنا وان کان متعارفا کا لفأس والقدوم والجنازۃ وثیاب الجنازۃ ومایحتاج الیہ من الاوانی والقدورفی غسل الموتی و المصاحف قال محمد یجوز الیہ ذھب عامۃ المشائخ منہم الامام السرخسی کذا فی الخلاصۃ وھو المختار و الفتوی علی قول محمد کذا قال شمس الائمۃ الحلوانی کذا فی مختار الفتاوی ۔ اگر منقول بامقصد چیز کووقف کیااگر وہ سواری یاہتھیار ہوتو جائز ہے ان کے علاوہ اگر کوئی چیزایسی ہو جس کو وقف کرنا عرف میں مروج نہیں جیسے عام کپڑے اورحیوانات تو ہمارے نزدیك جائز نہیں اور وہ متعارف ہو جیسے کلہاڑی اور تیشہ اور جنازہ کی چارپائی اور اس کا کپڑا اور میت کو غسل میں کام آنے والے برتن اور قرآن مجیدتو امام محمد رحمہ الله تعالی نے فرمایا یہ جائز ہے۔اسی کو عام مشائخ جیسے امام سرخسی وغیرہ نے اپنایا ہے۔خلاصہ میں ایسے ہی ہےوہی مختار ہے اور فتوی امام محمد رحمہ الله تعالی کے قول پر ہے۔امام شمس الائمہ حلوانی نے یوں فرمایا اور فتوی کے لئے یہی مختار ہے۔(ت)
ہندیہ میں ظہیریہ سے ہے:
رجل وقف بقرۃ علی ان مایخرج من لبنہا وسمنہا وشیرازھا یعطی ابناء السبیل ان کان ذلك فی موضع تعارفوا ذلك جاز کما یجوز ماء السقایۃ ۔ کسی شخص نے گائے وقف کی کہ اس کا دودھ یا گھی اور دہی مسافروں کو دیا جائے اگر کسی علاقہ میں یہ تعارف ہو تو جائز ہے جیسے مشکیزے کا پانی۔(ت)
اسی میں ہے:
وقف المنقول مقصود فان کان کرادعا اوسلاحا یجوز ہ فیما سویذلك ان کان شیئا لم یجر التعارف بوقفہ کالثیاب والحیوان لایجوز عندنا وان کان متعارفا کا لفأس والقدوم والجنازۃ وثیاب الجنازۃ ومایحتاج الیہ من الاوانی والقدورفی غسل الموتی و المصاحف قال محمد یجوز الیہ ذھب عامۃ المشائخ منہم الامام السرخسی کذا فی الخلاصۃ وھو المختار و الفتوی علی قول محمد کذا قال شمس الائمۃ الحلوانی کذا فی مختار الفتاوی ۔ اگر منقول بامقصد چیز کووقف کیااگر وہ سواری یاہتھیار ہوتو جائز ہے ان کے علاوہ اگر کوئی چیزایسی ہو جس کو وقف کرنا عرف میں مروج نہیں جیسے عام کپڑے اورحیوانات تو ہمارے نزدیك جائز نہیں اور وہ متعارف ہو جیسے کلہاڑی اور تیشہ اور جنازہ کی چارپائی اور اس کا کپڑا اور میت کو غسل میں کام آنے والے برتن اور قرآن مجیدتو امام محمد رحمہ الله تعالی نے فرمایا یہ جائز ہے۔اسی کو عام مشائخ جیسے امام سرخسی وغیرہ نے اپنایا ہے۔خلاصہ میں ایسے ہی ہےوہی مختار ہے اور فتوی امام محمد رحمہ الله تعالی کے قول پر ہے۔امام شمس الائمہ حلوانی نے یوں فرمایا اور فتوی کے لئے یہی مختار ہے۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الوقف ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۸€۰
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۶۲۔۳۶۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۶۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۶۲۔۳۶۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۶۱€
خزانۃ المفتین میں فتاوی کبری سے فصل وقف المنقول میں ہے:
جعل فی المسجدبواری اوغلق باب اوحصیر لم یکن لہ ان یرجع وکذلك لو علق فیہ سلسلۃ اوحبلا للقندیل لان ھذا یترك فی المسجد دائما عادۃ فیکون للمسجد ۔ مسجد میں بچھونادروازے کا تالاچٹائی دی تو واپس لینے کا حق نہیںاوریونہی اگر قندیل کی زنجیر یارسی دی ہو کیونکہ عادتا یہ چیزیں دائمی طو رپر مسجد میں رکھی جاتی ہےلہذا یہ مسجد کے لئے مختص ہوجائیں گی۔(ت)
غرر ودرر میں ہے:
(عن محمد صحتہ فی المتعارف وقفیتہ)کالفأس و المروالقدوم والمنشار والجنازۃ وثیابہا والقدور و المراجل اذ اوقف علی المسجد جاز واما وقف الکتب فکان نصیر بن یحیی یجیزہ والفقیہ ابوجعفر یجیزہ وبہ ناخذ خلاصہ اھ ملخصا۔ امام محمد رحمہ الله تعالی کے نزدیك کلہاڑیپھاوڑیتیشہآرہ زجنازہ کی چارپائیاس کا کپڑاہنڈیادیگ مسجدکےلئے وقف کئے تو جائز ہےولیکن کتابوں کووقف کرنا اسے نصیر بن یحیی اور فقیہ ابوجعفر جائز کہتے ہیں اور ہمارا یہی موقف ہے خلاصہ اھ ملخصا۔(ت)
غنیہ علامہ شرنبلالی میں برہان سے ہے:
زادمحمدماتعورف وقفہ کالمصاحف والکتب والقدور و المقدوم والفأس والمنشار والجنازۃ وثیابہا وما یحتاج الیہ من الاوانی فی غسل الموتی و علیہ عامۃ المشائخ وبہ یفتی ۔ جن چیزوں کے وقف پر تعارف ہے ان میں امام محمد رحمہ الله تعالی نے قرآن مجیدکتبہنڈیاتیشہکلہاڑیآرہجنازہ کی چارپائیاس کا کپڑا او رمیت کے غسل میں ضروری برتن کا اضافہ فرمایاہےعام مشائخ کایہی موقف ہے اور اسی پر فتوی دیا جائے گا۔(ت)
نقایہ وشرح علامہ برجندی میں ہے:
جعل فی المسجدبواری اوغلق باب اوحصیر لم یکن لہ ان یرجع وکذلك لو علق فیہ سلسلۃ اوحبلا للقندیل لان ھذا یترك فی المسجد دائما عادۃ فیکون للمسجد ۔ مسجد میں بچھونادروازے کا تالاچٹائی دی تو واپس لینے کا حق نہیںاوریونہی اگر قندیل کی زنجیر یارسی دی ہو کیونکہ عادتا یہ چیزیں دائمی طو رپر مسجد میں رکھی جاتی ہےلہذا یہ مسجد کے لئے مختص ہوجائیں گی۔(ت)
غرر ودرر میں ہے:
(عن محمد صحتہ فی المتعارف وقفیتہ)کالفأس و المروالقدوم والمنشار والجنازۃ وثیابہا والقدور و المراجل اذ اوقف علی المسجد جاز واما وقف الکتب فکان نصیر بن یحیی یجیزہ والفقیہ ابوجعفر یجیزہ وبہ ناخذ خلاصہ اھ ملخصا۔ امام محمد رحمہ الله تعالی کے نزدیك کلہاڑیپھاوڑیتیشہآرہ زجنازہ کی چارپائیاس کا کپڑاہنڈیادیگ مسجدکےلئے وقف کئے تو جائز ہےولیکن کتابوں کووقف کرنا اسے نصیر بن یحیی اور فقیہ ابوجعفر جائز کہتے ہیں اور ہمارا یہی موقف ہے خلاصہ اھ ملخصا۔(ت)
غنیہ علامہ شرنبلالی میں برہان سے ہے:
زادمحمدماتعورف وقفہ کالمصاحف والکتب والقدور و المقدوم والفأس والمنشار والجنازۃ وثیابہا وما یحتاج الیہ من الاوانی فی غسل الموتی و علیہ عامۃ المشائخ وبہ یفتی ۔ جن چیزوں کے وقف پر تعارف ہے ان میں امام محمد رحمہ الله تعالی نے قرآن مجیدکتبہنڈیاتیشہکلہاڑیآرہجنازہ کی چارپائیاس کا کپڑا او رمیت کے غسل میں ضروری برتن کا اضافہ فرمایاہےعام مشائخ کایہی موقف ہے اور اسی پر فتوی دیا جائے گا۔(ت)
نقایہ وشرح علامہ برجندی میں ہے:
حوالہ / References
خزانۃ المفتین کتاب الوقف فصل فی المشاع ∞قلمی نسخہ ۱/ ۲۱€۷
الدررالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الوقف ∞میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۷۔۱۳€۶
غنیہ ذوی الاحکام فی بغیۃ دررالحکام کتاب الوقف ∞میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۳۶€
الدررالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الوقف ∞میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۷۔۱۳€۶
غنیہ ذوی الاحکام فی بغیۃ دررالحکام کتاب الوقف ∞میر محمد کتب خانہ کراچی ۲/ ۱۳۶€
صح عند(محمد وقف منقول فیہ تعامل کالمصحف ونحوہ)من الکتب والطشت والقدوم والقیاس ان لا یجوز وھو قول ابی حنیفۃ لانہا مما لایتأبد لکن القیاس یترك بالتعامل(وعلیہ الفتوی) اھ ملتقطا۔ امام محمد رحمہ الله تعالی نے جن منقولہ چیزوں کے وقف میں تعامل ہے جیسے قرآن مجید وغیرہ کتب اور طشتتیشہ کے وقف کوجائز قراردیاہے اور قیاس یہ ہےکہ جائز نہیںیہی امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ کا قول ہے۔کیونکہ یہ دائمی چیزیں نہیں ہیں لیکن تعامل کی وجہ سے قیاس متروك ہوگیا اور اسی پر فتوی ہے۔اھ ملتقطا۔(ت)
رد المحتارمیں ہے:
قال المصنف فی المنح لماجری التعامل فی زماننافی البلاد الرومیۃ فی وقف الدراھم والدنانیر دخلت تحت قول محمدن المفتی بہ فی وقف کل منقولہ فیہ تعامل کما لایخفی وقد افتی مولانا صاحب البحر بجواز وقفہا ولم یحك خلافا اھ ولا شك فی کونہا من المنقول فحیث جری فیہا تعامل دخلت فیما اجازہ محمد ولہذا لمامثل محمد باشیاء جری فیہا التعامل فی زمانہ قال فی الفتح ان بعض المشائخ زادوا اشیاء من المنقول علی ماذکرہ محمد لمارأوا جریان التعامل فیہا وذکر منہما مسئلۃ البقرۃ و مسئلۃ الدراھم والمکیل حیث مصنف نے منح میں فرمایا رومی علاقہ میں ہمارے زمانہ میں دراہم ودنانیر کاوقف عرف میں جاری ہے تویہ امام محمد رحمہ الله تعالی عنہ کے مفتی بہ قول جس میں منقول کا وقف جائز ہے میں داخل ہوگاجیسا کہ مخفی نہیں ہے اور مولانا صاحب بحرنے اس کے جوا زکا فتوی دیا او رکوئی مخالف قول نقل نہ فرمایا اھ اوراس منقول میں تعامل کے جاری ہونے میں شك نہیں ہے تو یہ امام محمد رحمہ الله تعالی کے جواز میں داخل ہوگااسی لئے جب امام محمدر حمہ الله تعالی نے اپنے زمانہ میں تعامل والی اشیاء کی مثال بیان فرمائی تو فتح میں کہا کہ بعض مشائخ نے امام محمدرحمہ الله تعالی کی ذکر کردہ اشیاء پر کچھ اورچیزوں کا اضافہ کیا جن میں تعامل دیکھا انہی چیزوں میں گائے دراہم اورکیلی چیز کے مسئلہ کو ذکر فرمایا
رد المحتارمیں ہے:
قال المصنف فی المنح لماجری التعامل فی زماننافی البلاد الرومیۃ فی وقف الدراھم والدنانیر دخلت تحت قول محمدن المفتی بہ فی وقف کل منقولہ فیہ تعامل کما لایخفی وقد افتی مولانا صاحب البحر بجواز وقفہا ولم یحك خلافا اھ ولا شك فی کونہا من المنقول فحیث جری فیہا تعامل دخلت فیما اجازہ محمد ولہذا لمامثل محمد باشیاء جری فیہا التعامل فی زمانہ قال فی الفتح ان بعض المشائخ زادوا اشیاء من المنقول علی ماذکرہ محمد لمارأوا جریان التعامل فیہا وذکر منہما مسئلۃ البقرۃ و مسئلۃ الدراھم والمکیل حیث مصنف نے منح میں فرمایا رومی علاقہ میں ہمارے زمانہ میں دراہم ودنانیر کاوقف عرف میں جاری ہے تویہ امام محمد رحمہ الله تعالی عنہ کے مفتی بہ قول جس میں منقول کا وقف جائز ہے میں داخل ہوگاجیسا کہ مخفی نہیں ہے اور مولانا صاحب بحرنے اس کے جوا زکا فتوی دیا او رکوئی مخالف قول نقل نہ فرمایا اھ اوراس منقول میں تعامل کے جاری ہونے میں شك نہیں ہے تو یہ امام محمد رحمہ الله تعالی کے جواز میں داخل ہوگااسی لئے جب امام محمدر حمہ الله تعالی نے اپنے زمانہ میں تعامل والی اشیاء کی مثال بیان فرمائی تو فتح میں کہا کہ بعض مشائخ نے امام محمدرحمہ الله تعالی کی ذکر کردہ اشیاء پر کچھ اورچیزوں کا اضافہ کیا جن میں تعامل دیکھا انہی چیزوں میں گائے دراہم اورکیلی چیز کے مسئلہ کو ذکر فرمایا
حوالہ / References
مختصر الوقایہ فی مسائل الہدایہ کتاب الوقف ∞نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۳۹،€شرح النقایۃ للبرجندی فصل الوقف ∞نولکشور لکھنؤ ۳/ ۱۷۲€
قال ففی الخلاصۃ وقف بقرۃ علی ان مایخرج من لبنہا وسمنہا یعطی لابناء السبیل قال ان کان ذلك فی موضع غلب ذلك فی اوقافہم رجوت عــــــہ ان یکون جائزاقال فعلی ھذا القیاس اذ ا وقف کرا من الحنطۃ علی شرط ان یقرض للفقراء ثم یؤخذ منہم ثم یقرض لغیرھم ان یکون جائزا وقال ومثل ھذا کثیر فی الری وناحیۃ دماوند اھ وبہذا ظہر صحۃ ما ذکرہ المص من الحاقہا بالمنقول المتعارف علی قول محمد المفتی بہ وانما خصوھا بالنقل عن زفر لانہا لم تکن متعارفۃ اذا ذاکقال فی النہر ومقتضی مامر عن محمد وعدم جواز ذاك ای وقف الحنطۃ فی الاقطار المصریۃ لعدم تعارفہ بالکلیۃ نعم وقف الدراھم اورکہا خلاصہ میں ہے کہ گائے وقف کی کہ اس کا دودھ اور گھی مسافروں کودیا جائےاور فرمایا کہ اگر کسی مقام میں لوگوں نے وقف میں تعامل بنایاہو تو مجھے امید ہےکہ یہ جائز ہوگا۔ اور فرمایااس پر قیاس ہوگا جب کوئی شخص گندم کاکر(پیمانہ)اس شرط پر وقف کرے کہ ضرورتمند فقیر کویہ قرض دیا جائے اور پھر واپس ملنے پر دوسرے فقیر کو قرض دیا جائے تولازما جائز ہوگا اور کہا کہ رے اور دماوند کے علاقہ میں اس قسم کا کثیر رواج ہے اھ اس سے مصنف کا مذکورہ کو امام محمد رحمہ الله تعالی سے منقول ہے متعارف مفتی بہ کے ساتھ الحاق کی صحت معلوم ہوگئیامام زفر رحمہ الله تعالی سے منقول کے ساتھ گندم مذکور کے مسئلہ کو وقہاء کا مختص کرنا اس لیے ہوا کہ امام محمد رحمہ الله تعالی کے زمانہ میں یہ معاملہ متعارف نہ ہواتھا اور نہر میں فرمایا کہ امام محمد رحمہ الله تعالی سے منقول شدہ کا مقتضی اسگندم کو وقف کرنے کا عدم جوا ز ہے کیونکہ مصری علاقہ میں ابھی اس کا بالکل تعارف
عــــــہ:قلت ھذہ نسخۃ کتبہافی نسختی الخلاصۃ علی الہامش والذی فی متنہا جاز ان کان تعارفوا ذلك کما فی النقایۃ اھ کما ھو عبارتۃ الظہیریۃ لاتیۃ ۱۲ منہ۔ میں کہتاہوں یہ نسخہ میرے پاس خلاصہ کے نسخہ کے حاشیہ میں لکھا ہے اور اس کے متن میں ہے کہ اگر لوگوں کااس پر تعارف ہو تو جائز ہے جیساکہ نقایہ میں ہے اھ جیسا کہ ظہیریہ کی آئندہ عبارت میں ہے ۱۲ منہ(ت)
عــــــہ:قلت ھذہ نسخۃ کتبہافی نسختی الخلاصۃ علی الہامش والذی فی متنہا جاز ان کان تعارفوا ذلك کما فی النقایۃ اھ کما ھو عبارتۃ الظہیریۃ لاتیۃ ۱۲ منہ۔ میں کہتاہوں یہ نسخہ میرے پاس خلاصہ کے نسخہ کے حاشیہ میں لکھا ہے اور اس کے متن میں ہے کہ اگر لوگوں کااس پر تعارف ہو تو جائز ہے جیساکہ نقایہ میں ہے اھ جیسا کہ ظہیریہ کی آئندہ عبارت میں ہے ۱۲ منہ(ت)
والدنانیرتعورف فی الدیار الرومیۃ اھ قولہ لان التعامل یترك بہ القیاس فی البحر عن التحریر ھوالاکثر استعمالا وفی شرح البیری عن المبسوط ان الثابت بالعرف کالثابت بالنص اھ فظاھر ما قدمناہ انفامن زیادۃ بعض المشائخ اشیاء جری التعامل فیہا وعلی ھذا فالظاہر اعتبارالعرف فی الموضع اوالزمان الذی اشترہ فیہ دون غیر ہ فوقف الدراھم متعارف فی بلاد الروم دون بلادناووقف الفأس والقدوم کان متعارفا فی زمن المتقدمین ولم نسمع بہ فی زماننا فالظاھر انہ لایصح الآن ولئن وجدنا دارا لایعتبر لما علمت من ان التعامل ھوا الاکثر استعمالا فتامل اھ ملخصا۔ نہیں ہے ہاں دراہم ودنانیر کے وقف رومی علاقہ میں موجود ہےاھ اس کا قول کہ کیونکہ تعامل کی وجہ سے قیاس متروك ہوجاتاہے بحر میں تحریر سے منقول ہے کہ یہ استعمال کثیر ہے اور شرح بیری میں مبسوط سے منقول ہے کہ عرف سے ثابت شدہ نص کی طرح ہے اھتو اس سے ابھی ہمارا بیان کردہ ظاہرہوا کہ مشائخ کا بعض چیزوں کو شامل کرنا تعامل کی بناء پر ہے اور اس بنیاد پر ظاہرہوا کہ جس علاقہ یا زمانہ میں عرف مشہور ہوا وہی معتبر ہے دوسروں کے لئے معتبرنہیں تو دراہم کا وقف روم کے علاقہ میں متعارف ہے ہمارے علاقہ میں یہ معروف نہیں ہے اورکلہاڑی اور تیشہ کا وقف متقدمین کے زمانہ میں تھا اپنے زمانہ میں ہم نے یہ نہیں سنا تو ظاہر یہ ہے کہ اب یہ جائز نہیں اگر کہیں نادر طورپر موجود ہو تو معتبر نہ ہوگا کیونکہ تو معلوم کر چکا ہے کہ تعامل وہ ہوتاہے جس کا استعمال زیادہ ہوتو غور کرواھ ملخصا۔(ت)
اسی میں تتارخانیہ سے ہے:
عن ابی یوسف یجوز بیع الدقیق و استقراضہ وزنااذا تعارف الناس ذلك استحسن فیہ ۔ امام ابویوسف رحمہ الله تعالی سے مروی ہے کہ آٹے کی بیع اور اس کو قرض بطور وزن دینا اگر عرف بن جائے تو استحسانا جائز ہوگا(ت)
اسی میں بحوالہ طحطاوی فتاوی غیاثیہ سے ہے:وعلیہ الفتوی (اور اسی پر فتوی ہے۔ت)
اسی میں تتارخانیہ سے ہے:
عن ابی یوسف یجوز بیع الدقیق و استقراضہ وزنااذا تعارف الناس ذلك استحسن فیہ ۔ امام ابویوسف رحمہ الله تعالی سے مروی ہے کہ آٹے کی بیع اور اس کو قرض بطور وزن دینا اگر عرف بن جائے تو استحسانا جائز ہوگا(ت)
اسی میں بحوالہ طحطاوی فتاوی غیاثیہ سے ہے:وعلیہ الفتوی (اور اسی پر فتوی ہے۔ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۷۵۔۳۷۴€
ردالمحتار کتاب البیوع باب الربا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۸۲€
ردالمحتار کتاب البیوع باب الربا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۸۲€
ردالمحتار کتاب البیوع باب الربا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۸۲€
ردالمحتار کتاب البیوع باب الربا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۸۲€
تنویر ودر میں ہے:
(یستقرض الخبز وزنا وعددا)عنہ محمد وعلیہ الفتوی ابن الملك واستحسنہ الکمال واختارہ المصنف تیسیرااختیار ۔ روٹی کو گنتی اور وزن دونوں طرح قرض دینا لینا امام محمد رحمہ الله تعالی کے نزدیك جائز ہے۔اور اسی پر فتوی ابن مالك ہے۔اس کو کمال نے پسند کیا او رمصنف نے آسانی کی وجہ سے اس کو اختیار کیا۔(ت)
اختیار پھر طحطاوی پھر ردالمحتارمیں ہے:
ھوالمختار لتعامل الناس وحاجاتہم الیہ ۔ لوگوں کی ضرورت اور تعامل کی بناء پر بھی مختار ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
(مانص)الشارع(علی کونہ کیلیا)کبر وشعیر اوتمر وملح(اووزنا)کذھب وفضۃ(فہو کذلک)لایتغیر (ابدافلم یصح بیع حنطہ بحنطۃ وزنا کما لو باع ذھبا بذھب اوفضۃ بفضۃ کیلا)ولو(مع التساوی)لان النص اقوی من العرف فلایترك الاقوی بالادنی(وما لم ینص علیہ حمل علی العرف)وعن الثانی اعتبارا لعرف مطلقا ورجحہ الکمال(وخرج علیہ سعدی آفندی شارع نے جس چیز کے کیلی ہونے پر نص فرمائی مثلا گندمجو کجھور اور نمك وہ کیلی اور جس کے وزنی ہونے پر نص فرمائی وہ وزنی ہوگی جیسے سونا اور چاندی۔یہ تبدیل نہ ہوسکیں گیتو گندم کی خریدو فروخت وزن کے طور پر اور سونے چاندی کی کیل کے طور پر جائز نہ ہوگیاگرچہ ہم جنس کے ساتھ مساوی لین دین ہوکیونکہ نص اقوی ہے عرف سے تو اقوی کو ادنی کی وجہ سے ترك نہ کیا جائے گا اور وہ اشیاء جن پر نص وارد نہ ہوئی ان کو عرف پر محمول کیا جائے گا اور امام ابویوسف رحمہ الله تعالی کے نزدیك عرف کا مطلقا اعتبار ہوگا۔اس کو کمال نے ترجیح دی ہے۔اور اسی پر سعدی آفندی نے
(یستقرض الخبز وزنا وعددا)عنہ محمد وعلیہ الفتوی ابن الملك واستحسنہ الکمال واختارہ المصنف تیسیرااختیار ۔ روٹی کو گنتی اور وزن دونوں طرح قرض دینا لینا امام محمد رحمہ الله تعالی کے نزدیك جائز ہے۔اور اسی پر فتوی ابن مالك ہے۔اس کو کمال نے پسند کیا او رمصنف نے آسانی کی وجہ سے اس کو اختیار کیا۔(ت)
اختیار پھر طحطاوی پھر ردالمحتارمیں ہے:
ھوالمختار لتعامل الناس وحاجاتہم الیہ ۔ لوگوں کی ضرورت اور تعامل کی بناء پر بھی مختار ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
(مانص)الشارع(علی کونہ کیلیا)کبر وشعیر اوتمر وملح(اووزنا)کذھب وفضۃ(فہو کذلک)لایتغیر (ابدافلم یصح بیع حنطہ بحنطۃ وزنا کما لو باع ذھبا بذھب اوفضۃ بفضۃ کیلا)ولو(مع التساوی)لان النص اقوی من العرف فلایترك الاقوی بالادنی(وما لم ینص علیہ حمل علی العرف)وعن الثانی اعتبارا لعرف مطلقا ورجحہ الکمال(وخرج علیہ سعدی آفندی شارع نے جس چیز کے کیلی ہونے پر نص فرمائی مثلا گندمجو کجھور اور نمك وہ کیلی اور جس کے وزنی ہونے پر نص فرمائی وہ وزنی ہوگی جیسے سونا اور چاندی۔یہ تبدیل نہ ہوسکیں گیتو گندم کی خریدو فروخت وزن کے طور پر اور سونے چاندی کی کیل کے طور پر جائز نہ ہوگیاگرچہ ہم جنس کے ساتھ مساوی لین دین ہوکیونکہ نص اقوی ہے عرف سے تو اقوی کو ادنی کی وجہ سے ترك نہ کیا جائے گا اور وہ اشیاء جن پر نص وارد نہ ہوئی ان کو عرف پر محمول کیا جائے گا اور امام ابویوسف رحمہ الله تعالی کے نزدیك عرف کا مطلقا اعتبار ہوگا۔اس کو کمال نے ترجیح دی ہے۔اور اسی پر سعدی آفندی نے
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع باب الربا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۳€
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۸۷،€حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۱۱۲€
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۸۷،€حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب البیوع دارالمعرفۃ بیروت ∞۳/ ۱۱۲€
استقراض الدراھم عدد ااوبیع الدقیق وزنا فی زماننا یعنی بمثلہ وفی الکافی الفتوی علی عادۃ الناس بحر وا قرہ المنصف اھ ونقلہ عن العلامۃ سعدی فی النہر واقرہ۔ دراہم کو عددکے طورپر قرض لینا اورآٹے کو وزن کے ساتھ ہم جنس سے لین دین کرنا متفرع کیا ہے اور کافی میں ہے کہ فتوی لوگ کی عادت پرہوگا۔بحراور مصنف نے اسے ثابت مانا ہے اھ اور اس کو انھوں نے علامہ سعدی آفندی سے نہر میں نقل کیا ہے اور ثابت رکھا۔(ت)
ذخیرہ امام برہان الدین محمود کتاب البیوع فصل سادس میں ہے:
اذا شتری ثمار بستان وبعضہا قد خرج وبعضہا لم یخرج فہل یجوز ھذا البیعظاھرالمذھب انہ لا یجوز وکان شمس الائمۃ الحلوانی یفتی بجوازہ فی الثمار والباذنجان والبطیخ وغیرہ ذلك وکان یزعم انہ مروی عن اصحابنا ۔ جب باغ اس حالت میں خریدا کہ اس کا کچھ پھل ظاہر ہوا اور کچھ نہ ظاہر ہوا تویہ کیا یہ جائز ہوگا۔تو ظاہر مذہب یہ ہے کہ نا جائز ہے۔حالانکہ شمس الائمہ حلوانی پھلوںبینگنتربوز وغیرہا میں اس کے جواز کا فتوی دیا کرتے تھے اور ان کا خیال تھا یہ جواز ہمارے اصحاب سے مروی ہے۔(ت)
بحرالرائق میں امام جلیل ابوبکر محمد بن فضل فضلی سے ہے:
استحسن فیہ لتعامل الناس فانہم تعاطو بیع ثمار الکرم بھذہ ا الصفۃ ولہم فی ذلك عادۃ ظاھرۃ وفی نزع الناس عن عاداتہم حرج ۔ انھوں نے اس کو پسند کیا لوگوں کے تعامل کی وجہ سے کیونکہ وہ انگوروں کے پھل کا اسی حالت میں لین دین کرتے ہیں اور لوگوں کی یہ عادت معروف ہے جبکہ لوگوں کی عادت چھڑاناحرج کی بات ہے۔(ت)
فتح القدیر میں ہے:
ذخیرہ امام برہان الدین محمود کتاب البیوع فصل سادس میں ہے:
اذا شتری ثمار بستان وبعضہا قد خرج وبعضہا لم یخرج فہل یجوز ھذا البیعظاھرالمذھب انہ لا یجوز وکان شمس الائمۃ الحلوانی یفتی بجوازہ فی الثمار والباذنجان والبطیخ وغیرہ ذلك وکان یزعم انہ مروی عن اصحابنا ۔ جب باغ اس حالت میں خریدا کہ اس کا کچھ پھل ظاہر ہوا اور کچھ نہ ظاہر ہوا تویہ کیا یہ جائز ہوگا۔تو ظاہر مذہب یہ ہے کہ نا جائز ہے۔حالانکہ شمس الائمہ حلوانی پھلوںبینگنتربوز وغیرہا میں اس کے جواز کا فتوی دیا کرتے تھے اور ان کا خیال تھا یہ جواز ہمارے اصحاب سے مروی ہے۔(ت)
بحرالرائق میں امام جلیل ابوبکر محمد بن فضل فضلی سے ہے:
استحسن فیہ لتعامل الناس فانہم تعاطو بیع ثمار الکرم بھذہ ا الصفۃ ولہم فی ذلك عادۃ ظاھرۃ وفی نزع الناس عن عاداتہم حرج ۔ انھوں نے اس کو پسند کیا لوگوں کے تعامل کی وجہ سے کیونکہ وہ انگوروں کے پھل کا اسی حالت میں لین دین کرتے ہیں اور لوگوں کی یہ عادت معروف ہے جبکہ لوگوں کی عادت چھڑاناحرج کی بات ہے۔(ت)
فتح القدیر میں ہے:
حوالہ / References
درمختار کتاب البیوع باب الرباء ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۱€
نشرالعرف بحوالہ الذخیرۃ البرہانۃ رسالہ من مجموعہ رسائل ابن عابدین ∞سہیل اکیڈمی لاہور ۲/ ۴۰۔۱۳€۹
بحرالرائق کتاب البیوع فصل یدخل البناء والمفاتیح فی بیع الدار ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۳۰۱€
نشرالعرف بحوالہ الذخیرۃ البرہانۃ رسالہ من مجموعہ رسائل ابن عابدین ∞سہیل اکیڈمی لاہور ۲/ ۴۰۔۱۳€۹
بحرالرائق کتاب البیوع فصل یدخل البناء والمفاتیح فی بیع الدار ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۳۰۱€
قدرأیت روایۃ فی نحوھذا عن محمد فی بیع الورود علی الاشجار فان الورود متلاحق ثم جوز البیع فی الکل وھو قول مالك ۔ میں نے امام محمد رحمہ الله تعالی سے اس طرح کی روایت پودوں پر گلاب کے بارے میں دیکھی ہے حالانکہ گلاب یکے بعد دیگرے ظاہر ہوتے ہیں پھر انھوں نے تمام گلابوں میں بیع جائز فرمایااوریہی امام مالك کا قول ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قال الزیلعی قال شمس الائمۃ السرخسی والاصح انہ لایجوز لان المصیر الی مثل ھذہ الطریقۃ عند تحقق الضرورۃ ولا ضرورۃ ھنا لانہ یمکنہ ان یبیع الاصول اویؤخر العقد فی الباقی الی وجودہ او یبیح لہ الاتنفاع بما یحدث فلاضرورۃ الی تجویز العقدفی المعدوم مصادما للنص اھ قلت لکن لایخفی تحقق الضرورۃ فی زماننا لاسیما فی مثل دمشق الشام کثیرۃ الاشجار والثمار فانہ لغلبۃ الجہل علی الناس لایمکن الزامہم بالتخلص باحدا لطرق المذکورۃ و ان امکی بالنسبۃ الی بعض افراد الناس لایمکن بالنسبۃ الی عامتہم وفی نزعھم عن عادتھم حرج کما علمت ویلزم تحریم اکل الثمار فی ھذہ البلدان اذ الاتباع الا کذلك والنبی صلی اﷲ تعلی علیہ وسلم زیلعی نے کہا کہ امام شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا اصح یہ ہے کہ جائزنہیں ہے کیونکہ ایسی صورت کو ضرورت کی بناء پر اختیار کیا جاتا ہے جبکہ اس میں کوئی ضرورت نہیں کیونکہ پودا خریدنا لینا یاباقی گلاب کی بیع کو ان کے ظاہر ہوجانے تك موخر کردیا جائے یا آئندہ ظاہر ہونے والے گلاب سے انتفاع کو مباح کردے اس گنجائش کے باوجود معدوم گلام کی بیع کو جائزکرنا نص سے متصادم ہوگا اھمیں کہتاہوں کہ ہمارے زمانہ میں اس ضرورت کا تحقق مخفی نہیں خصوصا دمشق کے علاقہ میں جو کثیر باغات اور پھلوں کا علاقہ ہے تو لوگوں پر جہالت کے غلبے کی وجہ سے ان کو مذکورہ طرق پر پابند کرنا اگرچہ بعض لوگوں کو ممکن ہے لیکن عوام کے لئے یہ ممکن نہیں جبکہ ان کو عادت چھڑانے پر حرج لاحق ہوگاجیسا کہ تجھے معلوم ہوچکا ہےاور لازم آئے گا کہ اس علاقہ باغات کے پھل فروخت کرنے کا وہاں یہی رواج ہے حالانکہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام
ردالمحتارمیں ہے:
قال الزیلعی قال شمس الائمۃ السرخسی والاصح انہ لایجوز لان المصیر الی مثل ھذہ الطریقۃ عند تحقق الضرورۃ ولا ضرورۃ ھنا لانہ یمکنہ ان یبیع الاصول اویؤخر العقد فی الباقی الی وجودہ او یبیح لہ الاتنفاع بما یحدث فلاضرورۃ الی تجویز العقدفی المعدوم مصادما للنص اھ قلت لکن لایخفی تحقق الضرورۃ فی زماننا لاسیما فی مثل دمشق الشام کثیرۃ الاشجار والثمار فانہ لغلبۃ الجہل علی الناس لایمکن الزامہم بالتخلص باحدا لطرق المذکورۃ و ان امکی بالنسبۃ الی بعض افراد الناس لایمکن بالنسبۃ الی عامتہم وفی نزعھم عن عادتھم حرج کما علمت ویلزم تحریم اکل الثمار فی ھذہ البلدان اذ الاتباع الا کذلك والنبی صلی اﷲ تعلی علیہ وسلم زیلعی نے کہا کہ امام شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا اصح یہ ہے کہ جائزنہیں ہے کیونکہ ایسی صورت کو ضرورت کی بناء پر اختیار کیا جاتا ہے جبکہ اس میں کوئی ضرورت نہیں کیونکہ پودا خریدنا لینا یاباقی گلاب کی بیع کو ان کے ظاہر ہوجانے تك موخر کردیا جائے یا آئندہ ظاہر ہونے والے گلاب سے انتفاع کو مباح کردے اس گنجائش کے باوجود معدوم گلام کی بیع کو جائزکرنا نص سے متصادم ہوگا اھمیں کہتاہوں کہ ہمارے زمانہ میں اس ضرورت کا تحقق مخفی نہیں خصوصا دمشق کے علاقہ میں جو کثیر باغات اور پھلوں کا علاقہ ہے تو لوگوں پر جہالت کے غلبے کی وجہ سے ان کو مذکورہ طرق پر پابند کرنا اگرچہ بعض لوگوں کو ممکن ہے لیکن عوام کے لئے یہ ممکن نہیں جبکہ ان کو عادت چھڑانے پر حرج لاحق ہوگاجیسا کہ تجھے معلوم ہوچکا ہےاور لازم آئے گا کہ اس علاقہ باغات کے پھل فروخت کرنے کا وہاں یہی رواج ہے حالانکہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب البیوع فصل لماذکر ماینعقد بہ البیع الخ ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۴۹۲€
انما رخص فی السلم للضرورۃ مع انہ بیع المعدوم فحیث تحققت ھنا ایضا امکن الحاقۃ بطریق الدلالۃ فلم یکن مصادما للنص فلذا جعلوہ من الاستحسان وظاھرکلام الفتح المیل الی الجواز ولذا اوردلہ الروایۃ عن محمد بل تقدم ان الحوانی رواہ عن اصحابنا وماضاق الامر الا اتسع ولا یخفی ان ھذا مسوغ اللعدول عن ظاھر الروایۃ اھ بتلخیص۔ نے ایك ضرورت کے تحت معدوم چیز کی بیع کو بیع سلم کےطور پر جائز فرمایا تو جب یہاں بھی یہ ضرورت متحقق ہے تو اس کو بھی بیع سلم کے ساتھ بطریقہ دلالۃ النص ملحق کرنا ممکن ہے تو اس طرح یہ نص سے متصادم نہ ہوگا۔فقہاء کرام نے استحسان میں اس لئے اس کواختیارفرمایا اور فتح کا ظاہر کلام جواز کی طرف ماہل ہے اسی لئے انھوں نے امام محمد رحمہ الله تعالی سے یہاں روایت نقل فرمائی بلکہ پہلے گزراکہ امام حلوانی نے یہ بات ہمارے اصحاب سے نقل فرمائی اور جب معاملہ میں تنگی آتی ہے تو صرف وسعت ہی لاتی ہے۔تو مخفی نہ رہا کہ ظاہرروایت سے عدول کا یہ جواز ہے اھ ملخصا۔(ت)
یہ سردست تیس۳۰ کتابوں سے تیس۳۰ مسئلے ہیں۔کتب:۱قدوری۲ہدایہ۳فتح القدیر۴ردالمحتار۵وجیز کردری۶فتاوی امام قاضیخاں۷منح الغفار۸ہندیہ۹تاتارخانیہ۱۰محیطامام برہان الاسلام سرخسی۱۱فتاوی امام ظہیر الدین مرغینانی۱۲تنویر الابصار ۱۳درمختار۱۴خلاصہ۱۵مختار الفتاوی۱۶خزانۃ المفتین۱۷فتاوی کبری۱۸دررالحکام۱۹غنیہ ذوی الاحکام۲۰برہان شرح مواہب الرحمن ۲۱متن نقایہ۲۲شرح برجندی۲۳بحرالرائق۲۴نہرا الفائق۲۵طحطاوی۲۶فتاوی غیاثیہ۲۷جامع المضمرات۲۸شرح نقایہ للقہستانی۲۹شرح المجمع لابن فرشتہ۳۰اختیار شرح مختار۔
مسائل:۱بیع نعل اس شرط پر کہ دوسری اس کے ساتھ کی بنادے۲اس میں تسمہ لگادے۳بیع چرم بشرطیکہ جوتاسی دے ۴کھڑاؤں کی بیع میں پھٹے دینے کی شرط۵بنی ہوئی اور ان کی بیع بایں شرط کہ اس کی ٹوپی کردے۶ٹوپی اس شرط سے بیچے کہ استر اپنے پاس سے لگائے۷پھٹے پرانے موزے یا کپڑے کی بیع میں پیوند کی شرط۸کھال اس شرط پر بیچے کہ اس کا موزہ بنادے۹جنازے کے لئے چارپائی۱۰چادروں ۱۱غسل میت کے لئے گھڑوں لوٹوں کا وقفاہل حاجت کے لئے ۱۲کلہاڑی ۱۳بسوے ۱۴ ارے۱۵پھاوڑے کا وقف۱۶مسافروں کے لئے طشت۱۷ہانڈی۱۸بڑی دیگ کا وقفمساجد کے لئے ۱۹قندیل
یہ سردست تیس۳۰ کتابوں سے تیس۳۰ مسئلے ہیں۔کتب:۱قدوری۲ہدایہ۳فتح القدیر۴ردالمحتار۵وجیز کردری۶فتاوی امام قاضیخاں۷منح الغفار۸ہندیہ۹تاتارخانیہ۱۰محیطامام برہان الاسلام سرخسی۱۱فتاوی امام ظہیر الدین مرغینانی۱۲تنویر الابصار ۱۳درمختار۱۴خلاصہ۱۵مختار الفتاوی۱۶خزانۃ المفتین۱۷فتاوی کبری۱۸دررالحکام۱۹غنیہ ذوی الاحکام۲۰برہان شرح مواہب الرحمن ۲۱متن نقایہ۲۲شرح برجندی۲۳بحرالرائق۲۴نہرا الفائق۲۵طحطاوی۲۶فتاوی غیاثیہ۲۷جامع المضمرات۲۸شرح نقایہ للقہستانی۲۹شرح المجمع لابن فرشتہ۳۰اختیار شرح مختار۔
مسائل:۱بیع نعل اس شرط پر کہ دوسری اس کے ساتھ کی بنادے۲اس میں تسمہ لگادے۳بیع چرم بشرطیکہ جوتاسی دے ۴کھڑاؤں کی بیع میں پھٹے دینے کی شرط۵بنی ہوئی اور ان کی بیع بایں شرط کہ اس کی ٹوپی کردے۶ٹوپی اس شرط سے بیچے کہ استر اپنے پاس سے لگائے۷پھٹے پرانے موزے یا کپڑے کی بیع میں پیوند کی شرط۸کھال اس شرط پر بیچے کہ اس کا موزہ بنادے۹جنازے کے لئے چارپائی۱۰چادروں ۱۱غسل میت کے لئے گھڑوں لوٹوں کا وقفاہل حاجت کے لئے ۱۲کلہاڑی ۱۳بسوے ۱۴ ارے۱۵پھاوڑے کا وقف۱۶مسافروں کے لئے طشت۱۷ہانڈی۱۸بڑی دیگ کا وقفمساجد کے لئے ۱۹قندیل
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع فصل فی البیع الفاسد داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۴/ ۳۹€
کی رسیزنجیر کا وقف۲۰قرآن مجید و۲۱کتب و۲۲غلہ و۲۳گاؤ و۲۴دراہم ونانیر کا وقف ۲۵آٹے سے اٹا تول کو بیچنا نہ کہ ناپ سے ۲۶تول پر اٹا قرض لینا۲۷روٹیوں کی بیع سلم گنتی سے۲۸روٹیوں کا گن کو قرض لینا ۲۹اموال ستہ ربویہ میں کیل ووزن کا عرف بدلنے پر امام ابویوسف کا اعتبار فرمانا ۳۰پیڑوں میں کچھ پھل آئے کچھ آنے کو ہیں ایسی حالت میں موجودہ وآئندہ کل بہار کی بیع کو امام حلوانی وامام فضل وغیرہما کا جائز فرمانا اور خود شمار کتب کا محل ہی کیا ہے۔قطع نظر اورمسائل سے یہی مسئلے اگر دیکھیں تو مذہب کے عامہ متون وشروح وفتاوئے سے کوئی کتاب ان سے خالی نہ پائیے یہ اور ان کے امثال کثیرہ جن کے خرمن سے خوشہ ابحاث آتیہ بھی ان شاء الله العزیز آتاہے سب برخلاف اصل وقیاس ہیں جنھیں ائمہ کرام وعلمائے اعلام نے تعامل وعرف پر مبنی فرمایا اب کیا کوئی ثابت کرسکتاہے کہ ان باتوں کا تعامل زمانہ اقدس حضور پرنور سید عالم صلی صلی الله تعالی علیہ وسلم سے ہے:
حاشا ﷲ ثم حاشا ﷲ وان طلب کل طلب لاعیاہ۔ ہر گز ہرگز نہیں اگر چہ پوری محنت سے طلب کرے عاجز رہے گا۔(ت)
بھلا کھڑاؤں کا پہننا ہی زمانہ اقدس سے ثابت کرے مصحف وکتب کہاں تھیں کہ وقف ہوتے آٹے میں تول کب تھی اور مساجد میں قندیلیں لٹکانے کی زنجیریں کب تھیں۔
تبدیل کیل ووزن توخود عرف حادث ہی میں کلام آئےء جس کا غیر ستہ میں اعتبار تو مجمع علیہ اور ستہ میں امام ثانی کےنزدیك جسے محقق علی الطلاق نے ترجیح دی اور دربارہ مسائل اوقاف تو عبارات مذکورہ درمختاروخلاصۃ وفتح القدیر وعالمگیریہ وفتاوی ظہیریہ ونہر الفائق ومنح الغفار وغیرہ نص صریح ہیں کہ سب عرف حادث ہیںیہاں تك کہ ان میں بہت باتیں زمانہ امام محمد کے بعد پید اہوئیںبالجملہ ان جزئیات میں دلیل قائم ہے تو حدوث پر قدم توکوئی ثابت کرہی نہیں سکتا۔
ومن ادعی فعلیہ البیان وعلینا ردہ بابین تبیان ان شاء اﷲ العزیز المنان۔ اور جو دعوی کرے اس پر بیان لازم ہے اور ہم پر اس کا رد بہت واضح اندا زپر لازم ہے ان شاء الله العزیز المنان۔(ت)
بحث ثالث:کیا ضروت ہے کہ وہ عرف تمام جہان کے تمام مسلمانوں کومحیط وشامل ہواقول: بعض علماء کے کلام میں ایسا مترشح لیجعلہ من باب الاجماع(تاکہ اجماع کے باب میں داخل کرے)مگر حق یہ ہے کہ نہ یہ اصلا لازم نہ کلمات سائر ائمہ کرام سلف خلف علمائے اعلام اس کے ملائم بلکہ
حاشا ﷲ ثم حاشا ﷲ وان طلب کل طلب لاعیاہ۔ ہر گز ہرگز نہیں اگر چہ پوری محنت سے طلب کرے عاجز رہے گا۔(ت)
بھلا کھڑاؤں کا پہننا ہی زمانہ اقدس سے ثابت کرے مصحف وکتب کہاں تھیں کہ وقف ہوتے آٹے میں تول کب تھی اور مساجد میں قندیلیں لٹکانے کی زنجیریں کب تھیں۔
تبدیل کیل ووزن توخود عرف حادث ہی میں کلام آئےء جس کا غیر ستہ میں اعتبار تو مجمع علیہ اور ستہ میں امام ثانی کےنزدیك جسے محقق علی الطلاق نے ترجیح دی اور دربارہ مسائل اوقاف تو عبارات مذکورہ درمختاروخلاصۃ وفتح القدیر وعالمگیریہ وفتاوی ظہیریہ ونہر الفائق ومنح الغفار وغیرہ نص صریح ہیں کہ سب عرف حادث ہیںیہاں تك کہ ان میں بہت باتیں زمانہ امام محمد کے بعد پید اہوئیںبالجملہ ان جزئیات میں دلیل قائم ہے تو حدوث پر قدم توکوئی ثابت کرہی نہیں سکتا۔
ومن ادعی فعلیہ البیان وعلینا ردہ بابین تبیان ان شاء اﷲ العزیز المنان۔ اور جو دعوی کرے اس پر بیان لازم ہے اور ہم پر اس کا رد بہت واضح اندا زپر لازم ہے ان شاء الله العزیز المنان۔(ت)
بحث ثالث:کیا ضروت ہے کہ وہ عرف تمام جہان کے تمام مسلمانوں کومحیط وشامل ہواقول: بعض علماء کے کلام میں ایسا مترشح لیجعلہ من باب الاجماع(تاکہ اجماع کے باب میں داخل کرے)مگر حق یہ ہے کہ نہ یہ اصلا لازم نہ کلمات سائر ائمہ کرام سلف خلف علمائے اعلام اس کے ملائم بلکہ
صراحۃ اسکے خلاف پر قاضی وحاکم۔
اولا: ابھی تحریر الاصول امام ابن الہمام وبحرالرائق وردالمحتارسے گزرا: التعامل ھوالاکثر استعمالا (تعامل وہ ہے جس کا استعمال کثیر ہو۔ت) الاشباہ والنظائر میں ہے:
انما تعتبر العادۃ اذا اطردت اوغلبت ۔ عادت وہ معتبر ہے جب وہ عام اور غالب ہوجائے۔(ت)
ثانیا: انھیں مسائل مذکورہ کو دیکھئے جن میں علمائے مذہب محل عرف وتعامل مانا کیا کوئی ثابت کرسکتاہے کہ تمام بلاد کے تمام عباد کایہی عرف ہے۔بھلا کھڑاؤں کہاں کہاں پہنچی جاتی ہےپٹھے دار کہاں کہاں ہوتی ہےاون کی ٹوپی کہاں کہاں بنی جاتی ہےایك دے کر دوسری اس کے ساتھ کی کہاں کہاں بنی ہےکلہاڑیبسولاآراپھاوڑا چارپائیگھڑےلوٹے دیگدیگچی طشتدودھدہی کے لئے گائے بیچ لےکے غلہ قرض کے لئے روپیہ کہاں کہاں وقف ہوئے ہیں الی غیر ذلك ممالایخفی۔
ثالثا: حاشا لله یہ اگر عرف وتعامل حقیقتا اجماع کل مسلمانان ہند درکنار اتفاق اکثر مومنین جمیع بلاد ہی مراد علماءہوتا تو مسئلہ کالمستحیل ہوجاتا اور اس کی بناء پر حکم ناممکن رہتا۔زمانہ مشائخ کرام میں بحمدالله تعالی الام مغارب ارض سے مشارق تك پھیل چکا تھامسلمان اقطاروآفاق میں آباد تھے کوئی شخص ان بلاد وقری وشعاب وجبال کی گنتی بھی نہ بتا سکتا جہاں جہاں لا الہ الا الله محمد رسول الله پکارا جاتا تھا جل جلالہ وصلی الله تعالی علیہ وسلمچہ جائے آنکہ مسلمانوں کا شمار چہ جائے آنکہ ان سے کے عمل وعرف پر اطلاع اور بغیر اس کے کسی کام میں حکم لگانا کہ عامہ بقاع کے جمہور مسلمین کا عرف یوں ہے قطعا محال تو کسی مسئلہ کو عرف و تعامل پر بنا کرناہی ممتنع ہوتادورکیوں جائیے اب تو ریل بھی آگبوٹ بھی ہے تار بھی ہےاخبار بھی ہےڈاك کے سلسلہ بھی منظم ہیں۔مہینوں کی راہیں دنوں میں طے ہوتی ہیںگھر بیٹھے اقطار وامصار کی جھوٹی سچی خبریں ملتی ہیںمدتہا مدت سے جغرافیہ کے عظیم اہتمام ہیں کروڑوں روپے کے صرف مشرق ومغرب کی پیمائش ہوتی ہے۔بلادوبقاع کے طول وعرض جانچے جاتے ہیںآئے دن تازہ تازہ اطلسیں بنتی رہتی ہیںغرض جس قدر دین کا انحطاط وتنزل ہے
اولا: ابھی تحریر الاصول امام ابن الہمام وبحرالرائق وردالمحتارسے گزرا: التعامل ھوالاکثر استعمالا (تعامل وہ ہے جس کا استعمال کثیر ہو۔ت) الاشباہ والنظائر میں ہے:
انما تعتبر العادۃ اذا اطردت اوغلبت ۔ عادت وہ معتبر ہے جب وہ عام اور غالب ہوجائے۔(ت)
ثانیا: انھیں مسائل مذکورہ کو دیکھئے جن میں علمائے مذہب محل عرف وتعامل مانا کیا کوئی ثابت کرسکتاہے کہ تمام بلاد کے تمام عباد کایہی عرف ہے۔بھلا کھڑاؤں کہاں کہاں پہنچی جاتی ہےپٹھے دار کہاں کہاں ہوتی ہےاون کی ٹوپی کہاں کہاں بنی جاتی ہےایك دے کر دوسری اس کے ساتھ کی کہاں کہاں بنی ہےکلہاڑیبسولاآراپھاوڑا چارپائیگھڑےلوٹے دیگدیگچی طشتدودھدہی کے لئے گائے بیچ لےکے غلہ قرض کے لئے روپیہ کہاں کہاں وقف ہوئے ہیں الی غیر ذلك ممالایخفی۔
ثالثا: حاشا لله یہ اگر عرف وتعامل حقیقتا اجماع کل مسلمانان ہند درکنار اتفاق اکثر مومنین جمیع بلاد ہی مراد علماءہوتا تو مسئلہ کالمستحیل ہوجاتا اور اس کی بناء پر حکم ناممکن رہتا۔زمانہ مشائخ کرام میں بحمدالله تعالی الام مغارب ارض سے مشارق تك پھیل چکا تھامسلمان اقطاروآفاق میں آباد تھے کوئی شخص ان بلاد وقری وشعاب وجبال کی گنتی بھی نہ بتا سکتا جہاں جہاں لا الہ الا الله محمد رسول الله پکارا جاتا تھا جل جلالہ وصلی الله تعالی علیہ وسلمچہ جائے آنکہ مسلمانوں کا شمار چہ جائے آنکہ ان سے کے عمل وعرف پر اطلاع اور بغیر اس کے کسی کام میں حکم لگانا کہ عامہ بقاع کے جمہور مسلمین کا عرف یوں ہے قطعا محال تو کسی مسئلہ کو عرف و تعامل پر بنا کرناہی ممتنع ہوتادورکیوں جائیے اب تو ریل بھی آگبوٹ بھی ہے تار بھی ہےاخبار بھی ہےڈاك کے سلسلہ بھی منظم ہیں۔مہینوں کی راہیں دنوں میں طے ہوتی ہیںگھر بیٹھے اقطار وامصار کی جھوٹی سچی خبریں ملتی ہیںمدتہا مدت سے جغرافیہ کے عظیم اہتمام ہیں کروڑوں روپے کے صرف مشرق ومغرب کی پیمائش ہوتی ہے۔بلادوبقاع کے طول وعرض جانچے جاتے ہیںآئے دن تازہ تازہ اطلسیں بنتی رہتی ہیںغرض جس قدر دین کا انحطاط وتنزل ہے
حوالہ / References
رالمحتار بحوالہ البحرالرائق کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۵€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۲۸€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۲۸€
اسی قدر دنیوی ترقیاں ہیں جسے دنیا پرست عبید النفس ترقی گارہے ہیں زمانہ مشائخ کرام رضی الله تعالی عنہم میں ان آسانیوں سے ایك بھی نہ تھیاب اس تیسر اسباب وتفتح ابواب ہی کے زمانے میں کوئی شخص ٹھیك ٹھیك طور پر بتادے کہ آفاق واقطار شرق وغرب وجنوب وشمال کے بلاد وقری و صحاری وجزائر وجبال میں حقیقی مسلمان جن کا عرف شرعا ملحوظ ومقصود ہو نہ نیچیری وغیرہم کفار مدعیان اسلام کہ ان جیسے کروڑوں کا تعامل ہو تو مطلقا مردود ہوں کہاں کہاں آباد ہیں ہرجگہ کے سچے مسلمانوں کی صحیح مردم شماری کیا ہے کسی معاملہ خاص میں ان میں ہر ایك کا عرف وعمل کس طور پر رہا ہےحصر بلاد وشمار عباد جوکچھ بیان کرے اس پر دلیل معقول قابل قبول دکھائےنہ یہ کہ فلاں سال کی مردم شماری میں اسی قدر معدود فلاں اطلس میں اتنے ہی موجود کہ اس حصر اور اس کے جامع ومانع ہونے کی جوقعت ہے ہر ذی عقل وانصاف کو معلوم ومشہودمردم شماری تو محض مہمل ومختل اٹکل ہےاطلسیں جن کے محکمے مقررہیں اور بڑے بڑے انتظام کروڑوں کے صرف ہیں اور ہزاروں اہتمام حصرو شمار بقاع درکنار جو آنکھوں دیکھی اور قواعد مضبوطہ ہیات پر مبنی ہے یعنی عرض وطول بلاد اس میں اختلاف دیکھئےکبھی دو اطلسیں متفق نہ پائے گا ع
ہرکہ آمد عمارت نوساخت
(ہر آنے والا نئی عمارت تعمیر کرتاہے۔ت)
سبحان الله ! اجماع شرعی جس میں اتفاق ائمہ مجتہدین پر نظر تھیعلماء نے تصریح فرمائی کہ بوجہ شیوع وانتشار علماء فی البلاد دوصدی کے بعد اس کے او راك کی کوئی راہ نہ رہی مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت میں ہے:
(قال الامام احمد من ادعی الاجماع)علی امر(فہو کاذب والجواب انہ محمول علی حدوثہ الان)فان کثرۃ العلماء والتفرق فی البلاد الغیر المعروفین مریب فی نقل اتفاقہم ۔ امام حمد رحمہ الله نے فرمایا جو کسی معاملہ میں اجماع کا دعوی کرے تو جھوٹا ہےاس کا جواب یہ ہے کہ آپ کی بات موجود دور کے واقعہ یہ ہے کہ محمول ہے کیونکہ علماء کی کثرت اور غیر معروف علاقوں میں ان کا متفرق ہوجانا ان کے اتفاق کو نقل کرنے میں شہبہ پیدا ہوتاہے۔(ت)
ہرکہ آمد عمارت نوساخت
(ہر آنے والا نئی عمارت تعمیر کرتاہے۔ت)
سبحان الله ! اجماع شرعی جس میں اتفاق ائمہ مجتہدین پر نظر تھیعلماء نے تصریح فرمائی کہ بوجہ شیوع وانتشار علماء فی البلاد دوصدی کے بعد اس کے او راك کی کوئی راہ نہ رہی مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت میں ہے:
(قال الامام احمد من ادعی الاجماع)علی امر(فہو کاذب والجواب انہ محمول علی حدوثہ الان)فان کثرۃ العلماء والتفرق فی البلاد الغیر المعروفین مریب فی نقل اتفاقہم ۔ امام حمد رحمہ الله نے فرمایا جو کسی معاملہ میں اجماع کا دعوی کرے تو جھوٹا ہےاس کا جواب یہ ہے کہ آپ کی بات موجود دور کے واقعہ یہ ہے کہ محمول ہے کیونکہ علماء کی کثرت اور غیر معروف علاقوں میں ان کا متفرق ہوجانا ان کے اتفاق کو نقل کرنے میں شہبہ پیدا ہوتاہے۔(ت)
حوالہ / References
فواتیح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفٰی الاصل الثالث الاجماع منشورات الشریف الرضی ∞قیم ایران ۲/ ۲۱۲€
نیز فواتح میں ہے:
تحقیق المقام ان فی القرون الثلثۃ لاسیما القرن الاول قرن الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم کان المجتہدون معلومین باسمائہم واعیانہم و امکنتہم خصوصا بعد وفاۃ رسول ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم زمانا قلیلا ویمکن معرفۃ اقوالہم و احوالہم للجادفی الطلب۔نعم لا یمکن معرفۃ الاجماع ولاالنقل الآن لتفرق العلماء شرقا وغربا و لایحیط بہم علم احد اھ ملخصین۔ مقام کی تحقیق یہ ہے کہ پہلے تین قرن خصوصا صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہ کا قرن(زمانہ)جو اول قرن ہے اس میں مجتہدین حضرات اپنے ناموںذاتوں اور مقامات کے اعتبار سے خصوصا حضو رعلیہ الصلوۃ والسلام کے وصال شریف کے بعد قلیل زمانہ تك معروف تھے اور ان کے اقوال واحوال کی معرفت کے لئے جدوجہد کرنا ممکن تھاہاں آج اجماع کی معرفت ممکن نہیں اور نہ ہی اس کونقل کرنا ممکن رہا کیونکہ علماء کرام شرقا غربا متفرق ہوچکے ہیں جن کو کسی ایك شخص کا علم احاطہ نہیں کرسکتااھ مذکور دونوں عبارتیں ملخص ہیں (ت)
جب صر ف مجہتدین کا اتفاق معلوم نہیں ہوسکتا تو عرف وتعامل جس میں اجتہاد درکنار علم بھی درکنار نہیںعلماء وجہلاء سب کا علمدرآمد ملحوظ ہے۔اس میں اتفاق کل کیا معنیاتفاق اکثر کا علم بھی بدرجہ اولی محال وناممکن ہے کہ آخر اکثر کل کل علماء سے ضرور اکثر ہے۔
رابعا: کیاکوئی ایك بارکا بھی نشان دے سکتاہے کہ ائمہ کرام ومشائخ اعلام نے جب ایك امر میں بربنائے عرف وتعامل حکم فرمانا چاہا ہو تو تمام بلاد وبقاع عالم کے تمام مسلمین کے عرف وعمل کی خبر معلوم فرمالیہر ہر شہر وقریہ ودرہ کوہ وجزیرہ وبادیہ میں تحقیق تعارف کے لئے شہود عدل بھیجے ہوںتمام اسلامی جہاں کی مردم شماری مفتح کی ہو پھر بعد ثبوت حصر وشمار بلحاظ کل نہیں بلحاظ اکثر ہی حکم دیا ہو۔یا بلا تفتیش خودہی پیش از حکم ان تمام امور کے پرچے ان کی خدمات عالیہ میں گزرتے ہوںحاشا لله ہر گز نہیں نہ کبھی اس کا قصد فرمایا نہ اصلا اس کی طرف راہ تھینہ یہ امور تعامل مسائل عقائدتھے جن پر سواد اعظم کااتفاق دلائل وبراہین شرع سے خود ہی معلوم ہے۔نہ یہ
تحقیق المقام ان فی القرون الثلثۃ لاسیما القرن الاول قرن الصحابۃ رضی اﷲ تعالی عنہم کان المجتہدون معلومین باسمائہم واعیانہم و امکنتہم خصوصا بعد وفاۃ رسول ﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم زمانا قلیلا ویمکن معرفۃ اقوالہم و احوالہم للجادفی الطلب۔نعم لا یمکن معرفۃ الاجماع ولاالنقل الآن لتفرق العلماء شرقا وغربا و لایحیط بہم علم احد اھ ملخصین۔ مقام کی تحقیق یہ ہے کہ پہلے تین قرن خصوصا صحابہ کرام رضی الله تعالی عنہ کا قرن(زمانہ)جو اول قرن ہے اس میں مجتہدین حضرات اپنے ناموںذاتوں اور مقامات کے اعتبار سے خصوصا حضو رعلیہ الصلوۃ والسلام کے وصال شریف کے بعد قلیل زمانہ تك معروف تھے اور ان کے اقوال واحوال کی معرفت کے لئے جدوجہد کرنا ممکن تھاہاں آج اجماع کی معرفت ممکن نہیں اور نہ ہی اس کونقل کرنا ممکن رہا کیونکہ علماء کرام شرقا غربا متفرق ہوچکے ہیں جن کو کسی ایك شخص کا علم احاطہ نہیں کرسکتااھ مذکور دونوں عبارتیں ملخص ہیں (ت)
جب صر ف مجہتدین کا اتفاق معلوم نہیں ہوسکتا تو عرف وتعامل جس میں اجتہاد درکنار علم بھی درکنار نہیںعلماء وجہلاء سب کا علمدرآمد ملحوظ ہے۔اس میں اتفاق کل کیا معنیاتفاق اکثر کا علم بھی بدرجہ اولی محال وناممکن ہے کہ آخر اکثر کل کل علماء سے ضرور اکثر ہے۔
رابعا: کیاکوئی ایك بارکا بھی نشان دے سکتاہے کہ ائمہ کرام ومشائخ اعلام نے جب ایك امر میں بربنائے عرف وتعامل حکم فرمانا چاہا ہو تو تمام بلاد وبقاع عالم کے تمام مسلمین کے عرف وعمل کی خبر معلوم فرمالیہر ہر شہر وقریہ ودرہ کوہ وجزیرہ وبادیہ میں تحقیق تعارف کے لئے شہود عدل بھیجے ہوںتمام اسلامی جہاں کی مردم شماری مفتح کی ہو پھر بعد ثبوت حصر وشمار بلحاظ کل نہیں بلحاظ اکثر ہی حکم دیا ہو۔یا بلا تفتیش خودہی پیش از حکم ان تمام امور کے پرچے ان کی خدمات عالیہ میں گزرتے ہوںحاشا لله ہر گز نہیں نہ کبھی اس کا قصد فرمایا نہ اصلا اس کی طرف راہ تھینہ یہ امور تعامل مسائل عقائدتھے جن پر سواد اعظم کااتفاق دلائل وبراہین شرع سے خود ہی معلوم ہے۔نہ یہ
حوالہ / References
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفی الاصل الثالث الاجماع منشورات الشریف الرضی ∞قم ایران ۲/ ۱۳۔۲۱۲€
حسن عدلقبح ظلم وتقدیم قاطع علی المظنون کی طرح امور ضروریہ ہیں۔جن پر اتفاق عقلاء کی عقل خود شہادت دےنہ ایسے مسائل نزاعیہ تھے جن کی نفی واثبات ورد واحقاق میں فرقے بن گئے ہوںنہ سالہاسال تحصیل فتاوی فقہائے امصار وعلمائے اقطار میں سخت وبلیغ کوششیں ہوئی ہوںبعد مرور دہور وکرعصور قرائن خارجیہ سے اتفاق اکثرکا علم حاصل ہولیااس کے بعد ائمہ نے بربنائے تعامل فتوی دیا ہوہمیشہ لاجرم اپنے ہی قطرکے بلاد کثیرہ میں عمل غالب کا نام عرف وتعامل رکھا اور اسی کو مبنائے احکام قرار دیا ہے۔انصاف کیجئے تو امر واضح ہے اور انکار مکابرہ او رشکوك بے معنی کی راہ کب بندمگر عندالله انصاف جب صبح مسفر ہوتو تشکك ناپسندواﷲیقول الحق وھو یھدی السبیل(الله تعالی کا قول ہی حق ہے اوروہی راستہ بتاتاہے۔ت)
خامسا: ایں وآں پرکیوں نظرکیجئے خود حضرات علمائے کرام ہی سے نہ پوچھ لیجئے کہ عرف و تعامل سے مراد حضرات کیاہوتی ہے صدہا جگہ علمائے مستدلین استدلال بالعرف کے ساتھ تصریح فرماتے ہیں کہ یہ ہمارے دیار کا عرف ہے یہ فلاں بلا دکا تعامل ہے انھیں مسائل مذکورہ میں دیکھیں محقق حیث اطلق مسئلہ سوم میں فرماتے ہیں:
مثلہ فی دیارنا شراء القبقاب ۔ اسی طرح ہمارے علاقہ میں کھڑاؤں کو خریدنا۔(ت)
حاوی عــــــہ پھر خلاصہ پھر فتح پھر ردالمحتار مسئلہ بست ودوم میں:مثل ھذا کثیر فی الری وناحیۃ دماوند (رے اور دماوند کے علاقہ میں ایسا کثیر ہے۔ت)ظہیریہ وہندیہ بست وسوم
عــــــہ: ذکر مسألۃ وقف الکروالاکسیۃ نقلہا سند مونی فی الخلاصۃ ثم قال المسائل الثلث فی الحاوی وانما لم نعدہ فیما مرلان الشامی نقلہا عن الفتح والفتح عنہا و لم یذکر العزوللحاوی ۱۲۔ پیمانہ کر اور کپڑوں کے وقف کا مسئلہ سند مونی نے خلاصہ میں ذکر کیا ہے پھر کہا تینوں مسائل حاوی میں ہیں اورمیں نے گزشتہ مقام پر اس کو صرف اسی لئے شمار نہ کیا کیونکہ علامہ شامی نے فتح سے اور اس میں خلاصہ سے نقل کیا ہے اور انھوں نے حاوی کی طرف منسوب نہ کیا(ت)
خامسا: ایں وآں پرکیوں نظرکیجئے خود حضرات علمائے کرام ہی سے نہ پوچھ لیجئے کہ عرف و تعامل سے مراد حضرات کیاہوتی ہے صدہا جگہ علمائے مستدلین استدلال بالعرف کے ساتھ تصریح فرماتے ہیں کہ یہ ہمارے دیار کا عرف ہے یہ فلاں بلا دکا تعامل ہے انھیں مسائل مذکورہ میں دیکھیں محقق حیث اطلق مسئلہ سوم میں فرماتے ہیں:
مثلہ فی دیارنا شراء القبقاب ۔ اسی طرح ہمارے علاقہ میں کھڑاؤں کو خریدنا۔(ت)
حاوی عــــــہ پھر خلاصہ پھر فتح پھر ردالمحتار مسئلہ بست ودوم میں:مثل ھذا کثیر فی الری وناحیۃ دماوند (رے اور دماوند کے علاقہ میں ایسا کثیر ہے۔ت)ظہیریہ وہندیہ بست وسوم
عــــــہ: ذکر مسألۃ وقف الکروالاکسیۃ نقلہا سند مونی فی الخلاصۃ ثم قال المسائل الثلث فی الحاوی وانما لم نعدہ فیما مرلان الشامی نقلہا عن الفتح والفتح عنہا و لم یذکر العزوللحاوی ۱۲۔ پیمانہ کر اور کپڑوں کے وقف کا مسئلہ سند مونی نے خلاصہ میں ذکر کیا ہے پھر کہا تینوں مسائل حاوی میں ہیں اورمیں نے گزشتہ مقام پر اس کو صرف اسی لئے شمار نہ کیا کیونکہ علامہ شامی نے فتح سے اور اس میں خلاصہ سے نقل کیا ہے اور انھوں نے حاوی کی طرف منسوب نہ کیا(ت)
حوالہ / References
فتح القدیر کتاب البیوع باب البیع الفاسد ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۸۵€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۴€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۴€
میںان کان ذلك بہ فی موضع تعارفوا (اگریہ ایسے مقام میں ہے جہاں اس پر تعارف ہو۔ت)امام طاہرین عبدالرشید پھر امام ابن الہمام پھر علامہ شامی ان کان ذلك فی موضع غلب ذلك فی اوقافہم (اگریہ ایسے مقام میں ہوں جہاں لوگوں میں اس کا وقف مروج ہو۔ت) علامہ عمر بن نجیم مسئلہ بست وچہارم میں تعورف فی الدیار الرومیۃ (روم کے علاقہ میں یہ متعارف ہے۔ت)افندی ابن عابدین:دون بلادنا (ہمارے علاقہ میں نہیں۔ت)خادم فقہ ادنی تتبع میں اس کے نظائر غریرہ نکال سکتاہے۔
ثم اقول: وبالله التوفیق سب سے قطع نظر کرکے علمائے کرام کا وہ نفس کلام جو مسئلہ اعتبارات عرف میں ذکر فرمایا بنظر نبیہ مطالعہ کیجئے تو خود ہی شاہد عدل وحجت فصل ہے کہ عرف عام سے ان کی مراد نہ ہرگز مستمر من زمن رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم ہےنہ عرف محیط اجماعینہ عرف اکثر مسلمین جملہ بلاد عالم کہ اول قطعا مثل نص رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ہے۔
لکونہ تقریر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وتقریرہ کقولہ اوجب من فعلہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لان الفعل یحتمل ان یکون خصوصیۃ لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ کیونکہ یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تقریر(تائید)ہے اور آپ کی تقریر آپ کے عمل سے زیادہ موجب ہے کیونکہ عمل میں آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی خصوصیت کا احتمال ہے۔ (ت)
تو اگر نص اسکے خلاف پایا جائے ضرور صالح تعارض ہوگا اور بحال تاریخ اسے فسخ کردے گا نہ یہ کہ قول اقدس کے مطابق تقریر اقدس کو مطلقا رد کردیں۔علامہ شمس الدین محمد بن حمزہ فتاوی فصول البدائع فی اصول الشرائع بیان ضرورت میں فرماتے ہیں:
اقسام اربعۃ(۱)ماھو فی حکم النطوق لزومہ منہ عرفا (۲)مابینہ حال اس کی چارقسمیں ہیں:(۱)وہ جو عرفا لزوم میں منطوق کے حکم میں ہے(۲)وہ جس کو سکوت
ثم اقول: وبالله التوفیق سب سے قطع نظر کرکے علمائے کرام کا وہ نفس کلام جو مسئلہ اعتبارات عرف میں ذکر فرمایا بنظر نبیہ مطالعہ کیجئے تو خود ہی شاہد عدل وحجت فصل ہے کہ عرف عام سے ان کی مراد نہ ہرگز مستمر من زمن رسول اﷲ صلی الله تعالی علیہ وسلم ہےنہ عرف محیط اجماعینہ عرف اکثر مسلمین جملہ بلاد عالم کہ اول قطعا مثل نص رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ہے۔
لکونہ تقریر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم وتقریرہ کقولہ اوجب من فعلہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لان الفعل یحتمل ان یکون خصوصیۃ لہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم۔ کیونکہ یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تقریر(تائید)ہے اور آپ کی تقریر آپ کے عمل سے زیادہ موجب ہے کیونکہ عمل میں آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کی خصوصیت کا احتمال ہے۔ (ت)
تو اگر نص اسکے خلاف پایا جائے ضرور صالح تعارض ہوگا اور بحال تاریخ اسے فسخ کردے گا نہ یہ کہ قول اقدس کے مطابق تقریر اقدس کو مطلقا رد کردیں۔علامہ شمس الدین محمد بن حمزہ فتاوی فصول البدائع فی اصول الشرائع بیان ضرورت میں فرماتے ہیں:
اقسام اربعۃ(۱)ماھو فی حکم النطوق لزومہ منہ عرفا (۲)مابینہ حال اس کی چارقسمیں ہیں:(۱)وہ جو عرفا لزوم میں منطوق کے حکم میں ہے(۲)وہ جس کو سکوت
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الوقف الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۲/ ۳۶۱€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۴€
ردالمحتار بحوالہ النہر کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۴€
ردالمحتار بحوالہ النہر کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۵€
ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۴€
ردالمحتار بحوالہ النہر کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۴€
ردالمحتار بحوالہ النہر کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۳/ ۳۷۵€
الساکت القادر کسکوت النبی صلی اﷲ تعالی علیہ و سلم عن تغییر مایعاینہ من قول اوفعل من مسلم حتی لو سکت عما سبق نہیہ کان نسخا لان تقریرہ علی منکر منکر ۔ کرنے والے کا حال بیان کرے حالانکہ وہ بیان پر قادرتھاجیسے حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کسی مسلمان کا قول یا فعل دیکھ کر اس کو تبدیل کرنے سے خاموشی اختیار فرمائیں حتی کہ ایسی چیز جس پر پہلے نہی وارد ہوچکی ہو تو یہ خاموشی اس کے لئے ناسخ قرار پائے گی کیونکہ برائی پر خاموشی خودبرائی ہے۔(ت)
علامہ اجل مولی خسروصاحب درروغرر مرأۃ الاصول شرح مرقاۃ الوصول میں فرماتے ہیں:
(ماقررہ)صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(ان کان مماعلم انکارہ کذھاب کافر الی کنیسۃ فلا اثر لسکوتہ و الادل علی الجواز)ای جواز ذلك الفعل من فاعلہ و من غیرہ اذاثبت ان حکمہ علی الواحدحکمہ علی الجماعۃ فان کان مماسبق تحریمہ فھذا نسخ لتحریمہ ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے جس چیز پر تقریر فرمائی اگر وہ چیز ایسی ہے جس کا برا ہونا یقینی طورپر معلوم ہو جیسے کافر کااپنے عبادت خانہ میں جانا تویہ تقریر وخاموشی موثر نہ ہوگی ورنہ وہ خاموشی اور تقریر اس چیز کے جواز پر دال ہوگی خواہ وہی فاعل کرے یا کوئی اور کرے بشرطیکہ وہاں ایك پرحکم سب کے طور پر ثابت ہو تو اگر وہ چیز ایسی ہو کہ اس کی تحریر پہلے ہوچکی ہو تو یہ تقریر اس حرمت کے لئے ناسخ ہوگی۔(ت)
فاضل محمد ازمیری اس کے حاشیہ میں شرح مختصر الاصول للعلامۃ اکمل الدین سے ناقل:
اذا علم رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فعل مکلف ولم ینکرہ قادرا علیہ فان کان الفعل قابلا للنسخ فان لم یسبق تحریمہ دل سکوتہ علی جوازہ وان سبق کان سکوتہ ناسخا جب حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کسی مسلمان مکلف کا عمل دیکھیں اور آپ منع پر قدرت کے باوجود منع نہ فرمائیں تو اگر وہ فعل قابل نسخ ہوجس کی تحریم پہلے نہ ہوچکی ہو تو آپ کا سکوت اس عمل کے جوازپر دال ہوگا اور اگر پہلے اس عمل کی تحریم ہوچکی ہو توآپ کایہ سکوت اس تحریم کے لئے ناسخ قرار
علامہ اجل مولی خسروصاحب درروغرر مرأۃ الاصول شرح مرقاۃ الوصول میں فرماتے ہیں:
(ماقررہ)صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم(ان کان مماعلم انکارہ کذھاب کافر الی کنیسۃ فلا اثر لسکوتہ و الادل علی الجواز)ای جواز ذلك الفعل من فاعلہ و من غیرہ اذاثبت ان حکمہ علی الواحدحکمہ علی الجماعۃ فان کان مماسبق تحریمہ فھذا نسخ لتحریمہ ۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے جس چیز پر تقریر فرمائی اگر وہ چیز ایسی ہے جس کا برا ہونا یقینی طورپر معلوم ہو جیسے کافر کااپنے عبادت خانہ میں جانا تویہ تقریر وخاموشی موثر نہ ہوگی ورنہ وہ خاموشی اور تقریر اس چیز کے جواز پر دال ہوگی خواہ وہی فاعل کرے یا کوئی اور کرے بشرطیکہ وہاں ایك پرحکم سب کے طور پر ثابت ہو تو اگر وہ چیز ایسی ہو کہ اس کی تحریر پہلے ہوچکی ہو تو یہ تقریر اس حرمت کے لئے ناسخ ہوگی۔(ت)
فاضل محمد ازمیری اس کے حاشیہ میں شرح مختصر الاصول للعلامۃ اکمل الدین سے ناقل:
اذا علم رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فعل مکلف ولم ینکرہ قادرا علیہ فان کان الفعل قابلا للنسخ فان لم یسبق تحریمہ دل سکوتہ علی جوازہ وان سبق کان سکوتہ ناسخا جب حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کسی مسلمان مکلف کا عمل دیکھیں اور آپ منع پر قدرت کے باوجود منع نہ فرمائیں تو اگر وہ فعل قابل نسخ ہوجس کی تحریم پہلے نہ ہوچکی ہو تو آپ کا سکوت اس عمل کے جوازپر دال ہوگا اور اگر پہلے اس عمل کی تحریم ہوچکی ہو توآپ کایہ سکوت اس تحریم کے لئے ناسخ قرار
حوالہ / References
فصول البدائع فی اصول الشرائع
مرأۃ الاصول شرح مرقاۃالوصول
مرأۃ الاصول شرح مرقاۃالوصول
لتحریمہ اھ مختصرات۔ پائے گا۔اھ مختصرات۔(ت)
اور دوم عین اجماع تو نص آحاد سے اقوی اور قطعا مظہر ناسخ کہ نص غیر منسوخ کے خلاف اجماع محال تو اس کا حقیقتا معارض نص واقع ہونا معقول ہی نہیں۔اوربظاہر ہو تو ہر گز مردود نہ ہوگا بلکہ وہی مرجح ہوگا اور نص ناسخ کابتانے والا۔
وھذا معنی قولہم ان الاجماع لاینسخ اماکونہ کاشفا عن ناسخ فاجماع یظہر ذلك لمن راجع مطارحاتہم فی المسئلۃ۔ ان کے قول کہ"اجماع منسوخ نہیں ہوتا"کایہی معنی ہے لیکن اجماع کا کسی ناسخ کے لئے کاشف ہونا یہ اتفاقی مسئلہ ہے یہ بات اس شخص پر ظاہر جو اس مسئلہ میں فقہاء کی ابحاث پر مراجعت رکھتاہے۔(ت)
مسلم وفواتح فصل ترجیح میں ہے:
الاجماعیترجع(علی النص) ۔ اجماع نص پر ترجیح پاتاہے۔(ت)
فواتح فصل تعارض میں ہے:
الاجماع مرجح ومقدم علی الکل عند معارضتہ ایاھا لانہ لایکون منسوخا بکتاب اوسنۃ ولایکون باطلا فتعین ان یکون الکتاب والسنۃ ولوکانت متواترۃ منسوخۃ والاجماع کاشف عن النسخ ۔ اجماع تمام دلائل پر ترجیح یافتہ اور مقدم ہوتاہے جس کا ان دلائل سے تعارض ہوکیونکہ اجماع کتاب یا سنت سے منسوخ نہیں ہوتا اور نہ ہی کتاب وسنت کا مظہر ہے جو کسی کتا ب وسنت کا ناسخ ہے اگر چہ یہ متواتر کیوں نہ ہو۔(ت)
اوررسوم کی حجیت مطلقہ تامہ وافیہ پر نصوص صریحہ ناطقہتو اس کا اضمحلال معاذالله سواداعظم کا وقوع فی الضلال اور وہ شرعا محال ہے۔
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتجتمع امتی علی الضلالۃ وقولہ صلی اﷲ حضو ر صلی الله تعالی علیہ وسلم کا ارشاد کہ میری امت گمراہی پرمجتمع نہیں ہوسکتیاور کہ جماعت پر
اور دوم عین اجماع تو نص آحاد سے اقوی اور قطعا مظہر ناسخ کہ نص غیر منسوخ کے خلاف اجماع محال تو اس کا حقیقتا معارض نص واقع ہونا معقول ہی نہیں۔اوربظاہر ہو تو ہر گز مردود نہ ہوگا بلکہ وہی مرجح ہوگا اور نص ناسخ کابتانے والا۔
وھذا معنی قولہم ان الاجماع لاینسخ اماکونہ کاشفا عن ناسخ فاجماع یظہر ذلك لمن راجع مطارحاتہم فی المسئلۃ۔ ان کے قول کہ"اجماع منسوخ نہیں ہوتا"کایہی معنی ہے لیکن اجماع کا کسی ناسخ کے لئے کاشف ہونا یہ اتفاقی مسئلہ ہے یہ بات اس شخص پر ظاہر جو اس مسئلہ میں فقہاء کی ابحاث پر مراجعت رکھتاہے۔(ت)
مسلم وفواتح فصل ترجیح میں ہے:
الاجماعیترجع(علی النص) ۔ اجماع نص پر ترجیح پاتاہے۔(ت)
فواتح فصل تعارض میں ہے:
الاجماع مرجح ومقدم علی الکل عند معارضتہ ایاھا لانہ لایکون منسوخا بکتاب اوسنۃ ولایکون باطلا فتعین ان یکون الکتاب والسنۃ ولوکانت متواترۃ منسوخۃ والاجماع کاشف عن النسخ ۔ اجماع تمام دلائل پر ترجیح یافتہ اور مقدم ہوتاہے جس کا ان دلائل سے تعارض ہوکیونکہ اجماع کتاب یا سنت سے منسوخ نہیں ہوتا اور نہ ہی کتاب وسنت کا مظہر ہے جو کسی کتا ب وسنت کا ناسخ ہے اگر چہ یہ متواتر کیوں نہ ہو۔(ت)
اوررسوم کی حجیت مطلقہ تامہ وافیہ پر نصوص صریحہ ناطقہتو اس کا اضمحلال معاذالله سواداعظم کا وقوع فی الضلال اور وہ شرعا محال ہے۔
لقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لاتجتمع امتی علی الضلالۃ وقولہ صلی اﷲ حضو ر صلی الله تعالی علیہ وسلم کا ارشاد کہ میری امت گمراہی پرمجتمع نہیں ہوسکتیاور کہ جماعت پر
حوالہ / References
حاشیۃ مرأۃ الاصلو للفاضل ∞محمد از میری€
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفٰی فصل فی الترجیح منشوارات الرضی ∞قم ایران ۲/ ۲۰۴€
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت فصل فی التعارض منشوارات الرضی ∞قم ایران ۲/ ۱۹۱€
جامع الترمذی ابواب الفتن باب فی لزوم الجماعۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۳۹،€المستدرك للحاکم کتاب العلم لایجتمع الله ھذہ الامۃ علی الضلالۃ دارالمفکر بیروت ∞۱/ ۱۱۵€
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذیل المستصفٰی فصل فی الترجیح منشوارات الرضی ∞قم ایران ۲/ ۲۰۴€
فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت فصل فی التعارض منشوارات الرضی ∞قم ایران ۲/ ۱۹۱€
جامع الترمذی ابواب الفتن باب فی لزوم الجماعۃ ∞امین کمپنی دہلی ۲/ ۳۹،€المستدرك للحاکم کتاب العلم لایجتمع الله ھذہ الامۃ علی الضلالۃ دارالمفکر بیروت ∞۱/ ۱۱۵€
تعالی علیہ وسلم یداﷲ علی الجماعۃ ۔وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم علیکم بالجماعۃ والعامۃ وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اتبعوا السواد الاعظم الی غیر ذلك ممابلغ مجموعہ حدالتواتر وقد سردناھا وتخاریجہا فی رسالتنا"فیہ السرین بجواب الاسئلۃ العشرین ۱۳۱۱ھ" الله کا ید ہےاور کہ تم پر جماعت اور عوام کا ساتھ لازم ہے۔ اور یہ کہ سواد اعظم کی پیروی کرو وغیرہ ذلك آپ کے ارشادات کا مجموعہ تو اتر کی حد تك ہے۔ان احادیث اور ان کی تخریج کو ہم نے اپنے رسالہ"فیح السرین بجواب الاسئلۃ العشرین" میں جمع کردیا ہے۔(ت)
فصول البدائع میں ہے:
لوندرالمخالف مع کثرۃ المتفقین کان قول الاکثر حجۃ وان لم یکن اجماعا ۔ اگر مخالف میں کوئی نادر قول ہو تو اکثر یت کا قول حجت ہوتاہے اگرچہ وہ اجماع نہ ہو۔(ت)
بالجملہ مقابلہ نص میں ثانی تو مطلقا مضمحل نہیں اعنی الطلاق العدم(میری عدم کا اطلاق ہے۔ت)اور اول بھی مطلقا مضمحل نہیں اعنی عدم الطلاق(میر مراداطلاق کاعدم ہے۔ت)اور ثالث عند التحقیق ملتحق بالثانی وان قیل وقیل(اگرچہ خلاف میں قیل قیل ہے۔ت)بعض نظائر لیجئے قرآن کریم پر اجرت لینے سے نہی میں ا حادیث کثیرہ واردیہاں تك کہ حدیث اقدس میں ہے:تعلیم قرآن پر عبادہ بن صامت رضی الله تعالی عنہ کو ایك کمان بھیجی گئی۔انھوں نے خیال کیایہ کوئی مال نہیں اور جہاد میں کام دے گیرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عرض کی۔فرمایا:
ان اردت ان یطوقك اﷲ طوقا من اگر تو چاہے کہ الله تعالی تیرے گلے میں آگ کا
فصول البدائع میں ہے:
لوندرالمخالف مع کثرۃ المتفقین کان قول الاکثر حجۃ وان لم یکن اجماعا ۔ اگر مخالف میں کوئی نادر قول ہو تو اکثر یت کا قول حجت ہوتاہے اگرچہ وہ اجماع نہ ہو۔(ت)
بالجملہ مقابلہ نص میں ثانی تو مطلقا مضمحل نہیں اعنی الطلاق العدم(میری عدم کا اطلاق ہے۔ت)اور اول بھی مطلقا مضمحل نہیں اعنی عدم الطلاق(میر مراداطلاق کاعدم ہے۔ت)اور ثالث عند التحقیق ملتحق بالثانی وان قیل وقیل(اگرچہ خلاف میں قیل قیل ہے۔ت)بعض نظائر لیجئے قرآن کریم پر اجرت لینے سے نہی میں ا حادیث کثیرہ واردیہاں تك کہ حدیث اقدس میں ہے:تعلیم قرآن پر عبادہ بن صامت رضی الله تعالی عنہ کو ایك کمان بھیجی گئی۔انھوں نے خیال کیایہ کوئی مال نہیں اور جہاد میں کام دے گیرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم سے عرض کی۔فرمایا:
ان اردت ان یطوقك اﷲ طوقا من اگر تو چاہے کہ الله تعالی تیرے گلے میں آگ کا
حوالہ / References
جامع الترمذی ابواب الفتن باب فی لزوم الجماعۃ ∞امین کمپنی دہل ۲/ ۳۹،€ا لمستدرك للحاکم کتاب العلم لایجتمع الله ہذہ الامۃ علی الضلالۃ دارالفکر بیروت ∞۱/ ۱۶۔۱۱۵€
مسند احمد بن حنبل حدیث معاذ بن جبل المکتب الاسلامی بیروت ∞۵/ ۲۳۳€
المستدرك للحاکم کتاب العلم لایجتمع الله ہذہ الامۃ علی الضلالۃ المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۱۱۵€
فصول البدائع فی اصول الشرائع
مسند احمد بن حنبل حدیث معاذ بن جبل المکتب الاسلامی بیروت ∞۵/ ۲۳۳€
المستدرك للحاکم کتاب العلم لایجتمع الله ہذہ الامۃ علی الضلالۃ المکتب الاسلامی بیروت ∞۱/ ۱۱۵€
فصول البدائع فی اصول الشرائع
نار فاقبلہا ۔رواہ ابوداؤ وابن ماجۃ وفی الباب عن عبدالرحمن بن شبل وابی ھریرۃ وعبدالرحمن بن عوف وابی کعب وابن بریدۃ وابی الدرداء وغیرہم رضی اﷲ تعالی عنہم۔ طوق ڈالے تو اسے لے لے(اسے ابوداؤد اورابن ماجہ نے اور اس باب میں عبدالرحمن بن شبل اور ابوھریرہ اورعبدالرحمن بن عوف اور ابی کعب اور ابن بریدہ اورا بی الدرداء وغیرہم رضی اﷲ تعالی عنہم نے روایت کیا۔ت)
اور قیاس بھی اسی پرشاہد۔
لان القربۃ متی حصلت وقعت عن العامل ولہذا یعتبر اھلیتہ فلایجوزلہ اخذالاجرۃ من غیرہ کالصوم و الصلوۃ کما فی الہدایۃ۔ کیونکہ قربت جب حاسل ہو توہ عامل سے واقع ہوتی ہے اس لئے عامل کی اہلیت کا اعتبار کیاجاتاہے لہذا اس پر غیر سے اجرت حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔مثلا نماز وروزہ عبادات جیسا کہ ہدایہ میں ہے۔(ت)
اورہمارے علماء کرام کامذہب بھی تحریر اور صدر اول میں قطعا رواج معدوم بایں ہمہ عرف حادث و ضرورت کے سبب جواز پر فتوی ہوا۔بستان فقیہ امام ابی اللیث میں ہے:
اما اذاعلم بالاجرۃ فقد اختلف الناس فقال اصحابنا المتقدمون لایجوز اخذ الاجرۃ وقال جماعۃ من العلماء المتاخرین یجوز فالا فضل ان یشارط للحفظ و تعلیم الہجاءوالکتابۃ فلوشرط لتعلیم القران ارجو ان لاباس بہ لان السلمین قدتوارثوا ذلك اگر اجرت پر تعلیم دی تواس میں اختلاف ہے ہمارے اصحاب متقدمین نے فرمایا اجرت وصول کرنا جائز نہیں اور متاخرین کی ایك جماعت نے فرمایا جائز ہے۔تو افضل یہ ہے حفظ قرآنتلفظ حروف اور لکھائی کی تعلیم پر اجرت کی شرط کرے۔ تو اگر تعلیم قرآن پر اجرت کی شرط کی تو مجھے امید ہے اس پر حرج نہ ہوگا کیونکہ مسلمان اس پر عمل پیرا ہیں اور
اور قیاس بھی اسی پرشاہد۔
لان القربۃ متی حصلت وقعت عن العامل ولہذا یعتبر اھلیتہ فلایجوزلہ اخذالاجرۃ من غیرہ کالصوم و الصلوۃ کما فی الہدایۃ۔ کیونکہ قربت جب حاسل ہو توہ عامل سے واقع ہوتی ہے اس لئے عامل کی اہلیت کا اعتبار کیاجاتاہے لہذا اس پر غیر سے اجرت حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔مثلا نماز وروزہ عبادات جیسا کہ ہدایہ میں ہے۔(ت)
اورہمارے علماء کرام کامذہب بھی تحریر اور صدر اول میں قطعا رواج معدوم بایں ہمہ عرف حادث و ضرورت کے سبب جواز پر فتوی ہوا۔بستان فقیہ امام ابی اللیث میں ہے:
اما اذاعلم بالاجرۃ فقد اختلف الناس فقال اصحابنا المتقدمون لایجوز اخذ الاجرۃ وقال جماعۃ من العلماء المتاخرین یجوز فالا فضل ان یشارط للحفظ و تعلیم الہجاءوالکتابۃ فلوشرط لتعلیم القران ارجو ان لاباس بہ لان السلمین قدتوارثوا ذلك اگر اجرت پر تعلیم دی تواس میں اختلاف ہے ہمارے اصحاب متقدمین نے فرمایا اجرت وصول کرنا جائز نہیں اور متاخرین کی ایك جماعت نے فرمایا جائز ہے۔تو افضل یہ ہے حفظ قرآنتلفظ حروف اور لکھائی کی تعلیم پر اجرت کی شرط کرے۔ تو اگر تعلیم قرآن پر اجرت کی شرط کی تو مجھے امید ہے اس پر حرج نہ ہوگا کیونکہ مسلمان اس پر عمل پیرا ہیں اور
حوالہ / References
سنن ابی داؤد کتا ب البیوع باب فی کسب العلم ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۲۹،€سنن ابن ماجہ ابواب التجارات باب الاجر علی تعلیم القرآن ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۵۷،€مسند احمد بن حنبل حدیث عبادۃ بن الصامت مکتب الاسلامی بیروت ∞۵/ ۳۱۵€
واحتاجواالیہ اھ مختصرا۔ اس کی ضرورت محسو س کرتے ہیں اھ مختصرا(ت)
بٹائی پر زمین اٹھانے سے احادیث صحیحہ معتبرہ میں منع واردیہاں تك کہ حدیث جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما میں ہے میں نے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو فرماتے سنا:
من لم یذرالمخابرۃ فلیؤذن بحرب من اﷲ ورسولہ ۔رواہ ابوداؤد والطحاوی وفی الباب عن رافع بن خدیج وثابت بن الضحاك وزیدبن ثابت وانس بن مالك وابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔ جو بٹائی نہ چھوڑے وہ الله ورسول سے لڑائی کا اعلان کرے (اسے ابوداؤد اور طحاوی نے روایت کیااور اس باب میں رافع بن خدیج اور ثابت بن ضحاك اور زید بن ثابت اور انس بن مالك اور ابی ہریرہ رضی الله تعالی عنہم اجمعین نےروایت کیا۔ (ت)
اور قیاس بھی بوجوہ کثیرہ اسی کا مساعد۔ولہذا ہمارے امام رضی الله تعالی عنہ باتباع جماعت صحابہ وتابعین محرمین مانعین حرام وفاسد جانتے ہیں بایں ہمہ صاحبین نے بوجہ تعامل اجازت دی اور اسی پر فتوی قرار پایا۔ہدایہ میں ہے:
قال ابوحنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالی علیہ المزارعۃ بالثلث والربع باطلۃ و قالاجائزۃلہ ماروی انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نہی عن المخابرۃ وھی المزارعۃ و لانہ استیجاربعض مایخرج من عملہ فیکون فی معنی قفیز الطحان ولان الاجر مجہول او معدوم و کل ذلك مفسد ومعاملۃ امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا کہ زمین کا تہائی یا چوتھائی بٹائی حصہ پر دینا باطل ہے۔اور صاحبین رحمہماالله تعالی نے فرمایا یہ جائز ہے۔امام صاحب رحمہ الله تعالی کی دلیل یہ ہے کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے مخابرہ یعنی مزارعۃ سے منع فرمایااور یہ مزارع کے عمل سے حاصل شدہ کے کچھ حصہ کو اجرت بنانا ہے۔تویہ آٹاپسائی کی اجرت آٹا کو بنانے کی طرح ہے اور یہ اجرت مجہول یا معدوم ہے اور یہ تمام امور عقد کے لئے مفسد ہیں اور
بٹائی پر زمین اٹھانے سے احادیث صحیحہ معتبرہ میں منع واردیہاں تك کہ حدیث جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما میں ہے میں نے رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کو فرماتے سنا:
من لم یذرالمخابرۃ فلیؤذن بحرب من اﷲ ورسولہ ۔رواہ ابوداؤد والطحاوی وفی الباب عن رافع بن خدیج وثابت بن الضحاك وزیدبن ثابت وانس بن مالك وابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالی عنہم اجمعین۔ جو بٹائی نہ چھوڑے وہ الله ورسول سے لڑائی کا اعلان کرے (اسے ابوداؤد اور طحاوی نے روایت کیااور اس باب میں رافع بن خدیج اور ثابت بن ضحاك اور زید بن ثابت اور انس بن مالك اور ابی ہریرہ رضی الله تعالی عنہم اجمعین نےروایت کیا۔ (ت)
اور قیاس بھی بوجوہ کثیرہ اسی کا مساعد۔ولہذا ہمارے امام رضی الله تعالی عنہ باتباع جماعت صحابہ وتابعین محرمین مانعین حرام وفاسد جانتے ہیں بایں ہمہ صاحبین نے بوجہ تعامل اجازت دی اور اسی پر فتوی قرار پایا۔ہدایہ میں ہے:
قال ابوحنیفۃ رحمۃ اﷲ تعالی علیہ المزارعۃ بالثلث والربع باطلۃ و قالاجائزۃلہ ماروی انہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم نہی عن المخابرۃ وھی المزارعۃ و لانہ استیجاربعض مایخرج من عملہ فیکون فی معنی قفیز الطحان ولان الاجر مجہول او معدوم و کل ذلك مفسد ومعاملۃ امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا کہ زمین کا تہائی یا چوتھائی بٹائی حصہ پر دینا باطل ہے۔اور صاحبین رحمہماالله تعالی نے فرمایا یہ جائز ہے۔امام صاحب رحمہ الله تعالی کی دلیل یہ ہے کہ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے مخابرہ یعنی مزارعۃ سے منع فرمایااور یہ مزارع کے عمل سے حاصل شدہ کے کچھ حصہ کو اجرت بنانا ہے۔تویہ آٹاپسائی کی اجرت آٹا کو بنانے کی طرح ہے اور یہ اجرت مجہول یا معدوم ہے اور یہ تمام امور عقد کے لئے مفسد ہیں اور
حوالہ / References
بستان العارفین لللامام ابی اللیث سمرقندی علی ہامش تبنیہ الغافلین الباب السابع عشر داراحیاء ∞کتب مصر ص ۲۹۔۲۸€
سنن ابی داؤد کتاب البیوع باب فی الخابرۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۲۷€
سنن ابی داؤد کتاب البیوع باب فی الخابرۃ ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۱۲۷€
النبی صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم اھل خیبر کان خراجہ مقاسمۃ بطریق الامن والصلح وھو جائزالا ان الفتوی علی قولہما لحاجۃ الناس الیہا ولظہور تعامل الامۃ بہا والقیاس یترك بالتعامل کمافی الاستصناع اھ مختصرا۔ حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم کا اہل خیبر سے زمین کامعاملہ تو وہ امن کے عوض اخراج کی وصولی تھی جوکہ جائز ہے لیکن اس مسئلہ میں فتوی صاحبین کے قول پر ہے لوگوں کی ضرورت اور امت کا تعامل پایا جانے کی وجہ سے جبکہ قیاس کو تعامل کے مقابلہ میں ترك کیا جاتاہے جیساکہ سائی کی چیز بنوانا اھ مختصرا۔(ت)
غرض ایسے تعاملات ضرور حجج مطلقہ ہیں انھیں مطلقا مقابل نص مردودنہیں کہہ سکتے اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ عرف وتعامل جس میں ان کا کلام ہے معارضہ نص کی اصلا طاقت نہیں رکھتا جب خلاف کرے گا رد کردیا جائے گا۔اشباہ میں ہے:
انما العرف غیر معتبر فی المنصوص علیہ ۔ منصوص علیہ معاملہ میں عرف معتبر نہیں ہے۔(ت)
پھر فتاوی ظہیریہ سے نقل کیا:
محمد بن الفضل یقول السرۃ الی موضع نبات الشعر من العانۃ لیست بعورۃ تعامل العمال فی الابداء عن ذلك الموضع عند الاتزار وفی النزع عن العادۃ الظاھرۃ نوع حرج ھذا ضعیف وبعید لان التعامل خلاف النص لایعتبر انتہی بلفظہ اھ۔ محمد بن فضل فرماتے ہیں کہ ناف سے نیچے بالوں کی جگہ تك عورت نہیں ہے کیونکہ تہبند باندھنے کے وقت اس حصہ کو برہنہ کرنا لوگوں کا تعامل ہے اور لوگوں کی غالب عادت سے ان کو روکنا حرج کی بات ہے۔اور یہ قول ضعیف اور بعید ہے کیونکہ نص کے خلاف تعامل معتبر نہیں ہے۔اس کے الفاظ ختم ہوئے اھ(ت)
اسی میں فتاوی بزازیہ سے ہے:
فی اجارۃ الاصل استاجرہ لیحمل مبسوط کی بحث اجارہ میں ہے کہ کسی غلہ
غرض ایسے تعاملات ضرور حجج مطلقہ ہیں انھیں مطلقا مقابل نص مردودنہیں کہہ سکتے اور علماء تصریح فرماتے ہیں کہ عرف وتعامل جس میں ان کا کلام ہے معارضہ نص کی اصلا طاقت نہیں رکھتا جب خلاف کرے گا رد کردیا جائے گا۔اشباہ میں ہے:
انما العرف غیر معتبر فی المنصوص علیہ ۔ منصوص علیہ معاملہ میں عرف معتبر نہیں ہے۔(ت)
پھر فتاوی ظہیریہ سے نقل کیا:
محمد بن الفضل یقول السرۃ الی موضع نبات الشعر من العانۃ لیست بعورۃ تعامل العمال فی الابداء عن ذلك الموضع عند الاتزار وفی النزع عن العادۃ الظاھرۃ نوع حرج ھذا ضعیف وبعید لان التعامل خلاف النص لایعتبر انتہی بلفظہ اھ۔ محمد بن فضل فرماتے ہیں کہ ناف سے نیچے بالوں کی جگہ تك عورت نہیں ہے کیونکہ تہبند باندھنے کے وقت اس حصہ کو برہنہ کرنا لوگوں کا تعامل ہے اور لوگوں کی غالب عادت سے ان کو روکنا حرج کی بات ہے۔اور یہ قول ضعیف اور بعید ہے کیونکہ نص کے خلاف تعامل معتبر نہیں ہے۔اس کے الفاظ ختم ہوئے اھ(ت)
اسی میں فتاوی بزازیہ سے ہے:
فی اجارۃ الاصل استاجرہ لیحمل مبسوط کی بحث اجارہ میں ہے کہ کسی غلہ
حوالہ / References
الہدایۃ کتاب المزارعۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۲۳۔۴۲۲€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۲€۸
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۲۸€
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۲€۸
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۲۸€
طعامہ بقفیز منہ فالاجارۃ فاسدۃ۔و کذا اذا ادفع الی حائك غزلاعلی ان ینسجہ بالثلث ومشائخ بلخ وخوارزم افتوا بجوار اجارۃ الحائك للعرف وبہ افتی ابوعلی النسفی ایضا والفتوی علی جواب الکتاب لانہ منصوس علیہ فلیزم ابطال النص اھ باختصار۔ اٹھانے کی مزدوری میں اس غلہ میں سے قفیز دینا ٹھہرایا تو اجارہ فاسدہوگا۔اویوں ہی جولاہے کو بنائی کےلئے دئے ہوئے سوت کا تہائی حصہ بنائی سے دینااو بلخ اور خوارزم کے مشائخ نے جولاہے کی مذکورہ اجرت کے جواز کا فتوی دیا ہےکہ یہ عرف ہے اور ابوعلی نسفی نے بھی یہ فتوی دیاجبکہ صحیح فتوی وہی ہے جو کتاب میں ہے کیونکہ ایسی اجرت کا عدم جواز منصوس ہے تو اس کے جواز سے نص کا ابطال لازم آئے گا اھ مختصرا(ت)
قدوری وغیرہ متون باب الرباء میں ہے:
مالم ینص علیہ فہو محمول علی عادات الناس اھ قلت فدل بمفہومہ ان مانص علیہ لم یحمل علیہا۔ جس میں نص موجود نہ ہو تو وہ لوگوں کی عادت پر محمول ہوگا اھ میں کہتاہوں تو اس کے مفہوم کی دلالت یہ ہے کہ جس میں نص وارہو وہ عادات پر محمول نہ ہوگا۔(ت)
ہدایہ کتاب الاجارہ میں ہے:
ھوا لمعتبرفیما لم ینص علیہ ۔ وہ عرف معتبرہے جہاں نص نہ ہو۔(ت)
کفایۃ شرح ہدایہ باب الرباء میں ہے:
تقریر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایاہم علی ما تعارفوا فی ذلك بمنزلۃ النص منہ فلایتغیر بالعرف لانہ لایعارض النص ۔ لوگوں کے تعارف پر جہاں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تقریر ہو تو وہ تقریر نص کی طرح ہے تو وہ عرف سے تبدیل نہ ہوگی کیونکہ عرف نص کا مقابلہ نہیں بن سکتا۔(ت)
قدوری وغیرہ متون باب الرباء میں ہے:
مالم ینص علیہ فہو محمول علی عادات الناس اھ قلت فدل بمفہومہ ان مانص علیہ لم یحمل علیہا۔ جس میں نص موجود نہ ہو تو وہ لوگوں کی عادت پر محمول ہوگا اھ میں کہتاہوں تو اس کے مفہوم کی دلالت یہ ہے کہ جس میں نص وارہو وہ عادات پر محمول نہ ہوگا۔(ت)
ہدایہ کتاب الاجارہ میں ہے:
ھوا لمعتبرفیما لم ینص علیہ ۔ وہ عرف معتبرہے جہاں نص نہ ہو۔(ت)
کفایۃ شرح ہدایہ باب الرباء میں ہے:
تقریر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ایاہم علی ما تعارفوا فی ذلك بمنزلۃ النص منہ فلایتغیر بالعرف لانہ لایعارض النص ۔ لوگوں کے تعارف پر جہاں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تقریر ہو تو وہ تقریر نص کی طرح ہے تو وہ عرف سے تبدیل نہ ہوگی کیونکہ عرف نص کا مقابلہ نہیں بن سکتا۔(ت)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ السادسۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۳۵€
المختصر للقدوری باب الربوٰ ∞مطبع مجیدی کانپور ص۹€۴
الہدایۃ کتاب الاجارات باب الاجرمتی بستحق ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۹۳€
الکفایۃ مع فتح القدیر با ب الربٰو ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۵۸۔۱۵۷€
المختصر للقدوری باب الربوٰ ∞مطبع مجیدی کانپور ص۹€۴
الہدایۃ کتاب الاجارات باب الاجرمتی بستحق ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۹۳€
الکفایۃ مع فتح القدیر با ب الربٰو ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۵۸۔۱۵۷€
غایۃ البیان کتاب الاجارہ میں فتاوی صغری کتاب المزارعۃ سے ہے:
فرع الحاکم عبدالرحمن فی الجامع الصغیر بین ھذا عــــــہ وبین قفیز الطحان بان قفیز الطحان منصوص علیہ فلا یمکن تغیرہ بالتعامل اما ھذا فلیس منصوصا علیہ فیعتبر فیہ التعامل ۔ حاکم عبدالرحمن نے جامع الصغیر میں زمین کی نصف بٹائی اور آٹا پسائی کے عوض آٹے کے قفیز میں فرق بیان کیا ہے اور کہ پسائی میں آٹا دینے کی ممانعت پر نص ہے اس لئے اس میں تبدیلی تعامل کی وجہ سے ممکن نہیں لیکن حصہ بٹائی پر زمین دینے کی ممانعت پر نص نہیں ہے اس لئے اس میں تعامل معتبرہے۔(ت)
نشرالعرف میں امام ابن الہمام سے ہے:
لا اعتبار للعرف المخالف للنص لان العرف قدیکون علی باطل بخلاف النص ۔ نص کے مخالف عرف کا اعتبارنہیں کیونکہ عرف باطل چیز پر بھی ہوسکتاہے بخلاف نص کے(ت)
اسی میں ذخیرہ سے ہے:
ھذا بخلاف مالوتعامل اھل بلدۃ قفیز الطحان فانہ لایجوز ولاتکون معاملتہم معتبرۃ لانالو اعتبرنا معاملتہم کان ترکاللنص اصلا وبالتعامل لایجوز ترك النص اصلا الخ۔ یہ برخلاف ہے اس عرف کے جس میں علاقہ کے لوگ پسائی میں آٹے کو اجرت بنائیں کیونکہ یہ ناجائز ہے اور ان کا یہ معاملہ معتبر نہ ہوگاکیونکہ اگر ہم ان کا یہ تعامل معتبر مان لیں تو نص کا ترك لازم آئے گا جبکہ تعامل کے ساتھ نص کا ترك ہرگز جائزنہیں ہے۔(ت)
ردالمحتار کتاب الوصایا میں ہے:
العرف اذا خالف النص یرد بالاتفاق ۔ جب عرف نص کے مخالف ہو تو مردود ہوگا بالاتفاق(ت)
عــــــہ: ای المزارعۃ بالنصف والربع ۱۲ الفقیر المجیب۔
فرع الحاکم عبدالرحمن فی الجامع الصغیر بین ھذا عــــــہ وبین قفیز الطحان بان قفیز الطحان منصوص علیہ فلا یمکن تغیرہ بالتعامل اما ھذا فلیس منصوصا علیہ فیعتبر فیہ التعامل ۔ حاکم عبدالرحمن نے جامع الصغیر میں زمین کی نصف بٹائی اور آٹا پسائی کے عوض آٹے کے قفیز میں فرق بیان کیا ہے اور کہ پسائی میں آٹا دینے کی ممانعت پر نص ہے اس لئے اس میں تبدیلی تعامل کی وجہ سے ممکن نہیں لیکن حصہ بٹائی پر زمین دینے کی ممانعت پر نص نہیں ہے اس لئے اس میں تعامل معتبرہے۔(ت)
نشرالعرف میں امام ابن الہمام سے ہے:
لا اعتبار للعرف المخالف للنص لان العرف قدیکون علی باطل بخلاف النص ۔ نص کے مخالف عرف کا اعتبارنہیں کیونکہ عرف باطل چیز پر بھی ہوسکتاہے بخلاف نص کے(ت)
اسی میں ذخیرہ سے ہے:
ھذا بخلاف مالوتعامل اھل بلدۃ قفیز الطحان فانہ لایجوز ولاتکون معاملتہم معتبرۃ لانالو اعتبرنا معاملتہم کان ترکاللنص اصلا وبالتعامل لایجوز ترك النص اصلا الخ۔ یہ برخلاف ہے اس عرف کے جس میں علاقہ کے لوگ پسائی میں آٹے کو اجرت بنائیں کیونکہ یہ ناجائز ہے اور ان کا یہ معاملہ معتبر نہ ہوگاکیونکہ اگر ہم ان کا یہ تعامل معتبر مان لیں تو نص کا ترك لازم آئے گا جبکہ تعامل کے ساتھ نص کا ترك ہرگز جائزنہیں ہے۔(ت)
ردالمحتار کتاب الوصایا میں ہے:
العرف اذا خالف النص یرد بالاتفاق ۔ جب عرف نص کے مخالف ہو تو مردود ہوگا بالاتفاق(ت)
عــــــہ: ای المزارعۃ بالنصف والربع ۱۲ الفقیر المجیب۔
حوالہ / References
غایۃ البیان
نشرالعرف رسالہ من مجموعہ رسائل ابن عابدین ∞سہیل اکیڈمی لاہور ۲/ ۱۱€۵
نشرالعرف رسالہ من مجموعہ رسائل ابن عابدین ∞سہیل اکیڈمی لاہور ۲/ ۱۱۶€
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۴۲€
نشرالعرف رسالہ من مجموعہ رسائل ابن عابدین ∞سہیل اکیڈمی لاہور ۲/ ۱۱€۵
نشرالعرف رسالہ من مجموعہ رسائل ابن عابدین ∞سہیل اکیڈمی لاہور ۲/ ۱۱۶€
ردالمحتار کتاب الوصایا باب الوصیۃ للاقارب وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۴۲€
بالجملہ بحمدالله تعالی بدلائل قاطعہ واضح ہوا کہ علمائے کرام جس عرف عام کو فرماتے ہیں کہ قیاس پر قاضی ہے اور نص اس سے متروك نہ ہوگا مخصوس ہوسکتاہے وہ یہی عرف حادث شائع ہے کہ بلاد کثیرہ میں بکثرت رائج ہو نہ عرف قدیم زمانہ رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ نہ عرف محیط جمیع عباد تمام بلاد نہ عرف اعم سواد اعظم کہ اولین بالاجماع اور ثالث علی التحقیق امکان یا وجوبا مقدم علی النص ہیں نہ زمان مشائخ میں ثانیین کی طرف مقابلنہ واقع ونفس الامر ان کا گواہ نہ راہ فروع ان پر ملتئم نہ کلام ان پر حاکمہاں عرف خاص کہ صرف وہ ایك شہر کے لوگوں کاتعارف ہو مذہب ارجح میں صالح تخصیص نص وترك قیاس نہیں اور عرف نادر کہ معدودین کا عمل ہوبالاجماع اس کے مقابل نہیںہاں صرف صور ت حکم بتانے کے لئے جس میں حکم شرعی یا مقیس کی اصلا مخالفت یاتغییرنہ ہو نہ کلیۃ نہ تخصیصا ہو عفر مطلق مقبول اگرچہ ایك ہی شخص کا عرف فرد ہو۔اعیان ونذور واوقاف ووصایا وغیرہ میں معانی الفاظ کا عر ف پر ادارہ اسی باب اخیر سے ہے ولہذا فتاوی علامہ قاسم میں فرمایا:
التحقیق ان الفظ الواقف والموصی والحالف والناذر و کل عاقدین یحمل علی عادتہ فی خطابہ ولغتہ التی یتکلم بہا وافقت لغۃ العرب ولغۃ الشارع اولا۔ تحقیق یہ ہے کہ وقف کرنے والےوصیت کرنے والےقسم اٹھانے والے اور نذر والے اور ہرایسے عقد کو اس کے تخاطب اور لغت جس میں وہ بات کرتاہے اسی عادت پر محمول کیا جائے گا وہ لغت عرب کے موافق یا شرع کی لغت کے موافق ہو یا نہ ہو۔(ت)
یہ ہے بحمدالله ومنہ وکبیر لطفہ وکرمہ وتحریر مسئلہ جسے تمام کلمات علماء کرام کا عطر ومحصل کہیے اور بفضلہ تعالی کسی تقریر وتاصیل وتفریع کو اس کے مخالف نہ دیکھئے۔
وقد کنت اری فی الباب مباحث الاشباہ وکلمات رد المحتار من مواضع عدیدہ فلا اجد فیہا مایفید الضبط ویزول بہ الاضطراب والخبط وکان العلامۃ الشامی کثیرا مایحیل المسئلۃ علی رسالتہ نشر العرف فکنت تواقا الیہا مثل جمیل الی بثینہ میں اس مسئلہ میں الاشباہ کے مباحث اور ردالمحتار کے متعدد مقامات کو دیکھتاتو ان میں کوئی ضبط والی اور اضطراب وپرا گندگی کو دور کرنے والی چیز نہ پائیاور علامہ شامی مسئلہ کو اپنے رسالہ"نشرف العرف"کے حوالے کردیتے ہیں تو میں اس رسالہ کا اس طرح مشتاق ہوا جیسے اونٹنی اپنے
التحقیق ان الفظ الواقف والموصی والحالف والناذر و کل عاقدین یحمل علی عادتہ فی خطابہ ولغتہ التی یتکلم بہا وافقت لغۃ العرب ولغۃ الشارع اولا۔ تحقیق یہ ہے کہ وقف کرنے والےوصیت کرنے والےقسم اٹھانے والے اور نذر والے اور ہرایسے عقد کو اس کے تخاطب اور لغت جس میں وہ بات کرتاہے اسی عادت پر محمول کیا جائے گا وہ لغت عرب کے موافق یا شرع کی لغت کے موافق ہو یا نہ ہو۔(ت)
یہ ہے بحمدالله ومنہ وکبیر لطفہ وکرمہ وتحریر مسئلہ جسے تمام کلمات علماء کرام کا عطر ومحصل کہیے اور بفضلہ تعالی کسی تقریر وتاصیل وتفریع کو اس کے مخالف نہ دیکھئے۔
وقد کنت اری فی الباب مباحث الاشباہ وکلمات رد المحتار من مواضع عدیدہ فلا اجد فیہا مایفید الضبط ویزول بہ الاضطراب والخبط وکان العلامۃ الشامی کثیرا مایحیل المسئلۃ علی رسالتہ نشر العرف فکنت تواقا الیہا مثل جمیل الی بثینہ میں اس مسئلہ میں الاشباہ کے مباحث اور ردالمحتار کے متعدد مقامات کو دیکھتاتو ان میں کوئی ضبط والی اور اضطراب وپرا گندگی کو دور کرنے والی چیز نہ پائیاور علامہ شامی مسئلہ کو اپنے رسالہ"نشرف العرف"کے حوالے کردیتے ہیں تو میں اس رسالہ کا اس طرح مشتاق ہوا جیسے اونٹنی اپنے
حوالہ / References
نشرالعرف بحوالہ فتاوی العلامۃ قاسم رسالہ من مجموعہ رسائل ابن عابدین ∞سہیل اکیڈمی لاہور ۲/ ۱۳۳€
فلما رأیتہا وجدتہا ایضالم یتحرر لہا مایکفی و یشفی ولم یتخلص فیہا ماترتبط بہ الفروع وتاخذ کلمات الائمۃ بعضہا حجز بعض ولکن برکۃ مطالعتہا فی تلك الجلسۃ فتح۔
(رسالہ نامکمل ملا) بچے کیتو جب میں نے وہ رسالہ دیکھا تو اس میں بھی کفایت دینے والی کوئی شافی چیز اور صاف نہ ملی اور فروعات میں ربط اور ائمہ کے کلام میں تطبیق والی کوئی چیز نہ ملی جبکہ ائمہ کے کلمات ایك دوسرے کے موافق نہ تھےلیکن اس مجلس میں اس کے مطالعہ کے برکت سے کھلا۔(ت)
(رسالہ نامکمل ملا) بچے کیتو جب میں نے وہ رسالہ دیکھا تو اس میں بھی کفایت دینے والی کوئی شافی چیز اور صاف نہ ملی اور فروعات میں ربط اور ائمہ کے کلام میں تطبیق والی کوئی چیز نہ ملی جبکہ ائمہ کے کلمات ایك دوسرے کے موافق نہ تھےلیکن اس مجلس میں اس کے مطالعہ کے برکت سے کھلا۔(ت)
کتاب الاکراہ
(اکراہ کا بیان)
مسئلہ ۲۲۹ تا ۲۳۱: ا زبریلی ساہوکارہ مرسلہ شیام سندرلال چیئرمین ۲ ربیع الثانی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ زید نے ایك بیعنامہ بنام بکر تصدیق کرادیا نقل شامل سوال ہے مگر زر ثمن کالین دین نہیں ہوا صرف اقرار ہوا ہے۔مگر اس کے بعد ایك دعوی تنسیخ ودستاویز مذکورہ کا زید نےکچہری میں کیادعوی اور جواب دعوی بھی شامل سوال ہے تو:
(۱)کیا حسب بیان مدعی مندرجہ دعوی بصور ت بیع مکرہ کی ہےاگر ہے تو کیا حکم ہے
(۲)مکرہ ہونے کے واسطے بالفعل رجسٹری کے وقت داب ناجائز کا موجود ہونا ضرور ہے یا پیشتر سے تخویف اور آئندہ کے لئے ضرر شدید کا اندیشہ صحیح کافی ہے
(۳)ایسی صورت میں جبکہ رجسٹری میں زرثمن نہیں دیا گیا تو مشتری کے ذمہ حوالگی زر ثمن کا بار ثبوت ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
(۱)عرضی دعوی میں مدعا علیہ کا مدعی کو مدت طویل تك اپنے مکان میں محبوس رکھنا اور کسی سے نہ ملنے دینا اور ناجائز داب کا ذکر ہے داب کا بیان نہیں اور زبانی بیان سائلان یہ ہوا کہ قتل کی تخویف کی اور مدعی اسے باور کرتا تھایہ بیانات اگر واقعی ہیں تو وہ بلا شبہ بیع مکرہ اورفاسد ہے۔اور
(اکراہ کا بیان)
مسئلہ ۲۲۹ تا ۲۳۱: ا زبریلی ساہوکارہ مرسلہ شیام سندرلال چیئرمین ۲ ربیع الثانی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ زید نے ایك بیعنامہ بنام بکر تصدیق کرادیا نقل شامل سوال ہے مگر زر ثمن کالین دین نہیں ہوا صرف اقرار ہوا ہے۔مگر اس کے بعد ایك دعوی تنسیخ ودستاویز مذکورہ کا زید نےکچہری میں کیادعوی اور جواب دعوی بھی شامل سوال ہے تو:
(۱)کیا حسب بیان مدعی مندرجہ دعوی بصور ت بیع مکرہ کی ہےاگر ہے تو کیا حکم ہے
(۲)مکرہ ہونے کے واسطے بالفعل رجسٹری کے وقت داب ناجائز کا موجود ہونا ضرور ہے یا پیشتر سے تخویف اور آئندہ کے لئے ضرر شدید کا اندیشہ صحیح کافی ہے
(۳)ایسی صورت میں جبکہ رجسٹری میں زرثمن نہیں دیا گیا تو مشتری کے ذمہ حوالگی زر ثمن کا بار ثبوت ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
(۱)عرضی دعوی میں مدعا علیہ کا مدعی کو مدت طویل تك اپنے مکان میں محبوس رکھنا اور کسی سے نہ ملنے دینا اور ناجائز داب کا ذکر ہے داب کا بیان نہیں اور زبانی بیان سائلان یہ ہوا کہ قتل کی تخویف کی اور مدعی اسے باور کرتا تھایہ بیانات اگر واقعی ہیں تو وہ بلا شبہ بیع مکرہ اورفاسد ہے۔اور
بائع کو اس کے فسخ کا اختیار ہے۔تخویف قتل تو اعلی درجہ کا اکراہ ہے بیع میں مجرد حبس مدید بھی ثبوت اکراہ کو بس ہے۔درمختار میں ہے:
لواکرہ بحبس اوقید مدیدین حتی باع اواشتری او اقر او اجر فسخ اوامضی لان اکراہ الملجی وغیر الملجی یعدمان الرضاء والرضأ شرط صحۃ ہذہ العقود والاقرار فلذا صار لہ حق الفسخ اوالامضاء ۔ باختصار۔ اگر کوئی لمبی قید اور یرغمالی کے ذریعہ بیع یا شراء یا اقرار یا اجارہ پر مجبور کرے اور اس نے کردی تو بعدمیں اسے اختیار ہے کہ فسخ کردے یا اس پر قائم رہے کیونکہ جان کے خطرے اور اس سے کم ہر طرح جبر رضا کو ختم کرتا ہے جبکہ ان عقوداور اقرار میں رضا شرط صحت ہے اس لئے اس کو فسخ کا اختیار ہے۔ باختصار۔(ت)
اسی میں ہے:
فی مجمع الفتاوی منع امراتہ المریضۃ عن المسیر الی ابویہا الاان تہبہ مہرھا فو ھبتہ بعض المہر فالہبۃ باطلۃ لانہا کالمکرھۃ ویوخذ منہ جواب حادثۃ الفتوی زوج بنتہ فلما ارادت الزفاف منعہا الاب الا ان یشہد علیہا انہا استوفت منہ میراث امہا فاقرت لایصح اقرارھا لکونہا فی معنی المکرھۃ وبہ افتی ابوالسعود مفتی الروم قالہ المصنف فی شرح منظومتہ تحفۃ الاقران ۔
مجمع الفتاوی میں ہے کسی نے اپنی بیو ی مریضہ کو اپنے والدین کے ہاں جانے سے روکا اور کہا تو مجھے مہر ہبہ کرے تو جانے دوں گا تو بیوی نے مہر ہبہ کردیا تو یہ ہبہ باطل ہے کیونکہ یہ مجبور کی طرح ہے اور اس سے ایك درپیش مسئلہ کا جواب معلوم ہوگیا کہ بیٹی کا نکاح کردیا جب بیٹی رخصتی کے لئے تیار ہوئی تو باپ نے روك لیا اور کہا تویہ گواہی بنادے کہ میں نے والد سے اپنی والدہ کی وراثت کا حصہ وصول کرلیا ہے۔بیٹی نے مجبورا اپنے اقرار پر گواہ بنادئے تو بیٹی کایہ اقرار صحیح نہ ہوگا کیونکہ وہ مجبور کی طرح تھیاور مفتی روم ابوسعود نے یہی فتوی دیا مصنف نے شرح منظومہ تحفۃ الاقران میں اس کو ذکر کیاہے۔ (ت)
لواکرہ بحبس اوقید مدیدین حتی باع اواشتری او اقر او اجر فسخ اوامضی لان اکراہ الملجی وغیر الملجی یعدمان الرضاء والرضأ شرط صحۃ ہذہ العقود والاقرار فلذا صار لہ حق الفسخ اوالامضاء ۔ باختصار۔ اگر کوئی لمبی قید اور یرغمالی کے ذریعہ بیع یا شراء یا اقرار یا اجارہ پر مجبور کرے اور اس نے کردی تو بعدمیں اسے اختیار ہے کہ فسخ کردے یا اس پر قائم رہے کیونکہ جان کے خطرے اور اس سے کم ہر طرح جبر رضا کو ختم کرتا ہے جبکہ ان عقوداور اقرار میں رضا شرط صحت ہے اس لئے اس کو فسخ کا اختیار ہے۔ باختصار۔(ت)
اسی میں ہے:
فی مجمع الفتاوی منع امراتہ المریضۃ عن المسیر الی ابویہا الاان تہبہ مہرھا فو ھبتہ بعض المہر فالہبۃ باطلۃ لانہا کالمکرھۃ ویوخذ منہ جواب حادثۃ الفتوی زوج بنتہ فلما ارادت الزفاف منعہا الاب الا ان یشہد علیہا انہا استوفت منہ میراث امہا فاقرت لایصح اقرارھا لکونہا فی معنی المکرھۃ وبہ افتی ابوالسعود مفتی الروم قالہ المصنف فی شرح منظومتہ تحفۃ الاقران ۔
مجمع الفتاوی میں ہے کسی نے اپنی بیو ی مریضہ کو اپنے والدین کے ہاں جانے سے روکا اور کہا تو مجھے مہر ہبہ کرے تو جانے دوں گا تو بیوی نے مہر ہبہ کردیا تو یہ ہبہ باطل ہے کیونکہ یہ مجبور کی طرح ہے اور اس سے ایك درپیش مسئلہ کا جواب معلوم ہوگیا کہ بیٹی کا نکاح کردیا جب بیٹی رخصتی کے لئے تیار ہوئی تو باپ نے روك لیا اور کہا تویہ گواہی بنادے کہ میں نے والد سے اپنی والدہ کی وراثت کا حصہ وصول کرلیا ہے۔بیٹی نے مجبورا اپنے اقرار پر گواہ بنادئے تو بیٹی کایہ اقرار صحیح نہ ہوگا کیونکہ وہ مجبور کی طرح تھیاور مفتی روم ابوسعود نے یہی فتوی دیا مصنف نے شرح منظومہ تحفۃ الاقران میں اس کو ذکر کیاہے۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الاکراہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹€۵
درمختار کتاب الاکراہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹۷€
درمختار کتاب الاکراہ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹۷€
ردالمحتار میں ہے:
وبہ افتی الرملی وغیرہ ونظمہ فی فتاواہ بقولہ:
ومانع زوجتہ عن اھلہا
تہب المہریکون مکرھا
کذالك منع والدلبنتہ
خروجہا لبعلہا من بیتہ
ثم قال وانت تعلم ان البیع والشراء والاجارۃ کالاقرار والہبۃ وان کل من یقدر علی المنع من الاولیاء کالاب للعلۃ الشاملۃ فلیس قیدا ۔ خیرالدین رملی وغیرہ نے یہی فتوی دیا ہے اور انھوں نے اپنے فتوی میں اس کو نظم کے طور پر یوں ذکر کیا ہے:
(ترجمہ)"بیوی کو اپنے والدین سے روکا کہ مہر ہبہ کرے تویہ مکرہ ہوگا یونہی والد نے بیٹی کو اپنے خاوند کے پاس جانے سے روکا"
پھر فرمایا کہ آپ کو معلوم ہے کہ بیع وشراء اور اجارہ۔اقرار اور ہبہ کی طرح ہیں او ربیشك باپ جیسا کوئی ولی جو کسی عام وجہ سے روکنے پر قادرہو وہ قید نہیں ہے۔(ت)
خیریہ میں ہے:
قال علماء نا منع الزوج زوجتہ من اہلہا حتی تہب لہ المہرتکون مکرھۃ والہبۃ باطلۃ قال فی مجمع الفتاوی و فی ملتقط السید الامام عن الفقیہ ابی جعفر من منع امرأتہ عن المسیرالی ابویہا الا ان تہب مہرھا فوھبت فالہبۃ باطلۃ ومثل ذلك فی الخلاصۃ والبزازیۃ وکذلك ذکر فی التاتارخانیۃ نقلا عن الینا بیع ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہمارے علماء نے فرمایا ہے کہ بیوی کو اپنے والدین سے منع کرنا تاکہ مہر ہبہ کرنے پر آمادہ ہو تو یہ مجبوری ہوگی اور بیوی نے ہبہ کردیا تو باطل ہوگااور مجمع الفتاوی میں ہے کہ سید امام کی ملتقط میں فقیہ ابوجعفر سے منقول ہے کہ جس نے مہر ہبہ کئے بغیر بیوی کو اس کے والدین سے روك رکھا ہو اور اس نے ہبہ کردیا تو یہ ہبہ باطل ہوگااور اسی طرح خلاصہ اور بزازیہ میں ہے اور یونہی تاتارخانیہ میں ینا بیع سے نقل کیا ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
وبہ افتی الرملی وغیرہ ونظمہ فی فتاواہ بقولہ:
ومانع زوجتہ عن اھلہا
تہب المہریکون مکرھا
کذالك منع والدلبنتہ
خروجہا لبعلہا من بیتہ
ثم قال وانت تعلم ان البیع والشراء والاجارۃ کالاقرار والہبۃ وان کل من یقدر علی المنع من الاولیاء کالاب للعلۃ الشاملۃ فلیس قیدا ۔ خیرالدین رملی وغیرہ نے یہی فتوی دیا ہے اور انھوں نے اپنے فتوی میں اس کو نظم کے طور پر یوں ذکر کیا ہے:
(ترجمہ)"بیوی کو اپنے والدین سے روکا کہ مہر ہبہ کرے تویہ مکرہ ہوگا یونہی والد نے بیٹی کو اپنے خاوند کے پاس جانے سے روکا"
پھر فرمایا کہ آپ کو معلوم ہے کہ بیع وشراء اور اجارہ۔اقرار اور ہبہ کی طرح ہیں او ربیشك باپ جیسا کوئی ولی جو کسی عام وجہ سے روکنے پر قادرہو وہ قید نہیں ہے۔(ت)
خیریہ میں ہے:
قال علماء نا منع الزوج زوجتہ من اہلہا حتی تہب لہ المہرتکون مکرھۃ والہبۃ باطلۃ قال فی مجمع الفتاوی و فی ملتقط السید الامام عن الفقیہ ابی جعفر من منع امرأتہ عن المسیرالی ابویہا الا ان تہب مہرھا فوھبت فالہبۃ باطلۃ ومثل ذلك فی الخلاصۃ والبزازیۃ وکذلك ذکر فی التاتارخانیۃ نقلا عن الینا بیع ۔واﷲ تعالی اعلم۔ ہمارے علماء نے فرمایا ہے کہ بیوی کو اپنے والدین سے منع کرنا تاکہ مہر ہبہ کرنے پر آمادہ ہو تو یہ مجبوری ہوگی اور بیوی نے ہبہ کردیا تو باطل ہوگااور مجمع الفتاوی میں ہے کہ سید امام کی ملتقط میں فقیہ ابوجعفر سے منقول ہے کہ جس نے مہر ہبہ کئے بغیر بیوی کو اس کے والدین سے روك رکھا ہو اور اس نے ہبہ کردیا تو یہ ہبہ باطل ہوگااور اسی طرح خلاصہ اور بزازیہ میں ہے اور یونہی تاتارخانیہ میں ینا بیع سے نقل کیا ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الاکراہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۸۸€
فتاوی خیریہ کتاب الاکراہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۴۴€
فتاوی خیریہ کتاب الاکراہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۴۴€
(۲)اکراہ کے لئے یہ ضرور نہیں کہ جس وقت مکرہ وہ فعل کرے گلے پر چھری یا قید وضرب فی الحال موجود ہو بلکہ اکراہ کنندہ کی طرف سے وعید وتہدید سابق اور اس کے وقوع کا صحیح اندیشہ لاحق او ر مکرہ کا مکرہ کے قابو میں ہونا تحقق اکراہ کے لئے بس ہے۔
خیریہ میں ہے:
الاکراہ یعدم الاختیار فلاصحۃ للاقرار مع الاکراہ والاکراہ فیہ یکون باشیاء منہااذا قال المتغلب لرجل اما ان تقرلی بکذا والا اقول للظالم الفلانی لقی مالا و وجد کنزا اونحوذلك فاذا کان الرجل لہ جرأۃ و ھددہ بمن یسمع کلام الغماز و قال ان لم تقرلی بکذا اسعی بك الی من یاخذك بمجرد کلامی وغلب من ظن المہدد ذلك فاقر کاذبا لایلزمہ ما اقربہ کما ھو صریح کلام ائمتنا ۔ جبراختیار کو معدوم بنادیتا ہے لہذ اجبر کے ساتھ حاصل کردہ اقرار کی صحت نہ ہوگی اور جبر واکراہ کی کئی صورتیں ہیںایك یہ کہ کوئی غالب آدمی دوسرے شخص کو کہے کہ تومیرے حق میں فلاں اقرار کر ورنہ میں فلاں ظالم کو کہوں گا کہ اس کو مال ملایا خزانہ ملا یا ایسی ہی کوئی بات اگر یہ شخص جری ہے اور ایسے ظالم کی دھمکی دے جو اس کی بات مانتا ہو اور کہا کہ اگر تو میرے حق میں فلاں اقرار نہ کرے گا تومیں تجھے فلاں کے پاس لے جاؤں گا جو صرف میرے کہہ دینے پر تجھے پکڑے گا اور دھمکی سننے والے کو ظن غالب ہے کہ یہ ایسا کردے گا تو اس نے جھوٹا اقرار کردیا تو اس اقرار سے کوئی چیز لازم نہ ہوگی جیساکہ ہمار ے ائمہ کا صریح کلام ہے۔(ت)
ہاں اگر اس نے تہدید کی اوراب یہ اس کے قابو سے نکل گیا اور اس اندیشہ سے کہ پھر اسے قابو ملے تو ایذا پہنچا ئے گاکوئی کام کیا تو یہ اکراہ سے نہیں کہ اکراہ سابق زائل ہوچکا اور لاحق معدوم وموہوم ہے۔ردالمحتارمیں ہے:
فی الہندیۃ عن المبسوط ارسلہ لیفعل فخاف ان یقتلہ ان ظفر بہ ان لم یفعل لم یحل ۔ ہندیہ میں مبسوط سے منقول ہے کہ اگر کسی نے دوسرے کو کام کرنے کے لئے بھیجا تو اس کو خطرہ ہے کہ اگر میں نے اس کا یہ ناجائز کام نہ کیا تو مجھے قتل کر دے گاتو اس اندیشہ پر اس کو ناجائز کام کرنا حلال نہ ہوگا۔(ت)
اسی میں ہے:
خیریہ میں ہے:
الاکراہ یعدم الاختیار فلاصحۃ للاقرار مع الاکراہ والاکراہ فیہ یکون باشیاء منہااذا قال المتغلب لرجل اما ان تقرلی بکذا والا اقول للظالم الفلانی لقی مالا و وجد کنزا اونحوذلك فاذا کان الرجل لہ جرأۃ و ھددہ بمن یسمع کلام الغماز و قال ان لم تقرلی بکذا اسعی بك الی من یاخذك بمجرد کلامی وغلب من ظن المہدد ذلك فاقر کاذبا لایلزمہ ما اقربہ کما ھو صریح کلام ائمتنا ۔ جبراختیار کو معدوم بنادیتا ہے لہذ اجبر کے ساتھ حاصل کردہ اقرار کی صحت نہ ہوگی اور جبر واکراہ کی کئی صورتیں ہیںایك یہ کہ کوئی غالب آدمی دوسرے شخص کو کہے کہ تومیرے حق میں فلاں اقرار کر ورنہ میں فلاں ظالم کو کہوں گا کہ اس کو مال ملایا خزانہ ملا یا ایسی ہی کوئی بات اگر یہ شخص جری ہے اور ایسے ظالم کی دھمکی دے جو اس کی بات مانتا ہو اور کہا کہ اگر تو میرے حق میں فلاں اقرار نہ کرے گا تومیں تجھے فلاں کے پاس لے جاؤں گا جو صرف میرے کہہ دینے پر تجھے پکڑے گا اور دھمکی سننے والے کو ظن غالب ہے کہ یہ ایسا کردے گا تو اس نے جھوٹا اقرار کردیا تو اس اقرار سے کوئی چیز لازم نہ ہوگی جیساکہ ہمار ے ائمہ کا صریح کلام ہے۔(ت)
ہاں اگر اس نے تہدید کی اوراب یہ اس کے قابو سے نکل گیا اور اس اندیشہ سے کہ پھر اسے قابو ملے تو ایذا پہنچا ئے گاکوئی کام کیا تو یہ اکراہ سے نہیں کہ اکراہ سابق زائل ہوچکا اور لاحق معدوم وموہوم ہے۔ردالمحتارمیں ہے:
فی الہندیۃ عن المبسوط ارسلہ لیفعل فخاف ان یقتلہ ان ظفر بہ ان لم یفعل لم یحل ۔ ہندیہ میں مبسوط سے منقول ہے کہ اگر کسی نے دوسرے کو کام کرنے کے لئے بھیجا تو اس کو خطرہ ہے کہ اگر میں نے اس کا یہ ناجائز کام نہ کیا تو مجھے قتل کر دے گاتو اس اندیشہ پر اس کو ناجائز کام کرنا حلال نہ ہوگا۔(ت)
اسی میں ہے:
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الاکراہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۴۳€
ردالمحتار کتاب الاکراہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۸۸€
ردالمحتار کتاب الاکراہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۸۸€
لزوال القدرۃ بالبعد لکن یخاف عودہ وبہ لایتحقق الاکراہبزازیۃ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ کیونکہ دونوں میں بعید فیصلہ کی وجہ سے قتل کی قدرت نہیں ہے۔لیکن واپسی پر خوف ہو تو اس سے اکراہ متحقق نہیں ہوتا۔ بزازیہ۔(ت)
(۳)ہاں صور ت مذکورہ میں تسلیم وقبضہ ثمن کا بارثبوت ذمہ مشتری ہے کہ حاکم حکم نہیں کرسکتا مگر حجت شرعیہ اقرار ہے یا بینہ یا نکولفتاوی امام قاضی خاں پھر اشباہ میں ہے:
القاضی لایقضی الا بالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار و النکول ۔ قاضی صرف حجت قائم ہونے پر فیصلہ دیتاہے او رحجت گواہی اقرار اور قسم سے انکار کا نام ہے۔(ت)
اور مکرہ کا اقرار باطل ہے۔ابھی خیریہ سے گزرا:لاصحۃ للاقرار مع الاکراہ (اکراہ سے اقرار کی صحت نہیں ہوتی۔ت) اشباہ میں ہے:اقرار المکرہ باطل (مجبورشدہ شخص کا اقرار باطل ہے۔ت)یونہی معتوہ غیر ماذون کا اقرار۔عقود الدریہ میں ہے:
حیث کان معتوھا فاقرارہ غیر صحیح ۔ پاگل کا اقرار صحیح نہیں ہے۔(ت)
اور جبکہ اقرار بامعتوہ ہونا شہادت عادلہ سے ثابت ہو تو دستاویز میں معمولی عبارت(بحالت صحت نفس وثبات عقل بطوع و رغبت بلا جبر واکراہ)لکھی ہوئی کوئی چیز نہیں۔خیریہ میں ہے:
سئل فی ذی ولایۃ علی قریۃ قادر علی ایقاع ضرب و حبس ملجئین باھلہا طلب من رجل منہا بیع عقار لہ بہا فباع خائفا منہ ایقاع ذلك بہ واقر ان سے گاؤں کے والی کے متعلق سوال ہواکہ اس نے قریہ میں زمین والے شخص کو ضرب لگانے اورقید کرنے کی دھمکی دے کر کہا کہ اپنی یہ زمین میرے پاس فروخت کردے تو اس نے دھمکی پر عمل کے خوف سے زمین فروخت کردی کیونکہ دھمکی پر عملی قدرت رکھتاہے۔
(۳)ہاں صور ت مذکورہ میں تسلیم وقبضہ ثمن کا بارثبوت ذمہ مشتری ہے کہ حاکم حکم نہیں کرسکتا مگر حجت شرعیہ اقرار ہے یا بینہ یا نکولفتاوی امام قاضی خاں پھر اشباہ میں ہے:
القاضی لایقضی الا بالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار و النکول ۔ قاضی صرف حجت قائم ہونے پر فیصلہ دیتاہے او رحجت گواہی اقرار اور قسم سے انکار کا نام ہے۔(ت)
اور مکرہ کا اقرار باطل ہے۔ابھی خیریہ سے گزرا:لاصحۃ للاقرار مع الاکراہ (اکراہ سے اقرار کی صحت نہیں ہوتی۔ت) اشباہ میں ہے:اقرار المکرہ باطل (مجبورشدہ شخص کا اقرار باطل ہے۔ت)یونہی معتوہ غیر ماذون کا اقرار۔عقود الدریہ میں ہے:
حیث کان معتوھا فاقرارہ غیر صحیح ۔ پاگل کا اقرار صحیح نہیں ہے۔(ت)
اور جبکہ اقرار بامعتوہ ہونا شہادت عادلہ سے ثابت ہو تو دستاویز میں معمولی عبارت(بحالت صحت نفس وثبات عقل بطوع و رغبت بلا جبر واکراہ)لکھی ہوئی کوئی چیز نہیں۔خیریہ میں ہے:
سئل فی ذی ولایۃ علی قریۃ قادر علی ایقاع ضرب و حبس ملجئین باھلہا طلب من رجل منہا بیع عقار لہ بہا فباع خائفا منہ ایقاع ذلك بہ واقر ان سے گاؤں کے والی کے متعلق سوال ہواکہ اس نے قریہ میں زمین والے شخص کو ضرب لگانے اورقید کرنے کی دھمکی دے کر کہا کہ اپنی یہ زمین میرے پاس فروخت کردے تو اس نے دھمکی پر عمل کے خوف سے زمین فروخت کردی کیونکہ دھمکی پر عملی قدرت رکھتاہے۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الاکراہ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۸۸€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء والشہادات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۳۸€
فتاوی خیریہ کتاب الاکراہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۴۳€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۱€
العقودالدریۃ کتاب الحجروالماذون ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۱۵۹€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب القضاء والشہادات ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۱۳۸€
فتاوی خیریہ کتاب الاکراہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۴۳€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الاقرار ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۱€
العقودالدریۃ کتاب الحجروالماذون ∞ارگ بازار قندہار افغانستان ۲/ ۱۵۹€
انہ قبض ثمنہ کذلك مع ان قیمۃ المبیع اضعاف الثمن ہل ینفذ ہذا البیع علی ہذا الوجہ ام لا وان کتب صك لدی قاض علی صفۃ الطوع والاختیار و عدم المفسد یکون الاعتبار لما فی نفس الامر لا لما کتب اجاب حیث علم بدلالۃ الحال انہ لو لم یبعہ یوقع بہ ضربا شدیدا او حبسا مدیدا فالبیع غیر نافذ والاقرار غیر صحیح فللمکرہ فسخہ والاعتبار لما فی نفس الامر لا لما کتب فی الصك ۔ اور اقرار کیا کہ میں نے زمین کی رقم اس سے وصول کرلی ہے____حالانکہ وصول کردہ رقم سے اصل قیمت کئی گنا زیادہ ہے۔تو کیا یہ بیع نافذ ہوگی یا نہیںاور اگر قاضی کے ہاں اشٹام لکھ دے کہ میں نے خوشی اور اختیار سے فروخت کی اور بیع صحیح کی ہے تو اس تحریر کا اعتبار نہ ہوگا بلکہ واقعی حال کا اعتبار ہوگا۔تو جواب دیا کہ جب معلوم ہے دلالت حال سے کہ اگر وہ فروخت نہ کرتا تو اس کو ضرب شدید اور قید مدید کرتا تو بیع نافذ ہوگی اور اقرار بھی صحیح نہ ہوگا تو مجبور زمیندار کو اختیار ہے کہ فسخ کردے اور اشٹام میں لکھے کااعتبار نہیں بلکہ نفس الامر واقع کا اعتبار ہے۔(ت)
لاجرم بارثبوت مشتری پر ہے۔والله تعالی اعلم
لاجرم بارثبوت مشتری پر ہے۔والله تعالی اعلم
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الاکراہ دارالمعرفۃ بیروت ∞۲/ ۱۴۳€
کتاب الحجر
(حجر کا بیان)
مسئلہ۲۳۲: از مارہرہ مطہرہ مرسلہ مولنا مولوی محب احمد صاحب ۱۷ جمادی الآخرہ ۱۳۱۴ھ
ایك عورت عرصہ چالیس سال سے اس مرض میں مبتلا ہے کہ کبھی کبھی اس کی عقل میں اختلال آجاتاہے اور خیال پردہ وستر پوشی کانہیں رہتا حتی کہ مکان کی چھت سے جو بازار میں واقع ہے سربازار کھڑی ہوجاتی ہے۔ایك مرتبہ چھت سے نیچے گر پڑی اور اکثر ی حالت یہ ہے کہ ہر قسم کا خیال سترپوشی وحجاب رہتاہے۔سب قرابت دار ان مادری وپدری وصہری کو بتخصیص قرابت جانتی پہچانتی ہے کام متعلق عورات جوخانہ داری کو چاہئیں کرتی ہے۔ایسی حالت میں اس کا اپنی جائداد کسی کو بطور ہبہ دے دینا یا معاف کرنا یاکسی بارہ میں اس کی شہادت مثل رضاعت وغیرہ مقبول وجائز ہے یانہیں اور یہ عورت مجنونہ ومعتوہہ ہے یا کیا۔ بینوا توجروا
الجواب:
ایام دورہ میں زن مذکورہ کا آفت معترضہ علی العقل میں مبتلا ہونا واضح وبدیہی ہے قلت فہم وفساد تدبیر توظاہراور اختلاط کلام اختلاط عقل کو لازمتو اسی قدر سے معتوہہ ہونا تو صراحۃ ثابتاور اس کے ساتھ لوگوں کو مارناگالیاں دینا بھی ہو تو مجنونہ ہے۔ بہرحال تبرعات مثل ہبہ مال وبخشش مہر وغیرہ کی اہلیت ہر گز نہیںاگر ایسے تصرفات کرے گی محض باطل ہوں گے اور رضاعت وغیرہ
(حجر کا بیان)
مسئلہ۲۳۲: از مارہرہ مطہرہ مرسلہ مولنا مولوی محب احمد صاحب ۱۷ جمادی الآخرہ ۱۳۱۴ھ
ایك عورت عرصہ چالیس سال سے اس مرض میں مبتلا ہے کہ کبھی کبھی اس کی عقل میں اختلال آجاتاہے اور خیال پردہ وستر پوشی کانہیں رہتا حتی کہ مکان کی چھت سے جو بازار میں واقع ہے سربازار کھڑی ہوجاتی ہے۔ایك مرتبہ چھت سے نیچے گر پڑی اور اکثر ی حالت یہ ہے کہ ہر قسم کا خیال سترپوشی وحجاب رہتاہے۔سب قرابت دار ان مادری وپدری وصہری کو بتخصیص قرابت جانتی پہچانتی ہے کام متعلق عورات جوخانہ داری کو چاہئیں کرتی ہے۔ایسی حالت میں اس کا اپنی جائداد کسی کو بطور ہبہ دے دینا یا معاف کرنا یاکسی بارہ میں اس کی شہادت مثل رضاعت وغیرہ مقبول وجائز ہے یانہیں اور یہ عورت مجنونہ ومعتوہہ ہے یا کیا۔ بینوا توجروا
الجواب:
ایام دورہ میں زن مذکورہ کا آفت معترضہ علی العقل میں مبتلا ہونا واضح وبدیہی ہے قلت فہم وفساد تدبیر توظاہراور اختلاط کلام اختلاط عقل کو لازمتو اسی قدر سے معتوہہ ہونا تو صراحۃ ثابتاور اس کے ساتھ لوگوں کو مارناگالیاں دینا بھی ہو تو مجنونہ ہے۔ بہرحال تبرعات مثل ہبہ مال وبخشش مہر وغیرہ کی اہلیت ہر گز نہیںاگر ایسے تصرفات کرے گی محض باطل ہوں گے اور رضاعت وغیرہ
کسی امر میں اس کی شہادت اصلا قابل قبول نہیں پر اگر اس کے افاقہ کا کوئی وقت معلوم ومعروف نہیں تو یہ احکام حجر تصرفات و ابطال تبرعات والغائے شہادت دائمی ہیں کہ جب افاقہ معہود نہیں تو کسی وقت اطمینان نہیں ہوسکتاہر وقت محتمل کہ حالت اختلال میں ہو صرف عاقلانہ باتیں کرنی موجب اطمینان نہیں کہ معتوہ بلکہ مجنون بسا اوقات ٹھیك ٹھك عقل کی باتیں کرتے ہیں یہاں تك کہ ناواقف سنے تو ہر گز احتمال اختلال نہ کرے۔ہاں اگر وقت افاقہ معلوم ہے تو اس وقت اس کاحکم مثل حکم عقلاء ہے۔اس کے تبرعات بھی نافذ ہوں گے اور شہادت بھی مسموع ہےدرمختار میں ہے:
المعتوہ من العتہ وہو اختلال فی العقل ۔ المعتوہعتہ سے ماخوذ ہے۔اورعقل میں خلل واقع ہوجانے کانام ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ہذا ذکرہ فی البحر تعریفا للجنون وقال ویدخل فیہ المعتوہ واحسن الاقوال فی الفرق بینہما ان المعتوہ ہوالقلیل الفہم المختلط الکلام الفاسد التدبیر لکن لایضرب ولایشتم بخلاف المجنون اھ وصرح الاصولیون بان حکمہ کالصبی ۔ بحر میں یہ تعریف جنو ن کی لکھی ہے اور کہا کہ معتوہ بھی اس تعریف میں داخل ہے۔اور دونوں میں فرق کے لئے یوں کہنا بہترہے کہ معتوہ وہ ہے جو قلیل فہمخلط ملط کلام اورفاسد تدبیر والا جو لوگوں کوضرب وشتم نہ کرے اورمجنون وہ ہے جو ضرب وشتم کرے اھ اور اصول والوں نے تصریح کی ہے کہ اس کاحکم بچوں والا ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
تصرف المعتوہ ان کان نافعا محضا کالاسلام و الاتہاب صح بلا اذنوان کان ضارا کالطلاق والعتاق والصدقۃ والقرض(والہبۃ ش) معتوہ کا تصرف اگر فاندہ مند ہو جیسے اسلام اور ہبہ قبول کرنا تو یہ نافذ العمل ہوگا ولی کی اجازت ضروری نہ ہوگی اور اگر وہ عمل مضر ہو تو ولی کی اجازت کے باوجود نافذ نہ ہوگا جیسے طلاق عتاقصدقہ اور قرضاس پر شامی نے ہبہ
المعتوہ من العتہ وہو اختلال فی العقل ۔ المعتوہعتہ سے ماخوذ ہے۔اورعقل میں خلل واقع ہوجانے کانام ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ہذا ذکرہ فی البحر تعریفا للجنون وقال ویدخل فیہ المعتوہ واحسن الاقوال فی الفرق بینہما ان المعتوہ ہوالقلیل الفہم المختلط الکلام الفاسد التدبیر لکن لایضرب ولایشتم بخلاف المجنون اھ وصرح الاصولیون بان حکمہ کالصبی ۔ بحر میں یہ تعریف جنو ن کی لکھی ہے اور کہا کہ معتوہ بھی اس تعریف میں داخل ہے۔اور دونوں میں فرق کے لئے یوں کہنا بہترہے کہ معتوہ وہ ہے جو قلیل فہمخلط ملط کلام اورفاسد تدبیر والا جو لوگوں کوضرب وشتم نہ کرے اورمجنون وہ ہے جو ضرب وشتم کرے اھ اور اصول والوں نے تصریح کی ہے کہ اس کاحکم بچوں والا ہے۔(ت)
درمختارمیں ہے:
تصرف المعتوہ ان کان نافعا محضا کالاسلام و الاتہاب صح بلا اذنوان کان ضارا کالطلاق والعتاق والصدقۃ والقرض(والہبۃ ش) معتوہ کا تصرف اگر فاندہ مند ہو جیسے اسلام اور ہبہ قبول کرنا تو یہ نافذ العمل ہوگا ولی کی اجازت ضروری نہ ہوگی اور اگر وہ عمل مضر ہو تو ولی کی اجازت کے باوجود نافذ نہ ہوگا جیسے طلاق عتاقصدقہ اور قرضاس پر شامی نے ہبہ
حوالہ / References
درمختار کتاب الطلاق ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۱۸€
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۴۲۶€
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۴۲۶€
لاو ان اذن بہ ولیہماوماتردد من العقود بین نفع وضرر کالبیع و الشراء توقف علی الاذن . دینے کا اضافہ کیااور اس کاایسا عمل جو نفع اور نقصان والے دونوں پہلو رکھتا ہو وہ ولی کی اجازت پر موقوف ہونگے جیسے بیع وشراء۔(ت)
عالمگیری میں ہے:
لاتقبل شہادۃ الصبیان والمجانین والمعتوہ بمنزلۃ المجنون ۔ بچوں اور مجنون کی شہادت مقبول نہیں اور معتوہ بچوں کا حکم رکھتاہے۔(ت)
اسی میں ہے:
(کذا شہادۃ الصبیان بعضہم علی بعض فیما یقع فی الملا عبوشہادۃ النساء فیما یقع فی الحمامات لا تقبلوان مست الحاجۃ الیہا کذا فی الذخیرۃ ۔ یونہی بچوں کی کھیل کے متعلق اورعورتوں کے حمام کے متعلق شہادت مقبول نہیں اگرچہ یہاں ضرورت بھی ہے۔ذخیرہ میں یوں ہے۔(ت)
طحطاوی میں ہے:
قال الشلبی فی حاشیۃ الزیلعی الحق التفصیل فان کان لافاقتہ معلوم فعقد فی ذلك الوقت فالحکم فیہ کالعاقلوان لم یکن لافاقتہ وقت معلوم فعقد فی حال الافاقۃ فالحکم فیہ کالصبی اھ والفرق بین الافاقۃ المعلومۃ و غیرہا انہ فی المعلوم تحقق صحوہ بحسب زیلعی کے حاشیہ میں شلبی نے کہا حق یہ ہے کہ اس میں تفصیل ہے اگر معتوہ کے افاقہ کا وقت معلوم ہے اور اس وقت اس سے عقد صادرہو ا تو اس وقت میں عاقل والاحکم ہوگا اوراگراس کے افاقہ کا وقت معلوم نہ ہو تو افاقہ کی حالت میں کیا ہوا عقد بچوں والا حکم رکھتاہے اھ اور افاقہ معلوم ہونے نہ ہونے کا فرق یہ ہے کہ معلوم کی صورت میں اس کی صحت حسب معمول ہوتی
عالمگیری میں ہے:
لاتقبل شہادۃ الصبیان والمجانین والمعتوہ بمنزلۃ المجنون ۔ بچوں اور مجنون کی شہادت مقبول نہیں اور معتوہ بچوں کا حکم رکھتاہے۔(ت)
اسی میں ہے:
(کذا شہادۃ الصبیان بعضہم علی بعض فیما یقع فی الملا عبوشہادۃ النساء فیما یقع فی الحمامات لا تقبلوان مست الحاجۃ الیہا کذا فی الذخیرۃ ۔ یونہی بچوں کی کھیل کے متعلق اورعورتوں کے حمام کے متعلق شہادت مقبول نہیں اگرچہ یہاں ضرورت بھی ہے۔ذخیرہ میں یوں ہے۔(ت)
طحطاوی میں ہے:
قال الشلبی فی حاشیۃ الزیلعی الحق التفصیل فان کان لافاقتہ معلوم فعقد فی ذلك الوقت فالحکم فیہ کالعاقلوان لم یکن لافاقتہ وقت معلوم فعقد فی حال الافاقۃ فالحکم فیہ کالصبی اھ والفرق بین الافاقۃ المعلومۃ و غیرہا انہ فی المعلوم تحقق صحوہ بحسب زیلعی کے حاشیہ میں شلبی نے کہا حق یہ ہے کہ اس میں تفصیل ہے اگر معتوہ کے افاقہ کا وقت معلوم ہے اور اس وقت اس سے عقد صادرہو ا تو اس وقت میں عاقل والاحکم ہوگا اوراگراس کے افاقہ کا وقت معلوم نہ ہو تو افاقہ کی حالت میں کیا ہوا عقد بچوں والا حکم رکھتاہے اھ اور افاقہ معلوم ہونے نہ ہونے کا فرق یہ ہے کہ معلوم کی صورت میں اس کی صحت حسب معمول ہوتی
حوالہ / References
درمختار کتاب الماذون ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۳،€ردالمحتار کتاب الماذون داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۱۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۵€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الشہادات الباب الرابع ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۴۶۵€
عادتہاماغیر فیحتمل انہ حال جنونہ تکلم بکلام العقلاء اھ مختصرا۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ ہے اور غیر معلوم ہے ہوسکتاہے کہ وہ جنون کی حالت میں عقلمندوں جیسی گفتگو کررہا ہوواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ ۲۳۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فالج کہ مرض دماغی ہے۔اسے اختلال عقل وعدم ثبات حواس لازم ہے یانہیں اور اگر کسی عالم کو چند سال مرض رہے طول مرض کے سبب گھبرائے تو دل بہلانے کو شطرنج یا اسی قسم کے کھیل میں کبھی مشغول ہو تو آیا اس سے لازم آتاہے کہ وہ عالم مجنون یامسلوب الحواس قرار دیا جائے اور اس کے تصرفات بیع وہبہ وغیرہ باطل کردے جائیں۔بینوا توجروا
الجواب:
فالج اگر چہ مرض دماغی ہے مگر اس سے اختلال عقل وعدم ثبات حواس ہر گز لازم نہیں آتاآخر عامہ کتب فقہ میں تصریح ہے کہ جب یہ مرض سال بھر سے متجاوز ومزمن ہوجائے تو مریض شرعا صحیح گنا جائے گااور اس کے سب تصرفات نافذ قرار پائیں گےاگر اس مرض کو بدحواسی لازم ہوتی تو یہ حکم فقہاء کا کیونکر صحیح ہوتانہ شطرنجگنجفہچوسریا اور اسی قسم کے ہزاروں کھیلوں سے مسلوب الحواسی ثابت ہوبلکہ خیال کیجئے تو یہ سب کام عقل وحواس چاہتے ہیںاوریہ بات جدا رہی کہ ایسے افعال عالم کے شان سے بعید ہوںاول عالم کے لئے معصوم ہونا شرط نہیںثانیا بالفرض شطرنج مطلقا گناہ ہوتو کسی گنا ہ سے شرع شریف بطلان تصرفات کاحکم نہیں دیتی اور امام عامر شعبی کہ اکابر ائمہ محدثین سے ہیں شطرنج کھیلا کرتے اب کیا اس بنا پر معاذاﷲ کوئی انھیں مسلوب الحواس کہہ سکتاہےاور بعض جاہل جو کہنے لگتے ہیں کہ یہ کیسے عالم ہیں جو ایسے افعال کرتے ہیں یا ان کی عقل کدھر گئی کہ عالم ہوکر ایسی باتوں میں مشغول ہیں قطعا نظر اس سے کہ جہلاء کو کسی کے افعال سے تعرض اور ان پر طعن و تشنیع روانہیںحدیث میں ہے:
"عالم بے عمل مثل شمع کے ہے کہ خود جلتا ہے اور تمھیں روشنی پہنچاتاہے۔" ۔یہ محاورہ ایسا ہے جیسے قرآن مجید میں ارشاد ہوا:
" اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم کیا تم لوگوں کو بھلائی کاحکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو
مسئلہ ۲۳۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ فالج کہ مرض دماغی ہے۔اسے اختلال عقل وعدم ثبات حواس لازم ہے یانہیں اور اگر کسی عالم کو چند سال مرض رہے طول مرض کے سبب گھبرائے تو دل بہلانے کو شطرنج یا اسی قسم کے کھیل میں کبھی مشغول ہو تو آیا اس سے لازم آتاہے کہ وہ عالم مجنون یامسلوب الحواس قرار دیا جائے اور اس کے تصرفات بیع وہبہ وغیرہ باطل کردے جائیں۔بینوا توجروا
الجواب:
فالج اگر چہ مرض دماغی ہے مگر اس سے اختلال عقل وعدم ثبات حواس ہر گز لازم نہیں آتاآخر عامہ کتب فقہ میں تصریح ہے کہ جب یہ مرض سال بھر سے متجاوز ومزمن ہوجائے تو مریض شرعا صحیح گنا جائے گااور اس کے سب تصرفات نافذ قرار پائیں گےاگر اس مرض کو بدحواسی لازم ہوتی تو یہ حکم فقہاء کا کیونکر صحیح ہوتانہ شطرنجگنجفہچوسریا اور اسی قسم کے ہزاروں کھیلوں سے مسلوب الحواسی ثابت ہوبلکہ خیال کیجئے تو یہ سب کام عقل وحواس چاہتے ہیںاوریہ بات جدا رہی کہ ایسے افعال عالم کے شان سے بعید ہوںاول عالم کے لئے معصوم ہونا شرط نہیںثانیا بالفرض شطرنج مطلقا گناہ ہوتو کسی گنا ہ سے شرع شریف بطلان تصرفات کاحکم نہیں دیتی اور امام عامر شعبی کہ اکابر ائمہ محدثین سے ہیں شطرنج کھیلا کرتے اب کیا اس بنا پر معاذاﷲ کوئی انھیں مسلوب الحواس کہہ سکتاہےاور بعض جاہل جو کہنے لگتے ہیں کہ یہ کیسے عالم ہیں جو ایسے افعال کرتے ہیں یا ان کی عقل کدھر گئی کہ عالم ہوکر ایسی باتوں میں مشغول ہیں قطعا نظر اس سے کہ جہلاء کو کسی کے افعال سے تعرض اور ان پر طعن و تشنیع روانہیںحدیث میں ہے:
"عالم بے عمل مثل شمع کے ہے کہ خود جلتا ہے اور تمھیں روشنی پہنچاتاہے۔" ۔یہ محاورہ ایسا ہے جیسے قرآن مجید میں ارشاد ہوا:
" اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم کیا تم لوگوں کو بھلائی کاحکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحجر دارالمعرفۃ بیروت ∞۴/ ۸۲€
الفردوس بماثور الخطاب ∞حدیث ۴۲۰۶€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۳/ ۷۳€
الفردوس بماثور الخطاب ∞حدیث ۴۲۰۶€ دارالکتب العلمیۃ بیروت ∞۳/ ۷۳€
وانتم تتلون الکتب " بھول جاتے ہو حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو تو کیا سمجھتے نہیں۔(ت)
یا اس سے بڑھ کر ارشاد ہوا:
" اولو کان اباؤہم لا یعقلون شیـا ولا یہتدون﴿۱۷۰﴾ " کیااگر ان کے آباء واجداد کسی چیز کی عقل نہ رکھتے ہوں اورنہ ہی راہ یافتہ ہوں۔(ت)
اب کیا قرآن عظیم نے ان لوگوں کو بے عقل کہہ کر ان کی بیع وشراء واجارہ وغیرہا تصرف کو باطل ٹھہرایاہے۔حاشا وکلا کوئی عاقل ایسا گمان نہیں کرسکتا ومن ادعی فعلیہ البیان(جو یہ دعوی کرے تو اس پر بیان لازم ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ اختلال عقل کا شرعا موجب منع نفاذ تصرف کا ہوتا ہے اس کے کیا معنی ہیں اور کیا کیا باتیں اس کے واسطے درکار ہیںاور اگر کوئی چار سال سے زیادہ مرض فالج میں مبتلا ہےابتداء میں مرض شائد کہ دست وپا وزبان سب پر آفت ہوپھر تھوڑے عرصہ بعد ہاتھ پاؤں بخوبی تمام کھل جائیںاورزبان بھی اتنی صاف ہو جائے کہ ادائے مطلب میں عاجز نہو اگرچہ تکلم میں قدرے تکلف رہے۔یہاں تك کہ ایسی حالت میں حج کرےاوروہاں طواف وسعی صفاومروہ ووقوف وعمرہ وزیارت مدینہ طیبہ وحاضری مشاہدہ متبرکہ میں اپنے پاؤں سے مثل اصحا نہایت سرگرم رہے۔ا ورا س کے اور افعال بھی مثل عقلاء کے ہوںدیہات کی تحصیل وتشخیص کرےبات سنے سمجھے جواب دینے میں فرق نہ ہو۔اور بالفرض اس زمانہ ممتدمیں دو تین باتیں اس سے ایسی بھی صادر ہوجائیں جو غفلت وبیخودی پر دلالت کریںتو آیا انھیں باتوں پر مدار کا ر رکھ کر اسے مجنون یا معتوہ ٹھہرادیں گےیا شاذونادر کااعتبار کریں گےجب تك یہ ثابت نہ ہو کہ باربار بتکرار اکثر افعال وحرکات اس سے اس قسم کے ہوتے اور ہوش کی باتیں کم کرتا۔بینوا توجروا
الجواب:
مسلوب الحواسی کی اعلی قسم تو جنون ہے والعیاذباﷲ منہاورادنی قسم عتہجس کے صاحب کو
یا اس سے بڑھ کر ارشاد ہوا:
" اولو کان اباؤہم لا یعقلون شیـا ولا یہتدون﴿۱۷۰﴾ " کیااگر ان کے آباء واجداد کسی چیز کی عقل نہ رکھتے ہوں اورنہ ہی راہ یافتہ ہوں۔(ت)
اب کیا قرآن عظیم نے ان لوگوں کو بے عقل کہہ کر ان کی بیع وشراء واجارہ وغیرہا تصرف کو باطل ٹھہرایاہے۔حاشا وکلا کوئی عاقل ایسا گمان نہیں کرسکتا ومن ادعی فعلیہ البیان(جو یہ دعوی کرے تو اس پر بیان لازم ہے۔ت)واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ اختلال عقل کا شرعا موجب منع نفاذ تصرف کا ہوتا ہے اس کے کیا معنی ہیں اور کیا کیا باتیں اس کے واسطے درکار ہیںاور اگر کوئی چار سال سے زیادہ مرض فالج میں مبتلا ہےابتداء میں مرض شائد کہ دست وپا وزبان سب پر آفت ہوپھر تھوڑے عرصہ بعد ہاتھ پاؤں بخوبی تمام کھل جائیںاورزبان بھی اتنی صاف ہو جائے کہ ادائے مطلب میں عاجز نہو اگرچہ تکلم میں قدرے تکلف رہے۔یہاں تك کہ ایسی حالت میں حج کرےاوروہاں طواف وسعی صفاومروہ ووقوف وعمرہ وزیارت مدینہ طیبہ وحاضری مشاہدہ متبرکہ میں اپنے پاؤں سے مثل اصحا نہایت سرگرم رہے۔ا ورا س کے اور افعال بھی مثل عقلاء کے ہوںدیہات کی تحصیل وتشخیص کرےبات سنے سمجھے جواب دینے میں فرق نہ ہو۔اور بالفرض اس زمانہ ممتدمیں دو تین باتیں اس سے ایسی بھی صادر ہوجائیں جو غفلت وبیخودی پر دلالت کریںتو آیا انھیں باتوں پر مدار کا ر رکھ کر اسے مجنون یا معتوہ ٹھہرادیں گےیا شاذونادر کااعتبار کریں گےجب تك یہ ثابت نہ ہو کہ باربار بتکرار اکثر افعال وحرکات اس سے اس قسم کے ہوتے اور ہوش کی باتیں کم کرتا۔بینوا توجروا
الجواب:
مسلوب الحواسی کی اعلی قسم تو جنون ہے والعیاذباﷲ منہاورادنی قسم عتہجس کے صاحب کو
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲/ ۴۴€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۷۰€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۷۰€
معتوہ کہتے ہیں۔اس میں بھی اسی قدر ضرورت ہے کہ تدبیریں اس کی ٹھیك نہ رہیںسمجھ اس کی درست نہ ہوباتوں کاکوئی ٹھکانہ نہ رہے۔ابھی بیٹھاہے خوب ہوش وحواس کی باتیں کررہاہےابھی خرافات وہذیانات بکنے لگاسودائیوں کی طرح مہمل وبے معنی بہکنے لگا یہاں تك کہ شریعت مطہرہ اس کے اوپر سے اپنی تکلیفیں اٹھالیتی ہے اور نماز وروزہ تك اس کے اوپر فرض نہیں رہتا۔
فی الفتاوی الخیریۃ العتہ قلۃ الفہم واختلاط الکلام وفساد التدبیر وذلك بسبب اختلاط العقل فیشبہ مرۃ کلامہ کلام العقلاء ومرۃ کلام المجانین۔ وفی رد المحتار حکم المعتوہ کالصبی العاقل فی تصرفاتہ وفی رفع التکلیف عنہ زیلعی ۔ فتاوی خیریہ میں ہےعتہ__ قلت فہمکلام کا اختلاط اور فساد تدبیر ہے۔اور یہ عقل میں خلل کی وجہ سے ہوتاہے تو کبھی اس کا کلام عقلاء کے کلام اورکبھی مجانین کے کلام کے مشابہ ہوتاہے۔اور ردالمحتارمیں ہے کہ معتوہ کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنے تصرفات اور غیر مکلف ہونے میں نابالغ عاقل جیسا ہوتاہے۔ زیلعی۔(ت)
اب چاہے زوال عقل اپنی اعلی درجہ کی حد کو پہنچ جائےیعنی مثلا اتنی بات کی بھی خبر نہ رہے کہ چیز بیچتے ہیں تو اپنی ملك سے نکل جاتی ہے خریدتے ہیں تو اپنے پاس آجاتی ہےخریدو فروخت میں نفع کاارادہ چاہے۔خواہ اس حد کونہ پہنچا ہواور ان باتوں کی ہنوز گونہ تمیز باقی ہومگر وہ امور جو ہم نے اوپر ذکر کئے اس میں پائے جانے ضرور ہوں کہ وہ تو معتوہ کی نفس تفسیر میں واقع ہیںپھر جب تك اس کیفیت کا ثبوت نہ ہوہرگز مسلوب الحواسی شرعا ثابت نہیں ہوسکتی نہ یہاں شاذونادر کا اعتبار کریںبلکہ اکثر افعال وحرکات فساد عقل واختلال ہوش کے ہونے چاہئیں۔
وفی ردالمحتار ویؤید ماقلنا قول بعضہم العاقل من یستقیم کلامہ وافعالہ الانادرا ۔ ردالمحتار میں ہے ہماری بات کی بعض کے اس قول سے تائید ہوتی ہے کہ عاقل وہ ہے جس کی کلام اور افعال درست ہوتے ہیں ماسوائے نادر موقع کے۔(ت)
فی الفتاوی الخیریۃ العتہ قلۃ الفہم واختلاط الکلام وفساد التدبیر وذلك بسبب اختلاط العقل فیشبہ مرۃ کلامہ کلام العقلاء ومرۃ کلام المجانین۔ وفی رد المحتار حکم المعتوہ کالصبی العاقل فی تصرفاتہ وفی رفع التکلیف عنہ زیلعی ۔ فتاوی خیریہ میں ہےعتہ__ قلت فہمکلام کا اختلاط اور فساد تدبیر ہے۔اور یہ عقل میں خلل کی وجہ سے ہوتاہے تو کبھی اس کا کلام عقلاء کے کلام اورکبھی مجانین کے کلام کے مشابہ ہوتاہے۔اور ردالمحتارمیں ہے کہ معتوہ کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنے تصرفات اور غیر مکلف ہونے میں نابالغ عاقل جیسا ہوتاہے۔ زیلعی۔(ت)
اب چاہے زوال عقل اپنی اعلی درجہ کی حد کو پہنچ جائےیعنی مثلا اتنی بات کی بھی خبر نہ رہے کہ چیز بیچتے ہیں تو اپنی ملك سے نکل جاتی ہے خریدتے ہیں تو اپنے پاس آجاتی ہےخریدو فروخت میں نفع کاارادہ چاہے۔خواہ اس حد کونہ پہنچا ہواور ان باتوں کی ہنوز گونہ تمیز باقی ہومگر وہ امور جو ہم نے اوپر ذکر کئے اس میں پائے جانے ضرور ہوں کہ وہ تو معتوہ کی نفس تفسیر میں واقع ہیںپھر جب تك اس کیفیت کا ثبوت نہ ہوہرگز مسلوب الحواسی شرعا ثابت نہیں ہوسکتی نہ یہاں شاذونادر کا اعتبار کریںبلکہ اکثر افعال وحرکات فساد عقل واختلال ہوش کے ہونے چاہئیں۔
وفی ردالمحتار ویؤید ماقلنا قول بعضہم العاقل من یستقیم کلامہ وافعالہ الانادرا ۔ ردالمحتار میں ہے ہماری بات کی بعض کے اس قول سے تائید ہوتی ہے کہ عاقل وہ ہے جس کی کلام اور افعال درست ہوتے ہیں ماسوائے نادر موقع کے۔(ت)
حوالہ / References
فتاوٰی خیریہ کتاب الطلاق دارالمعرفۃ بیروت ∞۱/ ۴۰€
ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۹۰€
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۴۲۷€
ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۹۰€
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۴۲۷€
دیکھو تصریح کرتے ہیں کہ اگر نادرا بعض کلمات وحرکات قانون عقل سے خارج بھی صادر ہوںتو عاقل ہی کہا جائے گا۔آگے چل کر فرماتے ہیں:
فالذی ینبغی التعویل علیہ فی المدہوش ونحوہ اناطۃ الحکم بغلبۃ الخلل فی اقوالہ وافعالہ الخارجۃ عن عادتہ الخ۔ قابل اعتماد بات یہ ہے کہ مدہوش اور اس جیسوں کاحکم اس کے اقوال وافعال میں خلل کا غلبہ اور عادت سے خارج ہونے پر لگے لگا۔الخ۔(ت)
ہر عاقل جانتاہے کہ بعض اوقات کسی خیال کے استغراق یا تکلیف کی شدت یا فرحت کی کثرت یا اور کسی صورت سے وہ بات بیخودی کی اس سے صادرہوجاتی ہے کہ جب خیال کرتاہے تو خود ہی اسے تعجب ہوتاہےپھر کیا ا سے یہ لازم آسکتاہے کہ اسے مسلوب الحواس ٹھہرادیںاور اس کے تصرفات کا نفاذ نہ مانیںاور یہاں طول عہد مرض ایك قرینہ قویہ بھی ہے کہ اس کی پریشانی میں اگر نادرا کسی ایسے فعل کا وقوع ہوجائے تو کچھ جائے تعجب نہیں۔
فی ردالمحتار عن ہشام ابن کلبی قال حفظت مالم یحفظ احد ونسیت مالم ینسہ احد حفظت القران فی ثلثۃ ایام واردت ان اقطع من لحیتی مازاد علی القبضۃ فنسیت فقطعت من اعلاھا ۔ ردالمحتارمیں ہشام بن کلبی سے منقول ہے اس نے کہا میں نے حفظ کیا جو کسی نے نہ کیا اور میں بھولا اس طرح کوئی نہ بھولا میں نے قرآن پاك تین دن میں حفظ کرلیا اور میں قبضہ سے زائد اپنی داڑھی سے کاٹنا چاہتا تھا توبھول کر میں نے قبضہ کے اوپر سے کاٹ دی۔(ت)
دیکھو ایسا صحیح الضبط قوی الدماغ آدمی جس نے روزانہ د س دس پارہ قرآن مجید کے یاد کرکے تین روز میں کلام اﷲ شریف پورا حفظ کرلیااس سے ایسی خطاء عظیم واقع ہوئی کہ جس پر وہ خود کہتے ہیں مجھ سے وہ بھول ہوئی جوکسی سے نہ ہوئیاب کیا اس نادر بات پر ان کی قوت بالکل زائل اور مسلوب الحواسی حاصل پائی جائے گیبالجملہ جب تك غالب افعال واقوال ایسے ہی نہ ثابت کئے جائیں۔ہر گز بکارآمد نہیں کہ فقہائے کرام عدم اعتبار نادر کی تصریح فرماچکے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۵: یکم ذیقعدہ ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنے دو نکاح کئےدونوں کا مہر
فالذی ینبغی التعویل علیہ فی المدہوش ونحوہ اناطۃ الحکم بغلبۃ الخلل فی اقوالہ وافعالہ الخارجۃ عن عادتہ الخ۔ قابل اعتماد بات یہ ہے کہ مدہوش اور اس جیسوں کاحکم اس کے اقوال وافعال میں خلل کا غلبہ اور عادت سے خارج ہونے پر لگے لگا۔الخ۔(ت)
ہر عاقل جانتاہے کہ بعض اوقات کسی خیال کے استغراق یا تکلیف کی شدت یا فرحت کی کثرت یا اور کسی صورت سے وہ بات بیخودی کی اس سے صادرہوجاتی ہے کہ جب خیال کرتاہے تو خود ہی اسے تعجب ہوتاہےپھر کیا ا سے یہ لازم آسکتاہے کہ اسے مسلوب الحواس ٹھہرادیںاور اس کے تصرفات کا نفاذ نہ مانیںاور یہاں طول عہد مرض ایك قرینہ قویہ بھی ہے کہ اس کی پریشانی میں اگر نادرا کسی ایسے فعل کا وقوع ہوجائے تو کچھ جائے تعجب نہیں۔
فی ردالمحتار عن ہشام ابن کلبی قال حفظت مالم یحفظ احد ونسیت مالم ینسہ احد حفظت القران فی ثلثۃ ایام واردت ان اقطع من لحیتی مازاد علی القبضۃ فنسیت فقطعت من اعلاھا ۔ ردالمحتارمیں ہشام بن کلبی سے منقول ہے اس نے کہا میں نے حفظ کیا جو کسی نے نہ کیا اور میں بھولا اس طرح کوئی نہ بھولا میں نے قرآن پاك تین دن میں حفظ کرلیا اور میں قبضہ سے زائد اپنی داڑھی سے کاٹنا چاہتا تھا توبھول کر میں نے قبضہ کے اوپر سے کاٹ دی۔(ت)
دیکھو ایسا صحیح الضبط قوی الدماغ آدمی جس نے روزانہ د س دس پارہ قرآن مجید کے یاد کرکے تین روز میں کلام اﷲ شریف پورا حفظ کرلیااس سے ایسی خطاء عظیم واقع ہوئی کہ جس پر وہ خود کہتے ہیں مجھ سے وہ بھول ہوئی جوکسی سے نہ ہوئیاب کیا اس نادر بات پر ان کی قوت بالکل زائل اور مسلوب الحواسی حاصل پائی جائے گیبالجملہ جب تك غالب افعال واقوال ایسے ہی نہ ثابت کئے جائیں۔ہر گز بکارآمد نہیں کہ فقہائے کرام عدم اعتبار نادر کی تصریح فرماچکے۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۵: یکم ذیقعدہ ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اپنے دو نکاح کئےدونوں کا مہر
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطلاق داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۴۲۷€
ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃفصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۶۱€
ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃفصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۲۶۱€
اسی پر واجب ہے اور اپنی کل جائداد کو بطور ہبہ یا دین مہر ایك زوجہ کے نام یا کسی غیر کوہبہ دینا چاہتاہے تاکہ دوسری زوجہ محروم رہ جائےاس صورت میں یہ زوجہ قاضی ومفتی کے یہاں استغاثہ کرسکتی ہے یانہیں اور زوج کو ان امور سے روك سکتی ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
اگرچہ ایك زوجہ کی محرومی چاہنا خلاف عدل اور دیانۃ براہے۔مگر جبکہ جائداد اس عورت کے مہر میں مرہون نہیںتو یہ اسے کسی طرح کے تصرفات وانتقال سے نہیں روك سکتی چاہے وہ دوسری زوجہ کے مہرمیں دے دےخواہ اسے کسی راہ چلتے کو ہبہ کردےیا جو چاہے کرے۔
فان امامنا الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ لایقول بالحجر بالدین اصلاوصاحباہ وان قالا بہ فبعد قضاء القاضی بالحجر فحیث لاقضاء لاحجر اجماعا۔ قال فی الہندیۃ من باب الحجر للفساد لاخلاف عندھما ان الحجر بسبب الدین لایثبت الابقضاء القاضی اھ وقال فی الحجر بسبب الدین عند ابی حنیفۃ لایحجر علیہ ولایعمل حجرہ حتی تصح منہ ھذہ التصرفات کذا فی المحیط اھ واﷲ تعالی اعلم۔ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ قرض کی بناء پر کسی کو محجور ہر گز نہ کرتےاورآپ کے صاحبین رحمہما اﷲ تعالی اگرچہ تصرفات سے منع(حجر)کا قول کرتے ہیں لیکن قاضی کے اس فیصلہ کے بعد تو جہاں قاضی کا فیصلہ نہ ہو وہاں وہ حجر کا حکم نہیں کرتےہندیہ نے"باب الحجر للفساد"میں کہا کہ صاحبین رحمہمااﷲ تعالی کے نزدیك بلاخلاف قضاء قاضی سے ہی قرض کی وجہ سے حجر نافذ ہوتاہے اھ اور"الحجر بسبب الدین"کے باب میں فرمایا امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك اس پر حجر کا حکم نہ کیا جائے گا۔اورنہ حجر مؤثر ہوگا حتی کہ اس کے یہ تصرفات صحیح قرار پائیں گے محیط میں یوں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۳۶: ۲۶ ربیع الآخر ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ احمد حسن نے انتقال کیاایك لڑکا وزارت حسن نابالغ اورایك زوجہ اور ایك دختر اورایك برادر خالہ زاد اور ایك حقیقی ماموں زاد بھائی چھوڑا تو
الجواب:
اگرچہ ایك زوجہ کی محرومی چاہنا خلاف عدل اور دیانۃ براہے۔مگر جبکہ جائداد اس عورت کے مہر میں مرہون نہیںتو یہ اسے کسی طرح کے تصرفات وانتقال سے نہیں روك سکتی چاہے وہ دوسری زوجہ کے مہرمیں دے دےخواہ اسے کسی راہ چلتے کو ہبہ کردےیا جو چاہے کرے۔
فان امامنا الاعظم رضی اﷲ تعالی عنہ لایقول بالحجر بالدین اصلاوصاحباہ وان قالا بہ فبعد قضاء القاضی بالحجر فحیث لاقضاء لاحجر اجماعا۔ قال فی الہندیۃ من باب الحجر للفساد لاخلاف عندھما ان الحجر بسبب الدین لایثبت الابقضاء القاضی اھ وقال فی الحجر بسبب الدین عند ابی حنیفۃ لایحجر علیہ ولایعمل حجرہ حتی تصح منہ ھذہ التصرفات کذا فی المحیط اھ واﷲ تعالی اعلم۔ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالی عنہ قرض کی بناء پر کسی کو محجور ہر گز نہ کرتےاورآپ کے صاحبین رحمہما اﷲ تعالی اگرچہ تصرفات سے منع(حجر)کا قول کرتے ہیں لیکن قاضی کے اس فیصلہ کے بعد تو جہاں قاضی کا فیصلہ نہ ہو وہاں وہ حجر کا حکم نہیں کرتےہندیہ نے"باب الحجر للفساد"میں کہا کہ صاحبین رحمہمااﷲ تعالی کے نزدیك بلاخلاف قضاء قاضی سے ہی قرض کی وجہ سے حجر نافذ ہوتاہے اھ اور"الحجر بسبب الدین"کے باب میں فرمایا امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالی عنہ کے نزدیك اس پر حجر کا حکم نہ کیا جائے گا۔اورنہ حجر مؤثر ہوگا حتی کہ اس کے یہ تصرفات صحیح قرار پائیں گے محیط میں یوں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۳۶: ۲۶ ربیع الآخر ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ احمد حسن نے انتقال کیاایك لڑکا وزارت حسن نابالغ اورایك زوجہ اور ایك دختر اورایك برادر خالہ زاد اور ایك حقیقی ماموں زاد بھائی چھوڑا تو
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الحجر الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۵€۵
فتاوٰی ہندیہ کتاب الحجر الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶۱€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الحجر الباب الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶۱€
اس صورت میں شرعا لڑکے نابالغ اورنیز جائداد غیر منقولہ کا کون ولی مقرر ہوسکتاہے۔بینوا توجروا
الجواب:
صورت مستفسرہ میں جب کوئی عصبہ نہیں تو صرف ولایت نکاح ماں کو ہے۔نابالغ پر ولایت مال اور جائداد پر اختیارماں بہن خواہ ان رشتہ کے چچاؤں کسی کونہیں۔جب تك مورث نے ان میں کسی کو وصی نہ کیا ہو کہ باپ کے بعد ولایت مال اس کے وصی کو ہے۔یعنی جسے اس نے وصیت کی ہو کہ تومیرے بعد میری جائداد یا اولاد کی غور پر داخت کرناوہ نہ ہو تو اس کا وصیوہ نہ ہو تو داداوہ نہ ہو تو اس کا وصیوہ نہ ہو تو اس کے وصی کا وصیوہ نہ ہو تو پر داداوہ نہ ہو تو اس کا وصیپھر وصی الوصیوعلی ہذالقیاسپھر ان میں کوئی نہ ہو تو حاکم اسلام یا اس کا وصیان کے سوا کوئی ولی مال نہیں۔
فی الدرالمختار ولیہ ابوہ ثم وصیہ ثم وصی وصیہ ثم جدہ الصحیح وان علاثم وصیہ ثم وصی وصیہ ثم القاضی او وصیہ ایہما تصرف صح دون الام او وصیہاہذا فی المال بخلاف النکاح اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم۔ درمختارمیں ہے۔اس کا ولی ترتیب وارباپ پھر وصی پھر وصی کاوصیپھر حقیقی دادا اوپر تکپھر اس کا وصی پھر اسکے وصی کا وصیپھر قاضی یا اس کا وصی دونوں میں کوئی بھی تصرف کرےصحیح ہوگاماں یا اس کا وصی ولی نہیں ہیںیہ مال کے معاملہ میں ہے بخلاف نکاح کے اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۳۷:(نوٹ)اصل میں سوال نہیں ہےلیکن جواب سے یہ مفہوم ہوتاہے کہ کسی فاترالعقل کے تصرفات نکاح وعقد بیع سے متعلق تھا جس کو بعد میں ایسے ولی نے جائز کردیا تھاجو باپ اور دادا کے علاوہ تھا۔(عبدالمنان)
الجواب:
اللہم ھدایۃ الحق والصواب۔مدارصحت ونفاذ تصرفات وترتیب احکام میں تو یہ عقل ہےیہ جو محض بے عقل ہے اس کے تصرفات رأسا باطلکہ اجازت اولیاء کی بھی صلاحیت نہیں رکھتےاور جو نفع وضررمیں قدرے تمیز حاصلاور عقل سے کچھ بہرہ ہےمثلا بیع وشراء کو سالب وجالب ملك اورغبن قلیل وکثیر میں تفرقہ اور مقصود تجارت حصول منفعت جانتاہے یا مسلوب الحواسی
الجواب:
صورت مستفسرہ میں جب کوئی عصبہ نہیں تو صرف ولایت نکاح ماں کو ہے۔نابالغ پر ولایت مال اور جائداد پر اختیارماں بہن خواہ ان رشتہ کے چچاؤں کسی کونہیں۔جب تك مورث نے ان میں کسی کو وصی نہ کیا ہو کہ باپ کے بعد ولایت مال اس کے وصی کو ہے۔یعنی جسے اس نے وصیت کی ہو کہ تومیرے بعد میری جائداد یا اولاد کی غور پر داخت کرناوہ نہ ہو تو اس کا وصیوہ نہ ہو تو داداوہ نہ ہو تو اس کا وصیوہ نہ ہو تو اس کے وصی کا وصیوہ نہ ہو تو پر داداوہ نہ ہو تو اس کا وصیپھر وصی الوصیوعلی ہذالقیاسپھر ان میں کوئی نہ ہو تو حاکم اسلام یا اس کا وصیان کے سوا کوئی ولی مال نہیں۔
فی الدرالمختار ولیہ ابوہ ثم وصیہ ثم وصی وصیہ ثم جدہ الصحیح وان علاثم وصیہ ثم وصی وصیہ ثم القاضی او وصیہ ایہما تصرف صح دون الام او وصیہاہذا فی المال بخلاف النکاح اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم۔ درمختارمیں ہے۔اس کا ولی ترتیب وارباپ پھر وصی پھر وصی کاوصیپھر حقیقی دادا اوپر تکپھر اس کا وصی پھر اسکے وصی کا وصیپھر قاضی یا اس کا وصی دونوں میں کوئی بھی تصرف کرےصحیح ہوگاماں یا اس کا وصی ولی نہیں ہیںیہ مال کے معاملہ میں ہے بخلاف نکاح کے اھ ملخصا واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۳۷:(نوٹ)اصل میں سوال نہیں ہےلیکن جواب سے یہ مفہوم ہوتاہے کہ کسی فاترالعقل کے تصرفات نکاح وعقد بیع سے متعلق تھا جس کو بعد میں ایسے ولی نے جائز کردیا تھاجو باپ اور دادا کے علاوہ تھا۔(عبدالمنان)
الجواب:
اللہم ھدایۃ الحق والصواب۔مدارصحت ونفاذ تصرفات وترتیب احکام میں تو یہ عقل ہےیہ جو محض بے عقل ہے اس کے تصرفات رأسا باطلکہ اجازت اولیاء کی بھی صلاحیت نہیں رکھتےاور جو نفع وضررمیں قدرے تمیز حاصلاور عقل سے کچھ بہرہ ہےمثلا بیع وشراء کو سالب وجالب ملك اورغبن قلیل وکثیر میں تفرقہ اور مقصود تجارت حصول منفعت جانتاہے یا مسلوب الحواسی
حوالہ / References
درمختار کتاب الماذون ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۳€
اس کی دائمی نہیںنہ ہوش میں آنے کاوقت معینگاہے عقل سے بیگانہ گاہے بالکل ہوشیار وفرزانہتو اس صورت میں امثال نکاح وبیع وشراء وغیرہا تصرف اس کے نفع وضرر دونوں کو محتملاس ولی کی اجازت پر موقوف رہیں گےجسے ان تصرفات کا اس کے نفس ومال میں خود اختیار حاصل ہواگرولی نہیں یا ولی کو ایسے تصرفات کی خود پروانگی نہیںیاہے مگر وہ جائز نہ رکھےتو یہ باطل ہوجائیں گے۔
وفی حاشیۃ الدرالمختار للعلامۃ احمد الطحطاوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہواما ذاہب العقل اصلا فان تصرفہ لاتلحقہ الاجازۃ اھ وفی الدر(ومن عقد) عقد یدور بین نفع وضرر کما سیجی فی الماذون (منہم) من ھؤلاء المحجورین(ویعقلہ) یعرف ان البیع سالب للملك والشراء جالب(اجاز ولیہ او رد) وان لم یعقلہ فباطل نہایۃ اھ فی الطحطاویۃ قولہ یعرف ان البیع سالب الخ ویعرف الغبن الیسیر من الفاحش ویقصد تحصیل الربع والزیادۃ اھ زیلعی قولہ اجاز ولیہ جعل فی الدرایہ الولی شاملا للعصبات وخصہ ابن فرشتہ فی شرح المجمع بالقاضی ومن علامہ سید احمدطحطاوی رحمہ اﷲ تعالی کے حاشیہ درمختارمیں ہے لیکن وہ جس کی عقل بالکل زائل ہوگئی ہو تو اس کے کسی تصرف کو اجازت نہیں مل سکتی اھ اوردرمختارمیں ہے ان محجور لوگوں میں سے اگر کوئی ایسا تصرف جسمیں اس کے لئے نفع ونقصان کے دونوں پہلو ہوں جیساکہ عنقریب ان میں سے ماذون حضرات کے لئے بیان ہوگا وہ عقد بیع میں یہ جانتا ہے کہ اس سے اس کی ملکیت ختم ہوجاتی ہے اورشراء میں ملکیت حاصل ہوتی ہے ایسے میں اس کے ولی کو اختیار ہے کہ عقد کو جائز کرے یا رد کردےاور اگر وہ یہ نہیں سمجھتا تو عقد باطل ہوگا اھ۔ اور طحطاوی میں ہے کہ ماتن کا قول کہ بیع سے ملکیت کا زوال ہوناجانتاہے الخ۔اور یہ بھی جانتاہوکہ تھوڑا غبن اور زیادہ کیا ہوتاہے۔اور نفع اور مال کو زائد بنانے کا ارادہ بھی رکھتاہو اھ زیلعیماتن کا قول کہ"ولی اجازت دے" درایہ میں ولی میں عصبات بھی شامل کئے ہیں اور ابن فرشتہ نے مجمع کی شرح میں صرف قاضی کو ولی قرار دیا
وفی حاشیۃ الدرالمختار للعلامۃ احمد الطحطاوی رحمۃ اﷲ تعالی علیہواما ذاہب العقل اصلا فان تصرفہ لاتلحقہ الاجازۃ اھ وفی الدر(ومن عقد) عقد یدور بین نفع وضرر کما سیجی فی الماذون (منہم) من ھؤلاء المحجورین(ویعقلہ) یعرف ان البیع سالب للملك والشراء جالب(اجاز ولیہ او رد) وان لم یعقلہ فباطل نہایۃ اھ فی الطحطاویۃ قولہ یعرف ان البیع سالب الخ ویعرف الغبن الیسیر من الفاحش ویقصد تحصیل الربع والزیادۃ اھ زیلعی قولہ اجاز ولیہ جعل فی الدرایہ الولی شاملا للعصبات وخصہ ابن فرشتہ فی شرح المجمع بالقاضی ومن علامہ سید احمدطحطاوی رحمہ اﷲ تعالی کے حاشیہ درمختارمیں ہے لیکن وہ جس کی عقل بالکل زائل ہوگئی ہو تو اس کے کسی تصرف کو اجازت نہیں مل سکتی اھ اوردرمختارمیں ہے ان محجور لوگوں میں سے اگر کوئی ایسا تصرف جسمیں اس کے لئے نفع ونقصان کے دونوں پہلو ہوں جیساکہ عنقریب ان میں سے ماذون حضرات کے لئے بیان ہوگا وہ عقد بیع میں یہ جانتا ہے کہ اس سے اس کی ملکیت ختم ہوجاتی ہے اورشراء میں ملکیت حاصل ہوتی ہے ایسے میں اس کے ولی کو اختیار ہے کہ عقد کو جائز کرے یا رد کردےاور اگر وہ یہ نہیں سمجھتا تو عقد باطل ہوگا اھ۔ اور طحطاوی میں ہے کہ ماتن کا قول کہ بیع سے ملکیت کا زوال ہوناجانتاہے الخ۔اور یہ بھی جانتاہوکہ تھوڑا غبن اور زیادہ کیا ہوتاہے۔اور نفع اور مال کو زائد بنانے کا ارادہ بھی رکھتاہو اھ زیلعیماتن کا قول کہ"ولی اجازت دے" درایہ میں ولی میں عصبات بھی شامل کئے ہیں اور ابن فرشتہ نے مجمع کی شرح میں صرف قاضی کو ولی قرار دیا
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحجر دارالمعرفۃ بیروت ∞۴/ ۸۲€
درمختار کتاب الحجر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹۸€
درمختار کتاب الحجر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹۸€
لہ ولایۃ التجارۃ فی مال الصغیر کالاب والجد الوصی فلایجوز باذن الاخ والعم والام واجاب المقدسی یحمل ھذا التعمیم علی مال الولی فعلہ کالنکاح فتصح اجازتہ من الاخ والعم حموی اھ۔ اورساتھ ہی اس کو جو نابالغ کے مال میں تجارت کا ولی بنتاہے جیسے باپدادااور وصیتو بھائیچچا اور ماں کی اجازت صحیح نہ ہوگیاور مقدسی نے اس کے جواب میں ولایت کو عام کرکے ولی کے اختیار ی فعل مثلا نکاح کو شامل کیا تو بھائی اور چچا کی اجازت صحیح ہوگی۔حموی اھ(ت)
ہاں اگر اس کے افاقہ کا کوئی وقت معین ہو کہ اس وقت خاص بالکل ہوش میں آجانے کا عادی ہےتو اس حالت افاقہ میں جو تصرف اس سے صادرہوگا وہ اس میں مثل سائر عقلاء کے ہے کما ذکر ہ الزیلعی وفسرہ الشلبی نقلہ الطحطاوی(جیسا کہ زیلعی نے اسے ذکر کیا اور شلبی نے تفصیل کے ساتھ اسے بیان کیا طحطاوی نے اسے نقل کیا۔ت)لیکن یہ صورت یہاں معدومکہ سائل کہتاہے مسلوب الحواسی اس کی دائمی تھی جس سے کبھی افاقہ نہ ہوتا۔اور اس کے اظہار سے یہ بھی ثابت ہے کہ یہ مہر جو زن مذکورہ کا باندھا گیا اس کے مہر مثل سے کہیں زائد ہے پس صورت مستفسرہ میں یہ نکاح وبیع بہرتقدیر راسا باطل محض ہیں جن کی صحت ونفاذ کی کوئی سبیل نہیںخواہ زید بالکل ذاہب العقل ہو اور کسی طرح کی تمیز نہ رکھتاہوجیسا کہ تقریر سوال سے بھی ظاہر ہوتاہے یا محجوروں کی دوسری قسم میں داخل ہو جن کے تصرفات کذائیہ اجازت اولیاء پر موقوف رہتے ہیں۔تقدیر اول پر بطلان نہایت واضح کہ لایعقل محض کے تصرفات کواجازت اولیاء بھی کام نہیں آتیکماذکرنااوردوسری شق پر جب تقرر مہر میں غبن فاحش ہواور مہر مثل سے بہت زیادہ بندھا تو ایسا نکاح خود اب وجد کے سوا اور اولیاء کے ہاتھ کا کیا ہوا اصلا صحیح نہیں ہوتا۔پھرا نھیں اجازت کا کیا اختیار ہوگا اور قاعدہ مقررہ فقہیہ ہے کہ:
کل تصرف صدر ومالہ مجیز حالۃ العقد لاینعقد اصلا۔ ایسا تصرف جس کے انعقاد کے وقت اس کو جائز کرنے والا نہ ہو تو وہ عقد منعقد نہ ہوگا۔(ت)
درمختارمیں ہے:
وان کان المزوج غیر ھما ای اگرنکاح کرکے دینے والا باپ اور دادا کا غیر
ہاں اگر اس کے افاقہ کا کوئی وقت معین ہو کہ اس وقت خاص بالکل ہوش میں آجانے کا عادی ہےتو اس حالت افاقہ میں جو تصرف اس سے صادرہوگا وہ اس میں مثل سائر عقلاء کے ہے کما ذکر ہ الزیلعی وفسرہ الشلبی نقلہ الطحطاوی(جیسا کہ زیلعی نے اسے ذکر کیا اور شلبی نے تفصیل کے ساتھ اسے بیان کیا طحطاوی نے اسے نقل کیا۔ت)لیکن یہ صورت یہاں معدومکہ سائل کہتاہے مسلوب الحواسی اس کی دائمی تھی جس سے کبھی افاقہ نہ ہوتا۔اور اس کے اظہار سے یہ بھی ثابت ہے کہ یہ مہر جو زن مذکورہ کا باندھا گیا اس کے مہر مثل سے کہیں زائد ہے پس صورت مستفسرہ میں یہ نکاح وبیع بہرتقدیر راسا باطل محض ہیں جن کی صحت ونفاذ کی کوئی سبیل نہیںخواہ زید بالکل ذاہب العقل ہو اور کسی طرح کی تمیز نہ رکھتاہوجیسا کہ تقریر سوال سے بھی ظاہر ہوتاہے یا محجوروں کی دوسری قسم میں داخل ہو جن کے تصرفات کذائیہ اجازت اولیاء پر موقوف رہتے ہیں۔تقدیر اول پر بطلان نہایت واضح کہ لایعقل محض کے تصرفات کواجازت اولیاء بھی کام نہیں آتیکماذکرنااوردوسری شق پر جب تقرر مہر میں غبن فاحش ہواور مہر مثل سے بہت زیادہ بندھا تو ایسا نکاح خود اب وجد کے سوا اور اولیاء کے ہاتھ کا کیا ہوا اصلا صحیح نہیں ہوتا۔پھرا نھیں اجازت کا کیا اختیار ہوگا اور قاعدہ مقررہ فقہیہ ہے کہ:
کل تصرف صدر ومالہ مجیز حالۃ العقد لاینعقد اصلا۔ ایسا تصرف جس کے انعقاد کے وقت اس کو جائز کرنے والا نہ ہو تو وہ عقد منعقد نہ ہوگا۔(ت)
درمختارمیں ہے:
وان کان المزوج غیر ھما ای اگرنکاح کرکے دینے والا باپ اور دادا کا غیر
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحجر دارالمعرفۃ بیروت ∞۴/ ۸۲€
غیر الاب وابیہ ولو الام اوالقاضی لایصح النکاح من غیر کفوء اوبغبن فاحش اصلا اھ ملخصا۔ خواہ ماں یا قاضی ہو تو غیر کفومیں نکاح صحیح نہ ہوگایا بہت زیادہ گراں مہر پر ہو تو بھی اصلا جائز نہ ہوگا اھ ملخصا۔(ت)
اسی طرح بیع کہ جب قیمت میں کمی فاحش ہوگیاجازت ولی سے بھی اصلاح ناممکنتویہ وہی تصرف ہوا جس کا حال صدور کوئی مجیزنہیںاور ایسا تصرف باطل ہوتاہے۔
فی ردالمحتار علی الدرالمختار للعلامۃ السید ابن عابدین رحمۃ اﷲ تعالی علیہ قولہ اجازو لیہ ای ان لم یکن فیہ غبن فاحش فان کان لایصح وان اجازہ الولی بخلاف الیسیر جوہرۃ ۔ عــــــہ درمختارکے حاشیہ ردالمحتار علامہ ابن عابدین میں ہےماتن کا قول کہ"ولی جائز کردے"یعنی جب غبن فاحش مہر میں نہ ہو اور غبن فاحش ہو تو ولی کے جائز کرنے پربھی جائز نہ ہوگا بخلاف غبن یسیر کے۔جوہرہ(ت)
مسئلہ ۲۳۸:از گلشن آباد عرف جاورہ ملك مالوہ محلہ نظر باغ متصل مکان عالمگیرخان مرسلہ سید ذوالفقار احمد صاحب ۲۳ شوال ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ فوت ہوئیاس کا ایك لڑکا نو سال کاا ورایك زوجاور ایك پدراور دو برادر وارث رہےعرصہ ہوا کہ مسماۃ ہندہ کا پدر فوت ہوگیااب ان وارثوں میں پسر کے رکھنے اور تعلیم کرانے کا اس وقت کون مستحق ہے۔اور جو ترکہ ہندہ کا زیور وغیرہ رہا ہے اس میں تصرف کاواسطے تربیت پسر متوفیہ کے کون مستحق ہے اور کس کے پاس رہے گا بینوا توجروا
مرشد دینہادی راہ متین جناب مولانا محمد احمد رضاخاں صاحب دام فیضکمبعد تسلیم بصد تعظیم و
عــــــہ:لیس فی ھذا لجواب علامۃ الاختتام وظنی انہ کامل۔(عبدالمنان الاعظمی) اس جواب کے اختتام پر علامت نہیں ہے تاہم میرے گمان میں یہ تام ہے۔(ت)(عبدالمنان الاعظمی)
اسی طرح بیع کہ جب قیمت میں کمی فاحش ہوگیاجازت ولی سے بھی اصلاح ناممکنتویہ وہی تصرف ہوا جس کا حال صدور کوئی مجیزنہیںاور ایسا تصرف باطل ہوتاہے۔
فی ردالمحتار علی الدرالمختار للعلامۃ السید ابن عابدین رحمۃ اﷲ تعالی علیہ قولہ اجازو لیہ ای ان لم یکن فیہ غبن فاحش فان کان لایصح وان اجازہ الولی بخلاف الیسیر جوہرۃ ۔ عــــــہ درمختارکے حاشیہ ردالمحتار علامہ ابن عابدین میں ہےماتن کا قول کہ"ولی جائز کردے"یعنی جب غبن فاحش مہر میں نہ ہو اور غبن فاحش ہو تو ولی کے جائز کرنے پربھی جائز نہ ہوگا بخلاف غبن یسیر کے۔جوہرہ(ت)
مسئلہ ۲۳۸:از گلشن آباد عرف جاورہ ملك مالوہ محلہ نظر باغ متصل مکان عالمگیرخان مرسلہ سید ذوالفقار احمد صاحب ۲۳ شوال ۱۳۲۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسماۃ ہندہ فوت ہوئیاس کا ایك لڑکا نو سال کاا ورایك زوجاور ایك پدراور دو برادر وارث رہےعرصہ ہوا کہ مسماۃ ہندہ کا پدر فوت ہوگیااب ان وارثوں میں پسر کے رکھنے اور تعلیم کرانے کا اس وقت کون مستحق ہے۔اور جو ترکہ ہندہ کا زیور وغیرہ رہا ہے اس میں تصرف کاواسطے تربیت پسر متوفیہ کے کون مستحق ہے اور کس کے پاس رہے گا بینوا توجروا
مرشد دینہادی راہ متین جناب مولانا محمد احمد رضاخاں صاحب دام فیضکمبعد تسلیم بصد تعظیم و
عــــــہ:لیس فی ھذا لجواب علامۃ الاختتام وظنی انہ کامل۔(عبدالمنان الاعظمی) اس جواب کے اختتام پر علامت نہیں ہے تاہم میرے گمان میں یہ تام ہے۔(ت)(عبدالمنان الاعظمی)
حوالہ / References
درمختار کتاب النکاح باب الولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۹۲€
ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۹۱€
ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۹۱€
تکریم عرض پر داز خدمت سامی ہے۔استفتاء ارسال خدمت سامی ہے۔یہاں کے بعض علماء ایسا فرماتے ہیں کہ زوج ہندہ کل ترکہ ہندہ کا مالك نہیں ہوسکتانہ اس میں تصرف واسطے تعلیم وتربیت پسرکرسکتاہے۔صرف اپنے حصہ چہارم وحصہ پسر ہندہ میں اس کوحق تصرف کا ہے۔ترکہ ہندہ سے چہارم اس کے پدر متوفی کا ہے وچہارم ہندہ کے برادران کو ملنا چاہئےاندریں باب جیساحکم شرع ہو اس سے نیاز مند کو آگاہی بخشیں۔فقط۔
الجواب:
لڑکا جبکہ سات سال سے زیادہ علم کا ہے اپنے باپ کے پاس رہے گااور متروکہ ہندہ سے جو حصہ پسر کوملا یعنی بارہ۱۲ سہام سے سات سہماس میں تصرف شرعی کا اختیار بھی پسرکے باپ ہی کوہوگا۔مامووں کو کوئی تعلق نہیںجس طرح چھٹا حصہ کہ ترکہ ہندہ سے پدر ہندہ کو پہنچا وہ وارثان پدر ہندہ کا ہے۔اس سے شوہر کو کچھ علاقہ نہیں۔
فی الشامیۃ عن الفتح یجبر الاب علی اخذ الولد بعد استغنائہ عن الاملان نفقتہ وصیانتہ علیہ بالاجماع اھ وفی الدرالمختار ولیہ ابوہ ثم وصیہ ثم جدہ ثم وصیہثم القاضی اووصیہدون الام او وصیہاھذا فی المال اھ مختصرا۔واﷲ سبحانہ و تعالی اعلم۔ فتاوی شامی میں فتح سے ہے جب بچہ ماں کی پرورش سے مستغنی ہوجائے تو باپ کو بیٹا واپس لینے پرمجبور کیا جائے گا کیونکہ بچے کا خرچہ اور تربیت والد کے ذمہ بالاجماع ہے اھاور درمختارمیں ہے بچے کا ولی اس کا باپ پھر اس کا وصیپھر دادا پھر اس کا وصیپھر قاضی یا اس کا وصی ہے۔ماں یا اس کا وصی ولی نہیں ہے۔یہ ترتیب مالی ولایت میں ہے اھ مختصرا۔واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۳۹: از لشکر گوالیار نیابازار مکان حکیم شریف حسین خان مرسلہ علی حسین خاں ۴ رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
تسلیمات نیازمندی معروض خدمتعرض حال یہ ہے کہ یہاں بکچہری صاحب جج یك مقدمہ
الجواب:
لڑکا جبکہ سات سال سے زیادہ علم کا ہے اپنے باپ کے پاس رہے گااور متروکہ ہندہ سے جو حصہ پسر کوملا یعنی بارہ۱۲ سہام سے سات سہماس میں تصرف شرعی کا اختیار بھی پسرکے باپ ہی کوہوگا۔مامووں کو کوئی تعلق نہیںجس طرح چھٹا حصہ کہ ترکہ ہندہ سے پدر ہندہ کو پہنچا وہ وارثان پدر ہندہ کا ہے۔اس سے شوہر کو کچھ علاقہ نہیں۔
فی الشامیۃ عن الفتح یجبر الاب علی اخذ الولد بعد استغنائہ عن الاملان نفقتہ وصیانتہ علیہ بالاجماع اھ وفی الدرالمختار ولیہ ابوہ ثم وصیہ ثم جدہ ثم وصیہثم القاضی اووصیہدون الام او وصیہاھذا فی المال اھ مختصرا۔واﷲ سبحانہ و تعالی اعلم۔ فتاوی شامی میں فتح سے ہے جب بچہ ماں کی پرورش سے مستغنی ہوجائے تو باپ کو بیٹا واپس لینے پرمجبور کیا جائے گا کیونکہ بچے کا خرچہ اور تربیت والد کے ذمہ بالاجماع ہے اھاور درمختارمیں ہے بچے کا ولی اس کا باپ پھر اس کا وصیپھر دادا پھر اس کا وصیپھر قاضی یا اس کا وصی ہے۔ماں یا اس کا وصی ولی نہیں ہے۔یہ ترتیب مالی ولایت میں ہے اھ مختصرا۔واﷲ سبحنہ و تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۳۹: از لشکر گوالیار نیابازار مکان حکیم شریف حسین خان مرسلہ علی حسین خاں ۴ رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
تسلیمات نیازمندی معروض خدمتعرض حال یہ ہے کہ یہاں بکچہری صاحب جج یك مقدمہ
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطلاق باب الحضانۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۶۴۰€
درمختار کتاب الماذون ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۳€
درمختار کتاب الماذون ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۳€
سرپرستی دائر ہے اس کی کیفیت خلاصہ تحریر کرتاہوں:میرے دادا حکیم ولایت علی خاں مرحوم نے تین شادیاں کریںاول زوجہ سے دوپسر اورایك دختر تولدہوئےاول بی بی کی اولاد سے جو کہ دو پسر تھے ان میں سے ایك پسرکلاں لاولد فوت ہوا۔دوسرا پسر خورد بعارضہ جسمانی ہاتھ پاؤں سے معذور ہنوز بحیات موجود ہے۔دوسری بی بی کی اولاد سے والد حکیم شریف حسین خاں مرحومتیسری بی بی کی اولاد سے ایك پسر مفلوج الاعضا مخبوط الحواس ہنوز موجود ہے۔داد ا صاحب نے قبل از وفات ایك درخواست عرضی بایں مضمون سرکار میں پیش کی کہ بعد وفات میری تنخواہ ساللعہ ۳۴۰ وجاگیر جو سرکار سے مقررہے بجائے اس میرے نام شریف حسین خاں معہ تنخواہ وجاگیر کے مقرر فرمایا جائےبعداز چندے دادا صاحب کا انتقال ہوگیاایك عرصہ بعد ۲۷ نومبر ۱۸۹۴ء کو تقرری اسم والد سرکار مقرر فرمایا گیا۔بعد تقرری اس میں والدم تنخواہ خود سے بطورپرورش برادر خورد مفلوج مخبوط الحواس کو عہ عہ۱۲ روپے ماہواراور والدہ مخبوط الحواس کوعہ ۱۲ جملہ عہ ۳۲ روپیہ ماہوار تادم مرگ دئے گئےاورمکان سکونتی دادا صاحب میں مقیم رکھااثنائے حال میں والدم حکیم شریف حسین خاں کا بتاریخ ۱۳ محرم ۱۳۱۵ھ مطابق ماہ جون تاریخ ۱۵ ۱۸۹۷ء کو انتقال ہوگیااور ۱۷ جون ۱۸۹۷ء کو والدہ مخبوط الحواس بھی بعارضہ ہیضہ علیل ہوئیں۔اس وقت مکان سکونتی سے والدہ مخبوط الحواس یعنی میری دادی صاحبہ کو دونوں برادرحقیقی مولوی عبدالغفار و عبدالستار آکر اپنے مکان پرلے گئے۲۲ جون ۱۸۹۷ء کو بخانہ برادران مذکور میری دادی صاحبہ فوت ہوگئیںبعد فوت ہوجانے میری دادی صاحبہ کے ہر دو برداران دادی صاحبہ نے مکان سکونتی ودکانات پر آکر میرے قفل لگائے ہوئے توڑ کر اپنے قفل ازراہ مداخلت بیجا کے لگادئےجب میں نے فوجداری میں استغاثہ کیا تومولوی عبدالغفار ملزمان نے اپنی سرپرستی بہ نسبت اس مخبوط الحواس یعنی ہمشیرہ زادہ خود ظاہر کیا چنانچہ یہ مقدمہ درجہ بدرجہ کچہری صاحب جج تك پہنچ گیا ہے صاحب جج نے فتوی شرع شریف بہ نسبت سرپرستی ملزمان مذکور طلب کیا ہے۔لہذا خدمت عالی میں عرض کرکے طلبگارفتوی کا ہوں۔
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حق پرستی مخبوط الحواس کی میری جائداد یا بمقابلہ میرے ہر دوماموں مخبوط الحواس کی سرپرستی درست ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
مخبوط ناعاقل یا صغیر نابالغ کی سرپرستی دوامر میں ہے۱ایك نکاح۲دوسرے مالاس مخبوط کی ولایت نکاح تو اس کے بھائی کو ہے جوحکیم ولایت علی خاں کی زوجہ اولی سے ہے اور
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حق پرستی مخبوط الحواس کی میری جائداد یا بمقابلہ میرے ہر دوماموں مخبوط الحواس کی سرپرستی درست ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
مخبوط ناعاقل یا صغیر نابالغ کی سرپرستی دوامر میں ہے۱ایك نکاح۲دوسرے مالاس مخبوط کی ولایت نکاح تو اس کے بھائی کو ہے جوحکیم ولایت علی خاں کی زوجہ اولی سے ہے اور
اس کا ہاتھ پاؤں سے معذور ہونا مانع ولایت نہیں بشرطیکہ عاقل بالغ ہوورنہ سائل کہ اس مخبوط کا بھتیجا ہے اس کا ولی ہے اس کے ہوتے ماموں کوئی چیز نہیں۔درمختارمیں ہے:
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث و الحجب بشرط حریۃ وتکلیففان لم یکن عصبۃ فالو لایۃ للامثم الاختثم ولد الامثم ذوی الارحام العماتثم الاخوال الخباختصار۔ نکاح میں ولیعصبہ بنفسہ وراثت اور وراثت سے مانع بننے (حجب)کی ترتیب پر بشرطیکہ وہ آزاد اورمکلف ہوں اور اگر عصبات نہ ہوں تو ماں کو ولایت ہوگی پھر بہن پھر ماں کی اولاد پھر ذوالارحام پھر پھوپھیوں کوپھر ماموں کو الخ باختصار۔(ت)
اور ولایت مال صرف اس شخص کو ہے جسے حکیم ولایت علی خاں اپنے بعد اپنی اولاد و جائداد کی غور پرداخت سپرد کرگئے اپناو صی بناگئے ہوں وہ نہ رہا ہو تو وہ شخص جسے وصی مذکور اسی طرح اپنا وصی کر گیا ہو۔وہ بھی نہ ہو تو وہ جسے مخبوط کے دادا نے اپنا وصی کیا ہو۔وہ بھی نہ ہو تو وہ جسے دادا کا وصی اپنا وصی کرگیا۔ان کے سوا کسی کو اس مخبوط کی ولایت مال نہیں پہنچتیدرمختارمیں ہے:
ولیہ ابوہ ثم وصیہ بعد موتہثم وصی وصیہثم بعدھم جدہ الصحیحوان علا ثم وصیہثم وصی وصیہثم القاضی اووصیہ ھذا فی المال بخلاف النکاحکما مرفی بابہ ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ اس کا ولی باپاس کی موت کے بعد اس کا وصیپھر وصی کا وصیپھر ان کے بعد حقیقی دادا اوپر تکپھر اس کا وصیپھر اس کے وصی کا وصیپھر قاضی یا اس کا وصییہ مالی ولایت ہے اور نکاح کی ولایت اس کے خلاف ہے۔جیسا کہ نکاح کے باپ میں گزراواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۴۰: از پٹنہ محلہ لودی کٹرہ مرسلہ قاضی محمد عبدالوحید صاحب ۱۳ ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نابالغوں کے لئے حد بلوغ کیا ہے مرد ہوں یا عورت۔
الولی فی النکاح العصبۃ بنفسہ علی ترتیب الارث و الحجب بشرط حریۃ وتکلیففان لم یکن عصبۃ فالو لایۃ للامثم الاختثم ولد الامثم ذوی الارحام العماتثم الاخوال الخباختصار۔ نکاح میں ولیعصبہ بنفسہ وراثت اور وراثت سے مانع بننے (حجب)کی ترتیب پر بشرطیکہ وہ آزاد اورمکلف ہوں اور اگر عصبات نہ ہوں تو ماں کو ولایت ہوگی پھر بہن پھر ماں کی اولاد پھر ذوالارحام پھر پھوپھیوں کوپھر ماموں کو الخ باختصار۔(ت)
اور ولایت مال صرف اس شخص کو ہے جسے حکیم ولایت علی خاں اپنے بعد اپنی اولاد و جائداد کی غور پرداخت سپرد کرگئے اپناو صی بناگئے ہوں وہ نہ رہا ہو تو وہ شخص جسے وصی مذکور اسی طرح اپنا وصی کر گیا ہو۔وہ بھی نہ ہو تو وہ جسے مخبوط کے دادا نے اپنا وصی کیا ہو۔وہ بھی نہ ہو تو وہ جسے دادا کا وصی اپنا وصی کرگیا۔ان کے سوا کسی کو اس مخبوط کی ولایت مال نہیں پہنچتیدرمختارمیں ہے:
ولیہ ابوہ ثم وصیہ بعد موتہثم وصی وصیہثم بعدھم جدہ الصحیحوان علا ثم وصیہثم وصی وصیہثم القاضی اووصیہ ھذا فی المال بخلاف النکاحکما مرفی بابہ ۔واﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔ اس کا ولی باپاس کی موت کے بعد اس کا وصیپھر وصی کا وصیپھر ان کے بعد حقیقی دادا اوپر تکپھر اس کا وصیپھر اس کے وصی کا وصیپھر قاضی یا اس کا وصییہ مالی ولایت ہے اور نکاح کی ولایت اس کے خلاف ہے۔جیسا کہ نکاح کے باپ میں گزراواﷲ سبحانہ وتعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۴۰: از پٹنہ محلہ لودی کٹرہ مرسلہ قاضی محمد عبدالوحید صاحب ۱۳ ذی الحجہ ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نابالغوں کے لئے حد بلوغ کیا ہے مرد ہوں یا عورت۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۹€۳
درمختار کتا ب الماذون ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۳€
درمختار کتا ب الماذون ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۳€
الجواب:لڑکا بارہ سال اورلڑکی نوبرس سے کم عمرتك ہرگز بالغ وبالغہ نہ ہوں گے۔اور لڑکا لڑکی دونوں پندرہ برس کامل کی عمرمیں ضرور شرعا بالغ وبالغہ ہیںاگر چہ آثار بلوغ کچھ ظاہر نہ ہوںان عمروں کے اندر اگر آثار پائے جائیںیعنی خواہ لڑکے خواہ لڑکی عــــــہ۱ سوتے خواہ جاگتے میں انزال ہو یالڑکی کو حیض آئے یا جماع سے لڑکا حاملہ کردے یا لڑکی کو حمل رہ جائے تو یقینا بالغ وبالغہ ہیںاور اگر آثار نہ ہوں مگر وہ خود کہیں کہ ہم بالغ وبالغہ ہیںاور ظاہر حال ان کے قول کی تکذیب نہ کرتاہو تو بھی بالغ وبالغہ سمجھے جائیں گے اور تمام احکام بلوغ کے نفاذ پائیں گےاور اگر داڑھی عــــــہ۲ مونچھ نکلنا یا لڑکی کے پستان میں ابھار پیدا ہونا کچھ معتبر نہیں۔درمختارمیں ہے:
بلوغ الغلام بالاحتلام والاحمال والانزال و الجاریۃ بالاحتمال والحیض والحبل۔فان لم یوجد فیہما حتی یتم لکل منہما خمس عشرۃ سنۃ بہ یفتی وادنی مدتہ لہ اثنتا عشرۃ سنۃ۔ولہا تسع سنین ۔ لڑکے کے بلوغ احتلام یابیوی کو حاملہ کرنا یا انزال سے معلوم ہوگا اور لڑکی کا بلوغ حاملہ ہونے حیض اور احتلام سے ظاہر ہوگا۔اگر دونوں میں کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو مفتی بہ قول کے مطابق دونوں کی عمر پندرہ سال ہوجانے پراورکم از کم مدت بلوغ لڑکے میں بارہ سال اور لڑکی کی نو سال عمر ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
فان راہقا فقالا بلغنا صدقاان لم یکذبہا الظاہر فیشترط لصحۃ اقرارہ ان یکون یحتلم مثلہ والا لا یقبل قولہ شرح وہبانیۃوھما حینئذ کبالغ حکما فلا یقبل جحودہ البلوغ بعد اقرارہ مع احتمال دونوں مراہق تھے تو انھوں نے کہہ دیا کہ ہم بالغ ہیں تو تسلیم کیا جائے گاکہ بشرطیکہ ان کا ظاہر حال ان کو جھوٹا نہ بنائیے تو اس کے اقرار کی صحت کے لئے اس جیسوں کا بالغ ہونا ممکن ہو ورنہ اس کی بات قبول نہ ہوگی وہبانیہتو اقرار کے بعد وہ بالغ کے حکم میں ہوں گے لہذا اب ان کا انکار قابل قبول نہ ہوگا۔
عــــــہ۱: لفظ لڑکی کے بعد"کو"ہونا چاہئے۔ عــــــہ ۲: یہاں"اگر"زلہ قلم ناسخ سے ہے۔عبدالمنان الاعظمی۔
بلوغ الغلام بالاحتلام والاحمال والانزال و الجاریۃ بالاحتمال والحیض والحبل۔فان لم یوجد فیہما حتی یتم لکل منہما خمس عشرۃ سنۃ بہ یفتی وادنی مدتہ لہ اثنتا عشرۃ سنۃ۔ولہا تسع سنین ۔ لڑکے کے بلوغ احتلام یابیوی کو حاملہ کرنا یا انزال سے معلوم ہوگا اور لڑکی کا بلوغ حاملہ ہونے حیض اور احتلام سے ظاہر ہوگا۔اگر دونوں میں کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو مفتی بہ قول کے مطابق دونوں کی عمر پندرہ سال ہوجانے پراورکم از کم مدت بلوغ لڑکے میں بارہ سال اور لڑکی کی نو سال عمر ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
فان راہقا فقالا بلغنا صدقاان لم یکذبہا الظاہر فیشترط لصحۃ اقرارہ ان یکون یحتلم مثلہ والا لا یقبل قولہ شرح وہبانیۃوھما حینئذ کبالغ حکما فلا یقبل جحودہ البلوغ بعد اقرارہ مع احتمال دونوں مراہق تھے تو انھوں نے کہہ دیا کہ ہم بالغ ہیں تو تسلیم کیا جائے گاکہ بشرطیکہ ان کا ظاہر حال ان کو جھوٹا نہ بنائیے تو اس کے اقرار کی صحت کے لئے اس جیسوں کا بالغ ہونا ممکن ہو ورنہ اس کی بات قبول نہ ہوگی وہبانیہتو اقرار کے بعد وہ بالغ کے حکم میں ہوں گے لہذا اب ان کا انکار قابل قبول نہ ہوگا۔
عــــــہ۱: لفظ لڑکی کے بعد"کو"ہونا چاہئے۔ عــــــہ ۲: یہاں"اگر"زلہ قلم ناسخ سے ہے۔عبدالمنان الاعظمی۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الحجر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹۹€
حالہ اھ باختصار۔ بشرطیکہ حال موافق ہو اھ مختصرا۔(ت)
عالمگیریہ میں ہے:
ولایحکم بالبلوغ ان ادعی وھو مادون اثنتا عشرۃ سنۃ فی الغلام وتسع سنین فی الجاریۃ کذا فی المعدن ۔ بلوغ کاحکم لڑکے میں بارہ سال سے کم اور لڑکی میں نوسال سے کم پردیا جائے۔معدن میں ایسے ہی ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
لااعتبار لنبات العانۃ ولااللحیواما نہود الثدی ففی الحموی انہ لایحکم بہ فی ظاہر الروایۃوکذا ثقل الصوت کما فی شرح النظم الہاملیابوالسعودوکذ اشعر الساق والابط والشارب ۔واﷲ تعالی اعلم. زیر ناف بالوں اور داڑھی کا اعتبار نہیں ہے۔اور لڑکی کے پستانوں کا ابھرناتوحموی میں کہا ظاہر روایت میں بلوغ کاحکم نہ ہوگااور یوں ہی آواز بھاری ہونا بھی معتبر نہیںجیساکہ ہاملی کی نظم کی شرح میں ہےابوالسعوداور یونہی پنڈلیبغل او رمونچھوں کے بال بھی معتبرنہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۴۱: ۲۶ شعبان ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید مجنون ہوگیااور اس کے ورثاء میں اس کی ایك بیوی (ہندہ)اور اس کے چند لڑکی لڑکا اور اس کا ایك برادر حقیقی خورد عمرو موجود ہے۔زید نے بزمانہ صحت وثبات عقل اپنے مکان مسکونہ کے علاوہ اپنی مملوکہ ایك دوسرے مکان میں عمرو کو بودوباش کی اجازت دے دی تھیچنانچہ عمرو تخمینا د س سال سے مکان مذکورمیں سکونت پذیر ہےعمرو کا چونکہ اب یہ ارادہ ظاہر ہواکہ ڈیڑھ دو سال کے بعد بارہ سال گزرنے پر وہ زید کے مکان پر حق موروثیت قائم کرے گا۔اس واسطے ہندہ عمرو سے کہتی ہے کہ اگرمیری تم کفالت نہ کرو۔اور مکان کاکرایہ بھی مطلق نہ دوتو زید کے مکان کا کرایہ نامہ ہی لکھ دومگر عمرو اس سے قطعا انکار کرتاہے۔شرعا اس میں کیا حکم ہے۔آیا ہندہ کا عمرو سے کرایہ نامہ مکان کے تحریر کردینے کے واسطے کہنا شرعا بجا
عالمگیریہ میں ہے:
ولایحکم بالبلوغ ان ادعی وھو مادون اثنتا عشرۃ سنۃ فی الغلام وتسع سنین فی الجاریۃ کذا فی المعدن ۔ بلوغ کاحکم لڑکے میں بارہ سال سے کم اور لڑکی میں نوسال سے کم پردیا جائے۔معدن میں ایسے ہی ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
لااعتبار لنبات العانۃ ولااللحیواما نہود الثدی ففی الحموی انہ لایحکم بہ فی ظاہر الروایۃوکذا ثقل الصوت کما فی شرح النظم الہاملیابوالسعودوکذ اشعر الساق والابط والشارب ۔واﷲ تعالی اعلم. زیر ناف بالوں اور داڑھی کا اعتبار نہیں ہے۔اور لڑکی کے پستانوں کا ابھرناتوحموی میں کہا ظاہر روایت میں بلوغ کاحکم نہ ہوگااور یوں ہی آواز بھاری ہونا بھی معتبر نہیںجیساکہ ہاملی کی نظم کی شرح میں ہےابوالسعوداور یونہی پنڈلیبغل او رمونچھوں کے بال بھی معتبرنہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۴۱: ۲۶ شعبان ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید مجنون ہوگیااور اس کے ورثاء میں اس کی ایك بیوی (ہندہ)اور اس کے چند لڑکی لڑکا اور اس کا ایك برادر حقیقی خورد عمرو موجود ہے۔زید نے بزمانہ صحت وثبات عقل اپنے مکان مسکونہ کے علاوہ اپنی مملوکہ ایك دوسرے مکان میں عمرو کو بودوباش کی اجازت دے دی تھیچنانچہ عمرو تخمینا د س سال سے مکان مذکورمیں سکونت پذیر ہےعمرو کا چونکہ اب یہ ارادہ ظاہر ہواکہ ڈیڑھ دو سال کے بعد بارہ سال گزرنے پر وہ زید کے مکان پر حق موروثیت قائم کرے گا۔اس واسطے ہندہ عمرو سے کہتی ہے کہ اگرمیری تم کفالت نہ کرو۔اور مکان کاکرایہ بھی مطلق نہ دوتو زید کے مکان کا کرایہ نامہ ہی لکھ دومگر عمرو اس سے قطعا انکار کرتاہے۔شرعا اس میں کیا حکم ہے۔آیا ہندہ کا عمرو سے کرایہ نامہ مکان کے تحریر کردینے کے واسطے کہنا شرعا بجا
حوالہ / References
درمختار کتاب الحجر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹۹€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الحجر الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶۱€
ردالمحتار کتاب الحجر فصل فی بلوغ الغلام داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۹۷€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الحجر الفصل الثانی ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶۱€
ردالمحتار کتاب الحجر فصل فی بلوغ الغلام داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۹۷€
ہے یانہیں اور عمرو کا کرایہ نامہ لکھنے سے انکار کرنا شرعا رواہے یا نہیں دوسرے یہ کہ ہندہ مذکور کی ایك لڑکی قریب بلوغ ہے اور ہندہ اس کا عقد کرکے اپنا وارث بنانا چاہتی ہے مگر عمرو مذکور اس امر سے سخت مانع ہے تاکہ ہندہ اپنا کسی کو وراث بنا کرمملوکہ مکان سے بے دخل نہ کرادےلہذا شرعا ایسے شخص کے واسطے کیا حکم ہے اورہندہ کو شرعا کیا کرنا چاہئے بینوا بالدلیل وتوجروا الجزیل۔
الجواب:
جبکہ زید اس دوسرے مکان کا بھی مالك تھا اور اس نے عمرو کو احسانا سکونت کے لئے دیا تھا تو زید کے مجنون ہوتے ہی وہ عاریت جاتی رہیاور عمرو کو کوئی اختیار اس میں مفت سکونت کا نہ رہا لان المجنون لاتصرف لہ ولاعلیہ لاحد ولایۃ التبرع من مالہ(کیونکہ مجنون کا کوئی تصرف معتبر نہیں اور اس کے مال کو تبرع میں دینے کا کسی کو اختیارنہیں ہے۔ت)عمرو پر لازم ہے کہ وہ مکان کو خالی کردے ورنہ کرایہ نامہ باضابطہ لکھ کر معقول کرایہ جو ایسے مکان کے لئے ہوتا ہے اداکرے۔ورنہ سخت گنہ گار ہوگا۔خالی کرایہ نامہ لکھ دینا کافی نہ ہوگا۔لڑکی کا عقد کسی کفو سے خود کردےاور وہ نہ مانے تو ا س کی ماں کہیں معقول جگہ کردےولی اگرچہ عمرو ہے۔مگر جب وہ بدنیتی سے انکار کرے تو ماں باختیار خود اس کا نکاح کرسکتی ہے۔حسب بیان سائل او رکوئی لڑکی کا ولی نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۲: از پیلی بھیت سلخ جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ ایك شخص نے منجملہ چند ورثاء کے صرف ایك وراث کے نام جائداد بذریعہ بیعنامہ جس کا زرثمن مشتری نے اد انہیں کیا لکھ دیاس کے چوتھے روز یعنی تحریر بیعنامہ سے بائع فوت ہوگیا بائع کے مرض کی طرف سے غالب گمان اس کے فوت ہونے کا تھااور بہت ضعیف گمان اس کے صحت یاب ہونے کا تھا۔اب اس صورت میں یہ تحریر مرض الموت میں تصور کی جاسکتی ہے۔اور مرض الموت کتنی مدت تك مانا جاسکتاہے
الجواب:
ہاں یہ تحریر مرض الموت میں ہوئی جب تك مرض سے خوف ہلاك غالب ہو مرض الموت ہے۔جب مرض مزمن ہوجائے خوف ہلاك غالب نہ رہے اس وقت وہ مرض الموت نہیں رہتا۔جب تك اس میں نئی ترقی ہو کر پھر خوف ہلاك کا غلبہ نہ ہو جائے۔درمختارمیں ہے:
المختار انہ ماکان الغالب منہ مختار قول یہ ہے کہ اتنی مدت جس میں موت
الجواب:
جبکہ زید اس دوسرے مکان کا بھی مالك تھا اور اس نے عمرو کو احسانا سکونت کے لئے دیا تھا تو زید کے مجنون ہوتے ہی وہ عاریت جاتی رہیاور عمرو کو کوئی اختیار اس میں مفت سکونت کا نہ رہا لان المجنون لاتصرف لہ ولاعلیہ لاحد ولایۃ التبرع من مالہ(کیونکہ مجنون کا کوئی تصرف معتبر نہیں اور اس کے مال کو تبرع میں دینے کا کسی کو اختیارنہیں ہے۔ت)عمرو پر لازم ہے کہ وہ مکان کو خالی کردے ورنہ کرایہ نامہ باضابطہ لکھ کر معقول کرایہ جو ایسے مکان کے لئے ہوتا ہے اداکرے۔ورنہ سخت گنہ گار ہوگا۔خالی کرایہ نامہ لکھ دینا کافی نہ ہوگا۔لڑکی کا عقد کسی کفو سے خود کردےاور وہ نہ مانے تو ا س کی ماں کہیں معقول جگہ کردےولی اگرچہ عمرو ہے۔مگر جب وہ بدنیتی سے انکار کرے تو ماں باختیار خود اس کا نکاح کرسکتی ہے۔حسب بیان سائل او رکوئی لڑکی کا ولی نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۲: از پیلی بھیت سلخ جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ ایك شخص نے منجملہ چند ورثاء کے صرف ایك وراث کے نام جائداد بذریعہ بیعنامہ جس کا زرثمن مشتری نے اد انہیں کیا لکھ دیاس کے چوتھے روز یعنی تحریر بیعنامہ سے بائع فوت ہوگیا بائع کے مرض کی طرف سے غالب گمان اس کے فوت ہونے کا تھااور بہت ضعیف گمان اس کے صحت یاب ہونے کا تھا۔اب اس صورت میں یہ تحریر مرض الموت میں تصور کی جاسکتی ہے۔اور مرض الموت کتنی مدت تك مانا جاسکتاہے
الجواب:
ہاں یہ تحریر مرض الموت میں ہوئی جب تك مرض سے خوف ہلاك غالب ہو مرض الموت ہے۔جب مرض مزمن ہوجائے خوف ہلاك غالب نہ رہے اس وقت وہ مرض الموت نہیں رہتا۔جب تك اس میں نئی ترقی ہو کر پھر خوف ہلاك کا غلبہ نہ ہو جائے۔درمختارمیں ہے:
المختار انہ ماکان الغالب منہ مختار قول یہ ہے کہ اتنی مدت جس میں موت
الموت وان لم یکن صاحب فراش ۔ عادتا واقع ہوتی ہے اگر وہ صاحب فراش نہ ہو۔(ت)
ردالمحتارمیں نورالعین سے اس میں محیط سے ہے:
ذکر محمد فی الاصل مسائل تدل علی ان الشرط خوف الہلاك غالبا لاکونہ صاحب فراش ۔ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے مبسوط میں فرمایا بہت سے مسائل اس پر دال ہیں کہ غالب طور پر موت واقع ہوسکتی ہو۔صاحب فراش ہونا شرط نہیں۔(ت)
اسی میں زیلعی سے ہے:
لانہ فی ابتدائہ یخاف منہ الموت۔ولہذا یتداوی فیکون مرض الموتوان صارصاحب فراش بعد التطاول فہو کمرض حادث حتی تعتبر تصر فاتہ من الثلث ۔ کیونکہ اس کے ابتداء میں ہی موت کا خطرہ ہوتاہے ا س کا علاج بھی ہو تو اس کو مرض موت کہا جائے گا اور لمبی مدت کے بعد وہ صاحب فراش بنے تو نیا مریض قرار پائے گا حتی کہ صاحب فراش ہونے سے قبل کے تصرفات ثلث میں معتبرہوں گے(ت)
اور مرض الموت میں ایك وارث کے ہاتھ بیع اگرچہ مناسب قیمت کو بھی ہو بے اجازت دیگرورثہ باطل ہے ہاں اگر وہ جائز کردیں تو جائز ہوجائے گیدرمختارمیں ہے:
وقف بیع المریض لوارثہ علی اجازۃ الباقی ۔ مریض کااپنے وارث کو مال فروخت کرنا دوسرے ورثاء کی اجازت پر موقوف رہے گا۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
فان مات منہ ولم تجز الورثۃ بطلفتح ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر اس مرض میں فوت ہوگیا اور باقی ورثاء نے جائز نہ کیا ہو تو بیع باطل ہوجائے گیفتح واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
ردالمحتارمیں نورالعین سے اس میں محیط سے ہے:
ذکر محمد فی الاصل مسائل تدل علی ان الشرط خوف الہلاك غالبا لاکونہ صاحب فراش ۔ امام محمد رحمہ اﷲ تعالی نے مبسوط میں فرمایا بہت سے مسائل اس پر دال ہیں کہ غالب طور پر موت واقع ہوسکتی ہو۔صاحب فراش ہونا شرط نہیں۔(ت)
اسی میں زیلعی سے ہے:
لانہ فی ابتدائہ یخاف منہ الموت۔ولہذا یتداوی فیکون مرض الموتوان صارصاحب فراش بعد التطاول فہو کمرض حادث حتی تعتبر تصر فاتہ من الثلث ۔ کیونکہ اس کے ابتداء میں ہی موت کا خطرہ ہوتاہے ا س کا علاج بھی ہو تو اس کو مرض موت کہا جائے گا اور لمبی مدت کے بعد وہ صاحب فراش بنے تو نیا مریض قرار پائے گا حتی کہ صاحب فراش ہونے سے قبل کے تصرفات ثلث میں معتبرہوں گے(ت)
اور مرض الموت میں ایك وارث کے ہاتھ بیع اگرچہ مناسب قیمت کو بھی ہو بے اجازت دیگرورثہ باطل ہے ہاں اگر وہ جائز کردیں تو جائز ہوجائے گیدرمختارمیں ہے:
وقف بیع المریض لوارثہ علی اجازۃ الباقی ۔ مریض کااپنے وارث کو مال فروخت کرنا دوسرے ورثاء کی اجازت پر موقوف رہے گا۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
فان مات منہ ولم تجز الورثۃ بطلفتح ۔واﷲ تعالی اعلم۔ اگر اس مرض میں فوت ہوگیا اور باقی ورثاء نے جائز نہ کیا ہو تو بیع باطل ہوجائے گیفتح واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الوصایا ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲۰€
ردالمحتار کتاب الطلاق باب طلاق المریض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/۵۲۰€
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۲۳€
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲€
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیا ء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۳۹€
ردالمحتار کتاب الطلاق باب طلاق المریض داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/۵۲۰€
ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۴۲۳€
درمختار کتاب البیوع فصل فی الفضولی ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۲€
ردالمحتار کتاب البیوع داراحیا ء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۱۳۹€
مسئلہ ۲۴۳: مستفسرہ مولوی عبداﷲ صاحب طالب علم بہاری بروز چہارشنبہ ۲شعبان ۱۳۳۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ زید نے اور زید کے لڑکے دونوں نے مل کر ایك بقال سے اپنے مکان ذاتی پر روپیہ قرض لیابعد چند عرصہ کے اس بقال نے کہ جس کا قرض ہے نالش عدالت میں دائر کردیاب وہ نیلام ہونے لگا۔اور اس بقال کی ڈگری ہوگئیتو زید کے پوتے حقیقی نے کہ جو زید اور زید کے لڑکے سے ہمیشہ علیحدہ رہتا تھااپنی بذات خاص سے وہ روپیہ قرضدار کا ادا کردیااور نیلام اپنے نام سے چھڑا لیااس وقت میں جب یہ قرض ادا کیا گیا تھا اورنیلام چھڑا یا گیا تو زید زندہ تھا اور زید کا لڑکا بھی زندہ تھااب زید فوت ہوگیا اور زید کالڑکا حیات ہے مگر مثل پیشتر کے اب بھی اپنے باپ سے علیحدہ ہے۔اب اس وقت میں زید کا لڑکا یعنی اس نیلام چھڑانے والے کا باپ اپنے اس لڑکے کو اس مکان سے نکالتاہے کہ جس نے قرض ادا کیا تھا اور نیلام چھڑایا تھا اور بوجہ نیلام چھڑانے کے وہ مکان زید کے پوتے کے نام ہے۔زید کے پوتے کی والدہ کا انتقال ہوگیا اور زید کے لڑکے نے اپنی دوسری شادی کرلیزید کے پوتے کو اس والدہ دوسری سے کچھ تعلق نہیں ہے۔لہذا زید کا پوتا اپنا روپیہ جو نیلام میں دیا ہے پاسکتاہے یا اس مکان کو پاسکتا ہے مطابق شرع شریف کے جواب تحریر فرمایا جائے۔بینوا توجروا
الجواب:
اگر زر ڈگری کم تھا او رنیلام زیادہ کو ہوااور قرض دے کر باقی روپیہ مالکان مکان کو دیا گیااگرچہ ایك ہی روپیہ یا اس سے بھی کم ہو اور مالکان نے وہ بقیہ لے لیاتو زید کا پوتا اس مکان کا مالك ہوگیازید کا بیٹا اسے نہیں نکال سکتااور اگر مالکان مکان نے زر نیلام کچھ نہ پایا تو شریعت میں زید کا پوتا اس مکان کا مالك نہ ہوا۔نہ وہ شرعا مکان کا مستحق ہے۔نہ پسر زید سے زرنیلام کا دعوی کرسکتاہے مکان پسر زید و وارثان زید کا ہے۔زید کا پوتا اپنے روپے کا مطالبہ عندالشرع اس بنئے سے کرسکتاہے۔اور ظاہر ہے کہ دنیامیں اس سے نہیں لے سکتالہذا صبر کرے اس نے خود اپنا مال ضائع کیا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۴ تا ۲۵۱: مسئولہ عبدالوحید محلہ سسرارا باغ الہ آباد بروز سہ شنبہ ۱۰ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
(۱)شریعت میں مجنون کی کیا تعریف ہے
(۲)مجنون کی ولایت کا حق کن لوگوں کو حاصل ہے
(۳)مجنون کا حق شرعی جو اس کے مورث کے مال سے ا س کو پہنچا ہو مجنون کی حالت جنون میں اس کے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے کہ زید نے اور زید کے لڑکے دونوں نے مل کر ایك بقال سے اپنے مکان ذاتی پر روپیہ قرض لیابعد چند عرصہ کے اس بقال نے کہ جس کا قرض ہے نالش عدالت میں دائر کردیاب وہ نیلام ہونے لگا۔اور اس بقال کی ڈگری ہوگئیتو زید کے پوتے حقیقی نے کہ جو زید اور زید کے لڑکے سے ہمیشہ علیحدہ رہتا تھااپنی بذات خاص سے وہ روپیہ قرضدار کا ادا کردیااور نیلام اپنے نام سے چھڑا لیااس وقت میں جب یہ قرض ادا کیا گیا تھا اورنیلام چھڑا یا گیا تو زید زندہ تھا اور زید کا لڑکا بھی زندہ تھااب زید فوت ہوگیا اور زید کالڑکا حیات ہے مگر مثل پیشتر کے اب بھی اپنے باپ سے علیحدہ ہے۔اب اس وقت میں زید کا لڑکا یعنی اس نیلام چھڑانے والے کا باپ اپنے اس لڑکے کو اس مکان سے نکالتاہے کہ جس نے قرض ادا کیا تھا اور نیلام چھڑایا تھا اور بوجہ نیلام چھڑانے کے وہ مکان زید کے پوتے کے نام ہے۔زید کے پوتے کی والدہ کا انتقال ہوگیا اور زید کے لڑکے نے اپنی دوسری شادی کرلیزید کے پوتے کو اس والدہ دوسری سے کچھ تعلق نہیں ہے۔لہذا زید کا پوتا اپنا روپیہ جو نیلام میں دیا ہے پاسکتاہے یا اس مکان کو پاسکتا ہے مطابق شرع شریف کے جواب تحریر فرمایا جائے۔بینوا توجروا
الجواب:
اگر زر ڈگری کم تھا او رنیلام زیادہ کو ہوااور قرض دے کر باقی روپیہ مالکان مکان کو دیا گیااگرچہ ایك ہی روپیہ یا اس سے بھی کم ہو اور مالکان نے وہ بقیہ لے لیاتو زید کا پوتا اس مکان کا مالك ہوگیازید کا بیٹا اسے نہیں نکال سکتااور اگر مالکان مکان نے زر نیلام کچھ نہ پایا تو شریعت میں زید کا پوتا اس مکان کا مالك نہ ہوا۔نہ وہ شرعا مکان کا مستحق ہے۔نہ پسر زید سے زرنیلام کا دعوی کرسکتاہے مکان پسر زید و وارثان زید کا ہے۔زید کا پوتا اپنے روپے کا مطالبہ عندالشرع اس بنئے سے کرسکتاہے۔اور ظاہر ہے کہ دنیامیں اس سے نہیں لے سکتالہذا صبر کرے اس نے خود اپنا مال ضائع کیا۔واﷲ تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۴ تا ۲۵۱: مسئولہ عبدالوحید محلہ سسرارا باغ الہ آباد بروز سہ شنبہ ۱۰ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ
(۱)شریعت میں مجنون کی کیا تعریف ہے
(۲)مجنون کی ولایت کا حق کن لوگوں کو حاصل ہے
(۳)مجنون کا حق شرعی جو اس کے مورث کے مال سے ا س کو پہنچا ہو مجنون کی حالت جنون میں اس کے
حصہ کی ولایت کاحق کن لوگوں کو حاصل ہے
(۴)شرعا مجنون وصبی ایك حکم میں ہیں یا علیحدہ علیحدہ
(۵)مجنون کی حالت جنون میں اپنی زوجہ کو طلاق دے دے تو طلاق واقع ہوگی یانہیں
(۶)ہندہ کے ورثاء زید سے ایسی حالت میں کہ زید مجنون ہے ڈر کر لفظ طلاق کہلوائیں تو طلاق واقع ہوجائیگی یا نہیں اور ایسی حالت میں اس کا کوئی ولی اس موقع پر موجود نہ ہو۔
(۷)مسلوب العقل ہونے کی حیثیت سے صبی اور مجنون کا ایك حکم ہے یاعلیحدہ
(۸)صبی کی طلاق حالت صبا میں واقع ہے یانہیں فقط
الجواب الملفوظ
(۱)جس کی عقل زائل ہوگئی ہو بلا وجہ لوگوں کو مارےگالیاں دےشریعت نے اس میں کوئی اپنی اصطلاح جدید مقرر نہیں فرمائیوہی ہے جسے فارسی میں دیوانہاردومیں پاگل کہتے ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
(۲)مجنون کی ولایت عصبہ کوہے۔سب میں مقدم اس کا بیٹا عاقل بالغوہ نہ ہو تو باپپھر داداپھر بھائیپھر بھتیجاپھر چچاپھر چچا کا بیٹا الی آخر العصباتواﷲ تعالی اعلم۔
(۳)ولایت مال صرف سات کو ہے۔بیٹاپھر اس کا وصیپھر باپپھر اس کا وصیپھر داداپھر اس کا وصییا ان وصیوں کا وصی علی الترتیباور ان میں کوئی نہ ہو تو حاکم اسلامواﷲ تعالی اعلم۔
(۴)شرعا مجنون وصبی غیر عاقل ایك حکم میں ہیںاور صبی عاقل کا حکم اس سے جدا ہے۔وہ خرید وفروخت باجازت ولی کرسکتا ہے اور مجنون نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۵)مجنون کی طلاق نہیں واقع ہوسکتی۔واﷲ تعالی اعلم
(۶)ڈرائیں یا نہیں۔ولی موجود ہو یانہیں۔مجنون کے دئے طلاق نہیں ہوسکتی جبکہ اس کا جنون ثابت ہوواﷲ تعالی اعلم۔
(۷)اس کا جواب گزرا کہ صبی لایعقل اورمجنون کا ایك حکم ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۸)نہیں واقع ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۵۲: ۱۲ ربیع الثانی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك بیعنامہ بنام بکر
(۴)شرعا مجنون وصبی ایك حکم میں ہیں یا علیحدہ علیحدہ
(۵)مجنون کی حالت جنون میں اپنی زوجہ کو طلاق دے دے تو طلاق واقع ہوگی یانہیں
(۶)ہندہ کے ورثاء زید سے ایسی حالت میں کہ زید مجنون ہے ڈر کر لفظ طلاق کہلوائیں تو طلاق واقع ہوجائیگی یا نہیں اور ایسی حالت میں اس کا کوئی ولی اس موقع پر موجود نہ ہو۔
(۷)مسلوب العقل ہونے کی حیثیت سے صبی اور مجنون کا ایك حکم ہے یاعلیحدہ
(۸)صبی کی طلاق حالت صبا میں واقع ہے یانہیں فقط
الجواب الملفوظ
(۱)جس کی عقل زائل ہوگئی ہو بلا وجہ لوگوں کو مارےگالیاں دےشریعت نے اس میں کوئی اپنی اصطلاح جدید مقرر نہیں فرمائیوہی ہے جسے فارسی میں دیوانہاردومیں پاگل کہتے ہیںواﷲ تعالی اعلم۔
(۲)مجنون کی ولایت عصبہ کوہے۔سب میں مقدم اس کا بیٹا عاقل بالغوہ نہ ہو تو باپپھر داداپھر بھائیپھر بھتیجاپھر چچاپھر چچا کا بیٹا الی آخر العصباتواﷲ تعالی اعلم۔
(۳)ولایت مال صرف سات کو ہے۔بیٹاپھر اس کا وصیپھر باپپھر اس کا وصیپھر داداپھر اس کا وصییا ان وصیوں کا وصی علی الترتیباور ان میں کوئی نہ ہو تو حاکم اسلامواﷲ تعالی اعلم۔
(۴)شرعا مجنون وصبی غیر عاقل ایك حکم میں ہیںاور صبی عاقل کا حکم اس سے جدا ہے۔وہ خرید وفروخت باجازت ولی کرسکتا ہے اور مجنون نہیں۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۵)مجنون کی طلاق نہیں واقع ہوسکتی۔واﷲ تعالی اعلم
(۶)ڈرائیں یا نہیں۔ولی موجود ہو یانہیں۔مجنون کے دئے طلاق نہیں ہوسکتی جبکہ اس کا جنون ثابت ہوواﷲ تعالی اعلم۔
(۷)اس کا جواب گزرا کہ صبی لایعقل اورمجنون کا ایك حکم ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔
(۸)نہیں واقع ہوگی۔واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۵۲: ۱۲ ربیع الثانی ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك بیعنامہ بنام بکر
تصدیق کرادیانقل شامل سوال ہے۔مگر زر ثمن کالین دین نہیں ہوا صرف اقرار ہواہے۔مگر اس کے بعد ایك دعوی تنسیخ دستاویز مذکورکا زید نے کچہری میں کیادعوی اورجواب دعوی بھی شامل سوال ہے۔تو دریافت طلب یہ ہے کہ کیا جبکہ حواس صحیح نہ ہوں اس کی بیع مذکور بغبن فاحش ہے۔ا وراس کو ایسی بیع کااختیار ہے یانہیں اگرکرے تو کیاحکم ہے
الجواب:
جو شخص کم سمجھ ہوتدبیر ٹھیك نہ ہوکبھی عاقلوں کی سی باتیں کرےکبھی مدہوش کی سیاگر جنون کی حد تك نہ پہنچاہولوگوں کو بے سبب مارتا گالیاں دیتا نہ ہووہ معتوہ کہلاتا ہے۔شرعا اس کا حکم سمجھ وال بچے کی مثل ہےاگر برابر بلکہ دونی قیمت کو بیچے وہ بھی بے اجازت ولی مال نافذ نہیں۔اگر یہ ولی رد کردے گا باطل ہوجائے گی۔او رغبن فاحش کے ساتھ جس طرح حسب بیان سائل صورت سوال میں ہے کہ پچاس ہزار کی جائداد بیس ہزار کو بیع کیایسی بیع تو باطل محض ہے کہ ولی کی اجازت سے بھی نافذ نہیں ہوسکتی حتی کہ اگر خود معتو ہ بعد صحت اسے جائز کرے تو جائز نہ ہوگی۔
فان الاجازۃ انما تلحق الموقوف وھذا باطل لصدورہ ولا مجیز۔ کیونکہ اجازت تو موقوف کو ملتی ہے۔جبکہ یہ باطل ہے کیونکہ جب اس کا صدور ہو ا تو کوئی اجازت دینے والا نہ تھا۔ (ت)
درمختار میں ہے:المعتوہ حکمہ کممیز (معتوہ کا حکم تمیز رکھنے والے کی طرح ہے۔ت)ردالمحتارمیں ہے:
احسن ماقیل فیہ من کان قلیل الفہم مختلط الکلام فاسد التدبیر الا انہ لایضرب ولایشتم کما یفعل المجنون درر ۔ معتوہ کی تعریف بہتر قول یہ ہے کہ وہ قلیل الفہمخلط ملط کلام اور فاسد تدبیر والا ہے صرف یہ کہ وہ ضرب وشتم نہیں کرتا جیسے مجنون کرتاہے۔درر(ت)
درمختارمیں ہے:
تصرف الصبی والمعتوہ الذی یعقل البیع بچے اور معتوہ جو بیع وشراء کی سمجھ رکھتاہے ان کا
الجواب:
جو شخص کم سمجھ ہوتدبیر ٹھیك نہ ہوکبھی عاقلوں کی سی باتیں کرےکبھی مدہوش کی سیاگر جنون کی حد تك نہ پہنچاہولوگوں کو بے سبب مارتا گالیاں دیتا نہ ہووہ معتوہ کہلاتا ہے۔شرعا اس کا حکم سمجھ وال بچے کی مثل ہےاگر برابر بلکہ دونی قیمت کو بیچے وہ بھی بے اجازت ولی مال نافذ نہیں۔اگر یہ ولی رد کردے گا باطل ہوجائے گی۔او رغبن فاحش کے ساتھ جس طرح حسب بیان سائل صورت سوال میں ہے کہ پچاس ہزار کی جائداد بیس ہزار کو بیع کیایسی بیع تو باطل محض ہے کہ ولی کی اجازت سے بھی نافذ نہیں ہوسکتی حتی کہ اگر خود معتو ہ بعد صحت اسے جائز کرے تو جائز نہ ہوگی۔
فان الاجازۃ انما تلحق الموقوف وھذا باطل لصدورہ ولا مجیز۔ کیونکہ اجازت تو موقوف کو ملتی ہے۔جبکہ یہ باطل ہے کیونکہ جب اس کا صدور ہو ا تو کوئی اجازت دینے والا نہ تھا۔ (ت)
درمختار میں ہے:المعتوہ حکمہ کممیز (معتوہ کا حکم تمیز رکھنے والے کی طرح ہے۔ت)ردالمحتارمیں ہے:
احسن ماقیل فیہ من کان قلیل الفہم مختلط الکلام فاسد التدبیر الا انہ لایضرب ولایشتم کما یفعل المجنون درر ۔ معتوہ کی تعریف بہتر قول یہ ہے کہ وہ قلیل الفہمخلط ملط کلام اور فاسد تدبیر والا ہے صرف یہ کہ وہ ضرب وشتم نہیں کرتا جیسے مجنون کرتاہے۔درر(ت)
درمختارمیں ہے:
تصرف الصبی والمعتوہ الذی یعقل البیع بچے اور معتوہ جو بیع وشراء کی سمجھ رکھتاہے ان کا
حوالہ / References
درمختار کتاب الحجر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۹۸€
ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۹۰€
ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۹۰€
والشراء ان کان نافعا محضا کالاسلام و الاتہاب صح بلا اذن وان ضار اکالطلاق والقرض لاوان اذن بہ ولیہما وما تردد من العقود بین نفع وضرر کالبیع و الشراء توقف علی الاذن (باختصار) وہ تصرف جو محض نافع ہو تو ولی کی اجازت کے بغیر صحیح ہے مثلا اسلام قبول کرنا اور ہبہ قبول کرنا اور وہ تصرف جو نفع وضرر دونوں پہلورکھتا ہو تو ولی کی اجازت پر موقوف ہوگا جیسے بیع وشراء(باختصار)(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ کالبیع ای لوبضعف القیمۃ ۔ اس کا قول"بیع"یعنی اگر وہ دگنی قیمت پر بھی ہو۔(ت)
جامع الصغارمیں ہے:
لوان الصبی طلق او وہب اوتصدق اوباع بمحاباۃ فاحشۃ اواشتری باکثر من قیمتہ قدر مالا یتغابن الناس فی مثلہ او غیر ذلك من العقود فما لو فعلہ ولیہ فی صغرہ لایجوز علیہ فہذہ العقود کلہا باطلۃ لا تتوقف وان اجازہا الصبی بعد البلوغ لاتجوز ۔ اگر بچے نے طلاق دی یاہبہ کیا یا صدقہ کیا یا سستا فروخت کیا یا زیادہ قیمت پر خریدا جو بازار کی کمی بیشی سے زائد ہو وغیرہتو یہ امور بچے کے لئے ولی اس کی نابالغی میں کرے تو جائز نہ ہوں گےلہذا خود بچے نے کئے توباطل ہوں گے اور ولی کی اجازت پر موقوف نہ رہیں گے اور اگر خودبھی بالغ ہونے کے بعد جائز کرنا چاہے تو جائز نہ ہونگے۔(ت)
ہاں اگر معتوہ یانابالغ کو اس کے ولی مال یعنی باپ نے اور وہ نہ ہو تو باپ کے وصیاوروہ نہ ہو تو دادااور وہ نہ ہو تو اس کے وصی اور وہ نہ ہو تو حاکم وقاضی نے تجارت کا اذن دے دیا ہے۔تو ا س کی بیع جائز ہے اگر چہ غبن فاحش سے ہو۔درمختارمیں ہے:
فان اذن لہما الولی فہما فی شراء وبیع کعبد ماذون فی کل اور بچہ او رمعتوہ کو بیع وشراء میں ولی کی اجازت ہو تو ماذون غلام کی طرح اس کے تمام احکام
ردالمحتارمیں ہے:
قولہ کالبیع ای لوبضعف القیمۃ ۔ اس کا قول"بیع"یعنی اگر وہ دگنی قیمت پر بھی ہو۔(ت)
جامع الصغارمیں ہے:
لوان الصبی طلق او وہب اوتصدق اوباع بمحاباۃ فاحشۃ اواشتری باکثر من قیمتہ قدر مالا یتغابن الناس فی مثلہ او غیر ذلك من العقود فما لو فعلہ ولیہ فی صغرہ لایجوز علیہ فہذہ العقود کلہا باطلۃ لا تتوقف وان اجازہا الصبی بعد البلوغ لاتجوز ۔ اگر بچے نے طلاق دی یاہبہ کیا یا صدقہ کیا یا سستا فروخت کیا یا زیادہ قیمت پر خریدا جو بازار کی کمی بیشی سے زائد ہو وغیرہتو یہ امور بچے کے لئے ولی اس کی نابالغی میں کرے تو جائز نہ ہوں گےلہذا خود بچے نے کئے توباطل ہوں گے اور ولی کی اجازت پر موقوف نہ رہیں گے اور اگر خودبھی بالغ ہونے کے بعد جائز کرنا چاہے تو جائز نہ ہونگے۔(ت)
ہاں اگر معتوہ یانابالغ کو اس کے ولی مال یعنی باپ نے اور وہ نہ ہو تو باپ کے وصیاوروہ نہ ہو تو دادااور وہ نہ ہو تو اس کے وصی اور وہ نہ ہو تو حاکم وقاضی نے تجارت کا اذن دے دیا ہے۔تو ا س کی بیع جائز ہے اگر چہ غبن فاحش سے ہو۔درمختارمیں ہے:
فان اذن لہما الولی فہما فی شراء وبیع کعبد ماذون فی کل اور بچہ او رمعتوہ کو بیع وشراء میں ولی کی اجازت ہو تو ماذون غلام کی طرح اس کے تمام احکام
حوالہ / References
درمختار کتاب الماذون ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۳€
ردالمحتار کتاب الماذون داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۵/ ۱۱۰€
جامع احکام الصغار علی ہامش جامع الفصولین فی مسائل البیوع ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۵€
ردالمحتار کتاب الماذون داراحیاء الترا ث العربی بیروت ∞۵/ ۱۱۰€
جامع احکام الصغار علی ہامش جامع الفصولین فی مسائل البیوع ∞اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۵€
احکامہ ۔ ہوں گے۔(ت)
ردالمحتار میں ہے:
فیجوز بیعہ بالغبن الفاحش عندہ خلافا لہما ۔ تو غبن فاحش کے ساتھ اس کی بیع امام صاحب کے نزدیك جائزہوگیصاحبین اس کے خلاف ہیں۔(ت)
عالمگیریہ میں ہے:
المعتوہ الذی یعقل البیع والشراء بمنزلۃ الصبی یصیر ماذونا باذن الاب والوصی والجد دون غیرہم خزانۃ المفتین ولو اذن للمعتوہ ابنہ کان باطلاوعلی ھذا لواذن لہ اخوہ اوعمہ او واحد من اقربائہ سوی الاب والجد فاذنہ باطل مبسوط(باختصار)واﷲ تعالی اعلم۔ معتوہ جو بیع وشراء کی سمجھ رکھتاہے وہ بچے کی طرح ہے باپ دادا اور ان کی اجازت سے ماذون ہوسکے گا غیر کی اجازت نہیںخزانۃ المفتین اور اگر معتوہ کو بیٹا اجازت دے تو باطل ہوگااس بنا پر اگربھائی یا چچا یا کوئی اور قریبی اجازت دے جو باپ دادا کاغیر ہو تو یہ اجازت باطل ہوگیمبسوط (باختصار) واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۵۳:از پروچڑان موضع کوٹلہ مدھو ڈاکخانہ غوث پور ریاست بہاولپور تحصیل خان پور مرسلہ ابوالمنظور محمد غوث بخش صاحب ۱۳ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ طلاق صبی کے متعلق جو اصول فقہ میں لکھتے ہیں کہ عندالحاجۃ واقع ہوجاتی ہےحاجت کی کون کون صورتیں ہیں۔آیا یہ صورت ذیل عندالحاجۃ میں داخل ہوسکتی ہے کہ ایك ناکح بعمر ۱۲ سال ہے اور منکوحہ اس کی بعمر ۲۸ سالمگر اعمال اس عورت کے فاحشہ ہیںحاملہ من الزنا ہوجاتی ہے او ر اسقاط کرادیتی ہے۔اور ایسا معاملہ اس سے باربار ہواہے اور بوجہ غیر بلوغ ناکح وعدم بیتوتت کے نان ونفقہ سے ازحدتنگ ہے۔تو ایك گونہ فعل حرام مذکور اس کا باخذ اجرت حرام اضطراری تصور ہوتاہےبرآں التماس ہے کہ بندہ گرداور قاضی علاقہ کاہے۔
ردالمحتار میں ہے:
فیجوز بیعہ بالغبن الفاحش عندہ خلافا لہما ۔ تو غبن فاحش کے ساتھ اس کی بیع امام صاحب کے نزدیك جائزہوگیصاحبین اس کے خلاف ہیں۔(ت)
عالمگیریہ میں ہے:
المعتوہ الذی یعقل البیع والشراء بمنزلۃ الصبی یصیر ماذونا باذن الاب والوصی والجد دون غیرہم خزانۃ المفتین ولو اذن للمعتوہ ابنہ کان باطلاوعلی ھذا لواذن لہ اخوہ اوعمہ او واحد من اقربائہ سوی الاب والجد فاذنہ باطل مبسوط(باختصار)واﷲ تعالی اعلم۔ معتوہ جو بیع وشراء کی سمجھ رکھتاہے وہ بچے کی طرح ہے باپ دادا اور ان کی اجازت سے ماذون ہوسکے گا غیر کی اجازت نہیںخزانۃ المفتین اور اگر معتوہ کو بیٹا اجازت دے تو باطل ہوگااس بنا پر اگربھائی یا چچا یا کوئی اور قریبی اجازت دے جو باپ دادا کاغیر ہو تو یہ اجازت باطل ہوگیمبسوط (باختصار) واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۵۳:از پروچڑان موضع کوٹلہ مدھو ڈاکخانہ غوث پور ریاست بہاولپور تحصیل خان پور مرسلہ ابوالمنظور محمد غوث بخش صاحب ۱۳ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ طلاق صبی کے متعلق جو اصول فقہ میں لکھتے ہیں کہ عندالحاجۃ واقع ہوجاتی ہےحاجت کی کون کون صورتیں ہیں۔آیا یہ صورت ذیل عندالحاجۃ میں داخل ہوسکتی ہے کہ ایك ناکح بعمر ۱۲ سال ہے اور منکوحہ اس کی بعمر ۲۸ سالمگر اعمال اس عورت کے فاحشہ ہیںحاملہ من الزنا ہوجاتی ہے او ر اسقاط کرادیتی ہے۔اور ایسا معاملہ اس سے باربار ہواہے اور بوجہ غیر بلوغ ناکح وعدم بیتوتت کے نان ونفقہ سے ازحدتنگ ہے۔تو ایك گونہ فعل حرام مذکور اس کا باخذ اجرت حرام اضطراری تصور ہوتاہےبرآں التماس ہے کہ بندہ گرداور قاضی علاقہ کاہے۔
حوالہ / References
درمختار کتاب الماذون ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۳€
ردالمحتار کتاب الماذون داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۱۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الماذون الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۱۲€
ردالمحتار کتاب الماذون داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۵/ ۱۱۰€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الماذون الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۱۲€
ایسی صورتیں واقع ہوتی ہیں بڑی تفصیل وکافی جواب سے ممتاز فرمائیں۔
الجواب:
صبی ہر گز اہل طلاق نہیںنہ اس کے دئے طلاق واقع ہونہ اس کی طرف سے اس کا ولی خواہ کوئی طلاق دے سکے اگر دے ہر گز نہ ہوگیاصول میں کہ ذکر حاجت ہے صرف دو صورتوں میں منحصرہےـ:
اول: یہ کہ صبی عاقل کافر کی زوجہ اسلام لائیحاکم شرع نے صبی پراسلام پیش کیا۔اس نے انکار کردیا تفریق ہوگی اور یہ مذہب صحیح میں طلاق قرار پائے گی
دوم: یہ کہ صبی آلت بریدہ تھاعورت نے دعوی کیا قاضی نے تفریق کردییہ بھی علی الصحیح طلاق ہے وبس۔
تیسری صورت: ایك قول ضعیف پر ہے کہ صبی عاقل معاذاﷲ مرتد ہوگیا جو اسے طلاق جانتے ہیں طلاق کہیں گےاور صحیح یہ کہ ردت سے نکاح فسخ ہوتاہے اگر چہ شوہر ارتداد کرے۔تو یہ طلاق نہیںاس مسئلہ کی اعلی تحقیق مع ازالہ جملہ اوہام فتاوی فقیر کتاب الطلاق میں ہے۔اشباہ احکام الصبیان میں ہے:
لایقع طلاقہ ولا عتقہ الاحکام فی مسائل ذکرناہا فی النوع الثانی من الفوائد ۔ اس کی طلاق وعتاق واقع نہ ہوں گیمگر چند وہ مسائل جن کو ہم نے فوائد نوع ثانی میں بیان کیا ہے حکما صحت ہوگی۔(ت)
قواعد میں فرمایا:
الصبی لایقع طلاقہ الااذا اسلمت فعرض علیہ ممیزا فابی وقع الطلاق علی الصحیح وفیما اذا مجبوبا وفرق بینہما فہو طلاق علی الصحیح ۔ بچے کی طلاق واقع نہ ہوگی مگر جب بیوی مسلمان ہوجائے اور قابل تمیز بچہ ہوتوقاضی اس پر اسلام پیش کرے اور وہ انکار کردے تو صحیح قول کے مطابق اس کی طلاق صحیح ہوجائیگی۔اور ذکر کٹا ہو اورقاضی تفریق کردے تو صحیح قول کے مطابق وہ طلاق ہوجائے گی۔(ت)
الجواب:
صبی ہر گز اہل طلاق نہیںنہ اس کے دئے طلاق واقع ہونہ اس کی طرف سے اس کا ولی خواہ کوئی طلاق دے سکے اگر دے ہر گز نہ ہوگیاصول میں کہ ذکر حاجت ہے صرف دو صورتوں میں منحصرہےـ:
اول: یہ کہ صبی عاقل کافر کی زوجہ اسلام لائیحاکم شرع نے صبی پراسلام پیش کیا۔اس نے انکار کردیا تفریق ہوگی اور یہ مذہب صحیح میں طلاق قرار پائے گی
دوم: یہ کہ صبی آلت بریدہ تھاعورت نے دعوی کیا قاضی نے تفریق کردییہ بھی علی الصحیح طلاق ہے وبس۔
تیسری صورت: ایك قول ضعیف پر ہے کہ صبی عاقل معاذاﷲ مرتد ہوگیا جو اسے طلاق جانتے ہیں طلاق کہیں گےاور صحیح یہ کہ ردت سے نکاح فسخ ہوتاہے اگر چہ شوہر ارتداد کرے۔تو یہ طلاق نہیںاس مسئلہ کی اعلی تحقیق مع ازالہ جملہ اوہام فتاوی فقیر کتاب الطلاق میں ہے۔اشباہ احکام الصبیان میں ہے:
لایقع طلاقہ ولا عتقہ الاحکام فی مسائل ذکرناہا فی النوع الثانی من الفوائد ۔ اس کی طلاق وعتاق واقع نہ ہوں گیمگر چند وہ مسائل جن کو ہم نے فوائد نوع ثانی میں بیان کیا ہے حکما صحت ہوگی۔(ت)
قواعد میں فرمایا:
الصبی لایقع طلاقہ الااذا اسلمت فعرض علیہ ممیزا فابی وقع الطلاق علی الصحیح وفیما اذا مجبوبا وفرق بینہما فہو طلاق علی الصحیح ۔ بچے کی طلاق واقع نہ ہوگی مگر جب بیوی مسلمان ہوجائے اور قابل تمیز بچہ ہوتوقاضی اس پر اسلام پیش کرے اور وہ انکار کردے تو صحیح قول کے مطابق اس کی طلاق صحیح ہوجائیگی۔اور ذکر کٹا ہو اورقاضی تفریق کردے تو صحیح قول کے مطابق وہ طلاق ہوجائے گی۔(ت)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث احکام الصبیان ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۴۶€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۵۵۔۲۵۴€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی ادارۃ القرآن ∞کراچی ۱/ ۵۵۔۲۵۴€
ظاہر ہے کہ صورت سوال ان صورتوں میں نہیںتو اس میں وہی حکم ہے کہ لایصح طلاقہ(اس کی طلاق صحیح نہ ہوگی۔ت) واﷲ تعالی اعلم
مسئلہ ۲۵۴:
بسم اﷲ الرحمن الرحیموصل علی سیدنا ونبینا و الہ وصحبہ وسلمالی جناب الفاضل العالم مفتی بلد بانس بریلی السید احمد رضا القادری سلمہ امینسیدناماقولکم دام فضلکم فی رجل کان مرتب سبیل لہ بمکۃ علی یدنا فی کل عام ثلاثین روبیۃ واعطانا فی حیاتہ مدۃ اعوامثم توفی الی رحمۃ اﷲولنافی ذمتہ باقی کم سنۃ حق السبیلثم اتینا الی وارثہ واطلعناہ علی مابیدنا فاجاب المذکور بانی سأودی عن المیت ماہو محرر بموجب الدفتر وما رضی بربیۃ عشرۃوحررفیہ سندا بارسال المبلغ فی وقت معلومثم لم یرسل فاتینا الیہ ثانیا وطلبنا منہ فاجابان کان شرعا یجب علینا فانا اعطی افتونا ہل یجب علیہ اداء المبلغ الذی علی المیت بموجب اقرار نامۃ سندہ ام لا ولکم الاجر والثواب۔ بسم اﷲ الرحمن الرحیموصلی اﷲ علی سیدنا ونبینا والہ وصحبہ وسلمبریلی کے فاضل عالم مفتی الشاہ احمد رضا قادری سلمہ آمین کے نام استفتاءہمارے آقا آپ کی فضیلت دائم ہوآپ کا کیاا رشاد ہے ایسے شخص کے متعلق کہ وہ ہماری جگہ میں سالانہ تیس روپے کرایہ پر سبیل لگاتارہا وہ اپنی زندگی میں کچھ سال ہمیں تیس روپے دیتا رہا۔پھر فوت ہوگیارحمۃ اﷲ علیہ جبکہ کئی سال کی رقم ہماراحق اس کے ذمہ باقی ہے۔ پھر ہم اس کے ورثاء کے پاس آئے اور ان کو اطلاع دی کہ ہمارا حق مرحوم کے ذمہ ہے۔تو اس کے وارث نے جواب دیا کہ مرحوم کے نام رجسٹر میں تحریر شدہ جورقم ہوگی میں ادا کر دوں گا۔اور وہ صرف دس روپے دینے پر راضی ہواور ادائیگی کے لئے یادداشت لکھ دی کہ فلاں وقت یہ مبلغ تمھیں ارسال کردوں گا۔مگر اس نے ارسال نہ کئےتو ہم دوبارہ اس کے پاس آئے اور مطالبہ کیا تو اس نے جواب دیا کہ اگر شرعا یہ ادائیگی ہمارے ذمہ ہو تو اداکروں گا۔لہذا آپ فتوی جاری فرمادیں کہ کیا میت کے ذمہ ا س کے اقرار نامہ کی مطابق جو رقم ہے وہ اس کے وارث پر اداکرنا واجب ہے یا نہیں آپ کو اجروثواب ہوگا۔(ت)
مسئلہ ۲۵۴:
بسم اﷲ الرحمن الرحیموصل علی سیدنا ونبینا و الہ وصحبہ وسلمالی جناب الفاضل العالم مفتی بلد بانس بریلی السید احمد رضا القادری سلمہ امینسیدناماقولکم دام فضلکم فی رجل کان مرتب سبیل لہ بمکۃ علی یدنا فی کل عام ثلاثین روبیۃ واعطانا فی حیاتہ مدۃ اعوامثم توفی الی رحمۃ اﷲولنافی ذمتہ باقی کم سنۃ حق السبیلثم اتینا الی وارثہ واطلعناہ علی مابیدنا فاجاب المذکور بانی سأودی عن المیت ماہو محرر بموجب الدفتر وما رضی بربیۃ عشرۃوحررفیہ سندا بارسال المبلغ فی وقت معلومثم لم یرسل فاتینا الیہ ثانیا وطلبنا منہ فاجابان کان شرعا یجب علینا فانا اعطی افتونا ہل یجب علیہ اداء المبلغ الذی علی المیت بموجب اقرار نامۃ سندہ ام لا ولکم الاجر والثواب۔ بسم اﷲ الرحمن الرحیموصلی اﷲ علی سیدنا ونبینا والہ وصحبہ وسلمبریلی کے فاضل عالم مفتی الشاہ احمد رضا قادری سلمہ آمین کے نام استفتاءہمارے آقا آپ کی فضیلت دائم ہوآپ کا کیاا رشاد ہے ایسے شخص کے متعلق کہ وہ ہماری جگہ میں سالانہ تیس روپے کرایہ پر سبیل لگاتارہا وہ اپنی زندگی میں کچھ سال ہمیں تیس روپے دیتا رہا۔پھر فوت ہوگیارحمۃ اﷲ علیہ جبکہ کئی سال کی رقم ہماراحق اس کے ذمہ باقی ہے۔ پھر ہم اس کے ورثاء کے پاس آئے اور ان کو اطلاع دی کہ ہمارا حق مرحوم کے ذمہ ہے۔تو اس کے وارث نے جواب دیا کہ مرحوم کے نام رجسٹر میں تحریر شدہ جورقم ہوگی میں ادا کر دوں گا۔اور وہ صرف دس روپے دینے پر راضی ہواور ادائیگی کے لئے یادداشت لکھ دی کہ فلاں وقت یہ مبلغ تمھیں ارسال کردوں گا۔مگر اس نے ارسال نہ کئےتو ہم دوبارہ اس کے پاس آئے اور مطالبہ کیا تو اس نے جواب دیا کہ اگر شرعا یہ ادائیگی ہمارے ذمہ ہو تو اداکروں گا۔لہذا آپ فتوی جاری فرمادیں کہ کیا میت کے ذمہ ا س کے اقرار نامہ کی مطابق جو رقم ہے وہ اس کے وارث پر اداکرنا واجب ہے یا نہیں آپ کو اجروثواب ہوگا۔(ت)
الجواب:
نعم یجب علی وارثہ القابض بعدہ علی اموالہ ان یؤدی ماعلیہ قال تعالی" من بعد وصیۃ یوصی بہا اودین "
وان کان قد ابقاہ ہذا جاریا فیجب علیہ ایضااداء ماعلی نفسہ الی الان قال تعالی
" یایہا الذین امنوا اوفوا بالعقود ۬" وھذا اوقع العقد بحسب الشرع و وفی بہ صاحبہ کما ھو المرجوواﷲ تعالی اعلم۔ ہاں میت کا وارث جس نے میت کے مال کو قبضہ میں لیا ہےاس پر میت کے ذمہ قرض کو اداکرنا واجب ہے۔اﷲ تعالی نے فرمایا وصیت شدہ یاقرضہ کو اداکرنے کے بعداوراگر وہ معاہدہ پر تاحال عمل پیرا ہوں اور وارث نے اسے باقی رکھاہے تو وارث پر اپنی طرف سے بھی اس مدت کی یہ ادائیگی واجب ہے اﷲ تعالی نے فرمایا " اے ایمان والو! عقود کو پورا کرو"تو اس نے شریعت کی رو سے یہ عقد واقع کیا ہے اور دوسرے فریق کے لئے اپنے ذمہ کو پورا کردے جیسا کہ امید ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
نعم یجب علی وارثہ القابض بعدہ علی اموالہ ان یؤدی ماعلیہ قال تعالی" من بعد وصیۃ یوصی بہا اودین "
وان کان قد ابقاہ ہذا جاریا فیجب علیہ ایضااداء ماعلی نفسہ الی الان قال تعالی
" یایہا الذین امنوا اوفوا بالعقود ۬" وھذا اوقع العقد بحسب الشرع و وفی بہ صاحبہ کما ھو المرجوواﷲ تعالی اعلم۔ ہاں میت کا وارث جس نے میت کے مال کو قبضہ میں لیا ہےاس پر میت کے ذمہ قرض کو اداکرنا واجب ہے۔اﷲ تعالی نے فرمایا وصیت شدہ یاقرضہ کو اداکرنے کے بعداوراگر وہ معاہدہ پر تاحال عمل پیرا ہوں اور وارث نے اسے باقی رکھاہے تو وارث پر اپنی طرف سے بھی اس مدت کی یہ ادائیگی واجب ہے اﷲ تعالی نے فرمایا " اے ایمان والو! عقود کو پورا کرو"تو اس نے شریعت کی رو سے یہ عقد واقع کیا ہے اور دوسرے فریق کے لئے اپنے ذمہ کو پورا کردے جیسا کہ امید ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴/ ۱۱€
القرآن الکریم ∞۵/ ۱€
القرآن الکریم ∞۵/ ۱€
کتاب الغصب
(غصب کا بیان)
مسئلہ ۲۵۵: یکم ذیقعدہ ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید غنی نے اپنے جوان پسر کی آمدنی یہ کہہ کر لینی شروع کی کہ ہم جمع رکھیں گے تاکہ تمھاری شادی پر خرچ کریںاو ر واقع میں اس کے خلاف کیا۔بلکہ وہ مال اپنے مصارف میں اٹھالیاتو اس صور ت میں زید پر اس کا تاوان آئے گا۔یا مال پسر کامالك سمجھا جائے گا بینوا توجروا
الجواب:
بیشك تاوان دے گا اور ہر گز رضائے پسر نہ تھی تو گناہ علاوہ
قال تعالی " لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل " ۔ الله تعالی نے فرمایا:آپس کامال باطل طریقہ سے نہ کھاؤ۔ (ت)
باپ بیٹے کے مال کا اس کی زندگی میں ہر گز مالك نہیں۔
وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انت و اور حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے کا ارشاد ہے کہ تو اور
(غصب کا بیان)
مسئلہ ۲۵۵: یکم ذیقعدہ ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید غنی نے اپنے جوان پسر کی آمدنی یہ کہہ کر لینی شروع کی کہ ہم جمع رکھیں گے تاکہ تمھاری شادی پر خرچ کریںاو ر واقع میں اس کے خلاف کیا۔بلکہ وہ مال اپنے مصارف میں اٹھالیاتو اس صور ت میں زید پر اس کا تاوان آئے گا۔یا مال پسر کامالك سمجھا جائے گا بینوا توجروا
الجواب:
بیشك تاوان دے گا اور ہر گز رضائے پسر نہ تھی تو گناہ علاوہ
قال تعالی " لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل " ۔ الله تعالی نے فرمایا:آپس کامال باطل طریقہ سے نہ کھاؤ۔ (ت)
باپ بیٹے کے مال کا اس کی زندگی میں ہر گز مالك نہیں۔
وقولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم انت و اور حضور صلی الله تعالی علیہ وسلم نے کا ارشاد ہے کہ تو اور
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۸۸€
مالك لابیك من باب البر۔ تیرا مال تیرے باپ کا ہے تو یہ بھلائی کے باب میں ہے قانون نہیں ہے۔(ت)
فتح القدیر کے باب الوطی الذی یوجب الحد میں ہے:
لم تکن لہ ولایۃ تملك مال ابنہ حال قیام ابنہ ۔ اس کو ولایت نہیں ہے جو بیٹے کی زندگی میں اس کے مال کاباپ کو مالك بنادے۔(ت)
نہ باپ کو بے رضا واجازت پسر اس کے مال سے ایك حبہ لینے کا اختیار۔
قال اﷲ تعالی" الا ان تکون تجرۃ عن تراض منکم " ۔ الله تعالی نے فرمایا:بغیر اس کے کہ تمھاری رضامندی سے تجارت ہو۔(ت)
مگر جبکہ باپ فقیر محتاج ہو او ربیٹا غنیتو صرف بقدر نفقہ کے بلا اطلاع پسر بھی لے سکتاہے اگر چہ بیٹا راضی نہ ہو۔
وھو محمل قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اطیب ما اکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ ۔قال فی الفتح اخرجہ اصحاب السنن الاربعۃ عن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہا صح قلت والدارمی والبخاری فی التاریخ قال حسنہ اوریہی محمل ہے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کاکہ آدمی کااپنے کسب سے کھانا نہایت پسندیدہ ہے اور بیٹا ا س کا کسب ہے فتح میں فرمایا اس کو سنن اربعہ(ابوداؤدنسائی ترمذی اور ابن ماجہ)کے اصحاب نے تخرج کیا ہےاور حضرت ام المومنین عائشہ رضی الله عنہما سے یہ روایت صحیح ہےمیں کہتاہوں اور دارمی
فتح القدیر کے باب الوطی الذی یوجب الحد میں ہے:
لم تکن لہ ولایۃ تملك مال ابنہ حال قیام ابنہ ۔ اس کو ولایت نہیں ہے جو بیٹے کی زندگی میں اس کے مال کاباپ کو مالك بنادے۔(ت)
نہ باپ کو بے رضا واجازت پسر اس کے مال سے ایك حبہ لینے کا اختیار۔
قال اﷲ تعالی" الا ان تکون تجرۃ عن تراض منکم " ۔ الله تعالی نے فرمایا:بغیر اس کے کہ تمھاری رضامندی سے تجارت ہو۔(ت)
مگر جبکہ باپ فقیر محتاج ہو او ربیٹا غنیتو صرف بقدر نفقہ کے بلا اطلاع پسر بھی لے سکتاہے اگر چہ بیٹا راضی نہ ہو۔
وھو محمل قولہ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم ان اطیب ما اکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ ۔قال فی الفتح اخرجہ اصحاب السنن الاربعۃ عن عائشۃ رضی اﷲ تعالی عنہا صح قلت والدارمی والبخاری فی التاریخ قال حسنہ اوریہی محمل ہے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کاکہ آدمی کااپنے کسب سے کھانا نہایت پسندیدہ ہے اور بیٹا ا س کا کسب ہے فتح میں فرمایا اس کو سنن اربعہ(ابوداؤدنسائی ترمذی اور ابن ماجہ)کے اصحاب نے تخرج کیا ہےاور حضرت ام المومنین عائشہ رضی الله عنہما سے یہ روایت صحیح ہےمیں کہتاہوں اور دارمی
حوالہ / References
کنز العمال ∞حدیث ۴۵۴۷۱و ۴۵۹۲۷و ۴۵۹۲۸ و ۴۵۹۳۲ و ۴۵۹۳۸€ موسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱۶/ ۸۰،۵۷۹۔۴۶۶۔۵۷۷،€سنن الکبرٰی للبیہقی کتاب النفقات دارالفکر بیروت ∞۷/ ۴۸۰،۴۸۱،€سنن ابن ماجہ ابواب التجارات باب ماللرجل من مال ولدۃ ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۶۷€
فتح القدیر کتاب الحدود باب الوطی الذی یوجب الحد ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۳۷€
القرآن الکریم ∞۴/ ۲۹€
سنن ابن ماجہ ابواب التجارات باب الحث علی المکاسب ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۵۵،€سنن الکبرٰی للبیہقی کتاب النفقات باب نفقہ الابوین دارصادر بیروت ∞۷/ ۴۸۰€
فتح القدیر کتاب الحدود باب الوطی الذی یوجب الحد ∞مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵/ ۳۷€
القرآن الکریم ∞۴/ ۲۹€
سنن ابن ماجہ ابواب التجارات باب الحث علی المکاسب ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۵۵،€سنن الکبرٰی للبیہقی کتاب النفقات باب نفقہ الابوین دارصادر بیروت ∞۷/ ۴۸۰€
الترمذی قلت وصححہ ابوحاتم قال قدس سرہ فان قیل ھذا یقتضی ان لہ ملکا ناجزا فی مالہقلنا نعم لولم یقیدہ حدیث رواہ الحاکم وصححہ البیہقی عنہا مرفوعا ان اولادکم ہبۃ لکم یہب لمن یشاء اناثا ویہب لمن یشاء الذکورواموالہم لکم اذا احتجتم الیہاومما یقطع بانہ مؤول انہ تعالی ورث الاب من ابنہ السدس مع ولد ولدہفلو کان الکل ملکہ لم یکن لغیرہ شیئ مع وجودہ اھ۔ اوربخاری نے اپنی تاریخ میں بھی اور ترمذی نے اس کو حسن کہا ہے میں کہتاہوں اور اس کو ابوحاتم نے صحیح قراردیا ہے او رابن ہمام قدس سرہ نے بیان کیا کہ اگراعتراض کیاجائے کہ اس حدیث کا مقتضی یہ ہے کہ بیٹے کا مال باپ کی قطعی ملکیت بن جائےہم جواب میں کہتے ہیں ہاں اگرحاکم کی روایت کردہ اور بیہقی کی صحیح کردہ حضرت ام المومنین عائشہ رضی الله عنہا کی مرفوع حدیث نے کہ تمھاری اولاد تمھارے لئے ہبہ ہے الله تعالی جس کو چاہے لڑکے ہبہ کرتاہے اور جس کو چاہے لـڑکیاں ہبہ کرتا ہے اور ان کا مال تمھارا ہے جب تمھیں اس کی احتیاج ہو۔پہلی حدیث کو مقید نہ کیا ہو (حالانکہ وہ اس سے مقید ہے)اور اس کے مؤول ہونے کی قطعی دلیل یہ ہے کہ الله تعالی نے باپ کو بیٹے کے مال میں اس کی اولاد کی موجود گی میں چھٹے حصے کا وارث بنایا ہے اگر بیٹے کے کل مال کا مالك باپ ہو تو پھر باپ کی موجودگی کے باوجود غیر کو کچھ نہ ملے۔اھ(ت)
درمختارمیں ہے:
فی المبتغی للفقیران یسرق من ابنہ الموسر مایکفیہ ان ابی ولاقاضی ثمہ والا اثم اھ واﷲ تعالی اعلم۔ متبغی میں ہے۔فقیر باپ کو اپنے امیر بیٹے کے مال سے کفایت کے مطابق چرالینے کا حق ہے جب بیٹا دینے سے انکار کردے اور وہاں قاضی نہ ہو ورنہ باپ گنہ گارہوگا اھ والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۵۶: ۲۸ جمادی الآخرہ ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کایہ قول کہ سود کا روپیہ او رچوری کا روپیہ اور جوئے کا روپیہ اور غصب کا روپیہ اور جو تجارت سودی روپیہ سے ہو اور وکالت یا مختار کاری کا پیسہ
درمختارمیں ہے:
فی المبتغی للفقیران یسرق من ابنہ الموسر مایکفیہ ان ابی ولاقاضی ثمہ والا اثم اھ واﷲ تعالی اعلم۔ متبغی میں ہے۔فقیر باپ کو اپنے امیر بیٹے کے مال سے کفایت کے مطابق چرالینے کا حق ہے جب بیٹا دینے سے انکار کردے اور وہاں قاضی نہ ہو ورنہ باپ گنہ گارہوگا اھ والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۵۶: ۲۸ جمادی الآخرہ ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کایہ قول کہ سود کا روپیہ او رچوری کا روپیہ اور جوئے کا روپیہ اور غصب کا روپیہ اور جو تجارت سودی روپیہ سے ہو اور وکالت یا مختار کاری کا پیسہ
حوالہ / References
فتح القدیر باب النفقۃ فصل وعلی الرجل ان ینفق علی ابویہ الخ ∞مکتبہ نوریہ ضویہ سکھر ۴/ ۲۲۳€
درمختار کتاب الطلاق باب النفقۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۷۴€
درمختار کتاب الطلاق باب النفقۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۷۴€
اور منصفی اور صدر صدوری اور فوج کی تنخواہ کا روپیہیہ سب حرام ہیںاگر اس روپیہ سے کھانا تیار کیا جائے یاکپڑا بنایا جائے تو حرام ہے کھاناایسا کھانا حرام ہے۔اور اس کھانا پر تسمیہ کرنا کفرہے۔اور عمرو کا یہ قول ہے کہ یہ پیسہ حرام نہیں ہے بلکہ مالك مال چور کو بعد چرالے جانے مال کے بخش دے اگر چہ چورکو اس کے بخشنے کی خبر ہی نہ ہویعنی مالك مال یہ کہہ دے کہ جو میرا مال چورلے گیاہے میں نے بخشا اور معاف کیاتوہ مال چو رکی ملك ہوگیا۔وہ حرام نہیں ہے۔اسی طرح جوئے وغیرہ اور وکالت اورسود کا بھی یہ حکم ہے۔اب زیدکو جستجو مال کی ہے جو ازروئے شرع حرام ہے کہ ا سے بچنا اور احترا ز کرنا بہترہے مسلمانوں کوا مید ہے کہ جو پیسہ حرام ہے اس سے آگاہی فرمائی جائے تاکہ اس پیسہ سے بچنا موجب خیرات وبرکات کا ہواور حرام کے مال سے صدقہ اور خیرات کرکے امید ثواب کی رکھنا یہ درست ہے یانہیں بینوا توجروا من الله تعالی
الجواب:
سود اور چوری اورغصب او رجوئے کا روپیہ قطعی حرام ہے۔اور اسی طرح وکالت ومختار کاری جس طرح اس زمانہ میں رائج قطعا حرام ہے اور اس کی اجرت بھی قطعا حراماورہر وہ نوکری جس میں خلاف حکم خدا اور سول فیصلہ یا حکم کرنا پڑے خواہ ریاست اسلامی ہو یا غیر کیقطعا حرام اور اس کی اجرت بھی قطعاحرامیونہی ہر معصیت کی اجرت حرام ہے
کل ذلك ثابت بالقران العظیم والحدیثوالفقہ و معروف معلوم عند اھل العلم وکل من رزق صحبتہم یہ سب قرآن وحدیث اور فقہ سے ثابت ہے اوراہل علم اور ان کی مجلس میں رہنے والے حضرات کے ہاں معرو ف ہے(ت)
اور بے ضرورت سوددینا بھی اگرچہ حرام ہے کما فصلناہ فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ت)مگر وہ روپیہ کہ اس نے قرض لیااس سے تجارت میں جوکچھ حاصل ہوحلال ہے۔
فان الخبث فیما اعطی لافیما اخذ وھذا ظاہر جدا۔ کیونکہ خبث دئے ہوئے مال میں ہے جو نفع میں لیا اس میں نہیں ہے اور نہایت ظاہر ہے۔(ت)
اورحرام مال مثل زرغصب ورشوت وسرقہ واجرت معاصی وغیرہ سے جو چیز خریدی جائے اس کی
الجواب:
سود اور چوری اورغصب او رجوئے کا روپیہ قطعی حرام ہے۔اور اسی طرح وکالت ومختار کاری جس طرح اس زمانہ میں رائج قطعا حرام ہے اور اس کی اجرت بھی قطعا حراماورہر وہ نوکری جس میں خلاف حکم خدا اور سول فیصلہ یا حکم کرنا پڑے خواہ ریاست اسلامی ہو یا غیر کیقطعا حرام اور اس کی اجرت بھی قطعاحرامیونہی ہر معصیت کی اجرت حرام ہے
کل ذلك ثابت بالقران العظیم والحدیثوالفقہ و معروف معلوم عند اھل العلم وکل من رزق صحبتہم یہ سب قرآن وحدیث اور فقہ سے ثابت ہے اوراہل علم اور ان کی مجلس میں رہنے والے حضرات کے ہاں معرو ف ہے(ت)
اور بے ضرورت سوددینا بھی اگرچہ حرام ہے کما فصلناہ فی فتاونا(جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں اس کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ت)مگر وہ روپیہ کہ اس نے قرض لیااس سے تجارت میں جوکچھ حاصل ہوحلال ہے۔
فان الخبث فیما اعطی لافیما اخذ وھذا ظاہر جدا۔ کیونکہ خبث دئے ہوئے مال میں ہے جو نفع میں لیا اس میں نہیں ہے اور نہایت ظاہر ہے۔(ت)
اورحرام مال مثل زرغصب ورشوت وسرقہ واجرت معاصی وغیرہ سے جو چیز خریدی جائے اس کی
چند صورتیں ہیں:
۱ایك مثلا غلا فروش کے سامنے روپیہ ڈال دیا کہ اس کے گیہوں دے دےاس نے دے دئے یا بزاز کو روپیہ پہلے دے دیا کہ اس کا کپڑا دے دےیہ گیہوں اورکپڑا حرام ہے۔
۲دوسرے یہ کہ روپیہ پہلے تو نہ دیا مگرعقد ونقد دونوں اس روپیہ پر جمع کئےیعنی خاص اس حرام روپیہ کی تعیین سے اس کے عوض خریدااوریہی روپیہ قیمت میں ادا کیامثلا غلا فروش کو یہ حرام روپیہ دکھا کر کہا اس روپیہ کے گیہوں دے دےاس نے دے دئے اس نے یہی روپیہ اسے دے دیااس صورت میں یہ گیہوں حرام ہے۔
۳تیسرے یہ کہ نہ روپیہ پہلے سے دیا نہ اس پر عقدونقد جمع کئےاس کی پھر تین شکلیں ہیں:
اول: یہ کہ اس سے کہا ایك روپیہ کے گیہوں دے دےکچھ اس روپیہ کی تخصیص نہ کی کہ اس کے بدلے دےجب اس نے تول دئے اس نے زرثمن میں جو بعوض گندم اس کے ذمہ واجب ہوا تھایہ حرام روپیہ دے دیااس صورت میں نقد تو زر حرام کا ہوا مگر عقد کسی خاص روپیہ پر نہ ہوا
دوم: یہ کہ پہلے اسے حلال روپیہ دکھاکر اس کے بدلے گیہوں لئےجب اس نے دے دئے اس نے وہ حلال روپیہ اٹھالیا اور قیمت میں زرحرام دے دیااس صورت میں عقد زرحلال پر ہوااور نقد حرام کا۔
سوم: یہ کہ اس کا عکس یعنی پہلے اسے حرام روپیہ دکھا کر کہااس کے گیہوں دےپھر دیتے وقت حلال روپیہ دیااس صور ت میں عقد زرحرام پرہوا اور نقد حلال کا۔
بہرحال تینوں صورتوں میں عقد ونقد دونوں زرحرام پر جمع نہ ہوئے نہ پہلے سے زرحرام دے کر چیز خریدی کہ حقیقۃ یہ بھی اجتماع عقد ونقد کی صورت تھیان تینوں صورتوں میں بھی بڑا قوی مذہب ہمارے ائمہ کا یہ ہے کہ وہ گیہوں حرام ہوں گےمگر زمانہ کاحال دیکھ کر ائمہ متاخرین نے امام کرخی رحمہ الله تعالی کا قول اختیار کیا کہ ان شکلوں میں وہ چیز حرام نہ ہوگی اور اس کا کھانا کھلاناپہننا پہناناتصرف میں لانا جائز ہوگاا س آسان فتوے کی بناء پر ان حرام روپیہ والوں کے یہاں کاکھانا یا پان وغیرہ کھانا پینا مسلمانوں کو روا ہے کہ وجہ حرام سے ان لوگوں کو بعینہ یہ کھانا نہیں آتا۔بلکہ روپیہ آتا ہے۔یہ اس کے عوض اشیاء خرید کر کھانا تیار کراتے ہیں اور خریداری میں عام طریقہ شائعہ کے طورپر عقد ونقد کا اجتماع نہیں ہوتا۔بلکہ غالب بیع وشراء صورت ثالثہ کی شکل اول پر واقع ہوتی ہیں کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے۔ت)ردالمحتارمیں ہے:
۱ایك مثلا غلا فروش کے سامنے روپیہ ڈال دیا کہ اس کے گیہوں دے دےاس نے دے دئے یا بزاز کو روپیہ پہلے دے دیا کہ اس کا کپڑا دے دےیہ گیہوں اورکپڑا حرام ہے۔
۲دوسرے یہ کہ روپیہ پہلے تو نہ دیا مگرعقد ونقد دونوں اس روپیہ پر جمع کئےیعنی خاص اس حرام روپیہ کی تعیین سے اس کے عوض خریدااوریہی روپیہ قیمت میں ادا کیامثلا غلا فروش کو یہ حرام روپیہ دکھا کر کہا اس روپیہ کے گیہوں دے دےاس نے دے دئے اس نے یہی روپیہ اسے دے دیااس صورت میں یہ گیہوں حرام ہے۔
۳تیسرے یہ کہ نہ روپیہ پہلے سے دیا نہ اس پر عقدونقد جمع کئےاس کی پھر تین شکلیں ہیں:
اول: یہ کہ اس سے کہا ایك روپیہ کے گیہوں دے دےکچھ اس روپیہ کی تخصیص نہ کی کہ اس کے بدلے دےجب اس نے تول دئے اس نے زرثمن میں جو بعوض گندم اس کے ذمہ واجب ہوا تھایہ حرام روپیہ دے دیااس صورت میں نقد تو زر حرام کا ہوا مگر عقد کسی خاص روپیہ پر نہ ہوا
دوم: یہ کہ پہلے اسے حلال روپیہ دکھاکر اس کے بدلے گیہوں لئےجب اس نے دے دئے اس نے وہ حلال روپیہ اٹھالیا اور قیمت میں زرحرام دے دیااس صورت میں عقد زرحلال پر ہوااور نقد حرام کا۔
سوم: یہ کہ اس کا عکس یعنی پہلے اسے حرام روپیہ دکھا کر کہااس کے گیہوں دےپھر دیتے وقت حلال روپیہ دیااس صور ت میں عقد زرحرام پرہوا اور نقد حلال کا۔
بہرحال تینوں صورتوں میں عقد ونقد دونوں زرحرام پر جمع نہ ہوئے نہ پہلے سے زرحرام دے کر چیز خریدی کہ حقیقۃ یہ بھی اجتماع عقد ونقد کی صورت تھیان تینوں صورتوں میں بھی بڑا قوی مذہب ہمارے ائمہ کا یہ ہے کہ وہ گیہوں حرام ہوں گےمگر زمانہ کاحال دیکھ کر ائمہ متاخرین نے امام کرخی رحمہ الله تعالی کا قول اختیار کیا کہ ان شکلوں میں وہ چیز حرام نہ ہوگی اور اس کا کھانا کھلاناپہننا پہناناتصرف میں لانا جائز ہوگاا س آسان فتوے کی بناء پر ان حرام روپیہ والوں کے یہاں کاکھانا یا پان وغیرہ کھانا پینا مسلمانوں کو روا ہے کہ وجہ حرام سے ان لوگوں کو بعینہ یہ کھانا نہیں آتا۔بلکہ روپیہ آتا ہے۔یہ اس کے عوض اشیاء خرید کر کھانا تیار کراتے ہیں اور خریداری میں عام طریقہ شائعہ کے طورپر عقد ونقد کا اجتماع نہیں ہوتا۔بلکہ غالب بیع وشراء صورت ثالثہ کی شکل اول پر واقع ہوتی ہیں کمالایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے۔ت)ردالمحتارمیں ہے:
فی التتارخانیۃ رجل اکتسب مالامن حرامثم اشتریفہذا علی خمسۃ اوجہ اما ان دفع تلك الدراہم الی البائع اولا ثم اشتری منہ بہااواشتری قبل الدفع بہا ودفعھا۔اواشتری قبل الدفع بہا ودفع غیرہااواشتری مطلقا ودفع تلك الدراہم اواشتری بدراہم اخر ودفع تلك الدراہمقال ابو نصر یطیب لہ ولا یجب علیہ ان یتصدق الا فی الوجہ الاولوالیہ ذہب الفقیہ ابواللیث لکن ہذا خلاف ظاہرالروایۃ فانہ نص فی الجامع الصغیراذا غصب الفا فاشتری بہا جاریۃوباعہا بالفین تصدق بالربحوقال الکرخی فی الوجہ الاول والثانی لایطیب وفی الثلاث الاخیرۃ یطیبوقال ابوبکر لایطیب فی الکللکن الفتوی الان علی قول الکرخی دفعا للحرج عن الناس اھوفی الولوالجیۃ وقال بعضہم لایطیب فی الوجوہ کلہا وھو المختارولکن الفتوی الیوم علی قول الکرخی دفعا للحرج لکثرۃ الحرام اھو علی ہذا مثی المصنف فی کتاب الغصب تاتارخانیہ میں ہے کہ کسی نے حرام مال حاصل کیااور پھر اس کو خریداری میں صرف کیا تو اس کی پانچ صورتیں ہیں: پہلی یہ کہ یہ حرام دراہم بائع کو دے کر پھر اس کے عوض خریدادوم یہ کہ دینے سے قبل خریدا اور عوض میں دے دیا سوم یہ کہ دینے سے قبل خریدا اور عوض اور مال دیاچہارم یہ کہ مطلق خریداری کی ادائیگی میں یہ مال دیاپنجم یہ کہ دوسرے دراہم سے خریدا اور ادائیگی میں یہ دراہم دئے۔ ابونصرنے فرمایا پہلی صورت کے بغیر باقی تمام صورتوں میں خریدا ہوا مال طیب ہے اور صدقہ کرنا بھی واجب نہیںاور اسی کو فقیہ ابواللیث نے اختیار کیا ہے۔لیکن یہ ظاہر روایت کے خلاف ہے کیونکہ جامع الصغیر میں نص ہے کہ اگر کسی نے ہزار غصب کیا ہواور اس کے عوض لونڈی خریدی اور دو ہزار میں فروخت کی تو نفع کو صدقہ کرےاور امام کرخی نے فرمایا کہ اول اور ثانی صورت میں طیب نہ ہوگا اور آخری تین صورتوں میں طیب ہےاورا بوبکر نے فرمایا تمام صورتوں میں طیب نہیں ہے لیکن آج کل فتوی امام کرخی کے قول پر ہے تاکہ لوگوں سے حرج کا ازالہ ہوسکے اھاور ولوالجیہ میں ہے کہ بعض نے فرمایا سب صورتوں میں طیب نہیں وہ مختار ہے لیکن فتوی آج کل امام کرخی کے قول پر ہے حرام کی کثرت کی وجہ سے حرج کو ختم کیا جاسکے اھاور مصنف نے درمختاروغیرہ کی اتباع
تبعا للدروغیرہ ۔ کرتے ہوئے اسی کو اپنایا ہے۔(ت)
پھر جن صورتوں میں وہ کھانا ان دونوں مذہب پر حرام ہے یعنی دو صورت پیشیںان میں اگر بسم الله کہہ کر کھایا برا کیامگر کافر ہر گز نہ کہا جائے گااس کی حرمت ضروریات دین سے ہونا درکنار اجماعی بھی نہیں۔
فان من العلماء من قال یحل ابدال مالایتعین مطلقالعدم تعلق العقد بعینہ بل بالذمۃ فلایسوی الخبث وھو القیاسوعلیہ یبتنی علی مافی فتاوی العلامۃ الطوری عن المحیطاشتری بالدراہم المغصوبۃ طعاماحل التناول۔ علمائے کرام میں سے بعض نے فرمایا کہ غیر متعین طورپر بدلنا حلال ہے کیونکہ عقد حرام متعین پر نہ ہوا بلکہ عقد کا تعلق ذمہ داری سے ہے لہذا خبث دوسرے مال میں سرایت نہ کرے گا یہی قیاس ہے۔اور اسی پر علامہ طوری کے فتوی کی بنا ہےمحیط سے منقول ہے کہ غصب کردہ دراہم کے عوض طعام خریدا تو کھانا حلال ہے۔(ت)
شرح فقہ اکبرمیں ہے:
فی التتمۃ من قال عند ابتداء شرب الخمر والزنا و اکل الحرام ببسم اﷲ کفر وفیہانہ ینبغی ان یکون محمولا علی الحرام المحض المتفق علیہ وان یکون عالما بنسبۃ التحریم الیہبان تکون حرمتہ مما علم من الدین بالضرورۃ کشرب الخمر ۔ تتمہ میں ہے کہ جس نے شراب پینےزنا اور حرام کھانے کی ابتداء میں بسم الله پڑھی تو اس میں اس نے کفر کیا تو اس قول کو خالص متفق علیہ حرام پر محمول کرنا چاہئے اور یہ جانتے ہوئے کہ بسم الله سے حرام کی ابتداء کررہا ہے اور وہ حرمت بھی ایسی ہو جس کا علم ضروریات دین میں سے ہو جیسے شراب پینے کی۔(ت)
اور حرام مال کو صدقہ کرکے امید ثواب رکھنی بھی مطلقا کفر نہیںاگر وہ چیز عین حرام نہ ہو بلکہ زرحرام کے معاوضہ میں خریدی جب تو ظاہر کہ اس کی حرمت مجمع علیہ بھی نہیںاور اگر عین حرام ہے اور اسے مالك تك نہیں پہنچا سکتا خواہ اس وجہ سے کہ اسے مالك یادنہ رہا یا سرے سے مالك کو جانتاہی نہیں۔
پھر جن صورتوں میں وہ کھانا ان دونوں مذہب پر حرام ہے یعنی دو صورت پیشیںان میں اگر بسم الله کہہ کر کھایا برا کیامگر کافر ہر گز نہ کہا جائے گااس کی حرمت ضروریات دین سے ہونا درکنار اجماعی بھی نہیں۔
فان من العلماء من قال یحل ابدال مالایتعین مطلقالعدم تعلق العقد بعینہ بل بالذمۃ فلایسوی الخبث وھو القیاسوعلیہ یبتنی علی مافی فتاوی العلامۃ الطوری عن المحیطاشتری بالدراہم المغصوبۃ طعاماحل التناول۔ علمائے کرام میں سے بعض نے فرمایا کہ غیر متعین طورپر بدلنا حلال ہے کیونکہ عقد حرام متعین پر نہ ہوا بلکہ عقد کا تعلق ذمہ داری سے ہے لہذا خبث دوسرے مال میں سرایت نہ کرے گا یہی قیاس ہے۔اور اسی پر علامہ طوری کے فتوی کی بنا ہےمحیط سے منقول ہے کہ غصب کردہ دراہم کے عوض طعام خریدا تو کھانا حلال ہے۔(ت)
شرح فقہ اکبرمیں ہے:
فی التتمۃ من قال عند ابتداء شرب الخمر والزنا و اکل الحرام ببسم اﷲ کفر وفیہانہ ینبغی ان یکون محمولا علی الحرام المحض المتفق علیہ وان یکون عالما بنسبۃ التحریم الیہبان تکون حرمتہ مما علم من الدین بالضرورۃ کشرب الخمر ۔ تتمہ میں ہے کہ جس نے شراب پینےزنا اور حرام کھانے کی ابتداء میں بسم الله پڑھی تو اس میں اس نے کفر کیا تو اس قول کو خالص متفق علیہ حرام پر محمول کرنا چاہئے اور یہ جانتے ہوئے کہ بسم الله سے حرام کی ابتداء کررہا ہے اور وہ حرمت بھی ایسی ہو جس کا علم ضروریات دین میں سے ہو جیسے شراب پینے کی۔(ت)
اور حرام مال کو صدقہ کرکے امید ثواب رکھنی بھی مطلقا کفر نہیںاگر وہ چیز عین حرام نہ ہو بلکہ زرحرام کے معاوضہ میں خریدی جب تو ظاہر کہ اس کی حرمت مجمع علیہ بھی نہیںاور اگر عین حرام ہے اور اسے مالك تك نہیں پہنچا سکتا خواہ اس وجہ سے کہ اسے مالك یادنہ رہا یا سرے سے مالك کو جانتاہی نہیں۔
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب البیوع باب المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۴/ ۲۱۹€
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی القراءۃ والصلوٰۃ مصطفی البابی ∞مصر ص۱۶۹€
منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر فصل فی القراءۃ والصلوٰۃ مصطفی البابی ∞مصر ص۱۶۹€
مثلا اس کے مورث نے مال غصب کیا تھایہ عین مغصوب کو جانتا ہے۔اور مغصوب منہ سے محض ناواقفیایوں کہ مالك مرگیا او رکوئی وارث نہ رہاتو ان سب صورتوں میں شرع مطہر اسے تصدق کا حکم دیتی ہے۔جب اس نے صدقہ کیا تو حکم بجالایا اور فرمانبرداری پر امید ثواب رکھنا محذور نہیںشرح فقہ اکبر میں ہے:
فی المحیط من تصدق علی فقیر بشیئ من الحرام یرجو الثواب کفروفیہ بحث لان من کان عندہ مال حرام فہو مامور بالتصدق بہ علی الفقراء فینبغی ان یکون ماجورا بفعلہ حیث قام بطاعۃ اﷲ وامرہ فلعل المسئلۃ موضوعۃ فی مال حرام یعرف صاحبہ ویعدل عنہ الی غیرہ فی عطائہ لاجل سمعتہ وریائہ کما کثر ھذا فی ظلمۃ الزمان وامرائہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ محیط میں ہے جس نے حرام کا صدقہ کرکے ثواب کی امید کی وہ کافر ہوااور اس میں بحث یہ ہے کہ جس کے پاس حرام مال ہو اس کو صدقہ کرنے کا حکم ہے فقراء کو صدقہ کرے تو الله تعالی کے حکم اطاعت کرنے پر ثواب کی امید جائز ہے۔ ہوسکتاہے یہ مسئلہ اس صورت میں ہو جس میں حرام مال کو جانتے ہوئے دوسرے کو محض ریاکاری اور شہرت کے لیے دے جیسا کہ آج کل جابر بادشاہ اور امراء حضرات میں کثیر الوقوع ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۵۷: ۲۸ ذیقعدہ ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ اگر کسبی یا وہ شخص کہ جس کا مال حرام کا ہو مثل سود خوار وغیرہ کےاگر وہ کوئی شے مثل لوٹا یا چٹائی یا دری وغیرہ مسجدمیں ڈال دے تاکہ نمازی اس سے وضو کریں یا اس پر نماز پڑھیںجائز ہے یانہیں اور اس سے اس کے مال کی حرمت آتی ہے یا نہیں اور اس کی خرید بھی دست بدست اور تعین ثمن کے ساتھ نہیں بلکہ چیز کو خرید کر ثمن بعد کو ادا کرتے ہیں۔
الجواب:
اگر رنڈی نے کچھ روپیہ کسی سے قرض لیا اور کسی وجہ سے کوئی حلال مال حاصل کیا اور ان چیزوں کی قیمت میں یہی حلال مال دیااور خریدتے وقت بھی مال حرام کی طرف اشارہ نہ کیا تھایعنی حرام روپیہ دکھاکر یہ نہ کہا تھا کہ اس کے عوض دے دےجب تو یہ چیزیں بالاجماع اس رنڈی کی ملك طیب و
فی المحیط من تصدق علی فقیر بشیئ من الحرام یرجو الثواب کفروفیہ بحث لان من کان عندہ مال حرام فہو مامور بالتصدق بہ علی الفقراء فینبغی ان یکون ماجورا بفعلہ حیث قام بطاعۃ اﷲ وامرہ فلعل المسئلۃ موضوعۃ فی مال حرام یعرف صاحبہ ویعدل عنہ الی غیرہ فی عطائہ لاجل سمعتہ وریائہ کما کثر ھذا فی ظلمۃ الزمان وامرائہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ محیط میں ہے جس نے حرام کا صدقہ کرکے ثواب کی امید کی وہ کافر ہوااور اس میں بحث یہ ہے کہ جس کے پاس حرام مال ہو اس کو صدقہ کرنے کا حکم ہے فقراء کو صدقہ کرے تو الله تعالی کے حکم اطاعت کرنے پر ثواب کی امید جائز ہے۔ ہوسکتاہے یہ مسئلہ اس صورت میں ہو جس میں حرام مال کو جانتے ہوئے دوسرے کو محض ریاکاری اور شہرت کے لیے دے جیسا کہ آج کل جابر بادشاہ اور امراء حضرات میں کثیر الوقوع ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۵۷: ۲۸ ذیقعدہ ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ اگر کسبی یا وہ شخص کہ جس کا مال حرام کا ہو مثل سود خوار وغیرہ کےاگر وہ کوئی شے مثل لوٹا یا چٹائی یا دری وغیرہ مسجدمیں ڈال دے تاکہ نمازی اس سے وضو کریں یا اس پر نماز پڑھیںجائز ہے یانہیں اور اس سے اس کے مال کی حرمت آتی ہے یا نہیں اور اس کی خرید بھی دست بدست اور تعین ثمن کے ساتھ نہیں بلکہ چیز کو خرید کر ثمن بعد کو ادا کرتے ہیں۔
الجواب:
اگر رنڈی نے کچھ روپیہ کسی سے قرض لیا اور کسی وجہ سے کوئی حلال مال حاصل کیا اور ان چیزوں کی قیمت میں یہی حلال مال دیااور خریدتے وقت بھی مال حرام کی طرف اشارہ نہ کیا تھایعنی حرام روپیہ دکھاکر یہ نہ کہا تھا کہ اس کے عوض دے دےجب تو یہ چیزیں بالاجماع اس رنڈی کی ملك طیب و
حوالہ / References
منح الروض الازہر شرح فقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی ∞مصر ص۱۸۹€
حلال ہیں جن میں کوئی شبہ حرمت نہیں کہ اس صورت میں مال حرام کو ان اشیاء کی خریداری سے اصلا تعلق نہ ہوااور اگر مال حرام دکھاکر خریدیں اور قیمت دیتے وقت مال حلال دیایا مال حلال دکھا کر خریدیں اور قیمت دیتے وقت مال حرام دیایا خریدتے وقت کوئی مال نہ دکھایا تھا صرف مطلقا خریداری کرلیمثلا یوں کہا کہ ایك روپیہ کی یہ چیز دے دےجب اس نے دے دیتو اس کی قیمت مال حرام سے ادا کردیان تینوں صورتوں میں اگر چہ علماء کا اختلاف ہے۔مگر فتوی امام کرخی رحمہ اﷲ تعالی کے قول پر دیا گیا کہ ان صورتوں میں بھی وہ اشیاء اس رنڈی کے لئے حلال ہوں گیان وجوہ پر خرید کر مسجد میں لوٹےچٹائی وغیرہ رکھے گی تو ان لوٹوں سے وضو اور اس چٹائی پر نماز کے جواز کاحکم دیں گےاگرچہ رنڈی پر اس کے حرام فعلوں کا وبال الگان کے بدلے اجرت لینے کا عذاب جدا۔اور اس حرام مال کو خرچ میں لانے کا مواخذہ علاوہہاں اگر عقد ونقد دونوں مال حرام میں جمع ہوںیعنی حرام ہی روپیہ دکھا کر کہے کہ اس کے عوض دے دےاور قیمت میں دے بھی وہی حرام روپیہتو اس قول مفتی بہ پر بھی وہ شے حرام و خبیث رہے گیاور اس میں تصرف ناجائز ہوگا۔مگر آج کل بیع وشراء میں غالبا یہ صورت واقع نہیں ہوتی۔تنویر الابصارمیں ہے:
تصدق اذاکان متعینا اوشری بدراہم الودیعۃ او الغصب ونقدہا وان اشار الیہا ونقد غیرہا اواطلق و نقدہا لاوبہ یفتی اھ تلخیص واﷲ تعالی اعلم۔ جب خاص متعین حرام ہو یا امانت کے مال سے یا غصب کے مال سے کوئی چیز خریدی اور وہی نقد دیا ہو تو صدقہ کرےاور اگر سودے کے وقت حرام دکھایا اور ادائیگی میں دوسرا دیایا مطلق سودا کیا اورا دائیگی حرام سے کی تو صدقہ لازم نہ ہوگا۔ اسی پرفتوی ہے اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۵۸: از پیلی بھیت مرسلہ عبدالرحمن خاں صاحب مدرس تحصیل اسکول ۲ جمادی الآخرہ ۱۳۱۰ھ
زید نے جوئے میں روپیہ کمایااور اسی روپیہ سے اس نے اپنے گھر کا اثاثہ اور اسباب درست کیا ہے۔اب زید تائب ہوتا ہے اور چاہتاہے کہ اپناذمہ بری کرے۔اور جو مال حرام کا اس کے پاس ہے اس کو جداتو کیا کرے بینوا توجروا۔
الجواب:
جس قدر مال جوئے میں کمایا محض حرام ہے۔
تصدق اذاکان متعینا اوشری بدراہم الودیعۃ او الغصب ونقدہا وان اشار الیہا ونقد غیرہا اواطلق و نقدہا لاوبہ یفتی اھ تلخیص واﷲ تعالی اعلم۔ جب خاص متعین حرام ہو یا امانت کے مال سے یا غصب کے مال سے کوئی چیز خریدی اور وہی نقد دیا ہو تو صدقہ کرےاور اگر سودے کے وقت حرام دکھایا اور ادائیگی میں دوسرا دیایا مطلق سودا کیا اورا دائیگی حرام سے کی تو صدقہ لازم نہ ہوگا۔ اسی پرفتوی ہے اھ ملخصا۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۵۸: از پیلی بھیت مرسلہ عبدالرحمن خاں صاحب مدرس تحصیل اسکول ۲ جمادی الآخرہ ۱۳۱۰ھ
زید نے جوئے میں روپیہ کمایااور اسی روپیہ سے اس نے اپنے گھر کا اثاثہ اور اسباب درست کیا ہے۔اب زید تائب ہوتا ہے اور چاہتاہے کہ اپناذمہ بری کرے۔اور جو مال حرام کا اس کے پاس ہے اس کو جداتو کیا کرے بینوا توجروا۔
الجواب:
جس قدر مال جوئے میں کمایا محض حرام ہے۔
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الغصب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۔۲۰۵€
فی الدرمن السحت مایأخذ مقامر .(باختصار) درمختار میں ہے:جوئے میں حاصل کیا ہوا مال حرام ہے۔ (باختصار)(ت)
اور اس سے برائت کی یہی صورت ہے کہ جس جس سے جتنا مال جیتا ہے اسے واپس دےیا جیسے بنے اسے راضی کرکے معاف کرالے۔وہ نہ ہو تو اس کے وارثوں کو واپس دےیا ان میں جو عاقل بالغ ہوں ان کا حصہ ان کی رضامندی سے معاف کرالے۔ باقیوں کا حصہ ضرور انھیں دے کہ اس کی معافی ممکن نہیںاورجن لوگوں کا پتہ کسی طرح نہ چلے نہ ان کانہ ان کے ورثہ کاان سے جس قدر جیتا تھا ان کی نیت سے خیرات کردےاگرچہ اپنے محتاج بہنبھائیوںبھتیجوںبھانجوں کو دے دےاس کے بعد جو بچ رہے گا وہ اس کے لئے حلال ہےعالمگیری میں ہے:
کان الاخذ معصیۃ والسبیل فی المعاصی ردہاوذلك ھہنا برد الماخوذ ان تمکن من ردہبان عرف صاحبہ وبالتصدق بہ ان لم یعرفہ ۔ لینا گناہ ہے اور گناہ کے ازالہ کی صورت اس کو واپس کرنا ہے اور یہاں لئے ہوئے کو ردکرنا ہوگا۔جب واپس کرناممکن ہو کہ اس کے مالك کو جانتا ہو یا پھر معلوم نہ ہو تو صدقہ کرنا ہوگا۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ان علمت اصحابہ او ورثتہم وجب ردہ علیہم والا وجب التصدق بہ ۔ اگر اس کے مالك یا مالك کے ورثاء کو جانتا ہے تو واپس کرناواجب ہے۔ورنہ صدقہ کرنا واجب ہے۔(ت)
غرض جہاں جہاں جس قدر یاد ہو سکے کہ اتنامال فلاں سے ہار جیت میں زیادہ پڑاتھا اتنا تو انھیں یا ان کے وارثوں کو دےیہ نہ ہو تو ان کی نیت سے تصدق کرےاورزیادہ پڑنے کے یہ معنی کہ مثلا ایك شخص سے دس بار جوا کھیلا کبھی یہ جیتا کبھی یہاس کے جیتنے کی مقدار مثلا سو روپے کو پہنچیاور یہ سب دفعہ کے ملا کر سوا سو جیتاتو سو سو برابر ہوگئےپچیس اس کے دینے رہے۔اتنے ہی اسے واپس دےوعلی ھذا القیاساورجہاں یاد نہ آئے کہ کون کون لوگ تھے
اور اس سے برائت کی یہی صورت ہے کہ جس جس سے جتنا مال جیتا ہے اسے واپس دےیا جیسے بنے اسے راضی کرکے معاف کرالے۔وہ نہ ہو تو اس کے وارثوں کو واپس دےیا ان میں جو عاقل بالغ ہوں ان کا حصہ ان کی رضامندی سے معاف کرالے۔ باقیوں کا حصہ ضرور انھیں دے کہ اس کی معافی ممکن نہیںاورجن لوگوں کا پتہ کسی طرح نہ چلے نہ ان کانہ ان کے ورثہ کاان سے جس قدر جیتا تھا ان کی نیت سے خیرات کردےاگرچہ اپنے محتاج بہنبھائیوںبھتیجوںبھانجوں کو دے دےاس کے بعد جو بچ رہے گا وہ اس کے لئے حلال ہےعالمگیری میں ہے:
کان الاخذ معصیۃ والسبیل فی المعاصی ردہاوذلك ھہنا برد الماخوذ ان تمکن من ردہبان عرف صاحبہ وبالتصدق بہ ان لم یعرفہ ۔ لینا گناہ ہے اور گناہ کے ازالہ کی صورت اس کو واپس کرنا ہے اور یہاں لئے ہوئے کو ردکرنا ہوگا۔جب واپس کرناممکن ہو کہ اس کے مالك کو جانتا ہو یا پھر معلوم نہ ہو تو صدقہ کرنا ہوگا۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
ان علمت اصحابہ او ورثتہم وجب ردہ علیہم والا وجب التصدق بہ ۔ اگر اس کے مالك یا مالك کے ورثاء کو جانتا ہے تو واپس کرناواجب ہے۔ورنہ صدقہ کرنا واجب ہے۔(ت)
غرض جہاں جہاں جس قدر یاد ہو سکے کہ اتنامال فلاں سے ہار جیت میں زیادہ پڑاتھا اتنا تو انھیں یا ان کے وارثوں کو دےیہ نہ ہو تو ان کی نیت سے تصدق کرےاورزیادہ پڑنے کے یہ معنی کہ مثلا ایك شخص سے دس بار جوا کھیلا کبھی یہ جیتا کبھی یہاس کے جیتنے کی مقدار مثلا سو روپے کو پہنچیاور یہ سب دفعہ کے ملا کر سوا سو جیتاتو سو سو برابر ہوگئےپچیس اس کے دینے رہے۔اتنے ہی اسے واپس دےوعلی ھذا القیاساورجہاں یاد نہ آئے کہ کون کون لوگ تھے
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظروالاباحۃفصل فی البیع ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۳€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۹€
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ الغنم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۲۶€
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب الخامس عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۹€
ردالمحتار کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ الغنم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۲۶€
اور کتنا لیاوہاں زیادہ سے زیادہ تخمینہ لگائے کہ اس تمام مدت میں کس قدر مال جوئے سے کمایا ہوگا اتنا مالکوں کی نیت سے خیرات کردےعاقبت یونہی پاك ہوگیوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۹:
چہ فرمایند علمائے ومفتیان شرع متین درحق کسیکہ بحیلہ ومکر از دوست خود زرگرفتو گفت کہ اگر نہ دہی ایں مضرت بتورسانمیا برائے رنجا نیدن خلق اﷲ واظہار غلبہوصولت خود باشخصے بزرگ ومعززدوستی کردتاکہ خلائق ازیں کس بہ تعلق آں شخص بزرگ بہ تر سند۔بینوا توجروا۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ایسے شخص کے متعلق جو حیلہ اور مکر کے ساتھ دوست سے مال وصول کرتا ہے اور کہتاہے کہ اگر نہ دے گا تو تجھے فلاں پریشانی میں مبتلا کروں گا۔یا وہ شخص الله تعالی کی مخلوق کو تنگ کرتاہے اپنا غلبہ اور دبدبہ قائم کرنے کے لئے کسی معزز اور بڑے آدمی سے دوستی بتاتا ہے تاکہ اس کے تعلق سے لوگ اس سے مرعوب رہیں۔بینوا توجروا(ت)
الجواب:
بمکر وحیلہ ووعید وتہدید بناحق زر از کسے گرفتن حرام قطعی ستباز اگر ایں بزور ستاند غصب باشدواگراں بترس مضرت خویش دہد رشوت بود ہر دوحرام وفی النارومستوجب غضب جبار قہار ستوالعیاذباﷲ تعالیقال تعالی " لا تاکلواامولکم بینکم بالبطل" الآیۃ۔ورنجانیدن وتر سانیدن خلق اﷲ تجبر و تکبر ہمہ محرمات قطعیہ استدر حدیث ست حضور پر نور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم فرمایند شر الناس منزلۃ یوم القیمۃ من یخاف لسانہ
مکر وفریب اور ڈرادھمکا کر کسی سے مال لینا قطعی حرام ہے۔ پھر اگر طاقت کے ذریعہ لیتا ہے تو یہ غصب ہےاوراگر اپنے شر سے ڈراکر لیتا ہے تو رشوت ہوگی جبکہ دونوں طریقے حرام جہنم اور الله تعالی کے غضب کے مستوجب ہیںوالعیاذ بالله تعالیالله تعالی نے فرمایا:آپس کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤالآیہاور الله تعالی کی مخلوق کو تکلیف دیناڈرانا اور ان پر اپنا جبر اور تکبر ظاہر کرنا قطعی محرمات میں سے ہے حدیث شریف میں حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: بدترین مرتبے کا وہ آدمی ہے کہ لوگ اس کی زبان سے
مسئلہ ۲۵۹:
چہ فرمایند علمائے ومفتیان شرع متین درحق کسیکہ بحیلہ ومکر از دوست خود زرگرفتو گفت کہ اگر نہ دہی ایں مضرت بتورسانمیا برائے رنجا نیدن خلق اﷲ واظہار غلبہوصولت خود باشخصے بزرگ ومعززدوستی کردتاکہ خلائق ازیں کس بہ تعلق آں شخص بزرگ بہ تر سند۔بینوا توجروا۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ایسے شخص کے متعلق جو حیلہ اور مکر کے ساتھ دوست سے مال وصول کرتا ہے اور کہتاہے کہ اگر نہ دے گا تو تجھے فلاں پریشانی میں مبتلا کروں گا۔یا وہ شخص الله تعالی کی مخلوق کو تنگ کرتاہے اپنا غلبہ اور دبدبہ قائم کرنے کے لئے کسی معزز اور بڑے آدمی سے دوستی بتاتا ہے تاکہ اس کے تعلق سے لوگ اس سے مرعوب رہیں۔بینوا توجروا(ت)
الجواب:
بمکر وحیلہ ووعید وتہدید بناحق زر از کسے گرفتن حرام قطعی ستباز اگر ایں بزور ستاند غصب باشدواگراں بترس مضرت خویش دہد رشوت بود ہر دوحرام وفی النارومستوجب غضب جبار قہار ستوالعیاذباﷲ تعالیقال تعالی " لا تاکلواامولکم بینکم بالبطل" الآیۃ۔ورنجانیدن وتر سانیدن خلق اﷲ تجبر و تکبر ہمہ محرمات قطعیہ استدر حدیث ست حضور پر نور سید عالم صلی الله تعالی علیہ وسلم فرمایند شر الناس منزلۃ یوم القیمۃ من یخاف لسانہ
مکر وفریب اور ڈرادھمکا کر کسی سے مال لینا قطعی حرام ہے۔ پھر اگر طاقت کے ذریعہ لیتا ہے تو یہ غصب ہےاوراگر اپنے شر سے ڈراکر لیتا ہے تو رشوت ہوگی جبکہ دونوں طریقے حرام جہنم اور الله تعالی کے غضب کے مستوجب ہیںوالعیاذ بالله تعالیالله تعالی نے فرمایا:آپس کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤالآیہاور الله تعالی کی مخلوق کو تکلیف دیناڈرانا اور ان پر اپنا جبر اور تکبر ظاہر کرنا قطعی محرمات میں سے ہے حدیث شریف میں حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: بدترین مرتبے کا وہ آدمی ہے کہ لوگ اس کی زبان سے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۸۸€
اویخاف شرہبدترین مردم درمنزلت روز قیامت کسے باشد کہ بندگان خدا از زبان وزیان اوخائف وترساں باشند اخرجہ ابن ابی الدنیا فی کتاب ذم الغیبۃ عن انس بن مالك رضی اﷲ تعالی تعالی عنہ وخود فرمودہ سیدالانام علیہ وعلی آلہ افضل الصلوۃ و السلام لا ینبغی علی الناس ولد بغی والامن فیہ عرق منہ ستم و تعدی برمردماں نکند مگر زنازاندہ یاکسیکہ دروے رگے از زنا ست رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی موسی الاشعری رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسنواﷲ تعالی الہادی۔ اور اس کے زبان سے خوف زدہ ہوںاس کو ابن ابی الدنیا نے کتاب ذم الغیبۃ میں حضرت انس رضی الله تعالی عنہ سے روایت کرتے ہوئے تخریج کیااور حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے خود فرمایا کہ لوگوں پر ظلم وتعدی نہ کرے گا مگر وہ شخص جو زنا زادہ ہے یا ا س میں زنا کا دخل ہے۔اس کو طبرانی نے کبیر میں حضرت موسی اشعری رضی الله تعالی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔والله تعالی الھادی(ت)
مسئلہ ۲۶۰: ا زبلگرام شریف محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت سید ابراہیم صاحب ۱۸ ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ پارچہ گاذر کے یہاں گیااور اس کے یہاں سے دوسرے شخص کا بمعاوضہ اس کے آیاوہ کپڑا استعمال میں لانا درست ہے یانہیں اور اگر پھر گم شدہ پارچہ اس کے بدلے نہ ملے تو وہ کپڑا جو غیر کا اس کے پاس آیا ہے وہ گاذر کودے دے یا کسی محتاج کو بینوا توجروا
الجواب:
اگر لینے سے پہلے معلوم ہو کہ یہ کپڑا غیر کا ہے تو سرے سے لینا ہی درست نہیںاور دھوکے میں لے لیا پھر معلوم ہوا تو استعمال میں لانا حلال نہیں۔
کما نصوا علیہ فی مسئلۃ تبدیل الملاۃ والمکعب بملاۃ غیرہ اومکعبہ جیساکہ فقہاء نے کپڑا اور جوتے کے مسئلہ میں نص فرمائی کہ اگر ایك کے دوسرے کپڑوں اور جوتوں
مسئلہ ۲۶۰: ا زبلگرام شریف محلہ میدان پورہ مرسلہ حضرت سید ابراہیم صاحب ۱۸ ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ پارچہ گاذر کے یہاں گیااور اس کے یہاں سے دوسرے شخص کا بمعاوضہ اس کے آیاوہ کپڑا استعمال میں لانا درست ہے یانہیں اور اگر پھر گم شدہ پارچہ اس کے بدلے نہ ملے تو وہ کپڑا جو غیر کا اس کے پاس آیا ہے وہ گاذر کودے دے یا کسی محتاج کو بینوا توجروا
الجواب:
اگر لینے سے پہلے معلوم ہو کہ یہ کپڑا غیر کا ہے تو سرے سے لینا ہی درست نہیںاور دھوکے میں لے لیا پھر معلوم ہوا تو استعمال میں لانا حلال نہیں۔
کما نصوا علیہ فی مسئلۃ تبدیل الملاۃ والمکعب بملاۃ غیرہ اومکعبہ جیساکہ فقہاء نے کپڑا اور جوتے کے مسئلہ میں نص فرمائی کہ اگر ایك کے دوسرے کپڑوں اور جوتوں
حوالہ / References
موسوعۃ رسائل ابن ابی الدنیا ذم الغیبۃ والنمیمۃ حدیث ۸۳ کتاب الصمت ۲۲۰ موسسۃ الکتب الثقافیہ بیروت ∞۲/ ۸۷ و ۵/ ۱۵۱€
مجمع الزاوائد بحوالہ المعجم الکبیر کتاب الخلافۃ باب فی عمال السوء دارالکتب بیروت ∞۵/ ۲۳۳،€مجمع الزاوائد بحوالہ المعجم الکبیر کتا ب لحدود والدیات باب فی اولاد الزنا دارالکتب بیروت ∞۶/ ۲۵۸،€کنز العمال بحوالہ طب ∞حدیث ۱۳۰۹۳، ۵/ ۳۳۳ و حدیث ۳۰۴۵، ۱۱/ ۱۹€ موسستہ الرسالۃ بیروت
مجمع الزاوائد بحوالہ المعجم الکبیر کتاب الخلافۃ باب فی عمال السوء دارالکتب بیروت ∞۵/ ۲۳۳،€مجمع الزاوائد بحوالہ المعجم الکبیر کتا ب لحدود والدیات باب فی اولاد الزنا دارالکتب بیروت ∞۶/ ۲۵۸،€کنز العمال بحوالہ طب ∞حدیث ۱۳۰۹۳، ۵/ ۳۳۳ و حدیث ۳۰۴۵، ۱۱/ ۱۹€ موسستہ الرسالۃ بیروت
کما فی الخانیۃ والہندیۃ وغیرہما وقد قال اﷲ تعالی " الا ان تکون تجرۃ عن تراض منکم " . وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم لایحل لمسلم ان یاخذ عصا اخیہ بغیر طیب نفس منہقال ذلك لشدۃ ماحرم اﷲ من مال المسلم علی المسلمرواہ ابن حبان فی صحیحہ عن ابی حمیدی الساعدی رضی اﷲ تعالی عنہوفی الخانیۃ والہندیۃ والبزازیۃ واللفظ لہذہاذا قال القصار ھذا ثوبك وقال المالك لیس ھذا ثوبی لایحل لبسہ ولابیعہ فہذا نص المسئلۃ اما ماذکروا عقیبہ من الاستثناء بقولہم الا ان یقول ربہ اخذتہ عوضا عنہ ویقول القصار نعم اھفاقول:یجب حملہ علی مااذا علم اوساغان یکون الثوب اللقصارو قد ذکر فی الخانیۃ وخزانۃ المفتین فروعافصلوا فیہا بین مایکون الثوب للقصار اولغیرہاما اذا علم۔
میں تبدیل ہوجائیںجیساکہ خانیہ او ہندیہ وغیرہ میں ہے اور بیشك الله تعالی نے فرمایا تجارت صرف رضامندی سے ہو اور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ دوسرے مسلمان کی چھڑی اس کی رضامند ی کے بغیر لے لے۔آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کا یہ ارشاد کسی مسلمان کا مال مسلمان پر شدید حرام ہونے کی وجہ سے ہے۔اس کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں ابوحمید ساعدی رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔اور خانیہ ہندیہ اور بزازیہ میں بزازیہ کے الفاظ میںجب دھوبی نے کہا یہ تیرا کپڑا ہے اور مالك کہے یہ میرا نہیں ہے پھر مالك اپنے کپڑے کے عوض اس کپڑے کو لے تو اس کا استعمال اور فروخت کرنا اس کو جائز نہ ہوگا۔اور یہ مسئلہ میں نص ہے لیکن فقہاء کرام نے اس کے بعد یہ جو فرمایا کہ اگر مالك کپڑے لیتے وقت دھوبی سے پوچھے کہ یہ کپڑا میرے کپڑ ے کے عوض میں ہے اور وہ جوب میں ہاں کہے تو جائز ہوگا اہتو میں کہتا ہوںیہ ان کی بات اس صور ت پر محمول ہے جب مالك کو یقین ہو یا دھوبی یقین دلائے کہ دھوبی کا کپڑا ہےخانیہ اور خزانۃ المفتین میں مذکور تفصیل ہے تو انھوں نے دھوبی او رغیر کے کپڑے میں فرق کیا ہے لیکن معلوم ہوکہ یہ
میں تبدیل ہوجائیںجیساکہ خانیہ او ہندیہ وغیرہ میں ہے اور بیشك الله تعالی نے فرمایا تجارت صرف رضامندی سے ہو اور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ دوسرے مسلمان کی چھڑی اس کی رضامند ی کے بغیر لے لے۔آپ صلی الله تعالی علیہ وسلم کا یہ ارشاد کسی مسلمان کا مال مسلمان پر شدید حرام ہونے کی وجہ سے ہے۔اس کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں ابوحمید ساعدی رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔اور خانیہ ہندیہ اور بزازیہ میں بزازیہ کے الفاظ میںجب دھوبی نے کہا یہ تیرا کپڑا ہے اور مالك کہے یہ میرا نہیں ہے پھر مالك اپنے کپڑے کے عوض اس کپڑے کو لے تو اس کا استعمال اور فروخت کرنا اس کو جائز نہ ہوگا۔اور یہ مسئلہ میں نص ہے لیکن فقہاء کرام نے اس کے بعد یہ جو فرمایا کہ اگر مالك کپڑے لیتے وقت دھوبی سے پوچھے کہ یہ کپڑا میرے کپڑ ے کے عوض میں ہے اور وہ جوب میں ہاں کہے تو جائز ہوگا اہتو میں کہتا ہوںیہ ان کی بات اس صور ت پر محمول ہے جب مالك کو یقین ہو یا دھوبی یقین دلائے کہ دھوبی کا کپڑا ہےخانیہ اور خزانۃ المفتین میں مذکور تفصیل ہے تو انھوں نے دھوبی او رغیر کے کپڑے میں فرق کیا ہے لیکن معلوم ہوکہ یہ
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۴/ ۲۹€
مواد الظمان الی زوائد ابن حبان حدیث ۱۱۶۶ کتا ب البیوع المطبعۃ السلفیہ مدینۃ المنورۃ ∞ص۲۸۴€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الاجارات الفصل الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۲۹€
مواد الظمان الی زوائد ابن حبان حدیث ۱۱۶۶ کتا ب البیوع المطبعۃ السلفیہ مدینۃ المنورۃ ∞ص۲۸۴€
فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیۃ کتاب الاجارات الفصل الحادی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۲۹€
ان الثوب لغیرہ فکیف یحل لك لبسہ و تمبلکہ بمعاوضۃ جرت بینك وبین من لایملك من دون اجازۃ من الملك ھذ امما لایتصورفلیتأمل ولیحرر غیرکاکپڑا ہے تو پھر تجھے کیسا پہننا اور فروخت کرنا جائز ہوسکتاہے جبکہ تیرے اور غیر مالك کے درمیان جو معاوضہ طے ہوا ہے وہ اس کے مالك کی اجازت کے بغیر ہوا ہے۔یہ غیر متصور معاملہ ہے غورکرواور واضح کرو۔(ت)
اور جبکہ اس نے دھوبی سے لیا اور دھوبی باذن مالك ہوتاہےتو اس کے لئے گری پڑی بے وارث چیز کا حکم نہیں ہوسکتا کہ محتاج کو دے سکےبلکہ گاذر ہی کو واپس دےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۱: از اوجین مکان میرخادم علی اسسٹنت مرسلہ ملاحاجی یعقوب علی خاں ۲۱ ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کے نزدیك تمام و کمال روپیہ از قسم سود ورشوت ہے۔تو اس قسم کے اموال پر زکوۃ عائد ہوتی ہے یانہیں اور ایسے مال وزر سے اقسام نیاز بزرگان وادائے حج درست ہے یاممنوع اور اس روپیہ کی تبدیل کی صورت ہوسکتی ہے یانہیں بیان فرمائیں بعبارت کتبرحمۃ الله علیہم اجمعین۔
الجواب:
سود ورشوت او راسی قسم کے حرام وخبیث مال پر زکوۃ نہیں کہ جن جن سے لیا ہے اگر وہ لوگ معلوم ہیں تو انھیں واپس دینا واجب ہے۔اور اگر معلوم نہ رہے تو کل کا تصدق کرنا واجب ہے۔چالیسواں حصہ دینے سے وہ مال کیا پاك ہوسکتاہے جس کے باقی انتالیس حصے بھی ناپاك ہیںدرمختارمیں ہے:
لازکوۃ لوکان خیبثاکما فی النہر من الحواشی السعدیۃ ۔ اگرتمام مال خبیث ہو تو اس پر زکوۃ نہ ہوگی جیسا کہ نہر میں حواشی سعدیہ سے منقول ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
مثل فی الشرنبلالیۃ وذکرہ فی شرح الوھبانیۃ بحثا وفی الفصل العاشر من التاترخانیۃ عن فتاوی الحجۃ من ملك اموالا غیر طیبہ لازکوۃ علیہ ایسا ہی شرنبلالی میں ہےاس کو شرح وہبانیہ میں بحث کے طور پر ذکر کیا ہے اور تاتارخانیہ کی دسویں فصل میں فتاوی الحجہ سے منقول ہے کہ جوشخص غیر حلال مال کا مالك بنا اس پر اس مال
اور جبکہ اس نے دھوبی سے لیا اور دھوبی باذن مالك ہوتاہےتو اس کے لئے گری پڑی بے وارث چیز کا حکم نہیں ہوسکتا کہ محتاج کو دے سکےبلکہ گاذر ہی کو واپس دےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۱: از اوجین مکان میرخادم علی اسسٹنت مرسلہ ملاحاجی یعقوب علی خاں ۲۱ ذیقعدہ ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کے نزدیك تمام و کمال روپیہ از قسم سود ورشوت ہے۔تو اس قسم کے اموال پر زکوۃ عائد ہوتی ہے یانہیں اور ایسے مال وزر سے اقسام نیاز بزرگان وادائے حج درست ہے یاممنوع اور اس روپیہ کی تبدیل کی صورت ہوسکتی ہے یانہیں بیان فرمائیں بعبارت کتبرحمۃ الله علیہم اجمعین۔
الجواب:
سود ورشوت او راسی قسم کے حرام وخبیث مال پر زکوۃ نہیں کہ جن جن سے لیا ہے اگر وہ لوگ معلوم ہیں تو انھیں واپس دینا واجب ہے۔اور اگر معلوم نہ رہے تو کل کا تصدق کرنا واجب ہے۔چالیسواں حصہ دینے سے وہ مال کیا پاك ہوسکتاہے جس کے باقی انتالیس حصے بھی ناپاك ہیںدرمختارمیں ہے:
لازکوۃ لوکان خیبثاکما فی النہر من الحواشی السعدیۃ ۔ اگرتمام مال خبیث ہو تو اس پر زکوۃ نہ ہوگی جیسا کہ نہر میں حواشی سعدیہ سے منقول ہے۔(ت)
ردالمحتارمیں ہے:
مثل فی الشرنبلالیۃ وذکرہ فی شرح الوھبانیۃ بحثا وفی الفصل العاشر من التاترخانیۃ عن فتاوی الحجۃ من ملك اموالا غیر طیبہ لازکوۃ علیہ ایسا ہی شرنبلالی میں ہےاس کو شرح وہبانیہ میں بحث کے طور پر ذکر کیا ہے اور تاتارخانیہ کی دسویں فصل میں فتاوی الحجہ سے منقول ہے کہ جوشخص غیر حلال مال کا مالك بنا اس پر اس مال
حوالہ / References
درمختار کتاب الزکوٰۃباب زکوٰۃ الغنم ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۳۴€
فیہا اھ ملخصا۔ کی زکوۃ نہیں ہے اھ ملخصا۔(ت)
اسی میں ہے:
فی القنیۃ لوکان الخبیث نصابا لاتلزم الزکوۃ لان الکل واجب التصدق علیہ فلا یفید ایجاب التصدق ببعضہ اھومثلہ فی البزازیۃ ۔ قنیہ میں ہے اگر خبیث مال نصاب زکوۃ ہو تو اس پر زکوۃ لازم نہ ہوگی کیونکہ وہ تمام صدقہ کردینے کے قابل ہے لہذااس میں سےبعض کاصدقہ کافی نہ ہواھ اور بزازیہ میں بھی ایسا ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
لان المغصوب ان علمت اصحابہ اوورثتہم وجب ردہ علیہم والا وجب التصدق بہ ۔ مغصوبہ مال کے مالك یا اس کے وارثوں کو تو جانتاہے تو ان کو واپس دینا واجب ہے ورنہ صدقہ کرنا واجب ہے۔(ت)
اور ایسے مال سے نیاز بزرگاں کرنا بھی جائز نہیں۔نہ ہر گز اس سے کچھ حاصلکہ نیاز کامطلب ایصال ثواب ہے اور ثواب ثمرہ قبول ہے۔اور قبول مشروط بپاکیحدیث میں ہے:
ان اﷲ طیب لایقبل الا الطیب ۔ الله عزوجل پاك ہے پاك ہی چیزوں کو قبول فرماتاہے۔(ت)
خود قرآن عظیم میں ارشاد ہوا:
" ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون" قصد نہ کرو خبیث کا کہ اس سے الله کی راہ میں خرچ کرو۔(ت)
اسی میں ہے:
فی القنیۃ لوکان الخبیث نصابا لاتلزم الزکوۃ لان الکل واجب التصدق علیہ فلا یفید ایجاب التصدق ببعضہ اھومثلہ فی البزازیۃ ۔ قنیہ میں ہے اگر خبیث مال نصاب زکوۃ ہو تو اس پر زکوۃ لازم نہ ہوگی کیونکہ وہ تمام صدقہ کردینے کے قابل ہے لہذااس میں سےبعض کاصدقہ کافی نہ ہواھ اور بزازیہ میں بھی ایسا ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
لان المغصوب ان علمت اصحابہ اوورثتہم وجب ردہ علیہم والا وجب التصدق بہ ۔ مغصوبہ مال کے مالك یا اس کے وارثوں کو تو جانتاہے تو ان کو واپس دینا واجب ہے ورنہ صدقہ کرنا واجب ہے۔(ت)
اور ایسے مال سے نیاز بزرگاں کرنا بھی جائز نہیں۔نہ ہر گز اس سے کچھ حاصلکہ نیاز کامطلب ایصال ثواب ہے اور ثواب ثمرہ قبول ہے۔اور قبول مشروط بپاکیحدیث میں ہے:
ان اﷲ طیب لایقبل الا الطیب ۔ الله عزوجل پاك ہے پاك ہی چیزوں کو قبول فرماتاہے۔(ت)
خود قرآن عظیم میں ارشاد ہوا:
" ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون" قصد نہ کرو خبیث کا کہ اس سے الله کی راہ میں خرچ کرو۔(ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتا ب الزکوٰۃباب زکوٰۃ الغنم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۲۵€
ردالمحتار کتا ب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ الغنم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۲۵€
ردالمحتار کتا ب الزکوٰۃباب زکوٰۃ الغنم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۲۶€
السنن الکبرٰی للبہیقی کتاب الصلٰوۃ صلٰوۃ الاستسفاء دارصادربیروت ∞۳/ ۳۴۶،€کشف الخفاء ∞حدیث ۶۸۸€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱/ ۲۶۰€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۶۷€
ردالمحتار کتا ب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ الغنم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۲۵€
ردالمحتار کتا ب الزکوٰۃباب زکوٰۃ الغنم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۲۶€
السنن الکبرٰی للبہیقی کتاب الصلٰوۃ صلٰوۃ الاستسفاء دارصادربیروت ∞۳/ ۳۴۶،€کشف الخفاء ∞حدیث ۶۸۸€ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ∞۱/ ۲۶۰€
القرآن الکریم ∞۲/ ۲۶۷€
علماء فرماتے ہیں۔جو حر ام مال فقیر کو دے کر ثواب کی امید رکھے اس پر کفر عائد ہو۔والعیاذبالله تعالی۔فتاوی ظہیریہ میں ہے:
رجل دفع الی فقیر من المال الحرام شیئا یرجوا بہ الثواب یکفر ۔ ایك شخص نے فقیر کو حرام مال دیا اور اس پر اس نے ثواب کی امید رکھی توکافر ہوجائے گا۔(ت)
اقول: وبالله التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ت)تحقیق مقام یہ ہے کہ اگر اس نے اس مال حرام کو اپنی ملك خاص جان کر بطور تبرع تصدق کیا جیسے مسلمان اپنے پاکیزہ مال کو بہ نیت نفل وتطوع تقربا الی اﷲ صدقہ کرتا اور اس پر اپنے رب کریم سے امید ثواب رکھتاہے کہ بے ایجاب شرع اس نے اپنی خوشی سے اپنے پاك مال کا حصہ اپنے رب کی رضا کے لئے صرف کیاجب تویہ تصرف حکم شرع سے جداا ور یہ خیال شرع مطہر کے خلاف ہے۔اور اس پر ہر گز اس کے لئے ثواب نہیںاسی کی بعض صورتوں میں فقہاء نےحکم تکفیر کیااور اگریوں نہ تھا بلکہ اس مال کو خبیث وناپاك ہی جانا اور اپنے گناہ پرنادم ہوکر تائب ہوا اور بحکم شرع اپنے تصرف میں لانا ناجائز سمجھااور اپنے نفس کو اس میں تصرف سے روکا اور ازاں جاں کہ اس کے ارباب معلوم نہ رہے بجاآوری حکم شرع کے لئے اسے تصدق کیااور اسی بجاآوری فرمان پر امید وثواب ہواتو بیشك اس میں اصلا حرج نہیںبلکہ اسی کااسے شرعاحکم تھااور اس تصدق پر اگر چہ ثواب صدقہ نہیںمگر اس امتثال حکم کا ثواب بیشك ہے۔بلکہ یہ فعل اس کی توبہ کاتتمہ ہے۔اور توبہ قطعا موجب رضائے الہی وثواب اخروی ہے۔پھر جس عمل پر آدمی خود ثواب پائے اس ثواب کو دوسرے مسلمانو ں کو بھی پہنچا سکتاہے۔لعموم قولہم ان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ(ان کے اس قول کے عموم کی وجہ سے کہ انسان کو اپنے عملك کا ثواب غیر کے لئے کرنے کا حق ہے۔ت)تو اس توبہ وبجاآوری حکم کا ثواب اگر نذر بزرگاں کریں کچھ مضائقہ نہیں۔
ھذا ھو التحقیق واﷲ ولی التوفیق اتفن ھذا افلعلك لا تجدہ فی غیرہ ھذا السطور۔ یہ تحقق ہے اور الله تعالی ہی توفیق کا مالك ہے۔اس کو مضبوط کرہوسکتاہے تجھے ان سطور کے غیر میں نہ ملے۔(ت)
اور اس مال سے حج کرنا بھی جائز نہیں کہ اسے حکم تویہ تھا کہ جن سے لیا انھیں واپس دے۔وہ
رجل دفع الی فقیر من المال الحرام شیئا یرجوا بہ الثواب یکفر ۔ ایك شخص نے فقیر کو حرام مال دیا اور اس پر اس نے ثواب کی امید رکھی توکافر ہوجائے گا۔(ت)
اقول: وبالله التوفیق(میں کہتاہوں اور توفیق الله تعالی سے ہے۔ت)تحقیق مقام یہ ہے کہ اگر اس نے اس مال حرام کو اپنی ملك خاص جان کر بطور تبرع تصدق کیا جیسے مسلمان اپنے پاکیزہ مال کو بہ نیت نفل وتطوع تقربا الی اﷲ صدقہ کرتا اور اس پر اپنے رب کریم سے امید ثواب رکھتاہے کہ بے ایجاب شرع اس نے اپنی خوشی سے اپنے پاك مال کا حصہ اپنے رب کی رضا کے لئے صرف کیاجب تویہ تصرف حکم شرع سے جداا ور یہ خیال شرع مطہر کے خلاف ہے۔اور اس پر ہر گز اس کے لئے ثواب نہیںاسی کی بعض صورتوں میں فقہاء نےحکم تکفیر کیااور اگریوں نہ تھا بلکہ اس مال کو خبیث وناپاك ہی جانا اور اپنے گناہ پرنادم ہوکر تائب ہوا اور بحکم شرع اپنے تصرف میں لانا ناجائز سمجھااور اپنے نفس کو اس میں تصرف سے روکا اور ازاں جاں کہ اس کے ارباب معلوم نہ رہے بجاآوری حکم شرع کے لئے اسے تصدق کیااور اسی بجاآوری فرمان پر امید وثواب ہواتو بیشك اس میں اصلا حرج نہیںبلکہ اسی کااسے شرعاحکم تھااور اس تصدق پر اگر چہ ثواب صدقہ نہیںمگر اس امتثال حکم کا ثواب بیشك ہے۔بلکہ یہ فعل اس کی توبہ کاتتمہ ہے۔اور توبہ قطعا موجب رضائے الہی وثواب اخروی ہے۔پھر جس عمل پر آدمی خود ثواب پائے اس ثواب کو دوسرے مسلمانو ں کو بھی پہنچا سکتاہے۔لعموم قولہم ان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ(ان کے اس قول کے عموم کی وجہ سے کہ انسان کو اپنے عملك کا ثواب غیر کے لئے کرنے کا حق ہے۔ت)تو اس توبہ وبجاآوری حکم کا ثواب اگر نذر بزرگاں کریں کچھ مضائقہ نہیں۔
ھذا ھو التحقیق واﷲ ولی التوفیق اتفن ھذا افلعلك لا تجدہ فی غیرہ ھذا السطور۔ یہ تحقق ہے اور الله تعالی ہی توفیق کا مالك ہے۔اس کو مضبوط کرہوسکتاہے تجھے ان سطور کے غیر میں نہ ملے۔(ت)
اور اس مال سے حج کرنا بھی جائز نہیں کہ اسے حکم تویہ تھا کہ جن سے لیا انھیں واپس دے۔وہ
حوالہ / References
ردالمحتار بحوالہ الظہیریہ کتاب الزکوٰۃ باب زکوٰۃ الغنم داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۲۶€
نہ معلوم ہوں تو تصدق کردے اس کے سوا جس کام میں صرف کیا جائے گا خلاف حکم شرع وموجب گناہ ہوگا۔ہاں یہ دوسری بات ہے کہ حج کرلیا تو فرض ذمہ سے اتر گیاجیسے چوری اور غصب کے کپڑے سے نماز پڑھنافان الخبث انما ھوفی المجاورفلا یمنع الصحۃ (کیونکہ خبث یہاں بعد میں لاحق ہوا جو صحت کو مانع نہیں ہے۔ت)پھر بھی اس پر امید ثواب کا محل نہیں بلکہ اسے کہا جائے گا لا لبیك ولا سعد یك وحجك مردود علیك حتی ترد مافی یدیك نہ تیرے لبیك قبول نہ خدمت قبول اور تیراحج تیرے منہ پر ماراگیا یہاں تك کہ تو یہ ناپاك مال جو تیرے ہاتھ میں ہے واپس دے۔
نسأل اﷲ العفوو العافیۃ ھذا ماجزمت بہ لظہورہ ظہورا بینا ثم اتفق مراجعۃ ردالمحتار فرأیت فیہ التصریح بذلك کلہ حیث قال فی بیان الحض بمال حرامالحج نفسہ لیس حراما بل الحرام ھو انفاق المال الحرام ولاتلازم بینہما کما ان الصلوۃ فی الارض المغصوبۃ تقع فرضاوانما الحرام شغل المکان المغصوبوقال فی البحر یجتہد فی تحصیل نفقۃ حلال فانہ لا یقبل بالنفقۃ الحرامکما وردفی الحدیث مع انہ یسقط الفرض عنہ معہا ولاتنا فی بین سقوطہ وعدم قبولہ فلا یثاب لعدم القبول ولا یعاقب عقاب تارك الحج اھ مختصرا۔ ہم الله تعالی سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں اس کے بالکل ظاہر ہونے پر مجھے جزم حاصل ہواپھر مجھے اتفاقا رد المحتار پر مراجعت ہوئی تو میں نے اس میں اس تمام پر تصریح پائی انھوں نے مال حرام سے حج کے متعلق فرمایا حج فی نفسہ حرام نہیں بلکہ حرام مال کا اس میں صر ف کرنا حرام ہے جبکہ ان دونوں باتوں میں تلازم نہیں ہے۔جیسا کہ مغصوبہ زمین پر نماز پڑھنے سےفرض ادا ہوجائے گاحرام صرف مغصوب زمین کو استعمال کرنا ہے۔ار بحر میں فرمایا حلال نفقہ میں کوشش ضروری ہےکیونکہ حرام نفقہ سےحج قبول نہ ہوگاجیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔اس کے باوجود فرض ادا ہوجائے گا۔اور فرض کی ادائیگی اور عدم قبولیت منافات نہیں ہے۔تو قبول نہ ہونے کی وجہ سے ثواب نہ پائے گا۔اور فرض اد اہوجانے کی وجہ سے حج کا تارك ہوکر عذاب کا مستحق نہ ہوگا اھ مختصرا(ت)
اور تبدیل اس طرح سے کہ کسی سے قرض لے کر اپنے خرچ میں لائےخواہ حج وتصدق ونذر ونیاز و
نسأل اﷲ العفوو العافیۃ ھذا ماجزمت بہ لظہورہ ظہورا بینا ثم اتفق مراجعۃ ردالمحتار فرأیت فیہ التصریح بذلك کلہ حیث قال فی بیان الحض بمال حرامالحج نفسہ لیس حراما بل الحرام ھو انفاق المال الحرام ولاتلازم بینہما کما ان الصلوۃ فی الارض المغصوبۃ تقع فرضاوانما الحرام شغل المکان المغصوبوقال فی البحر یجتہد فی تحصیل نفقۃ حلال فانہ لا یقبل بالنفقۃ الحرامکما وردفی الحدیث مع انہ یسقط الفرض عنہ معہا ولاتنا فی بین سقوطہ وعدم قبولہ فلا یثاب لعدم القبول ولا یعاقب عقاب تارك الحج اھ مختصرا۔ ہم الله تعالی سے معافی اور عافیت کا سوال کرتے ہیں اس کے بالکل ظاہر ہونے پر مجھے جزم حاصل ہواپھر مجھے اتفاقا رد المحتار پر مراجعت ہوئی تو میں نے اس میں اس تمام پر تصریح پائی انھوں نے مال حرام سے حج کے متعلق فرمایا حج فی نفسہ حرام نہیں بلکہ حرام مال کا اس میں صر ف کرنا حرام ہے جبکہ ان دونوں باتوں میں تلازم نہیں ہے۔جیسا کہ مغصوبہ زمین پر نماز پڑھنے سےفرض ادا ہوجائے گاحرام صرف مغصوب زمین کو استعمال کرنا ہے۔ار بحر میں فرمایا حلال نفقہ میں کوشش ضروری ہےکیونکہ حرام نفقہ سےحج قبول نہ ہوگاجیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔اس کے باوجود فرض ادا ہوجائے گا۔اور فرض کی ادائیگی اور عدم قبولیت منافات نہیں ہے۔تو قبول نہ ہونے کی وجہ سے ثواب نہ پائے گا۔اور فرض اد اہوجانے کی وجہ سے حج کا تارك ہوکر عذاب کا مستحق نہ ہوگا اھ مختصرا(ت)
اور تبدیل اس طرح سے کہ کسی سے قرض لے کر اپنے خرچ میں لائےخواہ حج وتصدق ونذر ونیاز و
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الحج داراحیاء التراث العربی بیروت ∞۲/ ۱۴۰€
تعمیر مساجد وغیرہا میں اٹھائےاور قرض اس ناپاك مال سے ادا کردے اگرچہ یہ صورت ان تصرفا ت کے جائز ہونے میں توبکار آمد ہےکہ اب یہ روپیہ جو ان کاموں میں اٹھارہا ہے ناپاك نہیں۔
فی الہندیۃ عن الملتقط اکل الربو اوکاسب الحرام اھدی الیہ اواضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل مالم یخبرہ ان ذلك المال اصلہ حلال ورثہ او استقرضہ اھ مثلہ عن الینابیع۔ ہندیہ میں ملتقط سےمنقول ہےکہ حرام کمانے والا یاسودخور ہدیہ دے یا دعوت کرے تو قبول نہ کرے جبکہ اس کا غالب مال حرام ہو اور کھائے نہیں جب تك وہ وضاحت نہ کرے کہ یہ اصل مال میں نے وراثت یا قرض میں حلال حاصل کیا ہے۔اھ اس کی مثل ینابیع میں ہے۔(ت)
مگر اس حیلہ سے نہ وہ گناہ اس سے زائل ہو نہ اس ناپاك مال کا وبال سرسے اترےنہ اس سے فرض ادا کرنا روابلکہ یہ دوسرا گناہ ہوا کہ حکم شرع تو اصحاب حقوق کو واپس دینا یاتصدق کرنا تھااس نے کچھ نہ کیا بلکہ اپنی ادائے قرض میں لگادیاتو ثابت ہوا کہ خبیث مال والوں کو یہ حیلہ نافع نہیں بلکہ مضر وموجب گناہ ہے۔
فان قلت الیس قال فی الہندیۃ الحیلۃ فی ھذہ المسائل ان یشتری نسیئۃ ثم ینقد ثمنہ من ای مال شاءوقال ابویوسف سألت اباحنیفۃ عن الحیلۃ فی مثل ھذا فاجانبی بماذکرنا کذا فی الخلاصۃ اھ و انما الحیلۃ لتحصیل الجواز۔قلت انما قال فی اموال الشبھۃ کالجواز السلطانیۃ ای حیث اگر تو اعتراض کرے کہ کیا ہندیہ میںیہ بیان نہیں ہے کہ ان مسائل میں حیلہ یہ ہے کہ مال ادھار خریدے اور پھر بعد میں معاوضہ کسی بھی مال سے چاہے دیدے۔اور امام ابویوسف رحمہ الله تعالی نے فرمایا کہ میں نے امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ سے ان مسائل کے متعلق حیلہ پوچھا تو انھوں نے جواب میں وہی فرمایا جوہم نے ذکر کیاخلاصہ میں یوں ہے اھاور جبکہ حیلہ صرف جواز کو طلب کرنے کے لئے ہوتاہے۔ جواب کے طور پر میں کہتاہوںیہ مذکورقول انھوں نے مشتبہ مال میں فرمایا ہے جیسے سرکاری عطیات
تعمیر مساجد وغیرہا میں اٹھائےاور قرض اس ناپاك مال سے ادا کردے اگرچہ یہ صورت ان تصرفا ت کے جائز ہونے میں توبکار آمد ہےکہ اب یہ روپیہ جو ان کاموں میں اٹھارہا ہے ناپاك نہیں۔
فی الہندیۃ عن الملتقط اکل الربو اوکاسب الحرام اھدی الیہ اواضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل مالم یخبرہ ان ذلك المال اصلہ حلال ورثہ او استقرضہ اھ مثلہ عن الینابیع۔ ہندیہ میں ملتقط سےمنقول ہےکہ حرام کمانے والا یاسودخور ہدیہ دے یا دعوت کرے تو قبول نہ کرے جبکہ اس کا غالب مال حرام ہو اور کھائے نہیں جب تك وہ وضاحت نہ کرے کہ یہ اصل مال میں نے وراثت یا قرض میں حلال حاصل کیا ہے۔اھ اس کی مثل ینابیع میں ہے۔(ت)
مگر اس حیلہ سے نہ وہ گناہ اس سے زائل ہو نہ اس ناپاك مال کا وبال سرسے اترےنہ اس سے فرض ادا کرنا روابلکہ یہ دوسرا گناہ ہوا کہ حکم شرع تو اصحاب حقوق کو واپس دینا یاتصدق کرنا تھااس نے کچھ نہ کیا بلکہ اپنی ادائے قرض میں لگادیاتو ثابت ہوا کہ خبیث مال والوں کو یہ حیلہ نافع نہیں بلکہ مضر وموجب گناہ ہے۔
فان قلت الیس قال فی الہندیۃ الحیلۃ فی ھذہ المسائل ان یشتری نسیئۃ ثم ینقد ثمنہ من ای مال شاءوقال ابویوسف سألت اباحنیفۃ عن الحیلۃ فی مثل ھذا فاجانبی بماذکرنا کذا فی الخلاصۃ اھ و انما الحیلۃ لتحصیل الجواز۔قلت انما قال فی اموال الشبھۃ کالجواز السلطانیۃ ای حیث اگر تو اعتراض کرے کہ کیا ہندیہ میںیہ بیان نہیں ہے کہ ان مسائل میں حیلہ یہ ہے کہ مال ادھار خریدے اور پھر بعد میں معاوضہ کسی بھی مال سے چاہے دیدے۔اور امام ابویوسف رحمہ الله تعالی نے فرمایا کہ میں نے امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ سے ان مسائل کے متعلق حیلہ پوچھا تو انھوں نے جواب میں وہی فرمایا جوہم نے ذکر کیاخلاصہ میں یوں ہے اھاور جبکہ حیلہ صرف جواز کو طلب کرنے کے لئے ہوتاہے۔ جواب کے طور پر میں کہتاہوںیہ مذکورقول انھوں نے مشتبہ مال میں فرمایا ہے جیسے سرکاری عطیات
فی الہندیۃ عن الملتقط اکل الربو اوکاسب الحرام اھدی الیہ اواضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل مالم یخبرہ ان ذلك المال اصلہ حلال ورثہ او استقرضہ اھ مثلہ عن الینابیع۔ ہندیہ میں ملتقط سےمنقول ہےکہ حرام کمانے والا یاسودخور ہدیہ دے یا دعوت کرے تو قبول نہ کرے جبکہ اس کا غالب مال حرام ہو اور کھائے نہیں جب تك وہ وضاحت نہ کرے کہ یہ اصل مال میں نے وراثت یا قرض میں حلال حاصل کیا ہے۔اھ اس کی مثل ینابیع میں ہے۔(ت)
مگر اس حیلہ سے نہ وہ گناہ اس سے زائل ہو نہ اس ناپاك مال کا وبال سرسے اترےنہ اس سے فرض ادا کرنا روابلکہ یہ دوسرا گناہ ہوا کہ حکم شرع تو اصحاب حقوق کو واپس دینا یاتصدق کرنا تھااس نے کچھ نہ کیا بلکہ اپنی ادائے قرض میں لگادیاتو ثابت ہوا کہ خبیث مال والوں کو یہ حیلہ نافع نہیں بلکہ مضر وموجب گناہ ہے۔
فان قلت الیس قال فی الہندیۃ الحیلۃ فی ھذہ المسائل ان یشتری نسیئۃ ثم ینقد ثمنہ من ای مال شاءوقال ابویوسف سألت اباحنیفۃ عن الحیلۃ فی مثل ھذا فاجانبی بماذکرنا کذا فی الخلاصۃ اھ و انما الحیلۃ لتحصیل الجواز۔قلت انما قال فی اموال الشبھۃ کالجواز السلطانیۃ ای حیث اگر تو اعتراض کرے کہ کیا ہندیہ میںیہ بیان نہیں ہے کہ ان مسائل میں حیلہ یہ ہے کہ مال ادھار خریدے اور پھر بعد میں معاوضہ کسی بھی مال سے چاہے دیدے۔اور امام ابویوسف رحمہ الله تعالی نے فرمایا کہ میں نے امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ سے ان مسائل کے متعلق حیلہ پوچھا تو انھوں نے جواب میں وہی فرمایا جوہم نے ذکر کیاخلاصہ میں یوں ہے اھاور جبکہ حیلہ صرف جواز کو طلب کرنے کے لئے ہوتاہے۔ جواب کے طور پر میں کہتاہوںیہ مذکورقول انھوں نے مشتبہ مال میں فرمایا ہے جیسے سرکاری عطیات
تعمیر مساجد وغیرہا میں اٹھائےاور قرض اس ناپاك مال سے ادا کردے اگرچہ یہ صورت ان تصرفا ت کے جائز ہونے میں توبکار آمد ہےکہ اب یہ روپیہ جو ان کاموں میں اٹھارہا ہے ناپاك نہیں۔
فی الہندیۃ عن الملتقط اکل الربو اوکاسب الحرام اھدی الیہ اواضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل مالم یخبرہ ان ذلك المال اصلہ حلال ورثہ او استقرضہ اھ مثلہ عن الینابیع۔ ہندیہ میں ملتقط سےمنقول ہےکہ حرام کمانے والا یاسودخور ہدیہ دے یا دعوت کرے تو قبول نہ کرے جبکہ اس کا غالب مال حرام ہو اور کھائے نہیں جب تك وہ وضاحت نہ کرے کہ یہ اصل مال میں نے وراثت یا قرض میں حلال حاصل کیا ہے۔اھ اس کی مثل ینابیع میں ہے۔(ت)
مگر اس حیلہ سے نہ وہ گناہ اس سے زائل ہو نہ اس ناپاك مال کا وبال سرسے اترےنہ اس سے فرض ادا کرنا روابلکہ یہ دوسرا گناہ ہوا کہ حکم شرع تو اصحاب حقوق کو واپس دینا یاتصدق کرنا تھااس نے کچھ نہ کیا بلکہ اپنی ادائے قرض میں لگادیاتو ثابت ہوا کہ خبیث مال والوں کو یہ حیلہ نافع نہیں بلکہ مضر وموجب گناہ ہے۔
فان قلت الیس قال فی الہندیۃ الحیلۃ فی ھذہ المسائل ان یشتری نسیئۃ ثم ینقد ثمنہ من ای مال شاءوقال ابویوسف سألت اباحنیفۃ عن الحیلۃ فی مثل ھذا فاجانبی بماذکرنا کذا فی الخلاصۃ اھ و انما الحیلۃ لتحصیل الجواز۔قلت انما قال فی اموال الشبھۃ کالجواز السلطانیۃ ای حیث اگر تو اعتراض کرے کہ کیا ہندیہ میںیہ بیان نہیں ہے کہ ان مسائل میں حیلہ یہ ہے کہ مال ادھار خریدے اور پھر بعد میں معاوضہ کسی بھی مال سے چاہے دیدے۔اور امام ابویوسف رحمہ الله تعالی نے فرمایا کہ میں نے امام ابوحنیفہ رضی الله تعالی عنہ سے ان مسائل کے متعلق حیلہ پوچھا تو انھوں نے جواب میں وہی فرمایا جوہم نے ذکر کیاخلاصہ میں یوں ہے اھاور جبکہ حیلہ صرف جواز کو طلب کرنے کے لئے ہوتاہے۔ جواب کے طور پر میں کہتاہوںیہ مذکورقول انھوں نے مشتبہ مال میں فرمایا ہے جیسے سرکاری عطیات
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتا ب الکراھیۃ الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴€۳
فتاوٰی ہندیہ کتا ب الکراھیۃ الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲€
فتاوٰی ہندیہ کتا ب الکراھیۃ الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲€
لم یعلم کونہا عین الحرامفانہ لایجوز اخذہ حتی للفقیر کما نص علیہ فی الہندیۃ ایضا وغیرھاونص عبارتہ قبل ھذا فی شرح حیل الخصاف لشمس الائمۃ رحمہ اﷲ تعالی ان الشیخ اباالقاسم الحکیم کان یاخذہ جائزۃ السلطان وکان یستقرض لجمیع حوائجہ ومایاخذ من الجائزۃ یقضی بہا دیونہ والحیلۃ فی ھذہ المسائل الی اخر مامر فہذا انما ھو فی امثال ھذا۔لافی المال الخبیث الواجب التصدق فان فیہ مناقضۃ لما امربہ الشرع کما علمت فاعلم ذلك وتفہمواﷲ سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم جن کے متعلق عین حرام ہونے کا علم نہیں ہوتا۔لیکن وہ مال جو عین حرام ہونا معلوم ہو تو اس کولینا فقیر تك کو جائز نہیں ہے جیسا کہ ہندیہ وغیرہ میں بھی اس کی تصریح ہے۔اور شمس الائمہ خصاف کی حیل کی شرح میں اس سے قبل ان کی عبارت یہ ہے کہ شیخ ابوالقاسم حکیم سرکاری عطیہ لیا کرتے تھے اور آپ اپنی ضروریات کے لئے قرض لیتے اور وہ قرض سرکاری عطیات سے ادا کرتےاور حیلہ ان مسائل کا یہ ہے الی آخرہ۔تو مذکور قول ان مشتبہ اموال میں ہے نہ کہ خبیث مال میں ہے جس کو صدقہ کرنا واجب ہوتاہے کیونکہ خبیث میں حیلہ شرعی حکم کے منافی ہے۔جیسا کہ تو معلوم کرچکاہے۔ اسے جان لو اور سمجھ لو۔والله تعالی سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم وحکمہ عزشانہ احکم۔(ت)
مسئلہ ۲۶۲: ۲۶ ذی الحجہ ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص زید کی نمبرداری میں عمروکی جزوی حقیت شامل ہے۔پٹی جدا گانہ زید نے صرف اپنی جائداد کا ٹھیکہ بکر کو دے دیا اور خود ترك وطن کیابکر اور عمرو باہم اپنے اپنے حاصلات لیتے رہے۔آخر سال کا حاصل بوجہ تکرار باہمی عمرو وبکر کے عمرو کو وصول نہیں ہواتب عمرو نے نالش زید وبکر دونوں پر دائر کیبالآخر زید پر ڈگری ہو گئیبحالت اجراء اس ڈگری کے وہ ڈگری بقابلہ زیدکے تمادی ایام میں خارج ہوگئیتو اس ڈگری کاروپیہ ذمہ زید کے واجب الادا ہے یانہیں بینوا توجروا
مسئلہ ۲۶۲: ۲۶ ذی الحجہ ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص زید کی نمبرداری میں عمروکی جزوی حقیت شامل ہے۔پٹی جدا گانہ زید نے صرف اپنی جائداد کا ٹھیکہ بکر کو دے دیا اور خود ترك وطن کیابکر اور عمرو باہم اپنے اپنے حاصلات لیتے رہے۔آخر سال کا حاصل بوجہ تکرار باہمی عمرو وبکر کے عمرو کو وصول نہیں ہواتب عمرو نے نالش زید وبکر دونوں پر دائر کیبالآخر زید پر ڈگری ہو گئیبحالت اجراء اس ڈگری کے وہ ڈگری بقابلہ زیدکے تمادی ایام میں خارج ہوگئیتو اس ڈگری کاروپیہ ذمہ زید کے واجب الادا ہے یانہیں بینوا توجروا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۴۲€
الجواب:
سائل مظہر کہ زید وعمرو کی پٹیاں جدا جدا ہیںاو ر عمرو نے اپنی پٹی کے پٹے اسامیوں کو خود دئےاور آپ تحصیل کرتارہا۔چند سال سےبکر ٹھیکہ دار حقیت زید نے اپنے دباؤ کے سبب عمرو کی پٹی بھی تحصیل لیاس صورت میں عمرو کا مطالبہ حقیقۃ اپنے اسامیوں پر ہے کہ انھوں نے غیر شخص کو اس کا آتا ہوا کیوں دے دیااور بکر نے بوجہ اس زیادہ ستانی کے ظلم کیا مگر زید کی طرف سے کوئی تعدی نہیں۔نہ اس پر عمرو کا مطالبہ تھانہ اس نے اسامیوں سے اس کا حق تحصیل لیانہ عمرو کے کوئی خاص معین روپے اسامیوں کے پاس رکھے تھے وہ بکر نے اسن سے لے کر زید کو دے دئے۔تو زید اس مطالبہ سے بالکل بری ہےاس کی ڈگری محض بیجا ہوئی عمرو کو اس سے کچھ لینا جائز نہیں۔
قال اﷲ تعالی " ولا تزر وازرۃ وزر اخری
" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ الله تعالی نے فرمایا:کوئی بوجھ اٹھانے والی دوسرے کا بوجھ نہ آٹھائے گیوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۶۳: از شہر کہنہ ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ زید ایك موضع کا مالك ہے۔اور بکر زید کی رعایاگاؤں میں زمین جوتتا ہے اور لگان زید کو دیتاہےاور کچھ زمین اور اس گاؤں میں بے لگانی ہے۔اس میں بکر نے چند درخت لگائے ہیں اور پھل کھاتاہے۔اور ان درختوں پر زید اس سے کچھ لگان نہیں لیتاہے۔اور حاکم وقت نے بھی یہی حکم جاری کررکھا ہے کہ زمین کا مالك جو ہے وہی درختوں کا مالك ہے صرف پھل پھول کھانے کا بکر کو اختیار ہے اور بکر کو اختیار ہے۔اور بکر نے بلااجازت زید کے مخالفانہ ان درختوں کو خالد کے ہاتھ فروخت کردیازید نے بکر او رخالد پر نالش کی کہ بکر کو بیچنے کا منصب نہیں تھااور یہ بموجب حکم حاکم فاسد ہے۔حاکم نے وہ درخت زید کو دلادئےاور یہ بھی حکم دیا کہ خالد اپنے روپے کا دعوی بکر پر کرےتو اس صورت میں دراصل وہ درخت حق زید کے ہیں یا بکر کے یاخالد کے بینوا توجروا
الجواب:
یہاں دو صورتیں ہیں:ایك یہ درخت بکر نے باذن واجازت زید لگائےخواہ یوں کہ زید نے صراحۃ خاص بکرسب سکان دیہہ کو عام اذن دیاخواہ یوں کہ حسب عرف رواج دیہہ ملاك کی طرف سے
سائل مظہر کہ زید وعمرو کی پٹیاں جدا جدا ہیںاو ر عمرو نے اپنی پٹی کے پٹے اسامیوں کو خود دئےاور آپ تحصیل کرتارہا۔چند سال سےبکر ٹھیکہ دار حقیت زید نے اپنے دباؤ کے سبب عمرو کی پٹی بھی تحصیل لیاس صورت میں عمرو کا مطالبہ حقیقۃ اپنے اسامیوں پر ہے کہ انھوں نے غیر شخص کو اس کا آتا ہوا کیوں دے دیااور بکر نے بوجہ اس زیادہ ستانی کے ظلم کیا مگر زید کی طرف سے کوئی تعدی نہیں۔نہ اس پر عمرو کا مطالبہ تھانہ اس نے اسامیوں سے اس کا حق تحصیل لیانہ عمرو کے کوئی خاص معین روپے اسامیوں کے پاس رکھے تھے وہ بکر نے اسن سے لے کر زید کو دے دئے۔تو زید اس مطالبہ سے بالکل بری ہےاس کی ڈگری محض بیجا ہوئی عمرو کو اس سے کچھ لینا جائز نہیں۔
قال اﷲ تعالی " ولا تزر وازرۃ وزر اخری
" ۔واﷲ تعالی اعلم۔ الله تعالی نے فرمایا:کوئی بوجھ اٹھانے والی دوسرے کا بوجھ نہ آٹھائے گیوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۶۳: از شہر کہنہ ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۱۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ زید ایك موضع کا مالك ہے۔اور بکر زید کی رعایاگاؤں میں زمین جوتتا ہے اور لگان زید کو دیتاہےاور کچھ زمین اور اس گاؤں میں بے لگانی ہے۔اس میں بکر نے چند درخت لگائے ہیں اور پھل کھاتاہے۔اور ان درختوں پر زید اس سے کچھ لگان نہیں لیتاہے۔اور حاکم وقت نے بھی یہی حکم جاری کررکھا ہے کہ زمین کا مالك جو ہے وہی درختوں کا مالك ہے صرف پھل پھول کھانے کا بکر کو اختیار ہے اور بکر کو اختیار ہے۔اور بکر نے بلااجازت زید کے مخالفانہ ان درختوں کو خالد کے ہاتھ فروخت کردیازید نے بکر او رخالد پر نالش کی کہ بکر کو بیچنے کا منصب نہیں تھااور یہ بموجب حکم حاکم فاسد ہے۔حاکم نے وہ درخت زید کو دلادئےاور یہ بھی حکم دیا کہ خالد اپنے روپے کا دعوی بکر پر کرےتو اس صورت میں دراصل وہ درخت حق زید کے ہیں یا بکر کے یاخالد کے بینوا توجروا
الجواب:
یہاں دو صورتیں ہیں:ایك یہ درخت بکر نے باذن واجازت زید لگائےخواہ یوں کہ زید نے صراحۃ خاص بکرسب سکان دیہہ کو عام اذن دیاخواہ یوں کہ حسب عرف رواج دیہہ ملاك کی طرف سے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۶۴€
مزارعین کو اذن عرفی تھا۔
دوسرے یہ کہ محض بلااذن بطور خود بکر نے لگالئے۔
پہلی صور ت میں درخت مطلقا زید کی ملك ہوں گے مگر یہ کہ خود اذن مذکور کا مطلب ہی یہ ہوا کہ لگانے والا مالك ہوںمثلا اذن عرفی میں عرف ہی یوں تھا یا اذن صریح میں لفظ یہ تھے کہ اپنے لئے لگالوتو اس صورت میں درخت ملك بکر ہوں گےاور زمین عاریتیایہ کہ بکر نے برخلاف مطلب اذن لگاتے وقت یہ کہہ لیا کہ میں خود اپنے اس صورت میں درخت ملك بکر ہوں گے اور وہ بوجہ مخالفت اذن ظالم وغاصب کہ فورا درخت اکھیڑ کر زمین خالی کردینے کا حکم دیا جائے گا۔اور دوسری صورت میں یعنی جبکہ بے اذن مالك رکھے گئےدرخت مطلقا ملك بکر ہوں گےاور وہ غاصب قرار پائے گا۔مگر یہ کہ رکھتے وقت اس نے کہہ دیا ہو کہ زید کے لئے لگاتاہوںاس صورت میں ملك زید ہوں گے۔اور بکر کا کوئی دعوی نہیں۔
ھذا جملۃ الحکم فی ذلك وتعرف تفاصیل المسألۃ من شتی التنویروالدروحواشیہووقف الاشباہ۔ و شروحہ۔وغصب الہندیۃ وغیرھا من الکتب المعتمدۃ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اس کا یہ خلاصہ حکم ہےاور تنویر الابصارمیں کے مسائل شتیدرمختار اور اس کے حواشیاور الاشباہ کے وقف او راس کی شرحاور ہندیہ کے باب غصب وغیرہ معتبر کتب میں اس کی تفاصیل تجھے معلوم ہوں گی۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۶۴: ۲۲ شوال ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اراضی مسجد کی جو اس کے پیچھے تھی اپنے مکان میں ڈال لی ہے اور دیوار بنوالیاور تاج محراب مسجد ومینار مسجد دباکر اپنی دیوار بلند کرلیایسے شخص کے واسطے کیاحکم شرع شریف ہے فقط
الجواب:
فاسقفاجرظالمجابرمرتکب کبائرمستحق عذاب النا ر وغضب الجبار ہے۔والعیاذبا لله تعالیرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایأخذ احد شبرا من الارض بغیر حقہ الاطوقہ اﷲ الی سبع ارضین الی یوم جو شخص ایك بالشت بھر زمین ناحق لے گا الله تعالی وہ زمین زمین کے ساتوں طبقوں تك اس کے گلے میں قیامت کے دن تك طوق
دوسرے یہ کہ محض بلااذن بطور خود بکر نے لگالئے۔
پہلی صور ت میں درخت مطلقا زید کی ملك ہوں گے مگر یہ کہ خود اذن مذکور کا مطلب ہی یہ ہوا کہ لگانے والا مالك ہوںمثلا اذن عرفی میں عرف ہی یوں تھا یا اذن صریح میں لفظ یہ تھے کہ اپنے لئے لگالوتو اس صورت میں درخت ملك بکر ہوں گےاور زمین عاریتیایہ کہ بکر نے برخلاف مطلب اذن لگاتے وقت یہ کہہ لیا کہ میں خود اپنے اس صورت میں درخت ملك بکر ہوں گے اور وہ بوجہ مخالفت اذن ظالم وغاصب کہ فورا درخت اکھیڑ کر زمین خالی کردینے کا حکم دیا جائے گا۔اور دوسری صورت میں یعنی جبکہ بے اذن مالك رکھے گئےدرخت مطلقا ملك بکر ہوں گےاور وہ غاصب قرار پائے گا۔مگر یہ کہ رکھتے وقت اس نے کہہ دیا ہو کہ زید کے لئے لگاتاہوںاس صورت میں ملك زید ہوں گے۔اور بکر کا کوئی دعوی نہیں۔
ھذا جملۃ الحکم فی ذلك وتعرف تفاصیل المسألۃ من شتی التنویروالدروحواشیہووقف الاشباہ۔ و شروحہ۔وغصب الہندیۃ وغیرھا من الکتب المعتمدۃ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ اس کا یہ خلاصہ حکم ہےاور تنویر الابصارمیں کے مسائل شتیدرمختار اور اس کے حواشیاور الاشباہ کے وقف او راس کی شرحاور ہندیہ کے باب غصب وغیرہ معتبر کتب میں اس کی تفاصیل تجھے معلوم ہوں گی۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۶۴: ۲۲ شوال ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے اراضی مسجد کی جو اس کے پیچھے تھی اپنے مکان میں ڈال لی ہے اور دیوار بنوالیاور تاج محراب مسجد ومینار مسجد دباکر اپنی دیوار بلند کرلیایسے شخص کے واسطے کیاحکم شرع شریف ہے فقط
الجواب:
فاسقفاجرظالمجابرمرتکب کبائرمستحق عذاب النا ر وغضب الجبار ہے۔والعیاذبا لله تعالیرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لایأخذ احد شبرا من الارض بغیر حقہ الاطوقہ اﷲ الی سبع ارضین الی یوم جو شخص ایك بالشت بھر زمین ناحق لے گا الله تعالی وہ زمین زمین کے ساتوں طبقوں تك اس کے گلے میں قیامت کے دن تك طوق
القیمۃ۔رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ والشیخان عن ام المؤمنین وعن سعید بن زید رضی اﷲ تعالی عنہم۔ بناکر ڈالے گا۔(اس کو مسلم نے ابوہریرہ اور شیخین نے ام المومنین عائشہ اور سعید بن زید رضی الله تعالی عنہم سے روایت کیاہے۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
من اخذ من الارض شیئا بغیر حقہ خسف بہ یوم القیمۃ الی سبع ارضین ۔رواہ البخاری عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ در زمین ناحق دبالے گا قیامت کے دن زمین کے ساتویں طبق تك دھنسا دیا جائے گا۔(اس کو بخاری نے ابن عمر رضی الله تعلی عنہما سے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
ایما رجل ظلم شبرا من الارض کلفہ اﷲ عزوجل ان یحفرہ حتی یبلغ اخر سبع ارضینثم یطوقہ یوم القیمۃ حتی یقضی بین الناس ۔رواہ احمد والطبرانی وابن حبان فی صحیحہ بسند جید عن یعلی بن مرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو شخص ایك بالشت زمین ناحق لے لے الله تعالی اسے تکلیف دے کہ اس زمین کو کھودے یہاں تك کہ ساتویں طبقے کے ختم تك پہنچے پھر قیامت کے دن اس کا طوق بناکر اس کے گلے میں ڈالے یہاں تك کہ تمام مخلوق کا حساب کتاب ختم ہوکر فیصلہ فرمادیا جائے(اس کو طبرانیاحمد اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں جید سند کے ساتھ یعلی بن مرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
ایك حدیث میں ہےرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اخذ شیئا من الارض بغیر حلہ طوقہ اﷲ من سبع ارضین جو کسی قدر زمین ناجائز طور پرلے الله تعالی ساتویں زمینوں سے اس کے گلے میں طوق ڈالے
اور فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
من اخذ من الارض شیئا بغیر حقہ خسف بہ یوم القیمۃ الی سبع ارضین ۔رواہ البخاری عن ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہما۔ در زمین ناحق دبالے گا قیامت کے دن زمین کے ساتویں طبق تك دھنسا دیا جائے گا۔(اس کو بخاری نے ابن عمر رضی الله تعلی عنہما سے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
ایما رجل ظلم شبرا من الارض کلفہ اﷲ عزوجل ان یحفرہ حتی یبلغ اخر سبع ارضینثم یطوقہ یوم القیمۃ حتی یقضی بین الناس ۔رواہ احمد والطبرانی وابن حبان فی صحیحہ بسند جید عن یعلی بن مرۃ رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جو شخص ایك بالشت زمین ناحق لے لے الله تعالی اسے تکلیف دے کہ اس زمین کو کھودے یہاں تك کہ ساتویں طبقے کے ختم تك پہنچے پھر قیامت کے دن اس کا طوق بناکر اس کے گلے میں ڈالے یہاں تك کہ تمام مخلوق کا حساب کتاب ختم ہوکر فیصلہ فرمادیا جائے(اس کو طبرانیاحمد اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں جید سند کے ساتھ یعلی بن مرہ رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ت)
ایك حدیث میں ہےرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اخذ شیئا من الارض بغیر حلہ طوقہ اﷲ من سبع ارضین جو کسی قدر زمین ناجائز طور پرلے الله تعالی ساتویں زمینوں سے اس کے گلے میں طوق ڈالے
حوالہ / References
صحیح مسلم کتاب المساقاۃ باب تحریم الظلم وغصب الارض ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۳€
صحیح البخاری ابواب المظالم والقصاص باب اثم من ظلم شیئا من الارض ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۳۲€
مسند احمد بن حنبل حدیث یعلی بن مرۃ المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۱۸۳€
صحیح البخاری ابواب المظالم والقصاص باب اثم من ظلم شیئا من الارض ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۳۲€
مسند احمد بن حنبل حدیث یعلی بن مرۃ المکتب الاسلامی بیروت ∞۴/ ۱۸۳€
لایقبل اﷲ منہ صرف ولاعدل ۔رواہ احمد والطبرانی عن سعد بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ۔ نہ اس کا فرض قبول ہو نہ نفل(اس کو احمد وطبرانی نے سعد بن مالك رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
حدیثیں اس باب میں متواتر ہیںاس شخص پر فرض ہے کہ مسجد کی زمین وعمارت فورا فورا خالی کردےاوراپنی ناپاك تعمیر جوان پر کرلی ہے ڈھاکر دور کردےالله قہار وجبار کے غضب سے ڈرےذرا من دو من نہیں بیس پچیس ہی سیرمٹی کے ڈھیلے گلے میں باندھ کر گھڑی دو گھڑی لئے پھرلے۔اس وقت قیاس کرے کہ اس ظلم شدید سے بازآنا آسان ہے یازمین کے ساتویں طبقوں تك کھود کر قیامت کے دن تمام جہاں کا حساب پورا ہونے تك گلے میںمعاذا لله یہ کروڑوں من کا طوق پڑنا اور ساتویں زمین تك دھنسا دیا جاناوالعیاذبالله تعالیوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۵: رجب ۱۳۱۵ھ از شہر کہنہ بریلی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے خالد کی زوجہ سے بلا طلاق دئے خالد کے نکاح کرلیااور خالد بعد معلوم ہوجانے نکاح اپنی زوجہ کے زوجہ کے ساتھ سرکارمیں جاکرکے عرضی دیاور زوجہ خالد نے بھی اپنے نان ونفقہ اورمہر کی عرضی خالد پردیاورہنوز دونوں کا مقدمہ دائر ہے۔لیکن اس عرصہ میں پنچوں نے جمع ہو کر دونوں کوراضی اپنے فیصلہ پر کر لیااور فیصلہ پنچوں کا اس طورپر زید پر ہوا کہ زید کو بوجہ مرتکب ہونے اس امر ناجائز کے مبلغ پچاس روپیہ جرمانہ اور مبلغ دس روپیہ صرفہ خالد ادا کئےاور خالد نے اپنی زوجہ کو طلاق دی اور مبلغ مذکور بھی پنچوں نے زید سے اداکئےاور اب روپیہ موصوف پنچوں کے تحت میں ہے۔جب زید نے دیکھا کہ یہ وپیہ بیکار ہاتھ سے جاتا ہے کہ یہ لوگ شیرینی وغیرہ میں صرف کریں گے۔تو اس نے مجبور ہوکرکے کہا کہ تم لوگ اس روپیہ سے ایك مسجد تعمیر یا مرمت کروتو پنچوں نے راضی ہوکر خالد سے بھی روپیہ صرفہ کالے لیایعنی اس کو بھی تعمیر مسجد یا مرمت میں صرف کریں گے۔بعد اس کے پنچوں میں سے ایك شخص نے پنچوں سے روپیہ لے کر زید کو دے دیا اور کہا کہ ایسا جائز نہیں ہے۔پھر بعد تھوڑی دیر کے زید سے روپیہ مذکورواپس لے لیا ایا اس روپیہ کو مرمت مسجد یا تعمیر مسجد میں خرچ کرناجائز ہے یانہیں بینوا توجروا
حدیثیں اس باب میں متواتر ہیںاس شخص پر فرض ہے کہ مسجد کی زمین وعمارت فورا فورا خالی کردےاوراپنی ناپاك تعمیر جوان پر کرلی ہے ڈھاکر دور کردےالله قہار وجبار کے غضب سے ڈرےذرا من دو من نہیں بیس پچیس ہی سیرمٹی کے ڈھیلے گلے میں باندھ کر گھڑی دو گھڑی لئے پھرلے۔اس وقت قیاس کرے کہ اس ظلم شدید سے بازآنا آسان ہے یازمین کے ساتویں طبقوں تك کھود کر قیامت کے دن تمام جہاں کا حساب پورا ہونے تك گلے میںمعاذا لله یہ کروڑوں من کا طوق پڑنا اور ساتویں زمین تك دھنسا دیا جاناوالعیاذبالله تعالیوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۵: رجب ۱۳۱۵ھ از شہر کہنہ بریلی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے خالد کی زوجہ سے بلا طلاق دئے خالد کے نکاح کرلیااور خالد بعد معلوم ہوجانے نکاح اپنی زوجہ کے زوجہ کے ساتھ سرکارمیں جاکرکے عرضی دیاور زوجہ خالد نے بھی اپنے نان ونفقہ اورمہر کی عرضی خالد پردیاورہنوز دونوں کا مقدمہ دائر ہے۔لیکن اس عرصہ میں پنچوں نے جمع ہو کر دونوں کوراضی اپنے فیصلہ پر کر لیااور فیصلہ پنچوں کا اس طورپر زید پر ہوا کہ زید کو بوجہ مرتکب ہونے اس امر ناجائز کے مبلغ پچاس روپیہ جرمانہ اور مبلغ دس روپیہ صرفہ خالد ادا کئےاور خالد نے اپنی زوجہ کو طلاق دی اور مبلغ مذکور بھی پنچوں نے زید سے اداکئےاور اب روپیہ موصوف پنچوں کے تحت میں ہے۔جب زید نے دیکھا کہ یہ وپیہ بیکار ہاتھ سے جاتا ہے کہ یہ لوگ شیرینی وغیرہ میں صرف کریں گے۔تو اس نے مجبور ہوکرکے کہا کہ تم لوگ اس روپیہ سے ایك مسجد تعمیر یا مرمت کروتو پنچوں نے راضی ہوکر خالد سے بھی روپیہ صرفہ کالے لیایعنی اس کو بھی تعمیر مسجد یا مرمت میں صرف کریں گے۔بعد اس کے پنچوں میں سے ایك شخص نے پنچوں سے روپیہ لے کر زید کو دے دیا اور کہا کہ ایسا جائز نہیں ہے۔پھر بعد تھوڑی دیر کے زید سے روپیہ مذکورواپس لے لیا ایا اس روپیہ کو مرمت مسجد یا تعمیر مسجد میں خرچ کرناجائز ہے یانہیں بینوا توجروا
حوالہ / References
الترغیب والترہیب بحوالہ احمد والطبرانی الترھیب من اخذ الارض ∞حدیث ۴€ مصطفی البابی ∞مصر ۳/ ۱۶€
الجواب:
اول یہ مال حرام تھا کہ جرمانہ جو پنچ لیتے ہیں ناجائز ہے۔
قال المصادرۃ بالمال منسوخۃ عند ناوان کانت فالی الامام دون العوام۔ کیونکہ مالی جرمانہ ہمارے نزدیك منسوخ ہے۔اگر ہو بھی تو صرف امام تك جواز ہے عوام کو جائز نہیں۔(ت)
اور جو صرف خالد کو زید سے دلایا وہ بھی ناجائز تھا فانہ تضمین باطل لم یرد بمثلہ الشرع(کیونکہ یہ ضمان لگانا باطل ہے شرع میں اس کی مثال نہیں ہے۔ت)مگر جب زیدنے اپنی رضا او ر خوشی سے اس مسجد میں صرف کی اجازت دے دیاور اس کی تکمیل یوں کرلی گئی کہ وہ روپیہ اس کو واپس کردیا اور پھر اس سے تعمیر مسجد کے لئے مانگا اور اس نے بخوشی دیا جیسا کہ بیان سائل سے معلوم ہواتوا ب اس کے جواز میں شبہ نہیں کمالا یخفی فان الباطل قد زال بالرد(جیساکہ مخفی نہیں کہ باطل کا زوال واپس کردینے سے ہوگیا ہے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۶: از مولوی مرزاخاں پیشاوری ۱۵ محرم ۱۳۱۶ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك چیز رکھی ہوئی تھیوہ چیز لاٹھی فرض کیجئےدوسرے شخص نے آکر اٹھالی اور اس سے کھیل شرو ع کیا اور اس کو حرکت جوالہ دیوہ اس کے ہاتھ سے گرپڑی او رٹوٹ گئیاب اس شخص پر ضمان ہے یانہیں اگر ہے تو حوالہ کتاب دیجئے اور اگرنہیں ہے تو حوالہ کتاب دیجئے۔بینو توجرووا
الجواب:
جبکہ بے اذن مالك اس نے وہ چیز اٹھالی اور اس کے کھیلنے میں گر کر ٹوٹ گئیتو اس پر بلاشبہہ ضمان واجب ہے۔فتاوی خانیہ پھر فتاوی ہندیہ میں ہے:
اذا دخل الرجل دار انسان واخذ متاعاو جحد فہو ضامن وان لم یحولہ ولم یجحدہ فلاضمان علیہ الا ان یہلك بفعلہ اویخرجہ من الدار ۔ جب کوئی کسی شخص کے گھر داخل ہوا اور سامان لیا اور بعد میں انکار کردیا تو ضامن ہوگا اگرچہ سامان کو جگہ سے تبدیل نہ کیا اور انکار نہ کیا تو اس پر ضمان نہ ہوگا مگر جبکہ اپنے عمل سے ضائع کرے یا سامان گھر سے باہر لے جائے تو ضامن ہوگا۔ (ت)
اول یہ مال حرام تھا کہ جرمانہ جو پنچ لیتے ہیں ناجائز ہے۔
قال المصادرۃ بالمال منسوخۃ عند ناوان کانت فالی الامام دون العوام۔ کیونکہ مالی جرمانہ ہمارے نزدیك منسوخ ہے۔اگر ہو بھی تو صرف امام تك جواز ہے عوام کو جائز نہیں۔(ت)
اور جو صرف خالد کو زید سے دلایا وہ بھی ناجائز تھا فانہ تضمین باطل لم یرد بمثلہ الشرع(کیونکہ یہ ضمان لگانا باطل ہے شرع میں اس کی مثال نہیں ہے۔ت)مگر جب زیدنے اپنی رضا او ر خوشی سے اس مسجد میں صرف کی اجازت دے دیاور اس کی تکمیل یوں کرلی گئی کہ وہ روپیہ اس کو واپس کردیا اور پھر اس سے تعمیر مسجد کے لئے مانگا اور اس نے بخوشی دیا جیسا کہ بیان سائل سے معلوم ہواتوا ب اس کے جواز میں شبہ نہیں کمالا یخفی فان الباطل قد زال بالرد(جیساکہ مخفی نہیں کہ باطل کا زوال واپس کردینے سے ہوگیا ہے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۶: از مولوی مرزاخاں پیشاوری ۱۵ محرم ۱۳۱۶ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك چیز رکھی ہوئی تھیوہ چیز لاٹھی فرض کیجئےدوسرے شخص نے آکر اٹھالی اور اس سے کھیل شرو ع کیا اور اس کو حرکت جوالہ دیوہ اس کے ہاتھ سے گرپڑی او رٹوٹ گئیاب اس شخص پر ضمان ہے یانہیں اگر ہے تو حوالہ کتاب دیجئے اور اگرنہیں ہے تو حوالہ کتاب دیجئے۔بینو توجرووا
الجواب:
جبکہ بے اذن مالك اس نے وہ چیز اٹھالی اور اس کے کھیلنے میں گر کر ٹوٹ گئیتو اس پر بلاشبہہ ضمان واجب ہے۔فتاوی خانیہ پھر فتاوی ہندیہ میں ہے:
اذا دخل الرجل دار انسان واخذ متاعاو جحد فہو ضامن وان لم یحولہ ولم یجحدہ فلاضمان علیہ الا ان یہلك بفعلہ اویخرجہ من الدار ۔ جب کوئی کسی شخص کے گھر داخل ہوا اور سامان لیا اور بعد میں انکار کردیا تو ضامن ہوگا اگرچہ سامان کو جگہ سے تبدیل نہ کیا اور انکار نہ کیا تو اس پر ضمان نہ ہوگا مگر جبکہ اپنے عمل سے ضائع کرے یا سامان گھر سے باہر لے جائے تو ضامن ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ فتاوٰی قاضیخاں کتاب الغصب الباب الرابع عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۵۸،€فتاوٰی قاضیخاں کتاب الغصب فصل فیما یصیر بہ المرء غاصبا ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۷۹۔۴۷۸€
فتاوی کبری پھر فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
دخل رجل علی صاحب الدکان باذنہ فتعلق بثوبہ شیئ مما فی دکانہ فسقط لایضمن لکن تاویلہ اذالم یکن السقوط بفعلہ ویدہ وکذلك اذا اخذشیئا بغیر اذنہ مما فی دکانہ لینظر الیہ فسقط لایضمنویجب ان یضمن الا اذا اخذ باذنہ اما صریحا او دلالۃ الخ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ ایك شخص دکاندار کی دکان میں اجازت سے داخل ہواا ور اس کے کپڑے سے لٹك کر کوئی چیز گر کر ضائع ہوگئی توضامن نہ ہوگااس صور ت میں کہ وہ چیز ا س کے عمل اور ہاتھ سے نہ گری ہواور یونہی جبکہ دیکھنے کے لئے دکان سے کوئی چیز بغیر اجازت اٹھائی اور گرکر ٹوٹ گئی تو ضامن نہ ہوگا مگر صراحۃ یا دلالۃ اجازت کے بغیر اٹھائے تو ضمان واجب ہوگا الخوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۶۷: ا زپیلی بھیت قاضی محلہ مرسلہ قاضی ممتاز حسین صاحب ممتاز ۲۰ رمضان ۱۳۱۷ھ
زید کا مال عمرو نے چرایاچوری کے بعد زید مرگیااس نے لڑکا بکر وارث چھوڑااب بکر بھی مرگیاکوئی اس کی نسل میں نہ رہا جو ترکہ ان دونوں کا پائے۔اب عقبی میں اس مسروق کے معاف کرنے کا مجاز زید ہے یا بکر بینو اتوجروا
الجواب:
جو شخص کسی کا مال چرائے یا جبرا چھین لے یا دباکر رشوت میں لے۔یا ظلما تلف کردےتو ان صورتوں میں علاوہ جرم شرعی کے جس میں خود سرکاری مدعی ہے(یعنی حقیقی سرکار ابد قرار شریعت نبی مختار صلی الله تعالی علیہ وسلم)اس ظالم پر مظلوم کے دو۲ مطالبے عائد ہوتے ہیںایك مطالبہ ظلم کہ اسے ستایا آزار پہنچایادوسرا مطالبہ مالمطالبہ ظلم تر مطلقا اسی مظلوم کے لئے ہے تو اس کی معافی کا اختیار بھی اسی کو ہے۔رہا مطالبہ مالاس میں دو صورتیں ہیں:اگر حیات مظلوم میں وہ مطالبہ مردہ ہوگیا جس کے وصول کی اصلا توقع نہ رہیمثلا ظالم مرگیا اور مال کچھ نہ چھوڑاجب تو یہ مطالبہ بھی اسی مظلوم کے لئے ہے اور اسی کے معاف کئے معاف ہوگا دین جب مردہ ہوجائے اس میں توریث جاری نہیں ہوتیتو مظلوم کے بعد اس کا بیٹا اس مطالبے کا مالك نہ ہوااور اگر اس کی زندگی میں مطالبہ مردہ نہ ہو توبعد انتقال مظلوم پسر مظلوم کی طرف منتقل ہوگااور صورت مسئولہ میں مطالبہ مال کے معاف کرنے کا اختیار بکر کوہوگا۔
دخل رجل علی صاحب الدکان باذنہ فتعلق بثوبہ شیئ مما فی دکانہ فسقط لایضمن لکن تاویلہ اذالم یکن السقوط بفعلہ ویدہ وکذلك اذا اخذشیئا بغیر اذنہ مما فی دکانہ لینظر الیہ فسقط لایضمنویجب ان یضمن الا اذا اخذ باذنہ اما صریحا او دلالۃ الخ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ ایك شخص دکاندار کی دکان میں اجازت سے داخل ہواا ور اس کے کپڑے سے لٹك کر کوئی چیز گر کر ضائع ہوگئی توضامن نہ ہوگااس صور ت میں کہ وہ چیز ا س کے عمل اور ہاتھ سے نہ گری ہواور یونہی جبکہ دیکھنے کے لئے دکان سے کوئی چیز بغیر اجازت اٹھائی اور گرکر ٹوٹ گئی تو ضامن نہ ہوگا مگر صراحۃ یا دلالۃ اجازت کے بغیر اٹھائے تو ضمان واجب ہوگا الخوالله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۶۷: ا زپیلی بھیت قاضی محلہ مرسلہ قاضی ممتاز حسین صاحب ممتاز ۲۰ رمضان ۱۳۱۷ھ
زید کا مال عمرو نے چرایاچوری کے بعد زید مرگیااس نے لڑکا بکر وارث چھوڑااب بکر بھی مرگیاکوئی اس کی نسل میں نہ رہا جو ترکہ ان دونوں کا پائے۔اب عقبی میں اس مسروق کے معاف کرنے کا مجاز زید ہے یا بکر بینو اتوجروا
الجواب:
جو شخص کسی کا مال چرائے یا جبرا چھین لے یا دباکر رشوت میں لے۔یا ظلما تلف کردےتو ان صورتوں میں علاوہ جرم شرعی کے جس میں خود سرکاری مدعی ہے(یعنی حقیقی سرکار ابد قرار شریعت نبی مختار صلی الله تعالی علیہ وسلم)اس ظالم پر مظلوم کے دو۲ مطالبے عائد ہوتے ہیںایك مطالبہ ظلم کہ اسے ستایا آزار پہنچایادوسرا مطالبہ مالمطالبہ ظلم تر مطلقا اسی مظلوم کے لئے ہے تو اس کی معافی کا اختیار بھی اسی کو ہے۔رہا مطالبہ مالاس میں دو صورتیں ہیں:اگر حیات مظلوم میں وہ مطالبہ مردہ ہوگیا جس کے وصول کی اصلا توقع نہ رہیمثلا ظالم مرگیا اور مال کچھ نہ چھوڑاجب تو یہ مطالبہ بھی اسی مظلوم کے لئے ہے اور اسی کے معاف کئے معاف ہوگا دین جب مردہ ہوجائے اس میں توریث جاری نہیں ہوتیتو مظلوم کے بعد اس کا بیٹا اس مطالبے کا مالك نہ ہوااور اگر اس کی زندگی میں مطالبہ مردہ نہ ہو توبعد انتقال مظلوم پسر مظلوم کی طرف منتقل ہوگااور صورت مسئولہ میں مطالبہ مال کے معاف کرنے کا اختیار بکر کوہوگا۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الفتاوٰی الکبرٰی کتاب الغصب الباب ا لرابع عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۵۹€
اور مطالبہ ظلم سے درگزر کامجاز زید۔ہندیہ میں ہے:
لومات وترك عینا ودینا وغصبا فی ایدی الناس ولم یصل شیئ من ذلك الی الورثۃفالقیاس ان یکون الثواب بذلك فی الاخرۃ للورثۃ لانہم ورثوامنہ وفی الاستحسان ان توی الدین وتمت التوی قبل الموت فالثواب لہ لان التاوی لایجری فیہ الارثفان توی بعدہ فالثواب للوارث لانہ لا یجری الارث فیہ لیقامہ وقت الموتکذا فی الفتاوی العتابیۃ ۔ اگر کسی نے فوت ہونے کے بعد لوگون کے ذمہ قرضعین چیزیا غصب چھوڑا اور ترکہ میں ورثاء کو وصول نہ ہوئی ہوں تو قیاس یہ ہے کہ ظلم برداشت کرنےکا ثواب ورثاء کو ملے کیونکہ یہ اس میت کے بعد ان اموال کے وارث بنے اورجبکہ استحسان یہ ہے اگر ان اموال کا نقصان مرنے والے کی میت سے پہلے مکمل طور پر واضح ہوگیا توثواب میت کوملے گا کیونکہ نقصان میں وراثت نہیں ہے۔اگریہ نقصان موت کے بعد تام ہوا تو پھر ثواب ورثاء کو ملے گا کیونکہ ان میں وراثت جاری ہوئی ہے اس لئے کہ موت کے وقت یہ اموال میت کی ملکیت تھے۔فتاوی عتابیۃ میں یوں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
سرق شیئا من ابیہ ثم مات ابوہ لم یؤاخذ بہ فی الاخرۃ لان الدین وھو ضمان المسروق انتقل الیہ و اثم بالسرقۃ لان حتی علی المسروق منہ کذا فی الفتاوی العتابیۃرجل لہ علی رجل دین فتقاضاہ فمنعہ ظلما حتی مات صاحب الدین وانتقل الی الوارث تکلموا فیہقال اکثر المشائخ لایکون حق الخصومۃ للاول۔لکن المختار ان کسی نے اپنے والد کی کوئی چیز چرائی پھر والد فوت ہوگیا تو آخرت میں اس پر ضمان کا مؤاخذہ نہ ہوگا کیونکہ چیز مسروقہ جس کا ضمان تھا وہ وراثت میں بیٹے کو منتقل ہوچکی ہے اور چوری پر گنہگار ہوگا اس لئے کہ اس نے وقت کے مالك کا جرم کیا ہے۔یہ فتاوی عتابیہ میں ہے ایك شخص کا دوسرے پر قرض تھا تو مالك نے کسی کو قرض وصول کرنے کے لئے بھیجا تو مقروض نے ادائیگی سے انکار کردیا پھر وہ مالك فوت ہوگیا اور وہ قرض ورثاء کو منتقل ہوگیا تو اس مسئلہ میں فقہاء کا کلام ہے۔اکثر مشائخ نے فرمایا ہے کہ مالك کے مقررکردہ پہلے
لومات وترك عینا ودینا وغصبا فی ایدی الناس ولم یصل شیئ من ذلك الی الورثۃفالقیاس ان یکون الثواب بذلك فی الاخرۃ للورثۃ لانہم ورثوامنہ وفی الاستحسان ان توی الدین وتمت التوی قبل الموت فالثواب لہ لان التاوی لایجری فیہ الارثفان توی بعدہ فالثواب للوارث لانہ لا یجری الارث فیہ لیقامہ وقت الموتکذا فی الفتاوی العتابیۃ ۔ اگر کسی نے فوت ہونے کے بعد لوگون کے ذمہ قرضعین چیزیا غصب چھوڑا اور ترکہ میں ورثاء کو وصول نہ ہوئی ہوں تو قیاس یہ ہے کہ ظلم برداشت کرنےکا ثواب ورثاء کو ملے کیونکہ یہ اس میت کے بعد ان اموال کے وارث بنے اورجبکہ استحسان یہ ہے اگر ان اموال کا نقصان مرنے والے کی میت سے پہلے مکمل طور پر واضح ہوگیا توثواب میت کوملے گا کیونکہ نقصان میں وراثت نہیں ہے۔اگریہ نقصان موت کے بعد تام ہوا تو پھر ثواب ورثاء کو ملے گا کیونکہ ان میں وراثت جاری ہوئی ہے اس لئے کہ موت کے وقت یہ اموال میت کی ملکیت تھے۔فتاوی عتابیۃ میں یوں ہے۔(ت)
اسی میں ہے:
سرق شیئا من ابیہ ثم مات ابوہ لم یؤاخذ بہ فی الاخرۃ لان الدین وھو ضمان المسروق انتقل الیہ و اثم بالسرقۃ لان حتی علی المسروق منہ کذا فی الفتاوی العتابیۃرجل لہ علی رجل دین فتقاضاہ فمنعہ ظلما حتی مات صاحب الدین وانتقل الی الوارث تکلموا فیہقال اکثر المشائخ لایکون حق الخصومۃ للاول۔لکن المختار ان کسی نے اپنے والد کی کوئی چیز چرائی پھر والد فوت ہوگیا تو آخرت میں اس پر ضمان کا مؤاخذہ نہ ہوگا کیونکہ چیز مسروقہ جس کا ضمان تھا وہ وراثت میں بیٹے کو منتقل ہوچکی ہے اور چوری پر گنہگار ہوگا اس لئے کہ اس نے وقت کے مالك کا جرم کیا ہے۔یہ فتاوی عتابیہ میں ہے ایك شخص کا دوسرے پر قرض تھا تو مالك نے کسی کو قرض وصول کرنے کے لئے بھیجا تو مقروض نے ادائیگی سے انکار کردیا پھر وہ مالك فوت ہوگیا اور وہ قرض ورثاء کو منتقل ہوگیا تو اس مسئلہ میں فقہاء کا کلام ہے۔اکثر مشائخ نے فرمایا ہے کہ مالك کے مقررکردہ پہلے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الغصب الباب الرابع عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۵۷€
الدین للوارثوالخصومۃ فی الظلم بالمنع للاول لافی الدین اذ الدین انتقل الی الوارثکذا فی الظہیریۃ ۔ شخص کو قرض میں فریق بننے کا حق نہیں ہے۔لیکن مختار یہ ہے کہ قرض وارثوں کا ہے اور قرض کی ادائیگی سے انکار کے ظلم کا دفاع پہلے مقرر شدہ کے ذمہ ہوگا۔نہ قرض میں اس لئے کہ قرض وارث کو منقل ہوچکاہےظہیریہ میں یوں ہے۔(ت)
اسی طرح فتاوی خانیہ وغیرہ میں ہے۔نیز فتاوی خانیہ میں ہے:
رجل مات ولد علی رجل حقولم یخلف وارثاقالوا یتصدق المدیون بما علیہ من المیتلیکون ذلك ودیعۃ عنداﷲ تعالیفیوصلہ الی خصمہ یوم القیمۃ قلت فافادان من مات لاعن وارث فان الخصومۃ تنتہی الیہولاینتقل عنہ الی بیت المال وکان الفقہ فی ذلك ان الوضع فی بیت المال لیس علی جہۃ الارثبل لان الضوائع تصیر فیأللمسلمین کما نص علیہ فی الدرالمختار واوضحۃ فی ردالمحتار۔واﷲ تعالی اعلم۔ ایك شخص فوت ہوا اس کا دوسرے پر دین ہو اور کوئی وارث نہ ہو تواس صورت میں فقہاء نے فرمایاکہ مقروض اس میت کی طرف سے مال کو صدقہ کرے تاکہ عندالله قیامت میں یہ صدقہ امانت بن کر مستحق تك پہنچ جائے قلت(میں کہتا ہوں کہ)ا س کایہ فائدہ ہوا کہ جو وارث چھوڑے بغیر فوت ہوجائے تو اس کے حق میں مطالبہ ختم ہوجاتاہے او وہ مطالبہ بیت المال کو منتقل نہیں ہوگااس میں نکتہ فہم یہ ہے کہ بیت المال کو لاوارث کا مال بطریقہ وراثت منتقل نہیں ہوتا بلکہ لاوارث باقی ماندہ اشیاء مسلمانوں کے لئے ترکہ بنتی ہےی جیسا کہ درمختارمیں اس پر نص ہے اور اس کی وضاحت ردالمحتار میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۶۸: ۲۷ ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنا مکان خام کو پختہ بنوایااو رکچھ اراضی بکر کے اپنے مکان میں ڈال لی اس پر بکر نے منع کیااس کے منع کرنے پر زید کا بھائی عمرو نے مل کر
اسی طرح فتاوی خانیہ وغیرہ میں ہے۔نیز فتاوی خانیہ میں ہے:
رجل مات ولد علی رجل حقولم یخلف وارثاقالوا یتصدق المدیون بما علیہ من المیتلیکون ذلك ودیعۃ عنداﷲ تعالیفیوصلہ الی خصمہ یوم القیمۃ قلت فافادان من مات لاعن وارث فان الخصومۃ تنتہی الیہولاینتقل عنہ الی بیت المال وکان الفقہ فی ذلك ان الوضع فی بیت المال لیس علی جہۃ الارثبل لان الضوائع تصیر فیأللمسلمین کما نص علیہ فی الدرالمختار واوضحۃ فی ردالمحتار۔واﷲ تعالی اعلم۔ ایك شخص فوت ہوا اس کا دوسرے پر دین ہو اور کوئی وارث نہ ہو تواس صورت میں فقہاء نے فرمایاکہ مقروض اس میت کی طرف سے مال کو صدقہ کرے تاکہ عندالله قیامت میں یہ صدقہ امانت بن کر مستحق تك پہنچ جائے قلت(میں کہتا ہوں کہ)ا س کایہ فائدہ ہوا کہ جو وارث چھوڑے بغیر فوت ہوجائے تو اس کے حق میں مطالبہ ختم ہوجاتاہے او وہ مطالبہ بیت المال کو منتقل نہیں ہوگااس میں نکتہ فہم یہ ہے کہ بیت المال کو لاوارث کا مال بطریقہ وراثت منتقل نہیں ہوتا بلکہ لاوارث باقی ماندہ اشیاء مسلمانوں کے لئے ترکہ بنتی ہےی جیسا کہ درمختارمیں اس پر نص ہے اور اس کی وضاحت ردالمحتار میں ہے۔واﷲ تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۶۸: ۲۷ ذیقعدہ ۱۳۱۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنا مکان خام کو پختہ بنوایااو رکچھ اراضی بکر کے اپنے مکان میں ڈال لی اس پر بکر نے منع کیااس کے منع کرنے پر زید کا بھائی عمرو نے مل کر
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الغصب الباب الرابع عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۵۷€
فتاوٰی قاضیخان کتاب الغصب فصل فی برأۃ الغاصب والمدیون ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۶۹۳€
فتاوٰی قاضیخان کتاب الغصب فصل فی برأۃ الغاصب والمدیون ∞نولکشور لکھنؤ ۴/ ۶۹۳€
مارپیٹ کیاس پر بکر نے اپنا سرجھکا یا تاہم وہ بازنہ آئےاو رعمرو اپنے آپ کو متقی تصور کرتاہے۔اوراہل محلہ کے لوگ بھی ایسا ہی قرار دیتے ہیںاس وجہ سے سے یہ سوال قائم کرکے علمائے کی خدمت میں یہ التماس ہے کہ شاید حکم شریعت کو سن کر عمرو اپنے کئے ہوئے فعل پر نادم ہوا وربکر کے ساتھ آئندہ کچھ زیادتی نہ کرےاو رحکم شرعی زید وعمرو ہمراہیان کے مع تفصیل علیحدہ علیحدہ تحریر فرمائے۔بینوا توجروا
الجواب:
صور ت مستفسہر میں عمروا ور اس کے ساتھی سب ظالم اور مرتکب کبیرہ ومستحق عذاب شدید ہیں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اخذ الارض شیئا بغیر حقہ خسف بہ یوم القیمۃ الی سبع ارضین۔رواہ البخاری عن ابن عمرر ضی اﷲ تعالی عنہم۔ جوشخص زمین میں سے کچھ ٹکڑا ناحق دبالے قیامت کے دن وہ ساتویں زمین تك دھنسایا جائے گا۔(اسے بخاری نے ابن عمرو رضی الله تعالی عنہم سے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
من اذی مسلما فقد اذنی ومن اذانی فقد اذی اﷲ رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ جس نے کسی مسلمان کو ایذادی ا س نے مجھے ایذادیجس نے مجھے ایذا دی اس نے الله کو ایذا دی(اس کوطبرانی نے اوسط میں حضرت انس رضی الله تعالی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔(ت)
تیسری حدیث میں ہے۔فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم ان ظالم فقد خرج من الاسلام ۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عن اوس بن شرحبیل رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جوکسی ظالم کے ساتھ اس کی مدد دینے کو چلا اور اسے معلوم ہوکہ یہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے نکل گیا(اسے طبرانی نے کبیر میں حضرت او س بن شرحبیل رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔(ت)
الجواب:
صور ت مستفسہر میں عمروا ور اس کے ساتھی سب ظالم اور مرتکب کبیرہ ومستحق عذاب شدید ہیں رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اخذ الارض شیئا بغیر حقہ خسف بہ یوم القیمۃ الی سبع ارضین۔رواہ البخاری عن ابن عمرر ضی اﷲ تعالی عنہم۔ جوشخص زمین میں سے کچھ ٹکڑا ناحق دبالے قیامت کے دن وہ ساتویں زمین تك دھنسایا جائے گا۔(اسے بخاری نے ابن عمرو رضی الله تعالی عنہم سے روایت کیا۔ت)
اور فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
من اذی مسلما فقد اذنی ومن اذانی فقد اذی اﷲ رواہ الطبرانی فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالی عنہ بسند حسن۔ جس نے کسی مسلمان کو ایذادی ا س نے مجھے ایذادیجس نے مجھے ایذا دی اس نے الله کو ایذا دی(اس کوطبرانی نے اوسط میں حضرت انس رضی الله تعالی عنہ سے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے۔(ت)
تیسری حدیث میں ہے۔فرماتے ہیں صلی الله تعالی علیہ وسلم:
من مشی مع ظالم لیعینہ وھو یعلم ان ظالم فقد خرج من الاسلام ۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عن اوس بن شرحبیل رضی اﷲ تعالی عنہ۔ جوکسی ظالم کے ساتھ اس کی مدد دینے کو چلا اور اسے معلوم ہوکہ یہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے نکل گیا(اسے طبرانی نے کبیر میں حضرت او س بن شرحبیل رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔(ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین الخ ∞قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۵€۳
المعجم الاوسط للطبرانی ∞حدیث ۳۶۳۲€ مکتبۃ المعارف الریاض ∞۴/ ۳۷۳€
المعجم الکبیر للطبرانی ترجمہ اوس بن شرحبیل ∞حدیث۶۱۹€ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ∞۱/ ۲۲۷€
المعجم الاوسط للطبرانی ∞حدیث ۳۶۳۲€ مکتبۃ المعارف الریاض ∞۴/ ۳۷۳€
المعجم الکبیر للطبرانی ترجمہ اوس بن شرحبیل ∞حدیث۶۱۹€ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ∞۱/ ۲۲۷€
زید پر فرض ہے کہ بکر کی زمین اسے واپس دےاور زید وعمرو اور اس کے سب معاون پر فرض ہے کہ بکر کوراضی کریں اور اس سے اپنا قصو رمعاف کرائیںورنہ روز قیامت اس کے مستحق ہوں گے کہ ان کی نیکیاں بکرکودی جائیںبکر کے گناہ ان کے سرپر رکھے جائیں اوریہ جہنم میں ڈال دئے جائیں۔والعیاذ باللہ۔والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۶۹: از مراد آباد ۳ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے انتقال کیاخالدولیدعمرو پسرانعابدہساجدہ دختران۔حامدہ زوجہ چھوڑےترکہ زید پر صرف خالد قابض رہااس نے ترکہ کو بموجب شرع تقسیم کیامگر عابدہ کو زرنقد سے اس کے حصے کانصف ادا کیا اور نصف دینے کا وعدہ کیابعدہعابدہ نے انتقال کیا ایك پسرایك دختر اورشوہر چھوڑاوارثان متوفاہ نے خالد سے باقی نصف جو زرنقد تھا طلب کیاتب خالدنے نے ایك ہفتہ میں ادا کرنے کا وعدہ کیااسی طرح خالد پر تقاضے ہوتے رہےاور وہ ہفتہ وعشرہ میں ادا کا وعدہ کرتارہا۔آخر کار خالد نے کہہ دیاکہ میرے یہاں چوری ہوگئی اور میرے مال کے ساتھ نصف حصہ عابدہ جومیرے پاس باقی تھا چوری ہوگیابعدہخالد نے اپنے لئے جائداد خریدیاب یہ دریافت طلب ہے کہ نصف حصہ عابدہ جو خالد کے پاس رہ گیا ہے ازروئے شرع شریف کے خالد کے ذمہ واجب الادا ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صور ت مستفسرہ میں بقیہ زرنقد حصہ عابدہ کہ خالدکے پاس رہا تھا خالد پر وارثان عابدہ کے لئے واجب الادا ہے۔اور چوری ہوجانے کا عذر نامسموعترکہ مورث میں ورثاء کی شرکت شرکت ملك ہوتی ہے۔اور شرکت ملك میں ہر شریك دوسرے کے حصے سے اجنبی ہوتاہے۔بے وجہ شرعی مثل وصایت وولایت وغیرہما ایك کو دوسرے کے حصہ پر قبضہ کرنے کا کوئی اختیارنہیں ہوتا۔تنویر الابصار میں ہے:
شرکۃ ملك ان یملك متعدد عینا اودینا بارث اوبیع اوغیرھما وکل اجنبی فی مال صاحبہ ۔(ملتقطا) شرکت ملك یہ ہے کہ متعدد حضرات کسی عین چیز یا دین میں وراثتبیع وغیرہ کے ذریعہ مالك بنیںاور یہ تمام حضرات ایك دوسرے کے مال میں اجنبی متصور ہوں گے۔ (ملتقطا)۔(ت)
مسئلہ ۲۶۹: از مراد آباد ۳ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے انتقال کیاخالدولیدعمرو پسرانعابدہساجدہ دختران۔حامدہ زوجہ چھوڑےترکہ زید پر صرف خالد قابض رہااس نے ترکہ کو بموجب شرع تقسیم کیامگر عابدہ کو زرنقد سے اس کے حصے کانصف ادا کیا اور نصف دینے کا وعدہ کیابعدہعابدہ نے انتقال کیا ایك پسرایك دختر اورشوہر چھوڑاوارثان متوفاہ نے خالد سے باقی نصف جو زرنقد تھا طلب کیاتب خالدنے نے ایك ہفتہ میں ادا کرنے کا وعدہ کیااسی طرح خالد پر تقاضے ہوتے رہےاور وہ ہفتہ وعشرہ میں ادا کا وعدہ کرتارہا۔آخر کار خالد نے کہہ دیاکہ میرے یہاں چوری ہوگئی اور میرے مال کے ساتھ نصف حصہ عابدہ جومیرے پاس باقی تھا چوری ہوگیابعدہخالد نے اپنے لئے جائداد خریدیاب یہ دریافت طلب ہے کہ نصف حصہ عابدہ جو خالد کے پاس رہ گیا ہے ازروئے شرع شریف کے خالد کے ذمہ واجب الادا ہے یانہیں بینوا توجروا
الجواب:
صور ت مستفسرہ میں بقیہ زرنقد حصہ عابدہ کہ خالدکے پاس رہا تھا خالد پر وارثان عابدہ کے لئے واجب الادا ہے۔اور چوری ہوجانے کا عذر نامسموعترکہ مورث میں ورثاء کی شرکت شرکت ملك ہوتی ہے۔اور شرکت ملك میں ہر شریك دوسرے کے حصے سے اجنبی ہوتاہے۔بے وجہ شرعی مثل وصایت وولایت وغیرہما ایك کو دوسرے کے حصہ پر قبضہ کرنے کا کوئی اختیارنہیں ہوتا۔تنویر الابصار میں ہے:
شرکۃ ملك ان یملك متعدد عینا اودینا بارث اوبیع اوغیرھما وکل اجنبی فی مال صاحبہ ۔(ملتقطا) شرکت ملك یہ ہے کہ متعدد حضرات کسی عین چیز یا دین میں وراثتبیع وغیرہ کے ذریعہ مالك بنیںاور یہ تمام حضرات ایك دوسرے کے مال میں اجنبی متصور ہوں گے۔ (ملتقطا)۔(ت)
حوالہ / References
درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الشرکۃ ∞مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۷۰€
خالد نے اگر بے اذن عابدہ قبضہ کیا جب تو ظاہر ہے کہ وہ قبضہ ناجائز تھااور بعد تقاضا ہر بار اس سے روکے رہنا ظلم برظلماور اگر ابتداء قبضہ باذن بھی تھاتو طلب ٹالے بالے حیلے حوالے نے اسے قبضہ ظلم وتعدی کردیابہر حال اب چوری ہوجانا یا خود خرچ کرلینادونوں کاحکم یکساں ہوگیا کہ تاوان لازم ہے۔ ہدایہ میں ہے:
الودیعۃ امانۃ فی یدالمودع اذا ھلکت لم یضمنہ فان طلبہا صاحبہا فمنعہا وھو یقدر علی تسلیمہا ضمنہا لانہ متعد بالمنعوھذا لانہ لما طالبہ لم یکن راضیا بامساکہ بعدہ فیضمنھا بحبسہ عنہ اھ ملتقطا۔ ودیعت مودع کے پاس امانت ہوئی جب ہلاك ہوجائے تو ضمان نہ ہوگاہاں اگر مالك نے واپس لینے کا مطالبہ کیااور مودع نے دینے سے انکار کیاحالانکہ دینے پر قادر تھا تو ہلاك ہونے پر ضامن ہوگا کیونکہ انکار پر وہ ذمہ دار ٹھہرا یہ اس لئے کہ جب مالك نے واپسی کا مطالبہ کیا تو اس کے بعدوہ اس کے پاس رکھنے پر راضی نہ تھا تو وہ روکنے پر ضامن ہوجائے گا اھ ملتقطا۔(ت)
فقیر کہتا ہے غفرالله تعالی لہ:
فانقلت ھذا ظاہر فیما اذا کان قبض خالد باذن عابدۃفانہ حینئذ تکون یدہ یدہافاذا منعہا فقد ازال یدامحقۃ واثبت مبطلۃ ولوحکمافکان غاصبا و الغصب یضمن ہالکا اومستہلکا امااذ قبض ابتداء بعد موت المورث من دون اذن الورثۃ ولا سبق قبض لہم فلم یوجد ازالۃ ید محققہوان ثبت اثبات مبطلۃ ولاغصب اگر تیرا یہ اعتراض ہوکہ یہ اس وقت ظاہر ہے جب خالدنے عابدہ کی اجازت سے قبضہ کیا تو خالد کا قبضہ عابدہ کا قبضہ قرار پایا توجب خالد نے عابدہ کو دینے سے انکار کردیا تو اب یہ قبضہ حق نہ رہا بلکہ ناحق ہوگیا اگرچہ ناحق ہونا حکما ہے تو یوں وہ غاصب بن گیا جبکہ غاصب خودہلاك کرے یاا س سے ہلاك ہوجائے دوونوں صور توں میں ضمان واجب ہوتاہے لیکن موت کے بعد قبضہ کو ورثاء کی اجازت حاصل نہیں۔اور نہ ہی ان کو پہلے قبضہ حاصل تھاتو اب موت کے بعدقبضہ سے رہنا برحق قبضہ زائل نہ ہوااگر چہ یہ ناحق قبضہ ہے
الودیعۃ امانۃ فی یدالمودع اذا ھلکت لم یضمنہ فان طلبہا صاحبہا فمنعہا وھو یقدر علی تسلیمہا ضمنہا لانہ متعد بالمنعوھذا لانہ لما طالبہ لم یکن راضیا بامساکہ بعدہ فیضمنھا بحبسہ عنہ اھ ملتقطا۔ ودیعت مودع کے پاس امانت ہوئی جب ہلاك ہوجائے تو ضمان نہ ہوگاہاں اگر مالك نے واپس لینے کا مطالبہ کیااور مودع نے دینے سے انکار کیاحالانکہ دینے پر قادر تھا تو ہلاك ہونے پر ضامن ہوگا کیونکہ انکار پر وہ ذمہ دار ٹھہرا یہ اس لئے کہ جب مالك نے واپسی کا مطالبہ کیا تو اس کے بعدوہ اس کے پاس رکھنے پر راضی نہ تھا تو وہ روکنے پر ضامن ہوجائے گا اھ ملتقطا۔(ت)
فقیر کہتا ہے غفرالله تعالی لہ:
فانقلت ھذا ظاہر فیما اذا کان قبض خالد باذن عابدۃفانہ حینئذ تکون یدہ یدہافاذا منعہا فقد ازال یدامحقۃ واثبت مبطلۃ ولوحکمافکان غاصبا و الغصب یضمن ہالکا اومستہلکا امااذ قبض ابتداء بعد موت المورث من دون اذن الورثۃ ولا سبق قبض لہم فلم یوجد ازالۃ ید محققہوان ثبت اثبات مبطلۃ ولاغصب اگر تیرا یہ اعتراض ہوکہ یہ اس وقت ظاہر ہے جب خالدنے عابدہ کی اجازت سے قبضہ کیا تو خالد کا قبضہ عابدہ کا قبضہ قرار پایا توجب خالد نے عابدہ کو دینے سے انکار کردیا تو اب یہ قبضہ حق نہ رہا بلکہ ناحق ہوگیا اگرچہ ناحق ہونا حکما ہے تو یوں وہ غاصب بن گیا جبکہ غاصب خودہلاك کرے یاا س سے ہلاك ہوجائے دوونوں صور توں میں ضمان واجب ہوتاہے لیکن موت کے بعد قبضہ کو ورثاء کی اجازت حاصل نہیں۔اور نہ ہی ان کو پہلے قبضہ حاصل تھاتو اب موت کے بعدقبضہ سے رہنا برحق قبضہ زائل نہ ہوااگر چہ یہ ناحق قبضہ ہے
حوالہ / References
الہدایہ کتاب الودیعۃ ∞مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۲۷۱€
الابعد اجتماعہما ففیم یضمن قلت یضمن ضمان التعدی وان لم یعد غاصباقال السید العلامۃ الازھری فی فتح اﷲ المعینفان قیل وجدالضمان فی مواضع ولم تتحق العلۃ المذکورۃ کغاصب الغاصب فانہ یضمنوان لم یزل یدالمالك بل ازال ید الغاصبوالملتقط اذا لم یشہد مع القدرۃ علی الاشہاد مع انہ لم یزل یداوتضمن الاموال بالاتلاف تسبیبا کحفر البیرفی غیر الملك ولیس ثمۃ اذالۃ یداحد ولااثباتہا فالجواب ان الضمان فی ھذہ المسائل لا من حیث تحقق الغصب بل من حیث وجود التعدی کما فی العنایۃ الخ۔ تو ضمان تب واجب ہوتاہے جب حق کا زوال او رناحق کا اثبات دونوں جمع ہوںتو صرف ناحق قبضہ پر ضمان کیونکر لازم ہوگاجواب میں میں کہتاہوں کہ یہاں ادائیگی سے منع پر ضمان ہے اگر چہ یہ غصب نہیں ہے سید علامہ ازہری نے فتح الله المعین میں فرمایا ہے اگر اعتراض کیا جائے کہ کئی مقامات پر ضمان واجب ہوتاہے حالانکہ وہاں مذکورہ علت نہیں پائی جاتیمثلاغاصب ضامن ہوتاہےاگرچہ اس نے مالك کا قبضہ زائل نہ کیا بلکہ اس نے غاصب کا قبضہ توڑاہے اور یونہی گری ہوئی چیز اٹھانے والا جب اس پر گواہ بناسکتا تھا او رگواہ نہ بنائے حالانکہ اس نے بھی مالك کا قبضہ نہ توڑا اور یوں ہی ہلاکت کا سبب بنانے پر بھی مال کی ہلاکت کا ضامن بنایا جاتاہے مثلا غیر کی ملك میں کنواں کھودنااس میں بھی مالك کا قبضہ نہ توڑا اورنہ ہی باطل قبضہ ثابت ہواتو جواب یہ ہے کہ ان مسائل میں اگرچہ غصب متحقق نہ ہوا اس کے باوجود ضمان اس لئے ہے کہ یہاں تعدی پائی گئی ہےجیساکہ عنایہ میں ہے الخ۔ (ت)
ہندیہ میں تاتارخانیہ سے ہے:
سئل ابو حامد عن مسافر حمل امتعتہ علی سفینۃ لیذھب الی بلدۃثم مات ومعہ ابنہ فاخرج الابن تلك الامتعۃ من تلك السفینۃ الی سفینۃ اخری لیذھب لیسلمہا الی سائر الورثۃ ابوحامد سے سوال ہواکہ مسافر نے سامان ایك کشتی میں رکھا وہ کشتی والا مسافر فوت ہوگیا اس کے بیٹے نے جو ہمراہ تھا دوسری کشتی میں سامان لادا تاکہ باقی وارثوں کو سامان پہنچائےھ لیکن ا س نے اپنے والد کو طے کردہ راستہ کو چھوڑ کر
ہندیہ میں تاتارخانیہ سے ہے:
سئل ابو حامد عن مسافر حمل امتعتہ علی سفینۃ لیذھب الی بلدۃثم مات ومعہ ابنہ فاخرج الابن تلك الامتعۃ من تلك السفینۃ الی سفینۃ اخری لیذھب لیسلمہا الی سائر الورثۃ ابوحامد سے سوال ہواکہ مسافر نے سامان ایك کشتی میں رکھا وہ کشتی والا مسافر فوت ہوگیا اس کے بیٹے نے جو ہمراہ تھا دوسری کشتی میں سامان لادا تاکہ باقی وارثوں کو سامان پہنچائےھ لیکن ا س نے اپنے والد کو طے کردہ راستہ کو چھوڑ کر
حوالہ / References
فتح المعین کتاب الغصب ∞ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳/ ۳۱۰€
واخذ طریقا یسبلکہ الناس غیر الطریق الذی کان المیت علی عزم ان یذھب فیہثم غرقت السفینۃ و مات الابن وضاعت الامتعۃھل یضمن الابن نصیب سائرا لورثۃفقال لاوسئل عنہا مرۃ اخری فقال ان کان اخرجہا الی سفینۃ اخری ومضی بہا الی مکان اخر سوی وطن الورثۃ ضمن ۔واﷲ تعالی اعلم۔ لوگوں کے عام معروف راستے پر کشی کو چلایا اور کشتی بمعہ سامان اور لڑکے غرق ہوگئیتو کیا اس صور ت میں بیٹے پر ضمان عائد ہوگا تو آپ نے جواب میں فرمایا ضمان نہ ہوگا۔پھر ان سے ایك مرتبہ یہی سوال ہوا تو انھوں نے جواب دیا کہ اگر بیٹا وہ سامان دوسری کشتی میں لاد کر سامان کے مالکوں کے وطن کی بجائے دوسرے مقام کی طرف لے گیا تو ضامن ہوگا۔ والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۷۰: از بنگالہ ضلع چاٹگام تھانہ راؤجاں موضع پہمرا مرسلہ مولوی اسمعیل صاحب ۱۴ شوال ۱۳۲۱ھ
چہ می فرمایندعلمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ شخصے مثلا زید چندپسران خود یعنی خالد وبکر وغیرہ واموال منقولہ وغیر منقولہ راگزاشتہ از سرائے فانی بدارباقی رحلت فرموداکنوں از خالد اموال مذکورہ پدر متوفی خود رابزور بازو و حسب فرائض الله تقسیم مستقیم نانمودہ وبکر وغیرہ ندادہ۔بقبضہ تصرف خود آوردن از قبیل غصب ست یانہوخود خوردن بل دیگراں را کہ خارج از ورثہ باشد خورانیدنومہمانی ایشاں نمودنوخود میزبان گردیدنوبجانب مستحقان اموال مقبوضہ وامتعہ موصوفہ التفات نہ کردنایں فعل شرعا صحیح است یانہو غاصب از اشیائے مغصوبہ ضیافت ومہمانی علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مثلا زید نے اپنی وفات کے بعد منقولہ اور غیر منقولہ مال ترکہ چھوڑا اور ورثاء میں اپنے چند بیٹے خالد اور بکر وغیرہ چھوڑےاب خالد نے بزور بازو اپنے مرحوم والد کے تمام مال پر قبضہ کرلیا ہے۔اور الله تعالی کے حکم کے مطابق ورثاء میں تقسیم نہ کیااور بھائی بکرو غیرہ کو کچھ نہ دیابلکہ اپنے تصرف میں لایاکیااس کی یہ کاروائی غصب ہے یانہیں اورخود کھانا بلکہ غیروارثوں مہمانوں کو میزبان کے طور پر کھانا اور مستحق حضرات کی طرف کوئی التفات نہ کرنا شرعا یہ فعل صحیح ہے یانہیں اور غاصب کو مغصوبہ مال میں سے ضیافت کرنا نیز مہمانوں اور دیگر حضرات کو یہ کھانا
مسئلہ ۲۷۰: از بنگالہ ضلع چاٹگام تھانہ راؤجاں موضع پہمرا مرسلہ مولوی اسمعیل صاحب ۱۴ شوال ۱۳۲۱ھ
چہ می فرمایندعلمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں مسئلہ کہ شخصے مثلا زید چندپسران خود یعنی خالد وبکر وغیرہ واموال منقولہ وغیر منقولہ راگزاشتہ از سرائے فانی بدارباقی رحلت فرموداکنوں از خالد اموال مذکورہ پدر متوفی خود رابزور بازو و حسب فرائض الله تقسیم مستقیم نانمودہ وبکر وغیرہ ندادہ۔بقبضہ تصرف خود آوردن از قبیل غصب ست یانہوخود خوردن بل دیگراں را کہ خارج از ورثہ باشد خورانیدنومہمانی ایشاں نمودنوخود میزبان گردیدنوبجانب مستحقان اموال مقبوضہ وامتعہ موصوفہ التفات نہ کردنایں فعل شرعا صحیح است یانہو غاصب از اشیائے مغصوبہ ضیافت ومہمانی علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص مثلا زید نے اپنی وفات کے بعد منقولہ اور غیر منقولہ مال ترکہ چھوڑا اور ورثاء میں اپنے چند بیٹے خالد اور بکر وغیرہ چھوڑےاب خالد نے بزور بازو اپنے مرحوم والد کے تمام مال پر قبضہ کرلیا ہے۔اور الله تعالی کے حکم کے مطابق ورثاء میں تقسیم نہ کیااور بھائی بکرو غیرہ کو کچھ نہ دیابلکہ اپنے تصرف میں لایاکیااس کی یہ کاروائی غصب ہے یانہیں اورخود کھانا بلکہ غیروارثوں مہمانوں کو میزبان کے طور پر کھانا اور مستحق حضرات کی طرف کوئی التفات نہ کرنا شرعا یہ فعل صحیح ہے یانہیں اور غاصب کو مغصوبہ مال میں سے ضیافت کرنا نیز مہمانوں اور دیگر حضرات کو یہ کھانا
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الغصب الباب الرابع عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۵۷۔۱۵۶€
کردن ونیز مہمان وخورندگان رازاں خوردن شرعا نافذ است یانہواگر غاصب برفعل غصب اصرار کند وآں تعامل او معلوم می شود کہ غصب راغصب نہ فہمد بلکہ فعل غصب رانومے از حرفت وپیشہ شمردحسب شرع شریف بروجہ تعزیر واجب خواہد شدبینو بسند الکتاب وتوجروا الی ملك الوھاب۔ شرعا جائز ہے یانہیں اورغاصب اپنے غاصبانہ عمل پر اصرار کرے اور اس کو معمول کی کاروائی سمجھے اور غصب نہ سمجھے بلکہ غاصبانہ کاروائی کو وہ ہمیشہ بنالے تو کیا شرعا وہ تعزیر کا مستحق ہے کتاب کی سند کے ساتھ بیان کیجئے اور ملك الوہاب سے اجر پائیے۔(ت)
الجواب:
حرکت مذکورہ بالیقین غصب وحرام ستقال اﷲ تعالی " لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل " وغاصب اگر از عین مغصوب کسے راہبہ کند یا ہدیہ دہدیا ضیافت خوراند یا باجرت وتنخواہ یا قیمت چیزے دہدبہر صورت مردماں راگر فتن و خوردنش حرام ست وقد تناول الکل الایۃ المتلوۃ کما لایخفی و باصرار بغصب جز زیادت در وبال عذاب واستحقاق نارجہنم چیزے فزوں نشودو مجردایں تعامل دلیل بیش ازیں نباشد آری اگر ثابت شود کہ غصب حرام شرعی راحلال می دارند آنگاہ البتہ لزوم کفر ست بلکہ عندالتحقیق بلا شبہ کفر باشد لان المدار علی کون ماانکرہ من ضروریات الدین و لا شك ان حرمۃ الغصب من دون حیلۃ شرعیۃ کمن یرید اخذحقہ من المنکر ولاضرورۃ ملجئۃ تمکن مذکورہ عمل یقینا غصب اورحرام ہے۔الله تعالی نے فرمایا: آپس کا مال باطل طریقہ سے نہ کھاؤاور غاصب اگر عین مغصوبہ چیز کسی کو دے یاہدیہضیافتاجرت تنخواہ یا کسی چیز کی قیمت کے طورپر دے تو لوگوں کو لینا اورکھانا حرام ہے اور آیہ کریمہ مذکورہ ان تمام صورتوں کو شامل ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہےاور غصب پر اصرار سے عذاب اور وبال اور استحقاق جہنم کے علاوہ کیا زائد ہوگااور اس کو معمول بنالینا اس سے زائد پر دلیل نہیں ہے ہاں اگر معلوم ہوجائے کہ اس نے حرام کو حلال جانا تو اسی وقت لزوم کفر ہوگا بلکہ عندالتحقیق بلاشبہ کفر ہوگا کیونکہ کفر کا دارومدار ضروریات دین کے انکار پر ہے او راس میں شك نہیں کہ بغیر حیلہ شرعیہ مثلا کسی سے اپنے حق کے بدلے لینا جبکہ وہ منکر ہو اور بغیر ایسی ضرورت جو اس کو مخمصہ میں مبتلا
الجواب:
حرکت مذکورہ بالیقین غصب وحرام ستقال اﷲ تعالی " لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل " وغاصب اگر از عین مغصوب کسے راہبہ کند یا ہدیہ دہدیا ضیافت خوراند یا باجرت وتنخواہ یا قیمت چیزے دہدبہر صورت مردماں راگر فتن و خوردنش حرام ست وقد تناول الکل الایۃ المتلوۃ کما لایخفی و باصرار بغصب جز زیادت در وبال عذاب واستحقاق نارجہنم چیزے فزوں نشودو مجردایں تعامل دلیل بیش ازیں نباشد آری اگر ثابت شود کہ غصب حرام شرعی راحلال می دارند آنگاہ البتہ لزوم کفر ست بلکہ عندالتحقیق بلا شبہ کفر باشد لان المدار علی کون ماانکرہ من ضروریات الدین و لا شك ان حرمۃ الغصب من دون حیلۃ شرعیۃ کمن یرید اخذحقہ من المنکر ولاضرورۃ ملجئۃ تمکن مذکورہ عمل یقینا غصب اورحرام ہے۔الله تعالی نے فرمایا: آپس کا مال باطل طریقہ سے نہ کھاؤاور غاصب اگر عین مغصوبہ چیز کسی کو دے یاہدیہضیافتاجرت تنخواہ یا کسی چیز کی قیمت کے طورپر دے تو لوگوں کو لینا اورکھانا حرام ہے اور آیہ کریمہ مذکورہ ان تمام صورتوں کو شامل ہے جیسا کہ مخفی نہیں ہےاور غصب پر اصرار سے عذاب اور وبال اور استحقاق جہنم کے علاوہ کیا زائد ہوگااور اس کو معمول بنالینا اس سے زائد پر دلیل نہیں ہے ہاں اگر معلوم ہوجائے کہ اس نے حرام کو حلال جانا تو اسی وقت لزوم کفر ہوگا بلکہ عندالتحقیق بلاشبہ کفر ہوگا کیونکہ کفر کا دارومدار ضروریات دین کے انکار پر ہے او راس میں شك نہیں کہ بغیر حیلہ شرعیہ مثلا کسی سے اپنے حق کے بدلے لینا جبکہ وہ منکر ہو اور بغیر ایسی ضرورت جو اس کو مخمصہ میں مبتلا
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۸۸€
فی المخمصۃ من ضروریات الدین وبعد ھذا لایتجہ الفرق بکون الحرمۃ لعینہ اولغیرہکما وقع عن بعض العلماءواﷲ تعالی اعلم۔ کردے غصب کی حرمت ضروریات دین میں سے ہے تو ایسی صورت میں حرمت لعینہ او لغیرہ کافرق کام نہ دے گا جیساکہ بعض علماء سے یہ سرزد ہوا ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۷۱:
چہ می فرمایند فہقائے دن وفضلائے شرع متین اندریں مسئلہ کہ شخصے مثلا زید چہارپسریعنی عمرو و خالد وبکر وہاشم واموال منقولہ وغیرمنقولہ را متروك داشتہ از سرائے فانی بسرائے باقی رحلت فرمودبعد ہخالد وبکر وہاشم ازاراضی پدر متوفی ہر یك حسب خرچ خوردپوش بگیرندومابقی نزد عمرو موجو استامام از بہر اوشان قدر زائد است لکن عمر واز قد زائد اخراجات جمیع اراضی خود وبرادارں را انجام فی دہدتاکہ جہت آں رادفتر سرکاری خوف وتلف برکل مال پیش نیابندپس درایں صورت عمرو راغاصب وکافر خواندہ ومہمانی ودعوات خوردندوقبول نموند حسب شرع شریف صحیح است یانہونیز زمین کہ عمرو از کسب خود خریداست باز بوقت قسمت صحیح خالد وغیرہ از شیئ مکسوب عمرو طلبیدن شرعا جائز است یانہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور فضلائے شرع متین ا س مسئلہ میں کہ ایك شخص مثلازید فوت ہو ااس نے منقولہ وغیرہ منقولہ مال اور چار بیٹے عمروخالدبکر اور ہاشم وارث چھوڑےخالد بکر اور ہاشم نے اپنے مرحوم والد کی زمین سے خوراك ولباس کے اخراجات کے مطابق حصہ وصول کرلیا اور باقی جو کھ ہے وہ عمرو کے پاس موجود ہے تاہم دوسروں کی نسبت اس کے پاس زیادہ ہے لیکن اس زائد سے اپنی اور بھائیوں کی تمام زمین کے جملہ اخراجات پورے کرتاہے تاکہ سرکاری دفاتر سے ضرر رسانی کے خطرے کو پورے مال پر سے ختم کیا جائے۔تو کیا اس صورت میں عمرو کو غاصب وکافر کہنا اور اس کی دعوت مہمانی کھانا اور قبول کرنا شریعت کی رو سے جائز ہے یانہیں نیز عمرو نے اپنی کمائی سے جو زمین خریدی ہے اس کو تقسیم سے الگ رکھنا صحیح ہے اور خالد وغیرہ کا عمرو کی کمائی کو طلب کرنا شرعا جائز ہے یانہیں(ت)
الجواب:
اگر عمرو برضائے دیگر ورثہ براں اراضی حصہ دیگر قابض ستوخزانہ از جانب ایشاں می دہدوہر چہ زیادت محاصل بود اگر عمرو باقی وارثوں کی رضامندی سے ان کے حصہ پر قابض ہے اوراخراجات سرکاری ان کی طرف سے ادا کرکے باقی آمدن کو مساوی
مسئلہ ۲۷۱:
چہ می فرمایند فہقائے دن وفضلائے شرع متین اندریں مسئلہ کہ شخصے مثلا زید چہارپسریعنی عمرو و خالد وبکر وہاشم واموال منقولہ وغیرمنقولہ را متروك داشتہ از سرائے فانی بسرائے باقی رحلت فرمودبعد ہخالد وبکر وہاشم ازاراضی پدر متوفی ہر یك حسب خرچ خوردپوش بگیرندومابقی نزد عمرو موجو استامام از بہر اوشان قدر زائد است لکن عمر واز قد زائد اخراجات جمیع اراضی خود وبرادارں را انجام فی دہدتاکہ جہت آں رادفتر سرکاری خوف وتلف برکل مال پیش نیابندپس درایں صورت عمرو راغاصب وکافر خواندہ ومہمانی ودعوات خوردندوقبول نموند حسب شرع شریف صحیح است یانہونیز زمین کہ عمرو از کسب خود خریداست باز بوقت قسمت صحیح خالد وغیرہ از شیئ مکسوب عمرو طلبیدن شرعا جائز است یانہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور فضلائے شرع متین ا س مسئلہ میں کہ ایك شخص مثلازید فوت ہو ااس نے منقولہ وغیرہ منقولہ مال اور چار بیٹے عمروخالدبکر اور ہاشم وارث چھوڑےخالد بکر اور ہاشم نے اپنے مرحوم والد کی زمین سے خوراك ولباس کے اخراجات کے مطابق حصہ وصول کرلیا اور باقی جو کھ ہے وہ عمرو کے پاس موجود ہے تاہم دوسروں کی نسبت اس کے پاس زیادہ ہے لیکن اس زائد سے اپنی اور بھائیوں کی تمام زمین کے جملہ اخراجات پورے کرتاہے تاکہ سرکاری دفاتر سے ضرر رسانی کے خطرے کو پورے مال پر سے ختم کیا جائے۔تو کیا اس صورت میں عمرو کو غاصب وکافر کہنا اور اس کی دعوت مہمانی کھانا اور قبول کرنا شریعت کی رو سے جائز ہے یانہیں نیز عمرو نے اپنی کمائی سے جو زمین خریدی ہے اس کو تقسیم سے الگ رکھنا صحیح ہے اور خالد وغیرہ کا عمرو کی کمائی کو طلب کرنا شرعا جائز ہے یانہیں(ت)
الجواب:
اگر عمرو برضائے دیگر ورثہ براں اراضی حصہ دیگر قابض ستوخزانہ از جانب ایشاں می دہدوہر چہ زیادت محاصل بود اگر عمرو باقی وارثوں کی رضامندی سے ان کے حصہ پر قابض ہے اوراخراجات سرکاری ان کی طرف سے ادا کرکے باقی آمدن کو مساوی
بعدل قسمت می کندیا از منافع آناں رابقدر خورد پوش می دہدوباقی رابرضائے آناں پیش خود جمع می دارددریں صورت عمرو ہر گز غاصب نیست لو جودالاذن من الملاك فی القبض وعدم تصرف باطل فی خراج الارض واگر نہ چنان ست بلکہ بے رضائے آناں برحصص آنا قبضہ کردہ است ودرحقوق آناں تصرفات بیجا برائے خود می کندضرور غاصب بودواما کافر نیست لانہ لایخرج الانسان من الاسلام الا جحودما ادخلہ فیہ درصورت اولی دعوت زید قبول کردن بلادغدغہ رواستو نیز درصورت ثانیہ اگر دعوت از مال خودش کندواگر ازمال غصب میکند خوردن مغصوب روا نیست بلکہ در صورت ثانیہ چوں غاصب ومصر علی الغصب باشد با او اختلاط نشاید کردودعوتش ازمال خودش ہم نباید خورد لیکون زجر الہ ولامۃ لہ۔زمین کہ عمرو ا ز کسب خود خر یداست خالد وغیرہ رااز وحصہ خواستن روانیستفان سہم الوراث فی المورث دون مملوك وارث اخرواﷲ تعالی اعلم۔ تقسیم کرتاہے یا منافع میں سے ان کے خورد ونوش وپوش کے اخراجات ان کو دیتاہے اور باقیماندہ کو ان کی رضامندی سے اپنے پاس جمع رکھتاہے ا س صورت میں عمرو ہر گز غاصب نہیں ہے کیونکہ مالکوں کی طرف سے قبضہ کی اجازت ہے اور زمین کی آمدن میں کوئی باطل تصرف نہیں ہے اور اگر ایسا نہیں بلکہ ان کی رضامندی کے بغیر ان کے حصوں پر قبضہ کئے ہوئے ہے اور ان کے حقوق میں بے جا اپنی مداخلت کرتاہے تو ضرور غاصب ہے لیکن وہ کافر نہیں ہے کیونکہ جو چیز اسلام میں داخل کرتی ہے اسی کے انکار سے اسلام سے خارج ہوتاہے۔اور پہلی صور ت میں اس کی دعوت قبول کرنا بلاشبہہ جائز ہے لیکن دوسری صور ت میں اگر اپنے مال سے دعوت کرے تو بھی قبول کرنا جائز ہے اوراگر مغصوبہ مال سے دعوت کرے تو وہ ناجائز ہے اور اگر دوسری صورت میں وہ غاصبانہ کاروائی پر اصرار کرے اس سے میل جول منع ہے اور اس کے اپنے مال کی دعوت بھی قبول نہیں کرنی چاہئے تاکہ اس کو زرجر وملامت ہوسکے عمرو کی اپنی کمائی سے خرید کردہ زمین سے خالدوغیرہ کو حصہ طلب کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ وارث کا حصہ مورث کے مال میں ہے دوسرے وارث کی ملکیت میں نہیں ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۷۲: از مجیب نگر ڈاك خانہ مونڈا سواراں ضلع کھیری مرسلہ مجیب رحمان خاں ۴ شعبان ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور قاضیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کا انتقال ہوا۔
مسئلہ ۲۷۲: از مجیب نگر ڈاك خانہ مونڈا سواراں ضلع کھیری مرسلہ مجیب رحمان خاں ۴ شعبان ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور قاضیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کا انتقال ہوا۔
عجلت تیاری میں غلطی سے ایك چٹائی مسجد کی بانی مسجد نے یہ سمجھ کر کہ ایك چٹائی ایسے تنگ وقت دستیاب نہ ہو سکے گی۔اور مسجد میں دوسری چٹائی بجائے اس کے رکھ دی جائے گیلے کرمیت کے تختوں پرجوقبر میں بچھائی گئی تھی اس لئے کہ مٹی قبر کی درازتختہ سے نہ چھنےڈال دیاور وہ قبر میں کام آگئیتو ایسی حالت میں ایسے شخص کے لئے جس نے میت معروضہ سے مسجد کی چٹائی ضرورت مذکورہ میں بحوالہ عجلت بکار مسطورہ اٹھائیشرع شریف کا کیاحکم ہے اور اس کا کفارہ کچھ ہوسکتاہے یاکیا فقط
الجواب:
وہ گنہ گار اور مجرم خاص حقیقی سرکار ہوالغصبہ الوقف فلیس فی تاثمیہ وقف(اس کے وقف کو غصب کرنے میں گناہ میں کوئی شك نہیں ہے۔ت)اس کا کفارہ صدق دل سے توبہ ہےویتوب اﷲ علی من تاب(الله تعالی توبہ کر نے والے کی توبہ کو قبول فرماتاہے۔ت)او رویسی ہی چٹائی یا اس سے بہتر مسجد میں ڈالنااور وسعت رکھتاہے تو خدمت مسجد وحاجت روائی صلحاء و مساکین میں بقدر قدرت پاك نیت سے صرف کرے کہ اس کی خدمت پسندسرکارہواور رحمت توجہ فرماکر گناہ دھودے
قال اﷲ تعالی" ان الحسنت یذہبن السیات ذلک ذکری للذکرین ﴿۱۱۴﴾ " ۔واﷲ تعالی اعلم الله تعالی نے فرمایا:نیکیاں ختم کردیتی ہیں برائیوں کویہ نصیحت حاصل کرنے والوں کےلئے نصیحت ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۷۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید فوت ہوگیا ور اس نے مال تجارتی اور دیگر جائداد زر خریداپنی بشراکت اپنے بردار حقیقی عبدالرحیم کے چھوڑی اور اس مال میں سے نفع جائداد سے کرایہ تخمینا بارہ سال کے عبدالرحیم حاصل کرتا ہے۔اور دوسرا مال اورجائداد موروثی جو والدین سے پایا وہ بھی چھوڑااب مال اپنا زر خریداور جائداد موروثی کس طرح پر تقسیم ہوگا۔وارث اپنے چھوڑےایك زوجہدوبھائیایك بھتیجا اور دو ہمشیریں اور تین بیٹیاں اپنیاور قرضہ عبدالغفور فوت شدہ نے بشراکت عبدالرحیم کے دین مہر اپنی زوجہ دینا چھوڑااب اس میں سے کون ساقرضہ ادا کیا جائے گا۔اور ازروئے شرع شریف کے وہ مال کس طرح پر تقسیم ہوگا
الجواب:
وہ گنہ گار اور مجرم خاص حقیقی سرکار ہوالغصبہ الوقف فلیس فی تاثمیہ وقف(اس کے وقف کو غصب کرنے میں گناہ میں کوئی شك نہیں ہے۔ت)اس کا کفارہ صدق دل سے توبہ ہےویتوب اﷲ علی من تاب(الله تعالی توبہ کر نے والے کی توبہ کو قبول فرماتاہے۔ت)او رویسی ہی چٹائی یا اس سے بہتر مسجد میں ڈالنااور وسعت رکھتاہے تو خدمت مسجد وحاجت روائی صلحاء و مساکین میں بقدر قدرت پاك نیت سے صرف کرے کہ اس کی خدمت پسندسرکارہواور رحمت توجہ فرماکر گناہ دھودے
قال اﷲ تعالی" ان الحسنت یذہبن السیات ذلک ذکری للذکرین ﴿۱۱۴﴾ " ۔واﷲ تعالی اعلم الله تعالی نے فرمایا:نیکیاں ختم کردیتی ہیں برائیوں کویہ نصیحت حاصل کرنے والوں کےلئے نصیحت ہے۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۷۳:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید فوت ہوگیا ور اس نے مال تجارتی اور دیگر جائداد زر خریداپنی بشراکت اپنے بردار حقیقی عبدالرحیم کے چھوڑی اور اس مال میں سے نفع جائداد سے کرایہ تخمینا بارہ سال کے عبدالرحیم حاصل کرتا ہے۔اور دوسرا مال اورجائداد موروثی جو والدین سے پایا وہ بھی چھوڑااب مال اپنا زر خریداور جائداد موروثی کس طرح پر تقسیم ہوگا۔وارث اپنے چھوڑےایك زوجہدوبھائیایك بھتیجا اور دو ہمشیریں اور تین بیٹیاں اپنیاور قرضہ عبدالغفور فوت شدہ نے بشراکت عبدالرحیم کے دین مہر اپنی زوجہ دینا چھوڑااب اس میں سے کون ساقرضہ ادا کیا جائے گا۔اور ازروئے شرع شریف کے وہ مال کس طرح پر تقسیم ہوگا
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۱۱/ ۱۴€
الجواب:حسب شرائط فرائض عبدالغفور کا جو کچھ ترکہ ہے خواہ موروثیخواہ خرید کردہ۔ا س سب سے عبدالغفور پرجو کچھ دین ہے تقسیم ترکہ سے پہلے اسے ادا کریں۔دین مہر زوجہ اور دوسرا قرضہ جو عبدالرحیم کی شرکت میں تھا سب برابر ہےاگر چہ جائداد اس میں مہر وقرضہ کے مجموعہ سے کم یابرابر ہوتو سب ترکہ مہروقرض میں حصہ رسد دیا جائےخواہ کسی وارث کو وراثۃ کچھ نہ ملے۔اوراگر ترکہ زیادہ ہے تو مہر و قرض میں جس قدرواجب ہے تمام وکمال اداکرکےاس کے بعدجو بچے اس کی تہائی سے عبدالغفور کی وصیت اگر اس نے کی ہو نافذ کی جائےباقی کے ۱۴۴(ایك سو چوالیس)حصے ہوکر اٹھارہ سہم زوجہ اور تئیس تئیس سہم ہردختراور دس دس سہم ہر برادراور پانچ پانچ سہم ہر خواہر کودیںاور بھتیجا کچھ نہ پائے گا۔اوربعد موت عبدالغفور جو نفع مال مشترك سے عبدالرحیم نے حاصل کیا اسے چاہئے کہ عبدالغفور کےحصہ کا نفع اس میں سے اپنے حصہ یعنی بہتر۷۲ حصوں سے پانچ حصے نکال کر باقی دیگر ورثاء عبدالغفور کو دے دے
لانہ حصلہ بوجہ خبیث وکان علیہ اخراجہ اما صدقۃ اوردا علی المالکوھوا لافضل کما فی الخیریۃ و الہندیۃ وغیرھما۔ کیونکہ اس نے خبیث طریقہ سے حاصل کیاہےاس پر اپنی ملکیت سے باہر کرنا لازم ہے یا صدقہ کرے یا مالك کو واپس کرے اور یہ افضل ہے جیسا کہ خیریہ میں اور ہندیہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
اس صورت میں کہ مہر وقرض مل کر جملہ ترك عبدالغفور سے زائد یا برابر نہ ہولان الدین اذا لم یستغرق ینتقل الملك الی الورثۃ(کیونکہ اگرمیت کا قرضہ ترکہ پر حاوی نہ ہو تو ورثاء کی ملك ہوگا۔ت)اور اگر زائد یا برابر تھا تو جو نفع حصہ عبدالغفور سے حاصل کیا ہے تمام وکمال فقیروں پر صدقہ کردینا اس پر واجب ہے نہ کرے گا تو گنہ گار ہوگا۔
لان الدین المستغرق یمنع ملك الورثۃ کما فی الاشباہ ۔وحق الدائن فی المالیۃ فلا مالك یرد علیہ فتعین التصدق وجوبا۔ کیونکہ ترکہ پر اگر قرض حاوی ہو تو ورثاء کی ملك نہ ہوگا۔جیسا کہ الاشباہ میں ہے اور مالیت پر قرض خواہ کا حق ہے تو اس کا کوئی مالك نہیں ہے جس پرواپس کیاجائے لہذا لازما صدقہ کرنا متعین ہوگا۔(ت)
لانہ حصلہ بوجہ خبیث وکان علیہ اخراجہ اما صدقۃ اوردا علی المالکوھوا لافضل کما فی الخیریۃ و الہندیۃ وغیرھما۔ کیونکہ اس نے خبیث طریقہ سے حاصل کیاہےاس پر اپنی ملکیت سے باہر کرنا لازم ہے یا صدقہ کرے یا مالك کو واپس کرے اور یہ افضل ہے جیسا کہ خیریہ میں اور ہندیہ وغیرہ میں ہے۔(ت)
اس صورت میں کہ مہر وقرض مل کر جملہ ترك عبدالغفور سے زائد یا برابر نہ ہولان الدین اذا لم یستغرق ینتقل الملك الی الورثۃ(کیونکہ اگرمیت کا قرضہ ترکہ پر حاوی نہ ہو تو ورثاء کی ملك ہوگا۔ت)اور اگر زائد یا برابر تھا تو جو نفع حصہ عبدالغفور سے حاصل کیا ہے تمام وکمال فقیروں پر صدقہ کردینا اس پر واجب ہے نہ کرے گا تو گنہ گار ہوگا۔
لان الدین المستغرق یمنع ملك الورثۃ کما فی الاشباہ ۔وحق الدائن فی المالیۃ فلا مالك یرد علیہ فتعین التصدق وجوبا۔ کیونکہ ترکہ پر اگر قرض حاوی ہو تو ورثاء کی ملك نہ ہوگا۔جیسا کہ الاشباہ میں ہے اور مالیت پر قرض خواہ کا حق ہے تو اس کا کوئی مالك نہیں ہے جس پرواپس کیاجائے لہذا لازما صدقہ کرنا متعین ہوگا۔(ت)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملك ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۲۰۴€
رہا وہ کرایہ جو جائداد مشترکہ سے عبدالرحیم نے بعد موت عبدالغفور حاصل کیااس کی نسبت سائل کا بیان ہے کہ وہ جائداد ایك زمین ہے جسے دونوں بھائیوں نے شرکت میں خریدا کہ اس میں کچھ مکان بنوائے یاکرایہ پر چلوائے خاص کر ایہ پر دینے کی نیت نہ تھیاو ر وہ زمین حیات عبدالغفور میں کبھی پڑی رہتی کبھی اس کا کوئی ٹکڑا کرایہ پر رہتا فلم تدخل فی المعد للا ستغلال (تو وہ زمین اجارہ کے لئے تیار میں نہ داخل ہوئی۔ت)تینوں بیٹیوں میں موت عبدالغفور کے وقت ایك جوان تھی دوسری دس برس کی تیسری دو برس کیتو اگر مہرو قرض سب ملك کر تمام متروکہ سے کم مقدار پر تھے تویہ مشترك زمین کہ بعد عبدالغفور کے عبد الرحیم نے خاص اپنے قبضہ مالکانہ میں رکھی او رکرایہ پر چلائیموت عبدالغفور سے اس وقت کہ یہ دونوں نابالغہ لڑکیاں بالغہ ہوگئیںان کے حصہ کا کرایہ جوبازار بھاؤ سے ہو ان دونوں کو دینا واجب ہے چاہے عبدالرحیم نے کم کرائے پر اٹھائی ہو یا زیادہ پر ڈال رکھی ہو۔مثلا دونوں لڑکیاں چودہ چودرہ برس کی عمر میں بالغہ ہوئی ہوںتو پہلی لڑکی کے حصے کا چارسال کاکرایہ اوردوسری کے حصے کا بارہ برس کا کرایہ عبدالرحیم پر واجب ہے۔وعلی ہذ القیاس۔درمختارمیں ہے:
منافع الغصب استوفاہا اوعطلہا لاتضمن الا فی ثلث فیجب اجرالمثل ان یکون المغصوب وقفا اومال یتیم وعلی المعتمد تجب الاجرۃ علی الشریك اھ مختصرا۔ غصب کے منافع حاصل ہوں یا معطل چھوڑے ہوں تو تین صورتوں کے علاوہ ان کا ضمان نہ ہوگا تین صورتیں یہ ہیں مغصوبہ چیز وقف ہو یایتیم کا مال ہو تو بااعتماد قول کے مطابق شریك پر بھی مثلی اجرت لازم ہوگی اھ مختصرا(ت)
اور باقی جو وارثوں کے حصص کا کرایہ دار سے حاصل کیا ہو جس صور ت میں مہر وقرض متروکہ سے کم ہوںتو زمین میں سارے حصہ عبدالغفور پر جوکرایہ عبدالرحیم نے وصول کیا ہوسب فقیروں کودینا لازم ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے باغوائے نفس امارہ ایك دستاویز اس مضمون کی کہ جو مکان اس کی والدہ ہندہ کاہے اس کو دونابرابرحصوں میں بطور خود بلااطلاع ورثاء جائز کے اس طرح تقسیم کیا کہ چھوٹے بھائی عمرو کے واسطے چوتھائی سےکماو ربڑے بھائی زید یعنی اپنے واسطے تین چوتھائی
منافع الغصب استوفاہا اوعطلہا لاتضمن الا فی ثلث فیجب اجرالمثل ان یکون المغصوب وقفا اومال یتیم وعلی المعتمد تجب الاجرۃ علی الشریك اھ مختصرا۔ غصب کے منافع حاصل ہوں یا معطل چھوڑے ہوں تو تین صورتوں کے علاوہ ان کا ضمان نہ ہوگا تین صورتیں یہ ہیں مغصوبہ چیز وقف ہو یایتیم کا مال ہو تو بااعتماد قول کے مطابق شریك پر بھی مثلی اجرت لازم ہوگی اھ مختصرا(ت)
اور باقی جو وارثوں کے حصص کا کرایہ دار سے حاصل کیا ہو جس صور ت میں مہر وقرض متروکہ سے کم ہوںتو زمین میں سارے حصہ عبدالغفور پر جوکرایہ عبدالرحیم نے وصول کیا ہوسب فقیروں کودینا لازم ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے باغوائے نفس امارہ ایك دستاویز اس مضمون کی کہ جو مکان اس کی والدہ ہندہ کاہے اس کو دونابرابرحصوں میں بطور خود بلااطلاع ورثاء جائز کے اس طرح تقسیم کیا کہ چھوٹے بھائی عمرو کے واسطے چوتھائی سےکماو ربڑے بھائی زید یعنی اپنے واسطے تین چوتھائی
حوالہ / References
درمختار کتاب الغصب فصل مسائل آخر ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۸€
سے زائد اور خفیہ طور سے اپنی والدہ ہندہ کوکاغذ مذکور اس طرح پڑھ کر سنادیا کہ مکان مملوکہ ومقبوضہ تمھارامیں نے دو برابر حصوں میں تقسیم کرلیا ہے۔چنانچہ ایسے ہی باور کرادیاپھر کہا کہ اس پر عدالت میں چل کر خفیہ طور سے رجسٹری کرادو۔ہندہ نےکہا کہ اس کی خبر میرے چھوٹے لڑکے عمرو کو تو کردوتو کہا کہ تم میرے اعتبار پر اس کی رجسٹری کرادو اطلاع کی کوئی ضرورت نہیں۔اس پر ہندہ نے قطعی انکارکردیا لہذا دستاویزنامکمل اور بلا دستخطی رہی جبکہ عمرو کویہ معلوم ہواتو اس نے اس کی شکایت اپنی والدہ ہندہ سے کیہندہ نے کہا کہ مجھے تو دو برابر حصوں میں بانٹنا باور کرایا ہے۔بربناء اس ناخوشی وتحکم کے ہندہ نے زید سے اس دیور کو جو زید کے بلا رضامندی فریق ثانی کے بطور خود قائم کرلی منہدم کرنے کو کہاتو زید نے اپنی روباہ بازیوں سے اسے ٹالا اور ایك کرایہ نامہ اپنے نام سے فریق ثانی کی حق تلفی کے واسطے لکھ کر اس میں کرایہ دار بسایااس کے روکنے کے واسطے جبکہ عمرو نے زید کو تنبیہ تحریری کی تو اس کو خیال میں نہ لایا بلکہ اپنی بد معاملگی اور دغابازی پر اب تك مصر ہے۔اور نہ مکان مذکور کانصف کرایہ دیتا ہے۔نہ کرایہ نامہ میں شکرت کرتاہے۔نہ دیوار منہدم کراتاہے۔بلکہ ہر طریقہ سے فریق ثانی کی حق تلفی پر آمادہ ہے۔اور کوئی شرعی فہمائش کسی کی اس کو بوجو طمع نفسانی کے مفید نہیں ہوتیدیگر یہ کہ یہ شخص وعظ بھی کہتاہے حالانکہ اس کی تحصیل علم قطعی پایہ ثبوت کو نہیں پہنچینہ کسی مستند معتبراستاد سےکبھی پڑھا۔نہ فقہنہ تفسیرنہ حدیثبلکہ صرف اردو کی چند کتابوں کے ذریعہ سے وعظ گوئی کرتاہےتو شرع شریف ایسے شخص کی نسبت کیا حکم فرماتی ہے آیا اس کا ایمان سالم رہا یا نہیں آیا تقسیم مذکور جائز ہوئی یا نہیں مسلمانوں کو اس سےکیسا برتاؤ کرنا چاہئے اسے وعظ کہنا چاہئے یانہیں اسکی شہادت معتبر ہے یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب:
وہ تقسیم باطل محض ہے۔اور زید سخت ظالمفاسقفاجرمرتکب کبائرمستحق عذاب نار و غضب جبار ہے۔مسلمانوں کو اس سے وہی برتاؤ چاہئے جو ظالموں موذیوں سے چاہئے۔
قال اﷲ تعالی" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔ الله تعالی نے فرمایا:اگر تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔
اسے وعظ کہنا حرام ہے۔اس کا وعظ سننا جائز نہیں۔وہ اگر ایك کوڑی کے معاملہ پر ہزار بار شہادت دے شرعا مردود ہے۔جو اس کی گواہی قبول کرے گا گنہ گار ہوگا۔یہ سب اس بناء پر ہے جو سائل نے
الجواب:
وہ تقسیم باطل محض ہے۔اور زید سخت ظالمفاسقفاجرمرتکب کبائرمستحق عذاب نار و غضب جبار ہے۔مسلمانوں کو اس سے وہی برتاؤ چاہئے جو ظالموں موذیوں سے چاہئے۔
قال اﷲ تعالی" و اما ینسینک الشیطن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین ﴿۶۸﴾" ۔ الله تعالی نے فرمایا:اگر تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔
اسے وعظ کہنا حرام ہے۔اس کا وعظ سننا جائز نہیں۔وہ اگر ایك کوڑی کے معاملہ پر ہزار بار شہادت دے شرعا مردود ہے۔جو اس کی گواہی قبول کرے گا گنہ گار ہوگا۔یہ سب اس بناء پر ہے جو سائل نے
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۶/ ۶۷€
اظہار کیااور واقع کا علم عالم الغیب جل وعلا کو ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۵: مرسلہ بخش الله ساکن بریلی محلہ گندہ نالہ مورخہ یکم جمادی الاخری ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ دو مکان دوشخصوں کے خرید کردہ ہیںایك شخص کی خریداری قریب پچیس تیس سال کیاور دوسرے شخص کی خریداری قریب دس سال کے ہےجس شخص کا مکان خریدا ہوا قریب پچیس سال کے ہے اس کی کڑیاں دوسرے شخص کی دیوار پر رکھی ہے۔اب وہ یہ کہتا ہے کہ میری دیوار پر سے کڑیاں علیحدہ کرلویہ کہتا ہے کہ میں نے اسی حیثیت سے خریداہے۔اس کا بیان یہ ہے اور اس شخص کا گمان ہے کہ اس نے خود بعد خریدنے مکان کے یہ کڑیاں رکھوائی ہیں ایسی حالت میں مستحق ہٹوانے کاہے یانہیں
الجواب:
سائل نے بیان کیاکہ اس شخص کو اقرار ہے کہ یہ دیوار جس پرمیری کڑہیاں رکھی ہیں میری نہیںاس صورت میں اسے کڑیاں رکھنے کا کوئی حق نہیںاگر غصبا رکھی ہیں جب تو ظاہراور اگر سابق کے مالك کی اجازت سے رکھی تھیں تو اس کی اجازت اس کی ملك ختم ہونے سے ختم ہوگئیاب بے اجازت مالك اس کا اختیار نہ ہوگا۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںدو۲ مکان دو۲ دیواریں ملی ہوئی ہےں ایك خام ایك پختہ تھیاس نے اپنی دیوار میں الماری لگائی ہوئی تھی۔اس میں سے کچھ خام دیوار میں سے کٹی۔قریب ۰۱/گرہ کے لیکن الك دیوار کو نہیں معلوم ہوااب اس نے اس مکان کو فروخت کیاایسی حالت میں خریدار مواخذہ دار کس کا ہے۔یعنی مالك قبل کا ہے یا مالك مال کاحصہ ہے۔
الجواب:
پہلے مالك سابق کا مواخذہ تھااب مالك حال کایا تو اس کی رضامندی سے اس قدر زمین کی قیمت اس کو دے دے یا یہ۰۱/گرہ زمین کا ٹکڑا خالی کردےرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:لیس لعرق ظالم حق (ظالم کا دخل حق نہیں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۵: مرسلہ بخش الله ساکن بریلی محلہ گندہ نالہ مورخہ یکم جمادی الاخری ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ دو مکان دوشخصوں کے خرید کردہ ہیںایك شخص کی خریداری قریب پچیس تیس سال کیاور دوسرے شخص کی خریداری قریب دس سال کے ہےجس شخص کا مکان خریدا ہوا قریب پچیس سال کے ہے اس کی کڑیاں دوسرے شخص کی دیوار پر رکھی ہے۔اب وہ یہ کہتا ہے کہ میری دیوار پر سے کڑیاں علیحدہ کرلویہ کہتا ہے کہ میں نے اسی حیثیت سے خریداہے۔اس کا بیان یہ ہے اور اس شخص کا گمان ہے کہ اس نے خود بعد خریدنے مکان کے یہ کڑیاں رکھوائی ہیں ایسی حالت میں مستحق ہٹوانے کاہے یانہیں
الجواب:
سائل نے بیان کیاکہ اس شخص کو اقرار ہے کہ یہ دیوار جس پرمیری کڑہیاں رکھی ہیں میری نہیںاس صورت میں اسے کڑیاں رکھنے کا کوئی حق نہیںاگر غصبا رکھی ہیں جب تو ظاہراور اگر سابق کے مالك کی اجازت سے رکھی تھیں تو اس کی اجازت اس کی ملك ختم ہونے سے ختم ہوگئیاب بے اجازت مالك اس کا اختیار نہ ہوگا۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںدو۲ مکان دو۲ دیواریں ملی ہوئی ہےں ایك خام ایك پختہ تھیاس نے اپنی دیوار میں الماری لگائی ہوئی تھی۔اس میں سے کچھ خام دیوار میں سے کٹی۔قریب ۰۱/گرہ کے لیکن الك دیوار کو نہیں معلوم ہوااب اس نے اس مکان کو فروخت کیاایسی حالت میں خریدار مواخذہ دار کس کا ہے۔یعنی مالك قبل کا ہے یا مالك مال کاحصہ ہے۔
الجواب:
پہلے مالك سابق کا مواخذہ تھااب مالك حال کایا تو اس کی رضامندی سے اس قدر زمین کی قیمت اس کو دے دے یا یہ۰۱/گرہ زمین کا ٹکڑا خالی کردےرسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:لیس لعرق ظالم حق (ظالم کا دخل حق نہیں۔ ت)والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد باب احیاء الموات ∞آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۸۱،€جامع الترمذی ابواب الاحکام باب احیاء ارض الموات ∞امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۶۶،€السنن الکبرٰی کتاب الغصب دارصادر بیروت ∞۶/ ۹۹€
مسئلہ ۲۷۷: مرسلہ شیخ حاجی عبدالعزیز صاحب ۲۲ رجب ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید کی دیوار میں تیس برس سے ایك طاق عمرو کے غسل خانہ کا تھازید نے جس وقت اپنے مکان کی دیوار کھودی تو عمرو کا تیس برس کا طاق بند کردیاباجود منت و سماجت بسیار کے بھی نہ مانادیگر یہ کہ عمروکے غسل خانہ کے دو کڑی کے زید کی دیوار میں اور چار پائخانہ کی کڑیوں کے ٹکڑے زید مذکور کی دیوار میں رکھے ہوئے ہیں۔غدر کے قبل کے ہیںزید نے بارہا ان کو دیکھا ہے۔کیونکہ ایام قربانی زید مذکور کا کئی گھنٹہ اس مکان میں قیام رہتاہے۔زید نے ہمیشہ ان ٹکڑوں کو دیکھا ہے مگر کبھی کچھ نہیں کہااور اب ان کو نکلوادینے کو کہتاہے۔دیگریہ کہ جس وہ طاق بند کیا تھا اس وقت یہ چیزیں بھی اگر نارضامندی تھی نکلوادیتاعمرو نے ایك خام مکان خرید کر تعمیر کرانا چاہا اور دیواریں کھدوائیں تو زید کی طرف کی دیوار میں دو الماریاں اور ایك آتش خانہ نمودار ہوابلکہ دیوار بھی بڑھی ہوئی ہے۔عمرو نے جب زید سے کہا کہ اس کو درست کرادوتو زید نے جواب دیا کہ تمھاری پائخانہ کے ٹکڑے جو ہمارے دیوار میں رکھے ہیں نکلوادوتو ہم بھی الماریاں بند کرادیں گے اس صورت میں شریعت مطہرہ کیا حکم دیتی ہے
الجواب:
الماریاں اور آتش خانہ جو زید نے بے اجازت مالك بنایا ہے اس کا بند کردینا اس پر فورا لازم ہے۔اور اگر ثابت ہو کہ دیوار اس کی زمین میں بڑھالی ہے تو اتنی دیوار گراکر زمین خالی کردینی لازم ہے۔رہیں عمرو کی کڑیاں عــــــہ اور طاق۔تقریر سوال سے ظاہر ہے کہ وہ دوسرے کی دیوار میں باجازت مالك بطور عاریت تھےنہ کسی حق لازم سےاور زید کا اب تك سکوت وہ بھی عاریت پر راضی ہونا تھااور عاریت کی چیز کا ہر وقت واپس لینے کا اختیار ہے۔اب کہ زید راضی نہیں عمرو پر بھی لازم ہے کہ کڑیاں نکال لےمگر ایك کا دوسرے پر ٹالنا کہ تم یہ کردو توہم یوں کریںجائز نہیںکہ ظلم فورا دورکرنا فرض ہے۔دونوں معا دوسرے کی ملك خالی کردیںعالمگریہ میں ہے:
البائع یؤمر برفع خشب علی حائط المبیعۃ ولو کان الخشب لاجنبی بحق لازم بملك واجارۃ فہو عیب لانہ اتارنے کا حکم بائع کو دیا جائے گا اور اگر وہ کڑیاں اجنبی کی ملکیت یا اجارہ پر ہوں تو یہ عیب شمار ہوگا کیونکہ اس میں
عــــــہ: لفظ"کڑیاں"اصل میں نہیں ہے شاید قلم ناسخ سے چھوٹ گیاہے۔عبدالمنان اعظمی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید کی دیوار میں تیس برس سے ایك طاق عمرو کے غسل خانہ کا تھازید نے جس وقت اپنے مکان کی دیوار کھودی تو عمرو کا تیس برس کا طاق بند کردیاباجود منت و سماجت بسیار کے بھی نہ مانادیگر یہ کہ عمروکے غسل خانہ کے دو کڑی کے زید کی دیوار میں اور چار پائخانہ کی کڑیوں کے ٹکڑے زید مذکور کی دیوار میں رکھے ہوئے ہیں۔غدر کے قبل کے ہیںزید نے بارہا ان کو دیکھا ہے۔کیونکہ ایام قربانی زید مذکور کا کئی گھنٹہ اس مکان میں قیام رہتاہے۔زید نے ہمیشہ ان ٹکڑوں کو دیکھا ہے مگر کبھی کچھ نہیں کہااور اب ان کو نکلوادینے کو کہتاہے۔دیگریہ کہ جس وہ طاق بند کیا تھا اس وقت یہ چیزیں بھی اگر نارضامندی تھی نکلوادیتاعمرو نے ایك خام مکان خرید کر تعمیر کرانا چاہا اور دیواریں کھدوائیں تو زید کی طرف کی دیوار میں دو الماریاں اور ایك آتش خانہ نمودار ہوابلکہ دیوار بھی بڑھی ہوئی ہے۔عمرو نے جب زید سے کہا کہ اس کو درست کرادوتو زید نے جواب دیا کہ تمھاری پائخانہ کے ٹکڑے جو ہمارے دیوار میں رکھے ہیں نکلوادوتو ہم بھی الماریاں بند کرادیں گے اس صورت میں شریعت مطہرہ کیا حکم دیتی ہے
الجواب:
الماریاں اور آتش خانہ جو زید نے بے اجازت مالك بنایا ہے اس کا بند کردینا اس پر فورا لازم ہے۔اور اگر ثابت ہو کہ دیوار اس کی زمین میں بڑھالی ہے تو اتنی دیوار گراکر زمین خالی کردینی لازم ہے۔رہیں عمرو کی کڑیاں عــــــہ اور طاق۔تقریر سوال سے ظاہر ہے کہ وہ دوسرے کی دیوار میں باجازت مالك بطور عاریت تھےنہ کسی حق لازم سےاور زید کا اب تك سکوت وہ بھی عاریت پر راضی ہونا تھااور عاریت کی چیز کا ہر وقت واپس لینے کا اختیار ہے۔اب کہ زید راضی نہیں عمرو پر بھی لازم ہے کہ کڑیاں نکال لےمگر ایك کا دوسرے پر ٹالنا کہ تم یہ کردو توہم یوں کریںجائز نہیںکہ ظلم فورا دورکرنا فرض ہے۔دونوں معا دوسرے کی ملك خالی کردیںعالمگریہ میں ہے:
البائع یؤمر برفع خشب علی حائط المبیعۃ ولو کان الخشب لاجنبی بحق لازم بملك واجارۃ فہو عیب لانہ اتارنے کا حکم بائع کو دیا جائے گا اور اگر وہ کڑیاں اجنبی کی ملکیت یا اجارہ پر ہوں تو یہ عیب شمار ہوگا کیونکہ اس میں
عــــــہ: لفظ"کڑیاں"اصل میں نہیں ہے شاید قلم ناسخ سے چھوٹ گیاہے۔عبدالمنان اعظمی
لیس لہ ان یمنعہوان کان باجازۃ لاخیار لہ لانہ لیس بلازم کذا فی تاتارخانیۃ اھ مختصرا۔واﷲ تعالی اعلم۔ مبیع کی دیوار پر سے کڑیاں اس کو منع کا حق نہیں اور اگر اجازت سے ہوں تو اس کو اختیار نہیں کیونکہ وہ لازم نہیں۔تاتارخانیہ میں یوں ہے اھ مختصرا۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۷۸: از بریلی محلہ شاہ آباد مرسلہ حکیم نذیر الدین صاحب ۹ ذیقعدہ ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك جائداد غاصبانہ طریقہ سے حاصل کی اور تخمینا پچاس سال تك اس کی آمدنی کو تصرف کرتا رہااور اس میں سے قریب نصف جائداد کے فروخت کردیزید فوت ہوگیا اور اس نے جائداد بقیہ مغصوبہ کے چھوڑیاور ورثاء غاصب صرف جائداد مغصوبہ موجودہ کو ورثاء حقدار کو دیتے ہیںجوجائداد فروخت ہوچکی اور نیز محاصل کل جائداد کا دینے سے منکر ہیںحالانکہ غاصب نے جادائد کثیر المالیت اس تعداد کی چھوڑی ہےکہ اس سے مطالبہ جائداد مغصوبہ کا اداہو کر جائدا د کثیر المالیت ورثائے غاصب کے لئے باقی رہتی ہے ایسی حالت میں حقدار جائداد مغصوبہ کو ورثان غاصب سے بمقابلہ جائداد یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی جائداد مغصوبہ موجودہ اور بیع شدہ اور اس کے محاصل کو جس طرح اس کا حصول ممکن ہو حاصل کرلے۔اور بحالت ہونے جائداد غاصب کے اس کے ورثاء پریہ لازم ہے کہ وہ حقوق مذکورہ بالا کو ادا کردیں یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
فی الواقع وہ جائداد زید نے جس سے غصب کی تھی اسے اور اس کے بعد اس کے وارثوں کو یہ حق حاصل ہے کہ جس قدر جائداد اس میں سے موجود ہے اسے بعینہ واپس لیںاور جو زید نے بیع کردی اس کی قیمت جتنی روزغصب تھی دیگر جائداد مملوکہ زید سے جس طرح ممکن ہو وصول کریںاور اگر وہ جائداد دیہات یا کرائے پر چلانے کے مکان دکان تھے کہ اصل مالك نے اس لئے بنائے یا خریدےاور زید نے اس سے غصب کرلئے تو جائداد باقیماندہ کے محاصل آج تك کے اور جائداد بیع شدہ کے محاصل اس دن تك جب تك وہ زید کے پاس رہی جائداد مملوك زید سے وصول کریںور ثائے زید پر ان تمام حقوق کا ترکہ زید سے ادا کرنا لازم ہے اور ممانعت کرنا حرام۔نیز مالك اور اس کے وارث چاہیں تو یہ بھی کرسکتے ہیں کہ جائداد موجود میں تو وہی کاروائی کریں اور جائداد بیع شدہ کے محاصل کا بشرط مذکور روز قبضہ زید تك ترکہ زید سے تاوان لیںاور اس کی قیمت کا تاوان اور روز قبضہ مشتری سے آج تك اس کے
مسئلہ ۲۷۸: از بریلی محلہ شاہ آباد مرسلہ حکیم نذیر الدین صاحب ۹ ذیقعدہ ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك جائداد غاصبانہ طریقہ سے حاصل کی اور تخمینا پچاس سال تك اس کی آمدنی کو تصرف کرتا رہااور اس میں سے قریب نصف جائداد کے فروخت کردیزید فوت ہوگیا اور اس نے جائداد بقیہ مغصوبہ کے چھوڑیاور ورثاء غاصب صرف جائداد مغصوبہ موجودہ کو ورثاء حقدار کو دیتے ہیںجوجائداد فروخت ہوچکی اور نیز محاصل کل جائداد کا دینے سے منکر ہیںحالانکہ غاصب نے جادائد کثیر المالیت اس تعداد کی چھوڑی ہےکہ اس سے مطالبہ جائداد مغصوبہ کا اداہو کر جائدا د کثیر المالیت ورثائے غاصب کے لئے باقی رہتی ہے ایسی حالت میں حقدار جائداد مغصوبہ کو ورثان غاصب سے بمقابلہ جائداد یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی جائداد مغصوبہ موجودہ اور بیع شدہ اور اس کے محاصل کو جس طرح اس کا حصول ممکن ہو حاصل کرلے۔اور بحالت ہونے جائداد غاصب کے اس کے ورثاء پریہ لازم ہے کہ وہ حقوق مذکورہ بالا کو ادا کردیں یا نہیں بینوا توجروا
الجواب:
فی الواقع وہ جائداد زید نے جس سے غصب کی تھی اسے اور اس کے بعد اس کے وارثوں کو یہ حق حاصل ہے کہ جس قدر جائداد اس میں سے موجود ہے اسے بعینہ واپس لیںاور جو زید نے بیع کردی اس کی قیمت جتنی روزغصب تھی دیگر جائداد مملوکہ زید سے جس طرح ممکن ہو وصول کریںاور اگر وہ جائداد دیہات یا کرائے پر چلانے کے مکان دکان تھے کہ اصل مالك نے اس لئے بنائے یا خریدےاور زید نے اس سے غصب کرلئے تو جائداد باقیماندہ کے محاصل آج تك کے اور جائداد بیع شدہ کے محاصل اس دن تك جب تك وہ زید کے پاس رہی جائداد مملوك زید سے وصول کریںور ثائے زید پر ان تمام حقوق کا ترکہ زید سے ادا کرنا لازم ہے اور ممانعت کرنا حرام۔نیز مالك اور اس کے وارث چاہیں تو یہ بھی کرسکتے ہیں کہ جائداد موجود میں تو وہی کاروائی کریں اور جائداد بیع شدہ کے محاصل کا بشرط مذکور روز قبضہ زید تك ترکہ زید سے تاوان لیںاور اس کی قیمت کا تاوان اور روز قبضہ مشتری سے آج تك اس کے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ
محاصل کا تاوان مشتری سے وصول کریںمشتری نے جو قیمت زید کو دی تھی ترکہ زید سے وصول کرےفتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لوباعہ الغاصب وسلمسہ فالمالك بالخیار ان شاء ضمن الغاصبوجاز بیعہ والثمن لہ۔وان ضمن المشتری رجع علی الغاصب وبطل البیع ولا یرجع بما ضمن وان باع ولم یسلم لایضمن کذا فی الوجیز للکردری ۔واﷲ تعالی اعلم۔وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ اگر غاصب نے اسے فروخت کر کے سونپ دیا تو مالك کو اختیار ہے چاہے غاصب سے ضمان لے اب غاصب فروخت کردے رقم اس کی ہوگی اور اگر مالك نے مشتری کو ضامن بنایا تو وہ غاصب سے وصول کرے اور بیع باطل ہوجائیگی اور غاصب ضمان کے لئے رجوع نہ کرسکے گا اوراگرغاصب ضمان کے لئے رجوع نہ کرسکے گا اور اگر غاصب نے فروخت کیا مگر ابھی قبضہ نہ دیا تو ضامن نہ ہوگا۔وجیز کردری میں یوں ہے۔والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ ۲۷۹: مسئولہ حافظ محمد سعید صاحب از قصبہ راندیر ضلع سورت ۲۹ محرم ۱۳۳۲ھ
ماقولکم دام فضلکم ایہا العلماء العظام والفقہام الکرام زادکم اﷲ تعالی تعظیما لدیہ(تمہارا کیا ارشادہے اے علماء عظام وفقہاء کرام الله تعالی کے ہاں تمہاری فضیلت وتعظیم زیادہ ہو۔ت)اس صورت میں زید تاجر نے بلقانی چندہ میں مثلا ایك سو روپیہ لکھ دئےاور جب اس چندہ وصول کرنیوالے سکتر نے زید سے روپے چندہ کے وصول کرنے کو گیاتو زید نے چندہ وصول کرنے والے بکرنام کوکہاکہ میرے روپے فلاں بینك میں جمع ہیں میں تم کو یہ چیك یعنی حکم بینك پر لکھ دیتاہوں تم بینك سے روپیہ وصول کرلواور تم چاہو تو میں میرے نزدیك سے نقددوںاس کے جواب میں بکر نام کے سکتر نے کہا کہ چیك دوزیدنے بموجب طلب کرنے کے بکرکو بینک(کہ مسمی پیپل بینك ہے)اس پر حکم یعنی چیك لکھ دیامگر بکرمذکور نے روپے وصول کرنے پیپل بینك سے تکاسل اور غفلت کیاور اندازہ چوبیس روز کے اس چیك کو اپنے پاس بکر نے ڈال رکھے اس درمیان میں زید نے دوسری چیك اپنے کام کی بینك کو دی ہے وہ برابر بینك والے روپیہ ادا کردئے ہیںاوریہ بھی بکر تکاسل اور کاہلی نہ کرتا۔اور بینك میں چیك روانہ کرکے طلب کرتا تو ضرور ریہ روپیہ وصول ہوتےچونکہ زید کے روپیہ جمع تھے اور اب وہ بینك دیوالیہ بن گئے۔
لوباعہ الغاصب وسلمسہ فالمالك بالخیار ان شاء ضمن الغاصبوجاز بیعہ والثمن لہ۔وان ضمن المشتری رجع علی الغاصب وبطل البیع ولا یرجع بما ضمن وان باع ولم یسلم لایضمن کذا فی الوجیز للکردری ۔واﷲ تعالی اعلم۔وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ اگر غاصب نے اسے فروخت کر کے سونپ دیا تو مالك کو اختیار ہے چاہے غاصب سے ضمان لے اب غاصب فروخت کردے رقم اس کی ہوگی اور اگر مالك نے مشتری کو ضامن بنایا تو وہ غاصب سے وصول کرے اور بیع باطل ہوجائیگی اور غاصب ضمان کے لئے رجوع نہ کرسکے گا اوراگرغاصب ضمان کے لئے رجوع نہ کرسکے گا اور اگر غاصب نے فروخت کیا مگر ابھی قبضہ نہ دیا تو ضامن نہ ہوگا۔وجیز کردری میں یوں ہے۔والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔(ت)
مسئلہ ۲۷۹: مسئولہ حافظ محمد سعید صاحب از قصبہ راندیر ضلع سورت ۲۹ محرم ۱۳۳۲ھ
ماقولکم دام فضلکم ایہا العلماء العظام والفقہام الکرام زادکم اﷲ تعالی تعظیما لدیہ(تمہارا کیا ارشادہے اے علماء عظام وفقہاء کرام الله تعالی کے ہاں تمہاری فضیلت وتعظیم زیادہ ہو۔ت)اس صورت میں زید تاجر نے بلقانی چندہ میں مثلا ایك سو روپیہ لکھ دئےاور جب اس چندہ وصول کرنیوالے سکتر نے زید سے روپے چندہ کے وصول کرنے کو گیاتو زید نے چندہ وصول کرنے والے بکرنام کوکہاکہ میرے روپے فلاں بینك میں جمع ہیں میں تم کو یہ چیك یعنی حکم بینك پر لکھ دیتاہوں تم بینك سے روپیہ وصول کرلواور تم چاہو تو میں میرے نزدیك سے نقددوںاس کے جواب میں بکر نام کے سکتر نے کہا کہ چیك دوزیدنے بموجب طلب کرنے کے بکرکو بینک(کہ مسمی پیپل بینك ہے)اس پر حکم یعنی چیك لکھ دیامگر بکرمذکور نے روپے وصول کرنے پیپل بینك سے تکاسل اور غفلت کیاور اندازہ چوبیس روز کے اس چیك کو اپنے پاس بکر نے ڈال رکھے اس درمیان میں زید نے دوسری چیك اپنے کام کی بینك کو دی ہے وہ برابر بینك والے روپیہ ادا کردئے ہیںاوریہ بھی بکر تکاسل اور کاہلی نہ کرتا۔اور بینك میں چیك روانہ کرکے طلب کرتا تو ضرور ریہ روپیہ وصول ہوتےچونکہ زید کے روپیہ جمع تھے اور اب وہ بینك دیوالیہ بن گئے۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ کتاب الغصب الباب الثانی عشر ∞نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۱۴۸€
اور وہ روپے جاتے رہے۔اور بکر کو تکاسل اس قدر نہ کرتا تو یہ روپے ضائع نہ ہوتے۔لہذا صورت مذکورہ میں یہ روپیہ کس کے ذمہ پرآتے ہیں اور کس کے یہ روپے گئے زید کے یا بکر کےیا چندہ بلقان کے بینوا توجروا
الجواب:
دیوالیہ بننا بینك والےکا ظلم ہےبکر پر اس کا کچھ الزام نہیں آسکتا" ولا تزر وازرۃ وزر اخری " (کوئی بوجھ اٹھانے والی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔ت)اور چوبیس روز کے تساہل میں بھی اس پر الزام نہیںوہ کیاجانتا تھا کہ اتنی مدت میں بینك دیوالیہ ہوجائے گا " وما کنا للغیب حفظین ﴿۸۱﴾ " (ہم غائب پر حفاظت کرنے والے نہیں۔ت)اور بالفرض اگر وہ جانتا بھی اور بالقصد تکاسل کرتا۔جب بھی روپے کا الزام اس پر آنے کے کوئی معنی نہ تھے کہ وہ نہ سبب ہے نہ مباشرقاعدہ شرعیہ تو یہ ہے کہ:
اذا اجتمع السبب والمباشر اضیف الحکم الی الباشر۔ جب سبب اور اتکاب کرنیوالے میں معاملہ دائر ہو تو حکم ارتکاب والے کی طرف منسوب ہوگا(ت)
دوسرا قاعدہ ہے:
تخلل فعل الفاعل المختار یقطع النسبۃ۔ مختار کا فع حائل ہوجائے تو نسبت منقطع ہوجاتی ہے۔(ت)
تو بکرکے روپیہ جانے کی کوئی وجہ نہیں روپے زید کے گئےرہا چندہ زید اس میں متبرع تھالاجبر علی المتبرع(مفت میں دینے والے پر جبر نہیں ہوتا۔ت)تو اس سے بھی مطالبہ نہیں ہوسکتانہ اس میں اس کا کوئی قصور ہے کہ اس نے تو چیك لکھ دیا تھا اور اگرنہ بھی لکھتا اور وعدہ کرکے پھر جاتا جب بھی شرعا برا تھامگر جبر کا اختیار کسی کونہ تھا اشباہ میں ہے:
لاجبر علی الوفاء بالوعد ۔ وعدہ کے وفا پر جبرنہیں ہوسکتا۔(ت)
ہاں اگر زید اپنی طر ف سے دوبارہ دے تو یہ اس کا تطوع ہے۔
الجواب:
دیوالیہ بننا بینك والےکا ظلم ہےبکر پر اس کا کچھ الزام نہیں آسکتا" ولا تزر وازرۃ وزر اخری " (کوئی بوجھ اٹھانے والی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔ت)اور چوبیس روز کے تساہل میں بھی اس پر الزام نہیںوہ کیاجانتا تھا کہ اتنی مدت میں بینك دیوالیہ ہوجائے گا " وما کنا للغیب حفظین ﴿۸۱﴾ " (ہم غائب پر حفاظت کرنے والے نہیں۔ت)اور بالفرض اگر وہ جانتا بھی اور بالقصد تکاسل کرتا۔جب بھی روپے کا الزام اس پر آنے کے کوئی معنی نہ تھے کہ وہ نہ سبب ہے نہ مباشرقاعدہ شرعیہ تو یہ ہے کہ:
اذا اجتمع السبب والمباشر اضیف الحکم الی الباشر۔ جب سبب اور اتکاب کرنیوالے میں معاملہ دائر ہو تو حکم ارتکاب والے کی طرف منسوب ہوگا(ت)
دوسرا قاعدہ ہے:
تخلل فعل الفاعل المختار یقطع النسبۃ۔ مختار کا فع حائل ہوجائے تو نسبت منقطع ہوجاتی ہے۔(ت)
تو بکرکے روپیہ جانے کی کوئی وجہ نہیں روپے زید کے گئےرہا چندہ زید اس میں متبرع تھالاجبر علی المتبرع(مفت میں دینے والے پر جبر نہیں ہوتا۔ت)تو اس سے بھی مطالبہ نہیں ہوسکتانہ اس میں اس کا کوئی قصور ہے کہ اس نے تو چیك لکھ دیا تھا اور اگرنہ بھی لکھتا اور وعدہ کرکے پھر جاتا جب بھی شرعا برا تھامگر جبر کا اختیار کسی کونہ تھا اشباہ میں ہے:
لاجبر علی الوفاء بالوعد ۔ وعدہ کے وفا پر جبرنہیں ہوسکتا۔(ت)
ہاں اگر زید اپنی طر ف سے دوبارہ دے تو یہ اس کا تطوع ہے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۶/ ۱۶۴€
القرآن الکریم ∞۱۲/ ۸۱€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الحظروا لاباحۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۱۰،€العقود الدریۃ بحوالہ لاشباہ والنظائر مسائل وفوائد من الحظر الخ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۳۵۳€
القرآن الکریم ∞۱۲/ ۸۱€
الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب الحظروا لاباحۃ ادارۃ القرآن ∞کراچی ۲/ ۱۱۰،€العقود الدریۃ بحوالہ لاشباہ والنظائر مسائل وفوائد من الحظر الخ ∞ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۳۵۳€
" ومن تطوع خیرا فان اللہ شاکر علیم﴿۱۵۸﴾ " ۔ جو شخص مفت میں بھلائی کرے تو الله تعالی قبول فرمانے ا ور جاننے والا ہے۔(ت)
مسئلہ ۲۸۰: از سہسرام محلہ دائرہ ضلع آرہ مرسلہ حافظ عبدالجلیل ۱۶ شوال ۱۳۳۳ھ یوم شنبہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید ہندو کامال مسلمان زبردستی کھاسکتا ہے یانہیں
الجواب:
زبردستی مال کھانے والے ایك دن بڑا گھر دیکھتے ہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۱ تا ۲۸۳: از شہر کہنہ بریلی مسئولہ سید نور الله محرر دارالافتاء بروز دوشنبہ بتاریخ ۹ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
(۱)زید کا ایك بیٹا جواب بالغ ذی عقل صاحب نصیب تھاوہ جب مرا تو تجارت بند ہوگئی اور کچھ جائداد دونوں کے کسب سے تھی اب باقی ہے۔زید کی اب دو زوجہ ہیںایك قدیم کفو کیدوسری جدید غیر کفو کیزید نے بعوض مہر دو مکان زوجہ کفو کے نام حسب قانون لکھے اور ایك مکان اپنے بیٹے بکر کے نام لکھےلیکن کل جائداد پر قابض اور ماحصل سے تمتع زوجہ غیر کفو اور اس کی اولادرہیجبر ا وقہراپس یہ قبضہ وتمتع شرعا جائز ہے یا نہیں
(۲)زوجہ کفو کی دو لڑکیاں ہیںپس اپنے نام کی جائداد برضائے زوج خود یعنی زیدکےبذریعہ عدالت لڑکیوں کے نام کردی ہےبذریعہ عدالت رجسٹری شدہ کاغذ موجود ہے۔اور یہ چاہتے ہیں کہ یہ قبضہ کرکے اس سے منتفع ہوںلیکن زید اور اس کی زوجہ غیرکفو اور اس کی اولاد فسد پرآمادہ ہیںاور قبضہ نہیں دیتے اور کسی کی نصیحت نہیں مانتےپس یہ امران کو شرعاکیا زیبا ہے۔اوراس فعل کا کیاحکم ہے
(۳)کیا شرعا ان کو اس جائدادمیں کچھ حق ہے یا شرعا ول ظالم اور یہ فعل فسق ہے فقط
الجواب:
(۱)مال غیر سے بے رضا غیر تمتع اور اس پر مخالفانہ قبضہ حرام وحرام خوری ہے۔
قال اﷲ تعالی " لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل " ۔ الله تعالی نے فرمایا:آپس کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔ (ت)
مسئلہ ۲۸۰: از سہسرام محلہ دائرہ ضلع آرہ مرسلہ حافظ عبدالجلیل ۱۶ شوال ۱۳۳۳ھ یوم شنبہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ا س مسئلہ میں کہ زید ہندو کامال مسلمان زبردستی کھاسکتا ہے یانہیں
الجواب:
زبردستی مال کھانے والے ایك دن بڑا گھر دیکھتے ہیں۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۱ تا ۲۸۳: از شہر کہنہ بریلی مسئولہ سید نور الله محرر دارالافتاء بروز دوشنبہ بتاریخ ۹ ذی الحجہ ۱۳۳۳ھ
(۱)زید کا ایك بیٹا جواب بالغ ذی عقل صاحب نصیب تھاوہ جب مرا تو تجارت بند ہوگئی اور کچھ جائداد دونوں کے کسب سے تھی اب باقی ہے۔زید کی اب دو زوجہ ہیںایك قدیم کفو کیدوسری جدید غیر کفو کیزید نے بعوض مہر دو مکان زوجہ کفو کے نام حسب قانون لکھے اور ایك مکان اپنے بیٹے بکر کے نام لکھےلیکن کل جائداد پر قابض اور ماحصل سے تمتع زوجہ غیر کفو اور اس کی اولادرہیجبر ا وقہراپس یہ قبضہ وتمتع شرعا جائز ہے یا نہیں
(۲)زوجہ کفو کی دو لڑکیاں ہیںپس اپنے نام کی جائداد برضائے زوج خود یعنی زیدکےبذریعہ عدالت لڑکیوں کے نام کردی ہےبذریعہ عدالت رجسٹری شدہ کاغذ موجود ہے۔اور یہ چاہتے ہیں کہ یہ قبضہ کرکے اس سے منتفع ہوںلیکن زید اور اس کی زوجہ غیرکفو اور اس کی اولاد فسد پرآمادہ ہیںاور قبضہ نہیں دیتے اور کسی کی نصیحت نہیں مانتےپس یہ امران کو شرعاکیا زیبا ہے۔اوراس فعل کا کیاحکم ہے
(۳)کیا شرعا ان کو اس جائدادمیں کچھ حق ہے یا شرعا ول ظالم اور یہ فعل فسق ہے فقط
الجواب:
(۱)مال غیر سے بے رضا غیر تمتع اور اس پر مخالفانہ قبضہ حرام وحرام خوری ہے۔
قال اﷲ تعالی " لا تاکلوا امولکم بینکم بالبطل " ۔ الله تعالی نے فرمایا:آپس کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۵۸€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۸۸€
القرآن الکریم ∞۲/ ۱۸۸€
(۲)یہ فعل بھی ظالم اور ظلم کی جزا نار۔
(۳)شرعا زید عــــــہ کا اس میں کچھ حق نہیں اوریہ فعل ضرور ظلم وفسق ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۴: از پیلی بھیت محلہ شیر محمد نمبر مکان ۱۵۴مسئولہ حبیب احمد بروز یکشنبہ ۸ ۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص بقال کے یہاں ملازم ہے۔اورپوری تنخواہ نہ دےتو وہ اس سے چھپا کر اس کے مال سے یعنی جو اس کے یعنی بقال کا تعلق ہو خود لے لے یعنی بنیے بقال اہل ہنود کا مال چھپا کر مسلمان ملازم کوکھانا رواہے یانہیں
الجواب:
تنخواہ پوری نہ دینے کے دو معنی ہیں:ایك یہ کہ جس قدر قرارپائی ہے اس سے کم دیتاہے۔اس صورت میں جتنی کم رہتی ہے اتنی مقدار تك اس کے مال سے بے اس کی اجازت کے لے سکتاہے۔مثلا دس روپیہ تنخواہ ٹھہرے ہیں اور اس نے کسی مہینے میں ظلما پانچ روپے کاٹ لئے تویہ پانچ روپےکی قدر اس کے مال سے لے سکتاہے کہ یہ اس کا حق ہے۔
دوسرے یہ کہ تنخواہ جتنی ہونی چاہئے تھی اتنی نہیں دیتا۔مثلا وہ کام دس روپے ماہواری کے قابل تھااو ر اس نے اسے حاجتمند پاکر وباکر پانچ روپے ماہوار نوکر رکھا اور اس نے قبول کرلیا تو اب نہیں لے سکتا کہ اتنے سے زیادہ میں اس کا حق نہیںاور مال جو اس کی سپردگی میں ہے امانت ہے اور بذریعہ عقدا جارہ اس کا اس کا معاہدہ ہوچکاہے اور امانت میں خیانت اور معاہدہ میں غدرکسی کے ساتھ جائز نہیں۔
قال اﷲ تعالی " یایہا الذین امنوا اوفوا بالعقود ۬ " ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ الله تعالی نے فرمایا:اے ایمان والو! عقود کو پورا کرو۔(ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۵ و ۲۸۶: از مقام چتوڑ گڑھ علاقہ اودے پور راجپوتانہ مسئولہ عبدالکریم بروز شنبہ ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۲۴ھ
(۱)شیئ مشترکہ کو کہ ہر ایك شریك استعمال کرتا ہے تو بروقت ٹوٹنے یاضائع ہونے کے اس شیئ کا تاوان کس پر ہوگا
عــــــہ: اصل میں یونہی ہے۔سوال کی روشنی میں"زید"کے بجائے"ان کا"ہونا چاہئے۔
(۳)شرعا زید عــــــہ کا اس میں کچھ حق نہیں اوریہ فعل ضرور ظلم وفسق ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۴: از پیلی بھیت محلہ شیر محمد نمبر مکان ۱۵۴مسئولہ حبیب احمد بروز یکشنبہ ۸ ۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص بقال کے یہاں ملازم ہے۔اورپوری تنخواہ نہ دےتو وہ اس سے چھپا کر اس کے مال سے یعنی جو اس کے یعنی بقال کا تعلق ہو خود لے لے یعنی بنیے بقال اہل ہنود کا مال چھپا کر مسلمان ملازم کوکھانا رواہے یانہیں
الجواب:
تنخواہ پوری نہ دینے کے دو معنی ہیں:ایك یہ کہ جس قدر قرارپائی ہے اس سے کم دیتاہے۔اس صورت میں جتنی کم رہتی ہے اتنی مقدار تك اس کے مال سے بے اس کی اجازت کے لے سکتاہے۔مثلا دس روپیہ تنخواہ ٹھہرے ہیں اور اس نے کسی مہینے میں ظلما پانچ روپے کاٹ لئے تویہ پانچ روپےکی قدر اس کے مال سے لے سکتاہے کہ یہ اس کا حق ہے۔
دوسرے یہ کہ تنخواہ جتنی ہونی چاہئے تھی اتنی نہیں دیتا۔مثلا وہ کام دس روپے ماہواری کے قابل تھااو ر اس نے اسے حاجتمند پاکر وباکر پانچ روپے ماہوار نوکر رکھا اور اس نے قبول کرلیا تو اب نہیں لے سکتا کہ اتنے سے زیادہ میں اس کا حق نہیںاور مال جو اس کی سپردگی میں ہے امانت ہے اور بذریعہ عقدا جارہ اس کا اس کا معاہدہ ہوچکاہے اور امانت میں خیانت اور معاہدہ میں غدرکسی کے ساتھ جائز نہیں۔
قال اﷲ تعالی " یایہا الذین امنوا اوفوا بالعقود ۬ " ۔ واﷲ تعالی اعلم۔ الله تعالی نے فرمایا:اے ایمان والو! عقود کو پورا کرو۔(ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۵ و ۲۸۶: از مقام چتوڑ گڑھ علاقہ اودے پور راجپوتانہ مسئولہ عبدالکریم بروز شنبہ ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۲۴ھ
(۱)شیئ مشترکہ کو کہ ہر ایك شریك استعمال کرتا ہے تو بروقت ٹوٹنے یاضائع ہونے کے اس شیئ کا تاوان کس پر ہوگا
عــــــہ: اصل میں یونہی ہے۔سوال کی روشنی میں"زید"کے بجائے"ان کا"ہونا چاہئے۔
حوالہ / References
القرآن الکریم ∞۵/ ۱€
(۲)زید نے بکر کا مال ناجائز طریق مثلا غصب یا چوری یا خیانت یا ظلم سے لے لیا تو کیا بکر کو جائز ہے کہ جب زید کے مال پر قابو پائےتو بمقدار اپنے مال کے اس کے مال میں سے بلا رضامندی زید کے لے لے۔بینوا توجروا
الجواب:
(۱)اگر بلاتعدی ٹوٹی یا ضائع ہوئی تو کسی پرنہیںاوراگر ایك شریك نے قصدا توڑا دیا ضائع کردیا تو دوسروں کے حصوں کا تاوان دے گا۔والله تعالی اعلم۔
(۲)اپنے حق تك لینا جائز ہے کہ وہ زید کا مال نہیں اس کا ہے۔اصل مذہب میں جنس مال کی اجازت ہے۔مثلا سوروپے اس کے اس نے ظلما لے لئے اسے اس کے روپے نہوں عــــــہ اور فتوی اس پر ہے۔کہ اپنے حق کی جنس نہ ملے تو غیر جنس سے بھی مقدار حق تك لے سکتا ہے۔لان الضمان ضمان العقود ولیس الضمان ضمان الحقوق کما فصلہ فی ردالمحتار(کیونکہ یہ ضمان عقود والا ہے حقوق والا ضمان نہیں جیساکہ ردالمحتار میں اس کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۷: مسئولہ نواب نثار احمدخاں صاحب بازار صندل خاں بریلی بروز یکشنبہ ۹ شوال ۱۳۳۴ھ
امام مسجد سابق جو بغداد شریف وغیرہ کہہ کر باہر شہر کے گیا ہو تو اس کے اسباب کوحجرہ مسجد سے بلااجازت لے کر جس کو چاہے اور اپنے صرف میں لائے بلارائے اہل محلہ کےپس صرف کرنیوالے پر کیاحکم شرع ہے۔فقط
الجواب:
اسباب اگر اس کی ملك ہے تو اس میں یہ تصرفات حرام ہیں اگر چہ اہل محلہ کی رائے سے ہوںاور اگر مسجد کا مال ہے کہ امام کے صرف میں رہتا تھا تو جس لئے وقف تھا اسی میں صرف ہوسکتاہے اپنے صرف میں لانا یاجسے چاہے دے دینا اب بھی حرام ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۸ تا ۲۹۲: از علی گڑھ محلہ بالائے قلعہ مسئولہ محمد عبدالمجید معرفت عبدالرحیم وکیل یکشنبہ ۲۶ شوال ۱۳۳۴ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك قوم کو ضرورتا قومی چندہ یومیہ جمع کرکے ایك چاہ بنانے کا شوق ہوا اور کل قوم نے یومیہ چندہ متفق ہو کر جمع کرنا شروع کیااس چندہ میں امیر وغریب سب شریك تھےتقریبا دو سوروپیہ ہوجانے پر قوم نے ایك برادری کے شخص کو معتبر سمجھ کر وہ رقم
عــــــہ: اصل میں ایسے ہی ہے لیکن شاید یہ عبارت اس طرح ہو"اسے اس کے روپے ہی لینے ہوں گے"عبدالمنان اعظمی۔
الجواب:
(۱)اگر بلاتعدی ٹوٹی یا ضائع ہوئی تو کسی پرنہیںاوراگر ایك شریك نے قصدا توڑا دیا ضائع کردیا تو دوسروں کے حصوں کا تاوان دے گا۔والله تعالی اعلم۔
(۲)اپنے حق تك لینا جائز ہے کہ وہ زید کا مال نہیں اس کا ہے۔اصل مذہب میں جنس مال کی اجازت ہے۔مثلا سوروپے اس کے اس نے ظلما لے لئے اسے اس کے روپے نہوں عــــــہ اور فتوی اس پر ہے۔کہ اپنے حق کی جنس نہ ملے تو غیر جنس سے بھی مقدار حق تك لے سکتا ہے۔لان الضمان ضمان العقود ولیس الضمان ضمان الحقوق کما فصلہ فی ردالمحتار(کیونکہ یہ ضمان عقود والا ہے حقوق والا ضمان نہیں جیساکہ ردالمحتار میں اس کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ت)والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۷: مسئولہ نواب نثار احمدخاں صاحب بازار صندل خاں بریلی بروز یکشنبہ ۹ شوال ۱۳۳۴ھ
امام مسجد سابق جو بغداد شریف وغیرہ کہہ کر باہر شہر کے گیا ہو تو اس کے اسباب کوحجرہ مسجد سے بلااجازت لے کر جس کو چاہے اور اپنے صرف میں لائے بلارائے اہل محلہ کےپس صرف کرنیوالے پر کیاحکم شرع ہے۔فقط
الجواب:
اسباب اگر اس کی ملك ہے تو اس میں یہ تصرفات حرام ہیں اگر چہ اہل محلہ کی رائے سے ہوںاور اگر مسجد کا مال ہے کہ امام کے صرف میں رہتا تھا تو جس لئے وقف تھا اسی میں صرف ہوسکتاہے اپنے صرف میں لانا یاجسے چاہے دے دینا اب بھی حرام ہے۔والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۸ تا ۲۹۲: از علی گڑھ محلہ بالائے قلعہ مسئولہ محمد عبدالمجید معرفت عبدالرحیم وکیل یکشنبہ ۲۶ شوال ۱۳۳۴ھ
(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك قوم کو ضرورتا قومی چندہ یومیہ جمع کرکے ایك چاہ بنانے کا شوق ہوا اور کل قوم نے یومیہ چندہ متفق ہو کر جمع کرنا شروع کیااس چندہ میں امیر وغریب سب شریك تھےتقریبا دو سوروپیہ ہوجانے پر قوم نے ایك برادری کے شخص کو معتبر سمجھ کر وہ رقم
عــــــہ: اصل میں ایسے ہی ہے لیکن شاید یہ عبارت اس طرح ہو"اسے اس کے روپے ہی لینے ہوں گے"عبدالمنان اعظمی۔
امانۃ اس کے سپرد کردیاوریومیہ چندہ بدستور جاری رکھااور اس سے کہہ دیا کہ جب یہ رقوم چاہ بنانے کے قابل ہوجائے گی تو تم سے یہ روپیہ لے کر چاہ بنایا جائے گا۔کچھ عرصہ کے بعد اس امانت دار نے بغیر مشورہ قوم کے اپنی رائے سے ضرورت والے لوگوں کو وہ روپیہ قرض بلا سود قوم ہی کے لوگوں کو دینا شروع کرکے انھیں مقروض آدمیوں کو اپنا طرفدار بنالیاجب قوم کو یہ حال معلوم ہوا تو اکثر نے چندہ دینا بندکردیااور قوم کے اعتراض پر امین نے یہ جواب دیاکہ میں نے اس روپیہ کانام خزانہ بیت المال رکھ دیاہے۔سوال یہ ہے کہ وہ روپیہ جو قوم نے ایك خاص کام یعنی چاہ بنانے کے لئے جمع کیا تھااب اس امانتدار نے بلارضامندی ورائے قوم کے خزانہ بیت المال بنالیا ہے۔یہ فعل اس کا شرعا درست ہے یانہیں اور اس کا نام خزانہ بیت المال رکھنا حدیث سے ثابت ہے یانہیں
(۲)اب وہ امین قرض روپیہ حیثیت داروں کو دیتاہے غریب لوگوں کو نہیں دیتااور دیتاہے تو کسی امیر کی ضمانت پراکثر توغریبوں کو یہ جواب دیتاہے کہ تم کو دے کر واپس کہاں سے لیں گے کیا شرعا یہ درست ہے کہ خزانہ بیت المال جو عام چندہ ہے اس میں سوائے امیروں کے غریبوں کوقرض نہ دیا جائے
(۳)جو شخص روپیہ قرض لینے کی غرض سے چندہ دے اور پھر قرض بھی لےتو یہ چندہ دینے والا مستحق ثواب ہے یانہیں مثلا ایك شخص کچھ روپیہ قرض لیتاہے۔جب تك قرض لیا ہو اور روپیہ ادانہ ہو تب تك وہ چندہ دیتاہے بعدکو بند کردیتاہے۔
(۴)قوم امانت دار سے حساب روپیہ کا مانگتی ہےاب وہ امین حساب پیش نہیں کرتا کیا شرعا اس پر حساب پیش کرنا ضروری ہے یانہیں
(۵)جو لوگ روپیہ قرض نہیں لیتے اور اس امانت دار کی رائے کے شریك نہیں ہوتے ان سے وہ امین یہ کہتاہے کہ تم اس بیت المال کے خلاف نہیں ہوبلکہ کلام پاك کے خلاف ہوکیا خزانہ بیت المال کایہ طریقہ ہےاس صورت سے کلام پاك سے ثابت ہے فقط
الجواب:
یہ فعل اس کا حرام ہے اور اس کا یہ نام حدیث سے ثابت نہیں بلکہ شیطانی وسوسہ کی ایجاد ہے۔والله تعالی اعلم۔غرض یہ ساری کاروائی حرام ہے۔اسے کلام الله کے خلاف کہنا شیطنت ہے۔او ر وہ جو قرض ادا ہونے تك چندہ دیتاہے وہ معنی سود ہے۔او ر یہ شخص امانت دار نہیں غاصب ہے اور اس کے ذمہ تفہیم حساب لازم نہیںبلکہ جس قدر جمع تھا سب کا واپس دینا اس پر فرض ہے اور اگر ا س پر اس نے
(۲)اب وہ امین قرض روپیہ حیثیت داروں کو دیتاہے غریب لوگوں کو نہیں دیتااور دیتاہے تو کسی امیر کی ضمانت پراکثر توغریبوں کو یہ جواب دیتاہے کہ تم کو دے کر واپس کہاں سے لیں گے کیا شرعا یہ درست ہے کہ خزانہ بیت المال جو عام چندہ ہے اس میں سوائے امیروں کے غریبوں کوقرض نہ دیا جائے
(۳)جو شخص روپیہ قرض لینے کی غرض سے چندہ دے اور پھر قرض بھی لےتو یہ چندہ دینے والا مستحق ثواب ہے یانہیں مثلا ایك شخص کچھ روپیہ قرض لیتاہے۔جب تك قرض لیا ہو اور روپیہ ادانہ ہو تب تك وہ چندہ دیتاہے بعدکو بند کردیتاہے۔
(۴)قوم امانت دار سے حساب روپیہ کا مانگتی ہےاب وہ امین حساب پیش نہیں کرتا کیا شرعا اس پر حساب پیش کرنا ضروری ہے یانہیں
(۵)جو لوگ روپیہ قرض نہیں لیتے اور اس امانت دار کی رائے کے شریك نہیں ہوتے ان سے وہ امین یہ کہتاہے کہ تم اس بیت المال کے خلاف نہیں ہوبلکہ کلام پاك کے خلاف ہوکیا خزانہ بیت المال کایہ طریقہ ہےاس صورت سے کلام پاك سے ثابت ہے فقط
الجواب:
یہ فعل اس کا حرام ہے اور اس کا یہ نام حدیث سے ثابت نہیں بلکہ شیطانی وسوسہ کی ایجاد ہے۔والله تعالی اعلم۔غرض یہ ساری کاروائی حرام ہے۔اسے کلام الله کے خلاف کہنا شیطنت ہے۔او ر وہ جو قرض ادا ہونے تك چندہ دیتاہے وہ معنی سود ہے۔او ر یہ شخص امانت دار نہیں غاصب ہے اور اس کے ذمہ تفہیم حساب لازم نہیںبلکہ جس قدر جمع تھا سب کا واپس دینا اس پر فرض ہے اور اگر ا س پر اس نے
کچھ نفع حاصل کیاہو تو وہ اس پر حرام ہےیا تو انھیں اہل چندہ کو واپس دے جن کے روپے سے نفع حاصل کیاہے۔او ریہی بہترہےورنہ جتنا مال نفع لیا ہے فقراء پر تصدق کرےوالله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۹۳: از کلکتہ شہر ۲۵ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك کتب فروش نے میرے ملك میں آکے بطور نذرانہ کے ایك جلد کلام الله پیش کیااور چند کتب اور بھیعرصہ کے بعد معلوم ہوا کہ جس نے نذرانہ دیاہے وہ ایك دوسرے شخص کی دکان پر ملازم ہ۔اور ان کتابوں کا وہ مالك نہیں ہے۔بغیر حکم اپنے مالك کے وہ کتابیں دی ہیںاس صورت کوہم کو کیا لازم ہے۔کتابوں کو اس شخص کو واپس کردوں یا مالك کتاب کو دے دوںمگر اس صورت میں رسوائی کا خیال ہے۔اور ممکن ہے کہ اپنی تنخواہ میں حساب کرلیاہوں۔مگر مجھے کیا حکم شرعا ہے
الجواب:
وہ کتابیں اپنے پا س نہ رکھی جائیں کیف وقیل۔نہ مالك دکان کودی جائیں کہ کتب فروش کے غصب یاسرقہ پر یقین نہ ہوااور مسلمان کا حال حتی الامکان صلاح پر حمل کرنا واجببلکہ اسی کتب فروش کو واپس کردی جائیں کہ اگر واقع میں اس کی تھیں فبہاورنہ اسے دینے سے بری الذمہ ہوگیادرمختارمیں ہے:
ردغاصب الغاصب المغصوب علی الغاصب الاول یبرأ عن ضمانہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ غاصب سے غصب کرنے والے نے مغصوب کو پہلے غاصب پر واپس کردیا تو اس سے ضمان ساقط ہوجائیگا۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۹۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض موسم میں زید کا مکان قیام گاہ مرد مان ہر شہر ودیار ہوتاہے۔دور دور سے لوگ آتے اور اس کے مکان کی کوٹھری میں اقامت کرتے ہیںجوشخص جس میں ٹھہرتاہے اسے زید وہ مکان سپرد کر دیتاہے۔کہ اس میں رہے اور اپنا مال واسباب رکھے اور اس کی حفاظت کرےانھیں لوگوں میں عمرو نے بھی ایك مسکن میں قیام کیا اور حسب دستور وہ مسکن زید نے اسے سپرد کردیااوربنظر خیر خواہ عمرو کو اگاہ کردیا کہ اس موسم میں لکھو کھاآدمی آتے ہیںاپنے مال کی خوب نگرانی کروعمرو باوجود اس اطلاع کے ایك دن اس مسکن کو تنہا بے قفل چھوڑ کر باہر گیاجب آیا ا س کا مال
مسئلہ ۲۹۳: از کلکتہ شہر ۲۵ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك کتب فروش نے میرے ملك میں آکے بطور نذرانہ کے ایك جلد کلام الله پیش کیااور چند کتب اور بھیعرصہ کے بعد معلوم ہوا کہ جس نے نذرانہ دیاہے وہ ایك دوسرے شخص کی دکان پر ملازم ہ۔اور ان کتابوں کا وہ مالك نہیں ہے۔بغیر حکم اپنے مالك کے وہ کتابیں دی ہیںاس صورت کوہم کو کیا لازم ہے۔کتابوں کو اس شخص کو واپس کردوں یا مالك کتاب کو دے دوںمگر اس صورت میں رسوائی کا خیال ہے۔اور ممکن ہے کہ اپنی تنخواہ میں حساب کرلیاہوں۔مگر مجھے کیا حکم شرعا ہے
الجواب:
وہ کتابیں اپنے پا س نہ رکھی جائیں کیف وقیل۔نہ مالك دکان کودی جائیں کہ کتب فروش کے غصب یاسرقہ پر یقین نہ ہوااور مسلمان کا حال حتی الامکان صلاح پر حمل کرنا واجببلکہ اسی کتب فروش کو واپس کردی جائیں کہ اگر واقع میں اس کی تھیں فبہاورنہ اسے دینے سے بری الذمہ ہوگیادرمختارمیں ہے:
ردغاصب الغاصب المغصوب علی الغاصب الاول یبرأ عن ضمانہ ۔واﷲ تعالی اعلم۔ غاصب سے غصب کرنے والے نے مغصوب کو پہلے غاصب پر واپس کردیا تو اس سے ضمان ساقط ہوجائیگا۔والله تعالی اعلم۔(ت)
مسئلہ ۲۹۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض موسم میں زید کا مکان قیام گاہ مرد مان ہر شہر ودیار ہوتاہے۔دور دور سے لوگ آتے اور اس کے مکان کی کوٹھری میں اقامت کرتے ہیںجوشخص جس میں ٹھہرتاہے اسے زید وہ مکان سپرد کر دیتاہے۔کہ اس میں رہے اور اپنا مال واسباب رکھے اور اس کی حفاظت کرےانھیں لوگوں میں عمرو نے بھی ایك مسکن میں قیام کیا اور حسب دستور وہ مسکن زید نے اسے سپرد کردیااوربنظر خیر خواہ عمرو کو اگاہ کردیا کہ اس موسم میں لکھو کھاآدمی آتے ہیںاپنے مال کی خوب نگرانی کروعمرو باوجود اس اطلاع کے ایك دن اس مسکن کو تنہا بے قفل چھوڑ کر باہر گیاجب آیا ا س کا مال
حوالہ / References
درمختار کتاب الغصب ∞مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۰۷€
چوری ہوگیا تھااس صورت میں شرعا عمرو زید سے تاوان لے سکتاہے یانہیں
الجواب:
شرعا جب تك کسی شخص پر سرقہ کاثبوت کافی نہ پہنچے اس پر نادیدہ حکم روانہیںخصوصا جبکہ اس کی حفاظت بھی ذمہ زید نہ تھی اور ایسا مجمع عام اور اس میں خود عمرو کی یہ بے احتیاطی پس اس صور ت میں ہر گز عمرو کو زید پر دعوی نہیں پہنچتا۔اور اس سے مطالبہ تاوان صریح مخالفت شرع ہے۔والله تعالی اعلم۔
_______________
____________________________
نوٹ:
انیسویں جلد کتاب الغصب پر ختم ہوئی
بیسویں جلد کا آغاز کتاب الشفعہ سے ہوگا
____________________________
الجواب:
شرعا جب تك کسی شخص پر سرقہ کاثبوت کافی نہ پہنچے اس پر نادیدہ حکم روانہیںخصوصا جبکہ اس کی حفاظت بھی ذمہ زید نہ تھی اور ایسا مجمع عام اور اس میں خود عمرو کی یہ بے احتیاطی پس اس صور ت میں ہر گز عمرو کو زید پر دعوی نہیں پہنچتا۔اور اس سے مطالبہ تاوان صریح مخالفت شرع ہے۔والله تعالی اعلم۔
_______________
____________________________
نوٹ:
انیسویں جلد کتاب الغصب پر ختم ہوئی
بیسویں جلد کا آغاز کتاب الشفعہ سے ہوگا
____________________________







