Fatawa Razaviah Volume 2 in Typed Format

#11077 · پیش لفظ
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
پیش لفظ
اس بات پرتمام ارباب علم وفقاہت کا اتفاق ہے کہ متاخرین میں اعلیحضرت عظیم المرتبت سیاح بادیہ شریعت سباح بحر معرفت امام احمدرضاخان فاضل بریلوی جیسا ماہر فقیہ مجتہد اور متکلم پورے عالم اسلام میں دکھائی نہیں دیتا جبکہ کثرت تصنیفات کے اعتبار سے تومتقدمین میں بھی شاید آپ کی نظرنہ مل سکے۔ آپ کے دور اور مابعد کے علما عرب وعجم نے آپ کے تبحر علمی اور تعمق نظری کاتہ دل سے اعتراف کیا اور آپ کی تجدیدی فقہی وکلامی اور تصنیفی وتحقیقی صلاحیتوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آپ کو ابوحنیفہ ثانی شامی وغیرہ فقہاء کا استاد چودہویں صدی کا مجدد اور ارشاد رسولاللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم “ من یرد الله بہ خیرا یفقھہ فی الدین “ کا مظہر قرار دیا۔ یوں تو آپ کی پچاس سے زائد علوم وفنون میں تقریبا گیارہ سو تصانیف موجود ہیں اور ان میں سے ہرایك تصنیف تحقیقی اور دلائل سے بھرپور ہے۔ مگر “ العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ “ المعروف “ فتاوی رضویہ “ آپ کے علمی تبحر اور تفقہ کا خصوصی شاہکار ہے جولاکھوں مسائل وجزئیات فقہیہ کا عظیم الشان خزانہ وذخیرہ ہے جن میں ہزاروں مسائل ایسے ہیں جن کا کسی دوسری کتاب میں یاتوسرے سے وجود ہی نہیں یاپھر اس مضبوط ومربوط انداز سے کہیں اور بیان نہیں ہوئے ہزار ہا صفحات پر مشتمل فتاوی رضویہ کے عمدہ ومنفرد اسلوب بیان اور دلائل وبراہین کے تلاطم وتموج کو دیکھ کر یہی کہاجاسکتا ہے کہ ذلك فضل الله یؤتیہ من یشاء۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشت خدائے بخشندہ
ہمہ خوبی وکمال کے باوجود یہ عظیم الشان فقہی شاہکار اب تك محض اس لئے متداول ومعروف نہ ہوسکا کہ اس کی سابقہ تمام اشاعتیں کتاب اور طباعت کے قدیم انداز پر تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ سینکڑوں صفحات عربی وفارسی زبان پر مشتمل ہونے کی وجہ سے عوام تودرکنار خواص وعلماء بھی مشکل ہی سے استفادہ کرپاتے تھے لہذابڑی شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ کوئی ادارہ اس کو ایسے انداز میں پیش کرے کہ
#11078 · پیش لفظ
اس کی افادیت سے عوام وخواص سب ہی بہرور ہوسکیں۔ چنانچہ مخدوم اہل سنت رئیس العلماء حضرت علامہ مولانامفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی دامت برکاتہم العالیہ وعمت فیوضہم الکاملہ نے اس جلیل القدر کام کا بیڑا اٹھایا اور “ رضافاؤنڈیشن “ کے نام سے ایك ادارہ قائم فرماکراللہتعالی کے فضل وکرم اور حبیب خدا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رحمت وعنایت پربھروسہ کرتے ہوئے اس کارخیرکاآغاز فرمایا آپ کی اور آپ کے رفقاء کار کی شبانہ روز کی محنت وکاوش بالآخررنگ لائی اور فتاوی رضویہ کی جلد اول نئے انداز معیاری طباعت اور دورحاضر کے تقاضوں کے عین مطابق حسن صوری ومعنوی سے مزین وآراستہ ہوکر منصہ شہود پر جلوہ گرہوئی جس میں عبارات کی پیرابندی حوالہ جات کی مقدور بھر تخریج بقید جلدوصفحہ اور عربی وفارسی عبارات کے اردوترجمے کے ساتھ ساتھ مآخذومراجع کی فہرست بھی دے دی گئی۔ جلد اول کے شائع ہوتے ہی جس برق رفتاری کے ساتھ لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا یہ ہماری توقعات سے کہیں بڑھ کر ہے گیارہ سو نسخے دیکھتے ہی دیکھتے علمی ذوق رکھنے والوں کے ہاتھوں میں جاپہنچے۔ اس سے جہاں اس کتاب کی اہمیت وافادیت کا احساس ہوتا ہے وہاں عوام خواص کی تشنگی کابھی پتہ چلتا ہے چنانچہ فوری طور پر جلد اول کا دوسرا ایڈیشن بھی منظر عام پر لایاجاچکا ہے۔
فتاوی رضویہ جلد دوم
بحمداللہ تعالی فتاوی رضویہ کی جلد دوم نہایت عمدہ معیار وانداز اور دیدہ زیب طباعت سے محلی ہوکر آپ کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے جو آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا اور دل کو باغ باغ کررہی ہے۔ یہ جلد پرانی جلد اول کے صفحہ ۲۳۴ باب المیاہ سے صفحہ ۴۸۴ رسالہ ضمنیہ “ الدقۃ والتبیان “ تك ہے جس میں سے رسالہ جلیلہ “ اجلی الاعلام “ جوپرانی جلدکے صفحہ ۳۸۱ سے صفحہ ۴۰۷ تك تھا جلد اول کے شروع میں لگادیاگیا۔ پیش نظر جلد ۳۳ سوالوں کے جوابات اقول کے عنوان سے ۹۳۳ فوائد نفیسہ اور ۵۰۲ تطفلات ومعروضات پرمشتمل ہے۔
اس جلد میں مندرجہ ذیل سات۷ رسائل ہیں :
(۱)الطرس المپعدل فی حد الماء المستعمل مستعمل پانی کی تعریف وتحقیق
(۲)النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۔ ماء قلیل میں بے وضو یاجنبی کے ہاتھ ڈالنے کا حکم۔
(۳)الھنیئ النمیر فی المآء المستدیر۔ مستدیر پانی کی مساحت دہ دردہ کابیان۔
(۴)رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ
ان پانیوں کابیان جن کی مساحت اوپر سے کم اور نیچے سے دہ دردہ ہے یا اس کے برعکس۔
#11079 · پیش لفظ
(۵)ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۔ آب کثیر کی گہرائی کابیان۔
(۶)النور والنورق لاسفار المآء المطلق مطلق پانی کی تحقیق۔
(۷)عطاء النبی لافاضۃ احکام مآء الصبی بچہ کے حاصل کئے ہوئے پانی کا بیان۔
یہاں حضرت علامہ صاحبزادہ قاضی محمد عبدالدائم صاحب زید مجدہ مدیراعلی “ جام عرفان “ سجادہ نشین آستانہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ ہری پورہزارہ کی مساعی جمیلہ کوخراج تحسین پیش کرنا نہایت ضروری ہے جنہوں نے اس جلد کی نظرثانی تصحیح بعض مقامات پر ترجمہ کی اصلاح اور عبارات وجمل کی ترتیب وتزئین میں انتہائی عرق ریزی اور محنت شاقہ کامظاہرہ فرمایا اور خلوص وللہیت کے جذبے سے سرشار ہوکر اپنی خداداد ادبی وفکری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کے حسن وزیبائش میں نکھار پیدا کیا۔ اس پر رضافاؤنڈیشن کے اراکین تہ دل سے ان کے شکرگزار ہیں۔
اہل علم حضرات سے مخلصانہ اپیل ہے کہ ترجمہ وکتابت کی جواغلاط ان کی نظر میں آئیں ان سے مطلع فرمائیں نیز اس عظیم ووقیع منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے اپنی قیمتی تجاویز سے نوازیں۔اللہتعالی مفتی صاحب کا سایہ اہلسنت کے سروں پر قائم ودائم رکھے او رجس عظیم منصوبے کا آپ نے آغاز فرمایا ہے اسے پایہ تکمیل تك پہنچانے کے لئے غیب سے وسائل واسباب مہیا فرمائے آمین بجاہ حبیب الہ العلمین۔
o حافظ عبدالستار سعیدی
ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ
اندرون لوہاری گیٹ لاہور
#11080 · باب المیاہ (پانیوں کا بیان)
مسئلہ ۲۳ : ۲۷ صفر ۱۳۰۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بقیہ آب وضو سے کہ برتن میں رہ جائے وضو جائز ہے یا نہیں اور اگر پہلا وضو کرنے میں کچھ پانی ہاتھ سے اس میں گر پڑا تو کیا حکم ہے۔ بینوا توجروا۔

الجواب :
بقیہ(۱)آب وضو کہ برتن میں رہ جاتا ہے مائے مستعمل نہیں بلکہ وہ پانی ہے جو استعمال سے بچ رہا اس سے وضو میں کوئی حرج نہیں اور مائے مستعمل(۲)اگر غیر مستعمل میں مل جائے تو مذہب صحیح میں اس سے وضو جائز ہے جب تک مائے مستعمل غیر مستعمل سے زائد نہ ہوجائے اگرچہ مستعمل پانی دھار بندھ کر گراہو اور بعض نے کہا اس صورت میں بھی مستعمل فاسد کردے گا اور وضو جائز نہ ہوگا اگرچہ غیر مستعمل زائد ہو مگر ترجیح مذہب اول کو ہے۔
فی فتاوی الخلاصۃ جنب اغتسل فانتقض من غسلہ شیئ فی انائہ لم یفسد علیہ الماء اما اذا کان یسیل منہ سیلانا افسدہ وکذا حوض الحمام علی ھذا وعلی قول محمد لایفسدہ مالم یغلب علیہ یعنی لایخرجہ من الطھوریۃ وفی الدر المختار یرفع الحدث بماء مطلق لابماء مغلوب بمستعمل بالاجزاء فان المطلق اکثر من النصف جاز التطہیر بالکل والا لا علی ما حققہ فی البحر والنھر و المنح اھ۔ ملتقطا واللہ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
فتاوی خلاصہ میں ہے اگر جنبی شخص کے جسم سے بوقت غسل کچھ چھینٹے برتن میں گر گئے تو پانی ناپاک نہ ہوگا ہاں اگر باقاعدہ بہہ کر پانی گرا تو ناپاک ہوگا اور حمام کے حوض کا بھی یہی حکم ہے اور امام محمد کا قول ہے کہ صرف اسی وقت ناپاک ہوگا جب وہ پاک پانی پر غالب ہوجائے اور درمختار میں ہے کہ مطلق پانی سے حدث کو زائل کرے نہ کہ اس پانی سے جس پر مستعمل پانی غالب ہو اگر مطلق پانی آدھے سے زائد ہو تو کل سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے ورنہ نہیں بحر نہر اور منح میں یہی تحقیق ہے اھ ملتقطا۔ (ت)
حوالہ / References ∞ €αخلاصۃ الفتاوٰی€∞ €αکتاب الطہارت€∞۱€α €∞/€α €∞۸)€
∞ € الدرالمختار∞ € باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی∞۱€ ∞/€ ∞۳۴)€
#11468 · باب المیاہ (پانیوں کا بیان)
مسئلہ ۲۴ : از غازی آباد وضلع میرٹھ محلہ باغ مرسلہ حامد حسن صاحب ۵ رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ
استنجا(۱)یعنی پیشاب پاخانے کے بچے ہوئے پانی سے وضو جائز ہے یا نہیں اور وضو کی حرمت میں اس وجہ سے کچھ فرق تو نہیں آتا یا کیا بینوا توجروا
الجواب :
جائز ہے اور اس میں حرمت وضو کا کچھ خلاف نہیں کہ یہ پانی استعمال میں نہ آیا کما لایخفی والله اعلم بالصواب۔
مسئلہ ۲۵ : ۲۰ جمادی الاخری ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پانی بارش کا جو خاص شہر میں برستا ہے اور نالی وغیرہ دھو کر باہر چلا جاتا ہے پاک ہے یا نہیں اس سے وضو درست ہے یا نہیں اس پانی کو جاریہ کہیں گے یا نہیں۔ بینوا توجروا
الجواب :
(۲)جس وقت بارش ہورہی ہے اور وہ پانی بہہ رہا ہے ضرور مائے جاری ہے اور وہ ہرگز ناپاک نہیں ہوسکتا جب تک نجاست کی کوئی صفت مثلا بو یا رنگ اس میں ظاہر نہ ہو صرف نجاستوں پر اس کا گزرتا ہوا جانا اس کی نجاست کا موجب نہیں فان الماء الجاری یطھر بعضہ بعضا(جاری پانی کا ایک حصہ دوسرے کو پاک کردیتا ہے۔ ت)رہا اس سے وضو اگر کسی نجاست مرئیہ کے اجزا اس میں ایسے بہتے جارہے ہیں کہ جو حصہ پانی کا اس سے لیا جائے ایک آدھ ذرہ اس میں بھی آئے گا جب تو یقینا حرام وناجائز ہے وضو نہ ہوگا اور بدن ناپاک ہوجائے گا کہ حکم طہارت بوجہ جریان تھا جب پانی برتن یا چلو میں لیا جریان منقطع ہوا اور نجاست کا ذرہ موجود ہے اب پانی نجس ہوگیا اور اگر ایسا نہیں جب بھی بلا ضرورت اس سے احتراز چاہئے کہ نالیوں کا پانی غالبا اجزائے نجاست سے خالی نہیں ہوتا اور عام طبائع میں اس کا ¬استقذار یعنی اس سے تنفر اس سے گھن کرنا اسے نا پسند رکھنا ہے اور ایسے امر سے شرعا احتراز مطلوب احادیث میں ہے :
ایاك وما یسوء الاذن ۔ ایاك وما یعتذر منہ بشروا و لاتنفروا ۔
بری بات سننے سے بچو۔ اور اس بات سے کہ بعد میں عذر کی ضرورت ہو خوشخبری سناؤ نفرت نہ پھیلاؤ۔ (ت)
اور اگر بارش ہوچکی اور پانی ٹھہر گیا اور اب اس میں اجزائے نجاست ظاہر ہیں یا نالی کے پیٹ میں نجاست کی
حوالہ / References مسند امام احمدعن ابی الغادیۃمطبوعہ بیروت۴ / ۷۶
جامع الصغیر مع فیض القدیر مطبوعہ بیروت۳ / ۱۱۷
جامع للبخاری کتاب العلمقدیمی کتب خانہ کراچی۱ / ۱۶
#11469 · باب المیاہ (پانیوں کا بیان)
رنگت یا بو تھی اور بارش اتنی نہ ہوئی کہ اسے بالکل صاف کردیتی انقطاع کے بعد وہ رنگ یا بو ہنوز باقی ہے تو اب یہ پانی ناپاک ہے اور اگر نالی صاف تھی یا مینہ نے بالکل صاف کردی اور پانی میں بھی کوئی جزء نجاست محسوس نہیں تو پاک ہے۔ والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۶ : ۱۱ صفر ۱۳۰۹ھ
جناب مولوی صاحب قبلہ! ایک حوض ساڑھے سات گز لمبا اور ساڑھے سات گز چوڑا اور ڈیڑھ گز گہرا اگر اس میں چار برس کا بچہ موت دے تو ناپاک ہوگیا یا پاک رہا۔ خاکسار عزیز اللہ
الجواب :
(۱)پاک رہا کہ اس کی مساحت(قطر)دہ در دہ یعنی سو ہاتھ کے دو نے سے بھی پچیس۲۵ ہاتھ زائد ہے والعبرۃ بذراع الکرباس تیسیرا والسلام واللہ تعالی اعلم(اور اعتبار عام استعمال ہونے والے گز کا ہے لوگوں کی آسانی کیلئے۔ ت)

مسئلہ ۲۷ : ۲۹ رجب ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک حوض دہ در دہ ہے سنیوں میں یا شیعوں میں اور اس میں کتا یا سوئر پانی پی گیا ہو آیا اس سے وضو یا پینا چاہئے یا نہیں یا پیشاب یا پاخانہ پھر گیا ہو پاک رہا یا نہیں۔ بینوا توجروا
الجواب :
(۲)امر آب میں ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکا مذہب تمام مذاہب سے زیادہ احتیاط کا ہے آب جاری تو بالاجماع نجس نہیں ہوتا جب تک نجاست سے اس کا رنگ یا بو یا مزہ نہ بدلے یا ایک قول پر اس کا نصف یا اکثر نجاست مرئیہ پر ہو کر گزرے اور غیر جاری میں ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالی عنہماجمعین سے ظاہر الروایۃ کا محصل یہ ہے کہ اگر یہاں نجاست پڑی ہے اور ظن غالب ہو کہ اس جگہ وضو کیجئے تو اتنی دور کا پانی فورا زیرو زبر نہ ہونے لگے گا تو وہاں کا پانی ناپاک نہ ہوا اس سے وضو وغیرہ سب جائز ہے۔
فی ردالمحتار قال فی البدائع والمحیط اتفقت الروایۃ عن اصحابنا المتقد مین انہ یعتبر بالتحریك وھو ان یرتفع وینخفض من ساعتہ لابعد المکث ولا یعتبر اصل الحرکۃ وفی التتار خانیۃ انہ المروی عن ائمتنا الثلثۃ فی الکتب المشہورۃ اھ وھل المعتبر حرکۃ الغسل
ردالمحتار میں ہے کہ بدائع اور محیط میں فرمایا کہ ہمارے اصحاب متقدمین سے یہ روایت متفق ہے کہ ہلانے کا اعتبار ہوگا یعنی اسی وقت پانی میں نشیب وفراز پیدا ہو نہ یہ کہ تھوڑی دیر بعد اور اصل حرکت کا اعتبار نہ ہوگا تاتارخانیہ میں ہے کہ یہی ہمارے ائمہ ثلثہ سے کتب مشہورہ میں منقول ہے اھ اب اس میں اختلاف ہے کہ آیا
#11470 · باب المیاہ (پانیوں کا بیان)
اوالوضوء اوالید روایات ثانیہا اصح لانہ الوسط کما فی المحیط والحاوی القدسی وتمامہ فی الحلیۃ وغیرھا الخ وفی الدرالمختار والمعتبر اکبر رأی المبتلی بہ فان غلب علی ظنہ عدم خلوص النجاسۃ الی الجانب الاخر جاز والا لاھذہ ظاھر الروایۃ وھو الاصح کما فی الخانیۃ وغیرھا وحقق فی البحر انہ المذھب اھ ملخصا فی الدرالمختار لکن فی النھر وانت خبیر بان اعتبار العشر اضبط ولا سیمافی حق من لارأی لہ من العوام فلذا افتی بہ المتاخرون الاعلام الخ وفی ردالمحتار ذکر بعض المحشین عن شیخ الاسلام العلامۃ سعد الدین الدیری فی رسالتہ القول الراقی انہ حقق فیھا مااختارہ اصحاب المتون من اعتبار العشرو ردفیھا علی من قال بخلافہ ردا بلیغا واورد نحو مائۃ نقل ناطقۃ بالصواب ولا یخفی ان المتاخرین الذین افتوا بالعشر کصاحب الہدایۃ وقاضی خان وغیرھما من اھل الترجیح
غسل کی حرکت مراد ہے یا وضو کی یا ہاتھ کی۔ دوسری روایت اصح ہے کیونکہ وہ درمیانی ہے جیسا کہ المحیط والحاوی القدسی میں ہے اور مکمل بحث حلیہ وغیرہ میں ہے الخ
اور درمختار میں ہے کہ جو پانی استعمال کر رہا ہے اسی کا ظن غالب معتبر ہے اور اگر اس کا غالب گمان یہ ہے کہ پانی کے دوسرے حصے تک نجاست نہیں پہنچی ہے تو جائز ہے ورنہ نہیں یہی ظاہر روایت ہے اور یہی اصح ہے کما فی الخانیۃ وغیرہا اور بحر میں تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ یہی مذہب ہے ا ھ ملخصاپھر ائمہ متاخرین نے اسے دہ دردہ سے اندازہ فرمایا اور تیسیرا آب جاری کے حکم میں قرار دیا کہ جمیع جوانب سے وضو وغیرہ روا جب تک پانی نجاست کا اثر نہ لے لے۔ اور درمختار میں یہ ہے کہ “ لیکن نہر میں ہے کہ دس ہاتھ کا اعتبار مسئلہ کو زیادہ منضبط کردیتا ہے خاص طور پر عوام کیلئے جو ذاتی رائے نہیں رکھتے ہیں اس لئے متاخرین علماء نے اسی پر فتوی دیا ہے اور ردالمحتار میں بعض حاشیہ نگاروں نے شیخ الاسلام علامہ سعد الدین الدیری سے ان کے رسالہ “ القول الراقی “ سے نقل کیا ہے کہ ان کی تحقیق وہی ہے جو اصحاب متون نے لکھا ہے یعنی دس ہاتھ کا اعتبار کیا جائے گا اور جن حضرات نے اس کے برعکس لکھا ہے ان پر آپ نے رد بلیغ کیا ہے اس پر انہوں نے ایک سو نقول صحیحہ پیش کی ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ وہ متاخرین جنہوں نے
حوالہ / References ردالمحتارباب المیاہ مصطفی البابی مصر۱ / ۱۴۱
الدرالمختار باب المیاہ مطبع مجتبائی دہلی۱ / ۳۶
الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی۱ / ۳۶
#11471 · باب المیاہ (پانیوں کا بیان)
م اعلم بالمذھب منا فعلینا اتباعھم ویؤیدہ ماقدمہ الشارح فی رسم المفتی واما نحن فعلینا اتباع مارجحوہ وصححوہ کمالو افتونا فی حیاتھم اھ وفیہ قال فی الفتح وعن ابی یوسف انہ کالجاری لا یتنجس الا بالتغیر وھو الذی ینبغی تصحیحہ فینبغی عدم الفرق بین المرئیۃ وغیرھا لان الدلیل انما یقتضی عند الکثرۃ عدم التنجس الا بالتغیر من غیر فصل اھ وفی حاشیتہ للعلامۃ الطحطاوی لافرق بین موضع الوقوع وغیرہ وبین نجاسۃ ونجاسۃ وینبغی تصحیحہ کما فی الفتح وھو المختار کما قالہ العلامۃ قاسم وعلیہ الفتوی کما فی النصاب اھ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔ دس۱۰ ہاتھ پر فتوی دیا ہے جیسے صاحب ہدایہ اور قاضی خان وغیرہما اہل ترجیح سے ہیں وہ ہم سے زائد مذہب کے جاننے والے ہیں لہذا ہم پر واجب ہے کہ ہم ان کی پیروی کریں اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے جو شارح نے رسم المفتی میں کہا ہے کہ “ ہم لوگوں پر اس کی اتباع لازم ہے جس کو انہوں نے راجح اور صحیح قرار دیا ہے بالکل اسی طرح جس طرح وہ اپنی زندگی میں فتوی دیتے تو ہم پر اتباع لازم تھا۔ اور اسی میں ہے کہ فتح میں فرمایا “ اور ابو یوسف سے مروی ہے کہ یہ جاری پانی کی طرح ہے بغیر تغیر کے ناپاک نہ ہوگا اور اس کی تصحیح کی جانی چاہئے تو نجاست مرئیہ اور غیر مرئیہ کے درمیان فرق نہ ہونا چاہئے کیونکہ دلیل کا تقاضا یہ ہے کہ کثیر پانی سوائے تغیر کے ناپاک نہ ہو۔ اھ اور مراقی الفلاح میں ہے کہ اسی پر ہمارے مشائخ بلخ نے لوگوں پر فراخی کیلئے فتوی دیا ہے اور دس ہاتھوں کا قول ہی مفتی بہ ہے۔ اور اس کے حاشیہ میں علامہ طحطاوی نے لکھا کہ نجاست کے گرنے کی جگہ اور دوسری جگہ میں فرق نہیں اسی طرح ایک نجاست اور دوسری نجاست میں فرق نہیں اور اس کی تصحیح کی جانی چاہئے کما فی الفتح اور یہی مختار ہے جیسا کہ علامہ قاسم نے فرمایا وعلیہ الفتوی کما فی النصاب (اسی پر فتوی ہے جیسا کہ نصاب میں ہے)اھ والله سبحانہ و تعالی اعلم۔ (ت) ________________________
حوالہ / References ردالمحتارباب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۱
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۰
مراقی الفلاح الطہارۃ نور محمد کراچی ص۱۶
#11472 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
رسالہ
فتوی مسمی بہ
الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ
استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ(ت)
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مسئلہ ۲۸ : ۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آب مستعمل کی کیا تعریف ہے بینوا توجروا۔
الجواب
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
حمدالمن جعل الطھور غاسل اثامنا فطھر ارواحنا باسالۃ الماء علی اجسامنا فیالہ من منۃ وافضل الصلاۃ وازکی السلام علی من طھرنا من الانجاس وادام دیم نعمہ علینا حتی نقانا من الادناس وعلی الہ وصحبہ واھل السنۃ امین۔
اقول : وبالله التوفیق(۱)مائے مستعمل وہ قلیل پانی ہے جس نے یا تو تطہیر نجاست حکمیہ سے کسی واجب کو ساقط کیا یعنی انسان کے کسی ایسے پارہ جسم کو مس کیا جس کی تطہیر وضو یا غسل سے بالفعل لازم تھی یا ظاہر بدن پر اس کا استعمال خود کار ثواب تھا اور استعمال کرنے والے نے اپنے بدن پر اسی امر ثواب کی نیت سے استعمال کیا اور یوں اسقاط واجب تطہیر یا اقامت قربت کرکے عضو سے جدا ہوا اگرچہ ہنوز کسی جگہ مستقر نہ ہوا بلکہ روانی میں ہے اور بعض نے زوال حرکت وحصول استقرار کی بھی شرط لگائی۔ یہ بعونہ تعالی دونوں مذہب پر حد جامع مانع ہے کہ ان سطروں کے سوا کہیں نہ ملے گی۔ اب فوائد قیود سنیے :
(۱)آب کثیر یعنی دہ در دہ یا جاری پانی میں محدث وضو یا جنب غسل کرے یا کوئی نجاست ہی دھوئی جائے تو پانی نہ نجس ہوگا نہ مستعمل لہذا قلیل کی قید ضرور ہے۔
(۲)محدث(۲)نے تمام یا بعض اعضائے وضو دھوئے اگرچہ بے نیت وضو محض ٹھنڈ یا میل وغیرہ جدا کرنے کیلئے یا اس نے اصلا کوئی فعل نہ کیا نہ اس کا قصد تھا بب بلکہ کسی دوسرے نے اس پر پانی ڈال دیا جو اس کے کسی ایسے عضو پر گزرا جس کا وضو یا غسل میں پاک کرنا ہنوز اس پر فرض تھا مثلا محدث کے ہاتھ یا جنب کی پیٹھ پر تو ان سب صورتوں میں شکل اول کے سبب پانی مستعمل ہوگیا کہ اس نے محل نجاست حکمیہ سے مس کرکے اتنے ٹکڑے کی تطہیر واجب کو ذمہ
#11473 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
مکلف سے ساقط کردیا اگرچہ پچھلی صورتوں میں ہنوز حکم تطہیر دیگر اعضا میں باقی ہے اور پہلی میں تو یعنی جبکہ تمام اعضا دھو لے فرض تطہیر پورا ہی ذمہ سے اتر گیا۔
تنبیہ : (۱)پانی کولی یا بڑے مٹکے کے سوا کہیں نہیں وہ برتن جھکانے کے قابل نہیں چھوٹا برتن مثلا کٹورا ایک ہی پاس تھا وہ اسی برتن میں گر کر ڈوب گیا کوئی بچہ یا باوضو آدمی ایسا نہیں جس سے کہہ کر نکلوائے اب بمجبوری محدث خود ہی ہاتھ ڈال کر نکالے گا یا چھوٹا برتن سرے سے ہے ہی نہیں تو ناچار چلو لے لے کر ہاتھ دھوئے گا ان دونوں صورتوں میں بھی اگرچہ شکل اول اعنی اسقاط واجب تطہیر پائی گئی یہ ضرورۃ معاف رکھی گئی ہیں بے ضرورت ایسا کرے گا تو پانی کل یا بعض بالاتفاق مستعمل ہوجائے گا اگرچہ ایک قول پر قابل وضو رہے۔ (۲)بیان اس کا یہ ہے کہ محدث یعنی بے وضو یا حاجت غسل والے کا وہ عضو جس پر سے ہنوز حکم تطہیر ساقط نہ ہوا اگرچہ کتنا ہی کم ہو مثلا پورا یا ناخن اگر قلیل پانی سے مس کرے تو ہمارے علماء کو اختلاف ہے بعض کے نزدیک وہ سارا پانی مستعمل ہوجاتا ہے اور قابل وضو وغسل نہیں رہتا اور بعض کے نزدیک صرف اتنا مستعمل ہوا جس قدر اس پارہ بدن سے ملا باقی آس پاس کا پانی جو اس عضو کی محاذات میں ہے اور اس سے مس نہ ہوا مستعمل نہ ہوا یوں ہی وہ تمام پانی کہ اس عضو کے پہنچنے کی جگہ سے نیچے ہے اس پر بھی حکم استعمال نہ آیا۔ اس قول پر مٹکے یا کولی میں کہنی تک ہاتھ ڈالنے سے بھی پانی قابل طہارت رہے گا کہ ظاہر ہے جو پانی ہاتھ کے آس پاس اور اس سے نیچے رہا وہ اس حصے سے بہت زائد ہے جس نے ہاتھ سے مس کیا اور جب(۳)غیر مستعمل پانی مستعمل سے زائد ہو تو پانی قابل وضو وغسل رہتا ہے مثلا لگن میں وضو کیا اور وہ پانی ایک گھڑے بھر آب غیر مستعمل میں ڈال دیا تو یہ مجموع قابل وضو ہے کہ مستعمل نامستعمل سے کم ہے اسی پر قیاس کرکے ان بعض نے ہاتھ ڈالنے کا حکم رکھا کہ مستعمل تو اتنا ہی ہوا جتنا ہاتھ کو لگا باقی کہ الگ رہا اس پر غالب ہے اور فریق اول نے فرمایا کہ پانی ایک متصل جسم ہے اس کے بعض سے ملنا کل سے ملنا ہے لہذا ناخن کی نوک یا پورے کا کنارہ لگ جانے سے بھی کل مٹکا مستعمل ہوجائے گا۔ یہ دو قول ہیں اور فریق اول ہی کا قول احتیاط ہے بہرحال اتنے میں فریقین متفق ہیں کہ بے ضرورت چلو لینے یا ہاتھ ڈالنے سے پانی مستعمل ہوجائے گا اگرچہ بعض تو ہماری تعریف اس قول پر بھی ہر طرح جامع مانع ہے۔
(۳)باوضو آدمی نے بہ نیت ثواب دوبارہ وضو کیا۔
(۴)سمجھ وال نابالغ نے وضو بقصد وضو کیا۔
(۵)حائض ونفساء کو جب تک حیض ونفاس باقی ہے وضو وغسل کا حکم نہیں مگر انہیں(۴)مستحب ہے کہ نماز پنجگانہ کے وقت اور اشراق وچاشت وتہجد کی عادت رکھتی ہو تو ان وقتوں میں بھی وضو کر کے کچھ دیر یاد الہی کرلیا کرے کہ عبادت کی عادت باقی رہے۔ انہوں نے یہ وضو کیا۔
#11474 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
(۶)پاک آدمی نے ادائے سنت کو جمعے یا عیدین یا عرفے یا احرام یا اور اوقات مسنونہ کا غسل یا میت کو غسل دینے کا وضو یا غسل کیا۔
(۷)باوضو(۱)نے کھانے کو یا کھانا کھا کر بہ نیت ادائے سنت ہاتھ دھوئے یا کلی کی۔
(۸)وضوئے فرض یا نفل میں جو پانی کلی یا ناک میں پہنچانے میں صرف ہوا۔
(۹)کچھ اعضا دھو لئے تھے خشک ہوگئے سنت موالات کی نیت سے انہیں پھر دھویا ان سب صورتوں میں شکل دوم کے سبب مستعمل ہوجائے گا اگرچہ اسقاط واجب نہ کیا اقامت قربت کی(۲)میت کو نہلا کر غسل کرنا بھی مستحب ہے کما فی الدر وغیرہ۔
(۱۰)میت کے بارے میں علماء مختلف ہیں جمہور کے نزدیک موت نجاست حقیقہ ہے اس تقدیر پر تو وہ پانی کہ غسل میت میں صرف ہوا مائے مستعمل نہیں بلابلکہ ناپاک ہے اور بعض کے نزدیک نجاست حکمیہ ہے بحرالرائق وغیرہ میں اسی کو اصح کہا اس تقدیر پر وہ پانی بھی مائے مستعمل ہے اور ہماری تعریف کی شق اول میں داخل کہ اس نے بھی اسقاط واجب کیا۔
اقول ولہذا ہم نے انسان کا پارہ جسم کہا نہ مکلف کا کہ میت مکلف نہیں۔ اور تطہیر لازم تھی کہا نہ یہ کہ اس کے ذمے پر لازم تھی کہ یہ تطہیر میت کے ذمے پر نہیں احیا پر لازم ہے۔
(۱۱)یوں ہی غسل میت کا دوسرا اور تیسرا پانی بھی آب مستعمل ہوگا کہ اگرچہ پہلے پانی سے اسقاط واجب ہوگیا مگر غسل میت میں تثلیث بھی قربت مطلوبہ فی الشرع ہے۔
اقول ولہذا ہم نے شق دوم میں بھی بدن انسان مطلق رکھا۔
(۱۲)وضو علی الوضو کی نیت سے دوسرے کو کہا مجھے وضو کرادے اس نے بے نیت ثواب اس کے اعضائے وضو دھو دئیے پانی مستعمل ہوگیا کہ جب اس کے امر سے ہے اور اس کی نیت قربت کی ہے تو وہ اسی کا استعمال قرار پائے گا الا تری انہ لوفعل ذلك محدث ونوی فقد اتی بالمامور بہ مع ان امر فاغسلوا وامسحوا انما کان علیہ(جیسا کہ اگر بے وضو ایسا کرے اور نیت کرے تو مامور بہ کو بجا لانے والا ہوگا جو فاغسلوا وامسحوا سے اس پر لازم تھا۔ ت)
(۱۳)باوضو(۳)آدمی نے اعضاء ٹھنڈے کرنے یا میل دھونے کو وضو بے نیت وضو علی الوضو کیا پانی مستعمل نہ ہوگا کہ اب نہ اسقاط واجب ہے نہ اقامت قربت۔
(۱۴)معلوم تھا کہ عضو تین۳ بار دھو چکا ہوں اور ہنوز پانی خشک بھی نہ ہوا تھا بلا وجہ چوتھی بار اور ڈالا یہ بھی قربت نہیں بلکہ خلاف ادب ہے۔
(۱۵)ہاں اگر شک ہو کہ دو۲ بار دھویا یا تین۳ بار یوں تیقن تثلیث کیلئے پانی پھر ڈالا تو مستعمل ہوجائے گا
#11475 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
اگرچہ واقع میں چوتھی بار ہو۔
(۱۶)جسے حاجت غسل نہیں اس نے اعضائے وضو کے سوا مثلا پیٹھ یا ران دھوئی۔
(۱۷)باوضو نے کھانا کھانے کو یا کھانے سے بعد یا ویسے ہی ہاتھ منہ صاف کرنے کو ہاتھ دھوئے کلی کی اور ادائے سنت کی نیت نہ تھی مستعمل نہ ہوگا کہ حدث وقربت نہیں۔
(۱۸)باوضو نے صرف کسی کو وضو سکھانے کی نیت سے وضو کیا مستعمل نہ ہوا کہ تعلیم وضو اگرچہ قربت ہے مگر وضو سکھانے کو وضو کرنا فی نفسہ قربت نہیں سکھانا قربت ہے اور وہ زبان سے بھی ممکن ولہذا ہم نے قید لگائی کہ وہ استعمال خود کار ثواب تھا یعنی فعل فی نفسہ مطلوب فی الشرع ولو مقصودا لغیرہ کالوضوء(فعل فی نفسہ مطلوب فے الشرع ہے اگرچہ مقصود لغیرہ ہو جیسے وضو ہے۔ ت)
(۱۹)کوئی پاک کپڑا وغیرہ دھویا۔
(۲۰ ۲۱)کسی جانور یا نابالغ بچے کو نہلایا اور ان کے بدن پر نجاست نہ تھی اگرچہ وہ جانور غیر ماکول اللحم ہو جیسے بلی یا چوہا حتی کہ مذہب راجح میں کتا بھی جبکہ پانی ان کے لعاب سے جدارہا اگرچہ نہلانا ان کے دفع مرض یا شدت گرما میں ٹھنڈ پہنچانے کو بہ نیت ثواب ہو مستعمل نہ ہوگا۔
اقول : کپڑا برتن جانور اور ان کے امثال تو بدن انسان کی قید سے خارج ہوئے اور نابالغ کو نہلانا مثل وضوئے تعلیم خود قربت نہیں کہ بچوں کے نہلانے کا کوئی خاص حکم شرع میں نہ آیا ہاں انہیں بلکہ ہر مسلمان وجاندار کو نفع وآرام پہنچانے کی ترغیب ہے یہ امور عادیہ اس حکم کی نیت سے کلیہ محمودہ کے نیچے آکر قربت ہوسکتے ہیں مگر موجب استعمال وہی فعل ہے جو بذات خود قربت ومطلوب شرع ہو۔
(۲۲)حائض ونفساء نے قبل انقطاع دم بے نیت قربت غسل کیا پانی مستعمل نہ ہوگا کہ اس نے اگرچہ انسان کے جسم کو مس کیا جس کی تطہیر غسل سے واجب ہوگی مگر ابھی لازم نہیں بعد انقطاع لزوم ہوگا۔ اقول ولہذا ہم نے بالفعل کی قید لگائی۔
(۲۳)ناسمجھ بچے نے وضو کیا جس طرح دو تین سال کے اطفال ماں باپ کو دیکھ کر بطور نقل وحکایت افعال وضو نماز کرنے لگتے ہیں پانی مستعمل نہ ہوگا کہ نہ قربت نہ حدث۔
(۲۴)وضو کرنے میں پانی کو جب تک اسی عضو پر بہہ رہا ہے حکم استعمال نہ دیا جائے گا ورنہ وضو محال ہو جائے بلکہ جب اس عضو سے جدا ہوگا اس وقت مستعمل کہا جائے گا اگرچہ ہنوز کہیں مستقر نہ ہوا ہو مثلا(۱)منہ دھونے منہ دھونے میں کلائی پر پانی لیا اور وہی پانی کے منہ سے جدا ہو کر آیا کلائی پر بہا لیا جمہور کے نزدیک کافی نہ ہوگا کہ منہ سے منفصل ہوتے ہی حکم استعمال ہوگیا ہاں جن بعض کے یہاں استقرار شرط ہے ان کے نزدیک کافی ہے کہ ابھی مستعمل نہ ہوا اور غسل میں سارا بدن عضو واحد ہے تو سر کا پانی کہ پاؤں تک بہتا جائے جس جس جگہ گزرا سب کو پاک کرتا جائے گا۔
#11476 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
(۲۵)اقول نجاست میں حکمیہ کی تقیید کا فائدہ ظاہر ہے کہ جو پانی نجاست حقیقیہ کے ازالہ میں صرف ہو ہمارے نزدیک مطلقا ناپاک ہوجائے گا نہ کہ مستعمل۔
(۲۶)اقول : ہم نے پانی کو مطلق رکھا اور خود رفع نجاست حکمیہ واقامت قربت ہائے مذکورہ سے واضح کہ پانی سے مائے مطلق مراد ہے تو شوربے یا دودھ کی لسی یا نبیذ تمر سے اگر وضو کرے وہ مستعمل نہ ہونگے ان سے وضو ہی نہ ہوگا تو مستعمل کیا ہوں۔
(۲۷)خود نفس جنس یعنی پانی نے دودھ سرکہ گلاب کیوڑے وغیرہا کو خارج کردیا کہ ان سے وضو کرے تو مستعمل نہ ہوں گے اگرچہ بے وضو ہو اگرچہ جنب ہو اگرچہ نیت قربت کرے کہ(۱)غیر آب نجاست حکمیہ سے اصلا تطہیر نہیں کرسکتا۔
تنبیہ : اگر کہیے ۲۶ و ۲۷ کا ثمرہ کیا ہے کہ مستعمل ہونے سے ہمارے نزدیک شے نجس نہیں ہوجاتی صرف نجاست حکمیہ دور کرنے کے قابل نہیں رہتی یہ قابلیت ان اشیاء میں پہلے بھی نہ تھی تو ان کو مستعمل نہ ماننے کا کیا فائدہ ہوا۔ اقول اول تو یہی فائدہ بہت تھا کہ مستعمل نہ ہونے سے ان کی طہارت متفق علیہ رہے گی کہ مستعمل کی طہارت میں ہمارے ائمہ کا اختلاف ہے اگرچہ صحیح طہارت ہے۔
ثانیا : مستعمل(۲)اگرچہ طاہر ہے مگر قذر ہے مسجد میں اس کا ڈالنا ناجائز ہے ان اشیاء کو مستعمل نہ بتانے سے یہ معلوم ہوا کہ مثلا جس(۳)گلاب سے کسی نے وضو کیا اسے مسجد میں چھڑک سکتے ہیں کہ وہ مستعمل نہ ہوا۔
بالجملہ یہ وہ نفیس وجلیل جامع ومانع وشافی ونافع تعریف مائے مستعمل ہے کہ بفضل الہی خدمت کلمات علمائے کرام سے اس فقیر پر القا ہوئے ولله الحمد۔ سہولت حفظ کیلئے فقیر اسے نظم کرتا اور برادران دینی سے دعائے عفو وعافیت کی طمع رکھتا ہے
مائے مستعمل کہ طاہر نامطہر وصف اوست جامع ومانع حد اواز رضا دوحرف شد
مطلقے کو واجب شستن زحد ثے کا ست یا بربشر در قربت مطلوبہ عینا صرف شد
راکدے عــہ کا ینسان جدا شداز بدن مستعمل ست لیک نزد بعض چوں قائم بجایا ظرف شد
دو شعر اخیر میں وہ تمام تفاصیل آگئیں جو یہاں تک مذکور ہوئیں اور یہ بھی کہ راجح قول اول ہے یعنی بدن سے جدا ہوتے ہی مستعمل کا حکم دیا جائے گا کسی جگہ مستقر ہونا شرط نہیں۔ اب عبارات علماء اور بعض مسائل مذکورہ میں اپنی تحقیق مفرد ذکر کریں وبالله التوفیق۔ تنویر الابصار ودرمختار و ردالمحتار میں ہے :
لایجوز بماء استعمل لاجل قربۃ ای ثواب ولو
وضو اس پانی سے جائز نہیں جس کو بطور ثواب استعمال کیا گیا ہو۔
حوالہ / References ترجمہ : مستعمل پانی جو کہ خود پاک ہوتا ہے اور دوسرے کو پاک نہیں کرتا رضا سے اس کی جامع مانع تعریف دو باتوں میں ہوئی ٭ جس سے مطلقاً حدث زائل ہوا ہو یا قربت مقصودہ کی نیت سے بدن پر استعمال ہوا ہو قلیل پانی جب بدن سے جُدا ہوا تو مستعمل ہوجائیگا لیکن بعض کے نزدیک بدن سے جُدا ہو کر کسی جگہ یا ظرف میں اس کا قرار ضروری ہے۔
عــــــہ : راکد بمعنے غیر جاری یعنی آبِ قلیل کہ دَہ در دَہ نباشد ۱۲(م)
#11477 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
من ممیز (اذا توضأ یرید بہ التطہیر کما فی الخانیۃ وظاھرہ انہ لولم یرد بہ ذلك لم یصر مستعملا ) اوحائض لعادۃ عبادۃ (قال فی النھر قالوابوضوء الحائض یصیر مستعملا لانہ یستحب لہا الوضوء لکل فریضۃ وان تجلس فی مصلاھا قدرھا کیلا تنسی عادتہا وینبغی ان لو توضأت لتہجد عادی اوصلاۃ ضحی ان یصیر مستعملا اھ واقرہ الرملی وغیرہ ووجہہ ظاھر فلذا جزم بہ الشارح فاطلق العبادۃ تبعا لجا مع الفتاوی )اوغسل میت وکون غسالتہ مستعملۃ ھوالاصح بحر اقول : قول العامۃ و اعتمدہ البدائع ان نجاسۃ المیت نجاسۃ خبث لانہ حیوان دموی ویجوز عطفہ علی ممیزای ولو من اجل غسل میت لانہ یندب الوضوء من غسل المیت اوید لاکل اومنہ بنیۃ السنۃ قید بہ فی البحر اخذا من قول المحیط لانہ اقام بہ قربۃ لانہ سنۃ اھ فی النھر وعلیہ ینبغی اشتراطہ فی کل
اگرچہ اس بچہ نے استعمال کیا ہے جس میں شعور پیدا ہوچکا ہو۔ (جبکہ وضو کیا کہ اس سے اس کا ارادہ پاکی حاصل کرنے کا تھا کما فی الخانیہ اور اس کا ظاہر یہ ہے کہ اگر اس سے طہارت کا ارادہ نہ کیا تو مستعمل نہ ہوگا)یا حائض عبادت کی عادت کی وجہ سے (نہر میں ہے کہ فقہاء نے فرمایا حائض کے وضو سے مستعمل ہوجائے گا کہ اس کیلئے ہر فرض کیلئے وضو مستحب ہے اور یہ کہ نماز کی مقدار میں اپنے مصلی پر بیٹھے تاکہ نماز کی عادت نہ ختم ہوجائے اور اگر تہجد یا نماز چاشت کیلئے اس نے وضو کیا تو چاہئے کہ وہ پانی مستعمل ہوجائے اھ رملی وغیرہ نے اس کو برقرار رکھا اور اس کی وجہ ظاہر ہے اس لئے اس پر شارح نے جزم کیا اور عبادت کو مطلق رکھا جامع الفتاوی کی متابعت میں)یا میت کو غسل دیا اور اس غسل کے مستعمل پانی کا مستعمل ہونا ہی اصح ہے بحر
میں کہتا ہوں عام فقہاءکا قول یہی ہے اس پر بدائع نے اعتماد کیا کہ میت کی نجاست خبث کی نجاست ہے کیونکہ میت خون والا جانور ہے اور اس کا
حوالہ / References الدرالمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷
ردالمحتار باب المیاہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۵
الدرالمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷
ردالمحتار باب المیاہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۵
الدرالمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷
ردالمحتار باب المیاہ مصر ۱ / ۱۴۵
درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷
#11478 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
سنۃ کغسل فم وانف اھ قال الرملی ولا تردد فیہ حتی لولم یکن جنبا وقصد بغسل الفم و الانف مجرد التنظیف لااقامۃ القربۃ لایصیر مستعملا ) اولرفع حدث کوضوء محدث ولو للتبرد فلو توضأ متوضئ لتبردا وتعلیم اولطین بیدہ لم یصر مستعملا اتفاقا (اورد ان تعلیم الوضوء قربۃ واجاب البحر وتبعہ النھر وغیرہ ان التوضی نفسہ لیس قربۃ بل التعلیم وھو خارج عنہ ولذا یحصل بالقول )کزیادۃ علی الثلث بلانیۃ قربۃ (ان اراد الزیادۃ علی الوضوء الاول وفیہ اختلاف المشائخ اما لواراد بھا ابتداء الوضوء صار مستعملا بدائع ای اذا کان بعد الفراغ من الوضوء الاول والا لکان بدعۃ کما مر فلا یصیر مستعملا وھذا ایضا اذا اختلف المجلس والا فلا لانہ مکروہ بحر لکن قدمنا ان المکروہ تکرارہ فی مجلس مرارا عــــــہ ) وکغسل نحو فخذ (مما لیس من اعضاء الوضوء وھو
عطف ممیز پر جائز ہے یعنی “ اگرچہ میت کے غسل کی وجہ سے ہو کیونکہ میت کو نہلانے کے بعد وضو کرلینا مندوب ہے یا ہاتھ دھونا کھانے کیلئے یا اس سے بہ نیت سنت(بحر میں یہ قید محیط کے قول سے لے کر لگائی ہے کیونکہ اس نے اس سے عبادت ادا کی ہے اس لئے کہ وہ سنت ہے اھاور نہر میں ہے کہ اس بنا پر یہ شرط لگانی چاہئے ہر سنت میں جیسے منہ کا دھونا یا ناک میں پانی ڈالنا اھ رملی نے کہا کہ اس میں کوئی تردد نہیں حتی کہ اگر وہ جنب نہ ہو اور منہ اور ناک کے دھونے سے محض صفائی کا ارادہ کرے نہ کہ قربت کی ادائیگی کا تو پانی مستعمل نہ ہوگا یاحدث کو رفع کرنے کیلئے جیسے بے وضو کا وضو کرنا خواہ ٹھنڈک کے حصول کیلئے ہو تو اگر کسی باوضو شخص نے ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے سکھانے کیلئے یا ہاتھوں کی مٹی چھڑانے کیلئے وضو کیا تو یہ پانی مستعمل نہ ہوگا بالاتفاق(اس پر یہ اعتراض وارد کیا گیا ہے کہ وضو کرنے کی تعلیم دینا بجائے خود عبادت ہے بحر نے اس کا جواب دیا جس کو نہر وغیرہ نے بھی پسند
عـــہ قدقدمناالتحیق فی کل ذلك فی بارق النورفتذکرہ اھ منہ قدس سرہ۔
ہم نے اس کی تحقیق بارق النور میں پہلے بیان کردی ہے اس کو یاد کرلے اھ(ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۶
الدرالمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷)
ردالمحتار باب المیاہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۶
الدرالمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۶
الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷
#12051 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
محدث لاجنب )او ثوب طاھر (ونحوہ من الجامدات کقدور وثمار قھستانی )اودابۃ تؤکل (بحر عن المبتغی قال سیدی عبدالغنی وغیرھا کذلك لاتنجس الماء ولا تسلب طھوریتہ کحمار و فارۃ وسباع بھائم لم یصل الماء الی فمہا اھ وذکر الرحمتی نحوہ )اولا سقاط فرض بان یغسل بعض اعضائہ التی یجب غسلہا احترازا عن غسل المحدث نحوا لفخذ اویدخل یدہ او رجلہ فی جب لغیر اغتراف ونحوہ (بل لتبرد اوغسل ید من طین اوعجین فلو قصد الاغتراف ونحوہ کاستخراج کوزلم یصر مستعملا للضرورۃ )فانہ یصیر مستعملا اذا انفصل عن عضو وان لم یستقر فی شیئ علی المذھب وقیل اذا استقر (فی مکان من ارض اوکف اوثوب ویسکن عن التحرك وھذا قول طائفۃ من مشائخ بلخ واختارہ فخر الاسلام وغیرہ وفی الخلاصۃ وغیرھا انہ المختار الا ان العامۃ علی الاول وھو الاصح واثر الخلاف یظھر
کیا کہ وضو خود قربت نہیں ہے ہاں تعلیم قربت ہے اور تعلیم وضو سے الگ شے ہے اس لئے تعلیم صرف قول سے بھی ہو جاتی ہے)جیسے تین مرتبہ سے زائد اعضاء وضو کا بلانیت قربت دھونا (یہ اس وقت ہے جب اس کا ارادہ یہ ہو کہ پہلے وضو پر زیادتی کی جائے اور اس میں مشائخ کا اختلاف ہے اور اگر اس سے وضو کی ابتداء مراد ہو تو اس طرح پانی مستعمل ہوجائے گا بدائع یعنی جبکہ پہلے وضو سے فراغت کے بعد ہو ورنہ بدعت ہوگا جیسا کہ گزرا تو مستعمل نہ ہوگا اور یہ بھی اس وقت ہے جبکہ مجلس مختلف ہو ورنہ نہیں کیونکہ یہ مکروہ ہے بحر۔ لیکن ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ مکروہ اس کا ایک ہی مجلس میں کئی مرتبہ تکرار ہے)اور جیسے ران کا دھونا(جو اعضا ئے وضو سے نہیں ہے حالانکہ وہ بے وضو ہو نہ کہ جنب ہو)یا پاک کپڑا(اور اسی کی مثل خشک اشیاء جیسے ہانڈیاں اور پھل قہستانی)یا وہ چوپایہ جس کا گوشت کھایا جاتا ہو (بحر نے اس کو مبتغی سے روایت کیا سیدی عبدالغنی وغیرہ نے کہا اور اسکے علاوہ بھی پانی ناپاک نہیں کرتے ہیں اور اس کے پاک کرنے کی صفت کو اس سے
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۶
درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۶
درمختار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۶
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۶
درمختار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۶
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۷
درمختار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۶)
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۶
درمختار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۶
#12052 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
فیما لو انفصل فسقط علی انسان فاجراہ علیہ صح علی الثانی لاالاول نھر وقدمران اعضاء الغسل کعضو واحد فلو انفصل منہ فسقط علی عضو اخر من اعضاء الغسل فاجراہ علیہ صح علی القولین اھ ملتقطاوفی الھندیۃ عن التاتارخانیۃ لوتوضاء بالخل اوماء الورد لایصیر مستعملا عندالکل اھ
سلب نہیں کرتے ہیں جیسا گدھا چوہا اور چوپایوں میں سے درندے جبکہ پانی ان کے منہ تک نہ پہنچے اھ اور رحمتی نے ایسا ہی ذکر کیا)(یا کسی فرض کو ساقط کرنے کیلئے مثلا یہ کہ کسی عضو کو دھوئے)(ا ن اعضاء میں سے جن کا دھونا لازم ہے یہ بے وضو شخص کے اپنی ران وغیرہ کو دھونے سے احتراز ہے) یا اپنا ہاتھ یا پیر کسی گڑھے میں ڈالے اس سے چلو وغیرہ نہ بھرے
(بلکہ ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے یا ہاتھوں کو مٹی سے یا آٹے سے صاف کرنا مقصود تو اگر چلو بھرنے کا ارادہ کیا جیسے پانی سے لوٹا نکالنے کیلئے ہاتھ ڈالا تو پانی مستعمل نہ ہوگا کیونکہ یہ ضرورتا ہے)کیونکہ پانی مستعمل اس وقت ہوگا جبکہ عضو سے جدا ہو اگرچہ کسی چیز پر نہ ٹھہرے مذہب یہی ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ جبکہ کسی جگہ پر ٹھہرے (زمین پر یا ہاتھ پر یا کپڑے پر اور حرکت کے بعد اس میں سکون پیدا ہوچکا ہو یہ بلخ کے مشائخ میں سے بعض کا قول ہے اس کو فخرالاسلام وغیرہ نے پسند کیا ہے اور خلاصہ وغیرہ میں ہے کہ یہی مختار ہے مگر عام علماء پہلے قول پر ہی ہیں اور وہی اصح ہے اس اختلاف کا اثر اس صورت میں ہوگا جبکہ پانی جدا ہوکر کسی انسان پر گرے اور وہ اس کو اپنے اوپر جاری کرے تو دوسرے قول پر صحیح ہے نہ کہ پہلے پر نہر۔ اور یہ گزر چکا ہے کہ اعضاء غسل ایک عضو کی طرح ہیں تو اگر اس سے پانی جدا ہو کر اعضاء غسل پر گرا اور اس نے وہ ان پر جاری کرلیا تو دونوں اقوال کے مطابق صحیح ہوگا اھ ملتقطا اور ہندیہ میں تاتارخانیہ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر سرکہ سے یا گلاب کے عرق سے وضو کیا تو سب کے نزدیک مستعمل نہ ہوگا اھ۔ ت
تنبیہ : قال(۱)فی المنیۃ بعدما عرف المستعمل بماء ازیل بہ حدث اواستعمل فی البدن علی وجہ القربۃ مانصہ امرأۃ غسلت القدر او القصاع لایصیر الماء مستعملا اھ۔
تنبیہ : منیہ میں ماء مستعمل کی تعریف میں کہا کہ “ وہ پانی جس سے کوئی حدث زائل کیا گیا ہو یا بدن پر قربۃ کے طور پر استعمال کیا گیا ہو پھر فرمایا کہ اگر کسی عورت نے ہانڈی یا بڑا پیالہ دھویا تو پانی مستعمل نہ ہوگا اھ۔ ت
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۷
ہندیۃ فیما لایجوزبہ الوضو نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۳
منیۃ المصلی فی النجاسۃ مکتبہ قادریہ لاہور ص۱۰۸
#12053 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
اقول : وھو کما تری مطلق یشمل مااذانوت بہ اقامۃ سنۃ لاجرم ان قال فی الغنیۃ قولہ فی البدن احتراز عما اذا استعمل فی غیرہ من ثوب ونحوہ بنیۃ القربۃ فانہ لایصیر مستعملا ویتفرع علی ماذکرنا امرأۃ غسلت القدر اوالقصاع الخ لکن قال فی الحلیۃ اما القدر والقصاع ونحوھمامن الاعیان الطاھرات کالبقول والثمار والثیاب والاحجار فلان الجمادات لا یلحقھا حکم العبادۃ امالو نوت بذلك قربۃ بان غسلتھما من الطعام بقصد اقامۃ السنۃ کان ذلك الماء مستعملا اھ اقول اولا : فیہ (۱)بعد ولم یعزہ لاحد وقد قید فی مختصر القدوری والھدایۃ والمنیۃ وغیرھا الاستعمال لقربۃ بکونہ فی البدن واقر علیہ ھذا المحقق ومفاھیم الکتب حجۃ ولذا جعلہ فی الغنیۃ احترازا ومثلہ فی الجوھرۃ النیرۃ حیث قال قولہ فی البدن قید بہ لانہ ماکان من غسالۃ الجمادات کالقدور والقصاع والحجارۃ لایکون مستعملا الخوثانیا : (۲)تراھم عن اخرھم یرسلون مسائل الاستعمال فی غیر
میں کہتا ہوں یہ مطلق ہے اس میں یہ صورت بھی شامل ہے جبکہ اس عورت نے اس دھونے سے سنت کی ادائیگی کا ارادہ کیا ہو غنیہ میں کہا کہ ان کا قول “ فی البدن “ اس صورت سے احتراز ہے جب کپڑے وغیرہ میں استعمال کیا ہو بہ نیت “ قربۃ “ تو وہ مستعمل نہ ہوگا اور جو ہم نے ذکر کیا اس پر یہ تفریع ہوگی کہ کسی عورت نے ہانڈی یا پیالے دھوئے الخ مگر حلیہ میں فرمایا “ بہرحال ہانڈی پیالے وغیرہ یعنی پاک اشیا جیسے سبزیاں پھل کپڑے پتھر تو اس لئے کہ جمادات پر عبادات کا حکم جاری نہیں ہوتا ہے اگر ان کے ساتھ قربت کا ارادہ کیا یعنی کھانا لگ جانے کے بعد ان کو بطور سنت دھویا تو یہ پانی مستعمل ہوجائے گا اھ(ت)
میں کہتا ہوں اولا : اس میں بعد ہے اس کو انہوں نے کسی کی طرف منسوب نہیں کیا ہے ہدایہ مختصر قدوری اور منیہ وغیرہ میں قربت کے استعمال کو بدن میں ہونے کے ساتھ مقید کیا ہے اور اس محقق نے اسے برقرار رکھا ہے اور کتابوں کے مفاہیم ہمارے لئے حجت ہیں اور اس لئے غنیہ میں اس کو قید احترازی قرار دیا ہے اسی کی مثل جوہرہ نیرہ میں ہے وہ فرماتے ہیں ان کا قول “ فی البدن “ کیونکہ جمادات کا دھوون جیسے ہانڈیاں پیالے پتھر کا دھوون مستعمل نہ ہوگا الخ
حوالہ / References غنیۃ المستملی فی النجاسۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۳
حلیہ
الجوہرۃ النیرۃ الطہارت امدادیہ ملتان ۱ / ۱۶
#12054 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
بدن الانسان ارسالا تاما غیرجانحین الی تقییدھا بعدم نیۃ القربۃ(۱)کمسألۃ غسل الدابۃ المذکورۃ فی المبتغی والفتح والبحر والدر و التتارخانیۃ وغیرھا ومسألۃ القدور والقصاع ھذہ وغیرھا فاطباقھم علی اطلاقھا یؤذن باتفاقہم علی تقییدھا ببدن الانسان فان کل ذلك یحتمل نیۃ القربۃ کغسل ثوب ابویہ من الوسخ والثمار من الغبار لاکلھما واحجار فرش المسجد للتنظیف الی غیر ذلك فما من مباح الا ویمکن جعلہ قربۃ بنیۃ محمودۃ کم لایخفی علی عالم علم النیات
وثالثا : (۲)ھذاالتقیید ھو القضیۃ للدلیل(۳) الذی جعل بہ اقامۃ القربۃ مغیر ا للماء عن وصف الطہوریۃ اعنی حملہ الاثام من البدن المستعمل فیہ فی الھدایۃ قال محمد رحمہ الله تعالی لایصیر مستعملا الاباقامۃ القربۃ لان الاستعمال بانتقال نجاسۃ الاثام الیہ وانھا تزول بالقرب وابو یوسف رحمہ الله تعالی یقول اسقاط الفرض مؤثر ایضا فیثبت الفساد بالامرین اھ وفی العنایۃ التغیر عندھما(ای تغیر الماء وتدنسہ عندالشیخین رضی الله تعالی عنھما)انما یکون بزوال نجاسۃ حکمیۃ عن المحل
ثانیا : فقہاء سب کے سب غیر انسان کے بدن میں استعمال کے مسائل کو مطلق رکھتے ہیں عدم نیت قربت کی قید نہیں لگا تے ہیں جیسے گھوڑے کو غسل دینے کا مسئلہ جس کا ذکر مبتغی فتح بحر در اور تتارخانیہ وغیرہ میں ہے اور کپڑے اور پتھروں کا مسئلہ _______ پھلوں کا مسئلہ ہانڈیوں اور پیالوں کا مسئلہ وغیرہا تو ان تمام فقہا کا ان کو مطلق رکھنے پر اتفاق کرلینا اس امر کی علامت ہے کہ وہ سب کے سب اس کو بدن انسانی کے ساتھ مقید کرنے پر متفق ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک نیت قربت کا احتمال رکھتا ہے جیسے اپنے والدین کے میلے کپڑوں کا دھونا اور والدین کے کھلانے کیلئے پھلوں کا دھونا اور مسجد کے فرش کا صفائی کیلئے دھونا وغیرہ تو ہر مباح کا نیت محمودہ سے قربت کرلینا ممکن ہے اور نیتوں کا جاننے والا اسے خوب جانتا ہے۔
ثالثا : یہ قید لگانا ہی دلیل کا تقاضا ہے جس کی وجہ سے قربت کی ادائیگی کو پانی کے وصف کو طہوریۃ سے متغیر کردینے والا قرار دیا تھا یعنی اس کا بدن سے گناہوں کا دور کردینا۔ ہدایہ میں ہے کہ امام محمد نے فرمایا پانی قربت کی ادائیگی سے ہی مستعمل ہوتا ہے کیونکہ استعمال کی وجہ گناہوں کا اس کی طرف منتقل ہونا ہے اور یہ چیز قربت کی ادائیگی سے ہی ہوتی ہے اور امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ اسقاط فرض بھی اس میں مؤثر ہے تو
وانتقالہا الی الماء وقد انتقلت الی الماء فی الحالین(ای حال اقامۃ القربۃ وحال اسقاط الواجب(کما تقدم من
دونوں صورتوں میں فساد ثابت ہوجائے گا اھ اور عنایہ میں ہے کہ تغییر ان دونوں کے نزدیک(یعنی پانی کا بدلنا اور اس کا
حوالہ / References الہدایۃ باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء المکتبۃ العربیۃ کراچی ۱ / ۲۲)
#12055 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
اعتبارھا بالنجاسۃ الحقیقیۃ فیثبت فساد الماء بالامرین جمیعا اھ موضحا ومثلہ فی البحر عن المحیط حیث قال تغیر الماء عند محمد باعتبار اقامۃ القربۃ بہ وعندھما باعتبار انہ تحول الیہ نجاسۃ حکمیۃ وفی الحالین تحول الی الماء نجاسۃ حکمیۃ فاوجب تغیرہ اھ وفی التبیین سببہ اقامۃ القربۃ اوازالۃ الحدث بہ عند ابی حنیفۃ وابی یوسف وعند محمد رضی الله تعالی عنھم اقامۃ القربۃ لاغیر والاول اصح لان الاستعمال بانتقال نجاسۃ الحدث اونجاسۃ الاثام الیہ اھ وقال فی الکافی سؤر الکلب نجس لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم یغسل الاناء من ولوغ الکلب ثلثا لایقال جاز ان یؤمر بالغسل تعبداکما امر المحدث بالوضوء لان الغسل تعبدالم یشرع الا فی طھارۃ الصلاۃ فانہ یقع لله تعالی عبادۃ والجمادات لایلحقہا حکم العبادات لانھا باعتبار نجاسۃ الاثام والجمادات لیست باھل لھا لایقال(۱)الحجر
میلا ہونا شیخین رضی اللہ عنہما کے نزدیک(نجاست حکمیہ کا محل سے زائل ہو کر پانی کی طرف منتقل ہونے کے باعث ہوگا اور یہ نجاست دونوں صورتوں میں ہی پانی کی طرف منتقل ہوئی ہے)قربۃ کی ادائیگی اور اسقاط فرض دونوں صورتوں میں)جیسا کہ گزرا کہ اس کو نجاست حقیقیہ پر قیاس کیا گیا ہے تو پانی کا فساد دونوں صورتوں میں ثابت ہوجائے گا اھ اسی قسم کی بات بحر میں محیط سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں پانی کا تغیر امام محمد کے نزدیک اس پر مبنی ہے کہ قربت اس سے ادا کی گئی ہے اور شیخین کے نزدیک اس لئے ہے کہ پانی کی طرف نجاست حکمیہ منتقل ہوئی ہے اور دونوں حالتوں ہی میں پانی کی طرف نجاست حکمیہ منتقل ہوئی ہے اس لئے پانی متغیر ہوجائے گا اھاور تبیین میں ہے اس کا سبب قربۃ کا قائم کرنا ہے اور اس سے حدث کا زائل کرنا ہے یہ شیخین کے نزدیک ہے اور امام محمد کے نزدیک صرف قربت کا ادا کرنا ہے اور اول اصح ہے کیونکہ استعمال کا باعث یہ ہے کہ حدث کی نجاست اس کی طرف منتقل ہوئی ہے یا گناہوں کی نجاست اس کی طرف منتقل ہوئی ہے اھ اور کافی میں ہے کہ کتے کا جھوٹا نجس ہے کیونکہ
حوالہ / References العنایۃ علی حاشیۃ فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۸
بحرالرائق بحث الماء المستعمل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۱)
تبیین الحقائق الماء المستعمل بولاق مصر ۱ / ۲۴)
#12056 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
الذی استعمل فی رمی الجمار یغسل ویرمی ثانیا لاقامۃ القربۃ بہ لان الحجر الۃ الرمی وقد تتغیر الالۃ بنقل نجاسۃ الاثام الیھا کمال الزکوۃ والماء المستعمل اھ باختصار۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ جس برتن کو کتا لے اس چاٹ کو تین مرتبہ دھویا جائے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ بھی تو جائز ہے کہ غسل کا حکم تعبدا دیا جائے جیسے بے وضو کو وضو کا حکم دیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ غسل تعبدا صرف نماز کی طہارت کیلئے مشروع ہوا ہے کیونکہ وہ اللہ کی عبادت ہے اور جمادات کو عبادات کا حکم نہیں ہے کیونکہ وہ گناہوں کی نجاست کی وجہ سے ہے اور جمادات گناہوں کے اہل نہیں ہیں۔ اگر یہ اعتراض کیا جائےکہ وہ پتھر جو رمی جمرات میں استعمال ہوا ہو اس کو دھو کردوبارہ اسی سے قربت کی ادائیگی کیلئے رمی کی جائے تو کیا حکم ہے اس کا جواب یہ ہے کہ پتھر آلہ رمی ہے اور آلہ اس کی طرف گناہوں کے منتقل ہونے کی وجہ سے متغیر ہوجاتا ہے جیسے زکوۃ کا مال اور مستعمل پانی اھ باختصار۔
اقول : وبما حثنا ھذہ ظھر ولله الحمد ان مطلق الوقایۃ والنقایۃ والکنز والغرر والاصلاح والملتقی والتنویر محمول علی مقید الکتاب والھدایۃ والمنیۃ ومما یؤیدہ اطباقھم علی اشتراط الانفصال عن العضو للحکم بالاستعمال وانما(۱)وقع المقال فی اشتراط القرار بعد الانفصال فشرطہ بعض المشائخ وبہ جزم فی الکنز مخالفا لکا فیہ واختارہ الامام فخرالاسلام وغیرہ فی شروح الجامع الصغیر وھو مذھب الامام ابی حفص الکبیر والامام ظھیر الدین المرغینانی وقال فی الخلاصۃ ھو المختار ورجحہ الاتقانی فی غایۃ البیان زاعماان فی عدم اشتراطہ حرجا کما بینہ مع جوابہ فی البحر والمذھب
الحمدلله ہماری ان بحثوں سے معلوم ہوا کہ وقایہ نقایہ کنز غرر اصلاح ملتقی اور تنویر کا اطلاق کتاب(قدوری)ہدایہ اور منیہ کے مقید پر محمول ہے اور اس کی تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ ان کا اتفاق ہے کہ پانی کا عضو سے جدا ہونا اس کے مستعمل ہونے کیلئے شرط ہے۔ اختلاف صرف اس امر میں ہے کہ انفصال کے بعد قرار کی شرط ہے یا نہیں تو بعض مشائخ نے اس کی شرط رکھی ہے اور اسی پر کنز میں جزم کیا ہے جو اسکی اپنی کافی کے خلاف ہے اور اس کو امام فخرالاسلام نے جامع صغیر کی شروح میں مختار قرار دیا ہے اور یہی ابو حفص کبیر اور امام ظہیر الدین مرغینانی کا مذہب ہے اور خلاصہ میں اسی کو مختار قرار دیا ہے اور غایۃ البیان میں علامہ اتقانی نے اس کو راجح قراردیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کو شرط نہ کرنے میں حرج ہے
حوالہ / References کافی
#12057 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
عندنا ھو حکم الاستعمال بمجرد الانفصال و صححہ فی الھدایۃ وکثیر من الکتب واعتمدہ فی الکافی وضعف خلافہ وعلیہ المحققون کما فی الفتح والعامۃ کما فی البحر بل فی المحیط ان القائل باشتراط الاستقرار الامام سفین الثوری رحمہ الله تعالی دون اھل المذھب وقد تکفل فی الفتح والبحر برد ماتعلقوا بہ واشار الیہ فی الدر وبالجملۃ المذکور فی کلام الفریقین ھو الانفصال عن العضو المؤذن بان المراداستعمالہ فی البدن لاغیر والله تعالی اعلم
ورابعا : (۱)محل نظر کون غسل الاوانی بالماء لمجرد اثر الطعام قربۃ مطلوب بعینھا بل المطلوب ھو التنظیف وربما یحصل بلحس وبخرقۃ وبغیر ماء مطلق و(۲)الاول اقرب الی التواضع والتأدب باداب السنۃ فاخرج عــہ الامام مسلم فی صحیحہ عن جابر رضی الله تعالی عنہ
جیسا کہ انہوں نے اس کو بیان کیا اور اس کا جواب بھی بحر میں دیا اور ہمارے نزدیک پانی عضو سے جدا ہوتے ہی مستعمل ہوجاتا ہے اسی کو ہدایہ میں صحیح کہا ہے اور کافی میں اس پر اعتماد کیا ہے اور اس کے خلاف کو ضعیف قرار دیا ہے اور اسی پر محققین ہیں جیسا کہ فتح میں اور عام کتب میں ہے کما فی البحر بلکہ محیط میں ہے کہ استقرار کی شرط کے قائل امام سفیان ثوری ہیں اہل مذہب نہیں ہیں اور فتح اور بحر میں ان کے دلائل کا رد کیا ہے اور در میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے خلاصہ یہ ہے کہ فریقین کے کلام میں مذکور عضو سے منفصل ہونا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مراد اس کا بدن ہی میں استعمال ہے فقط نہ کہ اسکے غیر میں والله تعالی اعلم
رابعا : محل نظر یہ امر ہے کہ برتنوں کو محض اس لئے دھونا کہ ان پر کھانے کا اثر ہے یہی قربت مطلوبہ ہے بلکہ مطلوب صفائی ہے جو کبھی چاٹ کر بھی کپڑے سے

عــــہ : ترجمہ و احادیث(۱)صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالی عنہسے ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمانگلیاں اور رکابی چاٹنے کا حکم فرماتے اور ارشاد کرتے تمہیں کیا معلوم کھانے کے کس حصہ میں برکت ہے یعنی شاید اسی حصے میں ہو جو انگلیوں یا برتن میں لگا رہ گیا ہے ۔ امام حکیم ترمذی نے حضرت انس سے یہ لفظ نقل کئے “ اور وہ برتن اس کے لئے دعا کرے گا “ (۲)مسلم و احمد وابوداؤد وترمذی ونسائی نے انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ہمیں کھانا کھا کر پیالہ خوب صاف کردینے کا حکم فرمایا کہ تم کیا جانو کہ تمھارے کون سےکھانے میں برکت ہے۔ (۳)احمدو ترمذی و ابن ماجہ نے نبیشۃ الخیر الہذلی سے روای کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کہ جو کسی پیالے میں کھانا کھا کر زبان سے اسے صاف کردے وہ پیالہ اس کیلئے دعائے مغفرت کرے گا۔ (۴)امام حکیم ترمذی اسی مضمون میں حضرت انس سے راوی کہ فرمایا اور وہ برتن اس پر درود (باقی اگلے صفحہ پر)
#12058 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم امر بلعق الاصابع والصحفۃ وقال ا نکم لاتدرون فی ایہ البرکۃ ولہ کاحمد وابی داؤد والترمذی والنسائی عن انس رضی الله تعالی عنہ ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم امرنا ان نسلت القصعۃ قال فانکم لاتدرون فی ای طعامکم البرکۃ و للامام احمد والترمذی وابن ماجۃ عن نبیشۃ الخیر الہذلی رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم من اکل فی قصعۃ ثم لحسھا استغفرت لہا
اور کبھی ماء مطلق کے غیر سے حاصل ہوجاتی ہے اور پہلا اقرب الی التواضع ہے اور اس میں اتباع سنت بھی ہے
چنانچہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت جابر سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے انگلیاں چاٹنے اور برتن چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا تم کو معلوم نہیں کہ کس چیز میں برکت ہوگی!اور امام مسلم احمد ابو داود ترمذی اور نسائی نے حضرت انس سے مرفوعا روایت کی کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ہمیں برتن صاف کرنے کا حکم دیا ہے فرمایا تم کو پتا نہیں کہ تمہارے کھانے کے کس حصہ میں برکت ہے۔ امام احمد ترمذی اور
(بقیہ حاشیہ گزشتہ)بھیجے دیلمی کی روایت میں ہے کہ فرمایا وہ پیالہ یوں کہے الہی! اسے آتش دوزخ سے بچا جس طرح اس نے مجھ کو شیطان سے بچایا یعنی برتن سنا ہوا چھوڑدیں تو شیطان اسے چاٹنا ہے۔
(۵)حاکم اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور بیہقی نے شعب میں جابر بن عبداللہ سے مرفوعا روایت کیا آپ نے فرمایا کہ پیالہ کو نہ اٹھائے تاوقتیکہ اس کو خود چاٹ لے یا دوسرے کو چاٹنے دے کیونکہ کھانے کے آخر میں برکت ہے۔
(۶)مسند حسن بن سفیان میں والد رائطہ رضی اللہ تعالی عنہماسے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا پیالہ چاٹ لینا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ اس پیالے بھر کھانا تصدق کروں یعنی چاٹنے میں جو تواضع ہے اس کا ثواب اس تصدق کے ثواب سے زیادہ ہے ۔
(۷)معجم کبیر میں عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا جو رکابی اور اپنی انگلیاں چاٹے اللہ تعالی دنیا اور آخرت میں اس کا پیٹ بھرے ۔ یعنی دنیا میں فقروفاقہ سے بچے قیامت کی بھوک سے محفوظ رہے دوزخ سے پناہ دیا جائے کہ دوزخ میں کسی کا پیٹ نہ بھرے گا اس میں وہ کھانا ہے کہ لایسمن ولا یغنی من جوع نہ فربہی لائے نہ بھوک میں کچھ کام آئے والعیاذ بالله ۔ )
حوالہ / References صحیح لمسلم استحباب لعق الاصابع مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۷۵
صحیح لمسلم استحباب لعق الاصابع مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۷۶
#12059 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
القصعۃ زاد الامام الحکیم الترمذی عن انس رضی الله تعالی عنہ وصلت علیہ د الدیلمی عنہ فتقول اللھم اعتقہ من النار کما اعتقنی من الشیطان والحاکم وابن حبان فی صحیحیھما والبیھقی فی الشعب عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما فی حدیث یرفعہ الی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لایرفع القصعۃ حتی یلعقھا اویلعقہا فان فی اخر الطعام البرکۃ ۔ وللحسن بن سفین عن رائطۃ عن ابیہا رضی الله تعالی عنہا عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم لان العق القصعۃ احب الی من ان اتصدق بمثلھا طعاما وللطبرانی فی الکبیر عن العرباض بن ساریۃ رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم من لعق الصحفۃ ولعق اصابعہ اشبعہ الله تعالی فی الدنیا والاخرۃ وخصوص الغسل بالماء من الامور العادیۃ الشائعۃ بین المؤمنین والکفار فاذا نوی شرط ۱۲سنۃ التنظیف عــــہ ای التنظیف لانہ سنۃ
ابن ماجہ نے نبیشۃ الخیر الہذلی سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کہ جس نے کسی پیالہ میں کھایا پھر اس کو چاٹا تو وہ پیالہ اس کیلئے استغفار کرے گا۔ امام حکیم ترمذی نے حضرت انس سے یہ لفظ نقل کئے “ اور وہ برتن اس کے لئے دعا کرے گا “ اور دیلمی نے ان سے روایت کی کہ وہ پیالہ کہے گا یا اللہ اس کو نار جہنم سے آزاد فرما جس طرح اس نے مجھ کو شیطان سے چھٹکارا دلایا ہے حاکم و ابن حبان و بیہقی جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہماسے روای کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا کھاناکھا کر برتن نہ اٹھائے جب تک اسے خود چاٹ نہ لے یا(مثلا کسی بچے یا خادم کو)چٹادےکہ کھانے کے پچھلے حصہ میں برکت ہے۔ اور حسن بن سفیان رائطہ سے وہ اپنے باپ سے وہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کرتے ہیں کہ میرے نزدیک پیالہ کا چاٹ لینا اس کی مقدار میں کھانے کے صدقہ کرنے سے افضل ہے اور طبرانی نے کبیر میں عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے کہ جس نے پلیٹ کو چاٹا اور انگلیوں کو چاٹا اللہ اس کو دینا اور آخرت میں شکم سیر فرمائے گا۔ اور پانی کی

یرید ان الاضافۃ بیانیۃ لالامیۃ لیصیر الغسل سنۃ فی ھذا التنظیف بل المعنی نوی سنۃ ھو التنظیف ای نوی التنطیف لکونہ سنۃ اھ منہ(م)
اضافت بیانیہ مراد ہے لامیہ نہیں تاکہ اس تنظیف میں دھونا سنت بن جائے بلکہ معنی یہ ہے کہ سنت کی نیت کی اور وہ تنظیف ہے یعنی تنظیف کی نیت کی کیونکہ وہ سنت ہے اھ(ت)
حوالہ / References مسند احمد بن حنبل عن نبیشۃ بیروت ۵ / ۷۶
کنزالعمال اداب الاکل مکتبہ التراث حلب ۱۵ / ۲۵۳
کنزالعمال ، اداب الاکل ، مکتبہ التراث حلب ۱۵ / ۲۵۳
صحیح ابن حبان اداب الاکل ، مکتبہ التراث حلب اثریہ سانگلہ ہل ۸ / ۳۳۵
کنزالعمال اداب الاکل ، مکتبہ التراث حلب ۵ / ۲۷
مجمع الزوائدباب العق الصحفہ والا صابع بیروت ۵ / ۲۷
#12060 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
ادخلہ بنیتہ تحت عام محمود فکان کمتوضیئ توضأ للتعلیم۔
ثم اقول تحقیق(۱)المقام علی ماعلمنی الملك العلام ان(۲)لیس کل ماجعل قربۃ مغیرا للماء عن الطھوریۃ بل یجب ان یکون الفعل المخصوص الذی یحصل بالماء اولا وبالذات قربۃ مطلوبۃ فی الشرع بخصوصہ ومرجعہ الی ان تکون القربۃ المطلوبۃ عینا لاتقوم الا بالماء اذلو جازان تحصل بدونہ لکان لتحققہا موارد منھا مایحصل بالماء ومنھا غیرہ فما یحصل بالماء اولاوبالذات لایکون مطلوبا بعینہ بل محصلا لمطلوب بعینہ فیتحصل ان یکون نفس انفاق الماء فی ذلك الفعل مطلوبا فی الشرع عینا اذ المطلوب عینا لم یحصل الا بہ کان ایضا مطلوبا عینا کالمضمضۃ والاستنشاق فی الوضوء والتثلیث فیہ وفی الغسل ولو للمیت ولعلك تظن ان ھذہ فائدۃ لم تعرف الا من قبل العلامۃ صاحب البحر وتبعہ علیہ اخوہ فی النھر۔
اقول : کلا بل المسألۃ اعنی وضوء المتوضیئ للتعلیم منصوص علیھا فی المبتغی والفتح وغیرھما من کتب المذھب وقد نص فی الدرانھا متفق علیھا ولا شك انھا صریحۃ
ساتھ دھونے کی خصوصیت ایک عادی امر ہے اس میں مومن وکافر کا بھی فرق نہیں اب اگر اس نے تنظیف سے سنت کی نیت کی تو اس نے اس کو اپنی نیت سے ایک محمود عام کے تحت داخل کیا تو یہ اس شخص کی طرح ہوگا جس نے تعلیم کے لئے وضو کیا۔
اللہ تعالی کے فضل وکرم سے اس مقام کی جو تحقیق میری سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو قربۃ ہے وہ پانی کو طہوریۃ سے بدلنے والی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ وہ مخصوص فعل جو پانی سے ادا کیا جارہا ہے وہ اولا وبالذات شریعت کی نگاہ میں قربۃ مطلوبہ ہو اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قربۃ مطلوبہ ایک ایسا عین ہو جو پانی کے ساتھ ہی قائم ہو کیونکہ اگر اس کے بغیر وہ قربۃ حاصل ہوجائے تو اس کے وجود کے کئی موارد ہوں گے کچھ توپانی سے حاصل ہوں گے اور کچھ بغیر پانی کے حاصل ہوں گے تو جو چیز پانی سے اولا وبالذات حاصل ہو تو وہ بعینہ مطلوب نہ ہوگی بلکہ بعینہ مطلوب کو حاصل کرنے والی ہوگی اس کا حاصل یہ ہوگا کہ محض پانی کا اس فعل میں صرف کرنا شرعا مطلوب بعینہ ہو کیونکہ مطلوب بعینہ جب اس پر موقوف ہے تویہ بھی مطلوب بعینہ ہوجائے گا جیسے کلی ناک میں پانی ڈالنا وضو میں اور تثلیث وضو وغسل میں اگرچہ میت کے غسل میں ہو اور شاید ہمارے قارئین کو یہ خیال گزرے کہ یہ فائدہ تو صاحب بحر اور ان کے بھائی صاحب نہر کے کلام ہی سے معلوم ہوا ہے تو میں کہتا ہوں یہ بات نہیں ہے بلکہ تعلیم کیلئے وضو کرنے کا مسئلہ مبتغی اور فتح وغیرہ کتب مذہب میں منصوص ہے اور در میں تصریح
#12061 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
فی تلك الافادۃ فان التعلیم قربۃ مطلوبۃ قطعا وقد نواہ بھذا التوضی وھو فی ھذا الخصوص ایضا متبع للسنۃ الماضیۃ ان البیان بالفعل اقوی من البیان بالقول ومع ذلك اجمعوا انہ لایصیر مستعملا فکان اجماعا ان لیس کل قربۃ تغیر الماء بل التی لاتقوم الا بالماء اذلا فارق فی التوضی بنیۃ التعلیم وبنیۃ الوضوء علی الوضوء الا ھذا ثم لابدان تکون التی تتوقف علی الماء قربۃ مطلوبۃ بعینہا والا لعاد الفرق ضائعا اذلا شك ان الوضوء للتعلیم محصل لقربۃ مطلوبۃ شرعا فیکون قربۃوھولایقوم الابالماء لکن الشرع لم یطلبہ عینا انما طلب التعلیم وھو لایتوقف علی انفاق الماء فاستقر عرش التحقیق علی ماافاد البحر وظھر ان الصواب فی فرع القدور والقصاع مع الغنیۃ فلذا عولنا علیہ۔
اقول : (۱)وممایؤیدہ اطلاقھم قاطبۃ مسألۃ التوضی والاغتسال للتبرد(۲)مع ان التبرد ربما یکون لجمع الخاطر للعبادۃ والتقوی علی مطالعۃ کتب العلم وھو لاشك اذن من القرب فکل مباح فعلہ العبد المؤمن بنیۃ خیر خیر غیرانہ لم یطلب عینا فی الشرع
کی ہے کہ یہ متفق علیہا ہے اور اس میں شک نہیں کہ وہ اس فائدہ میں صریح ہے کیونکہ تعلیم قطعی طور پر قربۃ ہے اور اس وضو سے اس نے اسی کی نیت کی ہے اور وہ اس خصوص میں گزشتہ سنت کی پیروی کرنے والا ہے کہ فعل کے ذریعہ بیان قول کے ذریعہ بیان سے اقوی ہوتا ہے باوجود اس کے ان کا اس امر پر اتفاق ہے کہ پانی مستعمل نہ ہوگا تو یہ اجماع ہوگیا اس امر پر کہ ہر قربۃ پانی کو متغیر نہیں کرتی ہے بلکہ صرف وہ قربت کرتی ہے جو پانی کے ساتھ ہی قائم ہو کیونکہ بہ نیت تعلیم وضو کرنے اور وضو بر وضو کی نیت میں فرق کرنے والی یہی چیز ہے۔ پھر جس قربت کا پانی پر موقوف ہونا لازم ہے وہ بعینہا مطلوب ہو ورنہ فرق ضائع ہوجائے گا کیونکہ تعلیم کیلئے کیا جانے والا وضو شرعی قربت کو حاصل کرنے والا ہے تو یہ قربت ہوگا اور وضو صرف پانی سے ہی ہوتا ہے لیکن شریعت میں وہ بعینہ مطلوب نہیں ہے وہ تعلیم کیلئے مطلوب ہے اور تعلیم پانی خرچ کرنے پر موقوف نہیں ہے تو تحقیق وہی درست ہے جو بحر میں ہے اور یہ بھی ظاہر ہوا کہ ہانڈیاں اور پیالوں کے مسائل متفرقہ میں حق وہ ہے جو غنیہ میں ہے لہذا ہم نے اسی پر اعتماد کیا۔ ت
پھر اس کی تائید تمام فقہاء کے اس اطلاق سے ملتی ہے کہ وہ فر ماتے ہیں کہ وضو اور غسل ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے کرنا حالانکہ ٹھنڈک حاصل کرنا کبھی اس غرض سے بھی ہوتا ہے کہ انسان عبادت میں پرسکون رہے یا مطالعہ اطمینان سے کرسکے اور بلا شبہ اس صورت میں یہ عبادت ہوگا کیونکہ
#12062 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
وان ساغ ان یصیرو سیلۃ الی مطلوب واعظم(۱)منہ مسألۃ الاغتسال لازالۃ الدرن(۲)فھو مطلوب عینا فی الشرع فانما بنی الدین علی النظافۃ وقد کانت ھذہ حکمۃ الامر بالاغتسال یوم الجمعۃ کما افصحت بہ الاحادیث بیدان ازالۃ الوسخ لایتوقف علی الماء فلم یکن مما طلب فیہ الشرع انفاق الماء عینا بخلاف(۳)غسل الجمعۃ والعیدین وعرفۃ والاحرام فان من اغتسل فیھا بماء ثمراو نبیذ تمر مثلا لم یکن اتیا بالسنۃ قطعا اوان ازال بہ الوسخ و(۴)بالدرن وذلك ان الحکم یکون لحکمۃ ولکن العباد مامورون باتباع الحکم دون الحکمۃ کما قدعرف فی موضعہ وھنا لك تم الرد علی مسألۃ القصعۃ والقدر وتبین ولله الحمد ان المراد بالقربۃ ھھنا ھی المتعلقۃ بظاھر بدن الانسان مما ادار الشرع فیہ اقامۃ نفس القربۃ المطلوبۃ ولو ندبا علی امساس الماء عینا ولو مسحا بشرۃ بشر ولو میتا فزال الابہام واتضح المرام وظھرت فی الفروع کلھا الاحکام والحمدلله ولی الانعام والان عسی ان تقوم تقول ال الامر الی ان الماء انما یصیر مستعملا اذا انفق فیما کان انفاقہ فیہ مطلوبا فی الشرع عینا فما الفارق فیہ وفیما اذا انفق فی قربۃ مطلوبۃ شرعا من دون توقف علی الماء خصوصا کیف
ہر مباح جو انسان خیر کی نیت سے کرے خیر ہے البتہ وہ بعینہ مطلوب شرع نہیں اگرچہ مطلوب کا وسیلہ بن سکتا ہے اس سے بڑی بات غسل کا مسئلہ ہے میل دور کرنے کیلئے یہ بعینہ مطلوب شرع ہے دین کی بنیاد ہی نظافت پر ہے اور جمعہ کے دن غسل کے حکم کی حکمت یہی ہے جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے کہ البتہ میل کا زائل کرنا پانی پر ہی موقوف نہیں لہذا پانی کا خرچ کرنا بعینہ مطلوب شرع نہ ہوا اور جمعہ عیدین وقوف بعرفہ اورا حرام کا غسل شرعا مطلوب ہے ان غسلوں کو اگر کسی نے پھلوں کے عرق یا شیرہ کھجورسے کیا تو قطعی طور پر سنت کی اتباع نہ ہوگی خواہ اس سے میل کچیل زائل ہوجائے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حکم کسی نہ کسی حکمت پر مبنی ہوتا ہے لیکن بندوں پر حکم کی پابندی ہے نہ کہ حکمۃ کی۔ یہ بات اپنے مقام پر مذکور ہے یہاں تک پیالہ اور ہانڈی کے مسئلہ پر ردمکمل ہوا
اور الحمدلله یہ بات واضح ہوگئی کہ قربت سے مراد اس مقام پر وہ قربۃ ہے جس کا تعلق ظاہر بدن سے ہو جس میں شریعت نے قربت مطلوب خواہ ندبا ہی ہو کا دارومدار اس پر کیا ہے کہ انسان خواہ مردہ ہی ہو کی جلد پر بعینہ پانی لگے خواہ بطور مسح ہی ہو اس سے ہمارا مقصود واضح ہوا اور مسئلہ کے فروع واحکام ظاہر ہوئے الحمدلله ولی الانعام۔
اب اس مقام پر ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ مستعمل پانی وہ ہوتا ہے جو کسی ایسے عمل میں خرچ
#12063 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
و انما المغیر تحول نجاسۃ حکمیۃ ومنھا نجاسۃ الاثام وھی تزول کلا او بعضا بکل قربۃ لعموم قولہ تعالی ان الحسنت یذهبن السیات- اقول : (۱)نعم ولوجہ الله الحمد ابدا تزول الاثام باذن الله بکل قربۃ رحمۃ منہ جلت الاؤہ بھذہ الامۃ المبارکۃ المرحومۃ دنیا واخری بنبیھا الکریم الرؤوف الرحیم المرسل رحمۃ والمبعوث نعمۃ افضل صلوات ربہ واجمل تسلیماتہ وازکی برکاتہ وادوم تحیاتہ علیہ وعلی الہ وصحبہ وامتہ ابدا ولکن الزوال بقربۃ لایوجب التحول الی التھا التی اقیمت بھا وما علمنا ذلك الافی الۃ عینھا الشرع کالمال فی الزکوۃ والماء فی الطھر لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی الصدقات انما ھی اوسخ الناس رواہ احمد ومسلم عن عبدالمطلب بن ربیعۃ رضی الله تعالی عنہ
وقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم من توضأ فاحسن الوضوء خرجت خطایاہ من جسدہ حتی تخرج من تحت اظفارہ رواہ الشیخان
ہوا ہو کہ جس میں اس کا خرچ کیا جانا بعینہ مطلوب شرع ہو تو اس صورت میں اور جب پانی ایسی قربۃ میں خرچ کیا گیا ہو جو شرعا مطلوب تو ہو مگر پانی پر موقوف نہ ہو کیا فرق ہوگا جبکہ پانی میں تغیر پیدا کرنے والی چیز اس کی طرف نجاست حکمیہ کا آنا ہے اور گناہوں کی نجاست بھی نجاست حکمیہ ہی ہے جو کلا یا بعضا ہر قربت سے دھل جاتی ہے جیسا کہ فرمان الہی “ ان الحسنت یذهبن السیات- “ (نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں یہ ذاکرین کیلئے نصیحت ہے(کہ عموم کا تقاضا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں ہاں یہ درست ہے گناہ ہر عبادت سے اللہ کی رحمت سے زائل ہوجاتے ہیں ....... مگر گناہوں کا کسی قربت کی وجہ سے زائل ہونا اس امر کا متقاضی نہیں کہ وہ آلہ تطہیر کی طرف منتقل ہوجائیں یہ بات صرف اسی آلہ میں ہے جس کو شریعت نے متعین کیا ہو جیسے زکوۃ میں مال اور طہارت میں پانی کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے کہ زکوۃ لوگوں کا میل کچیل ہے اس کو احمد ومسلم نے عبدالمطلب بن ربیعہ سے روایت کیا۔ اور حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ارشاد فرمایا جس نے اچھی طرح وضو کیا تو گناہ اس کے جسم سے نکلیں گے یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے نکلیں گے اس کو شیخین نے امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ارشاد فرمایا جب مسلم یا مومن بندہ وضو میں اپنا چہرہ دھوتا تو اس کے چہرہ سے ہر گناہ نکل جاتا ہے جس کی طرف اس نے اپنی دونوں
حوالہ / References القرآن ۱۱ / ۱۱۴
صحیح للمسلم تحریم الزکوٰۃ علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۴۵)
صحیح للمسلم خروج الخطایا مع ماء الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۵
#12064 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
عن امیر المومنین عثمان رضی الله تعالی عنہ
وقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا توضأ العبد المسلم اوالمؤمن فغسل وجہہ خرج من وجہ کل خطیئۃ نظر الیہا بعینیہ مع الماء اومع اخر قطر الماء فاذا غسل یدیہ خرج من یدیہ کل خطیئۃ کان بطشتھا یداہ مع الماء اومع اخر قطرالماء فاذا غسل رجلیہ خرج کل خطیئۃ مشتھارجلاہ مع الماء اومع اخر قطرالماء حتی یخرج نقیامن الذنوب رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ والاحادیث کثیر شھیر فی ھذا المعنی و(۱) اصحاب المشاھدۃ الحقۃ اعاد الله علینا من برکاتھم فی الدنیا والاخرۃ یشاھدون ماء الوضوء یخرج من اعضاء الناس متلوثا بالاثام متلونا بالوانھا البشعۃ وعن ھذا حکم امام اھل الشھود ابو حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ ان الماء المستعمل نجاسۃ مغلظۃ لانہ کان یراہ متلطخا بتلك القاذورات فما کان یسعہ الا الحکم بھذاوکیف یردالانسان امرا یراہ بالعیان قالا الامام العارف بالله سیدی عبدالوھاب الشعرانی قدس سرہ الربانی وکان من کبار العلماء الشافعیۃ فی میزان الشریعۃ الکبری سمعت سیدی علیا الخواص رضی الله تعالی عنہ(وکان ایضا شافعیا کما سیأتی)(۲) یقول مدارك الامام ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ دقیقۃ لایکاد یطلع علیھا الا
آنکھوں سے دیکھا ہو پانی کے ساتھ یا آخری قطرہ کے ساتھ جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو جو گناہ اس نے اپنے ہاتھوں سے کئے وہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتے ہیں اور جب وہ اپنے پیر دھوتا ہے تو اس کے پیروں کے گناہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک وصاف ہوجاتا ہے۔ اس کو مسلم نے ابو ھریرہ سے روایت کیا۔
اور اس مفہوم کی احادیث بکثرت مشہور ومعروف ہیں اور اصحاب مشاہدہ اپنی آنکھوں سے وضو کے پانی سے لوگوں کے گناہوں کو دھلتا ہوا دیکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اہل شہود کے امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ مستعمل پانی نجاست مغلظہ ہے کیونکہ وہ اس پانی کو گندگیوں میں ملوث دیکھتے تھے تو ظاہر ہے کہ وہ دیکھتے ہوئے اس کے علاوہ اور کیا حکم لگا سکتے تھے۔
امام شعرانی نے میزان الشریعۃ الکبری میں فرمایا کہ میں نے سیدی علی الخواص(جو بڑے شافعی عالم تھے(کو فرماتے سنا ہے کہ امام ابو حنیفہ کے مشاہدات اتنے دقیق ہیں جن پر بڑے بڑے صاحبان کشف اولیاءاللہ ہی مطلع ہوسکتے ہیں فرماتے ہیں امام ابو حنیفہ جب وضو میں استعمال شدہ پانی دیکھتے تو اس میں جتنے صغائر وکبائر مکروہات ہوتے ان کو پہچان لیتے تھے اس لئے جس پانی کو مکلف نے استعمال کیا ہو اس کے تین درجات آپ نے مقرر فرمائے :
اول : وہ نجاست مغلظہ ہے کیونکہ اس امر کا احتمال ہے کہ مکلف نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہو۔
اھل الکشف من اکابر الاولیاء قال وکان الامام ابو حنیفۃ اذ رأی ماء المیضأۃ یعرف سائر الذنوب
دوم : نجاست متوسطہ اس لئے کہ احتمال ہے کہ مکلف نے صغیرہ کا ارتکاب کیا ہو۔
حوالہ / References صحیح للمسلم خروج الخطاء مع ماء الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۲۵
#12065 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
التی خرت فیہ من کبائر وصغائر ومکروہات فلہذا جعل ماء الطہارۃ اذا تطھر بہ المکلف لہ ثلثۃ احوال احدھا انہ کالنجاسۃ المغلظۃ لاحتمال ان یکون المکلف ارتکب کبیرۃ الثانی کالنجاسۃ المتوسطۃ لاحتمال ان یکون ارتکب صغیرۃ الثالث طاھر غیر مطھر لاحتمال ان یکون ارتکب مکروھا وفھم جماعۃ من مقلدیہ ان ھذہ الثلثۃ اقوال فی حال واحد والحال انھا فی احوال بحسب حصر الذنوب فی ثلثۃ اقسام کما ذکرنا اھ وفیہ ایضا رضی الله عن الامام ابی حنیفۃ ورحم اصحابہ حیث قسموا النجاسۃ الی مغلظۃ ومخففۃ لان المعاصی لا تخرج عن کونھا کبائر اوصغائر وسمعت سیدی علیا الخواص رحمہ الله تعالی لوکشف للعبد لرأی الماء الذی یتطھر منہ الناس فی غایۃ القذارۃ والنتن فکانت نفسہ لاتطیب باستعمالہ کمالا تطیب باستعمال ماء قلیل مات فیہ کلب اوھرۃ قلت لہ فاذن(۱)کان الامام ابو حنیفۃ وابو یوسف من اھل الکشف حیث قالا بنجاسۃ الماء المستعمل قال نعم کان ابو حنیفۃ وصاحبہ
سوم : طاہر غیر مطہر کیونکہ احتمال ہے کہ اس نے مکروہ کا ارتکاب کیا ہو ان کے بعض مقلدین سمجھ بیٹھے کہ یہ ابو حنیفہ کے تین اقوال ہیں ایک ہی حالت میں حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ تین اقوال گناہوں کی اقسام کے اعتبار سے ہیں جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اھ اور اسی کتاب میں ہے کہ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب نے نجاست کو مغلظہ اور مخففہ میں تقسیم کیا ہے کیونکہ معاصی کبائر ہوں گے یا صغائر۔ اور میں نے سیدی علی الخواص کو فرماتے سنا کہ اگر انسان پر کشف ہو جائے وہ طہارت میں استعمال کئے جانے والے پانی کو انتہائی گندہ اور بدبودار دیکھے گا اور وہ اس پانی کو اسی طرح استعمال نہ کرسکے گا جیسے اس پانی کو استعمال نہیں کرتا ہے جس میں کتا بلی مرگئی ہو میں نے ان سے کہا اس سے معلوم ہوا کہ ابو حنیفہ اور ابو یوسف اہل کشف سے تھے کیونکہ یہ مستعمل کی نجاست کے قائل تھے تو انہوں نے کہا جی ہاں۔ ابو حنیفہ او ر ان کے صاحب بڑے اہل کشف تھے جب وہ اس پانی کو دیکھتے جس کو لوگوں نے وضو میں استعمال کیا ہوتا تو وہ پا نی میں گرتے ہوئے گناہوں کو پہچان لیتے تھے اور کبائر کے دھوون کو صغائر کے دھوون سے الگ
حوالہ / References المیزان الکبرٰی کتاب الطہارۃ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۰۹
المیزان الکبری کتاب الطہارۃ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۰۸
#12066 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
من اعظم اھل الکشف فکان اذا رأی الماء الذی یتوضأ منہ الناس یعرف اعیان تلك الخطایا التی خرت فی الماء ویمیز غسالۃ الکبائر عن الصغائر والصغائرعن المکروھات والمکروھات عن خلاف الاولی کالامور المجسدۃ حسا علی حد سواء قال وقد بلغنا انہ دخل مطھرۃ جامع الکوفۃ فرأی شابا یتوضأ فنظر فی الماء المتقاطر منہ فقال یاولدی تب عن عقوق الوالدین فقال تبت الی الله عن ذلك ورأی غسالۃ شخص اخر فقال لہ یااخی تب من الزنا فقال تبت ورأی غسالۃ اخر فقال تب من شرب الخمر وسماع الات اللھو فقال تبت اھ وفیہ ایضا رحمہ الله تعالی مقلدی الامام ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ حیث منعوا الطھارۃ من ماء المطاھر التی لم تستجر لما یخر فیھا من خطایا المتوضئین وامروا اتباعھم بالوضوء من الانھاراوالابار او البرك الکبیرۃ وکان سیدی علی الخواص رحمہ الله تعالی مع کونہ شافعیا لایتؤضا من مطاھر المساجد فی اکثر اوقاتہ ویقول ان ماء ھذہ المطاھر لاینعش جسدامثالنا لتقذرھا بالخطایا التی خرت فیھا وکان یمیز بین غسالات الذنوب ویعرف غسالۃ الحرام من المکروہ من خلاف الاولی
ممتاز کرسکتے تھے اور صغائر کے دھوون کو مکروہات سے اور مکروہات کے دھوون کو خلاف اولی سے ممتاز کرسکتے تھے اسی طرح جیسے محسوس اشیاء ایک دوسرے سے الگ ممتاز ہوا کرتی ہیں فرمایا کہ ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ ایک مرتبہ آپ جامع کوفہ کے طہارت خانہ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک جوان وضو کررہا ہے اور پانی کے قطرات اس سے ٹپک رہے ہیں تو فرمایا اے میر ے بیٹے! والدین کی نافرمانی سے توبہ کر۔ اس نے فورا کہا میں نے توبہ کی۔ ایک دوسرے شخص کے پانی کے قطرات دیکھے تو فرمایا اے میرے بھائی! زنا سے توبہ کر۔ اس نے کہا میں نے توبہ کی۔ ایک اور شخص کے وضو کا پانی گرتا ہوا دیکھا تواس سے فرمایا شراب نوشی اور فحش گانے بجانے سے توبہ کر۔ اس نے کہا میں نے توبہ کی اھ
اسی میں حضرت امام ابو حنیفہ کے بعض مقلدین سے مروی ہے کہ انہوں نے ان وضو خانوں کے پانی سے وضو کو منع کیا ہے جن میں پانی جاری نہ ہو کیونکہ اس میں وضو کرنے والوں کے گناہ بہتے ہیں اور انہوں نے حکم دیا کہ وہ نہروں کنوؤں اور بڑے حوضوں کے پانی سے وضو کریں۔ اور سیدی علی الخواص باوجود شافعی المذہب ہونے کے مساجد کے طہارت خانوں میں اکثر اوقات وضو نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ پانی ہم جیسے لوگوں کے جسموں کو صاف نہیں کرتا ہے کیونکہ یہ ان گناہوں سے آلودہ ہے جو اس میں مل گئے ہیں اور وہ گناہوں کے دھوون میں
حوالہ / References المیزان الکبری الطہارۃ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۰۹
#12067 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
ودخلت معہ مرۃ میضأۃ المدرسۃ الازھریۃ فاراد ان یستنجی من المغطس فنظر ورجع فقلت لم قال رایت فیہ غسالۃ ذنب کبیر غیرتہ فی ھذا الوقت وکنت انارأیت الذی دخل قبل الشیخ وخرج فتبعتہ فاخبرتہ الخبر فقال صدق الشیخ قد وقعت فی زنا ثم جاء الی الشیخ وتاب ھذا امر شاھد تہ من الشیخ اھ کلہ ملتقطا وسقتہ ھھنا لجمیل فائدتہ وجلیل عائدتہ ولیس ماعینتہ انت الۃ لقربۃ فی معنی ماعینہ الشارع فلا یلتحق۔
اقول : بل الدلیل ناھض علی عدم الالتحاق الاتری ان ارواء الظمان قربۃ مطلوبۃ قطعا وقد (۱)ورد فیہ خصوصا انہ محاء للذنوب اخرج الخطیب عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا کثرت ذنوبك فاسق الماء علی الماء تتناثر کما یتناثر الورق من الشجر فی الریح العاصف اھ فاذا استقیت لہ الماء من بئر اوسکبت من
اناء واعطیتہ ایاہ فقد اقمت بہ قربۃ
یہ فرق بھی کرلیتے تھے کہ یہ حرام کا ہے یا مکروہ کا یا خلاف اولی کا اور ایک دن میں ان کے ساتھ مدرسۃ الازہر کے وضو خانہ میں داخل ہوا تو انہوں نے ارادہ کیا کہ حوض سے استنجا کریں تو اس کو دیکھ کر لوٹ آئے میں نے دریافت کیا کیوں تو فرمایا کہ میں نے اس میں ایک گناہ کبیرہ کا دھوون دیکھا ہے جس نے اس کو متغیر کردیا ہے اور میں نے اس شخص کو بھی دیکھا تھا جو حضرت شیخ سے قبل وضو خانہ میں داخل ہوا تھا پھر میں اس کے پیچھے پیچھے گیا اور اس کو حضرت شیخ نے جو کہا تھا اس کی خبر دی اس نے تصدیق کی اور کہا کہ مجھ سے زنا واقع ہوا اور حضرت شیخ کے ہاتھ پر آکر تائب ہوا۔ یہ میرا اپنا مشاہدہ ہے اھ یہ سب ماخوذ ہے اس کے عظیم فائدہ کیلئے میں نے اس کو ذکر کیا ہے اور جس کو آپ نے قربت کا آلہ قرار دیا ہے وہ اس معنی میں نہیں ہے جس کو شارع نے معین کیا ہے تو یہ اس کے ساتھ لاحق نہ کیا جائے۔ ت
میں کہتا ہوں بلکہ دلیل عدم التحاق پر قائم ہے کیا یہ نہیں کہ پیاسے کو سیراب کرنا قربۃ مطلوبہ ہے اور اس بارے میں بطور خاص وارد ہوا کہ یہ گناہوں کا مٹانے والا ہے۔ خطیب انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہسے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں جب تیرے گناہ زیادہ ہوجائیں تو تو پانی پر پانی پلا تو تیرے گناہ اس طرح جھڑ جائیں گے جس طرح تیز ہوا سے پیڑ کے پتے جھڑ جاتے ہیں اھ تو جب تونے اس کو
حوالہ / References المیزان الکبری کتاب الطہارۃ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۱۰)
تاریخ بغداد عن انس بیروت ۶ / ۴۰۳)
#12068 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
فلو تحولت نجاسۃ الاثام الیہ لصار نجسا حراما شربہ عند الامام وقذرابالاجماع مکروہ الشرب فیعود الاحسان اساء ۃ والقربۃ علی نفسھا بالنقض وھو باطل اجماعا فما ذلك الالان الشرع انما طلب منك ان تھیئ لہ مایرویہ ولم یعین لہ الماء بخصوصہ بحیث لا یجزیئ غیرہ بل لوسقیتہ لبنا خالصا او ممزوجا بماء اوماء الورد اوجلابابثلج ولو زوماء الکاذی وامثال ذلك لکان اجدواجود واقمت القربۃ و ازید والله یحب المحسنین وقد(۱)اشتد تشییدا بھذا ارکان مانحونا الیہ فی مسألۃ القدور والقصاع ھذا کلہ ماظھرلی وارجو ان قد زھر الامر و زال القناع والحمدلله رب العلمین۔
تنبیہ : (۲)عامۃ الکتب فی بیان الشق الاول من الماء المستعمل علی التعبیر بماء استعمل فی رفع حدث وعلیہ المتون کالقدوری والہدایۃ والوقایۃ والنقایۃ والاصلاح والکنز والغرر والملتقی واعترضھم المحقق علی الاطلاق فی الفتح بان الحدث لایتجزء ثبوتا اھ علی(۳) القول الصحیح المعتمد فما
کنوئیں کے پانی سے سیراب کیا یا کسی برتن سے انڈیلا اور اس کو دیا تو تونے اس کے ساتھ قربت کو قائم کیا تو اگر گناہوں کی نجاست اس کی طرف منتقل ہوجائے تو وہ نجس ہوگا اور امام کے نزدیک اس کاپینا حرام ہوگا اور بالاجماع گندا ہوگا اور اس کا پینا مکروہ ہوگا تو احسان گناہ ہوجائے گا اور قربت اپنے نفس پر نقض ہوگی یہ بالاجماع باطل ہے یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ شریعت نے تم سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ تم اس کے لئے وہ تیار کرو جو اس کو سیراب کردے اور اس کیلئے کسی پانی کو مخصوص نہیں کیا ہے کہ اس کے بغیر کفایت نہ ہو بلکہ اگر تم اس کو خالص دودھ پانی ملا دودھ عرق گلاب یا برف والا شربت خواہ وہ کیوڑے والا ہو تو زیادہ بہتر ہوگا تمہاری قربت ادا ہوگئی اور کچھ زیادہ بھی اور اللہ محسنین کو پسند کرتا ہے اور ہماری اس تقریر سے ہانڈیوں اور پیالوں والے مسئلہ کی مزید تائید ہوئی ہے۔ یہ میرے لئے ظاہر ہوا ہے اور مجھے امید ہے کہ اس سے معاملہ واضح ہوگیا ہے والحمدلله رب العالمین۔ ت
تنبیہ : مستعمل پانی کی پہلی شق کے بیان میں عام کتب میں یہی ہے کہ یہ وہ پانی ہے جو حدث دور کرنے میں مستعمل ہواہو متون کتب میں یہی ہے مثلا قدوری ہدایہ وقایہ نقایہ اصلاح کنز غرر اور ملتقی وغیرہ اورمحقق علی الاطلاق نے فتح میں ان پر یہ اعتراض کیا ہے کہ حدث کے ثبوت میں تجزی نہیں ہوتی ہے اھ یعنی قول صحیح معتمد پر تو جب تک بدن کا
حوالہ / References فتح القدیر ماء مستعمل نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۹
#12069 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
بقیت ذرۃ مما لحقہ حکم الحدث بقی الحدث فی کل ماکان لحقہ حتی لوان محدثا اوجنبا تطھر وبقیت لمعۃ خفیفۃ فی رجلہ مثلا لم یحل لہ مس المصحف بیدہ ولا بکمہ ولا للجنب التلاوۃ کل ذلك علی ماھو المختار للفتوی فھذا الماء لم یرفع الحدث ولو لم ینو لم تکن قربۃ ایضامع انہ مستعمل قطعا بفروع کثیرۃ منصوصۃ عن صاحب المذھب رضی الله تعالی عنہ فی ادخال المحدث بعض اعضائہ فی الماء لغیرضرورۃ الاغتراف علی مافصلت فی الفتح والحلیۃ والبحر غیرھا وللتفصی عن ھذا قرر المحقق ان صیر ورۃ الماء مستعملا باحدی ثلث رفع الحدث والتقرب وسقوط الفرض عن العضو قال وعلیہ تجری فروع ادخال الید والرجل الماء القلیل لالحاجۃ ولا تلازم بین سقوط الفرض وار تفاع الحدث فسقوط الفرض عن الید مثلا یقتضی ان لایجب اعادۃ غسلھا مع بقیۃ الاعضاء ویکون ارتفاع الحدث موقوفا علی غسل الباقی وسقوط الفرض ھو الاصل فی الاستعمال لما عرف ان اصلہ مال الزکوۃ والثابت فیہ لیس الاسقوط الفرض حیث جعل بہ دنسا شرعا علی ماذکرناہ وتبعہ تلمیذہ المحقق فی الحلیۃ ثم البحر
کوئی ذرہ جس سے حکم تطہیر لاحق ہوتا ہے باقی بچا رہے گا حدث بھی اس حصہ میں باقی رہے گا یہاں تک کہ کوئی بے وضو یا ناپاک شخص غسل کرتا ہے اور مثلا اس کے پیر میں خشکی کی معمولی سی چمک باقی رہ جاتی ہے تو وہ مصحف کو اپنے ہاتھ سے یا اپنی آستین سے نہیں چھو سکتا ہے اور جنب ہونے کی صورت میں تلاوت نہیں کرسکتا ہے یہ سب فتوی کیلئے مختار ہے تو اس پانی نے حدث کو رفع نہیں کیا اور اگر اس نے نیت نہ کی تو قربت بھی نہ ہوگی حالانکہ وہ قطعا مستعمل ہے اس میں بہت سی فروع ہیں جو صاحب مذہب سے منقول ہیں ان کا تعلق اس امر سے ہے کہ بے وضو اپنے کسی عضو کو بلا ضرورت چلو بھرنے کیلئے پانی میں ڈالے جیسا کہ فتح حلیہ اور بحر میں تفصیل سے ذکر کیا ہے اس اعتراض سے رہائی حاصل کرنے کیلئے محقق نے یہ تقریر کی ہے کہ پانی کے مستعمل ہونے کی تین صورتیں ہیں رفع حدث تقرب اور فرض کا عضو سے ساقط ہونا فرمایا کہ اسی پر یہ فروع متفرع ہوں گی کہ ہاتھ یا پیر تھوڑے پانی میں بلا ضرورت ڈالا اور سقوط فرض اور ارتفاع حدث میں کوئی تلازم نہیں ہے اب ہاتھ سے سقوط فرض مثلا چاہتا ہے کہ ہاتھ کے دھونے کا بقیہ اعضاء کے ساتھ اعادہ نہ ہو اور حدث کا مرتفع ہونا باقی اعضاء کے دھونے پر موقوف ہو اور پانی کے استعمال میں سقوط فرض ہی اصل ہے جیسا کہ معلوم ہے کہ اس کی اصل مال زکوۃ ہے اور
حوالہ / References فتح القدیر ماء مستعمل نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۹
#12070 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
فی البحر ثم تلمیذہ العلامۃ الغزی حتی جعلہ متنا واقرہ علیہ المدقق فی الدر و اعتمدہ العارف بالله سیدی عبدالغنی النابلسی فی شرح ھدیۃ ابن العماد زعم العلامۃ ش ان ھذا السبب الثالث زادہ فی الفتح ۔
اقول : (۱)ولیس کذا بل ھو منصوص علیہ من صاحب المذھب رضی الله تعالی عنہ ففی الفتح عن کتاب الحسن عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ ان غمس جنب اوغیر متوضیئ یدیہ الی المرفقین اواحدی رجلیہ فی اجانۃ لم یجز الوضوءمنہ لانہ سقط فرضہ عنہ اھ وقدمنا عن الھدایۃ فی تعلیل قول ابی یوسف ای والامام رضی الله تعالی عنہما ان اسقاط الفرض مؤثر ایضا فیثبت الفساد بالامرین اھ نعم المزید من المحقق ھو تثلیث السبب ولیس بذاک فان سقوط الفرض اعم مطلقا من رفع الحدث ففیہ غنیۃ عنہ اما ما فی منحۃ الخالق انہ قدیرفع الحدث ولا یسقط الفرض کوضوء الصبی العاقل لما مر من صیر ورۃ ماءہ
اس میں یہی ثابت ہے کہ سقوط فرض ہو کیونکہ اس میں شرعا میل کچیل ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اھ اور ان کے محقق شاگرد نے ان کی پیروی کی حلیہ میں پھر صاحب بحر نے بحر میں۔ پھر ان کے شاگرد علامہ غزی نے یہاں تک کہ اس کو متن قرار دیا اور در میں اس کو مدقق نے برقرار رکھا اور عبدالغنی نابلسی نے شرح ہدیۃ ابن العماد میں اس پر اعتماد کیا اور علامہ ش نے فرمایا کہ اس تیسرے سبب کو فتح میں زیادہ کیا گیا۔ ت
میں کہتا ہوں یہ بات درست نہیں بلابلکہ یہ صاحب مذہب رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے ہی منصوص ہے فتح میں حسن کی کتب سے ابو حنیفہ سے مروی ہے کہ اگر ناپاک شخص یا بے وضو شخص نے اپنے دونوں ہاتھ دونوں کہنیوں تک پانی میں ڈبوئے یا ایک پیر کسی مرتبان میں ڈبویا تو اس سے وضو جائز نہ ہوگا کیونکہ اس کا فرض اس سے ساقط ہوچکا ہے اھ اور ہم نے ہدایہ سے ابو یوسف کے قول یعنی امام کے قول کی بھی علت بیان کرتے ہوئے پہلے ذکر کیا ہے کہ اسقاط فرض بھی موثر ہے تو فساد دونوں امروں سے ثابت ہوگا اھ ہاں محقق نے جو اضافہ کیا ہے وہ سبب کی تثلیث ہے اور وہ درست نہیں کیونکہ سقوط فرض اعم مطلق ہے رفع حدث سے لہذا یہ اس سے بے نیاز کرنے والا ہے اور منحۃ الخالق میں ہے کہ کبھی حدث
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۶
فتح القدیر بحث الماء المستعمل نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۶
ہدایۃ الماء الذی یجوز بہ الوضوء العربیہ کراچی ۱ / ۲۲
#12071 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
مستعملامع انہ لافرض علیہ ا ھ
فاقول : (۱)لیس بشیئ فان(۲)حکم الحدث انما یلحق المکلف وقد نصوا ان مراھقا جامع اومراھقۃ جومعت انما یؤمر ان بالغسل تخلقا واعتیاد ا کما فی الخانیۃ والغنیۃ وغیرھما
وفی الدر یؤمر بہ ابن عشرتادیبا فحیث لم یسقط الفرض لانعدام الافتراض لم یرتفع الحدث ایضا لانعدام الحکم بہ اما صیرورتہ مستعملا فلیس لرفعہ حدثا والاصار مستعملا من کل صبی ولولم یعقل وھو خلاف المنصوص بل لکونہ قربۃ معتبرۃ اذا نواھا ولذا قیدوہ بالعاقل لان غیرہ لانیۃ لہ(۳)والذی مران ارادبہ امر فی البحر فھو قولہ فی الخلاصۃ اذا توضأ الصبی فی طست ھل یصیر الماء مستعملا المختار انہ یصیر اذا کان عاقلا اھ فھذا التقیید یفید ماقلنا وقد قال(۴)فی الغنیۃ ان ادخل الصبی یدہ فی الماء وعلم ان لیس بہا نجس یجوز التوضؤ بہ وان شك فی طہارتھا یستحب ان لایتوضأ بہ وان توضأ جاز ھذا اذا لم یتوضأ الصبی بہ فان
ختم ہوجاتا ہے اور فرض ساقط نہیں ہوتا جیسے عاقل بچے کا وضو کیونکہ ابھی گزرا ہے کہ اس کا پانی مستعمل ہوجاتا ہے حالانکہ وضو اس پر فرض نہیں۔
میں کہتا ہوں یہ ٹھیک نہیں کیونکہ حدث کا حکم مکلف کو لاحق ہوتا ہے علماء نے تصریح کی ہے کہ اگر کسی مراھق نے جماع کیا یا کسی مراہقہ سے جماع کیا گیا تو ان کو اخلاق وآداب سکھانے کی غرض سے غسل کا حکم دیا جائے گا خانیہ اور غنیہ وغیرہ میں یہی ہے۔ اور در میں یہ ہے کہ دس سالہ لڑکے کو تادیبا غسل کا حکم دیا جائیگا جب فرض ساقط نہ ہوگا کیونکہ فرضیت منعدم ہے تو حدث بھی مرتفع نہ ہوگا کیونکہ اس کا حکم منعدم ہے اور رہا اس کا مستعمل ہونا تو یہ اس وجہ سے نہیں کہ اس نے حدث کو رفع کیا ہے ورنہ تو ہر بچہ کا مستعمل پانی مستعمل ہوجاتا اگرچہ وہ عاقل نہ ہو اور یہ خلاف منصوص ہے بلکہ یہ اس لئے ہے کہ یہ قربت اسی وقت معتبر ہوگی جبکہ وہ اس کی نیت کرے اور اسی لئے انہوں نے بچہ کو عاقل سے مقید کیا ہے کیونکہ غیر عاقل کی نیت نہیں ہوتی ہے اور جو گزرا اگر اس سے ان کا ارادہ وہ ہے جو گزرا بحر میں تو ان کا وہ قول خلاصہ میں ہے کہ جب بچہ طشت میں وضو کرے تو آیا پانی مستعمل ہوگا تو مختار یہ ہے کہ اس وقت مستعمل ہوگا جب بچہ عاقل ہو اھ تو یہ تقیید اسی چیز کا فائدہ دے رہی ہے
حوالہ / References منحۃ الخالق علی البحر الماء المستعمل سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۲
قاضی خان فیما یوجب الغسل نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۱
درمختار موجبات الغسل مجتبائی دہلی ۱ / ۳۱
خلاصۃ الفتاوٰی الماء المستعمل نولکشور لکھنؤ ۱ /
#12072 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
توضأ بہ ناویااختلف فیہ المتأخرون والمختار انہ یصیر مستعملا اذا کان عاقلا لانہ نوی قربۃ معتبرۃ اھ وان اراد بہ مامر فی نفس المنحۃ قبیل ھذا بسطور فھو اصرح وابین حیث قال نقلا عن الخانیۃ الصبی العاقل اذا توضأ یرید بہ التطھیر ینبغی ان یصیر الماء مستعملا لانہ نوی قربۃ معتبرۃ ثم(۱)افاد بنفسہ ان قولہ یرید بہ التطہیر یشیر الی انہ ان لم یرد بہ التطھیر لایصیر مستعملا اھ ولکن سبحن من لاینسی ثم(۲)قال فی المنحۃ بقی ھل بین سقوط الفرض والقربۃ تلازم ام لا الخ
اقول : (۳)مرادہ ھل القربۃ تلزم سقوط الفرض ام لافان التلازم یکون من الجانبین ولا یتوھم عاقل ان سقوط الفرض یلزم القربۃ فان الاستنشاق فی الوضوء والمضمضۃ فیہ وللطعام ومنہ والوضوء علی الوضوء وامثالھا
جو ہم نے کہی ہے اور غنیہ میں فرمایا کہ اگر بچہ نے پانی میں ہاتھ ڈالا اور یہ علم تھا کہ اس کے ہاتھ پر کوئی نجاست موجود نہیں ہے تو اس پانی سے وضو جائز ہے جو ہم نے کہی ہے اور اس کی طہارت میں شک ہے تو مستحب یہ ہے کہ اس پانی سے وضو نہ کرے اور اگر وضو کیا تو جائز ہے یہ اس صورت میں ہے جب کہ بچہ نے اس سے وضو نہ کیا ہو اور اگر نیت کے ساتھ وضو کیا ہو تو متاخرین کا اس میں اختلاف ہے اور پسندیدہ قول یہ ہے کہ اگر وہ عاقل ہو تو مستعمل قرار پائے گا کیونکہ اس نے معتبر قربت کی نیت کی ہے اھاور اگر وہ ارادہ کیا جو نفس منحہ میں گزرا ہے اس سے چند سطور قبل تو وہ اور زیادہ واضح اور روشن ہے وہ خانیہ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عاقل بچہ جب وضو کرے اور اس سے پاکی حاصل کرنے کا ارادہ کرے تو چاہئے کہ پانی مستعمل ہوجائے کیونکہ اس نے معتبر قربۃ کی نیت کی اھ پھر خود ہی فرمایا کہ اس کا قول “ یرید بہ التطھیر “ اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اگر اس نے نیت تطہیر نہ کی تو پانی مستعمل نہ ہو گا اھ لیکن بے عیب ہے وہ خدا جو بھولتا نہیں۔ پھر منحہ میں فرمایا اب یہ امر باقی رہ گیا ہے کہ آیا سقوط فرض اور قربۃ میں تلازم ہے یا نہیں الخ۔ تاقول : انکی مراد یہ ہے کیا قربت سقوط فرض کو مستلزم ہے یا نہیں کہ تلازم جانبین سے ہی ہوتا ہے اور کوئی عقلمند آدمی یہ سوچ بھی نہیں سکتا ہے کہ سقوط فرض مستلزم قربت ہے کیونکہ وضو میں ناک میں پانی ڈالنا اور کلی کرنا اور کھانے کیلئے کلی کرنا اور اس کے
حوالہ / References غنیۃ المستملی الماء المستعمل سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۱۵۳
منحۃ الخالق علی البحر الماء المستعمل سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۱
منحۃ الخالق علی البحر الماء المستعمل سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۲
منحۃ الخالق علی البحر الماء المستعمل سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۲
#12073 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
کل ذلك قرب ولا سقوط لفرض ولکن تسامح فی العبارۃ وظن انہ تبع فیہ الفتح والبحر حیث قال تلازم بین سقوط الفرض وارتفاع الحدث قال فی المنحۃ المراد نفی التلازم من احد الجانبین وھو جانب سقوط الفرض الخ اقول : (۱) لیس کذلك بل التلازم ھو اللزوم من الجانبین فسلبہ یصدق بانتقاء اللزوم من احد الجانبین وھو المراد لفاضلین العلامتین وتفسیرہ باللزوم من احدالجانبین مفسد للمعنی اذ بورود السلب علیہ یکون الحاصل نفی اللزوم من کلا الجانبین ولیس صحیحا ولا مراد وعلی کل فھذا السؤال مما یھمنا النظر فیہ اذلو ظھر لزوم القربۃ لسقوط الفرض سقط سقوط الفرض ایضا کما ارتفع رفع الحدث ودارحکم الاستعمال علی القربۃ وحدھا کما نسبوہ الے الامام محمد وان کان التحقیق انہ لم یخالف شیخیہ فی ذلك کما بینہ فی الفتح والبحر فرأینا العلامۃ صاحب المنحۃ فاذا ھو اجاب عما سأل فقال ان قلنا ان اسقاط الفرض لاثواب فیہ فلا وان قلنا فیہ ثواب فنعم قال العلامۃالمحقق نوح افندی والذی یقتضیہ النظر الصحیح
میں کہتا ہوں بات یہ نہیں ہے بلکہ تلازم کا مطلب یہ ہے کہ لزوم دونوں جانب سے ہو تو اس کا سلب احد الجانبین سے لزوم کے انتفاء کی صورت میں صادق آئے گا اور یہی مراد ہے دونوں فاضل علماء کی اور اس کی تفسیر احد الجانبین کے لزوم کے ساتھ معنی کو فاسد کرنے والی ہے کیونکہ جب اس پر سلب وارد ہوگا تو حاصل نفی لزوم ہوگا دونوں جانبوں سے اور یہ نہ تو صحیح ہے اور نہ ہی مراد ہے اور بہر نوع ہمیں اس سوال پر غور کرنا ہے کیونکہ اگر قربت اور سقوط فرض کا لزوم ظاہر ہوجائے تو سقوط فرض بھی ساقط ہوجائے گا جیسے کہ رفع حدث مرتفع ہوا اور حکم استعمال کا دارومدار محض قربۃ پر ہوجائیگا جیسا کہ فقہاء نے اس کو امام محمد کی طرف منسوب کیا ہے اگرچہ تحقیق یہی ہے کہ انہوں نے شیخین کی مخالفت نہیں کی جیسا کہ بحر اور فتح میں ہے علامہ صاحب منحہ نے اس سوال کا جواب دیا ہے فرماتے ہیں کہ اگر اسقاط فرض میں کوئی ثواب نہ مانا جائے تو یہ درست بعد کلی کرنا اور وضوپر وضو اور اسی جیسی دوسری چیزیں سب کی سب عبادتیں ہیں لیکن ان سے کوئی فرض ساقط نہیں ہوتا ہے لیکن انہوں نے عبارت میں تسامح سے کام لیا ہے اور انہوں نے گمان کیا ہے کہ اس میں انہوں نے فتح اور بحر کی متابعت کی ہے وہ دونوں فرماتے ہیں سقوط فرض اور ارتفاع حدث میں تلازم نہیں۔ منحہ میں فرمایا ایک جانب سے تلازم کی نفی ہے اور وہ سقوط فرض کی جانب ہے الخ(ت)
حوالہ / References منحۃ الخالق علی البحر الماء المستعمل سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۲
#12074 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
ان الراجع ھو الاول لان الثواب فی الوضوء المقصود وھو شرعا عبارۃ عن غسل الاعضاء الثلثۃ ومسح الراس فغسل عضو منھا لیس بوضوء شرعی فکیف یثاب علیہ اللھم الا ان یقال ان یثاب علی غسل کل عضو منھا ثوابا موقوفا علی الاتمام فان اتمہ اثیب علی غسل کل عضو منھا والا فلا ویدل علیہ مااخرجہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذا توضأ العبد المسلم اوالمؤمن الی اخر الحدیث الذی قدمنا اھ۔
اقول اولا : (۱)لامعنی للزوم القربۃ سقوط الفرض وان قلنا بثبوت الثواب فی اسقاط الفرض اذلا ثواب الا بالنیۃ وسقوط الفرض لایتوقف علیھا فالحق ان بینھما عموما من وجہ مطلقا ولو(۲)نظر رحمہ الله تعالی الی فرق مابین تعبیریہ بالسقوط والاسقاط لتنبہ لان الثواب ان کان لم یکن الا بالقصد المدلول علیہ بالاسقاط والسقوط لایتوقف علیہ ۔
وثانیا : (۳) للعبدالضعیف کلام فی توقف الثواب فی الطھارۃ علی الاتمام بل الثواب منوط بنیۃ الامتثال کما قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم انما الاعمال بالنیات
نہیں اور اگر کہیں کہ اس میں ثواب ہے تو یہ درست ہے علامہ نوح آفندی فرماتے ہیں نظر صحیح کا تقاضا یہ ہے کہ راجح پہلا قول ہی ہے کیونکہ ثواب مقصود وضو میں ہے اور وہ شرعا اعضاء ثلثہ کے دھونے اور سر کے مسح کو کہتے ہیں تو ایک عضو کا دھونا شرعی وضو نہیں ہے تو اس پر ثواب کیسے ہوگا! ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ثواب کسی ایک عضو کے دھونے کا ثواب موقوف رہے گا مکمل وضو کرنے پر اب اگر مکمل کرلے گا تو ہرہر عضو کے دھونے پر ثواب پائے گا ورنہ نہیں۔ اس کی دلیل مسلم کی روایت ابو ھریرہ سے ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا جب مسلمان یا مومن وضو کرتا ہے الحدیث الذی قدمناہ اھ(جو حدیث ہم پہلے بیان کرچکے(ت)میں کہتا ہوں اولا قربۃ کے سقوط فرض کو لازم ہونے کے کوئی معنی نہیں خواہ ہم یہ کہیں کہ ثواب ثابت ہوگا اسقاط فرض میں کیونکہ ثواب بلانیت کے نہیں ہوتا اور فرض کا سقوط نیت پر موقوف نہیں ہے تو حق یہ ہے کہ ان دونوں میں عموم من وجہ مطلقا ہے اور اگر وہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ دونوں تعبیروں کے فرق کو دیکھتے یعنی سقوط اور اسقاط تو ان کو معلوم ہوتا کہ ثواب نیت سے ہوتا ہےجو اسقاط سے مفہوم ہوتی ہے اور سقوط اس پر موقوف نہیں۔ ثانیاعبد ضعیف کو اس امر میں کلام ہے کہ ثواب موقوف ہے طہارت کے مکمل ہونے پر بلکہ ثواب موقوف ہے حکم ماننے کی نیت پر جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
حوالہ / References منحۃ الخالق علی حاشیہ بحرالرائق بحث الماء المستعمل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۲
#12075 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
وانما لکل امرئ مانوی (۱) فمن جلس یتوضأ ممتثلا لامر ربہ ثم عرض لہ فی اثنائہ مامنعہ عن اتمامہ فکیف یقال لایثاب علی مافعل ان الله لا یضیع اجر المحسنین نعم(۲)من نوی من بدء الامر انہ لایأتی الا بالبعض فھذا الذی یرد علیہ انہ لم یقصد الوضوء الشرعی بل ھو عابث بقصد مالا یعتبر شرعا والعابث لایثاب بخلاف من قدمنا وصفہ ویترا(۳)ای لی ان مثل ذلك العابث من قصد الوضوء الشرعی واتی ببعض الاعمال ثم قطع من دون عذر فان الله تعالی سمی القطع ابطالا اذیقول عزمن قائل و لا تبطلوا اعمالكم والباطل لاحکم لہ والله تعالی اعلم وثالثا : محو(۴)الخطایا لم یکن ثوابا فلا ذکرلہ فی الحدیث اصلا وان کان فالحدیث حاکم بترتب ثواب کل فعل فعل عند وقوعہ ولا دلالۃ فیہ علی توقف الاثابۃ الی ان یتم وبالجملۃ فلا اغناء لاحد من القربۃ والسقوط عن الاخر بخلاف الرفع والسقوط فلا وجہ للتثلیث ثم رأیت العلامۃ ش اشار الی ھذا فی ردالمحتار حیث قال رفع الحدث لایتحقق الا فی ضمن القربۃ اواسقاط الفرض اوفی ضمنھما فیستغنی بہما عنہ اھ
نے فرمایا “ بیشک : اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی نیت کرے تو جو شخص اپنے رب کے حکم کو ماننے کیلئے وضو کرنے بیٹھا پھر درمیان میں کوئی ایسا امر لاحق ہوا کہ وضو مکمل نہ کرسکا تو اب یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ جو کچھ وہ کرچکا ہے اس پر اس کو ثواب نہیں ملے گا اللہ اچھے کاموں کا اجر برباد نہیں کرتا ہاں اگر کسی نے شروع سے ہی یہ نیت کی کہ وہ بعض اعضاء کو دھوئے گا تو یہ ہے جس پر یہ اعتراض وارد ہوگا کہ اس نے وضو شرعی کا ارادہ نہیں کیا ہے بلکہ وہ ایک ایسا کام کرکے جو شرعا غیر معتبر عبث کررہا ہے اور جو عبث کرتا ہو اس کو ثواب نہیں ملے گا بخلاف اس کے جس کا وصف ہم نے پہلے بیان کیا اور مجھے لگتا ہے کہ اسی عبث کرنے والے کی طرح ہے وہ شخص جس نے شرعی وضو کا ارادہ کیا اور بعض اعمال کئے پھر وضو کو بلا عذر نامکمل چھوڑ دیا کیونکہ اللہ نے قطع کو ابطال قرار دیا ہے اللہ فرماتا ہے “ تم اپنے ا عمال کو باطل نہ کرو “ اور باطل کا کوئی حکم نہیں والله تعالی اعلم۔
ثالثا : یہ کہ خطاؤں کا مٹ جانا اگرثواب نہیں ہے تو اس کا ذکر حدیث میں بالکل نہیں ہے اور اگر ثواب ہے تو حدیث کا حکم یہ ہے کہ ہر فعل کا ثواب اس فعل کے واقع ہوجانے کے وقت مرتب ہوگا اور اس میں اس
حوالہ / References جامع للبخاری باب کیف بدء الوحی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲)
القرآن ۹ / ۱۲۰
القرآن ۴۷ / ۳۳
ردالمحتار الماء المستعمل مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۶
#12076 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
اقول : لم یظھر لی کیف یتحقق رفع الحدث فی ضمن القربۃ من دون سقوط الفرض حتی یصح ھذا التثلیث الاخر الذی ذکر ھذا العلامۃ بل کلما رفع الحدث لزم منہ سقوط الفرض کما اعترف بہ فی المنحۃ فان جنح الی ماقدمنا عنہ من مسألۃ وضوء الصبی العاقل ای اذا توضأ ناویا فقد تحقق رفع الحدث فی ضمن القربۃ من دون سقوط فرض۔
فاقول اولا : قد علمت بطلانہ وثانیا ان(۱)سلم ھذا یلزم ان یتحقق رفع الحدث من دون قربۃ ولا سقوط فرض اذا توضأ الصبی غیرنا ولان رفع الحدث لایفتقر الی النیۃ والقربۃ لاتوجد بدونھا فحینئذ ینھدم اصل المرام ویعود التثلیث الذی ذکر المحقق فالصواب ماذکرت ان رفع الحدث یلزمہ سقوط الفرض ففیہ غنیۃ عنہ۔
ثم اقول لو()ان المحقق علی الاطلاق حانت منہ التفاتہ ھناالی کلام مشروحہ الھدایۃ لما جنح الی تثلیث السبب ولظھر
امر پر دلیل نہیں کہ ثواب تمام پر موقوف ہوگا اور خلاصہ یہ کہ قربت اور سقوط میں سے کسی ایک کو دوسرے سے بے نیازی نہیں بخلاف رفع اور سقوط کے تو تثلیث کی کوئی وجہ نہیں پھر میں نے علامہ ش کو دیکھا کہ انہوں نے ردالمحتار میں اس طرف اشارہ کیا فرمایا رفع حدث قربۃ کے ضمن ہی میں متحقق ہوتا ہے یا اسقاط فرض کے یا دونوں کے ضمن میں متحقق ہوتا ہے تو ان دونوں سے اس میں بے نیازی حاصل کی جائے گی اھ(ت)
میں کہتا ہوں مجھ پر یہ ظاہر نہیں ہوا کہ رفع حدث قربۃ کے ضمن میں کیسے متحقق ہوگا بغیر فرض کے سقوط کے یہاں تک کہ یہ دوسری تثلیث جس کی طرف اس علامہ نے اشارہ کیا ہے صحیح قرار پائے بلکہ جب بھی حدث مرتفع ہوگا اس سے فرض ساقط ہوگا جیسا کہ منحہ میں اس کا اعتراف کیا ہے تو اگر اس کی طرف مائل ہوں جو ہم نے پہلے ان سے نقل کیا ہے یعنی عاقل بچہ کا وضو جب عاقل بچہ نیت کے ساتھ وضو کرے تو حدث قربت کے ضمن میں مرتفع ہوجائے گا مگر فرض ساقط نہ ہوگا۔ (ت)
میں کہتا ہوں اولا تم اس کا بطلان جان چکے ہو۔ ثانیا اگر یہ مان لیا جائے تو لازم آئے گا کہ رفع حدث متحقق ہو بلا قربت کے اور نہ فرض کا سقوط ہو جب بچہ بلا نیت وضو کرے کیونکہ رفع حدث محتاج نیت نہیں ہوتا جبکہ قربت بلا نیت نہیں پائی جاتی ہے اس صورت میں اصل مقصود ہی ختم ہوجائے گا اور وہ تثلیث عود کر آئے گی جس کو محقق نے ذکر کیا ہے تو صحیح وہی ہے جس کو میں نے ذکر کیا کہ رفع حدث کو سقوط فرض لازم ہے پس یہ اس سے بے نیاز کرنے والا ہے۔ (ت)پھر میں کہتا ہوں اگر محقق علی الاطلاق صاحب ہدایہ کے کلام پر توجہ دیتے تو تثلیث سبب کی طرف متوجہ نہ ہوتے اور جو عام کتب اور متون سے
#12077 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
لہ الجواب ایضا عما اعترض بہ کلام العامۃ والمتون وذلك ان الامام صاحب الھدایۃ قدس سرہ عبر فی المسألۃ بما ازیل بہ حدث اواستعمل قربۃ وقال فی الدلیل اسقاط الفرض مؤثر ایضا فیثبت الفساد بالامرین فافادان المراد بزوال الحدث ھو سقوط الفرض وان مؤداھما ھھنا واحد ولا شك ان سقوط الفرض عن عضو دون عضو بل عن بعض عضو دون بعضہ الاخر ثابت متحقق وان لم یترتب علیہ احکام ارتفاع الحدث وھو کما قدمت الاشارۃ الیہ فی بیان الفروع لیشمل مااذا تطھر کاملا اوغسل شیئا من اعضائہ بل عضوہ فلا تثلیث ولا اعتراض بعدم التجزی و(۱)تحقیقہ ماافادہ فی المنحۃ نقلا عن العلامۃ نوح افندی فی حواشی الدررناقلا عن الشیخ قاسم فی حواشی المجمع ان الحدیث یقال بمعنیین المانعیۃ الشرعیۃ عما لایحل بدون الطھارۃ وھذا لایتجزئ بلا خلاف عند ابی حنیفۃ وصاحبیہ وبمعنی النجاسۃ الحکمیۃ وھذا یتجزئ ثبوتا وارتفاعا بلا خلاف عند ابی حنیفۃ و عــــہ اصحابہ
اعتراض ہوتا تھا اس کا جواب بھی ظاہر ہوجاتا اس کی وجہ یہ ہے کہ صاحب ہدایہ نے مسئلہ میں یہ تعبیر کی ہے کہ وہ پانی جس سے حدث زائل کیا گیا ہو یا بطور قربت استعمال کیا گیا ہو اور دلیل میں فرمایا کہ اسقاط فرض بھی مؤثر ہے تو فساد دونوں امروں سے ظاہر ہوگا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ زوال حدث سے مراد سقوط فرض ہے اور دونوں کا نتیجہ ایک ہی ہے اور اس میں شک نہیں کہ فرض کا سقوط ایک عضو سے نہ کہ دوسرے عضو سے بلکہ بعض عضو سے نہ کہ دوسرے بعض سے ثابت متحقق ہے اگرچہ اس پر ارتفاع حدث کے احکام مترتب نہیں ہوتے ہیں اور یہ جیسا کہ میں اشارہ کرچکا ہوں بیان فروع میں اس صورت کو بھی شامل ہے جبکہ پوری طرح طہارت کی یا کچھ اعضاء دھوئے بلکہ اپنے ایک عضو کا حصہ دھویاتو نہ تثلیث ہوگی اور نہ عدم تجزی کا اعتراض ہوگا اس کی تحقیق منحہ میں علامہ نوح آفندی کی اس تحقیق سے منقول ہے جو درر کے حواشی میں منقول ہے اور جو حواشی مجمع میں شیخ قاسم سے منقول ہے کہ حدث کا اطلاق دو معنی میں ہوتا ہے ایک تو یہ کہ جو چیز بلا طہارت جائز نہ ہو اس کی شرعی ممانعت اور یہ چیز ابو حنیفہ اور ان کے صاحبین کے درمیان بالاتفاق
عــــہ : اقول قال فی الاول عند ابی حنیفۃ وصاحبیہ لان من المشائخ من قال بتجزیہ
اقول : پہلے کے متعلق امام ابو حنیفہ کے ساتھ صاحبیہ تثنیہ کا صیغہ ذکر کیا ہے کیونکہ بعض مشائخ نے کہا جنبی کو قرأت کیلئے کلی (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References الہدایۃ باب الماء الذی لایجوز بہ الوضوء المکتبہ العربیۃ ۱ / ۱۲۲
#12078 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
وصیرورۃ الماء مستعملا بازالۃ الثانیۃ ففی مسألۃ البئر سقط الفرض عن الرجلین بلا خلاف والماء الذی اسقط الفرض صار مستعملا بلا خلاف علی الصحیح اھ قال العلامۃ نوح ھذا ھو التحقیق فخذہ فانہ بالاخذ حقیق اھ اقول : (۱)بل اختار فی غایۃ البیان ثم النھر ثم الدران حقیقۃ الحدث ھو المعنی الثانی قال فی البحر تبعا للفتح الحدث مانعیۃ شرعیۃ قائمۃ بالاعضاء الی غایۃ استعمال المزیل اھ قال فی النھر وتبعہ الدر ھذا تعریف بالحکم وعرفہ فی غایۃ البیان بانہ وصف شرعی یحل فی الاعضاء یزیل الطھارۃ قال وحکمہ المانعیۃ لما جعلت الطہارۃ شرطا لہ الخ ونظر فیہ ش نقلا عن حاشیۃ الشیخ خلیل الفتال عازیا لبعض الفضلاء بان حکم الشیئ ماکان اثرالہ خارجا
غیر متجزی ہے اور دوسرا بمعنی نجاست حکمیہ اور یہ چیز ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کے درمیان بالاتفاق متجزی ہے ثبوتا بھی اور ارتفاعا بھی اور پانی جو مستعمل ہوتا ہے تو دوسرے معنی کے ازالہ سے ہوتا ہے تو کنوئیں کے مسئلہ میں دونوں پیروں کا فرض ساقط ہوگیا اور وہ پانی جو اسقاط فرض میں استعمال ہوا مستعمل ہوگیا صحیح قول کے مطابق اس میں کوئی اختلاف نہیں اھ علامہ نوح آفندی نے فرمایا تحقیق یہی ہے اور اسی کو اختیار کرنا چاہئے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں غایۃ البیان نہر اور در نے دوسرے معنی کو مختار قرار دیا ہے بحر میں فتح کی متابعت کرتے ہوئے فرمایا حدث شرعی مانعیت ہے جو اعضاء کے ساتھ اس وقت تک قائم رہتی ہے یہاں تک کہ زائل کرنے والی چیز استعمال کی جائے نھر اور در میں ہے کہ یہ حکم کے ساتھ تعریف ہے اور غایۃ البیان میں اس کی تعریف یہ ہے کہ وہ ایک ایسا وصف ہے جو اعضاء میں حلول کرتا ہے اور طہارت کو زائل کرتا ہے فرمایا کہ اس کا حکم مانعیت ہے اس چیز کی جس کیلئے طہارت شرط ہے الخ اور “ ش “ نے اس میں حاشیہ شیخ خلیل فتال سے نقل (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
حتی اجاز للجنب القراء ۃ بعد المضمضۃ للمحدث المس بعد غسل الید وقال ھھنا واصحابہ لان تجزی ھذا لاخلاف فیہ عند مشائخنا اھ منہ رضی الله تعالی عنہ۔
کافی ہے اور محدث کو مس مصحف کیلئے ہاتھ دھونا کافی ہے اور یہاں دوسرے معنی میں اصحاب جمع کا صیغہ ذکر کیا ہے کیونکہ اس کو سب نے کافی کہا ہمارے مشائخ کا اس میں اختلاف نہیں اھ(ت)
حوالہ / References منحۃ الخالق علی حاشیۃ بحرالرائق بحث الماء المستعمل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۲
بحرالرائق باب شروط الصّلوٰۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۶۷
درمختار کتاب الطہارت مجتبائی دہلی ۱ / ۱۶
#12079 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
عنہ مترتبا علیہ والمانعیۃ المذکورلیست کذلك وانما حکم الحدث عدم صحۃ الصلاۃ معہ وحرمۃ مس المصحف ونحو ذلك فالتعریف بالحکم کأن یقال الحدث مالا تصح الصلاۃ معہ تأمل اھ قال ش(۱)علی ان التعریف بالحکم مستعمل عند الفقہاء لان الاحکام محل مواقع انظارھم اھ وقد اشارالیہ ط وقال علی قولہ مانعیۃ ای کونہ مانعا من الصلاۃ ومس المصحف والاظھر ان یقال مانع شرعی اھ
اقول : وبالله التوفیق(۲)کلام المعترضین علی البحر کلہ بمعزل عن غوص القعرفان مبناہ طرا علی ان تعریف البحر غیر تعریف الغایۃ ولا دلیل علیہ فان المانعیۃ بمعنی الحال فضلا عن کونہ ممالا قیام لہ بموضوع لعدم کونہ من الصفات المنضمۃ لاقیام لھا بالاعضاء اصلا فانھا غیر مانعۃ حتی تکون لھا مانعیۃ وبمعنی النسبۃ ای شیئ لہ انتساب الی مانع شرعی صادق قطعا علی ذلك الوصف
کرتے ہوئے نظر کی ہے اور اس کو بعض فضلاء کی طرف منسوب کیا ہے کہ ہر چیز کا حکم اس کے اثر کو کہتے ہیں جو اس سے خارج ہو اور اس پر مرتب ہو اور مذکورہ مانعیت اس قسم کی نہیں ہے اور حدث کا حکم تو یہی ہے کہ اس کے ساتھ نماز درست نہیں ہوتی اور مصحف کو نہیں چھوا جاسکتا ہے اور اسی قسم کے دوسرے احکام تو تعریف بالحکم اس طرح ہوسکتی ہے کہ حدث وہ چیز ہے جس کے ساتھ نماز درست نہ ہو تامل اھ “ ش “ نے فرمایا کہ علاوہ ازیں تعریف بالحکم فقہاء کے نزدیک مستعمل ہے کیونکہ احکام ہی سے وہ بحث کرتے ہیں اھ اور “ ط “ نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے اور “ مانعیت “ پر فرمایا کہ اس کا نماز سے مانع ہونا اور مصحف کے چھونے سے مانع ہونا ہے اور اظہریہ ہے کہ کہا جائے کہ یہ مانع شرعی ہے اھ(ت)
میں بتوفیق الہی کہتا ہوں معترضین کے بحر پر اعتراضات گہرائی سے خالی ہیں کیونکہ ان کی بنیاد اس پر ہے کہ بحر کی تعریف غایہ کی تعریف سے مختلف ہے اور اس پر کوئی دلیل نہیں کیونکہ مانعیت بمعنی حال ہے اس سے قطع نظر کہ وہ صفات منضمہ میں سے نہ ہونے کی بنا پر اپنے موضوع کے ساتھ قائم نہیں ہوتی اس کا اعضاء کے ساتھ قیام بالکل ہوتا ہی نہیں کیونکہ اعضاء مانع نہیں تاکہ انکے ساتھ مانعیت قائم ہو اور بمعنی نسبت کے یعنی وہ شے جس کا کسی مانع شرعی کی طرف انتساب ہو
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الطہارت مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۳
ردالمحتار کتاب الطہارت مصطفی البابی مصر ۱ / ۶۳
طحطاوی علی الدر کتاب الطہارت مصطفی البابی بیروت ۱ / ۵۶
#12080 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
الشرعی الذی یحل بالاعضاء فیزیل طھرھا لان المانع ھو الخطاب الشرعی والمنتسب الیہ ما لاجلہ وردالخطاب و ھی النجاسۃ الحکمیۃ وھی بعینہا ذلك الوصف القائم بالاعضاء فرجع التعریف الی تعریف الغایۃ فلا خلاف ولا خلف الا تری ان تلمیذ المحقق علی الاطلاق اعنی المحقق الحلبی عرف الحدث فی الحلیۃ بانہ الوصف الحکمی الذی اعتبر الشارع قیامہ بالاعضاء مسبباعن الجنابۃ و الحیض والنفاس والبول والغائط وغیرھما من نواقض الوضوء ومنع من قربان الصلاۃ وما فی معناھا معہ حال قیامہ بمن قام بہ الی غایۃ استعمال مایعتبر بہ زائلا اھ وھو کما تری لیس الا بسطا لما اجملہ شیخہ المحقق وما ھو الاعین ماعرف بہ فی الغایۃ ولو قال مانع شرعی کما استظھرہ العلامۃ ط لکان ایضا مرجعہ الی ذلك لان ذلك الوصف الشرعی وھی النجاسۃ مانع شرعی بمعنی مالاجلہ المنع واستعمال المانع بھذا المعنی شائع ذائع(۱)غیران المحقق ابقاہ علی حقیقتہ فاتی بالنسبۃ فلا وجہ وجیھا للاستظھار ثم من(۲) اوضح دلیل علیہ ان البحر مغترف فی ھذا الحد من مناھل فتح القدیر کما ذکرہ فی ردالمحتار وقد قال المحقق فی
یہ قطعا اس وصف شرعی پر صادق آتی ہے جو اعضاء میں حلول کرتا ہے اور ان کی طہارت کو زائل کرتا ہے اس لئے کہ مانع وہ خطاب شرعی ہے اور اس کی طرف منسوب وہ چیز ہے جس کی وجہ سے خطاب وارد ہوا اور وہی نجاست حکمیہ ہے اور وہ بعینہ وہ وصف ہے جو اعضاء کے ساتھ قائم ہے تو تعریف غایہ والی تعریف کی طرف لوٹ آئی تو کوئی خلاف نہیں اور نہ خلف ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ محقق علی الاطلاق کے شاگرد محقق حلبی نے حلیہ میں حدث کی تعریف اس طرح کی ہے کہ وہ ایک وصف حکمی ہے کہ شارع نے اعضاء کے ساتھ اس کے قیام کا اعتبار کیا ہے اور یہ جنابۃ حیض نفاس پیشاب اور پاخانہ وغیرہما نواقض وضو کے باعث ہوتا ہے اور یہ چیز نماز کے قریب جانے سے مانع ہوتی ہے یا جو چیز نماز کے حکم میں ہو یہ مانعیت اس وقت تک رہتی ہے جب تک یہ وصف اسی شخص کے ساتھ قائم رہے یہاں تک کہ وہ اس چیز کو استعمال کرے جو اس کو زائل کرنے والی ہے اھ یہ تعریف جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں اسی چیز کا بسط ہے جس کا اجمال ان کے شیخ محقق نے کیا ہے اور یہ بعینہ وہی تعریف ہے جو غایہ میں ہے اور مانع شرعی کہتے جیسا کہ علامہ “ ط “ نے فرمایا اس کا بھی ماحصل یہی ہے کیونکہ وہ وصف شرعی جو نجاست ہے مانع شرعی ہے اس معنی کے اعتبار سے کہ یہ وہ چیز ہے جس کی وجہ سے منع ہے اور
حوالہ / References حلیہ
#12081 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
الفتح مستدلالروایۃ الحسن وابی یوسف عن الامام الاعظم ان الماء المستعمل نجسا مغلظا اومخففا مانصہ وجہ روایۃ النجاسۃ قیاس اصلہ الماء المستعمل فی النجاسۃ الحقیقیۃ والفرع المستعمل فی الحکمیۃ بجامع الاستعمال فی النجاسۃ بناء علی الغاء وصف الحقیقی فی ثبوت النجاسۃ و(۱)ذلك لان معنی الحقیقی لیس الا کون النجاسۃ موصوفا بھا جسم مستقل بنفسہ عن المکلف لاان وصف النجاسۃ حقیقۃ لاتقوم الابجسم کذلك وفی غیرہ مجازبل معناہ الحقیقی واحد فی ذلك الجسم وفی الحدث لانہ لیس المتحقق لنا من معناھا سوی انھا اعتبار شرعی منع الشارع من قربان الصلاۃ والسجود حال قیامہ لمن قام بہ الی غایۃ استعمال الماء فیہ فاذا استعملہ قطع ذلك الاعتبار کل ذلك ابتلاء للطاعۃ فاما ان ھناک وصفا حقیقیا عقلیا اومحسوسا فلا ومن ادعاہ لایقدر فی اثباتہ علی غیرالدعوی ویدل علی انہ اعتبار اختلافہ باختلاف الشرائع الاتری ان الخمر محکوم بنجاسۃ فی شریعتنا وبطھارتہ فی غیرھا فعلم انھا لیست سوی اعتبار شرعی الزم معہ کذا الی غایۃ کذا ابتلاء وفی ھذا لاتفاوت بین الدم
مانع کا استعمال اس معنی میں شائع وذائع ہے البتہ محقق نے اس کو اس کی حقیقت پر باقی رکھا ہے تو نسبت کولائے ہیں تو استظہار کی کوئی معقول وجہ نہیں پھر اس پر واضح ترین دلیل یہ ہے کہ بحر نے بھی اس تعریف میں فتح القدیر سے استفادہ کیا ہے جیسا کہ اس کو ردالمحتار میں ذکر کیا ہے اور محقق نے فتح میں ابو یوسف اور حسن کی ابو حنیفہ سے روایت پر استدلال کیا ہے کہ مستعمل پانی نجاست غلیظہ ہے یا نجاست خفیفہ ہے جس روایت میں اس کو نجاست قرار دیا گیا ہے وہ قیاس کی بنیاد پر ہے اس قیاس کی اصل وہ پانی ہے جو نجاست حقیقیہ میں مستعمل ہو اور اس کی فرع وہ پانی ہے جو نجاست حکمیہ میں مستعمل ہو اور علۃجامعہ نجاست میں استعمال ہے بناء کرتے ہوئے کہ وصف حقیقی ثبوت نجاست میں لغو ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حقیقی کا مفہوم یہ ہے کہ اس نجاست سے ایسا جسم متصف ہو جو بنفسہ مکلف سے مستقل ہو یہ نہیں کہ وصف نجاست حقیقۃ ایسے ہی جسم کے ساتھ قائم ہوتی ہے اور اس کے غیر میں مجاز ہے بلکہ اس کے حقیقی معنی ایک ہیں اس جسم میں اور حدث میں اس لئے کہ ہمیں تحقیقی طور پر جو معنی معلوم ہیں وہ یہ ہیں کہ وہ ایک شرعی اعتبار ہے کہ جب تک وہ موجود ہو تو شارع نے اس کو جو اس کے ساتھ متصف ہو نماز وغیرہ کے قریب جانے سے منع کیا ہے تاوقتیکہ وہ اس میں پانی کو استعمال
حوالہ / References فتح القدیر بحث الماء المستعمل نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۴
#12082 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
والحدث فانہ ایضا لیس الانفس ذلك الاعتبار اھ
فھذانص صریح فی ان تلك المانعیۃ الشرعیۃ المغیاۃ الی استعمال المزیل لیست الا النجاسۃ الحکمیۃ فاتحد التعریفان۔
ثم اقول : (۱)التعریف(۲)بالحکم ان ارید بہ ان یجعل الحکم نفس المعرف بحیث یحمل ھوعلی المعرف فنعم یسقط ایراد النہر والدر فان المانعیۃ بالمعنی المذکور وھی النجاسۃ الحکمیۃ لیست اثرا مترتباعلی الحدث بمعنی الوصف الشرعی بل ھی ھو کما عرفت وح لایستقیم ایضا قول المجیب ان التعریف بالحکم کأن یقال ھو مالا تصح الصلاۃ معہ فان مالاتصح لیس حکما بل الحکم کما اعترف عدم الصحۃ ولم یعرف بہ وانما یکون تعریفا بالحکم لوقیل الحدث عدم صحۃ الصلاۃ ویتکدر ایضا جواب ط وش بانہ مستعمل عند الفقہاء فان المستعمل عندھم ذکر الحکم فی التعریف لاحمل الاثر علی المؤثر وان ارید بہ ان
استعمال نہ کرے جب وہ پانی استعمال کرلے گا تو وہ اعتبار ختم ہوجائے گا یہ سب طاعت کی ابتلا ہے رہی یہ بات کہ یہاں کوئی وصف عقلی حقیقی یا محسوسی ہے تو ایسی کوئی بات نہیں اور جو اس کا دعوی کرتا ہے تو محض دعوی ہی ہے اور اس کے اعتباری ہونے کی دلیل ہے کہ یہ شریعتوں کے مختلف ہونے سے مختلف ہوتا رہتا ہے مثلا شراب ہماری شریعت میں ناپاک ہے اور دوسری شریعتوں میں پاک ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ نجاست محض شرعی اعتبار سے یہ اتنی سے اتنی مدت تک کیلئے لازم کیا گیا ہے ابتلاء اور اس میں خون اور حدث میں کوئی تفاوت نہیں کیونکہ یہ بھی ویسا ہی اعتبار ہے اھ تو یہ اس امر میں نص صریح ہے کہ یہ مانعیت شرعیہ جس کی انتہا مزیل کا استعمال ہے نجاست حکمیہ ہی ہے تو دونوں تعریفیں متحد ہوگئیں۔ ت)پھر میں کہتا ہوں تعریف بالحکم سے مراد اگر یہ ہے کہ حکم کو معرف بنا دیا جائے کہ وہ معرف پر محمول ہو تو نہر اور در کا اعتراض رفع ہوجائے گا کیونکہ مانعیت بالمعنی المذکور یعنی نجاست حکمیہ کے معنی میں حدث پر مترتب ہونے والا اثر نہیں ہے یعنی وصف شرعی کے معنی میں بلکہ یہ وہی ہے جیسا کہ تم نے پہچانا۔ اور اس صورت میں مجیب کا یہ قول درست نہ ہوگا کہ تعریف بالحکم مثلا یہ کہا جائے کہ حدث وہ ہے کہ جس کے ہوتے ہوئے نماز درست نہ ہو کیونکہ “ وہ جس کے ہوتے ہوئے نماز صحیح نہ ہو “ یہ جملہ حکم نہیں ہے بلکہ حکم جیسا کہ انہوں نے اعتراف کیا عدم صحت ہے اور اس سے انہوں نے تعریف نہیں کی ہے اور تعریف بالحکم اس صورت میں ہوتی جب یہ کہا جاتا کہ حدث نماز کا صحیح نہ ہونا ہے اور ط و ش کا جواب بھی اس صورت میں مکدر ہوجائے گا کہ اس قسم کی تعریف فقہاء کے
حوالہ / References فتح القدیر بحث الماء المستعمل نوریہ رضویقہ سکھر ۱ / ۷۵
#12083 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
یمیزالمحدود بذریعۃ الحکم بان یعطی انہ الذی یؤثر ھذا الاثرفنعم یستقیم تمثیل المجیب التعریف بالحکم بما ذکر لکن یسقط ح اصل جوابہ بان المانعیۃ لیست حکما فان التعریف بالحکم لیس اذن ان یکون المحمول عین الحکم بل ماذکر فیہ الحکم وھو حاصل فی التعریف المذکور قطعا لاشتمالہ علی منع المکلف من اشیاء مخصوصۃ مادام ذلك الوصف قائما بہ اتینا علی الایراد وھو علی ھذا اشد سقوطا وابین غلطا فان الذی اختارہ الموردون لایخ ایضا عن التعریف بالحکم لذکرھم فیہ زوال الطھارۃ وما ھو الا الاثر المترتب علی ذلك الوصف الشرعی واذن یکفی جوابا عن کلا الحدین ماذکر ط و ش وبالجملۃ فایقاع التغایربین الحدین لاداعی لہ و ایراد النھر والدر لاصحۃ لہ وجواب الفتال عن بعض الفضلاء لایخلوعن خلط وغلط بقی الکلام علی المعنی الاول الذی ذکرہ العلامۃ قاسم وکیف تباینہ للمعنی الثانی۔
فاقول : (۱)المانع الشرعی ای مالاجلہ المنع ھی النجاسۃ الحکمیۃ والمنتسب الیھا تلبس المکلف بھا والفرق بینھما ان النجاسۃ
یہاں مستعمل ہے کیونکہ ان کے یہاں مستعمل تعریف میں حکم کا تذکرہ ہے نہ یہ کہ اثر کو مؤثر پر محمول کرلیا جائے اور اگر اس سے یہ ارادہ کیا جائے کہ محدود کو بذریعہ حکم ممیز کیا جائے یعنی یہ کہا جائے کہ یہی ہے جو یہ اثر کررہا ہے تو اس صورت میں مجیب کی یہ مثال جو انہوں نے تعریف بالحکم کیلئے پیش کی ہے درست قرار پائے گی مگر اس وقت ان کا اصل جواب ختم ہوجائے گا یعنی یہ کہ مانعیت حکم نہیں ہے کیونکہ تعریف بالحکم اس صورت میں یہ نہیں ہے کہ محمول عین حکم ہو بلکہ یہ ہے کہ جس میں حکم مذکور ہو اور یہ تعریف مذکور میں قطعا موجود ہے کیونکہ یہ تعریف اس پر مشتمل ہے کہ مکلف کو مخصوص اشیاء سے روکنا جب تک کہ یہ وصف اس کے ساتھ قائم رہے۔ اب ہم اعتراض کی طرف آتے ہیں اور اس کی صورت اور بھی زیادہ غلط اور ساقط ہے کیونکہ معترضین نے جو تعریف اختیار کی ہے وہ تعریف بھی تعریف بالحکم سے خالی نہیں ہے کیونکہ وہ بھی اس میں زوال طہارت کا استعمال کرتے ہیں اور وہ اس وصف شرعی پر مرتب ہونے والا اثر ہے ایسی صورت میں دونوں تعریفوں پر جو اعتراض ہے اس کے جواب میں “ ط “ اور “ ش “ نے جو تقریر کی ہے وہ کافی ہے اور خلاصہ یہ کہ دونوں تعریفوں میں تغایر کا قول کرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے اور نہر اور در کا اعتراض درست نہیں ہے اور فتال نے جو جواب بعض فضلاء کی طرف سے دیا ہے وہ غلط اور خلط سے خالی نہیں ہے۔ اب اس پہلے معنی پر گفتگو باقی رہ گئی جو علامہ قاسم نے ذکر کئے ہیں اور یہ معنی دوسرے معنی سے کس طرح مختلف ہے۔ (ت)میں کہتا ہوں مانع شرعی یعنی جس کی وجہ سے منع ہے وہ نجاست حکمیہ ہے اور جو اس کی طرف منسوب ہے وہ مکلف کا اس کے ساتھ ملتبس ہونا ہے اور
#12084 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
وصف شرعی یحل بسطوح الاعضاء الظاھرۃ حلول سریان والسطح ممتد منقسم فتنقسم النجاسۃ بانقسامھا فتقبل التجزی ثبوتا ورفعا امارفعا فظاھر فانہ اذا غسل الید مثلا زالت النجاسۃ عنھا ولذا سقط عنھا فرض التطھیر مع بقاء النجاسۃ فی سائرالاعضاء التی حلتھا واما ثبوتا فلان الحدث الاصغر انما ینجس اربعۃ اعضاء والاکبر البدن کلہ وسنعود الی الکلام فی ھذا عنقریب ان شاء الله تعالی اما تلبس المکلف بھا ای اصطحابہ لہا فوصف للمکلف یحدث بحلول النجاسۃ فی ای جزء من اجزاء بدنہ ویبقی ببقائھا فی شیئ منھا فان زادت النجاسۃ لم یزدوان نقصت لم ینتقص بل اذا حدثت حدث ومھما بقیت ولوکاقل قلیل بقی کملا واذا زالت بالکلیۃ زال وکان نظیرھما الحرکۃ بمعنی القطع وبمعنی التوسط فالاول متجزئۃ لانطباقھا علی المسافۃ المتجزئۃ والثانیۃ لاجزء لھا بل تحدث بحدوث اول جزء من اجزاء الاولی وتبقی بحالھا مادام المتحرك بین الغایتین فاذ اسکن زالت دفعا فانقلت لم لایحمل کلام البحر علی ھذا کی یثبت التغایر بین الحدین کمافھم النھر والدر ویوافق لما اعترض بہ تبعا للفتح کلام العامۃ والمتون ان الحدث لایتجزی۔
دونوں میں فرق یہ ہے کہ نجاست شرعی وصف ہے جو اعضاء ظاہرہ کی سطحوں کے ساتھ قائم ہوتا ہے اور یہ حلول سریانی ہوتا ہے اور سطح ممتد اور منقسم ہے تو اس کی تقسیم کی وجہ سے نجاست بھی منقسم ہوجائے گی تو یہ رفعا اور ثبوتا تجزی کو قبول کرے گا رفعا تو ظاہر ہے کیونکہ مثلا اس نے ہاتھ تین بار دھویا تو اس سے نجاست زائل ہوجائے گی اور اسی لئے اس سے فرض تطہیر ساقط ہوگیا جبکہ باقی اعضاء میں نجاست باقی ہے اور ثبوتا اس طرح کہ حدث اصغر چار اعضاء کو ناپاک کرتا ہے اور اکبر تمام بدن کو ہم عنقریب اس پر کلام کریں گے ان شاءاللہ تعالی۔
رہا نجاست کے ساتھ مکلف کا متلبس ہونا تو یہ مکلف کا وصف ہے جو نجاست کے حلول سے پیدا ہوتا ہے خواہ اس کے بدن کے کسی جزء میں بھی ہو اور حدث اس وقت تک باقی رہے گا جب تک نجاست کسی بھی عضو میں باقی رہے تو اگر نجاست زیادہ ہوجائے تو حدث زیادہ نہ ہوگا اور نجاست اگر کم ہو تو حدث کم نہ ہوگا بلکہ جب بھی نجاست وجود میں آئے گی حدث وجود میں آئے گا اور جب تک باقی رہے گی خواہ کم سے کم ہو تو حدث بھی مکمل طور پر باقی رہے گا اور جب نجاست بالکلیہ زائل ہوجائے گی تو حدث بھی زائل ہوجائے گا ان دونوں کی نظیر حرکۃ بمعنی قطع ہے اور حرکۃ بمعنی توسط کے ہے تو پہلی منقسم ہے کیونکہ وہ مسافت منقسمہ پر منطبق ہوتی ہے اور دوسری کا کوئی جزء نہیں بلکہ پہلی حرکۃ کے پہلے جز کے پیدا ہونے پر پیدا ہوتی ہے اور اسی طرح باقی رہتی ہے جب تک دونوں غایتوں کے درمیان
#12085 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
قلت : یاباہ قولہ قائمۃ بالاعضاء فان التلبس الذی لاتجزی لہ انما یقوم بالمکلف نفسہ لابالاعضاء و الذی یقوم بھا یتجزی بتجزیھا کما عرفت امامخالفتہ لماذکرمن عدم التجزی فاقول : (۱)لا غروفھو القائل فی باب شروط الصلاۃ متصلا بھذا التعریف بلا فصل مانصہ والخبث عین مستقذرۃ شرعا وقدم الحدث لقوتہ لان قلیلہ مانع بخلاف قلیل الخبث اھ فقد افصح بتجزی الحدث وقال متبوعہ المحقق علی الاطلاق فی الفتح کلمتھم متفقۃ علی ان الخف اعتبر شرعاما نعا سرایۃ الحدث الی القدم فتبقی القدم علی طھارتھا ویحل الحدث بالخف فیزال بالمسح اھ فھذا نص صریح علی تجزی الحدث واعتراف باطباق کلمتھم علیہ وھو کذلك فمن نظر کلامھم فی مسائل مسح الخفین وغیرھا ایقن بانھم جمیعا قائلون بتجزیہ وانما الذی لایتجزی ھو تلبس المکلف بالمنع الشرعی فظھر ظھور النھار ان الا یراد علی
متحرک رہے اور جب پر سکون ہوگا تو حرکت یک دم ختم ہوجائے گی۔ اگر تو کہے کہ بحر کے کلام کو اس پر کیوں محمول نہ کر لیاجائے تاکہ دونوں تعریفوں میں تغایر ظاہر ہوجائے جیسا کہ نہر اور در نے سمجھا ہے اور موافق ہوجائے اس اعتراض کے ساتھ جو انہوں نے فتح کی متابعت میں عام کتب اور متون پر کیا ہے کہ حدث منقسم نہیں ہوتا۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس تاویل سے ان کا قول “ قائمۃ بالاعضاء “ انکار کرتا ہے کیونکہ تلبس جو ایک غیر متجزی شیئ ہے وہ بذات خود مکلف کے ساتھ قائم ہوتا ہے نہ کہ اس کے اعضاء کے ساتھ اور جو چیز اعضاء کے ساتھ قائم ہے وہ اعضاء کی تجزی کے باعث متجزی ہوتی ہے جیسا کہ آپ نے پہچانا اور اس کی مخالفت عدم تجزی سے تو میں کہتا ہوں کہ اس پر کوئی تعجب نہ ہونا چاہئے کیونکہ وہ خود ہی اس تعریف کے متصلا بعد “ باب شروط الصلوۃ “ میں فرماتے ہیں “ اور خبث وہ چیز ہے جو شرعا گندی ہو اور حدث کو اس کی قوت کے باعث مقدم کیا کیونکہ اس کا قلیل بھی مانع ہے بخلاف قلیل خبث کے اھ یہاں انہوں نے بوضاحت حدث کے منقسم ہونے کا قول کیا ہے اور ان کے مقتدا محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ موزہ شرعا قدم کی طرف حدث کی سرایۃ کو قدم تک روکنے والا ہے تو قدم بدستور پاک رہے گا اور حدث موزہ میں داخل ہوجائے گا لہذا مسح سے اس کو زائل کرد یا جائے گا اھ یہ نص صریح ہے حدث کے متجزی ہونے پر اور اس امر کا اعتراف ہے کہ فقہاء اس پر متفق ہیں اور بات
حوالہ / References بحرالرائق شروط الصلوٰۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۶۶
فتح القدیر مسح الخفین سکھر ۱ / ۱۲۸
#12086 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
المتون والعامۃ وتثلیث السبب کلا کان فی غیر محلہ ولا حاجۃ الی ما(۱)تجشم البحر جوابا عن المتون بقولہ الا ان یقال ان الحدث زال عن العضو زوالا موقوفا ثم ضعفہ بقولہ لکن المعلل بہ فی کتاب الحسن عن ابی حنیفۃ اسقاط الفرض لاازالۃ الحدث ۔ اقول : بل(۲)لاوجہ لہ لان الحدث بالمعنی الذی لایتجزی اعنی تلبس المکلف بالمانع الشرعی لاقیام لہ بعضو حتی یزول عنہ منجزا اوموقوفا ثم(۳)تعلیل الامام فی ھذا الکلام باسقاط الفرض لاینافی تعلیلہ فی کلام اخر برفع الحدث علی ماقررنا لك بارشاد الھدایۃ ان مؤداھما واحد وقد قال فی الخلاصۃ والتبیین والفتح وغیرھا الماء بماذایصیر مستعملا قال ابو حنیفۃ وابو یوسف اذا ازیل بہ حدث اوتقرب بہ الخ وبالله التوفیق
ثم()جنوح المحقق فی آخرکلامہ الذی اثرنا عنہ الی ان سقوط الفرض ھو الاصل فی الاستعمال اعتمدہ فی البحر ثم الدر واشار الی الرد علیہ
ایسی ہے کیونکہ جو بھی مسح علی الخفین کی بابت فقہاء کے کلام کو دیکھے گا اس کو یقین آجائے گا کہ سب فقہاء حدث کے متجزی ہونے کے قائل ہیں اور جو چیز متجزی نہیں ہوتی ہے وہ مکلف کا منع شرعی سے متصف ہونا ہے تو روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ متون اور عام کتب پر اعتراض اور سبب کی تثلیث سب بے محل ہیں اور جو تکلف بحر نے متون کے جواب میں کیا ہے اس کی چنداں حاجت نہیں جو اب یہ ہے کہ “ مگر یہ کہ کہا جائے کہ حدث عضو سے زوال موقوف کے طور پر زائل ہوا ہے پھر خود ہی اس کو ضعیف قرار دیا اور فرمایا کہ حسن کی کتاب میں ابو حنیفہ سے اسقاط فرض کی علت بنانا مروی ہے نہ کہ ازالہ حدث کو۔ (ت)
میں کہتا ہوں دراصل اس کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے کیونکہ حدث اس معنی کے اعتبار سے جس میں وہ منقسم نہیں ہوتاہے یعنی مکلف کا مانع شرعی کے ساتھ متلبس ہونا اس کا قیام کسی عضو کے ساتھ نہیں تاکہ وہ اس سے فوری طور پر یا موقوفا زائل ہوجائے پھر امام کا اس کلام میں اسقاط فرض کے ساتھ تعلیل کرنا ان کے دوسرے کلام میں رفع حدث کی علت بتانے سے متضاد نہیں جیسا کہ ہم نے ہدایہ کی عبارت سے واضح کردیا ہے کہ دونوں کا ماحصل ایک ہی ہے اور خلاصہ تبیین فتح وغیرہا میں ہے کہ پانی کا مستعمل ہونا ابو حنیفہ اور ابو یوسف کے نزدیک اس وقت ہوگا جب اس سے کوئی حدث زائل کیا جائے یا کوئی تقرب کیا جائے الخ وباللہ التوفیق پھرمحقق کا جوکلام ہم نےنقل کیا ہے
حوالہ / References بحرالرائق بحث الماء المستعمل سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۲
خلاصۃ الفتاوٰی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۷
#12087 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
العلامۃ ش بان نقل اولا عن الفتح نفسہ ان المعلوم من جھۃ الشارع ان الالۃ التی تسقط الفرض وتقام بھا القربۃ تتدنس الخ وایضا عنہ مانصہ والذی نعقلہ ان کلا من التقرب والاسقاط مؤثر فی التغیر الا تری انہ انفرد وصف التقرب فی صدقۃ التطوع واثر التغیر حتی حرمت علی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فعرفنا ان کلا اثرتغیرا شرعیا اھ ثم قال بعد نقلھما مقتضاہ ان القربۃ اصل ایضا فالمؤثر فی الاستعمال اصلان اھ۔
اقول : (۱)کلام المحقق من اولہ الی اخرہ طافح باثبات الاصالۃ بھذا المعنی ای مایبتنی علیہ الحکم بتدنس الماء للقربۃ والاسقاط جمیعا بل ھو الذی ثلث واقام اصولا ثلثۃ وما کان لیقرر ھذا کلہ ثم فی طی نفس الکلام یحصر الاصالۃ فی شیئ واحد وانما منشأ کلامہ انہ رحمہ الله تعالی نقل عنھم ان الاستعمال عند الشیخین باحد شیئین رفع الحدث والتقرب وعند محمد بالتقرب وحدہ وحمل رفع الحدث علی المعنی الذی لایتجزی فتطرق
اس میں ان کا میلان اس طرف ہے کہ پانی کے استعمال سے سقوط فرض ہی اصل ہے بحر اور در نے اسی پر اعتماد کیا ہے اور علامہ “ ش “ نے اس پر رد کی طرف اشارہ کیا ہے پہلے تو انہوں نے خود ہی فتح سے نقل کیا کہ شارع سے معلوم ہے کہ وہ آلہ جس سے فرض ساقط ہو اور قربۃ ادا ہو میلا ہوجاتا ہے الخ انہوں نے مزید فرمایا کہ جو ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ تقرب اور اسقاط فرض دونوں ہی تغیر میں مؤثر ہیں مثلا وصف تقرب صدقہ تطوع میں منفرد ہے اور تغیر نے اثر کیا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر حرام ہوگئی تو ہمیں معلوم ہوا کہ ہر ایک نے شرعی تغیر کا اثر چھوڑا ہے اھ پھر دونوں کو نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ اس کامقتضی یہ ہے کہ قربۃ بھی اصل ہے تو استعمال میں مؤثر دو اصلیں ہیں اھ ت
میں کہتا ہوں محقق کا کلام از اول تاآخر سطحی ہے کہ اس میں اصالت اس معنی کے اعتبار سے ثابت کی ہے یعنی وہ چیز جس پر حکم کی بنا ہو پانی کے ادائے قربت کی وجہ سے میلا ہوجانے کے باعث اور اسقاط فرض کے باعث بلکہ وہی ہیں جنہوں نے تثلیث کی اور تین اصول مقرر کئے اور وہ یہ تقریر کرکے پھر ان میں سے ایک چیز پر اصالت کو منحصر نہیں کررہے ان کے کلام کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ ان(رحمہم اللہ تعالی)سے یہ نقل کررہے ہیں کہ شیخین کے نزدیک استعمال دو چیزوں میں سے ایک کی وجہ سے
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۶
فتح القدیر باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و مالا یجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۵
#12088 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
الا یراد بالفروع التی حکم فیھا باستعمال الماء مع بقاء الحدث فقرر ان اسقاط الفرض ایضا مؤثر واستدل علیہ بکلام الامام فی کتاب الحسن وبان الاصل الذی عرفنا بہ ھذا الحکم ھو مال الزکاۃ والثابت فیہ لیس الاسقوط الفرض ای وان اثبتناہ ایضا بالتقریب بدلیل آخر فالاصل الذی ارشدنااولاالی ھذاالحکم ھوسقوط الفرض فکیف یعزل النظرعنہ بل یجب القول بہ وھذالاینافی ان الاصول اثنان بل ثلثۃ ینقدح ھذا المعنی فی ذھن من جمع اول کلامہ باخرہ حیث یقول المعلوم من جہۃ الشارع ان الۃ تسقط الفرض وتقام بھا القربۃ تتدنس اصلہ مال الزکاۃ تدنس باسقاط الفرض حتی جعل من الاوساخ فی لفظہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الخ فافصح ان کلا الا مرین مغیر واقتصر فی الزکوۃ علی الاسقاط ثم قال فی بیان سبب ثبوت الاستعمال انہ عند ابی حنیفۃ وابی یوسف کل من رفع الحدث والتقرب وعند محمد التقرب وعند زفر الرافع لایقال ماذکرلاینتھض علی زفراذیقول مجرد القربۃ لایدنس بل الاسقاط فان المال لم یتدنس بمجردالتقرب بہ ولذا جاز للھاشمی صدقۃالتطوع بل مقتضاہ ان لا
ہوتا ہے رفع حدث اور تقرب اور محمد کے نزدیک صرف تقرب سے اور رفع حدث کو اس معنی پر محمول کیا کہ اس میں تجزی نہیں ہوتی اس بنا پر ان فروع کی وجہ سے اعتراض وارد ہوا جن میں پانی کے استعمال کا حکم ہوا حدث کے باقی ہوتے ہوئے انہوں نے اس امر کو ثابت کیا اسقاط فرض بھی مؤثر ہے اور اس پر انہوں نے امام کے کلام سے استدلال کیا ہے جو کتاب حسن میں مذکور ہے اور یہ استدلال بھی کیا ہے کہ وہ اصل جس کی وجہ سے ہم نے یہ حکم جانا ہے وہ زکوۃ کا مال ہے اور اس میں صرف فرض کا سقوط ہے یعنی اگرچہ ہم اس کو کسی اور دلیل کی وجہ سے تقرب سے ثابت کریں تو وہ اصل جو ہم نے پہلے سے بتائی ہے اور جس سے یہ حکم ثابت ہوا ہے وہ سقوط فرض ہے تو اس سے صرف نظر کیونکر ممکن ہے بلکہ اس کوماننا لازم ہے اور یہ اس امر کے منافی نہیں کہ اصول دو ہیں بلکہ تین ہیں یہ معنی اس کے دل میں ضرور خلجان پیدا کریں گے جو ان کے اول کلام اور آخر کلام کو یکجا کرکے پڑھے گا وہ کہتے ہیں کہ وہ آلہ جس سے فرض ساقط ہوتا ہے اور قربت ادا ہوتی ہے میلا ہوجاتا ہے اس کی اصل مال زکوۃ ہے کہ وہ اسقاط فرض سے میلا ہوجاتا ہے اس لئے اس کو حدیث میں “ اوساخ “ قرار دیا گیا ہے الخ اس سے واضح ہوا کہ دونوں امور تبدیلی کرنے والے ہیں اور زکوۃ میں اسقاط پر اکتفاء کیا گیا ہے پھر ثبوت استعمال کے سبب کے بیان میں فرمایا کہ ابو حنیفہ اور ابو یوسف کے نزدیک سبب رفع حدث اور تقرب ہے
حوالہ / References فتح القدیر باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و مالا یجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۵
#12089 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
یصیرمستعملا الا بالاسقاط مع التقرب فان الاصل اعنی مال الزکاۃ لاینفرد فیہ الاسقاط عنہ اذ لا تجوزالزکاۃ الا بنیۃ ولیس ھو قول واحد من الثلثۃ (یرید اصحاب الاقوال الثلثۃ الشیخین و محمد او زفر)لانانقول غایۃ الامر ثبوت الحکم فی الاصل مع المجموع وھو لایستلزم ان المؤثر المجموع بل ذلك دائر مع عقلیۃ المناسب للحکم فان عقل استقلال کل حکم بہ اوالمجموع حکم بہ والذی نعقلہ ان کلامؤثر الی اخرماتقدم ثم قال قال فی الخلاصۃ ان الماء بما ذایصیر مستعملا(فذکر المذھبین کما نقلنا ثم قال)ھذا یشکل علی قول المشائخ ان الحدث لایتجزأ والمخلص ان صیرورۃ الماء مستعملا باحد ثلثۃ رفع الحدث والتقرب وسقوط الفرض وھوالاصل لما عرف ان اصلہ مال الزکاۃ والثابت فیہ لیس الاسقوط الفرض۔
اقول : ای وان کان الموجود فیہ الامران لکن ھذا اقوی وفیہ المقنع فلا یثبت بہ الا
اور محمد کے نزدیک وہ تقرب ہے اور زفر کے نزدیک رفع ہے یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ یہ دلیل زفر کے خلاف نہیں چل سکتی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ صرف قربت پانی کو مستعمل نہیں کرتی ہے بلکہ اسقاط بھی اس میں شامل ہے کیونکہ مال زکوۃ محض تقرب کی وجہ سے میلا نہیں ہوا ہے اور اسی لئے ہاشمی نفلی صدقہ لے سکتا ہے بلکہ اس کامقتضی یہ ہے کہ اسقاط مع تقرب سے اسقاط منفرد نہیں کیونکہ زکوۃ بلانیت جائز نہیں اور یہ تینوں میں سے کسی ایک کا قول نہیں(اس سے ان کی مراد تینوں اقوال کے قائلین یعنی ابو حنیفہ وابو یوسف محمدیازفررحمہم اللہ تعالیہیں)کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ حکم کا اصل مجموع کے ساتھ ثابت ہوتا ہے اور وہ اس امر کو مستلزم نہیں ہے کہ موثر مجموع ہے بلابلکہ اس کا دارومدار اس پر ہے کہ مناسب حکم کو سمجھا جائے اگرہر حکم کااستقلال اس کے ساتھ سمجھا جائے یا مجموع کا تو اس کے ساتھ حکم کیا جائے گا اور جو ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہر ایک موثر ہے الی آخر ماتقدم پھر کہا کہ انہوں نے خلاصہ میں فرمایا کہ پانی کس چیز کی وجہ سے مستعمل ہوتا ہے(تو انہوں نے دونوں مذاہب کا ذکر کیا ہے جیسا کہ ہم نے نقل کیا پھر فرمایا(یہ مشائخ کے قول کی روشنی میں مشکل ہے کہ حدث متجزی نہیں ہوتا اور اس اشکال سے نجات کی صورت تین امور میں سے ایک امر ہے رفع حدث تقرب اور سقوط فرض ہی اصل ہے کیونکہ یہ معلوم ہوچکا ہے کہ اس کی اصل مال زکوۃ ہے اور اس میں جو ثابت ہے وہ سقوط فرض ہی اصل ہے کیونکہ یہ معلوم ہوچکا ہے کہ اس کی اصل مال زکوۃ ہے اور اس میں جو ثابت ہے وہ سقوط فرض ہے۔ ت)میں کہتا ہوں اگرچہ اس میں موجود دونوں امر ہیں لیکن یہ اقوی ہے اور اس میں کفایت ہے تو
حوالہ / References فتح القدیر باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و مالا یجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۶
#12090 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
سببیۃ ھذا وان استفید سببیۃ الاخر بدلیل حرمۃ صدقۃ التطوع علیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کما قدم فتاثیر اسقاط الغرض ھواول ماثبت بالاصل الاعظم فلا مساغ لاسقاطہ قال والمفید لاعتبار الاسقاط مؤثرا صریح تعلیل ابی حنیفۃ انہ سقط فرضہ عنہ اھ ملتقطا وعلیك بتلطیف القریحۃ ھذا وقررہ العلامۃ ط تبعاللبحربوجہ اخر حیث قال تحت قول الدر اسقاط فرض ھوالاصل فی الاستعمال کما نبہ علیہ الکمال مانصہ وھوموجود فی رفع الحدث حقیقۃ وفی القربۃ حکما لکونھا بمنزلۃ الاسقاط ثانیا وقدمر اھ وما مر ھو قولہ انما استعمل الماء بالقربۃ کالوضوء علی الوضوء لانہ لما نوی القربۃ فقدازداد طھارۃ علی طھارۃ فلا تکون طھارۃجدیدۃ الا بازالۃالنجاسۃالحکمیۃ حکما فصارت الطھارۃعلی الطھارۃ وعلی الحدث سواء افادہ صاحب البحر اھ۔
اقول : نقلہ عن معراج الدرایۃ واقرو فیہ (۱)بعدلا یخفی فما النجاسۃ لاسیما الحکمیۃ اس سے اس کی سببیت ثابت ہوگی اگرچہ دوسرے کی سببیت بھی ثابت ہوگی اس کی دلیل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر نفلی صدقہ حرام ہے جیسا کہ گزرا تو اسقاط فرض کی تاثیر پہلی چیز ہے جو اصل اعظم سے ثابت ہے تو اس کے ساقط کرنے کا کوئی جواز نہیں فرمایا)اور اسقاط کو مؤثر اعتبار کرنے کیلئے مفید امام ابو حنیفہ کی صریح تعلیل ہے کہ اسکا فرض اس سے ساقط ہوگیا اھ ملتقطا اور تم اپنی طبیعت کو خوشگوار کرو ہذا اور علامہ “ ط “ نے بحر کی متابعت کرتے ہوئے اس کی تقریر دوسرے انداز میں کی ہے انہوں نے “ در “ کے قول اسقاط فرض ہی استعمال میں اصل ہے کے تحت فرمایا جیسا کہ کمال نے اس پر تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ حدث کو رفع کرنے میں حقیقۃ موجود ہے اور قربت میں حکما ہے کیونکہ یہ بمنزلہ اسقاط ثانیا ہے اور یہ گزرا اھ اور جو گزرا وہ ان کا قول ہے بیشک پانی قربت کی وجہ سے مستعمل ہوتا ہے جیسے وضو پر وضو کرنا اس لئے جب قربت کا ارادہ کیا تو وہ طہارت کے اعتبار سے زیادہ ہوگیا تو نئی طہارت نجاست حکمیہ کے ازالہ سے ہی ہوگی حکما تو طہارت پر طہارت اور حدث پر طہارت برابر ہوگئی اس کا افادہ صاحب بحر نے کیا اھ (ت)
میں کہتا ہوں اس کو معراج الدرایہ سے نقل کیا اور برقرار رکھا اس میں بعد ہے جو مخفی نہیں ہے کیونکہ
حوالہ / References فتح القدیر الماء الذی یجوز بہ الوضوء ومالایجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۶
طحطاوی علی الدر باب المیاہ بیروت ۱ / ۱۱۰
بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۲
#12091 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
الا اعتبار شرعی والاعتبار الصحیح لایکون الاعن منشأ صحیح وبدونہ اختراع یجل شان الشرع عنہ وقد زال ذلك بالطھر فلا یعود الا بحدث جدید وبعبارۃ اخری ھل اعتبر الشرع ھنا شیأ ینافی الطھر یزول بالماء الثانی فیحصل طھر جدید ام لا علی الثانی عاد السؤال اذلا نجاسۃ حقیقۃ ولا اعتبار او علی الاول ما حقیقۃ النجاسۃ الحکمیۃ الا ذلك الاعتبار الشرعی فلا معنی لتحقق الحکمیۃ حکما لاحقیقۃ وبعبارۃ اخصر ماالحکمیۃ الا اعتبارالشرع فالحکمیۃ حکما اعتبار الشرع انہ اعتبر وما اعتبر اذ لواعتبرلتحققت وبالجملۃ مامال الجواب الا فرضھا ھنالك فرضا باطلا ولا مساغ لہ وانا انبئك ان ما (۱)افادہ انما ھو تجشم مستغنی عنہ وذلك لان المعراج انما احتاج الیہ جوابا عن سؤال نصبہ بقولہ فان قیل المتوضیئ لیس علی اعضائہ نجاسۃ لا حقیقۃ ولا حکمیۃ فکیف یصیر الماء مستعملا بنیۃ القربۃ فاجاب بقولہ لما نوی القربۃ فقد ازداد الخ
نجاست خاص طور پر حکمیہ اعتبار شرعی ہے اور اعتبار صحیح اسی وقت ہوتا ہے جب اس کا منشاء صحیح ہو اور اس کے بغیر اختراع ہے شریعت کی شان اس سے بڑی ہے اور یہ طہر سے زائل ہوگیا تو صرف نئے حدث سے ہی یہ عود کرے گا بالفاظ دیگر کیا یہاں شریعت نے کوئی ایسی چیز معتبر مانی ہے جو منافی طہر ہو اور دوسرے پانی سے زائل ہوجائے تو نئی پاکی حاصل ہو یا معتبر نہیں مانی ہے دوسری تقدیر پر سوال لوٹ کرآئیگا کیونکہ کوئی حقیقی نجاست نہیں اور نہ ہی اعتباری ہے اور پہلی تقدیر پر نجاست حکمیہ کی حقیقت شرعی اعتبار کے علاوہ اور کیا ہے تو یہ کہنا بے معنی ہے کہ نجاست حکمیہ حقیقۃ نہیں حکما پائی جاتی ہے اور مختصر عبارت میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ نجاست حکمیہ صرف شرعی اعتبار سے عبارت ہے تو حکمیہ حکما شرع کا یہ اعتبار ہے کہ اس کا اعتبار کیا گیا ہے اور اعتبار کیا نہیں گیا کیونکہ اگر اعتبار کیا جاتا تو وہ متحقق ہوجاتی۔ خلاصہ یہ کہ جواب کامآل یہ ہے کہ حکمیہ کو وہاں اعتبار کیا جائے بفرض باطل جس کی گنجائش نہیں اور میں تجھ کو خبر دار کرتا ہوں کہ جس کا افادہ انہوں نے کیا ہے وہ محض تکلف ہے جس کی ضرورت نہیں اور اسکی وجہ یہ ہے کہ معراج کو اس کی ضرورت اس لئے پڑی کہ انہیں اس سوال کا جواب دینا ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ وضو کرنے والے کے اعضاء پر نہ حقیقی نجاست ہے اور نہ حکمی ہے تو پانی بہ نیت تقرب کیسے مستعمل ہوجائے گا تو انہوں نے جواب دیا کہ جب اس نے نیت کی تو زیادتی کی الخ۔ (ت)
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۲
#12092 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
اقول اولا یعود السائل یمنع ازدیاد الطھارۃ وانما ازداد نظافۃ لانھا تقبل التشکیك دون الطھارۃ ولذا قلنا بعدم تجزی الحدث والی ازدیاد النظافۃ یشیر الحدیث المشہور الوضوء علی الوضوء نور علی نور اخرجہ رزین وان قال العراق والمنذری لم نقف علیہ کما فی التیسیر
وثانیا : (۱)لامساغ للسؤال رأسا فان مبناہ علی حصر النجاسۃ الحکمیۃ فی الحدث ولیس کذا بل منھا المعاصی کما تقدمت النصوص علیہ والماء الاول وان کان کما یزیل الحدث یغسل من اثر المعاصی ایضا بشرط النیۃ ولکن لایجب ان یزیلھا کلا والا لکفی الوضوء عن التوبۃ وصار کل من توضأ مرۃ ولو بعد الف کبیرۃ کمن لاذنب لہ وھوباطل قطعا فھذہ نجاسۃ حکمیۃ باقیۃ بعد التطھیر فی عامۃ المکلفین فاین مثار السؤال بل قدمنا(۲)ان المکروھات ایضا تغیر الماء فھذا اطم واعم اما المعصومون صلوات الله تعالی وسلامہ علیھم
فاقول : لانسلم فی مائھم(۳)الاول ایضا انہ مستعمل فی حقنا بل طاھر طھور مطھرلنا فضلا عن الثانی واذا اعتقدنا الطھارۃ فی فضلاتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فما ظنک بوضوئہ فالاستدلال(۴)علی طھارۃ الماء المستعمل بان اصحابہ صلی الله تعالی علیہ وسلم بادروا الی وضوئہ فمسحوا بہ وجوھم
میں کہتا ہوں اولا کہ سائل کہہ سکتا ہے کہ ہم طہارت کی زیادتی کو تسلیم نہیں کرتے اس میں نظافت کا اضافہ تو اس لئے ہے کہ نظافت کمی بیشی کو قبول کرتی ہے مگر طہارت ایسی نہیں اور اسی لئے ہم نے کہا ہے کہ حدث میں تجزی نہیں ہے اور نظافت میں اضافہ کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے کہ وضو پر وضو نور علی نور ہے اس کی تخریج رزین نے کی ہے اگرچہ عراقی اور منذری نے کہا ہے کہ ہم اس پر مطلع نہیں ہوئے ہیں کما فی التیسیر۔
ثانیا : سوال کی گنجائش ہی نہیں کیونکہ اس سوال کا دارومدار اس پر ہے کہ نجاست حکمیہ کو حدث میں منحصر کردیا گیا ہے اور حالانکہ بات یہ نہیں ہے بلکہ نجاست حکمیہ میں معاصی بھی شامل ہیں اس پر نصوص گزر چکے ہیں اور پہلاپانی جس طرح حدث کو زائل کرتا ہے بشرط نیت گناہوں کو بھی دھو ڈالتا ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ گناہوں کو کلیۃ دھو ڈالے ورنہ تو وضو ہی کافی ہوجاتا تو بہ کی ضرورت ہی نہ ہوتی اور ہزار ہا گناہوں کے بعد ایک ہی مرتبہ وضو کرلیتا تو تمام گناہ معاف ہوجاتے اور وہ اس طرح ہوجاتا گویا اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں ہے اور یہ چیز قطعا باطل ہے تو یہ وہ نجاست حکمیہ ہے جو مکلفین میں طہارت حاصل کرنے کے بعد بھی باقی رہتی ہے تو اب سوال کیسے پیدا ہوسکتا ہے بلکہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ مکروہات بھی پانی کو متغیر کردیتے ہیں تو یہ بلند اور اعم ہے۔ رہے انبیاءعلیہم السلام جو معصوم ہیں تو ہم یہ تسلیم نہیں کرتے
#12093 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
کما فی العنایۃ وغیرھا مع ضعفہ بوجوہ ذکرھا فی البحر عن العلامۃ الہندی لیس فی محلہ عندی نعم یعتبر مستعملا فی حقھم شرعا فلا یرد علی الحد نقضا کما اعتبرت فضلا تھم نواقض لعظم رفعۃ شأنھم ونزاھۃ مکانھم صلوات الله تعالی وسلامہ علیھم۔
تنبیہ : (۱)اختلفوا فی الحدث الاصغر ھل یحل کالاکبر بظاھر البدن کلہ وانما جعل الشرع الوضوء رافعا لہ تخفیفا ام لاالابالاعضاء الاربعۃ ویبتنی علیہ الخلاف فیما اذا غسل المحدث نحو فخذہ فیصیر الماء مستعملا علی الاول دون الثانی وبالعدم جزم فی کثیر من المتد اولات ونص فی الخلاصۃ انہ الاصح فکان ترجیحا للقول الثانی ولذا عولنا علیہ وفی المنحۃ عن النھر وکان الراجع ھو الثانی ولذا لم یصر الماء مستعملا بخلافہ علی الاول اھ والظاھر ان کان مشددۃ فیعطی تردد افی ترجیحہ۔
کہ ان کا پہلا پانی ہمارے حق میں مائے مستعمل ہے بلکہ وہ ہمارے حق میں پاک ہے اور پاک کرنے والا ہے اور جب پہلے پانی کایہ حال ہے تو دوسرے پانی کا بطریق اولی یہ حال ہوگا اور ہم تو انبیاء علیہم السلام کے فضلات کی طہارت کے قائل تو وضو کے پانی کا کیا ذکر ہے۔ بعض حضرات نے حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے مستعمل پانی کی طہارت پر اس امر سے استدلال کیا ہے کہ آپ کے اصحاب نے اس پانی کی طرف سبقت کی اور اس کو اپنے چہروں پر ملا جیسا کہ عنایہ وغیرہ میں ہے بوجوہ ضعیف ہے یہ وجوہ بحر میں علامہ ہندی سے نقل کی گئی ہیں میرے نزدیک وہ برمحل نہیں ہاں ان کے حق میں شرعا مستعمل ہوگا تو اس سے ماء مستعمل کی حد پر نقض وارد نہ ہوگا اسی طرح ان کے فضلات کو نواقض وضو میں شمار کیا گیا ہے کیونکہ ان کی شان بہت عظیم ہے اور ان کا مقام بہت ستھرا ہے صلوات اللہ تعالی وسلامہ علیہم۔ (ت)
تنبیہ : حدث اصغر کی بابت اختلاف ہے کہ آیا وہ بھی تمام بدن میں حدث اکبر کی طرح حلول کرتا ہے اور شارع نے وضو کو اس کیلئے رافع تخفیفا قرار دیا ہے یا نہیں ہاں اعضاء اربعہ میں ایسا ہے اور اسی پر یہ اختلاف مبنی ہے کہ بے وضو شخص نے اگر اپنی ران کے مثل کو دھویا تو پہلے قول پر پانی مستعمل ہوجائے گا دوسرے قول پر نہ ہوگا اور مستعمل نہ ہونے پر بہت سی متداول کتب میں اعتماد کیا گیا ہے اور خلاصہ میں تصریح کی ہے کہ یہی اصح ہے تو یہ قول ثانی کی ترجیح ہے اسی لئے ہم نے اس پر اعتماد کیا ہے اور منحہ میں نہر سے ہے کہ راجح دوسرا ہے اور اسی لئے پانی مستعمل نہ ہوگا اس کے برعکس ہے پہلی صورت میں اھ اور ظاہر یہ ہے کہ کان مشددہ ہے۔
حوالہ / References العنایۃ مع فتح القدیر باب الماء الذی یجوز بہ ومالا یجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۶
منحۃ الخالق مع البحر کتاب الطہارت ۱ / ۹۲
#12094 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
اقول : وقد یجوز ان یقول قائل ربما یشھد للاول اولا (۱) حدیث اذا تطھرا حدکم فذکر اسم الله علیہ فانہ یطھر جسدہ کلہ فان لم یذکر اسم الله تعالی علی طھورہ لم یطھر الامامر علیہ الماء رواہ الدار قطنی والبیھقی فی سننہ والشیرازی فی الالقاب عن عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ قال البیھقی بعد ماساقہ بطریق یحیی بن ھاشم السمسار ثنا الاعمش عن شقیق بن سلمۃ عن عبدالله بن مسعود رضی الله تعالی عنہ قال سمعت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یقول فذکرہ ھذا ضعیف لااعلم رواہ عن الاعمش غیر(۲) یحیی بن ھاشم وھو متروک الحدیث ورواہ ابن عدی بالوضع اھ وکذبہ ابن معین وصالح جزرۃ وقال النسائی متروک وبہ اعلہ المحقق فی الفتح حین کلامہ علی وجوب التسمیۃ فی الوضوء تبعا للبیہقی۔
اقول : (۳) بل لہ طرق ترفعہ عن الوھن فقد رواہ الدار قطنی والبیھقی ایضا عن ابن عمر وھما وابو الشیخ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنھم ولفظہ عن النبی صلی الله تعالی
تو اس سے اس کی ترجیح میں تردد پیدا ہوگا
میں کہتا ہوں یہ بھی جائز ہے کہ کوئی کہنے والا کہے کہ پہلے قول کی دلیل یہ حدیث ہے کہ جب تم میں سے کوئی پاکی حاصل کرے اور اللہ کا نام لے تو اس کا پوراجسم پاک ہوجائے گا اور اگر اللہ کا نام نہ لے تو صرف وہی عضو پاک ہوگا جس پر پانی گزرا ہو روایت کیا دار قطنی اور بیہقی نے اپنی سنن میں اور شیرازی نے القاب میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے بیہقی نے یہ حدیث بسند یحیی بن ہاشم السمسار ذکر کی ہے ہم سے اعمش نے شقیق بن سلمہ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے سنا پھر پوری حدیث ذکر کی یہ ضعیف ہے میں نہیں جانتا کہ اس کو اعمش سے یحیی بن ہاشم کے غیر نے روایت کیا اور وہ متروک الحدیث ہے اور اس کو ابن عدی نے وضاع قرار دیا اھ ابن معین اور صالح نے اس کی تکذیب کی اور نسائی نے اس کو متروک کہا اور یہی علت محقق نے فتح میں بیان کی یہ اس موقعہ پر ہے جہاں انہوں نے وضو میں بسم اللہ کے وجوب کا ذکر کیا بیہقی کی متابعت میں۔ ت)میں کہتا ہوں اس حدیث کے بعض طرق ایسے ہیں جو اس کی کمزوری کو رفع کرتے ہیں دار قطنی اور بیہقی نے بھی اس کو ابن عمر سے روایت کیا اور انہی دونوں نے اور ابو الشیخ نے ابو ھریرہ سے روایت
حوالہ / References دار قطنی باب التسمیۃ علی الوضوء مطبع القاہرہ ۱ / ۷۳
سنن الکبریٰ للبیہقی تسمیۃ علی الوضوء بیروت ۱ / ۴۴
#12095 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
علیہ وسلم من توضأ وذکر اسم الله علی وضوئہ تطھر جسدہ کلہ ومن توضأ ولم یذکر اسم الله علی وضوئہ لم یتطھر الاموضع الوضوء ورواہ عبدالرزاق فی مصنفہ عن الحسن الضبی الکوفی مرسلا ینمیہ الی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم من ذکر الله عندالوضوء طھر جسدہ کلہ فان لم یذکر اسم الله لم یطھر منہ الامااصاب الماء واخرج ابوبکر بن ابی شیبۃ فی مصنفہ عن ابی بکر الصدیق رضی الله تعالی عنہ انہ قال اذا توضأ العبد فذکر اسم الله تعالی طھر جسدہ کلہ وان لم یذکر لم یطھر الاما اصابہ بہ الماء وروی سعید بن منصور فی سننہ عن مکحول قال اذا تطھر الرجل وذکراسم الله طھر جسدہ کلہ واذالم یذکر اسم الله حین یتوضأ لم یطھر منہ الامکان الوضوء ومع ھذہ الطرق یستحیل الحکم بالسقوط بل ربما یرتقی عن الضعف لاجرم ان صرح فی المرقاۃ لحدیث الدار قطنی ان سندہ حسن وثانیا نقل العلامۃ الزیلعی المحدث جمال الدین عبدالله تلمیذ الامام
کیا ان کے لفظ یہ ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا جس نے بسم اللہ کرکے وضو کیا تو اس کا سارا جسم پاک ہوگا اور جس نے وضو کے وقت بسم اللہ نہ پڑھی تو صرف وضو کی جگہ ہی پاک ہوگی اس کو عبدالرزاق نے اپنی مصنف میں حسن الضبی کوفی سے مرسلا روایت کیا اور وہ اس کو حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی طرف منسوب کرتے ہیں فرماتے ہیں جس نے وضو کے وقت اللہ کا ذکر کیا اس کا تمام جسم پاک ہوجائے گا اور اگر اللہ کا ذکر نہ کیا تو صرف وہی حصہ پاک ہوگا جس پر پانی گزرا ہوگا اور ابو بکر سے ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں روایت کی کہ بندہ جب وضو کرتا ہے اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اس کا سارا جسم پاک ہوجاتا ہے اور اگر اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو صرف وہی حصہ پاک ہوتا ہے جس پر پانی پہنچا ہو ۔ سعید بن منصور نے اپنی سنن میں مکحول سے روایت کی کہ جب کوئی شخص پاکی حاصل کرتا ہے اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اس کا سارا جسم پاک ہوجاتا ہے اور جب بوقت وضو اللہ کا نام نہیں لیتا ہے تو صرف وضو کی جگہ پاک ہوتی ہے بلکہ ان سے حدیث مرتبہ ضعف سے بلالند ہوجاتی ہے
حوالہ / References سنن الکبریٰ للبیہقی باب التسمیۃ علی الوضوء مطبع بیروت ۱ / ۴۵
کنزالعمال آداب الوضوء مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۲۹۴
مصنّف ابن ابی شیبۃ فی التسمیۃ فی الوضوء ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۳
کنزالعمال آداب الوضوء موسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ / ۴۵۷
#12096 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
الزیلعی الفقیہ فخرالدین عثمن شارح الکنز فی نصب الرایۃ تحت حدیث لاوضوء لمن لم یسم الله تعالی عن الامام ابن الجوزی ابی الفرج الحنبلی انہ قال محتجا علینا فی ایجابھم التسمیۃ للوضوء ان المحدث(ای بالحدث الاصغر اذفیہ الکلام و(۱)یکون ھو المراد عند الاطلاق کما فی الحلیۃ)(۲)لایجوز لہ مس المصحف بصدرہ اھ واقرہ علیہ۔
قلت : ویؤیدہ مافی الفتح ثم البحر وحاشیۃ الشلبی علی التبیین(۳)قال لی بعض الاخوان ھل یجوز مس المصحف بمندیل ھولا بسہ علی عنقہ قلت لااعلم فیہ منقولا والذی یظھر انہ ان کان بطرفہ وھو یتحرك بحرکۃ ینبغی ان لایجوز وان کان لایتحرك بحرکتہ ینبغی ان یجوز لاعتبارھم ایاہ فی الاول تابعا لہ کبدنہ دون الثانی اھ فان المراد المحدث بالحدث الاصغر اذ قد نقل قبلہ باسطرعن الفتاوی لایجوز للجنب والحائض ان یمسا المصحف بکمھا اوببعض ثیابھما لان الثیاب بمنزلۃ بدنھما اھ فقولہ
ان تمام طرق کی موجودگی میں سقوط کا قول کرنا محال ہے ب اور مرقاۃ میں دارقطنی کی روایت کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ ثانیا علامہ زیلعی محدث جمال الدین عبداللہ شاگرد امام زیلعی فقیہ فخرالدین عثمان شارح کنز نصب الرایہ میں “ لاوضوء لمن لم یسم الله “ (اس کا وضو نہیں جو اللہ کا نام نہ لے)کی حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ امام ابن جوزی ابو الفرج الحنبلی نے ہم پر حجت قائم کرنے کیلئے وہ بسم اللہ کو وضو میں واجب قرار دیتے ہیں فرمایا کہ محدث(جس کو حدث اصغر لاحق ہوا کیونکہ کلام اسی میں ہے اور عندالاطلاق وہی مراد ہوتاہے کما فی الحلیہ)اس کو مصحف کا چھونا اپنے سینہ سے جائز نہیں اھ اور اس کو انہوں نے برقرار رکھا۔ ت)میں کہتا ہوں اس کی تائید فتح میں پھر بحر میں اور تبیین پر شبلی کے حاشیہ میں ہے مجھ سے بعض دوستوں نے دریافت کیا کہ اگر کوئی شخص گلے میں رومال ڈالے ہو تو وہ اس رومال سے مصحف کو چھو سکتا ہے میں نے کہا میں اس سلسلہ میں کوئی نقل تو نہیں پاتا ہوں لیکن اگر صورت یہ ہو کہ اس کے ایک کنارے سے مصحف کو پکڑے اور اس کے حرکت دینے سے دوسرا کنارہ حرکت کرے تو جائز نہ ہونا چاہئے اور اگر حرکت نہ کرے تو مس کرنا جائز ہونا چاہئے کیونکہ پہلی صورت میں وہ اس کو اس کا تابع قرار دیتے ہیں جیسا کہ اس کا بدن ہے دوسری صورت میں تابع نہیں کہتے اھ کیونکہ محدث سے مراد حدث اصغر والا شخص ہے کیونکہ اس سے
حوالہ / References نصب الرایۃ کتاب الطہارۃ اسلامیہ ریاض ۱ / ۷
بحرالرائق باب الحیض سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۰۱
شلبی علی التبیین باب الحیض بولاق مصر ۱ / ۵۸
#12097 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
بعض ثیابھما کان یشمل مندیلا ھولابسہ فلم یقول لااعلم فیہ المنقول افینسی مانقلہ انفا وھو بمرأی منہ۔
اقول : (۱) لکنی رایت فی التبیین قال بعد قولہ منع الحدث مس القران ومنع من القرأۃ والمس الجنابۃ والنفاس کالحیض مانصہ ولا یجوز لھم مس المصحف بالثیاب التی یلبسونھا لانھا بمنزلۃ البدن ولھذا لوحلف لایجلس علی الارض فجلس علیھا وثیابہ حائلۃ بینہ وبینھا وھو لابسھا یحنث (۲)ولو قام فی الصلاۃ علی النجاسۃ وفی رجلیہ نعلان اوجوربان لاتصح صلاتہ بخلاف المنفصل عنہ اھ فھذا ظاھر فی رجوع الضمیر الی المحدث ومن معہ جمیعا فھذا النقل ولله الحمد وبالجملۃ المقصود انہ اذا منع مسہ بما علی عنقہ وصدرہ فکیف بھما فدل علی حلول الحدث جمیع البدن ثم رأیت المسألۃ منصوصا علیھا فی الھندیۃ عن الزاھدی حیث قال اختلفوا فی مس المصحف بما عدا اعضاء الطھارۃ وبما غسل من الاعضاء قبل اکمال الوضوء والمنع اصح اھ
کچھ ہی پہلے فتاوی سے منقول ہوا کہ جنب اور حائض کو جائز نہیں کہ وہ دونوں مصحف کو اپنی آستین سے یا کپڑے کے کسی حصہ سے چھوئیں کیونکہ کپڑے منزلہ ان کے بدن کے ہیں اھ تو “ بعض کپڑوں “ میں وہ رومال بھی آجاتا ہے جس کو وہ پہنے ہوئے ہو تو پھر وہ یہ کیوں کہتے ہیں کہ میں اس میں کوئی نقل نہیں جانتا کیا وہ دیکھتے بھالتے اس نقل کو بھول گئے جو خود ہی انہوں نے پیش کی ہے۔ (ت)میں کہتا ہوں میں نے تبیین میں دیکھا ہے کہ وہ فرماتے ہیں حدث کی وجہ سے قرآن کو ہاتھ لگانا منع کیا ہے اور جنابت اور نفاس نے حیض کی طرح پڑھنے اور ہاتھ لگانے دونوں کو منع کیا ہے ان کی عبارت یہ ہے کہ ان کیلئے ان کپڑوں کے ساتھ جو وہ پہنے ہوئے ہیں قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں کیونکہ وہ کپڑے بمنزلہ بدن کے ہیں اور اس لئے اگر کسی شخص نے قسم کھائی کہ وہ زمین پر نہیں بیٹھے گا اب وہ اس طرح بیٹھا کہ اس کے اور زمین کے درمیان پہنے ہوئے کپڑے حائل ہوں تو وہ قسم میں حانث ہوجائے گا اور اگر کوئی شخص بحالت نماز نجاست پر کھڑا ہوا اور اس کے دونوں پیروں میں جوتے یا جرابیں ہیں تو اس کی نماز صحیح نہ ہوگی اگر یہ چیزیں جدا ہیں تو ہو جائے گی اھ تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضمیر محدث کی طرف لوٹتی ہے اور اس کی طرف بھی جو محدث کے ساتھ ہو یہ صریح نقل ہے والحمدلله اور خلاصہ یہ کہ جب قرآن کو اس کپڑے کے ساتھ چھونا جائز نہیں جو اس کی گردن اور سینے پر ہے تو خود گردن اور سینے سے مس کرنا کیسے جائز ہوگا! پس معلوم ہوا
حوالہ / References تبیین الحقائق باب الحیض بولاق مصر ۱ / ۵۷
فتاوی ہندیۃ باب فی احکام الحیض والنفاس والاستحاضہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۹
#12098 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
وثالثا : تقرر(۱)عند العرفاء ان لا حدث صغیر اولا کبیرا الا ماتولد من اکل حتی القھقھۃ فی الصلاۃ فان تلك الغفلۃ الشدیدۃ فی عین الحضرۃ لاتکون الا من شبع ای شبع اذ الجائع ربما لایکشر لہ سن فضلا عن القھقھۃ خلفۃ عن کونہا فی الصلاۃ ولا شك ان نفع الاکل یعم البدن وکذا نفع الخارج والراحۃ الحاصلۃ بہ فدخول الطعام یولد الغفلۃ وخروج المؤذی یحققہا وبالغفلۃ موت القلب والقلب رئیس فانہ المضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ والماء ینعش ویذھب الغفلۃ کما ھو مشاھد فی المغشی علیہ۔
قلت : فکما ان سبب الموت عم البدن کان ینبغی ان یعمہ ایضا سبب الحیاۃ وبہ اتی الشرع فی الحدث الاکبر لکن الاصغر یتکرر کثیرا فلوامروا کلما احد ثوا ان یغتسلوا لوقعوا فی الحرج والحرج مدفوع فاقامت الشریعۃ السمحۃ السہلۃ مقام الغسل غسل الاطراف اذ من سنۃ کرمہ تعالی ان اذ اصلح الاول والاخر تجاوز عن الوسط وجعلہ معمورا
کہ حدث تمام بدن میں سرایت کرتا ہے پھر میں نے اس مسئلہ کو ہندیہ میں زاہدی سے منصوص دیکھا وہ فرماتے ہیں اعضاءطہارۃ اور وہ اعضاء جو وضو کی تکمیل سے قبل دھوئے گئے ہوں ان سے مس مصحف میں اختلاف ہے اور منع اصح ہے اھ(ت)
ثالثا عرفاء کے نزدیک یہ امر مسلم ہے کہ حدث چھوٹا ہو خواہ بڑا مطلقا کھانا کھانے ہی سے پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ نماز میں قہقہہ بھی کہ عین دربار میں ایسی سخت غفلت اسی سے ہوسکے گی جس کا پیٹ بھرا اور نہایت بھرا ہو کہ بھوک میں تو ہنسی سے دانت کھلنا ہی نادر ہے نہ کہ ٹھٹھا اور وہ بھی نماز میں اور شک نہیں کہ کھانے کا نفع تمام بدن کو پہنچتا ہے یونہی فضلہ نکل جانے کی منفعت وراحت بھی سارے بدن کو ہوتی ہے تو کھانا معدہ میں جانا غفلت پیدا کرتا ہے اور موذی یعنی فضلہ کا نکلنا غفلت کو ثابت ومؤکد کرتا ہے اور غفلت سے دل کی موت ہے اور دل بدن کا بادشاہ ہے کہ یہی بوٹی درست ہو تو سارا بدن درست رہے اور بگڑے تو سارا بدن خراب ہوجائے اور پانی تازگی لاتا اور غفلت دور کرتا ہے جیسا کہ غشی والے کے منہ پر چھڑکنے میں مشاہدہ ہے۔
تو میں کہتا ہوں جس طرح موت کا سبب سارے بدن کو عام ہوا تھا چاہئے تھا کہ حیات کا سبب یعنی پانی بھی سب جسم پر پہنچے حدث اکبر میں تو شرع نے یہی حکم دیا مگر حدث اصغر بکثرت مکرر ہوتا ہے تو ہر حدث اصغر پر اگر نہانے کا حکم ہوتا تو لوگ حرج میں پڑتے اور اس دین میں حرج نہیں لہذا اس نرم وآسان شریعت نے اطراف بدن کا دھونا قائم مقام نہانے کے فرمایا دیا کہ اللہ عزوجل کی سنت کریم ہے
#12099 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
فیھما ثم کان من الاطراف الراس وغسلہ کل یوم مرارا ایضا کان یورث البؤس والباس فابدل فیہ الغسل بالمسح رحمۃ من الذی یقول عز من قائل یرید الله بکم الیسر ولا یرید بکم العسر فقضیۃ ھذا ان الحدث ولو اصغر یحل البدن کلہ۔
اقول : (۱) وبہ تبین ان ماصرح بہ غیر واحد من مشائخنا وغیرھم ان غسل غیر المصاب فی الحدث امرتعبدی کما فی الھدایۃ وغیرھا وقدمناہ عن الکافی(۲) وکذلك الاقتصار علی الاربعۃ فی الوضوء کما فیھا وفی الحلیۃ وغیرھما وبہ قال الامام الحرمین واختارہ الامام عز الدین بن عبدالسلام کلاھما من الشافعیۃ فان کل ذلك فی علم الحقائق احکام معقولۃ المعنی والله تعالی اعلم ھذا تقریر اسئلۃ ظھرت لی واتیت بھا کیلا تعن لقاصر مثلی ولا یتفرع للتدبر فیحتاج لکشفھا۔
اقول : فی الجواب عن الاول المراد نجاسۃ الاثام اذلوارید نجاسۃ الحدث لزم ان من لم یسم لم یتم طھرہ وھو مذھب الظاھریۃ وروایۃ عن الامام احمد رضی الله تعالی عنہ ولم یقل بہ احد من علمائنا وبقاء نجاسۃ الاثام فیما عدا اعضاء الطھر بل
کہ جب اول وآخر ٹھیک ہوتے ہیں تو بیچ میں جو نقصان ہو اس سے درگزر فرماتا ہے اب اطراف بدن میں سر بھی تھا اور اسے ہر روز چند بار دھونا بھی بیمار کردیتا مشقت میں ڈالتا لہذا اس کو دھونے کے عوض مسح مقرر فرمادیا رحمت اس کی جو فرماتا ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور دشواری نہیں چاہتا۔ (اس تمام گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ حدث خواہ اصغر ہی ہو تمام بدن میں حلول کرتا ہے۔ ت)
میں کہتا ہوں اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمارے مشائخ کا یہ فرمانا کہ ان اعضاء کودھونا جن کو حدث نہیں پہنچا ہے محض امر تعبدی ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے اور ہم نے کافی سے بھی نقل کیا ہے اور اسی طرح وضو میں چار پر اقتصار جیسا کہ ہدایہ اور حلیہ وغیرہ میں ہے اور یہی امام الحرمین کا قول ہے اور امام عز الدین بن عبدالسلام نے اس کو اختیار کیا ہے یہ دونوں شافعی علماء ہیں کیونکہ یہ تمام حقائق کے معقول احکام ہیں والله تعالی اعلم یہ ان سوالوں کی تقریر ہے جو مجھے منکشف ہوئے میں نے ان پر اس لئے گفتگو کی ہے کہ کہیں مجھ جیسے قاصر کو یہ درپیش نہ آجائیں اور وہ مشکل میں مبتلا نہ ہوجائے۔ (ت)
اب میں پہلے کے جواب میں کہتا ہوں کہ اس سے مراد گناہوں کی نجاست ہے کیونکہ اگر حدث کی نجاست کا ارادہ کیا جائے تو یہ لازم آئے گا جو بسم اللہ نہ کرے اس کی طہارت مکمل نہ ہوگی اور یہ ظاہر یہ کا مذہب ہے اور امام احمد کی ایک روایت ہے اور ہمارے علماء میں سے کسی کا قول نہیں اور اعضاء طہارت کے علاوہ
#12100 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
وفیھا ایضا کما قدمنا لاینافی صحۃ الطھارۃ والصلاۃ وبہ(۱)ظھر الجواب عن استدلال ابی الفرج بالحدیث
وعن الثانی : ان المنع للحدث بالمعنی الثانی الغیر المتجزی لقولہ تعالی لایمسہ الا المطھرون وقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لایمس القران الا طاھر وھو لایکون طاھر ام بقیت لمعۃ وان خفت فمنع المس انما یقتضی تلبس المکلف بنجاسۃ حکمیۃ لاتلبس خصوص العضو الممسوس بہ الا تری انہ لایجوز مسہ بید قدغسلہا مالم یستکمل الوضوء الا تری انھم منعوا المس بما علیہ من الثیاب ولا نجاسۃ فیھا حقیقۃ ولا حکمیۃ انما المنع لانھا تبع لبدن شخص محدث فلان یمنع بنفس بدنہ اولی وان کان بدنا لم یحلہ الحدث ھذا علی الاصح اما علی قول من یقول ان المنع للمعنی الاول ای لقیام النجاسۃ الحکمیۃ بالمسوس بہ فالمسألۃ ممنوعۃ من رأسھا بل ھو قائل بجواز مسہ بغیر اعضاء الطھارۃ کمامر عن الھندیۃ وان منع المس بالثیاب فبثوث تابع لما فیہ الحدث کالکم لید لم یغسل لامطلقا کما لایخفی
وعن الثالث : نعم ذلك تخفیف من ربکم ورحمۃ لکنہ یحتمل وجہین الاول ان یعتبر الشرع حلول الحدث بکل البدن ثم یجعل تطھیر الاعضاء الاربعۃ تطھیرا للکل والثانی ان الشارع لما رأی فیہ الحرج
باقی اعضاء میں گناہوں کی نجاست کا باقی رہنا بلکہ اعضاء طہارت میں بھی جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا صحت طہارت کے منافی ہے اور نہ ادائیگی نماز کے اور اسی سے ظاہر ہوگیا جو اب اس استدلال سے جو ابو الفرج نے حدیث سے کیا ہے۔
اور دوسرے کا جواب یہ ہے کہ حدث کا منع کرنا دوسرے معنی کے اعتبار سے جو غیر متجزی ہے اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے “ اس کو پاک لوگ ہی چھوئیں “ اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے “ قرآن کو پاک ہی چھوئے “ اور محدث اس وقت تک پاک نہ ہوگا جب تک ایک “ لمعہ “ بھی باقی رہے خواہ کتنا ہی خفیف کیوں نہ ہو تو چھونے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ مکلف نجاست حکمیہ کے ساتھ ملوث ہے یہ نہیں کہ اس کا کوئی خاص عضو اس میں ملوث ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کو محض دھلے ہوئے ہاتھ سے چھونا جائز نہیں تاوقتیکہ وضو مکمل نہ ہو یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے اس ہاتھ سے قرآن چھونے کو منع کیا ہے جو کپڑے میں لپٹا ہوا ہو خواہ اس پر نہ حقیقی نجاست ہو اور نہ حکمی ممانعت اس لئے ہے کہ وہ محدث کی ذات کے تابع ہے تو نفس بدن سے چھونے کی ممانعت بدرجہ اولی ہوگی خواہ اس میں حدث نے حلول نہ کیا ہو یہ اصح کے مطابق ہے اور جو حضرات منع معنی اول میں قرار دیتے ہیں یعنی ممسوس بہ کے ساتھ نجاست حکمیہ کا قائم ہونا تو مسئلہ اصلا ممنوع ہے بلکہ اس کے مس کے جواز کے قائل ہیں
#12101 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
اسقط اعتبارہ الا فی الاعضاء الاربعۃ ولکل منھما نظیر فی الشرع فنظیر الاول التیمم جعل فیہ مسح عضوین مطھراللاربع بالاتفاق ونظیر الثانی العین کان فی غسلھا حرج فلم یجعلھا الشرع محل حلول حدث اصلا لاانہ حل وسقط الغسل للحرج(۱)فلوغسل عینیہ لایصیر الماء مستعملا بالوفاق وعندالاحتمال ینقطع الاستدلال
بل اقول : (۲)لوتأملت لرجحت الثانی اذعدم الاعتبار اولی من الاعتبار ثم الا ھدار والقیاس علی العین بجامع الحرج واضح صحیح بخلاف التیمم فان اصل الواجب ثم الوضوء والتیمم خلف ولم یزعم ھھنا احد ان اصل الواجب بکل حدث ھو الغسل والوضوء خلف بل لم یقل احد ان الغسل عزیمۃ والوضوء رخصۃ وھؤلاء ساداتنا العرفاء الکرام اعاد الله تعالی علینا برکاتھم فی الدارین رأینا ھم یأخذون انفسھم فی کل نقیر وقطمیر بالغرائم ولا یرضون لھم التنزل الی الرخص ثم لم ینقل عن احد منھم انہ الزم نفسہ الغسل عند کل حدث مکان الوضوء ولو التزمہ الان احد لکان متعمقا مشددامتنطعا فظھرانہ من الباب الثانی دون الاول علی ان ذلك طور اخر وراء الطور الذی نتکلم فیہ والاحکام()لاتخلو عن الحکم لکن لاتدار علیھا الا تری ان من
بلا اعضاء طہارت کے جیسا کہ ہندیہ سے گزرا اور اگر کپڑوں کے ساتھ چھونا جائز نہیں تو اس کپڑے کے ساتھ جو تابع ہو کیونکہ اس میں حدث ہے جیسے آستین ہاتھ کیلئے جو دھلا نہ ہو نہ کہ مطلقا کمالا یخفی۔
اور تیسرے کا جواب یہ ہے ہاں یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف ہے اور رحمۃ ہے لیکن اس میں دو وجہیں ہیں پہلی تو یہ کہ شرع تمام بدن میں حدث کے حلول کا اعتبار کرتی ہے اور پھر چار اعضاء کی تطہیر کے بعد کل بدن کی طہارت کا حکم کرتی ہے اور دوسرے یہ کہ شارع نے جب اس میں حرج دیکھا تو اس کے اعتبار کو ساقط کردیا صرف اعضاء اربعہ میں رہنے دیا اور ان میں سے ہر ایک کی نظیر شرع میں موجود ہے پہلے کی نظیر تمیم ہے اس میں دو اعضاء کے مسح کرنے کو چاروں اعضاء کی پاکی قرار دیا ہے اور دوسرے کی نظیر آنکھ ہے کہ اس کے دھونے میں حرج تھا تو شریعت نے اس میں حدث کا حلول نہیں مانا یہ نہیں کہ حدث حلول کرگیا ہو اب اگر کسی نے اپنی دونوں آنکھیں دھوئیں تو پانی بالاتفاق مستعمل نہ ہوگا اور جب احتمال پیدا ہوجائے تو استدلال ختم ہوجاتا ہے بلکہ میں کہتا ہوں اگر آپ تأمل کریں تو دوسرے کو ترجیح ہے کیونکہ اعتبار نہ کرنا اعتبار کرنے سے اولی ہے کہ پہلے اعتبار کیا جائے پھر اس کو باطل کیا جائے اور آنکھ پر قیاس کرنا حرج کی علت سے
#12102 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
اشتغل فی لھو ولعب ومزاح وقھقھۃ خارج الصلاۃ فلا شك انہ غافل فی تلك الساعات عن ربہ عزوجل(۱)لاسیما الذی قھقہ فی صلاۃ الجنازۃ مع ان فی ذکری الموت شغلا شاغلا ولم یجعل الشرع شیئا من ذلك حدثا وکذا لم یجعل الاکل وھوالاصل ولا النوم الذی ھو اخ الموت مالم یظن خروج شیئ بان لم یکن متمکنا فعلینا اتباع مارجحوہ وصححوہ کما لو افتونا فی حیاتھم والله تعالی اعلم باحکامہ۔
تنبیہ : (۲)معلوم ان اقامۃ قربۃ اورفع حدث اواسقاط فرض اوازالۃ نجاسۃ حکمیۃ بایھا عبرت کل ذلك یشمل المسح المفروض مطلقا والمسنون بشرط النیۃ فیجب ان تصیر البلۃ مستعملۃ اذا انفصلت من رأس اوخف اوجبیرۃ اواذن مثلا ولذا عولنا علیہ وصرحنا بعمومہ المسح لکن قال الامام فقیہ النفس فی الخانیۃ(۳)لوادخل المحدث
واضح اور صحیح ہے بخلاف تیمم کے کیونکہ وہاں اصالۃ جو چیز واجب ہے وہ وضو ہے اور تیمم خلیفہ ہے اور یہاں کسی نے گمان نہیں کیا کہ ہر حدث میں اصالۃ واجب غسل ہے اور وضو خلیفہ ہے بلکہ کسی نے یہ بھی نہ کہا کہ غسل عزیمۃ ہے اور وضو رخصۃ ہے حالانکہ ہمارے یہ بزرگ اللہ ان کی برکتیں ہم پر نازل کرے باریک سے باریک تر چیز کا اعتبار کرتے ہیں اور کسی قسم کی رخصت پر تیار نہیں ہوتے پھر ان میں سے کسی سے منقول نہیں کہ بجائے وضو کے غسل کرتا ہو اور اگر اب کوئی ایسا کرے تو وہ انتہا درجہ کا متشدد ہوگا تو معلوم ہوا کہ وہ دوسرے باب سے ہے نہ کہ پہلے باب سے۔ علاوہ ازیں یہ ہماری گفتگو کا ایک نیا انداز ہے اور احکام حکمتوں سے خالی نہیں ہوتے لیکن ان پر دارومدار نہیں ہوتا مثلا کوئی شخص لہو ولعب مزاح اور قہقہوں میں بیرون نماز مصروف ہے تو بلا شبہ ان لمحات میں وہ اپنے رب سے غافل ہے خاص طور پر قہقہہ لگانے والا نماز جنازہ میں حالانکہ موت انسان کو ہر چیز سے موڑ کر اللہ کی طرف متوجہ کردیتی ہے مگر شارع نے ان اشیاء میں سے کسی چیز کو بھی حدث قرار نہیں دیا ہے اور اس طرح کھانے کو جو اصل ہے اور نیند کو جو موت کی نظیر ہے تاوقتیکہ اس شخص کو یہ ظن نہ ہوجائے کہ کوئی چیز خارج ہوئی ہے مثلا یہ کہ جم کر نہیں بیٹھا یا لیٹا تھا تو ہم پر لازم ہے کہ جس چیز کو فقہاء نے راجح قرار دیا اور صحیح قرار دیا ہے ہم اس کی بالکل اسی طرح پیروی کریں جیسے اگر وہ حضرات اپنی زندگی میں ہمیں فتوی دیتے۔ ت تنبیہ : یہ امر معلوم ہے کہ قربۃ کی ادائیگی رفع حدث اسقاط فرض نجاست حکمیہ کا ازالہ وغیرہ جو تعبیر بھی آپ کریں یہ مفروض مسح کو مطلقا شامل ہے اور مسنون کو بشرط نیت لہذا لازم ہے کہ تری سر سے موزے سے پٹی سے یا کان سے جدا ہوتے ہی مستعمل ہوجائے اور اسی لئے ہم نے اس پر اعتماد کیا اور مسح کے عام ہونے کی تصریح کی لیکن امام فقیہ النفس نے خانیہ میں فرمایا اگر بے وضو نے اپنا سر مسح کیلئے
#12103 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
رأسہ فی الاناء یرید بہ المسح لایصیر الماء مستعملا فی قول ابی یوسف رحمہ الله تعالی قال انما یتنجس الماء فی کل شیئ یغسل اماما یمسح فلا یصیر الماء مستعملا وان اراد بہ المسح وقال محمد رحمہ الله تعالی اذا کان علی ذرا عیہ جبائر فغمسھا فی الماء اوغمس رأسہ فی الاناء لایجوز ویصیر الماء مستعملا اھ و(۱)قد قدم قول ابی یوسف رحمہ الله تعالی فکان ھو الاظھر الاشھر کما افادنی فی خطبتہ فکان ھوالمعتمد کما فی ط وش بل صححوا ان محمدا فیہ مع ابی یوسف رحمہما الله تعالی فلا خلاف قال فی البحر(۲)لوادخل رأسہ الاناء اوخفہ اوجبیرتہ وھو محدث قال ابو یوسف رحمہ الله تعالی یجزئہ المسح ولا یصیر الماء مستعملا سواء نوی اولم ینووقال محمد رحمہ الله تعالی ان لم ینویجزئہ ولا یصیر مستعملا وان نوی المسح اختلف المشائخ علی قولہ قال بعضھم لایجزئہ ویصیرالماء مستعملا والصحیح انہ یجوز ولا یصیرالماء مستعملا کذا فی البدائع فعلم بھذا ان مافی الجمع ۔ (قلت ای والخانیۃ والفتح وغیرھا)من الخلاف فی ھذہ المسألۃ علی غیر الصحیح
برتن میں ڈبو دیا تو ابو یوسف کے قول کے مطابق پانی مستعمل نہ ہوگا کیونکہ وہ فرماتے ہیں پانی اس چیز سے نجس ہوگا جو دھوئی جاتی ہے اور جو ممسوح ہے اس سے نہیں خواہ اس سے مسح کا ارادہ ہی کیا ہو اور امام محمد نے فرمایا کہ اگر کسی کے ہاتھوں پر پٹیاں ہوں اور اس نے وہ پانی میں ڈبو دیے یا اپنا سر پانی میں ڈبو دیا تو جائز نہیں اور پانی مستعمل ہوگا اھ ابو یوسف کے قول کو مقدم کیا گیا ہے وہی ظاہر ومشہور ہے جیسا کہ انہوں نے اپنے خطبہ میں فرمایا تو وہی قابل اعتماد ہوگا جیسا کہ “ ط “ و “ ش “ میں ہے بلکہ فقہاء نے اس امر کو صحیح قرار دیا ہے کہ اس میں امام ابو یوسف کے ساتھ ہیں تو کوئی اختلاف باقی نہ رہا۔ بحر میں فرمایا کہ اگر کسی شخص نے اپنا سر موزہ یا پٹی بے وضو ہونے کی حالت میں برتن میں ڈبودی تو امام ابو یوسف نے فرمایا مسح ہوجائے گا اور پانی مستعمل نہ ہوگا خواہ مسح کی نیت کی ہو یا نہ امام محمد نے فرمایا اگر نیت نہیں کی تو ان کے قول پر اس میں مشائخ کا اختلاف ہے بعضے کہتے ہیں اس کو کافی نہ ہوگا اور پانی مستعمل ہوجائے گا اور صحیح یہ ہے کہ جائز ہے اور پانی مستعمل نہ ہوگا کذا فی البدائع تو اس سے معلوم ہوا کہ جمع میں جو اختلاف ہے۔ (ت)(میں کہتا ہوں خانیہ اور فتح وغیرہ میں بھی)جو اختلاف بیان کیا گیا ہے وہ صحیح نہیں صحیح یہ ہے
حوالہ / References فتاوٰی خانیۃ علی الھندیۃ باب الماء المستعمل نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۵
بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵
#12104 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
بل الصحیح ان لاخلاف وعلم ایضا انہ لافرق بین الرأس والخف والجبیرۃ خلافا لما ذکرہ ابن الملك اھ۔ واختصرہ فی الدر فقال لم یصر الماء مستعملا وان نوی اتفاقا علی الصحیح اھ۔
اقول : ولا یھولنک ھذا فلیس معناہ ان المسح لایفید الاستعمال کیف وکلامھم طرافی اسبابہ مطلق یعم الغسل والمسح ثم المسألۃ عینھا منصوصۃ علی لسان الکبراء منھم فقیہ النفس (۱)اذیقول توضأثم مسح الخف بلۃ بقیت علی کفہ بعد الغسل جاز ولو مسح برأسہ ثم مسح الخف بلۃ بقیت علی الکف بعد المسح لایجوز لانہ مسح الخف بلۃ مستعملۃ بخلاف الاول اھ۔ واقرہ فی الفتح وغیرہ وفی الخانیۃ ایضا (۲) الاستیعاب فی مسح الرأس سنۃ وصورۃ ذلك ان یضع اصابع یدیہ علی مقدم راسہ وکفیہ علی فودیہ ویمدھما الی قفاہ فیجوز واشار بعضھم الی طریق اخراحترازاعن استعمال الماء المستعمل الا ان ذلك لایمکن الا بکلفۃ ومشقۃ فیجوز الاول ولا یصیر الماء مستعملا ضرورۃ اقامۃ السنۃ اھ۔ ای لما علم ان الماء مادام علی العضو لایصیر مستعملا وفی الفتح(۳)من مسح الرأس لومسح باصبع واحدۃ مدھا قدر الفرض
کہ اختلاف نہیں اور یہ بھی معلوم ہو کہ سر موزے اور پٹی میں کوئی اختلاف نہیں جیسا کہ ابن الملک نے ذکر کیا اھ
اور اسی کو در میں مختصر کیا فرمایا پا نی مستعمل نہ ہوگا خواہ نیت کی ہو یہ متفق علیہ ہے صحیح قول پر اھ ت
اقول : یہ چیز کوئی قابل تعجب نہیں اس کا یہ معنی نہیں کہ مسح سے استعمال نہیں ہوتا حالانکہ تمام فقہاء کا کلام اسباب استعمال کے سلسلہ میں عام ہے اس میں غسل اور مسح دونوں شامل ہیں اور پھر اکابر علماء نے مسئلہ کی صراحت بھی کی ہے مثلا فقیہ النفس فرماتے ہیں کسی شخص نے وضو کیا پھر ہاتھ دھونے کے بعد جو تری باقی رہ گئی تھی اس سے موزے پر مسح کرلیا تو جائز ہے اور اگر سر پر مسح کیا اور مسح کے بعد ہاتھ پر جو تری رہ گئی تھی اس سے موزے پر مسح کیا تو جائز نہیں کیونکہ اس نے مستعمل تری سے موزے پر مسح کیا ہے بخلاف اول کے اھ ۔ فتح وخانیہ میں اسی کو برقرار رکھا پھر استیعاب مسح میں سنت ہے اور استیعاب کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی انگلیاں ماتھے پر رکھے اور ہتھیلیاں کنپٹیوں پر اور گدی کی طرف کھینچ کر لے جائے تو جائز ہے اور بعض دوسرے فقہاء نے اور طریقہ بتایا کہ مستعمل پانی کے استعمال سے بچا جاسکے مگر اس میں بہت تکلف اور مشقت ہے تو پہلی صورت جائز ہے اور پانی مستعمل نہ ہوگا تاکہ سنت ادا ہوسکے اھ۔ یعنی جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ پانی جب تک عضو پر باقی
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵
الدرالمختار ارکان الوضوء ۱ / ۱۹
فتاوی خانیۃ مسح علی الخفین۱ / ۲۳
خانیۃ علی الہندیۃ فصل صفۃ الوضوء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۵
#12105 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
جاز عند زفر وعندنا لایجوز وعللوہ بان البلۃ صارت مستعملۃ وھو مشکل بان الماء لایصیر مستعملا قبل الانفصال وما قیل الاصل ثبوت الاستعمال بنفس الملاقاۃ لکنہ سقط فی المغسول للحرج اللازم بالزام اصابۃ کل جزء باسالۃ غیر المسال علی الجزء الاخر ولا حرج فی المسح لانہ یحصل بمجرد الاصابۃ فبقی فیہ علی الاصل دفع بانہ مناقض لما علل بہ لابی یوسف رحمہ الله تعالی فی مسألۃ ادخال الراس الاناء فان الماء طھور عندہ فقالوا المسح حصل بالاصابۃ والماء انما یاخذ حکم الاستعمال بعد الانفصال والمصاب بہ لم یزایل العضو حتی عدل بعض المتاخرین الی التعلیل بلزوم انفصال بلۃ الاصبع بواسطۃ المد فیصیر مستعملا لذلك اھ وبالجملۃ فالنقول فی الباب کثیرۃ بثیرۃ وفی الکتب شھیرۃ وان کان للعبد فی مسألۃ الاصبع ابحاث غزیرۃ فلیس وجہ مسألۃ الاناء مایتوھم بل مانقلناہ انفا عن الفتح وقد ذکرہ فی موضع اخر بقولہ ان الماء لایعطی لہ حکم الاستعمال الا بعد الانفصال والذی لاقی الراس من اجزائہ لصق بہ فطھرہ وغیرہ لم یلاقہ فلم یستعمل اھ۔ فمعنی قولھم فیھا لایصیر الماء
رہتا ہے مستعمل نہیں ہوتا ہے۔ اور فتح میں ہے جس نے سرکا مسح کیا یا اگرچہ ایک انگلی سے مسح کیا کہ اس کو بقدر فرض کھینچا تو زفر کے نزدیک جائز ہے اور ہمارے نزدیک جائز نہیں اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ تری مستعمل ہوگئی مگر اس پر اعتراض یہ ہے کہ پانی عضو سے جدا ہوئے بغیر مستعمل نہیں ہوتا ہے ایک قول یہ ہے کہ اصل تو یہی ہے کہ پانی عضو سے لگتے ہی مستعمل ہوجائے مگر اعضاء مغسولہ میں اس کو حرج کی وجہ سے معتبر نہیں مانا گیا ہے ورنہ تو عضو کے ایک حصہ کا پانی دوسرے حصہ کو ناپاک کردیتا اور مسح میں یہ صورت حال نہیں ہے کیونکہ اس میں بہانا نہیں ہے محض لگانا ہے تو اس میں اصل پر اعتبار کیا گیا۔ اس اعتراض کے جواب میں کہا گیا ہے کہ امام ابو یوسف نے سر کو برتن میں داخل کرنے کی بابت جو ارشاد فرمایا ہے یہ قول اس کے برخلاف ہے کیونکہ پانی ان کے نزدیک پاک کرنے والا ہے وہ فرماتے ہیں پانی لگانے سے مسح تو ہوگیا اور چونکہ پانی عضو سے جدا ہونے کے بعد مستعمل ہوتا ہے اور مسح میں جدا نہیں ہوتا اس لئے مستعمل بھی نہ ہوگا حتی کہ بعض متاخرین نے بجائے اس دلیل کے یہ دلیل اختیار کی ہے کہ انگلی کی تری اس طرح جدا ہوئی کہ اس کو کھینچا گیا تو اب یہ پانی مستعمل ہوجائے گا اھ۔ خلاصہ یہ کہ اس باب میں نقول بہت موجود ہیں جو مشہور کتب میں پائی جاتی ہیں اور
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۶
فتح القدیر کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۷
#12106 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
مستعملا ای مابقی فی الاناء وھو المراد بقول الخانیۃ عن الامام ابی یوسف انما یتنجس الماء فیما یغسل لامایمسح ای ماء الاناء بادخال ماوظیفۃ الغسل دون المسح فزال الوھم وفیہ المدعی۔
اقول : (۱)وان کان فی قصرھم اللقاء علی مالصق بالرأس تأمل ظاھر وکان ھذا ھو مراد المحقق اذقال بعد ذکرہ وفیہ نظر اھ۔
اقول : ویظھر لی ان سبیل المسألۃ سبیل الخلف فی الملقی والملاقی وتصحیح ھذہ بل تصحیح الوفاق فیھا ربما یعطی ترجیح عدم الفرق الا ان یفرق بین الغسل والمسح فلا یصیر بہ کل الماء مستعملا حکما بالاتفاق بخلاف الغسل ویحتاج لوجہ فلیتدبر والله تعالی اعلم۔
تنبیہ : اعلم ان مسألۃ الاصبع المارۃ ترکہا المحقق فی الفتح غیر مبینۃ ذکرلہ ثلث تعلیلات وردالجمیع فالاول التعلیل بالاستعمال وقد علمت ردہ وما
ناچیز انگلی کے مسئلہ پر بڑی گہری ابحاث رکھتا ہے برتن کے مسئلہ کی وجہ وہ نہیں جو بعض حضرات کے وہم میں آئی ہے بلکہ وہ ہے جو ہم نے ابھی فتح سے نقل کی ہے اور اسی کو انہوں نے دوسرے مقام پر اس طرح بیان کیا ہے کہ پانی کو مستعمل ہونے کا حکم اسی وقت ملے گا جب وہ عضو سے جدا ہواور پانی کے جواجزاء سر سے متصل ہوئے وہ اسی میں چپک جاتے ہیں اور اس کو پاک کر دیتے ہیں اور سر کے علاوہ کسی اور حصے پر نہیں لگتے ہیں تو مستعمل نہ ہوا اھ۔ تو فقہاء نے جو فرمایا ہے کہ پانی مستعمل نہ ہوگا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک برتن میں رہے اور خانیہ نے امام ابو یوسف سے جو نقل کیا ہے کہ پانی ان اعضاء میں مستعمل ہوتا ہے جو دھوئے جاتے ہیں نہ کہ ان میں جو مسح کیے جاتے ہیں تو اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ برتن کا پانی ان اعضاء کے داخل کرنے کی وجہ سے مستعمل ہوگا جو مغسولہ ہیں نہ کہ ممسوحہ تو وہم رفع ہوا اور یہی مقصود تھا۔ (ت)میں کہتا ہوں میں کہتا ہوں ا ور مجھے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ کا حل ملنے والی شے اور جس سے ملی ہے اس میں اختلاف پر مبنی ہے اور اس کی تصحیح فقہا ء نے ملنے کو جو سر کے ساتھ مختص کر دیا ہے اس میں بظاہر تامل ہے اور غالبا محقق کی مراد یہی ہے کیونکہ انہوں نے اس کے ذکر کے بعد فرمایا : وفیہ نظر۔ (ت)بلکہ اس میں اتفاقی کی تصحیح سے عدم فرق کو ترجیح حاصل ہوتی ہے ہاں اگر غسل اور مسح میں ہی فرق کرلیا جائے تو بات اور ہے تو اس سے تمام پانی حکما مستعمل نہ ہوگا بالاتفاق بخلاف غسل کے اور یہ دلیل کا محتاج ہے فلیتدبرو اللہ تعالی اعلم۔ ت)تنبیہ : انگلی کا مسئلہ جو گزرا اس کو محقق نے فتح میں واضح نہیں کیا تین تعلیلات بیان کیں اور تینوں کو رد کردیا پہلی تعلیل استعمال سے متعلق ہے اور اس کا رد تم معلوم کرچکے ہو اور اس کی
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الطہارۃ ۱ / ۱۷
#12107 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
عدل الیہ بعض المتاخرین لاصلاحہ فردہ والاول معابان ھذا کلہ یستلزم(۱)ان مد اصبعین لایجوز وقد صرحوا بہ وکذا الثلاث علی القول بالربع وھو قول ابی حنیفۃ وابی یوسف رحمھما الله تعالی ولکن لم ار فی مد الثلاث الا الجواز اھ۔
واعترضہ فی النھر بقول البدائع لووضع ثلثۃ اصابع ولم یمدھا جاز علی روایۃ الثلاث لاالربع ولو مسح بھا منصوبۃ غیر موضوعۃ ولا ممدودۃ فلا(۲)فلو مدھا حتی بلغ القدر المفروض لم یجز عند علمائنا الثلثۃ خلافا لزفر اھ۔
قال وقد وقفت علی المنقول ای ان عدم الجواز قول ائمتنا الثلثۃ فکیف یقول المحقق لم ارفیہ الا الجواز وھو عجیب من مثلہ کما نبہ علیہ فی المنحۃ فان الضمیر فی مدھا للمنصوبۃ وکلام الفتح فی الموضوعۃ۔
اقول : کان النھر نظر ای ان الصوراربع ثلاث اصابع موضوعۃ اومنصوبۃ والکل ممدودۃ اولا وقد ذکر فی البدائع اولا صورتی عدم المدثم قال فلو مدھا فلیکن الضمیر الی ثلث اصابع مطلقۃ موضوعۃ
اصلاح میں بعض متاخرین نے جو فرمایا ہے اس کو اور پہلے کو ساتھ ہی انہوں نے رد کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس سے لازم آتا ہے کہ دو انگلیوں کا کھینچنا جائز نہ ہو اور اس کی فقہاء نے تصریح کی ہے اور چوتھائی کے قول پر تین کا کھینچنا جائز نہ ہو اور یہ ابو حنیفہ اور ابو یوسف کا قول ہے لیکن تین کے کھینچنے میں مجھے جواز ہی ملا ہے اھ اور نہر میں اس پر اعتراض کیا اور بدائع کایہ قول ذکر کیا ہے کہ اگر تین انگلیاں رکھیں اور ان کو کھینچا نہیں تو تین کی روایت پر جائز ہے نہ کہ چوتھائی کی روایت پر اور اگر کھڑی انگلیوں سے مسح کیا ان کو نہ تو رکھا نہ کھینچا تو جائز نہیں اور اگر اتنا کھینچاکہ فرض مقدار پوری ہوگئی تو ہمارے تینوں علماء کے نزدیک جائز نہ ہوگا امام زفر کا اس میں اختلاف ہے اھ۔ انہوں نے فرمایا کہ میں منقول پر مطلع ہوا ہوں یعنی عدم جواز ہمارے تینوں ائمہ کا قول ہے تو محقق کا یہ قول کیونکر درست ہوگا کہ میں نے
صرف جواز ہی دیکھا ہے اور ان جیسے شخص سے یہ بڑے تعجب کی بات ہے منحہ میں اسی پر تنبیہ کی ہے کیونکہ “ مدھا “ میں ھا کی ضمیر “ منصوبۃ “ کیلئے ہے اور فتح کا کلام “ موضوعۃ “ کیلئے ہے۔ ت
میں کہتا ہوں غالبا نہر نے دیکھا کہ صورتیں چار ہیں تین انگلیاں رکھی ہوئیں یا کھڑی اور سب کھینچی ہوئی یا نہیں اور بدائع میں پہلے نہ کھینچنے کی دو صورتیں ذکر کی ہیں پھر کہا کہ “ فلو مدھا “ تو اس میں ضمیر “ ثلث اصابع “ کی طرف ہونی چاہئے خواہ وہ رکھی
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الطہارت نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۶
بدائع الصنائع مطلب مسح الرأس ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵
#12108 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
اومنصوبۃ لیستوعب کلامہ الصور لکن الشان انہ مدع ظفر النقل فیضرہ احتمال العود الی المنصوبۃ لاسیما وھی الاقرب وقد(۱)کشف المراد فی الحلیۃ حیث قال فروع مسح بثلثۃ اصابع منصوبۃ لم یجز ولو مدھا حتی بلغ المفروض لم یجز عند علمائنا الثلثۃ ولو وضعھا ولم یمد لم یجز علی روایۃ الربع ذکرہ فی التحفۃ والمحیط والبدائع اھ۔ اقول : علی ان ماعدل(۲)الیہ بعض المتأخرین لااعرف لہ محصلا فان المراد ان کان الانفصال عن الاصبع فلا یفیدالاستعمال لانھا الۃ وانما یفیدہ الانفصال عن المحل اوعن الرأس کلہ فظاھر الغلط اوعن موضعہ الذی اصابتہ الاصبع او لافنعم ولم یشف غلیلا بل کان نظیرا لما عدل عنہ للحکم بحصول الاستعمال مع کون الماء مترددا بعد علی نفس العضو غیر منفصل عنہ وھو(۳)باطل لاجرم ان نص فی الخلاصۃ ثم البحر فیما اذا مسح باطراف اصابعہ ومدھا حتی بلغ المفروض انہ یجوز سواء کان الماء متقاطرا اولا قالا وھو الصحیح قال ش قال الشیخ اسمعیل ونحوہ فی الواقعات
ہوں یا کھڑی تاکہ ان کا کلام تمام صورتوں کا استیعاب کرے لیکن وہ اس امر کے مدعی ہیں کہ وہ نقل حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں تو ضمیر کے منصوبہ کی طرف لوٹنے کا احتمال ان کیلئے مضر ہوگا اور پھر وہ اقرب بھی ہے اور حلیہ میں مراد واضح کی ہے فرمایا۔ فروع اگر کسی نے تین کھڑی انگلیوں سے مسح کیا تو جائز نہیں اور اگر ان کو اتنا کھینچا کہ فرض مقدار کو پہنچا دیا تو ہمارے تینوں علماء کے نزدیک جائز نہیں اور اگر انگلیوں کو رکھا اور نہ کھینچا تو چوتھائی کی روایت پر جائز نہیں اس کو تحفہ محیط اور بدائع میں ذکر کیا ہے اھ ت
میں کہتا ہوں بعض متأخرین نے جس کی طرف عدول کیا ہے میں اس کا کوئی فائدہ نہیں محسوس کرتا ہوں کیونکہ اگر ان کی مراد انگلی سے جدا ہونا ہے تو استعمال کا فائدہ نہ ہوگا کیونکہ وہ تو آلہ ہے اس کو تو محل سے جدا ہونا یا کل سر سے جدا ہونا مفید ہے تو یہ ظاہرا غلط ہے یا اس کی جگہ سے جہاں انگلی لگی ہے یا نہیں تو ہاں مگر اس سے کچھ فائدہ نہیں بلکہ یہ نظیر ہوگا اس چیز کی جس سے عدول کیا ہے تاکہ استعمال کے حصول کا حکم ہو حالانکہ پانی متردد ہے عضو پر اس سے جدا نہیں اور وہ باطل ہے پھر خلاصہ وبحر میں صراحت ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی انگلیوں کے کناروں سے مسح کیا اور ان کو کھینچا یہاں تک کہ فرض کے مقام کو پہنچا تو یہ جائز ہے خواہ پانی ٹپکے یا نہ ٹپکے ان دونوں
حوالہ / References بدائع الصنائع مطلب مسح الرأس سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵
بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵
#12109 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
والفیض اھ۔ ای علی خلاف مافی المحیط انہ انما یجوز اذا کان متقاطر لان الماء ینزل من اصابعہ الی اطرافھا فمدہ کاخذ جدید ۔
والثانی : مااختار شمس الائمۃ ان المنع فی مد الاصبع والا ثنتین غیر معلل باستعمال البلۃ بدلیل انہ(۱)لومسح باصبعین فی التیمم لایجوز مع عدم شیئ یصیر مستعملا خصوصا اذا تیمم علی الحجر الصلد بل الوجہ انامامورون بالمسح بالید والاصبعان لاتسمی یدا بخلاف الثلاث لانھا اکثر ماھو الاصل فیھا اھ
ای فی الید وھی الاصابع(۲)ولذا یجب بقطعھا ارش الید کاملا وردہ المحقق بعد استحسانہ بانہ یقتضی تعیین الاصابۃ بالید(۳)وھو منتف بمسألۃ المطر وقد یدفع بان المراد تعیینہا اوما یقوم مقامھا من الالات عند قصد الاسقاط بالفعل اختیارا غیران لازمہ کون تلك الالۃ قدر ثلاث اصابع حتی لوکان(۴)عودا لایبلغ ذلك القدر قلنا بعدم جوازمدہ
نے کہا کہ وہی صحیح ہے۔
ش نے فرمایا شیخ اسمعیل نے فرمایا نیز واقعات اور فیض میں ہے اھ یعنی محیط کے برعکس یہ اس وقت جائز ہے جبکہ پانی ٹپک رہا ہو کیونکہ پانی اس کی انگلیوں کے کناروں تک ٹپک آئے گا تو اس کا کھینچنا گویا نیا پانی لینے کے مترادف ہے۔ ت
اور دوسرا وہ ہے جو شمس الائمہ نے اختیار کیا ہے کہ ایک یا دو انگلیوں کے کھینچنے کی ممانعت تری کے استعمال کی وجہ سے نہیں ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اس نے دو انگلیوں سے تیمم میں مسح کیا تو جائز نہیں حالانکہ کوئی چیز ایسی نہیں جو مستعمل ہو خصوصا جب چکنے پتھر پر تیمم کیا بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں ہاتھ سے مسح کا حکم دیا گیا ہے اور دوانگلیوں کو ہاتھ نہیں کہا جاتا ہے بخلاف تین انگلیوں کے کیونکہ یہ مسح کے اصل میں جو اصل ہے اس کا اکثر حصہ ہیں اھ۔ یعنی ہاتھ اور وہ انگلیاں ہیں اور اسی لئے تین انگلیوں کے کاٹنے پر پورے ہاتھ کی دیت لازم ہوتی ہے اور محقق نے اس کو پسند کرنے کے بعد رد کردیا کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہاتھ کا لگانا ہی ضروری ہے حالانکہ بارش کے مسئلہ کی وجہ سے ایسا نہیں ہے اس کا ایک جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ دراصل مراد ہاتھ کی تعیین ہے یا جو اس کے قائم مقام ہو کوئی بھی آلہ ہو جبکہ اختیاری فعلی سے اسقاط مطلوب ہو البتہ یہ ضروری ہے کہ جو بھی آلہ ہو تین انگلیوں کی مقدار میں ہو یہاں تک کہ اگر کسی نے ایسی لکڑی پھیری جو اس مقدار کی نہ تھی تو جائز نہ ہوگا اھ۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الطہارۃ البابی مصر ۱ / ۴۵
ردالمحتار کتاب الطہارۃ البابی مصر ۱ / ۴۷
فتح القدیر کتاب الطہارۃ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۶
فتح القدیر کتاب الطہارۃ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۶
#12110 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
اقول وحاصلہ ان الید غیر لازمۃ ولکن اذا وقع بھا لم یجز الا بما ینطلق علیہ اسمہا ولکن لقائل ان یقول اولا : (۱)مسألۃ القدر المفروض کیفما کان ولا نظر الی الالۃ ولا الفعل القصدی اصلا وقد قرر مشائخنا ان ذکر الید المقدرۃ فی قولہ تعالی وامسحوا برؤوسکم ای ایدیکم برؤوسکم لتقدیر المحل دون الالۃ کما حققہ الامام صدر الشریعۃ وابن الساعاتی والمحقق نفسہ فی الفتح فلیتأمل ۔
وثانیا : (۲)اجمعوا ان لومسح باطراف اصابعہ والماء متقاطر جاز فظھر ان تعیین الالۃ ملغاۃ ھھنا رأسا وان(۳)القیاسعلی التیمم مع الفارق
والثالث : ماابداہ بقولہ قد یقال عدم الجواز بالاصبع بناء علی ان البلۃ تتلاشی وتفرغ قبل بلوغ قدر الفرض بخلاف الاصبعین فان الماء ینحمل بین اصبعین مضمومتین فضل زیادۃ یحتمل الامتداد الی قدر الفرض وھذا مشاھد(۴)او مظنون فوجب اثبات الحکم باعتبارہ فعلی الاکتفاء بثلاث اصابع یجوز مدالا صبعین لان مابینھما من الماء یمتد قدر اصبع وعلی اعتبار الربع لایجوز لان مابینھما مما لایغلب علی الظن ایعابہ الربع اھ۔
میں کہتا ہوں کہ اس کا حاصل یہ نکلا کہ ہاتھ لازم نہیں ہے لیکن جب ہاتھ سے مسح کرنا ہو تو ضروری ہے کہ اتنی مقدار ہو کہ اس پر ہاتھ کا اطلاق ہوتا ہو۔ مگر اس پر متعدد طریقوں سے اعتراض ہوسکتا ہے اول بارش کا مسئلہ ہمارے حق میں مفید ہے کیونکہ مقصود شرع یہ ہے کہ تری کی ایک معین مقدار لگ جائے خواہ کسی طرح ہو اس میں نہ تو آلہ زیر بحث ہے اور نہ اختیاری فعل اور ہمارے مشائخ فرماتے ہیں کہ فرمان الہی “ اور مسح کرو تم سروں کا “ اس کا مفہوم یہ ہے کہ “ اپنے ہاتھوں کا اپنے سروں سے “ میں محل مقدر ہے نہ کہ آلہ صدرالشریعۃ ابن الساعاتی اور خود محقق نے فتح میں یہی تقریر فرمائی ہے غور کر۔
دوم : فقہاء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ اگر کسی نے انگلیوں کے پوروں سے مسح کیا اور ان سے پانی ٹپک رہا تھا تو جائز ہے تو معلوم ہوا کہ یہاں آلہ کی تعیین اہم نہیں ہے اور اس کوتیمم پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔
سوم : انہوں نے “ عدم الجواز بالاصبع “ کہہ کر جو اعتراض کیا ہے سو وہ اس بنا پر ہے کہ تری فرض مقدار تک پہنچنے سے قبل ختم ہوجاتی ہے لیکن دو انگلیاں اگر ملی ہوں تو ان میں فرض مقدار تک پانی پہنچ سکتا ہے اس کا مشاہدہ ہے یا ظن غالب ہے تو اس پر اعتبار کرتے ہوئے حکم کا لگا دینا لازم ہوا تو تین انگلیوں پر اکتفاء کرنا دو کے پھیر لینے کو جائز قرار دیتا ہے کیونکہ ان دو کے درمیان اتنا پانی موجود ہوتا ہے جو مزید ایک انگلی کی مقدار
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۷
#12111 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
اقول : اخر کلامہ یشھد ان مرادہ بقولہ یحتمل الامتداد الی قدر الفرض ھو قدرہ علی القول باجزاء ثلاث فکان الاولی التعبیر بہ دفعا للوھم ثم ان المحقق ردہ بقولہ الا ان ھذا یعکر علیہ عدم جواز التیمم باصبعین اھ۔
اقول : ای فلیس ثمہ شیئ یفرغ ویتلاشی اذلا حاجۃ الی اثر غبار علی الید فان کان فضل غیر ملتفت الیہ شرعا فکان معدوما حکما وان لم یکن فاظھر للعدم حقیقۃ وحکما وھذا معنی قول شمس الائمۃ خصوصا اذا تیمم علی الحجر الصلد فھذا کل مااوردہ المحقق ولم یفصل القول فیہ فصلا۔
اقول : (۱)ویرد ایضا علی ماابداہ ان فناء البلل غیر مطرد اما سمعت تصحیح الخلاصۃ الجواز فی مد الاطراف وان لم یکن الماء متقاطرا مع ان حکم المسألۃ مطلق(۲)ویظھرلی والله تعالی اعلم ان لامخلص الا ان یقال ان المراد بعدم الاجزاء مااذا کانت
پھیل سکتا ہے اور چوتھائی سر کے اعتبار پر جائز نہیں کیونکہ جو پانی ان دو کے درمیان ہے ظن غالب نہیں کہ وہ چوتھائی کی مقدار کو پورا ہوسکے اھ۔ ت
میں کہتا ہوں کہ ان کے کلام کا آخر اس امر کی شہادت دیتا ہے کہ ان کی مراد یحتمل الامتداد الی قدر الفرض سے تین انگلیوں کا پھیرنا ہے تو بہتر یہ ہے کہ اسی سے تعبیر کی جائے تاکہ وہم رفع ہوجائے پھر محقق نے اس کو یہ کہہ کر دفع کیا ہے مگر اس پر یہ اعتراض ہے کہ اس سے لازم آتا ہے کہ دو انگلیوں سے تیمم جائز نہ ہو اھ ت
میں کہتا ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کوئی چیز ایسی نہیں جو فنا ہوجاتی ہو کیونکہ ہاتھ پر گرد کے لگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اگر ہو تو یہ اضافی امر ہے شرعا اس کی حاجت نہیں تو یہ حکما نہ ہوا اور اگر غبار نہ ہو تو بات زیادہ ظاہر ہوگی کیونکہ درحقیقت اور حکما دونوں طرح ہی معدوم ہے اور شمس الائمہ کے قول “ خصوصا عی الحجر الصلد “ کا یہی مفہوم ہے یہ وہ بحث ہے جو محقق نے کی ہے اور اس میں کسی قول فیصل کو ذکر نہ کیا۔ (ت)
میں کہتا ہوں اور جوانہوں نے فرمایا اس کی تردید ا س امر سے بھی ہوتی ہے کہ تری کا ختم ہوجانا کوئی عمومی امر نہیں جیسا کہ خلاصہ کی تصحیح میں گزرا کہ مسح انگلیوں کے پوروں کے پھیرنے سے بھی ہوجائیگا خواہ ان سے پانی نہ بہتا ہو حالانکہ مسئلہ کا حکم مطلق ہے میرے لئے ظاہر ہوتا ہے (والله
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۷)
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الرابع فی المسح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۶
#12112 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
البلۃ خفیفۃ تفنی باول وضع اوقلیل مدحتی لاتبقی الانداوۃ لاتنفصل عن الید فبتل الرأس ولعلہ ھو الاکثر وقوعا وبتصحیح الخلاصۃ مااذا کانت کثیرۃ تبقی الی بلالوغ القدر المفروض بحیث تنفصل فی کل محل وتصیب وھذا ھو مراد المحیط بالتقاطر فتتفق الکلمات وانت اذ انظرت الی الوجہ اذعنت بھذا التفصیل کیف ولا معنی لاجزاء النداوۃ فی الصورۃ الاولی ولا ھدار البلۃ فی الصورۃ الثانیۃ فلیکن التوفیق وبالله التوفیق۔
اما حدیث(۱)التیمم فاقول : لابدفیہ من قصد المکلف وفعلہ الاختیاری فیکون لتقریر الامام شمس الائمۃ فیہ مساغ الاتری انھم صرحوا ان لوتیمم(۲)باصبع اواصبعین وکرر مرارا لم یجز کما فی البحر عن السراج عن الایضاح ولو مسح راسہ باصبع واحدۃ وکرراربعا فی مواضع صح اجماعا فلا یطلب موافقۃ ماھنا لما فی التیمم حتی یعکر علیہ بہ اذ لاتعین للالۃ ھھنا اصلا بخلاف التیمم وذلك ایضا فی الطریق المعتاد اعنی التیمم بالید والا فقد نص فی الحلیۃ ان(۳)لو تمعک فی التراب یجزئہ ان اصاب وجہہ وذراعیہ وکفیہ لانہ اتی بالمفروض وزیادۃ والا فلا اھ۔ ای یجزئہ ان نوی کما
تعالی اعلم)کہ اس اعتراض سے چھٹکارے کی ایک ہی شکل ہے کہ اس سے یہ مراد لی جائے کہ جب تری اتنی کم ہو کہ رکھتے ہی ختم ہوجائے یا تھوڑا سا پھیرنے پر ختم ہوجائے اور محض اتنی باقی رہے کہ ہاتھ ترمحسوس ہو اور وہ سر کو تر نہ کرسکے اور غالبا عام طور پر ایسا ہی واقع ہوتا ہے اور خلاصہ کی تصحیح سے مراد یہ ہو کہ جب تری اتنی زیادہ ہوکر فرض مقدار تک پہنچنے کے بعد بھی باقی رہے یعنی اس طور پر کہ ہر جگہ جدا ہو اور لگ جائے اور محیط کی مراد تقاطر سے یہی ہے اس طرح تمام عبارات میں اتفاق ہوجائے گا اور جو تم علت کو دیکھو گے تو یقین آجائے گا کیونکہ پہلی صورت میں تری کے پھیرنے کے اور کوئی معنی نہیں اور نہ ہی دوسری صورت میں تری کو ضائع کرنے کے تو اس طرح تطبیق دینی چاہئے وبالله التوفیق۔
رہی حدیث تیمم تو اس میں مکلف کا ارادہ اور اس کا اختیاری فعل ضروری ہے تب شمس الائمہ کی تقریر اس میں چل سکے گی یہی وجہ ہے کہ فقہا ء نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ اگر کسی نے ایک یا دو انگلیوں سے تیمم کیا اور ان کو بار بار پھرا تو جائز نہیں جیسا کہ بحر میں سراج سے ایضاح سے منقول ہے اور اگر ایک انگلی سے اپنے سر کا مسح کیا اور چار مختلف جگہوں پر اس کا تکرار کیا تو اجماعا صحیح ہے تو اس کی موافقت تیمم کے معاملہ سے نہ کی جائے تاکہ اس سے اعتراض لازم آئے کیونکہ یہاں آلہ کا تعین بالکل نہیں
حوالہ / References حلیہ
#12113 · فتوی مسمّٰی بہ الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ
لایخفی والله تعالی اعلم۔
بخلاف تیمم کے اور یہ بھی معتاد طریق میں ہے یعنی ہاتھ سے تیمم میں ورنہ حلیہ میں تصریح کی ہے کہ اگر کوئی شخص خاک میں لوٹ پوٹ ہوگیا اور خاک اس کے چہرے ہاتھوں اور بانہوں کو لگ گئی تو کافی ہے کیونکہ اس نے نہ صرف فرض ادا کرلیا بلکہ اس سے بھی زیادہ کرلیا ورنہ نہیں اھ یعنی اگر اس نے نیت کی ہے تو کافی ہوگا جیسا کہ ظاہر ہے والله تعالی اعلم۔
______________________
#12114 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
فتوی مسمی بہ
النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ
ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر(ت)
مسئلہ ۲۹ : رجب ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر بے وضو یا جنب کا ہاتھ یا انگلی یا ناخن وغیرہ لوٹے یا گھڑے میں پڑ جائے تو پانی وضو کے قابل رہتا ہے یا نہیں بعض لوگ کہتے ہیں اس سے پانی مکروہ ہوجاتا ہے اور اگر قابل وضو نہ رہے تو کس طرح قابل کیا جاسکتا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
بسم الله الرحمن الرحیم ط الحمدلله الذی انزل الذکر الملقی علی السید الطیب الطھور الانقی الملاقی ربہ لیلۃ الاسراء علیہ من ربہ الصلاۃ الزھراء وعلی الہ وصحبہ وامتہ وحزبہ الی یوم اللقاء امین
راجح ومعتمد یہ ہے کہ مکلف پر جس عضو کا دھونا کسی نجاست حکمیہ مثل حدث وجنابت وانقطاع حیض ونفاس کے سبب بالفعل واجب ہے وہ عضو یا اس کا کوئی حصہ اگرچہ ناخن یا ناخن کا کنارہ آب غیر کثیر میں کہ نہ جاری ہے نہ دہ دردہ بے ضرورت پڑ جانا پانی کو قابل وضو وغسل نہیں رکھتا یعنی پانی مستعمل ہوجاتا ہے کہ خود پاک ہے اور نجاست حکمیہ سے تطہیر نہیں کرسکتا اگرچہ نجاست حقیقیہ اس سے دھو سکتے ہیں یہی قول نجیح ورجیح ہے عامہ کتب میں اس کی تصریح ہے اور یہ خود ہمارے ائمہ ثلثہ امام اعظم وامام ابو یوسف وامام محمد رضی اللہ تعالی عنہمسے منصوص ومروی آیا اکابر مشائخ مثل امام ابو عبداللہ جرجانی وامام ابو الحسین قدوری وامام ملک العلماء ابو بکر کاشانی وامام فقیہ النفس فخرالدین قاضی وغیرہمرحمہم اللہ تعالینے اسے ہمارے ائمہ کا مذہب متفق علیہ بتایا۔ فقیر غفرلہ المولی القدیر نے اپنی ایک تحریر میں اس پر ائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالی عنہمکے سوا چالیس ائمہ وکتب کے نصوص نقل کئے اور بعض علمائے متاخرین رحمہم اللہ تعالیکو جو اس میں شبہات واقع ہوئے ان کے جواب دیے۔
#12115 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
یہاں اولا فوائد اور ان کے متعلق مسائل ذکر کریں۔
ثانیا اتمام جواب۔
ثالثا تحقیق مقام وابانت صواب اور اس کیلئے اپنی تحریر مذکور سے رفع حجاب۔
وبالله التوفیق فی کل باب والحمدلله الکریم الوھاب۔
فوائد قیود و مسائل مورود
فائدہ۱ : (۱)نابالغ اگرچہ ایک دن کم پندرہ برس کا ہو جبکہ آثار بلوغ مثل احتلام وحیض ہنوز شروع نہ ہوئے ہوں اس کا پاک بدن جس پر کوئی نجاست حقیقیہ نہ ہو اگرچہ تمام وکمال آب قلیل میں ڈوب جائے اسے قابلیت وضو وغسل سے خارج نہ کرے گا لعدم الحدث(ناپاک نہ ہونے کی وجہ سے۔ ت)اگرچہ بحال احتمال نجاست جیسے ناسمجھ بچوں میں ہے بچنا افضل ہے ہاں بہ نیت قربت سمجھ وال بچہ سے واقع ہو تو مستعمل کر دے گا۔
لانہ من اھلھا وقد بینا المسئلۃ فی الطرس المعدل۔
کیونکہ وہ اس کے اہل سے ہے اور ہم نے یہ مسئلہ 'الطرس المعدل' میں بیان کردیا۔ ت
وجیز امام کردری میں ہے :
ادخل صبی یدہ فی الاناء ان علم طھارۃ یدہ بان کان لہ رقیب یحفظہ اوغسل یدہ فھو طاھر ان علم نجاستہ فنجس وان شک فالمستحب ان یتوضأ بغیرہ لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم دع ما یریبک الی مالا یریبک المختار ان وضوء الصبی العاقل مستعمل وغیر العاقل لا ۔
اگر بچہ نے پانی میں ہاتھ ڈالا اور یہ معلوم ہے کہ اس کا ہاتھ پاک ہے مثلا کوئی شخص بچہ کی دیکھ بھال پر متعین ہے یا اس نے ہاتھ دھویا ہوا تھا تو یہ پانی پاک ہے اور اگر اس کے ہاتھ کا ناپاک ہونا معلوم ہے تو پانی ناپاک ہے اور اگر شک ہے تو مستحب ہے کہ دوسرے پانی سے وضوء کرے کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے : “ جو چیز تم کو شک میں ڈالے اس کو چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے “ ۔ مختاریہ ہے کہ عاقل بچہ کا وضو کرنا پانی کا مستعمل بناتا ہے غیر عاقل کا نہیں بناتا۔ (ت)اسی لئے ہم نے مکلف کی قید لگائی
فائدہ ۲ : اقول قول بعض پر کہ موت(۲)نجاست حکمیہ ہے اگر میت کا ہاتھ یا پاؤں مثلا آب قلیل میں قبل غسل پڑ جائے اگرچہ بہ نیت غسل تو پانی کو مستعمل کردے گا کہ زوال نجاست کیلئے نیت کی حاجت نہیں(۳)اگرچہ احیا پر سے
حوالہ / References فتاوٰی بزازیۃ المعروف الوجیز الکردری علی الحاشیۃ الہندیۃ نوع فی المستعمل والمقید والمطلق نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۹
#12116 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اس فرض کفایہ کے سقوط کو ان کی جانب سے وقوع فعل قصدی لازم ہے ولہذا اگر میت دریا میں ملے تو جب تک احیا اپنے قصد سے اسے پانی میں جنبش نہ دے ان پر سے فرض نہ اترے گا مگر میت کے سب بدن پر پانی گزر گیا تو اسے طہارت حاصل ہوگئی یونہی بے غسل دیے اس پر نماز جنازہ جائز ہے اور خاص غسل میت کی نیت تو احیا پر بھی ضرور نہیں اپنا قصدی فعل کافی ہے یہی اس مسئلہ میں توفیق وتحقیق ہے درمختار میں ہے :
(ان غسل(المیت)بغیر نیۃ اجزأہ(لطھارتہ لا لاسقاط الفرض عن ذمۃ المکلفین(و)لذا قال (لو وجد میت فی الماء فلا بد من غسلہ ثلثا)لانا امرنا بالغسل فیحرکہ فی الماء بنیۃ الغسل ثلثا فتح وتعلیلہ یفید انھم لوصلوا علیہ بلا اعادۃ غسلہ صح وان لم یسقط وجوبہ عنھم فتدبر ۔
(اگر غسل دیا)میت کو(بغیر نیت کے تو کافی ہے)اس میت کی طہارت کیلئے نہ کہ فرض کو مکلف لوگوں سے ساقط کرنے کیلئے(اور)اس لئے فرمایا(اگر کوئی مردہ پانی میں ملا تو بھی اس کو تین مرتبہ غسل کرانا ضروری ہے)کیونکہ ہمیں غسل دینے کا حکم دیا گیا ہے تو اس مردہ کو پانی میں تین مرتبہ بنیت غسل حرکت دینی چاہئے فتح۔ اور جو وجہ انہوں نے بیان کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس کی نماز جنازہ اس کے غسل کے اعادہ کے بغیر پڑھ لی گئی تو لوگوں سے جنازہ کا وجوب ساقط ہوجائیگا اگرچہ ان سے غسل کا وجوب ساقط نہ ہوگا فتدبر۔ (ت)
عنایہ میں ہے :
الماء مزیل بطبعہ فکما لاتجب النیۃ فی غسل الحی فکذا لاتجب فی غسل المیت ولہذا قال فی فتاوی قاضی خان میت غسلہ اھلہ من غیر نیۃ الغسل اجزائھم ذلک ۔
پانی اپنی طبیعت کی وجہ سے زائل کرنے والا ہے تو جس طرح زندہ شخص کے غسل میں نیت لازم نہیں اسی طرح مردہ کے غسل میں بھی نہیں اسی لئے قاضی خان میں فرمایا کہ اگر کسی مردہ کو اس کے گھر والوں نے بلا نیت غسل دے دیا تو کافی ہے۔ ت
ردالمحتار میں ہے :
وصرح فی التجرید والا سبیجابی والمفتاح بعدم اشتراطھا ایضا ۔
تجرید اسبیجابی اور مفتاح میں بھی نیت کے شرط نہ کرنے کی تصریح ہے۔ ت
حوالہ / References الدرالمختار باب صلوٰۃ الجنازۃ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۲۰
عنایۃ مع الفتح فصل فی الغسل للمیت نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۷۴
ردالمحتار فصل فی الغسل للمیت البابی مصر ۱ / ۶۳۵
#12117 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اسی میں ہے :
قال فی التجنیس لابد من النیۃ فی غسلہ فی الظاھر وفی الخانیۃ اذا جری الماء علی المیت اواصابہ المطر عن ابی یوسف لاینوب عن الغسل لانا امرنا بالغسل وذلک لیس بغسل وفی النھایۃ والکفایۃ وغیرھما لابد منہ الا ان یحرکہ بنیۃ الغسل اھ ثم نقل توفیق الفتح باستظہار ان اشتراطھا لاسقاط وجوبہ عن المکلف لالتحصیل طہارتہ ھو وشرط صحۃ الصلاۃ علیہ اھ ثم منازعۃ الغنیۃ لہ بان مامر عن ابی یوسف یفید ان الفرض فعل الغسل منا حتی لوغسلہ((لتعلیم الغیر کفی ولیس فیہ مایفید اشتراط النیۃ لاسقاط الوجوب بحیث یستحق العقاب بترکہا وقد تقرر فی الاصول ان ماوجب لغیرہ من الافعال الحسیۃ یشترط وجودہ لاایجادہ کالسعی والطہارۃ نعم لاینال ثواب العبادۃ بدونھا اھ قال واقرہ الباقانی وایدہ بما فی المحیط لووجد المیت فی الماء لابد من غسلہ لان الخطاب یتوجہ الی بنی ادم ولم یوجد منھم فعل اھ فتلخص انہ لابد فی اسقاط الفرض من الفعل واما النیۃ فشرط لتحصیل الثواب ولذا اصح تغسیل الذمیۃ زوجہا المسلم مع ان النیۃ شرطہا الاسلام فیسقط الفرض عنا بفعلنا بدون نیۃ وھو المتبادر من قول الخانیۃ اجزأھم ذلک اھ
اور تجنیس میں ہے کہ ظاہر قول کے مطابق مردہ کے غسل میں نیت ضروری ہے اور خانیہ میں ہے اگر میت پر پانی بہ گیا یا بارش پڑ گئی تو ابو یوسف سے منقول ہے کہ یہ غسل شمار نہ ہوگا کیونکہ ہمیں غسل کا حکم دیا گیا ہے اور یہ غسل نہیں ہے اور نہایہ وکفایہ وغیرہما میں ہے کہ مردہ کو ایسی صورت میں بہ نیت غسل حرکت دینا لازم ہے پھر انہوں نے فتح کی تطبیق نقل کی اور یہ بھی ذکر کیا کہ حرکت دینے کی شرط اس لئے ہے کہ غسل کا وجوب مکلف سے ساقط ہوجائے یہ نہیں کہ مردہ پاک ہوجائے اور نہ یہ اس پر نماز کی صحت کی شرط ہے اھ پھر ان کا غنیہ سے یہ جھگڑا کرنا کہ جو نقل ابو یوسف کی گزری اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرض یہ ہے کہ ہم زندہ لوگ اس مردہ کو غسل دیں یہاں تک کہ اگر مردہ کو دوسروں کو سکھانے کی غرض سے غسل دیا تو کافی ہوگا مگر اس میں یہ موجود نہیں ہے کہ نیت بھی اسقاط واجب کیلئے شرط ہے کہ اگر نہ ہو تو وہ عذاب کا مستحق ہو اور اصول میں یہ مقرر ہے کہ جو افعال حسیہ غیر کیلئے واجب ہوں تو ان کا وجود ضروری ہے نہ کہ ایجادان کے موجود ہونے کیلئے ضروری ہے جیسے کہ سعی اور طہارت ہاں نیت کے بغیر عبادت کا ثواب نہیں ملے گا اھ فرمایا اس کو باقانی نے مقرر رکھتے ہوئے اس کی تائید محیط سے کی ہے محیط میں ہے کہ اگر میت پانی میں پائی گئی تو بھی اس کا غسل ضروری ہے کیونکہ خطاب بنو آدم کو ہے اور ان سے کوئی فعل پایا نہیں گیا اھ تو خلاصہ یہ نکلا کہ اسقاط فرض میں
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی الغسل للمیت البابی مصر ۱ / ۶۶۳
#12118 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اقول : ھذا کلہ علی المتبادر من ارادۃ النیۃ الشرعیۃ اما لوحملت علی قصد الفعل ارتفع النزاع فان المامور بہ المکلف لایکون الافعلہ الاختیاری فما وقع عنہ من دون قصد منہ لایخرجہ عن عھدۃ ایجاب الفعل وغسل المیت لہ وجہان وجہ الی الشرطیۃ وھو عدم صحۃ الصلاۃ علیہ بدون الطھارۃ وھذا مایکفی فیہ وجودہ بلا ایجادہ کطھارۃ الحی ووجہ الی الفرضیۃ علینا ولا یتأتی الا بفعل توقعہ قصدا ولولم تقصد العبادۃ المامور بھا وھذا معنی قول ابی یوسف لانا امرنا بالغسل وقول المحیط ان الخطاب یتوجہ الی بنی ادم وبھذا تتفق الکلمات(۱)ویظھر مافی کلام الغنیۃ ولله الحمد۔
کسی نہ کسی فعل کا ہونا ضروری ہے اور نیت حصول ثواب کیلئے شرط ہے اس لئے ذمی عورت اپنے مسلمان شوہر کو غسل دے سکتی ہے حالانکہ نیت کیلئے اسلام شرط ہے تو فرض ہمارے فعل سے ساقط ہوجائے گا خواہ نیت نہ ہو اور خانیہ کے قول أجزأھم سے بظاہر یہی معلو ہوتا ہے اھ۔ ت
میں کہتا ہوں یہ سب نیت شرعیہ کے ارادہ سے متبادر ہے اور اگر نیت سے مراد ارادہ فعل لیا جائے تو اختلاف ختم ہوجائے گا کیونکہ مکلف کو جو حکم دیا گیا ہے وہ اس کا فعل اختیاری ہوگا اور جو اس سے بلا قصد واختیار سرزد ہو وہ ایجاب فعل کی ذمہ داری سے اس کو عہدہ برآ نہیں کرسکتا اور غسل میت کی دو وجہیں ہیں ایک تو شرطیہ کی طرف اور وہ یہ ہے کہ اس پر نماز بلا طہارت جائز نہیں اور اس صورت میں غسل کا وجود کافی ہے خواہ اس کی طرف سے ایجاد نہ ہو جیسے زندہ انسان کی پاکی اور ایک وجہ ہم پر فرضیت کی ہے اور یہ اسی فعل سے ادا ہوسکتی ہے جو قصدا کیا جائے اگرچہ مامور بہا عبادت کا قصد نہ کیا جائے اور یہی مفہوم ہے حضرت امام ابو یوسف کے قول “ اس لئے کہ ہم کو غسل کا حکم دیا گیا ہے “ کا اور محیط کے اس قول “ کہ خطاب بنو آدم کی طرف متوجہ ہے “ کا بھی یہی مفہوم ہے اس طرح مختلف اقوال میں تطبیق ہوجائے گی اور جو غنیہ میں ہے وہ ظاہر ہوجائے گا ولله الحمد۔ ت
اسی لئے ہم نے مکلف پر جس عضو کا دھونا واجب کہا نہ مکلف کا عضو کہ میت مکلف نہیں۔
فائدہ ۳ : عورت(۲)ابھی حیض یا نفاس میں ہے خون منقطع نہ ہوا اس حالت میں اگر اس کا ہاتھ یا کوئی عضو پانی میں پڑ جائے مستعمل نہ ہوگا کہ ہنوز اس پر غسل کا حکم نہیں والمسألۃ فی الخانیۃ والخلاصۃ والبحر وغیرھا اس لئے ہم نے بالفعل کی قید ذکر کی۔
فائدہ ۴ : جس عضو کا(۳)جہاں تک پانی میں ڈالنا بضرورت ہو اتنا معاف ہے پانی کو مستعمل نہ کرے گا مثلا :
(۱)پانی لگن یا چھوٹے حوض میں ہے کہ دہ در دہ نہیں اور کوئی برتن نہیں جس سے نکال کر وضو کرے تو چلو لینے کیلئے
#12119 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اسی میں ہاتھ ڈالنے سے مستعمل نہ ہوگا۔
(۲)اسی صورت میں اگر ہاتھ مثلا کہنی یا نصف کلائی تک ڈال کر چلو لیا یعنی جس قدر کے ادخال کی چلو میں حاجت نہ تھی مستعمل ہوجائے گا کہ زیادت بے ضرورت واقع ہوئی۔
(۳)کولی یا مٹکے میں کٹورا ڈوب گیا اس کے نکالنے کو جتنا ہاتھ ڈالنا ہو مستعمل نہ کرے گا اگرچہ بازو تک ہو کہ ضرورت ہے۔
(۴)برتن میں پاؤں پڑ گیا پانی مستعمل ہوگیا کہ اس کی ضرورت نہ تھی۔
(۵)کنوئیں یا حوض میں ٹھنڈ لینے کو غوطہ مارا یا صرف ہاتھ پاؤں ڈالا مستعمل ہوگیا کہ ضرورت نہیں۔
(۶)برتن یا حوض(۱)میں ہاتھ ڈالا تو تھا چلو لینے کو پھر اس میں ہاتھ دھونے کی نیت کرلی مستعمل ہوگیا کہ حوض میں دھونا بضرورت نہ تھا صرف چلو لینے کی حاجت تھی۔
(۷)کنوئیں سے ڈول نکالنے گھسا اور وہاں غسل یا وضو کی نیت کرلی بالاتفاق مستعمل ہوگیا اگرچہ امام محمد نے ڈول نکالنے کیلئے اجازت دی تھی کہ قصد طہارت کی ضرورت نہ تھی وقس علیہ۔ فتح القدیر میں ہے :
لوادخل المحدث اوالجنب اوالحائض التی طھرت الید فی الماء للاغتراف لایصیر مستعملا للحاجۃ بخلاف مالو ادخل المحدث رجلہ او رأسہ حیث یفسد الماء لعدم الضرورۃ وفی کتاب الحسن عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ ان غمس جنب او غیر متوضیئ یدیہ الی المرفقین او احدی رجلیہ فی اجانۃ لم یجز الوضوء منہ لانہ سقط فرضہ عنہ وذلک لان الضرورۃ لم تتحقق فی الادخال الی المرفقین حتی لوتحققت بان وقع الکوز فی الجب فادخل یدہ الی المرفق لاخراجہ لایصیر مستعملا نص علیہ فی الخلاصۃ قال بخلاف مالوادخل یدہ للتبرد لعدم الضرورۃ ثم ادخال مجرد الکف انما لایصیر مستعملا اذا لم یرد الغسل فیہ بل اراد رفع
اگر بے وضو جنب یا پاک ہوجانے والی حائض عورت نے اپنا ہاتھ چلو بھر پانی لینے کیلئے پانی میں ڈالا تو پانی مستعمل نہ ہوگا کیونکہ یہ ضرورۃ کیا گیا ہے لیکن اگر بے وضو نے اپنا سریا پیر اس پانی میں ڈال دیا تو مستعمل ہوجائے گا کیونکہ بغیر ضرورت ہوا اور حسن کی کتاب جو ابو حنیفہ سے ہے میں ہے کہ اگر جنب یا بے وضو نے اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک یا ایک پیر کسی مرتبان میں ڈالے تو اس سے وضو جائز نہیں کیونکہ اس طرح اس کا فرض اس سے ساقط ہوگیا کیونکہ کہنیوں تک ہاتھوں کو ڈبونے کی کوئی ضرورت نہ تھی ہاں اگر یہ ضرورت ہو مثلا لوٹا کنویں میں گر پڑا اس کو نکالنے کیلئے ہاتھ کہنیوں تک اس میں ڈالنا پڑا اس کو نکالنے کیلئے ہاتھ کہنیوں تک اس میں پانی ڈالنا پڑا تو پانی مستعمل نہ ہوگا یہ خلاصہ میں منصوص ہے فرمایا اگر ہاتھ محض ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے بلا ضرورت ڈالا تو اس کا یہ حکم نہیں کیونکہ وہاں ضرورت نہیں پھر
#12120 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الماء وفی المبتغی وغیرہ بتبردہ یصیر مستعملا ان کان محدثا والا فلا اھ باختصار۔
محض ہاتھ کا ڈالنا پانی کو مستعمل نہیں کردیتا ہے جبکہ غسل کا ارادہ نہ ہو مثلا یہ کہ پانی اٹھانے کا ارادہ ہو اور مبتغی وغیرہ میں ہے ٹھنڈک حاصل ہونے سے مستعمل ہوجائے گا اگر بے وضو ہو ورنہ نہیں اھ۔ ت
ردالمحتار میں زیر قول شارح محدث انغمس فی بئرلدلو ولم ینو (بے وضو جس نے ڈول نکالنے کیلئے کنویں میں غوطہ لگایا اور نیت نہ کی۔ ت)فرمایا :
لم ینو ای الاغتسال فلو نواہ صار مستعملا بالاتفاق الافی قول زفر سراج والمراد لم ینو بعد انغماسہ فلا ینافی قولہ لدلو افادہ ط۔
نیت نہ کی یعنی غسل کی اگر غسل کی نیت کی تو پانی بالاتفاق مستعمل ہوجائے گا مگر زفر کے قول میں سراج۔ اور مراد یہ ہے کہ غوطہ کھانے کے بعد نیت نہ کی تو ان کے قول لدلو کے منافی نہیں اس کا افادہ 'ط' نے کیا۔ ت
ولہذا ہم نے بے ضرورت کی قید لگائی۔
فائدہ ۵ : (۱)امام ابو یوسف سے روایت معروفہ یہ ہے کہ عضو کا ٹکڑا ڈوب جانے سے مستعمل نہیں ہوتا جب تک پورا عضو نہ ڈوبے مثلا انگلیاں پانی میں ڈالیں تو مستعمل نہ ہوگا کف دست کے ڈوبنے سے حکم استعمال دیا جائے گا اور صحیح یہ ہے کہ بے ضرورت کتنا ہی ٹکڑا ہو مستعمل کر دے گا۔ فتح القدیر میں ہے :
لو ادخل الجنب فی البئر غیر الید والرجل من الجسد افسدہ لان الحاجۃ فیھما وقولنا من الجسد یفید الاستعمال بادخال بعض عضو وھو یوافق المروی عن ابی یوسف فی الطاھر اذا ادخل رأسہ فی الاناء وابتل بعض رأسہ انہ یصیر مستعملا اما الروایۃ المعروفۃ عن ابی یوسف انہ لایصیر مستعملا ببعض العضو ۔
اگر جنب نے کنویں میں ہاتھ پیر کے علاوہ کوئی عضو ڈالا تو پانی فاسد ہوجائے گا کیونکہ ضرورت صرف انہی دو میں ہے اور ہمارا قول من الجسد بعض عضو کے داخل کرنے سے مستعمل ہونے کا فائدہ دیتا ہے اور وہ ابو یوسف سے مروی شدہ قول کے موافق ہے وہ فرماتے ہیں کہ پاک شخص نے کسی برتن میں اپنا سر ڈالا اور اس کا کچھ حصہ تر ہوگیا تو مستعمل ہوگا اور ابویوسف سے جو روایت معروف ہے وہ یہ ہے کہ عضو کے بعض حصہ سے مستعمل نہ ہو گا۔ ت
حوالہ / References فتح القدیر باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء ومالایجوز نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۷۶
درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۸
فتح القدیر باب الماء الذی یجوز بہ الوضؤ وما لایجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۸
#12121 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اسی میں اس سے کچھ پہلے ہے :
ان کان اصبعا اواکثر دون الکف لایضر ومع الکف بخلافہ ذکرہ فی الخلاصۃ ولا یخلو من حاجۃ الی تأمل وجہہ ۔
اگر انگلی یا اس سے زیادہ ہو اور ہتھیلی سے کم ہو تو مضر نہیں اور ہتھیلی کے ساتھ اس کے برعکس ہے اس کو خلاصہ میں ذکر کیا اس میں ضرورت ہے کہ اس کی وجہ پر غور کیا جائے۔ ت
وجیز امام کردری میں ہے :
المعروف عن الامام الثانی عدم الفساد مالم یصر عضوا تاما والفساد ھو الظاھر اھ۔
اقول : الحق ان المناط الحاجۃ فحیث کانت تندفع ببعض العضو فادخل کلہ یصیر مستعملا ولعل ھذا ھو محمل تلک الروایۃ ان ادخال الاصابع للاغتراف لایفسد بخلاف الکف ولھذا قال فی الخانیۃ من باب الوضؤ ان لم تکن معہ انیۃ صغیرۃ فانہ یغترف من التوربا صابع یدہ الیسری مضمومۃ لابالکف ۔
امام ثانی سے مشہور یہ ہے کہ جب تک پورا عضو داخل نہ ہو فساد نہیں حالانکہ فساد ظاہر ہے۔ ت
میں کہتا ہوں حق یہ ہے کہ حکم کی علت حاجت ہے تو جہاں ضرورت عضو کے بعض حصے سے پوری ہوجاتی ہو وہاں اگر کل عضو ڈال دیا تو پانی مستعمل ہوجائے گا اور شاید یہ اس روایت کا محمل ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ چلو بھر کر پانی لینے کیلئے انگلیوں کا ڈالنا پانی کو فاسد نہیں کرتا بخلاف ہتھیلی کے اس لئے خانیہ کے باب وضو میں ہے اگر اس کے پاس چھوٹا برتن نہ ہو تو طشت سے اپنے بائیں ہاتھ کی انگلیاں ملا کر پانی نکال لے ہتھیلی نہ ڈالے۔ ت
ولہذا ہم نے حکم عام رکھا باقی فوائدہمارے رسالہ الطرس المعدل سے ظاہر ہیں اسے قابل(۱)وضو کرنے کے دو۲ طریقے ہیں ایک یہ کہ اپنی مقدار سے زائد آب طاہر مطہر میں ملا دیا جائے سب قابل وضو ہوجائے گا۔ درمختار میں ہے :
غلبۃ المخالط لو مماثلا کمستعمل فبا لاجزاء فان المطلق اکثر من النصف جاز التطھیر
ملنے والے پانی کا غلبہ اگر اسی کی مثل ہو جیسے مستعمل پانی تو اعتبار اجزاء(مقدار)کا ہوگا اگر مطلق نصف سے زیادہ ہے
حوالہ / References فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضؤ وما لایجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۶
بزازیۃ مع الہندیۃ نوع فی المستعمل والمقید والمطلق نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۹
خانیہ مع الہندیۃ صفۃ الوضوء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۳
#12122 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
بالکل والالا ۔
تو سب سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔ ت
دوسرے یہ کہ اس میں طاہر مطہر پانی ڈالتے رہیں یہاں تک کہ اس کا برتن بھر کر ابلے اور بہنا شروع ہو سب طاہر مطہر ہوجائے گا کہ اس طرح پاک پانی کے ساتھ بہانے سے ناپاک پانی پاک ہوجاتا ہے تو غیر مطہر ہوجانا بدرجہ اولی درمختار میں ہے :
المختار طہارۃ المتنجس بمجرد جریانہ ۔
مختار قول یہ ہے کہ نجس پانی محض جاری ہونے سے پاک ہوجائے گا۔ ت
ردالمحتار میں ہے :
بمجرد جریانہ بان یدخل من جانب ویخرج من اخر حال دخولہ وان قل الخارج بحود لایلزم ان یکون ممتلأ اول وقت الدخول لانہ اذا کان ناقصا فدخل الماء حتی امتلأ وخرج بعضہ طھر ایضا کما حققہ فی الحلیۃ ۔
محض اس کے جاری ہونے سے کہ ایک طرف سے داخل کیا جائے اور دوسری طرف سے نکالا جائے اس کے داخل ہونے کی حالت میں اگرچہ خارج کم ہو بحر یہ ضروری نہیں کہ داخل ہوتے وقت بھرا ہوا ہو کیونکہ جب ناقص ہوگا اور پانی داخل ہوکر برتن بھر جائے پھر پانی نکل جائے تو بھی یہ پانی پاک ہوجائے گا جیسا کہ حلیہ میں تحقیق کی۔ ت
بدائع میں ہے :
وعلی ھذا حوض الحمام اوالاوانی اذا تنجس ۔
اورا سی پر حمام کے حوض کو قیاس کیا جائے یا برتنوں کو جب وہ ناپاک ہوجائیں۔ ت
شامی میں ہے :
مقتضاہ انہ علی قول الصحیح تطھر الاوانی ایضا بمجرد الجریان وقد علل فی البدائع ھذا القول بانہ صارماء جاریا فاتضح الحکم ولله الحمد اھ وتمامہ فیہ ۔
اس کا مقتضی یہ ہے کہ قول صحیح پر برتن بھی محض پانی کے بہنے سے پاک ہوجائیں گے اور اس کی وجہ بدائع میں یہ بیان کی ہے کہ یہ جاری پانی ہوگیا تو جاری پانی کا حکم اس پر لاگو ہوگا تو حکم ظاہر ہوگیا ولله الحمد اھ اور اس کی مکمل بحث اسی میں ہے۔ ت
حوالہ / References درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴
درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶)
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۳
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۴
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۴
#12123 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
بعض لوگوں کا کہنا کہ اس سے پانی مکروہ ہوجاتا ہے اگر پینے کے حق میں مراد تو مذہب صحیح پر مبنی ہے کہ ماء مستعمل(۱)طاہر ہے مطہر نہیں اس سے وضو نہ ہوگا اور پینا مکروہ۔ حلیہ پھر شامی میں ہے : بلعہ ایاہ مکروہ (اس کا اس کو نگلنا مکروہ ہے۔ ت)درمختار میں ہے :
ھو طاہر ولو من جنب وھو الظاھر لکن یکرہ شربہ والعجن بہ تنزیھا للاستقذار وعلی روایۃ نجاستہ تحریما ۔
وہ پاک ہے خواہ جنب سے ہی ہو اور یہی ظاہر ہے لیکن اس کا پینا اور اس سے آٹا گوندھنا مکروہ تنزیہی ہے کیونکہ اس سے گھن آتی ہے اور نجس ہونے کی روایت پر مکروہ تحریمی ہے۔ (ت)
اور اگر وضو کے حق میں مقصود یعنی اس سے وضو ہوجائے گا مگر مکروہ ہے تو مذہب غیر صحیح پر مبنی ہے صحیح یہی ہے کہ اس سے پانی مستعمل ہوجائے گا اور اس سے وضو صحیح نہ ہوگا نہ یہ کہ صرف کراہت ہو کما سنحققہ بتوفیقس الله تعالی قد ان اوانہ بتوفیقہ عزشانہ۔
تحقیق المقام : بفضل الملک العلام اقول : وبالله التوفیق اتت(۲)الفروع متوافرۃ والنقول عن ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم وعمن بعدھم متظافرۃ ونصوص معتمدات الشروح والفتاوی متواترۃ شاھدات علی ان المحدث اذا ادخل عضوہ قبل غسلہ فی ماء قلیل فانہ یجعل الماء مستعملا الا ماکان عن ضرورۃ فعفی قال فی الفتح بعد اقامۃ البینۃ علی ان رفع الحدث ایضا مغیر للماء وان لم تکن معہ نیۃ قربۃ مانصہ وبھذا یبعد قول محمد انہ التقرب فقط الا ان یمنع کون ھذا مذھبہ کما قال شمس الائمۃ قال لانہ لیس بمروی
میں بفضلہ تعالی کہتا ہوں کہ متوافر فروع اور ہمارے تینوں ائمہ اور بعد کے علماء کی نقول اور متون وشروح معتمدہ کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ بے وضو شخص جب اپنا کوئی عضو دھوئے بغیر تھوڑے پانی میں ڈالے گا تو وہ پانی مستعمل ہوجائے گا ہاں ضرورتا ایسا کرنا معاف ہے فتح میں اس امر پر دلیل قائم کی ہے کہ رفع حدث بھی پانی میں تغیر پیدا کرتا ہے خواہ اس میں تقرب کی نیت نہ ہو اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اس سے امام محمد کا قول کہ صرف تقرب سے متغیر ہوتا ہے بعید ہوجاتا ہے ان کا مذہب نہ مانا جائے جیسا کہ شمس الائمہ نے فرمایا ہے کیونکہ یہ ان سے مروی نہیں ہے اور ان سے صحیح یہ ہے کہ حدث کا پانی سے زائل کرنا پانی کو فاسد کردیتا ہے
حوالہ / References درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷
درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷
#12124 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
عنہ والصحیح عندہ ان ازالۃ الحدث بالماء مفسد لہ ومثلہ عن الجرجانی وما استدلوا بہ علیہ من مسألۃ المنغمس لطلب الدلو حیث قال محمد الرجل طاھر والماء طاھر جوابہ ان الازالۃ عندہ مفسدۃ الا عند الضرورۃ والحاجۃ کقولنا جمیعا لو ادخل المحدث اوالجنب اوالحائض التی طھرت الید فی الماء للاغتراف لایصیر مستعملا للحاجۃ بخلاف مالو ادخل رجلہ اورأسہ حیث یفسد الماء لعدم الضرورۃ وفی(۱)کتاب الحسن عن ابی حنیفۃ ان غمس جنب او غیر متوضیئ یدیہ الی المرفقین اواحدی رجلیہ فی اجانۃ لم یجز الوضؤ منہ لانہ سقط فرضہ عنہ وذلک لان الضرورۃ لم تتحقق فی الادخال الی المرفقین حتی لوتحققت بان(۲)وقع الکوز فی الجب فادخل یدہ الی المرفق لاخراجہ لایصیر مستعملا نص علیہ فی الخلاصۃ قال(۳)بخلاف مالو ادخل یدہ للتبرد یصیر مستعملا لعدم الضرورۃ اھ۔ وفی التبیین نحوہ وزاد معللا لمحمد فی مسألۃ البئران وقوع الدلو فی البئر یکثر والجنابۃ تکثر ایضا فلو اغتسلوا لاخراج الدلو کلما وقع یحرجون اھ۔ وفی الخانیۃ (۴)اتفق اصحابنا رحمہم الله تعالی
اور اسی کی مثل جرجانی سے منقول ہے انہوں نے اس شخص سے استدلال کیا ہے جو ڈول نکالنے کیلئے پانی میں غوطہ لگائے۔ امام محمد نے اس شخص کی بابت فرمایا مرد بھی پاک ہے اور پانی بھی پاک جواب یہ ہے کہ ازالہ حدث ان کے نزدیک پانی کو فاسد کر دیتا ہے مگر ضرورتا نہیں کرتا ہے جیسا کہ ہم سب کہتے ہیں کہ اگر بے وضوء ناپاک یاحائض جو پاک ہوگئی ہو اگر پانی میں ہاتھ ڈال کر چلو بھریں تو ضرورت کی وجہ سے یہ پانی مستعمل نہ ہوگا ہاں اگر سر یا پیر ڈالا تو پانی فاسد ہوجائے گا کہ یہاں ضرورت نہیں ہے اور حسن کی کتاب میں ابو حنیفہ سے ہے کہ اگر جنب یا بے وضو شخص نے اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک یا ایک پیر مرتبان میں ڈالا تو اس سے وضو جائز نہیں کیونکہ اس کا فرض ساقط ہوا ہے کیونکہ دونوں کہنیوں تک ڈبونے کی کوئی ضرورت نہ تھی ہاں اگر ضرورت پائی گئی مثلا لوٹا تالاب میں تھا تو اس کو نکالنے کیلئے کہنیوں تک ہاتھ ڈالے تو پانی مستعمل نہ ہوگا خلاصہ نے اس کی تصریح کی ہے فرمایا بخلاف اس کے کہ اگر ہاتھ ٹھنڈک حاصل کرنے کو ڈبوئے تو پانی ضرورت نہ پائے جانے کی وجہ سے مستعمل ہوجائیگا اھ
اس کا اور تبیین میں بھی ایسا ہی ہے اور امام محمد کے کنویں کے مسئلہ میں باضافہ دلیل اس طرح بیان کیا ہے کہ کنویں میں ڈول کا گرنا بکثر ت ہوتا ہے اور جنابت بھی بکثرت ہوتی ہے تو اگر ہر مرتبہ ڈول نکالنے کیلئے غسل ضروری ہو
حوالہ / References فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوءمالا یجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۶
تبیین الحقائق کتاب الطہارت مطبع الامیر یہ ببولاق مصر ۱ / ۲۵
#12125 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
فی الروایات الظاھرۃ علی ان الماء المستعمل فی البدن لایبقی طھورا واختلفوا ھل یصیر مستعملا لسقوط الفرض اذا قصد التبردا واخراج الدلو من البئر قال ابو حنیفۃ وابو یوسف رحمہما الله تعالی یصیر مستعملا وقال محمد رحمہ الله تعالی فی المشہور عنہ لا اھ۔
ای للضرورۃ کما مراما الامام فلم یعتبر الضرورۃ ھنا لندرۃ الاحتیاج الی الانغماس بخلاف الاحتیاج الی الاغتراف بالید اھ ش والتعلیل بالضرورۃ مقصور علی نحو طلب الدلو اما التبرد فلما اشتھر عن محمد من القصر علی القربۃ ومشی علیہ فی الخانیۃ فلذا ذکرہ وتبعہ البحر والنھر والدر۔
اقول : (۱)وھذاعجب بعد مشیھم علی ان الصحیح ان محمدالایقصر التغیر علی التقرب قال ش قدمنا ان ذلک خلاف الصحیح عندہ فلذا اقتصر فی الھدایۃ علی قولہ لطلب الدلو اھ ۔ اقول الھدایۃ : (۲)ایضا من الماشین کالخانیۃ وکثیرین علی ان محمد الایجعل السبب الا التقرب وقد ذکرناہ فی الطرس
تو لوگ تنگی میں پڑ جائیں گے اھ اور خانیہ میں ہے کہ ہمارے اصحاب روایات ظاہرہ میں اس امر پر متفق ہیں کہ جو پانی بدن پر مستعمل ہو وہ طہور نہ رہے گا اور اس میں اختلاف ہے کہ اگر ہاتھ ٹھنڈا کرنے کیلئے یا ڈول نکالنے کیلئے ہاتھ ڈالا تو آیا سقوط فرض کی وجہ سے مستعمل ہوگا یا نہیں ابو حنیفہ اور ابو یوسف کا قول ہے کہ مستعمل ہوجائے گا اور محمد سے مشہور روایت یہ ہے کہ نہ ہوگا اھ یعنی ضرورت کی وجہ سے جیسا کہ گزرا مگر امام نے یہاں ضرورت کا اعتبار نہ کیا کیونکہ غوطہ لگانے کی حاجت شاذہی ہوتی ہے ہاں ہاتھ سے چلو بھرنا عموما ہوتا ہے اھ ش اور ضرورت کی علت ڈول طلب کرنے پر منحصر ہے ٹھنڈک کا ذکر اس وجہ سے کیا کہ محمد سے یہ روایت مشہور ہوئی کہ وہ صرف ادائے قربۃ کو وجہ استعمال قرار دیتے ہیں اور خانیہ میں بھی یہی ہے تو اس لئے اس کو ذکر کیا اور بحر نہر اور در نے اس کی پیروی کی۔ ت
میں کہتا ہوں یہ امر باعث تعجب ہے کیونکہ وہ اس امر کو مانتے ہیں کہ صحیح یہی ہے کہ محمد پانی کے تغیر کو قربۃ تک ہی محدود نہیں رکھتے۔ 'ش' نے فرمایا ہم پہلے لکھ آئے ہیں کہ یہ ان کے نزدیک صحیح کے خلاف ہے اس لئے ہدایہ میں صرف ڈول کی تلاش کے مسئلہ پر اکتفاء کیا ہے اھ ت
میں کہتا ہوں ہدایہ بھی پیروی کرنے والا ہے جیسے صاحب خانیہ ہیں اور بہت سے دوسرے فقہاء کہ امام محمد سبب صرف تقرب کو قرار دیتے ہیں
حوالہ / References فتاوٰی خانیہ علی العالمگیری الماء المستعمل نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۴
ردالمحتار باب المیاہ ۱ / ۹۴۹
ردالمحتار باب المیاہ ۱ / ۹۴۹ ۱ / ۱۴۸
#12126 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
المعدل فلیس اقتصارہ علی ذکر الطلب لما ذکر وفیھا من فصل مایقع فی البئر المحدث اذا غسل ای فی الخانیہ اطراف اصابعہ ولم یغسل عضو اتاما اشار(۵)الحاکم رحمہ الله تعالی فی المختصر الی انہ یصیر مستعملا (۶)وفی وجیز الامام الکردری ادخل الجنب اوالحائض فیہ(ای فی الماء)یدہ للاغتراف اورفع ادخالہ للتبرد (۷)وفی الکافی انما لم یحکم محمد باستعمال الماء فی مسألۃ البئر للضرورۃ فانھم لوجاءوا بمن یطلب دلوھم لایمکنھم ان یکلفوہ بالاغتسال اولا اھ(۸)وفی الخلاصۃمعزیا(۹)للاصل ونحوہ فی الخانیۃ(۱۰)وعنھا فی الغنیۃ واللفظ لفقیہ النفس مختصرا ادخل یدہ للاغتراف لایفسد الماء وکذا اذا ادخل یدہ فی الجب الی المرفق لاخراج الکوز ویدہ ورجلیہ فی البئر لطلب الدلو لمکان الضرورۃ ولو للتبرد یصیر مستعملا لانعدام الضرورۃ اھ(۱۱)وفی(۱۲)الحلیۃ قال القدوری کان شیخناابو عبدالله یقول الصحیح عندی من مذہب اصحابنا ان ازالۃ الحدث توجب استعمال الماء ولا معنی لھذا الخلاف اذلا
اور ہم اس کو “ الطرس المعدل “ میں بیان کرچکے ہیں تو ان کا طلب پر اکتفاء اس سبب سے نہیں جو ذکر کیا اور خانیہ کی فصل مایقع فی البئر میں ہے بے وضو نے اگر اپنی انگلیوں کے کناروں کو دھویا اور پورا عضو نہ دھویا حاکم نے مختصر میں کہا کہ اس طرح پانی مستعمل ہوجائے گا
اور وجیز امام کردری میں ہے جنب یا حائض نے اس میں(پانی میں)چلو بھرنے کیلئے اپنا ہاتھ ڈالا یا اس میں سے لوٹا نکالنے کیلئے تو پانی ضرورت کی وجہ سے خراب نہیں ہوگا ہاں اگر ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے ڈالا تو فاسد ہوجائے گا
اور کافی میں ہے کہ امام محمد نے کنویں کے مسئلہ میں پانی کے مستعمل ہونے کا حکم اس لئے نہیں لگایا کہ وہاں ضرورت ہے کیونکہ اگر ڈول نکالنے والا مل جائے تو لوگوں کیلئے ممکن نہیں کہ پہلے اس کو غسل کا پابند کریں اھ
اور خلاصہ میں یہ چیز اصل کی طرف منسوب ہے اور اسی قسم ک عبارت خانیہ میں ہے اور خانیہ سے غنیہ میں منقول ہے اور الفاظ فقیہ النفس کے ہیں مختصرا کسی شخص نے پانی میں اپنا ہاتھ چلو بھرنے کیلئے ڈالا تو وہ پانی کو فاسد نہ کرے گا اور اسی طرح لوٹا نکالنے کیلئے اپنا ہاتھ گڑھے میں کہنیوں تک ڈالا اور اسی طرح ہاتھ پیر اگر کنویں میں ڈول کی تلاش میں ڈالے تو ضرورت کی وجہ سے پانی
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان فصل فی مایقع فی البئر ۱ / ۶
بزازیۃ مع العالمگیری المستعمل والمفید والمطلق نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۹
الکافی
غنیۃ المستملی باب الانجاس سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۲
#12127 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
(۱)نص فیہ وانما لم یأخذ الماء حکم الاستعمال فی مسألۃ طلب الدلو لمکان الضرورۃ اذ الحاجۃ الی الانغماس فی البئر لطلب الدلومما یکثرولواحتیج الی نزح کل الماء کل مرۃ لحرجوا حرجا عظیما فصارکا لمحدث اذا غرف الماء بکفہ لایصیر مستعملا بلا خلاف وان وجد اسقاط الفرض لمکان الضرورۃ اھ(۱)وفی البرھان شرح مواھب الرحمن(۱۵)ثم غنیۃذوی الاحکام للشرنبلالی معناہ وفی شرح الوھبانیۃ للعلامۃ ابن الشحنۃ اعتبار الضرورۃ فی مثل ذلک(۱۶)مذکور فی الصغری وغیرھا اھ(۱۷)وفی النھایۃ(۱۸)ثم الھندیۃلوانغمس(۲)للاغتسال للصلاۃیفسدالماء بالاتفاق اھ ونحوہ(۱۹)فی العنایۃوغیرھا وفی فوائد الامام ظھیرالدین ابی بکر محمد بن احمد بن عمر علی شرح الجامع الصغیر للامام الصدر الشھید حسام الدین عمر بن عبدالعزیز رحمہما الله تعالی لو ادخل رجلہ فی البئر ولم ینوبہ الاستعمال ذکر شیخ الاسلام المعروف بخواھرزادہ رحمہ الله تعالی ان الماء یصیر مستعملا عند محمد رضی الله تعالی عنہ وذکر شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ
فاسد نہ ہوگا اور ٹھنڈک کے حصول کی خاطر ڈالے تو پانی مستعمل ہوجائے گا کہ ضرورت نہیں ہے۔
اور حلیہ میں ہے کہ قدوری نے کہا ہمارے شیخ ابو عبداللہ فرماتے تھے میرے نزدیک ہمارے اصحاب کا صحیح مذہب یہ ہے کہ ازالہ حدث پانی کے استعمال کا موجب ہے اور اس اختلاف کا کوئی مفہوم نہیں کیونکہ اس میں نص موجود نہیں اور ڈول کی تلاش کے مسئلہ میں پانی کا مستعمل نہ ہونا ضرورت ہونے کی وجہ سے ہے کیونکہ کنویں میں ڈول کی تلاش میں غوطہ خوری عام ہے اور اگر ہر مرتبہ کنویں کا پورا پانی نکالنا پڑ جائے تو لوگ سخت تنگی میں مبتلا ہوجائیں گے تو یہ بے وضو کی طرح ہے کہ وہ چلو سے پانی لے تو بالاتفاق پانی مستعمل نہ ہوگا اگرچہ اس میں اسقاط فرض بھی پایا جارہا ہے کیونکہ ضرورت ہے اور برہان شرح مواہب الرحمن نیز غنیہ ذوی الاحکام شرنبلالی میں اس کا ہم معنی ہے اور علامہ ابن الشحنہ کی شرح وہبانیہ میں ہے کہ اس قسم کے مسائل میں ضرورت کا اعتبار صغری وغیرہ میں مذکور ہے اھ اور نہایہ وہندیہ میں ہے کہ نماز کیلئے غسل کرنے کو غوطہ لگایا تو پانی بالاتفاق مستعمل ہوجائے گا اھ اور عنایہ وغیرہ میں اسی کی مثل ہےاور امام ظہیر الدین ابو بکر محمدبن احمد بن عمر کے جو فوائد شرح جامع صغیر امام صدر شہید حسام الدین عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالی علیہ
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت مسئلۃ البئر جحط ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۷
ہندیۃ الماء الذی لایجوز بہ التوضؤ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۳
#12128 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الله تعالی انہ لایصیر مستعملا لان الرجل فی البئر بمنزلۃ الید فی الانیۃ فعلی ھذا التعلیل اذا ادخل الرجل فی الاناء یصیر مستعملا لعدم الضرورۃ اھ۔ یکن موضع ضرورۃ وما قالہ الحلوانی علی موضع الضرورۃ اھ
قلت : وحاصل قول الامام الحلوانی ان الید ربما لاتبلغ قعرالبئر فمست الحاجۃ الی الرجل ھذا ھو الذی یعطیہ نص قولہ لااحتمال فیہ لغیرہ واسشناء موضع الضرورۃ معلوم من اقوالھم بالضرورۃ(۱(فقول العلامۃ ابن الشحنۃ فی زھر الروض بعد نقلہ یمکن دفع التعارض بحمل ماقالہ خواھر زادہ علی مااذا لم تردد فی موضع الجزم وشک فی محل الیقین وفی متن الملتقی لوانغمس جنب فی البئر بلانیۃ فقیل الماء والرجل نجسان عندالامام والاصح ان الرجل
طاھر والماء مستعمل عندہ اھ
وفی شرحہ مجمع الانھر لوقال انغمس محدث لکان اولی وانما قال بلانیۃ
میں ہے کہ اگر کسی شخص نے کنویں میں بلانیت استعمال اپنا پیر ڈالا تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شیخ الاسلام المعروف خواہر زادہ نے فرمایا کہ پانی امام محمد کے نزدیک مستعمل ہوجائے گا اور شمس الائمہ الحلوانی نے ذکر کیا کہ پانی مستعمل نہ ہوگا کیونکہ کنویں میں پیر کا ڈالنا ایسا ہے جیسا ہاتھ برتن میں اسی استدلال کی بنیاد پر اگر کوئی شخص برتن میں پیر داخل کرے تو پانی ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے مستعمل ہوجائے گا اھ۔
میں کہتا ہوں اور امام حلوانی کے قول کا ماحصل یہ ہے کہ ہاتھ کبھی کنویں کی تہ تک نہیں پہنچ پاتا ہے تو پیر کی ضرورت ہوتی ہے یہ مفہوم ان کی اس تصریح سے حاصل ہوتا ہے کہ اس میں اس کے غیر کا احتمال نہیں ہے اور مقام ضرورت کا استنشاء ان کے اقوال سے بداہۃ معلوم ہوتا ہے تو علامہ ابن الشحنہ کا قول زہر الروض میں نقل کے بعد اس کا تعارض اس طرح رفع ہوسکتا ہے کہ خواہر زادہ نے جو فرمایا ہے اس کو
ضرورت کے نہ ہونے پر محمول کیا جائے اور حلوانی کے قول کو ضرورت پر محمول کیا جائے اھ۔ تردد ہے مقام یقین میں اور شک ہے مقام یقین میں۔ اور متن ملتقی میں ہے کہ اگر کسی جنب نے بلانیت کنویں میں غوطہ گایا تو کہا گیا کہ آدمی اور پانی دونوں نجس ہیں امام کے نزدیک۔ اور اصح یہ ہے کہ ان کے نزدیک آدمی پاک ہے اور پانی مستعمل ہے اھ ت
اور اس کی شرح مجمع الانہر میں ہے کہ اگر انغمس محدث
حوالہ / References کفایۃ مع الفتح الماء الذی یجوزبہ الوضؤ ومالایجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۸۰
زہر الروض
ملتقی الابہر فصل فی المیاہ العامرہ مصر ۱ / ۳۱
#12129 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
لانہ لوانغمس للاغتسال فسد الماء عند الکل اھ وفی النھر الفائق فی تعلیل قول محمد فی مسألۃ جحط اماطھارۃ الرجل فلان محمدالایشترط الصب واما الماء فللضرورۃ اھ نقلہ السید الازھری علی الکنز وفی الدر اسقاط فرض ھو الاصل بان یدخل یدہ اور رجلہ فی الجب لغیر اغتراف ونحوہ فانہ یصیر مستعملا لسقوط الفرض اتفاقا اھ ولو استرسلنا فی سرد الفروع لاعیانا ولکن نرد البحر ونکثر الاغتراف منہ لان الکلام سیدور معہ فنقول فی البحر من الماء المستعمل ذکر ابو بکر الرازی انہ یصیر مستعملا عند محمد باقامۃ القربۃ لاغیراستدلالابمسألۃالجنب اذا انغمس فی البئر لطلب الدلو قال شمس الائمۃ السرخسی جوابہ انما لم یصر مستعملا للضرورۃ واقرہ علیہ العلامۃ ابن الھمام والامام الزیلعی اھ
وفیہ واعلم ان ھذا وامثالہ کقولھم فیمن ادخل یدیہ الی المرفقین واحدی رجلیہ فی اجانۃ یصیر الماء مستعملا یفید ان الماء یصیر مستعملا بواحد من ثلثۃ ازالۃ حدث اقامۃ قربۃ اسقاط فرض فکان الاولی ذکر ھذا السبب
کہا ہوتا تو بہتر تھا۔ اور اس لئے “ بلا نیت “ کہا کیونکہ اگر غسل کیلئے غوطہ لگایا تو سب ہی کے نزدیک پانی مستعمل ہوجائیگا اھ اور نہرالفائق میں مسئلہ بئز حجط میں امام محمد کے قول کی وجہ بتاتے ہوئے فرمایا آدمی کا پاک ہونا اس وجہ سے ہے کہ محمد بہانے کو شرط قرار نہیں دیتے اور پانی کا پاک ہونا ضرورت کی وجہ سے ہے اھ اس کو سید ازہری نے کنز میں نقل کیا ہے اور در میں ہے کہ اسقاط فرض ہی اصل ہے مثلا یہ کہ گڑھے میں ہاتھ یاپیر چلو بھرنے وغیرہ کی نیت کے علاوہ کسی اور ارادہ سے ڈالے تو وہ مستعمل ہوجائے گا کیونکہ اس طرح فرض بالاتفاق ساقط ہوجاتا ہے اھ اور اگر ہم فروع گنانا شروع کردیں تو مشکل ہوگا لیکن ہم سمندر پر آکر اس سے بکثرت چلو بھرتے ہیں کیونکہ گفتگو انہی کے ساتھ رہے گی تو ہم کہتے ہیں بحر میں ہے کہ ابو بکر رازی کہتے ہیں کہ صرف قربۃ کی ادائیگی سے پانی مستعمل ہوگا عند محمد۔ وہ اس کو جنب کے مسئلہ پر قیاس کرتے ہیں جو کنویں میں ڈول نکالنے کی خاطر غوطہ لگائے۔ اور شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا اس کا جواب یہ ہے کہ مستعمل ضرورت کی وجہ سے نہ ہوا اور اس کو علامہ ابن ہمام اور زیلعی نے برقرار رکھااھ
اس میں ہے جانناچاہئے کہ یہ اور ا س کے امثال جیسے ان کا قول اس شخص کی بابت جو اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک
حوالہ / References مجمع الانہر فصل فی المیاہ العامرہ مصر ۱ / ۳۱
فتح المعین بئر حجط سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷
بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۰
#12130 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الثالث اھ(۱)وفیہ ذکرشمس الائمۃ السرخسی فی المبسوط(ای شرحہ)ان فی الاصل(ای فی مبسوط الا مام محمد رحمہ الله تعالی)اذااغتسل الطاھر فی البئرافسدہ اھ ای اذا نوی القربۃ کما لایخفی وفیہ مسألۃ البئر جحط وصورتھا جنب انغمس فی البئر للدلواوللتبرد ولا نجاسۃ علی بدنہ فعند محمد الرجل طاھر والماء طھور وجہ قول محمد علی ماھو الصحیح عنہ ان الماء لایصیر مستعملا وان ازیل بہ حدث للضرورۃ اھ
وفیہ قال الخبازی فی حاشیۃ الھدایۃ قال القدوری رحمہ الله تعالی کان شیخنا ابو عبدالله الجرجانی یقول الصحیح عندی من مذھب اصحابنا(الی اخر
ماقدمنا عن الحلیۃ غیر انہ قال لواحتاجوا الی الغسل عند نزح ماء البئر کل مرۃ لحرجوا الخ وزاد فی اخرہ)بخلاف مااذا ادخل غیرالید فیہ صار الماء مستعملا اھ وفیہ عن ابی حنیفۃ ان الرجل طاھر لان الماء لایعطی لہ حکم الاستعمال قبل الانفصال من العضو قال الزیلعی والھندی وغیرھما تبعا للھدایۃ وھذہ الروایۃ اوفق الروایات وفی فتح القدیر
یا ایک پیر کسی مرتبان میں ڈالے تو پانی مستعمل ہوجائیگا سے معلوم ہوتا کہ پانی کا مستعمل ہونا تین اشیاء میں سے کسی ایک کے ساتھ ہوگا حدث کا زائل کرنا قربۃ کا ادا کرنا فرض کا ساقط کرنا تو بہتر یہ تھا کہ اس تیسرے سبب کو ذکر کرتے۔ اور اسی میں ہے کہ شمس الائمہ سرخسی نے مبسوط میں(یعنی اس کی شرح میں)ذکر کیا کہ اصل میں(یعنی امام محمد کی مبسوط)میں ہے کہ اگر پاک شخص نے کنویں میں غسل کیا تو پانی مستعمل ہوجائیگا اھ یعنی اگر قربۃ کی نیت کی کمالایخفی۔ اور اسی میں ہے کہ کنویں کا مسئلہ جحط ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک جنب نے کنویں میں غوطہ لگایا ڈول نکالنے کیلئے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے اور اس کے بدن پر نجاست نہ ہو تو محمد کے نزدیک آدمی پاک ہے اور پانی پاک کرنے والا ہے اور محمد کے قول کی وجہ صحیح قول کے مطابق یہ ہے کہ پانی مستعمل نہیں ہوتا ہے خواہ اس سے حدث ہی کیوں زائل نہ کیا جائے ضرورت کی وجہ سے۔
اسی میں ہے خبازی نے کہا حاشیہ ہدایہ میں کہ قدوری نے کہا کہ ہمارے شیخ ابو عبداللہ الجرجانی فرماتے ہیں میرے نزدیک ہمارے اصحاب کا صحیح مذہب(آخر تک جو ہم نے حلیہ سے نقل کیا البتہ انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ غسل کے محتاج ہوں ہر مرتبہ کنویں سے پانی
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۲
بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۷
بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۷
بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۷
#12131 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
وشرح المجمع انھا الروایۃ المصححۃ اھ
(۱)فعلم بما قررناہ عـــہ ان المذھب المختار فی ھذہ المسألۃ ان الرجل طاھر والماء طاھر غیر طھور اھ وفیہ وان انغمس للاغتسال صار مستعملا اتفاقا وحکم الحدث حکم الجنابۃ ذکرہ فی البدائع اھ وفیہ(۲)وکذا الحائض والنفساء بعد الانقطاع اما قبل الانقطاع فھما کالظاھر اذا انغمس للتبرد لایصیر الماء مستعملا کذا فی فتاوی قاضی خان والخلاصۃ اھ وفیہ(۳)قال القاضی الاسبیجابی فی شرح مختصر الطحاوی جنب اغتسل فی بئرثم فی بئر الی
نکالتے وقت تو لوگ حرج میں پڑ جائیں گے الخ اور اس کے آخر میں اضافہ کیا)بخلاف اس صورت کے کہ جب ہاتھ کے علاوہ اور کوئی عضو پانی میں ڈالا تو پانی مستعمل ہوجائے گا اھ
اور اس میں ابو حنیفہ سے منقول ہے کہ آدمی پاک ہے کیونکہ پانی کو مستعمل ہونے کا حکم نہیں دیا جائے گا تاوقتیکہ وہ عضو سے جدا نہ ہو زیلعی وہندی وغیرہما نے ہدایہ کی متابعت میں فرمایا اور یہ روایت تمام روایات میں مطابقت پیدا کرنے والی ہے اور فتح القدیر اور شرح المجمع میں ہے کہ تصحیح شدہ روایت یہی ہے اھ تو ہماری تقریر سے معلوم ہوا کہ اس مسئلہ میں مذہب مختار یہ ہے کہ
عـــہ قال الشامی قال الرملی اقول سیاتی قریبا انہ طاھر طھور علی الصحیح اھ اقول وھذا تصریح بتصحیح روایۃ ط من جحط فما فی المنحۃ عن شرح ھدیۃ ابن العماد لسیدی عبدالغنی قدس سرہ ان مسألۃ جحط الاقوال الثلثۃ فیھا ضعیفۃ فکانہ لاختیار الروایۃ الرابعۃ المختارۃ فے البحر لاان لاشیئ من الثلث مصححا اھ منہ۔
شامی نے کہا رملی نہ کہا میں کہتا ہوں عنقریب آئیگا کہ یہ صحیح روایت پر طاہر وطہور ہے میں کہتا ہوں یہ مسئلہ بئر جحط سے طحطاوی کی تصحیح شدہ روایت کی تصریح ہے تو جو منحہ میں سید عبدالغنی کی شرح ہدیۃ ابن عماد سے ہے کہ مسئلہ بئر جحط کے تینوں قول ضعیف ہیں تو اس وجہ سے کہ وہ بحرالرائق کی اختیار کردہ چوتھی روایت کو اختیار کرتے ہیں یہ نہیں کہ تین میں سے کسی کی تصحیح نہیں کی گئی۔ ت
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۷
بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۸
بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۸
بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۸
#12132 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
عشرۃ قال محمد یخرج من الثالثۃ عـــہ۱ طاھرا ثم ان کان علی بدنہ عین نجاسۃ تنجست المیاہ کلھا(یرید الثلثۃ)وان لم تکن صارت المیاہ (الثلثۃ)کلھا مستعملۃ ثم بعد الثالثۃ ان وجدت منہ النیۃ یصیر مستعملا وان عـــہ۲ لم توجد لا اھ ومثلہ عنہ فی خزانۃ المفتین مع التصریح بتصحیح قول محمد المذکور ورأیت ایضا فیہ التصریح بارادۃ الثلثۃ کما زدتہ(۱)توضیحا وزاد وکذلک فی الوضوء اھ ثم رأیت فی المنحۃ عن السراج الوھاج ایضا التصریح باستعمال ثلث دون مابعدھا الا بالنیۃ وھو ظاھر وفیہ من ابحاث الماء المقید صرحوا بان الجنب اذا نزل فی البئر بقصد الاغتسال یفسد الماء عند الکل صرح بہ الاکمل وصاحب معراج الدرایۃ وغیرھما اھ وفیہ
آدمی پاک ہے اور پانی پاک تو ہے مگر پاک کرنے والا نہیں اھ اور اسی میں ہے اگر کسی نے غسل کیلئے غوطہ لگایا تو پانی اتفاقا مستعمل ہوجائے گا اور حدث کا حکم جنابت والا ہی ہے اس کو بدائع میں ذکر کیا اھ اور اسی میں ہے کہ یہی حکم حائض اور نفاس والی عورت کا ہے جس کا خون منقطع ہوچکا ہو اور انقطاع خون سے قبل تو وہ دونوں اس پاک شخص کی طرح ہیں جس نے ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے غوطہ لگایا تو پانی مستعمل نہ ہوگا فتاوی قاضی خان اور خلاصہ میں یہی ہے اھ۔ اور اسی میں ہے کہ قاضی اسبیجابی نے شرح مختصر طحاوی میں فرمایا کہ ایک جنب شخص نے ایک کنویں میں غسل کیا اور پھر دوسرے کنویں میں یہاں تک کہ دس کنوؤں میں غسل کیا تو محمد نے فرمایا تیسرے سے پاک نکلے گا پھر اگر اس کے بدن پر نجاست ہو تو تمام پانی نجس ہوجائیں گے(یعنی تینوں)اور اگر نجاست نہ ہو تو تینوں مستعمل ہوجائیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔


عـــہ۱ : اقول بل من الاولی لان التثلیث لیس الاسنۃ فکانہ اراد الطھارۃ المسنونۃ ثم لا یخفی التقیید بالمضمضۃ والاستنشاق اھ منہ۔
عـــہ۲ : اقول ان لم یحدث بعد الثالثۃ کما لایخفی اھ منہ
میں کہتا ہوں بلالکہ پہلے سے کیونکہ تثلیث تو سنت ہے گویا انہوں نے مسنون طہارت کا ارادہ کیا ہے پھر مضمضہ اور استنشاق کی قید لگانا مخفی نہیں اھ۔ ت
میں کہتا ہوں اگر تیسرے کے بعد حدث لاحق نہ ہوا ہو جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۹
بحرالرائق الماء المقید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
#12133 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
وکذا صرحوا ان الماء یفسد اذا ادخل الکف فیہ وممن صرح بہ صاحب المبتغی بالغین المعجمۃ ا اھ وفیہ قال الاسبیجابی والو لوالجی فی فتاواہ جنب اغتسل فی بئر ثم بئر الی اخر ماتقدم اھ وفیہ قال الامام القاضی ابو زید الدبو سی فی الاسرار ان محمد ا یقول لما اغتسل فی الماء القلیل صار الکل مستعملا حکما اھ فھذہ العبارۃ کشف اللبس واوضحت کل تخمین وحدس اھ ولنقتصر علی ھذا القدر خاتمین بما اعترف البحر انہ کشف اللبس وازاح الحدس وھی کما تری نصوص صرائح تفید ان ملاقاۃ الماء القلیل لعضو علیہ حدث یجعلہ مستعملا سواء وردالماء علی العضو اوالعضو علی الماء علی سبیل النجاسۃ الحقیقیۃ فالماء نجس سواء وردت ھی علی الماء اوالماء علیھا وبالجملۃ کانت الفروع٭تأتی علی ھذا السنن المطبوع٭ والاقوال٭تنسج علی ھذا المنوال٭الی ان جاء الدور بتلامذۃ الامام المحقق علی الاطلاق٭ و دارت مسألۃ التوضی فی الفساقی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر اگر تیسرے کنویں کے بعد اس نے نیت کی تو پانی مستعمل ہوجائے گا اگر نیت نہ کی تو مستعمل نہ ہوگا اور اسی کی مثل ان سے منقول ہے اور خزانۃ المفتین میں محمد کا مذکور قول صحیح قرار دیا گیا ہے اور اس میں میں نے تین کے ارادہ کی تصریح دیکھی ہے جس طرح میں نے اس کی وضاحت بخوبی کردی ہے اور اسی طرح انہوں نے وضو میں اضافہ کیا ہے اور پھر میں نے منحہ میں سراج وہاج سے اس امر کی تصریح دیکھی کہ صرف تین مستعمل ہوں گے نہ کہ ان کے بعد والے اور یہ ظاہر ہے اور اس میں ماء مقید کی ابحاث سے ہے اور انہوں نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ جنب جب کنویں میں اترے اور غسل کا ارادہ کرے تو سب کے نزدیک پانی مستعمل ہوجائے گا اس کی تصریح اکمل صاحب معراج الدرایہ اور دوسرے علماءنے کی ہے اھ ۔ اور اسی میں ہے اسی طرح فقہاء نے تصریح کی ہے کہ جب کوئی شخص پانی میں ہتھیلی ڈال دے تو پانی مستعمل ہوجائے گا اور اس کی تصریح صاحب مبتغی نے کی ہے(غین معجمہ سے)اھ اور اسی میں ہے کہ اسبیجابے اور ولوالجی نے اپنے فتاوی میں فرمایا کہ ایک جنب ایک کنویں میں غسل کیلئے اترا پھر دوسرے میں اترا
حوالہ / References فتح القدیر کتاب الطہارت نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۶
بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱ ، ۹۹
بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
#12134 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الصغار بین الحذاق ۔ فافتی العلامۃ زین الدین قاسم بن قطلو بغا بالجواز والف رسالۃ سماھا رفع الاشتباہ عن مسألۃ المیاہ وخالفہ تلمیذہ العلامۃ عبدالبربن الشحنۃ وصنف رسالۃ سماھا زھرالروض فی مسألۃ الحوض
والامام ابن امیرالحاج فی الحلیۃ ایضامیل الی شیئ مما اعتمدہ العلامۃ قاسم وھم جمیعا من جلۃ اصحاب الامام ابن الھمام علیھم رحمۃ الملک المنعام ثم جاء المحقق زین بن نجیم صاحب البحر رحمہ الله تعالی فانتصر الزین للزین ونمق رسالۃ سماھا الخیر الباقی فی جواز الوضوء من الفساقی ثم تتابع المتاخرون علی اتباعہ کالنھر والمنح والدر وذکر فی الخزائن ان لہ رسالۃ فیہ والعلامۃ الباقانی والشیخ اسمعیل النابلسی وولدہ العارف بالله سیدی عبدالغنی ومحشی الاشباہ شرف الدین الغزی فیما ذکرہ المدقق العلائی بلاغا وکذا بعض مشائخ الشامی والسادات الثلثۃ ابو السعود الازھری وط وش میلا مع تردد والیہ یمیل کلام العلامۃ نوح افندی ووافق
الی آخر ماتقدم۔ اور اسی میں ہے کہ امام قاضی ابو زید الدبوسی نے اسرار میں فرمایا کہ محمد فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص نے تھوڑے پانی میں غسل کیا تو کل پانی حکما مستعمل ہوجائے گا اھ اس عبارت نے کل معاملہ وضاحت سے کھول کر رکھ دیا ہے اھ ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں اور اختتام پر بحر کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ابہام کو رفع کردیاہے اور جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں یہ صریح نصوص ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ تھوڑے سے پانی کا عضو سے ملنا جس پر حدث ہے پانی کو مستعمل بنا دیتا ہے خواہ پانی عضو پر وارد ہو یا عضو پانی پر وارد ہو اور اگر یہ پانی نجس عضو پر آئے خواہ پانی عضو پر یا عضو پانی پر تو پانی نجس ہوجائے گا۔ خلاصہ کلام یہ کہ مسئلہ کی فروع کو اس انداز سے بیان کیا گیا ہے اور اس قسم کے اقوال علماء وفقہاء کے ذکر کئے گئے ہیں پھر جب محقق علی الاطلاق کے شاگردوں کا دور آیا اور چھوٹے حوضوں میں وضو کا مسئلہ ماہرین کے درمیان زیر بحث آیا تو علامہ زین الدین قاسم بن قطلو بغانے جواز کا فتوی دیا اور ایک رسالہ لکھا جس کا نام “ رفع الاشتباہ عن مسئلۃ المیاہ “ ہےاس پر ان کے شاگرد علامہ عبدالبربن الشحنہ نے ان کی مخالفت کی اور ایک رسالہ “ زھر الروض فی مسئلۃ الحوض “ لکھا۔ امام ابن الحاج نے حلیہ میں علامہ قاسم کی طرف کچھ میلان کیا ہے یہ تمام کے تمام
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۲
بحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۲
#12135 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
العلامۃ ابن الشحنۃ منھم العلامۃ ابن الشلبی وبہ افتی والمحقق علی المقدسی والعلامۃ حسن الشرنبلالی ۔
قلت : والیہ یرشد کلام المحقق فی الفتح وقد علمت انھا الجادۃ المسلوکۃ الی زمن العلامۃ قاسم والمروی عن جمیع اصحابنا وعن ائمتنا الثلثۃ عینا ولم یخالفھا احد ممن تقدمہ غیر الامام صاحب البدائع فی جدل وتعلیل اما عند ذکر الاحکام فھو مع الجمھور وکذلک قدمنا عن عدۃ من ھؤلاء المتأخرین خلاف ما مالوا الیہ اماما نسب الی العلامۃ قارئ الھدایۃ فلا یتم کما ستعرف ان شاء الله تعالی وبالجملۃ فالمسألۃ ذات معترک عظیم والرسائل الثلث جمیعا بحمدالله
تعالی عندی وھانا الخصھا لک مع مالھا وعلیھا اجمالا مفصلا وبالله التوفیق فلنوزع الکلام علی اربعۃ فصول
ابن ہمام کے جلیل القدر تلامذہ ہیں پھر ابن نجیم صاحب بحر آئے اور انہوں نے زین کی مدد کی اور ایک رسالہ لکھا جس کا نام “ الخیر الباقی فی جواز الوضوء من الفساقی “ ہے پھر متاخرین نے پے درپے اس مسئلہ پر کلام کیا اور ان کی پیروی کی مثلا نہر منح درر اور خزائن میں ہے کہ انہوں نے اس پر ایک رسالہ لکھا ہے اور علامہ باقانی شیخ اسماعیل نابلسی اور ان کے صاحبزادہ عارف باللہ عبدالغنی نابلسی اور اشباہ کے محشی شرف الدین الغزی بقول مدقق علائی بطور بلاغ اور اسی طرح بعض مشائخ شامی اور سادات ثلثہ ابو السعود الازہری 'ط' اور 'ش' کا اس طرف میلان ہے کچھ تردد بھی کیا ہے اور اسی طرف علامہ نوح آفندی کا کلام ہے اور علامہ ابن الشحنہ نے موافقت کی اور علامہ ابن شلبی نے بھی موافقت کی اور اسی پر فتوی دیا اور محقق علی المقدسی اور علامہ حسن شرنبلالی نے بھی یہی فرمایا۔ (ت)
میں کہتا ہوں محقق کا کلام فتح میں اسی طرف رہنمائی کرتا ہے اور آپ جان چکے ہیں کہ علامہ ابن قاسم کے زمانہ تک یہی روش رہی اور یہی ہمارے تمام اصحاب اور ائمہ ثلثہ سے منقول ہے اور متقدمین میں سے سوائے صاحب بدائع کے کسی اور نے مخالفت نہ کی جدل اور تعلیل میں اور احکام کے ذکر کے وقت وہ جمہور کے ساتھ ہیں اور اسی طرح ہم بہت سے متاخرین سے ان کے خلاف نقل کر چکے ہیں اور جو علامہ قارئ الہدایہ کی طرف منسوب ہے وہ ثابت نہیں جیسا کہ آپ عنقریب جان لیں گے ان شاءاللہ عز وجل اور خلاصہ یہ ہے کہ مسئلہ بہت معرکہ کا ہے اور تینوں رسائل بحمداللہ میرے پاس ہیں جن کا خلاصہ میں آپ کے سامنے مالہا وما علیہا کے ساتھ پیش کرتا ہوں یہ کلام چار فصول پر مشتمل ہے۔
#12136 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الفصل الاول فی کلام العلامۃ قاسم
رسالتہ رحمۃ الله تعالی نحو کراسۃ اطال فیھا الکلام فی حدالماء الکثیر وحقق(۱)ان جمیع جوانبہ سواء فی جواز الطھارۃ سواء کانت النجاسۃ مرئیۃ اولا واکثر من الرد علی شرح المختار والتحفۃ والبدائع حتی تجاوز الی المؤاخذات اللفظیۃ ولسنا الان بصدد ذلک وانما یتعلق منھا بغرضنا نحو ورقۃ فی اخرھا ذکر فیھا الماء المستعمل وانہ لایغیر الماء مالم یغلب علیہ واختار التسویۃ فی ذلک بین الملقی والملاقی ای کما ان الماء المستعمل لوالقی فی حوض اوجرۃ وکان ماء الجرۃ اکثر منہ جازالطھارۃ بہ علی ماھو الصحیح المعتمد وعلیہ عامۃ العلماء کذلک ان ادخل المحدث اوالجنب یدہ مثلا فی جرۃ لم یتغیر ماؤھا لان المستعمل منہ مالاقی بدنہ وھو اقل بالنسبۃ الی الباقی واحتج علی ذلک بثلثۃ اشیاء الاول کلام البدائع حیث قال فی الکلام علی حدیث لایبولن احدکم فے الماء الدائم(ای حین استدل بہ للامام علی نجاسۃ الماء المستعمل)لایقال انہ نھی(ای عن الاغتسال فیہ لالان المستعمل نجس بل)لما فیہ من(۲)اخراج الماء من ان یکون مطھرا من غیر ضرورۃ وذلک حرام لانانقول الماء القلیل انما یخرج عن کونہ مطھرا باختلاط غیر المطھر بہ اذاکان غیر المطھر غالبا کماء الورد واللبن ونحو
پہلی فصل علامہ قاسم کا کلام :
علامہ قاسم کا رسالہ تقریبا ایک کاپی ہے جس میں “ ماء کثیر “ کی
تعریف پر انہوں نے مفصل گفتگو کی ہے اور تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ اس کے تمام کنارے برابر ہیں طہارت کے جواز میں خواہ نجاست نظر آنے والی ہو یا نہ ہو اور شرح مختار تحفہ بدائع وغیرہ پر کافی رد کیا یہاں تک کہ لفظی گرفت سے بھی نہ چوکے۔ ہم اس وقت یہ چیزیں بیان کرنا نہیں چاہتے ہماری غرض اس رسالہ کے آخری ورق سے متعلق ہے جس میں انہوں نے ماء مستعل کے مسائل بیان کیے ہیں اور یہ کہ وہ پانی کو اس وقت تک تبدیل نہیں کرتا ہے جب تک وہ اس پر غالب نہ آجائے اور انہوں نے اس سلسلہ میں ملقی اور ملاقی کو برابر قرار دیا ہے یعنی جس طرح مستعمل پانی اگر کسی حوض یا ٹھلیا میں ڈالا جائے اور ٹھلیا کا پانی مستعمل پانی سے زیادہ ہو تو اس سے طہارت حاصل کرنا جائز ہے۔ صحیح معتمد قول یہی ہے اور عام علماء کا یہی قول ہے اور اسی طرح اگر محدث یا ناپاک نے اپنا ہاتھ کسی ٹھلیا میں ڈالا تو پانی متغیر نہ ہوگا کیونکہ اس میں سے مستعمل وہ ہے جو اس کے بدن سے ملا اور بہ نسبت باقی کے کمتر ہے اس پر تین چیزوں سے استدلال کیاہے :
اول صاحب بدائع نے “ لایبولن احدکم فی الماء الدائم “ (ٹھہرے پانی میں کوئی پیشاب نہ کرے)پر کلام کرتے ہوئے فرمایا(یعنی جب امام نے اس سے مستعمل پانی کی نجاست پر استدلال کیا)یہ نہ کہا جائے کہ یہ نہی ہے(یعنی اس میں غسل کرنے سے اس لئے نہیں کہ مستعمل نجس ہے بلالکہ)کیونکہ اس میں پانی کو بلا ضرورت مطہر
#12137 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
ذلک فاما ان یکون مغلوبا فلا وھھنا الماء المستعمل مایلاقی البدن ولا شک ان ذلک اقل من غیر المستعمل فکیف یخرج بہ من ان یکون مطھرا انتھی۔
قلت : وتمامہ فاما ملاقاۃ النجس الطاھر فتوجب تنجیس الطاھر وان لم یغلب علی الطاھر لاختلاطہ بالطاھر علی وجہ لایمکن التمییز بینھما فیحکم بنجاسۃ الکل اھ۔ قال وقال فی موضع اخر(ای بعدہ بورقات)فیمن وقع فی البئر فان کان علی بدنہ نجاسۃ حکمیۃ بان کان محدثا اوجنبا اوحائضا اونفساء(ای وقد انقطعا من جعلھا مستعملا وجعل المستعمل طاھرا(یرید محمدا رحمہ الله تعالی)لان غیرالمستعمل اکثر فلا یخرج عن کونہ طھورا مالم یکن المستعمل غالبا علیہ عنھما)فعلی قول من لا یجعل ھذا الماء مستعملا(قلت یرید الامام ابا یوسف رحمہ الله تعالی لاشتراطہ الصب)لاینزح شیئ لانہ طھور وکذا علی قول کما لوصب اللبن فی البئر بالاجماع اوبالت شاۃ فیھا عند محمد رحمہ الله تعالی انتھی۔
ہونے سے خارج کرنا ہے اور یہ حرام ہے کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ ماء قلیل مطہر ہونے سے اس لئے خارج ہوجاتا ہے کہ وہ غیر مطہر پانی سے ملتا ہے مگر یہ اس وقت ہوگا جب غیر مطہر غالب ہو مثلا گلاب کا پانی اور دودھ وغیرہ اور اگر مطلوب ہو تو نہ ہوگا اور یہاں مستعمل پانی وہ ہے جو بدن سے ملاتی ہوتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ یہ غیر مستعمل سے کم ہے تو اس کی وجہ سے مطہر ہونے سے کیسے خارج ہوگا انتہی۔
میں کہتا ہوں مکمل اس طرح ہے اور نجس کا طاہر کو ملاقی ہونا طاہر کو نجس کردیتا ہے اگرچہ طاہر پر غالب نہ ہو کیونکہ وہ طاہر سے اس طور پر مل گیا ہے کہ دونوں میں امتیاز ممکن نہیں رہا ہے تو کل کی نجاست کا حکم کیا جائے گا اھ۔ کہا اور دوسرے مقام پر فرمایا(یعنی اس کے کچھ ورق بعد)اس شخص کی بابت جو کنویں میں گر پڑا تو اگر اس کے بدن پر نجاست حکمیہ ہو مثلا یہ کہ وہ بے وضو یا جنب یا حیض ونفاس والی عورت ہو(یعنی ان دونوں عورتوں کی ناپاکی ختم ہوچکی ہو)تو اس کے قول پر جو پانی کو مستعمل قرار نہیں دیتا ہے(میں کہتا ہوں اس سے ان کی مراد امام ابو یوسف ہیں جن کے نزدیک بہانا شرط ہے)کنویں سے کچھ بھی نہیں نکالا جائے گا کیونکہ وہ پاک کرنے والا ہے اور اسی طرح ان کے قول پر جو پانی کو مستعمل کہتے ہیں اور مستعمل کو پاک کہتے ہیں(امام محمدمراد ہیں) کیونکہ غیر مستعمل زائد ہے تو ظہور ہونے سے اس وقت تک خارج نہ ہوگا جب تک مستعمل پانی غالب نہ ہوجائے مثلا دودھ کنویں میں ڈال دیا جائے
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۷
بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۷
بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۷
#12138 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
قلت : وتمامہ واما علی قول من جعل ھذا الماء مستعملا وجعل الماء المستعمل نجسا(یرید الامام رضی الله تعالی عنہ علی روایۃ الحسن بن زیاد رحمہ الله تعالی عنہ نجاسۃ الماء المستعمل وان کانت روایتہ عنہ رضی الله تعالی عنہ فی خصوص المسألۃ ماسیذکرہ)ینزح ماء البئرکلہ کما لووقعت فیھا قطرۃ من دم اوخمر وروی الحسن عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ انہ ان کان محدثا ینزح اربعون وان کان جنبا ینزح کلہ وھذہ الروایۃ مشکلۃ لانہ لا یخلو اما ان صار ھذا الماء مستعملا اولا فان لم یصر مستعملا لایجب نزح شیئ لانہ بقی طھورا کما کان وان صار مستعملا فالماء المستعمل عند الحسن نجس نجاسۃ غلیظۃ فینبغی ان یجب نزح جمیع الماء اھ۔ وانما ننقل ھذہ التمامات لفوائد ستعرفھا بعون الله تعالی قال وقال فی موضع اخر(ای قبل ھذا باوراق وبعد الاول بقلیل)لواختلط الماء المستعمل بالماء القلیل قال بعضھم لایجوز التوضی بہ وان قل وھذا فاسد اما عند محمد رحمہ الله تعالی فلانہ طاھر لم یغلب علی الماء المطلق فلا یغیرہ عن صفۃ
اور یہ بالاجماع ہے یا بکری نے کنویں میں پیشاب کردیا امام محمد کے نزدیک انتہی۔
میں کہتا ہوں اس کا مکمل یہ ہے کہ اور ان لوگوں کے قول پر جنہوں نے اس پانی کو مستعمل قرار دیا ہے اور مستعمل پانی کو نجس قرار دیا ہے(اس سے مراد امام ابو حنیفہ ہیں بروایت حسن بن زیاد کہ مستعمل پانی نجس ہوگا اگرچہ حسن کی روایت ابو حنیفہ سے خاص اسی مسئلہ میں ہے کہ جیسا وہ ذکر کریں گے)کنویں کا کل پانی نکالا جائے گا جیسے کہ کنویں میں خون یا شراب کا قطرہ گر جائے اور حسن نے ابو حنیفہ سے روایت کی کہ اگر بے وضو ہو تو چالیس ڈول پانی نکالا جائے گا اور اگر جنب ہو تو کل پانی نکالا جائے گا اور یہ روایت مشکل ہے کہ یا تو یہ پانی مستعمل ہوگا یا نہیں تو اگر مستعمل نہیں ہے تو کچھ بھی پانی نہ نکالا جائے گا کیونکہ وہ بدستور پاک ہے جیسا کہ تھا اور اگر مستعمل ہوگیا تو حسن کے نزدیک مستعمل پانی نجاست غلیظہ ہے تو کنویں کا کل پانی نکالنا چاہئے اھ یہ جو کچھ ہم نے نقل کیا ہے ان فوائد کی خاطر ہے جن کو آپ ان شاءاللہ عز وجل پہچانیں گے فرمایا اور کہا ایک دوسرے مقام پر(یعنی اس سے چند ورق پہلے اور پہلے سے کچھ بعد)اگر ماء مستعمل تھوڑے پانی میں مل گیا تو بعض کے نزدیک اس سے وضو جائز نہیں خواہ وہ کم ہی کیوں نہ ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ فاسد ہے امام محمد کے نزدیک تو اس لئے کہ یہ پاک ہے اور ماء مطلق پر غالب نہیں ہوا ہے تو اس کو طہوریت کی صفت سے
حوالہ / References بدائع الصنائع بیان مقدار الذی یصیربہ المحل نجسا سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۴
#12139 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الطھوریۃ کاللبن واما عندھما رضی الله تعالی عنہما فلان القلیل مما لایمکن التحرز عنہ یجعل عفوا ثم الکثیر عند محمد مایغلب علی الماء المطلق وعندھما ان یستبین موضع القطرۃ فی الاناء انتھی۔ قال وقد علمت ان الصحیح المفتی بہ روایۃ محمد عن ابی حنیفۃ رحمھما الله تعالی اھ
ای فلا یفسد قلیلہ لان غیر المستعمل اکثر الثانی : قال وقال(۱)محمد فی کتاب الاثار بعد روایۃ حدیث عائشۃ رضی الله تعالی عنہا ولا باس ان یغتسل الرجل مع المرأۃ بدأت قبلہ او بدأ قبلھا قال اذا عرفت ھذا لم تتأخر عن الحکم بصحۃ الوضوءمن الفساقی الموضوعۃ فی المدارس عند عدم غلبۃ الظن بغلبۃ الماء المستعمل او وقوع نجاسۃ فی الصغار منھا قال فان قلت اذا تکرر الاستعمال ھل یمنع قلت الظاھر عدم اعتبار ھذا المعنی فی النجس فکیف بالطاھر قال قال فی المبتغی(وھو الثالث)قوم یتوضؤن صفا علی شاطیئ النھر جاز فکذا فی الحوض لان حکم ماء الحوض فی حکم ماء جار انتھی ۔
تبدیل نہیں کرے گا جیسے دودھ اور شیخین کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ تھوڑے سے بچنا ممکن نہیں اس لئے معاف ہے پھر امام محمد کے نزدیک کثیر وہ ہے جو مطلق پانی پر غالب آجائے۔ اور شیخین کے نزدیک یہ ہے کہ قطرہ کی جگہ برتن میں ظاہر ہوجائے انتہی فرمایا تمہیں معلوم ہوچکا ہے کہ صحیح مفتی بہ محمد کی روایت ابو حنیفہ سے ہے اھ یعنی قلیل پانی کو فاسد نہیں کرتا ہے کیونکہ غیر مستعمل زائد ہے۔
ثانی : فرمایا محمد نے کتاب الاثار میں حضرت عائشہ کی اس حدیث۔ کوئی حرج نہیں کہ مرد عورت کے ساتھ غسل کرے خواہ مرد پہل کرے یا عورت۔ کے بعدفرمایا کہ اس سے بآسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ مدارس میں جو برتن رکھے ہوتے ہیں ان سے غسل کرلینے میں حرج نہیں جبکہ یہ ظن غالب نہ ہو کہ مستعمل پانی غالب ہوگیا ہے یا چھوٹے برتن میں نجاست پڑچکی ہے۔ فرمایا اگر تم یہ کہو کہ جب استعمال بار بار ہو تو کیا وضو یا غسل منع ہے میں کہتا ہوں بظاہر اس وصف کا اعتبار نجس پانی میں نہ ہوگا تو طاہر میں کیسے ہوگا فرمایا کہ انہوں نے مبتغی میں فرمایا(یہ تیسرا ہے)اگر کچھ لوگ صف باندھ کر نہر کے کنارے پر وضو کریں تو جائز ہے حوض کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ حوض کا پانی جاری پانی کے حکم میں ہے انتہی۔
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی الطہارت الحقیقیۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۸
الاشتباہ عن مسألۃ المیاہ
کتاب الاثار باب غسل الرجل والمرأۃ من اناء واحد ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ص۱۰
الاشتباہ عن مسألۃ المیاہ
#12140 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
قلت : ای ان المنع انما یکون لسقوط الغسالۃ فیھا اولادخال المحدثین ایدیھم فیھا والکل غیر مانع علی ماتقرر عندہ ثم اتی باثار بعضھا فی الملاقی وبعضھا فی الملقی فقال وقدروی ابن ابی شیبۃ عن الحسن فی الجنب یدخل یدہ فی الاناء قبل ان یغسلہا قال یتوضؤبہ ان شاء وعن سعید بن المسیب لاباس الجنب عــہ یدہ فی الاناء قبل ان یغسلھا وعن عائشۃ بنت سعد قالت کان سعد یامرالجاریۃ بتناولہ الطھور من الحوض فتغمس یدھا فیھا فیقال انھا حائض فیقول انا حیضتہا وعن عامر قال کان اصحاب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یدخلون ایدیھم فی الاناء وھم جنب والنساء حیض لایرون بذلک بأسا یعنی قبل ان یغسلوھا وعن ابن عباس فی الرجل یغتسل من الجنابۃ فینضح فی انائہ من غسلہ فقال لاباس بہ وعن الحسن وابراھیم والزھری وابی جعفر وابن سیرین نحوہ قال فان قلت فما محمل حدیث لایبولن احدکم فی الماء الدائم ولا یغتسلن
میں کہتا ہوں یعنی منع اس لئے ہے کہ دھوون اس میں گرتا ہے یا اس لئے کہ بے وضو لوگ اس میں اپنے ہاتھ ڈالتے ہیں اور یہ سب غیر مانع ہے جیسا کہ ان کے نزدیک مقرر ہے پھر انہوں نے اس کے بعض اثار ملاقی میں اور بعض ملقی میں ذکر کیے پس فرمایا اور تحقیق ابن ابی شیبہ نے حسن سے جنب کے بارے میں روایت کی جو بے دھوئے اپنا ہاتھ برتن میں ڈالے تو فرمایا اگر چاہے تو اس کے ساتھ وضو کرے اور سعید بن المسیب سے مروی ہے کہ جنب اگر اپنا ہاتھ دھونے سے قبل برتن میں ڈال دے تو حرج نہیں اور عائشہ بنت سعد کہتی ہیں کہ حضرت سعد باندی کو حکم دیتے تھے کہ وہ حوض سے پانی لا کر دے تو وہ حوض میں اپنا ہاتھ ڈبوتی تھی تو کہا جاتا تھا کہ وہ حائضہ ہے تو آپ فرماتے تھے : کیا میں نے اس کو حائضہ کیا ہے اور عامر سے مروی ہے کہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنے ہاتھ پانی میں ڈالتے تھے جبکہ وہ جنب ہوتے تھے اور عورتیں حائض ہوتی تھیں اور یہ لوگ بلا ہاتھ دھوئے پانی میں ڈالنے میں ہرج نہیں سمجھتے تھے اور ابن عباس سے منقول ہے کہ اگر کوئی شخص غسل جنابت کرے اور اس کے چھینٹے برتن میں گریں تو اس میں حرج نہیں اور حسن ابراہیم : زہری

عــہ کذا بالاصل ولعلہ ان یدخل الجنب یدہ منہ۔ (م)
اصل میں اسی طرح ہے شاید یوں ہو “ ان یدخل الجنب یدہ “ ۔ (ت)
حوالہ / References مصنفہ ابن ابی شیبہ فی الرجل یدخل یدہ فی الاناء وہوجنب ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۸۲
مصنفہ ابن ابی شیبہ فی الرجل الجنب یغتسل وینفح من غسلہ فی اناء ایضاً ۱ / ۷۲
#12141 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
فیہ من الجنابۃ قلت استدل بہ الکرخی علی عدم جواز التطہیر بالمستعمل ولا یطابق عمومہ فروعھم المذکورۃ فی الماء الکثیر فیحمل علی الکراھۃ وبذلک اخبر راوی الخبر فاخرج ابن ابی شیبۃ عن جابر بن عبدالله رضی الله تعالی عنہما قال کنا نستحب ان ناخذ من ماء الغدیر ونغتسل بہ ناحیۃ قال وما ذکر من الفروع مخالفا لھذا فبناء علی روایۃ النجاسۃ کقولھم لوادخل جنب اومحدث اوحائض یدہ فی الاناء قبل ان یغسلھا فالقیاس انہ یفسد الماء وفی الاستحسان لایفسد للاحتیاج الی الاغتراف حتی لوادخل رجلہ یفسد الماء لانعدام الحاجۃ ولو ادخلھا فی البئر یفسد لانہ محتاج الی ذلک فی البئر لطلب الدلو فجعل عفوا ولو ادخل فی الاناء اوالبئر بعض جسدہ سوی الید والرجل افسدہ لانہ لاحاجۃ الیہ وامثال ھذہ(ثم ذکر مسائل واثارا لا تتعلق بما نحن فیہ الی ان قال)وعن ابی جریج قال قلت لعطاء رأیت رجلا توضأفی ذلک الحوض متکشفا فقال لاباس بہ قدفعلہ ابن عباس رضی الله تعالی عنہما وقد علم انہ یتوضؤ منہ الابیض
ابو جعفر اور ابن سیرین نے اسی قسم کی روایت کی فرمایا اگر کوئی کہے کہ پھر “ لایبولن احدکم فی الماء الدائم الخ “ حدیث کا کیا مفہوم ہوگا
میں کہتا ہوں کرخی نے اس سے استدلال کیا ہے کہ مستعمل پانی سے طہارت کا حاصل کرنا جائز نہیں ہے لیکن اس کا عموم زائد پانی میں ان کی فروع سے مطابقت نہیں رکھتا پس اسے کراہت پر محمول کیا جائے گا اور راوی حدیث نے یہی خبر دی ہے۔ چنانچہ ابن ابی شیبہ نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی کہ ہم اس امر کو پسند کرتے تھے کہ تالاب سے پانی لے کر ایک کونے میں جاکر غسل کریں فرمایا اور جو فروع اس کی مخالف ہیں تو وہ نجاست کی روایت پر ہیں جیسے کسی جنب یا محدث یا حائض نے اپنا ہاتھ برتن میں بلا دھوئے ڈالا تو قیاس چاہتا ہے کہ پانی خراب ہوجائے اور استحسان کی رو سے فاسد نہ ہوگا کیونکہ چلو بھرنے کی حاجت ہوتی ہے یہاں تک کہ اگر کسی نے برتن میں پیر ڈال دیا تو پانی خراب ہوجائے گا کیونکہ ضرورت نہیں اور اگر پیر کنویں میں ڈالا تو پانی خراب نہ ہوگا کیونکہ کنویں سے ڈول پانی خراب ہوجائے گا کیونکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں نکالنے کیلئے پیر ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے تو اس کو معاف کردیا گیا ہے اور اگر برتن یا کنویں میں ہاتھ پیر کے علاوہ جسم کا اور کوئی حصہ ڈالا تو اور اسی کی مثل دوسری چیزیں ہیں(پھر انہوں نے ایسے مسائل اور آثار ذکر کئے جن کا
حوالہ / References مصنّف ابن ابی شیبۃ من کان یکرہ ان یبول فی الماء الراکد ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۱۴۱
مصنف ابن ابی شیبۃ الرجل ینتہی الی البئر والغدیر وہوجنب ادارۃ القرآن کراچی
بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۹
#12142 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
والاسود وفی روایۃ وکان ینسکب من وضوء الناس فی جوفھا قال وکأنھم رأوا حدیث المستیقظ خاصا بہ او انہ امر تعبدی علی أن ابن ابی شیبۃ قد روی عن أبی معویۃ عن الاعمش عن ابرھیم قال کان اصحاب عبدالله رضی الله تعالی عنہ اذا ذکر عندھم حدیث ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ قالوا کیف یصنع أبو ھریرۃ بالمھراس الذی بالمدینۃ اھ فھذا کل ما أتی ٭بہ فی ھذا الباب فی کتابہ ٭رحمہ الله تعالی فی مابہ۔
اقول : وبالله التوفیق الکلام فیہ من وجوہ الاول(۱)من العجب استنادہ رحمہ الله تعالی بعبارۃ المبتغی فلیس فیھا أثر مما ابتغی لان کلامہ عــہ فی الحوض الکبیر الاتری إلی قولہ إن ماء الحوض فی حکم ماء جار ومعلوم قطعا أن ذلک انما ھوفی الحوض
اس بحث سے تعلق نہیں پھر فرمایا)اور ابن جریج سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے عطا سے کہا کہ ایک شخص نے حوض میں ننگے ہو کر غسل کیا تو انہوں نے کہا اس میں حرج نہیں خود ابن عباس نے ایسا کیا حالانکہ ان کو معلوم تھا کہ اس میں سیاہ وسپید سب ہی غسل کرتے ہیں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اس حوض میں لوگوں کے وضو کا پانی گرتا تھا فرمایا کہ غالبا انہوں نے مستیقظ کی حدیث کو اسی کے ساتھ خاص دیکھا یا یہ کہ یہ امر تعبدی ہے علاوہ ازیں ابن شیبہ نے ابو معویہ سے اعمش سے ابراہیم سے روایت کی کہ ا صحاب عبداللہ کے سامنے جب حضرت ابو ھریرہ کی حدیث کا ذکر آتا تھا تو فرماتے تھے کہ ابو ھریرہ مہراس میں کیا کرتے تھے جو مدینہ میں تھی اھ اس باب میں اس قسم کی چیزیں ذکر کی ہیں۔
میں بتوفیق الہی کہتا ہوں کہ اس میں چند وجوہ سے کلام ہے : اول تعجب ہے کہ انہوں نے مبتغی کی عبارت سے استدلال کیا ہے حالانکہ وہ جو چاہتے تھے اس میں موجود نہیں کیونکہ اس میں وہ بڑے حوض کے بارے میں گفتگو کررہے ہیں جیسا کہ آپ ان کے قول ان ماء الحوض فی حکم ماء جار سے معلوم کرسکتے ہیں اور یہ قطعی معلوم ہے کہ حوض وہی ہوگا جس

عــہ : ثم رأیت التصریح بہ فی کلام شیخہ المحقق علی الاطلاق حیث اورد کلام المبتغی فی مسائل الماء الکثیر ثم قال وانما اراد الحوض الکبیر بالضرورۃ اھ منہ غفرلہ۔ (م)
پھر میں نے اس کی تصریح ان کے شیخ محقق علی الاطلاق کے کلام میں دیکھی جہاں انہوں نے کثیر پانی کے مسائل میں مبتغی کا کلام وارد کیا پھر فرمایا بالضرورۃ اس سے مراد حوض کبیر ہے اھ(ت)
حوالہ / References رسالہ علامہ قاسم
#12143 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الکبیر ذی الماء الکثیر اما الصغیر فکالاوانی وقد قال()العلامۃ نفسہ فی ھذہ الرسالۃ أن ماء الاوانی یتنجس بوقوع النجاسۃ وإن لم یتغیر قال وما کان فی غدیر اومستنقع وھو نحو ماء الاوانی فھو ملحق بھا إذلا اثر للمحل۔ اھ
الثانی(۲)قدمنا فی نمرۃ عن المبتغی التصریح بان الماء یفسد بادخال الکف الثالث(۳)کذلک لاأثر لتأیید شیئ من مقصودہ فی عبارۃ کتاب الاثار فلیس أن الرجل یدخل یدہ فی الاناء قبل الغسل اوالمرأۃ ثم یغتسلان منہ وکیف یظن ھذا برسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم او ام المؤمنین رضی الله تعالی عنھا وانما مراد محمد رحمہ الله تعالی نفی قول من ابطل الوضوء بفضل وضوء المرأۃ مطلقا اواذا کانت جنبا اوحائضا وھما قولان للحنابلۃ والمالکیۃ ولذا قال بدأت قبلہ اوبدأ قبلہا وترجم لہ باب غسل الرجل والمرأۃ من إناء واحد من الجنابۃ ۔ الرابع(۴)قد اوضح رضی الله تعالی عنہ مرادہ الشریف فی مؤطاہ المنیف إذ قال باب الرجل یغتسل اویتوضأ بسور المرأۃ اخبرنا مالک حدثنا نافع عن ابن عمر رضی الله میں پانی بہت زیادہ ہو اور چھوٹا حوض تو برتنوں کی طرح ہے خود علامہ نے اس رسالہ میں فرمایا کہ برتنوں کا پانی نجاست کے گرنے سے نجس ہوجائے گا خواہ اس میں تغیر نہ ہو فرمایا جو پانی تالاب اور گڑھے میں ہو وہ برتنوں کے پانی کے برابر ہو تو وہ بھی برتنوں کے ساتھ ملحق ہے کیونکہ محل کا کوئی اثر نہیں اھ
دوم نمبر ۳۸ میں ہم نے مبتغی کی تصریح کہ پانی ہاتھ ڈالنے سے خراب ہوگا سوم اسی طرح کتاب الآثار سے بھی ان کی تائید نہیں ملتی ہے اس میں یہ نہیں کہ کوئی شخص اپنا ہاتھ دھوئے بغیر برتن میں ڈالے یا عورت ڈالے پھر دونوں اس سے غسل کریں اور اس قسم کا گمان حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ام المومنین حضرت عائشہ سے کیسے ہوسکتا ہے امام محمد کا مقصود تو صرف ان لوگوں کے قول کی تردید ہے جو عورت کے اور اس لئے فرمایا عورت نے مرد سے پہلے یا مرد نے عورت سے پہلے ابتدا کی ہو اور اس کا عنوان یہ قائم کیا “ باب عورت اور مرد کے ایک بچے ہوئے پانی سے مطلق مرد کیلئے وضو کرنے کو باطل قرار دیتے ہیں یا جب عورت جنب یا حائض ہو اوریہی دو قول حنابلالہ ومالکیہ کے ہیں برتن سے غسل جنابت کرنے کے بیان میں “
حوالہ / References رسالہ علامہ قاسم
بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
کتاب الاثار غسل الرجل والمرأۃ من اناء واحد من الجنابۃ ادارۃ القرآن کراچی ص۱۰
#12144 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
تعالی عنھما أنہ قال لاباس بأن یغتسل الرجل بفضل وضوء المرأۃ مالم تکن جنبا اوحائضا قال محمد لابأس بفضل وضوء المرأۃ وغسلھا وسؤرھا وإن کانت جنبا اوحائضا بلغنا أن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کان یغتسل ھو وعائشۃ من إناء واحد یتنازعان الغسل جمیعا فھو فضل غسل المرأۃ الجنب وھو قول ابی حنیفہ رحمہ الله تعالی۔ الخامس : (۱)قدمناعن الائمۃ ابی بکر الرازی وشمس الائمۃ السرخسی والاسبیجابی والولوالجی وابی زید الدبوسی والزیلعی وابن الھمام وغیرھم الجم الغفیر غفرالله تعالی لنابھم وعن الخلاصۃ عن نفس کتاب الاصل لمحمد صرائح نصوصہ فی الحکم بخصوصہ فکیف یحمل ھذا الکلام علی خلاف وبالله التوفیق۔ السادس : (۲)ماذکر رحمہ الله تعالی عن ابن عباس والامام الباقر والحسن البصری وابن سیرین وابراھیم النخعی والزھری رضی الله تعالی عنھم لایمس المقصود لانہ فی الملقی والکلام فی الملاقی۔ السابع : (۳)ماذکر أخرا عن عطاء وابن عباس رضی الله تعالی عنھم فاخرہ فی الملقی ولا حجۃفی اولہ فإنہ ان کان المراد التوضی فی الحوض بحیث تسقط
الغسالۃفیہ کالتوضی فی الطست فھو من الملقی وان کان المراد التوضی بادخال الیدفیہ للاغتراف فقد مر
چہارم : امام محمد نے اپنی مراد کی وضاحت اپنی مؤطا میں کردی ہے فرمایا : باب اس بیان میں کہ مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے۔ ہمیں مالک نے خبر دی ہم سے نافع نے ابن عمر سے روایت کی انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں کہ مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے بشرطیکہ جنب یا حائض نہ ہو۔ محمد نے فرمایا اس میں حرج نہیں کہ عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا جائے خواہ وہ اس کے وضو کا ہو یا غسل کا ہو یا جھوٹا ہو اور خواہ وہ جنب ہو یا حائض ہو ہمیں حدیث پہنچی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور سیدہ عائشہ ایک ہی برتن سے پانی چھین جھپٹ کر غسل کرتے تھے یہ جنب عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کا ثبوت ہے اور یہی ابو حنیفہ کا قول ہے۔
پنجم : ہم نے ابو بکر الرازی شمس الائمہ سرخسی اسبیجابی ولوالجی ابو زید الدبوسی زیلعی ابن الھمام وغیرہم جلیل القدر ائمہ کی ایک عظیم جماعت سے پہلے ہی نقل کیا ہے اور خلاصہ سے امام محمد کی اصل کی تصریح نقل کی ہے کہ اسی میں خاص حکم بیان کیا ہے تو اس کلام کو اس کے خلاف پر کیونکر محمول کیا جاسکتا ہے وبالله التوفیق۔
ششم : انہوں نے جو ابن عباس امام باقر حسن بصری ابن سیرین ابراہیم نخعی اور زہری رضی اللہ تعالی عنہمسے نقل کیا ہے وہ مقصود سے متعلق نہیں کیونکہ وہ ملقی کے بارے میں ہے جبکہ گفتگو ملاقی کی بابت ہے۔
ہفتم : جو آخر میں انہوں نے عطا اور ابن عباس
حوالہ / References موطا امام محمد الرجل یغتسل اویتوضأ بسؤر المرأۃ مجتبائی لاہور ص۸۳
#12145 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
ان ھذا القدر معفو عنہ عند عدم انیۃ وان فرض ان المراد أن یلج الحوض ویتوضأفیہ لم تنتھض أیضا حجۃ إذلیس فیہ بیان قدر الحوض فجاز أن یکون کبیرا۔
الثامن : (۱)کذلک حدیث سعد رضی الله تعالی عنہ فإنہ فی الحیض قبل الانقطاع وقدمنا عن الخانیۃ والخلاصۃ وغیرھما أنھا لاتفسد الماء اذا ذاک لعدم السببین سقوط الفرض واقامۃ القربۃ۔
التاسع : (۲)ماذکرعن عامر فظاھر ان لفظۃ یعنی قبل ان یغسلوھا مدرج فی الحدیث ولا یدری قول من ھو ولاحجۃفی المجہول۔ العاشر : (۳)ماحکی عن الحسن یعارضہ مافی البدائع عنہ فی وقوع قلیل ماء مستعمل فی الماء سئل الحسن البصری عن القلیل فقال ومن یملک نشر الماء وھو ما تطایر منہ عندالوضوء وانتشر اشار الی تعذر التحرز عن القلیل فکان القلیل عفو اولا تعذرفی الکثیر فلا یکون عفوا اھ ھذا کلامہ فی الملقی فکیف فی الملاقی ۔ الحادي عشر : (۴)ما حکی عن سعید فعلی تقدیر الصحۃ عنہ مذھب تابعی فکیف یحتج بہ علی المذھب(۵)وکفی بہ جوابا عن سائر الاثار ۔ الثاني عشر : (۶)کذلک العبارۃ
سے نقل کیا ہے تو اس کا آخری حصہ ملقی میں ہے اور اس کے اول میں کوئی حجت نہیں کیونکہ اگر مراد حوض سے وضو کرنا ہے کہ اس طرح اس کا دھوون حوض میں گرے جیسے طشت میں وضو کیا جاتا ہے تو وہ ملقی سے ہے اور اگر مراد یہ ہو کہ حوض میں ہاتھ ڈال کر چلو بھر کر وضوکیا تو گزر چکا ہے کہ اس قدر کو شرع نے معاف رکھا ہے جبکہ دوسرے برتن نہ ہوں اور اگر مراد یہ ہو کہ حوض میں اتر کر وضو کیا تو بھی حجت قائم نہ ہوگی کیونکہ اس میں حوض کے سائز کا ذکر نہیں پس ممکن ہے کہ حوض بڑا ہو۔
ہشتم : اسی طرح سعد کی حدیث ہے کیونکہ وہ حیض کے منقطع ہونے سے قبل سے متعلق ہے اور ہم نے خانیہ اور خلاصہ وغیرہما سے نقل کیا کہ یہ پانی کو خراب نہیں کرتا کیونکہ دونوں سبب ہی موجود نہیں ہیں نہ تو سقوط فرض ہے اور نہ ہی قربۃ کی ادائیگی ہے۔
نہم : جو عامر سے نقل ہوا تو ظاہر یہ ہے کہ “ قبل ان یغسلوھا “ کا لفظ حدیث میں مندرج ہے اور معلوم نہیں کہ یہ کس کا قول ہے اور مجہول سے استدلال نہیں ہوتا۔
دہم : جو حسن سے نقل کیا گیا ہے وہ اس کے مخالف ہے جو انہی سے بدائع میں نقل کیا گیا ہے یعنی یہ کہ کم پانی میں اگر مستعمل پانی گر جائے تو کیا حکم ہوگا حسن بصری سے کم کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے
حوالہ / References بدائع الصنائع بحث الماء المستعمل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۸
#12146 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الثالثۃ عن البدائع بمعزل عن المقصود فانھافی الملقی ولا کلام فیہ الا تری إلی قولہ ثم الکثیر عند محمد مایغلب علی الماء المطلق وعندھما ان یستبین مواقع القطرفی الاناء اھ ۔
قلت : والوجہ فیہ ان الماء طاھر عند محمد فلا یسلبہ وصف الطھوریۃ مالم یغلب علیہ ونجس عندھمافیما یقال وقطرۃ نجس تنجس کل ماء قلیل غیر ان الذی لایستبین لایعتبر کرشاش البول قدر رؤس الابر فعفی عنہ لعسر التحرز فاین ھذا مما نحن فیہ نعم جل مافی یدہ ماذکر البدائع فی الجدل عن روایۃ ضعیفۃ وتعلیل قول محمدفی مسألۃ جحط ان المستعمل مالاقی البدن وھو اقل من غیرہ۔
اقول : وبالله التوفیق وھو المستعان علی افاضۃ التحقیق ایش انا ومن انا
جواب دیا کہا پانی کے چھینٹوں کا مالک کون ہے تو کم تو تعذر کی وجہ سے معاف ہے مگر زائد میں یہ صورت نہیں تو وہ معاف نہ ہوگا ان کی یہ گفتگو ملقی میں ہے تو ملاقی میں کیا حال ہوگا۔
یا زدہم : جو سعید سے نقل کیا گیا ہے اگر وہ صحیح ہو تو وہ ایک تابعی کا مذہب ہے تو اس سے مذہب پر کیسے استدلال ہوسکتا ہے اور یہی جواب دوسرے آثار میں ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔
دوا زدہم : اس طرح بدائع سے نقل کردہ تیسری عبارت بھی مقصود سے الگ ہے کیونکہ وہ ملقی کی بابت ہے اور اس میں گفتگو نہیں اس میں یہ بھی ہے کہ “ پھر محمد کے نزدیک کثیر وہ ہے جو مطلق پانی پر غالب آجائے اورشیخین کے نزدیک یہ کہ قطروں کی جگہ برتن میں ظاہر ہوجائے اھ۔
میں کہتا ہوں اس میں وجہ یہ ہے کہ محمد کے نزدیک پانی پاک ہے تو ا س کی پاکیزگی کا وصف اس وقت تک اس سے سلب نہ ہوگا جب تک کہ اس پر کوئی نجاست غالب نہ آجائے اور شیخین کے نزدیک نجس ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے اور نجس کا ایک قطرہ ہی تمام قلیل پانی کو نجس کردیتا ہے البتہ جو پانی میں ظاہر نہیں ہوتا وہ معتبر نہیں ہوتا ہے جیسے سوئی کی نوک کے برابر پیشاب کے چھینٹے تو چونکہ اس سے بچنے میں دشواری ہے اس لئے اس کو معاف کردیا گیا تو اس کا ہماری بحث سے کیا تعلق ہے ہاں قابل غور وہ عبارت ہے جو انہوں نے بدائع سے نقل کیا ہے وہ ایک ضعیف روایت پر جھگڑا ہے اور مسئلہ جحط پر محمد کے قول کی توجیہ ہے کہ مستعمل پانی وہ ہے جس کی ملاقات بدن سے ہوئی ہو اور وہ دوسرے سے کم ہے۔ میں کہتا ہوں وبالله التوفیق وھوا لمستعان علی افاضۃ التحقیق میں اورمیری حقیقت کیا جو
حوالہ / References بدائع الصنائع بحث الماء المستعمل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۸
#12147 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
حتی اتکلم بین یدی ھذا الامام الھمام٭ملک العلماء الکرام ٭اعلی الله درجاتہ فی دار السلام ٭و افاض علینا برکاتہ علی الدوام ٭امین ولکن المذھب قد تقرر ٭والنقل الصحیح الصریح عن الائمۃ الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم قد توفر ٭ورأیت ھذا الامام الجلیل قد وافق الاجلۃ الفحول٭فی تلک النقول ٭عند ذکر المنقول ٭وعلمت ان ما یقال فی الجدل ٭اویبدی فی العلل ٭لایقضی علی نصوص المذھب ٭بل ربما لایکون المبدی أیضا الیہ یذھب ٭کما ھو معلوم عند من خدم ھذا الفن المذھب فجرأنی ذلک علی ان اقول وھو :
الثالث عشر : (۱)الامام ملک العلماء قدس سرہ ھو القائل فی بدائعہ بعد ماذکر سقوط حکم الاستعمال فی مواضع الضرورۃ کالیدفی الاناء للاغتراف والرجل فی البئر لطلب الدلو مانصہ ولو ادخل فی الاناء والبئر بعض جسدہ سوی الید و الرجل افسدہ لانہ لاحاجۃ الیہ وعلی ھذا الاصل تخرج مسألۃ البئر اذا انغمس الجنب فیھا لطلب الدلولا بنیۃ الاغتسال ولیس علی بدنہ نجاسۃ حقیقیۃ والجملۃفیہ أن الرجل المنغمس اما أن یکون طاھرا اولم یکن بان کان علی بدن نجاسۃ حقیقیۃ اوحکمیۃ کالجنابۃ والحدث وکل وجہ علی وجہین اما ان ینغمس لطلب الدلو اوالتبرد او الاغتسال وفی المسألۃ حکمان حکم الماء الذی فی البئر وحکم الداخل فیھا فان کان طاھرا
امام ہمام علمائے کرام کے بادشاہ اللہ تعالی جنت میں ان کے درجات بلالند فرمائے ہم ان کی برکتوں سے ہمیشہ مستفید ہوتے رہیں آمین کے سامنے لب کشائی کروں لیکن مذہب ثابت شدہ ہے اور ائمہ ثلثہ کی تصریحات صحیحہ موجود ہیں اور اس امام جلیل القدر نے نقول کی حد تک ان ائمہ سے اتفاق کیا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ ہماری بحثوں سے مذہب کی تصریحات باطل نہیں قرار پاسکتی ہیں جیسا کہ اس فن کے خدام پر واضح ہے اس لئے میں کچھ معروضات پیش کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہوں اور وہ یہ ہیں :
میں کہتا ہوں : سیز دہم : امام ملک العلماء قدس سرہ نے بدائع میں ذکر کیا کہ وہ کون سے مقامات ہیں جہاں ضرورتا پانی کے مستعمل ہونے کا حکم ساقط ہوجاتا ہے جیسے چلو بھرنے کیلئے ہاتھ کا پانی کے برتن میں ڈالنا اور ڈول تلاش کرنے کیلئے پیر کا کنویں میں ڈالنا پھر انہوں نے فرمایا کہ اگر کسی نے برتن یا کنویں میں اپنا جسم کے بعض حصے کو ڈال دیا ہاتھ پیر کے علاوہ تو پانی فاسد ہوجائے گا کیونکہ یہ بے ضرورت ہے اور اسی اصل پر کنویں کے مسئلہ کی تخریج کی جائے گی کہ جنب انسان اس میں ڈول کی تلاش میں اترا ہو بغیر نیت غسل کے بشرطیکہ اس کے جسم پر کوئی حقیقی نجاست موجود نہ ہو اور خلاصہ یہ کہ اس میں بحث یہ ہے کہ یا تو غوطہ لگانے والا پاک ہوگا یا ناپاک ہوگا مثلا یہ کہ اس کے جسم پر حقیقی یا حکمی نجاست موجود ہو جیسے جنابۃ اور حدث اور ہر وجہ کی پھر دو وجہیں ہیں یا تو غوطہ
#12148 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
وانغمس لطلب الدلو اوللتبرد لایصیر مستعملا بالاجماع لعدم ازالۃ الحدث واقامۃ القربۃ وان انغمس فیھا للاغتسال عــــــہ صار الماء مستعملا عند اصحابنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم لوجود اقامۃ القربۃ وعند زفر والشافعی رحمھما الله تعالی لایصیر مستعملا لانعدام ازالۃ الحدث والرجل طاھرفی الوجہین جمیعا اھ۔ فانظر إلی قولہ فی المسألۃ حکمان حکم الماء الذی فی البئر فھل تری ان الذی فی البئر ھو مالاقی سطح بدنہ عند الانغماس کلا بل کل مافی البئر وھو المقصود بیان حکمہ وقد حکم علیہ فی الصورۃ الثانیۃ بانہ صار مستعملا باجماع ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم وفیھم محمد القائل بطھارتہ وقد حکم بانہ بالانغماس سلب ماء البئر طھوریتہ
ڈول کی تلاش میں لگائے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے اور اس مسئلہ میں دو حکم ہیں ایک تو اس پانی کا حکم جو کنوئیں میں ہے اور دوسرے اس شخص کا حکم جو کنویں میں داخل ہوا اگر وہ پاک ہے اور اس نے ڈول نکالنے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے غوطہ لگایا تھا تو پانی بالاتفاق مستعمل نہ ہوگا کیونکہ اس پانی سے نہ تو حدث کا ازالہ کیا گیا ہے اور نہ کوئی قربۃ ادا کی گئی ہے اور اگر اس میں غسل کیلئے غوطہ کھایا تو ہمارے اصحاب ثلثہ کے نزدیک پانی مستعمل ہوجائے گا کیونکہ اس سے قربۃ ادا ہوئی ہے اور زفر اور شافعی رحمہم اللہ تعالیکے نزدیک مستعمل نہ ہوگا کیونکہ اس سے حدث زائل نہیں کیا گیا ہے اور آدمی دونوں صورتوں میں پاک ہے اھ۔ اب ان کے اس قول کو دیکھئے جس میں وہ فرماتے ہیں : کہ مسئلہ میں دو حکم ہیں ایک تو اس پانی کا حکم جو کنویں میں ہے تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کنویں میں وہی پانی ہے جو
(عــہ یرید الاغتسال علی وجہ القربۃ بدلیل التعلیل وھو المرادفی سائر المواضع الاتیۃ دون الاغتسال لازالۃ درن اودفع حر فانہ والتبرد سواء لایفید الاستعمال اذا کان من طاھر لانعدام السببین اھ۔ منہ حفظہ ربہ تبارک وتعالی۔ (م)
علت کے بیان سے معلوم ہوا ہے کہ قربت کے طور پر غسل مراد ہے اور آئندہ تمام مقامات میں یہی مراد ہے میل کو دور کرنے یا گرمی کو دفع کرنے کا غسل مراد نہیں کیونکہ جب طاہر آدمی دفع گرمی اور حصول ٹھنڈک کیلئے غسل کرے تو پانی مستعمل نہ ہوگا کہ دونوں ازالہ حدث اور اقامت قربت نہیں پائے گئے اھ(ت)
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۹
#12149 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
فظھر ان حکم الاستعمال لیسری فی الماء القلیل کلہ سریان حکم النجاسۃ باجماع اصحابنا رضی الله تعالی عنھم فان السریان علی القول بنجاسۃ الماء المستعمل ظاھر لاخلف فیہ وھذا محمد القائل بالطھارۃ قد حکم بالسریان فکان القول بہ مجمعا علیہ ولم یبق لاحد بالخلاف ید ان بل یظن ان ملک العلماء ماش ھہنا علی جعل طہارۃ الماء المستعمل متفقا علیھا بین اصحابنا کما قال(۱)فی البدائع ومشائخ العراق لم یحققوا الخلاف فقالوا انہ طاھر غیر طھور عند اصحابنا رضی الله تعالی عنہم حتی روی عن القاضی ابی حازم العراقی انہ کان یقول انا نرجو ان لاتثبت روایۃ نجاسۃ الماء المستعمل عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ وھو اختیار المحققین من مشائخنا بما وراء النھر اھ۔ وذلک لان سوق کلامہ ھھنا کما قدم لاحاطۃ احکام الماء والرجل فی جمیع الصور المحتملۃ ھنا وقد التزم فی کل صورۃ بیان الخلاف بین ائمتنا الثلثۃ ان کان وفصل فی شقی الطاھر حکم الماء فقال فی الاول لایصیر مستعملا بالاجماع وفی الثانی صار مستعملا عند ائمتنا الثلثۃ خلافا لزفر والشافعی
غوطہ کے وقت سطح بدن سے ملاقی ہوا تھا ہرگز نہیں بلالکہ کنویں کا کل پانی ہے اور اسی کا حکم بیان کرنا مقصود ہے اور دوسری صورت میں اس پر یہی حکم ہوا ہے کہ وہ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک مستعمل ہوگیا ہے ان میں امام محمد بھی شامل ہیں جو اس کی طہارت کے قائل ہیں اور انہوں نے فرمایا کہ غوطہ کی وجہ سے پانی کے پاک کرنے والی صفت سلب ہوگئی ہے تو ظاہر ہوا کہ استعمال کا حکم تھوڑے پانی میں مکمل طور پر جاری ہوتا ہے جیسے کہ نجاست کا حکم اس پر ہمارے اصحاب کا اجماع ہے کیونکہ سرایت کرنا مستعمل پانی کو نجس کہنے کی صورت میں ظاہر ہے اس میں خلاف نہیں اور امام محمد جو پانی کی طہارت کے قائل ہیں سرایت کا حکم دے رہے ہیں تو گویا یہ قول اجماعی ہے اس میں کسی کا خلاف نہیں رہا بلکہ یہاں یہ گمان بھی کیا گیا ہے کہ ملک العلماء نے پانی کے پاک ہونے کو ہمارے اصحاب کے درمیان متفق علیہ قرار دیا ہے جیسا کہ بدائع میں فرمایا ہے اور مشائخ عراق نے اختلاف کی تحقیق نہیں کی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ طاہر تو ہے مگر طاہر کرنے والا نہیں یہ ہمارے اصحاب رضی اللہ تعالی عنہمکے نزدیک ہے یہاں تک کہ قاضی ابو حازم العراقی سے مروی ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ ہمیں توقع ہے کہ مستعمل پانی کی نجاست کی روایت ابو حنیفہ کے نزدیک ثابت نہیں ہے اور یہی ہمارے وراء النہر کے محققین مشائخ کا مختار ہے اھ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۷
#12150 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
بقی علیہ بیان حکم الرجل فی المسئلتین عند ائمتنا فجمعھما وقال الرجل طاھرفی الوجھین جمیعا فکما انہ یستحیل عند الذوق السلیم کون ھذا تتمۃ قول زفر والشافعی فیبقی ساکتا عن بیان حکم الرجل فی الوجہین عند ائمتنا رضی الله تعالی عنھم کذلک یبعد ان یکون ھذا قول بعض دون بعض منھم اذلو کان کذلک لبین الخلاف کما بین فی سائر الصور ولم یأت بہ ھکذا مرسلا لایھام الخلاف اعنی عدم الخلاف مع وجودہ لاسیما مع قرینتی الاجماع والاتفاق فی حکم الماءفی ھذین الوجہین فلا ینقدح فی الذھن الاکونہ وفاقیا بین اصحابنا کقرینتیہ السابقتین وھذا لایتأتی الا علی القول بطھارۃ الماء المستعمل حیث لم یتنجس الماء فلا یحتمل ان ینجس الطاھر بخلاف مااذا قیل بنجاسۃ اذیتطرق القول بان الماء تنجس فنجس فلا یکون الرجل طاھر اوفاقا ۔
فان قلت الیس ان حکم الاستعمال انما یعطی بعد الانفصال والبدن کلہ شیئ واحدفی الاغتسال فمادام فیہ لم یکن مستعملا واذا صار مستعملا لم یکن فیہ فعن ھذا یخرج طاھرا مع نجاسۃ الماء المستعمل عندھمافیما یذکر عنہما قلت بلی ولکن اما یتمشی علی قول الامام اما عند ابی یوسف فیثبت
ان کے کلام کی روش جیسا کہ گزرا پانی کے احکام کے احاطہ کیلئے ہے اور مرد کے احکام کی بابت ہے یہ تمام محتمل صورتوں میں ہے اور انہوں نے یہ التزام کیا ہے کہ ہر صورۃ میں ہمارے ائمہ ثلثہ کا اختلاف بیان کیا ہے اگر واقعۃ اختلاف ہو۔ اور پاک کی دونوں شقوں میں پانی کا حکم تفصیلا ذکر کیا ہے پہلی صورت میں کہا بالاجماع مستعمل نہ ہوگا اور دوسری صورت میں کہا مستعمل ہوگیا ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک اس میں زفر اور شافعی کا خلاف ہے اب ان پر یہ بیان کرنا باقی ہے کہ دونوں مسئلوں میں اس شخص کا حکم ہمارے ائمہ کے نزدیک کیا ہے تو ان دونوں کو جمع کردیا اور فرمایا کہ دونوں صورتوں میں وہ شخص پاک ہے تو جس طرح ذوق سلیم پر یہ گراں ہے کہ اس کو زفر وشافعی کے اقوال کا تتمہ قرار دیا جائے اور مرد کے حکم میں ہمارے ائمہ دونوں صورتوں میں خاموش رہے یوں یہ بعید ہے کہ یہ قول بعض کا ہو اور بعض کا نہ ہو اس لئے کہ اگر ایسا ہوتا تو وہ اختلاف کو ضرور بیان کرتے جیسا کہ تمام صورتوں میں بیان کیا ہے لیکن اس کو انہوں نے اس طرح مطلق ذکر نہ کیا تاکہ خلاف کا ایہام ہو یعنی عدم خلاف مع وجود خلاف بالخصوص جبکہ دو قرینے اجماع اور اتفاق کے اس امر پر موجود ہیں کہ دونوں صورتوں میں پانی کا حکم کیا ہے لہذا ذہن میں جو خلش ہے وہ اس کی ہے کہ یہ مسئلہ ہمارے اصحاب کے درمیان اتفاقی ہے جیسے اس کے دو سابقہ قرینے ہیں اور یہ اسی صورت میں ہوگا جبکہ مستعمل پانی کی طہارت کا قول کیا جائے اس لئے کہ پانی نجس نہیں ہوا تو یہ احتمال نہیں ہے
#12151 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
حکم الاستعمال باول ملاقاۃ البدن الماء قال فی البدائع ابویوسف یقول ان ملاقاۃ اول عضو المحدث الماء یوجب صیرورتہ مستعملا فکذا ملاقاۃ اول عضو الطاھر الماء علی قصد اقامۃ القربۃ واذا صار الماء مستعمل باول الملاقاۃ لا تتحقق طھارۃ بقیۃ الاعضاء بالماء المستعمل اھ۔ فکیف یقول الماء مستعمل والرجل طاھر وقد قال فی البدائع ان کان علی یدہ نجاسۃ حکمیۃ فقط فان ادخلھالطلب الدلوا والتبرد یخرج من الاول(ای الماء الاول فان المسألۃ مفروضۃفی الانغماس فی عدۃ میاہ)طاھرا عند ابی حنیفۃ و محمد رحمہما الله تعالی ھو الصحیح لزوال الجنابۃبالانغماس مرۃ واحدۃ وعند ابی یوسف ھو نجس ولا یخرج طاھرا ابدا اھ۔ فان حملتہ ھنا علی حال الضرورۃ لقول البدائع اما ابو یوسف فقد ترک اصلہ عند الضرورۃ علی مایذکر وروی بشر عنہ ان المیاہ کلہا نجسۃ وھو قیاس مذھبہ اھ۔
دفعـہ۸۰۹ ان مامر ھھنا ان الماء مستعمل والرجل طاھر عکس مایقول بہ الامام الثانی حال الضرورۃ الا تری ان مذھبہ فی مسألۃ البئر
کہ وہ پاک کو نجس بنا دے بخلاف اس صورت کے کہ پانی کو نجس کہا جائے کہ اس صورت میں کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ پانی نجس ہوگیا ہے اس لئے اس نے طاہر کو نجس کردیا تو مرد بالاتفاق پاک نہ ہوگا۔ اگر تو یہ کہے کہ آیا یہ بات درست نہیں کہ پانی پر مستعمل ہونے کا حکم اسی وقت لگایا جائیگا جب وہ بدن سے جدا ہو اور بدن غسل کی صورت میں شیئ واحد ہے تو جب تک پانی بدن پر رہے گا مستعمل نہ ہوگا اور جو مستعمل ہوگا تو بدن پر نہ رہے گا اسی وجہ سے وہ شخص پاک ہوجاتا ہے اور پانی شیخین کے نزدیک نجس ہوجاتا ہے جیسا کہ شیخین کی بابت مشہور ہے۔ میں کہتا ہوں یہ درست ہے مگر یہ صرف امام ابو حنیفہ کے قول پر چل سکتا ہے کیونکہ ابو یوسف کے نزدیک پانی کے مستعمل ہونے کا حکم بدن سے پہلی ملاقات ہی میں دے دیا جائیگا بدائع میں ہے ابو یوسف نے فرمایا محدث کے پہلے عضو سے ملتے ہی پانی مستعمل ہوجاتا ہے اور اسی طرح پاک آدمی کے کسی عضو کا بہ نیت ادائیگی قربۃ پانی کو لگنا پانی کو مستعمل بنا دیتا ہے اور جب پانی پہلی ملاقات ہی سے مستعمل ہوگیا تو باقی اعضاء کی طہارت پانی سے نہیں ہوسکتی ہے اھ تو پھر وہ کس طرح فرماتے ہیں کہ پانی مستعمل ہوگیا اور مرد پاک ہے۔ اور بدائع میں فرمایا کہ اگر اس کے ہاتھ پر صرف نجاست حکمیہ ہے پھر وہ
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
#12152 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
جحط الحاء ای ان الماء طاھر علی حالہ والرجل لم یطھر کما کان قال فی البدائع ابو یوسف یقول یجب العمل بھذا الاصل ای ماتقدم من ثبوت الحکم باول اللقاء)الا عند الضرورۃ کالجنب والمحدث اذا ادخل یدہ فی الاناء لاغتراف الماء لایصیر مستعملا ولا یزول الحدث الی الماء لمکان الضرورۃ لان ھذا الماء لوصار مستعملا انما یصیر مستعملا بازالۃ الحدث ولو ازال الحدث لتنجس ولو تنجس لایزیل الحدث واذا لم یزل الحدث بقی طاھرا واذ بقی طاھرا یزیل الحدث فیقع الدور فقطعنا الدور من الابتداء فقلنا انہ لایزیل الحدث عنہ فبقی ھو بحالہ والماء علی حالہ اھ۔ وبالجملۃ لااستقامۃ لہذا علی قول ابی یوسف اصلا الابان یقال انہ مبنی علی طہارۃ الماء المستعمل عندھم جمیعاوھو قول صحیح قد قواہ ملک العلماء وجعلہ مختار المحققین وان مشی فی مواضع کثیرۃ علی نسبۃ التنجیس الی الشیخین کما اشتھر فعلی ھذا تکون المسألۃ نصا عن ائمتنا الثلثۃ علی سریان حکم الاستعمال الی جمیع الماء مع طھارتہ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
اس کو کنویں میں ڈول نکالنے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے داخل کرتا ہے تو وہ اول(یعنی پہلا پانی کیونکہ مسئلہ اس مفروضہ پر ہے کہ کئی پانیوں میں ہاتھ ڈبویا)سے پاک نکلے گا یہ ابو حنیفہ اور محمد کے نزدیک ہے یہی صحیح ہے کیونکہ جنابت ایک ہی مرتبہ ڈبونے سے زائل ہوگئی اور ابو یوسف کے نزدیک وہ نجس ہے اور وہ کبھی پاک نہ ہوگا۔ اگر آپ اس کو یہاں ضرورت پر محمول کریں کیونکہ بدائع میں ہے “ بہرحال ابو یوسف نے اپنی اصل کو ضرورت کے وقت ترک کیا ہے جیسا کہ ان سے مروی ہے اور بشر نے ان سے روایت کی ہے کہ سب کے سب پانی نجس ہیں اور یہی چیز ان کے مذہب سے لگا کھاتی ہے۔
دفعہ ۸۰۹ : جو یہاں گزرا کہ پانی مستعمل ہے اور آدمی پاک ہے امام ثانی کے قول کے برعکس ہے ضرورت کی حالت میں کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ان کا مذہب کنویں کے مسئلہ “ جحط “ میں “ ح “ ہے یعنی پانی اپنی سابقہ حالت پر پاک ہے اور انسان بھی جیسا کہ پہلے تھا ناپاک ہے۔ بدائع میں فرمایا ابو یوسف فرماتے ہیں اس اصل پر عمل لازم ہے(یعنی یہ کہ پہلی ملاقات ہی میں حکم ثابت ہوجاتا ہے)ہاں ضرورت کے وقت اس کو ترک بھی کرسکتے ہیں جیسے جنب اور بے وضوجب برتن میں سے پانی لینے کیلئے اپنے ہاتھ ڈبوئیں تو پانی مستعمل نہ ہوگا اور حدث بھی زائل نہ ہوگا کیونکہ یہاں ضرورت موجود ہے کیونکہ یہ پانی اگر مستعمل ہوتا تو حدث کے زائل کرنے کی وجہ سے ہوتا اور اگر یہ حدث کو زائل کرتا تو ناپاک ہوجاتا اور
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
#12153 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الرابع عشر : (۱) ثم قال قدس سرہ فی من انغمس فی ثلثۃ ابار واکثر عندھما(ای الطرفین رضی الله تعالی عنہما)ان انغمس لطلب الدلواوالتبرد فالمیاہ باقیۃ علی حالھا وان کان الانغماس للاغتسال فالماء الرابع فصاعدا مستعمل لوجود اقامۃ القربۃ اھ۔ فانظر علی ای شیئ حکم بکونہ مستعملا الماء الرابع فصاعد الا خصوص مالاقی منہ سطح البدن۔
قلت والمعنی جمیع المیاہ من اولہا وانما خص الرابع فما فوقہ بالذکر دفعا لتوھم انہ یقتصر حکم الاستعمال علی المیاہ الثلثۃ الاول اذ لاقربۃ بعد التثلیث فالرابع وما بعدہ لایصیر مستعملا لعدم السببین فنبہ علی بطلانہ بان ذلک عند اتحاد المجلس ولا مساغ لہ فی باب الابار
اگر ناپاک ہوتا تو حدث کو زائل نہ کرتا اور جب حدث کو زائل نہیں کیا تو پاک رہا اور جب پاک رہا تو حدث کو زائل کرے گا تو دور لازم آئے گا تو ہم نے دور کو ابتداء ہی سے قطع کیا اور وہ اس طرح کہ یہ پانی حدث کو زائل نہیں کرتا ہے تو انسان اپنی حالت پر رہا اور پانی اپنی حالت پر رہا اھ۔ خلاصہ یہ کہ ابو یوسف کے قول پر یہ قول کسی طرح درست نہیں بیٹھتا ہے اس کی محض ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ پانی ان تمام ائمہ کے نزدیک پاک ہے اور یہی قول صحیح ہے اس کو ملک العلماء نے قوی قرار دیا اور اس کو محققین کا مختار قرار دیا اگرچہ اکثر مقامات پر انہوں نے اس پانی کو شیخین کے نزدیک نجس قرار دیا ہے جیسا کہ مشہور ہے اس بنا پر یہ مسئلہ اس امر کی تصریح ہوگا کہ ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک استعمال کا حکم تمام پانی میں جاری ہوگا اور انسان پاک رہے گا والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
چودھواں : پھر قدس سرہ نے فرمایا کہ جس شخص نے تین یا تین سے زیادہ کنوؤں میں غوطہ لگایا تو ان دونوں(یعنی طرفین)کے نزدیک اگر ڈول کی تلاش میں لگایا ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے تو پانی اپنی حالت پر باقی رہیں گے اور اگر غوطہ خوری غسل کیلئے تھی تو چوتھا پانی اور اس کے بعد والے پانی مستعمل ہوں گے کہ ان سے قربۃ ادا ہوئی ہے اھ۔ تو دیکھے انہوں نے کس چیز پر مستعمل ہونے کا حکم لگایا ہے چوتھا پانی اور اس سے زائد خاص وہ پانی نہیں جس سے محدث ملا۔
میں کہتا ہوں مراد یہ ہے کہ پہلے پانی سے لے کر تمام پانی مستعمل ہیں انہوں نے چوتھے اور اس کے بعد والے کا خصوصی ذکر اس لئے کیا تاکہ یہ وہم نہ ہو کہ استعمال کا حکم صرف تین پانیوں تک ہی محدود ہے کیونکہ تثلیث کے بعد قربۃ باقی نہیں رہتی ہے تو چوتھا اور اس کے بعد والا مستعمل نہ ہوگا کیونکہ اس میں دونوں سبب موجود نہیں ہیں تو اس کے بطلان پر انہوں
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
#12154 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اقول : (۱)لکن یشکل علیہ انہ رحمہ الله تعالی اما ذکر ھذافی من کان علی بدنہ نجاسۃ حقیقیۃ لان عبارتہ ھکذا وان لم یکن طاھرا فان کان علی بدنہ نجاسۃ حقیقیۃ وھو جنب اولا فانغمس فی ثلثۃ ابار اواکثر من ذلک لایخرج من الاولی والثانیۃ طاھرا بالاجماع ویخرج من الثالثۃ طاھرا عند ابی حنیفۃ ومحمد رضی الله تعالی عنہما والمیاہ الثلثۃ نجسۃ لکن نجاستھا علی التفاوت علی ماذکرنا وعند ابی یوسف کلھا نجسۃ والرجل نجس سواء انغمس لطلب الدلواوالاغتسال وعندھما ان انغمس لطلب الدلواوالتبرد فالمیاہ باقیۃ علی حالھا ۔ ۔ ۔ الخ۔ وکیف تبقی علی حالہا والفرض ان علی بدنہ نجاسۃ حقیقیۃ الا ان یقال انتھی الکلام علیھا الی قولہ المیاہ کلھا نجسۃ والرجل نجس وقولہ سواء انغمس لطلب الدلو۔ ۔ ۔ الخ۔ بیان لعدم اقتصار الحکم عند ابی یوسف علی النجاسۃ الحقیقیۃ بل کذلک الحکمیۃ کما قدمنا ان عند ابی یوسف ھو نجس ولا یخرج طاھرا ابدا فلما استطرد ھذا ابان خلاف الطرفین فیہ ان ھذا التعمیم لیس عندھما ۔ ویکدرہ ان
نے متنبہ کیا کہ یہ اتحاد مجلس کی صورت میں ہے اور یہ چیز مختلف کنوؤں میں نہیں پائی جاتی ہے۔
میں کہتا ہوں اس پر اشکال یہ ہے کہ انہوں نے یہ حکم اس شخص کا بیان کیا ہے جس کے بدن پر حقیقی نجاست ہو ان کی عبارت اس طرح ہے “ پس اگر وہ پاک نہیں ہے تو یا تو اس کے بعدن پر حقیقی نجاست ہوگی اور وہ جنب ہوگا یا نہیں ایسا شخص اگر تین کنووں میں غوطہ لگائے یا زیادہ میں تو پہلے اور دوسرے سے بالاجماع پاک نہیں نکلے گا اور تیسرے سے ابو حنیفہ اور محمد کے نزدیک پاک نکلے گا اور تینوں پانی نجس ہیں مگر ان کی نجاست مختلف ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اور ابو یوسف کے نزدیک سب نجس ہیں اور انسان بھی نجس ہے خواہ اس نے ڈول نکالنے کیلئے غوطہ لگایا ہو یا غسل کرنے کیلئے اور طرفین کے نزدیک اگر ڈول نکالنے کیلئے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے غوطہ لگایا تو پانی اپنی حالت سابقہ پر باقی ہے۔ ۔ ۔ الخ۔ لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ فرض یہ کیا گیا ہے کہ اس کے بدن پر حقیقی نجاست ہے۔ ہاں اگر یہ کہا جائے کہ ان کا کلام المیاہ کلھا نجسۃ والرجل نجس پر پورا ہوا اور ان کا قول سواء انغمس لطلب الدلو۔ ۔ ۔ الخ۔ اس امر کا بیان ہے کہ ابو یوسف کے نزدیک حکم نجاسۃ حقیقیہ پر مقصور نہیں ہے بلالکہ حکمیہ کا بھی یہی حال ہے جیسا کہ ہم ذکر کر آئے ہیں کہ ابو یوسف کے نزدیک انسان ناپاک ہے تو کبھی پاک نہ ہوگا اس سے
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
#12155 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الکلام المستطرد اذنفی النجاسۃ الحکمیۃ فکیف یقول عندھما ان انغمس لطلب الدلو اوالتبرد فالمیاہ باقیۃ علی حالھا فان عند الامام رضی الله تعالی عنہ یصیر الماء مستعملا بازالۃ الحدث وان لم ینوبل کذلک عند محمد ایضا عند التحقیق (۱)وقدقال فی البدائع فی ادمی وقع فی البئر ان کان علی بدنہ نجاسۃ حکمیۃ فعلی قول من جعل ھذا الماء مستعملا والمستعمل نجسا ینزح ماء البئر کلہ کما تقدم فاذا کان ھذافی الواقع بلا قصد فکیف فی المنغمس قصد ا للتبرد ثم(۲)قد اتی بشق النجاسۃ الحکمیۃ بعد ھذا وصرح فیہ بالحکم الصحیح علی خلاف ماھنا کما سیأتی وان حمل ماھنا علی الضرورۃ فمع بعدہ یاباہ قولہ او التبرد الا ان یقال انھم قد ادخلوہ فیہا کما یأتی فبناء علی ھذا التسامح یصح ھذا الحمل غیر انہ لایسلم فان زید الاستطراد حتی یشمل الطاھر فمع ان التعمیم المذکورفی قول الامام الثانی سواء انغمس۔ ۔ ۔ الخ لم یکن لیشملہ قطعا یعکر علیہ ان الشمول لایخرج المحدث فکیف یصح اطلاق الحکم بان المیاہ باقیۃ علی حالھا ولا معلوم ہوا کہ اس میں طرفین کا خلاف ہے کہ یہ تعمیم ان دونوں کے نزدیک نہیں ہے۔
اس پر یہ اعتراض ہے کہ کلام مستطرد نجاست حکمیہ کی بابت ہے تو پھر یہ کیسے فرمایا کہ طرفین کے نزدیک اگر ڈول نکالنے یا ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے غوطہ لگایا تو پانی اپنی حالت پر باقی ہیں کیونکہ امام کے نزدیک پانی حدث کے ازالہ سے مستعمل ہوجائیگا اگرچہ اس نے نیت نہ کی ہو بلکہ تحقیق یہ ہے کہ امام محمد کے نزدیک بھی یہی حکم ہے بدائع میں ہے کہ اگر کوئی انسان کنویں میں گر گیا تو اگر اس کے بدن پر نجاست حکمیہ ہے توجولوگ اس پر پانی کو مستعمل قرار دیتے ہیں اور مستعمل کو نجس کہتے ہیں تو انکے نزدیک کنویں کا کل پانی نکالا جائیگا جیسا کہ گزرا اور جب یہ حکم بلا قصد گرنے والے کا ہو تو پھر اس کا کیا حال ہوگا جو ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے قصدا غوطہ لگائے پھر انہوں نے نجاست حکمیہ والی شق کا ذکر کیا ہے اور وہاں انہوں نے یہاں کے برعکس حکم صحیح کی صراحت کی جیسا کہ آئے گا اور اگر یہاں جو کچھ ہے اس کو ضرورت پر محمول کرلیا جائے تو یہ بعید ہونے کے علاوہ ان کے قول او التبرد کے مناقض ہے مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اس کو بھی اسی میں شامل کرلیا ہے جیسا کہ آئیگا تو اس تسامح کی بنیاد پر یہ حمل صحیح ہے لیکن محفوظ نہیں اور اگر استطراد کو زائد کیا جائے اتنا کہ طاہر کو بھی شامل ہوجائے تو ایک تو امام ثانی کے قول کی تعمیم “ سواء
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل اما بیان المقدار الذی یصیر بہ المحل نجسا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۴
#12156 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
وجہ لتخصیص الحکم بالطاھر فان الکلام مسوق فی شق وان لم یکن طاھرا وقد قدم حکم الطاھر من قبل وبالجملۃ فالعبارۃ ھھنافیما وصل الیہ فھمی القاصر لاتخلو عن قلق وحزازۃ ولعلھا وقع فیھا من قلم الناسخین تغییر وتقدیم وتاخیر وکم لہ من نظیر فلیتأمل والله تعالی اعلم بمراد خواص عبادہ۔
الخامس عشر : ثم قال(۱)قدس سرہ تحت قولہ المار وان کان علی یدہ نجاسۃ حکمیۃ فقط مانصہ واما حکم المیاہ فالماء الاول مستعمل عند ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ لوجود ازالۃ الحدث والبواقی علی حالھا لانعدام مایوجب الاستعمال اصلا(ای لان الصورۃ مفروضۃفی الانغماس للتبرد اوطلب الدلو فلانیۃ قربۃ والحدث قدزال بالاول)وعند ابی یوسف ومحمد المیاہ کلھا علی حالھا اما عند محمد فظاھر لانہ لم یوجد اقامۃ القربۃ بشیئ منھا واما ابو یوسف فقد ترک اصلہ عند الضرورۃ علی مایذکر اھ۔ فقد افادان لووجدت نیۃ القربۃ لصار الماء مستعملا عند الامام الربانی
انغمس۔ ۔ ۔ الخ “ اس کو قطعا شامل نہیں پھر اس پر یہ بھی اشکال ہے کہ شمول بے وضو کو نہیں نکالے گا تو یہ مطلق حکم کیسے لگایا جاسکتا ہے کہ تمام پانی اپنی حالت پر باقی ہیں اور حکم کو پاک کے ساتھ مخصوص کردینے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ گفتگو اس شق سے متعلق ہے کہ اگر پاک نہ ہو حالانکہ پاک کا حکم پہلے ہی گزر چکا اور خلاصہ یہ کہ میری ناقص فہم میں یہاں عبارت اضطراب سے خالی نہیں اور شاید اس میں ناسخین سے کچھ تغیر تقدیم یا تاخیر واقع ہوئی ہے اور اس کی بہت نظائر ہیں غور کر اور اللہ تعالی زیادہ جانتا ہے اپنے خاص بندوں کے ارادوں کو۔
پندرھواں پھر انہوں نے ان کے گزرے ہوئے قول “ وان کان علی یدہ نجاسۃ حکمیۃ فقط “ کے تحت فرمایا بہر حال پانی تو پہلا پانی امام ابو حنیفہ کے نزدیک مستعمل ہے کیونکہ اس میں حدث کا ازالہ پایا جاتا ہے اور باقی اپنے حال پر باقی ہیں کہ وہاں کوئی ایسا سبب موجود نہیں جس کی بنا پر ان کو مستعمل قرار دیا جائے(یعنی مفروضہ تو یہ ہے کہ ٹھنڈک حاصل کرنے یا ڈول کی طلب میں غوطہ لگایا اور قربۃ کی نیت نہیں ہے اور حدث پہلے ہی سے زائل ہوگیا)اور ابو یوسف اور محمد کے نزدیک کل پانی اپنی حالت پر ہیں محمد کے نزدیک تو ظاہر ہے کیونکہ ان سے قربۃ ادا نہیں کی گئی ہے اور ابو یوسف نے ضرورت کی وجہ سے اپنی اصل کو چھوڑا ہے جیسا کہ ذکر کیا جاتا ہے اھ ۔ پس انہوں نے بتایا کہ اگر قربۃ کی نیت ہوگی تو پانی مستعمل ہوگا
حوالہ / References بدائع الصنائع فصلفی الطہارۃ الحقیقیۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
#12157 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
ایضا بل ھو کذلک فان التحقیق انہ لایقصر الاستعمال علی نیۃ القربۃ کما تقدم۔
اقول : فھذہ صرائح نصوص المسألۃ عن ائمۃ المذھب رضی الله تعالی عنھم اتی بھا ملک العلماء فلا یعارضھا ماوقع منہ فی تعلیل اوجدل اما الجدل فظاھر(۱)والعلۃ ان صحت لزمت صحۃ الحکم ولاعکس لجواز ان تکون ھذہ باطلۃ والحکم معللا بعلۃ اخری وھھنا کذلک فان القول بنجاسۃ المستعمل معلل بوجوہ اخر ذکرت فی البدائع نفسھا والہدایۃ والکافی والتبیین وغیرھا وھذا العلامۃ قاسم قدرد علی ملک العلماء استدلالہ بھذا الحدیث فی رسالتہ ھذہ وقد تقدم قولہ انہ لایطابق عمومہ فروعھم المذکورۃفی الماء الکثیرفیحمل علی الکراھۃ۔ ۔ ۔ الخ وقال قبلہ حیث رد بعض کلام البدائع قولا قولا قولہ وروی عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ قال لایبولن احدکم فی الماء الدائم ولا یغتسلن فیہ من الجنابۃ من غیر فصل بین دائم ودائم۔ ۔ ۔ الخ یقال علیہ انظر ھل انت من اکبر مخالفی ھذا الحدیث حیث قلت انت ومشائخک انہ یتوضؤ من الجانب الاخرفی المرئیۃ ویتوضؤ من ای جانب کان فی غیر المرئیۃ کما اذا بال فیہ انسان اواغتسل جنب ام انت من العاملین
امام ربانی کے نزدیک بلالکہ حقیقۃ یہی ہے کیونکہ تحقیق یہ ہے کہ مستعمل ہونا نیت قربۃ پر موقوف نہیں جیسا کہ گزرا۔
میں کہتا ہوں یہ تصریحات ہیں جو اس مسئلہ میں ائمہ مذہب سے منقول ہیں ان کو ملک العلماء نے ذکر کیا ہے ان کے معارض وہ عبارت نہیں ہوسکتی ہے جو انہوں نے علت کے بیان کے وقت یا جدل کے طور پر بیان کی ہے جدل کی بات تو ظاہر ہے اور علۃ اگر صحیح ہوئی تو حکم کی صحت کو لازم ہوگی اور اس کا عکس نہ ہوگا کیونکہ ممکن ہے کہ یہ علت باطلہ ہو اور حکم دراصل کسی اور علۃ کی وجہ سے ہو اور یہاں یہی صورت حال ہے کیونکہ مستعمل پانی کی نجاست کا قول دوسری علتوں کی وجہ سے ہے جو بدائع میں مذکور ہیں ہدایہ کافی اور تبیین وغیرہا میں بھی یہی ہے اور علامہ قاسم نے اپنے رسالہ میں ملک العلماء کے اس حدیث سے استدلال پر رد کیا ہے اور ان کا یہ قول گزر چکا ہے کہ اس کے عموم اور ان کے مذکورہ فروع میں مطابقت نہیں پائی جاتی ہے جو ماء کثیر سے متعلق ہیں تو اس کو کراہت پر محمول کیا جائے گا الخ اور اس سے قبل فرمایا جہاں انہوں نے بدائع کے بعض کلام کو رد کیا ہے اور ایک ایک بات کا رد کیا ہے کہ ان کا قول کہ روایت کیا گیا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں ہرگز پیشاب نہ کرے اور نہ ہی غسل جنابت کرے اس میں کوئی تفصیل نہیں ہے ایک ٹھہرے ہوئے اور دوسرے ٹھہرے ہوئے کے درمیان ۔ ۔ ۔ الخ
#12158 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
بہ فانہ لااعجب ممن لیستدل بحدیث ھو احد من خالفہ اھ۔ وھذا مااشار الیہ بقول لایطابق عمومہ۔ ۔ ۔ الخ۔
اقول : رحمکم الله جاوزتم الحدفی الاخذ والرد فاولا(۱)ماقالوہ انما ھوفی الکثیر والکثیر ملحق بالجاری والحدیث فی الدائم ثانیا : (۲)الکراھۃ ان ارید بہا کراھۃ التحریم لم یلائم قولہ وبذلک اخبر راوی الخبر قال کنا نستحب الی اخرمامر مع انھا لاتفید کم اذلولم یتغیر بہ الماء لم یکن وجہ للنھی عنہ الاتری ان الماء الکثیر لعدم تغیرہ یجوز الاغتسال فیہ اجماعا کمافی البدائع وقد استدل ھو علی نجاسۃ الماء المستعمل وشیخکم المحقق علی الاطلاق علی انسلاب الطہوریۃ عنہ بھذا النھی المفید کراھۃ التحریم وان ارید بہا کراھۃ التنزیہ فعدول عن الحقیقۃ من دون ضرورۃ ملجئۃ ولا یلائمہا نون التأکیدفی قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لایغتسلن وقددفع العلامۃ الاکمل فی العنایۃ کراھۃ التنزیہ بان تقییدہ بالدائم ینافیہ فان الماء الجاری
اس پر یہ کہا جائے گا غور کرو کیا تم اس حدیث کے بڑے مخالفین میں سے ہو۔ کیونکہ تم نے اور تمہارے مشائخ نے کہا ہے کہ اگر نجاست نظر آرہی ہو تو دوسرے کنارے سے وضو کرلے اور اگر نظر نہ آتی ہو تو جس کنارے سے چاہے وضو کرے جیسے کسی انسان نے اس پانی میں پیشاب کیا یا جنب نے غسل کیا۔ یا تم اس حدیث پر عمل کرنے والوں میں سے ہو اس سے زیادہ تعجب خیز بات کیا ہوگی کہ جو شخص اس حدیث کا مخالف ہے وہی اس حدیث سے استدلال بھی کرتا ہے اھ اور یہ ہے وہ بات جس کی طرف انہوں نے اپنے قول لایطابق عمومہ میں اشارہ کیا تھا الخ۔
میں کہتا ہوں اللہ تم پر رحم کرے تم نے قبول کرنے اور رد کرنے دونوں میں حد سے تجاوز کیا ہے اول تو یہ کہ جو کچھ انہوں نے فرمایا ہے وہ کثیر پانی کی بابت ہے اور کثیر جاری کے حکم میں ہے اور حدیث ٹھہرے ہوئے پانی سے متعلق ہے۔
ثانیا : اگر کراہت سے مراد کراہت تحریم ہے تو یہ ان کے قول کے موافق نہ ہوگی اور اسی کی خبر حدیث کے راوی نے دی فرمایا “ کنا نستحب الخ “ پھر یہ آپ کیلئے مفید نہیں اس لئے کہ اگر اس کی وجہ سے پانی میں تغیر نہ ہوتا تو اس سے منع کرنے کی کوئی وجہ نہ ہوتی مثلا کثیر پانی کہ وہ متغیر نہیں ہوتا اس سے غسل کرنا بالاجماع جائز ہے جیسا کہ بدائع میں ہے اور اس نے خود اس سے مستعمل پانی کے نجس ہونے پر استدلال کیا ہے اور آپ کے شیخ محقق نے پانی سے طہوریۃ کے سلب ہوجانے پر استدلال کیا ہے اور دلیل یہی نہی ہے جو کراہت تحریمی کو ظاہر کرتی ہے اور اگر اس سے کراہت تنزیہی کا ارادہ کیا جائے تو یہ حقیقت سے بلا اشد ضرورت کے انحراف کرنا ہے
#12159 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
یشارکہ فی ذلک المعنی فان البول کما انہ لیس بادب فی الماء الدائم فکذلک فی الجاری فلا یکون للتقیید فائدۃ وکلام الشارع مصون عن ذلک اھ۔ وقد قال فی المجتبی اما البول فیہ(۱)فمکروہ قلیلا کان اوکثیرا دائما اوجاریا وسمی ابو حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ من یبول فی الماء الجاری جاھلا اھ۔ کمافی ابن الشلبی علی التبیین۔
اقول : (۲)المقرر عندنا ان نصوص الشارع لانظرفیھا الی مفہوم الخالف ویجوز ان یکون ذکر الدائم نظرا الی الحکم الثانی ھو النھی عن الاغتسال۔ وثالثا : ھب(۳)انھم لم یعملوافی بعض الصور باطلاقہ فلیس من قید اطلاقا اوخصص عموما لدلیل لاح ممنوعا عن التمسک بہ فی شیئ اخر ھذا وکذا عدم استعمال الماء بوقوع محدث فی البئر عند محمد علی تسلیمہ لم لا تعللونہ بما تقرر عندکم وصرحتم بہ غیر مرۃ ان محمدا لا یقول بالاستعمال الا بنیۃ القربۃ وای نیۃ للساقط وانتم(۴)المصرحون کما تقدم ان الطاھران انغمس
اور پھر حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے قول “ لایغتسلن میں جو نون تاکید ہے اس سے بھی اس کی مطابقت نہیں اور علامہ اکمل نے عنایہ میں کراہت تنزیہ کو دفع کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کو “ دائم “ کی قید سے مقید کرنا اس کے منافی ہے کیونکہ جاری پانی بھی اس کا شریک ہے کرا ہۃ تنزیہ میں۔ کیونکہ پیشاب کرنا ٹھہرے ہوئے پانی میں خلاف ادب ہے اس طرح جاری پانی میں مکروہ ہے تو مقید کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا اور شارع کا کلام اس سے محفوظ ہے اھ۔ اور مجتبی میں ہے کہ پانی میں خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر ٹھہرا ہوا ہو یا جاری پیشاب کرنا مکروہ ہے اور ابو حنیفہ نے جاری پانی میں پیشاب کرنے والے کو جاہل کہا ہے اھ جیسا کہ ابن شلبی علی التبیین میں ہے۔
ثالثا : مان لیا کہ بعض صورتوں میں انہوں نے اس کے اطلاق پر عمل نہیں کیا ہے تو جس نے کسی مطلق کو مقید کیا ہو یا عام کو خاص کیا ہو کسی دلیل کی بناء پر اس کو یہ ممنوع نہیں ہے کہ وہ اس جگہ سے کسی اور چیز کا استدلال کرے اور اسی طرح پانی کا مستعمل نہ ہونا کسی محدث کے کنویں میں گرجانے کی وجہ سے محمد کے نزدیک اگر اس کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو آپ اس کی علت وہ کیوں نہیں بتاتے ہو جو تمہارے نزدیک مقرر ہے اور
حوالہ / References العنایۃ مع فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۴
شلبی علی تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ الامیریۃ ببولاق مصر ۱ / ۲۱
#12160 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
فیھا للاغتسال صار الماء مستعملا عند اصحابنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم فلم لم یقل محمد ثم ان غیر المستعمل اکثر فلا یخرج عن کونہ طھورا۔
السادس عشر : (۱)الروایۃ الصحیحۃ المعتمدۃ
فی مسألۃ جحط رابعۃ لم تشملھا الحروف وھی طم ای ان الرجل طاھر زال حدثہ والماء طاھر غیر طھور قال فی الھدایۃ والکافی والتبیین والسراج وغیرھا انھا اوفق الروایات وفی الدر انہ الاصح
وفی الفتح وشرح المجمع انھا الروایۃ المصححۃ وفی البحر انہ المذھب المختار وانہ الحکم علی الصحیح فانقطعت الشبھۃ رأسا واستقر بحمدالله عرش التحقیق علی ان الاستعمال یشیع فی الماء القلیل سریان النجاسۃ۔
السابع عشر : فرق قدس سرہ فی الحدث والنجاسۃ حیث تشیع ولا یشیع
تم نے ایک سے زائد مرتبہ اس کی وضاحت کی ہے کہ محمد فرماتے ہیں کہ پانی اس وقت مستعمل ہوگا جب قربۃ کی نیت ہو اور جو پانی میں گرجائے اس کی کیا نیت ہوگی! اور تم نے تصریح کی ہے جیسا کہ گزرا کہ اگر پاک آدمی کنویں میں غوطہ لگائے نہانے کیلئے تو پانی ہمارے اصحاب ثلثہ کے نزدیک مستعمل ہوجائے گا تو محمد نے کیوں نہیں کہا پھر غیر مستعمل اکثر ہے تو طہور ہونے سے خارج نہ ہوگا۔
سولھواں : صحیح روایت اور معتمد روایت مسئلہ جحط میں چوتھی ہے اس کو حروف شامل نہیں اور وہ طم ہیں یعنی انسان پاک ہے اس کا حدث زائل ہوگیا ہے اور پانی پاک توہے مگر طہور(پاک کرنے والا)نہیں ہے ہدایہ کافی تبیین اور سراج وغیرہا میں ہے کہ یہ تمام روایتوں میں سب سے زیادہ جامع ہے اور در میں اسی کو اصح کہا اور فتح اور شرح مجمع میں کہا کہ یہی مصححہ روایت ہے اور بحر میں اسی کو مذہب مختار قرار دیا ہے اور یہ کہ صحیح قول کے مطابق حکم یہی ہے تو شبہ بالکل منقطع ہوگیا اور یہ امر محقق ہوگیا کہ مستعمل ہونا تھوڑے پانی میں اسی طرح سرایت کرتا ہے جس طرح نجاست سرایت کرتی ہے۔
سترھواں : قدس سرہ نے حدث اور نجاسۃ میں فرق کیا ہے کہ نجاست سرایت کرتی ہے اور حدث
حوالہ / References شلبی علی تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ الامیریہ ببولاق مصر ۱ / ۲۵
دُرمختار باب میاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷
بحرا لرائق کتاب الطھارۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۷
بحرا لرائق کتاب الطھارۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۸
#12161 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
بان النجس یختلط بالطاھر علی وجہ لایمکن التمییز بینھمافیحکم بنجاسۃ الکل۔
اقول : اولا(۱)الوجہ قاصر عن المدعی فرب نجس لایختلط ورب نجس یختلط ویمکن التمییز فلم یسری الحکم الی جمیع الماء القلیل ارأیتم لووقع فی الغدیر شعرۃ من خنزیر افلا یتنجس الا القدر الذی لاقاھا اذلا شیئ ھناک یختلط فلا یمکن التمییز ھذا لایقول بہ احد منا فان قلت تنجس بھا ماولیھا وھو مختلط بسائر الاجزاء بحیث لایمکن التمییز اقول فصبغ نجس القی فی غدیر یلزم ان لاینجس الاماینصبغ بہ لحصول التمییز باللون فان قلت مالم ینصبغ جاور المنصبغ فسری الحکم الی الکل۔
اقول : ھذہ طریقۃ اخری غیر ماسلک الامام ملک العلماء من ان الحکم بنجاسۃ الکل لعدم التمییز لاللسریان بالجوار وسیأتیک الرد علیھافی المائع وقد انکرھافی البدائع بقولہ قدس سرہ الشرع ورد بتنجیس جار النجس لابتنجیس جارجار النجس الا تری(۲)ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حکم بطھارۃ
سرایت نہیں کرتا ہے کیونکہ نجس پاک چیز کے ساتھ اس طرح مل جاتا ہے کہ دونوں میں امتیاز نہیں ہوسکتا ہے تو کل پر نجاست کا حکم ہوگا۔
میں کہتا ہوں اول وجہ مدعی سے قاصر ہے کہ بہت سے نجس مختلط نہیں ہوتے اور بہت سے نجس مختلط ہوتے ہیں اور ممتاز رہتے ہیں تو حکم قلیل پانی میں مکمل طور پر نہ ہوگا مثلا تالاب میں خنزیر کا ایک بال گرجائے تو کیا صرف وہی نجس ہوگا جو بال سے متصل ہوا ہو کہ اس میں کوئی چیز مختلط ہونے والی نہیں پائی جاتی ہے لہذا امتیاز نہیں ہوسکتا ہے یہ قول ہم سے کسی کا نہیں اگر یہ کہا جائے کہ اس سے وہ پانی نجس ہوگا جو اس سے متصل ہے اور وہ تمام اجزاء سے ملا ہوا ہے کہ تمیز ممکن نہیں ہے اس کا جواب یہ ہے کہ تھوڑی سی نجس قے کا تالاب میں مل جانا اس امر کو مستلزم ہے کہ صرف اتنا پانی ہی نجس ہو جو اس میں ملا ہو کیونکہ یہاں رنگ کی وجہ سے امتیاز حاصل ہوجائیگا۔ اگر کہا جائے کہ جو پانی قے سے آلود ہوگیا وہ اس پانی سے مل جائے گا جو آلودہ نہیں ہوا ہے اس طرح کل پانی نجس ہوگیا۔
میں کہتا ہوں یہ ملک العلماء کے راستے کے علاوہ ایک اور راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ کل پانی کی نجاست کا حکم عدم تمییز کی بناء پر ہے اس لئے نہیں کہ متصل پانی میں اس نے سرایت کی ہے اس کی تردید آپ مائع کے بیان میں پڑھ لیں گے اور بدائع میں اس کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ شریعت نے ناپاک کے متصل کے ناپاک ہونے کا حکم دیا ہے یہ نہیں کہ متصل کے متصل کی ناپاکی کا حکم دیا ہے مثلا یہ کہ حضور صلی اللہ
#12162 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
ماجاور السمن الذی جاور الفأرۃ وحکم بنجاسۃ ماجاور الفارۃ وھذا لان جار جارالنجس لوحکم بنجاسۃ لحکم ایضا بنجاسۃ ماجاور جار جار النجس الی مالانھایۃ لہ فیودی الی ان قطرۃ من بول اوفأرۃ لووقعت فی بحر عظیم ان یتنجس جمیع مائہ لاتصال بین اجزائہ وذلک فاسد اھ۔ وقد کان سنح لی فی الرد علی ھذا ثلثۃ اوجہ ذکرتھا علی ھامش نسختی البدائع اولھا : التقریرفی(۱)الجامد فلا سرایۃ وثانیھا : (۲)الشرع جعل الکثیر والجاری لایقبلان النجاسۃ مالم یتغیر احد اوصافھما والماء القلیل شیئ واحد فقیہ جار الجار جار۔ وثالثھا : ذکر الشیخ الامام ھذا لابداء الفرق فی حکم الفارۃ والھر والشاۃ الواقعۃفی البئر بنزح عشرین واربعین والکل بان الفارۃ یجاورھا من الماء عشرون دلو الصغر جثتہا فحکم بنجاسۃ ھذا القدر لان ماوراءہ لم یجاور الفأرۃ بل جاور ماجاور الفأرۃ والشرع ورد الی اخرمامر (۳)فکتبت علیہ ان لوفرض عدم التنجیس بالفأرۃ الالقدر عشرین لزم فساد الکل للاختلاط بحیث لایمتاز ثم رأیت العلامۃ ابن امیرالحاج ذکرفی الحلیۃ الوجھین الاولین بعبارات مطنبۃ مفیدۃ کما ھو دابہ رحمہ الله تعالی
علیہ وسلم نے اس پانی کے پاک ہونے کا حکم دیا جو اس گھی سے متصل ہے جو چوہے سے متصل ہے اور جو گھی چوہے کے متصل ہے وہ ناپاک ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نجس کے متصل کا متصل اگر اس پر نجاسۃ کا حکم لگایا جائے تو جو متصل کے متصل کے ساتھ متصل ہوگا اس پر بھی نجاست کا حکم لگایا جائے گا اور یہ سلسلہ لامتنا ہی چلے گا اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اگر پیشاب کا ایک قطرہ یا چوہیا بڑے سمندر میں گرجائے تو تمام کا تمام پانی ناپاک ہوجائے گا کیونکہ پانی کے تمام اجزاء ایک دوسرے سے متصل ہیں ا ور یہ غلط ہے اھ۔ میں نے اس کی تردید تین طرح کی ہے اور یہ وجوہ میں نے اپنے بدائع کے نسخہ کے حاشیہ پر ذکر کی ہیں : (۱)گفتگو جامد چیز میں ہے تو سرایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ (۲)شریعت نے کثیر اور جاری پانی کے بارے میں یہ حکم دیا ہے کہ وہ اس وقت تک ناپاک نہ ہوگا جب تک اس کے اوصاف میں سے کسی ایک وصف میں تبدیلی نہ ہوجائے اور تھوڑا پانی شیئ واحد ہے اس میں متصل کا متصل متصل ہے۔ )۳)شیخ امام نے یہ اس لئے بیان کیا ہے کہ چوہیا بلی اور بکری جو کنویں میں گر جائے ان کے حکم میں فرق ظاہر ہوجائے بیس چالیس ڈول اور
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل اما بیان المقدار الذی یصیربہ المحل نجساً ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۵
#12163 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
فقال فی الاول معلوم ان الماء لیس بشیئ کثیف یمنع کثافتہ سریان النجاسۃ الواقعۃ فیہ من محلھا الذی حلت بہ الی غیرہ کما فی السمن الجامد لیقع الاقتصارفی التنجیس علی الجار المتصل دون غیرہ بل ھو مائع رقیق لطیف تعین لطافتہ ورقۃ اجزائہ مع الاضطراب العارض لہ بواسطۃ الاخذ منہ علی سرایۃ النجاسۃ الی سائر اجزائہ ثم ذکر الثانی بعد کلام اخر ۔
والان اقول : (۱)السمن الجامد ھل یقبل التنجس بجوار النجس ام لاعلی الثانی لم امر صلی الله تعالی علیہ وسلم بتقویر ماحول الفأرۃ وسلمتم نجاستہ وعلی الاول اذا فرض ان جار النجس نجس وھلم جراوجب تنجیس ما یجاور ھذا المأمور بتقویرہ لکونہ مجاورا لھذا النجس وان لم یجاور الفارۃ فلا یجدی الفرق باللطافۃ والکثافۃ بل لقائل ان
کل پانی نکالا جائیگا۔ چوہیا کے ساتھ پانی کے بیس ڈول متصل ہیں کیونکہ اس کا جسم چھوٹا ہے تو اتنی ہی مقدار پانی کی نکالی جائے گی کیونکہ اس مقدار کے علاوہ پانی چوہیا کے متصل نہیں ہے بلکہ جو چوہیا سے متصل ہے اس کے متصل ہے اور حکم شرعی اس کی مثل وارد ہوا ہے۔ ۔ الخ۔ میں نے اس پر لکھا ہے کہ اگر یہ فرض کیا جائے کہ چوہیا سے صرف بیس ڈولوں کی مقدار نجس ہوگی تو کل کا فساد لازم آئیگا کہ اختلاط ہوا ہے اور امتیاز ختم ہوگیا۔ پھر میں نے علامہ ابن امیر الحاج کو دیکھا کہ انہوں نے حلیہ میں دو پہلی وجوہ مفصل عبارات سے لکھی ہیں جیسا کہ ان کا اسلوب ہے پہلی میں فرمایا یہ معلوم ہے کہ پانی کثیف شیئ نہیں کہ اس کی کثافت اس نجاست کی سرایت کو مانع ہو جو اس میں گری ہے جیسا جامد گھی تاکہ ناپاکی صرف متصل تک ہی محدود رہے دوسرے تک تجاوز نہ کرے بلکہ پانی مائع ہے رقیق ہے لطیف ہے اس کی لطافت واجزاء کی رقت عارض ہونے والے اضطراب کے ساتھ دوسرے تمام اجزاء تک نجاست کے سرایت کرنے میں معاون ہے پھر دوسری وجہ دوسرے کلام کے بعد ذکر کی۔ (ت)
اور اب میں کہتا ہوں منجمد گھی نجس کے ملنے کی وجہ سے نجس ہونے کو قبول کرے گا یا نہیں! دوسری تقدیر پر حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے چوہیا کے ارد گرد کے گھی کو دور کرنے کا حکم کیوں فرمایا اور تم نے اس کی نجاست تسلیم کرلی اور پہلی تقدیر پر جب یہ فرض کیا گیا کہ نجس کا پڑوسی نجس ہے اور ھلم جرا تو جو حصہ صفائی والی جگہ سے ملا ہوا ہے اس کو نجس کر دے گا کیونکہ وہ اس نجس کے مجاور ہے اگرچہ چوہیا کے مجاور نہیں تو لطافت وکثافت کا فرق کچھ مفید نہ ہوگا بلکہ کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے
حوالہ / References حلیہ
#12164 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
(۱)یقول اذا تنجس السمن حولھا فما یجاور ھذا السمن لیس جار جار النجس بل جار النجس وھکذا الی الاخر فان فرق بان السمن متنجس لانجس وجار النجس یتنجس لاجار المتنجس لزم ان لایتنجس الماء اذا القی فیہ ھذا السمن بعد التقویر لانہ لاقی متنجسا لانجسا وبہ یظھر مافی کلام ملک العلماء ویطوی ھذا البساط من اولہ۔
فاقول : وبالله التوفیق(۲)لیس سبب تنجس الطاھر مجاورتہ لنجس(۳)الا تری ان لولف ثوب نجس فی ثوب طاھر لم یتنجس الطاھر اذا کانا یابسین بل ولا اذا کانت فی النجس بقیۃ نداوۃ یظھر بھافی الطاھر مجرد اثر کمافی الدر والشامی وبیناہ فی فتاونا بل ھو اکتساب الطاھر حکم النجاسۃ عند لقاء النجس وذلک یحصل فی الطاھر المائع القلیل بمجرد اللقاء وان کان النجس یابسالا بلۃفیہ وفی الطاھر الغیر المائع بانتقال البلۃ النجسۃ الیہ فلا بد لتنجیسہ من بلۃ تنفصل ثم یختلف الامر باختلاف جرم الطاھر لطافۃ وکثافۃ فالسرایۃفی اللطیف اکثر منھافی الکثیف وکذلک قد یختلف باختلاف زمن التجاور اذا عرفت ھذا فالسمن یقور ویلقی منہ قدر مایظن سرایۃ البلۃ النجسۃ الیہ ویبقی الباقی طاھرا لان التنجس لم یکن کہ جب چوہیا کے اردگرد گھی نجس ہوگیا تو جو اس گھی کے مجاور ہے وہ نجس کے متصل کا متصل نہیں ہے بلکہ نجس کا متصل ہے اور اسی طرح اخیر تک اگر یہ فرق کیا جائے کہ گھی متنجس ہے نجس نہیں ہے اور نجس کا متصل نجس ہوتا ہے نہ کہ متنجس کا متصل تو لازم آئے گا کہ پانی اس وقت نجس نہ ہو جب اس میں گھی نتھارنے کے بعد ملایا جائے کیونکہ اس کی ملاقات متنجس سے ہوئی نجس سے نہیں ہوئی اس سے ملک العلماء کے کلام کی خامی ظاہر ہوجاتی ہے اور بساط ابتدأ سے لپیٹ دی جاتی ہے۔
میں کہتا ہوں وباللہ التوفیق پاک کا ناپاک ہونا اس لئے نہیں ہے کہ وہ ناپاک سے متصل ہے مثلا یہ کہ اگر ایک نجس کپڑا پاک کپڑے میں لپیٹ دیا جائے تو پاک ناپاک نہ ہوگا اگر وہ دونوں خشک ہیں بلکہ اس صورت میں بھی نجس نہ ہوگا جبکہ ناپاک میں تری باقی ہو جس کا محض اثر پاک پر ظاہر ہو جیسا کہ در اور شامی میں ہے اور ہم نے اس کو اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے بلکہ وہ پاک کا نجاست کے حکم کو حاصل کرنا ہے نجس کے ملنے سے اور یہ اس پاک میں ہوتا ہے جو مائع قلیل ہو اور یہ محض ملنے سے ہوگا اگرچہ نجس خشک ہو اور اس میں تری نہ ہو اور طاہر غیر مائع میں نجس تری اس کی طرف منتقل ہوگی تو اس کو ناپاک کرنے کیلئے تری کا ہونا ضروری ہے جو اس سے جدا ہو پھر معاملہ پاک کے جرم کے اختلاف کی وجہ سے مختلف ہوگا یعنی لطافت وکثافت کے اعتبار سے تو لطیف میں بہ نسبت کثیف کے سرایت زیادہ ہوگی اور اسی طرح یہ اختلاف اتصال کے زمانہ کے اختلاف سے بھی پیدا
#12165 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
لمجاورۃ النجس حتی یقال ان السمن الذی بعدہ مجاور لہذا النجس بل لسرایۃ البلۃ وقد (۱) انتھت فظھران استشھاد ملک العلماء بمسألۃ السمن علی التفرقۃ بین الفأرۃ وما فوقھا لاوجہ لہ وانما الابار تتبع الاثار وما احسن ماقال المحقق رحمہ الله تعالی فی فتح القدیرفی مسائل البئر من الطریق ان یکون الانسان فی ید النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم واصحابہ رضی الله تعالی عنہم کالاعمی فی یدالقائد اھ۔ نسأل الله تعالی حسن التوفیق امین۔ وثانیا : وھو(۲)الثامن عشر لیس مذھبنا ان النجس اذا وقع فی الماء القلیل لم ینجس منہ الاما اتصل بہ عینا والباقی باق علی طھارتہ وانما یمتنع استعمالہ مخافۃ استعمال النجس لاختلاطہ بہ بحیث لایمکن التمییز بل المذھب قطعا شیوع النجاسۃفینجس الکل وحینئذ۔ اقول : ماذا(۳)یشیع من النجاسۃ عینہا ام حکمہا ای یکتسب الماء بمجاورتہا حکمھا الاول باطل قطعا لما علمت من انجاس لاتختلط وایضا قطرۃ من بول مثلا کیف تمتزج بغدیر کبیر غیر کبیر فان قسمۃ الاجسام
ہوتا ہے جب تم نے یہ جان لیا تو گھی کو نتھارا جائے گا اور اس میں سے اتنی مقدار پھینک دی جائے گی جتنی اس کی طرف نجس تری کی سرایت کا گمان ہو اور باقی پاک رہے گا کیونکہ ناپاک ہونانجس کے اتصال کی وجہ سے نہ تھا کہ یہ کہا جائے کہ اس کے بعد والا گھی اس نجس کے مجاور(متصل)ہے بلالکہ اس کی نجاست تری کے اس کی طرف آجانے کی وجہ سے ہے اور تری ختم ہوچکی ہے تو معلوم ہوا کہ ملک العلماء کا استشہاد گھی کے مسئلہ سے چوہیا اور اس سے بڑے جانور کے مسئلہ میں اختلاف کو ثابت کرنے کے لئے بلا وجہ ہے اور بیشک کنویں آثار کے تابع ہوتے ہیں اور محقق نے فتح القدیر میں خوب فرمایا کنویں کے مسئلہ میں صحیح راستہ یہ ہے کہ انسان حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ہاتھ میں اس طرح ہاتھ دے دے جیسے اندھا اپنے قائد کے ہاتھ میں ہاتھ دیتا ہے ہم اللہ تعالی سے احسن توفیق کے سائل ہیں۔ اور ثانیا(اور یہی اٹھارھواں ہے)ہمارا مذہب یہ نہیں ہے کہ جب نجاست تھوڑے پانی میں گر جائے تو صرف وہی پانی ناپاک ہوگا جو اس سے متصل ہے اور باقی پاک رہے گا اور اس کا استعمال اس لئے ممنوع ہوگا کہ کہیں اس میں ناپاک مل کر نہ آجائے اور پتا نہ چل سکے بلالکہ قطعی مذہب یہ ہے کہ نجاست تمام کو شامل ہوگی۔
اور اس صورت میں میں کہتا ہوں کہ نجاسۃ کے عموم سے کیا راد ہے کیا عین نجاست عام ہوگی یا اس کا حکم عام ہوگا یعنی قریبی پانی پر بھی اس کا حکم لاگو ہوگا پہلی صورت تو قطعا باطل ہے کیونکہ معلوم ہوچکا ہے کہ نجاستوں میں اختلاط نہیں پایا جاتا ہے
حوالہ / References فتح القدیر فصل فی البئر نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۸۶
#12166 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
متناھیۃ عندنافیستحیل ان یکون فی الصغیر مایساوی عدۃ حصص الکبیر وللثانی وجھان الانتقال التدریجی ای یکتسب الحکم مایلیھا من الماء من کل جانب ثم الاجزاء التی تلی ھذہ المیاہ تکتسب من ھذہ ثم وثم الی ان ینتھی الی جمیع الماء مالم یبلغ حد الکثرۃ ام الثبوت الدفعی بان ینجس الکل بوقوع النجس معامن دون توسیط وسائط الاول باطل لانا نعلم قطعا ان بوقوع قطرۃ من بول مثلافی ھذا الطرف من غدیر طولہ مائۃ ذراع وعرضہ ذراع الانصف اصبع وعمقہ الف ذراع یتنجس الطرف الاخر واخر القعرمعالاان الشرع یحکم بتأخر تنجس ذلک الطرف بزمان صالح لانتقال الحکم شیئا فشیئا فاذن ثبت ثبوت الحکم للکل معااصالۃ بدون توسط ومعلوم من الشرع ان الماء لاینجسہ الاملاقاۃ النجس وقد افدتم انتم ھھنا ان ملاقاۃ النجس الطاھر توجب تنجیس الطاھر وان لم یغلب علی الطاھر فوجب ان الملاقاۃ حصلت لکل الماء دفعۃ لابالوسائط ومعلوم قطعا ان اللقاء الحسی ان الوقوع لیس الا لجزء خفیف والامر اظھرفی نحو الشعرۃ المذکورۃ فثبت انھا حین وقعت لاقت جمیع اجزاء الماء القلیل والا لما تنجس الکل معالعدم السبب فظھر ولله الحمد ان الماء القلیل فی نظر
مثلا پیشاب کا ایک قطرہ تالاب سے کیسے مختلط ہوگا کیونکہ ہمارے نزدیک اجسام کی تقسیم متناہی ہے تو یہ امر محال ہے کہ چھوٹی چیز بڑی چیز کے متعدد حصوں سے مل جائے اور دوسری شق میں بھی دو صورتیں ہیں ایک تو تدریجی انتقال ہے یعنی جو پانی نجاست کے متصل ہے وہ حکم کو حاصل کرلے ہر طرف سے پھر اس سے متصل پانی کے دوسرے اجزأ ان سے حکم کو حاصل کرلیں اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے جب تک کہ یہ حکم تمام پانی کو عام نہ ہوجائے جب تک حد کثرت کو پانی نہ پہنچے یا انتقال دفعۃ اور یکدم ہو کہ نجاست گرتے ہی سارا پانی ناپاک ہوجائے اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ آئے پہلا باطل ہے کیونکہ ہم قطعی طور پر جانتے ہیں کہ اگر پیشاب کا ایک قطرہ ایسے حوض میں گرجائے جس کی لمبائی سو ہاتھ ہے اور چوڑائی ایک ہاتھ سے ایک انگلی کم اور گہرائی ایک ہزار ہاتھ ہے اب جس کنارے میں وہ قطرہ گرا ہے وہ قطعا ناپاک ہے اور دوسرا کنارہ بھی ناپاک ہے اور گہرائی کا آخری حصہ تک ناپاک ہے اور یہ سب بیک وقت ہوگا یہ نہیں کہ شریعت دوسرے کنارے کی ناپاکی کا حکم قدرے تاخیر سے دے گی کہ آہستہ آہستہ حکم اس کی طرف منتقل ہو اس سے معلوم ہوا کہ حکم اصالۃ تمام پانی کیلئے بیک وقت بلا توسط کے منتقل ہوگا اور یہ بات معلوم ہے کہ شریعت پانی کو اس وقت تک نجس قرار نہیں دیتی ہے جب تک کہ نجاست اس کی طرف منتقل نہ ہو اور آپ نے یہاں فرمایا ہے کہ نجس کا پاک سے ملنا پاک کو نجس
#12167 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الشرع کشیئ واحد بسیط وان ملاقاۃ جزء منہ ملاقاۃ للکل(۱)فثبت ان المحدث اذا ادخل یدہ مثلافی الغدیر الغیر الکبیر فبمجرد الادخال لاقاھا الماء کلہ فصار جمیعہ مستعملا والحمد لله علی حسن التفھیم وتواتر الائہ
وبالجملۃ لوکان اللقاء یقتصر علی مااتصل بہ حقیقۃ لم یتنجس بوقوع الشعرۃ الاقطیرات تحیطھا لان سبب التنجیس لیس الاملاقاۃ النجس وھی مقصورۃ علی تلک القطیرات لکنہ باطل قطعا فعلم ان الکل ملاق وانہ لامساغ لان یقال ان غیر الملاقی اکثر من الملاقی ولله الحمد دائم الباقی والصلوۃ والسلام علی المولی الکریم الواقی والہ وصحبہ اجمعین الی یوم التلاقی۔
ثالثا وھو(۲)التاسع عشر قصر الحکم علی الملاقی یحیل الاستعمال ویسلکہ فی سلک المحال وذلک لان الاجسام لاتتلاقی الابالسطوح لاستحالۃ تداخل الاجسام وانی یقع السطح من الجسم فماء الوضوء والغسل یجب ان یبقی طھور الان الذی لاقی منہ بدن المحدث سطح والباقی جسم فلا یسلبہ الطھوریۃ لان المستعمل
کردیتا ہے خواہ وہ پاک پر غالب نہ ہوا ہو تو معلوم ہوا کہ ملاقاۃ تمام پانی سے دفعۃ بلا واسطوں کے ہوئی ہے اور یہ قطعی معلوم ہے کہ یہ حسی لقاء محض ایک خفیف جزء سے ہے یہ چیز بال کی مثال سے واضح ہے جو گزر چکی ہے اس سے ثابت ہوا کہ جب وہ نجاست گری تو کم پانی کے تمام اجزأ سے ملی ورنہ تو تمام پانی بیک وقت ناپاک نہ ہوتا کیونکہ اس کا سبب موجود نہیں اس سے ثابت ہوا کہ تھوڑا پانی شارع کی نگاہ میں شیئ واحد ہے اور بسیط ہے اور اس کے ایک جزء کی اس سے ملاقاۃ کل سے ملاقاۃ ہے تو ثابت ہوا کہ محدث جب اپنا ہاتھ مثلا چھوٹے تالاب میں ڈالے تو ہاتھ ڈالتے ہی کل پانی اس سے مل گیا تو سب مستعمل ہوگیا اور خلاصہ یہ کہ اگر ملاقاۃ صرف اسی حد تک ہوتی جس سے پانی حقیقۃ ملا ہے تو بال گرنے سے صرف چند قطرات ہی نجس ہوتے جو بال کے گردا گرد ہوتے کیونکہ ناپاکی کا سبب نجس سے ملاقاۃ ہے جو ان چند قطروں تک محدود ہے مگر یہ چیز قطعاباطل ہے تو معلوم ہوا کہ سارے کا سارا ملاقی ہے اور اس کے سوا چارہ کار نہیں کہ یہ کہا جائے کہ غیر ملاقی ملاقی سے زیادہ ہے۔ (ت)
ثالثا یہی(انیسواں)ہے حکم کا محض ملاقی تک محدود رکھنا استعمال کو محال کرنا ہے کیونکہ اجسام کی ملاقاۃ صرف سطوح سے ہوتی ہے کیونکہ اجسام میں تداخل محال ہے اور سطح کو جسم سے کتنی نسبت ہے تو وضو اور غسل کا پانی واجب ہے کہ طہور ہے کیونکہ پانی کے جس حصے کو محدث کا بدن ملا ہے وہ فقط سطح ہے اور باقی جسم ہے تو وہ اس کی طہوریۃ کو سلب نہ کرے گا کیونکہ مستعمل اپنے غیر سے
#12168 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اقل بکثیرۃ من غیرہ۔
فان قلت : نعم ھو الحقیقۃ ولکن الشرع المطھر اعتبر کل الجسم المصبوب علی بدن المحدث مستعملا لانہ شیئ واحد متصل۔
قلت : فکذا کل ماء قلیل شیئ واحد حکما شرعیا متصل حسا عادیا ولم یکن ذلک فی المصبوب للصب بل لقلتہ الا تری ان ماء الغدیر یتنجس کلہ معا بوقوع قطرۃ من نجس وما ھو الا لانہ شیئ واحد لقاء جزء منہ لقاء الکل کما بینا فبا دخال المحدث یدہ فی الاناء لاقاھا کل مافی الاناء لاالسطح المتصل بھا
فقط وفیہ المقصود فان قلت المؤثر الاستعمال وھوبالصب یعد مستعملا لکل المصبوب فیصیر کلہ مستعملا۔
قلت : لادخل لفعل المکلف عندنا انما المؤثر کون الماء القلیل المعدود شرعا شیئا واحدا اسقط فرضا اواقام قربۃ وھذا حاصل فی الوجھین۔
ورابعاوھو(۱)العشرون ماءفی طست اراد المحدث ان یغسل بہ یدہ فلہ فیہ وجھان ان یصبہ علی یدہ فیرد الماء علی الحدث اویدخل یدہ فی الطست فیرد الحدث علی الماء
بہت کم ہے۔ اگر کہا جائے کہ حقیقۃ تو ایسا ہی ہے لیکن شریعت نے کل پانی کو جو محدث کے جسم پر بہا گیا ہے مستعمل قرار دیا ہے کیونکہ وہ شیئ واحد ہے اور متصل ہے۔
میں کہتا ہوں اسی طرح ہر تھوڑا پانی حکم شرعی کے اعتبار سے شیئ واحد ہے اور حسی اعتبار سے متصل ہے اور یہ چیز بہائے پانی میں بہانے کی وجہ سے نہیں ہے بلالکہ اس کی قلت کی وجہ سے ہے اس لئے تالاب کا کل پانی بیک وقت ناپاک ہوجاتا ہے جبکہ اس میں نجاست کا کوئی قطرہ گر جائے اور یہ اسی لئے ہے کہ وہ شے واحد کی طرح ہے اس کے ایک جزء سے ملاقات کل سے ملاقات ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا تو جب محدث نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا تو برتن میں جو کچھ تھا اس سے ہاتھ کی ملاقات ہوگئی یہ نہیں کہ صرف اس کی متصل سطح سے ملاقات ہوئی اور اسی میں مقصود ہے اگر کہا جائے کہ استعمال میں مؤثر بہانا ہے تو کل بہایا ہوا مستعمل شمار ہوگا تو کل مستعمل ہوگا۔
تو میں کہوں گا ہمارے نزدیک مکلف کے فعل کا کوئی دخل نہیں موثر تو صرف یہ ہے کہ تھوڑا پانی شرعا ایک شے ہے خواہ وہ فرض کو ساقط کرے یا قربۃ ادا کرے اور یہ دونوں صورتوں میں حاصل ہے۔ اور رابعا اور یہی(بیسواں)ہے اگر ایک طشت میں پانی ہے اور محدث یہ چاہتا ہے کہ اس سے اپنا ہاتھ دھوئے تو اس کے دو طریقے ہیں ایک تو یہ کہ اس کو ہاتھ پر بہائے تو پانی حدث پر واقع ہوگا اور یا یہ کہ ہاتھ کو طشت میں ڈال دے
#12169 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
فان صبہ کلہ علی یدہ یصیر کلہ مستعملا قطعا باجماع اصحابنا وان کان یکفیہ بعضہ وقد اسرف لکن لامساغ لان یقال انما استعمل قدرما یکفیہ والفضل بقی علی طھوریتہ فکذا اذا ادخل یدہ فی کلہ وغسلہا ھناک وای فرق بینھما وبالله التوفیق۔
وخامسا اقول : وبالله التوفیق(۱)وھوالحادی والعشرون : الاستعمال مبنیا للمفعول ای صیر ورۃ الماء مستعملا لایمکن ثبوتہ لا یلاقی بدن المحدث وھو سطح الماء الباطن لان الاستعمال انسلاب الطھوریۃ فلا یثبت الافیما کان طھورا کما ان الموت لایلحق الاما کان حیا ومعلوم ان الطھوریہ صفۃ جرم الماء قال الله عزوجل “ و انزلنا من السمآء مآء طهورا “ وقال تبارک وتعالی و ینزل علیكم من السمآء مآء لیطهركم به لاصفۃ احدا اطرافہ التی لاوجود لھا الا بالانتزاع علی فرض اتصال الاجسام ولافی الغسل صفۃ طرف لا یتجزی لانہ اسالۃ ولا اسالۃ الا بالجسم والا ففیم یمتاز عن المسح وبعبارۃ اخری ھل استعمال الماء عدم صلوحہ للتوضی بہ ام سقوط
تو حدث پانی پر وارد ہوجائیگا تو اگر سب ہاتھ پر بہایا تو کل قطعا مستعمل ہوجائیگا اس پر ہمارے اصحاب کا اجماع ہے اگرچہ اس کو بعض کفایت کرتا اور اس نے اسراف کیا مگر یہ کہنے کا جواز نہیں کہ صرف اتنی مقدار مستعمل ہوئی جو اس کو کفایت کرتی اور باقیما ندہ اپنی طہوریۃ پر رہا تو اسی طرح جب اس نے اپنا ہاتھ سب پانی میں داخل کیا اور اس کو وہاں دھویا اور ان دونوں میں کیا فرق ہے وبالله التوفیق۔
اور خامسا میں کہتا ہوں وبالله التوفیق اور یہ(اکیسواں) ہے استعمال مبنی للمفعول ہے یعنی پانی کے مستعمل ہونے کا ثبوت ممکن نہیں ہے اس چیز کیلئے جو بدن محدث کو ملاقی ہو اور وہ باطنی پانی کی سطح ہے اس لئے کہ استعمال کے بعد طہوریت کا سلب ہوجانا ہے تو یہ اسی چیز میں ثابت ہوگا جو طہور ہو جیسے موت اسی چیز پر طاری ہوتی ہے جو زندہ ہو اور یہ معلوم ہے کہ طہوریت پانی کے جسم کی صفت ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے
و انزلنا من السمآء مآء طهورا (ہم نے آسمان سے پاک پانی برسایا )نیز فرمایا و ینزل علیكم من السمآء مآء لیطهركم به (وہ آسمان سے تم پر پانی برساتا ہے تاکہ تم کو اسی سے پاک کرے)یہ اس کی کسی طرف کی صفت نہیں ہے جس کا وجود محض انتزاعی ہے جبکہ اجسام کا اتصال فرض کیا جائے اور نہ ہی غسل میں کسی طرف کی صفت ہے جس میں تجزی نہ ہو اس لئے کہ غسل کا معنی
حوالہ / References القرآن ۲۵ / ۴۸
القرآن ۸ / ۱۱
#12170 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الصلوح بعد ثبوتہ علی الاول کان الملاقی مستعملا قبل ان یلاقی لان السطح لایمکن التوضی بہ وعلی الثانی لایصیر الملاقی مستعملا ابدا لانہ لم یکن صالحا لہ قط وبہ ظھر ولله الحمد(۱)ان فی مسائل انغماس المحدث والفروع الکثیرۃ الناطقۃ بصیر ورۃ الماء مستعملا بدخول بعض عضو المحدث من دون ضرورۃ صرف الکل الی معنی ان القدر الملاقی للبدن یصیر مستعملا لابقیۃ ماء البئر او الزیر (الغدیر)کما فعلہ فی الحلیۃ محتجا بما وقع فی البدائع وتبعہ البحرفی البحر صرف ضائع لامساغ لہ اصلا وفیہ(۲)ابطال صرائح النصوص الدائرۃ السائرۃفی الروایات الظاھرۃ عن جمیع ائمۃ المذھب رضی الله تعالی عنہم حیث حکموا بالاستعمال وحصل بالصرف ان لااستعمال فان صح تاویل الاثبات بالنفی والنقیض بالنقیض صح(۳)ھذا ورحم الله البحر حیث صدر منہ فی البحر الاعتراف بالحق ان ھذا التاویل لیس بتاویل بل تبدیل للحکم وتحویل حیث عبر عنہ تحت جحط بقولہ ان ماء البئر لایصیر مستعملا مطلقا ۔ ۔ ۔ الخ۔ فھذا ھو معنی ذلک التاویل حقیقۃ ولا مساغ لما انصرف الیہ ان المستعمل ماتساقط عن الاعضاء وھو مغلوب فان ما تساقط لم یلاق ایضا انما الملاقی سطح وھو لایقبل الاستعمال۔
بہانا ہے اور بہانا جسم پر ہی ہوگا ورنہ غسل مسح سے کیونکر ممتاز ہوگااور بالفاظ دیگر آیا پانی کے مستعمل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس میں اس بات کی صلاحیت ہی نہیں ہے کہ اس سے وضو کیا جاسکے یا صلاحیت ثابت ہونے کے بعد ساقط ہوئی پہلی صورت میں ملاقی مستعمل ہوگا قبل اس کے کہ ملاقات کرے کیونکہ سطح سے وضو ممکن نہیں اور دوسری تقدیر پر ملاقی کبھی مستعمل نہ ہوگا کیونکہ اس میں اس کی صلاحیت کبھی نہ تھی اور اس سے معلوم ہوا کہ محدث کا غوطہ لگانا اور بہت سی فروع جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر ضرورت محدث کے کسی بھی عضو کے پانی میں داخل ہوجانے سے پانی مستعمل ہوجاتا ہے بغیر اس معنی کی طرف پھیرنے کی ضرورت کے کہ جس قدر پانی بدن سے ملا ہے وہ مستعمل ہوگا نہ کہ کنویں کا باقی پانی یا تالاب کا باقی پانی جیسا کہ حلیہ میں کیا ہے انہوں نے بدائع کی عبارت سے استدلال کیا ہے اور محقق نے بحر میں اس کی متابعت کی ہے۔ مگر اس کا کوئی جواز نہیں اور اس میں صریح نصوص جو تمام ائمہ مذہب سے ظواہر روایت میں ہیں کا ابطال ہے کہ ان سب نے استعمال کا حکم لگایا ہے اور یہ معنی کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی مستعمل نہیں اگر اثبات کی تاویل نفی سے اور نقیض کی نقیض سے ہوسکتی ہے تو یہ بھی صحیح ہے علامہ محقق نے بحر میں منصفانہ بات کہی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ تاویل نہیں بلالکہ حکم کی تبدیلی ہے کیونکہ
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت مسئلۃ البئر جحط ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۸
#12171 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
وسادسا : (۱)وھو الثانی والعشرون : ماذکر قدس سرہ علی مذھب الامام رضی الله تعالی عنہ ومن وجوب نزح الماء کلہ یھدم اساس الفرق بین النجاسۃ العینیۃ والحدث اذلیس فی بدن المحدث مایختلط بالطاھر علی وجہ لایمکن التمییز وانما یتنجس مایلاقی وقد قصرتموہ علی مااتصل ببدنہ فکان یجب ان لایتنجس الا ھو واختلاط ماجاورہ من الماء بسائرہ یدفعہ ماذکرتم فی الفرق بین الفأر والھر ولایسری لما افدتم من ان النجس ھو جار النجس لاجار الجار لکن الامام اوجب نزح الکل فوجب القول بان الملاقی کل الماء واذن کما یتنجس کلہ عند الامام فیما یروی عنہ کذلک تنسلب الطھوریۃ عن کلہ علی مذھبہ المعتمد المفتی بہ لحصول السبب فی الکل
وبعبارۃ اخری کما قال قدس سرہ علی روایۃ الحسن الفرق بین المحدث والجنب کذلک نقول ھنا ان بوقوع المحدث فی البئر ھل ثبت اللقاء للماء کلہ اولا علی الثانی لم وجب نزح الجمیع فقد افدتم ان الجوار لایتعدی وعلی الاول حصل المقصود وبالجملۃ ھنا
جحط کے تحت انہوں نے فرمایا کہ “ کنویں کا پانی مستعمل نہ ہوگا مطلقا ۔ ۔ ۔ الخ “ یہ ہیں اس تاویل کے حقیقی معنی اور جو انہوں نے فرمایا ہے اس کا کوئی جواز نہیں۔ وہ فرماتے ہیں مستعمل وہ ہے جو اعضاء سے گرا اور وہ مغلوب تھا کیونکہ جو گرا اس کی ملاقات نہ ہوئی تھی ملاقی تو صرف سطح ہے اور وہ استعمال کو قبول نہیں کرتی ہے۔ اور سادسا(اور وہ بائیسواں ہے)جو قدس سرہ نے مذہب امام پر ذکر کیا ہے کہ کل پانی نکالا جائے گا وہ نجاست عینیہ اور حدث کے فرق کی اساس کو منہدم کرتا ہے کہ بدن محدث میں کوئی ایسی چیز نہیں جو طاہر سے اس طور پر مل جائے کہ تمیز ممکن نہ ہو اور نجس صرف وہ ہوتا ہے جو اس سے ملاقی ہو اور تم نے اس کو صرف اس پر منحصر رکھا ہے جو اس کے بدن سے ملتا ہے تو چاہئے کہ صرف وہی نجس ہو اور اس پانی کا اختلاط جو باقی بدن سے لگا ہے اس کو وہ فرق دفع کرتا ہے جو تم نے بلی اور چوہے میں بیان کیا ہے اور وہ سرایت نہ کرے گا کیونکہ آپ نے کہا ہے کہ نجس وہ ہے جو نجس کا پڑوسی ہے نہ کہ پڑوسی کا پڑوسی لیکن امام نے کل پانی کے نکالنے جانے کو ضروری قرار دیا ہے تو یہ قول لازم ہوا کہ ملاقی کل پانی ہے اور اس صورت میں جیسے کل پانی امام کے نزدیک نجس ہوتا ہے جیسا کہ ان سے مروی ہے اسی طرح طہوریۃ کل پانی سے سلب ہوجائے گی جیسا کہ ان کا مذہب معتمد مفتی بہ ہے کیونکہ سبب کل میں موجود ہے اور بالفاظ دیگر جیسا کہ قدس سرہ نے فرمایا حسن کی روایت کے مطابق فرق محدث اور جنب کے درمیان میں۔ اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ محدث کے کنویں میں گرنے سے کیا کل پانی سے لقاء ثابت ہوگی یا نہیں اور بر تقدیر ثانی کنویں کا کل پانی نکالنا کیوں
#12172 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
شیئان السبب والحکم اما السبب فمتفق علیہ وھو اللقاء وانما الخلف فی الحکم انہ التنجس اوانسلاب الطھوریۃ فان اقتصر السبب علی مااتصل وجب قصر الحکم علیہ ای حکم کان وان شمل احد الحکمین جمیع الماء ثبت ثبوت السبب فی الکل فوجب شمول الحکمین للکل وبالله التوفیق۔
وسابعا : (۱)وھو الثالث والعشرون : افدتم ان الفأرۃ یجاورھا من الماء عشرون دلو الصغر جثتہا وفی الدجاجۃ والسنور المجاورۃ اکثر لزیادۃ ضخامۃفی جثتھا والادمی یجاور جمیع الماءفی العادۃ لعظم جثتہ اھ۔ وذکرتم انہ الفقہ الخفی فھذا تصریح منکم بان المحدث الواقع فی البئر قد جاور جمیع الماءفیجب ان یصیر جمیعہ مستعملا وطاح القول بان المستعمل ما یلاقیہ وھو اقل من غیرہ وایضا ماء الطست وکثیر من الاجانات لایبلغ عشرین دلوا ولا عشرا وکف الانسان لیس باصغر من فأرۃ فاذا ادخل محدث یدہ فی اجانۃ وجب ان یصیر کلہ مستعملا ولا مساغ ھھنا للفرق بین النجاستین العینیۃ والحکمیۃ فان الجوار
لازم ہوا کیونکہ آپ نے کہا ہے کہ جواز متعدی نہیں ہوتا ہے اور پہلی تقدیر پر مقصود حاصل ہوگیا۔ اور خلاصہ یہ کہ یہاں دو چیزیں ہیں سبب اور حکم۔ سبب تو متفق علیہ ہے اور وہ ملاقاۃ ہے اور اختلاف صرف حکم میں ہے اور وہ ناپاک ہونا ہے یا طہوریت کا سلب ہونا ہے اگر سبب متصل پر موقوف ہو تو حکم کا بھی اس پر مقصود کرنا واجب ہوگا جو بھی حکم ہو اور اگر ایک حکم تمام پانی کو شامل ہو تو سبب کل میں ہونا ثابت ہوجائے گا تو دونوں حکموں کا کل کو شامل ہونا لازم ہوگا وبالله التوفیق۔
سابعا(اور وہ تئیسواں ہے)آپ نے کہا ہے کہ چوہیا سے متصل بیس ڈول پانی ہوتا ہے کیونکہ اس کا جسم چھوٹا ہے اور مرغی اور بلی میں ان کی ضخامت کی وجہ سے زائد پانی متصل ہوتا ہے اور آدمی اپنے جثہ کے بڑے ہونے کی وجہ سے کل پانی کے متصل ہوتا ہے اھ اور تم نے ذکر کیا ہے کہ یہ فقہ حنفی ہے یہ تمہاری طرف سے اس امر کی صراحت ہے کہ جو محدث کنویں میں گرتا ہے وہ تمام پانی کے مجاور ہوتا ہے تو لازم ہے کہ وہ تمام مستعمل ہو اور یہ قول غلط ہوا کہ مستعمل وہ ہے جو اس سے ملا ہوا ہے اور وہ اس کے غیر سے اقل ہے اور طشت کا پانی اور بہت سے مٹکوں کا پانی بیس ڈول بلالکہ دس ڈول کی مقدار تک نہیں ہوتا اور انسان کی ہتھیلی چوہیا سے چھوٹی نہیں ہوتی تو جب محدث نے اپنا ہاتھ مٹکے میں ڈالا تو واجب ہے کہ اس کا کل مستعمل ہو اور یہاں کوئی فرق نہیں دو نجاستوں کے درمیان عینیہ
حوالہ / References بدائع الصنائع المقدار الذی یصیر بہ المحل نجساً ۱ / ۷۵
#12173 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
یحصل بین الجسمین لذا تھما ولامدخل فیہ لوصف قام باحدھما حتی یختلف باختلافہ۔
فان قیل : حقیقۃ المجاورۃ لیست الالما اتصل بالجسم وانما سری الی عشرین فی الفأرۃ واربعین فی الھر والکل فی الادمی لان المیت تنفصل منہ بلات وتتفاوت بتفاوت الجثت قال ملک العلماء وجب تنجیس جمیع الماء اذا تفسخ شیئ من ھذہ الواقعات اوانتفخ لان عند ذلک تخرج البلۃ منھا لرخاوۃفیھا فتجاور جمیع اجزاء الماء وقبل ذلک لایجاور الاقدر ماذکرنا لصلابۃفیھا اھ۔ فالمراد بمجاورۃ عشرین واربعین والکل مجاورۃ البلۃ دون الجثۃ وانما لاقت الجثۃ مالاقت۔
اقول : فاذن ینتقض ماذکر تم فی وقوع محدث فی البئرعلی قول الامام بنجاسۃ الماء المستعمل لعدم بلۃ ھناک تنفصل والحق علی مایظھر للعبد الضعیف غفرلہ ان الماء ان کان شیئا واحدا متصلا حقیقۃ کما تزعمہ الفلاسفۃ فلا شک ان لقاء بعضہ لقاء کلہ بل لابعض ھناک لعدم
اور حکمیہ میں کیونکہ جوار دو جسموں کی ذاتوں کو حاصل ہوتا ہے اور اس میں کسی ایسے وصف کو دخل نہیں جو ان میں سے کسی ایک کے ساتھ قائم ہوتا کہ اس کے اختلاف کی وجہ سے مختلف ہوجائے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حقیقی مجاورۃ تو اسی چیز کیلئے ہے جو جسم سے متصل ہو اور یہ بیس ڈول تک چوہیا میں سرایت کرتی ہے اور چالیس تک بلی میں اور کل پانی میں آدمی کے گرنے کی صورت میں کیونکہ میت سے تریاں جدا ہوتی ہیں اور ان میں جثوں کے اعتبار سے فرق ہوتا ہے۔ ملک العلماء نے فرمایا کہ ان اشیاء میں سے اگر کوئی چیز پھول جائے یا پھٹ جائے تو کل پانی کا نجس قرار دینا ضروری ہے کیونکہ اس صورت میں ان اشیاء سے تری خارج ہوگی کیونکہ ان میں نرمی ہے اور پانی کے تمام اجزاء سے متصل ہوجائے گی اور اس سے قبل صرف اس مقدار کے متصل تھی جس کا ہم نے ذکر کیا کیونکہ اس صورت میں یہ اشیاء سخت تھیں اھ۔ تو بیس چالیس یا کل کی مجاورۃ سے مراد تری کی مجاورۃ ہے نہ کہ جثہ کی جثہ تو جس سے ملا ہے سو ملا ہے۔
میں کہتا ہوں جو آپ نے کہا ہے اس پر یہ نقض وارد ہوتا ہے کہ اگر محدث کنویں میں گر جائے تو امام کے قول پر مستعمل پانی نجس ہوجائے گا کیونکہ وہاں کوئی تری موجود نہیں جو محدث سے الگ ہوئی ہو اور جو حق مجھ پر ظاہر ہوا ہے وہ یہ ہے کہ پانی اگر متصل واحد ہے حقیقۃ جیسا کہ فلاسفہ کا خیال ہے تو اس میں شک نہیں کہ اس کے بعض سے ملاقاۃ کل سے ملاقات
حوالہ / References بدائع الصنائع المقدار الذی یصیربہ المحل نجساً سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۵
#12174 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
التجزی بالفعل وان کاناجزاء متفرقۃ کما ھو عندنا ان تألف الاجسام من جواھر فردۃ تتجاور ولا تتلاصق لاستحالۃ اتصال جزئین۔
اقول : وکل ماتجشمہ الفلاسفۃ وخدمہم من اقامۃ براھین ھندسیۃ وغیرھا علی استحالۃ الجزء وقد اوصلھا الشیرازی فی شرح الغوایۃ المسماۃ ھدایۃ الحکمۃ الے اثنی عشرو سماھا حججا انما تدل علی استحالۃ الاتصال دون امتناع نفس وجود الاجزاء ومبنی الھندسۃ علی توھم خطوط متصلۃ ولا حاجۃ لھا الی وجودھا عینا فضلا عن اتصالھا کالھیأۃ تبتنی علی توھم مناطق ومحاور واقطاب ودوائر وان لم یکن لہا وجود عینی بل اولی فان الہندسۃ تستغنی عن وجودھا بوجود المناشی ایضا فلا یرد علینا شیئ من ذلک ولله الحمد(۲)وقد اغفل ذلک کثیر من المتکلمین فاحتار وافی دفع شبہ المتفلسفین و بالله التوفیق بل الجسم عـــہ
متصور ہوگی بلالکہ یہاں بعض کا تصور ہی نہیں کیونکہ بالفعل تجزی نہیں ہے اور اگر متفرق اجزاء ہوں جیسا کہ ہمارے نزدیک ہے کیونکہ ہمارے نزدیک اجسام جواہر منفردہ سے مرکب ہیں تو اس صورت میں اجزاء مجاور ہوں گے لیکن متصل نہیں ہونگے کیونکہ دو اجزاء کا اتصال محال ہے۔
میں کہتا ہوں فلاسفہ نے جو تگ ودو کی ہے کہ براہین ہندسیہ سے جزء کا ابطال کیا ہے اور شیرازی نے شرح الغوایہ جس کا نام “ ہدایۃ الحکمۃ “ ہے ایسے بارہ دلائل قائم کئے ہیں اور ان کا نام حجۃ رکھا ہے ان سے صرف اجزاء کا اتصال محال ثابت ہوتا ہے نفس جزء کا استحالہ ثابت نہیں ہوتا ہے اور ہندسہ کی بنیاد خطوط متصلہ کے تو ہم پر ہے اور ان کا موجود ہونا خارج میں کچھ ضروری نہیں چہ جائیکہ ان کا اتصال جیسے علم ھیأۃ کا دارومدار منطقوں محوروں قطبوں اور دوائر کے تو ہم پر مبنی ہے اگرچہ ان کا خارجی وجود نہ ہو بلکہ اس سے بھی اولی ہے کیونکہ علم ہندسہ ان کے وجود سے ان کے منشاء کے وجود سے بھی مستغنی ہے توان میں سے کوئی چیز ہم پر وارد نہیں ہوتی ولله الحمد اس سے بہت متکلمین غافل رہے اور متفلسفین کے

عـــہ تنبیہ : (۳)فان قلت کیف یری الجسم و الجزء لایری اقول اولا جرت السنۃفی بصر البشر ان شیئا بالغ النہایۃفی الدقۃ اذا کان منفردا لم یحط بہ البصر واذا اجتمع امثالھا وکثرت ظھرت کما اذا کان فی جلد ثورا بیض نقطۃ سوداء کرأس الابرۃ لاتحس وان کثرت
تنبیہ اگر تو کہے کہ جسم کیسے دکھائی دیتا ہے جبکہ جزء تو نظر نہیں آتی اولا میں کہتا ہوں کہ نگاہ انسانی فطری طور پر انتہائی باریک چیز کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے جبکہ وہ چیز منفرد ہو۔ لیکن اگر اس چیز کے ساتھ اس کی متعدد امثال مجتمع ہوں تو وہ ظاہر ہوجاتی ہے جیسے(باقی بر صفحہ ایندہ)
#12175 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
عندنا اجزاء متفرقۃ حقیقۃ متصلۃ حساکما
اعتراضات کے رد میں حیران رہ گئے

(باقی حاشیہ صفحہ گزشتہ)امثالھا متجاورات ابصرت بل قدلا یری من البعد الا لونھا وھو السواد وھذا ظاھرفی الھباء فان فیہ ذرات قلائل تری کریۃ الشکل وعامتہ لایحس البصر اشکالھا بل لونا سحابیا ککواکب المجرۃ والنثرۃ ولو تفرد شیئ منھا ماامکن عادۃ ان یبصرو بتکاثرھا وتراکمھا تری کعمود بنیک وبین الکوۃ مثل السحاب بل السحاب نفسہ من ذلک فان البخار اجزاء متفرقۃ ولا تبصر واحد منھا وبتراکمھا تری سحبا کالجبال ولعل الوجہ فیہ ان المنفرد یقتضی خصوص النظر الیہ فاذا کان علی ھذا القدر من الدقۃ انطبق الخطان الشعاعیان الواصلان الیہ و انعدمت زاویۃ الرؤیۃ کما ھو السبب فی انتفاء زاویۃ اختلاف المنظر لما فوق الشمس فاتحد تقویماہ المرئی والحقیقی واذا کثرت وانبسطت وقعت بین ساقی مثلث ذی زاویۃ مبصرۃ فابصرت وثانیا : ھذا علی طریقتھم فان سلموا والا فانما اصلنا الایمانی ان الابصار وکل شیئ بارادۃ الله تعالی وحدہ لاغیر فان شاء رأی الاعمی فی لیلۃ ظلماء عین نملۃ سوداء وان لم یشاء عمیت الزرقاءفی رابعۃ النھار عن جبل بالغ افق السماء فاذا اراد ان لاتری
سفید بیل کی جلد پر سوئی کے سرے کے برابر سیاہ نقطہ دکھائی نہیں دیتا لیکن اگر متعدد سیاہ نقطے مجتمع ہوجائیں تو نظر آنے لگتے ہیں بلالکہ دور سے تو محض ان کا سیاہ رنگ ہی دکھائی دیتا ہے۔ یہ بات غبار میں ظاہر ہے کیونکہ اس میں چھوٹے چھوٹے کروی الشکل ذرات ہوتے ہیں جن میں سے اکثر کی شکلوں کو آنکھ محسوس نہیں کرتی بلکہ بادلوں کی مانند ان کا رنگ دکھائی دیتا ہے جیسے کہکشاں اور بکھرے ہوئے ستارے ان میں سے کوئی بھی اگر منفرد ہو تو عادتا اس کا دکھائی دینا ناممکن ہے۔ البتہ کثرت واجتماعیت کی وجہ سے نظر آجاتے ہیں جیسے تیرے اور روشندان کے درمیان روشنی کا ستون بادل کی مثل دکھائی دیتا ہے بلکہ خود بادل بھی اسی قبیل سے ہے کیونکہ بخارات متفرق اجزاء ہوتے ہیں جن میں سے کوئی ایک دکھائی نہیں دیتا مگر مجتمع ہو کر پہاڑوں جیسے بادل نظر آتے ہیں شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ منفرد چیز خصوصی نظر کا تقاضا کرتی ہے جب وہ نہایت باریک ہو تو دونوں آنکھوں سے نکلنے والی شعاعیں اس تک پہنچ کر باہم منطبق ہوجاتی ہیں اور زاویہ نظر معدوم ہوجاتا ہے جیسا کہ مافوق الشمس اختلاف منظر کے زاویہ کے منتفی ہونے کا یہی سبب ہے۔ پس اس کی حقیقی اور مرئی تقویمیں متحد ہوجاتی ہے اور جب یہ اجزاء کثیر اور پھیلے ہوئے ہوں تو بصری زاویہ والی مثلث کے دو خطوں کے درمیان واقع ہونے پر دکھائی دینے لگتے ہیں۔ ثانیا مذکورہ بالا (باقی بر صفحہ ایندہ)
#12176 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
تری فی الھباء عند دخول الشمس من کوۃ بل وفی الدخان والبخار والغبار فح لااتصال حقیقۃ لشیئ من الماء بشیئ من البدن فلو اعتبرت الحقیقۃ لم یتنجس الماء بوقوع شیئ من الخبث فظھر ان الشرع المطھر قد اعتبر ھھنا الحس ولا شک ان کلہ فی الحس شیئ واحدکما ھوفی الحقیقۃ عند المتفلسفۃ ولیس ثم حاجز ینتھی الجوار الحسی بالبلوغ الیہ فوجب ان یکون علی ھذا ایضا لقاء بعضہ لقاء کلہ بل لابعض لعدم التجزی حسا اما الکثیر فجعلہ الشرع لایحتمل الخبث فلا یضرہ الجوار الحسی وبہ(۱)استقر عرش التحقیق علی ان الماء الکثیر لایتنجس شیئ منہ بوقوع النجاسۃ ولو مرئیۃ حتی ماحولھا مما یلیھا ھکذا ینبغی التحقیق والله تعالی ولی التوفیق وھنا تم الکلام مع الامام الھمام ملک العلماء الکرام نفعنا الله تعالی ببرکاتہ علی الدوام فی دار السلام امین۔
ہمارے نزدیک جسم اجزائے متفرقہ حقیقۃ متصلہ حسا سے عبارت ہے جیسے کمرہ کے سوراخ سے روشنی کی کرن جب اندر داخل ہوتی ہے تو اس میں ذرات نظر آتے ہیں بلالکہ دھوئیں بخارات اور غبار میں بھی نظر آتے ہیں لہذا پانی حقیقی طور پر بدن سے متصل نہیں ہے تو اگر حقیقت کا اعتبار کیا جائے تو پانی کسی بھی گندی چیز کے گرنے سے نجس نہ ہو پس معلوم ہوا کہ شریعت مطہرہ نے یہاں حس کا اعتبار کیا ہے اور اس میں شک نہیں کہ حس کے نزدیک کل ایک چیز ہے جیسا کہ متفلسفہ کے نزدیک حقیقت یہی ہے اور وہاں کوئی ایسی روک بھی موجود نہیں جہاں پہنچ کر جوار حسی رک جائے تو اس بنا پر لازم ہوا کہ بعض کی ملاقات کل کی ملاقات قرار پائے بلالکہ وہاں بعض ہے ہی نہیں کیونکہ تجزی نہیں ہے حسا اور رہا کثیر تو شرع نے فرمایا ہے کہ اس میں نجاسۃ اثر نہیں کرے گی تو اس کو جوار حسی کچھ مضر نہ ہوگا اس تحقیق عرش نشیں سے معلوم ہوا کہ کثیر پانی نجاسۃ کے گرنے سے نجس نہ ہوگا خواہ وہ نظر آنے والی ہو یہاں تک کہ نجاست کا گردوپیش بھی نجس نہ ہوگا اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے یہاں تک کہ امام ہمام ملک العلماء کے ساتھ گفتگو مکمل ہوئی اللہ تعالی ان کی برکات سے ہم کو ہمیشہ جنت تک مستفید فرمائے۔ آمین

(باقی حاشیہ صفحہ گزشتہ)الاجزاء علی الانفراد واذا تجسمت ابصرت یکون کما اراد اھ منہ حفظہ ربہ تبارک وتعالی(م)
دلیل فلاسفہ کے مذہب کے مطابق ہے اگر مان لیں تو فبہا وگرنہ ہماری ایمانی دلیل یہ ہے کہ نگاہیں اور تمام چیزیں اللہ تبارک وتعالی کے ارادے کے تابع ہیں۔ اگر وہ چاہے تو ایک اندھا تاریک رات میں سیاہ چیونٹی کی آنکھ کو دیکھ سکتا ہے اور اگر وہ نہ چاہے تو دن کی روشنی میں فلک بوس پہاڑ سے نیلگوں آسمان کو بھی نہیں دیکھا جاسکتا چونکہ اس نے چاہا کہ اجزاء انفرادی طور پر نظر نہ آئیں اور جب وہ مجتمع ہوجائیں تو نظر آنے لگیں لہذا جیسا اس نے چاہا ویسا ہی واقع ہوا۔ (ت)
#12177 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الرابع والعشرون : یمکن الجواب عن الاستناد الی کلام البدائع بما عـــہ اوردہ فی البحر ولم یردہ وان لم یردہ اذ نقل عن اسرار القاضی الامام الدبوسی ما تقدم ان محمدا یقول لما اغتسل فی الماء القلیل صار الکل مستعملا حکما ثم قال فھذہ العبارۃ کشفت اللبس واوضحت کل تخمین وحدس فانھا افادت ان مقتضی مذھب محمد ان الماء لایصیر مستعملا باختلاط القلیل من الماء المستعمل الا ان محمدا حکم بان الکل صار مستعملا حکما لاحقیقۃ فما فی البدائع محمول علی ان مقتضی مذھب محمد عدم الاستعمال الا انہ یقول بخلافہ اھ۔ قال فی منحۃ الخالق یعنی ان صاحب البدائع نسب الی محمد عدم الاستعمال بناء علی مااقتضاہ مذھبہ من ان المستعمل لایفسد الماء مالم یغلبہ اویساوہ لکن محمد ا ما قال بذلک الذی
چوبیسواں صاحب بدائع کے کلام کی طرف جو منسوب ہے اس کا بیان صاحب بحر کے بیان سے ممکن ہے جس کو انہوں نے رد نہیں کیا اگرچہ صاحب بحر نے یہ ارادہ نہیں کیونکہ انہوں نے قاضی امام دبوسی کی اسرار سے نقل کیا ہے جو گزرا کہ امام محمد فرماتے ہیں تھوڑا پانی ہو اور اس میں کوئی غسل کرے تو کل حکما مستعمل ہوگا تواس عبارت نے التباس کو ختم کردیا ہے اس عبارت سے معلوم ہوا کہ محمد کے مذہب کا مقتضی یہ ہے کہ تھوڑے سے مستعمل پانی کے مل جانے سے پانی مستعمل نہ ہوگا مگر محمد نے حکم کیا ہے کہ کل حکما مستعمل ہوگا نہ کہ حقیقۃ تو جو کچھ بدائع میں ہے وہ یہ ہے کہ محمد کے مذہب کا مقتضی یہ ہے کہ پانی مستعمل نہ ہوگا مگر وہ کہتے اس کے خلاف ہیں اھ منحۃ الخالق میں فرمایا یعنی صاحب بدائع نے محمد کی طرف عدم استعمال کی طرف منسوب کیا جیسا کہ ان کے مذہب کا مقتضی ہے کہ مستعمل پانی پانی کو فاسد نہ کرے گا تاوقتیکہ اس پر غالب ہوجائے یا اس کے برابر ہوجائے لیکن محمد نے یہ نہیں فرمایا ہے حالانکہ یہ ان کے مذہب کا مقتضی ہے بلالکہ اس صورت میں


عـــہ ذکرہ رحمہ الله تعالی فی ضمن سؤال وعدل فی الجواب الی حمل الروایات المتواترۃ الظاھرۃ علی الضعیفۃ النادرۃ وغیر ذلک مما یأتیک الجواب عنہ ان شاء الله اھ منہ غفرلہ ۔ (م)
انہوں نے اس کو سوال کے ضمن میں ذکر کیا ہے اور جواب میں روایت متواترہ ظاہرہ کو روایت ضعیفہ نادرہ وغیرہ پر محمول کرنے کی طرف عدول کیا ہے جس کا جواب ان شاء الله تعالی آپ کو دیا جائے گا اھ منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۲
#12178 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اقتضاہ مذھبہ بل قال فی ھذہ الصورۃ انہ صار مستعملا حکما کما صرحت بہ عبارۃ الدبوسی اھ۔
اقول : ثبوت الاستعمال باللقاء وحقیقۃ عــہ اللقاء لتلک الاجزاء والحکم ثبت لجمیع الماء لان القلیل شیئ واحد فی اعتبار الشریعۃ الغراء کما اسلفنا تحقیقہ ونورنا لک طریقہ لان الحکم منتف حقیقۃ فیکون اثباتہ مجازفۃ سحیقۃ۔ المطبق علیھا سلف المذھب وخلفہ الی روایۃ نجاسۃ الماء المستعمل شیئ عجیب من مثلہ المحقق۔
الخامس والعشرون : محاولۃ العلامۃ رحمہ الله تعالی رد جمیع تلک الفروع المتواترۃ الدائرۃ فی عامۃ کتب المذھب المنصوص علیھا عن جمیع ائمۃ المذھب
فاقول اولا : (۱)کیف یسوغ ان ترد بھذہ الکثرۃ وتدور فی جمیع کتب المذھب وتتداولھا الائمۃ والشراح ولا ینبہ احد انھا تبتنی علی روایۃ ضعیفۃ متروکۃ بل یذکرونھا ویقرونھا و یفرعون علیھا وعند الحجاج والحاج یفزعون الیھا فرد جمیع ذلک بعید
انہوں نے فرمایا کہ یہ حکما مستعمل ہوگیا جیسا کہ دبوسی کی عبارت سے صراحۃ معلوم ہوتا ہے۔
میں کہتا ہوں استعمال کا ثبوت ملاقاۃ سے ہوتا ہے اور حقیقۃ ملاقاۃ ان اجزاء سے ہوتی ہے اور حکم تمام پانی کے لئے ثابت ہوتا ہے کیونکہ شریعت میں قلیل شے واحد ہے جیسا کہ ہم اس کی تحقیق اور نورانی طریقہ بیان کر آئے ہیں کیونکہ حکم حقیقی طور پر منتفی ہے تو اس حکم کو ثابت کرنا اندازا ہوگا۔ پچیسواں ______ وہ تمام فروع جو تواتر کے ساتھ عام کتب مذہب میں مذکور ہیں اور ائمہ شراح نے ان کو ذکر کیا ہے اور تمام ائمہ مذہب سے منصوص ہیں جن پر سلف مذہب اور خلف مذہب متفق ہیں ان سب کو انہوں نے مستعمل پانی کے نجس ہونے والی روایت کی طرف راجع کیا ہے علامہ جیسے محقق سے یہ بات بعید ہے۔ میں کہتا ہوں اولا یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ فروع اس کثرت سے تمام کتب مذہب میں ذکر کی جائیں اور ائمہ وشراح ان کو قبول کریں اور کسی کو یہ خبر نہ ہو کہ یہ ضعیف ومتروک روایت پر مبنی ہیں بلالکہ وہ حضرات ان کو مسلسل ذکر کرتے چلے جائیں اور ان پر مزید تفریعات کرتے چلے جائیں اور مناظروں میں ان کو پیش کرتے رہیں
عــہ ای الحسیۃ العرفیۃ اھ منہ غفرلہ(م)
یعنی حقیقۃ حسی عرفی۔ (ت)
حوالہ / References منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۲
#12179 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
کل البعد۔ وثانیا : ھو منصوص علیہ فی الروایۃ الظاھرۃ وما روایۃ التنجیس الانادرۃ روی ھذہ الحسن ونص علی ذلک محمد فی الاصل وثالثا : تظافرت علیہ التصحیحات کما قدمنا عن البحر عن الخبازی عن القدوری عن الجرجانی وعن الحلیۃ عن ابی الحسین عن ابی عبدالله وعن خزانۃ المفتین ومتن الملتقی وعن البحرانہ المذھب المختار فکیف یبتنی علی روایۃ متروکۃ ورابعا : توافرت فیہ نقول الاتفاق علیہ وانہ مذھب اصحابنا جمیعا کما سبق عن النھایۃ والعنایۃ والھندیۃ ومجمع الانھر والدر المختار وغیرھا وعن البحر عن البدائع وعنہ عن العنایۃ والدرایۃ وغیرھا وعن الحلیۃ وعن البحر عن الخبازی کلاھما عن ابی الحسین عن الجرجانی وعن شیخکم المحقق انہ قولنا جمیعا فکیف یجوز رجعہ الی روایۃ متروکۃ وخامسا : اکثروا من عزوہ لمحمد کمامر عن الفوائد الظھیریۃ عن شیخ الاسلام خواھر زادہ وابی بکر الرازی وشمس الائمۃ السرخسی وعن الزیلعی وشیخکم المحقق حیث اطلق وعن البحر عن الاسبیجابی والولوالجی وحیث حکم محمد بسقوط حکم الاستعمال عللوہ با لضرورۃ کما سلف عن البحروالنھر والفتح و التبیین والکافی والبرھان
تو ان سب کو روایت نجاست کی طرف لوٹانا سخت بعید ہے۔
اور ثانیا یہ ظاہر روایت میں نص ہے اور تنجیس کی روایت نادرہ ہے اس کو حسن نے روایت کیا اصل میں محمد نے اس پر نص کی۔ اور ثالثا اس پر پے درپے تصحیحات موجود ہیں جیسا کہ ہم نے بحر خبازی قدوری جرجانی حلیہ ابی الحسین ابی عبداللہ خزانۃ المفتین اور متن ملتقی کے حوالوں سے نقل کیا اور بحر سے نقل کیا کہ یہی مذہب مختار ہے تو پھر یہ متروک روایت پر کس طرح مبنی ہوسکتا ہے۔
اور رابعا متفقہ نقول کثرت سے ہیں یہی ہمارے تمام اصحاب کا مذہب ہے جیسا کہ گزرا نہایہ عنایہ ہندیہ مجمع الانہر درمختار وغیرہ سے اور بحر نے بدائع عنایہ ودرایہ اور حلیہ سے اور بحر وخبازی دونوں نے ابو الحسن جرجانی اور شیخ محقق سے یہ تمام کا قول ہے تو متروکہ روایت کی طرف اس کو راجع کرنا کیسے جائز ہوسکتا ہےاور خامسا اکثر نے اس کو محمد کی طرف منسوب کیا ہے جیسا کہ فوائد ظہیریہ شیخ الاسلام خواہر زادہ ابو بکر رازی شمس الائمہ سرخسی زیلعی اور تمہارے شیخ محقق بحر اسبیجابی ولوالجی سے گزرا اور جہاں محمد نے استعمال کا حکم ساقط ہونے کی بات کی اس کو انہوں نے ضرورت پر محمول کیا جیسا کہ بحر نہر فتح تبیین کافی برہان حلیہ فوائد صغری خبازی قدوری جرجانی شمس الائمہ حلوانی سے گزرا اور بحر سے سرخسی سے اصل میں امام محمد کی نص سے گزرا اور بحر سے دبوسی سے گزرا کہ محمد فرماتے ہیں کل حکما مستعمل ہوگا اور بحر میں
#12180 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
والحلیۃ والفوائد والصغری والخبازی والقدوری والجرجانی وشمس الائمۃ الحلوانے و عن البحر عن السرخسی عن نص محمد فی الاصل وعن البحر عن الدبوسی ان محمدا یقول صار الکل مستعملا حکما وقد قال عــہ فی البحر ان ھذہ العبارۃ کشفت اللبس واوضحت کل تخمین وحدس ومعلوم ان محمدا لم یقل قط بالتنجیس فکیف تحمل علیہ وبہ(۱)ظھر الجواب عما اراد بہ البحر فی البحر والرسالۃ دفع الاستبعاد عن ھذا الحمل بان المحقق فی الفتح حمل فرعافی الخانیۃ علی نجاسۃ المستعمل وقال لایفتی بمثل ھذہ الفروع اھ۔
زاد فی الرسالۃ ان تلمیذہ فی الحلیۃ حمل علیھا فرعی الاجمۃ والطحلب وحمل فروعا کثیرۃ علی ھذا النحو اھ فھل بعض فروع وردت متفرقۃ فی غضون بعض الفتاوی کھذہ الفروع الوافرۃ المتکاثرۃ المتواترۃ الثابتۃ الدائرۃ فی عامۃ الشروح والفتاوی مع عدۃ من
فرمایا ہے کہ اس عبارت سے مشکل حل ہوگئی ہے اور یہ معلوم ہے کہ محمد نے پانی کے نجس ہونے کا قطعا قول نہیں کیا ہے تو اس کو اس پر کیسے محمول کیا جائے گا اور اس سے بحر اور رسالہ کا جواب بھی ظاہر ہوگیا انہوں نے اس حمل کو بعید گردانا تھا اور کہا تھا کہ محقق نے فتح میں مستعمل پانی پر ایک فرع خانیہ کی اس پانی کی نجاست پر محمول کی ہے اور کہا ہے کہ اس قسم کی فروع پر فتوی نہ دیا جائے اھ رسالہ میں یہ اضافہ ہے کہ ان کے شاگرد نے حلیہ میں اس پر اجمہ اور طحلب کی دو فروع کو محمول کیا یہ خلاصہ اور منیہ میں مذکور ہیں اور فرمایا کہ اسی نہج پر انہوں نے بہت سی فروع اخذ کی ہیں اھ تو کیا ان فروع کی طرح کچھ اور ایسی فروع ہیں جو متفرق فتاوی میں اس کثرت کے ساتھ مذکور ہوں کیا شروح اور کیا متون اور ان پر کیسے کوئی نکیر نہیں کی یا ان کی طرح کتب ظاہر روایت میں ہوں یا ان کی اتنی تصحیحات ہوں یا تمام مذہب حنفی کی کتب میں منصوص ہوںـ یا ان پر اتفاق کیا گیا ہو کہ یہ ہم سب کا قول ہے یہ ہمارے اصحاب کا مذہب ہے یا ان کا کوئی اور محمل ہے کہ ان کی طرف روشن

عـــہ ای اوردہ علی نفسہ ولم یجب عنہ۔ منہ غفرلہ(م)
یعنی انہوں نے اسکو اپنے اوپر وارد کیا ہے اوراس کا جواب نہیں دیا۔ (ت)
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۳
جواز الوضوء من الفساقی رسالۃ من رسائل ابن نجیم ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۸ / ۸۲۱
#12181 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
المتون من دون نکیر ولا مجال ظنون ام ھی کھذہ فی الکتب الظاھرۃ ام ھی مذیلات بالتصحیحات المتظافرۃ ام ھی منصوص علیھا من جمیع ائمۃ المذھب الحنفی ام ھی مزینۃ بطراز الاتفاق وبانھا قولنا جمیعا وبانھا مذھب اصحابنا فاین ذی من اتی ام ھل لھا محمل غیر ھذا فکیف یقاس علی المتعین مالہ سبیل واضح متبین۔
السادس والعشرون : کلام العلامۃ علی حدیث لایبولن احدکم فی الماء الدائم قدمنا الکلام علیہ واشرنا الی کلام شیخہ المحقق علی الاطلاق حیث یقول اما قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم(وذکر الحدیث)فغایہ مایفید نھی الاغتسال کراھۃ التحریم ویجوز کونھا لکیلا تسلب الطھوریۃ فیستعملہ من لاعلم بہ بذلک فی رفع الحدث ویصلی ولافرق بین ھذا وبین کونہ یتنجس فیستعملہ من لاعلم لہ بحالہ فی لزوم المحذور وھو الصلاۃ مع المنافی فیصلح کون کل منھما مثیرا للنھی المذکور اھ۔ (۱)ودفع البحر ایاہ ببحث البدائع المذکور دفع للصحیح بمالیس بہ کما علمت اماحدیث راستہ ہو۔
چھبیسواں علامہ نے لایبولن احدکم فی الماء الدائم
(ٹھہرے پانی میں پیشاب نہ کرے)پر جو کلام کیا ہے اس پر ہم پہلے ہی بحث کر چکے ہیں اور ان کے شیخ محقق علی الاطلاق کے کلام کی طرف اشارہ کرآئے ہیں وہ فرماتے ہیں “ بہرحال حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فرمان(پھر انہوں نے مذکور حدیث بیان کی)میں جو غسل کرنے کی نہی ہے اس سے زیادہ سے زیادہ جو ثابت ہوتا ہے وہ نہی تحریم ہے تاکہ ایسا نہ ہو کہ طہوریت سلب ہوجائے اور اس کو کوئی شخص لاعلمی میں رفع حدث کیلئے استعمال کر بیٹھے اور نماز پڑھ لے اور اس میں اور اس مضمون میں کہ پانی نجس ہوجاتا ہے تو ایسا نہ ہو کہ اس کو کوئی شخص لاعلمی میں استعمال کرے دونوں صورتوں میں محذور لازم ہے یعنی منافی کے ہوتے ہوئے نماز پڑھنا پس جائز ہے کہ ان میں سے ہر ایک
حوالہ / References فتح القدیر الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالا یجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۵
#12182 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
المستیقظ فاقول : لیس من حجتنا فی ھذا الباب لاحتمال انہ لاحتمال النجاسۃ العینیۃ بل ھو الظاھر من قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فانہ لایدری این باتت یدہ والعلامۃ عدل عن ھذا الجواب الواضح الی ثلثۃ (۱)لا یستقیم منھا شیئ فاولا : دعوی الخصوص لادلیل علیہ وثانیا : کیف یجعل تعبدیا غیر معقول المعنی مع الارشاد الی المعنی فی نفس الحدیث فانہ لایدری این باتت یدہ وثالثا : ماعن اصحاب عبدالله رضی الله تعالی عنھم یجوز ان یکون لان اباھریرۃ رضی الله تعالی عنہ کان یرسلہ ارسالا فاشاروا الی تخصیص مواضع الضرورۃ کما ھو الحکم المصرح بہ عندنا اذا کان الماء فی جب ولا انیۃ یغترف بھا۔
السابع والعشرون : قولہ رحمہ الله تعالی فی تکرار الاستعمال الظاھر عدم اعتبار ھذا المعنی فی النجس فکیف بالطاھر(۲)غیر مظھر ولا ظاھر الاتری ان النجاسۃ تصیب الثوب او البدن فی مواضع متفرقۃ تجمع فان بلغت حد المنع منعت وما یتراأی من عدم جمع الواقعۃ فی الماء الکثیر فان الوقوع فی عشرۃ مواضع منہ
مذکور نہی کا باعث ہو اھ۔
بحر کا اس کو بدائع کی مذکور بحث سے دفع کرنا صحیح کو غیر صحیح سے دفع کرنا ہے جیسا کہ آپ نے جان لیا اور رہی مستیقظ والی حدیث تو میں کہتا ہوں اس سلسلہ میں ہماری دلیل یہ نہیں ہے کیونکہ یہ احتمال ہے کہ یہ نجاست عینیہ کی وجہ سے ہو بلکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ارشاد “ فانہ لایدری این باتت یدہ “ (وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات کو کہاں رہا)سے یہی ظاہر ہے اور علامہ نے اس جواب سے عدول کرکے تین جوابات دیے جن میں سے کوئی ٹھیک نہیں پہلا دعوائے خصوص جس پر کوئی دلیل نہیں۔ دوسرے یہ کہ کس طرح اس کو تعبدی اور غیر معقول المعنی قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ خود حدیث میں معنی کی طرف رہنمائی ہے اور وہ یہ ہے کہ فانہ لایدری این باتت یدہ۔ تیسرے عبداللہ کے اصحاب سے جو مروی ہے ممکن ہے وہ اس لئے ہو کہ ابو ہریرہ اس کا ارسال کرتے ہوں تو انہوں نے ضرورت کے مقامات کے ساتھ اس کو مختص کرنے کی طرف اشارہ کیا ہو جیسا کہ ہمارے یہاں یہ واضح حکم موجود ہے کہ جب پانی تالاب میں ہو اور کوئی برتن پانی نکالنے کیلئے نہ ہو۔
ستائیسواں : ان کا قول تکرار استعمال کی بابت ظاہر یہی ہے کہ یہ معنی نجس میں اعتبار نہ کیا جائے تو پھر طاہر کا کیا حال ہوگا۔ یہ نہ ظاہر کرنے والا ہے اور نہ بذات خود ظاہر ہے مثلا نجاست جو بدن یا کپڑے کو متفرق مقامات پر لگ جائے تو اس کو جمع کیا جائے گا۔ اب اگر منع کی حد کو پہنچ جائے تو منع کرے گی۔ اگر کثیر پانی میں نجاست گر جائے تو اس کو بظاہر جمع نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ پانی میں
#12184 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
کالوقوع فی موضع فلیس لعدم الجمع بل لعدم البلوغ الی حدالمنع حتی لوبلغت بان غیر المجموع احد اوصافہ وما کانت الافراد لتغیرہ فلا شک فی الجمع والله تعالی اعلم ھذا تمام الکلام مع العلامۃ قاسم رحمہ الله تعالی وقد ظھر بہ الحق السدید بحیث لاحاجۃ الی المزید والحمدلله الحمید المجید۔
الفصل الثانی : فی کلام العلامۃ زین فی البحر والرسالۃ کانت قضیۃ ترتیب الزمان ان نقدم علیہ کلام العلامۃ ابن الشحنۃ رحمھما الله تعالی لکن اردنا الحاق الموافق بموافقہ لم یات رحمہ الله تعالی فی رسالتہ ولا فی بحرہ بشیئ یزید علی مااورد العلامۃ قاسم الا مالا مساس لہ بمحل النزاع افاض اولا فی تحدید الماء الکثیر وان المذھب تفویضہ الی رأی المبتلی وان التقدیر بعشرفی عشر انما اختارہ المتأخرون تیسیرا علی من لارأی لہ وانہ لایرجع الی اصل شرعی یعتمد علیہ ثم تکلم علی صفۃ الماء المستعمل وان المفتی بہ انہ طاھر غیر طھور ثم اتی علی المسألۃ فقال وقد قالوا ان الماء المستعمل اذا اختلط بالطھور تعتبر فیہ الغلبۃ فان کان الماء
اگر دس جگہ نجاست گر جائے تو وہ ایسی ہے جیسے ایک جگہ گری ہو تو یہ چیز عدم جمع کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ وہ حد منع تک نہیں پہنچی ہے اور اگر حد منع تک پہنچ جائے مثلا یہ کہ نجاست کا مجموعہ اس کے اوصاف میں سے کسی وصف کو بدل دے اور ہر فرد نہ بدلے تو جمع کرنے میں شک نہیں۔ یہ مکمل گفتگو تھی علامہ قاسم کے ساتھ اس سے حق ظاہر ہوگیا اس سے زیادہ کی حاجت نہیں والحمدلله الحمید المجید۔
دوسری فصل علامہ زین کے کلام میں جو بحر اور رسالہ میں ہے :
زمانی ترتیب کا تقاضا یہ تھا کہ ہم ابن الشحنہ کا کلام اس پر مقدم کرتے لیکن ہم نے ایک موافق کو دوسرے موافق سے لاحق کرنا چاہا ہے انہوں نے اپنے رسالہ میں یا بحر میں علامہ قاسم کے کلام سے کچھ مزید اضافہ نہیں کیا ہے صرف وہی بات مذکور ہے جس کا محل نزاع سے کچھ تعلق نہیں پہلے تو انہوں نے کثیر پانی کی تحدید کی ہے اور کہا کہ مذہب میں یہ معاملہ صاحب معاملہ کے سپرد ہے اور دہ در دہ کے اندازہ کو متأخرین نے ان لوگوں کی آسانی کیلئے وضع کیا ہے جن کی اپنی کوئی رائے نہ ہو اور اس کی کوئی قابل اعتماد شرعی دلیل نہیں پھر انہوں نے مستعمل پانی پر کلام کیا ہے اور بتایا ہے کہ مفتی بہ قول یہ ہے کہ یہ طاہر تو ہے مگر پاک کرنے والا نہیں ہے پھر اصل مسئلہ بیان کیا ہے اور فرمایا ہے کہ مشائخ فرماتے ہیں کہ مستعمل پانی جب پاک کرنے والے پانی کے
#12186 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الطھور غالبا یجوز الوضوء بالکل والا لایجوز وممن نص علیہ الامام الزیلعی فی شرح الکنز والعلامۃ سراج الدین الہندی فی شرح الہدایۃ والمحقق فی فتح القدیر قال وھی باطلاقۃ تشمل مااذا استعمل الماء خارجا ثم القی الماء المستعمل واختلط بالطھور اوانغمس فی الماء الطھور اوتوضأ فیہ اھ۔
اقول : (۱)مبنی علی جعل المستعمل ھی الاجزاء المتصلۃ بالبدن فما وراء ھا طھور اختلط بہ الماء المستعمل ولیس ھکذا بل کلہ ملاق فکلہ مستعمل فکیف یشملہ الاطلاق قال : ویدل علیہ ایضا مافی البدائع وذکر عبارات الثلاث قال فھذا صریح فیما قلنا
اقول : لامحل(۲)لایضا فان تلک الدلالۃ مبتنیۃ علی ما فی البدائع والا فلادلالۃ کما علمت وما فی البدائع قدفرغنا عنہ بابدع وجہ ولله الحمد! قال : ویدل علیہ ایضا مافی خلاصۃ الفتاوی جنب اغتسل فانتضح من غسلہ شیئ فی انائہ لم یفسد علیہ الماء اما اذا کان یسیل فیہ سیلانا افسدہ وکذا حوض الحمام علی ھذا وعلی
ساتھ مل جائے تو اس میں غلبہ کا اعتبار ہوگا اگر پاک کرنے والا پانی زیادہ ہو تو سب پانی سے وضو جائز ہوگا ورنہ ناجائز ہوگا۔ اس کی تصریح زیلعی نے شرح کنز میں علامہ سراج الدین الہندی نے شرح ہدایہ میں اور محقق نے فتح القدیر میں کی ہے اور فرمایا ہے کہ اس صورت کو بھی شامل ہے کہ جب پانی خارجی طور پر استعمال کیا جائے پھر مستعمل پانی ڈالا جائے اور وہ پاک کرنے والے پانی سے مل جائے یا آدمی پاک کرنے والے پانی میں غوطہ کھائے یا اس سے وضو کرے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں یہ قول اس پر مبنی ہے کہ مستعمل پانی ان اجزاء کو قرار دیا جائے جو بدن سے متصل ہوں اور اس کے علاوہ پاک کرنے والا ہے جس کے ساتھ مستعمل پانی مل گیا ہے حالانکہ بات یہ نہیں ہے بلالکہ کل پانی اس سے ملنے والا ہے لہذا کل مستعمل ہوگا اس کو اطلاق کیسے شامل ہے فرمایا اس پر بدائع کی عبارت بھی دلالت کرتی ہے اور پھر انہوں نے تینوں عبارات ذکر کی ہیں فرمایا یہ ہمارے قول کی صریح دلیل ہے۔
میں کہتا ہوں “ ایضا “ کا یہاں کوئی مقام نہیں کیونکہ یہ دلالت مفہوم بدائع پر مبنی ہے ورنہ کوئی دلالت نہیں جیسا کہ تم نے جانا اور جو کچھ بدائع میں ہے اس پر اچھی طرح ہم بحث کرچکے ہیں ولله الحمد فرمایا اس پر خلاصۃ الفتاوی کی عبارت بھی دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک ناپاک شخص نے غسل
حوالہ / References الرسالۃ فی جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۸۱۹ / ۶
الرسالۃ فی جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۸۱۹ / ۶
#12197 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
قولہ محمد رحمہ الله تعالی لایفسد مالم یغلب علیہ یعنی لایخرجہ عن الطھوریۃ اھ بلفظہ۔
اقول : (۱)رحمک الله ھذا ملقی والکلام فی الملاقی ثم اورد علی نفسہ سؤالا من قبل فروع کثیرۃ فی کتب مشھورۃ تخالف ماجنح الیہ اورد منھا(۱)فرع الخانیۃ لوصب الوضوء فی بئرولم یکن استنجی بہ علی قول محمد لایکون نجسا لکن ینزح منھا عشرون لیصیر الماء طھور اھ۔
وفرع عـــہ الخلاصۃ نحوہ غیر ان فیہ ینزح الاکثر من عشرین دلوا ومن ماء صب فیہ عند محمد اھ۔ قال فھذا ظاھر فی استعمالہ الماء بوقوع قلیل من الماء المستعمل فیہ علی قول محمد رحمہ الله تعالی واجاب بانہ مبنی علی روایۃ ضعیفۃ عن محمد
کیا اس سے کچھ چھینٹے اڑ کر اس کے برتن میں پڑے تو اس کا پانی فاسد نہ ہوگا اگر مستعمل بہہ کر اس میں گیا تو فاسد کردے گا اسی طرح حمام کا حوض اور امام محمد کے قول پر فاسد نہ کرے گا جب تک غالب نہ ہوجائے یعنی اس کو پاک کرنے کے وصف سے خارج نہ کریگا الایہ کہ وہ پاک پر غالب ہوجائے اھ بلفظہ۔ (ت)
میں کہتا ہوں خدا آپ پر رحم کرے یہ ملقی ہے جبکہ گفتگو ملاقی میں ہے پھر انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ان فروع کثیرہ سے سوال وارد کیا جو کتب کثیرہ میں وارد ہیں یہ سب ان کے نظریہ کے مخالف ہیں۔ خانیہ کی فرع(۱) : اگر وضو کا بچا ہوا پانی کنویں میں بہا دیا مگر اس سے استنجا نہیں کیا تھا تو یہ محمد کے قول پر نجس نہ ہوگا تاہم اس سے بیس ڈول نکالے جائیں گے تاکہ پانی طہور ہوجائے اھ۔ خلاصہ کی فرع(۲) : یہ بھی اسی طرح ہے مگر اس میں بیس ڈول سے زیادہ نکالے جانے کا ذکر ہے اور اس پانی سے جو اس میں بہا یا گیا ہے محمد کے نزدیک اھ۔ فرمایا اس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اگر تھوڑا مستعمل پانی پانی

عـــہ اوردہ بعد عدۃ فروع والحقناہ بفرع الخانیۃ لاتحاد صورتھما اھ منہ غفرلہ(م)
انہوں نے اس فرع کو متعدد فروع کے بعد ذکر کیا ہے اور ہم نے اسے خانیہ کی فرع سے ملحق کیا ہے کیونکہ دونوں کی صورت ایک جیسی ہے اھ(ت)
حوالہ / References رسالہ فی جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم ادارۃ القرآن ۲ / ۸۱۹ / ۶
رسالہ فی جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم ادارۃ القرآن ۲ / ۸۱۹ / ۶
رسالۃ فی جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم ادارۃ القرآن ۲ / ۸۲۰ / ۷
رسالہ فی جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم ادارۃ القرآن ۲ / ۸۱۹ / ۶
#12198 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
ان الماء یصیر مستعملا بوقوع قلیل من الماء المستعمل لاعلی الصحیح من مذھبہ انہ لایصیر مستعملا مالم یغلب علیہ اھ۔ ونقل تصحیحہ عن المحیط وعن شرح الھدایۃ للعلامۃ سراج الدین الھندی ونقل عنہ عن التحفۃ انہ المذھب المختار ۔ اقول : ھو(۱)کما قال والفرعان فی الملقی فلا یمسان مورد النزاع والاستعمال لایتوقف علی غلبۃ المستعمل بل عدمہ علی غلبۃ المطھر فان تساویا صار الکل مستعملا کما نصوا علیہ منھم ھو فی البحر۔
اقول : واقتصار المحیط والسراج والتحفۃ و الخلاصۃ وغیرھا علی ذکر الغلبۃ لان المساواۃ الحقیقۃ نادرۃ جدا(۲)کما قالوہ فی انفھام افضلیۃ زید من قول القائل لاافضل منہ(۳)وفرع جحط المذکور فی المتون والشروح وصورتھا رجل نزل لطلب الدلو ولیس علی بدنہ نجاسۃ فعند محمد الماء طاھر غیر طھور والرجل طاھر مع ان الماء الذی لاقی بدنہ فی البئر اقل من غیرہ وقد جعلہ محمد مستعملا لانعدام
میں گر جائے تو وہ پانی مستعمل ہوجائیگا یہ محمد کا قول ہے اھ اس کا یہ جواب دیا کہ محمد کا یہ قول ایک ضعیف روایت پر مبنی ہے کہ پانی تھوڑے مستعمل پانی کے گرنے کی وجہ سے مستعمل ہوجائیگا ان کا صحیح مذہب یہ ہے کہ پانی صرف اسی وقت مستعمل ہوگا جب اس پر مستعمل پانی کا غلبہ ہوجائے اھ اور اس کی تصحیح کو محیط سراج الدین ہندی کی شرح ہدایہ سے نقل کیا اور ان سے تحفہ سے نقل کیا کہ وہی مذہب مختار ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں یہ ویسا ہی ہے جیسا کہ انہوں نے فرمایا اور یہ دونوں فرعیں ملقی میں ہیں لہذا محل نزاع سے ان کا کوئی تعلق نہیں بنتا ہے اور استعمال مستعمل کے غلبہ پر موقوف نہیں بلالکہ اس کا عدم غلبہ مطہر پر مبنی ہے تو اگر دونوں برابر ہوں تو کل مستعمل ہوجائے گا جیسا کہ مشائخ نے اس کی تنصیص کی بحر میں بھی یہی ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں محیط سراج تحفہ اور خلاصہ وغیرہ میں غلبہ کے ذکر پر اقتصار کیا ہے کیونکہ حقیقی مساوات نادر ہے مشائخ نے اس کو اس مثال سے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی لاافضل من زید کہے تو اس سے زید کی افضلیت سمجھ میں آتی ہے۔ جحط (۳)کی فرع جو متون وشروح میں مذکور ہے اس کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص کنویں میں ڈول نکالنے کیلئے اترا اور اس کے بدن پر نجاست نہیں ہے تو محمد کے یہاں پانی طاہر ہے طہور نہیں اور آدمی طاہر ہے حالانکہ وہ پانی جو کنویں میں سے اس کے
حوالہ / References رسالۃ فی جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم ادارۃ القرآن ۲ / ۸۲۰ / ۷
رسالۃ فی جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم ادارۃ القرآن ۲ / ۸۲۰ / ۷
#12200 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الضرورۃ اھ واجاب بمامر۔
اقول : (۱)رحمکم الله ورحمنا بکم اذا ارید بطاء جحط طاھر غیر طھور فکیف تجعلونہ مبنیا علی روایۃ ضعیفۃ عن محمد وانتم القائلون فی بحر کم علم بما قررناہ ان المذھب المختار فی ھذہ المسألۃ ان الرجل طاھر والماء طاھر غیر طھور علی الصحیح اھ۔
نعم المشہور ان طاءہ للطاھر الطھور کما ذکرتم فی البحر وحینئذ یرد الفرع من قبل ان سقوط حکم الاستعمال لاجل الضرورۃ قلتم فی البحر عند محمد الرجل طاھر والماء طاھر طھور وجہ قول محمد علی ماھو الصحیح عـــہ عنہ ان الصب لیس بشرط عندہ فکان الرجل طاھرا ولا یصیر الماء مستعملا وان ازیل بہ حدث للضرورۃ واما علی ماخرجہ ابو بکر الرازی
بدن پر لگا ہے دوسرے سے کم ہے اور محمد نے اس کو مستعمل قرار دیا ہے کیونکہ ضرورت نہیں اھ اس کا جواب وہ دیا جو گزرا۔ (ت)
میں کہتا ہوں اللہ تم پر اور ہم پر رحم فرمائے اگر جحط کی “ طا “ سے طاہر غیر طہور مراد ہو تو آپ اس کو محمد کی روایت ضعیفہ پر کیونکر مبنی کرتے ہیں حالانکہ آپ بحر میں کہتے ہیں کہ ہماری تقریر سے معلوم ہوا کہ مذہب مختار اس مسئلہ میں یہ ہے کہ آدمی پاک ہے اور پانی طاہر غیر طہور ہے صحیح مذہب پر اھ ہاں مشہور یہی ہے کہ اس کی “ طا “ طاہر کیلئے ہے اور طہور کیلئے جیسا کہ تم نے بحر میں ذکر کیا اور اس وقت فرع اس جانب سے وارد ہوگی کہ استعمال کا حکم ضرورت کی وجہ سے ساقط ہوتا ہے تم نے بحر میں کہا ہے کہ محمد کے نزدیک مرد پاک ہے اور پانی طاہر طہور ہے امام محمد کے قول کی وجہ(صحیح روایت کے بموجب)یہ ہے کہ ان کے نزدیک بہانا شرط نہیں تو آدمی پاک ہوا اور پانی مستعمل نہ ہوگا خواہ اس سے حدث زائل کیا گیا ہو

عـــہ اقول : والمراد بہ استعمال الماء بازالۃ حدث وان لم ینوقربۃ خلافا لتخریج الامام الرازی ولذا قال واما علی ماخرج الخ فلیس تصحیحا لھذہ الروایۃ بل الصحیح ما تقدم انہ طاھر غیر طھور اھ منہ غفرلہ(م)
میں کہتاہوں اس سے مراد یہ ہے کہ ازالہ حدث سے پانی مستعمل ہوجائے گا اگرچہ قربت کی نیت نہ ہو بخلاف امام رازی کی تخریج کے اسی وجہ سے انہوں نے اما علی ما خرج الخ فرمایا لہذا صحیح روایت یہ نہیں بلالکہ وہ ہے جو گزری کہ پانی طاہر غیر طہور ہے اھ۔ (ت)
حوالہ / References الرسالۃ فی جواز الوضوء مع الاشباہ والنظائر ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۸۱۹ / ۶
بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۸
#12202 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
لایصیر مستعملا لفقد نیۃ القربۃ اھ۔ فان ابیتموھا لانھا روایۃ غیر مختارۃ کما قدمنا کانت المختارۃ اشد فی الرد (۴)وفرع الاسرار وھو کلامہ علی حدیث لایبولن اذیقول من قال ان الماء المستعمل طاھر طہور لایجعل الاغتسال فیہ حراما وکذا من قال طاھر غیر طھور لان المذھب عندہ ان الماء المستعمل اذا وقع فی ماء اخر لم یفسدہ حتی یغلب علیہ وقدرما یلاقی بدن المستعمل یصیر مستعملا وذلک القدر من جملۃ مایغتسل فیہ عادۃ یکون اقل من ماء فضل عن ملاقاۃ بدنہ فلا یفسدہ ویبقی طھورا ولا یحرم فیہ الاغتسال الا ان محمدا یقول بصیر ورتہ مستعملا بالاغتسال فیہ اھ ونقلہ فی البحر بلفظ ان محمدا یقول لما اغتسل فی الماء القلیل صار الکل مستعملا حکما اھ ۔ واجاب عنہ ایضا بمامر۔
اقول : (۱)سبحن الله صریح منطوق الاسرار ان المذھب اعتبار الغلبۃ وان
ضرورت کی وجہ سے اور ابو بکر الرازی کی تخریج کے مطابق پانی مستعمل نہ ہوگا کیونکہ اس میں قربت کی نیت نہیں اھ تو اگر آپ اس روایت کا انکار کریں کہ یہ غیر مختار روایت ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا تو مختار روایت تردید میں زائد ہوگی۔ اسرار(۴)کی فرع حدیث “ لایبولن “ پر انکی گفتگو یہ ہے کہ جو یہ کہتا ہے مستعمل پانی طہور وطاہر ہے تو وہ اس میں غسل کو حرام قرار نہیں دیتا ہے اور اسی طرح جو اس پانی کو طاہر غیر طہور کہتے ہیں کیونکہ ان کا مذہب یہ ہے کہ جب مستعمل پانی دوسرے پانی میں مل جائے تو جب تک اس پر غالب نہ ہو اس کو فاسد نہیں کرتا اور صرف اسی قدر مستعمل ہوتا ہے جو بدن سے متصل ہوتا ہے اور یہ مقدار اس مجموعی پانی کی مقدار سے جس سے کہ غسل کیا جاتا ہے عادۃ اس پانی سے کم ہوا کرتی ہے جو ملاقاۃ بدن سے بچ رہا ہوتا ہے تو یہ اس کو فاسد نہیں کرے گا اور طہور ہی رہے گا اور اس سے غسل حرام نہ ہوگا تاہم محمد فرماتے ہیں کہ اس میں غسل کرنے سے یہ مستعمل ہوجائیگا اھ اور بحر میں اس کو ان الفاظ سے نقل کیا ہے کہ محمد فرماتے ہیں کہ جب کوئی تھوڑے پانی میں غسل کرے گا تو سب کا سب حکما مستعمل ہوجائے گا اھ اور اس کا جواب بھی وہ دیا جو گزرا۔ میں کہتا ہوں سبحان الله اسرار کا صریح منطوق یہ ہے کہ مذہب یہ ہے کہ اعتبار غلبہ کو ہے اگرچہ اس کا
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۷
الرسالۃ فی جواز الوضوء من رسائل ابن نجیم مع الاشباہ ، ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۸۱۹ / ۶
بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
#12204 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
قضیتہ ان لایصیر الکل مستعملا لان الملاقی حقیقۃ اقل من غیرہ الا ان محمدا جعل الکل مستعملا حکما فکیف یتوھم انہ مبنی علی روایۃ ضعیفۃ خلاف ذلک المذھب وانما ھو تخصیص لقضیتہ وتخصیص الحکم انما یبتنی علی الحکم لاعلی خلافہ وھذا واضح جدا وسرکلام الاسرار قد بیناہ ۔ (۵)وفرع المبتغی بالغین لو ادخل الکف صار مستعملا وزاد فی البحر(۶)فرع العنایۃ والدرایۃ وغیرھما ان الجنب اذا نزل فی البئر بقصد الاغتسال یفسد الماء عند الکل (۷)وفرع الخانیۃ لوادخل یدہ اورجلہ فی الاناء للتبرد یصیر الماء مستعملا لانعدام الضرورۃ(۸)وفرع الاسبیجابی والولوالجی فیمن اغتسل فی بئر الی العشرۃ ولا نجاسۃ علیہ قال محمد صارت المیاہ کلہا مستعملا وزاد قولہ الی اخر الفروع ارشادا
الی الکثیر الباقی قال وھذا صریح فی استعمال جمیع الماء عند محمد بالاغتسال فیہ اھ۔ واجاب عن الکل بانہ مبنی علی روایۃ ضعیفۃ عن
تقاضا یہ ہے کہ کل مستعمل نہ ہوگا کیونکہ ملاقی حقیقۃ غیر ملاقی سے کم ہے مگر یہ کہ محمد نے کل کو حکما مستعمل قرار دیا ہے تویہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ یہ کسی ضعیف روایت پر مبنی ہے جو اس مذہب کے خلاف ہے یہ اس کے مقتضی کی تخصیص ہے اور حکم کی تخصیص حکم پر ہی مبنی ہوتی ہے نہ کہ خلاف حکم پر اور یہ بہت واضح ہے اور اسرار کے کلام کار ازہم نے بیان کردیا۔ مبتغی(۵)کی فرع : اگر ہتھیلی ڈالی تو پانی مستعمل ہوگیا اھ اور بحر میں اضافہ کیا ہے عنایہ اور درایہ(۶)وغیرہما کی فرع کا : جنب اگر کنویں میں غسل کی نیت سے اترے گا تو سب ہی کے نزدیک پانی فاسد ہوجائیگا۔ “ خانیہ(۷)کی فرع : اگر کسی نے اپنا پیر یا ہاتھ برتن میں ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے ڈالا تو پانی مستعمل ہوجائے گا کہ ضرورت موجود نہیں ہے۔ اسبیجابی(۸)اور ولوالجی کی فرع : جو کنویں میں دس ہاتھ تک نہایا اور اس پر کوئی نجاست بھی نہیں ہے تو محمد نے فرمایا کل پانی مستعمل ہوجائیگا اور اپنے قول الی آخر الفروع کا اضافہ کیا باقی کثیر فروع کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا یہ صریح ہے امام محمد کے
حوالہ / References الرسالۃ فی جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ان نجیم ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۸۱۹ / ۶
بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
#12208 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
محمد قائلۃ بنجاسۃ الماء المستعمل ثم استشھد بحمل الفتح فرعا فی الخانیۃ علیھا وقد مرما فیہ من ستۃ اوجہ۔ (۹)وفرع منیۃ المصلی عن الفقیہ(۱)ابی جعفر توضا فی أجمۃ القصب فان کان لایخلص بعضہ الی بعض یجوز وفی الخلاصۃ توضأ فی أجمۃ القصب اوارض فیھا زرع متصل بعضھا ببعض ان کان عشرا فی عشر یجوز قال فمفھومہ انہ اذا کان اقل لایجوز التوضی فیہ والاجمۃ محرکۃ الشجر الکثیر الملتف ۔ (۱۰)وفرع الکتابین الخلاصۃ والمنیۃ(۲)توضأ فی حوض وعلی جمیع وجہ الماء الطحلب ان کان بحال لوحرک یتحرک یجوز قال ومفھومہ انہ لوکان لایتحرک الطلحب بتحریک الماء لایجوز فان عدم تحرکہ بتحریک الماء یدل علی انہ بحالۃ من التکاثف والاستمساک لسطح الماء بحیث یمنع انتقال الماء المستعمل الواقع فیہ الی محل اخر فیقع الوضوء بماء مستعمل والطحلب
نزدیک تمام پانی کے مستعمل ہونے میں اس میں غسل کرنے کی وجہ ہے اور سب کا جواب یہ دیا کہ یہ ضعیف روایۃ پر مبنی ہے یعنی محمد کی اس روایت پر کہ مستعمل پانی نجس ہوجاتا ہے پھر یہ استشہاد کیا کہ فتح نے خانیہ کی ایک فرع کو اسی پر محمول کیا ہے اور جو اس پر اعتراض ہے وہ چھ وجوہ سے گزر چکا ہے۔ (۹)منیۃ المصلی کی فرع : یہ فقیہ ابو جعفر سے ہے کسی نے بانسوں کے جھنڈ میں وضو کیا اگر وہ اتنے گھنے ہیں کہ پانی کے حصے ایک دوسرے سے جدا رہتے ہیں تو جائز ہے اور خلاصہ میں ہے کہ بانسوں کے جھنڈ میں یا ایسی زمین میں جس میں پودے ایک دوسرے سے متصل ہوں اگر وہ دہ در دہ ہو تو وضو جائز ہے اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر اس سے کم ہو تو جائز نہیں اور أجمہ محرکہ گھنے درختوں کو کہتے ہیں۔ خلاصہ اور منیہ کی فرع(۱۰) : حوض میں وضو کیا اور طحلب پانی کی تمام سطح پر ہو اگر وہ ایسا ہے کہ اس کو حرکت دی جائے تو سب ہل جائے تو جائز ہے فرمایا اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر حرکت نہ کرے طحلب پانی کے حرکت دینے سے تو جائز نہیں کیونکہ پانی کے حرکت دینے سے اس کا متحرک نہ ہونا اس امر پر دلالت ہے کہ وہ اتنا کثیف ہے کہ مستعمل پانی کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا مشکل ہے تو وضو مستعمل پانی سے ہوگا اور طحلب سبز رنگ کی گھاس ہے جو پانی پر تیرتی رہتی ہے اھ اور یہ حلیہ سے ماخوذ ہے فرمایا یہ سب
حوالہ / References الرسالۃ جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۸۲۰ / ۷
الرسالۃ جواز الوضوء مع الاشباہ من رسائل ابن نجیم ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۸۲۰ / ۷
#12210 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
نبت اخضر یعلو الماء بعضہ علی بعض اھ وھو ماخوذ عن الحلیۃ قال وھذا کلہ یدل ان الماء یصیر مستعملا بالوضو فیہ مطلقا اھ۔
واجاب : عنھا بحملھما علی نجاسۃ الماء المستعمل صرح بہ شارح المنیۃ العلامۃ ابن امیر الحاج فقال وانما قید الجواز بعدم الخلوص لانہ لوکان یخلص بعضہ الی بعض لایجوز لکن علی القول بنجاسۃ الماء المستعمل اما علی القول بطھارتہ فیجوز مالم یغلب علی ظنہ ان القدر الذی یغترفہ منہ لاسقاط فرض من مسح اوغسل ماء مستعمل اویمازجہ مستعمل مساو اوغالب اھ۔ قال فھذا صریح فیما قلناہ من جواز الوضوء فی الفساقی
واما مسألۃ الطحلب فقال شارح المنیۃ ایضا ھذا ایضا بناء علی نجاسۃ الماء المستعمل اومساواتہ اھ۔ وکذا صرح فی مسألۃ(۱)توضأ فی حوض انجمد ماؤہ قالوا ان کان الجمد رقیقا ینکسر بالتحریک یجوز اما اذا کان کبیرا قطعا قطعا لایتحرک بالتحریک لایجوز فقال ھذا ایضا بناء علی نجاسۃ الماء المستعمل اما علی طہارتہ فالجواب ماذکرنا فی السابقات اھ وانت تعلم انہ رحمہ الله تعالی
اس امر پر دلیل ہے کہ پانی اس میں وضو کرنے سے مطلقا مستعمل ہوجاتا ہے اھ۔
اور ان دونوں سوالوں کا جواب انہوں نے یہ دیا ہے کہ ان دونوں کو مستعمل پانی کی نجاست پر محمول کیا ہے اس کی تصریح شارح منیہ علامہ ابن امیر الحاج نے کی ہے اور فرمایا کہ جواز کو عدم خلوص کے ساتھ مقید کیا کیونکہ اگر پانی کا کچھ حصہ دوسرے حصہ کی طرف چلا گیا تو جائز نہیں لیکن یہ تب ہے کہ جب مستعمل پانی کو نجس قرار دیا جائے لیکن اگر اس کو پاک قرار دیا جائے تو جائز ہے تاوقتیکہ اس کو اس بات کا ظن غالب نہ ہوجائے کہ وہ مقدار جو اس پانی سے وہ چلو بھر کر لے رہا ہے مسح یا دھونے کے فرض کو ساقط کرنے کیلئے کہ وہ مستعمل پانی ہے یا اس میں مستعمل پانی ملا ہوا ہے جو اس کے برابر ہے یا غالب ہے اھ فرمایا یہ اس بارے میں صریح ہے جو ہم نے کہا ہے کہ وضو فساقی میں جائز ہے
اور گھاس کا مسئلہ تو منیہ کے شارح نے بھی فرمایا یہ بھی مستعمل پانی کی نجاست پر مبنی ہے یا وہ مستعمل پانی کے مساوی ہو اھ اور اسی طرح انہوں نے اس مسئلہ میں تصریح کی کہ کسی شخص نے ایسے حوض میں وضو کیا جس کا پانی منجمد ہوچکا تھا فرمایا اگر منجمد پانی ایسا ہے کہ ہلانے سے بآسانی ٹوٹ جاتا ہے تو جائز ہے اور اگر اس کے بڑے بڑے ٹکڑے ہوں کہ ہلانے سے نہ ہلیں تو جائز نہیں فرمایا یہ بھی اسی پر مبنی ہے کہ مستعمل پانی نجس ہے اور اس کی پاکی کی
حوالہ / References الرسالۃ جواز الوضوء من رسائل ابن نجیم مع الاشباہ ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۸۲۰ / ۷
الرسالۃ جواز الوضوء من رسائل ابن نجیم مع الاشباہ ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۸۲۱ / ۸
#12211 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
سلک بفرعی الاجمۃ والطحلب مسلکین وذلک ان کلامنھما حکم بعدم جواز الوضوء ان کان ماء الاجمۃ دون عشر فی عشر اولا یتحرک الطحلب بتحریک الماء فجعلہ واردا علیہ حیث افاد صیرورۃ کل الماء مستعملا بالتوضی فیہ اذا کان قلیلا واجاب بحملہ علی روایۃ النجاسۃ وحکم الحلیۃ بالجواز وان کان قلیلا مادام اکثر بناء علی الطہارۃ فجعلہ دلیلا لہ حیث افادان الوضوء فی الماء القلیل لایفسدہ مادام الطھور غالبا علی المستعمل واضاف الیھما فرع الجمد فی الاحتجاج وان کان یصلح ایضا للایراد واقتصر فی البحر علی ایراد الفروع الثلثۃ تصریحا بالاول وتلویحا بالباقیین فیما ھو لہ لافیما ھو علیہ فقال ثم رأیت العلامۃ ابن امیر الحاج قال(فذکر قولہ المار)قال ثم قال ایضا وا تصال الزرع بالزرع لایمنع اتصال الماء بالماء وان کان مما یخلص فیجوز علی الروایۃ المختارۃ فی طہارۃ المستعمل بالشرط الذی سلف(ای غلبۃ الطھور علی غیرہ)ثم ذکرای الحلبی مسائل علی ھذا المنوال وھو صریح فیما قدمناہ من جواز الوضوء بالماء الذی اختلط بہ ماء مستعمل قلیل اھ۔ (۱)وقولہ فی الرسالۃ ھذا صریح فیما قلناہ من جواز الوضوء فی الفساق
صورت میں تو جواب وہی ہے جو ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں اھ۔ اور تمہیں معلوم ہے کہ انہوں نے جھنڈ اور کائی کے مسئلہ میں دو را ہیں اختیار کی ہیں اور یہ اس لئے ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک نے حکم عدم جواز کا لگایا اگر جھنڈ کا پانی دہ در دہ سے کم ہو یا پانی کو حرکت دینے سے کائی میں حرکت پیدا نہ ہو انہوں نے قلیل پانی میں وضو پر تمام پانی کو مستعمل قرار دینے کو اعتراض قرار دیا اور اس کا جواب یہ دیا کہ یہ نجاست والی روایت پر محمول ہے اور حلیہ نے قلیل پانی میں وضو کو جائز کہا ہے بشرطیکہ وہ مستعمل پانی سے زیادہ ہو کیونکہ وہ پاک ہے اس کو انہوں نے اپنی دلیل بنایا جہاں انہوں نے کہا کہ قلیل پانی میں وضو پانی کو فاسد نہیں کرتا جب تک پاک پانی غالب رہے ان دونوں صورتوں کے ساتھ انہوں نے استدلال میں انجماد کی فرع کا اضافہ کیا اگرچہ یہ بھی اعتراض کی صورت بن سکتی ہے اور بحر میں تینوں فروع کا ذکر پر اکتفا کیا ہے پہلی کی تصریح کی ہے اور باقی میں تلویح کی ہے ماھو لہ کا بیان کیا ہے نہ کہ ماھوعلیہ کا۔ پھر فرمایا کہ میں نے علامہ ابن امیر الحاج کو دیکھا انہوں نے فرمایا(پھر ان کا گزشتہ قول نقل کیا)کہا نیز انہوں نے فرمایا کہ کھیتی کا کھیتی سے متصل ہونا پانی کے پانی سے متصل ہونے کو نہیں روکتا ہے اگرچہ یہ اس قبیلہ سے ہے کہ پہنچ سکتا ہے تو مختار روایت کے مطابق جو مستعمل پانی سے طہارۃ جائز ہوگی مگر شرط وہی رہے گی جو گزری (یعنی طہور کا غلبہ غیر پر)پھر حلبی نے چند مسائل
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۴
#12212 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اوفق بمقصودہ اذلا نزاع فی مسألۃ الاختلاط غیر انہ رحمہ الله تعالی لما حکم بعدم الفرق بین الملقی والملاقی طفق لایفرق بینھما فی الحجاج ثم انھی کلامہ فی البحر بایراد حجۃ لہ اخری عن فتاوی العلامۃ قارئ الھدایۃ جمع تلمیذہ المحقق علی الاطلاق سئل عن فسقیۃ صغیرۃ یتوضؤ فیھا الناس وینزل فیھا الماء المستعمل فی کل یوم ینزل فیھا ماء جدید ھل یجوز الوضوء فیھا اجاب اذا لم یقع فیھا غیر الماء المذکور لایضر اھ یعنی اذا وقعت فیھا نجاسۃ تنجست لصغرھا اھ عـــہ اھ
اقول : وبالله التوفیق(۱)الایرادان والحجج الاربع کلھا مبنیۃ علی الذھول عن محل النزاع لان تلک الفروع طرافی الملقی لاالملاقی اما فرع قارئ الہدایۃ فظاھر لقول السؤال ینزل فیھا الماء المستعمل و
اسی قسم کے ذکر کیے اور وہ اس میں صریح ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے یعنی اگر غیر مستعمل پانی میں تھوڑا سا مستعمل مل جائے تو اس سے وضو جائز ہے اھ اور ان کا قول “ رسالہ “ میں “ یہ صریح ہے اس امر میں کہ فساقی سے وضو جائز ہے “ ان کے مقصود سے زیادہ موافق ہے کیونکہ اختلاط کے مسئلہ میں تو کوئی نزاع ہی نہیں البتہ صرف یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے ملقی اور ملاقی میں فرق نہیں کیا ہے تو قریب تھا کہ وہ ان دونوں سے استدلال میں بھی فرق نہ کرتے پھر انہوں نے اپنا کلام بحر میں اس پر ختم کیا کہ اپنی ایک مزید دلیل فتاوی علامہ قارئ ہدایہ سے دی اس کو ان کے شاگرد محقق علی الاطلاق نے جمع کیا ہے ان سے ایک چھوٹے گڑھے کے بارے میں دریافت کیا گیا جس میں لوگ وضو کریں اس میں مستعمل پانی گرے اور ہر روز نیا پانی بھی آئے اس سے وضو جائز ہے یا نہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ اس میں مذکورہ پانی کے علاوہ اور پانی نہ گرتا ہو تو کچھ حرج نہیں اھ یعنی اس میں اگر کوئی نجاست گرے گی تو یہ نجس ہوجائے گا کیونکہ یہ چھوٹا ہے۔ اھ(ت)میں بتوفیق الہی کہتا ہوں دونوں اعتراض اور چاروں استدلال اس پر مبنی ہیں کہ محل نزاع پر نظر نہیں رکھی گئی کیونکہ یہ تمام فروع ملقی میں ہیں نہ کہ ملاقی میں قارئ الہدایہ کی فرع تو ظاہر ہے کیونکہ سوال میں ہے کہ اس میں مستعمل پانی روز آتا ہے اور جواب میں ہے

عـــہ : اھ السابق علی ھذین لکلام العلامۃ قارئ الہدایۃ وھو قول الامام ابن الھمام والاول من ھذین لکلام ابن الھمام من کلام البحر والاخیر لکلام البحر من کلام المصنف (م)
ان دونوں سے پہلے “ اھ “ علامہ قاری الہدایہ کے کلام کی انتہا ہے جس کو ابن ہمام نے ذکر کیا اور ان دونوں میں سے پہلی “ اھ “ ابن ہمام کے کلام کی انتہا ہے جس کو بحر نے بیان کیا اور آخری بحر کے کلام کی انتہا ہے جس کو مصنف نے ذکر کیا ہے ۱۲(ت)
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۴
#12214 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
قولہ فی الجواب اذالم یقع فیھا غیرہ واما فروع الحلیۃ الثلثۃ فلان مستندالجوابین والاحتجاجات کلام العلامۃ الحلبی وھو مصرح بانھا جمیعا فی الملقی دون الملاقی الا تری الی قولہ فی الاول ان کان لایخلص بعضہ الی بعض جازلان الماء حینئذ کثیر ولوکان الماء المستعمل الواقع فیہ نجاسۃ لم یمنع فکیف وھو طاھر وانما قید الجواز الی اخر مانقلتم وقال فی الثانی یمنع انتقال الماء المستعمل الواقع فیہ وقد نقلتموہ وان لم تعزوہ وقال فی الثالث ان کون الجمد ینکسر بتحریک الماء لایمنع من انتقال الماء المتصل منہ فی الحوض من ذلک المحل الواقع فیہ ۔ ۔ ۔ الخ وکذلک قال فی نظائرہ بل ھذا علی طریق الحلیۃ مستفاد من نفس الفروع فانھا فی الوضوء فی حوض اوغدیر وقد افاد فی الحلیۃ قبل الفرع الاول بصفحۃ فی الفرق بین التوضی من حوض وفیہ ان التوضی منہ لایستلزم البتۃ وقوع الغسالۃ فیہ بخلاف التوضی فیہ قال وکون وضوء المتوضئین من موضع وقوع غسالا تھم فیہ ھو مقصود الافادۃ من التفریع بخلاف کون وضوء المتوضی منہ بحیث تقع غسالاتھم خارجہ جائزا فان ذلک مجمع علیہ لایتفرع علی قول قوم دون اخرین اھ ۔ ھذا کلہ علی
کہ جبکہ اس میں اس پانی کے علاوہ کوئی اور چیز نہ گرتی ہو اور حلیہ کی تینوں فروع اس لئے کہ دونوں جوابوں کی سند اور استدلالات علامہ حلبی کا کلام ہیں اور انہوں نے تصریح کردی ہے یہ تمام ملقی میں ہیں نہ کہ ملاقی میں۔ چنانچہ ان کا پہلا قول دیکھا جائے کہ اس کا بعض دوسرے بعض کی طرف نہ جاتا ہو تو جائز ہے کیونکہ اس صورت میں پانی کثیر ہوگا اور اگر وہ ماء مستعمل جس میں نجاست گر گئی ہو مانع نہیں ہے تو جو طاہر ہے وہ کیسے ہوگا اور بیشک جواز کو مقید کیا الی آخر مانقلتم اور دوسرے میں فرمایا منع کرتا ہے مستعمل پانی کا منتقل ہونا جس میں وہ واقع ہے حالانکہ تم نے اس کو نقل کیا ہے اگرچہ اس کے قائل کا نام نہیں لیا ہے اور تیسرے میں فرمایا کہ برف کا پانی کو حرکت دینے سے ٹوٹ جانا حوض میں جو پانی اس سے متصل ہے اس کے منتقل ہونے کو مانع نہیں ہے الخ اور اسی طرح اس کی نظیروں میں فرمایا بلالکہ حلیہ کے طریق کے مطابق یہ نفس فروع سے مستفاد ہے کیونکہ یہ بظاہر حوض یا تالاب سے وضو سے متعلق ہیں ا ور حلیہ میں فرع اول سے ایک صفحہ قبل فرمایا : حوض سے وضو اور حوض میں وضو کے اندر فرق ہے اور اسی میں ہے کہ حوض سے وضو کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دھوون حوض میں گرے لیکن اگر حوض میں وضو کیا جائے تو دھوون لازمی طور پر اس میں گرے گا فرمایا لوگوں کا اس جگہ سے وضو کرنا جہاں ان کے دھوون کا پانی پڑتا ہے یہی تفریع کا اصل مقصود ہے اور ایسی جگہ وضو کرنا جہاں دھوون باہر گرتا ہو تو اس میں کسی کا
حوالہ / References حلیہ
#12215 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
طریق الحلیۃ وانا اقول : (۱)وبہ استعین الوضوء فی الحوض یحتمل معنیین احدھما ان یغترف منہ بید اواناء ویتوضأ خارجہ بحیث تقع غسالتہ فیہ کقولک توضأت فی الطست وھو الذی اقتصر علیہ المحقق الحلبی والاخر ان یغسل اعضاء ہ بغمسھا فیہ کما یفعل کثیر من الناس فی الرجلین کقولک غسلت الثوب فی الاجانۃ وھذا اقرب الی ظرفیۃ الحوض للوضوء بالضم وان اطلق علی الاول لصیرورۃ الحوض ظرف الوضوء بالفتح(۲)فلاوجہ للقصر علی الاول والماء فی الاول ملقی ای استعمل فی الخارج ثم القی فی الماء المطلق وفی الثانی ملاق ای ماء مطلق لاقی بدنا ذاحدث فاسقط فرضا اوبدن عـــہ متقرب فاقام قربۃ وانت(۳)تعلم ان العبارۃ فی الفروع الثلثۃ تحتمل الوجہین بیدانا لوحملناھا علی الثانی وجب ردھا الی روایۃ ضعیفۃ وھو نجاسۃ المستعمل اوصیرورۃ المطلق مستعملا بوقوع المستعمل ولوقلیلا الا ماترشش کالطل فانہ عفو دفعا للحرج وکلتاھما ضعیفۃ مھجورۃ والصحیح المعتمد طہارتہ وعدم تاثیرہ فی المطلق
اختلاف نہیں یہ ایسا نہیں کہ کچھ لوگوں کے قول پر متفرع ہو اور کچھ کے قول پر متفرع نہ ہو اھ۔ یہ تمام بحث حلیہ کے نہج پر ہے۔ میں کہتا ہوں حوض سے وضو کے دو۲ معنی ہیں ایک تو یہ کہ حوض سے چلو سے پانی لیا جائے یا برتن سے لیا جائے اور حوض کے باہر وضو کیا جائے اور اس کا دھوون حوض میں گرتا رہے جیسے کہا جاتا ہے میں نے طشت سے وضو کیا۔ محقق حلبی نے اس پر اکتفا ء کیا ہے اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ حوض میں اپنے اعضاء ڈبو کر وضو کرے جیسے عام طور پر لوگ پیر دھوتے ہیں جیسے کہا جاتا ہے “ میں نے ٹب میں کپڑے دھوئے اور یہ حوض سے وضو بالضم کا ظرف ہونے کے اقرب ہے اگرچہ اس کا اطلاق پہلے پر اس تاویل سے ہوتا ہے کہ وہ وضوء بالفتح کا ظرف ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کو پہلے تک ہی مقصور رکھا جائے اور پہلے میں پانی ملقی ہے یعنی پہلے باہر استعمال کیا گیا پھر مطلق پانی میں ڈالا گیا اور دوسرے میں ملاقی ہے یعنی مطلق پانی جو حدث والے بدن کو ملا اور ایک فرض کو ساقط کیا یا متقرب کے بدن کو ملا اور ایک قربۃ اس سے ادا ہوئی اور آپ جانتے ہیں کہ تینوں فروع کی عبارت دونوں وجہوں کا احتمال رکھتی ہے صرف اتنا ہے کہ اگر ہم اس کو دوسرے پر

عـــہ ادخلہ فی البحر فی المحدث حکما تبعا للدرایۃ وتقدم الرد علیہ فی الطرس المعدل اھ(م)
بحر نے اس کو حکما محدث میں داخل کیا درایہ کی پیروی کرتے ہوئے طرس معدل میں اس کا رد پہلے گزرا اھ(ت)
#12216 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
مطلقا مالم یساوہ اویغلب علیہ والروایات تصان عن مثلہ مھما امکن فظھر ان المراد فی الثلاثۃ معنی الثانی لامافھم المحقق واضطر الی حملھا علی ضعیف واذن صارت الثلثۃ حججالنا ولا دلیل ناطق علی صرفھا الی ضعیف ومن (۱)یفعلہ ینقلب مدعیا بعد ان کان سائلا فلینور دعواہ ببرھان واین البرھان وذلک لان الاصل فی روایات الائمۃ الاعتماد فمن استند بھا فقد قضی ماعلیہ ومن یرید ردھا الی مایردھا فلیات بدلیل یلجیئ الیہ ودعوای ھذہ قداعترف بھا العلامۃ فی البحر والرسالۃ معا اذحکم بابتناء تلک الفروع علی روایۃ ضعیفۃ فقال وسیظھرلک صدق ھذہ الدعوی الصادقۃ بالبینۃ العادلۃ فقد اقرانہ رحمہ الله تعالی عاد بھذا مدعیا فکیف تسلم بلا دلیل اماما ذکر فی البینۃ وھو قول المحیط والعلامۃ السراج الھندی والتحفۃ اذا وقع الماء المستعمل فی البئر عند محمد یجوز التوضؤ بہ مالم یغلب علی الماء وھو الصحیح ولفظ التحفۃ علی المذھب المختار ۔
محمول کریں تو اس کو ایک ضعیف روایت کی طرف راجع کرنا پڑے گا اور وہ مستعمل پانی کا نجس ہوتا ہے یا مطلق پانی کا تھوڑے مستعمل پانی سے مل جانے کی وجہ سے مستعمل ہوجانا ہاں شبنم جیسے قطرے معاف ہیں حرج کو دفع کرنے کیلئے۔ یہ دونوں روایتیں متروک اور ضعیف ہیں اور صحیح اور قابل اعتماد اس کی پاکی ہے اور اس کا مطلق پانی پر اثر انداز نہ ہونا ہے تاوقتیکہ اس کے برابر یا اس پر غالب نہ ہوجائے ____________ اور روایتیں اس قسم کی چیز سے حتی الامکان محفوظ رکھی جاتی ہیں تو معلوم ہوا کہ تینوں فروع میں دوسرے معنی ہی مراد ہیں وہ معنی نہیں ہیں جو محقق نے لئے ہیں اور پھر ان کو ضعیف روایت پر حمل کرنا پڑا اور اس طرح تینوں فروع ہماری دلیل بن گئی ہیں اور ان کو ضعیف روایت پر محمول کرنے کیلئے کوئی دلیل ناطق موجود نہیں اور جو ایسا کرتا ہے وہ سائل کے بجائے اپنے آپ کو مدعی بناتا ہے اور ایسی صورت میں اس کو برہان لانا چاہئے اور برہان کہاں سے ملے گا کیونکہ ائمہ کی روایات میں اصل اعتماد ہے تو جو ان سے استناد کرے گا اس نے اپنی ذمہ داری پوری کردی اور جو ان کو کسی اور طرف رد کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کی دلیل پیش کرنا ہوگی اور میرے اس دعوی کا اعتراف علامہ نے بحر اور رسالہ دونوں میں کیا ہے کیونکہ انہوں نے ان کی بنیاد کو ضعیف روایت پر مبنی قرار دیا ہے اور فرمایا کہ تم پر اس دعوی کی صداقت بینہ عادلہ سے ظاہر ہوجائیگی۔
حوالہ / References الرسالہ فی جواز الوضوء مع الاشباہ والنظائر ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ / ۸۲۰ / ۷
#12220 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
فاقول : (۱)رحم الله الشیخ العلامۃ ماذکروہ فھو فی الملقی فکیف یدل علی ابتناء مافی الاسرار والعنایۃ والدرایۃ وغیرہما من شروح الہدایۃ وشرح الاسبیجابی وفتاوی الولو الجی وغیرھا علی روایۃ ضعیفۃ مع کونھا فی الملاقی والی ھنا تم الکلام مع البحر والرسالۃ معا ولم یبق فیھا شیئ غیر حرف واحد فی البحر وھو قولہ رحمہ الله تعالی لایعقل عـــہ فرق بین الصورتین من جھۃ الحکم یعنی الملقی والملاقی۔
اقول : (۲)ای لعمرک فرق وای فرق لان الاستعمال انما یثبت بازالۃ الماء حدثا اواسقاطہ فرضا اواقامتہ قربۃ وذلک بملاقاتہ
انہوں نے اس میں اعتراف کرلیا کہ وہ اس طرح مدعی بن گئے ہیں تو اب یہ دعوی بلا دلیل کس طرح قبول کیا جائیگا اور بینہ میں جو انہوں نے ذکر کیا ہے وہ محیط علامہ سراج ہندی اور تحفہ کا قول ہے کہ اگر مستعمل پانی کنویں میں گر جائے تو محمد کے نزدیک اس سے وضو جائز ہے تاوقتیکہ وہ پانی پر غالب نہ ہوجائے اور یہی صحیح ہے اور تحفہ میں صراحت ہے کہ یہی مذہب مختار ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اللہ تعالی شیخ علامہ پر رحم فرمائے جو کچھ انہوں نے ذکر کیا ہے وہ ملقی میں ہے تو یہ اسرار عنایہ درایہ(شروح ہدایہ) شرح اسبیجابی اور فتاوی ولوالجی وغیرہ کی عبارات کے ضعیف روایت پر مبنی ہونے پر کیونکر دلیل بن سکتا ہے کیونکہ وہ ملاقی کے بارے میں ہیں۔ یہاں تک بحر اور رسالہ سے جو گفتگو تھی پوری ہوئی البتہ بحر نے ایک لفظ کہا ہے وہ یہ کہ ملقی اور ملاقی دونوں صورتوں میں حکم کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں۔ (ت)
میں کہتا ہوں دونوں صورتوں میں بہت بڑا فرق ہے کیونکہ پانی کا مستعمل ہونا یا تو حدث کے ازالہ کی وجہ سے ہوتا ہے یا اسقاط فرض کی وجہ سے یا کسی

عـــہ ذکر ھھنا عن بعض معاصریہ الفرق بان فی الوضوء یشیع الاستعمال فی الجمیع بخلافہ فی الصب اھ۔ ثم ردہ وھی عبارۃ مدخولۃ فتحت علی نفسھا باب الرد فکان لما ذکر فی البحر مساغ فلذا طوینا ذکرہ وسنعود الیہ ان شاء الله تعالی فی الفصل الرابع اھ منہ غفرلہ۔
یہاں انہوں نے اپنے بعض معاصرین سے یہ فرق نقل کیا ہے کہ وضو سے استعمال تمام پانی میں ہوتا ہے اور بہانے میں یہ نہیں ہے پھر خود ہی انہوں نے اس کا رد کیا اور یہ عبارت مدخولہ ہے اس نے اپنے اوپر رد کا دروازہ کھول دیا ہے تو جو بحر میں اس کا جواز تھا اس لئے ہم نے اس کو ذکر نہ کیا اور چوتھی فصل میں ہم اس کو ذکر کریں گے ان شاء الله تعالی اھ منہ(ت)
#12221 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
بدن المحدث اوالمتقرب لاملاقاتہ مالاقاہ والموجود فی الملاقی الاول وفی الملقی فیہ الثانی ھذا کل ماذکرہ فی الرسالۃ وھھنا اعنی فی بحث الماء المطلق فی البحر اماما ذکر فی مسألۃ البئر جحط مفرعا علی قول الحلیۃ الماء المستعمل ھو الذی لاقی الرجل بقولہ فعلی ھذا قولھم(ای فیمن نزل البئر للاغتسال)صار الماء مستعملا معناہ صار الماء الملاقی للبدن مستعملا لاجمیع ماء البئر اھ ۔ فقد قدمنا الکلام علیہ کافیا شافیا بتوفیق الله تعالی تحت الحادی والعشرین من الکلام مع العلامۃ قاسم وثلثۃ حجج قبلہ من التاسع عشر فھذہ اربعۃ۔
واقول : خامسا(۱)لوصح ھذا لما احتجتم الی حمل تلک الروایات الظاھرۃ الکاثرۃ الوافرۃ علی روایۃ ضعیفۃ مرجوحۃ نادرۃ وکان یکفیکم ان تقولو انعم صار مستعملا لکن مالاقی البدن اوالکف وھو مستھلک مغلوب فلا یضر۔
وسادسا : (۲)حیث حکموا بسقوط الاستعمال فی ادخال الکف والانغماس
قربۃ کی ادائیگی کے باعث ہوتا ہے اور یہ اسی وقت ہوگا جبکہ وہ محدث یا متقرب کے بدن سے لگے نہ کہ اس چیز کو لگے جو بدن کو لگی ہے اور جو چیز ملاقی میں موجود ہے وہ اول ہے اور ملقی میں دوسری چیز ہے یہ رسالہ میں ہے اور بحر کی مطلق پانی کی بحث میں ہے اور بحر نے مسئلہ جحط میں حلیہ کے اس قول پر تفریع کی ہے “ الماء المستعمل ھو الذی لاقی الرجل “ (مستعمل پانی وہ ہے جو آدمی کے جسم سے متصل ہو)تفریع کے لفظ یہ ہیں تو اس بنا پر ان کا قول(یعنی جو شخص کنویں میں نہانے کو اترا)پانی مستعمل ہوگیا اس کا مفہوم یہ ہے کہ بدن کو لگنے والا پانی مستعمل ہوگیا یہ نہیں کہ کنویں کا سارا پانی مستعمل ہوجائے اھ ہم نے اس پر مکمل بحث علامہ قاسم کے کلام پر گفتگو کرتے ہوئے اکیسویں نمبر کے تحت کردی ہے اور اس سے قبل انیسویں نمبر میں تین دلائل بیان کیے ہیں تو یہ چار ہوئے۔
خامسا : میں کہتا ہوں اگر یہ بات درست ہوتی تو آپ ان کثیر ظاہر روایات کو ایک ضعیف روایت پر محمول نہ کرتے بلالکہ صرف اتنا کہتے کہ ہاں وہ پانی مستعمل ہوگیا ہے لیکن جو پانی بدن اور ہاتھوں کو لگا ہے وہ تھوڑا سا ہے اور مغلوب ہے تو نقصان دہ نہ ہوگا۔ سادسا مشائخ نے سقوط استعمال کا حکم لگایا ہے ہاتھ ڈالنے اور غوطہ کھا نے کی صورت میں
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۸
#12223 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اطبقوا سلفا وخلفا وانتم معھم علی تعلیلہ بالضرورۃ کما قدمنا عن الفتح والخلاصۃ والتبیین والبزازیۃ والکافی والخانیۃ والغنیۃ والحلیۃ والنھر والقدوری والجرجانی والبرھان والصغری والفوائد الظھیریۃ والشمس الائمۃ الحلوانی وعن بحرکم وعنکم عن شمس الائمۃ السرخسی وشارح الھدایۃ الخبازی والمحقق حیث اطلق والزیلعی وابی الحسن وابی عبدالله رحمہم الله تعالی وقدمناہ عن الخلاصۃ عن نص محرر المذھب محمد فی کتاب الاصل وعن الفتح عن کتاب الحسن عن صاحب المذھب الامام الاعظم رضی الله تعالی عنہم ولو کان لایستعمل الاما لصق بالبدن فای حرج یلحق وای ضرورۃ تمس فان الماء مع ثبوت الاستعمال یبقی طاھرا مطھر اکما کان۔
وسابعا : (۱)قدمنا عن الامام شمس الائمۃ الکردری ان ادخال المحدث یدہ فی الماء لالضرورۃ یفسدہ وعنکم عن المبتغی انہ یفسد الماء وعنکم عن المبسوط عن نص محمد فی الاصل اغتسل الطاھر فی البئر افسدہ وعن مجمع الانھر فسد عندالکل وعن
سلف سے خلف تک اسی پر چلے آرہے ہیں اور آپ بھی ان کے ہمنوا ہیں اور اس کیلئے علت ضرورت بتائی ہے جیسا کہ ہم فتح خلاصہ تبیین بزازیہ کافی خانیہ غنیہ حلیہ نہر قدوری جرجانی برہان صغری فوائد ظہیریہ شمس الائمہ حلوانی بحر اور آپ کی سند سے شمس الائمہ سرخسی سے شارح ہدایہ خبازی محقق(انہوں نے اطلاق سے کام لیا)ابو الحسن وابو عبداللہ سے روایت کر آئے ہیں اور اس کو ہم نے خلاصہ سے محرر المذہب امام محمد کا قول ان کی اصل سے نقل کیا ہے اور فتح سے حسن کی کتاب سے صاحب المذہب امام اعظم سے نقل کیا ہے اگر صرف اتنا ہی مستعمل ہوتا ہے جو بدن سے لگا ہوتو کیا حرج لاحق ہوتا ہے اور کونسی ضرورت درپیش ہوتی ہے کیونکہ پانی باوجود ثبوت استعمال کے طاہر مطہر ہی رہے گا جیسا کہ پہلے تھا۔
سابعا ہم امام شمس الائمہ کردری سے نقل کر آئے ہیں کہ محدث کا اپنے ہاتھ کو پانی میں بلا ضرورت ڈالنا پانی کو فاسد کردیتا ہے اور تم سے مبتغی سے روایت کی ہے کہ وہ پانی کو فاسد کردیتا ہے اور تم سے مبسوط سے محمد کی اصل میں نص سے روایت کی ہے کہ اگر پاک آدمی کنویں میں غسل کرے تو اس کو فاسد
حوالہ / References الہندیۃ بالمعنی فصل فیما لایجوزبہ الوضوء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۲
الہندیۃ بالمعنی فصل فیما لایجوزبہ الوضوء نورانی کتب خانہ پشاور۱ / ۲۳
بحر الرائق کتاب الطھارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۶
مجمع الانہر فصل فی الماء بیروت ۱ / ۳۱
#12225 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الھندیۃ عن النھایۃ یفسد بالاتفاق ولفظ العنایۃ فسد الماء عند الکل وعنکم عن الدرایۃ والعنایۃ وغیرھما یفسد عندالکل فھذ اصریح نص محمد فی الروایۃ الظاھرۃ وصرائح لقول الاجماع فی الکتب المعتمدۃ منھا بحرکم علی ان الماء کلہ یصیر مستعملا حتی لایبقی صالحا لان یتوضأ بہ اذلیس الفساد الاخروج الشیئ عما یصلح لہ ولوکان یجوزبہ الوضوء فایش فسد وکیف فسد۔
وثامنا : (۱)قدمنا عن الفتح عن کتاب الحسن عن صاحب المذھب الامام رضی الله تعالی عنہ التصریح بابین لفظ لایقبل تاویلا ولا یرضی تحویلا وھو قولہ رضی الله تعالی عنہ لم یجز الوضوء منہ فثبت قطعا ان لامساغ لھذا التاویل وانہ مضاد لصریح نص امام المذھب وجلی نص محمد فی ظاھر الروایۃ بل ومصادم لاجماع ائمۃ المذھب المنقول فی المعتمدات کبحرکم فالحق الناصع ھو المذھب المنصوص علیہ من ائمۃ المذھب فی الکتب الظاھرۃ المطبق علیہ فی الروایات المتواترۃ
کردے گا اور مجمع الانہر میں ہے کہ سب کے نزدیک فاسد ہوگیا اور ہندیہ سے نہایہ سے منقول ہے کہ بالاتفاق فاسد ہوجائے گا اور عنایہ کے الفاظ یہ ہیں کہ سب کے نزدیک پانی فاسد ہوگیا اور تم سے درایہ وعنایہ وغیرہما سے روایت کی ہے سب کے نزدیک فاسد ہوگیا تو یہ ظاہر روایت میں محمد کی صریح نص ہے اور اجماع کی صریح نقول کتب معتمدہ میں موجود ہیں بحر میں ہے علاوہ ازیں تمام پانی مستعمل ہوجاتا ہے حتی کہ اس سے وضو بھی نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ فساد کے معنی ہی یہ ہیں کہ جو چیز جس کام کی صلاحیت رکھتی تھی اب اس کے لائق نہ رہی اور اگر اس سے وضو جائز رہے تو پھر اس میں فساد کیوں اور کیسے ہوا(ت)
ثامنا : ہم نے فتح کے حوالہ سے حسن کی کتاب سے صاحب مذہب امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکا قول نقل کیا ہے اور یہ اتنا واضح اور صریح قول ہے کہ کسی قسم کی تاویل کو قبول نہیں کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس سے وضوء جائز نہیں تو قطعی طور پر ثابت ہوگیا کہ اس تاویل کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ امام مذہب کے نص صریح کے مخالف ہے اور امام محمد کے واضح نص کے بھی خلاف ہے بلکہ کتب معتمدہ میں ائمہ مذہب کا جو اجماع منقول ہے اس کے بھی مخالف ہے مثلا آپ ہی کی بحر میں حکایت اجماع موجود ہے تو حق وہی ہے جو ظاہر روایت کی کتب میں ائمہ مذہب سے
حوالہ / References ہندیۃ الفصل الثانی من المیاہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۳
عنایۃ مع فتح القدیر ماء الذی یجوزبہ الوضوء نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۹
حاشیۃ الہدایۃ ماء الذی یجوزبہ الوضوء المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ۲۳
#12226 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اعنی ثبوت الاستعمال لجمیع الماء القلیل قلیلا کان اوکثیرا بدخول جزء من بدن محدث فیہ لم یروما یخالفہ ولم یرفی کلام احدما ینازعہ الالفظۃ وقعت فی کلام البدائع فی تعلیل وجدل مع وفاقہ فی المروی وما قدر بحث مع نصوص صاحب المذھب وتصریح محررہ فی کتاب ظاھر الروایۃ بل مع اجماع ائمۃ المذھب لا جرم ان بقیت تلک الکلمۃ لم یعرج علیھا احد فیما نعلم الی عصر الامام المحقق علی الاطلاق حتی اتی تلمیذاہ العلامتان القاسم والحلبی فاثراھا واثراھا واثاراھا وجعلھا العلامۃ قاسم نصا مرویا وحکما مرضیا رد بہ نصوص المذھب المشہورۃ والفروع المتواترۃ فی الکتب المنشورۃ الی روایۃ ضعیفۃ مھجورۃ ولم یات علیھا بروایۃ منقولۃ ماثورۃ ولا درایۃ مقبولۃ منصورۃ فالمذھب ھو المتبع والحق احق ان یتبع والله المستعان وعلیہ التکلان وصلی الله تعالی علی سید الانس والجان والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ ماتعاقب الملوان وبارک وسلم ابدا امین والحمدلله رب العلمین۔
الفصل الثالث فی کلام العلامۃ ابن الشحنۃ
رسالتہ رحمہ الله تعالی اکثر من نصف کراسۃ سلک فیھا مسلکا یخالف ماسلکہ شیخہ العلامۃ
منقول ہے اور جس پر متواتر روایات منطبق ہیں یعنی تمام قلیل پانی پر مستعمل ہونے کا حکم لگایا جانا خواہ قلیل ہو یا کثیر جبکہ محدث کے بدن کا کوئی حصہ بھی اس میں داخل ہوجائے اس پر یہی حکم ہوگا اس کے خلاف کسی کے کلام میں منقول نہیں صرف ایک لفظ بدائع میں تعلیل وجدل کے طور پر آیا ہے حالانکہ روایت کردہ پر وہ متفق ہیں لیکن نصوص مذہب کی موجودگی میں محض ایک بحث کی کیا قدر وقیمت ہوسکتی ہے پھر محرر مذہب کی تصریح ظاہر الروایۃ کی کتاب میں ہے اور ائمہ مذہب کا اجماع ہے پھر ایک اس کلمہ پر محقق علی الاطلاق کے زمانہ تک کسی نے غور نہ کیا یہاں تک کہ ان کے شاگرد علامہ قاسم اور حلبی آئے تو انہوں نے اس بات کو بڑھایا اور ترجیح دی اور پھیلایا اور علامہ قاسم نے تو اس کو اپنی پسندیدہ نص قرار دیا جس سے نصوص مذہب اور فروع متواترہ تک کو رد کردیا اور اس کی تائید میں صرف ایک ضعیف روایت لاسکے اور کوئی قابل عقلی یا نقلی دلیل پیش نہ کرسکے تو مذہب حق وہی ہے جس کی پیروی کی گئی ہے اور حق ہی اس کا مستحق ہے کہ اس کا اتباع کیا جائے واللہ المستعان اسی پر بھروسا ہے انس وجن کے سردار پر درود اور ان کی آل واصحاب اولاد اور باقی جماعت پر تاقیامت برکتیں اور سلام نازل ہو آمین والحمدلله رب العالمین۔
تیسری فصل علامہ ابن الشحنہ کے کلام میں :
ان کا رسالہ آدھی کاپی سے زیادہ ہے اس میں انہوں نے اپنے شیخ علامہ قاسم کے سراسر خلاف راہ اپنائی ہے کیونکہ
#12228 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
قاسم خلافا کلیا فانہ کان ادعی تسویۃ الملقی والملاقی فی جواز الوضوء وادعی ھذا تسویتھما فی عدم الجواز ذکر رحمہ الله تعالی مخاطبا لسائلہ سألت ارشدنی الله وایاک عن حوض دون ثلثۃ اذرع فی مثلھا ھل یجوز الوضوء فیہ ام لاوھل یصیر مستعملا بالتوضی فیہ وذکرت ان المفتی بہ قول محمد رضی الله تعالی عنہ انہ طاھر غیر طھور وان المتقاطر من الوضوء قلیل لاقے طھورا اکثر منہ فلا یسلبہ وصف الطھوریۃ واجبتک انہ یجوز الاغتراف منہ والتوضی خارجہ لافیہ اھ ۔
اقول : فھذا(۱)ظاھر فی الملقی وان المراد التوضی فیہ بالمعنی الاول ای بحیث تقع الغسالۃ فیہ وقد کان السائل نبہ علی الحکم الصحیح فیہ ان المتقاطر طاھر مغلوب لکن اجابہ بالمنع وھو خلاف الصحیح کما علمت والعجب ان الشیخ سینقل ان الصحیح خلافہ ثم مشی علیہ وکان حریا بنا ان نحمل کلامہ علی التوضی فیہ بالمعنی الثانی ای بغمس الاعضاء فیہ ومعنی قولہ التوضی خارجہ ان تکون اعضاء المتوضی خارج الحوض کی یوافق الصحیح ولا یناقض کلام نفسہ فیما ینقل من التصحیح وکان تخطئۃ السائل حیث سأل عن الوضوء فیہ بغمس
وہ تو جواز وضو میں ملقی اور ملاقی کی برابری کے قائل تھے اور انہوں نے عدم جواز میں دونوں کی برابری کا قول کیا ہے وہ بصیغہ خطاب فرماتے ہیں تونے مجھ سے سوال کیا خدا تجھ کو اور مجھے ہدایت دے ایک حوض کے بارے میں جو تین ہاتھ سے کم ہے اس میں وضو جائز ہے یا نہیں اور اس میں وضو کرنے سے پانی مستعمل ہوگا یا نہیں اور تونے ذکر کیا مفتی بہ محمد کا قول ہے کہ وہ پاک ہے پاک کرنے والا نہیں ہے اور وضو سے جو ٹپکا ہے وہ کم ہے اور جس پانی سے ملا ہے وہ زیادہ ہے تو وہ اس کی طہوریت کے وصف کو سلب نہیں کرسکتا ہے میں نے تجھ کو یہ جواب دیا ہے کہ اس سے چلو بھر کر پانی لے کر وضو باہر کرنا جائز ہے اس کے بیچ وضو کرنا جائز نہیں اھ۔
میں کہتا ہوں یہ ملقی میں ظاہر ہے اور یہ کہ اس سے مراد پہلے معنی کے اعتبار سے وضو کرنا ہے یعنی دھوون اس میں گرے اور سائل نے اس میں صحیح حکم پر خبر دار کیا تھا کہ ٹپکنے والا پانی طاہر مغلوب ہے مگر انہوں نے اس کا جواب منع کے ساتھ دیا اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں یہ صحیح کے خلاف ہے اور تعجب خیز بات یہ ہے کہ خود شیخ عنقریب یہ نقل کریں گے کہ صحیح اس کے خلاف ہے اور پھر خود اسی پر چلے ہیں اور ہمارے لائق بات تو یہ تھی کہ ہم اس کو دوسرے معنی میں لیتے وہ یہ کہ اس میں وضو کرنے پر محمول کرتے یعنی اس میں اعضاء کا ڈبو دینا اور ان کے اس قول کے معنی کہ وضو حوض کے باہر یہ ہیں کہ وضو کر نے والے کے اعضاء حوض کے باہر ہوں تاکہ صحیح کے موافق ہو اور خود
حوالہ / References رسالہ ابن الشحنۃ
#12230 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الاعضاء ولم یکن بعدہ محل لذکر قلۃ المتقاطر ایسر علینا من تطرق امثال الخلل الی کلام العلامۃ ولکنہ رحمہ الله سیصرح بھذا الظاھر فانسد باب التاویل ثم قدم مقدمۃ فی بیان الماء الذی یظھر فیہ اثر الاستعمال والذی لایظھر فیہ قاصدا اثبات ان الحوض المسئول عنہ اعنی الصغیر مما یتأثر بالاستعمال تأثرہ بالنجس فقال اعلم ان الماء الذی یظھر فیہ اثر الاستعمال ھو الذی عـــہ یظھر فیہ اثر النجاسۃ وکل مالایظھر فیہ اثر النجاسۃ لایظھر فیہ اثر الاستعمال ولا فرق ثم جعل یسرد الاقوال فی حد القلیل واطال الی ان قال فثبت ح ظھور اثرالاستعمال وھو سلب الطھوریۃ عن ماء الحوض الذی سألت عنہ وکان حکمہ کالاناء والجب والبئر اھ۔
کلام آپس میں متناقض نہ ہو یعنی اس تصحیح کے جو نقل کی جائے گی اور انہوں نے سائل کو غلط اس لئے ٹھہرایا کیونکہ اس نے یہ سوال کیا تھا کہ وہ اپنے اعضاء کو حوض میں داخل کرکے وضو کرنا چاہتا ہے اس کے بعد اس کا محل نہ تھا کہ ٹپکنے والا کم ہے یہ ہم پر بہ نسبت اس کے آسان ہے کہ علامہ کے کلام میں خلل کو مان لیں مگر وہ خود اس ظاہر کی تصریح کریں گے تو تاویل کا باب بند ہوگیا پھر ایك مقدمہ اس پانی کے بارے میں بیان کیا جس میں اثر استعمال ظاہر ہوتا ہے اور جس میں نہیں ہوتا ہے اس سے ان کا ارادہ یہ بتانا کہ وہ چھوٹا حوض جس کے بارے میں دریافت کیا جارہا ہے مستعمل پانی سے اسی طرح متاثر ہوتا ہے جس طرح نجس پانی سے اور فرمایا جاننا چاہئے کہ وہ پانی جس میں استعمال کا اثر ظاہر ہوتا ہے وہی ہے جس میں نجاست کا اثر ظاہر ہوتا ہے اور جس میں نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو اس میں استعمال کا اثر بھی ظاہر نہ ہوگا اور کوئی فرق نہیں پھر انہوں نے قلیل کے حد میں کئی اقوال پیش کیے اور کافی طوالت اختیار کی اور آخر میں کہا تو ثابت ہوگیا کہ استعمال کے اثر ظاہر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تم نے جس حوض کی بابت دریافت کیا ہے اس کے پانی سے طہوریت سلب
عـــہ تعقیب المسند الیہ بضمیر الفصل یفید قصر المسند علی المسند الیہ فمفاد القضیۃ الاولی ان تأثیر النجاسۃ مقصور علی مایؤثر فیہ الاستعمال ای کل مالا یظھر فیہ اثر الاستعمال لایظھر فیہ اثر النجاسۃ ثم ذکر عکسہ کلیا فافاد انھما شیئ واحد وانہ لاانفکاك لتأثیر عن اخر اھ منہ غفرلہ۔ (م)
مسند الیہ کے بعد ضمیر فصل لانا مسند کے مسند الیہ پر حصر کا فائدہ دیتا ہے تو پہلے قضیہ کا فائدہ یہ ہے کہ نجاست کا مؤثر ہونا اس چیز پر منحصر ہے جس میں استعمال مؤثر ہو یعنی جس میں استعمال کا اثر ظاہر نہ ہو اس میں نجاست کا اثر بھی ظاہر نہ ہوگا پھر انہوں نے اس کا عکس کلی ذکر کیا جس کا مفادیہ ہے کہ دونوں شیئ واحد ہیں اور یہ کہ ایك کی تاثیر دوسرے سے جدا نہ ہوگی اھ منہ غفرلہ (ت)
#12232 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اقول : رحمکم الله کل(۱)مااتیتم بہ الی ھنا انما بین ان القلیل الذی تؤثر فیہ النجاسۃ کذا وکذا ولیس فی شیئ منہ مایدل علی ان کل قلیل یتأثر بالاستعمال کالنجاسۃ وانما کان المقصود فیہ ولم تذکر وافیۃ غیر قولکم ان کل ما تأثر بھا تأثر بہ ولافرق وھی القضیۃ الاولی فی کلامکم اما الاخری القائلۃ ان کل ماتأثر بہ تأثر بھا فلا کلام فیھا ولا تمس المقصود اصلا ثم ذکر تکمیلا لتوضیحہ وسرد فیہ(۱)فرع الخلاصۃ ان الحوض الصغیر قیاس الاوانی والجباب لایجوز التوضی فیہ ولو وقعت فیہ قطرۃ خمر تنجس (۲)وفرع البزازیۃ والتنجیس والخانیۃ اذا نقص الحوض من عشر فی عشر لایتوضؤ فیہ بل یغترف منہ ویتوضؤ خارجہ ولفظ الخانیۃ لایجوز فیہ الوضوء ولفظ التجنیس(۲)اعلاہ عشر فی عشر واسفلہ اقل وھو ممتل یجوز التوضی فیہ والاغتسال فیہ وان نقص لاولکن یغترف منہ ویتوضأ اھ۔ قلت : وفی عکسہ عکسہ(۳)ای اذا کان اسفلہ عشرا فی عشر واعلاہ
ہوگئی اور اس کا حکم برتن گڑھے اور کنویں کی مانند ہوگیا۔
میں کہتا ہوں یہاں تك آپ نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ قلیل پانی وہ ہے جس میں نجاست اثر کرے وہ پانی فلاں فلاں ہے اس میں یہ کہیں نہیں ہے کہ ہر قلیل پانی استعمال سے متاثر ہوتا ہے جس طرح کہ نجاست سے متاثر ہوتا ہے اور اس سے وہ مقصود تھا جس کا آپ نے ذکر نہیں کیا صرف یہ ذکر کیا ہے کہ ہر پانی جو نجاست سے متاثر ہوگا وہ استعمال سے بھی متاثر ہوگا بغیر کسی فرق کے یہ ہوا پہلا قضیہ تمہارے کلام میں اور دوسرا قضیہ یہ ہے کہ جو پانی استعمال سے متاثر ہوگا وہ نجاست سے بھی متاثر ہوگا تو اس میں کلام نہیں اور اس کا مقصود سے کوئی تعلق نہیں پھر اپنی وضاحت کی تکمیل کی اور یہ فروع ذکر کیں فرع(۱)خلاصہ کہ چھوٹا حوض جو برتنوں اور گڑھوں کی مانند ہو اس میں وضو جائز نہیں ہے اور اس میں اگر ایك قطرہ شراب کا گر جائے تو وہ نجس ہوجائے گا۔ (۲)بزازیہ تجنیس اور خانیہ میں ہے کہ جب حوض دہ در دہ سے کم ہو تو ا س میں وضو نہ کرے گا بلالکہ اس میں سے چلو کے ذریعہ لے گا اور وضو حوض سے باہر کرے گا اور خانیہ کے الفاظ یہ ہیں اس میں وضو جائز نہیں اور تجنیس کے الفاظ یہ ہیں کہ اس کا بالائی حصہ دہ در دہ ہے اور نچلا
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوی الجنس الاول فی الحیاض نولکشور لکھنؤ ۱ / ۵
بزازیہ مع الھندیہ نوع فی الحیض نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۵
قاضی خان فصل فی الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴
بحرالرائق کتاب الطہارۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۷
#12234 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اقل لم یجز الوضوء فیہ ممتلئا فاذا نقص وبلغ الکثرۃ(۱)جاز وبہ یلغزای ماء لایجوز الاغتسال فیہ مادام کثیرا واذا قل جاز(۳)وفرع الخانیۃ خندق طولہ مائۃ ذراع او اکثر فی عرض ذراعین قال عامۃ المشائخ لایجوز فیہ الوضوء ثم حکی عن بعضھم الجواز ان کان ماؤہ لوانبسط یصیر عشرا فی عشر اھ۔
قلت : (۲)وھو المختار درر عن عیون المذاھب والظھیریۃ وصححہ فی المحیط والاختیار وغیرھما واختار فی الفتح القول الاخر وصححہ تلمیذہ الشیخ قاسم لان مدار الکثرۃ علی عدم خلوص النجاسۃ الی الجانب ولا شك فی غلبۃ الخلوص من جھۃ العرض اھ ش۔
اقول : (۱)ھذا غیر مسلم اذلو کان علیہ المدار لما جاز الوضوء فی الماء الکثیر من الجانب الذی فیہ النجاسۃ ولیس کذلك فعلم ان المدار ھو المقدار اعنی المساحۃ فلا حاجۃ الی العرض وقد قال المحقق نفسہ قالوا فی غیر المرئیۃ یتوضؤ من جانب الوقوع وفی المرئیۃ لا وعن
کم ہے اور وہ بھرا ہوا ہو تو اس سے وضو بھی جائز ہے اور غسل بھی اور کم ہو تو جائز نہیں البتہ ا سے چلو بھر کر پانی لے کر وضو کرسکتا ہے۔
میں کہتا ہوں اس کے برعکس میں حکم برعکس ہے یعنی جب اس کا نچلا حصہ دہ در دہ ہو اور اوپر والا کم ہو تو اس میں وضو جائز نہیں جبکہ بھرا ہوا ہو پس جب کم ہوجائے اور کثرت کو پہنچ جائے تو جائز ہے اسی لئے ایك فقہی پہیلی مشہور ہے “ وہ کون سا پانی ہے کہ جب کثیر ہو تو اس سے غسل جائز نہیں اور جب کم ہو تو جائز ہے۔ خانیہ(۳)کی فرع ایك خندق ہے جس کی لمبائی سو ہاتھ یا اس سے زیادہ ہے اور چوڑائی دو ہاتھ ہے تو عام مشائخ فرماتے ہیں اس سے وضو جائز نہیں اور بعض مشائخ سے جواز منقول ہے بشرطیکہ وہ حوض ایسا ہو کہ اگر اس کے پانی کو پھیلا دیا جائے تو وہ دہ در دہ ہوجائے اھ۔ میں کہتا ہوں یہی مختار ہے اس کو درر نے عیون المذاہب سے اور ظہیریہ سے نقل کیا اور محیط واختیار وغیرہما نے اس کی تصحیح کی اور فتح میں دوسرے قول کو اختیار کیا اور اس کی تصحیح ان کے شاگرد شیخ قاسم نے کی کیونکہ کثرت کا دارومدار نجاست کے دوسری جانب نہ پہنچنے پر ہے اور اس میں شك نہیں کہ خلوص کا غلبہ چوڑائی کی طرف سے ہے اھ ش۔
میں کہتا ہوں یہ مسلمہ بات نہیں ہے کیونکہ اگر اسی پر مدار ہوتا تو کثیر پانی میں اس جانب سے وضو جائز نہیں ہوتا جس میں کہ نجاست ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ اصل چیز مقدار ہے یعنی پیمایش تو چوڑائی کی کوئی حاجت نہیں اور خود محقق نے فرمایا ہے “ مشائخ کا غیر مرئی نجاست میں
حوالہ / References قاضی خان فصل فی الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۲
#12236 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
ابی یوسف انہ کالجاری لایتنجس الا بالتغیر وھو الذی ینبغی تصحیحہ لان الدلیل انما یقتضی عندالکثرۃ عدم التنجس الا بالتغیر من غیر فصل وھو ایضا الحکم المجمع علیہ علی ماقدمناہ من نقل شیخ الاسلام ویوافقہ مافی المبتغی ان ماء الحوض فی حکم ماء جار اھ۔
والعلامۃ نفسہ اطال فیہ الکلام فی رسالتہ تلك واحتج بالاحادیث والاثار وقال فی اخرہ فثبت ان ماء الغدر لایتنجس الا بالتغیر سواء کان الواقع فیہ مرئیا اوغیر مرئی فالجاری اولی اھ۔ وقال قبلہ علی قول صاحب الاختیار ان کانت النجاسۃ مرئیۃ لایتوضؤ من موضع الوقوع۔ ۔ ۔ الخ مانصہ یقال لہ اذا کان الحکم ھذا فاین الاصل الذی ادعیتہ وھو ان الکثیر لاینجس وکیف خرج ھذا عن دلیل الاصل الذی اوردتہ وھو الحدیث الخ وقال علی قول البدائع ان کانت مرئیۃ لایتوضؤ من الجانب الذی فیہ الجیفۃ مانصہ کلہ مخالف للاصل المذکور والحدیث اھ۔
کہنا ہے کہ جہاں نجاست گری ہے وہاں سے وضو کرسکتا ہے اور مرئیہ میں نہیں اور ابویوسف سے مروی ہے کہ یہ جاری پانی کی طرح ہے جب تك تغیر نہ ہوگا نجس نہ ہوگا اسی کی تصحیح ہونی چاہئے کیونکہ دلیل کا تقاضا تو یہ ہے کہ کثرت کی صورت میں صرف اسی وقت ناپاك ہو جبکہ تغیر آجائے اور اس میں کوئی قید نہ ہو یہ بھی اجماعی حکم ہے ہم اس پر شیخ الاسلام کی نقل بیان کر آئے ہیں اور مبتغی میں اس کے موافق ہے کہ حوض کا پانی جاری پانی کے حکم میں ہے اھ
اور علامہ نے خود اپنے اس رسالہ میں اس پر طویل بحث کی ہے اور احادیث وآثار سے استدلال کیا ہے اور اس کے آخر میں فرمایا ہے کہ اس سے معلوم ہوا کہ تالابوں کا پانی تغیر سے ناپاك ہوتا ہے خواہ گرنے والی چیز مرئی ہو یا غیر مرئی تو جاری میں یہ حکم بطریق اولی ہوگا اھ۔ اور اس سے قبل صاحب اختیار پر کلام کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر نجاست مرئیہ ہو تو گرنے کی جگہ سے وضو نہیں کرے گا۔ ۔ ۔ الخ ان کی عبارت اس طرح ہے “ اس سے کہا جائے گا کہ جب حکم یہ ہے تو اس اصل کا کیا ہوا جو آپ نے بیان کی تھی کہ کثیر پانی ناپاك نہیں ہوتا اور یہ اس دلیل اصل سے کیسے خارج ہوگیا جس کو آپ نے بیان کیا تھا اور وہ حدیث ہے۔ ۔ ۔ الخ اور بدائع کے قول پر فرمایا کہ اگر نجاست مرئیہ ہو تو جہاں مردار گرا ہے وہاں سے
حوالہ / References فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء مالایجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۲
زہر الروض فی مسئلۃ الحوض
زہر الروض فی مسئلۃ الحوض
زہر الروض فی مسئلۃ الحوض
#12237 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
ثم اقول : (۱)بل ادارۃ الامر علیہ یبطل اعتبار العرض فان المناط ح ان یکون بین النجاسۃ والماء یرید ان یأخذہ عشرۃ اذرع فاذا وقع النجس فی احد اطراف ذلك الخندق لم یخلص الی الطرف الاخر طولا وان خلص عرضا فیجوز الاخذ من الطول بعد عشرۃ اذرع وان لم یجز من العرض (۲)بل ھی تبطل اعتبار المساحۃ رأسا اذ المدار علی ھذا علی الفصل فلوان خندقا طولہ عشرۃ اذرع وعرضہ شبر وقع فی طرف منہ نجس جاز الوضوء من الطرف الاخر لوجود الفصل المانع للخلوص وھذا لایقول بہ احد منا(۳)ولو وقع النجس فی الوسط والغدیر عشر فی عشر بل عشرون فی العشرین الا اصبعا فی الجانبین تنجس کلہ لان الفصل فی کل جانب اقل من عشر وکذا(۴)اذا کان مائۃ فی مائۃ بل الفا فی الف عـــہ ووقع بفصل عشرفی الاطراف ثم کل عشرین فی الاوساط قطرۃ نجس وجب تنجس الکل من دون تغیر وصف مع کونہ عشرۃ الاف
وضو نہیں کرے گا ان کی یہ تمام عبارت اصل مذکور اور حدیث کے مخالف ہے اھ
پھر میں کہتا ہوں کہ اس پر دارومدار کرنا عرض کے اعتبار کو باطل کردیتا ہے کیونکہ اس وقت علت حکم یہ ہے کہ اس کے اور نجاست کے درمیان دس ہاتھ کا فاصلہ ہو تو اگر اس خندق کے ایك کنارے میں نجاست گر گئی تو وہ لمبائی میں دوسرے کنارے تك نہیں آسکتی اگرچہ چوڑائی میں دوسری طرف پہنچ جائے تو لمبائی میں دس ہاتھ کے بعد سے اس پانی کا استعمال جائز ہوگا اگرچہ چوڑائی سے جائز نہیں بلالکہ یہ مساحت کے اعتبار کو باطل کرتا ہے کیونکہ اس صورت میں دارومدار فصل پر ہے اب اگر کسی خندق کی لمبائی دس ہاتھ ہے مگر چوڑائی ایك بالشت ہے اور اس کے ایك کنارہ میں نجاست گر جائے تو دوسرے کنارے سے وضو جائز ہے کیونکہ خلوص کے لئے مانع موجود ہے اور ہم میں سے یہ قول کسی کا نہیں۔ اور اگر نجاست تالاب کے بیچوں بیچ گر گئی اور تالاب دہ در دہ بلکہ بست دربست ہے مگر دونوں طرف سے ایك ایك انگل کم ہے تو پورے کا پورا ناپاك ہوجائے گا کیونکہ فصل ہرجہت میں دس سے کم ہے اسی طرح اگر وہ سو در سو ہو بلالکہ ہزار در ہزار ہو اور نجاست دس ہاتھ

عـــہ فتکفی لتنجیس عشرۃ الاف ذراع خمس وعشرون قطیرۃ کحبۃ الجاورس مثلا ولتنجیس ماء منبسط فی الف الف ذراع الفان وخمسمائۃ۔ اھ منہ غفرلہ۔ (م)
دس ہزار گز کو نجس کرنے کیلئے نجاست کے پچیس قطرے باجرہ کے دانہ برابر کافی ہیں اور ایك لاکھ گز میں پھیلنے والے پانی کو نجس کرنے کیلئے دو ہزار پانچ سو قطرے کافی ہیں اھ منہ غفرلہ(ت)
#12239 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
ذراع بل الف الف فالحق ان المدار ھو المقدار والماء بعدہ کماء جار والله تعالی اعلم۔
اقول : ویظھر للعبد الضعیف انہ کان ینبغی ان یجعل ھذا ھو المقصود بظاھر الروایۃ ان الکثیر مالا یخلص بعضہ الی بعض واعبتروہ بالارتفاع والانخفاض بتحریك الوضوء من ساعتہ او الغسل اوالاغتراف اوالتکدر اوسرایۃ الصبغ والاول ھو الصحیح ویقرران المقصود بہ لیس الا تحصیل جامع بینہ وبین الجاری قال الامام ملك العلماء فی البدائع عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ فی جاھل بال فی الماء الجاری ورجل اسفل منہ یتوضؤ بہ قال لا بأس بہ وھذا لان الماء الجاری مما لایخلص بعضہ الی بعض فالماء الذی یتوضؤ بہ یحتمل انہ نجس ویحتمل انہ طاھر والماء طاھر فی الاصل فلا نحکم بنجاستہ بالشك اھ۔
اقول : معناہ ان البول یستھلك فی الماء فیصیر کجزء منہ لکن لایطھر لنجاسۃ عینا فھذا ماء بعضہ نجس غیران الماء الجاری لایتأثر بقیتہ بھذا البعض وھذا معنی قولہ لایخلص
کہ فاصلہ سے اطراف میں واقع ہو اور پھر ہر بیس کے درمیان میں ایك نجس قطرہ ہو تو کل نجس ہوجائیگا خواہ وصف میں تغیر نہ ہوا ہو دس ہزار گز ہونے کے باوجود بلالکہ لاکھ گز ہونے کے باوجود حق یہ ہے کہ دارومدار مقدار پر ہے اور پانی اس کے بعد ماء جاری کی طرح ہے والله تعالی اعلم۔ میں کہتا ہوں اس عبد ضعیف پر یہ ظاہر ہوا کہ مناسب یہ تھا کہ اسی کو ظاہر الروایۃ کا مقصود بنایا جاتا یعنی کثیر وہ ہے کہ بعض بعض میں شامل نہ ہو اور اس میں انہوں نے پانی کے زیروبم کا لحاظ کیا ہے وضو غسل چلو سے پانی لینے گدلا ہونے یا رنگ کے سرایت کرنے سے معلوم ہوسکتا ہے اور اول ہی صحیح ہے اور یہ مقرر ہے کہ مقصود اس پانی اور جاری پانی میں کوئی جہت جامعہ تلاش کرنا ہے ملك العلماء نے بدائع میں ابو حنیفہ سے نقل کی ہے کہ اگر کوئی جاہل جاری پانی میں پیشاب کردے اور اس کے نچلے حصے میں کوئی شخص وضو کر رہا ہو تو فرمایا کچھ مضائقہ نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جاری پانی کے اجزا ایك دوسرے میں شامل نہیں ہوتے ہیں تو جس پانی سے وہ وضو کررہا ہے اس کے بارے میں احتمال ہے کہ پاك ہو اور احتمال ہے کہ ناپاك ہو اور پانی اصل کے اعتبار سے پاك ہے تو شك کی بنا پر اس پر ناپاکی کا حکم نہیں کیا جائے گا اھ۔
میں کہتا ہوں اس کے معنی یہ ہیں کہ پیشاب پانی میں گم ہوجاتا ہے اور اس کے ایك جزء کی طرح ہوجاتا ہے لیکن وہ پاك نہیں کرتا ہے کہ اس کی ذات نجس ہے تو یہ ایسا پانی ہے جس کا بعض نجس ہے مگر جاری پانی
حوالہ / References بدائع الصنائع المقدار الذی یصیر المحل نجسا سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۳
#12240 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
بعضہ الی بعض(۱)فاندفع مارد علیہ العلامۃ قاسم فی الرسالۃ بقولہ ھذا مما لایکاد یفھم ومن نظر تدافع امواج الانھار جزم بخلاف مقتضی ھذہ العبارات اھ۔ وکانہ ظن ان المراد لایصل بعضہ الی بعض(۲)ولو ارید ھذا لم یکن فی تدافع الامواج مایدفعہ فان التموج حین یوصل الماء الاول مکان الثانی ینقل الثانی الی مکان الثالث فلا یثبت وصول الاول الی الثانی بل الی مکانہ الاول وبالجملۃ المقصود حصول ھذا المعنی الملحق ایاہ بالجاری فاذا حصل لحق وصار لایقبل النجاسۃ اصلا لاانہ یتنجس من موضع النجاسۃ الی حیث یخلص بعضہ الی بعض ویبقی الباقی علی طہارتہ حتی یجب ان یترك من موضع النجاسۃ قدر حوض صغیر کما ھی روایۃ الاملاء(۳)وذلك لان الماء یتنجس بالمتنجس تنجسہ بالنجس فان صار قدر مایخلص الیہ نجسا کیف یبقی مابعدہ طاھرا مع اتصالہ بہ والله تعالی اعلم ھذا۔
وذکر المسألۃ فی البدائع فجعل الجواز احکم وعدمہ احوط حیث قال اذا کان الماء الراکد لہ طول بلا عرض کالانھار التی فیھا میاہ راکدۃ لم یذکر فی ظاھر الروایۃ وعن ابی نصر محمد بن محمد بن سلام
کے بقیہ اجزاء اس سے متاثر نہیں ہوتے ہیں اور یہی مفہوم اس عبارت کا ہے کہ اس کا بعض حصہ دوسرے بعض کی طرف نہیں پہنچتا ہے تو وہ اعتراض جو علامہ قاسم نے اپنے رسالہ میں کیا وہ ختم ہوا اعتراض یہ ہے “ یہ ایك ناقابل فہم چیز ہے اور جو شخص بھی نہروں کی ٹکراتی ہوئی موجوں کا مشاہدہ کرے گا اس کو معلوم ہوجائیگا کہ ان عبارات میں جو لکھا ہے وہ غلط ہے “ اور غالبا انہوں نے اس کا مطلب یہ سمجھ لیا کہ پانی کا بعض حصہ دوسرے بعض تك نہیں پہنچتا ہے اگر بات یہی ہوتی تو موجوں کے ٹکراؤ سے اس کی تردید نہ ہوئی کیونکہ موج جب پہلے کو دوسرے کی جگہ لے جائے گی تو دوسرے کو تیسرے کی جگہ لے جائے گی تو پہلا پانی دوسرے پانی کی جگہ تك نہیں پہنچے گا بلکہ اس کی پہلی جگہ تك پہنچے گا خلاصہ یہ کہ اس میں اس وصف کا حاصل ہونا ہے جو اس کو جاری پانی سے ملاتا ہے اگر یہ وصف پایا جائیگا تو وہ جاری پانی کے حکم میں ہوگا اور نجاست کو بالکل قبول نہ کریگا یہ نہیں کہ نجاست کی جگہ سے وہ ناپاك ہوجائیگا اور جہاں تك اس کے اجزاء جائیں گے اور باقی اپنی اصلی طہارت پر باقی رہے گا یہاں تك کہ نجاست کی جگہ سے چھوٹے حوض کی مقدار میں جگہ چھوڑ دی جائے جیسا کہ یہ املاء کی روایت ہے کیونکہ پانی ناپاك چیز سے ایسا ہی ناپاك ہوجاتا ہے جیسا کہ خود نجس چیز سے تو اگر اتنی مقدار جو اس کی طرف
حوالہ / References رسالہ لعلامہ قاسم
#12242 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
ان کان طول الماء مما لایخلص بعضہ الی بعض یجوز التوضؤ بہ وعن ابی سلیمن الجوز جانی لاوعلی قولہ لووقعت فیہ نجاسۃ ان کان فی احد الطرفین ینجس مقدار عشرۃ اذرع وان کان فی وسطہ ینجس من کل جانب مقدار عشرۃ اذرع فما ذھب الیہ ابو نصر اقرب الی الحکم لان اعتبار العرض یوجب التنجیس واعتبار الطول لایوجب فلا ینجس بالشك وماقالہ ابوسلیمن اقرب الی الاحتیاط لان اعتبار الطول ان کان لایوجب التنجیس فاعتبار العرض یوجب فیحکم بالنجاسۃ احتیاطا اھ۔
اقول : (۱)فی کلا التعلیلین نظر بل الطول یوجب الطہارۃ والعرض لایوجب تنجیسہ لان المدار اذا کان علی الخلوص وعدمہ فعدمہ من جھۃ الطول ظاھر ووجودہ من جھۃ العرض زائل لان بقلۃ العرض یحصل الخلوص فی العرض وکیف یسری منہ الی الطول مع وجود الفصل المانع للخلوص و
آرہی ہے نجس ہوجائے تو اس کے بعد جو بچا ہے وہ طاہر کیسے رہے گا حالانکہ وہ بھی اس کے ساتھ متصل ہے والله تعالی اعلم۔ بدائع میں مسئلہ کا ذکر کیا اور جواز کو مضبوط اور عدم جواز کو احوط قرار دیا فرمایا جب پانی ٹھہرا ہوا ہو اس میں طول ہو مگر عرض نہ ہو جیسا کہ نہروں میں ٹھہرا ہوا پانی۔ ظاہر روایت میں اس کا ذکر نہیں ہے اور ابو نصر محمد بن محمد بن سلام سے مروی ہے کہ اگر پانی کی لمبائی ایسی ہے کہ پانی کا بعض دوسرے بعض تك نہ پہنچتا ہو تو اس سے وضو جائز ہے ابو سلیمان الجوز جانی سے ہے کہ نہیں اور ان کے قول پر اگر اس میں نجاست پڑ جائے تو اگر کسی ایك کنارے پر ہو تو دس ہاتھ کی تعداد پر ناپاك ہوجائے گا اور اگر درمیان میں ہو تو ہر جانب سے دس ہاتھ ناپاك ہوجائے گا تو ابو نصر کا قول اقرب الی الحکم ہے کیونکہ چوڑائی کا اعتبار ناپاك کرتا ہے اور لمبائی کا اعتبار نجاست لازم نہیں کرتا تو شك سے ناپاك نہ ہوگا اور جو ابو سلیمان نے کہا وہ اقرب الی الاحتیاط ہے کیونکہ لمبائی کا اعتبار اگر نجس کرنے کو واجب نہیں کرتا تو چوڑائی کا اعتبار واجب کرتا ہے تو نجاست کا حکم احتیاطا لگایا جائے گا اھ ۔
میں کہتا ہوں دونوں تعلیلوں پر اعتراض ہے بلالکہ لمبائی طہارت کو واجب کرتی ہے اور چوڑائی اس کی ناپاکی کو واجب نہیں کرتی کیونکہ دارومدار خلوص کے ہونے نہ ہونے پر ہے تو اس کا عدم لمبائی کے اعتبار سے ظاہر ہے اور اس کا وجود چوڑائی کے اعتبار سے زائل ہے کیونکہ چوڑائی کی قلت سے خلوص حاصل ہوگا چوڑائی میں تو اس سے لمبائی کی طرف کیسے چلے گا حالانکہ
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل اما بیان المقدار الذی یصیر بہ المحل نجسا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۳
#12243 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
ان شئت فشاھدہ بما جعلوہ معیار الخلوص وعدمہ فانك اذا توضأت فیہ یتحرك فی عرضہ لاجمیع طولہ وکذا الصبغ والتکدیر واجاب فی البحر بان ھذا وان کان الاوجہ الا انھم وسعوا الامر علی الناس وقالوا بالضم ای ضم الطول الی العرض کما اشار الیہ فی التجنیس بقولہ تیسیرا علی المسلمین اھ واقرہ ش۔
اقول : (۱)لیس باوجہ فضلا عن ان یکون الاوجہ وانما الا وجہ الجواز کما علمت وبالله التوفیق ھذا ثم ذکر فی زھرالروض(۴)فرع الخانیۃ حوض کبیر فیہ مشرعۃ ان کان الماء متصلا بالالواح بمنزلۃ التابوت لایجوز فیہ الوضوء واتصال ماء المشرعۃ بالماء الخارج منھا لاینفع(۵)کحوض(۶)کبیر انشعب منہ حوض صغیر فتوضأ فی الصغیر لایجوز وان کان ماء الصغیر متصلا بماء الکبیر وکذا لایعتبر اتصال ماء المشرعۃ بما تحتہا من الماء ان کانت الالواح مشدودۃ اھ۔
اقول : انما مبناہ فیما یظھر ماتقدم فی فرعہا الثالث من اشتراط العرض والا فلاشك
فصل خلوص کو مانع ہے اور اگر تو چاہے تو اس کا مشاہدہ اس چیز سے کر جس کو انہوں نے خلوص وعدم خلوص کا معیار قرار دیا ہے کیونکہ جب اس میں وضو کریں گے تو اس کے عرض میں اس کی حرکت ہوگی نہ کہ اس کے طول میں۔ اسی طرح رنگ اور گدلا پن۔ اور بحر میں جواب دیا کہ یہ اگرچہ اوجہ ہے مگر فقہاء نے لوگوں پر معاملہ کو آسان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ طول کو عرض سے ملایا جائے چنانچہ تجنیس میں فرمایا تیسیرا علی المسلمین اھ(مسلمانوں کو سہولت دینے کیلئے)اور اس کو برقرار رکھا “ ش “ نے۔
میں کہتا ہوں یہ اوجہ نہیں چہ جائیکہ الاوجہ ہو اوجہ تو جواز ہی ہے جیسا کہ آپ نے جانا وبالله التوفیق پھر زہرالروض میں فرمایا (۴)خانیہ کی فرع ایك بڑا حوض ہے جس میں ایك نالی ہے اب اگر اس کے تختے تابوت کی طرح ملے ہوئے ہیں تو اس میں وضو جائز نہیں اور نالی کے پانی کا متصل ہونا نفع بخش نہیں ہے جیسے بڑے حوض(۵)میںسے چھوٹا حوض نکال لیا جائے اور کوئی شخص اس چھوٹے حوض سے وضو کرے تو جائز نہیں اگرچہ چھوٹے کا پانی بڑے کے پانی سے متصل ہو اسی طرح نالی کے پانی کا نیچے کے پانی سے متصل ہونا معتبر نہیں اگر تختے بندھے ہوں اھ ۔
میں کہتا ہوں اس کا دارومدار بظاہر اسی چیز پر ہے جو تیسری فرع میں گزرا یعنی چوڑائی کی شرط ورنہ
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۷
فتاوٰی خانیۃ المعروف قاضی خان فصل فی الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴
#12245 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
فی حصول المساحۃ المطلوبۃ عند اتصال الماء وقد علمت ان اشتراطہ خلاف الصحیح الرجیح الوجیہ(۶)وفرع(۱)الخانیۃ حوض صغیر یدخل الماء من جانب ویخرج من جانب قالوا ان کان اربعا فی اربع فمادونہ یجوز فیہ التوضی وان کان اکثر لا الا فی موضع دخول الماء وخروجہ لان فی الوجہ الاول مایقع فیہ من الماء المستعمل لایستقر فیہ بل یخرج کما دخل فکان جاریا وفی الوجہ الثانی یستقر فیہ الماء ولا یخرج الا بعد زمان والاصح ان ھذا التقدیر لیس بلازم وانما الاعتماد علی ماذکر من المعنی فینظر فیہ ان کان ماوقع فیہ من الماء المستعمل یخرج من ساعتہ ولا یستقر فیہ یجوز فیہ التوضی والا فلا وذلك یختلف بکثرۃ الماء الذی یدخل فیہ وقوتہ وضد ذلك اھ۔
اقول : ھو خلاف ماعلیہ الفتوی قال فی الدر والحقوا بالجاری حوض الحمام لو الماء نازلا والغرف متدارك کحوض صغیر یدخلہ الماء من جانب ویخرج من اخر یجوز التوضی من کل الجوانب مطلقا یفتی اھ ای سواء کان اربعا فی اربع اواکثر اھ۔ ش
مطلوبہ پیمائش کے پانی کے اتصال کے وقت حاصل ہوجانے میں کوئی شك نہیں اور آپ جان چکے ہیں کہ اس کی شرط صحیح رجیح وجیہ کے خلاف ہے۔ خانیہ کی فرع ایك چھوٹا حوض ہے جس میں ایك طرف سے پانی داخل ہوتا ہے اور دوسری طرف سے نکلتا ہے تو فقہاء نے فرمایا ہے کہ اگرچہار در چہار ہے یا اس سے کم ہے تو اس میں وضوجائز ہے اور اگر زیادہ ہے تو نہ ہوگا صرف پانی کے داخل ہونے کی جگہ سے یا خارج ہونے کی جگہ سے ہوجائے گا کیونکہ پہلی صورت میں جو مستعمل پانی اس میں داخل ہوگا وہ اس میں نہیں ٹھہریگا بلکہ داخل ہوتے ہی نکل جائے گا تو جاری ہوگا اور دوسری صورت میں پانی اس میں ٹھہریگا اور کافی دیر بعد نکلے گا اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ اندازہ لازم نہیں ہے اور اعتماد صرف اسی وصف پر ہے جو ذکر کیا گیا ہے تو اس میں غور کیا جائے کہ اگر مستعمل پانی داخل ہوتے ہی نکل جاتا ہے اور اس میں ٹھہرتا نہیں تو اس میں وضوء جائز ہے ورنہ نہیں اس کا دارومدار اس پانی کی قوت وضعف پر ہے جو اس میں داخل ہوتا ہے اور نکلتا ہے اھ۔
میں کہتا ہوں یہ مفتی بہ قول کے خلاف ہے در میں فرمایا فقہاء نے حوض حمام کو جاری پانی کا حکم دیا ہے خواہ پانی اتر رہا ہو اور مسلسل چلو بھر کر پانی لیا جائے جیسے چھوٹا حوض کہ جس میں ایك طرف سے پانی داخل ہو کر دوسری طرف سے نکل جاتا ہو تو ایسے حوض کے ہر طرف سے وضو جائز ہے اسی پر فتوی ہے یعنی وہ چار چار کا ہو یا زیادہ
حوالہ / References فتاوٰی خانیۃ المعروف قاضی خان فصل فی المیاہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳
فتاوٰی خانیۃ المعروف قاضی خان فصل فی المیاہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۰
#12247 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
وعلیہ الفتوی من غیر تفصیل ھندیۃ عن صدر الشریعۃ والمجتبی والدرایۃ(۷)وفرع الخانیۃ بعد مامرو کذا قالوا(۱)فی عین ماء ھی سبع فی سبع ینبع الماء من اسفلہا ویخرج من منفذھا لایجوز فیہ التوضی الا فی موضع خروج الماء منھا اھ
اقول : ھو ایضا خلاف الفتوی قال فی الدر بعد ماتقدم وکعین ھی خمس فی خمس ینبع الماء منہ بہ یفتی اھ۔ قال الشیخ اعنی ابن الشحنۃ وصرح الامام الحصیری فی خیر مطلوب بان الحاصل ان الشرط عدم استعمال الماء الذی استعملہ ووقع منہ اھ قال وھذا محقق استعمالہ فی الحوض الذی سألت عنہ وھذہ الفروع صریحۃ فی عین مسألتك اھ۔ اقول : (۲)اولا کل ھذہ الفروع ماعدا الاولین خلاف الصحیح والمفتی بہ کما علمت وکذا الاولان علی محمل یفیدہ کما سیأتی فلا یصح الاحتجاج بھا(۳)وثانیا ھذہ سبعۃ فروع وان عددت فرع البزازیۃ والتجنیس والخانیۃ الاولی کلا بحیالہ فتسعۃ ولیس فی شیئ منھا مایفید دعوی التسویۃ بین الملقی والملاقی فی سلب الطہوریۃ حتی الفرع السادس فرع حوض
ہو اھ ش۔ اور اسی پر فتوی ہے بلا تفصیل ہندیہ صدر الشریعۃ مجتبی اور درایہ سے۔ خانیہ(۷)کی فرع : اسی طرح فقہاء نے اس چشمے کی بابت فرمایا ہے جو سات سات کا ہو اس کے نیچے پانی کا سوتا ہو اور پانی اس کی نالی سے نکلتا ہو اس حوض سے صرف اسی جگہ سے وضو جائز ہے جہاں سے پانی نکل رہا ہے اھ۔
میں کہتا ہوں یہ بھی خلاف فتوی ہے در میں فرمایا اور جیسے وہ چشمہ جو پانچ پانچ کا ہو جس میں پانی پھوٹ رہا ہو یہ مفتی بہ ہے اھ شیخ ابن الشحنہ نے فرمایا اور امام حصیری نے خیر مطلوب میں صراحت کی کہ اصل چیز یہ ہے کہ مستعمل پانی کو دوبارہ مستعمل نہیں ہونا چاہئے اھ اور جو تم سے سوال کیا ہے اس میں ایسا ہونا متحقق ہے اور یہ فروع تمہارے سوال کے سلسلہ میں صریح ہیں اھ اور جو تم سے سوال کیا ہے اس میں ایسا ہونا متحقق ہے اور یہ فروع تمہارے سوال کے سلسلہ میں صریح ہیں اھ
میں کہتا ہوں اولا یہ تمام فروع سوائے پہلی دو کے صحیح اور مفتی بہ کے خلاف ہیں جیسا کہ آپ کو معلوم ہوا اور پہلی دو بھی ایسے محمل پر جو اس کا فائدہ دے جیسا کہ آگے آئے گا تو ان سے استدلال صحیح نہیں اور ثانیا یہ سات فروع ہیں اور اگر آپ بزازیہ تجنیس اور خانیہ کی پہلی عبارت کو مستقل شمار کریں تو کل نو ہوئیں مگر ان میں کہیں یہ دعوی نہیں کہ ملقی اور ملاقی میں سلب طہوریت میں مساوات ہے یہاں تك کہ
حوالہ / References قاضی خان فصل فی المیاہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳
درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶
رسالہ ابن شحنۃ
رسالہ ابن شحنۃ
#12249 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
صغیر یدخل فیہ الماء ویخرج وذلك لان کلھا یحتمل الوضوء فیہ بالمعنی الثانی اعنی بغمس الاعضاء وقد علمت انہ الاقرب الی الظرفیۃ وقد قال فی الخانیۃ حوض کبیر وقعت فیہ النجاسۃ ان کانت النجاسۃ مرئیۃ لایجوز الوضوء ولا الاغتسال فی ذلك الموضع بل یتنحی الی ناحیۃ اخری بینہ وبین النجاسۃ اکثر من الحوض الصغیر وان کانت غیر مرئیۃ قال مشائخنا ومشائخ بلخ جاز الوضوء فی موضع النجاسۃ اھ۔ فلیس بخاف ان المراد عـــہ المعنی الثانی اذلا معنی لعدم جواز الوضوء خارج الحوض بحیث تقع الغسالۃ فی موضع النجاسۃ ولا وجہ علی ھذا للفرق بین المرئیۃ وغیرھا وھذا کما تری یشمل الفرع السادس فانہ اذالم یسقع مایقع فیہ من الماء بل یخرج من ساعتہ کان جاریا کما ذکر والجاری لایتاثر بالغمس واذا کان یستقر ولا یخرج الا بعد زمان کان راکدا وھو صغیر فیضرہ الغمس فلیس فی الفروع شیئا مما یفید دعواہ نعم ھی صریحۃ فی دعونا ان الملاقی کلہ یصیر مستعملا اماما اراد الشیخ فانما یلمح الیہ تعلیل الفرع السادس
چھٹی فرع جو چھوٹے حوض سے متعلق ہے جس میں ایك طرف سے پانی داخل ہو کر دوسری طرف سے نکل جاتا ہو کیونکہ ان میں سے ہر ایك میں اس امر کا احتمال ہے کہ اس میں وضو کرنا دوسرے معنی کے اعتبار سے ہو یعنی اعضاء کو ڈبو کر اور تم جان چکے ہو کہ یہی معنی ظرفیت کے زیادہ قریب ہیں۔ اور خانیہ میں فرمایا کہ ایك بڑا حوض ہے جس میں نجاست گر گئی اب اگر نجاست مرئیہ ہے تو اس سے نہ وضو جائز ہے نہ غسل اس جگہ سے جہاں نجاست گری ہے بلکہ وہ نجاست گرنے کی جگہ سے ایك چھوٹے حوض کے فاصلہ کی مقدار میں دور ہو جائے اور اگر وہ نجاست غیر مرئیہ ہے تو ہمارے مشائخ اور بلخ کے مشائخ نے فرمایا جہاں نجاست گری ہے وہاں سے بھی وضو کرنا جائز ہے اھتو ظاہر ہے کہ یہاں دوسرے معنی مراد ہیں کیونکہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ آدمی حوض کے باہر اس طرح وضو کرے کہ اس کا دھوون حوض میں خاص اس جگہ کرے جہاں نجاست گری تھی اور پھر اس صورت میں مرئیہ اور غیر مرئیہ کے درمیان فرق کی کوئی وجہ نہیں اور یہ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں چھٹی فرع کو شامل ہے کیونکہ جب اس میں جانے والا پانی ٹھہرا نہیں تویہ جاری پانی کے حکم میں ہوگیا اور جاری پانی اعضاء کے ڈبونے سے متاثر نہیں ہوتا ہے

عـــہ وحمل الوضوء والاغتسال علی الاغتراف وفی علی من بعید یاباہ الذوق السلیم اھ منہ م)
اور وضو اور غسل کو چلو سے لینے پر محمول کرنا اور “ فی “ کو “ من “ کے معنی میں کرنا بعید ہے ذوق سلیم اس سے انکار کرتا ہے اھ(ت)
حوالہ / References فتاوٰی خانیۃ المعروف قاضی خان فصل فی الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴
#12250 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
المذکور فی الخانیۃ لزیادۃ لفظ المستعمل ولولم یزدہ لرجع الی ماذکرنا انہ اذالم یستقر الماء فیہ کان جاریا وکذا تعلیل الحصیری وقد(۱)علمتم ماافادہ شیخکم المحقق علی الاطلاق فی فرع فی الخانیۃ انہ بناء علی کون المستعمل نجسا وکذا کثیر من اشباہ ھذا فاما علی المختار من روایۃ انہ طاھر غیر طھور فلا فلتحفظ لیفرع علیھا ولا یفتی بمثل ھذہ الفروع اھ فاذا کان ھذا فی الفروع فما بالك بالتعلیلات۔
وانااقول : احالۃ الخانیۃ علی استقرار المستعمل یحتمل البناء علی احد ضعیفین نجاسۃ المستعمل اوخروج الماء عن الطھوریۃ بوقوع المستعمل وان قل وھو المتعین فی کلام الحصیری وکلاھما خلاف الصحیح المعتمد بتصریح اجلۃ الاکابر حتی الشیخ نفسہ فی ھذہ الرسالۃ نفسھا کما سیأتی ان شاء الله تعالی فھھنا افسد الشیخ علینا مااردنا حمل کلامہ علیہ من ان المراد الوضوء بالغمس اما الفروع
اور اگر وہ ٹھہر کر تھوڑی دیر میں خارج ہوتا ہے تو وہ ٹھہرا ہوا ہے تو حوض کے چھوٹا ہونے کی صورت میں اس کو مضر ہوگا تو فروع میں سے کوئی بھی ان کے دعوی کے حق میں مفید نہیں ہے ہاں یہ فروع ہمارے دعوی میں صریح ہیں کہ کل ملاقی مستعمل ہوجائے گا اور جو شیخ کی مراد ہے اس کی طرف خانیہ کی چھٹی فرع کی تعلیل میں اشارہ ہے کیونکہ انہوں نے مستعمل کے لفظ کا اضافہ کیا ہے اور اگر وہ یہ لفظ نہ بڑھاتے تو اس کا مفہوم بھی وہی نکلتا کہ جب پانی اس میں ٹھہرا نہیں تو جاری ہے اور یہی حال حصیری کی تعلیل کا ہے اور آپ جان چکے ہیں خانیہ کی فرع میں جو تمہارے شیخ محقق علی الاطلاق نے فرمایا ہے وہ مستعمل پانی کے نجس ہونے پر مبنی ہے اور اسی طرح اس کے بہت سے نظائر کا حال ہے اور اگر مختار روایت لی جائے جس میں اس پانی کو طاہر غیر طہور قرار دیا گیا ہے تو ایسا نہ ہوگا اس کو یاد رکھا جائے اور اسی پر تفریعات کی جائیں اور ان جیسی فروع پر فتوی نہ دیا جائے اھ جب فرع کا یہ حال ہے تو تعلیلات کا کیا حال ہوگا!
میں کہتا ہوں خانیہ کا مستعمل پانی کے استقرار پر محول کرنا دو میں سے کسی ایك ضعیف چیز پر مبنی ہے یا تو مستعمل پانی کی نجاست یا پانی کا طہوریت سے خارج ہونا مستعمل پانی کے مل جانے کی وجہ سے خواہ وہ کتنا ہی کم ہو اور حصیری کے کلام میں بھی یہی متعین ہے اور اکابر کی تصحیح کے مطابق یہ دونوں صحیح معتمد کے خلاف ہیں یہاں تك کہ شیخ نے خود بھی اسی رسالہ میں اس کی تصریح کی ہے جیسا کہ عنقریب آئے گا ان شاء الله تعالی اس طرح ہم نے شیخ کے کلام کا جو حل تلاش کیا تھا
حوالہ / References فتح القدیر قبیل بحث الغدیر العظیم سکھر ۱ / ۷۰
#12252 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
فلیس الاولی بناء ان نعمد الی کلمات الائمۃ فنحملھا علی محمل ضعیف غیر مقبول مع صحۃ الصحیح وبالله التوفیق۔
ثم عقد رحمہ الله تعالی فصلا فی تعریف الماء المستعل وما یصیر بہ مستعملا ومالا وذکر فیہ ماقدمنا عن القدوری عن الجرجانی وعن مبسوط شمس الائمۃ السرخسی من ان سقوط حکم الاستعمال عند محمد فی من دخل البئر للدلولاجل الضرورۃ وکذا ادخال الجنب یدہ فی الاناء(ای للاغتراف عند عدم مایغترف بہ کما قدمنا)وطالب الدلو رجلہ فی البئر ولو ادخل رجلہ فی الاناء اورأسہ صار مستعملا لعدم الحاجۃ قال فیالیت شعری ماجواب التمسك بھذہ المسألۃ(ای مسألۃ من دخل البئر للدلو لم یستعمل عند محمد)عن کلام ھؤلاء الائمۃ الاساطین ثم ذکر ماقدمنا عن الفوائد الظھیریۃ عن شیخ الاسلام خواھر زادہ عن محمد قال وھذا نقل صریح عن الامام الثالث نقل مثل خواھر زادہ ثم ذکر کلام الکافی المقدم وانہ حکی کلام القدوری ولم یتعقبہ قال فظھرلك بھذا ان ادخال الید فی الحوض الصغیر بقصد التوضی فیہ سالب عن الماء وصف الطھوریۃ لارتفاع الحدث والتقرب بادخال الید ونزعھا باتفاق علمائنا الاربعۃ
وہ بھی درست نہ ہوسکا یعنی یہ کہ وضو سے مراد اعضاء کا ڈبونا ہے اور جہاں تك فروع کاتعلق ہے تو ہم ایسا نہیں کرسکتے کہ ائمہ کے کلمات کو ضعیف محمل پر محمول کریں حالانکہ صحیح بھی موجود ہو وبالله التوفیق۔
پھر انہوں نے مستعمل پانی کی تعریف میں ایك فصل قائم کی اس میں یہ بتایا کہ کب پانی مستعمل ہوتا ہے اور کب نہیں اور انہوں نے اس سلسلہ میں قدوری جرجانی اور شمس الائمہ سرخسی کی مبسوط سے عبارات نقل کیں اور بتایا کہ محمد کے نزدیك جو شخص کنویں سے ڈول نکالنے کیلئے داخل ہو اس سے پانی کا مستعمل نہ ہونا ضرورت کی وجہ سے ہے اور اسی طرح جنب شخص کا چھوٹا برتن نہ ہونے کی صورت میں ٹب میں ہاتھ کو داخل کرنے کا معاملہ ہے اسی طرح کوئی شخص ڈول نکالنے کیلئے کنویں میں اپنا پیر ڈالے تو اس کا حکم وہی ہے اگر یہ شخص اپنا پیر برتن ڈال دے یا سر ڈال دے تو پانی مستعمل ہوجائے گا کہ حاجت منعدم ہے فرمایا معلوم نہیں جو اس مسئلہ سے استدلال کرتے ہیں ان کا جواب کیا ہوگا(یعنی یہ مسئلہ کہ محمد کے نزدیك کنویں سے ڈول نکالنے سے پانی مستعمل نہ ہوگا)ان ائمہ کے کلام کا! پھر انہوں نے وہ ذکر کیا جو ہم فوائد ظہیریہ سے شیخ الاسلام خواہر زادہ سے محمد سے روایت کو نقل کیا فرمایا یہ صریح نقل ہے تیسرے امام سے اس کو خواہر زادہ جیسے شخص نے نقل کیا پھر کافی کا گزشتہ کلام نقل کیا اور قدوری کا کلام نقل کیا مگر اس کا تعاقب نہ کیا فرمایا اس سے ظاہر ہوا کہ
#12254 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
(یرید الائمۃ الثلثۃ وزفر)رضی الله عنھم واذا تجرد عن القصد المذکور فھو غیر مؤثر فی قول مردود ثبوتہ عن محمد ردہ ھؤلاء الاساطین الذین لایلتفت الی قول غیرھم فی المذھب ثم اید رد ثبوتہ(۱)عن محمد عـــہ بقول الامام قاضی خان فی شرح الجامع الصغیر لانص فیہ عن اصحابنا قال وذکر المتأخرون فیھا خلافا ثم حکی ان من علمائنا من قال ان الماء یصیر مستعملا عند محمد برفع الحدث ایضا لانتقال الاثام الی الماء وانما لم یصر ماء البئر مستعملا فی مسألۃ الجنب عند محمد لمکان الضرورۃ ثم قال ولعمری انی لاعجب ممن یقول فی مسألتنا ھذہ ان مستندہ فی افتائہ یجوز التوضی فی ھذا الحوض مسألۃ البئر والحال انہ لاجامع بینھما لان تلك فی من تجرد عن النیۃ وھذہ فیمن یتوضأ ماھذا الا عجیب والله الموفق ثم اورد کلام شیخہ فی الفتح الذی ذکرنا فی النمرۃ الاولی الی قولہ کذا فی الخلاصۃ ۔
وضو کرنے والے کا چھوٹے حوض میں ہاتھ کو داخل کرنا بہ نیت وضو پانی سے طہوریت کے وصف کو سلب کردے گا کیونکہ ہاتھ کے ڈال کر نکالنے سے ہمارے ائمہ اربعہ(ائمہ ثلثہ وزفر)کے اتفاق سے پانی کا وصف طہوریت ختم ہوجائے گا حدث کے ختم ہوجانے اور تقرب کے حاصل کرنے کی وجہ سے اور جب قصد مذکور نہ ہو تو وہ غیر مؤثر ہے ایك قول کے مطابق جس کا ثبوت محمد سے نہیں ہے اس کو ائمہ مذ ہب نے رد کیا ہے جن کا قول فیصل ہے پھر اس کو محمد کا قول نہ ہونے پر شرح جامع صغیر میں قاضی خان کے قول سے مؤید کیا ہے کہ اس میں ہمارے اصحاب کی کوئی نص نہیں فرمایا کہ متاخرین نے اس میں ہمارے اصحاب کی کوئی نص نہیں فرمایا کہ متاخرین نے اس میں اختلاف کا ذکر کیا ہے پھر یہ حکایت کی کہ ہمارے علماء میں سے بعض نے فرمایا ہے کہ محمد کے نزدیك حدث کے مرتفع ہونے سے بھی پانی مستعمل ہوجاتا ہے کیونکہ پانی کی طرف گناہ منتقل ہوتے ہیں اور کنویں کے مسئلہ میں جنب کے داخل ہونے سے پانی کا مستعمل نہ ہونا محمد کے نزدیك ضرورت کی وجہ سے ہے پھر فرمایا مجھے بے انتہا تعجب ہے اس مسئلہ میں کہ انہوں نے اپنے فتوی کی سند کنویں کے مسئلہ کو بنایا ہے اور یہ فتوی دیا ہے کہ اس حوض میں وضو جائز ہے حالانکہ دونوں

عـــہ وقع فی صدر الرسالۃ عند ذکر الکتب عد العنایۃ سھوا مرتین فلیکن ھذا متم الاربعین بل الذی یاتی عن خزانۃ المفتین اھ منہ غفرلہ)
شروع ر سالہ میں جہاں کتابوں کا ذکر ہے عنایہ کا شمار سہوا دو۲ دفعہ کیا ہے۔ پس چاہئے یہ چالیس کا تتمہ ہو بلالکہ وہ جو خزانۃ المفتین سے آرہا ہے اھ(ت)
حوالہ / References شرح جامع الصغیر لقاضی خان اور رسالہ ابن شحنہ
#12256 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اقول : کلہ کلام طیب وعنہ اخذت عبارۃ الفوائد الظھیریۃ(۱)غیر ان ما قال فی لعمری انی لاعجب فلعمری انی لاعجب واذ قد حقق الشیخ ان الصحیح عن محمد ایضا عدم الفرق بین النیۃ وعدمھا فما منشؤ ھذا الفارق وانما کان علیہ ان یقول تلك للضرورۃ وھذہ بدونھا ثم عقد تذنیبا یسرد فروع مایصیر بہ الماء مستعملا ومالا وقدم علیھا تنبیھا فی ان الفتوی فی سبب الاستعمال علی قولھما انہ رفع حدث اوالتقرب لاعلی قول محمد انہ التقرب فقط ونقل تصحیح قولھما عن الخلاصۃ والخانیۃ وخزانۃ المفتین والاختیار والبزازیۃ۔
اقول : اراد التنبیہ علیہ علی تسلیم خلاف محمد والا فلا حاجۃ الیہ بعدما قدثبت ان الاول قولھم جمیعا وان الثانی لم یثبت عن الثالث ھذا وفیہ مما یفیدنا فی المسألۃ فرع الخلاصۃ وخزانۃ المفتین ادخل یدہ فی الاناء اورجلہ للتبرد یصیر مستعملا لانعدام الضرورۃ اھ وقدمناہ
کے درمیان کوئی علت جامع موجود نہیں کیونکہ وہ مسئلہ نیت کے نہ ہونے کا ہے اور یہ وہ ہے جس میں نیت وضو پائی جاتی ہے یہ بڑی عجیب بات ہے والله الموفق۔ پھر انہوں نے اپنے شیخ کا کلام ذکر کیا جو ہم نے نمرہ اولی میں ذکر کیا کذافی الخلاصہ تک۔
میں کہتا ہوں سارا کلام اچھا ہے اور اسی سے فوائد ظہیریہ کی عبارت لی گئی ہے سوائے اس قول کے کہ “ مجھے بے انتہا تعجب ہے “ ۔ تو مجھے ان پر بے انتہا تعجب ہے کیونکہ جب شیخ نے یہ تحقیق کی ہے کہ محمد سے صحیح یہ ہے کہ نیت اور عدم نیت میں کوئی فرق نہیں تو یہ فارق کہاں سے آگیا دراصل ان کو کہنا یہ چاہئے تھا کہ وہ ضرورت کی وجہ سے ہے اور یہ بلا ضرورت ہے پھر ایك تذنیب قائم کی اس میں ان فروع کا ذکر کیا ہے جن میں پانی مستعمل ہوتا ہے اور نہیں ہوتا ہے اس سے پہلے ایك تنبیہ ذکر کی اس میں یہ بتایا ہے کہ سبب استعمال میں فتوی شیخین کے قول پر ہے اور وہ سبب یا تو رفع حدث ہے یا تقرب ہے محمد کے قول پر نہیں ہے کہ سبب صرف تقرب ہے اور انہوں نے ان دونوں کے قول کی تصحیح نقل کی خلاصہ خانیہ خزانۃ المفتین اختیار اور بزازیہ سے۔
میں کہتا ہوں تنبیہ سے ان کا مقصود محمد کے خلاف کو تسلیم کرنا ہے ورنہ اس بات کے ثابت ہوجانے کے بعد کہ پہلا سب ہی کا قول ہے اس کی حاجت نہیں ہے اور دوسرا تیسرے سے ثابت نہیں اس کو سمجھئے کہ یہ ہمیں مسئلہ میں فائدہ دے گا خلاصہ اور خزانہ کی فرع کسی نے اپنا ہاتھ یا پیر برتن میں ٹھنڈا کرنے کو ڈالا تو مستعمل ہوجائیگا کہ ضرورت
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوی فصل فی الماء الستعمل نولکشور لکھنؤ ۱ / ۶
#12258 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
عن الخلاصۃ والخانیۃ والبزازیۃ والغنیۃ ۔
وفرع الخانیۃ قال محمد رحمہ الله تعالی اذا کان علی ذراعیہ جبائر فغمسھا فی الماء اوغمس رأسہ فی الاناء لایجوز ویصیر الماء مستعملا اھ۔ قال وانما قدمت ھذا التنبیہ تنبیھا لمن یظن ان الفتوی علی قول محمد رحمہ الله تعالی فی ذلك لاطلاق اصحاب الکتب ان الفتوی علی قولہ فی الماء المستعمل وانما مرادھم ان الفتوی علی قولہ فی کونہ طاھرا لافیما یصیر بہ مستعملا علی انہ سیرد علیہ فی الفصل الثانی ان التحقیق ان ھذا(ای طہارتہ)مذھب ابی حنیفۃ ایضا وانما اشتھرت نسبتہ الی محمد لکونہ فی جملۃ من رواہ عن الامام اھ۔
اقول : ای انہ اجل من رواہ وقد اخذ بہ وھذا اول التصحیحین الموعود بیانھما ثم اتی علی سرد الفروع وفیھا مما یفیدنا فرع الخلاصۃ ان ادخال الکف مجردا انما لایصیر مستعملا اذالم یرد الغسل فیہ بل اراد رفع الماء فان اراد الغسل ان کان اصبعا اواکثر دون الکف لایضرومع الکف بخلافہ اھ
نہ تھی اھ ہم نے خلاصہ خانیہ بزازیہ اور غنیہ سے پیش کردیا ہے۔ خانیہ کی فرع محمد نے فرمایا کسی کے ہاتھ پر پٹیاں ہوں پھر وہ ہاتھ پانی میں ڈبودے یا سر ڈبودے تو جائز نہیں اور پانی مستعمل ہوجائیگا اھ۔ اور فرمایا میں نے یہ تنبیہ اس لئے کی ہے تاکہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ فتوی محمد کے قول پر ہے وہ متنبہ ہوجائیں کیونکہ اصحاب کتب نے اطلاق فرمایا ہے کہ فتوی ان کے قول پر ہے مستعمل پانی میں۔ حالانکہ ان کی مراد یہ ہے کہ فتوی محمد کے قول پر ہے پانی کے طاہر ہونے میں نہ کہ مستعمل ہونے میں۔ علاوہ ازیں آپ دوسری فصل میں دیکھیں گے کہ تحقیق یہی ہے کہ یہ(یعنی اس کی طہارت) مذہب ابی حنیفہ بھی ہے اس کی نسبت محمد کی طرف محض اس لئے مشہور ہوگئی ہے کہ وہ بھی اس کے راویوں میں ہیں اھ۔
میں کہتا ہوں وہ اس کے راویوں میں بزرگ تر ہیں اور انہوں نے اس کو اختیار کیا ہے اور یہ پہلی تصحیح ہے جن دو کا ہم نے وعدہ کیا تھا پھر فروع کا بیان کیا۔ خلاصہ کی فرع ہاتھ کا داخل کرنا محض پانی لینے کیلئے بلا ارادہ غسل پانی کو مستعمل نہیں کرتا ہے اور اگر بہ نیت غسل ہو تو اگر ایك ہتھیلی سے کم ہے تو مضر نہیں اور اگر ایك ہتھیلی ہے تو مضر ہے اھ۔
حوالہ / References فتاوی خا نیۃ المعروف بقاضی خان فصل فی الماء المستعمل نولکشور لکھنؤ ۱ / ۸
رسالہ ابن الشحنۃ
خلاصۃ الفتاوی فصل فی الماء المستعمل نولکشور لکھنؤ ۱ / ۶
#12259 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
قلت : وقدمنا تحقیق ان الانملۃ والظفر والکف سواء وفرع الخلاصۃ عن فقہ الامراء ھذا اذاکان الذی یدخل یدہ فی الاناء اوالبئر بالغا فان کان صبیا ان علم ان یدہ طاھرۃ بان کان مع الصبی رقیب فی السکۃ یجوز التوضی بذلك الخ
اقول : وبہ فارق البالغ فافاد ان لو ادخل البالغ یدہ فی اناء اوبئر لم یجزالوضوء(۱)بہ ھذا کنص کتاب الحسن لایبقی لتاویل البحر مساغا ثم عقد الفصل الثانی فی حکم الماء المستعمل ومتی یصیر مستعملا وقال بعد ما بین ماھو بین بنفسہ ومسلم عند الکل اعنی عدم جواز الوضوء بالماء المستعمل عند ائمتنا جمیعا مانصہ ھذا مع عمومہ یشہد للفصل الاول قال وکفی بذلك حجۃ اھ۔
اقول : (۲)ھذا نظیر تمسك البحر بالاطلاق فنظر الی اطلاق ان العبرۃ للغلبۃ ولم یلاحظ ان الشأن فی قصر الاستعمال علی ماالتصق بالجلد فقط والشیخ نظر الی ھذا العموم ولم یلاحظ ان الکلام فی تعمیم الاستعمال جمیع الماء القلیل بدخول نحو ظفر من محدث
میں کہتا ہوں ہم پہلے تحقیق پیش کر آئے ہیں کہ پورا ناخن اور ہتھیلی حکم میں برابر ہیں۔ خلاصہ کی فرع فقہ الامراء سے یہ اس وقت ہے جبکہ ہاتھ داخل کرنے والا بالغ ہو اور اگر نابالغ ہے تو اگر یہ معلوم ہے کہ اس کا ہاتھ پاك تھا مثلا بچہ گلی میں اپنے کسی محافظ کے ہمراہ تھا تو اس سے وضو جائز ہے۔ ۔ ۔ الخ
میں کہتا ہوں اس سے بالغ ونابالغ میں فرق ظاہر ہوگیا اس سے معلوم ہوا کہ اگر بالغ نے برتن یا کنویں میں اپنا ہاتھ ڈالا تو اس سے وضو جائز نہیں اور یہ حسن کی کتاب کے نص کی طرح ہے۔ اس میں بحر کی تاویل کی کوئی گنجائش نہیں پھر دوسری فصل مستعمل پانی کے حکم کے بیان میں قائم کی اور یہ بتایا کہ پانی کب مستعمل ہوگا اور پھر جو انہوں نے اس کو واضح کرنے کے بعد جو خود واضح ہے اور تمام کے نزدیك مسلم ہے یعنی مستعمل پانی سے وضو کا جائز نہ ہونا ہمارے تمام ائمہ کے نزدیك کہا اس کی نص یہ ہے “ یہ اپنے عموم کے ساتھ پہلی فصل کیلئے شہادت دیتی ہے “ اور یہ کافی حجت ہے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں یہ بحر کے اطلاق کو دلیل بنانے کی ایك نظیر ہے تو انہوں نے اطلاق کو دیکھتے ہوئے فرمایا کہ اعتبار غلبہ کا ہے اور یہ نہیں دیکھا کہ مستعمل ہونا اسی پانی کیلئے ہے جو جلد سے متصل ہو اور شیخ نے اس عموم کی طرف دیکھا اور یہ نہ دیکھا کہ گفتگو اس امر میں ہے کہ تھوڑا پانی مکمل طور پر مستعمل ہوجائے گا خواہ
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوی الماء المستعمل نولکشور لکھنؤ ۱ / ۸
رسالہ ابن الشحنۃ
#12260 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
ثم اورد خاتمۃ فی حکم ملاقاۃ الماء الطاھر للماء الطھور وبین ان العبرۃ للغلبۃ ونقل تصحیحہ عن التوشیح والتحفۃ وعنھا انہ المذھب المختار۔
قلت : وھذا ھو ثانی التصحیحین الموعود بیانھما(۱)فاعترف الشیخ بالحق وذھب تسویۃ الملقی بالملاقی وزھق ثم نقل فرع الخانیۃ ومثلہ عن شرح القدوری لمختصر الکرخی فی نزح عشرین دلوا اذا القی الوضوء فی البئر قال فھذا اصرح شیئ فی اتفاق الائمۃ الثلثۃ علی تاثیر الماء المستعمل فی الماء الطھور وان کان اقل منہ وذکر عن شرح الجامع الصغیر لقاضی خان انتضاح الغسالۃ فی الاناء اذا قل لایفسد الماء وتکلموا فی القلیل عن محمد ماکان مثل رؤس الابر قلیل وعن الکرخی ان کان یستبین مواقع القطر فی الماء فھو کثیر وان کان لایستبین کالطل فقلیل قال وھذا رحمك الله اصرح مما تقدم وقد حکی ھذا فی الفوائد الظہیریۃ وعلیہ مشی القدوری وحکی عن ابی سلیمن انہ سئل عن ماء الجنابۃ اذا وقع وقوعا یستبین وتری عین القطرات ظاھرۃ قال انہ لیس بشیئ وفی فتاوی قاضیخان خلاف ھذا وفی خزانۃ المفتین جنب اغتسل
بے وضو اپنا ایك ناخن ہی کیوں نہ ڈالے۔ پھر خاتمہ اس امر کے بیان میں ہے کہ طاہرپانی طہور پانی سے جب ملے گا تو اعتبار غلبہ کو ہوگا اور اس کی تصحیح توشیح اور تحفہ سے نقل کی اور اسی سے نقل کیا کہ یہ مذہب مختار ہے۔
میں کہتا ہوں یہ دوسری تصحیح ہے جن دو کا ہم نے وعدہ کیا تھا تو شیخ نے حق کا اعتراف کرلیا اور ملقی اور ملاقی کی برابری ختم ہوئی پھر خانیہ کی فرع نقل کی اور اسی قسم کی شرح قدوری مختصر کرخی کی فرع نقل کی۔ یہ بیس ڈول کھینچنے سے متعلق ہے یہ اس صورت میں ہے جبکہ وضو کا پانی کنویں میں ڈالا ہو فرمایا پاك پانی میں مستعمل پانی کے اثر انداز ہونے کی ائمہ ثلثہ کے نزدیك یہ واضح مثال ہے اگرچہ وہ اس پانی سے کم ہو اور قاضی خان کی شرح جامع صغیر سے یہ نقل کیا کہ اگر دھوون کے کچھ قطرات برتن میں گر جائیں اور کم ہوں تو پانی کو فاسد نہ کریں گے اور قلیل میں کلام کیا ہے اس میں محمد سے منقول ہے کہ جو سوئی کے ناکوں کے برابر ہو وہ قلیل ہے اور کرخی سے یہ منقول ہے کہ پانی کے قطرے اگر پانی میں ظاہر ہوں تو یہ کثیر ہے اور اگر ظاہر نہ ہوں جیسے شبنم کے قطرے ہوتے ہیں تو یہ قلیل ہے فرمایا یہ گزشتہ مثال سے بھی زائد صریح ہے یہ فوائد ظہیریہ میں مذکور ہے اسی پر قدوری چلے ہیں اور ابو سلیمان سے کسی نے جنابت کے پانی کی بابت دریافت کیا کہ اگر اس کے قطرے پانی میں پڑ جائیں اور واضح نظر آئیں فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں فتاوی قاضیخان
حوالہ / References رسالہ ابن الشحنۃ
#12262 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
فانتضح من غسلہ فی انائہ لم یفسد الماء اما اذا کان یسیل فیہ سیلانا افسدہ قال والتحقیق ھنا ان المسألۃ مبنیۃ علی اصل ذکرہ ائمتنا فی کتاب الایمان ونقلوہ الی الرضاع قال فی الذخیرۃ حلف لایشرب لبنا فصب الماء فی اللبن فالاصل فی ھذہ المسألۃ واجناسھا ان الحالف اذا عقد یمینہ علی مائع فاختلط بمائع اخر خلاف جنسہ ان کانت الغلبۃ للمحلوف علیہ (وسقط بقیۃ الکلام من نسختی زھر الروض)
اقول : (۱)سبحن الله یذکر الشیخ رحمہ الله تعالی فی اول الکلام ان الصحیح والمذھب المختار ھو اعتبار الغلبۃ وقد نص فی شرحہ للوھبانیۃ انہ الصحیح عن ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنہم وان علیہ الفتوی ثم یعود یحتج بفرعی النزح و الانتضاح ویقول ذاك اصرح شیئ فی اتفاق الائمۃ الثلثۃ وھذا اصرح منہ وای مساغ بقی لھما بعدما تبین الحق الصحیح المذہب المختار المفتی بہ المطبق علیہ من ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم وما فتح(۲)بابہ من بیان المبنی وھو فرع الحلف فھو اصرح شیئ فی ان
میں اس کے برعکس ہےاور خزانۃ المفتین میں ہے کہ ایك ناپاك آدمی نے غسل کیا اور اس کے چھینٹے برتن میں گرے تو پانی فاسد نہ ہوگا اور اگر اس میں بہنے لگا تو پانی فاسد ہوجائے گا فرمایا دراصل یہ مسئلہ ایك اور اصل پر مبنی ہے جس کو ہمارے ائمہ ثلثہ نے کتاب الایمان میں ذکر کیا ہے اور اس کو رضاع کے بیان میں نقل کیا ذخیرہ میں فرمایا کہ کسی شخص نے حلف اٹھایا کہ وہ دودھ نہیں پئے گا تو اس نے پانی دودھ میں ملایا تو اس مسئلہ میں اور اس کے نظائر میں اصل یہ ہے کہ حلف اٹھانے والے نے جب کسی سیال چیز پر حلف اٹھایا اور وہ کسی اور مائع سے مل گیا جو اس کی جنس سے نہ ہو تو اگر محلوف علیہ غالب ہے(اور باقی کلام میرے زہرالروض کے نسخہ سے ساقط ہے)(ت)
میں کہتا ہوں سبحان اللہ شیخ کلام کی ابتداء میں ذکر کرتے ہیں کہ صحیح اور مذہب مختار غلبہ کا اعتبار ہی ہے اور شرح وہبانیہ میں اس پر نص ہے کہ ہمارے ائمہ ثلثہ سے یہی صحیح ہے اور اسی پر فتوی ہے پھر انہوں نے نزح اور انتضاح کی دونوں فرعوں پر کلام کیا اور فرمایا کہ یہ ائمہ ثلثۃ کے اتفاق میں صریح چیز ہے اور یہ اس سے زائد صریح ہے اور مذہب حق وصحیح اور مذہب مختار مفتی بہ اور ائمہ ثلثہ(حنفی مذہب کے)کا متفق علیہ مذہب معلوم ہوجانے کے بعد ان دونوں کیلئے کیا وجہ جواز رہ گئی ہے! اور بیان مبنی کا جو دروازہ کھولا ہے اور وہ حلف کی فرع ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
رسالہ ابن شحنۃ
#12263 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
المدار علی الغلبۃ فان کان اقرہ فی اخر کلامہ الذاھب من نسختی فھو کرعلی مااحتج بہ بالنقض والا فاعجب واعجب وسیمکث الشیخ غیر بعید ویعود الی الحق کما سیأتی بتوفیقہ تعالی فلولا انہ اورد ھذا الکلام واحتج بھذین الفرعین ھنا وذینك التعلیلین ثمہ لکان کل کلامہ صحیحا سدیدا ولکن الله یفعل مایرید۔ ثم کتب تتمۃ قال فیھا ان من ادل الدلیل علی انہ لایجوز التوضی فی ھذا الحوض عند واحد من علمائنا رحمھم الله تعالی مافی کتاب الاصل لمحمد رضی الله تعالی عنہ روایۃ الامام ابی سلیمن الجوزجانی رحمۃ الله تعالی علیہ عنہ فی باب الوضوء والغسل قلت ارأیت جنبا اغتسل فانتضح من غسلہ شیئ فی انائہ ھل یفسد علیہ الماء قال لا قلت لم قال لان ھذا مالا یستطاع الا متناع منہ قلت ارأیت ان افاض الماء علی رأسہ اوجسدہ اوغسل فرجہ فجعل ذلك الماء کلہ یقطر فی الاناء قال ھذا یفسد الماء ولا یجزئہ ان یتوضأ و لا یغتسل بہ قال وقال فی باب البئر وما ینجسھا قلت ارأیت رجلا طاھرا وقع فی بئر فاغتسل فیھا قال افسد ماء البئر کلہ قلت وکذلك لو توضأ فیھا قال نعم قلت
دارومدار غلبہ کو ہے اگرا نہو ں نے اس کو برقرار رکھا ہے اپنے اس کلام میں جو میرے نسخہ سے ساقط ہے تو یہ اسی طرف رجوع ہے جس پر نقض سے استدلال کیا ہے ورنہ بہت ہی تعجب خیز بات ہے اور عنقریب آجائے گا کہ شیخ نے حق کی طرف رجوع کیا بتوفیق تعالی اگر وہ یہ کلام یہاں نہ لاتے اور ان دو فرعوں سے استدلال نہ کرتے اور وہاں دو تعلیلیں بیان نہ کرتے تو کل کلام صحیح ہوتا لیکن اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ پھر انہوں نے ایك تتمہ لکھا اور فرمایا کہ پھر اس پر سب سے بڑی دلیل اس پر کہ ہمارے کسی امام کے نزدیك اس حوض سے وضو جائز نہیں۔ امام محمد کی اصل میں وار دشدہ روایت ہے جو اما ابو سلیمان الجوزجانی کی روایت ہے اور باب الوضوء وباب الغسل میں مذکور ہے روایت یہ ہے کہ میں نے کہا اگر ایك جنب نے غسل کیا اور اس کے چھینٹے ایك برتن میں گرے تو کیا پانی خراب ہوگیا فرمایا نہیں میں نے کہا کیوں فرمایا یہ ایسی چیز ہے جس سے بچنا محال ہے میں نے پوچھا اگر جنب نے اپنے سر یا جسم پر پانی ڈالا یا اپنی شرمگاہ دھوئی اور یہ پانی برتن میں جمع ہوتا رہا فرمایا اس سے پانی فاسد ہوجائیگا نہ اس سے وضو جائز ہوگا نہ غسل فرمایا انہوں نے کنویں اور اس کی نجاستوں کے باب میں فرمایا میں نے پوچھا اگر ایك پاك شخص کنویں کے پانی میں گر گیا اور اس میں غسل کیا فرمایا کل پانی خراب ہوجائیگا میں کہتا ہوں یہی حکم کنویں میں وضو کا ہے
حوالہ / References کتاب الاصل المعروف بہ المبسوط امام محمد باب الوضوء والغسل من الجنابۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۲۴
#12265 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
کذلك لو استنجی فیہا قال نعم قلت فما حال البئر قال علیھم ان ینزحوا ماء البئر کلہ الا ان یغلبھم الماء قلت ارأیت الرجل ھل یجزئہ وضوئہ ذلك قال لا وسکت علیہ ولم یعزہ لاحد من شیخیہ وھذا شأنہ فی المتفق علیہ کما صرح بہ اول الکتاب اھ
اقول : الفرع الاخیر فی الملاقی وھو لاشك صحیح والتمسك بہ نجیح وھو اصرح تصریح اما الاول(۱)ففی الملقی ولا محید من ابتنائہ علی احد ضعفین ولیس الاصل ھذا کتاب المبسوط احد الکتب الستۃ الظاھرۃ بل من الکتب النادرۃ فکیف یعارض بہ مذھب ائمتنا جمیعا الصحیح المختار المفتی بہ وبالله التوفیق ثم قال رحمہ الله تعالی ونقل عصام الدین فی شرح الھدایۃ بعد الکلام علی مسألۃ انغماس الجنب فی البئر ھذا مبنی علی ان اجزاء ماء الذی فی محل واحد بمنزلۃ شیئ واحد فی حکم الاستعمال لانہ ینسب الی الجمیع عرفا بل لغۃ ایضا اذ لا تذھب افھام اھل العرف واللغۃ الی ان المستعمل بعض ھذا الماء والباقی ممتزج بہ الا تری ان الماء المستعمل عند من یجعلہ طاھرا غیر
فرمایا ہاں میں نے کہا اسی طرح اگر کنویں میں استنجا کیا فرمایا ہاں میں نے پوچھا اور کنویں کی بابت کیا فرماتے ہیں فرمایا کنویں کا سارا پانی نکالنا چاہئے الا یہ کہ نکالتے نکالتے تھك جائیں میں نے پوچھا کیا اس شخص کیلئے یہ وضو کافی ہوگا فرمایا نہیں اس پر وہ خاموش ہوگئے اور اپنے شیوخ میں سے کسی کی طرف اس کو منسوب نہ کیا اور متفق علیہ مسائل میں ان کا یہی طریقہ تھا جیسا کہ کتاب کے شروع میں ذکر کیا اھ(ت)
میں کہتا ہوں فرع اخیر ملاقی میں ہے اور وہ بلاشبہ صحیح ہے اور یہ تمسك کے قابل اور واضح تصریح ہے اور پہلی فرع ملقی میں ہے اور سوائے اس کے چارہ کار نہیں کہ دو میں سے ایك ضعیف پر بنا کرنا چاہئے اور اصل سے مراد وہ مبسوط نہیں جو چھ ظاہر کتب میں سے ایك ہے بلکہ کتب نادرہ سے ہے تو جو اس میں مذکور ہے وہ ہمارے ائمہ کے صحیح مختار مفتی بہ سے کیسے معارض ہوسکتا ہے وباللہ التوفیق پھر فرمایا عصام الدین نے شرح ہدایہ میں جنب کے کنویں میں غوطہ لگانے کا مسئلہ ذکر کرنے کے بعد فرمایا یہ اس پر مبنی ہے کہ پانی کے تمام اجزاء جو ایك جگہ ہیں وہ حکم استعمال میں بمنزلہ شیئ واحد کے ہیں کیونکہ وہ عرفا تمام ہی کی طرف منسوب ہوتا ہے بلالکہ لغت میں بھی ایسا ہے کیونکہ اہل عرف اور اہل لغت یہ لفظ سن کر یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ کچھ پانی تو مستعمل ہے اور کچھ اس میں ملا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ جن حضرات کے نزدیك مستعمل پانی طاہر غیر طہور ہے جب کسی دوسرے
حوالہ / References کتاب الاصل المعروف بہ المبسوط امام محمد رجل طاہر وقع فی البئر ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۸۳
رسالہ ابن شحنۃ
#12266 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
طہور اذا وقع فی ماء اخر لایفسدہ حتی یغلب علیہ بھذا قطع فی الاسرار جعلہ فی التحفۃ اصح ولو صب ماء کثیر علی العضو یصیر الکل مستعملا عندھم مع ان الملاقی للبشرۃ مغلوب بناء علی ان الکل واحد فی حکم الاستعمال وقد اشیر الی ھذا المعنی فی الاسرار
اقول : ھذا لعمری من الحسن بمکان تنشط بہ الاذان وتبتھج بہ النفوس ولا عطر بعد عروس وقد وفقنی المولی سبحنہ وتعالی لمعناہ فیما مضی واتقنت بیانہ وشیدت ارکانہ وبہ ظھر الفرق بین الملاقی والملقی بحیث لایعتری وھم ولاشك یبقی (۱)والعجب من الشیخ مشی علی التسویۃ بینھما محتجابا لتعلیلین ثم نقضہ بنقل تصحیح الصحیح عن التحفۃ والتوشیح ثم بعد اسطر عاد الیہ وجعل فرعی النزح والانتضاح اصرح صریح ثم نقضہ بنقل الاصل الاصیل عن ذخیرۃ الامام الجلیل ثم لم یلبث ان عاد الیہ بنقل فرع الاصل ثم نقضہ بنقل کلام العصام متصلا بہ من غیر فصل وبہ ختم وانما العبرۃ للخواتیم ختم الله تعالی لنا علی الدین القویم والصراط
پانی میں گر جائے تو اس کو اس وقت تك فاسد نہ کرے گا جب تك اس پر غالب نہ ہوجائے۔ اسرار میں اس پر قطعی حکم لگایا اور تحفہ میں اس کو اصح قرار دیا ہے اور اگر کسی عضو پر بہت سا پانی ڈالا تو ان کے نزدیك سارا پانی مستعمل ہوجائے گا حالانکہ جو پانی جلد سے متصل ہے وہ مغلوب ہے کیونکہ حکم استعمال میں سب ایك ہی ہے اور اسی معنی کی طرف اسرار میں اشارہ کیا ہے۔
میں کہتا ہوں یہ بحث ذہنوں کو جلا بخشنے والی ہے اللہ تعالی کے فضل وکرم سے اس کی تقریر کی ہے اس سے ملقی اور ملاقی کے درمیان فرق ظاہر ہوگیا اور شك باقی نہ رہا اور شیخ پر تعجب ہے کہ انہوں نے ان دونوں کو ایك قرار دیا ہے اور دو تعلیلوں سے استدلال کیا ہے پھر ایك صحیح کی تصحیح نقل کرکے اس پر نقض وارد کیا یہ تحفہ اور توشیح کی نقول ہیں پھر چند سطور کے بعد اس بحث کا اعادہ کیا اور نزح اور انتضاح کی دونوں فروع کو بہت صریح قرار دیا پھر اس پر ذخیرہ سے نقض وارد کیا پھر اصل کی فرع کو نقل کیا پھر اس پر عصام کی نقل سے نقض وارد کیا اور اس پر کلام کو ختم کیا ....... اللہ تعالی ہمارا خاتمہ دین قویم صراط مستقیم اور تمام حسنات
حوالہ / References رسالہ ابن شحنۃ
#12267 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
المستقیم وبکل حسنی وعلی نبینا الکریم والہ الکرام الصلاۃ الزھرا والسلام الاسنی والحمدلله رب العلمین۔
الفصل الرابع فی فوائد شتی و تحقیق حکم الوضوء فی الحوض الصغیر
الحمدلله فرغنا عن الرسائل الثلاث بل الکتب الخمسۃ ھذہ والبحر والبدائع واتینا علی جمیع مافیھا والان نذکر مابقی من الفوائد تکمیلا للعوائد وبالله التوفیق۔
فائدہ(۱) : قال المحقق علی المقدسی رحمہ الله تعالی فی شرح نظم الکنز ردا علی البحر مانصہ واما تاویل الکلام بان المراد بصیر ورتہ مستعملا صیرورۃ مالاقی اعضائہ منہ مستعملا فھذا بعید جدا اذلا یحتاج الی التنصیص علی ذلك اصلا اھ نقلہ فی منحۃ الخالق من الماء المستعمل واقرہ قلت قدمنا ثمانیۃ ردود علیہ وھذا تاسع(۱) وازیدك عاشرا فاقول : اذا انغمس احد فی الماء ثم خرج ینقسم الماء الی خمسۃ اقسام قسم یبقی فی الحوض ولا ینفصل عن الماء بانفصال البدن والثانی یخرج مع البدن وینحدر عنہ بلامکث والثالث یمکث ویذھب بالتقاطر والرابع بلل یذھب
پر کرے اور ہمارے نبی کریم ان کی آل مکرم پر صلاۃ وسلام نازل فرمائے آمین والحمدلله رب العالمین۔
چوتھی فصل میں مختلف فوائد اور چھوٹے اور حوض سے وضو کا حکم
الحمدلله کہ ہم تینوں رسائل بلکہ ان پانچوں کتب اور بحر وبدائع سے فارغ ہوگئے اور ان میں جو کچھ تھا وہ بیان کردیا اور اب باقیماندہ فوائد تکمیل بحث کیلئے ذکر کرتے ہیں۔
فائدہ ۱ : محقق علی المقدسی نے کنز کی نظم کی شرح میں بحر پر رد کرتے ہوتے فرمایا ان کی عبارت یہ ہے اور کلام کی یہ تاویل کرنا کہ پانی کے مستعمل ہونے سے مراد یہ ہے کہ جو پانی اس کے اعضاء سے ملا ہے وہ مستعمل ہوجائے گا تو یہ بہت بعید ہے کہ یہ اس پر تنصیص کا قطعا محتاج نہیں اس کو منحۃ الخالق میں نقل کیا ہے مستعمل پانی کی بحث میں اور اس کو برقرار رکھا ہے۔
میں کہتا ہوں ہم نے اس پر آٹھ رد کئے ہیں اور یہ نواں ہے اور اب دسویں کا اضافہ کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جو شخص پانی میں غوطہ لگائے اور پھر نکلے تو پانی کی اس صورت میں پانچ قسمیں ہیں ایك تو وہ جو حوض ہی میں رہتا ہے اور بدن سے جدا ہونے کی وجہ سے پانی سے جدا نہیں ہوتا ہے اور دوسرا بدن کے ساتھ نکلتا ہے اور بلا ٹھہرے
حوالہ / References منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتا ب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۸
#12268 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
بالنشف والخامس نداوۃ تبقی بعد النشف ایضا ولا تذھب الا بالجفاف بعمل الشمس و الھواء ولا شك انھا ایضا اجزاء مائیۃ ولا تداخل فی الاجسام بل لا تلاصق فی الاجزاء کما تقدم فکان کل قسم فوق الاخر منفصلا عنہ وکان تحت الکل ذاك الندی فھو الذی لاقی البدن وھو لایقبل الانفصال ولا استعمال الابہ فلا استعمال تلك عشرۃ کاملۃ ۔
فان قلت : الامر کما وصفتم ولکنا نعدی الحکم الی ماعدا الاول لتعلقہ بالبدن ولذا انتقل بانتقالہ اقول اولا لانسلم انہ لتعلقہ بہ والا لکان لہ استمساك علیہ کالمتقاطر بل اندفع بدفعہ وانحدر بطبعہ الا تری ان المنغمس ان اندفع بعنف قوی صحبہ ماء کثیر او برفق فقلیل وان استدرج فی الخروج بحیث لایتحرك الماء حتی الامکان لم یکد یخرج معہ الا مایزول بالتقاطر مع ان اللقاء کان واحدا فعلم انہ لحرکۃ الدفع یختلف باختلافھا۔
فان قلت : اذن لاریب فی تعلق المتقاطر فنحکم علیہ بالاستعمال وھو لاشك قابل الانفصال فیصح التاویل ولا ینتفی الاستعمال ۔
اس سے نیچے آتا ہے اور تیسرا ٹھہرتا ہے اور ٹپك کر ختم ہوجاتا ہے اور چوتھا وہ تری ہے جو کپڑے کے ذریعے جذب کرنے کے بعد ختم ہوجاتی ہے۔ پانچواں وہ تری جو کپڑے کے ذریعے جذب کرنے کے بعد بھی باقی رہتی ہے اور آفتاب یا ہوا سے خشك ہوجانے کے بعد ہی ختم ہوتی ہے اور بلاشبہ یہ بھی پانی کے اجزاء ہیں اور یہ اجسام میں تداخل نہیں بلالکہ “ تلاصق فی الاجزاء “ بھی نہیں جیسا کہ گزرا تو ہر قسم دوسری سے اوپر ہوئی اس سے جدا ہوئی اور ہر ایك کے نیچے وہ تری ہوتی ہے تو یہ وہ ہے جو بدن سے ملاقی ہے اور یہ انفصال کو قبول نہیں کرتا ہے اور استعمال بلا انفصال نہیں ہوتا ہے تو مستعمل نہ ہوا تو یہ دس مکمل ہوگئے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ درست ہے لیکن ہم حکم اول کے علاوہ دوسروں پر لگاتے ہیں کیونکہ اس کا تعلق بدن سے ہے اور اسی لئے اس کے منتقل ہونے سے وہ منتقل ہوجاتا ہے۔ میں کہتا ہوں اولا ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ یہ اس کے تعلق کی وجہ سے ہے ورنہ وہ اس پر رکتا جیسا کہ ٹپکنے والا بلالکہ اس کے دفع کرنے سے مندفع ہوگیا اور بالطبع منحدر ہوگیا مثلا پانی میں غوطہ کھانیوالا اگر قوت سے نکلے تو اس کے ساتھ بہت پانی آئے گا اور اگر آہستگی سے ہو تو کم پانی آئیگا اور اگر اتنا آہستہ نکلے کہ حتی الامکان پانی میں حرکت نہ پیدا ہو تو اس کے ساتھ صرف اتنا پانی آئیگا جو ٹپك کر زائل ہوجائے حالانکہ ملاقاۃ ایك ہی ہے تو معلوم ہوا کہ دفع کی حرکت میں اس سے اختلاف ہوتا ہے۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ اس صورت میں ٹپکنے والے کے تعلق میں کوئی شك نہیں تو ہم اس پر مستعمل ہونے کا حکم لگائیں گے اور بلاشبہ وقابل انفصال ہے تو تاویل
#12269 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اقول : شأن ما انحدر بلامکث عند الخروج بعد الانغماس شأن مامر وانحدر فورا من غسالۃ الوضوء والغسل فلا یستعمل الا مابقی بعدہ متساقطا بالتقاطر وھو خلاف الاجماع۔
وثانیا : شتان ما التعلق والتلاصق فالتعلق یشمل الدثار والتلاصق یختص بالشعار وھو الفرق بینہما فان قلت ھما ثوبان فیعد احدھما حاجزا للاخر عن التلاق بخلاف الماء فانہ شیئ واحد فلا یحجز بعضہ بعضا بل الکل ملاق اقول ذلك ماکنا نبغ فالماء کلہ واحد عندالانغماس فالکل ملاق بلاوسواس
فائدہ : قال العلامۃ الشیخ حسن الشرنبلالی فی شرحہ علی الوھبانیۃ ردا علی البحر مانصہ وما ذکر من ان الاستعمال بالجزء الذی یلاقی جسدہ دون باقی الماء فیصیر ذلك الجزء مستہلکا فی کثیر فھو مردود لسریان الاستعمال فی الجمیع حکما ولیس کالغالب بصب القلیل من الماء فیہ اھ
اقول : (۱)لفظ السریان وقع غیر موقعہ فانہ یوھم ان المستعمل اولا مالاقی ثم یسری الحکم الی بقیۃ اجزاء الماء بالتجاور وھو
صحیح ہوگی اور استعمال منتفی نہ ہوگا۔
میں کہتا ہوں غوطہ سے نکلنے کے فورا بعد جو پانی بدن سے بہتا ہو اگرتا ہے اس کا حال اس پانی جیسا ہے جو وضو اور غسل کے فورا بعد بہتا ہوا گرتا ہے تو مستعمل وہی ہوگا جو اس کے بعد قطرات کی صورت میں ٹپکتا رہے اور یہ اجماع کے خلاف ہے۔ دوسرا تعلق اور تلاصق میں بہت فرق ہے تعلق استر کو شامل ہے اور تلاصق اوپر والے حصہ کے ساتھ مختص ہے اور یہی دونوں میں فرق ہے اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ تو دو کپڑے ہیں تو ان میں سے ایك دوسرے کی ملاقات کیلئے رکاوٹ ہے اور پانی تو شے واحد ہے اس کا ایك حصہ دوسرے حصہ کیلئے رکاوٹ نہیں بن سکتا ہے وہ تو سارے کا سارا ایك دوسرے سے ملا ہوا ہے میں کہتا ہوں یہ تو ہمارے حسب منشأ ہے جب انسان پانی میں غوطہ لگائے گا تو پانی شیئ واحد ہوگا اور بغیر رکاوٹ آپس میں ملے گا۔
فائدہ ۲ : علامہ شرنبلالی نے شرح وہبانیہ میں فرمایا بحر پر رد کرتے ہوئے نص یہ ہے اور یہ جو ذکر کیا ہے کہ استعمال اس جزء سے ہے جو بدن سے ملاہوا ہو نہ کہ باقی پانی سے تو وہ جزئئ کثیر اجزا میں مل کر ختم ہوجائیگا تو یہ مردود ہے کیونکہ حکما تو استعمال تمام پانی میں سرایت کریگا اور یہ اس غالب پانی کی طرح نہیں جس میں تھوڑا سا پانی مل گیا ہو اھ۔
میں کہتا ہوں “ سریان “ کا لفظ بے موقع استعمال ہوا ہے اس سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ مستعمل اولا تو وہ ہے جو بدن سے ملاقی ہے پھر حکم بقیہ اجزاء کی
حوالہ / References منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۲
#12270 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
مردود صریحا بما تقدم ان العبرۃ للغلبۃ ولو سری لسری بالملقی کما توھم العلامۃ عبدالبر فیبطل الفرق ویعود الکلام علے مقصود بالنقض وھذا ھوالذی حمل البحر علی قصر الاستعمال علی مالاقی بل نقول انہ اذا انغمس فیہ وھو قلیل فقد استعمل کلہ معا لان جمیعہ شیئ واحد فلا قصر ولا سریان ولقد احسن العلامۃ الشامی رحمہ الله تعالی اذقررہ بقولہ فی المنحۃ یعنی انہ لما انغمس اوادخل یدہ مثلا صار مستعملا لجمیع ذلك الماء حکما لان المستعمل حقیقۃ ھو مالاقے جسدہ بخلاف مااذا صب المستعمل فیہ فان المستعمل حقیقۃ وحکما ھو ذلك الملقی فلا وجہ للحکم علی الملقی فیہ بالاستعمال مالم یساوہ اویغلب علیہ اذلم یدخل فیہ جسدہ حتی یحکم علیہ بالاستعمال حکما یدل علیہ مافی الاسرار للدبوسی وقولھم فی مسألۃ البئر جحط لوانغمس بقصد الاغتسال للصلاۃ صار الماء مستعملا اتفاقا اھ فھذا ھو التحقیق والله تعالی ولی التوفیق۔
فائدہ ۳ : سبق العلامۃ ابا الاخلاص
طرف جائے گا کیونکہ یہ ایك دوسرے کے قریب ہیں اور یہ صریحا مردود ہے جیسا کہ گزرا کہ اعتبار غلبہ کو ہے اور اگر سرایت کرے گا تو ملقی میں کرے گا جیسا کہ علامہ عبدالبر کو وہم ہوا ہے تو فرق باطل ہوجائے گا اور کلام مقصود بالنقض کی طرف لوٹے گا اور یہی چیز ہے جس نے بحر کو اس پر مجبور کیا وہ استعمال کا حکم صرف اس پر لگائیں جو ملاقی ہو بلالکہ ہم کہتے ہیں جب کوئی شخص پانی میں غوطہ لگائے اور پانی کم ہو تو سب یك دم مستعمل ہوجائیگا کیونکہ وہ سارے کا سارا شیئ واحد ہے تو نہ قصر اور نہ سرایت ہے علامہ شامی نے اس کو برقرار ر کھ کر اچھا کیا وہ منحہ میں فرماتے ہیں یعنی جب اس نے غوطہ لگایا یا مثلا اس نے اپنا ہاتھ ڈبویا تو سارا پانی مستعمل ہوگیا حکما کیونکہ حقیقۃ مستعمل تو صرف وہی ہے جو بدن سے متصل ہو اور اگر مستعمل اس میں ڈالا گیا تو دوسرا حکم ہے کیونکہ حقیقۃ وحکما مستعمل یہی ملقی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ملقی فیہ پر استعمال کا حکم لگایا جائے تا وقتیکہ وہ اس کے برابر نہ ہو یااس پر غالب نہ ہو کیونکہ اس کا جسم تو اس میں داخل نہیں ہوا کہ اس پر حکما استعمال کا حکم لگایا جائے اس پر دبوسی کی اسرار دلالت کرتی ہے اور ان کا مسئلۃ البئر جحط میں یہ کہنا کہ اگر کسی شخص نے کنویں میں اس نیت سے غوطہ لگایا کہ نماز کیلئے غسل کرے گا تو پانی اتفاقا مستعمل ہوجائے گا اھ تو تحقیق یہی ہے اور اللہ تعالی توفیق دینے والا ہے۔
فائدہ ۳ : علامہ نے ابو الاخلاص سے پہلے فرق کو
حوالہ / References منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۲
#12271 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
فی تعبیر الفرق ھکذا بعض معاصری العلامۃ زین فاوردہ وردہ وھذا نصہ فی البحر اذا عرفت ھذا ظھر لك ضعف من یقول فی عصرنا ان الماء المستعمل اذا صب علی الماء المطلق وکان المطلق غالبا یجوز الوضوء بالکل واذا توضأ فی فسقیۃ صار الکل مستعملا اذلا معنی للفرق بین المسألتین وما قد یتوھم فی الفرق من ان فی الوضوء یشیع الاستعمال فی الجمیع بخلافہ فی الصب مدفوع بان الشیوع والاختلاط فی الصورتین سواء بل لقائل ان یقول القاء الغسالۃ من خارج اقوی تاثیرا من غیرہ لتعین المستعمل فیہ بالمعاینۃ والتشخیص وتشخص الانفصال اھ وھذا الکلام ارتضاہ السیدان ط وش حتی قال ط بعد ذکرکلام الشرنبلالی ھذا التوھم قدذکرہ فی البحر واعرض عنہ اھ۔ اماالمدقق العلائی فاستدرك علی ا لبحر بکلام الشرنبلالی فقال فراجعہ متاملا اھ
اقول : لقول القائل یشیع(۱)فی الجمیع ثلثۃ محامل وذلك لان الشیوع الامتزاج
بیان کیا اسی طرح علامہ زین کے بعض معاصرین نے فرق بیان کیا اور اس کو رد کیا اور یہ بحر میں ان کی عبارت ہے جب تم نے یہ جان لیا تو ہمارے بعض معاصرین کے اس قول کا ضعف ظاہر ہوگیا کہ مستعمل پانی جب مطلق پانی میں ڈالا جائے اور مطلق غالب ہو تو سارے پانی سے وضو جائز ہے اور جب چھوٹے حوض میں وضو کیا تو کل مستعمل ہوگیا کیونکہ دونوں مسئلوں میں فرق کی کوئی وجہ نہیں اور یہ فرق جو بیان کیا جاتا ہے کہ وضوء کی صورت میں استعمال تمام پانی میں عام ہوجاتا ہے اور ڈالنے میں یہ صورت نہیں ہوتی اس لئے ناقابل لحاظ ہے کہ شیوع اور اختلاط دونوں صورتوں میں برابر ہے بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ دھوون کا باہر سے ڈالنا زیادہ مؤثر ہے کیونکہ اس میں مستعمل دیکھنے اور علیحدہ پہچان کرنے سے متعین ہوجاتا ہے اھاور اس کلام کو سیدان 'ط' اور 'ش' نے پسند کیا یہاں تك کہ 'ط' نے شرنبلالی کا کلام ذکر کرنے کے بعد فرمایا اس وہم کو بحر میں ذکر کیا اور اس سے اعراض کیا اھ اور مدقق علائی نے بحر پر شرنبلالی کے کلام سے استدراك کیا اور فرمایا پورے غور سے اس کی طرف مراجعت کریں اھ۔
میں کہتا ہوں “ یشیع فی الجمیع “ والے قول میں تین تاویلات ہوسکتی ہیں کیونکہ شیوع(۱)امتزاج بلا امتیاز ہو
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۴
طحطاوی علی الدر باب المیاہ بیروت ۱ / ۱۰۴
الدرالمختار علی حاشیۃ الطحطاوی باب المیاہ بیروت ۱ / ۱۰۴
#12272 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
من دون امتیاز فلا یمکن التعیین بل الکل یحتملہ علی البدلیۃ کھبۃ المشاع والمعنی علیہ انہ اذا توضأ فی الفسقیۃ اختلط ماء وضوئہ بسائرھا بحیث لایمکن التمییز فای غرفۃ تأخذھا تحتمل ان تکون من المستعمل فیکون حکم الاستعمال شائعا فی جمیع الاجزاء شیوع ھبۃ نصف شائع فی النصفین(۲) والشیوع السریان ای اذا توضأ فیھا استعمل مالاقاہ وتعدی الحکم منہ الی جارہ وھکذا فصار الکل مستعملا(۳)والشیوع العموم ای ان فی الوضوء یعم الاستعمال لجمیع وانت تعلم ان المعنی الثالث حق صحیح لاغبار علیہ اصلا ولا یمسہ مافی البحر لان عموم الحکم لعموم السبب فان الکل ملاق کما سبق مرارا والمعنی الثانی ھو ماجنح الیہ العلامۃ الشرنبلالی فی متبادرکلامہ وقد علمت مالہ وعلیہ والمعنی الاول مثلہ فی البطلان کفی ردا علیہما مسألۃ الملقی ولزوم اثبات الفرق بابطالہ والبحر حملہ علی الاول ففسر الشیوع بالاختلاط وحکم انہ فی الصورتین سواء وانما ذلك عندہ للمعنی الاول دون السریان والعموم الا ان یرید بالشیوع سببہ ویفسرہ بالاختلاط فیکون المعنی ان سبب السریان اوالعموم عندك وھو الاختلاط سواء فی الصورتین مع تخلف الحکم
توتعیین ممکن نہیں بلالکہ کل میں اس کا احتمال علی سبیل البدلیۃ ہے جیسا کہ مشاع کاہبہ اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب چھوٹے حوض میں وضو کیا تو اس کا پانی تمام پانی میں ملے گا اور امتیاز ممکن نہیں تو جو چلو لیا جائے گا اس میں احتمال ہے کہ مستعمل پانی سے ہو تو استعمال کا حکم تمام پانی کو اس طرح شامل ہوگا جیسا کہ غیر ممتاز دو۲ حصوں والی چیز کے نصف کا ہبہ ہو اور شیوع(۲)سریان یعنی جب اس میں وضو کیا تو جو اس کے ملاقی ہے وہ مستعمل ہوجائیگا پھر اس کے ساتھ والے اجزاء تك یہی حکم چلے گا اور اس طرح سارے کا سارا مستعمل ہوجائیگا اور(۳)شیوع عموم کے معنی میں بھی آتا ہے یعنی وضو کی صورت میں استعمال کا حکم تمام پر لاگو ہوجاتا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ تیسرا معنی حق اور بے غبار ہے اور بحر کا اعتراض اس پر نہیں ہوتا کیونکہ حکم کا عموم سبب کے عموم کی وجہ سے ہے کیونکہ کل ملاقی ہے جیسا کہ کئی مرتبہ گزرا اور دوسرے معنی کی طرف علامہ شرنبلالی کا میلان ہے جیسا کہ ان کے کلام سے متبادر ہے اور اس کا مالہ وما علیہ آپ جان چکے ہیں اور پہلا معنی بھی اسی کی طرح باطل ہے ان کی تردید میں اور اس کے ابطال کو فرق کے اثبات کا لازم ہونا کافی ہے اور بحر نے اس کو پہلے پر محمول کیا ہے اور شیوع کی تفسیر اختلاط سے کی ہے اور حکم لگایا ہے کہ یہ دونوں صورتوں میں برابر ہے اور ان کے نزدیك یہ پہلے معنی کے باعث ہے سریان وعموم کی وجہ سے نہیں ہے ہاں اگر شیوع سے مراد اس کا سبب لیں تو
#12273 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
فالملقی وفاقا وقد علمت جوابہ علی الحق نعم من یزعم السریان یرد علیہ ولا یرد۔
ثم اقول : ما ترقی بہ لااحصلہ(۱)فاولا لیس من شرط الاستعمال رؤیۃ مرورہ علی البدن ولا معاینۃ انفصالہ ولا لمرئیہ مزیۃ علی غیرہ مع تحقق العلم القطعی بہ ولا شك انہ شیئ متشخص بنفسہ فلا یضرہ عدم قدرتنا علی تمییزہ وثانیا لیس الاستعمال(۲)مقولا بالتشکیك لیکون المرئی اقوی من غیرہ وثالثا : انما(۳)مبناہ علی ما ارتکز فی ذھنہ رحمہ الله تعالی ان الملاقی ھی الاجزاء الملاصقۃ ولیس کذلك بل الکل کما حققنا فکما ان المصبوب کان ممتازا منحازا متشخصا عاینا مرورہ علی البدن ثم انفصالہ عنہ کذلك کل الماء فی الفسقیۃ ممتاز منحاز متعین معاین ورود الاعضاء فیہ ثم انفصالہا منہ۔
فائدہ۴ : کلام الاسرار المار برمتہ فی الفصل الثانی وقع اولہ موافقا لما وقع فی البدائع من ان المستعمل ھی الاجزاء الملاصقۃ بالبدن واخرہ نص صریح علی ماھو الحق حتی ان اخا
۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کی تفسیر وہ اختلاط سے کریں تو معنی یہ ہوں گے کہ سریان یا عموم کا سبب تمہارے نزدیك اختلاط ہی ہے اور وہ دونوں صورتوں میں یکساں ہے حالانکہ ملقی میں حکم مختلف ہے اتفاقا اور اس کا حق جواب آپ جان چکے ہیں ہاں جو سریان کا گمان کرتا ہے اس پر رد کیا جائے گا اور وہ رد نہ کرے گا۔ (ت)
میں کہتا ہوں برسبیل ترقی جو کچھ انہوں نے فرمایا ہے وہ درست نہیں اولا مستعمل ہونے کی یہ شرط نہیں ہے کہ اس کو بدن پر گزرتا ہوا دیکھا جاسکے نہ اس کے جدا ہونے کا دیکھنا ضروری ہے اور نہ ہی دیکھنے کے قابل ہونا اس کیلئے دوسروں پر وجہ فضیلت ہے جبکہ اس کا علم قطعی ہو اور اس میں شك نہیں کہ یہ ایك ایسی چیز ہے جو متشخص بنفسہ ہے تو ہمارا اس کی تمییز پر پر قادر نہ ہونا اس کو مضر نہیں ثانیا استعمال تشکیك کے قبیلہ میں سے نہیں تاکہ مرئی دوسروں سے اقوی ہو۔
ثالثا اس کا مبنی صرف یہ ہے کہ ان کے(رحمۃ اللہ تعالی علیہ تعالی)ذہن میں یہ بات مرکوز ہوگئی ہے کہ ملاقی صرف وہ اجزاء ہیں جو متصل ہیں حالانکہ یہ درست نہیں بىلکہ تمام اجزا میں جیسا کہ ہم نے تحقیق کی ہے جیسا کہ بدن پر ڈالا جانے والا پانی الگ اور ممتاز نظر آتا ہے اور جسم سے جدا ہوتا بھی دکھائی دیتا ہے اسی طرح حوض کا کل پانی الگ اور ممتاز ہے جو نظر آتا ہے اس میں اعضاء کا ڈوبنا اور جدا ہونا بھی نظر آتا ہے۔ (ت)
فائدہ ۴ : اسرار کا مکمل کلام جو گزرا دوسری فصل میں اس کی ابتدأ بدائع کے مطابق ہے کہ مستعمل وہی اجزأ ہیں جو بدن سے متصل ہیں اور اس کا آخر حق پر نص صریح ہے یہاں تك کہ صاحب البحر کے بھائی علامہ عمر ابن نجیم جو اس مسئلہ میں ان کے پیروکار ہیں
#12274 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
صاحب البحر العلامۃ عمر بن نجیم رحمہم الله تعالی مع اقتفائہ فی المسألۃ اثار البحر انصف فیما نقل عنہ فی ھامش البحر حین عقب عبارۃ الاسرار بقولہ فھذہ العبارۃ کشفت اللبس الخ فکتب علیہ نعم کشفت اللبس من حیث اخرھا الا ان محمدا یقول لما اغتسل بالماء القلیل صار الکل مستعملا حکما
قلنا صورتان صورۃ وقوع ماء مستعمل فی غیرہ فیعتبر غلبۃ الذی لیس بمستعمل والثانیۃ ماء واحد توضاء بہ شخص اوادخل یدہ لحاجۃ صار مستعملا کلہ حکما کما رأیت اھ نقلہ فی المنحۃ واقرہ ولذلك لم یتأت للبحر الانتفاع باولہ والتجأ الی ردہ ببنائہ علی روایۃ ضعیفۃ والعبد الضعیف قدم التوفیق بین اولہ واخرہ بحیث جعلہ کلاما واحدا منتظما والشیخ العلامۃ عبدالبر سلك فی شرح الوھبانیۃ مسلکا اخر فجعل اولہ سؤالا واخرہ جوابا اذقال والحاصل ان ابازید الدبوسی فی کتاب الاسرار اورد
بحر کے حاشیہ میں نقل کرتے ہیں اور نقل میں انصاف کیا ہے جہاں انہوں نے اسرار کی عبارت کے بعد کہا اس عبارت نے غبار صاف کردیا الخ اس پر کہا ہاں غبار صاف کردیا اس کے آخر تک صرف اتنا ہے کہ محمد کہتے ہیں کہ جب تھوڑے سے پانی میں غسل کیا تو کل حکما مستعمل ہوگیا ہم کہتے ہیں یہاں دو صورتیں ہیں ایك تو مستعمل پانی کا غیر مستعمل میں واقع ہونا تو اس پانی کے غلبہ کا اعتبار ہوگا جو مستعمل نہیں دوسرا وہ پانی جس سے ایك شخص نے وضو کیا ہو یا بوجہ حاجت اس نے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا تو کل حکما مستعمل ہوگیا جیسا کہ آپ نے دیکھا اھ اس کو منحہ میں نقل کیا اور برقرار رکھا اس لئے بحر کو اس عبارت کے اول سے کوئی فائدہ نہ ہوا اور اس کے رد میں انہوں نے کہا کہ یہ ایك ضعیف روایت پر مبنی ہے اور ناچیز نے اس قول کے اول وآخر میں تطبیق دی ہے اور اس کو منظم کلام کی حیثیت سے پیش کیا ہے اور شیخ علامہ عبدالبر نے وہانیہ کی شرح میں ایك دوسری راہ اختیار کی ہے اور وہ یہ کہ اس کے اول کو سوال اور آخر کو جواب قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ حاصل یہ ہے کہ ابو زید الدبوسی نے کتاب الاسرار میں وہ ذکر کرلیا ہے
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
کذا فی نسختی المنحۃ وصوابہ لالحاجۃ اولغیر حاجۃ اھ منہ(م(م میرے پاس موجود منحہ کے نسخہ میں اسی طرح ہے اور مناسب '' لَا لِحَاجَۃٍ '' یا '' لغیرِ حاجَۃٍ '' ہے۔ (ت)
منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
#12275 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
ماذکرہ فی البدائع علی سبیل الالزام من ابی یوسف لمحمد رحمہما الله تعالی وذکر جواب محمد عنہ فکشف اللبس واوضح کل تخمین وحدس فانہ قال بعد ماذکر مذاھب علمائنا فی الماء المستعمل والااستدلال لمحمد رحمہم الله تعالی عامۃ مشایخنا ینصرون قول محمد وروایتہ عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ ثم قال یحتج للقول الاخر(ای نجاستہ)بما روی فذکر حدیث “ لایبولن احدکم “ ثم قال ومن قال ان الماء المستعمل طاھر طھور لایجعل الاغتسال فیہ حراما الی اخر ماتقدم عن الدبوسی ۔
اقول : ھذا التقریر(۱)وان لم یکن ظاھرا من سوق عبارۃ الاسرار بیانہ یتوقف علی ماذکر فی البدائع ثم البحر ان اخراج الماء من ان یکون مطھرا من غیر ضرورۃ حرام اھ
فیستفاد منہ ان اغتسال المحدث فی الماء القلیل حرام عند محمد ایضا فکأن الامام ابا یوسف یلزمہ بان المستعمل طاھر عندك والطاھر لایسلب الطھور طھوریتہ مادام الطھور غالبا کلبن یقع فیہ فلایصح لك تحریم الاغتسال فیہ الا
جو بدائع میں ابویوسف کی طرف محمد پر الزام ذکر کیا ہے اور محمد کا جواب ذکر کیا ہے جس سے تمام بات واضح ہوگئی انہوں نے پہلے تو ہمارے علماء کا مذہب مستعمل پانی کی بابت ذکر کیا اور امام محمد کا استدلال ذکر کیا پھر کہا کہ عام مشائخ امام محمد کے قول اور ان کی روایت جو امام ابو حنیفہ سے ہے کی تائید کرتے ہیں _____ پھر فرمایا دوسرے قول پر(یعنی اس کی نجاست پر)اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے جو مروی ہے پھر “ لایبولن احدکم “ والی حدیث سے استدلال کیا۔ پھر فرمایا جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ مستعمل پانی طاہر وطہور ہے وہ اس سے غسل کو حرام قرار نہیں دیتے ہیں الی اخر ماتقدم عن الدبوسی۔ (ت)
میں یہ کہتا ہوں کہ یہ تقریر اسرار کی عبارت کے سیاق سے ظاہر نہیں ہے اس کا بیان اس پر موقوف ہے جو بدائع پھر بحر میں مذکور ہے کہ پانی کو مطہر ہونے سے بلا ضرورت خارج کرنا حرام ہے اھ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بے وضو کا تھوڑے پانی میں غسل کرنا محمد کے نزدیك بھی حرام ہے گویا امام ابو یوسف بطور الزام ان سے یہ کہتے ہیں کہ تمہارے نزدیك مستعمل پانی پاك ہے اور پاك پانی دوسرے پانی کی طہوریت کو سلب نہیں کرتا ہے جب تك کہ طہور غالب ہو جیسے کہ دودھ اس میں گر جائے تو آپ
حوالہ / References منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۲
بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
#12276 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
ان تقول بقول وتحکم بنجاسۃ الغسالۃ فح یفسد الکل ویصح الحکم فاجاب محمد بان الکل لکونہ قلیلا شیئ واحد فصار الکل ملاقیا لبدن المحدث فصار الکل مستعملا حکما بخلاف اللبن فلیس فیہ الااختلاط طاھر بطھور ولیس سبب الاستعمال فلا یسلبہ الطھوریۃ مادام الماء غالبا علیہ۔
قلت : وملك العلماء لم یجعلہ الزاما من ابی یوسف لمحمد بل دفع یرد علی استدلال ابی یوسف بالحدیث کما تقدم نقلہ فی صدر الفصل الاول ولکل وجہۃ ھو مولیھا وبالجملۃ اولہ علی کلا الوجھین تأیید لروایۃ ضعیفۃ وکفی باخرہ جوابا عنہ والاولی مافعل العبد الضعیف کما علمت ولله الحمد۔
فائدہ ۵ : من کلام الشیخ ابن الشحنۃ فی الشرح علی مسألۃ محدث وقع فی بئر مانصہ والذی تحرر عندی انہ یختلف الحکم فیھا باختلاف اصول ائمتنا فیہ والتحقیق نزح الجمیع عند الامام علی القول بنجاسۃ الماء المستعمل وقیل اربعون عندہ وتحقیق مذھب محمد انہ یسلبہ الطھوریۃ وھو الصحیح عن الامام والثانی وعلیہ
اس میں غسل کو حرام نہیں کرسکتے ہیں صرف اس کی یہی صورت ہے کہ آپ میرے قول کو اختیار کرلیں اور دھوون کی نجاست کا قول کریں اس صورت میں کل پانی فاسد ہوجائے گا اور حکم صحیح ہوگا محمد نے اس کا جواب یہ دیا کہ کل پانی بوجہ قلیل ہونے کے چونکہ شیئ واحد ہے تو کل بے وضو کے بدن سے متصل ہوا تو حکما کل مستعمل ہوگیا دودھ میں یہ چیز نہیں اس میں ایك طاہر کا طہور سے ملنا ہے اور یہ استعمال کا سبب نہیں ہے تو اس کی طہوریت کو سلب نہ کریگا جب تك پانی اس پر غالب رہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں ملك العلماء نے اس کو ابو یوسف کی طرف سے امام محمد پر بطور الزام ذکر نہیں کیا ہے بلالکہ ایك درمیانی اعتراض کا جواب ہے جو ابو یوسف کے حدیث سے استدلال پر پیدا ہوتا ہے جیسا کہ فصل اول کی ابتداء میں گزرا ہر شخص کا اپنا اپنا طرز استدلال ہوتا ہے خلاصہ یہ کہ اس کا اول دونوں صورتوں میں ایك ضعیف روایت کی تائید ہے اور اس کا آخر اس کا جواب شافی ہے اور بہتر وہ صورت ہے جو ناچیز نے اختیار کی ہے جیسا کہ آپ نے جان لیا ولله الحمد۔ (ت)
فائدہ ۵ : یہ شیخ ابن الشحنہ کے کلام سے ماخوذ ہے جو انہوں نے اس بے وضو کی بابت کیا ہے جو کنویں میں گر پڑا ہو فرماتے ہیں اس کا حکم ہمارے ائمہ کے اصول کے مختلف ہونے کی وجہ سے مختلف ہے اور تحقیق یہ ہے کہ امام صاحب کے نزدیك تمام کنویں کا پانی نکالا جائے گا کیونکہ ان کے نزدیك مستعمل پانی نجس ہے ایك قول یہ ہے کہ چالیس ڈول نکالے جائیں گے اور مذہب امام محمد کی تحقیق یہ ہے کہ وہ
#12277 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الفتوی فینزح عشرون لیصیر طھورا وھذا علی القول بعدم اعتبار الضرورۃ امالو اعتبرت لایصیر مستعملا فی کل موضع تتحقق الضرورۃ فی الانغماس فی الماء اوادخال الید فیہ واعتبار الضرورۃ فی مثل ذلك مذکور فی الصغری وغیرھا فلا تغتر بما ذکرہ شیخنا العلامۃ زین الدین قاسم تغمدہ الله برحمتہ فی رسالتہ المسماۃ برفع الاشتباہ فانہ خالف فیھا صریح المنقول عن ائمتنا واستند الی کلام وقع فی البدائع علی سبیل البحث وتبعہ(یعنی القاسم)علی ذلك بعض من ینتحل مذھب الحنفیۃ ممن لارسوخ لہ فی فقھھم وکتب فیہ کتابۃ مشتملۃ علی خلط وخبط ومخالفۃ النصوص المنقولۃ عن محمد رحمہ الله تعالی وقد بینت ذلك فی مقدمۃ کتبتھا حققت فیھا المذھب فی ھذہ المسألۃ(ثم قال والحاصل ان ابازید الدبوسی الی اخر ماقدمنا عنہ انفا ثم قال)وفی البدائع ایضا التصریح بان الطاھر اذا انغمس فی البئر للاغتسال صار مستعملا عند اصحابنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم وصرح فی فتاوی قاضیخان بان ادخال الید فی الاناء للغسل یفسد الماء عند ائمتنا الثلثۃ وتکفل بایضاح ھذا وتحریرہ رسالتی زھر الروض اھ
پانی سے طہوریت کو سلب کرلیتا ہے اور امام صاحب سے صحیح یہی ہے اور دوسرے امام سے بھی اور اسی پر فتوی ہے تو اس سے بیس ڈول نکالے جائیں گے تاکہ وہ طہور ہوجائے اور یہ عدم اعتبار ضرورت کے قول پر ہے اور اگر ضرورت کا اعتبار کیا جائے تو ہر اس جگہ جہاں پانی میں غوطہ لگانے کی یا ہاتھ ڈبونے کی ضرورت ہو وہاں پانی مستعمل نہ ہوگا اور ضرورت کا اعتبار اس کی مثل میں صغری وغیرہا میں مذکور ہے تو شیخ علامہ زین الدین نے اپنے رسالہ رفع الاشتباہ میں جو کچھ فرمایا ہے اس سے مغالطہ نہ ہونا چاہئے کہ وہ ہمارے ائمہ کی صریح نقول کے مخالف ہے وہ محض اس بحث کے سہارے پر ہے جو بدائع نے کی ہے اور ان کی(یعنی علامہ قاسم کی)پیروی محض بعض ناپختہ کار حنفی فقہاء نے کی ہے اور اسی پر ایك بے سروپا کتاب جو امام محمد سے منقول نصوص کے مخالف ہے لکھی ہے میں نے یہ تمام بحث ایك مقدمہ میں کی ہے اور اس میں مذہب کی تحقیق کی ہے(پھر فرمایا خلاصہ یہ کہ ابو زید دبوسی الی اخر ماقدمنا عنہ انفا پھر فرمایا)اور بدائع میں بھی یہ تصریح کی ہے کہ پاك انسان جب کنویں میں غوطہ لگائے غسل کی نیت سے تو ہمارے اصحاب ثلثہ رضی اللہ تعالی عنہمکے نزدیك پانی مستعمل ہوجائیگا اور فتاوی قاضیخان میں یہ تصریح موجود ہے کہ پانی میں بہ نیت غسل ہاتھ ڈالنا پانی کو فاسد کردیتا ہے ہمارے ائمہ ثلثہ کے نزدیک میں نے اس کی مکمل ایضاح وتحریر اپنے رسالہ زہرالروض میں کی ہے(ت)
حوالہ / References منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۲
#12278 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اقول : ھو کلام طیب لخص فیہ مقاصد رسالتہ وخلصہ مما خلط بہ فی زھر الروض من تسویۃ الملقی والملاقی فی عدم الجواز الا(۱)حدیث نزح عشرین(۲)والتحقیق عندہ علی مذھبہ المعتمد لا نزح اصلا مالم یساو اویغلب لان الطہور لایطھر۔
فائدہ۶ : قال فی الدر ان المطلق اکثر من النصف جازالتطہیر بالکل والا لا وھذا یعم الملقی والملاقی ففی الفساقی یجوز التوضی مالم یعلم تساوی المستعمل علی ماحققہ فی البحر والنھر والمنح قلت لکن الشرنبلالی فی شرح الوھبانیۃ فرق بینہما فراجعہ متأملا اھ۔
وذکر ش عند قولہ حققہ فی البحر استدلالہ علی ذلك باطلاقھم المفید للعموم وبقول البدائع وفتوی قارئ الھدایۃ المذکورۃ قال وقد استدل فی البحر بعبارات اخرلاتدل لہ کما یظھر للمتأمل لانھا فی الملقی والنزاع فی الملاقی کما اوضحناہ فیما علقناہ علیہ فلذا اقتصرنا علی ماذکرنا اھ ورأیتنی کتبت فی جد
میں کہتا ہوں یہ کلام بہت خوب ہے اس میں انہوں نے بڑی وضاحت سے اپنے رسالہ کے مقاصد کو ظاہر کیا ہے اور زہرالروض نے جو ملقی اور ملاقی میں خلط مبحث کیا ہے عدم جواز میں اس سے بھی چھٹکارا دلایا ہے صرف بیس ڈول والی حدیث کا معاملہ باقی ہے اور ان کے مذہب معتمد میں تحقیق یہ ہے کہ جب تك مستعمل پانی برابر یا غالب نہ ہو اس وقت تك پانی بالکل نہیں نکالا جائیگا کیونکہ طہور پاك نہیں ہوتا ہے۔ (ت)
فائدہ ۶ : در میں ہے کہ مطلق پانی آدھے سے زائد ہے تو کل سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے ورنہ نہیں اور یہ چیز ملقی اور ملاقی کو عام ہے تو چھوٹے حوضوں میں وضو جائز ہے جب تك مستعمل پانی کا برابر ہونا معلوم نہ ہو اس کی تحقیق بحر نہر اور منح میں موجود ہے میں کہتا ہوں شرنبلالی نے شرح وہبانیہ میں دونوں میں فرق کیا ہے وہ بغور دیکھا جائے اھ
اور “ ش “ نے ان کے قول حققہ فی البحر کے پاس ان کا استدلال ذکر کیا ہے کہ ان کا اطلاق مفید عموم ہے اور بدائع کے قول اور قارئ الہدایہ کے مذکورہ فتوی سے فرمایا بحر میں دوسری عبارات سے بھی استدلال کیا ہے مگر وہ ان کے حق میں مفید نہیں جیسا کہ غور کرنے پر ظاہر ہوتا ہے کیونکہ وہ عبارات ملقی سے متعلق ہیں اور جھگڑا ملاقی میں ہے جیسا کہ ہم نے
حوالہ / References درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۴
#12279 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الممتار علی قولہ المفید للعموم مانصہ۔
اقول : نعم یفید علی فرض ان المستعمل فی الملاقی ھو السطح الملاصق من الماء بجسد المحدث لاغیر وھو اول النزاع وانا اقول لوکان کذلك لارتفع المستعمل من صفحۃ الدنیا لانك اذا صببت الماء علی یدك مثلا فانما یلاقی یدل سطح من الماء وسائر جرمہ منفصل عنہا کما ان التلاقی یکون بسطح من یدك وسائر جرمھا لم یمسہ الماء والجسم ابدا یکون اکبر من السطح فتکون الغلبۃ لغیر المستعمل فلا یصیر مستعملا ابدا واذا جعلت کلہ مستعملا لتلاقی سطحہ سطح الجسد فلا نعلم فرقا بین جرم وجرم فان اسلت اسالۃ ضعیفۃ صار الکل مستعملا وان صببت صبا شدیدا حتی کان ثخن الماء اضعاف الاول کان ایضا کلہ مستعملا فلا دلیل علی التفرقۃ بین ثخن وثخن مالم یبلغ حد الکثرۃ وقول البدائع بحث منہ ذکرہ فی سؤال وجواب لانقل عن الاصحاب بخلاف کلام الامام الدبوسی فانہ نقل صریح ومن النصوص الصرائح کذلك مسائل ادخال الید والرجل ودخول المحدث فی البئر المصرح بھا نقلا عن الائمۃ الثلثۃ فی المتون والشروح والفتاوی وحمل کلھا علی روایۃ ضعیفۃ مما لایعقل ولا یحتمل وعبارۃ الفتوی
واضح کیا ہے اپنی تعلیقات میں اس پر ہم نے روشنی ڈالی ہے اس لئے ہم نے اس پر اکتفاء کیا اور میں نے اپنی کتاب “ جد المحتار “ میں لکھا ہے یہ ان کے قول “ المفید للعموم “ کے تحت لکھا گیا ہے۔ میری عرض یہ ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں فائدہ دیتا ہے اس مفروضہ پر کہ مستعمل ملاقی میں وہ سطح آب ہے جو محدث کے جسم سے ملی ہوئی ہے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے اور وہ پہلا نزاع ہے اور میں کہتا ہوں اگر ایسا ہی ہوتا تو روئے زمین پر مستعمل پانی کا وجود ہی ناپید ہوجاتا کیونکہ مثلا اگر آپ نے اپنے ہاتھ پر پانی بہایا تو آپ کا ہاتھ پانی کی سطح سے ملے گا اور اس کا باقی حصہ اس سے الگ رہے گا جس طرح تلاقی آپ کے ہاتھ کی سطح سے ہوتی ہے اور اس کا باقی حصہ پانی سے کبھی نہیں لگتا ہے اور جسم ہمیشہ سطح سے بڑا ہی ہوتا ہے تو غلبہ غیر مستعمل کو ہوگا تو وہ مستعمل کبھی نہ ہوگا اور جب آپ نے کل کو مستعمل قرار دیا کہ اس کی سطح جسم کی سطح سے مل رہی ہے تو ہم ایك جرم اور دوسرے جرم میں فرق نہیں پاتے ہیں تو اگر آہستہ سے بہایا جائے تو کل مستعمل ہوجائے گا اور اگر سختی سے بہایا جائے اس طور پر کہ پانی کا حجم پہلے سے کئی گنا زائد ہو تو بھی کل مستعمل ہوجائے گا تو پانی کے ایك حجم اور دوسرے حجم کے فرق پر کوئی دلیل نہیں تاوقتیکہ وہ حد کثرت کو نہ پہنچ جائے اور بدائع کا قول تو محض ایك بحث ہے جس کو انہوں نے ایك سوال وجواب کے ضمن میں ذکر کیا ہے یہ اصحاب امام ابی حنیفہ
#12280 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
صریحۃ فی ان الماء المستعمل یقع فیھا فیکون من الملقی دون الملاقی ولا تغتر بانھم لابدلھم ان یغترفوا منھا فیدخلوا ایدیھم قبل الغسل وذلك تلاق لان الاغتراف معفو عنہ بالاتفاق لاجل الحاجۃ اھ ماکتبت علیہ وقد علمت مما قدمناہ فی الفصول الثلثۃ ان الفحول الثلثۃ کلھم قد اغفلوا محل النزاع ولکن لاعجب فی الاغفال انما(۱)العجب من العلامۃ الشامی تنبہ لھذا وترك جل مافی البحر لکونہ فی الملقی ثم اورد عبارۃ الفتوی مع انھا کما علمت صریحۃ فی الملقی فکان یجب اسقاطھا ایضا وقد علمت مافی الاستدلال بالعموم من نوع مصادرۃ علی المطلوب فلیس بایدیھم شیئ اصلا سوی بحث البدائع الواقع مناضلا لمتواترات النصوص والروایات الظاھرۃ الصحیحۃ عن الائمۃ الثلثۃ مصادما لاجماعھم المنقول فی الکتب المعتمدۃ حتی البدائع والبحر فتثبت ولا تزل ثبتنا الله وایاك والمسلمین بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ انہ ولی ذلك والقدیر علیہ ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم وصلی الله تعالی علی سیدنا ومولنا والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین امین!
سے نقل نہیں ہے جبکہ امام دبوسی نے نقل پیش کی ہے اسی طرح ہاتھ پیر داخل کرنے اور بے وضو کے کنویں میں داخل ہونے کے مسائل صراحۃ متون وشروح میں مذکور ہیں اور فتاوی میں بھی مذکور ہیں ان کو ہمارے ائمہ ثلثہ سے نقل کیا گیا ہے اب ان تمام چیزوں کو ایك ضعیف روایت پر محمول کرنا انتہائی غیر معقول بات ہے اور فتوی کی عبارت سے صراحۃ معلوم ہوتا ہے کہ مستعمل پانی اس میں گرتا ہے تو وہ ملقی سے ہوگا نہ کہ ملاقی سے تجھے یہ دھوکا نہ ہو کہ ان کیلئے یہ ضروری نہیں کہ وہ اس سے چلو کے ذریعہ پانی نکالیں تو وہ ہاتھ دھونے سے قبل داخل کرینگے اور اسی کو تلاقی کہتے ہیں کیونکہ اس طرح چلو سے پانی نکالنا بالاتفاق معاف ہے کیونکہ اس میں حاجۃ ہے اھ یہاں تك میرا حاشیہ ختم ہوا اور جو کچھ ہم نے فصول ثلثہ میں ذکر کیا ہے اس سے آپ کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ تینوں جلیل القدر علماء اصل محل نزاع سے غافل رہے لیکن اس غفلت پر تعجب نہیں تعجب تو اس امر پر ہے کہ علامہ شامی اس پر متنبہ ہوگئے اور جو بحر میں تھا اس کو ترك کردیا کیونکہ اس کا تعلق ملقی سے تھا اور پھر بھی فتوی کی عبارت ذکر کی حالانکہ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے وہ ملقی میں صریح ہے تو اس کا اسقاط بھی ضروری تھا اور آپ کو معلوم ہے کہ عموم سے استدلال میں ایك قسم کا مصادرہ علی المطلوب ہے تو ان کے پاس بدائع کے بحث کے علاوہ کچھ نہیں ہے جبکہ یہ عبارت نصوص متواترہ اور روایات ظاہرہ صحیحہ کے مخالف ہے اور ائمہ ثلثہ کا جو اجماع کتب معتمدہ حتی کہ بدائع اور بحر میں بھی منقول ہے اس کے بھی خلاف ہے لہذا اس کو خوب ذہن نشین کرلینا چاہئے اللہ تعالی تم کو
#12281 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
فائدہ : ختم ھذا المبحث ش بقولہ قلت وفی ذلك(ای مامال الیہ العلامۃ والبحر)توسعۃ عظیمۃ ولا سیما فی زمن انقطاع المیاہ عن حیاض المساجد وغیرھا فی بلادنا ولکن الاحتیاط لایخفی اھ
اقول : (۱)الاحتیاط العمل باقوی الدلیلین وقد علمت ان مامالا الیہ لادلیل علیہ()والتوسعۃ قد تبیح المیل الی روایۃ لغیرھا رجحان علیھا درایۃ وھھنا لاروایۃ ولا درایۃ نعم ان تحققت الضرورۃ ففی العمل بقول امامی الھدی مالك والشافعی رضی الله تعالی عنہما مندوحۃ ان الماء المستعمل طاھر وطھور۔
فائدہ : قال ش فی المنحۃ علی قول البحر لامعنی للفرق بین المسألتین یرید الملقی والملاقی مانصہ قال بعض مشائخنا یدل علیہ ایضا روایۃ النجاسۃ فان النجس ینجس غیرہ سواء کان ملقی اوملاقیا فکذا علی روایۃ الطہارۃ واذا کان کذلك فلیکن التعویل علیہ سیما وقد اختارہ کثیرون وعامۃ من تأخر عن الشارح تابعہ علی
ہم کو تمام مسلمانوں کو دنیا وآخرت میں حق پر ثابت قدم رکھے وہ اس کا والی اور قادر ہے اس اللہ علی وعظیم کے سوا کسی کو طاقت نہیں ہے اور صلوۃ ہمارے سردار ان کی آل اصحاب بیٹے جماعت تمام پر ہو آمین!(ت)
فائدہ ۷ : “ ش “ نے اس بحث کو ان الفاظ پر ختم کیا ہے “ میں کہتا ہوں اور اس میں(یعنی جس کی طرف علامہ اور بحر کا میلان ہے)بڑی وسعت ہے خاص طور پر اس زمانہ میں جبکہ ہمارے بلاد کی مساجد وغیرہ سے حوضوں کا پانی ختم ہوتا جاتا ہے لیکن احتیاط مخفی نہیں “ اھ(ت)
میں کہتا ہوں احتیاط تو اس میں ہے کہ دو دلیلوں میں سے جو زیادہ قوی ہو اس پر عمل کیا جائے اور آپ کو معلوم ہے کہ جس طرف ان کا رجحان ہے اس پر کوئی دلیل نہیں اور گنجائش میں کبھی مرجوح روایت کو بھی درایۃ اختیار کرنا پڑتا ہے اور یہاں تو نہ روایت ہے اور نہ درایت ہاں اگر ضرورت پائی جاتی ہے تو بقول امام مالك اور امام شافعی عمل کی حد تك پائی جاتی ہے اور ان کے نزدیك یہ پانی طاہر وطہور ہے۔ (ت)
فائدہ ۸ : “ ش “ نے منحہ میں بحر کے قول پر فرمایا دونوں مسئلوں میں کوئی فرق نہیں یعنی ملقی اور ملاقی میں ان کی عبارت یہ ہے کہ ہمارے بعض مشائخ نے فرمایا اس پر نجاست کی روایت دلالت کرتی ہے کیونکہ نجس دوسرے کو بھی نجس کرتا ہے خواہ وہ ملقی ہو یا ملاقی اسی طرح طہارت کی روایت پر۔ اور جب صورت حال یہ ہے تو اسی پر اعتماد ہونا چاہئے بالخصوص ایسی صورت میں جبکہ بہت سے علماء نے اس کو
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۵
#12282 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
ذلك حتی صاحب النھر مع مافیہ من رفع الحرج العظیم علی المسلمین اھ۔
اقول اولا : (۱)ان کان للقیاس علی روایۃ النجاسۃ مساغ کان الشیخ ابن الشحنۃ احق بھذا منکم فان التسویۃ علی روایۃ النجاسۃ انما ھی فی التاثیر لافی عدمھا فکما استویا علیھا فی التاثیر بسلب الطھارۃ فکذا علی روایۃ الطھارۃ بسلب الطھوریۃ لا فی عدم التاثیر اصلا وثانیا : (۲)صرحوا ان ماء ورد علی نجس نجس کعکسہ ای ان التنجس یحصل للماء القلیل کلہ سواء کان ھو الوارد علی نجاسۃ او بالعکس واذن نقول بمثلہ ھھنا فکما ان الماء الوارد علی نجاسۃ حکمیۃ یصیر کلہ منسلب الطھوریۃ کذلك النجاسۃ الحکمیۃ اذا وردت علی ماء قلیل تجعل جمیعہ مسلوب الطھوریۃ وقیاس احدی النجاستین علی الاخری احق بالقبول من قیاس روایۃ الطہارۃ علی روایۃ النجاسۃ
وثالثا : (۳)وھو الحل الحکم انما یثبت بثبوت سببہ وسبب التنجس ھو ملاقاۃ النجس وھو حاصل فی الملقی کالملاقی وسبب الاستعمال ملاقاۃ بدن
اختیار کیا ہے اور شارح کے بعد آنے والے علماء نے حتی کہ صاحب نہر نے بھی ان کی متابعت کی ہے پھر مسلمانوں کو تنگی سے نکالنا ہے اھ(ت)
میں کہتا ہوں اولا اگر قیاس کو نجاست والی روایت پر گنجائش موجود ہو تو شیخ ابن الشحنہ اس کے بہ نسبت آپ کے زائد مستحق ہیں کیونکہ نجاست والی روایت پر برابری تاثیر میں ہے نہ کہ عدم تاثیر میں جیسے وہ دونوں سلب طہارت کی تاثیر میں برابر ہیں اسی طرح طہارت کی روایت پر سلب طہوریت میں برابر ہونا چاہئے نہ کہ اصلا عدم تاثیر میں مساوات ہو۔ ثانیا اس امر کی علماء نے تصریح کی ہے جو پانی نجس پر وارد ہوتا ہے وہ بھی نجس ہوجاتا ہے جیسا کہ اس کا عکس ہے یعنی ناپاك ہونا کل تھوڑے پانی میں ہوتا ہے خواہ وہ نجاست پر وارد ہو یا نجاست اس پر وارد ہو اس لئے اسی قسم کا قول ہم یہاں کرتے ہیں تو جس طرح وہ پانی جو نجاست حکمیہ پر وارد ہوتا ہے اس کی طہوریت ختم ہوجاتی ہے اسی طرح نجاست حکمیہ جب تھوڑے پانی پر وارد ہو تو تمام پانی کی طہوریت ختم ہوجائے گی اور ایك نجاست کو دوسری نجاست پر قیاس کرنا زیادہ بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ طہارت کی روایت کو نجاست کی روایت پر قیاس کیا جائے۔
ثالثا : یہی حل ہے حکم جب ثابت ہوتا ہے تو وہ اس کے سبب کے ثابت ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے
حوالہ / References منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۴
#12283 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
محدث اومتقرب سواء کان بورود الماء علی الحدث اوالحدث علی الماء وھو حاصل فی الملاقی منتف فی الملقی فیہ لان الماء المستعمل اذا القی فی الحوض فلا ماؤہ ورد علی حدث ولا الحدث ورد علیہ انما ورد علیہ ماورد علی الحدث ولیس ھذا سبب الاستعمال۔
ورابعا : (۱)سمعت حدیث رفع الحرج ودفعہ وخامسا : (۲)لیس ھؤلاء الکثیرون الاالمتأخرون عن البحر ولیس فیھم من یکون لہ قول فی المذھب لاسیما علی خلاف المذھب الصحیح المعتمد المذیل بطراز الاجماع وھذا صاحب البحر قائلا فیہ لایفتی ولا یعمل الا بقول الامام الاعظم ولا یعدل عنہ الی قولھما اوقول احدھما اوغیرھما الالضرورۃ من ضعف دلیل اوتعامل بخلافہ کالمزارعۃ وان صرح المشائخ بان الفتوی علی قولھما اھ ۔ فاذا کان ھذا فی قول امامی المذھب وقد افتوا بہ فما ظنك بما لیس قول احدھما ولا قول احد ولا روایۃ عن احد وما صححہ احد ولا لہ فی الدرایۃ مستند فکیف یعدل الی مثلہ عن مذھب
اور ناپاك ہونے کا سبب ناپاك سے ملاقات ہے تو وہ ملقی میں بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح ملاقی میں ہے اور استعمال کا سبب محدث کے بدن سے ملاقات ہے یا متقرب کے بدن سے ملاقات ہے خواہ حدث پر پانی وارد ہو یا پانی پر حدث وارد ہو اور یہ چیز ملاقی میں تو ہے ملقی فیہ میں نہیں کیونکہ مستعمل پانی جب حوض میں ڈالا جائے تو نہ تو اس کا پانی حدث پر وارد ہوا اور نہ ہی حدث اس پر وارد ہوا اور اس پر وہ چیز وارد ہوئی ہے جو حدث پر وارد ہوئی ہے اور یہ سبب استعمال نہیں۔
رابعا : آپ حرج رفع کرنے کا معاملہ اور اس کا رد سن چکے ہیں۔ خامسا یہ کثیر علماء بحر سے متأخر ہیں اور ان میں کوئی اس پایہ کا نہیں کہ مذہب میں اس کا قول سند ہو خاص طور پر قول صحیح کے مقابل جس پر اجماع ہوچکا ہو خاص طور پر جبکہ صاحب بحر فرمارہے ہوں فتوی امام اعظم کے قول پر ہی دیا جائے نہ کہ صاحبین یا کسی ایك صاحب کے قول پر سوائے ضرورت کے مثلا یہ کہ دلیل ضعیف ہو یا اس کے خلاف تعامل ہو جیسے مزارعۃ کے معاملہ میں ہوا خواہ مشائخ نے تصریح کی ہو کہ فتوی صاحبین کے قول پر ہے اھ جب یہ معاملہ دو ائمہ مذہب کے ساتھ ہے اور وہ اس پر فتوی دے چکے ہیں تو جہاں کسی کا
حوالہ / References بحرالرائق اوقاتِ نماز سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۴۶
#12284 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
جمیع الائمۃ الصحیح المعتمد
وما مثل ھؤلاء بین ایدی ائمۃ المذھب الا کمثل احدنا عند ھؤلاء بل اقل وابعد لاستوائنا جمیعا فی وجوب الاستسلام للائمۃ وردا وصدرا وان لا تکون لنا الخیرۃ من انفسنا اذا قضوا امرا اما کثرۃ من تبع البحر(۱)فقد قال البحر فی ماھو اعظم کثرۃ واشد قوۃ من الوف امثال ھذا لدورانہ فی متون المذھب والشروح والفتاوی اعنی عد الاعتکاف مما لایصح تعلیقہ مانصہ ھذا الموضع مما اخطؤا فیہ والخطأ ھنا اقبح لکثرۃ الصرائح بصحۃ تعلیقہ وانا متعجب لکونھم تداولوا ھذہ العبارات متونا وشروحا وفتاوی وقد یقع کثیرا ان مؤلفا یذکر شیأ ا خطأ فیأتی من بعدہ فینقلون تلك العبارۃ من غیر تغییر ولا تنبیہ فیکثر الناقلون واصلہ لواحد مخطیئ اھ۔
وھذا ھو الواقع ھھنا کما تری وبالله العصمۃ(۲)علی ان کلام کثیر منھم فی الباب لم یسلم عن اضطراب وھذا البحر نفسہ قد اکثر من نقول ماقدمنا من حججنا وفیھا نقل الاجماع ونص فی مسألۃ البئر ان المذھب المختار ان الماء طاھر غیر طھور
قول ہی نہ ہو اور نہ روایت ہو اور نہ کسی نے اس کی تصحیح کی ہو اور نہ اس کیلئے مستند درایت ہو تو تمام ائمہ کا اجماعی مذہب چھوڑ کر اس کو کیسے اختیار کیا جاسکتا ہے ائمہ مذہب کے سامنے ان کی قدر وقیمت اتنی نہیں جتنی کہ ہماری ان حضرات کے سامنے ہے بلالکہ اس سے بھی کمتر کیونکہ ہم سب پر ائمہ کے حکم کا ماننا لازم ہے اور ان کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے اور جب کسی معاملہ کا وہ فیصلہ کردیں تو ہمیں اپنی طرف سے کوئی اختیار نہیں اور رہا یہ معاملہ کہ بحر کی اتباع بہت سے مشائخ نے کی ہے ایك مسئلہ میں جو شدت وقوت کے لحاظ سے اس سے ہزار گنا زیادہ ہے کیونکہ وہ متون مذہب اور شروح اور فتاوی میں موجود ہے یعنی اعتکاف کی تعلیق کے صحیح نہ ہونے کے بارے میں خود بحر نے فرمایا کہ یہاں ان کو غلطی لگی ہے اور یہاں خطأ زیادہ قبیح ہے کیو نکہ اس کی تعلیق کی صحت پر بکثرت تصریحات موجود ہیں اور مجھے تعجب ہے کہ فقہاء نے ان عبارات کو متون وشروح اور فتاوی میں قبول کیا ہے عام طور پر ایسا ہوتا رہتا ہے کہ ایك مؤلف ایك چیز ذکر دیتا ہے غلطی سے پھر بعد والے اس غلطی کو بلا نکیر نقل کرتے رہتے ہیں اس طرح ایك خطا کار کے ناقل بکثرت ہوجاتے ہیں اھ ۔ اور یہاں ایسا ہی ہوا ہے جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں علاوہ ازیں ان میں سے اکثر کا کلام اضطراب سے خالی نہیں اور خود بحر نے بہت سے نقول ذکر کی ہیں جنہیں ہم نے اپنے دلائل میں بہت پہلے ذکر کیا ہے اور اس میں اجماع کو
حوالہ / References بحرالرائق متفرقات من البیوع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۱۸۵
بحرالرائق مسئلۃ البئر جحط ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۸
#12285 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
والنھر قال فی عبارۃ الاسرار ما قال ولما تمسك البحر بعبارۃ المحیط والتوشیح والتحفۃ اذا وقع الماء المستعمل فی البئر۔ ۔ ۔ الخ کتب علیہ لایخفاك ان العبارۃ فی وقوع الماء لاالمغتسل وکذا فیما بعدہ اھ۔ والدر استدرك علی البحر بکلام الحسن وکذا ابو السعود وقدمنا کلمات ش وھم جمیعا والحلیۃ قبلھم عللو اسقوط حکم الاستعمال بالضرورۃ وھو کما علمت اعتراف بالحق بالضرورۃ۔
فائدہ ۹ : اقول ذکرت فی الطرس المعدل مسألۃ ادخال المحدث رأسہ اوخفہ اوجبیرتہ فی الماء وانہ یجزئہ عند الامام الثانی ولایصیر الماء مستعملا وان الصحیح وفاق محمد فیھا وان المراد لایصیر ماء الاناء مثلا مستعملا بل البلۃ الملتصقۃ بالرأس ای الممسوح فقط فاعلم ان ھذا الخصوص المسح فلا یقاس علیہ المغسول قال ملك العلماء فی البدائع ادخل رأسہ اوخفہ اوجبیرتہ فی الاناء وھو محدث قال ابو یوسف یجزئہ فی المسح ولا یصیر الماء مستعملا سواء نوی
نقل کیا ہے اور کنویں کے مسئلہ میں یہ صراحت کی ہے کہ مذہب مختار یہ ہے کہ پانی طاہر غیر طہور ہے اور نہر نے اسرار کی عبارت میں فرمایا ہے جو گزرا اور جب بحر نے محیط توشیح اور تحفہ کی عبارت سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا “ جب مستعمل پانی کنویں میں گرجائے۔ ۔ ۔ الخ “ تو اس پر لکھا کہ آپ پر مخفی نہ رہے کہ عبارت پانی کے گرنے میں ہے نہ کہ دھوون کے گرنے میں اور اس طرح اس کے بعد کی عبارت اھ۔ اور در نے بحر پر حسن کے کلام سے استدراك کیا ہے اور اسی طرح ابو السعود نے اور ہم نے “ ش “ اور ان سب کے اور حلیہ کے کلمات نقل کئے ان تمام حضرات نے حکم استعمال کے ساقط ہونے کی وجہ ضرورت کو قرار دیا ہے اور جیسا کہ آپ نے جانا یہ اعتراف حق ہے۔ (ت)
فائدہ ۹ : میں نے “ الطرس المعدل “ میں محدث کا پانی میں اپنا سر موزہ یا پٹی ڈبونے کا مسئلہ ذکر کیا ہے اور یہ کہ دوسرے امام کے نزدیك اس کو یہ کفایت کرے گا اور پانی مستعمل نہ ہوگا اور اس میں صحیح یہی ہے کہ محمد کو اس سے اتفاق ہے اور یہ کہ مراد یہ ہے کہ برتن کا پانی مستعمل نہ ہوگا بلالکہ وہ تری جو سر سے لگی ہوئی ہے یعنی صرف ممسوح تو جاننا چاہئے کہ یہ خاص مسح کیلئے ہے تو اس پر مغسول کو قیاس نہ کرنا چاہئے ملك العلماء نے بدائع میں فرمایا کسی نے اپنا سر موزہ یا پٹی پانی میں داخل کی اور بے وضو تھا تو ابو یوسف نے فرمایا اس کے مسح کو کافی ہے اور پانی بہرحال مستعمل نہ ہوگا خواہ نیت کرے یا نہ کرے کیونکہ استعمال کے دو۲
حوالہ / References نہرالفائق
#12286 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
او لم ینو لوجود عـــہ احد سببی الاستعمال وانما کان لان فرض المسح یتأدی باصابۃ البلۃ اذھو اسم للاصابۃ دون الاسالۃ فلم یزل شیئ من الحدث الی الماء الباقی فی الاناء وانما زال الی البلۃ وکذا اقامۃ القریۃ تحصل بھا فاقتصر حکم الاستعمال علیھا اھ۔ وھذا ینادی باعلی نداء ان عدم انتقال الحدث الی باقی الماء فی الاناء واقتصار حکم الاستعمال علی البلۃ فی صور المسح انما کان لانہ لایحتاج الا الی بلۃ فبھا یتأدی فرضہ وبھا تقوم قربتہ فھو لم یستعمل الماء بل البلۃ بخلاف ماوظیفتہ الغسل فانہ اسالۃ فکان استعمالا للماء لالمجرد بلۃ فیزول بہ الحدث الی جمیع ما فی الاناء لقلتہ ولا یقتصر حکم الاستعمال علی البلۃ الملاقیۃ لسطح البدن
سببوں میں سے ایك پایا جارہا ہے اور یہ اس لئے ہوا کہ مسح کا فرض ادنی تری سے ادا ہوجاتا ہے کیونکہ مسح لگانے کو کہتے ہیں نہ کہ بہانے کو تو حدث میں سے کوئی چیز چھوٹ کر برتن میں پانی تك نہیں آتی صرف تری تك منتقل ہوئی اور اسی طرح اس سے قربۃ قائم ہوتی ہے تو اس پر استعمال کا حکم محدود ہوگیا اھ ۔ اور اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسح میں حدث کا برتن میں باقی پانی کی طرف منتقل نہ ہونا اور استعمال کے حکم کا صرف تری تك محدود رہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں محض تری کی ضرورت ہے اسی سے فرض ادا ہوجاتا ہے اور اسی سے قربۃ ادا ہوجاتی ہے تو اس نے پانی کو استعمال نہیں کیا بلکہ اس نے تری کو استعمال کیا بخلاف اس کے جس میں دھونا ضروری ہے کیونکہ اس میں بہانا ضروری ہے تو وہاں پانی کا استعمال ہوگا محض تری کا نہیں ہوگا تو حدث برتن کے تمام پانی کی طرف منتقل ہوگا کیونکہ وہ کم ہے اور استعمال کا حکم اس تری

عـــہ اقول : قولہ لوجود متعلق بالمنفی ای صیرورۃ الماء مستعملا لوجود ازالۃ الحدث وان لم ینو واقامۃ القربۃ ایضا ان نوی منتفیۃ فلا یصیر مستعملا وان وجد السببان وانما کان ھذا الانتفاء لانہ لم یستعمل الماء بل البلۃ وذلك لان فرض المسح۔ ۔ ۔ الخ منہ غفرلہ۔ (م)
اقول اسکا قول لوجود منفی سے متعلق ہے یعنی پانی کا مستعمل ہونا حدث کے ازالہ کی وجہ سے اگرچہ نیت نہ کرے اور قربۃ ادا کرے سے بھی اگر نیت کرے منتفی ہے تو مستعمل نہ ہوگا اگرچہ دونوں سبب پائے جائیں اور یہ انتفاء اس لئے ہے کیونکہ اس نے پانی استعمال نہیں کیا صرف تری استعمال کی اور یہ اس لئے ہے کہ مسح کا فرض الخ ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
#12287 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الظاھر لان البلۃ لایحصل بھا اسالۃ ولا غسل فظھر الامر وبالله التوفیق فلا حجۃ فیہ للمسوین بین الملاقی والملقی ولیس مبناہ علی تلك المسألۃ۔
اقول : والدلیل القاطع علیہ ان ابایوسف القائل بنجاسۃ الماء المستعمل لم یقل ھھنا بالسریان قال الامام فقیہ النفس ابو یوسف رحمہ الله تعالی قال انما یتنجس الماء فی کل شیئ یغسل اما ما یمسح فلا یصیر الماء مستعملا اھ۔ مع اجماع اصحابنا ان النجاسۃ تسری فی القلیل بلا فرق بین الکثیر منھا والقلیل وقد تقدم التصریح بہ عن البدائع فاندفع ماکان ذھب الیہ وھلی فی بادی الرأی ان سبیل المسألۃ سبیل الخلف فی الملقی والملاقی واستنار ماذکرت جوابا عنہ من الفرق بین الغسل والمسح اما توقفی فی وجہہ فالوجہ عند المجتہد ولیس علینا ابداؤہ۔
واقول : یخطر ببالی والله تعالی اعلم ان الاجسام کما قدمت جواھر فردۃ متراکمۃ متفرقۃ حقیقۃ متصلۃ حسا وامرالغسل لایتأدی الابجسم مائی ذی ثخن صالح
تك محدود نہ رہے گا جو بدن کے ظاہر کی سطح سے متصل ہے کیونکہ تری سے نہ بہانا حاصل ہوتا ہے نہ غسل تو معاملہ بتوفیق اللہ ظاہر ہوگیا اس میں ان لوگوں کیلئے حجۃ نہیں جو ملقی اور ملاقی میں فرق نہیں کرتے تو اس کی بنیاد اس مسئلہ پر نہیں۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس پر قطعی دلیل یہ ہے کہ ابو یوسف جو مستعمل پانی کی نجاست کے قائل ہیں وہ یہاں سرایت کا قول نہیں کرتے امام فقیہ النفس نے فرمایا کہ امام ابو یوسف نے فرمایا “ پانی ہر اس چیز میں نجس ہوتا ہے جو دھوئی جاتی ہے اور جس پر مسح کیا جاتا ہے اس سے مستعمل نہ ہوگا اھ ۔ حالانکہ ہمارے اصحاب کا اجماع ہے کہ نجاست تھوڑے پانی میں سرایت کرتی ہے خواہ کم ہو یا زائد بدائع سے اس پر تصریح گزر چکی ہے تو ان کا جواب ہوگیا اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ خلف کی طرح ہے ملقی اور ملاقی میں اور جو جواب میں نے ذکر کیا وہ بھی واضح ہوگیا یعنی یہ کہ غسل اور مسح میں فرق ہے اور اس کے استدلال میں میرا توقف کرنا اس لئے ہے کہ دلیل پیش کرنا مجتہد کا کام ہے اور ہمیں اس کا ظاہر کرنا لازم نہیں۔ (ت)
میں کہتا ہوں اللہ بہتر جانتا ہے میرے دل میں یہ خطرہ گزرا کہ اجسام جیسا کہ ہم نے پہلے لکھا ہے جواہر فردہ ہیں تہ بہ تہ ہیں حقیقۃ متفرق ہیں اور حسا متصل ہیں اور دھونا ایسے جسم سے ہوسکتا ہے جو پانی کا
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان الماء المستعمل نولکشور لکھنؤ ۱ / ۸
#12288 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
یری سائلا علی البدن سیلانا فلابد فیہ من اعتبار المحسوس وفی الحس الماء الکائن فی محل واحد شیئ متصل واحد فحصل الاستعمال للکل لحصول اللقی للکل کما فی نجاسۃ ترد علی الماء وانما سقط الحکم عن الکثیر لان الشرع جعلہ کالجاری فلا یتأثر مالم یتغیر کما سبق تقریر کل ذلك اما المسح فمجرد اصابۃ من دون اسالۃ فتکفی فیہ جواھر قریبۃ تفید بلۃ وھی منفصلۃ عمافوقھا فیقتصر اللقاء علیھا ولا یتعدی الی سائر الاجزاء لعدم الحاجۃ الی ترك الحقیقۃ وبہ استبان ما قالوا ھنا من قصراللقاء علی البلۃ
وظھر الجواب عما ذکرت فیہ من النظر(۱)واشار الیہ المحقق حیث اطلق ابن الھمام بقولہ فیہ نظر ھذا ما عندی فی تقریرہ وجہدالمقل دموعہ ویحتاج الی تلطیف القریحۃ وکیف ماکان لاحجۃ فیہ للمسوین بل ھو حجۃ علیھم لدلالۃ فحواہ ان قصرالحکم علی البلۃ دون بقیۃ ما فی الاناء لعدم الحاجۃ فی المسح الی الاسالۃ فافاد ان فیما وظیفتہ الاسالۃ یعم الحکم جمیع مافی الاناء وھو المقصود۔
فائدہ ۱۰ : اقول وبالله التوفیق ھنالفظان الوضوء من الحوض و
ہو اور اس میں حجم ہو اور جسم پر بہتا ہوا نظر آئے تو اس میں محسوس کا اعتبار ضروری ہے اور جس میں وہ پانی جو ایك جگہ ہو متصل واحد ہے تو کل پانی مستعمل ہوگیا کیونکہ ملاقاۃ کل سے ہی ہے جیسے کہ وہ نجاست جو پانی پر وارد ہو اور حکم کثیر سے اس لئے ساقط ہوگیا کیونکہ شریعت نے اس کو جاری کے حکم میں رکھا ہے تو جب تك اس میں تغیر نہ ہو متاثر نہ ہوگا جیسے کہ اس کی تقریر گزری اور مسح میں صرف پانی کا لگانا ہے نہ کہ بہانا ہے تو اس کیلئے قریب جواہر ہونا کافی ہے جن سے تری پیدا ہوتی ہے اور وہ جواہر اوپر والوں سے جدا ہیں تو ملاقاۃ اسی پر منحصر رہے گی اور باقی اجزاء کی طرف منتقل نہ ہوگی کیونکہ ترك حقیقۃ کی حاجت نہیں اور یہیں سے معلوم ہوا کہ ملاقاۃ صرف تری تك محدود ہے جیسا کہ فقہاء نے فرمایا اور جو نظر میں نے ذکر کی ہے اس سے جواب ظاہر ہوگیا اور محقق نے اس کی طرف اشارہ کیا کیونکہ ابن ہمام نے فرمایا اس میں نظر ہے میرے نزدیك اس کی تقریر یہی ہے بہرصورت ان کیلئے اس میں کوئی حجۃ نہیں جو ملقی اور ملاقی میں برابری کے قائل ہیں بلکہ یہ ان کے خلاف حجۃ ہے کیونکہ اس کا فحوی اس پر دلالت کرتا ہے کہ حکم تری پر مقصور ہے جو برتن میں باقیماندہ پانی ہے اس پر نہیں ہے کیونکہ مسح میں اسالۃ کی ضرورت نہیں تو انہوں نے بتایا کہ جہاں بہانا ہوتا ہے وہاں حکم برتن کے تمام پانی کو عام ہوتا ہے اور یہی مقصود ہے۔ (ت)
فائدہ ۱۰ : میں بتوفیق الہی کہتاہوں یہاں دولفظ ہیں الوضوء من الحوض اورالوضوء فی الحوض ۔ قاسم نے
#12289 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
بہ(۱)عبرالعلامۃقاسم تسامحا وفی الحوض وبہ عبر العلامۃ ابن الشحنۃ وسوی(۲)بینہما البحرفتارۃ یقول من کصدر مقالتہ واسم رسالتہ واخری فی کمطاوی عبارتہ وقد علمت ان الثانی یحتمل وجہین الوضوء خارجہ بحیث تقع الغسالۃ فیہ ولو بعد الجریان علی الارض والوضوء فیہ بغمس الاعضاء ذاك ملقی وھذا ملاقی واللفظ الاو یحتمل ثلثۃ وجوہ ھذین والوضوء خارجہ بالاغتراف منہ بحیث لاتصل الغسالۃ الیہ کالوضوء من بئرزمزم وھذا الثالث علی ثلثۃ وجوہ الاغتراف باناء بحیث لایصیب شیئ من یدہ الماء وبالید لعدم اناء اومع وجودہ فالاول جائز بالاجماع ولایتوھم تطرق خلل بہ الی الماء وکذا الثانی لمکان الضرورۃ الا اذا ادخل ازید من قدر الحاجۃ او قدرھا للاغتراف ثم نوی الغسل فیہ فان ھذین یعود ان الی صورۃ الغمس کالثالث ففی ھذہ عـــہ الاربع یصیر الماء کلہ مستعملا
تسامح سے کام لیتے ہوئے من الحوض سے تعبیر کیااورابن الشحنہ نے الوضو فی الحوض سے تعبیر کیااوربحرنے ان دونوں کو برابر کیا کبھی تومن کہتے ہیں جیسا کہ انہوں نے اپنے مقالہ کی ابتداء اور رسالہ کے نام میں اور کبھی فی استعمال کیا جیسا کہ عبارات کے درمیان میں کیا۔ اور آپ جان چکے ہیں دوسرا دو وجہوں کا احتمال رکھتا ہے ایك تو وضو حوض کے باہر اس طرح کہ دھوون حوض میں گرے خواہ زمین پر بہہ کر جائے اور ایك یہ کہ وضوء اس طرح کیاجائے کہ حوض میں اعضاء ڈبوئے جائیں وہ ملقی ہے اور یہ ملاقی ہے اور پہلا لفظ تین وجوہ کا محتمل ہے دو تو یہی اور تیسری یہ کہ حوض کے باہر بیٹھ کر حوض سے چلو بھر پانی لیں اس طرح کہ دھوون حوض تك نہ پہنچے جیسے زمزم کے کنویں سے کیا جاتا ہے۔ اور اس تیسری وجہ میں بھی تین وجوہ ہیں ۱ایك تو یہ کہ برتن سے پانی لیں اس طرح کہ ہاتھ پانی کو نہ لگے ۲دوسرے یہ کہ ہاتھ سے لیں جبکہ برتن نہ ہو ۳تیسرے یہ کہ ہاتھ سے لیں لیکن برتن موجودہو توپہلا بالاجماع جائز ہے اور اس سے پانی میں خلل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے اور دوسرا بھی جائز ہے کیونکہ ضرورت ہے ہاں اگر ضرورت سے زائد ہاتھ داخل کیا یا بقدر ضرورت ڈالاپھر اس میں غسل کا ارادہ کیا تو یہ دونوں صورتیں ڈبونے کی صورت

عـــہ ای ادخال الزائدعلی قدر حاجۃ الاغتراف ونیۃ الغسل فیہ والاغتراف بید محدثۃ مع وجود الاناء والوضوء فیہ بغمس الاعضاء اھ منہ غفرلہ ۔ (م)
یعنی چلو کی مقدار سے زیادہ داخل کرنا اور پانی میں دھونے کی نیت کرنا اور برتن کے ہوتے ہوئے محدث ہاتھ کے ذریعے پانی نکالنااورپانی میں اعضاء ڈبو کر وضو کرنا اھ منہ غفرلہ(ت)
#12290 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
قلیلا کان اوکثیرامالم یکن کثیرا امااول الثانے اعنی الوضوءخارجہ مع وقوع الغسالۃفیہ فالصحیح المعتمدانہ لایفسدالماء مالم یساوہ اویغلب علیہ ھذہ احکام الصورالخمس وقد وضحت بحمدالله تعالی مثل الشمس وبہ ظھر ان العلامۃ عبدالبراصاب فی حکم الاربع الاول دون الخامس والعلامتان القاسم والبحر ومن تبعھم بالعکس ثم معہ فیما خالف الصحیح عدۃروایات واقوال مفصلۃ فے البدائع وغیرھا ان الماء المستعمل یفسد المطلق مطلقا وان قل اواذااستبان مواقع القطراواذاسال سیلاناوالکل حاصل فی الوضوء فے الحوض الصغیر بالمعنی الاول بخلاف ھؤلاء الجلۃ فلیس بایدیھم الابحث وقع فے البدائع علی خلاف النصوص المتواترۃ واجماع ائمۃ المذھب رضی الله تعالی عنہم والحق ھوھذاالفرق الذی وفق المولی سبحنہ وتعالی عبدہ الذلیل بتحقیقہ الجلیل بحیث احاط ان شاء الله تعالی بکل کثیر وقلیل وبلغ الغایۃالقصوی فی التفریع والتاصیل فلہ الحمدعلی مااولی وافضل الصلوات العلی والتسلیمات الزاکیات المبارکات علی المولی والہ وصحبہ وابنہ و حزبہ کمایحب ربنا و یرضی امین والحمد لله رب العلمین والله سبحنہ وتعالی وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
میں شامل ہیں جیسی کہ تیسری توان چاروں صورتوں میں کل پانی مستعمل ہوجائیگا خواہ کم ہو یا زیادہ جب تك کہ کثیر نہ ہوجائے لیکن دوسرے کاپہلا یعنی حوض کے باہر وضو کرنا اس طرح کہ دھوون اس میں گرتا رہے تو صحیح اور معتمد یہ ہے کہ جب تك وہ پانی کے برابر نہ ہویااس پر غالب نہ ہو پانی کو فاسد نہ کرے گا یہ پانچوں صورتوں کے احکام ہیں اور میں نے بحمداللہ سورج کی طرح واضح کردیا ہے اور اسی سے ظاہر ہوگیا کہ علامہ عبدالبر نے پہلی چار صورتوں کے بیان میں کوئی غلطی نہیں کی مگر پانچویں میں غلطی کی اور علامہ قاسم اور بحر اور ان کے متبعین نے برعکس کیا پھر ان کے ساتھ ان صورتوں میں جن میں مخالفت کی متعدد روایات واقوال ہیں جن کی تفصیل بدائع وغیرہ میں ہے مثلا یہ کہ مستعمل پانی مطلق پانی کو مطلقا فاسد کردیتاہے خواہ کتناہی کم کیوں نہ ہو یا قطروں کے مقامات ظاہر ہوں یاجبکہ خوب بہے اور یہ سب چھوٹے حوض میں وضو کرنے سے حاصل ہے لیکن پہلے معنی کے اعتبار سے بخلاف ان جلیل القدر علماء کے کہ ان کے ہاتھ میں سوائے اس بحث کے کچھ نہیں جو نصوص متواترہ اجماع ائمہ مذہب کے خلاف بدائع میں واقع ہے اور حق وہ فرق ہے جس کی اپنے ذلیل بندے کو مولی سبحنہ نے توفیق دی تحقیق جلیل کی کہ اس نے کثیر وقلیل کااحاطہ کیااور انتہا کو پہنچااس کی حمد سب سے اولی ہے بہتر صلوۃ وسلام افضل مبارك مز کی آقا پر ان کے آل اصحاب اولاد جماعت پر جیسا کہ ہمارا رب پسند فرمائے آمین
والحمدلله رب العالمین الی اخرہ۔
#12291 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
مسئلہ ۳۰ : مرسلہ مولوی نذر امام صاحب مدرس سہسوانی ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۱۵ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص غسل جنابت کی حاجت میں غسل حوض میں کرے توحوض پلید ہوجائے گایا نہیں زید کہتا ہے کہ حوض میں کوئی شخص متواتر گھسے توپلید ہوجاتاہے بکر کہتا ہے آدمی پاك صاف گھساتونہ پلید ہوتاہے نہ مکروہ ہاں نجاست سے رنگ بومزہ بدل جائیگا تو پلیدہوجائیگا۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
حوض کتناہی چھوٹاپانی کتناہی کم ہو کسی پاك صاف آدمی کے جانے نہانے سے جس کے بدن پرکوئی نجاست حقیقیہ نہ لگی ہوہرگزناپاك نہیں ہوتااگرچہ اسے نہانے کی حاجت ہی ہواگرچہ وہ خاص ازالہ جنابت ہی کی نیت سے اس میں گیاہو ہمارے ائمہ کے صحیح ومعتمد ومفتی بہ مذہب پر غسل بھی اترجائے گا اورحوض بھی بدستور پاك رہے گا اور اگر آب حوض مائے کثیرکی مقدارپرہے جب توجنب کے نہانے سے مستعمل ہونادرکنارباجماع تمام ائمہ کرام کسی نجاست حقیقیہ کے گرنے سے بھی ہرگز ناپاك نہ ہوگاجب تك اس قدرکثرت سے نجاست نہ گرے کہ اس کے رنگ یا بویامزہ کوبدل دے اسی پرفتوی ہے یا ایك قول پر اس کانصف یااکثرنجاست مرئیہ پرہوکر گزرے بہتاپانی توباجماع قطعی تمام امت محمدیہ علی سیدہا افضل الصلوۃ والتحیۃآب کثیرہے کہ بغیراس تغیریامرورکے کسی طرح ناپاك نہیں ہوسکتا جیسے دہلی میں مسجد فتحپوری کا حوض جس میں جمنا سے لائی ہوئی نہر پڑی ہے اور(۱)ٹھہرے ہوئے پانی میں ہمارے علماء کے دو قول ہیں :
(۱)جس پرآدمی کا دل شہادت دے کہ ایك کنارے کی پڑی ہوئی نجاست کااثردوسرے کنارے تك نہ پہنچے گااس کے حق میں وہی کثیرہے اور اثر نہ پہنچنے کامعیاریہ کہ ایك کنارے پر وضو کیا جائے تو دوسرے کنارے کاپانی فورا تلے اوپر نہ ہونے لگے نری حرکت یادیر کے بعد پانی کے اٹھنے بیٹھنے کااعتبار نہیں۔
(۲)جس کی مساحت سطح بالائی دہ دردہ یعنی اس کے طول وعرض کامسطح سوہاتھ ہو اورگہرا اتناکہ لپ میں پانی لینے سے زمین نہ کھلے وہ کثیرہے ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکااصل مذہب وہی قول اول ہے اورعام متون مذہب نے قول ثانی اختیار کیااوربکثرت مشائخ اعلام نے اس پرفتوی دیابہرحال یہ قول بھی باقی تمام مذاہب کے اقوال سے زیادہ احتیاط رکھتا ہے ہاں اگرپانی مقدارکثیرسے کم ہے تو البتہ کتنی ہی ذرا سی نجاست اگرچہ خفیفہ کے گرنے یاکسی ایسے شخص کے نہانے سے جس کے بدن پرکچھ بھی نجاست حقیقیہ لگی تھی ضروربالاتفاق ناپاك ہوجائیگااورہمارے جمیع ائمہ مذہب کے مذہب صحیح ومعتمدپرجبکہ اس سے کوئی فرض طہارت ساقط ہو(مثلاجنب نہائے یامحدث وضو کرے یابضرورت طہارت مثلاچلو میں پانی لینے کے سواصاحب حدث کے کسی بے دھوئے
#12292 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
عضوکاجسے دھوناضرور تھاکوئی جزکسی طرح اگرچہ بلا قصد اس سے دھل جائے)یابہ نیت قربت استعمال میں لایاجائے(مثلاباوضو آدمی وضوئے تازہ کی نیت سے اس میں کسی عضوکو غوطہ دے کردھوئے)ساراپانی مستعمل ہوجائیگاکہ پاك توہے مگرغسل ووضو کے قابل نہ رہاجب حوض(۱)صغیرمیں یہ صورت واقع ہوتواس کے مطہرکرنے کیلئے دوباتوں میں سے ایك کرناچاہئے یاتومطہرپانی مستعمل پرغالب کردینایاحوض کو لبریزکرکے مطہرپانی سے بہادینااول کی صورت یہ ہے کہ حوض میں خود ہی اس شخص کے نہاتے یابے دھلاعضوبلا ضرورت ڈالتے وقت نصف حوض سے کم پانی تھا تواب مطہرپانی سے بھردیں کہ یہ مستعمل سے زیادہ ہوگیااوراگر اس وقت نصف یا زیادہ حوض میں پانی تھاتو پہلے اتناپانی نکال دیں کہ حوض کااکثرحصہ خالی ہوجائے پھرمنہ تك بھردیں مثلا ہموار حوض کہ زیروبالایکساں مساحت رکھتاہے دوگزگہراہے اوراس شخص کے نہاتے وقت اس میں گز بھر پانی تھاتوپاؤگرہ پانی نکال دیں اورسترہ گرہ تھاتوسوا گرہ کھینچ دیں کہ بہرحال سواسولہ گرہ خالی اورپونے سولہ میں پانی رہے پھرنئے پانی سے لبالب بھردیں اوردوم کی شکل یہ کہ حوض میں اس وقت پانی کتناہی ہو اس میں سے کچھ نہ نکالیں اورنیا پانی اس میں پہنچاتے جائیں یہاں تك کہ کناروں سے ابل کربہ جائے یہ دوسراطریقہ ناپاك حوض کے پاك کرنے میں بھی کفایت کرتاہے جبکہ ناپاك چیزنکالنے کے قابل نکال کرپانی سے ابال کربہادیں ظاہرہے کہ اس وقت حوض میں پانی نصف سے جتناکم ہوپہلا طریقہ آسان ترہوگادوگزگہرے حوض میں اس وقت چارہی گرہ پانی تھا تو صرف چارگرہ پانی اور پہنچا کر چند ڈول زیادہ ڈال دیں کہ مستعمل سے مطہراکثرہوگیااوراس وقت پانی نصف سے جتنازائدہودوسرا طریقہ سہل ترہوگاکہ اس میں نکالناکچھ نہ پڑے گااورکم حصہ خالی ہے جسے بھرکرابالناہوگااورجہاں(۲)دونوں صورتیں دشواری وحرج صریح رکھتی ہوں وہاں اگرقول بعض علماء پر عمل کرکے اس میں سے بیس ہی ڈول نکال دیں توامیدہے کہ ان شاء اللہ تعالی اسی قدرکافی ہو یرید الله بكم الیسر و لا یرید بكم العسر- (اللہ تعالی تم پرآسانی چاہتاہے تنگی نہیں چاہتا۔ ت)اورسب سے زیادہ صورت ضرورت یہ ہے کہ وہاں کنواں نہ ہومینہ سے حوض بھرتاہواورہوگیامستعمل اب اس کے بہانے یامستعمل پر مطہربڑھانے کیلئے پانی کہاں سے لائیں لہذا اس صورت ثالثہ پرعمل ہوگا وبالله التوفیق۔
درمختار میں ہے :
لایجوز(ای رفع الحدث)بماء استعمل لاجل قربۃ اواسقاط فرض بان یدخل یدہ او رجلہ فی جب لغیر اغتراف ونحوہ اذاانفصل عن عضو وان لم یستقر علی المذھب وھوطاھرولومن جنب وھوالطاھر
جائزنہیں(یعنی رفع حدث)اس پانی سے جوحدث دورکرنے یاقربۃحاصل کرنے کیلئے استعمال میں لایا گیاہو مثلایہ کہ اپناہاتھ یاپیر کسی گڑھے میں داخل کردے اور اس کو مقصود چلو بھر کرپانی لینا نہ ہو تو وہ عضو سے جدا ہوتے ہی مستعمل ہوجائیگا خوا ہ ا س پر
#12293 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
لیس بطھورلحدث علی المعتمد محدث انغمس فے بئرولانجس علیہ الاصح انہ طاھروالماء مستعمل اھ ملتقطا۔
نہ ٹھہرے مذہب یہی ہے اور یہ پاك ہی رہے گا خواہ ناپاك آدمی ہی کیوں نہ ہو اوروہ طاہرہے پاك کرنے والا نہیں ہے معتمدقول یہی ہے اگرکوئی بے وضو کسی کنویں میں غوطہ لگائے اوراس کے جسم پرکوئی نجاست نہ ہواصح یہ ہے کہ وہ پاك ہے اورپانی مستعمل ہے اھ ملتقطا۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
قولہ الاصح ھذا القول ذکرہ فی الھدایۃ روایۃ عن الامام قال الزیلعی والھندی وغیرھما تبعالصاحب الھدایۃھذہ الروایۃ اوفق الروایات وفی فتح القدیروشرح المجمع انھاالروایۃ المصححۃ قال فی البحرفعلم ان المذھب المختارفی ھذہ المسألۃ ان الرجل طاھروالماء طاھرغیرطھور اھ مختصرا۔ اس کاقول الاصح اس قول کوہدایہ میں امام سے بطورروایت کے ذکرکیاہے زیلعی اورہندی وغیرہما نے صاحب ہدایہ کی متابعت میں کہاکہ یہ روایت اوفق الروایات ہے فتح القدیراورشرح المجمع میں ہے کہ تصحیح شدہ روایت یہی ہے بحرمیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ مذہب مختار اس مسئلہ میں یہ ہے کہ آدمی پاك ہے پانی پاك ہے مگرپاك کرنے والانہیں اھ مختصرا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
الغلبۃلوالمخالط مماثلاکمستعمل بالاجزاء فان المطلق اکثرمن النصف جازالتطہیر والالا اھ ملتقطا۔
غلبہ اجزاء کے اعتبارسے ہوگا اگرملنے والا مماثل ہوجیسے مستعمل پس اگرمطلق اکثرہے نصف سے توتطہیر جائز ہے ورنہ نہیں اھ ملتقطا۔ (ت)
ردالمحتارمیں ہے :
ای وان لم یکن المطلق اکثربان کان اقل اومساویالایجوز اھ۔
یعنی اگر مطلق زائدنہ ہومثلایہ کہ کم ہویامساوی توجائزنہیں اھ(ت)
حوالہ / References درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۸
دُرمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۴ ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۴
#12294 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
درمختارمیں ہے :
یجوزبجاروقعت فیہ نجاسۃ ان لم یر اثرہ (وھوطعم اوریح اولون)ظاھرہ یعم الجیفۃ و رجحہ الکمال وقال تلمیذہ قاسم انہ المختار وقواہ فی النھرواقرہ المصنف وفی القہستانی عن المضمرات عن النصاب وعلیہ الفتوی وقیل ان جری علیہ نصفہ فاکثرلم یجز وھو احوط(وکذا)یجوز(براکد)کثیروقع فیہ نجس لم یراثرہ ولوفی موضع وقوع المرئیۃ بہ یفتی بحر(والمعتبر)فی مقدار الراکد (اکبررای) المبتلی بہ(فان غلب علی ظنہ عدم خلوص النجاسۃ الی الجانب الاخر جاز و الا لا)ھذا ظاھر الروایۃ وھوالاصح غایۃ وغیرھاوفی النھر ان اعتبار العشراضبط ولاسیمافی حق من لارأی لہ من العوام فلذاافتی بہ المتأخرون الاعلام اھ مختصرا۔
وضوجائزہے اس جاری پانی سے جس میں نجاست گری اوراس کااثریعنی مزہ بویارنگ اس میں ظاہرنہ ہو بظاہریہ مردہ کو بھی عام ہے کمال نے اس کوترجیح دی ہے اوران کے شاگردقاسم نے کہاکہ یہی مختارہے اورنہرمیں اس کوتقویت دی اور مصنف نے اس کوبرقراررکھا اورقہستانی میں مضمرات سے نصاب سے منقول ہے کہ اسی پرفتوی ہے اورکہاگیاکہ اگر اس پرآدھایازائدجاری ہوتوجائزنہیں اوریہی احوط ہے(اور اسی طرح)جائزہے(ٹھہرے ہوئے)کثیرپانی سے جس میں نجاست گری ہو اوراس کااثرغیرمرئی ہوخواہ اس جگہ سے ہوجہاں نجاست نظرآتی ہو اسی پرفتوی ہے بحر(اورمعتبر)ٹھہرے ہوئے پانی کی مقدارمیں(جس طرف رائے کا رجحان ہو)یعنی اس شخص کی رائے جواس معاملہ سے متعلق ہے (اگراس کویہ ظن غالب ہے کہ نجاست یہاں سے تجاوزکرکے دوسری طرف نہیں گئی ہے توجائزہے ورنہ نہیں)یہ ظاہر روایت ہے اوریہی صحیح ہے غایۃ وغیرہ میں۔ اورنہرمیں ہے کہ دس ہاتھ کااعتبارکرلینازیادہ مناسب ہے خاص طورپران عوام کے حق میں جن کی اس سلسلہ میں کوئی رائے نہیں ہوتی ہے اسی لئے متاخرین علما نے اسی پرفتوی دیا ہے اھ مختصرا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فی الھدایۃ وغیرھاان الغدیرالعظیم مالایتحرك احد طرفیہ بتحرك الطرف الاخروفی
ہدایہ وغیرہ میں ہے کہ بڑاتالاب وہ ہے کہ جس کے ایك کنارہ کی حرکت سے دوسرے کنارے کوحرکت
حوالہ / References درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۱
#12295 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
المعراج انہ ظاھر المذھب وفی الزیلعی ظاھر المذھب وقول المتقدمین حتی قال فی البدائع والمحیط اتفقت الروایۃ عن اصحابناالمتقدمین انہ یعتبر بالتحریك وھو ان یرتفع وینخفض من ساعتہ لابعدالمکث ولایعتبراصل الحرکۃ والمعتبرحرکۃالوضوء ھو الاصح محیط وحاوی القدسی ولایخفی علیك ان اعتبارالخلوص بغلبۃ الظن بلاتقدیرشیئ مخالف فی الظاھرلاعتبارہ بالتحریك لان غلبۃ الظن امرباطنی یختلف وتحریك الطرف الاخر حسی مشاھد لایختلف مع ان کلامنھمامنقول عن ائمتناالثلثۃفی ظاھرالروایۃولم ارمن تکلم علی ذلك ویظھرلی التوفیق بان المراد غلبۃ الظن بانہ لوحرك لوصل الی الجانب الاخراذالم یوجد التحریك بالفعل فلیتأمل اھ ملخصا۔
اقول : ھذاالذی ابداہ من التوفیق حسن بالقول حقیق فان من وجدفی البریۃماء فی احد جانبیہ نجاسۃفھل یؤمران یتوضأفی الطرف الاخرکی یجرب علی نفسہ انہ یتحرك ام لافان وجدہ یتحرك فلیجتنب وای شیئ یجتنب وقد
نہ ہو اورمعراج میں ہے کہ ظاہرمذہب یہی ہے۔ اور زیلعی میں ہے کہ یہی ظاہرمذہب ہے اورمتقدمین کا قول ہے یہاں تك کہ بدائع اورمحیط میں ہے کہ ہمارے اصحاب متقدمین کی روایت اس پرمتفق ہے کہ اعتبارہلانے کاہے اس کے ساتھ ہی پانی اوپرنیچے ہونے لگے نہ کہ دیر بعد اورعام حرکت کااعتبارنہیں اور معتبروضوکی حرکت ہے یہی اصح ہے محیط اورحاوی قدسی۔ اورتجھ پریہ بات مخفی نہ ہونی چاہئے کہ غالب ظن کا اعتباربلا تقدیرشیئ یہ ظاہرمیں حرکت کے اعتبارکے مخالف ہے کیونکہ غلبہ ظن ایك باطنی امرہے جس میں اختلاف ہوتا ہے اوردوسرے کنارہ کوحرکت دیناایك حسی امر ہے جس کامشاہدہ ہوتا ہے اوراس میں کوئی اختلاف نہیں ہوتاپھریہ دونوں چیزیں ہمارے ائمہ ثلثہ سے ظاہرروایت میں منقول ہیں اورمیں نے نہیں دیکھاکہ کسی نے اس پرکلام کیاہو اس میں تطبیق کی شکل میرے نزدیك یہ ہوسکتی ہے کہ جب بالفعل تالاب کوحرکت نہ دی جائے تواس امرکاغلبہ ظن ہوناچاہیے کہ اگرحرکت دی جاتی تودوسرے کنارے پر حرکت پیدا ہوتی فلیتأمل اھ ملخصا۔ (ت)
میں کہتاہوں تطبیق کی جوشکل انہوں نے پیش کی ہے نہایت مستحسن ہے کیونکہ اگرکوئی شخص جنگل میں پانی کا تالاب پائے جس کے ایك کنارہ پرنجاست ہوتواب کیایہ معقول بات ہوگی کہ اسے حکم دیاجائے جاؤ اس کے دوسرے کنارے سے وضوکرکے تجربہ کروکہ آیااس طرح دوسرے کنارے پرحرکت ہوتی ہے
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۱
#12296 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
تلوث فاذن لیس المراد الاان یغلب علی ظنہ انہ ان توضأ تحرك فمافی القول الاول بیان للمقصود وماھنابیان لمعرفہ فان خلوص النجاسۃامرباطنی لایوقف علیہ و وصول الحرك یعرفہ فمایظن فیہ ھذاھو المظنون فیہ ذاك ومالافلا ثم(۱)المنقول فی البئراذاانغمس فیھا محدث ولوجنبانزح عشرین دلواففی ردالمحتارعن الوھبانیۃ
مذھب محمداھ یسلبہ الطھوریۃوھوالصحیح عند الشیخین فینزح منہ عشرون لیصیر طھورا اھ قال والمرادبالمحدث مایشمل الجنب
ثم(۲)وقع بینھم النزاع فی ان الصھریج وھوعلی مانقل الشافعیۃعن القاموس الحوض الکبیرھل ھوکالبئرفیکفی فیہ نزح البعض حیث یکفی ام کالزیرفیجب اخراج الکل وغسل السطوح للتطھیر بالاول افتی بعض معاصری العلامۃ
عمربن نجیم صاحب النھرمتمسکاباطلاقھم البئرمن دون تقییدبالمعین و ردہ فی النھر تبعا للبحربمافی البدائع والکافی وغیرھمامن ان الفأرۃ لو وقعت فی الحب یھراق الماء کلہ قال ووجہہ ان الاکتفاء بنزح البعض فی الابارعلی خلاف القیاس بالاثارفلایلحق بھاغیرھاثم قال وھذاالردانما
یا نہیںاب اگرحرکت محسوس کرے تووضونہ کرے اوراب بچ کیسے سکتا ہے جبکہ اس کے اعضاء اس گندے پانی میں ملوث ہوچکے ہیں لہذاغلبہ ظن سے مرادیہی ہے کہ اگروہ وضوکرے تودوسرے حصہ پرحرکت ہوگی توپہلے قول میں مقصودکابیان ہے اوریہ معرفت کابیان ہے کیونکہ نجاست کادوسری جانب پہنچناایك باطنی امرہے اس پراطلاع نہیں ہوتی ہے اورحرکت کے پہنچنے سے معلوم ہوتاہے جہاں اس کاگمان ہے وہاں اس کابھی ہے اس کانہیں تواس کابھی نہیں پھرکنویں کے بارے میں یہ منقول ہے کہ اگربے وضویا جنب کنویں میں غوطہ لگائے تواس سے بیس ڈول پانی نکالاجائیگا۔ ردالمحتارمیں وہبانیہ سے منقول ہے کہ محمدکامذہب یہ ہے کہ طہوریت سلب ہوجائیگی اورشیخین کے نزدیك یہی صحیح ہے تواس سے بیس ڈول نکالے جائیں گے تاکہ وہ طہورہوجائے اھ فرمایااورمحدث میں جنب بھی شامل ہے پھرفقہاء میں یہ اختلاف واقع ہوا کہ جو صہریج___ شافعیہ نے قاموس سے نقل کیاکہ اس سے مرادبڑاحوض ہے ایك قول یہ ہے کہ وہ کنویں کی طرح ہے تواس کاکچھ پانی نکالناکافی ہوگایازیر(سوتا)کی طرح ہے اورکل پانی نکالنا ہو گا او ر اس کی سطحوں کو بھی دھوناپڑے گا پہلے قول کے مطابق علامہ عمربن نجیم صاحب نہرکے بعض معاصرین نے فتوی دیا اورفقہاکے اس اطلاق سے استدلال کیاکہ انہوں نے کنویں میں سوتے والے اور
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی البئر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۵۷
#12297 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
یتم بناء علی ان الصھریج لیس من مسمی البئرفی شیئ اھ قال الشامی ای فاذاادعی دخولہ فی مسمی البئرلایکون مخالفاللاثارویؤیدہ ماقدمناہ من ان البئرمشتقۃ من بأرت ای حضرت والصھریج حفرۃفی الارض لاتصل الیدالی مائھابخلاف العین والحب والحوض والیہ مال العلامۃالمقدسی فقال مااستدل بہ فی البحرلایخفی بعدہ واین الحب من الصھریج لاسیما الذی یسع الوفاء من الدلاء اھ لکنہ خلاف مافی النتف ونصہ اماالبئرفھی التی لھا موادمن اسفلھااھ ای لھامیاہ تمد وتنبع من اسفلھاولایخفی انہ علی ھذاالتعریف یخرج الصھریج والحب والابارالتی تملاءمن المطراومن الانھار اھ مافی ردالمحتار باختصار۔
اقول : (۲)وکون البئرمن البأریقتضی ان کل بئر محفورۃلاان کل محفوربیرولاتنس ماحکوہ فی القارورۃ والجرجیروفی الدر
بغیرسوتے والے میں فرق نہ کیا اس کو نہر میں بحرکی متابعت میں ردکیا کیونکہ بدائع اورکافی وغیرہ میں ہے کہ گڑھے میں چوہیاگرجائے توکل پانی نکالا جائیگا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کنویں سے کچھ پانی کانکالنا خلاف قیاس ہے اورآثارکی وجہ سے ہے توکنویں کے علاوہ کسی اورچیزمیں یہ خلاف قیاس نہ چلے گا پھر فرمایایہ رداس بناء پرہے کہ صہریج پربئرکااطلاق نہیں ہوتااھ۔ شامی نے کہاجب یہ دعوی کیاجائے کہ اس پر بھی بئرکااطلاق ہوتاہے توآثارکے مخالف نہ ہوگااوراس کی تائیداس سے ہوتی ہے کہ بئربأرت سے مشتق ہے یعنی “ حفرت “ (میں نے کھودا)صہریج اس گڑھے کوکہتے ہیں جس کے پانی تك ہاتھ نہ پہنچتا ہو عین حب حوض اس کے برعکس ہے اوراسی طرف علامہ مقدسی مائل ہوئے ہیں اورفرمایاجس سے بحر نے استدلال کیا سے اس کابعدمخفی نہ رہے اورحب اورصہریج میں بڑا فرق ہے خاص طورپروہ جس میں وفاڈول کی گنجائش ہواھ مگریہ نتف کے خلاف ہے اوراس کی عبارت یہ ہے اورکنواں وہ ہے جس کے نیچے سے سوتے ہوں اھ یعنی نیچے سے پانی نکلتارہتاہو اورمخفی نہ رہے کہ صہریج حب اورکنویں جو بارش سے بھرجاتے ہیں یانہروں سے وہ اس تعریف سے خارج ہیں اھ ردالمحتارمختصرا(ت)
میں کہتا ہوں بئر کا بأر سے مشتق ہونااس امرکامقتضی ہے کہ ہربئرکھودا ہوا ہو یہ نہیں کہ ہرکھوداہوا بئرہو اور تم اس کو نہ بھلاناجوانہوں نے قارورہ اورجرجیرکے بارے میں حکایت کیا ہے
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی البئر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۵۹
ردالمحتار فصل فی البئر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۵۹
ردالمحتار فصل فی البئر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۵۹
#12298 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
المختارعن حواشی العلامۃ الغزی صاحب التنویرعلی الکنز عن القنیۃ ان حکم الرکیۃ کالبئروعن الفوائدان الحب المطموراکثرہ فی الارض کالبئرقال فے الدروعلیہ فالصھریج والزیرالکبیرینزح منہ کالبئر فاغتنم ھذاالتحریر اھ
قال الشامی الرکیۃ فی العرف بئریجتمع ماؤھامن المطرفھی بمعنی الصھریج قال وھذا مسلم فی الصھریج(۱)دون الزیر لخروجہ عن مسمی البئروکون اکثرہ مطمورای مدفونا فی الارض لایدخلہ فیہ لاعرفاولالغۃ ومافی الفوائدمعارض باطلاق مامرعن البدائع والکافی وغیرھماوفرق ظاھربینہ وبین الصھریج کماقدمناعن المقدسی اھ مختصرا۔
اقول : ھذامن الحسن بمکان(۲)لکن عـــہ لایظھر التفرقۃ بین الحوض والصہریج فان(۳)عدم وصول الیدالی الماء لیس داخلافی مسمی البئر ولا الصھریج وانماالبئرکماذکر من البأربمعنی الحفر او منہ بمعنی الادخارویختلف قرب مائھاوابتعادہ باختلاف الارض والفصول ففی الاراضی الندیۃ وابان المطر
اوردرمختارمیں حواشی علامہ غزی صاحب تنویر کنز پر قنیہ سے ہے کہ “ رکیہ “ کاحکم کنویں کاساہے اورفوائد سے ہے کہ حب مطمورکااکثرحصہ اگرزمین کے اندرہوتووہ کنویں کی طرح ہے درمیں فرمایااس سے معلوم ہوتاہے کہ صہریج اورزیرکبیرسے کنویں کی طرح پانی نکالاجائیگااس تحریر کو غنیمت جانواھ۔ شامی نے فرمایاکہ رکیہ عرف میں اس کنویں کوکہتے ہیں جس میں بارش کاپانی اکٹھاہوجاتاہے تویہ صہریج کے معنی میں ہے فرمایایہ صہریج میں مسلم ہے زیرمیں نہیں کیونکہ اس پربئرکااطلاق نہیں ہوتا ہے اوراس کابیشتر حصہ زمین میں مدفون اور دھنساہواہوتا
ہے لہذاوہ عرفااور لغۃکنواں نہیں ہے اورجوفوائدمیں ہے وہ بدائع اورکافی وغیرہ کے اطلاق کے معارض ہے اور اس میں اور صہریج میں واضح فرق ہے جیسا کہ ہم نے مقدسی سے نقل کیا اھ مختصرا۔ (ت)
میں کہتا ہوں یہ ایك اچھی بات ہے لیکن اس سے حوض اورصہریج میں فرق ظاہر نہیں ہوتاکیونکہ پانی تك ہاتھ کانہ پہنچ سکناکنویں کے مفہوم میں شامل نہیں ہے اورنہ صہریج کے مفہوم میں ہے جیساکہ ہم نے ذکر کیابئر بأرسے ہے جس کے معنی کھودنے کے ہیں یابمعنی ذخیرہ کرنے کے ہیں اور اس کے پانی کا قریب وبعید ہونا زمین اور موسموں کے اختلاف سے

عـــہ ناظرا الی قولہ السابق بخلاف العین والحب والحوض اھ منہ(م)
جو اس کے قول سابق بخلاف العین والحب والحوض اھ منہ(ت)
حوالہ / References درمختار ، فصل فی البئر ، مجتبائی دہلی ۱ / ۳۹)
رد المحتار ، فصل فی البئر ، مصطفی البابی ۱ / ۱۵۹)
#12299 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
یقترب جدال سیمابقرب الانھارالکبارحتی رأینا من الابارماینال ماؤھابالایدی واذاسالت السیول ترعت واستوت بالارض وھی التی تسمی بالھندیۃ چویا والحیاض کثیراماتکون بعیدۃ الغور حتی اذا ملئت الی قدرالنصف اوازید منہ قلیلالاتصل الایدی الی مائھا واذاامتلأت وصلت وکذلك الزیر الکبیر وما الصھریج الاحوضایجتمع فیہ الماء کمارأیتہ فی نسختی القاموس وعلیھاشرح فی تاج العروس ومثلہ فی مختارالرازی وفی الصراح صھریج بالعکس حوض چہ اب اھ وعلی مااثرتم عن القاموس ھوالحوض الکبیر یجتمع فیہ الماء و ھذا ایضا لا یزیدعلی الحوض الا بقید الکبر و الحوض حوض صغراوکبرولاشك ان الصھریج وان بعد قعرہ یملؤہ الوادی اذاسال فتراہ یتدفق بماء سلسال وقدقال ذوالرمۃ
صوادی الھام والاحشاء خافقۃ
تناول الھیم ارشاف الصہاریج
فاذاکانت الابل ترتشف ارشافھابشفاھھافمابال الایدی لاتصل الی میاھھا والعلامۃ المقدسی انما یمیل الی التفرقۃ بین الحب والصہریج بالحرج البین فی تفریغ الصہاریج وغسلھا ونشفہا کالبئر بخلاف الزیروالیہ یشیرقولہ لا سیما الذی یسع الوفا اذا علمت
ہوتا ہے چنانچہ ترزمینوں اور بارش کے موسم میں بہت قریب ہوتا ہے خاص طور پر بڑی بڑی نہروں کے قریب یہاں تك کہ ہم نے بعض کنویں ایسے دیکھے جن میں سے ہاتھ سے پانی نکالا جاسکتا ہے اور سیلاب کے موسم میں تو یہ کنویں منہ تك بھر جاتے ہیں ہندی میں اس کو “ چویا “ کہتے ہیں اور کسی حوض کی گہرائی زیادہ ہوتی ہے یہاں تك کہ جب وہ آدھے بھر جائیں یااس سے زائد تب بھی ان کے پانی تك ہاتھ نہیں پہنچ پاتا ہے جب بھر جاتے ہیں تب ہاتھ پہنچتا ہے اور یہی حال بڑے زیر کا ہے اور صہریج بڑے حوض کو کہتے ہیں جس میں پانی اکٹھا ہوجاتاہے میرے قاموس کے نسخہ میں یہی ہے اورتاج العروس میں اس کی شرح ہے اور یہی چیز مختار الرازی میں ہے اور صراح میں ہے صہریج بالکسر پانی کاچھوٹاحوض اھ اور جس کو تم نے جو قاموس کے حوالہ سے ذکر کیاہے کہ صہریج بڑاحوض ہے جس میں پانی جمع ہوتاہے اور یہ بھی حوض ہی ہے صرف بڑا ہوتاہے اور حوض تو حوض ہی ہوتا ہے خواہ بڑا ہو یا چھوٹا اور اس میں شك نہیں کہ صہریج خواہ کتنا ہی گہرا ہو اس کو وادی بھرتی ہے جب وہ بھر جاتاہے تو اس سے پانی اچھل کر نکلتا ہے۔
ذو الرمہ نے کہا ہے :
صوادی الھام والاحشاء خافقۃ
تناول الھیم ارشاف الصہاریج
(پتلی کمر والی اشراف عورتیں اس طرح سیراب ہوتی ہیں جیسے پیاسے اونٹ حوضوں کے بقیہ پانی کوپیتے ہیں)
تو جب اونٹ اپنے ہونٹوں سے حوض سے پانی پیتے ہیں توہاتھ پانی تك کیوں نہیں پہنچتے ہیں
حوالہ / References الصراح باب الجیم فصل الصاد مطبع مجیدی کانپور ص۸۸)
#12300 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
ھذا فاعلم انالواقتصرنافی المسألۃ علی مازعمہ العلامتان قاسم والبحر وتبعہ کثیرممن جاء بعدہ من الاعلام ان المستعمل لیس الامالاقی البدن لم نحتج الی الامربنزح شیئ اصلالان الملاقی اقل بکثیرمن الباقی فالطھوریۃ لم تسلب حتی تحلب لکنہ خلاف نصوص ائمۃ المذھب المنقول فی الکتب المعتمدۃ اجماعھم علیہ فوجب الرجوع الی المذھب واعتری ح الخلاف بین انہ کالبئر اوکالزیر فعملنابالایسرعندالحرج وبالجراء اوتفریغ الاکثرحیث لاحرج کی یصیر جاریا او المطلق اکثراجزاء وباجماع یجزئ فی الطھور اجزاء فھذاتحقیق ماعولناعلیہ والحمدلله ومنہ والیہ ھکذاینبغی التحقیق والله سبحنہ وتعالی ولی التوفیق وماذکرنامن مسألۃ الاجراء فتحقیقہ فی ردالمحتار وقدذکرناہ فی مواضع من فتاونا۔
اور علامہ مقدسی “ حب “ اور “ صہریج “ میں فرق کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ صہاریج کو خالی کرنے میں بہت حرج ہوتاہے اسی طرح ان کو دھونا اور سکھانا بھی مشکل ہے جیسے کنواں بخلاف “ زیر “ کے اوراسی طرف انہوں نے اپنے اس قول سے اشارہ کیاہے کہ “ خاص طورپر وہ جس میں “ وفا “ سما سکے جب آپ نے یہ جان لیا تو اب معلوم ہونا چاہئے کہ ہم اگر مسئلہ میں علامہ قاسم اور بحر اور ان کے پیروکاروں کی طرح صرف اسی پراکتفاء کرتے کہ مستعمل صرف وہی ہے جو بدن سے ملاقی ہو تو ہمیں کچھ پانی نکالنے کا حکم دینے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ جو ملاقی ہے وہ بہت ہی کم ہوتا ہے بہ نسبت باقی کے تو طہوریت اس وقت تك سلب نہ ہوگی جب تك کہ آزمایا نہ جائے لیکن یہ ائمہ مذہب کے نصوص کے خلاف ہے جو کتب معتمدہ میں منقول ہیں اوراسی پر ان کا اجماع ہے تو مذہب کی طرف رجوع لازم ہے اور اس وقت اختلاف ظاہر ہوا ہے درمیان اس کے کہ آیا یہ کہ کنویں کی طرح ہے یا زیر کی طرح ہے اور ہم نے جو أیسر تھااس پر عمل کیاحرج کے جاری کرنے کے وقت اور اکثر کے خالی کرنے کا حکم اس جگہ دیا جہاں کوئی حرج نہ ہو تاکہ وہ جاری ہوجائے یا مطلق کے اجزاء زیادہ ہوں اس کی طہوریت کیلئے اجماع کافی ہے یہ وہ تحقیق ہے جو ہم نے بیان کی۔ تمام تعریف اللہ کی اس سے اسی کیلئے ہے تحقیق کو یہی لائق تھا اللہ سبحان بلند توفیق کا والی ہے ہم نے اجراء کے مسئلہ کی جو تحقیق بیان کی ہے وہی ردالمحتار میں ہے اپنے فتاوی میں ہم نے بہت جگہ ذکر کیاہے۔ (ت)
رہا زید کا کہنا کہ کوئی شخص متواتر داخل ہو توپلید ہوجائے گااس کا محض غلط ہونا تو ظاہر ہے کہ جس روایت پر مستعمل پانی نجس ہے پانی ایك ہی بار سے پلید ہوجائے گااور صحیح ومعتمد مذہب پر لاکھ بار سے بھی پلید نہ ہوگا
#12301 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
ہاں علامہ زین قاسم وعلامہ زین بن نجیم کی نظر اس میں مختلف ہوئی کہ بکثرت آدمیوں کے نہانے سے حوض صغیر کا سب پانی مستعمل ہوجائے گا یا نہیں اول نے ثانی اور ثانی نے اول کا استظہار کیا۔
اقول : عندی الاظھر ھو الثانی(میرے نزدیك اظہر ثانی ہے۔ ت)مگر اس کی بنا ان کے اس خیال پر ہے کہ پانی کا جو حصہ بدن سے ملااتنا ہی مستعمل ہوتا ہے تو ایك آدمی کے نہانے سے سارا پانی کیونکر مستعمل ہوسکتا ہے ہاں بہت سے نہائیں تو یہ شبہ جاتاہے کہ پانی کے جتنے حصے ان سب کے بدن سے ملے وہ باقی پانی کے برابر یااس سے زائد ہوجائیں تو سب مستعمل ہوجائیگا مگر وہ خیال صحیح نہیں مذہب معتمد وصحیح یہی ہے جو پانی آب کثیر کی حد کو نہ پہنچاہو وہ ایك آدمی کا نہاناکیا ناخن کا ایك کنارہ بے ضرورت ڈوب جانے سے سب مستعمل ہوجاتا ہے وقد نقلوا علیہ الاجماع فی غیر ماکتاب والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۳۱ : مرسلہ ڈاکٹر محمد واعظ الحق صاحب سعد اللہ پوری ڈاکخانہ خسرو پور ضلع پٹنہ ۲ربیع الآخر ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بارش کا پانی اگر کسی خندق میں جمع ہوجائے اور وہ خندق دس گز سے لمباچوڑازیادہ ہو مگر بستی کے قریب ہو اور اس میں بستی کاپانی جاتا ہو اس میں غسل کرنا اور وضو بنانا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
جس خندق کی مساحت دہ در دہ ہے یعنی طول وعرض کے ضرب دیے سے سو ہاتھ حاصل ہوں مثلا دس ۱۰ ہاتھ طول ہو دس۱۰ ہاتھ عرض یا بیس۲۰ ہاتھ طول پانچ۵ہاتھ عرض یاپچاس۵۰ ہاتھ طول دو۲ ہاتھ عرض اور ان سب صورتوں میں اس کا گہراؤ اتنا ہو لپ میں پانی لینے سے زمین نہ کھل جائے تو اب اس میں دو صورتیں ہیں اگرپہلے اس میں بارش کا پانی بھر گیااس کے بعد گھروں کاپانی پاك ناپاك ہر طرح کا خواہ صرف ناپاك ہی آکر ملا تو جب تك خاص نجاست کے سبب اس کے رنگ یا بو یا مزے میں تغیر نہ آئے پانی پاك رہے گا اور اس سے وضو وغسل جائز اور اگر پہلے بستی کا پانی اس میں آکر مستقر ہوگیا تو اولا یہ نظر کرنا ہے کہ وہ پانی ناپاك بھی تھایا نہیں اگرناپاك نہ تھا جب تو ظاہر ہے مثلاپانی برسااور مکانوں کے ہر گونہ پانیوں کو اپنے ساتھ بہاکر اس خندق میں لایا اور اس کے رنگ مزے بو کسی میں نجاست کے باعث تغیر نہ آیاتو وہ ناپاك بھی اس کے ساتھ بہ کر پاك ہوگئے لان الماء الجاری یطھر بعضہ بعضا(کیونکہ جاری پانی بعض ناپاك پانی کو پاك کردیتا ہے۔ ت)یا پہلے سے ناپاك پانی خندق میں تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اوراب کوئی پاك پانی ایسا بہتا آیا کہ بہاؤ ٹھہرنے سے پہلے وہ دہ در دہ ہوگیا یہ بھی صورت طہارت کی ہے کہ جب تك بہ رہا تھا قابل نجاست نہ تھا اور ٹھہرا تو اس وقت کہ دہ در دہ ہو کر حکم جاری میں ہوچکا تھا لہذا کوئی وقت اس نے وصف نجاست قبول کرنے کانہ پایا اور اگر پانی ناپاك تھا خواہ یوں کہ نجاست نے
#12302 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
بہتے پانی کا کوئی وصف مذکور بدل دیا یا یہ کہ پہلے خالص ناپاك پانی خندق میں پہنچ لیااس کے بعد بارش وغیرہ کا پانی تھوڑا تھوڑا اس میں آتا گیا جتنا ملا ناپاك ہوتا گیا یا پہلے سے پاك پانی خندق میں دہ در دہ سے کم جگہ میں تھا اس پر خالص ناپاك پانی واردہوا تو اس میں پھر دو صورتیں ہیں اگر بارش تھوڑی سی ہوئی کہ وہ پانی اس ناپاك میں مل کر رہ گیا تو وہ بھی ناپاك ہوگیاا ور اگر بارش زور سے ہوئی کہ بکثرت پانی بہتا آیا جس نے اس خندق کو بھر کر ابال دیاکہ پانی کناروں سے چھلك گیا تو اب سب پاك ہے واللہ تعالی اعلم۔
مسئلہعـــہ۳۲ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حوض دہ در دہ میں گز شرعی کی مقدار کیا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
علماء رحہم اللہ تعالی کو دربارہ مساحت حوض کبیر کہ دہ در دہ قرار پایا ہے تعیین گز میں تین قول پراختلاف ہے
قول اول : معتبر ذراع کرباس ہے اور اسی کو ذراع عامہ کہتے ہیں یعنی کپڑوں کا گز۔ اسی قول کی طرف اکثر کا رجحان رائے اور اسی کو درر وظہیریہ و خلاصہ وخزانہ ومراقی الفلاح وعالمگیریہ وغیرہا میں اختیار کیا اور شرح زاہدی وتجنیس اور فتاوی کبری پھر قہستانی پھر درمختار میں اسے مختار اور نہایہ میں صحیح اور ہدایہ میں مفتی بہ اور ولوالجیہ میں الیق واوسع کہا ۔ پھرخود(۱)ذراع کرباس کی تقدیر میں اختلاف واقع ہوا امام ولوالجی نے سات۷ مشت قرار دیا ہر مشت چار۴ انگل مضموم تو اٹھائیس ۲۸ انگل کا گز ہوا ہمارے یہاں کی نوگرہ۹سے زائد اور دس۱۰ گرہ سے کم یعنی ۹-9 1۱ / ۳3 گرہ۔ اس قول پر نہایہ پھر جامع الرموز پھر درمختار اور باتباع والوالجی فاضل ابرہیم حلبی نے شرح منیہ میں اقتصارکیامگر جمہور علماء کے نزدیك ذراع کرباس چھ۶ مشت کا ہے ہر مشت چار۴ انگل مضموم اور اسی طرف رجحان روئے علامہ محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام کا ہے اور یہی عالمگیریہ میں تبیین اور بحرالرائق میں کتب کثیرہ سے منقول پس قول راجح میں یہ گز چوبیس۲۴ انگل کا ہوا کہ ایك ہاتھ ہے تو ہمارے یہاں کا آدھ گز ٹھہرا۔
قول دوم : اعتبار ذراع مساحت کا ہے امام علامہ فقیہ النفس اہل الافتاء والترجیح امام فخرالدین قاضی خان اوز جندی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تعالی نے خانیہ میں اسی قول کی تصحیح اور قول اول کا رد کیا طحطاوی حاشیہ مراقی الفلاح میں اس پر بھی حکایت فتوی واقع ہوئی اور بیشك من حیث الدلیل اسے قوت ہے۔ اس گز(۱)کی تقدیر میں اقوال مختلفہ وارد ہوئے مضمرات میں سات مشت ہر مشت کے ساتھ ایك انگل قرار دیا کہ مجموع پینتیس انگل ہمارے
عـــہ : یہ فتوی فتاوائے قدیمہ کے بقایا سے ہے جو مصنف نے اپنے صغر سن لکھے تھے ۱۲(م
#12303 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
گز سے 11۱۱- ۲2 / ۳3 گرہ ہواعلامہ کرمانی نے سات مشت چھ مشت معمولی اور ساتویں میں انگوٹھا پھیلا ہوا کہ یہ بھی تخمینا گیارہ گرہ کے قریب ہوا مگر یہ دونوں قول شاذ ہیں قول جمہور کہ عامہ کتب میں مصرح سات مشت ہے ہر مشت نرانگشت کشادہ یعنی ساڑھے تین فٹ کہ اس گز سے کچھ اوپر ساڑھے اٹھارہ گرہ ہوا یعنی 18۱۸- ۲2 / ۳3 گرہ۔
قول سوم : ہر شہر ودیار وہر عہد و زمانہ میں گزرائج کا اعتبار ہے محیط میں اسی کو اصح اور نہر میں انسب کہا اور کافی میں بھی یہی اختیار کیا مگر علمائے متاخرین اس قول کو رد کرتے اور من حیث الدلیل نہایت ضعیف بتاتے ہیں اور نظر فقہی میں معلوم بھی ایسا ہی ہوتا ہے
وھذہ نصوص العلماء فی الھدایۃ للامام برھان الدین المرغینانی قدس سرہ الربانی بعضھم قدر وابا لمساحۃ عشرافی عشربذراع الکرباس توسعۃ للامرعلی الناس وعلیہ الفتوی وفی فتح القدیرللامام المحقق علی الاطلاق قولہ بذراع الکرباس ھوست قبضات لیس فوق کل قبضۃ اصبع قائمۃ وھل المعتبر ذراع المساحۃ اوذراع الکرباس اوفی کل زمان ومکان حسب عاداتھم اقوال وفی الخانیۃ للامام فخرالدین رحمہ الله تعالی یعتبر فیہ ذراع المساحۃ لاذراع الکرباس ھو الصحیح لان ذراع المساحۃ بالممسوحات الیق وفی شرح المنیۃ للعلامۃ ابن امیر الحاج ھل المعتبر ذراع الکرباس اوذراع المساحۃ ذھب بعضھم الی الاول فی الھدایۃ وعلیہ
اور یہ علماء کے نصوص ہیں برہان الدین مرغینانی کے ہدایہ میں مذکور ہے بعض نے تو پیمائش دہ در دہ کرباس کے ذراع سے کی ہے تاکہ لوگوں کیلئے فراخی ہو اوراسی پر فتوی ہے
فتح القدیرمیں ہے “ بذراع الکرباس “ یہ چھ مشت کاہوتا ہے ہر مشت پر انگلی زائد نہ کی جائے اب رہا یہ سوال کہ معتبر ذراع مساحۃ ہے یا ذراع کرباس ہے یا ہرزمانہ ومقام میں ان کی عادت کے مطابق ہے اس میں مختلف اقوال ہیں
امام فخرالدین نے خانیہ میں ذراع مساحت کااعتبار کیاکرباس کانہیں یہی صحیح ہے اس لئے کہ مساحۃ کا ذراع ممسوحات کے زیادہ لائق ہے۔ علامہ ابن امیر الحاج کی شرح منیہ میں ہے کہ آیا ذراع کرباس کا اعتبار ہے یا ذراع مساحۃ کاکچھ لوگ پہلے قول کی طرف گئے ہیں جیسا کہ ہدایہ میں ہے اور اسی پر فتوی ہے اور شرح زاہدی میں ہے یہی مختار ہے اور بعض نے دوسرے قول کو لیا ہے قاضیخان نے کہا کہ یہی صحیح ہے کیونکہ مساحۃ کا گز
حوالہ / References ہدایہ فصل فے البئر مطبع عربیہ کراچی ۱ / ۲۰
فتح القدیر فصل فے البئر نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۰
فتاوٰی خانیۃ المعروف قاضی خان فصل فے الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴
#12304 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
الفتوی وفی شرح الزاھدی وھو المختار وذھب بعضھم الی الثانی قال قاضی خان ھو الصحیح لان ذراع المساحۃ بالممسوحات الیق وفی فتاوی الولوالجی الحوض الکبیر لما کان مقدرا بعشرۃ اذرع فی عشرۃ اذرع فالمعتبر ذراع الکرباس دون المساحۃ وھی سبع مشتات ای سبع قبضات لیس فوق کل مشت اصبع قائمۃ لان ذراع المساحۃ سبع مشتات فوق کل مشت اصبع قائمۃ فالاول الیق للتوسع انتھی والمراد بالاصبع القائمۃ ارتفاع الابھام کما فی غایۃ البیان فظھران ذراع الکرباس اقصر من ذراع المساحۃ فبسبب ذلك وقع الترفیۃ للناس بالتقدیر بھا ونقلوا عن المحیط انہ یعتبر فی کل زمان ومکان ذراعھم وعلیہ مشی فی الکافی اھ وفی الشرح الکبیر لابراھیم الحلبی المعتبر فی الذراع ذراع الکرباس وھو سبع قبضات فقط وھو اختیار الامام اسحق بن ابی بکر الولوالجی فی فتاوہ لانہ اقصر فیکون ایسرواختار قاضیخان فی فتاوہ ذراع المساحۃ وھو سبع قبضات باصبع قائمۃ فی القبضۃ الاخیرۃ وقیل فی کل قبضۃ قال قاضی خان لانہ یعنی الغدیر المقدرمن الممسوحات فکان ذراع المساحۃ
ممسوحات کے زائد لائق ہے اور فتاوی ولوالجی میں ہے کہ بڑا حوض جو دہ در دہ ہوتا ہے اور اس میں معتبر کرباس کا ذراع ہے نہ کہ مساحۃ کا اور وہ سات مشت ہے جس میں ہر مشت پر ایك انگلی کا اضافہ نہ ہو کیونکہ مساحۃکا گز سات مشت ہے جس میں ہر ایك مشت پر ایك کھڑی انگلی کا اضافہ ہو تو پہلا آسانی سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے انتہی اور کھڑی انگلی سے مراد انگوٹھے کی بلندی ہے جیساکہ غایۃ البیان میں ہے تو معلوم ہواکہ ذراع کرباس ذراع مساحت سے چھوٹاہے تو اسی سبب سے تقدیر ذراع میں لوگوں کیلئے آسانی ہوئی اور محیط سے نقل کیا ہے کہ ہر زمانہ اور ہر جگہ کا الگ گز معتبرہوگا اورکافی نے بھی یہی کہا ہے اھ اورابراہیم حلبی کی شرح کبیر میں ہے کہ معتبر ذراع کرباس ہے جو سات مشت ہوتا ہے فقط اوراسی کو امام اسحق بن ابی بکر الوالجی نے اپنے فتاوی میں پسند کیا ہے کیونکہ وہ چھوٹا ہوتا ہے تو اسی میں آسانی رہے گی اورقاضی خان نے اپنے فتاوی میں ذراع مساحۃ کو مختار کہاہے اور وہ سات مشت مع ایك کھڑی انگلی کے آخری مشت میں ہے اور بعض نے کہا کہ ہر مشت میں قاضی خان نے فرمایا یعنی تالاب جس کا اندازہ لگایا گیا ہے وہ ممسوحات سے ہے تو اس میں ذراع مساحۃ سے اندازہ لگانا زائد مناسب ہوگا اور محیط میں ہے اصح یہ ہے کہ ہر زمانہ اور ہر جگہ میں وہیں کا ذراع معتبر ہوگا
حوالہ / References حلیہ
#12305 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
فیہ الیق وفی المحیط والاصح ان یعتبرفی کل زمان ومکان ذراعھم وتبعہ صاحب الکافی کصاحب النھر الفائق وغیرہ وھذا عجیب وبعید جدا الی اخر ماقال وفی البحر الرائق للعلامۃ زین بن نجیم المصری اختلف المشائخ فی الذراع علی ثلثۃ اقوال ففی التجنیس المختار ذراع الکرباس واختلف فیہ ففی کثیر من الکتب انہ ست قبضات لیس فوق کل قبضۃ اصبع قائمۃ فھی اربع وعشرون اصبعا بعدد حروف لاالہ الاالله محمد رسول الله والمراد بالاصبع القائمۃ ارتفاع الابہام کما فی غایۃ البیان وفی فتاوی الولوالجی ان ذراع الکرباس سبع قبضات لیس فوق کل قبضۃ اصبع قائمۃ وفی فتاوی قاضی خان وغیرہ الاصح ذراع المساحۃ وھو سبع قبضات فوق کل قبضۃ اصبع قائمۃ وفی المحیط والکافی الاصح انہ یعتبر فی کل زمان ومکان ذراعھم من غیر تعرض للمساحۃ والکرباس وفی الفتاوی الھندیۃ المعتبر ذراع الکرباس کذا فی الظھیریۃ وعلیہ الفتوی کذا فی الھدایۃ وھی ذراع العامۃ ست قبضات اربع وعشرون اصبعا
صاحب کافی اورصاحب نہرالفائق وغیرہ نے اس کی متابعت کی اور یہ بہت عجیب ہے اور نہایت بعیدہے
اور علامہ زین بن نجیم المصری کی بحرالرائق میں ہے کہ مشائخ کے ذراع کی بابت تین اقوال ہیں تجنیس میں ہے کہ ذراع کرباس مختارہے اوراس میں اختلاف ہے کئی کتب میں ہے کہ یہ ایسی چھ مشت کے برابر ہے جن میں ہر مشت پر ایك کھڑی انگلی زائد نہ ہو تو گویا یہ چوبیس انگشت کے برابر ہے لاالہ الا الله محمد رسول الله کے حروف کی تعدادکے مطابق اور کھڑی انگلی سے مراد انگوٹھے کی بلندی ہے جیساکہ غایۃ البیان میں ہے اور فتاوی ولوالجی میں ہے کہ ذراع کرباس سات مشت بلاکھڑی انگلی کے اضافہ کے اورفتاوی قاضی خان وغیرہ میں ہے اصح یہ ہے کہ مساحۃ کا گز سات مشت مع ایك کھڑی انگلی کے اورمحیط اورکافی میں ہے کہ اصح یہ ہے کہ ہر زمان ومکان میں ان کا اپنا گز معتبر ہوگا اس میں مساحۃ اور کرباس کا کچھ ذکر نہیں اور فتاوی ہندیہ میں ہے معتبر ذراع کرباس ہے یہی ظہیریہ میں ہے اسی پر فتوی ہے ہدایہ میں یہی ہے اور یہ عام گز ہے جو چھ مشت یعنی چوبیس انگشت کا ہوتا ہے یہی تبیین میں ہے فاضل قہستانی کی جامع الرموز میں ہے کہ ذراع میں اختلاف ہے تو محیط میں ہے اصح یہ ہے کہ ہر زمان ومکان کا اپنا اپنا گز معتبر ہوگا
حوالہ / References غنیۃ المستملی فصل فی احکام الحیاض سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۹۸۹
بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۶
#12306 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
کذا فی التبیین اھ وفی جامع الرموز للفاضل القہستانی اختلف فی الذراع ففی المحیط الاصح ذراع کل مکان وزمان وفی فتاوی قاضی خان الصحیح ذراع المساحۃ وھی سبع قبضات واصبع قائمۃ فی کل مرۃ کما فی الولوالجی اوالمرۃ السابعۃ کما فی الکرمانی اواصبع موضوعۃ فی کل مرۃ کما فی سیرالمضمرات وفی النھایۃ الصحیح ذراع الکرباس وھی سبع قبضات کل قبضۃ اربع اصابع وھو المختار کما فی الکبری وفی الدرالمختار للفاضل علاء الدین الحصکفی فی القہستانی والمختار ذراع الکرباس وھو سبع قبضات فقط وفی حاشیتہ للعلامۃ السید احمد الطحطاوی واما ذراع المساحۃ فسبع قبضات فوق کل قبضۃ اصبع قائمۃ وفی ردالمحتار للفاضل السید محمد امین الشامی قولہ والمختار ذراع الکرباس وفی الھدایۃ ان علیہ الفتوی واختارہ فی الدرر والظہیریۃ والخلاصۃ والخزانۃ وفی المحیط والکافی انہ یعتبر فی کل زمان ومکان ذراعھم قال فی النھر وھو الانسب قلت لکن ردہ فی شرح المنیۃ
فتاوی قاضی خان میں ہے صحیح ذراع مساحۃ جو سات مشت کہ ہر مشت پر ایك انگلی کھڑی ہو جیساکہ ولوالجی میں ہے یاساتویں مشت پر کھڑی انگلی ہو جیساکہ کرمانی میں ہے یا ایك لیٹی ہوئی انگل ہر مرتبہ جیساکہ سیر المضمرات میں ہے اور نہایہ میں ہے صحیح ذراع کرباس ہے اور وہ سات مشت ہے ہر مشت چار انگل ہے اور یہی مختار ہے جیساکہ کبری میں ہے اور فاضل علاء الدین حصکفی نے درمختار میں بیان فرمایا اور قہستانی میں ہے کہ پسندیدہ ذراع کرباس ہے اور وہ صرف سات مشت ہے اور اس کے حاشیہ میں علامہ سید احمد طحطاوی نے فرمایا ذراع مساحۃ سات مشت ہے ہر مشت پر ایك کھڑی انگشت اور سید محمد امین شامی نے ردالمحتار میں فرمایا ان کا قول والمختار ذراع الکرباس اورہدایہ میں اسی پر فتوی ہے اور درر ظہیریہ خلاصہ خزانہ میں اسی کو اختیار کیا ہے محیط اور کافی میں فرمایا کہ ہر زمان ومکان میں لوگوں کے گز کا اعتبار ہوگا نہر میں ہے کہ یہی انسب ہے۔ میں کہتا ہوں اس کو شرح منیہ میں رد کیا ہے کہ مقصود اس تقدیر سے غلبہ ظن ہے اس امر کا کہ نجاست دوسری طرف نہیں گئی ہے اوریہ چیز ایسی ہے کہ اس میں زمان ومکان کے اختلاف سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ان کا قول کہ وہ سات مشت ہے یہ ولوالجیہ میں ہے اور
حوالہ / References ہندیۃ فصل فی الماء الراکد نورانی پشاور ۱ / ۱۸
جامع الرموز بیان المیاہ گنبد ایران ۱ / ۴۸۹
درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶
طحطاوی علی الدر باب المیاہ بیروت ۱ / ۱۰۸
#12307 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
بان المقصودمن ھذاالتقدیر غلبۃ الظن بعدم خلوص النجاسۃوذلك لایختلف باختلاف الازمنۃ والامکنۃ قولہ وھو سبع قبضات ھذا مافی الولوالجیۃ وفی البحران فی کثیر من الکتب انہ ست قبضات الخ اھ والمراد بالقبضۃ اربع اصابع مضمومۃ نوح اقول وھو قریب من ذراع الید لانہ ست قبضات وشیئ وذلك شبران انتھی ملخصا وفی مراقی الفلاح للفاضل الشرنبلالی عشر فی عشر بذراع العامۃ انتھی مختصرا وفی حاشیتہ للفاضل الطحطاوی نقل صاحب الدر ان المفتی بہ ذراع المساحۃ وانہ اکبر من ذراعنا الیوم فالعشر فی العشر بذراعنا الیوم ثمان فی ثمان اھ
اقول : فیہ سھوبوجوہ وذلك ان عبارۃ الدر بتمامھا ھکذا فی القھستانی والمختار ذراع الکرباس وھو سبع قبضات فقط فیکون ثمانیافی ثمان بذراع زماننا ثمان قبضات وثلاث اصابع علی القول المفتی بہ بالعشر اھ فاولا(۱)
بحر میں ہے کہ بہت کتب میں چھ مشت ہے الخ اھ اور مشت سے مراد چار بندھی ہوئی انگلیاں ہیں نوح۔ میں کہتا ہوں یہ ہاتھ کے گز سے قریب ہے کیونکہ وہ چھ مشت اور تھوڑا زائد ہوتا ہے اور وہ دو بالشت ہوتا ہے انتہی ملخصا اورشرنبلالی کی مراقی الفلاح میں ہے کہ عام لوگوں کے گز سے دہ در دہ ہو انتہی مختصرا۔ اور فاضل طحطاوی کے حاشیہ میں ہے نیز صاحب در نے نقل کیا کہ مفتی بہ پیمائش والا گز ہے اور وہ ہمارے موجودہ گز سے بڑا ہے گویا آج کے اعتبار سے دہ در دہ آٹھ در آٹھ ہوا اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس میں کئی وجوہ سے سہو ہے کیونکہ در کی پوری عبارت اس طرح ہے ایسا ہی قہستانی میں ہے اور مختار کرباس کا گز ہے اور وہ صرف سات مشت ہوتا ہے تو ہمارے زمانہ کے گز کے اعتبار سے آٹھ ضرب آٹھ آٹھ مشت اور تین انگل ہوگا دس کے مفتی بہ قول پر اھ اولا انہوں نے صراحت
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۴
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۴
مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ الامیریہ مصر ص۱۶
حاشیۃ الطحطاوی مع مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ الامیریہ مصر ص۱۶
درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶
#12308 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
صریح نصہ اختیار ذراع الکرباس دون المساحۃ وثانیا : (۱)لیس فیہ ذکرالافتاء علی شیئ من تقادیر الذراع انما فیہ ان المفتی بہ ماعلیہ المتاخرون من تقدیرالکثر بعشر فی(۲)عشر وقد قال السید نفسہ فی حواشی الدر قولہ علی المفتی بہ ای الذی افتی بہ المتأخرون وقد علمت اصل المذھب اھ وثالثا من ابین(۳)سھوقولہ رحمہ الله تعالی انہ اکبر من ذراعنا وکیف تکون سبع قبضات اکبرمن ثمان(۴)واذکان عشر فی عشر بذاك ثمانیا فی ثمان بھذا فکل احد یعرف ان ھذا اکبر لاذاك ولا(۵)وجود لہ فی الدر ولا فی اصلہ القھستانی فلو قال رحمہ الله تعالی نقل الدران المختار ذراع الکرباس وانہ اصغر الخ لاصاب ثم حساب الدر تبعا لاصلہ ان عشرا فی عشر کثمان فی ثمان بینہ السید ط بان العشرۃ فی سبعۃ بسبعین والثمانیۃ فی مثلہا باربعۃ وستین قبضۃ والثمانیۃ فی ثلثۃ عـــہ اصابع باربع وعشرین اصبعاو ھی ست قبضات فتمت سبعین قبضۃ اھ
کی ہے کہ ذراع کرباس لیا جائے گا نہ کہ ذراع مساحت۔ ثانیا اس میں ذراع کی مقدار کی بابت کسی مفتی بہ قول کا ذکر نہیں ہے اس میں صرف اتنا ہے کہ مفتی بہ قول متأخرین کا قول ہے اور وہ یہ ہے کہ کثیر دہ در دہ کو کہتے ہیں اور سید نے خود حواشی در میں فرمایا ان کا قول علی المفتی بہ یعنی متأخرین کے مفتی بہ قول کے مطابق اور اصل مذہب تو آپ کو معلوم ہو ہی چکا ہے۔
ثالثا : سب سے بڑا سہو اس میں یہ ہوا ہے کہ انہوں نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ ہمارے زمانہ کے گز سے بڑا گز ہے اور سات مشت آٹھ مشت سے کیسے بڑا ہوسکتا ہے اور جب دہ در دہ برابر ہے اس آٹھ در آٹھ کے تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ بڑا ہے نہ کہ وہ اور در میں یہ نہیں پایا جاتا ہے اور نہ اس کی اصل قہستانی میں اگر وہ یہ فرما دیتے کہ در نے یہ نقل کیا ہے کہ مختار کرباس کا گز ہے اور وہ چھوٹا ہوتا ہے الخ تو درست بات ہوتی پھر در کا حساب اس کی اصل کی متابعت میں یہ ہے کہ وہ دہ در دہ ایسا ہے جیسا کہ آٹھ در آٹھ اس کو سید ط نے یوں بیان کیا کہ دس ضرب سات ستر ہوتے ہیں اور آٹھ ضرب آٹھ چونسٹھ ہوتے ہیں(یعنی اتنی مشت)اور آٹھ انگلیوں کو تین سے ضرب دیا جائے تو چوبیس انگلیاں ہوتی ہیں اور یہ چھ مشت ہوتی ہیں اس طرح ستر مشت

عـــہ کذا فی ط والاصوب ثلث بالتذکیر اھ منہ(م)
طحطاوی میں اسی طرح ہے اور ثلث بتذکیر ذکر کرنا زیادہ مناسب ہے۔ (ت)
حوالہ / References طحطاوی علی الدرالمختار باب المیاہ بیروت ۱ / ۱۰۸
طحطاوی علی الدرالمختار باب المیاہ بیروت ۱ / ۱۰۸
#12309 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اقول : وھوحساب حق صحیح لاغبارعلیہ اخذ فیہ عشرا فی عشر بذراع ھو سبع قبضات وثمانیا فی ثمان بذراع ھو ثمان قبضات وثلث اصابع وبین مساواۃ ضلع لضلع فانہ علی کل سبعون قبضۃ کما بین او مائتان وثمانون اصبعا لان الاول ثمان وعشرون اصبعاوالثانی خمس وثلثون واذا ضربت الاول فی عشرۃ والثانی فی ثمانیۃ اتحد الحاصل وھو ومساواۃ الضلع للضلع یوجب بالضرورۃ مساواۃ المربع للمربع لکن السید ش رحمہ الله تعالی رد علی الدر بقولہ کانہ نقل ذلك عن القھستانی ولم یمتحنہ وصوابہ فیکون عشرا فی ثمان وبیان ذلك ان القبضۃ اربع اصابع واذا کان ذراع زمانھم ثمان قبضات وثلاث اصابع یکون خمسا وثلاثین اصبعا واذا ضربت العشر فی ثمان بذلك الذراع تبلغ ثمانین فاضربھا فی خمس وثلاثین تبلغ الفین وثمان مائۃ اصبع وھی مقدار عشر فی عشر بذراع الکرباس المقدر بسبع قبضات لان الذراع حینئذ ثمانیۃ عـــہ وعشرون اصبعا والعشر فی عشر بمائۃ فاذا ضربت ثمانیۃ وعشرین فی مائۃ
پوری ہوئیں۔ (ت)
میں کہتا ہوں بلاشبہ یہ حساب صحیح ہے اس میں دہ دردہ کو اختیار کیا گیا ہے ایك ذراع کے لحاظ سے جو سات مشت ہو اورآٹھ درآٹھ کو ایسے ذراع کے ساتھ جو آٹھ مشت تین انگلی ہو اور ایك ضلع کادوسرے ضلع کے مساوی ہونابیان کیا کیونکہ یہ ہر قول پر ستر مشت ہوگاجیسا کہ بیان کیا یادو سو اسی۲۸۰انگشت کیونکہ پہلااٹھائیس انگشت ہے اور دوسرا پینتیس انگشت اور جب پہلے کو دس میں اور دوسرے کو آٹھ میں ضرب دیا جائے تو دونوں کا حاصل ایك ہی ہوگا یعنی دو سو اسی اورایك ضلع کی مساواۃ دوسرے ضلع سے ایك مربع کی مساواۃ دوسرے مربع سے بالبداہۃ ثابت کرتی ہے لیکن سید “ ش “ نے در پر اپنے اس قول سے رد کیا غالباانہوں نے یہ قہستانی سے نقل کیاہے اور اس کو بغور دیکھا نہیں صحیح یہ ہے کہ “ یہ ہوجائیگا دس ضرب آٹھ اوراس کی تشریح یہ ہے کہ ایك مشت چار انگشت ہوتی ہے اور ان کے زمانہ کاذراع آٹھ مشت تین انگشت تھا اس طرح پینتیس انگشت ہوئیں اور جب دس کو آٹھ میں اس ذراع کے حساب سے ضرب دی جائے تو حاصل اسی ہوتا ہے پھر اس کو پینتیس سے ضرب دی جائے تو حاصل دو ہزار آٹھ سو انگشت ہوگا اوریہی مقدار دہ در دہ کی ہے کرباس کے گز سے

عـــہ کذا فی ش والا صوب ثمان بالتذکیر اھ منہ(م)
شامی میں اسی طرح ہے اور بہتر تذکیر کے ساتھ ثمان ہے۔ (ت)
#12310 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
تبلغ ذلك المقدار واما علی ماقالہ الشارح فلا تبلغ ذلك لانك اذا ضربت ثمانیا فی ثمان تبلغ اربعا وستین فاذا ضربتھا فی خمس وثلاثین تبلغ الفین ومائتین واربعین اصبعا وذلك ثمانون ذراعا بذراع الکرباس والمطلوب مائۃ فالصواب ماقلناہ فافھم اھ اشار بقولہ فافھم الی الرد علی ط کدابہ المذکور فی صدرکتا بہ۔
اقول : وھو کلہ زلۃ نظر منہ رحمہ الله تعالی اصاب فی حرفین الاول ان ذراع زمانھم خمس وثلثون اصبعاوالاخر ان ذراع الکرباس المقدربسبع قبضات ثمان وعشرون وماسوی ذلك کلہ سہوصریح فاولاماکان(۱)عشرافی ثمان بذراعھم لایکون الفین وثما ن مائۃ بل ثمانیۃ وتسعین الف اصبع بتقدیم التاء لان فی ثلثمائۃ وخمسون وفی مائتان وثمانون و۳۵۰ *۲۸۰ =۹۸۰۰۰
وثانیا : (۲)ماکان عشرا فی عشر بذراع الکرباس المذکور لایکون ایضا۲۸۰۰بل ثمانیۃ و سبعین الف اصبع بتقدیم السین و اربعمائۃ لان
جس کی مقدارسات مشت بتائی گئی ہے کیونکہ اس صورت میں ذراع اٹھائیس انگشت ہوگا اور دس ضرب دس سو ہے تو جب اٹھائیس کو سو میں ضرب دیں تو وہی حاصل ہوگا اور بقول شارح یہ ماحصل نہیں ہوگا کیونکہ جب آٹھ کو آٹھ میں ضرب دیں تو چونسٹھ حاصل ہوگا اورجب ان کو پینتیس میں ضرب دی جائے تو دو ہزار دو سو چالیس انگشت ہوئی اور ذراع کرباس سے یہ اسی۸۰ ذراع ہوتے ہیں جبکہ مطلوب سو۱۰۰ ہیں توصحیح وہی ہے جو ہم نے کہا فافہم اھ فافہم سے ط پر ردکی طرف اشارہ ہے یہ ان کامعروف طریقہ ہے جو انہوں نے اپنی کتاب کے شروع میں اختیار کیا۔ (ت)
میں کہتا ہوں یہ ان سے لغزش ہوئی ہے دو حروف تو صحیح ہیں پہلا تو یہ کہ ان کے زمانہ کا ذراع پینتیس انگشت تھا اور دوسرا یہ کہ کرباس کے گز کی مقدار سات مشت کے حساب سے اٹھائیس ہے اس کے علاوہ جو کچھ کہا وہ صریح سہو ہے۔ اولا دس کو آٹھ میں ضرب دینے سے دو ہزار آٹھ سو نہیں آتے بلکہ اٹھانوے ہزار انگشت بتقدیم التاء اس لئے کہ ۳۵ ضرب ۱۰ = ۳۵۰اور ۳۵ ضرب آٹھ ۲۸۰ ہوئے اور ۳۵۰ * ۲۸۰ = ۹۸۰۰۰ ہوئے۔
ثانیا : ذراع کرباس مذکور کے اعتبار سے دس ضرب دس ۲۸۰۰ نہیں بنتااٹھتر ہزار چارسو بنتا ہے یہ بتقدیم سین ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس لئے کہ ۲۸ * ۱۰
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۴
#12311 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
فی مائتان وثمانون ومربعھا بنقص تسعۃ عشرالف اصبع وستمائۃ فکیف یستویان
وثالثا(۱)ثمان فی ثمان بذراعھم لایکون الفین ومائتین واربعین بل مربع مائتین وثمانین لان کل ذراع والطول۸۔ ۔ ۳۵ *۸ = ۲۸۰وکذلك العرض فالمسطح مثل عشر فی عشر بذراع الکرباس سواء بسواء کما قال الشارح والقھستانی وط ۔
ورابعا : (۲)مساحۃ ثمانین ذراعابذراع الکرباس لاتکون ۲۲۴۰ بل اثنین وستین الفا وسبع مائۃ وعشرین اصبعالان مساحۃ ذراع ماکان ذراعا فی ذراع وذلك مربع سبع مائۃ واربع وثمانون اصبعاو *۸۰ = ۶۲۷۲۰ ومنشأ(۳)الخطأ فی کل ذلك انہ رحمہ الله تعالی لم یفرق بین الخط والسطح فحسب ان الطول یضرب فی العرض ومابلغ یضرب فی اصابع الذراع وھی خمس وثلثون اوثمان وعشرون اصبعافماحصل یکون مساحۃ الماء ولیس کذلك وانماھی مقدارالاصابع فی خط قدرذراع اماالسطح قدر ذراع فاصابعہ مربع ذلك وھی الف ومائتان وخمس وعشرون اصبعاعلی الاول وسبع مائۃ واربع وثمانون علی الثانی فذلك یضرب فی یکن ثمانیافی ثمان بالاول
دو سو اسی۲۸۰ ہوئے اور ان کامربع ۷۸۴۰۰ ہوا انیس ہزا چھ سو ۱۹۶۰۰ انگشت گھٹا کر تو یہ دونوں کیسے برابر ہوسکتے ہیں
ثالثا : آٹھ ضرب آٹھ ان کے گز سے دو ہزار دو سو چالیس ۲۲۴۰ نہیں بنتے بلالکہ مربع دو سو اسی ۲۸۰ کا بنتا ہے کیونکہ ہر ذراع ۳۵ انگشت ہے اور لمبائی ۸ اس لئے ۳۵*۸ = ۲۸۰ ہوا۔ اوریہی حال چوڑائی کاہے تو مسطح ۷۸۴۰۰ مثل دہ دردہ کپاس کے گز سے بالکل برابر برابرہے جیساکہ شارح قہستانی اور “ ط “ نے فرمایا۔
رابعا : کرباس کے گز سے اسی گز کی پیمائش ۲۲۴۰ نہیں بنتی ہے بلالکہ باسٹھ ہزار سات سو بیس انگشت ہے اس لئے کہ ایك ذراع کی پیمائش وہ ہے جو ذراع در ذراع ہو اور یہ ۲۸ کا مربع ۷۸۴ انگشت ہے اور ۷۸۴*۸۰ = ۶۲۷۲۰ ہے اور اس تمام بحث میں غلطی کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے خط اور سطح میں فرق نہیں کیا ہے اور اس طرح حساب کیاکہ لمبائی کو چوڑائی میں ضرب دی اورجو حاصل آیا اس کو ذراع کی انگلیوں میں ضرب دی اور وہ پینتیس۳۵ یااٹھائیس۲۸ انگلیاں بنتی ہیں اور جو حاصل ہواوہ پانی کی پیمائش قرار دی حالانکہ بات یہ نہیں ہے یہ تو ان کی انگلیوں کی مقدار ہے جو خط میں ذراع کی مقدارہو اوروہ سطح جو ذراع کی مقدارہو تو اس کی انگلیاں اس کا مربع ہوگا اور وہ ایك ہزار دو سو پچیس انگلیاں ہیں پہلے قول پراور دوسرے قول پر ۷۸۴ ہیں اس کو
#12312 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
وھذا یضرب فی ۱۰۰یکن عشرافی عشربالثانی وظاھران۱۲۲۵*۶۴و۷۸۴*۱۰۰کلاھما۴۰۰ وھو المطلوب وان اردت عشرا فی ثمان بالاول فاضرب فی ۸۰ یکن ۹۸۰۰۰وان اردت مساحۃ ثمانین ذراعابالثانی فاضرب فی ۸۰ یکن فاتضح ماقلنامع کونہ غنیاعن الایضاح وان(۱)شئت المزید فلاحظہ فی ماھو ذراع فی ماذراع فان واحدا فی واحد واحد فاضربہ علی طریقۃ السید فی اصابع الذراع تبق کماھی وھی بعینھااصابع طرف فطرف الشیئ ساوی الشیئ فی المقداروھومحال بالبداھۃ بل ھناالمقدارحاصل الکل طرف فمجموع خطوط الاطراف الاربعۃ اربعۃ امثال السطح کلہ فطرف الشیئ اضعاف الشیئ وای محال ابعد منہ۔ چونسٹھ میں ضرب دی جائے گی تو یہ ۸*۸ بنے گاپہلے قول پر اب اس کو ضرب دی جائے گی۱۰۰ میں تویہ ۱۰*۱۰ ہوگادوسرے قول پر اور ظاہر ہے کہ ۱۲۲۵*۶۴ اور ۷۸۴*۱۰۰ دونوں ہی ۷۸۴۰۰ ہیں اوریہی مطلوب ہے اور اگرآپ پہلے قول پر دس کو آٹھ میں ضرب دیں تو ۱۲۲۵ کو ۸۰ میں ضرب دیں تو ۹۸۰۰۰ ہوگا اور اگر اسی ۸۰ گز کی پیمائش دوسرے قول کے مطابق ہو تو ۷۸۴ کو ۸۰ میں ضرب دیں توحاصل ۶۲۷۲۰ آئے گا تو جو ہم نے کہاوہ واضح ہوگیا اور اگر مزید وضاحت درکارہو تو ایك ذراع ضرب ذراع کو دیکھیں کیونکہ ایك ضرب ایك ایك ہی ہوتا ہے اب سید کے طریقہ کے مطابق اس کوہاتھ کی انگلیوں میں ضرب دیجئے تووہ جتنی ہیں اتنی ہی رہیں گی اوریہی بعینہ ایك طرف کی انگلیاں ہیں تو گویاایك چیز کی طرف اس چیز کے مساوی ہوگئی مقدار میں اور یہ بداہۃ محال ہے بلکہ یہاں پروہ مقدارجو کل کاحاصل ہے ایك طرف ہے تو چاروں اطراف کے خطوط کامجموعہ پوری سطح کاچارگنا ہوجائے گا تو لازم آئے گا کہ شیئ کا طرف اس سے کئی گنا بڑھ جائے اور اس سے زیادہ بعید محال اورکون ساہوگا۔ (ت)
بالجملہ یہاں تین قول ہیں اور ہر طرف ترجیح وتصحیح اقول مگر قول ثالث درایۃ ضعیف اوراس کا لفظ ترجیح بھی اس قوت کا نہیں اور قول دوم اگرچہ اقیس ہے اوراس کی تصحیح امام قاضی خان نے فرمائی جن کی نسبت علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ان کی تصحیح سے عدول نہ کیاجائے کہ وہ فقیہ النفس ہیں کما ذکر العلامۃ شامی فی ردالمحتار وغیرہ فی غیرہ مگر قول اول کی طرف جمہور ائمہ ہیں اور عمل اسی پر ہوتا ہے جس طرف جمہور ہوں کما فی ردالمحتار والعقود الدرایۃ وغیرھما اوراس کالفظ تصحیح سب سے اقوی کہ علیہ الفتوی بخلاف قول دوم کہ اس میں لفظ صحیح ہے اورسید طحطاوی کی اس پر حکایت فتوی معلوم ہولیاکہ سہو صریح ہے پس جو زیادہ احتیاط چاہے مساحت آب کثیر میں گز مساحت کا اعتبار کرے کہ ساڑھے تین فٹ اور ہمارے
#12313 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
گز سے سدس اوپرساڑھے اٹھارہ گرہ کاہے جس کادس گز ہمارے گز سے ۱۱ گز 1۱- ۲2 / ۳3 گرہ ہواتواس کی پیمائش کادہ در دہ ہمارے گز سے ایك سو چھتیس گز ایك گرہ اور ۹ / ۷ گرہ ہو اور نہ وہی چوبیس انگل کاگزخود معتمد وماخوذہے جس کا دہ در دہ ہمارے گز سے پچیس ہی گز ہوااور اس کے اعتبار میں اصلا دغدغہ نہیں کہ وہی مفتی بہ ہے اوروہی قول اکثر اور اسی میں یسر وآسانی بیشتراورمقدار دہ در دہ کا اعتبار بھی خود رفق وتیسیر کی بنا پر ہے کما لایخفی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۳ : ازپیلی بھیت مدرسۃ الحدیث مرسلہ جناب مولانا وصی احمد صاحب محدث سورتی دام فضلہ ۱۸ جمادی الاولی ۱۳۲۶ ھ۔
ایك حوض دہ در دہ ہے اس میں طاق ڈال کر بارہ تھم قائم کیے ہیں اب کل تھموں کے عرض کو جو حساب کرتے ہیں تو چھ گز ہوتے ہیں اس سے حوض کبیر ہونے میں خلل ہے کہ نہیں بینوا تؤجروا
الجواب :
علمائے کرام نے خفیف(۱)وباریك اشیاجیسے نرکل یاکھیتی کے پٹھوں کاحائل ہونامعاف رکھاہے مگر ستون کہ چھ۶ گز سطح گھیریں جن سے وہ پانی کہ سوہاتھ تھابہت گھٹ گیاضرور دہ در دہ نہ رکھیں گے جیسے برف کہ پانی پر جابجاجم کر قطعے قطعے ہوجائے اورکثیر ہوکہ پانی کے جنبش دینے سے جنبش نہ کرے وہ حوض آب قلیل ہوجائے گا
عالمگیریہ میں ہے :
لوتوضأ فی اجمۃ القصب اومن ارض فیھازرع متصل بعضھاببعض ان کان عشرافی عشر یجوزواتصال القصب بالقصب لایمنع اتصال الماء بالماء کذا فی الخلاصۃ وان کان الجمد علی وجہ الماء قطعا قطعاان کان کثیرالایتحرك بتحریك الماء لایجوز الوضوء بہ کذا فی المحیط اھ وفی جامع الرموز عن المجتبی لوکان فیہ
اگر کسی نے نرکل کے جھنڈ میں یاگھنی کھیتی کی زمین میں وضو کیا تواگراس کا رقبہ دہ در دہ ہو توجائز ہے تو نرکل کانرکل سے متصل ہوناپانی کے پانی سے متصل ہونے میں مانع نہیں ہے ایسا ہی خلاصہ میں ہے اور اگر پانی پر جمی ہوئی برف ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی ہو تو اگر اتنی زائد ہو کہ پانی کو حرکت دینے سے متحرك نہ ہو تو وضو اس سے جائز نہیں کذا فی المحیط اھ اور جامع الرموز میں مجتبی سے ہے اگر اس پانی میں
حوالہ / References عالمگیری الماء الجاری نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۸
عالمگیری الماء الجاری نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۸
#12314 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
قطع خشب اوجمد یتحرك بتحریك الماء جاز فیہ الوضوء اھ افھم ان لولم یتحرك لم یجوز والله تعالی اعلم۔
لکڑی یابرف کے ٹکڑے ہوں اوروہ پانی کو حرکت دینے سے متحرك ہوتے ہوں تو اس سے وضو جائز ہے اس کامطلب یہ ہے کہ اگر متحرك نہ ہو تو وضو جائز نہیں والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۳۴ : از شہر مدرسہ اہلسنت مسئولہ مولوی محمد طاہر صاحب رضوی متعلم مدرسہ اہلسنت ۹رجب المرجب ۱۳۳۰ھ۔
سوال اول : حوض دہ در دہ میں اگر کوئی شخص تھوك یارینٹھ ڈالے یاپاؤں اس کے اندر ڈال کر دھوئے یا وضو اس طرح کرے کہ تمام غسالہ اس میں گرتا جائے تو آیاان سب صورتوں میں وہ حوض پاك رہے گا یا نہیں برتقدیر ثانی اگر کوئی نجس سمجھے تواس کاکیا حکم ہے
الجواب :
ان سب صورتوں میں وہ حوض پاك ہے اور اسے نجس سمجھناجہالت اوراگر کوئی شخص مسئلہ بتانے کے بعد بھی اصرار کرے توسخت گنہگارہوامگر حوض میں تھوکنے یاناك صاف کرنے سے احتراز لازم ہے کہ یہ افعال باعث نفرت ہیں اوربلاوجہ شرعی نفرت دلاناجائز نہیں قال صلی الله تعالی علیہ وسلم بشر وا ولا تنفروا والله تعالی اعلم
حضور پاك نے فرمایا : اچھی خبر سناؤ نفرت نہ پھیلاؤ۔ والله تعالی اعلم(ت)

سوال۳۵(۲) : ایك تالاب دہ در دہ میں تمام محلہ کے چوبچوں پاخانوں نالیوں وغیرہ کانجس پانی آکر جمع ہوتاہے بلالکہ بھنگی اس میں میلے کی ڈھلیان بھی ایام برسات میں ڈالاکرتے ہیں اوربعض اوقات لوگ اس کے کنارے پاخانہ پیشاب بھی پھرتے ہیں کہ اس میں بہہ کرجاتاہے توآیا ایسے تالاب میں کپڑے نجس دھونے سے پاك ہوں گے یا نہیں اور اس تالاب کو حکم پاکی کا دیا جائے گا یانہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر ان نجاستوں کے گرنے سے پہلے اس میں دہ در دہ پانی تھااس کے بعد گریں اوران کے گرنے سے اس کارنگ یامزہ یا بو متغیر نہ ہوااور کپڑا دھونے میں عین نجاست کپڑے پر نہ لگ آئی تو کپڑاپاك ہوگیا ورنہ نہیں والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References جامع الرموز بیان المیاہ مطبع الاسلامیہ گنبد ایران ۱ / ۴۸
صحیح بخاری اصح المطابع کراچی ۱ / ۱۶
#12315 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
مسئلہ ۳۶ : از شہر محلہ بہاری پور مسئولہ نواب مولوی سلطان احمد خان صاحب ۲۸ ذیقعدہ ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مریض کو دواء ایسے پانی سے وضو یا استنجا کرنا جس میں کوئی دوسری شے جوش دی گئی ہو جس سے پانی کا نام پانی نہ رہے جائز ہے یا نہیں یعنی اس سے طہارت حاصل ہوگی بوجہ اس ضرورت کے یا ضرورت پر لحاظ نہ ہوگا بینوا توجروا۔
الجواب :
استنجاء(۱)تو یقینا جائز ہے کہ اس میں مائے مطلق بلالکہ پانی ہی شرط نہیں ہرطاہر قالع مزیل سے ہوجاتا ہے مگر وضو جائز نہ ہوگا(ان چیزوں سے)
لکمال الامتزاج بالطبخ کالمرق ولزوال اسم الماء کالنبیذ۔
جو پکانے سے ایك جان ہوجائیں جیسے شوربا یا اس کو پانی نہ کہا جائے جیسے نبیذ۔ (ت)
وضو میں لحاظ ضرورت کی کیاحاجت اگر مائے مطلق سے وضو مضر ہو تمیم کرلے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۳۷ : ازموضع سرنیان مسئولہ امیر علی صاحب قادری ۱۱ جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید دریافت کرتا ہے کہ میرے موضع میں چند تالاب ہیں ان تالابوں کے پانی سے غسل اور وضو پینا کپڑے دھوناکیسا ہے کیونکہ اکثر مویشی ہنودومسلمان ہر ایك نہاتے ہیں استنجابڑا ہر ایك قوم وہاں پاك کرتی ہے اور کبھی چمار بھنگی بھی نہاتے ہیں اور اتفاقیہ سؤر پانی پی جائے یا نہائے کبھی یہ تالاب مقید رہتے ہیں اور کبھی ان کے اندر ہو کر ندی سے نہر جاری ہوجاتی ہے اس کی تشریح یوں ہے :

this is image
کسی وقت میں اس سے زیادہ بھی پانی ہوجاتاہے اور کبھی کچھ کم اوراگر ندی سے پانی آجائے اور راستہ میں نہر میں
کچھ غلیظ ہو توکیا حکم ہے اور بستی کے قریب چنداورتالاب ہیں اوران کاپانی رنگ بدلے ہوئے رہتاہے اکثر ہنود تك اس پانی سے نفرت کرتے ہیں برسات میں بھی صاف طور پر نہیں ہوتاہے لمبائی چوڑائی گہرائی بھی بہت مگرپانی صاف نہیں ہے دیگر شہر سے نالہ کاپانی ندی میں آکر گرتاہے اور ندی کاپانی کچھ تھوڑا مخلوط ہوتاہے دیکھنے میں اکثر
#12316 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
پیشاب کی صورت معلوم ہوتاہے ایسے پانی سے اکثر لوگ نہاتے اور دھوبی کپڑے دھوتے ہیں اکثر وضو کرتے ہیں تو اس پانی کیلئے کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب
ان سب باتوں کاجواب یہ ہے کہ جس پانی کی سطح بالاکی مساحت سوہاتھ ہو مثلا دس دس ہاتھ لمبا چوڑایا بیس ہاتھ لمباپانچ ہاتھ چوڑا یا پچیس ہاتھ لمبا چار ہاتھ چوڑا وعلی ہذ القیاس اورگہرا اتناکہ لپ سے پانی لے توزمین نہ کھل جائے وہ پانی نجاست کے پڑنے یانجاست پر گزرنے سے ناپاك نہیں ہوتاجب تك نجاست کے سبب اس کارنگ یامزہ یا بو نہ بدل جائے اگر نجاست کے سوا اور کسی وجہ سے اس کے رنگ یا بو یا مزے یا سب میں فرق ہو توحرج نہیں اوراعتبار پانی کی مساحت کاہے نہ تالاب کی۔ تالاب کتنا ہی بڑاہواگر گرمیوں میں خشك ہو کر اس میں سو ہاتھ سے کم پانی رہے گا اور اب اس سے کوئی استنجا کرے یاکتا وغیرہ ناپاك منہ کاجانور پئے توناپاك ہوجائے گایوں ہی برسات کابہتا ہواپانی آیااوراس میں نجاست ملی تھی تو جب تك بہ رہاہے اورنجاست سے اس کا رنگ بو مزہ نہیں بدلا پاك ہے اب جو وہ کسی تالاب میں گر کر ٹھہرا اور ٹھہرنے کے بعد سو ہاتھ سے مساحت کم رہی اور نجاست کاکوئی جز اس میں موجود ہے تو اب سب ناپاك ہو گیا اور اگر سو ہاتھ سے زیادہ کی مساحت میں ٹھہراتو پاك ہے ناپاك نالے کاپانی ندی میں آکر گرااور اس سے ندی کے پانی کا رنگ یامزہ یابوبدل گئی ناپاك ہوگیا ورنہ پاك رہا والله تعالی اعلم
مسئلہ ۳۸ : مسئولہ حافظ محمد قاسم صاحب ازعدن کیمپ محلہ مسکین باڑہ ۷ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك حوض ہے جو بعض لوگوں کے چھ قبضہ یعنی چوبیس۲۴ انگلیوں سے دہ در دہ سے چھیالیس۴۶ انگل زیادہ ہے اور یہ چوبیس۲۴ انگلیاں سترہ۱۷ انچ کے برابر ہیں اور جن لوگوں کی چوبیس۲۴ انگلیاں ساڑھے سترہ۲ / ۱-۱۷ انچ ہیں اس سے دہ در دہ سے چوبیس۲۴ انگلیاں زیادہ ہیں اور جن لوگوں کی چوبیس۲۴ انگلیاں اٹھارہ۱۸ انچ کی برابر ہیں اس سے دہ در دہ بارہ انگل کم ہے اور اس کے بیچ میں ایك ستون ہے
حوالہ / References فائدہ : شرعی گزمیں یہی انگل معتبرہیں جن کے چوبیس اٹھارہ انچ کے برابرہیں ایك ہاتھ مربع کی مساحت مختلف پیمانوں سے اس جدول میں ہے :
ایك ہاتھ مربع میں ان پیمانوں کے حصے
Image
(باقی بر صفحہ آیندہ)
#12317 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اس کا طول وعرض ایك ایك فٹ ہے کیاایسے حوض میں سے وضو کرنا جائز ہے یا نہیں اور نجاست پڑنے سے اس کا پانی نجس ہوگا یا نہیں تمام کتابوں کے حوالہ سے جواب دیا جائے اور علماء کے مہر ودستخط بھی ہونا چاہئیں اس کے بارہ میں یہاں سخت فساد ہے اکثر لوگ اس سے وضو کرنا جائز نہیں سمجھتے جو لوگ اس سے انکار کرتے ہیں ان کا شرعا کیا حکم ہے اس مسئلہ کا جواب باعتبار مذہب حنفی ہونا چاہئے حوض کی شکل یہ ہے :
images
الجواب
ذواربعۃ الاضلاع ا ب ج د میں قطر ا ج وصل کیا تو مثلث ا د ج میں حسب بیان سائل ضلع ا د ۱۸۹ انچ ہے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)اب جتنے ہاتھ کا رقبہ لیا جائے ان سب پیمانوں سے اس کی مقدار یہیں سے ظاہر ہوگی مثلا دہ در دہ کیلئے ان مقادیر کو ۱۰۰ میں ضرب کرو تو گز ۲۵ ہوئے اور فٹ سوا دو سو علی ہذا القیاس یہاں سے حساب مذکور سوال کی غلطی کا اندازہ ہو سکتا ہے وہ دہ در دہ حوض اس صحیح پیمانے سے ۳۲۴۰۰انچ ہوگااور جو ہاتھ سترہ انچ ہے اس سے سو ہاتھ صرف اٹھائیس ہزار نو سو(۲۸۹۰۰)انچ ہوگا ساڑھے تین ہزار انچ کافرق پڑے گا جس کے چار ہزار چھ سو چھیاسٹھ انگل اور دو تہائی ہوئے نہ کہ صرف اٹھاون اور جوہاتھ ۰۱۷ انچ ہے اس سے سو ہاتھ تیس ہزار پانچ سو پچیس انچ ہوگاپونے انیس سو انچ کم جس کے ڈھائی ہزارانگل ہوئے نہ کہ فقط چھتیس وقس علیہ ۱۲(م)
حوالہ / References جس میں زاویہ د قائمہ ہے ۱۲(م)
آسانی عمل وقلت تفاوت کے سبب یہ تقریب کی گئی اور تحقیق یہ ہے کہ مثلث ا د ح جبکہ قائم الزاویہ ہے اس کی مساحت وہی ۳۱۳۷۴ کی نصف ۱۵۶۸۷ انچ ہوئی ، رہا مثلث ا ب ح
#12318 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اور ضلعء ج ۱۶۶ مسطح ۳۱۳۷۴ اور مثلث۱ب ج میں ضلع اب ۱۵۹ ہے اور ضلع ب ج ۱۹۸ مسطح ۳۱۴۸۲ مجموع ۶۲۸۵۶جن کا نصف ۳۱۴۲۸ یہ اس حوض کی مساحت تقریبی ہوئی اور دہ در دہ کیلئے ۳۲۴۰۰ انچ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)اولا مقدار قطر اح معلوم کی یوں کہ دح ۱۶۶ کا مربع ۲۷۵۵۶ ہے اور اع ۱۸۹ کا مربع ۳۵۷۲۱ مجموعہ ۶۳۲۷۷ لوگارثم ۸۰۱۲۴۵۹ ع ۴ نصف ۴۰۰۶۲۳۰ء ۲ یہ لوگارثم قطر ہواعدد ۵۴۹ء ۰۲۵۱ انچ یہ قدر قطر ہوئی لاجرم مثلث میں زاویہ احادہ ہے ا ج پر ب سے عمود ب ھ اتارا images
پس بحکم شکل ۱۳مقالہ دوم اقلیدس مربع ب ح چھوٹاہے مجموع مربعین ا ب ا ح سے بقدردوچند مسطح ا ح ا ھ د ا ب ۱۵۹ کا مربع ۲۵۲۸۱+ مربع ا ح ۶۳۲۷۷=۸۸۵۵۸ جس میں سے ب ح ۱۹۸ کامربع ۳۹۲۰۴ کم کیا باقی ۴۹۳۵۴ نصف ۲۴۶۷۷ یہ اح اھ کا مسطح ہے اس کے لوگارثم ۳۹۲۲۹۲۴ ء۴ سے لوقطر ۴۰۰۶۲۳۰ء۲ کم کیاباقی لو اھ ۹۹۱۶۶۹۴ء ا عدد ۱۰۰۱ء ۹۸ یہ مقدار اھ ہوئی اس کے مربع ۶۲۹۳ ء ۹۶۲۳ کو مربع وتر قائمہ اب ۲۵۲۸۱سے تفریق کیاباقی ۳۷۰۴ ء ۱۵۶۵۷ یہ مربع عمود ہوا اس کا لوگارثم ۱۹۴۷۱۸۸ء۴ نصف ۹۷۳۵۹۴ء۲ لوعمود ہے اسے قاعدہ یعنی قطر اح کے لوگارثم مذکور میں جمع کیا۴۹۷۹۸۲۴ہوااس سے ۱۸۱۰۳۰۰ء۰ کم کیا کہ مساحت مثلث نصف مسطح عمود وقاعدہ ہے باقی ۱۹۶۹۵۲۴ء۴عدد ۱۰۵ء ۱۵۷۳۸ انچ مساحت مثلث ا ب ح ہوئی اسے مساحت مثلث اول میں جمع کرنے سے مساحت حوض ۳۱۴۲۵ انچ ہوئی حساب تقریبی سے صرف تین انچ کم توحوض دہ در دہ سے ۵ ۹۷ انچ کم ہے جن کے تیرہ سو انگل ہوئے نہ صرف بارہ جو سوال میں ہے۔
فائدہ : حوض کازاویہ ح حادہ سے اس لئے کہ مثلثۃ ب ھ ح قائم الزاویہ ہیں ب ح : ع : : ب ھ : جیب ب ح ھ : ۔ لوعمود ۰۹۷۳۵۹۴ء۲*لو ب ح ۲۹۶۶۶۵۱۱ء۲= ۶۹۴۲ ۸۰۰ء۹ کہ لوجیب ۳۴ء۳۹۱۱۴۳ہے اور مثلث ا د ح قائم الزاویہ ہیں ا ح : ع : : ا د : جیب ا ح د * لواء ۲۷۶۴۶۱۸ ۲لوقطر ۴۰۰۶۲۳۰ ء۲=۸۷۵۸۳۸۸ء۹ کہ لوجیب ۹۴ء ۴۸۴۲۲۴ ہے مجموع زاویتین ۴۸ء۵۰۷۵۴۸ مقدار زاویہ ح ہے اور اگر یہ بھی قائمہ ہوتا تو امر آسان تر تھا ب ح پر اسے عمود ا ھ نکالا کہ بحکم موازات جء کے برابر ہوا اور ھ ح : : ا ع تو مستطیل ھ ع ۱۸۹*۱۶۶=۳۱۳۷۴ اور مثلث ب ھ ا(باقی بر صفحہ ایندہ)
#12319 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
درکا رہیں تو یہ ۹۷۲ انچ کم ہوا لہذا مائے قلیل ہے ایك قطرہ نجاست سے سب ناپاك ہوجائیگا رہا اس میں وضو کرنا اگر ہاتھ یا پاؤں کوئی عضو بے دھلا اس میں نہ ڈالا جائے تو وضو جائز ہے اگرچہ غسالہ اس میں گرے جب تك مائے مستعمل اس کے پانی پر غالب نہ ہوجائے ھو الصحیح مگر بے دھلا کوئی عضو اگرچہ ایك پورا یا ناخن بلا ضرورت اس سے مس کرے گا تو سارا پانی قابل وضو نہ رہے گا بناء علی الفرق بین الملاقی والملقی کماحققناہ فی رسالتنا النمیقۃ الانقی والله تعالی اعلم(ملاقی اورملقی میں فرق کی تحقیق اپنے رسالہ النمیقۃ الانقی میں کی ہے والله تعالی اعلم۔ ت)
مسئلہ ۳۹ : مرسلہ شیخ ابراہیم صاحب مدرس مدرسہ فیض عام گردھر پور ضلع پنج محل ملك احمد آباد گجرات ۴جمادی الاولی ۱۳۳۲ ھ
نجس پانی دو تین گز بہنے سے یا ہوا لگنے سے پاك ہوجاتا ہے یہ کہیں مصرح ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
نجس پانی نہ ہوا لگنے سے پاك ہوسکتا ہے نہ خود بہنے سے ہاں پاك پانی اگر بہتا ہوا آئے اور اسے بہا لیجائے تو پاك ہوجائیگا فان الماء الجاری یطھر بعضہ بعضا والله تعالی اعلم(کیونکہ جاری پانی کا ایك حصہ دوسرے پانی کو پاك کردیتا ہے۔ ت)
مسئلہ ۴۰ : ازموضع موہن پور تھانہ وڈاك خانہ دیورنیا مسئولہ محمد شاہ بروز شنبہ بتاریخ ۱۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ پانی مکروہ کس کس طرح سے ہوجاتا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
عوام میں یہ مشہور ہے کہ بے وضو کا ناخن ڈوبنے سے پانی مکروہ ہوجاتا ہے اور مسئلہ ہے یوں کہ بے وضو کے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)قائم الزاویہ ہیں ب ھ = ۱۹۸- ۱۸۹ مجموعہ مثلث ومستطیل ۳۲۱۲۱ مگر یہ حسب بیان سائل محال ہے کہ ا ب کو ح ء سے اقصر بتایا ہے تو ضرور ہے کہ ب ح موازی ا ع نہ ہو والله تعالی اعلم ۱۲ منہ(م)
images
حوالہ / References گز شرعی کہ چوبیس انگل ہے ایك ہاتھ یا ڈیڑھ فٹ ہے جس کے ۱۸ انچ ہوئے اور اس ذراع سے خود سوال میں دہ در دہ سے کم ہونا مذکور مگر وہ نہایت مختل وناصواب تھا لہٰذا ازسرِنو محاسبہ کیا ۱۲(م)
#12320 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اعضائے وضو میں جو کوئی بے دھلا حصہ سر کے سوا آب قلیل سے بے ضرورت مس کرے گا وہ پانی قابل وضو نہ رہے گا اور اس کا پینا مکروہ۔ اسی طرح بلی اور چھوٹی ہوئی مرغی اور حشرات الارض دموی جیسے سانپ گرگٹ چھپکلی چوہے گھونس
چھچھوندر اور شکاری پرندوں جیسے باز جرے شکرے بہری نیز چیل کوے اور ان کے امثال جانوروں کا جوٹھا بھی مکروہ ہے جو نجاست سے پرہیز نہیں کرتے جبکہ نہ بالفعل نجاست معلوم ہو جیسے بلی نے اسی وقت چوہا کھایا اور ہنوز اتنی دیر نہ گزری کہ لعاب سے لب و زبان صاف ہوجائے کہ اس صورت میں اس کا جوٹھا مکروہ نہیں بلکہ نجس ہے نہ طہارت معلوم ہو جیسے بند مرغی کہ نجاست کے پاس جانے نہیں پاتی یا شکاری پرند جسے پاك گوشت کھلایا جاتا ہے اور مدت سے اس نے شکار نہ کیا کہ اس صورت میں اس کاجوٹھا بلاکراہت پاك ہے نیز اجنبی عورت کا پیا ہوا پانی پینا مرد کو اور اجنبی مرد کا عورت کو بھی مکروہ ہے جبکہ مظنہ لذت نفسانی ہو نورالایضاح ومراقی الفلاح میں ہے :
الماء(طاھر مطھر مکروہ)استعمالہ تنزیھا علی الاصح وھو ماشرب منہ الھرۃ الاھلیۃ اذ الوحشیۃ سؤرھا نجس(ونحوھا)ای الاھلیۃ الدجاجۃ المخلاۃ وسباع الطیر والحیۃ والفأرۃ لانھا لاتتحامی عن النجاسۃ ۔
پانی(طاہر مطہر مکروہ ہے)اس کا استعمال مکروہ تنزیہی ہے اصح یہی ہے یہ وہ پانی ہے جس سے بلی نے پیا ہو یعنی پالتو بلی نے کیونکہ جنگلی بلی کا پانی نجس ہے(اور اسی کی مثل)یعنی پالتو بلی کی طرح کھلی پھرنے والی مرغی شکاری پرندے سانپ اور چوہا کیونکہ وہ نجاست سے نہیں بچتی ہے۔ (ت)
حاشیہ طحطاویہ میں ہے :
قولہ نجس ای اتفاقا لماورد السنور سبع فان المراد بہ البری اھ
اقول : ھذا(۱)عجب بل کان الکلام فی الاھلی کما فی الحدیث وقد بیناہ مع الکلام علیہ فی سلب الثلب نعم نجاستہ
اس کا قول نجس یعنی اس پر اتفاق ہے کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ بلی درندہ ہے اس سے مراد جنگلی بلی ہے اھ(ت)
میں کہتا ہوں یہ عجیب بات ہے گفتگو گھریلو بلی میں تھی جیسا کہ حدیث میں ہے ہم نے اس کو پوری بحث کے ساتھ “ سلب الثلب “ میں بیان کیا ہے
حوالہ / References مراقی الفلاح کتاب الطہارت مطبع الامیر ببولاق مصر ص۱۳)
حاشیہ طحطاوی کتاب الطہارت مطبع الامیر ببولاق مصر ص۱۳)
#12321 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
مصرح بھا فی جامع الرموز معزیا للکشف ونص فی الدر المختار انہ نجس مغلظ فالکلام فی التعلیل۔
ہاں اس کی نجاست جامع الرموز میں مصرح ہے اس کو کشف کی طرف منسوب کیا ہے اور درمختار میں صراحت ہے کہ وہ نجاست غلیظہ ہے تو گفتگو تعلیل میں ہے۔ (ت)
تین قسم کے پانی مکروہ ہوئے :
۱۔ مائے مستعمل یہ ہمیشہ مکروہ ہے ۲۔ اور اجنبی کاجوٹھا صرف بحالت لذت ۳۔ اور ان جانوروں کا جھوٹا جبکہ صاف پانی موجود ہو ورنہ نہیں۔ درمختار میں ہے :
سؤرھرۃ ودجاجۃ مخلاۃ وسباع طیرلم یعلم ربھا طھارۃ منقارھا وسواکن بیوت طاھر مکروہ تنزیھا فی الاصح اذوجد غیرہ والالم یکرہ اصلا ۔
بلی کا جھوٹا کھلی مرغی پرندوں کے درندوں کا جوٹھا جن کے بارے میں مالك کو معلوم نہیں کہ ان کی چونچ پاك ہے گھر میں رہنے والے جانوروں(چوہا چھپکلی وغیرہ)کا جوٹھا اصح قول کے مطابق مکروہ تنزیہی ہے یہ اس وقت ہے جبکہ دوسرا پانی موجود ہو ورنہ کراہت بھی نہ ہوگی۔ (ت)
جو جانور دموی نہیں یعنی خون سائل نہیں رکھتے خواہ حشرات الارض سے ہوں یا نہیں جیسے بچھو مکھی زنبور اور تمام دریائی جانور ان کاجوٹھا مکروہ بھی نہیں۔ درمختار میں ہے :
سؤر مالادم لہ طاھر طھور بلاکراھۃ ۔
جس جانور میں خون نہ پایا جاتا ہو اس کا جھوٹا بلاشبہ طاہر وطہور ہے بلاکراہت۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
سواء کان یعیش فی الماء اوفی غیرہ ط عن البحر ۔
عام ازیں کہ وہ پانی میں رہتا ہو یا نہ رہتا ہو ط عن البحر۔ (ت)
حوالہ / References درمختار فصل فے البئر مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
درمختار فصل فے البئر مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
ردالمحتار فصل فے البئر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۳
#12322 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
ای ممالہ دم سائل کالفأرۃ والحیۃ والوزغۃ بخلاف مالادم لہ کالخنفس والصرصر و العقرب فانہ لایکرہ کمامرو تمامہ فی الامداد اھ۔
اقول : (۱)فلایتجہ مازعم فی جامع الرموز من کراھۃ سؤر العقرب بالاتفاق ولم یعزہ لاحد والله تعالی اعلم۔
اسی میں زیر قول شارح وسواکن بیوت فرمایا۔ یعنی وہ جانور جن میں بہنے والا خون ہو جیسے چوہا سانپ چھپکلی۔ بخلاف ان جانوروں کے جن میں خون نہ ہو جیسے خنفس(ہشت پا) صرصر(جھینگر مجیرا)بچھو کیونکہ یہ مکروہ نہیں جیسا کہ گزرا اور مکمل بحث امداد میں ہے۔ ت انہوں نے کسی کی طرف منسوب نہیں کیا والله تعالی اعلم۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس سے معلوم ہوا کہ جامع الرموز میں ہے کہ بچھو کا جوٹھا مکروہ ہے بالاتفاق اسکی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی اس کو
مسئلہ ۴۱ : ازجالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی احمد جان صاحب مرسلہ محمد احمد خان صاحب ۲۰ شوال ۱۳۱۴ھ
نامحرم عورت جوان یا بڑھیا اپنے مرشد کا جوٹھاپانی یا شوربا پی لے تو درست ہے یا نہیں مکروہ تحریمی یا تنزیہی باسند لکھیں۔
الجواب :
تلذذو شہوانی کی نیت سے حرام اور خالص تبرك کی نیت سے جائز و الله یعلم المفسد من المصلح- (اللہ تعالی خوب جانتا ہے مفسد کو مصلح سے۔ ت)صحیح حدیث میں ہے جب حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہجرت فرما کر سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کے یہاں مقیم ہوئے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا اولش جب ان کے گھر جاتا وہ اور ان کے گھر والے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی انگشتان مبارك کے نشان کی جگہ سے کھاتے درمختار کتاب الخطر میں ہے :
یکرہ للمرأۃ سؤر الرجل وسؤ رھالہ ۔
مرد کا جوٹھا عورت کیلئے اور عورت کا مرد کیلئے مکروہ ہے۔ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار فصل فے البئر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۳
درمختار فصل فے البیع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵۴
#12323 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اسی کے آخر فصل فے البئر میں ہے :
یکرہ سورھا للرجل کعکسہ لاستلذاذ ۔
عورت کاجوٹھا مرد کیلئے اور مرد کا عورت کیلئے لذت لینے کیلئے مکروہ ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
یفھم منہ انہ حیث لااستلذاذ لاکراھۃ والله تعالی اعلم ۔
اس سے یہ سمجھ میں آیا اگر لذت کیلئے نہ ہو تو کراہت نہیں۔ والله تعالی اعلم(ت)
مسئلہ ۴۲ : از مقام چتور گڑھ علاقہ اودے پور راجپوتانہ مسئولہ مولوی عبدالکریم صاحب ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۴ھ
پانی کی نالی ناپاك چونے سے تیار کی گئی اورخشك ہونے سے قبل اس میں پانی جاری کیا گیا اور وہ پانی حوض میں اسی جگہ سے جمع ہوناشروع ہوا جہاں ناپاك چونے سے بند کی گئی تھی تو کیا یہ پانی پاك ہے یا ناپاک فقہاء نے لکھا ہے کہ جس تالاب میں نجاست کنارہ پر ہو اور پانی وہیں سے جمع ہوتاہو تو وہ پانی ناپاك ہے تو اس روایت پر تمام پانی ناپاك ہوگا۔
الجواب :
پانی اگر اوپر سے اس نالی پر بہتا ہوا آیا اور بہتا ہوا گزر گیا تو صحیح مذہب یہ ہے کہ ناپاك نہ ہوگا جب تك کہ اس کے کسی وصف میں اس کے سبب تغیر نہ ہو دوسری روایت ضرور یہ ہے کہ کل یا اکثر یا نصف پانی کا بہاؤ اگر نجاست پر ہو تو بہنا نفع نہ دے گا کل پانی ناپاك سمجھا جائے گا صحح ایضاوان کان الاول علیہ المعول لانہ الا قوی وعلیہ الفتوی(اور اس کی تصحیح بھی کی گئی ہے اعتماد اگرچہ پہلے قول پر ہے کیونکہ وہ اقوی ہے اور اسی پر فتوی ہے۔ ت)
اقول : مگر یہ نجاست مرئیہ میں ہے جیسے مردار یاغلیظ غیر مرئیہ میں بالاتفاق اسی ظہور اثر کا اعتبار ہے
کما نصواعلیہ قاطبۃ وقال فی البحر فی توجیہ القول الاخر للتیقن بوجود النجاسۃ فیہ بخلاف غیر المرئیۃ لانہ اذالم یظہراثرھا علم ان الماء ذھب بعینھا ۔
جیسا کہ ان تمام نے اس پر نص کیا اور بحر میں دوسرے قول کی توجیہ میں فرمایا کہ اس میں نجاست کا پایا جانا متیقن ہے بخلاف غیر مرئی نجاست کے کیونکہ جب اس کا اثر ظاہر نہ ہوا تو معلوم ہوا کہ پانی اس نجاست کو بہا کر لے گیا ہے۔ (ت)
حوالہ / References درمختار فصل فے البئر مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
ردالمحتار فصل فے البئر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۳
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۸
#12324 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اور چونا نجاست نہیں متنجس ہے اور اعتبار نجس کا ہے نہ متنجس کاولہذا اگر ناپاك گلاب(۱)یا زعفران آب جاری میں گرے اور اس میں گلاب کی بو یا زعفران کی رنگت آجائے اسے ظہور اثر نہ کہیں گے بلالکہ اس نجاست کا کوئی وصف پانی میں آئے جس نے گلاب وزعفران کو ناپاك کیا تو پانی ناپاك ہوگا ردالمحتار میں ہے :
فی شرح ھدیۃ ابن العماد لسیدی عبدالغنی الظاھران المراد اوصاف النجاسۃ لاالمتنجس کماء الورد والخل مثلا فلوصب فی ماء جار یعتبر اثر النجاسۃ التی فیہ لااثرہ نفسہ لطھارۃ المائع بالغسل ولم ارمن نبہ علیہ وھو مھم فاحفظہ اھ
اقول : وھو واضح البرھان فان المقصود غلبۃ النجاسۃ علی الماء حتی اکسبتہ وصفالھا وذلك فی ظھور وصف نفسھا دون المتنجس بھا الا تری ان لوکانت قلیلۃ لاتغلب الماء وکان مکان ماء الوردماء قراح لم یظھراثرھا فکذا فی ماء الورداذلا تختلف قلۃ وکثرۃ باختلاف المتنجس۔
سیدی عبدالغنی نے شرح ہدیۃ ابن العماد میں لکھا ہے کہ بظاہر اس سے مراد نجاست کے اوصاف ہیں نہ کہ نجس ہونے والا پانی جیسے گلاب کا پانی اور سرکہ اگر اس کو بہتے پانی میں ڈالا جائے تو اس میں جو نجاست ہے اس کا اثر معتبر ہوگا خود اس کا اپنا اثر معتبر نہ ہوگا کیونکہ بہنے والی چیز غسل(دھونے)سے پاك ہوجاتی ہے اس نکتہ پر میں نے کسی اور کو مطلع کرتا ہوا نہیں پایا حالانکہ یہ بہت اہم ہے اسے یاد کرلیجئے اھ(ت)
میں کہتا ہوں اس کی دلیل بہت واضح ہے کیونکہ مقصود نجاست کا پانی پر غالب ہونا ہے تاکہ نجاست کا وصف اس میں ظاہر ہوجائے اور یہ تب ہے جب خود اس کا اپنا وصف اس میں ظاہر ہو نہ کہ اس چیز کا جو اس کی وجہ سے نجس ہوئی ہے مثلا اگر نجاست اتنی تھوڑی ہوتی کہ پانی پر غالب نہ ہوتی اور بجائے عرق گلاب کے سادہ پانی ہوتا تو اس کا اثر ظاہر نہ ہوتا تو اسی طرح گلاب کے پانی کا حال ہے کیونکہ نجاست قلۃ وکثرۃ میں ناپاك ہونے والے پانی کے اعتبار سے مختلف نہیں ہوتی ہے۔ (ت)
تو جبکہ وہ نجاست(۲)جس سے چونا ناپاك ہوا مرئی نہیں تو یہ صورت نجاست غیر مرئیہ کی ہے اس سے وہ روایت متعلق نہیں بلالکہ یہاں بالاتفاق حکم طہارت ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۴۳ : ازکوٹارمپورہ عقب موچی کٹرہ مکان چاند خان دفعدار مرسلہ شیخ ممتاز علی بیکل منگلوری سرویر محکمہ جنگلات کوٹا۱۰ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ۔
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۸
#12325 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین سوالات ذیل کے جواب میں خداوند کریم آپ کو اجر عظیم اور سائل کو صراط مستقیم عطا فرمائے۔
عمرو وزید دو شخص ہیں عمرو سے کسی نے دریافت کیا کہ یہ چاہ جو سامنے موجود ہے اس کا پانی قابل وضو اور نیز دیگر استعمال کے ہے یا نہیںعمرو نے جواب دیاکہ بنا بررفع شك چاہ کو ناپ لیا جائے چنانچہ وہ کنواں ناپا گیا تو لمبائی ۲ / ۱ -۱۱ ہاتھ اور چوڑائی ۲ / ۱ -۹ ہاتھ گہرائی ۳ ہاتھ ہوئی جو برابر ہے ۷۵ع ۳۲۷ ہاتھ کے مگر زید اس کو ۴۲ ہاتھ بتلا کر اس کے پانی سے وضوناجائز بتلاتا ہے اورپانی ہذا کو قابل استعمال نہیں بتلاتا لیکن عمرو نے اسی چاہ سے وضو کیا اور زید نے عمرو کے پیچھے نماز پڑھی لہذا التماس ہے کہ اس پانی کا استعمال موافق شرع شریف جائز ہے یا نہیں اور زید کی نماز اس صورت میں عمرو کے پیچھے ہوئی یا نہیں
نوٹ : اس چاہ میں پانی کی اس قدر آمد ہے کہ اگرچر س بند کردیا جائے جو دن بھر پانی کھینچتا ہے تو چاہ لبریز ہو کہ زائد پانی ایك راستہ سے خارج ہو کر چند روز میں دو سو فیٹ لمبے اور پچاس فیٹ چوڑے بند کو جس کی گہرائی بھی ۳ فیٹ سے کم نہیں لبریز کردیتا ہے۔ یہ پانی مویشی پیتے ہیں یہ تو موسم سرما کی حالت ہے اور موسم گرما میں چرس چلے یا نہ چلے کنویں سے پانی باہر نہیں آتاالبتہ جس قدر کنواں خالی ہوجاتا ہے وقت چرس چلنے کے اتنا ہی رات کو پھر کنویں میں پانی آجاتا ہے ماسوا اس کے پہاڑی علاقہ ہونے کے سبب ایسے کنویں قلیل ہیں کہ جن کاپانی ڈول وغیرہ سے کھینچا جائے ورنہ عام کنویں زینہ دار ہیں تمام لوگ اندر جا کر پانی پیتے اور بھرتے ہیں بلالکہ نہانا اور عام طور پر کپڑے وغیرہ دھونے کا عام رواج ہے ہاں بعض موقع پر ایسا بھی رواج ہے کہ جس کنویں کے اندر نہاتے ہیں اس کا پانی نہیں پیتے۔
الجواب :
پانی میں فقط اس کی سطح بالا کی پیمائش معتبر ہے عمق کا اصلا لحاظ نہیں اگر اوپر کی سطح مثلا ایك ہاتھ مربع ہے اور ہزار ہاتھ گہرا ہے تو وہ ایك ہی ہاتھ قرار پائے گا اور سطح سو ہاتھ ہے اور فقط نصف ہاتھ گہرا ہے تو وہ پورا سو ہاتھ ٹھہرے گا نہ کہ پچاس۔ عمق صرف اتنا ہونا چاہئے کہ لپ میں پانی لینے سے زمین نہ کھلے لہذا چاہ مذکور کی مساحت ۲۵ء۱۰۹ ہاتھ ہے نہ ۷۵ء ۳۲۷ بہرحال شك نہیں کہ وہ مائے کثیر ہے اس سے وضو وغسل اور اس میں کپڑے دھوناسب جائز ہے وہ نجاست پڑنے سے بھی ناپاك نہ ہوگا جب تك نجاست اس کا رنگ یا مزہ یا بو نہ بدل دے اسے ۴۲ ہاتھ کہنا محض بے علمی اور اس سے وضو وغسل ناجائز بتانا صریح نادانی ہے اور اگر واقع میں اس کے اعتقاد میں یہی ہے کہ اس کنویں کے پانی سے وضو نہیں ہوسکتا اور اس نے عمرو کو اس سے وضو کرکے نماز پڑھاتے دیکھا اور اپنے اسی اعتقاد پر قائم رہ کر اس کی اقتداء کرلی تو زید کی نماز نہ ہوئی کہ اس کے
#12326 · فتوٰی مسمّٰی بہ النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر
اعتقاد میں امام بے وضو نماز پڑھا رہا ہے بلالکہ وہ اس سے بھی سخت تر ہے کہ اس سے نماز کو معاذ اللہ بازیچہ سمجھناپیدا ہوتا ہے والعیاذ بالله تعالی یہی حکم ان سب کنووں کا ہے جن کے پانی کی سطح بالا۲۲۵ فٹ ہو ان میں کپڑے دھونا بھی جائز ہے اور اس سے ناپاك نہ ہوں گے اگرچہ وہ کپڑے ناپاك ہوں جب تك نجاست ان کا رنگ یا بو یا مزہ نہ بدل دے والله تعالی اعلم۔
___________________________
#12327 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
فتوی مسمی بہ
الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ
خوشگوار صاف آب مستدیر کی تحقیق (ت)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
مسئلہ ۴۴ : ۱۱ جمادی الاولی ۱۳۳۴ ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کنویں کا دور کے ہاتھ ہونا چاہئے کہ وہ دہ در دہ ہو اور نجاست گرنے سے ناپاك نہ ہوسکے بینوا توجروا
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
الجواب :
اس میں چار قول ہیں ہر ایك بجائے خود وجہ رکھتا ہے اور تحقیق جدا ہے :
قول اول : اڑتالیس ہاتھ خلاصہ وعالمگیریہ میں اسی پر جزم فرمایا اور محیط امام شمس الائمہ سرخسی وفتاوی کبری میں اسی کو احوط بتایا سید طحطاوی نے اس کا اتباع کیا ہندیہ میں ہے :
ان کان الحوض مدورا یعتبر ثمانیۃ واربعون ذراعاکذا فی الخلاصۃ وھو الاحوط کذا فی محیط السرخسی ۔
اگر حوض گول ہو تو اڑتالیس ہاتھ کا اعتبار ہوگا کذا فی الخلاصۃ اور یہی احوط ہے کذا فی محیط السرخسی۔ (ت)
طحطاوی میں ہے : الاحوط اعتبار ثمانیۃ واربعین (احوط اڑتالیس کا اعتبار کرنا ہے۔ ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ فصل فے الماء الراکد نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۸
طحطاوی علی الدرالمختار باب المیاہ بیروت ۱/۱۰۷
#12328 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
دوم : چھیالیس ہاتھ بعض کتب میں اسی کو مختار ومفتی بہ بتایا بحرالرائق میں نقل فرمایا : المختار المفتی بہ ستۃ واربعون کیلا یعسر رعایۃ الکسر اھ (مختار ومفتی بہ چھیالیس ہے تاکہ کسر کی رعایت کی دشواری میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ ت)
اقول : یرید ان ثمہ کسر اسقط او رفع تیسیرا ثم رأیت فی الفتح ماعین الرفع حیث قال ان کان الحوض مدورافقدر باربعۃ واربعین وثمانیۃ واربعین والمختار ستۃ واربعون وفی الحساب یکتفی باقل منھا بکسر للنسبۃ لکن یفتی بستۃ واربعین کیلا یتعسر رعایۃ الکسر قال والکل تحکمات غیرلازمۃ انما الصحیح ماقدمناہ من عدم التحکم بتقدیر معین اھ ای عملا باصل المذھب وقد علمت ان الفتوی علی اعتبار العشر۔
میں کہتا ہوں ان کی مراد یہ ہے کہ یہاں کسر ہے جو ساقط کردی گئی ہے یابڑھائی گئی ہے آسانی کیلئے پھر میں نے فتح میں دیکھا تو انہوں نے رفع کو متعین کردیا فرمایا اگر حوض گول ہو تو اس کا اندازہ چوالیس اور اڑتالیس کیا گیا ہے اور مختار چھیالیس کیا گیا ہے اور حساب کے اعتبار سے اس سے کم پر بھی اکتفاء کیا جائیگا کسر نسبت کیلئے لیکن چھیالیس پر فتوی دیا جائیگا تاکہ کسر کی رعایت میں پریشانی لاحق نہ ہو فرمایا یہ تمام باتیں محض اپنی مرضی سے کہہ دی گئی ہیں ان کا ماننا لازم وضروری نہیں صحیح وہی ہے جو ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ کسی معین مقدار کا ہونا ضروری نہیں ہے اھ یعنی اصل مذہب پر عمل کرتے ہوئے اور آپ جان چکے کہ فتوی دس۱۰ پر ہے۔ (ت)
سوم : چوالیس ہاتھ اس کی ترجیح اس وقت کسی کتاب سے نظر میں نہیں جامع الرموز میں ہے :
امافی المدور فیشترط ان یکون دورہ ثمانیا و اربعین ذراعا وقیل اربعاواربعین فالاول احوط کمافی الکبری ۔
گول حوض میں شرط یہ ہے کہ اس کا دور اڑتالیس ہاتھ ہو اور ایك قول ہے کہ چوالیس ہاتھ ہو تو اول احوط ہے جیسا کہ کبری میں ہے۔ (ت)
چہارم : چھتیس ہاتھ ملتقط میں اسی کی تصحیح کی امام ظہیرالدین مرغینانی نے فرمایا یہی صحیح اور فن حساب میں مبرہن ہے جامع الرموز میں ہے :
وقیل ستۃ وثلثین وھو الصحیح المبرھن
اور ایك قول ہے کہ یہ چھتیس ہے اور یہی صحیح ہے
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۷
فتح القدیر الماء الذی یجوزبہ الوضوء ولا یجوزبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۰
جامع الرموز باب بیان الماہ گنبد ایران ۱ / ۴۸
#12329 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
عند الحساب کما فی الظھیریۃ وفی الاولین تحقق الحوض المربع داخل المدور وفی الثالث مایساو یہ ۔
اور حساب کی رو سے مبرہن ہے کما فی الظہیریہ اور پہلے دو میں مربع حوض مدور حوض متحقق ہوگیا اور تیسرے میں اس کے مساوی ہے۔ (ت)
اسی پر مولی خسرو نے متن غرر میں مع افادہ تصحیح اور مدقق علائی نے درمختار اور علامہ فقیہ ومحاسب شرنبلالی نے مراقی الفلاح میں جزم فرمایا ردالمحتار میں ہے :
قولہ وفی المدور بستۃ وثلثین ای بان یکون دورہ ستۃ وثلثین ذراعا وقطرہ احد عشر ذراعا وخمس ذراع ومساحتہ ان تضرب نصف القطروھو خمسۃ ونصف وعشر فی نصف الدور وھو ثمانیۃ عشر یکون مائۃ ذراع واربعۃ اخماس ذراع اھ سراج وما ذکرہ ھو احد اقوال خمسۃ عـــہ۱ وفی الدرر عن الظھیریۃ ھو الصحیح ۔
ان کا قول کہ مدور میں چھتیس ہیں یعنی اس کادور چھتیس گز ہو اور اس کا قطر گیارہ گز اور ایك خمس ہو اور اس کی مساحت یہ ہے کہ نصف قطر یعنی ساڑھے پانچ کو اور دسویں کو نصف دور میں ضرب دی جائے اور یہ اٹھارہ ہے تو کل سو ہاتھ اور چار خمس ذراع ہوگا اھ سراج اور جو انہوں نے ذکر کیا ہے وہ پانچ میں سے ایك قول ہے اور درر میں ظہیریہ سے ہے کہ یہی صحیح ہے۔ (ت)
اقول : تحقیق یہ ہے کہ اس کادور تقریباساڑھے پینتیس ہاتھ چاہئے یعنی ۴۴۹ء ۳۵ تو قطر تقریبا ۵ گز ۲ / ۱ -۱۰ گرہ ہوگا بلالکہ دس گرہ ایك انگل یعنی ۲۸۴ء ۱۱ ہاتھ بیان اس کا یہ کہ اصول ہندسہ عـــہ۲ مقالہ ۴ شکل ۱۲ میں ثابت ہے کہ محیط دائرہ کو ربع قطر میں ضرب دینے سے مساحت دائرہ حاصل ہوتی ہے یا قطر دائرہ کو ربع محیط
عـــہ۱ لم ارفی التقدیر الا اربعۃ اقوال وکانہ اراد بالخامس ماذکر المحقق ان لاتعیین منہ حفظہ ربہ تعالی (م)
میں نے تقدیر میں صرف چار قول دیکھے ہیں شامی نے گویا پانچویں سے وہ مراد لیا ہے جس کو محقق نے ذکر کیا ہے کہ تعیین نہیں۔ (ت)
عـــہ۲ : یہ کتاب کتاب اقلیدس سے جدا وجدید ہے ۸ مقالوں پر مشتمل اورہندسہ ومساحت ومثلث کروی سب میں مفید ہے اس میں بہت دعاوی کابیان کتاب اقلیدس پر مزید ہے فاضل محمد عصمہ مصری نے اسے ترکی سے عربی میں ترجمہ کیا ۱۲ (م)
حوالہ / References جامع الرموز باب بیان الماء گنبد ایران ۱ / ۴۸
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۲
#12330 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
یا نصف قطر کو نصف محیط میں ضرب دیجئے یا قطر ومحیط کو ضرب دے کر ۴ پر تقسیم کیجئے کہ حاصل سب کا واحد ہے اور ہم نے(۱) اپنی تحریرات ہندسیہ میں ثابت کیا ہے کہ قطر اجزائے محیطیہ سے قدحہ لہ الط لومہ ہے نصف قطر نرحہ لرمد مح یعنی محیط جسے مقدار سے ۳۶۰ درجے ہے قطر اس سے ۱۱۴ درجے ۳۵ دقیقے ۲۹ ثانیے ۳۶ ثالثے ۴۵ رابعے ہے۔
وفی حساب الفاضل غیاث الدین جمشید الکاشی علی مانقل العلامۃ البرجندی فی شرح تحریر المجسطی لوبعہ ای ستاوخمسین مکان مہ لایفارق محسوبی الابنحو رابعۃ وجاء بحساب اخر مربعہ رفعا ای سبعا واربعین وبالجملۃ لافرق الا فی بعض روابع وعلی ھذا الاخیر عولنا۔
اور فاضل غیاث الدین جمشید الکاشی کے حساب میں جیسا کہ علامہ برجندی نے شرح تحریر مجسطی میں لکھا ہے لوبعہ یعنی ۵۶ بجائے مہ یہ حساب میرے حساب سے مختلف نہیں مگر صرف ۱۱ رابعہ کی مقدار میں اور دوسرے حساب سے مربعہ رفعا یعنی سینتالیس ہے خلاصہ یہ کہ اختلاف صرف بعض روابع میں ہے اور اسی اخیر پر ہم نے اعتماد کیا ہے۔ (ت)

تو قطراگر ایك ہی محیط ۱۴۱۵۹۲۶۵ء ۳ ہے فان ۳۶۰÷ ۱۴۱۵۹۲۶۵ء ۳=۵۹۱۵۵۹۱۵۷ء ۱۱۴ تحویلہ الی الستینی مدحہ لہ الط لومر یہاں سے ہمیں دو مساواتیں حاصل ہوئیں قطر ومحیط ومساحت کو علی التوالی ق ط م فرض کیجئے پس (۱) ۱۴۱۵۹۲۶۵ء ۳ ق=ط اس لئے کہ ۱ : ۱۴۱۵۹۲۶۵ء ۳ : : ق : ط
(۲) ۴ / ق ط =م ان کے بعد قطر ومحیط(۱) ومساحت سے جو چیز گز ہاتھ فٹ گرہ وغیرہا جس معیار سے مقدر کی جائے اسی معیار سے باقی دو کی مقدار معلوم ہوجائے گی جس کی جدول ہم نے یہ رکھی ہے۔
معلوم / مطلوب قطر محیط مساحت
قطر ۱۴۱۵۹۲۶۵ء۳ق ۳۹۸۱۶۲۵ ۷۸۵ء۰ق۲ عـــہ۱
محیط ۱۴۱۵۹۲۶۵ء۳(ط) ۵۶۶۳۷۰۶ء۱۲ ط۲ عـــہ۲
مساحت ۷۸۵۳۹۸۱۶۲۵ء۰(م)
عـــہ ۱ عدد معلوم یعنی مقدار محیط باجزائے قطریہ کو ص فرض کیجئے : .ص ق=ط ۴ / ق ط=م : . ۴ / ص ق۲=میہ عدد ۴ / ص ہے ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ جبکہ ص / ط=ق ۴ / ق ط=م : . ۴ص / ط۲=م یہ عدد ۴ص ہے ۱۲ منہ (م)
#12331 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
پھر آسانی کیلئے لوگارثم سے کام کرنے کو یہ دوسری جدول رکھی اور اس میں متمات حسابیہ سے وہ تصرفات کر دئے کہ بجائے تفریق بھی جمع ہی رہے۔

یہاں مساحت معلوم ہے ۱۰۰ہاتھ جس کالوگارثم ۰ء۲ : .۲ / ۱۰۴۹۱۰۱ ء۲ =۱۰۵۲۴۵۵۰ء۱ کہ لوگارثم ۲۸۴ء ۱۱ کا ہے یہ قدر قطر ہوئی نیز ۲ / ۰۹۹۲۰۹۹ ء ۳ =۵۴۹۶۰۴۹ء۱ کہ لوگارثم ۴۴۹ء۳۵ کا ہے یہ مقدار دور ہوئی۔ ہمارے بیان کی تحقیق یہ ہے کہ ۲۸۴ء۱۱*۴۴۹ء۳۵=۰۰۶۵۱۶ء۴۰۰ ÷۴=۰۰۱۶ء۱۰۰ کہ سو ہاتھ سے صرف ۱۰۰۰۰ / ۱۶ یعنی ۶۲۵ / ۱ زائد ہے کہ ایك انگل عرض کا ۶۲۵ / ۲۴ یعنی انگل کے پچیسویں حصے سے بھی کم ہے بخلاف حساب سراج وشرنبلالیہ کہ ان کے خیال سے ۱۹ انگل اور واقع میں تین ہاتھ سے بھی زیادہ بڑھتا ہے کما سیأتی۔
اقول : وبھذا علم مافی البیانات السابقۃ (۱) فاولا ماکان دورہ ستا وثلثین لایزید قطرہ علی ذراعا بخمس ذراع فقط بل بقریب من نصف ذراع لان لوغارثمھا
۵۵۶۳۰۲۵ء۱'+۵۰۲۸۵۰۱ء۱=۰۵۹۱۵۲۶ء۱وھو لوغارثم ء لاینقص من النصف الاقدر ۱۰۰۰ / ۴۱
(۲) وثانیا : ماکان کذا تزید مساحتہ علی مائۃ ذراع باکثر من ثلثۃ اذرع لااربعۃ اخماس ذراع وذلك لان۵۵۶۳۰۲۵ء۱*۲=۱۱۲۶۰۵۰ء۱۳'
+۹۰۰۷۹۰۱ء۲ = ۱ ۵ ۹ ۰۱۳۳ء ۲ وھو لوغارثم ۱۳ء۱۰۳(۳) وثالثا : لوعمل بقطر ذکر بان رسم خط اس سے معلوم ہوا کہ جو کچھ سابقہ بیانات میں ہے اولا جس کا دور چھتیس ہو اس کا قطر ۱۱ ذراع پر ایك ذراع کا صرف پانچواں حصہ زائد نہ ہوگابلالکہ آدھے ذراع کے قریب زائدہوگاکیونکہ ۳۶ کا لوغارثم
۵۵۶۳۰۲۵ء۱'+۵۰۲۸۵۰۱ء۱=۰۵۹۱۵۲۶ء۱ہے اوروہ لوگارثم ۴۵۹ء۱۱ ہے یہ نصف سے صرف ۱۰۰۰ / ۴۱ کی مقدار کم ہے اور ثانیا جو ایسا ہو اس کی پیمائش سو ہاتھ پر تین ذراع سے زائد ہوگی نہ یہ کہ ایك ذراع کا ۵ / ۴ اور یہ اس لئے ہے کہ ۵۵۶۳۰۲۵ء۱*۲ =۱۱۲۶۰۵۰ء۱۳'+۹۰۰۷۹۰۱ء۲ =۰۱۳۳۹۵۱ء۲ اور وہ لوگارثم ہے ۱۳ء۱۰۳ کا
#12332 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
مثلہ ورسمت علی منتصفہ ببعد طرفہ دائرۃ فجعل دورالبئرمثلھا لم یصح فان ء لوغارثمہ
۰۴۹۲۱۸۰ء۱ضعفہ۰۹۸۴۳۶۰ء۲'+۸۹۵۰۸۹۹ء۱ =۹۹۳۵۲۵۹ء۱وھو لوغارثم ۵۲ء۹۸ فیکون السطح اقل من مائۃ ذراع بذراع ونصف تقریبا وبالجملۃ ان اخذ الدور زاد علی المطلوب بثلثۃ اذرع وان اخذ القطر نقص عنہ بذراع ونصف ان ارید الجمع بینھما لم یمکن۔ اما قول المحقق الشرنبلالی فی غنیۃ ذوی الاحکام حیث ذکر اولا مامر عن ش عن السراج ثم قال وبرھان ذلك اننا علمنا الدور والمساحۃ التی ھی تکسیر الدائرۃ فقسمناالمساحۃ علی ربع الدور وھو تسعۃ فخرج القطراحد عشر ذراعاوخمس ذراع وبرھان اعتبارستۃ وثلثین بقسمۃ المساحۃ وھی مائۃ ذراع واربعۃ اخماس ذراع علی نصف القطر فھو علی ماذکرناہ اھ
فاقول : (۱)لفظ نصف ھھنا سبق قلم وصوابہ علی ربع القطر لما علمت ان ۴ / ق ط =م قسمنا المعادلۃ علی ۴ / ط : . ق=م÷۴ / ط
اور ثالثا اگر مذکورہ قطر پر عمل کیا جائے اس طرح کہ اسی کی مثل ایك خط کھینچا جائے اور اس کے نصف پر اس کے بعد کے کنارے پر ایك دائرہ کھینچا جائے اور کنویں کا دور اسی کی مثل کیا جائے تو صحیح نہ ہوگا کیونکہ ۲ء۱۱ کا لوگارثم ۰۴۹۲۱۸۰ء۱ ہے اس کا دوگنا
۰۹۸۴۳۶۰ء۲'+۸۹۵۰۸۹۹ء۱=۹۹۳۵۲۵۹ء۱ ہے اور یہ لوگارثم ۵۲ء۹۸ ہے تو سطح سو ہاتھ سے تقریبا ڈیڑھ ہاتھ کم ہوگی اور خلاصہ یہ ہے کہ اگر دور لیا جائے تو مطلوب پر زائد ہوگاتین ہاتھ اور اگر قطر لیا جائے تو اس سے ڈیڑھ ہاتھ کم ہوگا اور اگر ان دونوں میں جمع کا ارادہ کیا جائے تو ممکن نہ ہوگا اور غنیۃ ذوی الاحکام میں محقق شرنبلالی نے فرمایا پہلے تو جو ذکر کیاگیا'ش'سے سراج سے وہ انہوں نے ذکر کیا پھر فرمایا اس کی برہان یہ ہے کہ ہمیں دور اور پیمائش کا علم ہے جو دائرہ کی تکسیر ہے تو ہم نے مساحۃ کو ربع دورپر تقسیم کیا اور وہ ۹ ہے تو قطر ۵ / ۱ -۱۱ ذراع نکلا اور برہان اس امر پر کہ ۳۶ کا اعتبار مساحۃ کی تقسیم پر اور وہ مساحۃ سو ذراع اور چار خمس ذراع ہے نصف قطر پر توجیسا کہ ہم نے ذکر کیا یہ اس کے مطابق ہے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں لفظ نصف یہاں قلم کی سبقت ہے صحیح ربع قطر ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ۴ / ق ط=م ہم نے معادلہ کو تقسیم کیا ۴ / ط : .ق=م÷ ۴ / ط پر اور یہ اس کا پہلا دعوی ہے۔ اور ثانیا ہم نے اس کو ۴ / ق : . ط=م÷ ۴ /
حوالہ / References غنیہ ذوی الاحکام علی حاشیۃ غرر الاحکام فرض الغسل دارالسعادۃ مصر ۱ / ۲۳
#12333 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
وھی دعواہ الاولی وثانیا قسمناھا علی ۴ / ق : .ط=م÷ ۴ / ق لا ۴ / ق وھی دعواہ الاخری ھذا سہل وانما الشأن فی تعیین ھذہ المقادیر وما القصد الاابداء مقداردور تکون مساحتہ مائۃ ذراع فلیس بالید الاھذہ (۱)فاولا کیف عدل عنھا الی مایزید علیھاباربعۃ اخماس ذراع
وثانیا : (۲)بنیتم برھان اعتبار ھذاالدورعلی قدر القطروبرھان اعتبار ھذا القطر علی قدر الدور وھذا دور
وثالثا : (۳) بنیتم المساحۃ تبعا للسراج علی الدور والقطر وھذا ان دوران اخران ولکن الامران السراج بنی الامر علی الاستقراء فقرب تقریبا واذا تقرر ھذا فابانۃ القطر من الدور والمساحۃ اوالدور من القطر والمساحۃ ارادۃ تحقیق ماتقرر لاالبرھان علی ذلك وبالله التوفیق ھذا وما ذکر القھستانی من وقوع مربع عشر داخل دائرۃ محیطھا ثمانیۃ واربعون اواربعۃ واربعون۔
فاقول : لہ وجہ فی الاول فیقع فیھا لغۃ وان لم یقع علی مصطلح الفن من ان یماسھا جمیع زوایاہ وذلك لان المربع الواقع فی محیط ثمانیۃ واربعین ضلعہ عـــہ اطول
ق لا ۴ / ق پر تقسیم کیا اور یہ ان کا دوسرا دعوی ہے یہ سہل ہے اور اہم معاملہ ان مقادیر کی تعیین کاہے اور مقصد صرف مقدار دور کا اظہار ہے جس کی مساحۃ ایك سو۱۰۰ ذراع ہو تو ہاتھ میں یہی ہے۔ اولا یہاں اس سے عدول کر کے وہ چیز اختیار کی گئی ہے جس پر ایك ذراع کے چار خمس زائد ہے ایسا کیوں کیا گیا
ثانیا : اس دور کے اعتبار کی برہان کو تم نے قطر کی مقدار پر مبنی کیا ہے اور اس قطر کے اعتبار کی برہان کو دور کی مقدار پر مبنی کیا ہے اور یہ دور ہے۔
ثالثا : تم نے پیمائش کی بنیاد سراج کی پیروی میں دور اور قطر پر رکھی ہے اور یہ دور دوسرے دور ہیں لیکن سراج نے معاملہ کی بنیاد استقراء پر رکھی ہے تو ان کی یہ بات قریب قریب ٹھیك ہے جب یہ ثابت ہوگیا تو قطر کو دور اور پیمائش سے الگ کرنا یا دور کو قطر وپیمائش سے الگ کرنا ثابت شدہ چیز کی تحقیق کا ارادہ ہے اس پر برہان نہیں ہے وباللہ التوفیق اس کو سمجھنا چاہئے اور قہستانی نے دس کے مربع کا ذکر کیا ہے جس کے دائرہ کا محیط اڑتالیس یا چوالیس بنتا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس کی پہلے میں وجہ موجود ہے تو وہ اس میں لغت کے اعتبار سے واقع ہے اگرچہ فن کی اصطلاح کے مطابق نہیں ہے یعنی یہ کہ اس کو اس کے تمام زاویے مس کرتے ہوں اور اس کی دلیل

عـــہ ای باکثر من اربعۃ اخماس ذراع وذلک
یعنی ایك ہاتھ کے چار خمس سے زیادہ (باقی بر صفحہ ایندہ)
#12334 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
من عشرۃ فلا یمکن ان یماسھا اکثر من زاویتین من المربع (۱) اما فی الثانی فلاوجہ لہ اصلا فلیقع مربع ا ء فی دائرۃ ا ب ج ء علی مرکز ھ ولو ۴۴=۶۴۳۴۵۲۷ء۱'+۵۰۲۸۵۰۱ء۱=
۱۴۶۳۰۲۸ءھذا لوالقطر'-۳۰۱۰۳۰۰ء۰
image
=۸۴۴۵۲۷۲۸ء۰ھذا لونصفہ اھ ثم فی مثلث اھ ب القائم الزاویۃ اھ : جیب ب وھی مہ حہ
لوجیبھا ۸۴۹۴۸۵۰ء۱ : : اب : ع : .۸۴۵۲۷۲۸ء۰-۸۴۹۴۸۵۰ء۱=۹۹۵۷۸۷۸ء۰ ھذا لو اب وان شئت بالعروسی فضعف لواھ
یہ ہے کہ جو مربع اڑتالیس کے محیط میں ہوتا ہے اس کا ضلع دس سے لمبا ہوتا ہے تو یہ ممکن نہیں کہ مربع کے دو سے زائد زاویے اس کو مس کریں اور دوسرے میں اس کی کوئی وجہ موجود نہیں مثلا اع کا مربع ا ب ج ع کے دائرہ میں واقع ہو اور ھ کے مرکز پر ہو اور لو ۴۴=۶۴۳۴۵۲۷ء۱'
+۵۰۲۸۵۰۱ء۱=۱۴۶۳۰۲۸ء۱ یہ لو قطر ہے۔ ۳۰۱۰۳۰۰ء۰ =۸۴۵۲۷۲۸ء۰ یہ لو اس کا آدھا ہے اھ پھر مثلث میں ا ھ ب زاویہ قائمہ اھ : جیب ب اور یہ مہ حہ لو اس کا جیب یہ ہے۸۴۹۴۸۵۰ء۱ : : ا ب : ع : . ۸۴۵۲۷۲۸ء۰ _ ۸۴۹۴۸۵۰ء۱= ۹۹۵۷۸۷۸ء۰ یہ لو ا ب ہے او راگر تم چاہو شکل عروسی سے تواھ کادوگنا لو ا ھ۶۹۰۵۴۵۶ء۱اس کاعدد۰۳۹۴۵۶۸ء۴۹کادوگنا ۰۷۸۹۱۳۶ع۹۸ اس کا لوگارثم ۹۹۱۵۷۵۶ء ۱۱ اس کا نصف ۹۹۵۷۸۷۸ء۰ ہے جیسا کہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
عـــہ لان لوالمحیط۶۸۱۲۴۱۲ء۱'+۵۰۲۸۵۰۱ء۱ =۱۸۴۰۹۱۳ء ھذا لوالقطر ۳۰۱۰۳۰۰ء۰ =۸۸۳۰۶۱۳ء۰ ھذا لو نصف القطر- لوجیب مہ ۸۴۹۴۸۵۰ء۱=۰۳۳۵۷۶۳ء۱ ھذا لو ضلع المربع الواقع فیہ فھی ۸۰۳۷۵ء۱۰ فالمساحۃ تکون اکثر منء ھذا فی المربع اما الدائرۃ فمساحتھا اکثر من مائۃ وثلثۃ وثمانین ذراعا اھ منہ (م
کیونکہ محیط کا لوگارثم ہے ۶۸۱۲۴۱۲ء۱' +۵۰۲۸۵۰۱ء۱ =۱۸۴۰۹۱۳ء۱ یہ قطر کا لوگارثم ہے ۳۰۱۰۳۰۰ء۰ =۸۸۳۰۶۱۳ء ۰یہ نصف قطر کا لوگارثم ہے۔ لوجیب مہ ۸۴۹۴۸۵۰ء۱ =۰۳۳۵۷۶۳ء۱ یہ محیط میں واقع ہونے والے مربع کے ضلع کالوگارثم ہے ۸۰۳۷۵ء۱ لہذا مساحت ۷۲ء ۱۱۶ سے زیادہ ہوگی یہ مربع میں ہے رہا دائرہ تو اس کی پیمائش ایك سو تراسی ۱۸۳ ہاتھ سے زیادہ ہے۔ (ت)
#12335 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
۶۹۰۵۴۵۶ءعددھا ۰۳۹۴۵۶۸ء۴۹ ضعفہ ۰۷۸۹۱۳۶ء۹۸ لو غار ثمہ ۹۹۱۵۷۵۶ء نصفہ ۹۹۵۷۸۷۸ء۰ مثل مامر وھو لوغارثم ۹۰۳۵ء۹ ھذا قدر الضلع ولم تبلغ عشرا کما تری ثم المساحۃ ۰۷۹ء۹۸اقل من مائۃ بنحو ذراعین لما علمت انھا ضعف مربع اھ وضعف مربع نصف القطر ھی مساحۃ المربع لان مساحتہ مربع ضلع ا ب وھو ضعف مربع اھ بالعروسی فانی یقع فیھا مربع عشر فی عشر۔
تنبیہ : حکم العلامۃ الشرنبلالی ببطلان سائر الاقوال سوی الرابع حیث قال والصواب کلام الظھیریۃ ولا یعدل عنہ الی غیرہ وقال فالزام قدر یزید علی الستۃ والثلثین لاوجہ لہ علی التقدیر بعشر فی عشر عند جمیع الحساب اھ
اقول : وقد اشار الی الجواب عما یتوھم ان فیھا قولین مصححین بل الثانی مذیل بطراز الفتوی فکیف یمنع المصیر الیہ بل انما ینبغی التعویل علیہ وذلك ان المفتی بہ المعتمد ھو التقدیر بمائۃ والاقوال جمیعا انما ترومہ ومبنی ذلك علی الحساب دون التفقھات الغامضۃ التی لاقول لنافیھا لاسیما علی خلاف الفتوی وامر الحساب لایلتبس فاذا علمنا قطعا ان الصواب ھذا وجب
گزرا اور وہ لوگارثم ہے ۹۰۳۵ء۹ کا یہ ضلع کی مقدار ہے اور یہ دس تك نہیں پہنچ سکی ہے جیساآپ دیکھتے ہیں پھر پیمائش ۰۷۹ء۹۸ سو سے تقریبا دو ذراع کم ہے کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ یہ مربع کا دوگنا ہے اھ اور نصف قطر کے مربع کا دو گنا ہی مربع کی پیمائش ہے کیونکہ اس کی پیمائش ا ب ضلع کامربع ہے اور وہ اھ کے مربع کا دوگنا ہے شکل عروسی کے اعتبار سے تو اس میں دہ در دہ کا مربع کہاں سماسکتا ہے! (ت)
تنبیہ : علامہ شرنبلالی نے سوائے چوتھے قول کے تمام اقوال کو باطل قرار دیا ہے وہ فرماتے ہیں صحیح ظہیریہ کا قول ہے اور اس کے علاوہ کسی اور کو اختیار نہ کیا جائے نیز فرمایا ایسی مقدار کا لازم قرار دینا جو چھتیس۳۶ سے زائد ہو اس کی کوئی وجہ نہیں جبکہ دہ در دہ کا اندازہ ہو یہی تمام حساب دانوں کے نزدیك ہے اھ
میں کہتا ہوں یہ اشارہ ہے وہم کے جواب کی طرف وہم یہ ہے کہ اس میں دو قول ہیں اور ان میں سے ہر ایك کی تصحیح کی گئی ہے بلا لکہ دوسرے قول کی بابت کہا گیا ہے کہ فتوی اسی پر ہے تو اس کی طرف رجوع کرنے کو کیونکر منع کیا جاسکتا ہے بلالکہ اس پر تواعتماد کرنا چاہئے کیونکہ معتمد اور مفتی بہ سو کا اندازہ ہے اور تمام اقوال کا مقصود بھی یہی ہے یہ چیز تو حساب پر مبنی ہے اس میں لمبی چوڑی فقیہانہ ابحاث کا کوئی موقعہ نہیں خاص
حوالہ / References غنیۃ ذوی الاحکام حاشیۃ علی الغررفرض الغسل ۱ / ۲۳
#12336 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
ترك ماسواہ غیران قدوۃ الریاضین العلامۃ عبدالعلی البرجندی رحمہ الله تعالی حاول فی شرح النقایۃ توجیہ قولی و عازیا لھذا الی الکبری والذی رأیتہ فی شرح القھستانی ان فی الکبری جعل الاول ھو الاحوط والله تعالی اعلم وکانہ لم یقع لہ قول فقال تحقیق الکلام ھھنا متوقف علی ثلث مقدمات
(۱) ھی ان مربع وترالقائمۃ فی مثلث یساوی مجموع مربعی ضلعیھا (۲) وان محیط الدائرۃ ازید من ثلثۃ امثال قطرھا بسبع قطرھا (۳) وانہ اذا کانت مساحۃ دائرۃ معلومۃ وقسمت باحد عشر قسما متساویۃ و زید ثلثۃ اقسام منھاعلی مجموع المساحۃ واخذ جذر المجموع یکون قطر الدائرۃ کل ذلك مبرھن فی علمی الھندسۃ والحساب فنقول اذا کان کل من ضلعی الحوض المربع عشراذرع کان مجموع مربعی الضلعین مائتین وجذرھمااربعۃ عشر وعشرو نصف عـــہ عشر تقریبا وھو مقدار الخط الواصل بین الزاویتین المتقابلتین وھو اطول الامتدادات الممکنۃ فی المربع المذکور للمقدمۃ الاولی فاعتبر
طور پر فتوی کے خلاف کہنے کی گنجائش نہیں اور حساب کا معاملہ تو بالکل واضح ہوتا ہے اب جبکہ ہمیں معلوم ہوگیا کہ صحیح یہی ہے تو دوسرے اقوال کا ترك لازم ہوگیا البتہ قدوۃ الریاضیین علامہ عبدالعلی برجندی نے شرح نقایہ میں ۴۸ اور ۴۴ کے دو قول کی تشریح کی کوشش کی ہے اس کو کبری کی طرف منسوب کیا ہے اور میں نے شرح قہستانی میں دیکھا کہ کبری میں پہلے قول کواحوط قرار دیاہے والله تعالی اعلم اور غالبا ۴۶ کے قول کی طرف وہ متوجہ نہ ہوئے تو فرمایا یہاں تحقیق کلام تین مقدمات پر مبنی ہے
(۱) قائمہ کے وتر کا مربع مثلث میں اس کے دو ضلعوں کے دو مربعوں کے مجموعہ کے برابر ہوتا ہے۔
(۲) اور دائرہ کا محیط اس کے قطر کی تین مثل سے اس کے قطر کے سبع جتنا زیادہ ہوتا ہے۔
(۳) اگر ایك دائرہ کی مساحت معلوم ہو اور گیارہ پر برابر تقسیم کی جائے اور اس میں سے تین اقسام کا اضافہ کیا جائے مجموعی پیمائش پراور مجموعہ کاجذر لیاجائے تو دائرہ کا قطر نکل آئے گا۔ یہ سب علم ہندسہ اور حساب میں مبرہن ہے اب ہم کہتے ہیں کہ جب ایك مربع حوض کے دونوں ضلعے دس ذراع ہوں گے تو دونوں ضلعوں کے دونوں مربعوں کا مجموعہ دو سو ہوگا اور دونوں کا جذر چودہ ذراع اور دسواں اور دسویں کاآدھا ہوگا تقریبا اور یہی مقدار

عـــہ : بل جزء من خمسۃ وعشرین جزء وشیئ قلیل فانہ ء تقریبا اھ منہ (م)
بلالکہ پچیس اجزاء میں سے ایك جز اور تھوڑی مقدار کیونکہ وہ ۱۲۴ء۱۴ ہے تقریبا۔ (ت)
#12337 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
فی الفتاوی الکبری ان یکون قطر الحوض المدور مساویالاطول الامتدادات المفروضۃ فی الحوض المربع لیمکن وقوع مربع بالشرط المذکور داخل الحوض المدور ولا یکون البعدبین جزئین متقابلین من محیط المدور فی شیئ من المواضع اقصر من اطول امتدادات المربع فیکون محیط الحوض المدور ثلثۃ امثال ذلك الامتداد وسبعہ اعنی اربعاواربعین ذراعا واربعۃ اعشار وثلثی عـــہ۱ عشر للمقدمۃ الثانیۃ ولما کان الکسر الزائد اقل من النصف اسقطوہ کما ھو عادۃ اھل الحساب وصاحب الخلاصۃ اعتبر ایضا مااعتبر فی الکبری لکنہ لم یتدنق فی الحساب فاخذ الکسر الزائد واحداللاحتیاط فاخذ الامتداد الاطول خمسۃ عشر فاذا اعتبرناہ قطرا یکون المحیط سبعاواربعین ذراعا وسبع ذراع فاعتبر ثمانیاواربعین تتمیما عـــہ۲ للکسر والقاضی
اس خط کی ہے جو دو متقابل زاویوں کے درمیان متصل ہے اور یہ مربع مذکور میں ممکنہ امتدادات میں سب سے لمباہے اس کی دلیل پہلامقدمہ ہے تو فتاوی کبری میں اس امر کا اعتبار کیا گیا ہے کہ گول حوض کا قطر مربع حوض کے مفروضہ امتدادات میں سب سے طویل ہوتاکہ گول حوض میں شرط مذکور کے ساتھ مربع کاہونا ممکن ہو اور گول حوض کے محیط سے دو متقابل اجزا کادرمیانی بعد کسی جگہ بھی مربع کے امتدادات میں سے طویل ترسے چھوٹا نہ ہو تو گول حوض کا محیط اس امتداد سے تین گنااور ساتواں ہوگایعنی چوالیس ہاتھ اور چار اعشاراور دسویں کے دو ثلث ہوں گے یہ دوسرے مقدمہ سے ثابت ہے اورچونکہ کسر زائد نصف سے کم ہے تو اس کو ساقط کر دیا گیا جیسا کہ حساب دانوں کا طریقہ ہے اور خلاصہ کے مصنف نے وہی اعتبار کیا ہے جو فتاوی کبری میں کیا ہے لیکن انہوں نے حساب میں باریك بینی نہ کی تو انہوں نے کسر زائد کو ایك اعتبار کیا احتیاطا تو انہوں نے طویل ترین امتداد کا اعتبار پندرہ ذراع
عـــہ۱ : بل الکسر علی ماذکرہ ۴۷۱۴ء وھو اربعۃ اعشارواکثر من ثلثی عشر بقدر ۱۲۵ / ۶ تقریبا وعلی ماذکرنا ء وھو اربعۃ اعشار واقل بثلثی عشر بقدر ۲۵۰ / ۵۱ ای اکثر من خمس العشر اھ منہ (م)
عـــہ۲ : اقول السبع (۱) لایتم ولا احتیاط فی الاحتیاط فکان یجب ترکہ اھ منہ۔ (م)
بلاکہ ان کے ذکر کے مطابق کسر ۴۷۱۴ء ہے اوریہ چار عشر اور ایك عشر کے دو تہائی حصے سے تقریبا ۱۲۵ / ۶ کی مقدار میں زیادہ ہے اور ہمارے بیان کے مطابق ۴۴۶۳ء ہے اوریہ چار عشر اور ۲۵۰ / ۵۱ کی مقدار میں دسویں حصے کے دو ثلث سے کم یعنی دسویں حصے کے پانچویں حصے سے زیادہ۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ ساتواں حصہ مکمل نہیں ہوتااوراس احتیاط میں احتیاط نہیں ہے لہذا اس کا ترك کرنا واجب تھا۔ (ت)
#12338 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
الامام ظہیرالدین اعتبر ان تکون مساحۃ الحوض المدورمساویۃ لمساحۃ المربع فیکون الماء فیہ مساویا لماء المربع ویشبہ ان یکون ھذا ماخوذاعمانقل عن محمدبن ابراھیم المیدانی علی مامرفنقول کانت المساحۃ مائۃ قسمناھاباحد عشر قسما کان کل قسم تسعۃ وجزء من احد عشرفاذازدنا ثلثۃ امثالھاعلی المائۃ حصل مائۃ وسبعۃ وعشرون وثلثۃ اجزاء من احد عشر وجذرہ یکون احد عشرو خمساونصف عـــہ۱ سدس تقریباوھوقطردائرۃ مساحتھامائۃ للمقدمۃ الثالثۃ وثلثۃ امثالہ مع سبعہ اعنی محیط الحوض المدور یکون خمساوثلثین ذراعا ونصف ذراع الانصف عـــہ۲ عشرفاعتبرواھذاالکسرواحدا
واخذوامحیطہ ستاوثلثین وانما اوردنا ھذہ المباحث لیظھر وجہ صحۃ اقوال ھؤلاء الائمۃ وانہ لیس شیئ منھاکما توھم بعضھم غلطاصریحا وکم من عائب قولا صحیحا اھ۔
اور قاضی ظہیر الدین نے گول حوض کی پیمائش مربع کی پیمائش کے مساوی قرار دی ہے تو اس کا پانی مربع کے پانی کے مساوی ہوگا اور غالبا یہ محمد بن ابراہیم میدانی کی نقل سے ماخوذ ہے جیسا کہ گزرا ہم کہتے ہیں پیمائش سو تھی اس کو ہم نے گیارہ پر تقسیم کیا تو ہر حصہ نو اور گیارہ کا ایك جز ہوااور جب اس کا تین گنا سو پر زائد کیاتو ایك سو ستائیس۱۲۷اورگیارہ کے تین اجزاء حاصل ہوئے اور اس کا جذر گیارہ اور پانچواں اور چھٹے کا تقریبا نصف ہوا اور وہ دائرہ کا قطر ہے جس کی پیمائش سو ہے اس کی دلیل تیسرا مقدمہ ہے اور اس کا تین گنا مع ساتویں کے یعنی گول حوض کا محیط پینتیس ذراع اورنصف ذراع دسویں کانصف کم ہوگاتواس کسر کو انہوں نے پوراایك شمار کیا اور اس کا محیط چھتیس لیا اور ہم نے یہ مباحث اس لئے ذکر کیے تاکہ ان ائمہ کے اقوال کی صحت کاسبب معلوم ہوسکے اور یہ کہ ان میں سے کوئی بھی صریح غلط نہیں جیسا کہ بعض نے وہم کیا اوربہت سے لوگ صحیح اقوال کو عیب لگاتے ہیں اھ (ت)

عـــہ۱ ای اقل منہ بشیئ قلیل فانہ ء تقریبا اھ منہ (م) عـــہ۲ بل المستثنی اقل منہ فعلی ماذکرہ ۱۰۵ / ۴ وعلی ماذکرنا ۵۰۰۰ / ۲۱۹ اھ منہ (م)
یعنی اس سے کچھ کم کیونکہ وہ تقریبا ۲۸۱۵۱۸ء۱۱ ہے اھ (ت)
بلالکہ مستثنی اس سے کم ہے ان کے ذکر کے مطابق ۱۰۵ / ۴ ہے اور ہمارے ذکر کے مطابق ۵۰۰۰ / ۲۱۹ ہے اھ (ت)
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوی فصل فے الحیاض نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳
#12339 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
اقول : رحمہ الله تعالی وشکر سعیہ فقدجلاعن اقوال اجلاء ومحصلہ ان کلام الظہیریۃ مبتن علی اعتبار المساحۃ وسائرالاقوال علی اشتراط الامتدادین الطول والعرض وھماقولان معروفان فی المذھب وان کان عندناالمعول علی الاول کما بیناہ فی الفصل الثالث من کتابنا النمیقۃ الانقی ویؤیدہ ان صاحب الخلاصۃ قال ھھناالحوض الکبیرمقدربعشرفی عشر و صورتہ ان یکون من کل جانب عشرۃ اذرع وحول الماء اربعون ذراعا و وجہ الماء مائۃ ذراع ھذامقدارالطول والعرض اھ
فلم یکتف بقولہ وجہ الماء مائۃ بل بین الطول وفصل العرض واظھرالدورثم ذکرالوجہ وان اختارفیمابعد فی جنس فی النھر اعتبار المساحۃ حیث قال ان کان الماء لہ طول وعمق ولیس لہ عرض کانھار بلخ ان کان بحال لوجمع یصیر عشرافی عشر یجوز التوضی بہ وھذا قول ابی سلیمن الجوز جانی وبہ اخذ الفقیہ ابو اللیث وعلیہ اعتماد الصدر الشہید وقال الامام ابو بکر الطرخانی لایجوز وان کان من ھنا الی سموقند وعند من لایجوز یحفر حفیرۃ ثم یحفر نھیرۃ فیجعل الماء فی النھیرۃ الی الحفیرۃ فیتوضؤ من النھیرۃ فلو وقعت فیھا النجاسۃ یتنجس عشرۃ فی عشرۃ والمختار انہ
میں کہتا ہوں انہوں نے اجلہ علماء کے اقوال سے پردہ ہٹایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ظہیریہ کا قول پیمائش کے اعتبار پر مبنی ہے اور باقی اقوال طول وعرض کے دو امتدادوں کے شرط کرنے پر مبنی ہیں اور یہ دونوں قول مذہب میں معروف ہیں اگرچہ ہمارااعتماد اول پر ہے جیسا کہ ہم نے اپنی کتاب “ النمیقۃ الانقی “ کی تیسری فصل میں بیان کیا اور اس کی تائید یہ ہے کہ اس مقام پر صاحب خلاصہ نے کہا کہ بڑا حوض دہ در دہ ہوتا ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ وہ ہر طرف سے دس ہاتھ ہو اور پانی کا گرد چالیس ہاتھ ہو اورپانی کی سطح سو ہاتھ ہو یہ طول وعرض کی مقدار ہے اھ تو انہوں نے اپنے اس قول “ پانی کی سطح سو ہاتھ ہے “ پر اکتفاء نہ کیا بلالکہ طول وعرض کی تفصیل بیان کی اور دور ظاہر کیاپھراس کی وجہ بیان کی اگرچہ اس کے بعد جنس فی النہر کی بحث میں مساحۃ کو اختیار کیافرمایاکہ اگر پانی کا طول وعمق ہواوراس کا عرض نہ ہو جیسے بلخ کی نہریں اگر یہ اس قسم کاہو کہ جمع کرنے پر دہ در دہ ہوجائے تو اس سے وضو جائز ہے یہ ابو سلیمان الجوزجانی کاقول ہے اوراسی کو فقیہ ابو اللیث نے اختیار کیااور صدر الشہید نے اسی پر اعتماد کیااور امام ابو بکر الطرخانی نے فرمایاکہ ایسی نہر سے وضو جائز نہیں خواہ وہ یہاں سے سمرقند تك کیوں نہ ہو اور جو حضرات وضوکے جواز کے قائل نہیں وہ فرماتے ہیں پہلے ایك چھوٹاساگڑھا کھودا جائے پھر ایك چھوٹی سی نہر کھودی جائے اور اس نہر سے پانی نکال کر گڑھے میں لایا جائے اور نہر سے وضو کیا جائے
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوی فصل فی الحیاض نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳
#12340 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
لایتنجس الابما یتنجس بہ الحوض الکبیر اھ
اقول : (۱)وبہ ظھرالجواب عن ایراد الشرنبلالی فان الحساب انماقطع بذلك عند اعتبار المساحۃ دون اشتراط الامتدادین الطولی والعرضی بل (۲)قطع عندذلك بوجوب الزیادۃ علی فضلا عن کماتقدمت الاشارۃ الیہ ویوضحہ ان لیس المرادالامتدادان کیفماوقعابل محیطین بقائمۃ والالم یتساو الطول والعرض ولولاذلك لکفی مثلث کل ضلع منہ عشرۃ اذرع مع انھم نصوافیہ بوجوب ان یکون کل خمسۃ عشرذراعا وخمساکما فی السراج الوھاج والزھر النضیرللعلامۃ الشرنبلالی وقد قال البرجندی المرادبذلك ان یکون کل من الاطراف الاربعۃ عشراذرع و زوایاہ الاربع قوائم اذلولم تکن الزوایا کذلك لم یعتبر اھ ولا یمکن وقوع مثلث قائم الزاویۃ فی دائرۃ الا فی نصفھااذلوکانت القطعۃ ازیدکانت الزاویۃ حادۃ اوانقص کانت منفرجۃ (۳۰ من ۳ من اقلیدس) وح یکون وترالقائمۃ قطرالدائرۃ
اب اگر اس میں نجاست گر جائے تو وہ دہ در دہ ناپاك ہوجائیگا اور مختار یہ ہے کہ ناپاك نہ ہوگا صرف اسی صورت میں ناپاك ہوگاجس صورت میں بڑا حوض ناپاك ہوتا ہے اھ (ت)
میں کہتا ہوں اس سے شرنبلالی کے اعتراض کا جواب بھی معلوم ہوگیا کیونکہ ازر وئے حساب یہ بات قطعی اس وقت ہوتی ہے جب پیمائش کااعتبار کیا جائے نہ کہ طولی وعرضی امتدادوں کی شرط لگائی جائے بلالکہ اس وقت ۴۴ سے زیادتی کاواجب ہونا قطعی ہوگاچہ جائیکہ ۳۶ سے جیسا کہ اس کی طرف پہلے اشارہ گزرا اور اس کی وضاحت اس سے ہوتی ہے کہ یہ مراد نہیں کہ دونوں امتداد جیسے بھی واقع ہوں ب
بلکہ دو محیط ایك قائمہ کے ساتھ ورنہ طول وعرض مساوی نہ ہوتے اور اگر یہ نہ ہوتا تو اس کے ہر ضلع کا مثلث دس ہاتھ کو کافی ہوتاحالانکہ علماء نے اس میں صراحت کی ہے کہ پندرہ ذراع اور ایك خمس کا ہونا ضروری ہے جیساکہ “ السراج الوہاج “ میں ہے اور شرنبلالی کی “ الزہر النضیر “ میں ہے اوربرجندی نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ چاروں طرف میں سے ہر طرف دس۱۰ذراع ہو اور اس کے چاروں زاویے قائمہ ہوں کیونکہ اگر زاویے ایسے نہ ہوئے تو اس کااعتبار نہ ہوگااھ اوریہ ممکن نہیں کہ کوئی مثلث قائم الزاویہ کسی دائرہ میں ہو ہاں نصف دائرہ میں ہوسکتا ہے کیونکہ اگر کوئی قطعہ زائد ہوتاتو زاویہ حادہ ہوجاتا اگر کم ہوتا تو منفرجہ ہوجاتا (۳۰ ۳ میں سے
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی فصل فی الماء الجاری نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
شرح النقایۃ للبرجندی ابحاث الماء نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۳
#12341 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
فاذا کانت کل ساق عشراکان جذر القطر مائتین وھوءوبالتدقیقءفاذاکان ھذا قطرالدائرۃ لوغارثمہ۱۵۰۵۱۵۰ء۱ '+۴۹۷۱۴۹۹ء۰=۶۴۷۶۶۴۹ء۱وھولوغارثم ءفیکون المحیط اکثر من وذلك مااردناہ۔
اقول : وبہ تبین وجہ ماطوی بیانہ العلامۃ البرجندی انہ لم اختیر وقوع المربع داخل المدور ان لایکون قطرھا اقصر من اطول امتدادات المربع اعنی قطرھا فان المقصود ھو الامتداد الضلعی المفروض عشرۃ دون القطری ووجہہ ان ذلك الامتداد الضلعی ضلعا لقائمۃ مساویا للضلع الاخر لایقع فی دائرۃ الا اذا کان قطرھا وتر المثلث ولا یقع الا فی نصف الدائرۃ فاذا رسم مثلہ فی النصف الاخر تم المربع وظھر وقوعہ فیھا۔
واقول : بوجہ اخر مربع کل ضلع منہ عشرۃ اذا وقعت نجاسۃ فی احدی زوایاھا مثل ج و وصلنا ا ع فالنصف المقابل لھا وھو مثلث ال ب ع
image
اقلیدس سے) اور اس وقت قائمہ کاوتر دائرہ کا قطر ہوجاتا اب جبکہ ہر ساق دس ہاتھ کی ہو تو قطر کاجذر دو سو ہوتااور وہ ۱۴۲ء۱۴ ہے اور اگر باریك بینی سے کام لیا جائے تو یہ ہوگا ۱۴۲۱۳۶۸ء۱۴ توجب دائرہ کاقطر یہ ہواتواس کالوگار ثم۱۵۰۵۱۵۰ء۱'+۴۹۷۱۴۹۹ء۰ =۶۴۷۶۶۴۹ء۱ہو گا اوریہ لوگارثم ۴۲۹ء۴۴ ہے تومحیط ۴۴ سے زائد ہوگا اور یہی ہماری مراد ہے۔ (ت(
میں کہتا ہوں اس سے اس کی وجہ بھی ظاہر ہوگئی جس کا بیان علامہ برجندی نے لپیٹ دیا ہے یعنی مدور کے اندر مربع واقع ہونے کیلئے یہ شرط کیوں اختیار کی گئی ہے کہ اس کا قطر مربع کے طویل ترین امتدادات سے کم نہ ہوجائے یعنی اس کا قطر کیونکہ مقصود امتداد ضلعی ہے جو دس فرض کیا گیا ہے قطری نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہ امتداد ضلعی قائمہ کا ضلع ہو اور دوسرے ضلع سے مساوی ہو تو دائرہ میں تب ہی واقع ہوسکتا ہے جبکہ اس کا قطر وتر مثلث ہو اور یہ نصف دائرہ میں ہی ہوتا ہے اب اسی کی مثل جب دوسرے نصف میں کھینچی جائے تو مربع مکمل ہو جائے گا اوراس کا اس میں واقع ہونا ظاہر ہوجائیگا۔ (ت(
اور ایك دوسرے طریقہ پر میں کہتا ہوں ایك ایسا مربع ہے کہ جس کا ہر ضلع دس ہاتھ ہے اب اگر اس کے ایك زاویہ مثلا ج میں نجاست پڑ جائے
image
#12342 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
یحیط بہ خطاا ب ب ء وکل نقطۃ تفرض علیھما یکون بعدہ من النجاسۃ عشرۃ اواکثر فبعد کل من ا وع عشرۃ ثم لایزال یزداد حتی یکون ابعدہ علی نقطۃ ب اکثر من اربعۃ عشر ذراعا بما تقدم ھذا شان المربع الذی یعد ماؤہ فی الشرع کثیرا فان کان الحوض مدورا وجعلنا قطرہ عشرۃ نظراالی انہ البعد المطلوب کما توھم المتوھم فلتکن الدائرۃ
image
ا ب ح ء علی مرکز ھ وقعت النجاسۃ عند ح فاخرجنا قطر ح ب واقمنا عمودا علیہ قطراء فالنصف المقابل لموقع النجاسۃ ا ب ع وابعد نقاطہ منہ ب وھو عشرۃ اذرع فجمیع النقاط لاتزال تقرب من ح ویکون اقرب الکل الیہ نقطتااع ( من من اقلیدس) فلم تنسج الدائرۃ علی منوال المربع المطلوب بل علی ضدہ وعکسہ فیجب ان یکون اقرب النقاط الی ح وھما ا و ع کل بفصل عشرۃ و ح یکون شأن الدائرۃ شأن المربع سواء بسواء ان بعد کل من اوع عشرۃ ثم لایزال یزداد حتی یکون ابعدہ علی ب واذن
اور ہم ا ع کو ملائیں تو اس کا نصف مقابل جو ا ب ع کا مثلث ہے اس کو دو خط محیط ہیں ایك ا ب والا دوسرا ب ع والا اور ہر نقطہ جو ان دونوں پر فرض کیا جائے اس کی دوری نجاست سے دس ہاتھ ہوگی یا اس سے زائد ہوگی تو ا اور ع میں سے ہر ایك کی دوری دس ہاتھ ہے پھر وہ مسلسل زیادہ ہوتا رہتا ہے یہاں تك کہ ا کا بعد ب کے نقطہ پر چودہ ذراع سے زائد ہوگا اس قاعدے کی وجہ سے جو گزرا یہ ہے وہ مربع حوض جس کے پانی کو شرعا کثیر کہا جاتا ہے اگر حوض مدور ہو اور ہم اس کا قطر دس مقرر کریں یہ دیکھ کر کہ مطلوبہ بعد یہی ہے جیسا کہ وہم کرنے والے نے وہم کیا ہے اب ا ب ح ء کا دائرہ ھ کے مرکز پر ہوگا

اب نجاست ح کے پاس گری تو ہم نے ح ب کا قطر نکالا اور اس پر ایك عمود قائم کیا جو ا ع کا قطر ہے تو وہ نصف جو موضع نجاست کے مقابلے میں ہے وہ ا ب ع ہے اور اس کا بعید ترین نقطہ ب ہے اور وہ دس ہاتھ ہے اور تمام نقاط ح کے قریب ہوتے جاتے ہیں اور سب سے قریب ا ع کے نقطے ہیں (۷ ۳ سے اقلیدس سے) تو دائرہ مطلوب مربع کے طریق پر نہیں بنایا گیا بلالکہ اس کی ضد پر اور اس کے عکس پر تو لازم ہے کہ ح کے قریب تر نقطے ا اور ع ہیں ہر ایك میں دس کا
#12343 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
یکون قطر الدائرۃ ھو وتر المثلث فیکون ا ع اعنی ح ب اکثر من اربعۃ عشر ذراعا بما تقدم وثبت وقوع المربع فی الدائرۃ۔
اقول : ومن ھھنا ظھرت ثلثۃ امور اخرالاول لم یصحح قول لان فیہ نقصا من المطلوب کما علمت والمقادیر المقدرۃ لا یعمل فیھا بالاسقاط الثانی حیث ان القطر ء ففی جعلہبالرفع مجازفۃکثیرۃکما فی قول وفی جعلہ بالاسقاط نقص من المقصود وھو لایسوغ فکان العدل التوسط بینھما وھو جعلہ ء ثلثۃ امثالہ ء وسبعہ ذراعان و کسرفالمجموع اکثر من خمسۃ واربعین ذراعا ونصف والکسر اذا زاد علی النصف بل واذا بلغ النصف یؤخذ واحدا کما ھو عادۃ الحساب فاعتبر المحیط الثالث ظھر قول الفتح ان فی الحساب یکتفی باقل منھابکسر لکن یفتی بستۃ واربعین کیلا یتعسر رعایۃ الکسر اھ وظھر وجہ الافتاء بہ لانہ اعدل الاقوال لاتقتیر ولا اسراف ولا تقصیر ولا جزاف
کیا تو جب ہم اس کو قطر قرار دیں تو محیط سینتالیس گز اور ایك ذراع کا ساتواں ہوگا لیکن کسر کو ختم کرنے کیلئے پورے اڑتالیس کا اعتبار کیا گیاہے فاصلہ ہے اور اس وقت دائرہ کا حال مربع کے حال کی طرح ہوگا بالکل برابر یعنی دونوں ا اور ع کا بعد دس ہے پھر بڑھتا رہتا ہے یہاں تك کہ اس میں بعید ترب ہے اس وقت دائرہ کا قطر مثلث کا وتر ہوگا تو اع یعنی ح ب چودہ ہاتھ سے زائد ہوگا بسبب اس قاعدے کو جو گزرا اور مربع کا دائرہ میں واقع ہونا ثابت ہوا۔ (ت(
میں کہتا ہوں کہ اس سے تین امور ثابت ہوئے : اول ۴۴ کے قول کی تصحیح نہیں کی گئی ہے کیونکہ یہ مطلوب سے ناقص ہے جیساکہ آپ کو معلوم ہوا اور مقدرہ مقادیر میں اسقاط کا عمل نہیں ہوتا ثانی یہ کہ قطر ۱۴۲ء۱۴ ہے تو اس کو اگر بڑھا کر اندازا ۱۵ بنالیا جائے تو یہ اٹکل پچو کے سوا کچھ نہیں ہے جیساکہ ۴۸ کے قول پر ہے اور اگر ساقط کرکے اس کو ۱۴ بنایا جائے تو مقصود سے کم ہوگا اور یہ درست نہیں ہے تو انصاف یہ ہے کہ ان دونوں میں درمیانہ درجہ اختیار کیا جائے اور وہ یہ ہے کہ ۵ء۱۴ اس کا تین گنا ہے ۵ء۴۳اور اس کا ساتوں دو۲ ذراع ہیں اور کسر ہے تو مجموعہ ۴۵ ذراع اور نصف سے زائد ہے اور کسر جب نصف سے زائد ہوجائے بلالکہ جب نصف تك پہنچ جائے تو اس کو پورا ایك شمار کیا جاتا ہے جیسا کہ حساب دانوں کی عادت ہے تومحیط ۴۶ اعتبار کیا گیا۔
ثالث فتح کا یہ قول ظاہر ہوگیا کہ حساب
حوالہ / References فتح القدیر باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء وما لایجوز بہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۰
#12344 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
ھکذا ینبغی ان یفھم کلام العلماء الکرام والحمدالله ولی الانعام ولا یذھبن عنك ان کل ذلك بناء علی اشتراط الامتدادین والصحیح الماخوذالمعتمدالقصرعلی المساحۃ فلذلك کان التعویل علی ماصححہ فی الظھیریۃ والملتقط والذخیرۃ مع مافیہ من تقریب وان شئت اقرب شیئ الی التحقیق فقد اذناك بہ وبالله التوفیق۔
تنبیھات : (۱) اقول مقدمۃ البرجندی الثالثۃ مبنیۃ علی الثانیۃ لما علمت ان ۴ / ق ط=م فاذا کان ق : ط : : ۷ : ۲۲ کان ۷ / ۲۲ق=ط : . ۲۸ / ۲۲ق۲ بل ۱۴ / ۱۱ق۲=م : .۱۱ق۲=۱۴م : .ق۲=۱۱ / ۱۴م : . ق=۱۱ / ۱۴م وھو المطلوب وقد علمت انہ تقریب بعید ولکن لایخل بالمقصود فان علی التحقیق ق : ط : : ۷ : ۹۹۱۱۴۸۵۵ء۲۱ : . الخ ۷ / ۹۹ ء ۲۱ ق =ط : . الخ ۲۸ / ۹۹ء۲۱ق۲=م : . ق=الخ۹۹ء۲۱ / ۲۸م فلوغارثم المساحۃ یجمع فی لو لوالخ ولو والاخر ۳۴۲۲۴۷۹ء۱ حاصل التفریق ۱۰۴۹۱۰۱ء ۰مثل ماقدمنا فی جدولنا یجمع فیہ لوالمساحۃ وینصف الحاصل یکن لوالقطر فکان القطر کما قدمنا والمحیط خمسۃ وثلثین وکسرا لایبلغ النصف وھو حاصل حساب البرجندی
میں کسر کے ساتھ اس سے کم پر اکتفاء کیا جائے گا لیکن ۴۶ پر فتوی دیا جائے گا تاکہ کسر کی رعایت دشوار نہ ہو اھ
اور اس پر افتاء کی وجہ ظاہر ہوگئی کیونکہ یہ اعدل الاقوال ہے جس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہے اسی طرح علماء کے کلام کو سمجھنا چاہئے اور یہ مخفی نہ رہے کہ یہ سب اس بنا پر ہے کہ دو امتدادوں کی شرط ہے اور صحیح ماخوذ معتمد مساحۃ پر انحصار ہے لہذا اعتماد اس پر ہوگا جو ظہیریہ ملتقط اور ذخیرہ میں صحیح قرار دیا گیا ہے پھر اس میں تقریب ہے اور اگر تحقیق کے قریب تر چیز کی تلاش ہو تو ہم نے تمہیں اس پر آگاہ کردیا ہے وباللہ التوفیق۔ (ت(
تنبیہات : (۱) میں کہتا ہوں برجندی کا تیسرا مقدمہ دوسرے پر مبنی ہے جیساکہ آپ نے جاناکہ ۴ / ق ط=م توجب ق : ط : : ۷ : ۲۲ہواتو۷ / ۲۲ق=ط : .۲۸ / ۲۲ق۲ بلالکہ ۱۴ / ۱۱ق۲=م : . ۱۱ق۲=۱۴م : . ق۲=۱۱ / ۱۴م : . ق=۱۱ / ۱۴م ہوگا اور یہی مطلوب ہے اور آپ جان چکے یہ تقریب بعید ہے لیکن مقصود میں مخل نہیں کیونکہ تحقیقی طور پر ق : ط : : ۷ : ۹۹۱۱۴۸۵۵ء ۲۱ : . ۷ / الخ۹۹ء۲۱ق=ط : . الخ ۲۸ / ۱۹۹ء۲۱ق۲=م : .ق= الخ۹۹ء۲۱ / ۲۸م تو مساحۃ کے لوگارثم کو جمع کیاجائیگالو ۲۸-لوالخ ۹۹ء۲۱ولو ۲۸=۴۴۷۱۵۸۰ء۱ میں اور دوسرا ۳۴۲۲۴۷۹ء۱ حاصل تفریق ۱۰۴۹۱۰۱ء۰ ہے جیسا کہ ہم نے اپنے جدول میں بیان کیا اس میں مساحۃ کا لو جمع کیا جائیگا اور حاصل کو آدھا کیا جائے گا تو لوقطر ہوگاتو جیساکہ ہم نے لکھا قطر ۲۸۴ء۱۱ ہوگا اور محیط ۴۴۹ء۳۵
#12345 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
رفع الکسر لما علمت ان الاسقاط فی المقادیر باطل فکان الدور وھو المقصود۔
(۲) (۱) کون القطر من المحیط ۲۲ / ۷ لیس مبرھنا علیہ فی الحساب بل لم تعلم الی الان النسبۃ بینھما تحقیقا انما عملوا بالاستقراء ات والتقریبات فکذا مایبتنی علیہ من ان ق = ۱۱ / ۱۴م فقولہ کل ذلك مبرھن فی الھندسۃ والحساب تسامح۔
(۳) فی (۱) اسقاط الکسر الزائد ھھنا وان کان اقل من النصف ماقد علمت۔
(۴) (۳)القول الرابع مبنی قطعا علی مافی الظہیریۃ ایضا عن محمد المیدانی انہ ان کان بحال لو جمع ماؤہ یصیر عشرا فی عشر لبنائہ الامر علی المساحۃ فقط من دون اعتبار العرض فلیس ھذا محل یشبہ۔
(۵) قال فی الدر (۴) وفی المثلث من کل جانب خمسۃ عشرو ربعا وخمسا اھ وفی بعض النسخ اوخمسا واعترضہ ط بان الحساب یقینی فلا معنی للتردید واختار تبعا لنوح افندی الربع وان المساحۃ مائۃ ذراع وثلثۃ ارباع ذراع وشیئ قلیل لایبلغ ربع ذراع۔
اور کچھ کسر ہوگی جو نصف تك نہیں پہنچے گی اور یہی برجندی کے حساب کا حاصل ہے کسر بڑھائی اس لئے گئی ہے کہ آپ جان چکے ہیں کہ مقادیر کا ساقط کرنا باطل ہے تو دور ۳۶ ہوا اور یہی مقصود ہے۔
(۲) قطر کا محیط سے ہونا ۲۲ / ۷ حساب میں مبرہن نہیں ہے بلالکہ اب تك ان دونوں کے درمیان تحقیقی نسبت بھی معلوم نہیں ہوسکی ہے جو کچھ کیاہے وہ محض استقراء اور تقریب ہے تو جو اس پر مبنی ہوگا اس کا بھی یہی حال ہے یعنی یہ کہ ق= ۱۱ / ۱۴م تو اس کا یہ قول کہ یہ تمام حساب اور ہندسہ میں مبرہن ہے اس میں تسامح ہے۔
(۳) کسر زائد کو ساقط کرنے میں اگرچہ نصف سے کم ہو جو کلام ہے وہ تم جان چکے ہو۔
(۴) چوتھا قول قطعا اس پر مبنی ہے جو ظہیریہ میں بھی محمد المیدانی سے منقول ہے کہ اگر وہ ایسا ہو کہ اس کا پانی اگر جمع کیاجائے تو وہ دہ در دہ ہوگاکیونکہ اس نے اس معاملے کو صرف مساحت پر مبنی کیا ہے اور عرض کااعتبار نہیں کیا تو اس میں شبہ کی گنجائش نہیں۔
(۵) در میں فرمایا اور مثلث میں ہر طرف سے ۱۵ چوتھائی اورپانچواں ہے اھ اور بعض نسخوں میں یا پانچواں ہے اور اس پر “ ط “ نے اعتراض کیاکہ یہ حساب یقینی ہے تواس میں تردید کا کوئی مفہوم نہیں اور انہوں نے نوح آفندی کی متابعت میں چوتھائی کو مختار کہااور یہ کہ مساحۃ ایك سو۱۰۰ ذراع اورایك ذراع کے تین ربع ہیں اور کچھ مزید جو چوتھائی ذراع کو نہیں پہنچتا۔ (ت(
حوالہ / References درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶
#12346 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
اقول : (۱) بل ولا سدس ۳۶ / مسدس ذراع کما ستعلم وجعل ش نسخۃ اواصوب اقول : (۲) اذ النسخۃ الواو حظ من صواب ولیس کذلك وبناھا علی الاختلاف فی التعبیر فان نوحا عبر بالربع والسراج والشرنبلالی بالخمس واختار تبعالھما الخمس وان المساحۃ مائۃ ذراع وشیئ قلیل لایبلغ عشر ذراع اقول : (۳) بل یبلغہ بل یغلبہ کما ستری قال وعلی التعبیر بالربع یبلغ نحو ربع ذراع اقول بل (۴) اکثر من ثلثۃ ارباعہ وذلك ان ط عن افندی وش عن السراج نقلا مؤامرۃ مساحتہ ان تضرب احد جوانبہ فی نفسہ فماصح اخذت (۵) ثلثہ وعشرہ فھو مساحتہ اھ اقول : وھذا وان کان فیہ ماستعرف فالعمل بہ علی وجھین الاول ان تأخذ ثلث المربع وعشرہ مع الکسر وھو (۶) الذی عملا بہ مع قولھمافماصح الخ ولذا قال السراج فی مربع خمسۃ عشر والخمس ان ثلثہ علی التقریب ولو اخذ الصحیح فقط لکان ثلثہ تحقیقا وقال نوح فی مربع خمسۃ عشر والربع ان ثلثہ ونصف ذراع وسدس ثمنہ وعشرہ وربع ونصف ثمن عشر وماذلك الاباعتبار الکسر والثانی العمل علی ماصح فقط فعلی الاول مربع ء = ء ثلثہ ۰۱۳ء۷۷ وعشرہ ۱۰۴ء۲۳ مجموعھما ۱۱۷ء۱۰۰وھواکثرمن العشرومربع ۲۵ء۱۵=۵۶۲۵ء۲۳۲ ثلثہ ۵۲۰۸۳ء۷۷ وعشرہ
میں کہتا ہوں بلالکہ ذراع کے سدس کے چھٹے کو بھی نہیں پہنچتاجیساکہ آپ عنقریب جان لیں گے اور “ ش “ نے او کے نسخہ کو درست قرار دیا میں کہتا ہوں اس صورت میں واو کا نسخہ بھی کچھ صحیح ہوسکتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے اور انہوں نے اس کا مبنی تعبیر کے اختلاف کو قرار دیا ہے کیونکہ نوح نے چوتھائی سے تعبیر کیا اور سراج اور شرنبلالی نے پانچویں سے تعبیر کیا اور خمس کو ان دونوں کی متابعت میں مختار قرار دیااور یہ کہ مساحۃ سو ذراع اور قدرے ہے جو ایك ذراع کے دسویں تك نہیں پہنچتی ہے۔
میں کہتا ہوں ایسا نہیں ہے بلالکہ یہ مقدار اس سے زائد ہوجاتی ہے جیسا کہ آپ عنقریب دیکھ لیں گے فرمایاجب اس کو چوتھائی سے تعبیر کیا جائے تو یہ تقریبا چوتھائی ذراع ہوگا۔ میں کہتا ہوں اس کے تین چوتھائی سے بھی زائد ہوگا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ “ ط “ نے آفندی سے اور “ ش “ نے سراج سے اس کی پیمائش کا حساب یہ نقل کیا کہ اس کے کسی کنارے کو خود اسی میں ضرب دی جائے تو جو جواب ہو اس کا تہائی اور دسواں اس کی پیمائش ہے اھ۔
میں کہتا ہوں اس میں کچھ بحث ہے جو آپ جان لیں گے پھر بھی اس کا عمل دو طریقوں پر ہے پہلا تو یہ ہے کہ مربع کا تہائی اور دسواں مع کسر کے لیا جائے اور اسی پر ان دونوں نے عمل کیا ہے ساتھ ہی ان کا یہ قول ہے فماصح الخ اور اس لئے سراج نے پندرہ اور پانچویں کے مربع میں فرمایا کہ اس کا تہائی تقریبی ۷۷ہے اور اگر صرف صحیح لیا جائے
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ ۱ / ۱۳۲
#12347 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
۲۵۶۲۵ء۲۳ مجموعھما ۷۷۷۰۸ء۱۰۰وھو اکثر من ۷۵ء وعلی الثانی ۳ / ۲۳۱=۷۷وعشرہ
ء۲۳مجموعھما۱ء۱۰۰فقد بلغ العشرو ۳ / ۲۳۲ = ۳ء۷۷ وعشرہ ۲ء۲۳ مجموعھما۵ء۱۰۰وھو نصف بل اکثر لان دائر
ثم اقول : التحقیق ان الکسر اقل من الخمس یعبربہ لقلۃ التفاوت جدا ولیکن مثلثامتساوی الاضلاع اذفیہ الکلام کما
image
سمعت من قول الدرمن کل جانب کذا فکل زاویۃ منہ سدس الدور ومساحۃ کل مثلث نصف مسطح العمود والقاعدۃ وھی ھھنا مثل سائر الاضلاع اخرجنا علی ب ج عمودء ففی مثلث ا ع ح القائم الزاویۃ ا ح : ع : : ا ع : جیب ۶۰حہ ولنسم ا ح الضلع ض و ا ع عمود عم وذلك الجیب منحطا لکونہ جیب السدس جس فبحکم التناسب ض جس= عم وحیث ان ۲ / ض عم=۱۰۰ : .ض۲ جس=۲۰۰ بل ض۲=جس / ۲۰۰ : . ض = جس / ۲۰۰ ولو ۲۰۰=۳۰۱۰۳۰۰ء۲ولوجس۹۳۷۵۳۰۶ء۱حاصل الطرح ۳۶۳۴۹۹۴ء۲ نصفہ ۱۸۱۷۴۹۷ء۱ ھذا لوض فھو ۱۹۶۷۱۳۸ء۱۵
تو اس کا ثلث تحقیقی ہوگا اور نوح نے پندرہ اورچوتھائی کے مربع کی بابت فرمایا کہ اس کا تہائی ۷۷ اور آدھا ذراع اور ثمن ذراع کا سدس ہے اور اس کا عشر ۲۳ اور ربع اور عشر کے ثمن کا نصف ہے اور یہ کسر ہی کے اعتبار سے ہوسکتا ہے اور دوسرا عمل صرف صحیح کے مطابق ہے۔ تو پہلی صورت میں مربع ۲ء۱۵=۰۴ء۲۳۱اس کاثلث ۰۱۳ء۷۷ اس کا دسواں ۱۰۴ء۲۳ ہے ان دونوں کا مجموعہ ۱۱۷ء ۱۰۰ہے اور یہ دسویں سے زائد ہے اور مربع ۲۵ء۱۵=۵۶۲۵ء۲۳۲ اس کا تہائی ۵۲۰۸۳ء۷۷ اور اس کا دسواں ۲۵۶۲۵ء۲۳ ان دونوں کا مجموعہ ۷۷۷۰۸ء۱۰۰ہے اوریہ ۷۵ء سے زائد ہے اور دوسری تقریرپر ۳ / ۲۳۱=۷۷ہے اور اس کا دسواں ۱ء۲۳ ان دونوں کامجموعہ ۱ء۱۰۰ تو دسواں ہوگیا اور ۳ / ۲۳۲=۳ء۷۷ ہے اور اسکا دسواں ۲ء۲۳ ہے ان دونوں کا مجموعہ ۵ء۱۰۰ ہے اور وہ آدھا ہے بلکہ زائدہے کیونکہ ۳ دائر ہے۔
پھر میں کہتا ہوں کہ تحقیق یہ ہے کہ کسر خمس سے کم ہے لیکن خمس سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں تفاوت بہت ہی کم ہے یہ ایك مثلث ہے اس مثلث کے تمام اضلاع برابر ہیں کیونکہ کلام اسی میں ہے درکا کلام اس بابت
image
آپ سن ہی چکے ہیں کہ ہر طرف سے ایسا ہی ہو تو اس کا ہر زاویہ دور کا چھٹا ہے اور ہر مثلث کی پیمائش عمود کی مسطح کا نصف ہے اور قاعدہ یہاں
#12348 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
کسرااقل من ء ثم لوض_ لوجس=۱۱۹۲۸۰۳ء۱ھذا لوعم فھو۱۶۰۷۳۹۴ء۱۳ثم لوض+لوعم = ۳۰۱۰۳۰۰ء۲طرحنا منہ لو۲ بقی۰۰۰۰۰۰۰ء۲ وھو لو ۱۰۰ تماما من دون زیادۃ ولا نقص وبوجہ اخر فی استعلام ض حیث ان مربع نصف الشیئ ربع مربع الشیئ فبالعروسی عم۲+۴ / ض۲
=ض۲ : .عم۲=۴ / ۳ض۲ : .عم=۴ / ۳ض۲ وکان عم ض=۲۰۰ : .ض ۴ / ۳ض۲ =۲۰۰بل۴ / ۳
ض=ض / ۲۰۰ : .۴ / ۳ض۲=ض۲ / ۴۰۰۰۰ : .۳ض ۴=۱۶۰۰۰۰بل ض۴=۳ / ۱۶۰۰۰۰ : .لوالمقسوم ۲۰۴۱۲۰۰ء۵- لوالمقسوم علیہ
۴۷۷۱۲۱۳ء۰=۷۲۶۹۹۸۷ء۴ ربعہ ۱۸۱۷۴۹۷ء۱ مثل الحساب الاول سواء۔
اقول : وبہ ظھرمافی موأمرۃالمساحۃالمذکورۃ
اذحاصلہ ان۳۰ / ۱۳ض۲=م ای ۱۵ / ۱۳ض۲=۲م وقد علمت ان ض۴ / ۳ض۲=۲م فھمامتساویان قسمناھما علی ض : . ۱۵ / ۱۳ض=۴ / ۳ض۲ : . ۲۲۵ / ۱۶۹ض۲= ۴ / ۳ض۲ : .
تمام اضلاع کی مثل ہے ہم نے ب ج پر ایك عمود نکالا جس کا نام ا ع ہے تو ا ع ح جو زاویہ قائمہ والا ہے ا ح : ع : : اع : جیب ۶۰حہ ا ح ضلع کا نام ہم نے ض رکھا اور ا ع عمود کا عم رکھا اور وہ جیب گر رہا ہے کیونکہ جیب چھٹا جس ہے تو تناسب کے قاعدہ سے ض جس=عم ہے اورچونکہ ۲ / ض عم=۱۰۰ : . ض جس۲=۲۰۰ ہے بلکہ ض۲= جس ۲۰۰ : . ض=جس / ۲۰۰ ولو ۲۰۰=۳۰۱۰۳۰۰ء۲ ولوجس ۹۳۷۵۳۰۶ء۱ طرح کا حاصل ۳۶۳۴۹۹۴ء۲ ہو جس کا آدھا ۱۸۱۷۴۹۷ء۱ یہ لوض ہے تو وہ ۱۹۶۷۱۳۸ء۱۵ بطور کسر ۲ء سے کم ہے پھر لوض_ لوجس =۱۱۹۲۸۰۳ء۱'یہ لوعم ہے تو وہ ۱۶۰۷۳۹۴ء۱۳ ہے پھر لوض + لوعم =۳۰۱۰۳۰۰ء۲ہے تو ہم نے اس لو۲ کو کم کیا تو ۰۰۰۰۰۰۰ء۲ بچا اور یہ پورا لو۱۰۰ ہے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں اور دوسرے طریقے پر ض کے استعلام میں کہ کسی چیز کا آدھا مربع اس چیز کے مربع کا چوتھائی ہوتا ہے تو شکل عروسی سے عم۲+۴ / ض۲ =ض۲ : . عم۲=۴ / ۳ض۲ : .عم=۴ / ۳ض۲ اور عم ض=۲۰۰ : .ض ۴ / ۳ض۲=۲۰۰ بلکہ ۴ / ۳ض۲=ض / ۲۰۰ : .۴ / ۳ض۲ =ض۲ / ۴۰۰۰۰ : ۔ ۳ض۴= ۱۶۰۰۰۰ بلکہ ض۴=۳ / ۱۶۰۰۰۰ : ۔ لومقسوم ۲۰۴۱۲۰۰ء۵- لومقسوم علیہ ۴۷۷۱۲۱۳ء۰= ۷۲۶۹۹۸۷ء۴ اس کا ربع ۱۸۱۷۴۹۷ء۱ اور یہ بالکل پہلے حساب کے مساوی ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اور اسی سے وہ اعتراض ظاہر ہوا جو مذکورہ پیمائش کا مؤامرہ ہے کیونکہ اس کا حاصل یہ ہے کہ۰ ۳ / ۱۳ض۲= م یعنی ۱۵ / ۱۳ض۲=۲م اور تو نے جان لیاکہ ض ۴ / ۳ض۲=۲م وہ دونوں قسمیں مساوی ہیں جن کو ہم نے ض پر تقسیم کیا : .۱۵ / ۱۳ض=۴ / ۳ ض ۲
#12349 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
۴ / ض۲=۶۷۶ ض۲=۶۷۵ء ضوھو محال ای ان ۲۳۱ و۲۳۲=۰ نعم لاباس بہ فی التخمین ویختص بھذا القسم من المثلث وماذکرنا عام
ثم اقول : ھذاالذی ذکر فی مساحۃ المثلث انما یبتنی علی القول المعتمد من اعتبار المساحۃ وحدھا اما (۱) علی القول الاخر من اعتبار الامتدادین فلابد ان یکون کل ضلع اکثر من احد وعشرین ذراعاونصف ذراع بکسر قریب جزء من احد وعشرین جزء من ذراع وذلك لانہ یجب وقوع مربع عشر فی المثلث کما علمتہ فی الدائرۃ فلیکن ع ح المربع رسمناعلی ع لامنہ مثلا مثلث ع ب ہ متساوی الاضلاع واخرجنا ب ع ح ر حتی التقیا علی اواخرجناب ہ رح حتی التقیا علی ح
image
فمثلث ا ب ح ھوالمطلوب اماالالتقاء فلانااذاوصلنا ب ح کانت زاویۃ ب ح ر جزء قائمۃ ہ ح ر و زاویۃ ا ب ح جزء ا ب ہ ثلثی القائمۃ فقد خرجا من اقل من قائمتین واماان ا ب ح المثلث المطلوب فلان زاویتی ھ ء اء ھ ح متساویتان بالمامونی فباسقاط قائمتی ہ ء رء ہ ح تبقی ر ء ا ح ھ ح متساویتین وفی ھذین المثلثین زاویتاروح قائمتان وضلعار ء ہ ح متساویان فزاویتا اوح
: .۲۲۵ / ۱۶۹ض۲=۴ / ۳ض۲ : . ۶۷۶ض۲=۶۷۵ض۲اور وہ محال ہے یعنی ۲۳۱ و ۲۳۲=۰ ہاں تخمینہ میں کوئی مضائقہ نہیں اور یہ مثلث کی اس قسم کے ساتھ خاص ہے جو ہم نے ذکر کیا وہ عام ہے
پھر میں کہتا ہوں مثلث کی پیمائش میں جو انہوں نے ذکر کیاہے قول معتمد پر مبنی ہے کہ صرف پیمائش کا اعتبار کیاجائے اور دوسرا قول جس میں دو امتدادوں کا اعتبار ہے تو اس میں یہ ضروری ہے کہ ہر ضلع میں ساڑھے اکیس ذراع پر کچھ کسر زائد ہو جو ذراع کے اکیسویں جزء کے لگ بھگ ہوگی اس کی وجہ یہ ہے کہ دس کے مربع کامثلث میں ہوناضروری ہے جیسا کہ آپ نے دائرہ میں جانا تو اب ء ح کامربع ہم نے ء ہ پر کھینچا مثلا مثلث ء ب ہ جس کے اضلاع برابر ہوں اور ہم نے ب ء ح ر نکالا یہاں تك کہ وہ دونوں ا پر ملے ہم نے ب ہ ر ح نکالایہاں تك کہ وہ دونوں ح پر ملے تومثلث ا ب ح کا بنا وہی مطلوب ہے
image
جہاں تك ملنے کا تعلق ہے تو جب ہم نے ب ح کو ملایا تو ب ح ر کا زاویہ ہ ح ر کے زاویہ قائمہ کا جزء ہوا اور ا ب ح کا زاویہ ا ب ہ کا جزء ہوا جو قائمہ کا دو ثلث ہے کیونکہ یہ دونوں قائموں سے اقل ہے اور ا ب ح کا مثلث مطلوب ہے کیونکہ ھ ء ا ء ھ ح کے دونوں زاوئے مامونی سے متساوی ہیں تو ہ ء رء ہ ح کے دونوں قائموں کو ساقط کرنے کے بعد ر ء ا ح ھ ح دونوں متساوی ہیں اور ان دونوں
#12350 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
متساویتان (من اولی الاصول) وحیث ان ب ثلثا قائمۃ والمجموع کقائمتین (منھا) فالکل متساویۃ وبوجہ اخصر حیث ان ب ہ ء ثلثاقائمۃ و ء ہ ح تمامھا الی قائمتین (منھا) فباسقاط ہ القائمۃ منھا تبقی ح ہ ح ثلث قائمۃ فباسقاطھا مع ح القائمۃ من مثلث ہ ح ح تبقی ح ثلثی قائمۃ وکذلك افا لزوایا الثلاث متساویۃ فکذا الاضلاع الثلاث والا لاختلفت الزاویا (منھا)فمثلث ا ب ح المار بزوایاالمربع الاربع متساوی الاضلاع وذلك مااردناہ واذفی مثلث ہ ح ح القائم الزاویۃ ہ ح : ع : : ہ ح : جیب السدس و ہ ح بالفرض : .۰۰۰۰۰۰۰ء ۱-۹۳۷۵۳۰۶ء۱ =۰۶۲۴۶۹۴ء ا وھو لوغارثم ء ھذامقدار ھ ح وقد کان ب ہ : . ب ح ء وذلك مااردناہ والله تعالی اعلم وصلی الله علی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ و بارك وسلم ابداامین والحمدلله رب العلمین۔
مثلثوں میں روح کے دونوں زاویے قائمے ہیں اور ر ع ہ ح کے دونوں ضلعے برابر ہیں تو ا و ح کے دونوں زاویے برابر ہوں گے (۲۶ پہلی اصل سے) اور چونکہ ب ایك قائمہ کادو ثلث ہے اور مجموعہ دو قائموں کی مانند ہے (۳۲ اسی اصل سے) تو سب برابر ہوئے اور بطور اختصار چونکہ ب ہ ء ایك قائمہ کادو ثلث ہے اور ء ہ ح جو دو قائموں کے برابر ہے (۱۳ اسی اصل سے) تو ہ کو قائمہ کیلئے ساقط کرنے سے باقی رہتا ہے ح ہ ح ثلث قائمہ کاتو اس کو ح کے قائمہ کے ساتھ ساقط کرنے سے ہ ح ح کے مثلث سے ح باقی رہ جائیگا جو ایك قائمہ کادو ثلث ہے اور اسی طرح ا کا حال ہے تو تینوں زاویے برابر ہیں تو اسی طرح تینوں اضلاع برابر ہوں گے ورنہ زاویے مختلف ہوجائیں گے (۱۸ پہلی اصل سے) تو ا ب ح کا گزشتہ مثلث مربعوں کے چاروں زاویوں کے ساتھ برابر ضلعوں والا ہوگااور یہی ہم نے ارادہ کیا تھا اور چونکہ ہ ح ح زاویہ قائمہ والے مثلث میں ہ ح : ع : : ہ ح : جیب چھٹا ہے وہ ح۱۰ بالفرض : . ۰۰۰۰۰۰۰ء۱-۹۳۷۵۳۰۶ء۱ =۰۶۲۴۶۹۴ء۱ اور یہ لوگارثم ۵۴۷ء۱۱ کا ہے یہ مقدار ھ ح اور ب ہ ۱۰ : . ب ھ ۵۴۷ء۲۱ اور یہی ہماری مراد تھی والله تعالی اعلم وصلی الله تعالی علی سیدنا ومولینا محمد وآلہ وصحبہ وبارك وسلم ابدا امین والحمدلله رب العالمین۔ (ت)
مسئلہ ۴۵ : ۲ جمادی الآخرہ ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وضو نہر سے افضل ہے یا حوض سے بینوا توجروا۔
الجواب :
وضو نہر سے افضل ہے مگر کسی مصلحت خاصہ کے باعث۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کسی معتزلی کے سامنے
#12351 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
فتح القدیر میں ہے : اسے غیظ پہنچانے کو حوض سے وضو افضل ہے کہ معتزلہ اسے ناجائز کہتے ہیں۔
فی فوائد الرستغفنی التوضی بماء الحوض افضل من النھر لان المعتزلۃ عـــہ لایجیزونہ
فوائد الرستغفنی میں ہے نہر کی بہ نسبت حوض سے وضو کرناافضل ہے کیونکہ معتزلہ حوضوں سے وضو کو

عـــہ فی المعراج بناء علی جزء لایتجزء فانہ عند اھل السنۃ موجود فتصل اجزاء النجاسۃ الی جزء لایمکن تجزئتہ فیکون باقی الحوض طاھراوعند المعتزلۃ معدوم فیکون کل الماء مجاورا للنجاسۃ فیکون الحوض نجسا عندھم وفی ھذا التقریر نظر اھ قال ش فی توضیحہ عند الفلاسفۃ کل جسم قابل لانقسامات غیر متناھیۃ فلا یوجد جزء من الطاھر الا ویقابلہ جزء من النجاسۃ فتصل اجزاء النجاسۃ بجمیع اجزاء الماء اھ
اقول اولا : (۱) این القابلیۃ من الفعلیۃ والجسم عندھم متصل بالفعل فلایلاقی الامالاقی وثانیا : (۲) لوقسم لم یلزم ایضااتصال اجزاء النجاسۃ بجمیع اجزاء الماء لان الانصاف علی نسبۃ الاضعاف فاذا کانت النجاسۃ قدر اصبع والماء الف ذراع فنصفھا نصف اصبع وشطرہ خمسمائۃ ذراع وھکذا الی مالایتناھی وتساوی التقسیم لایستلزم تساوی الاقسام فیما بینہما الاتری ان ایام الابد و سنیہ کلا غیر متناہ والیوم لایساوی السنۃ ابدا وکفی بھذین لتوجیہ
معراج میں ہے یہ جزء لایتجزی پر مبنی ہے کیونکہ یہ اہل السنۃ کے نزدیك موجود ہے تو نجاست کے اجزاء ایسے جزء تك پہنچیں گے جو منقسم نہیں ہوتا ہے تو باقی حوض طاہر رہے گا اور معتزلہ کے نزدیك جزء نہیں ہے اس لئے کل پانی نجاست کا پڑوسی ہوگا تو ان کے نزدیك حوض نجس ہوگا اس تقریر میں نظر ہے اھ “ ش “ نے اس کی توضیح میں فرمایا فلاسفہ کے نزدیك ہر جسم لامتناہی تقسیم کو قبول کرتا ہے تو پاك پانی کے ہر جزء کے مقابل ایك ناپاك جزء ہوگا تو اجزاء نجاست تمام اجزاء پانی کے ساتھ متصل ہوجائیں گے اھ
میں کہتا ہوں قابلیۃ اور فعلیۃ میں بہت فرق ہے اور جسم ان کے نزدیك متصل بالفعل ہے تو وہ صرف اسی سے ملے گا جس سے ملا ہوا ہے اور ثانیا اگر تقسیم بھی کیا جائے تو لازم نہیں آتاکہ نجاست کے تمام اجزاء پانی کے تمام اجزاء سے متصل ہوں کیونکہ انصاف اضعاف کی نسبت کے مطابق ہی ہوگا مثلا نجاست ایك انگلی کی مقدار ہے اور پانی ہزار ذراع ہے تو اس کا نصف آدھی انگلی ہوا اور اس کا آدھا پانسو ذراع ہوا اور اسی طرح الی مالا نہایۃ تك ہوگا اور تقسیم
#12352 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
من الحیاض فیرغمھم بالوضوء منھا اھ و
جائز قرار نہیں دیتے ہیں اس طرح ان کی تذلیل ہوگی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)النظر ووجہہ ش بما توضیحہ مع تلخیصہ ان لوبنیت المسألۃ علیہ لماتنجس عندنا من الماء الا مایساوی النجاسۃ حجما فقطرۃ بقطرۃ ونصفھا بنصفھا۔ اقول : وایضا یلزم المعتزلۃ لوقالوا بہ تنجیس البحر العظیم بقطیرۃ قال علی ان المشہور ان الخلاف فی الجزء بین المسلمین والفلاسفۃ بنواعلیہ قدم للعالم وعدم حشر الاجساد والمعتزلۃ لم یخالفوا فی شیئ من ذلك والا لکفروا اھ اقول : (۱) لیس نفی الجزء کفرا ولا لازم المذھب مذھبا لاسیما تلك اللوازم البعیدۃ وکم من لزوم علی مذاھب المعتزلۃ القائلین بھا قطعا ثم لم یکفروافلیکن ھذا منھا فکیف یرد نقل الثقۃ علی انہ (۲) یکفی فیہ ان یکون قول بعضھم کما قال تعالی قالت الیھود عزیرن ابن الله قالوا قالھا طائفۃ قلیلۃ منھم کانت وبانت قال فالاولی ماقیل من بناء المسئلۃ علی ان الماء یتنجس عندھم بالمجاورۃ وعندنا لابل بالسریان وذلك یعلم بظھور اثرھا فیہ فمالم یظھر لایحکم بالنجاسۃ ھذا ما ظھر لی فاغتنمہ اھ اقول : (۲) نص فی البدائع ان التنجس بالتجاور روبینا فی النمیقۃ الانقی ان الماء القلیل یتنجس معالا بالسریان علی (۴) انھم اذلم
کی تساوی سے اقسام کی تساوی لازم نہیں آتی ہے مثلا ابد کے ایام اور سال غیر متناہی ہیں اور ایك دن ہرگز بھی ایك سال کے برابر نہیں ہوسکتا ہے اوریہ دونوں نظر کی توجیہ کو کافی ہیں اور “ ش “ نے اس کی جو توجیہ کی ہے اس کی تلخیص مع توضیح یہ ہے کہ اگر مسئلہ اسی پر مبنی ہو تو ہمارے نزدیك صرف اتنا ہی پانی نجس ہوگا جتنا کہ نجاست کے مساوی ہے تو ایك قطرہ ایك قطرہ ہی کے مقابل ہوگا اور نصف اس کے نصف کے مقابل ہوگا۔
میں کہتا ہوں اگر معتزلہ کا یہی قول ہوتاتو ان پر یہ لازم آتا کہ ایك قطرہ سے پورا سمندر ناپاك ہوجائے انہوں نے فرمایا علاوہ ازیں مشہور یہ ہے کہ اختلاف جزء میں فلسفیوں اور مسلمانوں کے درمیان ہے اور فلاسفہ نے اس پر عالم کے قدم اور حشر ونشر کی نفی کی بنیاد رکھی ہے اور معتزلہ نے ان چیزوں میں کسی کی مخالفت نہیں کی ہے ورنہ وہ کافر قرار پاتے اھ
میں کہتا ہوں جزء کی نفی کفر نہیں ہے اور نہ ہی لازم مذہب مذہب ہوتا ہے خاص طور پر یہ لوازم بعیدہ اور جو معتزلی مذہب رکھتے ہیں ان پر بہت سے لوازم ہیں مگر ان کی تکفیر نہیں کی جاتی ہے سو یہ لازم بھی منجملہ ایسے لوازم کے ہو جائے تو ثقہ کی نقل کو کیسے رد کیا جائے علاوہ اس کے اس میں اتنا کافی ہے کہ یہ بعض کا قول ہو جیسا کہ (باقی بر صفحہ ایندہ)
#12353 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
ھذا انما یفید الافضلیۃ لھذا العارض ففی مکان لایتحقق النھر افضل اھ
اھ اس سے افضل ہونے کی یہ عارضی وجہ معلوم ہوتی ہے جہاں یہ وجہ نہ ہو وہاں نہر سے وضو افضل ہوگا۔ (ت)
اقول : اس مصلحت سے اہم دفع تہمت ہے کہ معاذ اللہ لوگوں کو اس پر اتباع معتزلہ کا گمان ہو اس کے دفع کیلئے ایسا کرے اس(۱)کی نظیر مسح موزہ ہے کہ رافضی خارجی ناجائز جانتے ہیں اگر کسی کو اس پر گمان خروج ہو تو اس کے دفع کو مسح موزہ افضل ورنہ فی نفسہ پاؤں دھونا افضل۔ درمختار میں ہے :
الغسل افضل الالتھمۃ فھو افضل ۔
موزے پر مسح سے پاؤں دھونا افضل ہے مگرتہمت سے بچنے کیلئے مسح افضل ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
لان الروافض والخوارج لایرونہ وانما یرون
رافضی خارجی پاؤں پر مسح کرتے ہیں اگر موزے پر مسح

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
یفرقوا بین القلیل والکثیر یلزمھم بالمجاورۃ ایضا تنجیس البحر الکبیر برشح (۲) یسیر فالحق عندی ان ذلك مبنی علی انھم لایلحقون الکثیر بالجاری والله تعالی اعلم اھ منہ حفظہ ربہ تعالی۔ (م)
فرمان الہی ہے “ یہود نے کہا کہ عزیراللہ کے بیٹے ہیں “ علماء فرماتے ہیں یہ صرف ایك گروہ کا قول تھا اور یہ فرقہ ختم ہوگیا فرمایا بہتر یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ مسئلہ اس امر پر مبنی ہے کہ پانی ان کے نزدیك مجاورۃ کی وجہ سے ناپاك ہوجاتا ہے اور ہمارے نزدیك سرایت کی وجہ سے اور اس کا پتا اس سے لگتا ہے کہ اس کا اثر پانی میں ظاہر ہوتا ہے تو جب تك اثر ظاہر نہ ہو نجاست کا حکم نہ لگایا جائے گا یہ مجھ پر ظاہر ہوا ہے تم اس کو غنیمت جانو۔
میں کہتا ہوں بدائع میں اس کی تصریح کی ہے کہ نجس ہونے کی وجہ مجاورۃ ہے اور ہم نے النمیقۃ الانقی میں بیان کیا ہے کہ تھوڑا سا پانی یك دم ناپاك ہوجاتا ہے نہ کہ سرایت سے علاوہ ازیں انہوں نے قلیل وکثیر میں فرق نہیں کیا ہے ان پر یہ لازم ہے کہ وہ کہیں ایك بڑے سمندر کا پانی بھی مجاورۃ سے ناپاك ہوجاتا ہے خواہ تھوڑے سے چھینٹے کیوں نہ ہوں میرے نزدیك حق یہ ہے کہ وہ کثیر پانی کو جاری کے ساتھ ملحق نہیں کرتے ہیں والله تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References (۱ فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوزبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۲)
درمختار باب المسح علی الخفین مجتبائی دہلی ۱ / ۴۶
#12354 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
المسح علی الرجل فاذا مسح الخف انتفت التھمۃ بخلاف مااذا غسل فان الروافض قدیغسلون تقیۃ فیشتبہ الحال فی الغسل فیتھم افادح ۔
کرے گا تو تہمت ختم ہوجائے گی بخلاف اس کے کہ جب وہ دھوئے گا کہ رافضی تقیہ سے دھو بھی لیتے ہیں غسل کی صورت میں صورت حال مشتبہ ہوجاتی ہے توتہمت کا خدشہ ہوگا افادح (ت)
اقول : رافضی تقیہ سے سب کچھ کرلیتے ہیں یوں ہی وہابی مجالس میلاد مبارك میں جائیں قیام کریں گیارھویں شریف کی نیاز میں حاضر ہوں پلاؤ کھانے کو موجود اور دل میں شرك وحرام لہذا ہم نے نفی تہمت خروج سے تصویر کی۔
قال ش ماذکرہ الشارح نقلہ القھستانی عن الکرمانی ثم قال لکن فی المضمرات وغیرہ ان الغسل افضل وھوالصحیح کمافی الزاھدی اھ وفی البحر عن التوشیح ھذا مذھبنا وقال الرستغفنی المسح افضل اھ
اقول : ھذاسبق نظرانمانقل عن الکرمانی التخییربین الغسل والمسح ونقل اولویۃ المسح عن الذخیرۃ ثم (۱) ھولایمس ماذکرالشارح فان کلامہ عند وجود التھمۃ والذی فی الذخیرۃ وغیرھا اولویۃ المسح حکما مطلقا وعلیہ یرد التصحیح المذکور والله تعالی اعلم۔
“ ش “ نے فرمایا جو شارح نے ذکر کیا ہے اس کو قہستانی نے کرمانی سے نقل کیا ہے پھر فرمایا لیکن مضمرات وغیرہ میں ہے کہ غسل افضل ہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ زاہدی میں ہے اھ اور بحر میں تو شیح سے منقول ہے “ یہ ہمارا مذہب ہے “ اور الرستغفنی نے کہا کہ مسح افضل ہے اھ (ت)
میں کہتا ہوں ان کی نظر چوك گئی ہے کرمانی سے تو یہ نقل کیا ہے کہ غسل اور مسح میں اختیار ہے اور ذخیرہ سے مسح کی اولویت نقل کی ہے پھر یہ اس کے مطابق نہیں ہے جس کو شارح نے ذکر کیا ہے کیونکہ ان کاکلام وجوہ تہمت کے متعلق ہے اور جو ذخیرہ وغیرہ میں ہے وہ مسح کے اولی ہونے کا مطلق حکم ہے اور اسی پر مذکور تصحیح وارد ہوتی ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
ثم اقول : اس سے بھی اہم دفع وسوسہ ہے اگر کوئی شخص وسوسہ میں مبتلا ہو حوض سے وضو کرتے کراہت رکھتا ہو اسے حوض ہی سے وضو افضل ہے کہ قطع وسوسہ ہو ورغم الشیطان اھم من رغم المعتزلی والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References ردالمحتار باب المسح علی الخفین مصر ۱ / ۱۹۳
ردالمحتار باب المسح علی الخفین مصر ۱ / ۱۹۳
#12355 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
مسئلہ ۴۶ : ۱۰ شوال ۱۳۱۲ ہجریہ قدسیہ
اس مسئلہ میں علمائے دین کیا فرماتے ہیں کہ ایك اہل اسلام اور ایك ہنود کو حاجت غسل جنابت ہے ان دونوں کا آب غسل پاك ہے یا کچھ فرق ہے ایك اہل اسلام نے اپنی بی بی سے صحبت کی اور غسل کیا وہ پانی پاك ہے یانہیں اور ہنود نے بھی ایسا ہی کیا ہے اس کے غسل کا پانی جو مستعمل ہو کر گرا ہے پاك ہے یا ناپاکاور ان دونوں کے پانی میں فرق ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر شرعی طور پر نہائے کہ سر سے پاؤں تك تمام بدن ظاہر پر پانی بہ جائے اور حلق کی جڑ تك سارامنہ اور ناك کے نرم بانسے تك ساری ناك دھل جائے تو کافر کی جنابت اتر جائے گی ورنہ نہیں
فی التنویر والدر والشامی یجب علی من اسلم جنبا اوحائضاوالابان اسلم طاھرا (ای من الجنابۃ والحیض والنفاس ای بان کان اغتسل) فمندوب انتھی ملخصا۔
تنویر در اور شامی میں ہے کہ واجب ہے اس شخص پر جو اسلام لایاجنابت کی حالت میں یا عورت اسلام لائی حیض کی حالت میں ورنہ اگر پاکی کی حالت میں اسلام لایا (یعنی جنابت حیض اور نفاس سے پاك ہونے کی حالت میں اگر ناپاك تھا تو غسل کرلیا) تو مندوب ہے انتہی ملخصا۔ (ت)
(۱) اکثر جسم پر پانی بہ جانا اگرچہ کفار کے نہانے میں ہوتا ہو اور بے تمیزی سے منہ بھر کر پانی پینے میں سارا منہ بھی حلق تك دھل جاتا ہو مگر ناك میں پانی بے چڑھائے ہرگز نہیں جاتااور خود ایسا کیوں کرتے کہ پانی سونگھ کر چڑھائیں لہذا اس چھپ چھپ کرلینے سے جو کفار کرلیا کرتے ہیں ان کا غسل نہیں اترتا۔ ع
ہرچہ شوئی پلید تر باشد
فی الحلیۃ عن السیر الکبیر للامام محمد ینبغی للکافر اذا اسلم ان یغتسل غسل الجنابۃ ولا یدرون کیفیۃ الغسل اھ وفیھاعن الذخیرۃ الاتری ان فرضیۃ المضمضۃ والاستنشاق خفیت علی کثیر من العلماء
حلیہ میں امام محمد کی سیر کبیر سے منقول ہے کہ اگر کافر اسلام لائے تو اس پر لازم ہے کہ غسل جنابت کرے اور وہ غسل کی کیفیت نہیں جانتے اھ اور اس میں ذخیرہ سے منقول ہے کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ کلی اور ناك میں پانی ڈالنے کی فرضیت بہت سے علماء پر مخفی
حوالہ / References الدرالمختار موجبات الغسل مجتبائی دہلی ۱ / ۳۲
ردالمحتار موجبات الغسل مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۲۴
حلیہ
#12356 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
فکیف علی الکفار ۔
رہی تو کافروں کا کیا کہنا۔ (ت)
نمازی محتاط مسلمانوں کے غسل کا پانی پاك ہے اگرچہ دوبارہ اس سے غسل یا وضو نہیں ہوسکتا مگر وہ خود پاك ہے کپڑے وغیرہ کو لگ جائے تو نمازجائز ہے اور دھونے کی حاجت نہیں اور جس کے بدن پر نجاست لگی ہونا تحقیق ہو اس کے بدن کا پانی نجس ہے اور تحقیق نہ ہو تو بے نمازی بے احتیاط کے آب وغسل میں شبہ ہے اس سے بچنااولی ہے نہ کہ کافر کہ ان کے تو پاجاموں رانوں میں چھٹنکیوں پیشاب ہوتا ہے ان کا آب غسل مکروہ ہے پھر بھی ناپاکی کا حکم نہ دیں گے جب تك تحقیق نہ ہو کما حققناہ فی الاحلی من السکر والله تعالی اعلم (جیسا کہ ہم نے اپنے رسالہ احلی من السکر میں اس کی تحقیق کی ہے والله تعالی اعلم۔ ت)
مسئلہ ۴۷ : مسئولہ شیخ شوکت علی صاحب ۶ ربیع الآخر شریف ۱۳۰۲ ہجریہ قدسیہ
کیا فرماتے ہیں علمائے ملت اہلسنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ جوٹھا ہندو یانصرانی وغیرہ کا پاك ہے یا ناپاک اس کے کھانے کا کیا حکم ہے اگر کوئی کافر سہوا یا قصدا حقہ یا پانی پی لے تو اس کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
حکم اللہ ورسول کیلئے ہے رسول (۱) اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نصرانی کے کھانے سے ممانعت فرمائی سنن ابی داؤد وجامع ترمذی ومصنف ابو بکر بن ابی شیبہ ومسند امام احمد میں ہلب رضی اللہ تعالی عنہسے ہے :
واللفظ لابی بکر قال رأیت النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم نھی عن طعام النصاری فقال لایتخلجن فی صدرك طعام ضارعت فیہ نصرانیۃ ۔ اقول : بھذا اللفظ اوردہ الامام الجلیل السیوطی فی الجامع الکبیر وقال حسن اھ وھو صریح فی رد مازعم الھروی فی تاویل الحدیث انہ نظیف کما نقلہ عنہ
الفاظ ابی بکر کے ہیں فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو دیکھا کہ طعام نصرانی سے نہی فرمائی اور ارشاد کیا زنہار تیرے سینے میں وہ کھانا جنبش نہ کرے جس میں نصرانیت کا اشتراك ہو۔
اقول : انہی الفاظ سے اس کو امام سیوطی نے جامع کبیر میں ذکر کیا اور حسن کہا اھ اور یہ ہروی کی واضح تردید ہے انہوں نے حدیث کی تاویل کی کہ یہ صاف ستھرا ہے یہ مجمع البحار میں ان سے منقول ہے
حوالہ / References حلیہ
سنن ابی داؤد باب کراھیۃ التقذر للطعام مجتبائی لاہور ۲ / ۷۵
#12357 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
فی مجمع البحار ثم ردہ بقولہ وسیاق الحدیث لایناسبہ اھ
اقول : (۱)وایضا یبعد مانقلہ عن الطیبی من تفسیرہ بقولہ شابھت النصرانیۃ والرھبانیۃ فی تشدیدھم وتضییقھم وکیف وانت علی الحنفیۃ السھلۃ اھ کیف وھذا لایلائم النھی۔
اقول : (۲) وکذا یبعد مافھم منہ ابو داؤد اذ اوردہ فی باب کراھیۃ التقذر للطعام وانما تأتی لہ ذلك لان لفظ روایتہ سمعت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وسألہ رجل فقال ان من الطعام طعاما اتحرج منہ فقال لایتخلجن فی صدرك شیئ ضارعت فیہ النصرانیۃ اھ فھذا لفظ محتمل والذی ذکرناہ نص صریح فتثبت وبالله التوفیق ورحم الله الامام اباحاتم الرازی حیث یقول ماکنا نعرف الحدیث مالم نکتبہ من ستین وجہا ۔
پھر انہوں نے اس کو اپنے اس قول سے رد کیا اور حدیث کا سیاق اس کے مناسب نہیں۔ (ت)
میں کہتا ہوں یہ بھی بعید ہے کہ انہوں نے طیبی سے اس کی تفسیر یہ نقل کی ہے کہ یہ نصرانیت اور رہبانیت کے مشابہ ہے ان کی شدت اور سختی میں اور تم دین حنیف پر ہو جو سہل اور آسان ہے اھ کیسے اور یہ نہی کے مناسب نہیں۔ (ت)
میں کہتا ہوں اسی طرح وہ بھی بعید ہے جو ابو داؤد نے اس سے سمجھا ہے کیونکہ انہوں نے اس کو باب کراہیۃ التقذر الطعام میں وارد کیا ہے اور انہوں نے ایسا اس لئے کیا ہے کیونکہ ان کی روایت کے لفظ یہ ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو سنا اورآپ سے ایك شخص نے سوال کیا تو آپ نے فرمایا ان کھانوں میں سے ایك کھانا ایسا ہے جس سے میں حرج محسوس کرتا ہوں توآپ نے فرمایا تمہارے دل میں کوئی ایسی چیز خلش پیدا نہ کرے جو نصرانیت کے ساتھ ملی ہے اھ اب ان الفاظ میں احتمال ہے اور جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ صریح نص ہے اوراللہ ابو حاتم الرازی پر رحم فرمائے وہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم اس وقت تك حدیث کو نہیں پہچانتے تھے جب تك کہ اس کو ساٹھ طریقوں سے نہ لکھ لیں۔ (ت)
ابو ثعلبہ خشنی(۳) رضی اللہ تعالی عنہفرماتے ہیں :
حوالہ / References مجمع البحار لفظ ضرع منشی نولکشور لکھنؤ ۲ / ۲۸۸
طیبی شرح مشکوٰۃ
سنن ابی داؤد باب کراھیۃ التقذر الطعام مجتبائی دہلی ۲ / ۱۷۵
#12358 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
قلت یارسول الله انا نغزو ارض العدو فنحتاج الی انیتھم فقال استغنوا عنھامااستطعتم فان لم تجدوا غیرھا فاغسلوھاوکلوامنھاواشربوا ۔ اوردہ الامام فی الجامع وعزاہ لابن ابی شیبۃ۔
اقول : (۱)قد رواہ احمد والبخاری ومسلم وابو داؤد والترمذی واخرون وفی لفظ للترمذی قال انقوھا غسلا ۔
میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ! ہم دشمن کے ملك میں جہاد کو جاتے ہیں ان کے برتنوں کی حاجت پڑتی ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایاجہاں تك بن پڑے ان برتنوں سے دوررہو اور اگر اور برتن نہ ملے تو انہیں دھو کرپاك کرلو اس کے بعد ان میں کھاؤ پیو۔
میں کہتا ہوں احمد بخاری مسلم ابو داؤد ترمذی اور دوسروں نے بھی اس کو روایت کیا ہے اورترمذی کا لفظ فاغسلوھا کی جگہ انقوھا غسلا ہے۔ (ت)
اللہ عزوجل فرماتا ہے :  انما المشركون نجس کافر نرے ناپاك ہیں۔
یہ ناپاکی ان کے باطن کی ہے پھر اگر شراب وغیرہ نجاستوں کا اثر ان کے منہ میں باقی ہو تو ناپاکی ظاہری بھی موجود ہے اوراس وقت ان کا جھوٹا ایسا ہی ناپاك ہے جیسا کتے کا بلکہ اس سے بھی بدتر لخلاف مالك فی الکلب(کیونکہ کتے کے بارے میں امام مالك کا اختلاف ہے۔ ت) اور حقے وغیرہ جس چیز کو ان کا لعاب لگ جائیگا ضرور ناپاك ہوجائے گی۔
تنویر الابصار میں ہے :
سؤر شارب خمرفور شربھا وھرۃ فور اکل فأرۃ نجس ۔ لوشاربہ طویلا لایستوعبہ اللسان فنجس
شرابی کا شراب پینے کے بعد فوری جھوٹا اور بلی کا چوہا کھانے کے بعد فوری جھوٹا نجس ہے۔ (ت)
ہنود ونصاری وغیرہم اکثر شراب خور ہوتے ہیں اور مونچھیں بڑھانا ان کا شعار اور شراب(۲) خور کی مونچھیں بڑی بڑی ہوں کہ شراب مونچھ کو لگ گئی تو جب تك مونچھ دھل نہ جائے گی پانی وغیرہ جس چیز کو لگے گی ناپاك کر دے گی
درمختار میں ہے :
لوشاربہ طویلا لایستوعبہ اللسان فنجس
اگر شراب خور کی مونچھیں لمبی ہوں کہ زبان ان تک
حوالہ / References مصنف ابن ابی شیبہ الاکل فی اٰنیۃ الکفار ادارۃ القرآن کراچی ۸ / ۹۰
جامع للترمذی الاکل فی اٰنیۃ الکفار امین کمپنی دہلی ۲ / ۲
القرآن ۹ / ۲۸
الدرالمختار فصل فے البئر مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
#12359 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
ولوبعد زمان ۔
اگر شراب خور کی مونچھیں لمبی ہوں کہ زبان ان تك نہ پہنچ سکے تو اس کا جھوٹا نجس ہے اگرچہ وہ طویل وقت کے بعد پانی پئے۔ (ت)
اور اگر ظاہری نجاستوں سے بالکل جدا ہو جس کی امید کافروں میں بہت کم ہے تو اس کے جوٹھے کو اگرچہ کتے کے جوٹھے کی طرح صریح ناپاك نہ کہا جائے۔
فی التنویر والدر سؤرادمی مطلقا
ولوجنبااوکافرطاھر الفم طاھرا مختصرا ۔
تنویر اور در میں ہے آدمی کا جھوٹا چاہے وہ جنبی ہو یا کافر ہو پاك ہے کیونکہ منہ پاك ہے۔ مختصرا (ت)
اقول : مگر ہر چیز کہ ناپاك نہ ہو طیب وبے دغدغہ ہونا ضرور نہیں رینٹھ بھی تو ناپاك نہیں پھر کون عاقل اسے اپنے لب و زبان سے لگاناگوارا کرے گا کافر کے جوٹھے سے بھی بحمداللہ تعالی مسلمانوں کو ایسی ہی نفرت ہے اور یہ نفرت ان کے ایمان سے ناشیئ ہے۔
وفی رفعہ عن قلوبھم اسقاط شناعۃ الکفرۃ عن اعینھم اوتخفیفھا وذلك غش بالمسلمین وقد صرح العلماء کما فی العقود الدریۃ وغیرھا (۱) ان المفتی انما یفتی بما یقع عندہ من المصلحۃ ومصلحۃ المسلمین فی ابقاء النفرۃ عن الکفرۃ لافی القائھا ۔
اور اس کو ان کے دلوں سے اٹھانے میں کافروں کی برائی کو ان کی نگاہوں میں ختم کرنا ہے یا کم کرنا ہے اور یہ مسلمانوں کو دھوکا دینا ہے اور علماء نے تصریح کی ہے جیسا کہ عقود الدریۃ وغیرہا میں ہے کہ مفتی کو وہی فتوی دینا چاہئے جس میں اس کے نزدیك مصلحۃ ہو اور مسلمانوں کو مصلحۃ اس میں ہے کہ ان کے دلوں میں کافروں سے نفرت باقی رہے نہ یہ کہ نفرت ختم ہوجائے۔ (ت)
جو شخص دانستہ اس کا جوٹھا کھائے پئے مسلمان اس سے بھی نفرت کرتے ہیں وہ مطعون ہوتا ہے اس پر محبت کفار کا گمان جاتا ہے اور حدیث(۱) میں ہے :
من کان یؤمن بالله والیوم الاخر فلا یقفن مواقف التھم ۔
جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو تہمت کی جگہ کھڑا نہ ہو۔
متعدد(۲) حدیثوں میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ایاك وما یسؤ الاذن
اس بات سے بچ جو کان کو بری لگے
حوالہ / References الدرالمختار فصل فے البئر مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
الدرالمختار فصل فے البئر مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
الاشباہ والنظائر کتاب القضاء الخ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۳۵۴
مراقی الفلاح مع الطحطاوی قبیل باب سجود السہو نور محمد کتب خانہ کراچی ص۲۴۹
مسند امام احمد عن ابی العادیۃ بیروت ۴ / ۷۶
#12360 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
رواہ الامام احمد عن ابی العادیۃ والطبرانی فی الکبیر وابن سعد فی الطبقات والعسکری فی الامثال وابن مندۃ فی المعرفۃ والخطیب فی المؤتلف کلھم عن ام العادیۃ عمۃ العاص بن عمرو الطفاوی وعبدالله بن احمد الامام فی زوائد المسند وابو نعیم وابن مندۃ کلاھما فی المعرفۃ عن العاص المذکور مرسلا وابو نعیم فیھا عن حبیب بن الحارث رضی الله تعالی عنہم۔
اس کو امام احمد نے ابو العادیۃ سے روایت کیا اور طبرانی نے کبیر میں اور ابن سعد نے طبقات میں اور عسکری نے امثال میں اور ابن مندہ نے معرفۃ میں اور خطیب نے مؤتلف میں ان سب نے ام عادیہ عاص بن عمرو طفاوی کی پھوپھی سے روایت کی اور عبداللہ بن احمد نے زوائد مسند میں ا ور ابو نعیم اور ابن مندہ نے دونوں معرفہ میں عاص مذکور سے مرسلا روایت کی اور ابو نعیم نے معرفہ میں حبیب بن حارث سے روایت کی۔ (ت)
نیز بہت حدیثوں میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : ایاك وکل امر یعتذر منہ ۔ ہر اس بات سے بچ جس میں عذر کرنا پڑے۔
رواہ ایضا فی المختارۃ والدیلمی کلاھما بسند حسن عن انس والطبرانی فی الاوسط عن جابر وابن منیع ومن طریقہ العسکری فی امثالہ والقضاعی فی مسندہ معا والبغوی ومن طریقہ الطبرانی فی اوسطہ والمخلص فی السادس من فوائدہ وابو محمد الابرھیمی فی کتاب الصلاۃ وابن النجار فی تاریخہ کلھم عن ابن عمرو الحاکم فی صحیحہ والبیھقی فی الزھدو العسکری فی الامثال وابو نعیم فی المعرفۃ عن سعد بن ابی وقاص واحمد وابن ماجۃ و ابن عساکر عن ابی ایوب الانصاری کلھم رافعیہ
اس کو بھی مختارہ اور دیلمی میں دونوں نے بسند حسن روایت کیا انس سے اور طبرانی نے اوسط میں جابر سے اور ابن منیع نے اور عسکری نے امثال میں اور قضاعی اپنی مسند میں ابن منیع کی سند سے ایك ساتھ اور بغوی نے اور اس کی سند سے طبرانی نے اپنی اوسط میں اور مخلص چھٹے فائدہ میں اور ابو محمد ابراہیمی نے کتاب الصلوۃ میں اور ابن نجار نے اپنی تاریخ میں سب نے ابن عمر سے اور حاکم نے اپنی صحیح میں اور بیہقی نے الزہد میں اور عسکری نے امثال میں اور ابو نعیم نے المعرفۃ میں سعد بن ابی وقاص سے اور احمد وابن ماجہ اور ابن عساکر نے ابو ایوب الانصاری سے ان
حوالہ / References جامع الصغیر مع فیض القدیر ۳ / ۱۱۷
#12361 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
الی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم والبخاری فی تاریخہ والطبرانی فی الکبیر وابن مندۃ عن سعد بن عمارۃ من قولہ رضی الله تعالی عنہم اجمعین۔
تمام حضرات نے اس کو حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی طرف رفع کیا ہے اور بخاری نے اپنی تاریخ میں اور طبرانی نے کبیر میں اور ابن مندہ نے سعد بن عمارۃ سے انہی کا قول نقل کیا اللہ ان سب سے راضی ہو۔ (ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم :
بشروا ولا تنفروا ۔ رواہ الائمۃ احمد والبخاری ومسلم والنسائی عن انس رضی الله تعالی عنہ۔
بشارت دو اور وہ کام نہ کرو جس سے لوگوں کو نفرت پیدا ہو۔ اسے احمد بخاری مسلم اور نسائی نے انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔
پھر اس میں(۱) بلاوجہ شرعی فتح باب غیبت ہے اور غیبت حرام فما ادی الیہ فلا اقل ان یکون مکروھا(تو جو اس تك پہنچائے وہ کم از کم مکروہ ضرور ہوگا۔ ت) تو دلائل شرعیہ واحادیث صحیحہ سے ثابت ہوا کہ کافر کے جوٹھے سے احتراز ضرور ہے اور اس(۲) باب میں یہاں نصاری کا حکم بہ نسبت ہنود کے بھی سخت تر ہے کہ وجوہ کثیرہ مذکورہ میں دونوں شریك اور نصاری میں یہ امر زائد کہ یہاں ان کی سلطنت ہونے کے باعث مذہبی نفرت کی کمی میں تبدیل دین یا کم ازکم ضعف ایمان کا وہ اندیشہ بہ نسبت ہنود کہیں زیادہ ہے۔
فمن الجھل التمسك ھنا بما فی الصدر الاول اذکانوا اذلاء مقھورین تحت ایدینا فکان فی تقریبھم منا تقریبھم الی الاسلام والان قدانعکس الامر ولا حول ولا قوۃ الا بالله وقد کانت نساء ذوی الھیأت یحضرن لیلا ونھارا الجماعات ونھی عنہ الائمۃ الاثبات مع قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لاتمنعوا اماء الله مساجدا لله وکم من حکم یختلف باختلاف الزمان
یہاں یہ امر جہالت ہوگا اس چیز سے استدلال کیا جائے جو صدر اول میں تھی کیونکہ اس زمانہ میں وہ کمزور تھے اور ہمارے ماتحت تھے اس لئے ان کو اپنے قریب کرنے سے ان کو اسلام کی طرف آنے کی دعوت دینا مقصود تھی اور اب تو معاملہ ہی الٹ ہوگیا ہے ایك زمانہ تھا کہ باعزت لوگوں کی عورتیں دن اور رات دونوں اوقات میں جماعات میں حاضر ہوتی تھیں مگر ائمہ کرام نے اب ان کے آنے کی ممانعت کردی ہے حالانکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا ہے تم اللہ
حوالہ / References جامع للبخاری کتاب العلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶
مسند امام احمد عن ابن عمر بیروت ۲ / ۱۶
#12362 · فتوٰی مسمّٰی بہ الھنیئ النمیر فی الماء المستدیر ۱۳۳۴ ھ خوشگوار صاف آبِ مستدیر کی تحقیق
بل والمکان کما تشھد بہ فروع جمۃ فی کتب الائمۃ وھذا ماعندی وبہ افتیت مرارا والله ربی علیہ معتمدی والیہ مستندی والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
کی باندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو اور بہت سے احکام ہیں جو زمانہ کے اختلاف سے مختلف ہوتے ہیں بلالکہ امکنہ کے اختلاف سے بھی مختلف ہوتے ہیں جیسا کہ کتب ائمہ میں بہت سی فروع اس پر شاہد ہیں میرے نزدیك یہی ہے اسی پر میں نے کئی مرتبہ فتوی دیا ہے اللہ میرا رب ہے اسی پر اعتماد اور اسی کی طرف سہارا ہے واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۴۸ : ازکانپور محلہ بوچڑخانہ مسجد رنگیاں مرسلہ مولوی عبدالرحمن جعشانی طالب علم مدرسہ فیض عام ۲۳ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ ھ
ماجوابکم ایھا العلماء رحمکم الله تعالی ۔ حقہ کا پانی پاك ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
قطعا پاك ہے پانی پاک تمباکوپاك اس کا دھواں پاک پاك چیز سے پاك پانی کا رنگ مزہ بو بدل جانا اسے ناپاك نہیں کرسکتا یہاں تك کہ(۱) مذہب صحیح میں نہ صرف طاہر بلالکہ مطہر وقابل وضو رہتا ہے بایں معنی کہ اگر اس سے وضو کرے وضو ہوجائیگا اگرچہ بوجہ بو مکروہ ہے یہاں تك کہ جب تك اس کی بو باقی ہو مسجد میں جانا حرام جماعت میں شامل ہونا منع ہوگا پھر بھی اگر(۲) سفر میں ہو اور وضو کو پانی کم تھا کہ مثلا ایك یا دونوں پاؤں دھونے سے رہ گئے اور حقے میں پانی ہے جس سے وہ کمی پوری ہوسکتی ہے تو اس صورت میں تیمم جائز نہ ہوگا نماز باطل ہوگی بلالکہ اسی پانی سے وضو کی تکمیل لازم ہوگی لانہ یجد ماء وانما یقول الله تعالی “  فلم تجدوا مآء فتیمموا “ (کیونکہ وہ پانی کو پارہا ہے جبکہ اللہ تعالی فرماتا ہے : اور تم پانی نہ پاؤ تو تیمم کرو۔ ت)درمختار میں ہے :
یجوز بماء خالطہ طاھر جامد کفاکہۃ و ورق شجر وان غیر کل اوصافہ فی الاصح ان بقیت رقتہ واسمہ اھ ملخصا والله تعالی اعلم۔
اس پانی میں سے وضو جائز ہے جس میں کوئی خشك پاك چیز مل گئی ہو جیسے میوہ اور درخت کے پتے خواہ اس نے اس کے تمام اوصاف کو بدل دیا ہو اصح یہی ہے بس شرط یہ ہے کہ اس کی رقت اور اس کا نام باقی رہے ملخصا والله تعالی اعلم۔ (ت)
___________________
حوالہ / References القرآن ۴ / ۴۳
الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵
#12363 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
فتوی مسمی بہ
رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ
ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو(ت)
مسئلہ ۴۹ : ۴ جمادی الآخر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں سوال اول حوض نیچے دہ در دہ اور اوپر کم ہے بھرے ہوئے میں نجاست پڑی تو سب ناپاك ہوگیا یا صرف اوپر کا حصہ جہاں تك سو ہاتھ سے کم ہے بینوا توجروا۔
الجواب
بسم الله الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
بعض کے نزدیك اصلا ناپاك نہ ہوگا کہ مجموع آب کثیر ہے۔
اقول : ویشبہ ان یکون مبنیا علی اعتبار العمق وقد صححہ بعضھم والمعتمد المعول علیہ لا۔
میں کہتا ہوں یہ گہرائی کے اعتبار پر مبنی ہے اور بعض نے اس کو صحیح قرار دیا ہے اور اس پر اعتماد نہیں ہے۔ (ت)
خلاصہ میں ہے :
الحوض الکبیر اذا انجمد ماؤہ فنقب انسان نقبا وتوضأ منہ ان کان الماء منفصلا عن الجمد یجوز وان کان متصلا بالجمد اختلف المشائخ فیہ بعضھم اعتبروا جملۃ الماء حتی لایتنجس وبعضھم اعتبروا موضع النقب ان کان کبیرا یجوز والافلا ۔
بڑے حوض کا پانی جب جم جائے اور کوئی اس میں سوراخ کرکے وضو کرلے تو پانی اگر برف سے الگ ہے تو جائز ہے اور اگر برف سے متصل ہے تو مشائخ کا اس میں اختلاف ہے بعض نے تمام پانی کا اعتبار کیا یہاں تك کہ وہ نجس نہ ہوگا اور بعض نے سوراخ کی جگہ کا اعتبار کیا اگر وہ بڑا ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں۔ (ت)
بعض کے نزدیك کل ناپاك ہوجائے گا۔
اقول : وکانہ لانہ ماء واحد والعبرۃ بوجہ الماء وھو قلیل لابالعمق وان کثر۔
میں کہتا ہوں اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایك پانی ہے اور اعتبار پانی کی سطح کا ہے اور وہ قلیل ہے عمق کا اعتبار نہیں خواہ زائد ہی کیوں نہ ہو۔ (ت)
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی الجنس الاول الحیاض نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴)
#12364 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
خلاصہ میں ہے :
ان کان اعلاہ اقل من عشر فی عشرو اسفلہ عشر فی عشر فوقعت قطرۃ خمر ثم انتقص الماء وصار عشرا فی عشر اختلف المشائخ فیہ ۔
اگر اس کا بالائی حصہ دہ در دہ سے کم ہے اور نچلا دہ در دہ ہو اب اس میں ایك قطرہ شراب کا گر جائے پھر پانی کم ہوجائے اور دہ در دہ ہوجائے تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے۔ (ت)
بدائع میں اول کو اوسع ثانی کو احوط فرمایا اور منیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسی دوم پر فتوی ہے :
حیث قال الحوض اذا انجمد ماؤہ فنقب فی موضع منہ فوقعت فیہ نجاسۃ قال نصیر وابو بکر الاسکاف یتنجس وقال عبدالله بن المبارك وابو حفص الکبیر البخاری لایتنجس اذا کان الماء تحت الجمد عشرا فی عشرو ان کان متصلا بالجمد والفتوی علی قول نصیر وابی بکر وان کان منفصلا عن الجمد یجوز بلا خلاف کالحوض المسقف اھ
واعترضہ شارحہ المحقق ابن امیر الحاج بانہ یفید ان الحوض عند نصیر وابی بکر یتنجس سواء کان الماء ملتزقا بالجمدا ومتسفلا عنہ ثم ینافیہ قولہ وان کان منفصلا یجوز بلا خلاف فان قلت لم لم یحمل ماعن نصیر وابی بکر علی مااذا کان متصلا بالجمد وقد اندفع التناقض عن المصنف قلت لانہ ینافیہ قولہ فان کان متصلا بالجمد
انہوں نے فرمایاکہ حوض کاپانی جم جائے اور اس میں کسی جگہ سوراخ کیا جائے اور اس میں نجاست گر جائے تو نصیر اور ابو بکر الاسکاف نے فرمایا وہ ناپاك ہوجائیگا اور عبداللہ بن مبارك اور ابو حفص کبیر نے فرمایاکہ اگر برف کے نیچے پانی دہ دردہ ہو تو ناپاك نہ ہوگا اگرچہ برف سے متصل ہو اور فتوی نصیر اور ابو بکر کے قول پر ہے اوراگر برف سے جدا ہو تو بغیر اختلاف کے جائز ہے جیسے وہ حوض جس کے اوپر چھت ہو اھ اس پر اس کے شارح محقق ابن امیر الحاج نے اعتراض کیا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حوض نصیر اور ابو بکر کے نزدیك نجس ہوجاتا ہے خواہ پانی برف سے ملاہوا ہو یا اس کے نیچے ہو پھر اس کے مخالف ہے ان کا قول کہ اگر منفصل ہو تو جائز ہے بلاخلاف اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جو نصیر اور ابو بکر سے منقول ہے اسکو اس پر کیوں محمول نہیں کیا گیاکہ یہ اس صورت میں ہے جبکہ وہ برف سے متصل ہو اور تناقض مصنف سے رفع ہوگیا میں
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی الجنس الاول الحیاض نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴
منیۃ المصلی فصل الحیاض مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۷۰
#12365 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
فالفتوی علی قول نصیر فانہ یفید ان موضوع المسألۃ اعم وان نصیرا وابا بکر یقولان ینجس مطلقا وابن المبارك واباحفص یقولان لاینجس مطلقا فتأملہ اھ اقول : رحم اللہ(۱)المحقق لاشك ان اول الکلام فی المتصل یوضحہ مافی البدائع ان کان جامداونقب فی موضع منہ فان کان الماء غیر متصل بالجنب یجوز بلاخلاف وان متصلا والنقب صغیرا اختلف المشائخ قال نصیر بن یحیی وابو بکرالاسکاف لا خیر فیہ وسئل ابن المبارك فقال لاباس بہ وقال الیس الماء یضطرب تحتہ وھو قول الشیخ ابی حفص الکبیر وھذا اوسع والاول احوط اھ وقد نقلہ المحقق فی الحلیۃ ھھنا۔
اقول : (۲)ولولا ھذالم یکن لہ محمل الا ذاك لان الذھن لایسبق منہ الاالیہ اذھوالغالب ونادران ینجمدالاعلی ویبقی الاسفل منفصلا عنہ الا اذانقب واستفرغ منہ شیئ صالح
وما ردبہ علیہ من المنافاۃ۔ (۳)فاقول : غیر متوجہ الیہ فان قولہ
کہوں گا اس لئے کہ منافی اس کا قول کہ اگر برف کے ساتھ متصل ہوتو فتوی نصیر کے قول پر ہوگا کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موضوع مسئلہ اعم ہے اور یہ کہ نصیر اور ابو بکر دونوں کہتے ہیں کہ وہ مطلقا نجس ہوگا اور ابن مبارك اور ابوحفص کہتے ہیں کہ وہ مطلقا نجس نہیں ہوگا فتأملہ اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں اللہ محقق پر رحم کرے بیشك کلام کا ابتدائی حصہ متصل میں ہے اس کی وضاحت بدائع میں ہے اور وہ یہ کہ اگر وہ جامد ہو اور اس کے کسی حصہ میں سوراخ کرلیا گیا ہو تو اگر پانی برف سے ملا ہوا نہ ہو تو بلاخلاف جائز ہے اور اگر متصل ہو اور سوراخ چھوٹا ہو تو مشائخ کا اختلاف ہے نصیر بن یحیی اور ابو بکر الاسکاف فرماتے ہیں اس میں خیر نہیں اور ابن مبارك سے دریافت کیاگیا تو فرمایا اس میں حرج نہیں نیز فرمایا کیا اس کے نیچے پانی میں حرکت نہیں ہوتی ہے اور یہی ابو حفص الکبیر کا قول ہے اور یہ زیادہ آسان ہے جبکہ پہلے میں احتیاط کاپہلو زیادہ ہے اھ اور محقق نے اس کو یہاں حلیہ میں نقل کیا۔ (ت)
میں کہتا ہوں اگر یہ بات نہ ہوتی تو اس کا محمل یہی ہوتا کیونکہ ذہن کی سبقت اسی کی طرف ہوتی ہے کیونکہ غالب یہی ہے اور یہ نادرہے کہ اوپر والا منجمد ہوجائے اور نیچے والااس سے جدا رہے ہاں اگر اس میں سوراخ کرکے قابل لحاظ حد تك پانی نکال لیا جائے تو جدا ہوسکتا ہے۔
اور جس چیز سے اس پر رد کیا ہے یعنی منافات تو میں کہتا ہوں یہ ان کی طرف متوجہ نہیں کیونکہ
حوالہ / References حلیہ
بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۳
#12366 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
“ وان کان متصلا بالجمد “ لیس شرطا جزاؤہ فالفتوی حتی یفید ان کلام نصیر وابی بکر فیما ھو اعم من الاتصال بل ھو من تتمۃ قول ابن المبارك وان وصلیۃ والفاء فی فالفتوی فصیحۃ والمعنی انہ ان انفصل عن الجمد جازبلا خلاف وان اتصل فکذا عند عبدالله وابی حفص وقال نصیر وابو بکر لاوعلیہ الفتوی علی ان(۱)فی عامۃ نسخ المنیۃ وعلیہ الفتوی بالواو دون الفاء وقولہ فان کان متصلالیس بالفاء فی نفس المتن المنقول فی الحلیۃ فانقطع مثارالتوھم رأساثم رأیت الغنیۃ فسرہ علی ماھو الحق وافاد فائدۃ اخری ستعرفھا۔
ان کا قول “ وان کان متصلا بالجمد “ شرط نہیں جس کی جزا فالفتوی ہو تاکہ اس کا فائدہ یہ ہو کہ نصیر اور ابو بکر کا اس میں کلام ہے جو اتصال سے اعم ہے بلالکہ وہ ابن مبارك کے کلام کا تتمہ ہے اور “ ان “ وصیلہ ہے اور فالفتوی میں فاء فصیحیہ ہے اور معنی یہ ہیں کہ اگر وہ برف سے جدا ہو تو بلاخلاف جائز ہے اور اگر متصل ہو تو اسی طرح عبداللہ اور ابو حفص کے نزدیك حکم ہے اور نصیر اور ابو بکر کہتے ہیں نہیں اور اسی پر فتوی ہے علاوہ ازیں منیہ کے عام نسخوں میں وعلیہ الفتوی واؤ کے ساتھ ہے فاء کے ساتھ نہیں اس کا قول فان کان متصلا نفس متن میں فاء کے ساتھ نہیں جو حلیہ میں منقول ہے تو وہم کی بنیاد ہی ختم ہوگئی۔ پھر میں نے غنیہ میں دیکھا کہ انہوں نے اس کی حق تفسیر کی اور ایك اور فائدہ بیان کیا جو ہم آئندہ بیان کریں گے۔ (ت)
اور صحیح یہ ہے کہ وہی بالائی حصہ ناپاك ہوگا جو دہ در دہ سے کم ہے یہاں تك کہ اگر اوپر کا پانی نکال دیا گیا اور آب وہاں تك رہ گیا جہاں سے دہ در دہ ہے تو یہ پانی پاك ہے اس لئے کہ اگرچہ وہ آب نجس سے متصل تھا مگر آب کثیر اتصال نجس سے ناپاك نہیں ہوتا جب تك نجاست سے اس کا رنگ یا بو یا مزہ بدل نہ جائے ہندیہ میں ہے :
ان کان اعلی الحوض اقل من عشر فی عشر واسفلہ عشر فی عشر اواکثر فوقعت نجاسۃ فی اعلی الحوض وحکم بنجاسۃ الا علی ثم انتقص الماء وانتھی الی موضع ھو عشر فی عشر فالاصح انہ یجوز الوضوء بہ والاغتسال فیہ
اگر حوض کا بالائی حصہ دہ در دہ سے کم ہو اور اس کا نچلا حصہ دہ در دہ ہو یا زیادہ ہو اور نجاست حوض کے اوپر والے حصے میں گر جائے اور اوپر والے حصہ کے نجس ہونے کا حکم کردیا جائے پھر پانی گھٹ جائے اور ایسی جگہ پہنچ جائے
جو دہ در دہ ہو تو اصح یہ ہے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الثانی الماء الراکد نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۹
#12367 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
کذا فی المحیط۔
کہ اس سے وضو اور غسل جائز ہے کذا فی المحیط۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
وذکر السراج الہندی ان الاشبہ الجواز ۔
اور سراج ہندی نے ذکر کیا ہے کہ اشبہ جواز ہے۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
نص فی الذخیرۃ انہ الاشبہ ۔
ذخیرہ میں نص ہے کہ یہی اشبہ ہے۔ (ت)
فتوی کہ منیہ میں مذکور ہوا اس سے بھی یہی مراد ہے کہ حصہ بالائی کی نجاست پر فتوی ہے نہ کہ کل کی غنیہ میں ہے :
(الحوض اذا انجمد ماؤہ فنقب فی موضع)وبقی الماء تحت الجمد متصلا بہ(فوقعت فیہ نجاسۃ قال نصیرو ابو بکر یتنجس الماء)لکونہ متصلا بالجمد فلا یخلص بعضہ الی بعض فیکون وقوع النجاسۃ فی ماء قلیل فیفسدہ(وقال ابن المبارك وابو حفص لاوان کان)ای ولو کان(الماء متصلا بالجمد)لکونہ عشرا فی عشر(والفتوی علی قول نصیر)لما قلنا(واما اذا کان)الماء تحت الجمد (منفصلا)عنہ(فیجوز)ولا یفسد الماء لان الفرض انہ عشر فی عشر ولم تنفصل بقعۃ منہ عن سائرہ کما فی الصورۃ الاولی۔
(حوض کا پانی جب جم جائے اور کسی جگہ سوراخ کیا جائے)اور برف کے نیچے والا پانی اس کے ساتھ متصل رہے(تو اس میں نجاست گر گئی تو نصیر اور ابو بکر نے فرمایا پانی نجس ہوجائیگا)کیونکہ وہ برف کے ساتھ متصل ہے تو اس کا بعض حصہ دوسرے بعض کی طرف نہیں جائیگا اور اس طرح نجاست قلیل پانی میں گرے گی اور اس کو فاسد کر دے گی(اور ابن مبارك اور ابو حفص نے کہا نہیں اگرچہ وہ ہو)یعنی برف پانی سے متصل ہو کیونکہ وہ دہ در دہ ہے(اور فتوی نصیر کے قول پر ہے)جیسا کہ ہم نے کہا(اور اگر پانی ہو)برف کے نیچے جدا برف سے(تو جائز ہے)اور پانی فاسد نہ ہوگا کیونکہ مفروضہ یہ ہے کہ یہ دہ در دہ ہے اور اس کا کوئی حصہ باقی پانی سے جدا نہیں جیسا کہ پہلی صورت میں ہے۔ (ت)
اسی طرح منیہ میں جو اس کے متصل تھا :
وان ثقب الجمد فعلا الماء فولغ الکلب یتنجس عند عامۃ العلماء ۔
اور اگر برف میں سوراخ کیا تو پانی اوپر چڑھ آیا اس میں کتے نے منہ ڈال دیا تو عام علماء کے نزدیك نجس ہوجائیگا۔ (ت)
حوالہ / References بحرالرائق بحث الماء الدائم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۷
حلیہ
غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فے الحیاض ص۹۹
#12368 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
دونوں شارح محقق نے اسے اسی قدر پانی کی نجاست پر حمل فرمایا ہے غنیہ میں ہے :
(یتنجس عند عامۃ العلماء)ولم یعتبر الماء الذی تحت الجمد وکان مافی الثقب کغیرہ من الماء القلیل خلافا لما قال البعض ان مافی الثقب یعتبر متصلابما تحتہ وھو کثیر فلا یتنجس ۔
(اور عام علماء کے نزدیك پانی نجس ہوجائے گا)اور جو پانی برف کے نیچے ہے اس کا اعتبار نہ ہوگا اور جو سوراخ میں ہے وہ تھوڑے پانی کی طرح ہے لیکن بعض علماء نے اس کے خلاف یہ فرمایا ہے کہ جو سوراخ میں ہے وہ اسی طرح ہے جو اس کے نیچے ہے اور وہ کثیر ہے تو ناپاك نہ ہوگا۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
(یتنجس عند عامۃ العلماء)ذلك الماء الذی فی الثقب لاالحوض لان المسألۃ مفروضۃ فی الحوض الکبیر ۔
(عام علماء کے نزدیك نجس ہوجائے گا)وہ پانی جو سوراخ میں ہے نہ کہ حوض میں کیونکہ مسئلہ بڑے حوض میں مفروض ہے۔ (ت)
یہاں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ یہی مذہب جمہور علماء ہے
وھنا بحث غریب للخانیۃ ثم للخلاصۃ واللفظ لھا قال اختلف المشائخ فیہ وینبغی ان یکون الجواب علی التفصیل ان کان الماء الذی تنجس فی اعلی الحوض اکثرمن الماء الذی فی اسفلہ ووقع الماء النجس فی اسفل الحوض علی التدریج کان طاھرا علی مایاتی فی مسألۃ الجمد وقال بعضھم لایطھر کالماء القلیل اذا وقعت فیہ نجاسۃ ثم انبسط علی مامر اھ والمراد بما یاتی فی الجمد
اور یہاں ایك عجیب بحث خانیہ اور خلاصہ کی ہے الفاظ خلاصہ کے ہیں فرمایا کہ مشائخ نے اس میں اختلاف کیا ہے اور جواب میں تفصیل ہونی چاہئے اگر وہ پانی جو حوض کے بالائی حصہ میں نجس ہوا ہے اس پانی سے زیادہ ہے جو اس کے نچلے حصے میں ہے اور نجس پانی حوض کے نچلے حصے میں گرا بتدریج تو پاك رہے گا جیسا کہ منجمد پانی کے بیان میں آئے گا اور بعض نے فرمایا طاہر نہیں رہے گا جیسے قلیل پانی جب اس میں نجاست گر جائے پھر وہ پھیل جائے جیسا کہ گزرا اھ اور مایاتی فی الجمد سے
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فے الحیاض مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۷۰
حلیہ
خلاصۃ الفتاوی الجنس الاولی فی الحیض نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴
#12369 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
قولہ رحمہ الله تعالی لوتنجس موضع النقب ثم ذاب الجمد بتدریج الماء نجس وقال الشیخ الامام شمس الائمۃ الحلوائی رحمہ الله تعالی الماء طاھر سواء ذاب بتدریج اودفعۃ واحدۃ اھ۔
اقول : وجہ الاول وعلیہ المعول انہ کلما ذاب شیئ منہ اتصل بالنجس وھو قلیل فیتنجس حتی تاتی النجاسۃ علی الکل بخلاف ما اذا ذاب دفعۃ لانہ کثیر فلا یتنجس بمجاورۃ النجس و وجہ قول شمس الائمۃ انہ کثیر وفیہ ان النجس لایطھر بالکثرۃ۔
اقول : لکن(۱)فی قیاس مسألتنا علی مسألۃ الجمد نظرفان الطاھر ھھنا ماء کثیر فلا یضرہ مجاورۃ نجس سواء کانت دفعۃ اوتدریجا وکان المجاور اکثر منہ اواقل علی خلاف مایفیدہ تقییدہ بکثرۃ المتنجس ای قدرالامساحۃ من قصر حکم الطھارۃ علی مالوکان اقل مماتحتہ قدرافلا یتنجس ماتحتہ سواء وقع فیہ دفعۃ اوتدریجا بخلاف الاکثر وانت تعلم ان الماء الکثیر انما یتنجس بتغیر وصف لہ بالنجاسۃ بلا فرق
مرادان کا قول ہے کہ “ اگر سوراخ کی جگہ نجس ہوئی پھر منجمد پانی بتدریج پگھل گیا تو پانی ناپاك ہے اور شیخ الامام شمس الائمہ حلوائی نے فرمایا پانی پاك ہے خواہ بتدریج پگھلا ہو یا یك دم اھ(ت)
میں کہتا ہوں پہلے قول کی وجہ جس پر اعتماد ہے کہ جب بھی اس سے کوئی چیز پگھلی اور نجس سے متصل ہوئی اور وہ قلیل ہو تو وہ نجس ہوجائے گا یہاں تك کہ کل نجس ہوگا بخلاف اس صورت کے جبکہ یکدم پگھل جائے کیونکہ وہ کثیر ہے لہذا نجس کی مجاورت کی وجہ سے نجس نہ ہوگا شمس الائمہ کے قول کی وجہ یہ ہے کہ وہ کثیر ہے اور اس میں یہ اعتراض ہے کہ نجس کثرت کی وجہ سے پاك نہیں ہوتا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں ہمارے مسئلہ کو منجمد پانی پر قیاس کرنے میں نظر ہے کیونکہ یہاں پاك پانی کثیر ہے تو اس کو نجس کی مجاورۃ نقصان دہ نہ ہوگی خواہ یکدم ہو یا بتدریج ہو اور مجاور اس سے زیادہ یا کم ہو یہ اس کے خلاف ہے کہ جس کو متنجس کی کثرت کے ساتھ مقید کیا ہے یعنی مقدار کے اعتبار سے نہ کہ پیمائش کے اعتبار سے جس نے طہارت کے حکم کو اس صورت میں مقصور کیاکہ اگر وہ اپنے نیچے والے پانی سے کم ہو تو اس کانیچے والا ناپاك نہ ہوگا خواہ اس میں وہ یکدم گرا ہو یا تدریجی طور پر بخلاف اکثر کے اور آپ کو معلوم ہے
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوی الجنس الاولی فی الحیض نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴
#12370 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
بین قدر وقدر علی القول الصحیح المعتمد المفتی بہ کما عرف فی مسألۃ جیفۃ فی النھر نعم مشی الشیخ علی مختارہ ثمہ حیث قال انکان مایلاقی الجیفۃ اکثر اوکانا سواء فالماء نجس اھ والیہ یشیر قولہ الماء النجس اذادخل الحوض الکبیر لایتنجس الحوض وانکان الماء النجس علی ماء الحوض غالبا لانہ کلما اتصل الماء بالحوض صار ماء الحوض علیہ غالبا اھ فقد عـــہ اشار الی
کہ کثیر پانی اسی وقت نجس ہوگا جب نجاست کی وجہ سے اس کا کوئی وصف متغیر ہوجائے اس میں مقادیر کے طرق کے اعتبار نہیں قول صحیح معتمد مفتی بہ یہی ہے جیسا کہ نہر میں گرجانے والے مردہ کے مسئلہ میں معلوم ہوا ہے البتہ شیخ نے وہاں اپنے مختار قول ہی کو لیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ جو پانی مردار سے ملاقی ہے اگر وہ زائد ہے یادونوں برابر ہیں تو پانی نجس ہے اھ اور ان کے قول “ نجس پانی جب بڑے حوض میں داخل ہوجائے تو وہ حوض ناپاك نہ ہوگا “
عـــہ اقول : (۱)وبما اشرناالیہ اندفع ماجنح الیہ فی الحلیۃ من اثبات التناقض بین فرعی الخلاصۃ ھذین فان مقتضی الفرع الاخیرطھارۃ السافل بلا تفصیل اھ بمعناہ وذلك لان کلامہ فی ھذاالفرع یشیر الی صورۃ التدریج فلاینافی التفصیل المذکور(۲)سابقا وکذا اندفع بحثہ ترجیح الطہارۃ مطلقا وان ذاب تدریجا حیث قال بعدقول شمس الائمۃ قلت وھذاھوالمتجہ بعد انکان الحوض کبیراولم یظھر للنجاسۃ اثرفیہ کما ھو فرض المسألۃ اھ
اقول : ماذا ینفع کون متسع الحوض کبیرابعد انکان الذائب من الجمد قلیلا فالعبرۃ للماء
میں کہتا ہوں ہم نے جس طرف اشارہ کیا ہے اس سے حلیہ میں جو کہا ہے وہ رفع ہوگیا حلیہ میں انہوں نے خلاصہ کی ان دو فرعوں کے درمیان تناقض ثابت کیا ہے کیونکہ آخری فرع کا مقتضی یہ ہے کہ نچلا حصہ بلا تفصیل پاك ہے اھ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا کلام اس فرع میں تدریج کی صورت کی طرف اشارہ کرتاہے تو سابقہ تفصیل کے خلاف نہ ہو گا اور اسی طرح ان کی وہ بحث ساقط ہوگئی جس میں انہوں نے مطلقا طہارت کو ترجیح دی ہے اگرچہ وہ پگھلا ہو تدریجا انہوں نے شمس الائمہ کے قول کے بعد فرمایا “ میں کہتا ہوں یہی معقول بات ہے بشرطیکہ حوض بڑاہو اور نجاست کا کوئی اثر ظاہر نہ ہو جیسے کہ مسئلہ میں مفروض ہے اھ میں کہتا ہوں حوض کے بڑا ہونے کا ایسی صورت
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوی جنس آخر فی التوضی ، الماء الجاری نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
خلاصۃ الفتاوی الجنس الاولی فی الحیض نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴
#12371 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
التدریج ولفظ الفتح فی تعلیلہ لان کل مایتصل بالحوض الکبیر یصیر منہ فیحکم بطہارتہ وفی البزازیہ الماء الکثیر النجس دخل فی الحوض الکبیر لاینجسہ لانہ حکم بالطھارۃ زمان الاتصال اھ ھذا وجہ
وثانیا : (۱)لااثرلوقوع ماء نجس فی ماء طاھرالااللقاء وھو حاصل فیما نحن فیہ من بدو الامر ففیم التفصیل بخلاف مسألۃ الجمد فانہ اگرچہ نجس پانی حوض کے پانی پر غالب ہوجائے میں اسی طرف اشارہ ہے کیونکہ جو نہی پانی حوض کے پانی سے ملے گا حوض کا پانی اس پر غالب ہوتا جائیگا اھ تو انہوں نے تدریج کی طرف اشارہ کیا ہے اور فتح نے اس کی تعلیل میں یہ فرمایا ہے “ اس لئے کہ جو بڑے حوض سے ملے گا وہ اسی کا جز ہوجائیگا تو اس کی طہارت کا حکم لگایا جائے گا اھ اور بزازیہ میں ہے کہ کثیر نجس پانی جب بڑے حوض میں داخل ہوجائے تو اس کو
لا للمحل والماء ھو الذائب دون الجمدثم استشھد علیہ بفرع الخلاصۃ الاخیر وتعلیلہ بانہ کلما اتصل بالحوض صارماء الحوض علیہ غالباقال بل ھذاابلغ کماھو غیر خاف فتنبہ لذلك اھ
اقول : (۱)ذلك فی ماء نجس کثیرلقی ماء طاھرا کثیرا تدریجاوھذاماء قلیل طاھر لقی ماء نجسافاین ھذامن ذلك (۲)وای مدخل فیہ للابلغیۃ من حیث ان ثم الغالب النجس وھھناالطاھر بعد ان التدریج جعل ذلك الغالب مغلوباکما افصح بہ فی الخلاصۃ وھذا المغلوب غالبا کما علمت والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
میں کیا فائدہ جبکہ پگھلی ہوئی برف کم ہو کیونکہ اعتبار پانی کا ہے نہ کہ محل کا اور پانی تو پگھلا ہوا ہی ہے نہ کہ جمی ہوئی برف پھر انہوں نے اس پر خلاصہ کی آخری فرع اور اس کی تعلیل سے استشہاد کیا اور وہ یہ کہ جب وہ حوض سے ملے گا توحوض کا پانی اس پر غالب ہوجائے گا فرمایا یہ زیادہ بلیغ ہے جیسا کہ مخفی نہ رہے تو اس پر متنبہ ہونا چاہئے اھ
میں کہتا ہوں وہ کثیر نجس پانی میں سے جو کثیر طاہر پانی سے ملاقی ہو اور یہ ملاقات تدریجا ہو اور یہ کم طاہر پانی ہے جس کی ملاقات نجس پانی سے ہوئی ہے تو اس میں اور اس میں کیا نسبت ہے اور اس میں ابلغیۃ کو کیا دخل ہے کیونکہ وہاں غالب نجس ہے اور یہاں طاہر بعد اس کے کہ تدریج نے اس غالب کو مغلوب کردیا ہے جیسا کہ خلاصہ میں اس کی وضاحت کی ہے اور اس مغلوب کو غالب کردیا جیسا کہ آپ نے جانا ہے والله تعالی اعلم
حوالہ / References فتح القدیر بحث الغدیر العظیم نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۱
بزازیۃ علی الہندیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۷
#12372 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
لانجمادہ لالقاء مع النجس الالسطح منہ فالباقی اذا ذاب تدریجا حصل اللقاء للقلیل فتنجس والکثرۃ للمتنجس فلم یطھر واذا ذاب دفعۃ حصل اللقاء للکثیر فلم یتنجس
وثالثا : المعھود ھھناان الماء العالی یرفع ویبقی السافل لاان العالی یقع فی السافل دفعۃ اوتدریجا
و رابعا : (۱)اذاکان الماء ان متلاصقین ولم یکن ھذاوقوع العالی فی السافل لم یتصور الزیادۃ علیہ الا بوقوع العالی فی محل السافل ولا یکون الابعد خروج السافل لاستحالۃ التداخل فلا یقع العالی فی السافل ابدالا دفعۃ ولا تدریجا
وخامسا(۲)لوفرض فلایکون الالخروج ھذا ودخول ذاك والکل حرکۃ فلا یمکن الا تدریجاکأن یکون فی السافل منفذ یفتح فیجعل السافل یخرج والعالی ینزل ولا تصور لان یخرج السافل دفعۃ فیسقط العالی مرۃ واحدۃ وبالجملۃ لم یصل فھمی القاصرلمرادہ والله تعالی اعلم بمراد خواص عبادہ لاجرم ان قال فیہ فی الدر لووقع فیہ نجس لم یجز حتی یبلغ العشر فقال ش فاذابلغھا جاز وان کان اعلاہ اکثر مقداراوفی البحر عن السراج الھندی انہ الاشبہ اھ ورحم الله
نجس نہیں کرے گا کیونکہ اتصال کے وقت اس پر طہارت کا حکم لگ چکا ہے اھ یہ معقول بات ہے۔
ثانیا : نجس پانی کے پاك پانی میں پڑ جانے کاکوئی اثر نہیں سوائے ملاقات کے اور وہ ہمارے اس مسئلہ میں ابتداء سے حاصل ہے تو تفصیل کس چیز میں ہے بخلاف منجمد پانی کے مسئلہ کے کیونکہ یہ منجمد ہے اس لئے اس کی ملاقات نجس کے ساتھ نہ ہوگی صرف اس کی سطح ملے گی اور باقی جب تدریجی طور پر پگھلے گا تو اس کے تھوڑے سے جزء سے ملاقات ثابت ہوگی تو نجس ہوجائیگا اور کثرہ متنجس کیلئے ہے تو پاك نہ ہوگا اور جب یك دم پگھلے گا تو کثیر سے ملاقات ہوگی تو ناپاك نہ ہوگا۔
ثالثا : معمول کے مطابق اوپر والاپانی اٹھا لیاجاتاہے اور نیچے والا پانی باقی رہ جاتا ہے نہ یہ کہ اوپر والا نیچے والے میں گرتا ہے کبھی یك دم اور کبھی تدریجی طور پر۔
رابعا : جب دونوں پانی ملے ہوئے ہوں اور اوپر والا نیچے والے میں نہ گرے تو اس پر زیادتی متصور نہ ہوگی صرف ایك صورت میں زیادتی ہوگی اور وہ یہ کہ اوپر والا نیچے والے کی جگہ میں گرے اوریہ تب ہی ہوگا جبکہ نیچے والا نکلے کیونکہ تداخل محال ہے تو اوپر والانیچے والے میں کبھی نہیں گرے گا نہ یك دم اور نہ تدریجی طور پر۔
حوالہ / References الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۳
#12373 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
العلامۃ الشلبی حیث نقل فی حاشیۃ الزیلعی کلام الخانیۃ الی ذکرالقولین ورسم اھ ولم یعرج لذکربحثہا اصلا والله تعالی اعلم۔
خامسا گرنا فرض کیاجائے تو اس کے نکلنے اور اس کے داخل ہونے کی وجہ سے ہوگا اوریہ سب حرکت ہے تو یہ صرف تدریجی طور پر ہی ہوسکتا ہے مثلا یہ کہ نچلے میں کوئی سوراخ ہو جس کو کھولا جائے تو نیچے والا نکلنے لگے اوراوپر والا اترنے لگے اور اس کا کوئی تصور نہیں کہ نیچے والا یك دم نکلے اور اوپر والا یکدم گر جائے اور خلاصہ یہ کہ میں اپنی ناقص رائے میں ان کی مراد سمجھنے سے قاصر رہا ہوں اوراللہ تعالی اپنے خواص کی مراد کو زیادہ جاننے والا ہے۔ پھر انہوں نے فرمایا در میں ہے اگر اس میں نجس واقع ہوجائے توجائز نہیں یہاں تك کہ دس کو پہنچ جائے تو “ ش “ نے فرمایاجب وہ دس کو پہنچے توجائز ہے اگرچہ اس کے اوپر والا مقدار میں زائد ہو اور بحر میں سراج ہندی سے منقول ہے کہ یہی اقرب الی الحق ہے اھ اور اللہ تعالی علامہ شلبی پر رحم کرے کہ انہوں نے زیلعی کے حاشیہ میں خانیہ کا کلام نقل کیا قولین کے ذکر تك اور اھ کانشان لگادیااور انکی بحث کا اصلا ذکر نہ کیا والله تعالی اعلم۔ (ت)
سوال۵۰دوم :
اسی صورت میں حوض کے بالائی حصے کے منتہی پر ایك نالی ہے جب یہ اوپر کا پانی ناپاك ہوانالی کھول کر نکال دیا گیا صرف نیچے کاپانی جہاں سے دہ در دہ ہے رہ گیاپھر پاك پانی سے بھر دیا گیا تو اب یہ سب حوض پاك ہوگیایا نہیں اگر نہیں تو کیا کیا جائے کہ پاك ہو بینوا توجروا۔
الجواب :
اگرناپاك پانی نکال دینے کے بعد اتناانتظار کیاکہ حوض کی بالائی سطوح جو اس پانی سے ناپاك تھیں خشك ہو کر پاك ہوگئیں اس کے بعدپاك پانی بھرا گیااوراوپر عـــہ آجانے والی نجاست باقی نہیں تو سارا حوض پاك ہے ورنہ بالائی حصہ پھر ناپاك ہوگیا ردالمحتار میں ہے :
لوکانت النجاسۃ مرئیۃ باقیۃ فیہ اوامتلاء قبل جفاف اعلی الحوض تنجس ۔
اگر حوض میں نجاست مرئیہ باقی رہے یا بھر جائے حوض کااعلی حصہ خشك ہونے سے پہلے تو نجس ہوجائے گا۔ (ت)
عـــہ : توضیح جواب سوم سے ہوگی خلاصہ یہ کہ تہ نشین نجاست اوپر آئے گی نہیں اورپانی ملے گاآب زیریں سے جو بوجہ کثرت ناپاك نہیں اور اوپر آنے والی اگر غیر مرئیہ تھی یامرئیہ نکال دی گئی کہ وہ بھی غیر مرئیہ رہ گئی تو ناپاك پانی کے ساتھ نکل گئی ہاں مرئیہ باقیہ ہے تو پھر ناپاك کردے گی ۱۲ منہ غفرلہ(م)
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۳
#12374 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
چارہ کار یہ ہے کہ نجاست مذکورہ نکال کرپاك پانی ڈالتے جائیں یہاں تك کہ کناروں سے چھلك کر کچھ دوربہ جائے اب وہ حوض کے کنارے بھی پاك ہوگئے اور یہ سب پانی بھی۔ درمختار میں ہے :
المختار طھارۃ المتنجس بمجرد جریانہ ۔
مختار مذہب پر نجس حوض صرف پانی کے جاری ہونے سے پاك ہوجاتا ہے۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
یطھرالحوض بمجرد مایدخل الماء من الانبوب ویفیض من الحوض ھوالمختار لصیرورتہ جاریا ۔
مختار قول میں صرف نالی کے ذریعہ پانی داخل ہونے اور حوض سے بہہ جانے سے حوض پاك ہوجاتاہے کیونکہ اب پانی جاری ہوچکا ہے۔ (ت)
فتاوی امام ظہیرالدین میں ہے :
الصحیح انہ یطھر وان لم یخرج مثل مافیہ وان رفع انسان من ذلك الماء الذی خرج وتوضأ بہ جاز اھ ذکرہ ش واقوالااخروروایات مضطربۃ سیأتی الکلام علیھا والله تعالی اعلم۔
صحیح قول پر حوض پاك ہوجائیگااگرچہ اتنا پانی خارج نہ ہواہو جتنااس میں ہے اگر کوئی آدمی وہ پانی اٹھائے جو خارج ہوچکا ہے اوراس سے وضو کرے تو جائز ہے۔ اس کو شامی نے ذکر کیا ہے اس کے علاوہ دیگر اقوال اور مضطرب روایات بھی ذکر کی ہیں جن پر کلام آئے گا والله تعالی اعلم۔ (ت)
سوال۵۱ سوم :
اسی صورت میں اگر پانی صرف حصہ زیریں دہ در دہ میں تھااور اس وقت نجاست پڑی کہ ناپاك نہ ہوا پھر نجاست نکال کر یا بے نکالے بھر دیا تو اب اوپر کا حصہ پاك رہا یا ناپاك ہوگیا بینوا توجروا۔
الجواب :
کتب حاضرہ سے اس صورت پر کلام اس عــــــہ وقت ذہن میں نہیں و انا اقول وبالله التوفیق
عــــــہ : نعم تعرض لھا السادۃ الثلثۃ ناظروا
ہاں تینوں سادات نے اس سے بحث کی ہے “ ط “ نے(باقی برصفحہ ایندہ)
حوالہ / References درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶
غنیہ المستملی سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۱۰۳
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۳
#12375 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
نجاست چار قسم ہے مرئیہ کہ نظر ائے اور غیر مرئیہ کہ پانی میں مل کر امتیاز رہے جیسے پیشاب اور ہر ایك دو قسم ہے
(بقیہ حاشیہ گزشتہ)
الدر فقال ط انکان اعلاہ ضیقاواسفلہ عشرافاذابلغہاووقعت فیہ نجاسۃ حینئذ جاز التطھیر بہ فاذا امتلأ حتی بلغ المکان الضیق قال الحلبی لم اجد حکمہ والظاھر التنجس لان النجاسۃ تحقق وقوعھاوانماجوزنا التطھیر بہ لسعتہ وقد ذھبت اھ
اقول : وسیردعلیك ماحرر الفقیر بتوفیق القدیر(۱)ویظھر بہ ان ھذا الحکم غیر ظاھر بل ولامقبول فی راسبۃ مرئیۃ او غیرھا و لا فی طافیۃ مرئیۃ قداخرجت اوبقیت فی زاویۃ فی الاسفل ولا فی غیر مرئیۃ وفی الاسفل زوایافانما یقبل فی ثنتین من سبع ان تکون مرئیۃ وقد طفت اوغیر مرئیۃ ولا زاویۃ وذلك انہ انما یتحقق وصولھا الی الاعلی فی ھاتین فماذایضرہ ضیقہ ولم یصل الیہ النجس ولم یتصل بماء متنجس۔ ھذاونقلہ ش ھکذا بقی مالو وقعت فیہ النجاسۃ ثم نقص فی المسألۃ الا ولی(ای اعلاہ کثیر)اوامتلأ فی الثانیۃ(ای اسفلہ کثیر)قال ح لم اجدحکمہ اھ ثم تعقبہ بقولہ ھذا عجیب فانہ حیث حکمنا بطہارتہ ولم یعرض لہ ماینجسہ ھل یتوھم نجاستہ نعم لوکانت النجاسۃ مرئیۃ وکانت باقیۃ فیہ اوامتلأ قبل جفاف اعلی الحوض تنجس امااذا کانت غیر مرئیۃ اومرئیۃ واخرجت منہ اوامتلأ بعد ماحکم بطہارۃ جوانب اعلاہ بالجفاف
فرمایا اگر اس کا بالائی حصہ تنگ اور نچلا دس ہاتھ ہو جب پانی اسفل تك پہنچے اور اس میں نجاست گر پڑے تو اس سے طہارت جائز ہے اور جب وہ بھر جائے یہاں تك کہ تنگ جگہ کو پہنچ جائے تو حلبی کا بیان ہے کہ میں نے اس کا حکم نہیں پایا بظاہر ناپاك ہوجائے گا کیونکہ اس میں نجاست کا گرنایقینی ہے اور ہم نے اس کی فراخی کے باعث اس سے پاك کے جواز کا قول کیا ہے اور اس صورت میں فراخی ختم ہوگئی ہے اھ
میں کہتا ہوں اس سلسلہ میں جو میں نے لکھا ہے وہ آپ دیکھ لیں گے اس سے معلوم ہوگا کہ یہ حکم نہ تو ظاہر ہے اور نہ مقبول ہے خواہ وہ حوض کی گہرائی میں نظر آتی ہو یا نہ آتی ہو اور نہ تیرنے والی مرئی میں جو نکال دی ہو یا کسی گوشہ میں نچلے حصہ میں باقی ہو اور نہ غیر مرئیہ کی صورت میں نچلے حصہ میں کئی زاویے ہوں سات میں سے دو صورتوں میں مقبول ہوگا اگر مرئیہ ہو اور اوپر آگئی ہے یا غیر مرئیہ ہو اور زاویہ میں نہ ہو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا اوپر کی طرف آنا اس وقت متحقق ہوگا جب کہ ان دو صورتوں میں ہو تو اس کی تنگی اس کیلئے کیا مضر ہوگی حالانکہ نہ اس تك نجاست پہنچی اور نہ وہ نجس پانی سے متصل ہوئی۔ اور “ ش “ نے اس کو اسی طرح نقل کیا اب یہ صورت باقی رہ گئی کہ اگر اس میں نجاست گر گئی پھر پہلی صورت میں پانی گھٹ گیا
#12376 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
طافیہ کہ اوپر تیرتی رہے اور راسبہ کہ تہ نشین ہوجائے اگر نجاست راسبہ تھی کہ پانی بھرنے سے اوپر نہ آئے گی جب تو سارا حوض پاك ہے مرئیہ ہو یا غیر مرئیہ نیچے کا حصہ یوں کہ دہ در دہ ہے اثر نجاست قبول نہ کرے گا اگرچہ
فلا اذلا مقتضی للنجاسۃ ھذا ماظھرلی اھ
اقول : رحم الله السید فاولا(۱)انما الکلام فیما اذاوقع النجس فی الکثیر ثم انتقص بتسفل اوامتلأ وحدیثاجفاف اعلی الحوض وعدمہ متعلقان بمااذا وقعت نجاسۃ فی الاعلی القلیل ثم بلغ الاسفل الکثیر ثم ملئ فبلغ القلیل فھمابمعزل عن المحل وثانیا لایتنجس (۲) بمرئیۃ باقیۃ راسبۃ ولا بطافیۃ تعلقت بزاویۃ وثالثا یتنجس(۳)بغیر المرئیۃ ایضالوطافیۃ ولازاویۃ ھذا۔ ثم قول(۴)ح فی الاولی لم اجد حکمہ لایستقیم علی ماشرحنابہ نظم الدر لکونہ اذن مصرحابہ فیہ والله تعالی اعلم منہ غفرلہ(م)
(یعنی اس کا اوپر والا کثیر ہو)یا دوسری صورت میں بھر گیا(یعنی اس کا نچلا حصہ کثیر ہوگیا) “ ح “ نے فرمایا کہ میں نے اس کا حکم نہیں پایا پھر بعد میں فرمایا “ یہ عجیب ہے “ کیونکہ جب ہم نے اس کی طہارت کا حکم لگایااور اس میں کوئی ایسی چیز نہیں آئی جو اس کو نجس کرے تو آیا اس کی نجاست متوہم ہے ہاں اگر نجاست مرئی ہو اور اس میں باقی ہو یا حوض کے بالائی حصے کے خشك ہونے سے قبل بھر جائے تو ناپاك ہوجائیگا اور اگر نجاست غیر مرئی ہو یامرئی ہو اور اس سے نکالی جائے یا اس کے بالائی حصے کے کناروں کے خشك ہونے کے بعد بھر گیا تو نہیں کیونکہ نجاست کا کوئی مقتضی نہیں یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا۔
میں کہتا ہوں اللہ سید پر رحم کرے اول تو یہ کہ کلام اس صورت میں ہے جبکہ نجاست کثیر پانی میں واقع ہو اور پھر پانی کم ہوجائے یا بھر جائے اور حوض کے بالائی حصے کے خشك ہونے اور نہ ہونے کی بات اس صورت سے متعلق ہیں جبکہ نجاست اعلی قلیل میں گر کر نچلے کثیر میں پہنچے پھر حوض بھر کر قلیل کو پہنچے تویہ دونوں صورتیں اس بحث سے الگ ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ پانی کی تہ میں بیٹھی باقی نجاست مرئیہ سے نجس نہ ہوگا اور نہ ہی ایسی نجاست سے جو تیرتی ہوئی کسی گوشہ میں ٹھہر گئی ہو۔ تیسرا غیر مرئیہ سے بھی نجس ہوجائیگا اگر تیرنے والی ہو اور کوئی گوشہ نہ ہو۔ پھر “ ح “ کا پہلی صورت میں یہ فرمانا کہ میں نے اس کا حکم نہیں پایا درست نہیں جیسے کہ ہم نے در کی نظم کی اس کے ساتھ تشریح کی ہے کیونکہ یہ تو اس میں بصراحت مذکور ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
#12377 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
نجاست اس میں موجود ہے اور اوپر کا حصہ یوں کہ نجاست اس میں نہیں اور جس سے متصل ہے وہ پاك ہے اور اگر نجاست طافیہ مرئیہ تھی اور اسے پہلے نکال دیا جب بھی ظاہر ہے کہ ناپاکی کی کوئی وجہ نہیں اور اگر بے نکالے پانی بھر دیا کہ پانی ڈالے سے اوپر آگئی تو بالائی حصہ ناپاك ہوگیا کہ نجاست اس سے متصل ہوئی اور وہ آب قلیل ہے رہی طافیہ غیر مرئیہ اس میں دو صورتیں ہیں ایك یہ کہ حوض کے حصہ زیریں میں کوئی کنج ایسانہ ہو جو اس نجاست کو اوپر جانے سے رو کے مثلا یہ شکل
images
دونوں حصوں میں خط ح ع فصل مشترك ہے ظاہر ہے کہ جو اترانے والی چیز خط ح ع میں کہیں ہے وہ پانی بھرنے سے خط ا ب پر آجائے گی دوسرے یہ کہ ایسے کنج ہوں مثلا یہ شکل
image
اول میں خط ہ ر دوم میں خط ح ہ پر جو ایسی چیز ہو وہ پانی بھرے سے خط ا ب تك ضرور پہنچے گی لیکن دوم میں خط ہء یا یکم میں دو خط ح ہ خط ر ع کے نیچے جو کچھ ہے وہ ا ب تك نہیں جاسکتا پہلی صورت میں بالائی حصہ ا ب ح ع ناپاك ہوجائے گااور دوسری صورت میں سارا حوض پاك رہے گا ولہذا ہم نے طافیہ مرئیہ میں پانی ڈالے سے اوپر آجانے کی قید لگائی کہ اگر کسی کنج میں الجھ رہی تو اب بھی کوئی حصہ ناپاك نہ ہوگا۔
والوجہ فیہ ان غیرالمرئیۃ لاتنعدم بل تکتتم وحیث ھی طافیۃ لابدلھامن العلم ولذامنع العراقیون من مشائخنا التوضی من موقع غیرالمرئیۃ فی العرض الکبیر لانہ راکد فلا تنتقل وجوز ائمۃ بلخ وبخاری وماوراء النھرالتوضی منہ من این یشاء و ھو الصحیح وعللوہ بانتقال المائع قال ملك العلماء فی البدائع وانکانت غیرمرئیۃ قال مشائخ العراق لایتوضؤ من ذلك الجانب لما ذکرنا فی المرئیۃ(وھو قولہ لانا تیقنابالنجاسۃ فی ذلك الجانب)بخلاف الماء الجاری لانہ ینقل النجاسۃ فلم یستیقن بالنجاسۃ فی موضع الوضوء ومشائخنابماوراء النھر فصلوابینھما(ای بین المرئیۃ وغیرھا)ففی
اور اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر مرئیہ ختم نہیں ہوتی ہے بلالکہ چھپ جاتی ہے اور جب تیر رہی ہوتی ہے تو اس کااوپر آنا لازمی ہے اس لئے ہمارے عراقی مشائخ بڑے حوض میں گرجانے والی غیر مرئی نجاست کے مقام سے وضو کو جائز قرار نہیں دیتے کیونکہ وہ ٹھہری ہوتی ہے تو منتقل نہ ہوگی اوربلخ بخاری اورماوراء النہر کے مشائخ نے اجازت دی کہ جہاں سے جی چاہے وضو کرلے اور یہی صحیح ہے اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ بہنے والی چیز منتقل ہوتی ہے ملك العلماء نے بدائع میں فرمایاکہ اگر نجاست غیر مرئیہ ہو تو مشائخ عراق کا قول ہے کہ اس جانب سے وضو نہ کرے جیساکہ ہم نے مرئیہ میں ذکر کیا ہے(اس سے مرادان کا یہ قول ہے کہ ہم نے اس جانب میں نجاست کایقین کرلیا
#12378 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
ہے)بخلاف جاری پانی کے کیونکہ وہ نجاست
غیر المرئیۃ یتوضؤ من ای جانب کان کماقالوا جمیعا فی الماء الجاری وھو الاصح لان غیرالمرئیۃ لایستقر فی مکان واحد بل ینتقل لکونہ مائعا سیالا بطبعہ فلم نستیقن بالنجاسۃ فی الجانب الذی یتوضؤ منہ فلانحکم بنجاسۃ بالشك اھ وفی الحلیۃ قال مشائخ بلخ وبخاری یتوضؤ من ای جانب کان وفی محیط رضی الدین والتحفۃ والبدائع وغیرھاھوالاصح لان غیر المرئیۃ ینتقل لکونہ مائعا سیالا ۔
اقول : احسن فی ترك بطبعہ وھوفی کلام البدائع متعلق بسیالالاینتقل لان طبع المائع الانحدار الی صبب لاالانتقال فی سطح مستوبلا سبب نعم الریاح لاتزال تزعزع المیاہ ومن ضرورتہ انتقال المائع المختلط بہ ولیس لہ جھۃ معینۃ لاختلاف الریاح فتطرق الاحتمال الی جمیع المحال اذاعرفت ھذا ففی الصورۃ الاولی حیث لاحاجزلھا عن العلو تطفووتنجس الاعلی علی قول الجمیع بل لولم تطف لنجست لاتصالھا بالماء الا علی ولو من تحت امافی الثانیۃ فعلی قول العراقین ان کانت وقعت فی الماء السافل فی محاذاۃ
کو منتقل کرتاہے تو مقام وضو میں نجاست کا یقین نہیں اور ہمارے ماوراء النہر کے مشائخ نے دونوں میں تفصیل کی ہے(یعنی مرئیہ اورغیر مرئیہ میں)اورغیر مرئیہ میں جس جانب سے چاہے وضو کرے جیساکہ جاری پانی میں سب کا اتفاق ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے کہ کیونکہ غیر مرئیہ کسی ایك جگہ میں نہیں ٹھہرتی بلالکہ منتقل ہوجاتی ہے کیونکہ وہ طبعی طور بہنے والی ہے اس لئے وضوء والی جانب میں نجاست کایقین نہ ہوا پس شك کی وجہ سے ہم نجاست کا حکم نہیں دیں گے اھ اورحلیہ میں ہے کہ بلخ اور بخاری کے مشائخ نے فرمایاہے کہ جس جانب سے چاہے وضو کرلے اور رضی الدین کی محیط تحفہ اور بدائع وغیرہ میں ہے کہ وہی اصح ہے کیونکہ غیر مرئیہ منتقل ہوجاتی ہے کیونکہ وہ سیال مائع ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں انہوں نے بطبعہ کو چھوڑ کر اچھا کیا اور یہ بدائع میں “ سیالا لاینتقل “ سے متعلق ہے کیونکہ بہنے والی چیز کی خاصیت نیچے کی طرف آناہے وہ مستوی سطح کی طرف بلا سبب نہیں جاتا ہے ہاں ہوائیں مسلسل پانی میں لہر پیدا کرتی رہتی ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ بہنے والی چیز جو اس میں شامل ہوجائے منتقل ہوجاتی ہے اور اس کی کوئی ایك جہت متعین نہیں کیونکہ ہوائیں مختلف رخ سے چلتی ہیں تو ہر جگہ میں احتمال پیدا ہوجائے گا جب تم نے یہ جان لیا تو پہلی صورت میں جہاں اوپر جانے سے کوئی مانع نہ ہو نجاست تیر کر اوپر آجائے گی اور تمام علماء کے مطابق اوپر والا حصہ ناپاك ہوجائے گا بلالکہ
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی المقدار الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۳
حلیۃ
#12379 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
خط ا ب تنجس الاعلی لعدم انتقالھامن ثم وان وقعت فی حجاب عنہ مثل خط رء وہء لم تنجس لانھالاتصل الی الماء العالی وعلی قول سائرالائمۃ الاصح لاتنجس مطلقا وان کانت وقعت حذاء ا ب لاحتمال انتقالھاالی احدی الزوایاولایزول الیقین بالشك ھذا ماظھر لی والله تعالی اعلم۔
اگر نجاست تیر کر نہ بھی جائے تو بھی ناپاك ہوگا کیونکہ وہ اوپر والے پانی کے ساتھ متصل ہوجائے گی خواہ نیچے سے ہو اوردوسری صورت میں تو بقول عراقی مشائخ کے اگر نجاست نچلے پانی میں اب خط کے مقابل گری ہے تو اوپر والا نجس ہوجائیگا کیونکہ وہ وہاں سے منتقل نہیں ہوئی ہے اور اگر وہ اس کے حجاب میں گری ہے جیسے ر ء اور ہ ء کا خط تو پانی نجس نہیں ہوگا کیونکہ وہ اوپر والے پانی تك نہ پہنچے گی اور باقی ائمہ کے قول کے مطابق اصح یہ ہے کہ مطلقا ناپاك نہ ہوگا اگرچہ نجاست ا ب کے مقابل گری ہو کیونکہ احتمال ہے کہ وہ کسی ایك زاویے کی طرف منتقل ہوگئی ہو اور یقین شك سے زائل نہیں ہوتا ہے ھذا ماظھرلی والله تعالی اعلم۔ (ت)
سوال۵۲ چہارم
حوض اوپر دہ دردہ اورنیچے کم ہے بھرے ہوئے میں نجاست پڑی تو سب پاك رہا یانیچے کا حصہ ناپاك ہوگیا جہاں سے مساحت سو ہاتھ سے کم ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب
کلام علامہ سید طحطاوی سے ظاہر یہ ہے کہ حصہ زیریں ناپاك ہوجائیگا۔
حیث قال واذا وقعت فیہ نجاسۃ فی تلك الحالۃ فالا علی طاھر الی ان یبلغ الا قل فینجس اھ وحملہ علی انہ ینجس بنجاسۃ اخری خلاف ظاھر سوق الکلام۔ اقول : وکذا ھو ظاہر الدران قدر وقوع النجس بقرینۃ قرینہ فان نظمہ لواعلاہ
جہاں فرمایا کہ “ اور جب اس میں نجاست گر جائے اس حالت میں تو بالائی حصہ پاك ہے یہاں تك کہ اقل کو پہنچے تو وہ ناپاك ہوگا اھ “ اور اس کو اس پر محمول کرنا کہ وہ دوسری نجاست کے ساتھ نجس ہوجائیگا سیاق کلام کے ظاہر کے خلاف ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اور اسی طرح وہ در کا ظاہر ہے اگر نجس گرنا مقدر کیا جائے اور اس پر قرینہ اس کا متصل
حوالہ / References طحطاوی علی الدرالمختار باب المیاہ بیروت ۱ / ۱۰۸
#12380 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
عشرا واسفلہ اقل جاز حتی یبلغ الا قل ولو بعکسہ فوقع فیہ نجس لم یجز حتی یبلغ العشر اھ فان ضمیرجاز الی رفع الحدث بہ ومعلوم ضرورۃ من الدین ان رفع الحدث جائز بکل ماء مطلق مطلقا ولو قلیلامالم ینسلب طہارتہاوطھوریتہ فکان المعنی کقرینہ لواعلاہ عشرا واسفلہ اقل فوقع فیہ نجس جازالتطہربہ حتی یبلغ الاقل فاذا بلغہ لم یجزفقد غیاجواز التطھربہ بلوغہ الاقل فبنفس البلوغ لایجوز لظھور حکم النجس الذی لم یتحملہ الا علی لکثرتہ وحملہ علی التقیید بوقوع النجاسۃ بعد بلوغ الاقل کما فعل ش حیث قال ای اذا بلغ الاقل فوقعت فیہ نجاسۃ تنجس کما فی المنیۃ اھ
فاقول : (۱)خروج عن الظاھر(۲)واخراج للکلام عـــہ الی قریب من العبث(۳)والاستناد الی
کلام ہے کیونکہ ان کی عبارت اس طرح ہے اور اگر اس کا بالائی حصہ دس ہاتھ ہے اور نچلا حصہ کم ہے تو وضو جائز ہے یہاں تك کہ وہ اقل کو پہنچے اور اگر اس کا عکس ہو اور اس میں نجاست گر جائے تو جائز نہ ہوگا یہاں تك کہ دس ہاتھ کو پہنچے اھ کیونکہ جاز کی ضمیر “ رفع الحدث بہ “ کی طرف لوٹتی ہے اور یہ چیز دین کے ضروریات سے ہے کہ رفع حدث ہر مطلق پانی سے جائز ہے خواہ کم ہی ہو تاوقتیکہ اس کی طہارت یا طہوریت سلب نہ ہوئی تو معنی اس کے قرین کی طرح یہ ہوئے کہ اگر اس کا بالائی حصہ دس ہاتھ ہو اور اس کا نچلا حصہ کم ہو اور اس میں نجس واقع ہوجائے تو اس سے پاکی حاصل کرناجائز ہے یہاں تك کہ اقل کو پہنچ جائے اور جب اقل کو پہنچے تو جائز نہیں اس کے ساتھ طہارت کے جوازکی غایت اقل کو پہنچنا بیان فرمائی تو نفس بلوغ سے جائز نہ ہوگاکیونکہ اس نجس کا حکم ظاہر ہے جس سے بالائی بالائی حصہ متاثر نہ ہوا کیونکہ وہ کثیر ہے اور اس کو اقل کو پہنچنے کے بعد نجاست کے واقع ہونے سے مقید کرنا جیساکہ “ ش “ نے کیا انہوں نے فرمایا “ یعنی جب اقل کو پہنچے اور اس میں نجاست گر جائے تو ناپاك ہوجائیگا جیسا کہ منیہ میں ہے اھ(ت)
میں کہتا ہوں یہ ظاہر سے خروج ہے اور کلام کو تقریبا لغو قرار دینا ہے اور اس کو منیہ کی طرف
عـــہ فی الحلیۃ عند قول المنیۃ اذا سدالماء من فوقہ وبقی جریہ یجوز التوضی بہ مانصہ کان علی المصنف ان یذکر
منیہ کے اس قول “ جب اوپر سے پانی بند ہوجائے اور پانی جاری ہو تو وضوء جائز ہے “ پر حلیہ نے کہا کہ مصنف کو “ بہ “ کی جگہ “ فیہ “ کہنا چاہئے تھا
حوالہ / References الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۲
#12381 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
المنیۃ فی غیرمحلہ فان عبارتھالو ان ماء الحوض کان عشرا فی عشر فتسفل فصار سبعافی سبع فوقعت النجاسۃ فیہ تنجس فان امتلاء صار نجسا ایضا اھ فھو لم یذکر للاعلی حکما انما قصد بیان حکم المتسفل فاحتاج فی التصویر الی وقوع النجس فیہ لیکون توطئۃ لابانۃ حکم خفی وھو انہ بعد امتلائہ ایضا یبقی نجساکماکان بخلاف نظم الدر فانہ افرز الا علی بحکم الجواز ولا معنی لہ الا بفرض وقوع المانع والا فذکرہ عبث ثم حد لجوازہ حدا ینتھی دونہ وھو بلوغ الاقل فافاد ماقلنا واین ھذا من عبارۃ المنیۃ وکلام الدرمن اولہ الی ھنا فی رفع الحدث بہ لافیہ ولوکان لصح حملا لہ علی معنی التوضی بغمس الاعضاء فیہ بناء علی ماھو الحق من فرق الملاقی والملقی وان کان میل صاحب الدر الی خلافہ فاذن کان
منسوب کرنا بے محل ہے کیونکہ منیہ کی عبارت یہ ہے کہ اگر حوض کا پانی دہ در دہ ہو اور پھر نیچے چلا جائے اور سات در سات ہوجائے پھر اس میں نجاست گرجائے تو ناپاك ہوجائیگا اوراگر بھر جائے تو بھی نجس ہوجائیگا تو انہوں نے بالائی کا کوئی حکم بیان نہیں کیا ان کا مقصود تو محض یہ تھاکہ وہ نچلے کا حکم بیان کریں تو اس کی وضاحت میں ان کو یہ کہنا پڑاکہ اس میں نجاست گر جائے تاکہ یہ ایك مخفی حکم کے اظہار کی بنیاد بن جائے اور وہ یہ کہ یہ بھر جانے کے باوجود نجس ہی رہے گاجیساکہ پہلے تھا اور در کی نظم اس کے خلاف ہے کیونکہ انہوں نے بالائی پرجوازکا حکم لگایا اور اس کا کوئی مفہوم نہیں ہاں مانع کے وقوع کو فرض کرنے کی صورت میں ہوسکتا ہے ورنہ تو اس کا ذکر عبث ہے پھر انہوں نے اس کے جواز کی ایك حد مقرر کی جس سے پہلے وہ منتہی ہوتا ہے اور وہ اقل تك پہنچنا ہے تو جو ہم نے کہا اس کا انہوں نے افاد ہ کیا اور اس کو منیہ کی عبارت

فیہ(ای مکان بہ) لان من الواضح جدا جواز الوضوء بہ جاریا کان اوغیرجار خارجہ فلا یقع التقیید ببقاء جریان الماء موقعا ثم ھم اعلی کعبامن ذکر مثلہ اھ منہ غفرلہ۔ (م)
کیونکہ اس سے وضوء کا جواز بہت واضح ہے خواہ پانی جاری ہو یا نہ ہو لہذا پانی کے جاری رہنے کی قید لگانا بے موقع ہوگا حالانکہ ان حضرات کا مقام ایسے کلام سے بلالند وبالا ہے اھ(ت)
حوالہ / References منیۃ المصلی فصل فی الحیاض مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۷۲
#12382 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
یؤل الی کلام البزازیۃ لوعشرا فی عشر ثم قل توضأ بہ لافیہ لاعتبار اوان الوقوع اھ لکن لامساغ لہ فی کلامہ ولذا احتاج ش الی اضافۃ قید لیس فیہ فترجح ماقلنا۔
سے کیا تعلق ہے
اور در کاکلام ابتداء سے یہاں تك اس کے ساتھ حدث کے رفع کرنے کی بابت ہے نہ کہ اس میں اور اگر ایسا ہوتا تو صحیح ہوتا اور اس کو اس پر محمول کیا جاتاکہ اس میں اعضاء کو ڈبو کر وضو کرنا جیسا کہ حق ہے کہ ملقی اور ملاقی میں فرق ہے اگرچہ صاحب در کا میلان اس کے خلاف ہے ایسی صورت میں بزازیہ کے کلام کی طرف لوٹا جائیگا اگر دہ در دہ ہو پھر کم ہوگیا ہو تو اسکے ساتھ وضو کرے نہ کہ اس میں کیونکہ وقوع کے زمانے کا اعتبار ہے اھ مگر اس کی ان کے کلام میں گنجائش نہیں اور اس لئے “ ش “ نے لیس فیہ کا اضافہ کیا تو جو ہم نے کہا وہ راجح ہے۔ (ت)
اور کلام علامہ سید شامی سے مفہوم کہ سب پاك رہے گا۔
حیث قال فی المسألۃ الاخری وھی مااذا کان اعلاہ قلیلا واسفلہ کثیرا فوقع فیہ نجس لم یجز حتی یبلغ العشر فاذا بلغھا جاز مانصہ وکانھم لم یعتبرواحالۃ الوقوع ھھنا لان مافی الاسفل فی حکم حوض اخر بسبب کثرتہ مساحۃ وانہ لو وقعت فیہ النجاسۃ ابتداء لم تضرہ بخلاف المسألۃ الاولی تدبر اھ ففرق بین المسألتین ان نجاسۃ الاعلی القلیل لاتشمل الجزئین وطھارۃ الا علی الکثیر تشملھما۔
اقول اولا : (۱)اعتبار حالۃ الوقوع
جبکہ فرمایا دوسرے مسئلہ میں اور وہ یہ ہے کہ جب کہ اس کا بالائی حصہ کم ہو اور نچلا زائد ہو اور اس میں نجاست گر جائے تو جائز نہیں یہاں تك کہ دہ در دہ کو پہنچے تو جب اس مقدار کو پہنچے تو جائز ہے اور ان کی عبارت یہ ہے اور گویا ان حضرات نے یہاں وقوع کی حالت کا اعتبار نہیں کیا کیونکہ جو نچلے حصہ میں ہے وہ الگ حوض کے حکم میں ہے کیونکہ وہ پیمائش کے اعتبار سے کثیر ہے اوریہ کہ اگر اس میں ابتداء نجاست گرتی تو مضر نہ ہوتی بخلاف پہلے مسئلہ کے تدبر اھ تو دونوں مسئلوں میں فرق ہے کہ اوپر والے کی نجاست جو قلیل ہے دونوں جزؤں پر مشتمل نہیں اور اعلی کثیر کی طہارت دونوں کو شامل ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اولا حالت وقوع کا اعتبار
حوالہ / References فتاوٰی بزازیۃ علی حاشیۃ الہندیۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۵
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۳
#12427 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
مذکور فی البدائع والتبیین والخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ والحلیۃ والغنیۃ والبحر وغیرھامن دون ثنیا ولاحاجۃ الی استثناء ھذہ فان الاسفل لم یزل کثیرا فقد اعتبرت حالۃ الوقوع الا ان یقال ان الماء کان واحدا ظاھرا و وجہہ حین الوقوع قلیلا وبہ العبرۃ فکان ینبغی التنجس باعتبارہ لکن لم ینجسوہ نظرا الی ان وجہہ یصیر کثیرا حین بلوغ الماء الی الاسفل
وثانیا : (۱)لقائل ان یقول لم لایقال فی تلك اعنی مسألتنا ھذہ ان مافی الاسفل فی حکم حوض اخر بسبب قلتہ مساحۃ وانہ لووقعت فیہ النجاسۃ ابتداء لضرتہ وقد یمکن الجواب بان الکثیر یستتبع القلیل فیعد الاسفل القلیل عمقاللا علی الکثیر ومعلوم ان الوجہ ان کان کثیرا لم یتنجس شیئ من الماء لاوجہہ ولا عمقہ ولا یشترط مع ذلك کثرۃ العمق الا تری لوکان الحوض علی ھذا الشکل

نصف دائرۃ وکان اب منہ کثیرا لایتنجس شیئ منہ وان کان مادونہ قلیلا حتی لایبقی علی ح الا نقطۃ بخلاف العکس فان القلیل لایستتبع الکثیر فیعد حوضا برأسہ۔
بدائع تبیین خانیہ خلاصہ بزازیہ حلیہ غنیہ اور بحر وغیرہ میں بلا استثناء مذکور ہے اور اس میں استثناء کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ نچلا تو کثیر تھا تو حالت وقوع کا اعتبار کیاگیا ہاں اگر یہ کہا جائے کہ پانی بظاہر ایك تھا اور اس کی سطح وقوع کے وقت کم تھی اور اسی کا اعتبار ہے تو مناسب یہی تھا کہ اسی کے اعتبار سے ناپاك ہو لیکن علماء نے اس کو نجس قرار نہیں دیا یہ سمجھتے ہوئے کہ اس کی سطح کثیر ہوجائے گی جبکہ پانی نچلے حصہ کو پہنچے گا۔
اور ثانیا کوئی کہنا والا کہہ سکتا ہے کہ اس مسئلہ میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ نچلا حصہ ایك مستقل حوض کے حکم میں ہے کیونکہ اس کی پیمائش کم ہے اور یہ کہ اگر اس میں ابتداء کوئی نجاست گرجاتی تو ناپاك ہوجاتا اور اس کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کثیر قلیل کو اپنا تابع بنا لیتاہے تو یہ سمجھاجائے گاکہ نچلا کم حصہ گویا اوپر کے کثیر حصہ کیلئے عمق ہے اور یہ معلوم ہے کہ اگر پانی کی سطح زائد ہوتی تو پانی قطعا ناپاك نہ ہوتا نہ اس کی سطح اور نہ اس کی گہرائی اور اس کے باوجود گہرائی کی کثرت شرط نہیں ہے مثلا یہ کہ اگر حوض کی شکل یہ

ہو یعنی آدھے دائرہ کی شکل اورا ب اس میں کثیر ہے اس میں کچھ ناپاك نہ ہوگا اگرچہ اس سے کم قلیل ہے اور ح پر صرف ایك نقطہ رہے گا بخلاف عکس کے کیونکہ قلیل کثیر کو تابع نہیں بنا سکتا ہے تو یہ مستقل حوض شمار ہوگا۔ (ت)
یہ غایت عـــہ توجیہ ہے۔
عـــہ : وسیأتی الجواب عنہ ۱۲ منہ غفرلہ(م)
عنقریب ان کی طرف سے اس کا جواب ذکر کیا جائے گا۔ (ت)
#12428 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
واقول وبالله التوفیق نجاست اگر طافیہ ہے کہ حصہ زیریں تك پہنچی ہی نہیں جب تو ظاہر ہے کہ اس کی نجاست کی کوئی وجہ نہیں کہ اس کا اتصال آب بالا سے ہے اور وہ بوجہ کثرت نجس نہ ہوا اور اگر راسبہ ہے کہ اسفل تك پہنچی خواہ مطلقا جسے پتھر یا ابتداء جیسے غرق شدہ جانور کہ تہ نشین ہو کر مرتا پھر اتراتا ہے یا انتہاء جیسے وہ کپڑا کہ تیرتا رہے گا پھر پانی سے بوجھل ہو کر بیٹھ جائیگا تو اب دو صورتیں ہیں ان کا بیان۱یہ کہ پانی کیلئے بلحاظ محل مثل حوض وغیرہ ایك توصفت ہے یعنی کثرت وقلت کہ مساحت محل کے سو ہاتھ یا کم ہونے سے حاصل ہوتی ہے دوسری صورت کہ جس فضا میں متمکن ہے اس کی شکل سے پیدا ہوتی ہے یہ شکل کبھی واحد ہوتی ہے اگرچہ اس میں حصے فرض کرسکتے ہیں اگرچہ ان حصص مفروضہ کا مساحت میں تفاوت ان کے لئے منشاء انتزاع ہو جیسے اسی شکل نصف دائرہ میں کہ مثلا خط ء ہ تك کثیر اور

نیچے قلیل ہو تو دو حصے ممتاز ہوجائیں گے ا ب ء ہ کثیر اور ء ہ ح قلیل مگر حقیقۃ ا ب ح فضائے واحد ہے اور کبھی شکل خود ہی واقع میں متعدد ہوتی ہے جیسے حوض کے اندر حوض مثلا اس شکل پر

کہ حصہ بالا ا ء اور زیریں ہ ط خود ہی ممتاز ہیں اس لحاظ سے حصص زیرو بالاکی چار قسمیں ہوگئیں ایك یہ کہ دونوں حصے صورۃ وصفۃ ہر طرح متحد ہوں جیسے دو گز گہرے مربع میں ایك گز اوپر ایك گز نیچے دوم صورۃ متحد ہوں اور صفۃ مختلف جیسے وہی نصف دائرہ کی شکل کہ فضا واحد ہے اور ا ہ کثیر اور ء ہ ح قلیل سوم صفۃ متحد ہوں اور صورۃمختلف جیسے اسی شکل ا ط میں جبکہ ہ ر بھی سو ہاتھ سے کم نہ ہو یا ا ب بھی دہ دردہ سے کم ۔ چہارم صورۃ وصفۃ ہر طرح جدا ہوں جیسے یہی شکل جبکہ ا ب سو ہاتھ اور ہ ر کم ہو۔
قسم اول کا حکم تو ظاہر کہ وہ زیر وبالا شیئ واحد ہے اگر نجس ہوگاسب نجس ہوگاپاك رہے گا سب پاك رہے گا۔
یونہی قسم دوم کہ بلاشبہ وہ محل واحد ہے اگرچہ حصص انتزاعیہ کی مساحت مختلف ہے۔
یونہی سوم کہ اگرچہ دوشے ہے مگر دونوں متحد الصفۃ ہیں اگر کثیرہیں تو زیریں بھی ناپاك نہ ہوگااگرچہ نجاست راسبہ ہو اور قلیل ہیں تو یہ بھی نجس ہوجائیگااگرچہ نجاست طافیہ ہو کہ نجس سے اتصال نہ ہوا تو متنجس سے ہواکہ حصہ بالا ناپاك ہوگیا۔
شکل چہارم وہی محل نظر ہے جبکہ نجاست راسبہ اس تك پہنچی اور نظر حاضر میں ظاہریہی ہے کہ ناپاك ہوجائے کلام ائمہ سے معہود یہی ہے کہ جب صورت وصفت دونوں مختلف ہوں توان کودو محل جداگانہ ٹھہراتے ہیں اور فقط اتصال قلیل بہ کثیر کو کافی نہیں جانتے۔
نہر کے(۲ کنارے کنارے پانی لینے کیلئے تختہ بندی کرتے ہیں کہ ان پر بیٹھ کر پانی لیں وضو کریں اس سے
#12429 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
خانے خانے ہوجاتے ہیں ہر خانہ مشرعہ کہلاتا ہے۔
image
پانی اگر تختوں سے نیچاہے جب تو محل کلام نہیں کہ تختوں سے پانی کا انقسام نہ ہوا لیکن اگر پانی تختوں سے ملا ہوا ہے تو ہر خانہ آب جداگانہ سمجھاجائیگا اوراگر ان کا طول وعرض دس دس ہاتھ نہیں تو جن کے نزدیك دونوں امتدادہونا شرط ہے اس میں نجاست پڑے تو جتنا پانی تختوں سے گھراہواہے ناپاك ہوجائیگا اور نہر کے پاك پانی سے اس کا متصل ہونا نفع نہ دے گا۔
یوں ہی(۱)اگر نہر یا بڑے تالاب کا پانی برف سے جم گیا اور ایك جگہ سے برف توڑ کر پانی کھول لیا اگر بہتا پانی اس جمے ہوئے سے متصل نہیں تو ظاہر کہ پانی شیئ واحدرہااوراگر متصل ہے اور یہ حصہ کہ کھولاگیا دس دس ہاتھ طول وعرض میں نہیں تویہ ان کے نزدیك نجاست سے ناپاك ہوجائیگااور اس میں اعضاء ڈال کر وضو کرنے سے مستعمل ہوجائیگا اور بہتے پانی سے اس کا اتصال فائدہ نہ دے گاہاں(۲)باقی پانی بحال خود رہے گامثلا ایك مشرعہ میں نجاست پڑی یاکسی نے اعضاء بے وضو ڈال کر دھوئے تو صرف وہی مشرعہ ناپاك یامستعمل ہوابرابر کے دوسرے مشرعہ سے پیناوضو کرنا ہوسکتاہے کہ وہ تو ہر ایك ان کے نزدیك حوض جداہے یونہی برف سے ایك جگہ کھلاہواپانی نجس یا مستعمل ہوجائے تو اس کے برابر دوسری جگہ سے کھول کر استعمال کرسکتا ہے یونہی اگر(۳)حوض کبیر سے کاٹ کر ایك حوض صغیر بنایا کہ اس میں سے پانی اس میں آیایہ نجاست یااعضائے بے وضو ڈالنے سے ان کے نزدیك نجس ومستعمل ہوجائیگا اور بڑے حوض سے پانی ملا ہونا کام نہ دے گایہ گویا بعینہ وہی صورت چہارم ہے فرق صرف اتنا ہے کہ صو ر ت مبحوثہ میں وہ حوض صغیر حوض کبیر کے نیچے ہے اور اس صورت میں اس کے برابر پانی بہرحال ملا ہوا ہے تو جس طرح صفت وصورت دونوں مختلف ہونے کے باعث ان کے نزدیك برابر کا حوض صغیر حوض کبیر کا جز نہ ٹھہرابلکہ مستقل قرار پایا۔ یونہی نیچے کا۔ ان مسائل پر نصوص کتب مذہب میں دائر وسائر ہیں اگرچہ فقیر کے نزدیك ان کی بنا اشتراط امتدادین طول وعرض پر ہے اور صحیح ومعتمد اعتبار محض مساحت ہے یہ خلافیہ جداگانہ ہے یہاں غرض اس قدر کہ بحال خلاف صورت وصفت معا قلیل کو تابع کثیر نہ مانا فتاوی امام اجل قاضیخان میں ہے :
حوض کبیر فیہ مشرعۃ توضأ انسان فی المشرعۃ اواغتسل ان کان الماء متصلا بالالواح بمنزلۃ التابوت لایجوز فیہ الوضوء و اتصال ماء المشرعۃ بالماء الخارج منھالاینفع کحوض کبیر تشعب منہ حوض
ایك بڑا حوض ہے جس میں سے ایك نالی نکلتی ہے اس میں کسی شخص نے وضو یا غسل کیا تو پانی اگر تختوں سے متصل ہے بمنزلہ تابوت کے تو اس میں وضو جائز نہیں اور نالی کے پانی کا خارجی پانی سے متصل ہونا نافع نہ ہوگا جیسے بڑا حوض جس سے
#12430 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
صغیر فتوضأ انسان فی الحوض الصغیر لا یجوز وان کان ماء الحوض الصغیر متصلا بماء الحوض الکبیر کذا لایعتبر اتصال ماء المشرعۃ بما تحتہا من الماء اذا کانت الالواح مشدودۃ ۔
چھوٹا حوض نکالا گیا ہو پھر چھوٹے حوض سے کسی انسان نے وضو کیا تو یہ جائز نہیں اگرچہ چھوٹے حوض کا پانی بڑے حوض سے متصل ہو اسی طرح نالی کے پانی کانچلے پانی سے متصل ہونا معتبر نہیں جبکہ تختے بندھے ہوئے ہوں۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
لوجمدحوض کبیر فنقب فیہ انسان نقبافتوضأ فیہ ان کان الماء متصلا بباطن النقب لایجوز و الاجاز و کذا الحوض الکبیر اذا کان لہ مشارع فتوضأ فی مشرعۃ اواغتسل والماء متصل بالواح المشرعۃ ولا یضطرب لایجوز وان کان اسفل منھا جازلانہ فی الاول کالحوض الصغیر فیغترف ویتوضؤ منہ لافیہ وفی الثانی حوض کبیر مسقف ۔
اگر بڑا حوض منجمد ہوجائے اور اس میں کوئی شخص سوراخ کردے اور اس میں وضو کرے تو اگر پانی سوراخ کے اندرونی حصے سے متصل ہو تو جائز نہیں ورنہ جائز ہے اور اسی طرح بڑے حوض میں جب نالیاں ہوں اور وہ کسی ایك نالی سے وضو کرے یا غسل کرے حالانکہ پانی تختوں سے متصل ہو اور اس میں حرکت وارتعاش پیدا نہ ہو تو جائز نہیں اور اگر تختوں سے نیچے ہو تو جائز ہے کیونکہ وہ پہلی صورت میں چھوٹے حوض کی طرح ہے تو چلو بھر کر اس سے وضو کرے نہ کہ اس میں اور دوسری صورت میں بڑا حوض چھت والا ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
جمد ماؤہ فنقب ان الماء منفصلا عن الجمد جازلانہ کالمسقف وان متصلا لالانہ کالقصعۃ حتی لو ولغ فیہ کلب تنجس ۔
اگر اس کا پانی جم جائے اور کوئی اس میں سوراخ کیا تو اگر پانی برف سے جدا ہو تو جائز ہے کیونکہ وہ چھت والے حوض کی طرح ہے اور اگر پانی متصل ہو توجائز نہیں کیونکہ وہ بڑے پیالہ کی طرح ہوگا کہ اگر اس میں کتا منہ ڈال دے تو ناپاك ہوجائیگا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان فصل فے الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴
فتح القدیر بحث الغدیر العظیم نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۱
الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶
#12431 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
ای موضع الثقب دون المتسفل فلوثقب فی موضع اخر واخذ الماء منہ وتوضأ جازکما فی التاترخانیۃ ۔
یعنی سوراخ کی جگہ نہ کہ نچلا حصہ تو اگر کسی اور جگہ سوراخ کیا اور اس سے پانی لیا اور وضو کیا تو جائز ہے جیسا کہ تتار خانیہ میں ہے۔ (ت)
غنیہ کی عبارت مذکورہ مسئلہ اولی نے اسی معنی کی طرف اشارہ فرمایا جو فقیر کے بیان میں آیا
حیث قال اذاکان الماء تحت الجمد منفصلا عنہ یجوز لانہ عشر فی عشر ولم تنفصل بقعۃ منہ عن سائرہ کما فی الصورۃ الاولی ۔
وہ فرماتے ہیں کہ جب پانی برف کے نیچے ہو اور اس سے جدا ہو تو جائز ہے اس لئے کہ وہ دہ در دہ ہے اور اس کا کوئی بقعہ دوسرے سے الگ نہیں جیسا کہ پہلی صورت میں ہے۔ (ت)
ہاں(۱)تالابوں نہروں میں چھوٹے چھوٹے کنج گوشے جابجا ہوتے ہیں ان میں ہر ایك کو مستقل ماننے میں حرج اور خلاف متفاہم عرف ہے لہذا اس کی تقدیر ڈھائی ہاتھ چوڑے سے کی ہے کہ دس ہاتھ کی چہارم ہے اور ربع کیلئے حکم کل دیا جاتا ہے جیسے نجاست خفیفہ میں کہ بدن یا کپڑے پر لگے خلاصہ میں فرمایا :
النھر الذی ھو متصل بالحوض فکان اذاامتلاء الحوض یدخل الماء النھر فتوضأ انسان فیہ انکان النھر قدر ذراعین ونصف لایجوز ولا یجعل تبعاللحوض وان کان اقل یجوز ویجعل تبعا للحوض وقیل لایجوز ولا یجعل تبعا للحوض وانکان قدر ذراع ۔
وہ نہر جو حوض سے متصل ہو اور جب حوض بھر جائے تو پانی نہر میں چلا جاتا ہو اب اگر اس نہر سے کوئی انسان وضو کرے تو اگر نہر ڈھائی ہاتھ ہے تو وضو جائز نہیں اور اس کو حوض کے تابع نہیں کیا جائیگا اور اگر کم ہے تو جائز ہے اور اسکو حوض کے تابع سمجھاجائیگا ایك اور قول ہے کہ جائز نہیں اور اس کو حوض کے تابع نہیں سمجھا جائیگا۔ اگرچہ ایك ہاتھ کی مقدار ہو۔ (ت)
وجیز امام کردری میں ہے :
النھر المتصل بالحوض الکبیر الممتلئ ان کان عـــہ
وہ نہر جو بڑے بھرے حوض سے متصل ہو اگر ڈھائی ہاتھ

عـــہ وقع فی نسخۃ الطبع ان کان الحوض وھو خطأ اھ منہ غفرلہ۔ (م)
مطبوع نسخہ میں ان کان الحوض کا لفظ واقع ہے یہ درست نہیں ہے اھ(ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۳
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فی الحیاض سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۰۰
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فی الحیاض سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۰۰
#12432 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
قدر ذراعین ونصف لایکون تبعالہ لان الربع یحکی حکایۃ الکل فلا یتوضؤ منہ وان اقل منہ فتبع وقیل لیس بتبع وان قدر ذراع
ہو تو حوض کے تابع نہیں کیونکہ چوتھا کل کے قائم مقام ہوتا ہے تو اس سے وضو درست نہ ہوگا اور اگر اس سے کم ہو تو تابع ہے اور ایك قول ہے کہ تابع نہیں خواہ ایك ہاتھ ہو۔ (ت)
اقول : یوں ہی تالابوں نہروں کی تہ میں گڑھے بھی ہوتے ہیں ہر گڑھے کو مستقل قرار دینے میں حرج ومخالفت عرف ہے لہذا ارشاد مذکور کی بنا پر اس کی تقدیر بھی پچیس ہاتھ مساحت سے چاہئے لان الربع یحکی حکایۃ الکل(کیونکہ چوتھا کل کے قائم مقام ہوتا ہے۔ (ت)یہاں اس تعلیل کا جواب بھی کھل گیا کہ الکثیر یستتبع القلیل(کثیر قلیل کو تابع بناتا ہے۔ ت)اس تقدیر پر حکم یہ ہونا چاہئے کہ صورت مسئولہ میں اگر نجاست طافیہ ہے کہ حصہ زیریں تك نہ پہنچی یا حصہ زیریں حصہ بالا کے ساتھ دو مختلف محل نہیں جیسے نصف دائرہ میں یامختلف تو ہے مگر پچیس ہاتھ مساحت سے کم ہے تو ان سب صورتوں میں نجاست پڑنے سے کوئی حصہ نجس نہ ہوگااوریہی محمل کلام علامہ شامی کاہے اوراگر نجاست راسبہ ہے کہ حصہ زیریں تك پہنچی اور اسفل اعلی سے مختلف الشکل ہے اور سو ہاتھ مساحت سے کم مگر پچیس ہاتھ سے کم نہیں تواوپر کاحصہ بوجہ کثرت پاك رہے گااوریہ حصہ زیریں بوجہ حوض مستقل قلیل ہونے کے ناپاك ہوجائیگااوریہی محمل کلام علامہ طحطاوی کاہے یہ ہے وہ جو فقیر کے لئے ظاہر ہوا اور محل محتاج تحریر وتنقیح اور جزم بالحکم دست نگر تصریح ہے
والعلم بالحق عند ربی ان ربی بکل شیئ علیم امامافی الحلیۃ تحت قول المنیۃ المارفی صدر ھذا الجواب الرابع حیث قال وھذا محکی فی البدائع عن ابی القاسم الصفار رحمہ الله تعالی غیر ان فرض المسألۃ فیھافی الحوض الکبیر وقعت فیہ النجاسۃ ثم قل ماؤہ حتی صار یخلص بعضہ الی بعض وقعت فیہ نجاسۃ ثم عاودہ الماء حتی امتلأ ولم یخرج منہ شیئ اھ۔
اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے بیشك میرارب ہر چیز کو جاننے والا ہے اور حلیہ میں منیہ کے قول کے تحت جو اس چوتھے جواب کے شروع میں گزرا ہے کہ انہوں نے فرمایا یہ قول بدائع میں ابو القاسم صفار سے منقول ہے مگراس میں جو مسئلہ فرض کیا گیا ہے وہ بڑے حوض میں ہے جس میں نجاست گر گئی ہو پھر اس کا پانی اتنا کم ہوگیاکہ اس کا پانی ایك دوسرے سے متصل ہوگیا پھر اس میں نجاست گر گئی اور پھر اس کا پانی زائد ہوگیا یہاں تک
حوالہ / References بزازیہ علی الہندیۃ نوع فی الحیاض نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /
حلیۃ
#12433 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
فاقول اولا لیس ھذا مسوقا فی البدائع سیاقاواحدا فی تصویر واحد حتی یقال ان الماء الواقع فیہ النجاسۃ حین امتلاء ہ و کثرۃ مساحتہ بعد مافرغ اعلاہ وبلغ السافل القلیل احتیج فی تنجیسہ الی وقوع النجاسۃ مرۃ اخری فافادان السافل القلیل لا ینجس تبعا للعالی الکثیر وھو باطلاقہ یشمل ما اذا کان السافل مختلف الصورۃ بل کل منھما فرع علیحدۃ ذکرھما فی البدائع علی التعاقب عن امامین فالاولی لاتؤخذ فی الاخری وھذا نصہ لوتنجس الحوض الصغیر بوقوع النجاسۃ ثم بسط ماؤہ حتی صار لایخلص بعضہ الی بعض فھو نجس لان المبسوط ھوالماء النجس وقیل فی الحوض الکبیر وقعت فیہ النجاسۃ ثم قل ماؤہ حتی صار یخلص بعضہ الی بعض انہ طاھر لان المجتمع ھو الماء الطاھر ھکذا ذکرہ ابو بکر الاسکاف رحمہ الله تعالی واعتبر حالۃ الوقوع ولو وقع فی ھذا القلیل نجاسۃ ثم عاودہ الماء حتی امتلاء الحوض ولم یخرج منہ شیئ قال ابو القاسم الصفار رحمہ الله تعالی لایجوز التوضؤ بہ لانہ کلما دخل الماء فیہ صار نجسا اھ وذلك ان لاعتبارحالۃ الوقوع
کہ حوض بھر گیا اور اس سے کچھ باہر نہ نکلا اھ۔ (ت)
تو میں کہتا ہوں اولا یہ چیز بدائع میں صرف ایك ہی انداز میں مذکور نہیں لہذا یہ کہنا کہ جب کثیر پانی کے بھرے ہونے کی صورت میں نجاست گر جائے اور اس کا بالائی حصہ خالی ہوکر نیچے قلیل تك آجائے تو اسی وقت ناپاك ہوگا جب اس میں دوبارہ نجاست گرے تو انہوں نے یہ بتایا کہ نچلا قلیل حصہ اوپر والے حصہ کی متابعت میں ناپاك نہ ہوگا یہ اطلاق اس کو بھی شامل ہے جبکہ نچلے کی صورت مختلف ہو بلالکہ ان میں سے ہر ایك علیحدہ فرع ہے اس کو بدائع میں یکے بعد دیگرے ذکر کیا ہے اور دونوں اماموں کی طرف منسوب کیا ہے تو ایك صورت کو دوسری میں نہیں لیا جائیگا ان کی عبارت اس طرح ہے یا چھوٹا حوض جو نجاست کے گر جانے سے ناپاك ہوگیا ہو پھراس کا پانی اتنا پھیل گیا کہ اس کا بعض حصہ دوسرے بعض تك پہنچنے سے قاصر ہوگیا تو یہ نجس ہے کیونکہ مبسوط نجس پانی ہی ہے اور وہ بڑا حوض جس میں نجاست گر گئی پھر اس کا پانی اتنا کم ہوگیا کہ اس کابعض حصہ دوسرے بعض تك پہنچنے لگا تو یہ پاك ہے کیونکہ جو اکٹھا ہے وہ پاك پانی ہے اسی طرح اس کو ابو بکر الاسکاف نے ذکر کیا اور حالۃ وقوع کا اعتبار کیا اور اگر اس کم میں نجاست گری پھر اس میں پانی واپس آگیا یہاں تك کہ حوض بھر گیا اور اس میں سے کچھ باہر
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۲
#12434 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
محلین الاول تغیر مساحۃ الماء مع بقائہ فی ذاتہ کما کان بلانقص ولا(۱)زیادۃ کأن یکون الماء منبسطا فی حوض کبیر وفیہ منفذ مسدود دونہ بئر مثلا قطرھاذراعان فوقعت فی الحوض نجاسۃ فلم یتنجس الماء لانہ عشر فی عشرثم اخرجت النجاسۃ وفتح المخرج حتی انتقل ذلك الماء الی البئر فصار فی قطر ذراعین لم یعد نجسا لان العبرۃ لحین الوقوع وھو اذذاك کان کثیر المساحۃ وان صار الان قلیلا(۲)وانکان الماء فی البئر فوقعت فیھا نجاسۃ فنزح کلھاوجعل الماء فی الحوض حتی انبسط وصار عشرا فی عشرلم یطھر اعتبارابحال الوقوع حیث کان عندئذ قلیل المساحۃ وان صار الان کثیرا وھذا مافی البزازیۃ لوکان دون عشر فی عشر لکنہ عمیق وقع فیہ مائع وانبسط حتی عد کثیرا لایتوضؤ منہ ولو عشرا فی عشر ثم قل توضأ بہ لافیہ لاعتبار اوان الوقوع اھ وفی الخانیۃ الماء الطاھر اذا کان فی موضع ھو عشر فی عشر
کیونکہ وقوع کی حالت کے دو اعتبار ہیں پہلا تو یہ کہ پانی کی پیمائش میں تغیر آجائے اور اس کی ذات بحال رہے جیسی کہ تھی نہ کمی ہو اور نہ زیادتی مثلا یہ کہ پانی بڑے حوض میں پھیلا ہوا ہو اور اس میں ایك سوراخ ہو جو کنویں تك جاتا ہو اور یہ سوراخ بند ہو کنویں کا قطر مثلا دو ہاتھ ہو اب حوض میں نجاست گر جائے تو پانی ناپاك نہ ہوگا کہ یہ دہ در دہ ہے پھر نجاست نکال لی جائے اور سوراخ کھول دیا جائے اور وہ پانی کنویں کی طرف منتقل ہوجائے اور دو ذراع کے قطر میں پہنچ جائے تو نجس نہ ہوگا کیوں کہ یہاں اعتبار گرنے کے وقت کا ہے اور اس وقت اس کی پیمائش زیادہ تھی اگرچہ اب کم ہوگئی ہے اور اگر پانی کنویں میں ہو اور اس میں نجاست گر جائے پھر کنویں کا تمام پانی نکال کر ایك حوض میں جمع کر لیا جائے حتی کہ وہ پھیل جائے اور پانی دہ در دہ ہوجائے تو پانی پاك نہ ہوگا کیونکہ نجاست کے واقع ہونے کے وقت کا اعتبار ہے اور اس وقت پیمائش کم تھی اگرچہ اب کثیر ہوگئی ہے یہ بزازیہ میں ہے اور اگر دہ در دہ سے کم ہو لیکن گہرا ہو اور اس میں کوئی بہنے والی چیز گر گئی اور پھیل گئی یہاں تك کہ زیادہ ہوگئی تو اس سے وضو نہ کیا جائیگا اور اگر وہ دہ در دہ ہو اور پھر کم ہوجائے تو اس سے وضو کرے گا نہ کہ اس میں یہاں بھی گرنے کے وقت کا اعتبار ہے اھ اور خانیہ میں ہے کہ پاك پانی اگر کسی ایسی جگہ میں ہے جو دہ در دہ ہو اور اس میں نجاست گر جائے پھر وہ پانی ایسی جگہ جمع ہوجائے جو دہ در دہ سے کم ہو تو وہ پانی پاك ہے اور اگر پانی تنگ جگہ میں ہو جو دہ در دہ سے کم ہے اس میں نجاست گر جائے پھر وہ پھیل کر دہ در دہ ہوجائے تو پانی ناپاك ہے اور اعتبار اس میں نجاست
حوالہ / References فتاوٰی بزازیۃ نوع فی الحیاض نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۵
#12435 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
ووقعت فیہ نجاسۃ ثم انبسط ذلك الماء وصار عشرا فی عشر کان نجسا والعبرۃ فی ھذا لوقت وقوع النجاسۃ اھ ومثلہ فی الخلاصۃ وفی الدرر عن التتارخانیۃ عن الظھیریۃ وفی غیرھا والثانی تغیر مساحتہ لزیادۃ فیہ اونقصہ کان یکون فی غدیر بطنہ اکثر انحدارا من حافاتہ کما وصفنا من نصف الدائرۃ اعلاہ عشر فی عشر ثم لم یزل یقل فاذا کان ممتلئا کان کثیرا لایقبل النجاسۃ فاذا(۱)وقعت واخرجت وقل الماء بالاستعمال اوبحر الصیف حتی یبس فی الاطراف وبقی فی بطنہ اقل من عشر فی عشر کما ھو مشاھد فی کثیر من الغدران لم یعد نجسا لانہ کان حین وقعت کثیرا وان(۲)جف ماؤہ وبقی فی وسطہ قلیلا وعند ذلك وقع فیہ نجس ثم دخلہ الماء حتی امتلأ وصار کثیرا غیر انہ لم یفض من جوانبہ کی یطھر بالجریان فانہ یبقی کما کان نجسا لمامرو ھذا مافی المنیۃ کما تقدم وفی الخانیۃ حوض اعلاہ عشر فی عشر واسفلہ اقل منہ جاز فیہ الوضوء یعتبر فیہ وجہ الماء فان قل ماؤہ وانتھی الی موضع ھو اقل من عشر لایجوز فیہ الوضوء و
کے گرنے کے وقت کا ہے اھ اور اسی قسم کا کلام خلاصہ میں ہے اور در میں تتارخانیہ سے ظہیریہ وغیرہ سے منقول ہے اور دوسرا یہ کہ پانی کی پیمائش میں تغیر آجائے اس میں کمی یا زیادتی کے باعث مثلا یہ کہ اس کے گڑھے میں پانی کا بہاؤ بہ نسبت کناروں کے زائد ہو جیسا کہ ہم نے بیان کیا یعنی دائرہ کا نصف جس کا بالائی حصہ دہ در دہ ہو پھر برابر کم ہوتا گیا اور جب بھرا ہوا ہو تو زائد ہوگا نجاست کو قبول نہ کریگا اور جب نجاست گر جائے اور نکال لی جائے اور پانی استعمال کی وجہ سے کم ہوجائے یا گرمی کے باعث اس کے کنارے خشك ہوجائیں اور اس کے گڑھے میں دہ در دہ سے کم رہ گیا ہو جیسا کہ بہت سے گڑھوں سے مشاہدہ ہوتا ہے تو وہ نجس نہ ہوگا کیونکہ جب نجاست اس میں گری تھی تو وہ زائد تھا اگر حوض کا پانی خشك ہوجائے حتی کہ اس وسط میں تھوڑا سا پانی باقی رہے اور اس وقت نجاست گر جائے پھر پانی داخل ہو حتی کہ وہ بھر جائے اور پانی کثیر ہوگیا مگر پانی اس کے کناروں سے نکلا نہیں ورنہ وہ پانی کے بہاؤ سے پاك ہوجاتا اب وہ حسب سابق نجس ہی رہے گا اس کی دلیل گزری اور یہ منیہ میں ہے جیسا اور خانیہ میں ہے کہ ایك حوض جس کا بالائی حصہ دہ در دہ ہے اور نچلا اس سے کم ہے اس سے وضو جائز ہے اور اس میں پانی کی سطح کا اعتبار ہوگا اور اگر اس کا پانی کم ہو اور وہ ایسی جگہ پہنچ جائے جو دہ در دہ سے کم تر ہو تو اس میں وضو جائز نہیں محقق نے فتح میں فرمایا کہ کوئی نجاست دہ در دہ حوض میں گری اور پھر پانی کم ہوگیا تو وہ طاہر ہے اور جب
حوالہ / References فتاوی قاضی خان فصل فے الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴
فتاوی قاضی خان فصل فے الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴
#12436 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
قال المحقق فی الفتح سقطت نجاسۃ فی عشر فی عشر ثم صار اقل فھو طاھر واذا تنجس حوض صغیر فدخل ماء حتی امتلأ ولم یخرج منہ شیئ فھو نجس اھ وفی الغنیۃ الحاصل ان الماء اذا تنجس حال قلتہ لایعود طاھرا بالکثرۃ وان کان کثیراقبل عـــہ اتصالہ بالنجاسۃ لایتنجس بھا ولو نقص بعد سقوطھا فیہ حتی صار قلیلا فالمعتبر قلتہ وکثرتہ وقت اتصالہ بالنجاسۃ سواء وردت علیہ او ورد علیھا ھذاھو المختار اھ وبینہ فی التبیین باوجز لفظ فقال(۱)العبرۃ بحالۃ الوقوع فان نقص بعدہ لایتنجس وعلی العکس لایطھر اھ فالامام ملك العلماء رحمہ الله تعالی ذکر الفصل الاول عن الامام ابی بکر الاسکاف الا تری الی قولہ ثم بسط ماؤہ وقولہ المبسوط ھو الماء النجس وقولہ المجتمع ھو الماء الطاھر فقولہ قل ای مساحۃ لاقدرا یقطع بہ تعبیرہ بالمجتمع وذکر الفصل الثانی من قولہ ولو وقع فی ھذا القلیل عن الامام
چھوٹا حوض ناپاك ہوگیا اور پھر اس میں پانی بھر گیا اور اس سے کچھ باہر نہ نکلا تو وہ حوض اس نجاست سے ناپاك ہوگا اھ
اور غنیہ میں ہے خلاصہ یہ ہے کہ پانی جب کمی کی حالت میں ناپاك ہوگیا تو کثرت کی حالت میں پاك نہ ہوگا اور اگر اتصال نجاست کے وقت زائد تھا تو نجاست سے نجس نہ ہوگا اوراگر نجاست کے گر جانے کے بعد کم ہوا تو معتبر اس میں پانی کی قلت وکثرت ہے جبکہ اس میں نجاست گری تھی خواہ نجاست پانی پر وارد ہوئی ہو یا پانی نجاست پر وارد ہوا ہو یہی مختار ہے اھ
تبیین میں اسی کو بہت مختصر عبارت سے بیان کیا ہے فرمایا اعتبار وقوع کی حالت کا ہے تو اگر اس کے بعد کم ہوا تو ناپاك نہ ہوگا اور اگر برعکس ہے تو پاك نہ ہوگا اھ امام ملك العلماء رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے پہلی فصل امام ابو بکر الاسکاف سے نقل کی اس کے قول ثم بسط ماؤہ اور ان کا قول مبسوط وہ نجس پانی ہے اور
ان کا قول مجتمع وہ پاك پانی ہے کی طرف غور کریں تو ان کا قول قل یعنی پیمائش کے اعتبار سے نہ کہ مقدار کے اعتبار سے جس کو وہ مجتمع سے تعبر کرتے ہیں اور دوسری فصل کو “ ولو وقع فی ھذا القلیل “ سے ذکر کیا یہ امام ابو القاسم الصفار سے منقول ہے اور اس لئے

عـــہ : اقول : الاولی حین کما لایخفی اھ منہ غفرلہ ۔ (م)
میں کہتا ہوں قبل کی بجائے لفظ حین کا استعمال بہتر ہے اھ(ت)
حوالہ / References فتح القدیر بحث الغدیر العظیم نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۱
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی احکام الحیاض سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۰۱
تبیین الحقائق بحث عشر فی عشر بولاق مصر ۱ / ۲۲
#12437 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
ابی القاسم الصفار ولذا قال عـــہ عاودہ الماء حتی امتلأ ولیست مقالۃ ابی بکر ماخوذۃ فی مقالۃ ابی القاسم رحمھما الله تعالی وان کان یوھمہ زیادۃ ھذا فی ھذا القلیل وکذا قولہ ثم عاودہ وقولہ حتی امتلأ فان ھذا شأن حوض کبیر نقص ماؤہ فبقی فی موضع قلیل ولم یمر لہذا ذکر سابقا لان الناقص لایقال لہ المجتمع (۱)فالاشارۃ وقعت غیر موقعہ وثانیا علی تسلیمہ فلاشك ان کلامہ فی الصورۃ الثانیۃ من الصور الاربع اعنی الاختلاف صفۃ مع الاتحاد صورۃ دون الرابعۃ التی فیھا کلامنا یقطع بہ تعلیلہ کلما دخل الماء صار نجسا مع قولہ ولم یخرج منہ شیئ کما ستعرفہ ان شاء الله تعالی والله تعالی اعلم
فرمایا اس میں پانی لوٹا یہاں تك کہ حوض بھر گیا اور ابو بکر کا مقالہ ابو القاسم کے مقالہ میں ماخوذ نہیں ہے اگرچہ ھذا القلیل میں ھذا کی زیادتی ہے اور اسی طرح ان کے قول ثم عاودہ اور ان کے قول حتی امتلأ سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کیونکہ یہ بڑے حوض کا حال ہے جس کا پانی گھٹ گیا ہے اور کم جگہ میں رہ گیا اور اس کا ذکر شروع میں نہیں ہے کیونکہ ناقص کو مجتمع نہیں کہا جاتا ہے تو اشارہ بے موقع ہے
اور ثانیا اگر اس کو تسلیم کر لیاجائے تو اس میں شك نہیں کہ ان کا کلام چار صورتوں میں سے دوسری صورت میں ہے میری مراد یہ ہے جب صفت میں اختلاف اور صورت میں اتحاد ہو یہ چوتھی صورت نہیں ہے جس میں ہماری گفتگو ہے جس کی تعلیل قطعی یہ ہے جب بھی پانی داخل ہوگا تو نجس ہوجائیگا پھر ساتھ ہی یہ قید بھی لگاتے ہیں کہ اس سے کوئی چیز نکلی نہ ہو جیساکہ آپ ان شاء الله تعالی پہچان لیں گے۔ (ت)
سوال۵۳ پنجم :
اسی صورت میں پانی حصہ زیریں قلیل میں تھا اور اس وقت نجاست پڑی اور اسے نکال کر یا بے نکالے بھر دیا گیا یا بارش وسیل سے بھر گیا کہ آب کثیر ہوگیا تو اب بھی اوپر کا حصہ پاك ہے یا نہیں اور حصہ زیریں کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
یہاں اکثر کتب میں منقول تو اس قدر ہے کہ اگر بھر کر ابل گیاکہ کچھ پانی باہر نکل گیا جب تو پاك ہوگیا کہ جاری ہولیا
عـــہ فافاد زیادۃ القدر دون المساحۃ فقط اھ منہ غفرلہ۔ (م)
اس نے مقدار کی زیادتی کا فائدہ دیا ہے صرف پیمائش کا نہیں اھ(ت)
#12438 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
ورنہ اوپر کا حصہ بھی ناپاك ہے اگرچہ مساحت کثیر میں ہے کہ نیچے کا حصہ جبکہ ناپاك تھا تو اس میں جتنا پانی ملتا گیا ناپاك ہوتا گیا اگر بھر کر ابل جاتا سب پاك ہوجاتا مگر ایسا نہ ہوا تو ناپاك ہی رہا کہ ناپاك پانی کثرت مساحت سے پاك نہیں ہوسکتا اور بعض نے کہا پاك ہوجائیگا اور اس کی وجہ ظاہر نہیں بدائع سے امام ابو القاسم صفار کا قول گزرا نیز عبارت منیہ فان امتلأ صار نجسا ایضا ای کان(اگر حوض بھر جائے تو وہ نجس ہوگا جیسا کہ وہ تھا۔ ت)اسی میں اس کے بعد ہے وقیل لایصیر نجسا (اور بعض نے کہا کہ نجس نہیں ہوگا۔ ت)حلیہ میں ہے ووجہہ غیر ظاھر (اور اس کی وجہ معلوم نہیں۔ ت)غنیہ میں اتنا فرمایا والاول اصح (اور پہلا زیادہ صحیح ہے۔ ت)
اقول : وبالله التوفیق خیال فقیر میں یہاں ابحاث جلیلہ ہیں جن کو بقدر مساعدت وقت چند تاصیلات وتفریعات میں ظاہر کرے والله المعین وبہ استعین۔
اصل۱ ۱ : ہرمائع یعنی بہتی چیز کہ ناپاك ہوجائے پانی یا اپنی جنس طاہر کے ساتھ بہنے سے پاك ہوجاتی ہے وقد حققہ فی ردالمحتار بمالامزید علیہ(اور اس کی تحقیق ردالمحتار میں بطریق اتم کی ہے۔ ت)
اصل۲ ۲ : آب کثیر کے حکم جاری ہونے میں جس طرح طول عرض یا مساحت یا ایك مقدار عمق بھی ضرور ہے جاری ہونے کیلئے ان میں سے کچھ شرط نہیں مینھ کا پانی جب تك بہہ رہا ہے جاری ہے اگرچہ گرہ بھر کے پر نالہ سے آرہا ہوکما نصوا علیہ فی ماء السطح(جیسا کہ سطح کے پانی میں فقہاء نے نص کی ہے۔ ت)ولہذا یہ حکم ہر برتن کو شامل ہے مثلا کٹورے یا تھالی میں ناپاك پانی ہو پانی اس پر ڈالیے یہاں تك کہ بھر کر ابلنے لگے پانی اور برتن سب پاك ہو جائیں گے امام ملك العلماء نے بدائع آخر فصل مایقع بہ التطہیر میں فرمایا :
الحوض الصغیر اذا تنجس قال الفقیہ ابو جعفر الھندوانی رحمہ الله تعالی اذا دخل فیہ الماء الطاھر وخرج بعضہ یحکم بطھارتہ بعد ان لاتستبین فیہ النجاسۃ لانہ صار جاریا وبہ اخذ الفقیہ ابو اللیث وعلی ھذا حوض الحمام اوالاوانی اذا تنجس ۔
چھوٹا حوض جب ناپاك ہوجائے فقیہ ابو جعفر الہندوانی نے فرمایا جب اس قسم کے حوض میں پاك پانی داخل ہوجائے اور اس میں سے کچھ حصہ نکل جائے تو اس کے پاك ہونے کا حکم دیا جائیگا بشرطیکہ اس میں نجاست ظاہر نہ ہو کیونکہ وہ جاری ہوجائیگا اور یہی فقیہ ابو اللیث کا قول ہے اور اس پر حمام کا
حوالہ / References منیۃ المصلی فصل فے الحیاض مکتبہ قادریہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۷۲
حلیہ
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی احکام الحیاض سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۰۱
بدائع الصنائع آخر فصل مایقع بہ التطہیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۷
#12439 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
حوض یا برتن قیاس کیا جائے یعنی نجس ہونے کی صورت میں۔ (ت) (۴)
اصل۱ ۳ : اس جریان کے تین رکن ہیں :
۱۔ دخول ۲۔ خروج ۳۔ معیت
یعنی مثلا پانی ایك طرف سے داخل ہو اور دوسری طرف سے کچھ حصہ خارج ہو اور وہ نکلنا اسی داخل ہونے کی حالت میں ہو اگرچہ ابتدائے دخول میں نہ ہو۔
(۱)لوٹے میں ناپاك پانی ہے اس پر پاك پانی نہ ڈالیے۔ ٹونٹی سے وہی ناپاك پانی نکال دیجئے تو صرف خروج بلا دخول ہوا یا(۲)آدھے لوٹے میں ناپاك پانی ہے پاك پانی سے بھر دیجئے کہ کچھ نکلے نہیں تو محض دخول بلا خروج ہوایا پاک(۳)پانی بھرنے کے بعد جھکاکر ٹونٹی سے کچھ نکال دیجئے تو خروج بحال دخول نہ ہوا۔ ان تینوں صورتوں میں طہارت نہ ہوگی بلکہ پاک(۴)پانی ڈالتے رہیے یہاں تك کہ بھر کر ابلنا شروع ہو اس وقت پاك ہوگا کہ ایك وقت وہ آیا کہ خروج ودخول کی معیت ہوگئی اگرچہ برتن بھرنے تك صرف دخول بلا خروج تھا۔ تبیین وفتح میں ہے :
ولو تنجس الحوض الصغیر بوقوع نجاسۃ فیہ ثم دخل فیہ ماء اخر و خرج الماء منہ طھر وان قل اذاکان الخروج حال دخول الماء فیہ لانہ بمنزلۃ الجاری ۔
اور اگر چھوٹے حوض میں نجاست گر گئی اور وہ نجس ہوگیا پھر اس میں اور پانی داخل ہوگیا اور نکل گیا تو حوض پاك ہوجائیگا خواہ کم ہی ہو جبکہ پانی داخل ہوتے ہی نکل گیا ہو کیونکہ وہ بمنزلہ جاری کے ہے۔ (ت)
بحر میں اسی کی مثل لکھ کر فرمایا :
صححہ فی المحیط وغیرہ وقال السراج الھندی وکذا البئر واعلم ان عبارۃ کثیر منھم تفید ان الحکم اذا کان الخروج حالۃ الدخول وھو کذلك فیما یظھر لانہ ح یکون فی المعنی جاریا لکن ایاك وظن انہ لوکان الحوض غیر ملان فلم یخرج منہ شیئ فی اول الامر لایکون طاھرا اذ(۲)غایتہ انہ عند امتلائہ قبل خروج الماء
محیط وغیرہ میں اس کو صحیح قرار دیا اور سراج ہندی نے فرمایا اور اسی طرح کنویں کا حال ہے اور جاننا چاہئے کہ اکثر علماء کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے جبکہ پانی داخل ہوتے ہی نکل جائے تو حکم بظاہر ایسا ہی ہے کیونکہ یہ جاری کے حکم میں ہے لیکن آپ یہ گمان نہ کریں کہ اگر حوض بھرا ہوا نہ ہو اور اس میں سے ابتداء کچھ نہ نکلے تو وہ پاك نہ ہوگا کیونکہ حوض بھرنے تك نکلنے سے پہلے ناپاك ہوجائیگا پھر وہ اتنی مقدار کے نکلنے کے بعد پاك ہوجائیگا جس سے طہارت
حوالہ / References تبیین الحقائق بحث عشر فی العشر بولاق مصر ۱ / ۲۲-۲۳
#12440 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
منہ نجس فیطھر بخروج القدرالمتعلق بہ الطھارۃ اذا ا تصل بہ الماء الجاری الطھور کما لوکان ممتلئا ابتداء ماء نجسا ثم خرج منہ ذلك القدر لاتصال الماء الجاری بہ کذا فی شرح المنیۃ اھ۔ یرید حلیۃ الامام ابن امیر الحاج۔
متعلق ہو جبکہ اس کے ساتھ طاہر اور طہور پانی متصل ہو جو جاری ہو جیسا کہ ابتداء بھرا ہونے کی صورت میں تھا یعنی اس میں نجس پانی تھا پھر اس میں سے اتنی مقدار نکل گئی کیونکہ اس کے ساتھ جاری پانی متصل ہوا کذا فی شرح المنیہ اھ۔ اس سے ان کی مراد ابن امیر الحاج کی حلیہ ہے۔ (ت)
ہاں علماء نے مواضع ضرورت میں اخراج کو بھی خروج رکھا ہے جیسے(۱)حمام کا حوض کہ اس میں کسی نے ناپاك ہاتھ ڈال دیا اگر لوگ اس میں سے پانی لے رہے ہیں مگر نل سے پانی اس میں نہیں آتا یا نل سے پانی آرہا ہے مگر لوگ اس میں سے پانی نکال نہیں رہے تو ناپاك ہوجائیگا کہ خروج یا دخول ایك پایا گیا اور اگر ادھر نل سے پانی آرہا ہے اور ادھر لوگوں کا اس میں سے لینا برابر جاری ہے کہ پانی کی جنبش ساکن نہیں ہونے پاتی تو جاری کے حکم میں ہے ناپاك نہ ہوگا اسی پر فتوی ہے ہندیہ میں ہے :
حوض الحمام طاھر فان ادخل رجل یدہ فی الحوض وعلیھا نجاسۃ ان کان الماء ساکنا لایدخل فیہ شیئ من انبوبہ ولا یغترف منہ انسان بالقصعۃ یتنجس وان کان الناس یغترفون ولایدخل من الانبوب ماء اوعلی العکس فاکثرھم علی انہ یتنجس وان کان الناس یغترفون ویدخل من الانبوب فاکثرھم علی انہ لایتنجس ھکذا فی فتاوی قاضی خان وعلیہ الفتوی کذا فی المحیط ۔
حمام کا حوض پاك ہے اگر کسی شخص نے حوض میں اپنا ہاتھ ڈالا اور ہاتھ پر نجاست تھی اگر پانی ساکن تھا ایسا کہ اس میں کوئی چیز اس کی نالی سے داخل نہ ہو اور کوئی انسان اس میں سے پیالہ سے نہ نکال رہا ہو تو وہ ناپاك ہوجائے گا اور اگر یہ لوگ اس میں سے چلو بھر کر پانی لیتے ہوں اور نالی سے پانی داخل نہ ہوتا ہو یا برعکس ہو تو اکثر علماء کا خیال ہے کہ وہ ناپاك ہوجائیگا اور اگر لوگ اس سے چلو بھر کر لیتے ہوں اورنالی سے پانی داخل ہوتا ہو تو اکثر علماء کا خیال ہے کہ وہ ناپاك نہ ہوگا اسی طرح فتاوی قاضی خان میں ہے اور اسی پر فتوی ہے کذا فی المحیط۔ (ت)
حوالہ / References بحرالرائق بحث عشر فی العشر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۸
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الاول فیما یجوزبہ التوضؤ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۸
#12441 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
(۱)اسی طرح وضو کے حوض میں بھی اگر نالی سے پانی آرہا ہے اور لوگ برابر لے رہے ہیں عـــہ۱ کہ پانی ٹھہرنے نہیں پاتا ناپاك نہ ہوگا ۔ عالمگیریہ میں ہے :
حوض صغیر تنجس فدخل الماء الطاھر من جانب وسال ماء الحوض من جانب اخر کان الفقیہ ابو جعفر رحمہ الله تعالی یقول کما سال یحکم بطھارۃ الحوض وھو اختیار الصدر الشھید رحمہ الله تعالی کذا فی المحیط وفی النوازل وبہ ناخذ کذا فی التتارخانیۃ وان دخل الماء ولم یخرج ولکن الناس یغترفون منہ اغترافا متدارکا طھر کذا فی الظھیریۃ والغرف المتدارك ان لایسکن وجہ الماء فیما بین الغرفتین کذا فی الزاھدی ۔
چھوٹا حوض ناپاك ہوگیا پھر اس میں ایك طرف سے پاك پانی داخل ہوا اور حوض کا پانی دوسری جانب سے بہہ نکلا تو فقیہ ابو جعفر اس حوض کی طہارت کا حکم دیتے تھے اور یہی صدر الشہید کا مختار ہے کذا فی المحیط اور نوازل میں ہے اسی کو ہم اختیار کرتے ہیں اسی طرح تتارخانیہ میں ہے اور اگر پانی داخل ہوا اور نہ نکلا لیکن لوگ اس سے مسلسل چلو بھر لیتے رہے تو وہ پاك ہوگا کذا فی الظہیریہ اور مسلسل چلو بھرنا یہ ہے کہ دو چلوؤں کے درمیان پانی پرسکون نہ ہو کذا فی الزاھدی۔ (ت)
اس کی دوسری سند فتاوی خلاصہ سے آتی ہے(یعنی فصل چہارم میں)(۲)علامہ خیر رملی نے کنواں بھی اسی حکم میں عـــہ۲ داخل کیا جبکہ سو توں سے پانی ابل رہا اور اوپر سے برابر چرغ چل رہا ادھر سے آتا ادھر سے نکل رہا ہو اس حالت میں نجاست سے ناپاك نہ ہوگا ہاں نجاست مرئیہ اس میں رہنے دی اور پانی کھینچنا اتنی دیر موقوف ہوگیا کہ پانی ٹھہر گیا جنبش جاتی رہی تو اب ناپاك ہوجائیگا۔ منحۃ الخالق میں ہے :
والحقوا بالجاری حوض الحمام قال الرملی
اور جاری پانی سے علماء نے حمام کے حوض کو ملادیا
عـــہ۱ : یونہی اگر اس کنارے پر کوئی نہا رہا ہے کہ پانی برابر نکل رہا ہے تاتارخانیہ پھر ردالمحتار میں ہے :
لوکان یدخلہ الماء ولا یخرج منہ لکن فیہ انسان یغتسل ویخرج الماء باغتسالہ من الجانب الاخر متدارکا لایتنجس منہ غفرلہ(م)
اگر پانی حوض میں داخل ہورہا ہو اور اس سے نکل نہ رہا ہو لیکن کوئی آدمی وہاں غسل کر رہا ہو اورا س کے غسل کا پانی مسلسل دوسری جانب نکل رہا ہو تو وہ نجس نہ ہوگا۔ (ت)
عـــہ۲ اس کی کامل تائید تنبیہ جلیل کے آخر میں آتی ہے ۱۲ منہ غفرلہ(م)
حوالہ / References فتاوی ہندیۃ الفصل الاول فیما یجوز بہ التوضؤ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۷
#12442 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
اقول وبالاولی الحاق الابار المعینۃ التی علیھا الدولاب بلادنا اذالماء ینبع من اسفلھا والغرف فیھا بالقواد لیس متدارك فوق تدارك الغرف من حوض الحمام فلا شك فی ان حکم مائھا حکم الجاری فلو وقع فی حال الدوران فی البئر والحال ھذہ نجاسۃ لاینجس تأمل والله تعالی اعلم۔
رملی کہتے ہیں میں کہتا ہوں وہ کنویں جن پر ہمارے ملك میں رہٹ ہوتا ہے ان کو جاری پانی سے ملانا بطریق اولی ہوگا کیونکہ پانی ان کے نیچے سے نکلتا ہے اور ڈولوں کے ذریعے سے ان سے پانی نکالنا تسلسل کے ساتھ ہوتا ہے یہ تسلسل اس سے کہیں زائد ہے جو حوض کے حمام سے چلو بھرنے سے ہوتا ہے تو اس میں شك نہیں کہ ان کے پانی کا حکم جاری پانی کا ہے تو اگر اس حالت میں پانی کے چلتے وقت نجاست کنویں میں گرجائے تو پانی ناپاك نہ ہوگا تأمل والله تعالی اعلم۔ (ت)
اصل۴ : اقول : (۱) اگرچہ مذہب صحیح میں اس خروج کیلئے کوئی مقدار نہیں ادنی ابلالنا کافی ہے جس پر سیلان صادق آئے
کما تقدم عن البدائع وخرج بعضہ وعن التبیین والفتح والبحر وان قل وعن المحیط کما سال وھذہ کاف الفور۔
جیسا کہ بدائع سے گزرا کہ وخرج بعضہ اور تبیین فتح بحر میں ہے کہ وان قل اور محیط سے ہے کما سال یعنی فورا بہنے پر کما میں کاف فورا کا معنی دیتا ہے۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
فی المبتغی بالغین المعجمۃ ھو الصحیح وفی محیط رضی الدین ھو الاصح وکذلك البیر علی ھذا لان الماء الجاری لما اتصل بہ صار فی الحکم جاریا ۔
مبتغی میں ہے غین معجمہ سے اور یہی صحیح ہے اور محیط رضی الدین میں ہے ھو الاصح اور اسی طرح کنویں کا حال ہے کیونکہ جب جاری پانی اس سے متصل ہوگیا تو جاری کے حکم میں ہوگیا۔ (ت)
مگر شك نہیں کہ یہ بہاؤ جب تك منتہی نہ ہوگا حکم جریان منقطع نہ ہوگا کہ وہ حرکت واحدہ مستمرہ ہے اس کے بعض پر متحرك کو جاری اور باقی پر راکد و واقف ماننے کے کوئی معنی نہیں
ولھذا ساغ لمن زادان یزید ای لم یکتف لحکم الجریان بمجرد السیلان بل شرط حرکۃ
اور اسی لئے جائز ہے اس شخص کے لئے جس نے زائد کیا کہ زائد ہو یعنی کافی نہ ہوا جاری ہونے کے حکم کے لئے
حوالہ / References منحۃ الخالق علی حاشیہ بحرالرائق بحث الماء الجاری ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۶
حلیہ
#12443 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
کثیرۃ یعتمد بھا فلولا ان ھذا السائل من ذلك الماء المطلوب سیلانہ لم تنفع الزیادۃ۔
صرف سیلان کا ہونا بلالکہ اس کی شرط یہ ہے کہ اس میں بکثرت حرکت ہو کہ جس کا اعتبار ہو کیونکہ اگر یہ بہنے والا پانی اس پانی سے نہ ہوتا جس کا بہاؤ مطلوب ہے تو اس اضافے کا کچھ فائدہ نہ ہوتا۔ (ت)
فتاوی خلاصہ میں نقل فرمایا :
لوامتلأ الحوض وخرج من جانب الشط علی وجہ الجریان حتی بلغ المشجرۃ یطھر اما قدر ذراع اوذراعین فلا ۔
اگر حوض بھر گیا اور کنارے سے نکل کر پانی بہتا ہوا مشجرہ تك پہنچ گیا تو وہ پاك ہوجائے گا بہرحال ایك ذراع یا دو ذراع ہو تو نہیں۔ (ت)
ظہیریہ(۱)میں تصریح فرمائی کہ اس ابال میں جو پانی نکل رہا ہے ہے اندر کا پانی تو پاك ہو ہی گیا باہر نکلنے والا بھی طاہر مطہر ہے یہاں تك کہ پانی نکلتا جائے اور اس سے کوئی وضو کرتا جائے یا کہیں جمع ہونے کے بعد کسی برتن میں لے کر وضو کرے تو وضو صحیح ہے ظاہر ہے کہ اول سیلان کا پانی اتنا نہ ہوگا جس سے وضو ہوجائے ردالمحتار میں ہے :
فی الظھیریۃ الصحیح انہ یطھر وان لم یخرج مثل ما فیہ وان رفع انسان من ذلك الماء الذی خرج وتوضأ بہ جاز اھ۔ قال ش لکن فی الظھیریۃ ایضا حوض نجس امتلأ ماء وفار ماؤہ علی جوانبہ وجف جوانبہ لایطھر وقیل یطھر اھ۔ وفیھا ولو امتلأ فتشرب الماء فی جوانبہ لایطھر مالم یخرج الماء من جانب اخر اھ۔ وفی الخلاصۃ المختار انہ یطھر وان لم یخرج مثل مافیہ فلو امتلأ الحوض وخرج من جانب الشط الی اخر مانقلنا وانھی الکلام علی قولہ فلیتأمل اھ۔ وذکر بعدہ مسألۃ
ظہیریہ میں ہے کہ صحیح یہ ہے کہ وہ پاك ہوجائیگا اگرچہ اس سے اتنا پانی نہ نکلے جو حوض میں تھا اور اگر کسی انسان نے وہ پانی اٹھالیا جو خارج ہوا تھا اس سے وضو کرلیا تو جائز ہے اھ “ ش “ نے فرمایا لیکن ظہیریہ ہی میں ہے کہ ایسا حوض جو ناپاك ہو اگر پانی سے بھر جائے اور اس کا پانی کناروں سے بہہ نکلے پھر خشك ہوجائے اور اس کے کنارے بھی خشك ہوجائیں تو پاك نہ ہوگا “ اور ایك قول ہے کہ پاك ہوجائیگا اھ اور اسی میں ہے کہ اگر کوئی حوض اتنا بھر گیا کہ اس کے کنارے پانی سے تر ہوگئے تو وہ اس وقت تك پاك نہ ہوگا جب تك کہ پانی دوسری طرف سے نہ نکلے اھ اور خلاصہ میں ہے کہ مختاریہ ہے کہ وہ
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی الجنس الاول فی الحیاض نولکشور لکھنؤ ۱ / ۵
#12444 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
طھارۃ الاوانی فقال ھل یلحق نحو القصعۃ بالحوض فاذا کان فیھا ماء نجس ثم دخل فیھا ماء جار حتی طف من جوانبھا ھل تطھر ھی والماء الذی فیھا کالحوض ام لا لعدم الضرورۃ فی غسلھا توقفت فیہ مدۃ ثم رأیت فی خزانۃ الفتاوی اذا فسد ماء الحوض فاخذ منہ بالقصعۃ وامسکھا تحت الانبوب فدخل الماء وسال ماء القصعۃ فتوضأ بہ لایجوز اھ وفی الظھیریۃ فی مسألۃ الحوض لوخرج من جانب اخر لایطھر مالم یخرج مثل مافیہ ثلاث مرات کالقصعۃ عند بعضھم والصحیح انہ یطھر وان لم یخرج مثل مافیہ اھ فالظاھر عـــہ ان مافی الخزانۃ مبنی علی خلاف الصحیح یؤیدہ مافی البدائع وعلی ھذا حوض الحمام اوالاوانی اذا تنجس اھ۔ ومقتضاہ انہ علی القول الصحیح تطھر الاوانی ایضا بمجرد الجریان فاتضح الحکم ولله الحمد۔ وبقی شیئ
اور اس کے بعد برتنوں کی طہارت کا مسئلہ ذکر کیا اور فرمایا آیا پیالہ جیسی چیز کو حوض پر قیاس کیا جائے گا اور یہ کہ اگر اس میں ناپاك پانی ہو پھر جاری پانی اس میں داخل ہوجائے اور کناروں سے نکل جائے تو آیا وہ پیالہ اور جو پانی اس میں ہے پاك ہوگا جس طرح حوض پاك ہوتا ہے یا پاك نہ ہوگا کیونکہ اس کو دھو کر پاك کرنے میں ضرورت نہیں تو میں نے اس مسئلہ میں ایك مدت تك توقف کیا پھر میں نے خزانۃ الفتاوی میں دیکھا کہ جب حوض کا پانی فاسد ہوجائے اور اس سے کوئی شخص پیالہ بھر کرلے اور اس کو نالی کے نیچے روك کر رکھے پھر پانی داخل ہو اور پیالہ کا پانی بہہ نکلے اب اس پانی سے وضو کرے تو جائز نہ ہوگا اھ اور ظہیریہ کے حوض میں مسئلہ میں ہے اگر پانی دوسری طرف سے نکل گیا تو اس وقت

عـــہ اقول : فی(۱)الاحتجاج بکلام الظھیریۃ علی الخزانۃ نظر فلقائل ان یقول مفادہ ان عدم الطھارۃ فی القصعۃ متفق علیہ للاستشھاد بہ والتصحیح انما یرجع الے الحوض منہ۔ (م)
میں کہتا ہوں ظہیریہ کے کلام سے جو استدلال خزانہ کے خلاف کیا ہے اس میں نظر ہے کیونکہ کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ اس کا مفاد یہ ہے کہ پیالہ میں پاك نہ ہونے پر اتفاق کیا گیا ہے کیونکہ اس سے استشہاد کر رہے ہیں اور تصحیح صرف حوض کی طرف راجع ہے۔ (ت)
#12445 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
اخر عـــہ۱ سئلت عنہ(۱)وھو ان دلوا تنجس عـــہ۲ فافرغ فیہ رجل ماء حتی امتلأ وسال من جوائبہ ھل یطھر بمجرد ذلك والذی یظھر لی الطھارۃ اخذا مما ذکرنا ھنا عـــہ۳ومما مرمن انہ لایشترط ان یکون الجریان بمدد نعم علی ماقدمناہ علی الخلاصۃ من تخصیص الجریان بان یکون اکثر من عـــہ۴ذراع او
تك پاك نہ ہوگا جب تك کہ جتنا اس میں تھا اس سے تین گنا زیادہ نہ نکلا ہو جیسا کہ پیالہ کا حکم ہے یہ بعض حضرات کے نزدیك ہے اور صحیح یہ ہے کہ پاك ہوجائیگا اگرچہ اتنا پانی نہ نکلا ہو جتنا کہ پیالہ میں تھا اھ تو بظاہر خزانہ میں جو ہے وہ صحیح کے برعکس ہے بدائع میں اس کی تائید ہے اور اسی پر حمام کے حوض یا برتنوں کا قیاس ہے یعنی ان کے ناپاك ہوجانے کی
عـــہ۱ اقول : ھو ھو(۲)بعینہ لاشیئا اخر ولا احتمال لاختلاف الحکم باختلاف صورۃ القصعۃ والدلو منہ۔ (م)
عـــہ۲ اقول : لابد من التقیید بتنجسہ من داخل اذلو تنجس من تحت لم یعمل فیہ السیلان علی ظاھرہ اومن خارج فمالم یسل علی الموضع المتنجس منہ بحیث یذھب النجاسۃ کما روی عن الامام الثانی رضی الله تعالی عنہ فی ازار المغتسل منہ غفرلہ(م)
عـــہ۳ اقول : (۳)رحمك الله لیس الجریان ھھنا الا بمدد فای حاجۃ للبناء علی مختلف فیہ منہ۔ (م)
عـــہ۴ اقول : (۴)صوابہ الاقتصار علی ذراعین اذ عبارۃ الخلاصۃ اما قدر ذراع اوذراعین فلا منہ(م)
اقول یہ بعینہ وہی ہے کوئی دوسری چیز نہیں ہے اور پیالہ اور ڈول کی صورت کے مختلف ہونے کی وجہ سے حکم کے مختلف ہونے کا کوئی احتمال نہیں۔ (ت)
اقول : اس میں یہ قید لگانا ضروری ہے کہ وہ ڈول اندر سے ناپاك ہو کیونکہ اگر وہ نیچے سے ناپاك ہو تو اس میں پانی کے بہانے کا اسکے ظاہر پر کوئی اثر نہ ہوگا یا خارج سے ناپاك ہو تو ایسی صورت میں پانی کا اس جگہ پر بہانا لازم ہے جو ناپاك ہے اور اس موجود نجاست کا ختم ہوجانا ضروری ہے جیسا دوسرے امام ابو یوسف سے منقول ہے غسل کرنے والے کے تہبند کی بابت۔ (ت)
میں کہتا ہوں اللہ آپ پر رحم کرے یہاں پر جریان مدد سے ہے تو اس میں اختلاف کی بنا رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں عبارت کو ذراعین پر ختم کرنا مناسب ہے کیونکہ خلاصہ کی عبارت یہ ہے اما قدر ذراع اوذراعین فلا۔ (ت)
#12446 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
ذراعین یتقید بذلك ھنا لکنہ مخالف لاطلاقھم طھارۃ الحوض بمجرد الجریان اھ مختصرا
اقول : قد افاد واجاد واوضح المراد کما ھو دابہ علیہ رحمۃ الکریم الجواد لکن عبارۃ الخلاصۃ ھکذا اما حوض الحمام اذا وقعت فیہ نجاسۃ قال فی التجرید عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ انھا لاتستقر وھو کالماء الجاری فان تنجس حوض الحمام فدخل الماء من الانبوب وخرج من الجانب الاخر فھو کالحوض الصغیر وفیہ اقاویل ستأتی ولاباس بدخول الحمام للرجال والنساء وفی الفتاوی
صورت میں اھ اور اس کا مقتضی یہ ہے کہ قول صحیح پر برتن محض پانی کے جاری ہو جانے سے پاك ہوجائیں گے تو اب حکم واضح ہوگیا ولله الحمد اب صرف ایك چیز باقی رہ گئی ہے جس کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی ڈول ناپاك ہوگیا اور اس میں پانی بہایا گیا یہاں تك کہ وہ بھر کر بہنے لگا تو کیا وہ محض اس طریقہ سے پاك ہوجائیگا تو مجھے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاك ہوجائیگا اس کی دلیل وہی ہے جو ہم نے یہاں ذکر کی اور جو گزری یعنی یہ شرط نہیں کہ پانی کا جاری ہونا مدد کے حساب سے ہو ہاں جو ہم نے خلاصہ سے نقل کیا ہے یعنی کہ بہنے کو اس امر سے مقید کیا جائے کہ وہ ایك یا دو ذراع سے زیادہ ہو تو وہی قید یہاں بھی معتبر ہوگی مگر یہ چیز فقہاء کے اطلاقات کے مخالف ہے وہ فرماتے ہیں حوض محض پانی کے جاری ہونے سے ہی پاك ہوجائیگا اھ مختصرا۔ (ت)
میں کہتا ہوں انہوں نے اپنی عادت کے مطابق بڑی وضاحت سے اپنے مقصود کو ظاہر کردیا لیکن خلاصہ کی عبارت اس طرح ہے “ بہرحال حمام کا حوض جبکہ اس میں نجاست گر جائے تجرید میں حضرت امام ابو حنیفہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ایسی نجاست ٹھہرے گی نہیں اور یہ جاری پانی کی طرح ہے اب اگر حمام کا حوض ناپاك ہوگیا اور اس میں ایك نالی سے پانی داخل ہو کر دوسری طرف سے خارج ہوگیا تو یہ چھوٹے حوض کی طرح ہے اس میں متعدد اقوال ہیں جو عنقریب آئیں گے اور مردوں
حوالہ / References ردالمحتار بحث عشر فی عشر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۳
#12447 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
حوض الماء اذا اغترف رجل منہ وبیدہ نجاسۃ وکان الماء یدخل من انبوبہ فی الحوض والناس یغترفون من الحوض غرفا متدارکا لم یتنجس۔ الحوض الصغیر اذا تنجس فدخل الماء من جانب وخرج من جانب فیہ اقاویل قال الصدر الشہید رحمہ الله تعالی المختار انہ طاھر وان لم یخرج مثل ما فیہ وکذا البئر ولو امتلأ الحوض و خر ج من جانب الشط علی وجہ الجریان حتی بلغ المشجرۃ یطھر اما قدر ذراع اوذراعین فلا ولو(۱)خرج من النھر الذی دخل الماء فی الحوض لایظھر اھ۔ کلامہ الشریف بلفظ المنیف (۲)فقولہ ولو امتلأ الحوض وھو کذلك بالواو لابالفاء فی نسختی الخلاصۃ القدیمۃ جدا لیس تتمۃ قول الصدر الشھید ولا داخلا تحت المختار وقد قدمنا عن الھندیۃ عن المحیط عن الصدر الشھید انہ کما سال یطھر وقد وعد ان فیہ اقاویل ستأتی فلو کان ھذا تتمتہ لم یذکر الا قولا واحدا فوجب ان یکون ھذا قولا اخر مقابل المختار ولا یمکن جعل ماذکر عن الفتاوی قولا اخر لان الکلام فی حوض تنجس وتلك صورۃ عدمہ وقد قدم مثلھا عن
اور عورتوں کو حمام میں داخل ہونے میں حرج نہیں اور فتاوی میں ہے کہ پانی کے حوض میں اگر کسی شخص نے اپنا ناپاك ہاتھ ڈالا اور اس حوض میں پانی نالی سے آرہا ہے اور لوگ اس حوض سے مسلسل چلو بھر کر پانی لے رہے ہیں تو یہ حوض ناپاك نہ ہوگا۔ چھوٹا حوض جب ناپاك ہوا اور اس میں پانی ایك طرف سے داخل ہو کر دوسری طرف سے نکل گیا تو اس میں کئی اقوال ہیں صدر الشہید نے فرمایا مختاریہ ہے کہ یہ پاك ہے خواہ اس سے اتنی مقدار میں پانی نہ نکلا ہو جتنا کہ اس میں موجود ہے اور یہی حکم کنویں کا ہے اور حوض بھر کر کنارے سے نکل گیا اور بہتا رہا یہاں تك کہ مشجرہ تك پہنچ گیا تو پاك ہوجائے گا اور ایك ہاتھ یا دو ہاتھ پاك نہ ہوگا اور اگر اس نہر سے پانی نکلا جس سے حوض میں داخل ہوا تھا تو پاك نہ ہوگا اھ تو ان کا قول “ ولو امتلأ الحوض “ میرے پاس خلاصہ کے قدیم نسخہ میں یہ ایسا ہی واؤ کے ساتھ ہے فاء کے ساتھ نہیں یہ نہ تو صدر الشہید کے قول کا تتمہ ہے اور نہ مختار کے تحت داخل ہے اور ہم نے ہندیہ سے محیط سے صدر الشہید سے نقل کیا کہ وہ بہتے ہی پاك ہوجائیگا اور انہوں نے وعدہ کیا کہ اس میں کئی اقوال ہیں جو آئیں گے تو اگر یہ تتمہ ہوتا تو صرف ایك ہی قول ذکر کرتے تو لازم ہے کہ یہ قول مختار کے مقابل ہے اور جو فتاوی سے انہوں نے نقل کیا اس کو دوسرا قول قرار دینا صحیح نہیں کیونکہ کلام اس
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰ ی الجنس الاول فی الحیاض نولکشور لکھنؤ ۱ / ۵
#12448 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
التجرید فان کونھا لا تسقر لیس الا للغرف المتدارك فلیس فی الخلاصۃ اختیار تخصیص الجریان باکثر من ذراعین حتی یعکر علیہ بمخالفتہ اطلاقھم وانما حکاہ قولا وجعل المختار ھو الاطلاق اما عبارتا الظھیریۃ الا خیرتان فاقول ھما فیما دخل الماء الحوض وملأہ حتی طش منہ علی جوانبہ علی وجہ الانتضاح الخفیف اللازم للامتلاء بدخول قوی عنیف ولا یصدق علیہ السیلان من الجانب الاخر(۱)فلیس فیھما ماینافی عبارتہ(۲)الاولی الا تری الی قولہ فی الثالثۃ لایطھر مالم یخرج من جانب اخرنا ط الطھارۃ بمجرد الخروج فعلم ان ماذکر لایسمی خروجا من جانب اخر وما ھو الا الانتضاح الذی ذکرنا ھکذا ینبغی ان یفھم کلام العلماء ولله الحمد
وبہ ظہران(۳)قول العلامۃ ش فی صدر المسألۃ حتی عـــہ طف من جوانبھا حقہ
حوض میں ہے جو ناپاك ہوگیا اور وہ اس کے ناپاك نہ ہونے کی صورت ہے اور اسی کی مثل تجرید سے انہوں نے نقل کیا کیونکہ اس کا برقرار نہ رہنا تسلسل سے چلو بھرنے کی ہی وجہ سے ہے تو خلاصہ میں دو ہاتھ سے زائد جاری ہونے کی تخصیص کو اختیار نہیں کیا اگر ایسا ہوتا تو کہا جاسکتا تھا کہ وہ ان کے اطلاقات کی مخالفت کر رہے ہیں انہوں نے تو اس کو محض حکایت کیا ہے اور مختار اطلاق ہی کو قرار دیا ہے اور ظہیریہ کی دو آخری عبارتوں کے متعلق میں کہتا ہوں یہ دونوں اس صورت سے متعلق ہیں جبکہ پانی حوض میں داخل ہوا اور اس کو بھر دیا اور اس کے کناروں سے آہستہ آہستہ چھلکنے لگا یہ چیز عام طور پر اس وقت ہوتی ہے جب حوض میں پانی یك دم سختی کے ساتھ داخل ہوتا ہے اور اس پر دوسری جانب سے بہنا صادق نہیں آتا ہے تو ان میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ان کی پہلی عبارت کے منافی ہو چنانچہ وہ تیسری صورت کے بارے میں فرماتے ہیں “ وہ اس وقت تك پاك نہ ہوگا جب تك دوسری طرف سے خارج
عـــہ لم ارھذا الفعل ولا مصدرہ فی الصحاح ولا الصراح ولا المختار ولا القاموس ولا تاج العروس ولا مفردات الراغب ولا نھایۃ ابن الاثیر ولا الدر النثیر ولا مجمع البحار ولا المصباح المنیر انما فی القاموس طف المکوك والاناء
اس فعل اور اس کے مصدر کو میں نے صحاح صراح مختار قاموس تاج العروس مفردات راغب نہایہ ابن اثیر درنثیر مجمع البحار اور مصباح المنیر میں نہیں پایا۔ قاموس میں اتنا ہی ہے کہ برتن اور پیمانے کا طف طفف(حرکت کے ساتھ)اور طفاف
#12449 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
ان یقول حتی سال من الجانب الاخر فربما لایزید ماذکر علی الانتضاح اولا یبلغہ ولا(۱)حاجۃ الی السیلان من جمیع الجوانب انما اللازم الخروج من جھۃ المقابل للدخول فلو(۲)کان الاناء مائلا فی ارض غیر مستویۃ وادخل فیہ الماء من جانبہ العالی وخرج من السافل کفی نعم لوصب فی الجانب السافل فعاد منہ لم یکف کما فی اخر عبارۃ الخلاصۃ وبالله التوفیق۔
اور اسی سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ علامہ ش کی گفتگو مسئلہ کی ابتدا میں حتی طف من جوانبھا اس کی بجائے یوں کہنا چاہئے تھا کہ حتی سال من الجانب الاخر تو جو انہوں نے ذکر کیا ہے وہ چھینٹوں سے نہیں بڑھے گا یا اس تك نہیں پہنچے گا اور تمام کناروں سے بہنے کی حاجت نہیں ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ جس طرف سے پانی داخل ہوا ہو اس کی مخالف جہت سے بہہ نکلے اب اگر برتن کسی ناہموار زمین پر ہے اور ایك طرف کو جھکا ہوا ہے اور اس میں پانی اوپر کی طرف سے داخل ہو کر نچلی طرف سے نکل جائے تو کافی ہے ہاں اگر نچلے حصہ میں بہایا جائے اور اس سے واپس آجائے تو کافی نہ ہوگا جیسا کہ خلاصہ کی عبارت کے آخر میں ہے وبالله التوفیق۔ (ت)

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وطففہ محرکۃ وطفافہ ویکسر ما ملاء اصبارہ او ما بقی فیہ بعد مسح رأسہ او ھو جمامہ اوملؤہ واناء طفان بلغ الکیل طفافہ اھ فی تاج العروس ھذا طف المکیال وطفافہ اذا قارب ملأہ اھ وقولہ اصبارہ ای جوانبہ وجمامہ ما علی رأسہ فوق طفافہ ویکون ذلك فی الدقیق ونحوہ یعلو رأسہ بعد امتلائہ منہ غفرلہ۔ (م)
(طا کو کسرہ بھی دیا جاتا ہے)اس کو کہا جاتا ہے جو اس کے کناروں کو بھر دے یا جو برتن کے سر پر ہاتھ پھیرنے کے بعد باقی بچ جائے یا اس کا ابھرنا ہے یا بھرنا ہے اور اناء طفاف اس برتن کو کہا جاتا ہے جو مقرر ناپ تك بھر جائے اھ تاج العروس میں ہے کہ کہا جاتا ہے “ یہ پیمانے کا طف ہے اور اس کا طفاف ہے “ ۔ یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب پیمانہ بھرنے کے قریب ہو اھ اور قاموس نے “ اصبارہ “ جو کہا ہے تو اس سے مراد اس کے اطراف ہیں اور “ جمامہ “ سے مراد وہ ہے جو برتن بھرنے کے بعد اور ابھرا ہو اور یہ چیز آٹے وغیرہ میں پائی جاتی ہے کہ برتن بھرنے کے بعد اوپر تك اٹھا ہوتا ہے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
#12450 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
اصل ۵ : اقول یہاں سے ظاہر ہوا کہ(۱)کسی محل کے جوف میں پانی کی حرکت اگرچہ گز وں ہو اس محل کے حق میں جریان نہ ٹھہرے گی اس کے بطن میں پانی کی جنبش اگرچہ باہر سے داخل ہونے پر ہوئی مگر اس سے خارج تو نہ ہوا تو جریان کے دو رکن نہ پائے گئے مگر اس محل کے اندر اگر دوسرا محل صغیر اور ہو اور پانی اس میں جاکر اسے ابال دے تو اس کے حق میں ضرور جریان ہوجائیگا کہ اس میں سب ارکان متحقق ہوگئے اگرچہ دوسرے کے جوف سے خروج نہ ہو مثلا دیگ میں ایك کٹورا رکھا ہے کٹورے میں ایك مینگنی پڑگئی وہ نکال کر پھینك دی اور کٹورے پر پانی بہایا کہ ابل کر نکل گیا مگر دیگ سے نکلنا کیا معنی وہ بھری بھی نہیں تو بے شك کٹورا اور اس کا پانی پاك ہوگیا کہ زمین پر یا دیگ کے اندر رکھے ہونے کو حکم میں کچھ دخل نہیں وھذا ظاھر جدا(اور یہ بہت واضح ہے۔ ت(
اصل ۶ : اقول : اس جریان سے اگرچہ طہارت ہوجائے گی اور نجاست(۲)مرئیہ تھی اور نکال لی یا غیر مرئیہ تھی تو مطلقا ہمیشہ طہارت رہے گی جب تك دوبارہ نجاست عارض نہ ہو مگر اگر نجاست مرئیہ ہے اور نہ نکالی تو حکم طہارت اس وقت تك ہے جب تك یہ جریان باقی ہے پانی تھمتے ہی ظرف اور اس کے اندر کا پانی پھر ناپاك ہوجائیں گے کہ سبب یعنی نجاست موجود ہے اور مانع کہ جریان تھا زائل ہوگیا وھذا ایضا بوضوحہ غنی عن الایضاح(اور یہ بھی اپنے واضح ہونے میں کسی دلیل کا محتاج نہیں۔ ت(منحۃ الخالق میں شرح ہدیہ ابن العماد لسیدی عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی سے ہے :
اذا وضع السرقین فی مقسم الماء الی البیوت وجری مع الماء فی القسا طل عـــہ فالماء نجس
جب گوبر پانی میں ایسے مقام پر رکھ دیا جائے کہ وہاں سے پانی مختلف گھروں کو منقسم ہو کر جاتا ہو اور وہ گوبر پانی
عـــہ اعتید فی بلادنا القاء زبل الدواب فی مجاری الماء الی البیوت لسد خلل تلك المجاری المسماۃ بالقساطل اھ ش لایجری الماء الابہ ای بالزبل لکونہ یسد خروق القساطل لا ینفذ الماء منھا ویبقی جاریا فوقہ اھ شرح ھدیۃ ابن العماد قلت وھی لغۃ مستحدثۃ منہ غفرلہ۔ (م)
ہمارے ممالك میں چوپایوں کا گوبر وغیرہ پانی کی گزرگاہ میں ڈال دیتے ہیں تاکہ ان نالیوں کے سوراخ بند ہوجائیں اس خلل کو قساطل کہتے ہیں اھ ش تو پانی اس گوبر کے ساتھ ہی جاری ہوگا کیونکہ یہ ان سوراخوں کو بند کرتا ہے جن سے پانی جاری ہوتا ہے تو پانی ان کے اندر سے نہیں نکلتا ہے بلکہ اوپر سے بہتا ہے اھ شرح ہدیہ ابن العماد میں کہتا ہوں یہ جدید لغت ہے۔ (ت)
#12451 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
فاذا رکد الزبل فی وسط القساطل وجری الماء صافیا کان نظیر مالو جری ماء الثلج علی النجاسۃ اوکان بطن النھر نجسا وجری الماء علیہ ولم یتغیر احد اوصافہ بالنجاسۃ فان ذلك الماء طاھر کلہ کذلك ھذا فاذا وصل الماء الی الحیاض فی البیوت فان وصل متغیر احد اوصاف بالزبل اوعین الزبل ظاھرۃ فیہ فھو نجس من غیر شك فاذا استقر فی حوض دون القدر الکثیر فھو نجس وان صفا بعد ذلك فی الحوض و زال تغیرہ بنفسہ لانہ ماء نجس والماء النجس لایطھر بزوال تغیرہ بنفسہ لاسیما وقد رکد الزبل فی اسفلہ وان استقر فی حوض کبیر فھو نجس ایضا مادام متغیرا او زال تغیرہ بنفسہ ایضا واما اذا استمر الماء جاریا وزوال تغیر الحوض بالماء الصافی یطھر الماء کلہ سواء کان الحوض صغیرا اوکبیرا وان کان الزبل فی اسفلہ راکدا مادام الماء الصافی فی ذلك الحوض یدخل من مکان ویخرج من مکان فاذا انقطع الجریان وکان الحوض صغیرا والزبل فی اسفلہ راکدا فالحوض نجس اھ۔
کے ساتھ قساطل میں جاری ہوا تو پانی ناپاك ہوجائیگا تو اگر گوبر قساطل کے درمیان جم گیا اور صاف پانی بہنے لگا تو یہ ایسا ہے جیسا کہ برف کا پانی نجاست پر بہنے لگے یا نہر کا پیٹ ناپاك ہو اور اس پر پانی جاری ہو اور نجاست سے اس کے اوصاف میں سے کوئی وصف متغیر نہ ہوا تو یہ پورا پانی پاك ہے اب پانی جب گھروں کے حوضوں میں پہنچے تو اگر پانی کا کوئی وصف متغیر ہو کر پہنچا ہے یا پانی میں بعینہ گوبر ظاہر ہے تو وہ بلاشبہ ناپاك ہے اور اگر کثیر مقدار میں نہ ہو اور حوض میں ٹھہر جائے تو وہ ناپاك ہے اگرچہ اس کے بعد حوض میں صاف ہوجائے اور اس کا تغیر خود بخود زائل ہوجائے کیونکہ وہ ناپاك پانی ہے اور ناپاك پانی تغیر کے ازخود زائل ہونے کی وجہ سے پاك نہیں ہوتا ہے خاص طور پر ایسی صورت میں جبکہ گندگی اس کے نیچے جمی ہوئی ہے اور اگر گندگی بڑے حوض میں جم جائے تو جب تك متغیر رہے گا ناپاك رہے گا یا اس کا تغیر خود بخود ختم ہوجائے اور اگر پانی مسلسل جاری رہے اور حوض کا تغیر صاف پانی کی وجہ سے ختم ہوجائے اس صورت میں کل پانی پاك ہوجائیگا خواہ حوض چھوٹا ہو یا بڑا اگرچہ
حوالہ / References منحۃ الخالق علی حاشیۃ بحرالرائق بحث الماء الجاری ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۵
#12452 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
اقول : کلام طیب من طیب طیب الله تعالی ثراہ وقد اقرہ الشامی وغرضنا یتعلق ھھنا بجملتہ الاخیرۃ غیر ان قولہ وجری مع الماء فالماء نجس یحمل علی ما اذا تغیر فان(۱)المحقق المعتمد ان الجاری لاینجس مالم یتغیر حتی موضع المرئیۃ وکذا الکثیر الملحق بہ علی المعتمد رجحہ المحقق علی الاطلاق وقال تلمیذہ قاسم انہ المختار درواستحسنہ تلمیذہ الاخر ابن امیر الحاج وایدہ بالحدیث وکذا ایدہ سیدی عبدالغنی وھو ظاھر المتون ش وفی الدر عن جامع الرموز عن جامع المضمرات عن النصاب علیہ الفتوی وفی ش عن البحر عن الحلیۃ عن النصاب بہ یفتی فاذا کان ھو الثابت بالحدیث وھو ظاھر المتون وعلیہ الفتوی فقد سقط ماسواہ ثم قولہ رحمہ الله تعالی الماء النجس لایطھر بزوال تغیرہ بنفسہ۔ فاقول ھذا کما ذکرہ فی غیر الجاری لقول الخلاصۃ ماء نجس(۲)یجعلونہ فی نھر کبیر ان کان کثیرا بحیث لایتغیر لایتنجس وان تغیر تنجس ویطھر
گندگی اس کی تہ میں جمی ہوئی ہو بشرطیکہ صاف پانی اس میں ایك جانب سے داخل ہوتا ہو اور دوسری جانب سے خارج ہوتا ہو تو جب پانی کا جاری ہونا بند ہوجائے اور حوض چھوٹا ہو اور گندگی اس کی تہ میں جمی ہوئی ہو تو حوض ناپاك ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں یہ بہت اچھا کلام ہے اس کو شامی نے برقرار رکھا ہے اور یہاں ہماری غرض آخری جملہ سے متعلق ہے البتہ اتنی بات ہے کہ اس کا قول “ وجری مع الماء فالماء نجس “ اس کو اس پر محمول کیا جائیگا جبکہ پانی میں تغیر آجائے کیونکہ محقق معتمد قول یہ ہے کہ جاری پانی اس وقت تك نجس نہ ہوگا جب تك کہ اس میں تغیر نہ آجائے یہاں تك کہ نجاست مرئیہ کی جگہ بھی اور اسی طرح کثیر بھی قول معتمد پر اسی کے ساتھ ملحق ہے اس کو محقق علی الاطلاق نے ترجیح دی اور ان کے شاگرد قاسم نے کہا کہ یہی مختار ہے(در)اور اس کو ان کے دوسرے شاگرد ابن امیر الحاج نے مستحسن قرار دیا اور اس کی تائید حدیث سے کی اور اس کی تائید سیدی عبدالغنی نے بھی کی اور متون سے بھی یہی ظاہر ہے “ ش “ اور در میں جامع الرموز سے جامع المضمرات سے نصاب سے یہ ہے کہ اسی پرفتوی ہے اور شامی میں بحر سے حلیہ سے نصاب سے ہے بہ یفتی پھر جب حدیث سے یہی ثابت اور متون سے بھی یہی ظاہر اور فتوی بھی اسی پر ہے تو اس کے ہوتے ہوئے باقی سب ناقابل اعتبار ہے۔ پھر ان کا قول “ نجس پانی اس کے تغیر کے از خود زائل ہونے کی وجہ سے پاك نہ ہوگا “ میں کہتا ہوں یہ اس پانی میں ہے جو جاری نہ ہو کیونکہ خلاصہ میں ہے کہ ایك نجس پانی کو اگر بڑی نہر میں کرلیں تو اگر وہ کثیر ہے اور متغیر نہیں ہوتا ہے تو ناپاك
#12453 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
بساعۃ یعنی اذا انقطع اللون والرائحۃ اھ۔
زاد فی نسخۃ مانصہ فی نسخۃ القاضی الامام سلمہ الله تعالی اھ۔ ای ھذا مذکور فی نسختہ والمراد بہ الامام فقیہ النفس ولم ارہ فی فتاواہ والله تعالی اعلم ولقول سیدی نفسہ اذا رکدا لزبل فی وسط القساطل وجری الماء صافیا طھر و فی ردالمحتار فی دیارنا انھار المساقط تجری بالنجاسات وترسب فیھا لکنھا فی النھار تتغیر ولا کلام فی نجاستھا ح وفی اللیل یزول تغیرھا فیجری فیھا الخلاف لجریان الماء فیھا فوق النجاسۃ قال فی خزانۃ الفتاوی(۱)لوکان جمیع بطن النھر نجسا فانکان الماء کثیرا لایری ماتحتہ فھو طاھر والافلا وفی الملتقط قال بعض المشائخ الماء طاھر وان قل اذا کان جاریا اھ۔
اقول : مافی الملتقط مبتن علی الصحیح المفتی بہ وما فی الخزانۃ علی القول الاخر الدائر فی کثیر من الکتب الجاری ان جری نصفہ اواکثر علی نجاسۃ مرئیۃ تنجس وھی المرادۃ فی الخزانۃ
نہ ہوگا اور اگر متغیر ہوگیا تو ناپاك ہوجائے گا اور فورا ہی پاك ہوجائے گا یعنی جونہی رنگ اور بو ختم ہوگی اھ۔
زائد کیا ایك نسخہ میں اصل عبارت یہ ہے “ قاضی امام سلمہ اللہ تعالی کے نسخہ میں اھ “ یعنی یہ ان کے نسخہ میں مذکور ہے اور اس سے jمراد امام فقیہ النفس ہیں اور یہ چیز ان کے فتاوی میں نہیں دیکھی ہے والله تعالی اعلم اور سیدی عبدالغنی خود فرماتے ہیں کہ جب گندگی قساطل کے درمیان جم جائے اور پانی صاف جاری ہو تو پاك ہوجائیگا اور ردالمحتار میں ہے کہ ہمارے ملك میں گندگی گرنے کی جگہوں پر جو نہریں ہوتی ہیں ان میں نجاست جاری رہتی ہے اور پھر بہتی جاتی ہے اور یہ نجاست دن میں متغیر ہوجاتی ہے اور اس وقت ان کی نجاست میں کوئی کلام نہیں اور رات کو ان کا تغیر زائل ہوجاتا ہے تو اس میں اختلاف ہے کیونکہ اس میں پانی نجاست کے اوپر جاری رہتا ہے خزانۃ الفتاوی میں فرمایا “ اگر نہر کا کل پیٹ ناپاك ہو تو اگر پانی کثیر ہے کہ اس کی تہہ نظر نہ آتی ہو تو وہ پاك ہے ورنہ نہیں اور ملتقط میں ہے کہ بعض مشائخ نے فرمایا پانی پاك ہے اگرچہ کم ہو جبکہ جاری ہو اھ(ت)
میں کہتا ہوں جو کچھ ملتقط میں ہے وہ صحیح مفتی بہ پر مبنی ہے اور جو خزانہ میں ہے وہ دوسرے قول پر مبنی ہے جو بہت سی کتابوں میں مذکور ہے کہ جاری پانی اگر اس کا نصف یا زائد کسی نجاست مرئیہ پر جاری ہو تو ناپاك ہوجائے گا اور یہی
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوی جنس آخر فی التوضی الخ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۸
#12454 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
لقول الھندیۃ عن المحیط اذا کانت الجیفۃ تری من تحت الماء لقلۃ الماء لالصفائہ کان الذی یلاقیھا اکثر اذا کان سدعرض الساقیۃ وان کانت لاتری اولم تاخذ الا الاقل من النصف لم یکن الذی یلاقیھا اکثر اھ
وایاك ان تظن ان کلام الخزانۃ علی ظاھر اطلاقہ ولو تنجس بطن النھر بغیر مرئیۃ توھما ان بطن النھر اذا کان نجسا وھو یری فقدمر الماء کلہ علی نجاسۃ مرئیۃ وان کان لایری لکثرۃ الماء لالکدرتہ فانما جری علی غیر مرئیۃ فلا یتأثر بالتغیر وذلك لان العبرۃ بالنجس لاالمتنجس کما بیناہ فی فتاونا لکن لقائل ان یقول ان العلۃ فی غیر المرئیۃ انہ اذالم یظھر اثرھا علم ان الماء ذھب بعینھا کما فی البحر وغیرہ اما ھھنا فبطن النھر کلہ نجس فالماء اینما ذھب لایلاقی الا نجسا تأمل ولا حاجۃ فان الفتوی علی اعتبار الاثر مطلقا فی الجاری والکثیر(۱)معانعم ظاھر کلام سیدی وتقریر الشامی ھھنا ان الکثیر الملحق بالجاری لایلحق بہ فی التطھیر بزوال التغیر لقولہ وان استقر فی حوض کبیر فھو نجس وان زال تغیرہ بنفسہ
خزانہ میں مراد ہے اس لئے کہ ہندیہ میں محیط سے ہے کہ جب مردار پانی کے نیچے نظر آئے اس کی کمی کے باعث نہ کہ پانی کی صفائی کے باعث تو جو اس مردار سے متصل ہو جائے وہ زیادہ ہوگا جبکہ نہر کی چوڑائی کو بند کردے اور اگر مردار نظر نہ آئے یا آدھے سے کم راستے کو بند کرے تو جو اس سے ملاقات کرتا ہے وہ پانی اکثر نہیں ہوگا اھ اور خزانہ کے کلام کو اس کے ظاہر پر محمول نہ کرنا چاہئے اور اگر نہر کی تہ نجاست غیر مرئیہ سے ناپاك ہوگئی اس تو ہم پر کہ نہر کی تہہ جس وقت ناپاك ہو اور وہ نظر آتی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کل پانی نجاست مرئیہ پر جاری ہوگیا اگرچہ وہ نظر نہ آتی ہو پانی کی کثرت کے باعث نہ کہ اس کے گدلے پن کے باعث کیونکہ وہ پانی نجاست غیر مرئیہ پر جاری ہوا ہے تو وہ تغیر سے متاثر نہ ہوگا کیونکہ اعتبار نجاست کا ہوگا نہ کہ ناپاك ہونے والی شے کا جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا لیکن کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ علۃغیر مرئیہ میں یہ ہے کہ جب اس کا اثر ظاہر نہ ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نجاست کو پانی بہا لے گیا ہے جیسا کہ بحر وغیرہا میں ہے اور یہاں نہر کا پیٹ تمام کا تمام ناپاك ہے تو پانی جہاں بھی جائیگا نجس سے ملاقات کرے گا تأمل اور کوئی ضرورت بھی نہیں کیونکہ جاری اور کثیر پانی میں فتوی مطلقا اثر کے اعتبار پر ہے ہاں سیدی عبدالغنی
حوالہ / References ہندیۃ الفصل الاول فیما یجوز نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۷
#12455 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
فلیحرر ولینظر وجہہ فان الذی فی المنیۃ من فصل الحیاض فی مسألۃ حوض الحمام مانصہ الا تری ان الحوض الکبیر الحق بالماء الجاری علی کل حال لاجل الضرورۃ قال فی الحلیۃ الجملۃ من الذخیرۃ اھ والله تعالی اعلم۔
اور شامی کی تقریر کا ظاہر یہ ہے کہ یہاں کثیر جو جاری کے ساتھ ملحق ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاك ہونے میں اس کے ساتھ ملحق نہیں کیا جائیگا پاك ہونے میں تغیر کے ختم ہوجانے کے باعث کیونکہ وہ فرماتے ہیں اور اگر وہ بڑے حوض میں ٹھہر جائے تو ناپاك ہے اگرچہ اس کا تغیر از خود زائل ہوجائے اس کو اچھی طرح سمجھنا چاہئے اور اس کی وجہ پر غور کرنا چاہئے کیونکہ منیہ میں حوضوں کی فصل میں حمام کے حوض کے بیان میں ہے اس کی اصل عبارت یہ ہے “ کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ بڑا حوض جاری پانی سے ملحق ہے اور یہ علی کل حال ہے اور اس کی وجہ ضرورت ہے حلیہ میں فرمایا یہ تمام ذخیرہ سے ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
اصل ۷ : فتوی۱ اس پر ہے کہ پانی کا عرض میں پھیلنا اس کے جریان کو نہیں روکتا جبکہ پانی آگے نکل جاتا ہو مثلا نہ۹ در نہ۹ حوض ہے اس میں پانی ایك طرف سے آیا دوسری طرف سے نکل گیا جاری ہوگیا اگرچہ عرض میں نو ہاتھ پھیلنے کے لئے ضرور وقفہ درکار ہوگا اور اتنی جلد پانی اس سے نہ نکل سکے گا جس قدر جلد تین چار ہاتھ کے عرض سے نکل جاتا ہندیہ میں ہے :
اذا کان الحوض صغیرا یدخل فیہ الماء من جانب ویخرج من جانب یجوز الوضوء من جمیع جوانبہ وعلیہ الفتوی من غیر تفصیل بین ان یکون اربعا فی اربع اواقل فیجوز اواکثر فلا یجوز کذا فی شرح الوقایۃ وھکذا فی الزاھدی ومعراج الدرایۃ ۔
جب حوض چھوٹا ہو اور اس میں پانی ایك طرف سے دوسری طرف سے نکل جاتا ہو تو اس کے تمام اطراف سے وضو جائز ہے اور اسی پر فتوی ہے اس میں یہ تفصیل بھی نہیں کہ وہ چار در چار ہو یا کم ہو تو جائز ہوگا اور اگر زائد ہو تو جائز نہ ہوگا کذا فی الشرح الوقایہ والزاہدی ومعراج الدرایہ۔ (ت)
بحر میں ہے :
فی معراج الدرایۃ یفتی بالجواز مطلقا
معراج الدرایہ میں ہے جواز کا مطلقا فتوی دیا جائیگا
حوالہ / References منیۃ المصلی فصل فی الحیاض مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۷۳
حلیۃ
ہندیۃ الفصل الاول فیما یجوز نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۷
#12456 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
واعتمدہ فی فتاوی قاضی خان ۔
اور قاضی خان میں اسی پر اعتماد کیا ہے۔ (ت)
فتاوی ذخیرۃ وتتمۃ الفتاوی الصغری پھر حلیہ میں ہے :
علیہ الفتوی لان ھذا ماء جار ۔
اسی پر فتوی ہے کیونکہ یہ جاری پانی ہے۔ (ت)
بلالکہ پانی کا گھومنا ایک(۱)دائرہ پر چکر کھانا جس طرح بھنور میں ہوتا ہے یہ بھی مانع جریان نہیں کہ بھنور پانی کو روك نہیں رکھتا چکر دے کر نکال دیتا ہے اوپر سے دوسرا پانی آتا اب اسے گھما کر چھوڑ دیتا ہے یہ سلسلہ قائم رہنے کے باعث گمان ہوتا ہے کہ ایك ہی پانی گھوم رہا ہے یہ بات غیر آب کے ڈالنے سے متمیز ہوسکتی ہے مثلا اوپر سے لکڑی ڈالی جائے بھنور پر پہنچ کر چکر کھا کر اس طرف نکل جائے گی اور اگر بھنور قوی ہوا اسے گھمانے میں دبا کر دو۲ ٹکڑے کر دے گا اور چکر دے کر نکال دے گا فسبحن من خلق ماشاء کیف شاء ولا یجری فی ملکہ الا مایشاء(پاك وہ ذات جس نے پیدا کیا جو چاہا جیسے چاہا اور نہیں چلتی کوئی شے اس کے ملك میں مگر جسے وہ چاہے۔ (ت)منیہ مسئلہ حوض چار درچار میں ہے :
الظاھر ان الماء لایستقر فی مثلہ بل یدور حولہ ثم یخرج فیکون کالجاری ۔
ظاہر یہ ہے کہ پانی ایسی جگہ میں نہیں ٹھہرتا ب لکہ اس کے اردگرد چکر کھاتا ہے پھر نکل جاتا ہے تو یہ جاری پانی کی طرح ہے۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
کذا فی الذخیرۃ وتتمۃ الفتاوی الصغری حکایۃ عن الشیخ الامام ابی الحسن الرستغفنی ۔
جیسے ذخیرۃ اور تتمۃ الفتاوی الصغری میں شیخ الامام ابی الحسن الرستغفنی سے حکایت ہے(ت)
اصل ۸ : حوض وغیرہ کے جریان میں اگرچہ خروج لازم تھا مگر ملحق بالجاری یعنی دہ دردہ میں اس کی حاجت نہیں گرمیوں۲ کے خشك تالاب میں جانوروں کے گوبر وغیرہ نجاستیں پڑی ہیں برسات میں پانی آیا اور اسے بھر دیا اگر تالاب کے جوف میں جہاں سے پانی نے گزر کر اسے بھرا نجاست ہے جب تو سارا تالاب نجس ہوگیا اگرچہ کتنا ہی بڑا ہو جب تك بھر کر ابل نہ جائے۔
حوالہ / References بحرالرائق عشر فی عشر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۸
حلیہ
منیۃ المصلی فصل فی الحیض مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۷۲
حلیہ
#12457 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
اقول اس لئے کہ جب بارش یا بہاؤ کا پانی اس کے جوف میں داخل ہوا اب جب تك کہ اس کے بطن میں متحرك رہے گا جاری نہ کہلائے گا کہ جریان کے لئے خروج شرط ہے اور یہ غیر جاری پانی نجاست سے اس وقت ملا کہ ہنوز دہ در دہ نہ تھا کہ جوف میں اس کے مدخل ہی پر نجاستیں تھیں تو نہ جاری ہے نہ کثیر لاجرم ناپاك ہوگیا یوں ہی جتنا پانی آتا گیا ناپاك ہوتا گیا اور نجس پانی کثیر ہوجانے سے پاك نہیں ہوسکتا جب تك جاری نہ ہوجائے اور اگر مدخل آب میں اتنی دور تك نجاست نہیں کہ وہاں تك آنے والے پانی کے عرض طول کا مسطح سو ہاتھ تك پہنچ گیا اس کے بعد نجاست سے ملا تو اب ناپاك نہ ہوگاکہ کثیر ہو کر ملا اگرچہ جوف سے باہر نہ گیا۔
اقول : وبما قررنا ظھران المسألۃ مبتنیۃ علی الاصل الثالث لاعلی خلافیۃ مرور نصف الماء اواکثرہ علی نجاسۃ مرئیۃ فان الفتوی فیھا علی الطھارۃ مطلقا مالم یتغیر نعم ان(۱)لقی الماء النجاسات فی طریقہ علی شاطیئ الغدیر قبل ان یدخلہ کان علی الخلافیۃ لانہ جار بخلاف المتحرك فی بطن الغدیر کما علمت۔
اقول : اور جو تقریر ہم نے کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ تیسری اصل پر مبنی ہے اس اختلافی مسئلہ پر مبنی نہیں ہے کہ آدھا پانی یا اکثر نجاست مرئیہ پر گزرے کیونکہ اس میں فتوی مطلقا طہارت پر ہے تاوقتیکہ تغیر نہ ہو ہاں اگر پانی ملے اپنے راستہ میں ان نجاستوں کے ساتھ جو گڑھے کے کنارے پر ہے قبل اس کے کہ وہ گڑھے میں داخل ہو تو یہ اختلافی مسئلہ ہوگا کیونکہ وہ جاری ہے بخلاف اس پانی کے جو تالاب کی تہ میں حرکت کر رہا ہو جیسا کہ تو نے جانا۔ (ت)
فتاوی خانیہ وخزانۃ المفتین اور محیط پھر حلیہ نیز خلاصہ وفتح القدیر میں فتاوی اور بحر وہندیہ میں فتح اور غیاثیہ نیز ذخیرہ پھر حلیہ میں فتاواے اہل سمر قند سے ہے :
واللفظ لفقیہ النفس غدیر عظیم یلبس فی الصیف وراثت الدواب فیہ(زاد فی الخلاصۃ والفتح والذخیرۃ والناس)ثم دخل فیہ الماء وامتلأ ینظر ان کانت النجاسۃ فی موضع دخول الماء فالکل نجس وان انجمد ذلك الماء کان نجسا لان کل مادخل فیہ صار نجسا فلا
اور الفاظ فقیہ النفس کے ہیں ایك عظیم تالاب جو گرمی میں خشك ہوگیا اور اس میں چوپایوں نے لید کر دی(خلاصہ اور فتح میں اور ذخیرہ میں لوگوں کا بھی اضافہ ہے)پھر اس میں پانی داخل ہوگیا اور وہ گڑھا بھر گیا تو دیکھا جائے گا اگر نجاست پانی کے داخل ہونے کی جگہ پر ہے تو کل پانی نجس ہے اور اگر یہ پانی منجمد ہوگیا تو نجس ہوجائیگا کیونکہ اس
#12458 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
یطھر بعد ذلك وان لم تکن النجاسۃ فی موضع دخول الماء واجتمع الماء فی مکان طاھر وھو عشر فی عشرثم تعدی الی موضع النجاسۃ کان الماء طاھرا والمنجمد منہ طاھر مالم یظھر فیہ اثر النجاسۃ(قال فی الذخیرۃ لان الماء صار کثیرا قبل ان یتنجس فلا یتنجس بعد ذلك لاتصال النجاسۃ بہ اھ زاد فی الخانیۃ)(۱)وکذا الغدیر اذا قل ماؤہ فصارا ربعا فی اربع ووقعت نجاسۃ ثم دخل الماء الی ان صار الماء الجدید عشرا فی عشر قبل ان یصل الی النجس کان طاھرا ۔
میں جو بھی داخل ہوگا وہ نجس ہوجائیگا اور اس کے بعد پاك نہ ہوگا اور اگر نجاست پانی کے داخل ہونے کی جگہ نہ ہو اور پانی پاکیزہ جگہ پر جمع ہوجائے اور وہ دہ در دہ ہو پھر پانی نجاست کی جگہ چلا گیا تو پانی پاك ہوگا اور جو منجمد ہوگیا وہ اس وقت تك پاك رہے گا جب تك نجاست کا اثر اس پر ظاہر نہ ہو(ذخیرہ میں فرمایا اس لئے کہ پانی نجس ہونے سے پہلے کثیر ہوگیا تو اس کے بعد نجس نہ ہوگا نجاست کے پانی کے ساتھ مل جانے کی وجہ سے اھ ۔ خانیہ میں اضافہ کیا)اور اسی طرح تالاب کا پانی جب کم ہوجائے اور چار در چار ہوجائے اور اس میں نجاست داخل ہوجائے پھر اس میں نیا پانی آجائے یہاں تك کہ نجاست کو پہنچنے سے قبل دہ در دہ ہوجائے تو پاك ہوجائے گا۔ (ت)
ایسا عـــہ ہی جواہر اخلاطی میں ہے۔
اصل ۹ : اقول : وبالله التوفیق ایك فائدہ نفیسہ ہے کہ شاید اس کی تحریر فقیر کے سوا دوسری جگہ نہ ملے اثر نجاست قبول نہ کرنے کو پانی کا جریان چاہئے سیلان کافی نہیں سائل وجاری میں عموم وخصوص مطلق ہے ہر جاری سائل ہے اور ہر سائل جاری نہیں دیکھو بطن حوض میں جو پانی نل سے داخل ہوا اور دوسرے کنارے تك پہنچا اس وقت ضرور سائل ہے مگر جاری نہ ٹھہرا جب تك دوسری طرف سے نکل نہ جائے اور اس پر دلیل
عـــہ ونصھا حوض عشر فی عشر قل ماؤہ ثم وقعت النجاسۃ ثم دخل الماء حتی امتلأ الحوض ولم یخرج منہ شیئ لایجوز التوضی بہ لانہ کلما دخل الماء یتنجس اھ منہ غفرلہ(م)
اس کی عبارت یہ ہے کہ ایك حوض دہ در دہ ہو اس کا پانی کم ہوجائے پھر اس میں نجاست پڑ جائے پھر حوض بھر جائے اوراس سے کچھ نہ نکلے تو اس سے وضو جائز نہیں اس لئے کہ جو پانی بھی داخل ہوگا وہ ناپاك ہوجائیگا اھ(ت)
حوالہ / References فتاوی قاضی خان فصل الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴ والمزید من الذخیرۃ وھی لیست بموجودہ
#12459 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
قاطع آب وضو ہے کہ ضرور اعضائے وضو پر سائل ہے فانہ غسل ولا غسل الا بالاسالۃ(پس بیشك وضو دھونا ہے اور دھونا بغیر اسالۃ کے ممکن نہیں ہے۔ ت)مگر جاری نہیں ورنہ مستعمل نہ ہوتا کہ آب جاری استعمال تو استعمال نجاست سے متاثر نہیں ہوتا جب تك متغیر نہ ہو یونہی بدن یا کپڑے کی ناپاکی جس پانی سے دھوئی اس نے بدن یا ثوب پر سیلان ضرور کیا ورنہ استخراج نجاست نہ کرتا مگر جاری نہیں ورنہ ناپاك نہ ہوجاتا حالانکہ تین بار(۱)دھونے میں امام کے نزدیك تینوں پانی ناپاك ہیں اور صاحبین کے نزدیك دو ناپاك ہیں تیسرا جب بدن یا کپڑے سے جدا ہوجائے پاك ہے تنویر میں ہے :
ماء ورد علی نجس نجس کعکسہ ۔
پانی جو وارد ہوا نجس پر نجس ہے جیسا کہ اس کا عکس ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
الورود یشمل مااذا جری علیھا وھی علی ارض اوسطح وما اذا صب فوقھا فی انیۃ بدون جریان ۔
ورود کا لفظ اس صورت کو بھی شامل ہے جب پانی نجاست پر بہے اور وہ زمین یا سطح پر ہو اور اس صورت کو بھی شامل ہے کہ جب پانی نجاست کے اوپر بہایا جائے کسی برتن میں اور اس میں جریان نہ ہو۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
القیاس یقتضی تنجس الماء باول الملاقاۃ للنجاسۃ لکن سقط للضرورۃ سواء کان الثوب فی اجانۃ و اورد الماء علیہ اوبالعکس عندنا فھو(۲)طاھر فی المحل نجس اذا انفصل سواء تغیرا ولا وھذا فی الماءین اتفاقا اما الثالث فھو نجس عندہ لان طہارتہ فی المحل ضرورۃ تطہیرہ وقد زالت طاھر عندھما اذا انفصل(۳)والاولی فی غسل الثوب النجس وضعہ فی الاجانۃ
قیاس یہ چاہتا ہے کہ پانی پہلی ہی ملاقاۃ میں ناپاك ہوجاتا ہے نجاست کی وجہ سے لیکن ضرورت کی وجہ سے قیاس ساقط ہوگیا خواہ کپڑا ٹب میں ہو اور اس پر پانی وارد ہو یا بالعکس ہو یہ ہمارے نزدیك ہے تو یہ اپنے محل میں طاہر ہے اور جب جدا ہوگا تو نجس ہوگا خواہ متغیر ہو یا نہ ہو یہ دو پانیوں میں اتفاقا ہے اور تیسرا تو وہ ان کے نزدیك نجس ہے کیونکہ اس کی طہارت محل میں ضرورت کی وجہ سے ہے اور یہ ضرورت محل کی طہارت کی ہے اور وہ ضرورت
حوالہ / References الدرالمختار فصل الانجاس مجتبائی دہلی ۱ / ۵۵
ردالمحتار فصل الانجاس مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۳۸
#12460 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
من غیرماء ثم صب الماء علیہ لاوضع الماء اولا خروجا من خلاف الامام الشافعی فانہ یقول بنجاسۃ الماء ۔
زائل ہوگئی صاحبین کے نزدیك جدا ہوتے ہی پاك ہوجائیگا نجس کپڑے کو دھونے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس کو خشك ٹب میں رکھا جائے پھر اس پر پانی بہایا جائے یہ نہیں کہ پہلے ٹب میں پانی موجود ہو امام شافعی کے اختلاف سے بچنے کیلئے اس میں امام شافعی کا قول ہے کہ پانی نجس ہوجائیگا۔ (ت)
ردالمحتار میں اس کے بعد فرمایا :
(۱)ولا فرق علی المعتمد بین الثوب المتنجس والعضو اھ۔ یشیر الی خلاف ابی یوسف لاشتراط الصب فی العضو کما فی البدائع۔
اقول وظاھر التعلیل بضرورۃ تطھیر الثوب انہ طاھر فی حق ذلك الثوب(۲)لاغیر فلو وضع الثوب النجس فی اجانۃ وصب الماء فوقع فیہ ثوب اخر طاھر یتنجس وان لم ینفصل الماء عن الثوب الاول بعد لان ماکان بضرورۃ تقدر بقدرھا فمن کان یصلی و وقع طرف ردائہ فی الاجانۃ فاصابہ اکثر من الدرھم وھو یتحرك بتحرکہ لم تجز صلاتہ ھذا ماظھر فلیحرر والله تعالی اعلم۔
معتمد قول کے مطابق ناپاك کپڑے اور عضو کے درمیان کوئی فرق نہیں اھ ط اھ اس میں ابو یوسف کے اختلاف کی طرف اشارہ ہے وہ عضو پر پانی بہانے کو شرط قرار دیتے ہیں جیسا کہ بدائع میں ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اور بظاہر تعلیل یہ ہے کہ یہ کپڑا ضرورۃ پاك ہے تو یہ پاکی اسی کپڑے تك محدود رہے گی لہذا اگر ایك ناپاك کپڑا طشت میں رکھا گیا اور اس پر پانی بہایا گیا پھر اسی طشت میں کوئی اور پاك کپڑا گر گیا تو وہ ناپاك ہوجائے گا اگرچہ اب تك پہلے کپڑے سے پانی جدا نہ ہوا ہو کیونکہ جو چیز بوجہ ضرورت ہوتی ہے وہ بقدر ضرورت ہی رہتی ہے اب اگر کوئی شخص نماز پڑھا رہا ہے اور اس کے کپڑے کا کنارہ ٹب میں گر گیا تو اگر درہم سے زائد ہو اور وہ کپڑے کے ہلنے سے حرکت کرے تو اس کی نماز جائز نہ ہوگی یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا اس کو اچھی طرح سمجھ لیں والله تعالی اعلم۔ (ت)
اس نفیس فائدہ سے اصل ۳ پر یہ تو ہم زائل ہوگیا کہ پانی تالاب کے اس کنارے سے اس کنارے تک
حوالہ / References ردالمحتار باب الانجاس مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۳۹
ردالمحتار باب الانجاس مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۳۹
#12461 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
بہتا پہنچا پھر جاری کیوں نہ ہوا یہ سیلان ہے جریان نہیں اور وہ فرق کھل گیا جو اصل ۸ میں ہم نے ذکر کیا کہ تالاب کے اندر مدخل آب کے قریب نجاست ہے اور پانی اس پر ہو کر گزرا ناپاك ہوگیا کہ وہ سائل ہے جاری نہیں اور تالاب کے باہر زمین پر کنارے کے قریب نجاست ہے اور پانی اس پر گزرتا تالاب میں داخل ہوا تو ناپاك نہ ہوا جب تك وصف نہ بدلے کہ وہ جاری ہے اور اس کی نظیر وہ مسئلہ ہے کہ جوف زخم کے اندر خون کا سیلان معتبر نہیں جوف سے باہر بہے تو ناقض وضو ہے فافہم یہی مبنی ہے اس مسئلہ(۱)کا کہ استنجاء کرنے کو لوٹے سے پانی کی دھار ڈالی ہاتھ تك پہنچنے سے پہلے اس دھار پر پیشاب کی چھینٹ پڑ گئی دھار ناپاك نہ ہوگی کہ جاری ہے اور یہی دھار استنجا کرنے سے ناپاك ہوجائے گی کہ بدن پر جاری نہیں ردالمحتار میں ہے :
قال فی الضیاء ذکر فی الواقعات الحسامیۃ لواخذ الاناء فصب الماء علی یدہ للاستنجاء فوصلت قطرۃ بول الی الماء النازل قبل ان یصل الی یدہ قال بعض المشائخ لاینجس لانہ جار قال حسام الدین ھذا القول لیس بشیئ والا لزم ان تکون غسالۃ الاستنجاء غیر نجسۃ قال فی المضمرات وفیہ نظر والفرق ان الماء علی کف المستنجی لیس بجار والنازل من الماء قبل وصولہ الی الکف جار ولا یظھر فیہ اثر القطرۃ فالقیاس ان لایصیر نجسا وما قالہ حسام الدین احتیاط اھ ویؤید عدم التنجس ما ذکرنا من الفروع والله تعالی اعلم اھ
اقول : وقد جزم بہ فی الخلاصۃ عازیا للفتاوی وفی البزازیۃ ولم یحکوا
ضیاء میں کہا “ واقعات حسامیہ میں ہے کہ اگر برتن سے استنجاء کرنے کیلئے اپنے ہاتھ پر پانی ڈالا اور پیشاب کا کوئی قطرہ اس پانی تك کسی طرح پہنچ گیا جو اوپر سے آرہا ہے اور ابھی تك عضو تك نہیں پہنچا تھا تو بعض مشائخ فرماتے ہیں ناپاك نہ ہوگا کیونکہ یہ جاری پانی ہے حسام الدین نے فرمایا اس قول کی کوئی حیثیت نہیں ورنہ تو لازم کہ استنجاء کا دھوون ناپاك نہ ہو۔ مضمرات میں فرمایا اس میں نظر ہے اور فرق یہ ہے استنجاء کرنے والے کے ہاتھ میں جو پانی ہے وہ جاری نہیں اور اوپر سے آنے والا پانی جو ہنوز ہاتھ تك نہیں پہنچا ہے جاری پانی ہے اس میں قطرہ کا اثر ظاہر نہ ہوگا تو قیاس یہی ہے کہ نجس نہ ہو اور حسام الدین نے جو فرمایا ہے وہ بطور احتیاط ہے اھ اور ناپاك نہ ہونے پر وہ فروع دلالت کرتی ہیں جو ہم نے ذکر کی ہیں والله تعالی اعلم اھ(ت)
میں کہتا ہوں اس پر خلاصہ میں جزم کیا اور اس کو فتاوی کی طرف منسوب کیا اور بزازیہ میں کسی اختلاف کا
حوالہ / References ردالمحتار باب الانجاس مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۳۹
#12462 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
خلافاہ نصھا فی مایتصل بالماء الجاری فی الفتاوی رجل استنجی فلما صب الماء من القمقمۃ علی یدہ لاقی الماء الذی یسیل من القمقمۃ البول قبل ان یقع علی یدہ بعض ماخرج فھو طاھر اھ قال ش بخلاف مسألۃ الجیفۃ فان الماء الجاری علیھا لم یذھب بالنجاسۃ ولم یستھلکھا بل ھی باقیۃ فی محلھا وعینھا قائمۃ علی ان فیھا اختلافا ولھذا استدرك الشارح بقولہ ولکن قدمنا ان العبرۃ للاثر اھ کلام الشامی وقدمنا ان مااستدرك بہ الشارح ھو المفتی بہ المعتمد والله تعالی اعلم۔
ذکر نہیں کیا اور اس کی اصل عبارت جو جاری پانی سے متصل ہے فتاوی میں یہ ہے کہ ایك شخص نے استنجاء کیا تو جب اس نے ٹونٹی سے اپنے ہاتھ پر پانی ڈالا تو وہ پانی ہاتھ پر گرنے سے قبل پیشاب کے قطرہ سے مل گیا تو یہ پانی پاك ہے اھ “ ش “ نے فرمایا یہ مسئلہ مردار کے مسئلہ کے خلاف ہے کیونکہ جو پانی اس پر گرتا یا جاری ہوتا ہے وہ نجاست کو بہا کر نہیں لے جاتا ہے اور نہ ہی نجاست کو ختم کرتا ہے بلالکہ نجاست کا عین اپنی حالت پر ہی باقی رہتا ہے پھر اس میں اختلاف بھی ہے اس لئے شارح نے یہ کہہ کر استدراك کیا ہے ولکن قدمنا ان العبرۃ للاثر اھ شامی کا کلام ختم ہوا اور ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں کہ جو استدراك شارح نے کیا ہے وہی مفتی بہ اور معتمد ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
اصل ۱۰ : ہماری کتابو ں میں اتنا فرماتے ہیں کہ پانی نجاست پر وارد ہو یا نجاست پانی پر دونوں کا یکساں حکم ہے کما تقدم عن التنویر وذکر مثلہ الجم الغفیر وفی الغرر الوارد کالمورود(جیسا کہ تنویر سے گزرا اور اس کی مثل بہت سے لوگوں نے ذکر کیا ہے اور غرر میں ہے کہ وارد مورود کی طرح ہے۔ ت(
اقول : وبالله التوفیق یہاں ایك فرق ہے غامض ودقیق اور تحقیق انیق ہے قبول کی حقیق۔ نجاست(۱)حقیقیہ کے لئے ایك دفع ہے اور ایك رفع۔ دفع یہ کہ نجاست اثر نہ کرنے پائے اور رفع یہ کہ نجاست کا اثر موجود زائل ہوجائے دفع جاری وکثیر کے ساتھ خاص ہے اور رفع ہر مائع طاہر مزیل کیلئے اور ملاقات نجاست وآب کے ثمرے چار ہیں :
(۱)اعمال (۲)اہمال (۳)انتقال (۴)استیصال
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی وما تتصل بالماء الجاری نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۰
ردالمحتار باب الانجاس مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۳۹
#12463 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
اعمال یہ کہ نجاست اپنا عمل کرے۔
اہمال یہ کہ عمل نہ کرسکے۔
انتقال یہ کہ اس کا اثر جس شے پر تھا اس سے دوسری چیز کی طرف منتقل ہوجائے۔
استیصال یہ کہ نجاست سرے سے فنا ہوجائے۔
نجاست جب آب قلیل راکد یعنی غیر جاری پر وارد ہو تو صرف اعمال ہے یعنی اسے ناپاك کردے گی اور خود اس میں باقی رہے گی اور جب آب(۱)جاری یا کثیر پر وارد ہو تو محض اہمال ہے یعنی باقی تو اس میں رہے گی مگر اثر کچھ نہ کرسکے گی
وما ذکرنا من انتقالھا عند ائمۃ بلخ وبخاری وماوراء النھر فی الجواب الثالث فذاك انتقال فی الماء لا عن الماء۔
اور جو ہم نے تیسرے جواب میں ذکر کیاکہ یہ منتقل ہوجائیگی ائمہ بلخ یہ بخاری اور ماور ا لنہر کے نزدیك ہے تو یہ پانی میں منتقل ہونا ہے نہ کہ پانی سے۔ (ت)
اور جب آب راکد نجاست پر وارد ہو جیسے کپڑا یا بدن پاك کرنے میں تو یہاں انتقال ہے یعنی نجاست اس کپڑے یا بدن سے منتقل ہو کر اس پانی میں آجائے گی وہ پاك ہوجائے گا اور یہ ناپاک۔ اور جب آب(۲)جاری نجاست پر وارد ہو جیسے حوض وغیرہ کی صورتوں میں گزرا تو یہ صورت استیصال کی ہے یعنی وہ بھی پاك ہوگیا اور یہ پانی بھی پاك رہا نجاست کہیں باقی ہی نہ رہی ہاں جاری وکثیر اگر نجاست سے متغیر ہوجائیں تو دونوں صورتوں میں قلیل راکد کی طرح ہیں بالجملہ ورود آب بر نجاست ہیں اگر یہ پانی صرف رافع ہے تو نجاست اس شے سے دور کرکے اپنے اوپر لے لے گا کہ اس میں دفع کی قوت نہیں اور اگر دافع بھی ہے تو فنا کردے گا کہ اس ناپاك شدہ شے سے رفع کی اور اپنے اوپر سے دفع کی اس کیلئے کوئی محل ہی نہ رکھا اصل ۴ میں ظہیریہ کی عبارت گزری کہ حوض بھی پاك ہوگیا اور یہ پانی جو اس سے باہر نکل گیا اسے اٹھا کر کسی نے وضو کیا تو وضو ہوگیا ظاہر ہے کہ یہ اعمال ہوا نہ انتقال ہوا کہ پانی خود بھی پاك رہا نہ اہمال ہوا کہ وہ ہوتا تو اس وقت تك ہوتا کہ پانی بہ رہا تھا جب ٹھہر گیا اور ہے قلیل تو نجاست اگر رہتی واجب تھا کہ عمل کرتی جیسا کہ اصل ۶ میں گزرا لیکن یہ بھی نہ ہوا اور اس پانی کو اٹھا کر اس سے وضو جائز ہوا تو یہ نہیں مگر نجاست کا استیصال۔ اسی طرح تصریح فرماتے ہیں کہ(۳)ناپاك زمین پر پانی بہا یا کہ ہاتھ بھر بہ گیا زمین بھی پاك ہوگئی اور یہ پانی بھی پاك رہا
فی ردالمحتار عن الذخیرۃ عن الحسن بن ابی مطیع اذا صب علیھا الماء فجری قدر ذراع طھرت الارض والماء طاھر
ردالمحتار میں ذخیرہ سے حسن بن ابی مطیع سے ہے کہ جب اس پر پانی بہایا گیا اور ایك ذراع کی مقدار اس پر جاری ہوا تو زمین اور پانی پاك ہیں بمنزلہ جاری پانی کے
#12549 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
بمنزلۃ الماء الجاری قال ش فھذا نص فی المقصود ولله الحمد اھ۔
“ ش “ نے فرمایا یہ عبارت ہمارے مقصود پر نص صریح ہے ولله الحمد اھ(ت)
یوں ہی تصریحات ہیں کہ دو برتن ہیں(۱)ایك میں مثلا پانی یا دودھ پاك ہے دوسرے میں ناپاک دونوں کی دھار ہوا میں ملا کر چھوڑی کہ ایك ہو کہ تیسرے برتن میں پہنچی یا(۲)دونوں کو ملا کر مثلا پاك پکی چھت پر بہایا کہ ایك دھار ہوکر بہے سب پاك ہوگیا خزانہ وخلاصۃ وبزازیہ وردالمحتار میں ہے :
اناء ان ماء احدھما طاھر والاخر نجس فصبا من مکان عال فاختلطا فی الھواء ثم نزلا طھر کلہ ولو اجری ماء الاناء ین فی الارض صار بمنزلۃ ماء جار ۔
دو برتن ہیں ان میں ایك کا پانی پاك اور دوسرے کا ناپاك ہے اب دونوں سے اوپر سے پانی بہایا پھر یہ دونوں پانی ہوا میں باہم مل گئے پھر نیچے آئے تو پاك ہیں اور اگر دونوں برتنوں کا پانی زمین پر بہادیا گیا تو دونوں بمنزلہ جاری پانی کے ہوگئے۔ (ت)
اشارات تقریر سابق سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ثمرہ استیصال علی الاطلاق نجاست غیر مرئیہ میں ہے مرئیہ جب تك باقی ہے معدوم نہیں کہی جاسکتی ہاں کثیر وجاری میں اثر نہ کرسکے گی قلیل و راکد ہوتے ہی اپنا عمل دکھائے گی مگر یہ کہ اس سے پہلے نجاست نکال دی یا پانی(۳)میں مستہلك یا مٹی(۴)کی طرف مستحیل ہوگئی تھی کہ پہلی دو صورتوں میں مرئیہ نہ رہی غیر مرئیہ ہوگئی اور پچھلی میں نجاست ہی نہ رہی منحۃ الخالق میں ہے :
قال العلامۃ عبدالرحمن افندی العمادی مفتی دمشق فی کتابہ ھدیۃ ابن العماد قال صاحب مجمع الفتاوی فی الخزانۃ ماء الثلج اذا جری علی طریق فیہ سرقین ونجاسۃ ان تغیبت النجاسۃ واختلطت حتی لایری اثرھا یتوضؤ منہ ۔
علامہ عبدالرحمن آفندی عمادی مفتی دمشق نے اپنی کتاب ہدیۃ ابن العماد میں فرمایا صاحب مجمع الفتاوی نے خزانہ میں فرمایا کہ برف کا پانی ایسے راستے میں بہا جس پر گوبر پڑا ہوا تھا اور نجاست بھی تھی اگر نجاست اس میں اس طرح گھل مل گئی کہ اس کا اثر نظر نہیں آتا تو اس سے وضو کیا جائے گا۔ (ت)
یوں ہی بزازیہ وخلاصہ وفتاوی سمرقند میں ہے شرح ہدیہ میں بعد کلام مذکور اصل ۶ فرمایا :
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۸
ردالمحتار باب الانجاس مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۳۹
منحۃ الخالق علی حاشیۃ بحرالرائق بحث الماء الجاری ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۵
#12550 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
فالحوض نجس الی ان یصیر الزبل فی اسفلہ حمأۃ وھی الطین الاسود فلا یکون نجسا حینئذ واذا کان الحوض کبیرا فالامر فیہ یسیر ۔
تو حوض اس وقت ناپاك ہے جب تك کہ جو گندگی اس کے نیچے ہے کیچڑ میں تبدیل ہوجائے تو اس وقت وہ ناپاك نہ ہوگا اور اگر حوض بڑا ہو تو معاملہ آسان ہے۔ (ت)
منحہ میں ہے :
یعنی اذ اجری بعد ذلك لابمجرد صیرورۃ الزبل حمأۃ کمایعلم ممامر اھ
اقول : تبین مما حققنا ان المراد بالماء فی قولھم ماء ورد علی نجس نجس کعکسہ ھو الماء الراکد القلیل اذبہ تستقیم القضیتان علی عمومھما وقد اشار الیہ ملك العلماء حیث قال لاخلاف ان النجس یطھر بالغسل فی الماء الجاری وکذا بالغسل بصب الماء الجاری وکذا بالغسل بصب الماء علیہ واختلف ھل یطھر بالغسل فی الاوانی قال ابو حنیفۃ ومحمد یطھر حتی یخرج من الاجانۃ الثالثۃ طاھرا وقال ابو یوسف لایطھر البدن مالم یصب علیہ الماء وفی الثوب عنہ روایتان وجہ قول ابی یوسف القیاس یابی الطھارۃ بالغسل اصلا لان الماء متی لاقی النجاسۃ یتنجس سواء ورد الماء علی النجاسۃ او وردت النجاسۃ علی الماء الا انا حکمنا بالطھارۃ لحاجۃ
یعنی اس کے بعد پانی جاری بھی ہوا ہو کیونکہ محض کیچڑ بن جانا کافی نہیں جیسا کہ سابقہ بیان سے معلوم ہوتا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں جو تحقیق ہم نے کی اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کے قول ماء ورد علی نجس نجس کعکسہ میں ماء سے مراد وہ تھوڑا پانی ہے جو ٹھہرا ہوا ہو کیونکہ اسی تشریح سے دونوں قضیے درست ہوں گے اور ان کا عموم صحیح قرار پائیگا اور ملك العلماء نے اسی طرف اشارہ کیا ہے وہ فرماتے ہیں اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ نجس چیز جاری پانی میں دھونے سے پاك ہوجائے گی اور اسی طرح اگر اس پر پانی بہاکر اس کو دھودیا جائے تو پاك ہوجائے گی اس میں اختلاف ہے کہ آیا برتنوں میں دھو کر بھی پاك ہوگی یا نہیں ابو حنیفہ اور محمد فرماتے ہیں پاك ہوجائے گی یہاں تك کہ تیسرے ٹب سے پاك نکلے گا اور ابو یوسف نے فرمایا بدن اس وقت تك پاك نہ ہوگا جب تك کہ اس کے اوپر پانی نہ بہایا جائے اور کپڑے کے بارے میں ان سے
حوالہ / References منحۃ الخالق علی حاشیۃ بحرالرائق بحث الماء الجاری ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۵
منحۃ الخالق علی حاشیۃ بحرالرائق بحث الماء الجاری ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۵
#12551 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
الناس والحاجۃ تندفع بالحکم بالطھارۃ عند ورود الماء علی النجاسۃ فبقی ما وراء ذلك علی القیاس فعلی ھذہ لایفرق بین البدن والثوب ووجہ الفرق لہ علی روایۃ ان فی الثوب ضرورۃ اذکل من تنجس ثوبہ لایجد من یصب ولا یمکنہ الصب بنفسہ وجہ قولھما ان القیاس متروك فی الفصلین لتحقق الضرورۃ فی المحلین اذلیس کل من اصابت النجاسۃ بدنہ یجد ماء جاریا او من یصب وقد لایتمکن من الصب بنفسہ مع ان ماذکرہ من القیاس غیر صحیح لان الماء لاینجس اصلا مادام علی المحل النجس اھ مختصرا فقد افاد مرتین ان القضیتین فی غیر الجاری ای وما فی حکمہ من الکثیر والعجب ان المدقق العلائی حمل الکلام علی الجاری فقال فی شرحہ(ورد)ای جری(نجس)اذا ورد کلہ اواکثرہ ولو اقلہ لاکجیفۃ فی نھر اونجاسۃ علی سطح لکن قدمنا ان العبرۃ للاثر(کعکسہ)ای اذا وردت النجاسۃ علی الماء تنجس الماء اجماعا اھ۔
دو روایتیں ہیں ابو یوسف کے قول کی وجہ یہ ہے کہ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ دھونے سے طہارت بالکل نہ ہو کیونکہ پانی جب نجاست سے ملاقی ہوگا تو ناپاك ہوجائیگا خواہ پانی نجاست پر وارد ہو یا نجاست پانی پر وارد ہو مگر ہم نے لوگوں کی ضرورت کی وجہ سے طہارت کا حکم دیا۔ اور حاجت پانی کے نجاست پر وارد ہونے کی صورت میں پاکی کے حکم کے ساتھ رفع ہوجاتی ہے تو اس کے علاوہ قیاس کے مطابق رہے گا اس بنا پر بدن اور کپڑے میں فرق نہیں کیا جائیگا اور ان کے نزدیك وجہ فرق ایك روایت پر یہ ہے کہ کپڑے میں ضرورت ہے کیونکہ ہر وہ شخص جس کا کپڑا ناپاك ہوجائے اس کو یہ سہولت حاصل نہیں ہوتی کہ کوئی اس کے کپڑے پر اوپر سے پانی بہائے اور خود بھی وہ نہیں بہا سکتا ہے
اور طرفین کے قول کی وجہ یہ ہے کہ قیاس دونوں صورتوں میں متروك ہے کیونکہ دونوں جگہ ضرورت متحقق ہے کیونکہ ہر وہ شخص جس کو نجاست لگ جائے نہ تو بہتا ہوا پانی پاتا ہے اور نہ ہی کسی بہانے والے کو پاتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ خود بھی نہیں بہا سکتا ہے اور اس کے علاوہ جو قیاس انہوں نے ذکر کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے کیونکہ پانی جب تك نجس جگہ پر رہے ناپاك نہیں ہوتا ہے اھ مختصر تو دو مرتبہ انہوں نے
حوالہ / References بدائع الصنائع اما طریق التطہیر بالغسل ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۷
الدرالمختار باب الانجاس مجتبائی دہلی ۱ / ۵۵
#12552 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
بتایا کہ دونوں قضیے غیر جاری پانی میں ہیں یعنی اس پانی میں جو جاری پانی کے حکم میں ہو مثلا کثیر پانی تعجب ہے کہ مدقق علائی نے کلام کو جاری پانی پر محمول کیا ہے اور اپنی شرح میں فرمایا ہے(ورد)یعنی جاری ہوا(ناپاک)جب وارد ہوا اس کا کل یا اکثر اگر کم جاری ہوا تو یہ حکم نہیں ہوگا جیسا کہ نہر میں مردار یا چھت پر نجاست لیکن ہم نے پہلے ذکر کیا کہ اعتبار اثر کا ہے(جیسا کہ اس کا عکس)یعنی جب کہ نجاست پانی پر وارد ہو تو پانی اجماعا ناپاك ہوجائیگا اھ(ت)
اقول : (۱)بل لا یتنجس اجماعا اذا کان جاریا مالم یتغیر بھا فالمراد الراکد القلیل قطعا(۲)ولو حمل علیہ لم یحتج فی الاولی الی تقییدھا ولا الاستدراك علیھا والعجب ان السادات الثلثۃ ح وط و ش کلھم حملوہ علی مایعم الراکد والجاری فاعترض الاولان علی الشارح قائلین علی قولہ جری ھذا خاص بما اذا جری علی ارض اوسطح ولا یشمل ما اذا صب علی نجاسۃ لان الصب لایقال لہ جریان مع ان الحکم عام فالاولی ابقاء المصنف علی عمومہ اھ۔
اقول : (۳)اترون ماء جاریا اوکثیرا ورد علی نجس اوبالعکس ھل یتنجس بالورود فاین العموم واشار الثالث الی جوابین فقال فسرالورود بہ لیتأتی لہ التفصیل والخلاف اللذان ذکرھما والا فالورود اعم وایضا فالجریان
میں کہتا ہوں بلالکہ ناپاك نہ ہوگا اجماعا جبکہ جاری ہو جب تك متغیر نہ ہو تو مراد تھوڑا سا ٹھہرا ہوا پانی ہے قطعا اور اگر اس پر محمول کیا جائے تو پہلی میں اس کی تقیید کی حاجت نہ ہوگی اور نہ ہی استدراك کی ضرورت ہوگی اور تعجب یہ ہے کہ سادات ثلثہ ح ط اور ش نے اس کو ٹھہرے اور جاری پانی دونوں میں عام کر رکھا ہے تو پہلے دو نے شارح پر اعتراض کیا اور کہا ہے کہ ان کا قول جری یہ اس صورت کے ساتھ خاص ہے جبکہ وہ پانی زمین یا سطح پر جاری ہو اور اس صورت کو شامل نہیں ہے جبکہ کسی نجاست پر بہایا جائے کیونکہ بہانے کو جاری ہونا نہیں کہا جاتا ہے حالانکہ حکم عام ہے تو اولی وہی ہے کہ مصنف نے اس کو اس کے عموم پر باقی رکھا ہے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جاری پانی یا کثیر پانی جو کسی نجاست پر وارد ہو یا بالعکس صرف وارد ہونے سے نجس ہوجائے گا تو عموم کہاں ہوا اور تیسرے نے دو جوابوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ورود کی تفسیر اس کے ساتھ اس لئے کی گئی ہے تاکہ وہ اس کی تفصیل کر سکیں اور اس کے خلاف کا بھی ذکر کریں
حوالہ / References طحطاوی علی الدر المختار باب الانجاس بیروت ۱ / ۱۶۱
#12553 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
ابلغ من الصب فصرح بہ مع علم حکم الصب منہ بالاولی رفعا لتوھم عدم ارادتہ اھ
اقول : (۱)لاعموم وعلی(۲)فرضہ کیف یصح تفسیرہ بخاص لیتأتی لہ تقییدہ وجعلہ خلافیۃ بل کان علیہ ان یبقیہ علی عمومہ ویقول وان کان جاریا اذا ورد کلہ ۔ ۔ ۔ الخ
جن کا انہوں نے ذکر کیا ورنہ ورود اعم ہے اور نیز جاری ہونا ابلغ ہے بہانے سے تو اس کی تصریح کردی حالانکہ بہانے کا حکم اس سے معلوم ہوگیا تھا بطریق اولی تاکہ ارادہ نہ کرنے کا وہم دفع ہوجائے اھ(ت)
میں کہتا ہوں کوئی عموم نہیں ہے اگر فرض کیا جائے تو اس کی تفسیر خاص سے کیسے صحیح ہوسکتی ہے تاکہ وہ اس کو مقید کرسکیں اور اس کو اختلافی بنا سکیں بلالکہ ان پر لازم تھا کہ وہ اس کو اس کے عموم پر باقی رکھیں اور کہیں کہ اگرچہ جاری ہو جبکہ اس کا کل وارد ہو الخ(ت)
یہ جواہر زواہر بحمدہ تعالی عطیہ سرکار رسالت علیہ افضل الصلوۃ والتحیۃ ہیں والحمدلله علی تواتر الائہ وافضل الصلاۃ والسلام علی سید انبیائہ وعلیھم وعلی الہ وصحبہ واولیائہ باقیین دائمین بدوامہ وبقائہ امین والحمدلله رب العلمین۔
جب یہ اصول عشرہ ممہد ہو لیے اب تفریعات کی طرف چلئے۔
فاقول : وبالله التوفیق اس مسئلہ میں ۱۲۰ صورتیں ہیں جواب چہارم میں حوض کی قسمیں مذکور ہوئیں۔ قسم دوم وہ کہ اسفل اسی کا جز ہو شکل واحاطہ میں متمیز نہ ہو جیسے نصف دائرہ۔ قسم چہارم وہ کہ اسفل شکل جداگانہ ہو۔ صغیر تابع وہ کہ پچیس ہاتھ مساحت سے کم ہو مستقل وہ کہ پچیس ہاتھ یا زائد ہو مگر سو سے کم ہو حوض زیریں ناقابل اجرا ایك وہ کہ پانی اس کی حدود سے باہر تك حوض بالا کے بطن میں بھرا ہو کہ باہر سے جو پانی آئیگا اس کا بہاؤ اس حوض صغیر میں داخل ہو کر نکلنا نہ ٹھہرے گا کہ اس کا اجرا ہو بلکہ حوض بالا ہی کے بطن میں متحرك سمجھا جائے گا کہ جریان نہیں(اصل ۳ و ۵)ظاہر ہے کہ اگر دیگ میں ایك کٹورا رکھا اور نصف دیگ میں ناپاك پانی بھرا ہے لبالب بھر دینے سے بھی کٹورے کا پانی پاك نہ ہوگا نہ دیگ کا کہ ان میں کسی کا اجرا نہ ہوا بخلاف اس کے کہ صرف کٹورے میں پانی ہو اور اس پر پاك پانی ڈالیں یہاں تك کہ بھر کر ابلے ضرور کٹورا اور اس کا پانی پاك ہوجائیگا کہ اس کا اجرا ہوگیا اگرچہ جوف دیگ میں(اصل ۲)دوسرا وہ کہ آگے ابل کر بہنے کو جگہ نہ ہو جیسے اس صورت میں کہ اگرچہ پانی صرف
ح ع تك ہو آگے منتہی تك بلالندی ہے۔ قابل اجرا وہ کہ پانی اسی کے اندر اور آگے بہنے کو جگہ ہو قلت منتہی یہ کہ حوض بالا کی فضا کہ اس حوض زیریں کی محاذات میں ہے مع فضائے حوض زیریں دہ در دہ سے کم ہو جیسے اس شکل میں۔
حوالہ / References ردالمحتار باب الانجاس مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۳۸
#12554 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
image
ا ب کہ ا ب سوہاتھ اور ح ع کم ہے کثرت منتہی یہ کہ یہاں بھی دہ در دہ ہو جیسے اسی شکل میں جب کہ سطح ح ع سو ہاتھ اور سطح ا ب زائد ہو یا شکل سوم مذکور جواب چہارم میں کہ ا ب و ح ع دونوں مساوی ہیں کثرت مبدءیہ کہ ناپاك پانی جہاں تك بھرا ہے مثلا بحالی قابلیت اجرا ھ سے ر تك یا بحال عدم قابلیت ی سے م تك وہاں سے مدخل آب تك اتنی جگہ ہے کہ آنے والا پاك پانی وہ دہ در دہ ہو کر ناپاك پانی سے ملے گا مثلا ا سے جو پانی ح پر آیا اور پہلی صورت میں ہ سے ناپاك پانی تھا تو ہ تك پہنچنے سے پہلے سطح ح ہ میں سو ہاتھ مساحت ہو اور دوسری صورت میں ی سے نجس پانی تھا تو ی سے اوپر اوپر سطح ح ی میں دہ در دہ کی وسعت ہو قلت مبدء یہ کہ اتنی جگہ نہیں بلکہ دہ در دہ سے کم رہ کر اس سے ملے بہرحال نجاست مرئیہ پاك پانی داخل ہونے سے پہلے نکال لی گئی تو مخرجہ ہے ورنہ باقیہ راسبہ خواہ طافیہ ظاہر ہے کہ حوض زیر بحث قسم دوم سے ہوگا یا چہارم سے اور چہارم تابع یا مستقل اور دونوں قابل اجرا یا ناقابل یہ پانچ صورتیں ہوئیں اور ہر تقدیر پر مبدء کثیر ہوگا یا قلیل بروجہ دوم منتہی بھی قلیل ہوگا یا کثیر یہ تین ہو کر پندرہ۱۵ ہوئیں۔ بہرحال نجاست غیر مرئیہ ہوگی یا مرئیہ اور مرئیہ مخرجہ یا باقیہ اور باقیہ راسبہ یا طافیہ یہ چار ہو کر ساٹھ۶۰ ہوئیں بہر صورت حوض بالا بھر کر ابلا یا نہیں جملہ ایك سو بیس۱۲۰۔ اب ہم بتوفیقہ تعالی ان کا ضبط کریں کہ ہر تقسیم اسی صورت میں آئے جس سے وہاں حکم مختلف ہو۔
فاقول : وبالله ربی استعین اولا : حوض اگر قسم دوم سے ہو یا قسم چہارم سے اور صغیر ناقابل اجرا تابع خواہ مستقل اور بہرحال نہ کثیر المبدء تھا نہ بھر کر ابلا تو مطلقا سب ناپاك ہوگیا عام ازیں نجاست کسی قسم کی ہو اور منتہی قلیل ہو یا کثیر کہ جتنا پانی نجاست سے ملتا گیا نجس ہوتا گیا اور نجس کثیر ہو کر طاہر نہیں ہوسکتا یہ تین صورتیں ہوئیں بلکہ ایك ہی کہ ناقابل اجرا سب کو شامل ہے اور تفصیلابالحاظ کثرت وقلت منتہی واقسام نجاست چوبیس۲۴۔
ثانیا : انہی صور ثلثہ سے پہلی دو۲ صورتوں یعنی قسم دوم وناجاری تابع میں اگر کثیر المبدء تھا یا بھر کر ابلا تو مطلقا سب پاك ہوگیا یہ چار صورتیں ہوئیں بلکہ دو ہی کہ نامستقل دونوں کو شامل اور تفصیلا بتیس۳۲ کو کثیر المبدء ابلے یا نہیں اور ابلنے والے قلیل المبدء میں منتہی قلیل ہو یا کثیر اور ہرایك قسم دوم سے ہو یا ناجاری تابع اور بہرحال نجاست کسی قسم کی۔
ثالثا : انہی کی صورت سوم ناجاری مستقل میں کثرت مبدء یا ابلالنے سے حوض بالا مطلقا پاك رہے گا
#12555 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
کہ اس کا پانی ناپاك پانی سے کثیر ہو کر ملا(اصل ۸)یا بعد کو بہ گیا(اصل ۱)اور صغیر مطلقا ناپاك ہونا چاہئے۔ اگرچہ نجاست غیر مرئیہ ہو کر بہا نہیں اور مستقل ہے(جواب۴)تو نجاست موجود اور سبب تطہیر مفقود صورت کثرت مبدء تو واضح ہے اور صورت اجرا میں بھی ظاہر یہی ہے کہ اس کا استقلال اس کے اجرا کو اس کا اجرا ہونے سے مانع ہوگا اگر کہیے کہ مانع نہ ہوگا شکل
ج میں ج ح اور ر ك زمین کے ٹکڑے جنہوں نے حائل ہو کر ہ ط کو ا ء سے ممتاز شکل کر دیا اگر ہٹا دئے جائیں تو شك نہیں کہ ا ب کا اجرا تمام شکل ا ك کا اجرا ہوگا جس میں ہ ط بھی داخل تو اتنے ٹکڑے کم کر لینے سے اثر اجرا کہ ہ ط تك پہنچتا تھا ہ ر پر کیوں ختم ہوجائیگا تو جواب وہی ہے کہ وہ ٹکڑے ہٹ جائیں تو ر ك شکل واحد میں سب پانی ایك ہے بخلاف اس صورت کے کہ اب دو شکلوں میں دو پانی ہیں فلیتأمل یہ دو صورتیں ہوئیں اور تفصیلا اسی طرح سولہ۱۶۔
رابعا : صغیر قابل اجرا اور نہ ہوگا مگر قسم چہارم سے کہ قسم دوم اصلا قابل اجرا نہیں جب تك سارا حوض بھر کر نہ بہے ظاہر ہے کہ اب جو پانی اوپر سے آئیگا ضرور اسے بھر کر بہا دے گا(اصل۵)تو اس وقت اس کی طہارت میں کلام نہیں(اصل۱)عام ازیں کہ مستقل ہویا تابع کہ اجرا سے طہارت کے لئے کوئی مقدار شرط نہیں(اصل۲)اب اگر نجاست غیر مرئیہ یا مخرجہ ہے تو عود نجاست کی کوئی وجہ نہیں کہ جریان اس نجاست کو فنا کردیتا ہے(اصل۱۰)تو مطلقا زیرو بالا دونوں حصے پاك ہیں اگرچہ نہ مبدء کثیر ہو نہ منتہی کہ جریان کیلئے کوئی حد خاص مقدر نہیں(اصل۴)خواہ بھر کر ابلے یا نہیں کہ طاہر کو اجرا کی حاجت نہیں یہ چار صورتیں ہوئیں کہ قابل اجرا تابع یا مستقل اور نجاست غیر مرئیہ یا مخرجہ بلکہ ایك ہی کہ قابل اجرا اور نجاست غیر مرئیہ کہ بعد اخراج مرئیہ بھی غیر مرئیہ ہے اور تفصیلا چوبیس۲۴ کہ ہر تقدیر پر مبدء کثیر ہو یا قلیل اور منتہی کثیر یا وہ بھی قلیل اور ہر صورت پر ابلے یا نہیں۔
خامسا : اسی صورت قابل اجرا میں نجاست باقیہ ہو تو مبدء یا منتہی کثیر ہونے کی حالت میں اگر نجاست طافیہ ہے مطلقا دونوں حصے پاك رہیں گے صغیر تابع ہو یا مستقل کبیر ابلے یا نہ ابلے کہ جریان صغیر نے اسے پاك کردیا اور وہ اگرچہ مستقل ہو نجاست کہ طافیہ تھی اس میں نہ رہی آب بالا کی طرف منتقل ہوگئی اور یہ آب بالا اسے بہانے والا اس سے متاثر نہ ہوا اگر کثیر تھا تو ظاہر(اصل۸)اور قلیل تھا جب بھی بحالت جریان توپاك تھا ہی(اصل۴)اور یہ جریان منتہی نہ ہوا جب تك اس فضائے حوض کبیر کو کہ محاذات صغیر میں ہے بھر نہ دیا(اصل۴)کہ عرض میں پھیلنا جریان کا مانع نہیں(اصل۷)اور اس وقت دہ در دہ ہوچکا تھا بہرحال قا بل قبول نجاست نہ ہوا یوں ہی اگر راسبہ ہے اور صغیر تابع کہ اگرچہ وقوف جریان کے وقت نجاست اس میں موجود تھی مگر آب بالا بوجہ کثرت متاثر نہ ہوا اور یہ بوجہ تبیعت اس کے ساتھ شے واحد ہے تو پاك ہی رہے گا
#12556 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
اور جریان بالا کی حاجت نہیں جیسے حوض قسم دوم کا اسفل ہے اگرچہ مساحت میں کتنا ہی کم رہ جائے اور اس میں نجاست موجود ہو جب اوپر کثیر ہے یا اجرا ہوجائے کوئی حصہ ناپاك نہ رہے گا ہاں اس صورت میں اگر صغیر مستقل ہے تو کبیر کہ کثیر ہے پاك رہے گا اور صغیر پھر ناپاك ہونا چاہئے کہ اس سطح کے بھرتے ہی جریان ٹھہر گیا اور اس وقت نجاست خود اس میں موجود ہے اور یہ تابع نہیں تو جریان بالا بھی اگر ہوا سے مفید نہیں اور اگر مبدء ومنتہی دونوں قلیل ہیں اور حوض بالا بہا بھی نہیں تو مطلقا دونوں حصے ناپاك رہیں گے صغیر تابع ہو یا مستقل اور نجاست طافیہ ہو یا راسبہ کہ اگرچہ اجرائے صغیر نے اسے پاك کیا اور اس وقت تك وہ آنے والا پانی بھی پاك تھا مگر جریان ٹھہرا قلت پر تو آب قلیل ساکن میں نجاست موجود ہے خواہ بالا میں اگر طافیہ ہے یا زیریں میں اگر راسبہ تو وہ نجس ہوگیا(اصل۶)اور دوسرا قلیل کہ اول میں زیریں اور دوم میں بالا ہے اس آب نجس سے متصل ہے تو دونوں نجس ہوگئے اور بعد کو جو پانی بڑھا بطن حوض میں متحرك ہوا تو دوبارہ اجرا نہ ہوا(اصل ۳ و ۵)اس بڑھنے میں سیلان سہی مگر وہ جریان کیلئے کافی نہیں(اصل۹)اور اگر حوض بالا بہا اور صغیر تابع ہے تو سب پاك اگرچہ نجاست راسبہ ہو لمامر انفا(جیسے ابھی گزرا۔ ت)اور مستقل ہے تو صغیر بوجہ اتصال نجاست ناپاك ہونا چاہئے اگرچہ طافیہ ہو کہ وقوف جریان کے وقت بالا بسبب قلت ناپاك ہوگیا تھا اور یہ اس سے متصل پھر جب بالا کا جریان ہوا وہ بوجہ استقلال اس کا جریان نہ ٹھہرنا چاہئے تو یہ نجس ہی رہا اور کبیر بوجہ جریان خود پاك ہوگیا یہ نو صورتیں ہیں کہ کثرت مبدء یا منتہی ہر ایك میں تین ہیں طافیہ مطلق اور راسبہ میں صغیر تابع یا مستقل یونہی قلت ہر دو میں تین ہیں عدم جریان بالا مطلق اور جریان میں تبعیت واستقلال بلالکہ چھ۶ ہی ہیں کہ دونوں کثرتیں وقوف علی الکثرۃ میں آگئیں اور تفصیلا چوبیس کہ کثرت مبدء یامنتہی یا قلت ہر دو ہر ایك میں نجاست طافیہ ہے یا راسبہ۔ صغیر تابع ہے یا مستقل بالا بہایا نہیں آٹھ آٹھ ہو کر چوبیس۲۴ ہوئیں مجموع ایك سو بیس اور ضابطہ میں بیس۲۰ ہی بلالکہ صرف بارہ۱۲۔
اختصار ھذا الضابط
اقول : ان کان جوف الحوض النجس لایجری بدخول الماء الطاھر فان کثر المبدء اوجری الکبیر طھر الکل لوالصغیر تابعا والکبیر فقط لومستقلا والا تنجس الکل وان کان یجری بہ و
ضابطہ کا اختصار
میں کہتا ہوں اگر ناپاك حوض کی تہ پاك پانی کے داخل ہونے سے جاری نہیں ہوتی ہے تو اگر مبدء زائد ہوگیایا بڑا جاری ہوا تو کل پاك ہے اگر صغیر تابع ہے اور کبیر فقط اگر مستقل ہو ورنہ سب ناپاك ہوگیا اور اگر اس کے ساتھ جاری ہو اور
#12557 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
النجاسۃ غیر مرئیۃ طھر الکل وان باقیۃ فان وقف عن الجریان کثیرا وھی طافیۃ اوالصغیر تابع طھر الکل والا فالکبیر وحدہ وان وقف قلیلا ولم یجر الکبیر تنجس الکل وان جری طھر الکل لو الصغیر تابعا والکبیر فقط لومستقلا۔
نجاست مرئیہ نہ ہو تو کل پاك اور اگرچہ نجاست باقی ہو تو اگر جاری ہونے سے بہت دیر رك جائے اور نجاست اوپر تیرتی ہو یا صغیر تابع ہو تو کل پاك ورنہ کبیر صرف پاك ہوگا اور اگر تھوڑی دیر ٹھہرا اور کبیر جاری نہ ہوا تو کل ناپاك ہوا اور اگر جاری ہوا تو کل پاك ہوا اگر صغیر تابع ہو اور کبیر فقط اگر مستقل ہو۔ (ت)
ضابطہ بر وجہ دوم متفرق کہ ہر حصہ کی طہارت کا جدا ضابطہ۔
۱۔ آب طاہر کثیر ہو کر نجس تك پہنچے یا
۲۔ حوض بھر کر ابل جائے یا
۳۔ صغیر کو بہائے اور نجاست غیر مرئیہ رہ گئی ہو یا
۴۔ صغیر کو بہا کر دہ در دہ پر ٹھرے۔
اور طہارت زیریں تابع مطلقا تابع طہارت بالا ہے اور طہارت زیریں مستقل کو تین شرطیں درکار :
اول : اس کا جاری ہونا۔
دوم : نجاست کا راسبہ ہونا۔
سوم : یا تو نجاست غیر مرئیہ ہو یا طافیہ ہے تو جریان حد کثرت پر ٹھہرے انہی کے اجتماع وافتراق سے زیروبالا کے احکام پیدا ہوں گے طہارت بالا کی اگر کوئی صورت نہ پائی جائے دونوں حصے مطلقا نجس ہیں کہ اس مسئلہ میں نجاست بالا وطہارت زیریں معقول نہیں اور اگر ان میں سے کوئی صورت متحقق ہو اور اس کے ساتھ غیر صغیرمستقل نہ ہو یا ہو تو اس کی تینوں شرطیں جمع ہوں تو سب پاك ہے اور اگر طہارت بالا کی کوئی صورت پائی گئی اور صغیر مستقل ہے اور اس کی کوئی شرط منتفی ہوئی تو اسفل ناپاك اعلی پاک۔
ضابطہ بروجہ سوم کہ توزیع احکام کرے حکم تین ہیں :
۱۔ سب پاک
۲۔ سب ناپاک
۳۔ صرف حصہ بالا پاک۔ اس ضابطہ میں ہر حکم کی صورتیں جدا کی جائیں گی۔
فاقول : اگر(۱)آب طاہر آب نجس سے نہ کثیر ہو کر ملا نہ بعد کو ابلا نہ نجاست غیر مرئیہ میں صغیر کو بہایا
#12558 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
نہ باقیہ میں بہا کر دہ در دہ پر ٹھہرا تو ان اٹھائیس۲۸ صورتوں میں دونوں حصے مطلقا ناپاك ہیں اور۲ اگر حوض قسم دوم سے ہو یا چہارم میں صغیر تابع قابل اجرا نہ ہو اور دونوں صورتوں میں آب طاہرکثیر ہو کر نجس سے ملا یا۳ بعد کو ابلا یا۴ آب نجس حوض صغیر تابع خواہ مستقل میں قابل اجرا تھا اور نجاست غیر مرئیہ رہ گئی تھی اگرچہ دہ در دہ سے کم پر ٹھہرا یا۵ مرئیہ میں وہ صغیر تابع تھا اگرچہ راسبہ ہوا اور اسے بہا کر کثرت پر ٹھہرایا۶ بعد کو ابلا یا۷ صغیر مستقل تھا اور نجاست طافیہ اور بہا کر کثرت پر ٹھہرا ان ستر۷۰ صورتوں میں دونوں حصے مطلقا پاك رہیں اور اگر صغیر ستقل تھا اور آنے والے پانی نے اسے نہ بہایا کہ جگہ نہ تھی خواہ نجس پانی اس کی حدود سے باہر تھا یا بہایا تو نجاست راسبہ تھی اور ان دونوں صورتوں میں پانی۸ ۹ اس نجس سے کثیر ہو کر ملا خواہ صورت اخیرہ میں بہا کر کثرت پر ٹھہرا یا ۱۰ ۱۱ دونوں صورتوں میں بعد کو ابلایا۱۲ نجاست طافیہ تھی اور قلت پر ٹھہر کر آخر میں ابلا ان بائیس صورتوں میں اسفل ناپاك اعلی پاک۔
حوالہ / References حوض قسم دوم سے ہے یا صغیر ناجاری تابع خواہ مستقل بہرحال مبدء یا مبدء ومنتہی دونوں قلیل بہرصورت نجاست چاروں قسم کے کسی کی۔ ۲۴ یہ ہُوئیں اور صغیر جاری سے تابع خواہ مستقل اور نہ کثرت پر ٹھہرا نہ بعد کو اُبلا بہر تقدیر نجاست طافیہ ہے یا راسبہ چار یہ ہوئیں جملہ ۲۸ اور ضابطہ میں ایك ۱۲ منہ(م)
غیر مرئیہ رہ جانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ نجاست سرے سے غیر مرئیہ تھی یا تھی مرئیہ اور قبل جریان نکال دی گئی کہ غیر مرئیہ رہ گئی ۱۲ منہ(م)
کثرت پر ٹھہرنا دونوں صورتوں کو شامل ہے ابتدا ہی سے کثیر ہو کر ملا یا کثیر ہو کر جریان پر ٹھہرا ۱۲ منہ(م)
حوض قسم دوم سے یا صغیر ناجاری تابع۔ بہرحال اگر مبدء کثیر ہے تو بعد کو اُبلے نہ اُبلے یا۳ بعد کو اُبلا تو منتہی کثیر یا قلیل۔ یہ آٹھ صورتیں ہوئیں ہر صورت پر نجاست کی ہر قسم حاصل ۳۲۔ اور ضابطہ میں دو۔ اور۴ اگر صغیر جاری ہے تابع خواہ مستقل اور نجاست غیر مرئیہ خواہ مخرجہ۔ چار ہوئیں۔ بہرصورت مبدء کثیر ہے یا قلیل اور منتہی کثیر یا دونوں قلیل بارہ۱۲ ہوئیں بہرصورت اُبلا یا نہیں ، حاصل ۲۴۔ اور ضابطہ میں ایك اور۵صغیر جاری تابع میں مبدء کثیر ہے یا منتہی بہرحال اُبلا یا نہیں چار یہ اور پانچویں یہ کہ۶دونوں قلیل اور اُبلا بہرصورت نجاست طافیہ یا راسبہ حاصل ۱۰۔ اور ضابطہ میں دو۷صغیر جاری مستقل اور نجاست طافیہ اور منتہٰی کثیر اس میں ممکن کو مبدء کثیر تھا یا قلیل بہرحال اُبلا یا نہیں حاصل ۴۔ اور ضابطہ میں ایك مجموع ستّر۷۰ اور ضابطہ میں چھ۔ منہ(م)
صغیر۸مستقل ناجاری میں اگر مبدء کثیر ہے تو اُبلے خواہ نہیں اور۹ اُبلا ہے تو منتہیٰ کثیر ہو یا قلیل۔ (باقی بر صفحہ آیندہ)
#12559 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
اقول اولا : یہیں سے ظاہر ہوا کہ کلام علمائے کرام حوض قسم دوم میں ہے ورنہ بانوے۹۲ صورتوں سے نقض وارد ہو جن میں سے ستر میں طہارت کل یقینی ہے اور بائیس میں طہارت اعلی۔ تردد ہے تو نجاست اسفل میں اور حوض قسم دوم میں بیشك حکم یہی ہے کہ اعلی اسفل سب ناپاك صرف دو استثنا ہیں جن میں سب پاك ہوگا ایك یہ کہ بھر کر ابل جائے یہ صراحۃ ان کے کلمات عالیہ میں مذکور حلیہ وبدائع وفتح سے گزرا امتلأ ولم یخرج منہ شیئ(وہ بھر گیا اور اس سے کوئی چیز خارج نہ ہوئی۔ ت)دوسرے یہ کہ آنے والا پانی کثیر ہو کہ اس نجس سے ملے یہ بجائے خود معلوم ومعہود کہ کثیر بے تغیر نجاست قبول نہیں کرتا تو اطلاق علمائے کرام صحیح وبے غبار ہے اور تحقیق بازغ وتنقیح بالغ یہ ہے جو بتوفیقہ عزوجل قلب فقیر پر القا ہوئی۔
ثانیا : نیز یہ بھی واضح(۱)ہوا کہ قول دوم بھی بے وجہ نہیں بلالکہ وہ ان ستر صور پر محمول جن میں سب پانی پاك رہتا ہے وباللہ التوفیق۔
ثالثا : یہ بھی لائح ہوا کہ یہ محل(۲)ایك قول کی تصحیح دوسرے کی تضعیف کا نہیں بلالکہ دونوں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں
ولله الحمد کثیرا طیبا مبارکا فیہ کما یجب ربنا ویرضی وصلی الله تعالی وبارك وسلم علی المصطفی الارضی والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ ما علت سماء ارضا والحمدلله رب العلمین والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
اللہ ہی کیلئے بہت پاکیزہ حمد ہے اس میں برکت ہو جتنی ہمارے رب کو پسند ہے اور اتنے درود وسلام ہوں محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر آپ کی آل اصحاب اولاد گروہ سب پر جب تك آسمان زمین سے بلند رہے والحمدلله رب العالمین والله سبحنہ تعالی اعلم۔ (ت)
تنبیہ جلیل
وتشیید التفریع والتاصیل وعلی الله ثم علی رسولہ التعویل جل وعلا
تنبیہ جلیل
اور اصل بیان کرنے اور فروعی مسائل کا استنباط کرنے کی بنیاد اور بھروسا اللہ عز وجل پر ہے پھر
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) یہ چار ہوئیں اور بہر تقدیر نجاست کی ہر قسم۔ حاصل ۱۶ اور صغیر۱۰ مستقل جاری میں مبد وکثیر ہو یا منتہی بہرحال ابلے یا نہیں اور نجاست خاص راسبہ۔ یہ چار ہوئیں اور۱۱ اگر دونوں قلیل ہیں اور ابلا تو نجاست راسبہ ہو خواہ۱۲ طافیہ یہ دو مل کر چھ۶ہوئیں حاصل۲۲ اور ضابطہ میں ۵۔ مجموع ۱۲۰ اور ضابطہ میں ۱۲۔ منہ(م)
#12560 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
وصلی الله تعالی علیہ وسلم بالتبجیل
اس کے رسول پر ہے اللہ تعالی ان پر عظمت والا درود بھیجے۔ (ت)
اصل سوم میں گزرا کہ دخول وخروج دونوں اس جریان کے رکن ہیں ان میں سے جو نہ پایا جائے گا جریان نہ ہوگا اور اصل نہم میں ردالمحتار وضیاء وجامع المضمرات وبزازیہ وخلاصہ وفتاوی سے گزرا کہ لوٹے کی دھار جب تك ہاتھ پر نہ پہنچی جاری ہے حالانکہ یہ محض خروج بلا دخول ہے۔ اقول : وبالله التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق(اللہ ہی کی توفیق سے میں کہتا ہوں اور اسی کی مدد سے تحقیق کی گہرائی تك پہنچنا ہے۔ ت)اس کی تنقیح وتطبیق ایك اور خلافیہ کی توضیح وتوفیق پر مبنی ہے علما(۱)مختلف ہوئے کہ جاری ہونے کیلئے اوپر سے مدد آنا بھی ضرور ہے یا بلا مدد کسی مائع کا آپ بہنا بھی جریان ہے محقق علی الاطلاق نے اول کو ترجیح دی فتح میں فرمایا :
الحقوا بالجاری حوض الحمام اذا کان الماء ینزل من اعلاہ حتی لوادخلت القصعۃ النجسۃ اوالید النجسۃ فیہ لاینجس وھل یشترط مع ذلك تدارك اغتراف الناس منہ فیہ خلاف ذکرہ فی المنیۃ ثم لابد من کون جریانہ لمدد لہ کما فی العین والنھر ھو المختار اھ ۔ ثم ذکر مسألۃ الاستنجاء بالقمقمۃ ونقل عن التجنیس النظر فیہ بعین مانظر الامام حسام الدین ثم قال قال ای المصنف فی(۲)التجنیس ونظیرہ ما اوردہ المشائخ فی الکتب ان المسافر اذا کان معہ میزاب واسع(ای یسع لان یتوضأ فیہ)واداوۃ ماء یحتاج الیہ ولا یتیقن وجود الماء لکنہ عـــہ علی طمعہ قبل
جاری پانی کے ساتھ حمام کے حوض کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ پانی اس کے اوپر سے اتر رہا ہو یہاں تك کہ اگر اس میں ناپاك پیالہ یا ناپاك ہاتھ ڈالا تو ناپاك نہ ہوگا اور آیا اس میں یہ شرط بھی ہے کہ لوگ پے درپے اس میں سے چلو بھر کر پانی نکالتے ہوں اس میں اختلاف ہے اس کو منیہ میں ذکر کیا پھر اس کے جاری رہنے کیلئے اس کو مدد دینے والی چیز ضروری ہے جیسا کہ چشمہ اور نہر میں ہوتا ہے یہی مختار ہے اھ پھر استنجاء ٹونٹی کے ساتھ کا مسئلہ نقل کیا اور پھر تجنیس سے نقل کیا کہ اس میں نظر ہے یہ وہی نظر ہے جو حسام الدین نے کی تھی پھر کہا کہ مصنف نے تجنیس میں کہا ہے اور اس کی نظیر مشائخ کا یہ قول ہے کہ مسافر کے پاس جب واسع پر نالہ ہو(یعنی اس میں اتنی گنجائش ہو کہ اس میں وضو کیا جاسکے(
عـــہ اقول : لعل وجہ التقیید بہ التنصیص علی انہ یجوز ھذا الاحتیال وان کان علی من الماء فعند عدمہ اولی ۱۲ منہ غفرلہ(م)
اس قید کی وجہ شاید یہ ہو کہ اس بات پر نص کرنا مقصود ہو کہ یہ حیلہ جائز ہے اگرچہ پانی ملنے کی امید ہو تو جب امید نہ ہو تو بدرجہ اولی جائز ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References فتح القدیر بحث الماء الجاری نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۹
#12561 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
ینبغی ان یأمر احدا یصب الماء فی طرف المیزاب وھو یتوضؤ وعند الطرف الاخر اناء طاھر یجتمع فیہ الماء فانہ یکون الماء طاھرا وطھورا لانہ جار قال بعضکم ھذا لیس بشیئ لان الجاری انما لایصیر مستعملا اذا کان لہ مدد کالعین والنھر وما اشبھہ ومما اشبھہ حوضان صغیران یخرج الماء من احدھما ویدخل فی الاخر فتوضأ فی خلال ذلك جاز لانہ جار وکذا اذا(۱)قطع الجاری من فوق وقد بقی جری الماء کان جائزا ان یتوضأ بما یجری فی النھر قبل استقرارہ اھ بالتقاط۔
اور پانی کا برتن ہو جس کی ضرورت ہو اور پانی کا پایا جانا یقینی نہ ہو لیکن ملنے کی امید ہو تو ایك قول یہ ہے کہ وہ کسی کو حکم دے کہ وہ پر نالے کے ایك کنارے سے پانی بہائے اور وہ شخص وضو کرے اور پر نالے کی دوسری طرف ایك پاك برتن ہو جس میں پانی جمع ہوتا ہو تو وہ پانی طاہر اور طہور ہوگا کیونکہ وہ جاری ہے بعض علماء نے فرمایا یہ کچھ نہیں کیونکہ جاری پانی مستعمل نہیں ہوتا ہے جبکہ اس میں نیا پانی شامل ہو رہا ہو جیسے چشمہ اور نہر اور اس کے مشابہ چیزیں اور اس کے مشابہ دو چھوٹے حوض ہیں جن میں سے ایك میں سے پانی نکل کر دوسرے میں داخل ہورہا ہو تو کسی نے اس کے درمیان کے پانی سے وضو کیا تو جائز ہے کیونکہ یہ جاری ہے اور اسی طرح اگر اوپر سے جاری پانی کو قطع کیا اور پانی کا جاری رہنا باقی ہو تو یہ جائز ہے کہ جو پانی نہر میں جاری ہو اس سے وضو کرلے اس کے استقرار سے قبل اھ(ت)
اور علامہ حدادی نے سراج وہاج اور علامہ سراج ہندی نے توشیح میں دوم کی تصحیح کی بحر وتنویر ودر وغیرہا میں اسی پر اعتماد کیا بحر میں بعد نقل ترجیح فتح فرمایا :
وفی السراج الوھاج ولایشترط فی الماء الجاری المدد ھو الصحیح اھ ثم ذکر فی البحر عن التجنیس والمعراج وغیرھا مسألۃ جواز الوضوء بما یجری فی نھر سد من فوقہ ۔
اور سراج الوہاج میں ہے کہ جاری پانی میں مدد کی شرط نہیں اور یہی صحیح ہے اھ پھر بحر میں تجنیس اور معراج وغیرہ سے یہ مسئلہ منقول ہے کہ وہ نہر جو اوپر سے بند ہو اس میں جاری پانی سے وضو جائز ہے۔ (ت)
حوالہ / References فتح القدیر بحث الماء الجاری نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۹
بحرالرائق بحث الماء الجاری ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۶
بحرالرائق بحث الماء الجاری ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۶
#12562 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
اقول ای فیہ اوبہ اذا وقع فیہ نجس کما لایخفی ثم رأیت فی الحلیۃ اخذ بمثلہ علی متنہ اذقال ظاھر عبارتھم فی ھذہ المسألۃ کما فی الذخیرۃ وواقعات الناطفی اذاسد من فوق فتوضاء بما یجری فی النھر جاز اھ ان یکون الوضوء فی النھر فکان علی المصنف ان یذکر فیہ لان من الواضح جدا جواز الوضوء بہ جاریا کان اوغیر جار خارجہ اما باغتراف اواخذ منہ باناء فلا یقع التقیید ببقاء جریان الماء موقعا ثم ھم اعلی کعبا من ذکر مثلہ اھ
اقول : ای(۱)عتب علی المصنف اذا کانوا ھم المعبرین بالباء دون فی فھذا محل التفسیر لاالاخذ کما فعل الفقیر قال البحر فھذا یشھد لما فی السراج اھ
اقول : نعم(۲)لکن لاینبغی عزوہ للتجنیس فانہ لیس جانحا الیہ بل ھو فی عداد ما رد علیہ کما یظھر من عبارۃ الفتح حیث نقل عن التجنیس فی مسئلۃ القمقمۃ
میں کہتا ہوں یعنی اس میں یا اس سے جبکہ اس میں نجاست گر جائے کما لایخفی پھر میں نے حلیہ میں دیکھا کہ متن میں انہوں نے اسی کو اختیار کیا ہے وہ فرماتے ہیں ان کی عبارت کا ظاہر اس مسئلہ میں جیسا کہ ذخیرہ اور واقعات ناطفی میں ہے کہ جب نہر کو اوپر سے بند کر دیا جائے اور پھر کوئی شخص اس پانی سے وضو کرے جو نہر میں جاری ہے تو جائز ہے اور یہ کہ وضو نہر میں ہو تو مصنف پر لازم تھا کہ “ فیہ “ کا ذکر کرتے کیونکہ اس سے وضو کا جواز بہت واضح ہے خواہ وہ جاری ہو یا نہ ہو وضو کرنے والا نہر سے باہر چلو کے ذریعے نہر سے پانی لے کر یا کسی برتن کے ذریعے حاصل کرکے وضو کرے بہرصورت بقائے جریان کی قید درست نہیں پھر ان کا مقام اس سے بہت بلند ہے کہ اس قسم کی چیزیں وہ ذکر کریں اھ(ت)
میں کہتا ہوں جب وہ خود “ باء “ سے تعبیر کرتے ہیں تو مصنف پر کیا اعتراض ہے تو یہ تفسیر کا محل ہے نہ کہ گرفت کرنے کا جیسا کہ فقیر نے کیا ہے بحر نے فرمایا یہ اس چیز کی شہادت دیتا ہے جو سراج میں ہے اھ(ت)
میں کہتا ہوں ہاں لیکن اس کو تجنیس کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں کیونکہ وہ اس کی طرف مائل نہیں ہیں بلالکہ وہ اس پر رد کرتے ہیں جیسا کہ فتح کی عبارت سے ظاہر ہے کیونکہ انہوں نے ٹونٹی
حوالہ / References حلیہ
بحرالرائق بحث الماء الجاری ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۶
#12563 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
ھذا لیس بشیئ ثم قال ونظیرہ فذکر مسألۃ المیزاب ثم قال وما اشبھہ وجعل منہ مسألۃ الحوضین وھذہ المسألۃ ثم قال فی البحر وذکر السراج الھندی عن الامام الزاھد ان من(۱)حفر نھرا من حوض صغیر واجری الماء فی النھر وتوضأ بذلك الماء فی حال جریانہ فاجتمع ذلك الماء فی مکان فحفر رجل اخر نھرا من ذلك المکان واجری الماء فیہ وتوضأ بہ حال جریانہ فاجتمع فی مکان اخر ففعل رجل ثالث کذلك جاز وضوء الکل لان کل واحد انما توضأ بالماء حال جریانہ والجاری لایحتمل النجاسۃ مالم یتغیر اھ
اقول : ای ان وقعت الحقیقیۃ اوالحکمیۃ ان توضأ فیہ بغمس الاعضاء فلا ینبغی علی نجاسۃ المستعمل ثم ھذہ مثل مسألۃ الحوضین بل ھی بعبارۃ ابسط وقد ذکرھا صاحب المنیۃ عن المحیط وفی الذخیرۃ عن القاضی الامام علی السغدی وفی الخانیۃ و غیرھا وقال فی الحلیۃ المصنف نقل عن المحیط تقیید الجواز بما اذا کان بین المکانین مسافۃ وان کانت قلیلۃ یوافقہ ما فی الخانیۃ تاویلہ اذا کان بین المکانین قلیل مسافۃ وفی مسألۃ الحفرتین(ای یخرج من احدھما الماء و
کے مسئلہ میں تجنیس سے نقل کیا ہے “ یہ کچھ نہیں “ پھر فرمایا اور اس کی نظیر اس کے بعد انہوں نے پر نالہ کا مسئلہ ذکر کیا پھر فرمایا وما اشبھہ اور اس میں دو حوضوں کے مسئلہ کو شامل کیا اور اس مسئلہ کو بھی پھر فرمایا بحر میں “ اور ذکر کیا سراج ہندی نے امام زاہدسے کہ اگر کسی شخص نے چھوٹے حوض سے ایك نہر نکالی اور نہر میں پانی چھوڑ دیا اور جب پانی جاری ہوگیا تو اس سے وضو کیا پھر وہ پانی ایك جگہ جمع ہوگیا تو پھر کسی دوسرے شخص نے اس جگہ سے نہر نکالی اور اس میں پانی چھوڑ دیا اور اس پانی سے وضو کیا اس حال میں کہ پانی جاری تھا پھر وہ پانی کسی دوسری جگہ جمع ہوگیا پھر کسی تیسرے شخص نے بھی یہی عمل کیا تو سب کا وضو جائز ہے کیونکہ ہر ایك نے جاری پانی سے وضو کیا ہے اور جاری اس وقت ناپاك نہیں ہوتا ہے جب تك اس میں تغیر پیدا نہ ہو اھ(ت)۔ میں کہتا ہوں یعنی اس صورت میں جبکہ نجاست حقیقیہ یا حکمیہ اس میں گر گئی ہو اگر اس نے اس میں اعضاء ڈبو کر وضو کیا تو اس کی بناء مستعمل کی نجاست پر نہ ہوگی یہ دو حوضوں کے مسئلہ کی طرح ہے بلالکہ مختصر عبارت کے ساتھ یہ بعینہ وہی مسئلہ ہے اس کو صاحب منیہ نے محیط سے نقل کیا ہے اور ذخیرہ میں قاضی علی السغدی سے اور خانیہ وغیرہ میں اور حلیہ میں کہا کہ مصنف نے محیط سے جواز کی قید کو اس صورت میں نقل کیا ہے جبکہ دونوں جگہوں میں مسافت ہو خواہ کم ہی کیوں نہ ہو خانیہ میں بھی اس کی موافق عبارت موجود ہے اس کی تاویل یہ ہے کہ جبکہ دونوں جگہوں
حوالہ / References بحرالرائق الماء الجاری سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۶
#12564 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
یدخل فی الاخری وھی مسألۃ الفتح)لوکان بینھما قلیل مسافۃ کان الماء الثانی(ای المجتمع فی الحفرۃ الاخری)طاھرا کذا قالہ خلف بن ایوب ونصیر بن یحیی وھذا لانہ اذا کان بین المکانین مسافۃ فالماء الذی استعملہ الاول یرد علیہ ماء جار قبل اجتماعہ فی المکان الثانی فلا یظھر حکم الاستعمال(ای لایثبت) اما اذا لم تکن بینہما مسافۃ فالماء الذی استعملہ الاول قبل ان یرد علیہ ماء جار یجتمع فی(۱)المکان الثانی فیصیر مستعملا فلا یطھر بعد ذلك انتھی وھذا کلہ بناء علی نجاسۃ المستعمل اھ
اقول : حوض یکری منہ نھر فیجری فیہ ماء فیجتمع فی مکان اخر کیف یتصور ھذا من دون مسافۃ بینہما نعم یمکن فی الحفرتین ان تکونا متجاورتین یکون خروج الماء من احدھما دخولہ فی الاخری۔
فان قلت : المراد مسافۃ فوق مایغمس فیھا المتوضیئ اعضائہ لیتحرك
کے درمیان کم درجہ کی مسافت موجود ہو اور دو گڑھوں کے مسئلہ میں(یعنی ایك گڑھے سے پانی نکلے اور دوسرے میں داخل ہو اور یہ فتح کا مسئلہ ہے)اگر دونوں کے درمیان کم مسافۃ ہے تو دوسرا پانی(یعنی جو دوسرے گڑھے میں اکٹھا ہے)پاك ہوگا خلف بن ایوب اور نصیر بن یحیی نے ایسا ہی کہا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ جب دونوں جگہوں میں مسافت ہو تو وہ پانی جس کو پہلے نے استعمال کیا ہو اس پر دوسرا جاری پانی وارد ہوگا قبل اس کے کہ وہ دوسری جگہ جمع ہو تو استعمال کا حکم ظاہر نہ ہوگا(یعنی ثابت نہ ہوگا اور جب ان دونوں کے درمیان مسافت نہ ہو تو وہ پانی جس کو پہلے نے استعمال کیا دوسرے جاری پانی کے وارد ہونے سے پہلے وہ دوسری جگہ اکٹھا ہوجائیگا تو مستعمل ہوجائیگا اور اب طاہر نہیں ہوسکتا ہے انتہی اور یہ تمام اس صورت میں ہے جب مستعمل پانی کو ناپاك قرار دیا جائے اھ(ت)
میں کہتا ہوں ایك ایسا حوض جس سے نہر نکالی جائے اور اس میں پانی چھوڑ دیا جائے پھر وہ پانی دوسری جگہ جمع ہوجائے یہ عمل دونوں میں مسافت کے بغیر کیسے ممکن ہے ہاں دونوں گڑھوں میں اس امر کا امکان ہے کہ قریب قریب ہوں کہ ایك سے پانی نکلتے ہی دوسرے میں داخل ہوتا ہو۔ (ت)اگر یہ کہا جائے کہ مسافت سے مراد ایسی مسافت ہے کہ جو وضو کرنے والے کے اعضاء کے ڈوبنے
حوالہ / References حلیہ
#12565 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
علی الارض بعد انفصالہ من اعضائہ فیأتی علیہ ماء اخر قبل دخولہ فی المکان الثانی۔
اقول : اذھو جار فلا یتاثر ولا یفتاق الی ان یجریہ جار اخر فلو اجتمع من فورہ فی المکان الثانی لکان طھورا فالوجہ(۱)ان لا یجعل ھذا تقییدا(۲)ولا تاویلا بل بیانا لفائدۃ التصویر بکری النھر ویوجہ بانہ لولا ذلك لانقطع جریانہ بدخولہ فی بطن الثانی کما قدمنا تحقیقہ ان الحرکۃ فی البطن سیلان لاجریان فیقع الوضوءفی الراکد فیفسد ثم(۳)البناء علی مسألۃ فرق الملاقی کما فعلنا فلا حاجۃ الی البناء علی مھجور لکن صاحب الحلیۃ مال الی التسویۃ ثم ذکر السراج مسألۃ المیزاب وعزاھا للشیخ الزاھد ابی الحسن الرستغفنی وقال فیھا وھو یتوضؤ فیہ اھ
اقول : ای بالغمس وبہ یتضح مااجملہ فی الفتح قال لان استعمالہ حصل حال جریانہ والماء الجاری لایصیر مستعملا باستعمالہ ثم قال السراج ومن
سے زائد ہوتا کہ پانی اس کے اعضاء سے جدا ہونے کے بعد حرکت کرے اور اس کے دوسری جگہ داخل ہونے سے پہلے دوسرا پانی اس پر آجائے۔ (ت)
میں کہتا ہوں چونکہ وہ جاری ہے اس لئے متاثر نہ ہوگا اور نہ محتاج ہوگا اس بات کا کہ اس کو کوئی دوسرا جاری پانی جاری کرے اب اگر وہ فورا ہی دوسری جگہ جمع ہوجائے تو طہور ہوگا تو وجہ یہ ہے کہ اس کو قید نہ بنایا جائے اور نہ ہی اس کو تاویل قرار دیا جائے بلالکہ وہ نہر کھودنے کے فائدے کا بیان ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کا جاری ہونا دوسرے بطن میں داخل ہونے کے سبب منقطع ہوجاتا جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق کی ہے کہ حرکت بطن میں سیلان کہلاتی ہے نہ کہ جریان اور اس طرح وضو ٹھہرے ہوئے پانی میں ہوگا اور پانی فاسد ہوجائیگا پھر ملاقی کے فرق کے مسئلہ پر اس کی بنا ہے جیسا کہ ہم نے کیا ہے تو کسی مہجور ومتروك چیز پر بنا کی حاجت نہیں لیکن صاحب حلیہ کا میلان برابری کی طرف ہے پھر سراج نے پرنالہ کا مسئلہ بیان کیا اور اس کو شیخ زاہد ابو الحسن الرستغفنی کی طرف منسوب کیا اور اس میں کہا “ اور حالانکہ وہ اس میں وضو کررہا ہے اھ(ت)
میں کہتا ہوں یعنی وہ اعضاء کو ڈبو کر وضو کر رہا ہے اور اسی سے وہ چیز واضح ہوتی ہے جس کا انہوں نے فتح میں اجمال کیا ہے۔ فرمایا کہ اس کا استعمال پانی کے جاری رہنے کی صورت میں ہوا ہے اور جاری پانی
حوالہ / References بحوالہ بحرالرائق بحث الماء الجاری ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۶
#12566 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
المشائخ من انکر ھذا القول وقال الماء الجاری انما لایصیر مستعملا اذا کان لہ مدد کالعین والنھر قال والصحیح القول الاول بدلیل مسألۃ واقعات الناطفی فذکر مسألۃ سد النھر ممن فوق قال فان ھناك لم یبق للماء مدد ومع ھذا یجوز التوضؤ بہ اھ
کسی کے استعمال سے مستعمل نہیں ہوتا ہے پھر سراج نے فرمایا : اور بعض مشائخ نے اس قول کا انکار کیا ہے اور فرمایا ہے کہ جاری پانی اس وقت مستعمل نہیں ہوتا ہے جبکہ اس کا سوتا ہو جیسے چشمہ یا نہر فرمایا اور صحیح پہلا قول ہے اس پر دلیل واقعات الناطفی کی عبارت ہے پھر انہوں نے نہر کو بند کرنے کا مسئلہ ذکر کیا کہ اس صورت میں پانی کی مدد باقی نہ رہی لیکن اس کے باوجود اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
اقول : ولا تنس ماقدمناہ(ہم نے جو پہلے ذکر کیا ہے اسے نہ بھولیے۔ ت)علامہ نے ردالمحتار میں اور مسائل سے اس قول دوم کی تائید کی فقال ویؤیدہ ایضا مامر من انہ لوسال(۱)دم رجلہ مع العصیر لاینجس خلافا لمحمد (فرمایا اور اس کی تائید یہ عبارت کرتی ہے کہ اگر کسی شخص کا خون پھلوں کے رس کے ساتھ جاری ہوا تو نجس نہ ہوگا اس میں محمد کا خلاف ہے اھ۔ ت(
قلت المسألۃ فی الدرعن الشمنی وغیرہ وفی المنیۃ عن المحیط وفی الحلیۃ عن المجتبی وعن مختارات النوازل وھی مقیدۃ بأن کان العصیر لیسیل ولم یظھر فیہ اثر الدم کما نصوا علیہ قال وفی الخزانۃ(فذکر ماقدمنا فی الاصل العاشر من مسألۃ اختلاط ماء الانائین فی الھواء اواجرائہ فی الارض قال ونظمھا المصنف فی تحفۃ الاقران قال وفی الذخیرۃ فذکر مامر فی العاشر عن الحسن بن ابی مطیع۔
میں کہتا ہوں مسئلہ در میں شمنی وغیرہ سے اور منیہ میں محیط اور حلیہ میں مجتبی سے اور مختارات النوازل سے ہے اور یہ اس امر سے مقید ہے کہ عصیربہہ رہا ہو اور اس میں خون کا اثر ظاہر نہ ہو جیسا کہ علماء نے صراحت کی ہے فرمایا اور خزانہ میں ہے پھر انہوں نے وہ عبارت نقل کی جو ہم نے اصل عاشر میں ذکر کی یعنی دو برتنوں کا پانی جو ہوا میں آپس میں مل گیا یا زمین پر جاری کیا فرمایا مصنف نے اس کو تحفۃ الاقران میں ذکر کیا فرمایا اور ذخیرہ میں ہے پھر وہ ذکر کیا جو فصل عاشر میں حسن ابن ابی مطیع سے ہے۔ (ت)
حوالہ / References بحوالہ بحرالرائق بحث الماء جاری ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۶
ردالمحتار باب الانجاس مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۳۹
#12567 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
یہاں تك تائید قول دوم میں سات مسئلے ہوئے :
۱۔ حوض صغیر میں سے نہر کھود کر پانی بہا کر اس میں وضو۔
۲۔ پر نالے میں پانی ڈلوا کر اس میں وضو۔
۳۔ نہر کہ اوپر سے اس کا مینڈھا باندھ دیا ہے اس میں وضو۔
۴۔ شیرہ انگور نچوڑ رہا ہے اور وہ جاری ہے کچھ خون اس میں ٹپك گیا جس کا اثر ظاہر نہ ہوا نجس نہ ہوگا۔
۵۔ پاك ناپاك برتنوں کے پانی ہوا میں ملا کر چھوڑے۔
۶۔ یا زمین میں بہائے دونوں پاك ہوگئے۔
۷۔ ناپاك زمین پر پانی بہایا ہاتھ بھر بہ گیا زمین بھی پاك پانی بھی پاک
اقول : ان سب سے صاف تر وہ مسئلہ ہے کہ برف پگھلا اور ایسے راستہ پر بہا جس میں گوبر وغیرہ نجاسات ہیں اگر نجاسات کا اثر اس میں ظاہر نہ ہوا اس سے وضو ہوسکتا ہے
وھو ماقدمناہ فی الاصل العاشر عن المنحۃ عن الھدیۃ عن الخزانۃ وعن البزازیۃ وعن الخلاصۃ عن الفتاوی۔
یہ وہ ہے جو پہلے اصل عاشر میں ذکر کر آئے ہیں منحہ سے ہدیہ سے خزانہ سے بزازیہ سے خلاصہ سے اور فتاوی سے۔ (ت)
شرح ہدیہ میں فرمایا :
ھذا مبنی علی عدم اشتراط المدد فی الماء الجاری اھ۔
ثم اقول اولا : ھذہ الفروع متوزعۃ علی انحاء منھا ماھو مؤید ولا شك وھی مسألۃ نھر سد من فوق والتی زدت ومنھا مالا تائید فیہ اصلا وھما المسألتان الاولیان ولا ادری کیف اتفق الفریقان علی جعلھما مما لامدد لہ فانہ انما
یہ اس بناء پر ہے کہ جاری پانی میں مدد کی شرط نہ ہو۔ (ت)
پھر میں کہتا ہوں اولا یہ فروع کئی قسم کی ہیں بعض تو وہ ہیں جن کی تائید موجود ہے اور جس میں شك نہیں اس میں وہ فرع ہے جس میں ایسی نہر کا ذکر ہے جس کو اوپر سے بند کر دیا گیا ہواور اس کے ساتھ وہ اضافے جو میں نے کئے ہیں اور کچھ وہ ہیں جن کی تائید بالکل نہیں ملتی ہے اور
حوالہ / References بحوالہ منحۃ الخالق بحث الماء الجاری ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۵
#12568 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
(۱)یتوضؤ فی النھر بین الحوضین اوفی(۲)المیزاب ولا شك ان الحوض الاعلی والاداوۃ یمدان ماء ھما(۳)الا تری کیف اتفقوا علی الحاق حوض الحمام بالماء الجاری اذاکان الماء من الانبوب نازلا والغرف متدارکا۔
(۴)وقد جزم بہ فی الفتح ھھنا کما رأیت ونظیرہ ماقدمنا عن العلامۃ ش فی الاصل الرابع ان طھارۃ الدلو اذا افرغ فیہ ماء حتی سال مبنی علی عدم اشتراط المدد ومنھا ماللنزاع فیہ مجال وفی ٭ وان اومی الی التائید فمن طرف خفی فان(۵)الماء الممتزج فی الھواء(۶)اوالجاری علی الارض فی الخامسۃ والسادسۃ یمدہ(۷)الصب بل وکذلك فی السابعۃ وان کان لفظ الذخیرۃ صب علیھا الماء فجری قدر ذراع لا حتی جری کی یدل ظاھرا علی عدم انقطاع الصب الی ھذہ الغایۃ فان الفاء وان لم یدل دلالۃ حتی غیر انھا لا تدل ایضا علی الانقطاع والاحتمال یقطع الاستدلال(۸)وکذلك فرع العصیر فان لہ مدد ا ما دام العصر قائما
فانقلت المسألۃ مرسلۃ فیشمل مااذا انقطع العصر قلت : قالوا فیھا والعصیر لیسیل فالاستشھاد بھا یتوقف علی کون السیلان الباقی بعد انقطاع
یہ پہلے دو مسئلے ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ دونوں فریق ان دونوں مسئلوں کو مدد نہ ملنے والے پانی سے بنا دینے پر کیونکر متفق ہوگئے ہیں کیونکہ وضو کرنے والا یا تو نہر میں وضو کرے گا جو دو حوضوں کے درمیان ہے یا پرنالہ سے کرے گا اور اس میں شك نہیں کہ اوپر والا حوض اور برتن دونوں پانی کو مدد پہنچاتے ہیں پھر مقام غور ہے کہ وہ حمام کے حوض کو جاری پانی سے لاحق کرنے پر کیوں راضی ہوئے جبکہ پانی نالی کے ذریعہ اوپر سے اتر رہا ہو اور چلو سے مسلسل پانی لیا جارہا ہو اور فتح نے یہا ں جزم کیا جیسا کہ آپ نے دیکھا اور اس کی نظیر وہ ہے جو ہم نے علامہ “ ش “ سے چوتھی اصل میں نقل کی کہ ڈول کی پاکی جب اس میں پانی بہایا جائے یہاں تك کہ اس کے اوپر سے بہہ نکلے مدد کے شرط نہ ہونے پر مبنی ہے اور ان فروع میں سے بعض وہ ہیں جن میں نزاع کی گنجائش کافی ہے اور اس میں تائید کی طرف ہلکا سا اشارہ ہے کیونکہ ہوا میں ملا ہوا پانی یا زمین پر جاری پانچویں چھٹی صورت میں اس کو بہانا مدد دیتا ہے بلکہ ساتویں میں بھی ایسا ہی ہے اگرچہ ذخیرہ کے الفاظ “ صب علیھا الماء فجری قدر ذراع “ الخ ہیں نہ کہ حتی جری اگر حتی کہا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ بہانا اس غایت تك منقطع نہیں ہوا کیونکہ “ فا “ اگرچہ “ حتی “ کے مفہوم پر دلالت نہیں کرتی تاہم وہ انقطاع پر بھی دلالت نہیں کرتی اور جب احتمال پیدا ہوجائے تو استدلال ختم ہوجاتا ہے اور اسی طرح عصیر کی فرع کیونکہ اس کو
#12569 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
المدد جریانا وھو اول الکلام فانقلت نعم ھو جریان بالاتفاق الم تسمع مانقل فی الفتح والتوشیح عن شارط المدد ان الماء الجاری انما لایصیر مستعملا اذا کان لہ مدد زاد السراج اما اذا لم یکن لہ مدد یصیر مستعملا اھ فقد سماہ جاریا قلت : جعلہ فی حکم الراکد والمقصود الحکم فلا شك ان المراد لیسیلان العصیر وجریان الماء مالا یقبل بہ اثر النجاسۃ ویطھر بعضہ بعضا نعم قد یقال فی الخامسۃ والسادسۃ ان الامتزاج فی الھواء اوعلی الارض انما یکون بعد الصب فقدر ما یخرج بالصب یمتزج فیحصل المزج الاخیر بعد تمام الصب فلولم یبق جاریا بعدہ نجس الممتزج الاخیر کلہ۔
وثانیا : الاشھر فی حد الجاری مایذھب بتبنۃ والاظھر ما یعد جاریا کما فی الدر وھو الاصح کما فی البدائع والتبیین والبحر والنھر ولا شك انھما صادقان علی نھر سد من فوقہ فانہ یذھب بحزمۃ فضلا عن تبنۃ ولا یسوغ لاحد
اس وقت تك مدد ملتی رہتی ہے جب تك نچوڑنا برقرار رہتا ہے اگر یہ کہا جائے کہ مسئلہ تو مطلق ہے یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جبکہ نچوڑنا ختم ہوجائے اس کے جواب میں میں کہوں گا کہ اس میں فقہاء نے فرمایا ہے اور عصیر بہہ رہا ہو تو اس سے استدلال اس امر پر موقوف ہے کہ باقی کا بہنا انقطاع مدد کے بعد جاری ہو اور یہی پہلی بات ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہاں یہ تو بالاتفاق جاری ہوتا ہے کیا تم نے وہ نقل نہیں سنی جو فتح اور توشیح میں مدد کے شرط کرنے والے سے منقول ہے کہ جاری پانی اس وقت مستعمل نہ ہوگا جبکہ اس کیلئے مدد ہو سراج نے اتنا اور اضافہ کیا کہ اگر اس کیلئے مدد نہ ہوئی تو وہ مستعمل ہوجائیگا اھ تو اس کو انہوں نے جاری ہی کہا میں کہتا ہوں انہوں نے اس کو ٹھہرے ہوئے کے حکم میں کیا ہے اور مقصود حکم ہے تو اس میں شك نہیں کہ عصیر کے بہنے اور پانی کے جاری ہونے سے مراد وہ ہے جو اثر نجاست کو قبول نہ کرے اور جس کا بعض حصہ بعض کو پاك کر دے ہاں پانچویں چھٹی صورت میں کہا جاسکتا ہے کہ ہوا میں ملنا یا زمین پر جاری ہونا بہنے کے بعد ہی ہوگا تو جس قدر بہانا ہوگا وہ مل جائے گا اور آخری ملنا مکمل بہانے کے بعد ہی متحقق ہوگا تو اگر وہ جاری نہ رہا اس کے بعد تو آخری ملنے والا مکمل طور پر نجس ہوجائے گا۔ (ت)اور ثانیا جاری کی جو مشہور تعریف ہے وہ یہ ہے کہ جاری پانی وہ ہے جو تنکا بہا کر لے جائے اور اظہر یہ ہے کہ جس کو جاری سمجھا جائے جیسا کہ در میں ہے اور وہ ہی صحیح ہے جیسا کہ بدائع تبیین بحر اور نہر میں ہے اور اس میں کچھ شك نہیں کہ دونوں تعریفات اس نہر پر صادق ہیں جو اوپر سے
#12570 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
اھل العرف ان یقول انہ راکد فمن(۱)العجب بعد ذکرہ اختیار اشتراط المدد الا ان یقال ان الوضوء بغمس الاعضاء انما یکون فیما بعد السد منفصلا عنہ لا فی الاجزاء الملاصقۃ لہ وما انفصل عن السد فلہ من فوقہ مدد تأمل۔
وثالثا : (۲)یظھر لی والله تعالی اعلم ان لیس(۳)جریان الماء الا حرکتہ بطبعہ فی فضاء وبقاؤہ جاریا علی محل واحد ھو الذی یحتاج الی المدد لان الجاری لایقف فلولم یمد لاخلی المحل وبالمدد یتجدد علیہ امثالہ فیستمر جاریا علیہ مادام المدد غیران الجریان دافع لاثرالنجاسۃ عن الماء ما استمر جاریا لارافع لہ عنہ(۴)فلوجری الماء المتنجس بنفسہ بان کان فی صبب سد مجراہ ففتح ففاض لم یطھر ابدا بل لابد للطھارۃ من جریانہ مع الطاھر فجریان الطاھر لایحتاج الی المدد کنھر سد من فوقہ وکما تری اذا اشتد المطر ووقف لایزال الماء الواقع علی الارض والسطوح جاریا مدۃ بعدہ ولا یصح لاحد ان یقول وقف الواقع فور وقوف المطر وجریان النجس المطھرلہ یحتاج الی مدد من طاھر فلیکن محمل
بند کردی گئی ہو کیونکہ یہ تو پورا ایك گھٹا بہر کر لے جائے گی چہ جائیکہ تنکا اور اہل عرف میں سے کسی کو روا نہیں کہ وہ اس پانی کو ٹھہرا ہوا کہے تعجب ہے کہ یہ بات ذکر کرنے کے بعد انہوں نے مدد کے شرط ہونے کو اختیار کیا ہے تاہم یہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ اعضاء ڈبو کر وضو اسی پانی سے ہوسکتا ہے جو بندش کے بعد اس سے جدا ہو اس پانی میں نہیں ہوسکتا جس کے اجزاء بندش کے ساتھ ملے ہوئے ہوں اور جو بندش سے جدا ہے اس کو اوپر سے مدد مل رہی ہے تأمل
محل واحد پر جاری رہنا مدد کا محتاج ہے کیونکہ جو جاری ہے وہ ٹھہرے گا نہیں تو اگر اس کو مدد نہ ملے تو وہ جگہ خالی ہوجائے گی اور مدد کی اور ثالثا جو اللہ کے فضل سے مجھ پر منکشف ہوا ہے وہ یہ ہے کہ پانی کے جاری ہونے سے فضا میں اس کی طبعی حرکت مراد ہے اور اس کا وجہ سے اس پر اس کے امثال کا تجدد ہوگا تو وہ اس پر جاری رہے گا جب تك مدد ملتی رہے گی البتہ جریان پانی سے نجاست کے اثر کو دفع کرنے والا ہے جب تك کہ وہ جاری ہے اس سے رفع کرنے ولا نہیں ہے تو اگر ناپاك پانی ازخود جاری ہوا مثلا کسی ڈھلوان میں تھا جو بند تھا پھر اس کو کھولا گیا تو وہ پانی جاری ہوگیا تو اس طرح وہ کبھی پاك نہ ہوگا بلکہ پاکی کیلئے ضروری ہے کہ وہ پاك پانی کے ساتھ جاری ہو تو پاك کا جاری ہونا مدد کا محتاج نہیں جیسے کوئی نہر کہ اوپر سے بند کردی جائے اور جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں کہ شدید
#12571 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
القولین وبالله التوفیق۔
ثم اقول : (۱)ھذا اذا کان الماء فی فضاء اما اذا کان فی جوف کحوض اوظرف فلا بد مع ذلك من خروجہ عنہ لان الماء کان واقفا فیہ والماء لایقف ماصادف منحدرا فدل وقوفہ علی عدمہ فاذا دخلہ ماء اخر فلا یدفعہ الی منحدر بل یعلیہ الی فوق فلا یکون جاریا الی ان یقطع العوائق بامتلاء المحل فیجد متسعا فینحدر فعند ذلك یصیر جاریا فمن اجل ھذا شرط فیہ مع الدخول الخروج(۲)فاذا کان حوض فی حوض والماء وراء الصغیر اوماؤہ کان واقفا فیہ لانعدام المنحدر فلا یجری مالم یخرج من الاعلی لما علمت اما اذا لم یکن الا فی الصغیر ووراء ہ مسیل فدخل الطاھر وملأہ وجعل الماء یخرج منہ ویسیل فقد جری الی ان یصل الی مایحاذیہ من سطح الکبیر فیقف لانعدام المنحدر فما یدخل الیہ بعدہ لایجریہ بل یعلیہ الی ان یملأ الا علی ثم یفیض۔
بارش کے بعد چھتوں وغیرہ پر جمع شدہ پانی بہت دیر تك بہتا رہتا ہے اور کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ گرنے والا پانی بارش کے ٹھہرنے کے فورا بعد ٹھہر گیا اور ناپاك پانی کا بہنا جو اس کو پاك کردے پاك پانی کی مدد کا محتاج ہے تو دونوں قولوں کا یہ محمل ہے وباللہ التوفیق۔ (ت)
پھر میں کہتا ہوں یہ اس صورت میں ہے جبکہ پانی فضا میں ہو لیکن پانی اگر کسی تہ میں ہے جیسے حوض یا برتن تو ضروری ہے کہ وہ اس برتن سے خارج بھی ہو کیونکہ پانی اس میں ٹھہرا ہوا تھا اور پانی اترتی ہوئی چیز سے متصل ہونے کے وقت ٹھہر نہیں سکتا ہے تو اس کا ٹھہرنا اس کے عدم کی دلیل ہے تو اب جب اس میں دوسرا پانی داخل ہوا تو اس کو ڈھلوان کی طرف دھکا نہیں دے گا بلکہ اس کو اوپر کی طرف بلند کرے گا تو وہ اس وقت تك جاری نہ ہوگا جب تك کہ وہ رکاوٹوں کو محل کے پر کرنے سے دور نہ کردے پھر وہ کشادگی پائیگا اور اترے گا اس وقت وہ جاری ہوگا اسی وجہ سے اس میں دخول کے ساتھ ہی خروج کی شرط بھی رکھی گئی ہے تو جب ایك حوض دوسرے حوض میں ہو اور پانی چھوٹے حوض کے پیچھے ہو یا اس کا پانی ٹھہرا ہوا ہو کیونکہ اس میں ڈھلوان موجود نہیں تو جب تك اوپر سے خارج نہ ہو جاری نہ ہوگا جیسا کہ آپ نے جانا اور اگر پانی صرف چھوٹے میں ہو اور اس کے پیچھے پانی کے بہنے کا راستہ ہو اور پاك اس میں داخل ہوگیا ہو اور اس کو بھر دیا ہو یہاں تك کہ پانی اس میں سے بہہ کر نکل رہا ہو تو اب جاری ہوگا یہاں تك کہ بڑے حوض کی مقابل سطح تك جا پہنچے اب ٹھہر جائیگا کیونکہ ڈھلوان موجود نہیں ہے
#12572 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
ثم اقول : ھذا کلہ فی الجریان الحقیقی اما ما الحقوا بہ کحوض صغیر للحمام اوللوضوء یدخل فیہ الماء من الانابیب والمیازیب ویخرج بالغرف المتدارك والبئر(۱)ینبع فیھا الماء من تحت ویخرج بالاستقاء المتوالی او بفتح منفذ فیھا ان امکن کمامرعـــہعن الھندیۃ عن الظھیریۃ وعن المنحۃ عن الخیر الرملی وفی البحر عن البدائع عن الامام الحسن بن زیاد عند تکرار النزح ینبع الماء من اسفلہ ویؤخذ من اعلاہ فیکون کالجاری اھ وھو عندی محمل مافی الحلیۃ عن الامام محمد قال اجتمع رأیی ورأی ابی یوسف علی ان ماء البئر فی حکم الماء الجاری لانہ ینبع من اسفل ویؤخذ من اعلاہ فلا یتنجس بوقوع النجاسۃ فیہ اھ ونقلہ فی العنایۃ بلفظ قال محمد الخ ثم رأیت الامام ملك العلماء نقلہ فی البدائع بعین لفظ الحلیۃ وذکر تمامہ کحوض الحمام
تو اب اس کے بعد جو آئے گا وہ اس کو جاری نہ کرے گا بلالکہ اس کو بلالند کرے گا یہاں تك کہ اوپر والے کو بھر دے گا پھر بہے گا۔ (ت)
پھر میں کہتا ہوں یہ سب بحث جریان حقیقی میں ہے لیکن فقہاء نے اس کے ساتھ جس کو لاحق کیا ہے جیسے چھوٹا حوض نہانے کیلئے یا وضو کیلئے جس میں پانی نلوں یا پرنالوں سے آتا ہے اور مسلسل چلو بھرنے سے نکلتا ہے اور یا وہ کنواں جس میں نیچے پانی کے سوتے ہیں اور مسلسل بھرنے سے وہ پانی نکلتا رہتا ہے یا اس میں کوئی سوراخ کھول دیا گیا ہے اگر ممکن ہو جیسا کہ ہندیہ سے ظہیریہ سے اور منحہ سے خیر رملی سے گزرا اور بحر میں بدائع سے امام حسن بن زیاد سے منقول ہے کہ پانی بار بار نکالا جائے تو نیچے سے نکلتا رہے اور اوپر سے لے لیا جاتا ہے تو یہ مثل جاری کے ہوگا اھ
اور میرے نزدیك یہ اس چیز کا محمل ہے جو حلیہ میں امام محمد سے منقول ہے انہوں نے فرمایا میری اور ابو یوسف کی یہ رائے ہے کہ کنویں کا پانی جاری پانی کے حکم میں ہے کیونکہ وہ نیچے سے نکلتا ہے اور اوپر سے لے لیا جاتا ہے تو اس میں نجاست کے گرنے سے نجس نہ ہوگا اھ اور عنایہ میں اس کو “ قال محمد “ کے لفظ سے ذکر کیا الخ پھر بدائع میں اس کو بعینہ انہی الفاظ میں ذکر کیا جو حلیہ کے ہیں فرمایا

عـــہ نشر علی ترتیب اللف ۱۲(م)
اجمال کی ترتیب پر تفصیل ہے۔ (ت)
حوالہ / References بحوالہ بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۷
بحوالہ بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۵
#12573 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
اذا کان یصب الماء فیہ من جانب ویغترف من جانب اخر انہ لاینجس بادخال الید النجسۃ فیہ اھ وکذلك فی الفتح الی قولہ کحوض الحمام اھ فاکد ذلك ماذکرتہ من المحمل۔
اقول : وعند ھذا فھو فرع جید مقبول(۱)ولا وجہ لردہ کما یعطیہ کلام الحلیۃ تبعا للبدائع انہ کان القیاس فی البئر ان لاتتنجس اصلا کما نقل عن محمد اولا تطھرا بدا کما قالہ بشر المریسی الا ان اصحابنا ترکوا القیاسین بالاثار ھذا حاصل مافیھا حملا منھما ایاہ علی الاطلاق ولیس الاولی بنا ان نرد ما جاء عن الائمۃ مع وجود محمل لہ صحیح فقد(۲)تظافرت کلماتھم علی قبول ھذا المعنی فی الحوض الصغیر فلم لایقبل فی البئر ولا تخالفہ الا فی حیأۃ ولامدخل لھا فی الحکم فکل صغیر سواء او ان الماء یدخل فیہ من اعلاہ وفیھا من اسفلھا ولا یختلف بہ الحکم فقد قال فی(۳)الفتح لوتنجست بئرفاجری ماؤھا بان حفرلھا منفذ فصار الماء یخرج
جیسے حمام کا حوض کہ اس میں ایك جانب سے پانی ڈالا جائے اور دوسری جانب سے چلو کے ذریعہ نکالا جائے تو ناپاك ہاتھ کے ڈالے جانے سے نجس نہ ہوگا اھ اور اسی طرح فتح میں “ کحوض الحمام “ تك ہے اھ تو اس نے تاکید کردی اس محمل کی جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اور اس وقت یہ اچھی فرع ہے مقبول ہے اور اس کے رد کی کوئی وجہ نہیں جیسا کہ حلیہ میں بدائع کی تبعیت میں ہے کہ کنویں میں قیاس یہ تھا کہ کبھی ناپاك نہ ہو جیسا کہ محمد سے منقول ہے یا یہ کبھی پاك نہ ہو جیسا کہ بشر مریسی سے منقول ہے مگر ہمارے اصحاب نے دونوں قیاسوں کو آثار کی وجہ سے ترك کردیا یہ ان دونوں کتابوں کا حاصل ہے کہ انہوں نے اس کو اطلاق پر محمول کیا ہے اور جو چیز ائمہ سے منقول ہے اور اس کا مناسب محمل بھی موجود ہو تو اس کو رد کر دینا مناسب نہیں کیونکہ چھوٹے حوض میں وہ اس حکم کو قبول کرتے ہیں تو پھر اس کو کنویں میں کیوں نہ قبول کیا جائے حالانکہ کنواں چھوٹے حوض سے صرف صورت میں مختلف ہے یا صورت کا حکم میں کیا دخل ہے ہر چھوٹا برابر ہے اور یہ کہ حوض میں پانی اوپر سے آتا ہے اور اس میں نیچے سے آتا ہے تو اس سے حکم مختلف نہ ہوگا چنانچہ
حوالہ / References بحوالہ بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۵
فتح القدیر فصل فی البئر نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۸۶
#12574 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
منہ حتی خرج بعضہ طھرت لوجود سبب الطھارۃ وھو جریان الماء وصار کالحوض اذا تنجس فاجری فیہ الماء حتی خرج بعضہ اھ واغترف منہ فی البحر واقرہ وفی الدر یکفی نزح ماوجد وان قل وجریان بعضہ اھ قال ش بان حفرلھا منفذ یخرج منہ بعض الماء کما فی الفتح اھ وقدمنا فی الاصل الثالث عن البحر فی مسألۃ جریان الحوض الصغیر بدخول ماء اخر فیہ وخروج البعض منہ حال دخولہ قال السراج الھندی وکذا البئر اھ ومثلہ فی البزازیۃ وقدمناہ عن الخلاصۃ فلولا انھم اعتبروا نبع الماء من اسفلہ لم یکن لہ معنی فان الجریان دافع لارافع فالنجس لایطھر بہ ابدا مالم یجرمع الطاھر(۱)ھذا وبالجملۃ کل ماالحق بالجاری علی ھذا المنوال اعنی اقامۃ الاخراج مقام الخروج فقد زید فیہ قید اخرو ھو توالی الاخراج واستمرار تحرکہ بہ حتی لوسکن لم یلتحق وذلك لان لازم الجریان شیان تعاقب الاجزاء
فتح میں فرمایا کہ اگر کنواں ناپاك ہوجائے اور اس کا پانی جاری کیا جائے مثلا اس میں کوئی سوراخ کر دیا جس سے کنویں کا کچھ پانی نکل گیا تو کنواں پاك ہوگیا کیونکہ سبب طہارت پایا گیا اور وہ پانی کا جاری ہونا ہے اور یہ حوض کی طرح ہوا کہ ناپاك ہوجائے اور اس میں پانی جاری کیا جائے یہاں تك کہ کچھ پانی نکل جائے ا ھ اس کو بحر میں ذکر کیا اور برقرار رکھا اور در میں ہے کہ جو پانی اس میں ہے اس کا نکال دینا کافی ہے خواہ کم ہی ہو اور جاری ہونا بعض کا اھ “ ش “ نے کہا کہ مثلا کنویں میں کوئی سوراخ کردیا جس سے کچھ پانی نکال دیا جیسا کہ فتح میں ہے اھ اور ہم نے تیسری اصل میں بحر سے چھوٹے حوض کے جاری ہونے کے مسئلہ میں بیان کیا کہ اس میں نیا پانی داخل ہو اور اس کے داخل ہوتے وقت کچھ اس سے خارج ہو سراج ہندی نے کہا کہ اس طرح کنویں کا حال ہے اھ اور اسی کی مثل بزازیہ میں ہے اور ہم نے اس کو پہلے خلاصہ سے نقل کردیا ہے تو اگر وہ پانی کے نیچے سے پھوٹنے کا اعتبار نہ کرتے تو یہ بے معنی بات ہوتی کیونکہ جاری ہونا دافع ہے رافع نہیں تو جب تك وہ نجس طاہر کے ساتھ جاری نہ ہو کبھی بھی پاك ہونے کا نہیں اس کو اچھی طرح سمجھئے۔ خلاصہ
حوالہ / References فتح القدیر آخر فصل فی البئر نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۹۳
الدرالمختار فصل فی البئر مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳
ردالمحتار فصل فی البئر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۰
بحرالرائق بحث عشر فی عشر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۸
#12575 · فتوٰی مسمّٰی بہ رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ ۱۳۳۴ھ ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو
یزول منہ جزء فیخلفہ اخر وعدم الاستقرار بدوام التحرك فاذا دخل الماء فی الحوض والبئر من جانب واخرج من اخر بالغرف والاستقاء وجد الاول واذا استمر ذلك حصل الثانی فتم الشبہ فساغ الالتحاق ولذا اعتبروا تدارك الغرفات بان لایسکن وجہ الماء بین الغرفتین لا الموالاۃ الحقیقیۃ اذ بھذا القدر یحصل دوام التحرك المحصل للشبہ ھذا ما عندی والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
یہ کہ ہر وہ پانی جس کو جاری کے حکم میں کیا گیا ہے اور اس میں اخراج کو خروج گردانا گیا ہے تو اس میں ایك اور قید کا اضافہ کیا گیا ہے اور وہ تسلسل کے ساتھ اخراج کی قید ہے اور اس کی وجہ سے اس کا مسلسل متحرك رہنا اور اگر وہ ٹھہر گیا تو جاری کے حکم میں نہ ہوگا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جاری ہونے کو دو چیزیں لازم ہیں ایك تو اجزاء کا تعاقب کہ ایك جزء زائل ہو اور دوسرا جزء اس کے پیچھے آئے اور مسلسل حرکت کی وجہ سے ایك جگہ نہ ٹھہرتا تو جب حوض اور کنویں میں پانی ایك طرف سے داخل ہو اور دوسری طرف سے چلوؤں اور ڈولوں یا نالیوں کے ذریعہ نکالا جائے تو پہلی چیز حاصل ہوگی اور یہ سلسلہ جاری رہے تو دوسری چیز حاصل ہوگی اور مشابہت مکمل ہوجائیگی اور اس کا لاحق کیا جانا جائز ہوگا اور اس کیلئے چلوؤں کا پے درپے ہونا معتبر ہوگا اور پے درپے کا مطلب ہے کہ دو چلوؤں کے درمیان پانی میں ٹھہراؤ نہ آئے حقیقی موالات مراد نہیں ہیں کیونکہ اس مقدار سے تحرك کا دوام حاصل ہوجاتا ہے جس سے مشابہت پوری ہوتی ہے ھذا ماعندی والله سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
اس ۱تقریر سے واضح ہوا کہ ندی۱ کا پانی جس کا مینڈھا اوپر سے باندھ دیا ہو اور۲ گلا ہوا برف کہ زمین پر بہ رہا ہو اور۳ مینہ کا پانی کہ بارش تھمنے پر ہنوز رواں ہو اور۴ دو پانیوں کی دھار جو ہوا میں مل کر اتر رہی ہے یا۵ زمین پر ایك ہو کر بہ رہی ہے اور۶ انگور کا شیرہ کہ ابھی رواں ہے اگرچہ ان کی مدد منقطع ہوگئی ہو جب تك کسی ایسی شے تك نہ پہنچیں جو آگے مرور کو مانع ہو سب جاری ہیں تو لوٹے کی دھار کہ ابھی ہاتھ تك نہ پہنچی بدرجہ اولی اور دخول وخروج دونوں کی شرط اس مائع میں ہے جو کسی جوف میں رکا ہوا ہے اور پانی ایك طرف سے آنا اور دوسری طرف سے جلد جلد کھینچا جانا کہ جنبش تھمنے نہ پائے یہ ملحق بہ آب جاری میں ہے والحمدلله علی توالی الائہ وافضل صلوتہ واکمل تسلیمات علی افضل انبیائہ وعلی الہ وصحبہ وابنہ واحبائہ والحمدلله رب العلمین والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
#12576 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
تجدید النظر بوجہ اخر وابانۃ موھو احلی و ازھر واجلی واظھر
ایک اور طریقہ سے نظر ثانیاور عمدہروشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت:
اللھم لك الحمد والیك الصمد ارعبیدك الصواب وقہ التباب فی کل باب یاوھاب وصل وسلم وبارك علی السید الاواب الذی تحکی نفحۃ من کرمہ الریح المرسلۃ ورشحۃ من فیضہ ھامر السحاب وعلی الہ وصحبہ وابنہ وحزبہ خیر حزب وال واصحاب امین۔
اے اللہ تیرے لئے یہ حمد ہے اور تو بے نیاز ہے اے وہاب!اپنے بندوں پر ہر معاملہ میں اچھا راستہ کھول اور ہلاکت سے بچا اور صلوۃ وسلام اور برکتیں ہوں رجوع لانے والے آقا پر جس کے کرم کا ایك جھونکا چلتی ہوئی ہوا کے مشابہ ہے اور جس کے فیض کا ایك چھینٹا بہت برسنے والے بادل کی طرح ہے اور آپ کی آل اصحاب اولاد اور گروہ سب پر سلامتی ہو. آمین۔ ت
جماہیر مشاہیر کتب معتمدہ متدا ولہ مستندہ کی تصریحات واضحہ وتلویحات لائحہ کا یہی مفاد کہ جو پانی یا مائع کسی جوف میں ہو تازہ آمد کتنی ہی ہو اسے جاری نہ کرے گی جب تك بھر کر نہ ابلے حوض وغیرہ کے بطن میں پانی کا بہنا اس کے پانی کے لئے جریان نہیں کتب کثیرہ سے فروع متکاثرہ وتصریحات متوافرہ اس معنی پر جوابات سابقہ میں گزریں جواب سوم کے بعض احکام اور آخر چہارم کی تقریر اور پنجم کے اکثر مباحث اسی پر مبنی تھے اور اصل سوم تو خود یہی تھی اور یہی اصل پنجم کی تمہید اور ششم کا حصہ اولین اور نہم کا اول واخیر پھر تفریعات میں جو کچھ ان پر متفرع ہے لیکن یہاں ایك قول یہ ہے کہ جریان کیلئے خروج شرط نہیں حوض کبیر جس کی تہہ میں نجاستیں یا نجس پانی تھا مجرد بھر جانے سے پاك ہوجائیگا منیہ۱ میں اگرچہ اس قول کو بصیغہ ضعف نقل کیا کہ وقیل لایصیر نجسا اور ایك قول یہ ہے کہ نجس نہیں ہوگا۔ ت اور حلیہ۲ میں اس کا ضعف اور مسجل کردیا کہ اس کی کچھ وجہ ظاہر نہیں غنیہ۳ میں اس کے خلاف کی تصریح تصحیح کی امام ابو القاسم صفار۴ وامام فقیہ ابو جعفر۵ وامام فقیہ ابو اللیث۶ وامام صدر الشہید۷ وامام ابو بکر اعمش۸ وامام علی سغدی ۹وامام نصیر بن یحیی ۱۰ وامام خلف بن ایوب ۱۱ وغیرہم اجلہ اکابر قدست اسرارہم ورحمنا اللہ تعالی بہم فی الدارین کے ارشادات واختیارات اور ظہیریہ ۱۲ ومبتغی۱۳ ومحیط۱۴ وبرہانی ورضوی۱۵ وغنیہ کی تصحیحا ت اس کے خلاف پر ہیں ان کتابوں اور ان کے سوا بدائع۱۶ وفتح القدیر۱۷ وتبیین۱۸ وتوشیح۱۹ وبحر۲۰ وتاتارخانیہ۲۱ وخانیہ۲۲ وخلاصہ۲۳ وذخیرہ۲۴ وفتاوی اہل سمرقند ۲۵ وغیاثیہ۲۶ وعالمگیریہ۲۷وخزانۃ المفتین۲۸وجواہر اخلاطی۲۹ وشرح ہدیہ ابن العماد ۳۰ وغیرہا عامہ کتب جلیلہ نے فروع
#12577 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
کثیرہ وافرہ میں اصلا اس کی طرف التفات بھی نہ کیا یہ امور بتاتے ہیں کہ وہ قول مہجور جمہور ونامقبول ونامنصور ہے ولہذا ہم نے بھی باتباع ائمہ اس کی طرف میل نہ کیا مگر انصافا(۱)وہ ساقط محض نہیں بجائے خود ایك قوت رکھتا ہے متعدد مشائخ اور کثیر یا اکثر فقہائے بخارا وبعض ائمہ بلخ نے اسے اختیار کیا اور امام یوسف ترجمانی نے اسے بہ یفتی کہا۔ امام کردری نے وجیز میں اسے مقرر رکھا اور یہ آکد الفاظ فتوی سے ہے منیہ کی عبارت کہ ابھی مذکور ہوئی اس کے متصل ہی ہے :
حوض کبیر و فیہ نجاسات فامتلاء قیل ھو نجس وقیل لیس بنجس وبہ اخذ اکثر مشائخ بخاری رحمھم الله ذکرہ فی الذخیرۃ
حوض کبیر جس کی تہہ میں نجاستیں ہوں پھر وہ بھر جائے تو ایك قول کے مطابق نجس ہے اور ایك قول یہ ہے کہ نجس نہیں بخارا کے اکثر مشائخ(اللہ ان پر رحم کرے)نے اسی کو اختیار کیا ہے اس کو ذخیرہ میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
غنیہ میں قول اول کی تعلیل کی :
لتنجس الماء شیئا فشیئا ۔
کیونکہ پانی تھوڑا تھوڑا کرکے نجس ہوتا جاتا ہے۔ (ت)
اور دوم کی :
لکونہ کبیرا فصار کما لوکان ممتلئا فوقعت فیہ النجاسات ۔
کیونکہ یہ بڑا حوض ہے تو یہ اسی حکم میں ہوگا کہ پہلے وہ بھر گیا ہو پھر اس میں نجاستیں واقع ہوئی ہوں۔ (ت)
حلیہ میں ذخیرہ کا نص یوں ذکر کیا :
وفی نظم الزند ولیسی اذا کان الحوض کبیرا وفیہ نجاسات فدخل الماء فامتلاء قال اھل بلخ وابو سھل الکبیر البخاری ھو نجس وقال الفقیہ ابوجعفر البلخی والفقیہ اسمعیل وابن الحسن الزاھدی البخاری الکل طاھر وبہ اخذ کثیر من
اور نظم زند ویسی میں ہے کہ جب حوض بڑا ہو اور اس میں نجاسات ہوں پھر پانی داخل ہو کر اس کو بھر دے تو بلخ والوں اور ابو سہیل کبیر بخاری کا قول ہے کہ یہ نجس ہے اور فقیہ ابو جعفر البلخی فقیہ اسمعیل اور ابن الحسن الزاہدی البخاری نے کہا کہ سب پاك ہے اور اس قول کو بخارا کے کثیر فقہاء نے
حوالہ / References منیۃ المصلی فصل فی الحیاض مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۷۲
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۰۱
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۰۱
#12578 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
فقہاء بخاری وھکذا افتی عبدالواحد مرارا وھکذا کان یفتی الفقیہ ابو بکر العیاضی وکان یقول الماء الکثیر فیحکم الماء الجاری انتھی ۔ اختیار کیا ہے اور عبدالواحد نے بھی اس پر کئی بار فتوی دیا اور ابو بکر عیاضی بھی اسی طرح فتوی دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ کثیر پانی جاری پانی کے حکم میں ہے انتہی۔ (ت)
پھر فرمایا :
ونقل الزاھدی عن یوسف الترجمانی فی انہ قال وبہ یفتی ۔
زاہدی نے یوسف الترجمانی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا اور اسی پر فتوی ہے۔ (ت)
بزازیہ میں ہے :
تنجس الحوض ثم دخل فیہ ماء کثیر وخرج منہ ایضا قیل طھر الحوض وان قل الخارج وقیل لاحتی یخرج مثل مافیہ وقیل مثلاہ اوثلثۃ امثالہ وقیل یطھر وان لم یخرج شیئ قال ابو یوسف الترجمانی رحمہ الله تعالی وبہ یفتی اھ
اقول : (۱)تفرد بشیئین احدھما قید الکثیر فی الماء الداخل وھم قاطبۃ ارسلوہ وقال ش وان قل الداخل اھ وکانہ والله تعالی اعلم رعایۃ للقول الاخیر اذ یختص بالحوض الکبیر فدل علی کبرہ بدخول الماء الکثیر والاخر زیادۃ
حوض ناپاك ہوگیا پھر اس میں بہت سا پانی داخل ہوگیا اور نکل گیا تو ایك قول ہے کہ حوض پاك ہوگیا خواہ نکلنے والا پانی کم ہی ہو اور ایك قول یہ ہے کہ جب تك اتنا پانی نہ نکلے جتنا کہ حوض میں تھا پاك نہ ہوگا جبکہ ایك قول یہ ہے کہ جب تك حوض کا دوگنا یا تین گنا پانی نہ نکلے پاك نہ ہوگا اور ایك قول یہ ہے کہ پاك ہو جائے گا خواہ کچھ بھی نہ نکلے یوسف الترجمانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تعالی نے فرمایا کہ اسی پر فتوی ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں وہ دو چیزوں میں متفرد ہیں ایك تو داخل ہونے والے پانی میں کثرت کی قید لگانے میں جبکہ تمام فقہاء نے یہ قید نہیں لگائی ہے اور “ ش “ نے فرمایا اگرچہ داخل ہونے والا پانی قلیل ہو اھ اور گو یا واللہ تعالی اعلم آخری قول کی رعایت ہے کیونکہ یہ بڑے حوض کے ساتھ خاص ہے
حوالہ / References حلیہ
حلیہ
بزازیہ علی الھندیۃ نوع فی الحیض نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۸
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۸
#12579 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
مثلیہ وانما یذکرون مثلا وثلاثا فالثانی لتثلیث الغسل والاول قیاسا علی البئر فان نزح مافیھا لھا تطہیر افادہ فی البدائع اما التثنیۃ فلا وجہ لھا ھذا ثم قال فی الحلیۃ لکن فی الذخیرۃ قبل ھذہ المسألۃ وفی فتاوی اھل سمر قند غدیر کبیر لایکون فیہ ماء فی الصیف ویروث فیہ الناس والدواب(فذکر ماقدمنا عن الخانیۃ وغیرھا عشرۃ کتب فی الاصل الثامن)قال فعلی قیاس الجواب فی ھذہ المسألۃ یکون الجواب ایضا فی المسألۃ التی ذکرھا المصنف ان کان الماء الذی یدخل اولا یدخل علی ماء نجس اومکان نجس فھو نجس وان کان یدخل علی طاھر ویستقر فیہ حتی یصیر عشرا فی عشر ثم یتصل بالنجس فھو طاھر قال فھذا قول ثالث فی المسألۃ المذکورۃ تخریجا کما یمکن ان یتأتی القولان المذکوران فیھا نصا فی ھذہ المسألۃ التی ذکرناھا نحن عن الذخیرۃ ایضا تخریجا اھ
اقول : رحم الله المحقق لاتثلیث
تو کثیر پانی کا داخل ہونا حوض کی بڑائی پر دلالت کرے گا اور دوسری چیز دگنا ہونے کی زیادتی اور دوسرے فقہا ایك گنا اور تین گنا کا ذکر کرتے ہیں تو دوسرا دھونے میں تثلیث کے لئے ہے اور پہلا کنویں پر قیاس کرتے ہوئے ہے کیونکہ کنویں میں جو کچھ ہے وہ اگر نکال لیا جائے تو کنواں پاك ہوجائیگا بدائع میں یہی ہے اور دگنا ہونے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں ہذا۔ پھر حلیہ میں فرمایا اور لیکن ذخیرہ میں اس مسئلہ سے قبل اور اہل سمرقند کے فتاوی میں ہے کہ اگر کوئی بڑا تالاب ایسا ہو جو گرمیوں میں سوکھ جاتا ہو اور اس میں انسان اور چو پائے بول وبراز کرتے ہوں(تو اس کا حکم وہ بیان کیا جو ہم نے آٹھویں اصل میں خانیہ وغیرہا دس کتب سے نقل کیا)فرمایا اس مسئلہ کے جواب پر قیاس کرتے ہوئے مصنف نے جو مسئلہ ذکر کیا ہے اس کا بھی جواب ہوگا اور وہ یہ کہ اگر داخل ہونے والا پانی پہلے نجس پانی پر داخل ہوتا ہے یا نجس جگہ پر تو وہ نجس ہے اور اگر پاك پر داخل ہوتا ہے اور اس میں ٹھہرتا ہے یہاں تك کہ دہ در دہ ہوجائے پھر نجس سے متصل ہو تو وہ پاك ہے فرمایا یہ مسئلہ مذکورہ بطور تخریج تیسرا قول ہے اور دو مذکور قول اس میں بطور نص ہیں جس کو ہم نے ذخیرہ سے بطور تخریج نقل کیا ہے۔ اھ(ت)
میں کہتا ہوں اللہ محقق پر رحم کرے نہ تو
حوالہ / References حلیہ
#12580 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
ولا تخریج(۱)اما الثانی فظاھر فان المسألۃ المذکورۃ مسألۃ المتن حوض کبیر وفیہ نجاسات فامتلأ والتی اوردتموھا عن الذخیرۃ غدیر کبیر لایکون فیہ ماء فی الصیف ویروث فیہ الناس والدواب وای فرق بینہما الا فی اللفظ فلا قیاس ولا تخریج بل القولان المذکوران فی المتن منصوص علیھما فی مسألۃ الذخیرۃ والتفصیل المذکور فیھا منصوص علیہ فی مسألۃ المتن (۲)واما الاول فلانہ لیس لاحد ان یقول الماء وان کثر فی بطن الحوض قبل وصولہ الی النجس یتنجس حین یصل الیہ وکیف یتنجس وقد فرض کثیرا ھذا خلاف الاجماع فالتفصیل المذکور فی الذخیرۃ ھو المراد قطعا فی القول الاول وانما طووا ذکرہ للعلم بہ کما قلتم ھھنا ان من المعلوم حیث قلنا فی ھذہ المسألۃ اوامثالھا ان الماء طاھر فھو مشروط بکونہ لااثر للنجاسۃ فیہ فترك التقیید بہ فی ذلك للعلم بہ وایاك والذھول عنہ فیذھبن بك الوھم الی تخطئتھم فی ذلك وھم من ذلك براء اھ (۳)فھل یسوغ لاحد ان یجعل التقیید بعدم ظھور الاثر قولا رابعا فی المسألۃ وقد اشرنا الیہ بعد ذکر الضابط الثالث فما ثم الا قولان التفصیل المذکور
تثلیث ہے اور نہ تخریج دوسرا تو ظاہر ہے کیونکہ مسئلہ مذکورہ متن کا مسئلہ ہے تثلیث کہ ایك بڑا حوض ہو جس میں نجاستیں ہوں اور بھر جائے اور جس کو تم نے ذخیرہ سے نقل کیا ہے یعنی بڑا تالاب جو گرمیوں میں خشك ہوجاتا ہے اور اس میں انسان اور جانور بول وبراز کرتے ہوں ان دونوں میں لفظی فرق کے علاوہ اور کیا فرق ہے تو نہ قیاس ٹھیك ہے اور نہ تخریج درست ہے بلالکہ دونوں قول جو متن میں مذکور ہیں اور ان کو ذخیرہ میں صراحت سے ذکر کیا ہے اور اس میں جو تفصیل ہے وہ متن میں منصوص ہے لیکن پہلا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا جبکہ پانی حوض میں کثیر ہو نجس تك پہنچنے سے پہلے تو وہ نجس ہوجائیگا جب وہ نجاست تك پہنچے گا اور نجس کیسے ہوگا حالانکہ اس کو کثیر فرض کیا گیا ہے یہ اجماع کے خلاف ہے جو تفصیل ذخیرہ میں ہے وہی قطعا مراد ہے پہلے قول میں اور اس کو ذکر اس لئے نہیں کیا کہ وہ پہلے ہی معلوم ہے جیسا کہ تم نے یہاں کہا ہے کہ یہ بات معلوم ہے جبکہ ہم نے اس مسئلہ میں اور اس جیسے مسائل میں کہا کہ پانی پاك ہے مگر اس میں یہ شرط ہے کہ نجاست کا اثر اس میں ظاہر نہ ہو تو اس قید کو معلوم ہونے کی بنا پر چھوڑ دیا گیا ہے اس سے آپ غافل نہ ہوں ورنہ آپ ان کو خطاکار قرار دیں گے حالانکہ وہ بے قصور ہیں اھ تو کیا کوئی اثر کے ظاہر نہ ہونے کی قید لگانے کو چوتھا قول قرار دے سکتا ہے ۔
حوالہ / References حلیہ
#12581 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
فی الکتب العشرۃ واطلاق الطھارۃ وبالله التوفیق۔
اور ہم نے تیسرے ضابطہ کے بعد اس کی طرف اشارہ کیا ہے تو وہاں صرف دو ہی قول ہیں مذکورہ تفصیل دسوں کتب میں ہے اور طہارت کا اطلاق ہے۔ (ت)
ثم اقول : وبہ استعین(اللہ سے مدد چاہتے ہوئے میں کہتا ہوں)یہاں دو بحثیں ہیں :
بحث اول ہم اوپر بیان کر آئے کہ جریان آب نہیں مگر فضا میں اس کا اپنے میل طبعی سے رواں ہونا اور فضائے غیر محدود غیر مقصود اور محدود بطن حوض میں بھی موجود بارش یا سیل وغیرہ کا پانی کہ اوپر سے بہتا ہوا آیا اور بطن حوض میں داخل ہوا وہ قطعا اب بھی بہ رہا ہے جب تك کنارہ مقابل پر جاکر رك نہ جائے۔
اولا : جاری کی دونوں تعریفیں اشہر واظہر اس پر صادق ہیں وہ ایك تنکا کیا ایك گھٹا بہالے جائیگا اور بے شك جب تك اس کا بہاؤ نہ ٹھہرے بہتا ہی کہا جائیگا اہل عرف میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ سیلاب حوض کے کنارے تك پہنچتے ہی تھم گیا اب اس میں روانی نہ رہی جب تك بھر کر ابال نہ دے پہلے کنارے پر تھم جائے تو حوض کو بھرے کون اور ابالے کیوں کر۔
ثانیا : نہر جاری میں سیلاب کی دھار آکر گری اب چاہئے کہ وہ نہر جاری نہ رہے جب تك بھر کر ابل نہ جائے کہ اعتبار وئے آب کا ہے اور اب روئے آب یہ سیلاب ہے جسے جوف نہر میں داخل ہوتے ہی ساکن مان لیا گیا۔
ثالثا : مینہ کاپانی(۱)کہ چھت پر بہتا پر نالوں سے گرتا صحن خانہ میں رواں ہو قطعا آب جاری ہے اگرچہ ابھی مکان کی نالی سے بھی نہ نکلے مکان کو چھت تك لبریز کرکے دیواروں پر سے ابال دینا تو قیامت ہے
بدائع میں ہے :
ان کانت الانجاس متفرقۃ علی السطح ولم تکن عند المیزاب ذکرعیسی بن ابان(ای تلمیذ محمد رحمہما الله تعالی)انہ لایصیر نجسا مالم یتغیر وحکمہ حکم الماء الجاری وقال محمد ان کانت النجاسۃ فی جانب من السطح اوجانبین لاینجس الماء ویجوز التوضوء بہ وان کانت فی ثلثۃ جوانب ینجس اعتبار
اگر نجاستیں چھت پر پرا گندہ ہوں اور یہ پرنالہ کے پاس نہ ہوں تو عیسی بن ابان نے ذکر کیا(یعنی محمد کے شاگرد نے)کہ وہ نجس نہ ہوگا جب تك کہ متغیر نہ ہو اور اس کا حکم جاری پانی کی طرح ہے اور محمد نے فرمایا کہ اگر نجاست چھت کی ایك جانب یا دو جانب ہو تو پانی ناپاك نہ ہوگا اور اس سے وضو جائز ہے اور اگر نجاست تین کناروں پر ہو تو غالب کا اعتبار کرتے ہوئے پانی
#12582 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
اللغالب اھ
ناپاك ہوجائیگا اھ(ت)
ہندیہ میں ہے :
لوکان علی السطح عذرۃ فوقع علیہ المطر فسال المیزاب ان کانت النجاسۃ عند المیزاب وکان الماء کلہ یلاقی العذرۃ اواکثرہ اونصفہ فھو نجس والا فھو طاھر وان کانت العذرۃ علی السطح فی مواضع متفرقۃ ولم تکن علی رأس المیزاب لایکون نجسا وحکمہ حکم الماء الجاری کذا فی السراج الوھاج وفی(۱)بعض الفتاوی قال مشائخنا المطر مادام یمطر فلہ حکم الجریان حتی لواصاب العذرات علی السطح ثم اصاب ثوبا لایتنجس الا ان(۲)یتغیر المطر اذا اصاب السقف وفی السقف نجاسۃ فوکف واصاب الماء ثوبا فالصحیح انہ اذا کان المطر لم ینقطع بعد فما سال من السقف طاھر ھکذا فی المحیط وفی العتابیۃ اذا لم یکن متغیرا کذا فی التاتارخانیۃ(۳)واما اذا انقطع المطر وسال من السقف شیئ فما سال فھو نجس کذا فی المحیط وفی النوازل قال مشائخنا المتأخرون ھو المختار کذا
اگر چھت پر پاخانہ پڑا ہو اور بارش ہوجائے پھر پرنالہ بہے تو اگر نجاست پرنالہ کے پاس ہو اور کل پانی پاخانہ سے لگ کر آرہا ہو یا اکثر یا نصف تو وہ ناپاك ہے ورنہ پاك ہے اور اگر نجاست چھت پر متفرق جگہوں پر ہو اور پرنالہ کے سر پر نہ ہو تو ناپاك نہ ہوگا اور اس کا حکم جاری پانی کا سا ہے۔ اسی طرح سراج الوہاج میں ہے اور بعض فتاوی میں ہے کہ ہمارے مشائخ نے فرمایا اگر بارش ہورہی ہو تو جاری پانی کے حکم میں ہے یہاں تك کہ اگر یہ پانی چھت پر پڑے ہوئے پاخانہ سے لگ کر بھی آئے اور پھر کپڑوں کو لگ جائے تو کپڑے ناپاك نہ ہوں گے ہاں اگر بارش متغیر ہوجائے جبکہ چھت پر پہنچے اور چھت پر نجاست ہو اور پھر چھت ٹپکنے لگے اور یہ پانی کسی کپڑے پر لگ جائے تو صحیح یہ ہے کہ اگر بارش ابھی منقطع نہیں ہوئی ہے تو جو پانی چھت سے بہا وہ پاك ہے ھکذا فی المحیط۔ اور عتابیہ میں ہے کہ جبکہ متغیر نہ ہو اور اسی طرح تاتار خانیہ میں ہے اور اگر بارش بند ہونے کے بعد چھت سے پانی ٹپکے تو جو بہا ہے وہ ناپاك ہے کذا فی المحیط اور نوازل میں ہے کہ ہمارے متأخر مشائخ نے فرمایا یہی
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی بیان المقدار ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
#12583 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
ی التتارخانیۃ اھ
اقول : سال من السقف ای وکف کما قدم اما السائل من المیزاب فجار قطعا وان وقف المطر کما قدمنا۔ مختار ہے کذا فی التتارخانیہ اھ(ت)
میں کہتا ہوں چھت سے بہنے کا مطلب چھت سے ٹپکنا ہے جیسا کہ گزرا اور جو پرنالے سے بہتا ہے وہ قطعا جاری ہے خواہ بارش ٹھہری ہوئی ہو۔ (ت)
بالجملہ آنے والے پانی کے بطن حوض میں جاری ہونے سے انکار ظاہر نہیں ہاں جب حد مقابل پر پہنچے جہاں جاکر رك جائیگا یا تحریك پہنچی تو آگے نہ بڑھے گا بلالکہ اوپر چڑھے گا یہ حرکت طبعی نہ ہوگی بلالکہ قسری خلاف طبع تو اس وقت بیشك جریان جاتا رہے گا۔
بحث دوم : آب نجس کی تطہیر کو آب طاہر سے مل کر اس کا جاری ہونا درکار ہے یا آب طاہر جاری کا اس پر آنا کافی اول نص محرر المذہب امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ تعالی سے منقول ہے
فی ردالمحتار عن جامع الرموز عن التمرتاشی عن محمد المائع کالماء والد بس وغیرھما طہارتہ باجرائہ مع جنسہ مختلطا بہ ۔
اور ردالمحتار میں جامع الرموز سے تمرتاشی سے محمد سے ہے۔ کہ بہنے والا جیسے پانی اور شیرہ وغیرہ اس کی طہارت اس کو اسی کی جنس کے ساتھ ملا کر جاری کر دینے سے حاصل ہوتی ہے۔ (ت)
اقول : اور اسی کے مؤید ہے اسے قول دائر وسائر الماء الجاری یطھر بعضہ بعضا(کہ بعض جاری پانی بعض دوسرے پانی کو پاك کر دیتا ہے۔ ت)کے تحت میں لانا
فانھما اذا جریا مختلطین کان بعض الجاری طاھرا وبعضہ نجسا فیطھر الاول الاخر بخلاف مااذا لم یجر النجس وقد یمکن ان یستأنس للثانی بما قدمنا فی الاصل الرابع عن الحلیۃ عن المحیط الرضوی ان الماء الجاری لما اتصل بہ صار فی الحکم جاریا اھ۔ لکنہ ذکرہ
کیونکہ وہ دونوں جب مل کر بہیں تو بعض جاری پاك اور بعض نجس ہوگا تو پہلا دوسرے کو پاك کر دیگا بخلاف اس صورت کے جبکہ نجس جاری نہ ہو اور دوسرے کیلئے جو ہم نے چوتھی اصل میں حلیہ سے محیط رضوی سے نقل کیا ہے استدلال ہوسکتا ہے کہ جب جاری پانی اس میں مل گیا تو جاری کے حکم میں ہوگا اھ لیکن اس کا تذکرہ انہوں نے وہاں کیا ہے جہاں
فی اشتراط الخروج من الجانب الاخر وان قل فالمراد الاتصال فی الجریان ومعلوم ان الجاری بعضہ لاکل مافیہ ویحکم بطھارۃ الکل فلذا قال صارفی الحکم جاریا فافھم۔
دوسری جانب سے نکل جانے کی شرط لگائی ہے خواہ کم ہی ہو
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الفصل الاول فیما یجوز نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۷
ردالمحتار مطلب یطہر الحوض بمجرد الجریان مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۴
حلیہ
#12584 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
تو مراد جاری ہونے میں اتصال ہے اور یہ معلوم ہے کہ جاری بعض ہی ہے کل نہیں ہے۔ اور حکم کل کی طہارت کا لگایا جائیگا اور اسی لئے فرمایا کہ یہ جاری کے حکم میں ہوگیا۔ (ت)
فقیر کے نزدیك منشاء اختلاف یہی ہے ان بعض نے جبکہ دیکھا کہ نیا آنے والا پانی بہتا ہوا اس آب نجس سے ملا اس کی طہارت کا حکم دیا پھر اگر نجاست غیر مرئیہ ہے یا مرئیہ تھی اور نکال دی گئی جب تو ظاہر ہے کہ ان کے طور پر سب پانی پاك رہنا چاہئے اگرچہ حوض صغیر ہو کہ جاری میں کثیر کی شرط نہیں اور آب جاری جب نجاست غیر مرئیہ پر وارد ہو اسے فنا کر دیتا ہے کما حققناہ فی الاصل العاشر(جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے اصل عاشر میں کی ہے۔ ت)تو بعد وقوف اگرچہ محل قلیل میں ٹھہرا نجاست ہی معدوم ہے ہاں نجاست مرئیہ باقیہ میں ضرور کبر محل درکار کہ وقت وقوف بوجہ کثرت عود نجاست نہ ہوسکے اور جمہور نے یہ نظر فرمائی کہ آب داخل اگرچہ جاری ہو مگر آب نجس کو جاری نہ کیا کہ بطن حوض میں رکا ہوا تھا اور اس کا رکنا ہی دلیل واضح تھا کہ اسے آگے بڑھنے کو جگہ نہیں تو آب داخل اسے آگے نہ بڑھائے گا بلکہ اوپر چڑھائیگا تو اس کا اجرانہ ہوگا جو اس کی طہارت کو درکار ہے مگر یہ کہ حوض بھر جائے اس وقت تك تو سب ناپاك ہے اب جو ابلے گا پاك ہوجائیگا کہ اب آگے بڑھنے اور منحدر میں اترنے کو جگہ وسیع ہے اگر کہیے مانا کہ بطن حوض میں آب نجس کا اجرا نہ ہوگا مگر غسل یعنی دھونا تو ہوجائیگا کہ آب جاری بہتا ہوا آکر اس کے تمام اجزا پر چھا گیا۔
اقول اولا : پانی کو دھونا شرع سے معہود نہیں مگر وہی طاہر سے ملا کر اس کا اجرا۔
ثانیا : غسل ہوگا تو فقط سطح بالائے آب نجس کا اور وہ کوئی جامد(۱)شیئ نہیں کہ ضرورۃ غسل سطح قائم مقام غسل کل ہو
وھذہ فائدۃ استنبطھا الفقیر مما فی فتح القدیر فی بیان مذھب الصاحبین ان(۲)کانت الانفحۃ جامدۃ تطھر بالغسل اھ ای اذا اخذت من بطن جدی میت
یہ فائدہ خود فقیر نے جہاں صاحبین کا مذہب فتح القدیر میں بیان ہوا ہے میں نے مستنبط کیا ہے اگر دودھ خشك ہو تو دھونے سے پاك ہوجائیگا اھ یعنی مردہ بکری کے بچہ کے پیٹ سے نکالے گئے ہوں کیونکہ
حوالہ / References فتح القدیر الماء الذی یجوزبہ الوضوء سکھر ۱ / ۸۴
#12585 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
لتنجسہا عندھما بوعائھا المتنجس بالموت واستظھرہ فی مواھب الرحمن وذکر طہارتھا جامدۃ بالغسل کالفتح وعند الامام طاھرۃ لانہ لااثر للتنجس شرعا مادامت فی الباطن النجاسۃ فضلا عن غیرھا فتح وھو الراجح دروالانفحۃ اللبن فی بطن الجدی الراضع۔
صاحبین کے نزدیك وہ ظرف کے ناپاك ہونے کی وجہ سے نجس ہوجائیں گے کیونکہ اس کا ظرف موت کی وجہ سے ناپاك ہوگیا اور مواہب الرحمن میں اس پر استدلال کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خشك ہوں(یعنی دودھ جم جائے)تو دھونے سے پاك ہوجائیں گے جیسا کہ فتح میں ہے اور امام صاحب کے نزدیك پاك ہیں کیونکہ جب باطن میں کوئی نجاست ہو تو شرعا وہ نجاست نہیں چہ جائیکہ اور کوئی چیز ہو فتح اور یہی راجح ہے در اور انفحہ اس دودھ کو کہتے ہیں جو بکری کے شیر خوار بچے کے پیٹ میں ہوتا ہے۔ (ت)
ثالثا : علی التسلیم(غسل(دھونا)اگر تسلیم کر بھی لیا جائے تو۔ ت)۱ غسل کیلئے تثلیث درکار ہوتی یا ذہاب نجاست پر غلبہ ظن۔ بہرحال مائے غاسل کا مغسول پر سے زوال ضرور کہ جب تك جدا نہ ہوا مغسول سے زوال نجاست نہ ہوا تو حکم طہارت نہ ہوا۔ یوں بھی خروج لازم ہوگیا ظاہر ان وجوہ سے جمہور نے حکم نجاست دیا۔
اقول : مگر جس طرح قول دوم پر بحث دوم وارد ہوئی یونہی قول اول پر بحث اول وارد ہوگی۔ ان اکابر نے بطن حوض میں سیلان آب کو جریان ہی نہ ٹھہرا یا شرط خروج کی تصریحات وتصحیحات کہ جواب دوم میں غنیہ۱ وظہیریہ۲ اور جواب پنجم اصل دوم میں ملك العلماء۳ وفقیہ ہندوانی۴ وفقیہ سمرقندی۵ اور اصل سوم میں تبیین۶ وفتح۷ وبحر۸ ومحیط۹ وتوشیح۱۰ وامام حسام شہید۱۱ وتاتارخانیہ۱۲ وظہیریہ۱۳ وہندیہ۱۴ اور اصل چہارم میں مبتغی۱۵ ومحیط۱۶ رضوی وحلیہ۱۷ وخلاصہ۱۸ وردالمحتار۱۹ ودو۲۰ عبارت ظہیریہ۲۱ وامام۲۲ ابو بکر اعمش۲۳ وغیرہ اور اصل ششم میں شرح۲۴ ہدیہ ومنحہ۲۵ سے گزریں ان کی تویہ توجیہ واضح ہے کہ جو نجس پانی حوض میں تھا اس کے جریان وتطہیر کیلئے خروج ضرور ہے تازہ پانی کہ اوپر سے آیا ان سے اس کے جریان کی نفی نہیں ہوتی مگر ان نصوص کثیر کا کیا جواب جو صراحۃ اس آب داخل ہی کے جریان کا ابطال کرتے ہیں اگرچہ بطن حوض میں کتنی ہی دور حرکت کرتا جائے مثلا :
اولا : وہ تصریحیں کہ پانی اگر بطن حوض میں دہ در دہ ہونے سے پہلے نجاست سے ملے گا جتنا آتا جائیگا ناپاك ہوتا جائے گا جیسا کہ جواب چہارم میں امام۱صفار سے گزرا امام۲ ملك العلماء نے اسے مقرر رکھا اصل ہشتم فتاوی۳ امام قاضی خان وجواہر۴ اخلاطی سے اور ایسا ہی خزانۃ۵ المفتین وفتاوی۶ ذخیرہ میں ہے حلیہ۷ میں اس پر تقریر ہے غنیہ۸ میں اس کے معنے ہیں اگر جاری مانا جاتا وہ دہ در دہ ہونا کیا شرط ہوتا کہ جاری کتنا ہی قلیل ہو ناپاک
#12586 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
نہیں ہوسکتا جب تك نجاست سے اس کا کوئی وصف نہ بدلے لوٹے کی دھار کا مسئلہ اصل ۹ میں گزرا۔
ثانیا یہ تعلیل وشرط نہ بھی ہوتی تو اس مسئلہ دوارہ کا نفس حکم کہ کتب معتمدہ جماہیر مشاہیر میں دائر وسائر ہے خود اسے جاری نہ ماننے پر برہان ظاہر ہے جواب چہارم میں منیہ۹ وبدائع۱۰ وصفار۱۱ وحلیہ۱۲ اور پنجم میں حلیہ۱۳ وغنیہ۱۴ اور اس کی اصل ہشتم میں خانیہ۱۵ وخزانۃ۱۶ المفتین ومحیط۱۷ وحلیہ۱۸ وخلاصہ۱۹ وفتح۲۰ وفتاوی۲۱ سمرقند وبحر۲۲ وہندیہ۲۳ وغیاثیہ۲۴ وذخیرہ۲۵ وفرع۲۶ آخر قاضی خان وجواہر۲۷ الاخلاطی سے تصریحیں اور تصحیحیں گزریں کہ حوض کتنا ہی کبیر ہو جب اس میں قلیل پانی ناپاك تھا پھر پانی آیا اور لبالب بھر گیا ناپاك ہی رہا۔ بھلا جب تك حد قلت میں تھا یہ کہہ سکتے تھے کہ آنے والا پانی اگرچہ اپنے داخل ہونے سے دوسری جانب پہنچنے تك جاری رہا مگر وہاں جاکر تو رك گیا اور ہے قلیل اور نجاست یا آب نجس سے متصل تو اب ناپاك ہوجائیگا اسی طرح جو پانی آتا جائے گا حد قلت تك یہی حکم پائیگا وھم انما قالوا کل مادخل صار نجسا لاکما دخل تنجس مگر حوض تو کبیر ہے جب حد قلت سے آگے بڑھے گا کیا کہا جائے گا۔ آیا بہتا ہوا اور ٹھہرا کثیر ہو کر تو کسی وقت قابل قبول نجاست نہ ہوا پھر یہ حکم کیوں ہے کہ لبالب بھرنے پر بھی سب ناپاک۔ بلالکہ لازم تھا کہ یا تو حصہ بالا کو جہاں سے حد کثرت ہے اور ممکن ہے کہ حوض کبیر کا معظم حصہ وہی ہو پاك کہیں اور حد قلت سے نیچے تك ناپاك یا نظر برآں کہ حصہ زیریں ممتاز صورت نہ رکھنے کے باعث بالا کا تابع ہے سب پاک۔
اقول : اور ظاہرا یہی اقیس ہوتا آخر نہ دیکھا کہ حوض کتنا ہی(۱)عمیق ہو بلالکہ گہرے سے گہرا کنواں اگر لبالب بھر کر ابل جائے اوپر سے نیچے تك سب پاك ہوگیا کہ آب جاری ہوگیا حالانکہ یقینا حرکت جریانی صرف اوپر کے قلیل حصہ کو پہنچے گی آنے والا پانی جہاں تك کے پانی کو دبا کر ساتھ بہا کر ابلے ابالے گا اتنے ہی پر جریان واقع ہوگا نیچے گزوں تك کے پانی کو خبر بھی نہ ہوگی اور ٹھہرا سب پاک۔ اسی لئے کہ صورت واحدہ وشیئ واحد ہے یوں۲ ہی آب کثیر کی صورت واحدہ رکھتا اور اوپر قلیل حصہ کثیر اور نیچے سب قلیل ہے اور نجاست راسبہ پڑی کہ تہ تك پہنچی سب پاك رہے گا روئے آب کی کثرت وطہارت تہ تك عمل کرے گی کذا ھذا۔
فان قلت : فی الجواب عنھما ان العبرۃ فی الکثرۃ والقلۃ لا وان الوقوع وھذا کان قلیلا عندہ والمستشھد بہ کثیرا فافترقا اما الجریان فمعتبر بنفسہ لالحاظ فیہ لکثرۃ اوقلۃ وقت الوقوع فاذ اجری وجہہ وھو شیئ واحد
اگر تم ان دونوں کی طرف سے جواب میں یہ کہو کہ کثرت وقلت میں اعتبار گرنے کے وقت کا ہے اور یہ گرتے وقت قلیل تھا اور جس پر استدلال کیا جارہا ہے وہ کثیر ہے تو دونوں میں فرق ہوگیا اور جاری ہونا تو وہ بنفسہ معتبر ہے اس میں کثرت وقلت کا کوئی اعتبار نہیں وقوع کے وقت میں تو جب وہ جاری
#12587 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
فقد جری کلہ فلا یقاس علیہ طھارۃ الاعلی لاستقرارہ علی الکثرۃ فانھا غیر الجریان
اقول : اولا اذ احکمنا بطھارۃ الکل لاجل الجریان انقطع حکم وقت الوقوع فاذا وقف فکانما الان وقع وھو حینئذ کثیر اذالعبرۃ للوجہ وما تحتہ تبعہ فما وقع الا فی الکثیر والفضل الان بین الا علی والاسفل بالکثرۃ والقلۃ خروج عن حکم الواحدۃ وعلی ھذا یلزم تنجس الاسفل المستشھدبہ ایضا لان النجس الراسب لم یصل الیہ الاحین قلتہ ھف ۔ وثانیا : لئن سلم فھذا مضر سیعود نافعا فان الماء الداخل حیث کان جاریا حتی الوصول الی المنتھی والصورۃ واحدۃ فقد جری الکل فانتفت النجاسۃ رأسا ان کانت غیر مرئیۃ وکذا لومرئیۃ وقد اخرجت فلا معنی لعودھا حین استقرارہ ولو علی القلۃ وانتقلت الی الاعلی الکثیر لو باقیۃ طافیۃ فلم یتنجس اذا استقر کثیرا وقد طھر ماتحتہ بالجریان فلا یبقی الا ما اذا کانت مرئیۃ باقیۃ راسبۃ وکلامھم مطلق حاو للصور قاطبۃ۔
ہوا اسکی سطح سے حالانکہ وہ شیئ واحد ہے تو گویا کل جاری ہوا تو اس پر اوپر والے کی طہارت کو قیاس کرنا درست نہ ہوگا کہ وہ کثرت پر مستقر ہے کیونکہ یہ جریان نہیں ہے۔
میں کہتا ہوں اولا جب ہم نے کل کی طہارت کا حکم لگایا جاری ہونے کی وجہ سے تو گرنے کے وقت کا حکم منقطع ہوگیا تو جب ٹھہرا تو گویا وہ ابھی گرا ہے اور اس وقت وہ کثیر ہے کیونکہ اعتبار سطح کا ہے اور جو اس کے نیچے ہے وہ اس کے تابع ہے توکثیر ہی میں واقع ہوا اور اعلی اور اسفل میں اب کثرت وقلت کے اعتبار سے فرق کرنا وحدت حکم سے خروج ہوگا اور اس بنا پر نیچے والے کا نجس ہونا لازم آئیگا جس سے استشہاد بھی کیا گیا ہے کیونکہ نجاست راسبہ اس تك نہیں پہنچی ہے مگر قلت کے وقت یہ خلاف مفروض ہے۔
اور ثانیا اگر تسلیم کر لیا جائے تو یہ ہمارے لئے مضر ہے اور عنقریب نافع ہوجائیگا کیونکہ داخل ہونے والا پانی جاری تھا یہاں تك کہ وہ اپنی انتہا کو پہنچا اور صورت واحدہ ہے تو کل جاری ہوگیا اور نجاست اگر غیر مرئیہ ہو اور اس طرح اگر مرئیہ نکال دی گئی ہو تو سرے سے ختم ہوجائیگی تو اس کے لوٹنے کے کوئی معنی نہیں جب کہ پانی ٹھہرا ہوا ہو اگرچہ کم ہی ہو اور وہ نجاست اوپر والے کثیر پانی کی طرف منتقل ہوگئی اگرچہ وہ اوپر تیر رہی ہو تو جب کثیر پانی ٹھہرا ہو تو وہ ناپاك نہ ہوگا اور اس کا نچلا حصہ پانی کے جاری ہونے کی وجہ سے پاك ہوگیا تو باقی نہ رہے گا مگر جو مرئی اور تہ میں باقی ہو اور ان کا کلام مطلق ہے اور تمام صورتوں کو شامل ہے۔ (ت)
#12588 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
ثالثا جواب چہارم میں عبارت۲۸ فتح القدیر دربارہ حوض صغیر کہ بھرکر بھی ناپاك رہے گا اسی عدم تسلیم جریان پر دال ور نہ نجاست غیر مرئیہ یا مرئیہ کہ نکال دی ضرور زائل ہوجاتی۔
رابعا تنبیہ جلیل میں منیہ۲۹ ومحیط۳۰ وحلیہ۳۱ وخانیہ۳۲ وہندیہ۳۳ وذخیرہ۳۴ کی عبارات ائمہ اجلہ علی سغدی۳۵ ونصیر۳۶ بن یحیی وخلف۳۷ بن ایوب رحمہم اللہ تعالیتعالی کے ارشادات کہ ایك حوض سے دوسرے میں انتقال آب کے جریان ہونے کو ان میں کچھ مسافت ہونا ضرور ورنہ اس میں سے نکل کر اس کے جوف میں جاتے ہوئے اس میں وضو کیا جائے تو وضو نہ ہوگا اگر بطن میں حرکت کو جریان مانتے تو جس وقت پانی اول سے دوم میں گر رہا اور یہاں سے منتہی تك بہ رہا ہے اس میں وضو ضرور آب جاری میں وضو ہوتا بیچ میں فاصلہ مسافت کی ضرورت نہ ہوتی کما اشرنا الیہ ثمہ ان ۳۷ عبارتوں سے روشن کہ جمہور اس سیلان کو خود اس آب داخل ہی کا جریان نہیں مانتے اور یہ انہیں وجوہ سے کہ بحث اول میں گزریں اشکال سے خالی نہیں۔ اگر کہیے آب راکد کے کثیر وناقابل نجاست ہونے کے لئے صرف مساحت سطح آب یا طول وعرض دہ در دہ کافی نہیں بلکہ اتنا عمق۱ بھی درکار ہے کہ اس میں سے پانی ہاتھ سے لیں تو زمین کھل نہ جائے یہی صحیح ہے ہدایہ وغیرہا کتب کثیرہ اسی پر فتوی ہے ظہیرہ خلاصہ درایہ جوہرہ وغیرہا ولہذا۲ فتاوی امام اجل قاضی خان پھر ہندیہ وغنیہ میں فرمایا : واللفظ لھا یعنی الفاظ غنیہ کے ہیں :
ان علا الماء من ثقب الجمد وانبسط علی وجہ الجمد وکان عشرا فی عشر فان کان بحیث لوغرف منہ لاینحسر ماتحتہ من الجمد لم عـــہ یفسد بوقوع المفسد وان کان ینحسر اوکان دون عشر فی عشر یفسد بہ۔
جب پانی برف کے سوراخ سے اوپر چڑھے اور پھیل جائے برف کی سطح پر اور پانی دہ در دہ ہو اس طور پر کہ اگر کسی نے چلو بھر کر اس سے پانی لیا اور اس کے نیچے برف نہ کھلی تو مفسد کے گرنے سے فاسد نہ ہوگا اور اگر نیچے والی برف کھل گئی یا وہ پانی دہ در دہ نہ تھا تو وہ پانی فاسد ہوجائیگا۔ (ت)
عـــہ ولفظ الاولین جاز فیہ الوضوء والافلا اھ فلیتنبہ فستأتیك فائدتہ فی الرسالۃ الاتیۃ ان شاء الله تعالی منہ غفرلہ۔ (م)
پہلی دو کتابوں کے الفاظ یہ ہیں کہ اس میں وضو جائز ہے ورنہ نہیں اھ خبردار اس کا فائدہ آئندہ رسالہ میں آئے گا ان شاء الله تعالی۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
حوالہ / References غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی بحث عشر فی عشر سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۰۰
#12589 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
تحفۃ الفقہاء وبدائع میں امام فقیہ ابو جعفر ہندوانی اور تبیین الحقائق میں دربارہ آب جاری امام ابو یوسف سے اور عبدالحلیم علی الدرر وجامع الرموز میں تصریح کی کہ دونوں ہاتھوں سے پانی لینا مراد ہے یعنی لپ بھر کر لینے میں نہ کھلے اور قہستانی سے مفہوم کہ اس کا اندازہ پانچ انگل دل ہے۔
حیث قال(ان کان)وجہ الماء(عشرا فی عشر لاینحسر ارضہ بالغرفۃ)ای یرفع الماء بالکفین وھذا قول بعض المشائخ فی تقدیر العمق وعلیہ الفتوی کما فی الخلاصۃ وھو علی مااختارہ من المقدارین والعمق الذی ھو خمس اصابع تقریبا الخ
قہستانی نے کہا کہ اگر پانی کا بالائی حصہ ایسا دہ در دہ ہو کہ چلو بھرنے سے پانی کی زمین نہ کھلے یعنی دونوں ہاتھوں سے پانی اٹھانے سے۔ اور عمق کی مقدار میں یہ بعض مشائخ کا قول ہے اور اسی پر فتوی ہے جیسا کہ خلاصہ میں ہے اور یہ وہ ہے جس کو مقداروں میں سے اختیار کیا ہے اور عمق تقریبا پانچ انگل ہے الخ(ت)
اقول : وھو تقریب قریب مشھودلہ بالتجربۃ (یہ اچھی تقریب ہے تجربہ اس پر گواہ ہے۔ ت)تو آب کثیر ہونے کو یہ چاہئے کہ سو ہاتھ مساحت میں تقریبا پانچ انگل دل کا پانی پھیلا ہوا ہو کہیں اس سے کم دل نہ ہو تالاب یا حوض کہ بارش کے بہاؤ یا چرخ وغیرہ سے بھرتے ہیں ان کی دھار کبھی اتنی نہیں ہوتی کہ تالاب یا حوض میں گر کر تمام سطح مطلوب پر اس کنارے تك معا پانچ انگل پانی چڑھادے پانی بالطبع طالب مرکز ہے اس کے اجزاء زیروبالا اسی وقت تك رہ سکتے ہیں کہ اوپر کے اجزاء ڈھلکنے کی جگہ نہ پائیں جب محل پائیں گے فورا اتر کر پھیل جائیں گے پرنالے سے جتنے دل کی دھار اتر رہی ہے زمین پر آکر ہرگز اتنے دل پر نہ رہے گی معا پھیلے گی یہی سبب ہے کہ مثلا حوض میں ایك پورے کنارے سے پانی جس حجم کا اتارے باآنکہ مدد برابر جاری اور حوض کے سارے عرض میں معا ساری ہے تو چاہئے تھا کہ یہی حجم آخر تك محفوظ رہتا اور دوسرے کنارے پر معا اتنے دل کا پانی ہوجاتا مگر ایسا نہیں ہوتا بلکہ اس کنارے پر بتدریج بڑھتا ہے اور اوپر گزرا کہ دوسرے کنارے پر پہنچ کر یہ جریان ٹھہر جاتا ہے تو مساحت کی کثرت کیا نفع دے گی جبکہ معا پانچ انگل دل نہ ہو بتدریج ہوا تو ہر وقت آب قلیل ہے اتنا ناپاك ہوگیا اور آیا وہ بھی یونہی کم تھا یونہی ناپاك ہوا یہاں تك کہ حوض کبیر بھر گیا اور ناپاك ہی رہا۔ ہاں عظیم سیلابوں میں اتنے اور اس سے زیادہ حجم کا پانی اس کنارے پر معا چڑھتا ہے مگر وہ دم کے دم میں
حوالہ / References جامع الرموز بحث عشر فی عشر مطبہ کریمیہ قزان ، ایران ۱ / ۴۸
#12590 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
تالاب کو بھر کر ابال دیں گے تو اس صورت نزاع میں رہے گا ہی نہیں اور بالفرض اگر کبھی ایسی صورت ہو کہ اتنے عظیم بہاؤ کا پانی آئے اور کنارے ہی پر رك رہے تو یہ بغایت نادر ہے اور احکام فقہیہ میں نادر کا لحاظ نہیں ہوتا۔ یہ ہے اس حکم دائر سائر کا منشا اور یہ ہے اس تعلیل کا مفاد کہ کل مادخل صار نجسا یہ ہے وہ غایت عذر کہ تالاب میں باہر سے آنے والے پانی کو جاری مان کر بھی بحال نجاست مرئیہ باقیہ تمام تالاب کو ناپاك ٹھہرائے کتنا ہی کبیر ہو اگرچہ مسئلہ حوضین ومسئلہ نجاست غیر مرئیہ یا مرئیہ مخرجہ کا اب بھی جواب نہ ہوا۔
اقول : مگر اس تقریر پر وہ صورت وارد ہے کہ اگر پانی تالاب میں داخل ہوکر پہلے دہ در دہ ہو لیا پھر نجاست سے ملا تو ناپاك نہ ہوگا کہ وہ دہ در دہ سہی پانچ انگل دل بھی تو درکار۔ اگر کہیے ملنے سے پہلے اس پوری مساحت میں اتنا دل پیدا ہونا بعید نہیں کہ پھیلنا تو بہتے میں ہوتا ہے اور ممکن ہے کہ ملنے سے پہلے کہیں ٹھہر کر دل پیدا کرلے پھر ملے۔ یہی سرہے کہ صورت مذکورہ خانیہ میں ان لفظوں سے ارشاد ہوئی :
واجتمع الماء فی مکان طاھر وھو عشر فی عشر ۔
اور پانی پاك جگہ اکٹھا ہوگیا اور وہ دہ در دہ ہے۔ (ت)
خلاصہ میں :
ان کان الماء الذی یدخل فی الغدیر یستقر فی مکان طاھر حتی صار عشرا فی عشر ۔
اگر وہ پانی جو تالاب میں داخل ہورہا ہے پاك جگہ ٹھہر گیا یہاں تك کہ دہ در دہ ہوگیا۔ (ت)
فتح القدیر وبحرالرائق میں :
انکان دخل فی مکان طاھر واستقر فیہ حتی صار عشرا فی عشر ۔
اور اگر پاك جگہ پانی داخل ہو کر ٹھہر گیا یہاں تك کہ وہ دہ در دہ ہوگیا۔ (ت)
ذخیرہ وحلیہ میں :
انکان الماء الذی یدخل الغدیر ولا
اگر وہ پانی جو تالاب میں داخل ہوتا ہے داخل ہوتے ہی پاک
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان فصل الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴
خلاصۃ الفتاوٰی فصل فی الحیاض نولکشور لکھنؤ ۱ / ۵
فتح القدیر الغدیر العظیم نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۱
.
#12591 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
انکان الماء الذی یدخل الغدیر ولایستقر فی مکان طاھر حتی یصیر عشرا فی عشر ۔
جگہ نہیں ٹھہرتا ہے یہاں تك کہ دہ در دہ ہوجائے۔ (ت)
ورنہ صرف دہ در دہ ہونے کیلئے کسی مکان میں ٹھہر کر جمع ہولینا کیوں درکار ہوتا۔
اقول : اس وقت کا دل کیا فائدہ دے گا جبکہ اسے آگے بڑھ کر نجاستوں سے ملنا ہے بڑھے گا پھر اسی بہنے پھیلنے سے جو اس میں وہ حجم نہ رہنے دیں گے۔ اگر کہیے اتصال نجاست یوں بھی ممکن کہ آب نجس بڑھ کر اس سے ملے۔
اقول : یہ تصویر مفروض کے خلاف ہے اور خانیہ میں الفاظ مذکورہ کے بعد تصریح ہے : ثم تعدی الی موضع النجاسۃ (پھر نجاست کی جگہ تك تجاوز کر جائے۔ ت)بقیہ کتب مذکورہ میں ہے : ثم انتھی الی النجاسۃ عـــہ (پھر نجاست تك پہنچ جائے۔ ت)بالجملہ کلمات جمہور کسی طرح اس آنے والے پانی کا بھی بطن حوض میں جریان درست نہیں آتا۔
وانا اقول : وبالله التوفیق تحقیق(۱)یہی ہے کہ وہ جاری نہیں ورنہ اگر مثلا نصف لوٹے میں ناپاك پانی ہو جس میں نجاست غیر مرئیہ ہو یا مرئیہ تھی اور نکال دی اس کے بعد لوٹا بھر دیا اور کناروں سے کچھ نہ نکلا بلالکہ بھرا بھی نہیں کچھ پانی ڈال دیا جو اس کے ایك کنارے سے دوسرے تك بہہ گیا تو چاہئے کہ سب پانی اور لوٹا پاك ہوجائے کہ جریان ہوگیا اور وہ نجاست غیر مرئیہ کو فنا کر دیتا ہے اور اس میں کوئی مساحت شرط نہیں اور بعد فنائے نجاست قلت پر استقرار کیا مضر حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں یہ مشائخ کہ خروج اصلا شرط نہیں کرتے ان کا کلام بھی حوض کبیر میں ہے ولہذا منیہ وذخیرہ ونظم زندویسی میں فرمایا اذا کان الحوض کبیرا
عــــــہ : تنبیہ اس مسئلہ کی تحقیق جلیل رسالہ ہبۃ الحبیر میں آتی ہے وہاں سے بتوفیق الہی یہ توفیق ظاہر ہوگی کہ پانی کے فی نفسہ کثیر ہونے کیلئے عمق درکار نہیں صرف اتنا ہو کہ زمین کہیں کھلی نہ ہو اور یہ جو اتنا عمق شرط کیا گیا کہ پانی لینے سے زمین نہ کھلے اس حالت میں ہے کہ اس کے اندر وضو وغسل کریں اس تقدیر پر توجیہ مذکور کی گنجائش ہی نہیں والله تعالی اعلم ۲۱ منہ غفرلہ(م)
حوالہ / References حلیہ
قاضی خان الماء الراکد نول لکشور لکھنؤ ۱ / ۴
بحرالرائق ابحاث الماء ایچ ، ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۷
منیۃ المصلی فصل فی الحیض مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۶۷
#12592 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
بزازیہ میں بظاہر حوض کو صفت کثرت سے مطلق رکھ کر فرمایا : ثم دخل ماء کثیر (پھر کثیر پانی داخل ہو۔ ت)غنیہ میں ان کے حکم کی تعلیل یوں فرمائی :
(قیل لیس بنجس)لکونہ کبیرا الخ کما تقدم کل ذلك ۔
(کہا گیا ہے کہ یہ نجس نہیں ہے)کیونکہ یہ بڑا ہے الخ جیسا کہ یہ سب کچھ پہلے گزر چکا ہے۔ (ت)
تویہ اعتراض بھی اسی قول دوم پر رہا مگر یہ ان کا کلام مرئیہ باقیہ سے مخصوص کیا جائے۔ اب رہے وجوہ ثلثہ مذکورہ بحث اول اقول وبہ استعین جو ظرف حبس وحفظ آب کیلئے ہو اس میں پانی کی حرکت عرفا جریان نہیں کہلاتی مشك کی تہ میں کٹورا بھر پانی ہو اسے دہانہ باندھ کر زیروبالا کیجئے کہ پانی ادھر سے ادھر جائے اسے کوئی جاری ہونا نہ کہے گا۔ جب دہانے سے نکل کر بہے گا اب کہیں گے کہ پانی بہا یہاں سے تینوں وجوہ کا جواب ہوگیا کہ بطن ظرف میں متحرك کو عرفاجاری نہیں کہتے اور مکان اور اس کی دیواریں کوئی ظرف آب نہیں اور نہر ظرف ہے مگر نہ ظرف حبس بلکہ محل جریان بخلاف تالاب اور حوض کے اگرچہ کبیر ہو تو بحمداللہ تعالی قول جمہور ہی پر عرش تحقیق مستقر ہوا اور کیوں نہ ہو کہ :
العمل علی قول الاکثر ویدالله علی الجماعۃ ھذا کلہ ما فاض علی قلب الفقیر من فیض اللطیف الخبیر مع تشتت البال وتراکم البلبال و ہجوم الحساد بانواع الفساد والله المستعان وعلیہ التکلان ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی العظیم وحسبنا الله ونعم الوکیل نعم المولی ونعم النصیر عدت العادون وجاروا ورجوت الله عجیراوکفی بالله ولیا وکفی بالله نصیرا
عمل اکثر کے قول پر ہی ہوتا ہے اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہی ہوتا ہے یہ سب کچھ فقیر کے دل پر اترا مہربان باخبر خدا کے فیض کرم سے ہے حالانکہ طبیعت پر اگندہ اور پیہم مصائب میں گرفتار ہوں اور حاسدوں نے الگ کئی قسم کے فساد برپا کر رکھے ہیں اللہ ہی سے مدد مانگی جاتی ہے اور اسی پر بھروسا کیا جاتا ہے اور طاقت وقوت اللہ ہی سے ملتی ہے جو بلند اور باعظمت ہے ہمیں اللہ کافی ہے اور معتبر کارساز ہے بہترین آقا اور بہترین مددگار ہے دشمنوں نے حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔ اور میں اللہ کے کرم کی امید کرتا ہوں حالت انکساری میں اور اللہ کافی کارساز ہے اور اللہ کافی مددگار ہے
حوالہ / References بزازیہ مع الہندیہ نوع فی الحیض نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۸
غنیہ المستملی عشر فی عشر سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۰۱
#12593 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
ومما قلت فیہ صلی الله تعالی علیہ وسلم مستجرا بذیلہ الاکرم رسول الله انت المستجاب فلا اخشی الا عادی کیف جاروا بفضلك ارتجی ان عن قریب تمزق کیدھم والقوم باروا
وقلت رسول الله انت بعثت فینا کریما رحمۃ حصنا حصینا تخوفنی العدی کیدا متینااجرنی یا امان الخائفینا ومما قلت قدیما فی ربیع الاخر سنۃ الف وثلثمائۃ فرأیت الاجابۃ فوق العادۃ وفوق المطلب والارادۃ سریعا فی الساعۃ ولله الحمد ابدا وارجو مثلہ سرمدا۔
الحمد للمتوحد بجلالہ المتفرد وصلاتہ دوما علی خیرا لانام محمد والال والاصحاب ھم مأوای عند شدائدی فالی العظیم توسلی بکتا بہ وبا حمد وبمن عـــہ اتی بکلامہ وبمن ھدی وبمن ھدی وبطیبۃ وبم جوت وبمنیر وبمسجد
میں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی شان اقدس میں آپ کے دامن کی پناہ حاصل کرنے کیلئے یہ اشعار کہے ہیں اے اللہ کے رسول! آپ ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے تو اب مجھے دشمنوں کا کچھ خوف نہیں کہ وہ کیا ظلم ڈھائیں گے مجھے آپ کے فضل سے امید ہے کہ عنقریب ان کا مکر پارہ پارہ ہوجائیگا اور وہ ہلاك ہوجائیں گے۔
اور عرض کیا ہے اے اللہ کے رسول! آپ ہم میں مبعوث کئے گئے رحمت بنا کر اور مضبوط قلعہ بناکر۔ مجھے دشمن اپنی مضبوط چالوں سے ڈراتے دھمکاتے ہیں اے خوفزدہ لوگوں کی پناہ! مجھے پناہ دیجئے۔ اور اس سے پہلے ربیع الآخر ۱۳۰۰ھ میں کہا تھا تو امید سے فزوں ترحیرت انگیز طور پر میری مرادیں پوری ہوگئیں ولله الحمد خدا کرے ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے۔
تمام تعریفیں خدائے یکتا کو سزاوار ہیں جو اپنے جلال میں یکتا ہے اور اس کی رحمتیں مدام بہترین مخلوق محمد پر نازل ہوں اور آل واصحاب پر جو سختیوں میں میری پناہ گاہ ہیں تو خداوند عظیم کی بارگاہ میں میں وسیلہ لاتا ہوں اس کی کتاب اور احمد کا۔ اور ان کا جو اللہ کے کلام کو

عـــہ ھو جبریل علیہ الصلاۃ والسلام ونبینا صلی الله تعالی علیہ وسلم وحملۃ القرآن من الہ وصحبہ وامتہ(صلی الله تعالی علیہ وعلیہم وسلم) منہ غفرلہ(م)
اور وہ جبریل علیہ السلام اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور حاملین قرآن آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی آل اصحاب اور امت میں سے ہیں ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
#12594 · تجدید النظر بوجہ آخر ، وابانۃ موھو احلی و ازھر ، واجلی واظھر ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی،اور عمدہ،روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت
وبکل من وجد الرضا من عند رب واجد
لاھم عـــہ قدھجم العدای من کل شأو ابعد
فی خیلھم ورجالھم مع کل عاد معتد
ھاوین زلۃ مثبت باغین ذلۃ مھتد
لکن عبدك امن اذمن دعاك یؤید
لااختشی من باسھم یدناصری اقوی ید
لاھم فادفع شرھم وقنی مکیدۃ کائد
وآدم صلاتك والسلا م علی الجیب الاجود
والال امطار الندا والصحب سحب عوائد
ماغردت ورقا علی بان کخیر مغرد
واجعل بھا احمد رضا عبدا بحرز السید
والله تعالی وتبارک صلی وسلم وبارک علی المولی الکریم المبارک والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ صلاۃ تخل العقد تحل المدد وتقینا شرحاسد اذا حسد ومکرحا قد اذا حقد وضر عاند اذا عند بحرمۃ
قل هو الله احد(۱) الله الصمد(۲) لم یلد ﳔ و لم یولد(۳) و لم یكن له كفوا احد(۴)
والحمدلله رب العالمین الی الابد والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ لائے اور جنہوں نے ہدایت دی اور جن سے ہدایت لی جاتی ہے اور مدینہ منورہ کو اور ان کو جو مدینہ میں رہتے ہیں اور منبر اور مسجد شریف کو اور ان تمام کو جنہیں خوشنودی میسر آئی رب کی جانب سے۔ اے اللہ ! دشمنوں نے مجھ پر ہلہ بول دیا ہے ہر دوری سے ان کے پیادوں اور ان کے سواروں نے ہر حد سے تجاوز کرنے والے ظالم نے جو ثابت قدم کی لغزش کی امید کرتے ہیں اور ہدایت یافتہ کی ذلت کے خواہاں ہیں مگر آپ کا غلام بے خوف ہے کیونکہ جو آپ کو پکارتا ہے اس کی تائید کی جاتی ہے میں ان کی طاقت وقوت سے خوفزدہ نہیں۔ میرے مددگار کا ہاتھ مضبوط تر ہے۔ یا اللہ! ان کے شر کو دفع کردے اور مکار کے مکر سے مجھے بچالے اور اپنے صلوۃ وسلام کو سخی تر حبیب پر ہمیشہ نازل فرما اور ان کی آل پر جو جود وسخا کی بارش ہیں اور اصحاب پر جو فوائد کے بادل ہیں جب تك قمریاں بان کے درخت پر بہترین گانے گاتی رہیں۔ اور اس صلوۃ وسلام کے طفیل احمد رضا کو آقا کا امان یافتہ غلام بنادے۔ اور اللہ تبارك وتعالی صلوۃ وسلام اور برکتیں نازل فرمائے آقا کریم اور مبارك پر اور ان کی آل واصحاب اور بیٹے اور ان کی جماعت پر وہ صلوۃ جو گرہوں کو کھول دے اور مدد عطا کردے اور ہمیں حاسدوں کے حسد سے اور کینہ پروروں کے کینوں سے اور سرکشوں کی شرارت سے بچادے بطفیل قل ھو الله احد الخ کے والله سبحانہ وتعالی اعلم۔ (ت)
عــــــہ : لغۃ فی اللھم ۱۲ منہ غفرلہ(م)
اللھم میں ایك لغت ہے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
______________________
#12595 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
فتوی مسمی بہ
ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ
ابر باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں(ت(

بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
مسئلہ ۵۴ : ۴ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آب کثیر کے لئے جو مثل جاری نجاست قبول نہ کرے کتنا عمق درکار ہے اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہاتھ سے پانی لینے میں زمین نہ کھلے اس سے چلو مراد ہے یا لپ بینوا توجروا۔
الجواب
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
اس کے عمق میں گیارہ۱۱ قول ہیں :
)۱)کچھ درکار نہیں صرف اتنا ہو کہ اتنی مساحت میں زمین کہیں کھلی نہ ہو۔
)۲)بڑا درہم کے ۰۴ ماشے ہوتا ہے اس کے عرض سے کچھ زیادہ گہرا ہو۔
)۳)اس میں سے پانی ہاتھ سے اٹھائیں تو زمین کھل نہ جائے۔
)۴)پانی لینے میں ہاتھ زمین کو نہ لگے۔
اقول یہ اپنے سابق سے زائد ہے کمالایخفی۔
)۵)ٹخنوں تك ہو۔
)۶)چار انگل کشادہ
#12596 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
اقول : یہ تقریبا نو انگل یعنی تین گرہ ہوا۔
)۷) ایك بالشت
)۸) ایك ہاتھ
)۹) دو ہاتھ
)۱۰) سفید سکہ اس میں ڈال کر مرد کھڑے سے دیکھے تو روپیہ نظر نہ آئے۔
اقول : یعنی پانی کی کثرت سے نہ کہ اس کی کدرت سے۔
)۱۱) اپنی طرف سے کوئی تعیین نہیں ناظر کی رائے پر موقوف ہے۔
اقول : یعنی جو جتنے گہراؤ پر سمجھے کہ آب کثیر ہوگیا اس کے حق میں وہ کثیر ہے دوسرا نہ سمجھے تو اس کیلئے قلیل ہے۔
اقول وھو غیر الاول فھو سلب التقدیر وھذا تفویضہ الی رأی المبتلی بہ وبالجملۃ فالاول حکم العدم وھذا عدم الحکم فانقلت انما التفویض فی ظاھر الروایۃ فی الطول والعرض اذبھما الخلوص وعدمہ وفیم یفوض الیہ النظر فی العمق۔
اقول : اختلفوا فی معیار عدم الخلوص ھل ھو التحریك وھی الروایۃ المتفقۃ عن اصحابنا ام الصبغ وھو قول الامام ابی حفص الکبیر البخاری ام التکدیر وھو قول الامام ابی نصر محمد بن محمد بن سلام ام المساحۃ وھو قول الامام ابی سلیمن الجوزجانی الکل فی البدائع ولا شك ان التکدیر یختلف باختلاف العمق فلعل ھذا القائل قائل بھذا القول
میں کہتا ہوں وہ اول کا غیر ہے تو وہ سلب تقدیر ہے اور یہ اسی شخص کی رائے کی طرف سپرد کرنا ہے جو اس میں مبتلا ہو اور خلاصہ یہ ہے کہ پہلا حکم عدم ہے اور یہ عدم حکم ہے۔ تو اگر تم کہو کہ تفویض ظاہر روایت میں صرف طول و عرض میں ہے کیونکہ انہی دونوں سے خلوص اور عدم خلوص کا علم ہوتا ہے تو عمق میں اس کی رائے کی طرف کیونکر سپرد کیا جائے گا۔ (ت(
میں کہتا ہوں عدم خلوص کے معیار میں اختلاف ہے کہ آیا وہ تحریك ہے اور یہی متفقہ روایت ہمارے اصحاب کی ہے یا صرف رنگنا ہے اور یہی قول امام ابو حفص الکبیر بخاری کا ہے یا گدلا کرنا ہے اور یہ امام ابو نصر محمد بن محمد بن سلام کا ہے یا مساحت ہے اور یہ امام ابو سلیمان الجوزجانی کا قول ہے۔ یہ تمام تفصیل بدائع میں ہے اور اس میں شك نہیں کہ گدلا کرنا گہرائی کے اختلاف سے مختلف ہوتا ہے اور غالبا یہ قائل اسی قول کی طرف۔
#12597 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
ففوضہ الی رای الناظر واللہ تعالی اعلم۔
مائل ہے اور اسی لئے انہوں نے اس معاملہ کو دیکھنے والوں کی رائے کی طرف سپرد کیا ہے۔ (ت(

ان میں قول سوم عامہ کتب میں ہے اور اول ودوم وہفتم وہشتم بدائع وتبیین وفتح میں نقل فرمائے اور چہارم خانیہ وغنیہ پنجم جامع الرموز ششم غنیہ نیز مثل نہم ویاز دہم قہستانی ونہم شرح نقایہ برجندی میں۔
ان میں صرف دو قول مصحح ہیں اول وسوم وبس۔
اما ما رأیت فی جواھر الاخلاطی من قولہ جمع الماء فی خندق لہ طول مثلا مائۃ ذراع وعرضہ ذراع اوذراعان فی جنس ھذہ المسألۃ اقوال فی قول یجوز التوضی منہ بغیر فصل وھو الماخوذ وفی قول لووقعت فیہ نجاسۃ یتنجس من طولہ عشرۃ اذرع وفی قول ان کان الماء مقدار مالوجعل فی حوض عرضہ عشرۃ فی عشرۃ ملیئ الحوض وصار عمقہ قدر شبر یجوز التوضی بہ والا فلا وھو الصحیح تیسیرا للامر علی الناس وقیل لایجوز التوضی فیہ وان کان من بخاری الی سمرقند اھ
فاقول : قولہ ھو الصحیح ناظر الی اعتبار المساحۃ وحدھا من دون اشتراط الامتدادین وبہ یوافق تصحیحہ الاول بقولہ ھو الماخوذ الی اشتراط عمق شبر والدلیل علیہ قول البرجندی قال
جواہر الاخلاطی میں ہے کہ کسی شخص نے کسی خندق میں پانی جمع کیا جس کا طول سو ہاتھ اور چوڑائی ایك ہاتھ یا دو ہاتھ ہو تو اس مسئلہ میں چند اقوال ہیں ایك قول تو یہ ہے کہ اس سے وضو مطلقا جائز ہے اور یہی قول ماخوذ ہے اور ایك قول یہ ہے کہ اگر اس میں نجاست گر جائے تو وہ لمبائی میں دس ہاتھ ناپاك ہوگا اور ایك قول یہ ہے کہ اگر اس میں اتنا پانی ہے کہ اگر اس کو ایك ایسے حوض میں کر لیا جائے جس کی چوڑائی دہ در دہ ہو تو حوض بھر جائے اور اس کی گہرائی ایك بالشت ہو تب تو اس سے وضو جائز ہے ورنہ نہیں اور یہی صحیح ہے کہ اس میں لوگوں پر آسانی ہے اور ایك قول یہ ہے کہ اس سے وضو جائز نہیں اگرچہ وہ بخارا سے سمرقند تك ہو اھ۔ (ت(
میں کہتا ہوں ان کا قول ھو الصحیح صرف پیمائش کو دیکھتے ہوئے ہے دونوں امتدادوں کی اس میں شرط نہیں اور اسی کی وجہ سے یہ ان کی پہلی تصحیح کے مطابق ہوجائیگا وہ فرماتے ہیں یہی ماخوذ ہے اس میں ایك بالشت کی گہرائی کی
حوالہ / References جواہر الاخلاطی
#12598 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
الامام ابو بکر الطرخانی اذ الم یکن لہ عرض صالح وکان طولہ من بخاری الی سمرقند لایجوز التوضی منہ وقال محمد بن ابرھیم المیدانی ان کان بحال لوجمع ماؤہ یصیر عشرا فی عشرو صار عمقہ بقدر شبرجاز التوضی بہ الکل فی الفتاوی الظھیریۃ وذکر فی الخلاصۃ ان الفقیہ ابا اللیث اخذ بہ وعلیہ اعتماد الصدر الشھید وفی الملتقط انکان عرض الغدیر ذراعین وبلغ طولہ فی عرضہ عشرا فی عشر فبال فیہ انسان فالماء طاھر اھ “ فانما الضمیر فی قول اخذ بہ وقولہ علیہ اعتماد الی اعتبار المساحۃ ولو بالجمع والا لم تکن الحوالۃ رائجۃ لان عبارۃ الخلاصۃ فی جنس فی النھر ھکذا ان کان الماء لہ طول وعمق ولیس لہ عرض کانھار بلخ ان کان بحال لوجمع یصیر عشرا فی عشر یجوز التوضی بہ وھذا قول ابی سلیمان الجوزجانی وبہ اخذا لفقیہ ابو اللیث وعلیہ اعتماد الصدر الشھید وقال الامام ابوبکر الطرخانی لایجوز وان کان من ھنا الی سمرقند اھ
شرط نہیں اور اس کی دلیل برجندی کا قول ہے
امام ابو بکر طرخانی نے فرمایا جب اس کی چوڑائی مناسب نہ ہو اور اس کی لمبائی خواہ بخاری سے سمرقند تك ہو تو اس سے وضو جائز نہیں “ ۔ اور محمد بن ابراہیم میدانی نے فرمایا اگر حوض اتنا بڑا ہو کہ اگر اس کا پانی اکٹھا کیا جائے تو وہ دہ در دہ ہوجائے اور اس کی گہرائی بقدر ایك بالشت ہو تو اس سے وضو جائز ہے یہ سب فتاوی ظہیریہ سے ماخوذ ہے اور خلاصہ میں ذکر کیا کہ فقیہ ابو اللیث نے اسی کو اختیار کیا ہے اور اسی پر صدر الشہید کا اعتماد ہے اور ملتقط میں ہے کہ اگر تالاب کی چوڑائی دو ہاتھ ہو اور اس کی لمبائی چوڑائی میں دہ در دہ ہو اور اس میں کوئی انسان پیشاب کردے تو پانی پاك ہے اھ
اور ضمیران کے قول اخذ بہ اور علیہ میں اعتبار مساحت کی طرف راجع ہے اگرچہ جمع کے اعتبار سے ہو ورنہ تو حوالہ رائج نہ ہوتا کیونکہ خلاصہ کی عبارت جنس فی النھر میں اس طرح ہے کہ اگر پانی کیلئے لمبائی گہرائی ہو اور چوڑائی نہ ہو جیسے بلخ کی نہریں ان میں کا پانی اگر جمع کر لیا جائے تو وہ دہ در دہ ہوجائے تو اس سے وضو جائز ہے اور یہ ابو سلیمان الجوزجانی کا قول ہے اور فقیہ ابو اللیث نے اسی کو اختیار کیا ہے اور اسی پر صدر الشہید کا اعتماد ہے اور امام ابو بکر الطرخانی نے فرمایا جائز نہیں اگرچہ یہاں سے
حوالہ / References نقایۃ برجندی کتاب الطہارت نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۳
خلاصۃ الفتاوٰی جنس فی الانہار نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
#12599 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
فلیس فیہ ذکر العمق اصلا فضلا عن تقدیرہ بشبر کیف والامام الجوزجانی اخذ فی العمق بالقول الاول وھو نفی التقدیر رأسا قال فی البدائع اما العمق فھل یشترط مع الطول والعرض عن ابی سلیمان الجوزجانی انہ قال ان اصحابنا رضی الله تعالی عنہم اعتبروا البسط دون العمق اھ فالمیدانی اخذ بقولہ فی اعتبار المساحۃ دون الامتدادین وزاد من عند نفسہ قدر العمق فنقلاہ فی الجواھر وشرح النقایۃ وذکرا تصحیحہ باعتبار اصلہ مع قطع النظر عن الزیادۃ لان المحل محل الخلافیۃ الاصل لاخلافیۃ العمق والله تعالی اعلم۔
سمرقند تك ہو اھ
اس میں گہرائی کا سرے سے کوئی ذکر نہیں۔ چہ جائیکہ ایك بالشت کے اندازے کا ذکر ہو پھر امام جوزجانی نے گہرائی کے بابت پہلا قول ہی اختیار کیا ہے جس میں اندازہ کو مطلقا ترك کیا گیا ہے بدائع میں فرمایا کہ گہرائی کی بابت سوال یہ ہے کہ اس کو طول وعرض کے ساتھ مشروط کیا جائے گا ابو سلیمان الجوزجانی سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا ہمارے اصحاب نے چوڑائی کا اعتبار کیا ہے گہرائی کا نہیں اھ تو میدانی نے پیمائش میں ان کے قول کو لیا ہے نہ کہ دو امتدادوں میں اور اپنی طرف سے انہوں نے گہرائی کی مقدار کا اضافہ کیا تو ان دونوں نے اس کو جواہر اور شرح نقایہ میں ذکر کیا اور ان دونوں نے اس کی تصحیح اصل کے اعتبار سے کی ہے اور زیادتی سے قطع نظر کیا ہے کیونکہ یہ محل ہے جس کے اصل میں اختلاف ہے نہ کہ جس کے عمق میں اختلاف ہے والله اعلم۔ (ت(
قول اول کی تصحیح امام زیلعی نے فرمائی :
قال فی التبیین والصحیح اذا اخذ الماء وجہ الارض یکفی ولا تقدیر فیہ فی ظاھر الروایۃ ۔
تبیین میں فرمایا صحیح یہ ہے کہ جب زمین کی سطح پر پانی پھیل جائے تو وہ کافی ہے ظاہر الروایۃ میں کسی مقدار کا ذکر نہیں۔ (ت(
بحرالرائق میں ہے :
ھو الاوجہ لما عرف من اصل ابی حنیفۃ ۔
یہی اوجہ ہے جیسا کہ ابو حنیفہ کی اصل سے معلوم ہوا۔ (ت(
محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اس تصحیح کی تضعیف کی فقال قیل والصحیح اذا اخذ
حوالہ / References بدائع الصنائع المقدار الذی یصیربہ المحل نجساً ایچ۔ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۳
تبیین الحقائق بحث عشر فی عشر ببولاق مصر ۱ / ۲۲
بحرالرائق بحث عشر فی عشر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۷
#12600 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
الماء الخ
وہ فرماتے ہیں کہ بعض نے کہا صحیح یہ ہے کہ جب پانی لے الخ۔ ( ت(
اقول : یہاں دو نظریں ہیں ایك بظاہر قوی اس قول کی تزییف میں دوسری کمال ضعیف اس کی تایید میں اور شاید اسی لئے امام ابن الہمام نے اس تصحیح کو ضعیف کیا مگر نظر دقیق اس کی قوت پر حاکم وبالله التوفیق
اما التائید فلعل زاعما یزعم ان الکثیر قدالحق بالجاری فی کل حکم کما حققہ فی الفتح والجاری لاتقدیر فیہ للعمق کما دلت علیہ فروع کثیرۃ منھا مسألۃ المطر النازل علی سطح فیہ نجاسات فکذا ھھنا۔
اقول : ھب ان الکثیر ملحق بالجاری فی جمیع الاحکام لکن الکلام انہ متی یکون کثیرا فلا یمکن الالحاق قبل اثبات ان الکثرۃ لاتحتاج الی العمق الا تری ان الجاری لاتقدیر فیہ بشیئ من الطول ولا العرض کما دلت علیہ فروع جمۃ ذکرناھا فی رحب الساحۃ منھا الماء النازل من الابریق علی ید المستنجی قبل وصولہ الیھا ولا یلزم منہ عدم التقدیر بھما ھھنا ایضا فکذا العمق والله تعالی اعلم۔ واما التزییف ففی الراکد الکثیر قولان معتمدان الاول ظاھر الروایۃ وھو اعتبار عدم الخلوص ظنا وتفویضہ الی رأی المبتلی بہ من دون تقدیر بشیئ ومعرف ذلك التحریك عند ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی
اور جہاں تك تائید کا تعلق ہے شاید کوئی گمان کرنے والا گمان کرے کہ کثیر کو جاری کے حکم میں کیا گیا ہے تمام احکام میں جیسا کہ اس کی تحقیق فتح میں ہے اور جاری کی گہرائی میں کوئی مقدار نہیں ہے اور اس پر فروع کثیرہ دلالت کرتی ہیں ایك فرع ان میں سے یہ ہے کہ بارش چھت پر ہو اور وہاں مختلف نجاستیں ہوں تو یہاں بھی ایسا ہی ہے۔ (ت(
میں کہتاہوں مان لیا کہ کثیر تمام احکام میں جاری کے ساتھ ملحق ہے لیکن اصل گفتگو تو اس میں ہے کہ وہ کب کثیر ہوگا تو اس کو اس کے ساتھ ملحق کرنا اس وقت تك درست نہ ہوگا جب تك یہ ثابت نہ کیا جائے کہ کثرت گہرائی کی محتاج نہیں کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جاری میں طول وعرض کا کوئی اندازہ نہیں اس پر بہت سی فروع دلالت کرتی ہیں جن کا ذکر ہم نے رحب الساحۃ میں کیا ایك فرع یہ ہے کہ لوٹے سے پانی استنجاء کرنے والے کے ہاتھ پر گرے اس تك پہنچنے سے قبل اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان دونوں کا اندازہ نہ ہو یہاں بھی تو عمق کا بھی یہی حال ہے والله تعالی اعلم۔ اور تزییف کا بیان یہ ہے کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں دو۲ معتمد قول ہیں پہلا ظاہر الروایۃ ہے اور وہ بطور گمان عدم خلوص کا اعتبار ہے اور اس میں کوئی مقدار نہیں بلالکہ جو اس
حوالہ / References فتح القدیر بحث عشر فی عشر نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۱
#12601 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
عنھم وھو بالتوضی علی الاصح والثانی معتمد عامۃ المتأخرین وعلیہ الفتوی وھو التقدیر بعشر فی عشراعنی مساحۃ مائۃ علی الصحیح فعدم التقدیر الموافق لاصل الامام رضی الله تعالی عنہ انما ھو علی الروایۃ الاولی اما الان فالکلام علی تقدیر التقدیر فکیف یلاحظ فیہ اصل عدم التقدیر کما فعل البحرام کیف یراعی فیہ ظاھر الروایۃ کما فعل الامام الفخر ونفس العشر فی عشر لیست فی ظاھر الروایۃ۔
اقول : (۱)والتحقیق عندی ان التقدیر بعشر فی عشر لیس حکما منحازا برأسہ(۲)فیحتاج الی ابداء اصل لہ کما تجشمہ الامام صدر الشریعۃ(۳)ویطعن فیہ بانہ لایرجع الی اصل فی الشرع کما قالہ فی البحر وتبعہ فی الدر ویرد بمخالفتہ لقول الامام المصحح من کثیرین اعلام کما یتوھم بل ھو تقدیر منھم رحمنا الله تعالی بھم لما فی ظاھر الروایۃ من عدم الخلوص وجدوا ھذا القدر لایخلص فحکموا بہ
قال فی البدائع ذکر ابوداؤد لایکاد یصح لواحد من الفریقین حدیث عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فی تقدیر الماء ولہذا رجع اصحابنا فی التقدیر الی الدلائل
میں مبتلی ہے اس کی رائے پر چھوڑا گیا ہے اور اس کی پہچان ہمارے ائمہ ثلثہ کے نزدیك حرکت دینا ہے اور یہ حرکت اصح قول کے مطابق وضو سے ہوگی اور دوسرا قول عام متأخرین کا مختار ہے اور اسی پر فتوی ہے اور اس سے مراد دہ در دہ کی مقدار ہے یعنی سو ہاتھ کی پیمائش صحیح قول پر ہے اور اندازہ نہ ہونا جو امام کی اصل کے مطابق ہے وہ پہلی روایت کے مطابق ہے اور اب گفتگو مقدار کی تقدیر پر ہے تو اس میں عدم تقدیر کی اصل کا لحاظ کیسے ہوگا جیسا کہ بحر نے کیا ہے یا اس میں ظاہر الروایۃ کی رعایت کیسے ہوگی جیسا کہ امام فخر نے کیا ہے جبکہ دہ در دہ ظاہر روایۃ میں کوئی قول نہیں۔ (ت)
میں کہتاہوں میرے نزدیك تحقیق یہ ہے کہ دہ در دہ کا اندازہ مستقل حکم نہیں ہے کہ اس کیلئے کوئی اصل تلاش کرنا ہو جیسا کہ صدر الشریعۃ نے اس کی کوشش کی ہے اور اس پر یہ اعتراض کہ یہ چیز شریعت کی کسی اصل پر متفرع نہیں جیسا کہ بحر میں فرمایا اور در نے اس کی متابعت کی اور اس کو اس بنا پر رد کر دیا جائے کہ یہ قول اکثر علماء کے مطابق امام کے صحیح قول کے مخالف ہونے کی وجہ سے مردود ہے جیسا کہ وہم ہوتا ہے بلالکہ یہ ان کی طرف سے اندازہ ہے کیونکہ ظاہر روا یۃ میں عدم خلوص ہے اور اس مقدار میں انہوں نے خلوص نہ پایا تو انہوں نے اس پر یہ حکم لگایا۔
بدائع میں فرمایا ابو داؤد نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی حدیث جو پانی کے اندازہ سے متعلق ہے فریقین میں سے کسی کیلئے کوئی حدیث
#12602 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
الحسیۃ دون السمعیۃ ثم اختلفوا فی تفسیر الخلوص فاتفقت الروایات عن اصحابنا انہ یعتبر بالتحریك وابو حفص الکبیر اعتبر الخلوص بالصبغ وابو نصر بالتکدیر والجوزجانی بالمساحۃ فقال ان کان عشرا فی عشر فھو مما لایخلص وان کان دونہ فھو مما یخلص اھ ۔ فقد جعل ھذا تفسیر الما فی المذھب وقال فی الغنیۃ تحت قولہ الحوض اذا کان عشرا فی عشر المقصود من ھذا التقدیر حصول غلبۃ الظن بعدم خلوص النجاسۃ اھ۔ فاذا کان ھذا تفسیر مافی ظاھر الروایۃ وجبت رعایتھا فیہ وبقی عمقہ علی اصل الامام لان ھذا انما ھو تقدیر ما لایخلص وما لایخلص لم یعتبر فیہ عمق فی ظاھر الروایۃ فلا داعی الی اعتبارہ ھنا اللھم الا ان یثبت ان للعمق مدخلا فی خلوص الحرکۃ وعدمہ ایضا فح یقال ان ظاھر الروایۃ حیث احالت الامر علیہ ارسلت الامتدادات ارسالا وکان ذلك الواجب حینئذ اما انتم فقدرتم الامتدادین ولیس ان کل عمق
صحیح نہیں اور اسی لئے ہمارے اصحاب نے اندازہ میں دلائل حسیہ کی طرف رجوع کیا نہ کہ سمعیۃ کی طرف اب خلوص کی تفسیر میں اختلاف ہے تو ہمارے اصحاب کی متفقہ روایت میں ہلانے کا اعتبار ہے اور ابو حفص کبیر نے خلوص رنگنے کو کہا اور ابو نصر نے گدلا ہونے کو کہا اور جوزجانی نے پیمائش کو کہا فرمایا کہ اگر وہ دہ در دہ ہو تو اس میں خلوص نہیں اور اگر اس سے کم ہے تو اس میں خلوص ہے اھ انہوں نے یہ مذہب کی تفسیر بنائی ہے غنیہ میں مصنف کے قول الحوض اذا کان عشر فی عشر کے تحت ہے کہ اس تقدیر سے مقصود نجاست کے عدم خلوص کی بابت ظن غالب کا حصول ہے اھ اور جب یہ ظاہر روایت کی تفسیر ہے تو اس کی رعایت اس میں لازم ہے اور امام کی اصل کے مطابق عمق باقی رہا کیونکہ یہ اسکی تقدیر ہے جس میں خلوص نہ ہو اور جس میں خلوص نہ ہو ظاھر الروایۃ کے مطابق اس میں عمق معتبر نہیں تو یہاں اس کے اعتبار کی کوئی وجہ نہیں ہاں اگر عمق کا دخل خلوص حرکت اور عدم خلوص میں ثابت کردیا جائے تو اس وقت کہا جائیگا کہ ظاہر روایت نے جہاں معاملہ کا دارومدار اس پر رکھا ہے تو امتدادات کو مطلق رکھا ہے اور اس وقت یہی لازم تھااور تم نے دونوں امتدادوں کی تقدیر کی ہے اور ان دونوں کے بعد ہر عمق برابر نہیں تو تم پر لازم ہے کہ ایك ایسے عمق کی تقدیر کرو
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی بیان المقدار ایچ ایم سعید کمپنی کراچی
غنیۃ المستملی فصل فی احکام الحیاض سہیل اکیڈمی لاہور ص۹۸
#12603 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
بعدھما سواء فیجب علیکم تقدیر عمق لایقبل معہ الامتدادان الخلوص فافہم۔
فافہم وح لایضاد القول الحادی عشر للقول الاول اذ ترك التقدیر فی ظاھر الروایۃ لایکون اذن لنفیہ بل لعدم تعینہ واختلافہ باختلاف الامتدادات فیصح التفویض الی رأی الناظر لکنہ شیئ یحتاج الی ثبت ودونہ خرط القتاد بل یدفعہ ان لوکان کذلك لم یصح تعیین عشر فی عشر فانہ یختلف الامتدادان المانعان للخلوص علی ھذا باختلاف الاعماق فکیف یجوز التحدید علی شیئ منھا وھو عود علی المقصود بالنقض فترجح ان الاوجہ ھو ظاھر الروایۃ بل ھی الوجہ ھذا ماعندی والله تعالی اعلم۔
کہ اس کے ہوتے ہوئے دونوں امتداد خلوص کو قبول نہ کریں۔ اس صورت میں گیارھواں قول پہلے قول کی ضد نہ ہوگا کہ ظاہر روایت میں تقدیر کا ترك کرنا اس کی نفی کیلئے نہ ہوگا بلالکہ اس کی عدم تعیین کیلئے ہوگا اور اس کا اختلاف امتدادات کے اختلاف کی وجہ سے ہوگا تو دیکھنے والے کی رائے کی طرف اس کو سپرد کرنا صحیح ہوگا مگر یہ ایك ایسی چیز ہے جس کو دلیل کی ضرورت ہے حالانکہ اس کی دلیل مشکل ہے بلالکہ اس کا رد یہ ہے کہ اگر بات یہی ہوتی تو دہ در دہ کی تعیین صحیح نہ ہوئی کیونکہ جو دو امتداد خلوص کے مانع ہیں اس بنا پر گہرائیوں کے اختلاف سے مختلف ہونگے تو ان میں سے کسی ایك کی تحدید کیونکر درست ہوگی اور یہ تو نقض کے سبب مقصود کی طرف عود کرنا ہے تو راجح یہی قرار پایا کہ ظاہر روایت ہی درست ہے بلالکہ صرف ایك یہی وجہ ہے ھذا ماعندی الخ(ت(
اس قول کی تصحیح امام زیلعی کے سوا دوسرے سے نظر میں نہیں :
اما ما فی البحر فی البدائع اذا اخذ ای الماء وجہ الارض یکفی ولا تقدیر فیہ فی ظاھر الروایۃ وھو الصحیح اھ
فاقول : ھذا کما تری کلام التبیین ولیس فی البدائع انما ذکر فیہ عن الجوزجانی ماتقدم ثم قال وعن الفقیہ ابی جعفر
اور جو بحر میں ہے کہ بدائع میں ہے جب پانی زمین کی سطح کو چھپا دے یہ اس کیلئے کافی ہے اور ظاہر الروایۃ میں کوئی تقدیر متعین نہیں اور یہی صحیح ہے۔ (ت(
میں کہتا ہوں یہ تبیین کا کلام ہے اور یہ بدائع میں نہیں اس میں تو جو زجانی سے حو منقول ہے وہ بیان ہوچکا ہے پھر فرمایا فقیہ ابو جعفر
حوالہ / References بحرالرائق بحث عشر فی عشر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۷
#12604 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
الھندوانی ان کان بحال لورفع انسان الماء بکفیہ انحسرا سفلہ ثم اتصل لایتوضؤ بہ ثم ذکر الزیادۃ علی عرض الدرھم والشبر والذراع ولم یصحح شیئا منھا نعم قال قبلہ فی الماء الجاری اختلف المشائخ فی حد الجریان قال بعضھم ھو ان یجری بالتبن والورق وقال بعضھم ان کان بحیث لووضع رجل یدہ فی الماء عرضا لم ینقطع جریانہ فھو جار والا فلا وروی عن ابی یوسف ان کان بحال لواغترف انسان الماء بکفیہ لم ینحسر وجہ الارض بالاغتراف فھو جار والا فلا وقیل مایعدہ الناس جاریا فھو جار وما لا فلا وھو اصح الاقاویل اھ فقد افاد(۱)تصحیح عدم التقدیر بعمق لکنہ فی الجاری وھو کذلك فیہ بلاشك والکلام ھھنا فی الراکد الکثیر
اما قول البحر ھو الاوجہ فاقول ھو رحمہ الله تعالی مع علو کعبہ الرجیح لیس من ارباب الترجیح کما یعرفہ من رزق حظا من النظر الصحیح وخدمۃ ھذا
ہندوانی کہتے ہیں کہ اگر پانی ایسا ہے کہ آدمی اپنے دونوں ہاتھوں سے اٹھائے تو اس کی تہ کھل جائے پھر جڑ جائے تو اس سے وضو نہیں ہوسکتا ہے پھر درہم بالشت اور ایك ہاتھ سے زائد کی چوڑائی کا ذکر کیا اور ان میں سے کسی کی تصحیح کا ذکر نہیں کیا ہاں اس سے قبل جاری پانی کی بابت کہا کہ مشائخ کا حد جریان میں اختلاف ہے بعض نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنا ہاتھ پانی میں چوڑائی میں ڈالے تو پانی کا جاری رہنا ختم نہ ہو تو وہ جاری ہے ورنہ نہیں(بعض نے فرمایا کہ اگر اس پانی میں کوئی تنکا ڈالا جائے یا پتہ ڈالا جائے تو بہا لے جائے) اور ابو یوسف سے مروی ہے کہ وہ ایسا پانی ہو کہ اگر کوئی شخص اس میں سے چلو بھر کر پانی لے تو زمین کھلنے نہ پائے ایسا پانی جاری ہے ورنہ نہیں ایك قول ہے کہ جس کو لوگ جاری سمجھیں وہ جاری ہے اور جس کو جاری نہ سمجھیں وہ جاری نہیں اور سب سے زیادہ صحیح قول یہی ہے اھ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے گہرائی کا تعین نہیں فرمایا لیکن یہ جاری پانی میں ہے اور اس میں شك نہیں اور گفتگو یہاں ٹھہرے ہوئے کثیر پانی میں ہے۔ لیکن بحر کا قول معقول تر ہے میں کہتا ہوں وہ بلالندی مقام کے باوجود اصحاب ترجیح سے نہیں ہیں جیسا کہ صاحب نظر اور فن کا ماہر جانتا ہے ابن عابدین نے اپنی منظوم کی شرح عقود رسم المفتی میں بحر سے نقل کے
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی بیان المقدار ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۳
بدائع الصنائع فصل فی بیان المقدار ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
#12605 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
الفن یفکر نجیح وقال سیدی محمد بن عابدین رحمہ الله تعالی فی شرح منظومۃ عقود رسم المفتی بعد مانقل عن البحر فیما نقلوا عن اصحابنا انہ لایحل لاحدان یفتی بقولنا حتی یعلم من این قلنا ان ھذا الشرط کان فی زمانھم اما فی زماننا فیکتفی بالحفظ کما فی القنیۃ وغیرھا فیحل الافتاء بقول الامام بل یجب وان لم نعلم من این قال فینتج من ھذا انہ یجب علینا الافتاء بقول الامام وان افتی المشائخ بخلافہ اھ مانصہ یؤخذ من قول صاحب البحر یجب علینا الافتاء بقول الامام الخ انہ نفسہ لیس من اھل النظر فی الدلیل فاذ اصحح قولا مخالفا لتصحیح غیرہ لایعتبر فضلا عن الاستنباط والتخریج علی القواعد خلافا لما ذکرہ البیری عند قول صاحب البحر فی کتابہ الاشباہ النوع الاول معرفۃ القواعد التی ترد الیھا وفرعوا الاحکام علیھا وھی اصول الفقہ فی الحقیقۃ وبھا یرتقی الفقیہ الی درجۃ الاجتھاد ولوفی الفتوی واکثر فروعہ ظفرت بہ الخ فقال البیری بعد ان عرف المجتھد فی المذھب بما
بعد جو اصحاب سے نقل کیا وہ یہ کہ کسی شخص کیلئے یہ حلال نہیں کہ وہ ہمارے قول پر فتوی دے تاوقتیکہ اس کو یہ معلوم نہ ہو کہ ہم نے کہاں سے یہ قول لیا اس کے بعد فرمایا یہ ان کے زمانہ میں تھا مگر ہمارے زمانہ میں صرف یاد پر اکتفاء کرنا کافی ہے جیسا کہ قنیہ وغیرہا میں ہے تو امام کے قول پر فتوی حلال ہے بلالکہ واجب ہے خواہ یہ معلوم نہ ہو کہ انہوں نے کہاں سے یہ قول لیا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم پر قول امام پر فتوی دینا واجب ہے خواہ یہ قول مشائخ کے خلاف ہو اھ
صاحب بحر کا قول یہ ہے “ ہم پر قول امام پر فتوی واجب ہے الخ وہ خود دلیل میں غور وفکر کی اہلیت نہیں رکھتے اب اگر وہ کسی قول کی تصحیح کریں جو غیر کی تصحیح کے خلاف ہو تو اعتبار نہ ہوگا چہ جائیکہ استنباط وتخریج جو قواعد کے مطابق ہو بیری نے اس کے خلاف کیا ہے یہ صاحب بحر کے اس قول کے پاس ہے جہاں وہ اپنی کتاب “ الاشباہ “ میں فرماتے ہیں پہلی قسم ان قواعد کی معرفت میں جن پر فقہاء نے احکام متفرع کئے ہیں اور یہی حقیقۃ میں اصول فقہ ہیں اور ان کے ذریعہ فقیہ درجہ اجتہاد تك پہنچتا ہے خواہ یہ اجتہاد فتوی میں ہو اور اس کی اکثر فروع پر مجھے کامیابی ہوئی ہے الخ بیری نے مجتہد فی المذہب کی تعریف کی جو ہم نے
حوالہ / References شرح المنظومۃ المسماۃ بعقود رسم المفتی من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۸
الاشباہ والنظائر بکون ہذا النوع الثانی منہا ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۱۵
#12606 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
قدمناہ عنہ۔ وفی ھذا اشارۃ الی ان المؤلف قدبلغ ھذہ المرتبۃ فی الفتوی وزیادۃ وھو فی الحقیقۃ قد من الله تعالی علیہ بالاطلاع علی خبایا الزوایا وکان من جملۃ الحفاظ المطلعین انتھی اذ لایخفی ان ظفرہ باکثر فروع ھذا النوع لایلزم منہ ان یکون لہ اھلیۃ النظر فی الادلۃ التی دل کلامہ فی البحر علی انھا لم تحصل لہ وعلی انھا شرط الاجتھاد فی المذھب فتأمل اھ
اقول : ای بالمعنی الذی عرفہ بل بیری زادہ شاملا للمجتھد فی المسائل واھل التخریج والمجتھد فی الفتوی حیث(۱)قال المجتھد فی المذھب عرف بانہ المتمکن من تخریج الوجوہ علی منصوص امامہ والمتبحر فی مذھب امامہ المتمکن من ترجیح قول لہ علی اخر اھ لا المجتھد فی المذھب الذی ھی الطبقۃ الثانیۃ الفائقۃ علی الثلثۃ الباقیۃ لقول البحر ولو فی الفتوی۔
واقول : لم یدع البحران من عرف
بیان کی پھر فرمایا کہ اس میں اشارہ ہے کہ مصنف فتوی میں خود اس مرتبہ پر فائز ہے بلالکہ اس سے زیادہ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ان کو اسرار و رموز پر مطلع فرمایا تھا اور وہ حفاظ میں سے تھے انتہی یہ مخفی نہ رہے کہ ان کا اس کی اکثر فروع پر مطلع ہونا اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ صاحب فکر ونظر بھی ہیں کہ یہ مقام ان کو حاصل نہیں یہ مجتہد فی المذہب کی شرائط ہیں فتأمل اھ(ت(
میں کہتا ہوں یعنی اس معنی کے اعتبار سے جو بیری زادہ نے کیے ہیں یہ مجتہد فی المسائل کو بھی شامل ہے اور اہل تخریج اور مجتہد فی الفتوی کو بھی انہوں نے فرمایا کہ مجتہد فی المذہب کی تعریف اس طرح کی گئی ہے کہ وہ ایسا عالم ہوتا ہے جو اپنے امام کے بیان کردہ مسئلہ کی وجوہ کی تخریج پر قادر ہو اور مذہب امام کا متبحر عالم ہو اس کے اقوال کو دوسروں کے اقوال پر ترجیح دے سکتا ہو نہ کہ مجتہد فی المذہب جو دوسرے طبقہ میں ہوتا ہے جو باقی تین پر فائق ہوتا ہے کیونکہ بحر نے فرمایا “ اگرچہ فتوی میں “ ۔ (ت(
میں کہتا ہوں بحر نے یہ دعوی نہیں کیا کہ جو
حوالہ / References بیری زادہ
بیری زادہ
#12607 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
الفروع ارتقی الی مرتبۃ الاجتھاد واین جمعھا من اھلیۃ النظر فی الدلیل والصیدلۃ من الطب وانما اراد ان تلك القواعد من ادرك حقائقھا وان الفروع کیف تستنبط منھا وترد الیھا کان ذلك سلما لہ یرتقی بھا الی ادنی درجات الاجتھاد ولم یدع ھذا لنفسہ انما ذکر الظفر باکثر الفروع فاین ھذا من ذاک(۱)والعجب کیف خفی ھذا علی العلامۃ بیری مع وضوحہ ثم ھو ایضا لم(۲)یشھد بحصول درجۃ الاجتھاد فی الفتوی لہ رحمھما الله تعالی انما زعم ان فی کلام البحر اشارۃ الیہ وشھد بکونہ من الحفاظ المطلعین وھذا لاشك فیہ وقد قال السید ابو السعود الازھری فی فتح الله المعین لایعتمد علی فتاوی ابن نجیم ولا علی فتاوی عـــہ
شخص بھی فروع کو جانے گا وہ مرتبہ اجتہاد پر فائز ہوجائے گا فروع کا یاد کرنا اور ہے اور فکر ونظر چیزے دگراست یہ بالکل ایسا ہے جیسے دو افروش اور طبیب کا فرق ہوتا ہے ان کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص ان قواعد کو پہچاننے لگے اور ان سے استنباط مسائل کا طریقہ معلوم کرلے تو یہ اجتہاد کے ادنی درجہ تك پہنچنے کا ذریعہ بن جاتا ہے اور انہوں نے خود اپنے لئے اس مقام کا دعوی نہیں کیا ہے انہوں نے تو محض یہ کہا ہے کہ وہ اکثر فروع کو جاننے میں کامیاب ہوئے ہیں دونوں میں بڑا فرق ہے تعجب ہے کہ یہ حقیقت علامہ بیری پر کیسے مخفی رہی حالانکہ بالکل واضح ہے پھر انہوں نے اپنے لئے درجہ اجتہاد فی الفتوی کا دعوی بھی نہیں کیا ہے رحمہما اللہ تعالی صرف یہ کہا ہے کہ بحر کے کلام میں اس طرف اشارہ ہے اور انہوں نے اس امر کی شہادت دی ہے
عـــہ اقول : کذا قال ولم اطلع علیھا لاعلم حالھا لکن قال فی کشف الظنون من الذال تحت ذخیرۃ الناظر فی الاشباہ والنظائر انھا للعالم الفاضل علی الطوری المصری الحنفی المتوفی ۱۰۰۴ اربع والف ثم قال قال الامینی فی خلاصۃ الاثر اخذ عن الشیخ زین الدین بن نجیم وغیرہ حتی برع وتفنن والف مؤلفات ورسائل فی الفقہ کثیرۃ کان یفتی وفتاواہ جیدۃ
میں کہتا ہوں انہوں نے یہی فرمایا ہے لیکن میں اس پر مطلع نہیں ہوا مگر کشف الظنون میں ذال کی تختی میں ذخیرۃ الناظر فی الاشباہ والنظائر کے تحت ہے کہ یہ کتاب عالم فاضل علی الطوری المصری الحنفی المتوفی ۱۰۰۴ھ کی ہے پھر انہوں نے کہا کہ امینی نے خلاصۃ الاثر میں کہا کہ انہوں نے شیخ زین الدین بن نجیم وغیرہ سے علم حاصل کیا یہاں تك کہ وہ عظیم المرتبت عالم ہوگئے اور علم فقہ میں بہت سی کتب ورسائل تصنیف کیے وہ فتوے دیتے تھے اور ان کے فتوے (باقی بر صفحہ ایندہ)
#12608 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
الطوری اھ واقرہ ش فی غیر موضع من رد المحتار وفی ط عنہ سمعت کثیرا من شیخنا (یرید اباہ السید علیا رحمھما الله تعالی)فتاوی الطوری کفتاوی الشیخ زین لایوثق بھما الا اذا تأیدت بنقل اخر اھ وکیف یصح لمجتھد فی الفتوی ان یمنع العمل بفتاواہ۔
کہ وہ حفاظ میں سے ہیں اور اس میں شك کی گنجائش نہیں ابو السعود الازہری نے فتح اللہ المعین میں فرمایا نہ تو ابن نجیم کے فتاوی پر اعتماد کیا جائے اور نہ ہی طوری کے فتاوی پر اھ اور اس کو “ ش “ نے برقرار رکھا یہ چیز ردالمحتار کے کئی مقامات پر مذکور ہے اور “ ط “ میں انہی سے منقول ہے کہ ہم نے اپنے شیخ سے بکثرت سنا ہے(اس سے مراد ان کے باپ سید علی ہیں)وہ فرماتے تھے فتاوی طوری شیخ زین کے فتاوی کی طرح ہیں ان دونوں کا کوئی اعتبار نہیں ہاں اگر کسی اور نقل سے ان کی تائید ہوجائے تو اور بات ہے اور ایك مجتہد فی الفتوی کو یہ بات کب زیب دے سکتی ہے کہ وہ اپنے فتوی پر عمل کی مخالفت کردے۔ (ت(
قول سوم کی ترجیح عامہ کتب میں ہے وقایہ۱ ونقایہ۲ واصلاح۳ وغرر۴ وملتقی متون ۵ ووجیز کردری ۶ وغیرہا میں اسی پر جزم فرمایا امام اجل قاضی خان۷ نے اسی کو مقدم رکھا اور امام اعظم سے امام ابو یوسف کی روایت بتایا ہدایہ۸ ودرر۹ ومجمع الانہر۱۰ ومسکین۱۱ ومراقی الفلاح ۱۲ وہندیہ۱۳ میں اسی کو صحیح او رذخیرہ العقبی ۱۴ میں اصح اور غیاثیہ۱۵ وغنیہ۱۶ وخزانۃالمفتین ۱۷ میں مختار کہا معراج۱۸ الدرایہ وفتاوی ظہیریہ ۱۹ وفتاوی خلاصہ ۲۰ وجوہرہ نیرہ۲۱ وشلبیہ۲۲ وغیرہا میں علیہ الفتوی فرمایا اس قول میں عبارت علماء تین طور پر آئیں :
اول مطلق اغتراف یا غرف کہ ہاتھ سے پانی لینا ہے ایك سے ہو خواہ دونوں سے دونوں کو شامل ہے عام عبارات اسی طرح ہیں جیسے خانیہ وخزانہ کے سوا اکثر کتب مذکورہ اور بحر وشامی وغیرہا۔
دوم لفظ کف یا یدبصیغہ مفرد سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے یوں ہی مروی ہوا فتاوی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
مقبولۃ و بالجملۃ فھو فی فقہ الحنفیۃ الجامع الکبیر لہ الشھرۃ التامۃ فی عصرہ والصیت الذائعانتھی ۱۲ منہ غفرلہ(م(
بہت عمدہ اور مقبول ہوتے تھے خلاصہ یہ کہ یہ کتاب فقہ حنفی میں جامع ہے اور اسے اپنے زمانہ میں شہرت تامہ حاصل ہے۔ (ت(
حوالہ / References فتح المعین بحوالہ ردالمحتار رسم المفتی مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۲
طحطاوی
#12609 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
امام قاضی خان میں ہے :
ان کان بحال لو رفع الماء بکفہ لاینحسر ماتحتہ من الارض فھو عمیق رواہ ابویوسف عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہما ۔
اگر پانی اس حال پر ہے کہ اگر ہتھیلی سے پانی اٹھائے تو زمین نیچے سے نہ کھلے تو وہ گہرائی والا ہے اس کو ابو یوسف نے ابو حنیفہ سے روایت کیا۔ (ت(
خزانۃ المفتین میں ہے :
وعمقہ بحال لو رفع الماء بکفہ لاینحسر ماتحتہ من الارض وھو المختار ۔
پانی کی گہرائی یہ ہے کہ اگر ہتھیلی سے پانی اٹھائے زمین نیچے سے نہ کھلے یہی مختار ہے۔ (ت(
چلپی علی صدر الشریعۃ میں ہے :
والغرف اخذ الماء بالید للتوضی وھو الاصح ۔
غرف ہاتھ کے ذریعے وضو کیلئے پانی لینے کو کہتے ہیں اور یہی اصح ہے۔ (ت(
سوم کفین بصیغہ تثنیہ یہ امام ابو یوسف سے مروی آیا اور اسی کو امام فقیہ ابو جعفر ہندوانی نے اختیار فرمایا زیلعی علی الکنز میں ہے :
عن ابی یوسف اذا کان لاینحسر وجہ الارض بالاغتراف بکفیہ فھو جار اھ وقدمناہ عن ملك العلماء واذا کان ھذا فی الجاری حقیقۃ ففی الملحق عـــہ
اور ابو یوسف سے مروی ہے کہ جب دو چلو بھر کر پانی اٹھانے سے زمین کی سطح نہ کھلے تو یہ پانی جاری ہے اھ ہم اس کو ملك العلماء سے پہلے ہی نقل کر آئے ہیں جب یہ بات حقیقی جاری پانی میں ہے تو

عـــہ اقول : وھذا بخلاف مافعل فی البحر فان تصحیح الاطلاق فی الجاری لایستلزم تصحیحہ فی الملحق بہ واشتراط العمق فیہ یستلزم اشتراطہ فی الملحق بالاولی منہ غفرلہ۔ (م(
میں کہتا ہوں یہ اس کے خلاف ہے جو بحر میں کیا ہے کیونکہ جاری میں اطلاق کی تصحیح سے یہ لازم نہیں آتا کہ جو جاری سے ملحق ہو اس میں بھی یہی تصحیح ہوگی اور گہرائی کی شرط اس میں اس امر کو مستلزم ہے کہ یہی شرط ملحق میں بھی ہو۔ (ت(
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان فصل فی الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴
خزانۃ المفتین
ذخیرۃ العقبٰی کتاب الطہارت مطبعہ اسلامیہ لاہور ۱ / ۶۸
تبیین الحقائق کتاب الطہارت مطبعہ الازہریہ مصر ۱ / ۳۳
#12610 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
بہ بالاولی۔
جو جاری پانی سے ملحق ہوگا اس میں بطریق اولی ہوگی۔ (ت(
بدائع میں ہے :
عن الفقیہ ابی جعفر الھندوانی ان کان بحال لو رفع انسان الماء بکفیہ انحسر اسفلہ ثم اتصل لایتوضؤ بہ وان کان لاینحسر اسفلہ لابأس بالوضوء منہ ۔
فقیہ ابو جعفر ہندوانی سے منقول ہے کہ وہ پانی ایسا ہو کہ اگر کوئی اپنے دونوں ہاتھوں سے اٹھائے تو اس کے نیچے زمین کھل جائے اور پھر مل جائے ایسے پانی سے وضو نہیں ہوگا اور اگر اس کے نیچے سے زمین نہ کھلتی ہو تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت(
جامع الرموز میں ہے :
بالغرفۃ ای برفع الماء بالکفین ۔
بالغرفۃ یعنی دو ہتھیلیوں سے پانی اٹھانا۔
عبدالحلیم الدرر میں ہے :
ای باخذ الماء بالکفین ۔
یعنی دو ہتھیلیوں میں پانی لینا۔
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :
قولہ بالغرف منہ ای بالکفین کما فی القھستانی وفی الجوھرۃ علیہ الفتوی ۔
اقول : (۱)ربما یتوھم منہ ان الفتوی علی الکفین ولیس کذلك فانما عبارۃ الجوھرۃ اما مقدار العمق فالاصح ان یکون بحال لاتنحسر الارض بالاغتراف وعلیہ الفتوی اھ فکان ینبغی ان یقدم
بالغرف منہ یعنی دو ہتھیلیوں سے جیسا کہ قہستانی میں ہے اور جوہرہ میں ہے کہ اسی پر فتوی ہے۔ (ت(
میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے یہ وہم پیدا ہو کہ فتوی کفین پر ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ جوہرہ کی عبارت یہ ہے “ اور گہرائی کی مقدار میں اصح یہ ہے کہ چلو بھرنے سے زمین نہ کھلتی ہو اسی پر فتوی ہے اھ۔ تو ان کو جوہرہ کی عبارت پہلے لانی چاہئے تھی۔
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار الخ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۳
جامع الرموز بحث عشر فی عشر الکریمیہ قزان ایران ۱ / ۴۸
حاشیۃ علی الدرر للعبد الحلیم مطبعہ عثمانیہ مصر ۱ / ۱۷
طحطاوی علی مراقی الفلاح نور محمد کتب خانہ کراچی ص۱۶
الجوہرۃ النیرۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۱۶
#12611 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
عبارتھا ویقول قولہ بالغرف علیہ الفتوی جوھرۃ ای بالکفین قھستانی۔
اور یوں کہنا چاہئے تھا قولہ بالغرف علیہ الفتوی جوھرۃ یعنی بالکفین قھستانی۔ (ت(
علامہ برجندی نے کف واحد کو مرجح اور کفین کو محتمل رکھا :
حیث قال بالکف الواحد علی ماھو المفہوم من اطلاقات الکتب ویحتمل ان یکون المراد بالغرف الاخذ بالکفین معاعلی ماھو المتعارف اھ
اقول : وقد یؤخذ ترجیح لہ من فحوی الدرر فان نصہا الصحیح ان یکون بحیث لاتنکشف ارضہ بالغرف للتوضی وقیل للاغتسال اھ۔ وذلك لان المراد ھھنا الغرف بالایدی دون الاوانی ولا یظھر الفرق بین الغرف للوضوء والاغتسال بالایدی الا ان الاول بکف والاخر بالکفین کما ھو المعتاد فی الغسل وح یعود الیہ تصحیح ذخیرۃ العقبی المذکور ویزیدہ قوۃ انہ المروی عن الامام ھذا کلہ ظاھر النظر۔
اس لئے فرمایا کہ بالکف الواحد یہی کتابوں کے اطلاقات سے مفہوم ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ بالغرف سے مراد دونوں چلوؤں سے لینا ہو جیسا کہ متعارف ہے اھ(ت(
میں کہتا ہوں کبھی اس کی ترجیح درر کے فحوی سے بھی معلوم ہوتی ہے اس کی عبارت یہ ہے کہ صحیح یہ ہے کہ وضو کیلئے چلو سے پانی لیتے وقت اس کی زمین نہ کھلتی ہو اور ایك قول یہ ہے کہ غسل کیلئے پانی لیتے ہوئے نہ کھلتی ہو اھ کیونکہ یہاں چلو سے مراد ہاتھ کا چلو بھرنا ہے نہ کہ برتن کا چلو اور وضو کیلئے چلو سے پانی لینے اور ہاتھ سے غسل کرنے میں صرف یہی فرق ہے کہ وضو ایك ہاتھ سے اور غسل دو ہاتھ سے ہوتا ہے جیسا کہ عادتا غسل میں کیا جاتا ہے اور اس وقت اس کیلئے ذخیرۃ العقبی کی تصحیح ہوگی اور اس کو مزید تقویت اس سے ہوتی ہے کہ یہ امام سے مروی ہے یہ جو کچھ ہے ظاہر نظر میں ہے۔ (ت(
واقول : وبالله التوفیق ترجیح علامہ برجندی میں نظر ہے
اولا(۱)اذ اعترف انہ المتعارف فلم لاینصرف المطلق الیہ۔
جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہی متعارف ہے تو مطلق اسی کی طرف کیوں نہیں پھرتا۔ (ت(
ثانیا : وہ عند التحقیق(۲)منعکس ہے اطلاقات متون وعامہ کتب سے اغتراف کفین ہی مستفاد
حوالہ / References قہستانی برجندی کتاب الطہارۃ نولکشور بالسرور ۱ / ۳۳
الدرر فرض الغسل دارالسعادۃ مصر ۱ / ۲۲
#12612 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
وذلك لان الغرف کما قلتم مطلق شامل باطلاقہ الغرفۃ بکف وکفین غیر انہ لیس ھھنا فی کلام موجب بل سالب(۱)والمطلق وان کان یوجد بوجود فرد لاینتفی الابانتفاء الافراد جمیعا فی التحریر ثم فوا تح الرحموت من بحث النکرۃ المنفیۃ نفی المطلق یوجب نفی کل فرد اھ
بل اقول : اللام فی الغرف والاغتراف لیس للعھد ضرورۃ فان کان للاستغراق فذاك فانہ لکل فردلا لمجموع الافراد والا فللجنس وھو الوجہ المفھوم ونفی(۲)الجنس فی العرف واللغۃ لایکون الابنفی جمیع الافراد فواتح فافھم
ولا شك ان من اغترف بکفیہ فانحسرت الارض یقول انھا ارض تنحسر بالغرف وان کانت لاتنحسر بکف واحدۃ واذا صدق بہ الانحسار لایصدق عدمہ الا اذالم تنحسر بشیئ من الغرفات وتوجیہ الدرر بما فیہ ان المعتاد فی الوضوء ایضا الاغتراف بالکفین فی غسل الوجہ مطلقا وفی غسل الرجلین اذالم یکن بالغمس لاجرم ان اطلق البرجندی تعارفہ علی
اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسا آپ نے کہا غرف مطلق ہے خواہ ایك ہاتھ سے ہو یا دو ہاتھ سے البتہ یہ کلام موجب میں نہیں ہے کلام سالب میں ہے اور مطلق اگرچہ ایك فرد کے پائے جانے سے پایا جاتا ہے مگر اس کا انتفاء اسی وقت ہوگا جب تمام افراد کا انتفاء ہوگا تحریر میں پھر فواتح الرحموت میں نکرہ منفیہ کی بحث سے ہے کہ مطلق کی نفی ہر فرد کی نفی کو ثابت کرتی ہے۔ (ت(
بلالکہ میں کہتا ہوں لام “ الغرف “ اور “ الاغتراف “ میں عہد کیلئے نہیں اور اگر یہ استغراق کیلئے ہو تو درست ہے کہ وہ ہر فرد کیلئے ہے مجموعہ افراد کیلئے نہیں ورنہ یہ جنس کیلئے ہوگا اور یہی وجہ سمجھ میں آتی ہے اور جنس کی نفی عرف ولغت میں تمام افراد کی نفی سے ہی ہوتی ہے فواتح فافہم
اور اس میں شك نہیں کہ جس نے دونوں ہتھیلیوں سے پانی لیا اور زمین کھلی تو یہی کہا جائیگا کہ چلو بھرنے سے زمین کھلی ہے اگرچہ ایك ہتھیلی سے نہ کھلے اور جب اس کی وجہ سے کھلنا صادق آگیا تو نہ کھلنا صادق نہیں آئے گا صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب کہ کسی چلو سے زمین نہ کھلے اور درر میں یہ توجیہ ہے کہ وضو میں بھی عام طور پر دونوں ہاتھ سے چلو بھرا جاتا ہے چہرے کے دھونے میں مطلقا اور دونوں پیروں کے دھونے میں جبکہ ڈبو کر نہ دھویا جائے برجندی نے تعارف کو مطلق
حوالہ / References فواتح الرحموت بحث النکرۃ المنفیۃ مطبعۃ امیرقم ۱ / ۲۶۱
فواتح الرحموت بحث النکرۃ المنفیۃ مطبعۃ امیرقم ۱ / ۲۶۰
#12613 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
انی لم (۱)ارمن فرق ھھنا بالوضوء والغسل انما المعروف ذلك فی معرفۃ الخلوص من جانب الی آخر بالتحریك ولم یتکلم علیہ محشوہ الشرنبلالی وعبدالحلیم والحسن العجیمی والخادمی رحمھم الله تعالی و ردہ الثانی بقولہ ان کلامنھما(ای من الوضوء والغسل یحتاج الی اخذہ بھما(ای بالیدین)قال فظھران لاوجہ لتضعیف الثانی اھ
اقول : والوجہ عندی ان یراد بالغرف للوضوء الغرف بالایدی وللغسل بالقصاع والاباریق والله تعالی اعلم اما المروی عن الامام فلیس نصا فی الوحدۃ قال فی غمز العیون اطلق الید و اراد الیدین لانہ اذا(۲)کان الشیان لایفترقان من خلق اوغیرہ اجزاء من ذکرھما ذکر احدھما کالعین تقول کحلت عینی وانت ترید عینیك ومثل العینین المنخران والرجلان والخفان والنعلان تقول لبست خفی ترید خفیك کذا فی شرح الحماسۃ اھ وقد بسطت الکلام علی ھذا فی رسالتی صفائح اللجین فی
رکھا ہے علاوہ ازیں میں نے نہیں دیکھا کہ یہاں کسی نے وضو اور غسل میں فرق کیا ہو اس سلسلہ میں معروف یہ ہے کہ خلوص کی معرفت ایك جانب سے دوسری جانب تك حرکت کے ذریعے ہوگی اس پر اس کے حاشیہ نگاروں شرنبلالی عبدالحلیم حسن العجیمی اور خادمی رحمہم اللہ تعالینے کلام نہیں کیا اور دوسرے نے اس کی تردید اس طرح کی ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک(یعنی غسل و وضوء میں سے)محتاج ہوتا ہے پانی کیلئے(دونوں ہاتھوں کی طرح)فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ دوسرے کی تضعیف کی کوئی وجہ نہیں ہے اھ(ت(
میں کہتا ہوں میرے نزدیك وجہ یہ ہے کہ وضو کیلئے چلو بھر لینے سے مراد ہاتھوں سے چلو بھرنا مراد ہو اور غسل کیلئے پیالوں اور لوٹوں کے ذریعہ پانی کا لینا مراد ہو واللہ تعالی اعلم اور جو چیز امام سے مروی ہے وہ وحدت میں نص نہیں ہے غمز العیون میں فرمایا ید بول کریدین کا ارادہ کیا ہے کیونکہ جو دو چیزیں پیدائشی طور پر جڑی ہوئی ہوں یا کسی اور سبب سے تو ان میں سے ایك کا ذکر دوسری کے ذکر کو بھی کافی ہوگا جیسے عین کہا جاتا ہے کحلت عینی اور اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ میں نے اپنی دونوں آنکھوں میں سرمہ لگایا اور آنکھ کی طرح نتھنے پیر موزے اور جوتے ہیں لبست خفی کہا جاتا ہے اور
حوالہ / References حاشیۃ علی الدرر للعبد الحلیم بحث عشر فی عشر عثمانیہ مصر ۱ / ۱۷
غمز العیون مع الاشباہ الفن الاول قواعد کلیۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۱۹
#12614 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
کون التصافح بکفی الیدین۔
اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ میں نے دونوں موزے پہنے کذا فی شرح الحماسۃ اھ میں نے اس پر مکمل تفصیلی گفتگو اپنے رسالہ “ صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین “ (چاندی کی تختیاں اس مسئلے میں کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے ہوتا ہے۔ ت)میں کی ہے۔ (ت)
تو راجح یہی ہے کہ دونوں ہاتھوں سے پانی لینا مراد ہے
اولا یہی متون کا مفاد
ثانیا یہی عامہ کتب سے مستفاد
ثالثا کتب متعددہ میں اس پر تنصیص اور کف واحد پر کوئی نص نہیں۔
رابعا کف سے کفین مراد لے سکتے ہیں نہ بالعکس تو اس میں توفیق ہے اور وہ نصب خلاف سے اولی۔
خامسا زمین نہ کھلنے سے مقصود یہ ہے کہ مساحت برقرار رہے ورنہ دو۲ پانی جدا ہوجائیں گے۔
تبیین میں ہے :
المعتبر فی العمق ان یکون بحال لاینحسر بالاغتراف لانہ اذا انحسر ینقطع الماء بعضہ عن بعض ویصیر الماء فی مکانین وھو اختیار الھندوانی اھ ثم ذکر التصحیح المار۔
گہرائی میں معتبر یہ ہے کہ وہ حوض ایسا ہو کہ چلو بھرنے سے کھل نہ جاتا ہو کیونکہ اگر کھلا تو پانی کا ایك حصہ دوسرے حصے سے جدا ہوجائیگا اور پانی دو جگہوں میں ہوجائیگا ہندوانی نے اسی کو اختیار کیا ہے اھ پھر اس نے گزشتہ تصحیح کو ذکر کیا ہے۔ (ت)
مثلا حوض پورا دہ در دہ ہے اس کے وسط میں سے پانی اٹھایا اور زمین کھل گئی تو اس وقت وہ کسی طرف دس ۱۰ ہاتھ نہیں بلالکہ طول وعرض ہر ایك کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ ہر ٹکڑا پانچ ہاتھ سے بھی قدرے کم تو آب قلیل ہوگیا لہذا لازم ہوا کہ پانی لینے سے زمین نہ کھلنے پائے اور اس کی ضرورت وضو وغسل دونوں کیلئے ہے بلالکہ غسل کیلئے زائد۔
ہدایہ میں فرمایا :
الحاجۃ الی الاغتسال فی الحیاض اشد منھا الی التوضی ۔
حوضوں میں نہانے کی ضرورت بہ نسبت وضو کے زیادہ ہوتی ہے۔ (ت)
حوالہ / References تبیین الحقائق عشر فی عشر بولاق مصر ۱ / ۲۲
الہدایۃ الغدیر العظیم مکتبہ عربیہ کراچی ۱ / ۲۰
#12615 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
عنایہ میں فرمایا :
لان الوضوء یکون فی البیوت عادۃ ۔
کیونکہ وضو عام طور پر گھر میں ہوتا ہے۔ (ت)
اور شك نہیں کہ حوض یا تالاب میں نہاتے ہوئے پانی لپوں سے لیتے ہیں نہ چلوؤں سے تو ضرور ہوا کہ دونوں ہی ہاتھ سے لینا مراد والله تعالی اعلم بالحق والسداد۔
توفیق انیق وتحقیق دقیق بحسن التوفیق والحمدلله علے تیسرالطریق۔
اقول : وبالله استعین وھو نعم المعین یہ سب تنقید وتنقیح وتصحیح وترجیح اس ظاہر خلاف پر تھی جو عبارات کتب سے مفہوم اور بعونہ عز جلالہ وعم نوالہ قلب فقیر پر القا ہوتا ہے کہ ان اقوال میں اصلا خلاف نہیں قول اول کی نسبت ہم بیان کر آئے کہ وہی ظاہر الروایۃ اور وہی اقوی من حیث الدرایۃ ہے اور مذیل بطراز تصحیح بھی اور ظاہر الروایۃ اوجہ ومصحح سے عدول کی کوئی وجہ نہیں قول دیگر کہ عامہ کتب میں مختار ومرجح ومفتی بہ ہے اسی ظاہر الروایۃ پر متفرع اور اسی کے حکم کے تحفظ کو ہے ظاہر ہے کہ مساحت معینہ ہو مثلا دہ در دہ یا عدم خلوص پر مفوضہ بہرحال اتنی مقدار میں پانی کا اتصال ضرور ورنہ وہ مساحت نہ رہے گی ولہذا ظاہر الروایۃ نے فرمایا کہ کہیں سے زمین کھلی نہ ہو تو اس قدر کا شرط کثرت ہونا بداہۃ ثابت مگر کثرت۲ وقت استعمال چاہئے پہلے کثیر تھا اور استعمال کرتے وقت قلیل ہوگیا تو کثرت سابقہ کیا مفید ہوگی اب اس میں پانی لیتے ہوئے زمین اگر کھل گئی تو ظاہر الروایۃ نے جو امر کثرت کیلئے شرط کیا تھا کب باقی رہا اتنی دیر کو پانی قلیل ہوگیا پہلے سے اگر نجاست پڑی تھی اور بوجہ کثرت مؤثر نہ ہوئی تھی اب قلیل ہوتے ہی مؤثر ہوگئی اور پھر پانی مل جانا طاہر نہ کردیگا کہ آب نجس کثیر ہو کر پاك نہیں ہوجاتا اور جن کے نزدیك مائے مستعمل نجس ہے پہلے سے کسی نجاست پڑی ہونے کی حاجت نہیں پہلے لپ کا پانی بدن پر ڈالا یہ مستعمل ونجس ہو کر پانی میں گرا دوبارہ لپ لیا پانی قلیل ہو کر اسی مائے مستعمل سے نجس ہوگیا۔ یوں ہی جن کے نزدیك آب مستعمل اگرچہ پاك ہے مگر مائے مطلق سے اس کا اختلاط مطلقا اسے ناقابل طہارت کردیتا ہے اگرچہ مغلوب ہو لہذا وقت اغتراف حفظ کثرت کیلئے یہ شرط لگائی کہ اغتراف آب کثیر سے ہو اس وقت بھی ظاہر الروایۃ کا ارشاد یأخذ الماء وجہ الارض صادق ہو کہ زمین کہیں سے کھلی نہ ہو تو یہ عمق شرط کثرت نہیں بلالکہ وقت اغتراف شرط بقائے کثرت۔
اس توفیق رفیق کے مؤیدات اقول اولا خود یہی تبیین مبین تعلیل تبیین کہ اتنا عمق اس لئے رکھا گیا کہ پانی لیتے وقت زمین کھل کر دو پانی نہ ہو جائیں کہ مساحت نہ رہے گی قلیل ہوجائیگا معلوم ہوا کہ تابقائے
حوالہ / References العنایۃ علی حاشیۃ فتح القدیر نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۷۰
#12616 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
مساحت کثیر ہے تفریق مساحت تقلیل کرے گی۔
ثانیا اگر کثرت فی نفسہ اس پر موقوف ہو تو یہ شرط بھی کام نہ دے گی اور وقت اغتراف وہی دقت پیش آئے گی۔ شرط ہے تو ساری مساحت میں نہ کہ بعض میں۔ غیاثیہ میں ہے :
المختار ان لاینحسر بالاغتراف مطلقا غیر مقید بکونہ من اعمق المواضع ۔
مختار یہ ہے کہ چلو لینے سے زمین نیچے سے نہ کھلے مطلقا ا س میں زیادہ گہرا ہونے کی کوئی قید نہیں ہے۔ (ت)
اب کہ پانی لیا اور زمین کھلی تو نہیں مگر اتنی جگہ صرف جو بھی عرض کا پانی رہ گیا تو اب کیا آب قلیل نہ ہوگیا کہ اتنی دیر ساری مساحت میں اتنا عمق نہیں۔ ظاہر ہوا کہ یہ عمق مطلوب نہ تھا بلالکہ وہی زمین کا کہیں سے کھلا نہ ہونا کہ وقت اغتراف یہی باقی رہے گا نہ وہ عمق۔
ثالثا : اسی پر شاہد ہے سیدنا امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ تعالی سے وہ روایت کہ بدائع وتبیین سے گزری کہ خود جاری پانی میں بھی اتنا عمق شرط فرماتے ہیں یہ ہرگز نفس جریان کی شرط نہیں ہوسکتا کون عاقل کہے گا کہ مینہ کا پانی جو چھت یا زمین پر بہ رہا ہے جاری نہ ہوگا جب تك چار پانچ انگل دل نہ ہوجائے امام ابو یوسف کی شان اس سے ارفع واعلی ہے وہ قطعا عرفا وشرعا ہر طرح جاری ہے اگرچہ صرف جو بھر عـــہ دل ہو لاجرم کوئی شبہ نہیں کہ یہ وقت اغتراف بقائے جریان کیلئے شرط فرمائی ہے کہ اگر پانی لیتے وقت زمین کھل گئی دو پانی ہوگئے اور اس وقت جریان جاتا رہا کہ اتنی دیر اوپر کا پانی رك گیا اور نیچے کا مدد بالا سے منقطع ہوگیا اور ہم رسالہ رحب الساحۃ میں بیان کر چکے کہ جریان کیلئے مدد کا اشتراط بھی ایك قول مصح ہے امام ابن الہمام نے اس کو ترجیح دی اور یہی امام برہان الدین صاحب ہدایہ کی کتاب تجنیس اور امام حسام الدین کے
عــــــہ بلالکہ فتاوے امام قاضی خان میں ہے :
الجنب اذا قام فی المطر الشدید متجردا بعد ما تمضمض واستنشق حتی اغتسلت اعضاؤہ جاز لانہ جار یعنی(فــــ ۱)جنب اگر کلی کرکے ناك میں پانی موضع فرض تك چڑھا کر زور کے مینہ میں ننگا کھڑا ہو کہ سارا بدن دھل گیا غسل ہوگیا کہ مینہ جاری پانی ہے ظاہر ہے کہ مینہ کی دھاریں متفرق ہوتی ہیں اور ان میں کوئی دھار آدھا انگل بھی دل نہیں رکھتی بلالکہ اکثر جو بھر سے زیادہ نہیں ہوتا مگر وہ بلاخلاف جاری پانی ہے ۱۲ منہ غفرلہ(م)
حوالہ / References فتاوٰی غیاثیہ باب المیاہ مکتبہ اسلامیہ ، کوئٹہ ص۵
#12617 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
واقعات سے مستفاد یہ روایت امام ابو یوسف اسی قول پر مبنی تو یہ شرط اس لئے فرمائی کہ پانی لیتے وقت بھی جاری رہے نہ کہ ہر جاری میں یہ عمق درکار یوں ہی یہاں نفس کثرت اس سے مشروط نہیں بلالکہ وقت اغتراف کثیر رہنا ولله الحمد۔
رابعا اسی کے مؤید ہے وہ کہ ہمارے رسالہ رحب الساحۃ میں کتب کثیرہ جلیلہ معتمدہ سے منقول ہوا کہ بڑے تالاب کے بطن میں نجاستیں پڑی ہیں بارش کا پانی آیا اگر ان نجاستوں تك پہنچنے سے پہلے یہ پانی تالاب کے اندر دہ در دہ ہوگیا اس کے بعد نجاستوں کی طرف بڑھ کر ان سے ملا ناپاك نہ ہوا یوں سارا تالاب پاك رہے گا۔ ظاہر ہے کہ بڑھتے وقت ساری مساحت میں پانچ انگل دل ہونا ضرور نہیں بلالکہ نادر ہے جس کا بیان اسی رسالہ میں گزرا مگر اس کا لحاظ نہ فرمایا اور مطلقا حکم طہارت دیا اس کا وہی مبنی ہے کہ فی نفسہ کثرت کے لئے دل کی حاجت نہیں بالجملہ روشن ہوا کہ کثرت کیلئے صرف اس قدر درکار کہ مساحت بھر میں کوئی جگہ پانی سے کھلی نہ ہو یہی ظاہر الروایۃ وتصحیح اول ہے اسی بنا پر پانی لیتے وقت کثرت باقی رہنے کیلئے لازم کہ اس سے زمین کھل نہ جائے ورنہ قلیل ہوجائے گایہی مطلب عامہ کتب وتصحیح دوم ہے۔
ثم اقول یہ توفیق انیق بعض فیصلے اور کرے گی۔
اول اغتراف ۱ مطلق رہے گا جس طرح متون وہدایہ وعامہ کتب میں ہے کہ پانی فی نفسہ ہر طرح کثیر ہے مقصود اس وقت زمین کا بالفعل نہ کھلنا ہے نہ کوئی صلاحیت عامہ تو چلو ہو یا لپ جس طرح پانی لیا اس سے نہ کھلنا چاہئے اگرچہ دوسری طرح انکشاف ہوسکے بلکہ ہاتھ کی بھی تخصیص نہیں برتن سے لیں خواہ کسی سے اس وقت زمین کھلے نہیں۔
دوم ساری۲ مساحت میں اس عمق کی حاجت نہیں صرف وہیں کافی ہے جہاں سے پانی لیا گیا۔
سوم یہ شرط دہ در دہ میں فرمائی ہے پانی اگر۳ اس درجہ کثیر ہے کہ جہاں سے لیا گیا اگر زمین کھل بھی جائے تو ہر طرف کا ٹکڑہ دہ در دہ رہے تو کھلنا مضر نہ ہوگا کہ اگرچہ دو پانی ہوگئے مگر دونوں کثیر ہی ہیں۔
چہارم مذہب معتمد یہ ہے کہ آب مستعمل طاہر ہے اور آب مطلق میں اس کا اختلاط مانع طہارت نہیں جب تك مقدار میں اس سے زائد نہ ہوجائے اور آب قلیل کتنا ہی کثیر ہو بدن محدث اس میں پڑنے سے سب مستعمل ہوجاتا ہے مگر بضرورت اغتراف ہاتھ ڈالنا معاف ہے یہ سب مسائل ہمارے رسائل الطرس المعدل والنمیقۃ الانقی میں مبرہن ہوچکے تو وہ پانی۴ جس میں سے وقت اغتراف زمین کھل کر اس کے ٹکڑے دہ در دہ نہ رہیں اگر اس میں پہلے سے نجاست موجود تھی اس کھلنے سے ضرور ناپاك ہوجائیگا
#12618 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
یوں عـــہ ہی اگر ضرورت چلو کی تھی اور لپ سے لیا سب پانی مستعمل ہوجائیگا کہ دوسرا بے دھلا ہاتھ بے ضرورت پڑا عام ازیں کہ چلو سے بھی زمین کھلتی یا نہیں اگر کہئے استعمال بعد انفصال ید ہوگا اور اس وقت اتصال آب ہو کر کثیر ہوجائیگا۔
اقول : انفصال سے استعمال کی بعدیت ذاتیہ ہے کہ وہ علت استعمال کا جزء اخیر ہے تو تخلف محال اور اتصال آب کی بعدیت زمانیہ ہے کہ جتنی جگہ کھلی تھی بعد انفصال ید حرکت آب سے بھرے گی
عـــہ اقول : ظھر بھذا التحقیق ان مسألۃ الخانیۃ وغیرھا من الکتب المعتمدۃ ان خرج الماء من النقب وانبسط علی وجہ الجمد بقدر مالو رفع الماء بکفہ لاینحسر ماتحتہ من الجمد جاز فیہ الوضوء والا فلا اھ۔ نقلھا فی الغنیۃ بالمعنی فاقام مقام جواز الوضوء فیہ وعدمہ فسادہ بوقوع المفسد وعدمہ ولیس کذلك عند التحقیق فانہ اذا کان کثیرا لمساحۃ لایفسد بوقوع شیئ مالم یتغیر اوینحسر بوقوعہ فیبقی ماء ین قلیلین بخلاف الوضوء فیہ بغمس الاعضاء فانہ یفسد بہ مطلقا لان الفرض انہ ینحسر بالغرف فبالغمس اولی وبہ ظھر ان الاولی ترك النقل بالمعنی مطلقا فلربما یحصل بہ تغیر دقیق فی غایۃ الخفاء وبالله التوفیق اھ منہ غفرلہ۔ (م)
میں کہتا ہوں کہ ہماری اس تحقیق سے ظاہر ہوگیا کہ فتاوی خانیہ وغیرہ کتب معتبرہ میں جو یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر پانی سوراخ سے نکلا اور منجمد پانی پر اتنا پھیل گیا کہ اگر کوئی شخص ہاتھ سے پانی اٹھائے تو نیچے کا جامد پانی منکشف نہیں ہوتا اس صورت میں اس پانی میں وضو کرنا جائز ہے ورنہ اس سے وضو جائز نہیں(اھ)اس مسئلے کو غنیہ میں معنی نقل کرتے ہوئے وضو کے جواز اور عدم جواز کی جگہ پلیدی کے واقع ہونے سے اس پانی کے پلید ہونے اور نہ ہونے کو رکھ دیا حالانکہ تحقیق کی رو سے اس طرح نہیں ہے کیونکہ جب پانی کی پیمائش زیادہ ہو تو کسی چیز کے واقع ہونے سے وہ فاسد نہیں ہوگا جب تك اس میں تغیر نہ آئے یا پلیدی کے گرنے سے نیچے کی سطح منکشف نہ ہوجائے اس صورت میں پانی دو تھوڑے حصوں میں تقسیم ہوجائیگا برخلاف اس صورت کے کہ اس پانی میں اعضاء ڈبو کر وضو کیا جائے تو اس سے پانی مطلقا فاسد ہوجائیگا کیونکہ فرض یہ کیا گیا ہے کہ چلو میں پانی لینے سے نیچے کی سطح منکشف ہوجاتی ہے تو ڈبونے سے بطریق اولی منکشف ہوجائیگی اس بیان سے واضح ہوگیا کہ بہتر یہ ہے کہ مسئلہ معنی مطلقا نقل نہ کیا جائے ورنہ اس سے بہت ہی پوشیدہ اور باریك فرق پیدا ہوجائیگا اللہ تعالی ہی توفیق عطا فرمانے والا ہے۔ (ت)
#12619 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
اور حرکت تدریجیہ ہے تو بفور انفصال قبل اتصال حکم استعمال نازل ہوجائیگا فافہم اور اگر پہلے سے کوئی نجاست نہیں اور چلو یا لپ حسب ضرورت لیا اور زمین کھل گئی مستعمل نہ ہوگا اگرچہ وسط حوض میں جاکر پانی لیا ہو کہ اگرچہ زمین کھلنے سے پانی قلیل ہوگیا مگر ضرورت اغتراف تو مٹکے میں بھی معاف ہے جبکہ کوئی چھوٹا برتن پانی لینے کیلئے نہ ہو اور اس وقت اگرچہ اس کے پاؤں اس قلیل پانی میں ہیں مگر اندر جاتے ہوئے دھل چکے ہیں ہاں اس زمین کے کھلتے وقت اسے حدث واقع ہوتو ضرور پاؤں کی وجہ سے سارا پانی مستعمل ہوجائیگا ان وجوہ کی نظر سے وہ شرط کی گئی تو ظاہر الروایۃ اور یہ قول مفتی بہ دونوں متوافق اور باہم اصل وفرع ہیں ولله الحمد۔
ھذا کلہ ماظھر لکثیرا لسیات وبہ تجتمع الکلمات وتندفع الشبھات والحمدلله واھب المرادات وصلی الله تعالی وسلم وبارك علی مصحح الحسنات مقیل العثرات والہ وصحبہ الاکارم السادات وابنہ وحزبہ الاجلۃ الاثبات وعلینا معھم وبھم ولھم الی یوم یقوم حبیبنا فیہ بالشفاعات علیہ وعلیھم الصلوات الزاکیات والتسلیمات النامیات والتحیات المبارکات امین والحمدلله رب العلمین ومع ذلك لااقول ان الحکم ھذا انما اقول ھذا ماظھر لی فان کان صوابا فمن الوھاب الکریم ولہ الحمد وان کان خطأ فمنی ومن الشیطان وانا ابرؤ الی الله منہ والحمد لله رب العلمین والله تعالی اعلم۔
بشارۃ : ماتقدم من قول البحران العمل والفتوی ابدا بقول الامام الاعظم رضی الله تعالی عنہ ۔
یہ تمام وہ ہے جو اس کثیر المعاصی پر ظاہر ہوا اور اس سے ائمہ کے ارشادات جمع ہوجاتے ہیں اور شبہات دفع ہوجاتے ہیں تمام تعریفیں مرادیں دینے والے اللہ تعالی کیلئے اور اللہ تعالی رحمتیں نازل فرمائے نیکیوں کے صحیح کرنے والے اور غلطیوں کو معاف فرمانے والے پر اور آپ کی آل اور آپ کے صحابہ سادات کرام پر اور آپ کے بیٹے اور جلیل القدر راسخ علم والی جماعت پر اور ان کے ساتھ ہم پر ان کی بدولت اور ان کے وسیلے سے اس دن تك جب ہمارے حبیب شفاعتوں کیلئے کھڑے ہوں گے ان پر اور ان کے تمام متبعین پر پاکیزہ رحمتیں نشوونما پانے والے سلام اور بابرکت تحفے آمین سب تعریفیں اللہ رب العلمین کیلئے اس کے باوجود میں یہ نہیں کہتا کہ حکم یہ ہے میں تو صرف اتنا کہتا ہوں کہ حکم یہ ہے جو مجھے ظاہر ہوا اگر درست ہے تو اللہ تعالی وہاب کریم کی طرف سے اور اس کے لیےحمد ہے اور اگر خطا ہے تو میری طرف سے اور شیطان سے ہے میں اللہ تعالی کی بارگاہ میں شیطان سے برأت کا اظہار کرتا ہوں تمام تعریفیں اللہ رب العلمین کیلئے اللہ بہتر جانتا ہے۔
بشارت : اس سے پہلے بحر کا جو قول بیان ہوا کہ عمل
#12620 · فتوٰی مسمّٰی بہ ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ھ ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں
وان افتی المشائخ بخلافہ اقرہ الشامی فی مواضع ونازعہ فی مواضع وکنت اردت ان اذکر ھذا البحث ثمہ ثم رأیت ان الکلام یطول ویقطع بالاجنبی الفصل الطویل فطویتہ ثمہ وافرزتہ بحمدالله تعالی رسالۃ مھمۃ رأیت الحاقھا ھھنا اتماما للکلام واسعافا با لمرام وھاھی ذہ والحمدلله ولی الانعام۔
اور فتوی ہمیشہ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے قول پر ہے اگرچہ مشائخ اس کے خلاف پر فتوی دیں علامہ شامی نے متعدد مقامات میں اس قول کی تائید کی اور کئی جگہوں میں اس سے اختلاف کیا میرا ارادہ تھا کہ اس بحث کو اس جگہ ذکر کرتا پھر خیال ہوا کہ کلام طویل ہوجائیگا اور غیر متعلق گفتگو سے فاصلہ طویل ہوجائیگا لہذا اس جگہ میں نے گفتگو سمیٹ لی اور بحمداللہ تعالی اسے اہم رسالے کی صورت میں الگ کردیا گفتگو کی تکمیل اور مقصد کے پورا کرنے کیلئے اس جگہ اس کے لاحق کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ رسالہ یہ ہے تمام تعریفیں اللہ تعالی مالك انعام کیلئے۔ (ت)
(نوٹ : اصل کتاب میں یہاں رسالہ “ اجلی الاعلام “ تھا جسے رسم المفتی کے طور پر جلد اول میں شامل کردیا گیا ہے)
_______________________
#12621 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
فتوی مسمی بہ
النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ
(آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )

مسئلہ ۵۵ : ۲۴ جمادی الاولی ۱۳۳۴ھ
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ط
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آب مطلق کہ وضو وغسل کیلئے درکار ہے اس کی کیا تعریف ہے آب مقید کسے کہتے ہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدلله الذی انزل من السماء ماء طھورا لیطھرنا بہ تطھیرا حمدا مطلقا غیر مقید بعدد او امد دائما ابدا کثیرا کثیرا والصلاۃ و السلام علی الطیب الطاھر الطھور المطھر المفضل علی الخلق فضلا کبیرا وعلی الہ و صحبہ وابنہ وحزبہ ما امطرت السحب ماء نمیرا امین اللھم ھدایۃ الحق والصواب۔
تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جس نے آسمان سے پاك پانی اتارا کہ اس کے ذریعے ہمیں پاك صاف کرے مطلق تعریفیں بغیر کسی قید عددی اور غائی کے ہمیشہ ہمیشہ بہت زیادہ اسی کیلئے ہیں طیب طاہر پاك کرنے والے اور مخلوق پر فضیلت رکھنے والے پر اور آپ کے آل اصحاب بیٹے اور گروہ پر بے شمار صلوۃ وسلام ہوں جب تك بادل وافر پانی برساتے رہیں آمین۔ اے اللہ ہمیں سچے اور سیدھے راستے کی طرف ہدایت فرما۔ (ت)
یہ سوال بظاہر چھوٹا اور اس کا جواب بہت طول چاہتا ہے یہ مسئلہ نہایت معرکۃ الآرا ہے۔ فقیر بتوفیق القدیر اول۱ جزئیات منصوصہ ذکر کرے پھر۲ تعریف مطلق ومقید کہ اصالۃ ضابطہ جامعہ کلیہ ہے اور دیگر ضوابط کے لئے معیار پھر۳ ضوابط جزئیہ متون پھر۴ ضوابط کلیہ متأخرین پھر۵ جزئیات جدیدہ کے احکام وما توفیقی الا بالله
عـــــہ : اگرچہ تمام مطبوعہ نسخوں میں لفظ “ النورق “ ہے مگر کتب لغت میں یہ لفظ نہیں ملا۔ میری رائے میں یہ “ الرونق “ ہونا چاہئے اس سے عدد اور معنی دونوں درست رہتے ہیں۔ (دائم)
#12622 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
علیہ توکلت والیہ انیب۔
یوں یہ کلام پانچ فصل پر منقسم ہوا :
فصل اول : جزئیات منصوصہ اور وہ تین قسم ہیں :
قسم اول : وہ پانی جن سے وضو صحیح عـــہ۱ ہے :
(۱) مینہ دریا نہر چشمے جھرنے جھیل بڑے تالاب کنویں کے پانی تو ظاہر ہیں بالخصوص قابل ذکر مائے مبارك زمزم شریف عـــہ۲ہے کہ ہمارے ائمہ کرام کے نزدیك اس سے وضو وغسل بلاکراہت جائز ہے اور ڈھیلے کے بعد استنجا مکروہ اور نجاست دھونا ممنوع۔ تنویر ودرمختار میں ہے :
یرفع الحدث مطلقا بماء مطلق کماء سماء واودیۃ وعیون وابار وبحار وماء زمزم بلا کراھۃ وعن احمد یکرہ ۔
حدث مطلق پانی سے رفع ہوتا ہے جیسے آسمان کا پانی وادیوں چشموں کنووں نہروں سمندروں اور زمزم کا پانی زمزم کے پانی سے رفع حدث بلا کراہت ہوتا ہے جبکہ امام احمد کے نزدیك کراہت کے ساتھ ہوتا ہے۔ (ت)
نیز حج در میں ہے :
یکرہ الاستنجاء بما زمزم لا الاغتسال ۔
زمزم کے پانی سے استنجا مکروہ ہے غسل کرنا مکروہ نہیں۔ (ت)
شامی میں ہے :
وکذا ازالۃ النجاسۃ الحقیقیۃ من ثوبہ اوبدنہ حتی ذکر بعض العلماء تحریم ذلك اھ ۔
اور اسی طرح بدن یا کپڑے سے نجاست حقیقیہ کا دور کرنا یہاں تك بعض علماء نے تو اس کو حرام تك لکھ دیا ہے۔ (ت)
عـــہ۱ یعنی ان سے طہارت کی جائے تو ہو جائے گی اور اس سے نماز صحیح ہوگی اگرچہ اس پانی کا استعمال مکروہ بلالکہ حرام ہو جیسا کہ مفصلا بیان ہوگا ۱۲ (م)۔ عـــہ۲ سب سے اعلی سب سے افضل دونوں جہان کے سب پانیوں سے افضل زمزم سے افضل کوثر سے افضل وہ مبارك پانی ہے کہ بارہا براہ اعجاز حضورانور سید اطہر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی انگشتان مبارك سے دریا کی طرح بہا اور ہزاروں نے پیا اور وضو کیا۔ علماء تصریح فرماتے ہیں کہ وہ پانی زمزم وکوثر سب سے افضل مگر اب وہ کہاں نصیب اور آگے ہر قسم کے پانی مذکور ہوں گے ان کے سلسلے میں بلا ضرورت اس کا نام لینا مناسب نہ جانا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
حوالہ / References درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴
درمختار آخر کتاب الحج مجتبائی دہلی ۱ / ۱۸۴
ردالمحتار آخر کتاب الحج مصطفی البابی مصر ۲ / ۲۷۸
#12623 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
اقول : (۱)مطلق الکراھۃ للتحریم (۲) واطلاق الحرام علی المکروہ تحریما غیر بعید (۳) فلاخلف نعم (۴) اذا استنجی بالمدر فالصحیح انہ مطھر فلا یبقی الا اساءۃ ادب فیکرہ تنزیھا بخلاف الاغتسال ففرق بین بین القصدی والضمنی ھذا ماظھرلی۔
میں کہتا ہوں مطلق کراہت سے مراد کراہت تحریمی ہوتی ہے اور حرام کا اطلاق مکروہ تحریمی پر کوئی بعید امر نہیں تو کوئی مخالفت نہیں ہاں اگر کسی نے ڈھیلے سے استنجا کرلیا تو صحیح یہ ہے کہ یہ پاك کرنے والا ہے تو ایسی صورت میں صرف سوء ادبی رہے گی اور مکروہ تنزیہی ہوگا بخلاف غسل کے تو ارادی اور ضمنی کاموں میں واضح فرق ہوتا ہے ھذا ماظھرلی۔ (ت)
اقول : یہ بھی دلیل واضح ہے کہ ہمارے ائمہ سے روایت صحیحہ طہارت مائے مستعمل ہے ورنہ غسل واستنجا میں فرق نہ ہوتا۔ (۲)سمندر کا پانی بعض صحابہ رضی اللہ تعالی عنہمسے منقول کہ اس سے وضو ناجائز جانتے اور ہمارے اور جمہور امت کا اس سے جواز وضو پر اجماع ہے
فی البحر وفی قولہ والبحر رد قول من قال ان ماء البحر لیس بماء حتی حکی عن ابن عمر رضی الله تعالی عنہما انہ قال فی ماء البحر التیمم احب الی منہ کما نقلہ عنہ فی السراج الوھاج اھ وقال السید ط فی حاشیۃ المراقی قال ابن سیدہ فی المحکم البحر الماء الکثیر ملحا اوعذبا وغلب علی الملح فالتنصیص علیہ دفع لتوھم عدم جواز التطھیر بہ لانہ مرمنتن کما توھم بعض الصحابۃ اھ۔ اقول : (۵) ھذا اللفظ بعید عن الادب فلیجتنب قال وفی الخبر من لم یطھرہ ماء البحر فلا طھرہ الله اھ قلت : رواہ الدار قطنی والبیھقی
اور اس کے قول “ والبحر “ میں ان لوگوں کی تردید ہے جو کہتے ہیں ماء البحر پانی نہیں ہے یہاں تك کہ ابن عمر سے منقول ہے کہ وہ فرماتے تھے سمندری پانی سے میرے نزدیك تیمم کرلینا زیادہ پسندیدہ عمل ہے سراج الوہاج میں نقل کیا ہے اور “ ط “ نے حاشیہ مراقی الفلاح میں فرمایا کہ ابن سیدہ نے محکم میں فرمایا بحر سے مراد کثیر پانی ہے خواہ میٹھا ہو یا نمکین لیکن عام طور پر اس کا استعمال نمکین کے لئے ہوتا ہے اس کی تصریح اس وہم کو دفع کرنے کیلئے ہے کہ اس سے پاکی کا حاصل کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ کڑوا اور بدبودار ہوتا ہے جیسے کہ بعض صحابہ نے تو ہم کیا اھ ۔ میں کہتا ہوں یہ لفظ بے ادبی کے ہیں ان سے بچنا چاہئے فرمایا ایك روایت میں ہے کہ جس کو سمندر کا پانی پاك نہ کرسکے تو خدا اسکو کبھی پاك نہ کرے۔ (ت( میں کہتا ہوں اس کو دار قطنی اور بیہقی نے
حوالہ / References البحرالرائق کتاب الطہارۃ بحث الماء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۶
حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص۱۳
حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص۱۳
#12624 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
کلاھما فی السنن بسند واہ بدون لفظ ماء عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فالاولی (۱) الاقتصار علی ماتمسك بہ شارحہ اعنی العلامۃ الشرنبلالی حیث قال لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ھو الطھور ماؤہ الحل میتتہ اھ ۔ قلت : رواہ احمد والاربعۃ وابن حبان والحاکم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ بسند صحیح واحمد وابن ماجۃ والاخیران والدار قطنی والطبرانی فی الکبیر عن جابر وابن ماجۃ عن ابی الفراسی والدار قطنی والحاکم عن علی وعن ابی عمرو وعبدالرزاق عن انس والدار قطنی عنہ وایضا عن ابن عمر وایضا عن جابر عن ابی بکر الصدیق وابنا مردویہ والنجار عن ابی الطفیل عن الصدیق رضی الله تعالی عنہم کلھم عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم وفی اخری لابن مردویہ کالدار قطنی عن ابی الطفیل عن الصدیق من قولہ ولعبد الرزاق وابی بکربن ابی شیبۃ عن عکرمۃ ان عمر رضی الله تعالی عنہ سئل عن الوضوء من ماء البحر فقال سبحن الله فای ماء اطھر من ماء البحر وفی لفظ اطیب ولھذا وابن عبد الحکم فی فتوح مصر والبیھقی عنہ رضی الله تعالی عنہ قال اغتسلوا
اپنی سنن میں کمزور سند سے روایت کیا یہ ابو ہریرہ کی روایت نبی پاك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ہے اور اس میں ماء کا لفظ نہیں ہے تو زیادہ بہتر ہے کہ اس پر اکتفاء کیا جائے جس سے اس کے شارح نے استدلال کیا ہے یعنی علامہ شرنبلالی نے انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے “ سمندر کا پانی پاك کرنے والا ہے اور اس کا مردہ حلال۔ (ت) میں کہتا ہوں اس کو احمد اور چاروں نے اور ابن حبان حاکم نے ابو ھریرہ سے بسند صحیح روایت کیا ہے اور احمد ابن ماجہ ابن حبان حاکم دار قطنی اور طبرانی نے کبیر میں جابر سے اور ابن ماجہ نے ابو الفراسی سے اور دارقطنی اور حاکم نے علی سے اور ابن عمرو سے اور عبدالرزاق نے انس سے اور دارقطنی نے انس سے اور ابن عمرو سے نیز جابر سے ابو بکر صدیق سے اور ابن مردویہ اور ابن نجار نے ابو الطفیل سے ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہمسے سب نے نبی پاك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے دوسری سند میں ابن مردویہ نے دارقطنی کی طرح ابو الطفیل سے ابو بکر صدیق سے ان کے قول سے۔ اور عبدالرزاق اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے عکرمہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہسے سمندر سے وضو کی بابت دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا سبحان الله سمندر کے پانی سے زیادہ کون سا پاك ہے اور ایك روایت میں اطیب کا لفظ ہے اور ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابن عبدالحکم نے فتوح مصر میں اور بیہقی نے ان سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا سمندر کے پانی سے غسل کرو کیونکہ وہ مبارك ہے
حوالہ / References مراقی الفلاح بحث الماء البحر ص۱۳ مطبعہ ازہریہ مصر
مصنف عبدالرزاق باب الوضوء من ماء البحر ۱ / ۹۵ مکتبۃ الاسلامی بیروت
#12625 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
من ماء البحر فانہ مبارك
قال ط ومن الناس من کرہ الوضوء من البحر (۱) الملح لحدیث ابن عمر انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم قال لایرکب البحر الا حاج او معتمر او غازی فی سبیل اﷲ فان تحت البحر ناراو تحت النار بحرا تفرد بہ ابو داؤد اھ
اقول : لم یتفرد بہ بل (۲) رواہ قبلہ سعید بن منصور فی سننہ واخرون الا ان یرید التفرد من بین الستۃ ثم لیس ھذا (۳) حدیث ابن عمر الفاروق رضی الله تعالی عنھم انما رواہ د عن مطرف ھو ابن طریف ثقۃ فاضل عن بشر ابی عبدالله ھو الکندی مجھول قال الذھبی لایکاد یعرف عن بشیر بن مسلم ھو ابو عبدالله الکندی الکوفی مجہول عن عبدالله بن عمرو رضی الله تعالی عنھما یعنی ابن العاص قال خ لم یصح حدیثہ واوردہ ابن حبان علی قاعدتہ فی ثقات اتباع التابعین وقال روی عن رجل عن ابن عمرو والله تعالی اعلم نعم فی مسند “ ط “ نے کہا کچھ لوگ نمکین سمندر سے وضو کو مکروہ قرار دیتے ہیں ان کا استدلال ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث سے ہے کہ سمندر میں صرف حاجی یا عمرہ کرنے والا یا غازی سفر کرے غیر نہیں کیونکہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے سمندر ہے اس کی روایت میں ابو داؤد متفرد ہیں۔ (ت)
میں کہتا ہوں وہ متفرد نہیں ہیں بلالکہ ان سے قبل اسی کو سعید بن منصور نے اپنی سنن میں اور دوسرے محدثین نے روایت کیا ہے ہاں چھ کے درمیان تفرد کا دعوی ہو تو درست ہے۔ پھر یہ حدیث ابن عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما کی نہیں ہے اس کو “ د “ نے مطرف سے جو ابن ظریف ہیں روایت کیا اور وہ ثقہ ہیں فاضل ہیں بشر ابو عبداللہ الکندی سے یہ مجہول ہیں ذہبی نے کہا کوئی نہیں جانتا بشیر بن مسلم سے وہ ابو عبداللہ الکندی الکو فی مجہول ہیں عبداللہ بن عمرو سے یعنی ابن العاص سے خ نے کہا ان کی حدیث صحیح نہیں اور اس کو ابن حبان نے اپنے قاعدہ کے مطابق اتباع تابعین کے ثقات میں ذکر کیا اور فرمایا ایك شخص سے مروی ہے ابن عمرو سے والله تعالی اعلم ہاں مسند فردوس
حوالہ / References بحوالہ کنز العمال فصل فی المیاہ مطبوعہ موسسۃ الرسا لۃ بیروت ۹ / ۵۷۲
طحطاوی علی مراقی الفلاح بحث الماء البحر مطبعہ ازہریہ مصریہ ص۱۳
طحطاوی علی مراقی الفلاح بحث الماء البحر مطبعہ ازہریہ مصریہ ص۱۳
میزان الاعتدال بشر عبداللہ بیروت ۱ / ۳۲۷
میزان الاعتدال بشیر بن مسلم بیروت ۱ / ۳۲۹
#12626 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
الفردوس عن ابن عمررضی الله تعالی عنھما رفعہ تحت البحر نار وتحت النار بحر وتحت البحر نار اھ ویمکن ان تکون فی قولہ تعالی والبحر المسجور اشارۃ الیہ والله تعالی اعلم قال ط وکان ابن عمر لایری جواز الوضوء بہ ولا الغسل عن جنابۃ اھ اقف لہ علی اصل فالله اعلم بہ
اقول : یذکر عنہ رضی الله تعالی عنہ انہ قال ماء البحر لایجزئ من وضوء ولا جنابۃ ان تحت البحر نارا ثم ماء ثم نارا حتی عد سبعۃ ابحر وسبع انیار ولم وانما الذی فی الحلیۃ ان کون الطھارۃ جائزا بھذہ المیاہ سواہ کانت عذبۃ اومالحۃ مما دل علیہ الکتب والسنۃ ولم یعرف فی شیئ منھا خلاف نعم نقل عن بعض الصحابۃ کراھۃ الوضوء بماء البحر منھم عبدالله بن عمر و الجمہور علی عدم الکراھۃ اھ وفی ھامش الا نقرویۃ عن مختارات النوازل حکی عن ابن عباس وابن عمر رضی الله تعالی عنھم انھما قال الوضوء بماء البحر مکروہ
میں ابن عمر سے مروی ہے کہ سمندر کے نیچے آگ ہے اور آگ کے نیچے سمندر ہے اھ اس کو انہوں نے مرفوعا روایت کیا اور ممکن ہے کہ اللہ کے قول والبحر المسجور میں اس طرف اشارہ ہو والله تعالی اعلم “ ط “ نے فرمایا : ابن عمر سمندر سے وضو اور غسل جنابت کو جائز نہیں سمجھتے تھے اھ (ت)
میں کہتا ہوں ابن عمر سے یہ روایت منسوب ہے کہ سمندر کا پانی وضو اور غسل جنابت کیلئے کافی نہیں بیشك سمندر کے نیچے آگ ہے پھر پانی پھر آگ ہے یہاں تك کہ انہوں نے سات سمندروں اور سات آگوں کا ذکر کیا اور مجھے اس کی کسی اصل پر اطلاع نہیں والله اعلم حلیہ میں یہ ہے کہ ان پانیوں سے طہارت جائز ہے خواہ میٹھے ہوں یا نمکین ہوں اس پر کتاب وسنت دلالت کرتے ہیں اور اس میں کوئی خلاف معروف نہیں ہاں بعض صحابہ سے کراہت منقول ہے کہ ان سے وضو مکروہ ہے ان میں عبداللہ بن عمر بھی شامل ہیں اور جمہور کا قول ہے کہ کراہت نہیں ہے اھ اور انقرویہ کے حواشی میں مختارات النوازل سے ہے کہ ابن عباس اور ابن عمر سے مروی ہے کہ دونوں
حوالہ / References مسند فردوس
طحطاوی علی مراقی الفلاح بحث ماء البحر ازہریہ مصر ص۱۳
یذکر عن ابن عمر
حلیہ
علی حاشیۃ فتاوٰی انقرویہ بحث ماء البحر دار الاشاعۃ العربیہ قندھار ۱ / ۲
#12627 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
اھ۔ قال ط وکذا روی ابی ھریرۃ اھ
اقول : وھذا عجب مع ما صح عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ماسمعناك نعم فی البدائع روی عن ابی العالیۃ الریاحی انہ قال کنت فی جماعۃ من اصحاب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فی سفینۃ فی البحر فحضرت الصلاۃ قضی ماؤھم ومعھم نبیذ التمر فتوضأ بعضھم نبیذ التمروکرہ التوضؤ بماء البحر وتوضأ بعضھم بماء البحر ذکرہ التوضؤ بنبیذ التمرو عـــہ وھذا حکایۃ الاجماع فان من کان یتوضؤ بماء البحر کان یعتقد
حضرات نے سمندر کے پانی سے وضو کو مکروہ قرار دیا ہے اھ “ ط “ اسی طرح ابو ہریرہ سے مروی ہے اھ (ت)
میں کہتا ہوں یہ زیادہ عجیب ہے حالانکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبروایت صحیح جو تھا وہ ہم نے نقل کیا ہاں بدائع میں ابو العالیۃ الریاحی سے مروی ہے کہ میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ہمراہ ایك سمندری سفر میں تھا کہ نماز کا وقت آگیا کشتی والوں کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا ان کے پاس شیرہ کھجور تھا تو بعض نے اسی سے وضو کرلیا اور سمندر کے پانی سے وضو کو مکروہ سمجھا اور بعض نے سمندر کے پانی سے وضو کرلیا یہ اجماع کی حکایت ہے کیونکہ جو حضرات سمندر کے پانی سے وضو کر رہے تھے تو وہ اس کے پانی سے وضو کے جواز کے قائل تھے اور انہوں نے

عـــہ اقول : لم یبلغ فھمی القاصر کیف کان ھذا حکایۃ الاجماع علی جواز الوضوء بنبیذ التمر عند عدم الماء فان من توضأ بماء البحر جاز ان لم یر الوضوء بالنبیذ فی الحالۃ الراھنۃ لوجود الماء وجاز ان لم یرالوضوء بہ اصلا حتی لووجدہ وعدم الماء تیمم کما ھو المفتی بہ عندنا والکراھۃ فی عرف السلف لایدل علی الجواز منہ غفرلہ (م)
میں کہتا ہوں میری ناقص سمجھ میں یہ بات نہ آسکی کہ یہ اجماع کیونکر ہوگیا کہ پانی نہ ہونے کے وقت نبیذ تمر سے وضو جائز ہے کیونکہ جن حضرات نے سمندر کے پانی سے وضو کیا ممکن ہے کہ وہ موجودہ حالت میں نبیذ تمر سے وضو کو جائز نہ سمجھتے ہوں کیونکہ پانی موجود ہے اور یہ بھی ممکن ہے ہے کہ وہ نبیذ تمر سے وضو کو بالکل جائز نہ سمجھتے ہوں یہاں تك کہ اگر نبیذ موجود ہو اور پانی نہ موجود ہو تو وہ تیمم کے قائل ہوں جیسا کہ یہ ہمارے نزدیك مفتی بہ ہے اور سلف کی عرف میں کراہت جواز پر دلالت نہیں کرتی ہے۔ (ت)
حوالہ / References طحطاوی علی مراقی الفلاح بحث ماء البحر ازہریہ مصر ص۱۳
#12628 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
جواز التوضؤ بماء البحر فلم یتوضأ بنبیذ التمر لکونہ واجد ا للماء المطلق ومن کان یتوضؤ بالنبیذ کان لایری ماء البحر طھورا اوکان یقول ھو ماء سخطۃ ونقمۃ کانہ لم یبلغہ قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی صفۃ البحر ھو الطھور ماؤہ الحل میتۃ فتوضأ بنبیذ التمرلکونہ عادما للماء عـــہ الطاھر اھ فھذا ما ابداہ احتمالا وانما لفظ الروایۃ ما سمعت۔
اقول : ویجوز ان یکونوا معتقدین جواز الوضوء بھما اذا کان الماء غالبا فی النبیذ کما سیأتی ان شاء الله تعالی فمن توضأ بہ کرہ التوضوء بماء البحر کراھۃ تنزیہ ولم یشك ان النبیذ الذی عندہ ماؤہ غالب ومن توضأ بماء البحر شك فی النبیذ الذی عندہ فکرہ التوضوء بہ کراھۃ امتناع وتوضأ بماء البحر والله تعالی اعلم۔
نبیذ تمر سے وضو اس لئے نہ کیا کہ انہوں نے ماء مطلق کو پایا اور جو نبیذ تمر سے وضو کر رہے تھے وہ سمندر کے پانی کو طہور نہیں سمجھتے تھے یا وہ یہ کہتے تھے کہ یہ پانی ناراضگی اور عذاب کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوا ہے شاید ان کو حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی یہ حدیث نہیں پہنچی کہ سمندر کا پانی پاك کرنے والا اور اس کا مردہ حلال ہے تو پانی نہ ہونے کی صورت میں انہوں نے نبیذ تمر سے وضو کیا اھ تو یہ انہوں نے بطور احتمال فرمایا ورنہ روایت کے الفاظ وہ ہیں جو آپ نے سنے۔ (ت)
میں کہتا ہوں یہ بھی جائز ہے کہ وہ دونوں سے وضو کے جواز کے قائل ہوں جبکہ نبیذ پر پانی غالب ہو جیسا کہ ان شاء الله آئے گا تو جس نے اس سے وضو کیا اس نے سمندری پانی سے وضو کو مکروہ تنزیہی سمجھا اور اس میں شك نہیں جانا کہ جو نبیذ اس کے پاس ہے اس کا پانی غالب ہے اور جس نے سمندری پانی سے وضو کیا اس کو اس نبیذ میں شك تھا جو اس کے پاس موجود تھا تو اس نے بطور کراہت تحریمی اس سے وضو نہ کیا اور سمندری پانی سے وضو کرلیا والله تعالی اعلم۔ (ت)

عـــہ ھکذا فی نسختی البدائع وکأنھا زلۃ من قلم الناسخ والوجہ الطھور منہ غفرلہ (م)
میرے پاس بدائع کا جو نسخہ ہے اس میں اسی طرح ہے شاید کاتب نے غلط لکھ دیا مناسب الطھور ہے۔ (ت)
(۳ ۴) پالا اولے جب پگھل کر پانی ہوجائیں کہ یہ بھی وہی آسمانی پانی ہیں کہ کرہ زمہریر کی سردی سے
حوالہ / References بدائع الصنائع مطلب الماء المقید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۶
#12629 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
یخ بستہ ہوگیا
فی الدر یرفع الحدث بماء مطلق کالثلج مذاب وبرد و جمد وندی اھ وفی البحر والنھر وعن ابی یوسف یجوز وان لم یکن متقاطرا والصحیح ولفظ النھر الاصح قولھما اھ ونسبہ فی جامع الرموز للصاحبین حیث قال لایتوضوء بالثلج الا اذا تقاطر وعن الصاحبین انہ یتوضوء بہ والاول ھو الصحیح کما فی الظھیریۃ اھ۔ ورأیتنی کتبت علی ھامشہ اقول : (۱) لیس ھذا محل خلاف وتصحیح اذ لاوضوء الابالغسل ولا غسل الا بالاسالۃ ولا اسالۃ الا بالتقاطر فھو المراد اھ۔ ماکتبت علیہ اقول نعم یروی عن الثانی ان الغسل بل المحل وان لم یسل کما فی البحر وھذا لا یختص بالثلج والبرد وقدمنا فی تبیان الوضوء ان مرادہ سال من العضو قطرۃ اوقطرتان ولم یتدارك فلا خلاف قال ش الظاھر ان معنی لم یتدارك لم یقطر علی الفوربان قطر بعد مھلۃ اھ
در میں ہے حدث کو دور کیا جاسکتا ہے مطلق پانی سے جیسے برف یا اولوں کا پگھلا ہوا پانی منجمد پانی یا تری اھ اور بحر ونہر میں ابو یوسف سے منقول ہے کہ وضو جائز ہے اگرچہ ٹپکنے والا نہ ہو یہ صحیح ہے اور لفظ نہر اصح ہے ان دونوں کا قول اھ اور جامع الرموز میں اس کو صاحبین کی طرف منسوب کیا ہے فرمایا کہ برف سے اس وقت تك وضو نہ کرے جب تك وہ ٹپکنے نہ لگے اور صاحبین سے مروی ہے کہ اس سے وضو کرے اور پہلا ہی صحیح ہے جیسا کہ ظہیریہ میں ہے اھ میں نے اس کے حاشیہ پر یہ لکھا ہے کہ یہ محل خلاف اور تصحیح نہیں ہے کیونکہ دھوئے بغیر تو وضو ہو نہیں سکتا ہے اور دھونا بہائے بغیر نہ ہوگا اور بہانا بغیر تقاطر کے نہ ہوگا اور یہی مراد ہے اھ۔ میں کہتا ہوں ہاں دوسرے امام سے یہ مروی ہے کہ دھونا جگہ کے تر کرنے کو کہتے ہیں خواہ نہ بہے جیسا کہ بحر میں ہے اور یہ چیز برف اور اولوں کے ساتھ خاص نہیں ہے اور ہم نے تبیان الوضوء میں بیان کیا کہ ان کی مراد یہ ہے کہ عضو سے ایك یا دو قطرے بہہ جائیں
حوالہ / References الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴
بحرالرائق آخر الماء البحر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۷
جامع الرموز بحث الماء السماء مطبعۃ کریمیہ قزان ایران ۱ / ۴۶
بحرالرائق فرض الوضو ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱
ردالمحتار فرض الوضو البابی مصر ۱ / ۷۱
ردالمحتار فرض الوضو البابی مصر ۱ / ۷۱
#12630 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
اور تدارك نہ ہو اس میں اختلاف نہیں “ ش “ نے فرمایا کہ لم یتدارك کے معنی یہ ہیں کہ فورا قطرات نہ بہیں بلالکہ مہلت کے بعد قطرات بہیں اھ (ت)
اقول : (۱) بل الظاھر ان المعنی لم تتتابع القطر کثرۃ یقال تدارك القوم ای تلاحقوا ومنہ قولہ تعالی حتی اذا دارکوا فیھا کما فی الصحاح ومعلوم انہ لم یثبت الفور فی دخول طائفۃ منھم بعد اخری والله تعالی اعلم۔
میں کہتا ہوں بلکہ معنی یہ ہیں کہ قطرات کثرت سے نہ بہیں کہتے ہیں “ تدارك القوم “ یعنی ایك دوسرے سے ملے اور اسی سے فرمان الہی ہے “ حتی اذا دارکوا فیھا “ صحاح میں بھی ایسا ہی ہے اور یہ معلوم ہے کہ ان میں سے ایك جماعت کا دوسری جماعت کے فورا بعد داخل ہونا مراد نہیں والله تعالی اعلم۔ (ت)
(۵) یوں ہی کل کا برف جب پگھل جائے کہ وہ بھی پانی ہی تھا کہ گیس کی ہوا سے جم گیا ومر عن الدر وجمد وھو محرکا الماء الجامد ط عن ح عن القاموس (اور گزرا ہے کہ الجمد حرکت کے ساتھ جما ہوا پانی (برف) ہے یہ ط سے ح سے قاموس سے ہے۔ ت)
(۶) شبنم
اقول : یعنی جبکہ پتوں پھولوں پر سے یا پھیلے ہوئے کپڑے نچوڑ کر اتنی جمع کرلی جائے کہ کسی عضو یا بقیہ عضو کو دھو دے مثلا روپے بھر جگہ پاؤں میں باقی ہے اور پانی ختم ہوگیا اور شبنم جمع کئے سے اتنی مل سکتی ہے کہ اس جگہ پر بہ جائے تو تیمم جائز نہ ہوگا یا اوس(۲) میں سر برہنہ بیٹھا اور اس سے سر بھیگ گیا مسح ہوگیا اگر ہاتھ نہ پھیرے گا وضو ہوجائیگا اگرچہ سنت ترك ہوئی یوں ہی شبنم(۳) سے تر گھاس میں موزے پہنے چلنے سے موزوں کا مسح ادا ہوجائے گا جبکہ شبنم سے ہر موزہ ہاتھ کی چھنگلیا کے طول وعرض کے سہ چند بھیگ جائے
ومر عن الدر وندا قال ش قال فی الامداد وھو الطل وھو ماء علی الصحیح وقیل نفس دابۃ اھ
اور در سے گزرا وندا “ ش “ نے امداد میں کہا یہ شبنم ہے اور صحیح قول کے مطابق یہ پانی ہے اور ایك قول یہ ہے کہ چو پائے کا سانس ہے۔ (ت)
حوالہ / References صحاح الجوہری د رک بیروت ۴ / ۱۵۸۲
ردالمحتار باب المیا ہ البابی مصر ۱ / ۱۳۲
#12631 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
اقول : لااعلم لہ اصلا ولو کان کذا لم یجز الوضوء بہ لانہ لیس بماء ولو جاز بہ لکان ریق الانسان وعرقہ احق بالجواز ثم رأیت فی مسح الخفین من الفتح ولا فرق بین حصول ذلك بیدہ اوباصابۃ مطر اومن حشیش مشی فیہ مبتل ولو بالطل علی الاصح وقیل لایجوز بالطل لانہ نفس دابۃ لاماء ولیس بصحیح اھ۔
میں کہتا ہوں مجھے اس کی اصل معلوم نہیں اور اگر ایسا ہوتا تو اس کے ساتھ وضو جائز نہ ہوتا کیونکہ وہ پانی نہیں اور اگر اس سے وضو جائز ہوتا تو انسان کے تھوك اور پسینہ سے بطریق اولی جائز ہوتا پھر فتح کے مسح علی الخفین میں ہے کہ اس میں کچھ فرق نہیں کہ یہ ہاتھ سے ہو یا بارش کی وجہ سے ہو یا ترگھاس میں چلنے کی وجہ سے ہو یا شبنم سے ہو اصح قول کے مطابق اور ایك قول یہ ہے کہ شبنم سے جائز نہیں کیونکہ وہ چوپائے کا سانس ہے پانی نہیں اور یہ صحیح نہیں اھ (ت)
(۷) زلال
اقول : لغۃ وعرفا مشہور یہی ہے کہ زلال میٹھے ٹھنڈے ہلکے خوشگوار صاف خالص پانی کو کہتے ہیں
فی القاموس ماء زلال کغراب وامیر وصبور وعلابط سریع المرفی الحلق باردعذب صاف سھل سلس اھ۔ ولم یعرج علی معنی غیرہ وفی صحاح الجوھری ماء زلال ای عذب اھ وفی حیاۃ الحیوان الکبری المشہور علی الالسنۃ ان الزلال ھو الماء البارد ۔
قاموس میں ہے ماء زلال زلال غراب کے وزن پر بھی آتا ہے اور امیر صبور اور علابط کے وزن پر بھی (یعنی زلیل زلول زلازل) اس پانی کو کہا جاتا ہے جو حلق سے بآسانی گزرے اور ٹھنڈا میٹھا صاف لطیف اور رواں ہو اھ اور اس کے علاوہ کوئی معنی نہیں بتائے اور صحاح جوہری میں ماء زلال یعنی میٹھا اھ اور حیوۃ الحیوان میں ہے زبانوں پر مشہور یہ ہے کہ زلال ٹھنڈے پانی کو کہتے ہیں (ت)
حوالہ / References فتح القدیر مسح الخفین رضویہ سکھر ۱ / ۱۳۲
القاموس المحیط (زللت) مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۰۰
صحاح الجوہری (زلل) بیروت ۴ / ۱۷۱۸
حیاۃ الحیوان الکبرٰی (زلال) مصطفی البابی مصر ۱ / ۵۳۷
#12632 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
اس تقدیر پر تو اس کے شمار کی کوئی وجہ نہیں مگر علامہ شامی نے امام ابن حجر مکی سے نقل کیا کہ برف میں ایك چیز جانور کی شکل پر ہوتی ہے اور حقیقۃ جانور نہیں اس کے پیٹ سے جو پانی نکلتا ہے وہ زلال ہے
حیث قال عقیب ذکر الطل اقول وکذا الزلال قال ابن حجر وھو مایخرج من جوف صورۃ توجد فی نحوا الثلج کالحیوان ولیست بحیوان ۔
انہوں نے طل کے ذکر کے بعد فرمایا میں کہتا ہوں اور اسی طرح “ زلال “ ہے ابن حجر فرماتے ہیں کہ برف میں حیوانی شکل کی ایك چیز پائی جاتی ہے جو دراصل حیوان نہیں ہوتی ہے اس کے پیٹ سے جو پانی نکلتا ہے وہ زلال ہے۔ (ت)
اقول : یہ اگر ثابت(۱) ہو تو اس کے جانور ہونے سے انکار محتاج دلیل ہے اس کی صورت جانور کی ہے اور کتابوں اور جخود ائمہ شافعیہ کی کتب میں اسے حیوان کہا انگلی برابر قد سفید رنگ زرد چتیاں اور خود اس جانور ہی کا نام زلال بتایا تاج العروس میں ہے :
الزلال بالضم حیوان صغیر الجسم ابیضہ اذا مات جعل فی الماء فیبردہ ومنہ سمی الماء البارد زلالا ۔
زلال پیش کے ساتھ سفید جسم کا ایك چھوٹا سا جانور ہے جب مرجاتا ہے تو اس کو پانی میں ڈال دیتے ہیں یہ پانی کو ٹھنڈا کرتا ہے اور اسی لئے ٹھنڈے پانی کو ماء زلال کہتے ہیں۔ (ت)
حیاۃ الحیوان امام دمیری شافعی میں ہے :
الزلال بالضم دود یتربی فی الثلج وھو منقط بصفرۃ یقرب من الاصبع یاخذہ الناس من اماکنہ لیشربوا مافی جوفہ لشدۃ بردہ ۔
زلال پیش کے ساتھ ایك کیڑا جو برف میں پلتا ہے اس پر پیلے رنگ کی چتیاں ہوتی ہیں تقریبا ایك انگلی کے برابر ہوتا ہے لوگ اس کو پکڑتے ہیں تاکہ اس کے پیٹ میں سے جو نکلتا ہے وہ پی سکیں کیونکہ یہ پانی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے (ت)
اس کے حیوان ہونے کی تقدیر پر امام ابن حجر شافعی نے اس پانی کو قے ٹھہرا کر ناپاك بتایا۔
قال ش عن ابن حجر بعد مامر فان تحقق
ش نے ابن حجر سے نقل کیا پس اگر متحقق ہو (یعنی
حوالہ / References ردالمتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۲
تاج العروس فصل الزأ من باب الدم مطبوعہ احیاء التراث العربی ۷ / ۳۵۹
حیاۃ الحیوان الکبرٰی (زلال) البابی مصر ۱ / ۵۳۶
#12633 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
(ای کونہ حیوانا) کان نجسا لانہ قیئ ۔
اس کا حیوان ہونا ثابت ہوجائے) تو وہ نجس ہوگا اس لئے کہ وہ قے ہے۔ (ت)
اقول : قے کی تعریف۱ اس پر صادق آنے میں کلام ہے اور کتب شافعیہ میں اس سے جواز وضو مصرح شرح وجیز ابو الفرج عجلی شافعی میں ہے :
الماء الذی فی دود الثلج طھور ۔
وہ پانی جو برف والے کیڑے میں ہوتا ہے پاك طہور ہے۔ (ت)
حیاۃ الحیوان میں ہے :
الذی قالہ یوافق قول القاضی حسین فیما تقدم فی الدود ۔
جو انہوں نے کہا وہ قاضی حسین کے قول کے موافق ہے جیسا کہ دود کے ذکر میں پہلے گزرا۔ (ت)
علامہ شامی نے جب تك اس جانور کا دموی ہونا ثابت نہ ہو پانی پاك مگر ناقابل وضو بتایا۔
حیث قال نعم لایکون نجسا عندنا مالم یعلم کونہ دمویا اما رفع الحدث بہ فلا یصح وان کان غیر دموی ۔
انہوں نے فرمایا جب تك اس کا دموی ہونا معلوم نہ ہو ہمارے نزدیك نجس نہیں رہا اس سے پاك حاصل کرنا تو یہ صحیح نہیں اگرچہ وہ غیر دموی ہو۔ (ت)
اقول : ظاہرا اس پانی کی طہارت محل اشتباہ نہیں جیسے ریشم۲ کا کیڑا کہ خود بھی پاك ہے اور اس کا پانی بلالکہ بیٹ بھی پاك علمگیریہ میں ہے :
ماء دود القزو عینہ وخرؤہ طاھر کذا فی القنیۃ ۔
ریشم کا کیڑا اس کا پانی اور اس کی بیٹ پاك ہے جیسا کہ قنیہ میں ہے۔ (ت)
لکہ خلاصہ میں ہے :
(۳) الدودۃ اذا تولدت من النجاسۃ قال شمس الائمۃ الحلوائی انھا لیست
کیڑا جو نجاست میں پیدا ہو تو شمس الائمہ حلوائی فرماتے ہیں کہ وہ ناپاك نہیں ہے اور یہی حال ہر حیوان کا ہے۔
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ البابی مصر ۱ / ۱۳۲
حیاۃ الحیوان الکبرٰی (زلال) البابی مصر ۱ / ۵۳۶
حیاۃ الحیوان الکبرٰی(زلال) البابی مصر۱ / ۵۳۶
ردالمحتار باب المیاہ البابی مصر ۱ / ۱۳۲
فتاوٰی ہندیۃ الفصل الثانی فے الاعیان النجسۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۴۶
#12634 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
بنجسۃ وکذا کل حیوان حتی لوغسل ثم وقع فی الماء لاینجسہ وتجوز الصلاۃ معھا ۔
تو اگر کسی حیوان کو دھویا جائے پھر وہ پانی میں گر جائے تو اس کو ناپاك نہیں کرے گا اور اس کے ساتھ نماز جائز ہے۔ (ت)
(۱) اور جب طاہر ہے تو جب تك ثابت نہ ہو کہ یہ پانی نہیں بلالکہ اس کیڑے ہی کے پیٹ کی رطوبت ہے یا اس کی رطوبت اس میں نصف یا زاید ملی ہوئی ہے ناقابل وضو ہونے کی کوئی وجہ نہیں ظاہرا وہ برف ہی کا پانی ہے کہ اس کے جوف میں ملتا ہے اور پاك پانی کے غیر طہور ہونے کی دو ہی صورتیں ہیں یا تو خلط غیر سے مائے مطلق نہ رہے یا اسقاط فرض خواہ اقامت قربت سے مستعمل ہوجائے ثانی یہاں قطعا منتفی اور اول کا ثبوت نہیں اور کوئی مطلق بلا ثبوت مقید نہیں ہوسکتا۔
الا تری ان النجاسۃ لاتثبت بالشك وھی تسلب الطھوریۃ والطھارۃ معا فضلا عن التقیید۔
نجاست شك سے ثابت نہیں ہوتی ہے اور یہ طہوریت کو سلب کرتی ہے اور طہارت کو بھی چہ جائیکہ تقیید۔ (ت)
(۸) گرم پانی
وھذا وفاق الا ما یحکی عن مجاھد من کراھۃ۔
(اس بات میں اتفاق ہے مگر وہ جو مجاہد سے اس کی کراہت منقول ہے۔ ت)
اقول : مگر اتنا گرم کہ(۱) اچھی طرح ڈالا نہ جائے تکمیل سنت نہ کرنے دے مکروہ ہے یونہی اتنا سرد اور اگر تکمیل فرض سے مانع ہو تو حرام اور وہ وضو نہ ہوگا وفی صحیح البخاری توضأ عمر رضی الله تعالی عنہ بالحمیم
(صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہنے گرم پانی سے وضو فرمایا۔ ت)
(۹) اپلوں سے گرم کیا ہوا اور بچنا بہتر درمختار میں ہے : وکرہ احمد المسخن بالنجاسۃ (نجاست کے ذریعے گرم شدہ پانی کو امام احمد نے مکروہ گردانا ہے۔ ت)
(۱۰)دھوپ کا گرم پانی مطلقا مگر گرم ملک(۲) گرم موسم میں جو پانی سونے چاندی کے سوا کسی اور دھات کے برتن میں دھوپ سے گرم ہوجائے وہ جب تك ٹھنڈا نہ ہولے بدن کو کسی طرح پہنچانا نہ چاہئے وضو سے غسل سے نہ پینے سے یہاں تك کہ جو کپڑا اس سے بھیگا ہو جب تك سرد نہ ہوجائے پہننا مناسب نہیں کہ اس پانی کے
حوالہ / References خلاصۃ الفتاوٰی الفصل السابع فیما یکون نجسًا الخ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۴
جامع للبخاری باب وضؤ الرجل مع امرأتہٖ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۲
الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی لاہور ۱ / ۳۴
#12635 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
بدن کو پہنچنے سے معاذ اللہ احتمال برص ہے اختلافات اس میں بکثرت ہیں اور ہم نے اپنی کتاب منتہی الآمال فے الاوفاق والاعمال میں ہر اختلاف سے قول اصح وارجح چنا اور مختصر الفاظ میں اسے ذکر کیا اسی کی نقل بس ہے
وھو ھذا قط (ای الدارقطنی) عن عامر والعقیلی عن انس مرفوعا قط والشافعی عن عمر الفاروق موقوفا لاتغتسلوا بالماء انشمس فانہ یورث البرص قط وابو نعیم عن ام المؤمنین انھا سخنت للنبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ماء فی الشمس فقال لاتفعلی یاحیمراء فانہ یورث البرص وقیدہ العلماء بقیود ان یکون فی قطر ووقت حارین وقد تشمس فی منطبع صابر تحت المطرقۃ کحدید ونحاس علی الاصح الا النقدین علی المعتمد دون الخزف والجلود والا حجار والخشب ولا للشمس فی الحیاض والبرك قطعا وان یستعمل فی البدن ولو شربالا فی الثواب الا اذا لبسہ رطبا اومع العرق وان یستعمل حارا فلو برد لاباس علی الاصح وقیل لافرق علی الصحیح ووجہ ورد فالاول الاوجہ قیل وان لایکون الاناء منکشفا والراجح ولو فالحاصل منع ایصال الماء المشمس فی اناء منطبع من غیر النقدین الی البدن فی وقت وبلد حارین
دارقطنی نے عامر سے اور عقیلی نے انس سے مرفوعا روایت کی دارقطنی اور شافعی نے عمر فاروق سے موقوفا روایت کی کہ تم آفتاب سے گرم شدہ پانی سے غسل نہ کرو کہ اس سے برص پیدا ہوتا ہے دارقطنی اور ابو نعیم نے ام المؤمنین سے روایت کی کہ آپ نے حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکیلئے آفتاب سے پانی گرم کیا تو آپ نے فرمایا : آیندہ ایسا نہ کرنا اے حمیراء کیونکہ اس سے برص پیدا ہوتا ہے۔ اور علماء نے اس میں کچھ قیود لگائی ہیں مثلا یہ کہ گرم پانی گرم علاقہ میں ہو گرم وقت میں ہو یہ کہ پانی کسی دھات کے بنے ہوئے برتن میں جیسے پانی لوہے تانبے کے برتن میں گرم ہوا ہو اصح قول کے مطابق مگر سونے چاندی کے برتن میں گرم نہ کیا گیا ہو معتمد قول کے مطابق مٹی کھال پتھر اور لکڑی کے برتنوں کو دھوپ میں رکھ کر گرم نہ کیا گیا ہو۔ حوض اور گڑھے میں سورج کا گرم شدہ پانی قطعا نہ ہو یہ پانی بدن میں استعمال ہوا ہو اگرچہ پی لیا تو بھی یہی خطرہ ہے کپڑے دھوئے تو حرج نہیں ہاں اگر کپڑا دھو کر تر ہی پہن لیا تو خطرہ ہے یا کپڑا پہنا اور جسم پر پسینہ تھا یہ پانی گرم استعمال کیا جائے اگر ٹھنڈا ہونے کے بعد استعمال کیا تو حرج نہیں اصح قول یہی ہے اور ایك قول یہ بھی ہے
حوالہ / References سنن الدار قطنی باب الماء المسخن نشر السنۃ ملتان ۱ / ۳۹
سنن الدار قطنی باب الماء المسخن نشر السنۃ ملتان ۱ / ۳۸
#12636 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
مالم یبرد والله تعالی اعلم۔
کہ فرق نہیں اور یہی صحیح ہے اس کی توجیہ بھی ہے اور اس پر رد ہے تو اول کی وجہ زیادہ درست ہے ایك قول یہ ہے کہ برتن کھلا ہوا نہ ہو اور راجح ولو کان الاناء منکشفاہے (یعنی اگرچہ برتن کھلا ہو) تو خلاصہ یہ ہے کہ دھوپ کے گرم پانی کا سونے چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کے برتن سے جسم پر پہنچانا گرم وقت میں اور گرم علاقہ میں بلا ٹھنڈا کیے ممنوع ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
اور تحقیق۱ یہ ہے کہ ہمارے نزدیك بھی اس پانی سے وضو وغسل مکروہ ہے کما صرح بہ فی الفتح والبحر والدرایۃ والقنیۃ والنھایۃ(جیسا کہ فتح بحر درایہ قنیہ اور نہایہ میں صراحت کی گئی ہے۔ ت)اور یہ کراہت شرعی تنزیہی ہے
کما اشار الیہ فی الحلیۃ والامداد ھذا ماحققہ ش خلافا للتنویر والدر حیث نفیا الکراھۃ اصلا ویمکن حمل التنویر علی التحریم اما الدر فصرح انھا طبعیۃ عند الشافعیۃ وھو خلاف نصہم۔
اقول : (۲) وزیادۃ التنویر قید القصد حیث قال وبماء قصد تشمیسہ لیس اتفاقیا بل الدلالۃ علی الاول واشارۃ الی نفی ماوقع فی المعراج ان الکراھۃ مقیدۃ عند الشافعی بالقصد فافہم۔
جیسا کہ حلیہ اور امداد میں اشارہ کیا “ ش “ نے یہی تحقیق کی تنویر اور در میں اس کے خلاف ہے ان دونوں حضرات نے مطلقا کراہت کا انکار کیا ہے اور تنویر کی عبارت کو مکروہ تحریمی پر محمول کرنا ممکن ہے مگر در میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ شافعیہ کے نزدیك وہ کراہت طبعیہ ہے اور یہ ان کی تصریحات کے خلاف ہے۔ (ت) میں کہتا ہوں تنویر میں ارادہ کی قید کا اضافہ ہے انہوں نے فرمایا “ اور اس پانی سے جس کو دھوپ میں قصدا گرم کیا گیا ہے یہ قید اتفاقی نہیں ہے بلالکہ پہلی پر دلالت کے لئے ہے اور جو معراج میں فرمایا ہے اسکی نفی کیلئے ہے کہ شافعیوں کے نزدیك کراہت اس وقت ہے جب بالقصد ہو فافہم۔ (ت)
(۱۱) عورت کی طہارت سے بچا ہوا پانی اگرچہ جنب یا حائض ہو اگرچہ اس پانی سے خلوت تامہ میں اس نے طہارت کی ہو خلافا لاحمد والمالکیۃ (اس میں احمد اور مالکیہ کا اختلاف ہے۔ ت) ہاں مکروہ(۳) ضرور ہے۔
بل فی السراج لایجوز للرجل ان یتوضأ ویغتسل بفضل وضؤ المرأۃ اھ وھو نص
بلکہ سراج میں ہے کہ مرد کو جائز نہیں کہ وہ عورت کے غسل یا وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے اھ
حوالہ / References ردالمحتار مکروہات الوضوء مصطفی البابی مصر ۱ / ۹۸
#12637 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
فی کراھۃ التحریم واستظھرھا ط من قول الدر من منھیاتہ التوضی بفضل ماء المرأۃ قال وفیہ نظر واجاب ش بانہ یشمل المکروۃ تنزیھا فانہ منھی عنہ اصطلاحا حقیۃ کما قدمناہ عن التحریر اھ۔ وعللہ ط بخشیۃ التلذذ وقلۃ توقیھن النجاسات لنقص دینھن قال وھذا یدل علی ان کراھتہ تنزیہیۃ ۔
اقول : علی (۱) الاول یعم النھی عکسہ اعنی توضوء المرأۃ من فضل طھورہ وفیہ کلام یاتی اما الثانی۔
فاولا : یقتضی (۲) تعمیمہ رجال البد و والعبید والجھلۃ واشد من الکل (۳) العمیان فلا تبقی خصوصیۃللمرأۃ۔
وثانیا : لا یتقید بطھورھا فضلا عن اختلائھا بہ لك اذن یکفی مسھا۔
وثالثا : (۵)فی قلۃ توقیھن النجاسات نظر ونقص دینھن ان احدھن تقعد شطر دھرھا لاتصوم ولا تصلی کما فی الحدیث وھذا لیس من صنعھا الا ان یعلل بغلبۃ
باور یہ مکروہ تحریمی میں نص ہے اور طحطاوی نے اس پر در کے قول “ عورت کے باقیماندہ پانی سے وضوء نہ کیا جائے “ سے استدلال کیا ہے فرمایا اس میں نظر ہے اور 'ش' نے جواب دیا کہ یہ مکروہ تنزیہی کو شامل ہے کہ یہ منہی عنہ ہے اصطلاحی طور پر حقیقۃ جیسا کہ ہم نے تحریر سے نقل کیا اھ اور طحطاوی نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس میں ایك تو تلذذ کا خطرہ ہے اور دوسرا یہ کہ وہ اپنے دینی نقصان کی وجہ سے نجاستوں سے نہیں بچتی ہیں فرمایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مراد کراہت تنزیہی ہے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں پہلے قول کے مطابق نہی اس کے عکس کو شامل ہے یعنی عورت کا مرد کے بچے ہوئے پانی سے وضؤ کرنا اس میں کچھ بحث ہے جو آئے گی۔ رہا دوسرا قول تو اس میں پہلی چیز یہ ہے کہ یہ دیہاتی غلام اور جاہل سب کو عام ہے اور سب سے زیادہ نابینا لوگوں کو۔ تو اس میں عورت کی کوئی خصوصیت نہیں۔ اور ثانیا یہ قید نہیں کہ اس کا طہور ہو چہ جائیکہ عورت کا خلوت میں اس کو استعمال کرنا بلالکہ اس کا محض پانی کو چھولینا بھی کافی ہوگا۔ اور تیسرا یہ کہ ان کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ نجاستوں سے کم بچتی ہیں اس میں اعتراض ہے
حوالہ / References طحطاوی علی الدرالمختار مکروہات الوضوء بیروت ۱ / ۷۶
ردالمحتار مکروہات الوضوء مصطفی البابی مصر ۱ / ۹۸
طحطاوی علی الدرالمختار مکروہات الوضوء بیروت ۱ / ۷۶
#12638 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
الجھل علیھن فیشار کھن العبید والاعراب۔
ورابعا : (۱) العلۃ توجد فی حق المرأۃ الاخری والکراھۃ خاصۃ بالرجل وجعل ش النھی تعبدیا۔
اقول : وھو الاولی لما عرفت عدم انتھاض العلل وبہ صرحت الحنابلۃ ولا بدلھم عن ذلك اذعدم الجواز لایعقل لہ وجہ اصلا وکونہ تعبدیا لما رواہ الخمسۃ عـــہ انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم نھی ان یتوضأ الرجل بفضل طھور المرأۃ ثم ذکر عن غرر الافکار نسخہ بحدیث مسلم ان
اور ان کے دین کا نقص محض یہ ہے کہ وہ ایك زمانہ تك گھر بیٹھتی ہے نہ روزہ رکھتی ہے اور نہ نماز پڑھتی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے اور اس میں اس کا اپنا کوئی اختیار نہیں ہاں اس کی تعلیل یہ ہوسکتی ہے کہ ان میں جہل کا غلبہ ہوتا ہے تو یہ بات غلاموں اور دیہاتی لوگوں میں بھی ہوتی ہے۔
چوتھے یہ علت دوسری عورت کے حق میں بھی پائی جاتی ہے حالانکہ کراہت مرد کے ساتھ خاص ہے اور “ ش “ نے اس مخالفت کو محض تعبدی امر قرار دیا ہے۔ (ت)
عـــہ : اقول المعروف فی اطلاق الخمسۃ ارادۃ الستۃ الا البخاری وھذا انما رواہ احمد والاربعۃ نعم ھو اصطلاح عبدالسلام ابن تیمیۃ فی المنتقی لانہ ادخل الامام احمد فی الجماعۃ فاذ ارادہ غیر الشیخین قال رواہ الخمسۃ منہ غفرلہ۔ (م)
میں کہتا ہوں عام طور پر خمسہ کا اطلاق بخاری کے علاوہ باقی اصحاب ستہ پر ہوتا ہے جبکہ اس کو امام احمد اور اربعہ نے روایت کیا ہے۔ ہاں منتقی میں عبدالسلام ابن تیمیہ کی یہ اصطلاح ہے کہ کیونکہ وہ امام احمد کو بھی اصحاب صحاح کی جماعت میں داخل کرتے ہیں جس حدیث کو شیخین کے علاوہ باقی اصحاب صحاح نے روایت کیا ہو تو کہتے ہیں رواہ الخمسۃ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار مکروہات الوضوء البابی مصر ۱ / ۹۸
#12639 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
میمونہ قالت اغتسلت من جفنۃ ففضلت فیھا فضلۃ فجاء النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یغتسل فقلت انی اغتسلت منہ فقال الماء لیس علیہ جنابۃ قال ش مقتضی النسخ انہ لایکرہ عندنا ولا تنزیھا وفیہ ان دعوی النسخ تتوقف علی العلم یتأخرا لناسخ ولعلہ ماخوذ من قول میمونۃ رضی الله تعالی عنھا انی قد اغتسلت فانہ یشعر بعلمھا بالنھی قبلہ قال وقد صرح الشافعیۃ بالکراھۃ فینبغی کراھتہ وان قلنا بالنسخ مراعاۃ للخلاف فقد صرحوا بانہ یطلب مراعاۃ الخلاف وقد علمت انہ لایجوز التطھیر بہ عند احمد اھ۔
اقول : ولاقرب الی الصواب ان لانسخ ولا تحریم بل النھی للتنزیہ والفعل لبیان الجواز وھو الذی مشی علیہ القاری فی المرقاۃ نقلا عن السید جمال الدین الحنفی وبہ اجاب الشخ عبدالحق الدھلوی فی لمعات التنقیح ان النھی تنزیہ لاتحریم فلا منافاۃ وقال فی الباب قبلہ اجیب
میں کہتا ہوں یہی بات بہتر ہے کیونکہ دوسری علتیں درست نہیں ہے اور حنبلی حضرات نے بھی یہ علت بیان کی ہے اور ایسا کرنا ان کیلئے ضروری تھا کیونکہ عدم جواز کی کوئی وجہ موجود نہیں اور اس کے تعبدی ہونے پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جو پانچوں محدثین نے نقل کی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضوء کرنے کی ممانعت فرمائی پھر غرر الافکار کے حوالہ سے اس کا منسوخ ہونا نقل کیا۔ اس میں مسلم کی حدیث ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہافرماتی ہیں کہ انہوں نے ایك ٹب میں غسل کیا اس میں کچھ پانی بچ گیا تو حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس سے غسل کا ارادہ فرمایا “ تو انہوں نے عرض کی کہ “ ہم نے اس سے غسل کیا ہے “ ۔ آپ نے فرمایا “ پانی پر جنابت کا اثر نہیں ہوتا “ ۔ ش نے فرمایا نسخ کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارے نزدیك نہ وہ مکروہ تحریمی ہے نہ مکروہ تنزیہی اس میں اعتراض ہے کہ نسخ کا دعوی اس پر موقوف ہے کہ ناسخ کے متأخر ہونے کا علم ہو اور شاید یہ حضرت میمونہ کے اس قول سے ماخوذ ہے کہ میں نے غسل کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اس سے قبل ہی نہی کا علم تھا اور شافعیہ نے کراہت کی تصریح کی ہے تو چاہئے کہ یہ مکروہ ہو اگرچہ ہم اختلاف کی رعایت کرتے ہوئے نسخ کا قول کریں کیونکہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ خلاف کی رعایت کی جائے اور یہ تو آپ جان ہی چکے ہیں کہ احمد کے نزدیك اس پا نی سے طہارت جائز نہیں اھ۔ (ت)میں کہتا ہوں زیادہ صحیح بات یہ ہوگی کہ نہ تو نسخ ہے اور نہ ہی تحریم ہے بلالکہ نہی محض تنزیہی ہے اور فعل بیان جواز کے لئے ہے ملا علی قاری نے بھی مرقاۃ میں سید جمال الدین حنفی سے یہی نقل کیا ہے اور لمعات التنقیح میں محدث عبدالحق دہلوی نے بھی یہی جواب دیا ہے کہ نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں
حوالہ / References ردالمحتار مکروہات الوضوءالبابی مصر ۱ / ۹۸
لمعات التنقیح باب مخالطۃ الجنب المعارف العلمیہ لاہور ۲ / ۱۲۲
#12640 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
ان تلك عزیمۃ وھذا رخصۃ اھ وبھذا جزم فی الاشعۃ من باب مخالطۃ الجنب وقال الامام العینی فی عمدۃ القاری اما فضل المرأۃ فیجوز عند الشافعی الوضوء بہ للرجل سواء خلت بہ اولاقال البغوی وغیرہ فلا کراھۃ فیہ للاحادیث الصحیحۃ فیہ وبھذا قال مالك وابو حنیفۃ وجمہور العلماء وقال احمد وداود لایجوز اذا خلت بہ و روی ھذا عن عبدالله بن سرجس والحسن البصری و روی عن احمد کمذھبنا وعن ابن المسیب والحسن کراھۃ فضلھا مطلقا اھ۔ واذ احملنا المنفیۃ علی کراھۃ التحریم لم یناف ثبوت کراھۃ التنزیہ وکیفما(۱) کان فما فی السراج غریب جدا ولم یستند لمعتمد وخالف المعتمدات ونقول الثقات ولا یظھر لہ وجہ وقد قال(۲) فی کشف الظنون السراج الوھاج عدہ المولی المعروف ببرکلی جملۃ الکتب المتداولۃ الضعیفۃ غیر المعتبرۃ اھ۔ قال چلپی ثم اختصر ھذا الشرح وسماہ الجوھر النیر اھ۔
اقول : بل الجوھرۃ النیرۃ وھی من
تو کوئی منافاۃ نہیں اس پہلے باب میں فرمایا کہ ایك جواب یہ دیا گیا ہے کہ وہ عزیمۃ تھی اور یہ رخصۃ ہے اھ اور اشعۃ اللمعات میں اسی پر جزم کیا ہے عینی نے عمدۃ القاری میں فرمایا ہے عورت کا بچے ہوئے پانی سے امام شافعی کے نزدیك مرد کیلئے وضو جائز ہے خواہ اس عورت نے اس سے خلوت کی ہو یا نہ کی ہو بغوی وغیرہ نے فرمایا تو اس میں کراہت نہیں ہے کہ صحیح احادیث اس بارے میں موجود ہیں یہی قول مالک ابو حنیفہ اور جمہور علماء کا ہے اور احمد اور ابو داود نے فرمایا کہ جب عورت اس پانی کے ساتھ خلوت کرے تو جائز نہیں یہ قول عبداللہ بن سرجس اور حسن بصری سے منقول ہے اور احمد کی ایك روایت مذہب ابی حنیفہ کے مطابق ہے اور ابن المسبب اور حسن سے اس بچے ہوئے کی کہ کراہت مطلقا منقول ہے اھ اور اگر ہم منفی کو کراہت تحریم پر محمول کریں تو اس سے کراہت تنزیہی کے ثبوت کی نفی لازم نہ آئے گی بہرصورت جو سراج میں ہے وہ بہت ہی غریب ہے اور کسی معتمد کتاب کی سند اس پر موجود نہیں بلالکہ کتب معتمدہ اور نقول مستندہ کے صریح خلاف ہے اور اس کی کوئی وجہ ظاہر نہیں ہوتی ہے کشف الظنون میں ہے کہ سراج الوہاج کو مولی المعروف برکلی نے کتب متداولہ ضعیفہ غیر معتبرہ میں شمار کیا ہے اھ اور چلپی نے فرمایا پھر اس کتاب کو مختصر کیا گیا اور اس کا نام جوہر نیر ہوا اھ (ت)میں کہتا ہوں بلالکہ جوہرہ نیرہ ہے اور وہ کتب معتبرہ سے
حوالہ / References لمعات التنقیح باب الغسل المعارف العلمیہ لاہور ۲ / ۱۱۲
عمدۃ القاری وضوء الرجل مع امرأتہ مصر ۳ / ۸۳
٫کشف الظنون ذکر مختصر القدوری بغداد ۲ / ۱۶۳
#12641 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
الکتب المعتبرۃ کما نص علیہ فی ردالمحتار ونظیرہ(۱) ان مجتبی النسائی المختصر من سننہ الکبری من الصحاح دون الکبری۔
ثم اقول : ھھنا اشیاء یطول الکلام علیھا ولنشر الی بعضھا اجمالا منھا(۲) لاتبتنی کراھتہ مطلقا علی قول الامام احمد بعدم الجواز لانہ مخصوص عندہ بالاختلاء ومنھا(۳) ان مراعاۃ الخلاف انما ھی(۴) مندوب الیھا فیما لایلزم منھا مکروہ فی المذھب کما نص علیہ العلماء منھم العلامہ ش نفسہ وترک(۵) المندوب لایکرہ کما نصوا علیہ ایضا منھم نفسہ فی ھذا الکتاب فکیف تبتنی الکراھۃ علیھا لاسیما بعد تسلیم(۶) ان نسخ التحریم ینفی کراھۃ التنزیہ ایضا ومنھا(۷) ھل الحکم مثلہ فی عکسہ ای یکرہ لما ایضا فضل طھورہ ردی احمد وابو داو د والنسائی عن رجل صحب النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اربع سنین وابن ماجۃ عن عبدالله بن سرجس رضی الله تعالی عنھما نھی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ان تغتسل المرأۃ بفضل الرجل اویغتسل بفضل المرأۃ لکن قال الشیخ ابن حجر
ہے جیسا کہ اس کی صراحۃ ردالمحتار میں موجود ہے اور اس کی نظیریہ ہے کہ نسائی کی مجتبی جو ان کی سنن کبری سے مختصر ہے صحاح میں شمار ہوتی ہے جبکہ کبری صحاح میں شمار نہیں ہوتی۔ (ت)
پھر میں کہتا ہوں یہاں بعض چیزیں ایسی ہیں جن سے کلام میں طوالت ہوگی تاہم کچھ کا ذکر اجمالی طور پر کیا جاتا ہے کراہت کی بنیاد مطلقا امام احمد کے عدم جواز کا قول نہیں کیوں کہ ان کے نزدیك یہ قول خلوت کے ساتھ مختص ہے خلاف کی رعایت ایسے امور میں مندوب ہے جن میں اپنے مذہب کا کوئی مکروہ لازم نہ آئے جیسا کہ علماء نے اس کی صراحت کی ہے خود علامہ 'ش' نے ایسا ہی کیا ہے اور مندوب کا ترك مکروہ نہیں جیسا کہ فقہا ء نے اس کی صراحت کی ہے خود 'ش' نے اس کتاب میں صراحت کی ہے تو پھر کراہت اس پر کیسے مبنی ہوگی خاص طور پر جبکہ اس امر کو تسلیم کرلیا گیا کہ تحریم کا منسوخ ہوجانا تنزیہی کراہت کی بھی نفی کرتا ہے کیا اس کے عکس میں بھی ایسا ہی حکم ہوگا یعنی عورت کیلئے بھی مرد کا چھوڑا ہوا پانی استعمال کرنا مکروہ ہوگا تو احمد ابو داو د اور نسائی نے حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ایك صحابی جو چار سال تك آپ کے ساتھ رہے سے روایت کی اور ابن ماجہ نے عبداللہ بن سرجس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس چیز سے منع کیا کہ عورت
حوالہ / References مشکوٰۃ المصابیح باب مخالطۃ الجنب مجتبائی دہلی ص۵۰
#12642 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
المکی فی شرح المشکوۃ لاخلاف فی ان لھا الوضوءبفضلہ اھ وقال ایضا ان احدالم یقل بظاھرہ ومحال ان یصح وتعمل الامۃ کلھا بخلافہ اھ وتعقبہ الشیخ المحقق الدھلوی فی اللمعات بقولہ قد قال الامام احمد بن حنبل مع مافیہ من التفصیل والخلاف فی مشایخ مذھبہ الی اخر ماذکر من خلافیاتھم۔
اقو ل : (۱) رحم الله الشیخ ورحمنا بہ کلام ابن حجر فی وضوئھا بفضلہ وقول الامام احمد وخلافیات مشایخ مذھبہ فی عکسہ نعم قال الامام العینی فی العمدۃ حکی ابو عمر خمسۃ مذاہب الثانی یکرہ ان یتوضأ بفضلھا وعکسہ والثالث کراھتہ فضلھا لہ والرخصۃ فی عکسہ والخامس لاباس بفضل کل منھما وعلیہ فقہاء الامصار اھ ملتقطا فھذا یثبت الخلاف والله تعالی اعلم۔
مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے۔ مگر شیخ ابن حجر مکی نے شرح مشکوۃ میں فرمایا کہ اس میں اختلاف نہیں کہ عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے وضوء کرسکتی ہے اھ۔ نیز فرمایا کہ کسی ایك نے بھی اس کے ظاہر کے خلاف نہیں فرمایا اور یہ محال ہے کہ ایك چیز صحیح بھی ہو اور تمام امت اس کے خلاف عمل پیرا ہو اھ۔ اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے لمعات میں اس پر رد کیا اور فرمایا احمد بن حنبل نے جو فرمایا ہے اس میں تفصیل ہے اور ان کے مذہب کے مشایخ میں بھی اختلاف رہا ہے پھر وہ اختلاف ذکر کیا۔ (ت)
میں کہتا ہوں اللہ رحم کرے شیخ پر اور ہم پر ابن حجر نے مرد کے بچے ہوئے پانی سے عورت کے وضو کرنے کی بابت جو کلام کیا ہے اور امام احمد کا قول اور ان کے مشایخ مذہب کے اختلافات اس کے برعکس صورت میں ہیں ہاں عینی نے عمدہ میں فرمایا کہ ابو عمر نے پانچ مذاہب گنائے ہیں ان میں دوسرا یہ ہے کہ مرد کا عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا مکروہ ہے اور اس کا عکس بھی مکروہ ہے اور تیسرا یہ ہے کہ عورت کا بچا ہوا مرد کیلئے مکروہ ہے اور اس کے عکس میں رخصت ہے اور پانچواں یہ ہے کہ دونوں کے بچے ہوئے پانی میں کچھ حرج نہیں اور اسی پر شہروں کے فقہاء ہیں اھ۔ ملتقطا اس سے خلاف ثابت ہوتا ہے والله تعالی اعلم (ت)
(۱۲) اس کنویں یا۲ حوض کا پانی جس سے بچے عورتیں گنوار جہال فساق ہر طرح کے لوگ اپنے میلے کچیلی
حوالہ / References شرح المشکوٰۃ لابن حجر
شرح المشکوٰۃ لابن حجر
لمعات التنقیح باب مخالطۃ الجنب المعارف العلمیہ لاہور ۲ / ۱۳۰
عمدۃ القاری باب وضؤ الرجل مع امرأتہ مصر ۳ / ۸۵
#12643 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
گھڑے ڈال کر پانی بھریں جب تك نجاست معلوم نہ ہو فتح القدیر میں ہے :
یتوضوء من البئر التی یدلی فیہ الدلاء والجرار الدنسۃ یحملھا الصفار والعبید الذین لایعلمون الاحکام ویمسھا الرستاقیون بالایدی الدنسۃ مالم یتعلم نجاسۃ ۔
جس کو کنویں میں بچے اور غلام میلے ڈولوں اور ٹھیلوں سے پانی بھرتے ہوں اور جن کو سقے میلے ہاتھ لگاتے ہوں ایسے کنوؤں سے وضو کرنے میں حرج نہیں ہاں اگر نجاست کا یقین ہو تو جائز نہیں (ت)
اشباہ والنظائر میں ہے :
قال الامام محمد حوض تملؤ منہ الصغار والعبید بالایدی الدنسۃ والجرار الوسخۃ یجوز الوضوءمنہ مالم تعلم نجاسۃ ۔
امام محمد نے فرمایا وہ حوض جس سے چھوٹے بچے اور غلام پانی بھرتے ہوں ان کے ہاتھ اور ٹھلیاں میلی ہوں تو جب تك نجاست کا یقین نہ ہو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
(۱۳)وہ پانی۱ جس میں ایسا برتن ڈالا گیا ہو جو زمین پر رکھا جاتا ہے جس کے پیندے کی طہارت پر یقین نہیں جب تك نجاست پر یقین نہ ہو فتح القدیر میں ہے :
قالوا ولاباس بالتوضی من حب یوضع کوزہ فی نواحی الدار ویشرب منہ مالم یعلم بہ قذر ۔
فقہاء نے فرمایا وہ تالاب جس کے کوزے گھر کے گوشے میں رکھے جاتے ہوں اور اس سے پانی پیا جاتا ہو تو اس سے وضو کرنے میں حرج نہیں جب تك اس کی گندگی کا علم نہ ہو۔ (ت)
حدیقہ ندیہ میں جامع الفتاوی سے ہے :
وکذا الکوز الموضوع فی الارض اذا ادخل فی الحب للشرب منہ یعنی یجوز مالم یعلم النجاسۃ ۔
اسی طرح وہ لوٹا جو زمین پر رکھا ہوا ہو جب اس کو تالاب میں ڈال کر اس سے پینے کیلئے پانی نکالا جائے تو اس سے وضو جائز ہے یعنی جب تك نجاست کا علم نہ ہو۔ (ت)
یہی حکم ان۲ لوٹوں کے پیندوں کا ہے جو زمین پر رکھے جاتے بلالکہ بیت الخلاء میں لے جاتے ہیں جبکہ موضع نجاست
حوالہ / References فتح القدیر غدیر عظیم سکھر ۱ / ۷۲
الاشباہ والنظائر الیقین لایزول بالشک ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۸۷
فتح القدیر غدیر عظیم سکھر ۱ / ۷۲
حدیقہ ندیہ صنف ثانی من المصننفین نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۶۷
#12644 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
سے جدا ہوں۔
(۱۴) ہنود۱ وغیرہم کفار کے کنووں یا برتنوں کا پانی اس سے طہارت ہوسکتی ہے جب تك نجاست معلوم نہ ہو مگر کراہت رہے گی جب تك طہارت نہ معلوم ہو کہ وہ مظنہئ ہر گونہ نجاست ہیں عینی شرح بخاری میں زیر اثر توضأ عمر رضی الله تعالی عنہ من بیت نصرانیۃ (حضرت عمر نے ایك نصرانی عور ت کے گھر سے وضو کیا۔ ت) فرمایا :
الذی یدل ھذا الاثر جواز استعمال میاھھم ولکن یکرہ استعمال اوانیھم وثیابھم سواء فیہ اھل الکتاب وغیرھم وقال الشافعیۃ فان تیقن طہارتھا فلا کراھۃ ولا نعلم فیھا خلافا واذا تطھر من اناء کافر ولم یتیقن طہارتہ ولا نجاستہ فان کان من قوم لایتدینون باستعمالھا صحت طہارتہ قطعا والا وجہان اصحھما الصحۃ وممن کان لایری بأسا بہ الاوزاعی والثوری وابو حنیفۃ والشافعی واصحابھما وقال ابن المنذر لااعلم احدا کرھہ الا احمد وابن اسحق قلت وتبعھما اھل الظاھر واختلف قول مالك ففی المدونۃ لایتوضوء بسؤر النصرانی ولا بمأ ادخل یدہ فیہ وفی العتبیۃ اجازہ مرۃ وکرھہ اخری اھ
اس اثر سے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے پانیوں کا استعمال جائز ہے لیکن ان کے برتنوں اور کپڑوں کا استعمال مکروہ ہے اس میں اہل کتاب اور غیر اہل کتاب برابر ہیں اور شافعی حضرات فرماتے ہیں اگر ان کی پاکی کا یقین ہو تو کراہت بھی نہیں اور ہم اس میں کوئی اختلاف نہیں جانتے اور جب کسی برتن سے کسی کافر نے پاکی حاصل کی اور اس کی طہارت ونجاست میں سے کسی کا یقین نہیں تو اگر وہ ایسے لوگوں کا برتن ہے جو نجاست کے استعمال کو جائز نہیں سمجھتے تو اس کو طہارت قطعا ثابت ہے ورنہ اس میں دو صورتیں ہیں دونوں میں اصح صحت ہے امام اوزاعی ثوری ابو حنیفہ امام شافعی اور دونوں کے اصحاب اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے اور ابن منذر فرماتے ہیں میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس کو مکروہ سمجھا ہو سوائے احمد اور ابن اسحاق کے میں کہتا ہوں اہل ظاہر نے ان دونوں کی متابعت کی اور مالك کے قول میں اختلاف پایا جاتا ہے مدونہ میں ہے نصرانی کے جھوٹے سے اور اس پانی سے جس میں اس نے اپنا ہاتھ ڈالا ہو وضو نہ کیا جائے اور عتبیہ میں ایك قول جواز کا ہے اور ایك کراہۃ کا۔ (ت)
حوالہ / References عمدۃ القاری باب وضؤ الرجل مع امرأتہٖ مصر ۳ / ۸۲
#12645 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
اقول : افادکراھۃ التحریم لمقابلتھا بالاجازۃ وھی محمل قول احمد واسحق ونفی البأس مرجعہ الی خلاف الاول وقد بینا المسألۃ بابسط مماھنا فی فتاونا۔
بلہ اجازت سے ہے اور اسی پر احمد اور اسحاق کے قول کو محمول کیا گیا ہے اور جہاں بأس کی نفی ہے اس کا مطلب خلاف اولی ہے ہم نے اس مسئلہ کو بہ نسبت اس مقام کے اپنے فتاوی میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس سے کراہت تحریمی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس کا مقاب
ذخیرہ میں ہے :
یکرہ الاکل(۱) والشرب فی اوانی المشرکین قبل الغسل لان الغالب الظاھر من حال اوانیھم النجاسۃ ۔
مشرکین کے برتنوں میں دھونے سے پہلے کھانا پینا مکروہ ہے کیونکہ ان کے برتن میں بظاہر ناپاك ہوتے ہیں۔ (ت)
(۱۵) جس پانی۲ میں بچہ نے ہاتھ یا پاؤں ڈال دیا یہاں بھی وہی حکم ہے کہ قابل طہارت ہے جب تك نجاست پر یقین نہ ہو مگر اولی احتراز ہے جب تك طہارت پر یقین نہ ہو۔ ہندیہ میں ہے :
اذا ادخل الصبی یدہ فی کوزماء اورجلہ فان علم ان یدہ طاھرۃ بیقین یجوز التوضؤ بہ وان کان لایعلم انھا طاھرۃ اونجسۃ فالمستحب ان یتوضأ بغیرہ ومع ھذا لوتوضأ اجزأہ کذا فی المحیط ۔
بچے نے پانی کے کوزے میں اگر ہاتھ یا پیر ڈالا تو اگر یقین سے یہ معلوم ہے کہ اس کا ہاتھ یا پیر پاك ہے تو اس سے وضو جائز ہے اور اگر معلوم نہیں کہ وہ پاك ہے یا ناپاک تو مستحب یہ ہے کہ دوسرے پانی سے وضو کیا جائے لیکن اگر وضو کر ہی لیا تو جائز ہے کذا فی المحیط۔ (ت)
(۱۶) یوں ہی۳ جس میں مشکوك کپڑا گر گیا حتی کہ بچے کے نہالچے کی روئی جبکہ نجاست معلوم نہ ہو مگر کراہت ہے کہ مظنہ زیادہ ہے جواہر الفتاوی باب اول فتاوی امام رکن الدین ابو الفضل کرمانی میں ہے :
قطعۃ قطن من فراش صبی وقعت فی بئرولا یدری انھا نجسۃ ام طاھرۃ
بچے کے بچھونے سے روئی کا ایك ٹکڑا کنویں میں گر گیا اور یہ معلوم نہیں کہ یہ پاك ہے یا ناپاک تو محض شک
حوالہ / References حدیقہ ندیۃ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۲
فتاوٰی ہندیۃ فصل فیما لایجوزبہ التوضؤ پشاور ۱ / ۲۵
#12646 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
قال لایحکم بکونھا نجسۃ بالشك والاحتمال ولو احتیط ونزح کان اولی ۔
اور احتمال کی بنا پر اس کی نجاست کا حکم نہیں دیا جائیگا اور اگر احتیاط سے کام لیا جائے اور تمام پانی نکال دیا جائے تو بہتر ہے۔ (ت)
(۱۷)وہ پانی۱ جس میں استعمال جوتا گر گیا جبکہ نجاست نہ معلوم ہو یہاں پر بھی وہی حکم ہے تاتارخانیہ پھر طریقہ وحدیقہ میں ہے :
سئل الامام الخجندی عن رکیۃ وھی البئر وجد فیھا خف ای نعل تلبس ویمشی بھا صاحبھا فی الطرقات لایدری متی وقع فیھا ولیس علیہ اثر النجاسۃ ھل یحکم بنجاسۃ الماء قال لا اھ ملخصا۔
امام خجندی سے ایسے کنویں کی بابت دریافت کیا گیا جس میں ایسا موزہ (ہلکا جوتا) پایا گیا جسے پہن کر عام راستوں پر چلا جاتا ہے اور یہ معلوم نہیں کہ وہ کب گرا ہے اور اس پر بظاہر نجاست کا اثر بھی نہیں تو کیا کنواں ناپاك ہے آپ نے فرمایا : نہیں اھ (ت)
(۱۸ تا ۲۱) شکاری پرندوں اور حشرات الارض اور بلی اور چھوٹی ہوئی مرغی کا جھوٹا جبکہ طہارت یا نجاست پر یقین نہ ہو یہ اس وقت مکروہ ہے جبکہ دوسرا صاف پانی موجود ہو وقد بیناہ فی فتاونا (ہمارے فتاوی میں بیان کر دیا گیا ہے۔ ت)
(۲۲) اس جانور کا جھوٹا جس میں خون سائل نہیں جیسے بچھو وغیرہ اس میں کراہت بھی نہیں۔ درمختار میں ہے :
سؤر مالادم لہ طاھر طھور بلاکراھۃ ۔
اس جانور کا جھوٹا جس میں خون سائل نہیں بلاکراہت پاك اور پاك کرنے والا ہے۔ (ت)
(۲۳) حوض۲ کا پانی جس میں بدبو آتی ہو جبکہ اس کی بو نجاست کی وجہ سے ہونا معلوم نہ ہو۔ خانیہ میں ہے :
یجوز التوضوء فی الحوض الکبیر المنتن اذالم تعلم نجاسۃ لان تغیر الرائحۃ
بڑے حوض میں اگر بدبو ہو تو بھی اس سے وضو ء جائز ہے بشرطیکہ اس میں نجاست معلوم نہ ہو کیونکہ
حوالہ / References جواہر الفتاوٰی
حدیقہ ندیۃ صنف ثانی من الصنفین نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۷۴
الدرالمختار فی البئر مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
#12647 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
قد یکون بطول المکث اھ
اقول : وکذا الصغیر وانما قید بالکبیر لاجل فی معناہ ان الکبیر اذا تغیر احد اوصافہ بنجس ینجس فالحوض الکبیر المنتن قدیتوقاہ الموسوس توھما ان نتنہ بالنجس فافادانہ وھم لایعتبر۔
پانی کے ٹھہرے رہنے کی وجہ سے بھی کبھی بدبو پیدا ہوجاتی ہے اھ (ت)
میں کہتا ہوں چھوٹے حوض کا بھی یہی حکم ہے بڑے کی قید محض اس لئے لگائی ہے کہ بڑے حوض کا پانی جب نجاست کی وجہ سے متغیر ہوجائے اور اس کا کوئی وصف بدل جائے تو نجس ہے اگر بڑے حوض میں بدبو پائی جائے تو وہمی شخص اس سے پرہیز کرسکتا ہے کہ شاید اس کی بدبو نجاست کے باعث ہے لیکن اس عبارت سے یہ بتادیا کہ یہ وہم معتبر نہیں ہے۔ (ت)
(۲۴) مولی کریم رؤف رحیم عزجلالہ اپنے حبیب اکرم رحمت عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی وجاہت کریمہ کے صدقہ میں اپنے غضب سے دونوں جہان میں بچائے جس بستی پر(۱) عیاذا باللہ عذاب اترا اس کے کنوؤں تالابوں کا پانی کہ اس کا استعمال کھانے پینے طہارت ہر شے میں مکروہ ہے یوں ہی اس کی مٹی سے تیمم ہاں زمین(۲) ثمود کا وہ کنواں جس سے ناقہئ صالح علیہ الصلوۃ والسلام پانی پیتا اس کا پانی مستشنی ہے صحاح میں ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمہمراہ رکاب اقدس حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمزمین ثمود پر اترے وہاں کے کنووں سے پانی بھرا اس سے آٹے گوندھے حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حکم فرمایا کہ پانی پھینك دیں اور آٹا اونٹوں کو کھلادیں چاہ ناقہ سے پانی لیں۔ ردالمحتار میں ہے :
ینبغی کراھۃ التطھیر ایضا اخذا مما ذکرناہ وان لم ارہ لاحد من ائمتنا بماء وتراب من کل ارض غضب علیھا الا بئرالناقۃ بارض ثمود وقد صرح الشافعیۃ بکراھتہ ولا یباح عند احمد ثم نقل الحدیث عن شرح المنتھی الحنبلی وانہ قال ظاھرہ منع الطہارۃ
جس زمین پر بھی غضب نازل ہوا ہو اس کے پانی اور مٹی سے طہارت حاصل کرنامکروہ ہونا چاہئے سوائے ناقہ کے کنویں کے جو زمین ثمود میں پایا جاتا ہے۔ یہ بات اس تحقیق سے معلوم ہوتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے اگرچہ میری نظر سے نہیں گزرا کہ ہمارے ائمہ میں سے کسی نے یہ بات کہی ہو البتہ شافعیہ نے اس کے مکروہ ہونے کی
حوالہ / References قاضی خان الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴
#12648 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
بہ قال وبئر الناقۃ ھی البئر الکبیرۃ التی یردھا الحجاج فی ھذہ الازمنۃ اھ۔ وقولہ اخذا مما ذکرنا یشیر الی ماقدم من تعلیل الکراھۃ بمراعاۃ الخلاف۔
اقول : (۱) وفیہ ماقدمنا لکن الکراھۃ ھھنا واضحۃ فقد کرہ الاجر فی القبر مما یلی المیت لاثر النار کما فی البدائع وغیرھا فھذا اولی بوجوہ کما لایخفی علی من اعتبر فجزاہ الله تعالی خیرا کثیرا فی جنات الفردوس کمانبہ علی ھذہ الفائدۃ الفازۃ۔
تصریح کی ہے اور امام احمد کے نزدیك مباح نہیں ہے پھر حدیث نقل کی شرح منتہی حنبل سے اور فرمایا اس سے بظاہر طہارت کا ممنوع ہونا مفہوم ہوتا ہے فرمایا اونٹنی کے کنویں سے مراد وہ بڑا کنواں ہے جس پر آج کل حاجی آتے ہیں اور اس کے قول اخذا مما ذکرنا سے مراد کراہت کی علت ہے جو انہوں نے بیا ن کی کہ اختلاف کی رعایت مقصود ہے۔ (ت) میں کہتا ہوں اس پر وہ اعتراض ہے جو ہم نے ذکر کیا لیکن کراہت یہاں واضح ہے کیونکہ آگ میں پکی ہوئی اینٹ قبر میں میت سے لگا کر استعمال کرنا ممنوع ہے کیونکہ اس میں آگ کا اثر ہوتا ہے جیسا کہ بدائع وغیرہ میں ہے تو یہ بطریق اولی مکروہ ہے کئی وجوہ سے جیسا کہ عبرت حاصل کرنے والے پر مخفی نہیں اللہ تعالی اسے جنۃ الفردوس میں خیر کثیر عطا فرمائے جیسا کہ اس عمدہ فائدہ میں تنبیہ کی گئی ہے۔ (ت)
(۲۵) آب۲ مغصوب۔ آب مغصوب میں تو کراہت ہی تھی آب مغصوب کا استعمال صرف کھانے پینے میں ہو خواہ طہارت میں محض حرام ہے مگر وضو وغسل صحیح ہوجائیں گے اور ان سے نماز ادا ہوجائے گی لان المنع للمجاور (یہ ممانعت ساتھ ملنے کی وجہ سے ہے۔ ت) ردالمحتار میں زیر قول شارح یجوز رفع الحدث بما ذکر (حدث کا دور کرنا جائز ہے ان چیزوں سے جو ذکر کی گئیں) فرمایا ای یصح وان لم یحل فی نحو الماء المغضوب (یعنی صحیح ہے اگرچہ حلال نہیں مغضوب پانی کی شکل میں۔ ت)
(۲۶) وہ۳ پانی کہ کسی کے مملوك کنویں سے بے اس کی اجازت بلالکہ باوصف ممانعت کے بھرا اس کا پینا وضو وغیرہ میں خرچ کرنا سب جائز ہے یہ مغضوب کی حد میں نہیں کہ کنویں۴ کا پانی جب تك کنویں میں ہے کسی کی ملك نہیں آب باراں کی طرح مباح وخالص ملك الہ عز جلالہ ہے۔ ردالمحتار میں ہدایہ سے ہے : الماء فی البئر غیر مملوك (کنویں کے اندر کا پانی کسی کی ملکیت نہیں ہے۔ ت) اسی میں ولوالجیہ سے ہے :
حوالہ / References ردالمحتار مکروہات الوضو ء مصطفی البابی مصر ۱ / ۹۸
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۵
ردالمحتار فصل الشرب مصطفی البابی مصر ۲ / ۱۸۶
#12649 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
اونزح ماء بئر رجل بغیر اذنہ حتی یبست لاشیئ علیہ لان صاحب البئر غیر مالك للماء ۔
اگر کسی شخص کے کنویں کا پانی اس کی اجازت کے بغیر نکالا اور اتنا نکالا کہ وہ کنواں خشك ہوگیا تو اس شخص پر کوئی ضمان نہیں کیونکہ وہ شخص پانی کا مالك نہیں۔ (ت)
اسی میں ذخیرہ سے ہے :
الماء قبل الاحراز بالاوانی لایملك فقد اتلف مالیس بمملکوك لغیرہ ۔
پانی کو جب تك برتنوں میں نہ بھر لیا جائے ملك ثابت نہیں ہوتی ہے تو اس نے وہ چیز تلف کی ہے جو غیر کیمملوك نہیں۔ (ت)
اسی میں درمختار سے ہے :
الماء تحت الارض لایملك ۔
زمین کے نیچے جو پانی ہے اس پر کسی کی ملك نہیں۔ (ت)
اسی طرح کتب کثیرہ میں ہے :
اقول : والعبرۃ للمنقول وان بحث البحر تبعا للفتح لزوم کون ماء البئر مملوکا للحافر بناء علی احد قولین فی الکلاء۔
اقول : وقد کان یخالج صدری نظر الی ان من نصب(۱) شبکۃ لیتعلق بھا صید ملکہ لا لونصبھا للجفاف تنویروغیرہ وان من وضع اناء لجمع ماء المطر ملکہ اما اذالم یضع٭ لذلك واجتمع٭فالماءلمن رفع خیریۃ وغیرھا
میں کہتا ہوں اعتبار منقول کو ہے اگرچہ بحر نے اس پر فتح کی متابعت میں بحث کی ہے اور فرمایا ہے کہ جس نے کنواں کھودا ہے پانی بھی اسی کی ملکیت میں ہے اس بناء پر کہ گھاس میں بھی ایك قول یہی ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں میرے دل میں یہ خلجان تھا کہ جس شخص نے جال لگایا کہ اس میں کوئی شکار پھنس جائے تو شکار اسی کی ملکیت ہوگا بشرطیکہ اس نے جال خشك کرنے کیلئے نہ لگایا ہو تنویر وغیرہ۔ اور اگر کسی شخص نے برتن رکھا کہ اس میں بارش کا پانی جمع ہوجائے پھر پانی جمع ہوا تو وہ اسی کی ملك ہے
حوالہ / References فتاوٰی خیریہ مسائل الشرب بیروت ۲ / ۱۸۶
ردالمحتار فصل الشرب مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۱۷
ردالمحتار کتاب احیاء الموات مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۰۸
#12650 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
وظھر الجواب بحمدہ تعالی ان ملک(۱) المباح بالاستیلاء والاستیلاء بالاحراز وقدتم فی الشبکۃ والانء بخلاف البئر ففی ش عن جامع الرموز ملاء الدلو من البئر ولم یبعدہ من رأسھا لم یملکہ عندالشیخین اذ الاحراز جعل الشیئ فی موضع حصین اھ۔ اماما بحثہ الفتح فقد اجاب عنہ فی النھر فراجع ش من البیع الفاسد مسألۃ بیع المراعی۔
اقول : (۲) ویؤیدہ مافی الھندیۃ عن المبسوط ماانبتہ صاحب الارض (۳) بان سقی ارضہ وکربھا لینبت فیھا الحشیش لدوابہ فھو احق بذلك ولیس لاحدان ینتفع بشیئ منہ الابرضاہ لانہ کسبہ والکسب للمکتسب اھ فلا یقاس علیہ ماء البئر فانہ لیس من کسب حافرھا انما صنعہ فیہ رفع الحجاب کالفصاد۔
قال تعالی الم تر ان الله انزل من السمآء مآء-فسلكه ینابیع فی
جب برتن پانی جمع ہونے کیلئے نہ رکھا ہو اور پانی جمع ہوجائے تو وہ پانی اس کی ملکیت میں ہوگا جس میں اٹھایا خیریہ وغیرہ۔ اور یہ جواب معلوم ہوا کہ مباح چیز پر ملکیت استیلاء اور غلبہ سے ہوتی ہے اور استیلأ اس چیز کو قبضہ میں لے لینے سے ہوتی ہے اور یہ چیز جال اور برتن کی شکل میں تو پائی جاتی ہے لیکن کنویں کی صورت میں نہیں “ ش “ میں جامع الرموز سے منقول ہے کہ اگر کسی شخص نے کنویں سے ڈول بھرا لیکن اس کو کنویں کے منہ سے دور نہ کیا تو وہ اس کی ملك میں نہ ہوگا یہ شیخین کے نزدیك ہے کیونکہ احراز کسی چیز کو محفوظ جگہ رکھنے کو کہا جاتا ہے اھ اور جو بحث فتح میں ہے تو اس کا جواب نہر میں ہے اس سلسلہ میں بیع فاسد کا باب تحت مسئلہ چراگاہوں کے بیچنے 'ش' میں ملاحظہ کیجئے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس کی تائید ہندیہ کے اس حوالہ سے ہوتی ہے جو انہوں نے مبسوط سے نقل کیا ہے حوالہ یہ ہے کہ کسی شخص نے اپنی زمین میں جانوروں کو کھلانے کیلئے گھاس اگائی تو وہ اسی کی ہے اور کوئی شخص اس سے اس کی مرضی کے بغیر استفادہ نہیں کرسکتا ہے کیونکہ وہ اس کی کمائی ہے اور ہر شخص کی کمائی اسی کی ہوتی ہے اھ مگر اس پر کنویں کے پانی کو قیاس نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ پانی کنویں کے کھودنے والے کی کمائی نہیں ہے اس نے تو صرف اتنا کام کیا کہ پانی پر جو حجاب تھا وہ رفع کردیا
حوالہ / References ردالمحتارفصل الشرب مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۱۷
الفتاوٰی الہندیۃ الباب الاول من کتاب الشرب پشاور ۵ / ۳۹۲
#12651 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
الارض وتقریر الایۃ فی میاہ الدر والله تعالی اعلم۔
جیسے فصد کے عمل میں ہوتا ہے۔ فرمان الہی ہے : کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ ہی نے آسمان سے پانی نازل فرمایا تو اللہ تعالی نے اس کو چشموں میں جاری کردیا اس آیت کی تقریر در کے باب المیاہ میں ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
(۲۷)یونہی۱ کسی کا برتن صحن میں تھا مینہ برسا برتن بھر گیا پانی بھی اس کی ملك نہ ہوا اپنی اصل اباحت پر باقی ہے اگرچہ برتن اور مکان اس کی ملك ہے جو اس پانی کو لے لے وہی اس کا مالك ہوجائے گا اگرچہ برتن کا مالك منع کرتا ہے ہاں اس کے برتن کا استعمال بے اجازت جائز نہ ہوگا۔
(۲۸) اگر۲ اس نے برتن اسی نیت سے رکھا تھا کہ آب باراں اس میں جمع ہو تو اب وہ پانی اس کی ملك ہے دوسرے کو بے اس کی اجازت صحیحہ کے حرام ہے ہاں طہارت یوں بھی ہوجائے گی گناہ کے ساتھ فتاوی کبری پھر ہندیہ میں ہے :
وضع طستا علی سطح فاجتمع فیہ ماء المطر فجاء رجل ورفع ذلك فتنازعا ان وضع صاحب الطست الطست لذلك فھو لہ لانہ احرزہ وان لم یضعہ لذلك فھو للرافع لانہ مباح غیر محرز ۔
کسی شخص نے چھت پر پانی کا طشت رکھا تو اس میں بارش کا پانی جمع ہوگیا اب ایك شخص نے آخر وہ طشت اٹھالیا تو اگر طشت کے مالك نے یہ طشت اسی مقصد سے رکھا تھا تو وہ مالك کا ہی ہے اور اگر اس نے یوں ہی رکھ دیا تھا تو جس نے طشت اٹھایا پانی اسی کا ہوا کیونکہ احراز کا فعل اس کی طرف منسوب ہوگا۔ (ت)
اگر اس کے سوا اور پانی نہ ملے اور اسے وضو یا غسل کی حاجت ہے تو تمیم کرے اس سے طہارت نہیں کرسکتا۔
(۲۹) سبیل۳ جو پینے کیلئے لگائی گئی ہو اس کا بھی یہی حکم ہے کہ اس سے وضو غسل اگرچہ صحیح ہوجائیں گے جائز نہیں یہاں تك کہ اگر اس کے سوا اور پانی نہ ملے اور اسے وضو یا غسل کی حاجت ہے تو تمیم کرے اس سے طہارت نہیں کرسکتا۔
اقول : مگر جبکہ مالک۴ آب کی اجازت مطلقا یا اس شخص خاص کیلئے صراحۃ خواہ دلالۃ ثابت ہو صراحۃیہ کہ اس نے یہی کہہ کر سبیل لگائی ہو کہ جو چاہے پئے وضوء کرے نہائے اور اگر فقط پینے اور وضوء کے لئے کہا تو اس سے غسل روانہ ہوگا اور خاص اس شخص کیلئے یوں کہ سبیل تو پینے ہی کو لگائی مگر اسے اس سے وضوء یا غسل کی اجازت خود یا اس کے سوال پر دے دی اور دلالۃ یوں کہ لوگ اس سے وضوء کرتے ہیں اور وہ منع نہیں
حوالہ / References القرآن ۳۹ / ۲۱
فتاوٰی خیریۃ بالمعنی مسائل الشرب بیروت ۲ / ۱۸۶
#12652 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
نہیں کرتا یا سقایہ قدیم ہے اور ہمیشہ سے یوں ہی ہوتا چلا آیا ہے یا پانی اس درجہ کثیر ہے جس سے ظاہر ہے کہ صرف پینے کو نہیں مگر جبکہ ثابت ہوا کہ اگرچہ کثیر ہے صرف پینے ہی کی اجازت دی ہے فان الصریح یفوق الدلالۃ (کیونکہ صراحت کو دلالت پر فوقیت حاصل ہے۔ ت) اور شخص خاص کے لئے یوں کہ اس میں اور مالك آب میں کمال انبساط واتحاد ہے یہ اس کے ایسے مال میں جیسا چاہے تصرف کرے اسے ناگوار نہیں ہوتا۔
لان المعروف کالمشروط کما ھو معروف فی مسائل لاتحصی وفی الھندیۃ عن السراج الوھاج ان کان بینھما انبساط یباح والافلا ۔
کیونکہ معروف مشروط کی طرح ہے اور یہ چیز بے شمار مسائل میں ہے اور ہندیہ میں سراج الوہاج سے ہے کہ اگر ان دونوں کے درمیان بے تکلفی کا رشتہ ہو تو یہ مباح ہے ورنہ نہیں۔ (ت)
محیط وتجنیس ووالوالجیہ وخانیہ وبحر ودرمختار میں ہے :
واللفظ لہ الماء المسبل فی الفلاۃ لایمنع التیمم مالم یکن کثیرا فیعلم انہ للوضوء ایضا قال ویشرب ماللوضوء ۔
لفظ درمختار کے ہیں وہ پانی جو جنگل میں سبیل کے طور پر ہو مانع تیمم نہیں تاوقتیکہ کثیر نہ ہو اگر کثیر ہو تو معلوم ہوگا کہ یہ وضوء کے لئے بھی ہے۔ نیز فرمایا : جو پانی وضوء کیلئے ہے وہ پیا جائیگا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ المسبل ای الموضوع فی الحباب لابناء السبیل قولہ لایمنع التیمم لانہ لم یوضع للوضوء بل للشرب فلا یجوز الوضوء بہ وان صح قولہ مالم یکن کثیرا قال فی شرح المنیۃ الاولی الاعتبار بالعرف لابالکثرۃ الا اذا اشتبہ اھ کلام ش ۔ اقول : وانت(۱) تعلم ان ماذکر الفقیر
ان کا قول مسبل یعنی وہ پانی جو مٹکوں میں ہو مسافروں کیلئے ان کا قول “ لایمنع التیمم “ کیونکہ وہ وضوء کیلئے نہیں رکھا گیا ہے بلالکہ پینے کیلئے ہے تو اس سے وضو کرنا جائز نہیں اگرچہ صحیح ہے ان کا قول مالم یکن کثیرا شرح منیہ میں ہے بہتر یہ ہے کہ اعتبار عرف کا ہے نہ کہ کثرۃ کا مگر جب مشتبہ ہو اھ کلام ش۔ (ت) میں کہتا ہوں جو کچھ فقیر نے ذکر کیا ہے
حوالہ / References سراج الوہاج
الدرالمختار باب التمیم مجتبائی دہلی ۱ / ۴۵
ردالمحتار باب التمیم مصر ۱ / ۱۸۵
#12653 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
اجمع واشمل وانفع واکمل۔
وہ جامع مانع زیادہ مفید اور مکمل ہے۔ (ت)

تنبیہ : یہ جو شخص خاص کی اجازت صراحۃ خواہ دلالۃ ہم نے ذکر کی اس حالت میں ہے کہ پانی وقت اجازت بھی اجازت دہندہ کی ملك ہو اور اگر وقف۱ کا پانی ہے تو اس میں نہ کسی کو تغیر کا اختیار نہ کسی کی اجازت کا اعتبار
فی البحر ثم الدر من الوضوء مکروھہ الاسراف فیہ لوبماء النھر والمملوك لہ اما الموقوف علی من یتطھر بہ ومنہ (۲) ماء المدارس فحرام اھ وفی ش عن الحلیۃ لانہ انما یوقف ویساق لمن یتوضوء الوضوء الشرعی ولم یقصد اباحتھا لغیر ذلك اھ وفی ط تحت عبارۃ الدر السابقۃ قولہ المسبل ای الموقوف الذی یوضع علی السبل قولہ مالم یکن کثیرا محل ذلك عنہ عدم التیقن بانہ للمشرب اما اذا تیقن انہ للشرب فیحرم الوضوء لان شرط الواقف کنص الشارع قولہ (۳) وشرب ماللوضوء ظاھرہ وان لم یکن للضرورۃ وفیہ انہ لایلزم مخالفۃ شرط الواقف اھ واشار'ش' الی الجواب عن ھذا بقولہ کأن الفرق ان الشرب اھم لانہ لاحیاء النفوس بخلاف الوضوء لان لہ بدلا فیاذن صاحبہ بالشرب منہ عادۃ اھ
بحر اور در کے باب الوضوء میں ہے وضوء میں پانی کا اسراف مکروہ ہے خواہ نہر کا پانی ہو یا اپنا مملوك پانی ہو اور جو پانی پاکی حاصل کرنے والوں کیلئے وقف ہوتا ہے جس میں مدارس کا پانی بھی شامل ہے اس کا اسراف عام ہے اھ اور 'ش' میں حلیہ سے منقول ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پانی انہی لوگوں کیلئے وقف ہے جو شرعی وضوء کرنا چاہتے ہیں اور دوسروں کیلئے مباح نہیں ہے اھ اور 'ط' میں در کی سابقہ عبارت کے تحت فرمایا 'مسبل' وہ پانی جو راستوں میں وقف رکھا جاتا ہے اور اس کے قول مالکم یکن کثیرا اس کے مفہوم یہ ہے کہ جب یہ یقین نہ ہو کہ یہ پینے کیلئے ہے اگر یہ یقین ہو کہ یہ پینے کیلئے ہے تو اس سے وضو حرام ہے کیونکہ شرط واقف نص شارع کی طرح ہوتی ہے۔ اور ان کا قول “ شرب ماللوضوء “ کا بظاہر یہ مفہوم ہے کہ اگرچہ وہ پانی ضرورت کیلئے نہ ہو اور اس میں یہ قباحت ہے کہ اس میں شرط واقف کی مخالفت ہے اھ اور 'ش' نے اس کے جواب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ فرمایا غالبااس میں
حوالہ / References الدرالمختار مکروہات الوضوء مجتبائی دہلی ۱ / ۲۴
ردالمحتار مکروہات الوضوء مصطفی ا لبابی مصر ۱ / ۹۸
طحطاوی علی الدر باب التمیم بیروت ۱ / ۱۲۳
ردالمحتار باب التمیم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۵
#12654 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
فرق یہ ہے کہ پانی کا پینا اہم ہے کیونکہ اس میں زندگی بچانا ہے جبکہ وضوء میں یہ چیز نہیں کیونکہ وضو کا متبادل ہوتا ہے اس لئے مالك عام طور پر پینے کی اجازت دے دیتا ہے اھ (ت)
اقول : ای یکون ذلك منویا عند الوقف بحکم العادۃ فلا یلزم خلاف الشرط ولیس المراد حدوث الاذن الان کما یوھمہ تعبیر یاذن فان الوقف اذا تم خرج عن ملکہ فلا یعمل فیہ اذنہ کما ھو ظاھر (۱) لکن ھھنا تحقیق شریف للعبد الضعیف فی بحث صحۃ وقف الماء لابد من التنبہ لہ قال فی التنویر والدر (و) (۲) صح وقف کل (منقول) قصدا (فیہ تعامل) للناس (کفأس وقدوم) بل (ودراھم(۳) ودنانیر) ومکیل وموزون فیباع ویدفع ثمنہ مضاربۃ اوبضاعۃ فعلی ھذ (۴) لووقف کرا علی شرط ان یقرضہ لمن لابذر لہ لیزرعہ لنفسہ فاذا ادرك اخذ مقدارہ ثم اقرضہ لغیرہ وھکذا جاز خلاصۃ (۵) وفیھا وقف بقرۃ علی ان ماخرج من لبنھا اوسمنھا للفقراء ان اعتادوا ذلك رجوت ان یجوز (۶) (وقدر وجنازۃ) وثیابھا ومصحف وکتب لان التعامل یترك بہ القیاس اھ
قال ش قال الرملی لکن فی الحاقھا بمنقول فیہ تعامل نظر
میں کہتا ہوں یعنی یہ چیز عادۃ وقف کے وقت واقف کی نیت میں ہوتی ہے تو ایسی صورت میں شرط واقف کی خلاف ورزی لازم نہ آئے گی یہ مراد نہیں کہ اب اجازت دی ہے جیسا کہ “ یاذن “ کے لفظوں سے ظاہر ہے کیونکہ وقف جب مکمل ہوجاتا ہے تو ملك واقف سے نکل جاتا ہے تو اس کی اجازت کا کوئی اثر نہ ہوگا جیسا کہ ظاہر ہے میں نے پانی کے وقف کے سلسلہ میں ایك تحقیق کی ہے اس کا جاننا ضروری ہے تنویر اور در میں فرمایا (اور) صحیح ہے وقف ہر (منقول کا) قصدا جس میں لوگوں کا تعامل ہو (جیسے پھاؤڑا اور کلھاڑی) بلالکہ (دراہم ودنانیر کا) اور ناپ تول والی چیز کا تو اس کو بیچا جائے گا اور اس کی قیمت بطور مضاربت دی جائے گی یا بطور سامان۔ اس بنا پر اگر کسی شخص نے ایك بوری غلہ اس شرط پر وقف کیا کہ یہ ایك شخص کو قرض دیا جائے جو اپنے لئے کاشت کرتا ہو اور جب اس کی کھیتی پك جائے تو اس سے یہ مقدار واپس لے لی جائے اور کسی دوسرے کو قرض دے دیا جائے اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے تو یہ جائز ہے خلاصہ اسی کتاب میں ہے کہ اگر کسی شخص نے ایك گائے
حوالہ / References الدرالمختار باب الوقف مجتبائی دہلی ۱ / ۳۸۰
#12655 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
اذھی مما لانتفع بھا مع بقاء عینھا وما استدل بہ فی المنح فی مسألۃ البقرۃ ممنوع بما قلنا اذینتفع بلبنھا وسمنھا مع بقاء عینھا اھ قلت ان الدراھم لاتتعین بالتعیین فھی وانکانت لاینتفع بھا مع بقاء عینھا لکن بدلھا قائم مقامھا لعدم تعینھا فکأنھا باقیۃ ثم قال عن الفتح عن الخلاصۃ عن الانصاری وکان من اصحاب زفر فیمن وقف الدراھم اوما یکال اویوزن ایجوز قال نعم قیل وکیف قال یدفع
الدراھم مضاربۃ ثم یتصدق بھا فی الوجہ الذی وقف اھ ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ ۔
اقول : ھذا التعلیل من العلامۃ الرملی لمنع وقف الدراھم وجواب المحشی بانھا لاتتعین فکانھا باقیۃ ببقاء بدلھا وما ذکر الامام الانصاری وتبعہ فی الخلاصۃ والفتح والدر وکثیر من الاسفار الغر من طریق الابقاء فی الدراھم والمکیل والموزون ومامر (ای فی ردالمحتار) من ان التأبید معنی شرط صحۃ الوقف بالاتفاق علی الصحیح وقد نص علیہ محققو المشایخ کل ذلك یقضی بان الماء المسبل لایکون وقفا لعدم امکان
اس شرط پر وقف کی کہ اس کا دودھ اور گھی فقراء کے استعمال میں لایا جائے تو اگر یہ چیز ان کی عرف میں ہے تو امید ہے کہ جائز ہے (اور دیگ اور جنازہ کی چارپائی) اور جنازہ کی چادریں اور مصحف اور کتابیں کیونکہ تعامل کے مقابلالہ میں قیاس کو ترك کر دیا جاتا ہے اھ
“ ش “ نے کہا کہ رملی نے فرمایا اس کو منقول سے ملانے میں جس میں تعامل ہو اعتراض ہے کہ اس کے عین کے باقی رہتے ہوئے اس سے انتفاع نہیں ہوتا ہے اور گائے کا مسئلہ جس سے منح میں استدلال کیا ہے ناقابل تسلیم ہے کیونکہ اس کے دودھ اور گھی سے گائے کو باقی رکھتے ہوئے نفع حاصل کیا جاتا ہے اھ میں کہتا ہوں دراہم متعین کردینے سے متعین نہیں ہوتے ہیں تو ان کو باقی رکھتے ہوئے اگرچہ ان سے نفع حاصل کرنا ممکن نہیں لیکن ان کا بدل ان کے قائم مقام ہے کیونکہ یہ خود متعین نہیں تو گویا کہ یہ باقی ہیں۔ پھر فتح سے خلاصہ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ انصاری جو اصحاب زفر سے تھے ان سے پوچھا گیا کہ اگر کسی شخص نے دراہم یا کیلی یا وزنی چیز وقف کی تو کیا جائز ہے تو انہوں نے فرمایا : ہاں۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ اس کی شکل کیا ہوگی تو انہوں نے فرمایا دراہم مضاربت پر کسی کو دے دے پھر ان کو اس مقصد پر خرچ کرتا رہے جس کیلئے ان کو صدقہ کیا گیا تھا اھ میں نے ان کی بیان کردہ نص
حوالہ / References ردالمحتار باب الوقف مصطفی البابی مصر ۳ / ۴۱۰
#12656 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
الانتفاع بہ الا باستھلاکہ فیکون من باب الاباحۃ دون الوقف نعم (۱) السقایۃ بناء تعورف وقفہ کالقنطرۃ فیصح ولا یقال ان فے السقایۃ الموقوفۃ یصیر الماء وقفا (۲) تبعا للسقایۃ وھو جائز وفاقا کما تقدم فے الشرح وذلك لان الماء ھو (۳) المقصود بالسقایۃ وھی تبع فلا یعکس الامر ولای شی تجعل السقایۃ وقفا مقصودا فیتبعہ الماء علا انہ ان تبع تبع مافیھا دون الابدال المتعاورۃ ولیس الماء مما لایتعین حتی یجعل بقاء الابدال بقاء ہ مع (۴) ان لی نظرا فے ھذا العذر فقد افاد ش فی فصل فی التصرف فی المبیع والثمن ان عدم تعین النقد لیس علی اطلاقہ بل ذلك فی المعا وضات الخ وذکر تفصیلا وقع فیہ خلط وخبط من الناسخین نبھت علیہ فیما علقت علیہ وقال (۵)قبلہ فی البیع الفاسد الدراھم والدنانیر تتعین فی الامانات والھبۃ والصدقۃ والشرکۃ والمضاربۃ والغضب اھ فالوقف اشبہ شیئ بالصدقۃ بل ھو منھا عند الامام ویظھرلے والله تعالی اعلم ان النقدین والتجارات نامیات
پر لکھا ہے
اقول : عدم تسلیم کی یہ علت جو رملی نے بیان کی ہے دراہم کے وقف کے ممنوع ہونے کی بابت ہے اور محشی کا یہ جواب دینا کہ دراہم متعین نہیں ہوتے تو اپنے بدل کے باقی رہنے کی وجہ سے باقی رہیں گے اور جو امام انصاری نے ذکر کیا اور خلاصہ اور فتح اور در اور بہت سی کتب میں اس کی متابعت کی گئی ہے کہ کس طرح دراہم اور مکیل وموزون باقی رہتے ہیں اور جو گزرا (یعنی درمختار میں) یعنی صحت وقف کے شرائط میں سے اس کا ہمیشہ کیلئے ہونا ہے یہی صحیح ہے اور اس پر اتفاق ہے اور محققین مشائخ نے اس پر نص کیا ہے اور اس تمام بحث کا تقاضا یہی ہے کہ سبیل کا پانی وقف نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس کو ختم کئے بغیر اس سے نفع حاصل کرنا ممکن نہیں تو یہ اباحت قرار پائے گا نہ کہ وقف ہاں سقایہ جو عمارت ہوتی ہے اس کا وقف کرنا متعارف ہوگیا ہے جیسا کہ پل ہوتا ہے تو یہ صحیح ہے اور یہ نہیں کہا جائے گا کہ جب سقایہ وقف ہوا تو پانی بھی اس کی متابعت میں وقف ہوگیا اور اس پر اتفاق ہے جیسا کہ شرح میں گزرا کیونکہ سقایہ میں مقصود تو پانی ہی ہے اور سقایہ تو تابع ہے تو معاملہ برعکس نہیں کیا جائے گا اور پھر سقایہ کیونکر وقف مقصود ہوسکتا ہے تاکہ پانی اس کا تابع ہو
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی التصرف فی البیع البابی مصر ۴ / ۱۸۵
ردالمحتار فصل فی التصرف فی البیع البابی مصر ۴ / ۱۸۵
#12657 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
شرعا وحسا فبقاؤھا بنماء ھا اذھی الاصل المتولد منہ فتشبہ مالیتھا شجرۃ تبقی فتؤتی اکلھا کل حین باذن ربھا وکیفما کان لایقاس علیھا الماء وقد عللوا مااذا ملأ صبی کوزا من حوض ثم صبہ فیہ لایحل لاحد شربہ بان الصبی ملك مااخذہ من ماء الحوض المباح فاذاصبہ فیہ اختلط ملکہ بہ فامتنع استعمالہ کما فی الحدیقۃ الندیۃ اخر نوع العشرین من افات اللسان وغمز العیون من احکام الصبیان والطحطاوی من فصل فی الشرب وفی ھذا الکتاب اعنی ش من الفصل المذکور عن ط عن الحموی عن الدرایۃ عن الذخیرۃ والمنیۃ وقد جعلوا ماء الحوض مباحا ولو کان وقفا لم یملکہ الصبی باخذہ فی کوزہ فان (۱) الوقف لایملك وقد عرفہ شمس الائمۃ السرخسی بانہ حبس المملوك عن التملیك عن الغیر اھ کما فی ش بخلاف غلۃ ضیعۃ موقوفۃ علی الذراری فانھم یملکونھا عند ظھورھا فمن مات منھم بعدہ یورث عنہ قسطہ کما یاتی فی الکتاب فان الوقف ھی الضعیفۃ وھذہ نماؤھا۔
علاوہ ازیں یہ کہ اگر پانی تابع ہو بھی تو اسی قدر تابع ہوگا جو سقایہ میں موجود ہے نہ کہ اس کے بدل جو بار بار لوٹ کر آرہے ہیں اس کے تابع ہوں اور پانی ایسی چیز نہیں جو متعین نہ ہوتا کہ بدل کے باقی رہنے کو اس کی بقاء قرار دیا جائے۔ مجھے اس عذر پر اعتراض ہے “ ش “ نے “ تصرف فی المبیع والثمن “ کی بحث میں فرمایا کہ نقود کا غیر متعین ہونا مطلق نہیں یہ صرف معاوضات میں ہے الخ پھر انہوں نے اس میں ایك تفصیل ذکر کی جس میں ناقلین سے کچھ خلط مبحث ہوگیا میں نے اس پر جو تعلیقات کی ہیں ان میں اس پر تنبیہ کی ہے اور اس سے قبل باب 'بیع فاسد' میں فرمایا : اوردراہم ودنانیر امانات ہبہ صدقہ شرکۃ مضاربۃ اور غصب میں متعین ہوجاتے ہیں اھ۔ وقف صدقہ سے بہت مشا بہ چیز ہے بلکہ امام کے نزدیك صدقہ ہی ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں (والله تعالی اعلم)
کہ سونا چاندی اور تجارتی معاملات شرعا اور حسانا نامی چیزیں ہیں تو ان کی بقاء ان کی نماز کے باعث ہوگی کیوں کہ ان سے جو چیز متولد ہوتی ہے وہ یہی ہے تو ان کی مالیت اس درخت کی طرح ہوگی جو باقی رہتا ہےاور موسم پر اس کا پھل آتا رہتا ہے اور جو بھی صورت ہو بہرحال اس پر پانی کو قیاس نہیں کرسکتے ہیں۔ اگر کسی بچے نے ایك حوض سے پانی کا ایك کوزہ بھرا
حوالہ / References الحدیقۃ الندیۃ النوع العشرین من آفات اللسان رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۶۹
ردالمحتار کتاب الوقف البابی مصر ۳ / ۳۹۲
#12658 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
پھر اس کو اس میں انڈیل دیا تو اب اس حوض کا پانی کسی کو پینا جائز نہیں اور اس کی علت فقہاء نے یہ بیان کی ہے کہ بچے نے مباح حوض سے جو پانی لیا وہ پانی اس کی ملکیت میں آگیا اور پھر اس پانی کو جب اسی حوض میں ڈال دیا تو اس کی ملك اس کے ساتھ مخلوط ہوگئی تو اب اس کا استعمال ممنوع ہوگیا حدیقہ ندیہ آفات اللسان بیسویں نوع کا آخر۔ غمز العیون بچوں کے احکام۔ طحطاوی فصل شرب۔ اور 'ش' میں مذکور فصل میں 'ط' سے 'حموی' سے 'درایہ' سے 'ذخیرہ سے' اور منیہ سے ہے کہ فقہاء نے حوض کے پانی کو مباح قرار دیا ہے اگر یہ پانی وقف ہوتا تو بچہ اس کو کوزہ میں لینے سے اس کا مالك نہ ہوجاتا کیونکہ وقف پر ملکیت ثابت نہیں ہوتی ہے۔ شمس الائمہ سرخسی نے وقف کی تعریف اس طرح کی ہے کہ یہ مملوك کو تملیك سے روکنا ہے یعنی غیر اس کا مالك نہیں ہوسکتا اھ جیسا کہ “ ش “ میں ہے یہ اس کے خلاف ہے کہ کوئی شخص ذریت پر کسی زمین کی آمدنی وقف کردے کیونکہ جب یہ آمدنی ظاہر ہوگی تو ذریت اس کی مالك ہوجائے گی ذریت میں سے جو اس کے بعد وفات پائے گا اس کی میراث جاری ہوگی جیسا کہ کتاب میں آئے گا کیونکہ وقف تو زمین ہے اور یہ اس کا “ نماء “ ہے۔ (ت)
فان قلت : الیس قد تقدم فی وضؤ الکتاب مانصہ مکروھہ الاسراف فیہ الی آخر مامر نقلہ اقول : وبالله التوفیق (۱) المراد بہ الماء المسبل بمال الوقف کماء المدارس والمساجد والسقایات التی تملؤ من اوقافھا فان ھذا الماء لایملکہ احد ولا یجوز صرفہ الا الی جھۃ عینھا الواقف وھذا ھو حکم الوقف اما(۲) الماء الذی یسلبہ المرء من ملکہ فلا یصیر وقفا سواء کان فی الحباب اوالجرار اوالحیاض اوالکسقایات انما غایتہ الاباحۃ یتصرف فیھا الناس وھو علی ملکہ فلا تتأتی فیہ مسألۃ کوزا لصبی المذکورۃ ھذاماظھرلی وارجوان یکون ھو الصواب٭ باذن الملك الوھاب٭ ولہ الحمد وعلی حبیبہ الکریم والال والاصحاب صلاۃ
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کتاب کے وضو کی بحث میں گزرا ہے اس وضوء کے مکروہات میں اسراف ہے الی آخر مانقلہ میں کہتا ہوں اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد سبیل کا پانی ہے جو وقف ہو جیسا کہ مدارس مساجد سقایات کا پانی جو ان کے اوقاف کی آمدنی سے بھرا جاتا ہے کیونکہ اس پانی کا کوئی مالك نہیں اور اس کو فقط اسی جہت میں صرف کیا جاسکتا ہے جو اس کے واقف نے اس کیلئے متعین کی ہے اور یہی وقف کا حکم ہے۔ اور اگر کوئی شخص اپنی ملك سے پانی کی سبیل لگائے تو وہ وقف نہ ہوگی خواہ وہ مٹکوں میں ہویا چھوٹے گھڑوں میں یا حوضوں اور سقایوں میں کیونکہ اس سے تو صرف اتنا مقصود ہے کہ پانی مالك کی ملك میں رہتے ہوئے لوگوں کیلئے مباح کردیا جائے تو اس میں بچے کے کوزہ کا مذکورہ مسئلہ نہیں چلے گا مجھ پر یہی ظاہر ہوا ہے اور مجھے امید ہے کہ یہی
#12659 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
وسلام یدومان بلاعدد ولاحساب امین۔
صحیح ہوگا.... (ت)
(۳۰) اقول : یوں ہی مسجد کے سقائے۱ یا حوض جواہل جماعت مسجد کی طہارت کو بھرے جاتے ہیں اگر مال وقف سے بھرے گئے ہوں تو مطلقا جب تك ابتدا سے واقف کی اجازت ثابت نہ ہو اور کسی نے اپنی ملك سے بھروائے ہوں تو بے اس کی اجازت قدیم خواہ جدید کے گھروں میں ان کا پانی اگرچہ طہارت ہی کیلئے لیجانا روا نہیں طہارت ہوجائیگی مگر گناہ ہوگا اجازت واقف ومالك کی وہی تفصیل ہے جو آب سبیل میں گزری والدلیل الدلیل (اور دلیل بھی وہی ہے جو پہلے گزر چکی ہے) جاڑوں۲ میں کہ سقائے گرم کئے جاتے ہیں بعض لوگ گھروں میں پانی لے جاتے ہیں اس میں بہت احتیاط چاہئے کہ غالبا بے صورت جواز واقع ہوتا ہے۔
اماما فی الخانیۃ ثم الھندیۃ من کتاب الشرب یجوز ان یحمل ماء السقایۃ الی بیتہ لیشرب اھلہ اھ۔ فھو فی المعد للشرب بدلیل اخرہ وصدرہ اختلفوا فی التوضی بماء السقایۃ جوز بعضھم وقال بعضھم ان کان الماء کثیرا یجوز والا فلا وکذا کل ماء اعد للشرب حتی قالوا فی الحیاض التی اعد للشرب لایجوز فیہ التوضی ویمنع منہ وھو الصحیح ویجوز ان یحمل الخ بناء علی ان الذی (۳) یعد للشرب لایمنع منہ مخدرات الحجال وبالجملۃ لاشك ان المبنی العرف فان (۴) علمنا ان المسبل للشرب خص بہ الواردین ولا یرضی بحملہ الی البیوت لم یجز ذلك قطعا بل لوعلم خصوص فی المارۃ لم یجز لغیرھم من الواردین کما یفعلہ بعض الجھلۃ فی عشرۃ المحرم بسبل
پھر خانیہ اور ہندیہ کے کتاب الشرب میں ہے کہ اگر کوئی شخص سقایہ کا پانی اپنے گھر بیوی بچوں کو پلانے کیلئے لے جائے تو جائز ہے اھ تو اس سے مراد وہ پانی ہے جو خاص پینے ہی کیلئے رکھا گیا ہو عبارت کا اول وآخر یہی بتاتا ہے۔ اس میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ “ سقایہ “ کے پانی سے وضوء جائز ہے یا نہیں بعض نے جواز کا قول کیا اور بعض نے کہا کہ اگر پانی زائد ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں۔ اور یہی حکم ہر اس پانی کیلئے ہے جو پینے کیلئے رکھا گیا ہو یہاں تك فقہاء نے اس حوض کی بابت بھی یہی فرمایا ہے جو پینے کیلئے بنایا گیا ہو کر اس میں وضوء جائز نہیں اور اگر کوئی کرے تو اس کو منع کیا جائیگا اور یہی صحیح ہے۔ اور یہ جائز ہے کہ وہ پانی گھر لے جائے الخ اس کی بنیاد یہ ہے کہ جو پانی پینے کیلئے رکھا جائے اس سے پردہ نشینوں کو محروم نہ رکھا جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ اصل دارومدار عرف پر ہے۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ سبیل کا پانی پینے کیلئے ہے اور وہی لوگ اس سے
حوالہ / References ہندیۃ الباب الاول من کتاب الشرب پشاور ۵ / ۳۹۱
#12660 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
الماء والشربۃ لمن مع الضریح المختلق بدعۃ محدثۃ یسموھا تعزیۃ فلا یجوز شربہ لغیرھم وان جعلوہ لمن مع الضریح الفلانی لم یجز لاھل ضریح وغیرہ والله تعالی اعلم لاجرم ان قال فی متفرقات کراھیۃ البزازیۃ حمل ماء السقایۃ الی اھلہ ان مادونا للحمل یجوز والالا اھ۔ وھذا عین ماقررت ولله الحمد۔
استفادہ کرسکیں گے جو اس پر وارد ہوں تو ایسے پانی کو گھر نہیں لے جایا جاسکتا ہے بلالکہ اگر بطور خاص گزرنے والوں کیلئے ہے تو دوسرے وارد ہونے والوں کو اس کا استعمال جائز نہ ہوگا چنانچہ بعض جاہل محرم کے عشرہ میں پانی یا دودھ کی سبیل تعزیہ کے ساتھ گزرنے والوں کے لئے بطور خاص لگاتے ہیں یہ بدعث محدثہ ہے اس کا استعمال دوسروں کو جائز نہیں بلالکہ اگر ایك تعزیہ کے لئے جائز ہے تودوسرے تعزیہ کے شرکاء کو اس کا استعمال جائز نہیں واللہ تعالی اعلم۔ بزازیہ میں ہے (متفرقات کراہیۃ میں) (ت) سقایہ کا پانی گھر والوں کیلئے لے جانا اگر اس کی اجازت ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں اھ اور یہ بعینہ وہی ہے جو میں نے کہا ہے وللہ الحمد (ت)
(۳۱) سفر میں۱ طہارت کو پانی پاس ہے مگر اس سے طہارت کرتا ہے تو اب یا بعد کو یہ یا اور کوئی مسلمان یا اس جانور اگرچہ وہ کتا جس کا پالنا جائز ہے پیاسا رہ جائے گا یا آٹا گوندھنے یا اتنی نجاست پاك کرنے کو جس سے مانع نماز نہ رہے پانی نہ ملے گا تو ان صورتوں میں اس پانی سے طہارت اگرچہ ہوجائے گی منع ہے بلکہ اپنے یا دوسرے مسلمان کے ہلاك کا خوف غالب ہو تو سخت حرام ہے ان سب صور میں تیمم کرے اور پانی محفوظ رکھے ہاں۲ جانوروں کی پیاس کیلئے اگر وضو یا غسل کا پانی کس برتن میں رکھ سکتا ہے تو طہارت فرض ہے اور تیمم باطل۔
اقول : یوں۳ ہی اگر طہارت اس طرح ممکن ہو کہ پانی مستعمل نہ ہونے پائے جس کا طریقہ پرنالے وغیرہ میں وضو کرنے کا ہم نے رحب الساحہ میں بیان کیا تو اعذار مذکورہ سے کوئی عذر مبیح تیمم نہ ہوگا اور طہارت فرض ہوگی کمالا یخفی۔ بحرالرائق ودرمختار میں ہے :
والنظم للدر (من عجز عن استعمال الماء لخوف عدو اوعطش) ولو لکلبہ اورفیق القافلۃ حالا اومالا وکذا لعجین اوازالۃ نجس وقید ابن الکمال عطش
عبارت درکی ہے (جو شخص بوجہ خوف دشمن یا پیاس پانی کے استعمال سے عاجز ہو) خواہ اپنے کتے یا رفیق قافلہ کیلئے اب یا آیندہ اور اسی طرح آتا گوندھنے کیلئے یا نجاست دور کرنے کیلئے اور
حوالہ / References بزازیۃ الہندیۃ التاسع فی المتفرقات من الکراہیۃ پشاور ۶ / ۳۷۲
#12661 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
دوابہ بتعذر حفظ الغسالۃ لعدم الاناء (تیمم )۔
ابن الکمال نے یہ قید لگائی کہ اس کے جانور پیاسے رہ جائیں گے کہ برتن نہ ہونے کی وجہ سے وہ دھوون کو محفوظ نہیں رکھ سکتا ہے (تو ایسی صورتوں میں وہ تیمم کرے)۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ ولو لکلبہ قیدہ فی البحر والنھر بکلب الماشیۃ والصید ومفادہ انہ لولم کذلك لایعطی ھذا الحکم والظاھر ان کلب الحراسۃ للمنزل مثلھما ط قولہ اورفیق القافلۃ سواء کان رفیقہ المخالط لہ اواخر من اھل القافلۃ بحرو عطش دابۃ رفیقہ کعطش دابتہ نوح قولہ حالا اومالا ظرف لعطش اولہ ولرفیق علی التنازع کما قال ح ای الرفیق فی الحال اومن سیحدث لہ قال سیدی عبدالغنی فمن عندہ ماء کثیر فی طریق الحاج اوغیرہ وفی الرکب من یحتاج الیہ من الفقراء یجوز لہ التیمم بل ربما یقال اذا تحقق احتیاجھم یجب بذلہ الیہم لاحیاء مھجھم قولہ وکذا لعجین فلو احتاج الیہ لاتخاذ المرقۃ لایتمم لان حاجۃ الطبخ دون حاجۃ العطش بحر قولہ اوازالۃ نجس ای اکثر من قدرا لدرھم وفی الفیض لومعہ مایغسل بعض النجاسۃ
اس کا قول اور اگرچہ اپنے کتے کیلئے اس کتے کو بحر ونہر میں اس کتے سے مقید کیا گیا ہے جو مویشی کی حفاظت یا شکار کیلئے رکھا گیا ہو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ایسا نہ ہو تو اس کا یہ حکم نہ ہوگا اور ظاہر یہ ہے کہ گھر کی حفاظت کیلئے جو کتا پالا جائے اس کا بھی یہی حکم ہے ط اس کا قول یا رفیق قافلہ کیلئے عام ازیں کہ وہ اس کا اپنا شریك رفیق ہو یا دوسرا ہو اہل قافلہ سے (بحر) اور اس کے ساتھی کی سواری کے پیاسا رہ جانے کا خطرہ ایسا ہی ہے جیسا کہ خوداس کی اپنی سواری کے پیاسا رہ جانے کاخطرہ ہے (نوح) اس کا قول حالا او مالا عطش کا ظرف ہے یا اس کا اور رفیق کا برسبیل تنازع ہے جیسا کہ “ ح “ نے فرمایا یعنی رفیق فی الحال یامن سیحدث لہ عبدالغنی نے فرمایا جس کے پاس حاجیوں وغیرہ کے راستے میں زائد پانی ہو اور قافلہ میں کوئی فقیر پانی کا ضرورت مند ہو تو اس کو تیمم جائز ہے بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر اس پانی کی ضرورت واقعی اہل قافلہ کو ہو تو ان کی زندگیاں
حوالہ / References الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱ / ۴۱
#12662 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
لایلزمہ اھ۔ قلت : وینبغی تقییدہ بما اذالم تبلغ اقل من قدرالدرھم فاذا کان فی طرفی ثوبہ نجاسۃ وکان اذاغسل احد الطرفین بقی مافی الطرف الاخر اقل من قدر الدرھم یلزمہ اھ
اقول : ھھنا ابحاث الاول کلب حراسۃ المنزل مساو لکلب الماشیۃ بل اولی ولکلب الصیدان کان الحاجۃ الیہ للاکل فان المال شقیق النفس والافاولی وعلی کل ھو ثابت منھما بالفحوی فلیس (۱) ھذا محل الاستظھار ولذا عبرت بکلب یحل اقتناؤہ وفی الحدیث الصحیح الا کلب صید اوزرع اوماشیۃ الثانی قید (۲) رفیق القافلۃ وفاقی فربما تسایر قافلتان اواکثر ولا یعد من فی احدھما رفیق من فی الاخری والحکم لایختص بمن فی قافلتہ فان احیاء مھجۃ المسلم فریضۃ علی الاطلاق فلذا غیرتہ وبمسلم عبرتہ۔
بچانے کیلئے پانی صرف کرنا واجب ہے قولہ وکذا العجین تو اگر کسی کو شوربہ بنانے کیلئے پانی کی ضرورت ہو تو تیمم جائز نہ ہوگا کیونکہ کھانا پکانے میں جو ضرورت ہے وہ پیاس سے کم ہے بحر قولہ اوازالۃ نجس اس سے مراد نجاست ہے جو ایك درہم سے زاید ہو اور فیض میں ہے اگر اس شخص کے پاس اتنا پانی موجود ہو کہ کچھ نجاست کو دھو لے گا تو دھونا لازم نہیں اھ۔ میں کہتا ہوں اس میں یہ قید لگانی چاہئے کہ یہ نجاست درہم سے کم نہ ہو تو اگر اس کے کپڑے کے دونوں جانب نجاست ہو اور ایك طرف دھونے سے دوسری طرف باقی رہتی ہو مگر ایك درم سے کم رہتی ہے تو اس کا دھونا لازم ہے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں یہاں کئی بحثیں ہیں :
پہلی بحث : گھر کی حفاظت کیلئے جو کتا پالا گیا وہ ریوڑ کی حفاظت کے کتے کے برابر بلالکہ اس سے اولی ہے اسی طرح شکار کے کتے کی مانند ہے جبکہ شکار کھانے کی ضرورت ہو کیونکہ مال جان کا ہم پلہ ہے ورنہ تو وہ اولی ہے اور بہرصورت یہ چیز دونوں کے منطوق سے ثابت ہے اور یہ محل استظہار نہیں اور اس لئے میں نے کہا ہے وہ کتا جس کا پالنا جائز ہو اور حدیث صحیح میں ہے مگر شکار کھیتی یا جانوروں کا کتا۔
دوسری بحث : “ رفیق قافلہ “ کی قید اتفاقی ہے کیونکہ عام طور پر دو یا دو سے زیادہ قافلے چلتے ہیں اور ایك قافلے کا آدمی دوسرے کا رفیق شمار نہییں ہوتا اور یہ حکم اس کے ساتھ خاص نہیں جو اس کے قافلہ
حوالہ / References ردالمحتار باب التیمم البابی مصر ۱ / ۱۷۳
صحیح للمسلم باب الامر یقتل الکلاب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۲۱
#12663 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
اقول : (۱) ویدخل فی الحکم الذمی فیما یظھر فان لھم مالنا وعلیھم ماعلینا نعم الحربی لاحرمۃ لروحہ بل امرنا بافنائہ فکیف یلزمنا السعی فی ابقائہ ولذا صرحوا(۲) ان لووجد فی بریۃ کلبا وحربیا یموتان عطشا ومعہ ماء یکفی لاحدھما یسقی الکب ویخلی الحربی یموت ومن (۳) الحربیین کل رجل یدعی الاسلام وینکر شیاا من ضروریات الدین لان المرتد حربی کما نصوا علیہ وھم مرتدون کما حققناہ فی المقالۃ المسفرۃ۱۲۹۹ھعن حکم البدعۃ المکفرۃ۔
الثالث التیمم لعطش رفیق سیحدث یجب تقییدہ بما اذا تیقن لحوقہ وانہ لاماء معہ والا فلا یجوز التیمم للتوھم الرابع (۴) تحقق الاحتیاج بمعنی ثبوتہ عینا لایتوقف علیہ وجوب البذل الا تری الی قولھم لخوف عطش وبعمنی ثبوتہ ذھنا ان ارید بہ الیقین فکذا (۵) فان الظن الغالب ملتحق بہ فی الفقہ اومایشملہ فلا محل للترقی اذعلیہ یدورالحکم والظن المجرد مثل الوھم الخامس (۶) حاجۃ الطبخ لیست دون حاجۃ العطش اذالم یتأت الاکل
میں کہتا ہوں بظاہر اس میں ذمی بھی شامل ہے کیونکہ جو حقوق ہمارے لئے ہیں وہی ذمیوں کیلئے بھی ہیں اور جو فرائض ہم پر ہیں وہ ذمیوں پر بھی ہیں ہاں حربی کی جان کی کوئی حرمت نہیں ہے بلالکہ ہمیں اس کے فنا کردینے کا حکم ہے تو ہم پر اس کی زندگی بچانے کی سعی کیونکر لازم ہوگی اس لئے فقہاء نے یہ تصریح کی ہے کہ اگر کسی جنگل میں ایك کتا اور ایك حربی ملے اور دونوں پیاس سے مر رہے ہیں اور اس کے پاس صرف اتنا پانی ہو کہ ایك بچ سکتا ہو تو کتے کو پلا دے او رحربی کو مرنے کیلئے چھوڑ دے اور جو شخص ضروریات دین میں سے کسی کا انکار کرتا ہو وہ حربی ہے کیونکہ فقہاء کی تصریح کے مطابق مرتد حربی ہے اور یہ سب حربی ہیں ہم نے اس کی تصریح المقالۃ المسفرۃ عن حکم البدعۃ المکفرۃ میں کردی ہے۔
تیسری بحث : کسی دوست کی پیاس کیلئے تیمم کرنا جس کی ملاقات متوقع ہو اس میں یہ قید لگانا ضروری ہے کہ اس دوست کے قافلے کے ساتھ ملنا یقینی ہو اور اس کے پاس پانی نہ ہو ورنہ محض وہم کی بنیاد پر تیمم جائز نہیں۔
چوتھی بحث : ضرورت کا یہ مفہوم لینا کہ وہ وقت محسوس طور پر موجود ہو درست نہیں اور نہ ہی اس پر پانی کا خرچ کرنا موقوف ہے چنانچہ فقہاء کا قول ہے “ لخوف عطش “ اور اس کا ذہنا ثابت ہونا اگر اس سے یقین مراد ہو تو ایسا ہی ہے کیونکہ فقہ میں ظن غالب کا حکم وہی ہے جو یقین کا ہے یا جو یقین کو
#12664 · فتوی مسمّٰی بہ النور والنورق عــــــہ لاسفار الماء المطلق۱۳۳۴ھ (آب مطلق کا حکم روشن کرنے کیلئے نور اور رونق )
الا بالطبخ الاتری ان حاجۃ العجن ساوت حاجۃ العطش لان عامۃ الناس لایمکنھم التعیش باستفاف الدقیق فما العجن الا للخبز وما ھو الامن الطبخ فالاولی ان یقال ان حاجۃ المرقۃ دون حاجۃ العطش السادس (۱) قید الزیادۃ علی درھم مساحۃ اومثقال زنۃ فی النجاسۃ الغلیظۃ اما الخفیفۃ فمقدرۃ بالربع فلذا عبرت بالقدر المانع السابع مابحث السید ش فی تقلیل النجاسۃ حسن وجیہ فلذا عبرت بمالا یبقیھا مانعۃ۔ شامل ہو تو ترقی کا کوئی محل نہیں کیونکہ حکم کا دارومدار اسی پر ہے اور محض ظن تو وہم کے حکم میں ہے۔
پانچویں بحث : پکانے کی حاجت پیاس کی حاجت سے کم نہیں جبکہ وہ چیز بلا پکائے نہ کھائی جاسکتی ہو مثلا آٹا گوندھنا پیاس کے برابر ہے کیونکہ عام لوگ آٹا پھانك کر زندہ نہیں رہ سکتے ہیں تو آٹا گوندھنا روٹی پکانے کیلئے ہے اور یہ بھی پکانے کا ایك حصہ ہے تو اولی یہ ہے کہ کہا جائے کہ شوربہ کی ضرورت پیاس کی ضرورت سے کم ہے۔
چھٹی بحث : ایك درہم سے زیادہ ہونے کی قید پیمائش میں اور ایك مثقال سے زیادہ کی قید وزن میں نجاست غلیظہ میں ہے اور خفیفہ میں اس کی تقدیر چوتھائی سے ہے اسی لئے میں نے یہ تعبیر کی ہے کہ “ جس سے مانع نماز نہ رہے۔ “
ساتویں بحث : سید 'ش' نے نجاست کی کمی میں جو بحث کی ہے وہ بہت اچھی ہے اس لئے میں نے اس کی تعبیر “ مالا یبقیھا مانعۃ “ سے کی ہے۔ (ت)
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

(رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ
(بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا عطیہ)

(۳۲ تا ۴۸)نابالغ۲ کا بھرا ہوا پانی یہ مسئلہ بہت طویل الذیل وکثیر الشقوق ہے کتابوں میں اس کی تفصیل تام درکنار بہت صورتوں کا ذکر بھی نہیں فقیر بتوفیق القدیر امید کرتا ہے کہ اس میں کلام شافی وکافی ذکر کرے فاقول وبالله التوفیق پانی تین قسم ہیں ۱ مباح غیر مملوك ۲ مملوك غیر مباح ۳ مباح مملوك
اول : دریاؤں نہروں کے پانی تالاب جھیلوں ڈبروں کے برساتی پانی مملوك کنویں کا پانی کہ وہ بھی جب تك بھرا نہ جائے کسی کی ملك نہیں ہوتا جس کی تحقیق ابھی گزری مساجد وغیرہا کے حوضوں سقایوں کا پانی کہ مال وقف سے بھرا گیا اس کا بیان بھی گزرا یہ سب پانی مباح ہیں اور کسی کی ملك نہیں۔
دوم : برتنوں کا پانی کہ آدمی نے اپنے گھر کے خرچ کو بھرایا بھروا کر رکھا وہ خاص اس کی ملك ہے۔ بے اس کی
#12665 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اجازت کے کسی کو اس میں تصرف جائز نہیں۔
سوم : سبیل یا سقایہ کا پانی کہ کسی نے خود بھرایا اپنے مال سے بھروایا بہرحال اس کی ملك ہو اور اس نے لوگوں کیلئے اس کا استعمال مباح کردیا وہ بعد اباحت بھی اسی کی ملك رہتا ہے یہ پانی مملوك بھی ہے اور مباح بھی۔ ظاہر ہے کہ قسم اخیر کا پانی بالغ بھرے یا نابالغ کچھ تفاوت احکام نہ ہوگا کہ لینے والا اس کا مالك ہی نہیں ہوتا۔ یوں ہی قسم دوم میں جبکہ مالك نے اسے بطور اباحت دیا ہاں اگر مالك کیا تو اب فرق احکام آئے گا اور اگر بے اجازت مالك لیا یا دونوں قسم اخیر میں مالك بوجہ صغر یا جنون اجازت دینے کے قابل نہ تھا تو وہ آب مغصوب ہے۔ زیادہ تفصیل طلب اور یہاں مقصود بالبحث قسم اول ہے اس کیلئے
تنقیح اول : (۱)ان اصول پر نظر لازم جو اموال مباحہ جیسے آب مذکور یا جنگل کی خود روگھاس پیڑ پھل پھول وغیرہا پر حصول ملك کیلئے ہیں کتب میں اس کے جزئیات میں متفرق طور پر مذکور ہوئے جن سے نظر حاضر ایك ضابطہ تك پہنچنے کی امید رکھتی ہے والله الہادی۔
فاقول : وبہ استعین یہ تو ظاہر ہے کہ مباح۲ چیز احراز واستیلا سے ملك ہوجاتی ہے اول بار جس کا ہاتھ اس پر پہنچا اور اس نے اپنے قبضے میں کرلیا اسی کی ملك ہوجائیگی مگر یہ قبضہ کبھی دوسرے کی طرف منتقل ہوتا اور اس کا قبضہ ٹھہرتا ہے اس کی تفصیل یہ۳ ہے کہ مال مباح کا لینے والا دوحال سے خالی نہیں اس۱ شے کو اپنے لئے لے گا یا دوسرے کیلئے برتقدیر ثانی بطور خود یا اس سے کہے سے برتقدیر ثانی بلامعاوضہ۳ یا باجرت برتقدیر ثانی اس دوسرے کا اجیر۴ مطلق ہے جیسے خدمتگار یا خاص اسی مباح کی تحصیل کیلئے اجیر کیا برتقدیر ثانی اجارہ۵ وقت معین پرہوا مثلا آ ج صبح سے دوپہر تك یا بلا تعین بر تقدیر ثانی وہ شے مباح۶ متعین کردی تھی۔ مثلایہ خاص درخت یا یہاں سے یہاں تك کہ یہ دس پیڑ یا اس قطعہ مخصوصہ کا سبزہ یا اس حوض کا سارا پانی یا یہ تعیین بھی نہ تھی برتقدیر ثانی اجیر۷ قبول کرتا ہے کہ یہ شے میں نے مستاجر کیلئے لی یا نہیں برتقدیر ثانی اگر اس شے کا احراز مثلا کسی ظرف میں ہوتا ہو تو وہ ظرف۸ مستاجر کا تھا یا نہیں یہ نو۹ صورتیں ہوئیں۔ ان میں صورت اولی میں تو ظاہر ہے کہ وہ شے اسی قبضہ کرنے والے کی ملك ہوگی دوسرے کو اس سے علاقہ ہی نہیں یوں ہی صورت دوم میں بھی کہ شرع مطہر نے سبب ملك استیلا رکھا ہے وہ اس کا ہے دوسرے کیلئے محض نیت اس ملك کو منتقل نہ کر دے گی۔ فتح القدیر میں ہے :
لوقیل علیہ ھذا اذا استولی علیہ بقصدہ لنفسہ فاما اذا قصد ذلك لغیرہ فلم لایکون للغیر یجاب بان اطلاق نحو قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الناس
اگر اس پر کہا جائے کہ یہ اس صورت میں ہے جبکہ اس پر استیلاء کیا اور قصد اپنے نفس کے لئے کیا اور اگر کسی دوسرے کیلئے اس کا ارادہ کیا تو یہ غیر کیلئے کیوں نہ ہوگا اس کا یہ جواب ہے کہ حضور
#12666 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
شرکاء فی ثلاث لایفرق بین قصد وقصد اھ۔ وکتبت علیہ۔ اقول : الاحراز سبب الملك وقدتم لہ فملك ولا ینتقل لغیرہ بمجرد القصد کمن شری غیر مضاف الی زید ونیتہ انہ یشتریہ لزید لم یکن لزید۔
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا یہ فرمان “ لوگ تین چیزوں میں شریك ہیں “ ایك قصد اور دوسرے قصد میں فرق نہیں کرتا ہے اھ اس پر میں نے لکھا ہے کہ میں کہتا ہوں حاصل کرلینا اسباب ملك میں سے ہے اور ملك اس کیلئے تام ہوچکی ہے اور وہ مالك ہوگیا اور یہ ملك دوسرے کی طرف محض قصد کی وجہ سے منتقل نہ ہوگی جیسے کوئی شخص کوئی چیز خریدے اور اس کو زید کی طرف مضاف نہ کرے اور نیت یہ ہو کہ وہ زید کیلئے ہے تو وہ زید کیلئے نہ ہوگی۔ (ت)
اسی طرح صورت سوم میں بھی کہ تحصیل۱ مباح کیلئے دوسرے کو اپنا نائب ووکیل وخادم ومعین بنانا باطل ہے درمختار کتاب الشرکۃ فصل شرکت فاسدہ میں ہے :
التوکیل فی اخذ المباح لایصح ۔
مباح چیز کو لانے کیلئے کسی کو وکیل بنانا درست نہیں ہے۔ (ت)
جامع الصغار فصل کراہیت میں ہے :
الاستخدام فی الاعیان المباحۃ باطل ۔
اعیان مباحہ میں استخدام باطل ہے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
الشرع جعل سبب ملك المباح سبق الید الیہ فاذا وکلہ بہ فاستولی علیہ سبق ملکہ لہ ملك الموکل ۔
شریعت نے مباح اشیاء میں ملك کا سبب سبقت ید کو بتایا ہے تو جب کسی نے اس پر کسی کو وکیل بنایا اور اس نے اس پر استیلاء حاصل کرلیا موکل کی ملك اس پر ثابت ہوجائیگی تو وکیل مالك ہوجائیگا۔ (ت)
ہندیہ اجارات باب ۱۶ میں قنیہ سے ہے :
حوالہ / References فتح القدیر فصل فی شرکۃ فاسدہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ / ۴۱۰
الدرالمختار شرکۃ فاسدہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷۴
جامع احکام الصغار مع جامع الفصولین الکراہیۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۷
فتح القدیر فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ سکھر ۵ / ۴۱۰
#12667 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
قال(۱)نصیر(ھو ابن یحیی)قلت(ای للامام ابی سلیمن الجوزجانی رحمھما الله تعالی)فان استعان بانسان یحتطب ویصطاد لہ(ای من دون اجر)قال الحطب والصید للعامل وکذا ضربۃ القانص قال استاذنا(وھو البدیع استاذ الزاھدی)وینبغی ان یحفظ ھذا فقد ابتلی بہ العامۃ والخاصۃ یستعینون بالناس فی الاحتطاب والاحتشاش وقطع الشوك والحاج عـــــہ واتخاذ المجمدۃ فیثبت الملك للاعوان فیھا ولا یعلم الکل بھا فینفقونھا قبل الاستیہاب بطریقہ اوالاذن فیجب علیھم مثلھا اوقیمتھا وھم لایشعرون لجھلھم وغفلتھم اعاذناالله عن الجھل ووفقنا للعلم
نصیر(ابن یحیی نے)کہا میں نے کہا(یعنی امام ابو سلیمان الجوزجانی کو)اگر کسی شخص نے لکڑیاں جمع کرنے یا شکار کرنے کیلئے دوسرے شخص کی مدد حاصل کی(یعنی بلا اجر) فرمایا اس صورت میں لکڑیاں اور شکار اسی کا ہے جس نے کیا ہو اور اسی طرح شکاری کا ایك مرتبہ جال ڈال کر شکار نکالنا ہمارے استاذ نے فرمایا(یعنی بدیع استاذ الزاہدی) اور اسے یاد کرلینا چاہئے کیونکہ اس میں ہر عام وخاص مبتلا ہے لوگ دوسروں سے لکڑیاں جمع کرانے کانٹے اکٹھے کرانے اور گھاس جمع کرانے میں مدد لیتے ہیں اسی طرح ایك قسم کا درخت منگواتے ہیں یا آسمانی برف جمع کراتے ہیں توجو لوگ عملا یہ کام کرتے ہیں ان پر انہی لوگوں کی ملك ثابت ہوجائے گی لوگ یہ مسئلہ نہیں جانتے وہ ان لوگوں سے نہ تو اجازت

عـــہ : الحاج باھمال اولہ واعجام اخرہ جمع حاجۃ وھی الشوك وقبل نیت من الحمص وقال ابن سیدہ ضرب من الشوك وقیل شجر وقال ابو حنیفۃ الدینوری الحاج مماتدوم خضرتہ وتذھب عروقہ فی الارض بعیدا یتداوی بطبیخہ ولہ ورق دقاق طوال کانہ مساو للشوك فی الکثرۃ اھ۔ من تاج العروس ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
الحاج حاء مہملہ اورجیم کے ساتھ جمع حاجہ کی ہے کانٹوں کو کہتے ہیں ایك قول کے مطابق ترش گھاس ہے۔ ابن سیدہ کے مطابق کانٹوں کی ایك قسم ہے۔ ایك قول کے مطابق درخت ہے۔ اور ابو حنیفہ الدینوری نے فرمایا یہ ایسا درخت ہے جو سدا بہار رہتا ہے اور اس کی جڑیں زمین میں دور تك چلی جاتی ہیں اس کو ابال کر دوا کے کام میں لایا جاتا ہے اس کے پتے باریك اور لمبے ہوتے ہیں اور کانٹوں کی طرح زیادہ ہوتے ہیں اھ تاج العروس ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
#12668 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
والعمل اھ
اقول : وقولہ لایعلم الکل بھا اشارۃ الی الجواب عن سؤال وھم انھم اذا اتوا بہ الی المستعین واعطوہ واخذ کان ھبۃ بالتعاطی فاجاب بانہ ھذا یکون لوعلموا ان الملك قدثبت للاعوان فیکون الاعطاء والاخذ ایجاب الھبۃ وقبولھا لکنھم جمیعا عنہ غافلون وانما یحسبون المعونۃ فی کفایۃ المؤنۃ کمن ارسل احد الی دارہ لیحمل منھا کرسیا مثلا یاتیہ بہ۔
اقول : ھو کما قال لکن(۱)الاذن ثابت لاشك وھم انما ینوون الاخذ لہ ولا یؤدونہ الیہ الا لیتصرف فیہ ولا غصب منہ حتی یجب الضمان۔
فانقلت لایحسبون انفسھم ملاکہ وھو یاخذہ بجعل نفسہ کانہ ھو المستولی علیہ بدء فیتصرف فیہ علی انہ ملکہ فلم یتحقق الاذن لانھم لایدرون انہ لھم وبجعلھم یصیرلہ حتی یاذنوا لہ فی التصرف وانما یظن ویظنون انہ
لیتے ہیں اور نہ ہی بطور ہبہ لیتے ہیں اور ان اشیاء کو خرچ کر بیٹھتے ہیں تو ان پر ان کا مثل واجب ہوگا یا قیمت لازم آئے گی ان کو جہالت کی وجہ سے اس کا علم نہیں یا قیمت لازم آئے گی ان کو جہالت کی وجہ سے اس کا علم نہیں اللہ ہمیں جہل سے محفوظ رکھے اور ہمیں علم وعمل کی توفیق دے(آمین)اھ(ت)
میں کہتا ہوں اس کا قول “ لایعلم الکل بھا “ ایك سوال کے جواب کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کارندے ان اشیاء کو اس شخص کے پاس لے آئیں جس نے ان کو جمع کرنیکا حکم دیا ہے تو وہ اسکو دے دیں اور یہ حاصل کرلے تو گویا انکی طرف سے دینا شمار ہوگا اور اس کی طرف سے لینا ہوگا اور یہ ہبہ کا ایجاب وقبول شمار ہوگا تو اس کا جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے کہ جب انہیں علم ہو کہ اعوان کیلئے ملك ثابت ہے تو یہ دینا لینا ہبہ کا ایجاب قبول ہوگا لیکن وہ سب کے سب اس سے غافل ہیں اور وہ مدد کفایت مؤنت میں سمجھتے ہیں مثلا کسی شخص نے ایك آدمی کو گھر میں بھیجا کہ وہاں سے کرسی اٹھا لائے۔ (ت)
میں کہتا ہوں وہ ایسا ہی ہے جیسا کہ انہوں نے فرمایا لیکن اذن بلاشبہ ثابت ہے اور ان کی نیت یہی ہوتی ہے کہ وہ اس شخص کیلئے لیں اور اس کو دیتے بھی اس لئے ہیں کہ وہ اس میں تصرف کرے وہ غصب تو نہیں کررہا ہے کہ ضمان واجب ہو۔ (ت)
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ وہ لوگ اپنے آپ کو ان اشیاء کا مالك نہیں سمجھتے ہیں اور وہ شخص ان چیزوں پر اس طرح قابض ہوتا ہے گویا وہ ان چیزوں کا پہلا مالك ہے اور اس طرح تصرف کرتا ہے گویا وہ ان چیزوں کا مالك ہو تو ایسی صورت میں اذن متحقق نہ ہوگا کیونکہ ان کو تو پتا ہی نہیں کہ
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الباب السادس عشر پشاور ۴ / ۴۵۱
#12669 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
لمالك لہ ولا عبرۃ بالظن البین خطؤہ کمن(۱) حسب ان الشیئ الفلانی من ودائع زید عند ابیہ فاداہ الی وارثیہ فتصرفوا ثم تبین انہ لابیہ لالزید فان لہ ان یرجع علےھم بہ قائما اوبضمانہ ھالکا۔ فی العقود الدریۃ من کتاب الشرکۃ من دفع شیاا لیس بواجب علیہ فلہ استردادہ الا اذا دفعہ علی وجہ الھبۃ واستھلکہ القایض کما فی شرح النظم الوھبانی وغیرہ من المعتبرات اھ وفیھا وفی الخیریۃ من کتاب الوقف قد صرحوا(۲)بان من ظن ان علیہ دینا فبان خلافہ یرجع بما ادی ولو کان قداستھلکہ رجع ببدلہ اھ۔
اقول : ھذا فیما لوعلم انہ لیس للمدفوع الیہ لم یدفع الیہ اماھنا فانما یاتون بہ لہ ولوعلموا ان الملك یقع لہم لم یتخلفوا عن اعطائہ لہ فرضاھم بتصرفہ فیہ ثابت علی کل تقدیر ولھذا لم یکترث
یہ چیز ان کی ملکیت میں ہے اور اس کی ملك میں اسی وقت ہوگی جب وہ اذن دیں اور اس صورت میں اس کو گمان ہے کہ وہ مالك ہے اور ان کو بھی گمان ہے کہ وہی مالك ہے اور جس گمان کا خطا ہونا ظاہر ہو اس کا کوئی اعتبار نہیں مثلا کوئی شخص یہ گمان کر بیٹھے کہ فلاں چیز زید کی امانتوں میں سے اس کے باپ کے پاس ہے اور اس پر گمان پر وہ چیز زید کے وارثوں کو دے دیتا ہے اور وہ اس میں تصرف کرلیتے ہیں پھر بعد میں اس کو پتا چلتا ہے کہ وہ چیز تو اس کے باپ ہی کی ہے زید کی نہیں ہے تو اگر وہ چیز موجود ہو تو وہ ان سے واپس لے سکتا ہے اور اگر ہلاك ہو گئی ہے تو اس کا ضمان لے سکتا ہے “ العقود الدریہ “ کے کتاب الشرکۃ میں ہے کہ جس نے کوئی ایسی چیز دی جو اس پر واجب نہ تھی تو وہ اس کو واپس لے سکتا ہے ہاں اگر بطور ہبہ دی ہو اور اس کے قبضہ میں ہلاك ہوگئی ہو تو واپس نہیں لے سکتا ہے یہی چیز شرح نظم وہبانی وغیرہ معتبر کتب میں ہے اھ اور اس میں اور الخیریہ کے کتاب الوقف کے حوالہ سے ہے کہ اگر کسی شخص نے یہ گمان کیا کہ اس پر دین ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ غلط ہے تو جو دیا ہے وہ واپس لے گا اور اگر وہ ہلاك ہوگیا ہو تو اس کا بدل لے گا اھ(ت)
میں کہتا ہوں یہ اس صورت میں ہے جبکہ اس کو یہ علم ہواہو کہ یہ مدفوع الیہ کے لئے نہ تھا تو اس کو نہ دے گا اور یہاں تو وہ اسی کیلئے لاتے ہیں اور اگر ان کو یہ علم ہو کہ ملك ان کیلئے واقع ہوگی تو اس کے دینے سے تخلف نہ کریں گے تو
حوالہ / References عقود الدریۃ کتاب الشرکۃ قندھار افغانستان ۱ / ۹۱
فتاوٰی خیریہ کتاب الوقف بیروت ۱ / ۱۳۰
#12670 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
بہ الخاصۃ فضلا عن العامۃ کما اعترف بہ فلاوجہ لنسبتھم الی الجھل والغفلۃ واقامۃ النکیر ھذا ماعندی والعلم بالحق عند اللطیف الخبیر۔
ان کا اس کے تصرف پر راضی ہونا بہرتقدیر ثابت ہے اور اس لئے خاص لوگ بھی اس کی پرواہ نہیں کرتے چہ جائیکہ عام لوگ جیسا کہ خود انہوں نے اعتراف کیا تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کو جہل غفلت کی طرف منسوب کیا جائے یا انہیں نکیر کی جائے ھذا ماعندی الخ(ت)
تنبیہ اقول : یہ بلا ۱ معاوضہ تین صورتوں کو شامل ہے : ایك یہ کہ وہ اس کا اجیرہی نہ ہو۔
دوسرے یہ کہ اس کا اجیر تو ہے مگر اس کام پر نہیں کسی اور خاص کام پر ہے تو یہ بلامعاوضہ ہی ہوا۔ تیسرے یہ کہ مطلق کام خدمت پر نوکر ہے جس میں یہ کام بھی داخل مگر نوکری کے غیر وقت میں اس سے اس کام کیلئے کہا مثلا دن کا نوکر ہے اس سے رات کو پانی بھروایا کہ یہ وقت بھی بلامعاوضہ ہے ولہذا ہم نے ان صورتوں کو تشقیق میں نہ لیا۔
صورت چہارم میں وہ مباح آقا کی ملك ہوگا یعنی جب کہ اس کی نوکری کے وقت میں یہ کام لیا ورنہ صورت سوم میں داخل ہے کمامر اس صورت میں ملك آقا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نوکری کے وقت میں نوکر کے منافع اس کے ہاتھ بکے ہوئے ہیں اور اس کا اس کے حکم سے قبضہ بعینہ اس کا قبضہ ہے۔ ہدایہ میں ہے :
((۲)الاجیر الخاص الذی یستحق الاجرۃ بتسلیم نفسہ فی المدۃ وان لم یعمل کمن استؤجر شھرا للخدمۃ اولرعی الغنم)وانما سمی اجیر وحدلانہ لایمکنہ ان یعمل لغیرہ لان منافعہ فی المدۃ صارت مستحقۃ لہ والاجر مقابل بالمنافع ولھذا یبقی الاجر مستحقا وان نقض العمل(لاضمان علی ماتف من عملہ)لان المنافع متی صارت مملوکۃ للمستأجر فاذا امرہ بالتصرف فی ملکہ صح ویصیر نائبا منا بہ فیصیر فعلہ منقولا الیہ
وہ خاص اجیر جو اجرت کا مستحق ہوتا ہے کہ ایك مدت کے لئے اپنے آپ کو سپرد کردے خواہ کام نہ کرے(مثلا کسی شخص کو ایك ماہ کے لئے خدمت یا بکریاں چرانے کیلئے اجرت پر لیا)اس کو اجیر وحد اس لئے کہتے ہیں کہ وہ دوسرے کا کام نہیں کرسکتا ہے کیونکہ اس مدت میں اس کے منافع سب اس کیلئے مخصوص ہوگئے ہیں اور اجر منافع کے مقابل ہوتا ہے اس لئے اجیر مستحق رہتا ہے اگرچہ کام ختم ہوجائے(اس کے عمل سے اگر کوئی چیز تلف ہوجائے تو اس پر ضمان نہیں ہے)کیونکہ منافع جب مستاجر کی ملك ہوگئے تو اب جب اس نے اپنی ملك میں تصرف کا حکم دیا تو صحیح ہوگیا اور وہ
#12671 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
کانہ فعلہ بنفسہ فلھذا لایضمنہ ۔
اس کا قائم مقام ہوگا اور اس کا فعل اس کی طرف منقول ہوگا گویا یہ فعل اس نے خود کیا ہے اس لئے وہ اس کا ضامن نہ ہوگا۔ (ت)
یوں ہی صورت پنجم میں اور اجیر اجر مقرر کا مستحق ہوگا کہ یہ اجارہ صحیحہ ہے اور صورت ششم میں بھی وہ شے مباح ملك مستأجر ہوگی مگر اجیر مثل پائے گیا جو مسمی سے زاید نہ ہو کہ یہ اجارہ فاسدہ ہے۔
اقول : ویظھرلی ان الوجہ فیہ والله تعالی اعلم ان الاجارۃ اما علی العمل اعنی التصرف فی شیئ من النقل والحمل والقطع والقلع وغیر ذلك وھو فی الاجیر المشترك والمقصود فیہ حصول ذلك التصرف کیفما کان ولذا لم یتقید بعمل الاجیر نفسہ واما علی منافع الاجیر وھو فی الاجیر الخاص والاجارۃ فی المباحات لانعقل علی الوجہ الاول لانھا لاتختص بالمستأجر ونسبتھا الی الکل سواء فکیف یکون حصول تصرف فیھا موجبا للاجر علی المستأجر بل انما الاجر مقابل فیھا بمنافع الاجیر حیث یرید المستأجران یستعملہ فی حاجتہ فلا یکون الا اجیر وحد ولا تتقدر منافعہ الا بتعیین المدۃ فاذالم تذکر بقی المعقود علیہ مجھولا ففسدت ولذا لوکان الشیئ ملك المستأجر کأن یقول اقطع شجرتی ھذہ بدرھم جاز کما یاتی والله تعالی اعلم۔
میں کہتا ہوں مجھے اس کی جو وجہ معلوم ہوتی ہے والله تعالی اعلم وہ یہ ہے کہ اجارہ یا تو عمل پر ہوگا یعنی کسی چیز میں تصرف کرنا نقل وحمل کاٹنے یا اکھاڑنے کے طور پر اور اس کو اجیر مشترك کہتے ہیں اور مقصود اس میں اس تصرف کا حاصل ہونا ہے خواہ کسی طرح ہو لہذا اس میں یہ قید نہیں کہ اجیر خود ہی عمل کرے اور یا اجارہ اجیر کے منافع پر ہوگا یہ اجیر خاص میں ہوتا ہے اور مباح چیزوں میں پہلی صورت میں اجارہ متصور نہیں کیونکہ وہ مستاجر کے ساتھ مخصوص نہیں اور سب کی طرف اس کی نسبت یکساں ہے تو اس میں تصرف کا حصول مستاجر پر اجر کو کیونکر لازم کرے گا بلکہ ان میں اجر اجیر کے منافع کے مقابل ہے کہ مستاجر چاہتا ہے کہ اس کو اپنی حاجت میں استعمال کرے تو یہ اجیر وحد ہوگا اور اس کے منافع کا اندازہ مدۃ کی تعیین وتحدید سے ہی ہوگا اور جب مدۃ کا ذکر نہیں کیا گیا تو معقود علیہ مجہول رہے گا اور اجارہ فاسد رہے گا اور اسی لئے اگر کوئی چیز مستاجر کی ملك ہو مثلا مستاجر یہ کہے کہ میرا یہ درخت ایك درہم میں اٹ دو تو جائز ہے جیسا کہ آئے گا والله اعلم۔ (ت)
حوالہ / References الہدایۃ باب ضمان الاجیر مطبع یوسفی لکھنؤ ۲ / ۳۰۸
#12672 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
فتاوی علمگیریہ میں قنیہ سے ہے :
قال(۱)نصیر سألت ابا سلیمن عمن استأجرہ لیحتطب لہ الی اللیل قال ان سمی یوما جاز والحطب للمستأجر(۲)ولوقال ھذا الحطب فالاجارۃ فاسدۃ والحطب للمستأجر وعلیہ اجر مثلہ(۳)ولوکان الحطب الذی عینہ ملك المستأجر جاز ۔
اقول : والمراد اجر المثل بالغاما بلغ ان لم یسم معینا والا فالاقل منہ ومن المسمی کما ھو الاصل المعروف ولذا عولت علیہ وسیاتی التصریح بہ۔
نصیر نے فرمایا میں نے ابو سلیمان سے پوچھا کہ ایك شخص کسی مزدور سے معاہدہ کرے کہ وہ رات تك اس کیلئے لکڑیاں جمع کرے تو فرمایا کہ اگر ایك دن کا نام لیا تو جائز ہے اور لکڑیاں مستاجر کی ہوں گی اور اگر اشارہ کر کے کہا کہ یہ لکڑیاں تو اجارہ فاسد ہے اور لکڑیاں مستاجر کی ہیں اور اس پر اجر مثل ہے اگر وہ لکڑیاں مستاجر کی ملك ہیں تو جائز ہے۔ (ت)میں کہتا ہوں مراد اجر مثل ہے خواہ جتنا بھی ہو اگر اس نے معین نہ کیا ہو ورنہ اجر مثل اور اجر معین سے جو کم ہو وہ دیا جائے گا جیسا کہ کلیہ معروف ہے اس لئے میں نے اس پر اعتماد کیا اور اس کی تصریح بھی آجائے گی(ت)
تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
(استأجرہ لیصیدلہ اویحتطب لہ فان وقت)لذلك وقتا(جاز والالا)فلولم یوقت وعین الحطب فسد (الا اذعین الحطب وھو)ای الحطب(ملکہ فیجوز) مجتبی وبہ یفتی صیرفیۃ اھ۔ قال العلامۃ ش قولہ والالا ی والحطب للعامل ط قولہ فسد قال فی الھندیۃ ولو قال ھذا الحطب الی اخر مانقلنا قال قولہ وبہ یفتی صیر فیۃ قال فیھا ان ذکر الیوم
(اس کو اس لئے مزدوری پر لیا کہ وہ اس کے لئے شکار کرے یا لکڑیاں چنے تو اگر اس کا وقت مقرر کیا تو جائز ہے ورنہ نہیں)اور اگر وقت مقرر نہ کیا اور لکڑیاں مقرر کر دیں تو یہ عقد فاسد ہے(ہاں اگر لکڑیاں متعین کردیں اور وہ لکڑیاں اسی کی ملك ہیں تو جائز ہے)مجتبی اسی پر فتوی ہے “ صیرفیۃ اھ “ ۔ علامہ “ ش “ نے فرمایا “ اور اس کا قول والالا یعنی لکڑیاں عامل کی ہوں گی ط ان کا قول “ فسد “ ہندیہ میں ہے ولو قال ھذا الحطب الی اخر
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ الباب السادس عشر پشاور ۴ / ۴۵۱
الدرالمختار اجارہ فاسدہ مجتبائی دہلی ۲ / ۱۸۰
#12673 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اقول : والمراد اجر المثل بالغاما بلغ ان لم یسم معینا والا فالاقل منہ ومن المسمی کما ھو الاصل المعروف ولذا عولت علیہ وسیاتی التصریح بہ۔ فالعلف للامر والا فللمامور وھذہ روایۃ الحاوی وبہ یفتی قال فی المنح وھذا یوافق ماقدمناہ عن المجتبی ومن ثم عولنا علیہ فی المختصر اھ۔
اقول : ھھنا تنبیھان الاول کون الحطب للعامل اذالم یوقت علی مافی الصیرفیۃ وتبع اطلاقھا الفاضلان ط و ش محلہ مااذالم یعین الحطب ایضا والاکان للامر کما قدمنا عن الھندیۃ عن القنیۃ عن نصیر عن ابی سلیمن وقد نقلاہ ایضا واقراہ وفی غمز العیون استأجرہ لیصید لہ اولیحتطب جاز ان وقت بان قال ھذا الیوم اوھذا الشھر ویجب المسمی لان ھذا اجیر وحد وشرط صحتہ بیان الوقت وقد وجد وان لم یوقت ولکن عین الصید والحطب فالاجارۃ فاسدۃ لجھالۃ الوقت فیجب اجر المثل وما حصل یکون للمستأجر کذا فی الولوالجیۃ اھ۔ وفی خزانۃ المفتین رجل استأجر اجیرا لیخیط لہ الی اللیل بدرھم جاز وکذا لیصتاد لہ الی اللیل اولیحتطب جاز ویکون الحطب والصید للمستأجر ولوقال لیصطاد ھذا الصید اولیحتطب
جو ہم نے نقل کیا ہے فرمایا ان کا قول وبہ یفتی صیرفیۃ اس میں ہے کہ اگر مستاجر نے دن کا ذکر کیا تو چارہ حکم دینے والے کے لئے ہوگا ورنہ اس کا ہوگا جس کو حکم دیا گیا اور یہ حاوی کی روایت ہے اور اس پر فتوی ہے۔ منح میں ہے اور یہ اس کے موافق ہے جو ہم مجتبی سے نقل کر آئے ہیں اور اس لئے ہم نے اس پر مختصر میں اعتماد کیا اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں یہاں دو تنبیہات ہیں :
پہلی تنبیہ : لکڑیوں کا عامل کیلئے ہونا جبکہ اس نے وقت کا تعین نہ کیا ہو جیسا کہ صیرفیہ میں ہے اور دو۲ فاضلوں یعنی ط اور ش نے اس کے اطلاق کی متابعت کی ہے اس کا محل یہ ہے کہ جب لکڑیوں کا تعین بھی نہ کیا ہو ورنہ لکڑیاں آمر کی ہوں گی جیسا کہ ہم نے ہندیہ اور قنیہ کے حوالہ سے نقل کیا یہ روایت نصیر کی ابو سلیمان سے ہے اور ان دونوں نے اس کو نقل کیا اور برقرار رکھا اور غمز العیون میں ہے کسی شخص نے مزدور کو اجرت پر لیا کہ اس کیلئے شکار کرے یا لکڑیاں جمع کرے تو یہ جائز ہے بشرطیکہ اس نے اس وقت کا تعین کردیا ہو مثلا یہ کہا ہو کہ اس دن یا اس ماہ میں اور جو طے کیا ہو وہ واجب ہوگا کیونکہ یہ اجیر محض ہے اور اس کی صحت کی شرط وقت کا بیان ہے جو پائی گئی ہے اور اگر وقت کا تعین نہ کیا ہو لیکن شکار اور لکڑیوں کا تعین کیا ہو تو اجارہ فاسدہ ہے کہ وقت کی جہالت ہے تو اس صورت میں اجر مثل
حوالہ / References ردالمحتار اجارہ فاسدہ البابی مصر ۵ / ۴۳
غمز العیون مع الاشباہ کتاب الاجارۃ ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۵۶
#12674 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
ھذا الحطب فھو اجارۃ فاسدۃ والحطب والصید للمستأجر وعلیہ للاجیر اجرالمثل ولو استعان من انسان فی الاحتطاب والاصطیاد فان الصید والحطب یکون للعامل اھ۔
(۱)وفی الھندیۃ عن محیط السرخسی عن محمد رحمہ الله تعالی فیمن قال لغیرہ اقتل ھذا الذئب او ھذا الاسد ولك درہم و الذئب او الاسد صید فلہ اجر مثلہ لایجاوز بہ درھما والصید للمستأجر اھ۔ وبالجملۃ النقول فیہ مستفیضۃ فما(۲)کان ینبغی اطلاق کون الحطب للعامل عند عدم التوقیت لشمولہ صورۃ تعیین الحطب وقد(۳)ذکرھا الشارح تفریعا علیہ بل(۴)اشار الیھا الماتن ایضا کما تری والثانی وقع فی الھندیۃ عن القنیۃ قبل مانقلناہ متصلا بہ مانصہ استأجر لیقطع لہ الیوم حاجا ففعل لاشیئ علیہ والحاج للأمور قال نصیر سألت ابا سلیمن الخ۔ وکتبت علیہ مانصہ۔
واجب ہوگا اور جو حاصل ہوگا وہ مستأجر کو ملے گا کذا فی الولوالجیہ اھ۔ اور خزانۃ المفتین میں ہے کہ کسی شخص نے ایك اجیر لیا کہ وہ رات تك اس کے لئے سلائی کرے اور ایك درہم لے تو جائز ہے یا رات تك شکار کرے یا لکڑیاں جمع کرے اور یہ لکڑیاں اور شکار مستاجر کا ہوگا اور اگر کہا کہ یہ شکار کرے یا یہ لکڑیاں اکٹھی کرے تو اجارہ فاسد ہے اور لکڑیاں اور شکار مستاجر کا ہوگا اور اس کے ذمہ اجیر کیلئے اجر مثل ہوگا اور اگر کسی انسان سے لکڑیاں اکٹھی کرنے یا شکار میں مدد طلب کی تو شکار اور لکڑیاں عمل کرنے والے کی ہونگی اھ۔ اور ہندیہ میں محیط السرخسی سے محمد رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی سے کہا کہ یہ بھیڑیا ہلاك کردو یا یہ شیر اور تم کو ایك درہم ملے گا۔ تو بھیڑیا اور شیر شکار شمار ہوگا اور اس کا اجر مثل ملے گا جو ایك درہم سے زائد نہ ہوگا اور شکار مستاجر کا ہوگا اھ۔ خلاصہ یہ کہ اس میں نقول مشہور ہیں تو وقت کی تعیین نہ ہونے کی صورت میں لکڑیوں کا مطلقا عامل کیلئے قرار دینا درست نہیں کیونکہ یہ لکڑیوں کے متعین کرنے کی صورت کو بھی شامل ہے اور اس کو شارح نے اس کی تفریع کے طور پر ذکر کیا ہے بلکہ جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں ماتن نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے ___ دوسری تنبیہ : ہندیہ نے قنیہ سے یہ بھی نقل کیا ہے
حوالہ / References خزانۃ المفتین
ہندیۃ الباب السادس عشر پشاور ۴ / ۴۵۱
ہندیۃ الباب السادس عشر پشاور ۴ / ۴۵۱
#12675 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اقول : (۱)انظر ما وجہہ فانہ اجیر وحد وشرطہ بیان المدۃ وقد وجد کما فی الغمز وش(۲)وقد قال عن ابی سلیمن بعدہ ان مسمی یوما جازو ذکر بعدہ باسطر عن محیط(۳)السرخسی لو استأجر لیصید لہ اولیغزل لہ اوللخصومۃ اوتقاضی الدین اوقبض الدین لایجوز فان فعل یجب اجر المثل ولو ذکر مدۃ یجوز فی جمیع ذلك اھ۔ ویظھر لی فی تأویلہ ان لیس المراد بالیوم الوقت المعلوم الممتد الی غروب الشمس بل ھو فیہ بعمنی الظرفیۃ ای یقع القطع فی ھذا الیوم فھو للاستعجال مثل خطہ لی الیوم بدرھم فی(۴)الھدایۃ من استأجر رجلا لیخبزلہ ھذہ العشرہ المخاتیم من الدقیق الیوم بدرھم فھو فاسد عند ابی حنیفۃ وقال ابو یوسف ومحمد رضی الله تعالی عنھم جازلانہ یجعل المعقود علیہ عملا وذکر اللوقت للاستعجال تصحیحا للعقد ولہ ان المعقود علیہ مجہول لان ذکر الوقت یوجب کون المنفعۃ معقودا علیہا وذ کر العمل یوجب کونہ معقودا علیہ
کسی نے کوئی مزدور اس کام کیلئے لیا کہ وہ آج اس کیلئے گھاس کاٹے گا اس نے ایسا ہی کیا تو اس کیلئے کوئی اجرت لازم نہیں اور گھاس اسی کی ہوجائے گی۔ نصیر نے کہا میں نے ابو سلیمن سے دریافت کیا الخ۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ محض اجیر ہے اور اس کی شرط بیان مدۃ ہے جو پائی گئی کما فی الغمزو 'ش' اور اس کے بعد ابو سلیمان سے کہا کہ اگر ایك دن کا کہا تو جائز ہے اور چند سطور بعد محیط سرخسی سے نقل کیا کہ اگر کسی کو اجرت پر لیا تاکہ اس کے لئے شکار کرے یا سوت کاتے یا اس کی وکالت کرے یا قرض طلب کرے یا قرض وصول کرے تو جائز نہیں تو اگر ایسا کیا تو اجر مثل واجب ہوگا اور اگر مدۃ کا ذکر کیا تو ان تمام صورتوں میں جائز ہے اھ۔ اور اس کی تاویل مجھے یہ معلوم ہوتی ہے کہ یوم سے مراد دن کا وہ معین وقت نہیں ہے جو غروب آفتاب تك دراز ہو بلالکہ اس میںظرفیت کے معنی ہیں یعنی گھاس کا کاٹنا اس دن میں واقع ہو تو یہ جلدی کے اظہار کیلئے ہے جیسے یہ کہا کہ آج ہی یہ چیز مجھے سی کردو ایك روپے میں ہدایہ میں ہے جس نے کسی شخص کو اجرت پر لیا تاکہ آج ایك درہم میں یہ دس بوری آٹا پکادے تو یہ اجارہ ابو حنیفہ کے نزدیك فاسد ہے اور صاحبین نے فرمایا جائز ہے صاحبین معقود علیہ عمل کو قرار دیتے ہیں اور ذکر وقت کو عجلت کیلئے قرار دیتے ہیں تاکہ عقد صحیح ہو امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ معقود علیہ مجہول ہے کیونکہ
حوالہ / References ہندیۃ الباب السادس عشر پشاور ۴ / ۴۵۱
#12676 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
ولا ترجیح ونفع المستأجر فی الثانی ونفع الاجیر فی الاول فیفضی الی المنازعۃ(۱)وعن ابی حنیفۃ انہ یصح الاجارۃ اذا قال فی الیوم وقدسمی عملا لانہ للظرف فکان المعقود علیہ العمل بخلاف قولہ الیوم وقدمر مثلہ فی الطلاق اھ۔ اوالامران القنیۃ ذکرت ھذا برمز ثم رمزت لاخر وذکرت ماعن نصیر فیکون ھذا قول بعض علی خلاف ماعلیہ الناس وعلی خلاف ماعلیہ الفتوی کما فی(۲)الصیرفیۃ ومن عادۃ الھندیۃ نقل عبارۃ القنیۃ بحذف(۳)الرموز فتصیر الاقوال کقول واحد کما نبھت علیہ فی بعض المواضع من ھو امشھا والله تعالی اعلم۔
وقت کا ذکر منفعت کو معقود علیہا بناتا ہے اور عمل کا ذکر اس کو معقود علیہ کرتا ہے اور کسی کو کسی پر ترجیح نہیں ہے مستاجر کا نفع دوسرے میں ہے اور اجیر کا پہلے میں ہے تو اس میں جھگڑا پیدا ہوگا اور ابو حنیفہ سے ایك روایت یہ ہے کہ یہ اجارہ اس وقت صحیح ہوگا جبکہ “ دن میں “ کہا اور کسی عمل کا نام لیا کیونکہ یہ ظرف ہے تو معقود علیہ عمل ہوا بخلاف اس کے قول “ الیوم “ کے اور اسی کی مثل طلاق کے باب میں گزرا اھ یا معاملہ اس طرح ہے کہ قنیہ نے اسکو ثم کے رمز سے ذکر کرکے دوسرے کی طرف اشارہ کیا اور جو کچھ نصیر سے مروی ہے وہ نقل کیا یہ بعض کا قول ہے اور بعض کے خلاف ہے اور فتوی بھی اس کے خلاف پر ہے کما فی الصیرفیۃ اور ہندیہ کی عادت ہے کہ وہ قنیہ کی عبارت رموز کے بغیر ہی نقل کردیتے ہیں تو چند اقوال ایك ہی قول کے مانند ہوجاتے ہیں اس پر میں نے اس کے بعض حواشی پر تنبیہ کی ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
صورت ہفتم خود ظاہر ہے کہ اس کے اقرار سے ملك مستاجر ہے۔
اقول : وذلك لان الاجیر عامل لغیرہ وقد اعترف انہ عمل علی وجہ الاجارۃ واخذہ لمن استأجرہ۔
میں کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ اجیر دوسرے کا عامل ہوتا ہے اور اس نے یہ اعتراف کیا ہے وہ وہ بطور اجیر کام کررہا ہے اور وہ چیز مستاجر کیلئے لے رہا ہے۔ (ت)
یوں ہی صورت ہشتم میں کہ ظرف مستاجر میں احراز دلیل ہے کہ مستاجر کیلئے ہے جامع الصغار میں ہے :
حوالہ / References الہدایۃ اجارہ فاسدہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲ / ۳۰۴
#12677 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
الاجیر اذا حمل الماء بکوز المستأجر یکون محرزا للمستأجر ۔
اجیر جب مستاجر کے کوزے میں پانی لائے تو وہ مستاجر کا ہوگا۔ (ت)
رہی صورت نہم ظاہر ہے کہ اس میں ملك اجیر ہے۔
اقول : اور اس پر تقریر دلیل یوں کہ یہ اجیر نہ بیان مدت کے ساتھ اپنے منافع بیچ چکا ہے کہ اس وقت میں اس کا کام خواہی نخواہی آمر کیلئے ہو نہ شیئ کی تعیین ہوئی کہ بوجہ قبول اس کا پابند ہو تو وہ اپنی آزادی پر ہے کیا ضرور ہے کہ اس وقت جو اس نے لیا بر بنائے جارہ بغرض مستاجر لیا ہو نہ وہ مقر ہے نہ ہشتم کی طرح کوئی دلیل ظاہر ہے لہذا ملك اجیر ہی ہے والله تعالی اعلم۔
اقول : ویترا أی لی ان مثل الاستیلاء عند الفقہاء کمثل الشراء مھما وجد نفاذ(۱)انفذ فاذا وکلہ بشراء عبد والموکل لم یعین العبد ولا الوکیل اضاف الیہ العقد ولا وقع من مالہ النقد ولا اقرانہ شراہ لہ فانہ یکون للشاری لالمن وکلہ والمسألۃ فی الھدایۃ والدر وعامۃ الاسفار الغر فالتوقیت ھھنا کالاضافۃ ثمہ لانتقال فعلہ الی الامر کمامرو الاحراز بظرفہ کالنقد من مالہ والا قرار الاقرار والتعیین التعیین والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
اور مجھ پر یہ ظاہر ہوا ہے کہ استیلاء کی مثال فقہاء کے نزدیك شراء کی سی ہے جب نفاذ پایا جائیگا اس کو نافذ کر دیا جائیگا۔ اب کسی نے کسی شخص کو غلام خریدنے کیلئے کہا اور موکل نے غلام کی تعیین نہ کی اور نہ وکیل نے عقد کو اس کی طرف مضاف کیا اور نہ اس کے مال سے ادائیگی کی اور نہ یہ کہا کہ اس نے اس کیلئے خریداہے تو یہ غلام خریدنے والے کا ہوگا نہ کہ حکم دینے والے کا یہ مسئلہ ہدایہ در اور عام کتب میں مذکور ہے تو یہاں توقیت کی حیثیت وہاں اضافت کی طرح ہے کیونکہ اس کا فعل آمر کی طرف منتقل ہوتا ہے اور اس کے ظرف کا حاصل کرلینا اس کے مال سے ادائیگی کی طرح ہے اور یہ اقرار اس اقرار کی طرح اور یہ تعیین اس تعیین کی طرح ہے والله سبحنہ وتعالی اعلم۔ (ت)
بالجملہ یہ نو صورتیں ہیں جن میں سے چار میں وہ شے مباح لینے والے کی ملك ہے اور پانچ میں دوسرے کی۔ یہ جبکہ لینے والا حر ہو ورنہ مملوك کسی شے کا مالك نہیں ہوتا اس کا جو کچھ ہے اس کے مولی کا ہے ھذا
حوالہ / References جامع الصغار مع جامع الفصولین مسائل الکراہیۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸
#12678 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
ماظھر لی نظرا فی کلماتھم وارجو ان یکون صوابا ان شاء الله تعالی(یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا ان کے کلمات کو دیکھتے ہوئے اور مجھے امید ہے کہ یہی صحیح ہوگا ان شاء الله تعالی۔ ت)
تنقیح دوم۱ یہ اصول مطلق استیلائے مباح میں ہوئے یہاں کہ گفتگو نابالغ میں ہے یہ بھی دیکھنا ضرور کہ اس کے والدین اگر اس سے کوئی شے مباح مثلا کنویں سے پانی یا جنگل سے پتے منگائیں تو اس نسبت بنوت کے سبب احکام مذکورہ استیلاء میں کوئی تفاوت آئے گا یا نہیں اگر آئے گا تو کیا۔ اس میں علماء کے تین قول ہیں :
اول کہ زیادہ مشہور ہے یہ کہ والدین کو بھی مباحات میں استخدام کا اختیار نہیں صبی اگرچہ ان کے حکم سے انہیں کے لئے انہیں کے ظرف میں لے خود ہی مالك ہوگا اور والدین کو اس میں تصرف حرام مگر بحالت محتاجی۔
اقول : یعنی بحالت فقر بلاقیمت اور بحالت احتیاج حاضر مثلا سفر میں ہوں اور مال گھر میں بوعدہ قیمت تصرف کرسکتے ہیں ذخیرہ ومنیہ پھر معراج الدرایہ پھر حموی کنز پھر طحطاوی پھر شامی میں ہے :
لوامر صبیا ابوہ اوامہ باتیان الماء من الوادی اوالحوض فی کوز فجاء بہ لایحعل لابویہ ان یشربا من ذلك الماء اذالم یکونا فقیرین لان الماء صار ملکہ ولایحل لھما الاکل ای والشرب من مالہ بغیر حاجۃ ۔
اگر کسی بچہ کو اپنے باپ یا ماں نے وادی یا حوض سے لوٹے میں پانی لانے کو کہا پھر وہ پانی لے آئے تو اس کے ماں باپ کیلئے اس پانی کو پینا جائز نہیں بشرطیکہ وہ فقیر نہ ہوں کیونکہ پانی اس بچہ کی ملك ہوگیا اور ان دونوں کیلئے اس کے مال سے بلاحاجت کھانا پینا جائز نہیں۔ (ت)
جامع احکام الصغار پھر حموی اشباہ اور تاتارخانیہ پھر ردالمحتار میں ہے :
(۲)اذا احتاج الا ب الی مال ولدہ فان کانا فی المصر واحتاج لفقرہ اکل بغیر شیئ وانکانا فی المفازۃ واحتاج الیہ لانعدام الطعام معہ فلہ الاکل بالقیمۃ ۔
جب باپ کو بچہ کے مال کی حاجت ہو اور وہ شہر میں ہو اور فقر کی وجہ سے بچہ کا مال کھانے کا محتاج ہو تو کھالے اور اس پر کوئی شے نہیں اور اگر یہ صورت حال جنگل میں پیش آئے اور باپ کے پاس کھانا موجود نہ ہو اور اس کو کھانے کی ضرورت ہو تو وہ قیمت کے ساتھ کھا سکتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۱۲
ردالمحتار کتاب الہبۃ مصطفی البابی مصر ۴ / ۵۷۳
#12679 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
جامع الفصولین فوائد امام ظہیر الدین سے ہے :
لوکان الاب فی فلاۃولہ مال فاحتاج الی طعام ولدہ اکلہ بقیمۃ لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الاب احق بمال ولدہ اذا احتاج الیہ بالمعروف والمعروف ان یتناولہ بغیر شیئ لوفقیرا والا فبقیمتہ ۔
اگر باپ جنگل میں ہو اور اس کے پاس مال ہو اور پھر اس کو اپنے بیٹے کا مال کھانے کی ضرورت لاحق ہو تو وہ اس کی قیمت دے کر کھا سکتا ہے اس لئے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے کہ باپ کو اپنے بیٹے کے مال کا معروف طریقہ کے مطابق زیادہ حق ہے اور معروف طریقہ یہی ہے کہ بلاقیمت استعمال کرے اگر فقیر ہو ورنہ قیمت کے ساتھ استعمال کرے۔ (ت)
مگر اس اجازت سے احکام مذکورہ استیلا میں کوئی تغیر نہ ہوا کہ ملك نابالغ ہی کی قرار پائی۔ ماں باپ کو قیمتا یا مفت اس میں تصرف کی اجازت کچھ اسی مال استیلاء سے خاص نہیں صبی کی ہر ملك میں ہے۔
دوم : فقیر والدین کی طرح غنی ماں باپ کو بھی بچہ سے ایسی خدمت لینے کا حق ہے اور وہ پانی روا کہ عرف ورواج مطلق ہے یہ امام محمد سے ایك روایت ہے ذخیرہ اور اس کے ساتھ کی کتابوں میں بعد عبارت مذکورہ ہے : وعن محمد یحل لھما ولوغنیین للمعروف والعادۃ ۔ (محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے روایت ہے کہ ان دونوں کے لئے حلال ہے اگرچہ دونوں غنی ہوں کیونکہ عرف اور عادت کا اعتبار ہے۔ ت)
اقول : اس تقدیر پر ظاہر یہ ہوتا کہ جو مباح صبی نے فرمائش والدین سے لیا اس کے مالك والدین ہی ٹھریں ورنہ بحال غنا ان کو تصرف ناروا ہوتا قال تعالی ومن کان غنیا فلیستعفف (اللہ تعالی کا فرمان ہے جسے حاجت نہ ہو وہ بچتا رہے۔ ت)تو یہ روایت صور نہ گانہ استیلاء سے صورت سوم کے حکم میں والدین کا استثناء کرتی مگر امام محمد ہی سے ایسی ہی نادرہ روایت آئی ہے کہ اگر بچہ کھانے پینے کی چیز اپنے ماں باپ کو ہدیۃ دے تو وہ والدین کے لئے مباح ہے تو یہ روایت بھی احکام مذکورہ پر کچھ اثر نہ ڈالے گی کہ مالك صبی ہی ٹھرا۔ جامع احکام الصغار میں ہے :
فی ھبۃ فتاوی القاضی ظھیرالدین
قاضی ظہیر الدین کے فتاوی کی ہبہ کی بحث میں ہے
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۱۲
جامع الفصولین الفصل السابع والعشرون اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۹
القرآن ۴ / ۶
#12680 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
رحمہ الله تعالی اذا اھدی الصغیر شیا من المأکولات روی عن محمد رحمہ الله تعالی انہ یباح لوالدیہ وشبہ ذلك بضیافۃ المأذون واکثر مشایخ بخاری انہ لایباح ۔
کہ جب بچہ کھانے کی کوئی چیز بطور ہدیہ دے تو امام محمد سے مروی ہے کہ اس کے والدین کو اس میں سے کھانا جائز ہے اور انہوں نے اس کو ماذون کی ضیافت کے مشابہ قرار دیا اور بخارا کے اکثر مشائخ کہتے ہیں یہ مباح نہیں۔ (ت)
اسی طرح شامی میں تاتارخانیہ وذخیرہ سے ہے اس روایت کی تحقیق بعونہ تعالی عنقریب آتی ہے اور یہ کہ وہ اس مقام سے بے علاقہ ہے مگر اقرب یہی ہے کہ یہ روایت والدین کیلئے اباحت تصرف کرتی ہے نہ کہ اثبات ملك تو ضابطہ بحال ہے۔
سوم : اگر ماں باپ کے برتن میں لیا تو وہ مالك ہوں گے ورنہ صبی جیسے اجیر۔
اقول : یعنی جس کا نہ وقت معین کیا نہ کسی معین شے کیلئے اجیر نہ اس نے مستاجر کیلئے اقرار کہ ان حالتوں میں ظرف پر لحاظ نہیں جامع الصغار میں ہے :
فی بیوع فوائد صاحب المحیط الاب اوالام اذا امر ولدہ الصغیر لینقل الماء من الحوض الی منزل ابیہ ودفع الیہ الکوز فنقل قال بعضھم الماء الذی فی الکوز یصیر ملکا للصبی حتی لایحل للاب شربہ الا عند الحاجۃ لان الاستخدام فی الاعیان المباحۃ باطل وقال بعضھم ان کان الکوز ملکا للاب یصیر ملکا للاب ویصیر الابن محرز الماء لابیہ کالاجیر اذاحمل الماء بکوز المستأجر یکون محرز اللمستأجر کذا ھذا ۔
صاحب محیط کی فوائد کے باب البیوع میں ہے کہ ماں باپ نے چھوٹے بچے کو حوض سے اپنے گھر پانی لانے کو کہا اور اس کو لوٹا بھی دیا چنانچہ وہ پانی لے آیا تو ایسی صورت میں بعض علماء کے نزدیك لوٹے کا پانی بچہ کی ملك ہے یہاں تك کہ باپ بلا ضرورت اس میں سے پی بھی نہیں سکتا کیونکہ مباح اشیا کے حصول کیلئے اس سے خدمت لینا باطل ہے اور بعض نے کہا کہ اگر لوٹا باپ کی ملك ہے تو پانی بھی باپ کی ملك ہوگا اور بیٹا مزدور کی طرح پانی کو اپنے باپ کے لئے جمع کرنے والا قرار پائے گا کیونکہ اجیر اگر مستاجر کے لوٹے میں پانی لائے تو وہ پانی مستاجر ہی کا ہوگا یہی حال اس کا ہے۔ (ت)
حوالہ / References جامع احکام الصغار مع الفصولین اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۶
جامع احکام الصغار مع الفصولین اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۷
#12681 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اول کو وہ سید علامہ طحطاوی وشامی نقل کرکے فرمایا اس میں حرج عظیم ہے اور واقعی حرج ہے اور حرج نص قرآنی سے مدفوع ہے
وحاول ش ان یوھنہ بالدلیل فنازعہ بان للاب ان یستخدم ولدہ قال فی جامع(۱)الفصولین وللاب ان یعیر ولدہ الصغیر لیخدم استاذہ لتعلیم الحرفۃ(۲)وللاب او الجد اوالوصی استعمالہ بلاعوض بطریق التہذیب والریاضۃ اھ۔ قال الا ان یقال لایلزم من ذلك عدم ملکہ لذلك الماء المباح وان امرہ بہ ابوہ والله تعالی اعلم اھ۔
اقول : (۳)الجواب صحیح نظیف ماکان یستاھل التزییف بل(۴)کان واضحا من قبل فلم یکن للسؤال محل(۵)بل السؤال ساقط من رأسہ فھم لاینکرون جواز الاستخدام للاب لکن ذلك حیث یصح ویتحقق فان الشیئ انما یجوز بعد مایصح والباطل لاوجود لہ وقد علمت انہ فی الاعیان المباحۃ باطل وبہ انکشف ایھا مان واقعا فی کلامہ فی کتاب الشرکۃ حیث کان فی التنویر(۶)والدر لاتصح شرکۃ فی احتطاب
اور “ ش “ نے اس کو دلیل کے ذریعہ کمزوردکھانے کی کوشش کی اور فرمایا کہ باپ کو تو ویسے بھی حق ہے کہ بلامعاوضہ بیٹے سے کام لے۔ جامع الفصولین میں فرمایا کہ باپ اپنے چھوٹے بیٹے کو استاد کی خدمت کیلئے متعین کرسکتا ہے تاکہ استاد اس کو صنعت وحرفت سکھائے اور باپ دادا اور وصی بچے سے کام لے سکتے ہیں تاکہ ا س کو ادب وتہذیب سکھائیں اور اس کو کام کرنے کی عادت ہو اھ۔ فرمایا مگر اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ پانی کا مالك نہیں ہوگا خواہ اس نے اپنے باپ کے حکم سے پانی لیا ہو واللہ تعالی اعلم۔ (ت)
میں کہتا ہوں جواب بالکل درست ہے اس کو ضعیف قرار دینا درست نہ ہوگا لکہ پہلے سے واضح تھا تو سوال کی گنجائش ہی نہ تھی بلالکہ سوال کی بنیاد ہی ساقط ہے کیونکہ مشائخ اس امر کا انکار نہیں کرتے ہیں کہ باپ بیٹے سے خدمت لے سکتا ہے لیکن یہ صرف اسی صورت میں ہے جبکہ متحقق ہو اور صحیح ہو کیونکہ شے اسی وقت جائز ہوتی ہے جبکہ صحیح ہو اور باطل کا کوئی وجود نہیں ہوتا اور آپ جان چکے ہیں کہ یہ اعیان مباحہ میں باطل ہے ان کی کتاب کی کتاب الشرکۃ میں دو وہم تھے وہ بھی اس
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی الشرب البابی مصر ۵ / ۳۱۲
ردالمحتار فصل فی الشرب البابی مصر ۵ / ۳۱۲
#12682 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
واحتشاش واصطیاد واستقاء وسائر مباحات لتضمنھا اوکالۃ والتوکیل فی اخذ المباح لایصح وما حصلہ احدھما فلہ وما حصلاہ معافلھما نصفین ان لم یعلم مالکل وما حصلہ احدھما باعانۃ صاحبہ فلہ ولصاحبہ اجر مثلہ اھ۔
فکتب رحمہ الله تعالی علی قولہ وما حصلاہ فلھما یؤخذ من ھذا ماافتی بہ فی الخیریۃ(۱)لواجتمع اخوۃ یعملون فی ترکۃ ابیھم ونما المال فھو بینھم سویۃ ولو اختلفوا فی العمل والرای اھ۔ قال ثم ھذا فی غیر الابن مع ابیہ لما فی القنیۃ(۲)الاب وابنہ یکتسبان فی صنعۃ واحدۃ ولم یکن لھما شیئ فالکسب کلہ للاب انکان الابن فی عیالہ لکونہ معینالہ اھ۔
اقول : (۳)فایرادہ ھذا الفرع فی ھذا المبحث ربما یوھم ان لواجتمع رجل وابنہ فی عیالہ فی تحصیل مباح کان کلہ للاب ویجعل الابن معینالہ(۴)ولیس کذلك فان الشرع المطھر جعل فی المباح
بگفتگو سے ختم ہوگئی در اور تنویر میں ہے لکڑیاں اکٹھی کرنے گھاس جمع کرنے شکار کرنے اور پانی بھرنے میں شرکت جائز نہیں اور یہی حال دوسری مباحات کا ہے کیونکہ یہ وکالت کو متضمن ہے اور مباح کے لینے میں تو کیل جائز نہیں دو میں سے کسی ایك نے جو حاصل کیا وہ اسی کا ہوگا اور جو دونوں نے مل کر حاصل کیا ہو تو وہ آدھا آدھا ہے اگر یہ معلوم نہ ہو کہ کس نے کتنا لیا تھا اور جو کچھ ایك نے اپنے ساتھی کی مدد سے لیا وہ اسی ایك کا ہوگا اور ساتھی کو اجر مثل ملے گا اھ۔ تو انہوں نے اس کے قول وما حصلاہ فلھما پر لکھا ہے اس سے معلوم ہوا کہ خیریہ میں جو فتوی ہے وہ اسی سے ماخوذ ہے اگرچہ کچھ بھائی مل کر اپنے باپ کے ترکہ میں کام کریں اور پھر کچھ مال حاصل ہوا تو وہ ان کے درمیان برابری کی بنیاد پر تقسیم ہوگا خواہ عمل اور رائے میں اختلاف ہی کیوں نہ رہا ہو اھ۔ فرمایا یہ حکم اس صورت میں نہیں ہے جبکہ بیٹا باپ کے ساتھ مصروف عمل ہو کیونکہ قنیہ میں ہے اگر باپ بیٹا ایك ہی صنعت میں کام کرتے ہوں اور ان کے پاس اس کے علاوہ کچھ نہ ہو تو کل کمائی باپ کی شمار ہوگی بشرطیکہ بیٹا باپ کے عیال میں ہو کیونکہ وہ اس کا مددگار ہے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں ان کا اس فرع کو اس بحث میں لانا یہ وہم پیدا کرتا ہے اگر بیٹا باپ کے عیال میں ہو اور باپ بیٹا کسی مباح چیز کے حاصل ہونے میں مل کر کام کریں تو حاصل شدہ چیز پوری کی پوری باپ کی ہوگی اور بیٹا اس کا مددگار قرار پائے گا
حوالہ / References الدرالمختار شرکت فاسدۃ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷۴
ردالمحتار شرکت فاسدۃ البابی مصر ۳ / ۳۸۳
#12683 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
سبب الملك الاستیلاء فمن استولی فھو المالك ولا ینتقل الملك الی غیرہ الابوجہ شرعی کھبۃ وبیع ولا ینسب اخذہ لغیرہ الابوجہ شرعی ککونہ عبدہ اواجیرہ علیہ اما الاعانۃ مجانا فھی الخدمۃ وقد علمت بطلان الاستخدام فی تلك الاعیان وکتب علی قولہ باعانۃ صاحبہ سواء کانت الاعانۃ بعمل کما اذا اعانہ فی الجمع والقلع اوالربط اوالحمل اوغیرہ اوبالۃ کما لودفع لہ بغلا او راویۃ لیستقی علیھا اوشبکۃ لیصید بھا حموی وقھستانی ط اھ۔
اقول : (۱)فلا یتوھمن منہ الاعانۃ فی قلع الحطب بان یقلع البعض ھذا والبعض ھذا لانہ ھو تحصیلھما(۲)بل المعنی انہ وضع یدہ مع یدہ فی القلع حتی ضعف تعلقہ فقلعہ المعان اوعمل ھذا اولا وترکہ قبل ان ینقلع ثم عمل ذاك فقلعہ یکون الاول معینا والملك للقالع(۳)کمن استقی من بئر فاذا دنا الدلو من رأسہ اخرجھا ونحاھا عن رأس البئر غیرہ فان الملك للثانی وکذلك اذا
حالانکہ بات یہ نہیں ہے کیونکہ شریعت نے مباح اشیاء میں ملك کا سبب استیلاء کو قرار دیا ہے تو جو بھی کسی مباح پر قابض ہوجائے وہی مالك ہے اور دوسرے کی طرف اب اس کی ملك شرعی طریقوں سے ہی منتقل ہوسکتی ہے جیسے ہبہ اور بیع وغیرہ اور اس کا لینا اس کے غیر کی طرف صرف شرعی سبب سے ہی منسوب ہوگا مثلا یہ کہ وہ اس کا غلام ہو یا مزدور ہو اور مفت کی اعانت تو یہ خدمت ہے اور یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے کہ مباح چیزوں میں خدمت لینا باطل ہے اور “ باعانۃ صاحبہ “ پر لکھا کہ عام ازیں اعانت عملی ہو جیسے کسی چیز کے جمع کرنے اکھاڑنے باندھنے اٹھانے وغیرہ میں مدد کرے یا آلہ کے ذریعے مدد ہو جیسے اس کو خچر دیا پانی بھرنے کا بڑا ڈول دیا یا شکار کے لئے جال دیا حموی وقہستانی ط اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس سے یہ وہم پیدا نہ ہو کہ لکڑیاں اکھاڑنے میں مدد دینا بھی اسی طرح ہے مثلا بعض لوگ اس طرف سے اور بعض اس طرف سے لکڑیاں اکھاڑیں اس لئے یہ ان دونوں کا حاصل کرنا ہے بلالکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ایك ہی لکڑی پر ہاتھ رکھیں اور دونوں ایك ساتھ اس کو اکھاڑیں یا یہ کہ پہلے ایك شخص نے ایك درخت پر زور آزمائی کی اور ہٹ گیا پھر دوسرے نے زور آزمائی کی اور اس کو اکھاڑ لیا تو پہلا مددگار قرار پائے گا اور ملك اکھاڑنے والے کی ہوگی جیسے کوئی شخص ڈول بھر کر کنویں سے
حوالہ / References ردالمحتار شرکت فاسدۃ البابی مصر ۳ / ۳۸۳
#12684 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اثار احد صیدا وجاء بہ علی اخر فاخذہ کان للاخذ وما احسن وابعد عن الایھام عبارۃ الھدایۃ حیث قال(۱)وان عمل احدھما واعانہ الاخر فی عملہ بان قلعہ احدھما وجمعہ الاخر اوقلعہ وجمعہ وحملہ الاخر فللمعین اجر المثل ۔
پانی نکالے اور جب ڈول کنویں کے دہانے تك آجائے تو دوسرا شخص نکال کر رکھ دے۔ اس صورت میں ملك دوسرے کی ہوگی اسی طرح کسی نے شکار کو ہنکایا اور دوسرے شخص کے قریب آیا اور دوسرے شخص نے پکڑ لیا تو جس نے پکڑا اسی کا ہوگا۔ مگر ہدایہ کی عبارت ہر قسم کے وہم سے پاك صاف ہے اس میں ہے کہ اگر عمل ایك نہ کیا اور دوسرے نے اس عمل میں معاونت کی مثلا یہ کہ درخت ایك شخص نے اکھاڑے اور دوسرے نے جمع کئے یا اکھاڑے اور جمع کئے لیکن اٹھائے دوسرے نے تو مددگار کو اجر مثل ملے گا۔ (ت)
دوم : کہ نص محرر المذہب سے مروی نظر ظاہر گمان کرے گی کہ بہت کتب معتمدہ مشہورہ نے اس پر اعتماد کیا فتاوی(۱)اہل سمرقند پھر فتاوی۲ خلاصہ میں اس کے حوالہ سے ہے :
رجل(۲)وھب للصغیر شیاا من المأکول یباح للوالدین ان یاکلا منہ کذاروی عن محمد رحمہالله تعالی ۔
اگر کسی شخص نے بچے کو کھانے کی چیز ہبہ کی تو اس کے والدین کیلئے وہ چیز بھی کھانا جائز ہے محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے یہی مروی ہے۔ (ت)
وجیز کردری میں ہے :
وھب للصغیر من المأکول شیا یباح للوالدین ان یاکلاہ ۔
اگر کسی شخص نے بچے کو کھانے کی چیز ہبہ کی تو اس کے والدین کو اس چیز کا کھانا صحیح ہے۔ (ت)
فتاوی سراجیہ میں ہے :
اذا وھب الصبی شیئا من الماکول قال محمد رحمہ الله تعالی مباح لوالدیہ ان یاکلا منہ وقال اکثر مشایخ
اگر کسی نے بچہ کو کھانے کی کوئی چیز ہبہ کی تو محمد نے فرمایا اس کے والدین کیلئے اس میں سے کھانا مباح ہے۔ اوربخاری کے اکثر مشائخ نے فرمایا
حوالہ / References الہدایۃ فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ جزثانی المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ / ۶۱۴
خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الہبۃ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴ / ۴۰۰
فتاوٰی بزازیۃ مع الہندیۃ کتاب الہبۃ پشاور ۶ / ۲۳۷
#12685 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
بخاری لایحل اھ اقول : (۱)وتفرد بتعبیر قال محمد فان عبارۃ العامۃ روی عندہ والله تعالی اعلم۔
والدین کو کھانا حلال نہیں اھ(ت)
میں کہتا ہوں “ قال محمد “ کی عبارت تنہا انہو ں نے ہی استعمال کی ہے کیونکہ عام کتب کی عبارت یہ ہے کہ ان سے مروی ہے واللہ تعالی اعلم(ت)
فتاوی(۵)ظہیریہ پھر غمز(۶)العیون میں ہے :
اذا اھدی للصغیر شیئ من المأکولات روی عن محمد انہ یباح لوالدیہ وشبہ ذلك بالضیافۃ واکثر مشایخ بخاری علی انہ لایباح بغیر حاجۃ ۔
جب بچہ کو کسی نے کھانے کی چیزیں ہدیہ میں دیں تو محمد سے مروی ہے کہ اس کے والدین کو ان کا کھانا مباح ہے اور یہ ضیافت کی طرح ہے اور بخاری کے اکثر مشایخ کا کہنا ہے کہ بغیر حاجت جائز نہیں۔ (ت)
بحرالرائق(۷)میں ہے :
یباح للوالدین ان یاکلا من المأکول الموھوب للصغیر کذا فی الخلاصۃ فافاد ان غیر المأکول لایباح لھما الا عند الاحتیاج کما لایخفی ۔
والدین کو بچہ کی موہوبہ چیز کا کھانا مباح ہے کذا فی الخلاصہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر ماکول کو استعمال میں لانا مباح نہیں ہاں ضرورۃ جائز ہے کمالایخفی۔ (ت)
درمختار میں ہے :
وفیھا ای فی السراجیۃ یباح لوالدیہ ان یاکلا ممن مأکول وھب لہ وقیل لاانتھی۔ فافاد ان غیر الماکول لایباح لھما الا لحاجۃ اھ اقول : وکانہ اخذہ من ان العمل
سراجیہ میں ہے بچہ کے والدین کو مباح ہے کہ بچہ کو ہدیہ کی گئی چیز سے کھائیں اور ایك قول ہے کہ جائز نہیں انتہی اس سے معلوم ہوا کہ غیر ماکول سے بلاحاجۃ استفادہ جائز نہیں اھ(ت)
میں کہتا ہوں شاید انہوں نے یہ فتوی اس اصول سے
حوالہ / References فتاوٰی سراجیۃ مسائل متفرقۃ من ہبۃ لکھنؤ ص۹۶
جامع الصغار مع الفصولین الکراہیۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۶
بحرالرائق کتاب الھبۃ سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۸۸
الدرالمختار کتاب الھبۃ مجتبائی دہلی ۲ / ۱۶۰
#12686 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
بقول اصحاب الامام اذا لم یوجد عنہ قول ولا یوازیہ قول المشایخ وان کثروا کماذکرنا نصوصہ فی رسالتنا اجلی الا علام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام لاسیما وقد عبرہ بقال محمد والا فلیس فی السراجیۃ قیل کما اسمعناك نصھا۔
اخذ کیا ہے کہ امام کے اصحاب کے قول پر اس وقت عمل ہوگا جب امام سے کوئی قول نہ پایا جائے اور امام کے قول کے ہمسر مشائخ کے اقوال نہیں ہوسکتے ہیں خواہ وہ کتنے ہی زیادہ ہوں اس کے نصوص ہم نے اپنے رسالہ اجلی الاعلام بان الفتوی مطلقا علی قول الامام میں ذکرکئے ہیں خاص طور پر انہوں نے اس کو “ قال محمد “ سے تعبیر کیا ہے ورنہ سراجیہ میں قلیل نہیں ہے جیسا کہ ہم نے اس کی نص ذکر کی ہے۔ (ت)
تاتارخانیہ۹ پھر ردالمحتار۱۰ میں ہے :
روی عن محمد نصا انہ یباح وفی الذخیرۃ واکثر مشائخ بخاری علی انہ لایباح
محمد سے مروی ہے بطور نص کہ یہ مباح ہے اور ذخیرۃ میں ہے کہ اکثر مشائخ بخاری اس پر ہیں کہ مباح نہیں۔ (ت)
اسی طرح جواہر۱۱ اخلاطی وہندیہ۱۲ میں ہے جامع۱۳ الصغار کی عبارت اوپر گزری۔
اقول : مگر نظردقیق حاکم ہے کہ دونوں روایتیں اگرچہ امام محرر المذہب رحمۃ اللہ تعالی علیہ تعالی سے ہیں لیکن اس روایت اور ان عبارات کو اس روایت سے علاقہ نہیں یہاں وہ شے ملك صبی نہیں بلکہ دوسرے نے صبی کے نام ہدیہ بھیجی ہے اور عادت فاشیہ جاری ہے کہ کھانے پینے کی تھوڑی چیز بچوں ہی کے نام کرکے بھیجتے ہیں اور مقصود ماں باپ کو دینا ہوتا ہے اور یہ تو قطعا نہیں ہوتا کہ ماں باپ پر حرام سمجھتے ہوں اس عرف کا انتشار تام وعام دیکھ کر مطلق حکم فرمایا یا کہیں تفصیل وتوضیح فرمادی۔ فتاوی۱ سمرقند پھر تاتاخانیہ۲ پھر شامیہ۳ نیز کتاب۴ التجنیس والمزید پھر جامع۵ الصغار میں ہے :
اذ اھدی الفواکہ الی الصبی الصغیر یحل للاب والام الاکل اذا ارید بذلك برالاب والامام لکن اھدی الی الصغیر استصغار اللھدیۃ ۔
جب چھوٹے بچے کو کسی نے میوہ جات ہدیہ کئے تو اس کے ماں باپ کو اس میں سے کھانا جائز ہے بشرطیکہ اس ہدیہ کا مقصد ماں باپ کے ساتھ حسن سلوك ہو اور بچہ کو محض اس لئے ہدیہ کیا گیا ہو کہ ہدیہ کو چھوٹا سمجھا گیا ہو۔ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الہبۃ مصطفی البابی مصر ۴ / ۵۷۲
جامع الصغار مع الفصولین الکراہیۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۶
#12687 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
ملتقط۶ پھر اشباہ۷ کی تعبیر اور احسن ہے جس سے اس عادت کا فاشیہ ہونا روشن ہے۔
حیث قالا اذا(۱)اھدی للصبی شیئ وعلم انہ لہ فلیس للوالدین الا کل منہ لغیر حاجۃ اھ۔
اقول : بنی المنع علی علم انہ للصغیر فافاد الاباحۃ اذالم یعلم شیئ ردا الی العادۃ الفاشیۃ۔
انہوں نے فرمایا کہ جب بچہ کو کوئی چیز ہدیہ کی گئی ہو اور معلوم ہو کہ وہ صرف بچے کیلئے ہے تو والدین اس میں سے بلا حاجت نہیں کھا سکتے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں والدین کیلئے اس کا استعمال جائز نہ ہونا اس شرط سے مشروط ہے کہ اسے علم ہو کہ یہ بچہ کا ہے تو اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ جب علم نہ ہو تو مباح ہے عرف کا لحاظ رکھتے ہوئے کہا گیا ہے۔ (ت)
امام ظہیرالدین نے ان عبارات مطلقہ کی دلیل بیان فرما کر اس امر کا تصفیہ فرمادیا ظہیریہ۸پھر علمگیریہ۹ میں ہے :
اھدی للصغیر الفواکہ یحل لوالدیہ اکلھا لان الاھداء الیھما وذکر الصبی لاستصغار الھدیۃ اھ۔
اقول : ومن ھھنا ظھر ان ماتقدم عن جامع الصغار عن الظھیریۃ اذا اھدی الصغیر شیا من الماکولات ان لم یکن عن نقلہ بالمعنی لان المسألۃ فی سائر الکتب فیما وھب شیئ للصغیر وقد نقل عن الظھیریۃ نفسھا فی الغمز بلفظ اذا اھدی للصغیر شیئ کما سمعت فلیس مرادہ الا اھداؤہ مما اھدی الیہ لاان یبتدی الصبی فیھدی من ملکہ شیا
بچہ کو پھل ہدیہ کیے گئے تو اس کے والدین کو ان کا کھانا جائز ہے کیونکہ ہدیہ دراصل والدین کو ہی تھا بچہ کے ہاتھ میں اس لئے دیا گیا کہ ہدیہ کو معمولی سمجھا گیا۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس سے معلوم ہوا کہ جو عبارت جامع صغیر سے ظہیریہ سے گزری کہ جب بچہ کھانے پینے کی کوئی چیز ہدیہ کرے اگر یہ اس کی نقل بالمعنی نہیں ہے کیونکہ تمام کتب میں یہ مسئلہ اس طرح مذکور ہے کہ کوئی چیز بچہ کو ہبہ کی گئی اور خود ظہیریہ میں غمز سے ان الفاظ میں منقول ہے کہ جب بچہ کو کوئی چیز ہبہ کی گئی جیسا کہ تم نے سنا تو ان کی مراد یہ ہے کہ بچہ اس چیز سے ہدیہ کرے جو اس کو ہدیہ کی گئی ہو یہ نہیں کہ بچہ ابتداء کرے اور اپنی ملك سے کچھ ہدیہ کرے اور اس کی دلیل
حوالہ / References الاشباہ والنظائر احکام الصبیان ادارۃ القرآن کراچی ۲ / ۱۴۵
فتاوٰی ہندیۃ الباب الثالث من الہبۃ پشاور ۴ / ۳۸۱
#12688 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
والدلیل علیہ قولہ وشبہ ذلك بضیافۃ المأذون فالمأذون(۱)لایضیف من مال نفسہ بل مولاہ ومولاہ انما اذن فی التجارۃ لکن العوائد قضت ان امثال الضیافات لابدمنھا فی التجارات فکان اذنہ فی التجارۃ اذنا فیھا کذلك الصبی لاھدی من مال نفسہ بل مال المہدی والمھدی انما سمی الصبی لکن فشت العوائد ان امثال الھدایا لایمنع عنھا ابواہ فکان اھداؤہ الیہ اھداء الیھما۔
اقول : والوجہ فیہ ان المأکولات مما یتسارع الیھا الفساد فیکون اذنا من المھدی لھما فی التناول دلالۃ وذلك بان یقع الملك لھما بخلاف مایدخر فظھر اصابۃ البحر والدر فی قولھما افادان غیر المأکول لایباح لھما الا لحاجۃ (۲)واندفع ماوقع للعلامۃ ش حیث قال بعد نقل مامر عنہ عن التتارخانیۃ عن فتاوی سمرقند قلت : وبہ یحصل التوفیق ویظھر ذلك بالقرائن وعلیہ فلا فرق بین المأکول وغیرہ بل غیرہ اظھر اھ
ان کا یہ قول ہے کہ اور یہ مشابہ ماذون کو ضیافت کے ہے کہ ماذون اپنے مال سے ضیافت نہیں کرتا ہے بلکہ اپنے مولی کے مال سے کرتا ہے اور اس کے مولی نے اس کو تجارت کی اجازت دی ہے لیکن عرف میں یہ عادت ہے کہ تجارت میں اس قسم کی ضافتیں ہوتی ہی رہتی ہیں تو تجارت کی اجازت دینا ضیافت کی اجازت کے مترادف ہے اسی طرح بچہ اپنے مال سے ہدیہ نہیں دیتا ہے بلالکہ ہدیہ دینے والے کے مال سے ہی ہدیہ دیتا ہے اور ہدیہ دینے والے نے بچہ کا نام لیا مگر عام طور پر عادت یہ ہے کہ اس قسم کے ہدایا سے ماں باپ کو منع نہیں کیا جاتا ہے تو بچوں کو ہدیہ دینا ماں باپ کو ہدیہ دینا سمجھا جاتا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں کھانے پینے کی چیزیں عام طور پر جلدی گل سڑ جاتی ہیں تو ہدیہ دینے والے کی طرف سے والدین کو اشارۃ کھانے کی اجازت سمجھی جائے گی اور اس طرح ملك والدین کے لئے ثابت ہوگی اور جو اشیاء جلد خراب ہونے والی نہیں ہیں ان کا یہ حکم نہیں ہے تو بحر اور در کے قول کی صحت ظاہر ہوگئی ان کا قول ہے کہ جو چیزیں کھانے پینے کی نہیں ان کا استعمال والدین کے لئے جائز نہیں ہاں حاجت کے وقت جائز ہے اور علامہ “ ش “ کا اعتراض ختم ہوا انہوں نے تو وہ عبارت نقل کی جو تتارخانیہ فتاوی سمرقند سے گزری پھر فرمایا میں کہتا ہوں
حوالہ / References الدرالمختار کتاب الہبۃ مجتبائی دہلی ۲ / ۱۶۰
ردالمحتار کتاب الہبۃ مصطفی البابی مصر ۴ / ۵۷۲
#12689 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
ای فان ارادۃالولد بھبۃ المأکول اظھر واکثر فاذا ساغ الاکل ثمہ عند عدم دلیل یقتضی باختصاص الھدیۃ بالولد فھذا اولی وقد عرفت الجواب وبالله التوفیق۔
اس سے موافقت ظاہر ہوگئی اور یہ قرائن سے ظاہر ہوتا ہے اور اس لحاظ سے اس میں ماکول اور غیر ماکول کا کوئی فرق نہیں بلالکہ اس کا غیر اظہر ہے اھ۔ یعنی ماکول کے ہبہ سے بچہ کا ارادہ اظہر ہے اور اکثر ہے تو جب وہاں کھانا جائز ہوا کسی ایسی دلیل کے نہ ہونے کے وقت جو ہدیہ کے بچہ کے ساتھ مختص ہونے کا تقاضا کرتی ہو تو یہ اولی ہے اور آپ کو اس کا جواب مل چکا ہے وبالله التوفیق۔ (ت)
بالجملہ یہ روایات غیر ملك صبی میں ہیں اور یہاں کلام ملك صبی میں کہ مباح پانی بلاشبہ بھرنے والے کی ملك ہوگا جبکہ بروجہ اجارہ نہ ہو اور صبی کی ملك والدین کو بے احتیاج حلال نہیں مقتضائے نظر فقہی تو یہ ہے۔
اقول : وبالله التوفیق مگر شك نہیں کہ عرف وعادت اس کے خلاف ہے اور وہ بھی دلائل شرعیہ سے ہے تو مناسب کہ اسے قلیل عفو قرار دیں جس پر قرآن وحدیث سے دلیل ہے قال الله عزوجل :
و یســٴـلونك عن الیتمى-قل اصلاح لهم خیر-و ان تخالطوهم فاخوانكم-و الله یعلم المفسد من المصلح-
اور وہ آپ سے یتیموں کی بابت پوچھتے ہیں فرمادیجئے ان کی اصلاح بہتر ہے اور اگر تم ان کے ساتھ اپنا مال ملا کر کھاؤ وہ تمہارے بھائی ہیں اور اللہ مفسد کو مصلح سے جانتا ہے۔ (ت)
اس آیت میں احد التفسیرین پر یتیم کے ساتھ جواز مخالطت مال ہے اور ظاہر کہ بحال مخالطت کامل امتیاز قریب محال ہے۔ تفسیرات احمدیہ میں ہے :
وفی الزاھدی قال ابن عباس رضی الله تعالی عنھما المخالطۃ ان تأکل من ثمرہ ولبنہ و قصعتہ وھو یاکل من ثمرتك ولبنك وقصعتك (۱)والایۃ تدل علی جواز المخالطۃ فی السفر والحضر یجعلون النفقۃ علی السواء ثم لایکرہ ان یاکل احدھما اکثر لانہ لما جاز
اور زاہدی میں ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ مخالطت یہ ہے کہ تم اس کے پھل اس کا دودھ اور اس کے پیالہ میں کھاؤ اور وہ بھی اسی طرح تمہارے ساتھ تمہارے پھل کھائے اور تمہارا دودھ پئے اور تمہارے پیالے میں کھائے اور یہ آیت مخالطت کے جواز پر دلالت کرتی ہے خواہ سفر میں ہو یا حضر میں ہو جبکہ نفقہ کو
حوالہ / References القرآن ۲ / ۲۲۰
#12690 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
فی اموال الصغار فجوازہ فی اموال الکبار اولی ھذا لفظہ فاحفظہ فانہ نافع وحجۃ علی کثیر من المتعصبین فی زماننا اھ۔
اقول : (۱)فاذن مافی جامع الصغار عن فتاوی رشید الدین من باب دعوی الاب والوصی لولم تکن الام محتاجۃ الی مالہ ولکن خلطت مالھا بمال الولد واشترت الطعام واکلت مع الصغر ان اکلت مازاد علی حصتھا لایجوز لانھا اکلت مال الیتیم اھ۔ معناہ الزیادۃ(۲)المتبینۃ ففی جامع الرموز عن الباب المذکور من الفتاوی المذبورۃ قبیل ھذا صبی یحصل المال ویدفع الی امہ والام تنفق علی الصبی وتأکل معہ قلیلا نحو لقمۃ اولقمتین من غیر زیادۃ لایکرہ ۔
برابر کا رکھیں پھر اس میں کوئی کراہت نہیں کہ ان میں سے کوئی زائد کھالے کیونکہ یہ چیز جب بچوں کے مال میں جائز ہے توبڑوں کے اموال میں بطور اولی جائز ہے یہ ان کے الفاظ ہیں ان کو بخوبی یاد رکھیں یہ مفید بھی ہیں اور ہمارے عہد کے بہت سے متعصبین پر حجت بھی ہیں اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں تو جامع الصغار میں فتاوی رشید الدین سے(دعوی الاب والوصی میں)جو منقول ہے اگر ماں بچہ کے مال کی محتاج نہ ہو لیکن اس نے بچہ کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر کھانا خریدا اور بچہ کے ساتھ کھایا تو اگر اپنے حصہ سے زیادہ کھایا تو جائز نہیں کیونکہ اس نے یتیم کا مال کھایا اھ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اتنی زیادتی جو بالکل واضح اور ظاہر ہو اسی فتاوی کے مذکور باب سے جامع الرموز میں منقول ہے اس سے کچھ ہی پہلے کہ ایك بچہ ہے جو مال لاتا ہے اور مال کو دیتا رہتا ہے اور ماں اس پر خرچ کرتی رہتی ہے اور لقمہ دو لقمہ خود بھی اس کے ساتھ کھاتی رہتی ہے زیادہ نہیں تو یہ مکروہ نہیں ہے۔ (ت)
صحیح مسلم شریف میں عبداللہ بن عباس سے ہے :
قال کنت العب مع الصبیان فجاء رسول الله صلی الله علیہ وسلم فتواریت خلف
فرمایا میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتشریف لائے تو میں
حوالہ / References تفسیراتِ احمدیۃ بیان اصلاح کریمی کتب خانہ بمبئی ص۱۰۳
جامع الصغار مسائل الکراہیۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸
جامع الصغار مع جامع الفصولین مسائل الکراہیۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸
#12691 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
باب فجاء فحطأنی حطأۃ عــہ وقال اذھب ادع لی معویۃ ۔
ایك دروازہ کے پیچھے چھپ گیا تو آپ میرے پاس تشریف لائے اور میرے دونوں کندھوں کے درمیان اپنے ہاتھ سے(پیار سے)تھپکی دی اور کہا کہ معویہ کو بلا لاؤ۔ (ت)
امام ۱ نووی شرح میں فرماتے ہیں :
فیہ جواز ارسال صبی غیرہ ممن یدل علیہ فی مثل ھذا ولا یقال ھذا تصرف فی منفعۃ الصبی لان ھذا قدر یسیر ورد الشرع بالمسامحۃ فیہ للحاجۃ واطرد بہ العرف وعمل المسلمین ۔
اس سے معلوم ہوا کہ دوسرے کے بچہ کو اس جیسے کام کیلئے بھی بھیجا جا سکتا ہے اور اس کا مطلب یہ نہ ہوگا کہ بچہ کی منفعت میں تصرف کیا کیونکہ یہ معمولی چیز ہے اور شریعت نے ضرورتا اس قسم کی چیزوں کی اجازت دی ہے اور عام طور پر مسلمانوں کا اس پر عمل ہے۔ (ت)
عارف باللہ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ نے حدیقہ ندیہ میں اسے مقرر رکھا۔ سوم میں امر ابوین کو اجارہ پر قیاس کیا۔
اقول اولا : یہ صحت تو کیل کو چاہتا ہے اور اعیان(۲)مباحہ میں تو کیل خلاف نصوص ہے وعللوہ بوجوہ(اور انہوں نے اس کی کئی علتیں بیان کی ہیں)
الاول : ان صحۃ التوکیل تعتمد صحۃ امر الموکل بما وکل بہ وصحۃ الامر تعتمد الولایۃ ولا ولایۃ للموکل علی المباح ونقض بالتوکیل بالشراء فان الموکل لاولایۃ لہ علی المشری۔ والثانی ان التوکیل احداث ولایۃ للوکیل ولا یصح ھنا لانہ یملك اخذ المباح بدون تملیکہ ونقض بالتوکیل
اول : توکیل کی صحت کا دارومدار اس پر ہے کہ جو کام موکل نے وکیل کو سپرد کیا ہے وہ درست ہے اور اس کام کی صحت کا مدار ولایت پر ہے اور مباح کام پر موکل کو کوئی ولایت نہیں ہے اور اس پر توکیل بالشراء سے اعتراض وارد ہے کیونکہ موکل کو خریدی جانے والی چیز پر کوئی ولایت حاصل نہیں ہے۔ دوم : توکیل کے معنی وکیل کیلئے ولایت

عــہ : حطأنی بحاء ثم طاء مھملتین وبعدھما ھمزۃ وھو الضرب بالید مبسوطۃ بین الکتفین اھ حدیقہ ندیہ۔
حطاء نی حاء پھر طاء دونوں بغیر نکتہ کے اور ان کے بعد ہمزہ ہے معنی ہے دو کندھوں کے درمیان ہاتھ سے تھپکی دینا اھ حدیقہ ندیہ۔ (ت)
حوالہ / References صحیح للمسلم باب من لعنہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم... الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۲۵
شرح للنووی باب من لعنہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم... الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۳۲۵
#12692 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
بشراء شیئ لابعینہ فان الوکیل یملکہ قبل التوکیل وبعدہ واجاب فی العنایۃ ان معناہ یملکہ بدون امرالموکل بلا عقد وصورۃ النقض لیست کذلك فانہ لایملکہ الا بالشراء اھ۔
اقول : (۱)رحمك الله تعالی لیس المراد ملك العین بل ولایۃ ذلك الفعل کالاخذ ثمہ والشراء ھھنا وھو لایملکہ بالعقد بل العقد ناشیئ عن ملکہ ثم رأیت سعدی افندی اومأ الیہ اذقال فیہ تأمل فان الموکل بہ ھو الشراء فالوکیل یملکہ فلا یندفع النقض اھ۔ والصواب فی الجواب انہ لم یکن لہ من قبل ولایۃ ان یشغل ذمۃ الموکل بالثمن وردہ المحقق فی الفتح بان حاصل ھذا ان التوکیل بما یوجب حقا علی الموکل یتوقف علی اثباتہ الولایۃ علیہ فی ذلك والکلام فی التوکیل بخلافہ اھ ای باخذ المباح فانہ لایثبت فیہ حق علی الموکل۔
کا ایجاد کرنا ہے اور وہ یہاں درست نہیں ہے کیونکہ وہ اس کی تملیك کے بغیر ہی مباح کو لے سکتا ہے اور اس پر یہ نقض ہے کہ کسی کو غیر معین چیز کے خریدنے کا وکیل بنایا کیونکہ وکیل تو توکیل سے پہلے اور اس کے بعد بھی اس کا مالك ہے۔ اورعنایہ میں اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کا مالك ہے موکل کے حکم کے بغیر اور بغیر عقد کے۔ اور نقض کی صورت یہ نہیں ہے کیونکہ وہ خریدے بغیر اس کا مالك نہیں ہے اھ۔ (ت)میں کہتا ہوں
اس سے مراد ملك عین نہیں ہے ب ملك عین نہیں ہے بلکہ اس کام کے کرنے کا اختیار ہے جیسے وہاں لینا اور یہاں خریدنا اور وہ عقد کی وجہ سے اس کا مالك نہیں بلالکہ عقد تو خود اس کی ملك سے پیدا ہوتا ہے پھر میں نے دیکھا کہ سعدی افندی نے اسکی طرف اشارہ کیا ہے وہ فرماتے ہیں اس میں تامل ہے کیونکہ جس چیز کا وکیل بنایا ہے وہ “ شرا “ ہے تو وکیل اس کا مالك ہے تو نقض مرتفع نہ ہوگا اھ۔ تو اس کا صحیح جواب یہ ہوگا کہ موکل کو پہلے یہ ولایت حاصل نہ تھی کہ وہ موکل کے ذمہ کو ثمن کے ساتھ مشغول رکھے اور محقق نے اس کا فتح میں رد کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کا خلاصہ یہ ہوا کہ ایسی چیز کی توکیل جو موکل پر حق ثابت کرے اس امر پر موقوف ہے کہ وہ اس پر ولایت کو ثابت کرے اور گفتگو توکیل میں اس کے برخلاف ہے اھ۔ یعنی مباح کے لینے میں کیونکہ اس میں موکل پر حق ثابت نہیں ہوتا۔ (ت)
حوالہ / References عنایۃ مع الفتح القدیر الشرکۃ الفاسدۃ نوریہ رضویہ سکھر ۵ / ۴۰۹
حاشیۃ چلپی الشرکۃ الفاسدۃ نوریہ رضویہ سکھر ۵ / ۴۰۹
فتح القدیر الشرکۃ الفاسدۃ نوریہ رضویہ سکھر ۵ / ۴۱۰
#12693 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اقول : (۱)ھذا اعتراف بالمقصود فان التوکیل مطلقا اثبات ولایۃ للوکیل لم تکن من قبل ولایوجد ھھنا فلایصح التوکیل بہ بخلاف الشراء ولیس ان احداث الولایۃ مطلوب خصوصا فی التوکیل بما یوجب حقا علی الموکل حتی یقال لیس التوکیل باخذ المباح من ھذا الباب فلا یحتاج الی احداث الولایۃ۔
والثالث ان المقصود بالتوکیل نقل فعل الوکیل الی الموکل ولا یتحقق ھھنا فان الشرع جعل سبب ملك المباح سبق الید الیہ والسابقۃ ید الوکیل فیثبت الملك لہ ولا ینتقل الی الموکل الا بسبب جدید اشار الیہ المحقق۔
میں کہتا ہوں یہ مقصود کا اعتراف ہے کیونکہ توکیل مطلقا وکیل کے لئے ولایت کا اثبات ہے ایسی ولایت جو اس کو پہلے حاصل نہ تھی اور وہ یہاں پائی نہیں جاتی ہے تو اس کی توکیل صحیح نہ ہوگی اور شراء میں یہ چیز نہیں ہے اور ولایت کا ایجاد و احداث مطلوب نہیں ہے خاص طور پر اس توکیل میں جو موکل پر کسی حق کو واجب کرتی ہو اگر ایسا ہوتا تو کہا جاسکتا تھا کہ مباح کے لینے پر وکیل بنانا اس باب سے نہیں ہے تو اس میں ولایت کی ایجاد کی حاجت نہیں ہے۔ (ت)
سوم : توکیل سے مقصود یہ ہے کہ وکیل کے فعل کو موکل کی طرف نقل کیا جائے اور یہ چیز یہاں متحقق نہیں کیونکہ شریعت نے مباح کی ملکیت کا سبب قبضہ میں پہل کو قرار دیا ہے اور یہاں وکیل نے قبضہ میں پہل کی ہے تو ملك اس کیلئے ثابت ہوگی اور موکل کی طرف اسی وقت منتقل ہوگی جبکہ اس کا سبب جدید ہو محقق نے اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ (ت)
ثانیا : یہ قیاس صحیح ہو تو صرف ظرف پر حکم نہ رہے بلالکہ والدین کی نیت سے لینا ہی ان کے لئے مثبت ملك ہو اگرچہ ان کے ظرف میں نہ لے کہ مقیس علیہ اعنی اجارہ مذکورہ میں حکم یہی ہے اصل مدار(۲)نیت پر ہے جبکہ نہ اجیر کا یہ وقت بکا ہے نہ شیئ معین ہے تو وہ اپنے لئے بھی لے سکتا ہے اور اپنے مستاجر کیلئے بھی جس کیلئے لے گا اسی کی ملك ہوگی ہاں اگر لیتے وقت کسی کی نیت نہ تھی یا وہ کہے میں نے اپنے لئے نیت کی تھی اور مستاجر کہے میرے لئے کی تھی تو اس وقت ظرف پر فیصلہ رکھیں گے اس کے ظرف میں لی تو اس کیلئے ہے ورنہ اپنے لئے۔
واصل ذلك الوکیل بشراء شیئ لابعینہ الحکم (۳)فیہ للاضافۃ فان لم توجد فللنیۃ فان لم توجدا وتخالفا فیھا فللنقد ای ان اضاف العقد الی مال الموکل فالشراء للموکل
اور اس کی اصل یہ مسئلہ ہے کہ کسی شخص کو غیر معین شیئ کے خریدنے کا وکیل بنایا تو اس میں حکم اضافت کا ہے اگر اضافت نہ پائی گئی تو نیت معتبر ہوگی اگر نیت بھی نہ پائی گئی یا دونو ں میں اختلاف ہوا تو حکم
#12694 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
وان زعم انہ اشتری لنفسہ اوالی مال نفسہ فلنفسہ اوالی مطلق مال فلایھما نوی کان لہ فان لم تحضرہ النیۃ عند الشراء اوقال نویت لی وقال الموکل اوبالعکس حکم النقد فی الثانی بالاجماع وفی الاول عند ابی یوسف خلافا لمحمد فانہ یجعل اذن للعاقد وقع فی ردالمحتار عکس ھذا وھو سھو۔
اقول : (۱)وقدم قاضی خان قول ابی یوسف واخر فی الھدایۃ دلیلہ فافادا ترجیحہ وقال فی البحر تحت قول الکنز ان کان بغیر عینہ فالشراء للوکیل الا ان ینوی للموکل اویشتریہ بمالہ مانصہ ظاھر مافی الکتاب ترجیح قول محمد من انہ عند عدم النیۃ یکون للوکیل لانہ جعلہ للوکیل الا فی مسألتین اھ۔ ای النیۃ للموکل واضافۃ العقد الی مالہ اذھو المراد من الشراء بمالہ کما فی الھدایۃ فاذالم یضف ولم ینو کان للعاقد کما ھو
نقد کا ہے یعنی اگر عقد کو موکل کے مال کی طرف مضاف کیا تو خریدنا موکل کیلئے ہوا اگرچہ اس نے یہ گمان کیا کہ اس نے اپنے لئے خریدا ہے اور اگر اضافت خود اس کے مال کی طرف ہے تو خریدنا اس کیلئے ہوا اور اگر مطلق مال کی طرف اضافت ہے تو دونوں میں سے جس کی نیت کی اس کیلئے ہوگا اور اگر خریدنے کے وقت کوئی نیت ہی نہ تھی یا کہا کہ میں نے اپنے لیے نیت کی تھی اور موکل نے کہا کہ میرے لئے کی تھی یا بالعکس تو دوسرے میں بالاجماع نقد کو حکم بنایا جائیگا اور پہلے میں صرف ابو یوسف کے نزدیك ہوگا امام محمد اس کو اس صورت میں عاقد کیلئے قرار دیتے ہیں اور ردالمحتار میں اس کا برعکس کہا ہے اور یہ سہو ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں قاضی خان نے ابو یوسف کا قول مقدم کیا ہے اور ہدایہ میں اس کی دلیل کو موخر کیا ہے جس سے اس کی ترجیح معلوم ہوتی ہے اور بحر نے کنز کے اس قول کے تحت فرمایا کہ اگر غیر معین چیز کے خریدنے کا وکیل بنایا تو شراء وکیل کیلئے ہے مگر یہ کہ موکل کی نیت کرلے یا اس کو اپنے مال سے خریدے۔ ان کی عبارت یہ ہے کتاب میں جو ہے اس سے بظاہر محمد کے قول کی ترجیح معلوم ہوتی ہے یعنی یہ کہ نیت نہ ہونے کی صورت میں وہ شراء وکیل کیلئے ہوگی کیونکہ انہوں نے شراء وکیل کیلئے ہی کی ہے سوائے دو مسئلوں کے اھ۔ یعنی یہ کہ نیت
حوالہ / References عنایۃ مع فتح القدیر وکا لۃ بالشراء سکھر ۷ / ۴۵
بحرالرائق وکا لۃ بالبیع والشراء سعید کمپنی کراچی ۷ / ۱۶۰
#12695 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
مذہب محمد رحمہ الله تعالی۔
اقول : (۱)لکن الامام ابا یوسف رحمہ الله تعالی انما حکم النقد لانہ دلیل النیۃ قال فی الھدایۃ عند ابی یوسف یحکم النقد لان مع تصادقھما یحتمل النیۃ للامر وفیما قلناہ حمل حالہ علی الصلاح کما فی حالۃ التکاذب قال فی العنایۃ(یحتمل)انہ کان نوی للامر ونسیہ (وفیما قلنا)یعنی تحکیم النقد(حمل حالہ علی الصلاح)لانہ اذا کان النقد من مال الموکل والشراء لہ کان غصبا(کما فی حالۃ التکاذب ) اھ۔ فعلم ان تحکیم النقد داخل فی اعتبار النیۃ ولایستغرب مثلہ فی ایجاز الکنز۔
موکل کیلئے ہو اور اضافت اس کے مال کی طرف ہو اس لئے کہ اس کے مال سے خریدنے کا یہی مطلب ہے جیسا کہ ہدایہ میں ہے توجب اضافت نہ کی اور نیت بھی نہ کی تو عاقد کیلئے ہوگی جیسا کہ محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ تعالی کا مذہب ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں لیکن امام ابویوسف نے نقد کو حکم بنایا کیونکہ وہ نیت کی دلیل ہے۔ ہدایہ میں فرمایا ابویوسف کے نزدیك نقد کو حکم بنایا جائیگا کیونکہ اگر وہ دونوں اتفاق کرلیں تو احتمال ہے کہ نیت حکم دینے والے کی ہو اور جو ہم نے کہا ہے اس میں اس کے حال کو صلاح پر محمول کیا گیا ہے جیسے کہ دونوں ایك دوسرے کو جھٹلانے کی صورت میں ہے عنایہ میں فرمایا(احتمال ہے)کہ اس نے حکم دینے والے کیلئے نیت کی ہو اور پھر بھول گیا ہو(اور جو ہم نے کہا اس میں)اس سے مراد نقد کو حکم بنانا ہے(اس کے حال کو صلاح پر محمول کرنا ہے)کیونکہ جب ادائیگی موکل کے مال سے ہو اور خریدنا اس کے لئے ہو تو یہ غصب ہوگا(جیسے کہ ایك دوسرے کو جھٹلانے کی صورت میں ہے)اھ۔ تو معلوم ہوا کہ نقد کو حکم بنایا نیت کے اعتبار میں داخل ہے اور کنز کے ایجاز میں ایسی بات عجیب نہیں ہے۔ (ت)
بالجملہ قول سوم خلاف اصول ومخالف منقول ہے اور قول اول میں حرج بشدت اور دوم کہ نص محررالمذہب سے ماثور مؤید بعرف وکتاب وسنت لہذا فقیر اسی کے اختیار میں اپنے رب عزوجل سے استخارہ کرتا ہے وباللہ التوفیق تو ثابت ہوا کہ احکام مذکورہ صور استیلاء میں نسبت ابوت وبنوت سے کوئی تغیر نہیں آتا جب یہ اصل بعونہ تعالی ممہد ہولی واضح ہوا کہ نابالغ۲ کا بھرا ہوا پانی ایك نہیں بہت سے پانی ہیں جن کا سلسلہ شمار یوں ہے۔
(۳۲)وہ پانی کہ نابالغ نے آب مملوك مباح سے لیا۔
حوالہ / References الہدایۃ وکا لۃ بالبیع والشراء مطبع یوسفی لکھنؤ ۲ / ۱۸۳
عنایۃ مع الفتح القدیر وکا لۃ بالبیع والشراء نوریہ رضویہ سکھر ۷ / ۴۶
#12696 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
(۳۳)وہ کہ مملوك غیر مباح سے بے اجازت لیا۔
(۳۴)وہ کہ اس سے باجازت لیا مگر مالك نے اسے ہبہ نہ کیا صرف بطور اباحت دیا۔
(۳۵)نابالغ خدمتگار نے آقا کے لئے نوکری کے وقت میں بھرا۔
(۳۶)خاص پانی ہی بھرنے پر اس کا اجیر بتعین وقت تھا اسی وقت میں بھرا۔
(۳۷)مستاجر نے پانی خاص معین کردیا تھا مثلا اس حوض یا تالاب کا کل پانی۔
اقول : اور یہ تعین نہ ہوگا کہ اس حوض یا کنویں سے دس مشکیں کہ دس مشك باقی سے جدا نہیں جس کی تعیین ہوسکے۔
(۳۸)اس نے باذن ولی یہ مزدوری کی اور کہتا ہے کہ یہ پانی مستاجر کیلئے بھرا۔
(۳۹)اسی صورت میں اگرچہ زبان سے نہ کہا مگر اس کے برتن میں بھرا۔
(۴۰)نابالغ کسی کا مملوك ہے ان نو صورتوں میں وہ نابالغ اس پانی کا مالك ہی نہ ہوا پہلی تین صورتوں میں مالك آب کا ہے پھر ۳۵ سے ۳۹ تك پانچ صورتوں میں مستاجر کا۔ اخیر میں اگر باذن مولی کسی کے لئے اجارہ پر بھرا اور وہی صورتیں ملك مستاجرکی پائی گئیں تو پانی مستاجر کاورنہ بہرحال اس کے مولی کا یہاں تك کہ خاص اپنے لئے جو بھرا ہو وہ بھی مولی ہی کی ملك ہوگا۔ یہ پانی جس جس کی ملك ہو اسے تو جائز ہی ہیں اس کی اجازت سے ہر شخص کو جائز ہیں جبکہ وہ عاقل بالغ مختار اجازت ہو بلالکہ بحال۱ انبساط اجازت لینے کی بھی حاجت نہیں مثلا کسی کے نابالغ نوکر اجیر یا غلام نے پانی بھرا اس کے بھائی یا دوست جو اس کے ایسے مال میں تصرف کرتے اور وہ پسند رکھتا ہے اس سے بے پوچھے بھی نابالغ مذکور کا بھرا ہوا پانی اس سے لے کر اپنے صرف میں لاسکتے بلکہ غلام سے مطلقا اور اس کے نوکر سے وقت نوکری میں بھرواسکتے ہیں کہ بہرحال اس دوست کی ملك میں تصرف ہے نہ نابالغ کی۔
(۴۱)نابالغ۲ حر کو مالك آب نے پانی تملیکا دیا۔
(۴۲ حر غیر اجیر نے آب مباح غیر مملوك سے اپنے لئے بھرا۔
(۴۳)دوسرے کیلئے بطور خود۔
(۴۴)اس کی فرمائش سے بلا معاوضہ۔
(۵۴)اجیر کے آقا کے کہنے سے بھرا اگر اس کے یہاں کسی اور خاص کام کیلئے نوکر تھا جس میں پانی بھرنا داخل تھا۔
(۴۶)داخل تھا جیسے خدمت گاری مگر نوکری کے وقت مقرر سے باہر بھروایا۔
#12697 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
(۴۷)خاص پانی ہی بھرنے پر اسے اجیر کیا نہ وقت مقررہ ہوا نہ پانی معین نہ یہ مقرر کہ اس کے لئے بھرا نہ اس
کا برتن تھا جس میں بھرا۔
(۴۸)وقت مقرر ہوا اور اس سے باہر یہ کام لیا ان آٹھ صورتوں میں وہ پانی اس نابالغ کی ملك ہے اور اس میں غیر والدین کو تصرف مطلقا حرام حقیقی بھائی اس پانی سے نہ پی سکتا ہے نہ وضو کرسکتا ہے ہاں طہارت ہوجائے گی اور ناجائز تصرف کا گناہ اور اتنے پانی کا اس پر تاوان رہے گا مگر یہ کہ اس کے ولی سے یا بچہ ماذون۱ ہو جس کے ولی نے اسے خرید فروخت کا اذن دیا ہے تو خود اس سے پورے داموں خریدلے ورنہ۲ مفت یا غبن فاحش کے ساتھ نابالغ کی ملك دوسرے کو نہ خود وہ دے سکتا ہے نہ اس کا ولی۔ رہے والدین وہ بحالت حاجت مطلقا اور بے حاجت حسب روایت امام محمد ان کو جائز ہے کہ اس سے بھروائیں اور اپنے صرف میں لائیں باقی صورتوں میں ان کو بھی رواہ نہیں مگر وہی بعد شرا۔
تنبیہ ۱ : یہاں۳ سے استاد سبق لیں معلموں کی عادت ہے کہ بچے جو ان کے پاس پڑھنے یا کام سیکھنے آتے ہیں ان سے خدمت لیتے ہیں یہ بات باپ دادا یا وصی کی اجازت سے جائز ہے جہاں تك معروف ہے اور اس سے بچے کے ضرر کا اندیشہ نہیں مگر نہ ان سے پانی بھروا کر استعمال کرسکتے ہیں نہ ان کا بھرا ہوا پانی لے سکتے ہیں۔
اقول : وعرفھم الحادث علی خلاف الشرع لا یعبؤبہ فانہ لم یکن فیمن مضی من اھل الخیر ومر الامام الکسائی رحمہ الله تعالی علی سکۃ عطشان فاستسقی من بعض بیوتھا ثم تذکر انہ اقرأ بعض اھلھا فمرولم یشرب۔
اقول : اور ان کی نئی اصطلاح جو شریعت کے برخلاف ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں یہ اصطلاح سلف صالحین کے زمانہ میں نہ تھی۔ ایك مرتبہ امام کسائی کا گزر ایك گلی سے ہوا آپ پیاسے تھے تو ایك گھر سے پانی طلب کیا پھر انہیں یاد آیا کہ انہوں نے اس گھر کے کچھ لوگوں کو پڑھایا ہے چنانچہ آپ نے پانی واپس کردیا اور پیاسے ہی وہاں سے گزر گئے۔ (ت)
تنبیہ۲ : کنویں کا پانی جب تك کنویں سے باہر نہ نکال لیا جائے کسی کی ملك نہیں ہوتا فان سببہ الملك الاحراز ولا احراز الابعد التنحیۃ عن رأس البئر (سبب ملك احراز ہے اور احراز پانی کو کنویں کی منڈیر سے الگ کرنے کے بعد ہوتا ہے۔ ت)تو استاد۱ جسے بچے سے خدمت لینے کا اختیار ہے یہ کرسکتا ہے کہ پانی بچے سے بھروائے یہاں تك کہ ڈول کنویں کے لب تك آئے اس کے بعد خود اسے نکال لے کہ یہ پانی بچے کی ملك نہ ہوگا بلالکہ خود اس کی۔
فی الھندیۃ عن القنیۃ والساقین
ہندیہ میں قنیہ سے منقول ہے کہ جو شخص
حوالہ / References اس کی تحقیق نمبر ۲۶ میں گزری ۱۲(م)
#12698 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
من البئر لایملك بنفس ملأ الدلو حتی ینحیہ عن رأس البئر اھ۔
وفی ردالمحتار لواحرزہ فی جرۃ اوجب اوحوض مسجد من نحاس اوصفر اوجص وانقطع جریان الماء فانہ یملکہ وانما عبربالاحراز لا الاخذ اشارۃ الی انہ لوملأ الدلو من البئر ولم یبعدہ عن رأسھا لم یملك عند الشیخین رضی الله تعالی عنھما اذ الاحراز جعل الشیئ فی موضع حصین اھ۔
اقول : فاذالم یملکہ کان باقیا علی اباحتہ فالذی نحاہ ھو الذی احرز المباح فیملکہ اھ۔
کنویں سے پانی بھرتا ہے وہ محض ڈول کے بھرنے سے پانی کا مالك نہیں ہوجائےگا اس وقت مالك ہوگا جب اس پانی کو کنویں کی منڈیر سے الگ کرکے رکھ دے اھ۔
اور ردالمحتار میں ہے اگر کسی نے ٹھلیا مٹکے یا مسجد کے حوض میں پانی جمع کیا یہ حوض تانے پیتل یا گچ کا ہو اور اس طرح پانی کا بہنا بند ہوگیا ہو تو وہ اس کا مالك ہوجائےگا انہوں نے اس کو احراز سے تعبیر کیا اخذ سے نہیں۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر ڈول کنویں سے بھرا مگر وہاں سے ہٹایا نہیں تو شیخین کے نزدیك وہ اس کا مالك نہ ہوگا کیونکہ “ احراز “ کے معنی کسی چیز کو محفوظ جگہ پر رکھنے کے ہیں اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں جب یہ شخص اس طرح اس کا مالك نہ ہوا تو پانی اپنی اباحت پر ہی باقی رہا تو جس نے اس کو کنویں سے ایك طرف ہٹا کے رکھا اس نے اس اس کو محفوظ کیا تو وہی اس کا مالك ہوا۔ (ت)
تنبیہ ۳ : بہشتیوں(۱)کے بچے اکثر کنویں پر پانی بھرتے ہیں لوگوں کی عادت ہے کہ ان سے وضو یا پینے کو لے لیتے ہیں یہ حرام ہے اور عوام کو اس میں ابتلائے عام ہے ولا حول ولا قوۃ ا لا بالله العلی العظیم۔
اقول : مگر یہاں۲ ایك دقیقہ ہے یہ بچے داموں پر پانی بھرتے ہیں اور کہیں مشکیں مقرر ہوتی ہیں کہیں گھر کے برتن معین یہ شخص جس نے نابالغ بہشتی سے پانی لیا اگر وہ ۱ اس کے یہاں نہیں بھرتا تو اسے مطلقا جائز نہیں اور اگر بھرتا ہے مگر یہ۲ مشك جسے وہ بھررہا تھا اور اس کے ڈول سے پانی اس نے لیا دوسرے کے یہاں لے جائے گا تو ناجائز ہے اور اگر ۳ اسی کے یہاں لے جانے کو ہے مگر قرار داد برتنوں کا بھرنا ہے اور وہ پورے بھر دئے جائیں گے تو ناجائز ہے کہ یہ پانی اس سے زائد ہے یوں۴ ہی اگر مشکوں کا قرار داد ہے اور یہ مشك بھی اس سے پوری لی تو ناجائز ہے ہاں۵ اگر یہ مشك اتنی خالی لی تو ایسا ہوا کہ اتنا پانی گھر پر نہ پہنچوایا یہیں لے لیا یا ۶ برتنوں کا قرارداد ہے اور اتنا خالی رکھنے کو کہہ دیا یا۷ جس دوسرے کے یہاں یہ مشك لے جاتا ہے اس سے
حوالہ / References فتاوٰی ہندیۃ الباب من کتاب الشرب نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۹۲
ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۱۱
#12699 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اس قدر پانی کی اجازت لے لی اور اس نے مشك یا برتن اتنے خالی رکھوائے تو جائز ہونا چاہئے کہ اگرچہ پانی۱ ابھی سقا ہی کی ملك تھا جب برتنوں میں ڈالے گا اس وقت اس کی بیع ہوگی اور جس کے یہاں بھرا گیا اس کی ملك ہوگا یہ اس لئے کہ بہشتی اجیر مشترك ہیں نہ ان کا وقت معین ہوتا ہے نہ اتنا پانی قابل تعین ہے اور اپنے ڈول سے بھرتے ہیں اور جب تك مشك کہیں ڈال نہ دیں پانی اپنا ہی جانتے ہیں اس میں جو چاہیں تصرف کرتے ہیں لہذا اس وقت تك پانی انہی کا ہوتا ہے مگر مقصود اس مول لینے والا کا قبضہ ہے اور اس کی اجازت سے جو تصرف ہو وہ اسی کا قبضہ ہے اگر دس مشکیں اس کے یہاں ٹھہری ہوئی ہیں اور وہ کہے کہ ان میں سے دو کا چھڑکاؤ یہیں سڑك پر کر دو ضرور بیع صحیح ہوجائیگی اسی طرح اگر اس میں سے ایك لوٹا یا جس قدر چاہا زید کو دلوایا ھذا ماظھرلی والله تعالی اعلم۔ (ت)
تنبیہ ۴ : معتوہ۲ بوہرا جس کی عقل ٹھیك نہ ہو تدبیر مختل ہو کبھی عاقلوں کی سی بات کرے کبھی پاگلوں کی مگر مجنون کی طرح لوگوں کو محض بے وجہ مارتا گالیاں دیتا اینٹیں پھینکتا نہ ہو وہ تمام احکام میں صبی عاقل کی مثل ہے تو یہ سب احکام بھی اس میں یوں ہی جاری ہوں گے۔
اقول : مگر غنی ماں۳ باپ کا اس کے بھرے ہوئے سے انتفاع امام محمد سے دربارہئ صبی مروی اور اس کا مبنی عرف وعادت اور معتوہ میں اس کی عادت ثابت نہیں اور منع میں بوجہ ندرت عتہ لزوم حرج نہیں تو یہاں ظاہرا قول اول ہی مختار ہونا چاہئے والله سبحانہ وتعالی اعلم۔
فائدہ : یہاں تك وہ پانی تھے جن میں ان کا غیر نہ ملا آگے خلط غیر کی صورتیں ہیں۔
(۴۹ تا ۶۵)کتب کثیرہ معتمدہ میں تصریح ہے کہ اگر نابالغ۴نے حوض میں سے ایك کوزہ بھرا اور اس میں سے کچھ پانی پھر اس حوض میں ڈال دیا اب اس کا استعمال کرنا کسی کو حلال نہ رہا۔
فی ش۱عن ط۲ عن الحموی۳ عن الدرایۃ۴ عن الذخیرۃ۵ والمنیۃ۶ وفی غمزالعیون۷ عن شرح المجمع۸ لابن الملك عن الذخیرۃ وفی الاشباہ۹ من احکام الصبیان وفی الحدیقۃ الندیۃ۱۰ عن الاشباہ فی النوع العشرین من افات اللسان وفی غیرھا من الکتب الحسان عبد اوصبی اوامۃ ملأ الکوز من ماء الحوض واراق
ش میں ط سے حموی سے درایہ سے ذخیرہ سے اور منیہ سے ہے اور غمز العیون میں شرح مجمع سے یہ ابن ملك کی کتاب ہے ذخیرہ سے ہے اور اشباہ میں احکام الصبیان میں اور حدیقہ ندیہ میں اشباہ آفات اللسان کی بیسویں نوع میں اور دوسری کتب میں ہے کسی غلام بچے یا باندی نے حوض کے پانی س لوٹا بھرا پھر اس میں سے کچھ اسی کے اندر انڈیل دیا تو اب کسی کے لئے جائز نہیں کہ اس حوض سے
#12700 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
بعضہ فیہ لایحل لاحدان یشر من ذلك الحوض لان الماء الذی فی الکوز یصیر ملکا للاخر فاذا اختلط بالماء المباح ولا یمکن التمییز لایحل شربہ ۔
پانی پئے کیونکہ حوض کا پانی لینے والے کی ملك ہوجاتا ہے تو جب یہ ملك مباح سے مل گیا اور اس میں تمییز ممکن نہیں تو اس کا پینا حلال نہ ہوگا عــہ۔ (ت)
علامہ طحطاوی وعلامہ شامی نے اسے نقل کرکے فرمایا اس حکم میں حرج عظیم ہے۔
اقول : یہاں بہت استثنا وتنبیہات ہیں : اول : مراد(۱)آب مباح غیر مملوك ہے تو حکم نہ ہر حوض کو شامل نہ حوض سے خاص بلالکہ کنوؤں کو بالعموم حاوی ہے کہ کنواں اگرچہ مملوك ہو اس کا پانی مملوك نہیں کما تقدم تحقیقہ(جیسا کہ اس کی تحقیق گزر چکی ہے۔ ت)اور وہ حوض جس کا پانی مملوك ہے اس کا مالك اگر عاقل بالغ ہے تو بچہ ہزار باراس میں سے پانی بھر کر اس میں پلٹ دے کچھ حرج نہ آئے گا کہ مال جس کا(۲)تناول اس کے مالك نے مباح کیا ہو بعد اخذ تصرف بھی ملك مالك سے خارج نہیں ہوتا یہاں تك کہ دعوت کا کھانا کھاتے وقت بھی میزبان ہی کی ملك پر کھایا جاتاہے تو بچہ اس پانی کا مالك ہی نہ ہوگا اصل پانی کی ملك پر رہے گااور ڈال دینے سے اسی کی ملك میں جائےگا۔ دوم : ہماری تحقیقات بالا سے واضح ہوا کہ ہر مباح بھی مطلقا آخذ کی ملك نہیں ہوجاتا تو پانی کو مباح ومملوك کو شامل لے کر وہی سترہ۱۷ صورتیں یہاں بھی پیدا ہوں گی جو نابالغ کے بھرے ہوئے پانی میں گزریں نو۹ صورتوں میں وہ پانی اس بھرنے والے کی ملك نہ ہوگا بلالکہ ا صل مالك آب یا مستاجر یا مولی کی ملك ہوگا وہ اگر عاقل یا
عــــــہ : حکم کی شدت نے اس مسئلہ کو مشکل بنا دیا ہے کیونکہ عوام وخواص کے ابتلاء کی وجہ سے یہ حکم بموجب حرج اور تنگی ہے جبکہ ابتلاء عوام داعی یسر و آسانی ہے اللہ تعالی بے حساب رحمتیں نازل فرمائے فقہاء کرام پر جنہوں نے اللہ تعالی کی مخلوق پر شفقت فرمائی اور ایسے پیچیدہ اور مشکل مسائل کو حل فرمایا جس سے عوام الناس کیلئے آسانی اور سہولت کی راہ ہموار ہوئی چنانچہ امام احمد رضا بریلوی(مصنف)نے اس مسئلہ کی شدت کو محسوس فرمایا اور انہوں نے فقہاء احناف کے اقوال کی روشنی میں اس کا حل صفحہ ۵۳۷ پر خود بیان فرمایا جس کا خلاصہ درج ذیل ہے مسئلہ مذکورہ اگرچہ جنابت وطہارت کا نہیں بلالکہ اسکا تعلق حظرو اباحت سے ہے تاہم پاك پانی میں نجس پانی کے اختلاط کے مسئلہ میں فقہاء احناف کے بیان کردہ قواعد کی روشنی میں اس کو حل کیا جاسکتا ہے عراقی فقہاء نے پاك پانی میں نجس پانی گرنے سے متعلق فرمایا کہ بڑے حوض کے کثیر پانی میں جس جگہ نجس پانی گرا ہو اس جگہ کو چھوڑ کر باقی حوض سے وضو جائز ہے کیونکہ باقی جگہوں تك نجاست کا پہنچنا مشکوك ہے لہذا شك کی بنا پر باقی پانی کی طہارت زائل نہ ہوگی جبکہ جمہور فقہاء نے ایسی صورت میں تمام حوض حتی کہ جس جگہ نجاست گری ہے اس جگہ پر بھی وضو کو جائز فرمایا کیونکہ پانی طبعی طور پر سیال ہے اور ہواؤں وغیرہ کی تحریك کی وجہ سے پانی ایك جگہ ساکن نہیں رہتا لہذا حوض کے باقی حصوں میں نجاست پہنچنے نہ پہنچنے کے احتمال کی وجہ سے باقی بلالکہ تمام پانی کو بالیقین نجس نہیں کہہ سکتے لہذا نجاست کا یقین زائل ہوجانے پر پانی کا اصل حکم یعنی طہارت باقی رہے گا اس طرح حوض کے ہر حصہ کے پانی کو پاك قرار دیا جائیگا عراقی یا جمہور فقہاء کرام کے ضابطہ پر نابالغ بچے کی ملکیت پانی کو قیاس کرتے ہوئے مذکورہ مشکل مسئلہ کا حل واضح ہوجاتا ہے عراقی ضابطہ کے پیش نظر جہاں نابالغ بچے کا پانی گرا اس جگہ کو چھوڑ کر باقی تمام پانی کا استعمال مباح ہوگا جبکہ جمہور فقہاء کے ضابطہ کے تحت نابالغ کے پانی گرنے کی جگہ سمیت تمام پانی مباح ہوگا مصنف کی اصل عبارت میں تفصیل موجود ہے۔ عبدالستار سعیدی
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵ / ۲
#12701 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
بالغ نہیں تو البتہ یہی دقت عود کرے گی ورنہ اس عاقل بالغ کی اجازت پر توقف رہے گا۔
سوم : صبی کی خصوصیت نہیں معتوہ بھی اسی کے حکم میں ہے کما تقدم۔
چہارم : جس طرح کلام علما ء میں پینے کا ذکر مثال ہے مراد کسی قسم کا استعمال ہے اسی طرح کچھ یہی شرط نہیں کہ حوض یا کنویں سے پانی لے کر ہی ان میں ڈالے یا جس حوض یا چاہ سے لیا اس میں واپس دے یا وہ نابالغ ہی اپنے ہاتھ سے ڈالے بلالکہ مقصود اسی قدر ہے کہ مال مباح میں نابالغ کی ملك کا اس طرح مل جانا کہ جدا نہ ہوسکے تو اگر صبی۱ کی ملك کا پانی اس کے گھر سے لا کر کسی شخص اگرچہ خواہ اس کے ولی نے کسی کنویں یا مباح حوض میں ڈال دیا اس کا استعمال تابقائے آب مذکور ناجائز ہوگیا۔
پنجم : ظاہر ہے کہ یہ عدم جواز اوروں کے حق میں بوجہ اختلاط ملك صبی ہے خود صبی استعمال کرسکتا ہے کہ وہ نہیں مگر اسکی ملك یا مباح۔
ششم : اس کے۲ ماں باپ بھی بشرط حاجت بالاتفاق اور بلاحاجت روایت امام محمد پر استعمال کرسکتے ہیں تو لایحل لاحد(کسی کیلئے جائز نہیں۔ ت)عام مخصوص ہے۔
ہفتم : اگر وہ کنواں یا حوض ترك کردیں اور صبی بلوغ کو پہنچے اور اس وقت اس پانی کو مباح کردے تو اب کوئی مانع نہیں۔
ہشتم : اگر وہ صبی انتقال کرجائے اس کے سب ورثہ عاقل بالغ ہوں تو اب ان کی اجازت پر دقت نہ رہے گی اور اگر ایك ہی وارث ہے تو اسے خود حلال خالص ہے کسی کی اجازت کی بھی حاجت نہیں۔
نہم : اگر وہ پانی کہ صبی کی ملك سے اس میں مخلوط ہوا باقی نہ رہے تو اب سب کو مباح ہوجائےگا کہ مانع زائل ہوگیا۔
دہم : مسئلہ۳ سابقہ یعنی نابالغ کے بھرے ہوئے پانی میں جو ایك صورت جواز اس سے اگر ماذون ہو ورنہ اس کے دل سے خرید لینے کی تھی یہاں جاری نہیں ہوسکتی کہ ملك صبی کا پانی جب اس آب مباح میں مل گیا قابل بیع نہ رہا کہ مقدور التسلیم نہیں۔
یاز دہم : آب مباح کی ضرورت بھی اس حالت میں ہے کہ بچہ کا اس میں سے بھر کر اس میں ڈال دینا لیں کہ مباح پر ملك یوں ہی ہوگی ورنہ۴ ملك نابالغ کا پانی اگر کسی کے مملوك پانی میں مل جائے گا تو اس کا استعمال بھی حرام ہوجائےگا حتی کہ اس مالك آب کو۔
دواز دہم : ایك یا دونوں طرف کچھ پانی کی خصوصیت نہیں بلالکہ کسی کے۵ مملوك پانی میں بچے کی ملك کا عرق یا دودھ یا کسی کے مملوك عرق یا دودھ میں بچے کی ملك کا پانی یا چاول میں چاول گیہوں میں گیہوں مل جائیں
#12702 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
جب بھی یہی حکم ہے کہ اس میں تصرف خود مالك کو بھی حرام ہوگیا تو مسئلہ کی تصویر(۱)یوں ہونی چاہئے کہ اگر کسی شے مباح یا مملوك میں کسی غیر مکلف کی ملك اس طرح خلط ہوجائے کہ تمیز ناممکن ہو اگرچہ یونہی کہ مثلا مباح غیر مملوك پانی سے صبی یا معتوہ حر غیر اجیر نے بھرا اور اگر وہ کنواں ہے تو اس سے بھر کر باہر نکال لیا اور اگر اجیر ہے تو نہ وقت معین نہ وہ مباح معین نہ یہ مستاجر کیلئے لینے کا مقر نہ اس کے ظرف میں لیا پھر ان صورتوں میں اس کا کوئی حصہ اس میں کسی نے ڈال دیا یا پڑ گیا تو جب تك اس غیر مکلف کی ملك اس مباح یا مملوك میں باقی ہے اور وہ غیر مکلف ہے اور ملك اس سے منتقل نہ ہوگئی اس وقت اس غیر مکلف یا بحال حاجت خواہ ایك روایت پر پانی میں مطلقا اس کے ماں باپ کے سوا کسی کواس میں تصرف حلال نہیں۔
سیزدہم : حدیث العبد والامۃ ردہ ش بان العبد لایملك وان ملك فیکون لمالکہ لانہ مالك اکسابہ اھ۔
اقول : (۲)ماکانوا لیذھلوا عن مثل ھذا وانما القصد ابانۃ الفرق بین الحر العاقل البالغ وبین الصبی والمعتوہ والرقیق فان الاول اذا ملأ ملك فاذا صب اباح وھؤلاء لایملکون الاباحۃ فلا یحل بصبھم ولیس المراد تأبید التحریم بل الی ان تلحق الاجازۃ ممن ھی لہ ففی الصبی اوالمعتوہ حتی یبلغ اویعقل فیجیز وفی(۳)الرقیق حتی یجیز المالك المکلف الحاضر حالا اومالا اویبلغ الغائب اویبلغ الصبی اویفیق المعتوہ فیجیزوا۔
سیزدہم : غلام اور باندی کے مسئلہ کو “ ش “ نے یہ کہہ کر رد کیا ہے کہ غلام پانی کا مالك نہیں بنے گا اور اگر مالك ہوگا بھی تو وہ پانی اس کے مالك کی ملکیت میں آجائے گا کیونکہ اس کی تمام کمائی کا مالك اس کا مالك ہی ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں فقہاء سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی ہے کہ اتنی معمولی سی بات ان کے ذہن میں نہ آئی ہو دراصل ان کا مقصود آزاد عاقل بالغ اور بچہ بیوقوف اور غلام کے درمیان فرق کو ظاہر کرنا ہے کیونکہ آزاد شخص جب پانی بھرے گا تو مالك ہوجائےگا اور جب بہائے گا تو مباح کردے گا اور یہ لوگ اباحت کا حق نہیں رکھتے ہیں لہذا پانی ان کے انڈیل دینے سے مباح نہ ہوگا اور مراد یہ نہیں کہ حرمت ہمیشہ رہے گی بلکہ یہ اس وقت تك ہے جب تك کہ اس کا مالك اجازت نہ دے دے چنانچہ بچہ اور بیوقوف کی صورت میں بلوغ یا عقل کی درستی کے بعد اجازت دینے سے اس کا پینا حلال ہوجائےگا اور غلام کی صورت میں اس کے آقا کی اجازت سے جو مکلف حاضر ہو
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۱۲
#12703 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
چاردہم : عدش من اشکالاتہ انہ لویبین متی یحل الشرب منہ اھ۔ (۱)واشرت الی جوابہ بقولی مابقی فیہ ذلك الماء لان المنع لاجلہ فاذا ذھب ذھب۔
پانزدہم : قال وھی ثم فرق بین الحوض الجاری اومافی حکمہ وبین غیرہ اھ۔
اقول : (۲)تعبیرھم بالحوض(۳)ظاھر فی رکودہ فان الجاری یسمی نھرا لاحوضا(۴)والاطلاق یشمل الصغیر والکبیر وھو الوجہ فان الماء الجاری یذھب ذلك الماء یقینا فیزول السبب ولا کذلك الراکد۔
شانزدہم : قال وینبغی ان یعتبر غلبۃ الظن بانہ لم یبق مما اریق فیہ شیئ منہ بسبب الجریان اوالنزح و الا یلزم ھجر الحوض وعدم الانتفاع بہ اصلا اھ۔
فی الحال یا فی المآل یا غائب پہنچ جائے یا بچہ بالغ ہوجائے یا بیوقوف عاقل ہوجائے اور وہ اجازت دے دیں۔ (ت)
چہاردہم : “ ش “ نے اس پر یہ اشکال محسوس کیا ہے کہ انہوں نے یہ بیان نہیں کیا کہ اس کا پینا کب حلال ہوگا اھ۔ میں نے اس کے جواب کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب تك اس میں یہ پانی باقی ہے کیونکہ حرمت اسی کی وجہ سے ہے جب یہ ختم ہوجائےگا تو حرمت بھی ختم ہوجائے گی۔ (ت)
پندرھواں کیا حوض جاری اور جو اس کے حکم میں ہے اس میں اور دوسرے پانیوں میں اس سلسلہ میں فرق ہے(ت)
میں کہتا ہوں فقہاء کا حوض سے تعبیر کرنا اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ ان کی مراد ٹھہرا ہوا پانی ہے کیونکہ جاری پانی کو نہر کہا جاتا ہے حوض نہیں کہتے ہیں اور اطلاق چھوٹے بڑے دونوں کو شامل ہے اور یہی معقول وجہ ہے کیونکہ جاری پانی اس پانی کو جو پھینکا گیا ہے بہا لے جائےگا تو سبب حرمت زائل ہوجائےگا اور ٹھہرے ہوئے پانی کی یہ صورت نہیں۔ (ت)
سولھواں : فرمایا غلبہ ظن کا اعتبار بھی کیا جانا چاہئے یعنی یہ کہ پانی کے جاری رہنے یا اس میں سے پانی کے نکالے جانے کے باعث جو پانی کہ اس میں ڈالا گیا تھا اس میں سے کچھ بھی باقی نہ رہا ورنہ تو پھر حوض کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خیر باد کہنا پڑےگا۔ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۱۲
ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۱۲
ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۱۲
#12704 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اقول : (۱)لاینبغی الشك فی الجواز بعد النزح لما سیاتی انما الشأن فی جواز النزح(۲)وکیف یحل مع ان فیہ اضاعۃ ملك الصبی ان صب فی الارض اولانتفاع بہ ان سقی بہ نحو زرع اوبستان وکذلك الاجراء وان ابیح ذلك الان فلم لایباح الشرب والاستعمال من رأس اذلیس فیہ فوق ھذا باس نعم(۳)ان جری بمطر اوسیل فذك حل من دون اثم۔
ہفدہم : قال ویمکن ان یعتبر بالنجاسۃ فیحل الشرب من نحو البئر بالنزح ومن غیرھا بالجریان بحیث لوکان نجاسۃ لحکم بطھارتھا فلیتامل اھ۔
اقول : (۴)عرفت مافیہ(۵)والنزح فی النجاسۃ معدول بہ عن سنن القیاس فکیف یعتبر بہ وکأنہ رحمہ الله تعالی الی ھذہ الابحاث اشار بقولہ فلیتأمل۔
میں کہتا ہوں جب اس حوض کا پانی نکل جائے تو پھر جواز میں کوئی شك نہیں لیکن قابل غور امر یہ ہے کہ آیا اس تمام پانی کا نکال دینا جائز ہے اس میں اشکال یہ ہے کہ نکال کر اگریوں ہی بہا دیا جائے تو بچہ کا مال ضائع ہوجائےگا اور کسی باغ یا کھیت وغیرہ کو لگا دیا جائے تو اس سے نفع حاصل کرنا لازم آئےگا اسی طرح جاری کرکے بہا دینا بھی درست نہیں اور اگر اس سے یہ تمام کام کرنا جائز ہیں تو شروع ہی سے اس کا پینا اور اس کو استعمال کرنا کیوں جائز نہیں اس میں اس سے زیادہ کیا حرج تھا ہاں یہ صورت ہوسکتی ہے کہ بارش یا سیلاب کی وجہ سے حوض کا پانی بہہ نکلا تو وہ بلاحرج حلال ہوجائےگا۔ (ت)
سترھواں : فرمایا یہ ممکن ہے کہ نجاست کا اعتبار کیا جائے تو کنویں سے پانی نکال کر پینا جائز ہوگا اور کنویں کے علاوہ دوسری چیزوں سے اس پانی کے جاری ہونے کی وجہ سے پینا جائز ہوجائےگا گویا اگر اس میں نجاست بھی ہوتی تو اس کی طہارت کا حکم دیا جاتا فلیتامل اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس پر جو اعتراض ہے وہ معلوم ہوچکا ہے اور کل پانی کا نجاست کی صورت میں نکالنا برخلاف قیاس ہے تو اس پر آگے قیاس کس طرح ہوسکتا ہے اور غالبا انہوں نے ان ابحاث کی طرف فلیتأمل سے اشارہ کیا ہے(ت)
ہیجدہم : (۶)سب سے زیادہ اہم اس کا علاج ہے کہ یہ پانی قابل استعمال کیونکر ہو سید طحطاوی نے تو اتنا فرمایا کہ اس میں حرج عظیم ہے سید شامی نے جو علاج بتائے دفع اثم کو کافی نہیں ہوتا
حوالہ / References ردالمحتار فصل فی الشرب مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۱۲
#12705 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
واشار سیدی العارف بالله عبدالغنی النابلسی قدس سرہ فی الحدیقۃ الی ان تفریجہ باذن الولی حیث قال فی النوع العشرین من افات اللسان بعد مانقل المسألۃ عن الاشباہ وعللھا بما قدمنا مانصہ وظاھرہ الا ان یاذن الولی قال ونظیرہ عدم حل الشرب من کیزان الصبیان الاباذن الولی وکذلك فی اکل مامعھم اذا اعطوہ لاحد اھ۔ فلاوجہ لصحتہ ولا باذن الولی وھذا من الثالث و وجہ ھذا السھو منہ رحمہ الله تعالی قول الماتن فی الطریقۃ المحمدیۃ حیث ذکر السؤال المنھی عنہ
اقول : رحم الله سیدی ورحمنا بہ(۱)انما الولایۃ نظریۃ ولیس للولی اتلاف مالہ ولا ان یاذن بہ غیرہ(۲)کیف وقد تقرر ان التصرفات ثلاثۃ نفع محض کقبول ھبۃ فیستبدبہ الصبی العاقل ودائر بین النفع والضرر کالبیع والشراء فیحتاج الی اذن الولی وضرر محض کالطلاق والعتاق والھبۃ ثم(۳)قال(حرمۃ السؤال لاتقتصر علی المال بل تعم الاستخدام خصوصا اذا کان صبیا اومملوکا للغیر۔ (۴)اماصبی نفسہ
عارف باللہ سید عبدالغنی نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اس کا حل یہ ہے کہ اگر ولی اجازت دے تو جائز ہے یہ بات انہوں نے آفات اللسان کی بیسویں نوع میں اس مسئلہ کو اشباہ سے نقل کرنے اور اس کو علت بیان کرنے کے بعد کہی ہے جس کی عبارت ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں اور ظاہر یہ ہے کہ “ مگر یہ کہ ولی اجازت دے دے “ اور اس کی مثال یہ ہے کہ بچوں کے کوزوں سے پانی پینا ولی کی اجازت ہی سے جائز ہے اور اسی طرح دوسری کھانے والی اشیاء کا حال ہے بچے جب وہ کسی کو دیں۔ (ت)
میں کہتا ہوں اللہ عبدالغنی پر رحم کرے اور ہم پر بھی ولی کی ولایت صرف نظری(بچہ کی بھلائی کیلئے)ہے ولی بچہ کا مال تلف نہیں کرسکتا ہے اور نہ دوسروں کو دے سکتا ہے یہ بات طے شدہ ہے کہ تصرفات تین قسم کے ہیں نفع محض جیسے بچہ کا ہبہ کا قبول کرنا عاقل بچہ بذات خود ہبہ قبول کرسکتا ہے اور ایك وہ جس میں نفع کا بھی احتمال ہے اور نقصان کا بھی۔ جیسے خریدوفروخت اس میں ولی کی اجازت ضروری ہوگی اور سراسر نقصان والی بات جیسے طلاق آزاد کرنا اور ہبہ کرنا تو اس کی صحت کی کوئی صورت نہیں ولی کی اجازت سے بھی نہیں اور یہ تیسری قسم ہی میں شامل ہے ان کو یہ سہو اس لئے لاحق ہوا کہ ماتن نے طریقہ محمدیہ میں منہی عنہ کے سوال کا ذکر کیا ہے۔ پھر یہ لفظ کہے ہیں “ حرمۃ السؤال لاتقتصر علی المال الخ سوال جو بے ضرورت شرعیہ حرام ہے یہ صرف مال
حوالہ / References حدیقہ ندیہ النواع العشرون من افات اللسان نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۶۹
#12706 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
فیجوز)للاب والام والجد والجدۃ(استخدامہ ان کان)المستخدم(فقیرا)لاقدرۃ لہ علی شراء خادم اواستئجارہ(اواراد تھزیبہ وتأدیبہ بخلاف عــہ استخدام مملوکہ واجیرہ(۱) وزوجتہ فی مصالح البیت وتلمیذہ)فی تعلیم قران اوعلم اوصنعۃ(باذنہ)یعنی برضاہ(ان کان بالغا اوباذن ولیہ ان کان صبیا)فان الصبی محجور علیہ من التصرف فی مالہ فی منافع نفسہ الا باذن الولی اھ۔ ملتقطا مزیدا من شرحۃ رحمہ الله تعالی(۲)فالاذن الذی ذکرہ الماتن فی استخدامہ عداہ الی مالہ وشتان ماھما فان فی الاول نفعہ من تأدیبہ وتھذیبہ مع ضرر استعمالہ فکان من القسم الثانی فجاز باذن الولی بخلاف الثالث(۳)والذی افاد من حل الشرب من کوز الصبی واکل مامعہ باذن الولی۔ (ت)
مانگنے پر ہی موقوف نہیں بلالکہ اجنبی سے کسی خدمت کا کہنا بھی حرام سوال میں داخل ہے خصوصا دوسرے کے نابالغ بچے یا غلام سے۔ اگر کسی کا اپنا بچہ ہے تو باپ ماں دادا اوردادی کیلئے(اس سے خدمت لینا جائز ہے اگر)خدمت لینے والا(فقیر ہو)خادم نہ خرید سکا ہو یا کسی کو ملازم نہ رکھ سکتا ہو(یا بچہ کی تہذیب وتربیت کا ارادہ ہو مگر اس شرط میں غلام مزدور بیوی سے گھر کا کام کاج کرانا شامل نہیں کہ ان سے بغیر احتیاج کے گھر کا کام لینا جائز ہے اور شاگرد سے خدمت لینا درست ہے مثلا طالبعلم سے قرآن سکھانے یا کوئی علم سکھانے یا کسی حرفت کے سکھانے کا کام لیا جائے(اس کی مرضی سے اگر وہ بالغ ہے ورنہ اس کے ولی کی رضا سے اگر وہ بچہ ہے)کیونکہ بچہ اپنی منفعت کیلئے بھی اپنے مال میں ولی کی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کرسکتا ہے اھ ملتقطا ہے اور شرح سے اضافہ ہے تو وہ اجازت جس کا ذکر ماتن نے کیا ہے اس کے استخدام ہیں تو شارح نے اس کو مال تك بڑھا دیا ہے اور دونوں میں بہت فرق ہے کیونکہ پہلی صورت میں اس کا نفع ہے کہ اس کی تادیب وتہذیب ہے جبکہ اس سے کام کرانے میں ضرر بھی ہے تو یہ دوسری قسم میں داخل ہوا اس لئے ولی کی اجازت سے جائز ہوگا جبکہ تیسرا ایسا نہیں ہے اور جس کا انہوں نے فائدہ دیا ہے وہ بچہ کے کوزہ سے پانی پینے کا جواز ہے یا جو چیز بچہ کے پاس ہے اس کے کھانے کا جواز ہے ولی کی اجازت سے۔ (ت)

عــہ : ناظرا الی قولہ اذا کان صبیا اومملوکا للغیر ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اس کے قول اذا کان صبیا او مملوکا للغیر کی طرف نظر کرتے ہوئے۔ (ت)
حوالہ / References حدیقہ ندیہ النوع العشرون من افات اللسان نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۶۷
حدیقہ ندیہ النوع العشرون من افات اللسان نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۲۶۸
#12707 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
فاقول : (۱)محلہ اذا کان الماء والطعام للولی اعطاھما الصغیر علی وجہ الاباحۃ دون الھبۃ فحینئذ یکون للولی ان یاذن لمن شاء فبقائھما علی ملکہ بخلاف مااذا کان الشی مملوکا للصغیر فلا معنی اذا لاذن الولی باستھلاکہ من دون عوض وقد تقدمت مسألۃ الذخیرۃ والمنیۃ ومعراج الدرایۃ فی ماء جاء بہ الصبی من الوادی لایجوز لابویہ الشرب منہ الا فقیرین ۔
تو میں کہتا ہوں اگر پانی اور کھانا ولی کا ہے اور بطور اباحت(نہ بطور ہبہ)اس نے بچہ کو دے رکھا ہے تو ایسی صورت میں ولی کسی کو بھی اجازت دے سکتا ہے کیونکہ یہ دو چیزیں اب بھی ولی کی ملکیت میں باقی ہیں یہ اس صورت سے مختلف ہے جبکہ یہ اشیاء بچہ کی ملکیت میں ہوں تو ایسی صورت میں ولی کی اجازت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں ولی کی اجازت سے صغیر کے مال کو بغیر عوض ضائع کرنا لازم آئےگا اور یہ جائز نہیں اور ذخیرہ منیہ اور معراج الدرایہ کا مسئلہ گزر چکا ہے کہ بچہ وادی سے جو پانی لائے اس کو والدین کے لئے پینا جائز نہیں سوائے اس صورت کے کہ وہ فقیر ہوں۔ (ت)
غرض مسئلہ مشکل ہے اور اس میں ضرور حرج ہے اور حرج مدفوع بالنص ہے۔
وانا اقول : وبالله التوفیق پانی کی ملك صبی ہوا نجس نہیں کہ اس کے گرنے سے اور پانی ناپاك ہوجائے حرمت اس وجہ سے ہے کہ مباح ومحظور مختلط ہوگئے ہیں یہاں تك کہ اگر ممکن ہو کہ مباح استعمال کیا جائے اور اس میں کوئی حصہ محظور کا نہ آنے پائے تو بلاشبہ جواز ہوگا اور ہم نے رحب الساحہ جواب سوال سوم میں بیان کیا ہے کہ مشایخ عراق کے نزدیك حوض کبیر میں نجاست غیر مرئیہ کے موقع وقوع سے وضو جائز نہیں کہ پانی ٹھہرا ہوا ہے منتقل نہ ہوگی اور مشایخ بلخ وبخارا اور ماوراء النہر کے نزدیك سب جگہ سے جائز کہ پانی بالطبع سیال ہے ہواؤں وغیرہا کی تحریك سے اسے ایك جگہ نہ رہنے دے گا تو جہاں کہیں وضو کیا جائے وہاں نجاست ہونے کا یقین نہیں اگرچہ خاص موقع وقوع سے ہو تو پانی کہ بالیقین طاہر تھا شك سے نجس نہ ہوگا اب یہاں اگر قول عراقیاں لیا جائے جب تو خاص اسی جگہ کا پانی ممنوع الاستعمال ہوگا جہاں نابالغ کی ملك کا پانی گرا ہے باقی اپنی اباحت پر باقی ہے لما علمت انہ لاتعدیۃ فیہ فکان کغیر مرئیۃ فی حوض کبیر(جیسا کہ آپ کو معلوم ہے اس میں تجاوز نہیں یہ ایسا ہی ہے جیسا حوض کبیر میں نجاست غیر مرئیہ ہو)(ت)اور اگر قول جمہور لیا جائے اور وہی صحیح ہے تو بوجہ احتمال انتقال اختلاط ملك صبی کا یقین کسی موضع معین میں نہیں بلالکہ موضع مجہول ومبہم میں ہے اور ایسے۲ یقین پر جب اس شے کے بقا وزوال میں شك طاری ہو یقین زائل اور حکم اصل حاصل ہوتا ہے جیسے دائین۳ چلانے میں بیل ضرور پیشاب کرتے اور اناج کا ایك حصہ یقینا ناپاك ہوتا ہے مگر متعین نہ رہا
حوالہ / References ردالمحتار بالمعنی باب الشرب البابی مصر ۵ / ۳۱۲
#12708 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
تو بعد تقسیم یا اس سے کچھ ہبہ یا صدقہ کرنے سے سب پاك ہوجائےگا کہ ہر ایك کہے گا ممکن کہ ناپاك دانے دوسرے حصے میں رہے یا گئے ہوں یوں ہی(۱)چادر پر ناپاکی کی یقین ہے اور جگہ معلوم نہیں یا یاد نہ رہی اور تحری کسی طرف نہیں پڑی کہیں سے پاك کر لی جائے پاك ہوجائے گی کہ اب اس متیقن مبہم کی بقا میں شك ہوگیا اور سب(۲)سے زائد وہ مسئلہ ہے کہ محرر مذہب امام محمد رضی اللہ تعالی عنہنے سیر کبیر میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے ایك قلعہ فتح کیا اتنا معلوم ہے کہ اس میں ایك ذمی ہے مگر اسے پہچانتے نہیں ان کفار کا قتل حرام ہے ہاں اگر ان میں سے بعض نکل جائیں یا کوئی قتل کردے تو اب باقیوں کا قتل جائز ہوگیا کہ وہ یقین مجہول اس شك سے زائل ہوگیا۔
وقد حققہ العلامۃ ابراھیم الحلبی فی الغنیۃ فافاد واجاد٭ علیہ رحمۃ الجواد٭ فراجعہ فانہ من اھم مایستفاد٭ ویکفینا منہ ھنا قولہ تنجس طرف من الثوب فنسیہ فغسل طرفا منہ بتحر او بلا تحر طھر لان بغسل بعضہ مع ان الاصل طھارۃ الثوب وقع الشك فی قیام النجاسۃ لاحتمال کون المغسول محلھا فلا یقضی بالنجاسۃ بالشك کذا اوردہ الاسبیجابی فی شرح الجامع الکبیر قال وسمعت الشیخ الامام تاج الدین احمد بن عبدالعزیز بقولہ ویقیسہ علی مسألۃ فی السیر الکبیر ھی اذا فتحنا حصنا وفیھم ذمی لایعرف لایجوز قتلھم لقیام المانع بیقین فلوقتل البعض اواخرج حل قتل الباقی للشك فی قیام المحرم کذا ھنا۔
اس کی تحقیق ابراہیم حلبی نے غنیہ میں بہت اعلی اور مفید طریق پر کی ہے جس کو دیکھنا ہو وہاں ملاحظہ کرے یہاں اس کی صرف یہ عبارت نقل کرنا کافی ہوگی “ اگر کپڑے کا ایك کنارہ ناپاك ہوگیا مگر بھول گیا کہ کون سا کنارہ ہے تو تحری کرکے یا بلاتحری ایك کنارہ دھولیا تو کپڑا پاك ہوجائے گا “ کیونکہ کپڑے میں اصل طہارت ہے اور جب ایك کنارہ دھولیا تو اب نجاست کے ہونے میں شك ہوگیا کیونکہ جو حصہ دھویا گیا ہے اس میں امکان ہے کہ وہی ہو جو نجس تھا تو شك کی بنیاد پر نجاست کا حکم نہیں لگایا جائےگا اسبیجابی نے شرح جامع کبیر میں ایسا ہی لکھا ہے فرمایا کہ میں نے اپنے شیخ تاج الدین احمد بن عبدالعزیز کو فرماتے ہوئے سناوہ اس کو سیر کبیر کے اس مسئلہ پر قیاس کرتے تھے کہ اگر ہم نے ایك قلعہ فتح کیا اور اس میں ایك ذمی ہے مگر معلوم نہیں کہ کون ہے تو اس قلعہ کے لوگوں کا قتل جائز نہیں کیونکہ یقین کرنے کا مانع موجود ہے اور اگر بعض کو قتل کردیا گیا یا نکال دیا گیا تو باقی کو قتل کرنا جائز ہے کیونکہ محرم کی موجودگی میں شك ہے۔ (ت)
حوالہ / References غنیۃ المستملی فروع من النجاسۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۰۴
#12709 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
جب یہ قاعدہ نفیسہ معلوم ہولیا یہاں بھی اس کا اجرا کریں جتنا(۱)پانی اس نابالغ نے ڈالا ہے اسی قدر یا اس سے زائد اس حوض یا کنویں سے عــہ۱ نکال کر اس نابالغ عــہ۲ کو دے دیں یہ دینا یقینا جائز ہوگا کہ اگر اس میں ملك صبی ہے تو صبی ہی کے پاس جات ہے بخلاف بہا دینے یا ڈول کھینچ کر پھینك دینے کے کہ وہ ملك صبی کا ضائع کرنا ہے اور یہ جائز نہیں اب کہ اس قدر یا زائد پانی اس صبی کو پہنچ گیا اس کے ڈالے ہوئے پانی کا باقی رہنا مشکوك ہوگیا تو وہ یقین کہ موضع مجہول کیلئے تھا زائل ہوگیا اور حوض وچاہ کا باقی پانی جائز الاستعمال ہوگیا۔
ثم اقول : اس پر واضح دلیل مثلیات۲ مشترکہ مثلا گیہوں وغیرہ میں وارث کبیر کا اپنا حصہ وارث نابالغ کے حصے سے جدا کرلینے کا جواز ہے اور اس کی یہ تقسیم جائز ومقبول رہے گی اگر نابالغ کا حصہ اس کیلئے سلامت رہے تلف نہ ہوجائے جامع الفصولین میں فتاوی اور جامع الصغار میں ذخیرہ سے ہے :
کیلی او وزنی بین حاضر وغائب اوبین بالغ وصبی اخذ الحاضر اوالبالغ نصیبہ فانما تنفذ قسمتہ بلاخصم لوسلم نصیب الغائب والصبی حتی لوھلك مابقی قبل ان یصل الی الغائب اوالصبی ھلك علیھما ۔
کوئی مکیل یا موزوں شے حاضر وغائب کے درمیان یا بالغ اور بچہ کے درمیان مشترك ہے تو حاضر یا بالغ نے اپنا حصہ لے لیا اور اس کی تقسیم بلا خصم نافذ ہوجائے گی بشرطیکہ غائب اور بچہ کا حصہ باقی رہا اور اگر غائب اور بچہ تك پہنچنے سے قبل ہی وہ حصہ ہلاك ہوگیا تو ان کا حصہ ہی ہلاك ہوگا۔ (ت)
عــہ۱ : اگر کہیے مائے مباح سے جو لے گا مالك ہوگا تو یہ پانی کہ کوئی شخص کنویں یا مباح حوض سے بھر کر نابالغ کو دے گا اپنی ملك دے گا اور ایك شے پر دو ملکیں جمع نہیں ہوسکتیں تو یہ پانی ملك صبی نہ تھا پھر اس کے نکلنے سے ملك صبی کا نکل جانا کیونکر محتمل ہوا۔
اقول : جبکہ اس پانی میں ملك صبی مخلوط ہے تو اب مائے مباح نہیں مائے محظور ہے بھرنے والا اس کا مالك نہ ہوگا جو بھرا محتمل ہے کہ وہی مائے مملوك صبی ہو یا مائے مباح کا حصہ اول پر بھرنے والا اس کا مالك نہیں ہوسکتا ہے اور دوم ہے تو ہوگا اور ملك شك واحتمال سے ثابت نہیں ہوسکتی لہذا وہ احتمال قائم رہا کہ یہ وہی پانی ہے جو ملك صبی تھا ۱۲ منہ غفرلہ(م)
عــہ۲ : اقول : بلالکہ اگر خود نابالغ نے دوبارہ اتنا یا اس سے زائد پانی اس میں سے بھر لیا تو اب بھی رفع مانع ہوجانا چاہئے کہ اگرچہ نابالغ کیلئے پانی ممنوع نہیں جیسا کہ تنبیہ پنجم میں گزرا اور وہ جو دوبارہ بھرے گا ضرور اس کا مالك ہوگا مگر یہ اس احتمال کا مانع نہیں کہ اس بار وہی پانی آیا جو اس نے پہلے ڈال دیا تھا اور یہی احتمال رفع منع کو بس ہے والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ(م)
حوالہ / References جامع الصغار مع جامع الفصولین مسائل القسمۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۴۰
#12710 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
ظاہر ہے کہ یہاں بھی ملك صبی ایسی ہی مختلط تھی کہ جدا کرنا ممکن نہ تھا اور بالغ کو اس میں تصرف ناروا تھا بقدر حصہ صبی اس میں سے الگ کردینا حصہ صبی کا جدا ہوجانا اور بالغ کے لئے جواز تصرف کا سبب ہوا۔
اقول : (۱)ولاشك ان الماء مثلی بمعنی ان اجزاء ہ لاتتفاوت وبہ جزم کثیرون کما فی الخیریۃ من احیاء الموات فی الولوالجیۃ وکثیر من الکتب لوصب ماء رجل کان فی الحب یقال لہ املأ الماء فان صاحب الحب مالك للماء وھو من ذوات الامثال فیضمن مثلہ اھ وان کان قیمیا لانہ لایکال ولایوزن کما فی الخیریۃ من البیوع عن جامع الفصولین عن فوائد صاحب المحیط وفتاوی رشید الدین الماء قیمی عند ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی الله تعالی عنہما وفیہ عن مختلفات القاضی ابی القاسم العامری عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ الماء لایکال ولا یوزن قال الطحاوی معناہ لایباع بعضہ ببعض وعن محمد رحمہ الله تعالی الماء مکیل اھ وبالجملۃ لاشك انہ یقبل الافراز کالحب بل ابلغ فربما تتفاوت قلیلا حبات طعام واحد بخلاف قطرات ماء واحد۔
اقول : اور اس میں شك نہیں کہ پانی مثلی ہے یعنی اس لئے کہ اس کے اجزاء میں تفاوت نہیں اور بہت سے مشائخ نے اسی پر جزم کیا ہے جیسا کہ خیریہ(احیاء الموات)اور ولوالجیہ میں ہے اور بہت سی کتب میں ہے اگر کسی شخص نے مٹکے کا پانی گرا دیا تو اس سے کہا جائے گا کہ مٹکا بھرے کیونکہ مٹکے کا مالك پانی کا بھی مالك تھا اور پانی مثلی اشیاء میں سے ہے تو وہ اس کے مثل کا ضامن ہوگا اھ اگرچہ وہ قیمت والی چیز ہے اس لئے کہ وہ نہ مکیل ہے اور نہ ہی موزون ہے جیسا کہ خیریہ کی بیوع میں جامع الفصولین سے فوائد صاحب المحیط سے اور فتاوی رشید الدین میں ہے کہ پانی ابو حنیفہ اور ابو یوسف کے نزدیك قیمت والی چیز ہے اور اس میں مختلفات ابی القاسم العامری سے ابو یوسف سے ابو حنیفہ سے ہے کہ پانی نہ کیلی ہے نہ وزنی ہے۔ طحاوی نے فرمایا اس کا مفہوم یہ ہے کہ پانی کا بعض بعض سے بیچا نہیں جاتا ہے اور محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے روایت ہے کہ پانی کیلی ہے اھ خلاصہ یہ کہ پانی کو الگ کیا جاسکتا ہے جیسے مٹکے میں بلکہ زیادہ ہے کیونکہ بسا اوقات کھانے کی ایك ہی چیز کے دانوں میں فرق ہوتا ہے لیکن پانی کے قطرات میں نہیں ہوتا۔ (ت)
حوالہ / References فتاوٰی خیریۃ فصل فی الشرب بیروت ۲ / ۱۸۶
فتاوٰی خیریۃ کتاب البیوع بیروت ۱ / ۲۲۸
#12711 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
ثم اقول : یہ طریقہ اثم سے بچنے کو ہے اور اگر بغیر اس کے کوئی شخص نادانستہ یا دیدہ ودانستہ براہ جہالت خواہ بے پرواہی احکام شریعت اس میں سے اتنا پانی یا اس سے زاید بھر کر لے گیا تو اگرچہ وہ گنہگار ہو باقی پانی جائز الاستعمال ہوگیا کہ اتنا نکل جانے سے حوض وچاہ میں اس کی بقا پر یقین نہ رہا کما قال محمد لایجوز قتلھم فلوقتل البعض حل قتل الباقی (جیسا کہ امام محمد فرماتے ہیں ان کا قتل جائز نہیں اگر بعض قتل ہوجائیں تو باقی کا قتل جائز ہوگا۔ ت)
تنبیہ اقول : یہیں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ جریان۱ نہ ضرور نہ کافی اگر صبی۲ کا پانی اتنا قلیل تھا کہ چھلکنے میں نکل سکتا ہے تو جریان کی حاجت نہیں۔ اور اگر اتنا کثیر تھا کہ جتنے خروج پر جریان صادق آتا ہے اس میں نہ نکلے گا تو یہ جریان کافی نہیں جب تك اس قدر نکل نہ جائے۔
اقول : (۳)وبہ فارق النجاسۃ لان زوال وصفھا وحصول ضدھا بالجریان لمعنی فیہ وھوانہ لایقبل النجاسۃ بحکم النص وما قام بہ طھر بعضہ بعضا ولایلزم منہ حل الانتفاع بملك الصبی فلا بد من خروج قدر المصبوب ھذا ماظھرلی وقد انکشفت بہ الغمۃ علی احسن وجہ مطلوب والحمد لله سبحنہ کاشف الکروب والصلوۃ والسلام علی اکرم محبوب وعلی الہ وصحبہ ھداۃ القلوب امین۔
میں کہتا ہوں اور اسی وجہ سے نجاست سے دور ہوگیا کیونکہ نجاست کے وصف کا زائل ہونا اور جاری ہونے کی وجہ سے اسکی ضد کا حاصل ہونا ایك معنی سے ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ وصف یعنی جریان نجاست کو قبول نہیں کرتا ہے کیونکہ نص میں یہی ہے اور جو اس کے ساتھ قائم ہے اس کے بعض نے بعض کو پاك کردیا ہے اور اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ بچہ کی ملك سے نفع حاصل کرنا جائز ہو تو جتنا بہا ہے اس کی مقدار میں نکلنا ضروری ہے یہ بحث وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوئی اور اس سے عمدہ طور پر پریشانیاں دور ہوگئیں۔ اللہ تعالی کیلئے حمد ہے جو مصیبتوں کو دور کرنے والا ہے اور اس کے محبوب ترین اور اس کی آل وصحابہ پر صلوۃ وسلام۔ آمین(ت)
(۳)نمبر ۳۲ سے یہاں تك نابالغ کے پانی کا بیان جس تفصیل وتحقیق سے ہوا کتابوں میں اس چند سطروں سے زائد نہ ملے گا۔ ممکن ہے کہ اسے رسالہ مستقلہ کیجئے اور عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ نام رکھئے ولله الحمد۔ رسالہ ضمنیہ عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی تمام ہوا۔
(۶۶)جس۴ پانی میں مائے مستعمل کے واضح قطرے گرے خصوصا جبکہ اس کی دھار پہنچی جب تك مطہر پانی سے کم رہے ہاں بوجہ خلاف بچنا مناسب تر ہے جبکہ وہ چھینٹیں وضو وغسل کرتے ہیں نہ پڑی ہوں۔
وذلك انہ روی الافساد مطلقا وان قل الاماترشش فی الاناء عند التطھر فھو عفو
یہ اس لئے کہ مستعمل پانی کے بارے میں ایك روایت ہے کہ مستعمل مطلقا خواہ قلیل ہو پانی کو فاسد کردیتا ہے
حوالہ / References غنیۃ المستملی فروع من النجاسۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۰۴
#12712 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
دفعا للحرج ولا عبرۃ لمن اطلق وقد نص فی البدائع انہ فاسد ۔
وروی الافساد بالکثیر ثم الکثرۃ باستبانۃ مواقع القطر فی الماء الطھورام ان یسیل فیہ سیلانا قولان ففی الجامع الصغیر للامام قاضی خان انتضاح الغسالۃ فی الماء اذا قل لایفسد الماء یروی ذلك عن ابن عباس رضی الله تعالی عنہما ولان فیہ ضرورۃ فیعفی القلیل وتکلموا فی القلیل عن محمد وما کان مثل رؤس الابر فھو قلیل وعن الکرخی ان کان یستبین مواقع القطر فی الماء فکثیر وان کان لایستبین کالطل فقلیل اھ نقلہ فی زھر الروض وفی الخلاصۃ جنب اغتسل فانتضح من غسلہ شیء فی انائہ لم یفسد علیہ الماء اما اذا کان یسیل فیہ سیلانا افسدہ وکذا حوض الحمام علی ھذا وعلی قول محمد لایفسدہ مالم یغلب علیہ یعنی لایخرجہ من الطھوریۃ اھ ثم علله بعضھم بان الماء مفروض راکدا قلیلا فلا ینتقل الماء المستعمل الواقع فیہ من موقعہ الیہ اشار فی وجیز الکردری اذیقول التوضئ من سردا بہ لایجوز لانہ
مگر طہارت کے وقت جو چھینٹے پانی والے برتن میں پڑیں وہ معاف ہیں تاکہ حرج لازم نہ آئے ان چھینٹوں کے بارے میں اطلاق کا اعتبار نہیں ہوگا حالانکہ بدائع میں اس کو فاسد کہا ہے۔
اور ایك روایت میں کثیر کو فاسد کرنے والا کہا گیا پھر کثیر کی تعریف میں دو قول ہیں یا تو پاك پانی میں وہ نمایاں طور پر معلوم ہو یا مستعمل پاك پانی میں بہہ کر داخل ہو پھر امام قاضی خان کی شرح جامع صغیر میں ہے کہ دھوون اگر کم مقدار میں پانی میں گرا تو پانی کو فاسد نہیں کرے گا یہی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے نیز ضرورت کی بنا پر قلیل معاف ہوگا۔ اب انہوں نے قلیل کے بارے میں بحث کی ہے۔ امام محمد سے مروی ہے کہ اگر مستعمل پانی کے چھینٹے سوئی کے سوراخ کے برابر ہوں تو قلیل ہے اور امام کرخی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا کہ اگر پانی میں گرنے کی جگہ نمایاں معلوم ہو تو کثیر ہے ورنہ قلیل ہے جیسے شبنم کے قطرے اس مضمون کو زہرالروض میں نقل کیا ہے اور خلاصہ میں ہے کہ اگر اجنبی شخص سے غسل کرتے وقت اپنے برتن میں چھینٹے پڑ گئے تو اس سے پانی نجس نہ ہوگا۔ اگر غسالہ بہہ کر برتن میں پڑا تو پھر برتن کا پانی ناپاك ہوجائےگا۔ حمام کے حوض کا بھی یہ حکم ہے۔ اور امام محمد کے قول کے مطابق اس صورت میں ناپاك نہ ہوگا تاوقتیکہ مغلوب نہ ہوجائی
حوالہ / References بدائع الصنائع طہارۃ حقیقیۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۸
جامع صغیر للقاضی خان
خلاصۃ الفتاوی مع الہندیۃ الماء المستعمل نولکشور لکھنؤ ۱ / ۸
#12713 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
یتکر الاستعمال اھ
یعنی اس کو طہوریت سے نہیں نکالے گا اھ
پھر بعض نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جو پانی فرض کیا گیا ہے وہ ٹھہرا ہوا قلیل ہے تو مستعمل پانی جو اس میں گرا ہے اپنے گرنے کی جگہ سے اس کی طرف منتقل نہ ہوگا۔ امام کردری کی وجیز میں اسی صورت کی طرف اشارہ کیا ہے جب انہوں نے یہ کہا کہ چھوٹے حوض میں وضو کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ پانی دوبارہ استعمال میں آتا ہے اھ۔ (ت)
اقول : ویلزمھم التجویز اذا حرك الماء عند کل غرفۃ او اغترف کل مرۃ من غیر موقع الغسالۃ واخرون بان الماء المستعمل من جنس المطلق فلا یستھلك فیہ فیؤثر فی کلہ لقلتہ بخلاف اللبن اوبول الشاۃ علی قول محمد بطھارتہ ھکذا اختلفوا والصحیح المعتمد فی المذھب الاعتبار بالغلبۃ فلا یخرج عن الطھوریۃ مادام اکثر من المستعمل ھو الذی اعتمدہ الامۃ وصححہ الائمۃ۔
میں کہتا ہوں ان کویہ قول کرنا لازم ہوگا کہ اگر ہر چلو پر پانی کو حرکت دے یا ہر دفع غسالہ کی بجائے دوسری جگہ سے چلو لے تو وضو جائز ہونا چاہئے۔ بعض نے کہا کہ مستعمل پانی مطلق پانی کا ہم جنس ہونے کی وجہ سے اس میں فنا نہیں ہوگا اور اس کے کل میں اثر کرے گا کیونکہ وہ کم ہے بخلاف دودھ یا بکری کے پیشاب کے بقول امام محمد کیونکہ وہ اس کی طہارت کے قائل ہیں اس طرح مستعمل پانی کے بارے میں یہ اختلاف ہے لیکن صحیح اور مذہب قابل اعتماد یہ ہے کہ اس میں غلبہ کا اعتبار ہے لہذا جب تك مطلق پانی غالب اور زیادہ ہے تو مستعمل پانی کے ملنے سے ناپاك نہ ہوگا اور قابل طہارت رہے گا یہی امت کا معمول اور ائمہ کرام کا صحیح کردہ مسلك ہے۔ (ت)
یہ ۶۶ وہ پانی تھے جن میں شیئ غیر کا اصلا خلط نہ تھا یا تھا تو آب غیر کا نہ غیر آب کا۔ اب وہ پانی ہیں جن میں غیر آب کا خلط ہے۔ (۶۷ ۶۸)وہ پانی۱ جس میں آب دہن یا آب بینی یعنی تھوك یا کھنکار یا ناك کی ریزش پڑ جائے اس سے وضوء جائز مگر مکروہ ہے۔ فتاوی امام قاضی خان میں ہے :
الماء اذا اختلط بالمخاط اوبالبزاق جازبہ التوضئ ویکرہ ۔
اگر پانی میں تھوك یا ناك کا پانی گرے تو اس سے وضو جائز ہے مگر مکروہ ہے۔ (ت)
(۶۹)وہ پانی جس۲ میں مٹی ریتا کیچڑ کسی قدر مل جائے جب تك اس کی روانی باقی ہو اعضا پر پانی کی
حوالہ / References فتاوٰی بزازیۃ نوع فی الحیاض نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۷
فتاوٰی قاضی خان فصل فیما لایجوزبہ التوضئ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
#12714 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
طرح بہے۔
(۷۰)یونہیں اہلے کا پانی اگرچہ کتنا ہی گدلا ہو اگرچہ رنگ کے ساتھ مزہ بھی بدلا ہو اگر ریتے مٹی کے سوا کچھ بھی بہا کر لایا ہو جب تك نجاست سے رنگ یا مزہ یا بو نہ بدلے۔
(۷۱)یوہیں وہ ندیاں جو برسات میں گدلی ہوجاتی ہیں۔ امام ملك العلما بدائع میں فرماتے ہیں :
لوتغیر الماء المطلق بالطین اوبالتراب یجوز التوضئ بہ ۔
اگر مطلق پانی کیچڑ یا مٹی سے تبدیل ہوگیا تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا :
لاباس بالوضوء بماء السیل مختلطا بالطین ان کانت رقۃ الماء غالبۃ فان کان الطین غالبا فلا ۔
سیلاب کا پانی جس میں کیچڑ کی آمیزش ہو اس سے وضو جائز ہے بشرطیکہ اس میں پانی کی رقت غالب ہو اور اگر کیچڑ غالب ہو تو جائز نہیں۔ (ت)
جوہرہ نیرہ میں ہے :
خصہ بالذکر لانہ یاتی بغثاء واشجار واوراق ۔
بطور خاص اس کو ذکر کیا کیونکہ سیلاب کے پانی میں میل کچیل درخت اور پتے وغیرہ بھی بہہ کر آتے ہیں۔ (ت)
وجیز کردری میں ہے :
ماء السیل لورقیقا لیسیل علی العضو یجوز التوضی بہ ۔
سیلاب کا پانی اگر اتنا رقیق ہو کہ اعضاء پر بہتا ہو تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
منیہ میں ہے :
یجوز الطھارۃ بماء خالطہ شیئ طاھر فغیر احد اوصافہ کماء المد والماء الذی اختلط بہ الزعفران بشرط ان
اس پانی سے طہارت جائز ہے جس میں کوئی پاك چیز مل گئی ہو اور اس کے اوصاف میں سے کسی ایك وصف کو بدل دیا ہو جیسے سیلاب کا پانی اور وہ پانی
حوالہ / References بدائع الصنائع الماء المقید سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵
فتح القدیر باب الماء الذی یجوز الخ سکھر ۱ / ۶۵
جوہرۃ نیرۃکتاب الطہارۃ امدادیہ ملتان ۱ / ۱۴
فتاوٰی بزازیۃ مع الہندیۃ نوع المستعمل الخ پشاور ۴ / ۱۰
#12715 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
یکون الغلبۃ للماء من حیث الاجزاء ولم یزل عنہ اسم الماء وان یکون رقیقا بعد فحکمہ حکم الماء المطلق ۔
جس میں زعفران مل گئی ہو بشرطیکہ اجزا کے اعتبار سے غلبہ پانی کو ہی ہو اور اس سے پانی کا نام سلب نہ ہوا ہو اور یہ کہ رقیق ہو تو اس کا حکم مطلق پانی کا ہے۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
المد السیل وانما خصہ بالذکر لانہ یجیئ بغثاء ونحوہ الا ان قولہ غیر احد اوصافہ وقد سبقہ الی ھذہ العبارۃ القدوری فی مختصرہ یفید ان الجواز مقید بما اذاغیر وصفا واحدا لاغیر وحینئذ لایحتاج الی ان یقول بشرط ان یکون الغلبۃ للماء من حیث الا جزاء ولم یزل عنہ اسم الماء وان یکون رقیقا بعدمع ان قولہ بشرط ان تکون الغلبۃ للماء من حیث الاجزاء مغن عن الثانی کما ھو ظاہر لان المخالط المذکور اذا لم یغیر سوی وصف واحد لایکون بحیث یغلب الماء من حیث الاجزاء لیقع الاحتراز عنہ ویجعل شرطا اھ
اقول : اولا(۱)سیاتی الکلام ان شاء الله تعالی علی مقتضی التعبیر باحد وحسبك ان الزعفران یغیر اوصاف الماء الثلثۃ وکذا السیل ربما یتغیرلہ وصفان
“ المد “ سیلاب کو کہتے ہیں اور اس کو بطور خاص ذکر کرنا اس لئے ہے کیونکہ سیلاب کا پانی کوڑا کرکٹ بھی ساتھ لاتا ہے مگر یہ کہ ان کا قول “ اس کے اوصاف میں سے کسی ایك کو بدل دیا “ اور ان سے پہلے قدوری بھی اپنی مختصر میں یہ عبارت لاچکے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے جواز اس صورت سے مقید ہے کہ جب صرف ایك وصف بدل جائے اس وقت یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ “ شرط یہ ہے کہ غلبہ پانی کو ہو اجزاء کے اعتبار سے “ اور اس سے پانی کا نام سلب نہ ہو اور یہ کہ رقیق ہو باوجودیکہ ان کا قول بشرطیکہ غلبہ اجزاء کے اعتبار سے پانی کو ہو یہ دوسرے سے بے نیاز کرنے والا ہے جیسا کہ ظاہر ہے اس لئے کہ ملنے والی مذکورہ شے پانی کا اگر صرف ایك ہی وصف بدلے تو وہ پانی کے اجزاء پر غالب نہ ہوگی تاکہ اس سے احتراز ہو اور اس کو شرط کیا جائے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں اول “ احد “ سے تعبیر کرنے پر کلام آگے آئے گا اور پھر یہ دلیل کافی ہے کہ زعفران جو پانی کے تینوں اوصاف تبدیل کردیتی ہے اور اسی طرح سیلاب کہ اس سے کبھی دو وصف بدل جاتے ہیں
حوالہ / References منیۃ المصلی فصل فی المیاہ مکتبہ قادریہ ، لاہور ص۶۳
حلیہ
#12716 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
بل الکل وثانیا : (۱)الماء قد یخالطہ شیئ لایخالفہ الا فی وصف واحد فلا یغیر الا ایاہ وان زاد علی الماء اجزاء والوضوء بہ باطل وفاقا فلیس فی التعبیر باحد غنی عن شرط غلبۃ الماء من حیث الاجزاء کما ذھب الیہ وھلہ رحمہ الله تعالی وثالثا قد(۲)لایغلب الشیئ علی الماء اجزاء ویزیل اسمہ عنہ کما یاتی فی الزعفرانی والزاج والعفص والنبیذ فلا یغنی الشرط الاول عن الثانی ورابعا لایخفی ان(۳)الثانی مغن عن الثالث لان بزوال الرقۃ لایسمی ماء قال فی الفتح ماخالط جامدا فسلب رقتہ لیس بماء مقید بل لیس بماء اصلا کما یشیر الیہ قول المصنف فی المختلط بالاشنان الا ان یغلب فیصیرکالسویق لزوال اسم الماء عنہ اھ فالعجب تعرضہ بحکم الاغناء حیث لم یکن وترکہ حیث کان ثم راجعت الغنیۃ فرأیتہ عکس فاصاب وافادان الثالث تفسیر قال واشتراط عدم زوال اسم الماء یغنی عن اشتراط الرقۃ فان الغلیظ قدزال عنہ اسم الماء بل زوال الرقۃ یصلح ان یکون تفسیر الزوال اسم الماء ۔
اور کبھی تمام اوصاف بھی تبدیل ہوجاتے ہیں۔
دوم : پانی میں کبھی ایسی چیز مل جاتی ہے جو صرف ایك وصف میں اس کے مخالف ہوتی ہے اور اسی ایك وصف کو بدلتی ہے خواہ اجزاء کے اعتبار سے وہ پانی سے زائد ہی ہو ایسے پانی سے بالاتفاق وضو باطل ہے لہذا “ ایك وصف بدلنے “ کا ذکر اس قید سے بے نیاز نہیں کرتا ہے کہ پانی کا اجزاء کے اعتبار سے غلبہ ہو جیسا کہ وہلہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس کو ذکر کیا۔
سوم : بعض چیزیں اجزاء کے اعتبار سے پانی پر غالب نہیں آتیں اور اس سے پانی کا نام سلب ہوجاتا ہے جیسے زعفران پھٹکڑی مازو اور نبیذ میں ہوتا ہے تو پہلی شرط دوسری سے بے نیاز نہیں کرے گی۔
چہارم : مخفی نہ رہے کہ دوسرا تیسرے سے بے نیاز کرنے والا ہے کیونکہ جب رقت زائل ہوگئی تو اب اس کو پانی نہیں کہاجائے گا فتح میں فرمایا پانی کسی جامد سے ملا اور اس کی رقت ختم ہوگئی تو یہ مقید پانی نہیں بلالکہ سرے سے پانی ہی نہیں جیسے کہ مصنف نے مختلط بالاشنان میں اشارہ کیا ہے مگر یہ کہ اتنا غالب ہوجائے کہ ستوؤں کی مثل بن جائے کہ اب اس پر پانی کا نام
حوالہ / References فتح القدیر الماء الذی یجوزبہ الوضوء سکھر ۱ / ۶۵
غنیۃ المستملی المیاہ سہیل اکیڈمی ، لاہور ص۹۰
#12717 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
نہیں بولا جائےگا اھ تو تعجب اس پر ہے کہ جہاں اغناء نہ تھا وہاں وہ اغناء کا ذکر کر رہے ہیں اور جہاں تھا وہاں چھوڑ دیا ہے پھر میں نے خود غنیہ کو دیکھا تو وہاں الٹ نکلا تو انہوں نے مفید اور درست بات کہی کیونکہ وہ فرماتے ہیں تیسرا تفسیر ہے اور پانی کا نام زائل نہ ہونے کی شرط رقت کی شرط لگانے سے بے نیاز کرتی ہے کیونکہ گاڑھے سے پانی کا نام ختم ہوگیا بلالکہ زوال رقت میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ پانی کے نام کے زوال کی تفسیر بن سکے۔ (ت)
(۷۲)وہ پانی کہ کا ہی کی کثرت سے جس کی بو وغیرہ میں تغیر آگیا جوہرۃ نیرۃ میں ہے :
لوتغیر الماء بالطحلب کان حکمہ حکم الماء المطلق ۔
اگر پانی کا ہی(پانی میں سبز دھاریاں ہوتی ہیں)سے متغیر ہوجائے تو اس کیلئے مطلق پانی کا حکم ہے۔ (ت)
(۷۳)کچی کنیاں کا پانی جس میں بھرا سڑکر بدبو آجاتی بلالکہ رنگ ومزہ سب متغیر ہوجاتا ہے۔
(۷۴)وہ تالاب جس میں سن گلائی گئی اور اس کے سبب اس کے تینوں وصف بدل گئے۔ فتاوی شیخ الاسلام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ غزی تمرتاشی میں ہے :
سئل عن الوضوء والاغتسال بماء تغیر لونہ وطعمہ وریحہ بحبلہ المعلق علیہ لاخراج الماء منہ فھل یجوز ام لا اجاب یجوز عند جمہور اصحابنا اھ ملتقطا۔
ان سے اس پانی سے وضو اور غسل کی بابت دریافت کیا گیا جس کا رنگ مزا اور خوشبو اس رسی کے باعث بدل گئے جس پر کہ اس رسی کو لٹکایا گیا تھا تاکہ اس سے پانی نکالا جائے تو کیا جائز ہے یا نہیں تو جواب دیا کہ ہمارے جمہور اصحاب کے نزدیك جائز ہے اھ ملتقطا۔ (ت)
(۷۵)کوندے میں آٹے کا لگاؤ ہو اس میں پانی رکھنے سے مزے وغیرہ میں تغیر آجاتا ہے اس پانی سے وضو روا ہے۔ فتح القدیر میں ہے :
قداغتسل صلی الله تعالی علیہ والہ وسلم یوم الفتح من قصعۃ فیھا اثر العجین رواہ النسائی والماء بذلك یتغیر ولم یعتبر للمغلوبیۃ ۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فتح مکہ کے دن ایسے پیالے میں وضو فرمایا جس میں گوندھے ہوئے آٹے کا اثر تھا اس کو نسائی نے روایت کیا اس سے پانی میں تغیر آتا ہے اور مغلوبیت کی وجہ سے اس کا اعتبار نہ فرمایا۔ (ت)
حوالہ / References جوہرۃ نیرۃ طہارت امدادیہ ملتان ۱ / ۱۴
فتاوی غزی تمرتاشی
فتح القدیر الماء الذی یجوزبہ الوضوء سکھر ۱ / ۶۴
#12718 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
(۷۶)حوض کے کنارے درخت ہیں موسم خزاں میں پتے کثرت سے گرے کہ حوض کا پانی دیکھنے میں سبز معلوم ہوتا ہے مگر ہاتھ میں لینے سے صاف نظر آتا ہے اس سے وضو بالاتفاق جائز ہے۔
(۷۷)پتے اتنے گرے کہ واقعی پانی سبز ہوگیا چلو میں بھی سبز معلوم ہوتا ہے صحیح مذہب میں اب بھی قابل وضو ہے جب تك گاڑھا ہو کر اپنی رقت سے نہ اترجائے۔
اقول : ہاں مگر۱ اس حالت میں اس سے احتراز بہتر ہے کہ ایك جماعت علما اس سے وضو صحیح نہ ہونے کی قائل ہے۔ امام صدر الشریعہ نے شرح وقایہ میں فرمایا :
اما الماء الذی تغیر بکثرۃ الاوراق الواقعۃ فیہ حتی اذارفع فی الکف یظھر فیہ لون الاوراق فلا یجوز بہ الوضوء لانہ کماء الباقلی ۔
وہ پانی جو پتوں کے زیادہ گرنے کی وجہ سے بدل گیا اتنا کہ ہاتھ میں اٹھایا جائے تو پتوں کا رنگ آئے تو اس سے وضو جائز نہیں جیسے کہ باقلی(لوبیا)کے پانی سے وضو جائز نہیں۔ (ت)
فتاوی غزی میں ہے :
وبعضھم ذھب الی عدم الجواز بالماء الذی غیرتہ کثرۃ الاوراق بحیث یظھر لونھا فی کف عند رفعہ کما جزم بہ فی الکنز وغیرہ اھ
اقول : (۲)انما نص الکنز لابماء تغیر بکثرۃ الاوراق اھ ولیس فیہ ذکر ظھور اللون بالرفع فی الکف وانما ضمیر تغیر للماء والماء عبارۃ عن العین وتغیر عینہ بذھاب رقتہ لاجرم ان قال فی البحر محمول علی مااذا زال عنہ اسم الماء بان
اور بعض فقہاء اس طرف گئے ہیں کہ اس پانی سے وضو جائز نہیں جس کو پتوں کی کثرت نے بدل دیا ہو تو ہاتھ میں اٹھانے سے اس میں پتوں کا رنگ نظر آتا ہو جیسے کنز وغیرہ میں اس پر جزم کیا ہے اھ(ت)
میں کہتا ہوں کنز کا نص تو یہ ہے کہ نہ اس پانی سے جو پتوں کی کثرت سے متغیر ہوگیا ہو اھ۔ اور اس میں یہ ذکر نہیں کہ ہاتھ میں اٹھانے سے پتوں کا رنگ اس میں ظاہر ہوتا ہو اور تغیر کی ضمیر پانی کی طرف لوٹتی ہے اور پانی ایك عین ہے اور اس کے عین کا تغیر اس وقت ہوگا جب اس کی رقت
حوالہ / References شرح وقایۃ ، مایجوزبہ الوضوء ، المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۸۶
فتاوٰی غزی
کنز الدقائق میاہ الوضوء سعید کمپنی کراچی ص۱۱
#12719 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
صار ثخینا اھ۔ ورحم الله العلامۃ الحلبی اذ اوضح المرام وازاح الاوھام بقولہ فی متنہ الملتقی لابماء خرج عن طبعہ بکثرۃ الاوراق اھ قال فی مجمع الانھر طبعہ ھو الرقۃ والسیلان اھ
اقول : (۱)ولم یکن بعدہ محل لان یعلله بتغیر اوصافہ جمیعا ویقول وان جوزہ الاساتذۃ امامانقل عن الفرائد عن اخی چلپی انہ لایمکن الحمل الا علی اختلاف الروایتین ثم قال لکن یمکن الحمل علی مابین انفا اھ
فاقول : (۲)اولا مابین صریح منطوق المتن فتعبیرہ بالحمل(۳)ثم تضعیفہ بیمکن لامحل لھما وثانیا : (۴)لامحل لھذا الحمل فی کلام صدر الشریعۃ وما یاتی من کلام المیدانی فلا محید عن الاختلاف(۵)ومن المسامحۃ تعبیرہ باختلاف الروایتین(۶)فان قول المشائخ لایقال لہ روایۃ۔
ختم ہوجائے اس لئے بحر میں فرمایا یہ اس پر محمول ہے جبکہ اس پر پانی کا اطلاق ختم ہوگیا ہو مثلا یہ کہ وہ گاڑھا ہوگیا اھ۔
اللہ تعالی حلبی پر رحم فرمائے کہ انہوں نے شبہات کو دور فرما کر وضاحت مقصود کردی وہ ملتقی کے متن میں فرماتے ہیں “ نہ اس پانی سے جو پتوں کی کثرت کی وجہ سے پانی کی طبیعت سے خارج ہوگیا ہو اھ “ ۔ مجمع الانہر میں فرمایا پانی کی طبیعت رقت اور سیلان ہے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس کے بعد اس کا موقع نہ تھا کہ اس کی علت یہ بیان کریں کہ اس کے تمام اوصاف بدل جائیں اور یہ فرمائیں کہ “ اگرچہ اس کو اساتذہ نے جائز قرار دیا ہے “ اور اخی چلپی سے فرائد سے جو منقول ہے کہ “ اس کو صرف اختلاف روایتین پر ہی محمول کیا جاسکتا ہے “ پھر فرمایا اس کا حمل اس پر ممکن ہے جس کو انہوں نے ابھی بیان کیا ہے اھ۔ (ت)تو میں کہتا ہوں اولا جو انہوں نے بیان کیا ہے وہ متن کی صریح عبارت ہے تو اس کو حمل سے تعبیر کرنا پھر اس کو تضعیف یمکن کے لفظ سے ان دونوں باتوں کا یہ محل نہیں۔ سے تو کوئی مفر نہیں اور اس کو اختلاف روایتین سے تعبیر کرنا اس میں مسامحۃ ہے کہ قول مشایخ کو روایت نہیں کہا جاتا ہے۔ (ت)دوم اس حمل کا صدرالشریعۃ کے کلام میں کوئی محل نہیں اور اسی طرح میدانی کے کلام میں بھی اس کی کوئی گنجائش نہیں تو اختلاف
حوالہ / References بحرالرائق میاہ الوضوء سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۸
الملتقی الابحر شرح مجمع الانہر الطہارۃ بالماء المطلق عامرہ مصر ۱ / ۲۸
الملتقی الابحر شرح مجمع الانہر الطہارۃ بالماء المطلق عامرہ مصر ۱ / ۲۸
عقدالفرائد
#12720 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
منیہ میں ہے :
اذا تغیر لون الماء اوریحہ اوطعمہ بطول المکث اوبسقوط الاوراق تجوز بہ الطھارۃ الا اذا غلب لون الاوراق فیصیر مقیدا ۔
جب پانی کا رنگ بو یا مزہ تبدیل ہوجائے زیادہ ٹہرا رہنے کی وجہ سے یا اس میں پتوں کے گرنے کی وجہ سے تو اس سے طہارت جائز ہے ہاں اگر پتوں کا رنگ غالب ہوگیا تو اب یہ پانی مقید ہوگیا۔ (ت)
جحلیہ میں ہے :
اخذہ مما فی الذخیرۃ الفتاوی الصغری سئل الفقیہ احمد بن ابراھیم المیدانی عن الماء الذی تغیر لونہ لکثرۃ الاوراق الواقعۃ فیہ حتی یظھر لون الاوراق فی الکف اذارفع الماء منہ ھل یجوز التوضی بہ قال لاولکن یجوز شربہ وغسل الاشیاء بہ اما شربہ وغسل الاشیاء فلانہ طاھر واما عدم جواز التوضی بہ فلانہ لما غلب علیہ لون الاوراق صار مقیدا کماء الباقلاء وغیرہ لکن نص فی تحفۃ الفقھاء علی انہ عند الضرورۃ یجوز التوضی بماء تغیر بامتزاج غیرہ من حیث اللون والطعم بان وقع الاوراق والثمار فی الحیاض حتی تغیر لانہ تتعذر صیانۃ الحیاض عنھا ۔
اقول : فاذن یکون ھذا قولا ثالثا
اس کو ذخیرہ اور فتاوی صغری کے تتمہ سے لیا ہے فقیہ احمد بن ابراہیم المیدانی سے اس پانی کی بابت دریافت کیا گیا جس کا رنگ پتوں کی کثرت کی وجہ سے متغیر ہوگیا ہو یہاں تك کہ جب پانی کو ہاتھ میں اٹھایا جائے تو اس میں پتوں کا رنگ ظاہر ہوتا ہو آیا اس پانی سے وضو جائز ہے تو فرمایا “ نہیں “ لیکن اس کو پی سکتے ہیں اور اس سے دوسری اشیا کو دھو سکتے ہیں اس کا پینا اور دوسری اشیا کا دھونا اس لئے جائز ہے کہ یہ پانی پاك ہے اور وضو اس لئے جائز نہیں کہ اس پر پتوں کا رنگ غالب ہوچکا ہے اور یہ مقید پانی ہوگیا ہے جیسے باقلی(لوبیا)وغیرہ کا پانی۔ مگر تحفۃ الفقہاء میں صراحت ہے کہ ایسے پانی سے جس میں کسی چیز کے مل جانے کی وجہ سے رنگ اور مزہ تبدیل ہوگیا ہو ضرورت کے وقت وضو جائز ہے جیسے حوضوں میں پھل اور پتے گرتے رہتے ہیں اور پانی متغیر ہوجاتا ہے کہ ان چیزوں سے حوضوں کا بچانا متعذر ہے اھ(ت)
میں کہتا ہوں اس صورت میں یہ تیسرا قول
حوالہ / References منیۃ المصلی مکتبہ قادریہ لاہور ص۶۴
حلیہ
#12721 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
انہ انما یجوز الوضوء بہ عند الضرورۃ والا لا وتبعہ فی مجمع الانھر(۱)ولیس ھکذا وانما نص البدائع شرح التحفۃ وھو عین نصھا ولوتغیر الماء المطلق بالطین اوبالتراب اوبالجص او بالنورۃ اوبوقوع الاوراق اوالثمار فیہ اوبطول المکث یجوز التوضئ بہ لانہ لم یزل عنہ اسم الماء وبقی معناہ ایضا مع مافیہ من الضرورۃ الظاھرۃ لتعذرصون الماء عن ذلك اھ۔ فلم یقیدہ بالضرورۃ ولم یقصر وجہہ علیھا بل عللہ بانہ ماء مطلق باق علی اطلاقہ وایدہ بانہ ساقط الحکم للضرورۃ(۲)وفرق بین بین بناء الحکم علی الضرورۃ بحیث یتقید بھا وبین اسقاط حکم رأسا لضرورۃ لازمۃ وھذا من ذاك(۳)الاتری انہ نظمہ مع المخلوط بالتراب ونحوہ فی سلك واحد وھل یسوغ لاحد ان یقول انما یجوز الوضوء بماء کدر اذا لم یجد غیرہ والا لم یصح ثم(۴)لانظیر لھذا فی المذھب ان یجوز الوضوء بماء عند الضرورۃ لافی السعۃ امانبیذ التمر فانما الحکم فیہ علی خلاف المعتمد المفتی بہ لاجل ورود النص فعدل بہ عن سنن القیاس عند عدم الماء المطلق کما نصوا علیہ و
ہوگا یعنی یہ کہ بوقت ضرورت اس سے وضو جائز ہے ورنہ نہیں اور مجمع الانہر میں اس کی متابعت کی اور بات ایسی نہیں ہے اور بدائع شرح تحفہ کا نص بعینہ یہی ہے اور وہ یہ ہے کہ “ اگر مطلق پانی کیچڑ مٹی گچ یا نورہ سے بدل گیا یا اس میں پتے اور پھل گرے اور بدل گیا یا زیادہ عرصہ تك کھڑا رہنے کی وجہ سے بدل گیا تو اس سے وضو جائز ہے کیونکہ اس سے پانی کا نام زائل نہیں ہوا اور اس کے معنی بھی باقی ہیں اور بظاہر اس میں ضرورت بھی ہے کیونکہ پانی کو ان اشیاء سے بچانا متعذر ہے اھ۔ تو اس کو ضرورت سے مقید نہیں کیا اور اس کی وجہ اس مقصور نہ کی بلکہ اس کی تعلیل اس طرح کی کہ وہ مطلق پانی ہے اور اپنے اطلاق پر باقی ہے اور اس کی تائید میں فرمایا کہ اس کا حکم بوجہ ضرورت ساقط ہوگیا اور اس میں کہ حکم ضرورت کی وجہ سے لگایا جائے اور وہ ضرورت سے متقید ہوجائے اور اس میں کہ حکم ضرورت لازمہ کی وجہ سے بالکل ساقط کیا جائے بڑا فرق ہے اور یہ اسی قبیل سے ہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ انہوں نے اس کو مخلوط بالتراب اور اس کی مثل کے ساتھ ملایا ہے اور ان دونوں کو ایك ہی قرار دیا ہے اور کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ گدلے پانی کے ساتھ وضؤ جائز ہے بشرطیکہ دوسرا موجود نہ ہو ورنہ نہیں پھر اس پر مذاہب میں اس کی کوئی نظیر موجود نہیں کہ
حوالہ / References بدائع الصنائع الماء المقید سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵
#12722 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
سیاتی ولامساغ لھذا ھھنا وبا لله التوفیق۔
ثم اورد علیہ فی الحلیۃ نفسھا بما حاصلہ ان لامعنی للتفرقۃ بین السعۃ والضرورۃ فان الشرع لم ینقل المکلف عن الماء المطلق عند عدم القدرۃ علیہ الیہ الماء المقید فی حالۃ دون حالۃ بل نقلہ عند العجز عنہ الی التیمم فی سائر الحالات اعنی سواء کان یجد مع ذلك الماء المقید اولم یجدہ ایضا فان کان ھذا ماء مطلقا جاز الوضوء مطلقا والا لم یجز مطلقا اھ۔ بمحصلہ اقول : ھذا ایراد علی مافھمہ رحمہ الله تعالی من کلام التحفۃ لاعلیہ کما علمت و لله الحمد۔
کسی پانی سے ضرورت کے وقت تو وضو جائز ہو اور بلا ضرورت جائز نہ ہو اور جہاں تك نبیذ تمر کا معاملہ ہے سو اس میں جو حکم ہے وہ معتمد مفتی بہ کے خلاف ہے کیونکہ نص وارد ہے لہذا وہاں قیاس سے عدول کیا گیا ہے جبکہ مطلق پانی نہ ہو جیسا کہ فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے اور یہ عنقریب آئے گا اور یہ چیز یہاں نہیں چل سکتی ہے پھر انہوں نے خود حلیہ میں اعتراض کیا جس کا حاصل یہ ہے کہ گنجائش اور ضرورت کی صورتوں میں فرق کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ شریعت نے مکلف کو مطلق پانی سے قدرت نہ ہونے کی صورت میں مقید پانی کی طرف منتقل نہیں کیا ہے کسی خاص حالت میں بلالکہ ایسی صورت میں اس کو تیمم کرنے کا حکم دیا ہے تمام حالات میں خواہ اس کو مقید پانی مل رہا ہو یا نہ مل رہا ہو تو اگر یہ مطلق پانی ہے تو وضو مطلقا جائز ہے ورنہ مطلقا وضو جائز نہیں اھ۔ میں کہتا ہوں یہ اعتراض اس مفہوم پر ہے جو انہوں نے تحفہ سے سجھا خود تحفہ پر نہیں ہے جیسا کہ آپ نے جان لیا وللہ الحمد۔ (ت)
(۷۸)پھلوں کے گرنے
(۷۹)تالاب میں سنگھاڑے کی بیل سڑجانے سے پانی کے سب اوصاف بدل جائیں جب بھی حرج نہیں جب تك رقیق وسیال رہے۔ تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
(یجوز ماء خالطہ طاھر جامد)مطلقا (کفاکھۃ و ورق شجر)وان غیر کل اوصافہ(فی الاصح ان بقیت رقتہ)ای واسمہ اھ۔ اقول : احتاج الی زیادۃ واسمہ لکلامہ
(وضو ایسے پانی سے جائز ہے جس میں کوئی جامد پاك چیز مل گئی ہو)مطلقا (جیسے خشك میوہ اور درخت کے پتے)خواہ اس کے تمام اوصاف کو بدل دیا ہو(اصح یہی ہے بشرطیکہ اس کی رقت باقی رہی ہو)یعنی
حوالہ / References بدائع الصنائع الماء المقید سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵
الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵
#12723 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
فی کل طاھر جامدومنہ مایزیل الاسم مع بقاء الرقۃ کما یاتی فی الزعفران ونحوہ فلا یجوز الوضوء بہ مع بقاء رقتہ ونحن فی غنی من ھذا القید ھنا فانہ ھنا لایتبدل الاسم مادامت الرقۃ فلذالم نعرج علیہ۔
اس کا نام بھی اھ۔ میں کہتا ہوں ہر طاہر جامد کے ساتھ نام کے باقی رہنے کی قید ضروری ہے اسی میں وہ بھی ہے جس کا نام تو ختم ہوگیا مگر رقت باقی رہی ہو جیسا کہ زعفران وغیرہ میں آئے گا تو رقت کے باقی رہتے ہوئے بھی وضو جائز نہ ہوگا اور ہمیں یہ قید لگانے کی ضرورت نہیں کہ یہاں نام اس وقت تك تبدیل ہوتا ہی نہیں جب تك کہ رقت باقی رہتی ہے اسی لئے ہم نے یہ قید نہیں لگائی۔ (ت)
غرر ودرر میں ہے :
وان غیر اوصافہ فی الاصح
(اصح یہ ہے کہ اگرچہ وہ پانی کے اوصاف کو بدل دے۔ ت)
عبدالحلیم میں ہے :
ھو الاصح بل الصحیح کما قال فی المنبع ۔
(یہی اصح ہے بلالکہ صحیح ہے جیسا کہ منبع میں فرمایا۔ ت)
سراج الوہاج وعلمگیریہ وجوہرہ نیرہ وفتاوی غزی میں ہے :
فان تغیرت اوصافہ الثلثۃ بوقوع اوراق الاشجار فیہ وقت الخریف فانہ یجوزبہ الوضوء عند عامۃ اصحابنا رحمہم ا لله تعالی ۔
اگر اس کے تینوں اوصاف موسم خزاں کے پتوں کے گرنے کی وجہ سے تبدیل ہوگئے تو ہمارے اصحاب کے نزدیك اس سے وضو جائز ہے رحمہم اللہ تعالی۔ (ت)
مجتبی شرح قدوری پھر فتاوی غزی میں ہے :
لوغیر الاوصاف الثلثۃ بالاوراق ولم یسلب اسم الماء عنہ ولا معناہ فانہ یجوز التوضئ بہ ۔
اگر پانی کے تینوں اوصاف پتوں کے گرنے کی وجہ سے متغیر ہوگئے اور اس سے پانی کا نام سلب نہ ہوا اور نہ اس کے معنی سلب ہوئے تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
حوالہ / References درر غرر ملّا خسرو فرض الغسل مطبعہ کاملیۃ بیروت ۱ / ۲۱
درر غرر عبدالحلیم فرض الوضوء مطبعہ عثمانیہ بیروت ۱ / ۱۷
ہندیۃ فیما لایجوز بہ الوضوء پشاور ۱ / ۲۱
فتاوٰی غزی
#12724 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
نہایہ امام سغناقی پھر عنایہ وحلیہ وغنیہ وبحر ونہر ومسکین وردالمحتار کتب کثیرہ میں ہے :
المنقول عن الاساتذۃ انہ یجوز حتی لو ان اوراق الاشجار وقت الخریف تقع فی الحیاض فیتغیر ماؤھا من حیث اللون والطعم والرائحۃ ثم انھم یتوضؤون منھا غیر نکیر ۔
اساتذہ سے یہ منقول ہے کہ جائز ہے یہاں تك موسم خزاں میں درختوں کے پتے حوضوں میں گرنے کی وجہ سے پانی کا رنگ مزہ بو بدل جاتا ہے پھر بھی وہ ایسے پانی سے وضو کرلیتے تھے اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوتا تھا۔
ردالمحتار میں زیر قول مذکور وان غیر کل اوصافہ فی الاصح فرمایا :
مقابلالہ ماقیل انہ ان ظھر لون الاوراق فی الکف لایتوضأ بہ لکن یشرب والتقیید بالکف اشارۃ الی کثرۃ التغیر لان الماء قد یری فی محلہ متغیرا لونہ لکن لورفع منہ شخص فی کفہ لایراہ متغیرا تأمل اھ۔
اقول : لاادری لم امر بالتأمل وھو امر صحیح مشاھد ھذا وزعم یوسف چلپی فی ذخیرۃ العقبی الاصح ماذکرہ الشارح یرید صدرالشریعۃ لانہ بغلبۃ لون الاوراق صار مقیدا اھ۔
اقول : (۱)ھو رحمہ ا لله تعالی(۲)لیس من اھل الترجیح ولم یسندہ لمعتمد فلا یعارض
اس کے مقابل یہ قول ہے کہ اگر پتوں کا رنگ چلو کے پانی میں ظاہر ہوجائے تو اس سے وضو جائز نہیں لیکن یہ پانی پیا جاسکتا ہے اور ہتھیلی کی قید لگانا یہ ظاہر کرنے کیلئے ہے کہ تغیر بہت زیادہ واقع ہوا ہے کیونکہ پانی اپنے محل میں کبھی متغیر نظر آتا ہے لیکن اگر اسے چلو میں اٹھایا جائے تو متغیر نظر نہیں آتا ہے تأمل اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں کہ معلوم نہیں انہوں نے تأمل کا حکم کیوں دیا یہ ایك صحیح بات ہے جس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں اور یوسف چلپی نے ذخیرہ العقبی میں فرمایا کہ اصح وہ ہے جس کو شارح نے ذکر کیا ان کی مراد صدر الشریعۃ ہیں کیونکہ وہ پتوں کے رنگ کے غلبہ کی وجہ سے مقید پانی ہوگیا ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں وہ(رحمہ اللہ)اصحاب ترجیح سے نہیں ہیں اور انہوں نے کسی قابل اعتماد شخصیت کی طرف نسبت
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۷
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۷
ذخیرۃ العقبٰی المبحث فی الموجبات الغسل مطبع الاسلامیہ لاہور ۱ / ۱۴۵
#12725 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
ماعلیہ الجمھور ونصوا انہ الاصح ونص الامام النسفی فی المستصفی عن شیخہ شمس الائمۃ الکردری انھا الروایۃ الصحیحۃ کما سیاتی فی ۹۷ اما(۱)ما استدل بہ فمصادرۃ علی المطلوب وکفی(۲)ردا علیہ قول المحقق فی الفتح تقع الاوراق فی الحیاض زمن الخریف فیمرالرفیقان ویقول احدھما للاخر ھنا ماء تعال نشرب نتوضأ فیطلقہ مع تغیر اوصافہ بانتقاعھا فظھر لنا من اللسان ان المخالط المغلوب لایسلب الاطلاق اھ۔ وقال المحقق فی الحلیۃ لعل مانقل من وضوء الاساتذہ من الماء المذکور کان فیہ ادنی تغیر فی صفاتہ الثلثۃ عــہ بحیث لم یزل عنہ اسم الماء المطلق اذلیس کل تغیر فی مجموع الصفات الثلاث یوجب جعل ذلك الماء مقیدا بل ھذا ھو الظاھر من حالھم اذلا یظن بھم الوضوء بالماء المقید اھ۔
اقول : (۳)ان اراد ان کثرۃ تغیر الاوصاف
بھی نہیں کی تو یہ جمہور کے قول سے متعارض نہ ہوگا جمہور نے تصریح کی ہے کہ یہی اصح ہے اور امام نسفی نے مستصفی میں اپنے شیخ شمس الائمہ کردری سے نقل کیا کہ یہی صحیح روایت ہے جیسا کہ عنقریب ۹۷ میں آئےگا اور جس سے انہوں نے استدلال کیا ہے تو وہ مصادرہ علی المطلوب ہے اور محقق نے اس کی تردید فتح میں کردری ہے کہ موسم خزاں میں پتے حوضوں میں گرتے ہیں اب وہاں سے دو دوست گزرتے ہیں ایك دوسرے سے کہتا ہے کہ آؤ یہاں پانی موجود ہے اسے پیتے ہیں اور اس سے وضو کرتے ہیں تو وہ اس پر پانی کا اطلاق کرتا ہے حالانکہ اس کے اوصاف متغیر ہوچکے ہیں تو معلوم ہوا کہ عام محاورہ میں اس سے پانی کا نام سلب نہیں ہوتا ہے اھ۔ محقق نے حلیہ میں فرمایا اساتذہ کا جو اس پانی سے وضوکرلینا مذکور ہے تو اس کی وجہ یہ ہوگی کہ اس پانی کے اوصاف میں زیادہ تغیر واقع نہ ہوا ہوگا اتنا کہ اس سے مطلق پانی کا نام ہی مسلوب ہوجائے کیونکہ اوصاف ثلثہ کا ہر تغیر پانی کو مقیدنہیں بناتا ہے بلکہ ان کے حال سے یہی ظاہر ہے کیونکہ یہ گمان نہیں کیا جاسکتا ہے کہ وہ مقید پانی سے وضو کر لیا کرتے تھے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اگر ان کی مراد یہ ہے کہ پانی کے

عــہ کذا ھو فی نسختی الحلیۃ باثبات التاء فی الثلثۃ ۱۲ منہ غفرلہ
میرے پاس موجود حلیہ کے نسخہ میں اسی طرح ثلثۃ میں تاء کو ثابت رکھا گیا ہے۔ (ت)
حوالہ / References فتح القدیر الماء الذی یجوزبہ الوضوء سکھر ۱ / ۶۴
حلیہ
#12726 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
بوقوع الاوراق یجعل الماء مقیدا مع بقاء رقتہ فغیر مسلم ولا واقع فبوقوع الاوراق مع بقاء الرقۃ لایزول اسم الماء ابدا وان تغیرت الاوصاف مھما تغیرت وان اراد بالتغیر الکثیر زوال الرقۃ فلا حاجۃ الی الترجی بل ھو المراد قطعا قال فی العنایۃ بعد نقل النھایۃ وکذا اشار فی شرح الطحاوی الیہ لکن شرطہ انیکون باقیا علی رقتہ اما اذا غلب علیہ غیرہ وصاربہ ثخینا فلایجوز اھ۔ ثم قال فی الحلیۃ کما ان الظاھر ان محل جواب المیدانی المذکور مابلغ بہ بماوقع فیہ من الاوراق الی حد التقیید فان تغیر لون الماء بکثرۃ الاوراق الواقعۃ فیہ یوجب تغییر الطعم بل والرائحۃ ایضا انکانت الاوراق ذات رائحۃ اھ۔
اقول : (۱)فکان ماذا فقد ذکرتم ان لیس کل تغیر فی الصفات الثلاث جمیعا یوجب جعل الماء مقیدا ولا تقید ھھنا الازوال الرقۃ والامام المیدانی انما بنی الجواب علی ظھور لون الاوراق فی الکف وبھذا
اوصاف میں پتوں کے وقوع سے زیادہ تغیر پیدا ہونے سے پانی مقید ہوجاتا ہے باوجودیکہ اس کی رقت باقی رہتی ہے تو یہ بات نہ تو مسلم ہے اور نہ ایسا واقع ہے کیونکہ پتوں کے گرنے سے جبکہ رقت باقی ہو ہمیشہ پانی کانام تبدیل نہیں ہوتا ہے اگرچہ اوصاف تبدیل ہوتے رہیں اور اگر ان کی مراد کثرت تغیر سے یہ ہے کہ رقت زائل ہوجائے تو ترجی(لفظ لعل)کی حاجت نہیں بلالکہ قطعیت کے ساتھ یہی کہنا ہوگا عنایۃ میں نہایۃ کی عبارت نقل کرنے کے بعد فرمایا۔ طحطاوی نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے لیکن یہ شرط یہ ہے کہ اس کی رقت باقی ہو اور اگر پانی پر کوئی دوسری چیز غالب ہوگئی اور اس کی وجہ سے وہ گاڑھا ہوگیا تو اس سے وضو جائز نہیں اھ۔ پھر حلیہ میں فرمایا جیسا کہ یہ ظاہر ہے کہ میدانی کا مذکور جواب پتوں کی اس مقدار سے متعلق ہے جس کی وجہ سے پانی مقید ہوجائے کیونکہ پتوں کی کثرت کے باعث جب پانی کا رنگ تبدیل ہوتا ہے تو ساتھ ہی مزہ بلالکہ بو بھی تبدیل ہوجاتی ہے بشرطیکہ پتوں میں کوئی خاص بو موجود ہو۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس سے کیا ثابت ہوا آپ نے خود بھی ذکر کیا ہے کہ اوصاف ثلثہ کا ہر تغیر پانی کو مقید نہیں بنادیتا ہے اور یہاں کوئی تقید زوال رقت کے سوا نہیں ہے اور میدانی کے جواب کی بنیاد یہ ہے کہ پتوں کا رنگ چلو میں ظاہر ہوجائے اور
حوالہ / References عنایۃ مع الفتح الماء الذی یجوزبہ الوضوء سکھر ۱ / ۶۳
حلیہ
#12727 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
القدر جعلہ مقیدا وبہ صرح صدرالشریعۃ ومعلوم انہ لایستلزم الثخانۃ فانی ینفع التاویل وعلی ا لله ثم علی رسولہ التعویل جل جلالہ وعلیہ الصلاۃ والسلام بالتعجیل۔
اس مقدار سے انہوں نے پانی کو مقید بنادیا اور اسی کی تصریح صدر الشریعۃ نے کی ہے اور یہ معلوم ہے کہ اس سے اس کا گاڑھا ہونا لازم نہیں تو تاویل کا کچھ فائدہ نہیں....(ت)
(۸۰ ۸۱)شنجرف یا کسم زردی کاٹنے کے لئے پانی میں بھگودیتے ہیں جب زردی کٹ آئی پانی پھینك دیتے ہیں یہ پانی اگرچہ اس کی رنگت وغیرہ بدل گئی قابل وضو ہے جبکہ گاڑھا نہ ہوگیا ہو
خانیہ میں ہے :
التوضئ بزردج العصفر یجوز ان کان رقیقا والماء غالب اھ۔
اقول : والحاصل واحد فکانہ اضیف الیہ بالعطف علیہ تعلیلالہ۔
پیلے رنگ کے زردج کے پانی سے وضو جائز ہے اگر پتلا ہو اور پانی غالب ہو اھ(ت)
میں کہتا ہوں حاصل ایك ہی ہے تو غالبا یہ چیز بطور عطف اس کے ساتھ اس کی تعلیل کیلئے ملائی گئی ہے۔ (ت)
بزازیہ میں ہے :
ماء الزردج والصابون والعصفر لو رقیقا یسیل علی العضو یجوز ۔
زردج صابون اور عصفر کا پانی اگر اتنا پتلا ہو کہ عضو پر بہہ سکے تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
ہدایہ میں ہے :
وھو الصحیح کذا اختارہ الناطفی والامام السرخسی رحمھما ا لله تعالی ۔
اور یہی صحیح ہے اسی کو ناطفی اور امام سرخسی رحمہم اللہ تعالینے پسند کیا ہے۔ (ت)
مغرب میں ہے :
ماء الزردج ھو ماء یخرج من العصفر المنقوع فیطرح ولا یصبغ بہ ۔
زردج کا پانی وہ ہے جو نچوڑے ہوئے عصفر سے نکلتا ہے پھر اس کو پھینك دیتے ہیں اور یہ رنگنے کے کام نہیں آتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References قاضی خان فیما لایجوزبہ التوضئ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
فتاوٰی بزازیۃ مع الہندیۃ الماء المقید وغیرہ پشاور ۴ / ۱۰
الہدایۃ الماء الذی یجوزبہ الوضوء مکتبہ عربیہ کراچی ۱ / ۱۸
جوہرۃ نیرۃ کتاب الطہارۃ امدادیہ ملتان ۱ / ۱۴
#12728 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اسی طرح جوہرہ وغنیہ وحلیہ وعنایہ میں ہے۔
اقول : انما الزردج معرب زردہ وھی الصفرۃ التی تخرج من العصفر فی الماء المنقوع فیہ فیسمی ذلك الماء ماء الزردج لاان ماء یخرج من العصفر یسمی ماء الزردج ھذا ھو الوجہ عندی فی اللفظ وتبعوا فیہ المطرزی وکانہ لم یتقنہ لخلو کتب اللغۃ عنہ حتی القاموس المدعی الاحاطۃ وتاج العروس المستدرك علیہ بکثیر ولا الکلمۃ من لسان العرب وا لله تعالی اعلم۔
میں کہتا ہوں “ زردج “ زردہ کا معرب ہے یہ وہ زردی ہے جو عصفر سے نکل کر اس پانی میں آجاتی ہے جس میں اسے ڈبویا گیا ہو اس کو ماء زردج کہتے ہیں۔ یہ نہیں کہ خود عصفر سے جو پانی نکلتا ہے اس کو ماء زردج کہا جاتا ہو میرے نزدیك اس لفظ کا صحیح مفہوم یہی ہے جبکہ دوسرے حضرات نے اس میں مطرزی کی پیروی کی ہے غالبا مطرزی اس کو اچھی طرح نہیں سمجھتا کیونکہ لغت کی کتب میں یہ موجود نہیں یہاں تك کہ قاموس جس کا دعوی ہے کہ اس نے تمام کلمات کا احاطہ کیا ہے اس سے خالی ہے اور پھر تاج العروس جس میں اس سے بھی زیادہ کلمات کا احاطہ ہے اس میں بھی یہ موجود نہیں اور نہ ہی یہ کلمہ لسان العرب میں ہے و الله تعالی اعلم۔ (ت)
(۸۲ ۸۳)جس پانی میں گچ یا چونا مل جائے لقولہ لم یزل عنہ اسم الماء وبقی معناہ ایضا(کیونکہ نام بھی سلب نہیں ہوا اور معنی بھی باقی ہے۔ ت)
(۸۴)چونے کا پانی گٹی بجھنے کے بعد تہہ نشین ہوتی اور اوپر نتھرا پانی رہ جاتا ہے جس میں قدرے سپیدی متفرق طور پر رہتی ہے اسے چونے کا پانی کہتے ہیں قابل وضو ہے اذلم یزل اسم الماء ولاطبعہ(کیونکہ نام بھی سلب نہیں ہوا اور طبیعت بھی زائل نہیں ہوئی۔ ت)
(۸۵)ریشم کو پکانے کیلئے کپیوں کو پانی میں جوش دیتے ہیں اور ان میں ریشم کے کیڑے ہوتے ہیں اس پانی سے وضو جائز ہے کیڑے تر ہوں یا خشك جب تك اس کثرت سے نہ ہوں کہ ان کے اجزا پانی پر غالب آجائیں۔ جواہر الفتاوی باب ثانی فتاوی امام جمال الدین بزدوی میں ہے :
الفیلق اذاطرح فی الماء الذی اغلی بالنارلسدا الا بریسم وفی الفیلق دودمیتۃ یابسۃ اوغیریابسۃ بقیت فی الماء یکون طاھرا لانہ لیس لہ دم سائل وان غلب
کپیوں کو جب آگ پر جوش دئے ہوئے پانی میں ڈالا جائے تاکہ ابریشم کا تار حاصل کیا جاسکے اور ان کپیوں میں مردہ کیڑے بھی موجود ہوں خواہ خشك حالت میں یا غیر خشك حالت میں تو یہ پانی جس میں
#12729 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اجزاؤھا علی الاماء یمنع التوضی بہ کما لوغلب شیئ اخر ۔
یہ کپیاں ڈالی گئی ہوں پاك رہے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کیڑوں میں سیال خون نہیں ہوتا ہے اور اگر ان کیڑوں کے اجزاء پانی پر غالب ہوجائیں تو دوسری اشیاء کی طرح اس سے وضو جائز نہ ہوگا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
فی الوھبانیۃ دود القز وماؤہ وبذرہ وخرؤہ طاھر کدودۃ متولدۃ من نجاسۃ ۔
وہبانیہ میں فرمایا ریشم کا کیڑا اس کا پانی اس کا انڈا اور اس کی بیٹ اسی طرح پاك ہے جس طرح نجاست سے پیدا ہونے والے دوسرے کیڑوں کا حکم ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں شرح وہبانیہ للعلامہ عبدالبر سے ہے :
یحتمل ان المراد مایوجد فیما ھلك منہ قبل ادراکہ وھو شبیہ باللبن اوالذی یغلی فیہ عند حلہ حریرا ۔
ہوسکتا ہے کہ پانی سے مراد وہ پانی ہو جو ان کیڑوں میں پایا جاتا ہے جو کپیوں کے پکنے سے پہلے ہی ہلاك ہوجاتے ہیں یہ پانی دودھ کے مشابہ ہوتا ہے یا وہ پانی ہوسکتا ہے جس میں انکو ریشم نکالتے وقت ابالا جائے۔ (ت)
(۸۶)پانی۱ میں مینڈك یا کوئی آبی جانور یا وہ غیر آبی جس میں خون سائل نہ ہو جیسے زنبور کژدم مکھی وغیرہا مرجائے اس سے وضو جائز ہے اگرچہ ریزہ ریزہ ہوکر اس کے اجزاء پانی میں ایسے مل جائیں کہ جدا نہ ہوسکیں بشرطیکہ پانی اپنی رقت پر رہے ہاں اس حالت میں اس کا پینا یا شوربا کرنا حرام ہوگا جبکہ وہ جانور حرام ہو اور اگر ٹیری یا غیرطانی مچھلی ہے تو یہ بھی جائز۔ درمختار میں ہے :
لوتفتت فیہ نحوضفدع جاز الوضوء بہ لاشربہ لحرمۃلحمہ قال ش عن البحر لانہ صارت اجزاؤہ فی الماء فیکرہ الشرب تحریما اھ
اور اگر پانی میں مینڈك کی قسم کی کوئی چیز پھول پھٹ جائے تو اس سے وضو جائز ہے پینا جائز نہیں کہ اس کا گوشت حرام ہے ش نے بحر سے نقل کرتے ہوئے فرمایا اس لئے کہ اس کے اجزاء پانی میں شامل ہوگئے تو اس کا پینا مکروہ تحریمی ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References جواہر الفتاوی
درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۵
درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵
درمختار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۶
#12730 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اقول : کل(۱)مالادم فیہ حرام غیر الجراد والسمك الغیر الطافی واذا اختلطت اجزاؤہ بالماء فازدادھا فی شربہ متیقن فای وجہ للنزول من الحرمۃ الی کراھۃ التحریم وراجعت البحر فوجدت نصہ ھکذا روی عن محمد رحمہ ا لله اذا تفتت الضفدع فی الماء کرھت شربہ لاللنجاسۃ بل لحرمۃ لحمہ وقدصارت اجزاؤہ فی الماء وھذا تصریح بان کراھۃ شربہ تحریمیۃ وبہ صرح فی التجنیس فقال یحرم شربہ۔
اقول : (۲)الکراھۃ عرف القدماء اعم من الحرمۃ یقولون اکرہ کذا والمعنی احرمہ راجع کتابی فصل القضاء فی رسم الافتاء فمعنی قول البحران الکراھۃ فی کلام الامام للتحریم(۳) الاتری الی قولہ وبہ صرح فی التجنیس وانما صرح بانہ حرام۔
میں کہتا ہوں ہر وہ جانور جس میں خون نہ ہو وہ حرام ہے سوائے ٹڈی اور اس مچھلی کے جو مردہ حالت میں سطح سمندر پر تیرتی ہوئی نہ پائی گئی ہو اور جب اس کے اجزا پانی میں مل جائیں تو ان کا پیتے وقت پانی میں شامل ہونا یقینی امر ہے تو پھر حرمت سے گھٹ کر کراہت تحریم کا حکم کیوں لگایا گیا میں نے بحر کو دیکھا تو اس میں یہ تھا “ امام محمد سے مروی ہے جب مینڈك پانی میں پھول پھٹ جائے تو میں اس پانی کے پینے کی کراہت کا قول کروں گا اس کی نجاست کی وجہ سے نہیں بلالکہ اس کے گوشت کی حرمت کی وجہ سے اور اس حرام گوشت کے اجزاء پانی میں بھی شامل ہوگئے ہیں یہ اس امر کی صراحت ہے کہ ا س کے پینے کی کراہت تحریمی ہے اور اسی کی تصریح تجنیس میں ہے فرمایا کہ اس کا پینا حرام ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں کراہت کا لفظ متقد مین کے عرف میں حرمت کو بھی عام ہے وہ فرماتے ہیں میں اس کو مکروہ سمجھتا ہوں اور مراد یہ ہوتی ہے کہ میں اس کو حرام سمجھتا ہوں۔ دیکھئے میری کتاب “ فصل القضاء فی رسم الافتاء “ تو بحر کی مراد یہ ہے کہ امام کے کلام میں کراہت سے مراد تحریم ہے چنانچہ انہوں نے فرمایا وبہ صرح فی التجنیس اور اس میں ان کی تصریح یہ ہے کہ حرام ہے۔ (ت)
(۸۷)چاول کھچڑی دال دھو کر ڈالے جاتے ہیں ان کے دھونے سے جو پانی بچا قابل وضو ہے جبکہ بے وضو ہاتھ سے نہ دھوئے ہوں اگرچہ اس کے رنگ میں ضرور تغیر آجاتا ہے بلالکہ اگرچہ مزہ بو بھی بدل جائیں۔
اقول : وھذا عندی وفاقا حتی ممن یجعل ماء الحمص والباقلاء المنقوعین
میں کہتا ہوں یہ میرے نزدیك متفقہ طور پر ہے یہاں تك کہ جو حضرات چنوں اور باقلی(لوبیا)
حوالہ / References بحرالرائق موت مالادم لہ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۹
#12731 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
فیہ مقید الان بمجرد الغسل لایسری الیہ مایسری بالنقع والتغیر الذی یحدث بہ لیس للحب بل لما علیہ من نحو الغبار وا لله تعالی اعلم۔
کے صاف کئے ہوئے پانی کو مقید قرار دیتے ہیں وہ بھی اسی کے قائل ہیں کیونکہ صرف دھونے سے پانی میں وہ اثر پیدا نہیں ہوتا ہے جو صاف کرنے سے ہوتا ہے اور جو تغیر پانی میں پیدا ہوتا ہے وہ دانہ کے باعث نہیں ہے بلالکہ اس کے اوپر غبار کی وجہ سے ہے و الله تعالی اعلم۔ (ت)
(۸۸)جس پانی میں چنے بھگوئے کتنی ہی دیر بھیگے رہیں تحقیق یہ ہے کہ اس سے وضو جائز ہے مگر یہ کہ ناج کے اجزا اس میں مل کر اسے گاڑھا کردیں کہ اپنی رقت وسیلان پر باقی نہ رہے۔
(۸۹)یوں ہی جس میں باقلا عــــہ بھگوئیں یونہی ہرناج۔ مختصر امام ابو الحسن قدوری میں تھا :
لا(ای یجوز الوضوء)بماء غلب علیہ غیرہ فاخرجہ عن طبع الماء کماء الباقلا والمرق ۔
نہیں(یعنی وضو جائز نہیں)اس پانی سے جس پر اس کے غیر کا غلبہ ہوگیا ہو اور اس وجہ سے پانی کو اس کی طبیعت سے خارج کردیا ہو جیسے باقلی کا پانی اور شوربہ۔ (ت)
اس پر ہدایہ میں فرمایا :
المراد بماء الباقلاء وغیرہ ماتغیر باطبخ فان تغیر بدون الطبخ یجوز التوضی بہ اھ۔ واقرہ علیہ فی الفتح والعنایۃ وتبعہ فی الجوھرۃ فقال قولہ وماء الباقلاء المراد المطبوخ بحیث اذا برد ثخن وان لم یطبخ فھو من قبیل وتجوز الطھارۃ بماء خالطہ شیئ طاھر اھ
باقلاء کے پانی سے مراد وہ پانی ہے جو پکائے جانے کی وجہ سے متغیر ہوگیا ہو اور اگر بلا پکائے متغیر ہوگیا ہو تو اس سے وضو جائز ہوگا اھ۔ اور اس کو اس پر برقرار رکھا فتح اور عنایہ میں اور جوہرہ میں اس کی متابعت کی اور فرمایا : ان کا قول “ اور باقلی کا پانی “ اس سے مراد پکا ہوا پانی ہے جو ٹھنڈا کئے جانے پر گاڑھا ہو جاتا ہے اور اگر اس کو پکایا نہ گیا ہو تو یہ اس پا نی کی طرح ہے جس میں کوئی پاك چیز مل گئی ہو تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
عــہ : یہ بھی ایك معروف غلہ ہے اگرچہ یہاں اس کا رواج نہیں اس کی پھلیاں پکاتے ہیں سالن کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔ (م)
حوالہ / References قدوری کتاب الطہارت مطبع مجیدی کان پور ، ص۶
الہدایۃ کتاب الطہارت مکتبہ عربیہ کراچی ۱ / ۱۸
جوہرۃ نیرۃ کتاب الطہارت امدادیہ ملتان ۱ / ۱۴
#12732 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اقول : رحم ا لله الشیخ الامام ورحمنا بہ کلام عــہ ابی الحسن فیما اذا اخرجہ عن طبع الماء بان اختلطت فیہ اجزاؤہ فثخن ولم یبق رقیقا وحینئذ لایجوز التوضی بہ وان لم یطبخ وقد قال فی الوقایۃ لابماء زال طبعہ بغلبۃ غیرہ اجزاء اوبالطبخ کماء الباقلی والمرق فقال الامام الشارح المراد بہ ان یخرجہ عن طبع الماء وھو الرقۃ والسیلان وماء الباقلی نظیر ماغلب علیہ غیرہ اجزاء والمرق نظیر ماغلب علیہ بالطبخ اھ۔
وفی الاصلاح والایضاح لابماء زال طبعہ وھو الرقۃ والسیلان بغلبۃ غیرہ اجزاء کماء الباقلا اھ۔ نعم الظاھر ممامر عن الذخیرۃ والتتمۃ عن المیدانی وتبعہ صدر الشریعۃ من قیاس ماتلون بوقوع الاوراق علی ماء الباقلی ان المراد مانقع فیہ فغیرہ وصفا لاذاتا وھو خلاف المعتمد۔ ففی الخانیۃ یجوز التوضؤ بما القی فیہ حمص اوباقلاء لیبتل وتغیر لونہ وطعمہ
میں کہتا ہوں اللہ تعالی شیخ الامام پر اور ہم پر رحم فرمائے ابو الحسن کی گفتگو اس صورت سے متعلق ہے جب کہ پانی کو اس کی طبیعت سے نکال دے مثلا یہ کہ اس میں اس کے اجزاء مل جائیں اور وہ گاڑھا ہوجائے اور اس کی رقت باقی نہ رہے تو ایسی صورت میں اس سے وضوء جائز نہ ہوگا خواہ پکایا نہ گیا ہو اور وقایہ میں فرمایا “ نہ کہ اس پانی سے جو دوسری شئے کے غلبہ کی وجہ سے اپنی طبیعت سے خارج ہوگیا ہو یا پکائے جانے کی وجہ سے طبیعت ماء سے خارج ہوگیا ہو جیسے باقلی(لوبیا)کا پانی یا شوربہ۔ امام شارح نے فرمایا اس سے مراد یہ ہے کہ اس کو پانی کی طبیعت رقت اور سیلان ہے اور باقلی(لوبیا)کا پانی اس پانی کی نظیر ہے جس پر دوسرے اجزاء غالب آگئے ہوں اور شوربہ اس پانی کی مثال ہے جس کو پکایا گیا ہو تو اس پر دوسری شیئ غالب آجائے اھ۔ اور اصلاح اور ایضاح میں ہے کہ نہ اس پانی سے کہ جس کی طبیعت زائل ہوگئی ہو یعنی رقت اور سیلان اور یہ دوسری

عــہ : الحمد لله فتح المولی سبحنہ وتعالی بما یصحح الکلام ویوضع المرام ویزیل الاوھام کما یاتیك فی سادس ضوابط الفصل الثالث ان شاء ا لله تعالی ۱۲ منہ غفرلہ وحفظہ ربہ
اللہ تعالی کے لئے حمد ہے اللہ پاك نے وہ کھول دیا ہے جس کے ذریعے کلام صحیح ہوتا ہے مقصود واضح ہوتا ہے اور وہم ختم ہوتے ہیں جیسا کہ فصل ثالث کے چھٹے ضابطہ میں آئے گا۔ (ت)
حوالہ / References شرح وقایۃ کتاب الطہارت رشیدیہ دہلی ۱ / ۸۵
اصلاح والایضاح
#12733 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
ولکن لم تذھب رقتہ اھ۔
وفی الفتح فی الینابیع لونقع الحمص والباقلاء وتغیر لونہ وطعمہ وریحہ یجوز التوضی بہ اھ۔ ومثلہ عنھا فی فتاوی الغزی ومثلہ فی المنیۃ وعزاہ فی الحلیۃ للملتقط وتجنیس الملتقط والظھیریۃ۔
اشیاء کے اجزاء کے غلبہ کی وجہ سے ہوا ہو جیسے باقلی(لوبیا)کا پانی اھ۔ ہاں ذخیرہ اور تتمہ کی گزشتہ عبارت جو میدانی سے منقول ہے اور جس کی متابعت صدرالشریعۃ نے کی ہے جس پانی میں پتے گرے ہوں اور اس کا رنگ بدل گیا ہو اس کو باقلی کے پانی پر قیاس کیا اور کہا کہ اس سے مراد وہ پانی ہے جس میں کسی چیز کو صاف کیا گیا ہو جس سے پانی کا وصف بدل گیا ہو نہ کہ ذات بدلی ہو اور یہ معتمد کے خلاف ہے۔ خانیہ میں ہے کہ اس پانی سے وضو جائز ہے جس میں چنے ڈال دئے گئے ہوں یا باقلی(لوبیا)ڈال دیا ہو تاکہ تر ہوجائے اور اس سے اس کا رنگ اور مزا بدل گیا ہو لیکن اس کی رقت ختم نہ ہوئی ہو اھ۔ اور فتح میں ہے ینابیع میں ہے کہ اگر چنوں اور باقلی کو پانی میں صاف کیا جس سے پانی کا رنگ مزا اور بو بدل گئی تو اس سے وضو جائز ہے اور اسی کی مثل اس سے فتاوی غزی میں ہے اور اسی کی مثل منیہ میں ہے اور حلیہ میں اس کو ملتقط اور تجنیس ملتقط اور ظہیریہ کی طرف منسوب کیا۔ (ت)
فائدہ : اقول : یہاں سے ظاہر ہوا کہ گھوڑے کے دانے سے جو پانی تو بڑے میں بچ رہے قابل وضو ہے جبکہ رقیق سائل ہو اور اسے بے وضو ہاتھ نہ لگا ہو کہ مذہب۱ صحیح میں گھوڑے کا جھوٹا قابل وضو ہے۔ درمختار میں ہے :
وسؤر ماکول لحم ومنہ الفرس فی الاصح طاھر طھور بلاکراھۃ ۔
وہ جانور جن کا گوشت حلال ہے ان کا جھوٹا پاك ہے اور اس سے بلاکراہت طہارت حاصل ہوتی ہے اور گھوڑا بھی انہی میں سے ہے اصح قول کے مطابق۔ (ت)
(۹۰)یہ ہوا اور ۔ (۹۱)گائے بھینس۲ بکری وغیرہ حلال جانوروں کا جھوٹا جبکہ اس وقت ان کے منہ کی نجاست نہ معلوم ہو اگرچہ نر ہو اور بعض۳نے کہا نر کا جھوٹا ناپاك ہے کہ اس کی عادت ہوتی ہے کہ جب مادہ پیشاب کرے اپنا منہ وہاں لگا کر سونگھتا ہے نیز زمین پر اگر اس کا پیشاب پڑا پائے تو اسے مگر صحیح طہارت ہے۔
درمختار
حوالہ / References قاضی خان فیما لایجوزبہ التوضی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
فتح القدیر فیما لایجوزبہ التوضی سکھر ۱ / ۶۵
درمختار فصل فی البئر مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
#12734 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
میں ہے :
سؤر حمار اھلی ولو ذکرا فی الاصح مشکوك فی طھوریتہ لاطھارتہ ۔
پالتو گدھے کے جھوٹے کی طہوریت مشکوك ہے طہارت مشکوك نہیں اصح قول کے مطابق۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ فی الاصح قالہ قاضیخان ومقابلالہ القول بنجاستہ لانہ ینجس فمہ بشم البول قال فی البدائع وھو غیر سدید لانہ امر موھوم لایغلب وجودہ فلا یؤثر فی ازالۃ الثابت بحر اھ
اقول : (۱)ان کان المناط الندرۃ یظھر تنجیس سؤر التیس فان شمہ بول العنز انکان نادرا فانہ یتکرر منہ کل یوم مرارا انہ یدلی ذکرہ والمذی والبول نابعان فیمصہ بل الوجہ عندی و الله تعالی اعلم ان(۲)الجفاف سبب الطھارۃ فی ابدان الحیوانات کما فی الارض وقد حققناہ بتوفیق ا لله تعالی فی باب الانجاس من فتاونا وا لله تعالی اعلم۔
اس کا قول “ فی الاصح “ یہ قاضی خان کا قول ہے اور اس کے مقابل اس کی نجاست کا قول ہے اس لئے کہ اس کا منہ پیشاب کو سونگھنے کی وجہ سے نجس ہوجاتا ہے بدائع میں فرمایا یہ درست نہیں کیونکہ یہ بات محض وہم ہے عام طور پر ایسا نہیں ہوتا ہے تو جو ثابت ہے اس کے ازالہ میں موثر نہ ہوگا بحر اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں اگر مناط(علت)نادر ہونا ہے تو بکرے کے جھوٹے کا نجس ہونا بھی ظاہر ہوگا کیونکہ وہ بکری کے پیشاب کو تو کم ہی سونگھتا ہے مگر یہ عمل دن میں کئی بار اس سے سرزد ہوتا ہے کہ وہ اپنا ذکر لٹکاتا ہے اور مذی اور پیشاب دونوں اس سے نکلتے ہیں تو وہ بکرا اس ذکر کو چوستا ہے بلالکہ اس کی وجہ میرے نزدیك(و الله اعلم)یہ ہے کہ خشك ہونا حیوانات کے بدن میں سبب طہارت ہے جیسا کہ زمین کا حال ہے اور ہم نے بتوفیق اللہ اس کی تحقیق اپنے فتاوی کے باب الانجاس میں کی ہے و الله تعالی اعلم۔ (ت)
اقول : ہاں۳ اگر دیکھیں کہ بیل وغیرہ نے مادہ کا پیشاب سونگھا یا بکرے نے اپنا آلہ تناسل نکال کر چوسا اور اس وقت مذی اور بول نکل رہے تھے اور قبل اس کے کہ اس کا منہ پاك ہوجائے پانی میں ڈال دیا تو
حوالہ / References درمختار فصل فی البئر مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
ردالمحتار فصل فی البئر مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۵
#12735 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اب بیشك پانی ناپاك ہوجائےگا اوراگرچاربرتنوں۱ میں منہ ڈالا تو پہلے تین ناپاك ہیں چوتھا پاك وقابل وضو۔ اسے نمبر۲۲ کے ساتھ لکھناتھامگر ارادہ الہیہ یونہی واقع ہوا ولہ الحمد علی ماصنع وعلی مااعطی وعلی مامنع وصلی الله تعالی وبارك وسلم علی الشفیع المشفع والہ وصحبہ وابنہ وجزبہ اجمع۔
(۹۲)پانی میں کولتارپڑ گیاجس سے اس میں سخت بدبو آگئی مگر گاڑھا نہ ہوگیا اس سے وضو جائز ہے۔ فتاوی زینیہ میں ہے :
سئل عن الماء المتغیر ریحہ بالقطران ھل یجوز الوضوء منہ ام لااجاب نعم یجوز اھ والقطران بالفتح وبالکسرکظربان عصارۃ الابھل والارز قاموس والارز ثمرالصنوبرقالہ ابو حنیفۃ تاج العروس ومثلہ فی بلادنا ماذکرت۔
سوال کیا گیا کہ وہ پانی جس کی بو کولتار کی وجہ سے متغیر ہوگئی ہو کیا اس سے وضو جائز ہے تو انہوں نے جواب دیا : ہاں اور قطران بالفتح اور بالکسر ظربان کی طرح ابھل اور ارز کا نچوڑ ہے قاموس اور ارز صنوبر کے درخت کا پھل ہوتا ہے یہ ابو حنیفہ کا قول ہے تاج العروس۔ اس قسم کا ہمارے ملك میں ہوتا ہے جیسامیں نے ذکر کیا۔ (ت)
اقول : مگر بوجہ۲ خبث رائحہ مکروہ ہونا چاہئے خصوصا اگر اس کی بدبو نماز میں باقی رہی کہ باعث کراہت تحریمی ہوگی۔
(۹۳)پانی میں روٹی بھگوئی اس کے تو اجزاء جلد منتشر ہوجاتے ہیں مگر جب تك پانی کو ستو کی طرح گاڑھانہ کردیں رقیق وسیال رہے قابل وضو ہے اگرچہ رنگ مزہ بو سب بدل جائیں خانیہ میں ہے :
لوبل الخبز بالماء وبقی رقیقا جازبہ الوضوء ۔
اگر روٹی کو پانی میں بھگویا اور وہ پانی پتلا رہا تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
(۹۴)یونہی جس میں آم بھگوئے۔
(۹۵)اقول اسی طرح گوشت کا دھوون اگرچہ پانی میں ایك گونہ سرخی آجائے کہ صحیح۲ مذہب میں
حوالہ / References فتاوٰی زینیہ علی حاشیہ فتاوٰی غیاثیہ کتاب الطہارۃ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۳
قاموس المحیط باب الراء فصل القاف مصر ۲ / ۱۳۲
لسان العرب بیروت ۵ / ۳۰۶
قاضی خان فیما لایجوزبہ التوضی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
#12736 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
گوشت کا خون بھی پاك ہے نہ کہ وہ سرخی کہ بعض جگہ اس کی سطح پر ہوتی اور پانی میں دھل جاتی ہے۔
ردالمحتار میں بزازیہ سے ہے :
الدم الخارج من اللحم المھزول عند القطع ان منہ فطاھر وکذادم مطلق اللحم ۔
دبلے گوشت سے نکلنے والا خون کاٹتے وقت اگر اس سے نکلے تو پاك ہے اور اسی طرح مطلق گوشت کے خون کا حکم ہے۔ (ت)
(۹۶)صابون
(۹۷)اشنان کہ ایك گھاس ہے اسے حرض بھی کہتے ہیں۔
(۹۸)ریحان جسے آس بھی کہتے ہیں۔
(۹۹)بابونہ
(۱۰۰)خطمی
(۱۰۱)بیری کے پتے کہ یہ چیزیں میل کاٹنے اور زیادت نظافت کو آب غسل میں شامل کی جاتی ہیں اس سے غسل و وضو جائز ہے اگرچہ اوصاف میں تغیر آجائے جب تك رقت باقی رہے مختصر امام ابو الحسن میں ہے :
یجوز الطھارۃ بماء خالطہ شیئ طاھر فغیر احد اوصافہ کماء المد والماء الذی اختلط بہ اللبن او الزعفران اوالصابون اوالاشنان ۔
اس پانی سے طہارت جائز ہے جس میں کوئی پاك چیز مل کر اس کے کسی وصف کو بدل دے جیسے سیلاب کا پانی اور وہ پانی جس میں دودھ زعفران صابون یا اشنان ملی ہو۔ (ت)
اس پر جوہرہ نیرہ میں ہے :
فان غیر وصفین فعلی اشارۃ الشیخ لایجوز الوضوء ولکن الصحیح انہ یجوز کذا فی المستصفی ۔
تو اگر وہ اس کے دو اوصاف کو بدل دے تو شیخ کے اشارہ کے مطابق اس سے وضو جائز نہیں لیکن صحیح یہ ہے کہ جائز ہے کذا فی المستصفی۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
التقیید باحد الاوصاف الثلثۃ فیہ
تین میں سے ایك وصف کے ساتھ مقید کرنے
حوالہ / References بزازیہ مع الہندیہ السابع فی النجس پشاور ۴ / ۲۱
قدوری الطہارت مجیدی کانپور ص۶
جوہرۃ نیرۃ الطہارت امدادیہ ملتان ۱ / ۱۴
#12737 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
نظر فقد نقل الشیخ حافظ الدین فی المستصفی عن شیخہ العلامۃ الکردری ان الروایہ الصحیحۃ خلافہ ۔
میں نظر ہے کیونکہ شیخ حافظ الدین نے مستصفی میں اپنے شیخ علامہ کردری سے نقل کیا ہے کہ صحیح روایت اس کے برخلاف ہے۔ (ت)
مجتبی شرح قدوری میں ہے :
قول المصنف فغیراحد اوصافہ لایفیدالتقیید بہ حتی لوتغیرت الاوصاف الثلثۃ بالاشنان اوالصابون اوالزعفران ولم یسلب اسم الماء عنہ ولا معناہ فانہ یجوز التوضو بہ ۔
مصنف کا قول “ فغیراحد اوصافہ “ اس کے ساتھ تقیید مفید نہیں ہے یہاں تك کہ اگر تینوں اوصاف اشنان صابون یا زعفران سے بدل گئے اور اس سے نہ تو پانی کا نام سلب ہوا اور نہ معنی سلب ہوئے تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
فتاوی امام قاضی خان میں ہے :
ماء صابون وحرض ان بقیت رقتہ ولطافتہ جازالتوضوء بہ ۔
صابون اور حرض(اشنان جس سے کھانے کے بعد ہاتھ دھوتے ہیں)کے پانی کی رقت ولطافت اگر باقی رہی تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت)
(۱۰۲ تا ۱۰۷)یہی چھ چیزیں اگر پانی میں ڈال کر جوش دی جائیں جب بھی وضو جائز ہے جب تك رقت باقی ہے
ہدایہ میں ہے :
ان تغیر بالطبخ بعد ماخلط بہ غیرہ لایجوز التوضی بہ الا اذاطبخ فیہ مایقصد بہ المبالغۃ فی النظافۃکالاشنان ونحوہ لان المیت قد یغسل بالماء الذی اغلی بالسدربذلك وردت السنۃ الا ان یغلب ذلك علی الماء فیصیر کالسویق
اگر پانی دوسری چیز کی ملاوٹ کے بعد پکانے سے متغیر ہوگیا تو اس سے وضو جائز نہیں ہاں اگر اس میں ایسی چیز ڈال کر پکائی گئی جس سے نظافت میں زیادتی مطلوب ہو جیسے اشنان وغیرہ کیونکہ مردہ کو کبھی بیری(کے پتے)ڈال کر ابلے ہوئے پانی سے غسل دیا جاتا ہے اور یہ حدیث میں بھی مذکور ہے
حوالہ / References حلیہ
البنایہ شرح ہدایہ باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ملک سنٹر فیصل آباد ۱ / ۱۸۹
فتاوٰی قاضی خان فیما لایجوزبہ التوضی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
#12738 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
المخلوط لزوال اسم الماء عنہ ۔
ہاں اگر اس قسم کی چیزیں پانی پر غالب آجائیں اور وہ پانی ستوؤں کی طرح ہوجائے تو وضو جائز نہیں کہ اب اس پر پانی کا اطلاق نہ ہوگا۔ (ت)
فتاوی شیخ الاسلام غزی میں ہے :
ماء الصابون لو رقیقایسیل علی العضو یجوز الوضوء بہ وکذا لو اغلی بالاشنان وان ثخن لاکما فی البزازیہ ۔
صابون کا رقیق پانی جو اعضاء پر بہے اس سے وضو جائز ہے اسی طرح اگر پانی میں اشنان ڈال کر جوش دیا گیا تو وضو جائز ہے اگر وہ گاڑھی ہوجائے تو وضو جائز نہیں کما فی البزازیہ۔ (ت)
خانیہ میں بعد عبارت مذکورہ آنفا ہے :
وکذا لوطبخ بالماء مایقصد بہ المبالغۃ فی التنظیف کالسدر والحرض وان تغیر لونہ ولکن لم تذھب رقتہ یجوز وان صار ثخینا مثل السویق لا ۔
اور اسی طرح اگر پانی میں ایسی چیز کو جوش دیا گیا جس سے نظافت میں مبالغہ مقصود ہو جیسے بیری(کے پتے)اور حرض خواہ اس کا رنگ بدل جائے لیکن اس کی رقت ختم نہ ہو تو اس سے وضو جائز ہے اور اگر ستوؤں کی طرح گاڑھی ہوجائے تو جائز نہیں۔ (ت)
منیہ وغنیہ میں ہے :
(ذکر فی المحیط لوتوضاء بماء اغلی باشنان اوباس جاز الوضوء بہ مالم یغلب علیہ)بان اخرجہ عن رقتہ ۔
(محیط میں ذکر کیا کہ اگر کسی نے ایسے پانی سے وضو کیا جس کو اشنان یا آس(ایك درخت جو ریحان کے نام سے مشہور ہے)میں جوش دیا گیا تو اس سے وضو جائز ہے بشرطیکہ وہ پانی پر غالب نہ ہو کہ اس کو اس کی رقت سے نکال دے۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
فی الذخیرۃ وتتمۃ الفتاوی الصغری نقلا
ذخیرہ اور تتمہ فتاوی صغری میں ابو یوسف سے
حوالہ / References الہدایہ کتاب الطہارۃ مکتبہ عربیہ کراچی ۱ / ۱۸
فتاوٰی غزی
فتاوٰی قاضی خان فیما لایجوز بہ التوضی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
غنیہ المستملی احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۹۱
#12739 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
عن ابی یوسف رحمہ ا لله تعالی اذا طبخ الاس اوالبا بونج فی الماء فان غلب علی الماء حتی یقال ماء البابونج والاس لایجوز التوضی بہ انتھی وعزی الی الاجناس بمانصہ قال محمد رحمہ ا لله تعالی فی الماء الذی یطبخ فیہ الریحان اوالاشنان اذالم یتغیر لونہ حتی یحمربالاشنان اویسودبالریحان وکان الغالب علیہ الماء فلاباس بالوضوء بہ فمحمد یراعی لون الماء وابو یوسف غلبۃ الاجزاء ثم فی التتمۃ والذخیرۃ والحاصل من مذھب ابی یوسف ان کل ماء خلط بشیئ یناسب الماء فیما یقصد من استعمال الماء وھو التطھیرفالتوضی بہ جائزبشرط ان لایغلب ذلك المخلوط علی الماء حتی لاتزول بہ الصفۃ الاصلیہ وھی الرقۃ وذلك مثل الصابون اوالاشنان وانکان ذلك المخلوط لایناسب الماء فیما یقصد من استعمال الماء ففی بعض الروایات اشترط لمنع جواز التوضی غلبۃ ذلك الشیئ الماء وفی بعض الروایات لم یشترط ومحمد اعتبر فی جنس ھذہ المسألۃ غلبۃ المخلوط الماء لمنع جواز التوضی ولکن فی بعضھا اشار الی الغلبۃ من حیث اللون وفی بعضھا اشار الی الغلبۃ من حیث الاجزاء بحیث تسلب صفۃ الرقۃ من الماء ویبدلھا بضدھا
منقول ہے جب آس یا بابونہ کو پانی میں ابالا جائے اور وہ پانی پر غالب آجائے یہاں تك کہ بابونہ یا آس(ایك درخت جو ریحان کے نام سے مشہور ہے)کا پانی کہلانے لگے تو اس سے وضو جائز نہیں انتہی اور اجناس کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ امام محمد نے اس پانی کی بابت فرمایا جس میں ریحان(پھول)یا اشنان کو جوش دیا گیا ہو اور اس کا رنگ تبدیل نہ ہوا ہو یعنی نہ تو اشنان کی وجہ سے سرخ ہواہو اور نہ ریحان کی وجہ سے سیاہ ہوا ہو اور اس پر پانی ہی کا غلبہ ہو تو اس سے وضو کرنے میں حرج نہیں تو امام محمد پانی کے رنگ کا اعتبار کرتے ہیں اور ابویوسف غلبہ اجزاء کا اعتبار کرتے ہیں پھر تتمہ اور ذخیرہ میں ہے کہ ابو یوسف کے مذہب کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو پانی سے مناسبت رکھتی ہو اور پانی کے استعمال سے جو مقصود ہے اس کے مطابق ہو اگر وہ پانی میں مل جائے تو وہ مطہر ہے اس سے وضو جائز ہے مگر شرط یہ ہے کہ یہ مخلوط شے پانی پر غالب نہ ہو تاکہ پانی کی صفت اصلیہ یعنی رقت زائل نہ ہو۔ اس کی مثال صابون اور اشنان ہے اور اگر یہ مخلوط پانی سے مناسبت نہ رکھتی ہو اور پانی کے استعمال سے جو مقصود ہے اس سے مطابقت نہ رکھتی ہو تو بعض روایات کے مطابق اس سے وضو کا عدم جواز اس شرط کے ساتھ مشروط ہوگاکہ یہ شیئ پانی پر غالب آجائے اور بعض روایات میں کوئی شرط نہیں اور امام محمد اس طرح کے مسئلہ میں پانی پر مخلوط شیئ کے غلبہ کا اعتبار کرتے ہوئے اس سے وضو جائز قرار نہیں دیتے
#12740 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
وھی الثخونۃ انتھی ۔
لیکن بعض روایات میں اس طرف اشارہ ہے کہ غلبہ سے مراد رنگ میں غلبہ ہے اور بعض میں اشارہ غلبہ من حیث الاجزاء مراد ہے کہ پانی کی صفت رقت سلب ہوجائے اور اس کے بدلے میں گاڑھا پن اس میں پیدا ہوجائے انتہی۔ (ت)
نیز حلیہ میں ایك کلام بدائع نقل کرکے فرمایا :
ذکرفیھاوفی التحفۃ ومحیط رضی الدین وفتاوی قاضی خان وغیرھااذا کان المخالط مما یطبخ الماء بہ اویخلط الزیادۃ التطھیرلایمنع التوضی بہ ولو تغیر لون الماء وطعمہ وذلك کالصابون والاشنان والسدر الا اذا صار غلیظابحیث لا یجری علی العضو فانہ حینئذ لایجوز لانہ زال عنہ اسم الماء اھ۔
اقول : واضفت الخطمی اخذا مما قالوہ فی الجنائز (۱)یغسل رأسہ ولحیتہ بالخطمی ان وجد والا فبالصابون ونحوہ تنویروفی التبیین اغتسل صلی الله تعالی علیہ وسلم وغسل رأسہ بالخطمی وھو جنب واکتفی بہ ولم یصب علیہ الماء ۔
اس میں اور تحفہ اور محیط رضی الدین اور فتاوی قاضیخان وغیرہ میں ذکر کیا کہ پانی میں مخلوط شیئ اگر اس قسم کی ہے کہ اس کو پانی میں پکانے یا خلط کرنے سے مقصود تطہیر میں زیادتی ہوتی ہے تو اس سے وضو جائز ہے اگرچہ پانی کا رنگ اور مزہ تبدیل ہوگیاہو جیسے صابن اشنان اور بیری(کے پتے) ہاں اگر پانی اتنا گاڑھا ہوگیا کہ اس کا سیلان ختم ہوگیا اور وہ عضو پر بہنے کے لائق بھی نہ رہا تو اس صورت میں اس سے وضو جائز نہیں کیونکہ اب اس سے پانی کا نام ہی سلب ہوگیا ہے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں میں نے مذکورہ اشیاء میں خطمی کا اضافہ کیا ہے یہ فقہاء کے ان اقوال کی روشنی میں ہے جو انہوں نے جنائز میں ذکر کئے ہیں فرماتے ہیں میت کے سراور داڑھی کو خطمی سے دھویا جائے اگر میسر ہو ورنہ صابن وغیرہ سے دھوئیں اور یہ تنویر میں ہے اورتبیین میں ہے حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے غسل فرمایا اور جنابت کی حالت میں اپنے سر کو خطمی سے دھویا اور اسی پر اکتفاء کیا اور اسی پر مزید پانی نہ بہایا۔ (ت)
حوالہ / References حلیہ
حلیہ
درمختار صلوٰۃ الجنائز مجتبائی دہلی ۱ / ۱۲۰
تبیین الحقائق کتاب الطہارت بولاق مصر ۱ / ۲۱
#12741 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
(۱۰۸ ۱۰۹)اقول : دوا یا غذا پانی میں پکانے کو ڈالی اور آنچ کی مگر وہ شے ابھی کچی ہے اور پانی گاڑھا نہ ہوگیا تو اس سے وضو جائز ہے
لانہ لم یوجد الطبخ ولا زوال الطبع فلا الاسم قال ش عن(۱)القاموس الطبخ ھو الانضاج استواءعــہ۱اھ وقال فی الغنیہ القاعدۃ فی المخالطۃ بالطبخ ان ینضج المطبوخ فی الماء ۔
کیونکہ اس میں نہ تو پکانا پایاگیاہے اور نہ ہی طبیعۃ ماء زائل ہوئی تو اسم بھی زائل نہ ہوا “ ش “ نے قاموس سے نقل کرتے ہوئے فرمایا طبخ کے معنی استواء پکانے کے ہیں اھ اور غنیہ میں فرمایا مخالطۃ بالطبخ میں قاعدہ یہ ہے کہ مطبوخ پانی میں پك جائے۔ (ت)
(۱۱۰) اقول : یونہی چائے دم کرنے کو گرم پانی میں ڈالی یا جوش ہی میں شریك کی اور جلد نکال لی کہ اثر نہ کرنے پائی اس قابل نہ ہوا کہ اسے چائے کہہ سکیں اگرچہ ہلکی سے ہلکی تو اس سے بھی وضو میں حرج نہیں لبقاء الاسم والطبع وایضا عدم الانضاج والطبخ(کیونکہ پانی کا نام اور طبیعت باقی ہے اور پکنا پکانا بھی نہیں پایا گیا۔ (ت)یہاں پانی کی رنگت پر نظر ہوگی اور صورت سابقہ میں اس کی رقت اور شے جوشاندہ کی حالت پر۔
(۱۱۱ تا ۱۱۴)عرق گاؤ زبان یا اترے ہوئے گلاب کیوڑا بیدمشك جن میں خوشبو نہ رہی اور اتنے ہلکے ہیں کہ کوئی مزہ بھی محسوس نہیں ہوتا پانی میں کسی قدر مل جائیں جب تك پانی سے مقدار میں کم ہوں گی مثلا لبالب گھڑے میں وہی گھڑا گلے تك بھرا تو اس سے وضو ہوسکتا ہے۔ بحرالرائق میں ہے :
ان کان مائعا موافقا للماء فی الاوصاف الثلثۃ کالماء الذی یؤخذ بالتقطیر من لسان الثور وماء الورد الذی انقطعت عــہ۲ رائحتہ
اگر کوئی مائع پانی کے ساتھ اوصاف ثلثہ میں مطابقت رکھتا ہے اور رقیق ہے جیسے وہ پانی جو عمل تقطیر کے ذریعہ گاؤ زبان سے حاصل کیا جائے اور گلاب کا

عــہ۱ سیاتی مافیہ فی الفصل الثالث بیان الطبخ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
عــہ۲ و زدت انقطاع الطعم لما ستعلم ان شاء ا لله تعالی ۱۲ منہ غفرلہ(م)
اس میں ایك اعتراض ہے جو فصل ثالث میں طبخ کے بیان میں آئے گا۔ (ت)
اور میں نے انقطاع طعم کا اضافہ کیا ہے اس کی وجہ ان شاء اللہ تعالی آپ جان لیں گے۔ (ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۵
غنیہ المستملی احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۹۱
#12742 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اذا اختلط بالمطلق فالعبرۃ للاجزاء فان کان الماء المطلق اکثر جاز الوضوء بالکل وان کان مغلوبالایجوز وان استویا لم یذکر فی ظاھر الروایہ وفی البدائع قالواحکمہ حکم الماء المغلوب احتیاطا اھ وعبارۃ الدرر والمستخرج من النبات بالتقطیر تعتبر فیہ الغلبۃ بالاجزاء اھ
اقول : (۱)واطلاقہ ینافی ضابطتہ التی تبع فیھا الامام الزیلعی فان من المستقطر مایخالف الماء فی وصف اووصفین اوالثلثۃ کما لایخفی۔ پانی جس کی خوشبو جاتی رہی ہو جب وہ مطلق پانی کے ساتھ ملایا جائے تو اعتبار اجزاء کا ہوگا تو اگر مطلق پانی زیادہ ہو تو سب سے وضو جائز ہے اور اگر مغلوب ہو تو جائز نہیں اور اگر دونوں برابر ہوں تو ظاہر روایت میں اس کا حکم مذکور نہیں اور بدائع میں ہے کہ فقہاء نے فرمایا کہ اس کا حکم بھی احتیاطا وہی ہے جو مغلوب پانی کا ہے اھ اور درر میں ہے کہ جڑی بوٹیوں کا پانی جو تقطیر سے نکالا جائے اس میں اجزاء کے غلبہ کا اعتبار ہوگا۔ (ت)
میں کہتا ہوں ان کا اس کو مطلق رکھنا ان کے اس ضابطہ کے منافی ہے جس میں انہوں نے امام زیلعی کی متابعت کی ہے کیونکہ عمل تقطیر سے جو پانی حاصل ہوتا ہے وہ عام پانی سے ایك وصف یا دو یا تین میں مختلف ہوتا ہے کما لایخفی۔ (ت)
(۱۱۵)یونہی ہر عرق کہ پانی سے رنگ ومزہ وبو کسی میں ممتاز نہ ہو جیسے عطاروں کے یہاں کے اکثر عرق۔
ثم اقول : کمی بیشی میں اعتبار مقدار کاہے اور ان میں بہت چیزیں پانی سے ہلکی ہوتی ہیں تو اگر وزن میں کمی لی جائے بارہا مقدار میں بیشی ہوجائے گی لہذا ہم نے لبالب گھڑے اور گلے تك بھرے سے تمثیل دی۔
وبہ(۲)ظھر مافی عبارۃ المنحۃ حیث فسر العبرۃ للاجزاء بقولہ ای القدر والوزن اھ وفی عبارۃ ابی السعود اذقال الغلبۃ من حیث الوزن وقد نص(۳) محمد ان الماء کیلی
اور اسی سے وہ ظاہر ہوا جو منحہ کی عبارت میں ہے جہاں انہوں نے اجزاء کی تعبیر مقدار اور وزن سے کی ہے اور جو ابو السعود کی عبارت میں ہے اس لئے کہ غلبہ وزن کے اعتبار سے ہے اور امام محمد نے
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۹
درر علی الغرر فرض الغسل کاملیہ بیروت ۱ / ۲۳
منحۃ الخالق علی البحر الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۹
فتح المعین الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۴
#12743 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
واجمع ائمتنا انہ لیس وزنیا وقال العینی ثم ابن الشلبی لوکان الماء رطلین والمستعمل رطلا فحکمہ حکم المطلق وبالعکس کالمقید اھ ولکن(۱)العجب من العلامۃ الشرنبلالی قال فی نور الایضاح وشرحہ الغلبۃ فی مائع لاوصف لہ یخالف الماء تکون بالوزن فان اختلط رطلان من المستعمل اوماء الورد الذی انقطعت رائحتہ برطل من الماء المطلق لایجوز بہ الوضوء وبعکسہ جاز اھ فذکر الوزن وعاد الی الکیل ۔ تصریح کی ہے کہ پانی کیلی چیز ہے اور ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے کہ پانی وزنی چیز نہیں اور عینی نیز ابن الشلبی نے فرمایاکہ اگر پانی دو رطل ہے اور مستعمل ایك رطل ہے تو اس کا حکم مطلق پانی کا ہے اور اگر بالعکس ہو تو اس کا حکم مقید کا سا ہے اھ لیکن علامہ شرنبلالی پر تعجب ہے انہوں نے نورالایضاح اور اس کی شرح میں فرمایا کہ سیال چیز جس کا کوئی وصف ایسا نہ ہو جو پانی کے مخالف ہو تو غلبہ وزن کے اعتبار سے ہوگا تو اگر دو رطل مستعمل پانی یا گلاب کا پانی جس کی خوشبو ختم ہوچکی ہو ایك رطل مطلق پانی میں ملے گا تو اس سے وضو جائز نہ ہوگا اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تو وضو جائز ہے اھ تو ذکر وزن کا کیا اور لوٹ کر کیل کی طرف آئے۔ (ت)
نوع آخر اس نوع میں وہ اشیاء مذکورہوں گی جن کی بعض صورتوں میں حکم منقول عــہ کتب کچھ ہے اور
عــــہ : تنبیہ ضروری : واضح ہو کہ مائے مقید میں ہمارے ائمہ مذہب رضی اللہ تعالی عنہم سے منقول صرف دو۲ قول ہیں :
اول : قول امام ابو یوسف جنہوں نے تبدل اوصاف آب کا اعتبار ہی نہ فرمایا صرف غلبہ اجزاء ان معانی پر کہ فصل ثالث میں بیان ہوں گے معتبر رکھا اور یہی صحیح ومعتمد ومختار جمہور ہے۔
دوم : قول امام محمد جس میں تبدل اوصاف پر بھی لحاظ فرمایایہاں ہم کو ضابطہ امام زیلعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ پر کلام کرنامنظور ہے انہوں نے بھی لحاظ اوصاف کیاہے تو قول امام ابی یوسف کا خلاف تو ابتدا ہی سے ہوا قول امام محمد پر جو احکام کتب میں منقول ہیں ان سے ضابطہ زیلعیہ کا موازنہ کرناہے کہ اتنی جگہ اس کے موافق پڑااور ان ان مواضع میں اس کے بھی خلاف رہا تو اقوال ائمہ مذہب سے یکسر خارج ہواان مباحث میں اتفاق اختلاف سے یہی مراد ہے کہ مذہب امام محمد پر احکام منقولہ اور مقتضائے زیلعیہ کا توافق یا تخالف ورنہ اصل(باقی برصفحہ ایندہ)
حوالہ / References الشلبی علی التبیین الطہارت بو لاق مصر ۱ / ۲۰
مراقی الفلاح الطہارت بو لاق مصر ص۱۷
#12744 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
ضابطہ امام زیلعی جس کا بیان بعونہ تعالی فصل چہارم میں آتا ہے اس کا مقتضی کچھ۔ ان اشیاء کی جس صورت میں حکم منقول مقتضائے ضابطہ جواز پر متفق ہیں وہ اس قسم اول میں مذکور ہوگی اور جس میں عدم جواز پر متفق ہیں وہ قسم دوم میں اور جہاں دونوں مختلف ہیں وہ صورتیں قسم سوم کیلئے ہیں۔ یہ اشیاء دو صنف ہیں : صنف اول خشك چیزیں۔
(۱۱۶)پانی میں چھوہارے ڈالے اور ابھی تھوڑی دیر گزری کہ نبیذ نہ ہوگیا اگرچہ خفیف سی شیرینی اس میں آگئی اس سے بالاتفاق وضو جائز ہے کتاب المفید والمزید پھر عینی شرح صحیح بخاری وتبیین وحلیہ عـــــہ وہندیہ وغیرہا میں ہے :
الماء الذی القی فیہ تمیرات فصار حلوا ولم یزل عنہ اسم الماء وھو رقیق یجوز بہ الوضوء بلاخلاف بین اصحابنا اھ
اقول : امامافی البدائع لابد من معرفۃ نبیذ التمر الذی فیہ الخلاف وھو ان یلقی شیئ من التمر فی الماء فتخرج حلاوتہ الی الماء وھکذا ذکر ابن مسعود رضی ا لله تعالی عنہ فی تفسیر نبیذ التمر الذی توضأ بہ
وہ پانی جو کھجوروں کے ڈالے جانے کی وجہ سے میٹھا ہوگیا مگر اس کو پانی ہی کہا جاتا ہو اور اس کی رقت بھی زائل نہ ہوئی تو اس سے وضو کے جواز میں ہمارے اصحاب کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اھ(ت)
میں کہتا ہوں بدائع میں ہے کہ وہ نبیذ تمر جس میں اختلاف ہے اس کی معرفۃ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ کچھ کھجو ریں پانی میں ڈال دی جائیں تو ان کی مٹھاس پانی میں آجائے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نبیذ تمر کی یہی تفسیر منقول ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)مذہب صحیح معتمد کہ مذہب امام ابو یوسف ہے وہ تو صور عدم جواز میں ان کے اتفاق سے بھی بعض جگہ خلاف پڑے گا جسے ہم آخر میں ذکر کریں گے ان شاء الله تعالی نیز ان نقول کے لانے میں بڑا فائدہ مذہب امام محمد پر اطلاع ہے کہ وہ بھی بجائے خود ایك باقوت قول ہے تو بنظر احتیاط اس کا لحاظ مناسب وب الله التوفیق ۱۲ منہ غفرلہ وحفظہ ربہ عزوجل(م)
عــہ عزاہ للحلیہ فی الھندیہ ولم ارہ فیھا لافی التیمم ولا فی المیاہ فلعلہ ساقط من نسختی وا لله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ(م)
ہندیہ میں حلیہ کی طرف نسبت کی ہے اور مجھے اس میں یہ بات نہیں ملی نہ باب التیمم میں نہ باب المیاہ میں شاید یہ میرے نسخہ سے ساقط ہو و الله تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ فیما لایجوزبہ التوضو پشاور ۱ / ۲۲
#12745 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
رسول ا لله صلی ا لله تعالی علیہ وسلم لیلۃ الجن فقال تمیرات القیتھا فی الماء اھ فیحمل علی ما حلا و خرج عن الاطلاق کیف وفی صدر الحدیث عند ابن ابی شیبۃ ان النبی صلی ا لله تعالی علیہ وسلم قال لہ ھل معك من وضوء قال قلت لاقال فما فی اداوتك قلت نبیذ تمر قال تمرۃ حلوۃ وماء طیب فلولا انہ خرج من الاطلاق لما قال لا۔
اقول : وبھذا(۱)یضعف مااجاب بہ ابنا حجر فی شرحی البخاری والمشکوۃ انہ محمول علی ماء القیت فیہ تمرات یابسۃ لم تغیرلہ وصفا قال العسقلانی وانماکانوا یصنعون ذلك لان غالب میاھھم لم تکن حلوۃ اھ واستشعر المکی ان ھذا لایسمی نبیذا فقال وتسمیہ ابن مسعود لہ نبیذامن مجاز الاول زادا والمراد بہ الوضع اللغوی وھو ماینبذ فیہ شیئ وان لم یغیرہ اھ
نے اسی سے لیلۃ الجن میں وضو فرمایا تھا آپ نے فرمایا میں نے کچھ کھجوریں پانی میں ڈال دی تھیں اھ تو اس کو اس پانی پر محمول کیا جائے جس میں مٹھاس پیدا ہوگئی ہو اور مطلق پانی سے نکل گیا ہو جیسا اس حدیث کی ابتداء میں بروایت ابن شیبہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان سے دریافت کیاکیا تمہارے پاس وضو کا پانی ہے انہوں نے جواب دیا نہیں۔ آپ نے فرمایا تمہارے توشہ دان میں کیا ہے انہوں نے کہا نبیذ تمر ہے۔ آپ نے فرمایا یہ تو میٹھی کھجوریں اور پاك پانی ہے تو اگر وہ پانی مطلق ہوتا تو آپ جواب میں نہ نہ فرماتے۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس سے معلوم ہوا کہ دو۲ شرحوں(شرح بخاری وشرح مشکوۃ)میں دو ابن حجر نے جو جواب دیا ہے وہ ضعیف ہے وہ جواب یہ ہے کہ ..... اس پانی سے مراد وہ پانی ہے جس میں خشك کھجوریں ڈال دی گئی ہوں جس نے پانی کا وصف نہ بدلا ہو عسقلانی نے فرمایا اہل عرب ایسا اس لئے کرتے تھے کہ عام طور پر ان کا پانی میٹھا نہیں ہوتا تھا اھ اور مکی نے فرمایا کہ اس کو نبیذ نہیں کہا جاتا ہے اور فرمایا ابن جائے خواہ وہ اس پانی کو متغیر نہ کرے اھ۔ (ت)
حوالہ / References بدائع الصنائع الماء المقید سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۷
مصنف ابن ابی شیبۃ وضو بالنبیذ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۲۶
فتح الباری لایجوز الوضوء بالنبیذ بیروت ۱ / ۳۰۵
شرح مشکوٰۃ لملّا علی قاری باب احکام المیاہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۶۰
#12746 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اقول : (۱)وکل ھذا کما تری خروج عن الظاھر غیران ملك العلماء قال بعدماقدمناعنہ لان من عادۃ العرب انھاتطرح التمر فی الماء الملح لیحلو اھ۔
اقول : (۲)فھذا میل الی ماقالاہ ولا اراہ یستقیم اذلوکان کذا لبقی علی مائتیہ وکان مطلقا فجاز بہ الوضوء مطلقا وقد قال الشیخ الامام فی اخر الکلام الجواز فی نبیذ التمر ثبت معدولابہ عن القیاس لان القیاس یابی الجوازالا بالماء المطلق وھذا لیس بماء مطلق بدلیل انہ لا یجوز التوضو بہ مع القدرۃ علی الماء المطلق الا انا عرفناالجواز بالنص اھ ولذا احتجناالی الجواب عن الحدیث بانہ منسوخ بایۃ التیمم ونو زع ولذامال الاتقانی الی قول(۳)محمدانہ یجمع بینھما لیقع الطھر بالیقین۔ اقول وھو حسن جدا وا لله تعالی اعلم۔
مسعود نے اس کو مجازا نبیذ کہا تھا اول نے مزید فرمایا کہ یا اس سے مراد اس کے لغوی وضعی معنی ہیں یعنی وہ پانی جس میں کوئی چیز ڈال دی میں کہتا ہوں یہ تمام تاویلات ظاہر کے برخلاف ہیں تاہم ملك العلماء نے اس تمام گفتگو کے بعد جو ہم نے اوپر ذکر کی فرمایا : عرب کی عادت تھی کہ وہ کھاری پانی
میں کھجوریں ڈالتے تھے تاکہ پانی میٹھا ہوجائے۔ (ت)
میں کہتا ہوں یہ جواب بھی ان دو حضرات کے قول کی طرف میلان ہے مگر میرے نزدیك یہ جواب درست نہیں کیونکہ اگر یہی بات ہوتی تو پانی کا نام باقی رہتا اور مطلق رہتااور اس سے مطلقا وضو جائز ہوتا۔ شیخ نے آخر میں فرمایا نبیذ تمر سے وضو کا جواز قیاس کے برخلاف ثابت ہے کیونکہ قیاس تو یہ چاہتا ہے کہ وضو صرف مطلق پانی سے ہی جائز ہو اور یہ مطلق پانی نہیں ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ماء مطلق پر قدرت ہوتے ہوئے اس سے وضو جائز نہیں لیکن اس کاجواز ازروئے نص ثابت ہے اھ اس لئے ہمیں ضرورت ہوئی کہ ہم حدیث کا جواب دیں اور جواب یہ ہے کہ یہ آیت تیمم سے منسوخ ہے اور اس لئے اتقانی امام محمد کے قول کی طرف مائل ہوئے کہ وضو اور تیمم دونوں کو جمع کیا جائے تاکہ طہارت بالیقین حاصل ہوجائے۔ (ت)میں کہتا ہوں یہ جواب بہت اچھا ہے و الله تعالی اعلم۔ (ت)
(۱۱۷) اقول : یہاں سے ظاہر ہوا کہ اگر پانی میں شکر یا بتاشے اتنے کم پڑے کہ شربت کی حد تک
حوالہ / References بدائع الصنائع الماء المقید سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۷
بدائع الصنائع الماء المقید سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۷
#12747 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
نہ پہنچا اگرچہ ایك ہلکی سی مٹھاس آگئی تو اس سے وضو روا ہے۔
(۱۱۸)اقول : یوں ہی دوا پانی میں بھگوئی جب تك پانی میں اس کا اثر نہ آجائے کہ اب ۱ سے دوا کہیں پانی نہ کہیں اس وقت تك اس سے وضو جائز ہے اگرچہ پانی کے اوصاف بدل جائیں وکفی شاھدا علیہ مسألۃ الاوراق فی الحیاض(اس پر دلیل حوضوں میں پتوں کا مسئلہ کافی ہے۔ ت)
(۱۱۹)کسم
(۱۲۰)کیسر
(۱۲۱)کسیس
(۱۲۲)مازو
یہ چیزیں اگر پانی میں اتنی کم حل ہوئیں کہ پانی رنگنے یالکھنے حرف کا نقش بننے کے قابل نہ ہوگیا تو اس سے بالاتفاق وضو جائز ہے۔
وذلك ان العبارات جاء ت فیھاعلی اربعۃ مسالك الاول یجوز مطلقا مالم تغلب علی الماء بالاجزاء قال فی الھدایہ قال الشافعی رحمہ ا لله تعالی لایجوز التوضی بماء الزعفران واشباھہ ممالیس من جنس الارض لانہ ماء مقید الا تری انہ یقال ماء الزعفران بخلاف اجزاء الارض لان الماء لایخلوعنھا عادۃ ولناان اسم الماء باق علی الاطلاق الا تری انہ لم یتجدد لہ اسم علیحدۃ واضافتہ الی الزعفران کاضافتہ الی البئر والعین ولان الخلط القلیل لامعتبر بہ لعدم امکان الاحترازعنہ کما فی اجزاء الارض فیعتبر الغالب والغلبۃ بالاجزاء لابتغیر اللون ھو الصحیح اھ
پہلا مسلک : وضو مطلقا جائز ہے تاوقتیکہ اس کے اجزاء پانی پر غالب نہ ہوجائیں ہدایہ میں ہے امام شافعی نے فرمایازعفران اور اسی کی مثل دوسری اشیاء کے پانی سے وضو جائز نہیں یعنی وہ اشیاء جو زمین کی جنس سے نہیں کیونکہ یہ مقید پانی ہے۔ اس لئے کہتے ہیں زعفران کا پانی اور زمین کے اجزاء کا معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ پانی عام طور پر ان اجزاء سے خالی نہیں ہوتا ہے اور ہماری دلیل یہ ہے کہ پانی کا نام علی الاطلاق باقی ہے کیونکہ اس کا کوئی نیا نام نہیں ہے اور اس کی اضافت زعفران کی طرف ایسی ہے جیسے پانی کی اضافت کنوئیں اور چشمے کی طرف ہوتی ہے اور تھوڑی ملاوٹ کا
حوالہ / References ہدایہ باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالا یجوزبہ مطبع عربیہ کراچی ۱ / ۱۸
#12748 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
وفی الانقرویہ یجوزالتوضی بماء الزعفران عندناوعند الشافعی لایجوز اھ وفی الظھیریہ ثم البحر وفی الخانیہ اذا طرح الزاج فی الماء حتی اسود(زاد فی الخانیہ لکن لم تذھب رقتہ)جاز بہ الوضو اھ ومثل الخانیہ فی المنیہ عن الملتقط وزاد وکذا العفص اھ قال فی الغنیہ عـہ جازمع تغیر لونہ وطعمہ وریحہ اھ
وفی الخانیہ لابماء ورد وزعفران اذاذھبت رقتہ وصار ثخیناوان بقیت رقتہ ولطافتہ جاز اھ
وفی جواھر الاخلاطی اذاخالط شیئ من الطاھرات ولم یطبخ کالزعفران والزردج یجوز التوضی بہ اھ ای وقید بقاء الرقۃ معلوم لاحاجۃ الی ابانتہ وفی مسکین علی الکنز لایجوز بما غلب علیہ
کوئی اعتبار نہیں کہ اس سے بچنا ممکن نہیں جیسا کہ زمین کے اجزاء میں ہوتا ہے تو غالب کا اعتبار ہوگا اور غلبہ باعتبار اجزاء ہوتا ہے نہ کہ رنگ کے بدلنے سے یہی صحیح ہے اھ(خانیہ میں یہ اضافہ بھی یہ ہے مگر اس کی رقت زائل نہ ہوئی)تو اس سے وضو جائز ہے اھ۔ اور فتاوی انقرویہ میں ہے کہ ہمارے نزدیك زعفران کے پانی سے وضو جائز ہے اور امام شافعی کے نزدیك جائز نہیں اھ ظہیریہ بحر اور خانیہ میں ہے کہ جب زردج پانی میں ڈالا گیا خانیہ میں یہ اضافہ بھی ہے مگر اسکی رقت زائل نہ ہو ئی)وضو جائز ہے اھ اور خانیہ کی طرح منیہ میں ملتقط سے منقول ہے اس میں عفص کا اضافہ بھی ہے اھ غنیہ میں ہے اس کے مزے بو اور رنگ کے بدل جانے کے باوجود وضو جائز ہے اھ اور خانیہ میں ہے نہ کہ گلاب اور زعفران کے پانی سے جبکہ اس کی رقت ختم ہوجائے اور گاڑھا ہوجائے اور اگر اس کی رقت ولطافت باقی رہے تو اس سے وضو جائز ہے اھ جواہر اخلاطی میں ہے کہ جب کوئی پاك شیئ پانی میں مل جائے اور اس کو

عـــــہ : وفی صغیرہ القلیل من الزعفران یغیر الاوصاف الثلثۃ مع کونہ رقیقا فیجوز الوضوء و الغسل بہ ۱۲ منہ(م)
اور اس کی شرح صغیر میں ہے کہ تھوڑی زعفران پانی کے تینوں اوصاف کو بدل دے مگر پانی رقیق ہو تو اس سے وضو اور غسل جائز ہے ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References رسائل الارکان بالمعنی فصل فی المیاہ مطبع علوی ص۲۴
بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۹
غنیہ المستملی احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۹۰
فتاوٰی خانیہ المعروف قاضی خان فصل فیما لایجوزبہ التوضی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۹
جواہر الاخلاطی
#12749 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
غیر الماء مثل الزعفران اجزاء وھواحتراز عن الغلبۃ لونا وھو قول محمد رحمہ ا لله تعالی اھ
وفی وجیز الکردری ماء الزردج والصابون والعصفر والسیل لورقیقایسیل علی العضو یجوز التوضی بہ اھ بل فی الغرر یجوز وان غیر اوصافہ جامد کزعفران وورق فی الاصح وفی نورالایضاح لایضر تغیراوصافہ کلھابجامع کزعفران اھ فھذہ نصوص متظافرۃ اماما فی الخانیہ التوضو بماء الزعفران وزردج العصفر یجوز انکان رقیقاوالماء غالب فان غلبتہ الحمرۃ وصار متماسکالایجوز اھ۔
فاقول : اولہ صریح فی اعتبارالرقۃ وفی اخرہ وان ذکرالحمرۃ فقد تدارکہ بقولہ وصار متماسکا فلم یکتف بغلبۃ اللون مالم یثخن ثم اکدہ بان قال
پکایا نہ گیا ہو جیسے زعفران اور زردج تو اس سے وضو جائز ہے اور رقت کے بقاء کی قید سب کو معلوم ہے لہذا اظہار کی طرف کوئی محتاجی نہیں اورمسکین علی الکنز میں ہے کہ جب پانی پر کسی دوسری شے کا غلبہ ہوجائے تو اس سے وضو جائز نہیں جیسے زعفران جبکہ یہ غلبہ اجزاء کے اعتبار سے ہو اور اجزاء کی قید سے لون(رنگ)اس سے خارج ہوگیا اور یہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے اھ اور وجیز کردری میں ہے کہ زردج صابون عصفر اور سیلاب کا پانی اگر رقیق ہو اور یہ پانی عضو پر بہہ سکتا ہو تو اس سے وضو جائز ہے اھ بلالکہ غرر میں ہے کہ اگرچہ کوئی جامد چیز اس کے اوصاف کو بدل دے تو بھی وضو جائز ہے جیسے زعفران اور پتے اصح قول کے مطابق۔ اورنور الایضاح میں ہے کہ کسی جامد چیز کا پانی کے اوصاف کو متغیر کردینا مضر نہیں جیسے زعفران اھ تو یہ نصوص ایك دوسرے کی تائید کرتی ہیں اور جو خانیہ میں ہے کہ زعفران زردج عصفر کے پانی سے وضو جائز ہے بشرطیکہ رقیق ہو اور پانی کا غلبہ ہو پس اگر اس پر سرخی غالب ہوجائے اور گاڑھا ہوجائے تو وضو جائز نہیں اھ(ت)
میں کہتا ہوں اس کی ابتداء رقت کے اعتبار میں صریح ہے اور اس کے آخر میں اگرچہ سرخی کا ذکر ہے لیکن اس کا تدارك اس لفظ سے کر دیاکہ وہ گاڑھا ہوجائے تو جب تك گاڑھا نہ ہو رنگ کے غلبہ کا
حوالہ / References فتح المعین کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۳
فتاوٰی بزازیہ علی الہندیہ نوع المستعمل والمقید والمطلق نورانی کتب خانہ پشاور ۲ / ۱۰
الغرر متن الدرر کتاب الطہارۃ مطبعۃ کاملیہ بیروت ۱ / ۲۱
نور الایضاح کتاب الطہارت مطبعۃ علمیہ لاہور ص۳
فتاوٰی قاضی خان فیما لایجوزبہ التوضی مطبعۃ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
#12750 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
متصلا بہ اما عند ابی یوسف رحمہ ا لله تعالی تعتبر الغلبۃ من حیث الاجزاء لامن حیث اللون ھو الصحیح اھ ومثل ھذا مافی الخلاصۃ رجل توضأ بماء الزردج اوالعصفر اوالصابون انکان رقیقایستبین الماء منہ یجوزوان غلبت علیہ الحمرۃ وصار نشاستج لایجوز ھ فصرح بالبناء علی الثخونۃ وبقی ذکرالحمرۃ فی الکتابین کالمستدرك عــہ۔
الثانی : لایجوزمطلقا فی شرح الطحاوی ثم خزانۃ المفتین المقید مثل ماء الاشجاروالثمار وماء الزعفران اھ وفی المنیہ لاتجوز بالماء المقید کماء الزعفران اھ قال فی الحلیہ محمول علی مااذا کان الزعفران غالبا اھ
اقول : ھذا مبھم یحتمل الغلبۃ اعتبار نہیں پھر اس کی تائید میں متصلا فرمایا کہ ابو یوسف کے نزدیك اجزاء کے اعتبار سے غلبہ معتبر ہے رنگ کے اعتبار سے نہیں یہی صحیح ہے اھ اور اسی کی مثل خلاصہ میں ہے کہ کسی شخص نے زردج عصفریاصابن کے پانی سے وضو کیا اگر وہ رقیق ہو جس سے پانی واضح ہوتا ہو تو وضو جائز ہے اور اگر اس پر سرخی غالب ہوگئی ہو اور نشاستہ بن گیا ہو تو وضو جائز نہیں اھ تو اس میں اس کی تصریح ہے کہ دارومدار گاڑھے پن پر ہے اوردونوں کتابوں میں سرخی کا ذکر مستدرك کی طرح ہے۔ (ت)
دوسرا مسلک : مطلقا جائز نہیں شرح طحاوی اور خزانۃ المفتین میں ہے مقید جس طرح درخت اور پھلوں کاپانی اور زعفران کاپانی اھ اور منیہ میں ہے کہ مقید پانی سے وضو جائز نہیں جیسے زعفران کاپانی اھ حلیہ میں کہا کہ یہ اس صورت پر محمول ہے جبکہ زعفران غالب ہو اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں یہ مبہم ہے اس میں اجزاء کے

عــــہ : ستأتی فائدۃ لہ اخرالضابطۃ السادسۃ من الفصل الثالث ولذا قال کالمستدرك ای فی النظر الظاھر ۱۲ منہ غفرلہ(م)
تیسری فصل کے چھٹے ضابطہ کے آخر میں اس کے لئے ایك فائدہ بیان کیاہے اس لئے فرمایا کالمستدرك یعنی نظر ظاہر میں ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان فیما لایجوزبہ التوضی مطبع نولکشور لکھنؤ ۱ /
خلاصۃ الفتاوٰی بیان الماء المقید مطبع نولکشور لکھنؤ ۱ / ۸
خزانۃ المفتین
منیہ المصلی فصل فی المیاہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۶۳
حلیہ
#12751 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
بالاجزاء وباللون وافصح فی الغنیہ فقال المرادماخثربہ وخرج عن الرقۃ اومایستخرج منہ رطباکما یستخرج من الورد اھ
اقول : فعلی الثانی یخرج من البین وعلی الاول یرجع الی الاول وھوالذی نص علیہ فی المنیہ نفسھامن بعداذقال تجوزالطھارۃ بالماء الذی اختلط بہ الزعفران بشرط ان تکون الغلبۃ للماء من حیث الاجزاء ولم یزل عنہ اسم الماء اھ۔
الثالث : یجوز عــہ مالم یصلح للصبغ والنقش فی الفتح والحلیہ صرح فی التجنیس
اعتبار سے بھی غلبہ کااحتمال ہے اور رنگ کے اعتبار سے بھی ہے اور غنیہ میں وضاحت ہے فرمایااس سے مراد وہ پانی ہے جو گاڑھا ہوگیاہو اور رقت ختم ہوگئی ہو یا وہ ہے جو اس سے تر نکلتا ہو جیسا کہ گلاب سے نکلتا ہے اھ(ت)
میں کہتا ہوں تو دوسری صورت میں یہ اختلافی صورت سے الگ ہوجائیگا اور پہلی صورت میں پہلی کی طرف رجوع کرے گا یہ وہ ہے جس پر منیہ میں صراحت ہے انہوں نے کہا کہ اس پانی سے وضو جائز ہے جس میں زعفران ملائی گئی ہو بشرطیکہ اجزاء کے اعتبارسے پانی کو غلبہ ہو اور پانی کا اطلاق اس پر ہوتا ہو۔ (ت)
تیسرا مسلك : اس سے وضو جائز ہے جو رنگنے اور نقش کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو یہ فتح اور
عــہ فی الارکان الاربعۃ للمولی بحر العلوم الکنوی لا یجوز التوضی بماءا لزعفران و العصفر و الزردج اذا کان بحیث یلون البدن او الثوب لانہ ذھب اسم الماءح حقیقۃ و اما اذا صار بلیدا فلیس ماء مطلقا ولاماء مقیدا فلا یطلق علیہ الماء لا حقیقۃ ولا مجازا اھ۔
اقول : فیہ(۱)اولا ان ماصلح منہ للصبغ لم یتبدل ذاتا فی الحقیقۃ انما تغیر وصف لہ فھوماء حقیقۃ نعم لم یبق ماء
بحرالعلوم کی ارکان اربعہ میں ہے زعفران عصفر اور زردج کے پانی کے ساتھ وضو جائز نہیں جبکہ وہ بدن یا کپڑے کو رنگ دے کیونکہ اب حقیقۃ پانی کانام اس سے ختم ہوگیا اور جب وہ گاڑھا ہوجائے تو نہ مطلق پانی ہے اور نہ مقید پانی ہے اور اس پر نہ تو پانی کا حقیقۃ اطلاق ہوتا ہے اور نہ مجازا اھ
میں کہتا ہوں اولا اگر پانی رنگنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو پانی ذات کے اعتبار سے حقیقۃ نہیں بدلا صرف اس کا وصف بدلا ہے تو وہ حقیقۃ پانی ہے(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References غنیہ المستملی فصل احکام المیاہ مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۹
منیہ المصلی فصل فی المیاہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۶۳
#12752 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
بان من التفریع علی اعتبار الغلبۃ بالاجزاء
حلیہ میں ہے تجنیس میں ہے کہ تفریع باعتبار غلبہ

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
مطلقا الا ان یرید الحقیقۃ العرفیہ المفھومۃ عند الاطلاق۔ وثانیا : (۱)سیغصل عنہ الثخین بانہ لیس ماء مطلقا ولا مقیدافقدافادان ھذا ماء مقید فکیف لایکون ماء حقیقۃ فان المطلق والمقید صنفان من الماء۔ وثالثا : (۲)الثخین وان لم یبق ماء اصلاعلی ماافادہ فی الفتح فلامانع من اطلاق الماء مجازاباعتبار ماکان۔ و رابعا : (۳)الحکم المنقول فی ماء الزردج ماقدمنا فی ۸۱ من ان العبرۃ بالرقۃ ولم ارماوقع ھھنا لغیرہ ویظھرلی ان لامحل لہ لانہ لیس مما یصبغ بہ کما تقدم ثمہ وکونہ مما یلون الثوب ان اصابہ لایجعلہ نوعااخرغیرالماء مادام رقیقااذالانواع عندنا بالاغراض الا تری ان التمروالزبیب اذاالقیافی الماء یغیران لونہ وطعمہ قبل ان یصیرانبیذاویجوز الوضوء بہ بالاجماع کمامر فی ۱۱۶ مع انھما لواصاباثوبا ابیض لوناہ وذلك لان المقصودھھنا النبیذدون الصبغ فلا یزول الاسم الا بحصول المقصود علیہ الرحمۃ۔ اربع(۱ ۲ ۳ ۴) معروضات علی المولی بحرالعلوم عبدالعلی الکنوی۔
صرف مطلق پانی نہیں رہا ہاں اگر حقیقۃ عرفیہ کاارادہ کیا جائے جو اطلاق کے وقت سمجھی جاتی ہے تو اور بات ہے۔
ثانیا : گاڑھا ہونے سے وہ نہ مطلق پانی رہا اور نہ مقید تو انہوں نے بتایا کہ یہ مقید پانی ہے اس صورت میں وہ حقیقۃ پانی کیوں نہ ہوگا کیونکہ مطلق اور مقید دونوں ہی پانی کی اقسام ہیں۔
ثالثا : گاڑھا اگرچہ فتح کے بقول پانی نہ رہا تو باعتبار ماکان مجازا اس پر پانی کے اطلاق میں کوئی مانع نہیں۔
رابعا : وہ حکم جو زردج کے پانی کی بابت منقول ہے جو ہم نے ۸۱ میں نقل کیا کہ اعتبار رقت کا ہے اور میں نے دوسروں کا بیان نہیں دیکھا اور مجھے لگتا ہے کہ اس کا یہاں محل نہیں کیونکہ اس سے رنگا نہیں جاتا ہے جیسا کہ وہاں گزرا اور اس کے کپڑے کو رنگنے سے اگر کپڑے کو لگ جائے اس کا ایك مستقل نوع بنانا لازم نہیں آتا جب تك وہ رقیق ہے دوسری نوع نہیں بنے گا کیونکہ ہمارے نزدیك انواع اغراض سے وجود میں آتی ہیں مثلا کھجور اور منقی جب پانی میں ڈالے جائیں تو وہ اس کے رنگ اور مزے کو بدل دیتے ہیں اور ابھی وہ نبیذ نہیں بنا ہوتا ہے اور اس سے وضو بالاجماع جائز ہوتا ہے جیسا کہ ۱۱۶ میں گزراحالانکہ اگر یہ دونوں چیزیں سفید کپڑے کو لگ جائیں تو اس کا رنگ بدل دیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں مقصود نبیذ ہے نہ کہ رنگ تو اس کا نام اس وقت تك نہ بدلے گا جب تك مقصود حاصل نہ ہو۔ یہ چارمعروضات بحرالعلوم پر ہیں۔ (ت)
#12753 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
قول الجرجانی اذاطرح الزاج اوالعفص فی الماء جاز الوضوء بہ انکان لاینقش اذاکتب فان نقش لایجوز والماء ھو المغلوب اھ ومثلہ فی الھندیہ عن البحر عن التجنیس من قولہ اذاطرح الی قولہ لایجوز وفی القنیہ ثم معراج الدرایہ ثم البحر ثم الدر ثم فتح ا لله المعین الزعفران اذاوقع فی الماء ان امکن الصبغ فیہ فلیس بماء مطلق اھ
الرابع : یجوزمالم یغلب لونھالون الماء فی الشلبیہ عن یحیی عن الامام القاضی الاسبیجابی الماء ان اختلط بہ طاھرفان غیرلونہ فالعبرۃلللون فان کان الغالب لون الماء جازالوضوء بہ والا فلاوذلك مثل اللبن والخل والزعفران یختلط بالماء اھ ومثلہ فی خزانۃ المفتین والبرجندی۔
اقول : قدمنا۱۱۶ اجماع اصحابنارضی ا لله تعالی عنھم علی جوازالوضوء بماء القی فیہ تمیرات فحلاولم یصرنبیذاومعلوم قطعاان اللون اسبق تغیرافیہ من الطعم فاستقرالاجماع علی ان تغیر اللون و
جرجانی کا قول ہے جب زاج یا عفص پانی میں ڈالا جائے تو اس سے وضو جائز ہے یہ اس وقت ہے کہ جب اس کے ذریعہ لکھنے سے نقش نہ آتاہو اگر نقش آئے تو جائز نہیں جبکہ پانی مغلوب ہو اھ اور اسی کی مثل ہندیہ میں بحر سے تجنیس سے ہے ان کے قول اذاطرح سے لایجوز تك اور قنیہ معراج بحر در پھر فتح اللہ المعین میں ہے کہ اگر زعفران پانی میں پڑ جائے تو اگر اس سے رنگنا ممکن ہو تو وہ مطلق پانی نہیں ہے اھ
چوتھا مسلک : وضو جائز ہے جب تك اس کا رنگ پانی کے رنگ پر غالب نہ ہو شلبیہ میں یحیی سے امام قاضی اسبیجابی سے منقول ہے کہ پانی میں اگر کوئی پاك چیز مل جائے اور اس کے رنگ کو بدل دے تو اعتبار رنگ کا ہوگا اگر پانی کا رنگ غالب ہو تو وضو جائز ہے ورنہ نہیں مثلا دودھ سرکہ اور زعفران پانی میں مل جائے اھ اسی کی مثل خزانۃ المفتین اور برجندی میں ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں ہم نے ۱۱۶ میں اپنے اصحاب کا اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ اس پانی سے وضو جائز ہے جس میں کھجوریں ڈالی گئی ہوں تو نبیذ بننے سے پہلے پہلے اس میں مٹھاس آجائے اور یہ قطعی معلوم ہے کہ رنگ مزہ کے متغیر ہونے سے پہلے بدل جاتا ہے تو اجماع اس پر قائم ہے کہ
حوالہ / References فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالا یجوزبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۵
دُرمختار کتاب الطہارت مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵
شلبی علی التبیین الحقائق کتاب الطہارت الامیریہ ببولاق مصر ۱ / ۲۰
#12754 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
الطعم بجامد لایضر مالم یزل الاسم فیجب حمل ھذاالرابع وکذاالثانی علی الثالث ثم قد انعقد الاجماع والاطباق٭من جمیع الخداق٭ بغیرخلف وشقاق٭ان زول الاسم یسلب الاطلاق٭ کیف وانما عین الشرع للوضوء الماء٭ وھذا اذا زال الاسم لیس بماء٭ فھذا الشرط ملحوظ ابدابلا امتراء٭ وانکان یطوی ذکرہ٭ للعلم بالعلم بہ اذشاع امرہ٭ فیجب حمل عــہ الاول ایضا
رنگ اورمزے کاکسی جامد سے بدلنا اس وقت تك مضر نہیں جب تك کہ نام نہ بدل جائے تو اس چوتھے اور دوسرے کاتیسرے پر حمل کرنا لازم ہے۔ پھر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ جب نام زائل ہوجائے تو اطلاق باقی نہیں رہتا کیونکہ شریعت نے وضو کیلئے پانی کو متعین کر رکھا ہے اور جب نام زائل ہوگیا تو پانی نہ رہا یہ شرط اگرچہ مذکور نہ ہو معتبر رہے گی تو پہلے کو بھی تیسرے پر حمل کرنا لازم ہے اس طر ح

عــــــہ : (۱)ولکن العجب من العلامۃ الخادمی اذرد الثالث بالاول حیث قال عند قول الغررالماریجوزوان غیر اوصافہ جامدکزعفران فی الاصح مانصہ قیل عن البحران امکن الصبغ بہ لم یجز کنبیذ التمر لکن الظاھر انہ علی الروایہ المشار الی نفیھابقولہ فی الاصح اذھذا القول اشارۃ الی نفی ماعن الفقیہ احمد بن ابرھیم انہ لوظھرلون المخالط فی الکف لایجوز اھ فقدعلمت انہ لامساس لہ بنفی الثالث بل یجب ردہ الی ھذا نعم نفی قول الفقیہ صحیح وجیہ لان ظھور لون الاوراق فی الکف فی ماء الحوض لایزیل عنہ اسم الماء بخلاف الزعفران اذاجعلہ صالحاللصبغ ثم(۲)من العجب کلام الفقیہ انما کان فی الاوراق
لیکن علامہ خادمی پر تعجب ہے کہ انہوں نے پہلے سے تیسرے کا رد کیا ہے۔ جہاں انہوں نے غرر کے گزشتہ قول “ وان غیر اوصافہ جامد الخ “ کے تحت فرمایا کہ بحر سے منقول ہے اگر وہ رنگنے کے قابل ہو تو جائز نہیں جیسے نبیذ تمر سے لیکن ظاہر میں روایت مشار پر اس کی نفی ہے اس کے قول فی الاصح سے کیونکہ یہ قول اشارہ ہے اس کی نفی پر جو فقیہ احمد بن ابراہیم سے منقول ہے کہ اگر ملنے والی چیز کا رنگ ہتھیلی میں ظاہر ہو تو اس پانی سے وضو جائز نہیں اھ آپ جانتے ہیں کہ تیسرے کی نفی سے اس کا کوئی تعلق نہیں بلالکہ اس کی طرف اس کا رد واجب ہے۔ ہاں فقیہ کے قول کی نفی درست ہے کیونکہ حوض سے پانی لینے میں ہتھیلی پر پتوں کے رنگ کے ظہور سے پانی کا نام زائل نہیں ہوتا۔ زعفران کا حکم اس کے برخلاف ہے جبکہ وہ پانی کو رنگنے کے قابل کردے۔ پھر تعجب ہے کہ فقیہ کا(باقی برصفحہ ایندہ)
#12755 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
علی الثالث فیزول الشقاق٭ ویحصل الوفاق٭ والله تعالی اعلم۔
یہ مسئلہ متفقہ ہوجائے گا۔ وا لله تعالی اعلم ۔ (ت)
(۱۲۳)اقول : یونہی رنگت کی پڑیاں کہ اب چلی ہیں اورہماری تحقیق میں ان کی طہارت پر فتوی ہے جب پانی میں اتنی خفیف ملیں کہ رنگنے کے قابل نہ ہوجائے اگرچہ رنگت بدل جائے۔
(۱۲۴)یونہی روشنائی جبکہ اس کے ملنے سے پانی لکھنے کے لائق نہ ہوجائے اقول یعنی اس سے حرف کا نقش نہ بنے جو بعد خشکی پڑھنے میں آئے اگرچہ پھیکا ہو۔
صنف دوم بہتی چیزیں۔
(۱۲۵ و ۱۲۶)جس پانی میں زعفران حل کیا ہواپانی یاشہاب اتنا کم پڑے کہ ان پانیوں کی رنگت اس سادہ پانی پر غالب نہ آئے اس سے وضو بالاتفاق جائز ہے۔
قال الامام ملك العلماء فی البدائع الماء المطلق اذاخالطہ شیئ من المائعات الطاھرۃ کاللبن والخل ونقیع الزبیب ونحو ذلك ینظر انکان یخالف لونہ لون الماء کاللبن
ملك العلماء نے بدائع میں فرمایا “ مطلق پانی میں جب کوئی سیال پاك چیز مل جائے جیسے دودھ سرکہ منقی کا عرق وغیرہ تو یہ دیکھا جائیگا کہ اس کا رنگ پانی کے رنگ سے مختلف ہے یا نہیں مثلا دودھ

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وبدلہ الفاضل الناقل بالمخالط فعم الزعفران وا لله المستعان ثم(۱)العجب کل العجب ان الفاضل نفسہ زاد بعد قول الغرر ان بقی رقتہ لفظۃ واسمہ ایضا اھ فقدکان یعلم ان الرقۃ لاتنفع اذازال الاسم فکیف یجعل القول الثالث مبنیاعلی الروایہ المنفیہ ۱۲ منہ غفرلہ(م)
کلام تو پتوں سے متعلق تھا اور فاضل ناقل نے اسے مخالط سے بدل دیاہے تو اس نے زعفران کو شامل کرلیا ہے و الله المستعان پھر بڑا تعجب ہے کہ خود فاضل نے غرر کے قول “ وان بقی رقتہ “ کے بعد ایك لفظ “ واسمہ ایضا اھ “ کا اضافہ کیا ہے۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ پانی کے نام کے زوال کے بعد رقت کا کوئی فائدہ نہیں تو قول ثالث کو روایت منفیہ پر مبنی کس طرح کیا جائے گا ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
#12756 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
وماء العصفر والزعفران تعتبر الغلبۃ فی اللون اھ وفی الحلیہ نقل فخر الدین الزیلعی عن الاسبیجابی ونجم الدینعــہالزاھدی عن زادالفقھاء قالوا انکان المخالط شیالونہ یخالف لون الماء مثل اللبن والخل وماء الزعفران انکانت الغلبۃ للون الماء یجوز التوضی بہ وانکان مغلوبالایجوز اھ
اقول : ولا شك ان ھذا الماء یخالف الماء المطلق فی الاوصاف الثلثۃ فعلی ضابطۃ الامام الزیلعی یعتبر تغیر وصفین فکان یحتمل ان تقتضی الضابطۃ خلاف ھذاالحکم المنقول فیمااذا غلب علی المطلق طعمہ وریحہ دون لونہ لکنہ غیر معقول لان اللون اقوی اوصافہ واسرع اثرا فان تغیر شیئ من اوصاف الماء تغبرلونہ قبلہ وان لم یتغیر شیئ فلم یحصل فی جانب الجواز خلاف۔
عصفریا زعفران کا پانی اگر ایساہے تو پانی میں رنگت کے غلبہ کااعتبارہوگااھ اورحلیہ میں ہے فخرالدین زیلعی نے اسبیجابی سے اور نجم الدین زاہدی نے زاد الفقہاء سے نقل کیا ان حضرات نے فرمایا کہ اگر ملنے والی اشیاء کا رنگ پانی کے رنگ سے مختلف ہو جیسے دودھ سرکہ اور زعفران کا پانی اور ایسی صورت میں غلبہ پانی کے رنگ کو ہو تو وضو جائز ہے اور اگر پانی کا رنگ مغلوب ہو تو وضو جائز نہیں۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس میں شك نہیں کہ یہ پانی مطلق پانی سے تینوں اوصاف میں مختلف ہوگا تو امام زیلعی کے ضابطہ کے مطابق اس میں دو۲ و صفوں کے تغیر کا اعتبار ہوگا اس میں یہ احتمال تھا کہ اس ضابطہ کی رو سے مذکور حکم کے برخلاف حکم اس صورت میں ہوتاجبکہ مطلق پانی پر مزہ اور بو کا غلبہ ہواہو نہ کہ رنگ کا۔ مگر یہ بات معقول نہیں ہے کیونکہ رنگ پانی کے اوصاف میں قوی تر اور زود اثر ہے تو اگر پانی کے اوصاف میں سے کوئی وصف بدلتا تو سب سے پہلے تو رنگ ہی بدلتا اور رنگ نہیں بدلا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی وصف نہیں بدلا تو جواز کی صورت میں کوئی اختلاف نہ رہا۔ (ت)
(۱۲۷)یوں ہی پڑیا حل کیا ہوا پانی پانی میں ملنے سے اس کی رنگت غالب نہ آئے تو وضو روا ہے۔
اقول : لانہ انکان ذاریح فکماء الزعفران والعصفر اولا فذو وصفین
میں کہتا ہوں اس لئے اگر وہ چیز خوشبودار ہو تو جیسے زعفران اور عصفر کا پانی ہے یا نہ ہو تو دو وصف
عــہ بالرفع عطفا علی فخرالدین ۱۲ منہ غفرلہ(م)
رفع کے ساتھ کیونکہ اس کا فخرالدین پر عطف ہے(ت)
حوالہ / References بدائع الصنائع مطلب الماء المطلق سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵
حلیہ
#12757 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
ولا یتغیرالطعم مالم یتغیر اللون فلا یحصل الخلاف۔
والی ہوگی اور مزہ اس وقت نہ بدلے گا جب تك رنگ نہ بدلے تو اختلاف نہ ہوا۔ (ت)

(۱۲۸)آب تربوز جسے تربوز کا شربت کہتے ہیں جس میٹھے پانی میں اتناملے کہ اس کا مزہ پانی پر غالب نہ ہوجائے اس سے بالاتفاق وضو ہوسکتا ہے۔ تبیین الحقائق وفتح القدیر وحلیہ وغنیہ ودرر وبحر وغیرہا میں ہے :
ماء البطیخ تعتبرالغلبۃ فیہ بالطعم اھ اقول ویظھر لی تقییدہ بالماء العذب کما فعلت فان الماء الملح ربماتبلغ ملوحتہ بحیث لوخلط بہ ماء الحبحب اکثر من نصفہ لم یغلب علی طعمہ بل کانت حلاوۃ ھذا ھی المغلوبۃ فاعتبار الطعم ھھنا تضییق یؤدی الی توسیع خارج عن القوانین بمرۃ فلیتنبہ۔
اقول : وھو وانکان ذاالاوصاف الثلثۃ۔ کما سیاتی لکن طعمہ اقوی فاذالم یتغیر لم یتغیر شیئ فلا یحصل الخلاف فی جانب الجواز وا لله تعالی اعلم۔
آب خربوزہ میں مزہ کے غلبہ کا اعتبار ہوگااھ اقول اور اس کو میٹھے پانی سے مقید کرنا ضروری ہے جیسا کہ میں نے کہا ہے کیونکہ کھارے پانی کی نمکینی بعض اوقات اس درجہ زیادہ ہوتی ہے کہ اگر اس میں تربوز کا پانی آدھے سے بھی زیادہ ملا دیا جائے تو اس کا مزہ نہیں بدلتا ہے بلکہ اس کی مٹھاس مغلوب ہوجاتی ہے تو یہاں مزہ کا اعتبار کرنا بڑی تنگی ہے اس سے معاملہ بہت پھیل جائے گاجو شرعی قوانین کے بالکل مخالف ہے فلیتنبہ۔ (ت)
میں کہتا ہوں وہ پانی اگر تین اوصاف والا ہو(جیسا کہ آئے گا)لیکن اس کا مزہ قوی تر ہو تو جب مزہ نہ بدلا توکوئی وصف نہیں بدلے گا تو جواز کی جانب میں کوئی خلاف نہ ہوگا و الله تعالی اعلم۔ (ت)
(۱۲۹)یوں ہی سپید انگور کاشیرہ اگر شیریں پانی میں ملے مزہ کااعتبارہے اگر اس کامزہ غالب نہ ہوا قابل وضو ہے بدائع میں ہے :
انکان لایخالف الماء فی اللون ویخالفہ فی الطعم کعصیر العنب الابیض وخلہ تعتبر الغلبۃ فی الطعم اھ اقول وقیدتہ بالعذب لما علمت وحصول الوفاق لما سمعت۔
اگر وہ پانی کے رنگ میں مخالف نہ ہو مگر مزہ میں مخالف ہو جیسے شیرہ انگور سفید اور سفید انگور کا سرکہ تو مزہ میں غلبہ کا اعتبار ہوگا اھ میں کہتا ہوں میں نے میٹھے کی قید اس لئے لگائی کہ آپ جان چکے ہیں اور اتفاق کا حاصل ہوجانا بھی آپ کو معلوم ہے۔ (ت)
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
بدائع الصنائع مطلب الماء المقید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵
#12758 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
(۱۳۰)سپید انگور کا سرکہ اگراس کا مزہ اور بو پانی پر کچھ غالب نہ آئے اس سے وضو بالاتفاق جائز ہے
اقول لانہ ذووصفین وریحہ اقوی فان تغیر ریح الماء دون طعمہ لم یجز علی قضیہ الضابطۃ خلافا للحکم المنقول المار انفا عن البدائع فلم یحصل الوفاق فی جانب الجواز الا اذالم یتغیر شیئ۔
میں کہتا ہوں اس لئے کہ اس میں دو وصف ہیں اور اس کی بو قوی تر ہے تو اگر پانی کی بو بدل گئی مزہ نہ بدلا تو ضابطہ کی رو سے وضو جائز نہ ہوگا لیکن بدائع کے حوالے سے جو حکم ابھی گزراہے یہ اس کے برخلاف ہے توجوازکی جانب میں اتفاق حاصل نہ ہوا یہ صرف اس صورت میں ہوگاجبکہ کوئی وصف نہ بدلے۔ (ت)
(۱۳۱)اور سرکے کہ رنگت بھی رکھتے ہیں اگرپانی میں اتنے ملیں کہ ان کاکوئی وصف پانی پر غالب نہ آئے یاصرف بو غالب آئے اس سے بالاتفاق وضو جائز ہے۔
اقول : وذلك لانھاذوات الثلاث ومعلوم ان ریح الخل اقوی شیئ فلا یقع ان یتغیرطعم الماء وحدہ اولونہ فقط اوھمامعالاریحہ بل امالا یتغیر(۱)شیئ او(۲)یتغیرالکل او(۳)الریح وحدہ او(۴)مع اللون او(۵)مع الطعم والعبرۃ فی الضابطۃ للغلبۃ بوصفین والمنقول الغلبۃ باللون وحدہ کمامر عن حلیہ عن الزیلعی عن الاسبیجابی وعن النجم الزاھدی عن زاد الفقھاء وتقدم عن الامام ملك العلماء فیتفق المنقول والضابطۃ فی الصورۃ الاولی والثالثۃ علی الجواز وفی الثانیہ والرابعۃ علی المنع وفی الخامسۃ تتفرد الضابطۃ بالمنع۔
میں کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تین وصف والے ہیں اوریہ معلوم ہے کہ سر کہ کی بو قوی تر شیئ ہے تو یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ صرف پانی کا مزہ بدلے یا رنگ بدلے یادونوں بدل جائیں اور بو نہ بدلے بلالکہ یا تو کچھ نہیں بدلے گا یا سب کچھ بدل جائے گایاصرف بو بدلے گی یا رنگ کے ساتھ یا مزہ کے ساتھ اور ضابطہ میں اعتبار غلبہ کو ہے دو وصفوں کے ساتھ اور جو منقول ہے وہ صرف رنگ کا غلبہ ہے جیسا کہ حلیہ سے زیلعی سے اسبیجابی سے اور نجم زاہدی سے زاد الفقہا سے گزرا اور امام ملك العلماء سے بھی یہی منقول ہواہے اس لئے نقل اور ضابطہ میں اتفاق ہوگیا پہلی صورت اور تیسری میں اتفاق جواز پر ہے اور دوسری اورچوتھی میں عدم جواز پر اور پانچویں صورت میں ضابطہ کی رو سے عدم جواز ہے۔ (ت)
(۱۳۲) اقول : اگر کوئی ذی لون سرکہ ایساہو کہ اس کامزہ اس کے سب اوصاف سے اقوی ہو کہ اس کا قلیل سب سے پہلے پانی کے مزے کو بدلے اس سے زاید ملے تو بویا رنگ میں تغیر آئے اس صورت میں
#12759 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اگر پانی کا کوئی وصف نہ بدلے یا صرف مزہ متغیر ہو تو اس سے وضو بالاتفاق جائز ہے لعدم غلبۃ اللون فی المنقول ولا تغیروصفین فی الضابطۃ (کیونکہ رنگ کا غلبہ نہیں ہے منقول میں اور دو وصفوں کا تغیر نہیں ہے ضابطہ میں۔ ت)
(۱۳۳)اقول اور اگر بالفرض اس کی رنگت سب سے قوی تر اور پہلے اثر کرنے والی ہو تو اس کے ملنے سے وضو بالاتفاق اسی وقت جائز ہوگاکہ اس کے کسی وصف میں تغیر نہ آئے لان ای وصف منہ تغیر تغیرلونہ وبہ العبرۃ فی المنقول(کیونکہ اس کا جو وصف بھی بدلے گا اس کا رنگ بھی بدل جائے گا اور منقول میں اسی کا اعتبار ہے۔ ت)
(۱۳۴) دودھ سے اگر پانی کا رنگ نہ بدلادودھ کا رنگ اس پر غالب نہ ہوگیااس سے وضو بالاتفاق روا ہے۔
اقول : یہ ہے وہ حکم متفق علیہ کہ فقیر نے کلمات کثیرہ مختلفہ سے حاصل کیا وذلك لان الاقوال جاء ت ھھنا علی خمسۃ وجوہ (یہاں پانچ اقوال ہیں) (ا) یجوز مطلقا (ا) مطلق جواز ہے
اقول : ای مالم یغلب علی الماء اجزاء فانہ معلوم الاستثناء اجماعا۔ (ب)یجوز ان غیر احد اوصافہ وستعرف ان العلماء اختلفوا فی اخذ احد ھذا فی مرتبۃ لابشرط شیئ فیشمل مااذاغیر غیر واحد ولو الکل وحینئذ یرجع الی القول الاول اوفی مرتبۃ بشرط لاشیئ فیتقید بما اذا اقتصر التغیر علی وصف واحد ولولونا۔
(ج)یجوز ان لم یغیر اللون۔
(ع)ان لم یغیر اللون ولا الطعم۔
(ھ)ان لم یغیرھما معا ففی عمدۃ ۱ القاری شرح صحیح البخاری للامام
میں کہتا ہوں اس سے مراد یہ ہے کہ جب تك پانی پر اس کے اجزاء کا غلبہ نہ ہو کیونکہ یہ اجماعی طور پر معلوم الاستثناء ہے۔
(ب)جائز ہے اگر اس کے اوصاف میں سے کسی ایك کو بدلا ہو اور یہ عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ علماء نے اس کو لابشرط شیئ کے مرتبہ میں قبول کرنے سے اختلاف کیاہے تو یہ اس صورت پر بھی صادق آئے گا جب پانی کا ایك سے زاید وصف بدل گیاہو خواہ سب اوصاف ہی بدل گئے ہوں اوراس وقت پہلے قول کی طرف رجوع کرنا ہوگا یا یہ بشرط لاشیئ کے مرتبہ میں ہو تو یہ صرف اسی صورت میں منحصر رہیگا جبکہ تغیر ایك ہی وصف میں ہو خواہ رنگ ہی بدلا ہو۔
(ج)جائز ہے اگر رنگ کو نہ بدلا ہو۔
#12760 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
البدرمحمود التوضو بماء خالطہ لبن یجوز عندناخلافا للشافعی اھ وفی متن الھدایہ تجوز الطھارۃ بماء خالطہ شیئ طاھر فغیر احد اوصافہ کالماء الذی اختلط بہ اللبن اھ واقرہ فی العنایہ وغیرھاوسمعت۳ نصوص الحلیہ عمن ذکروا والبدائع ان العبرۃ باللون وقال۴ فی التبیین المخالط ان کان مخالفاللماء فی وصف واحدا ووصفین تعتبر الغلبۃ من ذلك الوجہ کاللبن مثلا یخالفہ فی اللون والطعم فان کان لون اللبن اوطعمہ ھوالغالب فیہ لم یجز الوضوء بہ و الاجاز اھ وھکذا عبربہ تبعالہ فی الحلیہ و البحر وغیرھما بلفظۃ اوللتردیدواتی بہ فی الغنیہ قاطعا لوھم خطأالکتابۃ فقال وان خالف الماء فی وصفین کاللبن یخالفہ فی اللون والطعم فالمعتبر ظھور غلبۃ احد الوصفین بل افصح بہ کذلك الزیلعی (ع)اگر نہ رنگ بدلا ہو اور نہ مزہ۔
(ھ)اگر رنگ اور مزہ دونوں کو اکٹھا نہ بدلاہو امام بدر محمودکی عمدۃ القاری شرح بخاری میں ہے کہ ہمارے نزدیك اس پانی سے وضو جائز ہے جس میں دودھ مل گیا ہو اس میں شافعی کا اختلاف ہے اھ اور متن ہدایہ میں ہے اس پانی سے طہارت جائز ہے جس میں کوئی پاك چیز مل گئی ہو اور اس نے پانی کے کسی ایك وصف کو بدل دیا ہو جیسے وہ پانی جس میں دودھ مل گیا ہو اھ اور اس کو عنایہ وغیرہ میں برقرار رکھا حلیہ اور بدائع کی تصریحات گزر چکی ہیں کہ اعتبار رنگ کا ہے اور تبیین میں ہے کہ ملنے والی چیز اگر پانی سے ایك یا دو اوصاف میں مختلف ہو تو اسی وجہ سے غلبہ کااعتبار ہوگا مثلا دودھ پانی سے رنگ اور مزہ میں مختلف ہے تو اگر دودھ کا رنگ یامزہ اس میں غالب ہو تو اس سے وضو جائز نہ ہوگا ورنہ جائز ہوگا اھ(ت)اور اسی طرح انہوں نے اس کی تعبیر کی ان کی اتباع کرتے ہوئے حلیہ اور بحر وغیرہ میں اوکے کلمہ کے ساتھ جو تردید کے لئے ہوتاہے اور غنیہ میں اس کو اس انداز سے ذکر کیا کہ کتابت کی غلطی کا وہم نہ رہے چنانچہ فرمایا اور اگر وہ چیز پانی سے دو وصفوں میں مخالف ہو جیسے دودھ کہ پانی سے رنگ اور مزہ میں مختلف
حوالہ / References عمدۃ القاری باب لایجوز الوضوء بالنبیذ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ مصر ۳ / ۱۷۹
ہدایہ باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوز مطبع عربیہ کراچی ۱ / ۱۸ نوٹ : اللبن کی جگہ پر کتاب مذکور میں الزعفران ہے۔
تبیین الحقائق کتاب الطہارت الامیریہ مصر ۱ / ۲۰
غنیۃ المستملی فصل فی بیان احکام الماء مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ۹۱
#12761 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
فی اخر الکلام لکن۵ المحقق فی الفتح مع نقلہ عن التبیین عبربالواوفقال اوفی بعضھا فبغلبۃ مابہ الخلاف کاللبن یخالف فی الطعم واللون فان غلب لونہ وطعمہ منع والاجاز وکذلك فی الدرر واعترضہ الشرنبلالی فقال یجب ان یقال لونہ اوطعمہ باولابالواو کما قال الزیلعی المقتحم لھذا الضابط اھ واجاب العلامۃ عبد الحلیم بانہ فی اللبن صفتان یغایر بھما الماء المطلق احدھما اقوی من الاخری لماان تغیر اللون یحصل فیہ بالقلیل فکان الغلبۃ ان توجد الاخری وذا کالبدیھی ومن ذلك لم یقل اوطعمہ باوکمافی عبارۃ الزیلعی ردا علیہ اھ
اقول : اولا(۱)ان ارادالقلیل بالنسبۃ الی الماء فنعم ولکن لانظرھھناالی الاجزاء باجماع اھل الضابطۃ التی صاحب الدررھھنابصددبیانھا
وانماالعبرۃ بھافیمایوافق الماء فی الاوصاف وقد(۲)مشی
ہوتا ہے تو اعتبار ایك وصف کے غلبہ کے ظہور کا ہوگا بلالکہ اسی طرح اس کی وضاحت زیلعی نے کلام کے آخر میں کر دی لیکن محقق نے فتح القدیر میں تبیین سے نقل کرتے ہوئے واؤ سے تعبیر کیا اور کہا یا بعض میں اختلاف ہو تواس صورت میں اس چیزکے غلبے کااعتبار ہوگا جس کی وجہ سے اختلاف ہے جیسے دودھ کہ پانی سے مزہ اور رنگ میں مخالف ہوتاہے تو اگر اس کا رنگ اور مزہ غالب ہوجائے تو اس سے طہارت نہیں ہوسکتی ہے ورنہ جائز ہے اس طرح درر میں ہے اس پر شرنبلالی نے اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ لونہ اوطعمہ کہنا چاہئے او کے ساتھ واؤ کا استعمال نہ کرنا چاہئے جیسا کہ زیلعی نے کہا جو اس ضابطہ کے تکلف میں پڑنے والے ہیں علامہ عبدالحلیم نے جواب دیا کہ دودھ میں دو صفات ہیں جن کی وجہ سے وہ مطلق پانی سے ممتازہوتا ہے ایك صفت دوسری سے قوی تر ہے کیونکہ اس میں رنگ کا تغیر تھوڑی سی مقدار سے ہی حاصل ہوجاتاہے تو غلبہ یہ ہوگا کہ دوسری صفت پائی جائے اوریہ بدیہی کی طرح ہے اور اس لئے “ اوطعمہ “ نہ کہا “ او “ کے ساتھ جیسے کہ زیلعی میں ہے تاکہ اس پر رد ہوجائے اھ۔ (ت)میں کہتا ہوں اول اگر تو وہ اسکو بہ نسبت پانی کے قلیل کہتے ہیں تودرست ہے لیکن اہل ضابطہ کے اجماع سے یہاں اجزاء پر نظر نہیں کی جاتی ہے اس ضابطہ سے مراد وہ ضابطہ ہے جس کو صاحب درریہاں بیان کر رہے ہیں ان اجزاء کا اعتبار ان اوصاف میں ہے جو پانی
حوالہ / References فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء مالایجوز بہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۵
حاشیہ علی الدرر للشرنبلالی ابحاث الماء المطبعۃ الکاملیہ بیروت ۱ / ۲۳
حاشیہ علی الدرر للمولی عبدالحلیم بحث الماء ۱ / ۱۸
#12762 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
علیہ الدرر ھھنافجعلہ حکم مالایخالف الماء فی صفۃ وجعل اللبن قسیمہ لاسھیمہ وان اراد القلیل فی نفسہ فھو ھھناالمغلوب المستھلك الذی لایظھرلہ اثر بین واللبن اذااحال الماء الی لونہ کیف یعد قلیلا۔
وثانیا : ھذا(۱)ھو قضیہ القیاس فی الضابط لان ماخالف الماء فی الاوصاف الثلثۃ اعتبر فیہ الغلبۃ بوصفین لان للاکثر حکم الکل وما خالف فی وصف واحد اعتبر فیہ الغلبۃ بہ بقی ماخالف فی وصفین فان غلب بھما معا فلا کلام وان غلب باحدھما کان الغلبۃ بالنصب والنصف احق ان یلحق بالکل من ان یطرح بالکلیہ ھذا ولکن الحق عندی فی اللبن علی الضابط المذکور ان تعتبر فیہ الغلبۃ بوصفین اثنین لابوصف واحد(۲)لان اللبن مما یخالف الماء فی الاوصاف الثلثۃ جمیعا ولخفاء رائحتہ غالبا ولواغلی لظھرت ذھب الوھم الی انہ لایخالف الا فی وصفین وقد قال العلامۃ الرملی فی حاشیہ البحر ثم الشامی فی المنحۃ وردالمحتار المشاھد فی اللبن مخالفتہ للماء فی الرائحۃ ایضا اھ
کے موافق ہوں اوصاف میں اور درر نے یہاں ان کو بیان کیا ہے تو انہوں نے اس کو اس چیز کا حکم قرار دیاجو پانی کے مخالف نہ ہو کسی صفت میں اور دودھ کو اس کا قسیم قرار دیا نہ کہ اس کا سہیم اور اگر فی نفسہ کم کا ارادہ کیا تو وہ یہاں نہ ہونے کے برابر ہے جس کاکوئی واضح اثرظاہر نہیں ہوتا ہے جس کا کوئی واضح اثر ظاہر نہیں ہوتا ہے اور جب پانی دودھ کا رنگ اختیار کرے تو دودھ کو کس طرح کم کہا جاسکتا ہے(ت)
اور دوم یہ ہے کہ یہ ضابطہ میں قیاس کا تقاضا ہے کیونکہ جو چیز پانی کے اوصاف ثلثہ میں پانی سے مختلف ہے اس میں معتبر دو صفوں کا غلبہ ہے کیونکہ اکثر کیلئے کل کا حکم ہے اور جو چیز پانی سے ایك وصف میں مختلف ہو اس میں ایك وصف کا غلبہ معتبر ہوگا اب صرف وہ چیز رہ گئی جو دو صفوں میں پانی کے مخالف ہو اگر دونوں وصفوں میں پانی کے مخالف ہو اگر دونوں وصفوں میں اکٹھا غلبہ ہوجائے تب تو بات واضح ہے اور ایك میں غلبہ ہو تو غلبہ آدھے سے ہوگا اور نصف اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کو کل سے ملایا جائے نہ یہ کہ اس کو بالکلیہ ساقط کیا جائے اس کو یاد رکھئے۔ لیکن میرے نزدیك حق اس ضابطہ کے مطابق یہ ہے کہ اس میں دو وصفوں کے غلبہ کا اعتبار کیا جائے نہ کہ ایك وصف کا کیونکہ دودھ پانی سے تینوں وصفوں میں مخالف ہوتا ہے چونکہ اس کی بو بہت ہلکی ہوتی ہے ابالنے پر ظاہر ہوتی ہے اس لئے یہ وہم ہوتا ہے کہ وہ صرف دو وصفوں میں مخالف ہوتا ہے علامہ رملی نے بحر کے حاشیہ میں فرمایا شامی
حوالہ / References منحۃ الخالق علی البحر کتاب الطہارۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
#12763 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اقول : غیران اقوی اوصاف اللبن لونہ ثم طعمہ ثم ریحہ ولا یتغیر بہ فی الماء وصف لاحق الا وقد سبقہ سابقہ فاذا تغیر شیئ منھا فقد تغیر اللون واذا لم یتغیر اللون لم یتغیر شیئ منھا فاتفقت الاقوال علی جواز الوضوء بماء خالطہ لبن لم یتغیر لونہ وبہ ظھر ان تردیر(۱)الامام الزیلعی مستغنی عنہ فان تغیر الطعم مستلزم تغیر اللون فکان ینبغی الاقتصار علی اللون کما فعل المتقدمون وقد نقلہ الزیلعی عن الاسبیجابی کما علمت وا لله تعالی اعلم۔
نے منحۃ میں اور ردالمحتار میں فرمایا کہ دودھ پانی سے بو میں بھی مخالف ہے اھ(ت)
میں کہتا ہوں دراصل دودھ کے اوصاف میں قوی تر اس کا رنگ ہے پھر مزہ اور پھر بو ہے اور اس سے پانی کا جو وصف لاحق بھی متغیر ہوتا ہے اس سے قبل کوئی سابقہ ضرور ہوتا ہے تو جب ان اوصاف میں کوئی تغیر ہوتا ہے تو رنگ ضرور بدلتا ہے اور جب رنگ نہ بدلے تو کوئی وصف نہیں بدلتا ہے تو تمام اقوال اس پر متفق ہیں کہ اس پانی سے وضو جائز ہے جس میں دودھ ملا ہو اور اس کا رنگ نہ بدلا ہو اور اس سے یہ معلوم ہوا کہ امام زیلعی کا “ او “ کہنا ضرور کا نہیں کیونکہ مزہ کا بدل جانا رنگ کے بدل جانے کو مستلزم ہے تو رنگ پر اکتفاء کرنا چاہئے تھا جیسا کہ متقدمین نے کیا ہے اس کو زیلعی نے اسبیجابی سے نقل کیا جیسا کہ آپ نے جان لیا و الله تعالی اعلم۔ (ت)
تذییل اقول : (۱۳۵)انڈے جس پانی میں نیم برشت کے قابل وضو ہے اگر انڈے پاك تھے۔
(۱۳۶)آہن تاب سیم تاب زرتاب یعنی جس پانی میں لوہا یا چاندی یا سونا تپاکر بھجایا لبقاء الاسم والطبع اقول : اگرچہ اس سے پانی کی بعض رطوبات کم ہوں گی اس میں ان فلزات کی قوت آئے گی من وجہ ایك دوا وعلاج ہوگا مگر وہ کوئی شے غیر نہ ہوجائیگا پانی ہی تھا اور پانی ہی رہے گا یہ عمل پانی ہی کی اصلاح کو ہے نہ کہ اس سے کوئی اور چیز بنانے کو۔
(۱۳۷)باوضو شخص یا نابالغ نے اگرچہ بے وضو ہو اعضاء ٹھنڈے یا میل دور کرنے کو جس پانی سے وضو یا غسل بے نیت قربت کیا۔
(۱۳۸)معلوم تھا کہ عضو تین بار دھو چکا ہے اور پانی ہنوز خشك بھی نہ ہوا تھا چوتھی بار بلاوجہ ڈالا یہ پانی قابل وضو رہے گا یہاں تك کہ یہ پانی کسی برتن میں لے لیا تو اس سے وضو میں کوئی عضو دھو سکتے ہیں یا اگرچہ چوتھی بار ہاتھ پر اس طرح ڈالا کہ پاؤں پر گر کر بہہ گیا اتنا پاؤں پاك ہوگیا۔
#12764 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
(۱۳۹)جسے حاجت غسل نہیں اس نے اعضائے وضو کے سوا مثلا پیٹھ یا ران دھوئی اگرچہ اپنے زعم میں قربت کی نیت کی۔
(۱۴۰)باوضو یا نابالغ نے اگرچہ بے وضو ہو کھانا کھانے کو یا کھانے کے بعد ویسے ہی ہاتھ منہ صاف کرنے کو ہاتھ دھوئے کلی کی اور ادائے سنت کی نیت نہ کی۔
(۱۴۱)باوضو یا نابالغ نے صرف کسی کو وضو سکھانے کی نیت سے وضو کیا۔
(۱۴۲)مسواك کرنے کے بعد اسے دھو کر رکھنا سنت ہے کمابینا فی بارق النور(جیسا کہ “ بارق النور “ میں بیان کیا گیا۔ ت)یہ پانی۱ اگرچہ اس سے ادائے سنت ہوگا قابل وضو رہے گا کما حققنا فی الطرس المعدل ان الشرط استعمالہ فی بدن الانسان(جیسا کہ ہم نے “ الطرس المعدل “ میں ثابت کیا ہے کہ پانی کے مستعمل ہونے کیلئے پانی کا بدن انسان پر استعمال ہونا شرط ہے۔ ت)مگر مکروہ ہوگا کہ لعاب دہن کو دھوئے گا کما تقدم عن الخانیہ
(۱۴۳)مسواك ۲کرنے سے پہلے بھی اسے دھونا سنت ہے یہ پانی مکروہ بھی نہ ہوگا اگر مسواك نئی ہے یا پہلے دھل چکی ہے۔
(۱۴۴)آداب۳ وضو سے ہے کہ آفتابہ اگر دستہ دار ہے غسل اعضاء کے وقت دستہ پر ہاتھ رکھے اس کے سر پر نہیں اور دستہ کو تین پانیوں سے دھولے۔ فتح القدیر پھر ردالمحتار وغیرہما میں ہے :
منھا ای من اداب الوضوء ان یغسل عروۃ الابریق ثلثا ووضع یدہ حالۃ الغسل علی عروتہ لاعلی رأسہ اھ ومثلہ فی الحلیہ بغیر ثلثا۔
ان سے یعنی آداب وضو سے یہ ہے کہ لوٹے کے دستے کو تین مرتبہ دھویا جائے اور غسل کے وقت ہاتھ دستے پر ہی رکھا جائے نہ کہ سر پر اور ایسا ہی حلیہ میں ہے مگر ثلثا کا لفظ نہیں ہے۔ (ت)
(۱۴۵)کوئی پاك کپڑا دھویا اگرچہ ثواب کے لئے جیسے ماں باپ کے میلے کپڑے۔
(۱۴۶)کھانے کے برتن جن میں کھانا پکایا یا اتارا تھا دھوئے اگرچہ ان میں سالن وغیرہ کے لگاؤ سے پانی کے اوصاف بدل گئے جب تك رقت باقی رہے اگرچہ اس دھونے سے سنت تنظیف کی نیت ہو۔
(۱۴۷)یوں ہی جس پانی سے سل یا پتھر دھویا اگرچہ مسالے کے اثر سے اوصاف میں تغیر آیا اور پانی گاڑھا نہ ہوا۔
(۱۴۸)برادہ صاف کرنے کو برف دھویا اور برادہ نے پانی کی رقت پر اثر نہ کیا۔
حوالہ / References ردالمحتار کتاب الطہارۃ مصطفی البابی مصر ۱ / ۹۲
#12765 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
(۱۴۹)چپك صاف کرنے کو آم یا کسی قسم کے پھل دھوئے۔
(۱۵۰)تختی دھوئی اور سیاہی سے پانی گاڑھا نہ ہوا۔
(۱۵۱)پکا فرش گردوغبار سے پاك کرنے کو دھویا اگرچہ مسجد کا بہ نیت قربت۔
(۱۵۲)ناسمجھ بچے نے وضو کیا۔
(۱۵۳)نابالغ کو نہلایا۔
(۱۵۴)گھوڑے وغیرہ کسی جانور کو نہلایا اگرچہ ان دونوں سے نیت ثواب کی ہو جبکہ ان تینوں کے بدن پر کوئی نجست نہ ہو یہ سب پانی قابل وضو ہیں۔
(۱۵۵)دفع نظر کے۱ لئے نظر لگانے والے کے بعض اعضاء دھو کر چشم زدہ کے سر پر ڈالنے کا حکم ہے جس کا مفصل بیان ہماری “ کتاب منتہی الآمال فی الاوفاق والاعمال “ میں ہے وہ اگر باوضو تھا یہ پانی قابل وضو رہنا چاہئے اگرچہ اس نے یہ امتثال امر واذا استغسلتم فاغسلوا(اگر تم سے دھونے کا مطالبہ کیا جائے تو دھو ڈالو۔ ت)نیت قربت کی ہو تأمل وراجع ماقررنا من شرائط الاستعمال فی رسالتنا الطرس المعدل(غور کرو اور ہم نے اپنے رسالہ الطرس المعدل میں پانی کے مستعمل ہونے کی جو شرائط بیان کی ہیں ان کی طرف رجوع کرو۔ ت)
(۱۵۶) دلھن کو۲ بیاہ کر لائیں تو مستحب ہے کہ اس کے پاؤں دھو کر مکان کے چاروں گوشوں میں چھڑکیں اس سے برکت ہوتی ہے یہ پانی بھی قابل وضو رہنا چاہئے اگر دلھن باوضو یا نابالغہ تھی کہ یہ اور اس کا سابق از قبیل اعمال ہیں نہ ازنوع عبادات اگرچہ نیت اتباع انہیں قربت کردے و الله تعالی اعلم۔
(۱۵۷)حائض ونفسا نے قبل انقطاع دم بے نیت قربت غسل کیا یہ پانی بھی قابل وضو ہے۔
(۱۵۸)مرد کے وضو وغسل سے جو پانی بچا قابل طہارت بلاکراہت ہے اگرچہ عورت اس پانی سے طہارت کرے بخلاف عکس کہ مکروہ ہے کما تقدم۔
(۱۵۹)بعض دوائیں مغسول استعمال کی جاتی ہیں جیسے یا قوت وشادنج وحجرار منی وگل ارمنی ولك وتوتیا وشنجرف ومرد اسنج وغیرہا کہ خوب باریك پیس کر پانی میں ملاتے ہیں جو غبارسا ہو کر پانی میں مل جائے یا جس میں سنگریزہ رہے پھینك دیا جائے اب یہ آب غبار آمیز ڈھانك کر رکھ چھوڑیں یہاں تك کہ وہ غبارتہ نشین ہو کر پانی سے جدا ہوجائے اس وقت پانی نتھار کر دوا استعمال میں لائیں یہ پانی بھی قابل وضو ہے اگر بے وضو ہاتھ نہ لگا ہو۔
(۱۶۰)حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا موئے مبارك یا جبہ مقدسہ یا نعل شریف یا
#12766 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
کاسہئ مطہرہ تبرك کیلئے جس پانی میں دھویا قابل وضو ہے اگرچہ اس میں قصد قربت بھی ہوا۔ ہاں(۱)پاؤں پر نہ ڈالا جائے کہ خلاف ادب ہے اگر منہ پر جاری کیا منہ کا وضو ہوگیا ان کا تو نام پاك لینے سے دل کا وضو ہو جاتا ہے صلی ا لله تعالی علیہ وسلم وعلی الہ وصحبہ وبارك وسلم وعلی ابنہ الکریم الغوث الاعظم وا لله سبحنہ وتعالی اعلم۔ الحمد اللہ ان پاك کرنے والے پانیوں کی ابتدا زمزم شریف بلالکہ اس آب اقدس سے ہوئی جو انگشتان مبارك حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے بکمال رحمت جوش زن ہوا اور انتہا اس پانی پر ہوئی جو حضور کے آثار شریفہ کو دھو کر برکات عالیہ کا منبع ومخزن ہوا والحمد لله رب العلمین وصلی ا لله تعالی علی سیدنا ومولانا والہ وصحبہ اجمعین امین۔
قسم دوم جن سے وضو صحیح نہیں۔
(۱۶۱)آب نجس۔ (۱۶۲)مستعمل کہ ہمارے رسالہ الطرس المعدل میں جس کا بیان مفصل۔
(۱۶۳ تا ۱۶۵)گلاب کیوڑا بید مشک ہدایہ وخانیہ میں ہے :
لابماء الورد اھ ومثلہ فی خزانۃ المفتین عن شرح مجمع البحرین وعد فی السعدیہ مع ماء الوردماء الھند باوماء الخلاف واشباھھا ۔
نہ گلاب کے پانی سے اھ اور اسی کی مثل خزانۃ المفتین میں شرح مجمع البحرین سے ہے اور سعدیہ میں گلاب کے پانی کے ساتھ عرق ہندبا عرق خلاف وغیرہ کو بھی شمار کیا۔ (ت)
منیہ وغنیہ میں ہے :
(لایجوز)الطھارۃ الحکمیہ(بماء الورد)وسائر الازھار ۔
طہارت حکمیہ گلاب اور دوسرے پھولوں کے پانی سے جائز نہیں ہے۔ (ت)
(۱۶۶)عرق گاؤ زبان وعرق بادیان وعرق عنب الثعلب وغیرہا جتنے عرق کشید کئے جاتے ہیں کسی سے وضو جائز نہیں وتقدمت فی ۱۱۱ عبارۃ البحر فی الماء الذییؤخذ بالتقطیر من لسان
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ فصل فیما لایجوزبہ التوضو نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۱
السعدیہ
غنیہ المستملی فصل فی بیان احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۹
#12767 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
الثور ولفظ الدرر والمستخرج من النبات بالتقطیر
(بحر کی عبارت اس پانی کی بابت جو عمل تقطیر سے گاؤ زبان سے نکالا جائے اور درر میں ہے کہ جڑی بوٹیوں کا پانی جو تقطیر سے نکالا جائے ۱۱۱ میں گزر چکی ہے۔ ت)
(۱۶۷ ۱۶۸)آب کا سنی آب مکوہ اگرچہ مروق ہوں کہ اجزائے کثیفہ جدا ہو کہ زیادہ رقیق ولطیف ہوجاتے ہیں ومرکلام سعدی افندی۔
(۱۶۹)وہ پانی کہ زعفران سے نکالا جائے وتقدم کلام الغنیہ فی ۱۲۵(اور غنیہ کا کلام ۱۲۵ میں گزرا۔ ت)
(۱۷۰ تا ۱۷۹)خربوزہ تربوز ککڑی کھیرے سیب بہی انار کدو وغیرہا میووں پھلوں کا عرق کہ ان سے نکلتا یا نچوڑ کر نکالا جاتا ہے یوں ہی گنے کا رس اور بالخصوص وہ پانی کہ کچے ناریل کے اندر ہوتا ہے جو پگھل کر پانی نہ ہوا بلالکہ ابتداء پانی ہی تھا۔
(۱۸۰)اس سے بھی زیادہ قابل تنبیہ وہ پانی ہے کہ سنا گیا خط استوأ کے قریب بعض وسیع ریگستانوں میں جہاں دور دور تك پانی نہیں ملتا ریتے کے نیچے ایك تربوز نکلتا ہے جس میں اتنا پانی ہوتا ہے کہ سوار اور اس کے گھوڑے کو سیراب کردے رحمت نے بے آب جنگل میں حیات انسان کا یہ سامان فرمایا ہو تو کیا دور ہے مگر وہ پانی اگرچہ نتھرے خالص پانی کی طرح ہو اور اس تربوز میں اس کے سوا کچھ نہ ہو جب بھی قابل وضو نہیں کہ ثمر کا پانی ہے مائے مطلق کے تحت میں نہیں آسکتا۔ رہا وضو اس کیلئے بحمد اللہ وہ رحمت عامہ موجود ہے جو صدیقہ بنت الصدیق محبوبہئ محبوب رب العلمین جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ وعلیہما وسلم کے صدقہ میں ہر مسلمان کے لئے ہر جگہ موجود ہے کہ
تیمموا صعیدا طیبا جعلت لی الارض مسجد او طھورا اقول : (۱)وھنالك یظھر ان الاعتصار لامفھوم لہ وان احتج بہ بعض الکبراء علی جواز الوضوء بقاطر الکرم کما سیاتی وا لله تعالی اعلم۔
پاك مٹی سے تمیم کرو میرے لئے زمین مسجد اور پاك کرنے والی بنا دی گئی ہے۔ میں کہتا ہوں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعتصار کا کوئی مفہوم مخالف نہیں اگرچہ بعض اکابر نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ انگور سے ٹپکنے والے پانی سے وضو جائز ہے کما سیاتی و الله تعالی اعلم۔
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۹
الدرر الحکام للمولی خسرو بحث الماء الکاملیہ بیروت ۱ / ۲۳
جامع للبخاری کتاب التمیم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۸
#12768 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
خانیہ وہندیہ میں ہے :
لایجوز التوضوء بماء البطیخ والقثاء والقثد اھ وفی خزانۃ المفتین عن شرح مجمع البحرین مکان القثد وماء الخیار
وضوء جائز نہیں ہے خربوز ککڑی اور کھیرے کے پانی سے اھ اور خزانۃ المفتین میں شرح مجمع البحرین سے قثد(کھیرے)کے بجائے ماء الخیار(ککڑی کا پانی)ہے۔ (ت)
منیہ وغنیہ میں ہے :
(لاتجوز بماء الثمار)مثل التفاح وشبھہ وذکر فی الجوھرۃ ماء الدباء ویاتی۔
طہارت پھلوں کے پانی سے جائز نہیں جیسے سیب اور اس کے مشابہ اھ اور جوہرہ میں ذکر کیا کدو کا پانی اور یہ آئیگا۔ (ت)
خانیہ میں ہے :
لایجوز التوضوء بماء الفواکہ ۔
پھلوں کے پانی سے وضو جائز نہیں۔ (ت)
یونہی وہ پانی کہ کسی درخت کی شاخیں یا پتے کوٹ کر نکالا جائے۔ خزانۃ المفتین میں شرح مجمع البحرین سے ہے :
لایجوز الوضوء بماء القضبان ۔
قضبان(کٹی ہوئی شاخوں)کے پانی سے وضو جائز نہیں۔ (ت)
(۱۸۳ تا ۱۸۵)شربت انار شیریں شربت انارترش شربت انگور وغیرہا جتنے شربت قوام میں بنائے جاتے ہیں ہدایہ میں ہے : لایجوز بالاشربۃ (شربتوں سے وضو جائز نہیں۔ ت)
حوالہ / References فتاوٰی ہندیہ فصل فیما لایجوزبہ التوضوء نورانی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۱
فتاوٰی قاضی خان فصل فیما لایجوزبہ التوضوء نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
غنیہ المستملی احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۸
جوہرۃ نیرۃ ابحاث الماء امدادیہ ملتان ۱ / ۱۴
فتاوٰی قاضی خان فیما لایجوزبہ التوضو نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
خزانۃ المفتین
ہدایہ الماء الذی یجوزبہ الوضو عربیہ کراچی ۱ / ۱۸
#12769 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
عنایہ میں ہے : کشرب الرمان والحماض (جیسے انار اور حماض(ایك قسم کی گھاس)کا پانی۔ ت)شلبیہ علی التبیین میں مستصفی سے ہے :
الاشربۃ المتخذۃ من الشجر کشراب الریباس ومن الثمر کالرمان والعنب اھ ووقع فی الدرر بعد ماقال لابما اعتصر من شجر اوثمر ولا بماء زال طبعہ بالطبخ کشراب الریباس مانصہ وھذہ العبارۃ احسن مما قیل کالاشربۃ فانہ علی عمومہ مشکل اھ۔
اقول : ھو کما تری(۱)نص الھدایہواقرہ الشراح ومثلہ فی مختصرالقدوری والوافی والوقایہ و الاصلاح والملتقی والبدائع والخانیہ والخلاصۃ وشرح مجمع البحرین وخزانۃ المفتین والغنیہ والھندیہ وغیرھامما لایکاد یحصی(۲) سبحن ا لله مالی اعد الکتب وھو نص صاحب المذھب ففی الجامع الصغیرمحمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رضی ا لله تعالی عنہم لایتوضو بشیئ من الاشربۃ غیرنبیذ التمر اھ ولا ادری
درختوں سے حاصل کے ہوئے عرق جیسے ریباس(چقندر کی طرح ایك سبزی)کا عرق اور پھلوں کا رس جیسے کہ انگور اور انار کا رس۔ اور درر میں لابما اعتصر من شجر اوثمر الخ کے بعد ہے کہ نہ اس پانی سے جس کی طبیعت پکانے کی وجہ سے بدل گئی ہو جیسے ریباس کا عرق ان کی عبارت یہ ہے اور یہ عبارت اس قول سے بہتر ہے کہ کالاشربۃ کیونکہ اس کو عموم پر رکھنا مشکل ہے اھ(ت)
میں کہتا ہوں وہ جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں ہدایہ کا نص ہے اورشراح نے اس کو برقرار رکھا ہے اور اس کی مثل مختصر القدوری میں ہے نیز وافی وقایہ اصلاح ملتقی بدائع خانیہ خلاصہ شرح مجمع البحرین خزانۃ المفتین غنیہ اور ہندیہ وغیرہ لاتعداد کتابوں میں ہے سبحاناللہ میں کتابیں کیوں گنواؤں یہ تو صاحب مذہب کی تصریح ہے چنانچہ جامع صغیر میں روایت ہے محمد روایت کرتے ہیں یعقوب سے ابو حنیفہ سے مروی ہے کہ سوائے نبیذ تمر کے کسی عرق سے وضو نہ کیا جائے اھ اور میں نہیں سمجھتا کہ اس کے عموم میں کیا اشکال ہے اور اس کے
حوالہ / References عنایہ مع الفتح الماء الذی یجوزبہ الوضوء الخ عربیہ کراچی ۱ / ۱۸
شلبیہ مع التبیین کتاب الطہارت الامیریہ مصر ۱ / ۱۹
درر الاحکام کتاب الطہا رۃ دارالسعادۃ مصر ۱ / ۲۳
جامع الصغیر فیما لایجوزبہ التوضو یوسفی لکھنؤ ص۸
#12770 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
ای اشکال فی عمومہ ولم یتکلم(۱)علیہ ناظروہ الشرنبلالی وعبدالحلیم والحسن العجیمی واتی الخادمی عــــہ بمالایغنی وا لله تعالی اعلم۔ دیکھنے والوں نے اس پر کلام نہیں کیاجن میں شر نبلالی عبدالحلیم اور حسن عجیمی شامل ہیں اور خادمی نے بہت سی باتیں کی ہیں جو بے نیاز نہیں کرتیں و الله تعالی اعلم۔ (ت)
عــــہ : اذقال انہ علی عمومہ مشکل اذالا شربۃ فی الاصل اسم لکل مایشرب فشامل لنحو ماء التمر وغیرہ والمقصود ھھنا الاختصاص بشراب الریباس کما فھم من الایضاح فافھم اھ
اقول : ترکھم(۲)التکلم احسن من ھذا والمقصود اعطاء حکم عام وتمثیلہ بجزئی لاتخصیص الکلام بالجزئی والاشربۃ فی العرف ھی ھذہ المتخذۃ من الثمار والاشجار والا فالماء ایضا شراب
هذا مغتسل بارد و شراب ولا شك ان الحکم یعمھا فان قلت ھو رحمہ ا لله تعالی یمیل الی جواز التوضی بنبیذ التمرلقولہ فی سؤر الحمار(یتوضو بہ ویتیم ان عدم غیرہ بخلاف نبیذ التمر)حیث یتوضو بہ عند ا بی حنیفۃ وان قال ابو یوسف بالتیمم فقط ومحمد جمع بینھما اھ
اقول : انما یستشکل مالایظھر وجہ صحتہ ولیس لمن یختار جانبا من قولین متساویین ان یستشکل علی الاخر فضلا انہوں نے فرمایا یہ اپنے عموم پر مشکل ہے کیونکہ “ اشربۃ “ ہر اس چیز کا نام ہے جو پی جاتی ہے تو یہ کھجور وغیرہ کے پانی کو شامل ہوگااور یہاں مقصود ریباس کے عرق کی تخصیص ہے جیسا کہ ایضاح سے مفہوم ہے فافہم اھ۔
میں کہتا ہوں ان کاکلام نہ کرنا اس سے بہتر ہے اور مقصود عام حکم لگاناہے اور مثال اس کی ایك جزئی سے دی گئی ہے کلام کو جزئی سے خاص کرنا مقصود نہیں اور اشربہ عرف میں پھلوں اور درختوں سے حاصل شدہ عرقیات ہی کو کہتے ہیں ورنہ تو پانی بھی شراب ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے هذا مغتسل بارد و شراب
اور کوئی شك نہیں کہ حکم ان سب کو عام ہے اگر تم کہو کہ وہ رحمہ اللہ نبیذتمر سے وضو کے جواز کی طرف مائل ہیں کیونکہ انہوں نے گدھے کے جوٹھے کے بیان میں فرمایا(اس سے وضو بھی کرے اور تیمم بھی اگر اور پانی نہ ہو بخلاف نبیذتمر کے)کیونکہ اس سے ابوحنیفہ کے نزدیك وضو کیا جاسکتا ہے اگرچہ ابویوسف صرف تیمم کے قائل ہیں اور امام محمد وضو اور تیمم دونوں کا قول کرتے ہیں۔ اھ(ت)
میں کہتا ہوں اشکال صرف اس وقت ہوگا جس کی وجہ صحت ظاہر نہ ہو اور وجود وبرابر اقوال میں سے کسی ایك قول کو اختیار کرتا ہے اس کیلئے دوسرے (باقی برصفحہ ایندہ)
#12771 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
(۱۸۶ ۱۸۷) ہر قسم کا سرکہ اور مقطر
(۱۸۸) آب کامہ جسے عربی میں کامخ بفتح میم ومری بتشدید رأ ویائے نسبت کہتے ہیں شوربے کی طرح ایك رقیق نانخورش ہے کہ دہی اور سرکے وغیرہ اجزاء سے بنتی سے اصفہان میں اس کا زیادہ رواج ہے۔ خانیہ وخزانۃ المفتین وشرح مجمع البحرین میں ہے :
لایجوز الوضوء بالخل والمری اھ وقد ذکر الخل فی الکثیر۔
سرکہ اور نانخورش(شوربا)سے وضو جائز نہیں اھ سرکہ کا ذکر بہت سی کتابوں میں ہے۔ (ت)
(۱۸۹)نمك کا پانی کہ نمك بہ کر ہوتا ہے اس پر اجماع ہے۔
(۱۹۰)نمك کا پانی کہ نمك بن جاتا ہے اس میں اختلاف ہے اور اکثر کا رجحان عدم جواز کی طرف ہے (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
عمن یختار قیلا ضعیفا مھجور الجمھور وا لله تعالی اعلم بمراد عبادہ ثم رأیت السیر ابا السعود نقل عن العلامۃ نوح افندی وجہ الاشکال ماقداشرت الیہ بقولی الماء ایضا شراب ولم یعجبنی ان اجعل مثلہ تفسیرا لکلام الدرر فقال وجہ الاشکال شمول الاشربۃ لغیر المتخذۃ من الشجر والثمر اذا المطلق من الماء شراب قال وانما قال احسن لامکان توجیہ العبارۃ بان یقال ارادا لاشربۃ المتخذۃ منھما اھ وانت تعلم(۱)ان مثل ھذا لایستاھل الذکر فضلا عن حمل کلام مثل مولی خسرو علیہ ثم تعبیر(۲) التوجیہ بالامکان وا لله المستعان ۱۲ منہ غفر لہ۔ (م)
پر کوئی اشکال نہیں چہ جائیکہ وہ شخص جو ضعیف مخالف جمہور کو لیتاہے و الله تعالی اعلم بمراد عبادہ پھر میں نے دیکھاکہ علامہ ابو السعود نے نوح آفندی سے وجہ اشکال وہی نقل کی جس کی طرف میں نے اپنے قول سے اشارہ کیاہے کہ پانی کو بھی شراب کہتے ہیں اور مجھے اچھا معلوم ہوا کہ میں اسی کی مثل درر کا کلام کروں وہ فرماتے ہیں وجہ اشکال یہ ہے کہ “ اشربہ “ کا لفظ درخت اور پھلوں کے عرقیات کے علاوہ کو بھی شامل ہے کیونکہ مطلق پانی بھی شراب ہے جو انہوں نے کہا ہے وہ زیادہ اچھا ہے کیونکہ عبارت کی توجیہ یہ ہوسکتی ہے کہ “ اشربہ “ سے وہ مراد ہیں جو ان دونوں سے بنائے جائیں اھ اور آپ جانتے ہیں کہ اس قسم کی تاویل قابل ذکر بھی نہیں چہ جائیکہ مولی خسرو کے کلام کو اس پر محمول کیا جائے پھر توجیہ کو امکان سے تعبیر کرنا و الله المستعان ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان فیما یجوزبہ التوضی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
#12772 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
کہ وہ طبیعت آب کے خلاف ہے پانی سردی سے جمتا ہے اور وہ گرمی میں جمتا جاڑے میں پگھلتا ہے۔ تبیین الحقائق وبحرالرائق وبزازیہ میں ہے :
لایجوز بماء الملح وھو یجمد فی الصیف ویذوب فی الشتاء عکس الماء ۔
نمك کے پانی سے وضو جائز نہیں نمك گرمی میں جم جاتا ہے اور سردی میں پگھلتا ہے پانی کے برعکس۔
غرر وتنویر ودرر ودر میں ہے :
والنظم للدرر(یجوز ان)ای الوضوء والغسل بماء ینعقد بہ الملح)کذا فی عیون المذاھب(لابماء الملح)الحاصل بذوبان الملح کذا فی الخلاصۃ ولعل الفرق ان الاول باق علی طبیعتہ الاصلیہ والثانی انقلب عــہ الی طبیعۃ
عبارت درر کی ہے وضو اور غسل جائز ہے(اس پانی سے جس سے نمك بنا ہے)یہی عیون المذاہب میں ہے(نہ کہ نمك کے پانی سے)جو نمك سے پگھل کر حاصل ہوتا ہے خلاصہ میں یہی ہے اور غالبا فرق یہ ہے کہ اول اپنی اصل طبیعت پر واقع ہے اور دوسرا دوسری

عــہ قال الخادمی اورد الجمد والبخار اھ اقول توھم (۱)الانقلاب فی الجمد انما یتأتی ممن یزعم ان السمن فی الشتاء لایبقی سمنابل ینقلب ماھیہ اکری قال واجیب المراد الطبیعۃ غیر الملائمۃ للمائیہ اھ اقول ومراد الایرادان الماء یجمد ویصیربخارا فلا یتوضو بہ ثم اذا ذاب ذاك وتقاطر ھذا جاز لعود ھما الی المائیہ کما کاناعلیھا فلو ان الماء الذی سینعقد ملحا کان باقیا علی طبیعۃ الاصلیہ کما قلتم انما لایجوز الوضوء بہ حین یصیر ملحا فاذا ذاب فقد عاد الی طبیعۃ الاولی فما وجہ الفرق بین
خادمی نے کہا کہ جمد اور بخار سے اعتراض کیا گیاہے اھ میں کہتا ہوں جمد میں انقلاب کا وہم یہ وہی کہہ سکتا ہے جس کو یہ گمان ہو کہ گھی سردیوں میں گھی نہیں رہتا ہے بلالکہ اس کی ماہیت بدل جاتی ہے فرمایا جواب دیا گیا ہے کہ مراد وہ طبیعت ہے جو پانی کے مناسب نہ ہو اھ میں کہتا ہوں کہ اعتراض یہ ہے کہ پانی جم کر بخار بنتا ہے تو اس سے وضو نہیں کیا جاتا ہے پھر جب یہ پگھلتاہے اور ٹپکتا ہے تو وضو جائز ہوتاہے کیونکہ یہ دونوں پانی بن جاتے ہیں تو جو پانی جم کر نمك ہوجاتا ہے اگر بقول آپ کے اپنی اصلی طبیعت پر باقی ہوتو اس سے نمك ہونے کی حالت میں وضو جائز نہ ہوگا اور جب وہ پگھلے گا تو اپنی پہلی طبیعت کی طرف واپس آجائے گا تو جو (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ الامیریہ ببولاق مصر ۱ / ۱۹
#12773 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اخری اھ واعترضہ محشیہ العلامۃ
طبیعت کی طرف منتقل ہوگیا اھ اس پر اس کے محشی

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ماسینعقدوماکان انعقد فان ضر تخلل الانقلاب الی طبیعۃ اخری فلیضر فی الجمد الذائب والسحاب الصائب وحاصل الجواب ان المضر تخلل طبیعۃ لاتناسب طبیعۃ الماء وذلك فی الملح بخلاف الجمد والبخار اھ۔ اقول : (۱)ویکدرہ ان لیس بین ماء ملح سینعقد ملحاوبین الملح الا السیلان والجمود وبھذا لقدر لایحصل تباین الطبیعتین وعدم التناسب بینھماکیف وھو حین ھو علی شرف الانعقاد فیہ کل ما فی الملح غیر انہ لم یجمد وسیجمد کالسمن والعسل فی الصیف والشتاء فکیف یقال ان الطبیعۃ الملحیہ لاتناسب طبیعۃ ذالك الماء فانقلت المراد بطبیعۃ الماء ھی الرقۃ ولا شك ان الجمود یباینھا اقول : فیعودالایراد بالجمد فان التباین بین الرقۃ والجمود لذاتیھما لالمایعرضانہ من ماء اوملح فعلیك بالتثبت وا لله تعالی اعلم ثم رأیت الجواب المذکور فی الخادمی للدانی افندی قال بعدہ وھی طبیعۃ الملحیہ فیکون ماؤہ
منعقد ہوگا اور جو منعقد ہوچکا ہے اس میں فرق کی کیا وجہ ہے تو اگر پانی کا دوسری طبیعت کی طرف انقلاب خلل پیدا کرتا ہے تو یہ چیز اس جمد میں بھی مضر ہونی چاہئے جو پگھل گیا ہے اور اسی طرح بہنے والے بادل میں اور جواب کا حاصل یہ ہے کہ مضر ایسی طبیعت کا خلل انداز ہوناجو پانی کی طبیعت سے مناسب نہ ہو اور یہ چیز نمك میں ہے بخلاف جمد اور بخار کے۔ میں کہتا ہوں اس کو یہ چیز مکدر کرتی ہے کہ جو نمکین پانی نمك بننے والا ہے اور جو بالفعل نمك ہے اس میں سوائے سیلان اور جمد کے کیا فرق ہے اور دونوں عدم مناسبت بھی نہ ہوگی پھر جب وہ جمنے کے قریب ہوتا ہے تو اس میں وہ تمام خصوصیات ہوتی ہیں جو نمك میں ہوتی ہیں صرف اتنا ہے کہ وہ ابھی جما نہیں ہے اب جم جائیگا جیسے گھی اور شہد گرمی اور جاڑے میں تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ نمك کی طبیعت اس پانی کے مناسب نہیں اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ پانی کی طبیعت سے مراد رقت ہے اور کچھ شك نہیں کہ جمود اس کے مخالف ہے۔ میں کہتا ہوں پھر وہی اعتراض ہوگا کہ جمد میں تباین رقت اور جمود کا ذاتی ہے عارضی نہیں کہ پانی یا نمك کی وجہ سے ہو تو غور کرنا لازم ہے و الله تعالی اعلم۔ پھر میں نے مذکور جواب دانی آفندی کی خادمی(باقی برصفحہ ایندہ)
حوالہ / References درر غرر کتاب الطہارۃ دارالسعادۃ مصر ۱ / ۲۱
#12774 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
نوح افندی کمافی ش بان عبارۃ الخلاصۃ ولوتوضو بماء الملح لایجوز ثم نقل عن البزازیہ و الزیلعی ماقدمناقال واقرہ صاحب البحر والعلامۃالمقدسی ومقتضاہ انہ لایجوز بماء الملح مطلقا ای سواء انعقد ملحا ثم ذاب اولا وھو الصواب عندی اھ ملخصا۔
علامہ نوح آفندی نے اعتراض کیا ہے جیساکہ “ ش “ میں ہے کہ خلاصہ کی عبارت یہ ہے کہ اگر کسی نے نمك کے پانی سے وضو کیا تو جائز نہیں۔ پھر بزازیہ اور زیلعی سے انہوں نے وہی نقل کیا جو ہم نے بیان کیا اور فرمایا اس کو صاحب بحر اور علامہ مقدسی نے برقرار رکھا اس کا مفہوم وہی ہے کہ نمك کے پانی سے مطلقا وضو جائز نہیں ہے خواہ نمك بن کر پھر پگھلا ہو یا نہ اور میرے نزدیك یہی صواب ہے اھ ملخصا۔ (ت)
اقول : نمك اقسام ہے ایك وہ رطوبت کہ پہاڑ یا غار سے جوش کر کے نکلتی اور جم جاتی ہے جیسے نمك لاہوری واندرانی اور سانبھریہ ابتداء جب تك بستہ نہ ہوئی تھی یقینا اسی کی مانند ہے جب بستہ ہو کر پگھل جائے کہ وہ پانی کی نوع ہی سے نہیں دوم دریائے نمك کامنجمد حصہ یہ بعض تیز وتندو حار وحاد چشموں کا پانی ہے کہ جب حرارت آفتاب اس میں عمل کرتی ہے کناروں کناروں سے جم جاتا ہے بیچ میں بہتا پانی رہتا ہے اس میں جو چیز پڑے ایك مدت کے بعد نمك ہوجاتی ہے اختلاف اسی پانی میں ہے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بعد الذوبان کماء الذھب والفضۃ بخلاف الجمد اذا انقلب ماء فانہ ملائم یطبع الماء اھ نقلہ السید الازھری اقول والرد علی ھذااظھر فانہ لاینقلب بعد الذوبان الا الی ماکان علیہ وقد کان عندکم علی طبیعتہ الاصلیہ فکذالك بعد الزوبان ۱۲ منہ غفرلہ(م)
میں دیکھا اس کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ نمك کی طبیعت ہے تو اس کا پانی پگھلنے کے بعد سونے چاندی کے پانی کی طرح ہوگا بخلاف جمد کے جب وہ پانی ہوجائے کیونکہ یہ پانی کی طبیعت کے مناسب ہے اھ اس کو سید ازہری نے نقل کیا۔ میں کہتا ہوں اس پر رد اظہر ہے کیونکہ وہ پگھلنے کے بعد پہلی ہی حالت کی طرف لوٹے گا اور تمہارے نزدیك وہ اصل طبیعت پر تھا تو اسی طرح پگھلنے کے بعد ہوگا ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۲
#12775 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
والذی یظھر لی انہ ان(۱)کان ماء حقیقۃکما ھو الظاھر فلا ینبغی الریب فی جواز الوضوء بہ لان الماء ماء سواء کان عذبا فراتا اوملحا اجاجا وقد قال فی الخانیۃ لوتوضأ بماء السیل یجوز وان خالطہ التراب اذا کان الماء غالبا رقیقا فراتا کان اواجاجا اھ(۱)وکونہ یجمد صیفاویذوب شتاء لا یجعلہ نوعااخر غیر الماء فلیس من ارکان ماھیۃ الماء ولا من شرائطھا الجمودشتاء و الذوبان صیفاوانماھذہ اوصاف تختلف باختلاف الاصناف ھذا عذب فرات وھذا ملح اجاج ھذا ینبت ویروی وھذا لایفعل شیا منہ وقد یمکن(۲)عقد الملح بماء البحر بالطبخ ولا یخرجہ ھذا عن المائیۃ فکذا لواجتزأ بعض المیاہ لشدۃ حدتہ عن الطبخ بحرارۃ الشمس لم یکن فیہ اختلاف الماھیۃ فھزا ربمایقضی لما فی الدر والدرر بالترجیح٭ لکن لمااختلفواولم یتبین الامر قدمت الحاظر علی المبیح٭ولکن العجب من العلامۃالشرنبلالی علل فی المراقی المنع من ذائب الملح بمامرانہ یذوب شتاء ویجمد صیفا ثم قال وقبل انعقادہ ملحا طھور اھ وا لله تعالی اعلم۔
میرے نزدیك اگر وہ حقیقۃ پانی ہی تھاجیسا کہ ظاہر ہے تو اس سے وضو کے جواز میں کوئی شك نہ ہونا چاہئے کیونکہ پانی تو پانی ہی ہے خواہ سخت میٹھا ہو یا سخت کڑوا ہو خانیہ میں ہے اگر سیلاب کے پانی سےوضوکیاتوجائز ہے خواہ اس میں مٹی ملی ہوئی ہو جبکہ پانی غالب رقیق ہو میٹھا ہویا نمکین ہو اھ اور یہ بات کہ وہ گرمیوں میں جم جاتا ہے اور سردیوں میں پگھل جاتا ہے اس کو پانی کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں بنادیتا ہے کیونکہ جاڑوں میں جمنا گرمیوں میں پگھلنا نہ تو پانی کی ماہیت کے اورکان سے ہے اور نہ شرائط سے ہے اور یہ اوصاف ہیں جو قسموں کے اختلاف سے مختلف ہوجاتے ہیں کوئی سخت میٹھا کوئی سخت نمکین کوئی اگانے والااور سیراب کرنے والا ہوتا ہے اورکچھ بے فائدہ ہوتا ہے اور کبھی سمندری پانی کو ابال کر نمك بنا لیا جاتا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پانی نہیں تھا اسی طرح اگر کوئی پانی آفتاب کی گرمی سے گرم ہونے کی وجہ سے متجزی ہوگیا تویہ اس کی ماہیت کو تبدیل نہیں کرتا اس سے اس چیز کی ترجیح ظاہر ہوتی ہے جو در اوردرر میں ہے لیکن فقہاء کے اختلاف کی وجہ سے میں نے منع کرنے والی دلیل کو مباح کرنے والی دلیل پر ترجیح دی ہے مگر علامہ شرنبلالی پر تعجب ہے کہ انہوں نے مراقی الفلاح میں منع کی علت پگھلے ہوئے نمك میں یہ بتائی کہ وہ سردی میں پگھلتا اور گرمیوں میں جمتا ہے اور نمك بننے سے قبل وہ پاك ہوتا ہے و الله تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References فتاوٰی خانیہ المعروف قاضی خان فصل فیما لایجوز التوضی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
مراقی الفلاح مع الطحطاوی ، کتاب الطہارت نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص۱۳
#12776 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
(۱۹۱)نوشادر کا پانی کہ اس کے بہنے سے حاصل ہوتا ہے۔
(۱۹۲)آب کافور کہ اس کے پگھلنے سے حاصل ہو ریاحی کا فور جسے یہاں بھیم سینی کہتے ہیں دھوپ کی گرمی سے پگھل جاتا ہے۔
(۱۹۳)آب کافور کہ درخت کا فور کاٹتے وقت اس سے ٹپکتا ہے۔
(۱۹۴)آب نفط بالکسر ایك روغنی رطوبت تیز رائحہ ہے کہ بعض زمینوں سے ابلتی ہے۔
(۱۹۵)مٹی کا تیل مثل آب نفط ہے۔ بزازیہ میں ہے : ماء الملح لایجوزالوضوء بہ وکذا ماء النفط (نمك کے پانی سے وضو جائز نہیں اور ایسے ہی ماء النفط(ایك معدنی تیل)سے۔ ت)
(۱۹۶)زفت بالکسر درخت صنوبر نر کامد جو پھل نہیں دیتا۔
(۱۹۷)راتیانج درخت صنوبر مادہ کامدجس میں پھل آتا ہے۔
(۱۹۸)قطران ایك قسم کا درخت سروکامد۔
(۱۹۹)قیر ایك سیاہ رطوبت کہ بعض زمینوں یا گرم چشموں سے ابلتی ہے۔
(۲۰۰)قفر الیہود ایك بودار رطوبت بنفشی رنگ کہ مثل قیر بعض دریاؤں سے نکلتی ہے۔
(۲۰۱)عنبر کہ یہ بھی ایك قول میں ایك معدنی رطوبت ہے بعدکو حرارت آفتاب وغیرہ سے منجمد ہوجاتی ہے۔
(۲۰۲)مومیائی
(۲۰۳)سلاجیت یہ دونوں پتھر کے مدہیں اورابتدا میں سیال ہوتے ہیں وکل ذلك فی معنی ماء النفط(یہ سب ماء النفط(ایك معدنی تیل)کے معنی میں ہیں۔ ت)
(۲۰۴)نیم وغیرہ درختوں کامد
(۲۰۵)موسم بہار میں انگور کی بیل سے خود بخودپانی ٹپکتا ہے اس میں اختلاف ہے اورراجح یہی ہے کہ اس سےوضوجائز نہیں۔
فی الھدایۃ(لایجوزبما اعتصر من الشجر والثمر) لانہ لیس بماء مطلق والحکم عند فقدہ منقول الی التیمم اما الماء الذی
ہدایہ میں ہے(وضو اس پانی سے جائز نہیں جو درخت اور پھل سے نچوڑا گیا ہو)کیونکہ وہ مطلق پانی نہیں رہا اورجب مطلق پانی نہ ہو تو پھر حکم تیمم کی طرف منتقل ہوجاتا ہے
حوالہ / References فتاوٰی بزازیۃ مع العالمگیری نوع فی المستعمل والمطلق والمقیدنورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۰
#12777 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
یقطع من الکرم فیجوز التوضی بہ لانہ ماء یخرج من غیر علاج ذکرہ فی جوامع ابی یوسف رحمہ ا لله تعالی وفی الکتاب اشارۃ الیہ حیث شرط الاعتصار اھ واقرہ فی العنایۃوالفتح وغیرھما وتبعہ صاحب المجمع فی شرحہ وفی التبیین ان کان یخرج من غیرعلاج لم یکمل امتزاجہ فجاز الوضوء بہ کالماء الذی یقطر من الکرم اھ وتبعہ المحقق فی الفتح وقال صدرالشریعۃ وتبعہ ابن کمال باشا فی ایضاحہ اماما یقطر من شجر فیجوز بہ الوضوء اھ وھو اختیار الامام الاسبیجابی کما یاتی فی سادس ضوابط الفصل الثالث وادخلہ العلامۃالتمرتاشی فی متنہ فقال لا بعصیرنبات بخلاف مایقطر من الکرم بنفسہ اھ
واغرب المدقق العلائی فی شرحہ فزادبعدقولہ من الکرم اوالفواکہ ولم ارہ لغیرہ والجمھور علی المنع ونصوا عـــہ
بہرحال وہ پانی جو انگور کی بیل سے ٹپکتاہے اس سے وضو جائز ہے کہ وہ بغیر عمل کے نکلا ہے اس کو جوامع ابی یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ میں ذکر کیا اور کتاب میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ ا س میں نچوڑ کی شرط ہے اھ اور اس کو عنایہ اور فتح وغیرہ میں برقرار رکھااورصاحب المجمع نے اس کی شرح میں اس کی متابعت کی اور تبیین میں ہے کہ بغیر عمل کے اگر عرق نکل آئے تو اس کا امتزاج پورا نہ ہوگااور اس سے وضو جائز ہے جیسے انگور کی بیل سے ٹپکنے والا پانی اھ محقق نے فتح میں اس کی پیروی کی اورصدرالشریعۃ نے فرمایا ابن کمال پاشا نے اپنی ایضاح میں اس کی پیروی کی فرمایا جو پانی درخت سے ٹپکتا ہے اس سے وضو جائز ہے اھ اور وہ امام اسبیجابی کامختار ہے جیساکہ تیسری فصل کے چھٹے ضابطہ میں آئیگااورعلامہ تمرتاشی نے اس کو متن میں داخل کیااور فرمایاگھاس کے عرق سے جائز نہیں بخلاف اس پانی کے جو انگور کی بیل سے خود بخود ٹپکتا ہے اھ(ت)
اور مدقق علائی نے اپنی شرح میں بڑی عجیب بات کہی یعنی یہ کہ من الکرم کے بعد انہوں نے “ اوالفواکہ “ کااضافہ کیا میں نے ان کے علاوہ کسی اور کے کلام میں

عــــہ : وقدمر تأییدہ فی ۱۸۰ فتذکر ۱۲ منہ غفرلہ(م)
اس کی تائید گزر چکی ہے ملاحظہ ہو ۱۸۰۔ ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References ہدایۃ باب الماء الذی یجوبہ ومالایجوز مطبع عربیہ کراچی ۱ / ۱۶
تبیین الحقائق کتاب الطہارت مطبع الامیریہ ببولاق مصر ۱ / ۲۰
شرح الوقایۃ مالایجوزبہ الوضوء المکتبۃ الرشیدیۃ دہلی ۱ / ۸۴
درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴
#12778 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
انہ الاوجہ الاظھرالاحوط ففی الکافی۱ ثم ابن الشلبی۲ علی الزیلعی والانقرویۃ۳ لایتوضوء بماء یسیل من الکرم لکمال الامتزاج ذکرہ فی المحیط۴ وقیل یجوز لانہ خرج من غیر علاج اھ وفی الخانیۃ۵ لابالماء الذی یسیل من الکرم فی الربیع وکذا ذکرہ شمس الائمۃ الحلوانی اھ وفی الحلیۃ۷ والظاھر انہ اوجہ اھ ثم اعاد فقال الظاھرانہ الاوجہ اھ وفی الغنیۃ۸ ھوالاحوط اھ وفی غنیۃ۹ ذوی الاحکام ھوالاظھر کما فی البرھان۱۰ وفی نور الایضاح۱۱ لا یجوز بماء شجر وثمر ولوخرج بنفسہ من غیرعصر فی الاظھر اھ وفی مراقی الفلاح۱۲ احترز بہ عما قیل انہ یجوز بمایقطربنفسہ لانہ لیس لخروجہ بلا عصر تاثیر فی نفی القیدوصحۃ نفی الاسم عنہ اھ وفی الدر۱۳ ھوالاظھر کما فی الشرنبلالیۃ عن البرھان واعتمدہ القھستانی)۱۴ فقال والاعتصار یعم الحقیقی والحکمی
یہ نہ دیکھا اور جمہور کے نزدیك ممنوع ہے اور صراحت کی ہے کہ یہی اوجہ اظہر اور احوط ہے کافی ابن شلبی علی الزیلعی اور انقرویہ میں ہے کہ اس پانی سےوضونہ کرے جو انگور کی بیل سے بہتا ہے کیونکہ اس میں کمال امتزاج پایا جاتا ہے اس کو محیط میں ذکر کیا ہے اور ایك قول یہ ہے کہ جائز ہے کیونکہ بغیر عمل کے نکلا ہے خانیہ میں ہے کہ اس پانی سے جائز نہیں جو موسم ربیع میں انگور کی بیل سے نکلتا ہے اسی طرح اس کو ذکر کیا ہے شمس الائمہ حلوانی نے اھ اور حلیہ میں ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہی اوجہ ہے اھ پھر اعادہ کیا اور فرمایا ظاہر یہی ہے کہ یہ اوجہ ہے اھ اور غنیہ میں ہے کہ یہ احوط ہے اھ اور غنیہ ذوی الاحکام میں ہے یہی اظہر ہے جیسا کہ برہان میں ہے اورنور الایضاح میں ہے وضو جائز نہیں درخت یا پھل کے پانی سے خواہ بلا نچوڑے ازخود نکل آئے اظہر یہی ہے اور مراقی الفلاح میں ہے اس سے اس قول سے احتراز کیا کہ وضو اس پانی سے جائز ہے جو بلانچوڑے خود نکل آئے کیونکہ اس کے بلانچوڑے نکلنے میں نفی قید میں کوئی تاثیر نہیں ہے اسی طرح اس سے
حوالہ / References حاشیۃ الشلبی علٰی تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ الامیریۃ ببولاق مصر ۱ / ۲۰
قاضی خان فیما لایجوزبہ التوضی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
حلیہ
غنیۃ المستملی احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۹۲
غنیۃ ذوی الاحکام حاشیۃ علی الدرر کتاب الطہارت مطبعۃ الکاملیۃ بیروت ۳ / ۱ ۲
نورالایضاح کتاب الطہارۃ علمیہ لاہور ص۳
مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ الامیریہ ببولاق مصر ص۱۴
#12779 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
کماء الکرم وکذا ماء الدابوغۃ عــہ والبطیخ بلا استخراج اھ واقرہ۱۵ ط وفی الھندیۃ ولا بماء یسیل من الکرم کذا فی الکافی والمحیط وفتاوی قاضی خان وھو الاوجہ ھکذا فی البحر۱۷ وھوالاحوط کذا فی شرح منیۃ المصلی لابرھیم الحلبی اھ وفی البحرالرائق والنھر ۱۸الفائق المسرح بہ فی کثیر من الکتب انہ لایجوز الوضوء بہ واقتصر علیہ قاضی خان فی الفتاوی وصاحب المحیط وصدربہ فی الکافی وذکرالجواز بصیغۃ قیل وفی شرح منیۃ المصلی الاوجہ عدم الجواز فکان ھوالاولی لما انہ کمل امتزاجہ کما صرح بہ فی الکافی فما وقع
اس نام کے سلب کرنے میں کوئی تاثیر نہیں ہے اھ اور در میں اسی کو اظہر کہا جیساکہ شرنبلالیہ میں برہان سے ہے اور اسی پر قہستانی نے اعتماد کیا اور کہا نچوڑنا حقیقی اور حکمی دونوں کو عام ہے جیسے انگور کا پانی اسی طرح تربوز کا پانی اور خربوزے کا پانی بلا نکالے ہوئے اھ اور اس کو 'ط'نے برقرار رکھااور ہندیہ میں ہے نہ اس پانی سے جو انگور کی بیل سے نکلتا ہے اسی طرح کافی محیط میں ہے اورفتاوی قاضی خان میں ہے یہی اوجہ ہے یہی بحر میں ہے اور یہی احوط ہے اسی طرح شرح منیۃ المصلی میں ہے جو ابراہیم حلبی کی ہے اھ اور بحر اور نہر میں ہے کہ بہت سی کتب میں صراحت ہے کہ اس سے وضو جائز نہیں اور اس پر قاضیخان نے فتاوی میں اکتفاء

عــــہ : الدا بوغۃ والدابوقۃ والحبحب ھوالبطیخ الاخضرکما فی ش عن بعض المحشین عن کتب الطب وذکر فی التحفۃ والمخزن دابوقۃ بالقاف وزعماانہ من اسمائہ بالعربی وذکرامنھااللاغ و البطیخ الھندی والبطیخ الشامی والبطیخ الفلسطینی وبالفارسیۃ ھندوانہ وبالھندیۃ تربوز ولم یذکر ادا بوغہ بالغین ۱۲ منہ۔ (م)
دابوغہ دابوقہ اورحبحب تربوز کو کہتے ہیں جیسا کہ شامی میں ہے کہ بعض حاشیہ نگاروں نے کتب طب سے اس کی یہی تشریح نقل کی ہے اور تحفہ اور مخزن میں دابوقہ “ ق “ سے ہے ان کاخیال ہے کہ یہ اس کا عربی نام ہے ان دونوں کتب میں لاغ اور بطیخ ہندی بطیخ شامی اور بطیخ فلسطینی کاذکر ہے فارسی میں ہندوانہ اور ہندی میں تربوز کہتے ہیں ان دونوں کتابوں میں دابوغہ “ غ “ کے ساتھ کا ذکر نہیں ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References درمختار کتاب الطہارت مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴
ہندیۃ فیما لایجوزبہ التوضوء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۱
#12780 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
فی شرح الزیلعی انہ لم یکمل امتزاجہ ففیہ نظر اھ وفی ش۱۹ عن الرملی۲۰ علی المنح من راجع کتب المذھب وجداکثرھا علی عدم الجواز فیکون المعمول علیہ فما فی ھذا المتن(یرید التنویر)مرجوع بالنسبۃ الیہ اھ۔
کیا اسی طرح صاحب محیط نے اس پر اکتفاء کیا اور اس کو ابتداء میں ذکر کیا کافی میں اورجواز کا ذکر بصیغہ قیل کیا اور شرح منیۃ المصلی میں ہے کہ اوجہ عدم جواز ہے تو یہی اولی ہے کیونکہ اس کا امتزاج مکمل ہو گیا ہے جیسا کہ کافی میں مصرح ہے تو شرح زیلعی میں اس کے امتزاج کو مکمل نہ بتاناقابل اعتراض ہے اھ اور 'ش' میں رملی علی المنح سے منقول ہے کہ جس نے کتب مذہب کو دیکھا ہے اس کو معلوم ہوگا کہ اکثر میں عدم جواز ہے تو اسی پر اعتماد ہوگا تو جو اس متن(تنویر)میں ہے وہ اس کی نسبت مرجوع ہے اھ۔ (ت)

(۲۰۶)تاڑی(۲۰۷)سیندھی
اقول : حتی علی قول من یجوز بقاطر الکرم فانہ عــہ ماء کان تشربہ فاذاارتوی ردہ
میں کہتا ہوں یہاں تك کہ جو حضرات انگور کی بیل سے ٹپکنے والے پانی سے وضو کے جواز کے قائل ہیں تو وہ یہی

عــہ ھذا ھو صریح مفادکلام الزیلعی ومن تبعہ لکن فی الارکان الاربعۃ لبحرالعلوم مانصہ اختلفوا فی ماء سال من الکرم ونحوہ بنفسہ ففی الھدایۃ یجوز بہ التوضی وفی الکافی وفتاوی قاضی خان لایجوز لانہ لیس ماء انماھو شبیہ بالماء ویطلق علیہ الماء مجازا اھ اقول لیس التعلیل فی الکافی ولا فی الخانیۃ بل لم ارہ لاحد قبلہ بل(۱)زعم
یہ صریح مفہوم ہے زیلعی کے کلام کااور اس کے متبعین کے کلام کا لیکن بحر العلوم کی ارکان اربعہ میں ہے اس پانی میں اختلاف ہے جو انگور کی بیل سے ٹپکتا ہے ہدایہ میں ہے اس سے وضو جائز ہے کافی اور فتاوی قاضی خان میں ہے کہ وضو جائز نہیں کیونکہ وہ پانی نہیں ہے پانی کے مشابہ ہے اور اس پر پانی کا اطلاق مجاز ہے اھ
میں کہتا ہوں کہ تعلیل نہ کافی میں ہے اور نہ خانیہ میں ہے بلالکہ میں نے ان سے پہلے کسی کے کلام (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۹
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۳
#12781 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
کما یدل علیہ قول الزیلعی کمال الامتزاج بتشرب النبات الماء بحیث لایخرج منہ الابعلاج ثم ذکرقاطرالکرم بمامربخلاف الرطوبات السائلۃ من ھذہ الاشجارفانھا کالقارات النابعۃ من الاحجار وا لله تعالی اعلم۔
کہتے ہیں کہ دراصل یہ پانی تھاجب بیل میں جذب ہونے سے بچا تو بہنے لگا جیسا کہ قول زیلعی سے معلوم ہوتا ہے امتزاج کا کمال یہ ہے کہ گھاس پانی کو اچھی طرح پی لے کہ بلا نکالے پانی نہ نکلے پھر انہوں نے انگور کی بیل سے ٹپکنے والے پانی کا ذکر کیا بخلاف ان رطوبتوں کے جو ان درختوں سے بہتی ہیں کیونکہ یہ ان روغنیات کی طرح ہیں جو پتھروں سے نکلتے ہیں و الله تعالی اعلم۔ (ت)
(۲۰۸)ماء الجبن کہ دودھ پھاڑ کر اس کی مائیت نکالتے ہیں۔
(۲۰۹)دہی کا پانی کہ کپڑے میں باندھ کر ٹپکائیں یا اس کے کونڈے میں اس سے چھٹے۔
(۲۱۰)مٹھا جسے چھاچھ بھی کہتے ہیں دہی سے مکھن جدا ہونے کے بعد جو پانی رہ جائے۔
(۲۱۱)چاولوں کی پیچ۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
العلامۃ ابن کمال الوزیر فی الایضاح عند قول متنہ لابما اعتصرمن شجراوثمرالروایۃ بالقصرکانھم ابوا عن اطلاق اسم الماء علیہ ایماء الی قصورہ عن حد الماء المطلق ولذلك لایجوز التوضی بہ اھ فھذا یوھم بل کمصرح ان کل عصارۃ ثمراوشجرماء حقیقۃ غیرانہ مقید لامطلق وھو باطل قطعاوالذی یقبلہ القلب فی ماء الکرم القاطر ایضاماقالہ بحرالعلوم وا لله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
میں یہ نہیں دیکھا بلالکہ علامہ ابن کمال وزیر نے ایضاح کے متن کے پاس فرمایانہ اس پانی سے جو درخت یا پھل سے نچوڑا گیا ہو روایت قصر سے ہے گویا وہ اس پر پانی کے نام کا اطلاق نہیں کرنا چاہتے ہیں اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ وہ ماء مطلق میں شامل نہیں اور اس لئے اس سےوضوجائز نہیں ہے اھ اس سے وہم ہوتا ہے بلالکہ صراحت ہی کہنی چاہئے کہ درختوں اور پھلوں کا پانی حقیقۃ پانی ہے البتہ وہ مقید ہے مطلق نہیں ہے حالانکہ یہ قطعا باطل ہے اور انگور کی بیل کے پانی کی بابت دل لگتی بات بحرالعلوم ہی کی ہے و الله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
#12782 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
(۲۱۲)گوشت کاپانی کہ سربندبویام میں بے پانی رکھ کراوپر پانی بھر کرآنچ دینے سے خود گوشت سے مثل عرق نکلتا ہے۔
(۲۱۳)ماء اللحم کہ عرقیات کی طرح گوشت واجزائے مناسبہ سے ٹپکا کرلیتے ہیں۔
المخالطات
(۲۱۴)یخنی کہ پانی میں گوشت کا آبجوش نکالتے ہیں۔
(۲۱۵)ہر قسم کا شوربا۔ ہدایہ میں ہے :
لایجوز بالمرق فانہ لایسمی ماء مطلقا ۔
شوربا سےوضوجائز نہیں کہ اس کو مطلق پانی نہیں کہتے ہیں۔ (ت)
(۲۱۶ و ۲۱۷)جس پانی میں چنے یاباقلا پکایا اگر پانی میں ان کے اتنے اجزاء مل گئے کہ ٹھنڈا ہو کر پانی گاڑھا ہوجائے گاتو اس سے بالاتفاق وضو ناجائز ہے۔
اقول : وذلك ان العبارات الواضحۃ عــہ جاء ت ھھناعلی ثلثۃ وجوہ۔
الاول : لایجوز مطلقا لان بالطبخ یحصل کمال الامتزاج فیفیدالتقیدوھذا مایاتی فی ضابطۃ الامام الزیلعی واتباعہ رحمھم ا لله تعالی۔
الثانی : لایجوز اذا وجد منہ ریح المطبوخ۔
الثالث : یجوز مالمیثخن وعلیہ الاکثروھو
الاشھر والمنصوص میں کہتا ہوں اس سلسلہ میں واضح عبارات تین قسم کی ہیں :
اول : مطلقا جائز نہیں کیونکہ پکانے سے مکمل امتزاج حاصل ہوتا ہے لہذا مقید کرنا مفید ہوگا۔ امام زیلعی اور ان کے متبعین کے ضابطہ میں اس کا بیان آئیگا رحمہم اللہ تعالی۔
دوم : وضو جائز نہیں جبکہ اس میں سے پکی ہوئی چیز کی بو آتی ہو۔ سوم : جب تك گاڑھا نہ ہو تو جائز ہے اکثر اسی پر ہیں اور یہی مشہور تر ہے اور عام متون میں

عــہ ستأتی عبارۃ اخری مجملۃ وھی التغیر بالطبخ ویاتی الکلام علیھا ۱۲ منہ(م)
عنقریب ایك مجمل عبارت آئے گی اور وہ پکانے سے تبدیل ہونا ہے اور اس پر کلام بھی آئیگا ۱۲ منہ(ت)
حوالہ / References ہدایۃ باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوزبہ عربیہ کراچی ۱ / ۱۸
#12783 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
علیہ فی(۱)ھامۃ المتون وفی الخانیۃ لوطبخ فیہ الحمص اوالباقلاء وریح الباقلاء یوجد منہ لایجوز بہ التوضوء وذکر الناطفی اذالم تذھب رقتہ ولم یسلب منہ اسم الماء جاز اھ وفی(۲)الجامع الکبیر ثم المنیۃ والینابیع ثم الزیلعی والفتح وتجنیس الامام صاحب الھدایۃ ثم البحروتجنیس الملتقط ثم الحلیۃ والفتاوی الظھیریۃ ثم البرجندی واللفظ للفتح فی الینابیع لو تقع الحمص والباقلاء وتغیر لونہ وطعمہ وریحہ یجوز التوضی بہ فان طبخ فان کان اذابردثخن لایجوزالوضوء بہ اولم یثخن ورقۃ الماء باقیۃ جاز اھ وھذاکما تری اوسع الاقوال فاذا حصل شرطہ فی المنع حصل المنع بالاجماع۔
ثم اقول : وبالله التوفیق بل لاخلاف اما القولان الاولان فالتوفیق بینھما واضح
یہی ہے اور خانیہ میں ہے اگر پانی میں چنے یاباقلا پکایاگیا اور باقلا کی بو اس میں آگئی تو اس سے وضو جائز نہیں اور ناطفی نے فرمایااگر اس کاپتلا پن ختم نہیں ہواہے اور اس پر پانی کا اطلاق ہوتاہے تو وضو جائز ہے ورنہ نہیں جامع کبیر منیہ ینابیع زیلعی فتح تجنیس(صاحب ہدایہ کی کتاب)پھر بحر ملتقط کی تجنیس حلیہ فتاوی ظہیریہ اور برجندی میں ہے عبارت فتح کی بحوالہ ینابیع ہے اگرچنے اور باقلاء پانی میں نچوڑ لیے گئے اور اس کا رنگ مزہ اور بو بدل گئے تواس سے وضو جائز ہے تو اگر پکایا گیا اور ٹھنڈا ہونے پر گاڑھا ہوگیا تووضوجائز نہیں اوراگر گاڑھا نہ ہوا اور پانی کی رقت ہنوز باقی ہے تو جائز ہے اھ جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں اس قول میں سب سے زیادہ گنجائش ہے تو جب اس کی شرط منع میں حاصل ہو تو بالاجماع منع ثابت ہوگا۔ (ت)
پھر میں کہتا ہوں وب الله التوفیق بلالکہ کوئی خلاف ہی نہیں اور دو۲ پہلے اقوال میں تطبیق واضح ہے

(۱)کالوقایۃ والملتقی والغرر والتنویر ونور الایضاح حیث اعتبر وازوال الطبع بالطبخ ویاتی نصوصھا فی الفصل الثالث ۱۲ منہ غفرلہ۔
(۲)ھکذا فی الحلیۃ وفی نسختی المنیۃ والجامع الصغیر وعلیھا شرح فی الغنیۃ ۱۲ منہ غفرلہ(م)
جیسے وقایہ ملتقی غرر تنویر اورنورالایضاح ان حضرات نے پکانے سے طبیعت کے زوال کا اعتبار کیا ہے تیسری فصل میں ان کتب کی عبارات آئیں گی ۱۲ منہ غفرلہ
اسی طرح حلیہ میں ہے اور میرے پاس موجود منیہ اور جامع صغیر کے نسخوں پر اس کی شرح غنیہ میں ہے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان فصل فیما لایجوزبہ التوضی مطبع نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوزبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۵
#12784 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
فانہ اذ انضج الباقلی فی الماء وادرك وجدریحہ من الماء لامحالۃ وھذا ھومعنی الطبخ کما تقدم فی ۱۰۸(۱)نعم علی ھذا یضیع الشرط ولا امکان لحمل الطبخ علی الالقاء بقصدہ لیکون احترازاعما اذا اخرج قبل ان یؤثر فی الماء فانہ ح یشمل مااذا اخرج بعدما غیرریح الماء بل ان ینطبخ فان تغیر الریح لایتوقف علی النضج فعلی ھذا یکون مجرد تغیر الریح بدون الطبخ موجباللتقییدوھوخلاف النصوص المذکورۃ فی ۸۹ فان عندعدم الطبخ لاوجہ للفرق بینہ وبین النقیع تأمل واماالقول الثالث فافاد فی الغنیۃ مایعطی وفاقہ حیث قال التقیید یحصل للماء بکمال الامتزاج بالطبخ بان یطبخ فی الماء شیئ حتی ینضج فحینئذ یخرج الماء عن طبعہ وھو سرعۃ السیلان ولا شك انہ اذذاك اذابرد یثخن غالبافکانت القاعدۃ فی المخالطۃ بالطبخ ان ینضج المطبوخ فی الماء وفی المخالطۃ بدونہ ان تزول رقتہ اھ وتبعہ فی مراقی الفلاح فقال لابماء زال طبعہ بالطبخ لانہ اذابرد ثخن ۔
کہ جب باقلا پانی میں اچھی طرح پك جائے تو لامحالہ اس کی بو پانی میں آئے گی اور پکنے کے یہی معنی ہیں جیسا کہ ۱۰۸ میں گزرا۔ ہاں اس تقدیر پر شرط لگانا بے سود ہوگا اور یہ امکان نہیں ہے کہ طبخ کو اس پر محمول کیا جائے کہ پکانے کے ارادہ سے ڈالنا تاکہ اس صورت سے احتراز کیا جائے جب کہ اس کو پانی میں اثر انداز ہونے سے قبل نکال لیا جائے کیونکہ یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جس کو نکالا جائے اس وقت جبکہ اس سے پانی کی بو تبدیل ہوجائے اور وہ پکنے نہ پائے کیونکہ بو کا بدلنا پکنے پر موقوف نہیں اس بناء پر صرف بو کا بدلنا بلاپکائے موجب تقیید ہوگا اور یہ نصوص مذکورہ کے خلاف ہوگا نصوص ۸۹ میں مذکور ہیں کیونکہ نہ پکنے کی صورت میں اس میں اور نقیع(نچوڑا ہوا)میں کوئی فرق نہیں ہوگا یہ مقام غور ہے تیسرا قول غنیہ کے مطابق وہ ہے جس سے اتفاق معلوم ہوتا ہے وہ فرماتے ہیں تقیید پانی میں اس وقت ہوتی ہے جب پکنے سے مکمل امتزاج حاصل ہوجائے مثلا یہ کہ پانی میں کوئی چیز پکائی جائے حتی کہ مکمل طور پر پك جائے تو اس وقت وہ پانی اپنی طبیعت سے خارج ہوجائیگااوریہ اس کاتیزی سے بہنا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں وہ ٹھنڈا ہونے پر گاڑھا ہوجائیگا تو پکانے والی چیز میں مخالطۃ کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ چیز پانی میں پك جائے اور پکائے بغیر مخالطۃ میں یہ ہے کہ
حوالہ / References غنیۃ المستملی فصل احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۹۰
مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ مطبعۃ الامیریۃ مصر ص۱۵
#12785 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اقول : لاطبخ الا بالنضج کما علمت فکان الطبخ نفسہ القاعدہ من دون شریطۃ زائدۃ وھذا یوافق اھل الضابطۃ ثم اذاکان الطبخ یورث الثخونۃ مطلقا حصل توافق الاقوال ومجال المقال فیہ من وجوہ۔
الاول : مااقول انہ علی ھذالم یبق الفرق بین النیئ والمطبوخ اذصارالمدارفیھماجمیعا الثخونۃ وکلام الشیخ یؤذن بالتفرقۃ۔
والثانی : مااقول ایضاتقسیم الطبخ فی الینابیع الی صورۃ الثخونۃ وبقاء الرقۃ یؤذن بان الطبخ لایوجب الثخانۃ ولا ینفع قولہ غالبالانہ اذابردفلم یثخن وجب جوازالوضوء بہ لاحاطۃ العلم بعدم المانع۔
والثالث : قال المحقق البحر فی البحر لایتوضوء بماء تغیربالطبخ بمالایقصد بہ التنظیف کماء المرق والباقلاء لانہ ح لیس بماء مطلق لعدم تبادرہ عند اطلاق اسم الماء امالوکانت النظافۃ تقصد بہ کالسدر والصابون والاشنان یطبخ بہ فانہ یتوضوء بہ الا اذاخرج الماء عن طبعہ من الرقۃ والسیلان وبما تقرر علم
اس کی رقت ختم ہوجائے اھ اور یہی بات مراقی الفلاح میں کہی گئی ہے فرمایا نہ اس پانی سے جس کی طبیعت پکائے جانے کی وجہ سے ختم ہوگئی کیونکہ جب وہ ٹھنڈا ہوگا گاڑھا ہوجائے گا۔ (ت)
میں کہتا ہوں طبخ بلانضج نہیں ہوتا ہے جیسا کہ آپ نے جانا تو طبخ بجائے خود قاعدہ ہے اس میں کسی زائد شرط کی حاجت نہیں اور یہ ضابطہ والوں کے موافق ہے پھر جب طبخ سے مطلقا گاڑھا پن پیدا ہوتا ہے تو اقوال میں توافق پیدا ہوگا اور اس میں کئی وجوہ سے کلام ہوسکتا ہے۔ اول : یہ جو میں کہتا ہوں کہ اس بنا پر کچے اور پکے ہوئے میں کوئی فرق نہیں کیونکہ ان دونوں میں دارومدار گاڑھا ہونا ہے اور شیخ کے کلام سے دونوں میں فرق معلوم ہوتا ہے۔
دوم : میں کہتا ہوں ینابیع میں طبخ کی تقسیم اس طرح کی گئی ہے کہ صورتا گاڑھا پن ہو اور رقت باقی ہو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طبخ سے گاڑھا پن لازمی نہیں ہوتا ہے اور ان کے قول غالب کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جب ٹھنڈا ہونے پر گاڑھا نہ ہو تو اس سےوضوجائز ہے کیونکہ مانع کے نہ ہونے کا علم ہے۔
سوم : محقق نے بحر میں فرمایا کہ اس متغیر پانی سے وضو نہ کیا جائے جس کوکسی ایسی چیز کے ساتھ پکایا گیا ہو جو تنظیف کیلئے نہیں ہوتی ہے جیسے شوربہ اور باقلا کا پانی کیونکہ یہ مطلق پانی نہیں ہے اس لئے کہ جب پانی کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے یہ پانی متبادر نہیں ہوتا ہے اور اگر وہ چیز ایسی ہو کہ اس سے نظافت مقصود ہو جیسے جھربیری صابون اور اشنان کو پانی کے ساتھ پکایا جائے تو اس پانی سے وضو کیا جائیگا ہاں اگر
#12786 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
ان ماذکرہ فی التجنیس والینابیع(فاثر مامر انفا)لیس ھو المختار بل ھو قول الناطفی من مشایخنا رحمھم ا لله تعالی یدل علیہ ماذکرہ قاضی خان(فنقل ماتقدم الان)قال وبما قررناہ علم ان الماء المطبوخ بشیئ لایقصد بہ المبالغۃ فی التنظیف یصیر مقیدا سواء تغیر شیئ من اوصافہ اولم یتغیر فحینئذ لاینبغی عطفہ فی المختصر علی بکثرۃ الاوراق الا ان یقال انہ لما صارمقیدا فقد تغیر بالطبخ اھ وتبعہ ش فقال فی المرق والباقلأ انہ یصیر مقیداسواء تغیر شیئ من اوصافہ اولا وسواء بقیت فیہ رقۃ الماء اولا فی المختار کما فی البحر ۔
والرابع : قال العلامۃ البرجندی تحت قول النقایۃ وان تغیر بالمکث اواختلط بہ طاھر الا اذا اخرجہ عن طبع الماء اوغیرہ طبخاما نصہ واطلاق التغییر وجعلہ قسیما للاخراج من طبع الماء یتبادر منہ ان مطلق التغیر بالطبخ مانع سواء اخرجہ عن
پانی اپنی طبیعت سے نکل جائے یعنی رقت اور سیلان ختم ہوجائے تووضوجائز نہ ہوگا اور گزشتہ تقریر سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو کچھ تجنیس اور ینابیع میں ہے(وہ نقل کیا جو ابھی گزرا)وہ مختار نہیں ہے بلالکہ وہ ہمارے مشائخ میں سے ناطفی کا قول ہے قاضی خان کا قول اس پر دلالت کرتا ہے(جو ابھی گزرا وہ نقل کیا)فرمایا ہماری تقریر سے معلوم ہوا کہ پانی کو اگر کسی ایسی چیز سے جوش دیا جائے جس سے زیادہ تنظیف مقصود نہ ہو تووہ مقیدہوجائیگاخواہ اس کے اوصاف میں تغیر ہو یانہ ہو اس صورت میں اس کا عطف مختصر میں “ بکثرۃ الاوراق “ پر مناسب نہیں ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب وہ مقید ہوگیا تو پکنے سے متغیر ہوگیا اھ “ ش “ نے بھی یہی لکھااور شوربا اور باقلأ میں لکھا کہ وہ مقید ہوجائیگا خواہ اس کے اوصاف میں تبدیلی ہو یا نہ ہو عام ازیں کہ اس میں پانی کی رقت رہے یا نہ رہے مختار یہی ہے جیسا کہ بحر میں ہے اھ(ت)
چہارم : علامہ برجندی نے نقایہ کے قول وان تغیر بالمکث الخ کے تحت فرمایا تغییر کو مطلق رکھنا اور اس کو اخراج من طبع الماء کا قسیم بنانا اس سے متبادر یہ ہوتا ہے کہ مطلق تغیر پکانے کی وجہ سے مانع ہے خواہ وہ اس کو پانی کی طبیعت سے نکالے یا نہ نکالے ہدایہ سے یہی مفہوم ہے اس کی تائید
حوالہ / References بحرالرائق بحث الماء سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۸
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۳
شرح النقایۃ للبرجندی مسائل الماء نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۱
#12787 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
طبع الماء اولا وھذا ھو المفھوم من الھدایۃ ویؤیدہ ما فی الخزانۃ وفتاوی قاضی خان انہ اذاطبخ فیہ الباقلی وریح الباقل یوجد منہ لایجوز بہ التوضی وقد ذکر فی الفتاوی الظھیریۃ انہ اذاطبخ الحمص اوالباقلی الی اخر ماتقدم عن الفتح۔
وانا اقول : وبا لله التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق فعل الناروالعیاذ با لله تعالی منھا تفریق الاتصالات فاذاطبخ شیئ تنزیل النارصلابتہ وتفتح منافذہ فیداخلہ الماء وتخرج اجزاؤہ اللطاف فی الماء فتورثہ ثخونۃ اذا کان الماء علی ماھو المعتاد فی طبخ الاشیاء وان لم تظھر اذاکثر الماء جدافان الکلام فی الطبخ المعھود ولا یجعل فیہ من الماء الاقدر معلوم موافق لحصول الامتزاج وھذاماافادالزیلعی واتباعہ ان بالطبخ یحصل کمال الامتزاج نعم الحرارۃ توجب اللطافۃ فمادام حارا لایظھر ذلك التغیرعلی ماھوعلیہ وبہ ظھر سرما قالوا اذاصاربحیث اذبرد ثخن وھذاھو الفارق بین النیئ و المطبوخ فان النیئ لیس فیہ مایمنع ظھورالثخانۃ فاحیل فیہ علی نفس ذھاب الرقۃ بخلاف
خزانہ اور فتاوی قاضی خان سے ہوتی ہے کہ اگر اس میں باقلی پکایا گیا اور اس کی بو پانی میں آگئی تو اس سے وضو جائز نہیں اور فتاوی ظہیریہ میں ہے کہ اذاطبخ الحمص اوالباقلی الخ جو فتح سے نقل ہوا۔ (ت)
میں کہتا ہوں وب اللہ التوفیق آگ کا کام متصل کو منفصل کرناہے جب کوئی چیز آگ پر پکائی جاتی ہے تو آگ اس کی سختی کو زائل کردیتی ہے اور اس کے سوراخوں کو کھول دیتی ہے جس کی وجہ سے اس میں پانی داخل ہوجاتاہے اور اس کے لطیف اجزاء پانی میں آجاتے ہیں اس طرح پانی گاڑھا ہوجاتا ہے جبکہ پانی عادت کے مطابق پکایا جائے اور جب پانی بہت زیادہ ہوتاہے تو یہ گاڑھا پن ظاہر نہیں ہوتا ہے کیونکہ گفتگو متعارف پکانے میں ہے اوراس میں ایك معین مقدار کے پانی کی آمیزش کی جاتی ہے تاکہ امتزاج حاصل ہوجائے زیلعی وغیرہ میں یہی ہے کہ پکانے سے کمال امتزاج حاصل ہوتا ہے ہاں حرارت لطافت کا موجب ہوتی ہے تو جب تك وہ گرم رہتا ہے تو یہ تغیر ظاہر نہیں ہونے پاتا ہے اسی سے یہ راز سربستہ بھی منکشف ہوگیاکہ فقہاء فرماتے ہیں جب پانی ٹھنڈا ہو کر گاڑھا ہوجائے اور یہی چیز مابہ الامتیاز ہے کچے اور پختہ میں کیونکہ کچے میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے
حوالہ / References شرح النقایۃ للبرجندی مسائل الماء نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۲
#12788 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
المطبوخ مالم یبردفیحال فیہ علی النظر فان ظھرانہ یثخن اذابردلم یجزالوضوء بہ والاجاز والمرجع فی ھذاھوحصول النضج والادراك فان عند ذلك یحصل کمال الامتزاج وھو یوجب فی المعتاد ثخونۃ الماء فبھذاالتقریر و لله الحمد انحلت الاشکالات عن اخرھا۔
فالاول : قد ظھر الفرق بین النیئ والمطبوخ۔
والثانی : الطبخ فی کلام الینابیع الاغلاء فی الماء علی النار وان لم ینضج علی سبیل عموم المجاز لابل بیان لحکم یعم المعتاد وغیرہ کمن وضع کفامن حمص فی قدر قربۃ من الماء فانہ لایثخن حین یبرد وان نضج الحمص وادرك وھذا ھو منشؤ التقییدبغالبافی کلام الغنیۃ ونظر الشرنبلالی الی المعتاد المعھود فاطلق القول انہ اذبرد ثخن وبا لله التوفیق۔
والثالث فیہ اشیاء۔
فاقول : اولا(۱)تبین ان فرض عدم التغیر اصلا مع حصول الطبخ فرض مالاوقوع لہ۔
وثانیا : (۲)قد علمت ان مافی الخانیۃ
جو گاڑھے پن کو ظاہر ہونے سے روکتی ہو تو اس میں دارومدار صرف رقت کے ختم ہونے پر ہے برخلاف پکے ہوئے کے جو ٹھنڈا نہ ہواہو تو اس کا دارومدار اس پر ہے کہ دیکھا جائے اگر یہ ظاہر ہو کہ ٹھنڈا ہو کر گاڑھا ہوجائیگا تو اس سے وضو جائز نہیں ورنہ جائز ہوگا اور دارومدار اس میں پکنا ہے کیونکہ اسی وقت کمال امتزاج پایا جاتا ہے اور یہی چیز عام طور پر پانی کے گاڑھا ہونے کا موجب ہوتی ہے اس تقریر سے تمام اشکالات رفع ہوگئے۔
اول : کچے اور پکے کا فرق ظاہر ہوا۔
دوم : ینابیع کی عبارت میں طبخ سے مراد شیئ کو جوش دینا ہے پانی میں آگ پر خواہ پکا ہوانہ ہو یہ بطور عموم مجاز کے ہے نہیں بلالکہ یہ ایسے حکم کا بیان ہے جو معتاد وغیر معتاد دونوں کو عام ہے مثلا کسی نے ایك مٹھی چنے ایك ہانڈی بھر پانی میں ڈال دیئے تو یہ ٹھنڈاہونے پر گاڑھانہ ہوگا خواہ چنے کتنے ہی پك جائیں اور غنیہ کی عبارت میں غالبا کی قید کا یہی مفاد ہے اور شرنبلالی کی نظر معہود پر گئی تو انہوں نے مطلق قول رکھاکہ جب ٹھنڈا ہوگا تو گاڑھا ہوجائے گا وباللہ التوفیق۔
سوم : اس میں چند اور قابل ذکر باتیں ہیں :
میں کہتا ہوں اول : پکنے کے باوجودیہ مفروضہ قائم کرناکہ تغیر نہیں ہوا ہے باوجود حصول طبخ کے ایك ایسی چیز کا فرض کرنا ہے جو واقع نہیں ہوئی ہے۔
دوم : خانیہ میں جو ناطفی سے منقول ہے یہ
#12789 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
عن الناطفی لایخالف ماقدمہ لاجرم ان عزا العلامۃ القوام الکاکی شارح الھدایۃ ثم ابن الشلبی محشی الزیلعی ماعن الناطفی الی قاضی خان ایضافقالا اذا طبخ ولم یثخن بعد ورقۃ الماء فیہ باقیۃ جازالوضوء بہ ذکرہ الناطفی وفی فتاوی قاضی خان اھ والیہ یشیرکلام الحلیۃ اذجعل کلام الناطفی مفاد مافی قاضی خان حیث قال تحت قول الماتن لاتجوزبماء الباقلاء ما نصہ سیذکر عن الجامع الکبیر تقیید عدم الجواز بماء الباقلا بما اذا کان مطبوخاوھو بحال اذا برد ثخن وزالت عنہ رقۃ الماء فیحمل ھذا الاطلاق وان وقع مثلہ لغیرالمصنف علی ذلك دفعا للتناقض ومن ثمہ لما ذکر القدوری فی غدادما لا یجوزالطھارۃ بہ ماء الباقلا قال فی الھدایۃ المراد ماتغیر بالطبخ و احسن منہ حملہ علی مااذا کان مسلوبا منہ اسم الماء مطبوخا اولا کما یفیدہ مافی الخانیۃ فذکر کلامہ المارفی النیئ والمطبوخ تماما وفیہ حدیث الریح فلوحسبہ مخالفالقول الناطفی لکان قولہ مرجوحالانہ انما یقدم الاظھرالاشھر فلم یکن یحسن نسبۃ مازیفہ الیہ ومن
گزشتہ قول کے منافی نہیں اسی لئے علامہ کاکی شارح ہدایہ اور ابن شلبی محشی زیلعی نے ناطفی کے قول کو قاضی خان کی طرف بھی منسوب کیا ہے ان دونوں حضرات نے فرمایا جب پکایا گیااور گاڑھا نہ ہوا اور پانی کی رقت اس میں باقی رہی تو اس سے وضو جائز ہے اس کو ناطفی نے ذکر کیا ہے اور یہ فتاوی قاضی خان میں ہے اھ اس طرف حلیہ میں اشارہ ہے کیونکہ انہوں نے ناطفی کے کلام کوقاضی خان کی گفتگو کا ماحصل قرار دیا ہے وہ ماتن کے قول لاتجوز بماء الباقلی کے تحت فرماتے ہیں کہ عنقریب جامع کبیر سے باقلی کے پانی کے ساتھ عدم جواز کے مقید کرنے کی وجہ بیان کرینگے کہ وہ ایسا پکا ہوا ہو کہ جب ٹھنڈا ہو تو گاڑھا ہوجائے اور اس کی رقت زائل ہوجائے تو یہ اطلاق(اگرچہ مصنف کے علاوہ دوسرے حضرات نے بھی ایسا ہی کیا ہے)اس پر محمول کیاجائے گاکہ تناقض مرتفع ہوجائے اس لئے جب قدوری نے ان اشیاء کا ذکر کیا جن سےوضوجائز نہیںہے تو باقلی کے پانی کو ذکر کیا ہدایہ میں فرمایا اس سے مراد وہ پانی ہے جو پکائے جانے سے بدل گیاہو اور اس کا حمل اس پر زیادہ اچھا ہوگا جبکہ اس پر پانی کا اطلاق ختم ہوگیا ہو خواہ وہ پکا ہوا ہو یا نہ ہو جیسا کہ خانیہ سے پتاچلتا ہے پھر انہوں نے اپنا گزشتہ کلام ذکر کیا جو کچے اور پختہ سے متعلق ہے اسی میں بو کابھی تذکرہ ہے تواگر وہ اس کو ناطفی کے قول کے
حوالہ / References حاشیۃ الشلبی علی التبیین بحث الماء بولاق مصر ۱ / ۱۹
حلیہ
#12790 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
الدلیل علیہ ان الامام قاضی خان نفسہ صرح بھذا الذی قالہ الامام الناطفی وجزم بہ فی عامۃ المعتمدات فی شرحہ للجامع الصغیر کما عزاہ لہ فی الغنیۃ۔
وثالثا العجب(۱)انہ رحمہ ا لله تعالی یحتج بعبارۃ الخانیۃ وقد شرط وجود الرائحۃ ثم یقول سواء تغیر شیئ من اوصافہ اولا
ورابعا : (۲)انکرالعطف علی بکثرۃ الاوراق ولیس ثمہ مایصلح لعطفہ الاھو فان عبارۃ المختصر یتوضوء بماء السماء العین والبحر وان غیر طاھر احداوصافہ اوانتن بالمکث لابما تغیر بکثرۃ الاوراق اوبالطبخ فان لم یعطف علی بکثرۃ یعطف علی بما تغیرای لایتوضوء بالطبخ وھو کلام مغسول
وخامسا : (۳)تأویلہ بان المراد تغیر طبعہ اووصفہ بل اطلاقہ لایتمشی فی عبارۃ النقایۃ والاصلاح تغیر بالطبخ معہ وھو مما لایقصد بہ النظافۃ اذیفید علی ھذا جواز الوضوء بما تغیر من الاطلاق بالطبخ مع المنظف ولیس مرادقطعافانماالامرانہ لماتغیر بالطبخ صار مقیداتغیر بالطبخ۔
مخالف سمجھتے تو ان کا قول مرجوح ہوتا کیونکہ وہ اظہرواشہر کو مقدم کرتے ہیں تو جس قول کو انہوں نے ناپسندیدہ قرار دیا اسی کی نسبت ان کی طرف اچھی نہیں اس کی دلیل یہ ہے کہ خود قاضی خان نے اس چیز کی تصریح کی ہے جو امام ناطفی نے ذکر کیاہے اور اسی پر انہوں نے اپنی عام معتمدات میں جامع صغیر کی شرح میں جزم کیا ہے اورغنیہ میں اس کو ان کی طرف منسوب کیا ہے۔
سوم : تعجب اس پرہے کہ وہ خانیہ کی عبارت سے استدلال کر رہے ہیں اور انہوں نے بو کی شرط لگائی ہے پھر فرمایا عام ازیں کہ اس کے اوصاف میں سے کچھ بدلا ہوا ہو یا نہ بدلا ہوا ہو۔
چہارم : بکثرۃ الاوراق پر عطف کاانکار کیا ے حالانکہ وہاں صرف اسی پر عطف ممکن ہے کیونکہ مختصر کی عبارت یہ ہے یتوضوء بماء السماء الخ تو اگر بکثرۃ پر عطف نہ کیا جائے تو بما تغیر پر کرنا ہوگا اور یہ غلط ہے۔
پنجم : اس کی یہ تاویل کرنا کہ مراد اس کی طبیعت یا وصف کا بدلنا نہیں ہے بلالکہ ان کی عبارت کا اطلاق اصلاح ونقایہ کی عبارت میں نہیں چل سکتا ہے کہ تغیر بالطبخ معہ ہے اور یہ وہ چیز ہے جس سے نظافت مقصود نہ ہو اس لئے کہ اس بناء پر اس چیز سے جس سے تغیر واقع ہو وضو جائز ہوگا یعنی جب کہ نظافت والی چیز کے ساتھ پکانے کو مطلق رکھا جائے
حوالہ / References بحرالرائق بحث الماء سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۸
کنز الدقائق بحث الماء ایجوکیشنل پریس کراچی ۱ / ۱۱
#12791 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اقول : (۱)ووقع فی تعبیر ش تغییر لمفاد البحر فان قولہ فی المختار کما فی البحر یوقع من لایراجع البحرفی توھم انہ تصحیح منقول فی البحر عن اھلہ فانہ رحمہ ا لله تعالی لم یکن من اصحابہ کما اعترف بہ ش فی عقود رسم المفتی وبیناہ فی رسالتنا ھبۃ الجیر فی عمق ماء کثیرولیس کذلك وانما قال لخلافہ من قبل نفسہ لیس ھو المختار۔
والرابع : (۲) لماکان زوال الطبع بالطبخ ربمالا یظھرالا اذابردصح التقسیم فیحال فی النیئ علی عین الثخونۃ وفی المطبوخ علی دلیلھاوکأنہ الی ھذایشیرالبرجندی بتعقیبہ بکلام الظھیریۃ فاستقران شاء ا لله تعالی ولہ الحمد عرش التحقیق ٭بحسن التوفیق٭علی التطبیق والتوفیق٭ وبا لله سبحنہ وتعالی التوفیق۔
حالانکہ یہ قطعا مراد نہیں ہے کیونکہ جب پکانے سے متغیر ہوگیا تو مقید ہوگیا یہ نہیں کہ جب مقید ہوگیا توپکانے سے متغیر ہوگیا۔ (ت)
میں کہتا ہوں “ ش “ کی عبارت میں تبدیلی بحر کے مفاد کیلئے ہے کیونکہ ان کا قول فی المختار کما فی البحر ایك ایسے شخص کو جس نے بحر نہ دیکھی ہو اس وہم میں مبتلا کرسکتا ہے کہ یہ بحر کے منقول کی تصحیح ہے جو انہوں نے کسی سے نقل کیا ہے کیونکہ وہ اس کے اصحاب سے نہیں جیسا کہ اس کا اعتراف “ ش “ نے عقود رسم المفتی میں کیا ہے اور ہم نے اس کو “ ھبۃ الجیر فی عمق ماء کثیر “ میں ذکر کیا ہے جبکہ امر واقعہ یہ نہیں ہے یہ بات انہوں نے اس لئے کہی ہے کہ وہ اپنی طرف سے اس کے مخالف ہیں وہ مختار نہیں سمجھتے(ت)
چہارم : پکنے کی وجہ سے طبیعت کا زائل ہونا کبھی ظاہر نہیں ہوتا ہے ہاں جب ٹھنڈا ہوتا ہے تو تقسیم صحیح ہے تو کچے کا دارومدار گاڑھے پن پر ہوگا اور پکے ہوئے میں اس کی دلیل پر ہوگا اور غالبا برجندی اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ وہ اس کے بعد ظہیریہ کے کلام کو لائے ہیں یہ اس کی مکمل تحقیق ہے۔ (ت)
(۲۱۸)پانی میں میوے جوش دے کر ان کا عرق نچوڑا یہ عرق اگرچہ پانی سے مخلوط ہوگا کہ حرارت نار کے سبب میوے پانی کا تشرب کریں گے خصوصا جبکہ کوٹ کر ڈالے اس سےوضوجائز نہیں۔ فتاوی امام قاضی خان میں ہے :
لایجوز التوضوء بماء الفواکہ وتفسیرہ ان یدق التفاح اوالسفرجل دقانا عما ثم
پھلوں کے پانی سے وضو جائز نہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ سیب یا امرود کو باریك باریك کوٹ لیا جائے اور
#12792 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
یعصرہ فیستخرج منہ الماء وقال بعضھم تفسیرہ ان یدق التفاح اوالسفرجل ویطبخ بالماء ثم یعصر فیستخرج منہ الماء وفی الوجھین لایجوز بہ التوضوء لانہ لیس بماء مطلق ۔
پھر ان کو نچوڑ کر ان سے پانی نکالا جائے بعض نے اس کا مفہوم یہ بتایا ہے کہ سیب یا امرود کو باریك کرکے پانی کے ساتھ پکایا جائے پھر نچوڑا جائے اور پانی نکالا جائے اور دونوں صورتوں میں اس سے وضو جائز نہیں کیونکہ یہ مطلق پانی نہیں ہے۔ (ت)
(۲۱۹)یہ پانی جس میں میوے جوش دے اس کا حکم ذکر نہ فرمایا۔
واقول : وبہ استعین اگر میوے خفیف جوش دے جس میں قدرے نرم ہو کر نچوڑنے میں اچھی طرح آئیں اور نکال لئے کہ پانی میں ان کے اجزائے لطیفہ قدر تغیر نہ ملنے پائے تو اس پانی سے وضو جائز ہونا چاہئے اور اب یہ پانی نمبر ۱۰۸ ۱۰۹ میں داخل ہوگا اور اگر میوے اس میں پك گئے کہ اسے متغیر کردیا تو ان کے نکال لینے کے بعد بھی اس پانی سے وضو ناجائز ہے یہ ۲۱۹ نمبر ہوگا۔
(۲۲۰)سر پر مہندی یا کوئی خضاب یا ضماد لگا ہوا ہے اور مسح کرتے میں ہاتھ اس پر گزرتا ہوا پہنچا یوں کہ یا تو وہ ضماد(۱)وخضاب رقیق بے جرم مثل روغن ہے تو اسی کی جگہ مسح کیا وہ جرم دار ہے تو اس کے باہر چہارم سر کی قدر مسح کیا مگر ہاتھ اس پر ہوتا گزرا اگر اس گزرنے میں ہاتھ کی تری میں اس خضاب وضماد کے اجزاء ایسے مل گئے کہ اب وہ تری پانی نہ کہلائے گی تو مسح جائز نہ ہوگا ورنہ جائز۔
یہ نمبر(۲۲۱)ہوا جس کا جائزات میں اضافہ ہونا چاہئے وجیز امام کردری فصل مسح میں ہے :
مسحت علی الخضاب ان اختلطت البلۃ بالخضاب حتی خرجت عن کونھا ماء مطلقا لم یجز اھ اقول : ولا بدمن تقیید مفھومہ بما ذکرت فاعرف۔
خضاب پر مسح کیا اگر تری خضاب سے مل گئی یہاں تك کہ ماء مطلق ہونے سے خارج ہوگئی تو اس سے مسح جائز نہیں اھ میں کہتا ہوں اس کے مفہوم کو مقید کرنا ضروری ہے اس قید کے ساتھ جو میں نے ذکر کی ہے اس کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ (ت)
(۲۲۲)پانی میں ستو گھلے ہوں کہ وہ رقیق نہ رہے اس سے وضو ناجائز ہے ہدایہ وکافی میں ہے :
الا ان یغلب علی الماء فیصیر کالسویق
مگر یہ کہ وہ پانی پر غالب ہو کہ پانی مثل ستوؤں کے ہوجائے
حوالہ / References فتاوٰی قاضی خان فصل فیما لایجوزبہ التوضی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
فتاوٰی بزازیۃ مع العالمگیری الرابع فی المسح ، نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۵
#12793 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
لزوال اسم الماء عنہ ۔
کیونکہ اب اس سے پانی کا نام ختم ہوگیا ہے۔ (ت)
خانیہ میں ہے :
وان صارثخینا مثل السویق لا ۲ ۔
اور اگر ستوؤں کی طرح گاڑھا ہوجائے تو جائز نہیں۔ (ت)
المقابلات عــــــہ
(۲۲۳)اہلے میں اگر اس قدر مٹی کوڑے وغیرہ کا خلط ہے کہ پانی کیچڑ کی طرح گاڑھا ہوگیا تو اس سے وضو جائز نہیں خانیہ میں ہے :
توضأ بماء السیل یجوز وانکان ثخینا کالطین لا ۔
اگر کسی نے سیلاب کے پانی سےوضوکیا تو جائز ہے اور اگر کیچڑ کی طرح گاڑھا ہو تو جائز نہیں۔ (ت)
اجناس امام ناطفی پھر منیہ میں ہے :
التوضی بماء السیل ان لم تکن رقۃ الماء غالبۃ لایجوز ۔
اگر پانی کی رقت غالب نہ ہو تو سیلاب کے پانی سےوضوجائز نہیں ہے۔ (ت)
اقول : علمائے کرام پر اللہ عزوجل کی رحمتیں احتیاط کے لئے ایسی نادر صورتیں بھی ذکرفرماتے ہیں ورنہ سیلاب کا ایسا ہونا بہت بعیدہے وہ اس سے تنبیہ فرماتے ہیں کہ جب اس قدر آب کثیر وغزیر اتنے اختلاط تراب سے ناقابل وضو ہوگیا تو برساتی ندیوں یا گھڑے لوٹے کے پانی کیا ذکر
(۲۲۴ تا ۲۵۱)کاہی آٹاپتے پھل بیلیں شنجرف یاکسم کی زردیاں کچ چونا ریشم کے کیڑے مینڈك وغیرہ غیر دموی جانور کے اجزا چنے باقلا وغیرہ ناج کے ریزے کو لتارروٹی کے ذرے صابون اشنان ریحان بابونہ خطمی برگ کنار کچے خواہ یہ چھ نظافت کیلئے پانی میں پکائے ہوئے غرض کوئی چیز حتی کہ برف جو اصل پانی ہے اگر پانی ہے اگر پانی میں مل کر اس رقت زائل کردے اس سے وضو ناجائز ہوگا۔
عـــــہ : یعنی وہ پانی جن کی صورت جواز جائزات میں گزری یہ صورتیں ان کے مقابل ہیں ۱۲(م)
حوالہ / References ہدایۃ باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوزبہ مطبع عربیہ کرا چی ۱ / ۱۸
قاضی خان فیما لایجوز بہ التوضی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
قاضی خا ن فیما لایجوز بہ التوضی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
متن غنیۃ المستملی احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۹۰
#12794 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
اقول : وھذا ھو محمل مافی خزانۃ المفتین عن شرح مجمع البحرین لایجوز الوضوء بماء الباقلی وماء الصابون وماء الاشنان اھ کما ان الاول محمل اطلاق القدوری وغیرہ الجواز فی الصابون والاشنان غیرانہ حمل قریب لان المعھودھو خلطھما قلیلا بحیث لایذھب الرقۃ (۱)وانما البعد فی(۱)ما فی شرح المجمع۔
میں کہتا ہوں خزانۃ المفتین میں جو شرح مجمع البحرین سے ہے اس کا محمل یہی ہے اس کی عبارت یہ ہے کہ باقلی اور صابون اور اشنان کے پانی سےوضوجائز نہیں ہے اھ جیسا کہ اول قدوری وغیرہ کے اطلاق کا محمل ہے ان کے اطلاق سے اشنان اور صابون کے پانی سے جواز معلوم ہوتا ہے یہ حمل قریبی ہے کیونکہ عام طور پر یہ دونوں چیزیں کم مقدار میں ملائی جاتی ہیں کہ اس سے پانی کی رقت ختم نہیں ہوتی ہے اور شرح مجمع میں جو ہے وہ بعید ہے۔ (ت)
ان پر اکثر نصوص ان کے مقابلات میں اپنے اپنے محل پر مذکور ہوئے اور خانیہ میں فرمایا :
لووقع الثلج فی الماء وصار ثخینا غلیظا لایجوز بہ التوضوء لانہ بمنزلۃ الجمد وان لم یصر ثخینا جاز ۔
اگر برف پانی میں گر گئی اور پانی گاڑھا ہوگیا تو اس سےوضوجائز نہیں کیونکہ یہ بمنزلہ جمد کے ہے اور اگر گاڑھا نہ ہو تو جائز ہے۔ (ت
یہ برف کا نص ہے کہ اگر پانی کو گاڑھا کردے اس سے وضو ناجائز ہوگا جب تك پگھل کر پانی کی رقت عود نہ کرے اور گاڑھا نہ کرے تو جائز یہ نمبر(۲۵۲)ہوا کہ جائزات میں اضافہ ہوگا۔
(۲۵۳ ۲۵۴)جس پانی میں کوئی دوا یا غذا پکا کر تیار کی متون میں ہے لابما تغیر بالطبخ(نہ اس پانی سے جو پکانے سے متغیر ہوجائے۔ ت)
(۲۵۵ و ۲۵۶)یوں ہی چائے یا کافی جن کے پکانے سے پانی کی رقت میں فرق آئے اگرچہ ان سے سیلان نہیں جاتا رقت وسیلان کا فرق ضوابط میں مذکور ہوگا ان شاء الله قہوہ میں گاڑھا پن ضرور مشہود ہوا ہے اور اگر اسے بھی پانی میں اثر کرنے سے پہلے نکال لیا تو جواز رہے گا لعدم الطبخ وبقاء الطبع کما فی ۱۱۰ یہ(۲۵۷)بھی جائزات میں زائد کیا جائے۔
(۲۵۸ تا ۲۶۲)عرق گاؤ زبان گلاب کیوڑا بید مشك خوشبو ہوں یا اترے ہوئے یوں ہی
حوالہ / References خزانۃ المفتین
قاضی خان فیما لایجوزبہ التوضی نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
#12795 · (رسالہ ضمنیہ)عطاء النبی لافاضۃ احکام ماء الصبی۱۳۳۴ھ (بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ)
ہر عرق اوصاف میں پانی کے خلاف ہو یا موافق غرض جو بہتی چیز پانی کی نوع سے نہیں جب پانی کی مقدار سے زیادہ اس میں مل جائے بالاجماع اس سے وضو نہ ہوسکے گا۔
فان استویا فی الاجزاء لم یذکر ھذا فی ظاھر الروایۃ وقالوا حکمہ حکم الماء المغلوب احتیاطا وقال فی الغنیۃ وکذا ان کانت مساویۃ احتیاطا حتی یضم الیہ التیمم عند المساواۃ ۔
اقول : لم یسندہ لاحد ولم ارہ لغیرہ وفیہ نبوء عن القواعد فما(۱)اجتمع حاظر ومبیح الاغلب الحاظر ولا حکم للمغلوب وایضا اذا استویا(۲)فقد تعارضا واذا تعارضا تساقطا وایضا لیس(۳) تسمیتہ ماء باولی من تسمیۃ غیرہ فکیف ینطلق علیہ اسم الماء المطلق وما لیس بماء مطلق لایصح الوضوء بہ اصلا والاشتغال بما لایصح یکرہ تحریما کما فی الدر عن القنیۃ بل ھو اضاعۃ المال فیحرم تأمل وراجع وکانہ فھم من قولھم احتیاطا ان لھم شکا فی کونہ ماء فاحترزوا عنہ للاحتیاط فان لم یکن ماء لم یجز الوضوء بہ وانکان ماء لم یجز التیمم مع وجودہ
اگر دونوں اجزاء میں برابر ہوں تو یہ چیز ظاہر روایت میں نہیں ہے فقہاء نے فرمایا اس کا حکم احتیاطا مغلوب پانی کا سا ہے۔ غنیہ میں کہا اور اسی طرح ہے جب وہ مساوی ہوں احتیاطا حتی کہ جب دونوں برابر ہوں تو وضو کے ساتھ تیمم بھی کرلیا جائے اھ(ت)
میں کہتا ہوں اس کو انہوں نے کسی کی طرف منسوب نہیں کیا اور ان کے علاوہ کسی نے اس کو ذکر نہیں کیا اور یہ قواعد سے دوری ہے جس چیز میں بھی حرام کرنیوالی اور مباح کرنیوالی دلیل جمع ہوجائے تو حرام کرنے والی غالب رہے گی اور مغلوب کا کوئی حکم نہ ہوگا اور جب دونوں برابر ہوں تو تعارض ہوگا اور تساقط ہوجائیگا پھر اس کا پانی کہا جانا کسی دوسرے نام سے اولی نہیں ہے تو اس پر مطلق پانی کا نام کیسے بولا جائیگا اور جو مطلق پانی نہ ہو اس سےوضوبالکل جائز نہیں اور جو چیز صحیح نہ ہو اس میں مشغولیت مکروہ تحریمی ہے جیسا کہ در میں قنیہ سے ہے بلکہ یہ تو مال کا ضائع کرنا ہے لہذا حرام ہوگا اس پر غور کیجئے اور مراجعت کیجئے اور شاید انہوں نے ان کے قول احتیاطا سے یہ سمجھا کہ ان کو اس کے پانی ہونے میں شك ہے
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل فی الماء المقید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵
غنیۃ المستملی فصل فی احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۹۰
#12796 · رسالہ ضمنیہ بچے کے حاصل کردہ پانی کے احکام کے متعلق نبی پاك صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عطیہ
فیجمع بینھما خروجا عن العھدۃ بیقین فانہ انکان ماء فقد توضأ وان لم یکن فقد تیمم کما فی سؤر(۱)الحمار للشك فی طھوریتہ ولیس(۲)کذلك بل الاحتیاط ھھنا بمعنی العمل باقوی الدلیلین لایستقیم لاحد ان یسمیہ ماء مطلقا فھو خارج عنہ بالیقین من دون شك ولا تخمین وا لله تعالی اعلم۔
تو احتیاطا اس سے انہوں نے پرہیز کیا ہے اب اگر وہ پانی نہیں تو اس سے وضو جائز نہیں اور اگر پانی ہے تو اس سے تیمم جائز نہیں تو تیمم اور وضو دونوں کو جمع کیا جائیگا تاکہ یقین سے فریضہ ادا ہوجائے کیونکہ اگردرحقیقت پانی ہو تو وضو ہوگیااوراگر پانی نہیں تو تیمم ہوگیا جیسا کہ گدھے کے جوٹھے کا حکم ہے کیونکہ اس کے طہور ہونے میں شك ہے اور یہا ں ایسا نہیں ہے بلکہ یہاں یہ احتیاط ہے کہ اقوی الدلیلین پر عمل ہوجائے کوئی اس کو مطلق پانی نہیں کہتا یہ اس سے یقینا خارج ہے و اللہ تعالی اعلم۔ (ت)
(۲۶۳ تا ۲۶۶)اقول ایسی بے لون چیزیں اگر مزہ پانی کے خلاف رکھتی ہوں کہ نصف سے کم مل کر بدل دیں تو باتفاق منقول وضابطہ اس سے وضو کا عدم جواز چاہئے۔
اما المنقول فلان العبرۃ بالطعم حیث لالون واما الضابطۃ فلانھا ذوات وصف اووصفین وعلی کل یکفی تغیر وصف واحد فمامر عن البحر من(۳)العبرۃ بالاجزاء فی ماء لسان الثور وماء الورد المنقطع الرائحۃ ومثلہ فی الغنیۃ غیر مسلم فلیتنبہ۔
رہی نقل دلیل تو اعتبار مزے کا ہے جہاں رنگ نہ ہو اور ضابطہ یہ ہے کہ وہ دو وصفوں والی چیز ہے یا ایك وصف والی چیز ہے اور بہرصورت ایك وصف کا بدلنا کافی ہے اور بحر میں جو ہے کہ زبان ثور اور گلاب کے پانی میں جس کی خوشبو ختم ہوچکی ہو اجزأ کا اعتبار ہے مسلم نہیں فلیتنبہ۔ (ت)
نوع اخر مقابلات نوع اخر قسم اول
صنف اول__جامدات
(۲۶۷ تا ۲۷۵)نبیذ میں چھوہارے یا کشمش خواہ کوئی میوہ شربت میں شکر بتاسے مصری خواہ کوئی خشك شیرینی خیساندہ میں دوارنگ میں کسم کیسر پڑیا روشنائی میں کسیس مازو خواہ اور اجزاء جب اتنے
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۹
#12797 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
ڈالیں کہ پانی اپنی رقت پر نہ رہے اس سے بالاجماع وضو ناجائز ہے۔ قدوری وہدایہ ونقایہ وغیرہا عامہ کتب میں ہے :
لابماء غلب علیہ غیرہ فاخرجہ عن طبع الماء ۔
نہ اس پانی سے جس پر غیر کا غلبہ ہو تو اس کو پانی کی طبیعت سے نکال دے۔ (ت)
صنف دوم __ مائعات
(۲۷۶ تا ۲۷۸)زعفران حل کیا ہوا پانی یا شہاب اگر پانی میں مل کر اس کی رنگت کے ساتھ مزہ یا بو بھی بدل دے تو اس سے بالاتفاق وضو ناجائز ہے۔
لتغیر اللون علی الحکم المنقول واکثر من وصف علی الضابطۃ
اس لئے کہ رنگ متغیر ہوگیا اس حکم پر جو منقول ہوا اورایك وصف سے زاید ہے ضابطہ پر۔ (ت)
یوں ہی پڑیا حل کیا ہوا پانی جب رنگ اور ایك وصف اور بدل دے۔
لانہ انکان ذا الثلاثۃ کفی تغیروصفین للوفاق فکیف اذاکان ذاوصفین۔
اس لئے کہ اگر وہ تین اوصاف والا ہو تو اس میں دو وصفوں کا تغیر کافی ہے اس پر اتفاق ہے تو پھر دو وصفوں کا کیاحال ہوگا(ت)
(۲۷۹)تربوز کا شیریں پانی جبکہ پانی میں پڑ کررنگ کے ساتھ اس کا ایك وصف اور بدل دے ہاں رنگ نہ رکھتاہو تو مزے کا اعتبار ہے۔
وھومحمل قول الزیلعی والافھوذوالثلاثۃ کماھو معلوم مشاھد وقال فی المنحۃ قال الرملی لمشاھد فی البطیخ مخالفتہ للماء فی الرائحۃ وایضافی البطیخ مالونہ احمر وفیہ مالونہ اصفر اھ
اقول : ای لون مائہ اذفیہ الکلام
اور یہی زیلعی کے قول کا مطلب ہے قول یہ ہے ورنہ وہ تین وصفوں والا ہے جیسا کہ مشاہد ومعلوم ہے اور منحہ میں فرمایا رملی نے کہا تربوز میں مشاہدہ یہ ہے کہ وہ بو میں پانی کے مخالف ہوتا ہے اور بطیخ میں کچھ سرخ رنگ کے اور کچھ پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس سے مراد اس کے پانی کا رنگ ہے
حوالہ / References ہدایۃ الماء الذی یجوزبہ الوضوء العربیہ کراچی ۱ / ۱۸
منحۃ الخالق مع البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
#12798 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
لالون عینہ۔
کیونکہ کلام اسی میں ہے اس سے مراد خود بطیخ ذات کا رنگ نہیں۔ (ت)
(۲۸۰)سپید انگور کاشیرہ جب پانی کے مزے پر اس کا مزہ غالب آجائے۔
لتغیر الطعم علی المنقول وھو ذووصفین فیکفی تغیر واحد علی الضابطۃ فھذا مما لایتأتی فیہ الخلاف فی شیئ من جانبی الجواز وعدمہ۔
فان قلت بلی فان الحکم لایقتصر عند اھل الضابطۃ علی الطعم بل کذلك لوغلب الریح۔
اقول : طعمہ اسرع عملا فلا یتغیر الریح مالم یتغیر۔
کیونکہ مزہ کا تغیر ہے منقول کے مطابق اور وہ دو۲ وصفوں والا ہے تو ایك میں تغیر کافی ہے ضابطہ کے مطابق یہ وہ ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں جواز وعدم جواز کے جانبین میں۔ (ت)
اگر یہ کہا جائے کہ حکم اہل ضابطہ کے نزدیك مزہ پر موقوف نہیں بلالکہ بو کے غلبہ کی صورت میں بھی یہی حکم ہے۔ (ت)
تو میں کہتا ہوں اس کے مزے کا عمل تیز تر ہوتا ہے تو جب تك مزہ نہ بدلے بو نہیں بدل سکتی ہے۔ (ت)
(۲۸۱)سپید انگور کا سرکہ ملنے سے اگر پانی کا مزہ بدل گیا سرکہ کا مزہ اس پر غالب ہوگیا۔ لمامرو یتأتی فیہ الخلاف کما یاتی(اس کا حکم گزرا اور اس میں اختلاف آتا ہے۔ ت)
(۲۸۲)رنگت دار سرکہ جب پانی میں مل کر رنگ اور بو(اس لئے کہ عام سرکوں کی بو قوی تر ہوتی ہے ۱۲ منہ)دونوں بدل دے۔
لحصول اللون علی المنقول ووصفین علی الضابطۃ۔
منقول کے مطابق رنگ والا ہے اور ضابطہ کے مطابق دو وصفوں والا ہے۔ (ت)
(۲۸۳)ایسے سرکہ کا مزہ اقوی ہو تو جب اس سے مزہ کے ساتھ رنگت بھی بدل جائے۔
(۲۸۴)جس سرکہ کا رنگ قوی ترہو جب رنگ کے ساتھ ایك وصف اور بدل دے والوجہ قد علم(اس کی وجہ معلوم ہے۔ ت)
(۲۸۵)دودھ جب اس کا رنگ اور مزہ دونوں پانی پر غالب آجائیں۔
لان العبرۃ فی المنقول باللون وعند الزیلعی وکثیر من اتباعہ باحد وصفین اللون
اس لئے کہ اعتبار منقول میں رنگ ہی کاہے اور زیلعی کے نزدیك(نیز ان کے اکثر متبعین کے نزدیک)
#12799 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
والطعم وعند المحقق علی الاطلاق وصاحب الدرر بھما معا فاذا تغیراحصل الوفاق علی سلب الاطلاق۔
دو اوصاف میں سے ایك کا اعتبار ہے(یعنی رنگ یا مزہ) اور محقق علی الاطلاق اور صاحب درر کے نزدیك دونوں کا ایك ساتھ اعتبار ہے اب جبکہ دونوں وصف ہی بدل جائیں تو پانی کا اطلاق نہ ہونے پر اتفاق ہوجائے گا۔ (ت)
یہ ایك عــہ۱ سوبائیس وہ ہیں جن سے وضو بالاتفاق عــہ۲ ناجائز ہے یعنی نہ ہوسکتا ہے نہ اس سے نماز جائز ہو و الله تعالی اعلم وصلی الله تعالی علی سیدنا ومولانا محمد وآلہ وصحبہ وبارك وسلم۔
قسم سوم جن سے صحت وضو میں حکم منقول ومقتضائے ضابطہ امام زیلعی کاخلاف ہے صنف اول خشك اشیا
(۲۸۶ ۲۸۷)چھوہارے کے سوا کشمش انجیر وغیرہ کوئی میوہ بالاجماع الاماعن الامام الاوزاعی ان ثبت عنہ(مگر وہ جو امام اوزاعی سے مروی ہے اگر ان سے ثابت ہو۔ ت)اور مذہب صحیح معتمد مفتی بہ مرجوع الیہ میں چھوہارے بھی جبکہ تادیر تر کرنے سے پانی میں اس میوہ کی کیفیت اس قدر آجائے کہ اب اسے پانی نہ کہیں نبیذ کہیں اس سے وضو نہیں ہوسکتااگرچہ رقیق ہو بدائع امام ملك العلماء میں ہے :
قیاس ماذکرنا انہ لایجوز الوضوء بنبیذ التمرلتغیرطعم الماء وصیرورتہ مغلوبابطعم التمرو بالقیاس اخذابویوسف وقال لایجوز التوضوء بہ الا ان ابا حنیفۃ رضی ا لله تعالی عنہ ترك القیاس بالنص فجوزالتوضوء بہ وروی نوح فی الجامع المروزی عن ابی حنیفۃ رضی ا لله تعالی عنہ انہ رجع عن ذلك وقال لایتوضوء بہ
جن چیزوں سے ہم نےوضوکے جائز نہ ہونے کاقول کیاہے وہ نبیذ تمر پر قیاس کی گئی ہیں کیونکہ پانی کا مزہ بدل گیا ہے اور وہ کھجور کے مزہ سے مغلوب ہوگیا ہے قیاس پر ابویوسف نے عمل کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس سےوضو جائز نہیں اور امام ابو حنیفہ نے نص کی وجہ سے قیاس کو چھوڑ دیااور اس سےوضوکو جائز قرار دیا اور نوح نے جامع مروزی میں ابو حنیفہ سے روایت کی کہ آپ نے اس سے رجوع
عـــــہ۱ : ۱۶۰ کے بعد ۱۲۵ ہوئے مگر ان میں تین نمبر ۲۲۱ ۲۵۲ ۲۵۷ جائزات کے تھے لہذا ایك سو بائیس۱۲۲ رہے ۱۲(م)
عـــــہ۲ : یعنی ضابطہ زیلعی اور ان احکام کے اتفاق سے جو قول امام محمد پر مبنی ہیں جیسا کہ تنبیہ ضروری میں گزرا ۱۲ منہ غفرلہ(م)
#12800 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
وھو الذی استقر علیہ قولہ کذا قال نوح وبہ اخذ ابو یوسف ۔
کرلیا اور فرمایا کہ اس سے وضو نہ کیا جائے اور ان کے اس قول پر اتفاق ہوا یہی نوح کا قول ہے اور یہی ابو یوسف نے لیا ہے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
وجب تصحیح الروایۃ الموافقۃ لقول ابی یوسف لان ایۃ التیمم ناسخۃ لہ لتاخرھااذھی مدنیۃ وعلی ھذامشی جماعۃ من المتأخرین ۔
اس روایت کی تصحیح جو ابو یوسف کے قول سے مطابقت رکھتی ہے لازم ہے کیونکہ آیۃ تیمم اس کو منسوخ کرنے والی ہے وہ مدنی ہونے کی وجہ سے متاخر ہے اور متاخرین کی ایك جماعت اسی طرف گئی ہے۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
ذکر نوح الجامع والحسن بن زیاد ان اباحنیفۃ رضی ا لله تعالی عنہ رجع الی انہ یتیمم ولا یتوضوء کما ھو مختار ابی یوسف وقول اکثر العلماء منھم مالك والشافعی واحمدقال قاضی خان وھو الصحیح اھ
نوح اور حسن بن زیاد نے ذکر کیا کہ ابو حنیفہ نے اس سے رجوع کرلیااور فرمایا بجائےوضوکے تیمم کرنا چاہئے یہی ابویوسف کا مختارہے اور اکثر علماء مثلا شافعی مالك اور احمد کا قول ہے اور قاضی خان نے کہا یہی صحیح ہے اھ۔ (ت)
غنیہ میں شرح جامع صغیر قاضی خان سے ہے :
روای اسد بن عمر ونوح بن ابی مریم والحسن عن ابی حنیفۃ رضی ا لله تعالی عنہ انہ رجع الی قول ابی یوسف والصحیح قول ابی حنیفۃ الاخر اھ اقول فھذان متابعان قویان لنوح الجامع فزال ماکان
روایت کیا اسد بن عمرو اور نوح بن ابی مریم اور حسن نے ابو حنیفہ سے کہ انہوں نے ابویوسف کے قول کی طرف رجوع کرلیااور صحیح ابوحنیفہ کا دوسرا قول ہے اھ میں کہتا ہوں یہ دومضبوط تائیدیں نوح کے حق میں ہیں اس سے ملك العلماء کی برآت کا خطرہ زائل ہوگیا ملك العلماء
حوالہ / References بدائع الصنائع فصل الماء المقید ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵
فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوزبہ نوریہ رضویہ سکھر
حلیہ
شرح جامعہ الصغیر لقاضی خان
#12801 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
یخشی من تبری ملك العلماء اذقال کذا قال نوح۔
نے فرمایا کذا قال نوح۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
لایتوضوء بہ ھی الروایۃ المرجوع الیھاعن ابی حنیفۃ رضی ا لله تعالی عنہ وعلیھاالفتوی لان الحدیث وان صح لکن ایۃ التیمم ناسخۃ لہ اذ مفھومھانقل الحکم عند عدم الماء المطلق الی التیمم ونبیذ التمر لیس ماء مطلقا ۔
اس سے وضو نہ کیا جائے یہ ابو حنیفہ کی وہ روایت ہے جس کی طرف رجوع کیا ہے اور اسی پر فتوی ہے کیونکہ حدیث اگرچہ صحیح ہے لیکن تیمم کی آیت اس کی ناسخ ہے کیونکہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جب مطلق پانی نہ ہو تو حکم کو تیمم کی طرف منتقل کردیا جائے اور نبیذتمر مطلق پانی نہیں ہے۔ (ت)
بحر میں ہے :
لایتوضوء بہ وھو قولہ الاخر قدرجع الیہ وھو الصحیح واختارہ الطحاوی وبالجملۃ فالمذھب المصحح المختارالمعتمد عندنا عدم الجواز ۔
نبیذ سے وضو نہ کیا جائے یہی امام ابو حنیفہ کا آخری قول ہے انہوں نے اس کی طرف رجوع کرلیا تھا یہی صحیح ہے اور اسی کو طحاوی نے اختیار کیا خلاصہ یہ کہ ہمارے نزدیك تصحیح شدہ مختار معتمد مذہب وضو کے عدم جواز کا ہے۔ (ت)
خانیہ میں ہے :
ھو قول ابی حنیفۃ الاخر ۔
یہی ابو حنیفہ کا آخری قول ہے۔ (ت)
ہندیہ میں عینی شرح کنز سے ہے :
الفتوی علی قول ابی یوسف ۔
فتوی ابو یوسف کے قول پر ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
یقدم التیمم علی نبیذ التمر
تصحیح شدہ قول کے مطابق نبیذتمر پر
حوالہ / References غنیۃ المستملی ، باب التمیم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۲
بحرالرائق کتاب الطہارۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۳۷
قاضی خان فیما لایجوزبہ التوضی ، نولکشور لکھنؤ ۱ / ۹
ہندیہ فیما لایجوزبہ التوضی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۳
#12802 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
علی المذھب المصحح المفتی بہ لان المجتھد اذارجع عن قول لایجوز الاخذ بہ اھ وقولہ یقدم ای یرجح ویختار و یوثر فیفعلہ لا الوضوء بہ۔
تیمم کو مقدم کیا جائیگا یہی صحیح مذہب ہے اور اسی پر فتوی ہے کیونکہ جب کوئی مجتہد کسی قول سے رجوع کرے تو اس پر عمل جائز نہیں اور ان کا قول “ مقدم کیا جائیگا “ سے مراد یہ ہے کہ اس کو ترجیح دی جائیگی اور اختیار کیا جائیگا اور نبیذ سے وضو نہ کیا جائیگا۔ (ت)
بدائع میں ہے :
اما نبیذ الزبیب وسائر الانبذۃ فلایجوز التوضوء بھا لان القیاس یابی الجوازالابالماء المطلق وھذالیس بماء مطلق بدلیل انہ لایجوزالتوضوء بہ مع القدرۃ علی الماء المطلق الا انا عرفنا الجواز بالنص والنص ورد فی نبیذ التمرخاصۃ فیبقی ماعداہ علی اصل القیاس ۔
نبیذ منقی اور دوسرے نبیذوں سے وضو جائز نہیں کیونکہ قیاس کی رو سےوضوصرف مطلق پانی سے ہوسکتا ہے اور یہ مطلق پانی نہیں ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ مطلق پانی کے موجود ہونے کی صورت میں اس سےوضوجائز نہیں مگر ہمیں اس کا جواز نص سے معلوم ہوا ہے اور نص خاص نبیذتمر کی بابت وارد ہوا ہے تو باقی نبیذوں پر قیاس کے مطابق ہی عمل ہوگا۔ (ت)
ہدایہ میں ہے :
لایجوز التوضی بما سواہ من الانبذۃ جریا علی قضیۃ القیاس ۔
دوسرے نبیذوں سےوضوقیاس کے مطابق جائز نہ ہوگا۔ (ت)
عنایہ میں ہے :
لایجوز نبیذ الزبیب والتین وغیر ذلك ۔
منقی انجیر وغیرہ کے نبیذ سےوضوجائز نہیں۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
سائر الاشربۃ سوی نبیذ التمر لیس فی
نبیذ تمر کے علاوہ باقی نبیذوں سے وضو کے عدم جواز
حوالہ / References درمختار باب التمیم ، مجتبائی دہلی ۱ / ۴۱
بدائع الصنائع ، مطلب الماء المقید ، سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۷
ہدایہ الماء الذی یجوزبہ الوضوء عربیہ کراچی ۱ / ۳۲
عنایہ مع فتح القدیر الماء الذی یجوزبہ الوضوء نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۰۵
#12803 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
عدم جواز التوضی بہ خلاف ۔
میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا ہے۔ (ت)
اسی طرح عامہ کتب میں ہے۔
فان قلت من این قولك انکان رقیقا قلت لاطلاقھم ویقطع الوھم انھم صرحوا ان نبیذ التمر المختلف فی جواز الوضوء بہ ماکان رقیقا اما الغلیظ فلا ثم قالوا ولایجوز بما سواہ من الانبذۃ لان نبیذ التمرخص بالاثر فوضح قطعا ان المراد نفی التوضی بالرقیق منھا اما الغلیظ فمعلوم الانتفاء ولا تخالف فیہ بین نبیذ التمر وسائر الانبذۃ۔
اگر یہ سوال ہو کہ وان کان رقیقا تم نے کہاں سے لیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ فقہاءء کے اطلاقات سے مفہوم ہے اور وہم اس طرح دور ہوجاتا ہے کہ فقہاءء نے تصریح کی ہے کہ وہ نبیذ جس سے وضو کے ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے رقیق ہے اور گاڑھے میں کوئی اختلاف نہیں پھر فرمایا اس نبیذ کے علاوہ باقی نبیذوں سے جائز نہیں کیونکہ نبیذ تمر نص سے مخصوص ہے اس سے قطعی طور پر واضح ہوا کہ رقیق نبیذ سے وضو کی نفی مراد ہے کیونکہ گاڑھے میں تو اختلاف پہلے ہی نہیں تھا تو گاڑھے نبیذ میں نبیذ تمر اور باقی نبیذیں برابر ہیں۔ (ت)
بالجملہ نبیذتمر سے مطلقا وضو صحیح نہ ہونا مذہب صحیح معتمد مفتی بہ ہے اور باقی نبیذوں سے نہ ہونے پر تو اجماع ہے مگر ضابطہ زیلعیہ کا اقتضا یہ ہے کہ جب تك رقت باقی ہے صحیح ہو لیکن یہ ہرگز صحیح نہیں کہ اسے نبیذ کہیں گے نہ کہ پانی تو نام آب باقی نہ رہنے کے سبب آب مطلق نہ رہا اور وضو آب مطلق ہی سے جائز ہے وبس۔
وبیان ذلك انھا من الجامدات اوضابطۃ التقیید عندہ فی الجامد زوال الرقۃ فحسب قال رحمہ ا لله تعالی المخالط انکان جامدا فمادام یجری علی الاعضاء فالماء ھو الغالب اھ وتبعہ فی الحلیۃ والدرر فاقتصرا علی ذکر الجریان۔
اقول : (۱)وکان البعد فیہ اکثر لان الجریان علی الاعضاء ھو السیلان والرقۃ اخص منہ کما سیاتی فکان یقتضی جواز الوضوء
اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ جامدات سے ہے اور ان کے نزدیك جامد میں تقیید کا ضابطہ یہ ہے کہ رقت زائل ہوجائے انہوں نے فرمایا اگر ملنے والی چیز جامد ہو تو جب تك وہ اعضاء پر بہہ سکے تو پانی ہی غالب ہوگا اھ اور حلیہ اور درر میں اس کی متابعت کی اور دونوں نے جاری ہونے کے ذکر پر اکتفاءکیا۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس میں بعد زائد تھا کہ جاری ہونا اعضاء پر سیلان ہے اور رقت سیلان سے اخص ہے کما سیاتی تو اس کا مفہوم یہ نکلا کہ اگرچہ
حوالہ / References غنیۃ المستملی باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۲
تبیین الحقائق کتاب الطہارت مطبعۃ الامیریہ بولاق مصر ۱ / ۲۰
#12804 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
وان زالت الرقۃ مع بقاء السیلان لکن الامام الزیلعی وبالنقل عنہ الحلبی تدارکاہ بقولھما بعدہ فیحمل قول من قال ان کان رقیقا یجوز الوضوء بہ والا فلا علی مااذا کان المخالط لہ جامدا اھ ویقرب منہ قول المحقق فی الفتح والبحر فی البحر وغیرھما فان کان جامدا فبانتفاء رقۃ الماء وجریانہ علی الاعضاء اھ
فجمعوا بینھما فابتنی الحکم علی انتفائھما معا وعاد المحذور الا ان یقال ان الواو بمعنی اووحینئذ یکون ذکر الجریان والسیلان بعد الرقۃ مستدرکا غیر انہ قد شاع وذاع والخطب سھل فالاحسن عبارۃ الغنیۃ المعتبر فی صیرورۃ الماء مقیدا بمخالطۃ الجامد زوال رقتۃ اھ والبحر من بعد اذقال فان کان المخالط جامدا فغلبۃ الاجزاء فیہ بثخونتہ اھ
وانت تعلم ان المدار الباب علی زوال الاسم کما اعترف بہ الامام الضابط بقولہ زوال اسم الماء عنہ ھو المعتبر فی الباب اھ وبخلط الجامد ربما یزول رقت زائل ہوجائے اور سیلان باقی رہے تووضوجائز ہے مگر امام زیلعی اور ان کی متابعت میں حلبی نے اس شبہ کا تدارك کرتے ہوئے فرمایا تو جن حضرات نے فرمایا کہ اس سےوضوجائز ہے اگر رقیق ہو ورنہ نہیں اس کو اس صورت پر محمول کیا جائیگا کہ جب اس میں ملنے والی چیز جامد ہو اھ اور اسی کے قریب قریب محقق کا قول فتح میں اور صاحب بحر کا بحر وغیرہما میں ہے کہ اگر وہ شیئ جامد ہے تو وضو اس وقت جائز نہ ہوگا جب پانی کی رقت ختم ہوجائے اور وہ اعضاء پر جاری نہ ہوسکے اھ تو فقہاء نے دونوں باتوں کو جمع کردیا اور حکم دونوں کے معا انتفاء پر ہوا اور جو محذور تھا وہ لوٹ آیا ہاں ایك صورت یہ ہے کہ واؤ بمعنی او ہو اور اس صورت میں جریان اور سیلان کا ذکر رقۃ کے بعد اضافی ہوگا لیکن عام طور پر یہ ہوتا ہے تو غنیہ کی عبارت بہتر ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی جامد چیز کے ملنے سے پانی کے مقید ہونے میں معتبر اس کی رقت کا زائل ہونا ہے اھ اور بحر نے اس کے بعد فرمایا کہ اگر ملنے والی چیز جامد ہو تو اس میں اجزاء کے غلبے کا پتا اس کے گاڑھا پڑ جانے سے ہوگا اھ(ت)
آپ کو معلوم ہے کہ اس سلسلہ میں مدار نام کے زائل ہونے پر ہے جیسا کہ امام نے اعتراف کیا ہے انہوں نے ضابطہ یہ بیان کیا کہ اس بات میں نام کا زائل ہونا ہی بہتر ہے اھ اور جب کوئی جامد شیئ پانی میں ملتی ہے
حوالہ / References تبین الحقائق کتاب الطھارۃ مطبعۃالامیریہ مصر ۱ / ۲۰
بحر الرئق کتاب الطھارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۶۹
غنیۃ المستملی فصل فی احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۹۱
بحر الرئق کتاب الطھارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۶۹
#12805 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
الاسم قبل زوال الرقۃ کماء الزعفران الصالح للصبغ والنبیذ وقد صرحوا ان الاختلاف انما کان فی نبیذ التمر الرقیق قال فی الھدایۃ النبیذ المختلف فیہ ان یکون حلوا رقیقا یسیل علی الاعضاء کالماء اھ زاد فی الکافی فان کان غلیظا کالدبس لم یجز الوضوء بہ اھ۔ وفی البدائع وان کان غلیظا کالرب لایجوزالتوضوء بہ بلاخلاف وکذاان کان رقیقا لکنہ غلا و اشتدوقذف بالزبد لانہ صارمسکراو المسکرحرام فلایجوزالتوضوء بہ ولان النبیذ الذی توضأبہ رسول ا لله صلی ا لله تعالی علیہ وسلم کان رقیقاحلوافلا یلحق بہ الغلیظ المر وھکذا فی الحلیۃ والغنیۃ والبحر والدروعامۃ الکتب عــہ بل فی العنایۃ النبیذ
تو رقۃ کے زائل ہونے سے قبل ہی نام زائل ہوجاتاہے جیسے زعفران کا پانی جس سے کوئی چیز رنگی جاسکتی ہو اور نبیذ اورفقہاءء نے تصریح کی ہے کہ اختلاف رقیق نبیذ میں ہے۔ ہدایہ میں ہے اختلاف اس میں ہے کہ نبیذ میٹھااورپتلاہو اور اعضاء پر پانی کی طرح بہتا ہو اھ کافی میں یہ اضافہ کیا کہ اگر وہ شیرہ کی طرح گاڑھا ہو تو اس سے وضو جائز نہیں اھ
اور بدائع میں ہے کہ اگر نبیذ شیرہ کی طرح گاڑھاہو تو بلااختلاف اس سے وضو جائز نہیں ہے اوراسی طرح اگر رقیق ہے مگر اس میں اتنا جوش آگیا ہو کہ جھاگ دے گیاہوکیونکہ اب یہ مسکرہوگیا اور مسکر حرام ہے لہذا اس سےوضوجائز نہیں نیز یہ کہ جس نبیذسے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے وضو فرمایاتھاوہ رقیق اور میٹھا تھا لہذا کڑوا اور گاڑھا نبیذ اس کے حکم میں نہیں

عـــــہ : فی مسکین علی الکنزالنبیذالمختلف فیہ ان یکون حلوارقیقا یسیل علی الاعضاء کالماء اھ قال السید ابو السعود ای والغلبۃ للماء لیوافق ماتقدم عن خزانۃ الاکمل فان لم یحل فلا خلاف فی جواز الوضوء بہ نھر اھ اقول(۱)سبحن ا لله اذا کان الغلبۃ للماء
مسکین علی الکنزمیں ہے کہ وہ نبیذ جس میں اختلاف ہے رقیق اور میٹھاہے جو پانی کی طرح اعضاء پر بہتا ہو اھ ابو السعودنے فرمایا یعنی غلبہ پانی کاہو تاکہ خزانہ اکمل سے جو منقول ہوااس کے موافق ہوجائے کیونکہ اگر میٹھا نہ ہو تو اس سےوضوکے جواز میں کوئی خلاف نہیں نہر اھ میں کہتا ہوں سبحان الله جب پانی کاغلب (باقی بر صفحہ ایندہ)
حوالہ / References ہدایۃ الماء الذی یجوزبہ الوضوء مکتبہ عربیہ کراچی ۱ / ۳۲
کافی
بدائع الصنائع مطلب الماء المقید سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۷
#12806 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
المختلف فیہ ذکرمحمد فی النوادرھوان تلقی تمیرات فی ماء حتی صارالماء حلوارقیقا اھ ۔
وزوال اسم الماء عنہ مقطوع بہ مجمع علیہ ولاجلہ صارالمذھب المختارالمعتمدعدم جوازالوضوء بہ الا تری ان فی قول الامام الاول المرجوع عنہ انمایجوزالوضوء بہ اذالم یجد الماء ولا یجوز الا منویاواذاوجد ماء مطلقا ینتقض فھو فی کل ذلك کالتمیم ذکرہ فی العنایۃ والفتح والحلیۃ عن شرح الامام القدوری
ہوسکتا ہے یہی حلیہ غنیہ بحر در اور عام کتب میں ہے بلالکہ عنایہ میں ہے کہ مختلف فیہ نبیذ کے بارے میں محمد نے نوادر میں لکھا ہے کہ اس کی صورت یہ ہے کہ کچھ کھجوریں پانی میں ڈال دی جائیں حتی کہ وہ میٹھا پتلا ہوجائے اھ
اور پانی کا نام اس سے قطعی طور پر ختم ہوجاتاہے اس پر اجماع ہے لہذا مذہب مختار معتمدیہ ہے کہ اس سےوضوجائز نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ امام کا پہلا قول جس سے انہوں نے رجوع کرلیااس سےوضواسی صورت میں جائز ہے جبکہ پانی نہ پائے اور صرف نیت کے ساتھ ہی جائز ہوگا اور جب مطلق پانی مل جائے تو یہ وضو

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
جاز الوضوء بہ بالاجماع کمامر فی ۱۱۶ وای حاجۃ الی النقل مع اجماع الشرع والعرف والعقل علی ان العبرۃ للغالب فکیف یکون مختلفا فیہ وانما حقہ ان یقول ای والغلبۃ للتمر فانہ الذی کان الامام یعدل بہ عن سنن القیاس لو ورد الحدیث ثم(۱) نصب خلاف لایوافق قط مافی خزانۃ الاکمل لانہ ارجع الاجوبۃ کلھا الی الاحکام الاجماعیۃ وقولہ ان لم یحل اقول وکذا ان حلا والماء غالب بعد ما تقدم فی ۱۱۶ وا لله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ(م)
ہوگاتوبالاجماعوضوجائز ہوگاکما مر فی ۱۱۶ پھر اجماع کے ہوتے ہوئے کسی اور نقل کی کیا ضرورت ہے کیونکہ اجماع شرعی اور عرفی اور عقلی تینوں سے ثابت ہے کہ اعتبار غالب کاہے تو پھر یہ مختلف فیہ کیسے ہوگااسے یوں کہنا چاہئے کہ “ یعنی غلبہ کھجوروں کاہوکیونکہ اس میں امام نے قیاس سے عدول کیاہے کیونکہ اس میں حدیث وارد ہے پھر خلاف کا ذکر ما فی خزانۃ الاکمل سے بالکل موافقت نہیں رکھتا ہے کیونکہ انہوں نے تمام جواب احکام اجماعیہ کی طرف راجع کردئے ہیں اور ان کا قول “ ان لم یحل “ میں کہتا ہوں اگر میٹھا بھی ہو تو اس کا حکم یہی ہے بشرطیکہ پانی غالب ہو جیسا کہ پانی کی قسم ۱۱۶ میں گزرا و الله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References عنایۃ مع الفتح مطلب الماء المقید نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۰۵
#12807 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
لمختصرالامام الکرخی عن اصحابنارضی ا لله تعالی عنھم وقال فی الحلیۃ وجہ قول ابی یوسف ان ا لله تعالی اوجب التیمم عند عدم الماء المطلق ونبیذ التمرلیس بماء مطلق والا لجازالوضوء بہ مع وجود غیرہ من المیاہ المطلقۃ اھ وتقدم مثلہ عن البدائع اقول وبہ ظھر(۱)الجواب عماتجشمہ الامام الزیلعی اذقال اماقولھم لیس بماء مطلق قلناھوماء شرعاالاتری الی قولہ صلی ا لله تعالی علیہ وسلم ماء طھورای شرعا فیکون معنی قولہ تعالی فلم تجدواماء ای حقیقۃ اوشرعا اھ فیاسبحن ا لله انکان ھذا معنی الایۃ فلم لم یجز الوضوء بہ مع وجود ماء اخر ومن اوجب الترتیب بین المائین بتقدیم اللغوی علی الشرعی اما احتجاجہ عــہ
ٹوٹ جائیگا تو یہ تمام احکام میں مثل تیمم ہے یہ عنایۃ فتح اورحلیہ میں شرح قدوری سے منقول ہے جو امام کرخی نے ہمارے اصحاب سے نقل کیاہے اورحلیہ میں فرمایاابو یوسف کے قول کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے تیمم اس وقت واجب کیاہے جب مطلق پانی نہ ہواور نبیذ تمر مطلق پانی نہیں ہے ورنہ دوسرے مطلق پانیوں کے ہوتے ہوئے بھی اس سے وضوجائزہوجاتا ہے اھ یہی بدائع سے گزرچکا ہے۔ میں کہتا ہوں اس سے امام زیلعی کی اس گفتگو کاجواب بھی نکل آتا ہے کہ ان کا قول “ یہ مطلق پانی نہیں ہے “ ہم کہتے ہیں یہ شرعاپانی ہے چنانچہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا “ پاك پانی “ یعنی شرعا تو اللہ کے قول “ تو تم پانی نہ پاؤ “ کا معنی ہوگا یعنی حقیقۃ اور شرعا پانی نہ پاؤ تو اگر آیت کے یہی معنی ہیں تو دوسرے پانی کے ہوتے ہوئے اس سے وضو کیوں جائز نہیںاور جن حضرات نے دونوں پانیوں میں ترتیب کو لازم قرار دیا ہے

عــــہ : تبعہ فیہ المولی بحرالعلوم فی الارکان الاربعۃ فقال قولہ صلی ا لله تعالی علیہ والہ وسلم تمرۃ طیبۃ وماء طھور یفیدان النبیذ لم یخرج عن کونہ ماء بوقوع التمر فواجدالنبیز لایصدق علیہ انہ
بحرالعلوم نے ارکان اربعہ میں ان کی پیروی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا فرمان “ تمرۃ طیبۃ وماء طھور “ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبیذ پانی ہونے سے خارج نہیں ہواہے کھجور کے وقوع سے تو جس شخص کے پاس نبیذ ہو تو اس پر یہ صادق(باقی بر صفحہ ائندہ)
حوالہ / References حلیہ
تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ الامیریۃ ببولاق مصر ۱ / ۳۵
#12808 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
بقولہ صلی ا لله تعالی علیہ وسلم ماء طھور فاقول : (۱) الحدیث من اولہ تمرۃ طیبۃ وماء طھور فانما ھولبیان اجزائہ التی ترکب منھالاالاخبار عنہ بانہ ماء والالکان اخبارایضابانھا تمرۃ وھو باطل لغۃ وعرفاوشرعاوفی صدرالحدیث قولہ صلی ا لله تعالی علیہ وسلم لعبدا لله رضی ا لله تعالی عنہ ھل معك ماء اتوضوء بہ قال لاالانبیذتمرلایقال انہ رضی ا لله تعالی عنہ انمانفی الماء اللغوی لان السؤال کان عن الماء الشرعی لقولہ صلی ا لله تعالی علیہ وسلم اتوضوء بہ الا ان یقال لم یکن عبدا لله اذذاك یعلم انہ ماء شرعاوقد(۲)اعترف الامام الزیلعی نفسہ انہ نفی عنہ ابن مسعود اسم الماء اھ اذاثبت ھذاعلم ان قصرالحکم فی الجامد علی زوال الرقۃ غیرصحیح وقد تنبہ لھذا البحر فی البحر فقال بعد ایراد الضابطۃ وھھنا تنبیھات مھمۃ۔
کہ لغوی کو شرعی پر مقدم کیاہے اور ان کا استدلال حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے قول “ ماء طھور “ سے تو اس کی بابت میں کہتا ہوں دراصل حدیث کی ابتداء اس طرح ہے “ تمرۃ طیبۃ وماء طھور “ تو یہ اس کے اجزأ ترکیبیہ کے بیان کے لئے ہے صرف اتنا بتانا مقصود نہیں کہ یہ پانی ہے ورنہ یہ بھی خبر ہوتی کہ یہ کھجور ہے اور یہ عرفالغۃ اور شرعا ہر طرح باطل ہے اور حدیث کی ابتداء میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا “ کیا تمہارے پاس پانی ہے تاکہ میں اس سے وضو کروں انہوں نے کہا نہیں سوائے نبیذتمر کے “ ۔ یہ خیال نہ کیاجائے کہ حضرت عبد اللہ نے صرف لغوی پانی کی نفی کی تھی اس لئے کہ سوال شرعی پانی کی بابت تھاکیونکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا تھا تاکہ میں اس سے وضو کروں۔ ہاں یہ کہاجاسکتا ہے کہ عبد اللہ کو اس وقت یہ معلوم نہ تھاکہ یہ شرعا پانی ہے اور خود امام زیلعی نے اعتراف کیاہے کہ ابن مسعود نے اس سے پانی کی نفی کی ہے اھ جب یہ ثابت ہوگیا تو معلوم ہوا کہ جامد میں حکم کا زوال رقتہ پر منحصر کردینا صحیح نہیں ہے (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لم یجد ماء فلا تعارضہ ایۃ التیمم حتی یکون ناسخا ھذاماعندی اھ وکأنہ لم یطلع علی کلام الامام الزیلعی رحمھما ا لله تعالی قدس سرہ۔
نہیں آتاکہ وہ پانی کا پانے والا نہیں ہے تو آیہ تیمم اس کے معارض نہیں تاکہ اس کو ناسخ قرار دیا جائے “ ھذا ماعندی “ اھ اور غالبا وہ امام زیلعی کے کلام پر مطلع نہ ہوئے۔ (ت)
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الطہارت الامیریۃ ببولاق مصر ۱ / ۳۵
#12809 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
الاول : مقتضی ماقالوہ ھناجوازالتوضوء بنبیذ التمروالزبیب ولو غیرالاوصاف الثلثۃ وقد صرحواقبل باب التمیم ان الصحیح خلافہ وان تلك روایۃ مرجوع عنھاوقدیقال ان ذلك مشروط بمااذالم یزل عنہ اسم الماء وفی مسألۃ نبیذالتمر زال عنہ اسم الماء فلا مخالفۃ کمالایخفی۔
الثانی : انہ یقتضی ان الزعفران اذاختلط بالماء یجوزالوضوء بہ مادام رقیقاسیالاولو غیرالاوصاف کلھالانہ من الجامدات والمصرح بہ فی معراج الدرایۃ معزیاالی القنیۃ ان الزعفران اذاوقع فی الماء ان امکن الصبغ فیہ فلیس بماء مطلق من غیرنظرالی الثخونۃ ویجاب عنہ بما تقدم من انہ زال عنہ اسم الماء اھ وردہ اخوہ وتلمیذہ المحقق فی النھرکمافی ط بان الزیلعی لم یذکر ذلك وان ھذالتقیید لایجدی نفعا اھ واجاب عنہ السید العلامۃ ابو السعود الازھری
صاحب بحر کو بحر میں اس پر تنبہ ہوا ہے چنانچہ انہوں نے ضابطہ کے بعد فرمایا
یہاں چند اہم تنبیہات ہیں :
تنبیہ اول : جو کچھ انہوں نے فرمایاہے اس کا مقتضی نبیذتمر اور نبیذ منقی سےوضوکاجوازہے خواہ اوصاف ثلثہ ہی کیوں نہ بدل گئے ہوں اور تیمم کے باب سے پہلے انہوں نے تصریح کی ہے کہ صحیح اس کے برخلاف ہے اور اس روایت سے رجوع کرلیاہے اور یہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ اس پر سے پانی کانام زائل نہ ہوا ہو اور نبیذتمر کے مسئلہ میں اس سے پانی کا نام زائل ہوگیا ہے تو کوئی مخالفت نہیں کمالایخفی۔
تنبیہ ثانی : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زعفران جب پانی میں مل جائے تو اس سے اس وقت تك وضو جائز ہو جب تك وہ سیال ورقیق ہو خواہ اس کے تمام اوصاف بدل گئے ہوں کیونکہ وہ جامدات سے ہے اور معراج الدرایہ میں قنیہ سے منقول ہے کہ اگر زعفران پانی میں ڈال دی جائے تو اگر اس سے رنگنا ممکن ہو تو وہ مطلق پانی نہیں ہے اس میں گاڑھے پن کا کوئی اعتبار نہیں اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے پانی کا نام زائل ہوگیا ہے اھ(ت)
اس کو ان کے بھائی اور شاگرد محقق نے نہر میں رد کیاہے جیسا کہ ط میں ہے کہ زیلعی نے اس کو ذکر نہیں کیا ہے اور اس تقیید سے کچھ نفع نہ ہوگا اھ اس کا جواب علامہ ابو السعود نے فتح اللہ المعین میں دیا ہے
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۰
طحطاوی علی الدر باب المیاہ بیروت ۱ / ۱۰۳
#12810 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
فی فتح ا لله المعین وتبعہ ط بان الکلام فیما اذالم یزل عنہ اسم الماء کما ذکرہ الزیلعی فتنظیرالنھر ساقط وما ذکر فی البحر من الجواب ماخوذ من صریح کلام الزیلعی ۔ فھؤلاء ثلثۃ اجلاء اختلف انظارھم فی کلام الامام الزیلعی اماالاخوان العلامتان فاتفقاعلی ان الزیلعی لم یذکر فی الجامد قید بقاء الاسم غیران البحر یقول انہ مطوی منوی فالمعنی انکان جامدافمادام باقیاعلی رقتہ فالماء ھو الغالب یشرط ان لایزول عنہ اسم الماء والنھر یقول انہ لم یذکرہ کما تری ولم یردہ لانہ لایجدی نفعاواماالسید فزعم انہ مذکور فی صریح کلام الزیلعی وان کلامہ انما ھو فیہ وان البحر انما اخذہ منہ۔ ھکذا اختلفو واناانقلہ لك کل کلام الزیلعی لتجلی لك جلیۃ الحال قال رحمہ ا لله تعالی بعد مانقل اقوالا متخالفۃ ھکذا جاء الاختلاف فلابد من ضابط وتوفیق فنقول ان الماء اذابقی علی اصل خلقہ ولم یزل عنہ اسم الماء جاز الوضوء بہ وان زال وصار مقیدا لم یجز والتقیید اما بکمال الامتزاج اوبغلبۃ الممتزج فکمال الامتزاج بالطبخ بطاھر لایقصد بہ التنظیف اوبتشرب النبات وغلبۃ الممتزج
اور اس کی پیروی ط نے کی ہے کہ گفتگو اس میں ہے جس سے پانی کانام زائل نہ ہوا ہو جیسا کہ زیلعی نے ذکر کیاہے تو نہر کا نظیر دیناساقط ہے درست نہیں اور جو جواب بحر میں ہے وہ زیلعی کے صریح کلام سے ماخوذ ہے۔ (ت)تو یہ تین جلیل القدر علماء ہیں جن کی آراء زیلعی کے کلام کی بابت مختلف ہیں دونوں برادران اس پر متفق ہیں کہ زیلعی نے جامد میں نام کے بقا کی قید ذکر نہیں کی ہے البتہ بحر کہتے ہیں یہ نیت میں مضمر ہے تو معنی یہ ہے کہ اگر وہ جامد ہے تو جب تك وہ رقیق ہے تو پانی ہی غالب ہے بشرطیکہ اس سے پانی کانام زائل نہ ہو اور نہر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کو ذکر نہیں کیا ہے جیساکہ آپ دیکھ رہے ہیں اور اس کو انہوں نے رد نہیں کیاہے کیونکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں اور سید کا گمان ہے کہ یہ زیلعی کے کلام میں صریحا مذکور ہے اور ان کا کلام اسی میں ہے اور بحر نے اسی سے اخذ کیا ہے۔ (ت)
اسی طرح انہوں نے اختلاف کیا ہے اور اب میں زیلعی کا کلام نقل کرتا ہوں تاکہ بات پوری طرح واضح ہوجائے انہوں نے پہلے تو مخالف اقوال ذکر کئے پھر فرمایا اسی طرح اختلاف ہوا ہے تو کوئی ضابطہ اور توفیق ضروری ہے تو ہم کہتے ہیں کہ پانی جب اپنی اصلی خلقت پر ہو اور اس سے پانی کا نام سلب نہ ہوا ہو تو اس سےوضوجائز ہے اور اگر نام زائل ہوجائے
حوالہ / References فتح اللہ المعین ابحاث الماء سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۴
#12811 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
بالاختلاط من غیر طبخ ولا تشرب نبات ثم المخالط ان جامدافمادام یجری علی الاعضاء فالماء الغالب وان مائعافان لم یکن مخالفافی شیئ کالماء المستعمل تعتبر بالاجزاء وان مخالفافیھافان غیراکثرھا لایجوزالوضوء بہ والاجازوان خالف فی وصف اووصفین تعتبر الغلبۃ من ذلك الوجہ کاللبن یخالفہ فی اللون والطعم فان کان بون اللبن اوطعمہ ھو الغالب لم یجز والاجاز وماء البطیخ یخالفہ فی الطعم فتعتبر الغلبۃ فیہ بالطعم فعلی ھذا یحمل ماجاء منھم علی مایلیق بہ فقول من قال ان کان رقیقایجوز والا لاعلی مااذا کان المخالط جامداومن قال ان غیراحداوصافہ جاز علی ماخالفہ فی الثلثۃ ومن قال اذا غیر احداوصافہ لایجوز علی ماخالفہ فی وصف او وصفین ومن اعتبر بالاجزاء علی مایخالفہ فی شیئ فاذانظرت وتأملت وجدت ماقالہ الاصحاب لایخرج عن ھذا و وجدت بعضھا مصرحا بہ وبعضھا مشارالیہ اھ ھذاکل کلامہ قدلخصتہ ولم اخرم منہ حرفاغیرماذکر فی التشرب من الفرق بین الخروج والاستخراج فانہ غیر صحیح
اور مقید ہوجائے تو جائز نہیں اور تقیید یا تو کمال امتزاج کے ساتھ یا ملی ہوئی چیز کے غلبہ کے ساتھ ہوگی تو کمال امتزاج یہ ہے کہ پانی میں ایسی پاك چیز ڈال کر پکائے جس سے تنظیف مقصود نہ ہو یا گھاس میں پانی جذب ہوجائے اور ملی ہوئی چیز کا غلبہ یہ ہے کہ پانی کا اختلاط بلا پکائے ہو اور گھاس میں پانی جذب کیے بغیر ہو پھر ملنے والی چیز اگر جامد ہو تو جب تك وہ اعضاء پر بہے تو پانی غالب ہوگا اور اگر ملنے والی چیز بہنے والی ہے تو وہ اگر کسی چیز میں پانی کے مخالف نہیں ہے جیسے مستعمل پانی تو غلبہ کا اعتبار اجزأ سے ہوگا اور اگر وہ پانی کے مخالف ہو تو اگر اکثر اوصاف کو بدل دے تو اس سےوضوجائز نہیں ورنہ جائز ہے اور اگر ایك یا دو وصفوں میں مخالف ہے تو اسی وجہ سے غلبہ معتبر ہوگا جیسے دودھ کہ پانی کے مخالف ہے رنگ اور مزے میں تو اگر دودھ کا رنگ یا مزہ غالب ہو تووضوجائز نہیں ورنہ جائز ہوگا۔ اور خربوزہ کا پانی پانی سے صرف مزہ میں مختلف ہے تو اس میں غلبہ باعتبار مزہ ہوگا لہذا فقہاءکی نصوص کو انہی مفاہیم پر محمول کرنا چاہئے جو اس کے لائق ہوں اب جو یہ کہتا ہے کہ اگر وہ رقیق ہے تو جائز ہے ورنہ نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ملنے والی اگر جامد ہے تو یہ حکم ہے۔ اور جو کہتا ہے کہ اگر اس کے اوصاف میں سے کسی وصف کو بدل دیا تو جائز ہے یہ اس صورت میں ہے جب کہ وہ چیز پانی کے ساتھ تینوں وصفوں میں مخالف ہے اور جو کہتا ہے کہ جب اس کے اوصاف میں سے ایك وصف کو بدل دے تو جائز نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز پانی سے ایك یا دو وصفوں میں مخالف ہے
حوالہ / References تبیین الحقائق بحث الماء بولاق مصر ۱ / ۲۰
#12812 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
ولا یتعلق بہ الغرض ھھنا۔
اقول : فقد بان لك من کلامہ ثلثۃ امور الاول(۱) لاذکر فی کلامہ لتقییدحکم الجامد ببقاء الاسم حتی بالاشارۃ فضلا عن التصریح انماقال مادام یجری علی الاعضاء فالماء غالب ای مطلق غیرمقید فھذا کما تری مطلق غیر مقید ثم اذا اتی علی تطبیق الضابطۃ علی الروایات المختلفۃ حمل علی الجامد قول من قال ان کان رقیقایجوزوالا لا والقول فی الاصل مرسل وفی الحمل مرسل ارسالا فمتی جنح الی التقیید وکذلك تلونا علیك کلام الاخذین عنہ اصحاب الفتح والحلیۃ والغنیۃ والدرر ونورالایضاح حتی البحر الذی ابدی ھذا التقیید لم یلم احدمنھم فی تلخیص الضابطۃ الیہ لاجرم ان صرح الشامی بانہ من زیادات البحر الثانی ذکر رحمہ ا لله تعالی اولا اصلا مجمعا علیہ ان الوضوء انمایجوز بالماء المطلق وھو الذی لم یزل عنہ طبعہ
اور جو کہتا ہے کہ اگر اس کے اوصاف میں سے کسی وصف کو بدل دیا تو جائز ہے یہ اس صورت میں ہے جب کہ وہ چیز پانی کے ساتھ تینوں وصفوں میں مخالف ہے اور جو کہتا ہے کہ جب اس کے اوصاف میں سے ایك وصف کو بدل دے تو جائز نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز پانی سے ایك یا دو وصفوں میں مخالف ہے اور جس نے غلبہ باعتبار اجزاء لیا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ چیز پانی کے ساتھ کسی چیز میں مخالف نہ ہو تو جب آپ غور کریں گے تو اسی نتیجہ پر پہنچیں گے جو کچھ اصحاب نے فرمایا ہے وہ اس بیان سے خارج نہیں ان میں سے بعض امور تو کتب میں بصراحت مذکور ہیں اور بعض کاذکر اشارتا ہے اھ یہ ان کا مکمل کلام ہے جو بلاکم وکاست میں نے نقل کردیا ہے صرف تشرب میں جو فرق خروج واستخراج میں ہے وہ صحیح نہیں اور نہ ہی اس سے کوئی غر ض یہاں متعلق ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں ان کی گفتگو سے آپ کو تین باتیں معلوم ہوئیں : اول : ان کے کلام میں جامد کے حکم کو نام کی بقاء سے مقید کرنے کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے صراحت تو الگ رہی اشارہ تك نہیں انہوں نے صرف یہ فرمایاہے کہ جب تك وہ اعضاء پر جاری رہے تو پانی غالب ہے یعنی مطلق ہے مقید نہیں تو جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں یہ مطلق ہے مقید نہیں پھر جب وہ ضابطہ کو مختلف روایات پر منطبق کرنے لگے تو جن لوگوں نے کہا ہے کہ اگر رقیق ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں انکے اس قول کو جامد پر محمول کیا ہے حالانکہ یہ قول مطلق ہے اور حمل میں بھی مرسل ہے تو قید لگانے کی طرف کب مائل ہوئےاسی طرح ہم نے ان حضرات کا کلام بھی نقل کردیا جنہوں نے اس سے لیا ہے یعنی فتح حلیہ غنیہ درر اور نور الایضاح کے مصنفین یہاں تك کہ صاحب بحر جنہوں نے یہ قید لگائی ان میں سے کسی نے ضابطہ کا خلاصہ یہ نہیں کیا اس لئے شامی نے تصریح کردی کہ یہ زیادات بحر سے ہے۔
دوم : پہلے تو انہوں نے ایك متفق علیہ اصل
#12813 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
ولااسمہ دون المقید الزائل عنہ اسمہ۔
اقول : ولم یذکر الطبع لان زوال الطبع یوجب زوال الاسم فذکرہ اولا ایضاحاوحذفہ اخرا اجتزاء فھذاالقدرممالاخلاف فیہ لاحد انما الشان فی معرفۃ المطلق والمقید ای معرفۃ انہ متی یزول الاسم فیحصل التقیید فتشمر لاعطاء ضابطۃ ذلك تتمیز بھا مواضع زوال الاسم عن محال بقائہ فقال التقیید باحدامرین کمال الامتزاج اوغلبۃ الممتزج الخ فلاشك انہ کلام فیمالم یزل عنہ اسم الماء کماذکرہ السید کانہ مسوق لبیان مایحصل بہ التقیید والتقیید انما یکون للمطلق فان تقیید المقید تحصیل الحاصل وما المطلق الامالم یزل عنہ اسم الماء ففیہ الکلام وماکان انکرہ احد لکنہ(۱)لایدفع الایراد بل انما منہ منشؤہ فانہ افادان الماء المطلق لایتقید فی خلط الجامد الابالثخونۃ والحکم خلافہ فانہ ربما یتقید قبل ان یثخن کما فی الزعفران والنبیذ وثبوت الحصر اولابالقصر کماعلمت واقول ثانیا محال ان یزول اسم الماء عنہ مع بقاء رقتہ الا بتغیر وصف لانہ اذابقی طبعہ واوصافہ
ذکر کی اور وہ یہ کہ وضو مطلق پانی سے جائز ہوتا ہے اور مطلق پانی وہ ہے جس کی طبیعت اور نام زائل نہ ہوا ہو نہ کہ مقید پانی سے جس کا نام زائل ہوگیا ہو۔ (ت)
میں کہتا ہوں انہوں نے طبیعت کا ذکر نہیں کیاکیونکہ طبیعت کے زائل ہونے سے نام بھی زائل ہوجاتا ہے تو پہلے بطور وضاحت ذکر کیا ہے اور بعد میں اختصارا حذف کیا ہے اور اس میں کسی کا خلاف نہیں مسئلہ دراصل مطلق ومقید کی پہچان کا ہے یعنی یہ جاننے کا ہے کہ کب نام زائل ہوگا اور تقیید حاصل ہوگی تو انہوں نے ایك ضابطہ بیان کیا جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ کب زائل ہوگا اور کب باقی رہے گا یا توکمال امتزاج یا ملنے والی چیز کے غلبہ سے الخ تو اس میں کچھ شك نہیں کہ ان کا کلام اس پانی میں ہے جس سے پانی کا نام زائل نہیں ہوا ہے جیسا کہ سید نے ذکر کیا اس لئے کہ کلام اس چیز کے بیان کیلئے ہے جس سے تقیید پیداہوتی ہے اور تقیید تو مطلق کی ہوتی ہے کیونکہ مقید کی تقیید تو تحصیل حاصل ہے اور مطلق تو وہی ہے جس سے پانی کا نام زائل نہ ہوا ہو تو گفتگو اسی میں ہے اور اس کا کسی نے انکار نہیں کیا مگر اس سے اعتراض مرتفع نہیں ہوتا ہے بلالکہ اس سے تو پیدا ہوتا ہے کیونکہ اس کا مفہوم تو یہ ہے کہ مطلق پانی جامد کے ملنے سے تب ہی مقید ہوگا جبکہ گاڑھا ہوجائے حالانکہ حکم اس کے برخلاف ہے کیونکہ بسااوقات وہ گاڑھاہونے سے پہلے ہی مقید ہوجاتا ہے جیسا کہ زعفران اور نبیذ۔ اور حصر کا ثبوت اولا تو یہ ہے کہ اس میں قصر ہے
#12814 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
فزوال اسمہ عنہ یکون بغیرموجب وھو باطل اماماامتزج بہ غیرہ ممالایخالف عــہ وصفالہ مساویا لہ فی الاجزاء اواکثر فانما یزول فیہ اسم الماء عن الکل المرکب من الماء وغیرہ المساوی لہ اوالغالب علیہ لاعن الماء الذی فیہ حتی لوامکن افراز الماء عن ذلك المخالط لکان ماء جائزابہ الوضوء وھو رحمہ ا لله تعالی لم یذکر فی الجامد غیرالثخونۃ ولم یعتبر فیہ الاوصاف انما اعتبرھا فی مقابلہ المائع والمقابلۃ تنا فی الخلط فقد افاد قطعا ان لاغلبۃ فی الجامد بالاوصاف وقد افصح بہ الشرنبلالی فی تلخیص ضابطتہ اذقال ولایضر تغیراوصاف کلھا اھ وما کان زوال الاسم الالاحد امرین زوال الرقۃ
جیسا کہ آپ نے جانا اور میں ثانیا کہتا ہوں یہ امر محال ہے کہ رقت کے باقی رہتے ہوئے اس سے پانی کانام زائل ہو الا یہ کہ اس کا کوئی وصف متغیر ہوجائے اس لئے کہ جب اس کی طبیعت باقی ہواور اس کے اوصاف باقی ہوں تو اس سے اس کے نام کا زائل ہونا بغیر موجب کے ہوگا اوریہ باطل ہے اور جو غیر اس کے ساتھ مل جائے اور یہ غیر ان چیزوں میں سے ہو جو کسی وصف میں اس پانی کے مخالف نہ ہو اور وہ غیر اس کے اجزاء میں مساوی ہو یا زیادہ ہو تو اس میں پانی کا نام کل مرکب سے زائل ہوجائیگاجوپانی اور اس کے غیر سے مرکب ہو اور اس کے مساوی ہو یا اس پر غالب ہو نہ کہ اس پانی سے جو اس میں ہے یہاں تك کہ اگر اس آمیزش سے پانی کا جدا کرنا ممکن ہو تا تو اس پانی سے وضو جائز ہوتا اور انہوں نے(رحمۃ اللہ تعالی علیہ)جامد میں صرف گاڑھے پن کا ذکر کیا ہے اور اس میں اوصاف کا اعتبار نہیں کیا ہے

عــــہ : اقول : ای ان وجدامامامثلوابہ من ماء لسان الثوروماء الورد المنقطع الرائحۃ فلیس منہ للاختلاف فی الطعم ومامثلوابہ من الماء المستعمل فھو بنفسہ علی تحقیقنامن الماء المطلق فکیف یجعل امتزاجہ بالمطلق المطلق مقیدا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
میں کہتا ہوں یعنی اگر پایا جائے اور لسان ثور اور گلاب کا پانی جس میں خوشبور نہ رہی ہو کی مثالیں جو انہوں دی ہیں وہ اس سے نہیں ہے کیونکہ مزہ کی تبدیلی میں اختلاف ہے اور مستعمل پانی کی مثال جو دی ہے تو وہ خود ہماری تحقیق کے مطابق مطلق پانی ہے تو مطلق کو مطلق سے ملا کر مقید کیونکر کیا جاسکتا ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
حوالہ / References نورالایضاح کتاب الطہارۃ مطبوعہ مطبع علیمی لاہور ص۳
#12815 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
اوتغیر الوصف وقد نفی ھذا فی خلط الجامد فلم یبق الا الاول وظھر انہ یقول لایزول الاسم فیہ بوجہ من الوجوہ مادامت الرقۃ باقیۃ وھذا ھومحل الایراد فاین المحیص نعم ذکر فی صدر الکلام لفظ زوال الاسم و ھو انما ھو تمھید ضابطتہ خارجاعنھابیانا للمحوج الیھا کما علمت فضلا عن ان یکون قیدا فی حکم الجامد۔
فان قلت : الیس قدقال قبل ھذا تحت قول المختصر اوبالطبخ ان زوال الاسم ھو المعتبر فی الباب کماتقدم فکان صریح منطوقہ الادارۃ علیہ حیث کان اقول بلی وھو جملۃ القول فی الباب وماالضابطۃ الا لتفصیلہ وبیان انہ متی یحصل وقدصرح فیھاانہ لایحصل فی خلط الجامد الا بالثخونۃ فانی تنفع الادارۃ۔
الثالث : ھو بصدد اعطاء ضابط یمیز بین المقید والمطلق وما الضابط الا مایحیط بالصور فیجب ان یستوعب کلامہ بیان کل مایحصل بہ التقیید ای کل مایزول بہ الاسم اذلاتقیید الابہ
ان اوصاف کا اعتبار اس کے مقابل مائع میں کیا ہے اور مقابلالہ ملاوٹ کے خلاف ہے تو انہوں نے قطعا یہ بات بتائی ہے کہ جامد میں اوصاف سے غلبہ نہیں ہوتا ہے اور یہی بات شرنبلالی نے اپنے ضابطہ کے خلاصہ میں کہی ہے انہوں نے کہا کہ اس کو تمام اوصاف کا متغیر ہوجانا مضر نہیں اھ اور نام کا زائل ہونا دو چیزوں میں سے ایك کی وجہ سے ہے یا تورقتہ کا ختم ہونایا وصف کا تبدیل ہونا اور یہ چیز جامد کے ملنے کی صورت میں نہیں تو صرف پہلی صورت میں باقی رہے اوریہ ظاہر ہوگیاکہ وہ کہتے ہیں جب تك رقت باقی رہے گی نام کسی طرح زائل نہ ہوگا یہ اعتراض کی صورت ہے تو چھٹکارے کی کیا سبیل ہوگی ہاں ابتداء کلام میں نام کے زائل ہونے کا ذکر کیا تھا یہ ان کے ضابطہ کی تمہید ہے اس میں داخل نہیں اس چیز کا بیان ہے کہ ضابطہ کی ضرورت کیوں محسوس ہوئیجیسا کہ آپ نے جان لیا یہ جامد کے حکم میں قید نہیں۔ (ت)اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ انہوں نے اس سے قبل مختصر کے قول “ اوبالطبخ “ کے تحت فرمایا تھا کہ اس باب میں نام کا زائل ہونا ہی معتبر ہے جیسا کہ گزرا تو انہوں نے اسی چیز کو صریحا مدار بنایا جہاں بھی یہ پایا جائے۔ میں کہتا ہوں یہ درست ہے اور اس باب کا خلاصہ یہی ہے اور ضابطہ تو اس کے بیان اور تفصیل کے لئے ہے اور یہ بتانے کیلئے ہے کہ یہ صورت کب پیدا ہوتی ہے اور انہوں نے اس میں تصریح کی ہے کہ یہ جامد کے مل جانے میں صرف گاڑھا ہونے سے حاصل ہوتی ہے تو اس پر مدار رکھنا مفید نہیں۔ سوم : وہ ایك ضابطہ بیان کرنا چاہتے ہیں جو مقید اور مطلق کے درمیان تمیز پیدا کردے اور ضابطہ وہی ہوتا ہے جو تمام صورتوں کا احاطہ کرے تو لازم ہے
#12816 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
(۱)فتقیید شیئ من احکامہ بان لایزول الاسم افساد لمقصودہ واخراج للضابط عن ان یکون ضابطاوارجاع للتمیز الی التجہیل وللتفصیل الی التعطیل فانہ یؤل الی ان فی خلط الجامد بدون الثخونۃ لایزول الاسم بشرط ان لایزول الاسم وھوکلام مغسول لایرجع الی طائل و محصول ھذامعنی قول النھرانہ لایجدی نفعا فتبین انہ لامذکو ر ولامطوی ولامنوی وان الحق فیہ بیدالنھر وان ھذا شیئ سقط عن الفخر فلقعہ البحر وذکرہ فی تنبیہ علی حدۃ فجاء الدر فنظمہ فی سلك الضابطۃ اذقال فلوجامدا فبثخانۃ مالم یزل الاسم کنبیذتمر اھ ونعمافعل لانہ صح الحکم وان انحلت عری الضابطۃ واحتاج مطلعھا الی ضابط اخر یلقط لہ ساقطہ ھکذا ینبغی التحقیق وا لله تعالی ولی التوفیق وکان الحری بنا ان نؤخر ھذا البحث الی الفصل الرابع حیث نتکلم ان شاء ا لله تعالی علی الضابطۃ ولکن الحاجۃ مست الیہ ھھناکیلا یعتری احداشك فیما نبدی من المخالفات بین الاحکام المنقولۃ وقضیۃ الضابطۃ وبا لله تعالی التوفیق۔
کہ ان کا کلام ان تمام صورتوں کااحاطہ کرے جن سے تقیید پیدا ہوتی ہے یعنی وہ تمام صورتیں جن میں زائل ہوجاتا ہے کہ تقیید تواسی سے حاصل ہوگی تو اس کے احکام میں سے کسی کو اس سے مقید کرناکہ نام زائل نہیں ہوا اس کے مقصود کو فاسد کرنااور ضابطہ کو ضابطہ ہونے سے خارج کرنا ہے اور بجائے اس کے کہ امتیاز پیداہوابہام پیدا کرنا ہے اور تفصیل کو ختم کرنا ہے اور اس کا انجام یہ ہوگاکہ جامد کی آمیزش میں گاڑھا نہ ہونے کی صورت میں نام زائل نہ ہو بشرطیکہ نام زائل نہ ہو اور یہ کلام لغو بے فائدہ ہے نہر کے قول کہ “ یہ مفید نہیں “ کا یہی مطلب ہے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ نہ توکچھ مذکور ہے اور نہ منوی ہے اور اس بارے میں حق نہر کے ساتھ ہے اور یہ وہ چیز ہے جو فخر سے رہ گئی تھی اور بحر نے اس کو لیاتھااور اس پر الگ تنبیہ کی تھی اور صاحب در نے اس کو ضابطہ کی شکل میں پیش کردیا وہ فرماتے ہیں “ اگر آمیزش جامد کی ہو تو دارومدار گاڑھا ہونے پر ہے جب تك نام زائل نہ ہو جیسے نبیذتمراھ اور انہوں نے یہ اچھا کام کیاہے کہ حکم صحیح ہوگیاہے اگرچہ اس سے ضابطہ ڈھیلا پڑ گیا اور اس صورت میں ایك مزید ضابطہ کی حاجت ہوگئی تحقیق کایہ طریقہ ہوناچاہئے ہمیں یہ بحث چوتھی فصل تك مؤخر کرنی چاہئے تھی جہاں ہم ضابطہ پر گفتگو کریں گے مگر یہاں ضرورۃ بحث کرنا پڑی ہے تاکہ احکام منقولہ اور ضابطہ میں کسی کو شك وشبہ لاحق نہ ہوجائے وب الله التوفیق۔ (ت)
حوالہ / References الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴
#12817 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
(۲۸۸)یوں ہی شربت سے وضو ناجائز ہے شکر بتاشے مصری شہد کسی چیز کا ہو نمبر ۱۸۵ میں ہدایہ وغیرہا کتابوں سے گزرا : لایجوز بالاشربۃ (شربتوں سے وضو جائز نہیں۔ ت)اس پر عنایہ وبنایہ وکفایہ وغایہ میں فرمایا :
ان ارادبالا شربۃ الحلوالمخلوط بالماء کالدبس والشھد المخلوط بہ کانت نظیر الماء الذی غلب علیہ غیرہ ۔
اگر ان کی مراد “ اشربہ “ سے میٹھے شربت ہیں جیسے شیرہ اور شہد جو پانی میں ملے ہوں تو اس پانی کی نظیر ہے جس پر کوئی دوسری چیز غالب ہوگئی ہو۔ (ت)

مجمع الانہر میں ہے :
قال صاحب الفرائد المراد من الاشربۃ الحلوا لمخلوط بالماء کالدبس والشہد ۔
صاحب الفرائد نے فرمایا اشربہ سے مراد میٹھا شربت ہے جو پانی میں شامل ہوگیا ہو جیسے شیرہ اور شہد۔ (ت)
مگر اصحاب ضابطہ غیر بحر ودر پر لازم کہ اس سے وضو جائز مانیں جب تك پانی کی رقت نہ زائل ہو اور یہ شربت میں عادۃ نہیں ہوتا شکر بتاشے مصری تو ظاہر ہیں اور یوں ہی شہد جبکہ جما ہوا ہو مگر یہ اسی وجہ سے صحیح نہیں کہ شربت کو پانی نہیں کہتے نام بدل گیا تو آب مطلق نہ رہا۔
(۲۸۹)یوں ہی دوا کاخیساندہ قابل وضو نہیں اگر گاڑھا نہ ہوگیاہو کہ وہ دوا کہلائیگی نہ پانی مگر اہل ضابطہ پر جواز لازم۔
(۲۹۰ تا ۲۹۵)یونہی کسم کیسر رنگت کی پڑیاں جب پانی میں اس قدر ملیں کہ رنگنے کے قابل ہوجائے کسیس مازو روشنائی مل کر حرف کا نقش بننے کے لائق ہوجائے بحکم تجنیس وفتح القدیر وحلیہ ومعراج الدرایہ وبحرالرائق ودرمختار وقنیہ وہندیہ وفتح اللہ المعین وامام جرجانی جس کی عبارت نمبر ۱۲۴ میں گزریں اس سے وضو جائز نہیں کہ وہ رنگ یا سیاہی یا روشنائی کہلائے گا نہ پانی مگر بحکم ضابطہ جواز ہے خصوصا پڑیا کا پانی کہ بہت کم مقدار میں ملائی جاتی ہے جس کا پانی کی رقت پر اثر نہیں ہوسکتا۔
اقول : وھو وان کان ظاھر عامۃ الکتب
میں کہتا ہوں اگرچہ ظاہر عام کتب کا وہی ہے
حوالہ / References الہدایۃ باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوزبہ مطبع عربیہ کراچی ۱ / ۱۸
الکفایۃ مع فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوزبہ مطبع نوریہ رضویہ
الکفایۃ مع فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالا یجوزبہ مطبع نوریہ رضویہ
#12818 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
کمامر ثمہ لکن ھذاھو قضیۃ الاصل المجمع علیہ الغیر المنخرم ان زوال الاسم یسلب الاطلاق وا لله تعالی اعلم۔
جو گزرا لیکن اس اصل کایہی تقاضاہے جس پر قطعی اجماع ہے کہ نام کے زائل ہونے سے اطلاق کی کیفیت ختم ہوجاتی ہے۔ (ت)

ہاں روشنائی وغیرہ کا گاڑھا پانی بروئے ضابطہ بھی قابل وضو نہیں۔
صنف دوم سیال اشیاء
(۲۹۶ تا ۲۹۸)اقول : گلاب کیوڑابید مشك بلاشبہ مزہ آب کے خلاف مزہ رکھتے ہیں اور ان کی بو قوی تر ہے گھڑے بھر پانی میں تولہ بھر اسے خوشبودار کردیتاہے اور مزہ نہیں بدلتا توبحسب حکم منقول اس سے وضو جائز رہے گا جب تك اس قدر کثرت سے نہ ملے کہ پانی پر اس کا مزہ غالب آجائے مگر اہل ضابطہ کے نزدیك اس سے وضو ناجائز ہونا لازم لانہ ذووصفین وقد تغیر واحد(کیونکہ دو وصفوں والا ہے اور ایك وصف بدل چکا ہے۔ ت)مگر یہ سخت بعید بلالکہ بداہۃ باطل ہے عرفا لغۃ شرعا اس گھڑے بھر پانی کو جس میں چند قطرے گلاب کے پڑے ہیں پانی ہی کہاجائے گا تو وہ یقینا آب مطلق ہے اور اس سے بلاشبہ وضو جائز۔
(۲۹۹ و ۳۰۰)زعفران حل کیا ہوا پانی یاشہاب اگر اتناملے کہ پانی کا صرف رنگ بدلے تو حکم مذکور نمبر ۱۲۶ سے وہ پانی قابل وضو نہ رہے گا اور اہل ضابطہ جائز کہیں گے۔
لانھما من ذوات الثلثۃ فلایکفی تغیروصف واحد ولونھمااقوی اوصافھمافیعمل قبل ان یعمل الباقیان۔
کیونکہ یہ تین اوصاف والا ہے تو اس میں ایك کا تغیر کافی نہ ہوگا اور اس کے اوصاف میں سے رنگ قوی تر ہے تو باقی دو کے مؤثر ہونے سے قبل ہی یہ مؤثر ہوجائیگا۔ (ت)
(۳۰۱)یوں ہی پڑیا حل کیا ہوا پانی پانی میں پڑ کر صرف رنگت بدل دے تو کتب مذکورہ کے حکم سے قابل وضو نہیں اور اہل ضابطہ کے نزدیك بھی ناجائز ہے اگر پڑیا کسی قسم کی بو نہ رکھتی ہو ورنہ جائز کہیں گے۔
(۳۰۲)آب تربوزسے جب پانی کاصرف مزہ بدلے خود اہل ضابطہ نے عدم جواز وضو کی تصریح کی کمامر فی ۱۲۸ مگر ان کا ضابطہ جواز چاہتا ہے۔
لانہ ذوالثلثۃ فلایکتفی بوصف وطعمہ اغلب اوصافہ فلایستلزم غلبتہ غلبۃ احد الباقیین۔
کیونکہ یہ تین وصفوں والا ہے تو ایك وصف پر اکتفأ نہ کیا جائے گا اور اس کا مزہ اس کے اوصاف میں قوی تر ہے تو اس کے غلبہ سے دو۲
#12819 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
باقیماندہ وصفوں میں سے کسی ایك کا غلبہ لازم نہیں آئے گا۔ (ت)
(۳۰۳)سپید انگور کے سرکہ کی جب صرف بو پانی میں آجائے غالب نہ ہو بحکم بدائع منقول نمبر ۱۳۰ قابل وضو ہے مگر بروئے ضابطہ جوازنہ چاہئے لانہ ذووصفین وقد تغیراحدھما(کیونکہ یہ دو وصفوں والا ہے اور ایك وصف بدل چکا ہے۔ ت)
(۳۰۴)سرکہ کہ رنگت بھی رکھتا ہے اور اس کی بو سب اوصاف سے اقوی ہے اگر پانی میں اس کا مزہ اور بو آجائے اور رنگ نہ بدلے بحکم منقول مصرح امام ملك العلماء وامام اسبیجابی وامام فخرالدین زیلعی ونجم الدین زاہدی وزادالفقہاء وامام ابن امیر الحاج حلبی مذکور نمبر ۱۲۶ قابل وضو ہے مگر اتباع ضابطہ نے عدم جواز کی تصریح کی غنیہ میں ہے :
ان کان یخالفہ فی الاوصاف کلھاکالخل فالمعتبر غلبۃ اکثرھا ۔
اگر وہ پانی کے تمام اوصاف میں اس کے مخالف ہے جیسے سرکہ تو معتبران میں سے اکثر کا غالب ہونا ہوگا۔ (ت)
نورالایضاح ومراقی الفلاح میں ہے :
الغلبۃ توجد بظھور وصفین من خل لہ لون وطعم وریح ای وصفین منھاظھرامنعاصحۃ الوضوء ولوواحد لایضر لقلتہ ۔
سرکہ کے وصفوں میں سے دو کے ظہور سے غلبہ پایا جائیگا کیونکہ اس کے تین اوصاف ہیں مزہ رنگ اور بو کوئی سے دو وصف ان میں سے غالب ہوجائیں تو اس سے وضو نہیں ہوسکتا ہے اور اگر ایك وصف متغیر ہوتا ہے تو کم ہونے کی وجہ سے مضر نہیں۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
فالغلبۃ بتغیر اکثرھا وھو الوصفان فلا یضر ظھوروصف واحد فی الماء من اوصاف الخل اج
اقول : وقدکان ملك العلماء قدس سرہ احال الامراولا علی زوال الاسم تو اعتبار اکثریت کے تغیر کا ہے اور یہ دو وصف ہیں تو سرکہ کے صرف ایك وصف کا پانی میں ظاہر ہونا کچھ مضر نہ ہوگا۔ (ت)
میں کہتاہوں ملك العلماء نے پہلے تو مدار نام کے زائل ہونے پر رکھا تھا اور یہی صحیح بھی تھا وہ فرماتے ہیں
حوالہ / References غنیۃ المستملی فصل فی بیان احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۹۱
مراقی الفلاح کتاب الطہارت الامیریۃ ببولاق مصر ص۱۶
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۴
#12820 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
وھی الجادۃ الواضحۃ حیث قال الماء المطلق اذا خالطہ شیئ من المائعات الطاھرۃ کاللبن والخل ونقیع الزبیب ونحو ذلك علی وجہ زال عنہ اسم الماء بان صار مغلوبا بہ فھو بمعنی الماء المقید اھ لکن ثم عاد عــہ الی اعتبار اللون فی مثلہ فقال متصلا بہ ثم ینظر ان کان یخالف لونہ لون الماء یعتبر الغلبۃ فی اللون ۔
مطلق پانی میں جب کوئی سیال شے مل جائے جیسے دودھ سرکہ منقی کاپانی وغیرہ اور اس سے پانی کا نام زائل ہوجائے کہ پانی مغلوب ہو تو اب یہ پانی مقید ہے اھ لیکن پھر وہ اس جیسی صورت میں رنگ کے اعتبار کا ذکر کرتے ہیں چنانچہ اسی کے متصل فرماتے ہیں پھر دیکھا جائیگا کہ اگر اس کا رنگ پانی کے رنگ کے مخالف ہے تو رنگ میں غلبہ معتبر ہوگا۔
(۳۰۵)جس سرکہ کا مزہ رنگ وبو سے اقوی ہو جب اس کے مزہ وبوپانی پر غالب آئیں اور رنگ نہ بدلے بحکم مذکور ائمہ قابل وضو ہے اور ضابطہ مخالف۔
(۳۰۶)جس سرکہ کا رنگ غالب تر ہو جب اس سے صرف رنگ بدلے تو اس کا عکس ہے یعنی بحکم ائمہ اس سے وضو ناجائز اور ضابطہ مقتضی جواز۔
(۳۰۷)دودھ سے جب پانی کا صرف رنگ بدلے بحکم ائمہ مذکورین قابل وضو نہیں اور عجب کہ امام زیلعی نے بھی ان کی موافقت کی حالانکہ ان کا ضابطہ مقتضی جواز ہے لانہ ذوالثلثۃ ولونہ اقوی فلایکفی وصف واحد(کیونکہ یہ تین وصفوں والا ہے اور اس کے اوصاف میں رنگ قوی تر ہے تو ایك وصف پر اکتفاء نہ کیا جائیگا۔ ت)ہاں امام ابن الہام ودر وقدوری وہدایہ وعنایہ وعمدۃ القاری جانب جواز ہیں کما تقدم کل ذلك ۱۳۴ وا لله تعالی اعلم(اس کی پوری بحث ۱۳۴ میں گزر چکی ہے و الله تعالی اعلم۔ ت)
تکمیل جزئیات نامحصور ہیں بہتی ہوئی چیز کہ پانی سے کسی وصف میں مخالف ہے اس کے بارے میں اس اختلاف واتفاق کا ضابطہ ملاحظہ چند امور سے واضح :
(۱)اگر کوئی وصف نہ بدلے پانی بالاجماع قابل وضو ہے۔
عــــہ : سیاتی بحمدا لله تعالی تحقیق السر فی ذلك فی سادس ضوابط الفصل الثالث ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اس کی حکمت تیسری فصل کے چھٹے ضابطہ میں آئے گی ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References بدائع الصنائع الماء المقید سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵
بدائع الصنائع الماء المقید سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵
#12821 · نوع آخر مقابلات نوع آخر قسم اول صنفِ اول__جامدات
(۲)مخالفت اگر صرف رنگ یا مزہ میں ہے اور وہ بدل جائے بالاتفاق قابل وضو نہیں۔
تنبیہ : بدلنے سے کیا مراد ہے اس کی تحقیق ان شاء الله العزیز فصل سوم میں آئے گی۔
(۳)اگر دو وصف میں مخالفت ہے اور دونوں بدل جائیں بالاتفاق عدم جواز ہے۔
(۴)اگر صرف رنگ ومزہ یا رنگ وبو میں تخالف ہے اور رنگ بدلے توبالاتفاق ناقابل ہے اور دوسرا بدلے تو بحکم منقول جوازاور بروئے ضابطہ ناجائز۔
(۵)اگر صرف مزہ وبو میں اختلاف ہے اور مزہ بدلے تو بالاتفاق اور بو بدلے تو صرف بروئے ضابطہ عدم جواز ہے منقول جواز۔
(۶)اگر تینوں وصف مختلف ہیں اور سب بدل جائیں بالاتفاق ناجائز۔
(۷)اگر اس صورت میں صرف مزہ یا بو بدلے بالاتفاق جواز ہے اور فقط رنگ بدلے تو بحکم منقول ناجائز اور حکم ضابطہ جواز۔
(۸)اسی صورت میں اگر رنگ ومزہ یا رنگ وبو بدلیں بالاتفاق ناجائز اور مزہ وبو بدلیں تو ضابطہ پر ناجائز اور منقول جواز۔
(۹)تخالف وتبدل دونوں کی جمیع صور کااحاطہ توان آٹھ میں ہوگیا رہا یہ کہ تبدل کی کون سی صورت کہاں ممکن ہے اس کا بیان یہ کہ جو ایك ہی وصف میں مخالف ہے ظاہر ہے کہ وہ تو اسی کو بدل سکتا ہے اور اگر دو میں تخالف ہے تو تین صورتیں ہیں اول اقوی ہوگا یادوم یا دونوں مساوی یعنی بدلیں تو دونوں ایك ہی ساتھ بدلیں ان میں آگا پیچھا نہیں اگر ایك قوی ہے تو ایك کے تغیر میں اسی کا تغیر ہوگا صرف دوسرے کو متغیر فرض نہیں کرسکتے ہاں دونوں کا بدلنا تینوں صورتوں میں ہوسکتا ہے۔
(۱۰)اگر تینوں وصف مختلف ہیں تو اس میں سات احتمال ہیں : اول اقوی ہو یادوم یاسوم یااول ودوم یا اول وسوم یادوم وسوم یاسب مساوی جن میں ایك اقوی ہو تنہا ایك کے تبدل میں وہی مفروض ہوسکتا ہے اور دو کے تبدل میں ایك وہ ہونا ضرور۔ اس کے بغیر باقی دونوں کا تنہا یا معا تغیر فرض نہیں کرسکتے اور دو اقوی ہیں تو اسی میں نہ ایك کا تبدل ہوسکتا ہے نہ ایسے دو کا جن میں ایك وہ تیسرا ہو ہاں تینوں بدل سکتے ہیں اورجہاں تینوں مساوی ہیں وہاں یہی صورت فرض ہوسکتی ہے کہ سب بدل جائیں یا کوئی نہ بدلے وا لله تعالی اعلم وصلی ا لله تعالی علی سیدنا ومولنا محمد الکریم الاکرم وعلی الہ وصحبہ وابنہ وحزبہ وبارك وسلم آمین والحمد لله رب العلمین۔
#12822 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
یہاں عبارات علما مختلف آئیں
اما لفظا اومعنی ایضا فمنھا صحیح وخلافہ و الصحیح منھا حسن واحسن فنذکرھا ومالھا وعلیھا لیتبین المنتجب من المجتنب فیراعی معیارا فی کل مطلب وا لله الموفق ماغیرہ رب۔
یا تو لفظا یا معنی بھی ان میں سے کچھ صحیح ہیں اور کچھ اس کے برخلاف صحیح میں سے کچھ حسن اور کچھ احسن ہیں تو اب ہم انہیں اور ان پر جو ابحاث ہیں انہیں ذکر کرتے ہیں تاکہ صحیح اور غلط ظاہر ہوتا کہ ہر بحث میں معیار کی رعایت کی جاسکے(ت)

اول مطلق وہ کہ شے کی نفس ذات پر دلالت کرے کسی صفت سے غرض نہ رکھ نہ نفیا نہ اثباتا قالہ فی الکفایۃ(یہ تعریف کفایہ میں ہے۔ ت)اور مقید وہ کہ ذات کے ساتھ کسی صفت پر بھی دال ہو عنایہ میں ہے :
ان ا لله تعالی ذکر الماء فی الایۃ مطلقا والمطلق مایتعرض للذات دون الصفات ومطلق الاسم ینطلق علی ھذہ المیاہ اھ ای ماء السماء والاودیۃ والعیون والابار ذکرہ مستدلا علی جواز التوضی بھا بقولہ تعالی و انزلنا من السمآء مآء طهورا۔ اقول : (۱)ھذا ھو المطلق الاصولی ولیس مراداھنا قطعا فانہ مقسم المقیدات وھذا قسیمھا وھوینطلق علی جمیع المقیدات فیلزم جوازالتوضی بھابل المطلق ھھنا مقید بقید الاطلاق فی مرتبۃ بشرط لاشیئ ای مالم یعرض لہ مایسلب عنہ اسم الماء
اللہ تعالی نے آیہ مبارکہ میں پانی کو مطلق ذکر کیا ہے اور مطلق وہ ہے جس میں صرف ذات کا ذکر ہو صفات کا نہ ہو اور پانی کا مطلق نام انہی پانیوں پر بولاجاتاہے اھ یعنی آسمان وادیوں چشموں اور کنوؤں کے پانیوں پر اس کاذکروضو کے جواز کے سلسلہ میں کیا ہے فرمان الہی ہے
و انزلنا من السمآء مآء طهورا۔ (ت)میں کہتا ہوں یہ اصولی مطلق ہے اور وہ یہاں قطعا مراد نہیں کیونکہ وہ مقیدات کا مقسم ہے اور یہ ان کا قسیم ہے اور یہ تمام مقیدات پر جاری ہے تو ان تمام سے وضو کاجوازلازم آتا ہے بلالکہ مطلق یہاں بقید اطلاق مقید ہے اور بشرط لاشیئ کے مرتبہ میں ہے یعنی اس کو جب تك ایسی چیز لاحق نہ ہو جو اس سے
حوالہ / References العنایۃ مع فتح القدیر باب الما الذی یجوزبہ الوضو مالایجوز نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۰
#12823 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
المرسل ولاشك ان ھذا متعرض لوصف زائد علی نفس الذات فالمطلق ھھنا قسم من المقید وقسیم لسائرالمقیدات وقد تنبہ لھذاالسیدالعلامۃ الشامی فنبہ علیہ بقولہ واعلم ان الماء المطلق اخص من مطلق ماء لاخذ الاطلاق فیہ قیداولذا صح اخراج المقید بہ واما مطق ماء فمعناہ ای ماء کان فیدخل فیہ المقید المذکور ولایصح ارادتہ ھھنا اھ ووقع فی البحربعدماعرف المطلق بما یاتی والمطلق فی الاصول ھوالمتعرض للذات دون الصفات لابالنفی ولا بالاثبات کماء السماء والعین والبحر اھ فقدکان یفھم بالمقابلۃ انہ لیس مراداھھنا لکن(۱)جعل المیاہ المطلقۃ مثالا صرف الکلام الی الایہام فالاحسن مافی الکافی عــہ والبنایۃ
مطلق پانی کا نام سلب کرلے اور اس میں شك نہیں کہ یہ نفس ذات پر ایك زائد وصف کی طرف اشارہ ہے تو مطلق یہاں مقید کی قسم ہے اور باقی مقیدات کا قسیم ہے علامہ شامی نے اس کو محسوس کرتے ہوئے فرمایا “ جاننا چاہئے کہ ماء مطلق مطلق ماء سے اخص ہے کیونکہ اس میں اطلاق کی قید ہے اس لئے مقید کا اس سے خارج کرنا درست ہے اور مطلق ماء کے معنی ہیں کوئی بھی پانی ہو تو اس میں مذکور مقید بھی داخل ہوگا اور یہاں اس کا ارادہ صحیح نہیں ہے اھ بحر میں مطلق کی تعریف کے بعد ہے “ مطلق اصول میں معترض ذات کو بیان کرتا ہے نہ کہ صفات کو نہ نفی سے نہ اثبات سے جیسے آسمان چشمہ اور دریان کا پانی اھ مقابلالہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہاں مراد نہیں ہے لیکن مطلق پانیوں کی اس کی مثال بنانا کلام میں ایہام پیدا کرنا ہے تو احسن وہی ہے جو کافی بنایہ اور مجمع الانہر میں ہے ان
عــہ وفی غایۃ البیان المراد ھنامایفھم بمجرداطلاق اسم الماء والافالمیاہ المذکورۃ لیست بمطلقۃ لتقییدھابصفۃ وفی اصطلاح اھل الاصول ھو المتعرض للذات دون الصفۃ اھ اقول : لاوجود للمطلق فی الاعیان الا فی ضمن للمقید فلاتخصیص للمیاہ والمذکورۃ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اور غایۃ البیان میں ہے کہ مراد یہاں پر وہ ہے جو محض ماء کے نام کے اطلاق سے سمجھا جاتاہے ورنہ مذکورہ پانی مطلق پانی نہیں کیونکہ یہ پانی کسی صفت سے مقید ہیں اور اصولیین کے نزدیك مطلق وہ ہے جو صرف ذات کو بتائے نہ کہ صفت کو اھ میں کہتا ہوں مطلق کا وجود اعیان میں نہیں مقید کے ضمن ہی میں ہوتاہے تو مذکورہ پانیوں میں تخصیص نہیں ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۲
بحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۶
#12824 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
ومجمع الانھر اذاذکروا المطلق الاصولی ثم قالوا وارید ھھنا مایسبق الی الافہام الخ
سب نے اصولی مطلق کا ذکر کیا ہے پھر فرمایا ہے یہاں وہی مراد جو ذہنوں کی طرف سبقت کرتا ہے الخ(ت)
دوم مطلق : وہ کہ اپنی تعریف ذات میں دوسری شے کا محتاج نہ ہو اور مقید وہ کہ جس کی ذات بے ذکر قید نہ پہچانی جائے۔
ذکرہ فی مجمع الانھرعلی جہۃ التمریض فقال ویقال المطلق مالایحتاج فی تعریف ذاتہ الی شیئ اخروالمقید مالایتعرف ذاتہ الابالید اھ
اقول : وھوبظاھرہ افسدمن الاول فان شیااماقط لایحتاج فی تعریف ذاتہ الی شیئ اخرو لکن المقصودانہ الباقی علی طبیعۃ الماء وصرافۃ المائیۃ لم یداخلہ مایخرجہ عن طبعہ اویجعلہ فی العرف مرکبامع غیرہ فیصیرذاتااخری غیر ذات الماء لایطلق علیہ محض اسم الماء ولاتعرف ذاتہ باطلاقہ واوضح منہ قول الغنیۃ ھومایسمی فی العرف ماء من غیر احتیاج الی تقیید فی تعریف ذاتہ اھ وھوماخوذ عن الامام حافظ الدین فی المستصفی کما سیاتی ان شاء ا لله تعالی۔
اس کو مجمع الانہر میں ناپسندیدہ قول کے طور پر بیان کیا ہے فرمایااور کہاجاتاہے کہ مطلق وہ ہے جو اپنی ذات کی تعریف میں کسی دوسری چیز کا محتاج نہیں ہوتا ہے اور مقید وہ ہے جس کی ذات قید کے بغیر نہیں جانی جاتی ہے اھ(ت)
میں کہتا ہوں یہ بظاہر پہلے سے بھی زیادہ غلط ہے کیونکہ کوئی چیز بھی اپنی ذات کی تعریف میں کسی دوسری چیز کی محتاج نہیں ہوتی ہے لیکن مقصود یہ ہے کہ وہی پانی کی طبیعت پرباقی ہے اور پانی کی طبیعت میں کوئی ایسی چیز داخل نہیں ہوئی جو اس کو اس کی طبیعت سے خارج کردے یا عرف میں اس کے غیر کے ساتھ مرکب کردے تو وہ پانی کے علاوہ دوسری چیز بن جائے جس پر محض پانی کے نام کا اطلاق نہ ہو اور اس کے اطلاق سے اس کی ذات نہ پہچانی جائے اور اس سے زیادہ واضح غنیہ کی عبارت ہے کہ وہ وہ ہے جو عرف میں پانی کہلاتا ہے اس کی ذات کی تعریف میں کسی تقیید کی حاجت نہ ہو اھ یہ تعریف امام حافظ الدین نے مستصفی میں کی ہے جیسا آئیگا ان شاء الله تعالی۔ (ت)
حوالہ / References مجمع الانہر تجوز الطہارۃ بالماء المطلق مطبعہ عامرہ مصر ۱ / ۲۷
مجمع الانہر تجوز الطہارۃ بالماء المطلق مطبعہ عامرہ مصر ۱ / ۲۷
غنیۃ المستملی احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۸
#12825 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
سوم : مطلق وہ کہ اپنی پیدائشی اوصاف پر باقی ہو خزانۃ المفتین میں شرح طحاوی سے ہے :
ھو الباقی علی اوصاف خلقتہ اقول : ان ارید(۱)بالاوصاف الاوصاف الثلثۃ خاصۃ اومع الرقۃ والسیلان انتقض بمنقوع الحمص والباقلا وماخلط بصابون واشنان ولو طبخ بھما اوبسدرمادام باقیاعلی رقتہ وکذاماالقی فیہ تمیرات فحلاولم یصر نبیذ التغیر اوصافھاکلا اوبعضامع جوازالوضوء بھااتفاقا(۲)وکذا
بماخلط بمائع موافق فی الاوصاف اکثر منہ اومساویا مع امتناع الوضوء بہ وفاقا فانتقض طرادوعکساوان ارید الاعم اتسع الخرق فانتقض بنحو الحمیم ایضا۔
یہ وہ ہے جو اپنے پیدائشی اوصاف پر باقی ہے میں کہتا ہوں اگر اوصاف سے محض اوصاف ثلثۃ مراد ہیں یامع رقت وسیلان کے تو اس پر چنوں اور باقلی کے پانی سے اعتراض ہے اور اس پانی سے اعتراض ہے جس میں صابون اور اشنان ملایا گیا ہو اگرچہ ان دونوں کے ساتھ پکایا گیا ہو یا جھربیری کے ساتھ پکایا گیا ہو جب تك اس میں رقت باقی ہو اور اسی طرح وہ پانی جس میں کھجوریں ڈالی گئی ہوں اور میٹھا ہوگیاہواور نبیذ نہ بناہو کیونکہ اس کے اوصاف میں کلی یا جزوی تغیر پیدا ہوگیا ہے حالانکہ اس کے ساتھ وضو اتفاقا جائز ہے اور اسی طرح وہ پانی جو کسی مائع(سیال)سے مل گیاہو جو پانی کے اکثر اوصاف میں اس کے مشابہ ہو یا مساوی ہو حالانکہ اس سے وضو اتفاقا ناجائز ہے یہ طرداوعکسا منتقض ہوگیا اور اگر عام کا ارادہ کیا ہو تو نقض وسیع ہوجائیگا تو گرم پانی کی مثل سے بھی نقض وارد ہوگا۔ (ت)
چہارم مطلق وہ کہ اپنی رقت وسیلان پر باقی ہو شلبیہ علی الزیلعی میں ہے :
الماء المطلق مابقی علی اصل خلقتہ من الرقۃ والسیلان فلو اختلط بہ طاھرا وجب غلظہ صار مقیدا اھ یحیی اھ
اقول : (۳)ھذا افسدوقد تضمن سابقہ الردعلیہ ویزیدھذاانتقاضابماخلط بکل مائع لایسلبہ رقتہ وان
مطلق پانی جب تك ہے کہ اپنی اصل خلقت پر ہو یعنی اس میں رقت اور سیلان باقی ہو اور جب اس میں کوئی پاك چیز مل کر اس میں گاڑھا پن پیدا کردے تو وہ مقید ہوجائیگا اھ یحی اھ(ت)
میں کہتا ہوں یہ اور بھی زائد فاسد ہے اور گزشتہ بحث میں اس پر رد ہوچکا ہے اور اس پر یوں بھی اعتراض وارد ہوتاہے اس کے ساتھ کہ
حوالہ / References طحطاوی علی الدر المختار باب المیاہ بیروت ۱ / ۱۰۲
شلبی علی التبیین کتاب الطہارت الامیریہ ببولاق مصر ۱ / ۱۹
#12826 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
غیر اوصافہ کاللبن والخل والعصیر ونحو ذلک۔
اس میں کوئی ایسی مائع شے شامل ہوجائے جو اس کی رقت کو ختم نہ کرے خواہ اس کے دوسرے اوصاف میں تغیر پیدا کردے جیسے دودھ سرکہ عرق وغیرہ۔ (ت)
پنجم : مطلق وہ جس کے لئے کوئی نیا نام نہ پیدا ہوا ہدایہ میں فرمایا :
قال الشافعی رحمہ ا لله تعالی لایجوز التوضی بماء الزعفران واشباھہ مما لیس من جنس الارض لانہ ماء مقید الاتری انہ یقال ماء الزعفران بخلاف اجزاء الارض لان الماء لایخلو عنھا عادۃ ولناان اسم الماء باق علی الاطلاق الا تری انہ لم یتجدد لہ اسم علی حدۃ واضافتہ الی الزعفران کاضافتہ الی البئر والعین اھ
اقول : (۱)ظاھرہ منتقض بالحمیم فقدحدث لہ اسم لم یکن فان قلت اسم الماء باق علیہ فالمراد ماتجدد لہ اسم مع انتفاء اسم الماء الاتری الی قولہ ان اسم الماء باق علی الاطلاق اقول اولا قولہ قدس سرہ لم یتجدد لہ مفصول عماقبلہ الا تری الی قولہ الا تری فقدجعلہ دلیلا علی بقاء الاسم لاان بقاء الاسم ماخوذ فیہ وثانیا بقاء الاسم علی الاطلاق کاف علی الاطلاق لایحتاج بعدہ الی عدم حدوث ولا یضرمعہ الف حدوث فضمہ الیہ یجعلہ لغوا۔ ھذااوردہ الفاضل عصام فی حاشیۃ بانہ منقوض
امام شافعی نے فرمایاوہ اشیاء جو زمین کی جنس سے نہیں ہیں جیسے زعفران کا پانی وغیرہ ان سے وضو جائز نہیں کیونکہ وہ مقید پانی ہے اس لئے اس کو زعفران کا پانی کہتے ہیں بخلاف زمینی اجزاء کے کیونکہ عام طور پر کوئی پانی زمینی اجزاء سے خالی نہیں ہوتا ہے اور ہماری دلیل یہ ہے کہ پانی کا نام علی الاطلاق باقی ہے اور اس کا کوئی نیا نام وضع نہیں ہوا ہے اور اس کی اضافت زعفران کی طرف ایسی ہی ہے جیسے پانی کی اضافت کنویں یا چشمے کی طرف ہوتی ہے اھ(ت)
میں کہتا ہوں بظاہر اس پر گرم پانی کااعتراض وارد ہوتاہے کیونکہ اس پر ایك ایسانام بولاجارہاہے جو پہلے نہ تھا۔ اگریہ کہا جائے کہ اس میں بھی پانی کا نام باقی ہے تو مراد یہ ہے کہ جس کا نیا نام پڑ گیا ہو اور پانی کا نام ختم ہوگیا ہو چنانچہ انہوں نے فرمایا “ پانی کا نام علی الاطلاق باقی ہے۔ میں کہتا ہوں اول تو ان کا قول “ لم یتجدد لہ “ ماقبل سے منفصل اور الگ ہے چنانچہ انہوں نے فرمایا ہے “ الاتری “ تو اس کو انہوں نے نام کے باقی رہنے پر دلیل بنایا ہے یہ نہیں کہ نام کا باقی رہنا اس میں ماخوذ ہے ثانیا نام کا علی الاطلاق باقی رہنا اطلاق کے لئے کافی ہے اس کے بعد وہ عدم حدوث کا محتاج نہیں اور اس کے ہوتے ہوئے ہزار حدوث بھی مضر نہیں تو
حوالہ / References الہدایۃ باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوز بہ مطبع عربیہ کراچی ۱ / ۱۸
#12827 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
بماء الباقلاء حیث لم یتجددلہ اسم ولم یبق ماء مطلقا ثم قال والجواب ان المراد ھو الاستلزام الاکثری فان الغالب فی المقید تجدد الاسم کالخبز عـــہ۱ المرقۃ والصبغ ونحو ذلك بخلاف المطلق وھذاالقدرکاف فی غرضنا اذالاولی فی الفرد عـــہ۲ الذی یشتبہ حالہ ان یلحق بالاکثر الاغلب اھ وتعقبہ العلامۃ سعدی افندی بقولہ لك ان تمنع الاکثریۃ الاتری الی ماء الورد وماء الھندباء وماء الخلاف واشباھھا اھ
اقول : السؤال والجواب والتعقب کل ذلك نداء من وراء حجاب(۱)اما التعقب فلان کثرۃ مایقال لہ ماء کذا لاتنفی اکثریۃ ماتجددت لہ الاسماء وھی معلومۃ قطعابلا امتراء واما الجواب فاولا(۲)حاصل الجدل ان الامام الشافعی رضی اللہ
اس کا اس کے ساتھ ملادینا اس کو لغو قرار دیگا۔ یہ عصام نے اپنے حاشیہ میں لکھا کہ اس پر باقلاء کے پانی سے اعتراض وارد ہوگا اس لئے کہ اس کا کوئی نام نیا نہیں پیدا ہوا اور مطلق پانی بھی نہ رہا پھر فرمایا اس کا جواب یہ ہے کہ مراد استلزام اکثری ہے کیونکہ مقید میں عام طور پر نام نیا ہوجاتاہے جیسے روٹی شوربہ اور رنگ وغیرہ بخلاف مطلق کے اتنی مقدار ہماری غرض میں کافی ہے کیونکہ اولی اس فردمیں جس کاحال مشتبہ ہویہ ہے کہ اس کواکثرواغلب سے لاحق کیا جائے اھ اس پر علامہ سعدی آفندی نے تعاقب کیا اور فرمایا اس میں اکثریت کے وجود کاانکار کیا جاسکتا ہے جیسے گلاب کا پانی کاسنی کا پانی اور بید کا پانی اور اسی طرح دوسری اشیا کا پانی اھ(ت)
میں کہتا ہوں سوال وجواب اور تعقب یہ سب پردے کو پیچھے پکارنا ہے تعقب تو اس لئے کہ جن اشیاء کو کہا جاتا ہے کہ “ فلاں چیز کا پانی “ ان کی کثرت ان اشیاء کے اکثر ہونے کے منافی نہیں جن کے نام نئے پڑ گئے ہوں اور یہ بلاشبہ معلوم ہیں اور جواب کی بابت اول تو یہ ہے کہ جھگڑے کا حاصل یہ ہے

عــہ۱ : اقول : من العجب عدالخبر من المیاہ المقیدۃ۔ (م)
عــہ۲ : ای فیلحق ماء الزعفران بالماء المطلق وماء الباقلاء لتبین حالہ بالمقید وان لم یتجددلہ ایضا اسم اذلا تدع ان کل لامتجدد مطلق ۱۲ منہ غفرلہ۔
میں کہتا ہوں بڑے تعجب کی بات ہے کہ روٹی کو مقید پانیوں میں شمار کیا ہے۔ (ت)
یعنی زعفران کے پانی کو مطلق پانی اور باقلی کے پانی سے ملحق کیا جائیگاتاکہ اس کاحال مقید سے جدا ہوجائے اگرچہ اس کا بھی کوئی نیا نام نہیں پڑاہے کیونکہ ہمارایہ دعوی نہیں ہے کہ ہر وہ پانی جس کانیا نام نہ ہو وہ مطلق ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
حوالہ / References حاشیۃ سعدی چلپی مع الفتح القدیر نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۳
اشیۃ سعدی چلپی مع الفتح القدیر نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۴
#12828 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
تعالی عنہ استدل علی کونہ ماء مقیدابانہ یقال لہ ماء الزعفران فاحتاج الی التقیید وکل مااحتاج الی التقیید مقید واجاب عنہ الشیخ قدس سرہ بمنع ومعارضۃ اماالمنع فقول واضافتہ الی الزعفران الخ ای لانسلم ان کل اضافۃ للاحتیاج بل ربما یکون لتعریف شیئ وراء الذات کماء البئر والعین واما المعارضۃ فقولہ ان اسم الماء باق الخ فاستدل علی الاطلاق ببقاء اسم الماء المطلق وعلی ببقائہ بانہ لم یتجدد لہ اسم فلا بدمن ضم الکلیۃ القائلۃ ان کل مالم یتجدد لہ اسم فاسم المطلق باق علیہ فنقض المعترض الکلیۃ بماء الباقلاء ونحوہ ولایمسہ الجواب بالاکثریۃ لانتفاء التعدید(۱)وثانیا اللازم من قولہ الغالب فی المقید تجدد الاسم اکثریۃ الاستلزام للتجدد من جھۃ التقیدای اکثرالمقیدات متجددات والنافع لہ عــہ اکثریۃ الاستلزام للاطلاق من جھۃ عدم التجددای اکثر مالم یتجددلہ اسم فھو مطلق لیلحق ھذا الذی لم یتجددلہ اسم بالاکثرالاغلب لکن لایلزم ھذامن ذلك بل یمکن ان یکون اکثر ماتقید تجدد
کہ امام شافعی نے اس کے مقید پانی ہونے پر اس طرح استدلال کیا ہے کہ اس کو زعفران کا پانی کہاجاتا ہے تو اس میں قید کی ضرورت ہوئی اور ہر وہ چیز جس میں قید کی ضرورت ہو مقید ہوتی ہے تو اس کا جواب شیخ قد س سرہ نے منع اور معارضہ کے ساتھ دیا ہے۔ منع تو اس اعتبار سے پس ان کا قول واضافتہ الی الزعفران الخ یعنی ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ہر اضافت احتیاج کیلئے ہے بلالکہ اضافت کبھی کسی شے کی تعریف کیلئے ہوتی ہے ذات کے علاوہ جیسے کنویں کا پانی چشمے کا پانی باقی رہا معارضہ تو ان کا قول ان اسم الماء باق الخ تو انہوں نے اطلاق پر مطلع پانی کے نام کے باقی ہونے سے استدلال کیا ہے اور اس کے باقی رہنے پر اس طرح استدلال کیا ہے کہ اس کا کوئی نیا نام نہیں پڑا ہے تو اس میں یہ قاعدہ کلیہ ملانے کی ضرورت ہے کہ مردہ پانی جس کا نیا نام نہ پڑا ہو تو مطلق کا نام اس پر باقی ہے تو معترض نے اس کلیہ پر نقض وارد کیا ہے باقلی وغیرہ کے پانی سے اور اکثریت والے جواب کا اس سے تعلق نہیں ہے کیونکہ اس میں “ تعدیہ “ نہیں پایا جاتا ہے اور ثانیا لازم ان کے قول “ مقید میں غالب نام کا تجدد ہے “ سے تجدد من جھۃ التقیید کے استلزام کی اکثریت ہے یعنی اکثر مقیدات متجدد ہیں حالانکہ ان کے حق میں نفع بخش اطلاق من جہۃ عدم التجدد کے
عــہ ای فی توجیہ کلام الامام المصنف قدس سرہ لجعل ماء الزعفران من المیاہ المطلقۃ ۱۲ منہ غفرلہ(م)
یعنی مصنف کے کلام کی توجیہ میں زعفران کے پانی کو مطلق پانیوں میں شمار کرنے کیلئے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
#12829 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
ولایکون اکثر مالم یتجدد لم یتقید فان القضیۃ الاکثریۃ لایجب ان تنعکس بعکس النقیض کنفسھالجوازان تکون افراد مالم یتجددلہ اسم اقل بکثیر من افراد المقید و یکون اکثرھاداخلا فی المقید فیکون اکثر افرادالمقید متجدداواکثر افراد اللامتجدد مقیدامثلا یکون المقید من المیاہ الفاقد تجددالاسم لثمانمائۃ منھادون مائتین ومالم یتجدد لہ الاسم من المیاہ سواء کان مطلقا او مقیداثلثمائۃ مائۃ منھامن الماء المطلق والباقی من المقید فیصدق ان اکثر المقید متجدد ولایصدق ان اکثر اللامتجدد لامقید بل اکثرہ مقید کماعلمت۔
فان قلت بل نقررھکذا لوکان ھذا مقید التجدد لہ اسم بالنظر الی الغالب لکن لم یتجدد لہ اسم فلیس بمقید ظناوالظن یکفی لانہ مشتبہ الحال فیحال علی الغالب والغالب فی المقید التجدد فانتفاء اللازم الاکثری یدل علی انتفاء الملزوم ظناکماان انتفاء اللازم الکلی یدل علی انتفاء الملزوم قطعا وحاصلہ
استلزام کی اکثریت ہے یعنی اکثر وہ کہ جن کا کوئی نیا نام نہیں پڑا ہے تو وہ مطلق ہے تاکہ یہ جس کا نام نیا نہیں ہے اس کو اکثر واغلب سے لاحق کیا جاسکے لیکن یہ اس سے لازم نہیں آتا ہے بلالکہ ممکن ہے کہ جو چیزیں مقید ہیں ان میں سے اکثر کا نیا نام ہوگیا ہو اور اکثر وہ چیزیں جن کا نیا نام نہ ہو متقید نہ ہوئی ہوں کیونکہ جو قضیہ اکثر یہ ہوتا ہے ضروری نہیں کہ اس کا عکس نقیض اس کے مساوی ہو اس لئے کہ یہ جائز ہے کہ جن کا نام نیا نہیں ہے ان کے افراد مقید کے افراد سے بہت ہی کم ہوں اور ان کے اکثر مقید میں داخل ہوں تو مقید کے اکثر افراد نئے نام والے ہوجائیں گے اور لامتجدد کے اکثر افراد مقید ہوجائیں گے مثلا وہ مقید پانی جس کے لئے ہزار نام ہو ان میں سے آٹھ سو افراد کا نام بدل گیا ہو دو سو کا نہ بدلا ہو اور جن پانیوں کا نام نہ بدلا ہو خواہ وہ مطلق ہوں یا مقید تین سو ہوں سو ان میں سے مطلق پانی کے اور باقی دو سو مقید پانی کے ہوں تو اب یہ قضیہ تو صادق ہے کہ اکثر مقید متجدد ہے اور یہ صادق نہیں کہ اکثر لامتجدد لامقید ہے بلالکہ اس کا اکثر مقید ہے جیسا کہ آپ نے جانا۔ (ت)
اگر کہا جائے کہ ہم اس کی تقریر اس طرح کرتے ہیں کہ اگر یہ مقید ہوتا تو اس کا کوئی نیا نام ہوتا غالبا ایسا ہی ہوتا ہے لیکن چونکہ اس کا نیا نام نہیں ہوا اس لئے وہ ظنی اعتبار سے مقید نہیں اور اس میں ظن کافی ہے کیونکہ اس کا حال مشتبہ ہے تو اس کا دارومدار غالب پر رکھا جائے گا اور غالب مقید میں تجدد ہے تو لازم اکثری کا انتفاء ملزوم کے انتفاء پر ظنی طور پر
#12830 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
التمسك بغلبۃ التجدد فی المقید من دون حاجۃ الی غلبۃ الاطلاق فی اللامتجدد۔
انما یظن ماھو اکثر والاکثریۃ فی استلزام وجود ا لوجودب لاتستلزم اکثریۃ استلزام انتفاء ب لانتفاءاففی مثلہ انما یظن بوجود اللازم عند تحقق الملزوم لابانتفاء الملزوم عند انتفاء اللازم۔
وثالثا : (۱)ماالفارق بین ماء الباقلاء وماء الزعفران حتی کان ھذامشتبھا فالحق بالغالب وذاك متعینافلم یلحق واما السؤال(عـہ)فلان ماء الباقلاء اسم جدید
دلالت کرتا ہے جیسا کہ لازم کلی کا انتفاء ملزوم کے انتفاء پر قطعا دلالت کرتا ہے اور اس کا حاصل مقید میں غلبہ تجدد سے استدلال ہے اور لامتجدد میں غلبہ اطلاق کی حاجت نہیں ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں جو اکثر ہو اسی کا ظن ہوتا ہے ا کے وجود کی اکثریت کا ب کے وجود کی اکثریت کو مستلزم ہونا ا کے انتفاء کی وجہ سے ب کے انتفاء کے استلزام کی اکثریت کو مستلزم نہیں ہے تو اس جیسی صورت میں ملزوم کے وجود کے تحقق کے وقت لازم کے وجود کا ظن ہوتا ہے نہ کہ انتفاء ملزوم بوقت انتفاء لازم کے۔ (ت)
ثالثا یا فرق ہے باقلی کے پانی اور زعفران کے پانی میں کہ اس کو مشتبہ قرار دیا جائے اور غالب سے لاحق کیا جائے اور وہ متعین ہے تو لاحق نہ کیا جائے گا باقی رہا سوال تو باقلاء کا پانی نیا نام ہے پانی کے نام

عــہ ثم رأیت اجاب عنہ فی البنایۃ بان المضاف ھھناخارج من المضاف الیہ بالعلاج فلایجوز وان لم یتجدد لہ اسم اھ
اقول : (۲)تسلیمہ عدم تجدد الاسم قدعرفت مافیہ و ماقالہ مبنی علی ماذکرہ فی تعریف اضافۃ التقیید(۳) و سیاتی مافیہ بعونہ تعالی وعلی کل فقد سلم ان التعریف بتجدد الاسم غیر جامع ثم قال وقال تاج الشریعۃ الدلیل یقتضی الجواز ولکن الطبخ والخلط یثبتان نقصانا فی کونہ
پھر میں نے دیکھا کہ انہوں نے بنایہ میں اس کا جواب دیا کہ یہاں مضاف مضاف الیہ سے خارج ہے علاج کی وجہ سے تو جائز نہیں اگرچہ اس کا نیا نام نہ ہو اھ
میں کہتا ہوں نام کے نیا نہ ہونے کا تسلیم کرنا اس پر جو اعتراض ہے وہ آپ نے جان لیا اور جو انہوں نے کہا ہے وہ اس چیز پر مبنی ہے جس کو انہوں نے اضافت تقیید کی تعریف میں ذکر کیا ہے اور یہ عنقریب آئے گا اور بہرحال یہ تعریف کہ نام نیا ہوجائے جامع نہیں اس کو انہوں نے تسلیم کیا ہے پھر کہا کہ تاج الشریعۃ نے فرمایا دلیل جواز کا تقاضا کرتی ہے(باقی برصفحہ ائندہ)
#12831 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
غیر اسم الماء وکون اسم الماء جزء منہ لاینافی الجدۃ الاتری انہ لایصلح ان یقال لہ ماء لکونہ ثخیناوالماء رقیق بخلاف ماء الزعفران فان المرادبہ مالم یثخن وھذابالوفاق بل مالم یصلح للصبغ وھذاعندالتحقیق کما تقدم فی ۱۲۰ھذا ماظھرلی ثم رأیت المحقق ابن امیر الحاج اشارالیہ فی الحلیۃ اذ قال ذات ماء الورد مثلا لاتعرف من مجرد قول القائل ماء حتی یضیفہ الی الورد ولھذا کانت الاضافۃ لازمۃ لکونھااضافۃ الی مالا بدمنہ وبواسطۃ ھذا اللزوم حدث لہ اسم آخرعلحدۃ فلا تسوغ تسمیتہ ماء علی الاطلاق الا علی سبیل المجاز اھ وا لله الموفق لارب سواہ۔ ثم اقول : ان تحقق عــہ ان(۱)من المیاہ
کا غیر ہے اور پانی کا اس کے نام کا جزئ ہونا جدت کے منافی نہیں اس لئے اس کو پانی نہیں کہا جاسکتا ہے کیونکہ وہ گاڑھا ہے اور پانی پتلا ہوتا ہے بخلاف زعفران کے پانی کے کیونکہ اس سے مراد وہ ہے جو گاڑھا نہ ہوا ہو اور یہ اتفاقا ہے بلالکہ جب تك رنگنے کے لائق نہ ہو اور یہ تحقیق کی بنا پر ہے جیسا کہ پانی کی تقسیم ۱۲۰ میں گزرا یہ مجھ پر ظاہر ہوا پھر میں نے محقق ابن امیر الحاج کو دیکھا کہ انہوں نے اس کی طرف حلیہ میں اشارہ فرمایا وہ فرماتے ہیں گلاب کے پانی کی ذات مثلا کسی قائل کے صرف اس قول سے معلوم نہیں ہوتی ہے کہ “ پانی “ جب تك کہ وہ اسے گلاب کی طرف مضاف نہ کرے اس لئے اضافت لازم ہوئی کیونکہ یہ ایسی چیز کی طرف اضافت ہے جس کی طرف اضافت ضروری ہے اور اس لزوم کے واسطہ سے اس کا الگ نام پڑگیا تو اس کو مطلقا پانی کہنا درست نہ ہوگا ہاں مجازا کہا جاسکتا ہے ا ھ و الله الموفق(ت)پھر میں کہتا ہوں اگر یہ ثابت ہوجائے کہ بعض مقید (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
مائعا اھ۔ اقول : ھذا یوافق ماذکر الحقیر حیث اشار الی ان المنع لاجل الثخن ۱۲ منہ غفرلہ(م)
عــہ قالہ لانہ یتصور علی قول محمد اما علی قول ابی یوسف الصحیح علی مایاتی
لیکن پکانا اور مل جانا پانی کے مائع ہونے میں خلل پیدا کرتے ہیں اھ میں کہتا ہوں یہ اس کے مطابق ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے کہ منع گاڑھے ہونے کی وجہ سے ہے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
یہ بات انہوں نے اس لئے کہی ہے کہ یہ محمد کے قول پر متصور ہے لیکن ابو یوسف کے قول پر جیسا کہ ہم (باقی برصفحہ ائندہ)
#12832 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
المقیدۃ مالا یتجددلہ اسم فی العرف لعدم تعلق الغرض بہ مثلا انمایزول عنہ اسم الماء المطلق کان ذلك نقضا علی المنع کما کان الحمیم نقضاعلی الجمع(۱)ویکون ھذا اظھر عــہ
وروداعلی الفتح اذقال فیہ فی بیان التقیید ھوبان یحدث لہ اسم علیحدۃ ولزوم التقیید یندرج فیہ وانما یکون ذلك اذا کان الماء مغلوبااذفی اطلاقہ علی المجموع حینئذ اعتبارالغالب عدماوھوعکس الثابت لغۃ وعرفا وشرعا اھ۔
اقول : (۲)انما الثابت بہ انہ کلما تجدد الاسم کان الماء مغلوبا اما فی جھت العکس فانما ثبت انہ کلما کان الماء مغلوبا لم یصح اطلاق الماء المطلق علیہ لا انہ یحدث لہ اسم برأسہ ولابد فحصر التقیید فی حدوث الاسم محل نظر وا لله تعالی اعلم۔
پانی ایسے ہیں جن کیلئے کوئی نیا نام عرف میں مقرر نہیں ہوا ہے کیونکہ اس سے کوئی غرض متعلق نہیں مثال کے طور پر اس سے مطلق پانی کا نام زائل ہوگا تو یہ نقض ہوگا منع پر جیسا کہ حمیم نقض ہوگا جمع پر اور یہ فتح پر ورود زیادہ ظاہر ہوگا کیونکہ انہوں نے بیان تقیید میں فرمایا تقیید یہ ہے کہ اس کا نیانام پڑ جائے اور لزوم تقیید اسی میں شامل ہے اور یہ اس وقت ہوگاجبکہ پانی مغلوب ہو کیونکہ اس کے مجموعہ پر اطلاق ہونے میں اس وقت غالب کا اعتبار ہوگا عدمی طور پر اور یہ لغت سے ثابت شدہ کا اور عرف وشرع سے ثابت شدہ کا برعکس ہے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں اس سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ جب بھی اس کا نیا نام ہوگا تو پانی مغلوب ہوگا اور اس کے عکس میں یہ چیز ثابت شدہ ہے کہ جب بھی پانی مغلوب ہوگا تو اس پر مطلق پانی کا اطلاق صحیح نہ ہوگا یہ نہیں کہ اس کے لئے کوئی نیا نام وضع کرلیا جائے گا اور یہ ضروری ہے تو تقیید کو نئے نام پڑ جانے میں منحصر کردینا محل نظر ہے و الله تعالی اعلم۔ (ت) (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
من العبد الضعیف تحقیقہ ان شاء ا لله تعالی بعد تمام سردالتعریفات فلا یتقید الا اذا صلح المقصود اخر فح یسمی باسم مایقصد بہ ذلك المقصود تأمل ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م) عــــہ فان حصر التقیید فی حدوث الاسم فی الفتح منطوق وعن الھدایۃ مفھوم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
تحقیق سے پیش کرینگے تو یہ مقید نہ ہوگا مگر جبکہ مقصود آخر کیلئے صالح ہو تو اس وقت اس کا نام وہی ہوگا جو اس کا مقصود ہے غور کرو ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
فتح میں تقیید کا نام کے نئے ہونے میں منحصر ہونا منطوق ہے اور ہدایہ سے مفہوم ہے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
#12834 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
ششم مطلق عــہ وہ ہے جسے دیکھنے والا دیکھ کر پانی کہے خزانۃ المفتین میں شرح طحاوی سے ہے :
المطلق مااذانظرالناظر الیہ سماہ ماء علی الاطلاق اھ اقول : (۱)رب ماء لایدرك البصر تقییدہ ولااطلاقہ کالمخلوط بمائع موافق فی اللون یتوقف الامر فیہ علی غلبۃ الطعم او الاجزاء(۲)وماالقی فیہ تمراوزبیب یتوقف علی صیرورتہ نبیذ اولا یضر مجرد اللون وما خلط بعصفراوزعفران یتوقف علی صلوحہ للصبغ وشیئ من ذلك لایدرك بالبصر فلایصح جمعاولا منعا۔
مطلق وہ ہے کہ جب دیکھنے والا اس کو دیکھے تو اس کو مطلق پانی کا نام دے اھ میں کہتا ہوں بہت سے پانی ایسے ہیں کہ نگاہ سے نہ تو ان کا مقید ہونا معلوم ہوتا ہے اور نہ مطلق ہونا جیسے وہ پانی جو کسی سیال میں مخلوط ہو اور دونوں ہم رنگ ہوں اس میں دارومدار مزے اور اجزاء کے غلبہ پر ہوگا اور جس میں کھجور اور منقی ڈالا جائے اس میں دارومدار اسی کے نبیذ ہونے پر ہوگا محض رنگ مضر نہیں اور جو عصفر اور زعفران میں ملایا جائے تو اس میں یہ دیکھا جائیگا کہ آیا اس سے کوئی دوسری چیز رنگی جاسکتی ہے یا نہیں اور ان میں سے کوئی چیز آنکھ سے معلوم نہیں ہوسکتی تو یہ جمع ومنع کے اعتبار سے صحیح نہیں۔ (ت)
ہفتم مطلق وہ ہے جسے بے کسی قید کے بڑھائے پانی کہہ سکیں فتح القدیر میں ہے :
الخلاف فی ماء خالطہ زعفران ونحوہ مبنی علی انہ تقیید بذلك اولا فقال الشافعی وغیرہ تقید لانہ یقال ماء الزعفران ونحن لاننکرانہ یقال ذلك ولکن لایمتنع مع ذلك مادام المخالط مغلوبا ان یقول القائل فیہ ھذا ماء من غیر زیادۃ اھ۔
جس پانی میں زعفران یا اسی کے مثل کوئی چیز مل جائے اس میں اختلاف اس امر پر مبنی ہے کہ وہ اس کے ساتھ مقید ہوا یا نہیں امام شافعی وغیرہ فرماتے ہیں مقید ہوگیا کیونکہ اس کو زعفران کا پانی کہا جاتا ہے اور ہم اس کے منکر نہیں کہ اس کو ماء زعفران کہا جاتا ہے لیکن جب تك مخلوط پانی ہونے والی چیز پانی سے مغلوب ہو یہی کہا جائیگا کہ یہ پانی ہے اس میں کچھ اضافہ نہیں اھ(ت)

عــــہ : ویشیر الیہ قول البنایۃ فی ماتغیربالطبخ لان الناظر لونطر الیہ لایسمیہ ماء مطلقا اھ ۱۲ منہ غفرلہ(م)
بنایہ کا قول اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے اس کے بارہ میں جو پکانے سے متغیر ہوجائے کیونکہ اگر دیکھنے والا اس کی طرف دیکھے تو اسے مطلق پانی نہیں کہے گا اھ ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References خزانۃ المفتین
فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوز بہ مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۳
#12835 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
اقول : لاشك ان الماء المقید قسم من الماء وحمل المقسم علی القسم لایمتنع ابدا واین عدم التقیید من التقیید بعدم التقیید والکلام فی ھذالا ذاك والجواب انہ ماء لغۃ لاعرفالصحۃ النفی تقول لیس ماء بل صبغ والکلام فی العرف۔
میں کہتا ہوں مقید پانی پانی ہی کی ایك قسم ہے اور مقسم کو قسم پر حمل کرنا ہرگز ممنوع نہیں اور عدم تقیید کو تقیید بعدم التقیید سے کیا نسبت اور گفتگو اس میں ہے نہ کہ اس میں۔ اور جواب یہ ہے کہ وہ لغہ پانی ہے نہ کہ عرفا کیونکہ نفی صحیح ہے آپ کہہ سکتے ہیں یہ پانی نہیں ہے بلالکہ رنگ ہے اور کلام کا دارومدار عرف پر ہوتا ہے۔ (ت)
ہشتم مطلق وہ ہے جس سے پانی کی نفی نہ ہوسکے یعنی نہ کہہ سکیں کہ یہ پانی نہیں۔
اقول : وھذا معنی سابقہ غیران صحۃ الاطلاق وامتناع النفی قدیتفارقان فیما کان ذاجہتین یصح فیہ الحمل من وجہ والسلب من وجہ اخر۔
میں کہتا ہوں یہ گزشتہ معنی ہیں البتہ صحت اطلاق اور امتناع نفی جب دو جہت والے ہوں تو کبھی ایك دوسرے سے جدا ہوتے ہیں من وجہ حمل اور من وجہ سلب صحیح ہوتا ہے۔ (ت)
تبیین الحقائق میں ہے :
اضافۃ الی الزعفران للتعریف بخلاف ماء البطیخ ولھذاینفی اسم الماء عنہ ولایجوزنفیہ عن الاول اھ۔ اقول : ان ارید نفی الماء المطلق داراومطلق الماء فلایجوز نفی المقسم عن القسم قط والماء الذی یخرج من البطیخ لیس من جنس الماء فالحق انہ لیس ماء مقیدابل خارج من مطلقہ کالادھان والجواب الجواب۔
پانی کی اضافت زعفران کی طرف تعریف کیلئے ہے بخلاف “ ماء البطیخ “ کے اس لئے اس سے پانی کے نام کی نفی کی جاتی ہے اور پہلے سے اس کی نفی جائز نہیں ہے اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں اگر ماء مطلق کی نفی کا ارادہ کیا جائے تو دور لازم آئے گا یا مطلق ماء کی نفی کی جائے تو مقسم کی نفی قسم سے قطعا جائز نہیں اور وہ پانی جو بطیخ سے نکلتا ہے جنس ماء سے نہیں ہے تو حق یہ ہے کہ وہ مقید پانی نہیں ہے بلالکہ مطلق ماء سے خارج ہے جیسے تیل والجواب الجواب۔ (ت)
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ مطبع الامیریہ ببولاق مصر ۱ / ۲۱
#12837 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
نہم : مطلق وہ جس سے پانی کا نام زائل نہ ہو
وھو معنی سابقہ واشیرالیہ فی کثیر من الکتب ففی التبیین زوال اسم الماء عنہ ھو المعتبر فی الباب اھ وفی الھدایۃ والکافی الا ان یغلب ذلك علی الماء فیصیر کالسویق لزوال اسم الماء عنہ اھ افی المنیۃ عن شرح القدوری للاقطع اذا اختلط الطاھر بالماء ولم یزل اسم الماء عنہ فھو طاھر وطھور اھ۔
اقول : ھذا حق فی نفسہ لکن لایصلح تعریفا اذلو ارید بالماء الماء المطلق دارو الافلا زوال عن المقید ایضا اصلا کما علمت مع جوابہ وفسرہ فی الغنیۃ مرۃ بالسادس اذقال تحت قول الماتن اذالم یزل عنہ اسم الماء مانصہ بحیث لوراہ الرائی یطلق علیہ اسم الماء اھ
اقول : (۱)وقد علمت فسادہ ومرۃ زاد فیہ الخامس اذقال تحت قول الاقطع ولم یتجددلہ اسم اخربان سمی شرابا
یہ اس کے سابقہ معنے ہیں اس کی طرف بہت سی کتب میں اشارہ کیا گیا ہے تبیین میں ہے اس سے پانی کے نام کا زائل ہونا ہی معتبر ہے اھ اور ہدایہ اور کافی میں ہے مگر یہ کہ وہ پانی پر غالب ہو تو ستو کی طرح ہوجائے کیونکہ اس سے پانی کا نام زائل ہوگیا اھ اور منیہ میں ابو نصرا قطع کی شرح قدوری سے ہے کہ جب پاك چیز پانی میں مل جائے اور اس سے پانی کا نام زائل نہ ہو تو وہ طاہر بھی ہے طہور بھی ہے اھ(ت)
میں کہتا ہوں یہ فی نفسہ حق ہے لیکن یہ تعریف نہیں بن سکتا ہے کیونکہ اگر پانی سے مطلق پانی کا ارادہ کیا جائے تو دور لازم آئے گا ورنہ مقید سے بھی زوال نہ ہوگا جیسا کہ آپ نے مع جواب کے جانا اور اس کی تفسیر غنیہ میں ایك جگہ “ چھٹے “ سے کی کیونکہ انہوں نے ماتن کے قول کہ جب اس سے پانی کا نام زائل نہ ہوا کے تحت فرمایا کہ اگر دیکھنے والا اس کو دیکھے تو اس پر پانی کا نام بولے اھ(ت)
میں کہتا ہوں اس کا فساد آپ کو معلوم ہوچکا ہے اور کبھی اس میں پانچویں کو زیادہ کیا کیونکہ انہوں نے اقطع کے قول کے تحت فرمایا اس کا کوئی نیا نام نہیں
حوالہ / References تبیین الحقائق کتاب الطہارت مطبعۃ الامیریہ مصر ۱ / ۱۹
ہدایۃ الماء الذی یجوزبہ الوضو الخ مطبعہ عربیہ کراچی ۱ / ۱۸
منیۃ المصلی فی المیاہ مطبعہ یوسفی لکھنؤ ص۶۴
غنیۃ المستملی فی المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۹۰
#12839 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
اونبیذا اونحو ذلك اھ اقول ان(۱)عطفہ تفسیرافموقوف علی ثبوت ان کل مازال عنہ اسم الماء وجب ان یوضع بازائہ اسم اخر اوان اراد الزیادۃ کان المعنی ان الاطلاق یتوقف علی اجتماع العدمین فان وجد احدھماکأن زال عنہ اسم الماء ولم یتجدد اسم اخر اوتجدد اسم اخر ولم یزل اسم الماء کان مقیدا وھذا الثانی باطل کما فی الحمیم۔
پڑا مثلا یہ کہ شربت یا نبیذ وغیرہ کہا جائے اھ میں کہتا ہوں اس کا عطف تفسیری ہے اور اس امر پر موقوف ہے کہ ہر وہ چیز جس سے پانی کا نام زائل ہوا ہو لازم ہے کہ اس کے بالمقابل کوئی اور نام وضع کیا جائے اور اگر زیادتی کا ارادہ کیا تو معنی یہ ہوں گے کہ اطلاق موقوف ہے دو عدموں کے اجتماع پر تو اگر ان میں سے کوئی ایك پا یا جائے مثلا یہ کہ اس سے پانی کا نام زائل ہوجائے اور اس کا کوئی نیا نام نہ پڑے یا نیا نام پڑ جائے مگر پانی کا نام زائل نہ ہو تو مقید ہوجائیگا اور یہ دوسری شق باطل ہے جیسا کہ گرم پانی میں۔ (ت)
دہم : مطلق وہ ہے کہ پانی کا نام لینے سے جس کی طرف ذہن سبقت کرے بشرطیکہ اس کا کوئی اور نام نہ پیدا ہوا ہو اور جس کی طرف لفظ آب سے ذہن سبقت نہ کرے یا اس کا کوئی نیا نام ہو وہ مقید ہے حلیہ میں ہے :
الماء المطلق فیہ عبارات من احسنھا مایتسارع افھام الناس الیہ عند اطلاق الماء مالم یحدث لہ اسم علی حدۃ والماء المقید مالاتتسارع الیہ افھام الناس من اطلاق لفظ الماء اوما حدث لہ اسم علیحدۃ اھ
اقول : اولا ھذا اصلح من سابقہ فی العکس فانہ لاینتقض منعاوان وجد مقید لم یحدث لہ اسم(۱)واقبل ایرادا منہ فی الطرد فانہ صرح بان تسارع الافھام
مطلق پانی کے متعلق کئی عبارتیں ہیں سب سے عمدہ یہ ہے کہ مطلق پانی وہ ہے کہ جب صرف پانی کہا جائے تو ذہن اس کی طرف منتقل ہوجائیں جب تك کہ اس کیلئے کوئی نیا نام نہ پڑے اور مقید پانی وہ ہے کہ جب صرف پانی کا لفظ بولا جائے تو ذہن اس کی طرف نہ جائے یا وہ کہ جس کا کوئی نیا نام ہو اھ(ت)
میں کہتا ہوں اولا مانعیت کے اعتبار سے یہ تعریف پہلی سے بہتر ہے کیونکہ اس پر ایسے مقید پانی کا اعتراض نہ ہوگا جس کو ابھی نیا نام نہیں دیاگیااور جامعیت کے اعتبار سے یہ پہلی سے زیادہ قابل اعتراض ہے اگر اس کا نیا نام پڑ جائے تو ذہنوں کا اس کی طرف سبقت رکھنا کچھ مفید نہ ہوگا اور ثانیا اس سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ شرط فضول اور بے محل ہے کیونکہ اس نام کا
حوالہ / References غنیۃ المستملی فی المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۹۰
حلیۃ
#12840 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
الیہ لایجدی عنہ حدوث اسم اخر وثانیا(۱)مع قطع النظر عنہ لاشك ان ھذا الشرط ضائع لامحل لہ اصلا فان حدوث الاسم الذی یکون فی المقید لاامکان لاجتماعہ مع تسارع الافھام الیہ عند الاطلاق۔
پیدا ہونا جو مقید میں ہے اس کا اس کے ساتھ مجتمع ہونے کا کوئی امکان نہیں حالانکہ اذہان اس کی طرف عندالاطلاق سبقت کرتے ہیں۔ (ت)
یازدھم مطلق وہ ہے جس کی طرف نام آب سے ذہن سبقت کرے اور اس میں نہ کوئی نجاست ہو اور نہ اور کوئی بات مانع جواز نماز یہ قیدیں بحر میں اضافہ کیں تاکہ آب نجس ومستعمل کو خارج کردیں۔
اقول : ولواکتفی بالاخر لکفی ونصہ المطلق مایسبق الی الافھام بمطلق قولنا ماء ولم یقم بہ خبث ولامعنی یمنع جواز الصلاۃ قال فخرج الماء المقید والمتنجس والمستعمل اھ
اقول : (۱)ھل المستعمل واخوہ داخلان فیما یسبق الیہ الذھن باطلاق الماء ام لاعلی الثانی ضاع القیدان وسقط تفریع خروجھماعلی زیادۃ القیدین وعلی الاول(۲)لاشك انھما من الماء المطلق اذلا نعنی بالمطلق الا ھذاوعلیہ اقتصر الائمۃ قبلہ بل(۳)ھو نفسہ فیمابعد ذلك بورقۃ اذقال لانعنی بالمطلق الا مایتبادر عند اطلاق اسم الماء اھ و ھذہ
میں کہتا ہو ں اگر وہ آخر پر اکتفا کرتے تو کافی ہوتا اور اس کی عبارت یہ ہے کہ مطلق وہ ہے جس کی طرف اذہان مطلق ماء کے بولنے سے منتقل ہوجاتے ہیں اور یہ وہ پانی ہے جس میں کوئی ناپاکی نہ ہو اور نہ ایسا کوئی وصف ہو جو جواز صلوۃ
کے منافی ہو تو اس قید سے مقید متنجس اور مستعمل پانی خارج ہوگیااھ(ت)
میں کہتا ہوں کیا مستعمل اور اس کا مثل پانی اس پانی میں داخل ہیں جن کی طرف لفظ ماء بولتے ہی ذہن فوری طور پر منتقل ہوجاتا ہے یا نہیں دوسری صورت میں دونوں قیدیں ضائع ہوجائیں گی اور دو قیدوں کی زیادتی پر ان دونوں کے خروج کی تفریع ساقط ہوجائے گی اور برتقدیر اول اس میں کوئی شك نہیں کہ یہ دونوں مطلق پانی سے ہیں کیونکہ مطلق سے یہی مراد ہے اور ان سے قبل ائمہ نے اسی پر اکتفا کیا
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۶
بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۸
#12842 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
اھ۔
مناقضۃ(۱)بل فی نفس الکلام ایضا شوب منھا اذ یقول فخرج المقید والمتنجس والمستعمل ولذا قال ش ظاھرہ ان المتنجس والمستعمل غیر مقید مع عـــــہ۱ انہ منہ لکن عند العالم بالنجاسۃ او الاستعمال ولذا قید بعض العلماء التبادر بقولہ بالنسبۃ للعالم بحالہ اھ
اقول : (۲)رحمك ا لله اذا کان ھذا عارضا خفیا لایظھر لمن لم یعلم بحالہ الا بالاخبار من خارج ظھران الماء فیھماباق علی صرافۃ مائیتہ لم یعرضہ مایخرجہ عنھاوالالظھر لمن نظر وسیرفان الانسان فی معرفۃ الماء من غیرہ لایحتاج الی تعلیم من خارج فکیف یکون مقیدا وبالجملۃ ھذا شیئ تفرد بہ البحر لم ارہ عــہ۲ لغیرہ وتبعہ عــہ۳ علیہ ش وکذا محشی الدرر عبدالحلیم
بلالکہ انہوں نے خود ہی ایك ورق بعد فرمایا ہماری مراد مطلق سے وہ پانی ہے کہ جب پانی کا لفظ بولا جائے تو اسی کی طرف ذہن متبادر ہو اور یہ مناقضہ ہے بلالکہ نفس کلام میں اس کی ملاوٹ ہے وہ فرماتے ہیں تو مقید متنجس اور مستعمل اس سے نکل گئے اور اس لئے “ ش “ نے فرمایا کہ اس کا ظاہر یہ ہے کہ متنجس اور مستعمل غیر مقید ہے حالانکہ یہ مقید سے ہے مگر اس کے نزدیك جس کو نجاست یا استعمال کا علم ہو اس لئے بعض علماء نے متبادر میں بالنسبۃ للعالم بحالہ کی قید بڑھائی ہے۔ (ت)
میں کہتا ہوں جب یہ چیز ایسی مخفی ہے کہ صرف واقف حال ہی جان سکتا ہے یا خارج سے اطلاع پر معمول ہوسکتی ہے تو یہ ظاہر ہوا کہ پانی ان دونوں میں اپنے اطلاق پر باقی ہے اس کو کوئی ایسی چیز عارض نہ ہوئی جو اس کو پانی ہونے سے خارج کردے ورنہ ہر صاحب نظر کو ظاہر ہوجاتا کیونکہ پانی کے بارے میں جاننے کیلئے انسان کو باہر سے جاننے کی ضرورت نہیں تو یہ کیسے مقید ہوگا خلاصہ یہ کہ یہ ایسی چیز ہے جس میں بحر متفرد ہیں میں نے اور کسی کے کلام میں اس کو

عــہ۱ ای المذکور اوکل منھما ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
عــہ۲ ثم رأیت السید الشریف العلامۃ رحمہ ا لله تعالی سبقہ الیہ فی التعریفات کما سیاتی ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)۔
عــہ۳ وکذا تلمیذہ شیخ الاسلام الغزی فی المنح واقرہ علیہ ط فصار واسبعۃ
یعنی مذکور یا ان دونوں میں سے ہر ایك ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
پھر میں نے دیکھا کہ سید شریف نے التعریفات میں بھی یہی لکھا ہے جیسا کہ آئے گا ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
اور اسی طرح ان کے شاگرد شیخ الاسلام غزی نے منح میں ذکر کیا اور اس کو ط نے برقرار رکھا تو یہ سات (باقی برصفحہ ایندہ)
حوالہ / References ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۴
#12843 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
والخادمی وذلك حین قول الدرر زوال اطلاقہ اما بکمال الامتزاج اوبغلبۃ الممتزج
نہیں دیکھا اور انکی متابعت ش نے کی اسی طرح درر کے محشی عبدالحلیم اور خادمی نے کی صاحب درر فرماتے ہیں اس کے اطلاق کا زوال

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
السید والبحر والغزی وعبدالحلیم والخادمی و ط و ش رحمۃ ا لله تعالی علیھم وعلینااجمعین قال علامۃ ط علی قولالدرھومایتبادرعندالاطلاق ای یبدر للذھن فھمہ بمجرد سماعہ مطلقا وھو بمعنی قول المنح ھو الباقی علی اوصاف خلقتہ ولم یخالطہ نجاسۃ ولم یغلب علیہ شیئ اھ ولفظ السید فی التعریفات ھو الماء الذی بقی علی اصل خلقتہ ولم تخالطہ نجاسۃ ولم یغلب علیہ شیئ طاھر اھ۔
اقول : وھواحسن ممافی المنح بوجھین احدھما(۱)انہ قیدالشیئ بالطاھرفلم یصرقولہ لم تخالطہ نجاسۃ مستدرکابخلاف عبارۃ المنح فان ماخالطہ نجاسۃ فقدغلبہ شیئ والاخر انہ(۲)اتی بالاصل مکان الاوصاف فلا یردعلیہ(۳)الجمد بخلاف المنح فان الماء بانجمادہ لایتغیر اللون ولا طعم ولا رائحۃ وھی المتبادرۃ من ذکرالاوصاف والمعتبر فی التعریف ھو المتبادروظاھرانہ لم یخالطہ نجس ولا
ہوگئے سید بحر غزی عبدالحلیم خادمی ط اور ش رحمہم اللہ تعالی علیہم وعلینا اجمعین علامہ 'ط' نے در کے قول پر فرمایا وہ عندالاطلاق متبادر ہوتا ہے یعنی ذہن کی طرف فہم سبقت کرتا ہے محض سننے سے مطلقا اور یہ منح کے قول “ وہی باقی ہے اپنے خلقی اوصاف پر اور اس میں کوئی نجاست نہیں ملی ہے اور اس پر کوئی شے غالب نہیں ہوئی ہے اھ کے مطابق ہے اور سید کے لفظ التعریفات میں یہ ہیں یہ وہی پانی ہے جو اپنی اصلی خلقت پر باقی ہے اور اس کو کوئی نجاست نہیں ملی ہے اور اس پر کوئی پاك شے غالب نہیں ہوئی ہے اھ
میں کہتا ہوں یہ منح کی عبارت سے دو طرح اچھاہے ایك تو یہ کہ انہوں نے شیئ کو طاہر سے مقید کیا تو ان کا قول “ نہیں ملی اس سے نجاست “ زائد نہ ہوگابخلاف عبارت منح کے کیونکہ جس میں نجاست ملی توبلاشبہ اس پر کوئی چیز غالب ہوگئی اور دوسرے یہ کہ وہ اصل کو لائے بجائے اوصاف کے تو ان پر جمد کے ذریعہ اعتراض وارد نہ ہوگا بخلاف منح کے کہ پانی منجمد ہونے کے باعث نہ تو رنگ کو بدلتا ہے اور نہ مزے اور بو کو اور اوصاف کے ذکر سے متبادر یہی ہے اور تعریف میں متبادر ہی معتبر ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ کوئی نجس (باقی اگلے صفحہ پر)
#12845 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
قالا علیہ اورد علی الحصر الماء المستعمل واجاب الاول بان کلام المصنف فی زوالہ باختلاط المحسوس اھ۔
اقول : کیف(۱)وقد ذکرالمستقطرمن النبات والثانی بان المقسم الماء الطاھروالمستعمل کالنجس فلاغبار اھ۔
اقول : (۲)قدعلمت ان کلام الائمۃ یؤذن بدخول المتنجس فی المطلق فضلا عن المستعمل وکذلك کلام اھل الضابطۃ قبل البحرحیث لم یزیلو الاطلاق الا بالامرین ثم رأیت فی کلام ملك العلماء مایدل علیہ صریحا اذقال قدس سرہ اما شرائط ارکان الوضوء فمنھا ان یکون الوضوء بالماء ومنھا انیکون بالماء المطلق ومنھا ان یکون الماء
یا تو کمال امتزاج سے ہوگا یا ممتزج کے غلبہ سے ہوگا اس پر ان دونوں نے اعتراض کیا ہے کہ حصر اعتراض مستعمل پانی سے کیا گیا ہے اور پہلے نے جواب دیا کہ مصنف کا کلام اس کے زوال میں ہے کسی محسوس چیز کے اختلاط کی وجہ سے اھ(ت)
میں کہتا ہوں یہ کیسے حالانکہ انہوں نے گھاس سے ٹپکائے جانے والے کا ذکر کیا ہے اور دوسرے کا جواب یہ ہے کہ مقسم پاك پانی ہے اور مستعمل نجس کی طرح ہے تو اس پر کوئی غبار نہیں اھ(ت)
میں کہتا ہوں کہ ائمہ کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناپاك مطلق میں داخل ہے چہ جائیکہ مستعمل اور اسی طرح اہل ضابطہ کا کلام بحر سے پہلے کیونکہ ان کے نزدیك اطلاق زوال صرف دو امروں سے ہے پھر میں نے ملك العلماء کے کلام میں اس کی صراحت پائی وہ فرماتے ہیں بہرحال ارکان شرائط وضو ان میں سے ایك تو یہ ہے کہ وضو پانی سے ہو اور یہ کہ ماء مطلق سے ہو اور پانی پاك ہو تو نجس پانی سے جائز نہیں ایك یہ

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
غلبہ شیئ الا ان یعمم الاوصاف الرقۃ والسیلان ولوان السیداسقط قولہ لم تخالطہ نجاسۃ لم یخالطہ نکارۃ وکان من احسن التعریفات الا مافی معنی الغلبۃ من الخفاء کما لایخفی ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اس سے ملا نہیں اور کوئی شیئ اس پر غالب نہ ہوئی ہاں اگر اوصاف کو عام کر لیا جائے اور رقۃ وسیلان کو اس میں شامل کرلیا جائے اور اگر سید اپنا قول لم تخالطہ نجاسۃ ساقط کردیتے توان پر کوئی اعتراض نہ ہوتا اور یہ بہترین تعریف ہوتی ہاں صرف غلبہ کے معنی میں کچھ پوشیدگی ہے کما لایخفی ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References حاشیۃ الدرر علی الغرر لعبد الحلیم بحث الماء مکتبہ عثمانیہ بیروت ۱ / ۱۸
الحاشیۃ علی الدرر شرح الغرر لابی سعید الخادمی بحث الما مکتبہ عثمانیہ بیروت ص۲۱
#12846 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
طاھرافلایجوز بالماء النجس ومنھا ان یکون طھورا فلایجوز بالماء المستعمل اھ ملتقطا فھو صریح فی ان اشتراط اطلاق الماء لم یخرجھما حتی احتیج الی شرطین اخرین وکذلك کلام المنیۃ اذیقول تجوزالطھارۃ بماء مطلق طاھر اھ فافادعموم المطلق للطاھر وغیرہ واستدرك علیہ فی الحلیۃ بقولہ کان الاولی ان یقول طھورمکان طاھرلان الطھارۃ لاتجوز بماء طاھر فقط اھ فافاد عمومہ المستعمل وقد صرح بہ فی الغنیۃ فقال یسمی المتنجس ماء مطلقا فاحتاج الی الاحترازعنہ بقولہ طاھرولوکانت المجاورۃ تکسبہ تقییدالماء احتیج بعد ذکر الاطلاق الی ذکر الطاھرا اھ والیہ اشار فی البنایۃ اذقال التوضی بہ جائز مادامت صفۃ الاطلاق باقیۃ ولم تخالطہ نجاسۃ اھ
اقول : ولعل الحامل للبحرعلیہ کہ طہور ہو تو مستعمل پانی سے جائز نہیں اھ ملتقطا تو یہ اس میں صراحت ہے کہ مطلق پانی کی شرط نے ان دونوں کو خارج نہیں کیا تاکہ دو دوسری شرطوں کی حاجت پڑے اوریہی گفتگو منیہ میں ہے وہ فرماتے ہیں ماء مطلق طاہر کے ساتھ طہارت جائز ہے اھ تو عموم مطلق نے طاہر اور غیر طاہر کا افادہ کیا اور حلیہ میں اس پر یہ استدراك کیا ہے فرمایا بہتر یہ تھا کہ طہور کہتے بجائے طاہر کے کیونکہ طہارت صرف طاہر پانی سے نہیں ہوتی ہے اھ تو انہوں نے اس کے مستعمل کو عام ہونے کا افادہ کیا اور غنیہ میں اس کی تصریح کی فرمایا ناپاك پانی کو مطلق پانی کہا جاتا ہے پھر ان کو اس سے احتراز کی حاجت ہوئی تو فرمایا طاہر ہو اور اگر مجاورۃ سے اس میں تقیید ہوجاتی تو اطلاق کے بعد طاہر کے ذکر کی ضرورت نہ ہوتی اھ اور بنایہ میں اسی طرف اشارہ کیا فرمایا اس سے وضو جائز ہے جب تك اس میں صفت اطلاق باقی ہو اور اس میں نجاست نہ ملی ہو اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں غالبا بحر کو یہ کہنے کی ضرورت اس لئے
حوالہ / References بدائع الصنائع ارکان الوضوء سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵
منیۃ المصلی فصل فی المیاہ مطبع یوسفی لکھنؤ ص۶۱
حلیہ
غنیۃ المستملی فصل فی بیان احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۸
بنایہ شرح ہدایۃ الماء الذی یجوزبہ الوضوء الخ ملک سنز فیصل آباد ۱ / ۱۸۷
#12848 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
قول بعضھم تجوزالطھ ارۃ بالماء المطلق ارسلہ ارسالا فلوشملھمااوھم جوازالطھارۃ بھماولیس بشیئ فان امثال القیود تطوی عادۃ للعلم بھا فی محلہ الاتری ان الاکثرین لم یقیدوابالاطلاق ایضاانماقالوا تجوز بماء السماء والاودیۃ الخ
پڑی کہ بعض فقہأ نے فرمایا مطلق پانی سے طہارۃ جائز ہے اس کو انہوں نے مطلق رکھا تو اگر یہ ان دونوں کو شامل ہوتاتو ان دونوں سے طہارت کے جواز کا وہم ہوتا اور یہ کچھ نہیں کیونکہ قیود کی مثالیں عام طورپر ذکر نہیں کی جاتی ہیں کہ ان کا علم ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر فقہاء نے اس کواطلاق کی قید سے بھی مقید نہیں کیا ہے پس فرمایا ہے طہارت جائز ہے آسمان کے پانی سے وادیوں کے پانی سے الخ۔ (ت)
دوازدھم : حلیہ وبحر کی قیدوں سے آزاد مطلق صرف وہ ہے کہ پانی کا نام لینے سے جس کی طرف ذہن جاتا ہے ملك العلماء بدائع میں فرماتے ہیں :
الماء المطلق ھو الذی تتسارع افہام الناس الیہ عند اطلاق اسم الماء کماء الانھار والعیون و الابار والسماء والغدران والحیاض والبحار۔
مطلق پانی وہ ہے کہ جب پانی کا نام لیا جائے تو ذہن اس کی طرف منتقل ہوجائیں جیسے نہروں چشموں کنوؤں بادلوں تالابوں حوضوں اور دریاؤں کا پانی۔ (ت)
پھر فرمایا :
واما المقید فھو مالا تتسارع الیہ الافہام عند اطلاق اسم الماء وھو الماء الذی یستخرج من الاشیاء بالعلاج کماء الاشجار والثمار وماء الورد ونحو ذلك اھ۔
اقول : والحصرالمستفادمن قولہ ھو الماء الذی یستخرج غیر مراد قطعاوانماالمعنی کالماء الذی فلیتنبہ۔
بہرحال مقید پانی وہ ہے کہ جب پانی کا نام لیا جائے تو ذہن اس کی طرف سبقت نہ کرے اور یہ وہ پانی ہے جو کسی عمل کے ذریعہ چیزوں سے نکالا جائے جیسے درختوں پھلوں اور گلاب وغیرہ کا پانی اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں وہ حصر جو ان کے کلام “ یہ وہ پانی ہے جو نکالا جائے “ میں ہے مراد نہیں ہے قطعا اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ مثل اس پانی کے تو متنبہ رہناچاہئے۔ (ت)
درمختار میں ہے : (یرفع الحدث بماء مطلق)ھومایتبادرعند الاطلاق (حدث کو رفع
حوالہ / References بدائع الصنائع مطلب الماء المقید سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵
درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴
#12850 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
کیا جائے مطلق پانی سے یہ وہ ہے جو اطلاق کے وقت متبادر ہو۔ ت)بحر سے گزرا : لانعنی بالمطلق الا مایتبادر عنداطلاق اسم الماء (ہم مطلق سے وہی مراد لیتے ہیں جو ماء کااطلاق کرتے وقت متبادر ہوتا ہے۔ ت)کافی وبنایہ ومجمع الانہر میں ہے : المرادبہ ھھنامایسبق الی الافھام بمطلق قولناالماء (اس سے مراد یہاں وہ ہے جو ہمارے قول پانی کے اطلاق سے فوری سمجھا جائے۔ ت)عنایہ وبنایہ میں ہے :
لایجوز بما اعتصر لانہ لیس بماء مطلق لانہ عند اطلاق الماء لاینطلق علیہ وتحقیق ذلك انالوفرضنا فی بیت انسان ماء بئراوبحراوعین وماء اعتصر من شجر اوثمر فقیل لہ ھات ماء لایسبق الی ذھن المخاطب الا الاول ولا نعنی بالمطلق والمقید الاھذا ۔
جو پانی نچوڑا جائے اس سے وضو جائز نہیں کیونکہ وہ مطلق پانی نہیں کیونکہ جب ماء کا اطلاق کیا جاتا ہے تو اس کا اس پر اطلاق نہیں ہوتا ہے اور اس کی تحقیق یہ ہے کہ اگر ہم فرض کریں کہ کسی شخص کے گھر میں پانی کا کنواں ہے یا دریا چشمہ ہے اور وہ پانی بھی ہے جو درخت یا پھل سے نچوڑا گیا ہے پھر ہم اس سے پانی مانگیں تو مخاطب کا ذہن پہلے پانی ہی کی طرف منتقل ہوگا اور مطلق ومقید سے یہی مراد ہے۔ (ت)
اقول : یہی اصح واحسن تعریفات ہے کماقال فی الحلیۃ لولا مازاد(جیسا کہ حلیہ میں کہا ہے اگروہ نہ ہوتا تو زیادتی نہ ہوتی۔ ت)مگر محتاج توضیح وتنقیح ہے
واقول : (۱)وبا لله التوفیق العوارض لاھی تفھم عندالاطلاق٭ولاھی مطلقا تسلب الاطلاق٭فان الذات ھی المفھومۃ من الاطلاق کمااذاقلت انسان لایتسارع الفھم منہ الی الرومی والزنجی اوالعالم والجاھل اوالطویل والقصیر اوالحسین
اقول : وب اللہ التوفیق عوارض نہ تو عندالاطلاق مفہوم ہوتے ہیں اور نہ مطلقا سلب ہوتے ہیں کیونکہ عندالاطلاق ذات ہی مفہوم ہوتی ہے جیسے آپ انسان کا لفظ بولتے ہیں تو ذہن رومی حبشی عالم جاہل لمبے چھوٹے حسین بدشکل وغیرہ کی طرف منتقل نہیں ہوتا ہے مگر اس سے یہ بھی
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۸
مجمع الانہر تجوز الطہارۃ بالماء المطلق مکتبہ عامرہ مصر ۱ / ۲۷
العنایۃ مع الفتح الماء الذی یجوزبہ الوضو الخ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۱
#12852 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
والدمیم وامثال ذلك من العوارض ولا یلزم منہ خروج ھؤلاء عن الانسان المطلق فان ذاتھم لیست الامافھم من لفظ الانسان ولم یعرضھم مایقعدھم عن الدخول فیماتتسارع الیہ الافھام بسماع لفظ الانسان ولوان العوارض مطلقا تمنع الدخول لعدم انفھامھامن المطلق لما دخل تحتہ شیئ من افرادہ لان لکل فرد تشخصالایسبق الیہ الذھن عند ذکر اسم المطلق فکان ھذا یقتضی التسویۃ بین مطلق الماء والماء المطلق لکن ثمہ عوارض تمنع ذویھاعن الدخول تحت الشیئ المطلق ویقال فیھاان اسم المطلق لم یتناولھالکونھا ممالا تتسارع الیہ الافھام کمقطوع الیدین والرجلین فی الرقبۃ فان المفھوم الذات الکاملۃ ونبیذ التمر وماء العصفر الصالح الصبغ فان اسم الماء المطلق لایطلق علیھماولایسبق الافھام عند اطلاقہ الیھمامع ان اصحاب تلك العوارض ایضا لیست ذاتھاالامافھم من الاطلاق وعدم انفہام العوارض مشترك فی کل عارض فلابد من الفرق ولم ارمن حام حول ھذا۔
فاقول : علی مابی من قلۃ البضاعۃ٭ لازم نہیں آتا کہ یہ لوگ مطلق انسان کے زمرے سے خارج ہیں کیونکہ ان کی ذات وہی ہے جو لفظ انسان سے مفہوم ہے اور ان کو کوئی ایسا مانع درپیش نہیں کہ یہ لوگ اس مفہوم میں داخل نہ ہوں جو لفظ انسان سنتے ہیں ذہن میں آجاتا ہے اور اگر عوارض مطلقا دخول سے مانع ہوتے کیونکہ یہ مطلق سے سمجھے نہیں جاتے ہیں تو مطلق کے تحت اس کے افراد میں سے کوئی شیئ داخل نہ ہوتی کیونکہ ہر ایك فرد کیلئے تشخص ہے جس کی طرف مطلق نام کے ذکر کرنے سے ذہن منتقل نہیں ہوتا ہے تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ مطلق ماء اور ماء مطلق کے درمیان مساواۃ ہے لیکن وہاں ایسے عوارض موجود ہیں جو ان کے ذدات کو مطلق شی کے تحت داخل ہونے سے مانع ہیں اور ان میں کہا جاتا ہے کہ مطلق اسم ان کو شامل نہیں ہے کیونکہ ذہن ان کی طرف تیزی سے منتقل نہیں ہوتا ہے جیسے کہ رقبۃ میں مقطوع الیدین والرجلین کیونکہ مفہوم ذات کاملہ ہے اور نبیذ تمر اور عصفر کا پانی جو رنگائی کے لائق ہو کیونکہ ماء مطلق ان دونوں پر نہیں بولا جاتا ہے اور اطلاق کے وقت ذہن ان دونوں کی طرف منتقل نہیں ہوتا ہے باوجود اس کے کہ ان عوارض والے ان کی ذات نہیں ہیں مگر وہ جو اطلاق کے وقت مفہوم ہو اور عوارض کا مفہوم نہ ہونا ہر عارض میں مشترك ہے تو فرق ہونا ضروری ہے مگر میں نے نہیں دیکھا کہ کسی نے یہ فرق بتایا ہو۔ (ت)
پھر میں علمی بے بضاعتی کے باوجود کہتا ہوں
#12853 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
وقصورالصناعۃ٭مستعینا بربی ثم بصاحب الشفاعۃ٭ صلی ا لله تعالی علیہ والہ وسلم توضع الاسماء بازاء الحقائق وتمایزالحقائق بتفاوت المقاصدولذاکان بعض الاوصاف تجری مجری الاجزاء کالاطراف فی الحیوان والاغصان فی الاشجار لان بفواتھافوات منافع الذات والشیئ اذا خلاعن مقصودہ بطل فیتطرق بہ التغیر الی الذوات المدلول علیھاعرفابالاسماء ومعلوم ان المرکب من الشیئ وغیرہ غیرہ غیران العرف بل والشرع واللغۃ جمیعا تلاحظ الغلبۃ فاذا کان الممازج اکثر قدرامن الشیئ کان المرکب احق باسم الممازج من اسم الشیئ وان تساویا تساقطا فلم یکن المرکب مفھومامن اطلاق اسم شیئ منھمالان وضع الاسمین بازاء کل بحیالہ لابازاء الکل مجموعانعم ان کان اقل لم یعتبرالا ان تحدث بامتزاجہ حقیقۃ عرفیۃ مرکبۃ ممتازۃ مقصودۃ لمقاصدمنحازۃ فیصیرالمرکب ذاتااخری عرفا لاختلاف المقاصد فلایبقی داخلا تحت المفھوم عرفا من الاطلاق فثبت ان عــہ المتفاھم
اسماء کی وضع حقائق کے مقابلالہ میں ہوتی ہے اور حقائق میں امتیاز مقاصد کے اعتبار سے ہوتاہے اور اس لئے بعض اوصاف اجزاء کے قائم مقام ہوتے ہیں جیسے حیوانات کے اعضاء اور درختوں کی ٹہنیاں کیونکہ ان چیزوں کے خاتمہ سے ذات کی منفعتیں بھی ختم ہوجاتی ہیں اور جب کسی چیز کا مقصود ہی فوت ہوجائے تو وہ چیز باطل ہوجاتی ہے اور اس طرح ذات بھی متغیر ہوجاتی ہے جس پر اسماء کے ذریعہ عرفا دلالت کی جاتی ہے اور یہ معلوم ہے کہ جو چیز کسی چیز اور اس کے غیر سے مرکب ہوتی ہے وہ اس کا غیر ہوتی ہے لیکن عرف شریعت اور لغۃ سب ہی میں غلبہ کا اعتبار ہوتا ہے تو جب ملنے والی چیز اصلی شے سے مقدار میں زیادہ ہو تو مرکب پر وہ نام پڑنا چاہئے جو اس ملنے والی اکثر شے کا ہے نہ کہ اصل شے کا اور اگر دونوں میں برابری ہو تو تساقط ہوگا تو ان میں سے جب کسی شے کا اطلاق ہوگا تو مرکب مفہوم نہ ہوگا کیونکہ نام تو ہر ایك کے مقابل مستقلا ہے مجموعہ کے مقابل نہیں ہاں اگر وہ کم ہو تو معتبر نہ ہوگا ہاں اگر اس کے ملنے سے ایك نئی حقیقت عرفیہ وجود میں آجائے جو مرکب اور ممتاز ہو اور خاص مقاصد کیلئے ہو تو مرکب عرفا ایك نئی ذات ہوگا اس لئے کہ مقاصد مختلف ہوگئے تو وہ اطلاق سے عرفا مفہوم کے تحت داخل نہ ہوگا پس ثابت ہوا کہ لفظ کے اطلاق

عــہ اقول وبھذا(۱)و لله الحمد ظھر
میں کہتا ہوں اس سے فقہأ کے اس قول کے معنی (باقی برصفحہ ائندہ)
#12854 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
من اطلاق اللفظ ھی الذات الموضوع لھامن دون نقص ولازیادۃ یغیرانھافکل عارض لایعتری بھاالمعروض تغیر فی ذاتہ وان کان ھناك نقص اوزیادۃ فی امرخارج فھو لایمنع المعروض من الدخول تحت الشیئ المطلق والامنع وبہ علم ان بطلان
سے وہی ذات مراد ہوتی ہے جس کے لئے لفظ وضع کیا گیا ہو اس میں نہ تو کوئی کمی نہ زیادتی جس کی وجہ سے ذات میں کوئی تغیر آتا ہو تو ہر وہ عارض جس کی وجہ سے ذات میں کوئی تغیر نہ ہو خواہ کسی خارجی امر میں کمی بیشی ہو تو یہ چیز معروض کے مطلق شیئ کے تحت آنے میں منحل نہ ہوگی ورنہ مانع ہوگی۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوا

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
معنی قولھم المطلق ینصرف الی الفرد الکامل وقولھم المطلق ینصرف الی الادنی وتبین انہ لاخلاف بینھما فالمطلق ینصرف فی الطلب الی ادنی مایطلق علیہ سواء کان مطلوب الفعل اذیکفی لبراء ۃ الذمۃ اوالترك اذ الممنوع جنسہ فلایجوز شیئ منہ لکن ینصرف الی فرد کامل فی الذات لم یعرضہ مایجعلہ ناقصافی ذاتہ بالمعنی المذکور لعدم انفھامہ ح من المطلق فالمنصرف الیہ ادنی ماکمل فیہ الذات ھذا ھو التحقیق الانیق اماما قال الشامی ان انصراف المطلق الی الفرد الکامل یذکر فی مقام الاعتذار فمحلہ اذاحمل المطلق علی کامل فی وصف اخر وراء الکمال فی الذات اتقنہ فانہ علم نفیس وبا لله التوفیق ۱۲ منہ غفرلہ حفظہ ربہ تعالی۔ (م)
واضح ہوگئے کہ مطلق سے مراد فرد کامل ہوتا ہے نیز یہ کہ مطلق کو ادنی کی طرف پھیرا جاتا ہے اور یہ کہ دونوں باتوں میں کوئی اختلاف نہیں کیونکہ طلب میں مطلق سے ادنی مراد ہوتا ہے عام ازیں کہ مطلوب فعل ہو کہ وہ برأت ذمہ کیلئے کافی ہوتا ہے یا ترك ہوکر ممنوع اس کی جنس ہوتی ہے تو اس میں سے کچھ بھی جائز نہیں ہوتا ہے لیکن فرد کامل فی الذات مراد ہوتا ہے اس میں کوئی چیز ایسی نہ ہونی چاہئے جو اس کی ذات میں مذکور معنی کے اعتبار سے موجب نقص ہو کیونکہ اس صورت میں وہ مطلق سے مفہوم نہ ہوگا تو جس کی طرف پھیرا جاتا ہے وہ ادنی ہے اس چیز کا جس میں ذات مکمل ہوئی ہو یہ تحقیق انیق ہے اور شامی نے جو کہا ہے کہ مطلق کا فرد کامل کی طرف پھرنا مقام اعتذار میں ذکر کیا جائیگا تو اس کا محل یہ ہے کہ مطلق جب کسی ایسے امر پر محمول ہو جو کسی دوسرے وصف میں کامل ہو ذات کے علاوہ۔ اس کو خوب اچھی طرح سمجھ لیں کہ یہ نفیس علم ہے ۱۲ منہ غفرلہ حفظہ رب تعالی۔ (ت)
#12855 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
الحقیقۃ فی المرکب مع المساوی والغالب لغۃ وعرفاوشرعامطلقا ومع القلیل المذکورعرفامع بقاء الحقیقۃ اللغویۃ ولذا کان المقید قسما من مطلق الماء وفی جھۃ النقص قدتبطل مطلقا اذاکان ذلك الوصف جاریامجری الرکن فی الوضع اللغوی ایضاکالسیلان للماء وقد تبقی لغۃ وتبطل عرفااعنی عن المتفاھم العرفی عند اطلاق الاسم وذلك اذا تبدلت المقاصد العرفیۃ کالرقبۃ علی الاقطع فانھا حقیقۃ فیہ لغۃ ولایفھم منھاعرفااذاعلمت ھذا فالنقص فی الماء بزوال سیلانہ اورقتہ فالثخین لایسمی ماء فضلا عن الجمد والزیادۃ باختلاطہ باکثر منہ قدرااومساواوبمایصیر بہ مرکباممتازا منحازابالغرض کالمنقوع فیہالتمراذاصارنبیذا
والمطبوخ فیہ اللحم اذاصارمرقا والمحلول فیہ الزعفران اذاصار صبغاوالمخلوط فیہ اللبن اذاصارضیاحافعن ھذا تتشعب(۱)الفروع جمیعاعلی مذھب قاضی الشرق والغرب الصحیح المصحح کما تقدم عن الھدایۃ والخانیۃ ولاشك ان فی ھذہ الوجوہ الاربعۃ تبدل الذات حقیقۃ اوعرفاومحمد زادخامساوھومااشبہ المائع الممازج لہ بحیث یکاد یحسبہ الذی
کہ حقیقت کا مرکب میں باطل ہونا مساوی اور غالب کے ساتھ ہے لغۃ عرفا اور شرعا مطلقا اور قلیل مذکور کے ساتھ عرفا مع حقیقت لغویہ کے باقی رہنے کے اس لئے مقید مطلق ماء کی قسم ہوتا ہے اور نقص کی جہت میں کبھی حقیقۃ مطلقا باطل ہوجاتی ہے جبکہ وصف وضع لغوی اعتبار سے بھی رکن کے قائم مقام ہو جیسے پانی کیلئے سیلان اور کبھی حقیقۃ لغۃ تو باقی رہتی ہے اور عرفا باطل ہوجاتی ہے یعنی نام کو بولے جانے کے وقت عرف کے فہم میں نہیں آتی اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جب مقاصد عرفیہ بدل جائیں جیسے “ رقبۃ “ اقطع پر کیونکہ یہ اس میں حقیقۃ ہے لغۃ لیکن عرفا اس سے نہیں سمجھا جاتا ہے۔ جب آپ نے یہ جان لیا تو پانی میں نقص کی صورت یہ ہوگی کہ اس کا سیلان یا اس کی رقت ختم ہوجائے تو گاڑھے کو پانی نہیں کہیں گے چہ جائیکہ جمد کو اور اس میں زیادتی کی صورت یہ ہوگی کہ وہ کسی ایسی چیز میں مخلوط ہوجائے جو مقدار میں اس سے زیادہ یا اس کے برابر ہو یا اس چیز سے جس سے مرکب ہو کر وہ ممتاز ہوجائے اور مقصد کے اعتبار سے بالکل مختلف ہوجائے جیسے وہ پانی جس میں کھجوریں بھگوئی جائیں تو وہ نبیذ بن جائے اور جس میں گوشت پکایا جائے اور وہ شوربہ ہوجائے اور جس میں زعفران ملایا جائے اور وہ رنگ بن جائے اور جس کو دودھ میں ملایاجائے یہاں تك کہ وہ لسی ہوجائے اسی اصل پر قاضی شرق وغرب کے مذہب پر تمام فروع متفرع ہوتی ہیں جیسا کہ ہدایہ اور خانیہ سے گزرا اور اس میں شک
#12856 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
لایعلم حالہ ذلك المائع ویظن انہ لیس بماء فمثل ھذالایدخل عندہ فی المتفاھم من مطلق الماء فمناط المنع عند ابی یوسف صیر ورتہ غیر الماء ولوظناوبالجملۃ یرتاب فی کونہ ماء وعلیہ بناء ضابطۃ الامامین الاسبیجابی وملك العلماء رحمھما ا لله تعالی وھی التی قابلناھا بالضابطۃ الزیلعیۃ وبینا فی القسمین الاولین مااتفقتا فیہ علی الجواز اوالمنع وفی الثالث مااختلفتا فیہ وسیاتی بیان کل ذلك ان شاء ا لله الکریم الوھاب۔
فان قلت : علی ماقررت یلزم خروج الماء المتنجس والمستعمل من الماء المطلق فان من اعظم مقاصد الماء حصول التطھیر بہ قال ا لله تعالی وینزل علیکم من السماء ماء لیطھر کم بہ وقد سقط ھذا منھما فیزاد فی جانب النقص علی زوال السیلان والرقۃ زوال صفۃ الطھوریۃ اقول : (۱)الحقائق الشرعیۃ للمقاصد الشرعیۃ فبفوا تھا تفوت کالصوم والصلاۃ اما الماء
نہیں کہ ان چاروں صورتوں میں ذات حقیقۃ یاعرفا تبدیل ہوجاتی ہے اور امام محمد نے ایك پانچویں صورت کا اضافہ فرمایا ہے اور وہ وہ پانی ہے جو اس سیال شے سے مشابہ ہو جو اس میں ملائی گئی ہے اور وہ ایسا ہوجائے کہ ناواقف حال اس کو وہی شیئ سمجھے پانی نہ سمجھے اس قسم کی چیز ان کے نزدیك مطلق ماء کے مفہوم میں داخل نہیں تو ابو یوسف کے نزدیك منع کا دارومدار اس پر ہے کہ وہ پانی کا غیر ہوجائے خواہ عرفا ہی۔ اور امام محمد کے نزدیك اس پر ہے کہ اس کو استعمال کرنے والا پانی کے علاوہ کوئی اور مائع سمجھنے لگے خواہ صرف گمان ہی ہو۔ خلاصہ یہ کہ وہ اس کے پانی ہونے میں شك کرے اور اسی پر ضابطہ مبنی ہے یہ ضابطہ امام اسبیجابی اور ملك العلماء نے بیان کیا ہے یہی وہی ضابطہ ہے جس کا مقابلہ ہم نے ضابطہ زیلعیہ سے کیا ہے اور پہلی دو قسموں میں بیان کیا ہے کہ ان کا اتفاق جواز اور منع میں ہے اور تیسرے میں وہ جس میں ان کا اختلاف ہے اس کا بیان ان شاء اللہ تعالی آئے گا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس بنا پر ناپاك اور مستعمل پانی کا ماء مطلق سے خارج ہونا لازم آتا ہے کیونکہ پانی کا سب سے بڑا مقصد پاکی کا حصول ہے فرمان الہی ہے “ وہ تم پر آسمان سے پانی نازل فرماتا ہے تاکہ اس سے تم کو پاك کرے “ اور یہ وصف ان دونوں پانیوں سے ختم ہوگیا تو جانب نقص میں زوال سیلان ورقت پر صفت طہوریۃ کے زوال کا اضافہ کیا جائیگا۔ میں کہتا ہوں حقائق شرعیہ مقاصد شرعیہ کیلئے ہوتے ہیں تو جب مقاصد شرعیہ فوت ہوجائیں
#12857 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
فحقیقۃ عینیۃ والمعتبر فی بقائھا المقاصد العرفیۃ الاتری ان اعظم المقصود من الانسان العبادۃ قال تعالی وماخلقت الجن والانس الا لیعبدون وقد فاتت الکافر اذلیس اھلالھا ومع ذلك لم یخرج من المتفاھم باطلاق الانسان قال تعالی ان الانسان لفی خسر الاالذین امنو اوقال تعالی قتل الانسان مااکفرہ۔
تو حقائق بھی فوت ہوجاتے ہیں جیسا کہ روزہ اور نماز اور پانی حقیقۃ عینیہ ہے اور اسی کی بقاء میں مقاصد عرفیہ ہیں کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ انسان کا بڑا مقصود عبادت ہے فرمان الہی ہے “ اور میں نے انس وجن کو عبادت ہی کیلئے پیدا کیا ہے “ اور یہ چیزیں کافر میں نہیں پائی جاتی ہیں کیونکہ وہ عبادت کا اہل نہیں اس کے باوجود جب لفظ انسان کا اطلاق کیا جاتا ہے تو مفہوم انسان سے خارج نہیں ہوتا ہے فرمان الہی ہے “ بلاشبہ انسان خسارے میں ہے سوائے ایمان والوں کے “ ۔ فرمان الہی ہے “ لعنت ہو انسان پر کتنا ناشکرا ہے۔ (ت)
بالجملہ تحقیق(۱)فقیر غفرلہ میں مائے مطلق کی تعریف عـــــہ یہ ہے کہ وہ پانی کہ اپنی رقت طبعی پر باقی ہے اور اس کے ساتھ کوئی ایسی شے مخلوط وممتزج نہیں جو اس سے مقدار میں زائد یا مساوی ہے نہ ایسی جو اس کے ساتھ مل کر مجموع ایك دوسری شے کسی جدامقصد کے لئے کہلائے ان تمام مباحث بلالکہ فہیم کیلئے جملہ فروع مذکورہ وغیر مذکورہ کو ان دو بیت میں منضبط کریں
مطلق آبے ست کہ بروقت طبعی خودست نہ درومزج دگر چیز مساوی یا بیش
نہ بخلطے کہ بترکیب کند چیز دگر کہ بودز آب جدا در لقب ومقصد خویش
عـــــہ : منح وسید کی تعریفیں کہ حاشیہ پر گزریں ۱۳ ۱۴ تھیں اور یہ تعریف رضوی بحمدہ تعالی پانزدھم
ثم وجدت عن المجتبی تعریفااخر ذکرہ عنہ فی انجاس البحران الماء المقید مااستخرج بعلاج کماء الصابون والحرض والزعفران والاشجار والاثمار والباقلاء اھ فالمطلق خلافہ اقول : (۲)لیس بشیئ ویوافقہ اول الاقوال الاتیۃ فی الاضافات وسیاتی ردہ ثمہ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
پھر میں نے مجتبی سے ایك اور تعریف بحر کے انجاس میں دیکھی کہ مقید پانی وہ ہے جو کسی عمل کے ذریعہ نکالا جائے جیسے صابون کا پانی اور حرض زعفران درختوں پھلوں اور باقلی کا پانی اھ اور مطلق اس کے خلاف ہے میں کہتا ہوں یہ کچھ بھی نہیں اس کی موافقت اضافات میں وارد شدہ پہلے قول سے ہوتی ہے اس کی تردید وہاں ہوگی ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
#12859 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
وبا لله التوفیق٭ولہ الحمدعلی اراء ۃ الطریق٭وافضل الصلاۃ واکمل السلام علی الحبیب الرفیق٭ والہ وصحبہ اولی التحقیق وسائر من دانہ بالایمان والتصدیق٭ امین٭ والحمد لله رب العلمین۔
اضافات(۱)بہت چیزوں پر پانی کا نام کسی شے کی طرف مضاف کرکے بولا جاتا ہے ان میں بعض تو جنس آب سے خارج ہیں اور اطلاق آب محض بطور تشبیہ جیسے آب زر آب کا فور اور جو حقیقۃ پانی ہیں ان میں کچھ مائے مطلق ہیں جیسے آب باراں آب دریا اور کچھ مائے مقید جیسے ماء العسل ماء الشعیر اول کو اضافت تعریف کہتے ہیں اور دوم کو اضافت تقیید۔ علماء نے ان میں چند طرح فرق فرمایا :
اول جو پانی کسی شے سے بذریعہ تدبیر نکالا جائے اس کی طرف پانی کی اضافت تقیید ہوگی ورنہ اضافت تعریف عنایہ وبنایہ میں ہے :
اضافتہ الی الزعفران للتعریف لاللتقیید الفرق بینھماان المضاف ان لم یکن خارجا عن المضاف الیہ بالعلاج فالاضافۃ للتعریف وانکان خارجامنہ فللتقید کماء الورد اھ اقول : ان(۲)کان المراد حدوثہ بالتدبیر کما ھو فی ماء الوردو سائر المستقطرات ورد ماء النارجیل وماء الجبحب وماء النخل الھندی المسمی تارفانھاموجودۃ وانما التدبیر لاخراجھاکالفصد لاخراج الدم وان ارید ظھورہ بہ فان لم یرد ماء البئر لان ظھورہ من الارض بالتدبیر بحفر البئر لامن المضاف الیہ ورد ماء العسل فان الماء
پانی کی اضافت زعفران کی طرف تعریف کیلئے ہے نہ کہ تقیید کیلئے اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ اگر مضاف مضاف الیہ سے عمل کے ذریعہ نہ نکالا گیا ہو تو اضافت تعریف کیلئے ہے اور اگر تدبیر سے خارج ہو تو تقید کیلئے ہے جیسے گلاب کا پانی اھ میں کہتا ہوں اگر ان کی مراد اس کا حدوث ہے تدبیر سے جیسے گلاب کے پانی میں یا دوسرے ان پانیوں میں ہے جو نچوڑ کر نکالے جاتے ہیں تو ناریل کا پانی تربوز کا پانی تاڑی کا پانی اس کے علاوہ ہیں کہ یہ پانی سے ہی موجود ہوتے ہیں تدبیر صرف ان کے نکالنے کیلئے کی جاتی ہے جیسے خون نکالنے کیلئے فصد کھلوائی جاتی ہے اور اگر یہ مراد ہو کہ اس کا اس کے ذریعہ ظہور ہو پس اگر کنویں کے پانی سے اعتراض نہ ہو کہ اس کا ظہور بھی زمین کے کھودے
حوالہ / References العنایۃ مع الفتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضو نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۶۳
#12860 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
فان الماء ظاھر بنفسہ انماالتدبیر فی امتزاجہ طبخابالعسل فانارید عــہ ماء العسل من حیث ھو ماء العسل فحدوثہ بالتدبیر لامجرد ظھورہ۔
سے ہوتا ہے مضاف الیہ سے نہیں ہوتا تو شہد کے پانی کے ذریعہ اعتراض وارد ہوگا کیونکہ پانی بنفسہ ظاہر ہے تدبیر تو اس کو شہد میں ملا کر پکانے سے ہوتی ہے اور اگر شہد کاپانی من حیث ھو مراد ہو تو اس کا حدوث تدبیر سے ہوگا نہ کہ محض ظہور سے۔ (ت)
دوم جہاں ماہیت مضاف کامل ہو اضافت تعریف کیلئے ہے جیسے نماز فجر اور قاصر ہو تو تقیید کیلئے جیسے نماز جنازہ کہ رکوع وسجود وقرأت وقعود نہیں رکھتی کفایہ ومجمع الانہر میں ہے :
علامۃ اضافۃ التقیید قصور الماھیۃ فی المضاف کأن قصورھا قیدہ کیلا یدخل تحت المطلق مثالہ(۱)حلف لا یصلی فصلی الظھر یحنث لانھاصلاۃ مطلقۃ واضافتھا الی الظھر التعریف ولایحنث بصلاۃ الجنازۃ لانھا لیست بصلاۃ مطلقۃ واضافتھا الیھا للتقیید ۔
تقیید کی اضافت کی علامت مضاف میں ماہیۃ کا ناقص ہونا ہے گویا اس کا ناقص ہونا اس کی قید ہے تاکہ مطلق کے تحت داخل نہ ہو اس کی مثال یہ ہے کہ کسی نے حلف اٹھایا کہ وہ نماز نہ پڑھے گا پھر اس نے ظہر کی نماز پڑھی تو حانث ہوجائیگا کہ وہ مطلق نماز ہے اور اس کی اضافت ظہر کی طرف تعریف کیلئے ہے اور نماز جنازہ پڑھنے سے حانث نہ ہوگا کیونکہ وہ مطلق نماز نہیں ہے اور اس کی اضافت جنازہ کی طرف تقیید کیلئے ہے۔ (ت)
اسی طرح شلبیہ علی الزیلعی میں معراج الدرایہ شرح ہدایہ سے ہے نیز اسی میں مشکلات امام خواہر زادہ
عــــہ : ھذا ھو مفاد کلام الامام العینی اذجعل ماء الباقلی خارجا بالتدبیر والا فالماء لاحدث بہ ولاظھر بل کان موجودا ظاھرا من قبل انما حدث الممزوج من حیث ھو ممزوج فتعین فی کلامہ الشق الاول ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
یہ عینی کے کلام سے مستفاد ہوتا ہے انہوں نے باقلی کے پانی کو تدبیر سے خارج ہونے والا پانی قرار دیا ہے ورنہ تو پانی میں نہ کوئی حدوث ہے اور ظہور بلالکہ وہ موجود وظاہر پہلے تھا البتہ ممزوج من حیث الممزوج بعد میں پیدا ہوا تو ان کے کلام میں شق اول متعین ہوگئی ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References شلبیہ علی التبیین الحقائق کتاب الطہارۃ الامیریہ ببولاق مصر ۱ / ۲۱
#12862 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
سے ہے :
کل ماکانت الماھیۃ فیہ کاملۃ فالاضافۃ فیہ للتعریف وماکانت ناقصۃ فالاضافۃ للتقیید نظیر الاول ماء السماء وماء البحر وصلاۃ الکسوف ونظیر الثانی ماء الباقلاء وصلاۃ الجنازۃ اھ اقول : (۱)قصور الماھیۃ انما ھو فی ماء الباقلا ونحوہ عماثخن وزالت رقتہ اما فی المتغیر بالزیادۃ کالانبذۃ والمذق فتبدلت لانقصت الا ان یراد بالقصور والنقص مایعم الانتفاء مجازا(۲)تقول العرب قل ای عدم کما فی نسیم الریاض۔
ہر وہ چیز جس میں ماہیت کامل ہو تو اس میں اضافت تعریف کیلئے ہے اور جس میں ماہیت ناقص ہو تو اس میں اضافت تقیید کیلئے ہے پہلے کی نظیر ماء السماء اور ماء البحر اور صلوۃ الکسوف ہے اور دوسری کی مثال ماء الباقلی اور صلاۃ الجنازہ ہے اھ میں کہتا ہوں ماہیت کا ناقص ہونا ماء الباقلی میں ہے یا اس قسم کے اور پانیوں میں جو گاڑھے پڑ گئے ہوں اور ان میں سے رقت ختم ہوگئی ہو لیکن وہ پانی جو کسی زیادتی کے باعث متغیرہو گئے ہوں جیسے نبیذ ومذق تو یہ تبدیل ہوئے ہیں کم نہیں ہوئے۔ ہاں اگر قصور ونقص سے مراد وہ ہو جو انتفاء کو عام ہو مجازا عرب کے لوگ کہتے ہیں قل یعنی معدوم ہوگیا نسیم الریاض میں ایسا ہی ہے۔ (ت)
سوم : جسے بے حاجت ذکر قید پانی کہہ سکیں وہاں اضافت تعریف کی ہے اور جہاں پانی کہنے میں ذکر قید ضروری ہو تقیید کی مراقی الفلاح میں ہے :
الفرق بین الاضافتین صحۃ اطلاق الماء علی الاول دون الثانی اذلا یصح ان یقال لماء الورد ھذا ماء من غیر قید بالورد بخلاف ماء البئر لصحۃ اطلاقہ فیہ ۔
دونوں اضافتوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی پر پانی کااطلاق صحیح ہے دوسری پر نہیں ہے کیونکہ گلاب کے پانی کو ھذا ماء کہنا صحیح نہیں اس میں ورد کی قید لگانا ضروری ہے ہاں کنویں کے پانی کو ھذا ماء کہہ سکتے ہیں۔ (ت)
بحر میں ہے :
ماء البحر الاضافۃ فیہ للتعریف بخلاف الماء المقید فان القید لازم لہ لایجوز ماء البحر
اس میں اضافت تعریف کے لئے ہے بخلاف مقید پانی کے کیونکہ قید اس کو لازم ہے
حوالہ / References شلبیۃ علی التبیین الحقائق کتاب الطہارۃ مطبعۃ الامیریہ ببولاق مصر ۱ / ۲۱
مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ مطبعۃ الامیریہ ببولاق مصر ص۱۳
#12864 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
اطلاق الماء علیہ بدون القید کماء الورد اھ
اقول : ھذا ھو السابع فی تعریفات المطلق والکلام الکلام فیقال ماء الورد لیس ماء حقیقۃ فعلی التحقیق لیس من المقیداماالمقید کماء الزعفران الصالح للصبغ فماء قطعاویصح ان یقال ھذاماء لان صحۃ حمل المقسم علی القسم من الضروریات نعم لایفھم من اطلاق قولناالماء وھذاشیئ غیرالحمل ولایصح ارادۃ حمل الماء المطلق فیرجع الی ان المقید یحمل علیہ الماء المطلق مع ذکرالقید وھذاجمع بین النقیضین والجواب مامر۔
اس پر پانی کا اطلاق بلاذکر قید جائز نہیں جیسے گلاب کا پانی اھ۔ (ت)
میں کہتا ہوں یہ مطلق کی ساتویں تعریف ہے اور اس پر وہی گفتگو ہے جو گزری کہا جاتا ہے گلاب کا پانی حالانکہ درحقیقت یہ پانی نہیں ہے تو تحقیقی طور پر یہ مقید نہیں مقید جیسے ماء الزعفران جو رنگنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو یہ قطعا پانی ہے اور اس کو ھذا ماء کہہ سکتے ہیں کیونکہ مقسم کا قسم پر محمول ہونا بدیہیات میں سے ہے ہاں جب ہم الماء اور ھذا کہتے ہیں تو اس سے سوائے حمل کے اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا اور ماء مطلق کے حمل کا ارادہ صحیح نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مقید پر الماء المطلق محمول ہوگا اور قید بھی ذکر کی جائے گی اور یہ جمع بین النقیضین ہے اور جواب وہ ہے جو گزرا۔ (ت)
چہارم جس سے پانی کی نفی کر سکیں یعنی کہہ سکیں کہ یہ پانی نہیں وہاں اضافت تقیید کی ہے ورنہ تعریف کی تبیین میں ہے :
اضافتہ الی الزعفران ونحوہ للتعریف کاضافتہ الی البئر بخلاف ماء البطیخ ونحوہ حیث تکون اضافتہ للتقیید ولھذا ینفی اسم الماء عنہ ولایجوز نفیہ عن الاول اھ
اقول : ھذا ھو ثامن تعریفات المطلق
اس کی اضافت زعفران وغیرہ کی طرف تعریف کیلئے ہے جیسے پانی کی اضافت کنویں کی طرف بخلاف ماء البطیخ وغیرہ کے وہاں اضافت تقیید کیلئے ہے اس لئے پانی کا نام اس سے منفی کیا جاتا ہے اور اس کی نفی اول سے جائز نہیں اھ(ت)
میں کہتا ہوں یہ مطلق کی آٹھویں تعریف ہے
حوالہ / References بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۶
تبیین الحقائق کتاب الطھارت الامیریہ ببولاق مصر ۱ / ۲۱
#12865 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
والبحث البحث فیقال ان القسم لایصح نفی المقسم عنہ حقیقۃ ابداوان ارید نفی الماء المطلق مع بعدہ عن ظاھر العبارۃ یرجع الی ان اضافۃ التقیید فی الماء المقید وھذا لایجدی شبہ الحمل الاولی والجواب مامر۔
اور اس میں جو بحث ہے وہ بحث ہے اس میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ قسم سے مقسم کی نفی صحیح نہیں حقیقۃ اور اگر ماء مطلق کی نفی کا ارادہ کیا جائے حالانکہ بظاہر عبارۃ سے یہ بعید ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اضافت تقیید ماء مقید میں ہے اور یہ پہلے حمل کی طرح غیر مفید ہے اور جواب وہ ہے جو گزرا۔ (ت)
پنجم : جہاں امور خارجہ عن الذات مثل محل یا صفت یا مجاور کی طرف اضافت ہو تعریف ذات اس کی محتاج نہ ہو وہ اضافت تعریف ہے غنیہ میں ہے :
مایسمی فی العرف ماء من غیر احتیاج الی التقیید فی تعریف ذاتہ فاضافتہ الی محل کماء البئر اوصفتہ کماء المد ا ومجاورہ کماء الزعفران لیست بقید ۔
وہ جس کو عرف میں پانی کہا جاتا ہے جس کی ذات کی تعریف میں تقیید کی ضرورت نہیں تو اس کی اضافت اس کے محل کی طرف ہے جیسے ماء البئر یا اس کی صفت کی طرف ہے جیسے ماء المد یا اس کے مجاور کی طرف ہے جیسے ماء الزعفران یہ قید نہیں ہے۔ (ت)
ششم : جہاں ماہیت بے قید نہ پہچانی جائے اضافت تقیید ہے ولہذا اس پر بلاقید لفظ آب کا اطلاق جائز نہ ہوگا اور جہاں بے ذکر قید اطلاق لفظ صحیح ہو اصافت تعریف ہے حلیہ میں ہے :
المقید لاتعرف ذاتہ الابالقید ولھذا کانت الاضافۃ لازمۃ فلایسوغ تسمیتہ ماء علی الاطلاق بخلاف اضافۃ الماء المطلق الی نحو البئر والعین فانھا اضافۃ الی مامنہ بدفھی عارضۃ لافادۃ عارض من عوارضہ وھو بیان محلہ الکائن فیہ اوالخارج منہ الذی یمکن الاستغناء عن ذکرہ فی صحۃ اطلاق لفظ الماء علیہ و
مقید کی ذات کی معرفت بلاقید نہیں ہوتی ہے اس لئے اضافت لازم ہے یہی وجہ ہے کہ اس کو مطلق پانی کہنا جائز نہیں بخلاف ماء مطلق کی اضافت کے کنویں اور چشمے کی طرف کیونکہ یہ ایسی چیز کی طرف اضافت ہے جو ضروری نہیں تو یہ عارضی ہے کیونکہ یہ اس کے عوارض میں سے کسی ایك عرض کا فائدہ دے رہی ہے اور یہ اس کے محل کا بیان ہے جس میں کہ وہ ہے یا جس سے وہ خارج ہو کہ اس کے ذکر سے استغنا ممکن
حوالہ / References غنیۃ المستملی ، فصل فی بیان احکام المیاہ ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ص۸۸
#12867 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
لھذا ساغ ان یطلق القائل علیہ ماء اطلاقا حیقیقیا من غیر تقیید بالبئر ونحوھا وقد ظھر من ھذا التقیید انہ لم یمنع اندراج المقید بہ تحت الماء المطلق بخلاف الاول اھ۔
اقول : اقتصر لغنیۃ علی الثانی من تعریفات المطلق وجمع الحلیۃ بینہ وبین السابع فمشی علی الثانی فی تحدید اضافۃ التقیید وعلی السابع فی تعریف اضافۃ التعریف ولاغزو فالامر قریب۔
ہو اور اس پر صرف ماء کا اطلاق صحیح ہو اس لئے اس پر ماء کا اطلاق حقیقی بئر وغیرہ کی قید کے بغیر بھی جائز ہے اس تقیید سے ظاہر ہوا کہ جو اس قید کے ساتھ مقید ہو اس کا ماء مطلق میں داخل ہونا ممنوع نہیں بخلاف اول کے اھ(ت)
میں کہتا ہوں غنیہ نے مطلق کی دوسری تعریف پر اکتفأ کیا ہے اور حلیہ نے اس کو اور ساتویں کو جمع کیا ہے اوراضافۃ تقیید کی تعریف میں انہوں نے دوسری کو ملحوظ رکھا ہے اور اضافت تعریف میں ساتویں کو مگر یہ قریب قریب درست ہے۔ (ت)
ہفتم عــہ جس کی ماہیت بے اضافت پہچانی جائے اور مطلق نام آب لینے سے مفہوم ہو وہاں اضافت تعریف کی ہے ورنہ تقیید کی۔ شلبیہ علی الزیلعی میں امام حافظ الدین کی مستصفی سے ہے :
فان قیل مثل ھذہ الاضافۃ یعنی ماء الباقلاء واشباھہ موجود فیما ذکرت من المیاہ المطلقۃ لانہ یقال ماء الوادی وماء العین قلنا اضافتہ الی الوادی والعین اضافۃ تعریف لاتقیید لانہ تتعرف ماھیتہ
اگر کہا جائے کہ اس جیسی اضافت یعنی ماء الباقلی وغیرہ کی مذکورہ مطلق پانیوں میں بھی موجود ہے اس لئے کہ ماء الوادی اور ماء العین کہا جاتا ہے ہم کہتے ہیں پانی کی اضافۃ وادی اور عین کی طرف تعریف کیلئے ہے نہ کہ تقیید کیلئے کیونکہ ان کی ماہیت کو

عــہ اقول : ھذہ سبع عبارات الثلاث الاخری منھا متقاربۃ المعنی بل متحدۃ المال مختلفۃ المبی والثالثۃ والرابعۃ تعریفان بما یستلزم ھذا المعنی والنقص و القصور فی الاولیین وا لله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
میں کہتا ہوں یہ سات عبارتیں ہیں ان میں سے آخری تین معنوی اعتبار سے قریب ہیں بلکہ انجام کے اعتبار سے متحد ہیں عبارت میں مختلف ہیں تیسری اور چوتھی تعریفیں اس چیز کے ساتھ ہیں جو اس معنی کو مستلزم ہیں اور نقص وقصور پہلی دو تعریفوں میں ہے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References حلیہ
#12868 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
بدون ھذہ الاضافۃ وتفھم بمطلق قولنا الماء بخلاف ماء الباقلاء واشباھہ فانہ لاتتعرف ماھیتہ بدون ذلك القید ولاینصرف الوھم الیہ عند الاطلاق ولھذا صح نفی اسم الماء عنہ فیقال فلان لم یشرب الماء وان کان شرب الباقلاء اوالمرق ولوکان ماء حقیقۃ لماصح نفیہ لان الحقیقۃ لاتسقط عن المسمی ابدا ویکذب نافیھا وھذاکمایقال صلاۃ الجمعۃ ولحم الابل وصلاۃ الجنازۃ(۱)ولحم السمك اھ وقد ذکر نحوہ فی کافیہ وجلال الدین فی کفایتہ والبدر محمود فی بنایتہ اقول : جمع بین الثانی والثانی عشر بل والثامن ارشادا الی تقاربھا ولو اکتفی بالوسط عـــــہ لکفی وصفا عن
اس قید کے بغیر بھی سمجھا جاسکتا ہے اور مطلق لفظ ماء سے سمجھ میں آجاتے ہیں بخلاف باقلی وغیرہ کے پانیوں کے کیونکہ ان کی ماہیت اس قید کے بغیر سمجھ میں نہیں آتی ہے اور جب مطلق لفظ ماء بولا جاتا ہے تو ذہن اس طرف منتقل نہیں ہوتا ہے اس لئے پانی کے لفظ کی نفی ان پانیوں سے درست ہے تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ فلاں نے پانی نہیں پیا اگرچہ اس نے شوربہ یا باقلی کا پانی پیا ہو اور اگر یہ حقیقۃ پانی ہوتے تو یہ نفی صحیح نہ ہوتی۔ کیونکہ حقیقت کبھی اپنے مسمی سے ساقط نہیں ہوتی ہے اور جو شخص اس کی نفی کرے اس کی تکذیب کی جاتی ہے اور یہ ایسا ہے جیسا کہ صلوۃ الجمعۃ لحم الابل صلاۃ الجنازۃ اور لحم السمك کہا جاتا ہے اھ اسی قسم کی چیز انہوں نے اپنی کافی میں ذکر کی اور جلال الدین نے کفایہ
عـــــہ : ثم رأیت الامام العینی کذلك فعل فی البنایۃ اذقال الاضافۃ نوعان اضافۃ تعریف کغلام زید وانہ لایغیر المسمی واضافۃ تقیید کماء العنب وانہ یغیرہ وانہ لایفھم من مطلق اسم الماء اھ اقول : استدلال انی والمراد بماء العنب مانقع فیہ العنب لانہ الماء المقید لامایخرج بعصرہ فانہ لیس من الماء اصلا کما قدمنا فی حاشیتہ ۲۰۷ خلافا
اقول : پھر امام عینی نے بنایہ میں ایسا ہی کیا ہے فرمایا اضافت کی دو قسمیں ہیں ایك اضافت تعریف کیلئے ہے جیسے غلام زید یہ مسمی میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کرتی ہے اور دوسری اضافت برائے تقیید جیسے ماء العنب یہ مسمی کو متغیر کردیتی ہے اور مطلق ماء کے نام سے مفہوم نہیں ہوتا ہے اھ میں کہتا ہوں یہ استدلال “ انی “ ہے اور ماء العنب سے مراد وہ پانی ہے جس میں انگور پڑے ہوئے ہوں کیونکہ یہی ماء مقید ہے وہ نہیں جو(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References شلبیہ مع تبیین الحقائق کتاب الطہارۃ الامیریہ ببولاق مصر ۱ / ۲۰
#12870 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
مجال کل جدال۔
میں اور بدر محمود نے بنایہ میں۔ میں کہتا ہوں انہوں نے دوسرے اور بارہ کو یکجا کردیا ہے بلالکہ آٹھ کو بھی تاکہ ان کے قریب ہونے کا پتا چل جائے اور اگر درمیانی پر اکتفا کرلیتے تو کوئی جھگڑا باقی نہ رہتا۔ (ت)
بالجملہ اصح واحسن وہی تعریف اخیر مائے مطلق پر یہاں بھی حوالہ ہے کہ جس کی طرف مطلق آب کہنے سے افہام سبقت کریں اس کی اضافت اضافت تعریف ہے ورنہ اضافت تقیید اقول یعنی جبکہ جنس آب حقیقی لغوی سے خارج نہ ہو ورنہ اضافت تقیید بھی نہیں مجاز ہے جیسے آب زر و الله تعالی اعلم۔
فصل ثالث ضوابط جزئیہ متون وغیرہا
اقول : وبالله التوفیق اول چند مسائل اجماعیہ ذکر کریں کہ کوئی ضابطہ ان کے خلاف نہیں ہوسکتا۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
لما اوھم العلامۃ ابن کمال ثم رأیت فی نص الکفایۃ التصریح بما ذھبت الیہ اذقال لایجوز بما اعتصر لانہ لیس بماء حقیقۃ ثم اقول احال الامام العینی امر التعریف والتقیید علی التغیر وعدمہ وعللہ بالانفھام من المطلق وعدمہ وھذا اجلی من التغیر المبھم فکان الاولی الارادۃ علیہ کما فعل قبلہ فی غایۃ البیان اذقال واضافتہ الی البئر للتعریف لاللتقیید اذایفھم بمطلق قولنا الماء اھ والعجب ان العینی مشی ھھنا علی ھذا الصحیح ثم بعد ورقتین عاد الی الاول الجریح ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
نچوڑنے سے نکلے کیو نکہ وہ تو پانی ہے ہی نہیں جیسا کہ ہم نے ۲۰۷ کے حاشیہ میں ذکر کیا یہ علامہ ابن کمال کے وہم کے برخلاف ہے پھر مجھے کفایہ میں یہی تصریح مل گئی وہ فرماتے ہیں اس پانی سے وضو جائز نہیں جو نچوڑا گیا ہو کیونکہ وہ درحقیقت پانی نہیں ہے۔ پھر میں کہتا ہوں امام عینی نے تعریف وتقیید کا دارومدار تغیر وعدم تغیر پر رکھا ہے اور اس کی علت یہ بیان کی کہ وہ مطلق سے مفہوم ہوتا ہے یا نہیں اور یہ تغیر مبہم سے زیادہ واضح ہے تو اولی یہ ہے کہ اسی پر دارومدار کیا جائے جیسا کہ اس سے قبل غایۃ البیان میں کیا ہے فرمایا اس کی اضافت کنویں کی طرف تعریف کیلئے ہے نہ کہ تقیید کیلئے کیونکہ وہ مطلق المأ سے مفہوم ہوجاتا ہے اھ اور تعجب ہے کہ عینی نے اس صحیح قول کو اختیار کیا پھر دو۲ ورق بعد وہ پہلے مجروح قول کی طرف آگئے ہیں ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
#12871 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
(۱)اجماع امت ہے کہ پانی کے سوا کسی مائع سے وضو وغسل یعنی ازالہ نجاست حکمیہ نہیں ہوسکتا۔
(۲)اجماع ہے کہ وہ پانی مائے مطلق ہونا چاہئے مائے مقید سے وضو نہیں ہوسکتا سوائے نبیذتمر کے کہ سیدنا
امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ابتدا نظر بحدیث اس سے جواز کے قائل تھے پھر رجوع فرمائی اور اس سے بھی عدم جواز پر اجماع منعقد ہوگیا الا مایذکرمن امام عــہ۱ الشام الاوزاعی رحمہ ا لله تعالی من التجویز بکل نبیذ ان ثبت عنہ وا لله تعالی اعلم(مگر وہ جو امام اوزاعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے منقول ہے کہ ہر نبیذ سے وضو جائز ہے بشرطیکہ یہ روایت ان کی طرف درست منسوب ہو و الله تعالی اعلم۔ ت)
(۳)اجماع ہے کہ غسل بالفتح یعنی کسی عضو کے دھونے میں اس پر پانی کا بہنا ضرور ہے صرف تر ہوجانا کافی نہیں کہ وہ مسح ہے اور حضرت عزت عزجلالہ نے غسل ومسح دو۲ وظیفے جدا رکھے ہیں الاما عــہ۲ حکی عن الامام الثانی رحمہ ا لله وھو مؤول کما تقدم(مگر وہ جو امام یوسف سے منقول ہے وہ مؤول ہے جیسا گزرچکا۔ ت)تو پانی کا اپنے سیلان پر باقی رہنا قطعا لازم۔
عــہ۱ وقال فی البنایۃ شذ الحسن بن صالح وجوز الوضوء بالخل وما جری مجراہ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
عــہ۲ وقال فی البنایۃ التوضی بالثلج یجوز ان کان ذائبا یتقاطر والا فلاثم قال وفی مسألۃ الثلج اذاقطر قطرتان فصاعدا جاز اتفاقا والافعلی قولھما لایجوز وعلی قول ابی یوسف یجوز اھ
اقول : (۱)ماکان ینبغی ان یقال قولہ الموھم خلاف الواقع فانما ھی حکایۃ نادرۃ عنہ وقد قال قبلہ فی البنایۃ السیلان شرط فی ظاھر الروایۃ فلایجوز الوضوء مالم یتقاطر الماء وعن ابی یوسف انہ لیس بشرط اھ ثم الروایۃ مؤولۃ کما علمت
بنایہ میں ہے کہ حسن بن صالح نے شذوذکرتے ہوئے سرکہ اور اس قسم کی دوسری اشیاء سے وضو کو جائز قرار دیا ۱۲ منہ غفرلہ ۔ (ت)
بنایہ میں ہے کہ برف سے وضو جائز ہے بشرطیکہ پگھل کر ٹپك رہا ہو ورنہ نہیں پھر برف کے مسئلہ میں فرمایا جب اس سے دو یا زائد قطرے ٹپکیں تو وضو جائز ہے اتفاقا ورنہ طرفین کے قول پر جائز نہیں ہے اور ابو یوسف کے قول پر جائز ہے اھ
میں کہتا ہوں یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ ان کا وہم پیدا کرنے والا قول خلاف واقع ہے کیونکہ یہ تو ان سے ایك نادر حکایت ہے اور اس سے قبل وہ بنایہ میں فرماچکے ہیں کہ سیلان ظاہر روایت میں شرط ہے تو جب تك پانی کے قطرے نہ ٹپکیں وضو جائز نہیں اور ابو یوسف سے ہے کہ سیلان(باقی برصفحہ ائندہ)
#12872 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
(۴)اجماع لغت وعرف وشرع ہے کہ دو۲ چیزوں سے مرکب میں حکم غالب کیلئے ہے وقد قدمناہ عن المحقق علی الاطلاق فی التعریف الخامس للماء المطلق(اور ہم نے محقق علی الاطلاق سے مطلق پانی کی پانچویں تعریف میں اس کو پہلے ذکر کردیا ہے۔ ت)تو پانی میں جب اس کا غیر اس سے زائد مقدار میں مل جائے بحکم اجماع اول قابل وضو نہ رہے گا۔
(۵)اجماع عقل ونقل ہے کہ تعارض موجب تساقط ہے اور اجتماع حاضر ومبیح میں حاضر غالب تو اگر دوسری چیز مساوی القدر بھی ملے گی قابل وضو نہ رکھے گی وقد عــہ تقدم فی ۲۶۲(جیسا کہ ۲۶۲ میں گزرچکا۔ ت)
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ثمہ(۱)فلاینبغی ذکرھاالابتاویلھا کیلا یتجرأ جاھل علی مخالفۃ امر ا لله تعالی متشبثابھا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
عــہ تقدم ھناك قول الغنیۃ یضم الیہ التمیم عند المساواۃ اھ وماتعقبتھا بہ والان رأیت فی البنایۃ حین ارسل الی نقل ھذا الباب منھا بعض اصحابی مانصہ حکی عن ابی طاھر الدباس انہ قال انما اختلف(۲)اجوبۃ ابی حنیفۃ رضی ا لله تعالی عنہ لاختلاف الاسئلۃ فانہ سئل عن(۳)التوضوئ اذا کانت الغلبۃ للحلاوۃ قال یتمیم ولا یتوضو وسئل عنہ ایضا کان الماء والحلاوۃ سواء ولم یغلب احدھما علی الاخر قال یجمع بینھما وقال السغناقی وعلی ھذہ الطریقۃ لایختلف الحکم بین نبیذ التمر وسائر
شرط نہیں اھ یہ روایت مؤول ہے جیسا آپ نے جانا تو اس کو بلاتاویل ذکر کرنا درست نہیں تاکہ کوئی اس کو دیکھ کر اللہ تعالی کے حکم کی مخالفت کی جرات نہ کر بیٹھے ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
یہاں غنیہ کا قول گزر چکا ہے کہ اس کے ساتھ مساوات کے وقت تیمم کو بھی شامل کرلینا چاہئے اھ اور اس پر جو اعتراضات میں نے کئے ہیں وہ بنایہ میں بھی ہیں میرے ایك دوست نے بنایہ کا یہ حصہ مجھے نقل کرکے بھیجا ہے اس میں ہے ابو طاہر الدباس سے منقول ہے کہ اس سلسلہ میں ابو حنیفہ کے جوابات کے مختلف ہونے کی وجہ سوالات کا اختلاف ہے ان سے دریافت کیا گیا کہ مٹھاس کا غلبہ ہوتو کیا کریں تو فرمایا تمیم کرے وضو نہ کرے ان سے دریافت کیا گیا کہ جب پانی مٹھاس برابر ہو تو کیا کریں فرمایا وضو اور تمیم دونوں کریں سغناقی نے فرمایا اس انداز میں نبیذتمر اور دوسرے نبیذوں کا حکم مختلف نہ ہوگا یہ(باقی برصفحہ ایندہ)
#12873 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
(۶)اجماع ائمہ حنیفہ ہے کہ قلیل مستہلك کا خلط مزیل اطلاق نہیں اگرچہ وہ قلیل جنس ارض سے نہ ہو ہدایہ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الانبذۃ وسئل عنہ ایضا اذا کانت الغلبۃ للماء فقال یتوضو بہ ولا یتیمم اھ۔
اقول : الحلاوۃ ان لم تبلغ مبلغا تجعلہ نبیذا کانت مغلوبۃ وان بلغت فقد غلبت ولا واسطۃ بینھما وایضا لامعنی التساوی الماء والحلاوۃ فان التساوی والتفاضل فی کمین متجانسین فوجب ان المراد المساواۃ فی الاحتمال ای لایغلب علی الظن احدطرفی صیر ورتہ نبیذا اوبقائہ ماء بل یحتملان علی السواء فالحاصل حصول الشك والتردد وبہ عبر غیرہ ففی التبیین والفتح عن خزانۃ الاکمل وفی الحلیۃ عنھا وعن غیرھا قال مشایخنا انما اختلفت اجوبتہ رضی ا لله تعالی عنہ لاختلاف المسائل سئل مرۃ ان کان الماء غالبا قال یتوضو وسئل مرۃ ان کانت الحلاوۃ غالبۃ قال یتیمم ولا یتوضو وسئل مرۃ اذالم یدر ایھما الغالب قال یجمع بینھما اھ ھذا لفظ الفتح وقال بعدہ وعلی ھذایجب التفضیل فی الغسل ان کان النبیذ غالب الحلاوۃ قریبا من سلب الاسم لایغتسل بہ اوضدہ فیغتسل الحاقا بطریق الدلالۃ
سوال کیا گیا کہ جب پانی کا غلبہ ہو تو کیا حکم ہے فرمایا وضو کرلے اور تمیم نہ کرے۔
میں کہتا ہوں کہ مٹھاس اگر اس درجہ نہ ہو کہ پانی کو نبیذ بنادے تو مٹھاس مغلوب سمجھی جائے گی اور اگر اس درجہ ہو تو غالب ہوگی اور ان دونوں میں کوئی واسطہ نہیں نیز پانی اور مٹھاس کی مساوات کے کوئی معنی نہیں کیونکہ تساوی اور تفاضل دو ہم جنس کمیتوں میں ہوتے ہیں تو ضروری ہوا کہ یہ مساواۃ احتمال ہے یعنی اس کا نبیذ ہونا یا پانی رہنا غالب گمان میں نہیں ہے بلالکہ دونوں چیزوں میں برابر کا احتمال ہے تو حاصل شك وتردد کا حصول ہے اور ان کے غیر نے اس کی یہی تعبیر کی ہے۔ تبیین اور فتح میں خزانۃ الاکمل سے اور حلیہ میں خزانہ وغیرہا سے ہے کہ ہمارے مشایخ نے فرمایا ہے کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے جوابات کے مختلف ہونے کی وجہ سوالات کا اختلاف ہے۔ جب آپ سے پوچھا گیا کہ اگر پانی غالب ہو تو آپ نے فرمایا وضو کرے اور جب یہ پوچھا کہ اگر مٹھاس غالب ہو تو جواب میں فرمایا کہ وضو اور تیمم دونوں کو جمع کرے اھ یہ فتح کے الفاظ ہیں اور اس پر پھر یہ کہا اس بنا پر غسل میں بھی ضرور تفصیل ہوگی کہ اگر نبیذ میں مٹھاس اتنی غالب ہوجائے کہ پانی کا نام اس پر نہ بولا جائے تو اس سے
#12874 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
میں ہے :
الخلط القلیل لامعتبر بہ لعدم امکان
پانی میں معمولی ملاوٹ کا اعتبار نہیں کیونکہ مٹی کے اجزاء

(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
اومترددا فیہ یجمع بین الغسل والتیمم اھ۔
اقول : (۱)لاحاجۃ الی الالحاق مع بقاء الاطلاق اما الذین اختلفوا فی جواز الغسل بہ فصحح فی المبسوط الجواز وصحح فی المفید عدمہ لان الجنابۃ اغلظ کما ذکرہ فی الفتح بعدہ۔
فاقول : کلامھم فی ماصار نبیذا وھو غیر ھذا التوفیق الانیق وعلیہ یضطر القائل بجواز الاغتسال بہ الی الحاقہ بالوضوء دلالۃ لاقیاسالان الجواز فی نبیذ التمر معدول بہ عن سنن القیاس وماکان کذا یجوز الالحاق بہ دلالۃ لاقیاسا اما علی ھذا التوفیق فلاشك ان الوضوء والغسل سیان فی جوازھما بالماء المطلق فلایجعل احدھما اصلا والاخر ملحقا بہ ھذا ومثلہ لفظ التبیین والحلیۃ اذالم یدرایھما الغالب فھذا فی المشکوك دون المخالط المساوی
غسل نہ کیا جائے اور اگر اس کے خلاف ہو کہ مٹھاس مغلوب ہو اور اس کو پانی کہا جائے تو غسل کرے کیونکہ دلالت کے طور پر غسل کا حکم وضو سے ملحق قرار پائے گا اور اگر نبیذ میں غلبہ کے بارے میں تردد ہو تو غسل اور تیمم کو جمع کرے اھ(ت)
میں کہتا ہوں کہ اطلاق کی موجودگی میں الحاق کی ضرورت نہیں نبیذ سے غسل کے جواز کے بارے میں اختلاف کرنے والوں نے جیسا کہ مبسوط میں جواز کی صحت کی ہے اور مفید میں عدم جواز کو صحیح کہا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جنابت زیادہ غلیظ ہے جیسا کہ بعد میں اسے فتح میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
پس میں کہتا ہوں کہ ان کا کلام اس صورت میں ہے جب نبیذ بن جائے تو اس میں مذکورہ توفیق جاری نہ ہوگی لہذا غسل کے جواز کے قائل وضو کے ساتھ الحاق کرنے میں دلالت کے قول پر مجبور ہیں اور وہ قیاس کویہاں استعمال نہیں کرسکتے کیونکہ نبیذتمر سے وضو کا جواز قیاس کے قاعدہ پر نہیں ہے جو قیاس کے خلاف ہو تو اس سے الحاق بطور دلالت ہوسکتا ہے اس پر قیاس نہیں کیا جاسکتا پس اس طرح وضو اور غسل دونوں مطلق پانی سے جواز میں مساوی ہیں ایك کو اصل اور دوسرے کو ملحق نہیں قرار دیا جاسکتا ہذا تبیین اور حلیہ کے الفاظ بھی اسی طرح ہیں تو جب(باقی اگلے صفحہ پر)
#12875 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
الاحتراز عنہ کما فی اجزاء الارض ۔
کی طرح ایسی ملاوٹ سے پانی کا محفوظ ہونا مشکل ہے۔ (ت)
فتح القدیر میں ہے :
قدرأیناہ یقال فی ماء المد والنیل حال غلبۃ لون الطین علیہ وتقع الاوراق فی الحیاض زمن الخریف فیمر الرفیقان ویقول احدھما للاخر ھنا ماء تعال نشرب نتوضأ فیطلقہ مع تغیر اوصافہ بانتقاعھا فظھرلنا من اللسان ان المخلوط المغلوب لایسلب الاطلاق فوجب ترتیب حکم المطلق علی الماء الذی ھو کذلك وقد اغتسل صلی ا لله تعالی علیہ وسلم یوم الفتح من قصعۃ فیھا اثر العجین رواہ النسائی والماء بذلک
مد اور نیل کے پانی میں مٹی کا رنگ غالب ہوتا ہے اور حوضوں میں موسم خزاں کے پتے گرتے ہیں اس کے باوجود ہم نے دیکھا کہ دو ساتھی وہاں سے گزرتے ہوئے ایك دوسرے کو کہتے ہیں یہ پانی ہے آؤ پئیں اور وضو کریں اسی کو مطلق پانی قرار دیتے ہیں حالانکہ ان چیزوں کے ملنے کی وجہ سے پانی کے اوصاف متغیر ہوچکے ہوتے ہیں تو معلوم ہوا کہ ملنے والی مغلوب چیز پانی کو اپنے اطلاق سے خارج نہیں کرتی لہذا ایسے پانی پر مطلق کا حکم مرتب ہوگا نیز فتح مکہ کے روز حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ایك ایسے پیالے سے وضو (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
قدرا فلیس فیہ مایمیل الی مافی الغنیۃ فتثبت وللہ الحمد۔
اقول : (۱)ونظیر ھذاالاختلاف عن الامام مافی الحدیث انہ صلی ا لله تعالی علیہ وسلم سئل عن تقبیل الصائم عرسہ فاجاز فسئل اخری فنھی فاذا الذی اباہ لہ شیخ والذی نھاہ عنہ شاب ۱۲ منہ غفرلہ(م)
دونوں میں سے کسی کا غلبہ معلوم نہ ہو تو یہ مشکوك کی بات ہوئی مقدار کے اعتبار سے مساوی مخلوط کی بات نہیں ہے یہاں غنیہ والی بات کی طرف میلان ثابت نہیں ہے۔
میں کہتا ہوں کہ اس کی نظیر وہ ہے جو حدیث میں ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے ایك بار یہ سوال ہوا کہ اگر روزے والا اپنی بیوی کا بوسہ لے تو کیا حکم ہے تو جواب میں اجازت فرمائی۔ اور دوسری بار یہی سوال کیا گیا تو آپ نے منع فرمایا۔ تو اسی ایك سوال کے مختلف جوابات کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ روزے والا بوڑھا ہو تو جائز فرمایا اور اگر وہ جوان ہے تو منع فرمایا اس طرح امام ابو حنیفہ نے نبیذ کے بارے میں مختلف قول فرمائے کیونکہ ہر جواب علیحدہ نقطہ سے متعلق ہے۔ (ت)
حوالہ / References الہدایۃ باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء مطبع عربیہ کراچی ۱ / ۱۸
#12876 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
یتغیر ولم یعتبر المغلوبیۃ ۔
فرمایا جس میں آٹا لگا ہوا تھا اس کو نسائی نے روایت کیا ہے اور پانی اس آٹے کی وجہ سے متغیر ہوتا ہے لیکن حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی کچھ پروا نہ کی۔ (ت)
(۷)اجماع عرف وشرع ہے کہ زوال اسم موجب زوال اطلاق ہے وقد تقدم فی تعاریف المطلق لاسیما التاسع(مطلق کی تعریفوں خصوصا نویں تعریف میں گزر چکا ہے۔ ت)ولہذا نبیذ تمر سے وضو ناجائز ہونے پر اجماع ہوا اگرچہ پانی اپنی رقت پر رہے وقد تقدم فی ۲۸۶(۲۸۶ میں گزر چکا۔ ت)
(۸)اجماع ائمہ حنفیہ ہے کہ پانی کے اوصاف میں قلیل تغیر ما نع اطلاق نہیں وقد تقدم فی ۱۱۶(۱۱۶ میں گزر چکا ہے۔ ت)
یہ آٹھ اجماع واجب بالاتباع ناقابل نزاع غیر صالح الاندفاع ہیں اور یہی بحمد اللہ تعالی وہ معیار کامل ہے جو مائے مطلق کی تعریف رضوی میں گزرا وللہ الحمد یہ احکام منقحہ ہاتھ میں رکھ کر ضوابط کی طرف چلئے۔
ضابطہ ۱ : کسی پھل یا پیڑ یا بیل یا پتوں یا گھاس کے عرق یا عصارے سے وضو جائز نہیں۔ قدوری ہدایہ وقایہ نقایہ کنز اصلاح غرر نور الایضاح متون وغیرہا عامہ کتب میں ہے لایجوز بمااعتصر من شجر اوثمر (درخت اور پھل کے نچوڑے ہوئے پانی سے وضو جائز نہیں۔ (ت)اور صحیح یہ کہ یہ حکم قاطر ومستقطر ومعتصر سب کو عام ہے کماتقدم فی ۲۰۵(جیسا کہ بحث ۲۰۵ میں گزر چکا ہے۔ (ت)
اقول : ھو عندی من فروع الاجماع الاول حتی فی قاطر الکرم وقد تقدم فی حاشیۃ ۲۰۷۔
میں کہتا ہوں کہ یہ میرے نزدیك پہلے اجماع کے فروعات میں سے ہے حتی کہ انگور کے درخت سے نکلنے والے قطروں کو شامل ہے اور یہ بات بحث ۲۰۷ کے حاشیہ میں گزر چکی ہے۔ (ت)
ضابطہ ۲ تا ۴ : مطہر پانی کے ناقابل وضو ہوجانے کیلئے متون معتمدہ میں تین سبب ارشاد ہوئے :
(۱)زوال طبع آب
(۲)غلبہ غیر
(۳)طبخ باغیر۔ اگرچہ بعض نے ایك سبب بیان کیا بعض نے دو بعض نے اجمالا سب اور ان سے تعبیر میں بھی عبارات
حوالہ / References فتح القدیر ، باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ، مطبع عربیہ کراچی ۱ / ۶۴
نورالایضاح ، کتاب الطہارۃ ، مطبع علمیہ لاہور ص۳
#12877 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
مختلف آئیں مگر عند التحقیق بتوفیق اللہ تعالی سب اسی معیار کے دائرے میں ہیں عبارات میں یہ ہیں :
(۱)قدوری لایجوز بما غلب علیہ غیرہ فاخرجہ عن طبع الماء کماء الباقلی والمرق وماء الزردج (وضو جائز نہیں ہے اس پانی سے جس پر کسی دوسری شے کا غلبہ ہوگیا ہو اور اس کو پانی کی طبیعت سے نکال دیا ہو جیسے باقلی کا پانی اور زدج کا پانی۔ ت)
(۲)بدایہ مثلہ وانما اخذ عنہ وان زاد بعض الامثلۃ (بدایہ میں اسی کی مثل ہے انہوں نے قدوری سے لیا ہے اگرچہ بعض مثالوں کا اضافہ کیا ہے۔ ت)
(۳)وقایہ ولابماء زال طبعہ بغلبۃ غیرہ اجزاء اوبالطبخ کماء الباقلی والمرق (وقایہ میں ہے اور نہ اس پانی سے جس پر غیر کا بصورت اجزاء یا پکانے کی وجہ سے غلبہ ہوگیا ہو جیسے باقلی کا پانی اور شوربہ۔ ت)
(۴)نقایہ یتوضو بماء السماء والارض وان اختلط بہ طاھر الا اذا اخرجہ عن طبع الماء اوغیرہ طبخا وھو ممالایقصد بہ النظافۃ (نقایہ میں ہے آسمان اور زمین کے پانی سے وضو کرے اگرچہ اس میں کوئی پاك چیز مل گئی ہو الا یہ کہ اس کو پانی کی طبیعت سے خارج کردیا ہویا پکنے کی وجہ سے اس کو پانی کی طبیعت سے خارج کردیا ہو اور وہ غیر چیز ایسی نہ ہو جس سے نظافت مطلوب ہوتی ہے۔ ت)
(۵ و ۶)کنزو وافی لابما تغیر بکثرۃ الاوراق اوبالطبخ اوغلب علیہ غیرہ اجزاء (کنزو وافی میں ہے اس پانی سے وضو جائز نہیں جو پتوں کی کثرت یا پکنے یا غلبہ اجزأ کی وجہ سے بدل گیا ہو۔ ت)
(۷)اصلاح لابماء زال طبعہ بغلبۃ غیرہ اجزاء اوتغیر بالطبخ معہ وھو مما لایقصد بہ النظافۃ (اصلاح میں ہے اس پانی سے وضو جائز نہیں جو اپنی طبیعت کھو بیٹھا ہو دوسرے کے اجزاء کے غلبہ سے یا پکنے کی وجہ سے اور وہ چیز ایسی ہو جس سے نظافت کا ارادہ نہ کیا جاتا ہو۔ ت)
حوالہ / References قدوری کتاب الطہارت مطبع مجتبائی کان پور ص۶
بدایۃ المبتدی
شرح الوقایۃ کتاب الطہارت مطبع رشیدیہ دہلی ۱ / ۸۵
جامع الرموز کتاب الطہارت مطبع الاسلامیہ گنبد ایران ۱ / ۴۵
کنزالدقائق میاہ الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۱
اصلاح
#12879 · فصل ثانی مطلق و مقید کی تعریف میں
(۸)ملتقی لابماء خرج عن طبعہ بکثرۃ الاوراق اوبغلبۃ غیرہ اوبالطبخ کماء الباقلاء والمرق (ملتقے میں ہے اس پانی سے وضو جائز نہیں جو پتوں کی کثرت یا غیر کے غلبہ یا پکانے کے سبب اپنی طبیعت کھو بیٹھا ہو جیسے باقلأ کا پانی اور شوربہ۔ ت)
(۹)غرر لابماء زال طبعہ بالطبخ کالمرق اوبغلبۃ غیرہ علیہ (غرر میں ہے جس پانی کی طبیعت زائل ہوچکی ہو اس سے وضو جائز نہیں خواہ پکنے کی وجہ سے یا غیر کے غلبہ کی وجہ سے۔ ت)
(۱۰)تنویر لابماء مغلوب بطاھر ولا بمازال طبعہ بطبخ کمرق (تنویر میں ہے جو پانی کسی پاك چیز کے ملنے سے مغلوب ہوچکا ہو یا پکنے سے طبیعت کھو چکا ہو اس سے وضو جائز نہیں ہے۔ ت)
(۱۱)نورالایضاح لابما زال طبعہ بالطبخ اوبغلبۃ غیرہ علیہ اھ(نورالایضاح میں ہے جس پانی کی طبیعت پکنے یا غیر کے غلبہ کی بنا پر زائل ہوچکی ہو اس سے وضو جائز نہیں۔ ت)
اقول : وترکنا ماذکر بعدہ من تلخیص الضابطۃ الزیلعیۃ فان(۱)وضع المتون لنقل المذھب دون الابحاث الحادثۃ۔
میں کہتا ہوں انہوں نے اس کے بعد جو ضابطہ زیلعیہ کی تلخیص ذکر کی ہے ہم نے اسے ترك کردیا ہے کیونکہ متون کو مذہب نقل کرنے کے لئے وضع کیا ہے نئی ابحاث کیلئے نہیں۔ (ت)
_____________________
حوالہ / References ملتقی الابحر تجوز الطہارت بالماء المطلق عامرہ مصر ۱ / ۲۸
غرر فرض الغسل دارالسعادۃ مصر ۱ / ۲۳
تنویر الابصار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴
نورالایضاح کتاب الطہارۃ علمیہ لاہور ص۳
#12881 · مآخذومراجع
مآخذومراجع
نام مصنف سن وفات ہجری
ا
۱۔ الاجزاء فی الحدیث عبدالرحمن بن عمربن محمد البغدادی المعروف بالنحاس ۴۱۶
۲۔ الاجناس فی الفروع ابوالعباس احمد بن محمد الناطفی الحنفی ۴۴۶
۳۔ الاختیارشرح المختار عبداللہ بن محمود (بن مودود) الحنفی ۶۸۳
۴۔ الادب المفرد للبخاری محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۔ ارشاد الساری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن محمد القسطلانی ۹۲۳
۶۔ ارشاد العقل السلیم ابوسعود محمد بن محمد العمادی ۹۵۱
۷۔ الارکان الاربع مولانا عبدالعلی بحرالعلوم ۱۲۲۵
۸۔ الاشباہ والنظائر شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۹۔ اشعۃ اللمعات شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۰۔ اصول البزدوی علی بن محمد البزدوی ۴۸۲
۱۱۔ الاصلاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا ۹۴۰
۱۲۔ آکام المرجان فی احکام الجان قاضی بدرالدین محمد بن عبداللہ الشبلی ۷۶۹
۱۳۔ انفع الوسائل قاضی برہان الدین ابراہیم بن علی الطرسوسی الحنفی ۷۵۸
۱۴۔ امداد الفتاح حسن بن عمار الشرنبلالی ۱۰۶۹
۱۵۔ انوارالائمۃ الشافعیہ امام یوسف الاردبیلی الشافعی ۷۹۹
۱۶۔ الایضاح للوقایۃ فی الفروع احمد بن سلیمان بن کمال باشا ۹۴۰
۱۷۔ امالی فی الحدیث عبدالملک بن محمد بن محمد بشران ۴۳۲
۱۸۔ الایجاز فی الحدیث احمد بن محمد المعروف بابن السنی ۳۶۴
۱۹۔ القاب الروات احمدبن عبدالرحمن الشیرازی ۴۰۷
#12882 · مآخذومراجع
ب
۲۰۔ بدائع الصنائع علاء الدین ابی بکربن مسعود الکاسانی ۵۸۷
۲۱۔ البدایۃ (بدایۃ المبتدی) علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۲۲۔ البحرالرائق شیخ زین الدین بن ابراہیم بابن نجیم ۹۷۰
۲۳۔ البرہان شرح مواہب الرحمان ابراہیم بن موسی الطرابلسی ۹۲۲
۲۴۔ بستان العارفین فقیہ ابواللیث نصربن محمد السمرقندی ۳۷۲
۲۵۔ البسیط فی الفروع حجۃ الاسلام محمد بن محمد الغزالی ۵۰۵
۲۶۔ البنایۃ شرح الہدایۃ امام بدرالدین ابومحمد العینی ۸۵۵
ت
۲۷۔ تاج العروس سیدمحمدمرتضی الزبیدی ۱۲۰۵
۲۸۔ تاریخ ابن عساکر علی بن الحسن الدمشقی بابن عساکر ۵۷۱
۲۹۔ تاریخ البخاری محمدبن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۳۰۔ التجنیس والمزید برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
۳۱۔ تحریرالاصول کمال الدین محمد بن عبدالواحدبن الہمام ۸۶۱
۳۲۔ تحفۃ الفقہاء امام علاء الدین محمد بن احمد السمرقندی ۵۴۰
۳۳۔ تحقیق الحسامی عبدالعزیز بن احمد البخاری ۷۳۰
۳۴۔ الترجیح والتصحیح علی القدوری علامہ قاسم بن قطلوبغاالحنفی ۸۷۹
۳۵۔ التعریفات لسیدشریف سید شریف علی بن محمد الجرجانی ۸۱۶
۳۶۔ تفسیر ابن جریر (جامع البیان) محمد بن جریر الطبری ۳۱۰
۳۷۔ تفسیر البیضاوی عبداللہ بن عمر البیضاوی ۶۹۱
۳۸۔ تفسیر الجلالین علامہ جلال الدین المحلی وجلال الدین السیوطی ۸۔ ۹۱۱
۳۹۔ تفسیر الجمل سلیمان بن عمرالعجیلی الشہیربالجمل ۱۲۰۴
۴۰۔ تفسیر القرطبی ابوعبداللہ محمد بن احمدالقرطبی ۶۷۱
۴۱۔ التفسیرالکبیر امام فخرالدین الرازی ۲۶
#12883 · مآخذومراجع
۴۲۔ التفسیر لنیشابوری نظام الدین الحسن بن محمد بن حسین النیشابوری ۷۲۸
۴۳۔ تقریب القریب ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۹۱۱
۴۴۔ التقریر والتحبیر محمد بن محمد ابن امیر الحاج الحلبی ۸۷۹
۴۵۔ التیسیر للمناوی عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۴۶۔ تبیین الحقائق فخرالدین عثمان بن علی الزیلعی ۷۴۳
۴۷۔ تقریب التہذیب شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۴۸۔ تنویرالمقیاس ابوطاہر محمد بن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۴۹۔ تنویرالابصار شمس الدین محمد بن عبداللہ بن احمد التمرتاشی ۱۰۰۴
۵۰۔ تعظیم الصلوۃ محمدبن نصرالمروزی ۲۹۴
۵۱۔ تاریخ بغداد ابوبکراحمد بن علی الخطیب البغدادی ۴۶۳
۵۲۔ التوشیح فی شرح الہدایۃ عمربن اسحق السراج الہندی ۷۷۳
ج
۵۳۔ جامع الترمذی ابوعیسی محمدبن عیسی الترمذی ۲۷۹
۵۴۔ جامع الرموز شمس الدین محمد الخراسانی ۹۶۲
۵۵۔ الجامع الصحیح للبخاری امام محمد بن اسمعیل البخاری ۲۵۶
۵۶۔ الجامع الصغیر فی الفقہ امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۵۷۔ الجامع الصحیح للمسلم مسلم بن حجاج القشیری ۲۶۱
۵۸۔ جامع الفقہ(جوامع الفقہ) ابونصراحمد بن محمد العتابی ۵۸۶
۵۹۔ جامع الفصولین شیخ بدرالدین محمود بن اسرائیل بابن قاضی ۸۲۳
۶۰۔ الجامع الکبیر ابی الحسن عبیداللہ بن حسین الکرخی ۳۴۰
۶۱۔ جواہرالاخلاطی برہان الدین ابراہیم بن ابوبکر الاخلاطی ۰
۶۲۔ الجواہرالزکیۃ احمد بن ترکی بن احمد المالکی ۹۸۹
۶۳۔ جواہرالفتاوی رکن الدین ابوبکر بن محمد بن ابی المفاخر ۵۶۵
۶۴۔ الجوہرۃ النیرۃ ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۶۵۔ الجرح والتعدیل فی رجال الحدیث یحیی بن معین البغدادی ۲۳۳
۶۶۔ الجامع الصغیرفی الحدیث علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی ۹۱۱
#12884 · مآخذومراجع
ح
۶۷۔ حاشیۃ علی الدرر محمدبن مصطفی ابوسعید الخادمی ۱۱۷۶
۶۸۔ حاشیۃ ابن شلبی علی التبیین احمدبن محمدالشلبی ۱۰۲۱
۶۹۔ حاشیۃ علی الدرر عبدالحلیم بن محمد الرومی ۱۰۱۳
۷۰۔ حاشیۃ علی الدرر لملاخسرو قاضی محمد بن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۷۱۔ حاشیۃ علی المقدمۃ العشماویۃ علامہ سفطی ۰
۷۲۔ الحاشیۃ لسعدی آفندی سعداللہ بن عیسی الآفندی ۹۴۵
۷۳۔ الحدیقۃ الندیۃ شرح طریقہ محمدیۃ عبدالغنی النابلسی ۱۱۴۳
۷۴۔ الحاوی القدسی قاضی جمال الدین احمدبن محمد نوح القابسی الحنفی ۶۰۰
۷۵۔ حصرالمسائل فی الفروع امام ابواللیث نصربن محمد السمرقندی الحنفی ۳۷۲
۷۶۔ حلیۃ الاولیاء ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبحانی ۴۳۰
۷۷۔ حلیۃ المجلی محمدبن محمد ابن امیر الحاج ۸۷۹
خ
۷۸۔ خزانۃ الروایات قاضی جکن الحنفی
۷۹۔ خزانۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۸۰۔ خزانۃ المفتین حسین بن محمد السمعانی السمیقانی ۷۴۰کے بعد
۸۱۔ خلاصۃ الدلائل حسام الدین علی بن احمد المکی الرازی ۵۹۸
۸۲۔ خلاصۃ الفتاوی طاہربن احمد عبدالرشید البخاری ۵۴۲
۸۳۔ خیرات الحسان شہاب الدین احمد بن حجرالمکی ۹۷۳
د
۸۴۔ الدرایۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۸۵۔ الدرر(دررالحکام) قاضی محمد بن فراموز ملاخسرو ۸۸۵
۸۶۔ الدرالمختار علاء الدین الحصکفی ۱۰۸۸
۸۷۔ الدرالنثیر علامہ جلال الدین عبدالرحمن السیوطی ۹۱۱
#12886 · مآخذومراجع
ذ
۸۸۔ ذخیرۃ العقبی یوسف بن جنید الجلبی(چلپی) ۹۰۵
۸۹۔ ذخیرۃ الفتاوی برہان الدین محمود بن احمد ۶۱۶
۹۰۔ ذم الغیبۃ عبداللہ بن محمد ابن ابی الدنیا القرشی ۲۸۱
ر
۹۱۔ الرحمانیۃ
۹۲۔ ردالمحتار محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۹۳۔ رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ ابوعبداللہ محمد بن عبدالرحمن الدمشقی ۷۸۱
۹۴۔ رغائب القرآن ابومروان عبدالملک بن حبیب السلمی(القرطبی) ۲۳۹
۹۵۔ رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء شیخ زین الدین بابن نجیم ۹۷۰
۹۶۔ ردعلی الجہمیۃ عثمان بن سعید الدارمی ۲۸۰
ز
۹۷۔ زادالفقہاء شیخ الاسلام محمد بن احمد الاسبیجابی المتوفی اواخرالقرن السادس
۹۸۔ زادالفقیر کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن الہمام ۸۶۱
۹۹۔ زواہرالجواہر محمدبن محمد التمرتاشی تقریبا ۱۰۱۶
۱۰۰۔ زیادات امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
س
۱۰۱۔ السراج الوہاج ابوبکربن علی بن محمد الحداد الیمنی ۸۰۰
۱۰۲۔ السنن لابن ماجۃ ابوعبداللہ محمد بن یزید ابن ماجۃ ۲۷۳
۱۰۳۔ السنن لابن منصور سعیدبن منصورالخراسانی ۲۷۳
۱۰۴۔ السنن لابی داؤد ابوداؤد سلیمان بن اشعث ۲۷۵
۱۰۵۔ السنن للنسائی ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی ۳۰۳
۱۰۶۔ السنن للبیہقی ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۸
#12888 · مآخذومراجع
۱۰۷۔ السنن لدارقطنی علی عمرالدارقطنی ۳۸۵
۱۰۸۔ السنن لدارمی عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی ۲۵۵
ش
۱۰۹۔ الشافی شمس الائمۃ عبداللہ بن محمود الکردری
۱۱۰۔ شرح الاربعین للنووی شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۱۱۱۔ شرح الاربعین للنووی ابراہیم ابن عطیہ المالکی ۱۱۰۶
۱۱۲۔ شرح الاربعین للنووی علامہ احمد بن الحجازی ۹۷۸
۱۱۳۔ شرح الاشباہ والنظائر ابراہیم بن حسین بن احمد بن محمد ابن البیری ۱۰۹۹
۱۱۴۔ شرح الجامع الصغیر امام قاضی خان حسین بن منصور ۵۹۲
۱۱۵۔ شرح الدرر شیخ اسمعیل بن عبدالغنی النابلسی ۱۰۶۲
۱۱۶۔ شرح سفرالسعادۃ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۱۱۷۔ شرح السنۃ حسین بن منصور البغوی ۵۱۶
۱۱۸۔ شرح شرعۃ الاسلام یعقوب بن سیدی علی زادہ ۹۳۱
۱۱۹۔ شرح مختصرالطحاوی للاسبیجابی ابونصراحمد بن منصورالحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۱۲۰۔ شرح الغریبین
۱۲۱۔ شرح المسلم للنووی شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۱۲۲۔ شرح معانی الآثار ابوجعفر احمد بن محمد الطحاوی ۳۲۱
۱۲۳۔ شرح المنظومۃ لابن وہبان عبدالبربن محمد ابن شحنۃ ۹۲۱
۱۲۴۔ شرح المنظومۃ فی رسم المفتی محمدامین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۱۲۵۔ شرح المنیۃ الصغیر شیخ محمدابراہیم الحلبی ۹۵۶
۱۲۶۔ شرح مواہب اللدنیۃ علامۃ محمد بن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۱۲۷۔ شرح مؤطاامام مالک علامۃ محمدبن عبدالباقی الزرقانی ۱۱۲۲
۱۲۸۔ شرح المہذب للنووی شیخ ابوزکریایحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۱۲۹۔ شرح النقایۃ مولانا عبدالعلی البرجندی ۹۳۲
۱۳۰۔ شرح الوقایۃ صدرالشریعۃ عبیداللہ بن مسعود ۷۴۷
#12889 · مآخذومراجع
۱۳۱۔ شرح الہدایۃ محمد بن محمدبن محمدابن شحنۃ ۸۹۰
۱۳۲۔ شرعۃ الاسلام امام الاسلام محمدبن ابی بکر ۵۷۳
۱۳۳۔ شعب الایمان ابوبکراحمد بن حسین بن علی البیہقی ۴۵۸
۱۳۴۔ شرح الجامع الصغیر احمدبن منصور الحنفی الاسبیجابی ۴۸۰
۱۳۵۔ شرح الجامع الصغیر عمربن عبدالعزیزالحنفی ۵۳۶
ص
۱۳۶۔ صحاح الجوہری اسمعیل بن حماد الجوہری ۳۹۳
۱۳۷۔ صحیح ابن حبان محمدبن حبان ۳۵۴
۱۳۸۔ صحیح ابن خزیمۃ محمدبن اسحاق ابن خزیمۃ ۳۱۱
۱۳۹۔ الصراح ابوفضل محمدبن عمربن خالدالقرشی تقریبا ۶۹۰
ط
۱۴۰۔ الطحطاوی علی الدر سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۱۴۱۔ الطحطاوی علی المراقی سیداحمدالطحطاوی ۱۳۰۲
۱۴۲۔ الطریقۃ المحمدیۃ محمدبن ببرعلی المروف ببرکلی ۹۸۱
۱۴۳۔ طلبۃ الطلبۃ نجم الدین عمربن محمدالنسفی ۵۳۷
ع
۱۴۴۔ عمدۃ القاری علامہ بدرالدین ابی محمد محمودبن احمد العینی ۸۵۵
۱۴۵۔ العنایۃ اکمل الدین محمدبن محمدالبابرتی ۷۸۶
۱۴۶۔ عنایۃ القاضی شہاب الدین الخفاجی ۱۰۶۹
۱۴۷۔ عیون المسائل ابواللیث نصربن محمدالسمرقندی ۳۷۸
۱۴۸۔ عقودالدریۃ محمدامین ابن عابدین لشامی ۱۲۵۲
۱۴۹۔ عدۃ کمال الدین محمدبن احمد الشہیر بطاشکبری ۱۰۳۰
۱۵۰۔
#12891 · مآخذومراجع
غ
۱۵۱۔ غایۃ البیان شیخ قوام الدین امیرکاتب ابن امیرالاتقانی ۷۵۸
۱۵۲۔ غررالاحکام قاضی محمدبن فراموزملاخسرو ۸۸۵
۱۵۳۔ غریب الحدیث ابوالحسن علی بن مغیرۃ البغدادی المعروف باثرم ۲۳۰
۱۵۴۔ غمزعیون البصائر احمدبن محمدالحموی المکی ۱۰۹۸
۱۵۵۔ غنیۃ ذوالاحکام حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۱۵۶۔ غنیۃ المستملی محمدابراہیم بن محمدالحلبی ۹۵۶
ف
۱۵۷۔ فتح الباری شرح البخاری شہاب الدین احمد بن علی ابن حجرالعسقلانی ۸۵۲
۱۵۸۔ فتح القدیر کمال الدین محمد بن عبدالواحدبابن الہمام ۸۶۱
۱۵۹۔ فتاوی النسفی امام نجم الدین النسفی ۵۳۷
۱۶۰۔ فتاوی بزازیۃ محمدبن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۱۶۱۔ فتاوی حجہ
۱۶۲۔ فتاوی خیریۃ علامہ خیرالدین بن احمد بن علی الرملی ۱۰۸۱
۱۶۳۔ فتاوی سراجیۃ سراج الدین علی بن عثمان الاوشی ۵۷۵
۱۶۴۔ فتاوی عطاء بن حمزہ عطاء بن حمزہ السغدی
۱۶۵۔ فتاوی غیاثیہ داؤدبن یوسف الخطیب الحنفی
۱۶۶۔ فتاوی قاضی خان حسن بن منصورقاضی خان ۵۹۲
۱۶۷۔ فتاوی ہندیہ جمعیت علماء اورنگ زیب عالمگیر
۱۶۸۔ فتاوی ظہیریۃ ظہیرالدین ابوبکر محمدبن احمد ۶۱۹
۱۶۹۔ فتاوی الولوالجیہ عبد الرشید بن ابی حنیفۃ الولوالجی ۵۴۰
۱۷۰۔ فتاوی الکبری امام صدرالشہید حسام الدین عمربن عبدالعزیز ۵۳۶
۱۷۱۔ فقہ الاکبر الامام الاعظم ابی حنیفۃ نعمان بن ثابت الکوفی ۱۵۰
۱۷۲۔ فتح المعین سیدمحمد ابی السعود الحنفی
#12892 · مآخذومراجع
۱۷۳۔ فتح المعین شرح قرۃ العین زین الدین بن علی بن احمد الشافعی ۹۲۸
۱۷۴۔ الفتوحات المکیۃ محی الدین محمد بن علی ابن عربی ۶۳۸
۱۷۵۔ فواتح الرحموت عبدالعلی محمد بن نظام الدین الکندی ۱۲۲۵
۱۷۶۔ الفوائد تمام بن محمد بن عبداللہ البجلی ۴۱۴
۱۷۷۔ فوائد المخصصۃ محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۱۷۸۔ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر عبدالرؤف المناوی ۱۰۳۱
۱۷۹۔ فوائدسمویۃ اسمعیل بن عبداللہ الملقب بسمویۃ ۲۶۷
ق
۱۸۰۔ القاموس محمدبن یعقوب الفیروزآبادی ۸۱۷
۱۸۱۔ قرۃ العین علامہ زین الدین بن علی الملیباری ۹۲۸
۱۸۲۔ القنیۃ نجم الدین مختاربن محمدالزاہدی ۶۵۸
۱۸۳۔ القرآن
ک
۱۸۴۔ الکافی فی الفروع حاکم شہید محمدبن محمد ۳۳۴
۱۸۵۔ الکامل لابن عدی ابواحمد عبداللہ بن عدی ۳۶۵
۱۸۶۔ الکبریت الاحمر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۱۸۷۔ کتاب الآثار امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۸۸۔ کتاب الآثار امام ابویوسف یعقوب بن ابراہیم الانصاری ۱۸۲
۱۸۹۔ کتاب الالمام فی آداب دخول الحمام ابوالمحاس محمدبن علی
۱۹۰۔ کتاب السواک ابونعیم احمدبن عبداللہ ۴۳۰
۱۹۱۔ کتاب الہدیۃ لابن عماد عبدالرحمن بن محمد عماد الدین بن محمدالعمادی ۱۰۵۰
۱۹۲۔ کتاب الطہور لابی عبید
۱۹۳۔ کتاب العلل علی ابواب الفقہ ابومحمدعبدالرحمن ابن ابی حاتم محمدالرازی ۳۲۷
۱۹۴۔ کتاب الاصل امام محمد بن حسن الشیبانی ۱۸۹
۱۹۵۔ کتاب الوسوسۃ ابوبکربن ابی داؤد
#12894 · مآخذومراجع
۱۹۶۔ کشف الاسرار علاء الدین عبدالعزیز بن احمدالبخاری ۷۳۰
۱۹۷۔ کشف الرمز علامۃ المقدسی
۱۹۸۔ کشف الاستارعن زوائدالبزار امین الدین عبدالوہاب بن وہبان الدمشقی ۷۶۸
۱۹۹۔ کنزالعمال علاء الدین علی المتقی بن حسام الدین ۹۷۵
۲۰۰۔ الکفایۃ جلال الدین بن شمس الدین الخوارزمی تقریبا ۸۰۰
۲۰۱۔ کف الرعاع شہاب الدین احمدبن حجرالمکی ۹۷۳
۲۰۲۔ کنزالدقائق عبداللہ بن احمدبن محمود ۷۱۰
۲۰۳۔ الکنی للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۲۰۴۔ الکواکب الدراری شمس الدین محمدبن یوسف الشافعی الکرمانی ۷۸۶
۲۰۵۔ کتاب الجرح والتعدیل محمدبن حبان التمیمی ۳۵۴
۲۰۶۔ کتاب المغازی یحیی بن سعید القطان ۱۹۸
۲۰۷۔ کتاب الصمت عبداللہ بن محمدابن ابی الدنیاالقرشی ۲۸۱
۲۰۸۔ کتاب الزہد عبداللہ بن مبارک ۱۸۰
۲۰۹۔ الکشاف عن حقائق التنزیل جاراللہ محمود بن عمرالزمحشری ۵۳۸
ل
۲۱۰۔ لمعات التنقیح علامہ شیخ عبدالحق المحدث الدہلوی ۱۰۵۲
۲۱۱۔ لقط المرجان فی اخبارالجان علامہ جلال الدین عبدالرحمن بن محمدالسیوطی ۹۱۱
م
۲۱۲۔ مبارق الازہار الشیخ عبداللطیف بن عبدالعزیز ابن الملک ۸۰۱
۲۱۳۔ مبسوط خواہرزادہ بکرخواہرزادہ محمد بن حسن البخاری الحنفی ۴۸۳
۲۱۴۔ مبسوط السرخسی شمس الائمۃ محمد بن احمد السرخسی ۴۸۳
۲۱۵۔ مجری الانہر شرح ملتقی الابحر نورالدین علی الباقانی تقریبا ۹۹۵
۲۱۶۔ مجمع بحارالانوار محمدطاہرالصدیقی ۹۸۱
۲۱۷۔ مجموع النوازل احمدبن موسی بن عیسی ۵۵۰
۲۱۸۔ مجمع الانہر الشیخ عبداللہ بن محمد بن سلیمان المعروف بدامادآفندی ۱۰۷۸
#12895 · مآخذومراجع
۲۱۹۔ المحیط البرہانی امام برہان الدین محمود بن تاج الدین ۶۱۶
۲۲۰۔ المحیط الرضوی رضی الدین محمد بن محمد السرخسی ۶۷۱
۲۲۱۔ مختارات النوازل برہان الدین علی بن ابی بکرالمرغینانی ۵۹۳
۲۲۲۔ مختارالصحاح محمدبن ابی بکر عبدالقادرالرازی ۶۶۰
۲۲۳۔ المختارۃ فی الحدیث ضیاء الدین محمد بن عبدالواحد ۶۴۳
۲۲۴۔ المختصر علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۲۲۵۔ مدخل الشرع الشریف ابن الحاج ابی عبداللہ محمد بن محمد العبدری ۷۳۷
۲۲۶۔ مراقی الفلاح بامدادالفتاح شرح نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۲۲۷۔ مرقات شرح مشکوۃ علی بن سلطان ملاعلی قاری ۱۰۱۴
۲۲۸۔ مرقات الصعود علامہ جلال الدین السیوطی ۹۱۱
۲۲۹۔ مستخلص الحقائق ابراہیم بن محمد الحنفی
۲۳۰۔ المستدرک للحاکم ابوعبداللہ الحاکم ۴۰۵
۲۳۱۔ المستصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمد النسفی ۷۱۰
۲۳۲۔ مسلم الثبوت محباللہالبہاری ۱۱۱۹
۲۳۳۔ مسند ابی داؤد سلیمان بن داؤد الطیالسی ۲۰۴
۲۳۴۔ مسند ابی یعلی احمد بن علی الموصلی ۳۰۷
۲۳۵۔ مسند اسحق ابن راہویۃ حافظ اسحق ابن راہویۃ ۲۳۸
۲۳۶۔ مسند الامام احمد بن حنبل امام احمد بن محمد بن حنبل ۲۴۱
۲۳۷۔ مسندالبزار ابوبکراحمد بن عمروبن عبدالخالق البزار ۲۹۲
۲۳۸۔ مسند عبدبن حمید ابومحمد عبدبن محمد حمید الکشی ۲۹۴
۲۳۹۔ مسند الفردوس شہرداربن شیرویہ الدیلمی ۵۵۸
۲۴۰۔ مصباح المنیر احمد بن محمدبن علی ۷۷۰
۲۴۱۔ المصفی حافظ الدین عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۲۴۲۔ مصنف ابن ابی شیبۃ ابوبکرعبداللہ بن محمداحمدالنسفی ۲۳۵
۲۴۳۔ مصنف عبدالرزاق ابوبکرعبدالرزاق بن ہمام الصنعانی ۲۱۱
۲۴۴۔ مصباح الدجی امام حسن بن محمد الصغانی الہندی ۶۵۰
#12897 · مآخذومراجع
۲۴۵۔ معرفۃ الصحابۃ ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبہانی ۴۳۰
۲۴۶۔ المعجم الاوسط سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۲۴۷۔ المعجم الصغیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۲۴۸۔ المعجم الکبیر سلیمان بن احمد الطبرانی ۳۶۰
۲۴۹۔ معراج الدرایۃ قوام الدین محمد بن محمد البخاری ۷۴۹
۲۵۰۔ مشکوۃ المصابیح شیخ ولی الدین العراقی ۷۴۲
۲۵۱۔ المغنی فی الاصول شیخ عمربن محمدالخبازی الحنفی ۶۹۱
۲۵۲۔ المغرب ابوالفتح ناصربن عبدالسید المطرزی ۶۱۰
۲۵۳۔ مختصرالقدوری ابوالحسین احمد بن محمد القدوری الحنفی ۴۲۸
۲۵۴۔ مفاتیح الجنان یعقوب بن سیدی علی ۹۳۱
۲۵۵۔ المفردات للامام راغب حسین بن محمد بن مفضل الاصفہانی ۵۰۲
۲۵۶۔ المقدمۃ العشماویۃ ابوالعباس عبدالباری العشماوی المالکی
۲۵۷۔ الملتقط(فی فتاوی ناصری) ناصرالدین محمد بن یوسف الحسینی ۵۵۶
۲۵۸۔ مجمع الزوائد نورالدین علی بن ابی بکرالہیتمی ۸۰۷
۲۵۹۔ مناقب الکردری محمد بن محمدبن شہاب ابن بزاز ۸۲۷
۲۶۰۔ المنتقی(فی الحدیث) عبداللہ بن علی ابن جارود ۳۰۷
۲۶۱۔ المنتقی فی فروع الحنیفہ الحاکم الشہیرمحمدبن محمدبن احمد ۳۳۴
۲۶۲۔ منحۃ الخالق محمد امین ابن عابدین الشامی ۱۲۵۲
۲۶۳۔ منح الغفار محمد بن عبداللہ التمرتاشی ۱۰۰۴
۲۶۴۔ ملتقی الابحر امام ابراہیم بن محمد الحلبی ۹۵۶
۲۶۵۔ منہاج شیخ ابوزکریا یحیی بن شرف النووی ۶۷۶
۲۶۶۔ مجمع البحرین مظفرالدین احمدبن علی بن ثعلب الحنفی ۶۹۴
۲۶۷۔ المبتغی شیخ عیسی بن محمد ابن ایناج الحنفی
۲۶۸۔ المبسوط عبدالعزی بن احمد الحلوانی ۴۵۶
۲۶۹۔ مسند فی الحدیث الحافظ ابوالفتح نصربن ابراہیم الہروی ۵۱۰
#12898 · مآخذومراجع
۲۷۰۔ المسند الکبیر یعقوب بن شیبۃ السدوسی ۲۶۲
۲۷۱۔ منیۃ المصلی سدید الدین محمد بن محمد الکاشغری ۷۰۵
۲۷۲۔ موطاامام مالک امام مالک بن انس المدنی ۱۷۹
۲۷۳۔ مواردالظمأن نورالدین علی بن ابی بکرالہیثمی ۸۰۷
۲۷۴۔ مشکلات احمدبن مظفرالرازی ۶۴۲
۲۷۵۔ مہذب ابی اسحق ابن محمد الشافعی ۴۷۶
۲۷۶۔ میزان الشریعۃ الکبری عبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۲۷۷۔ میزان الاعتدال محمدبن احمدالذہبی ۷۴۸
۲۷۸۔ المستخرج علی الصحیح البخاری احمدبن موسی ابن مردویۃ ۴۱۰
۲۷۹۔ مکارم اخلاق محمدبن جعفر الخرائطی ۳۲۷
ن
۲۸۰۔ النقایۃ مختصرالوقایۃ عبداللہ بن مسعود ۷۴۵
۲۸۱۔ نصب الرایۃ ابومحمد عبداللہ بن یوسف الحنفی الزیلعی ۷۶۲
۲۸۲۔ نورالایضاح حسن بن عماربن علی الشرنبلالی ۱۰۶۹
۲۸۳۔ النہایۃ حسام الدین حسین بن علی السغناقی ۷۱۱
۲۸۴۔ النہایۃ لابن اثیر مجدالدین مبارک بن محمدالجزری ابن اثیر ۶۰۶
۲۸۵۔ النہرالفائق عمربن نجیم المصری ۱۰۰۵
۲۸۶۔ نوادرفی الفقہ ہشام بن عبیداللہ المازنی الحنفی ۲۰۱
۲۸۷۔ نورالعین محمدبن احمدالمعروف بنشانجی زادہ ۱۰۳۱
۲۸۸۔ النوازل فی الفروع ابواللیث نصربن محمدبن ابراہیم السمرقندی ۳۷۶
۲۸۹۔ نوادرالاصول فی معرفۃ اخبارالرسول ابوعبداللہ محمدبن علی الحکیم الترمذی ۲۵۵
#12899 · مآخذومراجع
۲۹۰۔ الوافی فی الفروع عبداللہ بن احمدالنسفی ۷۱۰
۲۹۱۔ الوجیزفی الفروع ابوحامد محمدبن محمدالغزالی ۵۰۵
۲۹۲۔ الوقایۃ محمودبن صدرالشریعۃ ۶۷۳
۲۹۳۔ الوسیط فی الفروع ابی حامد محمد بن محمدالغزالی ۵۰۵
ھ
۲۹۴۔ الہدایۃ فی شرح البدایۃ برہان الدین علی بن ابی بکر المرغینانی ۵۹۳
ی
۲۹۵۔ الیواقیت والجواہر سیدعبدالوہاب الشعرانی ۹۷۳
۲۹۶۔ ینابیع فی معرفۃ الاصول ابی عبداللہ محمدابن رمضان الرومی ۷۶۹
__________________
Scroll to Top