بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
پیش لفظ
چند سال قبل محسن اہلسنت مفتی اعظم پاکستان ناظم اعلی تنظیم المدارس (اہلسنت) شیخ الحدیث حضرت علامہ مفتی محمدعبدالقیوم ہزاروی قدس سرہ العزیز کی سرپرستی اور نگرانی میں فتاوی رضویہ کی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اشاعت کا جو عظیم منصوبہ رضافاؤنڈیشن کے نام سے شروع کیاگیاتھا بفضلہ تعالی پوری آب وتاب کے ساتھ اپنی ارتقائی منازل طے کررہاہے اب تک فتاوی رضویہ کی کتاب الطھارۃ (مکمل) چارجلدوں میں زیور طباعت سے مزین ہوکر منظر عام پرآچکی ہے۔ کتاب الطھارت بارہ۱۲ قدیم مجلدات میں سے جلد اول مکمل اور جلددوم کے تقریبا ڈیڑھ سو۱۵۰ صفحات پرپھیلی ہوئی تھی۔
فتاوی رضویہکتاب الطھارۃ پر ایک نظر
عام طور پرفقہ وفتاوی کی کتابوں میں کتاب الطہارت کے تحت مندرجہ ذیل ابواب سے متعلق مسائل مندرج ہوتے ہیں :
(۱) وضو (۲) نواقض وضو (۳) غسل (۴) پانیوں کابیان (۵) کنویں کابیان (۶) تیمم (۷) مسح خفین (۸) حیض (۹)انجاس
(۱۰) استنجاء۔
لیکن فتاوی رضویہ کاانداز واسلوب کتب فتاوی میں منفرداورممتاز ہے۔
اس عظیم فقہی وعلمی شاہکار میں کتاب الطہارۃ کے تحت مذکورۃ الصدر دس۱۰ ابواب سے متعلق مسائل کے علاوہ مندرجہ ذیل بیالیس۴۲ ابواب سے متعلق بھی ضمنا ہزاروں مسائل مذکورہیں : ۱نماز ۲احکام مسجد ۳جنائز ۴زکوۃ ۵روزہ ۶حج ۷نکاح ۸طلاق ۹عتق ۱۰قسم ۱۱حدود ۱۲سیر ۱۳شرکت ۱۴وقف ۱۵بیوع ۱۶شہادت ۱۷وکالت ۱۸دعوی ۱۹ہبہ ۲۰اجارہ ۲۱حجر ۲۲غصب ۲۳قسمت ۲۴شکاروذبیحہ وقربانی ۲۵ حظرو اباحت ۲۶احیاء موات ۲۷شرب ۲۸دیت ۲۹مداینات ۳۰وصی ۳۱فرائض ۳۲فوائدفقہیہ ۳۳رسم المفتی ۳۴عقائد ۳۵کلام ۳۶ردمذہباں ۳۷فوائدحدیثیہ ۳۸اسماء الرجال ۳۹فضائل ومناقب ۴۰فوائد اصولیہ ۴۱طبعیات ۴۲ہندسہ وریاضی۔ فتاوی رضویہ کی کتاب الطہارۃ ۲۴۶استفتاء ات کے جوابات اقول اور قلت وغیرہ کے عنوان سے ۳۶۴۱ تحقیقات
پیش لفظ
چند سال قبل محسن اہلسنت مفتی اعظم پاکستان ناظم اعلی تنظیم المدارس (اہلسنت) شیخ الحدیث حضرت علامہ مفتی محمدعبدالقیوم ہزاروی قدس سرہ العزیز کی سرپرستی اور نگرانی میں فتاوی رضویہ کی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اشاعت کا جو عظیم منصوبہ رضافاؤنڈیشن کے نام سے شروع کیاگیاتھا بفضلہ تعالی پوری آب وتاب کے ساتھ اپنی ارتقائی منازل طے کررہاہے اب تک فتاوی رضویہ کی کتاب الطھارۃ (مکمل) چارجلدوں میں زیور طباعت سے مزین ہوکر منظر عام پرآچکی ہے۔ کتاب الطھارت بارہ۱۲ قدیم مجلدات میں سے جلد اول مکمل اور جلددوم کے تقریبا ڈیڑھ سو۱۵۰ صفحات پرپھیلی ہوئی تھی۔
فتاوی رضویہکتاب الطھارۃ پر ایک نظر
عام طور پرفقہ وفتاوی کی کتابوں میں کتاب الطہارت کے تحت مندرجہ ذیل ابواب سے متعلق مسائل مندرج ہوتے ہیں :
(۱) وضو (۲) نواقض وضو (۳) غسل (۴) پانیوں کابیان (۵) کنویں کابیان (۶) تیمم (۷) مسح خفین (۸) حیض (۹)انجاس
(۱۰) استنجاء۔
لیکن فتاوی رضویہ کاانداز واسلوب کتب فتاوی میں منفرداورممتاز ہے۔
اس عظیم فقہی وعلمی شاہکار میں کتاب الطہارۃ کے تحت مذکورۃ الصدر دس۱۰ ابواب سے متعلق مسائل کے علاوہ مندرجہ ذیل بیالیس۴۲ ابواب سے متعلق بھی ضمنا ہزاروں مسائل مذکورہیں : ۱نماز ۲احکام مسجد ۳جنائز ۴زکوۃ ۵روزہ ۶حج ۷نکاح ۸طلاق ۹عتق ۱۰قسم ۱۱حدود ۱۲سیر ۱۳شرکت ۱۴وقف ۱۵بیوع ۱۶شہادت ۱۷وکالت ۱۸دعوی ۱۹ہبہ ۲۰اجارہ ۲۱حجر ۲۲غصب ۲۳قسمت ۲۴شکاروذبیحہ وقربانی ۲۵ حظرو اباحت ۲۶احیاء موات ۲۷شرب ۲۸دیت ۲۹مداینات ۳۰وصی ۳۱فرائض ۳۲فوائدفقہیہ ۳۳رسم المفتی ۳۴عقائد ۳۵کلام ۳۶ردمذہباں ۳۷فوائدحدیثیہ ۳۸اسماء الرجال ۳۹فضائل ومناقب ۴۰فوائد اصولیہ ۴۱طبعیات ۴۲ہندسہ وریاضی۔ فتاوی رضویہ کی کتاب الطہارۃ ۲۴۶استفتاء ات کے جوابات اقول اور قلت وغیرہ کے عنوان سے ۳۶۴۱ تحقیقات
وتدقیقات مصنفرحمۃ اللہ تعالی علیہ ۱۹۴۵ معروضات وتطفلات اور ۳۰ رسائل پرمشتمل ہے جن میں سے ایک رسالہ “ باب العقائد والکلام “ جو جلداول قدیم کے صفحہ ۷۳۵ تا ۷۴۹ پرتھا کتاب الطھارۃ سے خارج کردیاگیاہے جدید ایڈیشن میں اسے عقائدو کلام والی
جلد میں شامل کیاجائے گا۔
فتاوی رضویہ جلدچہارم
پیش نظر جلد جلد اول قدیم کے صفحہ ۷۴۹ رسالہ “ قوانین العلماء فی متیمم علم عندزیدماء “ سے آخر یعنی صفحہ ۸۴۹ تک اور جلددوم قدیم کے شروع سے صفحہ ۱۴۵ یعنی کتاب الطہارۃ کے آخر تک ہے۔ یہ جلد ۱۳۲ سوالوں کے جوابات اقول اور قلت کے عنوان سے ۴۹۵ تحقیقی نکات ۱۴۵ تطفلات ومعروضات اور انتہائی نفیس ودقیق مباحث جلیلہ کے حامل مندرجہ ذیل پانچ عظیم الشان رسائل
پرمشتمل ہے
(۱) قوانین العلماء فی متیمم علم عند زید ماء۔
اس تیمم کرنے والے کاحکم جس کو علم ہوکہ دوسرے کے پاس پانی ہے۔
(۲) الطلبۃ البدیعۃ فی قول صدر الشریعۃ۔
امام صدرالشریعۃ صاحب شرح وقایہ کی ایک عبارت پرمحققانہ بحث
(۳) مجلی الشمعۃ لجامع حدث ولمعۃ۔
جنابت وحدث دونوں کے جمع ہونے کی ۹۸ صورتوں کابیان۔
(۴) سلب الثلب عن القائلین بطہارۃ الکلب۔
کتے کے نجس ہونے کابیان۔
(۵) الاحلی من السکر لطلبۃ سکر روسر۔
جانوروں کی ہڈیوں سے صاف کردہ چینی کابیان۔
اس جلد میں متعدد ضمنی مسائل کے علاوہ پانچ مستقل ابواب پرتفصیل سے بحث کی گئی ہے :
(۱) تیمم (اس کی بحث جلدسوم کے صفحہ ۲۹۷ سے چلی آرہی ہے)
(۲) مسح خفین (موزوں پرمسح کابیان)
(۳) حیض (حائضہ عورت کے احکام کابیان)
(۴) انجاس (نجاستوں کابیان)
(۵) استنجاء (استنجاء کرنے کا مشروع طریقہ)
جلد میں شامل کیاجائے گا۔
فتاوی رضویہ جلدچہارم
پیش نظر جلد جلد اول قدیم کے صفحہ ۷۴۹ رسالہ “ قوانین العلماء فی متیمم علم عندزیدماء “ سے آخر یعنی صفحہ ۸۴۹ تک اور جلددوم قدیم کے شروع سے صفحہ ۱۴۵ یعنی کتاب الطہارۃ کے آخر تک ہے۔ یہ جلد ۱۳۲ سوالوں کے جوابات اقول اور قلت کے عنوان سے ۴۹۵ تحقیقی نکات ۱۴۵ تطفلات ومعروضات اور انتہائی نفیس ودقیق مباحث جلیلہ کے حامل مندرجہ ذیل پانچ عظیم الشان رسائل
پرمشتمل ہے
(۱) قوانین العلماء فی متیمم علم عند زید ماء۔
اس تیمم کرنے والے کاحکم جس کو علم ہوکہ دوسرے کے پاس پانی ہے۔
(۲) الطلبۃ البدیعۃ فی قول صدر الشریعۃ۔
امام صدرالشریعۃ صاحب شرح وقایہ کی ایک عبارت پرمحققانہ بحث
(۳) مجلی الشمعۃ لجامع حدث ولمعۃ۔
جنابت وحدث دونوں کے جمع ہونے کی ۹۸ صورتوں کابیان۔
(۴) سلب الثلب عن القائلین بطہارۃ الکلب۔
کتے کے نجس ہونے کابیان۔
(۵) الاحلی من السکر لطلبۃ سکر روسر۔
جانوروں کی ہڈیوں سے صاف کردہ چینی کابیان۔
اس جلد میں متعدد ضمنی مسائل کے علاوہ پانچ مستقل ابواب پرتفصیل سے بحث کی گئی ہے :
(۱) تیمم (اس کی بحث جلدسوم کے صفحہ ۲۹۷ سے چلی آرہی ہے)
(۲) مسح خفین (موزوں پرمسح کابیان)
(۳) حیض (حائضہ عورت کے احکام کابیان)
(۴) انجاس (نجاستوں کابیان)
(۵) استنجاء (استنجاء کرنے کا مشروع طریقہ)
فوائدجلیلہ
فتاوی رضویہ جلداول قدیم کے حاشیہ پراعلحضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے مختلف فقہی کلامی اخلاقی اصلاحی معاشرتی اور معاملاتی ابواب سے متعلق متعدد مستقل مسائل ذکرفرمائے جن میں سے بعض کی طرف کتاب کے اندر اشارہ موجود ہوتاہے اور بعض بالکل مستقل حیثیت میں کتاب سے علاوہ فائدے کے طور پر مذکور ہیں جن کاذکر فہرست میں ہے لیکن وہ کتاب کے اندرموجود نہیں بلکہ حاشیہ پرموجود ہیں۔ نئی طباعت میں چونکہ صرف متن کتاب یا اس سے متعلق حواشی ہی دئیے گئے ہیں حاشیہ پر موجود مستقل مسائل نہیں دیئے گئے لہذا ان کی علیحدہ کتابت کرواکے “ فوائدجلیلہ “ کے نام سے مستقل رسالہ کی صورت میں پیش نظرجلد کے آخر میں لگادئیے گئے ہیں جن کی ترتیب وتبویب کافریضہ حضرت قبلہ مفتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے حکم پر راقم نے سرانجام دیاہے۔ ان فوائد کی مجموعی تعداد ۱۱۳۸ ہے۔ قارئین کی سہولت کیلئے ہرمسئلہ کے آخر میں پرانی جلد اول مطبوعہ رضااکیڈمی بمبئی کاصفحہ اور فائدہ نمبربھی درج کردیاگیاہے۔ ان فوائدجلیلہ کو نقل کرنے میں مولانا حافظ محمدسلیمان سعیدی اور مولانا محمد یونس نے بھرپور تعاون فرمایا۔
ا س جلد میں شامل جلداول (قدیم)کی عربی عبارات کاترجمہ بھی محقق جلیل حضرت علامہ محمد احمد مصباحی دامت برکاتہم القدسیہ شیخ الادب دارالعلوم جامعہ اشرفیہ مبارکپور ہندوستان نے فرمایا جن کامختصر تعارف جلدسوم کے پیش لفظ میں گزرچکاہے جبکہ جلددوم(قدیم)کے ۱۴۵ صفحات کی عربی عبارات کے ترجمہ کے فرائض فاضل شہیر سابق مشیر وفاقی شرعی عدالت پاکستان حضرت علامہ محمدصدیق ہزاروی مدرس دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور زیدمجدہ نے سرانجام دئیے ہیں۔ مولانا ہزاروی کاشمار سریع القلم اور کثیرالتصانیف فضلاء میں ہوتاہے اب تک متعدد کتب کے تراجم وتلخیصات کے علاوہ بیسیوں مستقل تصانیف تحریر فرماچکے ہیں۔ اخبارات ورسائل میں آپ کے بہت سے تحقیقی مضامین شائع ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی
جاری ہے۔ اللہ تبارک وتعالی حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کوعمر خضر عطافرمائے اور ان کی سرپرستی میں فتاوی رضویہ شریفہ کو نافع عام بنانے کیلئے اس عظیم اشاعتی منصوبے کوپایہ تکمیل تک پہنچائے۔ آمین!
o حافظ محمدعبدالستار سعیدی
ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۱۱جمادی الاولی ۱۴۱۳ھ / ۷نومبر ۱۹۹۲ء
فتاوی رضویہ جلداول قدیم کے حاشیہ پراعلحضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے مختلف فقہی کلامی اخلاقی اصلاحی معاشرتی اور معاملاتی ابواب سے متعلق متعدد مستقل مسائل ذکرفرمائے جن میں سے بعض کی طرف کتاب کے اندر اشارہ موجود ہوتاہے اور بعض بالکل مستقل حیثیت میں کتاب سے علاوہ فائدے کے طور پر مذکور ہیں جن کاذکر فہرست میں ہے لیکن وہ کتاب کے اندرموجود نہیں بلکہ حاشیہ پرموجود ہیں۔ نئی طباعت میں چونکہ صرف متن کتاب یا اس سے متعلق حواشی ہی دئیے گئے ہیں حاشیہ پر موجود مستقل مسائل نہیں دیئے گئے لہذا ان کی علیحدہ کتابت کرواکے “ فوائدجلیلہ “ کے نام سے مستقل رسالہ کی صورت میں پیش نظرجلد کے آخر میں لگادئیے گئے ہیں جن کی ترتیب وتبویب کافریضہ حضرت قبلہ مفتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے حکم پر راقم نے سرانجام دیاہے۔ ان فوائد کی مجموعی تعداد ۱۱۳۸ ہے۔ قارئین کی سہولت کیلئے ہرمسئلہ کے آخر میں پرانی جلد اول مطبوعہ رضااکیڈمی بمبئی کاصفحہ اور فائدہ نمبربھی درج کردیاگیاہے۔ ان فوائدجلیلہ کو نقل کرنے میں مولانا حافظ محمدسلیمان سعیدی اور مولانا محمد یونس نے بھرپور تعاون فرمایا۔
ا س جلد میں شامل جلداول (قدیم)کی عربی عبارات کاترجمہ بھی محقق جلیل حضرت علامہ محمد احمد مصباحی دامت برکاتہم القدسیہ شیخ الادب دارالعلوم جامعہ اشرفیہ مبارکپور ہندوستان نے فرمایا جن کامختصر تعارف جلدسوم کے پیش لفظ میں گزرچکاہے جبکہ جلددوم(قدیم)کے ۱۴۵ صفحات کی عربی عبارات کے ترجمہ کے فرائض فاضل شہیر سابق مشیر وفاقی شرعی عدالت پاکستان حضرت علامہ محمدصدیق ہزاروی مدرس دارالعلوم جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور زیدمجدہ نے سرانجام دئیے ہیں۔ مولانا ہزاروی کاشمار سریع القلم اور کثیرالتصانیف فضلاء میں ہوتاہے اب تک متعدد کتب کے تراجم وتلخیصات کے علاوہ بیسیوں مستقل تصانیف تحریر فرماچکے ہیں۔ اخبارات ورسائل میں آپ کے بہت سے تحقیقی مضامین شائع ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی
جاری ہے۔ اللہ تبارک وتعالی حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کوعمر خضر عطافرمائے اور ان کی سرپرستی میں فتاوی رضویہ شریفہ کو نافع عام بنانے کیلئے اس عظیم اشاعتی منصوبے کوپایہ تکمیل تک پہنچائے۔ آمین!
o حافظ محمدعبدالستار سعیدی
ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
۱۱جمادی الاولی ۱۴۱۳ھ / ۷نومبر ۱۹۹۲ء
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
رسالہ
قوانین العلماء فی متیمم عــــہ علم عند زید ماء ۱۳۳۵ھ
علماء کے قوانین اس تیمم کرنے والے کے بارے میں جسے معلوم ہوا کہ زید کے پاس پانی ہے (ت)
شرح تعریف رضوی کے افادہ پنجم میں ضمنا اس مسئلہ کا ذکر آیا کہ اگر دوسرے کے پاس پانی پایا اور نہ مانگا اور تیمم سے پڑھ لی پھر مانگا اور اس نے دے دیا تو نماز نہ ہوئی نہ دیا تو ہوگئی۔ اس مسئلہ کی تفصیل وتحقیق وہاں لکھی کہ بجائے خود ایك رسالہ ہوگئی طول کے سبب اسے وہاں سے جدا کیا اور رسالہ کا حوالہ دیا۔ یہ وہ رسالہ ہے وبالله التوفیق۔
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدلله الذی ارسل من بحرنداہ٭ ماء ھداہ٭ مع مصطفاہ٭فاعطانا بلا سؤال٭وطھرنا بہ من دنس
تمام تعریف خدا کیلئے جس نے اپنے بحر سخا سے آب ہدی اپنے مصطفی کے ساتھ بھیجا تو ہمیں بے مانگے عطا کیا اور اس سے ہمیں گمراہی کے میل سے
عــــہ : اقول : جوتیمم سے ہو اور جوتیمم کرنا چاہتا ہومتیمم دونوں پر صادق ہے اور ان مسائل میں دونوں کا ذکر ہے پھر علم کہا رأی نہ کہا کماقالوا کہ علم شرط ہے دیکھنا ضرور نہیں جیسے پانی اس سے آڑ میں ہے یا یہ اندھا ہے اور اسے علم آیا کہ دوسرے کے پاس پانی ہے اور زید کہا رفیق نہ کہا کماقالوا کہ رفیق ہونا کچھ شرط نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
رسالہ
قوانین العلماء فی متیمم عــــہ علم عند زید ماء ۱۳۳۵ھ
علماء کے قوانین اس تیمم کرنے والے کے بارے میں جسے معلوم ہوا کہ زید کے پاس پانی ہے (ت)
شرح تعریف رضوی کے افادہ پنجم میں ضمنا اس مسئلہ کا ذکر آیا کہ اگر دوسرے کے پاس پانی پایا اور نہ مانگا اور تیمم سے پڑھ لی پھر مانگا اور اس نے دے دیا تو نماز نہ ہوئی نہ دیا تو ہوگئی۔ اس مسئلہ کی تفصیل وتحقیق وہاں لکھی کہ بجائے خود ایك رسالہ ہوگئی طول کے سبب اسے وہاں سے جدا کیا اور رسالہ کا حوالہ دیا۔ یہ وہ رسالہ ہے وبالله التوفیق۔
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدلله الذی ارسل من بحرنداہ٭ ماء ھداہ٭ مع مصطفاہ٭فاعطانا بلا سؤال٭وطھرنا بہ من دنس
تمام تعریف خدا کیلئے جس نے اپنے بحر سخا سے آب ہدی اپنے مصطفی کے ساتھ بھیجا تو ہمیں بے مانگے عطا کیا اور اس سے ہمیں گمراہی کے میل سے
عــــہ : اقول : جوتیمم سے ہو اور جوتیمم کرنا چاہتا ہومتیمم دونوں پر صادق ہے اور ان مسائل میں دونوں کا ذکر ہے پھر علم کہا رأی نہ کہا کماقالوا کہ علم شرط ہے دیکھنا ضرور نہیں جیسے پانی اس سے آڑ میں ہے یا یہ اندھا ہے اور اسے علم آیا کہ دوسرے کے پاس پانی ہے اور زید کہا رفیق نہ کہا کماقالوا کہ رفیق ہونا کچھ شرط نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
الضلال٭ صلی الله تعالی علیہ وسلم٭وبارك وشرف ومجدوکرم٭علی التوالی والتواتر والاتصال٭الی ابد الاباد من ازل الازال٭وعلی الہ وصحبہ خیرصحب وال٭
پاك کیا۔ خدائے برتر ان پر درود وسلام نازل فرمائے اور برکت وشرافت بزرگی وکرامت بخشے۔ پے بہ پے لگاتار اور پیہم ابدوں کے ابد تک ازلوں کے ازل سے۔ اور ان کی آل واصحاب پر جو بہتر آل واصحاب ہیں۔ (ت)
متیمم کہ دوسرے کے پاس پانی پائے یہ مسئلہ بہت معرکۃ الآراء وطویلۃ الاذیال ہے اکثر کتب میں اس کے بعض جزئیات مذکور ہیں امام صدر الشریعۃ نے شرح وقایہ پھر محقق ابراہیم حلبی نے غنیہ شرح منیہ میں پھر محقق زین العابدین نے بحرالرائق میں رحمھم الله تعالی ورحمنا بھم (خدائے برتر ان پر رحمت فرمائے اور ان کی برکت سے ہم پر رحمت فرمائے۔ ت) اس کیلئے قوانین کلیہ وضع فرمانا چاہے کہ جمیع شقوق کو حاوی ہوں۔ فقیراولا چند مسائل ذکر کرے جن کا لحاظ ہر ضابطہ میں ضروری ہے وہی اپنے اختلافات پر مادہ ہر ضابطہ ہیں پھر قوانین علماء اور مالہا وما علیہا پھر وہ جو فیض قدیرسے قلب فقیرپر فائض ہوا ولله الحمد والله المستعان وعلیہ التکلان (اور خدا ہی کیلئے ساری حمد ہے اور خدا ہی مستعان ہے اور اسی پر بھروسہ ہے۔ ت)
۱ مسئلہ۱ : اگر دوسرے کے پاس اتنا پانی ہونا کہ اس کی طہارت کو کافی اور اس کی حاجت سے زائد ہو معلوم نہ تھا اور تیمم کرکے نماز پڑھ لی نماز کے بعد معلوم ہوا تو نماز پر اس کا کچھ اثر نہیں نماز ہوگئی اگرچہ بعد نماز وہ اسے پانی خود یا اس کے مانگے سے دے بھی دے۔
لما علمت ان لاقدرۃ الا بالعلم حتی لووضع فی رحلہ ماء ونسیہ وصلی تمت وان تذکر بعدھا لم یعد کماتقدم مفصلا فی نمرۃ ۱۵۸۔
اس کی وجہ وہی ہے جو بیان ہوئی کہ بغیرعلم واطلاع کے قدرت نہیں۔ یہاں تك کہ اگر اپنے خیمہ میں پانی رکھا اور بھول گیا اور نماز پڑھ لی تو پوری ہوگئی۔ اگر بعد نماز یاد آیا تو اعادہ نہیں جیسا کہ نمبر۱۵۸ میں تفصیل سے گزرا۔ (ت)
خانیہ میں ہے :
المصلی بالتیمم اذاوجد الماء بعد الفراغ من الصلاۃ لاتلزمہ الاعادۃ ولووجد فی خلال الصلاۃ فسدت وکذا (۲) لووجد بعد التشھد قبل السلام وان (۳) وجد بعد
تیمم سے نماز ادا کرنے والے کو جب نمازسے فارغ ہونے کے بعد پانی ملے تو اس پر اعادہ لازم نہیں اور اگر نماز کے درمیان پانی پائے تو نماز فاسد ہوگئی۔ اسی طرح اگر تشہد کے بعد سلام سے پہلے پائے۔ اگر ایك سلام
پاك کیا۔ خدائے برتر ان پر درود وسلام نازل فرمائے اور برکت وشرافت بزرگی وکرامت بخشے۔ پے بہ پے لگاتار اور پیہم ابدوں کے ابد تک ازلوں کے ازل سے۔ اور ان کی آل واصحاب پر جو بہتر آل واصحاب ہیں۔ (ت)
متیمم کہ دوسرے کے پاس پانی پائے یہ مسئلہ بہت معرکۃ الآراء وطویلۃ الاذیال ہے اکثر کتب میں اس کے بعض جزئیات مذکور ہیں امام صدر الشریعۃ نے شرح وقایہ پھر محقق ابراہیم حلبی نے غنیہ شرح منیہ میں پھر محقق زین العابدین نے بحرالرائق میں رحمھم الله تعالی ورحمنا بھم (خدائے برتر ان پر رحمت فرمائے اور ان کی برکت سے ہم پر رحمت فرمائے۔ ت) اس کیلئے قوانین کلیہ وضع فرمانا چاہے کہ جمیع شقوق کو حاوی ہوں۔ فقیراولا چند مسائل ذکر کرے جن کا لحاظ ہر ضابطہ میں ضروری ہے وہی اپنے اختلافات پر مادہ ہر ضابطہ ہیں پھر قوانین علماء اور مالہا وما علیہا پھر وہ جو فیض قدیرسے قلب فقیرپر فائض ہوا ولله الحمد والله المستعان وعلیہ التکلان (اور خدا ہی کیلئے ساری حمد ہے اور خدا ہی مستعان ہے اور اسی پر بھروسہ ہے۔ ت)
۱ مسئلہ۱ : اگر دوسرے کے پاس اتنا پانی ہونا کہ اس کی طہارت کو کافی اور اس کی حاجت سے زائد ہو معلوم نہ تھا اور تیمم کرکے نماز پڑھ لی نماز کے بعد معلوم ہوا تو نماز پر اس کا کچھ اثر نہیں نماز ہوگئی اگرچہ بعد نماز وہ اسے پانی خود یا اس کے مانگے سے دے بھی دے۔
لما علمت ان لاقدرۃ الا بالعلم حتی لووضع فی رحلہ ماء ونسیہ وصلی تمت وان تذکر بعدھا لم یعد کماتقدم مفصلا فی نمرۃ ۱۵۸۔
اس کی وجہ وہی ہے جو بیان ہوئی کہ بغیرعلم واطلاع کے قدرت نہیں۔ یہاں تك کہ اگر اپنے خیمہ میں پانی رکھا اور بھول گیا اور نماز پڑھ لی تو پوری ہوگئی۔ اگر بعد نماز یاد آیا تو اعادہ نہیں جیسا کہ نمبر۱۵۸ میں تفصیل سے گزرا۔ (ت)
خانیہ میں ہے :
المصلی بالتیمم اذاوجد الماء بعد الفراغ من الصلاۃ لاتلزمہ الاعادۃ ولووجد فی خلال الصلاۃ فسدت وکذا (۲) لووجد بعد التشھد قبل السلام وان (۳) وجد بعد
تیمم سے نماز ادا کرنے والے کو جب نمازسے فارغ ہونے کے بعد پانی ملے تو اس پر اعادہ لازم نہیں اور اگر نماز کے درمیان پانی پائے تو نماز فاسد ہوگئی۔ اسی طرح اگر تشہد کے بعد سلام سے پہلے پائے۔ اگر ایك سلام
ماسلم تسلیمۃ واحدۃ لم تفسد ۔
پھیرنے کے بعد پائے تو نماز فاسد نہ ہوئی۔ (ت)
۱مسئلہ ۲ : اگر نماز پڑھتے میں اس نے پانی لاکر رکھا کہ یہ لے لے یا مطلق کہا کہ جس کے جی میں آئے اس سے وضو کرے تو تیمم ٹوٹ گیا نماز جاتی رہی اس کا ذکر ضمنا نمبر۱۶۱ میں گزرا مگر یہاں ایك استثناء نفیس ہے امام فقیہ النفس نے فرمایا۲ اگر وہ کہنے والا نصرانی ہو نیت نہ توڑے کہ اس کے کہنے کا کیا اعتبار شاید مسخرہ پن سے کہتا ہو ہاں نماز کے بعد اس سے مانگے دے دے تو نماز پھیرے ورنہ ہوگئی۔ خانیہ میں ہے :
المصلی بالتیمم اذا قال لہ نصرانی خذ الماء فانہ یمضی علی صلاتہ ولایقطع لان کلامہ قد یکون علی وجہ الاستھزاء فلایقطع بالشك فاذافرغ من الصلاۃ سألہ ان اعطاہ اعاد الصلاۃ والافلا ۔
تیمم سے نماز اداکرنے والے سے جب کوئی نصرانی کہے پانی لے تو نماز پڑھتا رہے قطع نہ کرے اس لئے کہ اس کا کلام بطور استہزاء بھی ہوتا ہے تو شك کی بنیاد پر قطع نہ کرے۔ جب نماز سے فارغ ہوجائے تو اس سے طلب کرے اگر دے دے تو نماز کا اعادہ کرے ورنہ نہیں۔ (ت)
اسی طرح خلاصہ میں زیادات وفتاوی رزین سے ہے اقول : علمائے ۳ کرام اکثر بجائے مناط ذکر مظنہ پر اکتفاء فرماتے اور مثال سے مقصود کی راہ دکھاتے ہیں یہاں نہ نصرانی کی تخصیص نہ کافر کی خصوصیت بلکہ مدار ظن استہزا ہے اگر نصرانی ۴ یا کوئی کافر اس کا نوکر یا ماتحت یار عیت یا اس کی شاگردی میں ہے یا اس سے کسی حاجت کی طمع رکھتا ہے یا خوف کرتا ہے تو ان صورتوں میں اس پر گمان استہزا نہ ہوگا نیت توڑنی ہوگی ہاں اگر پھر مانگے پر نہ دے توتیمم باقی ہے وذلك لظھور القدرۃ علی الماء ظنامع عدم مایعارضہ(وہ اس لئے کہ ظنی طور پر پانی پر قدرت ظاہر ہوگئی اور اس کا کوئی معارض موجود نہیں۔ ت) اور اگر کوئی ۵ فاسق بیباك تمسخر کا عادی ہے لوگوں سے یونہی کہا کرتا پھر نہیں دیتا ہے تو اس کے کہنے پر نیت توڑنے کی اجازت نہ ہوگی۔
لان ابطال العمل حرام ولم یحصل الظن علی القدرۃ بقول مثلہ من المستھزئین اللئام۔
اس لئے کہ عمل کا باطل کرنا حرام ہے اور اس جیسے کمینے تمسخر کرنے والے کی بات سے قدرت کا ظن حاصل نہ ہوا۔ (ت)
ہاں بعد نماز دے دے تو اعادہ کرنی ہوگی ورنہ نماز بھی ہوگئی اورتیمم بھی باقی والله تعالی اعلم۔
پھیرنے کے بعد پائے تو نماز فاسد نہ ہوئی۔ (ت)
۱مسئلہ ۲ : اگر نماز پڑھتے میں اس نے پانی لاکر رکھا کہ یہ لے لے یا مطلق کہا کہ جس کے جی میں آئے اس سے وضو کرے تو تیمم ٹوٹ گیا نماز جاتی رہی اس کا ذکر ضمنا نمبر۱۶۱ میں گزرا مگر یہاں ایك استثناء نفیس ہے امام فقیہ النفس نے فرمایا۲ اگر وہ کہنے والا نصرانی ہو نیت نہ توڑے کہ اس کے کہنے کا کیا اعتبار شاید مسخرہ پن سے کہتا ہو ہاں نماز کے بعد اس سے مانگے دے دے تو نماز پھیرے ورنہ ہوگئی۔ خانیہ میں ہے :
المصلی بالتیمم اذا قال لہ نصرانی خذ الماء فانہ یمضی علی صلاتہ ولایقطع لان کلامہ قد یکون علی وجہ الاستھزاء فلایقطع بالشك فاذافرغ من الصلاۃ سألہ ان اعطاہ اعاد الصلاۃ والافلا ۔
تیمم سے نماز اداکرنے والے سے جب کوئی نصرانی کہے پانی لے تو نماز پڑھتا رہے قطع نہ کرے اس لئے کہ اس کا کلام بطور استہزاء بھی ہوتا ہے تو شك کی بنیاد پر قطع نہ کرے۔ جب نماز سے فارغ ہوجائے تو اس سے طلب کرے اگر دے دے تو نماز کا اعادہ کرے ورنہ نہیں۔ (ت)
اسی طرح خلاصہ میں زیادات وفتاوی رزین سے ہے اقول : علمائے ۳ کرام اکثر بجائے مناط ذکر مظنہ پر اکتفاء فرماتے اور مثال سے مقصود کی راہ دکھاتے ہیں یہاں نہ نصرانی کی تخصیص نہ کافر کی خصوصیت بلکہ مدار ظن استہزا ہے اگر نصرانی ۴ یا کوئی کافر اس کا نوکر یا ماتحت یار عیت یا اس کی شاگردی میں ہے یا اس سے کسی حاجت کی طمع رکھتا ہے یا خوف کرتا ہے تو ان صورتوں میں اس پر گمان استہزا نہ ہوگا نیت توڑنی ہوگی ہاں اگر پھر مانگے پر نہ دے توتیمم باقی ہے وذلك لظھور القدرۃ علی الماء ظنامع عدم مایعارضہ(وہ اس لئے کہ ظنی طور پر پانی پر قدرت ظاہر ہوگئی اور اس کا کوئی معارض موجود نہیں۔ ت) اور اگر کوئی ۵ فاسق بیباك تمسخر کا عادی ہے لوگوں سے یونہی کہا کرتا پھر نہیں دیتا ہے تو اس کے کہنے پر نیت توڑنے کی اجازت نہ ہوگی۔
لان ابطال العمل حرام ولم یحصل الظن علی القدرۃ بقول مثلہ من المستھزئین اللئام۔
اس لئے کہ عمل کا باطل کرنا حرام ہے اور اس جیسے کمینے تمسخر کرنے والے کی بات سے قدرت کا ظن حاصل نہ ہوا۔ (ت)
ہاں بعد نماز دے دے تو اعادہ کرنی ہوگی ورنہ نماز بھی ہوگئی اورتیمم بھی باقی والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبع نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۷
فتاوٰی قاضی خان ، فصل فیما بہ التیمم ، مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۰
فتاوٰی قاضی خان ، فصل فیما بہ التیمم ، مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۳۰
مسئلہ۱ ۳ : اگر اس نے اس سے پانی لینے کو نہ کہا مگر عین نماز میں اسے اس کے پاس کافی پانی ہونے کا علم ہوا اقول : اگرچہ تذکر سے کہ پہلے اس کے پاس پانی ہونا معلوم تھا یاد نہ رہا تیمم کرکے نماز شروع کی نماز میں یاد آیا کہ فلاں کے پاس پانی ہے وھذا ظاھر جدا (اور یہ بہت ظاہر ہے۔ ت) تو دو صورتیں ہیں اگر اسے گمان غالب ہوکہ مانگے سے دے دے گا۔ تو نیت توڑے اور مانگے اور اگر گمان غالب ہوکہ نہ دے گا یا کسی طرف غلبہ ظن نہ ہو شك کی حالت ہو تو نیت توڑنے کی اجازت نہیں ہوسکتی۔ صدر الشریعۃ میں زیادات سے ہے :
المتیمم المسافر اذارأی مع رجل ماء کثیرا وھو فی الصلاۃ وغلب علی ظنہ انہ لایعطیہ اوشك مضی علی صلاتہ لانہ صح شروعہ فلایقطع بالشك وان غلب علی ظنہانہ یعطیہ قطع الصلاۃ وطلب منہ الماء ۔
تیمم والا مسافر حالت نماز میں جب کسی کے پاس کثیرپانی دیکھے اور غالب گمان ہوکہ وہ اسے پانی نہ دے گا یا شك ہو تو نماز پڑھتا رہے اس لئے کہ اس کا شروع کرنا صحیح ہے توشك کی وجہ سے نیت نہ توڑے گا اور اگر غالب گمان ہو کہ پانی دے دے گا تو نماز توڑدے اور اس سے پانی طلب کرے۔ (ت)
بعینہ اسی طرح بدائع وحلیہ میں جامع کرخی سے ہے :
غیرانہ لیس فیہ ذکر ظن العطاء صریحا و انمادل علی القطع فیہ بالمفھوم۔
مگر اس میں دینے کا گمان ہونے والی صورت صراحۃ مذکور نہیں۔ مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس صورت میں نماز توڑ دینے کا حکم ہے۔ (ت)
بزازیہ میں ہے :
ان علم انہ یعطیہ قطع وان اشکل لا ۔
اگر یہ جانتا ہو کہ وہ دے دے گا تو نماز توڑ دے اور اگر اشکال واشتباہ کی صورت ہو تو نہ توڑے (ت)
فتاوی امام قاضی خان میں ہے :
المصلی(۲) بالتیمم اذارأی سرابا ان کان
تیمم سے نماز ادا کرتے ہوئے اگر سراب (پانی کی شکل
المتیمم المسافر اذارأی مع رجل ماء کثیرا وھو فی الصلاۃ وغلب علی ظنہ انہ لایعطیہ اوشك مضی علی صلاتہ لانہ صح شروعہ فلایقطع بالشك وان غلب علی ظنہانہ یعطیہ قطع الصلاۃ وطلب منہ الماء ۔
تیمم والا مسافر حالت نماز میں جب کسی کے پاس کثیرپانی دیکھے اور غالب گمان ہوکہ وہ اسے پانی نہ دے گا یا شك ہو تو نماز پڑھتا رہے اس لئے کہ اس کا شروع کرنا صحیح ہے توشك کی وجہ سے نیت نہ توڑے گا اور اگر غالب گمان ہو کہ پانی دے دے گا تو نماز توڑدے اور اس سے پانی طلب کرے۔ (ت)
بعینہ اسی طرح بدائع وحلیہ میں جامع کرخی سے ہے :
غیرانہ لیس فیہ ذکر ظن العطاء صریحا و انمادل علی القطع فیہ بالمفھوم۔
مگر اس میں دینے کا گمان ہونے والی صورت صراحۃ مذکور نہیں۔ مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ اس صورت میں نماز توڑ دینے کا حکم ہے۔ (ت)
بزازیہ میں ہے :
ان علم انہ یعطیہ قطع وان اشکل لا ۔
اگر یہ جانتا ہو کہ وہ دے دے گا تو نماز توڑ دے اور اگر اشکال واشتباہ کی صورت ہو تو نہ توڑے (ت)
فتاوی امام قاضی خان میں ہے :
المصلی(۲) بالتیمم اذارأی سرابا ان کان
تیمم سے نماز ادا کرتے ہوئے اگر سراب (پانی کی شکل
حوالہ / References
شرح الوقایہ فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبع رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۱
فتاوٰی بزازیۃ مع عالمگیری ، فصل الخامس فی لتیمم ، مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۶
فتاوٰی بزازیۃ مع عالمگیری ، فصل الخامس فی لتیمم ، مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۶
اکبر رأیہ انہ ماء یباح لہ ان ینصرف وان استوی الظنان لایحل لہ قطع الصلاۃ واذافرغ من الصلاۃ ان ظھر انہ کان ماء یلزمہ الاعادۃ والافلا ۔ میں ریت) دکھائی دے تو اگر اس کا غالب گمان ہوکہ یہ پانی ہے تو اس کیلئے نماز توڑنا جائز ہے اور اگر دونوں گمان برابر ہوں تو نماز توڑنا جائز نہیں اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ظاہر ہوجائے کہ پانی ہی ہے تو اعادہ لازم ہے ورنہ نہیں۔ (ت)
تنبیہ۔ اقول : ظاہر ۱ عبارات بحالت ظن غالب عطا وجوب قطع ہے
لان(۲) صیغۃ الاخبار اکد من صیغۃ الامر ولان بظن العطاء وان لم یقدر علی الماء حتی یبطل تیممہ لکن اورث شبھۃ قویۃ فی بقائہ فلایحل المضی علیہ حتی یظھربطلانھاولان الصلاۃ بالتیمم (۳)کاملۃ عندنا کالصلاۃ بالوضؤ ولذا (۴) صح اقتداء المتوضئ بالمتیمم بل جاز بلاکراھۃ وان کان العکس افضل فھذا القطع لیس عــہ للاکمال بل للابطال و
اس کی چند وجہیں ہیں (۱) اس لئے کہ صیغہ خبر صیغہ امر سے زیادہ مؤکد ہے (۲)اس لئے کہ دینے کا اسے گمان ہے تو اتنے سے پانی پر اسے قدرت نہیں حاصل ہوگئی کہ اس کا تیمم باطل ہوجائے لیکن اس گمان سے تیمم باقی رہ جانے میں ایك قوی شبہ ضرور پیدا ہوگیا تو اس تیمم پر برقرار رہنا حلال نہ ہوگا جب تك کہ اس شبہ کا بطلان ظاہر نہ ہوجائے (۳) اس لئے کہ ہمارے نزدیك تیمم سے نماز کی ادائیگی کامل ہے جیسے وضو سے نماز کاحل ہے اسی لئے یہ درست بلکہ بلاکراہت جائز ہے کہ وضو والا
عــہ فان قلت الیس قدقالواندب لراجی الماء تأخیرالصلاۃ الی اخر الوقت المستحب لیقع الاداء باکمل الطھارتین اقول الاکمل فوق الکامل والقطع انما جاء للاکمال لاللزیادۃ بعد الکمال قال فی البنایۃ علی قول
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کیا علما نے یہ نہیں فرمایا کہ پانی ملنے کی امید ہو تو آخر وقت مستحب تك نماز مؤخر کرنا مندوب ہے تاکہ نماز کی ادائیگی دونوں طہارتوں میں سے اس طہارت سے ہو جو زیادہ کامل ہے اقول : (جواب یہ ہے کہ) زیادہ کامل کا درجہ کامل سے اوپر ہے اور نماز توڑنا کامل کرنے ہی کیلئے ہے کامل ہوجانے کے بعد زیادتی کمال کیلئے نہیں ہے(باقی برصفحہ ائندہ)
تنبیہ۔ اقول : ظاہر ۱ عبارات بحالت ظن غالب عطا وجوب قطع ہے
لان(۲) صیغۃ الاخبار اکد من صیغۃ الامر ولان بظن العطاء وان لم یقدر علی الماء حتی یبطل تیممہ لکن اورث شبھۃ قویۃ فی بقائہ فلایحل المضی علیہ حتی یظھربطلانھاولان الصلاۃ بالتیمم (۳)کاملۃ عندنا کالصلاۃ بالوضؤ ولذا (۴) صح اقتداء المتوضئ بالمتیمم بل جاز بلاکراھۃ وان کان العکس افضل فھذا القطع لیس عــہ للاکمال بل للابطال و
اس کی چند وجہیں ہیں (۱) اس لئے کہ صیغہ خبر صیغہ امر سے زیادہ مؤکد ہے (۲)اس لئے کہ دینے کا اسے گمان ہے تو اتنے سے پانی پر اسے قدرت نہیں حاصل ہوگئی کہ اس کا تیمم باطل ہوجائے لیکن اس گمان سے تیمم باقی رہ جانے میں ایك قوی شبہ ضرور پیدا ہوگیا تو اس تیمم پر برقرار رہنا حلال نہ ہوگا جب تك کہ اس شبہ کا بطلان ظاہر نہ ہوجائے (۳) اس لئے کہ ہمارے نزدیك تیمم سے نماز کی ادائیگی کامل ہے جیسے وضو سے نماز کاحل ہے اسی لئے یہ درست بلکہ بلاکراہت جائز ہے کہ وضو والا
عــہ فان قلت الیس قدقالواندب لراجی الماء تأخیرالصلاۃ الی اخر الوقت المستحب لیقع الاداء باکمل الطھارتین اقول الاکمل فوق الکامل والقطع انما جاء للاکمال لاللزیادۃ بعد الکمال قال فی البنایۃ علی قول
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کیا علما نے یہ نہیں فرمایا کہ پانی ملنے کی امید ہو تو آخر وقت مستحب تك نماز مؤخر کرنا مندوب ہے تاکہ نماز کی ادائیگی دونوں طہارتوں میں سے اس طہارت سے ہو جو زیادہ کامل ہے اقول : (جواب یہ ہے کہ) زیادہ کامل کا درجہ کامل سے اوپر ہے اور نماز توڑنا کامل کرنے ہی کیلئے ہے کامل ہوجانے کے بعد زیادتی کمال کیلئے نہیں ہے(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۸
لیس ثمہ فی المضی علی الصلاۃ ضرر علیہ یزال ومثل القطع لولم یجب لم یجزلقولہ تعالی ولاتبطلوا اعمالکم والله سبحنہ اعلم۔
تیمم والے کی اقتدا کرے اگرچہ اس کا عکس افضل ہے۔ تو اس گمان کے باعث نماز توڑنا اسے کامل کرنے کیلئے نہیں بلکہ باطل کرنے کیلئے ہے اور وہاں نماز پڑھتے رہنے میں اس کا کوئی نقصان بھی نہیں جسے دور کرنا ہو۔ اور نماز توڑنا ایسا عمل ہے کہ اگر واجب نہ ہوتا تو اس کا جواز ہی نہ ہوتا اس لئے کہ باری تعالی کا فرمان ہے : “ اور تم اپنے عملوں کا باطل نہ کرو “ ۔ اور اللہتعالی خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
مسئلہ۱ ۴ : یہ حکم نماز کے قطع واتمام کا تھا۔ رہا یہکہ اس سے پانی مانگنا اس پر واجب ہے یا نہیں اقول : بحال ظن عطا تووجوب میں شبہ نہیں کہ اسی کیلئے نیت توڑنے کا حکم ہوا باقی دو۲ حالتوں میں عبارت خلاصہ یہ ہے بیرون نماز پانی دیکھ کر مانگنا واجب ہونے نہ ہونے کا اختلاف آئندہ اور اور مسائل لکھ کر فرمایا :
ھذا کلہ قبل الشروع فی الصلاۃ ولوشرع بالتیمم فی السفر فرأی رجلا معہ ماء کثیران علم انہ یعطیہ یقطع الصلاۃ وان علم انہ لایعطیہ یمضی علی صلاتہ وان اشکل یمضی علی صلاتہ ثم یسألہ ان اعطاہ اعاد الصلاۃ وان ابی فصلاتہ تامۃ ۔
یہ سارا حکم نماز شروع کرنے سے پہلے ہے اور اگر سفر میں تیمم سے نماز شروع کردی پھر کسی کو دیکھا کہ اس کے پاس بہت ساپانی ہے تواگر یہ جانتا ہو کہ وہ اسے پانی دے دے گا تو نماز توڑدے۔ اور اگر جانتا ہو کہ نہ دے گا تو نماز پڑھتا رہے اور اگر اشتباہ ہو تو بھی نماز پڑھتارہے پھر فارغ ہوکر اس سے مانگے اگر دے دے تو نماز کا اعادہ کرے اور انکار کرے تو نماز کامل ہوگئی۔ (ت)
اسی طرح ہندیہ میں محیط سرخسی سے ہے غیرانہ لم یذکر ظن المنع (مگر انہوں نے منع وانکار کا گمان ہونے والی صورت نہ بیان کی۔ ت)اس کا یہ مفاد کہ بحال ظن منع سوال کی اصلا حاجت نہیں اور بحال شك نماز
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الھدایۃ باکمل الطھارتین وھو الوضو وصیغۃ افعل تدل علی ان التیمم طھارۃ کاملۃ ولکن الوضؤ اکمل منھا اھ منہ غفرلہ (م)
ہدایہ کی عبارت “ باکمل الطھارتین “ (دونوں سے اکمل طہارت کے ذریعہ) پر بنایہ کے الفاظ یہ ہیں : وہ وضو ہے اورا فعل کا صیغہ یہ بتارہا ہے کہ تیمم بھی طہارت کاملہ ہے لیکن وضو اس سے زیادہ کامل ہے اھ۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
تیمم والے کی اقتدا کرے اگرچہ اس کا عکس افضل ہے۔ تو اس گمان کے باعث نماز توڑنا اسے کامل کرنے کیلئے نہیں بلکہ باطل کرنے کیلئے ہے اور وہاں نماز پڑھتے رہنے میں اس کا کوئی نقصان بھی نہیں جسے دور کرنا ہو۔ اور نماز توڑنا ایسا عمل ہے کہ اگر واجب نہ ہوتا تو اس کا جواز ہی نہ ہوتا اس لئے کہ باری تعالی کا فرمان ہے : “ اور تم اپنے عملوں کا باطل نہ کرو “ ۔ اور اللہتعالی خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
مسئلہ۱ ۴ : یہ حکم نماز کے قطع واتمام کا تھا۔ رہا یہکہ اس سے پانی مانگنا اس پر واجب ہے یا نہیں اقول : بحال ظن عطا تووجوب میں شبہ نہیں کہ اسی کیلئے نیت توڑنے کا حکم ہوا باقی دو۲ حالتوں میں عبارت خلاصہ یہ ہے بیرون نماز پانی دیکھ کر مانگنا واجب ہونے نہ ہونے کا اختلاف آئندہ اور اور مسائل لکھ کر فرمایا :
ھذا کلہ قبل الشروع فی الصلاۃ ولوشرع بالتیمم فی السفر فرأی رجلا معہ ماء کثیران علم انہ یعطیہ یقطع الصلاۃ وان علم انہ لایعطیہ یمضی علی صلاتہ وان اشکل یمضی علی صلاتہ ثم یسألہ ان اعطاہ اعاد الصلاۃ وان ابی فصلاتہ تامۃ ۔
یہ سارا حکم نماز شروع کرنے سے پہلے ہے اور اگر سفر میں تیمم سے نماز شروع کردی پھر کسی کو دیکھا کہ اس کے پاس بہت ساپانی ہے تواگر یہ جانتا ہو کہ وہ اسے پانی دے دے گا تو نماز توڑدے۔ اور اگر جانتا ہو کہ نہ دے گا تو نماز پڑھتا رہے اور اگر اشتباہ ہو تو بھی نماز پڑھتارہے پھر فارغ ہوکر اس سے مانگے اگر دے دے تو نماز کا اعادہ کرے اور انکار کرے تو نماز کامل ہوگئی۔ (ت)
اسی طرح ہندیہ میں محیط سرخسی سے ہے غیرانہ لم یذکر ظن المنع (مگر انہوں نے منع وانکار کا گمان ہونے والی صورت نہ بیان کی۔ ت)اس کا یہ مفاد کہ بحال ظن منع سوال کی اصلا حاجت نہیں اور بحال شك نماز
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الھدایۃ باکمل الطھارتین وھو الوضو وصیغۃ افعل تدل علی ان التیمم طھارۃ کاملۃ ولکن الوضؤ اکمل منھا اھ منہ غفرلہ (م)
ہدایہ کی عبارت “ باکمل الطھارتین “ (دونوں سے اکمل طہارت کے ذریعہ) پر بنایہ کے الفاظ یہ ہیں : وہ وضو ہے اورا فعل کا صیغہ یہ بتارہا ہے کہ تیمم بھی طہارت کاملہ ہے لیکن وضو اس سے زیادہ کامل ہے اھ۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس فی التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۳
فتاوٰی ہندیہ آخر فصل اول مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۹
البنایہ فی شرح الھدایہ باب التیمم المکتبۃ الامدادیہ مکۃ المکرمہ ۱ / ۳۲۶
فتاوٰی ہندیہ آخر فصل اول مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۹
البنایہ فی شرح الھدایہ باب التیمم المکتبۃ الامدادیہ مکۃ المکرمہ ۱ / ۳۲۶
پوری کرکے مانگے یہ صاف نہ فرمایاکہ مانگنا واجب ہے یا مستحب اقول مگر مسئلہ(۱) ظن قرب آب میں تصریح ہے کہ اگر قرب مشکوك ہو طلب واجب نہیں صرف مستحب ہے درمختار میں ہے :
الا یغلب علی ظنہ قربہ لایجب بل یندب ان رجاوالالا ۔
اگر قرب آب کا غالب گمان نہ ہو تو طلب واجب نہیں بب لکہ مندوب ہے اگر امید رکھتا ہو ورنہ مندوب بھی نہیں۔ (ت)
شرح تعریف رضوی کے افادہ پنجم میں اور بعض عبارات بھی اس کے مفید گزریں اورجوہرہ نیرہ میں ہے : اذاشك یستحب لہ الطلب (شك کی صورت میں طلب مستحب ہے۔ ت)
اسی طرح ہندیہ میں سراج وہاج سے ہے بحر میں بدائع سے ہے :
اذالم یغلب علی ظنہ قربہ لایجب بل یستحب اذاکان علی طمع من وجود الماء ۔
قرب آب کا غالب گمان نہ ہو تو طلب واجب نہیں بلکہ مستحب ہے جب کہ پانی موجود ہونے کی اسے کچھ امید ہو۔ (ت)
اس کے بکثرت مؤیدات عنقریب آتے ہیں ان شاء اللہتعالی تو حاصل حکم یہ نکلا کہ بحال ظن عطامانگنا واجب اور بحال شك مستحب اور بحال ظن منع مستحب بھی نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ۲ ۵ : صحیح و معتمد وظاہر الروایۃ یہ ہے کہ نماز میں بحال غلبہ ظن عطا اگرچہ نیت توڑنے کا حکم ہے مگر فقط اس غلبہ ظن سے نہ تیمم ٹوٹے نہ نماز جائے یہاں تك کہ اگر پوری کرلی اور پھر مانگا اور اس نے نہ دیا تو نماز بھی صحیح اورتیمم بھی باقی کہ ظاہر ہواکہ وہ ظن غلط تھا۔ اقول : یہ حکم خود انہیں عبارات مذکورہ زیادات وجامع کرخی ومحیط سرخسی وخلاصہ وبزازیہ وصدر الشریعۃ وحلیہ وہندیہ سے ظاہر کہ قطع نماز کو فرمایا اور قطع وہی کی جائے گی کہ ہنوز باقی ہے باطل خود ہی معدوم ہوگئی قطع کیا ہو
بحر میں ہے :
اذاکان فی الصلاۃ وغلب علی ظنہ الاعطاء لاتبطل بل اذااتمھاسألہ ولم یعطہ تمت صلاتہ لانہ ظھر ان ظنہ کان خطاء کذافی شرح الوقایۃ
جب اندرون نماز ہو اور اسے غالب گمان ہوا کہ دے دے گا تو اس سے نماز باطل نہیں ہوجاتی بلکہ اس صورت میں جب نماز پوری کرلے پھر مانگے اور وہ نہ دے تو نماز پوری ہوگئی اس لئے کہ ظاہر ہوگیا
الا یغلب علی ظنہ قربہ لایجب بل یندب ان رجاوالالا ۔
اگر قرب آب کا غالب گمان نہ ہو تو طلب واجب نہیں بب لکہ مندوب ہے اگر امید رکھتا ہو ورنہ مندوب بھی نہیں۔ (ت)
شرح تعریف رضوی کے افادہ پنجم میں اور بعض عبارات بھی اس کے مفید گزریں اورجوہرہ نیرہ میں ہے : اذاشك یستحب لہ الطلب (شك کی صورت میں طلب مستحب ہے۔ ت)
اسی طرح ہندیہ میں سراج وہاج سے ہے بحر میں بدائع سے ہے :
اذالم یغلب علی ظنہ قربہ لایجب بل یستحب اذاکان علی طمع من وجود الماء ۔
قرب آب کا غالب گمان نہ ہو تو طلب واجب نہیں بلکہ مستحب ہے جب کہ پانی موجود ہونے کی اسے کچھ امید ہو۔ (ت)
اس کے بکثرت مؤیدات عنقریب آتے ہیں ان شاء اللہتعالی تو حاصل حکم یہ نکلا کہ بحال ظن عطامانگنا واجب اور بحال شك مستحب اور بحال ظن منع مستحب بھی نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ۲ ۵ : صحیح و معتمد وظاہر الروایۃ یہ ہے کہ نماز میں بحال غلبہ ظن عطا اگرچہ نیت توڑنے کا حکم ہے مگر فقط اس غلبہ ظن سے نہ تیمم ٹوٹے نہ نماز جائے یہاں تك کہ اگر پوری کرلی اور پھر مانگا اور اس نے نہ دیا تو نماز بھی صحیح اورتیمم بھی باقی کہ ظاہر ہواکہ وہ ظن غلط تھا۔ اقول : یہ حکم خود انہیں عبارات مذکورہ زیادات وجامع کرخی ومحیط سرخسی وخلاصہ وبزازیہ وصدر الشریعۃ وحلیہ وہندیہ سے ظاہر کہ قطع نماز کو فرمایا اور قطع وہی کی جائے گی کہ ہنوز باقی ہے باطل خود ہی معدوم ہوگئی قطع کیا ہو
بحر میں ہے :
اذاکان فی الصلاۃ وغلب علی ظنہ الاعطاء لاتبطل بل اذااتمھاسألہ ولم یعطہ تمت صلاتہ لانہ ظھر ان ظنہ کان خطاء کذافی شرح الوقایۃ
جب اندرون نماز ہو اور اسے غالب گمان ہوا کہ دے دے گا تو اس سے نماز باطل نہیں ہوجاتی بلکہ اس صورت میں جب نماز پوری کرلے پھر مانگے اور وہ نہ دے تو نماز پوری ہوگئی اس لئے کہ ظاہر ہوگیا
حوالہ / References
درمختار باب التیمم مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۴
الجوہرۃ النیرۃ باب التیمم ، مکتبہ امدادیہ ملتان ، ۱ / ۲۸
البحرالرائق باب التیمم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۶۱
الجوہرۃ النیرۃ باب التیمم ، مکتبہ امدادیہ ملتان ، ۱ / ۲۸
البحرالرائق باب التیمم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۶۱
فعلم منہ ان مافی فتح القدیرمن بطلانھا بمجرد غلبۃ ظن الاعطاء لیس بظاھر الا ان قاضیخان فی فتاواہ ذکر البطلان فی ھذہ الصورۃ بمجرد الظن عن محمد ۔
کہ اس کا گمان غلط تھا۔ ایسا ہی شرح وقایہ میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ محض غلبہ ظن عطا سے بطلان نماز کی بات جو فتح القدیرمیں ہے وہ ظاہر نہیں مگر قاضی خان نے اس صورت میں محض گمان کی وجہ سے بطلان نماز امام محمد سے اپنے فتاوی میں نقل فرمایا ہے۔ (ت)
اسی طرح ردالمحتار میں نہر سے ہے :
قال لاتبطل کماجزم بہ الزیلعی وغیرہ فما فی الفتح فیہ نظر نعم فی الخانیۃ عن محمد انھا تبطل بمجرد الظن فمع غلبتہ اولی وعلیہ یحمل مافی الفتح اھ
اقول : (۱)عبارۃ الخانیۃ المسافراذاشرع فی الصلاۃ بالتیمم ثم جاء انسان معہ ماء فانہ یمضی فی صلاتہ فاذاسلم فسألہ ان منع جازت صلاتہ وان اعطاہ بطلت وعن محمد رحمہ الله تعالی اذارأی فی الصلاۃ مع غیرہ ماء وفی غالب ظنہ انہ یعطیہ بطلت صلاتہ اھ فلیس فیھا عن محمد بطلانھا
انہوں نے کہا : نماز باطل نہیں ہوجاتی جیسا کہ اس پر امام زیلعی وغیرہ نے جزم کیا ہے تو فتح القدیرمیں جو لکھا ہے وہ محل نظر ہے۔ ہاں خانیہ میں امام محمدسے ایك روایت ہے کہ محض گمان سے نماز باطل ہوجاتی ہے تو غلبہ ظن سے بدرجہ اولی باطل ہوجائے گی اور اسی پر محمول ہے وہ جو فتح القدیرمیں ہے۔ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں) خانیہ کی عبارت یہ ہے : “ مسافر جب تیمم سے نماز شروع کردے پھر کوئی آدمی آئے جس کے پاس پانی ہو تو وہ نماز پڑھتا رہے جب سلام پھیرلے تو اس سے پانی مانگے اگر نہ دے تو اس کی نماز ہوگئی اور اگر دے دے تو باطل ہوگئی۔ اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے روایت ہے کہ “ جب اندرون نماز دوسرے کے پاس پانی دیکھے اور اس کا غالب گمان یہ ہے کہ وہ اسے دے دے گا تو اس کی نماز باطل ہوگئی “ ۔ اس عبارت کے اندر امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے
کہ اس کا گمان غلط تھا۔ ایسا ہی شرح وقایہ میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ محض غلبہ ظن عطا سے بطلان نماز کی بات جو فتح القدیرمیں ہے وہ ظاہر نہیں مگر قاضی خان نے اس صورت میں محض گمان کی وجہ سے بطلان نماز امام محمد سے اپنے فتاوی میں نقل فرمایا ہے۔ (ت)
اسی طرح ردالمحتار میں نہر سے ہے :
قال لاتبطل کماجزم بہ الزیلعی وغیرہ فما فی الفتح فیہ نظر نعم فی الخانیۃ عن محمد انھا تبطل بمجرد الظن فمع غلبتہ اولی وعلیہ یحمل مافی الفتح اھ
اقول : (۱)عبارۃ الخانیۃ المسافراذاشرع فی الصلاۃ بالتیمم ثم جاء انسان معہ ماء فانہ یمضی فی صلاتہ فاذاسلم فسألہ ان منع جازت صلاتہ وان اعطاہ بطلت وعن محمد رحمہ الله تعالی اذارأی فی الصلاۃ مع غیرہ ماء وفی غالب ظنہ انہ یعطیہ بطلت صلاتہ اھ فلیس فیھا عن محمد بطلانھا
انہوں نے کہا : نماز باطل نہیں ہوجاتی جیسا کہ اس پر امام زیلعی وغیرہ نے جزم کیا ہے تو فتح القدیرمیں جو لکھا ہے وہ محل نظر ہے۔ ہاں خانیہ میں امام محمدسے ایك روایت ہے کہ محض گمان سے نماز باطل ہوجاتی ہے تو غلبہ ظن سے بدرجہ اولی باطل ہوجائے گی اور اسی پر محمول ہے وہ جو فتح القدیرمیں ہے۔ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں) خانیہ کی عبارت یہ ہے : “ مسافر جب تیمم سے نماز شروع کردے پھر کوئی آدمی آئے جس کے پاس پانی ہو تو وہ نماز پڑھتا رہے جب سلام پھیرلے تو اس سے پانی مانگے اگر نہ دے تو اس کی نماز ہوگئی اور اگر دے دے تو باطل ہوگئی۔ اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے روایت ہے کہ “ جب اندرون نماز دوسرے کے پاس پانی دیکھے اور اس کا غالب گمان یہ ہے کہ وہ اسے دے دے گا تو اس کی نماز باطل ہوگئی “ ۔ اس عبارت کے اندر امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے
حوالہ / References
البحرالرائق باب التیمم مطبع سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵۴
ردالمحتار باب التیمم ، مطبع مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۸۵
فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبع نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۷
ردالمحتار باب التیمم ، مطبع مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۸۵
فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبع نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۷
بمجرد الظن بالمعنی الذی ارادالنھر بل قدقید صریحا بغلبۃ الظن ولولم یقید لکان ھوالمراد اذالظن الضعیف ملتحق بالشك کماصرحوا بہ فکیف تبطل بالشك صلاۃ صح الشروع فیھا بیقین وکأنہ لم یراجع الخانیۃ واعتمد قول اخیہ ذکر البطلان بمجرد الظن فحملہ علی تجرید الظن عن الغلبۃ ولیس کذلك وانما مرادہ بمجرد الظن ای قبل ان یسأل فیظھر تحقیق ظنہ اوخیبتہ۔
ثم اقول : ماروی عن محمد رحمہ الله تعالی یحتمل تأویلین الاول ان بطلت(۱)بمعنی ستبطل کماھو معروف فی کلماتھم فی غیرمامقام وقد بیناہ فی رسالتنا فصل القضاء فی رسم الافتاء الثانی ان المعنی ان حکم نفس ھذہ الصورۃ ھوالبطلان حتی لولم یزد علی ھذا ومضی علی صلاتہ ولم یسأل بعدھاحکم ببطلانھاسواء اعطاہ صاحب الماء بدون سؤال اولاوعبارۃ الفتح ھکذا جماعۃ (۲)من المتیممین وھب لھم صاحب الماء فقبضوہ لاینتقض تیمم احد منھم لانہ لایصیب کلامنھم مایکفیہ علی قولھما وعلی قول ابی حنیفۃ رضی الله
اس معنی میں مجرد ظن سے بطلان نماز کا ذکر نہیں جو صاحب النہر الفائق نے مراد لیا بلکہ اس میں تو صاف غلبہ ظن کی قہد موجود ہے اور اگر یہ قید نہ ہوتی تو بھی ظن سے غلبہ ظن ہی مراد ہوتا اس لئے کہ ظن ضعیف تو شك میں شامل ہے جیسا کہ علما نے اس کی صراحت فرمائی ہے تو شك سے ایسی نماز کیسے باطل ہوجائے گی جسے شروع کرنا یقینی طور پر درست بھی ہوا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صاحب نہر نے خود خانیہ کی مراجعت نہ فرمائی اور اپنے برادر (صاحب بحر) کی عبارت “ ذکر البطلان بمجرد الظن “ (مجرد ظن سے بطلان کا ذکر کیا ہے) پر اعتماد کرتے ہوئے اس کا معنی یہ لے لیا کہ گمان غلبہ سے خالی ہو حالانکہ ایسا نہیں۔ مجرد ظن سے ان کی مراد یہ ہے کہ محض گمان ہو۔ یعنی ابھی مانگا نہیں کہ گمان کی درستی وکامیابی یا ناکامی منکشف ہو۔ (ت)
ثم اقول : امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے جو روایت آئی ہے اس میں دو۲ تاویلیں ہوسکتی ہیں : اول یہ کہ “ باطل ہوئی “ کا معنی یہ ہے کہ ابھی باطل ہوجائے گی جیسا کہ ان حضرات کی عبارتوں اور متعدد جگہوں میں یہ معنی معلوم ومعروف ہے۔ اور ہم نے اسے اپنے رسالہ “ فصل القضاء فی رسم الافتاء “ میں بیان کیا ہے۔ دوم یہ کہ خود اس صورت کا حکم یہ ہے کہ نماز باطل ہوگئی یہاں تك کہ اگر اس نے اس سے زیادہ کچھ نہ کیا اور نماز پڑھ لی بعد میں مانگا بھی نہیں تو اس نماز کے باطل ہونے کا حکم ہوگا خواہ پانی والا بغیرمانگے اسے دے یا نہ دے۔ اور فتح القدیرکی عبارت اس طرح ہے : تیمم والوں کی جماعت ہورہی ہے انہیں پانی کے مالك نے پانی ہبہ کردیا جس پر وہ قابض
ثم اقول : ماروی عن محمد رحمہ الله تعالی یحتمل تأویلین الاول ان بطلت(۱)بمعنی ستبطل کماھو معروف فی کلماتھم فی غیرمامقام وقد بیناہ فی رسالتنا فصل القضاء فی رسم الافتاء الثانی ان المعنی ان حکم نفس ھذہ الصورۃ ھوالبطلان حتی لولم یزد علی ھذا ومضی علی صلاتہ ولم یسأل بعدھاحکم ببطلانھاسواء اعطاہ صاحب الماء بدون سؤال اولاوعبارۃ الفتح ھکذا جماعۃ (۲)من المتیممین وھب لھم صاحب الماء فقبضوہ لاینتقض تیمم احد منھم لانہ لایصیب کلامنھم مایکفیہ علی قولھما وعلی قول ابی حنیفۃ رضی الله
اس معنی میں مجرد ظن سے بطلان نماز کا ذکر نہیں جو صاحب النہر الفائق نے مراد لیا بلکہ اس میں تو صاف غلبہ ظن کی قہد موجود ہے اور اگر یہ قید نہ ہوتی تو بھی ظن سے غلبہ ظن ہی مراد ہوتا اس لئے کہ ظن ضعیف تو شك میں شامل ہے جیسا کہ علما نے اس کی صراحت فرمائی ہے تو شك سے ایسی نماز کیسے باطل ہوجائے گی جسے شروع کرنا یقینی طور پر درست بھی ہوا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صاحب نہر نے خود خانیہ کی مراجعت نہ فرمائی اور اپنے برادر (صاحب بحر) کی عبارت “ ذکر البطلان بمجرد الظن “ (مجرد ظن سے بطلان کا ذکر کیا ہے) پر اعتماد کرتے ہوئے اس کا معنی یہ لے لیا کہ گمان غلبہ سے خالی ہو حالانکہ ایسا نہیں۔ مجرد ظن سے ان کی مراد یہ ہے کہ محض گمان ہو۔ یعنی ابھی مانگا نہیں کہ گمان کی درستی وکامیابی یا ناکامی منکشف ہو۔ (ت)
ثم اقول : امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے جو روایت آئی ہے اس میں دو۲ تاویلیں ہوسکتی ہیں : اول یہ کہ “ باطل ہوئی “ کا معنی یہ ہے کہ ابھی باطل ہوجائے گی جیسا کہ ان حضرات کی عبارتوں اور متعدد جگہوں میں یہ معنی معلوم ومعروف ہے۔ اور ہم نے اسے اپنے رسالہ “ فصل القضاء فی رسم الافتاء “ میں بیان کیا ہے۔ دوم یہ کہ خود اس صورت کا حکم یہ ہے کہ نماز باطل ہوگئی یہاں تك کہ اگر اس نے اس سے زیادہ کچھ نہ کیا اور نماز پڑھ لی بعد میں مانگا بھی نہیں تو اس نماز کے باطل ہونے کا حکم ہوگا خواہ پانی والا بغیرمانگے اسے دے یا نہ دے۔ اور فتح القدیرکی عبارت اس طرح ہے : تیمم والوں کی جماعت ہورہی ہے انہیں پانی کے مالك نے پانی ہبہ کردیا جس پر وہ قابض
تعالی عنھم لاتصح ھذہ الھبۃ للشیوع ولو(۱) عین الواھب واحدا منھم یبطل تیممہ دونھم حتی لوکان امامابطلت صلاۃ الکل وکذا(۲) لوکان غیرامام الا انہ لمافرغ القوم سألہ الامام فاعطاہ تفسد علی قول الکل لتبین انہ صلی قادرا علی الماء واعلم انھم فرعو الوصلی بتیمم فطلع علیہ رجل معہ ماء فان غلب علی ظنہ انہ یعطیہ بطلت قبل السؤال وان غلب ان لایعطیہ یمضی علی صلاتہ وان اشکل علیہ یمضی ثم یسألہ فان اعطاہ ولوبیعا بثمن المثل ونحوہ اعاد والافھی تامۃ وکذالواعطاہ بعد المنع الا انہ یتوضأ ھنالصلاۃ اخری وعلی ھذافاطلاق فسادالصلاۃ فی صورۃ سؤال الامام اماان یکون محمولا علی حالۃ الاشکال اوان عدم الفساد عند غلبۃ ظن عدم الاعطاء مقید بمااذالم یظھر لہ بعد اعطاؤہ اھ
وانت تعلم ان(۳)ھذہ العبارۃ بعیدۃ عن ذینك التاویلین اماالاول فظاھرواما الثانی فلان مفاد ماحکاہ عندہ ان عند ظن العطاء اوالمنع لاتوقف علی السؤال بل صحت فی ظن المنع وبطلت فی ظن العطاء سأل اولم یسأل انما یتوقف الامر علی السؤال عند الشك والاشکال ولذا فھم
بھی ہوگئے تو ان میں سے کسی کا تیمم نہ ٹوٹے گا اس لئے کہ ہر ایك کو اتنا نہ پہنچے گا جو اس کیلئے کافی ہو یہ حکم برقول صاحبین ہے۔ اور امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہمکے قول پر یہ ہبہ ہی شیوع کی وجہ سے صحیح نہیں اور اگر ہبہ کرنے والے نے ان میں سے کسی ایك کو معین کردیا تو اس کا تیمم باطل ہوجائے گا باقی لوگوں کا نہیں یہاں تك کہ وہ شخص معین اگر امام تھا تو سب کی نماز باطل ہوگئی۔ اسی طرح اگر غیرامام ہو۔ مگر یہ کہ جب لوگ نماز سے فارغ ہوگئے تو امام نے اس سے پانی مانگا اس نے دے دیا تو سب کے قول پر نماز فاسد ہوگی اس لئے کہ ظاہر ہوگیا کہ اس نے پانی پر قدرت ہوتے ہوئے نماز اداکی۔ جاننا چاہئے کہ مشایخ نے یہ تفریع فرمائی ہے کہ اگر کسی نے تیمم سے نماز شروع کی پھر اس کے سامنے ایسا شخص نمودار ہوا جس کے پاس پانی ہے تو اگر اس کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ پانی دے دے گا تو مانگنے سے پہلے ہی نماز باطل ہوگئی اور اگر غالب گمان یہ ہو کہ نہ دےگا تو نماز پوری کرے اور اگر اشتباہ کی صورت ہو تو نماز پوری کرے پھر اس سے مانگے اگر دے دے خواہ ثمن مثل کے بدلے بیع وغیرہ سے ہی دے تو نماز کا اعادہ کرے ورنہ نماز کامل ہوگئی۔ اسی طرح اگر انکار کرنے کے بعد دے مگر اس صورت میں وہ یہاں کسی دوسری نماز کیلئے وضو کرے گا۔ تو امام کے مانگنے کی صورت میں فساد نماز کو مطلقا کہنا یا تو حالت اشتباہ پر محمول ہوگا یا اس پر کہ نہ دینے کا غلبہ ظن ہونے کی صورت میں عدم فساد اس سے مقید ہے کہ ابھی اس کے دینے کا حال ظاہر نہ ہوا ہو اھ ناظر کو
وانت تعلم ان(۳)ھذہ العبارۃ بعیدۃ عن ذینك التاویلین اماالاول فظاھرواما الثانی فلان مفاد ماحکاہ عندہ ان عند ظن العطاء اوالمنع لاتوقف علی السؤال بل صحت فی ظن المنع وبطلت فی ظن العطاء سأل اولم یسأل انما یتوقف الامر علی السؤال عند الشك والاشکال ولذا فھم
بھی ہوگئے تو ان میں سے کسی کا تیمم نہ ٹوٹے گا اس لئے کہ ہر ایك کو اتنا نہ پہنچے گا جو اس کیلئے کافی ہو یہ حکم برقول صاحبین ہے۔ اور امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہمکے قول پر یہ ہبہ ہی شیوع کی وجہ سے صحیح نہیں اور اگر ہبہ کرنے والے نے ان میں سے کسی ایك کو معین کردیا تو اس کا تیمم باطل ہوجائے گا باقی لوگوں کا نہیں یہاں تك کہ وہ شخص معین اگر امام تھا تو سب کی نماز باطل ہوگئی۔ اسی طرح اگر غیرامام ہو۔ مگر یہ کہ جب لوگ نماز سے فارغ ہوگئے تو امام نے اس سے پانی مانگا اس نے دے دیا تو سب کے قول پر نماز فاسد ہوگی اس لئے کہ ظاہر ہوگیا کہ اس نے پانی پر قدرت ہوتے ہوئے نماز اداکی۔ جاننا چاہئے کہ مشایخ نے یہ تفریع فرمائی ہے کہ اگر کسی نے تیمم سے نماز شروع کی پھر اس کے سامنے ایسا شخص نمودار ہوا جس کے پاس پانی ہے تو اگر اس کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ پانی دے دے گا تو مانگنے سے پہلے ہی نماز باطل ہوگئی اور اگر غالب گمان یہ ہو کہ نہ دےگا تو نماز پوری کرے اور اگر اشتباہ کی صورت ہو تو نماز پوری کرے پھر اس سے مانگے اگر دے دے خواہ ثمن مثل کے بدلے بیع وغیرہ سے ہی دے تو نماز کا اعادہ کرے ورنہ نماز کامل ہوگئی۔ اسی طرح اگر انکار کرنے کے بعد دے مگر اس صورت میں وہ یہاں کسی دوسری نماز کیلئے وضو کرے گا۔ تو امام کے مانگنے کی صورت میں فساد نماز کو مطلقا کہنا یا تو حالت اشتباہ پر محمول ہوگا یا اس پر کہ نہ دینے کا غلبہ ظن ہونے کی صورت میں عدم فساد اس سے مقید ہے کہ ابھی اس کے دینے کا حال ظاہر نہ ہوا ہو اھ ناظر کو
حوالہ / References
فتح القدیر ، باب التیمم مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۱۹
المخالفۃ بینہ وبین فرع سؤال الامام حیث حکموا فیہ ببطلان صلاتھم اذا اعطاہ وھو باطلاقہ یشمل مااذاکان الامام ظن فی صلاتہ عطاء اومنعا اوشك فتوقفت الصحۃ فی ظن المنع ایضا علی مایتبین من الحال بعد السؤال ولذا ردد التوفیق بین حملین اما ان یخص الفرع بصورۃ الشك فیصح التوقف علی السؤال اویقال ان فی ظن المنع ایضا یزول حکم الصحۃ بظھور خطائہ بعد الصلاۃ فھذا مافھمہ ورامہ رحمہ الله تعالی وھو غیرمنسوج علی منوال ماروی عن الامام الربانی رحمہ الله تعالی کیف وقد نسبہ الی المشایخ انھم ھم الذین فرعوہ(۱) وانت تعلم ان ماحکاہ عین مافی الخلاصۃ سوی ان فیھاان علم انہ یعطیہ یقطع الصلاۃ ووقع بدلہ فی الفتح بطلت قبل السؤال ولیس مفادھا البطلان بمجرد ظن العطاء ولا الجزم بالصحۃ مطلقا فی ظن المنع حتی لاتعادو ان اعطی ولا تخصیص احالۃ الحکم علی مایتبین بعد السؤال٭بصورۃ الاشکال٭بل ھو عام یشمل جمیع الاشکال٭کما یتجلی فی کل ذلك حقیقۃ الحال٭بعون المولی ذی الجلال٭والظاھر (۲) والله تعالی اعلم انہ رحمہ الله تعالی اعتمد
معلوم ہے کہ یہ عبارت صاحب فتح القدیرکی ان دونوں تاویلوں سے بعید ہے۔ پہلی تاویل کا بعد تو ظاہر ہے دوسری اس طرح کہ اپنے طور پر انہوں نے جو حکایت فرمائی اس کا مفاد یہ ہے کہ دینے یا نہ دینے کا ظن ہونے کی صورت میں مانگنے پر کچھ موقوف نہیں بلالکہ حکم یہ ہے کہ نہ دینے کا ظن ہو تو نماز صحیح اور دینے کا ظن ہو تو باطل ہوگئی مانگے یا نہ مانگے۔ صرف شك واشکال کی صورت میں مانگنے پر معاملہ موقوف رہتا ہے۔ اس لئے انہوں نے اس مسئلہ میں اور امام کے مانگنے کے مسئلہ میں اختلاف سمجھا کیوں کہ اس میں علما نے سبھی کی نماز باطل ہونے کا حکم کیا ہے جب امام کو مانگنے پر پانی والا پانی دے دے۔ اور یہ حکم اپنے اطلاق کی وجہ سے دوران نماز امام کے ظن عطا ظن منع اور شك تمام صورتوں کو شامل ہے تو ظن منع کی صورت میں بھی مانگنے کے بعد ظاہر ہونے والے حال پر نماز کی صحت موقوف رہی اور اسی لئے انہوں نے دو حمل کے درمیان تطبیق دائر فرمائی کہ یا تو جزئیہ کو صورت شك سے خاص کیا جائے تو صحت نماز مانگنے پر موقوف رہے گی یا یہ کہا جائے کہ بعد نماز گمان کی خطا ظاہر ہوجانے سے صحت نماز کا حکم ظن منع کی صورت میں بھی ختم ہوجاتا ہے۔ یہ وہ ہے جو صاحب فتح القدیررحمۃ اللہ تعالی علیہنے سمجھا اور مراد لیا۔ ان کا یہ سارا کلام امام ربانی رحمۃ اللہ تعالی علیہسے نقل شدہ روایت کے طریقہ پروارد نہیں اور یہ کیسے کہا جاسکتا ہے جبکہ وہ صاف اس کی نسبت مشائخ کی طرف فرمارہے ہیں کہ ان ہی حضرات نے یہ تفریع کی ہے۔ یہ بھی معلوم ہے
معلوم ہے کہ یہ عبارت صاحب فتح القدیرکی ان دونوں تاویلوں سے بعید ہے۔ پہلی تاویل کا بعد تو ظاہر ہے دوسری اس طرح کہ اپنے طور پر انہوں نے جو حکایت فرمائی اس کا مفاد یہ ہے کہ دینے یا نہ دینے کا ظن ہونے کی صورت میں مانگنے پر کچھ موقوف نہیں بلالکہ حکم یہ ہے کہ نہ دینے کا ظن ہو تو نماز صحیح اور دینے کا ظن ہو تو باطل ہوگئی مانگے یا نہ مانگے۔ صرف شك واشکال کی صورت میں مانگنے پر معاملہ موقوف رہتا ہے۔ اس لئے انہوں نے اس مسئلہ میں اور امام کے مانگنے کے مسئلہ میں اختلاف سمجھا کیوں کہ اس میں علما نے سبھی کی نماز باطل ہونے کا حکم کیا ہے جب امام کو مانگنے پر پانی والا پانی دے دے۔ اور یہ حکم اپنے اطلاق کی وجہ سے دوران نماز امام کے ظن عطا ظن منع اور شك تمام صورتوں کو شامل ہے تو ظن منع کی صورت میں بھی مانگنے کے بعد ظاہر ہونے والے حال پر نماز کی صحت موقوف رہی اور اسی لئے انہوں نے دو حمل کے درمیان تطبیق دائر فرمائی کہ یا تو جزئیہ کو صورت شك سے خاص کیا جائے تو صحت نماز مانگنے پر موقوف رہے گی یا یہ کہا جائے کہ بعد نماز گمان کی خطا ظاہر ہوجانے سے صحت نماز کا حکم ظن منع کی صورت میں بھی ختم ہوجاتا ہے۔ یہ وہ ہے جو صاحب فتح القدیررحمۃ اللہ تعالی علیہنے سمجھا اور مراد لیا۔ ان کا یہ سارا کلام امام ربانی رحمۃ اللہ تعالی علیہسے نقل شدہ روایت کے طریقہ پروارد نہیں اور یہ کیسے کہا جاسکتا ہے جبکہ وہ صاف اس کی نسبت مشائخ کی طرف فرمارہے ہیں کہ ان ہی حضرات نے یہ تفریع کی ہے۔ یہ بھی معلوم ہے
ھھنا علی مافی صدرہ ولم یراجع کلماتھم ولذاردد فی التوفیق مع ان الشق الاول لامساغ لہ والاخیر(۱) ھو المنصوص علیہ فی کتب المذھب کما سیاتی ان شاء الله تعالی۔
کہ صاحب فتح القدیرنے جو حکایت فرمائی بعینہ وہی ہے جو خلاصہ میں تحریرہوئی۔ فرق یہ ہے کہ خلاصہ میں ہے “ اگر جانتا ہو کہ دے دے گا تو نماز توڑدے “۔ اس کے بدلہ فتح القدیرمیں یہ ہے کہ “ مانگنے سے پہلے ہی نماز باطل ہوگئی۔ حالانکہ اس عبارت کا مفاد یہ نہیں کہ محض ظن عطا سے نماز باطل ہوگئی نہ ہی ظن منع کی صورت میں مطلقا صحت نماز کا جزم ہے یہاں تك کہ دے دینے پر بھی اعادہ نماز نہ ہو نہ ہی یہ کہ مانگنے کے بعد ظاہر ہونے والی حالت پر حکم کا حوالہ صرف صورت شك کے ساتھ خاص ہے بلکہ یہ حکم عام اور تمام صورتوں کو شامل ہے جیسا کہ اس سلسلہ میں حقیقت حال بعون مولائے ذی الجلال روشن ہوگی۔ ظاہر یہ ہے اور خدائے برتر ہی جاننے والا ہے کہ صاحب فتح القدیررحمۃ اللہ تعالی علیہنے یہاں اپنی یاد پر اعتماد فرمایا ہے کلمات علماء کی مراجعت نہ فرمائی اسی لئے تطبیق میں تردید کی صورت اختیار کی حالانکہ شق اول کی تو کوئی گنجایش ہی نہیں اور اخیرپر تو کتب مذہب میں نص موجود ہے جیسا کہ عنقریب آئے گا اگر خدائے برتر نے چاہا۔ (ت)
مسئلہ۲ ۶ : اگر شروع نماز سے پہلے دوسرے کے پاس پانی معلوم ہوا تو آیا اس سے مانگنا واجب ہے یا نہیں یہاں اختلاف روایت تاحد اضطراب ہے اور وہ کہ مطالعہ کتب ونظر دلائل سے فقیرکو منقح ہوا یہ کہ یہاں بھی وہی حکم ہے جو مسئلہ ۴ میں گزرا یعنی ظن غالب ہوکہ دے دے گا تو سوال واجب اور بے مانگے تیمم کرکے نماز پڑھنا حلال نہیں ورنہ واجب نہیں اور بلاسوال نماز حلال ہاں بحال شك سوال مستحب مسئلہ ہر دوظن میں خود یہی تحقیق وتوفیق ہے اور مسئلہ شك میں یہی قول جمہور وراجح علی التحقیق ہے اس اختلاف روایات کے متعلق بعض عبارات دکھا کر اپنے دونوں دعووں کو دو۲ مقاموں میں تحقیق کریں وبالله التوفیق۔ ہدایہ میں ہے :
(ان کان مع رفیقہ ماء طلب منہ قبل ان یتیمم)لعدم المنع غالبا(ولوتیمم قبل الطلب اجزأہ عندابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ)لانہ لایلزمہ الطلب من ملك الغیروقالا لایجزیہ لان الماء مبذول عادۃ ۔
اگر رفیق سفر کے پاس پانی ہو تو قبل تیمم اس سے طلب کرے کیونکہ عموما اس سے انکار نہیں ہوتا۔ اور اگر بغیرمانگے تیمم کرلیا تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك ہوجائے گا۔ اس لئے کہ دوسرے کی ملك سے مانگنا اس پر لازم نہیں۔ اور صاحبین نے فرمایا تیمم نہ ہوگا اس لئے کہ پانی عموما خرچ کیا اور دیا جاتا ہے۔ (ت)
کہ صاحب فتح القدیرنے جو حکایت فرمائی بعینہ وہی ہے جو خلاصہ میں تحریرہوئی۔ فرق یہ ہے کہ خلاصہ میں ہے “ اگر جانتا ہو کہ دے دے گا تو نماز توڑدے “۔ اس کے بدلہ فتح القدیرمیں یہ ہے کہ “ مانگنے سے پہلے ہی نماز باطل ہوگئی۔ حالانکہ اس عبارت کا مفاد یہ نہیں کہ محض ظن عطا سے نماز باطل ہوگئی نہ ہی ظن منع کی صورت میں مطلقا صحت نماز کا جزم ہے یہاں تك کہ دے دینے پر بھی اعادہ نماز نہ ہو نہ ہی یہ کہ مانگنے کے بعد ظاہر ہونے والی حالت پر حکم کا حوالہ صرف صورت شك کے ساتھ خاص ہے بلکہ یہ حکم عام اور تمام صورتوں کو شامل ہے جیسا کہ اس سلسلہ میں حقیقت حال بعون مولائے ذی الجلال روشن ہوگی۔ ظاہر یہ ہے اور خدائے برتر ہی جاننے والا ہے کہ صاحب فتح القدیررحمۃ اللہ تعالی علیہنے یہاں اپنی یاد پر اعتماد فرمایا ہے کلمات علماء کی مراجعت نہ فرمائی اسی لئے تطبیق میں تردید کی صورت اختیار کی حالانکہ شق اول کی تو کوئی گنجایش ہی نہیں اور اخیرپر تو کتب مذہب میں نص موجود ہے جیسا کہ عنقریب آئے گا اگر خدائے برتر نے چاہا۔ (ت)
مسئلہ۲ ۶ : اگر شروع نماز سے پہلے دوسرے کے پاس پانی معلوم ہوا تو آیا اس سے مانگنا واجب ہے یا نہیں یہاں اختلاف روایت تاحد اضطراب ہے اور وہ کہ مطالعہ کتب ونظر دلائل سے فقیرکو منقح ہوا یہ کہ یہاں بھی وہی حکم ہے جو مسئلہ ۴ میں گزرا یعنی ظن غالب ہوکہ دے دے گا تو سوال واجب اور بے مانگے تیمم کرکے نماز پڑھنا حلال نہیں ورنہ واجب نہیں اور بلاسوال نماز حلال ہاں بحال شك سوال مستحب مسئلہ ہر دوظن میں خود یہی تحقیق وتوفیق ہے اور مسئلہ شك میں یہی قول جمہور وراجح علی التحقیق ہے اس اختلاف روایات کے متعلق بعض عبارات دکھا کر اپنے دونوں دعووں کو دو۲ مقاموں میں تحقیق کریں وبالله التوفیق۔ ہدایہ میں ہے :
(ان کان مع رفیقہ ماء طلب منہ قبل ان یتیمم)لعدم المنع غالبا(ولوتیمم قبل الطلب اجزأہ عندابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ)لانہ لایلزمہ الطلب من ملك الغیروقالا لایجزیہ لان الماء مبذول عادۃ ۔
اگر رفیق سفر کے پاس پانی ہو تو قبل تیمم اس سے طلب کرے کیونکہ عموما اس سے انکار نہیں ہوتا۔ اور اگر بغیرمانگے تیمم کرلیا تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك ہوجائے گا۔ اس لئے کہ دوسرے کی ملك سے مانگنا اس پر لازم نہیں۔ اور صاحبین نے فرمایا تیمم نہ ہوگا اس لئے کہ پانی عموما خرچ کیا اور دیا جاتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
ہدایہ مع الفتح ، باب التیمم ، مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۲۵
عنایہ وبنایہ میں ہے :
ذکر الاختلاف فی الایضاح والتقریب وشرح الاقطع بین ابی حنیفۃ وصاحبیہ کماذکر فی الکتاب وقال فی المبسوط ان کان مع رفیقہ ماء فعلیہ ان یسألہ الاعلی قول الحسن بن زیاد فانہ کان یقول السؤال ذل وفیہ بعض الحرج وماشرع التیمم الالدفع الحرج ۔
ایضاح تقریب اور شرح اقطع میں امام ابوحنیفہ اور صاحبین کے درمیان اختلاف ذکر کیاہے جیسے کتاب میں بیان کیا ہے۔ اور مبسوط میں فرمایا : اگر رفیق کے پاس پانی ہو تو اس پر یہ ہے کہ رفیق سے مانگے مگر حسن بن زیاد کے قول پر ایسا نہیں وہ کہتے تھے کہ مانگنا ذلت کا کام ہے اور اس میں کچھ حرج بھی ہے جبکہ تیمم کی مشروعیت دفع حرج ہی کیلئے ہے۔ (ت)
فتح القدیرمیں ہے :
القدرۃ علی الماء بملکہ اوبملك بدلہ اذاکان یباع اوبالاباحۃ امامع ملك الرفیق فلا لان الملك حاجز فثبت العجز ۔
پانی پر قدرت یوں ہوتی ہے کہ خود اس کامالك ہو یا فروخت ہورہا ہو تو اس کے بدل کامالك ہو یا اس کے استعمال کی اباحت ہو۔ لیکن پانی رفیق سفر کی ملك ہو تو ایسا نہیں اس لئے کہ ملك مانع ہے تو عجز ثابت ہوگیا۔ (ت)
اس میں نیز ذخیرہ امام برہان الدین سے بنایہ وغیرہ کتب کثیرہ میں ہے :
عن الجصاص لاخلاف بینھم فمراد ابی حنیفۃ اذاغلب علی ظنہ منعہ ومرادھما اذاظن عدم المنع لثبوت القدرۃ بالاباحۃ فی الماء لافی غیرہ عندہ ۔
جصاص سے منقول ہے کہ ائمہ میں کوئی اختلاف نہیں۔ امام ابوحنیفہ کی مراد یہ ہے کہ غالب گمان نہ دینے کاہو اور صاحبین کی مراد یہ ہے کہ عدم انکار کا گمان ہو اس لئے کہ امام صاحب کے نزدیك پانی میں اباحت سے قدرت ثابت ہوجاتی ہے دوسری چیزوں میں نہیں۔ (ت)
ذکر الاختلاف فی الایضاح والتقریب وشرح الاقطع بین ابی حنیفۃ وصاحبیہ کماذکر فی الکتاب وقال فی المبسوط ان کان مع رفیقہ ماء فعلیہ ان یسألہ الاعلی قول الحسن بن زیاد فانہ کان یقول السؤال ذل وفیہ بعض الحرج وماشرع التیمم الالدفع الحرج ۔
ایضاح تقریب اور شرح اقطع میں امام ابوحنیفہ اور صاحبین کے درمیان اختلاف ذکر کیاہے جیسے کتاب میں بیان کیا ہے۔ اور مبسوط میں فرمایا : اگر رفیق کے پاس پانی ہو تو اس پر یہ ہے کہ رفیق سے مانگے مگر حسن بن زیاد کے قول پر ایسا نہیں وہ کہتے تھے کہ مانگنا ذلت کا کام ہے اور اس میں کچھ حرج بھی ہے جبکہ تیمم کی مشروعیت دفع حرج ہی کیلئے ہے۔ (ت)
فتح القدیرمیں ہے :
القدرۃ علی الماء بملکہ اوبملك بدلہ اذاکان یباع اوبالاباحۃ امامع ملك الرفیق فلا لان الملك حاجز فثبت العجز ۔
پانی پر قدرت یوں ہوتی ہے کہ خود اس کامالك ہو یا فروخت ہورہا ہو تو اس کے بدل کامالك ہو یا اس کے استعمال کی اباحت ہو۔ لیکن پانی رفیق سفر کی ملك ہو تو ایسا نہیں اس لئے کہ ملك مانع ہے تو عجز ثابت ہوگیا۔ (ت)
اس میں نیز ذخیرہ امام برہان الدین سے بنایہ وغیرہ کتب کثیرہ میں ہے :
عن الجصاص لاخلاف بینھم فمراد ابی حنیفۃ اذاغلب علی ظنہ منعہ ومرادھما اذاظن عدم المنع لثبوت القدرۃ بالاباحۃ فی الماء لافی غیرہ عندہ ۔
جصاص سے منقول ہے کہ ائمہ میں کوئی اختلاف نہیں۔ امام ابوحنیفہ کی مراد یہ ہے کہ غالب گمان نہ دینے کاہو اور صاحبین کی مراد یہ ہے کہ عدم انکار کا گمان ہو اس لئے کہ امام صاحب کے نزدیك پانی میں اباحت سے قدرت ثابت ہوجاتی ہے دوسری چیزوں میں نہیں۔ (ت)
حوالہ / References
العنایہ مع فتح القدیر باب التیمم مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۲۵
فتح القدیر باب التیمم مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۲۵
فتح القدیر ، باب التیمم مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۲۵
فتح القدیر باب التیمم مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۲۵
فتح القدیر ، باب التیمم مطبع نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۲۵
نہایہ امام سغناقی پھر بنایہ امام عینی وذخیرہ اخی چلپی میں ہے :
لم یذکر فی عامۃ النسخ قول ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ فی ھذا الموضع بل قیل لایجوز التیمم قبل الطلب اذاکان غالب ظنہ ان یعطیہ مطلقامن غیرذکرالخلاف بین علمائناالثلثۃ رضی الله تعالی عنھم الافی الایضاح اھ ھذا نقل الذخیرۃ ولم یذکر فی البنایۃ قولہ الا فی الایضاح وذکر مکانہ الاعلی قول الحسن بن زیاد فانہ یقول السؤال ذلۃ وفیہ ضرر ۔
اکثر نسخوں میں اس جگہ امام ابی حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکا قول مذکور نہیں بلکہ یہ کہا گیا کہ مانگے بغیرتیمم جائز نہیں جبکہ غالب گمان یہ ہو کہ دے دے گا۔ یہ ہمارے تینوں علماء رضی اللہ تعالی عنہمکے درمیان کوئی اختلاف بتائے بغیرمطلقا مذکور ہے۔ مگر ایضاح میں ذکر خلاف ہے اھ یہ ذخیرہ کی عبارت ہے اور بنایہ میں “ الا فی الایضاح “ نہیں اس کی جگہ یہ ہے : مگر حسن بن زیاد کے قول پر ایسا نہیں وہ کہتے ہیں کہ مانگنا ذلت ہے اور اس میں ضرر ہے۔ (ت)
نیز عینی میں ہے :
ذکر الزوزنی وغیرہ لوتیمم قبل الطلب اجزأہ عند ابی حنیفۃ فی روایۃ الحسن عنہ ۔
زوزنی وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ اگر مانگے بغیرتیمم کرلیا تو امام ابوحنیفہ کے نزدیك اس میں جو حسن نے ان سے روایت کی تیمم ہوجائے گا۔ (ت)
بحر میں ہے :
اعلم ان ظاھر الروایۃ عن اصحابنا الثلثۃ وجوب السؤال من الرفیق کمایفیدہ مافی المبسوط قال واذا کان مع رفیقہ ماء فعلیہ ان یسألہ الا علی قول الحسن بن زیاد فانہ کان یقول السؤال ذل وفیہ بعض الحرج وماشرع التیمم الالدفع الحرج ولکنا نقول ماء الطھارۃ مبذول
معلوم ہو کہ ہمارے تینوں اصحاب سے ظاہر روایت یہ ہے کہ رفیق سے مانگنا واجب ہے جیسا کہ یہ اس سے مستفاد ہوتا ہے جو مبسوط میں ہے فرماتے ہیں : جب اس کے رفیق سے مانگے مگر حسن بن زیاد کے قول پر ایسا نہیں اس لئے کہ وہ کہتے تھے کہ مانگنا ذلت ہے اور اس میں کچھ حرج ہے جبکہ تیمم کی مشروعیت دفع حرج
لم یذکر فی عامۃ النسخ قول ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ فی ھذا الموضع بل قیل لایجوز التیمم قبل الطلب اذاکان غالب ظنہ ان یعطیہ مطلقامن غیرذکرالخلاف بین علمائناالثلثۃ رضی الله تعالی عنھم الافی الایضاح اھ ھذا نقل الذخیرۃ ولم یذکر فی البنایۃ قولہ الا فی الایضاح وذکر مکانہ الاعلی قول الحسن بن زیاد فانہ یقول السؤال ذلۃ وفیہ ضرر ۔
اکثر نسخوں میں اس جگہ امام ابی حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکا قول مذکور نہیں بلکہ یہ کہا گیا کہ مانگے بغیرتیمم جائز نہیں جبکہ غالب گمان یہ ہو کہ دے دے گا۔ یہ ہمارے تینوں علماء رضی اللہ تعالی عنہمکے درمیان کوئی اختلاف بتائے بغیرمطلقا مذکور ہے۔ مگر ایضاح میں ذکر خلاف ہے اھ یہ ذخیرہ کی عبارت ہے اور بنایہ میں “ الا فی الایضاح “ نہیں اس کی جگہ یہ ہے : مگر حسن بن زیاد کے قول پر ایسا نہیں وہ کہتے ہیں کہ مانگنا ذلت ہے اور اس میں ضرر ہے۔ (ت)
نیز عینی میں ہے :
ذکر الزوزنی وغیرہ لوتیمم قبل الطلب اجزأہ عند ابی حنیفۃ فی روایۃ الحسن عنہ ۔
زوزنی وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ اگر مانگے بغیرتیمم کرلیا تو امام ابوحنیفہ کے نزدیك اس میں جو حسن نے ان سے روایت کی تیمم ہوجائے گا۔ (ت)
بحر میں ہے :
اعلم ان ظاھر الروایۃ عن اصحابنا الثلثۃ وجوب السؤال من الرفیق کمایفیدہ مافی المبسوط قال واذا کان مع رفیقہ ماء فعلیہ ان یسألہ الا علی قول الحسن بن زیاد فانہ کان یقول السؤال ذل وفیہ بعض الحرج وماشرع التیمم الالدفع الحرج ولکنا نقول ماء الطھارۃ مبذول
معلوم ہو کہ ہمارے تینوں اصحاب سے ظاہر روایت یہ ہے کہ رفیق سے مانگنا واجب ہے جیسا کہ یہ اس سے مستفاد ہوتا ہے جو مبسوط میں ہے فرماتے ہیں : جب اس کے رفیق سے مانگے مگر حسن بن زیاد کے قول پر ایسا نہیں اس لئے کہ وہ کہتے تھے کہ مانگنا ذلت ہے اور اس میں کچھ حرج ہے جبکہ تیمم کی مشروعیت دفع حرج
حوالہ / References
ذخیرۃ العقبٰی باب التیمم مطبع الاسلامیہ لاہور ۱ / ۱۸۰
عینی شرح الہدایۃ باب التیمم مطبع المکتبۃ الامدادیہ مکہ مکرمہ ۱ / ۳۳۷
عینی شرح الہدایۃ باب التیمم مطبع المکتبۃ الامدادیہ مکہ مکرمہ ۱ / ۳۳۷
عینی شرح الہدایۃ باب التیمم مطبع المکتبۃ الامدادیہ مکہ مکرمہ ۱ / ۳۳۷
عینی شرح الہدایۃ باب التیمم مطبع المکتبۃ الامدادیہ مکہ مکرمہ ۱ / ۳۳۷
عادۃ بین الناس ولیس فی سؤال مایحتاج الیہ مذلۃ فقد سأل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم بعض حوائجہ من غیرہ اھ فاندفع بھذا ماوقع فی الھدایۃ وشرح الاقطع من الخلاف بین ابی حنیفۃ وصاحبیہ فعندہ لایلزمہ الطلب وعندھما یلزمہ واندفع مافی غایۃ البیان من ان قول الحسن حسن وفی الذخیرۃ نقلا عن الجصاص انہ لاخلاف بین ابی حنیفۃ وصاحبیہ فمرادہ فیما اذاغلب علی ظنہ منعہ ایاہ ومرادھما عند غلبۃ الظن بعدم المنع وفی المجتبی الغالب عدم الظنۃ بالماء حتی لوکان فی موضع تجری الظنۃ علیہ لایجب الطلب منہ اھ۔
ہی کیلئے ہوتی ہے۔ لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ طہارت کا پانی لوگوں کے درمیان عادۃ لیا دیا جاتا ہے اور جس چیز کا ضرورت مند ہو اس کے مانگنے میں ذلت نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بھی اپنی ضرورت کی بعض چیزیں دوسرے سے مانگی ہیں۔ اھ اس سے وہ دفع ہوگیا جو ہدایہ اور شرح اقطع میں امام ابوحنیفہ اور صاحبین کے درمیان اختلاف کا ذکر واقع ہوا کہ امام صاحب کے نزدیك طلب لازم نہیں اور صاحبین کے نزدیك لازم ہے اور وہ بھی دفع ہوگیا جو غایۃ البیان میں ہے کہ حسن کا قول حسن ہے اور وہ بھی جو ذخیرہ میں جصاص سے منقول ہے کہ امام ابوحنیفہ اور صاحبین میں کوئی اختلاف نہیں۔ امام صاحب کی مراد وہ صورت ہے جب اس کا غالب گمان ہو کہ اسے نہ دے گا اور صاحبین کی مراد وہ صورت ہے جب غالب گمان ہوکہ انکار نہ کرے گا۔ مجتبی میں ہے اکثر یہی ہے کہ پانی میں بخل نہیں کیا جاتا یہاں تك کہ اگر کسی ایسی جگہ ہو جہاں پانی میں بخل ہوتا ہے تو اس سے مانگنا واجب نہیں اھ۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
اذاتیمم وصلی ولم یسأل فعلی قول ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ صلاتہ صحیحۃ فی الوجوہ کلھا (ای سواء ظن منحا اومنعا اوشک) وقالا لا یجزئہ والوجہ ھو التفصیل کما قال ابونصر الصفار انہ انما یجب السؤال فی غیرموضع عزۃ الماء فانہ
جب تیمم کرکے نماز پڑھ لے اور طلب نہ کرے تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے قول پر اس کی نماز تمام صورتوں میں صحیح ہے (یعنی خواہ دینے کا گمان ہویا نہ دینے کا یا شك کی صورت ہو) اور صاحبین فرماتے ہیں : نماز نہ ہوگی۔ اور وجہ صواب یہ ہے کہ تفصیل کی جائے جیسا کہ ابونصر صفار نے فرمایا کہ مانگنا ایسی ہی جگہ واجب ہے جہاں پانی کم یاب نہ ہو کیونکہ اسی صورت میں وہ
ہی کیلئے ہوتی ہے۔ لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ طہارت کا پانی لوگوں کے درمیان عادۃ لیا دیا جاتا ہے اور جس چیز کا ضرورت مند ہو اس کے مانگنے میں ذلت نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے بھی اپنی ضرورت کی بعض چیزیں دوسرے سے مانگی ہیں۔ اھ اس سے وہ دفع ہوگیا جو ہدایہ اور شرح اقطع میں امام ابوحنیفہ اور صاحبین کے درمیان اختلاف کا ذکر واقع ہوا کہ امام صاحب کے نزدیك طلب لازم نہیں اور صاحبین کے نزدیك لازم ہے اور وہ بھی دفع ہوگیا جو غایۃ البیان میں ہے کہ حسن کا قول حسن ہے اور وہ بھی جو ذخیرہ میں جصاص سے منقول ہے کہ امام ابوحنیفہ اور صاحبین میں کوئی اختلاف نہیں۔ امام صاحب کی مراد وہ صورت ہے جب اس کا غالب گمان ہو کہ اسے نہ دے گا اور صاحبین کی مراد وہ صورت ہے جب غالب گمان ہوکہ انکار نہ کرے گا۔ مجتبی میں ہے اکثر یہی ہے کہ پانی میں بخل نہیں کیا جاتا یہاں تك کہ اگر کسی ایسی جگہ ہو جہاں پانی میں بخل ہوتا ہے تو اس سے مانگنا واجب نہیں اھ۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
اذاتیمم وصلی ولم یسأل فعلی قول ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ صلاتہ صحیحۃ فی الوجوہ کلھا (ای سواء ظن منحا اومنعا اوشک) وقالا لا یجزئہ والوجہ ھو التفصیل کما قال ابونصر الصفار انہ انما یجب السؤال فی غیرموضع عزۃ الماء فانہ
جب تیمم کرکے نماز پڑھ لے اور طلب نہ کرے تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے قول پر اس کی نماز تمام صورتوں میں صحیح ہے (یعنی خواہ دینے کا گمان ہویا نہ دینے کا یا شك کی صورت ہو) اور صاحبین فرماتے ہیں : نماز نہ ہوگی۔ اور وجہ صواب یہ ہے کہ تفصیل کی جائے جیسا کہ ابونصر صفار نے فرمایا کہ مانگنا ایسی ہی جگہ واجب ہے جہاں پانی کم یاب نہ ہو کیونکہ اسی صورت میں وہ
حوالہ / References
البحرالرائق باب التیمم مطبع ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۱۶۲
حینئذ یتحقق ماقالاہ من انہ مبذول والا فکونہ مبذولا عادۃ فی کل موضع ظاھر المنع علی مایشھد بہ کل من عانی الاسفار فینبغی ان یجب الطلب ولاتصح الصلاۃ بدونہ فیما اذاظن الاعطاء لظھور دلیلھما دون مااذا ظن عدمہ لکونہ فی موضع عزۃ الماء اھ۔
اقول : الصفار(۱) لم یحدث قولا خلاف اقوالھم بل ھو کالشرح لھاکما فعل الامام الجصاص فلولاحظ ھذا لما احتاج الی الخروج عن اقوال ائمۃ المذھب جمیعا بالتوزیع والتلفیق قال اما اذا شك فی موضع عزۃ الماء اوظن المنع فی غیرہ فالاحتیاط فی قولھما والتوسعۃ فی قولہ لان فی السؤال ذلا وقول من قال لا ذل فی سؤال مایحتاج الیہ ممنوع اھ۔
اقول : فاذن(۲) یؤل الامر الی ترجیح قول الامام مطلقاویذھب اختیار قولھماعندظن العطاء لان الذل محترز عنہ مطلقا وقدثبت فی
بات متحقق ہوگی جو صاحبین نے فرمائی کہ پانی لیا دیا جاتا ہے ورنہ ہر جگہ پانی کا عادۃ مبذول ہونا (لیا دیا جانا) کھلے طور پر قابل رد ومنع ہے جس پر سفروں کی زحمت اٹھانے والا ہر شخص شاہد ہے۔ تو حکم یہ ہونا چاہیے کہ مانگنا واجب ہے اور اس کے بغیرنماز صحیح نہیں اس صورت میں جبکہ دینے کا گمان ہو کیونکہ اس صورت میں صاحبین کی دلیل ظاہر ہے مگر اس صورت میں نہیں جبکہ نہ دینے کا گمان ہو اس لئے کہ یہ پانی کی کمیابی کی جگہ ہوگا اھ (ت)۔
اقول : صفار نے اقوال ائمہ کے برخلاف کوئی نیا قول ایجاد نہ کیا بلکہ یہ ان ہی اقوال کی شرح کی حیثیت رکھتا ہے جیسا کہ امام جصاص نے کیا ہے۔ صاحب غنیہ اگر اس کا خیال فرماتے تو انہیں تو زیع وتلفیق کرکے ائمہ مذہب کے سارے اقوال سے خروج کی ضرورت نہ پیش آتی وہ لکھتے ہیں : “ لیکن جب ایسی جگہ ہو جہاں پانی کمیاب ہو یا ایسی جگہ نہ ہو لیکن انکار کا گمان ہو تو احتیاط صاحبین کے قول میں ہے اور وسعت امام صاحب کے قول میں ہے اس لئے کہ مانگنے میں ایك ذلت ضرور ہے اور یہ بات ہمیں تسلیم نہیں کہ ضرورت کی چیز مانگنے میں کوئی ذلت نہیں “ اھ (ت)
اقول : تو معاملہ اس پر آجائے گا کہ امام صاحب کے قول کو مطلقا ترجیح ہے اور ظن عطا کی صورت میں صاحبین کا قول مختار نہ رہ جائےگا اس لئے کہ ذلت مطلقا پرہیز کیے جانے کے لائق ہے
اقول : الصفار(۱) لم یحدث قولا خلاف اقوالھم بل ھو کالشرح لھاکما فعل الامام الجصاص فلولاحظ ھذا لما احتاج الی الخروج عن اقوال ائمۃ المذھب جمیعا بالتوزیع والتلفیق قال اما اذا شك فی موضع عزۃ الماء اوظن المنع فی غیرہ فالاحتیاط فی قولھما والتوسعۃ فی قولہ لان فی السؤال ذلا وقول من قال لا ذل فی سؤال مایحتاج الیہ ممنوع اھ۔
اقول : فاذن(۲) یؤل الامر الی ترجیح قول الامام مطلقاویذھب اختیار قولھماعندظن العطاء لان الذل محترز عنہ مطلقا وقدثبت فی
بات متحقق ہوگی جو صاحبین نے فرمائی کہ پانی لیا دیا جاتا ہے ورنہ ہر جگہ پانی کا عادۃ مبذول ہونا (لیا دیا جانا) کھلے طور پر قابل رد ومنع ہے جس پر سفروں کی زحمت اٹھانے والا ہر شخص شاہد ہے۔ تو حکم یہ ہونا چاہیے کہ مانگنا واجب ہے اور اس کے بغیرنماز صحیح نہیں اس صورت میں جبکہ دینے کا گمان ہو کیونکہ اس صورت میں صاحبین کی دلیل ظاہر ہے مگر اس صورت میں نہیں جبکہ نہ دینے کا گمان ہو اس لئے کہ یہ پانی کی کمیابی کی جگہ ہوگا اھ (ت)۔
اقول : صفار نے اقوال ائمہ کے برخلاف کوئی نیا قول ایجاد نہ کیا بلکہ یہ ان ہی اقوال کی شرح کی حیثیت رکھتا ہے جیسا کہ امام جصاص نے کیا ہے۔ صاحب غنیہ اگر اس کا خیال فرماتے تو انہیں تو زیع وتلفیق کرکے ائمہ مذہب کے سارے اقوال سے خروج کی ضرورت نہ پیش آتی وہ لکھتے ہیں : “ لیکن جب ایسی جگہ ہو جہاں پانی کمیاب ہو یا ایسی جگہ نہ ہو لیکن انکار کا گمان ہو تو احتیاط صاحبین کے قول میں ہے اور وسعت امام صاحب کے قول میں ہے اس لئے کہ مانگنے میں ایك ذلت ضرور ہے اور یہ بات ہمیں تسلیم نہیں کہ ضرورت کی چیز مانگنے میں کوئی ذلت نہیں “ اھ (ت)
اقول : تو معاملہ اس پر آجائے گا کہ امام صاحب کے قول کو مطلقا ترجیح ہے اور ظن عطا کی صورت میں صاحبین کا قول مختار نہ رہ جائےگا اس لئے کہ ذلت مطلقا پرہیز کیے جانے کے لائق ہے
حوالہ / References
غنیۃ المستملی باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۹
غنیۃ المستملی باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۹
غنیۃ المستملی باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۹
الحدیث عــہ۱ نھی (۱) المؤمن عن ان یذل نفسہ الا ان یقال انما یذل عــہ۲ بالسؤال حیث یعزلانہ اذن شیئ مضنون بہ فالمسئول منہ ان منع فھذا ذل ظاھر وان دفع من وتحمل المنۃ ذل حاضر بخلاف موضع لایعز فیہ فانھم یتباذلون بہ فیہ ولایتوقع المنع ولا الامتنان فی الدفع وعن ھذاقال فیہ لظھوردلیلھما قال واستدلالہ بانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم قدسأل بعض حوائجہ من غیرہ مستدرك لانہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کان بالمؤمنین(۲) اولی من انفسھم فلایقاس غیرہ علیہ لانہ اذاسال افترض علی المسؤل البذل ولاکذلك غیرہ اھ۔
حدیث میں بھی اس بات سے ممانعت آئی ہے کہ مومن اپنے کو ذلت میں ڈالے۔ مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مانگنے سے ذلت وہاں ہوگی جہاں پانی کمیاب ہو اس لئے کہ ایسی صورت میں پانی ایسی چیز ٹھہرے گا جس میں بخل وانکار ہوتا ہے اب جس سے مانگا گیا اگر نہ دے تو اس میں مانگنے والے کی کھلی ہوئی ذلت ہے اور اگر دے دے تو اس کا احسان ہوگا اور احسان لینا بروقت ذلت ہے بخلاف ایسی جگہ کے جہاں پانی کمیاب نہ ہو کیونکہ لوگ وہاں آپس میں پانی لیتے دیتے ہوں گے اور انکار ومنع متوقع نہ ہوگا اور دے دینے میں احسان جتلانے کی صورت بھی نہ ہوگی۔ اسی لئے صاحب غنیہ نے اس صورت سے متعلق فرمایا کہ اس میں صاحبین کی دلیل ظاہر ہے۔ مزید لکھتے ہیں : “ اور اس بات سے استدلال کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے
عــہ۱ الطبرانی فی المعجم الکبیرعن ابی ذر رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم من اعطی الذلۃ من نفسہ طائعا غیرمکرہ فلیس منا ۱۲منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ ظھرلی ھذا ثم رأیت العلامۃ الشرنبلالی اشار الی ھذا الفرق کمایاتی انفا فی عبارات القول الثالث ۱۲ منہ غفرلہ (م)
امام طبرانی نے معجم کبیرمیں حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے :
جو اپنی ذات کو ذلت بخوشی بغیراکراہ کے دے دے وہ ہم میں سے نہیں۱۲منہ غفرلہ (ت)
یہ کلام میرے ذہن میں آیا تھا پھر میں نے دیکھا کہ علامہ شرنبلالی اس فرق کی طرف اشارہ فرماچکے ہیں جیسا کہ قول سوم کی عبارتوں میں ابھی آئے گا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حدیث میں بھی اس بات سے ممانعت آئی ہے کہ مومن اپنے کو ذلت میں ڈالے۔ مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مانگنے سے ذلت وہاں ہوگی جہاں پانی کمیاب ہو اس لئے کہ ایسی صورت میں پانی ایسی چیز ٹھہرے گا جس میں بخل وانکار ہوتا ہے اب جس سے مانگا گیا اگر نہ دے تو اس میں مانگنے والے کی کھلی ہوئی ذلت ہے اور اگر دے دے تو اس کا احسان ہوگا اور احسان لینا بروقت ذلت ہے بخلاف ایسی جگہ کے جہاں پانی کمیاب نہ ہو کیونکہ لوگ وہاں آپس میں پانی لیتے دیتے ہوں گے اور انکار ومنع متوقع نہ ہوگا اور دے دینے میں احسان جتلانے کی صورت بھی نہ ہوگی۔ اسی لئے صاحب غنیہ نے اس صورت سے متعلق فرمایا کہ اس میں صاحبین کی دلیل ظاہر ہے۔ مزید لکھتے ہیں : “ اور اس بات سے استدلال کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے
عــہ۱ الطبرانی فی المعجم الکبیرعن ابی ذر رضی الله تعالی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم من اعطی الذلۃ من نفسہ طائعا غیرمکرہ فلیس منا ۱۲منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ ظھرلی ھذا ثم رأیت العلامۃ الشرنبلالی اشار الی ھذا الفرق کمایاتی انفا فی عبارات القول الثالث ۱۲ منہ غفرلہ (م)
امام طبرانی نے معجم کبیرمیں حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد ہے :
جو اپنی ذات کو ذلت بخوشی بغیراکراہ کے دے دے وہ ہم میں سے نہیں۱۲منہ غفرلہ (ت)
یہ کلام میرے ذہن میں آیا تھا پھر میں نے دیکھا کہ علامہ شرنبلالی اس فرق کی طرف اشارہ فرماچکے ہیں جیسا کہ قول سوم کی عبارتوں میں ابھی آئے گا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
غنیۃ المستملی باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۹
مجمع الزوائد بحوالہ طبرا نی ۱۰ / ۲۴۸ الترغیب والترھیب بحوالہ طبرانی ۴ / ۱۷۹
مجمع الزوائد بحوالہ طبرا نی ۱۰ / ۲۴۸ الترغیب والترھیب بحوالہ طبرانی ۴ / ۱۷۹
اقول : لیس (۱)کمثلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم غیرہ فی شیئ من الصفات ومنھاالغیرۃ فھو صلی الله تعالی علیہ وسلم اغیرخلق الله والله تعالی اغیرمنہ ومحال من نفس کریمۃ غیراء ان تتعرض لشیئ ممایعد ذلافثبت ان من سؤال الحاجۃ مالیس بذل والالماوقع منہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ولادخل (۲) فی ھذا لافتراض البذل وعدمہ وقد یفترض(۳) فی حق غیرہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ایضا کاطعام(۴) ذی مخمصۃ فھذا قد ینتفع بہ لمافی المبسوط۔
وانا اقول : انما(۵)الجواب فی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اولی بالمؤمنین من انفسھم علی منزع اخر دقیق وھو ان (۶) املاکہم املاکہ اذھم انفسھم املاکہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ولااحتمال لذل فی سؤال المولی بعض عبیدہ ممافی یدہ فانہ وما
اپنی ضرورت کی کچھ چیزیں دوسرے سے مانگیں قابل استدراك ہے اس لئے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ اختیار ہے تو حضور پر کسی اور کا قیاس نہیں ہوسکتا اس لئے کہ وہ جب طلب کریں تو جس سے طلب فرمایا اس پر دینا فرض ہوگیا۔ یہ حال کسی اور کا نہیں اھ (ت)
اقول : کسی بھی صفت میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی مثل دوسرا شخص نہیں۔ حضور کی ایك صفت “ غیرت “ بھی ہے تو حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمخلق خدا میں سب سے زیادہ غیرت مند ہیں اور خدائے برتران سے بڑھ کر غیرت والا ہے اور کسی بھی باعزت طبیعت سے یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی ایسے فعل سے تعرض کرے جو ذلت شمار ہوتا ہو۔ اس سے ثابت ہوا کہ ضرورت کی چیز مانگنا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے جس کا ذلت میں شمار نہیں ہوتا ورنہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے واقع ہی نہ ہوتا __اور اس میں دینا فرض ہونے نہ ہونے کا کوئی دخل نہیں فرض تو کبھی غیرحضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے حق میں بھی ہوجاتا ہے جیسے بھوك کی شدت والے کو کھانا دینا اس گفتگو سے کلام مبسوط کی حمایت میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ (ت)
اور میں کہتا ہوں(اس بات کا جواب کہ “ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممومنوں کے ان کی جانوں سے زیادہ مالك ہیں “ ایك دوسرے دقیق انداز پر ہے۔ وہ یہ کہ مومنوں کی ملکیتیں خود حضور کی ملك ہیں اس لئے کہ خود مومنین کی جانیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی ملك ہیں اور اس میں کسی ذلت کا احتمال نہیں کہ آقا اپنے غلام سے اس کے ہاتھ کی کوئی چیز طلب کرے اس لئے کہ خود غلام اور جو کچھ
وانا اقول : انما(۵)الجواب فی انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم اولی بالمؤمنین من انفسھم علی منزع اخر دقیق وھو ان (۶) املاکہم املاکہ اذھم انفسھم املاکہ صلی الله تعالی علیہ وسلم ولااحتمال لذل فی سؤال المولی بعض عبیدہ ممافی یدہ فانہ وما
اپنی ضرورت کی کچھ چیزیں دوسرے سے مانگیں قابل استدراك ہے اس لئے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ اختیار ہے تو حضور پر کسی اور کا قیاس نہیں ہوسکتا اس لئے کہ وہ جب طلب کریں تو جس سے طلب فرمایا اس پر دینا فرض ہوگیا۔ یہ حال کسی اور کا نہیں اھ (ت)
اقول : کسی بھی صفت میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی مثل دوسرا شخص نہیں۔ حضور کی ایك صفت “ غیرت “ بھی ہے تو حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمخلق خدا میں سب سے زیادہ غیرت مند ہیں اور خدائے برتران سے بڑھ کر غیرت والا ہے اور کسی بھی باعزت طبیعت سے یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی ایسے فعل سے تعرض کرے جو ذلت شمار ہوتا ہو۔ اس سے ثابت ہوا کہ ضرورت کی چیز مانگنا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے جس کا ذلت میں شمار نہیں ہوتا ورنہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے واقع ہی نہ ہوتا __اور اس میں دینا فرض ہونے نہ ہونے کا کوئی دخل نہیں فرض تو کبھی غیرحضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے حق میں بھی ہوجاتا ہے جیسے بھوك کی شدت والے کو کھانا دینا اس گفتگو سے کلام مبسوط کی حمایت میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ (ت)
اور میں کہتا ہوں(اس بات کا جواب کہ “ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممومنوں کے ان کی جانوں سے زیادہ مالك ہیں “ ایك دوسرے دقیق انداز پر ہے۔ وہ یہ کہ مومنوں کی ملکیتیں خود حضور کی ملك ہیں اس لئے کہ خود مومنین کی جانیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی ملك ہیں اور اس میں کسی ذلت کا احتمال نہیں کہ آقا اپنے غلام سے اس کے ہاتھ کی کوئی چیز طلب کرے اس لئے کہ خود غلام اور جو کچھ
فی یدہ ملك مولاہ فلیس من السؤال فی شیئ بل استخدام فبھذا یتجہ مرامہ ویتضح کلامہ ثم قال لکن عدم وجوب الطلب من الرفیق نسبہ صاحب الھدایۃ وصاحب الایضاح الی ابی حنیفۃ کماتقدم واماشمس الائمۃ فی المبسوط فانہ نسبہ الی الحسن بن زیاد فانہ یقول السؤال ذل وفیہ بعض الحرج وربمایوفق بان الحسن رواہ عن ابی حنیفۃ فی غیرظاھرالروایۃ واخذھوبہ فاعتمد فی المبسوط ظاھرالروایۃ واعتبرصاحب الھدایۃ والایضاح روایۃ الحسن لکونھا انسب بمذھب ابی حنیفۃ فی عدم اعتبار القدرۃ بالغیروفی اعتبار العجز للحال والله سبحنہ تعالی اعلم اھ۔
اس کے ہاتھ میں ہے سب اس کے آقا کی ملکیت ہے تو دراصل یہ مانگنا ہے ہی نہیں بلکہ یہ خدمت لیناہے۔ اس بیان سے صاحب غنیہ کے مقصد کی توجیہ اور ان کے کلام کی توضیح ہوجاتی ہے۔ پھر لکھتے ہیں : “ لیکن رفیق سے مانگنا واجب نہ ہونے کو صاحب ہدایہ اور صاحب ایضاح نے امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب کیا ہے جیسا کہ پہلے گزرا۔ لیکن شمس الائمہ نے مبسوط میں اسے حسن بن زیاد کی طرف منسوب کیاہے کہ وہی یہ کہتے ہیں کہ مانگنے میں ذلت ہے اور اس میں کچھ حرج ہے تطبیق یوں دی جاسکتی ہے کہ حسن نے اسے امام ابوحنیفہ سے غیرظاہر الروایۃ میں روایت کیااور خود حسن نے اسی کو لیا۔ تو مبسوط میں ظاہر الروایۃ پر اعتماد کیا اور صاحب ہدایہ وصاحب ایضاح نے روایت حسن کا اعتبار کیا اس لئے کہ وہ اس بارے میں امام ابوحنیفہ کے مذہب سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے کہ قدرت کااعتبار دوسرے کے لحاظ سے نہیں ہوتا اور اس بارے میں کہ فی الحال جو عجز ہے اسی کا اعتبار ہے۔ اور خدائے پاك ہی خوب جاننے والا ہے اھ (ت)
اقول : ولی(۱) فیہ کلام سیاتی (اس میں مجھے کلام ہے جو عنقریب آرہا ہے۔ ت) حلیہ میں ہے :
فی الاختیار جاز(ای التیمم قبل الطلب)عند ابی حنیفۃ وعند ابی یوسف لایجوز ولم یذکر عــہ محمدا وانما ذکران قیاس قولہ
اختیار میں ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیك (مانگنے سے پہلے تیمم) جائز ہے اور امام ابویوسف کے نزدیك جائز نہیں۔ امام محمد کا ذکر نہ کیا صرف یہ ذکر کیا کہ ان کے
عــہ ای صاحب الاختیار
(یعنی صاحب اختیار نے ۱۲۔ ت)
اس کے ہاتھ میں ہے سب اس کے آقا کی ملکیت ہے تو دراصل یہ مانگنا ہے ہی نہیں بلکہ یہ خدمت لیناہے۔ اس بیان سے صاحب غنیہ کے مقصد کی توجیہ اور ان کے کلام کی توضیح ہوجاتی ہے۔ پھر لکھتے ہیں : “ لیکن رفیق سے مانگنا واجب نہ ہونے کو صاحب ہدایہ اور صاحب ایضاح نے امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب کیا ہے جیسا کہ پہلے گزرا۔ لیکن شمس الائمہ نے مبسوط میں اسے حسن بن زیاد کی طرف منسوب کیاہے کہ وہی یہ کہتے ہیں کہ مانگنے میں ذلت ہے اور اس میں کچھ حرج ہے تطبیق یوں دی جاسکتی ہے کہ حسن نے اسے امام ابوحنیفہ سے غیرظاہر الروایۃ میں روایت کیااور خود حسن نے اسی کو لیا۔ تو مبسوط میں ظاہر الروایۃ پر اعتماد کیا اور صاحب ہدایہ وصاحب ایضاح نے روایت حسن کا اعتبار کیا اس لئے کہ وہ اس بارے میں امام ابوحنیفہ کے مذہب سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے کہ قدرت کااعتبار دوسرے کے لحاظ سے نہیں ہوتا اور اس بارے میں کہ فی الحال جو عجز ہے اسی کا اعتبار ہے۔ اور خدائے پاك ہی خوب جاننے والا ہے اھ (ت)
اقول : ولی(۱) فیہ کلام سیاتی (اس میں مجھے کلام ہے جو عنقریب آرہا ہے۔ ت) حلیہ میں ہے :
فی الاختیار جاز(ای التیمم قبل الطلب)عند ابی حنیفۃ وعند ابی یوسف لایجوز ولم یذکر عــہ محمدا وانما ذکران قیاس قولہ
اختیار میں ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیك (مانگنے سے پہلے تیمم) جائز ہے اور امام ابویوسف کے نزدیك جائز نہیں۔ امام محمد کا ذکر نہ کیا صرف یہ ذکر کیا کہ ان کے
عــہ ای صاحب الاختیار
(یعنی صاحب اختیار نے ۱۲۔ ت)
حوالہ / References
غنیۃ المستملی باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۹
ان غلب علی ظنہ انہ یعطیہ لایجوز والا یجوز اھ
اقول : ھکذاجری القیل والقال٭ولاحاجۃالی استکثارالاقوال٭بل نأتی علی المقامین لفصل المقال٭بتوفیق ربنا المھیمن المتعال٭
المقام الاول : تظافرت ھھناکلمات العلماء علی ثلثۃ مسالک :
اولھا : لایجب الطلب مطلقاوانہ قول سیدنا الامام خلافالصاجیہ اوقول الطرفین خلافا للثانی رضی اللہ تعالی عنہم۔
ودخل فی قولی مطلقامن صرح بالاطلاق کمافی جامع الرموزعن التجریدیصح قبل الطلب من الرفیق وان ظن الاعطاء کماقال ابوحنیفۃ خلافا لابی یوسف اھ۔
ویقرب منہ قول الاختیار المارحیث اطلق الجوازعند الامام وقابلہ بالتفصیل علی قیاس قول محمد ومثلھا عبارۃ الجوھرۃ الاتیۃ ومن
قول کے قیاس کا اقتضایہ ہے کہ اگر اسے غالب گمان ہو کہ دے دے گا تو جائز نہیں ورنہ جائز ہے اھ (ت)
اقول : اسی طرح قیل وقال جاری ہے۔ اور زیادہ اقوال لانے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ہم اپنے برتر نگہبان پروردگار کی توفیق سے تفصیل کلام کیلئے ان دو۲ مقاموں پر آتے ہیں :
مقام اول : یہاں کلمات علما ء تین مسالك پر کثرت سے وارد ہوئے ہیں : مسلك اول : مطلقا مانگنا واجب نہیں۔ اور یہ ہمارے امام صاحب کا قول ہے بخلاف صاحبین۔ یا یہ طرفین کاقول ہے بخلاف امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہم۔
میرے “ مطلقا “ کہنے میں اطلاق کی تصریح کرنے والے اور اس حکم کو بلاقید ذکر کرنے والے سبھی لوگ داخل ہیں۔ اطلاق کی تصریح جیسے جامع الرموز میں تجرید کے حوالہ سے ہے کہ رفیق سے پانی مانگنے سے پہلے تیمم صحیح ہے اگرچہ دینے کا گمان رکھتا ہو جیسا کہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے بخلاف امام ابویوسف “ ۔ اھ اس سے قریب “ اختیار “ کی گزشتہ عبارت ہے کہ اس میں امام صاحب کے جواز کو مطلق ذکر کیا ہے اور اس کے مقابلہ میں قول امام محمد کے قیاس پر تفصیل بیان کی ہے اور اسی کے مثل جوہرہ کی عبارت ہے جو آرہی ہے
اقول : ھکذاجری القیل والقال٭ولاحاجۃالی استکثارالاقوال٭بل نأتی علی المقامین لفصل المقال٭بتوفیق ربنا المھیمن المتعال٭
المقام الاول : تظافرت ھھناکلمات العلماء علی ثلثۃ مسالک :
اولھا : لایجب الطلب مطلقاوانہ قول سیدنا الامام خلافالصاجیہ اوقول الطرفین خلافا للثانی رضی اللہ تعالی عنہم۔
ودخل فی قولی مطلقامن صرح بالاطلاق کمافی جامع الرموزعن التجریدیصح قبل الطلب من الرفیق وان ظن الاعطاء کماقال ابوحنیفۃ خلافا لابی یوسف اھ۔
ویقرب منہ قول الاختیار المارحیث اطلق الجوازعند الامام وقابلہ بالتفصیل علی قیاس قول محمد ومثلھا عبارۃ الجوھرۃ الاتیۃ ومن
قول کے قیاس کا اقتضایہ ہے کہ اگر اسے غالب گمان ہو کہ دے دے گا تو جائز نہیں ورنہ جائز ہے اھ (ت)
اقول : اسی طرح قیل وقال جاری ہے۔ اور زیادہ اقوال لانے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ ہم اپنے برتر نگہبان پروردگار کی توفیق سے تفصیل کلام کیلئے ان دو۲ مقاموں پر آتے ہیں :
مقام اول : یہاں کلمات علما ء تین مسالك پر کثرت سے وارد ہوئے ہیں : مسلك اول : مطلقا مانگنا واجب نہیں۔ اور یہ ہمارے امام صاحب کا قول ہے بخلاف صاحبین۔ یا یہ طرفین کاقول ہے بخلاف امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہم۔
میرے “ مطلقا “ کہنے میں اطلاق کی تصریح کرنے والے اور اس حکم کو بلاقید ذکر کرنے والے سبھی لوگ داخل ہیں۔ اطلاق کی تصریح جیسے جامع الرموز میں تجرید کے حوالہ سے ہے کہ رفیق سے پانی مانگنے سے پہلے تیمم صحیح ہے اگرچہ دینے کا گمان رکھتا ہو جیسا کہ امام ابوحنیفہ کا قول ہے بخلاف امام ابویوسف “ ۔ اھ اس سے قریب “ اختیار “ کی گزشتہ عبارت ہے کہ اس میں امام صاحب کے جواز کو مطلق ذکر کیا ہے اور اس کے مقابلہ میں قول امام محمد کے قیاس پر تفصیل بیان کی ہے اور اسی کے مثل جوہرہ کی عبارت ہے جو آرہی ہے
حوالہ / References
الاختیار لتعلیل المختار ، باب التیمم ، درفراس للنشر والتوزیع بیروت ۱ / ۲۲
جامع الرموز باب التیمم مطبع ایران ۱ / ۷۵
جامع الرموز باب التیمم مطبع ایران ۱ / ۷۵
ارسلوا ارسالا وھم الاکثرون ففی الوقایۃ قبل طلبہ جاز خلافالھما اھ وفی النقایۃ یصح قبل الطلب اھ ومرعن الھدایۃ تیمم قبل الطلب اجزأہ عندا بیحنیفۃ وفی بدائع ملك العلماء لوکان مع رفیقہ ماء ولم یعلم بہ لایجب الطلب عندناوان علم بہ ولکن لاثمن لہ فکذلك عندا بی حنیفۃ وقال ابویوسف علیہ السؤال وجہ قولہ ان الماء مبذول عادۃ ولابی حنیفۃ ان العجز متحقق والقدرۃ موھومۃ لان الماء من اعزا لاشیاء فی السفر اھ
وفی الخانیۃ لورأی مع رفیقہ ماء فتیمم قبل ان یسأل وصلی جاز اھ وفی الخلاصۃ وفی الاصل لوکان مع رفیقہ ماء فانہ یسأل قال فی التجرید السؤال لیس بواجب عندا بی حنیفۃ وقال ابویوسف واجب اھ ولفظ البنایۃ عن التجرید لایجب الطلب من الرفیق عند ابی حنیفۃ و
بلاقید ذکر کرنے والے حضرات زیادہ ہیں۔ وقایہ میں ہے : “ مانگنے سے پہلے جائز ہے بخلاف صاحبین اھ “ ۔ نقایہ میں ہے : “ قبل طلب صحیح ہے “ اھ۔ اور ہدایہ کی عبارت گزر چکی : “ مانگنے سے پہلے تیمم کیا تو امام ابوحنیفہ کے نزدیك ہوگیا“ ۔
بدائع ملك العلماء میں ہے : “ اگر اس کے رفیق سفر کے پاس پانی تھا اور اسے علم نہ ہوا تو ہمارے نزدیك مانگنا واجب نہیں اور اگر اسے علم ہوا لیکن اس کا دام نہیں رکھتا تو بھی امام ابوحنیفہ کے نزدیك یہی ہے اور امام ابویوسف کا قول ہے کہ اس پر مانگنا ہے۔ ان کے قول کی وجہ یہ ہے کہ پانی عادۃ دے دیا جاتا ہے اور امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ عجز متحقق ہے اور قدرت موہوم ہے اس لئے کہ سفر میں پانی سب سے کم یاب شے ہے اھ۔
خانیہ میں ہے : “ اگر اپنے رفیق کے پاس پانی دیکھا پھرمانگنے سے پہلے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی تو جائز ہے “ اھ خلاصہ میں ہے : “ اصل (مبسوط) میں ہے : اگر رفیق سفر کے پاس پانی ہو تو مانگے گا۔ تجرید میں ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیك مانگنا واجب نہیں اور امام ابویوسف کا
وفی الخانیۃ لورأی مع رفیقہ ماء فتیمم قبل ان یسأل وصلی جاز اھ وفی الخلاصۃ وفی الاصل لوکان مع رفیقہ ماء فانہ یسأل قال فی التجرید السؤال لیس بواجب عندا بی حنیفۃ وقال ابویوسف واجب اھ ولفظ البنایۃ عن التجرید لایجب الطلب من الرفیق عند ابی حنیفۃ و
بلاقید ذکر کرنے والے حضرات زیادہ ہیں۔ وقایہ میں ہے : “ مانگنے سے پہلے جائز ہے بخلاف صاحبین اھ “ ۔ نقایہ میں ہے : “ قبل طلب صحیح ہے “ اھ۔ اور ہدایہ کی عبارت گزر چکی : “ مانگنے سے پہلے تیمم کیا تو امام ابوحنیفہ کے نزدیك ہوگیا“ ۔
بدائع ملك العلماء میں ہے : “ اگر اس کے رفیق سفر کے پاس پانی تھا اور اسے علم نہ ہوا تو ہمارے نزدیك مانگنا واجب نہیں اور اگر اسے علم ہوا لیکن اس کا دام نہیں رکھتا تو بھی امام ابوحنیفہ کے نزدیك یہی ہے اور امام ابویوسف کا قول ہے کہ اس پر مانگنا ہے۔ ان کے قول کی وجہ یہ ہے کہ پانی عادۃ دے دیا جاتا ہے اور امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ عجز متحقق ہے اور قدرت موہوم ہے اس لئے کہ سفر میں پانی سب سے کم یاب شے ہے اھ۔
خانیہ میں ہے : “ اگر اپنے رفیق کے پاس پانی دیکھا پھرمانگنے سے پہلے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی تو جائز ہے “ اھ خلاصہ میں ہے : “ اصل (مبسوط) میں ہے : اگر رفیق سفر کے پاس پانی ہو تو مانگے گا۔ تجرید میں ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیك مانگنا واجب نہیں اور امام ابویوسف کا
حوالہ / References
شرح الوقایہ باب التیمم مطبع رشیدیہدہلی ۱ / ۱۰۱
نقایہ مختصر الوقایہ کتاب الطہار ۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۶
الہدایۃ مع العینی کتاب الطہار ۃ المکتبۃ الامدادیہ مکہ مکرمہ ۱ / ۳۳۷
بدائع الصنائع کتاب الطہار ۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۴۸
فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۶
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس فے التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۲
نقایہ مختصر الوقایہ کتاب الطہار ۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۶
الہدایۃ مع العینی کتاب الطہار ۃ المکتبۃ الامدادیہ مکہ مکرمہ ۱ / ۳۳۷
بدائع الصنائع کتاب الطہار ۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۴۸
فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۶
خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس فے التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۲
محمد خلافا لابی یوسف رحمھم الله تعالی اھ وفی ملتقی الابحران تیمم قبل الطلب اجزأہ اھ وفی الاصلاح ویصح قبل طلبہ من رفیق لہ ماء خلافالھما اھ قال ش وبقول الامام جزم فی المجمع والملتقی والوقایۃ وابن الکمال اھ وقال العلامۃ الوزیرفی الایضاح ھذا علی وفق مافی الھدایۃ والایضاح والتقریب وغیرھا(ای کشرح الاقطع کماتقدم عن العنایۃ والبنایۃ والبحرقال) وفی التجرید ذکر محمدا مع ابی حنیفۃ اھ ثم ذکر توفیق الجصاص ثم کلام المبسوط المارفی عبارۃ العنایۃ والبحر ثم اعقبہ بکلام البدائع المار۔
اقول : (۱) وبھذہ النصوص ظھر مافی قول النھایۃ لم یذکر الخلاف الا فی الایضاح وکذ لك یقال للعلامۃ البحر ھولاء المتون والعمائد البدایۃ و الوقایۃ والاصلاح والمجمع والتجرید والایضاح والتقریب و
قول ہے کہ واجب ہے “ اھ
تجرید کا حوالہ دیتے ہوئے بنایہ کے الفاظ یہ ہیں : “ رفیق سے مانگنا امام ابوحنیفہ وامام محمد کے نزدیك واجب نہیں بخلاف امام ابویوسف- رحمہم اللہ تعالیاھ۔ ملتقی الابحر میں ہے : “ اگر مانگنے سے پہلے تیمم کرلیا تو ہوگیا “ اھ۔ اصلاح میں ہے : “ اپنے کسی رفیق سے پانی مانگنے سے پہلے تیمم کرلیناصحیح ہے بخلاف صاحبین “ اھ۔ علامہ شامی لکھتے ہیں : “ امام صاحب ہی کے قول پر مجمع ملتقی وقایہ اور ابن الکمال کا جزم ہے “ اھ علامہ وزیرایضاح میں رقمطراز ہیں : “ یہ اس کے مطابق ہے جو ہدایہ ایضاح تقریب اور ان کے علاوہ (یعنی جیسے شرح اقطع جیسا کہ عنایہ بنایہ اور بحر کے حوالوں سے گزرا) میں ہے۔ اور تجرید میں امام محمد کو امام ابوحنیفہ کے ساتھ ذکر کیا ہے “ اھ پھر امام جصاص کی تطبیق ذکر کی ہے پھر مبسوط کاکلام جو عنایہ وبحر کی عبارتوں میں گزرااس کے بعد بدائع کی عبارت لکھی ہے جو ابھی گزری۔ (ت)
اقول : ان ہی نصوص سے نہایہ کے اس قول کی خامی ظاہر ہوگئی کہ “ صرف ایضاح میں اختلاف کا ذکر آیا ہے۔ اسی طرح علامہ بحر سے بھی عرض کیا جائے گا کہ یہ متون وعمائد بدایہ وقایہ اصلاح مجمع تجرید ایضاح تقریب
اقول : (۱) وبھذہ النصوص ظھر مافی قول النھایۃ لم یذکر الخلاف الا فی الایضاح وکذ لك یقال للعلامۃ البحر ھولاء المتون والعمائد البدایۃ و الوقایۃ والاصلاح والمجمع والتجرید والایضاح والتقریب و
قول ہے کہ واجب ہے “ اھ
تجرید کا حوالہ دیتے ہوئے بنایہ کے الفاظ یہ ہیں : “ رفیق سے مانگنا امام ابوحنیفہ وامام محمد کے نزدیك واجب نہیں بخلاف امام ابویوسف- رحمہم اللہ تعالیاھ۔ ملتقی الابحر میں ہے : “ اگر مانگنے سے پہلے تیمم کرلیا تو ہوگیا “ اھ۔ اصلاح میں ہے : “ اپنے کسی رفیق سے پانی مانگنے سے پہلے تیمم کرلیناصحیح ہے بخلاف صاحبین “ اھ۔ علامہ شامی لکھتے ہیں : “ امام صاحب ہی کے قول پر مجمع ملتقی وقایہ اور ابن الکمال کا جزم ہے “ اھ علامہ وزیرایضاح میں رقمطراز ہیں : “ یہ اس کے مطابق ہے جو ہدایہ ایضاح تقریب اور ان کے علاوہ (یعنی جیسے شرح اقطع جیسا کہ عنایہ بنایہ اور بحر کے حوالوں سے گزرا) میں ہے۔ اور تجرید میں امام محمد کو امام ابوحنیفہ کے ساتھ ذکر کیا ہے “ اھ پھر امام جصاص کی تطبیق ذکر کی ہے پھر مبسوط کاکلام جو عنایہ وبحر کی عبارتوں میں گزرااس کے بعد بدائع کی عبارت لکھی ہے جو ابھی گزری۔ (ت)
اقول : ان ہی نصوص سے نہایہ کے اس قول کی خامی ظاہر ہوگئی کہ “ صرف ایضاح میں اختلاف کا ذکر آیا ہے۔ اسی طرح علامہ بحر سے بھی عرض کیا جائے گا کہ یہ متون وعمائد بدایہ وقایہ اصلاح مجمع تجرید ایضاح تقریب
حوالہ / References
عینی شرح الہدایۃ باب التیمم مطبع المکتبۃ الامدادیہ مکہ مکرمہ ۱ / ۳۳۷
ملتقی الابحر باب التیمم مؤسسۃ الرسالۃ ، بیروت ۱ / ۳۲
اصلاح ایضاح
ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۳
ملتقی الابحر باب التیمم مؤسسۃ الرسالۃ ، بیروت ۱ / ۳۲
اصلاح ایضاح
ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۳
شرح الاقطع والبدائع والخلاصۃ والفتح والاختیار والجوھرۃ کلھم ناصون بالخلاف بین الامام وصاحبیہ والامام الاجل ابوبکر الجصاص یوفق بین قول الامام وصاحبیہ وقال فی البرھان شرح مواھب الرحمن الاظھر قولھما ثم ذکر توفیق الجصاص وایدہ بقولہ ولھذا لم یحك الکافی خلافا اھ نقلہ العلامۃ الشرنبلالی فی غنیۃ ذوی الاحکام کیف یرد قولھم جمیعا بمجرد ان فی المبسوط لم ینسب الخلاف الا الی الحسن الیس المثبتون وھم عصبۃ مقدمین علی ناف واحد الیس ان ظاھر (۱) الروایۃ ربما (۲) تتعدد فی مسألۃ واحدۃ وقولی ھذا اولی من توفیق الغنیۃ المار فی عبارتھا ان ھؤلاء اعتبروا الروایۃ النادرۃ لکونھا انسب بمذھب الامام فاعتبارھا لھذا شیئ وجعلھا قول الامام ونصب الخلاف بینہ وبین صاحبیہ فی المذھب شیئ اخروان(۳) اقرہ فی ردالمحتار ومنحۃ الخالق والله سبحنہ الموفق۔
وثانیھا : یجب مطلقا وانہ ظاھر الروایۃ عن ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم وذلك مامر عن المبسوط شرح اقطع بدائع خلاصہ فتح اختیار جوہرہ سب کے سب اس پر نص کررہے ہیں کہ امام اعظم اور صاحبین کے درمیان اختلاف ہے۔ اور امام اجل ابوبکر جصاص امام صاحب اور صاحبین کے قول میں تطبیق دے رہے۔ اور برہان شرح مواہب الرحمن میں فرمایا : زیادہ ظاہر قول صاحبین ہے پھر جصاص کی تطبیق ذکر کی ہے اور اپنے اس قول سے اس کی تائید کی ہے کہ اسی لئے “ کافی “ نے کسی اختلاف کی حکایت نہ کی اھ اسے علامہ شرنبلالی نے غنیۃ ذوی الاحکام میں نقل کیا۔ ان تمام حضرات کا قول صرف اس وجہ سے کےسے رد کردیا جائے گا کہ “ مبسوط نے محض حسن کی طرف اختلاف کی نسبت کی ہے “ کیا اثبات کرنے والے جبکہ وہ طاقتور بھی ہیں ایك نفی کرنے والے پر مقدم نہیں کیا ایسا نہیں کہ بارہا ایك مسئلہ میں ظاہر الروایۃ متعدد بھی ہوتی ہے۔ میرا یہ قول (تعدد ظاہر الروایۃ) غنیہ کی اس تطبیق سے بہتر ہے جو اس کی عبارت میں گزری کہ “ ان حضرات نے روایت نادرہ کا اعتبار کیا اس لئے کہ وہ مذہب امام سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے “ ۔ اس وجہ سے اس کا اعتبار کرنا اور چیز ہے۔ اور اسے امام کا قول قرار دینااور ان کے اور صاحبین کے درمیان مذہب میں اختلاف قائم کرنا اور چیز ہے۔ اگرچہ غنیہ کی تطبیق کو علامہ شامی نے بھی ردالمحتار اور منحۃ الخالق میں برقرار رکھا ہے اور خدائے پاك ہی توفیق بخشنے والا ہے۔ (ت)
مسلك دوم : مانگنا مطلقا واجب ہے اور یہ کہ یہ ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمسے ظاہر الروایۃ ہے۔ اور یہی وہ ہے جو مبسوط کے حوالہ سے
وثانیھا : یجب مطلقا وانہ ظاھر الروایۃ عن ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنھم وذلك مامر عن المبسوط شرح اقطع بدائع خلاصہ فتح اختیار جوہرہ سب کے سب اس پر نص کررہے ہیں کہ امام اعظم اور صاحبین کے درمیان اختلاف ہے۔ اور امام اجل ابوبکر جصاص امام صاحب اور صاحبین کے قول میں تطبیق دے رہے۔ اور برہان شرح مواہب الرحمن میں فرمایا : زیادہ ظاہر قول صاحبین ہے پھر جصاص کی تطبیق ذکر کی ہے اور اپنے اس قول سے اس کی تائید کی ہے کہ اسی لئے “ کافی “ نے کسی اختلاف کی حکایت نہ کی اھ اسے علامہ شرنبلالی نے غنیۃ ذوی الاحکام میں نقل کیا۔ ان تمام حضرات کا قول صرف اس وجہ سے کےسے رد کردیا جائے گا کہ “ مبسوط نے محض حسن کی طرف اختلاف کی نسبت کی ہے “ کیا اثبات کرنے والے جبکہ وہ طاقتور بھی ہیں ایك نفی کرنے والے پر مقدم نہیں کیا ایسا نہیں کہ بارہا ایك مسئلہ میں ظاہر الروایۃ متعدد بھی ہوتی ہے۔ میرا یہ قول (تعدد ظاہر الروایۃ) غنیہ کی اس تطبیق سے بہتر ہے جو اس کی عبارت میں گزری کہ “ ان حضرات نے روایت نادرہ کا اعتبار کیا اس لئے کہ وہ مذہب امام سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے “ ۔ اس وجہ سے اس کا اعتبار کرنا اور چیز ہے۔ اور اسے امام کا قول قرار دینااور ان کے اور صاحبین کے درمیان مذہب میں اختلاف قائم کرنا اور چیز ہے۔ اگرچہ غنیہ کی تطبیق کو علامہ شامی نے بھی ردالمحتار اور منحۃ الخالق میں برقرار رکھا ہے اور خدائے پاك ہی توفیق بخشنے والا ہے۔ (ت)
مسلك دوم : مانگنا مطلقا واجب ہے اور یہ کہ یہ ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمسے ظاہر الروایۃ ہے۔ اور یہی وہ ہے جو مبسوط کے حوالہ سے
حوالہ / References
غنیۃ المستملی باب التیمم مطبع احمد کامل الکائنہ فی دار السعادۃ ۱ / ۳۲
واعتمدہ تبعا لشیخہ فی التنویر فقال قبل طلبہ لاتیمم علی الظاھر اھ قال فی المدرای ظاھر الروایۃ عن اصحابنا لانہ مبذول عادۃ وعلیہ الفتوی اھ۔
اقول : ولم ارھذہ اللفظۃ لغیرہ ولاعزاہ محشوہ لاحد وفی التبیین لوعلم بہ خارج الصلاۃ وصلی بالتیمم قبل الطلب لایجزئہ اھ ثم ذکر روایۃ الحسن ثم توفیق الجصاص و فی جواھر الاخلاطی مع رفیقہ ماء وشرع فی الصلاۃ قبل الطلب لایجوز وقیل یجوز علی قیاس قول الامام خلافا للقاضی اھ۔
اقول : وھنا عبارات اخر لیست صرائح کماتقدم عن الخلاصۃ عن الاصل انہ یسأل فان (۱) الصیغۃ وان کان ظاھرھا الوجوب کثیرا ماتأتی
للندب کمالایخفی علی من خدم کلماتھم ویقرب منہ قول القدوری ان کان مع رفیقہ ماء طلب منہ قبل ان یتیمم فان منعہ منہ تیمم اھ
والسراجیۃ
گزرا۔ اور تنویرمیں اپنے شیخ کا اتباع کرتے ہوئے اسی پر اعتماد کیا تو یہ لکھا کہ “ اس سے مانگنے سے پہلے ظاہر کی بنیاد پر تیمم نہیں کرے گا “ اھ۔ درمختار میں فرمایا : “ ظاہر سے مراد ہمارے اصحاب سے ظاہر الروایہ اس لئے کہ پانی عادۃ دیا جاتا ہے اور اسی پر فتوی ہے “ اھ (ت)
اقول : یہ لفظ میں نے کسی اور کے یہاں نہ دیکھا اور نہ ہی درمختار کے محشی حضرات نے اس پر کسی کا حوالہ دیا۔ تبیین میں ہے : اگر خارج نماز اسے اس کا علم ہوگیا پھر بھی مانگنے سے پہلے تیمم سے نماز پڑھ لی تو یہ اس کیلئے کفایت نہیں کرسکتا “ اھ۔ پھر انہوں نے حسن کی روایت اور جصاص کی تطبیق ذکر کی۔
جواہر الاخلاطی میں ہے : “ اس کے رفیق کے پاس پانی ہے اور مانگنے سے پہلے نماز شروع کردی تو جائز نہیں اور کہا گیا کہ قول امام کے قیاس پر جائز ہے بخلاف قاضی کے۔ اھ (ت)
اقول : یہاں کچھ اور عبارتیں بھی ہیں جو صریح نہیں جیسے خلاصہ سے بحوالہ اصل گزرا کہ “ وہ مانگے گا “ اس لئے کہ صیغہ خبر اگرچہ وجوب میں ظاہر ہے لیکن ندب واستحباب کے لئے بھی کثرت سے آتا ہے جیسا کہ کلمات علما ءکے خدمت گزاروں پر مخفی نہیں۔ اس سے قریب یہ عبارتیں بھی ہیں (۱) اگر اس کے رفیق کے پاس پانی ہو تو تیمم کرنے سے پہلے اس سے
اقول : ولم ارھذہ اللفظۃ لغیرہ ولاعزاہ محشوہ لاحد وفی التبیین لوعلم بہ خارج الصلاۃ وصلی بالتیمم قبل الطلب لایجزئہ اھ ثم ذکر روایۃ الحسن ثم توفیق الجصاص و فی جواھر الاخلاطی مع رفیقہ ماء وشرع فی الصلاۃ قبل الطلب لایجوز وقیل یجوز علی قیاس قول الامام خلافا للقاضی اھ۔
اقول : وھنا عبارات اخر لیست صرائح کماتقدم عن الخلاصۃ عن الاصل انہ یسأل فان (۱) الصیغۃ وان کان ظاھرھا الوجوب کثیرا ماتأتی
للندب کمالایخفی علی من خدم کلماتھم ویقرب منہ قول القدوری ان کان مع رفیقہ ماء طلب منہ قبل ان یتیمم فان منعہ منہ تیمم اھ
والسراجیۃ
گزرا۔ اور تنویرمیں اپنے شیخ کا اتباع کرتے ہوئے اسی پر اعتماد کیا تو یہ لکھا کہ “ اس سے مانگنے سے پہلے ظاہر کی بنیاد پر تیمم نہیں کرے گا “ اھ۔ درمختار میں فرمایا : “ ظاہر سے مراد ہمارے اصحاب سے ظاہر الروایہ اس لئے کہ پانی عادۃ دیا جاتا ہے اور اسی پر فتوی ہے “ اھ (ت)
اقول : یہ لفظ میں نے کسی اور کے یہاں نہ دیکھا اور نہ ہی درمختار کے محشی حضرات نے اس پر کسی کا حوالہ دیا۔ تبیین میں ہے : اگر خارج نماز اسے اس کا علم ہوگیا پھر بھی مانگنے سے پہلے تیمم سے نماز پڑھ لی تو یہ اس کیلئے کفایت نہیں کرسکتا “ اھ۔ پھر انہوں نے حسن کی روایت اور جصاص کی تطبیق ذکر کی۔
جواہر الاخلاطی میں ہے : “ اس کے رفیق کے پاس پانی ہے اور مانگنے سے پہلے نماز شروع کردی تو جائز نہیں اور کہا گیا کہ قول امام کے قیاس پر جائز ہے بخلاف قاضی کے۔ اھ (ت)
اقول : یہاں کچھ اور عبارتیں بھی ہیں جو صریح نہیں جیسے خلاصہ سے بحوالہ اصل گزرا کہ “ وہ مانگے گا “ اس لئے کہ صیغہ خبر اگرچہ وجوب میں ظاہر ہے لیکن ندب واستحباب کے لئے بھی کثرت سے آتا ہے جیسا کہ کلمات علما ءکے خدمت گزاروں پر مخفی نہیں۔ اس سے قریب یہ عبارتیں بھی ہیں (۱) اگر اس کے رفیق کے پاس پانی ہو تو تیمم کرنے سے پہلے اس سے
حوالہ / References
درمختار ، باب التیمم ، مطبع دہلی ، ۱ / ۴۴
تبیین الحقائق باب التیمم مطبع الازہریہ مصر ۱ / ۴۴
جواہر الاخلاطی فصل فی التیمم (قلمی نسخہ) ۱ / ۱۳
قدوری باب التیمم مطبع کان پور ص۱۲
تبیین الحقائق باب التیمم مطبع الازہریہ مصر ۱ / ۴۴
جواہر الاخلاطی فصل فی التیمم (قلمی نسخہ) ۱ / ۱۳
قدوری باب التیمم مطبع کان پور ص۱۲
اذاوجد مع رفیقہ ماء فانہ یسألہ فان لم یعطہ تیمم وصلی اھ والکنز یطلبہ من رفیقہ فان منعہ تیمم اھ کیف وقد قال مثلہ فی الملتقی واعتمد مذھب الامام وھذا نصہ ان کان مع رفیقہ ماء طلبہ وان منعہ تیمم وان تیمم قبل الطلب اجزأہ اھ۔
تنبیہ : قولی ھھنا یجب مطلقا المراد بہ انھم ذکروھا مرسلۃ ولم یقیدوھا بمایاتی فی القول الثالث اذ ھذا ھو الواقع فی کلام المبسوط واتباعہ نعم حملہ الامام صدر الشریعۃ علی صریح التعمیم کماسیاتی فی ذکر قانونہ مع تضعیفہ ان شاء الله تعالی ویقرب منہ مامرعن الغنیۃ من حمل کل من قولی الامام وصاحبیہ علی التعمیم حتی تأتی لہ التلفیق وقد تقدم انہ لیس بتحقیق۔
وثالثھا : ادارۃ الامر علی ظنہ فان ظن العطاء وجب الطلب ولم یجز
طلب کرے اگر نہ دے تو تیمم کرے “ اھ قدوری۔ (۲) “ اپنے رفیق کے پاس پانی پائے تو اس سے مانگے اگر نہ دے تو تیمم کرے اور نماز پڑھے “ اھ سراجیہ۔ (۳) “ اپنے رفیق سے پانی طلب کرے اگر نہ دے تو تیمم کرے “ اھ کنزالدقائق۔ یہ صیغہ ہاں وجوب کیلئے کیسے ہوسکتا ہے جب کہ ملتقی میں بھی اسی کے مثل فرمایا پھر بھی ان کا اعتماد مذہب امام پر ہے ان کی عبارت یہ ہے : “ اگر اس کے رفیق کے پاس پانی ہو تو اس سے طلب کرے اگر نہ دے تو تیمم کرے اور اگر مانگنے سے پہلے تیمم کرلیا تو بھی ہوگیا “ ۔ اھ (ت)
تنبیہ : میرے “ مطلقا واجب “ کہنے سے مراد یہ ہے کہ علما نے اسے مرسل ذکر کیا ہے اور وہ قید نہیں لگائی ہے جو تیسرے قول میں آرہی ہے۔ اس لئے کہ مبسوط اور اس کے اتباع کے کلام میں یہی صورت واقع ہے (یعنی ارسال ہے تقیید نہیں)۔ ہاں امام صدر الشریعۃ نے اسے صریح تعمیم پر محمول کیا ہے جیسا کہ ان کے قانون کے ذکر میں تضعیف کے ساتھ اس کا ذکر آرہا ہے ان شاء اللہتعالی۔ اور اس سے قریب وہ بھی ہے جو غنیہ سے گزرا کہ انہوں نے امام اور صاحبین کے دونوں قولوں کو تعمیم پر رکھا یہاں تك کہ ان کیلئے تلفیق کی گنجائش نکل آئی وہاں گزر چکا کہ یہ تحقیق نہیں۔ (ت)
مسلك سوم : معاملہ اس کے گمان پر دائر رکھنا کہ اگر اسے دینے کا گمان ہو تو مانگنا واجب ہے
تنبیہ : قولی ھھنا یجب مطلقا المراد بہ انھم ذکروھا مرسلۃ ولم یقیدوھا بمایاتی فی القول الثالث اذ ھذا ھو الواقع فی کلام المبسوط واتباعہ نعم حملہ الامام صدر الشریعۃ علی صریح التعمیم کماسیاتی فی ذکر قانونہ مع تضعیفہ ان شاء الله تعالی ویقرب منہ مامرعن الغنیۃ من حمل کل من قولی الامام وصاحبیہ علی التعمیم حتی تأتی لہ التلفیق وقد تقدم انہ لیس بتحقیق۔
وثالثھا : ادارۃ الامر علی ظنہ فان ظن العطاء وجب الطلب ولم یجز
طلب کرے اگر نہ دے تو تیمم کرے “ اھ قدوری۔ (۲) “ اپنے رفیق کے پاس پانی پائے تو اس سے مانگے اگر نہ دے تو تیمم کرے اور نماز پڑھے “ اھ سراجیہ۔ (۳) “ اپنے رفیق سے پانی طلب کرے اگر نہ دے تو تیمم کرے “ اھ کنزالدقائق۔ یہ صیغہ ہاں وجوب کیلئے کیسے ہوسکتا ہے جب کہ ملتقی میں بھی اسی کے مثل فرمایا پھر بھی ان کا اعتماد مذہب امام پر ہے ان کی عبارت یہ ہے : “ اگر اس کے رفیق کے پاس پانی ہو تو اس سے طلب کرے اگر نہ دے تو تیمم کرے اور اگر مانگنے سے پہلے تیمم کرلیا تو بھی ہوگیا “ ۔ اھ (ت)
تنبیہ : میرے “ مطلقا واجب “ کہنے سے مراد یہ ہے کہ علما نے اسے مرسل ذکر کیا ہے اور وہ قید نہیں لگائی ہے جو تیسرے قول میں آرہی ہے۔ اس لئے کہ مبسوط اور اس کے اتباع کے کلام میں یہی صورت واقع ہے (یعنی ارسال ہے تقیید نہیں)۔ ہاں امام صدر الشریعۃ نے اسے صریح تعمیم پر محمول کیا ہے جیسا کہ ان کے قانون کے ذکر میں تضعیف کے ساتھ اس کا ذکر آرہا ہے ان شاء اللہتعالی۔ اور اس سے قریب وہ بھی ہے جو غنیہ سے گزرا کہ انہوں نے امام اور صاحبین کے دونوں قولوں کو تعمیم پر رکھا یہاں تك کہ ان کیلئے تلفیق کی گنجائش نکل آئی وہاں گزر چکا کہ یہ تحقیق نہیں۔ (ت)
مسلك سوم : معاملہ اس کے گمان پر دائر رکھنا کہ اگر اسے دینے کا گمان ہو تو مانگنا واجب ہے
حوالہ / References
فتاوٰی سراجیہ باب التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ص۱۲
کنز الدقائق مع التبیین باب التیمم المطبعۃ الازہریہ بولاق مصر ۱ / ۴۴
ملتقی الابحرمع مجمع الانہر باب التیمم دار احیاء التراث العربی ۱ / ۴۴
کنز الدقائق مع التبیین باب التیمم المطبعۃ الازہریہ بولاق مصر ۱ / ۴۴
ملتقی الابحرمع مجمع الانہر باب التیمم دار احیاء التراث العربی ۱ / ۴۴
التیمم قبلہ تقدم فیہ نص النھایۃ وستأتی نصوص البحر المحیط والمنیۃ والخزانۃ والبرجندی وفی الخانیۃ وخزانۃ المفتین رأی مع رفیقہ ماء ان کان غالب ظنہ انہ یطیہ لایجوزلہ ان یتیمم بل یسألہ اھ وفی الکافی مع رفیقہ ماء وظن انہ ان سألہ اعطاہ لم یجز التیمم وان کان عندہ انہ لایعطیہ تیمم وان شك وتیمم وصلی فسأل فاعطی یعید اھ وفی
الھندیہ بعد نقلہ وھکذا فی شرح الزیادات للعتابی اھ وفی البرجندی نقل عن القاضی الامام ابی زید رحمہ الله تعالی انہ یجب الطلب فی موضع لایعز الماء فیہ لافی موضع یعز اھ وفی المنیۃ وشرح مسکین للکنز وعن ابی نصر الصفار رحمہ الله تعالی اذاکان فی موضع یعز فیہ الماء فالافضل ان یسأل من رفیقہ وان لم یسأل اجزأہ فان کان فی موضع لایعز الماء فیہ لایجزئہ قبل الطلب اھ زاد فی المنیۃ کمافی عمرانات ۔
واعتمدہ الشرنبلالی فی متنہ وشرحہ فقال یجب طلبہ ممن ھو معہ
اور اس سے پہلے تیمم جائز نہیں۔ اس بارے میں نہایہ کی عبارت گزرچکی اور بحر محیط منیہ خزانہ اور برجندی کی عبارتیں آرہی ہیں۔ خانیہ اور خزانۃ المفتین میں ہے : “ اپنے رفیق کے پاس پانی دیکھا اور گمان کیا کہ اگر اس سے مانگے تو دے دے گا تو تیمم جائز نہیں بلکہ اس سے طلب کرے “ اھ
اور کافی میں ہے اگر اس کے رفیق کے پاس پانی ہو اور اسے گمان ہو کہ اگر طلب کرے تو دے دےگا تو تیمم جائز نہیں اور اگر اس کے گمان میں یہ ہو کہ نہیں دےگا تو تیمم کرے اور اگر شك رکھتا ہو اور تیمم کرکے نماز پڑھ لے پھر مانگے اور وہ دے دے تو اعادہ کرے “ اھ ہندیہ میں مذکورہ بالا عبارت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے : “ اسی طرح عتابی کی شرح زیادات میں ہے “ اھ۔ برجندی میں قاضی امام ابوزید رحمۃ اللہ تعالی علیہسے نقل ہے کہ “ مانگنا اےسی جگہ واجب ہے جہاں پانی کمیاب نہ ہو ایسی جگہ نہیں جہاں کمیاب ہو “ اھ۔ منیہ اور شرح مسکین للکنز میں ہے کہ ابو نصر صفار سے ہے کہ جب ایسی جگہ ہو جہاں پانی کم یاب ہو تو بہتر یہ ہے کہ اپنے رفیق سے طلب کرے اور اگر طلب نہ کیا تو یہ اس کو کفایت کرے گا اور اگر وہ ایسی جگہ ہو جہاں پانی کمیاب نہیں ہوتا تو طلب سے پہلے اسے کفایت نہیں کرے گا اھ منیہ میں یہ اضافہ کیا :
الھندیہ بعد نقلہ وھکذا فی شرح الزیادات للعتابی اھ وفی البرجندی نقل عن القاضی الامام ابی زید رحمہ الله تعالی انہ یجب الطلب فی موضع لایعز الماء فیہ لافی موضع یعز اھ وفی المنیۃ وشرح مسکین للکنز وعن ابی نصر الصفار رحمہ الله تعالی اذاکان فی موضع یعز فیہ الماء فالافضل ان یسأل من رفیقہ وان لم یسأل اجزأہ فان کان فی موضع لایعز الماء فیہ لایجزئہ قبل الطلب اھ زاد فی المنیۃ کمافی عمرانات ۔
واعتمدہ الشرنبلالی فی متنہ وشرحہ فقال یجب طلبہ ممن ھو معہ
اور اس سے پہلے تیمم جائز نہیں۔ اس بارے میں نہایہ کی عبارت گزرچکی اور بحر محیط منیہ خزانہ اور برجندی کی عبارتیں آرہی ہیں۔ خانیہ اور خزانۃ المفتین میں ہے : “ اپنے رفیق کے پاس پانی دیکھا اور گمان کیا کہ اگر اس سے مانگے تو دے دے گا تو تیمم جائز نہیں بلکہ اس سے طلب کرے “ اھ
اور کافی میں ہے اگر اس کے رفیق کے پاس پانی ہو اور اسے گمان ہو کہ اگر طلب کرے تو دے دےگا تو تیمم جائز نہیں اور اگر اس کے گمان میں یہ ہو کہ نہیں دےگا تو تیمم کرے اور اگر شك رکھتا ہو اور تیمم کرکے نماز پڑھ لے پھر مانگے اور وہ دے دے تو اعادہ کرے “ اھ ہندیہ میں مذکورہ بالا عبارت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے : “ اسی طرح عتابی کی شرح زیادات میں ہے “ اھ۔ برجندی میں قاضی امام ابوزید رحمۃ اللہ تعالی علیہسے نقل ہے کہ “ مانگنا اےسی جگہ واجب ہے جہاں پانی کمیاب نہ ہو ایسی جگہ نہیں جہاں کمیاب ہو “ اھ۔ منیہ اور شرح مسکین للکنز میں ہے کہ ابو نصر صفار سے ہے کہ جب ایسی جگہ ہو جہاں پانی کم یاب ہو تو بہتر یہ ہے کہ اپنے رفیق سے طلب کرے اور اگر طلب نہ کیا تو یہ اس کو کفایت کرے گا اور اگر وہ ایسی جگہ ہو جہاں پانی کمیاب نہیں ہوتا تو طلب سے پہلے اسے کفایت نہیں کرے گا اھ منیہ میں یہ اضافہ کیا :
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۶
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ الکافی الفصل الاول من التیمم مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۹
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ الکافی الفصل الاول من التیمم مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۹
شرح النقایۃ للبرجندی فصل فی التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۸
شرح مسکین للکنز علٰی حاشیۃ فتح المعین فصل فی التیمم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۹۷
منیۃ المصلی فصل فی التیمم مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ۵۰
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ الکافی الفصل الاول من التیمم مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۹
فتاوٰی ہندیۃ بحوالہ الکافی الفصل الاول من التیمم مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۹
شرح النقایۃ للبرجندی فصل فی التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۸
شرح مسکین للکنز علٰی حاشیۃ فتح المعین فصل فی التیمم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۹۷
منیۃ المصلی فصل فی التیمم مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ۵۰
لانہ مبذول عادۃ فلاذل فی طلبہ انکان فی محل لاتشح بہ النفوس اھ ومنھا العبارات التی قدمنا فی المسألۃ الثالثۃ والرابعۃ عن الزیادات ومحیط السرخسی والخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ وصدر الشریعۃ والبحر والھندیۃ تصریحا وجامع الکرخی والبدائع والحلیۃ مفھوما من الامر بقطع الصلاۃ عندظن الاعطاء فانہ یوجب الوجوب اذ لولاہ عــہ لماحل القطع ویقابلھا اطلاق نص الخانیۃ وخزانۃ المفتین شرع بالتیمم ثم جاء انسان معہ ماء فانہ یمضی فی صلاتہ اھ
اقول : وقدعلمت انھم یرمون عن قوس واحدۃ وھو وجوب الطلب فی مظنۃ الاعطاء لا غیرھا وانما نشأ الخلاف من الاختلاف فی ان الماء ھل
ھو مبذول عادۃ فی السفر کالخضر اولا فمن قال نعم قال یجب مطلقا ومن قال لاقال لاومن فصل فصل فلم یبق فی الوصول
“ جیسے آبادیوں میں “ اھ۔ اور شرنبلالی نے اپنے متن وشرح میں اسی پر اعتماد کرتے ہوئے فرمایا : “ اسے اپنے ساتھی سے مانگنا واجب ہے اس لئے کہ پانی عادۃ دیا جاتا ہے تو اسے مانگنے میں کوئی ذلت نہیں اگر ایسی جگہ ہو جہاں پانی کے معاملہ میں طبیعتوں میں بخل نہیں پایا جاتا “ ۔ اھ ان ہی میں سے وہ عبارتیں بھی ہیں جو پہلے ہم نے تیسرے اور چوتھے مسئلہ میں زیادات محیط سرخسی خانیہ خلاصہ بزازیہ صدر الشریعۃ بحر اور ہندیہ کے حوالوں سے صراحۃ اور جامع کرخی بدائع اور حلیہ کے حوالوں سے مفہوما بیان کیں کہ ظن عطا کے وقت نماز توڑنے کا حکم ہے اس لئے کہ یہ حکم مانگنے کا وجوب لازم کرنا ہے کیونکہ اگر وجوب نہ ہوتا تو نماز توڑنا جائز نہ ہوتا۔ ان عبارتوں کے مقابلہ میں خانیہ اور خزانۃ المفتین کی یہ عبارت ہے : “ تیمم سے نماز شروع کی پھر کوئی آدمی آیا جس کے پاس پانی ہے تو وہ نماز پڑھتا رہے “ اھ (ت)
اقول : معلوم ہوچکا کہ سبھی حضرات ایك ہی کمان سے تیرچلارہے ہیں۔ وہ یہ ظن عطا کی جگہ مانگنا واجب ہے دوسری جگہ نہیں۔ خلاف صرف اس بارے میں اختلاف سے پیدا ہوا کہ کیا پانی سفر میں بھی حضر کی طرح عادۃ لیا دیا جاتا ہے یا ایسا نہیں جنہوں نے کہا ہاں وہ مطلقا وجوب کے قائل ہوئے۔ اور جنہوں نے کہا نہیں وہ وجوب کے قائل نہیں اور
عــہ کما یستفاد ماقدمنا عن تقریروجوب القطع فی المسألۃ الثالثۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
جیسا کہ وجوب قطع کی اس تقریرسے مستفاد ہوتا ہے جو ہم نے مسئلہ سوم میں پیش کی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : وقدعلمت انھم یرمون عن قوس واحدۃ وھو وجوب الطلب فی مظنۃ الاعطاء لا غیرھا وانما نشأ الخلاف من الاختلاف فی ان الماء ھل
ھو مبذول عادۃ فی السفر کالخضر اولا فمن قال نعم قال یجب مطلقا ومن قال لاقال لاومن فصل فصل فلم یبق فی الوصول
“ جیسے آبادیوں میں “ اھ۔ اور شرنبلالی نے اپنے متن وشرح میں اسی پر اعتماد کرتے ہوئے فرمایا : “ اسے اپنے ساتھی سے مانگنا واجب ہے اس لئے کہ پانی عادۃ دیا جاتا ہے تو اسے مانگنے میں کوئی ذلت نہیں اگر ایسی جگہ ہو جہاں پانی کے معاملہ میں طبیعتوں میں بخل نہیں پایا جاتا “ ۔ اھ ان ہی میں سے وہ عبارتیں بھی ہیں جو پہلے ہم نے تیسرے اور چوتھے مسئلہ میں زیادات محیط سرخسی خانیہ خلاصہ بزازیہ صدر الشریعۃ بحر اور ہندیہ کے حوالوں سے صراحۃ اور جامع کرخی بدائع اور حلیہ کے حوالوں سے مفہوما بیان کیں کہ ظن عطا کے وقت نماز توڑنے کا حکم ہے اس لئے کہ یہ حکم مانگنے کا وجوب لازم کرنا ہے کیونکہ اگر وجوب نہ ہوتا تو نماز توڑنا جائز نہ ہوتا۔ ان عبارتوں کے مقابلہ میں خانیہ اور خزانۃ المفتین کی یہ عبارت ہے : “ تیمم سے نماز شروع کی پھر کوئی آدمی آیا جس کے پاس پانی ہے تو وہ نماز پڑھتا رہے “ اھ (ت)
اقول : معلوم ہوچکا کہ سبھی حضرات ایك ہی کمان سے تیرچلارہے ہیں۔ وہ یہ ظن عطا کی جگہ مانگنا واجب ہے دوسری جگہ نہیں۔ خلاف صرف اس بارے میں اختلاف سے پیدا ہوا کہ کیا پانی سفر میں بھی حضر کی طرح عادۃ لیا دیا جاتا ہے یا ایسا نہیں جنہوں نے کہا ہاں وہ مطلقا وجوب کے قائل ہوئے۔ اور جنہوں نے کہا نہیں وہ وجوب کے قائل نہیں اور
عــہ کما یستفاد ماقدمنا عن تقریروجوب القطع فی المسألۃ الثالثۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
جیسا کہ وجوب قطع کی اس تقریرسے مستفاد ہوتا ہے جو ہم نے مسئلہ سوم میں پیش کی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی مطبعۃ الازہریۃ مصر ص۷۱
فتاوٰی خانیہ فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۷
فتاوٰی خانیہ فصل فیما یجوزلہ التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۷
الی الصواب الا انحلال عقدۃ ھذا المبنی فاما المفصلون فقد اعتمدوا المظان وھی الجادۃ الواضحۃ واما المثبتون فنظروا الی حال الحضر والسفر فی منازل ذات مناھل وماء الشرب واما النافون فالی حال السفر فی منازل قلیلۃ المیاہ وماء الطھر۔
وانا اقول : وبالله التوفیق انما(۱) المبذول عادۃ ماء الشرب لاسیمافی الحضر واما(۲) ماء الطھر خصوصا الغسل فکثیرمن الناس یضنون بہ فی الحضر علی الاجانب حذاران ینفدما عندھم فیتحرجوا الی ان یاتی السقاء اویحتاجوا الی کلفۃ الاستقاء بل ان کان احدھم علی رأس رکیۃ وسألہ غریب اوعابر سبیل ماعندہ من الماء للغسل بل للوضوء یقول امالك یدان الست علی البئر فکیف بالسفر۔
ثم (۳)لایحل التیمم الا اذا بعد الماء میلا ونعلم قطعا ان المقیم فی مصرہ یتحفظ علی الماء تحفظہ علی الطعام اذا بعد الماء عنہ بھذا القدر فکیف بمن فی السفر فالغالب ھی الضنۃ وما
جنہوں نے اس میں تفصیل کی اس میں بھی تفصیل کی تو صواب ودرستی تك رسائی کی راہ میں صرف اس مبنی کی گرہ کشائی حاصل رہی۔ تفصیل کرنے والوں نے ظن کی جگہوں پر اعتماد کیا۔ یہ صاف راستہ ہے۔ اور اثبات کرنے والوں نے حضر اور پنگھٹ اور پینے کے پانی والی جگہوں میں سفر کی حالت پر نظر کی۔ اور نفی کرنے والوں نے کم پانی والی اور آب طہارت کی قلت والی جگہوں میں سفر کی حالت پر نظر کی۔ (ت)
اور میں کہتا ہوں : اور خدا ہی سے توفیق ہے۔ جو عادۃ دیا جاتا ہے وہ صرف پینے کا پانی ہے خصوصا حضر میں رہا طہارت خصوصا غسل کا پانی تو اس میں بہت سے لوگ حضر میں بھی اجنبی لوگوں پر بخل کرتے ہیں اس اندیشہ سے کہ ان کا پانی ختم ہوجائےگا تو انہیں بہشتی کے آنے تك زحمت ومشقت ہوگی یا خود پانی کھینچنے کی زحمت اٹھانے کی ضرورت ہوگی بلکہ اگر کوئی شخص کسی کنویں ہی پر ہو اور اس سے کوئی مسافر یا راہ گیراس کا پانی غسل بلکہ وضو کیلئے بھی مانگے تو وہ کہے گا کیا تمہارے پاس ہاتھ نہیں کیا تمہارے سامنے کنواں نہیں یہ تو حضر کا حال ہے پھر سفر کا کیا حال ہوگا (ت)
پھر یہ دیکھئے کہ تیمم کا جواز کب ہوتا ہے جب پانی ایك میل دوری پر ہو اور یہ ہمیں قطعا معلوم ہے کہ جب پانی اس قدر دور ہوگا تو مقیم اپنے شہر میں پانی کی ویسے ہی حفاظت رکھے گا جیسے کھانے کی حفاظت رکھتا ہے پھر اس کا کیا ہوگا جو سفر میں
وانا اقول : وبالله التوفیق انما(۱) المبذول عادۃ ماء الشرب لاسیمافی الحضر واما(۲) ماء الطھر خصوصا الغسل فکثیرمن الناس یضنون بہ فی الحضر علی الاجانب حذاران ینفدما عندھم فیتحرجوا الی ان یاتی السقاء اویحتاجوا الی کلفۃ الاستقاء بل ان کان احدھم علی رأس رکیۃ وسألہ غریب اوعابر سبیل ماعندہ من الماء للغسل بل للوضوء یقول امالك یدان الست علی البئر فکیف بالسفر۔
ثم (۳)لایحل التیمم الا اذا بعد الماء میلا ونعلم قطعا ان المقیم فی مصرہ یتحفظ علی الماء تحفظہ علی الطعام اذا بعد الماء عنہ بھذا القدر فکیف بمن فی السفر فالغالب ھی الضنۃ وما
جنہوں نے اس میں تفصیل کی اس میں بھی تفصیل کی تو صواب ودرستی تك رسائی کی راہ میں صرف اس مبنی کی گرہ کشائی حاصل رہی۔ تفصیل کرنے والوں نے ظن کی جگہوں پر اعتماد کیا۔ یہ صاف راستہ ہے۔ اور اثبات کرنے والوں نے حضر اور پنگھٹ اور پینے کے پانی والی جگہوں میں سفر کی حالت پر نظر کی۔ اور نفی کرنے والوں نے کم پانی والی اور آب طہارت کی قلت والی جگہوں میں سفر کی حالت پر نظر کی۔ (ت)
اور میں کہتا ہوں : اور خدا ہی سے توفیق ہے۔ جو عادۃ دیا جاتا ہے وہ صرف پینے کا پانی ہے خصوصا حضر میں رہا طہارت خصوصا غسل کا پانی تو اس میں بہت سے لوگ حضر میں بھی اجنبی لوگوں پر بخل کرتے ہیں اس اندیشہ سے کہ ان کا پانی ختم ہوجائےگا تو انہیں بہشتی کے آنے تك زحمت ومشقت ہوگی یا خود پانی کھینچنے کی زحمت اٹھانے کی ضرورت ہوگی بلکہ اگر کوئی شخص کسی کنویں ہی پر ہو اور اس سے کوئی مسافر یا راہ گیراس کا پانی غسل بلکہ وضو کیلئے بھی مانگے تو وہ کہے گا کیا تمہارے پاس ہاتھ نہیں کیا تمہارے سامنے کنواں نہیں یہ تو حضر کا حال ہے پھر سفر کا کیا حال ہوگا (ت)
پھر یہ دیکھئے کہ تیمم کا جواز کب ہوتا ہے جب پانی ایك میل دوری پر ہو اور یہ ہمیں قطعا معلوم ہے کہ جب پانی اس قدر دور ہوگا تو مقیم اپنے شہر میں پانی کی ویسے ہی حفاظت رکھے گا جیسے کھانے کی حفاظت رکھتا ہے پھر اس کا کیا ہوگا جو سفر میں
لکونہ مبذولا فیہ من مظنۃ الافی خصوص صور(۱) عدیدۃ کأن(۱) یکون من لہ الماء ولم ھذا او(۲) شقیقہ او(۳) صدیقہ او(۴) اجیرہ او(۵) رعیتہ او(۶) یھا بہ او(۷) لہ فیہ طمع یریدہ او(۸) یعلم ھذا ان الرجل غیرشحیح و لالئیم ولامناو لہ وان عندہ من الماء ماان اعطانی منہ فضل لہ مایبلغہ المنزل وافیا بحاجاتہ من دون تقصیرولاتقتیراو(۹) یکون ھذا مریضا مقعدا اشل مثلا وھو علی رأس البئر او(۱۰) یعلم انہ کریم النفس یستحیی ان یرد السائل لاسیما انکان ممن یؤثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ ففی مثل ھذہ الصوریصح لہ الظن الاعطاء المعتبر فی الشرع وھو اکبر الرأی الملتحق فی العمل بالیقین دون الظن الضعیف الملحق بالشك ولاشك ان ھذہ الصور اقل بکثیرمن غیرھا فکیف یقال ان ماء الطھر مبذول عادۃ بل مظنون بہ غالبا نعم لم تبلغ قلۃ ھذہ الصورحد ندرۃ توجب طرحھا عن النظر ونوط الحکم بالمظنۃ فوجب ادارۃ الامر علی ظنہ وھو اعلم بنفسہ فلا(۲) یقید بموضع فیہ الماء عزیز اوغزیرفلاشك ان الوجہ ھو التفصیل ھذا فی الحکم۔
ہو تو سفر میں زیادہ تر بخل ہی ہوگا۔ اور سفر میں پانی کے مبذول ہونے کی کوئی جگہ نہیں مگر چند گنی چنی صورتوں میں مثلا یہ کہ (۱) پانی کا مالك اس کی اولاد سے ہو (۲) یا اس کا سگا بھائی ہو (۳) یا دوست ہو (۴) یا ملازم ہو (۵) یا رعیت ہو (۶) یا اس سے ڈرتا ہو (۷) یا اسے اس سے کوئی طمع ہو جسے وہ بروئے کار لانا چاہتا ہو (۸) یا جانتا ہو کہ یہ آدمی بخیل پست ہمت اور میرا مخالف نہیں اور اس کے پاس پانی بھی اتنا ہے کہ اگر مجھے اس میں سے دے دے تو اتنا بچ رہے گا جس سے وہ اپنی ضروریات بغیرکوتاہی وکمی کے پورا کرتا ہوا گھر پہنچ جائے گا (۹) یا یہ اپاہج ہو یا مثلا ہاتھ شل ہو اور وہ کنویں پر ہے (۱۰) یا جانتا ہو کہ وہ کریم النفس ہے سائل کو رد کرنے سے حیا رکھتا ہے خصوصا جب کہ ان لوگوں میں سے ہو جو اپنے اوپر دوسرے کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں سخت احتیاج ہی کیوں نہ ہو۔ تو ایسی صورتوں میں اس کا ظن عطا جس کا شریعت میں اعتبار ہے درست ہوگا اور یہ غالب گمان ہے جو عمل میں یقین سے ملحق ہے ضعیف گمان نہیں جو شك میں شامل ہے بلاشبہہ یہ صورتیں دوسری صورتوں سے بہت زیادہ قلیل وکمتر ہیں۔ پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ آب طہارت عادۃ لیا دیا جاتا ہے۔ بلکہ اس میں تو اکثر بخل ہی ہوتا ہے۔ ہاں ان صورتوں کی قلت حد ندرت تك نہ پہنچی کہ انہیں بالکل نظر انداز کردینااور حکم کو جائے گمان سے متعلق کرنا لازم ہو تو خود اسی کے گمان پر معاملہ کو دائر رکھنا ضروری ہوا اور وہ خود اپنی حالت زیادہ جانتا ہے تو پانی کے کمیاب
ہو تو سفر میں زیادہ تر بخل ہی ہوگا۔ اور سفر میں پانی کے مبذول ہونے کی کوئی جگہ نہیں مگر چند گنی چنی صورتوں میں مثلا یہ کہ (۱) پانی کا مالك اس کی اولاد سے ہو (۲) یا اس کا سگا بھائی ہو (۳) یا دوست ہو (۴) یا ملازم ہو (۵) یا رعیت ہو (۶) یا اس سے ڈرتا ہو (۷) یا اسے اس سے کوئی طمع ہو جسے وہ بروئے کار لانا چاہتا ہو (۸) یا جانتا ہو کہ یہ آدمی بخیل پست ہمت اور میرا مخالف نہیں اور اس کے پاس پانی بھی اتنا ہے کہ اگر مجھے اس میں سے دے دے تو اتنا بچ رہے گا جس سے وہ اپنی ضروریات بغیرکوتاہی وکمی کے پورا کرتا ہوا گھر پہنچ جائے گا (۹) یا یہ اپاہج ہو یا مثلا ہاتھ شل ہو اور وہ کنویں پر ہے (۱۰) یا جانتا ہو کہ وہ کریم النفس ہے سائل کو رد کرنے سے حیا رکھتا ہے خصوصا جب کہ ان لوگوں میں سے ہو جو اپنے اوپر دوسرے کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں سخت احتیاج ہی کیوں نہ ہو۔ تو ایسی صورتوں میں اس کا ظن عطا جس کا شریعت میں اعتبار ہے درست ہوگا اور یہ غالب گمان ہے جو عمل میں یقین سے ملحق ہے ضعیف گمان نہیں جو شك میں شامل ہے بلاشبہہ یہ صورتیں دوسری صورتوں سے بہت زیادہ قلیل وکمتر ہیں۔ پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ آب طہارت عادۃ لیا دیا جاتا ہے۔ بلکہ اس میں تو اکثر بخل ہی ہوتا ہے۔ ہاں ان صورتوں کی قلت حد ندرت تك نہ پہنچی کہ انہیں بالکل نظر انداز کردینااور حکم کو جائے گمان سے متعلق کرنا لازم ہو تو خود اسی کے گمان پر معاملہ کو دائر رکھنا ضروری ہوا اور وہ خود اپنی حالت زیادہ جانتا ہے تو پانی کے کمیاب
اما التوفیق فاقول : وبالله التوفیق لاغروفی اطلاق الحکم بالنظرالی الغالب الکثیر٭ وکم لہ فی الفقہ من نظیر٭ فکان سیدناالامام٭ رضی الله تعالی عنہ اطلق الحکم بعدم وجوب الطلب٭نظرالماغلب٭ ورواہ الحسن کماسمع٭ وتداولتہ المتون والعامۃ کماوقع ٭ وذھب اجتھادالحسن الی اجزائہ علی اطلاقہ فقال بہ وکذلك ظن بعض ففسرواالاطلاق بالعموم وقلیل ماھم ورواہ الصاحبان عن شیخھماوقد عرفا المراد ففسراہ وقالابہ فمنھم من نظر الاطلاق عن الامام والتفصیل عنھافنصب بینھم الخلاف وھومسلك الھدایۃ و کثیرین ومنھم من نظرالمرام وان التفصیل ھو المراد بالاطلاق فصرح بالوفاق اولم یؤم الی خلاف وھومسلك المبسوط والکافی ومن حکی عنھم فی النھایۃ وھم الاکثرون علی مافیھا ومنھم من نظر الی جانبی اللفظ والمقصود فاثبت الخلاف لفظاونفاہ معنی فذھب الی التوفیق وھومسلك الامام الجصاص وھوالتحقیق الناصع ولذاتری الخانیۃ مشی علی کلا القولین جازما بہ غیرمؤم الی الخلاف فی شیئ من الموضعین کمانقلنانصوصھا فی المسلکین الاول و
یا وافر ہونے کی جگہ سے حکم مقید نہ ہوگا۔ تو اس میں شك نہ رہا کہ وجہ صواب تفصیل ہی ہے یہ تو حکم سے متعلق کلام ہوا۔
رہ گئی تطبیق تو میں کہتا ہوں اور خدا ہی سے توفیق ہے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ غالب وکثیرپر نظر کرتے ہوئے حکم مطلق بیان کردیا جائے۔ فقہ میں اس کی بہت سی نظیریں ہیں۔ تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے امام صاحب رضی اللہ تعالی عنہنے غالب وکثیرپر نظر کرتے ہوئے مانگنے کے عدم وجوب کا حکم مطلق بیان فرمایا دیااور حسن نے اسے جیساسناروایت کردیااور متون وعامہ کتب نے جیسا وقوع میں آیا ویسا ہی پےش کردیا۔ اور حسن کا اجتہاد اس طرف گیا کہ اسے اطلاق ہی پر جاری رکھا جائے تو وہ اسی کے قائل ہوئے۔ ایسے ہی کچھ اور حضرات کا بھی گمان ہوا تو انہوں نے اطلاق کی تفسیرعموم سے کردی۔ اور ایسے حضرات کم ہی ہیں۔ اور صاحبیننے اپنے شیخ سے مراد سمجھ کر اس کی روایت کی تو انہوں نے اس کی تفسیرکردی اور خود اسی تفسیرکے قائل ہوئے۔ اب بعض حضرات نے امام کے اطلاق اور صاحبین کی تفصیل پر نظر کی اور ان ائمہ کے درمیان اختلاف پیش کردیا۔ یہ صاحب ہدایہ اور بہت سے حضرات کا مسلك ہے۔ اور بعض حضرات نے مقصد پر نظر کی اور یہ دیکھا کہ اطلاق سے بھی مراد تفصیل ہی ہے تو انہوں نے اتفاق کی تصریح کردی یا کسی خلاف کی جانب اشارہ نہ کیا۔ یہ مبسوط کافی اور ان حضرات کا مسلك ہے جن سے نہایہ میں حکایت کی۔ اور
یا وافر ہونے کی جگہ سے حکم مقید نہ ہوگا۔ تو اس میں شك نہ رہا کہ وجہ صواب تفصیل ہی ہے یہ تو حکم سے متعلق کلام ہوا۔
رہ گئی تطبیق تو میں کہتا ہوں اور خدا ہی سے توفیق ہے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ غالب وکثیرپر نظر کرتے ہوئے حکم مطلق بیان کردیا جائے۔ فقہ میں اس کی بہت سی نظیریں ہیں۔ تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے امام صاحب رضی اللہ تعالی عنہنے غالب وکثیرپر نظر کرتے ہوئے مانگنے کے عدم وجوب کا حکم مطلق بیان فرمایا دیااور حسن نے اسے جیساسناروایت کردیااور متون وعامہ کتب نے جیسا وقوع میں آیا ویسا ہی پےش کردیا۔ اور حسن کا اجتہاد اس طرف گیا کہ اسے اطلاق ہی پر جاری رکھا جائے تو وہ اسی کے قائل ہوئے۔ ایسے ہی کچھ اور حضرات کا بھی گمان ہوا تو انہوں نے اطلاق کی تفسیرعموم سے کردی۔ اور ایسے حضرات کم ہی ہیں۔ اور صاحبیننے اپنے شیخ سے مراد سمجھ کر اس کی روایت کی تو انہوں نے اس کی تفسیرکردی اور خود اسی تفسیرکے قائل ہوئے۔ اب بعض حضرات نے امام کے اطلاق اور صاحبین کی تفصیل پر نظر کی اور ان ائمہ کے درمیان اختلاف پیش کردیا۔ یہ صاحب ہدایہ اور بہت سے حضرات کا مسلك ہے۔ اور بعض حضرات نے مقصد پر نظر کی اور یہ دیکھا کہ اطلاق سے بھی مراد تفصیل ہی ہے تو انہوں نے اتفاق کی تصریح کردی یا کسی خلاف کی جانب اشارہ نہ کیا۔ یہ مبسوط کافی اور ان حضرات کا مسلك ہے جن سے نہایہ میں حکایت کی۔ اور
الثالث وتبعہ فی خزانۃ المفتین کماعلمت وکلھم علی الصواب وبعضھم اولی بہ من بعض الاشرذمۃ (۱)صرحوا بتعمیم عدم الوجوب مع اتفاقھم جمیعاعلی وجوب الطلب فی مظنۃ القرب واخاف ان یکون ھذا فی عبارۃ التجریدالمحکیۃفی جامع الرموزمن قبل القھستانی نقل بالمعنی علی مافھم فان عبارۃ التجرید التی اثرھاامامان جلیلان فی الخلاصۃ والبنایۃ کمامرلا اثر فیھالھذا التعمیم والله تعالی بکل شیئ علیم ونظیرہ فی(۲) جانب الایجاب صنیع صدر الشریعۃ وفی الجانبینصنیع الغنیۃ والله تعالی اعلم۔
تنبیہ : جعل فی الحلیۃ الاقوال اربعۃ فافرزقول الصفار عن القول بالظن وانت تعلم انہ ھو عــہ فانما اقام المظنۃ
یہ لوگ اکثر ہیں جیسا کہ نہایہ میں ہے۔
اور بعض حضرات نے الفاظ اور مقصود دونوں جانب نظر کی تو لفظا اختلاف ثابت کیا اور معنی اس کی نفی کی تو وہ تطبیق کی راہ پر گئے۔ یہ امام جصاص کا مسلك ہے اور یہی تحقیق خالص ہے۔ اسی لئے آپ دیکھیں گے کہ خانیہ میں دونوں ہی قول پر جزم کرتے ہوئے اور دونوں جگہوں میں سے کسی خلاف کا اشارہ کئے بغیرچلے ہیں جیسا کہ ہم نے اس کی عبارتیں مسلك اول اور مسلك سوم میں نقل کیں اور خزانۃ المفتین میں ان ہی کی پیروی کی جیسا کہ معلوم ہوا۔ اور یہ سبھی حضرات درستی پر ہیں اور بعض بعض سے اولی ہیں مگر وہ گنتی کے لوگ جنہوں نے عدم وجوب کی تعمیم کی صراحت کی۔ جبکہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ پانی قریب ہونے کا گمان ہو تو طلب واجب ہے۔ اور میرا اندیشہ یہ ہے کہ یہ بات جامع الرموز میں تجرید کی حکایت کردہ عبارت میں قہستانی کی طرف سے در آئی ہے اس طرح کہ انہوں نے اپنے فہم کے مطابق اسے معنی نقل کردیا اس لئے کہ تجرید کی جو عبارت دو۲ بزرگ اماموں نے خلاصہ وبنایہ میں نقل فرمائی جیسا کہ گزری اس میں اس تعمیم کا کوئی نشان پتا نہیں اور خدائے برتر ہی ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ اسی کی نظیرجانب ایجاب میں صدر الشریعۃ کا طریقہ بھی ہے اور دونوں ہی جانب میں غنیہ کا عمل اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے۔ (ت)تنبیہ : حلیہ میں اقوال چار کردئے اس طرح کہ صفار کا قول قول بالظن سے جدا شمار کردیاجبکہ ناظر کو معلوم ہے کہ یہ وہی ہے۔ بس یہ ہے کہ انہوں نے ظن
عــہ اقول : سیعلم(۳) من احاط بنصوص مرت وتأتی ان لکلامھم ھھنا وجھتین فمنھم من رددبین نفی اثبات صریحا نحوان
اقول : گزشتہ وآئندہ نصوص وعبارات کا احاطہ کرنے والے کو معلوم ہوگا کہ یہاں کلام علما کے دو۲ رخ ہیں۔ بعض حضرات نے صراحۃ نفی واثبات کے درمیان(باقی برصفحہ ائندہ)
تنبیہ : جعل فی الحلیۃ الاقوال اربعۃ فافرزقول الصفار عن القول بالظن وانت تعلم انہ ھو عــہ فانما اقام المظنۃ
یہ لوگ اکثر ہیں جیسا کہ نہایہ میں ہے۔
اور بعض حضرات نے الفاظ اور مقصود دونوں جانب نظر کی تو لفظا اختلاف ثابت کیا اور معنی اس کی نفی کی تو وہ تطبیق کی راہ پر گئے۔ یہ امام جصاص کا مسلك ہے اور یہی تحقیق خالص ہے۔ اسی لئے آپ دیکھیں گے کہ خانیہ میں دونوں ہی قول پر جزم کرتے ہوئے اور دونوں جگہوں میں سے کسی خلاف کا اشارہ کئے بغیرچلے ہیں جیسا کہ ہم نے اس کی عبارتیں مسلك اول اور مسلك سوم میں نقل کیں اور خزانۃ المفتین میں ان ہی کی پیروی کی جیسا کہ معلوم ہوا۔ اور یہ سبھی حضرات درستی پر ہیں اور بعض بعض سے اولی ہیں مگر وہ گنتی کے لوگ جنہوں نے عدم وجوب کی تعمیم کی صراحت کی۔ جبکہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ پانی قریب ہونے کا گمان ہو تو طلب واجب ہے۔ اور میرا اندیشہ یہ ہے کہ یہ بات جامع الرموز میں تجرید کی حکایت کردہ عبارت میں قہستانی کی طرف سے در آئی ہے اس طرح کہ انہوں نے اپنے فہم کے مطابق اسے معنی نقل کردیا اس لئے کہ تجرید کی جو عبارت دو۲ بزرگ اماموں نے خلاصہ وبنایہ میں نقل فرمائی جیسا کہ گزری اس میں اس تعمیم کا کوئی نشان پتا نہیں اور خدائے برتر ہی ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ اسی کی نظیرجانب ایجاب میں صدر الشریعۃ کا طریقہ بھی ہے اور دونوں ہی جانب میں غنیہ کا عمل اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے۔ (ت)تنبیہ : حلیہ میں اقوال چار کردئے اس طرح کہ صفار کا قول قول بالظن سے جدا شمار کردیاجبکہ ناظر کو معلوم ہے کہ یہ وہی ہے۔ بس یہ ہے کہ انہوں نے ظن
عــہ اقول : سیعلم(۳) من احاط بنصوص مرت وتأتی ان لکلامھم ھھنا وجھتین فمنھم من رددبین نفی اثبات صریحا نحوان
اقول : گزشتہ وآئندہ نصوص وعبارات کا احاطہ کرنے والے کو معلوم ہوگا کہ یہاں کلام علما کے دو۲ رخ ہیں۔ بعض حضرات نے صراحۃ نفی واثبات کے درمیان(باقی برصفحہ ائندہ)
مقام الظن کمالایخفی وقد قدمتہ فی حاشیۃ نمرۃ ۱۴۴۔
المقام الثانی : قد تبینانہ ان ظن العطاء وجب الطلب اوالمنع لابقی الشك فاعتری فیہ الشك وجاء ت العبارات علی وجھین فی الحاقہ باحد
کی جگہ مظنہ رکھا ہے جیساکہ مخفی نہیں۔ میں پہلے نمبر ۱۴۴ کے حاشیہ میں بھی اسے بیان کرچکا ہوں۔ (ت)
مقام دوم : یہ واضح ہوچکاکہ اگر دینے کا گمان ہو تو مانگنا واجب ہے اور نہ دینے کا گمان ہو تو واجب نہیں۔ شك کا حکم رہ گیا تو اس میں شك درآیا اور اسے ظن عطا وظن منع کسی ایك سے ملحق کرنے سے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ظن العطاء وجب الطلب والالا کالبحر المحیط والاختیار والمبتغی اومفھوما نحوان ظن العطاء لم یجز التیمم کالنھایۃ والخانیۃ وخزانۃ المفتین والخزانۃ وغیرھم فافادوا الحاق الشك بظن المنع ومنھم من ذکر حکم الظنین واھمل ذکر الشك کالکافی والمنیۃ والھندیۃ عن العتابی والزیادات ایضا بتصریح الحلیۃ وقدبحث فی الحلیۃ فی ھذا القول عن الحاق الشك باحد الظنین جعل الکل محتملا ورجح الالحاق بالمنع ولایخرج قول الامامین الصفار وابی زید عن ھذا فلاوجہ لعدہ علیحدۃ الابالنظر الی تغایرفی اللفظ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
تردیدکی ہے مثلا یہ کہ “ اگر عطا کا گمان ہو طلب واجب ہے ورنہ نہیں “ جیسے بحر محیط اختیار اور مبتغی میں ہے۔ یا مفہوما تردید کی ہے مثلا یوں کہ “ اگر دینے کا گمان ہو تو تیمم جائز نہیں “ جیسے نہایہ خانیہ خزانۃ المفتین اور خزانہ وغیرہامیں ہے تو ان حضرات نے شك کو ظن منع سے ملحق کرنے کاافادہ فرمایا اور بعض حضرات نے دونوں ظن (ظن عطا وظن منع) کاحکم بیان کردیااور شك کا ذکر چھوڑ دیا جیسے کافی منیہ اور ہندیہ میں عتابی سے نقل کرتے ہوئے ہے اورحلیہ کی تصریح کے مطابق زیادات میں بھی ہے۔ اور حلیہ کے اندر اس قول کے تحت شك کو کسی ایك ظن سے لاحق کرنے سے متعلق بحث کی ہے تو محتمل ہر ایك کو رکھا اور منع سے لاحق کرنے کو ترجیح دی اور امام صفار وامام ابوزیدکا قول اس سے باہر نہیں تو اسے علیحدہ شمار کرنے کی کوئی وجہ نہیں سوائے اس کے کہ لفظوں کے اختلاف پر نظر ہو ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
المقام الثانی : قد تبینانہ ان ظن العطاء وجب الطلب اوالمنع لابقی الشك فاعتری فیہ الشك وجاء ت العبارات علی وجھین فی الحاقہ باحد
کی جگہ مظنہ رکھا ہے جیساکہ مخفی نہیں۔ میں پہلے نمبر ۱۴۴ کے حاشیہ میں بھی اسے بیان کرچکا ہوں۔ (ت)
مقام دوم : یہ واضح ہوچکاکہ اگر دینے کا گمان ہو تو مانگنا واجب ہے اور نہ دینے کا گمان ہو تو واجب نہیں۔ شك کا حکم رہ گیا تو اس میں شك درآیا اور اسے ظن عطا وظن منع کسی ایك سے ملحق کرنے سے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ظن العطاء وجب الطلب والالا کالبحر المحیط والاختیار والمبتغی اومفھوما نحوان ظن العطاء لم یجز التیمم کالنھایۃ والخانیۃ وخزانۃ المفتین والخزانۃ وغیرھم فافادوا الحاق الشك بظن المنع ومنھم من ذکر حکم الظنین واھمل ذکر الشك کالکافی والمنیۃ والھندیۃ عن العتابی والزیادات ایضا بتصریح الحلیۃ وقدبحث فی الحلیۃ فی ھذا القول عن الحاق الشك باحد الظنین جعل الکل محتملا ورجح الالحاق بالمنع ولایخرج قول الامامین الصفار وابی زید عن ھذا فلاوجہ لعدہ علیحدۃ الابالنظر الی تغایرفی اللفظ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
تردیدکی ہے مثلا یہ کہ “ اگر عطا کا گمان ہو طلب واجب ہے ورنہ نہیں “ جیسے بحر محیط اختیار اور مبتغی میں ہے۔ یا مفہوما تردید کی ہے مثلا یوں کہ “ اگر دینے کا گمان ہو تو تیمم جائز نہیں “ جیسے نہایہ خانیہ خزانۃ المفتین اور خزانہ وغیرہامیں ہے تو ان حضرات نے شك کو ظن منع سے ملحق کرنے کاافادہ فرمایا اور بعض حضرات نے دونوں ظن (ظن عطا وظن منع) کاحکم بیان کردیااور شك کا ذکر چھوڑ دیا جیسے کافی منیہ اور ہندیہ میں عتابی سے نقل کرتے ہوئے ہے اورحلیہ کی تصریح کے مطابق زیادات میں بھی ہے۔ اور حلیہ کے اندر اس قول کے تحت شك کو کسی ایك ظن سے لاحق کرنے سے متعلق بحث کی ہے تو محتمل ہر ایك کو رکھا اور منع سے لاحق کرنے کو ترجیح دی اور امام صفار وامام ابوزیدکا قول اس سے باہر نہیں تو اسے علیحدہ شمار کرنے کی کوئی وجہ نہیں سوائے اس کے کہ لفظوں کے اختلاف پر نظر ہو ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
الظنین۔
احدھما : قال صدرالشریعۃوفی الزیادات اذاکان خارج الصلاۃولم یطلب وتیمم لایحل لہ الشروع بالشك فان القدرۃ والعجزمشکوك فیھا اھ فقدالحقہ بظن العطاء فکما لایجوزالتیمم اذاظن العطاء کذلك اذاشك لکن نص فی الحلیۃ ان حکم صورۃ الشك غیرمنصوص علیہ فی الزیادات اھ والذی ذکرفی البحر وجعلہ حاصل الزیادات وغیرھا یخالف مافی شرح الوقایۃ وعبارتہ وفی الزیادات ان المتیمم المسافر الی اخر مانقلنا فی المسألۃ الثالثۃ وقال فیھا بعد قولہ فلایقطع بالشك بخلاف مااذاکان خارج الصلاۃ الی اخر مانقلناھھنافلعل قولہ بخلاف الخ مدرج من عند الامام بین مسألتی الزیادات علی مایقتضیہ کلام الحلیۃ والبحر ولذالم یعزہ فی الحلیۃ الا الیہ والله تعالی اعلم ھذا ووقع فی الخادمی حکایۃ ان الحاقہ بظن العطاء مصحح قال فی الدرر قبل طلبہ جاز التیمم اختیارہ فی الھدایۃ وقیل لااختارہ فی المبسوط اھ فقال الخادمی
متعلق عبارتیں دو۲ طرح آئیں :
اول : صدر الشریعۃنے فرمایا : “ زیادات میں ہے کہ جب بیرون نماز ہو اور طلب نہ کرے اور تیمم کرے تو شك کے ساتھ شروع کرنااس کے لئے جائز نہیں اس لئے کہ قدرت وعجز دونوں میں شك ہے “ اھ اس عبارت میں شك کو ظن عطاسے ملحق کیاہے جیسے ظن عطاکی صورت میں تیمم جائز نہیں۔ اسی طرح شك کی صورت میں لیکن حلیہ میں تصریح ہے کہ “ صورت شك کاحکم زیادات میں منصوص نہیں “ اھ اور بحر میں جو ذکر کیاہے اسے زیادات وغیرہاکاحاصل قرار دیا ہے وہ اس کے برخلاف ہے جو شرح وقایہ میں ہے شرح وقایہ کی عبارت یہ ہے : “ زیادات میں ہے کہ تیمم والا مسافر اس کے آخر تك جو ہم نے مسئلہ سوم میں نقل کیا۔ اس میں “ فلایقطع بالشك تو شك کی وجہ سے نماز نہ توڑے گا “ کے بعد یہ بھی لکھا ہے : “ بخلاف اس صورت کے جب بیرون نماز ہو اس کے آخر تك جو ہم نے یہاں نقل کیا شاید عبارت “ بخلاف الخ “ امام صدر الشریعۃ کی طرف سے زیادات کے دونوں مسئلوں کے درمیان درج ہوئی ہے جیسا کہ حلیہ اور بحر کے کلام کا اقتضاہے اسی لئے اسے حلیہ میں ان ہی کی طرف منسوب کیا۔ اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے۔ یہ ذہن نشین رہے۔ خادمی
احدھما : قال صدرالشریعۃوفی الزیادات اذاکان خارج الصلاۃولم یطلب وتیمم لایحل لہ الشروع بالشك فان القدرۃ والعجزمشکوك فیھا اھ فقدالحقہ بظن العطاء فکما لایجوزالتیمم اذاظن العطاء کذلك اذاشك لکن نص فی الحلیۃ ان حکم صورۃ الشك غیرمنصوص علیہ فی الزیادات اھ والذی ذکرفی البحر وجعلہ حاصل الزیادات وغیرھا یخالف مافی شرح الوقایۃ وعبارتہ وفی الزیادات ان المتیمم المسافر الی اخر مانقلنا فی المسألۃ الثالثۃ وقال فیھا بعد قولہ فلایقطع بالشك بخلاف مااذاکان خارج الصلاۃ الی اخر مانقلناھھنافلعل قولہ بخلاف الخ مدرج من عند الامام بین مسألتی الزیادات علی مایقتضیہ کلام الحلیۃ والبحر ولذالم یعزہ فی الحلیۃ الا الیہ والله تعالی اعلم ھذا ووقع فی الخادمی حکایۃ ان الحاقہ بظن العطاء مصحح قال فی الدرر قبل طلبہ جاز التیمم اختیارہ فی الھدایۃ وقیل لااختارہ فی المبسوط اھ فقال الخادمی
متعلق عبارتیں دو۲ طرح آئیں :
اول : صدر الشریعۃنے فرمایا : “ زیادات میں ہے کہ جب بیرون نماز ہو اور طلب نہ کرے اور تیمم کرے تو شك کے ساتھ شروع کرنااس کے لئے جائز نہیں اس لئے کہ قدرت وعجز دونوں میں شك ہے “ اھ اس عبارت میں شك کو ظن عطاسے ملحق کیاہے جیسے ظن عطاکی صورت میں تیمم جائز نہیں۔ اسی طرح شك کی صورت میں لیکن حلیہ میں تصریح ہے کہ “ صورت شك کاحکم زیادات میں منصوص نہیں “ اھ اور بحر میں جو ذکر کیاہے اسے زیادات وغیرہاکاحاصل قرار دیا ہے وہ اس کے برخلاف ہے جو شرح وقایہ میں ہے شرح وقایہ کی عبارت یہ ہے : “ زیادات میں ہے کہ تیمم والا مسافر اس کے آخر تك جو ہم نے مسئلہ سوم میں نقل کیا۔ اس میں “ فلایقطع بالشك تو شك کی وجہ سے نماز نہ توڑے گا “ کے بعد یہ بھی لکھا ہے : “ بخلاف اس صورت کے جب بیرون نماز ہو اس کے آخر تك جو ہم نے یہاں نقل کیا شاید عبارت “ بخلاف الخ “ امام صدر الشریعۃ کی طرف سے زیادات کے دونوں مسئلوں کے درمیان درج ہوئی ہے جیسا کہ حلیہ اور بحر کے کلام کا اقتضاہے اسی لئے اسے حلیہ میں ان ہی کی طرف منسوب کیا۔ اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے۔ یہ ذہن نشین رہے۔ خادمی
حوالہ / References
شرح االوقایۃ باب التیمم مطبع المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۱
حلیۃ
درر شرح الغرر باب التیمم مطبع دار السعادت کامل بیروت ۱ / ۳۲
حلیۃ
درر شرح الغرر باب التیمم مطبع دار السعادت کامل بیروت ۱ / ۳۲
المصحح ان رجا اعطاء ہ اوشك یعید والالا اھ ولم یعزہ لاحد ولم ارہ لمعتمد فالله تعالی اعلم۔
وثانیھما : قال فی المبتغی بالغین مع رفیقہ ماء ظن انہ یعطیہ لایتیمم والاتیمم اھ فقد الحقہ بظن المنع وھو قضیۃ مافی المنیۃ اذقال ان کان مع رفیقہ ماء لایجوزلہ التیمم قبل ان یسأل عنہ اذا کان علی غالب ظنہ انہ یعطیہ اھ وفی البرجندی عن الخزانۃان کان غالب ظنہ انہ یعطیہ لایجوزلہ ان یتیمم قبل الطلب اھ وفی جامع الرموزعن البحرالمحیط ان ظنہ وجب الطلب والالا اھ وھذا مارجحہ فی الحلیۃ اذقال احتمال الحاق الشك بظن المنع عــہ ارجح کمایظھر من توجیہ ھذا
میں حکایۃ آیا ہے کہ شك کو ظن عطا سے لاحق کرنا تصحیح یافتہ ہے۔ درر میں فرمایا : “ مانگنے سے پہلے تیمم جائز ہے۔ اسی کو ہدایہ میں اختیار کیا اور کہا گیا : جائز نہیں۔ اس کو مبسوط میں اختیار کیا “ اھاس پر خادمی نے لکھا کہ : “ تصحیح یافتہ یہ ہے کہ اگر دینے کی امید یا شك ہو تو اعادہ کرے ورنہ نہیں اھ “ ۔ اور اس پر کسی کا حوالہ نہ دیا۔ نہ ہی میں نے کسی معتمد کے کلام میں اسے پایا تو خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
دوم : مبتغی (غین معجمہ سے)میں فرمایا : “ ہم سفر کے پاس پانی ہے اگر گمان ہوکہ وہ دے دے گا تو تیمم نہ کرے ورنہ تیمم کرے “ ۔ اھ انہوں نے شك کو ظن منع سے لاحق کیا۔ یہی عبارت منیہ کا بھی مقتضی ہے۔ اس میں یہ لکھا ہے : “ اگر اس کے رفیق کے پاس پانی ہو تو اس کیلئے اس سے مانگنے سے پہلے تیمم جائز نہیں جب کہ اس کا غالب گمان یہ ہو کہ دے دے گا “ ۔ اھ برجندی میں خزانہ کے حوالہ سے یہ ہے : “ اگر اس کا غالب گمان یہ ہو کہ اسے دے دے گا تو مانگنے سے پہلے اس کیلئے تیمم کرنا جائز نہیں “ اھ جامع الرموز میں بحر محیط کے حوالہ سے لکھا ہے : “ اگر دینے کا گمان ہو تومانگنا واجب ہے ورنہ نہیں “ اھ۔ یہی وہ ہے جسے
عــہ وقع فی نسختی الحلیۃ بظن العطاء اقول وھو سب قلم اومن خطأ النساخ
حلیہ کے میرے نسخے میں “ بظن العطاء “ لکھا ہوا ہے اقول : یہ سبقت قلم ہے یا کاتبوں کی(باقی برصفحہ ائندہ)
وثانیھما : قال فی المبتغی بالغین مع رفیقہ ماء ظن انہ یعطیہ لایتیمم والاتیمم اھ فقد الحقہ بظن المنع وھو قضیۃ مافی المنیۃ اذقال ان کان مع رفیقہ ماء لایجوزلہ التیمم قبل ان یسأل عنہ اذا کان علی غالب ظنہ انہ یعطیہ اھ وفی البرجندی عن الخزانۃان کان غالب ظنہ انہ یعطیہ لایجوزلہ ان یتیمم قبل الطلب اھ وفی جامع الرموزعن البحرالمحیط ان ظنہ وجب الطلب والالا اھ وھذا مارجحہ فی الحلیۃ اذقال احتمال الحاق الشك بظن المنع عــہ ارجح کمایظھر من توجیہ ھذا
میں حکایۃ آیا ہے کہ شك کو ظن عطا سے لاحق کرنا تصحیح یافتہ ہے۔ درر میں فرمایا : “ مانگنے سے پہلے تیمم جائز ہے۔ اسی کو ہدایہ میں اختیار کیا اور کہا گیا : جائز نہیں۔ اس کو مبسوط میں اختیار کیا “ اھاس پر خادمی نے لکھا کہ : “ تصحیح یافتہ یہ ہے کہ اگر دینے کی امید یا شك ہو تو اعادہ کرے ورنہ نہیں اھ “ ۔ اور اس پر کسی کا حوالہ نہ دیا۔ نہ ہی میں نے کسی معتمد کے کلام میں اسے پایا تو خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
دوم : مبتغی (غین معجمہ سے)میں فرمایا : “ ہم سفر کے پاس پانی ہے اگر گمان ہوکہ وہ دے دے گا تو تیمم نہ کرے ورنہ تیمم کرے “ ۔ اھ انہوں نے شك کو ظن منع سے لاحق کیا۔ یہی عبارت منیہ کا بھی مقتضی ہے۔ اس میں یہ لکھا ہے : “ اگر اس کے رفیق کے پاس پانی ہو تو اس کیلئے اس سے مانگنے سے پہلے تیمم جائز نہیں جب کہ اس کا غالب گمان یہ ہو کہ دے دے گا “ ۔ اھ برجندی میں خزانہ کے حوالہ سے یہ ہے : “ اگر اس کا غالب گمان یہ ہو کہ اسے دے دے گا تو مانگنے سے پہلے اس کیلئے تیمم کرنا جائز نہیں “ اھ جامع الرموز میں بحر محیط کے حوالہ سے لکھا ہے : “ اگر دینے کا گمان ہو تومانگنا واجب ہے ورنہ نہیں “ اھ۔ یہی وہ ہے جسے
عــہ وقع فی نسختی الحلیۃ بظن العطاء اقول وھو سب قلم اومن خطأ النساخ
حلیہ کے میرے نسخے میں “ بظن العطاء “ لکھا ہوا ہے اقول : یہ سبقت قلم ہے یا کاتبوں کی(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
حاشیۃ علی الدرر باب التیمم مطبع عثمانیہ بیروت ص۲۹
المبتغی
منیۃ المصلی فصل فی التیمم مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۴۹
البرجندی فصل فی التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۸
جامع الرموز فصل فی التیمم مکتبہ اسلامیہ ایران ۱ / ۷۰
المبتغی
منیۃ المصلی فصل فی التیمم مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۴۹
البرجندی فصل فی التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۸
جامع الرموز فصل فی التیمم مکتبہ اسلامیہ ایران ۱ / ۷۰
التفصیل وان کان فی شرح الوقایۃ لصدر الشریعۃ انہ لایحل لہ الشروع بالشك فان القدرۃ والعجز مشکوك فیھما اھ ثم ذکر التوجیہ بقولہ ولایبعد القول بان الاول (ای ادارۃ الامر علی ظنہ) اوجہ لان الماء لیس بمبذول للاستعمال غالبافی الاسفار وخصوصافی مواضع عزتہ فالعجز متحقق نظرا الی ذلك ولان ملك الغیرحاجزعن التصرف والقدرۃموھومۃ فیصلح التمسك بھذاالاصل مبیحاللتیمم مالم یعارضہ مایخرجہ عن مقتضاہ وھوظن دفعہ اھ وھو ماخوذ عن الفتح وقدمنا نصہ قبل المقام الاول وعن البدائع وقدمنا نصہ فیہ۔
حلیہ میں ترجیح دی۔ لکھتے ہیں : “ شك کو ظن منع سے لاحق کرنے کا احتمال زیادہ راجح ہے جیسا کہ اس کی تفصیل کی توجیہ سے ظاہر ہوگا۔ اگرچہ صدرالشریعۃ کی شرح وقایہ میں یہ ہے کہ شك کے ساتھ اس کیلئے نماز شروع کرنا جائز نہیں اس لئے کہ قدرت وعجز میں شك ہے اھ “ ۔ پھر توجیہ یوں ذکر کی : “ یہ کہنا بعید نہ ہوگا کہ اول(یعنی اس کے گمان پر معاملہ کو دائر رکھنا)زیادہ بہتر ہے اس لئے کہ سفروں میں زیادہ تر یہی ہوتاہے کہ پانی استعمال کیلئے نہیں دیاجاتا خصوصا ایسی جگہوں میں جہاں پانی کم یاب ہو تو اس بات پر نظر کرتے ہوئے عجز متحقق ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ملك غیر تصرف سے مانع ہے اور قدرت موہوم ہے۔ تو تیمم کے جواز کیلئے اس قاعدہ سے تمسك بجاہے جب تك کہ اس کے معارض کوئی ایسی چیز نہ ہو جو اس کے مقتضی سے اسے باہر لائے اور وہ یہ ہے کہ دینے کا گمان ہو “ اھ۔ یہ توجیہ فتح القدیرسے ماخوذ ہے۔ اس کی عبارت مقام اول سے قبل ہم نقل کر آئے اور بدائع سے ماخوذ ہے۔ اس کی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وانما صوابہ بظن المنع فان الحاقہ بظن العطاء ھو الذی فی صدر الشریعۃ لاخلافہ ویتضح الامر بماذکر من التوجیہ فانہ یثبت الحاقہ بظن المنع کماتری ۱۲منہ غفرلہ(م)
خطا صحیح “ بظن المنع “ ہی ہے کیونکہ ظن عطا سے لاحق کرنایہی تو صدر الشریعۃ کی شرح میں ہے اس کا مقابل نہیں۔ آگے صاحب حلیہ نے جو توجیہ ذکر کی ہے اس سے معاملہ واضح ہوجاتا ہے اس لئے کہ اس توجیہ سے شك کو ظن منع سے ہی لاحق کرنا ثابت ہوتا ہے جیسا کہ پیش نظر ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حلیہ میں ترجیح دی۔ لکھتے ہیں : “ شك کو ظن منع سے لاحق کرنے کا احتمال زیادہ راجح ہے جیسا کہ اس کی تفصیل کی توجیہ سے ظاہر ہوگا۔ اگرچہ صدرالشریعۃ کی شرح وقایہ میں یہ ہے کہ شك کے ساتھ اس کیلئے نماز شروع کرنا جائز نہیں اس لئے کہ قدرت وعجز میں شك ہے اھ “ ۔ پھر توجیہ یوں ذکر کی : “ یہ کہنا بعید نہ ہوگا کہ اول(یعنی اس کے گمان پر معاملہ کو دائر رکھنا)زیادہ بہتر ہے اس لئے کہ سفروں میں زیادہ تر یہی ہوتاہے کہ پانی استعمال کیلئے نہیں دیاجاتا خصوصا ایسی جگہوں میں جہاں پانی کم یاب ہو تو اس بات پر نظر کرتے ہوئے عجز متحقق ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ملك غیر تصرف سے مانع ہے اور قدرت موہوم ہے۔ تو تیمم کے جواز کیلئے اس قاعدہ سے تمسك بجاہے جب تك کہ اس کے معارض کوئی ایسی چیز نہ ہو جو اس کے مقتضی سے اسے باہر لائے اور وہ یہ ہے کہ دینے کا گمان ہو “ اھ۔ یہ توجیہ فتح القدیرسے ماخوذ ہے۔ اس کی عبارت مقام اول سے قبل ہم نقل کر آئے اور بدائع سے ماخوذ ہے۔ اس کی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وانما صوابہ بظن المنع فان الحاقہ بظن العطاء ھو الذی فی صدر الشریعۃ لاخلافہ ویتضح الامر بماذکر من التوجیہ فانہ یثبت الحاقہ بظن المنع کماتری ۱۲منہ غفرلہ(م)
خطا صحیح “ بظن المنع “ ہی ہے کیونکہ ظن عطا سے لاحق کرنایہی تو صدر الشریعۃ کی شرح میں ہے اس کا مقابل نہیں۔ آگے صاحب حلیہ نے جو توجیہ ذکر کی ہے اس سے معاملہ واضح ہوجاتا ہے اس لئے کہ اس توجیہ سے شك کو ظن منع سے ہی لاحق کرنا ثابت ہوتا ہے جیسا کہ پیش نظر ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
حلیہ
اقول : وھذاھوالراجح امااولافلانہ یشھد بہ نظیرہ مسألۃ الطلب غلوۃ فقد نصوا قاطبۃ فیھا انہ ان غلب علی ظنہ قرب الماء وجب الطلب والالا ففی مختصرالامام القدوری والھدایۃ لیس علی المتیمم اذالم یغلب علی ظنہ ان بقربہ ماء ان یطلب الماء وان غلب علی ظنہ لم یجز تیممہ حتی یطلبہ اھ وفی الوقایۃ والنقایۃ والاصلاح والکنز والوافی والملتقی والغرر والتنویرونور الایضاح یجب طلبہ غلوۃ لوظنہ قریباوالافلا اھ افھم النقایۃ وافصح الکل واقرھم الشراح والمحشون قاطبۃ عــہ وقدمنافی المسألۃ الرابعۃ التنصیص بہ عن البدائع والسراج الوھاج
اقول : اوریہی راجح بھی ہے۔ اولا اس لئے کہ اس پر اس کی ایك نظیرشاہدہے وہ بقدر غلوہ(تیرپھینکنے کی دوری کے برابر) پانی تلاش کرنے کا مسئلہ ہے۔ اس میں سبھی حضرات نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر اسے غالب گمان ہوکہ قریب میں پانی ہے تو تلاش کرناواجب ہے ورنہ نہیں۔ امام قدوری کی مختصر اور ہدایہ میں ہے : “ تیمم والے پر پانی تلاش کرنالازم نہیں جب اس کاغالب گمان یہ نہ ہو کہ اس کے قریب میں پانی ہے۔ اور اگر اس کا غالب گمان یہ ہو توجب تك تلاش نہ کرلے تیمم جائز نہیں “ اھ۔ وقایہ نقایہ اصلاح کنز وافی ملتقی غرر تنویراور نور الایضاح میں ہے : “ غلوہ(تیرپھینکنے پر جہاں تك پہنچے اتنی دوری)کی مقدار پانی تلاش کرناواجب ہے اگر وہ پانی قریب گمان کرتاہو ورنہ نہیں “ اھ نقایہ نے اسے مفہوما
عــہ غیران فی الجوھرۃ عند ابی حنیفۃ اذاشك وجب علیہ الطلب اھ اقول وھو نقل غریب متوغل فی الاغراب لاسیمابلفظۃ عند و الظاھر انھا تصحیف عن من عند الناسخ فلعلھا ان کانت فروایۃ شاذۃ فاذۃ والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
سوا اس کے کہ جوہرہ میں ہے : عند ابی حنیفۃ اذاشك وجب علیھالطلب (امام ابوحنیفہ کے نزدیك شك کی صورت میں پانی تلاش کرنا اس پر واجب ہے “ اھ اقول : یہ نقل غریب غرابت میں حد سے متجاوز ہے خصوصا بلفظ “ عند “ ظاہر یہ ہے کہ ناقل کے قلم سے یہ “ عن “ کی تصحیف ہے تو یہ کوئی شاذ سب سے الگ تھلگ روایت ہوگی اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
اقول : اوریہی راجح بھی ہے۔ اولا اس لئے کہ اس پر اس کی ایك نظیرشاہدہے وہ بقدر غلوہ(تیرپھینکنے کی دوری کے برابر) پانی تلاش کرنے کا مسئلہ ہے۔ اس میں سبھی حضرات نے تصریح فرمائی ہے کہ اگر اسے غالب گمان ہوکہ قریب میں پانی ہے تو تلاش کرناواجب ہے ورنہ نہیں۔ امام قدوری کی مختصر اور ہدایہ میں ہے : “ تیمم والے پر پانی تلاش کرنالازم نہیں جب اس کاغالب گمان یہ نہ ہو کہ اس کے قریب میں پانی ہے۔ اور اگر اس کا غالب گمان یہ ہو توجب تك تلاش نہ کرلے تیمم جائز نہیں “ اھ۔ وقایہ نقایہ اصلاح کنز وافی ملتقی غرر تنویراور نور الایضاح میں ہے : “ غلوہ(تیرپھینکنے پر جہاں تك پہنچے اتنی دوری)کی مقدار پانی تلاش کرناواجب ہے اگر وہ پانی قریب گمان کرتاہو ورنہ نہیں “ اھ نقایہ نے اسے مفہوما
عــہ غیران فی الجوھرۃ عند ابی حنیفۃ اذاشك وجب علیہ الطلب اھ اقول وھو نقل غریب متوغل فی الاغراب لاسیمابلفظۃ عند و الظاھر انھا تصحیف عن من عند الناسخ فلعلھا ان کانت فروایۃ شاذۃ فاذۃ والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
سوا اس کے کہ جوہرہ میں ہے : عند ابی حنیفۃ اذاشك وجب علیھالطلب (امام ابوحنیفہ کے نزدیك شك کی صورت میں پانی تلاش کرنا اس پر واجب ہے “ اھ اقول : یہ نقل غریب غرابت میں حد سے متجاوز ہے خصوصا بلفظ “ عند “ ظاہر یہ ہے کہ ناقل کے قلم سے یہ “ عن “ کی تصحیف ہے تو یہ کوئی شاذ سب سے الگ تھلگ روایت ہوگی اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔
حوالہ / References
قدوری باب التیمم مطبع مجتبائی کان پور ص۱۲
شرح الوقایہ باب التیمم مطبوعہ مکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۷
الجوہرۃ النیرۃ باب التیمم مطبع مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۲۸ ، ۲۹
شرح الوقایہ باب التیمم مطبوعہ مکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۷
الجوہرۃ النیرۃ باب التیمم مطبع مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۲۸ ، ۲۹
والجوھرۃ النیرۃ والبحر والدر والھندیۃ ایضا ومثلہ فی مالایحصی فقد اطبقوا علی الحاق الشك بظن البعد
واماثانیا : فلانہ ھو المصرح بہ فی غیرماکتاب جلیل فقد قدمنا نصوص النھایۃ والخانیۃ وخزانۃ المفتین والاختیار شرح المختار سالفا٭وذکرنانصوص المبتغی والمنیۃ والبحر المحیط والخزانۃ انفا٭وخلافہ لم یعرف الافی شرح الوقایۃ۔
بلی نسب الحاق الشك بظن العطاء فی الجوھرۃ الی الصاحبین علی خلاف قول الامام رضی الله تعالی عنھم فقال وجوب الطلب قولھماوعند ابی حنیفۃ لایجب لان سؤال ملك الغیرذل عند المنع وتحمل منۃ عند الدفع وعندھما ان غلب علی ظنہ انہ لایعطیہ لایجب علیہ الطلب ایضا وان شك وجب وتفریع قول ابی حنیفۃ اذالم یجب الطلب وتیمم قبلہ اجزأہ وتفریع قولھمافی وجوب الطلب اذاشك وصلی ثم سألہ
عبارت ہم نے مقام اول میں پیش کی۔ (ت)
بتایا اور سب لوگوں نے صراحۃ بیان کیا اور تمام شارحین ومحشین نے انہیں برقرار رکھا۔ اور ہم مسئلہ چہارم میں بدائع سراج وہاج جوہرہ نیرہ بحر درمختار اور ہندیہ سے بھی اس کی تصریح پیش کر آئے ہیں۔ اور اسی کے مثل بے شمار کتابوں میں ہے تو شك کو ظن بعد سے لاحق کرنے پر سب کا اتفاق موجود ہے۔ (ت)
ثانیا : اس لئے کہ متعدد جلیلہ میں اسی کی تصریح موجود ہے۔ ہم نہایہ خانیہ خزانۃ المفتین اور اختیار شرح مختار کی عبارتیں پہلے پیش کرچکے اور مبتغی منیہ بحر محیط اور خزانہ کی عبارتیں ابھی بیان کیں۔ اور اس کے خلاف سے کہیں آشنائی نہ ہوئی مگر شرح وقایہ میں۔
ہاں جوہرہ میں شك کو ظن عطا سے لاحق کرنے کی نسبت صاحبین کی طرف کی ہے برخلاف قول امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہم۔ اس میں لکھا ہے : “ مانگناواجب ہے یہ صاحبین کا قول ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیك واجب نہیں اس لئے کہ غیرکی ملك مانگنے میں ذلت ہے اگر وہ انکار کردے اور احسان سے زیربار ہونا ہے اگر وہ دے دے۔ اور صاحبین کے نزدیك بھی اگر اس کا غالب گمان ہو کہ نہیں دے گا تو مانگنا واجب نہیں۔ اور شك کی صورت ہو تو واجب ہے امام ابوحنیفہ کے قول پر تفریع یہ ہے کہ جب طلب واجب نہ ہو اور قبل طلب تیمم کرلے تو ہوگیا۔ اور وجوب طلب میں قول صاحبین پر تفریع یہ ہے کہ جب شك
واماثانیا : فلانہ ھو المصرح بہ فی غیرماکتاب جلیل فقد قدمنا نصوص النھایۃ والخانیۃ وخزانۃ المفتین والاختیار شرح المختار سالفا٭وذکرنانصوص المبتغی والمنیۃ والبحر المحیط والخزانۃ انفا٭وخلافہ لم یعرف الافی شرح الوقایۃ۔
بلی نسب الحاق الشك بظن العطاء فی الجوھرۃ الی الصاحبین علی خلاف قول الامام رضی الله تعالی عنھم فقال وجوب الطلب قولھماوعند ابی حنیفۃ لایجب لان سؤال ملك الغیرذل عند المنع وتحمل منۃ عند الدفع وعندھما ان غلب علی ظنہ انہ لایعطیہ لایجب علیہ الطلب ایضا وان شك وجب وتفریع قول ابی حنیفۃ اذالم یجب الطلب وتیمم قبلہ اجزأہ وتفریع قولھمافی وجوب الطلب اذاشك وصلی ثم سألہ
عبارت ہم نے مقام اول میں پیش کی۔ (ت)
بتایا اور سب لوگوں نے صراحۃ بیان کیا اور تمام شارحین ومحشین نے انہیں برقرار رکھا۔ اور ہم مسئلہ چہارم میں بدائع سراج وہاج جوہرہ نیرہ بحر درمختار اور ہندیہ سے بھی اس کی تصریح پیش کر آئے ہیں۔ اور اسی کے مثل بے شمار کتابوں میں ہے تو شك کو ظن بعد سے لاحق کرنے پر سب کا اتفاق موجود ہے۔ (ت)
ثانیا : اس لئے کہ متعدد جلیلہ میں اسی کی تصریح موجود ہے۔ ہم نہایہ خانیہ خزانۃ المفتین اور اختیار شرح مختار کی عبارتیں پہلے پیش کرچکے اور مبتغی منیہ بحر محیط اور خزانہ کی عبارتیں ابھی بیان کیں۔ اور اس کے خلاف سے کہیں آشنائی نہ ہوئی مگر شرح وقایہ میں۔
ہاں جوہرہ میں شك کو ظن عطا سے لاحق کرنے کی نسبت صاحبین کی طرف کی ہے برخلاف قول امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہم۔ اس میں لکھا ہے : “ مانگناواجب ہے یہ صاحبین کا قول ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیك واجب نہیں اس لئے کہ غیرکی ملك مانگنے میں ذلت ہے اگر وہ انکار کردے اور احسان سے زیربار ہونا ہے اگر وہ دے دے۔ اور صاحبین کے نزدیك بھی اگر اس کا غالب گمان ہو کہ نہیں دے گا تو مانگنا واجب نہیں۔ اور شك کی صورت ہو تو واجب ہے امام ابوحنیفہ کے قول پر تفریع یہ ہے کہ جب طلب واجب نہ ہو اور قبل طلب تیمم کرلے تو ہوگیا۔ اور وجوب طلب میں قول صاحبین پر تفریع یہ ہے کہ جب شك
حوالہ / References
الجوہرۃ النیرۃ شرح قدوری باب التیمم مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۲۹
واعطاہ وجب علیہ الاعادۃ باتفاقھما وان منعہ فعند ابی یوسف صلاتہ جائزۃ وعند محمد یعید وان غلب علی ظنہ انہ یمنعہ فصلی ثم اعطاہ توضأ واعاد وان غلب علی ظنہ الدفع الیہ فصلی ثم سألہ فمنعہ اعاد عند محمد وعند ابی یوسف لا اھ۔
اقول : قولہ فی ظن المنع ثم اعطاہ اعاد ای باتفاقھما وان لم یعط لابالاجماع وحاصل قول محمد علی ماحکاہ انہ ان ظن العطاء اوشك اعاد مطلقا اعطی بعد الصلاۃ اومنع وان ظن المنع فان اعطی اعاد والالا ومحصولہ انہ یشترط لجواز التیمم ظن منع لایظھر خلافہ وحاصل قول ابی یوسف انہ ان اعطی اعاد وان منع لاسواء ظن عطاء اومنع اوشک۔
کی صورت ہو اور نماز پڑھ لے پھر مانگے اور وہ دے دے تو باتفاق صاحبین اس پر اعادہ واجب ہے اور اگر نہ دے تو امام ابویوسف کے نزدیك اس کی نماز صحیح ہے۔ اور امام محمد کے نزدیك اسے اعادہ کرنا ہے۔ اور اگر اس کا غالب گمان ہوکہ نہیں دے گا تو اس نے نماز پڑھ لی پھر اس نے دے دیا تو وضو کرے اور نماز لوٹائے۔ اور اگر دینے کا غالب گمان رہا ہو اس وقت اس نے نماز ( تیمم سے) پڑھ لی پھر مانگا اس نے نہ دیا تو امام محمد کے نزدیك اسے اعادہ کرنا ہے اور امام ابویوسف کے نزدیك اعادہ نہیں “ اھ (ت)
اقول : ظن منع میں ان کی عبارت “ پھر اس نے دے دیاتواعادہ کرے “ کا معنی یہ ہے کہ باتفاق صاحبین اس کا حکم اعادہ ہے اور اگر نہ دیا تو بالاجماع اعادہ نہیں۔ اور حکایت جوہرہ کے مطابق قول امام محمد کا حاصل یہ ہے کہ اگر اسے عطا کا گمان یا شك ہو تو مطلقا اعادہ کرنا ہے بعد نماز دے یا نہ دے اور اگر منع کا ظن رہا ہو تو اگر بعد نماز دے دے اعادہ کرے ورنہ نہیں۔ اور اس کا محصول یہ ہے کہ وہ جواز تیمم کیلئے ایسے ظن منع کی شرط لگاتے ہیں جس کے خلاف بعد میں ظاہر نہ ہو۔ اور امام ابویوسف کے قول کا حاصل یہ ہے کہ بعد نماز اگر دے دے تو اعادہ کرے اور اگر نہ دے تو نہیں پہلے خواہ دینے کا ظن رہا ہو یا نہ دینے کا یا شك رہا ہو۔ (ت)
اقول : قولہ فی ظن المنع ثم اعطاہ اعاد ای باتفاقھما وان لم یعط لابالاجماع وحاصل قول محمد علی ماحکاہ انہ ان ظن العطاء اوشك اعاد مطلقا اعطی بعد الصلاۃ اومنع وان ظن المنع فان اعطی اعاد والالا ومحصولہ انہ یشترط لجواز التیمم ظن منع لایظھر خلافہ وحاصل قول ابی یوسف انہ ان اعطی اعاد وان منع لاسواء ظن عطاء اومنع اوشک۔
کی صورت ہو اور نماز پڑھ لے پھر مانگے اور وہ دے دے تو باتفاق صاحبین اس پر اعادہ واجب ہے اور اگر نہ دے تو امام ابویوسف کے نزدیك اس کی نماز صحیح ہے۔ اور امام محمد کے نزدیك اسے اعادہ کرنا ہے۔ اور اگر اس کا غالب گمان ہوکہ نہیں دے گا تو اس نے نماز پڑھ لی پھر اس نے دے دیا تو وضو کرے اور نماز لوٹائے۔ اور اگر دینے کا غالب گمان رہا ہو اس وقت اس نے نماز ( تیمم سے) پڑھ لی پھر مانگا اس نے نہ دیا تو امام محمد کے نزدیك اسے اعادہ کرنا ہے اور امام ابویوسف کے نزدیك اعادہ نہیں “ اھ (ت)
اقول : ظن منع میں ان کی عبارت “ پھر اس نے دے دیاتواعادہ کرے “ کا معنی یہ ہے کہ باتفاق صاحبین اس کا حکم اعادہ ہے اور اگر نہ دیا تو بالاجماع اعادہ نہیں۔ اور حکایت جوہرہ کے مطابق قول امام محمد کا حاصل یہ ہے کہ اگر اسے عطا کا گمان یا شك ہو تو مطلقا اعادہ کرنا ہے بعد نماز دے یا نہ دے اور اگر منع کا ظن رہا ہو تو اگر بعد نماز دے دے اعادہ کرے ورنہ نہیں۔ اور اس کا محصول یہ ہے کہ وہ جواز تیمم کیلئے ایسے ظن منع کی شرط لگاتے ہیں جس کے خلاف بعد میں ظاہر نہ ہو۔ اور امام ابویوسف کے قول کا حاصل یہ ہے کہ بعد نماز اگر دے دے تو اعادہ کرے اور اگر نہ دے تو نہیں پہلے خواہ دینے کا ظن رہا ہو یا نہ دینے کا یا شك رہا ہو۔ (ت)
حوالہ / References
الجوہرۃ النیرۃ شرح قدوری باب التیمم مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۲۹
وفیہ اولا(۱) قد کان حکم وجوب الطلب ان لایجزئ التیمم قبلہ کماقال فی تفریع قول الامام انہ لمالم یجب اجزأہ وقدمنا فی الافادۃ الخامسۃ من شرح الحد الرضوی عن سراجہ وجوھرتہ انہ حیث وجب الطلب ولم یطلب لم یجزوان لم یجدبعدفعلی ھذا انما یظھر وجوب الطلب فی الشك علی ماحکی عن محمد لاعلی قول ابی یوسف۔
الا ان یبنی علی التحقیق الذی نبدیہ بتوفیق الله ان الوجوب ھھنا علی غیرحد الوجوب ثمہ وتکون الثمرۃ البطلان اذاظن العطاء اوشك ولم یسأل قبل ولابعد والله تعالی اعلم۔
وثانیا : لازم(۲)ھذاالمحکی عن محمد بل صریحہ کماعلمت ان لورأی فی الصلاۃ وظن العطاء اوشك بطلت صلاتہ من دون توقف علی منح اومنع بعدلان مامنع(۳)وجودہ التیمم نقضہ حدوثہ کمافی البدائع والبحر والدر وغیرھاوھذہ کماعلمت روایۃ نادرۃ عن محمد وقداسلفنا البحث علیھا وانھا
جوہرہ کے بیان پر چند کلام ہے : اول : طلب واجب ہونے کا حکم یہ تھا کہ اس سے پہلے تیمم کفایت نہ کرے جیسا کہ قول امام کی تفریع میں لکھا کہ “ جب طلب واجب نہ ہو تیمم ہوجائے گا “ ۔ ہم تعریف رضوی کی شرح کے افادہ پنجم میں ان کی سراج اور جوہرہ سے نقل کر آئے ہیں کہ جہاں طلب واجب ہو اور طلب نہ کرے تو تیمم جائز نہیں اگرچہ بعد میں پانی نہ ملے۔ تو اس کے پیش نظر صورت شك میں وجوب طلب صرف اس قول پر ظاہر ہے جو انہوں نے امام محمد سے حکایت کیا امام ابویوسف کے قول پر ظاہر نہیں۔
مگر یہ کہ اس تحقیق پر بنیاد رکھیں جس کا ہم بتوفیق خدائے برتر اظہار کریں گے کہ یہاں پر وجوب کا وہ معنی نہیں جو وہاں پر ہے۔ اور اس کا ثمرہ یہ ہوگا کہ تیمم باطل ہوگا جب دینے کا گمان یا شك رہا ہو اور پانی نہ پہلے طلب کیا ہو نہ بعد میں۔ اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے۔
دوم : امام محمد سے اس حکایت کا لازم بلکہ صریح جیسا کہ معلوم ہوا یہ ہے کہ اگر نماز کے اندر دیکھا اور دینے کا گمان یا شك ہوا تو بعد میں دینے نہ دینے پر کچھ موقوف رہے بغیرابھی اس کی نماز باطل ہوگئی۔ اس لئے کہ جس چیز کی موجودگی تیمم سے مانع ہو اس کا حدوث تیمم کا ناقض ہوگا۔ جیسا کہ بدائع بحر درمختار وغیرہا میں ہے۔ اور یہ جیسا کہ معلوم ہوا امام محمد سے ایك نادر روایت ہے اور ہم پہلے اس پر بحث کرچکے ہیں۔ اس روایت میں یاتو تاویل
الا ان یبنی علی التحقیق الذی نبدیہ بتوفیق الله ان الوجوب ھھنا علی غیرحد الوجوب ثمہ وتکون الثمرۃ البطلان اذاظن العطاء اوشك ولم یسأل قبل ولابعد والله تعالی اعلم۔
وثانیا : لازم(۲)ھذاالمحکی عن محمد بل صریحہ کماعلمت ان لورأی فی الصلاۃ وظن العطاء اوشك بطلت صلاتہ من دون توقف علی منح اومنع بعدلان مامنع(۳)وجودہ التیمم نقضہ حدوثہ کمافی البدائع والبحر والدر وغیرھاوھذہ کماعلمت روایۃ نادرۃ عن محمد وقداسلفنا البحث علیھا وانھا
جوہرہ کے بیان پر چند کلام ہے : اول : طلب واجب ہونے کا حکم یہ تھا کہ اس سے پہلے تیمم کفایت نہ کرے جیسا کہ قول امام کی تفریع میں لکھا کہ “ جب طلب واجب نہ ہو تیمم ہوجائے گا “ ۔ ہم تعریف رضوی کی شرح کے افادہ پنجم میں ان کی سراج اور جوہرہ سے نقل کر آئے ہیں کہ جہاں طلب واجب ہو اور طلب نہ کرے تو تیمم جائز نہیں اگرچہ بعد میں پانی نہ ملے۔ تو اس کے پیش نظر صورت شك میں وجوب طلب صرف اس قول پر ظاہر ہے جو انہوں نے امام محمد سے حکایت کیا امام ابویوسف کے قول پر ظاہر نہیں۔
مگر یہ کہ اس تحقیق پر بنیاد رکھیں جس کا ہم بتوفیق خدائے برتر اظہار کریں گے کہ یہاں پر وجوب کا وہ معنی نہیں جو وہاں پر ہے۔ اور اس کا ثمرہ یہ ہوگا کہ تیمم باطل ہوگا جب دینے کا گمان یا شك رہا ہو اور پانی نہ پہلے طلب کیا ہو نہ بعد میں۔ اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے۔
دوم : امام محمد سے اس حکایت کا لازم بلکہ صریح جیسا کہ معلوم ہوا یہ ہے کہ اگر نماز کے اندر دیکھا اور دینے کا گمان یا شك ہوا تو بعد میں دینے نہ دینے پر کچھ موقوف رہے بغیرابھی اس کی نماز باطل ہوگئی۔ اس لئے کہ جس چیز کی موجودگی تیمم سے مانع ہو اس کا حدوث تیمم کا ناقض ہوگا۔ جیسا کہ بدائع بحر درمختار وغیرہا میں ہے۔ اور یہ جیسا کہ معلوم ہوا امام محمد سے ایك نادر روایت ہے اور ہم پہلے اس پر بحث کرچکے ہیں۔ اس روایت میں یاتو تاویل
مؤولۃ اومھجورۃ۔
اقول : (۱) والتاویل لایتمشی ھنا لتصریحہ بعدم الالتفات لمایظھر بعد فلم یبق الاالھجر۔
وثالثا : (۲) بل تلك النادرۃ ایضابمفھومھاان ھذااذاظن العطاء لا اذاشك تخالف ھذہ الحکایۃ المسویۃ بین ظن الاعطاء والشک۔
ورابعا : (۳)ینافیہ مامر عن الاختیار من قیاس قول محمد المعتبر فیہ ظن الاعطاء فقط ویناقضہ صریحا مامر عن النھایۃ ان المذھب
الغیرالمنقول فیہ خلاف بین اصحابنا الثلثۃ رضی اللہ تعالی عنہم الا فی الایضاح ھو قصر الوجوب علی ظن الاعطاء والخلاف الذی فی الایضاح وغیرہ ھو عدم الوجوب عند الامام مطلقا فلیس عند احد من الفریقین تسویۃ ظن العطاء والشك عند محمد ولاعند ابی یوسف فتبصرولله الحمد۔
واما ثالثا : فاقول : وبالله التوفیق وھو الحل علی وجہ التحقیق اذا(۴) کان شیئ ظاھرا وخلافہ محتملا لاعن
کی جائے یا یہ روایت مہجور ومتروك ہے۔ (ت)
اقول : اور یہاں تاویل نہیں چل سکتی اس لئے کہ وہ صراحت کررہے ہیں کہ اس کی طرف کچھ التفات نہیں جو بعد میں ظاہر ہوتو یہی رہ گیا کہ یہاں یہ روایت مہجور ومتروك ہو۔
سوم : بلکہ وہ نادر روایت بھی اپنے مفہوم سے ظن عطا اور شك میں برابری بتانے والی اس حکایت کی مخالفت کررہی ہے کہ یہ اس وقت ہے جب عطا کا گمان ہو اس وقت نہیں جب شك ہو۔
چہارم : اس کے منافی وہ بھی ہے جو اختیار کے حوالہ سے قول امام محمد کا قیاس بیان ہوا کہ اس میں صرف ظن عطا کا اعتبار ہے۔ اور صراحۃ اس کے مناقض وہ ہے جو نہایہ کے حوالہ سے بیان ہوا کہ مذہب جس میں سوائے ایضاح کے کسی سے بھی ہمارے تینوں اصحاب رضی اللہ تعالی عنہمکے درمیان کوئی اختلاف منقول نہیں یہ ہے کہ وجوب طلب صرف ظن عطا میں محدود ہے۔ اور ایضاح وغیرہ میں جو خلاف منقول ہے وہ یہ ہے کہ امام صاحب کے نزدیك مطلقا وجوب نہیں۔ تو فریقین میں سے کسی کے نزدیك بھی ظن عطا اور شك کو نہ امام محمد کے نزدیك برابر بتایا گیا نہ امام ابویوسف کے نزدیک۔ تو اسے نگاہ بصیرت سے دیکھنا چاہئے۔ اور خدا ہی کیلئے حمد ہے۔ (ت)
ثالثا : فاقول : وبالله التوفیق (میں کہتا ہوں اور خدا ہی سے توفیق ہے) اور بطور تحقیق یہی حل بھی ہے۔ جب کوئی چیز ظاہر ہو اور اس کے
اقول : (۱) والتاویل لایتمشی ھنا لتصریحہ بعدم الالتفات لمایظھر بعد فلم یبق الاالھجر۔
وثالثا : (۲) بل تلك النادرۃ ایضابمفھومھاان ھذااذاظن العطاء لا اذاشك تخالف ھذہ الحکایۃ المسویۃ بین ظن الاعطاء والشک۔
ورابعا : (۳)ینافیہ مامر عن الاختیار من قیاس قول محمد المعتبر فیہ ظن الاعطاء فقط ویناقضہ صریحا مامر عن النھایۃ ان المذھب
الغیرالمنقول فیہ خلاف بین اصحابنا الثلثۃ رضی اللہ تعالی عنہم الا فی الایضاح ھو قصر الوجوب علی ظن الاعطاء والخلاف الذی فی الایضاح وغیرہ ھو عدم الوجوب عند الامام مطلقا فلیس عند احد من الفریقین تسویۃ ظن العطاء والشك عند محمد ولاعند ابی یوسف فتبصرولله الحمد۔
واما ثالثا : فاقول : وبالله التوفیق وھو الحل علی وجہ التحقیق اذا(۴) کان شیئ ظاھرا وخلافہ محتملا لاعن
کی جائے یا یہ روایت مہجور ومتروك ہے۔ (ت)
اقول : اور یہاں تاویل نہیں چل سکتی اس لئے کہ وہ صراحت کررہے ہیں کہ اس کی طرف کچھ التفات نہیں جو بعد میں ظاہر ہوتو یہی رہ گیا کہ یہاں یہ روایت مہجور ومتروك ہو۔
سوم : بلکہ وہ نادر روایت بھی اپنے مفہوم سے ظن عطا اور شك میں برابری بتانے والی اس حکایت کی مخالفت کررہی ہے کہ یہ اس وقت ہے جب عطا کا گمان ہو اس وقت نہیں جب شك ہو۔
چہارم : اس کے منافی وہ بھی ہے جو اختیار کے حوالہ سے قول امام محمد کا قیاس بیان ہوا کہ اس میں صرف ظن عطا کا اعتبار ہے۔ اور صراحۃ اس کے مناقض وہ ہے جو نہایہ کے حوالہ سے بیان ہوا کہ مذہب جس میں سوائے ایضاح کے کسی سے بھی ہمارے تینوں اصحاب رضی اللہ تعالی عنہمکے درمیان کوئی اختلاف منقول نہیں یہ ہے کہ وجوب طلب صرف ظن عطا میں محدود ہے۔ اور ایضاح وغیرہ میں جو خلاف منقول ہے وہ یہ ہے کہ امام صاحب کے نزدیك مطلقا وجوب نہیں۔ تو فریقین میں سے کسی کے نزدیك بھی ظن عطا اور شك کو نہ امام محمد کے نزدیك برابر بتایا گیا نہ امام ابویوسف کے نزدیک۔ تو اسے نگاہ بصیرت سے دیکھنا چاہئے۔ اور خدا ہی کیلئے حمد ہے۔ (ت)
ثالثا : فاقول : وبالله التوفیق (میں کہتا ہوں اور خدا ہی سے توفیق ہے) اور بطور تحقیق یہی حل بھی ہے۔ جب کوئی چیز ظاہر ہو اور اس کے
دلیل لم یعارضہ فلایقع الشك فی ذلك الظاھر لعدم استواء الطرفین فقد نصوا فی علم الکلام ان الاحتمال لاعن دلیل لاینافی الیقین بالمعنی الاعم فکیف ینافی الظن والشك فی العطاء لایکون الا اذالم یترجح جانبہ بدلیل فیبقی محتملا لاعن دلیل فلایورث الشك فی العجز المعلوم الظاھر بخلاف ظن العطاء فانہ عن دلیل ولابد فیعارض الظاھر الظاھر ویبقی العجز مشکوکا فلایتحقق شرط التیمم وذلك کمن شك فی قرب الماء فان شکہ ھذا لایجعل العجز مشکوکا حتی ساغ لہ التیمم بلاطلب ولم یسغ لمن ظن القرب کماتقدم فظھر(۱) بہ الجواب الساطع عن قول صدر الشریعۃ ان القدرۃ والعجز مشکوك فیھما وتبین ان مثل الشك لایعارض ظھورالعجز فوجب طرحہ والحاقہ بظن المنع ولله الحمد ثم بعد بضع لیالی رأیت تصدیق تعلیلی ھذا فی کلام الامام ملك العلماء کمایاتی اواخر المسألۃ الثامنۃ ولله الحمد۔
خلاف کا احتمال بلادلیل ہو تو یہ اس ظاہر کے معارض نہ ہوگا تو اس ظاہر میں شك نہ واقع ہوگا اس لئے کہ طرفین برابر نہیں۔ علما نے علم کلام میں تصریح فرمائی ہے کہ “ احتمال بلادلیل یقین بمعنی اعم کے منافی نہیں “ تو ظن کے منافی کیسے ہوگا۔ اور عطا میں شك نہ ہوگا مگر اسی وقت جب کہ جانب عطا کو کسی دلیل سے ترجیح حاصل نہ ہوسکے تو جانب عطا محتمل بلادلیل رہ جائے گی تو اس سے اس عجز میں شك نہ پیدا ہوگا جس کا ظاہر معلوم ہے بخلاف اس صورت کے جب عطا کا ظن ہو اس لئے کہ یہ ایك دلیل سے ہے اور یہ لازمی امر ہے تو ظاہر ظاہر کے معارض ہوجائے گا اور عجز مشکوك رہے گا تو تیمم کی شرط متحقق نہ ہوسکے گی۔ اور یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کو پانی کے قریب ہونے کا شك ہو کہ اس کا یہشك اس کے عجز کو مشکوك نہیں بنادیتا یہاں تك کہ پانی تلاش کئے بغیراس کیلئے تیمم روا ہے اور اس کیلئے روا نہیں جسے پانی کے قریب ہونے کا گمان ہو جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔ اس تحقیق سے صدر الشریعۃ کے اس کلام کا روشن جواب عیاں ہوگیا کہ “ قدرت وعجز دونوں میں شك ہے'۔ ' اور واضح ہوگیا کہ ایسا شك ظہور عجز کے معارض نہیں۔ تو اس شك کو نظر انداز کرنا اور ظن منع سے لاحق کرنا لازم ہے۔ اور خدا ہی کیلئے حمد ہے پھر میں نے چند راتوں کے بعد اپنی اس تعلیل کی تصدیق امام ملك العلماء کے کلام میں دیکھی جیسا کہ مسئلہ ہشتم کے اواخر میں آرہا ہے اور خدا ہی کیلئے حمد ہے۔ (ت)
خلاف کا احتمال بلادلیل ہو تو یہ اس ظاہر کے معارض نہ ہوگا تو اس ظاہر میں شك نہ واقع ہوگا اس لئے کہ طرفین برابر نہیں۔ علما نے علم کلام میں تصریح فرمائی ہے کہ “ احتمال بلادلیل یقین بمعنی اعم کے منافی نہیں “ تو ظن کے منافی کیسے ہوگا۔ اور عطا میں شك نہ ہوگا مگر اسی وقت جب کہ جانب عطا کو کسی دلیل سے ترجیح حاصل نہ ہوسکے تو جانب عطا محتمل بلادلیل رہ جائے گی تو اس سے اس عجز میں شك نہ پیدا ہوگا جس کا ظاہر معلوم ہے بخلاف اس صورت کے جب عطا کا ظن ہو اس لئے کہ یہ ایك دلیل سے ہے اور یہ لازمی امر ہے تو ظاہر ظاہر کے معارض ہوجائے گا اور عجز مشکوك رہے گا تو تیمم کی شرط متحقق نہ ہوسکے گی۔ اور یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کو پانی کے قریب ہونے کا شك ہو کہ اس کا یہشك اس کے عجز کو مشکوك نہیں بنادیتا یہاں تك کہ پانی تلاش کئے بغیراس کیلئے تیمم روا ہے اور اس کیلئے روا نہیں جسے پانی کے قریب ہونے کا گمان ہو جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔ اس تحقیق سے صدر الشریعۃ کے اس کلام کا روشن جواب عیاں ہوگیا کہ “ قدرت وعجز دونوں میں شك ہے'۔ ' اور واضح ہوگیا کہ ایسا شك ظہور عجز کے معارض نہیں۔ تو اس شك کو نظر انداز کرنا اور ظن منع سے لاحق کرنا لازم ہے۔ اور خدا ہی کیلئے حمد ہے پھر میں نے چند راتوں کے بعد اپنی اس تعلیل کی تصدیق امام ملك العلماء کے کلام میں دیکھی جیسا کہ مسئلہ ہشتم کے اواخر میں آرہا ہے اور خدا ہی کیلئے حمد ہے۔ (ت)
حوالہ / References
شرح الوقایہ باب التیمم مکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۲
مسئلہ ۷ : شرح۱ تعریف رضوی کے افادہ پنجم میں گزرا کہ یہاں اعتبار واقع کا ہے اگر اسے ظن غالب تھا کہ نہ دے گا (یا شك تھا) اور اس نے تیمم سے پڑھ لی بعدہ اس نے پانی دے دیا (بطور خو دخواہ) اس کے مانگے سے تو نماز عــہ۱ نہ ہوئی اعادہ کرے اور اگر ظن غالب تھا کہ دے دے گا اور (خلاف حکم کرکے) اس نے نہ مانگا اور تیمم سے پڑھ لی بعد کو مانگا اور اس نے نہ دیا تو نماز عــہ۲ ہوگئی شرح وقایہ کی عبارت وہیں گزری اور دیگر عبارات قوانین میں آئیں گی ان شاء الله تعالی۔ ہاں اگر اس نے نہ اول مانگا نہ بعد کو کہ منع وعطا کا حال کھلتا۔
اقول : نہ ظن عطا کی صورت میں اس نے پانی خرچ کرلیا یا پھینك دیانہ شك یا ظن منع کی حالت میں اس نے بعد نماز بے انکار سابق دے دیا تو البتہ اس کے ظن کا اعتبار ہے اگر ظن عطا تھا نماز نہ ہوئی ورنہ ہوگئی
عــہ۱ ولد عزیز مولوی مصطفی رضا خان سلمہ ذوالجلال ورقاہ الی مدارج الکمال نے یہاں ایك تقییدد حسن کا مشورہ دیا کہ صاحب آب کے پاس اس وقت کے بعد نیا پانی اور نہ آگیا ہو ورنہ آب کثیرمیں سے دے دینا اس ظن وشك کو کہ قلت آب کی حالت میں تھا دفع نہ کرے گا وکان ذلك عند تبییض الرسالۃ للطبع فی ۱۶ من المحرم الحرام ۱۳۳۶ ولله الحمد (اور یہ مشورہ طباعت کیلئے رسالے کی تیاری کے وقت ۱۳۳۶ھ ماہ محرم کی ۱۶ تاریخ کو دیا اور حمداللہتعالی ہی کیلئے ہے۔ ت)
اقول : یہ قید ضرور قابل لحاظ ہے اگرچہ کتابوں میں نظر سے نہ گزری کہ علما نے اسی حالت موجودہ پر کلام فرمایا اور یہاں یوں تفصیل مناسب کہ اگر وہ۲ ظن منع بر بنائے قلت آب تھا تو بعد کثرت دینااس کا تخطیہ نہ کرے گا اور اگر اور وجوہ سے تھا مثلا صاحب آب سے رنجش یا ناشناسائی یا اس کی نسبت گمان بخل تو ضرور اس گمان کی غلطی ظاہر ہوگی کمالایخفی والله تعالی اعلم فلیراجع ولیحرر ۱۲ منہ (جیسا کہ مخفی نہیں اور اللہتعالی خوب جانتا ہے تو اس کی مراجعت اور وضاحت کرلی جائے۔ ت)(م)
عــہ۲ آیا اسی مشورہ ولد عزیز کے قیاس پر یہاں بھی کہا جائے کہ اگر یہ نہ دینااس بنا پر ہوکہ اتنی دیرمیں پانی اس کے پاس خرچ ہوکر کم رہ گیا تو یہ منع اس ظن عطا کی خطا نہ بتائے گا۔
اقول : یہاں۲ صورتیں ہیں اگر یہ خرچ ہوجانا اس طور پر ہوکہ اس سے پہلے کسی نے مانگا اسے دے دیا اب کم رہ گیا منع کردیاتو بےشك اس ظن کی خطا ثابت نہ ہوگی ظاہرا اعادہ نماز چاہئے اور اگر خود اس نے اپنی حاجت میں خرچ کیا تو اب نہ دینااس ظن کا رد کرے گا کہ اتنا تو اسے خود درکار تھا اور جو باقی رہا اس سے انکار ہے فلیراجع ولیحرر ۱۲ منہ غفرلہ (تو اس کی مراجعت اور وضاحت کرلی جائے۔ ت) (م)
اقول : نہ ظن عطا کی صورت میں اس نے پانی خرچ کرلیا یا پھینك دیانہ شك یا ظن منع کی حالت میں اس نے بعد نماز بے انکار سابق دے دیا تو البتہ اس کے ظن کا اعتبار ہے اگر ظن عطا تھا نماز نہ ہوئی ورنہ ہوگئی
عــہ۱ ولد عزیز مولوی مصطفی رضا خان سلمہ ذوالجلال ورقاہ الی مدارج الکمال نے یہاں ایك تقییدد حسن کا مشورہ دیا کہ صاحب آب کے پاس اس وقت کے بعد نیا پانی اور نہ آگیا ہو ورنہ آب کثیرمیں سے دے دینا اس ظن وشك کو کہ قلت آب کی حالت میں تھا دفع نہ کرے گا وکان ذلك عند تبییض الرسالۃ للطبع فی ۱۶ من المحرم الحرام ۱۳۳۶ ولله الحمد (اور یہ مشورہ طباعت کیلئے رسالے کی تیاری کے وقت ۱۳۳۶ھ ماہ محرم کی ۱۶ تاریخ کو دیا اور حمداللہتعالی ہی کیلئے ہے۔ ت)
اقول : یہ قید ضرور قابل لحاظ ہے اگرچہ کتابوں میں نظر سے نہ گزری کہ علما نے اسی حالت موجودہ پر کلام فرمایا اور یہاں یوں تفصیل مناسب کہ اگر وہ۲ ظن منع بر بنائے قلت آب تھا تو بعد کثرت دینااس کا تخطیہ نہ کرے گا اور اگر اور وجوہ سے تھا مثلا صاحب آب سے رنجش یا ناشناسائی یا اس کی نسبت گمان بخل تو ضرور اس گمان کی غلطی ظاہر ہوگی کمالایخفی والله تعالی اعلم فلیراجع ولیحرر ۱۲ منہ (جیسا کہ مخفی نہیں اور اللہتعالی خوب جانتا ہے تو اس کی مراجعت اور وضاحت کرلی جائے۔ ت)(م)
عــہ۲ آیا اسی مشورہ ولد عزیز کے قیاس پر یہاں بھی کہا جائے کہ اگر یہ نہ دینااس بنا پر ہوکہ اتنی دیرمیں پانی اس کے پاس خرچ ہوکر کم رہ گیا تو یہ منع اس ظن عطا کی خطا نہ بتائے گا۔
اقول : یہاں۲ صورتیں ہیں اگر یہ خرچ ہوجانا اس طور پر ہوکہ اس سے پہلے کسی نے مانگا اسے دے دیا اب کم رہ گیا منع کردیاتو بےشك اس ظن کی خطا ثابت نہ ہوگی ظاہرا اعادہ نماز چاہئے اور اگر خود اس نے اپنی حاجت میں خرچ کیا تو اب نہ دینااس ظن کا رد کرے گا کہ اتنا تو اسے خود درکار تھا اور جو باقی رہا اس سے انکار ہے فلیراجع ولیحرر ۱۲ منہ غفرلہ (تو اس کی مراجعت اور وضاحت کرلی جائے۔ ت) (م)
لانہ بظن العطاء کان قادرا فی الظاھر علی الماء ولم یتبین غلط ھذا الظن فیعمل بہ لفوت درك الحقیقۃ۔
اس لئے کہ وہ ظن عطا کے باعث پانی پر بظاہر قادر تھا اور اس ظن کی غلطی واضح نہ ہوئی تو اس کو اسی پر عمل کرنا ہے کیوں کہ حقیقت تك رسائی فوت ہوگئی۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
انما یکون الملحوظ ظنالیس غیرعند عدم الاستکشاف لہ فاذا وجد وظھر الامر بخلاف کان الحال علی ماظھر اھ واستشھد لہ بعبارات البدائع والکافی ثم اطال رحمہ الله تعالی بابداء سؤال ودفعہ حاصل السؤال قدیکون ظنہ مصیبا ویتبدل رأی صاحب الماء فلایظھر خطاء ظنہ وحاصل الجواب ان الاصل عدم التبدل والظن ربما یخطئ واستشھد فی السؤال بنصوص فی المذھب انہ ان کان بحضرتہ من یسألہ عن الماء فسألہ فلم یخبرہ فتیمم وصلی ثم اخبرہ بہ لااعادۃ علیہ اھ ای فلم یکن بالاخبار اللاحق عالما فی السابق حین سألہ فلم یخبرہ فکذا الایکون بالعطاء اللاحق قادرا فی السابق حین ظن منعہ وافاد الجواب انہ فعل مافی
ظن ہی ملحوظ ہوتا ہے کچھ اور نہیں جبکہ اس ظن کی حقیقت منکشف نہ کرلی ہو۔ پھر جب تحقیق ہوجائے اور معاملہ اس ظن کے برخلاف ظاہر ہوتو جو ظاہر ہو اسی کے مطابق حال ہوگا اھ اس پر انہوں نے بدائع اور کافی کی عبارتوں سے شہادت پیش کی ہے پھر ایك سوال و جواب لاکر طویل گفتگو کی ہے۔ سوال کا حاصل یہ ہے کہ کبھی ایسا ہوگا کہ اس کا گمان درست ہو اور پانی والے کی رائے بدل جائے تو اس کے گمان کی خطا ظاہر نہ ہوگی جواب کا حاصل یہ ہے کہ اصل نہ بدلنا ہے اور ظن میں کبھی خطا بھی ہوتی ہے۔ سوال میں کچھ نصوص مذہب سے استشہاد کیا ہے کہ “ اگر اس کے پاس کوئی ایسا ہو جس سے پانی کے بارے میں دریافت کرسکے تو اس سے دریافت کیا اس نے نہ بتایا اس نے تیمم کیا اور نماز نہ پڑھ لی پھر اس نے بتایا تو اس پر اعادہ نہیں “ اھ یعنی بعد میں بتانے سے وہ سابق میں جبکہ اس سے پوچھا تھا اور اس نے نہ بتایا واقف نہ ہوگیا تو اسی طرح بعد میں دینے سے وہ سابق
اس لئے کہ وہ ظن عطا کے باعث پانی پر بظاہر قادر تھا اور اس ظن کی غلطی واضح نہ ہوئی تو اس کو اسی پر عمل کرنا ہے کیوں کہ حقیقت تك رسائی فوت ہوگئی۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
انما یکون الملحوظ ظنالیس غیرعند عدم الاستکشاف لہ فاذا وجد وظھر الامر بخلاف کان الحال علی ماظھر اھ واستشھد لہ بعبارات البدائع والکافی ثم اطال رحمہ الله تعالی بابداء سؤال ودفعہ حاصل السؤال قدیکون ظنہ مصیبا ویتبدل رأی صاحب الماء فلایظھر خطاء ظنہ وحاصل الجواب ان الاصل عدم التبدل والظن ربما یخطئ واستشھد فی السؤال بنصوص فی المذھب انہ ان کان بحضرتہ من یسألہ عن الماء فسألہ فلم یخبرہ فتیمم وصلی ثم اخبرہ بہ لااعادۃ علیہ اھ ای فلم یکن بالاخبار اللاحق عالما فی السابق حین سألہ فلم یخبرہ فکذا الایکون بالعطاء اللاحق قادرا فی السابق حین ظن منعہ وافاد الجواب انہ فعل مافی
ظن ہی ملحوظ ہوتا ہے کچھ اور نہیں جبکہ اس ظن کی حقیقت منکشف نہ کرلی ہو۔ پھر جب تحقیق ہوجائے اور معاملہ اس ظن کے برخلاف ظاہر ہوتو جو ظاہر ہو اسی کے مطابق حال ہوگا اھ اس پر انہوں نے بدائع اور کافی کی عبارتوں سے شہادت پیش کی ہے پھر ایك سوال و جواب لاکر طویل گفتگو کی ہے۔ سوال کا حاصل یہ ہے کہ کبھی ایسا ہوگا کہ اس کا گمان درست ہو اور پانی والے کی رائے بدل جائے تو اس کے گمان کی خطا ظاہر نہ ہوگی جواب کا حاصل یہ ہے کہ اصل نہ بدلنا ہے اور ظن میں کبھی خطا بھی ہوتی ہے۔ سوال میں کچھ نصوص مذہب سے استشہاد کیا ہے کہ “ اگر اس کے پاس کوئی ایسا ہو جس سے پانی کے بارے میں دریافت کرسکے تو اس سے دریافت کیا اس نے نہ بتایا اس نے تیمم کیا اور نماز نہ پڑھ لی پھر اس نے بتایا تو اس پر اعادہ نہیں “ اھ یعنی بعد میں بتانے سے وہ سابق میں جبکہ اس سے پوچھا تھا اور اس نے نہ بتایا واقف نہ ہوگیا تو اسی طرح بعد میں دینے سے وہ سابق
حوالہ / References
حلیہ
حلیہ
حلیہ
وسعہ قبل الفعل فیقع جائزادفعا للحرج فلاینقلب غیرجائز قال وبعبارۃ اخری انہ اذا ابی تأکد العجز فلاتعتبر القدرۃ بعد ذلك ذکرہ فی الولوالجیۃ ولانہ متعنت ولاقول للمتعنت بخلاف مانحن فیہ فانہ لم یستفرغ الوسع بالاستکشاف اھ
اقول : اغفل السؤال نصوصا فی المذھب ثمہ موافقۃ فی الصورۃ لماھنا وھی انہ ان کان(۱) عندہ من یسألہ فلم یسألہ وصلی ثم سألہ فاخبرہ بماء قریب بطلت صلاتہ کماقدمنا فی نمرۃ ۱۵۹ عن الحلیۃ عن المحیط ومثلہ فی البدائع والتبین والدر وغیرھا فعلمہ ان ھذا ممن یسأل ھنا عن حال الماء کظنہ العطاء فی ھذہ المسألۃ وترك السؤال کمثلہ فیھا والاخبار اللاحق کالعطاء اللاحق فتبطل صلاتہ کمابطلت ثم ھذا۔
وقولہ اذا ابی ای عن الاخبار اقول : یشمل(۲) مااذا سألہ
میں جبکہ اسے نہ دینے کا گمان تھا قادر نہ ہوگیا۔ اور جواب سے یہ مستفاد ہوا کہ اس نے عمل سے پہلے جو کچھ اس کے بس میں تھا کرلیا تو دفع حرج کے پیش نظر وہ جائز ہی واقع ہوگا پھر ناجائز میں تبدیل نہ ہوگا۔ فرماتے ہیں : بعبارت دیگر “ اس نے جب انکار کردیا تو عجز مؤکد ہوگیا پھر اس کے بعد قدرت ہونے کا اعتبار نہیں۔ اسے ولوالجیہ میں ذکر کیا ہے۔ اور اس لئے کہ وہ تشدد برتنے والا ہے اور ایسے شخص کی بات کا اعتبار نہیں بخلاف ہمارے زیربحث صورت کے کہ اس نے دریافت کرنے میں اپنی پوری کوشش صرف نہ کی “ ۔ اھ (ت)
اقول : وہاں کچھ نصوص مذہب اور تھے جو یہاں والی صورت کے موافق تھے انہیں سوال میں چھوڑ دیا وہ یہ کہ اگر اس کے پاس ایسا شخص ہو جس سے دریافت کرسکے اور دریافت نہ کیا نماز پڑھ لی پھر اس سے پوچھا۔ اس نے قریب میں پانی بتایا تو اس کی نماز باطل ہوگئی۔ جیسا کہ ہم نے نمبر۱۵۹ میں محیط سے نقل کردہ حلیہ کی عبارت پیش کی۔ اسی کے مثل بدائع تبیین درمختار وغیرہا میں بھی ہے تو اسے یہ علم ہونا کہ یہ شخص ایسا ہے جس سے پانی کے بارے میں یہاں دریافت کیا جاسکتا ہے ایسا ہی ہے جیسے اس مسئلہ میں عطا کا ظن ہے اور سوال نہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے یہاں سوال نہ کرنا اور بعد میں بتانا ایسا ہی ہے جیسے یہاں بعد میں دیناتو یہاں بھی اس کی نماز باطل ہوگئی جیسے وہاں باطل ہوئی۔ (ت)صاحب حلیہ کی عبارت “ اذا ابی “ (جب انکار کرے) یعنی بتانے سے انکار کرے ۔ اقول : یہ اس
اقول : اغفل السؤال نصوصا فی المذھب ثمہ موافقۃ فی الصورۃ لماھنا وھی انہ ان کان(۱) عندہ من یسألہ فلم یسألہ وصلی ثم سألہ فاخبرہ بماء قریب بطلت صلاتہ کماقدمنا فی نمرۃ ۱۵۹ عن الحلیۃ عن المحیط ومثلہ فی البدائع والتبین والدر وغیرھا فعلمہ ان ھذا ممن یسأل ھنا عن حال الماء کظنہ العطاء فی ھذہ المسألۃ وترك السؤال کمثلہ فیھا والاخبار اللاحق کالعطاء اللاحق فتبطل صلاتہ کمابطلت ثم ھذا۔
وقولہ اذا ابی ای عن الاخبار اقول : یشمل(۲) مااذا سألہ
میں جبکہ اسے نہ دینے کا گمان تھا قادر نہ ہوگیا۔ اور جواب سے یہ مستفاد ہوا کہ اس نے عمل سے پہلے جو کچھ اس کے بس میں تھا کرلیا تو دفع حرج کے پیش نظر وہ جائز ہی واقع ہوگا پھر ناجائز میں تبدیل نہ ہوگا۔ فرماتے ہیں : بعبارت دیگر “ اس نے جب انکار کردیا تو عجز مؤکد ہوگیا پھر اس کے بعد قدرت ہونے کا اعتبار نہیں۔ اسے ولوالجیہ میں ذکر کیا ہے۔ اور اس لئے کہ وہ تشدد برتنے والا ہے اور ایسے شخص کی بات کا اعتبار نہیں بخلاف ہمارے زیربحث صورت کے کہ اس نے دریافت کرنے میں اپنی پوری کوشش صرف نہ کی “ ۔ اھ (ت)
اقول : وہاں کچھ نصوص مذہب اور تھے جو یہاں والی صورت کے موافق تھے انہیں سوال میں چھوڑ دیا وہ یہ کہ اگر اس کے پاس ایسا شخص ہو جس سے دریافت کرسکے اور دریافت نہ کیا نماز پڑھ لی پھر اس سے پوچھا۔ اس نے قریب میں پانی بتایا تو اس کی نماز باطل ہوگئی۔ جیسا کہ ہم نے نمبر۱۵۹ میں محیط سے نقل کردہ حلیہ کی عبارت پیش کی۔ اسی کے مثل بدائع تبیین درمختار وغیرہا میں بھی ہے تو اسے یہ علم ہونا کہ یہ شخص ایسا ہے جس سے پانی کے بارے میں یہاں دریافت کیا جاسکتا ہے ایسا ہی ہے جیسے اس مسئلہ میں عطا کا ظن ہے اور سوال نہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے یہاں سوال نہ کرنا اور بعد میں بتانا ایسا ہی ہے جیسے یہاں بعد میں دیناتو یہاں بھی اس کی نماز باطل ہوگئی جیسے وہاں باطل ہوئی۔ (ت)صاحب حلیہ کی عبارت “ اذا ابی “ (جب انکار کرے) یعنی بتانے سے انکار کرے ۔ اقول : یہ اس
حوالہ / References
حلیہ
فسمع وسکت لانہ صادق علیہ قولھم لم یخبرہ وانما عبرہ عنہ فی الحلیۃ بالاباء لان السکوت عند الحاجۃ اباء عرفا وقد صرحوا بمسألۃ الاباء ھھنا ایضا انہ ان سألہ قبل الصلاۃ فابی ثم اعطاہ بعدھا فقد تمت ولاعبرۃ بالمنح بعد المنع۔ وماقال انہ متعنت وقد اخذہ عن البدائع فاقول : ھذا(۱) غیرمتعین ولاثابت فقدینسی ثم یتذکر وحال المسلم تحمل علی الصلاح مھما امکن والله تعالی اعلم قال ثم بعد برھۃ من ظھور ھذا للعبد الضعیف وتسطیرہ رأیت صدر الشریعۃ قدصرح بماذکرنا من الحکم فی ھاتین المسألتین وبعلتہ فیما لواتم الصلاۃ مع ظن العطاء ثم سألہ فاعطاہ فتواردنا علی ذلك اھ۔
اقول : (۲)ھوسبق قلم بل انما ذکر العلۃ فیما اذاسألہ فابی قال لانہ ظھر ان ظنہ
صورت کو بھی شامل ہے جب اس سے سوال کرے اور وہ سن کر خاموش رہے۔ کیونکہ اس پر علماء کا یہ قول صادق ہے کہ “ اس نے نہ بتایا “ اسے حلیہ میں انکار سے اس لئے تعبیرکیا کہ ضرورت کے وقت سکوت عرفا انکار ہی ہے۔ اور علما نے یہاں بھی مسئلہ انکار کی صراحت فرمائی ہے کہ اگر اس نے قبل نماز اس سے مانگا اس نے انکار کیا پھر بعد نماز اسے دے دیا تو اس کی نماز پوری ہوگئی۔ اور انکار کے بعد دینے کا کوئی اعتبار نہیں۔ (ت)صاحب حلیہ نے فرمایا وہ تشدد برتنے والا ہے اسے انہوں نے بدائع سے لیا ہے۔ اس پر مجھے کلام ہے فاقول یہ متعین اور ثابت نہیں۔ ہوسکتا ہے اس وقت بھول گیا ہو پھر اسے یاد آیا ہو جہاں تك ہوسکے مسلمان کی حالت کو صلاح ودرستی ہی پر محمول کیا جائےگا۔ اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ صاحب حلیہ لکھتے ہیں : بندہ ضعیف کے ذہن میں یہ آیا اور اسے رقم کیا پھر کچھ عرصہ بعد دیکھا کہ صدر الشریعۃ اس کی تصریح کرچکے ہیں جو ہم نے ان دونوں مسئلوں میں حکم بیان کیا اور اس کی علت بھی بتاچکے ہیں اس صورت میں جب کہ ظن عطا کے باوجود نماز پوری کرلی پھر مانگا اور اس نے دے دیا۔ تو اس پر ہمارا ان کا توارد ہوگیا اھ۔ (ت)
اقول : یہ سبقت قلم ہے۔ صدر الشریعۃ نے علت صرف اس صورت میں بیان کی ہے جب اس نے مانگا اور اس نے انکار کردیا۔ فرماتے ہیں : اس لئے
اقول : (۲)ھوسبق قلم بل انما ذکر العلۃ فیما اذاسألہ فابی قال لانہ ظھر ان ظنہ
صورت کو بھی شامل ہے جب اس سے سوال کرے اور وہ سن کر خاموش رہے۔ کیونکہ اس پر علماء کا یہ قول صادق ہے کہ “ اس نے نہ بتایا “ اسے حلیہ میں انکار سے اس لئے تعبیرکیا کہ ضرورت کے وقت سکوت عرفا انکار ہی ہے۔ اور علما نے یہاں بھی مسئلہ انکار کی صراحت فرمائی ہے کہ اگر اس نے قبل نماز اس سے مانگا اس نے انکار کیا پھر بعد نماز اسے دے دیا تو اس کی نماز پوری ہوگئی۔ اور انکار کے بعد دینے کا کوئی اعتبار نہیں۔ (ت)صاحب حلیہ نے فرمایا وہ تشدد برتنے والا ہے اسے انہوں نے بدائع سے لیا ہے۔ اس پر مجھے کلام ہے فاقول یہ متعین اور ثابت نہیں۔ ہوسکتا ہے اس وقت بھول گیا ہو پھر اسے یاد آیا ہو جہاں تك ہوسکے مسلمان کی حالت کو صلاح ودرستی ہی پر محمول کیا جائےگا۔ اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ صاحب حلیہ لکھتے ہیں : بندہ ضعیف کے ذہن میں یہ آیا اور اسے رقم کیا پھر کچھ عرصہ بعد دیکھا کہ صدر الشریعۃ اس کی تصریح کرچکے ہیں جو ہم نے ان دونوں مسئلوں میں حکم بیان کیا اور اس کی علت بھی بتاچکے ہیں اس صورت میں جب کہ ظن عطا کے باوجود نماز پوری کرلی پھر مانگا اور اس نے دے دیا۔ تو اس پر ہمارا ان کا توارد ہوگیا اھ۔ (ت)
اقول : یہ سبقت قلم ہے۔ صدر الشریعۃ نے علت صرف اس صورت میں بیان کی ہے جب اس نے مانگا اور اس نے انکار کردیا۔ فرماتے ہیں : اس لئے
حوالہ / References
حلیہ
کان خطأ اھ وھذا نظیرماسبق ان الحاق الشك بغلبۃ الظن للعطاء ارجح وانما صوابہ المنع کمامر۔
کہ ظاہر ہوگیا کہ اس کا گمان غلط تھا اھ (تو عبارت حلیہ میں “ ثم سألہ فاعطاہ “ کی جگہ “ ثم سألہ فابی “ ہونا چاہئے) اور یہ اسی کی نظیرہے جو عبارت حلیہ میں گزرا کہ شك کو “ عطا “ کے غلبہ ظن سے لاحق کرنا زیادہ راجح ہے۔ صحیح “ منع “ ہے جیسا کہ بیان ہوا۔ (ت)
تنبیہ : نماز کے بعد وہ دیناجس سے مطلقا نماز اعادہ کرنی ہوتی ہے اگرچہ مصلی کو ظن منع ہو کونسا ہے اور وقت نماز گزر جانے کے بعد دینابھی یہ اثر رکھتا ہے یا نہیں اس کا بیان مسئلہ نہم میں آتا ہے وباللہالتوفیق۔
مسئلہ ۸ : امام۱ محقق علی الاطلاق سے مسئلہ ششم میں گزرا کہ پانی پر قدرت تین۳ طرح ہوتی ہے :
اول : خود اپنی ملك میں ہو۔ اقول : یعنی حاجت ضروریہسے فارغ اور استعمال پر قدرت تو ہر جگہ شرط ہے۔
دوم : اگر بکتا ہے تو قیمت پر قادر ہو۔ اقول : یعنی انہیں وجوہ پر کہ گزریں کہ قیمت مثل سے بہت زیادہ نہ مانگے اور قیمت اس کے پاس حاضر نہیں تو ادھار دینے پر راضی ہو۔
سوم : اباحت۔ اقول : یہ مصدر مبنی للمفعول ہے یعنی پانی کا مباح ہونا خواہ باباحت اصلیہ جیسے بارش ودریا کا پانی یا کسی کے وقف کیے سے یا بلاوقف عام لوگوں یا کسی خاص قوم کیلئے جن میں یہ داخل ہے مالك نے طہارت کیلئے مباح کیا ہو اگر اسے طہارت درکار ہے یا مالك خاص اس شخص کو مباح کرے۔ ثم اقول : دو۲ صورتیں قدرت کی اور ہیں :
چہارم : ہبہ کہ تملیك بلاعوض ہے بخلاف اباحت کہ شے ملك مالك ہی پر رہتی ہے اس کی اجازت سے صرف کی جاتی ہے۔
پنجم : مالك کا وعدہ کرنا کہ میں تجھے پانی دوں گا یہاں تك کہ ائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالی عنہمکے مذہب میں انتظار لازم ہے اگرچہ وقت نکل جائے کہ وعدہ میں ظاہر وفا ہے اور پانی پر قدرت اباحت سے بھی حاصل تو ظاہرا قادر ہے لہذا تیمم جائز نہیں اس کا ذکر نمبر ۹۰ میں گزرا اور باتباع امام زفر حکم یہ ہے کہ جب وقت جاتا دیکھے تیمم کرکے پڑھ لے جیسا کہ نمبر ۹۱ میں گزرا۔
کہ ظاہر ہوگیا کہ اس کا گمان غلط تھا اھ (تو عبارت حلیہ میں “ ثم سألہ فاعطاہ “ کی جگہ “ ثم سألہ فابی “ ہونا چاہئے) اور یہ اسی کی نظیرہے جو عبارت حلیہ میں گزرا کہ شك کو “ عطا “ کے غلبہ ظن سے لاحق کرنا زیادہ راجح ہے۔ صحیح “ منع “ ہے جیسا کہ بیان ہوا۔ (ت)
تنبیہ : نماز کے بعد وہ دیناجس سے مطلقا نماز اعادہ کرنی ہوتی ہے اگرچہ مصلی کو ظن منع ہو کونسا ہے اور وقت نماز گزر جانے کے بعد دینابھی یہ اثر رکھتا ہے یا نہیں اس کا بیان مسئلہ نہم میں آتا ہے وباللہالتوفیق۔
مسئلہ ۸ : امام۱ محقق علی الاطلاق سے مسئلہ ششم میں گزرا کہ پانی پر قدرت تین۳ طرح ہوتی ہے :
اول : خود اپنی ملك میں ہو۔ اقول : یعنی حاجت ضروریہسے فارغ اور استعمال پر قدرت تو ہر جگہ شرط ہے۔
دوم : اگر بکتا ہے تو قیمت پر قادر ہو۔ اقول : یعنی انہیں وجوہ پر کہ گزریں کہ قیمت مثل سے بہت زیادہ نہ مانگے اور قیمت اس کے پاس حاضر نہیں تو ادھار دینے پر راضی ہو۔
سوم : اباحت۔ اقول : یہ مصدر مبنی للمفعول ہے یعنی پانی کا مباح ہونا خواہ باباحت اصلیہ جیسے بارش ودریا کا پانی یا کسی کے وقف کیے سے یا بلاوقف عام لوگوں یا کسی خاص قوم کیلئے جن میں یہ داخل ہے مالك نے طہارت کیلئے مباح کیا ہو اگر اسے طہارت درکار ہے یا مالك خاص اس شخص کو مباح کرے۔ ثم اقول : دو۲ صورتیں قدرت کی اور ہیں :
چہارم : ہبہ کہ تملیك بلاعوض ہے بخلاف اباحت کہ شے ملك مالك ہی پر رہتی ہے اس کی اجازت سے صرف کی جاتی ہے۔
پنجم : مالك کا وعدہ کرنا کہ میں تجھے پانی دوں گا یہاں تك کہ ائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالی عنہمکے مذہب میں انتظار لازم ہے اگرچہ وقت نکل جائے کہ وعدہ میں ظاہر وفا ہے اور پانی پر قدرت اباحت سے بھی حاصل تو ظاہرا قادر ہے لہذا تیمم جائز نہیں اس کا ذکر نمبر ۹۰ میں گزرا اور باتباع امام زفر حکم یہ ہے کہ جب وقت جاتا دیکھے تیمم کرکے پڑھ لے جیسا کہ نمبر ۹۱ میں گزرا۔
حوالہ / References
شرح الوقایہ ، باب التیمم ۱۰۳ / ۱
لاعطیتك قولہ وان کانت العدۃ قبل الشروع
اقول : تصویرہ بصورتین ذکرناھما انہ تیمم ثم رأی اورأی ثم تیمم ثم سألہ بعد حین فقال انفقت ولوسألت لاعطیت ولیس المراد انہ رأی فسأل فاجاب فتیمم لانہ تیمم صحیح قطعا لوقوعہ بعد ظھور العجز عن الماء بخلاف تینك الصورتین ففیھما قیل لیس لہ ان یصلی بذلك التیمم بل یتیمم ثانیا ولوصلی بالاول یعید لوقوع الشك فی صحۃ الشروع بہ فی الصلاۃ لانہ ان لم یظھر بوعدہ القدرۃ فلایقعد عن ایراث الشك فی العجز فوقع الشك فی بقاء التیمم فلم یصح لہ الشروع بطھارۃ مشکوکۃ بخلاف مااذا رأی فی الصلاۃ لان الشروع صح بالیقین فلایزول الابمثلہ والاصح انہ لایعید لان العدۃ بعد الذھاب والنفاد لاتدل علی الاعطاء قبلہ
اقول : لماقررنا من ان الشحیح ایضا لایثقل علیہ مثل ھذا الوعد فاذالم یترجح بہ جانب العطاء کان وجودہ وعدمہ سواء فلم یورث شکافی العجز کماقدمنا تحقیقہ اخر المسألۃ السادسۃ فھذا مایتعلق بشرحہ ولابأس بالتنبیہ علی نکت۔
بعد مانگا۔ تو اس نے کہا : ختم ہوگیا اور پہلے اگر تم نے مجھ سے مانگا ہوتا تو تم کو میں دے دیتا۔ قولہ اور اگر وعدہ نماز شروع کرنے سے پہلے ہوا۔ اقول : اس کی تصویردو۲ صورتوں میں ہے جو ہم نے بیان کیں (۱) اس نے تیمم کرلیا پھر دیکھا (۲) یا دیکھنے کے بعد تیمم کرلیا پھر اس سے کچھ دیربعد مانگا تو اس نے کہا : میں نے خرچ کردیا اگر تم نے مانگا ہوتا تو دے دیتا۔ یہ مراد نہیں کہ اس نے دیکھتے ہی مانگا اس نے وہ جواب دیا اس نے اب تیمم کیا۔ اس لئے کہ یہ تیمم تو قطعا صحیح ہے اس لئے کہ یہ پانی سے عجز ظاہر ہونے کے بعد ہوا ہے بخلاف ان دونوں صورتوں کے کہ ان ہی کے بارے میں یہ کہا گیا کہ اس کیلئے اس تیمم سے نماز پڑھنا جائز نہیں بلکہ دوبارہ تیمم کرے گا۔ اور اگر پہلے تیمم سے نماز پڑھ لی تو اعادہ کرے اس لئے کہ اس تیمم سے نماز شروع کرنے کی صحت میں شك واقع ہوگیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ اپنے وعدہ سے قدرت بروئے ظہور نہ لاسکا تو کم ازکم عجز میں شك پیدا کرنے سے قاصر نہ رہا اس طرح بقائے تیمم میں شك واقع ہوگیا تو مشکوك طہارت سے نماز شروع کرنا اس کیلئے جائز نہ ہوا بخلاف اس صورت کے جب اندرون نماز پانی دیکھا ہو اس لئے کہ شروع بالیقین صحیح ہوا ہے تو اس کا زوال بھی ویسی ہی چیز سے ہوگا۔ اور اصح یہ ہے کہ اسے اعادہ نہیں کرنا ہے اس لئے کہ ختم ہونے کے بعد وعدہ اس کی دلیل نہیں کہ وہ پہلے دے دیتا
اقول : اس کی وجہ وہ ہے جس کی ہم نے تقریرکی کہ بخیل کے لئے بھی ایسا وعدہ کرنا کوئی مشکل اور گراں نہیں تو جب اس وعدہ سے جانب عطا کو ترجیح نہ ملی تو اس کا ہونا نہ ہونا
اقول : تصویرہ بصورتین ذکرناھما انہ تیمم ثم رأی اورأی ثم تیمم ثم سألہ بعد حین فقال انفقت ولوسألت لاعطیت ولیس المراد انہ رأی فسأل فاجاب فتیمم لانہ تیمم صحیح قطعا لوقوعہ بعد ظھور العجز عن الماء بخلاف تینك الصورتین ففیھما قیل لیس لہ ان یصلی بذلك التیمم بل یتیمم ثانیا ولوصلی بالاول یعید لوقوع الشك فی صحۃ الشروع بہ فی الصلاۃ لانہ ان لم یظھر بوعدہ القدرۃ فلایقعد عن ایراث الشك فی العجز فوقع الشك فی بقاء التیمم فلم یصح لہ الشروع بطھارۃ مشکوکۃ بخلاف مااذا رأی فی الصلاۃ لان الشروع صح بالیقین فلایزول الابمثلہ والاصح انہ لایعید لان العدۃ بعد الذھاب والنفاد لاتدل علی الاعطاء قبلہ
اقول : لماقررنا من ان الشحیح ایضا لایثقل علیہ مثل ھذا الوعد فاذالم یترجح بہ جانب العطاء کان وجودہ وعدمہ سواء فلم یورث شکافی العجز کماقدمنا تحقیقہ اخر المسألۃ السادسۃ فھذا مایتعلق بشرحہ ولابأس بالتنبیہ علی نکت۔
بعد مانگا۔ تو اس نے کہا : ختم ہوگیا اور پہلے اگر تم نے مجھ سے مانگا ہوتا تو تم کو میں دے دیتا۔ قولہ اور اگر وعدہ نماز شروع کرنے سے پہلے ہوا۔ اقول : اس کی تصویردو۲ صورتوں میں ہے جو ہم نے بیان کیں (۱) اس نے تیمم کرلیا پھر دیکھا (۲) یا دیکھنے کے بعد تیمم کرلیا پھر اس سے کچھ دیربعد مانگا تو اس نے کہا : میں نے خرچ کردیا اگر تم نے مانگا ہوتا تو دے دیتا۔ یہ مراد نہیں کہ اس نے دیکھتے ہی مانگا اس نے وہ جواب دیا اس نے اب تیمم کیا۔ اس لئے کہ یہ تیمم تو قطعا صحیح ہے اس لئے کہ یہ پانی سے عجز ظاہر ہونے کے بعد ہوا ہے بخلاف ان دونوں صورتوں کے کہ ان ہی کے بارے میں یہ کہا گیا کہ اس کیلئے اس تیمم سے نماز پڑھنا جائز نہیں بلکہ دوبارہ تیمم کرے گا۔ اور اگر پہلے تیمم سے نماز پڑھ لی تو اعادہ کرے اس لئے کہ اس تیمم سے نماز شروع کرنے کی صحت میں شك واقع ہوگیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ اپنے وعدہ سے قدرت بروئے ظہور نہ لاسکا تو کم ازکم عجز میں شك پیدا کرنے سے قاصر نہ رہا اس طرح بقائے تیمم میں شك واقع ہوگیا تو مشکوك طہارت سے نماز شروع کرنا اس کیلئے جائز نہ ہوا بخلاف اس صورت کے جب اندرون نماز پانی دیکھا ہو اس لئے کہ شروع بالیقین صحیح ہوا ہے تو اس کا زوال بھی ویسی ہی چیز سے ہوگا۔ اور اصح یہ ہے کہ اسے اعادہ نہیں کرنا ہے اس لئے کہ ختم ہونے کے بعد وعدہ اس کی دلیل نہیں کہ وہ پہلے دے دیتا
اقول : اس کی وجہ وہ ہے جس کی ہم نے تقریرکی کہ بخیل کے لئے بھی ایسا وعدہ کرنا کوئی مشکل اور گراں نہیں تو جب اس وعدہ سے جانب عطا کو ترجیح نہ ملی تو اس کا ہونا نہ ہونا
فاقول اولا : کان تسمیتہ وعد اللمشاکلۃ والا فالوعد للمستقبل۔
وثانیا : التصویربذھاب الماء خرج وفاقا والا(۱) فالحکم کذلك لولم یذھب واحتال بھذا الجواب بل بالاولی لانہ منع اشنع۔
وثالثا : لابد عندی من التقییدد بعدم ظن العطاء فی الوجھین کمافعلت لان ظن العطاء اذالم یظھر خلافہ یمنع صحۃ التیمم والصلاۃ کمامر ویاتی وبھذا الوعد ان لم یظھر وفاقہ لم یظھر خلافہ ایضا بالاولی فتجب اعادۃ الصلاۃ والله تعالی اعلم۔
برابر ہے اس لئے یہ عجز میں کوئی شك نہ لاسکا جیسا کہ ہم مسئلہ ششم کے آخر میں اس کی تحقیق کرچکے ہیں۔ یہ کلام تو شرح سے متعلق تھا اب کچھ نکات پر تنبیہ کردی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ (ت)
فاقول : نکتہ اولی : اسے “ وعدہ “ کے نام سے ذکر کرنا مشاکلہ کی وجہ سے ہے ورنہ وعدہ تو مستقبل کیلئے ہوتا ہے۔
نکتہ دوم : صورت مسئلہ میں جو کہا گیا کہ پانی ختم ہوگیا یہ اتفاقا ہے۔ ورنہ اگر پانی واقع میں ختم نہ ہوا اور اس نے یہ جواب دے کر بہانہ کیا تو بھی حکم یہی ہے بلکہ درجہ اولی یہ حکم ہوگا۔ اس لئے کہ یہ بدتر انکارو منع ہے۔
نکتہ سوم : میرے نزدیك دونوں صورتوں میں عدم ظن عطا کی قید لگانا ضروری ہے جیسا کہ میں نے تصویرمسئلہ میں کہا۔ اس لئے کہ جب عطا کا گمان ہو اور اس کے خلاف ظاہر نہ ہو تو یہ تیمم اور نماز کی صحت سے مانع ہے جیسا کہ گزرا اور آئندہ بھی آئےگا اور اس وعدہ سے اس گمان کی اگر موافقت ظاہر نہ ہوئی تو اس کی مخالفت بھی بدرجہ اولی ظاہر نہ ہوئی اس لئے نماز کا اعادہ واجب ہوگا۔ اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
تنبیہ دوم : اقول۲ وعدہ آب کہ ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکے اجماع سے پانی پر قدرت کا موجب سمجھا گیا ظاہرا یہ حکم وقت کے وقت تك ہے کہ کسی موقت حاجت کیلئے ایك وقت میں وعدہ اسی وقت کا وعدہ سمجھا جاتا ہے نہ یہ کہ کبھی دے دیں گے اگرچہ سال بھر بعد۔ خروج وقت پر خلف وعدہ سمجھا جائے گا کہ دینے کا کہا تھا اور نہ دیا آئندہ اوقات کیلئے بھی وہ وعدہ اور اس کے سبب اس کا پانی پر قادر ہونا سمجھا جائے تو مہینہ بھر کامل گزر جائے اور اسے نماز پڑھنے کی اجازت نہ ہو کہ وعدہ باقی ہے تو قدرت باقی ہے تو تیمم ناجائز ہے اور ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے کہ انتظار کرے اگرچہ وقت نکل جائے تو ہر وقت یہی حکم رہے گا اور
وثانیا : التصویربذھاب الماء خرج وفاقا والا(۱) فالحکم کذلك لولم یذھب واحتال بھذا الجواب بل بالاولی لانہ منع اشنع۔
وثالثا : لابد عندی من التقییدد بعدم ظن العطاء فی الوجھین کمافعلت لان ظن العطاء اذالم یظھر خلافہ یمنع صحۃ التیمم والصلاۃ کمامر ویاتی وبھذا الوعد ان لم یظھر وفاقہ لم یظھر خلافہ ایضا بالاولی فتجب اعادۃ الصلاۃ والله تعالی اعلم۔
برابر ہے اس لئے یہ عجز میں کوئی شك نہ لاسکا جیسا کہ ہم مسئلہ ششم کے آخر میں اس کی تحقیق کرچکے ہیں۔ یہ کلام تو شرح سے متعلق تھا اب کچھ نکات پر تنبیہ کردی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ (ت)
فاقول : نکتہ اولی : اسے “ وعدہ “ کے نام سے ذکر کرنا مشاکلہ کی وجہ سے ہے ورنہ وعدہ تو مستقبل کیلئے ہوتا ہے۔
نکتہ دوم : صورت مسئلہ میں جو کہا گیا کہ پانی ختم ہوگیا یہ اتفاقا ہے۔ ورنہ اگر پانی واقع میں ختم نہ ہوا اور اس نے یہ جواب دے کر بہانہ کیا تو بھی حکم یہی ہے بلکہ درجہ اولی یہ حکم ہوگا۔ اس لئے کہ یہ بدتر انکارو منع ہے۔
نکتہ سوم : میرے نزدیك دونوں صورتوں میں عدم ظن عطا کی قید لگانا ضروری ہے جیسا کہ میں نے تصویرمسئلہ میں کہا۔ اس لئے کہ جب عطا کا گمان ہو اور اس کے خلاف ظاہر نہ ہو تو یہ تیمم اور نماز کی صحت سے مانع ہے جیسا کہ گزرا اور آئندہ بھی آئےگا اور اس وعدہ سے اس گمان کی اگر موافقت ظاہر نہ ہوئی تو اس کی مخالفت بھی بدرجہ اولی ظاہر نہ ہوئی اس لئے نماز کا اعادہ واجب ہوگا۔ اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
تنبیہ دوم : اقول۲ وعدہ آب کہ ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکے اجماع سے پانی پر قدرت کا موجب سمجھا گیا ظاہرا یہ حکم وقت کے وقت تك ہے کہ کسی موقت حاجت کیلئے ایك وقت میں وعدہ اسی وقت کا وعدہ سمجھا جاتا ہے نہ یہ کہ کبھی دے دیں گے اگرچہ سال بھر بعد۔ خروج وقت پر خلف وعدہ سمجھا جائے گا کہ دینے کا کہا تھا اور نہ دیا آئندہ اوقات کیلئے بھی وہ وعدہ اور اس کے سبب اس کا پانی پر قادر ہونا سمجھا جائے تو مہینہ بھر کامل گزر جائے اور اسے نماز پڑھنے کی اجازت نہ ہو کہ وعدہ باقی ہے تو قدرت باقی ہے تو تیمم ناجائز ہے اور ہمارے ائمہ کا اتفاق ہے کہ انتظار کرے اگرچہ وقت نکل جائے تو ہر وقت یہی حکم رہے گا اور
ہفتوں مہینوں نماز سے معطل رہنے کا حکم ہوگا حاشایہ شریعت مطہرہ کا مسئلہ نہیں ہوسکتا لاجرم وعدہ کا اثر اس ایك ہی وقت تك رہے گا وبس
وھذا ظاہر جدا ومن خدم الفقہ یری تائیدہ فی مسائل کثیرۃ من کتاب الطلاق وکتاب الایمان والله تعالی اعلم۔
اور یہ بہت واضح ہے جسے فقہ کی خدمت نصیب ہوئی اسے کتاب الطلاق اور کتاب الایمان کے بہت سے مسائل میں اس کی تائید نظر آئے گی۔ اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
تنبیہ سوم : اقول ظاہر۱ یہ ہے کہ وعدہ قدرت مقتصرہ ثابت کرے گا یعنی وقت وعد سے نہ مستندہ یعنی وقت علم بہ آب سے وذلك لانہ ھو سبب ثبوتھا فلاتثبت قبلہ لان المسبب لایتقدم السبب (وہ اس لئے کہ یہ وعدہ ہی ثبوت قدرت کا سبب ہے تو قدرت اس سے پہلے ثابت نہ ہوگی اس لئے کہ مسبب سبب سے مقدم نہیں ہوتا۔ ت) ظاہر ہے کہ وعدہ آئندہ کیلئے ہوتا ہے تو ماضی پر اس کا کیا اثر بلکہ اگر وعدہ اس کے سوال پر ہو تو یہ بھی دلالت نہ کرے گا اس سے پہلے مانگتا تو دے دیتا کہ اب بھی تو مانگے پر نہ دیا نرا وعدہ ہی کیا تو یہ کیونکر مفہوم ہو کہ پہلے دے ہی دیتا بالجملہ وعدہ حقیقۃ عطا نہیں کہ سب احکام عطا نافذ ہوں بلکہ وہ حقیقۃ عدم عطا ہے صرف اس امید پر کہ مسلمان کے وعدے میں ظاہر وفا ہے اسے ظاہرا پانی پر قادر مانا گیا ہے
لمامر فی الظفر لقول زفر عن البحر عن البدائع عن محمد ان الظاھر الوفاء بالوعد فکان قادرا علی الاستعمال ظاھرا ۔
اس کی وجہ رسالہ “ الظفر لقول زفر “ میں بحر کے حوالہ سے بیان ہوئی۔ بحر نے بدائع سے انہوں نے امام محمد سے نقل کیا کہ ظاہر وفائے وعدہ ہے تو وہ ظاہرا استعمال پرقادر ہوا۔ (ت)
تو پیش ازوعدہ نہ قدرت ہوگی نہ مانگے پر وعدے سے یہی ظاہر ہوکہ پہلے مانگتا تو دے دیتا۔
ھذا ماظھر فلیراجع ولیحرر والعلم بالحق عند العلی الاکبر۔
یہ وہ ہے جو میرے ذہن میں آیا تو اس کی مراجعت اور وضاحت کرلی جائے۔ اور حق کا علم خدائے برتر وبزرگ ہی کو ہے۔ (ت)
اقول : مگر اس میں یہ قوی شك ہے کہ علما نے بعد نماز مانگنے پر پانی دے دینے کو اس پر دلیل ٹھہرایا ہے
وھذا ظاہر جدا ومن خدم الفقہ یری تائیدہ فی مسائل کثیرۃ من کتاب الطلاق وکتاب الایمان والله تعالی اعلم۔
اور یہ بہت واضح ہے جسے فقہ کی خدمت نصیب ہوئی اسے کتاب الطلاق اور کتاب الایمان کے بہت سے مسائل میں اس کی تائید نظر آئے گی۔ اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
تنبیہ سوم : اقول ظاہر۱ یہ ہے کہ وعدہ قدرت مقتصرہ ثابت کرے گا یعنی وقت وعد سے نہ مستندہ یعنی وقت علم بہ آب سے وذلك لانہ ھو سبب ثبوتھا فلاتثبت قبلہ لان المسبب لایتقدم السبب (وہ اس لئے کہ یہ وعدہ ہی ثبوت قدرت کا سبب ہے تو قدرت اس سے پہلے ثابت نہ ہوگی اس لئے کہ مسبب سبب سے مقدم نہیں ہوتا۔ ت) ظاہر ہے کہ وعدہ آئندہ کیلئے ہوتا ہے تو ماضی پر اس کا کیا اثر بلکہ اگر وعدہ اس کے سوال پر ہو تو یہ بھی دلالت نہ کرے گا اس سے پہلے مانگتا تو دے دیتا کہ اب بھی تو مانگے پر نہ دیا نرا وعدہ ہی کیا تو یہ کیونکر مفہوم ہو کہ پہلے دے ہی دیتا بالجملہ وعدہ حقیقۃ عطا نہیں کہ سب احکام عطا نافذ ہوں بلکہ وہ حقیقۃ عدم عطا ہے صرف اس امید پر کہ مسلمان کے وعدے میں ظاہر وفا ہے اسے ظاہرا پانی پر قادر مانا گیا ہے
لمامر فی الظفر لقول زفر عن البحر عن البدائع عن محمد ان الظاھر الوفاء بالوعد فکان قادرا علی الاستعمال ظاھرا ۔
اس کی وجہ رسالہ “ الظفر لقول زفر “ میں بحر کے حوالہ سے بیان ہوئی۔ بحر نے بدائع سے انہوں نے امام محمد سے نقل کیا کہ ظاہر وفائے وعدہ ہے تو وہ ظاہرا استعمال پرقادر ہوا۔ (ت)
تو پیش ازوعدہ نہ قدرت ہوگی نہ مانگے پر وعدے سے یہی ظاہر ہوکہ پہلے مانگتا تو دے دیتا۔
ھذا ماظھر فلیراجع ولیحرر والعلم بالحق عند العلی الاکبر۔
یہ وہ ہے جو میرے ذہن میں آیا تو اس کی مراجعت اور وضاحت کرلی جائے۔ اور حق کا علم خدائے برتر وبزرگ ہی کو ہے۔ (ت)
اقول : مگر اس میں یہ قوی شك ہے کہ علما نے بعد نماز مانگنے پر پانی دے دینے کو اس پر دلیل ٹھہرایا ہے
حوالہ / References
بدائع الصنائع فصل ماشرائط الرکن فانواع مکتبہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۴۹
کہ پہلے مانگتا جب بھی دے دیتا۔
کمایاتی فی المسألۃ الاتیۃ عن الزیادات وجامع الکرخی والبدائع والحلیۃ ان البذل بعد الفراغ دلیل البذل قبلہ ۔
جیساکہ اگلے مسئلہ میں زیادات جامع کرخی بدائع اور حلیہ کے حوالے سے آرہا ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد دے دینااس کی دلیل ہے کہ پہلے بھی دے دیتا۔ (ت)
تو یوں ہی کیوں نہ کہا جائے کہ بعد نماز مانگنے پر وعدہ اس کی دلیل ہے کہ پہلے مانگتا جب بھی وعدہ کرلیتا اور نفس وعدہ کو موجب قدرت مانا ہے تو جس طرح بعد کو پانی دے دینے سے قدرت سابقہ ثابت ہوئی کہ پہلے مانگتا تو مل جاتا تو پانی زیرقدرت تھا یونہی بعد کے وعدے سے ثابت ہوگی کہ پہلے مانگتا تو وعدہ ہوجاتا اور وعدہ موجب قدرت تھا تو قدرت مل جاتی تو پانی زیرقدرت تھا اور جب مانگے پر نرے وعدے سے یہ حکم ہو تو بے مانگے وعدے سے بدرجہ اولی کہ یہاں تو یہ احتمال ہے کہ جب بے مانگے وعدہ کرلیا عجب نہیں کہ پہلے مانگے پر دے ہی دیتا اگرچہ اس اولویت میں یہ کلام واضح ہے کہ شاید اور کیا عجب مفید نہیں ظہور درکار ہے کلام امام محمد سے ابھی گزرا فکان قادرا ظاھرا (تو ظاہرا قادر ہوا۔ ت)
اقول : مگر بذل ووعدہ میں فرق بین ہے بذل حال سے بذل سابق مظنون ہوا اور بذل قطعا موجب قدرت ہے تو قدرت مظنون ہوئی بخلاف وعدہ کہ قدرت کا موجب قطعی نہیں خلف بھی ممکن ہے دینے والے کو کوئی عذر پیش آنا بھی ممکن ہے الاتری ان محمدا انما یقول ان الظاھر الوفاء (یہ دیکھئے امام محمد فرماتے ہیں کہ ظاہر وفائے وعدہ ہے۔ ت) تو وعدہ صرف مورث ظن قدرت ہے اور وعدہ حال سے سابقہ بھی یقینی نہیں صرف مظنون ہے تو اس وقت کے وعدے سے سابق میں ظن قدرت نہ ہوا بلکہ ظن ظن ہوا اور ظن ظن شیئ ظن شیئ نہیں توسابق کیلئے ظن قدرت ثابت نہ ہوا تو عجز ظاہر کا معارض نہ پایا گیااور تیمم ونماز صحیح رہے اور یہ تقریراس صورت کو بھی شامل کہ بعد کو بے مانگے وعدہ کرے کمالایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت) بالجملہ مقام مشکل ہے اور ظاہر وہ ہے جو فقیرنے گزارش کیا والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
ثم اقول : بلکہ حقیقت امر یہ ہے کہ مسئلہ وعدہ خود ہی مشکل ہے بلکہ اس سے بھی صاف تر مسئلہ رجا اور اس کا اور مسئلہ ظن قرب کا فرق اکابر محققین امام اجل عبدالعزیز بخاری اور امام قوام کاکی وامام اکمل بابرتی وامام کمال ابن الہام وغیرہم رحمۃ اللہ تعالی علیہمنے مشکل سمجھا اور لاحل چھوڑدیا
کمایاتی فی المسألۃ الاتیۃ عن الزیادات وجامع الکرخی والبدائع والحلیۃ ان البذل بعد الفراغ دلیل البذل قبلہ ۔
جیساکہ اگلے مسئلہ میں زیادات جامع کرخی بدائع اور حلیہ کے حوالے سے آرہا ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد دے دینااس کی دلیل ہے کہ پہلے بھی دے دیتا۔ (ت)
تو یوں ہی کیوں نہ کہا جائے کہ بعد نماز مانگنے پر وعدہ اس کی دلیل ہے کہ پہلے مانگتا جب بھی وعدہ کرلیتا اور نفس وعدہ کو موجب قدرت مانا ہے تو جس طرح بعد کو پانی دے دینے سے قدرت سابقہ ثابت ہوئی کہ پہلے مانگتا تو مل جاتا تو پانی زیرقدرت تھا یونہی بعد کے وعدے سے ثابت ہوگی کہ پہلے مانگتا تو وعدہ ہوجاتا اور وعدہ موجب قدرت تھا تو قدرت مل جاتی تو پانی زیرقدرت تھا اور جب مانگے پر نرے وعدے سے یہ حکم ہو تو بے مانگے وعدے سے بدرجہ اولی کہ یہاں تو یہ احتمال ہے کہ جب بے مانگے وعدہ کرلیا عجب نہیں کہ پہلے مانگے پر دے ہی دیتا اگرچہ اس اولویت میں یہ کلام واضح ہے کہ شاید اور کیا عجب مفید نہیں ظہور درکار ہے کلام امام محمد سے ابھی گزرا فکان قادرا ظاھرا (تو ظاہرا قادر ہوا۔ ت)
اقول : مگر بذل ووعدہ میں فرق بین ہے بذل حال سے بذل سابق مظنون ہوا اور بذل قطعا موجب قدرت ہے تو قدرت مظنون ہوئی بخلاف وعدہ کہ قدرت کا موجب قطعی نہیں خلف بھی ممکن ہے دینے والے کو کوئی عذر پیش آنا بھی ممکن ہے الاتری ان محمدا انما یقول ان الظاھر الوفاء (یہ دیکھئے امام محمد فرماتے ہیں کہ ظاہر وفائے وعدہ ہے۔ ت) تو وعدہ صرف مورث ظن قدرت ہے اور وعدہ حال سے سابقہ بھی یقینی نہیں صرف مظنون ہے تو اس وقت کے وعدے سے سابق میں ظن قدرت نہ ہوا بلکہ ظن ظن ہوا اور ظن ظن شیئ ظن شیئ نہیں توسابق کیلئے ظن قدرت ثابت نہ ہوا تو عجز ظاہر کا معارض نہ پایا گیااور تیمم ونماز صحیح رہے اور یہ تقریراس صورت کو بھی شامل کہ بعد کو بے مانگے وعدہ کرے کمالایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت) بالجملہ مقام مشکل ہے اور ظاہر وہ ہے جو فقیرنے گزارش کیا والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
ثم اقول : بلکہ حقیقت امر یہ ہے کہ مسئلہ وعدہ خود ہی مشکل ہے بلکہ اس سے بھی صاف تر مسئلہ رجا اور اس کا اور مسئلہ ظن قرب کا فرق اکابر محققین امام اجل عبدالعزیز بخاری اور امام قوام کاکی وامام اکمل بابرتی وامام کمال ابن الہام وغیرہم رحمۃ اللہ تعالی علیہمنے مشکل سمجھا اور لاحل چھوڑدیا
حوالہ / References
بدائع الصنائع فصل ماشرائط الرکن فانواع مکتبہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۴۹
والله المسئول لحل کل اشکال٭ودفع کل اعضال٭ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم المتعال٭
اما مسالۃ الوعد فلم ازل استشکلھا لان الوعد لایورث الارجاء فی المال والرجاء فی القابل لایرفع العجز المتحقق فی الحال فکیف یقال انہ بمجرد الوعد صار قادرا علی الماء قال فی التبین راجی(۱) الماء یستحب لہ التاخیرولایجب لان العدم ثابت حقیقۃ فلایزول حکمہ بالشك عــہ اھ وفی الھدایۃ وعن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی الله تعالی عنھما فی غیرروایۃ الاصول ان التأخیرحتم لان غالب الرأی کالمتحقق وجہ الظاھر ان العجز ثابت حقیقۃ فلایزول حکمہ الابیقین مثلہ اھ
اور خدا ہی سے ہر اشکال کے حل اور ہر پیچیدگی کے دفعیہ کا سوال ہے۔ اور کوئی طاقت وقوت نہیں مگر بلند باعظمت برتر خدا ہی سے۔ (ت)
مسئلہ وعدہ کو تو میں ہمیشہ مشکل سمجھتا رہا۔ اس لئے کہ وعدہ صرف زمانہ آئندہ میں امید پیدا کرتا ہے اور مستقبل میں امید حال میں متحقق عجز کو ختم نہیں کرتی پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ وہ محض وعدہ سے پانی پر قادر ہوگیا۔ تبین میں ہے : پانی کی امید رکھنے والے کیلئے نماز کو مؤخر کرنا مستحب ہے واجب نہیں۔ اس لئے کہ پانی کانہ ہونا حقیقۃ ثابت ہے تو شك سے اس کا حکم زائل نہ ہوگا “ اھ۔ ہدایہ میں ہے : “ امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہماسے غیرروایت اصول میں مروی ہے کہ مؤخر کرنا لازم ہے اس لئے کہ غالب گمان متحقق کی طرح ہے۔ ظاہر روایت کی وجہ یہ ہے کہ عجز حقیقۃ ثابت ہے تو اس کا حکم ویسے ہی یقین کے بغیرزائل نہ ہوگا اھ “ ۔
عــہ اقول : اراد بالشك مایقابل الیقین بدلیل مایتلوہ من نص الھدایۃ وقد قال فی البنایۃ وفی الشلبیۃ عن الدرایۃ کلیھما عن الایضاح المراد بالرجاء غلبۃ الظن ای یغلب علی ظنہ انہ یجد الماء فی اخر الوقت اھ ومثلہ فی البحر وغیرہ منہ غفرلہ (م)
شك سے وہ مراد لیا ہے جو یقین کا مقابل ہو اس کی دلیل ہدایہ کی عبارت ہے جو اس کے بعد آرہی ہے۔ بنایہ میں ہے اور شلبیہ میں درایہ کے حوالہ سے پھر بنایہ ودرایہ دونوں ہی ایضاح سے ناقل ہیں کہ امید سے مراد غلبہ ظن ہے یعنی اس کا غالب گمان یہ ہو کہ آخر وقت میں پانی مل جائے گا اور اسی کے مثل بحر وغیرہ میں ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اما مسالۃ الوعد فلم ازل استشکلھا لان الوعد لایورث الارجاء فی المال والرجاء فی القابل لایرفع العجز المتحقق فی الحال فکیف یقال انہ بمجرد الوعد صار قادرا علی الماء قال فی التبین راجی(۱) الماء یستحب لہ التاخیرولایجب لان العدم ثابت حقیقۃ فلایزول حکمہ بالشك عــہ اھ وفی الھدایۃ وعن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی الله تعالی عنھما فی غیرروایۃ الاصول ان التأخیرحتم لان غالب الرأی کالمتحقق وجہ الظاھر ان العجز ثابت حقیقۃ فلایزول حکمہ الابیقین مثلہ اھ
اور خدا ہی سے ہر اشکال کے حل اور ہر پیچیدگی کے دفعیہ کا سوال ہے۔ اور کوئی طاقت وقوت نہیں مگر بلند باعظمت برتر خدا ہی سے۔ (ت)
مسئلہ وعدہ کو تو میں ہمیشہ مشکل سمجھتا رہا۔ اس لئے کہ وعدہ صرف زمانہ آئندہ میں امید پیدا کرتا ہے اور مستقبل میں امید حال میں متحقق عجز کو ختم نہیں کرتی پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ وہ محض وعدہ سے پانی پر قادر ہوگیا۔ تبین میں ہے : پانی کی امید رکھنے والے کیلئے نماز کو مؤخر کرنا مستحب ہے واجب نہیں۔ اس لئے کہ پانی کانہ ہونا حقیقۃ ثابت ہے تو شك سے اس کا حکم زائل نہ ہوگا “ اھ۔ ہدایہ میں ہے : “ امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہماسے غیرروایت اصول میں مروی ہے کہ مؤخر کرنا لازم ہے اس لئے کہ غالب گمان متحقق کی طرح ہے۔ ظاہر روایت کی وجہ یہ ہے کہ عجز حقیقۃ ثابت ہے تو اس کا حکم ویسے ہی یقین کے بغیرزائل نہ ہوگا اھ “ ۔
عــہ اقول : اراد بالشك مایقابل الیقین بدلیل مایتلوہ من نص الھدایۃ وقد قال فی البنایۃ وفی الشلبیۃ عن الدرایۃ کلیھما عن الایضاح المراد بالرجاء غلبۃ الظن ای یغلب علی ظنہ انہ یجد الماء فی اخر الوقت اھ ومثلہ فی البحر وغیرہ منہ غفرلہ (م)
شك سے وہ مراد لیا ہے جو یقین کا مقابل ہو اس کی دلیل ہدایہ کی عبارت ہے جو اس کے بعد آرہی ہے۔ بنایہ میں ہے اور شلبیہ میں درایہ کے حوالہ سے پھر بنایہ ودرایہ دونوں ہی ایضاح سے ناقل ہیں کہ امید سے مراد غلبہ ظن ہے یعنی اس کا غالب گمان یہ ہو کہ آخر وقت میں پانی مل جائے گا اور اسی کے مثل بحر وغیرہ میں ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
تبیین الحقائق باب التیمم مطبعۃ امیریہ بولاق مصر ۴۱۱
حاشیہ شلبی علی تبیین الحقائق باب التیمم امیریہ بولاق مصر ۱ / ۴۱
الہدایہ باب التیمم مکتبہ عربیہ کراچی ۱ / ۳۶
حاشیہ شلبی علی تبیین الحقائق باب التیمم امیریہ بولاق مصر ۱ / ۴۱
الہدایہ باب التیمم مکتبہ عربیہ کراچی ۱ / ۳۶
وعزاہ فی الحلیۃ لھا ولغیرھا والمسألۃ معلومۃ دوارۃ فی المتون والشروح والفتاوی وھی تعطی قطعا ان رجاء القدرۃ فی المال لایرفع العجز فی الحال باجماع اصحابنا فی روایات الاصول فیجب ان لایعد قادرا بالوعد وانما یؤمر بالانتظار استحبابا ان وقع الوعد قبل الصلاۃ وان وعد بعدھا لم یبطل صلاۃ صحت بیقین کمالوحصل لہ رجاء الوجدان آخر الوقت بعد ماصلی فان مالا یمنع التیمم وجودہ لایرفعہ حدوثہ حین حدث فضلا عماسبق اما الفرق بان القدرۃ علی الماء تثبت بالاباحۃ اجماعا فیجب الانتظار بخلاف غیرہ کثوب ودلو فلاتثبت عند الامام فیستحب وعندھما نعم فیجب فاقول : الوعد لیس اباحۃ فی الحال بل ایراث رجائھا فی المال فبون بین بین قولہ اعطیب وقولہ ساعطی۔
اما ان الظاھر الوفاء فکان قادرا علی استعمال الماء ظاھرا فاقول : الماء معدوم عندہ بعد
حلیہ میں اس پر ہدایہ اور دوسری کتاب کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اور یہ مسئلہ معلوم ومعروف ہے متون شروح اور فتاوی میں کثرت سے گردش کرنے والا ہے اور اس سے قطعی طور پر یہ پتا چلتا ہے کہ مستبل میں قدرت کی امید حال میں پائے جانے والے عجز کو ختم نہیں کرتی۔ اس پر روایات اصول میں ہمارے اصحاب کا اجماع ہے۔ تو ضروری ہے کہ وعدہ کی وجہ سے اسے قادر نہ شمار کیا جائے صرف استحبابا اسے انتظار کا حکم دیا جائےگا اگر قبل نماز وعدہ ہوا اور اگر بعد نماز وعدہ ہوا تو یہ ایك ایسی نماز کو باطل نہیں کرسکتا جو بالیقین صحیح ادا ہوئی جیسے اس صورت میں جب کہ ادائے نماز کے بعد آخر وقت میں اسے پانی ملنے کی امید پیدا ہوئی اس لئے کہ جس چیز کی موجودگی تیمم سے مانع نہیں ہوتی اس کا حدوث بوقت حدوث بھی تیمم کو ختم نہیں کرسکتا بوقت سابق ختم کرنا تو درکنار۔ یہ فرق کہ پانی پر قدرت بالاجماع اباحت سے ثابت ہوجاتی ہے تو اس کا انتظار واجب ہے دوسری چیز جیسے کپڑے اور ڈول کا یہ حال نہیں اس میں امام صاحب کے نزدیك اباحت سے قدرت ثابت نہیں ہوتی تو انتظار صرف مستحب ہے اور صاحبین کے نزدیك اس میں بھی قدرت ثابت ہوتی ہے تو انتظار واجب ہے (اس پر مجھے کلام ہے) فاقول : وعدہ فی الحال اباحت نہیں بلکہ اس سے صرف آئندہ زمانہ میں امید پیدا ہوتی ہے۔ کسی کے یہ کہنے میں کہ “ میں نے دیا “ اور یہ کہنے میں کہ “ آئندہ دوں گا “ کھلا ہوا فرق ہے۔ (ت)
اب رہی یہ بات کہ ظاہر وفائے وعدہ ہے تو ظاہرا پانی کے استعمال پر قادر ہوا فاقول (تو اس پر میں کہتاہوں کہ)پانی اس کے نزدیك
اما ان الظاھر الوفاء فکان قادرا علی استعمال الماء ظاھرا فاقول : الماء معدوم عندہ بعد
حلیہ میں اس پر ہدایہ اور دوسری کتاب کا بھی حوالہ دیا ہے۔ اور یہ مسئلہ معلوم ومعروف ہے متون شروح اور فتاوی میں کثرت سے گردش کرنے والا ہے اور اس سے قطعی طور پر یہ پتا چلتا ہے کہ مستبل میں قدرت کی امید حال میں پائے جانے والے عجز کو ختم نہیں کرتی۔ اس پر روایات اصول میں ہمارے اصحاب کا اجماع ہے۔ تو ضروری ہے کہ وعدہ کی وجہ سے اسے قادر نہ شمار کیا جائے صرف استحبابا اسے انتظار کا حکم دیا جائےگا اگر قبل نماز وعدہ ہوا اور اگر بعد نماز وعدہ ہوا تو یہ ایك ایسی نماز کو باطل نہیں کرسکتا جو بالیقین صحیح ادا ہوئی جیسے اس صورت میں جب کہ ادائے نماز کے بعد آخر وقت میں اسے پانی ملنے کی امید پیدا ہوئی اس لئے کہ جس چیز کی موجودگی تیمم سے مانع نہیں ہوتی اس کا حدوث بوقت حدوث بھی تیمم کو ختم نہیں کرسکتا بوقت سابق ختم کرنا تو درکنار۔ یہ فرق کہ پانی پر قدرت بالاجماع اباحت سے ثابت ہوجاتی ہے تو اس کا انتظار واجب ہے دوسری چیز جیسے کپڑے اور ڈول کا یہ حال نہیں اس میں امام صاحب کے نزدیك اباحت سے قدرت ثابت نہیں ہوتی تو انتظار صرف مستحب ہے اور صاحبین کے نزدیك اس میں بھی قدرت ثابت ہوتی ہے تو انتظار واجب ہے (اس پر مجھے کلام ہے) فاقول : وعدہ فی الحال اباحت نہیں بلکہ اس سے صرف آئندہ زمانہ میں امید پیدا ہوتی ہے۔ کسی کے یہ کہنے میں کہ “ میں نے دیا “ اور یہ کہنے میں کہ “ آئندہ دوں گا “ کھلا ہوا فرق ہے۔ (ت)
اب رہی یہ بات کہ ظاہر وفائے وعدہ ہے تو ظاہرا پانی کے استعمال پر قادر ہوا فاقول (تو اس پر میں کہتاہوں کہ)پانی اس کے نزدیك
ولاقدرۃ علی المعدوم کیف وقد قال فی البحر فی مسألۃ من نسی الماء فی رحلہ ھذا لانہ لاقدرۃ بدون العلم لان القادر علی الفعل ھو الذی لواراد تحصیلہ یتأتی لہ ذلك ولاتکلیف بدون القدرۃ اھ ومعلوم ان الموعود لہ لیس الامر بیدہ حتی یتأتی لہ تحصیل الوضؤ بارادتہ بل ھو بید الواعد فلم تثبت القدرۃ۔
فان قلت الیس اذا اعطاہ بعد الصلاۃ بلا اباء بطلت فقد عد بالعطاء اللاحق قادرا فی السابق وسیاتی التصریحبہ عن الزیادات وجامع الکرخی والبدائع والحلیۃ انہ ظھر انہ کان قادرا لان البذل بعد الفراغ دلیل البذل قبلہ اھ مع ان الماء کان معدوماعندہ اذذاك والمعدوم غیرمقدور فلم لایجعل قادرابالوعدوان کان الماء معدوما عندہ بعد بل ھذا اولی لانہ علی شرف الحصول امامامضی فلایمکن ان یجعل غیرالحاصل فیہ حاصلا۔
اب بھی معدوم ہے اور معدوم پر قدرت نہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ البحرالرائق میں اپنے خیمہ یا کجاوہ میں رکھا ہوا پانی بھول جانے والے کے مسئلہ میں یہ لکھا ہے : “ یہ اس لئے کہ بغیرعلم کے قدرت نہیں اس لئے کہ فعل پر قادر وہی ہے کہ اگر اس فعل کو بروئے ثبوت لاناچاہے تو لاسکے اور قدرت کے بغیرکوئی مکلف نہیں ہوتا “ اھ یہ معلوم ہے کہ جس سے وعدہ کیا گیاہے معاملہ اس کے ہاتھ میں نہیں کہ وہ چاہے تو وضو کرے بلکہ یہ وعدہ کرنے والے کے ہاتھ میں ہے تو قدرت ثابت نہ ہوئی۔ (ت)
اگر یہ سوال ہو کہ کیا ایسا نہیں کہ جب بعد نماز اسے بلا انکار دے دے تو نماز باطل ہوگئی اس سے ظاہر ہوا کہ بعد میں دینے سے سابق میں اس کو قادر شمار کیا گیا۔ اس کی تصریح زیادات جامع کرخی بدائع اور حلیہ کے حوالوں سے آرہی ہے کہ “ ظاہر ہوگیا کہ وہ قادر تھا اس لئے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد دے دینااس بات کی دلیل ہے کہ پہلے بھی دے دیتا “ ۔ اھ۔ باوجودیکہ پانی اس وقت اس کے پاس معدوم تھا اور معدوم مقدور نہیں۔ تو وعدے کی وجہ سے بھی اس کو قادر کیوں نہ قرار دیا جائے اگرچہ اس کے پاس پانی اب بھی معدوم ہے۔ بلکہ یہبدرجہ اولی ہوگا اس لئے کہ وہ آئندہ حصول کی راہ میں ہے اور جو زمانہ گزر چکا اس میں تو غیر حاصل کو حاصل بنانا ممکن ہی نہیں۔ (ت)
فان قلت الیس اذا اعطاہ بعد الصلاۃ بلا اباء بطلت فقد عد بالعطاء اللاحق قادرا فی السابق وسیاتی التصریحبہ عن الزیادات وجامع الکرخی والبدائع والحلیۃ انہ ظھر انہ کان قادرا لان البذل بعد الفراغ دلیل البذل قبلہ اھ مع ان الماء کان معدوماعندہ اذذاك والمعدوم غیرمقدور فلم لایجعل قادرابالوعدوان کان الماء معدوما عندہ بعد بل ھذا اولی لانہ علی شرف الحصول امامامضی فلایمکن ان یجعل غیرالحاصل فیہ حاصلا۔
اب بھی معدوم ہے اور معدوم پر قدرت نہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ البحرالرائق میں اپنے خیمہ یا کجاوہ میں رکھا ہوا پانی بھول جانے والے کے مسئلہ میں یہ لکھا ہے : “ یہ اس لئے کہ بغیرعلم کے قدرت نہیں اس لئے کہ فعل پر قادر وہی ہے کہ اگر اس فعل کو بروئے ثبوت لاناچاہے تو لاسکے اور قدرت کے بغیرکوئی مکلف نہیں ہوتا “ اھ یہ معلوم ہے کہ جس سے وعدہ کیا گیاہے معاملہ اس کے ہاتھ میں نہیں کہ وہ چاہے تو وضو کرے بلکہ یہ وعدہ کرنے والے کے ہاتھ میں ہے تو قدرت ثابت نہ ہوئی۔ (ت)
اگر یہ سوال ہو کہ کیا ایسا نہیں کہ جب بعد نماز اسے بلا انکار دے دے تو نماز باطل ہوگئی اس سے ظاہر ہوا کہ بعد میں دینے سے سابق میں اس کو قادر شمار کیا گیا۔ اس کی تصریح زیادات جامع کرخی بدائع اور حلیہ کے حوالوں سے آرہی ہے کہ “ ظاہر ہوگیا کہ وہ قادر تھا اس لئے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد دے دینااس بات کی دلیل ہے کہ پہلے بھی دے دیتا “ ۔ اھ۔ باوجودیکہ پانی اس وقت اس کے پاس معدوم تھا اور معدوم مقدور نہیں۔ تو وعدے کی وجہ سے بھی اس کو قادر کیوں نہ قرار دیا جائے اگرچہ اس کے پاس پانی اب بھی معدوم ہے۔ بلکہ یہبدرجہ اولی ہوگا اس لئے کہ وہ آئندہ حصول کی راہ میں ہے اور جو زمانہ گزر چکا اس میں تو غیر حاصل کو حاصل بنانا ممکن ہی نہیں۔ (ت)
حوالہ / References
البحرالرائق باب التیمم مکتبہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۱۶۰
البدائع الصنائع باب التیمم مکتبہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۴۹
البدائع الصنائع باب التیمم مکتبہ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ / ۴۹
اقول : وبالله التوفیق لیست القدرۃ المانعۃ للتیمم بمعنی الاستطاعۃ فانھا لاتکون قبل الفعل وان کان الماء بکفہ بل(۱) بمعنی سلامۃ الاسباب والالات بحیث لایبقی شیئ ممایتوقف علیہ تحصیل الماء خارجا عن قبضتہ فیکون قادرا بمعنی ان تحصیلہ بیدہ ویشترط مع ذلك عدم الحرج فمن بعد الماء عنہ میلا وھو قادر علی المشی فقد سلمت لہ الاسباب وعد عاجزا للحرج ثم غالب الظن کالیقین الاتری ان من ظن قرب الماء عدقادرا علیہ مع انہ لایعلمہ حقیقۃ والظن ربما یخطی اذاعلمت ھذا فمن اعطی لاحقا حصل لہ الظن علی العطاء سابقالو سأل فثبت ظنا وھو کالثبوت یقیناانہ کان قادرا اذذاك علی تحصیل الماء بالسؤال فکان قادرا علی الماء لان القدرۃ الحسیۃ بالعطاء وماکان بینہ وبینالعطاء الا السؤال کماظھر بالبذل اللاحق بالسؤال وان کان بدون سؤال فبالاولی وقد کان السؤال بیدہ وترکہ عالما بالماء عندہ فکان کمن یکون علی راس البئر وفیھا ماء وبیدہ الدلو والرشاد وھو قادر علی الاستقاء فترك وتیمم وبالجملۃ ظھر بالبذل اللاحق انہ لواراد تحصیلہ سابقا لتأتی
میں اس کے جواب میں کہوں گا اور خدا ہی سے توفیق ہے وہ قدرت جو تیمم سے مانع ہے بمعنی استطاعت نہیں۔ اس لئے کہ یہ تو فعل سے پہلے ہوتی ہی نہیں اگرچہ پانی اس کی ہتھیلی میں ہی کیوں نہ ہو۔ بلکہ یہ قدرت بمعنی سلامت اسباب وآلات ہے اس طرح کہ جتنی چیزوں پر تحصیل آب موقوف ہے ان میں سے کوئی بھی اس کے قبضہ سے باہر نہ رہ جائے تو وہ قادر ہوگا اس معنی میں کہ اس کی تحصیل اس کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے ساتھ یہ شرط بھی ہوگی کہ حرج نہ ہو کیونکہ پانی جس سے ایك میل دور ہے اور اسے چلنے کی قدرت بھی ہے تو اس کیلئے سلامت اسباب تو موجود ہے پھر بھی حرج کے باعث اسے عاجز شمار کیا گیا۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ غالب ظن یقین کی طرح ہے۔ دیکھیے جسے پانی قریب ہونے کا ظن ہو اسے پانی پر قادر شمار کیا گیا ہے حالانکہ حقیقۃ اسے پانی کا علم نہیں۔ اور ظن تو بارہا غلط بھی ہوتا ہے۔ جب یہ سب معلوم ہوگیا تو اب دیکھئے جسے بعد میں پانی دے دیاگیا اسے یہ گمان حاصل ہوا کہ اگر مانگتا تو وہ پہلے بھی دے دیتا تو ظنا ثبوت ہوا۔ اور یہ یقیناثبوت کی طرح ہے۔ کہ وہ اس وقت کے سوال کے ذریعہ تحصیل آب پر قادر تھا۔ تو وہ پانی پر قادر ہوا اس لئے کہ حسی قدرت تو دینے ہی سے ہوتی ہے۔ اور اس کے اور دینے کے درمیان صرف سوال ہی کا فاصلہ تھا۔ جیسے اس کا قادر ہونا بعد میں سوال پر دینے سے ظاہر ہوتا ہے اور بغیرسوال دیناہو تو بدرجہ اولی۔ اور سوال اس کے
میں اس کے جواب میں کہوں گا اور خدا ہی سے توفیق ہے وہ قدرت جو تیمم سے مانع ہے بمعنی استطاعت نہیں۔ اس لئے کہ یہ تو فعل سے پہلے ہوتی ہی نہیں اگرچہ پانی اس کی ہتھیلی میں ہی کیوں نہ ہو۔ بلکہ یہ قدرت بمعنی سلامت اسباب وآلات ہے اس طرح کہ جتنی چیزوں پر تحصیل آب موقوف ہے ان میں سے کوئی بھی اس کے قبضہ سے باہر نہ رہ جائے تو وہ قادر ہوگا اس معنی میں کہ اس کی تحصیل اس کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے ساتھ یہ شرط بھی ہوگی کہ حرج نہ ہو کیونکہ پانی جس سے ایك میل دور ہے اور اسے چلنے کی قدرت بھی ہے تو اس کیلئے سلامت اسباب تو موجود ہے پھر بھی حرج کے باعث اسے عاجز شمار کیا گیا۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ غالب ظن یقین کی طرح ہے۔ دیکھیے جسے پانی قریب ہونے کا ظن ہو اسے پانی پر قادر شمار کیا گیا ہے حالانکہ حقیقۃ اسے پانی کا علم نہیں۔ اور ظن تو بارہا غلط بھی ہوتا ہے۔ جب یہ سب معلوم ہوگیا تو اب دیکھئے جسے بعد میں پانی دے دیاگیا اسے یہ گمان حاصل ہوا کہ اگر مانگتا تو وہ پہلے بھی دے دیتا تو ظنا ثبوت ہوا۔ اور یہ یقیناثبوت کی طرح ہے۔ کہ وہ اس وقت کے سوال کے ذریعہ تحصیل آب پر قادر تھا۔ تو وہ پانی پر قادر ہوا اس لئے کہ حسی قدرت تو دینے ہی سے ہوتی ہے۔ اور اس کے اور دینے کے درمیان صرف سوال ہی کا فاصلہ تھا۔ جیسے اس کا قادر ہونا بعد میں سوال پر دینے سے ظاہر ہوتا ہے اور بغیرسوال دیناہو تو بدرجہ اولی۔ اور سوال اس کے
لہ لعدم توقفہ الاعلی سؤالہ المقدورلہ وھذاھو معنی القدرۃ بخلاف الموعودلہ فان التوقف ھھنا علی الوفاء ولیس الوفاء بیدہ فقد ظھر الفرق والحمدلله رب العلمین۔
فان قلت الیس قد اوجبوا الطلب وابطلوا الصلاۃ قبلہ فیما اذاکان فی العمرانات اوقربھا مطلقا اوفی الفلاۃ وقد اخبر بقرب الماء اوظنہ بوجہ اخر من رؤیۃ خضرۃ وغیرھا کماقدمتہ فی خامس افادات شرح الحد الرضوی واثرت ثمہ عن الحلیۃ ان العلم بقرب الماء قطعا اوظاھراینزلہ منزلۃ کون الماء موجودا بحضرتہ فلایجوز تیممہ کمالایجوز مع وجودہ بحضرتہ اھ فکذلك ھھنا وان کان الماء معدوما ینزلہ ظن الوفاء لانہ ھو الظاھر من المسلم منزلۃ الموجود فلایجوزلہ التیمم۔
ہاتھ میں تھا جسے اس نے ترك کردیا جبکہ جانتا تھا کہ اس کے پاس پانی ہے تو یہ اس شخص کی طرح ہوا جو کسی کنویں پر ہو جس میں پانی بھی ہے اور اس کے ہاتھ میں ڈول رسی موجود ہے پانی کھینچنے پر قدرت بھی ہے مگر اس نے پانی نہ نکالا اور تیمم کرلیا۔ مختصر یہ کہ بعد میں دینے سے ظاہر ہوگیا کہ اگر وہ سابق میں پانی حاصل کرنا چاہتا تو میسر آجاتا کیونکہ وہ صرف اس کے مانگنے پر موقوف تھا اور مانگنا اس کی قدرت میں ضرور تھا۔ یہی قدرت کا معنی بھی ہے۔ بخلاف اس شخص کے جس سے پانی کا وعدہ ہوا اس لئے کہ یہاں موقوفی وفا پرر ہے اور وفا اس کے ہاتھ میں نہیں۔ اس بیان سے دونوں میں فرق واضح ہوگیا۔ اور ساری خوبیاں سارے جہانوں کے مالك خدا ہی کیلئے ہیں۔ (ت)
اگر یہ سوال ہو کہ کیا ایسا نہیں کہ فقہاء نے پانی تلاش کرنا واجب اور اس سے پہلے ادائے نماز کو باطل قرار دیا ہے جب وہ آبادی یا قرب آبادی میں ہو تو مطلقا بیابان میں ہو تو اس وقت جب اسے بتایا گیا ہو کہ پانی قریب ہے یا کسی دوسرے طریقہ مثلا ہریالی وغیرہ دیکھ کر اسے گمان ہوا ہو جیسا کہ شرح تعریف رضوی کے افادہ پنجم میں اس کا بیان ہوچکا ہے اور وہاں حلیہ سے یہ بھی نقل ہوا ہے کہ “ پانی قریب ہونے کا قطعا یا ظاہرا علم ہوجائے تو یہ پانی اس کے پاس موجود ہونے کی منزل میں لا اتارتا ہے تو اسے تیمم کرنا جائز نہیں ہوتا جیسے پاس موجود ہونے کی صورت میں جائز نہیں ہوتا “ اھ تو اسی طرح یہاں پانی اگرچہ معدوم ہے ظن وفا اس لئے کہ مسلم سے وہی ظاہر ہے اسے موجود کی منزل میں لااتارے گا تو اس کے لئے تیمم جائز نہ ہوگا۔ (ت)
فان قلت الیس قد اوجبوا الطلب وابطلوا الصلاۃ قبلہ فیما اذاکان فی العمرانات اوقربھا مطلقا اوفی الفلاۃ وقد اخبر بقرب الماء اوظنہ بوجہ اخر من رؤیۃ خضرۃ وغیرھا کماقدمتہ فی خامس افادات شرح الحد الرضوی واثرت ثمہ عن الحلیۃ ان العلم بقرب الماء قطعا اوظاھراینزلہ منزلۃ کون الماء موجودا بحضرتہ فلایجوز تیممہ کمالایجوز مع وجودہ بحضرتہ اھ فکذلك ھھنا وان کان الماء معدوما ینزلہ ظن الوفاء لانہ ھو الظاھر من المسلم منزلۃ الموجود فلایجوزلہ التیمم۔
ہاتھ میں تھا جسے اس نے ترك کردیا جبکہ جانتا تھا کہ اس کے پاس پانی ہے تو یہ اس شخص کی طرح ہوا جو کسی کنویں پر ہو جس میں پانی بھی ہے اور اس کے ہاتھ میں ڈول رسی موجود ہے پانی کھینچنے پر قدرت بھی ہے مگر اس نے پانی نہ نکالا اور تیمم کرلیا۔ مختصر یہ کہ بعد میں دینے سے ظاہر ہوگیا کہ اگر وہ سابق میں پانی حاصل کرنا چاہتا تو میسر آجاتا کیونکہ وہ صرف اس کے مانگنے پر موقوف تھا اور مانگنا اس کی قدرت میں ضرور تھا۔ یہی قدرت کا معنی بھی ہے۔ بخلاف اس شخص کے جس سے پانی کا وعدہ ہوا اس لئے کہ یہاں موقوفی وفا پرر ہے اور وفا اس کے ہاتھ میں نہیں۔ اس بیان سے دونوں میں فرق واضح ہوگیا۔ اور ساری خوبیاں سارے جہانوں کے مالك خدا ہی کیلئے ہیں۔ (ت)
اگر یہ سوال ہو کہ کیا ایسا نہیں کہ فقہاء نے پانی تلاش کرنا واجب اور اس سے پہلے ادائے نماز کو باطل قرار دیا ہے جب وہ آبادی یا قرب آبادی میں ہو تو مطلقا بیابان میں ہو تو اس وقت جب اسے بتایا گیا ہو کہ پانی قریب ہے یا کسی دوسرے طریقہ مثلا ہریالی وغیرہ دیکھ کر اسے گمان ہوا ہو جیسا کہ شرح تعریف رضوی کے افادہ پنجم میں اس کا بیان ہوچکا ہے اور وہاں حلیہ سے یہ بھی نقل ہوا ہے کہ “ پانی قریب ہونے کا قطعا یا ظاہرا علم ہوجائے تو یہ پانی اس کے پاس موجود ہونے کی منزل میں لا اتارتا ہے تو اسے تیمم کرنا جائز نہیں ہوتا جیسے پاس موجود ہونے کی صورت میں جائز نہیں ہوتا “ اھ تو اسی طرح یہاں پانی اگرچہ معدوم ہے ظن وفا اس لئے کہ مسلم سے وہی ظاہر ہے اسے موجود کی منزل میں لااتارے گا تو اس کے لئے تیمم جائز نہ ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
حلیہ
اقول : ولربی الحمد علی الخبیرسقطت٭ وفی القیاس غلطت٭فرق عظیم بین المسألتین القرب والعطاء کلاھما مانع عن التیمم لحصول القدرۃ بھما فان الشرع المطھر جعل ماکان دون میل کالذی بیدہ والالجاز لمن بیتہ علی شط البحر التیمم اذالم یجد الماء فی بیتہ کماتقدم فی نمرۃ عن العنایۃ والظن الغالب فی العمل کالعلم ومع علم المانع لامساغ للتیمم بیدان القریب لماکان مقدورا حقیقۃ شرعا فی الحال کماعلمت کان ظن القرب ظن انہ مقدور الان وانہ حاصل بحضرتہ فی اعتبار الشرع المطھر وھھنا ظن الوفاء ظن انہ سیحصل مع العلم القطعی بانہ غیرحاصل فی الحال فذلك علم ان المانع موجود وھذا علم انہ سیحدث ان وفی توقع حدوث المانع لایمنع التیمم۔
وھذا ماقدمت فی الظفر لقول زفر انہ اذا ادرك الوقت فاراد الصلاۃ لاینھی عنھاولاینظر الا الی حالتہ الراھنۃ وقلت قبلہ فیہ ان الطاعۃ بحسب
الاستطاعۃ قال ربنا تبارك و
اقول : (جوابا میں کہوں گا) اور میرے رب ہی کیلئے حمد ہے باخبر سے سوال کیا اور قیاس میں غلطی کی۔ دونوں مسئلوں میں عظیم فرق ہے قرب آب اور عطائے آب دونوں ہی تیمم سے مانع ہیں کیونکہ دونوں سے قدرت حاصل ہوجاتی ہے۔ اس لئے کہ جو پانی ایك میل سے کم دوری پر ہو شرع مطہر نے اسے اس پانی کی طرح قرار دیا ہے جو ہاتھ میں موجود ہو۔ ورنہ سمندر کے کنارے جس کا گھر ہو اس کیلئے یہ جائز ہوتا کہ گھر میں پانی نہ پائے تو تیمم کرلے جیسا کہ نمبر۹۱ میں عنایہ کے حوالہ سے گزرا۔ اور ظن غالب حق عمل میں یقین کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور مانع کا یقین ہوتے ہوئے تیمم کی کوئی گنجائش نہیں۔ مگر یہ ہے کہ آب قریب چونکہ ازروئے شرع فی الحال حقیقۃ مقدور ہے جیسا کہ معلوم ہوا تو قرب کا گمان اس امر کا گمان ہے کہ پانی اس وقت مقدور ہے اور وہ شرع مطہر کے اعتبار میں اس کے پاس حاصل ہے اور یہاں وفائے وعدہ کا گمان اس بات کا گمان ہے کہ پانی آئندہ حاصل ہوگا۔ ساتھ ہی اس بات کا قطعی علم ہے کہ وہ فی الحال حاصل نہیں۔ تو اس بات کا علم ہے کہ مانع موجود ہے۔ اور یہ اس بات کا کہ مانع پیدا ہوگا اگر اس نے وعدہ وفا کردیا اور مانع کے پیدا ہونے کی توقع تیمم سے مانع نہیں۔ (ت)
یہی بات میں رسالہ “ الظفر لقول زفر “ میں بیان کرچکا ہوں کہ جب وقت ہوگیا اور اس نے نماز ادا کرنی چاہی تو اسے اس سے روکا نہ جائےگا اور صرف اس کی موجودہ حالت دیکھی جائے گی۔ اس سے پہلے اس رسالہ میں میں نے لکھا ہے کہ
وھذا ماقدمت فی الظفر لقول زفر انہ اذا ادرك الوقت فاراد الصلاۃ لاینھی عنھاولاینظر الا الی حالتہ الراھنۃ وقلت قبلہ فیہ ان الطاعۃ بحسب
الاستطاعۃ قال ربنا تبارك و
اقول : (جوابا میں کہوں گا) اور میرے رب ہی کیلئے حمد ہے باخبر سے سوال کیا اور قیاس میں غلطی کی۔ دونوں مسئلوں میں عظیم فرق ہے قرب آب اور عطائے آب دونوں ہی تیمم سے مانع ہیں کیونکہ دونوں سے قدرت حاصل ہوجاتی ہے۔ اس لئے کہ جو پانی ایك میل سے کم دوری پر ہو شرع مطہر نے اسے اس پانی کی طرح قرار دیا ہے جو ہاتھ میں موجود ہو۔ ورنہ سمندر کے کنارے جس کا گھر ہو اس کیلئے یہ جائز ہوتا کہ گھر میں پانی نہ پائے تو تیمم کرلے جیسا کہ نمبر۹۱ میں عنایہ کے حوالہ سے گزرا۔ اور ظن غالب حق عمل میں یقین کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور مانع کا یقین ہوتے ہوئے تیمم کی کوئی گنجائش نہیں۔ مگر یہ ہے کہ آب قریب چونکہ ازروئے شرع فی الحال حقیقۃ مقدور ہے جیسا کہ معلوم ہوا تو قرب کا گمان اس امر کا گمان ہے کہ پانی اس وقت مقدور ہے اور وہ شرع مطہر کے اعتبار میں اس کے پاس حاصل ہے اور یہاں وفائے وعدہ کا گمان اس بات کا گمان ہے کہ پانی آئندہ حاصل ہوگا۔ ساتھ ہی اس بات کا قطعی علم ہے کہ وہ فی الحال حاصل نہیں۔ تو اس بات کا علم ہے کہ مانع موجود ہے۔ اور یہ اس بات کا کہ مانع پیدا ہوگا اگر اس نے وعدہ وفا کردیا اور مانع کے پیدا ہونے کی توقع تیمم سے مانع نہیں۔ (ت)
یہی بات میں رسالہ “ الظفر لقول زفر “ میں بیان کرچکا ہوں کہ جب وقت ہوگیا اور اس نے نماز ادا کرنی چاہی تو اسے اس سے روکا نہ جائےگا اور صرف اس کی موجودہ حالت دیکھی جائے گی۔ اس سے پہلے اس رسالہ میں میں نے لکھا ہے کہ
تعالی فاتقوا الله ما استطعتم ولاینظر الا الی الحالۃ
الراھنۃ واستشھدت علیہ بمسألۃ الراجی ھذہ ان لیس علیہ التأخیروبمسألۃ الدر امرہ الطبیب بالاستلقاء الخ وستأتی عن البنایۃ سبع مسائل ومن زیاداتنا سبع اخر تشھد لھذا ومن ذلك مامر فی نمرۃ من مسألۃ عار وعدثو بالہ ان یصلی عاریا ولاینتظر ھذا ھو مذھب امام المذھب رضی الله تعالی عنہ والان رأیت فی الغنیۃ فی مسألۃ الراجی نفسھا (یستحب ان یؤخر) ولولم یفعل وتیمم وصلی جاز لانہ اداھا بحسب قدرتہ لموجودۃ عند انعقاد سببھا وھو مااتصل بہ الاداء اھ ثم بنعمۃ ربی ولہ الحمد رأیت بعد قلیل من الحین لامام الاجل اباالبرکات النسفی رحمہ الله تعالی فی الکافی فرق بعین ما وفقنی ربی من انہ این الحاصل مما سیحصل کماسأذکر نصہ ان شاء الله تعالی ولله الحمد فی الاولی والاخری ھذا ماکان یتخالج صدری فی مسألۃ الوعد۔
“ طاعت حسب استطاعت ہوتی ہے۔ ہمارے رب تبارك وتعالی کا ارشاد ہے۔ تو تم خدا سے ڈرو جتنی تمہیں استطاعت ہو اور موجودہ حالت ہی دیکھی جائے گی۔ اس پر میں نے پانی کی امید رکھنے والے کے اس مسئلہ سے استشہاد بھی کیا ہے کہ اس پر نماز مؤخر کرنا لازم نہیں۔ اور درمختار کے اس مسئلہ سے کہ طبیب نے اسے چت لیٹنے کا مشورہ دیا الخ۔ عنقریب بنایہ کے حوالہ سے سات مسائل آرہے ہیں۔ اور ہمارے اضافہ سے سات اور وہ سب اس پر شاہد ہیں۔ اسی میں سے وہ مسئلہ بھی ہے جو نمبر۹۰ میں گزرا کہ کوئی برہنہ بدن ہے جس سے کپڑے کا وعدہ کیا گیا ہے اس کیلئے برہنہ نماز ادا کرنا اور انتظار نہ کرنا جائز ہے۔ یہی امام مذہب رضی اللہ تعالی عنہکا مذہب ہے۔ اور اب میں نے غنیہ میں خود امید آب والے کا مسئلہ دیکھا جو اس طرح ہے : (تاخیرمستحب ہے) اور اگر نہ کی اور تیمم کرکے نماز پڑھ لی تو جائز ہے اس لئے کہ اس نے اپنی اس قدرت کے مطابق نماز ادا کی جو سبب نماز کے انعقاد کے وقت موجود تھی اور سبب نماز وہ وقت ہے جس سے متصل نماز ادا ہوئی اھ پھر بانعام ربانی اور اس کا شکر ہے۔ تھوڑے دنوں بعد میں نے دیکھا کہ امام اجل ابو البرکات نسفی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے کافی میں بعینہ وہی فرق بیان کیا ہے جس کی میرے رب نے مجھے توفیق دی کہ کہاں وہ جو حاصل ہے اور کہاں وہ جو آئندہ حاصل ہوگا۔ جیسا کہ ان کی عبارت عنقریب ذکر کروں گا اگر خدائے برتر کی مشیت ہوئی۔ اور خدا ہی کیلئے حمد ہے دنیا وآخرت میں۔ یہ وہ باتیں ہیں جو مسئلہ وعد سے متعلق میرے دل میں خلجان کررہی تھیں۔ (ت)
الراھنۃ واستشھدت علیہ بمسألۃ الراجی ھذہ ان لیس علیہ التأخیروبمسألۃ الدر امرہ الطبیب بالاستلقاء الخ وستأتی عن البنایۃ سبع مسائل ومن زیاداتنا سبع اخر تشھد لھذا ومن ذلك مامر فی نمرۃ من مسألۃ عار وعدثو بالہ ان یصلی عاریا ولاینتظر ھذا ھو مذھب امام المذھب رضی الله تعالی عنہ والان رأیت فی الغنیۃ فی مسألۃ الراجی نفسھا (یستحب ان یؤخر) ولولم یفعل وتیمم وصلی جاز لانہ اداھا بحسب قدرتہ لموجودۃ عند انعقاد سببھا وھو مااتصل بہ الاداء اھ ثم بنعمۃ ربی ولہ الحمد رأیت بعد قلیل من الحین لامام الاجل اباالبرکات النسفی رحمہ الله تعالی فی الکافی فرق بعین ما وفقنی ربی من انہ این الحاصل مما سیحصل کماسأذکر نصہ ان شاء الله تعالی ولله الحمد فی الاولی والاخری ھذا ماکان یتخالج صدری فی مسألۃ الوعد۔
“ طاعت حسب استطاعت ہوتی ہے۔ ہمارے رب تبارك وتعالی کا ارشاد ہے۔ تو تم خدا سے ڈرو جتنی تمہیں استطاعت ہو اور موجودہ حالت ہی دیکھی جائے گی۔ اس پر میں نے پانی کی امید رکھنے والے کے اس مسئلہ سے استشہاد بھی کیا ہے کہ اس پر نماز مؤخر کرنا لازم نہیں۔ اور درمختار کے اس مسئلہ سے کہ طبیب نے اسے چت لیٹنے کا مشورہ دیا الخ۔ عنقریب بنایہ کے حوالہ سے سات مسائل آرہے ہیں۔ اور ہمارے اضافہ سے سات اور وہ سب اس پر شاہد ہیں۔ اسی میں سے وہ مسئلہ بھی ہے جو نمبر۹۰ میں گزرا کہ کوئی برہنہ بدن ہے جس سے کپڑے کا وعدہ کیا گیا ہے اس کیلئے برہنہ نماز ادا کرنا اور انتظار نہ کرنا جائز ہے۔ یہی امام مذہب رضی اللہ تعالی عنہکا مذہب ہے۔ اور اب میں نے غنیہ میں خود امید آب والے کا مسئلہ دیکھا جو اس طرح ہے : (تاخیرمستحب ہے) اور اگر نہ کی اور تیمم کرکے نماز پڑھ لی تو جائز ہے اس لئے کہ اس نے اپنی اس قدرت کے مطابق نماز ادا کی جو سبب نماز کے انعقاد کے وقت موجود تھی اور سبب نماز وہ وقت ہے جس سے متصل نماز ادا ہوئی اھ پھر بانعام ربانی اور اس کا شکر ہے۔ تھوڑے دنوں بعد میں نے دیکھا کہ امام اجل ابو البرکات نسفی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے کافی میں بعینہ وہی فرق بیان کیا ہے جس کی میرے رب نے مجھے توفیق دی کہ کہاں وہ جو حاصل ہے اور کہاں وہ جو آئندہ حاصل ہوگا۔ جیسا کہ ان کی عبارت عنقریب ذکر کروں گا اگر خدائے برتر کی مشیت ہوئی۔ اور خدا ہی کیلئے حمد ہے دنیا وآخرت میں۔ یہ وہ باتیں ہیں جو مسئلہ وعد سے متعلق میرے دل میں خلجان کررہی تھیں۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن ۶۴ / ۱۶
غنیۃ المستملی فصل فی التیمم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۴
غنیۃ المستملی فصل فی التیمم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۴
واما مسألۃ الرجاء وما عللھا بہ فی الھدایۃ
فاعترضہ الامام الاجل الشیخ عبدالعزیز ثم الامام قوام الدین الکاکی ثم الامام اکمل الدین البابرتی ثم الامام المحقق علی الاطلاق بوجھین عــہ۱ قال فی الفتح علی عبارۃ الھدایۃ المذکورۃ قولہ عــہ۲ لان
اب مسئلہ امید اور ہدایہ میں بیان شد ہ اس کی تعلیل پر ۱ کلام کیاجاتاہے۔ اس پر امام اجل شیخ عبدالعزیز پھر امام قوام الدین کاکی پھر امام اکمل الدین بابرتی پھر امام محقق علی الاطلاق نے دو وجہوں سے اعتراض کیاہے۔ فتح القدیرمیں ہدایہ کی مذکورہ عبارت پریہ کلام ہے : “ ان کاقول : “ اس لئے
عــہ۱ التعلیل یرد علیہ الوجھان وعلی الحکم الوجہ الاول فقط کماسیاتی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
(عـہ۲ قولہ قولہ مبتدء خبرہ یقتضی وقولہ مع انہ منظور فیہ متعلق بقولہ یقتضی اقول : والمقصود الایراد علی وجہ ظاھر الروایۃ وانما اشرك معہ تعلیل الروایۃ النادرۃ لان النظر الاول یبتنی علی ان ظاھر الروایۃ لم یعتبرہ فھما نظران حاصل الاول کیف قلتم لایزول الابیقین مثلہ ولم تجعلوا غالب الرأی کالمحقق مع انکم اعتبرتموہ فی مسألتی العمرانات و
تعلیل پر دونوں وجہوں سے اعتراض ہوتا ہے اور حکم پر صرف وجہ اول سے اعتراض ہوتا ہے جیسا کہ آرہا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ان کی عبارت میں “ قولہ “ (ان کا قول) مبتدا ہے۔ اس کی خبر ہے “ یقتضی “ (مقتضی ہے) اور ان کی عبارت “ مع انہ منظور فیہ “ (باوجودیکہ اس میں کلام ہے) ان کی عبارت “ یقتضی “ سے متعلق ہے اقول : مقصد ظاہر الروایۃ کی وجہ پر اعتراض کرنا ہے۔ اس کے ساتھ روایت نادرہ کی تعلیل کو اس لئے شریك کرلیا کہ پہلا اعتراض اس پر مبنی ہے کہ ظاہر الروایہ نے اس کا اعتبار نہ کیا تو یہ دو اعتراض ہوئے۔ پہلے کا حاصل یہ ہے کہ آپ نے
(باقی برصفحہ ائندہ)
۱ امید کی صورت میں روایت نادرہ میں یہ حکم ہے کہ نماز مؤخر کرنا واجب ہے جس کی تعلیل ہدایہ میں یہ ہے کہ “ غالب رائے متحقق کی طرح ہے “ یعنی غلبہ ظن کو حق عمل میں یقین کی حیثیت حاصل ہے۔ اور ظاہر الروایہ میں اس کا حکم یہ ہے کہ تاخیرصرف مستحب ہے واجب نہیں ہدایہ میں اس کی تعلیل یہ ہے کہ “ عجز حقیقۃ ثابت ہے تو ویسے ہی یقین کے بغیراس کا حکم زائل نہ ہوگا “ مسئلہ وعد پر کلام کے شروع میں یہ باتیں گزر چکی ہیں ۱۲محمد احمد مصباحی
فاعترضہ الامام الاجل الشیخ عبدالعزیز ثم الامام قوام الدین الکاکی ثم الامام اکمل الدین البابرتی ثم الامام المحقق علی الاطلاق بوجھین عــہ۱ قال فی الفتح علی عبارۃ الھدایۃ المذکورۃ قولہ عــہ۲ لان
اب مسئلہ امید اور ہدایہ میں بیان شد ہ اس کی تعلیل پر ۱ کلام کیاجاتاہے۔ اس پر امام اجل شیخ عبدالعزیز پھر امام قوام الدین کاکی پھر امام اکمل الدین بابرتی پھر امام محقق علی الاطلاق نے دو وجہوں سے اعتراض کیاہے۔ فتح القدیرمیں ہدایہ کی مذکورہ عبارت پریہ کلام ہے : “ ان کاقول : “ اس لئے
عــہ۱ التعلیل یرد علیہ الوجھان وعلی الحکم الوجہ الاول فقط کماسیاتی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
(عـہ۲ قولہ قولہ مبتدء خبرہ یقتضی وقولہ مع انہ منظور فیہ متعلق بقولہ یقتضی اقول : والمقصود الایراد علی وجہ ظاھر الروایۃ وانما اشرك معہ تعلیل الروایۃ النادرۃ لان النظر الاول یبتنی علی ان ظاھر الروایۃ لم یعتبرہ فھما نظران حاصل الاول کیف قلتم لایزول الابیقین مثلہ ولم تجعلوا غالب الرأی کالمحقق مع انکم اعتبرتموہ فی مسألتی العمرانات و
تعلیل پر دونوں وجہوں سے اعتراض ہوتا ہے اور حکم پر صرف وجہ اول سے اعتراض ہوتا ہے جیسا کہ آرہا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ان کی عبارت میں “ قولہ “ (ان کا قول) مبتدا ہے۔ اس کی خبر ہے “ یقتضی “ (مقتضی ہے) اور ان کی عبارت “ مع انہ منظور فیہ “ (باوجودیکہ اس میں کلام ہے) ان کی عبارت “ یقتضی “ سے متعلق ہے اقول : مقصد ظاہر الروایۃ کی وجہ پر اعتراض کرنا ہے۔ اس کے ساتھ روایت نادرہ کی تعلیل کو اس لئے شریك کرلیا کہ پہلا اعتراض اس پر مبنی ہے کہ ظاہر الروایہ نے اس کا اعتبار نہ کیا تو یہ دو اعتراض ہوئے۔ پہلے کا حاصل یہ ہے کہ آپ نے
(باقی برصفحہ ائندہ)
۱ امید کی صورت میں روایت نادرہ میں یہ حکم ہے کہ نماز مؤخر کرنا واجب ہے جس کی تعلیل ہدایہ میں یہ ہے کہ “ غالب رائے متحقق کی طرح ہے “ یعنی غلبہ ظن کو حق عمل میں یقین کی حیثیت حاصل ہے۔ اور ظاہر الروایہ میں اس کا حکم یہ ہے کہ تاخیرصرف مستحب ہے واجب نہیں ہدایہ میں اس کی تعلیل یہ ہے کہ “ عجز حقیقۃ ثابت ہے تو ویسے ہی یقین کے بغیراس کا حکم زائل نہ ہوگا “ مسئلہ وعد پر کلام کے شروع میں یہ باتیں گزر چکی ہیں ۱۲محمد احمد مصباحی
غالب الرأی کالمتحقق مع قولہ فی وجہ ظاھر الروایۃ ان العجز ثابت حقیقۃ فلایزول حکمہ الابیقین مثلہ انہ منظور فیہ بان التیمم فی العمرانات وفی الفلاۃ اذااخبر بقرب الماء اوغلب علی ظنہ بغیرذلك لایجوز قبل الطلب اعتبارالغالب الظن کالیقین یقتضی انہ لوتیقن وجود الماء فی اخر الوقت لزمہ التأخیرعلی ظاھر الروایۃ لکن المصرح بہ خلافہ علی ماتقدم اول الباب انہ اذاکان بینہ وبین الماء میل جاز التیمم من غیرتفصیل وفی الخلاصۃ المسافر اذاکان علی تیقن من وجود الماء اوغالب ظنہ علی ذلك فی اخر الوقت فتیمم فی اول الوقت وصلی ان کان بینہ وبین الماء مقدار میل جاز وان کان اقل ولکن یخاف الفوت لایتیمم اھ وقد فصلہ اتم تفصیل
کہ غالب رائے متحقق کی طرح ہے ظاہر الروایہ کی وجہ میں ان کے اس قول کے ساتھ کہ “ عجز حقیقۃ ثابت ہے تو اس کا حکم ویسے ہی یقین کے بغیرزائل نہ ہوگا “ باوجودیکہ ایك تو اس میں یہی کلام ہے کہ غالب ظن کو یقین کی طرح ماننے کے باعث پانی تلاش کرنے سے پہلے آبادیوں میں تیمم جائز نہیں اسی طرح بیابانوں میں بھی جبکہ اسے یہ بتایا گیا ہوکہ قریب میں پانی ہے یا کسی اور طرح اسے پانی کا غلبہ ظن ہوا ہو (دوسرے یہ کہ ان کا وہ قول) اس کا مقتضی ہے کہ اگر اسے یقین ہوکہ آخر وقت میں پانی مل جائے گا تو ظاہر الروایہ کے مطابق اسے نماز مؤخر کرنا لازم ہے لیکن اس کے برخلاف جیسا کہ اول باب میں گزرا یہ تصریح موجود کہ جب اس کے اور پانی کے درمیان ایك میل کا فاصلہ ہو تو تیمم جائز ہے اس میں کوئی تفصیل نہیں اور خلاصہ میں ہے کہ مسافر کو جب آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین یا غلبہ ظن ہو پھر بھی وہ اول وقت میں تیمم
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الفلاۃ وحاصل الثانی ان قولکم ھذا یقتضی ان لوتیقن وجدان الماء فی اخر الوقت لم یجزلہ التیمم لانہ معارض اذن بیقین مثلہ مع ان المصرح بہ خلافہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
کیسے کہا کہ ویسے ہی یقین کے بغیرزائل نہ ہوگا اور آپ نے غالب رائے متحقق کی طرح کیوں نہ قرار دیا جب کہ آبادیوں اور بیابانوں کے دونوں مسئلوں میں آپ نے اس کو مانا ہے اور دوسرے اعتراض کا حاصل یہ ہے کہ آپ کا یہ قول اس کا مقتضی ہے کہ اگر اسے آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین ہو تو اس کیلئے تیمم جائز نہ ہو کیونکہ ایسی صورت میں ویسا ہی یقین اس کے معارض مل گیا حالانکہ تصریح اس کے برخلاف موجود ہے۔ (ت)
کہ غالب رائے متحقق کی طرح ہے ظاہر الروایہ کی وجہ میں ان کے اس قول کے ساتھ کہ “ عجز حقیقۃ ثابت ہے تو اس کا حکم ویسے ہی یقین کے بغیرزائل نہ ہوگا “ باوجودیکہ ایك تو اس میں یہی کلام ہے کہ غالب ظن کو یقین کی طرح ماننے کے باعث پانی تلاش کرنے سے پہلے آبادیوں میں تیمم جائز نہیں اسی طرح بیابانوں میں بھی جبکہ اسے یہ بتایا گیا ہوکہ قریب میں پانی ہے یا کسی اور طرح اسے پانی کا غلبہ ظن ہوا ہو (دوسرے یہ کہ ان کا وہ قول) اس کا مقتضی ہے کہ اگر اسے یقین ہوکہ آخر وقت میں پانی مل جائے گا تو ظاہر الروایہ کے مطابق اسے نماز مؤخر کرنا لازم ہے لیکن اس کے برخلاف جیسا کہ اول باب میں گزرا یہ تصریح موجود کہ جب اس کے اور پانی کے درمیان ایك میل کا فاصلہ ہو تو تیمم جائز ہے اس میں کوئی تفصیل نہیں اور خلاصہ میں ہے کہ مسافر کو جب آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین یا غلبہ ظن ہو پھر بھی وہ اول وقت میں تیمم
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الفلاۃ وحاصل الثانی ان قولکم ھذا یقتضی ان لوتیقن وجدان الماء فی اخر الوقت لم یجزلہ التیمم لانہ معارض اذن بیقین مثلہ مع ان المصرح بہ خلافہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
کیسے کہا کہ ویسے ہی یقین کے بغیرزائل نہ ہوگا اور آپ نے غالب رائے متحقق کی طرح کیوں نہ قرار دیا جب کہ آبادیوں اور بیابانوں کے دونوں مسئلوں میں آپ نے اس کو مانا ہے اور دوسرے اعتراض کا حاصل یہ ہے کہ آپ کا یہ قول اس کا مقتضی ہے کہ اگر اسے آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین ہو تو اس کیلئے تیمم جائز نہ ہو کیونکہ ایسی صورت میں ویسا ہی یقین اس کے معارض مل گیا حالانکہ تصریح اس کے برخلاف موجود ہے۔ (ت)
حوالہ / References
فتح القدیر باب التیمم نوریہ رضویہ سکھّر ۱ / ۱۲۰
لامام الاجل البخاری ونقل کلامہ فی العنایۃ والدرایۃ وھذا لفظ الاکمل قال قولہ لان غالب الرأی کالمتحقق قال الشیخ عبدالعزیز ھذا التعلیل مشکل لانہ یقتضی ان یجب التأخیرعند التحقق فی اخر الوقت مع بعد المسافۃ فی الروایات الظاھرۃ لیصح مقیسا علیہ ولیس کذلك فانہ ذکر فی اول الباب ان من کان خارج المصر یجوزلہ التیمم اذاکان بینہ وبین الماء میل اواکثر وفی الخلاصۃ وعامۃ النسخ المسافر اذاکان علی تیقن من وجود الماء فی اخر الوقت اوغالب ظنہ ذلك جاز لہ التیمم اذاکان بینہ وبین الماء میل اواکثر وان کان اقل لایجوز وان خاف فوت الصلاۃ فلوحمل ھذا یعنی التعلیل علی ان المراد ان التیمم لایجوز فی المتحقق فی غیرروایۃ الاصول فالحق بہ غالب الظن فی ھذہ الروایۃ لم یستقم ایضالانہ علل وجہ ظاھر الروایۃ بان العجز ثابت حقیقۃ فلایزول حکمہ الابیقین مثلہ وذلك یقتضی ان حکم العجزوھوجوازالتیمم یزول عندالتیقن بوجود الماء فی ظاھرالروایۃ ولیس کذلك علی مابیناولوحمل علی ان ھذا فیما اذاکان بینہ وبین ذلك الموضع اقل من میل لم یستقم ایضا لانہ لافرق
کرکے نماز پڑھ لے تو اگر اس کے اور پانی کے درمیان ایك میل کا فاصلہ ہو تو جائز ہے۔ اور اگر کم ہو لیکن نماز فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو تیمم نہ کرے “ اھ امام اجل عبدالعزیز بخاری نے اس کی بھرپور تفصیل فرمائی ہے اور ان کا کلام عنایہ اور درایہ میں نقل ہوا ہے۔ عنایہ اکمل الدین بابرتی کے الفاظ یہ ہیں : ان کا قول “ اس لئے کہ غالب رائے متحقق کی طرح ہے “ ۔ اس پر شیخ عبدالعزیز نے فرمایا : اس تعلیل میں اشکال ہے اس لئے کہ اس کا اقتضا یہ ہے کہ آخر وقت میں یقین کی صورت میں بعد مسافت کے باوجود ظاہر روایات میں مؤخر کرنا واجب ہوتا کہ وہ مقیس علیہ ہوسکے حالانکہ ایسا حکم نہیں۔ اس لئے کہ شروع باب میں وہ بتاچکے ہیں کہ “ جو بیرون شہر ہو اس کیلئے تیمم جائز ہے جب کہ اس کے اور پانی کے درمیان ایك میل یا زیادہ کا فاصلہ ہو “ اور خلاصہ وعامہ کتب میں ہے کہ “ مسافر کو جب آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین یا غالب گمان ہو تو اس کیلئے تیمم جائز ہے جبکہ اس کے اور پانی کے درمیان ایك میل یا زیادہ کا فاصلہ ہو اور اگر اس سے کم فاصلہ ہو تو تیمم جائز نہیں اگرچہ نماز فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو “ ۔ تو اگر اس کا یعنی تعلیل کا محمل یہ ہو کہ “ مراد یہ ہے کہ غیر روایت اصول میں چونکہ بصورت تحقق بھی تیمم جائز نہیں اس لئے اس روایت میں غالب ظن کو بھی اس سے ملحق کردیا گاے “ تو بھی بات نہیں بنتی۔ اس لئے کہ ظاہر روایت کی انہوں نے علت یہ بتائی ہے کہ “ عجز حقیقۃ ثابت ہے تو ویسے ہی یقین کے
کرکے نماز پڑھ لے تو اگر اس کے اور پانی کے درمیان ایك میل کا فاصلہ ہو تو جائز ہے۔ اور اگر کم ہو لیکن نماز فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو تیمم نہ کرے “ اھ امام اجل عبدالعزیز بخاری نے اس کی بھرپور تفصیل فرمائی ہے اور ان کا کلام عنایہ اور درایہ میں نقل ہوا ہے۔ عنایہ اکمل الدین بابرتی کے الفاظ یہ ہیں : ان کا قول “ اس لئے کہ غالب رائے متحقق کی طرح ہے “ ۔ اس پر شیخ عبدالعزیز نے فرمایا : اس تعلیل میں اشکال ہے اس لئے کہ اس کا اقتضا یہ ہے کہ آخر وقت میں یقین کی صورت میں بعد مسافت کے باوجود ظاہر روایات میں مؤخر کرنا واجب ہوتا کہ وہ مقیس علیہ ہوسکے حالانکہ ایسا حکم نہیں۔ اس لئے کہ شروع باب میں وہ بتاچکے ہیں کہ “ جو بیرون شہر ہو اس کیلئے تیمم جائز ہے جب کہ اس کے اور پانی کے درمیان ایك میل یا زیادہ کا فاصلہ ہو “ اور خلاصہ وعامہ کتب میں ہے کہ “ مسافر کو جب آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین یا غالب گمان ہو تو اس کیلئے تیمم جائز ہے جبکہ اس کے اور پانی کے درمیان ایك میل یا زیادہ کا فاصلہ ہو اور اگر اس سے کم فاصلہ ہو تو تیمم جائز نہیں اگرچہ نماز فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو “ ۔ تو اگر اس کا یعنی تعلیل کا محمل یہ ہو کہ “ مراد یہ ہے کہ غیر روایت اصول میں چونکہ بصورت تحقق بھی تیمم جائز نہیں اس لئے اس روایت میں غالب ظن کو بھی اس سے ملحق کردیا گاے “ تو بھی بات نہیں بنتی۔ اس لئے کہ ظاہر روایت کی انہوں نے علت یہ بتائی ہے کہ “ عجز حقیقۃ ثابت ہے تو ویسے ہی یقین کے
فی تعلیل ظاھر الروایۃ بین غلبۃ الظن والیقین فیما اذاکانت المسافۃ اقل من میل فی عدم جواز التیمم کما انہ لافرق بینھما فیما اذاکانت المسافۃ اکثر من میل فی جواز التیمم وقدصرح فی اخر ھذا الباب انہ اذاغلب علی ظنہ ان بقربہ ماء لایجوز التیمم کمالوتیقن بذلك فعلم انہ مشکل بقی وجہ اخر وھو ان یحمل ھذا علی مااذالم یعلم ان المسافۃ قریبۃ اوبعیدۃ فلوثبت انہ تیقن بوجود الماء فی اخر الوقت فقدامن الفوات ولمالم یثبت بعد المسافۃ لتشکیك فیہ لم یثبت جواز التیمم فیجب التاخیرامالوغلب علی ظنہ ذلك وکذلك عندھما فی غیرروایۃ الاصول لان الغالب کالمتحقق وفی ظاھر الروایۃ لایجب التاخیرلان العجز ثابت لعدم الماء حقیقۃ وحکم ھذاالعجز وھو جواز التیمم لایزول الابیقین مثلہ وھو التیقن بوجود الماء فی اخر الوقت ولم یوجد فلایجب التاخیرولکن ھذا الوجہ لایخلوعن تمحل ویلزم علیہ انہ فرق ھھنابین غلبۃ الظن والیقین فی ظاھر الروایۃ ولم یفرق بینھما فیما اذاغلب علی ظنہ ان بقربہ ماء فی عدم جواز التیمم ولافیما اذاکانت المسافۃ بعیدۃ فی جواز التیمم کمابیناقال فالاظھر
بغیرزائل نہ ہوگا “ ۔ یہ تعلیل اس کی مقتضی ہے کہ ظاہر الروایۃ میں حکم عجز جواز تیمم پانی ملنے کے یقین کے وقت زائل ہوجائے۔ حالانکہ ایسا نہیں جیسا کہ ہم بتاچکے۔ اور اگر اس کا محمل یہ ہو کہ “ یہ اس صورت میں ہے جب اس کے اور اس جگہ کے درمیان ایك میل سے کم فاصلہ ہو “ تو بھی بات نہیں بنتی۔ اس لئے کہ تعلیل ظاہر الروایۃ میں ایك میل سے کم فاصلہ ہونے کی صورت میں تیمم ناجائز ہونے کے معاملہ میں غلبہ ظن اور یقین کے درمیان کوئی فرق نہیں جیسے کہ ان دونوں کے درمیان ایك میل سے زیادہ مسافت ہونے کی صورت میں تیمم جائز ہونے کے معاملہ میں کوئی فرق نہیں۔ وہ خود اس باب کے آخر میں صراحت کرچکے ہیں کہ جب اسے قریب میں پانی ہونے کا غلبہ ظن ہو تو تیمم جائز نہیں جیسے اگر اس کا یقین ہو تو تیمم جائز نہیں معلوم ہوا کہ یہ تعلیل اشکال رکھتی ہے۔ ایك صورت اور رہ گئی وہ یہ کہ اس کا محمل وہ صورت ہو جب اسے یہ معلوم نہ ہو کہ مسافت قریب ہے یا بعید تو اگر یہ ثابت ہو کہ اسے آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین ہے تو نماز کے فوت ہونے سے اس کو بے خوفی حاصل ہوگئی اور شك کی وجہ سے جب بعد مسافت ثابت نہیں تو جواز تیمم بھی ثابت نہیں تو نماز مؤخر کرنا واجب ہے۔ لیکن اگر اس کو اس کا غلبہ ظن ہو تو بھی غیرروایت اصول میں شیخین کے نزدیك یہی حکم ہے اس لئے کہ پانی نہ ہونے کی وجہ سے عجز حقیقۃ ثابت ہے اور اس عجز کا
بغیرزائل نہ ہوگا “ ۔ یہ تعلیل اس کی مقتضی ہے کہ ظاہر الروایۃ میں حکم عجز جواز تیمم پانی ملنے کے یقین کے وقت زائل ہوجائے۔ حالانکہ ایسا نہیں جیسا کہ ہم بتاچکے۔ اور اگر اس کا محمل یہ ہو کہ “ یہ اس صورت میں ہے جب اس کے اور اس جگہ کے درمیان ایك میل سے کم فاصلہ ہو “ تو بھی بات نہیں بنتی۔ اس لئے کہ تعلیل ظاہر الروایۃ میں ایك میل سے کم فاصلہ ہونے کی صورت میں تیمم ناجائز ہونے کے معاملہ میں غلبہ ظن اور یقین کے درمیان کوئی فرق نہیں جیسے کہ ان دونوں کے درمیان ایك میل سے زیادہ مسافت ہونے کی صورت میں تیمم جائز ہونے کے معاملہ میں کوئی فرق نہیں۔ وہ خود اس باب کے آخر میں صراحت کرچکے ہیں کہ جب اسے قریب میں پانی ہونے کا غلبہ ظن ہو تو تیمم جائز نہیں جیسے اگر اس کا یقین ہو تو تیمم جائز نہیں معلوم ہوا کہ یہ تعلیل اشکال رکھتی ہے۔ ایك صورت اور رہ گئی وہ یہ کہ اس کا محمل وہ صورت ہو جب اسے یہ معلوم نہ ہو کہ مسافت قریب ہے یا بعید تو اگر یہ ثابت ہو کہ اسے آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین ہے تو نماز کے فوت ہونے سے اس کو بے خوفی حاصل ہوگئی اور شك کی وجہ سے جب بعد مسافت ثابت نہیں تو جواز تیمم بھی ثابت نہیں تو نماز مؤخر کرنا واجب ہے۔ لیکن اگر اس کو اس کا غلبہ ظن ہو تو بھی غیرروایت اصول میں شیخین کے نزدیك یہی حکم ہے اس لئے کہ پانی نہ ہونے کی وجہ سے عجز حقیقۃ ثابت ہے اور اس عجز کا
بقاء الاشکال اھ ضمیرقال الی الامام البخاری وقد اقرہ العلامتان الکاکی والبابرتی رحم الله الجمیع ورحمنا بھم امین۔
واقول : انما وجہ الکلام الی ظاھر الروایۃ وتعلیلھا وصرفہ الشیخ اجلالالھا الی الروایۃ النادرۃ ودلیلھا وجعل لھا اربعۃ محامل وردالکل وانا ارید تلخیصہ مع الایضاح فقد خفی علی بعض اجلۃ الکبراء۔
فاقول : وبالله التوفیق جعل محملہ الاول تقدیران وجوب التاخیرعند تیقن الوجدان فی اخر الوقت متفق علیہ بین الروایات الظاھرۃ والنادرۃ انما الخلاف عندالظن فقاستہ النادرۃ علی الوفاقیۃ وردہ ببطلان ھذا التقدیر للتنصیص المتواتر علی جواز التیمم اذا بعد الماء میلا۔
اقول ای وربما یتیقن فیہ الوجدان فی اخر الوقت
حکم جواز تیمم ویسے ہی یقین کے بغیرزائل نہ ہوگا۔ اور وہ یہ ہے کہ آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین ہو اور یقین نہ پایا گیا تو تاخیرواجب نہیں لیکن یہ صورت تکلف سے خالی نہیں اور اس پر یہ اعتراض لازم آئے گا کہ ظاہر الروایہ میں انہوں نے یہاں غلبہ ظن اور یقین کے درمیان فرق کیا اور ان دونوں کے درمیان عدم جواز تیمم میں اس صورت میں فرق نہ کیا جب اسے قریب میں پانی ہونے کا غلبہ ظن ہو نہ ہی جواز تیمم میں اس صورت میں فرق کیا جب مسافت بعید ہو جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ فرمایا : “ تو اظہر یہی ہے کہ اشکال باقی ہے “ اھ “ فرمایا “ کی ضمیرامام بخاری کیلئے ہے۔ اس کلام کو علامہ کاکی اور علامہ بابرتی نے بھی برقرار رکھا۔ خدا ان سب حضرات پر رحمت فرمائے اور ان کی برکت سے ہم پر بھی رحمت فرمائے۔ الہی! قبول فرما۔ (ت)واقول : کلام کا رخ ظاہر الروایۃ اور اس کی تعلیل کی جانب ہی ہے مگر شیخ نے اس کی عظمت کے پیش نظر رخ روایت نادرہ اور اس کی دلیل کی طرف پھیردیا ہے۔ اور اس کے چار محمل نکالے ساتھ ہی ہر ایك کو رد بھی کردیا میں اس کلام کی تلخیص کرنا چاہتا ہوں ساتھ ہی توضیع بھی کیونکہ یہ بعض جلیل بزرگوں پر واضح نہ ہوسکتا۔ (ت)فاقول : (تو میں کہتا ہوں) اور خدا ہی سے توفیق ہے : محمل اول : پہلا محمل اس تقدیرکو قرار دیا کہ آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین ہوتو تاخیرنماز کے وجوب پر ظاہر ونادر سبھی روایات متفق ہیں۔ اختلاف صرف ظن کی صورت میں ہے تو روایت نادرہ میں صورت ظن کا قیاس اس صورت پر ہے جو متفق علیہ ہے۔ اور اس کا رد یوں کیا کہ یہ ماننا ہی غلط ہے (کہ جب بھی آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین ہو تو بالاتفاق تاخیرواجب ہے) اس لئے کہ اس کی متواتر تصریح آئی ہے کہ پانی
واقول : انما وجہ الکلام الی ظاھر الروایۃ وتعلیلھا وصرفہ الشیخ اجلالالھا الی الروایۃ النادرۃ ودلیلھا وجعل لھا اربعۃ محامل وردالکل وانا ارید تلخیصہ مع الایضاح فقد خفی علی بعض اجلۃ الکبراء۔
فاقول : وبالله التوفیق جعل محملہ الاول تقدیران وجوب التاخیرعند تیقن الوجدان فی اخر الوقت متفق علیہ بین الروایات الظاھرۃ والنادرۃ انما الخلاف عندالظن فقاستہ النادرۃ علی الوفاقیۃ وردہ ببطلان ھذا التقدیر للتنصیص المتواتر علی جواز التیمم اذا بعد الماء میلا۔
اقول ای وربما یتیقن فیہ الوجدان فی اخر الوقت
حکم جواز تیمم ویسے ہی یقین کے بغیرزائل نہ ہوگا۔ اور وہ یہ ہے کہ آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین ہو اور یقین نہ پایا گیا تو تاخیرواجب نہیں لیکن یہ صورت تکلف سے خالی نہیں اور اس پر یہ اعتراض لازم آئے گا کہ ظاہر الروایہ میں انہوں نے یہاں غلبہ ظن اور یقین کے درمیان فرق کیا اور ان دونوں کے درمیان عدم جواز تیمم میں اس صورت میں فرق نہ کیا جب اسے قریب میں پانی ہونے کا غلبہ ظن ہو نہ ہی جواز تیمم میں اس صورت میں فرق کیا جب مسافت بعید ہو جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ فرمایا : “ تو اظہر یہی ہے کہ اشکال باقی ہے “ اھ “ فرمایا “ کی ضمیرامام بخاری کیلئے ہے۔ اس کلام کو علامہ کاکی اور علامہ بابرتی نے بھی برقرار رکھا۔ خدا ان سب حضرات پر رحمت فرمائے اور ان کی برکت سے ہم پر بھی رحمت فرمائے۔ الہی! قبول فرما۔ (ت)واقول : کلام کا رخ ظاہر الروایۃ اور اس کی تعلیل کی جانب ہی ہے مگر شیخ نے اس کی عظمت کے پیش نظر رخ روایت نادرہ اور اس کی دلیل کی طرف پھیردیا ہے۔ اور اس کے چار محمل نکالے ساتھ ہی ہر ایك کو رد بھی کردیا میں اس کلام کی تلخیص کرنا چاہتا ہوں ساتھ ہی توضیع بھی کیونکہ یہ بعض جلیل بزرگوں پر واضح نہ ہوسکتا۔ (ت)فاقول : (تو میں کہتا ہوں) اور خدا ہی سے توفیق ہے : محمل اول : پہلا محمل اس تقدیرکو قرار دیا کہ آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین ہوتو تاخیرنماز کے وجوب پر ظاہر ونادر سبھی روایات متفق ہیں۔ اختلاف صرف ظن کی صورت میں ہے تو روایت نادرہ میں صورت ظن کا قیاس اس صورت پر ہے جو متفق علیہ ہے۔ اور اس کا رد یوں کیا کہ یہ ماننا ہی غلط ہے (کہ جب بھی آخر وقت میں پانی ملنے کا یقین ہو تو بالاتفاق تاخیرواجب ہے) اس لئے کہ اس کی متواتر تصریح آئی ہے کہ پانی
حوالہ / References
العنایۃ مع فتح القدیر باب التیمم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۲۰
فان المیل یقطع بسیرالوسط فی اقل من نصف ساعۃ ووقت الصبح والمغرب اوسع من ضعف ذلك فضلا عن سائر الاوقات۔
والثانی : ان فی کلیھما الاختلاف والحقت النادرۃ احد المختلفین بالاخر اقول وھو من ابعد المحامل اذلایبقی علی ھذا تعلیلا بل ایضاحا لخلافیۃ باخری کعادۃ(۱)الامام الربانی محمد فی کتبہ وردہ بان جواب الظاھر اذن بالفرق بین الظن فلایجوز فیہ التیمم والیقین فیجوز وقد علم بطلانہ
اقول : ویمکن ان یجعل رداللالحاق فقط وان کان بعیدا کذلك المحمل۔
والثالث : ان النادرۃ انما توجب التاخیرعند ظن الوجدان فیما اذاکان الفصل اقل من میل اقول : معناہ ان علم الماء قریبا لایجوزلہ التیمم ان ظن وجدانہ والابأن ضاق الوقت جازکما ھو قول زفر وردہ بان المذھب انما فرق بالقرب والبعد دون غلبۃ ظن الوجدان والیقین کمایعطیہ ماذکرہ
ایك میل دور ہونے کی صورت میں تیمم جائز ہے۔
اقول : کہنا یہ چاہتے ہیں کہ اس صورت میں بارہا ایسا بھی ہوگا کہ اسے آخر وقت میں پانی مل جانے کا یقین ہے اس لئے کہ ایك میل کا فاصلہ متوسط رفتار سے آدھ گھنٹہ سے کم میں طے ہوجاتا ہے جبکہ فجر ومغرب کا بھی وقت اس کے دوگنا سے زیادہ ہے دیگر اوقات کا تو اور بھی زیادہ ہوگا۔ (ت)
محمل دوم : دونوں ہی میں اختلاف ہے اور روایت نادرہ نے ایك اختلافی کو دوسرے اختلافی سے لاحق کردیا اقول : یہ سب سے بعید تر محمل ہے اس لئے کہ پھر یہ تعلیل نہ رہ جائے گی بلکہ ایك اختلافی مسئلہ کی دوسرے اختلافی مسئلہ سے توضیح ہوگی جیسا کہ امام ربانی محمد بن الحسن کا اپنی تصانیف میں طریقہ ہے۔ اس پر رد یہ ہے کہ پھر ظاہر الروایہ کا جواب یہ ہوگا کہ ظن ویقین میں فرق ہے۔ ظن کی صورت میں تیمم جائز نہیں اور یقین کی صورت میں جائز ہے حالانکہ اس فرق کا بطلان معلوم ہوچکا ہے۔ اقول : اسے صرف الحاق کارد بھی قرار دیا جاسکتا ہے اگرچہ یہ بھی اسی جمحمل کی طرح بعید ہے۔ (ت)
محمل سوم : پانی ملنے کا گمان ہونے کی صورت میں روایت نادرہ تاخیرنماز کو اس وقت لازم کرتی ہے جب ایك میل سے کم فاصلہ ہو۔ اقول : اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اسے علم ہوکہ پانی قریب ہے تو اگر اسے یہ گمان ہوکہ وقت نماز کے اندر پانی مل جائے گا۔ تو تیمم جائز نہیں اور اگر یہ گمان نہ ہو اس طرح کہ وقت تنگ ہوچکا ہو توتیمم جائز ہے جیسا کہ یہ امام زفر کا قول ہے۔ اس پر رد یہ ہے کہ مذہب میں صرف
والثانی : ان فی کلیھما الاختلاف والحقت النادرۃ احد المختلفین بالاخر اقول وھو من ابعد المحامل اذلایبقی علی ھذا تعلیلا بل ایضاحا لخلافیۃ باخری کعادۃ(۱)الامام الربانی محمد فی کتبہ وردہ بان جواب الظاھر اذن بالفرق بین الظن فلایجوز فیہ التیمم والیقین فیجوز وقد علم بطلانہ
اقول : ویمکن ان یجعل رداللالحاق فقط وان کان بعیدا کذلك المحمل۔
والثالث : ان النادرۃ انما توجب التاخیرعند ظن الوجدان فیما اذاکان الفصل اقل من میل اقول : معناہ ان علم الماء قریبا لایجوزلہ التیمم ان ظن وجدانہ والابأن ضاق الوقت جازکما ھو قول زفر وردہ بان المذھب انما فرق بالقرب والبعد دون غلبۃ ظن الوجدان والیقین کمایعطیہ ماذکرہ
ایك میل دور ہونے کی صورت میں تیمم جائز ہے۔
اقول : کہنا یہ چاہتے ہیں کہ اس صورت میں بارہا ایسا بھی ہوگا کہ اسے آخر وقت میں پانی مل جانے کا یقین ہے اس لئے کہ ایك میل کا فاصلہ متوسط رفتار سے آدھ گھنٹہ سے کم میں طے ہوجاتا ہے جبکہ فجر ومغرب کا بھی وقت اس کے دوگنا سے زیادہ ہے دیگر اوقات کا تو اور بھی زیادہ ہوگا۔ (ت)
محمل دوم : دونوں ہی میں اختلاف ہے اور روایت نادرہ نے ایك اختلافی کو دوسرے اختلافی سے لاحق کردیا اقول : یہ سب سے بعید تر محمل ہے اس لئے کہ پھر یہ تعلیل نہ رہ جائے گی بلکہ ایك اختلافی مسئلہ کی دوسرے اختلافی مسئلہ سے توضیح ہوگی جیسا کہ امام ربانی محمد بن الحسن کا اپنی تصانیف میں طریقہ ہے۔ اس پر رد یہ ہے کہ پھر ظاہر الروایہ کا جواب یہ ہوگا کہ ظن ویقین میں فرق ہے۔ ظن کی صورت میں تیمم جائز نہیں اور یقین کی صورت میں جائز ہے حالانکہ اس فرق کا بطلان معلوم ہوچکا ہے۔ اقول : اسے صرف الحاق کارد بھی قرار دیا جاسکتا ہے اگرچہ یہ بھی اسی جمحمل کی طرح بعید ہے۔ (ت)
محمل سوم : پانی ملنے کا گمان ہونے کی صورت میں روایت نادرہ تاخیرنماز کو اس وقت لازم کرتی ہے جب ایك میل سے کم فاصلہ ہو۔ اقول : اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اسے علم ہوکہ پانی قریب ہے تو اگر اسے یہ گمان ہوکہ وقت نماز کے اندر پانی مل جائے گا۔ تو تیمم جائز نہیں اور اگر یہ گمان نہ ہو اس طرح کہ وقت تنگ ہوچکا ہو توتیمم جائز ہے جیسا کہ یہ امام زفر کا قول ہے۔ اس پر رد یہ ہے کہ مذہب میں صرف
فی وجہ الظاھر فان کان الفصل میلا اواکثر جاز مطلقا والا لا مطلقا وبان المذھب بطلان التیمم عند ظن القرب کماصرح بہ اخر ھذا الباب فکیف یجیزہ مع العلم بالقرب لعدم التیقن بالوجدان ولیس معناہ ان یظن الوجدان لظنہ الماء اقرب من میل فان کونہ اقرب مفروض علی ھذا المحمل وسیاتی ایضاحہ۔
والرابع : ان النادرۃ فیما اذاجہل الفصل وتقریرہ دلیلھا ان للتیمم مبیحا ومانعا اماالمبیح فالعلم ببعد المسافۃ واما المانع فالعلم بانہ یجد الماء فی اخر الوقت والمبیح ھھنا غیر معلوم بالفرض والمانع لوکان متیقنا لم یجز لہ التیمم قطعا للامن من الفوات وھھنا ھو مظنون والمظنون کالمتیقن فلایجوز ایضا وجب التاخیر وحاصل جواب الظاھر ان للتیمم مصححا ومانعا فالمصحح العجز عن الماء وھو حاصل قطعا لان الماء معدوم حقیقۃ والمانع العلم بوجدانہ فی اخر الوقت وھو غیر متیقن وان کان مظنونا فلایعارض المتتیقن وردہ بان فیہ تمحلا لتقیید
قرب وبعد کی تفریق ہے پانی ملنے کے غلبہ ظن ویقین میں تفریق نہیں جیسا کہ یہ اس سے معلوم ہورہا ہے جو ظاہر الروایہ کی وجہ میں ذکر کیا کہ اگر فاصلہ ایك میل یا زیادہ ہو تو مطلقا تیمم جائز ہے ورنہ مطلقا جائز نہیں۔ دوسرا رد یہ ہے کہ مذہب یہ ہے کہ پانی قریب ہونے کا گمان ہو توتیمم باطل ہے جیسا کہ اس باب کے آخر میں اس کی تصریح فرمائی ہے پھر قریب ہونے کا علم ہونے کے باوجود اس وجہ سے تیمم کیسے جائز کہہ دیں گے کہ وقت میں پانی ملنے کا یقین نہیں۔ یہ معنی نہیں کہ ایك میل سے کم ہونے کے گمان کی وجہ سے اسے پانی مل جانے کا گمان ہو اس لئے کہ اس محمل میں ایك میل سے کم ہونا تو فرض ہی کیا گیا ہے اس کی مزید توضیح بھی آرہی ہے۔ (ت)
محمل چہارم : روایت نادرہ اس صورت سے متعلق ہے جب اسے فاصلہ معلوم نہ ہو۔ اس کی دلیل کی تقریر یہ ہے کہ تیمم کو ایك چیز مباح کرنے والی ہے اور ایك چیز ممنوع کرنے والی ہے۔ مبیح یہ ہے کہ بعد مسافت کا علم ہو۔ مانع یہ ہے کہ اس بات کا علم ہو کہ آخر وقت میں پانی مل جائےگا اور فرض کیا گیا ہے کہ مبیح (یعنی بعد مسافت) یہاں نامعلوم ہے۔ اور مانع اگر متیقن ہو تو قطعا اس کیلئے تیمم جائز نہ ہوگا اس لئے کہ فوت نماز کا اندیشہ نہیں اور یہاں مانع متیقن نہیں مظنون ہے۔ مظنون بھی متیقن ہی کی طرح ہے تو بھی تیمم کا جواز نہیں اور نماز مؤخر کرنا واجب ہے۔ اور ظاہر الروایۃ کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ ایك چیز تیمم کو صحیح قرار دینے والی ہے اور ایك چیز تیمم کو ممنوع کرنے والی ہے۔ مصحح یہ ہے
والرابع : ان النادرۃ فیما اذاجہل الفصل وتقریرہ دلیلھا ان للتیمم مبیحا ومانعا اماالمبیح فالعلم ببعد المسافۃ واما المانع فالعلم بانہ یجد الماء فی اخر الوقت والمبیح ھھنا غیر معلوم بالفرض والمانع لوکان متیقنا لم یجز لہ التیمم قطعا للامن من الفوات وھھنا ھو مظنون والمظنون کالمتیقن فلایجوز ایضا وجب التاخیر وحاصل جواب الظاھر ان للتیمم مصححا ومانعا فالمصحح العجز عن الماء وھو حاصل قطعا لان الماء معدوم حقیقۃ والمانع العلم بوجدانہ فی اخر الوقت وھو غیر متیقن وان کان مظنونا فلایعارض المتتیقن وردہ بان فیہ تمحلا لتقیید
قرب وبعد کی تفریق ہے پانی ملنے کے غلبہ ظن ویقین میں تفریق نہیں جیسا کہ یہ اس سے معلوم ہورہا ہے جو ظاہر الروایہ کی وجہ میں ذکر کیا کہ اگر فاصلہ ایك میل یا زیادہ ہو تو مطلقا تیمم جائز ہے ورنہ مطلقا جائز نہیں۔ دوسرا رد یہ ہے کہ مذہب یہ ہے کہ پانی قریب ہونے کا گمان ہو توتیمم باطل ہے جیسا کہ اس باب کے آخر میں اس کی تصریح فرمائی ہے پھر قریب ہونے کا علم ہونے کے باوجود اس وجہ سے تیمم کیسے جائز کہہ دیں گے کہ وقت میں پانی ملنے کا یقین نہیں۔ یہ معنی نہیں کہ ایك میل سے کم ہونے کے گمان کی وجہ سے اسے پانی مل جانے کا گمان ہو اس لئے کہ اس محمل میں ایك میل سے کم ہونا تو فرض ہی کیا گیا ہے اس کی مزید توضیح بھی آرہی ہے۔ (ت)
محمل چہارم : روایت نادرہ اس صورت سے متعلق ہے جب اسے فاصلہ معلوم نہ ہو۔ اس کی دلیل کی تقریر یہ ہے کہ تیمم کو ایك چیز مباح کرنے والی ہے اور ایك چیز ممنوع کرنے والی ہے۔ مبیح یہ ہے کہ بعد مسافت کا علم ہو۔ مانع یہ ہے کہ اس بات کا علم ہو کہ آخر وقت میں پانی مل جائےگا اور فرض کیا گیا ہے کہ مبیح (یعنی بعد مسافت) یہاں نامعلوم ہے۔ اور مانع اگر متیقن ہو تو قطعا اس کیلئے تیمم جائز نہ ہوگا اس لئے کہ فوت نماز کا اندیشہ نہیں اور یہاں مانع متیقن نہیں مظنون ہے۔ مظنون بھی متیقن ہی کی طرح ہے تو بھی تیمم کا جواز نہیں اور نماز مؤخر کرنا واجب ہے۔ اور ظاہر الروایۃ کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ ایك چیز تیمم کو صحیح قرار دینے والی ہے اور ایك چیز تیمم کو ممنوع کرنے والی ہے۔ مصحح یہ ہے
اطلاق الروایات بقید لا اشارت الیہ فی کلام احد من الفریقین وھو الجھل بحال المسافۃ قربا وبعدا ولانہ بعید الانفہام من العبارۃ وبانہ یلزم ان ظاھر الروایۃ فرقت ھھنا بین الظن والیقین مع انھا سوت بینھما فی مسألتی القرب والبعد فلایجوز مع ظن القرب ویجوز مع ظن البعد کالعلم فی الفصلین فبقی الاشکال علی کل حال ھذا توضیح کلامہ رحمہ الله تعالی وقد علمت ان الکلام رحمہ الله تعالی وقد علمت ان الکلام علی کل وجہ انمایتوجہ الی تعلیل ظاھر الروایۃ ففیہ الاشکال یتوجہ الی تعلیل ظاھر الروایۃ ففیہ الاشکال کماسلکہ الامام الکمال٭
وذکرالامام العینی فی البنایۃ کلام العنایۃ ھذا برمتہ عــہ غیرانہ غیر قول الامام البخاری اما لوغلب علی ظنہ ذلك فکذلك عندھما بقولہ اما
لوغلب علی ظنہ عدم بعد المسافۃ فذلك عندھما اھ فجعل المشار الیہ قرب المسافۃ۔
کہ پانی سے عاجز ہو۔ اور یہ قطعا حاصل ہے اس لئے کہ پانی حقیقۃ معدوم ہے۔ اور مانع یہ ہے کہ آخر وقت میں پانی ملنے کا علم ہو اور یہ یقینی نہیں اگرچہ مظنون ہے تو یہ متیقن کے معارض نہ ہوگا۔ اس پر رد یہ ہے کہ اس میں تلف ہے اس لئے کہ اس میں اطلاق روایات کی ایسی قید سے تقیید ہے جسکا فریقین میں سے کسی کے کلام میں کوئی اشارہ بھی نہیں۔ اور وہ یہ قید ہے کہ مسافت کے قرب وبعد کی حالت کا پتا نہ ہو۔ اور اس لئے بھی کہ عبارت سے یہ سمجھ میں آنا بہت بعید ہے۔ اس پر دوسرا رد یہ بھی ہے کہ یہ اعتراض لازم آئےگا کہ ظاہر الروایہ نے یہاں تو ظن ویقین کے درمیان فرق رکھا باوجودیکہ ان دونوں کے درمیان قرب و بعد کے مسئلوں میں برادری رکھی کہ قرب کا ظن ہو تو جائز نہیں اور بعد کا ظن ہو تو جائز ہے ویسے ہی جیسے کہ دونوں صورتوں میں علم ویقین کا حکم ہے۔ تو اشکال بہرحال باقی رہا۔ یہ شیخ عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے کلام کی توضیح ہے۔ اور یہ معلوم ہوچکا کہ ہر وجہ پر کلام ظاہر الروایہ کی تعلیل کی جانب ہی متوجہ ہے کیونکہ اشکال اسی میں ہے۔ جیسا کہ اسی راہ پر امام کمال الدین ابن الہام چلے ہیں۔ امام عینی نے بنایہ میں عنایہ کا یہ کلام مکمل ذکر کیا۔ صرف یہ فرق ہے کہ امام عبدالعزیز بخاری کی عبارت “ امالوغلب علی ظنہ ذلك فکذلك عندھما (اگر اسے اس پر غلبہ ظن ہو تو بھی شیخین کے نزدیك یہی حکم ہے) کو بدل کر یہ لکھ دیا “ اما
عــہ وجعلہ ملخصہ مع انہ لم یخرم منہ شیاا وکأنہ رحمہ الله تعالی اراد تلخیصہ ثم بدالہ الاستیفاء ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اور انہوں نے اسے اس کا ملخص قرار دیا باوجودیکہ اس میں سے کچھ بھی کم نہ کیا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام عینی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا پہلے تلخیص کا ارادہ تھا پھر یہ خیال ہوا کہ پورا کلام ہی بیان کردیں۔ (ت)
وذکرالامام العینی فی البنایۃ کلام العنایۃ ھذا برمتہ عــہ غیرانہ غیر قول الامام البخاری اما لوغلب علی ظنہ ذلك فکذلك عندھما بقولہ اما
لوغلب علی ظنہ عدم بعد المسافۃ فذلك عندھما اھ فجعل المشار الیہ قرب المسافۃ۔
کہ پانی سے عاجز ہو۔ اور یہ قطعا حاصل ہے اس لئے کہ پانی حقیقۃ معدوم ہے۔ اور مانع یہ ہے کہ آخر وقت میں پانی ملنے کا علم ہو اور یہ یقینی نہیں اگرچہ مظنون ہے تو یہ متیقن کے معارض نہ ہوگا۔ اس پر رد یہ ہے کہ اس میں تلف ہے اس لئے کہ اس میں اطلاق روایات کی ایسی قید سے تقیید ہے جسکا فریقین میں سے کسی کے کلام میں کوئی اشارہ بھی نہیں۔ اور وہ یہ قید ہے کہ مسافت کے قرب وبعد کی حالت کا پتا نہ ہو۔ اور اس لئے بھی کہ عبارت سے یہ سمجھ میں آنا بہت بعید ہے۔ اس پر دوسرا رد یہ بھی ہے کہ یہ اعتراض لازم آئےگا کہ ظاہر الروایہ نے یہاں تو ظن ویقین کے درمیان فرق رکھا باوجودیکہ ان دونوں کے درمیان قرب و بعد کے مسئلوں میں برادری رکھی کہ قرب کا ظن ہو تو جائز نہیں اور بعد کا ظن ہو تو جائز ہے ویسے ہی جیسے کہ دونوں صورتوں میں علم ویقین کا حکم ہے۔ تو اشکال بہرحال باقی رہا۔ یہ شیخ عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے کلام کی توضیح ہے۔ اور یہ معلوم ہوچکا کہ ہر وجہ پر کلام ظاہر الروایہ کی تعلیل کی جانب ہی متوجہ ہے کیونکہ اشکال اسی میں ہے۔ جیسا کہ اسی راہ پر امام کمال الدین ابن الہام چلے ہیں۔ امام عینی نے بنایہ میں عنایہ کا یہ کلام مکمل ذکر کیا۔ صرف یہ فرق ہے کہ امام عبدالعزیز بخاری کی عبارت “ امالوغلب علی ظنہ ذلك فکذلك عندھما (اگر اسے اس پر غلبہ ظن ہو تو بھی شیخین کے نزدیك یہی حکم ہے) کو بدل کر یہ لکھ دیا “ اما
عــہ وجعلہ ملخصہ مع انہ لم یخرم منہ شیاا وکأنہ رحمہ الله تعالی اراد تلخیصہ ثم بدالہ الاستیفاء ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اور انہوں نے اسے اس کا ملخص قرار دیا باوجودیکہ اس میں سے کچھ بھی کم نہ کیا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام عینی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا پہلے تلخیص کا ارادہ تھا پھر یہ خیال ہوا کہ پورا کلام ہی بیان کردیں۔ (ت)
حوالہ / References
البنایہ المعروف عینی شرح ہدایہ باب التیمم المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمہ ۱ / ۳۲۷
اقول : وھو(۱) باطل قطعا فان عندظن القرب یجب التاخیر اجماعا طفحت بذلك کتب المذھب لانھا روایۃ نادرۃ والمذھب خلافھا بل الاشارۃ الی وجود الماء فی اخر الوقت انہ ان غلب ھذا علی ظنہ فکذلك عندھما کمالایخفی وقد(۲) اوضحہ بقولہ فی جواب الظاھر لایزول الابیقین مثلہ وھو التیقن بوجود الماء فی اخر الوقت اھ
فھذا ھو الذی شرط الظاھر تیقنہ علی مایقتضیہ تعلیل الھدایۃ واکتفت النادرۃ بغلبتہ علی الظن فکان ھو المشار الیہ بقولہ ان غلب علی ظنہ ذلك فاعلم ذلك ثم قال اعنی الامام العینی وقد ذکر ھذا کلہ صاحب الدرایۃ ایضا ناقلا عن شیخہ والعجب من الشیخ (یرید الامام البخاری) حیث لم یذکر وجہ التخلص منہ مع کونہ من المحققین الکبار وکذا صاحب الدرایۃ والاکمل ذکرا ھذا وسکتا علیہ فنقول وبالله التوفیق نذکر وجہ ینحل منہ ھذا الاشکال وھو انہ یعتبر لوغلب علی ظنہ عدم بعد المسافۃ فذلك عندھما
“ (اگر اسے مسافت بعید نہ ہونے کا غلبہ ظن ہو تو بھی شیخین کے یہاں یہی حکم ہے۔ ت) اس تبدیلی سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے امام بخاری کی عبارت میں لفظ “ ذلك کا اشارہ “ قرب مسافت “ کی جانب سمجھا۔ (ت)
اقول : جبکہ یہ خیال قطعا باطل ہے اس لئے کہ اگر قرب مسافت کا گمان ہو تو بالاجماع نماز مؤخر کرنا واجب ہے اس بیان سے کتب مذہب بھری ہوئی ہیں ایسا نہیں کہ یہ کوئی نادر روایت ہے اور اصل مذہب اس کے برخلاف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ “ ذلک “ کا اشارہ وجود الماء فی اخر الوقت (آخر وقت میں پانی کی دستیابی) کی طرف ہے کہ اگر اسے اس کا غلبہ ظن ہو تو بھی شیخین کے نزدیك یہی حکم ہے یہ کچھ پوشیدہ نہیں۔ اور اسے انہوں نے جواب ظاہر الروایہ کے تحت اپنی اس عبارت میں واضح بھی کردیا ہے کہ “ ویسے ہی یقین کے بغیر زائل نہ ہوگا اور آخر وقت میں پانی کی دستیابی کا یقین ہے “ ۔ یہی وہ بات ہے جس کا یقین ہونے کی شرط ظاہر الروایہ میں تعلیل ہدایہ کے اقتضا کے مطابق پائی گئی اور روایت نادرہ میں صرف غلبہ ظن پر اکتفا ہوئی تو ان کی عبارت “ ان غلب علی ظنہ ذلک “ (اگر اسے “ اس کا “ غلبہ ظن ہو) میں اشارہ اسی کی طرف ہوا۔ یہ معلوم رہنا چاہے۔ پھر امام عینی لکھتے ہیں : “ یہ سب صاحب درایہ نے بھی اپنے شیخ سے نقل کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔ اور شیخ یعنی امام بخاری پر تعجب ہے کہ
فھذا ھو الذی شرط الظاھر تیقنہ علی مایقتضیہ تعلیل الھدایۃ واکتفت النادرۃ بغلبتہ علی الظن فکان ھو المشار الیہ بقولہ ان غلب علی ظنہ ذلك فاعلم ذلك ثم قال اعنی الامام العینی وقد ذکر ھذا کلہ صاحب الدرایۃ ایضا ناقلا عن شیخہ والعجب من الشیخ (یرید الامام البخاری) حیث لم یذکر وجہ التخلص منہ مع کونہ من المحققین الکبار وکذا صاحب الدرایۃ والاکمل ذکرا ھذا وسکتا علیہ فنقول وبالله التوفیق نذکر وجہ ینحل منہ ھذا الاشکال وھو انہ یعتبر لوغلب علی ظنہ عدم بعد المسافۃ فذلك عندھما
“ (اگر اسے مسافت بعید نہ ہونے کا غلبہ ظن ہو تو بھی شیخین کے یہاں یہی حکم ہے۔ ت) اس تبدیلی سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے امام بخاری کی عبارت میں لفظ “ ذلك کا اشارہ “ قرب مسافت “ کی جانب سمجھا۔ (ت)
اقول : جبکہ یہ خیال قطعا باطل ہے اس لئے کہ اگر قرب مسافت کا گمان ہو تو بالاجماع نماز مؤخر کرنا واجب ہے اس بیان سے کتب مذہب بھری ہوئی ہیں ایسا نہیں کہ یہ کوئی نادر روایت ہے اور اصل مذہب اس کے برخلاف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ “ ذلک “ کا اشارہ وجود الماء فی اخر الوقت (آخر وقت میں پانی کی دستیابی) کی طرف ہے کہ اگر اسے اس کا غلبہ ظن ہو تو بھی شیخین کے نزدیك یہی حکم ہے یہ کچھ پوشیدہ نہیں۔ اور اسے انہوں نے جواب ظاہر الروایہ کے تحت اپنی اس عبارت میں واضح بھی کردیا ہے کہ “ ویسے ہی یقین کے بغیر زائل نہ ہوگا اور آخر وقت میں پانی کی دستیابی کا یقین ہے “ ۔ یہی وہ بات ہے جس کا یقین ہونے کی شرط ظاہر الروایہ میں تعلیل ہدایہ کے اقتضا کے مطابق پائی گئی اور روایت نادرہ میں صرف غلبہ ظن پر اکتفا ہوئی تو ان کی عبارت “ ان غلب علی ظنہ ذلک “ (اگر اسے “ اس کا “ غلبہ ظن ہو) میں اشارہ اسی کی طرف ہوا۔ یہ معلوم رہنا چاہے۔ پھر امام عینی لکھتے ہیں : “ یہ سب صاحب درایہ نے بھی اپنے شیخ سے نقل کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔ اور شیخ یعنی امام بخاری پر تعجب ہے کہ
حوالہ / References
عینی شرح الہدایہ باب التیمم المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمہ ۱ / ۳۲۷
رجاء الماء وعدم رجائہ باسباب اخر غیر بعد المسافۃ اوقربھا وھو۱ ان یکون فی السماء غیم رطب وغلب علی ظنہ انہ یمطر ویقدر علی الماء فی اخر الوقت فانہ یستحب لہ التأخیر فی ظاھر الروایۃ ویجب علیہ فی غیر روایۃ الاصول کمالوتحقق بوجود الماء او۲ یکون الماء بعیدا لکن ارسل من یستقی لہ وغلب علی ظنہ حضور من ارسلہ فی اخر الوقت بامارات ظھرت لہ او۳ کان الماء فی بئر ولم تکن لہ الۃ الاستقاء لکن غلب علی ظنہ وجدانہ فی اخر الوقت او۴ کان الماء بقرب منہ ولم یعلم مکانہ وجود ثمن یشتری بہ الماء ۔
(اقول : ھکذا فی نسخۃ الطبع السقیمۃ وفیہ سقط وکان العبارۃ ھکذاولم یعلم مکانہ لایستطیع طلبہ فی کل جھۃ لما بہ من ضعف ولوعلم مکانہ لامکنہ الذھاب الی جھۃ معینۃ وقدذھب الی جھۃ مثلا فلم یجدہ فرجع وھو حسیر وغلب علی ظنہ
انہوں نے اس اشکال سے چھٹکارے کی صورت بیان نہ کی حالانکہ وہ کبار محققین میں شامل ہیں۔ اس طرح صاحب درایہ اور اکمل الدین نے بھی اسے ذکر کیا اور اس پر سکوت ہی اختیار کیا۔ تو اب ہم کہتے ہیں او رخدا ہی سے توفیق ہے ہم ایسی صورت بیان کرتے ہیں جس سے یہ اشکال حل ہوجائے۔ وہ یہ کہ پانی کی امید اور عدم امید مسافت کے قرب وبعد کے علاہ کچھ اور اسباب سے بھی ہوتی ہے۔ مثلا : (۱) یہ کہ آسمان میں ابر تر ہو اور اسے غالب گمان ہو کہ بارش ہوگی اور آخر وقت میں وہ پانی پر قادر ہوجائےگا۔ تو اس کے لئے ظاہر الروایہ میں نماز مؤخر کرنا مستحب ہے اور غیر روایت اصول میں واجب ہے جیسے پانی ملنے کے یقین کی صورت میں واجب ہے۔ (۲) پانی دور ہو لیکن کسی ایسے شخص کو بھیجا ہے جو اس کیلئے پانی بھر لائے اور اسے غالب گمان ہے کہ جسے بھیجا ہے وہ آخر وقت میں حاضر ہوجائےگا۔ اس کی کچھ ایسی علامات ہیں جو اس پر ظاہر ہیں۔ (۳) پانی کنویں کے اندر ہے۔ اس کے پاس نکالنے کا سامان نہیں لیکن غالب گمان ہے کہ آخر وقت میں مل جائے گا۔ (۴) پانی قریب ہی ہے مگر اسے اس کی جگہ معلوم نہیں ایسے ثمن کا وجود جس سے پانی خریدے۔ (ت)
(اقول : طباعت کے سقیم نسخہ میں اسی طرح ہے۔ اس میں کچھ چھوٹ گیا ہے۔ خیال ہے کہ عبارت اس طرح ہوگی “ اور اسے اس کی جگہ معلوم نہیں۔ اور چونکہ اسے ضعف لاحق ہے اس لئے ہر طرف تلاش نہیں کرسکتا۔ اگر اسے پانی کی جگہ معلوم ہوتی تو ایك معین سمت جاسکتا تھا ایك طرف (مثلا) گیا بھی مگر اسے ملا نہیں
(اقول : ھکذا فی نسخۃ الطبع السقیمۃ وفیہ سقط وکان العبارۃ ھکذاولم یعلم مکانہ لایستطیع طلبہ فی کل جھۃ لما بہ من ضعف ولوعلم مکانہ لامکنہ الذھاب الی جھۃ معینۃ وقدذھب الی جھۃ مثلا فلم یجدہ فرجع وھو حسیر وغلب علی ظنہ
انہوں نے اس اشکال سے چھٹکارے کی صورت بیان نہ کی حالانکہ وہ کبار محققین میں شامل ہیں۔ اس طرح صاحب درایہ اور اکمل الدین نے بھی اسے ذکر کیا اور اس پر سکوت ہی اختیار کیا۔ تو اب ہم کہتے ہیں او رخدا ہی سے توفیق ہے ہم ایسی صورت بیان کرتے ہیں جس سے یہ اشکال حل ہوجائے۔ وہ یہ کہ پانی کی امید اور عدم امید مسافت کے قرب وبعد کے علاہ کچھ اور اسباب سے بھی ہوتی ہے۔ مثلا : (۱) یہ کہ آسمان میں ابر تر ہو اور اسے غالب گمان ہو کہ بارش ہوگی اور آخر وقت میں وہ پانی پر قادر ہوجائےگا۔ تو اس کے لئے ظاہر الروایہ میں نماز مؤخر کرنا مستحب ہے اور غیر روایت اصول میں واجب ہے جیسے پانی ملنے کے یقین کی صورت میں واجب ہے۔ (۲) پانی دور ہو لیکن کسی ایسے شخص کو بھیجا ہے جو اس کیلئے پانی بھر لائے اور اسے غالب گمان ہے کہ جسے بھیجا ہے وہ آخر وقت میں حاضر ہوجائےگا۔ اس کی کچھ ایسی علامات ہیں جو اس پر ظاہر ہیں۔ (۳) پانی کنویں کے اندر ہے۔ اس کے پاس نکالنے کا سامان نہیں لیکن غالب گمان ہے کہ آخر وقت میں مل جائے گا۔ (۴) پانی قریب ہی ہے مگر اسے اس کی جگہ معلوم نہیں ایسے ثمن کا وجود جس سے پانی خریدے۔ (ت)
(اقول : طباعت کے سقیم نسخہ میں اسی طرح ہے۔ اس میں کچھ چھوٹ گیا ہے۔ خیال ہے کہ عبارت اس طرح ہوگی “ اور اسے اس کی جگہ معلوم نہیں۔ اور چونکہ اسے ضعف لاحق ہے اس لئے ہر طرف تلاش نہیں کرسکتا۔ اگر اسے پانی کی جگہ معلوم ہوتی تو ایك معین سمت جاسکتا تھا ایك طرف (مثلا) گیا بھی مگر اسے ملا نہیں
حوالہ / References
عینی شرح الہدایہ باب التیمم المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمہ ۱ / ۳۲۸
انہ یلحقہ فی اخر الوقت من یخبرہ اویاتیہ بہ او۵کان الماء یباع ولاثمن عندہ ولاغلب علی ظنہ وجود ثمن یشتری بہ الماء فی اخر الوقت اونحو ذلك ممایؤدی ھذا المعنی فلتراجع نسخۃ اخری قال)او۶عندہ مایعدللعطش وغلب علی ظنہ وجود ماء اخرغیرمشغول بالحاجۃ الاصلیۃ او۷کان الماء عند اللصوص اوالسباع اومن یخاف منہ علی نفسہ اومالہ وغلب علی ظنہ زوال المانع اخر الوقت وقس علی ھذا اسبابا اخر ۔
(اقول : کأن۸ تکون ظلمۃ یرجو زوالھااووجود فانوس او۹ھومریض اواشل اومقعداوشیخ کبیر الی غیرذلك من عوارض یحتاج بھاالی من یوضئہ اویستقی لہ وذھب ولدہ اوخادمہ لحاجۃ ویرجوعودہ واخر الوقت او۱۰ تعاودہ حمی نافضۃ ساعۃ اوساعتین لایستطیع معھا الوضوء او الغسل اوالاستقاء ورجاذھا بھا فی اواخر الوقت او۱۱ الماء لغیرہ وھو غائب فی حاجۃ لہ ویظن عطاء ہ وعودہ فی اخر الوقت او۱۲ لایجد الجنب او
تھك کر لوٹ آیا اور اسے غالب گمان ہے کہ آخر وقت میں ایسا شخص آجائے گا جو پانی کی جگہ بتادے یا پانی لے آئے۔ (۵)یا پانی فروخت ہورہا ہے اور اس کے پاس دام نہیں اور غالب گمان ہے کہ آخر وقت میں ثمن مل جائے گا جس سے پانی خریدے گا “ یا ایسی ہی کچھ اور عبارت جس سے یہ معنی ادا ہوسکے تو کسی دوسرے نسخہ کی مراجعت کرنی چاہے آگے فرماتے ہیں)(۶)اس کے پاس پیاس دور کرنے کیلئے پانی رکھا ہوا ہے اور غالب گمان ہے کہ آخر وقت میں دوسرا پانی مل جائے گا جو حاجت اصلیہ سے زائد ہوگا (۷)پانی ایسی جگہ ہے جہاں چور یا درندے ہیں یا ایسا آدمی ہے جس سے اس کو اپنی جان یا مال کے لئے خطرہ ہے اور غالب گمان ہے کہ آخر وقت میں مانع دور ہوجائے گا۔ اسی پر دوسرے اسباب کا قیاس کرلو۔ (ت)
(اقول : (۸) مثلا یہ کہ تاریکی ہو جس کے چھٹ جانے یاکوئی فانوس مل جانے کی امید ہو (۹)بیمار ہے یا ہاتھ شل ہے یا لنجھا ہے یا سن رسیدہ بوڑھا ہے۔ ایسے ہی اور عوارض جن کی وجہ سے اس کو ایسے شخص کی ضرورت ہے جو وضو کرادے یا اس کیلئے پانی نکال دے اور اس کا فرزند یاخدمت گار کسی کام سے گیا ہوا ہے۔ آخر وقت میں اس کی واپسی کی امید ہے۔ (۱۰)باری سے گھنٹہ دو گھنٹہ جاڑاآتا ہے جس کے ہوتے ہوئے وضو یا غسل نہیں کرسکتا۔ امید ہے کہ اواخر وقت میں جاتا رہے گا (۱۱)پانی دوسرے کا ہے وہ اپنے
(اقول : کأن۸ تکون ظلمۃ یرجو زوالھااووجود فانوس او۹ھومریض اواشل اومقعداوشیخ کبیر الی غیرذلك من عوارض یحتاج بھاالی من یوضئہ اویستقی لہ وذھب ولدہ اوخادمہ لحاجۃ ویرجوعودہ واخر الوقت او۱۰ تعاودہ حمی نافضۃ ساعۃ اوساعتین لایستطیع معھا الوضوء او الغسل اوالاستقاء ورجاذھا بھا فی اواخر الوقت او۱۱ الماء لغیرہ وھو غائب فی حاجۃ لہ ویظن عطاء ہ وعودہ فی اخر الوقت او۱۲ لایجد الجنب او
تھك کر لوٹ آیا اور اسے غالب گمان ہے کہ آخر وقت میں ایسا شخص آجائے گا جو پانی کی جگہ بتادے یا پانی لے آئے۔ (۵)یا پانی فروخت ہورہا ہے اور اس کے پاس دام نہیں اور غالب گمان ہے کہ آخر وقت میں ثمن مل جائے گا جس سے پانی خریدے گا “ یا ایسی ہی کچھ اور عبارت جس سے یہ معنی ادا ہوسکے تو کسی دوسرے نسخہ کی مراجعت کرنی چاہے آگے فرماتے ہیں)(۶)اس کے پاس پیاس دور کرنے کیلئے پانی رکھا ہوا ہے اور غالب گمان ہے کہ آخر وقت میں دوسرا پانی مل جائے گا جو حاجت اصلیہ سے زائد ہوگا (۷)پانی ایسی جگہ ہے جہاں چور یا درندے ہیں یا ایسا آدمی ہے جس سے اس کو اپنی جان یا مال کے لئے خطرہ ہے اور غالب گمان ہے کہ آخر وقت میں مانع دور ہوجائے گا۔ اسی پر دوسرے اسباب کا قیاس کرلو۔ (ت)
(اقول : (۸) مثلا یہ کہ تاریکی ہو جس کے چھٹ جانے یاکوئی فانوس مل جانے کی امید ہو (۹)بیمار ہے یا ہاتھ شل ہے یا لنجھا ہے یا سن رسیدہ بوڑھا ہے۔ ایسے ہی اور عوارض جن کی وجہ سے اس کو ایسے شخص کی ضرورت ہے جو وضو کرادے یا اس کیلئے پانی نکال دے اور اس کا فرزند یاخدمت گار کسی کام سے گیا ہوا ہے۔ آخر وقت میں اس کی واپسی کی امید ہے۔ (۱۰)باری سے گھنٹہ دو گھنٹہ جاڑاآتا ہے جس کے ہوتے ہوئے وضو یا غسل نہیں کرسکتا۔ امید ہے کہ اواخر وقت میں جاتا رہے گا (۱۱)پانی دوسرے کا ہے وہ اپنے
حوالہ / References
عینی شرح الھدایہ باب التیمم المکتبۃ الامدادیہ مکۃ المکرمۃ ۱ / ۳۲۸
المحدثۃ سترا عن حضار سیغیبون او۱۳ لایستطیع الذھاب للاستقاء لاجل مال اوولد ویرجو حضور حافظ او۱۴الماء فی المسجد ویرجو الجنب ان وجد فی اخر الوقت من یاتیہ بہ فھی سبعۃ مع سبعۃ ویؤید الکل ماھومنصوص صریحامن امام المذھب ان من وعد بدلوا ورشاء لایجب علیہ الانتظار وقدمر فی نمرۃ۹۰ قال العینی)والمصنف رحمہ الله تعالی لم یقیدالرجاء وعدمہ ببعد المسافۃ وقربھابل اطلق فوجب حملہ علی وجہ لایرد علیہ الاشکال ولیس فی کلامہ اشعاربماقید الشیخ حتی یرد علیہ من الاشکال مالامخلص لہ اھ۔
اقول : رحم الله الامام البدر٭ورحمنا بہ فی کل ورد وصدر٭قد انتفعنابماافاد من الفروع فیما قدمنا ان لانظر الا الی الحالۃ الراھنۃ وکفی بہ شبھۃ علی مسألۃ الوعد اما(۱)ما رام من حل الاشکال فھیھات بیان ذلك انہ حیث تکررذکرالمسافۃ فی کلام الامام البخاری ذھب وھل العلامۃ الی
کسی کام سے غائب ہے۔ گمان ہے کہ آخر وقت میں واپس آجائے گا اور پانی دے دے گا جنب کو یا بے وضو عورت کو حاضرین سے آڑ نہیں مل رہی ہے اور آخر وقت میں یہ لوگ چلے جائیں گے مال یا اولاد کی وجہ سے پانی لانے کیلئے جا نہیں سکتا اور امید ہے کہ آخر وقت میں کوئی نگہبان آجائے گا پانی مسجد کے اندر ہے اور جنب کو امید ہے کہ آخر وقت میں کوئی لانے والا مل جائے گا ان سات کے ساتھ یہ مزید سات۷ صورتیں ہیں سبھی کی تائید اس مسئلہ سے ہورہی ہے جو امام مذہب رضی اللہ تعالی عنہسے صراحۃ منصوص ہے کہ “ جس سے ڈول یا رسی کا وعدہ ہوا اس پر انتظار واجب نہیں۔ یہ مسئلہ نمبر۹۰ میں گزر چکا۔ آگے علامہ عینی فرماتے ہیں : ) “ مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے امید وعدم امید کو مسافت کے قرب وبعد سے مقید نہ کیا بلکہ مطلق رکھا تو اسے ایسی صورت پر محمول کرنا واجب ہے جس پر اشکال نہ وارد ہو۔ شیخ عبدالعزیز نے جو قید لگائی اس کی مصنف کے کلام میں کوئی نشان دہی تو ہے نہیں کہ ان پر وہ اشکال وارد ہو جس سے کوئی راہ خلاص نہ ہو اھ “ (ت)اقول : خدا امام بدر الدین عینی پر رحمت فرمائے اور ان کی برکت سے ہم پر بھی ہر حاضری وواپسی میں رحمت فرمائے۔ انہوں نے سابقا جن جزئیات کا افادہ فرمایا اس سے ہمیں یہ فائدہ ملا کہ صرف حالت موجودہ پر نظر کی جائے گی۔ مسئلہ وعد پر شبہہ کیلئے یہی کافی ہے۔ اشکال کا حل جوان کا مقصود تھا وہ تو بہت دور ہے۔ اس کا
اقول : رحم الله الامام البدر٭ورحمنا بہ فی کل ورد وصدر٭قد انتفعنابماافاد من الفروع فیما قدمنا ان لانظر الا الی الحالۃ الراھنۃ وکفی بہ شبھۃ علی مسألۃ الوعد اما(۱)ما رام من حل الاشکال فھیھات بیان ذلك انہ حیث تکررذکرالمسافۃ فی کلام الامام البخاری ذھب وھل العلامۃ الی
کسی کام سے غائب ہے۔ گمان ہے کہ آخر وقت میں واپس آجائے گا اور پانی دے دے گا جنب کو یا بے وضو عورت کو حاضرین سے آڑ نہیں مل رہی ہے اور آخر وقت میں یہ لوگ چلے جائیں گے مال یا اولاد کی وجہ سے پانی لانے کیلئے جا نہیں سکتا اور امید ہے کہ آخر وقت میں کوئی نگہبان آجائے گا پانی مسجد کے اندر ہے اور جنب کو امید ہے کہ آخر وقت میں کوئی لانے والا مل جائے گا ان سات کے ساتھ یہ مزید سات۷ صورتیں ہیں سبھی کی تائید اس مسئلہ سے ہورہی ہے جو امام مذہب رضی اللہ تعالی عنہسے صراحۃ منصوص ہے کہ “ جس سے ڈول یا رسی کا وعدہ ہوا اس پر انتظار واجب نہیں۔ یہ مسئلہ نمبر۹۰ میں گزر چکا۔ آگے علامہ عینی فرماتے ہیں : ) “ مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے امید وعدم امید کو مسافت کے قرب وبعد سے مقید نہ کیا بلکہ مطلق رکھا تو اسے ایسی صورت پر محمول کرنا واجب ہے جس پر اشکال نہ وارد ہو۔ شیخ عبدالعزیز نے جو قید لگائی اس کی مصنف کے کلام میں کوئی نشان دہی تو ہے نہیں کہ ان پر وہ اشکال وارد ہو جس سے کوئی راہ خلاص نہ ہو اھ “ (ت)اقول : خدا امام بدر الدین عینی پر رحمت فرمائے اور ان کی برکت سے ہم پر بھی ہر حاضری وواپسی میں رحمت فرمائے۔ انہوں نے سابقا جن جزئیات کا افادہ فرمایا اس سے ہمیں یہ فائدہ ملا کہ صرف حالت موجودہ پر نظر کی جائے گی۔ مسئلہ وعد پر شبہہ کیلئے یہی کافی ہے۔ اشکال کا حل جوان کا مقصود تھا وہ تو بہت دور ہے۔ اس کا
حوالہ / References
عینی شرح الہدایہ باب التیمم ملك سنزفیصل آباد ۱ / ۳۲۸
انہ جعل موضوع الخلافیۃ بین الظاھرۃ والنادرۃ مااذا کان الرجاء لاجل قرب المسافۃ ولذاوضع مکان اسم الاشارۃ فی کلامہ عدم بعد المسافۃ واذ قد علم ان علی ھذا التقدیر٭لامخلص من اشکال الام النحریر٭کماصرح بہ اخر التحریر٭عطف العنان الی ابداء صوریکون فیھاالرجاء لالاجل قرب الماء وظن انھا تخلص عن جالاشکال ولاصحۃ لشیئ من ذلک
اما الاول اعنی جعل الامام الخلافیۃ ماذکر۔
فاقول اولا : ذکر(۱)الامام البخاری لہ اربعۃ محامل لیس فی شیئ منھا مایعطی ان المراد الرجاء لقرب الماء الا الثالث المفروض فیہ القرب فدل ان البواقی لیست علی فرضہ فکیف یکون الرجاء لاجل القرب ھو المراد مطلقا۔
وثانیا : بل فی(۲)الرابع التنصیص علی خلافہ حیث فرض الکلام فیمااذاجھل القرب والبعد ثم جعلہ علی الرجاء بقولہ اما لوغلب علی ظنہ ذلك الخ والعجب(۳)انکم حولتم ھذا الذی ھو ابین مخالفۃ لذلك الحمل الی غلبۃ ظن القرب وسبحن
بیان یہ ہے کہ امام بخاری کے کلام میں مسافت کا ذکر بار بار آیا اس سے علامہ عینی کا خیال اس طرف چلا گیا کہ انہوں نے روایت ظاہر ہ ونادرہ کے درمیان مسئلہ خلافیہ کا موضوع اس صورت کو قرار دیا ہے جب مسافت کے قرب کی وجہ سے امید پیدا ہوئی ہو۔ اسی لئے امام بخاری کے کلام میں جو اسم اشارہ تھا اس کی جگہ علامہ عینی نے “ عدم بعد المسافۃ “ (مسافت کا دور نہ ہونا) رکھ دیا۔ پھر جب انہیں پتاچلا کہ اس تقدیر پر اس امام ماہر کے اشکال سے چھٹکارا نہیں جیسا کہ خود آخر تحریر میں اس کی تصریح کی ہے تو عنان کلام کچھ ایسی صورتیں پیش کرنے کی جانب موڑی جن میں امید قرب آب کی وجہ سے نہ ہواور یہ خیال فرمایا کہ یہ صورتیں اس اشکال سے خلاصی عطا کردیں گی حالانکہ ان دو خیالوں میں سے ایك بھی صحیح نہیں۔ (ت)پہلا خیال امام موصوف کا امر مذکور کو اختلافی قرار دینا۔ فاقول : (اس پر میں کہتا ہوں) اولا امام بخاری نے اس کے چار محمل بیان کئے ان میں سے کسی میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے یہ معلوم ہو کہ قرب آب کی وجہ سے امید مراد ہے مگر صرف تیسرا محمل جس میں قرب فرض کیا گیا ہے اس سے پتا چلا کہ باقی محملوں میں یہ مفروض نہیں تو کیوں کر صرف امید بوجہ قرب مطلقا مراد ہوگی۔ (ت)
ثانیا : بلکہ چوتھے محمل میں تو اس کے برخلاف تصریح موجود ہے اس طرح کہ اس میں کلام اس صورت میں فرض کیا گیا ہے جب قرب وبعد کچھ معلوم نہ ہو پھر اس کو امید پر اپنی اس عبارت سے منطبق کیا ہے “ امالوغلب علی ظنہ ذلك الخ “ (لیکن اگر اس کو اس کا غلبہ ظن ہو الخ) حیرت ہے
اما الاول اعنی جعل الامام الخلافیۃ ماذکر۔
فاقول اولا : ذکر(۱)الامام البخاری لہ اربعۃ محامل لیس فی شیئ منھا مایعطی ان المراد الرجاء لقرب الماء الا الثالث المفروض فیہ القرب فدل ان البواقی لیست علی فرضہ فکیف یکون الرجاء لاجل القرب ھو المراد مطلقا۔
وثانیا : بل فی(۲)الرابع التنصیص علی خلافہ حیث فرض الکلام فیمااذاجھل القرب والبعد ثم جعلہ علی الرجاء بقولہ اما لوغلب علی ظنہ ذلك الخ والعجب(۳)انکم حولتم ھذا الذی ھو ابین مخالفۃ لذلك الحمل الی غلبۃ ظن القرب وسبحن
بیان یہ ہے کہ امام بخاری کے کلام میں مسافت کا ذکر بار بار آیا اس سے علامہ عینی کا خیال اس طرف چلا گیا کہ انہوں نے روایت ظاہر ہ ونادرہ کے درمیان مسئلہ خلافیہ کا موضوع اس صورت کو قرار دیا ہے جب مسافت کے قرب کی وجہ سے امید پیدا ہوئی ہو۔ اسی لئے امام بخاری کے کلام میں جو اسم اشارہ تھا اس کی جگہ علامہ عینی نے “ عدم بعد المسافۃ “ (مسافت کا دور نہ ہونا) رکھ دیا۔ پھر جب انہیں پتاچلا کہ اس تقدیر پر اس امام ماہر کے اشکال سے چھٹکارا نہیں جیسا کہ خود آخر تحریر میں اس کی تصریح کی ہے تو عنان کلام کچھ ایسی صورتیں پیش کرنے کی جانب موڑی جن میں امید قرب آب کی وجہ سے نہ ہواور یہ خیال فرمایا کہ یہ صورتیں اس اشکال سے خلاصی عطا کردیں گی حالانکہ ان دو خیالوں میں سے ایك بھی صحیح نہیں۔ (ت)پہلا خیال امام موصوف کا امر مذکور کو اختلافی قرار دینا۔ فاقول : (اس پر میں کہتا ہوں) اولا امام بخاری نے اس کے چار محمل بیان کئے ان میں سے کسی میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے یہ معلوم ہو کہ قرب آب کی وجہ سے امید مراد ہے مگر صرف تیسرا محمل جس میں قرب فرض کیا گیا ہے اس سے پتا چلا کہ باقی محملوں میں یہ مفروض نہیں تو کیوں کر صرف امید بوجہ قرب مطلقا مراد ہوگی۔ (ت)
ثانیا : بلکہ چوتھے محمل میں تو اس کے برخلاف تصریح موجود ہے اس طرح کہ اس میں کلام اس صورت میں فرض کیا گیا ہے جب قرب وبعد کچھ معلوم نہ ہو پھر اس کو امید پر اپنی اس عبارت سے منطبق کیا ہے “ امالوغلب علی ظنہ ذلك الخ “ (لیکن اگر اس کو اس کا غلبہ ظن ہو الخ) حیرت ہے
الله اذاغلب علی ظنہ القرب کیف یقال لم یعلم ان المسافۃ قریبۃ اوبعیدۃ فان الظن الغالب علم۔
فان قیل بل العلم ھنا بمعنی الیقین فرض نفیہ واثبت الظن لتکون خلافیۃ بین النادرۃ المعتبرۃ ایاہ والظاھرۃ الملغیۃ لہ الشارطۃ للیقین القطعی فالحاصل انہ اذالم یتیقن القرب والبعد لکن غلب علی ظنہ القرب کان کیقین القرب علی النادرۃ وفرقت الظاھرۃ فجوزت التیمم فی ظن القرب ومنعتہ عند الیقین۔
اقول : ففیم یقول بقی عــہ وجہ اخر فان ھذا ھوالمحمل الاول الذی جعل فیہ الیقین وفاقیا والظن خلافیا۔
کہ یہ جو اس حمل کے مخالف ہونے پر سب سے زیادہ روشن وواضح ہے اسے آپ نے قرب کے غلبہ ظن کی جانب پھیر دیا۔ سبحان الله ! جب اسے قرب کا غلبہ ظن ہوگا تو یہ کیسے کہا جائےگا کہ اسے علم نہیں کہ مسافت قریب ہے یا بعید۔ ظن غالب تو علم ہے۔ (ت)
اگر یہ کہا جائے کہ نہیں یہاں علم بمعنی یقین ہے۔ یقین کی نفی فرض کی ہے اور ظن کا اثبات تاکہ یہ اختلافی مسئلہ ہوسکے روایت نادرہ کے درمیان جو ظن کا اعتبار کرتی ہے اور روایت ظاہرہ کے درمیان جو ظن کو بیکار قرار دیتی ہے اور یقین قطعی کی شرط لگاتی ہے تو حاصل یہ ہوا کہ جب قرب وبعد کا یقین نہ ہو لیکن قرب کا غالب گمان ہو تو یہ روایت نادرہ پر یقین قرب ہی کی طرح ہوگا اور روایت ظاہرہ نے دونوں میں فرق رکھا ہے کہ قرب کے ظن کی صورت میں تیمم کو جائز قرار دیا اور یقین کی صورت میں ممنوع رکھا۔ (ت)
اقول : (میں کہوں گا) پھر کس کے بارے میں وہ فرمارہے ہیں “ بقی وجہ اخر “ (ایك صورت رہ گئی۔ یہی تو وہ پہلا محمل ہے جس میں یقین کو اتفاقی اور ظن کو اختلافی قرار دیا ہے۔ (ت)
عــہ فان قلت فکیف تفرق انت بین المحامل اقول : الاولان علی فرض بعد المسافۃ کمااشار الیہ فی الاول والفرق بینھما بجعل الیقین وفاقیااوخلافیاوالثالث بفرض قربھا والرابع بفرض انہ لایعلم قربا ولابعدا ۱۲ منہ غفرلہ (م) اگر یہ سوال ہوا کہ پھر ان محملوں میں کیسے فرض کیا جائےگا اقول : پہلے دونوں محمل بعد مسافت کے مفروضہ پر ہیں جیسا کہ محمل اول میں اس طرف اشارہ کیا ہے۔ اور ان دونوں میں یقین کو اتفاقی اور اختلافی رکھنے سے فرق ہوگا۔ تیسرا محمل قرب مسافت کے مفروضہ پر ہے او ر چوتھا محمل یہ فرض کرکے ہے کہ وہ نہ قریب ہونا جانتا ہے نہ دور ہونا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
فان قیل بل العلم ھنا بمعنی الیقین فرض نفیہ واثبت الظن لتکون خلافیۃ بین النادرۃ المعتبرۃ ایاہ والظاھرۃ الملغیۃ لہ الشارطۃ للیقین القطعی فالحاصل انہ اذالم یتیقن القرب والبعد لکن غلب علی ظنہ القرب کان کیقین القرب علی النادرۃ وفرقت الظاھرۃ فجوزت التیمم فی ظن القرب ومنعتہ عند الیقین۔
اقول : ففیم یقول بقی عــہ وجہ اخر فان ھذا ھوالمحمل الاول الذی جعل فیہ الیقین وفاقیا والظن خلافیا۔
کہ یہ جو اس حمل کے مخالف ہونے پر سب سے زیادہ روشن وواضح ہے اسے آپ نے قرب کے غلبہ ظن کی جانب پھیر دیا۔ سبحان الله ! جب اسے قرب کا غلبہ ظن ہوگا تو یہ کیسے کہا جائےگا کہ اسے علم نہیں کہ مسافت قریب ہے یا بعید۔ ظن غالب تو علم ہے۔ (ت)
اگر یہ کہا جائے کہ نہیں یہاں علم بمعنی یقین ہے۔ یقین کی نفی فرض کی ہے اور ظن کا اثبات تاکہ یہ اختلافی مسئلہ ہوسکے روایت نادرہ کے درمیان جو ظن کا اعتبار کرتی ہے اور روایت ظاہرہ کے درمیان جو ظن کو بیکار قرار دیتی ہے اور یقین قطعی کی شرط لگاتی ہے تو حاصل یہ ہوا کہ جب قرب وبعد کا یقین نہ ہو لیکن قرب کا غالب گمان ہو تو یہ روایت نادرہ پر یقین قرب ہی کی طرح ہوگا اور روایت ظاہرہ نے دونوں میں فرق رکھا ہے کہ قرب کے ظن کی صورت میں تیمم کو جائز قرار دیا اور یقین کی صورت میں ممنوع رکھا۔ (ت)
اقول : (میں کہوں گا) پھر کس کے بارے میں وہ فرمارہے ہیں “ بقی وجہ اخر “ (ایك صورت رہ گئی۔ یہی تو وہ پہلا محمل ہے جس میں یقین کو اتفاقی اور ظن کو اختلافی قرار دیا ہے۔ (ت)
عــہ فان قلت فکیف تفرق انت بین المحامل اقول : الاولان علی فرض بعد المسافۃ کمااشار الیہ فی الاول والفرق بینھما بجعل الیقین وفاقیااوخلافیاوالثالث بفرض قربھا والرابع بفرض انہ لایعلم قربا ولابعدا ۱۲ منہ غفرلہ (م) اگر یہ سوال ہوا کہ پھر ان محملوں میں کیسے فرض کیا جائےگا اقول : پہلے دونوں محمل بعد مسافت کے مفروضہ پر ہیں جیسا کہ محمل اول میں اس طرف اشارہ کیا ہے۔ اور ان دونوں میں یقین کو اتفاقی اور اختلافی رکھنے سے فرق ہوگا۔ تیسرا محمل قرب مسافت کے مفروضہ پر ہے او ر چوتھا محمل یہ فرض کرکے ہے کہ وہ نہ قریب ہونا جانتا ہے نہ دور ہونا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
کذلك فقد ادعی ان التیمم جائز مع تیقن القرب وھل ثم شیئ افسد منہ۔
وسادسا : یحیلہ(۱)علی مابین وانما بین الجواز عند البعد فکانت الاحالۃ٭باطلۃ محالۃ٭
وسابعا : بل(۲)فی الثالث ایضااشعارالی خلافہ فانہ جعل موضوع المسألۃ مااذا کان الفصل اقل من میل لااذاظنہ اقل من میل والموضوع ماخوذ مفروض مفروغ عنہ فکیف یختلف فیہ بظن ویقین ویجعل عدمہ محتملا علی احدالوجھین وقدقال لا(۳)فرق فی ظاھر الروایۃ بین الظن والیقین اذاکانت المسافۃ اقل من میل فلوکان المعنی علی ظن القرب ال الی انہ لافرق بین الظن والیقین عند الظن وبالجملۃ جمیع محاملہ وکل کلامہ یرد ھذا المعنی الذی ذھب الیہ وھل العلامۃ۔
واما الثانی اعنی زعم المخلص منہ علی ماابدی۔
فاقول : لا ولا(۴)نصف مخلص فان الحاصل علی ھذا ان النادرۃ توجب التیمم عند ظن وجدان الماء
ختم ہوجائے حالانکہ ایسا نہیں یہ کہہ کر انہوں نے یہ دعوی کردیا کہ یقین قرب کے باوجود تیمم جائز ہے۔ کیا وہاں کوئی چیز فساد میں اس سے بالاتر بھی ہے
سادسا : اس پر حوالہ یہ دے رہے ہیں کہ جیسا کہ بیان ہوا اور بیان یہ کیا ہے کہ دوری کی صورت میں جواز ہے تو حوالہ باطل ومحال ہوا۔
سابعا : بلکہ محمل سوم میں بھی اس کے خلاف کی نشان دہی موجود ہے اس لئے کہ انہوں نے مسئلہ کا موضوع اس صورت کو بنایا جب فاصلہ ایك میل سے کم ہو اس صورت کو نہیں جب اس کا گمان ایك میل سے کم کا ہو اور موضوع پوری گفتگو میں ماخوذ مفروض ہوتا ہے اس پر بحث سے فراغ رہتا ہے پھر اس میں ظن ویقین کا اختلاف کیسے کریں گے اور ایك صورت میں اس کے عدم کو محتمل کیسے بنائیں گے۔ جب کہ یہ فرماچکے ہیں کہ مسافت ایك میل سے کم ہونے کی صورت میں ظاہر الروایہ میں ظن ویقین کے درمیان کوئی فرق نہیں تو اگر ظن قرب کی بنیاد پر معنی لیا جائے تو مآل یہ ہوگا کہ ظن کی صورت میں ظن ویقین کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ مختصر یہ کہ امام موصوف کے سبھی محمل اور ان کا پورا کلام اس معنی کی تردید کررہا ہے جس کی طرف علامہ کا خیال گیا۔ (ت)
خیال دوم پیش کردہ صورتوں کے ذریعہ اشکال سے چھٹکارا۔
فاقول : (اس پر میں کہتاہوں)نہیں آدھاچھٹکارابھی نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اس طورپرحاصل یہ ہواکہ روایت نادرہ قرب آب کے علاوہ
وسادسا : یحیلہ(۱)علی مابین وانما بین الجواز عند البعد فکانت الاحالۃ٭باطلۃ محالۃ٭
وسابعا : بل(۲)فی الثالث ایضااشعارالی خلافہ فانہ جعل موضوع المسألۃ مااذا کان الفصل اقل من میل لااذاظنہ اقل من میل والموضوع ماخوذ مفروض مفروغ عنہ فکیف یختلف فیہ بظن ویقین ویجعل عدمہ محتملا علی احدالوجھین وقدقال لا(۳)فرق فی ظاھر الروایۃ بین الظن والیقین اذاکانت المسافۃ اقل من میل فلوکان المعنی علی ظن القرب ال الی انہ لافرق بین الظن والیقین عند الظن وبالجملۃ جمیع محاملہ وکل کلامہ یرد ھذا المعنی الذی ذھب الیہ وھل العلامۃ۔
واما الثانی اعنی زعم المخلص منہ علی ماابدی۔
فاقول : لا ولا(۴)نصف مخلص فان الحاصل علی ھذا ان النادرۃ توجب التیمم عند ظن وجدان الماء
ختم ہوجائے حالانکہ ایسا نہیں یہ کہہ کر انہوں نے یہ دعوی کردیا کہ یقین قرب کے باوجود تیمم جائز ہے۔ کیا وہاں کوئی چیز فساد میں اس سے بالاتر بھی ہے
سادسا : اس پر حوالہ یہ دے رہے ہیں کہ جیسا کہ بیان ہوا اور بیان یہ کیا ہے کہ دوری کی صورت میں جواز ہے تو حوالہ باطل ومحال ہوا۔
سابعا : بلکہ محمل سوم میں بھی اس کے خلاف کی نشان دہی موجود ہے اس لئے کہ انہوں نے مسئلہ کا موضوع اس صورت کو بنایا جب فاصلہ ایك میل سے کم ہو اس صورت کو نہیں جب اس کا گمان ایك میل سے کم کا ہو اور موضوع پوری گفتگو میں ماخوذ مفروض ہوتا ہے اس پر بحث سے فراغ رہتا ہے پھر اس میں ظن ویقین کا اختلاف کیسے کریں گے اور ایك صورت میں اس کے عدم کو محتمل کیسے بنائیں گے۔ جب کہ یہ فرماچکے ہیں کہ مسافت ایك میل سے کم ہونے کی صورت میں ظاہر الروایہ میں ظن ویقین کے درمیان کوئی فرق نہیں تو اگر ظن قرب کی بنیاد پر معنی لیا جائے تو مآل یہ ہوگا کہ ظن کی صورت میں ظن ویقین کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ مختصر یہ کہ امام موصوف کے سبھی محمل اور ان کا پورا کلام اس معنی کی تردید کررہا ہے جس کی طرف علامہ کا خیال گیا۔ (ت)
خیال دوم پیش کردہ صورتوں کے ذریعہ اشکال سے چھٹکارا۔
فاقول : (اس پر میں کہتاہوں)نہیں آدھاچھٹکارابھی نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اس طورپرحاصل یہ ہواکہ روایت نادرہ قرب آب کے علاوہ
فی اخر الوقت لاھد من الاسباب المذکورۃ المغایرۃ لقرب الماء والظاھرۃ تقول لاعبرۃ بغلبۃ الظن بوجد انہ بھاانما العبرۃ للیقین بہ وھو مورد کلا الایرادین کماکان فانھم نصوا ان ظن القرب یمنع التیمم فقد اعتبروا الظن ثمہ فکیف الغوہ ھنا ونصوا(۱)ان عندبعدالماء میلا یجوزلہ التیمم من دون تفصیل مع القطع بانہ ربما یتیقن بلوغہ الماء فی اخرالوقت فلم یعتبروا الیقین ثمہ فکیف اعتبروہ ھنا فثبت ان سعیہ رحمہ الله تعالی ھذالم یرجع الی طائل٭وتعجبہ من اولئك الجلۃ الی نفسہ الکریمۃ ائل٭
ثم اقول : لعلك قدتفطنت مما القینا علیك ان الایرادالاخیراعنی علی صورۃ الیقین بمسألۃ البعدمیلا انما یرد علی ماعلل بہ فی الھدایۃ ظاھر الروایۃ اما نفس المسألۃ فلاغبار علیھامن جھتہ فان المذھب عدم وجوب التاخیرظاناکان اومستیقناکماتقدم التصریح بہ عن الخلاصۃ بنقل الائمۃ
مذکورہ اسباب میں سے کسی ایك کی وجہ سے آخر وقت میں پانی ملنے کا گمان ہونے کی صورت میں تیمم واجب کرتی ہے اور روایت ظاہرہ یہ بتاتی ہے کہ ان اسباب کی وجہ سے پانی ملنے کے غلبہ ظن کاکوئی اعتبار نہیں۔ اعتبار تو صرف اس یقین کا ہے کہ پانی مل جائےگا اس حاصل پر دونوں اعتراض جیسے پہلے وارد ہورہے تھے اب بھی وارد ہیں (۱) اس لئے کہ ان حضرات نے نص فرمایا ہے کہ قرب آب کا ظن مانع تیمم ہے تو انہوں نے وہاں ظن کا اعتبار کیا پھر یہاں اسے کیسے بیکار قرار دیا اور ان حضرات نے تصریح فرمائی ہے کہ پانی ایك میل دور ہو تو تیمم جائز ہے۔ اس میں کوئی تفریق وتفصیل نہ فرمائی۔ باوجودیکہ یہ قطعی امر ہے کہ بعض اوقات اسے یقین ہوگا کہ وہ آخر وقت میں پانی تك پہنچ جائے گا۔ تو وہاں ان حضرات نے یقین کا اعتبار نہ کیا پھر یہاں کیسے اعتبار کرلیا۔ تو ثابت ہوا کہ علامہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکی یہ کاوش کچھ سود مند نہ ہوسکی اور ان بزرگوں پر انہوں نے جس تعجب کا اظہار فرمایا وہ خود ان کی ذات گرامی پر عائد ہوتا ہے۔ (ت)
ثم اقول : ہمارے بیان سے ناظرین نے یہ سمجھ لیاہوگاکہ دوسرا اعتراض یعنی ایك میل دوری والے مسئلہ سے صورت یقین پر اعتراض صرف اس تعلیل پر وارد ہوتا ہے جو صاحب ہدایہ نے ظاہر الروایہ سے متعلق پیش کی۔ لیکن نفس مسئلہ پر جانب اعتراض سے کوئی غبار نہیں آتا اس لئے کہ مذہب یہی ہے کہ تاخیر نماز واجب نہیں خواہ اسے ظن ہو یا یقین جیساکہ اس کی تشریح خلاصہ سے
ثم اقول : لعلك قدتفطنت مما القینا علیك ان الایرادالاخیراعنی علی صورۃ الیقین بمسألۃ البعدمیلا انما یرد علی ماعلل بہ فی الھدایۃ ظاھر الروایۃ اما نفس المسألۃ فلاغبار علیھامن جھتہ فان المذھب عدم وجوب التاخیرظاناکان اومستیقناکماتقدم التصریح بہ عن الخلاصۃ بنقل الائمۃ
مذکورہ اسباب میں سے کسی ایك کی وجہ سے آخر وقت میں پانی ملنے کا گمان ہونے کی صورت میں تیمم واجب کرتی ہے اور روایت ظاہرہ یہ بتاتی ہے کہ ان اسباب کی وجہ سے پانی ملنے کے غلبہ ظن کاکوئی اعتبار نہیں۔ اعتبار تو صرف اس یقین کا ہے کہ پانی مل جائےگا اس حاصل پر دونوں اعتراض جیسے پہلے وارد ہورہے تھے اب بھی وارد ہیں (۱) اس لئے کہ ان حضرات نے نص فرمایا ہے کہ قرب آب کا ظن مانع تیمم ہے تو انہوں نے وہاں ظن کا اعتبار کیا پھر یہاں اسے کیسے بیکار قرار دیا اور ان حضرات نے تصریح فرمائی ہے کہ پانی ایك میل دور ہو تو تیمم جائز ہے۔ اس میں کوئی تفریق وتفصیل نہ فرمائی۔ باوجودیکہ یہ قطعی امر ہے کہ بعض اوقات اسے یقین ہوگا کہ وہ آخر وقت میں پانی تك پہنچ جائے گا۔ تو وہاں ان حضرات نے یقین کا اعتبار نہ کیا پھر یہاں کیسے اعتبار کرلیا۔ تو ثابت ہوا کہ علامہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکی یہ کاوش کچھ سود مند نہ ہوسکی اور ان بزرگوں پر انہوں نے جس تعجب کا اظہار فرمایا وہ خود ان کی ذات گرامی پر عائد ہوتا ہے۔ (ت)
ثم اقول : ہمارے بیان سے ناظرین نے یہ سمجھ لیاہوگاکہ دوسرا اعتراض یعنی ایك میل دوری والے مسئلہ سے صورت یقین پر اعتراض صرف اس تعلیل پر وارد ہوتا ہے جو صاحب ہدایہ نے ظاہر الروایہ سے متعلق پیش کی۔ لیکن نفس مسئلہ پر جانب اعتراض سے کوئی غبار نہیں آتا اس لئے کہ مذہب یہی ہے کہ تاخیر نماز واجب نہیں خواہ اسے ظن ہو یا یقین جیساکہ اس کی تشریح خلاصہ سے
البخاری والکاکی والبابرتی والسیواسی وتقریرھم ایاہ نعم الایراد الاول علی صورۃ الظن بمسألۃ ظن القرب یرد علی التعلیل والمسألۃ معا للاحتیاج الی الفرق بینھما حیث لم یعتبروا ھھنا الظن بل ولا الیقین وقد منعو اثمہ لمحض غلبۃ الظن ولاجل ھذا قلت انھم استشکلوا المسألۃ والتعلیل معاوان کانوا انما وجھوا الکلام الی التعلیل ھذا۔
ورأیت الامام ملك العلماء قررالمسألۃ فی البدائع بحیث لایتوجہ الیہ ھذاالاشکال ورفع الخلاف عن الظاھرۃ والنادرۃ فقال قدقال اصحابناان المسافران کان علی طمع من الماء فی اخرالوقت یؤخر التیمم الی اخر الوقت وان لم یکن لایؤخر ھکذا روی المعلی عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اللہ تعالی عنہماوذکر فی الاصل احب الی ان یؤخرالی اخر الوقت ولم یفصل بین ما اذاکان یرجو الماء اولا یرجووھذا لایوجب اختلاف الروایۃ بل یجعل روایۃ المعلی تفسیرالما اطلقہ فی الاصل ولو تیمم اول الوقت وصلی ان کان عالما ان الماء قریب بان کان بینہ وبین الماء اقل من میل لم تجز صلاتہ بلاخلاف لانہ واجد للماء وان کان میلا فصاعد اجازت
گزر چکی خلاصہ کا کلام امام بخاری امام کاکی امام بابرتی اور امام سیواسی نے نقل کیااور اسے برقرار رکھا ہاں پہلا اعتراض جو صورت ظن پر ظن قرب کے مسئلہ سے وارد ہوتا ہے وہ تعلیل اور مسئلہ دونوں ہی پر وارد ہوتا ہے اس لئے کہ دونوں میں فرق کرنے کی ضرورت ہے کہ یہاں پرکیوں ظن بلکہ یقین کا بھی اعتبار نہ کیااور وہاں محض غلبہ ظن کی وجہ سے منع کردیا۔ اس لئے میں نے کہاکہ حضرات علماء نے مسئلہ اور تعلیل دونوں ہی میں اشکال قرار دیا اگرچہ کلام کا رخ صرف اس تعلیل کی جانب کیا۔ (ت)
میں نے دیکھا کہ امام ملك العلماء نے بدائع میں مسئلہ کی تقریر اس طرح فرمائی ہے کہ اس پر یہ اشکال پیش نہیں آتا۔ اور انہوں نے روایت ظاہرہ ونادرہ کا اختلاف بھی دور کردیا ہے رقمطراز ہیں : “ ہمارے اصحاب نے فرمایاکہ مسافر کو اگر آخر وقت میں پانی کی امید ہو تو تیمم آخر وقت تك مؤخر کرے۔ اور اگر ایسی امید نہ ہو تو مؤخر نہ کرے۔ ایسے ہی معلی نے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کی ہے۔ اور اصل (مبسوط) میں ذکر فرمایا ہے کہ میرے نزدیك زیادہ پسندیدہ یہ ہے کہ آخر وقت تك مؤخر کرے۔ اور پانی کی امید ہونے اور نہ ہونے کا فرق نہ بیان کیا۔ اس سے اختلاف روایت لازم نہیں آتابلکہ معلی کی روایت مبسوط کے اطلاق کی تفسیر قرار پاتی ہے۔ اور اگر اول وقت میں تیمم کرکے نماز پڑھ لی تو اگر اسے علم تھا کہ پانی قریب ہے اس طرح کہ اس کے اور
ورأیت الامام ملك العلماء قررالمسألۃ فی البدائع بحیث لایتوجہ الیہ ھذاالاشکال ورفع الخلاف عن الظاھرۃ والنادرۃ فقال قدقال اصحابناان المسافران کان علی طمع من الماء فی اخرالوقت یؤخر التیمم الی اخر الوقت وان لم یکن لایؤخر ھکذا روی المعلی عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اللہ تعالی عنہماوذکر فی الاصل احب الی ان یؤخرالی اخر الوقت ولم یفصل بین ما اذاکان یرجو الماء اولا یرجووھذا لایوجب اختلاف الروایۃ بل یجعل روایۃ المعلی تفسیرالما اطلقہ فی الاصل ولو تیمم اول الوقت وصلی ان کان عالما ان الماء قریب بان کان بینہ وبین الماء اقل من میل لم تجز صلاتہ بلاخلاف لانہ واجد للماء وان کان میلا فصاعد اجازت
گزر چکی خلاصہ کا کلام امام بخاری امام کاکی امام بابرتی اور امام سیواسی نے نقل کیااور اسے برقرار رکھا ہاں پہلا اعتراض جو صورت ظن پر ظن قرب کے مسئلہ سے وارد ہوتا ہے وہ تعلیل اور مسئلہ دونوں ہی پر وارد ہوتا ہے اس لئے کہ دونوں میں فرق کرنے کی ضرورت ہے کہ یہاں پرکیوں ظن بلکہ یقین کا بھی اعتبار نہ کیااور وہاں محض غلبہ ظن کی وجہ سے منع کردیا۔ اس لئے میں نے کہاکہ حضرات علماء نے مسئلہ اور تعلیل دونوں ہی میں اشکال قرار دیا اگرچہ کلام کا رخ صرف اس تعلیل کی جانب کیا۔ (ت)
میں نے دیکھا کہ امام ملك العلماء نے بدائع میں مسئلہ کی تقریر اس طرح فرمائی ہے کہ اس پر یہ اشکال پیش نہیں آتا۔ اور انہوں نے روایت ظاہرہ ونادرہ کا اختلاف بھی دور کردیا ہے رقمطراز ہیں : “ ہمارے اصحاب نے فرمایاکہ مسافر کو اگر آخر وقت میں پانی کی امید ہو تو تیمم آخر وقت تك مؤخر کرے۔ اور اگر ایسی امید نہ ہو تو مؤخر نہ کرے۔ ایسے ہی معلی نے امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کی ہے۔ اور اصل (مبسوط) میں ذکر فرمایا ہے کہ میرے نزدیك زیادہ پسندیدہ یہ ہے کہ آخر وقت تك مؤخر کرے۔ اور پانی کی امید ہونے اور نہ ہونے کا فرق نہ بیان کیا۔ اس سے اختلاف روایت لازم نہیں آتابلکہ معلی کی روایت مبسوط کے اطلاق کی تفسیر قرار پاتی ہے۔ اور اگر اول وقت میں تیمم کرکے نماز پڑھ لی تو اگر اسے علم تھا کہ پانی قریب ہے اس طرح کہ اس کے اور
وان(۱) لم یکن عالما بقرب الماء اوبعدہ تجوز صلاتہ سواء کان یرجوا الماء فی اخر الوقت اولا سواء کان بعد الطلب اوقبلہ عندنا خلافا للشافعی لمامر ان العدم ثابت ظاھرا واحتمال الوجود احتمال لادلیل علیہ فلایعارض الظاھر اھ
اقول : لکن(۱)للعبدالفقیر٭توقف فی التعلیل الاخیر٭فان من(۲) علم فی اول وقت الظھر اوالعشاء مثلا ان الماء من ھنا علی مسافۃ اقل من میلین اوثلثۃ امیال وعلم انہ یصل الیہ فی سعۃ الوقت ولم یعلم انہ علی فصل میل او اقل فصادق علیہ انہ لایعلم قرب الماء ولابعدہ وھویرجو الماء لاعن احتمال بلادلیل بل عن دلیل فیعارض الظاھرویمنع التیمم ولیس کذلك انما یمنع التیمم ظن ان الماء قریب٭ وھو منہ فی شك مریب ھذا۔
ولنعم حل الاشکال عن مسئلۃ الرجاء ماقررہ الامام الجلیل ابو البرکات
پانی کے درمیان ایك میل سے کم فاصلہ ہے تو اس کی نماز جائز نہیں۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں اس لئے کہ پانی اس کیلئے دستیاب ہے۔ اور اگر ایك میل یا زیادہ کا فاصلہ ہو تو اس کی نماز ہوگئی۔ اور اگر اسے پانی کے قرب وبعد کا علم نہیں تو اس کی نماز جائز ہے خواہ آخر وقت میں پانی کی امیدہو یا نہ ہو خواہ پانی تلاش کرنے کے بعدہو یا پہلے ہو۔ یہ حکم امام شافعی کے برخلاف ہمارے نزدیك ہے اس کی وجہ گزر چکی کہ عدم ظاہرا ثابت ہے اورپانی ملنے کا احتمال ایسا احتمال ہے جس پر کوئی دلیل نہیں تو وہ ظاہر کے معارض نہ ہوگا “ ۔ (ت)
اقول : لیکن بندہ محتاج کو تعلیل اخیر میں کچھ توقف ہے اس لئے کہ مثلا جسے وقت ظہر یا وقت عشا کے شروع میں علم ہوا کہ پانی یہاں سے دو میل یا تین میل سے کم مسافت پر ہے اور اسے یہ بھی علم ہے کہ وقت میں وسعت رہتے ہوئے وہاں تك پہنچ جائے گااور اسے یہ معلوم نہیں کہ ایك میل کا فاصلہ ہے یاکم تو اس پر یہ صادق ہے کہ پانی کے قرب وبعدکا اسے علم نہیں۔ اور اس کو پانی کی امید بلادلیل احتمال کے باعث نہیں بلکہ دلیل کے باعث ہے تو یہ احتمال ظاہرکے معارض اورتیمم سے مانع ہوجائےگا حالانکہ ایسا نہیں۔ تیمم سے مانع صرف اس بات کاگمان ہے کہ پانی قریب ہے اور اسی میں تو اسے پریشان کن شك درپیش ہے۔ یہ ذہن نشین رہے۔ (ت)
مسئلہ امید کے اشکال کا بہترین حل وہ ہے جس کی تقریر امام الجلیل ابو البرکات
اقول : لکن(۱)للعبدالفقیر٭توقف فی التعلیل الاخیر٭فان من(۲) علم فی اول وقت الظھر اوالعشاء مثلا ان الماء من ھنا علی مسافۃ اقل من میلین اوثلثۃ امیال وعلم انہ یصل الیہ فی سعۃ الوقت ولم یعلم انہ علی فصل میل او اقل فصادق علیہ انہ لایعلم قرب الماء ولابعدہ وھویرجو الماء لاعن احتمال بلادلیل بل عن دلیل فیعارض الظاھرویمنع التیمم ولیس کذلك انما یمنع التیمم ظن ان الماء قریب٭ وھو منہ فی شك مریب ھذا۔
ولنعم حل الاشکال عن مسئلۃ الرجاء ماقررہ الامام الجلیل ابو البرکات
پانی کے درمیان ایك میل سے کم فاصلہ ہے تو اس کی نماز جائز نہیں۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں اس لئے کہ پانی اس کیلئے دستیاب ہے۔ اور اگر ایك میل یا زیادہ کا فاصلہ ہو تو اس کی نماز ہوگئی۔ اور اگر اسے پانی کے قرب وبعد کا علم نہیں تو اس کی نماز جائز ہے خواہ آخر وقت میں پانی کی امیدہو یا نہ ہو خواہ پانی تلاش کرنے کے بعدہو یا پہلے ہو۔ یہ حکم امام شافعی کے برخلاف ہمارے نزدیك ہے اس کی وجہ گزر چکی کہ عدم ظاہرا ثابت ہے اورپانی ملنے کا احتمال ایسا احتمال ہے جس پر کوئی دلیل نہیں تو وہ ظاہر کے معارض نہ ہوگا “ ۔ (ت)
اقول : لیکن بندہ محتاج کو تعلیل اخیر میں کچھ توقف ہے اس لئے کہ مثلا جسے وقت ظہر یا وقت عشا کے شروع میں علم ہوا کہ پانی یہاں سے دو میل یا تین میل سے کم مسافت پر ہے اور اسے یہ بھی علم ہے کہ وقت میں وسعت رہتے ہوئے وہاں تك پہنچ جائے گااور اسے یہ معلوم نہیں کہ ایك میل کا فاصلہ ہے یاکم تو اس پر یہ صادق ہے کہ پانی کے قرب وبعدکا اسے علم نہیں۔ اور اس کو پانی کی امید بلادلیل احتمال کے باعث نہیں بلکہ دلیل کے باعث ہے تو یہ احتمال ظاہرکے معارض اورتیمم سے مانع ہوجائےگا حالانکہ ایسا نہیں۔ تیمم سے مانع صرف اس بات کاگمان ہے کہ پانی قریب ہے اور اسی میں تو اسے پریشان کن شك درپیش ہے۔ یہ ذہن نشین رہے۔ (ت)
مسئلہ امید کے اشکال کا بہترین حل وہ ہے جس کی تقریر امام الجلیل ابو البرکات
حوالہ / References
بدائع الصنائع فصل وامابیان وقت التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۴
رحمہ الله تعالی فی الکافی حیث عدل عن تعلیل الھدایۃ٭وعلل بتعلیل حسن الی الغایۃاذقال مسافر غلب علی ظنہ ان بقربہ ماء وجب الطلب ولایجب بغیرغلبۃ الظن اواخبار لان العدم ثابت حقیقۃ وظاھرا لفوات الدلیل الدال علی الوجود من حیث الظاھر اذالظاھر فی المفاوزعدم الماء بخلاف العمرانات فانہ لوتیمم قبل الطلب فیھا لم یجز لان العدم وان کان ثابتاحقیقۃ لم یثبت ظاھرا لقیام الدلیل علیہ وھو العمارۃ اذقیامھا بالماء وکذا لوغلب علی ظنہ اواخبرہ مخبرلان غالب الرأی کالمتحقق فی حق وجوب العمل ولھذاوجب العمل باخبارالاحاد والاقیسۃوالای المؤولۃ والمخصوصۃ والبینات فان قیل لوکان غالب الرأی کالمتحقق ھنا لوجب التاخیر فیما اذا غلب علی ظنہ انہ یجد الماء فی اخرالوقت قلنا عن ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اللہ تعالی عنہما ان التاخیر ختم ولان غلبۃ ظنہ ثم انہ سےصیر بقرب الماء وھذا غلبۃ ظنہ انہ بقرب الماء اھ کلامہ الشریف وھذا بحمدالله تعالی عین ماظھر
نسفی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے کافی میں فرمائی۔ انہوں نے ہدایہ کی تعلیل سے ہٹ کر خود ایك انتہائی عمدہ تعلیل پیش کی فرماتے ہیں : ایك مسافر ہے جس کا غالب گمان یہ ہے کہ اس کے قریب پانی ہے تو تلاش کرنا واجب ہے۔ غلبہ ظن یا کسی کے بتائے بغیر تلاش واجب نہیں اس لئے کہ پانی نہ ہونا حقیقۃاور ظاہرا ثابت ہے کیونکہ بظاہر ایسی کوئی دلیل نہیں جو پانی ہونے کاپتادے اس لئے کہ بیابانوں میں ظاہر پانی کا نہ ہونا ہی ہے۔ آبادیوں کا حال اس کے برخلاف ہے۔ اگر آبادیوں کے اندر پانی تلاش کرنے سے پہلے تیمم کرلے تو جائز نہیں۔ اس لئے کہ نہ ہونااگرچہ حقیقۃ ثابت ہے مگر ظاہرا ثابت نہیں کیونکہ پانی ہونے کی دلیل آبادی-- موجود ہے وجہ یہ ہے کہ آبادیوں کا قیام پانی سے ہوتا ہے __اسی طرح اگر پانی کا غلبہ ظن ہو یا کوئی مخبر خبر دے (تو بھی پانی تلاش کرنے سے پہلے تیمم جائز نہیں)کیونکہ غالب رائے وجوب عمل کے حق میں یقینی ومتحقق کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لئے اخبار آحاد قیاسات تاویل وتخصیص یافتہ آیات اور بنیات وگواہان سے وجوب عمل ثابت ہوجاتا ہے۔ اگر یہ سوال ہو کہ اگر غالب رائے کو یہاں متحقق کی حیثیت حاصل ہوئی تو اس صورت میں نماز کو مؤخر کرنا واجب ہوتا جب اسے اس بات کا غالب
نسفی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے کافی میں فرمائی۔ انہوں نے ہدایہ کی تعلیل سے ہٹ کر خود ایك انتہائی عمدہ تعلیل پیش کی فرماتے ہیں : ایك مسافر ہے جس کا غالب گمان یہ ہے کہ اس کے قریب پانی ہے تو تلاش کرنا واجب ہے۔ غلبہ ظن یا کسی کے بتائے بغیر تلاش واجب نہیں اس لئے کہ پانی نہ ہونا حقیقۃاور ظاہرا ثابت ہے کیونکہ بظاہر ایسی کوئی دلیل نہیں جو پانی ہونے کاپتادے اس لئے کہ بیابانوں میں ظاہر پانی کا نہ ہونا ہی ہے۔ آبادیوں کا حال اس کے برخلاف ہے۔ اگر آبادیوں کے اندر پانی تلاش کرنے سے پہلے تیمم کرلے تو جائز نہیں۔ اس لئے کہ نہ ہونااگرچہ حقیقۃ ثابت ہے مگر ظاہرا ثابت نہیں کیونکہ پانی ہونے کی دلیل آبادی-- موجود ہے وجہ یہ ہے کہ آبادیوں کا قیام پانی سے ہوتا ہے __اسی طرح اگر پانی کا غلبہ ظن ہو یا کوئی مخبر خبر دے (تو بھی پانی تلاش کرنے سے پہلے تیمم جائز نہیں)کیونکہ غالب رائے وجوب عمل کے حق میں یقینی ومتحقق کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لئے اخبار آحاد قیاسات تاویل وتخصیص یافتہ آیات اور بنیات وگواہان سے وجوب عمل ثابت ہوجاتا ہے۔ اگر یہ سوال ہو کہ اگر غالب رائے کو یہاں متحقق کی حیثیت حاصل ہوئی تو اس صورت میں نماز کو مؤخر کرنا واجب ہوتا جب اسے اس بات کا غالب
حوالہ / References
کافی
الکفایہ علی الہدایہ مع الفتح القدیر باب التیمم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۲۵
الکفایہ علی الہدایہ مع الفتح القدیر باب التیمم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۲۵
للعبد الضعیف فیماذکرت ونحوہ فی الکفایۃ فقدظھران مسألۃ الرجاء لیس المراد فیھامن رجا لاجل القرب فانہ لایجوز لہ التیمم اجماعا بل من رجا الوصول فی اخر الوقت مع بعدہ الان فھذا لیس بظن القرب بل ظن انہ سیقرب فلایعتبر(۱) ولایعکر علیہ بمسألۃ ظن القرب وقدصرح بکونھاموضوعۃ فی بعد المسافۃ فی غیر ماکتاب معتمد ففی الدرایۃ ثم الشلبیۃ ھذاالاستجاب اذاکان بینہ وبین موضع یرجوہ میل اواکثر فان کان اقل لایجزیہ التیمم وان خاف فوت وقت الصلاۃ اھ ومثلہ فی البحرونحوہ فی الدروفی البنایۃھذا اذاکان الماء بعیداوان کان قریبا لایتیمم وان خاف خروج الوقت قال الفقیہ ابوجعفراجمع اصحابنا الثلثۃ علی ھذا اھ ثم قال اعنی العینی وقیل اذاکان بینہ وبین موضع یرجوہ الی اخر ماقدمنا عن الدرایۃ۔
گمان ہوتاکہ آخر وقت میں اسے پانی مل جائے گا۔ تو ہم جوابا کہیں گے کہ یہ امام ابوحنیفہ وامام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہما سے ایك روایت ہے کہ نماز مؤخر کرناواجب ہے۔ اور وجہ یہ ہے کہ وہاں اس کا غلبہ ظن یہ ہے کہ وہ کچھ دیر بعد پانی کے قریب ہوجائے گا اور یہاں اس کا غلبہ ظن یہ ہے کہ وہ بروقت پانی کے قریب ہے اھ امام نسفی کا مبارك کلام ختم ہوا۔
یہ بحمداللہتعالی بعینہ وہی بات ہے جو بندہ ضعیف کے ذہن میں آئی جیسا کہ سابقا ذکر کیا اسی کے ہم معنی کفایہ میں بھی ہے تو یہ واضح ہوگیاکہ مسئلہ امید میں یہ مراد نہیں کہ جسے قرب آب کی وجہ سے امید ہو کیونکہ اس کے لئے بالاجماع تیمم جائز نہیں بلکہ جسے امید ہے کہ آخر وقت میں پانی کے پاس پہنچ جائے گا باوجود یکہ اس وقت پانی سے دور ہے تو اسے قرب آب کا گمان ہی نہیں بلکہ یہ گمان ہے کہ وہ آئندہ پانی کے قریب ہوجائےگاتو یہ گمان معتبر نہیں اور اس پر ظن قرب کے مسئلہ سے کوئی گرد نہیں ڈالی جاسکتی۔ متعدد معتمد کتابوں میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ مسئلہ امید بعدمسافت کی صورت میں رکھا گیا ہے۔ درایہ پھر شلبیہ میں ہے : “ یہ استحباب اس وقت ہے جب اس کے درمیان اور اس جگہ کے درمیان جہاں پانی کی امیدہے ایك میل یا زیادہ کا فاصلہ ہو اگر اس سے کم ہو تو اس کیلئےتیمم جائز نہیں اگرچہ وقت نماز نکل جانے کا خطرہ ہو “ ۔ اسی کے مثل بحر میں اور اس کے
گمان ہوتاکہ آخر وقت میں اسے پانی مل جائے گا۔ تو ہم جوابا کہیں گے کہ یہ امام ابوحنیفہ وامام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہما سے ایك روایت ہے کہ نماز مؤخر کرناواجب ہے۔ اور وجہ یہ ہے کہ وہاں اس کا غلبہ ظن یہ ہے کہ وہ کچھ دیر بعد پانی کے قریب ہوجائے گا اور یہاں اس کا غلبہ ظن یہ ہے کہ وہ بروقت پانی کے قریب ہے اھ امام نسفی کا مبارك کلام ختم ہوا۔
یہ بحمداللہتعالی بعینہ وہی بات ہے جو بندہ ضعیف کے ذہن میں آئی جیسا کہ سابقا ذکر کیا اسی کے ہم معنی کفایہ میں بھی ہے تو یہ واضح ہوگیاکہ مسئلہ امید میں یہ مراد نہیں کہ جسے قرب آب کی وجہ سے امید ہو کیونکہ اس کے لئے بالاجماع تیمم جائز نہیں بلکہ جسے امید ہے کہ آخر وقت میں پانی کے پاس پہنچ جائے گا باوجود یکہ اس وقت پانی سے دور ہے تو اسے قرب آب کا گمان ہی نہیں بلکہ یہ گمان ہے کہ وہ آئندہ پانی کے قریب ہوجائےگاتو یہ گمان معتبر نہیں اور اس پر ظن قرب کے مسئلہ سے کوئی گرد نہیں ڈالی جاسکتی۔ متعدد معتمد کتابوں میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ مسئلہ امید بعدمسافت کی صورت میں رکھا گیا ہے۔ درایہ پھر شلبیہ میں ہے : “ یہ استحباب اس وقت ہے جب اس کے درمیان اور اس جگہ کے درمیان جہاں پانی کی امیدہے ایك میل یا زیادہ کا فاصلہ ہو اگر اس سے کم ہو تو اس کیلئےتیمم جائز نہیں اگرچہ وقت نماز نکل جانے کا خطرہ ہو “ ۔ اسی کے مثل بحر میں اور اس کے
حوالہ / References
الشلبی علی الکنز مع تبیین الحقائق باب التیمم مطبعۃ امیریہ مصر ۱ / ۴۱
البنایہ شرح ہدایہ باب التیمم ملك سنز فیصل آباد ۱ / ۳۲۵
البنایہ شرح ہدایہ باب التیمم مطبعۃالامدادمکۃالمکرمہ ۱ / ۳۲۵
البنایہ شرح ہدایہ باب التیمم ملك سنز فیصل آباد ۱ / ۳۲۵
البنایہ شرح ہدایہ باب التیمم مطبعۃالامدادمکۃالمکرمہ ۱ / ۳۲۵
اقول : (۱)ولاادری ماالفرق بینہ وبین ماقال ھذا اذاکان الماء بعیداالخ حتی جزم بذلك ومرض ھذا وجعلہ قولا اخر مع انہ لاتفاوت الا فی اللفظ۔
اقول : (۱) وقد تقدم نص الخلاصۃوتقریر الائمۃالجلۃ ان الظن والیقین فی ذلك سواء لا یجب علیہ التأخیر وان تیقن بوجدان الماء فی اخر الوقت وتلك النادرۃ حیث اوجبت فی الظن فالیقین اولی فقدظھر ان الواقع من المحامل الاربعۃ ھو الثانی وان کان ابعد بالنظر الی ظاھر
العبارۃاما قول النادرۃ غالب الرأی کالمتحقق قلنانعم ولوکان متحققالم یؤثر لانہ انما تیقن انہ سیقرب لاانہ قریب وبھذا یعوز الاشکال علی تعلیل الھدایۃ لظاھر الروایۃ۔
اقول : وایضا یمکن حملہ علی المحمل الرابع فان من جھل
ہم معنی درمختار میں ہے اور بنایہ میں اس طرح ہے : “ یہ اس وقت ہے جب پانی دور ہو۔ اگر قریب ہو تو تیمم نہ کرے اگرچہ اسے وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو فقیہ ابو جعفر نے فرمایا : اس پر ہمارے تینوں اصحاب وائمہ کا اجماع ہے “ اھ۔ آگے علامہ عینی صاحب بنایہ لکھتے ہیں : “ اور کہاگیا جب اس کے اور اس جگہ کے درمیان جہاں اسے پانی کی امیدہے اس کے آخر تك جو ہم نے درایہ کے حوالہ سے پیش کیا۔ (ت)
اقول : پتا نہیں ان کے کلام “ یہ اس وقت ہے جب پانی دور ہو الخ اور اس کلام میں فرق کیا ہے کہ انہوں نے اس پر تو جزم کیااور قیل(کہا گیا)سے اس کی تمریض وتضعیف کی اور اسے ایك الگ قول بنادیا جب کہ دونوں میں سوائے الفاظ کے کوئی تفاوت نہیں۔ (ت)
اقول : خلاصہ کی عبارت اور بزرگ ائمہ کی تقریرپہلے گزر چکی کہ ظن ویقین اس بارے میں یکساں ہیں۔ اس پر نماز مؤخر کرناواجب نہیں اگرچہ آخر وقت میں پانی ملنے کایقین ہو اور اس روایت نادرہ نے جب ظن کی صورت میں واجب کیاتو یقین تو اس سے بڑھا ہوا ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ امام بخاری کے پیش کردہ چاروں محملوں میں سے واقع محمل دوم ہے اگرچہ ظاہر عبارت کے لحاظ سے بعید تر معلوم ہوتا ہے اب رہا روایت نادرہ سے متعلق یہ قول کہ غالب رائے متحقق کی طرح ہے۔ ہم کہتے ہیں ہاں اور اگر یہ یقینی ومتحقق ہو جب بھی مؤثر نہیں اس لئے کہ اسے صرف اسی بات کا یقین ہواکہ آئندہ وہ قریب ہوگا اس کا نہیں کہ وہ قریب ہے۔ اسی سے ظاہر الروایہ سے متعلق ہدایہ کی تعلیل پر پیش آنے والا اشکال ختم ہوجاتا ہے۔ (ت)اقول : اسے محمل چہارم پر بھی محمول کیاجاسکتا ہے۔ اس لئے کہ جو مسافت سے
اقول : (۱) وقد تقدم نص الخلاصۃوتقریر الائمۃالجلۃ ان الظن والیقین فی ذلك سواء لا یجب علیہ التأخیر وان تیقن بوجدان الماء فی اخر الوقت وتلك النادرۃ حیث اوجبت فی الظن فالیقین اولی فقدظھر ان الواقع من المحامل الاربعۃ ھو الثانی وان کان ابعد بالنظر الی ظاھر
العبارۃاما قول النادرۃ غالب الرأی کالمتحقق قلنانعم ولوکان متحققالم یؤثر لانہ انما تیقن انہ سیقرب لاانہ قریب وبھذا یعوز الاشکال علی تعلیل الھدایۃ لظاھر الروایۃ۔
اقول : وایضا یمکن حملہ علی المحمل الرابع فان من جھل
ہم معنی درمختار میں ہے اور بنایہ میں اس طرح ہے : “ یہ اس وقت ہے جب پانی دور ہو۔ اگر قریب ہو تو تیمم نہ کرے اگرچہ اسے وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو فقیہ ابو جعفر نے فرمایا : اس پر ہمارے تینوں اصحاب وائمہ کا اجماع ہے “ اھ۔ آگے علامہ عینی صاحب بنایہ لکھتے ہیں : “ اور کہاگیا جب اس کے اور اس جگہ کے درمیان جہاں اسے پانی کی امیدہے اس کے آخر تك جو ہم نے درایہ کے حوالہ سے پیش کیا۔ (ت)
اقول : پتا نہیں ان کے کلام “ یہ اس وقت ہے جب پانی دور ہو الخ اور اس کلام میں فرق کیا ہے کہ انہوں نے اس پر تو جزم کیااور قیل(کہا گیا)سے اس کی تمریض وتضعیف کی اور اسے ایك الگ قول بنادیا جب کہ دونوں میں سوائے الفاظ کے کوئی تفاوت نہیں۔ (ت)
اقول : خلاصہ کی عبارت اور بزرگ ائمہ کی تقریرپہلے گزر چکی کہ ظن ویقین اس بارے میں یکساں ہیں۔ اس پر نماز مؤخر کرناواجب نہیں اگرچہ آخر وقت میں پانی ملنے کایقین ہو اور اس روایت نادرہ نے جب ظن کی صورت میں واجب کیاتو یقین تو اس سے بڑھا ہوا ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ امام بخاری کے پیش کردہ چاروں محملوں میں سے واقع محمل دوم ہے اگرچہ ظاہر عبارت کے لحاظ سے بعید تر معلوم ہوتا ہے اب رہا روایت نادرہ سے متعلق یہ قول کہ غالب رائے متحقق کی طرح ہے۔ ہم کہتے ہیں ہاں اور اگر یہ یقینی ومتحقق ہو جب بھی مؤثر نہیں اس لئے کہ اسے صرف اسی بات کا یقین ہواکہ آئندہ وہ قریب ہوگا اس کا نہیں کہ وہ قریب ہے۔ اسی سے ظاہر الروایہ سے متعلق ہدایہ کی تعلیل پر پیش آنے والا اشکال ختم ہوجاتا ہے۔ (ت)اقول : اسے محمل چہارم پر بھی محمول کیاجاسکتا ہے۔ اس لئے کہ جو مسافت سے
المسافۃجازلہ التیمم فی المفاوز وان کان یرجو الوصول الیہ فی اخر الوقت کماقدمناہ انفا عن البدائع وذلك لان المانع عن التیمم ھو قرب الماء یقینا اوظنا غالبا وقد انتفیا والجواب عن دلیل النادرۃ والاشکال علی تعلیل الھدایۃ کماکان لان ھھنا ایضا یباح لہ التیمم وان تیقن الوصول الیہ فی اخرالوقت کما اسلفنا تقریرہ تحت عبارۃ البدائع المذکورۃ الی ھھنا ظھرانحلال الاشکال عن الحکم واستبان الفرق بین مسألتی الرجاء وظن القرب۔
اما تعلیل الھدایۃ فاقول : التأویل٭خیر من التعطیل٭یمکن ان یؤول بان المراد بالیقین ھو الیقین الفقھی الشامل لغلبۃ الظن فلیس المقصود التفرقۃ ھھنا بین الظن والیقن لماعلمت انھما سواء ھھنا علی کلتا الروایتین وانما المعنی انکار ان یکون لہ اثرھھنا وذلك ان العجز ثابت حقیقۃشرعا لانعدام الماء حقیقۃ وظاھرا لعدم الدلیل علی قربہ ان جھل المسافۃ وقیام الدلیل علی عدمہ ان علم اوظن البعد فلایزول حکمہ الثابت شرعا وھو جواز التیمم الابیقین
ناواقف ہو اس کیلئے بیابانوں میں تیمم جائز ہے اگرچہ امید رکھتا ہو کہ آخر وقت میں پانی تك پہنچ جائے گا اسے بدائع کے حوالہ سے ہم ابھی پیش کر آئے اس کی وجہ یہ ہے کہ تیمم سے مانع پانی کا قریب ہونا ہے بطور یقین یا بطور ظن غالب اور یہ دونوں ہی امر یہاں مفقود ہیں۔ اور روایت نادرہ کی دلیل کا جواب اور ہدایہ کی تعلیل پر اشکال جیسے پہلے تھا اب بھی رہے گا۔ اس لئے کہ یہاں بھی تیمم اس کیلئے مباح ہے اگرچہ آخر وقت میں پانی تك پہنچے گااسے یقین ہے جیسا کہ اس کی تقریر ہم بدائع کی مذکورہ عبارت کے تحت کر آئے یہاں تك دو باتیں طے ہوگئیں ایك تو حکم پر جو اشکال تھا اس کا حل واضح ہوگیا دوسرے مسئلہ امید اور مسئلہ ظن قرب کے درمیان فرق روشن ہوگیا۔ (ت)
اب رہا تعلیل ہدایہ کا معاملہ فاقول (تو میں کہتا ہوں) کسی کلام کی تاویل کرنا اسے لغو وبیکار کرنے سے بہتر ہے اس کی یہ تاویل ہوسکتی ہے کہ یقین سے مراد یقین فقہی ہے جو غلبہ ظن کو بھی شامل ہوتا ہے کہ یہاں ظن ویقین کے درمیان فرق کرنا مقصود نہیں اس لئے کہ معلوم ہوچکا کہ یہاں دونوں ہی روایتوں پر ظن ویقین یکساں ہیں مقصود صرف اس بات کا انکار ہے کہ یہاں وہ یقین کچھ اثر انداز ہے وہ اس لئے کہ عجز حقیقۃ ثابت ہے شرعا اس لئے کہ پانی حقیقت میں معدوم اور ظاہرا اس لئے کہ مسافت سے ناآشنائی کی صورت میں پانی کے قریب ہونے پر کوئی دلیل نہیں
اما تعلیل الھدایۃ فاقول : التأویل٭خیر من التعطیل٭یمکن ان یؤول بان المراد بالیقین ھو الیقین الفقھی الشامل لغلبۃ الظن فلیس المقصود التفرقۃ ھھنا بین الظن والیقن لماعلمت انھما سواء ھھنا علی کلتا الروایتین وانما المعنی انکار ان یکون لہ اثرھھنا وذلك ان العجز ثابت حقیقۃشرعا لانعدام الماء حقیقۃ وظاھرا لعدم الدلیل علی قربہ ان جھل المسافۃ وقیام الدلیل علی عدمہ ان علم اوظن البعد فلایزول حکمہ الثابت شرعا وھو جواز التیمم الابیقین
ناواقف ہو اس کیلئے بیابانوں میں تیمم جائز ہے اگرچہ امید رکھتا ہو کہ آخر وقت میں پانی تك پہنچ جائے گا اسے بدائع کے حوالہ سے ہم ابھی پیش کر آئے اس کی وجہ یہ ہے کہ تیمم سے مانع پانی کا قریب ہونا ہے بطور یقین یا بطور ظن غالب اور یہ دونوں ہی امر یہاں مفقود ہیں۔ اور روایت نادرہ کی دلیل کا جواب اور ہدایہ کی تعلیل پر اشکال جیسے پہلے تھا اب بھی رہے گا۔ اس لئے کہ یہاں بھی تیمم اس کیلئے مباح ہے اگرچہ آخر وقت میں پانی تك پہنچے گااسے یقین ہے جیسا کہ اس کی تقریر ہم بدائع کی مذکورہ عبارت کے تحت کر آئے یہاں تك دو باتیں طے ہوگئیں ایك تو حکم پر جو اشکال تھا اس کا حل واضح ہوگیا دوسرے مسئلہ امید اور مسئلہ ظن قرب کے درمیان فرق روشن ہوگیا۔ (ت)
اب رہا تعلیل ہدایہ کا معاملہ فاقول (تو میں کہتا ہوں) کسی کلام کی تاویل کرنا اسے لغو وبیکار کرنے سے بہتر ہے اس کی یہ تاویل ہوسکتی ہے کہ یقین سے مراد یقین فقہی ہے جو غلبہ ظن کو بھی شامل ہوتا ہے کہ یہاں ظن ویقین کے درمیان فرق کرنا مقصود نہیں اس لئے کہ معلوم ہوچکا کہ یہاں دونوں ہی روایتوں پر ظن ویقین یکساں ہیں مقصود صرف اس بات کا انکار ہے کہ یہاں وہ یقین کچھ اثر انداز ہے وہ اس لئے کہ عجز حقیقۃ ثابت ہے شرعا اس لئے کہ پانی حقیقت میں معدوم اور ظاہرا اس لئے کہ مسافت سے ناآشنائی کی صورت میں پانی کے قریب ہونے پر کوئی دلیل نہیں
فقھی مثلہ بان یحصل لہ ظن القرب واذلیس فلیس فانہ لاعبرۃ بظن انہ سیقرب ولاباستیقانہ وانماھذاھوالحاصل فی رجاء الوصول اوتیقنہ دون ظن القرب المانع عن التیمم المعارض للعجزالظاھرفھذا تقریرہ ولیس فی العبارۃ ماینکرہ فوجب الحمل علیہ فقد انحل الاشکال ولله الحمد عن مسألۃ الرجاء حکما وتعلیلا٭
اقول : وتم علی مسألۃ الوعد تفریعا وتاصیلا٭ فمعلوم قطعا بداھۃ ان الوعد لایحصل وانما یرجی وقد نقرر فی المذھب ان راجی الماء یجوز لہ التیمم ولایجب علیہ التأخیر وان زعم الان زاعم ان الوعد محصل للشیئ فی الحال فقد صادم بداھۃ غیر مکذوبۃ وای وعد مثل وعد الله ورسولہ جل وعلا وصلی الله تعالی علیہ وسلم وتلك الجنۃ قدوعدھا المتقون افتراھم دخلوھا الان وتنعما بنعیمھا فی الدنیا وحصلوا الحور اور دوری کا یقین یا ظن غالب ہونے کی صورت میں اس کے عدم پر دلیل موجود ہے۔ تو اس کا حکم جواز تیمم جو شرعا ثابت تھا زائل نہ ہوگا مگر ایسے یقین فقہی سے جو اسی کے مثل ہو اس طرح کہ اسے قرب کا ظن ہوجائے اور جب یہ نہیں تو وہ بھی نہیں (قرب کا ظن نہیں تو حکم عجز کا زوال یعنی عدم جواز تیمم بھی نہیں ۱۲م۔ الف) اس لئے کہ اس کا یہ گمان کا کہ وہ آئندہ قریب ہوجائے گا کوئی اعتبار نہیں نہ ہی اس کے یقین ہی کا کوئی اعتبار ہے اور پانی تك پہنچنے کی امید میں یہی گمان یا یقین پایا جاتا ہے۔ ہر وقت پانی قریب ہونے کا گمان جو تیمم سے مانع اور عجز ظاہر کا معارض ہے یہ نہیں پایا جاتا یہ اس تعلیل سے متعلق تاویل کی تقریر ہوئی اور عبارت میں ایسا کوئی لفظ نہیں جو اس تاویل کی تردید کرتا ہو تو کلام کو اسی پر محمول کرنا لازم ہے۔ خدا ہی کیلئے ساری خوبیاں ہیں اس سے مسئلہ امید کے حکم اور تعلیل دونوں ہی سے متعلق اشکال حل ہوگیا۔ (ت)
اقول : اور تفریع وتاصیل کے لحاظ سے مسئلہ وعدہ یہاں پر تمام ہوا اس لئے کہ قطعا بداہۃ معلوم ہے کہ وعدہ پانی حاصل نہیں کرادیتا۔ پانی حاصل ہونے کی صرف امید پیداکرتا ہے۔ اور مذہب میں یہ طے شدہ ہے کہ پانی کی امید رکھنے والے کیلئے تیمم کرلینا جائز ہے اور اس پر نماز مؤخر کرنا واجب نہیں اب اگر کوئی یہ خیال کرے کہ وعدہ فی الحال شیئ کو حاصل کرادےتا ہے تو وہ ناقابل تکذیب بداہت سے تصادم میں مبتلاہے خدائے بزرگ وبرتر اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے وعدے جیسا کون سا وعدہ ہوسکتا ہے اور متقیوں سے اس
اقول : وتم علی مسألۃ الوعد تفریعا وتاصیلا٭ فمعلوم قطعا بداھۃ ان الوعد لایحصل وانما یرجی وقد نقرر فی المذھب ان راجی الماء یجوز لہ التیمم ولایجب علیہ التأخیر وان زعم الان زاعم ان الوعد محصل للشیئ فی الحال فقد صادم بداھۃ غیر مکذوبۃ وای وعد مثل وعد الله ورسولہ جل وعلا وصلی الله تعالی علیہ وسلم وتلك الجنۃ قدوعدھا المتقون افتراھم دخلوھا الان وتنعما بنعیمھا فی الدنیا وحصلوا الحور اور دوری کا یقین یا ظن غالب ہونے کی صورت میں اس کے عدم پر دلیل موجود ہے۔ تو اس کا حکم جواز تیمم جو شرعا ثابت تھا زائل نہ ہوگا مگر ایسے یقین فقہی سے جو اسی کے مثل ہو اس طرح کہ اسے قرب کا ظن ہوجائے اور جب یہ نہیں تو وہ بھی نہیں (قرب کا ظن نہیں تو حکم عجز کا زوال یعنی عدم جواز تیمم بھی نہیں ۱۲م۔ الف) اس لئے کہ اس کا یہ گمان کا کہ وہ آئندہ قریب ہوجائے گا کوئی اعتبار نہیں نہ ہی اس کے یقین ہی کا کوئی اعتبار ہے اور پانی تك پہنچنے کی امید میں یہی گمان یا یقین پایا جاتا ہے۔ ہر وقت پانی قریب ہونے کا گمان جو تیمم سے مانع اور عجز ظاہر کا معارض ہے یہ نہیں پایا جاتا یہ اس تعلیل سے متعلق تاویل کی تقریر ہوئی اور عبارت میں ایسا کوئی لفظ نہیں جو اس تاویل کی تردید کرتا ہو تو کلام کو اسی پر محمول کرنا لازم ہے۔ خدا ہی کیلئے ساری خوبیاں ہیں اس سے مسئلہ امید کے حکم اور تعلیل دونوں ہی سے متعلق اشکال حل ہوگیا۔ (ت)
اقول : اور تفریع وتاصیل کے لحاظ سے مسئلہ وعدہ یہاں پر تمام ہوا اس لئے کہ قطعا بداہۃ معلوم ہے کہ وعدہ پانی حاصل نہیں کرادیتا۔ پانی حاصل ہونے کی صرف امید پیداکرتا ہے۔ اور مذہب میں یہ طے شدہ ہے کہ پانی کی امید رکھنے والے کیلئے تیمم کرلینا جائز ہے اور اس پر نماز مؤخر کرنا واجب نہیں اب اگر کوئی یہ خیال کرے کہ وعدہ فی الحال شیئ کو حاصل کرادےتا ہے تو وہ ناقابل تکذیب بداہت سے تصادم میں مبتلاہے خدائے بزرگ وبرتر اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے وعدے جیسا کون سا وعدہ ہوسکتا ہے اور متقیوں سے اس
والقصور٭ والالبان والخمور٭ والحریر٭ والسریر٭ ھذہ سفسطۃ ظاھرۃ فاذا کان ھذا فی مواعید العباد٭ وبالجملۃ لم یصل فھمی القاصر الی کنہ ھذہ المسألۃ ولم ارمن تکلم فیھا لکشف خافیھا غیر انہ لیس لنامع نص فی المذھب مجال مقال فالمسألۃ مسلمۃ قطعا لکونھا منصوصا علیھا فی الاصل کماعزاہ لہ فی الخلاصۃ لکن لادلالۃ لھا ولالشیئ مماعلمت من من فروع المذھب وتعلیلا تھا علی کون الوعد یثبت قدرۃ مستندۃ بل الذی لاح من الدلیل یقضی باقتصارھا کما علمت فانا استخیر الله تعالی فیہ وحاش لله لااقطع القول بہ ولااجعلہ حکما وانما اقول کماقلت ھذا ماظھر٭ فلیراجع ولیحرر٭ والله سبحنہ ومولنا والہ وصحبہ وسلم امین۔
جنت کا وعدہ ہوا ہے توکیا وہ ابھی جنت میں داخل ہوگئے اور اس کی آسائشوں کی لذت دنیاہی میں پاگئے اور حور وقصور شیر وشراب ریشم وتخت سب ابھی حاصل کرلئے یہ کھلا ہوا سفسطہ ہے تو جب یہ اس کے وعدہ کا معاملہ ہے جس سے وعدہ خلافی محال ہے تو بندوں کے وعدوں کا کیا حال ہوگا۔ المختصر میرافہم قاصر اس مسئلہ کی تہ تك نہ پہنچ سکا نہ ہی کوئی ایسا نظر آتا جس نے اس مسئلہ کا راز سربستہ کھولنے کیلئے اس میں کلام کیا ہو مگر یہ نص مذہب ہوتے ہوئے ہمیں مجال کلام نہیں۔ مسئلہ تو قطعا مسلم ہے کیوں کہ اصل میں اس پر نص موجود ہے جیسا کہ خلاصہ نے اس کا حوالہ دیا لیکن یہ مسئلہ اور مذہب کے جتنے بھی مسائل وجزئیات اور ان کی تعلیلات میرے علم میں آئیں کسی کی کوئی دلالت اس پر نہیں کہ وعدہ سے قدرت مستندہ ثابت ہوتی ہے کہ بلکہ دلیل سے جو کچھ ظاہر ہوا وہ اسی کا مقتضی ہے کہ اس سے قدرت مقتصرہ ثابت ہوگی جیساکہ (تنبیہ سوم کے شروع میں)معلوم ہوا۔ تومیں خداتعالی سے اس بارے میں استخارہ کرتا ہوں اور خدا ہی کیلئے پاکی ہے میں اس بارے میں قطعی قول نہیں کرتا نہ ہی اسے کوئی حکم قرار دیتا۔ میں اب بھی وہی کہتا ہوں جو پہلے کہہ چکاکہ یہ وہ ہے کہ جو میرے ذہن میں آیا تو اس کی مراجعت اور تنقیح وتحقیق کی ضرورت ہے اور خدائے پاك وبرتر ہی خوب جاننے والا ہے۔ اور اللہتعالی درود وسلام نازل فرمائے ہمارے آقا ومولی اور ان کی آل واصحاب پر الہی! قبول فرما۔ (ت)
تنبیہ چہارم : اقول : ۱ ظاہرا وعدہ کی مثبت قدرت ماناگیا ہے اس میں شرط ہے کہ یا تو مطلق ہو مثلا دوں گا یا وقت حاضر سے مقید مثلا ابھی دیتا ہوں نہ وہ کہ وقت آئندہ سے مقید ہو مثلا کل دوں گا یا
جنت کا وعدہ ہوا ہے توکیا وہ ابھی جنت میں داخل ہوگئے اور اس کی آسائشوں کی لذت دنیاہی میں پاگئے اور حور وقصور شیر وشراب ریشم وتخت سب ابھی حاصل کرلئے یہ کھلا ہوا سفسطہ ہے تو جب یہ اس کے وعدہ کا معاملہ ہے جس سے وعدہ خلافی محال ہے تو بندوں کے وعدوں کا کیا حال ہوگا۔ المختصر میرافہم قاصر اس مسئلہ کی تہ تك نہ پہنچ سکا نہ ہی کوئی ایسا نظر آتا جس نے اس مسئلہ کا راز سربستہ کھولنے کیلئے اس میں کلام کیا ہو مگر یہ نص مذہب ہوتے ہوئے ہمیں مجال کلام نہیں۔ مسئلہ تو قطعا مسلم ہے کیوں کہ اصل میں اس پر نص موجود ہے جیسا کہ خلاصہ نے اس کا حوالہ دیا لیکن یہ مسئلہ اور مذہب کے جتنے بھی مسائل وجزئیات اور ان کی تعلیلات میرے علم میں آئیں کسی کی کوئی دلالت اس پر نہیں کہ وعدہ سے قدرت مستندہ ثابت ہوتی ہے کہ بلکہ دلیل سے جو کچھ ظاہر ہوا وہ اسی کا مقتضی ہے کہ اس سے قدرت مقتصرہ ثابت ہوگی جیساکہ (تنبیہ سوم کے شروع میں)معلوم ہوا۔ تومیں خداتعالی سے اس بارے میں استخارہ کرتا ہوں اور خدا ہی کیلئے پاکی ہے میں اس بارے میں قطعی قول نہیں کرتا نہ ہی اسے کوئی حکم قرار دیتا۔ میں اب بھی وہی کہتا ہوں جو پہلے کہہ چکاکہ یہ وہ ہے کہ جو میرے ذہن میں آیا تو اس کی مراجعت اور تنقیح وتحقیق کی ضرورت ہے اور خدائے پاك وبرتر ہی خوب جاننے والا ہے۔ اور اللہتعالی درود وسلام نازل فرمائے ہمارے آقا ومولی اور ان کی آل واصحاب پر الہی! قبول فرما۔ (ت)
تنبیہ چہارم : اقول : ۱ ظاہرا وعدہ کی مثبت قدرت ماناگیا ہے اس میں شرط ہے کہ یا تو مطلق ہو مثلا دوں گا یا وقت حاضر سے مقید مثلا ابھی دیتا ہوں نہ وہ کہ وقت آئندہ سے مقید ہو مثلا کل دوں گا یا
شام کو لینایا گھنٹہ بھر بعدملے گا اور وقت میں نصف ہی گھنٹہ ہے ایسا وعدہ اصلا مثبت قدرت نہ ہوگا قبل نماز ہو یا بعد کہ وہ حقیقۃ دو۲ چیزوں سے مرکب ہے وقت حاضر میں منع اور وقت آئندہ کیلئے امید دلانا تو وقت حاضر کیلئے منع ہی ہوا نہ وعدہ ورنہ لازم ہوکہ اگر وہ کہے دس برس بعد دوں گا تو دس برس تك اسے نماز سے معطل رہنے کا حکم ہو کماتقدم تقریرہ فی التنبیہ الثانی وھذاظاھرجدا (جیسا کہ تنبیہ دوم میں اس کی تقریر پیش ہوئی اور یہ بہت واضح ہے۔ ت)
بالجملہ ایسا وعدہ بنظر وقت حاضر منع ہے تو اگر پہلے ظن عطا تھا اس کی خطا ثابت ہوگی اور ظن منع تھا تو اس کی تصدیق ہوگی اور شك تھا تو علم منع سے بدل جائے گا والله تعالی اعلم اس وعدے کا نام وعد ابائی رکھئے اور مطلق یامقید بوقت حاضر کا نام وعد رجائی۔
تنبیہ پنجم : اقول : ۱ وعدہ رجائی اگر قبل نماز ہو ضرور مطلقا مؤثر ہے اگر تیمم سے پہلے ہے تیمم کا مانع ہوگا اور بعدہے تو اس کا ناقض اور عین نماز میں ہے تو اس کا مبطل اگرچہ وفا ہو یا نہ ہو یعنی وقت گزر جائے اور پانی نہ دے کہ ہمارے ائمہ نے انتظار واجب فرمایااگرچہ وقت نکل جائے لیکن۲ اگر یہ وعدہ بعد نماز ہو خواہ یوں کہ اس نے مانگا ہی بعد یا اصلا نہ مانگا اور اس نے بطور خود وعدہ کرلیایہاں دو۲ صورتیں ہیں اگر وقت کے اندر دے دیا ضرور اعادہ نماز کرے گا۔
فان العطاء فی الوقت مبطل مطلقا ولوبلا وعد ومازادہ الوعد الاتأییدا۔
فان قلت کیف ولایخلوا لوعد عن منع فی الحال لان حاصلہ لااعطیك الان بل بعد حین فان من یجیب من فورہ فیم یعد فھذا عطاء بعداباء فلایعتبر۔ اقول : الوعد لوقت الحاجۃ لایعد منعاعرفاولاشرعا فمن حلف(۳) لایمنع زیدا کذا فسألہ زید
اس لئے کہ وقت میں دے دینا مطلقا باطل کردیتا ہے اگرچہ بلاوعدہ ہو۔ وعدہ بھی ہوا تو اس کی اور زیادہ تائید ہی ہوئی۔ (ت)اگر یہ سوال ہو کہ یہ کیسے جب کہ وعدہ حال میں منع سے خالی نہیں ہوتا اس لئے کہ اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ تم کو ابھی نہ دوں گا کچھ بعد میں دوں گا کیونکہ جو فورا کام کردے وہ وعدہ کس بات کا کرے گا۔ تو یہ انکار کے بعد دیناہے لہذا اس کا اعتبار نہ ہوگا۔ (ت)اقول : (جوابا میں کہوں گا)ضرورت کے وقت دینے کا وعدہ عرفا منع نہیں شمار ہوگا نہ ہی شرعا۔ اگر کسی نے قسم کھائی زید سے فلاں چیز
بالجملہ ایسا وعدہ بنظر وقت حاضر منع ہے تو اگر پہلے ظن عطا تھا اس کی خطا ثابت ہوگی اور ظن منع تھا تو اس کی تصدیق ہوگی اور شك تھا تو علم منع سے بدل جائے گا والله تعالی اعلم اس وعدے کا نام وعد ابائی رکھئے اور مطلق یامقید بوقت حاضر کا نام وعد رجائی۔
تنبیہ پنجم : اقول : ۱ وعدہ رجائی اگر قبل نماز ہو ضرور مطلقا مؤثر ہے اگر تیمم سے پہلے ہے تیمم کا مانع ہوگا اور بعدہے تو اس کا ناقض اور عین نماز میں ہے تو اس کا مبطل اگرچہ وفا ہو یا نہ ہو یعنی وقت گزر جائے اور پانی نہ دے کہ ہمارے ائمہ نے انتظار واجب فرمایااگرچہ وقت نکل جائے لیکن۲ اگر یہ وعدہ بعد نماز ہو خواہ یوں کہ اس نے مانگا ہی بعد یا اصلا نہ مانگا اور اس نے بطور خود وعدہ کرلیایہاں دو۲ صورتیں ہیں اگر وقت کے اندر دے دیا ضرور اعادہ نماز کرے گا۔
فان العطاء فی الوقت مبطل مطلقا ولوبلا وعد ومازادہ الوعد الاتأییدا۔
فان قلت کیف ولایخلوا لوعد عن منع فی الحال لان حاصلہ لااعطیك الان بل بعد حین فان من یجیب من فورہ فیم یعد فھذا عطاء بعداباء فلایعتبر۔ اقول : الوعد لوقت الحاجۃ لایعد منعاعرفاولاشرعا فمن حلف(۳) لایمنع زیدا کذا فسألہ زید
اس لئے کہ وقت میں دے دینا مطلقا باطل کردیتا ہے اگرچہ بلاوعدہ ہو۔ وعدہ بھی ہوا تو اس کی اور زیادہ تائید ہی ہوئی۔ (ت)اگر یہ سوال ہو کہ یہ کیسے جب کہ وعدہ حال میں منع سے خالی نہیں ہوتا اس لئے کہ اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ تم کو ابھی نہ دوں گا کچھ بعد میں دوں گا کیونکہ جو فورا کام کردے وہ وعدہ کس بات کا کرے گا۔ تو یہ انکار کے بعد دیناہے لہذا اس کا اعتبار نہ ہوگا۔ (ت)اقول : (جوابا میں کہوں گا)ضرورت کے وقت دینے کا وعدہ عرفا منع نہیں شمار ہوگا نہ ہی شرعا۔ اگر کسی نے قسم کھائی زید سے فلاں چیز
فوعدہ لوقت حاجتہ لایحنث قطعا وبہ تبین ان الوعد غیرالعطاء ایضا فلو(۱)حلف لایعطی لایحنث بمجرد الوعد ایضافھوامربین بین فکما لاتثبت ایضا احکام العطأ بل الرجاء کماذکرنا ولکن العبرۃ بالمنقول وان لم یظھر للعقول۔
کا انکار نہ کروں گا۔ اب زید نے اس سے وہ چیز طلب کی۔ اس نے وعدہ کیا کہ جب ضرورت ہوگی دے دوں گا تو ہرگز اس کی قسم نہ ٹوٹے گی۔ اسی سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ وعدہ اور ہے دینا اور۔ اگر قسم کھائی کہ فلاں چیز اسے نہ دے گا تو صرف وعدہ کرنے سے اس کی قسم نہ ٹوٹے گی۔ وعدہ ایك درمیانی امر ہے تو جیسے اس کیلئے منع کے احکام ثابت نہ ہوں گے ایسے ہی عطا کے احکام بھی نہ ثابت ہوں گے بلکہ رجا کے جیساکہ ہم نے بیان کیا۔ لیکن اعتبار منقول کا ہے اگرچہ عقلوں پر واضح نہ ہو۔ (ت)
اور اگر وقت میں نہ دیا تو دوصورتیں ہیں یا تو اس کا خلف ظاہر ہوگا کہ وقت گزر گیا اور قصدا نہ دیا تو یہ وعدہ مؤثر نہ ہوگا۔
لانہ لم یعط ومااعطاہ الوعد من ظن الاعطاء زال بالخلاف ولاعبرۃ بالظن البین خطؤہ فان کان قبلہ یظن عطاء فقد خاب اومنعا فقدصدق اویشك فتبدل بعلم المنع۔
اس لئے کہ اس نے دیا نہیں اور وعدہ نے جو ظن عطا بخشا تھا وہ وعدہ خلافی سے ختم ہوگیا اور ایسے گمان کا اعتبار نہیں جس کی غلطی واضح ہو۔ اگر پہلے اسے عطا کا گمان تھا تو وہ ناکام ہوا یا منع کا گمان تھا تو سچ ہوا یا شك تھا تو وہ منع کے یقین سے بدل گیا۔ (ت)
اور اگر اس کا خلف ظاہر نہ ہوا مثلا وعدہ یوں تھا کہ دو۲ گھڑی بعد آکر لے جانایہ نہ گیا وقت کے اندر اسے یا اسے کہیں جانے کی ضرورت لاحق ہوئی یوں افتراق ہوگیا اور نہ دے سکا تو اس صورت میں ظاہر یہ ہے والله تعالی اعلم کہ مطلقا اعادہ نماز کا حکم ہو۔
فان الحقیقۃ بقیت فی السترفدارالامرعلی الظن فان کان یظن العطاء فقدتضاعف بالوعدوان کان یظن المنع فقد تضعف بل اضمحل بہ لان الوعد یورث ظن العطاء قطعا کماقال الامام محمد ان
اس لئے کہ حقیقت توروپوش ہی رہ گئی اس لئے مدار امر ظن پر ہوا اب اگر اسے عطا کا گمان تھا تو وہ وعدہ سے اور بڑھ گیا اور اگر منع کا گمان تھا تو وہ اس سے ضعیف بلالکہ مضمحل ہوگیا اس لئے کہ وعدہ بلاشبہہ ظن عطا پیدا کرتا ہے جیسا کہ
کا انکار نہ کروں گا۔ اب زید نے اس سے وہ چیز طلب کی۔ اس نے وعدہ کیا کہ جب ضرورت ہوگی دے دوں گا تو ہرگز اس کی قسم نہ ٹوٹے گی۔ اسی سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ وعدہ اور ہے دینا اور۔ اگر قسم کھائی کہ فلاں چیز اسے نہ دے گا تو صرف وعدہ کرنے سے اس کی قسم نہ ٹوٹے گی۔ وعدہ ایك درمیانی امر ہے تو جیسے اس کیلئے منع کے احکام ثابت نہ ہوں گے ایسے ہی عطا کے احکام بھی نہ ثابت ہوں گے بلکہ رجا کے جیساکہ ہم نے بیان کیا۔ لیکن اعتبار منقول کا ہے اگرچہ عقلوں پر واضح نہ ہو۔ (ت)
اور اگر وقت میں نہ دیا تو دوصورتیں ہیں یا تو اس کا خلف ظاہر ہوگا کہ وقت گزر گیا اور قصدا نہ دیا تو یہ وعدہ مؤثر نہ ہوگا۔
لانہ لم یعط ومااعطاہ الوعد من ظن الاعطاء زال بالخلاف ولاعبرۃ بالظن البین خطؤہ فان کان قبلہ یظن عطاء فقد خاب اومنعا فقدصدق اویشك فتبدل بعلم المنع۔
اس لئے کہ اس نے دیا نہیں اور وعدہ نے جو ظن عطا بخشا تھا وہ وعدہ خلافی سے ختم ہوگیا اور ایسے گمان کا اعتبار نہیں جس کی غلطی واضح ہو۔ اگر پہلے اسے عطا کا گمان تھا تو وہ ناکام ہوا یا منع کا گمان تھا تو سچ ہوا یا شك تھا تو وہ منع کے یقین سے بدل گیا۔ (ت)
اور اگر اس کا خلف ظاہر نہ ہوا مثلا وعدہ یوں تھا کہ دو۲ گھڑی بعد آکر لے جانایہ نہ گیا وقت کے اندر اسے یا اسے کہیں جانے کی ضرورت لاحق ہوئی یوں افتراق ہوگیا اور نہ دے سکا تو اس صورت میں ظاہر یہ ہے والله تعالی اعلم کہ مطلقا اعادہ نماز کا حکم ہو۔
فان الحقیقۃ بقیت فی السترفدارالامرعلی الظن فان کان یظن العطاء فقدتضاعف بالوعدوان کان یظن المنع فقد تضعف بل اضمحل بہ لان الوعد یورث ظن العطاء قطعا کماقال الامام محمد ان
اس لئے کہ حقیقت توروپوش ہی رہ گئی اس لئے مدار امر ظن پر ہوا اب اگر اسے عطا کا گمان تھا تو وہ وعدہ سے اور بڑھ گیا اور اگر منع کا گمان تھا تو وہ اس سے ضعیف بلالکہ مضمحل ہوگیا اس لئے کہ وعدہ بلاشبہہ ظن عطا پیدا کرتا ہے جیسا کہ
الظاھر الوفاء ولاامکان لتعلق الظن الغالب بکلاالطرفین فاذا حدث ظن العطاء فقد زال ظن المنع وکذا الشك لان الرجحان یبطل التساوی فلم یبق ماتبنی علیہ صحۃ صلاتہ والاصل فی الماء الاباحۃ وقد تبین ان التقصیر منہ لترکہ السؤال لاجل ظن منع اوشك ظھر کونھما فی غیر المحل فتعاد الصلاۃ لتقع البراء ۃ بیقین٭ فان الصلاۃ من اجل مایحتاط لہ فی الدین٭ ھذاما ظھرلی والعلم بالحق عند الحق المبین۔
وبالجملۃ لقدطال الکلام فی ھذہ المسألۃ الثامنۃ ولعمری لم یخل عن فائدۃ عائدۃ بل اشتمل ولوجہ ربی الحمد علی غرر درر لم تنظم ببنان البیان٭ ونفائس عرائس لم یطمثھن انس قبلی ولاجان٭وحاصل ماقررنا فیہ ان الوعد الابائی لایؤثر مطلقا والرجائی مؤثر مطلقا الا اذاکان بعد الصلاۃ وظھر خلفہ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا کہ “ ظاہر وفا ہے “ اور یہ ممکن نہیں کہ ظن غالب کا تعلق دونوں ہی جانب سے ہو۔ تو جب ظن عطا پیدا ہوگا ظن منع ختم ہوجائے گا۔ یہی حال شك کا ہے اس لئے کہ جب ایك طرف رجحان پیدا ہوگا تو وہ دونوں جانب کی باہمی مساوات باطل کردے گا۔ اب ایسا کوئی امر باقی نہ رہا جس پر اس کی نماز کی صحت کی بنیاد رکھی جاسکے۔ اور پانی میں اصل اباحت ہے۔ اور واضح ہوگیا کہ کوتاہی اس کی ہے کہ اس نے سوال ہی نہ کیا اس ظن سے یا شك کے باعث جن(دونوں)کا بے جا ہونا عیاں ہوگیا تو نماز کا اعادہ کرنا ہوگا تاکہ یقینی طور پر عہدہ بر آ ہوجائے اس لئے کہ دین کے جن کاموں میں احتیاط برتی جاتی ہے ان میں نماز سب سے بزرگ ہے۔ یہ وہ ہے جو میرے ذہن میں آیا اور حق کا علم حق مبین کو ہے۔ بالجملہ اس آٹھویں مسئلہ میں کلام طویل ہوگیا مگر نفع بخش فائدے سے خالی نہ رہا بب لکہ ایسے آبدار گوہروں پر مشتمل ہوا جو کبھی انگشت بیان سے پر وئے نہ گئے اور ایسی نفیس وحسین عروسوں پر جنہیں مجھ سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا نہ کسی جن نے۔ اور ساری حمد میرے رب کی ذات کیلئے ہے۔ اور اس بارے میں ہم نے جو کچھ ثابت کیا اس کا حاصل یہ ہوا کہ وعدہ ابائی مطلقا بے اثر ہے اور وعدہ رجائی مطلقا مؤثر ہے مگر جب کہ ادائے نماز کے بعد ہو اور اس کا خلف ظاہر ہوجائے۔ اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
یہ تمام مباحث وہ ہیں کہ ذہن فقیر پر فیض قدیر سے القا ہوئے۔ ہزار ہزار حسرت کہ کتب حاضرہ میں ان میں سے کسی صورت سے اصلا تعرض نہ پایا یہی حال آئندہ مسئلہ سکوت کاہے ناچار دونوں میں
وبالجملۃ لقدطال الکلام فی ھذہ المسألۃ الثامنۃ ولعمری لم یخل عن فائدۃ عائدۃ بل اشتمل ولوجہ ربی الحمد علی غرر درر لم تنظم ببنان البیان٭ ونفائس عرائس لم یطمثھن انس قبلی ولاجان٭وحاصل ماقررنا فیہ ان الوعد الابائی لایؤثر مطلقا والرجائی مؤثر مطلقا الا اذاکان بعد الصلاۃ وظھر خلفہ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا کہ “ ظاہر وفا ہے “ اور یہ ممکن نہیں کہ ظن غالب کا تعلق دونوں ہی جانب سے ہو۔ تو جب ظن عطا پیدا ہوگا ظن منع ختم ہوجائے گا۔ یہی حال شك کا ہے اس لئے کہ جب ایك طرف رجحان پیدا ہوگا تو وہ دونوں جانب کی باہمی مساوات باطل کردے گا۔ اب ایسا کوئی امر باقی نہ رہا جس پر اس کی نماز کی صحت کی بنیاد رکھی جاسکے۔ اور پانی میں اصل اباحت ہے۔ اور واضح ہوگیا کہ کوتاہی اس کی ہے کہ اس نے سوال ہی نہ کیا اس ظن سے یا شك کے باعث جن(دونوں)کا بے جا ہونا عیاں ہوگیا تو نماز کا اعادہ کرنا ہوگا تاکہ یقینی طور پر عہدہ بر آ ہوجائے اس لئے کہ دین کے جن کاموں میں احتیاط برتی جاتی ہے ان میں نماز سب سے بزرگ ہے۔ یہ وہ ہے جو میرے ذہن میں آیا اور حق کا علم حق مبین کو ہے۔ بالجملہ اس آٹھویں مسئلہ میں کلام طویل ہوگیا مگر نفع بخش فائدے سے خالی نہ رہا بب لکہ ایسے آبدار گوہروں پر مشتمل ہوا جو کبھی انگشت بیان سے پر وئے نہ گئے اور ایسی نفیس وحسین عروسوں پر جنہیں مجھ سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا نہ کسی جن نے۔ اور ساری حمد میرے رب کی ذات کیلئے ہے۔ اور اس بارے میں ہم نے جو کچھ ثابت کیا اس کا حاصل یہ ہوا کہ وعدہ ابائی مطلقا بے اثر ہے اور وعدہ رجائی مطلقا مؤثر ہے مگر جب کہ ادائے نماز کے بعد ہو اور اس کا خلف ظاہر ہوجائے۔ اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
یہ تمام مباحث وہ ہیں کہ ذہن فقیر پر فیض قدیر سے القا ہوئے۔ ہزار ہزار حسرت کہ کتب حاضرہ میں ان میں سے کسی صورت سے اصلا تعرض نہ پایا یہی حال آئندہ مسئلہ سکوت کاہے ناچار دونوں میں
ان ابحاث کی احتیاج نے منہ دکھایا یاحاشا احکام میں رائے زنی نہ ہمارامنصب نہ اس پر اعتبارتتبع اسفار وتلاحق انظار اولی الابصار ضرور درکار۔
والله المستعان٭ وعلیہ التکلان٭ ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم وصلی الله تعالی علی سیدنا مولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین امین۔
اور خدا ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے اور اسی پر بھروسہ ہے اور کوئی طاقت وقوت نہیں مگر خدائے برتر و باعظمت ہی سے۔ اور اللہتعالی رحمت نازل فرمائے ہمارے آقا ومولی محمد اور ان کی آل واصحاب سب پر الہی قبول فرما۔ (ت)
مسئلہ ۹ منع یعنی دینے سے انکار دو۲ قسم ہے ایك صراحۃ کہ صاف کہہ دے نہ دوں گا یا اور الفاظ کہ ان معنی کو مؤدی ہوں۔
اقول : منع ابائی کہ ہم نے ابھی تنبیہ چہارم میں ذکر کیا اسی قسم میں ہے کہ وہ خاص مدلول کلام ہے۔ دوسرا دلالۃ یعنی اور کوئی امر کہ منع پر دلالت کرے۔ درمختار میں اس کی مثال استہلاك سے دی یعنی پانی خرچ کرلینایا پھینك دینا کہ اب دینے کی صلاحیت ہی نہ رہی۔
حیث قال یطلبہ ممن ھو معہ فان منعہ ولودلالۃ بان استھلکہ تیمم
ان کے الفاظ یہ ہیں : “ پانی اپنے ساتھی سے طلب کرے گا اگر وہ انکار کرے اگرچہ دلالۃ اس طرح کہ وہ پانی ختم کر ڈالے تو تیمم کرے “ ۔ (ت)
یونہی اگر بعض خرچ کردیا اور باقی طہارت مطلوبہ کو کافی نہ رہا طحطاوی میں ہے :
اواستھلك البعض والباقی غیرکاف ۔
یاکچھ ختم کر ڈالا اور جو بچا وہ ناکافی ہے۔ (ت)
اقول : مطلوب کی قید ہم نے اس لئے لگائی کہ اگر نہا چکااور مثلا پیٹھ پر اتنی جگہ خشك رہی جسے ایك چلو پانی درکار ہے تو اگر ایك ہی چلو باقی ہے طہارت غسل کو کافی ہے اور اگر پورا نہانا ہے تو آدھا گھڑا بھی کافی نہیں۔ اور اگر اس نے مانگا اور اس نے اسے نہ دیا زید کو دے دیا تو یہ بھی حکما استہلاك اور دلالۃ منع ہوگا یا نہیں۔
اقول : لم ارہ واذکر ماظھرلی
اقول : یہ میری نظر سے نہ گزرا اب
والله المستعان٭ وعلیہ التکلان٭ ولاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم وصلی الله تعالی علی سیدنا مولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین امین۔
اور خدا ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے اور اسی پر بھروسہ ہے اور کوئی طاقت وقوت نہیں مگر خدائے برتر و باعظمت ہی سے۔ اور اللہتعالی رحمت نازل فرمائے ہمارے آقا ومولی محمد اور ان کی آل واصحاب سب پر الہی قبول فرما۔ (ت)
مسئلہ ۹ منع یعنی دینے سے انکار دو۲ قسم ہے ایك صراحۃ کہ صاف کہہ دے نہ دوں گا یا اور الفاظ کہ ان معنی کو مؤدی ہوں۔
اقول : منع ابائی کہ ہم نے ابھی تنبیہ چہارم میں ذکر کیا اسی قسم میں ہے کہ وہ خاص مدلول کلام ہے۔ دوسرا دلالۃ یعنی اور کوئی امر کہ منع پر دلالت کرے۔ درمختار میں اس کی مثال استہلاك سے دی یعنی پانی خرچ کرلینایا پھینك دینا کہ اب دینے کی صلاحیت ہی نہ رہی۔
حیث قال یطلبہ ممن ھو معہ فان منعہ ولودلالۃ بان استھلکہ تیمم
ان کے الفاظ یہ ہیں : “ پانی اپنے ساتھی سے طلب کرے گا اگر وہ انکار کرے اگرچہ دلالۃ اس طرح کہ وہ پانی ختم کر ڈالے تو تیمم کرے “ ۔ (ت)
یونہی اگر بعض خرچ کردیا اور باقی طہارت مطلوبہ کو کافی نہ رہا طحطاوی میں ہے :
اواستھلك البعض والباقی غیرکاف ۔
یاکچھ ختم کر ڈالا اور جو بچا وہ ناکافی ہے۔ (ت)
اقول : مطلوب کی قید ہم نے اس لئے لگائی کہ اگر نہا چکااور مثلا پیٹھ پر اتنی جگہ خشك رہی جسے ایك چلو پانی درکار ہے تو اگر ایك ہی چلو باقی ہے طہارت غسل کو کافی ہے اور اگر پورا نہانا ہے تو آدھا گھڑا بھی کافی نہیں۔ اور اگر اس نے مانگا اور اس نے اسے نہ دیا زید کو دے دیا تو یہ بھی حکما استہلاك اور دلالۃ منع ہوگا یا نہیں۔
اقول : لم ارہ واذکر ماظھرلی
اقول : یہ میری نظر سے نہ گزرا اب
حوالہ / References
درمختار ، باب التیمم ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۴۴
طحطاوی علی الدرالمختار باب التیمم مطبوعہ بیروت ، ۱ / ۱۳۲
طحطاوی علی الدرالمختار باب التیمم مطبوعہ بیروت ، ۱ / ۱۳۲
بتوفیقہ جل وعلا وارجو ان یکون صوابا ان شاء الله تعالی۔
میں وہ بیان کرتا ہوں جو خدائے بزرگ وبرتر کی توفیق سے مجھ پر ظاہر ہوا اور مجھے امید ہے کہ اگر خدائے برتر نے چاہا تو درست ہی ہوگا۔ (ت)
اگر۱ دوسرے کو اباحۃ دے دیا تو یہ منع ہے کہ صاف معلوم ہواکہ اسے دینا نہ چاہا اور جسے مباح کیا وہ اسے دے نہیں سکتاکہ وہ اباحت سے مالك نہ ہوا اور اگر اس کے ہاتھ ہبہ تامہ بیع کردیا تو اگرچہ یہ اس خاص شخص کی طرف سے منع ہوامگر یہ مسئلہ کہ دوسرے کے پاس پانی پایا بدستور متوجہ ہے کہ اب جو اس کا مالك ہوا اگر ظن غالب ہوکر یہ مانگے سے دے دےگا تو اس سے مانگنا واجب ورنہ نہیں اور اب اس کے عطا ومنع میں وہ سب احکام عود کریں گے والله تعالی اعلم۔
ثم اقول : ظاہرا بلکہ ان شاء الله المولی تعالی یقینا منع۲ دلالۃ کی تیسری صورت سکوت بھی ہے اس نے مانگا اور اس نے صاف انکار تونہ کیا مگر چپ رہا تو حاجت کے وقت سکوت سے یہی سمجھا جائےگا کہ دینا منظور نہیں
وقد تقدم قولھم فی من سألۃ المتیمم عن الماء فلم یخبرہ وھو یشمل السکوت وقد عبر منہ فی الحلیۃ بالاباء۔
حضرات علماء کرام کا کلام اس سے متعلق گزر چکا جس سے تیمم والے نے پانی کے بارے میں پوچھا تو اس نے خبر نہ دی یہ صورت سکوت کو بھی شامل ہے اور حلیہ میں اس کی تعبیر انکار سے کی ہے۔ (ت)
اس۳ کی نظیر سکوت مدعا علیہ ہے جب بطلب مدعی اس پر حلف متوجہ ہوا اور قاضی نے اس سے حلف طلب کیا وہ چپ رہا یہ سکوت انکار سمجھا جائےگا جبکہ نہ سننے یانہ بول سکنے کے باعث نہ ہو ولہذا۴ مستحب ہے کہ قاضی اس سے تین بار کہے اگر سکوت کرے حلف سے نکول ٹھہرا کر مدعی کو ڈگری دے دے تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
(قضی) القاضی (علیہ بنکولہ مرۃ) حقیقۃ (بقولہ لااحلف او) حکما کأن (سکت من غیر افۃ) کخرس وطرش فی الصحیح سراج وعرض الیمین ثلثا ثم القضاء احوط اھ قال ش ای ندبا ۔
قاضی(قسم سے ایك بار انکار کی وجہ سے اس کے خلاف فیصلہ دے دے گا) یہ انکار حقیقۃ ہو(اس طرح کہ وہ کہے میں قسم نہ کھاؤں گا یا) حکماہو مثلا وہ گونگے پن اور بہرے پن جیسی کسی معذوری و(آفت کے بغیر خاموش رہے)یہی صحیح قول ہے۔
میں وہ بیان کرتا ہوں جو خدائے بزرگ وبرتر کی توفیق سے مجھ پر ظاہر ہوا اور مجھے امید ہے کہ اگر خدائے برتر نے چاہا تو درست ہی ہوگا۔ (ت)
اگر۱ دوسرے کو اباحۃ دے دیا تو یہ منع ہے کہ صاف معلوم ہواکہ اسے دینا نہ چاہا اور جسے مباح کیا وہ اسے دے نہیں سکتاکہ وہ اباحت سے مالك نہ ہوا اور اگر اس کے ہاتھ ہبہ تامہ بیع کردیا تو اگرچہ یہ اس خاص شخص کی طرف سے منع ہوامگر یہ مسئلہ کہ دوسرے کے پاس پانی پایا بدستور متوجہ ہے کہ اب جو اس کا مالك ہوا اگر ظن غالب ہوکر یہ مانگے سے دے دےگا تو اس سے مانگنا واجب ورنہ نہیں اور اب اس کے عطا ومنع میں وہ سب احکام عود کریں گے والله تعالی اعلم۔
ثم اقول : ظاہرا بلکہ ان شاء الله المولی تعالی یقینا منع۲ دلالۃ کی تیسری صورت سکوت بھی ہے اس نے مانگا اور اس نے صاف انکار تونہ کیا مگر چپ رہا تو حاجت کے وقت سکوت سے یہی سمجھا جائےگا کہ دینا منظور نہیں
وقد تقدم قولھم فی من سألۃ المتیمم عن الماء فلم یخبرہ وھو یشمل السکوت وقد عبر منہ فی الحلیۃ بالاباء۔
حضرات علماء کرام کا کلام اس سے متعلق گزر چکا جس سے تیمم والے نے پانی کے بارے میں پوچھا تو اس نے خبر نہ دی یہ صورت سکوت کو بھی شامل ہے اور حلیہ میں اس کی تعبیر انکار سے کی ہے۔ (ت)
اس۳ کی نظیر سکوت مدعا علیہ ہے جب بطلب مدعی اس پر حلف متوجہ ہوا اور قاضی نے اس سے حلف طلب کیا وہ چپ رہا یہ سکوت انکار سمجھا جائےگا جبکہ نہ سننے یانہ بول سکنے کے باعث نہ ہو ولہذا۴ مستحب ہے کہ قاضی اس سے تین بار کہے اگر سکوت کرے حلف سے نکول ٹھہرا کر مدعی کو ڈگری دے دے تنویر الابصار ودرمختار میں ہے :
(قضی) القاضی (علیہ بنکولہ مرۃ) حقیقۃ (بقولہ لااحلف او) حکما کأن (سکت من غیر افۃ) کخرس وطرش فی الصحیح سراج وعرض الیمین ثلثا ثم القضاء احوط اھ قال ش ای ندبا ۔
قاضی(قسم سے ایك بار انکار کی وجہ سے اس کے خلاف فیصلہ دے دے گا) یہ انکار حقیقۃ ہو(اس طرح کہ وہ کہے میں قسم نہ کھاؤں گا یا) حکماہو مثلا وہ گونگے پن اور بہرے پن جیسی کسی معذوری و(آفت کے بغیر خاموش رہے)یہی صحیح قول ہے۔
حوالہ / References
الدرالمختار مع الشامی کتاب الدعوٰی مطبع مصطفی البابی مصر ۴ / ۴۷۱
ردالمحتار کتاب الدعوٰی مطبع مصطفی البابی مصر ۴ / ۴۷۲
ردالمحتار کتاب الدعوٰی مطبع مصطفی البابی مصر ۴ / ۴۷۲
سراج۔ اور تین بار قسم پیش کرنا پھر فیصلہ دینا زیادہ محتاط طریقہ ہے اھ۔ علامہ شامی نے فرمایا : یعنی استحبابا۔ (ت)
اقول : مگر استعمال۱ قرائن ضرور ہے وہ اس وقت وحالت سائل ومسئول عنہ اور ان کے تعلقات سے ان پر ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ تو سکوت ہے قول صریح میں استعمال قرائن لازم ہے ایك ہی بات حرف بحرف ایك ہی جملہ اور اس سے کبھی اقرار مفہوم ہوتا ہے کبھی انکار۔ زید۲ نے عمرو سے کہا تو نے اپنی عورت کو طلاق دی اس نے نرم آواز ودبے لہجے سے کہامیں نے طلاق دی۔ یہ اقرار ہے طلاق ہوگئی اور اگر اس نے ترش وگرم ہوکر سخت آواز سے تعجب یا زجر وتوبیخ کے لہجے میں کہامیں نے طلاق دی۔ یہ انکار ہے طلاق نہ ہوئی۔ الفاظ بعینہا وہی ہیں اور حکم اثبات سے نفی تك بدل گیا۔ یوں۳ ہی اگر عورت نے کہا مجھے طلاق دے اس نے نہ مانا عورت نے پوچھا دی اس نے جھڑکنے کے لہجے میں سختی سے کہا ی طلاق نہ ہوئی ورنہ ہوگئی۔
فتاوی امام قاضی خان میں ہے :
امرأۃ قالت لزوجھا طلقنی فابی فقالت دادی قال دادم ان کان فی قولہ دادم ادنی تثقیل لایقع الطلاق ۔
کسی عورت نے اپنے شوہر سے کہا “ مجھے طلاق دے دے “ اس نے انکار کیا۔ پھر عورت نے کہا “ تم نے دی “ اس نے کہا “ میں نے دی “ ۔ اگر شوہر کے قول میں کچھ گرا نباری ہو تو طلاق نہ ہوگی۔ (ت)
یونہی۴ شوہر نے گواہوں کے سامنے عورت سے کہا : اللہتیرا بھلا کرے تو نے مجھے مہر بخش دیا۔ وہ بولی ہاں میں نے بخشا عــہ ہاں میں نے بخشا گواہوں نے کہا کیا ہم گواہ ہوجائیں کہ تو نے مہر بخش دیا۔ بولی ہاں گواہ ہوجاؤ ہاں گواہو جاؤ۔ علما فرماتے ہیں اس کے یہ الفاظ اقرار وانکار دونوں کو محتمل ہیں گواہ اس کی
عــہ فتاوی نسفی پھر فتاوی ذخیرہ پھر فتاوی ہندیہ میں دو۲بار کی قید نہ لگائی اور گواہوں کے جواب میں عورت کا یہ قول بتایا کہ ہزار آدمی گواہ ہوجاؤ۔ اقول : یہ لفظ معنی طنز کی طرف زیادہ مائل ہے عالمگیری کی عبارت کتاب الہیہ باب ۱۱ میں یہ ہے :
فی فتاوی النسفی رجل قال لامرأتہ بین یدی
فتاوی امام نسفی میں ہے کہ ایك شخص نے (باقی برصفحہ ائندہ)
اقول : مگر استعمال۱ قرائن ضرور ہے وہ اس وقت وحالت سائل ومسئول عنہ اور ان کے تعلقات سے ان پر ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ تو سکوت ہے قول صریح میں استعمال قرائن لازم ہے ایك ہی بات حرف بحرف ایك ہی جملہ اور اس سے کبھی اقرار مفہوم ہوتا ہے کبھی انکار۔ زید۲ نے عمرو سے کہا تو نے اپنی عورت کو طلاق دی اس نے نرم آواز ودبے لہجے سے کہامیں نے طلاق دی۔ یہ اقرار ہے طلاق ہوگئی اور اگر اس نے ترش وگرم ہوکر سخت آواز سے تعجب یا زجر وتوبیخ کے لہجے میں کہامیں نے طلاق دی۔ یہ انکار ہے طلاق نہ ہوئی۔ الفاظ بعینہا وہی ہیں اور حکم اثبات سے نفی تك بدل گیا۔ یوں۳ ہی اگر عورت نے کہا مجھے طلاق دے اس نے نہ مانا عورت نے پوچھا دی اس نے جھڑکنے کے لہجے میں سختی سے کہا ی طلاق نہ ہوئی ورنہ ہوگئی۔
فتاوی امام قاضی خان میں ہے :
امرأۃ قالت لزوجھا طلقنی فابی فقالت دادی قال دادم ان کان فی قولہ دادم ادنی تثقیل لایقع الطلاق ۔
کسی عورت نے اپنے شوہر سے کہا “ مجھے طلاق دے دے “ اس نے انکار کیا۔ پھر عورت نے کہا “ تم نے دی “ اس نے کہا “ میں نے دی “ ۔ اگر شوہر کے قول میں کچھ گرا نباری ہو تو طلاق نہ ہوگی۔ (ت)
یونہی۴ شوہر نے گواہوں کے سامنے عورت سے کہا : اللہتیرا بھلا کرے تو نے مجھے مہر بخش دیا۔ وہ بولی ہاں میں نے بخشا عــہ ہاں میں نے بخشا گواہوں نے کہا کیا ہم گواہ ہوجائیں کہ تو نے مہر بخش دیا۔ بولی ہاں گواہ ہوجاؤ ہاں گواہو جاؤ۔ علما فرماتے ہیں اس کے یہ الفاظ اقرار وانکار دونوں کو محتمل ہیں گواہ اس کی
عــہ فتاوی نسفی پھر فتاوی ذخیرہ پھر فتاوی ہندیہ میں دو۲بار کی قید نہ لگائی اور گواہوں کے جواب میں عورت کا یہ قول بتایا کہ ہزار آدمی گواہ ہوجاؤ۔ اقول : یہ لفظ معنی طنز کی طرف زیادہ مائل ہے عالمگیری کی عبارت کتاب الہیہ باب ۱۱ میں یہ ہے :
فی فتاوی النسفی رجل قال لامرأتہ بین یدی
فتاوی امام نسفی میں ہے کہ ایك شخص نے (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خان کتاب الطلاق مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۲ / ۲۱۲
طرز سے پہچانیں گے کہ تحقیق مقصود ہے یا طنز سے کہہ رہی ہے۔ وجیز امام کردری کتاب النکاح فصل ۱۲ میں ہے :
قال لھا عند الشھود جزاك الله تعالی خیرا وھبت المھر فقالت آرے بخشیدم مرتین فقال الشھود لھا انشھد علی ھبتك فقالت مرتین آرے گواہ باشید فھذایحتمل الردوالاجابۃ والشھود یعرفون ذلك ان قالت علی وجہ التقریر حملت علی الاجابۃ والاعلی الرد ۔
بیوی سے گواہوں کے سامنے کہا خدا تجھے جزائے خیر عطا فرمائے تو نے مجھے مہر بخش دیا وہ بولی “ ہاں میں نے بخش دیا “ دوبار کہا۔ اس پر گواہوں نے کہا کہ کیا ہم گواہ ہوجائیں کہ تو نے بخش دیا۔ وہ دو۲ بار بولی “ ہاں گواہ ہوجاؤ “ ۔ تو اس میں رد وقبول دونوں کا احتمال ہے۔ گواہان اس کی شناخت کرسکیں گے۔ اگر اس نے بطور اثبات کہا تو قبول پر محمول ہوگا ورنہ رد پر محمول ہوگا۔ (ت)
فلہذااگر قرینہ سابقہ۱ یا حاضرہ یا لاحقہ دلالت کرے کہ یہ سکوت بروجہ منع نہ تھا تو حکم انکار میں نہ ٹھہرے گا۔ قرینہ سابقہ یہ کہ اس کی عادت معلوم ہے کہ سوال اگرچہ مانے سکوت کرتا اور کام کردیتا ہے تو جب تك نہ دینا متحقق نہ ہو ایسے کا سکوت دلیل منع نہ ہوگا۔ قرینہ حاضرہ یہ ہے کہ اس وقت وہ کسی امر عظیم میں مشغول ہے یا وظیفہ پڑھ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الشھود غفرالله لك حیث وھبت لی المھر الذی لك علی فقالت آرے بخشیدم فقال الشھود ھل نشھد علی ھبتك فقالت ہزارتن گواہ باشید قال یعرف الرد والتصدیق فی اثناء کلامھا فےحمل علی ماترون کذا فی الذخیرۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
گواہوں کے سامنے اپنی عورت سے کہا اللہتیرا بھلا کرے کیا تو نے مجھ پر لازم اپنا حق مہر بخش دیا تو عورت نے کہا : ہاں میں نے بخش دیا۔ اس پر گواہوں نے کہاکیا ہم گواہ ہوجائیں کہ تو نے اپنا حق مہر بخش دیا۔ عورت نے کہا ہزار آدمی گواہ ہوجاؤ۔ فرمایا اس صورت میں عورت کے طرز کلام سے انکار یا تصدیق کی پہچان ہوگی اس کو اس پر محمول کیا جائے گا جو تم غور کے بعد نتیجہ اخذ کرو ذخیرہ میں ایسے ہی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
قال لھا عند الشھود جزاك الله تعالی خیرا وھبت المھر فقالت آرے بخشیدم مرتین فقال الشھود لھا انشھد علی ھبتك فقالت مرتین آرے گواہ باشید فھذایحتمل الردوالاجابۃ والشھود یعرفون ذلك ان قالت علی وجہ التقریر حملت علی الاجابۃ والاعلی الرد ۔
بیوی سے گواہوں کے سامنے کہا خدا تجھے جزائے خیر عطا فرمائے تو نے مجھے مہر بخش دیا وہ بولی “ ہاں میں نے بخش دیا “ دوبار کہا۔ اس پر گواہوں نے کہا کہ کیا ہم گواہ ہوجائیں کہ تو نے بخش دیا۔ وہ دو۲ بار بولی “ ہاں گواہ ہوجاؤ “ ۔ تو اس میں رد وقبول دونوں کا احتمال ہے۔ گواہان اس کی شناخت کرسکیں گے۔ اگر اس نے بطور اثبات کہا تو قبول پر محمول ہوگا ورنہ رد پر محمول ہوگا۔ (ت)
فلہذااگر قرینہ سابقہ۱ یا حاضرہ یا لاحقہ دلالت کرے کہ یہ سکوت بروجہ منع نہ تھا تو حکم انکار میں نہ ٹھہرے گا۔ قرینہ سابقہ یہ کہ اس کی عادت معلوم ہے کہ سوال اگرچہ مانے سکوت کرتا اور کام کردیتا ہے تو جب تك نہ دینا متحقق نہ ہو ایسے کا سکوت دلیل منع نہ ہوگا۔ قرینہ حاضرہ یہ ہے کہ اس وقت وہ کسی امر عظیم میں مشغول ہے یا وظیفہ پڑھ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الشھود غفرالله لك حیث وھبت لی المھر الذی لك علی فقالت آرے بخشیدم فقال الشھود ھل نشھد علی ھبتك فقالت ہزارتن گواہ باشید قال یعرف الرد والتصدیق فی اثناء کلامھا فےحمل علی ماترون کذا فی الذخیرۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
گواہوں کے سامنے اپنی عورت سے کہا اللہتیرا بھلا کرے کیا تو نے مجھ پر لازم اپنا حق مہر بخش دیا تو عورت نے کہا : ہاں میں نے بخش دیا۔ اس پر گواہوں نے کہاکیا ہم گواہ ہوجائیں کہ تو نے اپنا حق مہر بخش دیا۔ عورت نے کہا ہزار آدمی گواہ ہوجاؤ۔ فرمایا اس صورت میں عورت کے طرز کلام سے انکار یا تصدیق کی پہچان ہوگی اس کو اس پر محمول کیا جائے گا جو تم غور کے بعد نتیجہ اخذ کرو ذخیرہ میں ایسے ہی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیۃ مع الہندیۃ الثانی عشر فی المہر مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۳۲
فتاوٰی بزازیۃ مع الہندیۃ الثانی عشر فی المہر مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۳۲
فتاوٰی الہندیۃ کتاب الھبۃ باب ۱۱ مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۳۳
فتاوٰی بزازیۃ مع الہندیۃ الثانی عشر فی المہر مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۱۳۲
فتاوٰی الہندیۃ کتاب الھبۃ باب ۱۱ مطبع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۳۳
رہا ہے یا پریشان ہے یا کسی بات پر سخت غصہ میں ہے کہ ان حالات کا سکوت دلیل منع نہیں ہوتا۔ قرینہ لاحقہ یہ کہ اس وقت کی حالت سے تو کچھ ظاہر نہ ہوا مگر تھوڑی دیر بعد وقت کے اندر وہ پانی لے آیااگرچہ یہ اتنی دیر میں جلدی کر کے اس کی نگاہ سے جدا نماز تیمم سے پڑھ چکا ہوکہ وقت پر دینا صریح اجابت ہے تو منع کہ سکوت سے مفہوم ہوتا تھا صریح کے معارض نہ ہوگا۔ فتاوی۱ امام قاضی خان وغیرہا میں ہے : الصریح یفوق الدلالۃ (صریح دلالت سے بڑھا ہوا ہے۔ ت) اور یہ نہ ٹھہرائیں گے کہ وہ سکوت بفرض منع ہی تھا پھر رائے بدل گئی کہ یہ خلاف اصل ہے حلیہ میں ہے :
فان قلت من الجائز تبدل حال المسئول قلت الاصل عدم التبدل فیجری علیہ مالم یتم الدلیل علی خلافہ ولم یوجد ۔
اگر یہ کہا جائے کہ ہوسکتا ہے جس سے سوال ہوا اس کی حالت بدل گئی ہو۔ میں کہوں گا۔ اصل عدم تبدل ہے تو وہ امر اسی پر جاری ہوگا جس کے خلاف پر دلیل تام نہ ہوئی اور نہ پائی گئی۔ (ت)
اقول : تفصیل۲ مقام بتوفیق العلام یہ ہے کہ سکوت کے بعدیا ۱تو وہ اصلا نہ دے گا یا۲اس نماز کا وقت نکل جانے کے بعد دے گا یا ۳وقت میں دے گا مگر بعد اس کے کہ یہ تیمم سے پڑھ چکا یوں کہ اسے تیمم کرتے اس سے نماز پڑھتے دیکھا اور اس وقت پانی نہ دیا یا ۴ اس پر مطلع نہ ہوکر دیا یا ۵عین نماز میں دے گا یا ۶نماز سے قبل۔ یہ چھ۶ صورتیں ہیں ان میں پہلی کا حکم تو ظاہر ہے کہ دلالت منع کا کوئی معارض نہ پایا گیا بلکہ اس کا ثبوت ہوگیا تو نماز وتیمم دونوں صحیح رہے اور اخیر دو۲ بھی قابل بحث نہیں کہ جب ختم نماز سے پہلے پانی مل گیا آپ ہی وضو کرکے پڑھنے کا حکم اور چہارم کا حکم ابھی گزرا کہ اجابت ہے باقی دو۲ صورتیں رہیں دوم وسوم ان میں ظاہر یہی ہے کہ منع پر سکوت کی دلالت مستقر ہوگئی کوئی قرینہ اس کے معارض ہونا درکنار اس کا مؤید پایا گیا نماز صحیح ہوئی اعادہ نہ ہوگا دوم میں یوں کہ حاجت ہر وقت متجدد ہوتی ہے جب اس حاجت کا وقت گزار دیااور مانگے نہ دیا معلوم ہوا کہ اس وقت دینا منظور نہ تھا دوسری حاجت کے وقت دینا نہ اس سوال کی اجابت کرے نہ اس کے وقت قدرت کے اثبات۔ اس وقت عجز ظاہر تھا اور وقت حاجت سوال پر سکوت نے ظن منع دیا تھا اس کی حاجت اس کا سوال اس کا ظن سب وقت حاضر کی نسبت تھے دوسرے وقت دینے نے اس ظن کو غلط نہ کیابلکہ ثابت ومحقق کردیااوریہاں لاعبرۃ بالظن البین خطؤہ (اس گمان کا اعتبار نہیں جس کی خطا واضح ہو۔ ) (ت)
فان قلت من الجائز تبدل حال المسئول قلت الاصل عدم التبدل فیجری علیہ مالم یتم الدلیل علی خلافہ ولم یوجد ۔
اگر یہ کہا جائے کہ ہوسکتا ہے جس سے سوال ہوا اس کی حالت بدل گئی ہو۔ میں کہوں گا۔ اصل عدم تبدل ہے تو وہ امر اسی پر جاری ہوگا جس کے خلاف پر دلیل تام نہ ہوئی اور نہ پائی گئی۔ (ت)
اقول : تفصیل۲ مقام بتوفیق العلام یہ ہے کہ سکوت کے بعدیا ۱تو وہ اصلا نہ دے گا یا۲اس نماز کا وقت نکل جانے کے بعد دے گا یا ۳وقت میں دے گا مگر بعد اس کے کہ یہ تیمم سے پڑھ چکا یوں کہ اسے تیمم کرتے اس سے نماز پڑھتے دیکھا اور اس وقت پانی نہ دیا یا ۴ اس پر مطلع نہ ہوکر دیا یا ۵عین نماز میں دے گا یا ۶نماز سے قبل۔ یہ چھ۶ صورتیں ہیں ان میں پہلی کا حکم تو ظاہر ہے کہ دلالت منع کا کوئی معارض نہ پایا گیا بلکہ اس کا ثبوت ہوگیا تو نماز وتیمم دونوں صحیح رہے اور اخیر دو۲ بھی قابل بحث نہیں کہ جب ختم نماز سے پہلے پانی مل گیا آپ ہی وضو کرکے پڑھنے کا حکم اور چہارم کا حکم ابھی گزرا کہ اجابت ہے باقی دو۲ صورتیں رہیں دوم وسوم ان میں ظاہر یہی ہے کہ منع پر سکوت کی دلالت مستقر ہوگئی کوئی قرینہ اس کے معارض ہونا درکنار اس کا مؤید پایا گیا نماز صحیح ہوئی اعادہ نہ ہوگا دوم میں یوں کہ حاجت ہر وقت متجدد ہوتی ہے جب اس حاجت کا وقت گزار دیااور مانگے نہ دیا معلوم ہوا کہ اس وقت دینا منظور نہ تھا دوسری حاجت کے وقت دینا نہ اس سوال کی اجابت کرے نہ اس کے وقت قدرت کے اثبات۔ اس وقت عجز ظاہر تھا اور وقت حاجت سوال پر سکوت نے ظن منع دیا تھا اس کی حاجت اس کا سوال اس کا ظن سب وقت حاضر کی نسبت تھے دوسرے وقت دینے نے اس ظن کو غلط نہ کیابلکہ ثابت ومحقق کردیااوریہاں لاعبرۃ بالظن البین خطؤہ (اس گمان کا اعتبار نہیں جس کی خطا واضح ہو۔ ) (ت)
حوالہ / References
درمختار کتاب الہبۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲ / ۱۵۹
حِلیۃ
حِلیۃ
صادق نہ آیا ورنہ چاہے کہ وہ مہینہ بھر بعد دے تو اس کی یہ ڈیڑھ سو نمازیں سب باطل ہوجائیں کہ بعد وقت جیسا ایك وقت ویسے ہی ہزار یہ حرج ہے اور دفع حرج لازم اور اس کی طرف سے تقصیر نہیں کہ اس کے قابو میں سوال ہی تھا یہ اسے بجا لاچکا محیط وبحر سے ابھی گزرا جازت صلاتہ لانہ فعل ماعلیہ (اس کی نماز ہوگئی اس لئے کہ اس کے ذمہ جو تھا وہ بجالایا۔ ت) حلیہ سے گزرا :
فعل مافی وسعہ قبل الفعل فیقع جائزا دفعا للحرج فلاینقلب غیر جائز ۔
اس کے بس میں جو تھا فعل سے قبل بجا لایا تو دفع حرج کے پیش نظر اس کا عمل جائز ہی ادا ہوا تو اب ناجائز میں تبدیل نہ ہوگا۔ (ت)
اور سوم میں یوں کہ اس دینے سے بھی قدرت مقتصرہ ثابت ہوگی یعنی وقت عطا سے نہ مستندہ یعنی سابق سے کہ مانگنے پر اس کا چپ رہنا اور اسے تیمم کرتے اور نماز تیمم سے شروع کرتے دیکھنا اور اب بھی خاموش رہنا اس کے عجز کو مؤکد کرگیا اب قدرت جدیدہ اسے نقض نہ کرے گی۔ ولوالجیہ وحلیہ سے گزرا :
انہ اذا ابی تأکد العجز فلاتعتبر القدرۃ بعد ذلك ۔
اس نے جب انکار کردیا تو عجز مؤکد ہوگیا اب اس کے بعد قدرت ہونے کا اعتبار نہیں۔ (ت)
بدستور اس کے قابو میں سوال تھا اسے بجا لایا اب اس پر الزام نہیں جیسا کہ ابھی محیط وبحر وحلیہ سے گزرا اگر کہیے وہ کہ مانگ کر چلا آیا اور جلدی کرکے اس کی نگاہ سے جدامثلا اپنے خیمہ میں تیمم سے پڑھ لی اس کے ذمہ بھی سوال ہی تھا جسے بجالایا اس پر کیوں الزام ہے۔
اقول : سوال مطلوب بالذات ومنتہائے مقصد نہیں کہ سوال کرلیا اور عہدہ برآ ہوگئے جواب کچھ بھی ہو بلکہ وہ بغرض استکشاف حال ہے کہ جواب سے منع واجابت جو ظاہر ہو اس پر عمل کیا جائے یہاں عطا بروقت سے اجابت ظاہر ہوئی کماتقدم(جیسا کہ گزرا۔ ت) تو مجرد سوال کرلینا اسے بری الذمہ نہ کرےگا۔
الاتری ان الحلیۃ جعلت تاکدالعجز عبارۃ اخری عن ھذا المعنی اعنی فعل مافی وسعہ کماتقدم فی المسألۃ السابعۃ۔
دیکھئے کہ اس معنی اس کے بس میں جو تھا بجالایا کی دوسری تعبیر حلیہ نے عجز مؤکد ہونے کے قرار دیا جیسا کہ مسئلہ ہفتم میں گزرا۔ (ت)
فعل مافی وسعہ قبل الفعل فیقع جائزا دفعا للحرج فلاینقلب غیر جائز ۔
اس کے بس میں جو تھا فعل سے قبل بجا لایا تو دفع حرج کے پیش نظر اس کا عمل جائز ہی ادا ہوا تو اب ناجائز میں تبدیل نہ ہوگا۔ (ت)
اور سوم میں یوں کہ اس دینے سے بھی قدرت مقتصرہ ثابت ہوگی یعنی وقت عطا سے نہ مستندہ یعنی سابق سے کہ مانگنے پر اس کا چپ رہنا اور اسے تیمم کرتے اور نماز تیمم سے شروع کرتے دیکھنا اور اب بھی خاموش رہنا اس کے عجز کو مؤکد کرگیا اب قدرت جدیدہ اسے نقض نہ کرے گی۔ ولوالجیہ وحلیہ سے گزرا :
انہ اذا ابی تأکد العجز فلاتعتبر القدرۃ بعد ذلك ۔
اس نے جب انکار کردیا تو عجز مؤکد ہوگیا اب اس کے بعد قدرت ہونے کا اعتبار نہیں۔ (ت)
بدستور اس کے قابو میں سوال تھا اسے بجا لایا اب اس پر الزام نہیں جیسا کہ ابھی محیط وبحر وحلیہ سے گزرا اگر کہیے وہ کہ مانگ کر چلا آیا اور جلدی کرکے اس کی نگاہ سے جدامثلا اپنے خیمہ میں تیمم سے پڑھ لی اس کے ذمہ بھی سوال ہی تھا جسے بجالایا اس پر کیوں الزام ہے۔
اقول : سوال مطلوب بالذات ومنتہائے مقصد نہیں کہ سوال کرلیا اور عہدہ برآ ہوگئے جواب کچھ بھی ہو بلکہ وہ بغرض استکشاف حال ہے کہ جواب سے منع واجابت جو ظاہر ہو اس پر عمل کیا جائے یہاں عطا بروقت سے اجابت ظاہر ہوئی کماتقدم(جیسا کہ گزرا۔ ت) تو مجرد سوال کرلینا اسے بری الذمہ نہ کرےگا۔
الاتری ان الحلیۃ جعلت تاکدالعجز عبارۃ اخری عن ھذا المعنی اعنی فعل مافی وسعہ کماتقدم فی المسألۃ السابعۃ۔
دیکھئے کہ اس معنی اس کے بس میں جو تھا بجالایا کی دوسری تعبیر حلیہ نے عجز مؤکد ہونے کے قرار دیا جیسا کہ مسئلہ ہفتم میں گزرا۔ (ت)
حوالہ / References
البحرالرائق ، شرح کنز الدقائق ، باب التیمم ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۱۶۲
حلیہ
حلیہ
حلیہ
حلیہ
بخلاف صورت دوم وسوم کہ وہاں منع ظاہر ہوا کماتقرر(جیسا کہ گزرا۔ ت) اور بخلاف اس صورت کے کہ جسے پانی کی خبر ہونا گمان کیا اس سے پوچھا اس نے سنا اور جواب نہ دیا بعد نماز بتایا کہ سوال خبر پر جواب نہ دینا بعینہ ترك اخبار ہے اور سوال شے پر سکوت بعینہ انکار عطا نہیں جس کی وجوہ اوپر گزریں وبالله التوفیق والله تعالی اعلم۔
ثم اقول : یہ سب اس صورت میں تھا کہ اس نے مانگا اور اس نے سکوت کیاتھا اور اگر اس۱ نے پانی دیکھا اور اصلا نہ مانگا اور اسے بعد خروج وقت اس کی حاجت پر اطلاع ہوئی اور پانی لایا اس صورت میں بلاشبہ مظنون ہے کہ اگر یہ مانگتا ضرور دیتا اور تقصیر اس کی طرف سے ہے کہ سوال نہ کیا تو ایك یا جتنی نمازیں پڑھیں سب کا اعادہ چاہے نمبر ۱۵۹ میں محیط سے گزرا :
لم تجز صلاتہ لانہ کان قادرا علی استعمالہ بواسطۃ السؤال فاذالم یسألہ جاء التقصیر من قبلہ ۔
اس کی نماز نہ ہوئی اس لئے کہ وہ مانگ کر اس پانی کو استعمال کرسکتا تھا۔ نہ مانگا توکوتاہی اسی کی جانب سے ہوئی۔ (ت)
حلیہ سے ابھی گزرا :
فانہ لم یستفرغ الوسع بالاستکشاف ۔
اس لئے کہ اس نے تفتیش کے ذریعہ اپنی پوری کوشش صرف نہ کی۔ (ت)
بلکہ۲ اگر وہ اسے دیکھتا رہاکہ تیمم سے پڑھتا ہے اور باوصف اطلاع پانی نہ دیایا بعد وقت دیا جب بھی یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ مانگنے پر بھی نہ دیتاتو بلاسوال نہ دینا ظن منع کی تحقیق نہیں کرتا منع یہ ہے کہ مانگے سے نہ دے اور بارہا ہوتا ہے کہ لوگ بے مانگے خود پرواہ نہیں کرتے اور مانگا جائے تو دے دیں بلکہ یہاں دوسرے وقت بے طلب دینے سے یہی پہلو رجحان پاتا ہے کہ مانگتا تو ضرور دیتا بخلاف صورت سکوت کہ یہ سوال کرچکا تھا اور اس نے اس وقت نہ دیا تو ظاہر ہوا کہ دینا منظور نہ تھا زیادات وجامع کرخی وبدائع وحلیہ میں ہے :
اذاغلب علی ظنہ انہ لایعطیہ اوشك مضی علی صلاتہ فاذافرغ سألہ فان اعطاہ توضأ واستقبل الصلاۃ لانہ ظھر
جب اسے غلبہ ظن ہوکہ نہ دے گایاشك کی صورت ہو تو اپنی نماز پر برقرار رہے جب فارغ ہوجائے اس سے مانگے۔ اگر وہ دے دے وضو کرکے
ثم اقول : یہ سب اس صورت میں تھا کہ اس نے مانگا اور اس نے سکوت کیاتھا اور اگر اس۱ نے پانی دیکھا اور اصلا نہ مانگا اور اسے بعد خروج وقت اس کی حاجت پر اطلاع ہوئی اور پانی لایا اس صورت میں بلاشبہ مظنون ہے کہ اگر یہ مانگتا ضرور دیتا اور تقصیر اس کی طرف سے ہے کہ سوال نہ کیا تو ایك یا جتنی نمازیں پڑھیں سب کا اعادہ چاہے نمبر ۱۵۹ میں محیط سے گزرا :
لم تجز صلاتہ لانہ کان قادرا علی استعمالہ بواسطۃ السؤال فاذالم یسألہ جاء التقصیر من قبلہ ۔
اس کی نماز نہ ہوئی اس لئے کہ وہ مانگ کر اس پانی کو استعمال کرسکتا تھا۔ نہ مانگا توکوتاہی اسی کی جانب سے ہوئی۔ (ت)
حلیہ سے ابھی گزرا :
فانہ لم یستفرغ الوسع بالاستکشاف ۔
اس لئے کہ اس نے تفتیش کے ذریعہ اپنی پوری کوشش صرف نہ کی۔ (ت)
بلکہ۲ اگر وہ اسے دیکھتا رہاکہ تیمم سے پڑھتا ہے اور باوصف اطلاع پانی نہ دیایا بعد وقت دیا جب بھی یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ مانگنے پر بھی نہ دیتاتو بلاسوال نہ دینا ظن منع کی تحقیق نہیں کرتا منع یہ ہے کہ مانگے سے نہ دے اور بارہا ہوتا ہے کہ لوگ بے مانگے خود پرواہ نہیں کرتے اور مانگا جائے تو دے دیں بلکہ یہاں دوسرے وقت بے طلب دینے سے یہی پہلو رجحان پاتا ہے کہ مانگتا تو ضرور دیتا بخلاف صورت سکوت کہ یہ سوال کرچکا تھا اور اس نے اس وقت نہ دیا تو ظاہر ہوا کہ دینا منظور نہ تھا زیادات وجامع کرخی وبدائع وحلیہ میں ہے :
اذاغلب علی ظنہ انہ لایعطیہ اوشك مضی علی صلاتہ فاذافرغ سألہ فان اعطاہ توضأ واستقبل الصلاۃ لانہ ظھر
جب اسے غلبہ ظن ہوکہ نہ دے گایاشك کی صورت ہو تو اپنی نماز پر برقرار رہے جب فارغ ہوجائے اس سے مانگے۔ اگر وہ دے دے وضو کرکے
حوالہ / References
محیط
حلیہ
حلیہ
انہ کان قادرالان البذل بعد الفراغ دلیل البذل قبلہ وان ابی فصلاتہ ماضیۃ لان العجز قدتقرر اھ۔
اقول : تقررہ ان الاصل فی الماء الاباحۃ والحظرعارض کماقالوہ فی الحلیۃ وغیرھافی دلیل قول الامام اذاوعدہ احد اعطاء الماء یجب الانتظار وان فات الوقت وانما یمنع لحاجۃاوشح وقدظھرانتفاؤھما ببذلہ الان فظھر انہ لوسئل قبل لبذل لان خصوصیۃ الوقت ملغاۃبل تاخرالوقت ادل علی البذل قبلہ اذلوکان محتاجا الیہ قبل لانفقہ اوبقی محتاجا الیہ الان فاذا کان ھذا فی البذل بعد السؤال وقد ارسلوہ ارسالا ولم یقیدوہ بما اذالم یرہ یصلی متیمما فالبذل بدون سؤال اولی کمالایخفی والله تعالی اعلم۔
ازسرنو نماز ادا کرے۔ کیونکہ ظاہر ہوگیاکہ وہ قادر تھا اس لئے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد دے دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے پہلے بھی دے دیتا۔ اور اگر انکار کرے تو اس کی نماز تام ہے اس لئے کہ عاجز ہونا ثابت ہوگیا۔ (ت)
اقول : اس کی تقریر یہ ہے کہ پانی میں اصل اباحت ہے۔ اور منع عارضی چیز ہے۔ جیساکہ حلیہ وغیرہا نے اسے بیان کیا ہے۔ امام اعظم کے اس قول کے تحت : “ جب اس سے کوئی پانی دینے کا وعدہ کرے تو انتظار واجب ہے اگرچہ وقت نکل جائے “ پانی سے انکار بخل کی وجہ سے ہوتا ہے یااس لئے کہ خود اسے ضرورت ہے اور اس وقت دے دینے سے دونوں باتوں کا نہ ہونا ظاہر ہوگیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوا کہ اگرپہلے بھی اس سے مانگاجاتاتو وہ دے دیتا۔ اس لئے کہ خصوصیت وقت ساقط وبیکار ہے۔ بلکہ وقت کا مؤخر کرنا اس سے پہلے دے دینے پر زیادہ دلالت کرتا ہے اس لئے کہ اگر پہلے اسے خود اس کی ضرورت ہوتی تو خرچ کرلیاہوتا یا اب بھی اس کا ضرورت مند رہتا۔ جب یہ مانگنے کے بعد دینے کا معاملہ ہے اور علماء نے اسے ارسالا ذکر کیا یہ قید نہ لگائی کہ “ جب اسے تیمم سے نماز ادا کرتے دیکھا نہ ہو “ تو بغیرمانگے دے دینا تو اس سے بڑھا ہوا ہے جیسا کہ واضح ہے اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
اور یہاں دو۲ صورتیں وعدہ کی ہیں ایك یہ کہ نماز سے پہلے اس کے سوال پر خواہ بطور خود اس نے پانی دینے کا وعدہ کیا اور بعد خروج وقت دیا یا اس وقت کہ یہ تیمم کرکے پڑھ چکا تھا خواہ اس نے اسے دیکھا یا نہ دیکھا اس میں کوئی صورت محل بحث نہیں کہ وعدہ کو ہمارے علماء نے خود ہی موجب قدرت جانا ہے وقت میں اسے تیمم سے
اقول : تقررہ ان الاصل فی الماء الاباحۃ والحظرعارض کماقالوہ فی الحلیۃ وغیرھافی دلیل قول الامام اذاوعدہ احد اعطاء الماء یجب الانتظار وان فات الوقت وانما یمنع لحاجۃاوشح وقدظھرانتفاؤھما ببذلہ الان فظھر انہ لوسئل قبل لبذل لان خصوصیۃ الوقت ملغاۃبل تاخرالوقت ادل علی البذل قبلہ اذلوکان محتاجا الیہ قبل لانفقہ اوبقی محتاجا الیہ الان فاذا کان ھذا فی البذل بعد السؤال وقد ارسلوہ ارسالا ولم یقیدوہ بما اذالم یرہ یصلی متیمما فالبذل بدون سؤال اولی کمالایخفی والله تعالی اعلم۔
ازسرنو نماز ادا کرے۔ کیونکہ ظاہر ہوگیاکہ وہ قادر تھا اس لئے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد دے دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اس سے پہلے بھی دے دیتا۔ اور اگر انکار کرے تو اس کی نماز تام ہے اس لئے کہ عاجز ہونا ثابت ہوگیا۔ (ت)
اقول : اس کی تقریر یہ ہے کہ پانی میں اصل اباحت ہے۔ اور منع عارضی چیز ہے۔ جیساکہ حلیہ وغیرہا نے اسے بیان کیا ہے۔ امام اعظم کے اس قول کے تحت : “ جب اس سے کوئی پانی دینے کا وعدہ کرے تو انتظار واجب ہے اگرچہ وقت نکل جائے “ پانی سے انکار بخل کی وجہ سے ہوتا ہے یااس لئے کہ خود اسے ضرورت ہے اور اس وقت دے دینے سے دونوں باتوں کا نہ ہونا ظاہر ہوگیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوا کہ اگرپہلے بھی اس سے مانگاجاتاتو وہ دے دیتا۔ اس لئے کہ خصوصیت وقت ساقط وبیکار ہے۔ بلکہ وقت کا مؤخر کرنا اس سے پہلے دے دینے پر زیادہ دلالت کرتا ہے اس لئے کہ اگر پہلے اسے خود اس کی ضرورت ہوتی تو خرچ کرلیاہوتا یا اب بھی اس کا ضرورت مند رہتا۔ جب یہ مانگنے کے بعد دینے کا معاملہ ہے اور علماء نے اسے ارسالا ذکر کیا یہ قید نہ لگائی کہ “ جب اسے تیمم سے نماز ادا کرتے دیکھا نہ ہو “ تو بغیرمانگے دے دینا تو اس سے بڑھا ہوا ہے جیسا کہ واضح ہے اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
اور یہاں دو۲ صورتیں وعدہ کی ہیں ایك یہ کہ نماز سے پہلے اس کے سوال پر خواہ بطور خود اس نے پانی دینے کا وعدہ کیا اور بعد خروج وقت دیا یا اس وقت کہ یہ تیمم کرکے پڑھ چکا تھا خواہ اس نے اسے دیکھا یا نہ دیکھا اس میں کوئی صورت محل بحث نہیں کہ وعدہ کو ہمارے علماء نے خود ہی موجب قدرت جانا ہے وقت میں اسے تیمم سے
حوالہ / References
بدائع الصنائع فصل فی شرائط رکن التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۹
نماز جائز ہی نہیں خواہ وہ پانی کبھی دے یاکبھی نہ دے مگر باتباع امام زفر کہ اخیر وقت تیمم سے پڑھے گا اس کے خود اعادہ کا حکم ہے۔
دوسرے یہ کہ بعد نماز وعدہ کیا اور بعد خروج وقت دیا تنبیہ پنجم میں گزرا کہ اس کا نماز پر کچھ اثر نہ ہونا چاہے بالجملہ۱ نماز کے بعد وقت کے اندر دینے میں عـہ۱ مطلقا نماز کا اعادہ ہے مگر یہ کہ نماز سے پہلے یا بعد انکار کرکے دیا یا پہلے سکوت کیا اور اسے تیمم کرتے اور تیمم سے نماز پڑھتے دیکھا اور اس وقت بھی ساکت رہا بعد نماز دیا کہ یہ بھی حکما عطا بعد منع ہے اور عنقریب آتا ہے کہ وہ مفید نہیں اور بعد خروج وقت دینا عـہ۲ مطلقا مبطل نماز نہیں مگر اس حالت میں کہ اس نے دیکھا اور اصلا نہ مانگا اور اس نے بعد وقت دے دیا یہ تمام مباحث اول تاآخر سوائے استہلاك کہ درمختار میں مصرح تھا اس فقیر بارگاہ رسالت علیہ افضل الصلاۃ والتحیۃ نے تفقہا ذکر کیں
فلیراجع ولیحرر فان اصبت فمن ربی ولہ الحمد وان اخطأت فمنی ومن الشیطان٭ والله ورسولہ عنہ بریاان٭ جل وعلا وصلی الله تعالی علیہ وسلم٭ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
تو اس کی مراجعت اور تنقیح کرلی جائے۔ اگر میں نے ٹھیك بیان کیا تو میرے رب کی جانب سے ہے اور اگرمیں نے خطا کی تو یہ میری طرف سے اور شیطان کے وساوس سے ہے خدائے بزرگ وبرتر اور اس کے رسول انور ان پر خدائے برتر کی طرف سے سلام ورحمت ہو اس سے بری ہیں اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۰ : منع۲ کے بعد دینا مفید نہیں کمافی الزیادات وصدر الشریعۃ والغنیۃ والبحر یاتی (جیسا کہ زیادات صدر الشریعۃ غنیہ اور بحر نے ذکر کیا اور آگے بھی آئے گا۔ ت)
اقول : اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر اس نے نماز سے پہلے مانگااور اس نے انکار کردیا پھر نماز سے پہلے ہی دے دیا خواہ بطور خود یا اس کے دوبارہ مانگنے پر خواہ یہ دوبارہ مانگناتیمم سے پہلے ہو یا بعد ہر حال میں یہ دینا مفیدومعتبر ہے کہ اس عطا نے اس منع کو منسوخ کردیااگر تیمم کرچکا ہے ٹوٹ گیا وضو کرکے نماز پڑھے اور اگر نماز سے پہلے انکار کیا اور نماز کے بعد دیا آپ یا اس کے مانگے پر توجہ دینا معتبر نہیں کہ اس کے انکار کے سبب عجز
عــہ۱ مطلقا مبطل نماز نہ کہا کہ بصورت وعدہ یہ پانی دینا مبطل نماز نہ ہوگا کہ وہ خود ہی باطل تھی ۱۲ منہ غفرلہ(م)
عــہ۲ یہ صورت وعدہ کو بھی شامل کہ وہ نماز خود ہی باطل تھی نہ کہ یہ پانی مبطل ۱۲ منہ غفرلہ (م)
دوسرے یہ کہ بعد نماز وعدہ کیا اور بعد خروج وقت دیا تنبیہ پنجم میں گزرا کہ اس کا نماز پر کچھ اثر نہ ہونا چاہے بالجملہ۱ نماز کے بعد وقت کے اندر دینے میں عـہ۱ مطلقا نماز کا اعادہ ہے مگر یہ کہ نماز سے پہلے یا بعد انکار کرکے دیا یا پہلے سکوت کیا اور اسے تیمم کرتے اور تیمم سے نماز پڑھتے دیکھا اور اس وقت بھی ساکت رہا بعد نماز دیا کہ یہ بھی حکما عطا بعد منع ہے اور عنقریب آتا ہے کہ وہ مفید نہیں اور بعد خروج وقت دینا عـہ۲ مطلقا مبطل نماز نہیں مگر اس حالت میں کہ اس نے دیکھا اور اصلا نہ مانگا اور اس نے بعد وقت دے دیا یہ تمام مباحث اول تاآخر سوائے استہلاك کہ درمختار میں مصرح تھا اس فقیر بارگاہ رسالت علیہ افضل الصلاۃ والتحیۃ نے تفقہا ذکر کیں
فلیراجع ولیحرر فان اصبت فمن ربی ولہ الحمد وان اخطأت فمنی ومن الشیطان٭ والله ورسولہ عنہ بریاان٭ جل وعلا وصلی الله تعالی علیہ وسلم٭ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
تو اس کی مراجعت اور تنقیح کرلی جائے۔ اگر میں نے ٹھیك بیان کیا تو میرے رب کی جانب سے ہے اور اگرمیں نے خطا کی تو یہ میری طرف سے اور شیطان کے وساوس سے ہے خدائے بزرگ وبرتر اور اس کے رسول انور ان پر خدائے برتر کی طرف سے سلام ورحمت ہو اس سے بری ہیں اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۰ : منع۲ کے بعد دینا مفید نہیں کمافی الزیادات وصدر الشریعۃ والغنیۃ والبحر یاتی (جیسا کہ زیادات صدر الشریعۃ غنیہ اور بحر نے ذکر کیا اور آگے بھی آئے گا۔ ت)
اقول : اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر اس نے نماز سے پہلے مانگااور اس نے انکار کردیا پھر نماز سے پہلے ہی دے دیا خواہ بطور خود یا اس کے دوبارہ مانگنے پر خواہ یہ دوبارہ مانگناتیمم سے پہلے ہو یا بعد ہر حال میں یہ دینا مفیدومعتبر ہے کہ اس عطا نے اس منع کو منسوخ کردیااگر تیمم کرچکا ہے ٹوٹ گیا وضو کرکے نماز پڑھے اور اگر نماز سے پہلے انکار کیا اور نماز کے بعد دیا آپ یا اس کے مانگے پر توجہ دینا معتبر نہیں کہ اس کے انکار کے سبب عجز
عــہ۱ مطلقا مبطل نماز نہ کہا کہ بصورت وعدہ یہ پانی دینا مبطل نماز نہ ہوگا کہ وہ خود ہی باطل تھی ۱۲ منہ غفرلہ(م)
عــہ۲ یہ صورت وعدہ کو بھی شامل کہ وہ نماز خود ہی باطل تھی نہ کہ یہ پانی مبطل ۱۲ منہ غفرلہ (م)
متحقق اور تیمم جائز اور نماز صحیح ہوچکی اور قاعدہ شرعیہ ہے کہ من سعی فی نقض ماتم من جھتہ فسعیہ مردود علیہ(جو ایسے امر کو توڑنے کی کوشش کرے جو اس کی جانب سے مکمل ہوگیااس کی کوشش اسی پر پلٹ جائے گی۔ ت)جب انکارسابق ہے توعطائے لاحق قدرت سابقہ کیونکر ثابت کرسکتی ہے ہاں فی الحال قدرت ثابت ہوگی اب دیتے وقت تیمم ٹوٹے گا اور آئندہ کیلئے وضو کرے گا۔ اور اگر نماز سے پہلے انکار کیا اور عین نماز میں کہا لے لے نماز وتیمم دونوں جاتے رہے کہ اگرچہ قدرت سابقہ ثابت نہ ہوئی فی الحال تو ثابت ہوئی اور وسط نمازمیں اگرچہ قعدہ اخیرہ کے بعد سلام سے پہلے متیمم کا پانی پر قادر ہونا نماز وتیمم کو باطل کرتا ہے کماتقدم عن الخانیۃ (جیسا کہ پہلے خانیہ کے حوالہ سے گزرا۔ ت)
مسئلہ۱۱ : اقول۱ دینے کے بعد منع مفید ہے اور اس کا فائدہ صرف اس قدر ہے کہ تیمم اگر بوجہ عطا ناجائز ہوا تھا اب جائز ہوجائے اس سے زیادہ وہ عطا کے کسی اثر کو زائل نہیں کرتا مثلا تیمم کے بعد اس نے پانی دیاتیمم ٹوٹ گیا اب منع کرنے سے واپس نہ آئے گا یونہی اگر قبل تمام نماز دیا یابے سبقت منع بعد نماز وقت دیانمازجاتی رہی اب منع کرنے سے صحیح نہ ہوجائے گی۔ اور اگر اس عطا سے تیمم خود ہی ممنوع ہوا تھا جب تو یہ منع کچھ بھی مفید نہ ہوگا کہ اس کا فائدہ اباحت تیمم تھا اور وہ پہلے سے حاصل ہے پھر اتنا فائدہ بھی اس وقت ہے جب کہ پانی ابھی خرچ نہ ہوا اور دینے والے کی ملك پر باقی ہو اور لینے والا اس میں تصرف سے ممنوع نہ ہو مثلا پانی بطور اباحت دیااگر یہ تیمم پہلے کرچکا تھا جاتارہا ہنوز وضوء پورا نہ کیا تھاکہ اس نے منع کردیا اب اسے پانی کا استعمال جائز نہ رہا یونہی اگر پانی ہبہ کیا تھا اور ابھی اس کا قبضہ نہ ہوا تھا کہ اس نے منع کردیا کہ ہبہ قبل قبضہ ناتمام تھا اور اس کو منع کا اختیار حاصل اور اس صورت میں بھی تیمم اگر پہلے کرچکا تھا زائل کہ مجرد اباحت آب بلکہ نراوعدہ ناقض تیمم ہے نہ کہ ہبہ ہاں اگر یہ قبضہ کر چکا تو اب اس کا منع بیکار ہے کہ اس کی ملك زائل ہوچکی اور بے رضا یا قضا اسے رجوع کا اختیار نہیں بخلاف اس صورت کے کہ پانی اس کے ہاتھ بیچااور بائع نے اپنا خیار شرط کیاتھا اور یہ ابھی پانی استعمال نہ کرنے پایا تھاکہ اس نے بیع فسخ کردی کہ یہاں اسے اختیار تصرف پہلے ہی سے نہ تھا تیمم سابق باقی رہا کہ بیع۲ میں جب بائع کا خیار شرط ہو مبیع نہ اس کی ملك سے خارج ہو نہ مشتری کو اس میں تصرف جائز اگرچہ باذن بائع قبضہ کرچکا ہو۔ ہدایہ میں ارشاد فرمایا :
خیار البائع یمنع خروج المبیع عن ملکہ ولایملك المشتری التصرف فیہ وان قبضہ باذن البائع ۔
بائع کاخیاراس کی ملك سے مبیع کے نکلنے سے مانع ہے اور اس میں مشتری تصرف کا مالك نہیں اگرچہ بائع کی اجازت سے اس پر قبضہ کرچکا ہو۔ (ت)
مسئلہ۱۱ : اقول۱ دینے کے بعد منع مفید ہے اور اس کا فائدہ صرف اس قدر ہے کہ تیمم اگر بوجہ عطا ناجائز ہوا تھا اب جائز ہوجائے اس سے زیادہ وہ عطا کے کسی اثر کو زائل نہیں کرتا مثلا تیمم کے بعد اس نے پانی دیاتیمم ٹوٹ گیا اب منع کرنے سے واپس نہ آئے گا یونہی اگر قبل تمام نماز دیا یابے سبقت منع بعد نماز وقت دیانمازجاتی رہی اب منع کرنے سے صحیح نہ ہوجائے گی۔ اور اگر اس عطا سے تیمم خود ہی ممنوع ہوا تھا جب تو یہ منع کچھ بھی مفید نہ ہوگا کہ اس کا فائدہ اباحت تیمم تھا اور وہ پہلے سے حاصل ہے پھر اتنا فائدہ بھی اس وقت ہے جب کہ پانی ابھی خرچ نہ ہوا اور دینے والے کی ملك پر باقی ہو اور لینے والا اس میں تصرف سے ممنوع نہ ہو مثلا پانی بطور اباحت دیااگر یہ تیمم پہلے کرچکا تھا جاتارہا ہنوز وضوء پورا نہ کیا تھاکہ اس نے منع کردیا اب اسے پانی کا استعمال جائز نہ رہا یونہی اگر پانی ہبہ کیا تھا اور ابھی اس کا قبضہ نہ ہوا تھا کہ اس نے منع کردیا کہ ہبہ قبل قبضہ ناتمام تھا اور اس کو منع کا اختیار حاصل اور اس صورت میں بھی تیمم اگر پہلے کرچکا تھا زائل کہ مجرد اباحت آب بلکہ نراوعدہ ناقض تیمم ہے نہ کہ ہبہ ہاں اگر یہ قبضہ کر چکا تو اب اس کا منع بیکار ہے کہ اس کی ملك زائل ہوچکی اور بے رضا یا قضا اسے رجوع کا اختیار نہیں بخلاف اس صورت کے کہ پانی اس کے ہاتھ بیچااور بائع نے اپنا خیار شرط کیاتھا اور یہ ابھی پانی استعمال نہ کرنے پایا تھاکہ اس نے بیع فسخ کردی کہ یہاں اسے اختیار تصرف پہلے ہی سے نہ تھا تیمم سابق باقی رہا کہ بیع۲ میں جب بائع کا خیار شرط ہو مبیع نہ اس کی ملك سے خارج ہو نہ مشتری کو اس میں تصرف جائز اگرچہ باذن بائع قبضہ کرچکا ہو۔ ہدایہ میں ارشاد فرمایا :
خیار البائع یمنع خروج المبیع عن ملکہ ولایملك المشتری التصرف فیہ وان قبضہ باذن البائع ۔
بائع کاخیاراس کی ملك سے مبیع کے نکلنے سے مانع ہے اور اس میں مشتری تصرف کا مالك نہیں اگرچہ بائع کی اجازت سے اس پر قبضہ کرچکا ہو۔ (ت)
حوالہ / References
الہدایہ خیار شرط مکتبہ عربیہ کراچی ۲ / ۵۳ جز ۳
اورجب وہ شرعااس میں تصرف سے ممنوع ہے تو پانی پر قدرت ثابت نہ ہوئی اور تیمم بحال رہا کما قدمنا فی نمرۃ ۱۴۷ ۱۶۱(جیسا کہ نمبر ۱۴۷ ۱۶۱ میں ہم نے بیان کیا۔ ت)تواس منع نے کوئی نیا فائدہ نہ دیا۔ فتح القدیر نواقض تیمم میں ہے :
والمراد من القدرۃ اعم من الشرعیۃ والحسیۃ حتی لو رأی ماء فی حب لاینتقض تیممہ وان تحققت قدرۃ حسیۃ لانہ انما ابیح للشرب اھ
اقول : والمرادمایجمعھمامعا ای لابدمن اجتماع کلا القدرتین کمایستغرق العام الاصولی افرادہ حتی لوکانت احدھما لم تکف وان کان(۱)المتبادر من تلك العبارۃ کفایۃ احدھما لان العام یتحقق فی ضمن ای خاص کان۔
قدرت سے مراد وہ ہے جو شرعی وحسی دونوں کو عام ہو یہاں تك کہ اگر سبیل کا پانی پایا تو اس کا تیمم نہ ٹوٹے گا اگرچہ حسی قدرت ثابت ہے اس لئے کہ وہ پانی صرف پینے کیلئے مباح ہوا ہے اھ۔ اقول : مراد وہ ہے جو دونوں قدرتیں جمع کر دے یعنی دونوں ہی قدرتوں کا مجتمع ہونا ضروری ہے جیسے عام اصولی اپنے تمام افراد کا احاطہ کرلیتا ہے یہاں تك کہ اگر صرف ایك قدرت ہو توکافی نہ ہوگی اگرچہ اس عبارت سے متبادر یہ ہوتا ہے کہ ایك بھی کافی ہو اس لئے کہ عام کسی بھی خاص کے ضمن میں متحقق ہوجاتا ہے۔ (ت)
فائدہ۲ : پانی پر قدرت ہوتے ہوئے بوجہ ممانعت شرعیہ حکم تیمم کی تین۳ صورتیں اوپر گزریں سبیل کا پانی کہ پینے کیلئے ہے۔ وہ پانی کہ کسی کو ہبہ کرکے اس سے بطور امانت لے لیاوہ پانی کہ ملك فاسد سے اس کا مالك ہوا وہ دو امام محقق علی الاطلاق نے ذکر فرمائیں اور تیسری محقق زین نے بحر میں۔ یہ چوتھی عــہ فقیر نے اضافہ کی کہ وہ پانی کہ بشرط خیار بائع خرید کر اس پر باذن بائع قابض ہوا جب تك خیار جاکر بیع تام نہ ہوجائے اس سے وضو وغیرہ کچھ جائز نہیں۔
اقول : اور انہیں پر حصر نہیں گزشتہ نمبروں میں اس کی بہت صورتیں تھیں مثلا(۱۱)فاسق کا خوف(۳۴) مال امانت پر خوف (۴۷ ۴۸)کسی مسلمان یا جانور کی پیاس کا خیال(۵۰) نجاست دھونے
عــہ مگر اس نے پانی سے عجزکے نمبروں میں اضافہ کیا کہ یہ وہی نمبر۵۳ ملك غیر ہے۔ (م)
والمراد من القدرۃ اعم من الشرعیۃ والحسیۃ حتی لو رأی ماء فی حب لاینتقض تیممہ وان تحققت قدرۃ حسیۃ لانہ انما ابیح للشرب اھ
اقول : والمرادمایجمعھمامعا ای لابدمن اجتماع کلا القدرتین کمایستغرق العام الاصولی افرادہ حتی لوکانت احدھما لم تکف وان کان(۱)المتبادر من تلك العبارۃ کفایۃ احدھما لان العام یتحقق فی ضمن ای خاص کان۔
قدرت سے مراد وہ ہے جو شرعی وحسی دونوں کو عام ہو یہاں تك کہ اگر سبیل کا پانی پایا تو اس کا تیمم نہ ٹوٹے گا اگرچہ حسی قدرت ثابت ہے اس لئے کہ وہ پانی صرف پینے کیلئے مباح ہوا ہے اھ۔ اقول : مراد وہ ہے جو دونوں قدرتیں جمع کر دے یعنی دونوں ہی قدرتوں کا مجتمع ہونا ضروری ہے جیسے عام اصولی اپنے تمام افراد کا احاطہ کرلیتا ہے یہاں تك کہ اگر صرف ایك قدرت ہو توکافی نہ ہوگی اگرچہ اس عبارت سے متبادر یہ ہوتا ہے کہ ایك بھی کافی ہو اس لئے کہ عام کسی بھی خاص کے ضمن میں متحقق ہوجاتا ہے۔ (ت)
فائدہ۲ : پانی پر قدرت ہوتے ہوئے بوجہ ممانعت شرعیہ حکم تیمم کی تین۳ صورتیں اوپر گزریں سبیل کا پانی کہ پینے کیلئے ہے۔ وہ پانی کہ کسی کو ہبہ کرکے اس سے بطور امانت لے لیاوہ پانی کہ ملك فاسد سے اس کا مالك ہوا وہ دو امام محقق علی الاطلاق نے ذکر فرمائیں اور تیسری محقق زین نے بحر میں۔ یہ چوتھی عــہ فقیر نے اضافہ کی کہ وہ پانی کہ بشرط خیار بائع خرید کر اس پر باذن بائع قابض ہوا جب تك خیار جاکر بیع تام نہ ہوجائے اس سے وضو وغیرہ کچھ جائز نہیں۔
اقول : اور انہیں پر حصر نہیں گزشتہ نمبروں میں اس کی بہت صورتیں تھیں مثلا(۱۱)فاسق کا خوف(۳۴) مال امانت پر خوف (۴۷ ۴۸)کسی مسلمان یا جانور کی پیاس کا خیال(۵۰) نجاست دھونے
عــہ مگر اس نے پانی سے عجزکے نمبروں میں اضافہ کیا کہ یہ وہی نمبر۵۳ ملك غیر ہے۔ (م)
حوالہ / References
فتح القدیر باب التیمم مکتبہ عربیہ کراچی ۱ / ۱۱۹
کی ضرورت (۵۲) خاص لوگوں کی طہارت پر وقت اور یہ ان میں نہیں(۵۳) ملك غیر جس میں یہ صورت چہارم بھی داخل (۵۴) نہانا ہے اور ستر نہیں (۵۵) عورت کو وضو کرنا ہے اور ستر نہیں (۶۳)پانی باہر ہے اور عورت کے پاس چادر نہیں(۸۴) سواری سے اتارنے چڑھانے کو محرم نہیں (۸۶) اترنے سے زخم کا سیلان نماز میں رہے گا (۸۷) پانی سے طہارت کسی مؤکد کو بے بدل فوت کرے گی(۱۰۱) فاسق کے آجانے کا اندیشہ (۱۲۴)کپڑے بھیگ کر بے ستری ہوگی(۱۴۳) پانی مسجد میں ہے اور یہ جنب(۱۶۰ ۱۶۱) مزاحمت پدر سے احتراز(۱۶۴ تا ۱۶۶) خنثی وانثی ومرد میت کا تیمم اکیس یہ اور تین وہ کہ نمبر(۵۱ ۱۴۸ و تنبیہ بعد نمبر ۱۶۱) میں گزریں چوبیس۲۴ ہوئیں اور پچیسویں۲۵ یہ صورت کہ جنب نہایا اور بدن کا کچھ حصہ دھونے سے رہ گیا پانی ختم ہوگیاتیمم کیا پھر حدث ہوا اس کیلئے تیمم کیا اب اس پر دو واجب ہیں جو حصہ نہانے میں رہ گیا تھااس کا دھونا اور تیمم جنابت کے بعد حدث ہوا ہے لہذا اس کیلئے وضو کرنا اب اس نے پانی پایا جس سے وہ حصہ دھل سکتا ہے یا وضو کرے تو وضو ہوسکتا ہے مگر مجموع کیلئے کافی نہیں اسے حکم ہے کہ وہ حصہ دھوئے اور امام ابویوسف کےنزدیك حدث کا تیمم نہ جائےگاکہ پانی اگرچہ اس کیلئے کافی تھا مگر شرعا یہ اس سے وضو نہ کرسکتا تھا کہ اسے اس باقی حصے میں صرف کرنا واجب تھا۔ یہ مسئلہ ہم نے اپنے رسالہ “ الطلبۃ البدیعۃ “ کے آخر میں مفصل ذکر کیا ہے وہاں دیکھا جائے وقد رجحنا فیھا قول محمد (اس میں ہم نے امام محمد کے قول کو ترجیح دی ہے۔ ت)
مسئلہ ۱۲ : ضروریہ اقول : یہاں۱ دو۲ مسئلے ہیں ایك یہ کہ پانی قریب ہونے کا ظن غالب ہو تو طلب یعنی تلاش واجب ہے بے تلاش تیمم جائز نہیں دوسرا یہ کہ کسی کے پاس پانی معلوم ہوا اور ظن غالب ہے کہ مانگے سے دے دےگا تو طلب یعنی مانگنا واجب ہے بے مانگے تیمم جائز نہیں۔ پہلے مسئلہ کی نسبت شرح تعریف رضوی کے فائدہ پنجم میں ہم تحقیق کر آئے کہ یہ وجوب بمعنی اشتراط ہے یعنی تلاش کرینا شرط صحت تیمم ہے بے اس کے تیمم ونماز مطلقا فی الحال باطل اگرچہ بعد کو یہی ظاہر ہو کہ پانی نہ تھا۔
وقداخذ بہ السادسۃ الجلۃ ابوالسعود وط وش فی حواشی الکنز والدر علی مانص علیہ فی المعتمدات ان لوصلی بتیمم وثمہ من یسألہ ثم اخبرہ بالماء اعاد والا لا کمافی الدروقدمنا فی المسألۃ السابعۃ
سید ابو السعود سید طحطاوی اور سید شامی نے کنز اور درمختار کے حواشی میں اسی کو لیا ہے جیسا کہ معتمد کتابوں میں اس کی تصریح آئی ہے کہ اگر تیمم سے نماز پڑھ لی جب کہ وہاں ایسا کوئی شخص موجود تھا جس سے یہ پانی کے بارے میں پوچھ سکتا تھا پھر اس نے
مسئلہ ۱۲ : ضروریہ اقول : یہاں۱ دو۲ مسئلے ہیں ایك یہ کہ پانی قریب ہونے کا ظن غالب ہو تو طلب یعنی تلاش واجب ہے بے تلاش تیمم جائز نہیں دوسرا یہ کہ کسی کے پاس پانی معلوم ہوا اور ظن غالب ہے کہ مانگے سے دے دےگا تو طلب یعنی مانگنا واجب ہے بے مانگے تیمم جائز نہیں۔ پہلے مسئلہ کی نسبت شرح تعریف رضوی کے فائدہ پنجم میں ہم تحقیق کر آئے کہ یہ وجوب بمعنی اشتراط ہے یعنی تلاش کرینا شرط صحت تیمم ہے بے اس کے تیمم ونماز مطلقا فی الحال باطل اگرچہ بعد کو یہی ظاہر ہو کہ پانی نہ تھا۔
وقداخذ بہ السادسۃ الجلۃ ابوالسعود وط وش فی حواشی الکنز والدر علی مانص علیہ فی المعتمدات ان لوصلی بتیمم وثمہ من یسألہ ثم اخبرہ بالماء اعاد والا لا کمافی الدروقدمنا فی المسألۃ السابعۃ
سید ابو السعود سید طحطاوی اور سید شامی نے کنز اور درمختار کے حواشی میں اسی کو لیا ہے جیسا کہ معتمد کتابوں میں اس کی تصریح آئی ہے کہ اگر تیمم سے نماز پڑھ لی جب کہ وہاں ایسا کوئی شخص موجود تھا جس سے یہ پانی کے بارے میں پوچھ سکتا تھا پھر اس نے
حوالہ / References
درمختار ، باب التیمم ، مکتبہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۴۴
عزوہ للمحیط والحلیۃ والزیلعی والبدائع ایضا بان فی البحر عن السراج لوتیمم من غیر طلب وکان الطلب واجبا وصلی ثم طلب فلم یجدو جبت علیہ الاعادۃ اھ ومفادہ ان تجب الاعادۃ ھنا وان لم یخبرہ اھ ھذا لفظ ش ومثلہ فی ط وفتح الله المعین۔
اقول : رحمھم(۱)الله تعالی ورحمنابھم این ھھنا وجوب الطلب وکیف یجب وھو لایدری ان الماء قریب ام لافضلاعن غلبۃ الظن بالقرب انما الواجب ھھنا السؤال عمن یظن ان عندہ علما بحال الماء وفرق بین بین المسألتین فان من ظن القرب فقد ظنہ قادرا علی الماء فبطل تیممہ مالم یطلب قبل التیمم فیظھرخطؤ ظنہ امامن ظن ان عند ھذاعلما بحال الماء فھو لایدری انہ ان سألہ یخبرہ بقرب الماء اوبعدہ فلم یکن للقرب حظ من الظن فلم یوجد معارض لعجزہ الظاھرفصح تیممہ وتمت صلاتہ الا ان یظھر القرب فتجب الاعادۃ لان التفریط جاء من قبلہ بترك السؤال۔
پانی کی خبر دی تو نماز کا اعادہ کرے ورنہ نہیں جیسا کہ درمختار میں ہے اور مسئلہ ہفتم میں ہم اس پر محیط حلیہ زیلعی اور بدائع کا بھی حوالہ دے چکے ہیں ان سادات محشین کا ماخذ یہ ہے کہ بحر میں سراج کے حوالہ سے ہے کہ : اگر بغیر تلاش کیے تیمم کرلیا جبکہ تلاش واجب تھی اور نماز پڑھ لی پھر تلاش کیا مگر پانی نہ ملا تو بھی اس پر اعادہ واجب ہے اھ یہ شامی کے الفاظ ہیں اور اسی کے مثل حاشیہ طحطاوی اور فتح اللہالمعین بھی ہے۔
اقول : (میں کہتا ہوں) خدا ان حضرات پر رحمت فرمائے اور ان کی برکت سے ہم پر بھی رحمت فرمائے یہاں پر تلاش کہاں واجب ہے اور کیسے واجب ہوگی جب کہ وہ جانتا ہی نہیں کہ پانی قریب ہے یا نہیں قریب کا غلبہ ظن ہونا تو دور کی بات ہے یہاں پر واجب صرف یہ ہے کہ ایسے شخص سے دریافت کرے جس کے بارے میں اس کا یہ گمان ہو کہ وہ پانی کی حالت کچھ جانتا ہوگااوران دونوں مسئلوں میں کھلا ہوا فرق ہے۔ اس لئے کہ جسے قرب آب کا گمان ہے اسے پانی پر اپنی قدرت کا گمان ہے تو اس کا تیمم باطل ہے جبکہ قبل تیمم تلاش نہ کرلے کہ اس کے گمان کی غلطی ظاہر ہو لیکن جسے یہ گمان ہو کہ اس شخص کو پانی سے متعلق کچھ آگاہی ہوگی تو اسے یہ پتا نہیں کہ اگر اس شخص سے دریافت کرے تو وہ پانی کا قریب ہونا بتائے گا یا دور ہونا بتائے گا تو
اقول : رحمھم(۱)الله تعالی ورحمنابھم این ھھنا وجوب الطلب وکیف یجب وھو لایدری ان الماء قریب ام لافضلاعن غلبۃ الظن بالقرب انما الواجب ھھنا السؤال عمن یظن ان عندہ علما بحال الماء وفرق بین بین المسألتین فان من ظن القرب فقد ظنہ قادرا علی الماء فبطل تیممہ مالم یطلب قبل التیمم فیظھرخطؤ ظنہ امامن ظن ان عند ھذاعلما بحال الماء فھو لایدری انہ ان سألہ یخبرہ بقرب الماء اوبعدہ فلم یکن للقرب حظ من الظن فلم یوجد معارض لعجزہ الظاھرفصح تیممہ وتمت صلاتہ الا ان یظھر القرب فتجب الاعادۃ لان التفریط جاء من قبلہ بترك السؤال۔
پانی کی خبر دی تو نماز کا اعادہ کرے ورنہ نہیں جیسا کہ درمختار میں ہے اور مسئلہ ہفتم میں ہم اس پر محیط حلیہ زیلعی اور بدائع کا بھی حوالہ دے چکے ہیں ان سادات محشین کا ماخذ یہ ہے کہ بحر میں سراج کے حوالہ سے ہے کہ : اگر بغیر تلاش کیے تیمم کرلیا جبکہ تلاش واجب تھی اور نماز پڑھ لی پھر تلاش کیا مگر پانی نہ ملا تو بھی اس پر اعادہ واجب ہے اھ یہ شامی کے الفاظ ہیں اور اسی کے مثل حاشیہ طحطاوی اور فتح اللہالمعین بھی ہے۔
اقول : (میں کہتا ہوں) خدا ان حضرات پر رحمت فرمائے اور ان کی برکت سے ہم پر بھی رحمت فرمائے یہاں پر تلاش کہاں واجب ہے اور کیسے واجب ہوگی جب کہ وہ جانتا ہی نہیں کہ پانی قریب ہے یا نہیں قریب کا غلبہ ظن ہونا تو دور کی بات ہے یہاں پر واجب صرف یہ ہے کہ ایسے شخص سے دریافت کرے جس کے بارے میں اس کا یہ گمان ہو کہ وہ پانی کی حالت کچھ جانتا ہوگااوران دونوں مسئلوں میں کھلا ہوا فرق ہے۔ اس لئے کہ جسے قرب آب کا گمان ہے اسے پانی پر اپنی قدرت کا گمان ہے تو اس کا تیمم باطل ہے جبکہ قبل تیمم تلاش نہ کرلے کہ اس کے گمان کی غلطی ظاہر ہو لیکن جسے یہ گمان ہو کہ اس شخص کو پانی سے متعلق کچھ آگاہی ہوگی تو اسے یہ پتا نہیں کہ اگر اس شخص سے دریافت کرے تو وہ پانی کا قریب ہونا بتائے گا یا دور ہونا بتائے گا تو
حوالہ / References
البحرالرائق مکتبہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۶۱
ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی ، مصر ۱ / ۱۸۱
ردالمحتار باب التیمم مصطفی البابی ، مصر ۱ / ۱۸۱
قرب کا ظن کسی طرح نہ حاصل ہوا تو یہ اس کے عجز ظاہر کے معارض نہ ہوا اس لئے اس کا تیمم صحیح ہے اور اس کی نماز تام ہے مگر یہ کہ پانی کا قریب ہونا منکشف ہو تو اعادہ لازم ہوگا اس لئے کہ کوتاہی اسی کی جانب سے ہوئی اس نے دریافت نہ کیا۔ (ت)
کلام دوسرے مسئلہ میں ہے کہ یہاں بھی وجوب اسی معنی اشتراط پر ہے کہ بحال ظن عطا اگر بے مانگے تیمم کرلے سرے سے صحیح ہی نہ ہو اور نماز باطل ہو اگرچہ بعد کو نہ دینا ہی ظاہر ہو یا ایسا نہیں عجب یہ ہے کہ یہاں عبارات جانب مبنی افادہ اشتراط پرآئیں اور جانب حکم صحت تیمم ونماز پر۔ ادھر۱ کافی و۲خانیہ و۳خزانۃ المفتین و۴نہایہ و۵چلپی و۶خزانہ و۷برجندی کی عبارتیں جن میں تیمم کی نسبت لایجوز ہے مثلا لایجوز التیمم قبل الطلب (قبل طلب تیمم جائز نہیں۔ ت) اگر معنی نفی حل کو محتمل بھی رکھے جائیں تو امام ۸صفار و۹قدوری و۱۰ہدایہ و۱۱تبیین و۱۲منیہ و۱۳غنیہ و۱۴ہروی علی الکنز کے نصوص جن میں صراحۃ لایجزئہ (کفایت نہیں کرسکتا۔ )ہے۔ مثلا صلی بالتیمم قبل الطلب لایجزئہ (قبل طلب تیمم سے نماز ادا کرلی تو یہ اسے کفایت نہیں کرسکتا۔ ت)قابل تاویل نہیں۔ منیہ نے مسئلہ اولی سے اس کی تشبیہ امام صفار سے نقل کی کہ لایجزئہ قبل الطلب کمافی عمرانات (قبل طلب یہ اسے کام نہیں دے سکتا جیسے آبادیوں میں۔ ت) انہیں کے قریب ہے ۱۵مبسوط و۱۶شرح وقایہ و۱۷جواہر اخلاطی وغیرہا کی عبارتیں جن میں عدم جواز بہ نسبت نماز ہے کہ ان لم یطلب وصلی لم یجز ولفظ الجواھر شرع فی الصلاۃ قبل الطلب لایجوز (اگر طلب نہ کیا اور نماز اداکرلی تو جائز نہیں۔ اور جواہر کے الفاظ یہ ہیں : طلب کرنے سے پہلے نماز شروع کردی تو یہ جائز نہیں۔ ت)بحث علامہ ابراہیم حلبی سے گزرا لاتصح الصلاۃ بدونہ (اس کے بغیر نماز درست نہیں۔ ت) ۱۸حلیہ میں زیر مسئلہ جنب وجد الماء فی المسجد (جنابت والا جسے مسجد میں پانی ملا۔ ت)اسی
کلام دوسرے مسئلہ میں ہے کہ یہاں بھی وجوب اسی معنی اشتراط پر ہے کہ بحال ظن عطا اگر بے مانگے تیمم کرلے سرے سے صحیح ہی نہ ہو اور نماز باطل ہو اگرچہ بعد کو نہ دینا ہی ظاہر ہو یا ایسا نہیں عجب یہ ہے کہ یہاں عبارات جانب مبنی افادہ اشتراط پرآئیں اور جانب حکم صحت تیمم ونماز پر۔ ادھر۱ کافی و۲خانیہ و۳خزانۃ المفتین و۴نہایہ و۵چلپی و۶خزانہ و۷برجندی کی عبارتیں جن میں تیمم کی نسبت لایجوز ہے مثلا لایجوز التیمم قبل الطلب (قبل طلب تیمم جائز نہیں۔ ت) اگر معنی نفی حل کو محتمل بھی رکھے جائیں تو امام ۸صفار و۹قدوری و۱۰ہدایہ و۱۱تبیین و۱۲منیہ و۱۳غنیہ و۱۴ہروی علی الکنز کے نصوص جن میں صراحۃ لایجزئہ (کفایت نہیں کرسکتا۔ )ہے۔ مثلا صلی بالتیمم قبل الطلب لایجزئہ (قبل طلب تیمم سے نماز ادا کرلی تو یہ اسے کفایت نہیں کرسکتا۔ ت)قابل تاویل نہیں۔ منیہ نے مسئلہ اولی سے اس کی تشبیہ امام صفار سے نقل کی کہ لایجزئہ قبل الطلب کمافی عمرانات (قبل طلب یہ اسے کام نہیں دے سکتا جیسے آبادیوں میں۔ ت) انہیں کے قریب ہے ۱۵مبسوط و۱۶شرح وقایہ و۱۷جواہر اخلاطی وغیرہا کی عبارتیں جن میں عدم جواز بہ نسبت نماز ہے کہ ان لم یطلب وصلی لم یجز ولفظ الجواھر شرع فی الصلاۃ قبل الطلب لایجوز (اگر طلب نہ کیا اور نماز اداکرلی تو جائز نہیں۔ اور جواہر کے الفاظ یہ ہیں : طلب کرنے سے پہلے نماز شروع کردی تو یہ جائز نہیں۔ ت)بحث علامہ ابراہیم حلبی سے گزرا لاتصح الصلاۃ بدونہ (اس کے بغیر نماز درست نہیں۔ ت) ۱۸حلیہ میں زیر مسئلہ جنب وجد الماء فی المسجد (جنابت والا جسے مسجد میں پانی ملا۔ ت)اسی
حوالہ / References
البرجندی فصل فی التیمم مطبع نولکشور بالسرور ۱ / ۴۸
المختصر للقدوری باب التیمم مکتبہ مجتبائی کان پور ص۱۲
غنیۃ المستملی باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۰
شرح الوقایۃ باب التیمم مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۱
جواہر اخلاطی(قلمی ) باب للتیمم ۱۳
غنیۃ المستملی باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۹
حلیہ
المختصر للقدوری باب التیمم مکتبہ مجتبائی کان پور ص۱۲
غنیۃ المستملی باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۷۰
شرح الوقایۃ باب التیمم مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۱
جواہر اخلاطی(قلمی ) باب للتیمم ۱۳
غنیۃ المستملی باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۹
حلیہ
مسئلہ سوال از رفیق پر تفریعات میں فرمایا وحیث یجب لایصح تیممہ الابعد المنع جہاں مانگنا واجب ہے اس کا تیمم درست نہیں مگر بعد انکار جن سے لازم کو بے مانگے تیمم ہوگا ہی نہیں تو نماز مطلقا باطل ہوگی اگرچہ بعد کو ظن عطا کی خطا ظاہر ہوجائے کہ مانگے سے نہ دے۔ ادھر مسئلہ پنجم میں ۱زیادات و۲جامع کرخی و۳محیط سرخسی و۴خلاصہ و۵وجیز و۶شرح وقایہ و۷حلیہ و۸عالمگیریہ و۹بحر اور مسئلہ ہفتم میں حلیہ و۱۰صدر الشریعۃ وغنیہ عــہ۱ وبحر سے روشن ہوا کہ سرے سے بطلان نماز کا حکم صحیح نہیں صحیح ومعتمد ظاہر الروایۃ یہی ہے کہ صرف غلبہ ظن عطا سے نہ تیمم باطل ہو نہ نماز اگر ظن عطا کی خطا ظاہر ہو دونوں صحیح وتام ہیں۔ کتب حاضرہ میں اس صاف تعارض کی طرف کوئی توجہ مبذول نہ ہوئی۔
وانا اقول : وبالله التوفیق(میں اللہتعالی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ ت) مخلص وہی ہے کہ ہم نے تاویل روایت نادرہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہمیں ذکر کیا بحال ظن عطا حکم ظاہر وحاضر عدم صحت نمازہے مگر یہ کہ بعد کو مانگے اور نہ دے (عـہ۲)اور بحال شك وظن منع حکم ظاہر وحاضر صحت ہے مگریہ کہ بعد کو مانگے سے یا آپ دے دے بالجملہ اول میں فساد اور ثانی میں صحت کا حکم حکم موقوف ہے ظہور خلاف نہ ہو تو رہے گا ورنہ بدل جائے گا جیسے ۱ صاحب ترتیب کو فائتہ یاد اور وقت میں وسعت ہے اور وقتیہ پڑھ لی اس کے فساد کا حکم دیا جائے گا مگر فساد موقوف اگر قبل قضائے فائتہ چار وقتیہ اور پڑھ لے گا اور سب میں پچھلی کا وقت نکل جائے گا سب صحیح ہوجائیں گی اور اگر اس بیچ میں فائتہ کی قضا کرلے گا تو اس سے پہلے ایك سے پانچ تك جتنی وقتیہ پڑھی تھیں سب کی فرضیت باطل ہوکر نفل رہ جائیں گی کمامصرح بہ فی محلہ (جیسا کہ اس کے موقع پر اس کی صاف صراحت موجود ہے۔ ت) رہا فرق کہ پہلے مسئلے میں اس کے ظن کا اعتبار رہا اگرچہ واقع اس کے خلاف ہو اور یہاں نہیں اس کی کیا وجہ ہے
اقول : قریب پانی شرعا مقدور ہے تو ظن قرب عین ظن قدرت ہے اور ظن ملتحق بیقین تو قدرت معلوم تو تیمم شرعا معدوم اور معدوم صحیح نہ ہوجائے گا بخلاف ظن عطا کہ عجز معلوم اور ظن اس کا ہے کہ اگر مانگوں تو دے دے گا اور قدرت نہ ہوگی مگر بعد عطا تو یہ اس کا ظن نہ ہوا کہ قدرت ہے بلکہ اس کا کہ آئندہ ہوسکتی ہے نظیرماقدمناہ فی مسألۃ الوعد ووجدناالتصریح بہ فی مسألۃ الرجاء فی الکافی والکفایۃ(یہ اسی کی نظیر ہے جو مسئلہ وعدہ میں ہم نے پیش کیا اور جس کی تصریح ہمیں کافی وکفایہ میں مسئلہ امید کے
عــہ۱ : یہ عبارت قوانین ہیں جن کا حوالہ مسئلہ ہفتم میں ہے ۱۲ (م)
عــہ۲ : اس میں منع کی پانچوں صورتیں داخل ہیں صراحۃ ہو یا حکما ۱۲ منہ غفرلہ (م)
وانا اقول : وبالله التوفیق(میں اللہتعالی کی توفیق سے کہتا ہوں۔ ت) مخلص وہی ہے کہ ہم نے تاویل روایت نادرہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہمیں ذکر کیا بحال ظن عطا حکم ظاہر وحاضر عدم صحت نمازہے مگر یہ کہ بعد کو مانگے اور نہ دے (عـہ۲)اور بحال شك وظن منع حکم ظاہر وحاضر صحت ہے مگریہ کہ بعد کو مانگے سے یا آپ دے دے بالجملہ اول میں فساد اور ثانی میں صحت کا حکم حکم موقوف ہے ظہور خلاف نہ ہو تو رہے گا ورنہ بدل جائے گا جیسے ۱ صاحب ترتیب کو فائتہ یاد اور وقت میں وسعت ہے اور وقتیہ پڑھ لی اس کے فساد کا حکم دیا جائے گا مگر فساد موقوف اگر قبل قضائے فائتہ چار وقتیہ اور پڑھ لے گا اور سب میں پچھلی کا وقت نکل جائے گا سب صحیح ہوجائیں گی اور اگر اس بیچ میں فائتہ کی قضا کرلے گا تو اس سے پہلے ایك سے پانچ تك جتنی وقتیہ پڑھی تھیں سب کی فرضیت باطل ہوکر نفل رہ جائیں گی کمامصرح بہ فی محلہ (جیسا کہ اس کے موقع پر اس کی صاف صراحت موجود ہے۔ ت) رہا فرق کہ پہلے مسئلے میں اس کے ظن کا اعتبار رہا اگرچہ واقع اس کے خلاف ہو اور یہاں نہیں اس کی کیا وجہ ہے
اقول : قریب پانی شرعا مقدور ہے تو ظن قرب عین ظن قدرت ہے اور ظن ملتحق بیقین تو قدرت معلوم تو تیمم شرعا معدوم اور معدوم صحیح نہ ہوجائے گا بخلاف ظن عطا کہ عجز معلوم اور ظن اس کا ہے کہ اگر مانگوں تو دے دے گا اور قدرت نہ ہوگی مگر بعد عطا تو یہ اس کا ظن نہ ہوا کہ قدرت ہے بلکہ اس کا کہ آئندہ ہوسکتی ہے نظیرماقدمناہ فی مسألۃ الوعد ووجدناالتصریح بہ فی مسألۃ الرجاء فی الکافی والکفایۃ(یہ اسی کی نظیر ہے جو مسئلہ وعدہ میں ہم نے پیش کیا اور جس کی تصریح ہمیں کافی وکفایہ میں مسئلہ امید کے
عــہ۱ : یہ عبارت قوانین ہیں جن کا حوالہ مسئلہ ہفتم میں ہے ۱۲ (م)
عــہ۲ : اس میں منع کی پانچوں صورتیں داخل ہیں صراحۃ ہو یا حکما ۱۲ منہ غفرلہ (م)
حوالہ / References
حلیۃ المحلی
اندر ملی۔ ت) لہذا یہ ظن مناط حکم نہ ہوا مگر جب کہ واقع نہ ظاہر ہوکہ ہنگام فوات ذریعہ علم فقہیات میں ظن معمول بہ ہے اور ایك توجیہ مع اشارہ تضعیف افادہ پنجم صفحہ۶۶۱ طبع اول میں گزری کہ جب تك علم متیسر ہو ظن پر عمل نہیں۔ فتح القدیر بحث استقبال میں ہے :
المصیر(۱) الی الدلیل الظنی وترك القاطع مع امکانہ لایجوز ۔
دلیل قطعی میسر ہونے کے باوجود اسے چھوڑنا اور دلیل ظنی کو لینا جائز نہیں۔ (ت)
مسئلہ قرب وبعد میں تحصیل علم بے دقت متیسر نہیں لہذا ظن پر مدار رہا اور مسئلہ عطا ومنع میں متیسر لہذا ظن معتبر نہ ہوا مگر جب کہ درك حقیقت نہ ہو۔
اشرت الی ضعفہ بقولی یمکن ان یوجہ اقول : ووجہ ضعفہ انہ یوجب السؤال عند ظن المنع ایضا فیکون ترجیحا للثانی من اقوال المسألۃ السادسۃ وانما الراجح بل الراجع الیہ الکل بالتوفیق ھو القول الثالث ان لاوجوب الا عند ظن العطاء۔
فان قلت اذن ماالجواب عمامرمن منع بالظن مع تیسرتحصیل العلم اقول : لاتیسر اذالم یظن العطاء لان السؤال ممن یمنع ذلۃ شدیدۃ وھی مظنونۃ ھنا اومحتملۃ علی سواء وقد نھی عــہ المشرع المطھر المؤمن عن عرض نفسہ للذل۔
میں نے “ یمکن ان یوجہ “ (اس کی یہ توجیہ کی جاسکتی ہے) کہہ کر اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا اقول : اس توجیہ کے ضعف کی وجہ یہ ہے کہ اس سے لازم ہوتا ہے کہ انکار کا ظن غالب ہو جب بھی سوال کرے تو اس سے مسئلہ ششم کے اقوال میں سے دوسرے قول کی ترجیح ہوگی جب کہ راجح بلکہ بعد تطبیق سبھی اقوال کا مرجع ومآل تیسرا قول ہے کہ صرف ظن عطا کی صورت میں سوال واجب ہے۔ (ت)
اگر سوال ہو کہ پھر یہ جو گزرا کہ تحصیل یقین میسر ہوتے ہوئے ظن پر عمل جائز نہیں اس کا کیا جواب ہے اقول : ظن عطا نہ ہونے کی صورت میں تحصیل یقین میسر وآسان نہیں اس لئے کہ ایسے شخص سے مانگنا جو نہ دے سخت ذلت ہے اور یہاں اس کا یا تو ظن غالب ہے یا احتمال مساوی۔ اور شرع مطہر نے مومن کو اس سے روکا ہے کہ وہ اپنی ذات کو معرض ذلت میں لائے۔ (ت)
عــہ کماتقدم فی المسألۃ السادسۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
(جیسا کہ مسئلہ ششم میں گزرا۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
المصیر(۱) الی الدلیل الظنی وترك القاطع مع امکانہ لایجوز ۔
دلیل قطعی میسر ہونے کے باوجود اسے چھوڑنا اور دلیل ظنی کو لینا جائز نہیں۔ (ت)
مسئلہ قرب وبعد میں تحصیل علم بے دقت متیسر نہیں لہذا ظن پر مدار رہا اور مسئلہ عطا ومنع میں متیسر لہذا ظن معتبر نہ ہوا مگر جب کہ درك حقیقت نہ ہو۔
اشرت الی ضعفہ بقولی یمکن ان یوجہ اقول : ووجہ ضعفہ انہ یوجب السؤال عند ظن المنع ایضا فیکون ترجیحا للثانی من اقوال المسألۃ السادسۃ وانما الراجح بل الراجع الیہ الکل بالتوفیق ھو القول الثالث ان لاوجوب الا عند ظن العطاء۔
فان قلت اذن ماالجواب عمامرمن منع بالظن مع تیسرتحصیل العلم اقول : لاتیسر اذالم یظن العطاء لان السؤال ممن یمنع ذلۃ شدیدۃ وھی مظنونۃ ھنا اومحتملۃ علی سواء وقد نھی عــہ المشرع المطھر المؤمن عن عرض نفسہ للذل۔
میں نے “ یمکن ان یوجہ “ (اس کی یہ توجیہ کی جاسکتی ہے) کہہ کر اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا اقول : اس توجیہ کے ضعف کی وجہ یہ ہے کہ اس سے لازم ہوتا ہے کہ انکار کا ظن غالب ہو جب بھی سوال کرے تو اس سے مسئلہ ششم کے اقوال میں سے دوسرے قول کی ترجیح ہوگی جب کہ راجح بلکہ بعد تطبیق سبھی اقوال کا مرجع ومآل تیسرا قول ہے کہ صرف ظن عطا کی صورت میں سوال واجب ہے۔ (ت)
اگر سوال ہو کہ پھر یہ جو گزرا کہ تحصیل یقین میسر ہوتے ہوئے ظن پر عمل جائز نہیں اس کا کیا جواب ہے اقول : ظن عطا نہ ہونے کی صورت میں تحصیل یقین میسر وآسان نہیں اس لئے کہ ایسے شخص سے مانگنا جو نہ دے سخت ذلت ہے اور یہاں اس کا یا تو ظن غالب ہے یا احتمال مساوی۔ اور شرع مطہر نے مومن کو اس سے روکا ہے کہ وہ اپنی ذات کو معرض ذلت میں لائے۔ (ت)
عــہ کماتقدم فی المسألۃ السادسۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
(جیسا کہ مسئلہ ششم میں گزرا۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
فتح القدیر باب شروط الصلوٰۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۲۳۵
فان قلت اذن یجب ادارۃ الامر علی ظنہ فی ظن المنع لتعسر تحصیل العلم فتصح صلاتہ وان اعطی بعدفیترجح مافھمہ المحقق من تفریعاتھم فی الخلاصۃ وغیرھاکمامر فی المسألۃ الخامسہ اقول : وقدکان الاصل ایجاب السؤال لتیسرہ فی نفسہ وانما رفع عنہ لعارض فاذا ظھرت الحقیقۃ عملت عملھا وزال ماکان لعارض وھو اقامۃ الظن مقامھا کماتقدم عن صدر الشریعۃوھذاماوعدنا ثمہ٭ من ان للکلام تتمۃ٭ھذا کلہ ماظھر للقلبی٭ والعلم بالحق عند ربی٭ ان ربی کل شیئ علیم٭وصلی الله تعالی علی الحبیب الکریم٭ والہ وصحبہ اولی التکریم٭ والحمدلله رب العلمین۔
اب اگر یہ سوال ہو کہ پھر تو ظن منع کی صورت میں مدار کا اس کے گمان پر رکھناضروری ہوگاکیونکہ تحصیل یقین دشوار ہے تو اگر وہ بعدمیں دے دے جب بھی اس کی نماز صحیح رہے گی تو راجح وہی ہوگا جو خلاصہ وغیرہا کی تفریعات مشائخ سے محقق علی الاطلاق نے سمجھاجس کا ذکر مسئلہ پنجم میں گزرا اقول : (جوابا میں کہوں گا) اصل تو یہی تھاکہ مانگنا واجب کیا جائے کیونکہ فی نفسہ یہ میسر وآسان ہے اور عارض کی وجہ سے یہ حکم اس سے اٹھا لیا گیا پھر جب حقیقت ظاہر ہوجائے تو وہ اپنا کام کرے گی اور ظن کو حقیقت کے قائم مقام رکھنے کا جو حکم عارض کی وجہ سے تھا وہ بھی ختم ہوجائے گا جیساکہ صدر الشریعۃ کے حوالے سے بیان ہوا۔ یہی وہ ہے جس کا ہم نے وہاں(افادہ پنجم صفحہ۶۶۲ طبع اول میں)وعدہ کیا تھاکہ اس کلام کا کچھ تکملہ بھی ہے۔ یہ سب وہ ہے جو قلب فقیرپر ظاہر ہوا اور حق کا علم میرے رب کے یہاں ہے۔ بلاشبہہ میرے رب کو ہر چیز کاعلم ہے خدائے برتر اپنے حبیب کریم اور ان کی مکرم آل واصحاب پر درود نازل فرمائے۔ اور سب خوبیاں سارے جہانوں کے مالك خدا ہی کیلئے ہیں۔ (ت)
یہ ہیں وہ مسائل جن کا یہاں لانا منظور تھا۔
ذکر قوانین : یہ مسائل بفضلہ تعالی ایسی وجہ پر بیان ہوئے کہ فہیم ذی علم ان سے خود وضع قانون بھی کرسکتا ہے اور قوانین موضوعہ کی جانچ بھی اور یہ کہ خلافیات میں وہ کس کس قول پر مبنی ہیں اور اقوال منقحہ پر کیا ہونا چاہے۔ یہ معیار پیش نظر رکھ کر قوانین علما مطالعہ ہوں :
الامام القانون الصدری
الامام صدر الشریعۃ نقل اولا عن المبسوط ان لم یطلب وصلی لم یجز لان
اول قانون امام صدر الشریعۃ :
امام صدر الشریعۃ نے پہلے مبسوط سے یہ عبارت نقل کی :
“ اگر اس نے طلب نہ کیا اور نماز اداکرلی
اب اگر یہ سوال ہو کہ پھر تو ظن منع کی صورت میں مدار کا اس کے گمان پر رکھناضروری ہوگاکیونکہ تحصیل یقین دشوار ہے تو اگر وہ بعدمیں دے دے جب بھی اس کی نماز صحیح رہے گی تو راجح وہی ہوگا جو خلاصہ وغیرہا کی تفریعات مشائخ سے محقق علی الاطلاق نے سمجھاجس کا ذکر مسئلہ پنجم میں گزرا اقول : (جوابا میں کہوں گا) اصل تو یہی تھاکہ مانگنا واجب کیا جائے کیونکہ فی نفسہ یہ میسر وآسان ہے اور عارض کی وجہ سے یہ حکم اس سے اٹھا لیا گیا پھر جب حقیقت ظاہر ہوجائے تو وہ اپنا کام کرے گی اور ظن کو حقیقت کے قائم مقام رکھنے کا جو حکم عارض کی وجہ سے تھا وہ بھی ختم ہوجائے گا جیساکہ صدر الشریعۃ کے حوالے سے بیان ہوا۔ یہی وہ ہے جس کا ہم نے وہاں(افادہ پنجم صفحہ۶۶۲ طبع اول میں)وعدہ کیا تھاکہ اس کلام کا کچھ تکملہ بھی ہے۔ یہ سب وہ ہے جو قلب فقیرپر ظاہر ہوا اور حق کا علم میرے رب کے یہاں ہے۔ بلاشبہہ میرے رب کو ہر چیز کاعلم ہے خدائے برتر اپنے حبیب کریم اور ان کی مکرم آل واصحاب پر درود نازل فرمائے۔ اور سب خوبیاں سارے جہانوں کے مالك خدا ہی کیلئے ہیں۔ (ت)
یہ ہیں وہ مسائل جن کا یہاں لانا منظور تھا۔
ذکر قوانین : یہ مسائل بفضلہ تعالی ایسی وجہ پر بیان ہوئے کہ فہیم ذی علم ان سے خود وضع قانون بھی کرسکتا ہے اور قوانین موضوعہ کی جانچ بھی اور یہ کہ خلافیات میں وہ کس کس قول پر مبنی ہیں اور اقوال منقحہ پر کیا ہونا چاہے۔ یہ معیار پیش نظر رکھ کر قوانین علما مطالعہ ہوں :
الامام القانون الصدری
الامام صدر الشریعۃ نقل اولا عن المبسوط ان لم یطلب وصلی لم یجز لان
اول قانون امام صدر الشریعۃ :
امام صدر الشریعۃ نے پہلے مبسوط سے یہ عبارت نقل کی :
“ اگر اس نے طلب نہ کیا اور نماز اداکرلی
الماء مبذول عادۃ وعن موضع اخر منہ علیہ ان یسأل الاعلی قول حسن بن زیاد فان السؤال ذل ونقول ماء الطھارۃ مبذول عادۃ ۔
ثم عن الزیادات ماتقدم فی المسألۃ الثالثۃ من انہ یقطع الصلاۃ ان ظن العطاء والالا وادرج فیہ مامر فی المقام الثانی من وجوب السؤال فی الشك ایضا اذارأی خارج الصلاۃ لان العجز مشکوک۔ قال ثم قال فی الزیادات فاذا فرغ من صلاتہ فسألہ فاعطاہ اواعطی بثمن المثل وھو قادر علیہ استأنف الصلاۃواذا ابی تمت صلاتہ وکذا اذا ابی ثم اعطی لکن ینتقض تیممہ الان۔
ثم قال رحمہ الله تعالی اقول ان اردت ان تستوعب الاقسام کلھا فاعلم انہ اذارأی الماء خارج الصلاۃ وصلی ولم یسأل بعد الصلوۃ لیظھرالعجز والقدرۃ فعلی ماذکر فی المبسوط سواء غلب علی ظنہ الاعطاء اوعدمہ اوشك فیھماوھی مسألۃ المتن۔ واذا رأی فی الصلاۃ ولم
تو جائز نہیں اس لئے کہ پانی عادۃ دے دیا جاتا ہے “ ۔ اور مبسوط ہی کے دوسرے مقام سے یہ عبارت بھی : “ اس پر یہ ہے کہ مانگے مگر حسن بن زیاد کے قول پر یہ نہیں اس لئے کہ مانگنے میں ذلت ہے۔ اور ہم یہ کہتے ہیں کہ طہارت کا پانی عادۃ دے دیا جاتا ہے “ ۔ پھر زیادات سے وہ کلام نقل کیا جو مسئلہ سوم میں گزرا کہ “ اگر دینے کا گمان ہو تو نماز توڑ دے ورنہ نہیں “ ۔ اور اسی میں وہ بات بھی اپنی طرف سے درج کردی جو مقام دوم میں گزری کہ “ شك کی صورت میں بھی مانگنا ضروری ہے جب کہ نماز کے باہر دیکھا ہو اس لئے کہ عجز مشکوك ہے “ ۔ تحریر فرمایا کہ پھر زیادات میں یہ لکھا ہے : “ پھر جب نمازسے فارغ ہوکر اس سے مانگا اس نے دے دیا یا ثمن مثل پر زور دیا اور یہ ثمن مثل پر قادر ہے تو وہ ازسرنو نماز پڑھے اور انکار کردیا تو اس کی نماز پوری ہوگئی۔ اسی طرح جب انکار کرے پھر (بعد میں) دے دے لیکن اب اس کا تیمم ٹوٹ جائے گا “ ۔ پھر صدر الشریعۃ رحمۃ اللہ تعالی علیہنے تحریر فرمایا : “ میں کہتا ہوں اگر ساری قسموں کا احاطہ منظور ہو تو معلوم ہو کہ جب اس نے بیرون نماز پانی دیکھا اور نماز پڑھ لی بعد نماز مانگا بھی نہیں کہ عجز یا قدرت کا انکشاف ہو تو اس کا حکم وہ ہے جو مبسوط میں ذکر ہوا۔ خواہ اسے دینے کا گمان ہو یا نہ دینے کا یا دونوں میں شك ہو۔ یہ وہ مسئلہ ہے جو متن میں مذکور ہے۔ اور جب اندرون نماز دیکھا اور بعد نماز
ثم عن الزیادات ماتقدم فی المسألۃ الثالثۃ من انہ یقطع الصلاۃ ان ظن العطاء والالا وادرج فیہ مامر فی المقام الثانی من وجوب السؤال فی الشك ایضا اذارأی خارج الصلاۃ لان العجز مشکوک۔ قال ثم قال فی الزیادات فاذا فرغ من صلاتہ فسألہ فاعطاہ اواعطی بثمن المثل وھو قادر علیہ استأنف الصلاۃواذا ابی تمت صلاتہ وکذا اذا ابی ثم اعطی لکن ینتقض تیممہ الان۔
ثم قال رحمہ الله تعالی اقول ان اردت ان تستوعب الاقسام کلھا فاعلم انہ اذارأی الماء خارج الصلاۃ وصلی ولم یسأل بعد الصلوۃ لیظھرالعجز والقدرۃ فعلی ماذکر فی المبسوط سواء غلب علی ظنہ الاعطاء اوعدمہ اوشك فیھماوھی مسألۃ المتن۔ واذا رأی فی الصلاۃ ولم
تو جائز نہیں اس لئے کہ پانی عادۃ دے دیا جاتا ہے “ ۔ اور مبسوط ہی کے دوسرے مقام سے یہ عبارت بھی : “ اس پر یہ ہے کہ مانگے مگر حسن بن زیاد کے قول پر یہ نہیں اس لئے کہ مانگنے میں ذلت ہے۔ اور ہم یہ کہتے ہیں کہ طہارت کا پانی عادۃ دے دیا جاتا ہے “ ۔ پھر زیادات سے وہ کلام نقل کیا جو مسئلہ سوم میں گزرا کہ “ اگر دینے کا گمان ہو تو نماز توڑ دے ورنہ نہیں “ ۔ اور اسی میں وہ بات بھی اپنی طرف سے درج کردی جو مقام دوم میں گزری کہ “ شك کی صورت میں بھی مانگنا ضروری ہے جب کہ نماز کے باہر دیکھا ہو اس لئے کہ عجز مشکوك ہے “ ۔ تحریر فرمایا کہ پھر زیادات میں یہ لکھا ہے : “ پھر جب نمازسے فارغ ہوکر اس سے مانگا اس نے دے دیا یا ثمن مثل پر زور دیا اور یہ ثمن مثل پر قادر ہے تو وہ ازسرنو نماز پڑھے اور انکار کردیا تو اس کی نماز پوری ہوگئی۔ اسی طرح جب انکار کرے پھر (بعد میں) دے دے لیکن اب اس کا تیمم ٹوٹ جائے گا “ ۔ پھر صدر الشریعۃ رحمۃ اللہ تعالی علیہنے تحریر فرمایا : “ میں کہتا ہوں اگر ساری قسموں کا احاطہ منظور ہو تو معلوم ہو کہ جب اس نے بیرون نماز پانی دیکھا اور نماز پڑھ لی بعد نماز مانگا بھی نہیں کہ عجز یا قدرت کا انکشاف ہو تو اس کا حکم وہ ہے جو مبسوط میں ذکر ہوا۔ خواہ اسے دینے کا گمان ہو یا نہ دینے کا یا دونوں میں شك ہو۔ یہ وہ مسئلہ ہے جو متن میں مذکور ہے۔ اور جب اندرون نماز دیکھا اور بعد نماز
حوالہ / References
شرح الوقایۃ باب التیمم مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۱
یسأل بعدھافکذاوان رأی خارج الصلاۃ ولم یسأل وصلی ثم سألہ فان اعطی بطلت صلاتہ وان ابی تمت سواء ظن الاعطاء اوالمنع اوشك فیھماوان رأی فی الصلاۃ فکما ذکر فی الزیادات لکن یبقی صورتان احدھما انہ قطع الصلاۃ فیمااذا ظن المنع اوشك فسألہ فان اعطی بطل تیممہ وان ابی فھو باق والاخری انہ اذااتم الصلاۃ فیما اذاظن انہ یعطی ثم سأل فان اعطی بطل صلاتہ وان ابی تمت لانہ ظھران ظنہ کان خطاء بخلاف مسألۃ التحری الی اخر ماتقدم فی الافادۃ الخامسۃ۔
قولہ العجز مشکوک)تقدم مافیہ قولہ (فاذا فرغ من صلاتہ)اقول : لم ینقل عبارۃ الزیادات متسقۃفان تعین فیھامرجع فرغ الی من ظن منعااوشك فذاك والا فھو للمصلی مطلقا لاسیما وقد
طلب نہ کیا تو بھی یہی حکم ہے اور اگر بیرون نماز دیکھا اور طلب نہ کیا نماز پڑھ لی پھر مانگا تو اب اگر دے دے اس کی نماز باطل ہوگئی اور انکار کردے تو پوری ہوگئی خواہ پہلے اسے عطا کا گمان رہا ہو یا منع کا یا دونوں میں شك رہا ہو اور اگر اندرون نمازدیکھا تو حکم وہی ہے جو زیادات میں بیان ہوا۔ لیکن اس میں دو۲ صورتیں رہ جاتی ہیں : ایك یہ کہ اس نے ظن منع یا شك کی صورت میں نماز توڑ دی پھر اس سے مانگا اب اگر وہ دے دے تو اس کا تیمم باطل ہوگیا اور انکار کردے تو باقی ہے۔ دوسری صورت یہ کہ ظن عطا کی صورت میں اس نے نماز پوری کرلی پھر مانگا اب اگر وہ دے دے تو اس کی نماز باطل ہوگئی اور انکار کردے تو پوری ہوگئی کیونکہ ظاہر ہوگیا کہ اس کا گمان غلط تھا برخلاف مسئلہ تحری کے اس کے بعد آخر تك وہ بیان کیا ہے جو افادہ
پنجم کے تحت گزرا۔
(۱) عبارت زیادات میں صدر الشریعۃ کے مندرج قول (عجز مشکوك ہے) پر کلام گزر چکا (۲) عبارت زیادات کے یہ الفاظ “ پھر جب وہ اپنی نماز فارغ ہوجائے “ اقول : صدر الشریعۃ نے زیادات کی عبارت مرتب ومسلسل نہ ذکر کی۔ اس کی عبارت میں اگر “ فرغ “ (فارغ ہوجائےگی) ضمیر کا مرجع “ من ظن منعااوشک “ (جو نہ دینے کا گمان کرے
قولہ العجز مشکوک)تقدم مافیہ قولہ (فاذا فرغ من صلاتہ)اقول : لم ینقل عبارۃ الزیادات متسقۃفان تعین فیھامرجع فرغ الی من ظن منعااوشك فذاك والا فھو للمصلی مطلقا لاسیما وقد
طلب نہ کیا تو بھی یہی حکم ہے اور اگر بیرون نماز دیکھا اور طلب نہ کیا نماز پڑھ لی پھر مانگا تو اب اگر دے دے اس کی نماز باطل ہوگئی اور انکار کردے تو پوری ہوگئی خواہ پہلے اسے عطا کا گمان رہا ہو یا منع کا یا دونوں میں شك رہا ہو اور اگر اندرون نمازدیکھا تو حکم وہی ہے جو زیادات میں بیان ہوا۔ لیکن اس میں دو۲ صورتیں رہ جاتی ہیں : ایك یہ کہ اس نے ظن منع یا شك کی صورت میں نماز توڑ دی پھر اس سے مانگا اب اگر وہ دے دے تو اس کا تیمم باطل ہوگیا اور انکار کردے تو باقی ہے۔ دوسری صورت یہ کہ ظن عطا کی صورت میں اس نے نماز پوری کرلی پھر مانگا اب اگر وہ دے دے تو اس کی نماز باطل ہوگئی اور انکار کردے تو پوری ہوگئی کیونکہ ظاہر ہوگیا کہ اس کا گمان غلط تھا برخلاف مسئلہ تحری کے اس کے بعد آخر تك وہ بیان کیا ہے جو افادہ
پنجم کے تحت گزرا۔
(۱) عبارت زیادات میں صدر الشریعۃ کے مندرج قول (عجز مشکوك ہے) پر کلام گزر چکا (۲) عبارت زیادات کے یہ الفاظ “ پھر جب وہ اپنی نماز فارغ ہوجائے “ اقول : صدر الشریعۃ نے زیادات کی عبارت مرتب ومسلسل نہ ذکر کی۔ اس کی عبارت میں اگر “ فرغ “ (فارغ ہوجائےگی) ضمیر کا مرجع “ من ظن منعااوشک “ (جو نہ دینے کا گمان کرے
حوالہ / References
شرح الوقایۃ باب التیمم مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۲
وقع بعد قولہ وان غلب علی ظنہ انہ یعطیہ فیشمل الصورۃ الاخری التی ذکر رحمہ الله تعالی انھا متروکۃ۔
قولہ وکذا اذا ابی ثم اعطی)اقول الکلام فیمابعدالصلاۃلکن البعدیۃانما تلزم فی العطاء سواء کان الاباء قبل الصلاۃ کمااذاسأل قبلھا فابی فتیمم فصلی ثم اعطی بسؤالہ اوبدونہ اوبعد الصلاۃ کما اذاعلم فیھا فاتمھا ثم سألہ فابی ثم اعطی سؤالہ الاخر اوبغیرہ مضت الصلاۃ فی الوجھین امالوکان العطاء قبل تمام الصلوۃ بعد الاباء فانہ ینسخ الاباء مطلقا کماقدمنا فی المسألۃ العاشرۃ۔
قولہ فعلی ماذکرفی المبسوط)ای لم تجزصلاتہ لترکہ الطلب وجوز اخی چلپی ان یکون المراد بمافی المبسوط قول الحسن اقول : انما(۱) یسند الی الکتاب مااعتمدہ لامااوردہ وردہ۔
یا اسے شك ہو) متعین ہے تب تو کلام ویسے ہی ہے جیسے صدر الشریعۃ نے لکھا ورنہ یہ ضمیر مطلقا “ مصلی “ کیلئے ہوگی خصوصا جبکہ اس کے بعد یہ الفاظ آئے ہیں “ اور اگر اسے غالب گمان ہو کہ دے دے گا “ اس تقدیر پر یہ کلام زیادات اس صورت دوم کو بھی شامل ہوگا جسے صدر الشریعۃ نے بتایا کہ وہ متروك ہے۔ (ت) (۳)عبارت زیادات(اسی طرح جب وہ انکار کرے پھر دے دے) اقول : کلام بعد نماز کے احوال سے متعلق ہے لیکن بعدیت صرف دینے میں لازم ہے۔ انکار خواہ قبل نماز ہو جیسے یہ صورت ہوکہ قبل نماز اس نے مانگا تو اس نے انکار کردیا اب اس نے تیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر اس نے مانگنے پر یا بغیر مانگے دے دیایا بعد نماز ہو جیسے یہ صورت ہوکہ اسے اندرون نماز علم ہوا تو اس نے نماز پوری کرلی پھر اس سے مانگا اس نے انکار کردیا اس کے بعد دوبارہ اس کے مانگنے پر یا بغیر مانگے دے دیا تو دونوں صورتوں میں نماز ہوگئی۔ لیکن اگر بعد انکار دینا نماز پوری ہونے سے قبل ہوگیا تو یہ دینا انکار سابق کو مطلقا منسوخ کردےگا جیسا کہ مسئلہ دہم میں نے ہم نے بیان کیا۔ (ت)(۴) صدر الشریعۃ کے الفاظ(تو اس کا حکم وہ ہے جو مبسوط میں ذکر ہوا) یعنی اس کی نماز جائز نہ ہوئی کیونکہ اس نے طلب ترك کردی اخی چلپی نے فرمایا ہے کہ ہوسکتا ہے (مافی المبسوط جو مبسوط میں ہے) سے مراد حسن کا قول ہو۔ اقول کتاب کی طرف سے اسی بات کی نسبت کی جائے گی جس پر اس نے اعتماد کیا نہ وہ جس کو اس نے نقل کرکے اس کی تردید بھی کردی۔ (ت)
قولہ وکذا اذا ابی ثم اعطی)اقول الکلام فیمابعدالصلاۃلکن البعدیۃانما تلزم فی العطاء سواء کان الاباء قبل الصلاۃ کمااذاسأل قبلھا فابی فتیمم فصلی ثم اعطی بسؤالہ اوبدونہ اوبعد الصلاۃ کما اذاعلم فیھا فاتمھا ثم سألہ فابی ثم اعطی سؤالہ الاخر اوبغیرہ مضت الصلاۃ فی الوجھین امالوکان العطاء قبل تمام الصلوۃ بعد الاباء فانہ ینسخ الاباء مطلقا کماقدمنا فی المسألۃ العاشرۃ۔
قولہ فعلی ماذکرفی المبسوط)ای لم تجزصلاتہ لترکہ الطلب وجوز اخی چلپی ان یکون المراد بمافی المبسوط قول الحسن اقول : انما(۱) یسند الی الکتاب مااعتمدہ لامااوردہ وردہ۔
یا اسے شك ہو) متعین ہے تب تو کلام ویسے ہی ہے جیسے صدر الشریعۃ نے لکھا ورنہ یہ ضمیر مطلقا “ مصلی “ کیلئے ہوگی خصوصا جبکہ اس کے بعد یہ الفاظ آئے ہیں “ اور اگر اسے غالب گمان ہو کہ دے دے گا “ اس تقدیر پر یہ کلام زیادات اس صورت دوم کو بھی شامل ہوگا جسے صدر الشریعۃ نے بتایا کہ وہ متروك ہے۔ (ت) (۳)عبارت زیادات(اسی طرح جب وہ انکار کرے پھر دے دے) اقول : کلام بعد نماز کے احوال سے متعلق ہے لیکن بعدیت صرف دینے میں لازم ہے۔ انکار خواہ قبل نماز ہو جیسے یہ صورت ہوکہ قبل نماز اس نے مانگا تو اس نے انکار کردیا اب اس نے تیمم کرکے نماز پڑھ لی پھر اس نے مانگنے پر یا بغیر مانگے دے دیایا بعد نماز ہو جیسے یہ صورت ہوکہ اسے اندرون نماز علم ہوا تو اس نے نماز پوری کرلی پھر اس سے مانگا اس نے انکار کردیا اس کے بعد دوبارہ اس کے مانگنے پر یا بغیر مانگے دے دیا تو دونوں صورتوں میں نماز ہوگئی۔ لیکن اگر بعد انکار دینا نماز پوری ہونے سے قبل ہوگیا تو یہ دینا انکار سابق کو مطلقا منسوخ کردےگا جیسا کہ مسئلہ دہم میں نے ہم نے بیان کیا۔ (ت)(۴) صدر الشریعۃ کے الفاظ(تو اس کا حکم وہ ہے جو مبسوط میں ذکر ہوا) یعنی اس کی نماز جائز نہ ہوئی کیونکہ اس نے طلب ترك کردی اخی چلپی نے فرمایا ہے کہ ہوسکتا ہے (مافی المبسوط جو مبسوط میں ہے) سے مراد حسن کا قول ہو۔ اقول کتاب کی طرف سے اسی بات کی نسبت کی جائے گی جس پر اس نے اعتماد کیا نہ وہ جس کو اس نے نقل کرکے اس کی تردید بھی کردی۔ (ت)
قولہ وھی مسألۃ المتن)اعتاص ھذااللفظ علی اخی چلپی فان فی المبسوط عدم الجواز قبل الطلب وانہ باتفاق ائمتنا الثلثۃرضی الله تعالی عنھم ولفظ المتن قبل طلبہ جاز خلافا لھمافھما مختلفان حکماوروایۃ معا فکیف یقال ان مافی المبسوط ھی مسألۃ المتن فاولہ بقولہ معناہ ان الخلاف المطلق ثابت فیھا غایۃ مافی الباب ان روایۃ المتن علی خلاف روایۃ المبسوط فی بیان الاختلاف اھ ولاجل ھذا جوز ان یکون المرادبہ قول الحسن کی یحصل الوفاق بینہ وبین حکم المتن اقول : وکیف یصح لمجرد الاتفاق فی مطلق الاختلاف جعل نقیضین واحداوانماالمعنی ان الصورۃ المذکورۃ فی المبسوط ھی المذکورۃ فی المتن وھی الرؤیۃ خارج الصلاۃ وان اختلفا فیھا حکما وروایۃ۔
قولہ فکذا)ای لم تجز صلاتہ سواء ظن منحااومنعا
(۵) الفاظ صدر الشریعۃ(وھی مسألۃ المتن یہ وہ مسئلہ ہے جو متن میں مذکور ہے)یہ لفظ اخی چلپی کیلئے پیچیدہ ثابت ہوا اس طرح کہ مبسوط میں ذکر ہے کہ “ قبل طلب نماز جائز نہیں “ اور یہ بھی کہ اس پر ہمارے تینوں اصحاب رضی اللہ تعالی عنہمکا اتفاق ہے اور متن میں یہ ہے کہ “ قبل طلب نماز جائز ہے “ اور “ صاحبین کے نزدیك حکم اس کے برخلاف ہے “ ۔ تو مبسوط اور متن کے درمیان حکم اور روایت دونوں ہی کا اختلاف موجود ہے۔ پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ “ جو مبسوط میں ہے وہی مسئلہ متن ہے۔ اب اخی چلپی نے اس تعبیر کی یوں تاویل فرمائی : “ اس کا مطلب ہے کہ اس میں مطلق اختلاف تو یقینا ثابت ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ بیان اختلاف میں متن کی روایت مبسوط کی روایت کے برخلاف ہے “ اھ اسی لئے انہوں نے کہاکہ ہوسکتا ہے کہ “ ماذکر فی المبسوط “ (مبسوط میں جو مذکور ہے) سے مراد حسن کا قول ہوتا کہ اس میں اور حکم متن میں مطابقت ہوجائے۔ اقول محض مطلق اختلاف میں اتفاق کی وجہ سے نقیضین کو ایك قرار دینا کیسے صحیح ہوسکتا ہے وھی مسألۃ المتن(یہی مسئلہ متن ہے) کا معنی یہ ہے کہ جو صورت مبسوط میں مذکور ہے وہی متن میں مذکور ہے وہ ہے بیرون نماز پانی دیکھنا اگرچہ مبسوط ومتن کے درمیان اس بارے میں حکم اور روایت دونوں کا اختلاف ہے۔ (ت)(۶)لفظ صدرالشریعۃ “ فکذا “ (توبھی یہی حکم ہے)یعنی اس کی نماز جائز نہیں خواہ دینے
قولہ فکذا)ای لم تجز صلاتہ سواء ظن منحااومنعا
(۵) الفاظ صدر الشریعۃ(وھی مسألۃ المتن یہ وہ مسئلہ ہے جو متن میں مذکور ہے)یہ لفظ اخی چلپی کیلئے پیچیدہ ثابت ہوا اس طرح کہ مبسوط میں ذکر ہے کہ “ قبل طلب نماز جائز نہیں “ اور یہ بھی کہ اس پر ہمارے تینوں اصحاب رضی اللہ تعالی عنہمکا اتفاق ہے اور متن میں یہ ہے کہ “ قبل طلب نماز جائز ہے “ اور “ صاحبین کے نزدیك حکم اس کے برخلاف ہے “ ۔ تو مبسوط اور متن کے درمیان حکم اور روایت دونوں ہی کا اختلاف موجود ہے۔ پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ “ جو مبسوط میں ہے وہی مسئلہ متن ہے۔ اب اخی چلپی نے اس تعبیر کی یوں تاویل فرمائی : “ اس کا مطلب ہے کہ اس میں مطلق اختلاف تو یقینا ثابت ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ بیان اختلاف میں متن کی روایت مبسوط کی روایت کے برخلاف ہے “ اھ اسی لئے انہوں نے کہاکہ ہوسکتا ہے کہ “ ماذکر فی المبسوط “ (مبسوط میں جو مذکور ہے) سے مراد حسن کا قول ہوتا کہ اس میں اور حکم متن میں مطابقت ہوجائے۔ اقول محض مطلق اختلاف میں اتفاق کی وجہ سے نقیضین کو ایك قرار دینا کیسے صحیح ہوسکتا ہے وھی مسألۃ المتن(یہی مسئلہ متن ہے) کا معنی یہ ہے کہ جو صورت مبسوط میں مذکور ہے وہی متن میں مذکور ہے وہ ہے بیرون نماز پانی دیکھنا اگرچہ مبسوط ومتن کے درمیان اس بارے میں حکم اور روایت دونوں کا اختلاف ہے۔ (ت)(۶)لفظ صدرالشریعۃ “ فکذا “ (توبھی یہی حکم ہے)یعنی اس کی نماز جائز نہیں خواہ دینے
حوالہ / References
ذخیرۃ العقبٰی باب التیمم مکتبہ اسلامیہ لاہور ۱ / ۱۸۲
اوشک۔
قولہ وان رأی فی الصلاۃ) اقول : ای وسأل بعدھا لیفارق المذکور سابقاولانہ المذکور فی الزیادات۔
قولہ فکماذکر فی الزیادات اقول : ای ان اعطاہ استأنف وان ابی تمت ولم یقل ھھنا فکذا کماقال قبل لان ثمہ ذکراولا ماھو مذکور فی المبسوط فاسندہ الیہ ثم صورۃ اخری یوافقہ فی الحکم فاحالھا علیہ اماھھنا فذکراولا مالیس فی الزیادات فاذا اتی علی مافیھا اسندہ الیھا ولم یفھم الکلام من عــہ فسرہ بقولہ ای الحکم علی التفصیل المذکور وھو انہ ان غلب علی ظنہ الاعطاء قطع الصلاۃ والالا اھ فان(۱) الکلام فیمن سأل بعد الصلاۃ وماذا بقی لہ حتی یقال یقطع اویتم۔
کا ظن ہویا نہ دینے کا یا شك کی صورت ہو۔ (ت)
(۷) الفاظ صدر الشریعۃ وان رأی فی الصلاۃ (اور اگر اندرون نماز دیکھا اقول یعنی اور بعد نماز طلب کیا تاکہ یہ صورت اس سے جدا ہوجو پہلے ذکر ہوئی اور اس لئے بھی کہ زیادات میں یہی مذکور ہے۔ (ت)(۸)الفاظ صدر الشریعۃ (تو حکم وہی ہے جو زیادات میں بیان ہوا) اقول : یعنی اگر اسے دے دیا تو ازسرنو نماز پڑھے اور انکار کردیا تو اس کی نماز پوری ہوگئی یہاں پر “ فکذا “ (تو بھی یہی حکم ہے)نہ کہا جیسے پہلے کہا۔ وجہ یہ ہے کہ وہاں پر پہلے وہ ذکر کیا جو مبسوط میں مذکور ہے تو اس کی نسبت اس کی طرف کی۔ پھر ایك اور صورت ذکر کی جو حکم میں اس کے موافق تھی تو اس کیلئے اوپر والے حکم کا حوالہ دے دیا لیکن یہاں پر پہلے وہ ذکر کیا ہے جو زیادات میں نہیں پھر جب اس کے بیان پر آئے جو زیادات میں ہے تو اسے اس کی طرف منسوب کیا۔ اور بالفاظ ذیل اس کی تفسیر کرنے والے نے سمجھا ہی نہیں : “ یعنی حکم برتفصیل مذکور ہے۔ وہ یہ ہے کہ اگر اسے غالب گمان دینے کا ہو تو نماز توڑ دے ورنہ نہیں “ اھ بات یہ ہے کہ کلام اس کے بارے میں ہورہا ہے جو نماز کے بعد مانگے۔ اور (جب وہ نماز پڑھ چکا ہے تو) اس کیلئے باقی کیا رہا کہ “ توڑے “ یا “ مکمل کرے “ بولاجاسکے۔ (ت)
عــہ وھو صاحب عمدۃ الرعایۃ (م)
(یعنی صاحب عمدۃ الرعایۃ ۱۲۔ ت)یعنی مولانا عبدالحی فرنگی محلی م ۱۳۰۴ھ۔
قولہ وان رأی فی الصلاۃ) اقول : ای وسأل بعدھا لیفارق المذکور سابقاولانہ المذکور فی الزیادات۔
قولہ فکماذکر فی الزیادات اقول : ای ان اعطاہ استأنف وان ابی تمت ولم یقل ھھنا فکذا کماقال قبل لان ثمہ ذکراولا ماھو مذکور فی المبسوط فاسندہ الیہ ثم صورۃ اخری یوافقہ فی الحکم فاحالھا علیہ اماھھنا فذکراولا مالیس فی الزیادات فاذا اتی علی مافیھا اسندہ الیھا ولم یفھم الکلام من عــہ فسرہ بقولہ ای الحکم علی التفصیل المذکور وھو انہ ان غلب علی ظنہ الاعطاء قطع الصلاۃ والالا اھ فان(۱) الکلام فیمن سأل بعد الصلاۃ وماذا بقی لہ حتی یقال یقطع اویتم۔
کا ظن ہویا نہ دینے کا یا شك کی صورت ہو۔ (ت)
(۷) الفاظ صدر الشریعۃ وان رأی فی الصلاۃ (اور اگر اندرون نماز دیکھا اقول یعنی اور بعد نماز طلب کیا تاکہ یہ صورت اس سے جدا ہوجو پہلے ذکر ہوئی اور اس لئے بھی کہ زیادات میں یہی مذکور ہے۔ (ت)(۸)الفاظ صدر الشریعۃ (تو حکم وہی ہے جو زیادات میں بیان ہوا) اقول : یعنی اگر اسے دے دیا تو ازسرنو نماز پڑھے اور انکار کردیا تو اس کی نماز پوری ہوگئی یہاں پر “ فکذا “ (تو بھی یہی حکم ہے)نہ کہا جیسے پہلے کہا۔ وجہ یہ ہے کہ وہاں پر پہلے وہ ذکر کیا جو مبسوط میں مذکور ہے تو اس کی نسبت اس کی طرف کی۔ پھر ایك اور صورت ذکر کی جو حکم میں اس کے موافق تھی تو اس کیلئے اوپر والے حکم کا حوالہ دے دیا لیکن یہاں پر پہلے وہ ذکر کیا ہے جو زیادات میں نہیں پھر جب اس کے بیان پر آئے جو زیادات میں ہے تو اسے اس کی طرف منسوب کیا۔ اور بالفاظ ذیل اس کی تفسیر کرنے والے نے سمجھا ہی نہیں : “ یعنی حکم برتفصیل مذکور ہے۔ وہ یہ ہے کہ اگر اسے غالب گمان دینے کا ہو تو نماز توڑ دے ورنہ نہیں “ اھ بات یہ ہے کہ کلام اس کے بارے میں ہورہا ہے جو نماز کے بعد مانگے۔ اور (جب وہ نماز پڑھ چکا ہے تو) اس کیلئے باقی کیا رہا کہ “ توڑے “ یا “ مکمل کرے “ بولاجاسکے۔ (ت)
عــہ وھو صاحب عمدۃ الرعایۃ (م)
(یعنی صاحب عمدۃ الرعایۃ ۱۲۔ ت)یعنی مولانا عبدالحی فرنگی محلی م ۱۳۰۴ھ۔
حوالہ / References
عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ باب التیمم المکتبۃ الرشیدیہ ۱ / ۱۰۳
قولہ لکن تبقی صورتان) اقول : الاخری(۱)ان فرض ترکھا فی الزیادات فلم تترك فی کلامکم لان من رأی فی الصلاۃ وسأل بعدھا یشملھا قطعا والاحالۃ علی الزیادات للحکم لاللتصویر۔
قولہ احدھما) قال اخی چلپی یمکن انفھامھا من قولہ وکذا ابی ثم اعطی لانہ صریح فی ان الاعطاء ناقض والاباء متمم فتأمل اھ
اقول : قولہ(۲)کذا ای تمت صلاتہ فاین فیہ ان الاعطاء ناقض بل فیہ ان الاعطاء بعد الاباء ھباء نعم لوقال یمکن انفھامھا من قولہ اذا اعطاہ استأنف واذا ابی تمت فانہ صریح الخ لاتجہ ولعلہ سبق قلم ومن التقصیر(۳) قول من عــہ قال لاذکرلھما فی العبارات السابقۃ صریحا وان کان قول الزیادات وان ابی تمت یدل علی حکمھما باطلاقہ واشارتہ اھ فلم ترك قولہ اذا اعطی استأنف لیدل علی حکم الوجھین فی الصورتین۔ (۹)
الفاظ صدر الشریعۃ (لیکن دو۲ صورتیں رہ جاتی ہیں) اقول : اگر فرض کرلیا جائے کہ دوسری صورت میں زیادات میں متروك ہے تو آپ کے کلام میں متروك نہیں اس لئے کہ “ جس نے اندرون نماز دیکھا اور بعد نماز طلب کیا “ یہ صورت اس دوسری صورت کو بھی قطعا شامل ہے۔ رہ گیا زیادات کا حوالہ تو وہ حکم سے متعلق ہے بیان صورت سے متعلق نہیں۔ (ت)
(۱۰) لفظ صدر الشریعۃ “ احدھما “ (ایك صورت یہ کہ الخ)اخی چلپی نے کہا : “ یہ صورت ان کے قول “ اور اسی طرح جب انکار کرے پھر دے دے “ سے سمجھ میں آسکتی ہے اس لئے کہ وہ اس بارے میں صریح ہے کہ دینا ناقض ہے اور انکار سے نماز تام ہوجاتی ہے فتامل اھ اقول : ان کا لفظ ہے “ کذا “ (اس طرح) یعنی اس کی نماز پوری ہوگئی۔ اس میں یہ کہاں ہے کہ دینا ناقض ہے بزیادات کے الفاظ(وان ابی تمت اور اگر انکار کردے تو نماز پوری ہوگئی)بلکہ اس میں یہ ہے کہ انکار کے بعددینا دھول ہے۔ ہاں اگریہ کہتے کہ ان کے قول(جب دے دے تو ازسرنو ادا کرے اور انکار کردے تو نماز پوری ہوگئی)سے یہ دوسری صورت سمجھ میں آسکتی ہے اس لئے کہ وہ اس بارے میں صریح ہے کہ دینا ناقض ہے اور انکار نماز کو تام کردینے والا ہے “ تو یہ کہنا درست ہوتا۔ شاید یہ سبقت قلم ہے یہ کہنے میں تقصیر ہے کہ “ ان دونوں صورتوں کا سابقہ عبارتوں میں صراحۃ کوئی ذکر نہیں اگرچہ
عــہ وھو صاحب عمدۃ الرعایۃ ۱۲ (م)
(قائل صاحب عمدۃ الرعایۃ (مولنا عبدالحی فرنگی محلی) ہیں ۱۲۔ ت)
قولہ احدھما) قال اخی چلپی یمکن انفھامھا من قولہ وکذا ابی ثم اعطی لانہ صریح فی ان الاعطاء ناقض والاباء متمم فتأمل اھ
اقول : قولہ(۲)کذا ای تمت صلاتہ فاین فیہ ان الاعطاء ناقض بل فیہ ان الاعطاء بعد الاباء ھباء نعم لوقال یمکن انفھامھا من قولہ اذا اعطاہ استأنف واذا ابی تمت فانہ صریح الخ لاتجہ ولعلہ سبق قلم ومن التقصیر(۳) قول من عــہ قال لاذکرلھما فی العبارات السابقۃ صریحا وان کان قول الزیادات وان ابی تمت یدل علی حکمھما باطلاقہ واشارتہ اھ فلم ترك قولہ اذا اعطی استأنف لیدل علی حکم الوجھین فی الصورتین۔ (۹)
الفاظ صدر الشریعۃ (لیکن دو۲ صورتیں رہ جاتی ہیں) اقول : اگر فرض کرلیا جائے کہ دوسری صورت میں زیادات میں متروك ہے تو آپ کے کلام میں متروك نہیں اس لئے کہ “ جس نے اندرون نماز دیکھا اور بعد نماز طلب کیا “ یہ صورت اس دوسری صورت کو بھی قطعا شامل ہے۔ رہ گیا زیادات کا حوالہ تو وہ حکم سے متعلق ہے بیان صورت سے متعلق نہیں۔ (ت)
(۱۰) لفظ صدر الشریعۃ “ احدھما “ (ایك صورت یہ کہ الخ)اخی چلپی نے کہا : “ یہ صورت ان کے قول “ اور اسی طرح جب انکار کرے پھر دے دے “ سے سمجھ میں آسکتی ہے اس لئے کہ وہ اس بارے میں صریح ہے کہ دینا ناقض ہے اور انکار سے نماز تام ہوجاتی ہے فتامل اھ اقول : ان کا لفظ ہے “ کذا “ (اس طرح) یعنی اس کی نماز پوری ہوگئی۔ اس میں یہ کہاں ہے کہ دینا ناقض ہے بزیادات کے الفاظ(وان ابی تمت اور اگر انکار کردے تو نماز پوری ہوگئی)بلکہ اس میں یہ ہے کہ انکار کے بعددینا دھول ہے۔ ہاں اگریہ کہتے کہ ان کے قول(جب دے دے تو ازسرنو ادا کرے اور انکار کردے تو نماز پوری ہوگئی)سے یہ دوسری صورت سمجھ میں آسکتی ہے اس لئے کہ وہ اس بارے میں صریح ہے کہ دینا ناقض ہے اور انکار نماز کو تام کردینے والا ہے “ تو یہ کہنا درست ہوتا۔ شاید یہ سبقت قلم ہے یہ کہنے میں تقصیر ہے کہ “ ان دونوں صورتوں کا سابقہ عبارتوں میں صراحۃ کوئی ذکر نہیں اگرچہ
عــہ وھو صاحب عمدۃ الرعایۃ ۱۲ (م)
(قائل صاحب عمدۃ الرعایۃ (مولنا عبدالحی فرنگی محلی) ہیں ۱۲۔ ت)
حوالہ / References
ذخیرۃ العقبٰی باب التیمم مطبع اسلامیہ لاہور ۱ / ۱۸۲
عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ باب التیمم المکتبۃ الرشیدیہ ۱ / ۱۰۳
عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ باب التیمم المکتبۃ الرشیدیہ ۱ / ۱۰۳
ثم ان کان فی(۱) قول الزیادات مرجع فرغ من صلاتہ المصلی مطلقالم یصح قولہ لاذکرلھما فی العبارات السابقۃ صریحا وان کان مرجعہ خصوص من ظن منعا اوشك لم یصح قولہ باطلاقہ فان المباین لایدخل فی اطلاق مباینہ۔
فانقلت لعلہ وزع فلمن ظن عطاء واتم الاشارۃ ولمن ظن منعا اوشك وقطع الاطلاق۔
اقول : ولایصح فان القطع یباین الفراغ فاین الدخول فی الاطلاق۔ ھذا واقول ضبط کل کلام ھذا الامام فی نصف سطر انہ ان لم یسأل اواعطاہ بطل مافعل من تیمم وصلاۃ وان ابی تم فالشرط الاول یشمل مااذالم یسأل فاعطی اولم یعط وما اذاسأل فاعطی ویبقی للثانی مااذاسأل فلم یعط ویدل باطلاقہ علی انہ سواء
زیادات کے الفاظ(اذا اعطی استانف جب دے دے تو از سرنو پڑھے) کو بھی کیوں نہ ذکر کیا کہ دونوں صورتوں کی دونوں شکلوں پر دلالت ظاہر ہو۔ (ت)
پھر اگر زیادات کی عبارت میں فرغ من صلاتہ (وہ اپنی نماز سے فارغ ہو) کا مرجع مطلقا مصلی ہے تو یہ کہنا درست نہیں کہ “ سابقہ عبارتوں میں صریحا ان دونوں صورتوں کا کوئی ذکر نہیں “ اور اگر اس کا مرجع خاص من ظن منعا اوشک “ (وہ جسے انکار کا گمان یا شك ہو)ہے تو “ باطلاقہ “ (اپنے اطلاق سے) کہنا درست نہیں۔ اس لئے کہ مباین اپنے مباین کے اطلاق میں داخل نہیں ہوتا۔ (ت)
اگر یہ کہو کہ شاید انہوں نے بطور توزیع وتقسیم ذکر کیا ہو تو جسے عطا کا گمان ہو اور نماز پوری کرلے اس کے لئے لفظ “ اشارہ “ رکھا اور جسے انکار کا گمان ہو یا شك ہو اور نماز توڑ دے اس کیلئے لفظ “ اطلاق “ رکھا۔ (ت)
اقول : (میں کہوں گا) یہ بھی صحیح نہیں اس لئے کہ نماز توڑنا نماز پڑھ چکنے اور اس سے فارغ ہونے کے مباین ہے تو “ اطلاق “ میں کیسے داخل ہوگا۔ یہ ذہن نشین رہے اقول : امام صدر الشریعۃ کے پورے کلام کا ضبط نصف سطر میں یہ ہے کہ “ اگر وہ سوال نہ کرے یا اسے دے دے تو جو تیمم اور نماز اس نے ادا کیا وہ باطل ہوگیا اور اگر انکار کردے تو تام ہوا “ تو پہلی شرط اس صورت کو شامل ہے جب اس نے مانگا نہیں اور اس نے دے دیایانہ دیا اور اس صورت کو بھی جب اس کے
فانقلت لعلہ وزع فلمن ظن عطاء واتم الاشارۃ ولمن ظن منعا اوشك وقطع الاطلاق۔
اقول : ولایصح فان القطع یباین الفراغ فاین الدخول فی الاطلاق۔ ھذا واقول ضبط کل کلام ھذا الامام فی نصف سطر انہ ان لم یسأل اواعطاہ بطل مافعل من تیمم وصلاۃ وان ابی تم فالشرط الاول یشمل مااذالم یسأل فاعطی اولم یعط وما اذاسأل فاعطی ویبقی للثانی مااذاسأل فلم یعط ویدل باطلاقہ علی انہ سواء
زیادات کے الفاظ(اذا اعطی استانف جب دے دے تو از سرنو پڑھے) کو بھی کیوں نہ ذکر کیا کہ دونوں صورتوں کی دونوں شکلوں پر دلالت ظاہر ہو۔ (ت)
پھر اگر زیادات کی عبارت میں فرغ من صلاتہ (وہ اپنی نماز سے فارغ ہو) کا مرجع مطلقا مصلی ہے تو یہ کہنا درست نہیں کہ “ سابقہ عبارتوں میں صریحا ان دونوں صورتوں کا کوئی ذکر نہیں “ اور اگر اس کا مرجع خاص من ظن منعا اوشک “ (وہ جسے انکار کا گمان یا شك ہو)ہے تو “ باطلاقہ “ (اپنے اطلاق سے) کہنا درست نہیں۔ اس لئے کہ مباین اپنے مباین کے اطلاق میں داخل نہیں ہوتا۔ (ت)
اگر یہ کہو کہ شاید انہوں نے بطور توزیع وتقسیم ذکر کیا ہو تو جسے عطا کا گمان ہو اور نماز پوری کرلے اس کے لئے لفظ “ اشارہ “ رکھا اور جسے انکار کا گمان ہو یا شك ہو اور نماز توڑ دے اس کیلئے لفظ “ اطلاق “ رکھا۔ (ت)
اقول : (میں کہوں گا) یہ بھی صحیح نہیں اس لئے کہ نماز توڑنا نماز پڑھ چکنے اور اس سے فارغ ہونے کے مباین ہے تو “ اطلاق “ میں کیسے داخل ہوگا۔ یہ ذہن نشین رہے اقول : امام صدر الشریعۃ کے پورے کلام کا ضبط نصف سطر میں یہ ہے کہ “ اگر وہ سوال نہ کرے یا اسے دے دے تو جو تیمم اور نماز اس نے ادا کیا وہ باطل ہوگیا اور اگر انکار کردے تو تام ہوا “ تو پہلی شرط اس صورت کو شامل ہے جب اس نے مانگا نہیں اور اس نے دے دیایانہ دیا اور اس صورت کو بھی جب اس کے
فی کل ذلك ظن منحا اومنعا اوشك ورأہ خارج الصلاۃ اوفیھا فقطع اواتم وان اردنا زیادۃ ماقدم عن الزیادات زدنا فی الشرط الاخری ولواعطاہ بعد الصلاۃ فیبقی العطاء فی الاولی مقیدا بما اذالم یکن بعد الصلاۃ عقیب اباء ویبقی للثانیۃ شقان سأل فلم یعط اواعطی بعد الصلاۃ مسبوقا باباء ثم زدنا بعدہ سواء ظن منحا اومنعا اوشك غیرانہ ان ظن العطاء قطع الصلاۃ والالا۔
اقول : ولایخرج منہ مااذا سأل فلم یعط ولم یاب بل سکت وذلك لماقدمنا ان اعطاہ بعد السکوت قبل ان یراہ یصلی بالتیمم لم یکن السکوت اباہ فدخل فی الاول اعنی اعطاہ وان کان ھذا بعد الصلاۃ فلم یتقدمہ اباء وکان الحکم ح للعطاء دون السکوت والا کان اباء فدخل فی الثانی وکان الحکم ح للسکوت من جھۃ انہ
اپنے اطلاق اور اشارہ سے ان کے حکم پر دال ہیں'ـ' اھ
مانگنے پر اس نے دیا اور دوسری شرط کے تحت وہ صورت رہے گی جب اس کے مانگنے پر اس نے نہ دیا۔ اور کلام اپنے اطلاق سے یہ بھی بتائے گا کہ ان باتوں میں یہ سب صورتیں یکساں ہیں اسے دینے کا گمان رہا ہو یا نہ دینے کا یا شك رہا ہو اور اس نے بیرون نماز دیکھا ہو یا اندرون نماز دیکھ کر نماز توڑ دی ہو یا پوری کی ہو۔ اور انہوں نے زیادات کے حوالہ سے جو پہلے بیان کیااگر ہم اس کا بھی اضافہ کرنا چاہیں تو دوسرے جملہ شرطیہ میں یہ الفاظ بڑھادیں “ اگرچہ بعد نماز اسے دے دیا ہو “ تو پہلے جملہ شرطیہ میں دینا اس سے مقیدرہے گا کہ انکار کرکے بعد نمازدینا نہ ہو اور دوسرے جملہ کے تحت دو۲ شقیں رہ جائیں گی(۱)مانگنے پر دیا نہیں(۲)یا انکار کرکے بعد نماز دیا پھر اس کے بعد ہم یہ بڑھادیں “ خواہ اسے دینے کا گمان رہا ہو یا انکار کا یا شك رہا ہو مگر یہ ہے کہ اگر دینے کا گمان ہو تو نماز توڑ دے ورنہ نہیں “ ۔ (ت)
اقول : اس سے وہ صورت خارج نہ ہوگی جب مانگنے پر اس نے نہ دیا نہ انکار کیا بلکہ خاموش رہا یہ اس لئے کہ ہم بتاچکے کہ اگر خاموش رہنے کے بعد اسے تیمم سے نماز پڑھتے ہوئے دیکھنے سے قبل دے دیاتو یہ خاموشی انکار نہیں تو یہ اول یعنی “ اعطاہ “ (اسے دے دیا) میں داخل ہے اور اگر یہ بعد نماز ہے تو اس دینے سے پہلے انکار نہ پایا گیااور اس صورت میں حکم عطا کا ہے سکوت کا نہیں۔ ورنہ (اگر بعد سکوت تیمم سے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھنے سے پہلے دینا نہ ہوا ) وہ سکوت انکار ہوکر شرط ثانی میں داخل ہوگا۔ اور اس صورت میں حکم
اقول : ولایخرج منہ مااذا سأل فلم یعط ولم یاب بل سکت وذلك لماقدمنا ان اعطاہ بعد السکوت قبل ان یراہ یصلی بالتیمم لم یکن السکوت اباہ فدخل فی الاول اعنی اعطاہ وان کان ھذا بعد الصلاۃ فلم یتقدمہ اباء وکان الحکم ح للعطاء دون السکوت والا کان اباء فدخل فی الثانی وکان الحکم ح للسکوت من جھۃ انہ
اپنے اطلاق اور اشارہ سے ان کے حکم پر دال ہیں'ـ' اھ
مانگنے پر اس نے دیا اور دوسری شرط کے تحت وہ صورت رہے گی جب اس کے مانگنے پر اس نے نہ دیا۔ اور کلام اپنے اطلاق سے یہ بھی بتائے گا کہ ان باتوں میں یہ سب صورتیں یکساں ہیں اسے دینے کا گمان رہا ہو یا نہ دینے کا یا شك رہا ہو اور اس نے بیرون نماز دیکھا ہو یا اندرون نماز دیکھ کر نماز توڑ دی ہو یا پوری کی ہو۔ اور انہوں نے زیادات کے حوالہ سے جو پہلے بیان کیااگر ہم اس کا بھی اضافہ کرنا چاہیں تو دوسرے جملہ شرطیہ میں یہ الفاظ بڑھادیں “ اگرچہ بعد نماز اسے دے دیا ہو “ تو پہلے جملہ شرطیہ میں دینا اس سے مقیدرہے گا کہ انکار کرکے بعد نمازدینا نہ ہو اور دوسرے جملہ کے تحت دو۲ شقیں رہ جائیں گی(۱)مانگنے پر دیا نہیں(۲)یا انکار کرکے بعد نماز دیا پھر اس کے بعد ہم یہ بڑھادیں “ خواہ اسے دینے کا گمان رہا ہو یا انکار کا یا شك رہا ہو مگر یہ ہے کہ اگر دینے کا گمان ہو تو نماز توڑ دے ورنہ نہیں “ ۔ (ت)
اقول : اس سے وہ صورت خارج نہ ہوگی جب مانگنے پر اس نے نہ دیا نہ انکار کیا بلکہ خاموش رہا یہ اس لئے کہ ہم بتاچکے کہ اگر خاموش رہنے کے بعد اسے تیمم سے نماز پڑھتے ہوئے دیکھنے سے قبل دے دیاتو یہ خاموشی انکار نہیں تو یہ اول یعنی “ اعطاہ “ (اسے دے دیا) میں داخل ہے اور اگر یہ بعد نماز ہے تو اس دینے سے پہلے انکار نہ پایا گیااور اس صورت میں حکم عطا کا ہے سکوت کا نہیں۔ ورنہ (اگر بعد سکوت تیمم سے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھنے سے پہلے دینا نہ ہوا ) وہ سکوت انکار ہوکر شرط ثانی میں داخل ہوگا۔ اور اس صورت میں حکم
دلیل المنع۔
لکن اولا بقی(۱)مااذاسأل فلااعطی ولاابی بل وعدثم اخلف فان کان ھذاالوعد قبل الصلاۃ اوفیھابطل تیممہ قطعا وان لم یعطہ ولم یدخل فی قولہ ان لم یسأل اواعطاہ لانہ سأل ولم یعط وکذلك ان وقع بعدھاواختیربطلانھا مطلقاوان قلنا کماھوالظاھروالله تعالی اعلم ان الصلاۃ ماضیۃ ان ظھر خلفہ فھذہ صورۃ تمام الصلاۃ ولم تدخل فی قولہ ان ابی لان من وعد لایقال انہ منع وابی الاان یدعی ان الوعد عطاء فتدخل فی الاول ولکن یحتاج الی دلیل واین الدلیل بل الدلیل علی خلافہ کمابینا۔
فان قلت بل نختار ان الوعد المخلف اباء فتدخل فی الثانی ولعل ھذا غیر بعید بالنظر الی ماال الیہ الامر۔
اقول : ان لم یجعل الوعد عطاء لم ینفع وان جعل لم یحتج الیہ وذلك لان الاخلاف ان کان اباء مستند ای من حین وعد
سکوت کا ہے اس وجہ سے کہ وہ دلیل انکار ہے۔
لیکن اولا وہ صورت رہ گئی جب اس نے مانگا تو اس نے نہ دیا نہ انکار کیا بلکہ وعدہ کیا پھر اس کے خلاف کیا تو اگر یہ وعدہ نماز سے پہلے یا نماز کے دوران ہوا ہو تو اس کا تیمم قطعا باطل ہوگیا اگرچہ اس نہ دیا اور یہ “ ان لم یسأل او اعطاہ “ (اگر اس نے نہ مانگا یا اس نے دے دیا)کے تحت داخل نہ ہوا۔ اس لئے کہ اس نے مانگااور اس نے نہ دیا اسی طرح اگر یہ وعدہ بعد نماز ہوا۔ اس میں مطلقا بطلان نماز اختیار کیا گیا ہے اگرچہ ہم نے جیسا کہ ظاہر ہے اور خدائے برتر خوب جاننے والاہے یہ کہا کہ نماز ہوگئی اگر وعدہ خلاف ظاہر ہوئی کہ یہ نماز تام ہونے کی صورت ہے اور “ ان ابی “ (اگر انکار کیا)کے تحت داخل نہیں اس لئے کہ جس نے وعدہ کیا اس کے بارے میں یہ نہ کہا جائے گاکہ اس نے منع وانکار کیا لیکن اگر یہ دعوی کیا جائے کہ وعدہ عطاہے تو یہ صورت شرط اول کے تحت داخل ہے۔ لیکن اس دعوی پر دلیل کی ضرورت ہے۔ اور دلیل کہاں بلکہ دلیل تو اس کے خلاف پر موجود ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ (ت)
اگر یہ کہے کہ ہم یہ اختیار کرتے ہیں کہ وہ وعدہ جس کے خلاف عمل ہو وہ انکار ہی ہے تو یہ صورت شرط ثانی کے تحت داخل ہوگی۔ اور یہ مآل کار کے اعتبار سے کچھ بعید بھی نہ ہوگا۔
اقول : (میں کہوں گا) اگر وعدہ کو عطا نہ قرار دیا جائے تو سودمند نہیں اور اگر عطا قرار دیا جائے تو اس کی ضرورت نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وعدہ خلافی اگر انکار مستند ہے یعنی وقت وعدہ سے
لکن اولا بقی(۱)مااذاسأل فلااعطی ولاابی بل وعدثم اخلف فان کان ھذاالوعد قبل الصلاۃ اوفیھابطل تیممہ قطعا وان لم یعطہ ولم یدخل فی قولہ ان لم یسأل اواعطاہ لانہ سأل ولم یعط وکذلك ان وقع بعدھاواختیربطلانھا مطلقاوان قلنا کماھوالظاھروالله تعالی اعلم ان الصلاۃ ماضیۃ ان ظھر خلفہ فھذہ صورۃ تمام الصلاۃ ولم تدخل فی قولہ ان ابی لان من وعد لایقال انہ منع وابی الاان یدعی ان الوعد عطاء فتدخل فی الاول ولکن یحتاج الی دلیل واین الدلیل بل الدلیل علی خلافہ کمابینا۔
فان قلت بل نختار ان الوعد المخلف اباء فتدخل فی الثانی ولعل ھذا غیر بعید بالنظر الی ماال الیہ الامر۔
اقول : ان لم یجعل الوعد عطاء لم ینفع وان جعل لم یحتج الیہ وذلك لان الاخلاف ان کان اباء مستند ای من حین وعد
سکوت کا ہے اس وجہ سے کہ وہ دلیل انکار ہے۔
لیکن اولا وہ صورت رہ گئی جب اس نے مانگا تو اس نے نہ دیا نہ انکار کیا بلکہ وعدہ کیا پھر اس کے خلاف کیا تو اگر یہ وعدہ نماز سے پہلے یا نماز کے دوران ہوا ہو تو اس کا تیمم قطعا باطل ہوگیا اگرچہ اس نہ دیا اور یہ “ ان لم یسأل او اعطاہ “ (اگر اس نے نہ مانگا یا اس نے دے دیا)کے تحت داخل نہ ہوا۔ اس لئے کہ اس نے مانگااور اس نے نہ دیا اسی طرح اگر یہ وعدہ بعد نماز ہوا۔ اس میں مطلقا بطلان نماز اختیار کیا گیا ہے اگرچہ ہم نے جیسا کہ ظاہر ہے اور خدائے برتر خوب جاننے والاہے یہ کہا کہ نماز ہوگئی اگر وعدہ خلاف ظاہر ہوئی کہ یہ نماز تام ہونے کی صورت ہے اور “ ان ابی “ (اگر انکار کیا)کے تحت داخل نہیں اس لئے کہ جس نے وعدہ کیا اس کے بارے میں یہ نہ کہا جائے گاکہ اس نے منع وانکار کیا لیکن اگر یہ دعوی کیا جائے کہ وعدہ عطاہے تو یہ صورت شرط اول کے تحت داخل ہے۔ لیکن اس دعوی پر دلیل کی ضرورت ہے۔ اور دلیل کہاں بلکہ دلیل تو اس کے خلاف پر موجود ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ (ت)
اگر یہ کہے کہ ہم یہ اختیار کرتے ہیں کہ وہ وعدہ جس کے خلاف عمل ہو وہ انکار ہی ہے تو یہ صورت شرط ثانی کے تحت داخل ہوگی۔ اور یہ مآل کار کے اعتبار سے کچھ بعید بھی نہ ہوگا۔
اقول : (میں کہوں گا) اگر وعدہ کو عطا نہ قرار دیا جائے تو سودمند نہیں اور اگر عطا قرار دیا جائے تو اس کی ضرورت نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وعدہ خلافی اگر انکار مستند ہے یعنی وقت وعدہ سے
وردت المسألۃ الاولی حیث وعد قبل تمام الصلاۃ واخلف فقد اثرمع کونہ اباء وان کان اباء مقتصرا ای من حین اخلف ولم یکن اعطاء حین وقع وردت ایضا لانہ سأل ولم یعط فلم توجد شریطۃ الابطال فلم بطلت فلامحید الاجعل الوعد عطاء بعینہ وھو خلاف المعقول والمدلول والله تعالی اعلم۔
وثانیا : کون(۱) ماء الطھارۃ مبذولا عادۃ فی کل مکان٭ بطلانہ غنی عن البیان٭ یعرفہ البلہ والصبیان وشان المبسوط یجل عن ارادتہ فوجب ردہ الی ماوفق بہ الائمۃ الجلۃ ابوبکر الجصاص وابوزید الدبوسی وابونصر الاصغار علیھم رحمۃ الغفاران المراد موضع لایعز فیہ الماء فاذن کلام المبسوط حیث یظن العطاء فکیف یقال سواء غلب علی ظنہ الاعطاء اوعدمہ اوشک۔
وثالثا : ھل(۲) السؤال مطلقا سواء ظن ظنا اوشك واجب علیہ غیرمشترط لصحۃ الصلاۃ ام ھو شرطھا علی الثانی کیف صح الشروع فیھا بلاسؤال وکیف جاز المضی فیھا لمن ظن
توپہلا سوال وارد ہوگا کیوں کہ اس نے قبل تمام نماز وعدہ کیااور خلاف کیا تو یہ انکار ہونے کے باوجود اثرانداز ہوا(جب کہ صورت انکار میں نماز تام ہوتی ہے) اور اگر انکار مقتصرہو یعنی وقت عدم وفا سے اور جب وعدہ ہوا ہے اس وقت دینا نہ ہو تو بھی پہلا سوال وارد ہوگا۔ اس لئے کہ “ اس نے مانگا اور اس نے نہ دیا “ تو ابطال کی جو شرط تھی(نہ مانگا یا اس نے دے دیا)وہ نہ پائی گئی پھر نماز کیوں باطل ہوئی توکوئی مفر نہیں سوااس کے کہ وہ وعدہ کو بعینہ عطا قرار دیں اور یہ معقول ومدلول دونوں کے خلاف ہے۔ (ت)
ثانیا : آب طہارت ہر جگہ عادۃ دے دیا جاتا ہے اس کا بطلان بیان سے بے نیاز ہے بے وقوفوں اور بچوں کو بھی معلوم ہے اور مبسوط کا مقام ایسا معنی مراد لینے سے بلند ہے تو اس کے کلام کو اسی طرف پھیرنا ضروری ہے جس سے امام ابوبکر جصاص امام ابوزید دبوسی اور امام ابونصر صغار علیہم الرحمۃ نے تطبیق دی کہ مراد ایسی جگہ ہے جہاں پانی کم یاب نہ ہو اب مبسوط کا کلام یہ ہوگا کہ(ایسی جگہ سوال نہ کیا) جہاں پانی دینے کا گمان ہو۔ پھر یہ کیسے کہاجائےگاکہ (عدم سوال مبطل ہے)خواہ اسے دینے کا ظن ہو یا نہ دینے کا یا شك کی صورت ہو۔
ثالثا : کیا ایسا ہے کہ مانگنا خواہ کوئی گمان ہو یا شك ہو مطلقا اس پر واجب ہے مگر صحت نماز کی شرط نہیں یا اس کی شرط بھی ہے۔ برتقدیر ثانی بغیر مانگے اس کا نماز شروع کرنا کیسے صحیح ہوا اور ظن منع یا شك والے کیلئے
وثانیا : کون(۱) ماء الطھارۃ مبذولا عادۃ فی کل مکان٭ بطلانہ غنی عن البیان٭ یعرفہ البلہ والصبیان وشان المبسوط یجل عن ارادتہ فوجب ردہ الی ماوفق بہ الائمۃ الجلۃ ابوبکر الجصاص وابوزید الدبوسی وابونصر الاصغار علیھم رحمۃ الغفاران المراد موضع لایعز فیہ الماء فاذن کلام المبسوط حیث یظن العطاء فکیف یقال سواء غلب علی ظنہ الاعطاء اوعدمہ اوشک۔
وثالثا : ھل(۲) السؤال مطلقا سواء ظن ظنا اوشك واجب علیہ غیرمشترط لصحۃ الصلاۃ ام ھو شرطھا علی الثانی کیف صح الشروع فیھا بلاسؤال وکیف جاز المضی فیھا لمن ظن
توپہلا سوال وارد ہوگا کیوں کہ اس نے قبل تمام نماز وعدہ کیااور خلاف کیا تو یہ انکار ہونے کے باوجود اثرانداز ہوا(جب کہ صورت انکار میں نماز تام ہوتی ہے) اور اگر انکار مقتصرہو یعنی وقت عدم وفا سے اور جب وعدہ ہوا ہے اس وقت دینا نہ ہو تو بھی پہلا سوال وارد ہوگا۔ اس لئے کہ “ اس نے مانگا اور اس نے نہ دیا “ تو ابطال کی جو شرط تھی(نہ مانگا یا اس نے دے دیا)وہ نہ پائی گئی پھر نماز کیوں باطل ہوئی توکوئی مفر نہیں سوااس کے کہ وہ وعدہ کو بعینہ عطا قرار دیں اور یہ معقول ومدلول دونوں کے خلاف ہے۔ (ت)
ثانیا : آب طہارت ہر جگہ عادۃ دے دیا جاتا ہے اس کا بطلان بیان سے بے نیاز ہے بے وقوفوں اور بچوں کو بھی معلوم ہے اور مبسوط کا مقام ایسا معنی مراد لینے سے بلند ہے تو اس کے کلام کو اسی طرف پھیرنا ضروری ہے جس سے امام ابوبکر جصاص امام ابوزید دبوسی اور امام ابونصر صغار علیہم الرحمۃ نے تطبیق دی کہ مراد ایسی جگہ ہے جہاں پانی کم یاب نہ ہو اب مبسوط کا کلام یہ ہوگا کہ(ایسی جگہ سوال نہ کیا) جہاں پانی دینے کا گمان ہو۔ پھر یہ کیسے کہاجائےگاکہ (عدم سوال مبطل ہے)خواہ اسے دینے کا ظن ہو یا نہ دینے کا یا شك کی صورت ہو۔
ثالثا : کیا ایسا ہے کہ مانگنا خواہ کوئی گمان ہو یا شك ہو مطلقا اس پر واجب ہے مگر صحت نماز کی شرط نہیں یا اس کی شرط بھی ہے۔ برتقدیر ثانی بغیر مانگے اس کا نماز شروع کرنا کیسے صحیح ہوا اور ظن منع یا شك والے کیلئے
منعااوشك بل وکیف قلتم فیمن یظن العطاء یقطعھا وانما القطع لماانعقد وما ذانفع الفرق ھھنا بین ظن العطاء وغیرہ فترك الشرط مبطل مطلقا وکیف امضیتموھا اذا سأل بعدھا فابی وان کان یظن العطاء فان ماوقع باطلا لفقد شرط من شروط الصحۃ لاینقلب جائزا بعد کمن ظن قربہ ولم یطلب وصلی بالتیمم ثم طلب فلم یجد بطلت ایضا کما تقدم عن السراج الوھاج والجوھرۃ۔
بل کیف یتأخر عنھا سؤال کان شرطالھا عــہ والشرط لایتأخر عن
اس نماز کی ادائیگی پر برقرار رہنا کیسے جائز ہوابلکہ یہ سوال بھی ہے کہ جو عطاء کا ظن رکھتا ہو اس کیلئے آپ نے یہ کیوں کہاکہ نماز توڑدے توڑنا تو اسی کا ہوتاہے جو بندھ چکا ہو اور جس کا انعقاد ہوگیا ہواوریہاں ظن عطااوراس کے ماسوا میں فرق سے کیا فائدہشرط کا ترك تو مطلقا مبطل ہے اور اس صورت میں آپ نے نماز کو تام قرار دیا جب اس نےبعد نماز طلب کیا اور اس نے انکار کردیا اگرچہ اسے عطا کا گمان رہا ہو اس پر سوال یہ ہے کہ آپ نے نماز کو تام کیسے قرار دیاجو عمل کسی شرط صحت کے فقدان کی وجہ سے باطل واقع ہوا وہ بعد میں جائز کی صورت میں تبدیل نہیں ہوسکتا۔ ایسے اس کا حال ہے جسے قرب آب کا ظن تھا اور اس نے پانی تلاش نہ کیا۔ تیمم سے نماز پڑھ لی پھر تلاش کیا تو نہ پایا جب بھی اس کی نماز باطل ہے جیسا کہ سراج وہاج اور جوہرہ کے حوالہ سے بیان ہوا۔ بلکہ جو سوال نمازکی شرط تھا وہ نماز سے مؤخر کیسے ہوگا شرط تو مشروط سے مؤخر
عــہ فان قلت کیف تقول ھذا مع تصریحھم بان(۱) علم المقتدی بحال الامام من سفر واقامۃ شرط صحۃ الاقتداء کمافی الخانیۃ والبحروالدر وغیرھا ثم صرحوا بأنہ لایشترط حصولہ من الابتداء بل یکفی حصولہ بعد الصلاۃ باخبار الامام مثلا انہ
اگر یہ سوال ہو کہ آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ فقہاء نے صراحت فرمائی ہے کہ مقتدی کو امام کی حالت سفر واقامت کا علم ہونا “ صحت اقتدا کی شرط ہے “ جیسا کہ خانیہ بحر اور درمختار وغیرہا میں ہے۔ پھر یہ بھی صراحت فرمائی ہے کہ شروع ہی سے یہ علم ہونا شرط نہیں بلکہ بعد نماز یہ علم ہوجانابھی کافی ہے مثلا اس طرح کہ امام(بعد نماز)بتادے کہ وہ(باقی برصفحہ ائندہ)
بل کیف یتأخر عنھا سؤال کان شرطالھا عــہ والشرط لایتأخر عن
اس نماز کی ادائیگی پر برقرار رہنا کیسے جائز ہوابلکہ یہ سوال بھی ہے کہ جو عطاء کا ظن رکھتا ہو اس کیلئے آپ نے یہ کیوں کہاکہ نماز توڑدے توڑنا تو اسی کا ہوتاہے جو بندھ چکا ہو اور جس کا انعقاد ہوگیا ہواوریہاں ظن عطااوراس کے ماسوا میں فرق سے کیا فائدہشرط کا ترك تو مطلقا مبطل ہے اور اس صورت میں آپ نے نماز کو تام قرار دیا جب اس نےبعد نماز طلب کیا اور اس نے انکار کردیا اگرچہ اسے عطا کا گمان رہا ہو اس پر سوال یہ ہے کہ آپ نے نماز کو تام کیسے قرار دیاجو عمل کسی شرط صحت کے فقدان کی وجہ سے باطل واقع ہوا وہ بعد میں جائز کی صورت میں تبدیل نہیں ہوسکتا۔ ایسے اس کا حال ہے جسے قرب آب کا ظن تھا اور اس نے پانی تلاش نہ کیا۔ تیمم سے نماز پڑھ لی پھر تلاش کیا تو نہ پایا جب بھی اس کی نماز باطل ہے جیسا کہ سراج وہاج اور جوہرہ کے حوالہ سے بیان ہوا۔ بلکہ جو سوال نمازکی شرط تھا وہ نماز سے مؤخر کیسے ہوگا شرط تو مشروط سے مؤخر
عــہ فان قلت کیف تقول ھذا مع تصریحھم بان(۱) علم المقتدی بحال الامام من سفر واقامۃ شرط صحۃ الاقتداء کمافی الخانیۃ والبحروالدر وغیرھا ثم صرحوا بأنہ لایشترط حصولہ من الابتداء بل یکفی حصولہ بعد الصلاۃ باخبار الامام مثلا انہ
اگر یہ سوال ہو کہ آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ فقہاء نے صراحت فرمائی ہے کہ مقتدی کو امام کی حالت سفر واقامت کا علم ہونا “ صحت اقتدا کی شرط ہے “ جیسا کہ خانیہ بحر اور درمختار وغیرہا میں ہے۔ پھر یہ بھی صراحت فرمائی ہے کہ شروع ہی سے یہ علم ہونا شرط نہیں بلکہ بعد نماز یہ علم ہوجانابھی کافی ہے مثلا اس طرح کہ امام(بعد نماز)بتادے کہ وہ(باقی برصفحہ ائندہ)
المشروط وعلی الاول لم قلتم بطلت صلاتہ بترك السؤال بعدھا وان ظن منعا اوشك فترك المرء بعض مایجب علیہ لایفسد صلاتہ مالم یخل ذلك بشیئ من شروط صحتھا۔
فان قلت کیف حکمتم ببطلان صلاتہ اذاظن العطاء ولم یسأل فمامنہ الاترك مالیس شرطا لصحۃ الصلاۃ۔
اقول : بلی شرط صحۃ الصلاۃ الطھارۃ وشرط طھارتہ ھذہ ظھور
نہیں ہوتی۔ برتقدیر اول آپ نے یہ کیوں فرمایا کہ بعد نماز ترك سوال سے اس کی نماز باطل ہوگئی اگرچہ اسے انکار کا گمان ہو یا شك کی صورت ہو۔ ترك واجب سے نماز فاسد نہیں ہوجاتی جب کہ یہ صحت نماز کی کسی شرط میں خلل انداز نہ ہو۔
اگریہ سوال ہو کہ جب اسے عطا کا ظن ہو اور نہ مانگے تو آپ نے اس کی نماز باطل ہونے کا کیسے حکم کردیا جبکہ اس نے ایك ایسا ہی کام ترك کیا جو صحت نماز کی شرط نہیں۔
اقول : (میں کہوں گا)کیوں نہیں نماز صحیح ہونے کی شرط طہارت ہے اور اس طہارت کی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
مسافر کما اشیر الیہ فی المتون وصرح بہ فی التوشیح والنھایۃ والسراج والتتارخانیۃ والبحر والدر وغیرھا فقدجوزوا تأخر الشرط عن المشروط اقول لیس ھکذا بل التحقیق(۱) فیہ انہ شرط الحکم بصحۃ الاقتداء لاشرط نفسہ وھو مرادما ذکروا من الاشتراط کما افادہ فی الفتح واوضحناہ فی صلاۃ المسافر من فتاونا وبالله التوفیق ۱۲ منہ غفرلہ (م)
مسافر ہے جیسا کہ متون میں اس صورت کی طرف اشارہ آیاہے اور توشیح نہایہ سراج تاتارخانیہ بحر اور درمختار وغیرہا میں اس کی صراحت آئی ہے تو ان حضرات نے مشروط سے شرط کا مؤخر ہونا جائز رکھا اقول : (میں جوابا کہوں گا) معاملہ اس طرح نہیں بلکہ اس بارے میں تحقیق یہ ہے کہ وہ علم صحت اقتدا کے حکم کیلئے شرط ہے خود صحت اقتدا کی شرط نہیں۔ علماء نے جو شرط ہونا ذکر کیا اس سے یہی مراد ہے جیساکہ فتح القدیر سے یہ مستفاد ہے اور ہم نے اپنے فتاوی کے اندر نماز مسافر کے بیان میں اسے واضح کیا ہے اور خدا ہی سے توفیق ہے ۲۱ منہ غفرلہ (ت)
فان قلت کیف حکمتم ببطلان صلاتہ اذاظن العطاء ولم یسأل فمامنہ الاترك مالیس شرطا لصحۃ الصلاۃ۔
اقول : بلی شرط صحۃ الصلاۃ الطھارۃ وشرط طھارتہ ھذہ ظھور
نہیں ہوتی۔ برتقدیر اول آپ نے یہ کیوں فرمایا کہ بعد نماز ترك سوال سے اس کی نماز باطل ہوگئی اگرچہ اسے انکار کا گمان ہو یا شك کی صورت ہو۔ ترك واجب سے نماز فاسد نہیں ہوجاتی جب کہ یہ صحت نماز کی کسی شرط میں خلل انداز نہ ہو۔
اگریہ سوال ہو کہ جب اسے عطا کا ظن ہو اور نہ مانگے تو آپ نے اس کی نماز باطل ہونے کا کیسے حکم کردیا جبکہ اس نے ایك ایسا ہی کام ترك کیا جو صحت نماز کی شرط نہیں۔
اقول : (میں کہوں گا)کیوں نہیں نماز صحیح ہونے کی شرط طہارت ہے اور اس طہارت کی
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
مسافر کما اشیر الیہ فی المتون وصرح بہ فی التوشیح والنھایۃ والسراج والتتارخانیۃ والبحر والدر وغیرھا فقدجوزوا تأخر الشرط عن المشروط اقول لیس ھکذا بل التحقیق(۱) فیہ انہ شرط الحکم بصحۃ الاقتداء لاشرط نفسہ وھو مرادما ذکروا من الاشتراط کما افادہ فی الفتح واوضحناہ فی صلاۃ المسافر من فتاونا وبالله التوفیق ۱۲ منہ غفرلہ (م)
مسافر ہے جیسا کہ متون میں اس صورت کی طرف اشارہ آیاہے اور توشیح نہایہ سراج تاتارخانیہ بحر اور درمختار وغیرہا میں اس کی صراحت آئی ہے تو ان حضرات نے مشروط سے شرط کا مؤخر ہونا جائز رکھا اقول : (میں جوابا کہوں گا) معاملہ اس طرح نہیں بلکہ اس بارے میں تحقیق یہ ہے کہ وہ علم صحت اقتدا کے حکم کیلئے شرط ہے خود صحت اقتدا کی شرط نہیں۔ علماء نے جو شرط ہونا ذکر کیا اس سے یہی مراد ہے جیساکہ فتح القدیر سے یہ مستفاد ہے اور ہم نے اپنے فتاوی کے اندر نماز مسافر کے بیان میں اسے واضح کیا ہے اور خدا ہی سے توفیق ہے ۲۱ منہ غفرلہ (ت)
العجزوظھورالعجز یزول بظن عطاء لم یظھرخلافہ فاذاظن العطاء حکم بفسادصلاتہ موقوفاالی ان یظھر خلافہ فتصح اولا فتفسد باتاکما بینت اخرالمسائل فاذالم یسأل لم یظھر فبت فسادھالالاشتراط السؤال بل لفقدان ظھور العجز بخلاف مااذا ظن المنع فانہ لم یوجد معارض لظھور العجز وھو ظاھروکذا اذاشك لکونہ احتمالا لاعن دلیل فلایعارض الظاھر کماحققت اخر المسألۃ السادسۃ ولله الحمد۔
اقول : ثم ھھنا عدۃ اسئلۃ ترد علی ظاھرکلام الامام فی النظرالظاھر اجبنا ان نوردھا ونردھا الاول جعلتم الشك فی الاعطاء والمنع شکا فی القدرۃ والعجز فاذن ظن المنع ظن العجز وقد قلتم ان غلبۃ الظن اقیم مقام حقیقۃ القدرۃ والعجز تیسیرا فاذا ظھرخلافہ لم یبق قائما مقامھما فقد افدتم انہ اذالم یظھرخلافہ یبقی قائمامقامھمافلم قلتم ان من ظن المنع ولم یسأل بعد ولم یعطہ
شرط یہ ہے کہ اس کا عجز ظاہر ہو۔ اور ظہور عجز ایسے ظن عطا سے ختم ہوجاتا ہے جس کے خلاف ظاہر نہ ہو۔ تو جب اسے عطا کا گمان ہوجائے حکم کیا جائے گاکہ اس کی نماز کا فاسد ہونا موقوف رہے گا یہاں تك کہ اس گمان عطا کے خلاف ظاہر ہو تو نماز صحیح ہوجائے گی یا اس کے خلاف ظاہر نہ ہو تو نماز قطعی طورپر فاسد ہوجائے گی جیسا کہ میں نے آخری مسئلہ میں بیان کیا جب اس نے سوال نہ کیا اس کے ظن عطا کے خلاف ظاہر نہ ہوا تو فساد نماز قطعی ہوگیا اس لئے نہیں کہ سوال شرط ہے بلکہ اس لئے کہ ظہور عجز مفقود ہے بخلاف اس صورت کے جب انکار کاظن ہو اس لئے کہ ظہور عجز کا کوئی معارض نہ پایاگیا یہ تو واضح ہے اسی طرح جب شك رہا ہو اس لئے کہ یہ احتمال بلادلیل ہے تو ظاہر کے معارض نہ ہوگا جیسا کہ میں نے مسئلہ ششم کے آخر میں اس کی تحقیق کی ہے۔ اور خدا ہی کیلئے حمد ہے۔ (ت)
اقول : اب یہ دیکھئے کہ یہاں امام صدر الشریعۃ کے ظاہر کلام پر بادی النظر میں چند اعتراض وارد ہوتے ہیں جنہیں ہم ذکر کرکے ان کی تردید کردینا چاہتے ہیں۔
پہلا اعتراض : عطاء ومنع میں شك کو آپ نے قدرت وعجز میں شك قرار دیا ہے اس لحاظ سے ظن منع ظن عجز ہوگا جبکہ آپ نے فرمایا ہے کہ غلبہ ظن کو آسانی کیلئے قدرت وعجزکی حقیقت ویقین کے قائم مقام رکھاگیا ہے پھر جب اس کے خلاف ظاہر ہوجائے تو وہ حقیقت قدرت وعجز کے قائم مقام نہیں رہ جاتا اس سے یہ مستفاد ہوا کہ جب اس کے خلاف نہ ظاہر ہو تو وہ
اقول : ثم ھھنا عدۃ اسئلۃ ترد علی ظاھرکلام الامام فی النظرالظاھر اجبنا ان نوردھا ونردھا الاول جعلتم الشك فی الاعطاء والمنع شکا فی القدرۃ والعجز فاذن ظن المنع ظن العجز وقد قلتم ان غلبۃ الظن اقیم مقام حقیقۃ القدرۃ والعجز تیسیرا فاذا ظھرخلافہ لم یبق قائما مقامھما فقد افدتم انہ اذالم یظھرخلافہ یبقی قائمامقامھمافلم قلتم ان من ظن المنع ولم یسأل بعد ولم یعطہ
شرط یہ ہے کہ اس کا عجز ظاہر ہو۔ اور ظہور عجز ایسے ظن عطا سے ختم ہوجاتا ہے جس کے خلاف ظاہر نہ ہو۔ تو جب اسے عطا کا گمان ہوجائے حکم کیا جائے گاکہ اس کی نماز کا فاسد ہونا موقوف رہے گا یہاں تك کہ اس گمان عطا کے خلاف ظاہر ہو تو نماز صحیح ہوجائے گی یا اس کے خلاف ظاہر نہ ہو تو نماز قطعی طورپر فاسد ہوجائے گی جیسا کہ میں نے آخری مسئلہ میں بیان کیا جب اس نے سوال نہ کیا اس کے ظن عطا کے خلاف ظاہر نہ ہوا تو فساد نماز قطعی ہوگیا اس لئے نہیں کہ سوال شرط ہے بلکہ اس لئے کہ ظہور عجز مفقود ہے بخلاف اس صورت کے جب انکار کاظن ہو اس لئے کہ ظہور عجز کا کوئی معارض نہ پایاگیا یہ تو واضح ہے اسی طرح جب شك رہا ہو اس لئے کہ یہ احتمال بلادلیل ہے تو ظاہر کے معارض نہ ہوگا جیسا کہ میں نے مسئلہ ششم کے آخر میں اس کی تحقیق کی ہے۔ اور خدا ہی کیلئے حمد ہے۔ (ت)
اقول : اب یہ دیکھئے کہ یہاں امام صدر الشریعۃ کے ظاہر کلام پر بادی النظر میں چند اعتراض وارد ہوتے ہیں جنہیں ہم ذکر کرکے ان کی تردید کردینا چاہتے ہیں۔
پہلا اعتراض : عطاء ومنع میں شك کو آپ نے قدرت وعجز میں شك قرار دیا ہے اس لحاظ سے ظن منع ظن عجز ہوگا جبکہ آپ نے فرمایا ہے کہ غلبہ ظن کو آسانی کیلئے قدرت وعجزکی حقیقت ویقین کے قائم مقام رکھاگیا ہے پھر جب اس کے خلاف ظاہر ہوجائے تو وہ حقیقت قدرت وعجز کے قائم مقام نہیں رہ جاتا اس سے یہ مستفاد ہوا کہ جب اس کے خلاف نہ ظاہر ہو تو وہ
صاحبہ بطلت صلاتہ مع ان عندہ ظن العجزولم یظھرخلافہ فیکون قائما مقام حقیقۃ العجز۔
الثانی : رأی الماء وھو یصلی وظن المنع فاتم کماامرتم فلما فرغ وجد صاحبہ قدذھب ولایدری مکانہ فمتی توجبون علیہ السؤال افی صلاتہ فیجب القطع وقد نھیتموہ ام بعدھا وقد ذھب وغاب فایجاب السؤال ایجاب المحال فوجب القول بادارۃ الحکم علی ظنہ۔
الثالث : اذا اوجبتم السؤال بکل حال٭ وان لم یسأل حکمتم مطلقا بالابطال٭ فلاشك ان ظنہ بمعزل عن الحکم عند ترك السؤال٭ واذا سأل ظھرت الحقیقۃ وانسل الظن عن المجال٭ فمتی اقیم مقامھا ومالہ الاالزوال٭
ان دونوں کے قائم مقام رہتا ہے پھر آپ نے یہ کیسے فرمایا کہ جسے انکار کا گمان ہو اور اس نے ابھی مانگا نہیں اور پانی والے نے اسے دیا بھی نہیں تو اس کی نماز باطل ہوگئی باوجودیکہ اسے عجز کا گمان ہے اور اس کے خلاف ظاہر بھی نہ ہوا تو وہ حقیقت عجز کے قائم مقام رہے گا۔
دوسرا اعتراض : اس نے نماز پڑھتے وقت پانی دیکھا اور اسے انکار کا گمان ہوا تو جیسا کہ آپ نے حکم دیا ہے اس نے نماز پوری کرلی جب فارغ ہوا تو دیکھا کہ پانی والا چلاگیا اب کہاں ہے پتا نہیں۔ تو اب اس کے ذمہ آپ مانگنا کب واجب کرتے ہیں اگر نماز کے دوران ہی واجب کرتے ہیں تو نماز توڑنا واجب ہوگا جب کہ اس سے آپ نے منع فرمایا ہے اور اگر بعد نماز واجب کرتے ہیں تو اب وہ چلا گیا اور غائب ہوگیا ایسی صورت میں اس سے مانگنے کو واجب کرنا ایك امر محال کو واجب کرنا ہے لامحالہ اس کے ظن ہی پر مدرا حکم رکھنے کا قائل ہونا پڑے گا۔
تیسرا اعتراض : جب آپ نے ہر حال میں مانگنا واجب کیا اور اگر نہ مانگا تو مطلقا ابطال کا حکم دیا اب دو ہی صورتیں ہیں سوال یا ترك سوال۔ ترك سوال کی صورت میں تو صاف ظاہر ہے کہ اس کے ظن کا حکم سے کوئی تعلق نہیں اور سوال کی صورت میں حقیقت خود ہی منکشف ہوجاتی ہے اور ظن میدان سے نکل جاتا ہے تو ظن کو حقیقت کے قائم مقام کب رکھا گیا جبکہ اس کے حصہ میں زوال کے سوا کچھ بھی نہیں۔
الثانی : رأی الماء وھو یصلی وظن المنع فاتم کماامرتم فلما فرغ وجد صاحبہ قدذھب ولایدری مکانہ فمتی توجبون علیہ السؤال افی صلاتہ فیجب القطع وقد نھیتموہ ام بعدھا وقد ذھب وغاب فایجاب السؤال ایجاب المحال فوجب القول بادارۃ الحکم علی ظنہ۔
الثالث : اذا اوجبتم السؤال بکل حال٭ وان لم یسأل حکمتم مطلقا بالابطال٭ فلاشك ان ظنہ بمعزل عن الحکم عند ترك السؤال٭ واذا سأل ظھرت الحقیقۃ وانسل الظن عن المجال٭ فمتی اقیم مقامھا ومالہ الاالزوال٭
ان دونوں کے قائم مقام رہتا ہے پھر آپ نے یہ کیسے فرمایا کہ جسے انکار کا گمان ہو اور اس نے ابھی مانگا نہیں اور پانی والے نے اسے دیا بھی نہیں تو اس کی نماز باطل ہوگئی باوجودیکہ اسے عجز کا گمان ہے اور اس کے خلاف ظاہر بھی نہ ہوا تو وہ حقیقت عجز کے قائم مقام رہے گا۔
دوسرا اعتراض : اس نے نماز پڑھتے وقت پانی دیکھا اور اسے انکار کا گمان ہوا تو جیسا کہ آپ نے حکم دیا ہے اس نے نماز پوری کرلی جب فارغ ہوا تو دیکھا کہ پانی والا چلاگیا اب کہاں ہے پتا نہیں۔ تو اب اس کے ذمہ آپ مانگنا کب واجب کرتے ہیں اگر نماز کے دوران ہی واجب کرتے ہیں تو نماز توڑنا واجب ہوگا جب کہ اس سے آپ نے منع فرمایا ہے اور اگر بعد نماز واجب کرتے ہیں تو اب وہ چلا گیا اور غائب ہوگیا ایسی صورت میں اس سے مانگنے کو واجب کرنا ایك امر محال کو واجب کرنا ہے لامحالہ اس کے ظن ہی پر مدرا حکم رکھنے کا قائل ہونا پڑے گا۔
تیسرا اعتراض : جب آپ نے ہر حال میں مانگنا واجب کیا اور اگر نہ مانگا تو مطلقا ابطال کا حکم دیا اب دو ہی صورتیں ہیں سوال یا ترك سوال۔ ترك سوال کی صورت میں تو صاف ظاہر ہے کہ اس کے ظن کا حکم سے کوئی تعلق نہیں اور سوال کی صورت میں حقیقت خود ہی منکشف ہوجاتی ہے اور ظن میدان سے نکل جاتا ہے تو ظن کو حقیقت کے قائم مقام کب رکھا گیا جبکہ اس کے حصہ میں زوال کے سوا کچھ بھی نہیں۔
اقول : والجواب عن الکل فی حرف واحدان السؤال واجب مھما امکن فاذا تعذر دار الامر علی الظن٭وقولہ(۱) فاذا ظھرخلافہ لیس فی الحکم حتی یؤخذ مفھومہ بل فی تعلیل مسألۃ وکان الواقع فیھاظھور خلافہ فبنی الامر علیہ والله تعالی اعلم۔
الثانی القانون البحری
قال رحمہ الله تعالی ان المتیمم اذارأی مع رجل ماء کافیا فلا یخلو اماان یکون فی الصلاۃ اوخارجھا وفی کل منھما اما ان یغلب علی ظنہ الاعطاء اوعدمہ اویشك وفی کل منھا اما ان سألہ اولا وفی کل منھا اما ان اعطاہ اولافھی اربعۃ وعشرون فان کان فی الصلاۃ وغلب علی ظنہ الاعطاء قطع وطلب الماء فان اعطاہ توضأ والا فتیممہ باق فلو اتمھا ثم سألہ فان اعطاہ استأنف وان ابی تمت وکذا اذا ابی ثم اعطی وان غلب علی ظنہ عدم الاعطاء اوشك لایقطع صلاتہ فان قطع وسأل فان اعطاہ توضأ والا فتیممہ باق وان اتم ثم سأل فان اعطاہ بطلت وان ابی تمت
اقول : ایك حرف میں سب کا جواب یہ ہے کہ بصورت امکان سوال واجب ہے جب یہ معتذر ہو تو حکم کا مدار ظن پر ہے۔ اور صدر الشریعۃ کا قول “ فاذا ظھر خلافہ “ (تو جب اس کے خلاف ظاہر ہوا)حکم کے تحت نہیں کہ اس کا مفہوم لیا جائے بلکہ وہ ایك مسئلہ کی تعلیل کے تحت ہے اور اس میں واقع یہی تھا کہ اس کے خلاف ظاہر ہوا تو بنائے کار اسی پر رکھی اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
دوم : قانون علامہ صاحب البحر
صاحب بحر رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا : “ معلوم ہوا کہ تیمم والا جب کسی آدمی کے ساتھ آب کافی دیکھے تو دو صورتوں سے خالی نہیں یاتویہ دیکھنا اندرون نمازہوگایابیرون نماز ہوگا۔ اور ہر ایك میں یا تو دینے یا نہ دینے کا غلبہ ظن ہوگا یا شك ہوگا۔ اور ان میں سے ہر ایك میں یا تو اس سے طلب کیا ہوگا یا نہ کیا ہوگا۔ اور ہر ایك میں یا تو اس نے دیا ہوگا یا نہ دیا ہوگا تو یہ چوبیس۲۴ صورتیں ہوئیں۔ اگر اندرون نماز ہو اور دینے کا غلبہ ظن ہو تو نماز توڑ دے اور پانی طلب کرے۔ اگر دے دے تو وضو کرے ورنہ اس کا تیمم باقی ہے اگر نماز پوری کرلی پھر مانگا تو اگر دے دے ازسرنو نماز پڑھے اور اگر انکار کردے تو اس کی نماز پوری ہوگئی۔ اسی طرح جب انکار کردے پھر دے دے۔ اور اگر اسے نہ دینے کا غلبہ ظن ہو یا شك ہو تو نماز
الثانی القانون البحری
قال رحمہ الله تعالی ان المتیمم اذارأی مع رجل ماء کافیا فلا یخلو اماان یکون فی الصلاۃ اوخارجھا وفی کل منھما اما ان یغلب علی ظنہ الاعطاء اوعدمہ اویشك وفی کل منھا اما ان سألہ اولا وفی کل منھا اما ان اعطاہ اولافھی اربعۃ وعشرون فان کان فی الصلاۃ وغلب علی ظنہ الاعطاء قطع وطلب الماء فان اعطاہ توضأ والا فتیممہ باق فلو اتمھا ثم سألہ فان اعطاہ استأنف وان ابی تمت وکذا اذا ابی ثم اعطی وان غلب علی ظنہ عدم الاعطاء اوشك لایقطع صلاتہ فان قطع وسأل فان اعطاہ توضأ والا فتیممہ باق وان اتم ثم سأل فان اعطاہ بطلت وان ابی تمت
اقول : ایك حرف میں سب کا جواب یہ ہے کہ بصورت امکان سوال واجب ہے جب یہ معتذر ہو تو حکم کا مدار ظن پر ہے۔ اور صدر الشریعۃ کا قول “ فاذا ظھر خلافہ “ (تو جب اس کے خلاف ظاہر ہوا)حکم کے تحت نہیں کہ اس کا مفہوم لیا جائے بلکہ وہ ایك مسئلہ کی تعلیل کے تحت ہے اور اس میں واقع یہی تھا کہ اس کے خلاف ظاہر ہوا تو بنائے کار اسی پر رکھی اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
دوم : قانون علامہ صاحب البحر
صاحب بحر رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا : “ معلوم ہوا کہ تیمم والا جب کسی آدمی کے ساتھ آب کافی دیکھے تو دو صورتوں سے خالی نہیں یاتویہ دیکھنا اندرون نمازہوگایابیرون نماز ہوگا۔ اور ہر ایك میں یا تو دینے یا نہ دینے کا غلبہ ظن ہوگا یا شك ہوگا۔ اور ان میں سے ہر ایك میں یا تو اس سے طلب کیا ہوگا یا نہ کیا ہوگا۔ اور ہر ایك میں یا تو اس نے دیا ہوگا یا نہ دیا ہوگا تو یہ چوبیس۲۴ صورتیں ہوئیں۔ اگر اندرون نماز ہو اور دینے کا غلبہ ظن ہو تو نماز توڑ دے اور پانی طلب کرے۔ اگر دے دے تو وضو کرے ورنہ اس کا تیمم باقی ہے اگر نماز پوری کرلی پھر مانگا تو اگر دے دے ازسرنو نماز پڑھے اور اگر انکار کردے تو اس کی نماز پوری ہوگئی۔ اسی طرح جب انکار کردے پھر دے دے۔ اور اگر اسے نہ دینے کا غلبہ ظن ہو یا شك ہو تو نماز
وان کان خارج الصلاۃ فان لم یسأل وتیمم وصلی جازت الصلاۃ علی مافی الھدایۃ ولاتجوز علی مافی المبسوط فان سأل بعدھا فان اعطاہ اعاد والافلا سواء ظن الاعطاء اوالمنع اوشك وان سأل فان اعطاہ توضأ وان منعہ تیمم وصلی فان اعطاہ بعدھا لااعادۃ علیہ وینتقض تیممہ ولایتأتی فی ھذ القسم الظن اوالشك وھذا حاصل مافی الزیادات وغیرھا وھذا الضبط من خواص ھذا الکتاب اھ وتبعہ اخوہ وتلمیذہ المدقق فی النھر اثر عنہ ش واقر۔
اقول : اولا : (۱)بل ھی علی ماسلك ست وستون تضمن کلامہ بیان اربع وخمسین وبقیت علیہ اثنتا عشرۃ وذلك لانہ اما ان یراہ فی الصلاۃ اوقبلھا وعلی کل یظن العطاء اوالمنع اویشك فھی ست وفی کل منھااحدی عشرۃ لانہ اما ان یسأل قبل الصلاۃ او بعدھا اولاولا کیف وقدمر علی ھذا
نہ توڑے۔ اور اگر توڑ دی اور مانگا تو اگر دے دے وضو کرے ورنہ اس کا تیمم باقی ہے۔ اور اگر پوری کرلی پھر مانگا تو اگر دے دے نماز باطل ہوگئی اور اگر انکار کردے تو تام ہے اور اگر بیرون نماز ہو تو اگر نہ مانگااور تیمم سے نماز ادا کرلی تو کلام ہدایہ کے مطابق نمازہوگئی اور بیان مبسوط کے مطابق نہ ہوئی اگر بعد نماز مانگا تو اگر وہ دے دے اعادہ کرے ورنہ نہیں خواہ عطا کا گمان رہا ہو یا منع کا یا شك رہا ہو۔ اور اگر مانگا تو دینے کی صورت میں وضو کرے اور انکار کی صورت میں تیمم کرے اور نماز پڑھے۔ اب اگربعد نماز دے دے تو اس پر اعادہ نہیں تیمم ٹوٹ جائے گا۔ اس قسم میں ظن یا شك کی صورت ہی نہیں یہ سب اس کا حاصل ہے جو زیادات وغیرہا میں ہے۔ اور یہ انداز ضبط اس کتاب کی خصوصیات سے ہے اھ۔ ان کے برادر تلمیذ مدقق نے النہرالفائق میں اسی کی پیروی کی۔ ان سے علامہ شامی نے نقل کیا اور برقرار رکھا۔ (ت)
اقول : اولا : بلکہ یہ ان کی روش کلام کے مطابق چھیاسٹھ۶۶ صورتیں ہیں جن میں سے چون۵۴ صورتوں کا بیان ان کے کلام کے ضمن میں آگیا اور بارہ۱۲ صورتیں رہ گئیں۔ وہ اس لئے کہ یا تو وہ اندرون نماز دیکھے گا یا قبل نماز۔ اور بہر دو صورت یا تو اسے عطا کا ظن ہوگا یا انکار کا یا شك ہوگا۔ یہ چھ۶ صورتیں ہوئیں اور ان میں سے ہر ایك گیارہ ۱۱ صورتیں ہیں اس لئے کہ وہ یا تو قبل نماز مانگے گا
اقول : اولا : (۱)بل ھی علی ماسلك ست وستون تضمن کلامہ بیان اربع وخمسین وبقیت علیہ اثنتا عشرۃ وذلك لانہ اما ان یراہ فی الصلاۃ اوقبلھا وعلی کل یظن العطاء اوالمنع اویشك فھی ست وفی کل منھااحدی عشرۃ لانہ اما ان یسأل قبل الصلاۃ او بعدھا اولاولا کیف وقدمر علی ھذا
نہ توڑے۔ اور اگر توڑ دی اور مانگا تو اگر دے دے وضو کرے ورنہ اس کا تیمم باقی ہے۔ اور اگر پوری کرلی پھر مانگا تو اگر دے دے نماز باطل ہوگئی اور اگر انکار کردے تو تام ہے اور اگر بیرون نماز ہو تو اگر نہ مانگااور تیمم سے نماز ادا کرلی تو کلام ہدایہ کے مطابق نمازہوگئی اور بیان مبسوط کے مطابق نہ ہوئی اگر بعد نماز مانگا تو اگر وہ دے دے اعادہ کرے ورنہ نہیں خواہ عطا کا گمان رہا ہو یا منع کا یا شك رہا ہو۔ اور اگر مانگا تو دینے کی صورت میں وضو کرے اور انکار کی صورت میں تیمم کرے اور نماز پڑھے۔ اب اگربعد نماز دے دے تو اس پر اعادہ نہیں تیمم ٹوٹ جائے گا۔ اس قسم میں ظن یا شك کی صورت ہی نہیں یہ سب اس کا حاصل ہے جو زیادات وغیرہا میں ہے۔ اور یہ انداز ضبط اس کتاب کی خصوصیات سے ہے اھ۔ ان کے برادر تلمیذ مدقق نے النہرالفائق میں اسی کی پیروی کی۔ ان سے علامہ شامی نے نقل کیا اور برقرار رکھا۔ (ت)
اقول : اولا : بلکہ یہ ان کی روش کلام کے مطابق چھیاسٹھ۶۶ صورتیں ہیں جن میں سے چون۵۴ صورتوں کا بیان ان کے کلام کے ضمن میں آگیا اور بارہ۱۲ صورتیں رہ گئیں۔ وہ اس لئے کہ یا تو وہ اندرون نماز دیکھے گا یا قبل نماز۔ اور بہر دو صورت یا تو اسے عطا کا ظن ہوگا یا انکار کا یا شك ہوگا۔ یہ چھ۶ صورتیں ہوئیں اور ان میں سے ہر ایك گیارہ ۱۱ صورتیں ہیں اس لئے کہ وہ یا تو قبل نماز مانگے گا
حوالہ / References
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵۴
التقسیم فی قولہ قطع وطلب فلواتم ثم سأل وفی قولہ قطع وسأل وان اتم ثم سأل وفی قولہ فان سأل بعدھاوان سأل ای قبلھا وقال فان لم یسأل ای اصلا (واعنی بالسؤال قبل الصلاۃ قبل تمامھاسواء کان قبل شروعھااوبقطعھا اذارأہ فیھا)وعلی کل من الاولین یعطی اولا وعلی الثالث یعطی قبل الصلاۃ اوفیھا اوبعدھا اولا اصلا فھی ثمان وواحدۃ منھاتصیراربعاوھی مااذا سأل قبلھا فابی فانہ اما ان یعید السؤال بعدھا اولا وعلی کل یعطی اولا فصارت احدی عشرۃ فبلغت ستاوستین وانااصورلك احدی الاسداس لتقیس علیھا سائرھابان تضع ظن المنع مقام ظن العطاء ثم الشك فھی ثلاث وثلثون ثم تضع رأی قبلھا مکان رأی فی الصلاۃ فھی ثلاث وثلثون اخری وھذہ صورتہ۔
یا بعد نماز یا نہ قبل نمازنہ بعد نماز۔ یہ صورتیں کیسے نہ ہونگی جب کہ ان کی روش بیان درج ذیل عبارتوں میں اسی تقسیم پر جاری ہے (دیکھئے ان کی عبارت خط کشیدہ الفاظ ۱۲م۔ الف) (۱) نماز توڑ دے اور پانی طلب کرے اگر نماز پوری کرلی پھر مانگا (۲) توڑی دی اور مانگا اور اگر پوری کرلی پھر مانگا (۳) اگر بعد نماز مانگا اور اگر مانگا (۳) اگر بعد نماز مانگا اور اگر مانگا یعنی قبل نماز اور فرمایا : تو اگر نہ مانگا یعنی بالکل مانگا ہی نہیں (نہ قبل نماز نہ بعد نماز) میری عبارت میں جو “ قبل نماز “ آیا ہے اس سے میری مراد ہے “ تکمیل نماز سے “ خواہ یوں کہ نماز شروع کرنے سے پہلے ہو یا یوں کہ جب اندرون نماز پانی دیکھنا نماز توڑدی ہو (اب سلسلہ کلام وہیں سے ملا لیجئے ۱۲م۔ الف) اور ان میں کی پہلی دونوں میں سے ہر تقدیر پر یاتووہ دے گا یا نہ دے گا اور تیسری تقدیر پر قبل نماز۱ دے گا یا اندرون۲ نماز یا بعد۳ نماز یا بالکل۴ نہ دے گا۔ یہ آٹھ صورتیں ہوئیں اور ان میں سے ایك وہ ہے جس کی چار۴ صورتیں بن جائیں گی۔ یہ قبل نماز مانگنے پر انکار والی صورت ہے کیونکہ اس صورت میں یا تو بعد نماز دوبارہ مانگے گا یا نہ مانگے گا اور بہر تقدیر یا تو وہ دے گا یا نہ دے گا۔ تو گیارہ۱۱ صورتیں ہوکر چھاسٹھ۶۶ کو پہنچ جائیں گی اب ان میں سے ایك سدس (گیارہ) کی شکل پیش کی جاتی ہے تاکہ بقیہ کو اسی پر قیاس کیا جاسکے اس طرح کہ ظن عطا کی جگہ ظن منع پھر شك رکھ دیں تو یہ تینتیس۳۳ صورتیں ہوجائیں گی پھر “ اندرون نماز دیکھا “ کی جگہ “ قبل نماز دیکھا “ رکھ دیں تو یہ دوسری تینتیس۳۳ صورتیں ہوجائیں گی۔ نقشہ یہ ہے :
یا بعد نماز یا نہ قبل نمازنہ بعد نماز۔ یہ صورتیں کیسے نہ ہونگی جب کہ ان کی روش بیان درج ذیل عبارتوں میں اسی تقسیم پر جاری ہے (دیکھئے ان کی عبارت خط کشیدہ الفاظ ۱۲م۔ الف) (۱) نماز توڑ دے اور پانی طلب کرے اگر نماز پوری کرلی پھر مانگا (۲) توڑی دی اور مانگا اور اگر پوری کرلی پھر مانگا (۳) اگر بعد نماز مانگا اور اگر مانگا (۳) اگر بعد نماز مانگا اور اگر مانگا یعنی قبل نماز اور فرمایا : تو اگر نہ مانگا یعنی بالکل مانگا ہی نہیں (نہ قبل نماز نہ بعد نماز) میری عبارت میں جو “ قبل نماز “ آیا ہے اس سے میری مراد ہے “ تکمیل نماز سے “ خواہ یوں کہ نماز شروع کرنے سے پہلے ہو یا یوں کہ جب اندرون نماز پانی دیکھنا نماز توڑدی ہو (اب سلسلہ کلام وہیں سے ملا لیجئے ۱۲م۔ الف) اور ان میں کی پہلی دونوں میں سے ہر تقدیر پر یاتووہ دے گا یا نہ دے گا اور تیسری تقدیر پر قبل نماز۱ دے گا یا اندرون۲ نماز یا بعد۳ نماز یا بالکل۴ نہ دے گا۔ یہ آٹھ صورتیں ہوئیں اور ان میں سے ایك وہ ہے جس کی چار۴ صورتیں بن جائیں گی۔ یہ قبل نماز مانگنے پر انکار والی صورت ہے کیونکہ اس صورت میں یا تو بعد نماز دوبارہ مانگے گا یا نہ مانگے گا اور بہر تقدیر یا تو وہ دے گا یا نہ دے گا۔ تو گیارہ۱۱ صورتیں ہوکر چھاسٹھ۶۶ کو پہنچ جائیں گی اب ان میں سے ایك سدس (گیارہ) کی شکل پیش کی جاتی ہے تاکہ بقیہ کو اسی پر قیاس کیا جاسکے اس طرح کہ ظن عطا کی جگہ ظن منع پھر شك رکھ دیں تو یہ تینتیس۳۳ صورتیں ہوجائیں گی پھر “ اندرون نماز دیکھا “ کی جگہ “ قبل نماز دیکھا “ رکھ دیں تو یہ دوسری تینتیس۳۳ صورتیں ہوجائیں گی۔ نقشہ یہ ہے :
this page for image
jild no 4
word file page no. 131
jild no 4
word file page no. 131
ولم یذکر فیما اذارأی فی الصلاۃ الا السؤال قبلھا اوبعدھا فبقی ان لایسأل اصلا وصاحبہ یعطیہ قبل الصلاۃ اوفیھا اوبعدھا اولا فھی اربع علی کل من صور الظنین والشك فکانت اثنتی عشرۃ لم یذکرھا۔
فان قلت لافائدۃ فی التشقیق بعد الاباء قبل الصلاۃ بأنہ سأل بعدھااولا وعلی کل اعطی اولافان الحکم لایختلف وھو صحۃ صلاتہ لان العطاء بعد الاباء غیر مفید کمامر فی المسألۃ العاشرۃ۔
اقول : بلی فائدتہ اعطاء ھذاالحکم الاتری الی قولہ فی الضابطۃ فیمااذارأی فی الصلاۃ وکذااذاابی ثم اعطی وفیمااذارأی خارجھافان منعہ واعطاہ
بعدھا لااعادۃ اھ ولذا اخذہ المحقق الحلبی فی شقوق ضابطتہ کماسیاتی ان شاء الله تعالی وان فرض فالکلام علی مسلکہ رحمہ الله تعالی وھو لم یعتبر فی الاقسام تمایز الاحکام کماسیاتی وان سلمنا فھی ثمان واربعون ثمان فی ست کماتری وقد تضمن کلامہ حکم ست وثلثین وترك اثنتی عشرۃ۔
علامہ صاحب بحر نے اندرون نماز دیکھنے کی تقدیر پر صرف مانگنے کا ذکر کیا ہے قبل نماز ہویا بعد نماز۔ اور یہ شکل رہ گئی کہ بالکل نہ مانگا اور پانی والے نے اسے قبل نماز یا اندرون نماز یا بعد نماز دے دیا یا نہ دیا تو ظن عطا ظن منع اور شك ہر ایك پر یہ چار چار صورتیں ہوکر بارہ۱۲ ایسی ہوئیں جن کو انہوں نے نہیں ذکر کیا۔ (ت)
اگر یہ سوال ہو کہ قبل نماز انکار ہوجانے کے بعد یہ شقیں نکالنے میں کوئی فائدہ نہیں کہ بعد نماز اس نے مانگا یا نہ مانگا اور بہرتقدیر اس نے دیا یا نہ دیا۔ اس لئے کہ حکم مختلف نہیں حکم یہی ہے کہ اس کی نماز صحیح ہے اس لئے کہ انکار کے بعد دینا مفید نہیں جیسا کہ مسئلہ دہم میں گزرا۔ (ت)
اقول : کیوں نہیں۔ یہ حکم دینا ہی اس کا فائدہ ہے۔ ضابطہ میں صاحب بحر کا کلام دیکھئے اندرون نماز دیکھنے کے تحت ہے “ اور ایسے ہی جب انکار کردے پھر دے دے “ اور بیرون نماز دیکھنے کے تحت ہے “ تو اگر (اس وقت) نہ دیا اور بعد نماز دے دیا تو اعادہ نہیں “ اھ۔ اسی لئے محقق حلبی نے بھی اسے اپنے ضابطہ کی شقوں میں لیا ہے جیسا کہ ان کا کلام ان شاء الله تعالی آئے گا۔ اور اگر بے فائدہ ہی فرض کرلیا جائے تو یہاں کلام صاحب بحر رحمۃ اللہ تعالی علیہکے مسلك پر ہے اور انہوں نے قسموں کے اندر احکام کے جدا گانہ ہونے کا اعتبار نہیں کیا ہے جیسا کہ اس کا بیان آرہا ہے اور اگر ہم تسلیم ہی کرلیں تو یہ اڑتالیس۴۸ صورتیں ہیں چھ میں آٹھ۔ ۸*۶ = ۴۸ جیسا کہ پیش نظر ہے اور ان کا کلام صرف چھتیس۳۶ صورتوں کے حکم پر مشتمل ہے۔ بارہ۱۲ صورتیں انہوں نے چھوڑدیں۔ (ت )
فان قلت لافائدۃ فی التشقیق بعد الاباء قبل الصلاۃ بأنہ سأل بعدھااولا وعلی کل اعطی اولافان الحکم لایختلف وھو صحۃ صلاتہ لان العطاء بعد الاباء غیر مفید کمامر فی المسألۃ العاشرۃ۔
اقول : بلی فائدتہ اعطاء ھذاالحکم الاتری الی قولہ فی الضابطۃ فیمااذارأی فی الصلاۃ وکذااذاابی ثم اعطی وفیمااذارأی خارجھافان منعہ واعطاہ
بعدھا لااعادۃ اھ ولذا اخذہ المحقق الحلبی فی شقوق ضابطتہ کماسیاتی ان شاء الله تعالی وان فرض فالکلام علی مسلکہ رحمہ الله تعالی وھو لم یعتبر فی الاقسام تمایز الاحکام کماسیاتی وان سلمنا فھی ثمان واربعون ثمان فی ست کماتری وقد تضمن کلامہ حکم ست وثلثین وترك اثنتی عشرۃ۔
علامہ صاحب بحر نے اندرون نماز دیکھنے کی تقدیر پر صرف مانگنے کا ذکر کیا ہے قبل نماز ہویا بعد نماز۔ اور یہ شکل رہ گئی کہ بالکل نہ مانگا اور پانی والے نے اسے قبل نماز یا اندرون نماز یا بعد نماز دے دیا یا نہ دیا تو ظن عطا ظن منع اور شك ہر ایك پر یہ چار چار صورتیں ہوکر بارہ۱۲ ایسی ہوئیں جن کو انہوں نے نہیں ذکر کیا۔ (ت)
اگر یہ سوال ہو کہ قبل نماز انکار ہوجانے کے بعد یہ شقیں نکالنے میں کوئی فائدہ نہیں کہ بعد نماز اس نے مانگا یا نہ مانگا اور بہرتقدیر اس نے دیا یا نہ دیا۔ اس لئے کہ حکم مختلف نہیں حکم یہی ہے کہ اس کی نماز صحیح ہے اس لئے کہ انکار کے بعد دینا مفید نہیں جیسا کہ مسئلہ دہم میں گزرا۔ (ت)
اقول : کیوں نہیں۔ یہ حکم دینا ہی اس کا فائدہ ہے۔ ضابطہ میں صاحب بحر کا کلام دیکھئے اندرون نماز دیکھنے کے تحت ہے “ اور ایسے ہی جب انکار کردے پھر دے دے “ اور بیرون نماز دیکھنے کے تحت ہے “ تو اگر (اس وقت) نہ دیا اور بعد نماز دے دیا تو اعادہ نہیں “ اھ۔ اسی لئے محقق حلبی نے بھی اسے اپنے ضابطہ کی شقوں میں لیا ہے جیسا کہ ان کا کلام ان شاء الله تعالی آئے گا۔ اور اگر بے فائدہ ہی فرض کرلیا جائے تو یہاں کلام صاحب بحر رحمۃ اللہ تعالی علیہکے مسلك پر ہے اور انہوں نے قسموں کے اندر احکام کے جدا گانہ ہونے کا اعتبار نہیں کیا ہے جیسا کہ اس کا بیان آرہا ہے اور اگر ہم تسلیم ہی کرلیں تو یہ اڑتالیس۴۸ صورتیں ہیں چھ میں آٹھ۔ ۸*۶ = ۴۸ جیسا کہ پیش نظر ہے اور ان کا کلام صرف چھتیس۳۶ صورتوں کے حکم پر مشتمل ہے۔ بارہ۱۲ صورتیں انہوں نے چھوڑدیں۔ (ت )
حوالہ / References
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵۴
وثانیا : نقل(۱) التوفیق عن الذخیرۃ عن الجصاص وھو التحقیق فارسالہ مااذا کان خارج الصلاۃ ولم یسأل اصلا خلافیۃ غیرمقطوع فیھا بقول ممالاینبغی۔
وثالثا : قد(۲)مشی علیہ فیمن رأی فی الصلاۃ یقطع ان ظن العطاء والالا ومامبناہ الاذلك التوفیق انہ یجب السؤال ان ظن العطاء والالا کماقدمنافقدمشی علی التوفیق ثم جعل الکل خلافیۃ وانماکان الوجہ ان یحیل ھذہ ایضا علی الخلاف اویقطع القول فی تلك ایضا۔
ورابعا : قولہ(۳) فیمااذارأی خارجھا فسأل فمنع فتیمم فصلی انہ لایتأتی فیہ الظن والشك فیہ شك ای شك فان اراد عدم تأتیھمابعد المنع فالمنع لایختص بھذاالقسم وایضا لاتأتی لھمابعد الاعطاء ایضا بل اولی لانہ تم الامر وفی المنع یحتمل ان یحملہ علی حالۃ راھنۃ ویظن بہ عطاء اومنعااویشك فیمابعدذلك وان اراد مطلقا وھوالظاھرمن کلامہ فعدم تأتیھما بعد المنع لا یمنع تأتیھما قبلہ وقد جعل(۴)الاقسام
ثانیا : ذخیرہ کے ذریعہ امام جصاص سے تطبیق نقل کی۔ وہی تحقیق بھی ہے اس کے باوجود بیرون نماز رہ کر بالکل نہ مانگنے والی صورت کو کوئی قطعی قول پیش کیے بغیر اختلافی چھوڑ دینا مناسب نہیں۔
ثالثا : اسی پر اس کے بارے میں چلے ہیں جو اندرون نماز دیکھے تو اگر ظن عطا ہو نماز توڑدے ورنہ نہیں۔ اس کی بنیاد وہی تطبیق ہے کہ مانگنا واجب ہے اگر عطا کا گمان ہو ورنہ نہیں جیسا کہ ہم نے بیان کیا تو یہاں تطبیق پر چلے پھر سب کو خلافی بنادیا۔ مناسب طریقہ یہی تھا کہ یا تو اسے بھی اختلاف کے حوالے کرتے یا اس میں بھی قطعی قول کرتے۔
رابعا : یہ صورت کہ “ بیرون نماز دیکھنے پر مانگا تو اس نے نہ دیا پھر تیمم کرکے نماز پڑھ لی “ ۔ اس کے بارے میں انہوں نے فرمایا کہ “ اس قسم میں ظن یا شك کی صورت نہیں “ یہ کلام بڑے شك واعتراض کا محل ہے اگر یہ مراد ہے کہ بعد منع ظن یا شك نہیں ہوتا تو منع اسی قسم کے ساتھ خاص نہیں بلکہ بدرجہ اولی نہیں اس لئے کہ کام پورا ہوگیا۔ اور منع میں تو یہ احتمال ہے کہ اس منع کو موجودہ حالت پر محمولہ کرے اور اس کے بعد اس سے دینے یا نہ دینے کا گمان یا شك رکھے۔ اور اگر یہ مراد ہے کہ مطلقا ظن یا شك نہیں ہوتا۔ یہی ان کے کلام سے ظاہر بھی ہے تو اس پر یہ کلام ہے کہ بعد منع ظن وشك کی صورت نہ ہونا اس سے مانع نہیں کہ قبل منع ظن یا شك رہا ہو۔ انہوں
وثالثا : قد(۲)مشی علیہ فیمن رأی فی الصلاۃ یقطع ان ظن العطاء والالا ومامبناہ الاذلك التوفیق انہ یجب السؤال ان ظن العطاء والالا کماقدمنافقدمشی علی التوفیق ثم جعل الکل خلافیۃ وانماکان الوجہ ان یحیل ھذہ ایضا علی الخلاف اویقطع القول فی تلك ایضا۔
ورابعا : قولہ(۳) فیمااذارأی خارجھا فسأل فمنع فتیمم فصلی انہ لایتأتی فیہ الظن والشك فیہ شك ای شك فان اراد عدم تأتیھمابعد المنع فالمنع لایختص بھذاالقسم وایضا لاتأتی لھمابعد الاعطاء ایضا بل اولی لانہ تم الامر وفی المنع یحتمل ان یحملہ علی حالۃ راھنۃ ویظن بہ عطاء اومنعااویشك فیمابعدذلك وان اراد مطلقا وھوالظاھرمن کلامہ فعدم تأتیھما بعد المنع لا یمنع تأتیھما قبلہ وقد جعل(۴)الاقسام
ثانیا : ذخیرہ کے ذریعہ امام جصاص سے تطبیق نقل کی۔ وہی تحقیق بھی ہے اس کے باوجود بیرون نماز رہ کر بالکل نہ مانگنے والی صورت کو کوئی قطعی قول پیش کیے بغیر اختلافی چھوڑ دینا مناسب نہیں۔
ثالثا : اسی پر اس کے بارے میں چلے ہیں جو اندرون نماز دیکھے تو اگر ظن عطا ہو نماز توڑدے ورنہ نہیں۔ اس کی بنیاد وہی تطبیق ہے کہ مانگنا واجب ہے اگر عطا کا گمان ہو ورنہ نہیں جیسا کہ ہم نے بیان کیا تو یہاں تطبیق پر چلے پھر سب کو خلافی بنادیا۔ مناسب طریقہ یہی تھا کہ یا تو اسے بھی اختلاف کے حوالے کرتے یا اس میں بھی قطعی قول کرتے۔
رابعا : یہ صورت کہ “ بیرون نماز دیکھنے پر مانگا تو اس نے نہ دیا پھر تیمم کرکے نماز پڑھ لی “ ۔ اس کے بارے میں انہوں نے فرمایا کہ “ اس قسم میں ظن یا شك کی صورت نہیں “ یہ کلام بڑے شك واعتراض کا محل ہے اگر یہ مراد ہے کہ بعد منع ظن یا شك نہیں ہوتا تو منع اسی قسم کے ساتھ خاص نہیں بلکہ بدرجہ اولی نہیں اس لئے کہ کام پورا ہوگیا۔ اور منع میں تو یہ احتمال ہے کہ اس منع کو موجودہ حالت پر محمولہ کرے اور اس کے بعد اس سے دینے یا نہ دینے کا گمان یا شك رکھے۔ اور اگر یہ مراد ہے کہ مطلقا ظن یا شك نہیں ہوتا۔ یہی ان کے کلام سے ظاہر بھی ہے تو اس پر یہ کلام ہے کہ بعد منع ظن وشك کی صورت نہ ہونا اس سے مانع نہیں کہ قبل منع ظن یا شك رہا ہو۔ انہوں
اولا ستایکون فی الصلاۃ اوخارجھا وعلی کل یظن عطاء اومنعا اویشك ثم فصل کلامنھا الی السؤال وعدمہ والعطاء والاباء فکیف یخرج ھذامن الظن والشك وان خرج کیف تصیر اربعا وعشرین۔
وخامسا : لاتخالف الرؤیۃ فی الصلاۃ وخارجھا فی شیئ من الاحکام ولااقسام الرؤیۃ فی الصلاۃ فیمابینھا غیر انہ یقطع ان ظن العطاء والالا فماکان لیدخل فی الشقوق فیطول الامر وکان یجمع جمیع(۱)ماقالہ بل مع الزیادۃ واحاطۃ الست المتروکۃ ان یقول من علم مع غیرہ ماء یکفی لطھرہ قبل الصلاۃ اوفیھا فان لم یسأل فعلی الخلاف وان سأل فان اعطی توضأ وان کان تیمم انتقض وان کان صلی بطلت وان منع تیمم اولم ینتقض اومضت ولاعبرۃ بالعطاء بعد الاباء فی الوجھین وسواء فی کل ذلك ظن عطاء قطع الصلاۃ والالا فھذا نحوثلث سطورہ بیدان الثلث کثیر۔
نے پہلے چھ۶ قسمیں بنائی ہیں اس طرح کہ وہ اندرون۱ نماز ہوگا یا بیرون۲ نماز اور بہر دو تقدیر یا تو اسے ظن۱ عطا ہوگا یا ظن منع۲ یا شك ہوگا_ پھر ان میں سے ہر ایك میں سوال۱ وعدم سوال۲ اور عطا۱ وعدم ۲ عطا کی تفصیل ہے تو یہ قسم ظن وشك سے خارج کیسے ہوگی اور اگر خارج ہو تو چوبیس۲۴ صورتیں کیسے بنیں گی
خامسا : اندرون نماز وبیرون نماز دیکھنے میں اور اندرون نماز دیکھنے کی قسموں میں باہم احکام کا کوئی فرق نہیں سوائے اس کے کہ اگر اسے عطا کا ظن ہو نماز توڑ دے ورنہ نہیں تو ان سب کو شقوں میں داخل کرکے طویل کرنا مناسب نہ تھا اگر یوں کہتے تو ان کی پوری بات مع اضافے اور متروکہ چھ صورتوں کے احاطے کے سمٹ آتی : “ جسے کسی کے پاس طہارت کیلئے کفایت کرنے والے پانی کا قبل نماز یا اندرون نماز علم ہوا تو اگر نہ مانگا تو اس صورت میں اختلاف ہے اور اگر مانگا اس نے دے دیا تو وضو کرے اور اگر تیمم تھا تو ٹوٹ گیا اور اگر نماز پڑھ لی تو باطل ہوگئی اور اگر نہ دیا تو تیمم کرے یا تیمم ٹوٹا ہی نہیں یا نماز بھی ہوگئی اور دونوں ہی شکلوں میں انکار کے بعد دینے کا کوئی اعتبار نہیں اور ان سب صورتوں میں خواہ اسے عطا کا گمان ہو یا منع کا یا شك ہو مگر یہ ہے کہ اگر ظن عطا ہو نماز توڑ دے ورنہ نہیں۔ تو یہ ان کی سطروں کے تہائی کے قریب ہے مگر یہ کہ تہائی زیادہ ہے۔ (ت)
وخامسا : لاتخالف الرؤیۃ فی الصلاۃ وخارجھا فی شیئ من الاحکام ولااقسام الرؤیۃ فی الصلاۃ فیمابینھا غیر انہ یقطع ان ظن العطاء والالا فماکان لیدخل فی الشقوق فیطول الامر وکان یجمع جمیع(۱)ماقالہ بل مع الزیادۃ واحاطۃ الست المتروکۃ ان یقول من علم مع غیرہ ماء یکفی لطھرہ قبل الصلاۃ اوفیھا فان لم یسأل فعلی الخلاف وان سأل فان اعطی توضأ وان کان تیمم انتقض وان کان صلی بطلت وان منع تیمم اولم ینتقض اومضت ولاعبرۃ بالعطاء بعد الاباء فی الوجھین وسواء فی کل ذلك ظن عطاء قطع الصلاۃ والالا فھذا نحوثلث سطورہ بیدان الثلث کثیر۔
نے پہلے چھ۶ قسمیں بنائی ہیں اس طرح کہ وہ اندرون۱ نماز ہوگا یا بیرون۲ نماز اور بہر دو تقدیر یا تو اسے ظن۱ عطا ہوگا یا ظن منع۲ یا شك ہوگا_ پھر ان میں سے ہر ایك میں سوال۱ وعدم سوال۲ اور عطا۱ وعدم ۲ عطا کی تفصیل ہے تو یہ قسم ظن وشك سے خارج کیسے ہوگی اور اگر خارج ہو تو چوبیس۲۴ صورتیں کیسے بنیں گی
خامسا : اندرون نماز وبیرون نماز دیکھنے میں اور اندرون نماز دیکھنے کی قسموں میں باہم احکام کا کوئی فرق نہیں سوائے اس کے کہ اگر اسے عطا کا ظن ہو نماز توڑ دے ورنہ نہیں تو ان سب کو شقوں میں داخل کرکے طویل کرنا مناسب نہ تھا اگر یوں کہتے تو ان کی پوری بات مع اضافے اور متروکہ چھ صورتوں کے احاطے کے سمٹ آتی : “ جسے کسی کے پاس طہارت کیلئے کفایت کرنے والے پانی کا قبل نماز یا اندرون نماز علم ہوا تو اگر نہ مانگا تو اس صورت میں اختلاف ہے اور اگر مانگا اس نے دے دیا تو وضو کرے اور اگر تیمم تھا تو ٹوٹ گیا اور اگر نماز پڑھ لی تو باطل ہوگئی اور اگر نہ دیا تو تیمم کرے یا تیمم ٹوٹا ہی نہیں یا نماز بھی ہوگئی اور دونوں ہی شکلوں میں انکار کے بعد دینے کا کوئی اعتبار نہیں اور ان سب صورتوں میں خواہ اسے عطا کا گمان ہو یا منع کا یا شك ہو مگر یہ ہے کہ اگر ظن عطا ہو نماز توڑ دے ورنہ نہیں۔ تو یہ ان کی سطروں کے تہائی کے قریب ہے مگر یہ کہ تہائی زیادہ ہے۔ (ت)
وسادسا : قولہ(۱)فی خارج الصلاۃ ان لم یسأل وتیمم وصلی یرید بہ کمااشرنا الیہ مااذالم یسأل قبلھا ولابعدھا لانہ سیذکرھما من بعد فھو مشتمل علی اثنی عشرقسماکماعلمت یظن منحااومنعااویشك وعلی کل یعطیہ صاحبہ قبل الصلاۃ اوفیھا اوبعدھا اولا اصلا ولاخلاف ان کان الا فی ثلث منھا وھی مااذا لم یعطہ اصلا وھذا ایضا بشرط ان لایوجد الوعد قبل تمام الصلاۃ والا لمنع ونقض وابطل ولو اعطی قبل الصلاۃ وجب الوضؤ وان کان تیمم انتقض اوفیھا وجب الاستئناف بعد التوضی اوبعدھا بطلت کل ذلك بالاجماع لان القدرۃ علی الماء تحصل باجماع اصحابنارضی الله تعالی عنھم بالاباحۃ فکیف بالعطاء والعطاء عطاء وان لم یکن عن سؤال کما اذاکان عندہ من یسألہ فلم یسأل وصلی فاخبرہ مبتدئا اومجیبا اعاد مطلقا کماتقدم وقد()احسن الدراذقال لوصلی بتیمم وثمہ من یسألہ ثم اخبرہ بالماء اعاد فلم یقل ثم سألہ فاخبرہ لاجرم ان قال فی الجوھرۃ النیرۃ رأی رجلا معہ ماء فلم یسألہ فصلی ثم اعطاہ بعد فراغہ من غیر سؤال توضأ و
سادسا : بیرون نماز والی صورت کے تحت ان کاقول “ اگر نہ مانگا اور تیمم کیا اور نماز پڑھ لی “ ۔ اس سے جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ان کی مراد یہ ہے کہ “ نہ قبل نماز مانگا نہ بعد نماز “ اس لئے کہ آگے ان دونوں کو ذکر کررہے ہیں جیسا کہ معلوم ہوایہ بارہ۱۲ قسموں پر مشتمل ہے : اسے۱ دینے کا ظن ہوگا یا نہ۲ دینے کا شك ہوگا اور بہرتقدیر پانی والا اسے قبل۱ نماز دے گا یا اندرون۲ نماز یا بعد نماز یا بالکل۴ نہ دے گا اگر مانا جائے کہ اختلاف ہے تو ان میں سے صرف تین صورتوں میں ہوگا یہ جب کہ بالکل نہ دیا اور یہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ قبل تکمیل نماز وعدہ نہ پایا جائے ورنہ وہ مانع ناقض اور مبطل ہوگا (تیمم سے مانع ہوگا اور اگر تیمم ہے تو اسے توڑ دے گا تیمم سے نماز پڑھ لی تو اسے باطل بھی کردے گا) اگر قبل نماز دیا تو وضو واجب ہے اور اگر تیمم تھا تو ٹوٹ گیا اندرون نماز دیا تو وضو کرکے ازسرنو پڑھنا ضروری ہے بعد نماز دیاتو سب بالاجماع باطل ہوگیا اس لئے کہ ہمارے اصحاب رضی اللہ تعالی عنہمکا اجماع ہے کہ اباحت سے پانی پرقدرت ہوجاتی ہے تو عطا سے کیوں نہ ہوگی اور عطاء عطاء ہی ہے اگرچہ بغیر سوال ہو جیسے اس صورت میں جب کہ اس کے پاس کوئی ایسا شخص ہو جس سے دریافت کرسکے مگر نہ دریافت کیااور نماز پڑھ لی پھر اس نے ازخود بتایا یا پوچھنے پر بتایا بہرصورت اعادہ کرے۔ جیسا کہ گزرا۔ درمختار نے یہ عمدہ تعبیر کی : “ اگر تیمم سے نماز
سادسا : بیرون نماز والی صورت کے تحت ان کاقول “ اگر نہ مانگا اور تیمم کیا اور نماز پڑھ لی “ ۔ اس سے جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ان کی مراد یہ ہے کہ “ نہ قبل نماز مانگا نہ بعد نماز “ اس لئے کہ آگے ان دونوں کو ذکر کررہے ہیں جیسا کہ معلوم ہوایہ بارہ۱۲ قسموں پر مشتمل ہے : اسے۱ دینے کا ظن ہوگا یا نہ۲ دینے کا شك ہوگا اور بہرتقدیر پانی والا اسے قبل۱ نماز دے گا یا اندرون۲ نماز یا بعد نماز یا بالکل۴ نہ دے گا اگر مانا جائے کہ اختلاف ہے تو ان میں سے صرف تین صورتوں میں ہوگا یہ جب کہ بالکل نہ دیا اور یہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ قبل تکمیل نماز وعدہ نہ پایا جائے ورنہ وہ مانع ناقض اور مبطل ہوگا (تیمم سے مانع ہوگا اور اگر تیمم ہے تو اسے توڑ دے گا تیمم سے نماز پڑھ لی تو اسے باطل بھی کردے گا) اگر قبل نماز دیا تو وضو واجب ہے اور اگر تیمم تھا تو ٹوٹ گیا اندرون نماز دیا تو وضو کرکے ازسرنو پڑھنا ضروری ہے بعد نماز دیاتو سب بالاجماع باطل ہوگیا اس لئے کہ ہمارے اصحاب رضی اللہ تعالی عنہمکا اجماع ہے کہ اباحت سے پانی پرقدرت ہوجاتی ہے تو عطا سے کیوں نہ ہوگی اور عطاء عطاء ہی ہے اگرچہ بغیر سوال ہو جیسے اس صورت میں جب کہ اس کے پاس کوئی ایسا شخص ہو جس سے دریافت کرسکے مگر نہ دریافت کیااور نماز پڑھ لی پھر اس نے ازخود بتایا یا پوچھنے پر بتایا بہرصورت اعادہ کرے۔ جیسا کہ گزرا۔ درمختار نے یہ عمدہ تعبیر کی : “ اگر تیمم سے نماز
حوالہ / References
درمختار باب التیمم مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۴
اعاد وان لم یعط فصلاتہ تامۃ اھ فجعلھا خلافیۃ مطلقا غیر سدید فی تسعۃ من اثنی عشروان(۱)اخذت المتروکات ایضاکمافعلنا ففی ثمانیۃ عشرای علی ھذا التقسیم اما علی اخذ صور الوعد فکثیر جدا کمایاتی۔
وسابعا : ترک(۱)صورالوعد والسکوت وفیھا مباحث تھم فالاقسام علی ماسلك لااربعۃ وعشرون ولاستۃ وستون بل اربعمائۃ وستۃ وعشرون وذلك لانہ اما(۱)ان یسأل قبل التیمم او(۲)بعدہ قبل الشروع فی الصلاۃ او(۳)فیھا بقطعھااو(۴) بعدھا اولا(۵)اصلا فھی خمس ولایکون الاولان الابالعلم قبل الصلاۃ والبواقی تحتمل العلم فیھاوقبلھا فھی ثمانیۃ وعلی کل تقدیر یظن منحااومنعااویشك فھی اربعۃ وعشرون۔ فریق السؤال منھا ثمانیۃ عشروفریق عدمہ ستۃ والسؤال قبل التیمم اوبعدہ قبل الصلاۃ ثلاثی
پڑھ لی جبکہ وہاں کوئی ایسا تھا جس سے دریافت کرلے پھر اس نے پانی کی خبر دی تو اعادہ کرے “ ۔ یہ نہ فرمایا کہ “ پھر اس نے سوال کیا تو اس نے بتایا “ ۔ لاجرم جوہرہ نیرہ میں یہ کہا : کسی ایسے شخص کو دیکھا جس کے پاس پانی ہے اس سے طلب نہ کیا۔ نماز پڑھ لی۔ پھر اس کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد اس نے بغیر مانگے دے دیا تو وضو کرکے اعادہ کرے اور اگر نہ دیا تو اس کی نماز تام ہے “ اھ تو اسے بارہ۱۲ میں سے نو۹ صورتوں میں مطلقا خلافی قرار دینا درست نہیں۔ اور اگر متروکات بھی لے لیے جائیں جیسا کہ ہم نے کیا تو اٹھارہ۱۸ صورتوں میں۔ یعنی اس تقسیم پر لیکن وعدہ کی صورتیں بھی لی جائیں تو بہت زیادہ ہوجائیں گی جیسا کہ ذکر آرہا ہے۔ (ت)
سابعا : وعدہ اس سکوت کی صورتیں چھوڑ دیں جبکہ اس میں اہم بحثیں ہیں تو ان کے طرز پر قسمیں نہ چوبیس۲۴ ہوں گی نہ چھیاسٹھ۶۶ بلکہ چارسوچھبیس۴۲۶ ہوں گی۔ وہ اس لئے کہ سوال یا تو قبل تیمم۱ ہوگا یا بعد۲ تیمم قبل شروع نماز یا اندرون۳ نماز اس طرح کہ نماز توڑدے یا بعد۴ نماز یا سوال بالکل نہ ہوگا۵ یہ پانچ صورتیں ہوئیں پہلی دونوں صورتیں قبل نماز علم کے بغیر نہ ہوں گی اور بقیہ میں احتمال ہے کہ اندرون نماز معلوم ہو یا قبل نماز ہو۔ تو یہ آٹھ ہوئیں اور بہرتقدیر اسے ظن عطا ہوگا یا ظن منع یا شك ہوگا تو یہ چوبیس۲۴ صورتیں ہوئیں۔ ان میں سے اٹھارہ۱۸ سوال والی ہیں اور چھ۶ عدم سوال والی اور ظن عطا ومنع اور شك کے
وسابعا : ترک(۱)صورالوعد والسکوت وفیھا مباحث تھم فالاقسام علی ماسلك لااربعۃ وعشرون ولاستۃ وستون بل اربعمائۃ وستۃ وعشرون وذلك لانہ اما(۱)ان یسأل قبل التیمم او(۲)بعدہ قبل الشروع فی الصلاۃ او(۳)فیھا بقطعھااو(۴) بعدھا اولا(۵)اصلا فھی خمس ولایکون الاولان الابالعلم قبل الصلاۃ والبواقی تحتمل العلم فیھاوقبلھا فھی ثمانیۃ وعلی کل تقدیر یظن منحااومنعااویشك فھی اربعۃ وعشرون۔ فریق السؤال منھا ثمانیۃ عشروفریق عدمہ ستۃ والسؤال قبل التیمم اوبعدہ قبل الصلاۃ ثلاثی
پڑھ لی جبکہ وہاں کوئی ایسا تھا جس سے دریافت کرلے پھر اس نے پانی کی خبر دی تو اعادہ کرے “ ۔ یہ نہ فرمایا کہ “ پھر اس نے سوال کیا تو اس نے بتایا “ ۔ لاجرم جوہرہ نیرہ میں یہ کہا : کسی ایسے شخص کو دیکھا جس کے پاس پانی ہے اس سے طلب نہ کیا۔ نماز پڑھ لی۔ پھر اس کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد اس نے بغیر مانگے دے دیا تو وضو کرکے اعادہ کرے اور اگر نہ دیا تو اس کی نماز تام ہے “ اھ تو اسے بارہ۱۲ میں سے نو۹ صورتوں میں مطلقا خلافی قرار دینا درست نہیں۔ اور اگر متروکات بھی لے لیے جائیں جیسا کہ ہم نے کیا تو اٹھارہ۱۸ صورتوں میں۔ یعنی اس تقسیم پر لیکن وعدہ کی صورتیں بھی لی جائیں تو بہت زیادہ ہوجائیں گی جیسا کہ ذکر آرہا ہے۔ (ت)
سابعا : وعدہ اس سکوت کی صورتیں چھوڑ دیں جبکہ اس میں اہم بحثیں ہیں تو ان کے طرز پر قسمیں نہ چوبیس۲۴ ہوں گی نہ چھیاسٹھ۶۶ بلکہ چارسوچھبیس۴۲۶ ہوں گی۔ وہ اس لئے کہ سوال یا تو قبل تیمم۱ ہوگا یا بعد۲ تیمم قبل شروع نماز یا اندرون۳ نماز اس طرح کہ نماز توڑدے یا بعد۴ نماز یا سوال بالکل نہ ہوگا۵ یہ پانچ صورتیں ہوئیں پہلی دونوں صورتیں قبل نماز علم کے بغیر نہ ہوں گی اور بقیہ میں احتمال ہے کہ اندرون نماز معلوم ہو یا قبل نماز ہو۔ تو یہ آٹھ ہوئیں اور بہرتقدیر اسے ظن عطا ہوگا یا ظن منع یا شك ہوگا تو یہ چوبیس۲۴ صورتیں ہوئیں۔ ان میں سے اٹھارہ۱۸ سوال والی ہیں اور چھ۶ عدم سوال والی اور ظن عطا ومنع اور شك کے
حوالہ / References
الجوہرۃ النیرۃ باب التیمم مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۲۹
باعتبار الظنین والشك والسؤال فیھا اوبعدھا کل سداسی باضافۃ کون الرؤیۃ فی الصلاۃ اوقبلھا وصورۃ عدم السؤال تشمل الوجھین کماستعرف۔
ثم علی کل سؤال اما ان یعطی من فورہ وھو العطاء العاجل اویعد اویسکت اویابی وبعدکل من الثلثۃ اما ان یعطی وھو العطاء الاجل اولا واذالم یعط فی الوعد فاما ان یظھر خلفہ اولا کماقدمنا فی التنبیہ الخامس ففی کل سؤال ثمانیۃ عــہ وجوہ اما العطاء العاجل فلایفارق السؤال فی زمانہ والاجل فی غیر الوعد یحتمل ان(۱) یکون قبل التیمم او(۲)بعدہ قبل الصلاۃ او(۳) فیھا او(۴) بعدھا فی الوقت قبل الاطلاع علی تیممہ وصلاتہ او(۵) بعدہ او(۶) بعد الوقت اما فی الوعد فلا الاوجھین وھما العطاء فی الوقت اوبعدہ لان الوعد یوجب الانتظار الی خروج الوقت فمھما وعدلم یکن لہ ان یتیمم اویصلی بداء اوعودا اذاعرفت ھذا
اعتبار سے سوال قبل تیمم یا بعد تیمم قبل نماز کی تین تین صورتیں ہیں اور نماز کے اندر یا نماز کے بعد سوال کی چھ چھ صورتیں ہیں اس طرح کہ رؤیت اندرون نماز یا قبل نماز ہونے کا اضافہ ہوگا اور عدم سوال والی صورت دونوں شکلوں کو شامل ہے جیسا کہ معلوم ہوگا۔ (ت)
پھر ہر سوال پر یا تو اسے فورا دے دے گا اس کا نام عطائے عاجل ہے یا وعدہ یا سکوت یا انکار کرے گا۔ اور ان تینوں میں سے ہر ایك کے بعد یا تو دے دے گا اور یہ عطائے آجل ہے یا نہ دے گا اور جب صورت وعدہ میں نہ دے گا تو یا تو اس کے خلاف ظاہر ہوگا یا نہیں جیسا کہ تنبیہ پنجم میں ہم پہلے بیان کرچکے تو ہر سوال میں آٹھ۸ صورتیں ہوئیں عطائے عاجل تو سوال سے وقت میں جدا نہیں ہوتی اور عطائے آجل غیر وعدہ میں احتمال ہے کہ قبل۱ تیمم ہو یا بعد تیمم ۲قبل نماز یا اندرون نماز۳ یا بعد نماز ۴ اندرون وقت اس کے تیمم ونماز پر اطلاع سے قبل یا بعد۵ یا وقت کے بعد۶ لیکن وعدہ میں دو۲ ہی شکلیں ہیں۔ وقت میں یا بعد وقت دینا اس لئے کہ وعدہ وقت نکلنے تك انتظار واجب کرتا ہے تو جب اس سے
عــہ یعطی عاجلا(۱) یعدفیعطی(۲) اولایعطی(۳) مخلفااوغیر مخلف(۴) یسکت فیعطی(۵) اولا(۶) یابی فیعطی (۷) اولا(۸) ۱۲ منہ (م)
(۱) فورا دے دے (۲) وعدہ کرے پھر دے دے۔ (۳) وعدہ خلافی کرتے ہوئے نہ دے (۴) یا بغیر وعدہ خلافی کے نہ دے (۵) سکوت اختیار کرے پھر دے دے (۶) یا نہ دے (۷) انکار کرے پھر دے دے (۸) یا نہ دے ۱۲ منہ (ت)
ثم علی کل سؤال اما ان یعطی من فورہ وھو العطاء العاجل اویعد اویسکت اویابی وبعدکل من الثلثۃ اما ان یعطی وھو العطاء الاجل اولا واذالم یعط فی الوعد فاما ان یظھر خلفہ اولا کماقدمنا فی التنبیہ الخامس ففی کل سؤال ثمانیۃ عــہ وجوہ اما العطاء العاجل فلایفارق السؤال فی زمانہ والاجل فی غیر الوعد یحتمل ان(۱) یکون قبل التیمم او(۲)بعدہ قبل الصلاۃ او(۳) فیھا او(۴) بعدھا فی الوقت قبل الاطلاع علی تیممہ وصلاتہ او(۵) بعدہ او(۶) بعد الوقت اما فی الوعد فلا الاوجھین وھما العطاء فی الوقت اوبعدہ لان الوعد یوجب الانتظار الی خروج الوقت فمھما وعدلم یکن لہ ان یتیمم اویصلی بداء اوعودا اذاعرفت ھذا
اعتبار سے سوال قبل تیمم یا بعد تیمم قبل نماز کی تین تین صورتیں ہیں اور نماز کے اندر یا نماز کے بعد سوال کی چھ چھ صورتیں ہیں اس طرح کہ رؤیت اندرون نماز یا قبل نماز ہونے کا اضافہ ہوگا اور عدم سوال والی صورت دونوں شکلوں کو شامل ہے جیسا کہ معلوم ہوگا۔ (ت)
پھر ہر سوال پر یا تو اسے فورا دے دے گا اس کا نام عطائے عاجل ہے یا وعدہ یا سکوت یا انکار کرے گا۔ اور ان تینوں میں سے ہر ایك کے بعد یا تو دے دے گا اور یہ عطائے آجل ہے یا نہ دے گا اور جب صورت وعدہ میں نہ دے گا تو یا تو اس کے خلاف ظاہر ہوگا یا نہیں جیسا کہ تنبیہ پنجم میں ہم پہلے بیان کرچکے تو ہر سوال میں آٹھ۸ صورتیں ہوئیں عطائے عاجل تو سوال سے وقت میں جدا نہیں ہوتی اور عطائے آجل غیر وعدہ میں احتمال ہے کہ قبل۱ تیمم ہو یا بعد تیمم ۲قبل نماز یا اندرون نماز۳ یا بعد نماز ۴ اندرون وقت اس کے تیمم ونماز پر اطلاع سے قبل یا بعد۵ یا وقت کے بعد۶ لیکن وعدہ میں دو۲ ہی شکلیں ہیں۔ وقت میں یا بعد وقت دینا اس لئے کہ وعدہ وقت نکلنے تك انتظار واجب کرتا ہے تو جب اس سے
عــہ یعطی عاجلا(۱) یعدفیعطی(۲) اولایعطی(۳) مخلفااوغیر مخلف(۴) یسکت فیعطی(۵) اولا(۶) یابی فیعطی (۷) اولا(۸) ۱۲ منہ (م)
(۱) فورا دے دے (۲) وعدہ کرے پھر دے دے۔ (۳) وعدہ خلافی کرتے ہوئے نہ دے (۴) یا بغیر وعدہ خلافی کے نہ دے (۵) سکوت اختیار کرے پھر دے دے (۶) یا نہ دے (۷) انکار کرے پھر دے دے (۸) یا نہ دے ۱۲ منہ (ت)
فاذا کان السؤال قبل التیمم ساغ الکل فثمنیتہ صار بتسدیس کل عطاء اجل فی غیر الوعد وتثنیتہ فیہ مع اربعۃ وجوہ عدم العطاء ووجہ واحد للعطاء العاجل تسعۃ عشر عــہ ولکونہ ثلاثیا سبعۃ و خمسین(۵۷) (۲)اذا کان بعدہ قبل الصلاۃ خرج الاول من ستۃ العطاء الاجل وھو العطاء قبل التیمم فھو فی کل من السکوت والاباء خمسۃ سادسھا عدم العطاء صارت اثننی عشر وللوعد اربعۃ کماکانت ای یعطی فی الوقت اوبعدہ اولایعطی مخلفااوغیرمخلف وواحد ھوالعطاء العاجل فھی سبعۃ عشروبالتثلیث احدو خمسون(۵۱) و(۳)اذا کان فیھا فالاقسام کسابقہ سبعۃ عشر غیر ان ھذا سداسی فصارت مائۃ(۱۰۲) واثنین۔
وعدہ ہوا تو اسے روا نہیں کہ تیمم کرے یا نماز پڑھے خواہ ابتداء یا دوبارہ۔ جب یہ معلوم ہوگیا تو دیکھئے جب سوال قبل تیمم ہو تو سب صورتیں ہوسکتی ہیں۔ تو اس کی آٹھ صورتیں ہر عطائے آجل غیر وعدہ کی چھ۶ صورتوں کے ساتھ اور وعدہ کی دو صورتیں عدم عطا کی چار۴ اور عطائے آجل کی ایك صورت کے ساتھ کل انیس۱۹ صورتیں ہوئیں اور ثلاثی ہونے کی وجہ سے ستاون۵۷ ہوئیں۔ اور جب سوال بعد تیمم قبل نماز ہو تو عطائے آجل کی چھ۶ میں سے پہلی شکل نکل جائے گی اور وہ یہ کہ عطا قبل تیمم ہو اب سکوت وانکار ہر ایك میں پانچ صورتیں ہیں چھٹی شکل عدم عطا ہے تو بارہ صورتیں ہوئیں اور وعدہ کی چار صورتیں رہیں جیسے پہلے تھیں یعنی وقت کے اندر دے یا اس کے بعد یا وعدہ خلافی کرتے ہوئے نہ دے یا بغیر وعدہ خلافی کے نہ دے اور ایك عطائے عاجل والی صورت ہے
عــہ لانہ فی الوعد یعطی فی الوقت اوبعدہ اولایعطی مخلفا اوغیر مخلف ھذہ اربعۃ وفی کل من السکوت والاباء لایعطی اویعطی قبل التیمم اوقبل الصلاۃ اوفیھا اوبعدھا فی الوقت فھی سبعۃ فی کلیھما فاربعۃ مع اربعۃ عشرو واحد ھو العطاء العاجل صارت تسعۃ عشر ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اس لئے کہ بصورت وعدہ یا تو وقت۱ میں دے دے گا یا بعد۲ وقت دے گا یا وعدہ۳ خلافی کرتے ہوئے یا بغیر وعدہ۴ خلافی کے نہ دے گا۔ یہ چار۴ صورتیں ہوئیں اور سکوت وانکار ہر ایك میں یا تو نہ۱ دے گا یا قبل۲ تیمم دے گا یا قبل۳ نماز یا دوران نماز ۴یا بعد نماز ۵ وقت میں اطلاع سے قبل یا بعد۶ یا بعد وقت ۷ تو دونوں میں یہ سات۷ صورتیں ہیں تو چار۴ صورتیں ان چودہ صورتوں کے ساتھ اور ایك صورت عطائے عاجل کے ساتھ کل انیس۱۹ صورتیں ہوئیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وعدہ ہوا تو اسے روا نہیں کہ تیمم کرے یا نماز پڑھے خواہ ابتداء یا دوبارہ۔ جب یہ معلوم ہوگیا تو دیکھئے جب سوال قبل تیمم ہو تو سب صورتیں ہوسکتی ہیں۔ تو اس کی آٹھ صورتیں ہر عطائے آجل غیر وعدہ کی چھ۶ صورتوں کے ساتھ اور وعدہ کی دو صورتیں عدم عطا کی چار۴ اور عطائے آجل کی ایك صورت کے ساتھ کل انیس۱۹ صورتیں ہوئیں اور ثلاثی ہونے کی وجہ سے ستاون۵۷ ہوئیں۔ اور جب سوال بعد تیمم قبل نماز ہو تو عطائے آجل کی چھ۶ میں سے پہلی شکل نکل جائے گی اور وہ یہ کہ عطا قبل تیمم ہو اب سکوت وانکار ہر ایك میں پانچ صورتیں ہیں چھٹی شکل عدم عطا ہے تو بارہ صورتیں ہوئیں اور وعدہ کی چار صورتیں رہیں جیسے پہلے تھیں یعنی وقت کے اندر دے یا اس کے بعد یا وعدہ خلافی کرتے ہوئے نہ دے یا بغیر وعدہ خلافی کے نہ دے اور ایك عطائے عاجل والی صورت ہے
عــہ لانہ فی الوعد یعطی فی الوقت اوبعدہ اولایعطی مخلفا اوغیر مخلف ھذہ اربعۃ وفی کل من السکوت والاباء لایعطی اویعطی قبل التیمم اوقبل الصلاۃ اوفیھا اوبعدھا فی الوقت فھی سبعۃ فی کلیھما فاربعۃ مع اربعۃ عشرو واحد ھو العطاء العاجل صارت تسعۃ عشر ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اس لئے کہ بصورت وعدہ یا تو وقت۱ میں دے دے گا یا بعد۲ وقت دے گا یا وعدہ۳ خلافی کرتے ہوئے یا بغیر وعدہ۴ خلافی کے نہ دے گا۔ یہ چار۴ صورتیں ہوئیں اور سکوت وانکار ہر ایك میں یا تو نہ۱ دے گا یا قبل۲ تیمم دے گا یا قبل۳ نماز یا دوران نماز ۴یا بعد نماز ۵ وقت میں اطلاع سے قبل یا بعد۶ یا بعد وقت ۷ تو دونوں میں یہ سات۷ صورتیں ہیں تو چار۴ صورتیں ان چودہ صورتوں کے ساتھ اور ایك صورت عطائے عاجل کے ساتھ کل انیس۱۹ صورتیں ہوئیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
واذا کان بعدھا خرج من عطایا السکوت والاباء الثلثۃ الاول ففی کل مع عدم العطاء اربعۃ وفی الوعد اربعۃ کالرسم فھی اثنا عشر والعطاء العاجل ھھنا وجھان اعطاہ بعد مارأہ یتیمم ویصلی بہ اولم یطلع علیہ ویحتاج الی ھذا التقسیم لدفع توھم ان لورأہ فسکت دل علی المنع فلاینفع العطاء بعدہ وقد ازحناہ فی المسألۃ التاسعۃ فصارت اربعۃ عشرو بالتسدیس اربعۃ وثمانین ففریق السؤال مائتان واربعۃ وتسعون۔
و اذا لم یسأل فیعطی من دون وعد اویعد اولا ولاوھھنا نفس ھذا العطاء علی ستۃ وجوہ العطاء الاجل ثمہ الاولان منھا ثلاثیان وسائر ھن سداسیات کثالث ھذہ الاقسام اعنی لاولا فکانت ستۃ وثلثین والوعد علی خمسۃ وجوہ الاولین الثلاثین وثلثۃ تلیھا سداسیات لان الوعد بلاسؤال فی وقت اخرلا تعلق لہ بھذہ الصلاۃ فکانت اربعۃ وعشرین ثم فی کل وعد اربعۃ کالرسم فھی ستۃ وتسعون ومع ستۃ وثلثین المزبورات
تو سترہ۱۷ صورتیں ہوئیں اور تین میں ضرب دینے سے اکیاون۵۱ ہوگئیں۔ اور جب سوال اندرون نماز ہو تو اس سے پہلے والے کی طرح یہاں بھی سترہ۱۷ قسمیں ہوں گی مگر یہ کہ ان میں سے ہر ایك میں چھ صورتیں ہیں تو ایك سو دو۱۰۲ صورتیں ہوگئیں اور جب بعد نماز ہو تو سکوت وانکار کی عطا والی صورتوں میں سے پہلی تین نکل جائیں گی تو ہر ایك میں عدم عطا کے ساتھ چار اور وعدہ میں بدستور چار رہیں گی۔ یہ بارہ صورتیں ہیں اور عطائے عاجل کی یہاں دو شکلیں ہیں اسے تیمم کرتے اور نماز پڑھتے ہوئے دیکھنے کے بعد دیا یا اس پر مطلع نہ ہوا۔ اور اس تقسیم کی ضرورت یہ وہم دفع کرنے کیلئے ہے کہ اگر اسے دیکھ کر سکوت کرتا تو یہ دلیل منع ہوتا اس کے بعد دینا کار آمد نہ ہوتا۔ مسئلہ نہم میں ہم یہ وہم دور کر آئے ہیں تو چودہ۱۴ صورتیں ہوئیں جو چھ میں ضرب دینے سے چوراسی۸۴ بنیں۔ اس طرح سوال کی شق میں کل دوسوچورانوے۲۹۴ صورتیں ہوئیں۔ (ت)
اور جب سوال نہ کرے تو وہ یا تو بغیر وعدہ کیے دے دے گا یا وعدہ کرے گا یا نہ دے گا نہ وعدہ کرے گا۔ یہاں خود یہ عطا وہاں کی عطائے آجل کی چھ۶ صورتوں پر ہے۔ ان میں سے پہلی دو ثلاثی ہیں اور باقی سداسی ہیں جیسے ان اقسام میں سے تیسری یعنی نہ عطا ہو نہ وعدہ۔ تو چھتیس۳۶ صورتیں ہوئیں۔ اور وعدہ میں پانچ صورتیں ہیں پہلی دو ثلاثی اور ان کے بعد تین سداسی۔ اس لئے کہ دوسرے وقت میں بلاسوال وعدہ کو اس نماز سے کوئی تعلق نہیں تو یہ چوبیس۲۴ صورتیں ہوئیں۔ پھر ہر وعدہ پر بدستور چار۴ صورتیں۔ یہ چھیانوے۹۶
و اذا لم یسأل فیعطی من دون وعد اویعد اولا ولاوھھنا نفس ھذا العطاء علی ستۃ وجوہ العطاء الاجل ثمہ الاولان منھا ثلاثیان وسائر ھن سداسیات کثالث ھذہ الاقسام اعنی لاولا فکانت ستۃ وثلثین والوعد علی خمسۃ وجوہ الاولین الثلاثین وثلثۃ تلیھا سداسیات لان الوعد بلاسؤال فی وقت اخرلا تعلق لہ بھذہ الصلاۃ فکانت اربعۃ وعشرین ثم فی کل وعد اربعۃ کالرسم فھی ستۃ وتسعون ومع ستۃ وثلثین المزبورات
تو سترہ۱۷ صورتیں ہوئیں اور تین میں ضرب دینے سے اکیاون۵۱ ہوگئیں۔ اور جب سوال اندرون نماز ہو تو اس سے پہلے والے کی طرح یہاں بھی سترہ۱۷ قسمیں ہوں گی مگر یہ کہ ان میں سے ہر ایك میں چھ صورتیں ہیں تو ایك سو دو۱۰۲ صورتیں ہوگئیں اور جب بعد نماز ہو تو سکوت وانکار کی عطا والی صورتوں میں سے پہلی تین نکل جائیں گی تو ہر ایك میں عدم عطا کے ساتھ چار اور وعدہ میں بدستور چار رہیں گی۔ یہ بارہ صورتیں ہیں اور عطائے عاجل کی یہاں دو شکلیں ہیں اسے تیمم کرتے اور نماز پڑھتے ہوئے دیکھنے کے بعد دیا یا اس پر مطلع نہ ہوا۔ اور اس تقسیم کی ضرورت یہ وہم دفع کرنے کیلئے ہے کہ اگر اسے دیکھ کر سکوت کرتا تو یہ دلیل منع ہوتا اس کے بعد دینا کار آمد نہ ہوتا۔ مسئلہ نہم میں ہم یہ وہم دور کر آئے ہیں تو چودہ۱۴ صورتیں ہوئیں جو چھ میں ضرب دینے سے چوراسی۸۴ بنیں۔ اس طرح سوال کی شق میں کل دوسوچورانوے۲۹۴ صورتیں ہوئیں۔ (ت)
اور جب سوال نہ کرے تو وہ یا تو بغیر وعدہ کیے دے دے گا یا وعدہ کرے گا یا نہ دے گا نہ وعدہ کرے گا۔ یہاں خود یہ عطا وہاں کی عطائے آجل کی چھ۶ صورتوں پر ہے۔ ان میں سے پہلی دو ثلاثی ہیں اور باقی سداسی ہیں جیسے ان اقسام میں سے تیسری یعنی نہ عطا ہو نہ وعدہ۔ تو چھتیس۳۶ صورتیں ہوئیں۔ اور وعدہ میں پانچ صورتیں ہیں پہلی دو ثلاثی اور ان کے بعد تین سداسی۔ اس لئے کہ دوسرے وقت میں بلاسوال وعدہ کو اس نماز سے کوئی تعلق نہیں تو یہ چوبیس۲۴ صورتیں ہوئیں۔ پھر ہر وعدہ پر بدستور چار۴ صورتیں۔ یہ چھیانوے۹۶
مائۃواثنان وثلثون۱۳۲فصارت مع صور السؤال اربعمائۃ وستۃ وعشرین۔ ۴۲۶
اقول : واعلم ان الظاھر من کلماتھم نفعناالله تعالی برکاتھم قصر النظر علی الاعطاء والاباء فبھماعبروا فی الزیادات وجامع الامام الکرخی وبدائع ملك العلماء وحلیۃ المحقق وضابطۃ الامام صدر الشریعۃ کماسمعت نصوصھم والمحقق الحلبی فی الغنیۃ تارۃ قال فی التصویر اما ان یعطی اویمنع تارۃ قال فی التصویر اما ان یعطی اویمنع وتارۃ قال اماان یعطی اولا فاذا اتی علی الحکم قال ان سأل فاعطی وان سأل فمنع ولم یذکرالواسطۃ کماستسمع نصہ ان شاء الله تعالی وکذلك المحقق البحرقال فی الشقوق اعطاہ اولاوفی بیان الاحکام فی ما اذا رأی فی الصلاۃ اتی مرتین بالنفی والاثبات ومرتین بان اعطی وان ابی وفی خارج الصلاۃ مرۃ کالاول ومرۃ کالثانی واخوہ فی النھرلخص کلامہ فعبر فی موضعین عن قولہ وان ابی بقولہ والاولذالم نعدلہ ضابطۃ بحیالھافظھران مرادھم ھھنابنفی الاعطاء ھوالاباء فلایرد علی البحر
صورتیں ہیں اور مذکور چھتیس۳۶ کے ساتھ مل کر ایك سوبتیس۱۳۲ صورتیں بنتی ہیں پھر سوال کی (۲۹۴) صورتوں کے ساتھ مل کر کل چارسوچھبیس۴۲۶ صورتیں ہوجاتی ہیں۔ (ت)
اقول : معلوم رہے کہ ان حضرات (خدا ہمیں ان کے برکات سے نفع بخشے) کے کلمات سے ظاہر یہ ہے کہ انہوں نے عطا وانکار پر نظر محدود رکھی ہے۔ عطاء واباء سے ہی زیادات جامع کرخی بدائع ملك العلماء حلیہ محقق اور ضابطہ امام صدر الشریعۃ میں تعبیر آئی جیسا کہ ان کی عبارتیں پیش ہوئیں۔ محقق حلبی نے غنیہ کے اندر بیان صورت میں کبھی کہا اما ان یعطی اویمنع (یا تو دے گا یا منع کرے گا) اور کبھی کہا اما ان یعطی اولا (یا تو دے گا یا نہ دے) پھر جب بیان حکم پر آئے تو کہا ان سأل فاعطی وان سأل فمنع (اگر مانگا تودے دیا اور اگر مانگا تو مانع ہوا) اور کوئی واسطہ ذکر نہ کیا جیسا کہ ان کی عبارت ان شاء الله تعالی پیش ہوگی۔ اسی طرح محقق بحر نے شقوں کو بتاتے ہوئے کہا اعطاہ اولا (اسے دے گا یا نہ دے گا)( اور بیان احکام میں اندرون نماز دیکھنے کی صورت میں دوبار نفی واثبات لائے اور دوبار “ ان اعطی وان ابی “ (اگر دیا اگر انکار کیا) لائے۔ اور بیرون نماز دیکھنے کی صورت میں ایك بار بطرز اول اور ایك بار بطرز ثانی۔ ان کے برادر نے النہرالفائق میں
اقول : واعلم ان الظاھر من کلماتھم نفعناالله تعالی برکاتھم قصر النظر علی الاعطاء والاباء فبھماعبروا فی الزیادات وجامع الامام الکرخی وبدائع ملك العلماء وحلیۃ المحقق وضابطۃ الامام صدر الشریعۃ کماسمعت نصوصھم والمحقق الحلبی فی الغنیۃ تارۃ قال فی التصویر اما ان یعطی اویمنع تارۃ قال فی التصویر اما ان یعطی اویمنع وتارۃ قال اماان یعطی اولا فاذا اتی علی الحکم قال ان سأل فاعطی وان سأل فمنع ولم یذکرالواسطۃ کماستسمع نصہ ان شاء الله تعالی وکذلك المحقق البحرقال فی الشقوق اعطاہ اولاوفی بیان الاحکام فی ما اذا رأی فی الصلاۃ اتی مرتین بالنفی والاثبات ومرتین بان اعطی وان ابی وفی خارج الصلاۃ مرۃ کالاول ومرۃ کالثانی واخوہ فی النھرلخص کلامہ فعبر فی موضعین عن قولہ وان ابی بقولہ والاولذالم نعدلہ ضابطۃ بحیالھافظھران مرادھم ھھنابنفی الاعطاء ھوالاباء فلایرد علی البحر
صورتیں ہیں اور مذکور چھتیس۳۶ کے ساتھ مل کر ایك سوبتیس۱۳۲ صورتیں بنتی ہیں پھر سوال کی (۲۹۴) صورتوں کے ساتھ مل کر کل چارسوچھبیس۴۲۶ صورتیں ہوجاتی ہیں۔ (ت)
اقول : معلوم رہے کہ ان حضرات (خدا ہمیں ان کے برکات سے نفع بخشے) کے کلمات سے ظاہر یہ ہے کہ انہوں نے عطا وانکار پر نظر محدود رکھی ہے۔ عطاء واباء سے ہی زیادات جامع کرخی بدائع ملك العلماء حلیہ محقق اور ضابطہ امام صدر الشریعۃ میں تعبیر آئی جیسا کہ ان کی عبارتیں پیش ہوئیں۔ محقق حلبی نے غنیہ کے اندر بیان صورت میں کبھی کہا اما ان یعطی اویمنع (یا تو دے گا یا منع کرے گا) اور کبھی کہا اما ان یعطی اولا (یا تو دے گا یا نہ دے) پھر جب بیان حکم پر آئے تو کہا ان سأل فاعطی وان سأل فمنع (اگر مانگا تودے دیا اور اگر مانگا تو مانع ہوا) اور کوئی واسطہ ذکر نہ کیا جیسا کہ ان کی عبارت ان شاء الله تعالی پیش ہوگی۔ اسی طرح محقق بحر نے شقوں کو بتاتے ہوئے کہا اعطاہ اولا (اسے دے گا یا نہ دے گا)( اور بیان احکام میں اندرون نماز دیکھنے کی صورت میں دوبار نفی واثبات لائے اور دوبار “ ان اعطی وان ابی “ (اگر دیا اگر انکار کیا) لائے۔ اور بیرون نماز دیکھنے کی صورت میں ایك بار بطرز اول اور ایك بار بطرز ثانی۔ ان کے برادر نے النہرالفائق میں
ولاعلی الغنیۃ انھما ذکرافی التشقیق العطاء وعدمہ واقتصر البحر فی نصف الاحکام علی العطاء والاباء والغنیۃ لم تذکر غیرھما۔
ولا ان قول البحر مرتین ان اعطاہ توضأ والافتیممہ باق وکذا قول النھر ان لم یعطہ بقی تیممہ صادق بمااذالم یعط بل وعدولم یعط بعدالوعد ایضا مثلا مع ان تیممہ ینتقض باجماع اصحابنا رضی الله تعالی عنھم اذاعلم ھذا فمن سبرظھر لہ وفورما ترك البحر من الصور واستبان ان(۱) جعلہ عدم السؤال خلافیۃ بین الھدایۃ والمبسوط مطلقا لایصح فی احد وخمسین من ستۃ وستین لان اقسام عدم السؤال قبل التثلیث والتسدیس سبعۃ وعشرون فی ستۃ عــہ۱ منھا ثلاثیین عــہ۲ واربعۃ سداسیات عطاء الماء فھی ثلثون عــہ۳ وفی اثنی عشر الوعد قبل الصلاۃ
انہی کے کلام کی تلخیص کی ہے تودو جگہ ان کے قول “ وان ابی “ (اگر انکار کریں )کی تعبیر “ و الا “ (ورنہ) سے کی ہے اسی لئے ہم نے ان کا کوئی مستقل ضابطہ نہ شمارکیاتوظاہر ہواکہ یہاں نفی عطاء سے ان حضرات کی مراد انکار ہے۔ تو بحر اور غنیہ پر یہ اعتراض نہ وارد ہوگا کہ دونوں نے شقوں کے بیان میں عطا وعدم عطا ذکر کیا اور بحر میں نصف احکام کے اندر عطاء واباء پر اقتصار کیا۔ اور غنیہ نے عطا واباء کے سوا کچھ ذکر ہی نہ کیا۔ (ت)
نہ ہی یہ اعتراض ہوگا کہ دوبار بحر کا یہ کہنا “ ان اعطاہ توضأ والافتیممہ باق “ (اگر دے دے وضو کرے ورنہ اس کا تیمم باقی ہے) اسی طرح نہر کا کہنا ان لم یعطہ بقی تیممہ (اگر نہ دے تو اس کا تیمم باقی ہے اس صورت میں بھی صادق ہے جب عطا نہ ہو بلکہ وعدہ ہو مثلا وعدہ ہو اور بعد وعدہ بھی نہ دے باوجودیکہ اس کا تیمم ٹوٹ جائے گا۔ اس پر ہمارے اصحاب رضی اللہ تعالی عنہمکا اجماع ہے۔ جب یہ معلوم ہوگیا تو جو جانچ کرے گا اس پر منکشف ہوگا کہ بحر نے کتنی زیادہ صورتیں چھوڑ دی ہیں یہ بھی روشن ہوگیا کہ عدم سوال کو ہدایہ ومبسوط کے درمیان مطلقا خلافی ٹھہرانا چھیاسٹھ۶۶ میں سے اکیاون۵۱ صورتوں میں صحیح نہیں۔ اس لئے کہ تین اور چھ میں ضرب دینے سے پہلے عدم سوال کی قسمیں ستائیس۲۷
عــہ۱ وھی المرسومۃ فی التصویر تحت اعطی ۱۲ منہ۔ م (یہ وہ صورتیں ہیں جو نقشے میں اعطی (دیا) کے تحت درج ہیں ۱۲ منہ۔ ت)
عــہ۲ مرسومتین تحت قبل الصلاۃ ۱۲ منہ۔ م (جو قبل صلاۃ کے تحت درج ہیں ۱۲ منہ۔ ت)
عــہ۳ المرسومات تحت وعدمن ۷ الی ۱۸۔ م (جو وعدہ کے تحت ۷ سے ۱۸ تك درج ہیں۔ ت)
ولا ان قول البحر مرتین ان اعطاہ توضأ والافتیممہ باق وکذا قول النھر ان لم یعطہ بقی تیممہ صادق بمااذالم یعط بل وعدولم یعط بعدالوعد ایضا مثلا مع ان تیممہ ینتقض باجماع اصحابنا رضی الله تعالی عنھم اذاعلم ھذا فمن سبرظھر لہ وفورما ترك البحر من الصور واستبان ان(۱) جعلہ عدم السؤال خلافیۃ بین الھدایۃ والمبسوط مطلقا لایصح فی احد وخمسین من ستۃ وستین لان اقسام عدم السؤال قبل التثلیث والتسدیس سبعۃ وعشرون فی ستۃ عــہ۱ منھا ثلاثیین عــہ۲ واربعۃ سداسیات عطاء الماء فھی ثلثون عــہ۳ وفی اثنی عشر الوعد قبل الصلاۃ
انہی کے کلام کی تلخیص کی ہے تودو جگہ ان کے قول “ وان ابی “ (اگر انکار کریں )کی تعبیر “ و الا “ (ورنہ) سے کی ہے اسی لئے ہم نے ان کا کوئی مستقل ضابطہ نہ شمارکیاتوظاہر ہواکہ یہاں نفی عطاء سے ان حضرات کی مراد انکار ہے۔ تو بحر اور غنیہ پر یہ اعتراض نہ وارد ہوگا کہ دونوں نے شقوں کے بیان میں عطا وعدم عطا ذکر کیا اور بحر میں نصف احکام کے اندر عطاء واباء پر اقتصار کیا۔ اور غنیہ نے عطا واباء کے سوا کچھ ذکر ہی نہ کیا۔ (ت)
نہ ہی یہ اعتراض ہوگا کہ دوبار بحر کا یہ کہنا “ ان اعطاہ توضأ والافتیممہ باق “ (اگر دے دے وضو کرے ورنہ اس کا تیمم باقی ہے) اسی طرح نہر کا کہنا ان لم یعطہ بقی تیممہ (اگر نہ دے تو اس کا تیمم باقی ہے اس صورت میں بھی صادق ہے جب عطا نہ ہو بلکہ وعدہ ہو مثلا وعدہ ہو اور بعد وعدہ بھی نہ دے باوجودیکہ اس کا تیمم ٹوٹ جائے گا۔ اس پر ہمارے اصحاب رضی اللہ تعالی عنہمکا اجماع ہے۔ جب یہ معلوم ہوگیا تو جو جانچ کرے گا اس پر منکشف ہوگا کہ بحر نے کتنی زیادہ صورتیں چھوڑ دی ہیں یہ بھی روشن ہوگیا کہ عدم سوال کو ہدایہ ومبسوط کے درمیان مطلقا خلافی ٹھہرانا چھیاسٹھ۶۶ میں سے اکیاون۵۱ صورتوں میں صحیح نہیں۔ اس لئے کہ تین اور چھ میں ضرب دینے سے پہلے عدم سوال کی قسمیں ستائیس۲۷
عــہ۱ وھی المرسومۃ فی التصویر تحت اعطی ۱۲ منہ۔ م (یہ وہ صورتیں ہیں جو نقشے میں اعطی (دیا) کے تحت درج ہیں ۱۲ منہ۔ ت)
عــہ۲ مرسومتین تحت قبل الصلاۃ ۱۲ منہ۔ م (جو قبل صلاۃ کے تحت درج ہیں ۱۲ منہ۔ ت)
عــہ۳ المرسومات تحت وعدمن ۷ الی ۱۸۔ م (جو وعدہ کے تحت ۷ سے ۱۸ تك درج ہیں۔ ت)
اوفیھا ثمانیۃ عـہ۱ منھاثلاثیات واربعۃ سداسیات فھی ثمانیۃ واربعون فھذہ الثمانیۃ والسبعون لایشك احد ان بطلان الصلاۃ فیھامتفق علیہ لایجری فیھاخلاف الھدایۃ والمبسوط لان العطاء والوعد السابق علی تمام الصلاۃ کلیھمامانع للتیمم وناقض لہ ومبطل للصلاۃ بلاخلاف سواء اعطی بعدالوعدفی الوقت اوبعدہ اولم یعط مخلفا اوغیر مخلف(۱) ومثلھا فی الوعد بعد الصلاۃ صورتاالعطاء عــہ۲ فی الوقت لانہ مبطل وان لم یکن وعد ولم یزدہ الوعد الاقوۃ وکذلک(۲) صورتا عدم العطاء عــہ۳ فیہ اذالم یظھر خلفہ لان الوعد یورث ظن العطاء ولم یظھر خلافہ وقدفات درك الحقیقۃ فبنی الامر علی ظنہ فھذہ اربعۃ کلھن سداسی فکانت اربعۃ وعشرین ومع السابقات مائۃ واثنین لکن البحر خص الکلام بما اذارأی خارج الصلاۃ فانتصفت ولم یبق من السبع والعشرین الاخمس اربع فی الوعد بعد الصلاۃ اذا عــہ۴ اعطی بعد الوقت اولم عــہ۵ یعط مخلفا والعطاء بعد
ہوتی ہیں ان میں سے چھ۶ صورتوں دو ثلاثی اور چار سداسی میں پانی دینا ہے تو یہ تیس۳۰ صورتیں ہیں
اور بارہ صورتوں میں قبل نماز یا دوران نماز وعدہ ہے ان میں سے آٹھ ثلاثی اور چار سداسی ہیں تو یہ اڑتالیس۴۸ صورتیں ہوئیں تو کل اٹھتر۷۸ صورتیں ایسی ہیں کہ کسی کو شك نہ ہوگا کہ ان میں نماز کا بطلان متفق علیہ ہے جس میں ہدایہ ومبسوط کا اختلاف جاری نہیں اس لئے کہ تکمیل نماز سے پہلے عطا اور وعدہ دونوں ہی تیمم سے مانع اس کیلئے ناقض اور نماز کے لئے مبطل ہیں جس میں کوئی اختلاف نہیں خواہ بعد وعدہ وقت میں دے یا بعد وقت یا وعدہ خلافی کرتے ہوئے یا بلا وعدہ خلافی کے نہ دے ان ہی کی مثل وعدہ بعد نماز میں وقت کے اندر دینے کی دو صورتیں ہیں اس لئے کہ دینا باطل کردیتا ہے اگرچہ وعدہ نہ ہوا اور وعدہ بھی ہے تو اس کی قوت میں اور اضافہ ہی کرے گا اسی طرح وقت کے اندر عدم عطا کی دو۲ صورتیں جبکہ وعدہ خلافی نہ ظاہر ہو اس لئے کہ وعدہ عطا کا ظن پیدا کرتا ہے اور اس کے خلاف ظاہر نہ ہوا اور حقیقت کا ادراك ہاتھ میں نہ رہا تو بنائے کار اس کے ظن پر ہوگی تو یہ چار جن میں سب سداسی ہوکر چوبیس۲۴ ہوئیں سابقہ
عــہ۱ وھی ۷ الی ۱۴۔ (م) (یہ ۷ سے ۱۴ تك ہیں۔ ت)
عــہ۲ ھما ۱۹ ۲۳۔ (م) (یہ ۱۹ ۲۳ ہیں۔ ت)
عــہ۳ ھما ۲۲ ۲۶ (م) (یہ ۲۲ ۲۶ ہیں۔ ت)
عــہ۴ ھما ۲۰ ۲۴ (م) (یہ ۲۰ ۲۴ ہیں۔ ت)
عــہ۵ ھما ۲۱ ۲۵ (م) (یہ ۲۱ ۲۵ ہیں۔ ت)
ہوتی ہیں ان میں سے چھ۶ صورتوں دو ثلاثی اور چار سداسی میں پانی دینا ہے تو یہ تیس۳۰ صورتیں ہیں
اور بارہ صورتوں میں قبل نماز یا دوران نماز وعدہ ہے ان میں سے آٹھ ثلاثی اور چار سداسی ہیں تو یہ اڑتالیس۴۸ صورتیں ہوئیں تو کل اٹھتر۷۸ صورتیں ایسی ہیں کہ کسی کو شك نہ ہوگا کہ ان میں نماز کا بطلان متفق علیہ ہے جس میں ہدایہ ومبسوط کا اختلاف جاری نہیں اس لئے کہ تکمیل نماز سے پہلے عطا اور وعدہ دونوں ہی تیمم سے مانع اس کیلئے ناقض اور نماز کے لئے مبطل ہیں جس میں کوئی اختلاف نہیں خواہ بعد وعدہ وقت میں دے یا بعد وقت یا وعدہ خلافی کرتے ہوئے یا بلا وعدہ خلافی کے نہ دے ان ہی کی مثل وعدہ بعد نماز میں وقت کے اندر دینے کی دو صورتیں ہیں اس لئے کہ دینا باطل کردیتا ہے اگرچہ وعدہ نہ ہوا اور وعدہ بھی ہے تو اس کی قوت میں اور اضافہ ہی کرے گا اسی طرح وقت کے اندر عدم عطا کی دو۲ صورتیں جبکہ وعدہ خلافی نہ ظاہر ہو اس لئے کہ وعدہ عطا کا ظن پیدا کرتا ہے اور اس کے خلاف ظاہر نہ ہوا اور حقیقت کا ادراك ہاتھ میں نہ رہا تو بنائے کار اس کے ظن پر ہوگی تو یہ چار جن میں سب سداسی ہوکر چوبیس۲۴ ہوئیں سابقہ
عــہ۱ وھی ۷ الی ۱۴۔ (م) (یہ ۷ سے ۱۴ تك ہیں۔ ت)
عــہ۲ ھما ۱۹ ۲۳۔ (م) (یہ ۱۹ ۲۳ ہیں۔ ت)
عــہ۳ ھما ۲۲ ۲۶ (م) (یہ ۲۲ ۲۶ ہیں۔ ت)
عــہ۴ ھما ۲۰ ۲۴ (م) (یہ ۲۰ ۲۴ ہیں۔ ت)
عــہ۵ ھما ۲۱ ۲۵ (م) (یہ ۲۱ ۲۵ ہیں۔ ت)
الوقت ایضا خلف کماقدمت والخامس : عــہ لاوعد ولااعطی فھذہ یجری فیھاالخلاف علی فرض ابقائہ فالمبسوط یقول بطلت لترك السؤال والھدایۃ صحت لان السؤال غیر واجب ولم یوجد عطاء ولاوعداو زال ظن الوعد بالاخلاف ولاجل ان کل ھذہ الخمس سداسیات ھی ثلثون وعلی تشطیر البحر خمسۃ عشر ھذاکلہ علی استظھاری ان الوعد بعدالصلاۃ اذاظھرخلفہ لم یؤثرفی صلاۃ مضت فان لم یسلم لم یبق للخلاف محل غیر صورۃ واحدۃ من السبع والعشرین وھی مااذالم یعد ولم یعط فیکون الغلط فی ثلثۃ وستین من ستۃ وستین وان اکملناباخذ متروکاتہ کمافعلناکان الغلط فی مائۃ واثنین اومائۃ وستۃ وعشرین من مائۃ واثنین وثلثین وھا انالك اصورھا٭ کی یسھل علیك تصورھا٭ وبالله التوفیق٭
کے ساتھ مل کر ایك سودو۱۰۲ ہوگئیں لیکن بحر نے خاص اس صورت پر کلام کیا ہے جب بیرون نماز دیکھا ہو تو آدھی رہ گئیں اور ستائیس۲۷ میں سے صرف پانچ بچیں چار وعدہ بعد نماز میں جب کہ بعد وقت دیا یا وعدہ خلافی کرتے ہوئے نہ دیا۔ اور بعد وقت دینا بھی وعدہ خلافی ہی ہے جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا۔ اور پانچویں صورت وہ کہ نہ وعدہ ہو نہ عطا۔ یہ وہ صورتیں ہیں جن میں اختلاف جاری ہوگا اگر یہ مانیں کہ اختلاف باقی ہے تو مبسوط کا قول ہے کہ ترك سوال کی وجہ سے نماز باطل ہے اور ہدایہ کا قول ہے کہ صحیح ہے اس لئے کہ سوال واجب نہیں اور عطا نہ پائی گئی نہ ہی وعدہ ہوا یا ہوا ظن وعدہ خلف کی وجہ سے زائل ہوگیا۔ چونکہ ان پانچ میں سے ہر ایك سداسی ہے کل تیس۳۰ صورتیں ہوئیں اور بحر کے آدھے بیان کی وجہ سے پندرہ۱۵ ہوئیں یہ سب اس بنیاد پر ہے کہ میں نے کہا کہ ظاہر یہ ہے کہ بعد نماز وعدہ کے خلاف جب ظاہر ہوجائے تو وہ ادا شدہ نماز میں اثر انداز نہ ہوگا۔ اگر میرا یہ خیال تسلیم نہ ہو تو ستائیس۲۷ میں سے ایك صورت کے سوا کہیں اختلاف نہ رہ جائے گا۔ وہ صورت یہ ہے کہ نہ وعدہ ہو نہ عطا ہو۔ تو چھیاسٹھ۶۶ میں سے تریسٹھ۶۳ میں خطا ثابت ہوگی اور اگر ان کی متروکات کولے کر ہم کامل کریں جیسا کہ پہلے ہم نے کیا تو غلطی ایك سو بتیس۱۳۲ میں سے ایك سوچھبیس۱۲۶ میں ہوگی ان صورتوں کا ایك نقشہ پیش کیا جاتا ہے تاکہ انہیں ذہن نشین کرنے میں سہولت ہو اور خدا ہی سے توفیق ہے۔ (ت)
عــہ وھی ۲۷۔ (م) (یہ ۲۷ ہے۔ ت)
کے ساتھ مل کر ایك سودو۱۰۲ ہوگئیں لیکن بحر نے خاص اس صورت پر کلام کیا ہے جب بیرون نماز دیکھا ہو تو آدھی رہ گئیں اور ستائیس۲۷ میں سے صرف پانچ بچیں چار وعدہ بعد نماز میں جب کہ بعد وقت دیا یا وعدہ خلافی کرتے ہوئے نہ دیا۔ اور بعد وقت دینا بھی وعدہ خلافی ہی ہے جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا۔ اور پانچویں صورت وہ کہ نہ وعدہ ہو نہ عطا۔ یہ وہ صورتیں ہیں جن میں اختلاف جاری ہوگا اگر یہ مانیں کہ اختلاف باقی ہے تو مبسوط کا قول ہے کہ ترك سوال کی وجہ سے نماز باطل ہے اور ہدایہ کا قول ہے کہ صحیح ہے اس لئے کہ سوال واجب نہیں اور عطا نہ پائی گئی نہ ہی وعدہ ہوا یا ہوا ظن وعدہ خلف کی وجہ سے زائل ہوگیا۔ چونکہ ان پانچ میں سے ہر ایك سداسی ہے کل تیس۳۰ صورتیں ہوئیں اور بحر کے آدھے بیان کی وجہ سے پندرہ۱۵ ہوئیں یہ سب اس بنیاد پر ہے کہ میں نے کہا کہ ظاہر یہ ہے کہ بعد نماز وعدہ کے خلاف جب ظاہر ہوجائے تو وہ ادا شدہ نماز میں اثر انداز نہ ہوگا۔ اگر میرا یہ خیال تسلیم نہ ہو تو ستائیس۲۷ میں سے ایك صورت کے سوا کہیں اختلاف نہ رہ جائے گا۔ وہ صورت یہ ہے کہ نہ وعدہ ہو نہ عطا ہو۔ تو چھیاسٹھ۶۶ میں سے تریسٹھ۶۳ میں خطا ثابت ہوگی اور اگر ان کی متروکات کولے کر ہم کامل کریں جیسا کہ پہلے ہم نے کیا تو غلطی ایك سو بتیس۱۳۲ میں سے ایك سوچھبیس۱۲۶ میں ہوگی ان صورتوں کا ایك نقشہ پیش کیا جاتا ہے تاکہ انہیں ذہن نشین کرنے میں سہولت ہو اور خدا ہی سے توفیق ہے۔ (ت)
عــہ وھی ۲۷۔ (م) (یہ ۲۷ ہے۔ ت)
this page for image
word file page no. 144
word file page no. 144
this page for image
word file no. 145
word file no. 145
الثالث القانون الحلبی
قال رحمہ الله تعالی ھذا علی وجوہ اما ان یغلب علی ظنہ الاعطاء اوالمنع اواستویا وعلی کل تقدیر اما ان یسأل اویتیمم ویصلی من غیر سؤال واذاسأل فاما ان یعطی اویمنع واذا منع قبل الصلاۃ فاما ان یسأل بعدھا اولا وعلی کلا التقدیرین یعطی اولا واذا تیمم وصلی فاما ان یسأل بعد الصلاۃ اولا وعلی کلا التقدیرین یعطی اولا فالاقسام سبعۃ وعشرون اما ان تیمم وصلی بلاسؤال ثم سأل فاعطی اواعطی بلاسؤال فانہ یلزمہ الاعادۃ علی کل تقدیر امافی ظن الاعطاء فظاھر واما فی غیرہ فلزوال الشك وظھور خطأ الظن وان سألہ فمنع جازت صلاتہ سواء کان السؤال قبلھا اوبعدھا لانہ قدتحقق العجز من الابتداء ولافائدۃ فی العطاء بعدھا بعد المنع قبلھا واما اذاتیمم وصلی من غیر سؤال ولم یسأل بعد لیتبین لہ الحال فعلی قول ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ صلاتہ صحیحۃ فی الوجوہ کلھا وقالا لایجزئہ والوجہ ھو التفصیل فینبغی ان یجب الطلب ولاتصح الصلاۃ بدونہ اذاظن الاعطاء دون ما اذاظن عدمہ
لکونہ فی
سوم : قانون محقق ابراہیم حلبی
محقق حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں : “ اس کی چند صورتیں ہیں یا تو اسے عطا یا منع کا غلبہ ظن ہوگا یا دونوں میں برابری ہوگی بہرتقدیر یا تو مانگے گا یا بغیر مانگے تیمم ونماز ادا کرے گا بصورت سؤال یا تو عطا ہوگی یا منع اور منع قبل نماز ہو تو بعد نماز پھر سوال ہوگا یا نہ ہوگا بہر دو تقدیر وہ دے گا یا نہ دے گا۔ اور جب تیمم کیا اور نماز پڑھ لی تو بعد نماز سوال کرے گا یا نہیں۔ بہر دو تقدیر وہ دے گا یا نہیں۔ تو ستائیس۲۷ قسمیں ہوئیں۔ اگر مانگے بغیر تیمم کیا اور نماز پڑھ لی پھر مانگا تو اس نے دے دیا یا مانگے بغیر دے دیا تو بہرتقدیر اس پر اعادہ لازم ہے۔ ظن عطا کی صورت میں تو وجہ ظاہر ہے۔ اس کے علاوہ میں اس لئے کہ شك زائل ہوگیا اور ظن کی خطا ظاہر ہوگئی اگر مانگنے پر منع وانکار کیا تو اس کی نماز ہوگئی خواہ مانگنا قبل نماز ہو یا بعد نماز۔ اس لئے کہ عجز ابتدا سے ہی متحقق ہوگیا۔ اور نماز سے پہلے انکار کے بعد نماز کے بعد دینے میں کوئی فائدہ نہیں اور جب بغیر مانگے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی۔ بعد میں بھی نہ مانگا کہ حال منکشف ہو تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے قول پر تمام صورتوں میں اس کی نماز صحیح ہے۔ اور صاحبین نے فرمایا : یہ اسے کفایت نہیں کرسکتا۔ اور مناسب طریقہ یہ ہے کہ تفصیل کی جائے۔ تو ہونا یہ چاہے کہ طلب واجب ہو اور اس کے بغیر نماز
قال رحمہ الله تعالی ھذا علی وجوہ اما ان یغلب علی ظنہ الاعطاء اوالمنع اواستویا وعلی کل تقدیر اما ان یسأل اویتیمم ویصلی من غیر سؤال واذاسأل فاما ان یعطی اویمنع واذا منع قبل الصلاۃ فاما ان یسأل بعدھا اولا وعلی کلا التقدیرین یعطی اولا واذا تیمم وصلی فاما ان یسأل بعد الصلاۃ اولا وعلی کلا التقدیرین یعطی اولا فالاقسام سبعۃ وعشرون اما ان تیمم وصلی بلاسؤال ثم سأل فاعطی اواعطی بلاسؤال فانہ یلزمہ الاعادۃ علی کل تقدیر امافی ظن الاعطاء فظاھر واما فی غیرہ فلزوال الشك وظھور خطأ الظن وان سألہ فمنع جازت صلاتہ سواء کان السؤال قبلھا اوبعدھا لانہ قدتحقق العجز من الابتداء ولافائدۃ فی العطاء بعدھا بعد المنع قبلھا واما اذاتیمم وصلی من غیر سؤال ولم یسأل بعد لیتبین لہ الحال فعلی قول ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ صلاتہ صحیحۃ فی الوجوہ کلھا وقالا لایجزئہ والوجہ ھو التفصیل فینبغی ان یجب الطلب ولاتصح الصلاۃ بدونہ اذاظن الاعطاء دون ما اذاظن عدمہ
لکونہ فی
سوم : قانون محقق ابراہیم حلبی
محقق حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں : “ اس کی چند صورتیں ہیں یا تو اسے عطا یا منع کا غلبہ ظن ہوگا یا دونوں میں برابری ہوگی بہرتقدیر یا تو مانگے گا یا بغیر مانگے تیمم ونماز ادا کرے گا بصورت سؤال یا تو عطا ہوگی یا منع اور منع قبل نماز ہو تو بعد نماز پھر سوال ہوگا یا نہ ہوگا بہر دو تقدیر وہ دے گا یا نہ دے گا۔ اور جب تیمم کیا اور نماز پڑھ لی تو بعد نماز سوال کرے گا یا نہیں۔ بہر دو تقدیر وہ دے گا یا نہیں۔ تو ستائیس۲۷ قسمیں ہوئیں۔ اگر مانگے بغیر تیمم کیا اور نماز پڑھ لی پھر مانگا تو اس نے دے دیا یا مانگے بغیر دے دیا تو بہرتقدیر اس پر اعادہ لازم ہے۔ ظن عطا کی صورت میں تو وجہ ظاہر ہے۔ اس کے علاوہ میں اس لئے کہ شك زائل ہوگیا اور ظن کی خطا ظاہر ہوگئی اگر مانگنے پر منع وانکار کیا تو اس کی نماز ہوگئی خواہ مانگنا قبل نماز ہو یا بعد نماز۔ اس لئے کہ عجز ابتدا سے ہی متحقق ہوگیا۔ اور نماز سے پہلے انکار کے بعد نماز کے بعد دینے میں کوئی فائدہ نہیں اور جب بغیر مانگے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی۔ بعد میں بھی نہ مانگا کہ حال منکشف ہو تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے قول پر تمام صورتوں میں اس کی نماز صحیح ہے۔ اور صاحبین نے فرمایا : یہ اسے کفایت نہیں کرسکتا۔ اور مناسب طریقہ یہ ہے کہ تفصیل کی جائے۔ تو ہونا یہ چاہے کہ طلب واجب ہو اور اس کے بغیر نماز
موضع عزۃ الماء اما اذاشك فی موضع عزۃ الماء اوظن المنع فی غیرہ فالاحتیاط فی قولھما والتوسعۃ فی قولہ اھ وقدمر بحثہ مستوعبا فی المسألۃ السادسۃ۔
اقول : اتی علی جمیع ماذکر فی الشقوق غیر انہ ترك حکم مااذا سأل قبل الصلاۃ فاعطی لظھور فانہ ان کان قبل التیمم منعہ اوبعدہ نقضہ اوفی الصلاۃ ابطلھا بل وسواء کان ذلك عطاء عاجلا اواجلا بعدو عدا وسکوت اواباء کماقدمنا فالمراد بماقبل الصلاۃ قبل اتمامھا ولوفیھا اوقبلھا بعد التیمم اوقبلہ وارسالہ صورۃ ترك السؤال مطلقۃ عن قید عدم العطاء وجعلھا خلافیۃ قد تدارکہ قولہ قبلھا اواعطی بلاسؤال فعلم ان الکلام ھنا فی مالم یسأل ولم یعط وبالجملۃ ھی احسن ضابطۃ رأیت لولا ان فیھا :
اولا : ترک(۱) صورالوعدوالسکوت(۲)مع ان فیھا مالایغنی عنہ الصموت٭ فلوانھم ذکروھا لافادونا وخلصونا عن
صحیح نہ ہو جبکہ اسے عطا کا گمان رہا ہو۔ اس صورت میں نہیں جبکہ پانی کی کم یابی کی جگہ ہونے کی وجہ سے اس کو عدم عطا کا گمان رہا ہو اور جب پانی کی کم یابی کی جگہ شك کی صورت ہو یا دوسری جگہ منع کا ظن ہو تو احتیاط صاحبین کے قول میں ہے اور وسعت امام صاحب کے قول میں ہے “ اھ اس کی بحث مکمل طور پر مسئلہ ششم میں گزرچکی۔ (ت)
اقول : پہلے جو شقیں ذکر کیں سبھی کے احکام بیان کردئے مگر اس صورت کا حکم چھوڑ دیا جب قبل نماز مانگنے پر اس نے دے دیا۔ اس لئے کہ اس صورت کا حکم ظاہر ہے۔ کیونکہ اگریہ قبل تیمم ہے تو تیمم سے مانع ہوگا اور اگر بعدتیمم ہے تواسے توڑ دے گا اور اگر اندرون نمازہے تواسے باطل کردے گا خواہ یہ دینافورا ہو یا دیرمیں وعدہ کے بعد ہویاسکوت کے بعدیاانکارکے بعد جیساکہ پہلے ہم نے بیان کیا تو قبل نماز سے مراد قبل تکمیل نماز ہے اگرچہ دوران نمازہویاقبل نمازتیمم کے بعد ہو یا اس سے پہلے انہوں نے مطلقاسوال نہ کرنے کی صورت میں عدم عطا کی قید نہ لگائی اور اسے اختلافی قراردیا مگر اس سے پہلے اپنی عبارت “ اواعطی بلاسؤال “ (یابغیرمانگے دے دیا) سے اس کا تدارك کردیا جس سے معلوم ہوا کہ یہاں کلام اس صورت میں ہے جب نہ مانگا ہو نہ دیا ہو بالجملہ یہ سب سے عمدہ ضابطہ ہے جو میری نظرسے گزرا اگر اس میں یہ چند باتیں نہ ہوتیں :
اولا : وعدہ اور سکوت کی صورتیں ترك کردیں جب کہ ان میں وہ کچھ ہے جس سے سکوت کام نہیں دے سکتا اگر یہ حضرات ان صورتوں کو
اقول : اتی علی جمیع ماذکر فی الشقوق غیر انہ ترك حکم مااذا سأل قبل الصلاۃ فاعطی لظھور فانہ ان کان قبل التیمم منعہ اوبعدہ نقضہ اوفی الصلاۃ ابطلھا بل وسواء کان ذلك عطاء عاجلا اواجلا بعدو عدا وسکوت اواباء کماقدمنا فالمراد بماقبل الصلاۃ قبل اتمامھا ولوفیھا اوقبلھا بعد التیمم اوقبلہ وارسالہ صورۃ ترك السؤال مطلقۃ عن قید عدم العطاء وجعلھا خلافیۃ قد تدارکہ قولہ قبلھا اواعطی بلاسؤال فعلم ان الکلام ھنا فی مالم یسأل ولم یعط وبالجملۃ ھی احسن ضابطۃ رأیت لولا ان فیھا :
اولا : ترک(۱) صورالوعدوالسکوت(۲)مع ان فیھا مالایغنی عنہ الصموت٭ فلوانھم ذکروھا لافادونا وخلصونا عن
صحیح نہ ہو جبکہ اسے عطا کا گمان رہا ہو۔ اس صورت میں نہیں جبکہ پانی کی کم یابی کی جگہ ہونے کی وجہ سے اس کو عدم عطا کا گمان رہا ہو اور جب پانی کی کم یابی کی جگہ شك کی صورت ہو یا دوسری جگہ منع کا ظن ہو تو احتیاط صاحبین کے قول میں ہے اور وسعت امام صاحب کے قول میں ہے “ اھ اس کی بحث مکمل طور پر مسئلہ ششم میں گزرچکی۔ (ت)
اقول : پہلے جو شقیں ذکر کیں سبھی کے احکام بیان کردئے مگر اس صورت کا حکم چھوڑ دیا جب قبل نماز مانگنے پر اس نے دے دیا۔ اس لئے کہ اس صورت کا حکم ظاہر ہے۔ کیونکہ اگریہ قبل تیمم ہے تو تیمم سے مانع ہوگا اور اگر بعدتیمم ہے تواسے توڑ دے گا اور اگر اندرون نمازہے تواسے باطل کردے گا خواہ یہ دینافورا ہو یا دیرمیں وعدہ کے بعد ہویاسکوت کے بعدیاانکارکے بعد جیساکہ پہلے ہم نے بیان کیا تو قبل نماز سے مراد قبل تکمیل نماز ہے اگرچہ دوران نمازہویاقبل نمازتیمم کے بعد ہو یا اس سے پہلے انہوں نے مطلقاسوال نہ کرنے کی صورت میں عدم عطا کی قید نہ لگائی اور اسے اختلافی قراردیا مگر اس سے پہلے اپنی عبارت “ اواعطی بلاسؤال “ (یابغیرمانگے دے دیا) سے اس کا تدارك کردیا جس سے معلوم ہوا کہ یہاں کلام اس صورت میں ہے جب نہ مانگا ہو نہ دیا ہو بالجملہ یہ سب سے عمدہ ضابطہ ہے جو میری نظرسے گزرا اگر اس میں یہ چند باتیں نہ ہوتیں :
اولا : وعدہ اور سکوت کی صورتیں ترك کردیں جب کہ ان میں وہ کچھ ہے جس سے سکوت کام نہیں دے سکتا اگر یہ حضرات ان صورتوں کو
حوالہ / References
غنیۃ المستملی باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۸
التردد فی احکامھا ولم یحوجوا مثلی الی النظر فیھا۔
وثانیا : بترکھا(۱) اشتملت صورۃ عدم السؤال ما اذا وعد ولم یعط ولیست خلافیۃ اذاوقع الموعد قبل تمام الصلاۃ بل یمنع وینقض ویبطل اتفاقا سواء ظھر خلفہ اولا فھی ستۃ اربعۃ عــہ۱ منھا ثلاثیات واثنان عــہ۲ سداسیان لان کلامہ لایختص بخارج الصلاۃ ککلام البحر فھی اربعۃ وعشرون وکذلک (۲) اذا وعد بعدھا ولم یظھر خلفہ وھما عــہ۳ اثنان کلاھما سداسی فسری الغلط الی ستۃ وثلثین قسما وان لم یسلم استظھاری وجعل الوعد ولوکان بعد مبطلا مطلقا زاد اثنان عــہ۴ اعنی اثنی عشر اخروشمل الغلظ ثمانیۃ واربعین۔
وثالثا : قولہ(۳) وان سأل فمنع یشمل کماصرح بہ السؤال قبل الصلاۃ
ذکر کرتے تو ہمیں مستفید فرماتے اور ان کے احکام میں تردد سے نجات دیتے اور مجھ جیسے کو ان میں نظر کی ضرورت نہ ہوتی۔
ثانیا : ان صورتوں کو چھوڑ دینے کی وجہ سے عدم سوال کی صورت اسے بھی شامل ہے جب وعدہ کیا ہو اور نہ دیا ہو حالانکہ یہ صورت اختلافی نہیں جبکہ وعدہ تکمیل نماز سے پہلے ہوگیا ہو بلکہ یہ بالاتفاق مانع ناقض اور مبطل ہے خواہ اس کے خلاف ظاہر ہو یا نہ ہو۔ یہ چھ۶ صورتیں ہیں جن میں سے چار ثلاثی اور دو سداسی ہیں اس لئے کہ ان کا کلام صاحب بحر کے کلام کی طرح خارج نماز سے خاص نہیں تو کل چوبیس۲۴ صورتیں ہوئیں۔ اسی طرح جب بعد نماز وعدہ ہو اور اس کے خلاف نہ ظاہر ہو اور یہ دو صورتیں ہیں دونوں ہی سداسی ہیں تو چھتیس۳۶ قسموں تك غلطی سرایت کر آئی۔ اور اگر میرا استظہار اور وعدہ کو اگرچہ بعد ہی ہیں ہو مطلقا مبطل قرار دینا تسلیم نہ ہو تو دو۲ یعنی بارہ صورتوں کا اور اضافہ ہوگا اور غلطی اڑتالیس۴۸ صورتوں کو شامل ہوجائے گی۔
ثالثا : ان کا قول “ وان سأل فمنع “ (اگر مانگنے پر اس نے انکار کیا) جیسا کہ انہوں نے
عــہ۱ ھی ۹ ۱۰ ۱۳ ۱۴ (م) (یہ ۹ ۱۰ ۱۳ ۱۴ ہیں۔ ت)
عــہ۲ ھما ۱۷ ۱۸ (م ) (یہ ۱۷ اور ۱۸ ہیں۔ ت)
عــہ۳ ھما ۲۲ ۲۶ (م) (یہ ۲۲ اور ۲۶ ہیں۔ ت)
عــہ۴ ھما ۲۱ ۲۵ (م) (یہ ۲۱ اور ۲۵ ہیں۔ ت)
وثانیا : بترکھا(۱) اشتملت صورۃ عدم السؤال ما اذا وعد ولم یعط ولیست خلافیۃ اذاوقع الموعد قبل تمام الصلاۃ بل یمنع وینقض ویبطل اتفاقا سواء ظھر خلفہ اولا فھی ستۃ اربعۃ عــہ۱ منھا ثلاثیات واثنان عــہ۲ سداسیان لان کلامہ لایختص بخارج الصلاۃ ککلام البحر فھی اربعۃ وعشرون وکذلک (۲) اذا وعد بعدھا ولم یظھر خلفہ وھما عــہ۳ اثنان کلاھما سداسی فسری الغلط الی ستۃ وثلثین قسما وان لم یسلم استظھاری وجعل الوعد ولوکان بعد مبطلا مطلقا زاد اثنان عــہ۴ اعنی اثنی عشر اخروشمل الغلظ ثمانیۃ واربعین۔
وثالثا : قولہ(۳) وان سأل فمنع یشمل کماصرح بہ السؤال قبل الصلاۃ
ذکر کرتے تو ہمیں مستفید فرماتے اور ان کے احکام میں تردد سے نجات دیتے اور مجھ جیسے کو ان میں نظر کی ضرورت نہ ہوتی۔
ثانیا : ان صورتوں کو چھوڑ دینے کی وجہ سے عدم سوال کی صورت اسے بھی شامل ہے جب وعدہ کیا ہو اور نہ دیا ہو حالانکہ یہ صورت اختلافی نہیں جبکہ وعدہ تکمیل نماز سے پہلے ہوگیا ہو بلکہ یہ بالاتفاق مانع ناقض اور مبطل ہے خواہ اس کے خلاف ظاہر ہو یا نہ ہو۔ یہ چھ۶ صورتیں ہیں جن میں سے چار ثلاثی اور دو سداسی ہیں اس لئے کہ ان کا کلام صاحب بحر کے کلام کی طرح خارج نماز سے خاص نہیں تو کل چوبیس۲۴ صورتیں ہوئیں۔ اسی طرح جب بعد نماز وعدہ ہو اور اس کے خلاف نہ ظاہر ہو اور یہ دو صورتیں ہیں دونوں ہی سداسی ہیں تو چھتیس۳۶ قسموں تك غلطی سرایت کر آئی۔ اور اگر میرا استظہار اور وعدہ کو اگرچہ بعد ہی ہیں ہو مطلقا مبطل قرار دینا تسلیم نہ ہو تو دو۲ یعنی بارہ صورتوں کا اور اضافہ ہوگا اور غلطی اڑتالیس۴۸ صورتوں کو شامل ہوجائے گی۔
ثالثا : ان کا قول “ وان سأل فمنع “ (اگر مانگنے پر اس نے انکار کیا) جیسا کہ انہوں نے
عــہ۱ ھی ۹ ۱۰ ۱۳ ۱۴ (م) (یہ ۹ ۱۰ ۱۳ ۱۴ ہیں۔ ت)
عــہ۲ ھما ۱۷ ۱۸ (م ) (یہ ۱۷ اور ۱۸ ہیں۔ ت)
عــہ۳ ھما ۲۲ ۲۶ (م) (یہ ۲۲ اور ۲۶ ہیں۔ ت)
عــہ۴ ھما ۲۱ ۲۵ (م) (یہ ۲۱ اور ۲۵ ہیں۔ ت)
وبعدھا فیشمل المنع قبلھا وبعدھا فتخصیص المنع بماقبلھا فی قولہ ولافائدۃ الخ لافائدۃ فیہ بل قدیوھم ان لیس الحکم کذا ان منع بعدھا ثم اعطی ولیس کذلك کماقدمنا فی شرح القانون الصدری والمسألۃ العاشرۃ فالوجہ اسقاط لفظۃ قبلھا۔
ورابعا : لم تکن(۱) حاجۃ الی التشقیق بالظنین والتشکیك من اول الامر لانہ انما تمس الیہ الحاجۃ فیما اذا لم یسأل ولم یعط ولم یعد
وھی خلافیۃ علی فرض الخلاف۔
وخامسا : حط(۲) کلامہ فی ھذا اعنی الذی جعلہ خلافیۃ علی انہ ان ظن العطاء فالمختار مذھب الصاحبین ای سواء کان الموضع موضع عزۃ الماء اوموضع بذلہ بدلیل اطلاق ھنا والتفصیل فی المنع والشك وان ظن المنع فان کان الموضع موضع العزۃ فالمختار مذھب الامام وان کان موضع البذل اوشك فی موضع العزۃ فقولھما احوط وقولہ اوسع ولاادری لم ترك الشك فی موضع البذل۔
تصریح کی قبل نماز اور بعد نماز دونوں وقت مانگنے کو شامل ہے تو قبل نماز اور بعد نماز انکار کو بھی شامل ہوگا تو اپنی عبارت “ ولافائدۃ فی العطاء بعدھا بعد المنع قبلھا “ (بعد نماز دینے میں کوئی فائدہ نہیں اس کے بعد کہ نماز سے پہلے انکار کردیا ہو) میں منع کو قبل نماز سے خاص کرنے میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ اس سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ اگر بعد نماز انکار کیا پھر دے دیا تو یہ حکم نہیں حالانکہ ایسا نہیں جیسا کہ قانون صدر الشریعۃ کی شرح اور مسئلہ وہم میں بیان کرچکے۔ تو مناسب یہی تھا کہ لفظ “ قبلھا “ ساقط کردیا جاتا۔
رابعا : اول امر سے ہی دونوں ظن اور شك کی شقیں نکالنے کی کوئی ضرورت نہ تھی اس کی ضرورت تو اس وقت ہوتی ہے جب اس نے نہ مانگا اور اس نے نہ دیا نہ وعدہ کیا اور یہی اختلافی صورت ہے اگر فرض کیا جائے کہ خلاف ہے۔
خامسا : جس کو خلاف قرار دیا ہے اس میں اپنا کلام اس پر اتارا کہ اگر اسے ظن عطا ہو تو مختار صاحبین کا مذہب ہے یعنی خواہ وہ جگہ پانی کی کم یابی کی ہو یا پانی دئے جانے کی جگہ ہو اس کی دلیل یہاں اس کو مطلق ذکر کرنا اور منع وشك میں تفصیل کرنا ہے اگر اسے ظن منع ہو اگر وہ جگہ پانی کی کمیابی کی ہو تو مختار امام صاحب کا مذہب ہے اور اگر جگہ پانی خرچ کیے جانے کی ہو یا اسے پانی کی کمیابی کی جگہ میں شك ہو تو صاحبین کے قول میں زیادہ احتیاط ہے اور امام صاحب کے قول میں زیادہ وسعت ہے۔ پتا نہیں بذل کی جگہ شك ہونے کا ذکر کیوں چھوڑ دیا۔ (ت)
ورابعا : لم تکن(۱) حاجۃ الی التشقیق بالظنین والتشکیك من اول الامر لانہ انما تمس الیہ الحاجۃ فیما اذا لم یسأل ولم یعط ولم یعد
وھی خلافیۃ علی فرض الخلاف۔
وخامسا : حط(۲) کلامہ فی ھذا اعنی الذی جعلہ خلافیۃ علی انہ ان ظن العطاء فالمختار مذھب الصاحبین ای سواء کان الموضع موضع عزۃ الماء اوموضع بذلہ بدلیل اطلاق ھنا والتفصیل فی المنع والشك وان ظن المنع فان کان الموضع موضع العزۃ فالمختار مذھب الامام وان کان موضع البذل اوشك فی موضع العزۃ فقولھما احوط وقولہ اوسع ولاادری لم ترك الشك فی موضع البذل۔
تصریح کی قبل نماز اور بعد نماز دونوں وقت مانگنے کو شامل ہے تو قبل نماز اور بعد نماز انکار کو بھی شامل ہوگا تو اپنی عبارت “ ولافائدۃ فی العطاء بعدھا بعد المنع قبلھا “ (بعد نماز دینے میں کوئی فائدہ نہیں اس کے بعد کہ نماز سے پہلے انکار کردیا ہو) میں منع کو قبل نماز سے خاص کرنے میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ اس سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ اگر بعد نماز انکار کیا پھر دے دیا تو یہ حکم نہیں حالانکہ ایسا نہیں جیسا کہ قانون صدر الشریعۃ کی شرح اور مسئلہ وہم میں بیان کرچکے۔ تو مناسب یہی تھا کہ لفظ “ قبلھا “ ساقط کردیا جاتا۔
رابعا : اول امر سے ہی دونوں ظن اور شك کی شقیں نکالنے کی کوئی ضرورت نہ تھی اس کی ضرورت تو اس وقت ہوتی ہے جب اس نے نہ مانگا اور اس نے نہ دیا نہ وعدہ کیا اور یہی اختلافی صورت ہے اگر فرض کیا جائے کہ خلاف ہے۔
خامسا : جس کو خلاف قرار دیا ہے اس میں اپنا کلام اس پر اتارا کہ اگر اسے ظن عطا ہو تو مختار صاحبین کا مذہب ہے یعنی خواہ وہ جگہ پانی کی کم یابی کی ہو یا پانی دئے جانے کی جگہ ہو اس کی دلیل یہاں اس کو مطلق ذکر کرنا اور منع وشك میں تفصیل کرنا ہے اگر اسے ظن منع ہو اگر وہ جگہ پانی کی کمیابی کی ہو تو مختار امام صاحب کا مذہب ہے اور اگر جگہ پانی خرچ کیے جانے کی ہو یا اسے پانی کی کمیابی کی جگہ میں شك ہو تو صاحبین کے قول میں زیادہ احتیاط ہے اور امام صاحب کے قول میں زیادہ وسعت ہے۔ پتا نہیں بذل کی جگہ شك ہونے کا ذکر کیوں چھوڑ دیا۔ (ت)
فان قیل الاصل فی الماء الاباحۃ فلایعتری الشك الافی محل العزۃ۔
اقول : فکیف ظن المنع فی محل البذل فان جاز ذلك لامور خارجۃ فالشك اولی۔
وسادسا : لم(۱) کان الاحوط قولھما عند ظن المنع فی محل البذل لافی محل العزۃ فقد حققنا فی المسألۃ السادسۃ ان ذکر الموضع ذکر المظنۃ والمناط حقیقۃ ظنہ ولربما یظن العطاء فی محل المنع والمنع فی محل العطاء ظنا صحیحا صادقا ناشئا عن دلیل معتمد فان ادیرالامر علی ظنہ کما ھوالتحقیق سقط الفرق بحال المحل وکان الاحوط قولھما اذاشك فی محل ما مطلقا لا اذا ظن المنع ولوفی محل البذل وان حکم بالمظنۃ مع قطع النظر عن ظنہ فلم جعلتم المختار قولھما فی ظن العطاء ولوکان فی محل العزۃ۔
وسابعا : ان(۲) ارید بالاحوط مافیہ الخروج عن العھدۃ بیقین کان قولھما احوط مطلقا وان اریدبہ الاقوی دلیلا فکیف یکون احوط عند
الشك فقد حققنا اخر المسألۃ السادسۃ
اگر کہا جائے کہ پانی میں اصل اباحت ہے تو شك صرف اسی جگہ ہوگا جہاں پانی کم یاب ہو۔
اقول : (میں کہوں گا) پھر بذل دے دئے جانے) کی جگہ ظن منع کا ذکر کیسے کیا اگر خارجی امور کی بنا پر اس کے ذکر کا جواز تھا تو شك کا بدرجہ اولی ہوگا۔
سادسا : قول صاحبین میں زیادہ احتیاط ظن منع کے وقت صرف کم یابی ہی کی جگہ کیوں ہے ہم نے مسئلہ ششم میں تحقیق کی ہے کہ جگہ کا ذکر ایك جائے گمان کا ذکر ہے ورنہ مدار حقیقت ظن پر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کبھی منع کی جگہ اسے عطا کا گمان ہو اور عطا کی جگہ منع کا ایسا صحیح گمان جو کہ معتمد دلیل سے پیدا ہوا ہو۔ تو اگر مدار کار اس کے گمان پر ہو جیسا کہ یہی تحقیق ہے تو حالت محل کا فرق ساقط ہوجائےگا اور قول صاحبین میں مطلقا زیادہ احتیاط ہوگی جبکہ کسی بھی جگہ شك ہو نہ اس وقت جبکہ اسے منع کا ظن ہو اگرچہ بذل کی جگہ۔ اور اگر اس کے ظن سے قطع نظر کرکے مظنہ پر حکم ہے تو آپ نے صاحبین کا قول اس صورت میں مختار کیسے ٹھہرایا جبکہ اسے ظن عطا ہوا اگرچہ وہ کم یابی کی جگہ ہو۔
سابعا : اگر احوط سے مراد وہ ہو جس میں یقینی طور پر عہدہ برآ ہونا ہو تو صاحبین کا قول مطلقا احوط ہوگا اور اگر اس سے مراد وہ ہو جس کی دلیل زیادہ قوی ہے تو وہ شك کے وقت احوط کیسے ہوگا ہم نے تو مسئلہ ششم کے آخر میں تحقیق کی ہے کہ شك
اقول : فکیف ظن المنع فی محل البذل فان جاز ذلك لامور خارجۃ فالشك اولی۔
وسادسا : لم(۱) کان الاحوط قولھما عند ظن المنع فی محل البذل لافی محل العزۃ فقد حققنا فی المسألۃ السادسۃ ان ذکر الموضع ذکر المظنۃ والمناط حقیقۃ ظنہ ولربما یظن العطاء فی محل المنع والمنع فی محل العطاء ظنا صحیحا صادقا ناشئا عن دلیل معتمد فان ادیرالامر علی ظنہ کما ھوالتحقیق سقط الفرق بحال المحل وکان الاحوط قولھما اذاشك فی محل ما مطلقا لا اذا ظن المنع ولوفی محل البذل وان حکم بالمظنۃ مع قطع النظر عن ظنہ فلم جعلتم المختار قولھما فی ظن العطاء ولوکان فی محل العزۃ۔
وسابعا : ان(۲) ارید بالاحوط مافیہ الخروج عن العھدۃ بیقین کان قولھما احوط مطلقا وان اریدبہ الاقوی دلیلا فکیف یکون احوط عند
الشك فقد حققنا اخر المسألۃ السادسۃ
اگر کہا جائے کہ پانی میں اصل اباحت ہے تو شك صرف اسی جگہ ہوگا جہاں پانی کم یاب ہو۔
اقول : (میں کہوں گا) پھر بذل دے دئے جانے) کی جگہ ظن منع کا ذکر کیسے کیا اگر خارجی امور کی بنا پر اس کے ذکر کا جواز تھا تو شك کا بدرجہ اولی ہوگا۔
سادسا : قول صاحبین میں زیادہ احتیاط ظن منع کے وقت صرف کم یابی ہی کی جگہ کیوں ہے ہم نے مسئلہ ششم میں تحقیق کی ہے کہ جگہ کا ذکر ایك جائے گمان کا ذکر ہے ورنہ مدار حقیقت ظن پر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کبھی منع کی جگہ اسے عطا کا گمان ہو اور عطا کی جگہ منع کا ایسا صحیح گمان جو کہ معتمد دلیل سے پیدا ہوا ہو۔ تو اگر مدار کار اس کے گمان پر ہو جیسا کہ یہی تحقیق ہے تو حالت محل کا فرق ساقط ہوجائےگا اور قول صاحبین میں مطلقا زیادہ احتیاط ہوگی جبکہ کسی بھی جگہ شك ہو نہ اس وقت جبکہ اسے منع کا ظن ہو اگرچہ بذل کی جگہ۔ اور اگر اس کے ظن سے قطع نظر کرکے مظنہ پر حکم ہے تو آپ نے صاحبین کا قول اس صورت میں مختار کیسے ٹھہرایا جبکہ اسے ظن عطا ہوا اگرچہ وہ کم یابی کی جگہ ہو۔
سابعا : اگر احوط سے مراد وہ ہو جس میں یقینی طور پر عہدہ برآ ہونا ہو تو صاحبین کا قول مطلقا احوط ہوگا اور اگر اس سے مراد وہ ہو جس کی دلیل زیادہ قوی ہے تو وہ شك کے وقت احوط کیسے ہوگا ہم نے تو مسئلہ ششم کے آخر میں تحقیق کی ہے کہ شك
ان الشك ملحق بظن المنع الی ھناتمت قوانین العلماء مع ما لھا وعلیھا الآن آن ان نذکر مافاض من فیض القدیر علی العاجز فاقول : الفقیر وبالله التوفیق۔
الرابع القانون الرضوی
العطاء عــہ بعد الوقت لایؤثر فما مضی ظن منع سے ملحق ہے۔ یہاں تك قوانین علماء مع شرح فوائد وذکر ایرادات تمام ہوئے۔ اب ہم وہ بیان کرتے ہیں جو فیض قدیر سے عاجز فقیر پر فائض ہوا۔ فاقول : (میں کہتا ہوں) اور توفیق اللہتعالی سے ہے۔ (ت)
چہارم : قانون رضوی
وقت کے بعد دینا جو نافذ ہوچکا اس میں مؤثر
عــہ لم یذکرعلی طریق التشقیق روماللاختصار فان العبارۃ تطول فیہ کأن تقول لایخلو اما ان یعطی(۱) اویعد(۲) اویمنع(۳) اویسکت(۴) اولا (۵) شیئ علی الاول اما ان یعطی فی الوقت اوبعدہ فان کان(۱) فی الوقت فاما بعد ختم الصلاۃ عقیب اباء حقیقی اوحکمی کائن قبل الصلاۃ اوبعدھا اولا(۲) وان (۳) کان بعدہ فلایخلو اما ان کان علمہ فی الوقت ولم یسألہ اولا(۴) وعلی(۵) الثانی اما ان یعد بعد الصلاۃ ویظھر خلفہ اولا(۶)وعلی(۷)الثالث یکون المنع قبل فعل کالتیمم والصلاۃ او(۸) بعدہ وعلی(۹) الرابع اما ان یلحقہ العطاء
اختصار کے ارادہ سے تشقیق کے طور پر اس کا ذکر نہ ہوا اس لئے کہ اس میں عبارت لمبی ہوجاتی ہے۔ مثلا یوں کہا جائے۔ اس سے خالی نہ ہوگا کہ یا تو دے۱ یا وعدہ۲ کرے یا انکار۳ کرے یا خاموش۴ رہے یا کچھ۵ نہ ہو برتقدیر اول یا تو وقت میں دے گا یا اس کے بعد اگر وقت۱ میں دے تو یا تو ختم نماز کے بعد دے گا اس انکار حقیقی یا حکمی کے بعد جو نماز سے پہلے رہا ہو یا نماز کے بعد یا ایسا۲ نہیں ہوگا اور اگر وقت۳ کے بعد ہو تو اس سے خالی نہیں کہ یا تو وقت کے اندر علم ہوا اور اس سے نہ مانگا یا ایسا۴ نہ ہوگا اور بتقدیر۵ ثانی یا تو بعد نماز وعدہ کرے گا اور اس کا خلف ظاہر ہوگا یا ایسا۶ نہ ہوگا اور برتقدیر سوم۷ انکار کسی فعل مثلا تیمم ونماز سے پہلے ہوگا یا اس۸ کے بعد اور برتقدیر رابع۹ یا تو عطا اسے وقت کے(باقی برصفحہ ائندہ)
الرابع القانون الرضوی
العطاء عــہ بعد الوقت لایؤثر فما مضی ظن منع سے ملحق ہے۔ یہاں تك قوانین علماء مع شرح فوائد وذکر ایرادات تمام ہوئے۔ اب ہم وہ بیان کرتے ہیں جو فیض قدیر سے عاجز فقیر پر فائض ہوا۔ فاقول : (میں کہتا ہوں) اور توفیق اللہتعالی سے ہے۔ (ت)
چہارم : قانون رضوی
وقت کے بعد دینا جو نافذ ہوچکا اس میں مؤثر
عــہ لم یذکرعلی طریق التشقیق روماللاختصار فان العبارۃ تطول فیہ کأن تقول لایخلو اما ان یعطی(۱) اویعد(۲) اویمنع(۳) اویسکت(۴) اولا (۵) شیئ علی الاول اما ان یعطی فی الوقت اوبعدہ فان کان(۱) فی الوقت فاما بعد ختم الصلاۃ عقیب اباء حقیقی اوحکمی کائن قبل الصلاۃ اوبعدھا اولا(۲) وان (۳) کان بعدہ فلایخلو اما ان کان علمہ فی الوقت ولم یسألہ اولا(۴) وعلی(۵) الثانی اما ان یعد بعد الصلاۃ ویظھر خلفہ اولا(۶)وعلی(۷)الثالث یکون المنع قبل فعل کالتیمم والصلاۃ او(۸) بعدہ وعلی(۹) الرابع اما ان یلحقہ العطاء
اختصار کے ارادہ سے تشقیق کے طور پر اس کا ذکر نہ ہوا اس لئے کہ اس میں عبارت لمبی ہوجاتی ہے۔ مثلا یوں کہا جائے۔ اس سے خالی نہ ہوگا کہ یا تو دے۱ یا وعدہ۲ کرے یا انکار۳ کرے یا خاموش۴ رہے یا کچھ۵ نہ ہو برتقدیر اول یا تو وقت میں دے گا یا اس کے بعد اگر وقت۱ میں دے تو یا تو ختم نماز کے بعد دے گا اس انکار حقیقی یا حکمی کے بعد جو نماز سے پہلے رہا ہو یا نماز کے بعد یا ایسا۲ نہیں ہوگا اور اگر وقت۳ کے بعد ہو تو اس سے خالی نہیں کہ یا تو وقت کے اندر علم ہوا اور اس سے نہ مانگا یا ایسا۴ نہ ہوگا اور بتقدیر۵ ثانی یا تو بعد نماز وعدہ کرے گا اور اس کا خلف ظاہر ہوگا یا ایسا۶ نہ ہوگا اور برتقدیر سوم۷ انکار کسی فعل مثلا تیمم ونماز سے پہلے ہوگا یا اس۸ کے بعد اور برتقدیر رابع۹ یا تو عطا اسے وقت کے(باقی برصفحہ ائندہ)
الا اذاعلم ولم یسأل فیہ اصلا وفیہ مؤثرمطلقا الا اذاکان بعد الصلاۃ عقیب اباء سابق اولا حق ولوحکمیاوالوعدکھذا الااذا کان بعد الصلاۃ وظھر خلفہ ای العطاء فی الوقت والمنع لایمنع شیاا ولایرفع والسکوت منع الا اذا لحقہ العطاء فی الوقت قبل ان یراہ یتیمم ویصلی وان لم یعط ولم یعد ولم یسأل فان ظن العطاء بطلت والاتمت۔
نہیں مگر جبکہ علم ہو اور وقت کے اندر بالکل نہ مانگے اور وقت کے اندر دینا مطلقا مؤثر ہے مگر جبکہ نماز کے بعد انکار سابق یا لاحق کے بعد ہو خواہ انکار حکمی ہی ہو وعدہ بھی اسی (وقت میں دینے)کی طرح ہے مگر جب کہ نماز کے بعد ہو اور اس کے خلاف ظاہر ہوجائے اور منع کسی چیز کو روکنے اور ختم کرنے والا نہیں اور سکوت منع ہی ہے مگر جب کہ اسے وقت کے اندر دینا لاحق ہو اس سے پہلے کہ اسے تیمم کرتے اور نماز پڑھتے دیکھے اور اگر نہ دیا نہ وعدہ کیا نہ اس نے مانگا اگر دینے کا ظن رہا ہو نماز باطل ہوگئی ورنہ تام ہے۔
(بقیہ حاشیہ صفحۃ گزشتہ)
فی الوقت قبل ان یتیمم ویصلی اولا(۱۰) وعلی(۱۱) الخامس اما ان یظن العطاء اولا(۱۲) فھی اثنا عشرلاتزید ولاحاجۃ فھذا بیان الشقوق ثم یفیض فی بیان الاحکام فیطول الکلام فادمجنا الاقسام فی بیان الاحکام واختصرنا الکلام مع الاستیعاب التام والحمدالله ذی الجلال والاکرام وقد علمت انالم نقسم قسمین الاحیث یختلفا فی الحکم وحصرنا الاربعمائۃ والستۃ والعشرین فی اثنی عشر بل رددناھا فی المتن الی عشرۃ کماتری ولله الحمد ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اندر تیمم ونماز کی ادائےگی سے پہلے لاحق ہوگی یا ایسا۱۰ نہ ہوگا اور برتقدیر۱۱ خامس یا تو اسے ظن عطا ہوگا یا نہیں۱۲ یہ بارہ۱۲ صورتیں ہیں زیادہ نہیں۔ اور اس کی حاجت نہیں کیونکہ یہ تو شقوں کا بیان ہے پھر احکام کا بیان چلے گا تو کلام اور دراز ہوگا اس لئے ہم نے اقسام کو بیان احکام ہی میں ملا دیا اور مکمل احاطہ کے باوجود کلام مختصر رکھا اور ساری حمد عزت وبزرگی کے مالك خدائے برتر ہی کیلئے ہے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہم نے دو۲ قسمیں وہیں کی ہیں جہاں ان دونوں کا حکم مختلف ہو اس طرح چار سوچھبیس۴۲۶ کو ہم نے بارہ۱۲ میں محصور کیا بلکہ متن میں بارہ۱۲ کو بھی دس۱۰ کی جانب پھیر دیا جیسا کہ پیش نظر ہے۔ اور خدا تعالی ہی کیلئے ساری تعریف ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
نہیں مگر جبکہ علم ہو اور وقت کے اندر بالکل نہ مانگے اور وقت کے اندر دینا مطلقا مؤثر ہے مگر جبکہ نماز کے بعد انکار سابق یا لاحق کے بعد ہو خواہ انکار حکمی ہی ہو وعدہ بھی اسی (وقت میں دینے)کی طرح ہے مگر جب کہ نماز کے بعد ہو اور اس کے خلاف ظاہر ہوجائے اور منع کسی چیز کو روکنے اور ختم کرنے والا نہیں اور سکوت منع ہی ہے مگر جب کہ اسے وقت کے اندر دینا لاحق ہو اس سے پہلے کہ اسے تیمم کرتے اور نماز پڑھتے دیکھے اور اگر نہ دیا نہ وعدہ کیا نہ اس نے مانگا اگر دینے کا ظن رہا ہو نماز باطل ہوگئی ورنہ تام ہے۔
(بقیہ حاشیہ صفحۃ گزشتہ)
فی الوقت قبل ان یتیمم ویصلی اولا(۱۰) وعلی(۱۱) الخامس اما ان یظن العطاء اولا(۱۲) فھی اثنا عشرلاتزید ولاحاجۃ فھذا بیان الشقوق ثم یفیض فی بیان الاحکام فیطول الکلام فادمجنا الاقسام فی بیان الاحکام واختصرنا الکلام مع الاستیعاب التام والحمدالله ذی الجلال والاکرام وقد علمت انالم نقسم قسمین الاحیث یختلفا فی الحکم وحصرنا الاربعمائۃ والستۃ والعشرین فی اثنی عشر بل رددناھا فی المتن الی عشرۃ کماتری ولله الحمد ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اندر تیمم ونماز کی ادائےگی سے پہلے لاحق ہوگی یا ایسا۱۰ نہ ہوگا اور برتقدیر۱۱ خامس یا تو اسے ظن عطا ہوگا یا نہیں۱۲ یہ بارہ۱۲ صورتیں ہیں زیادہ نہیں۔ اور اس کی حاجت نہیں کیونکہ یہ تو شقوں کا بیان ہے پھر احکام کا بیان چلے گا تو کلام اور دراز ہوگا اس لئے ہم نے اقسام کو بیان احکام ہی میں ملا دیا اور مکمل احاطہ کے باوجود کلام مختصر رکھا اور ساری حمد عزت وبزرگی کے مالك خدائے برتر ہی کیلئے ہے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہم نے دو۲ قسمیں وہیں کی ہیں جہاں ان دونوں کا حکم مختلف ہو اس طرح چار سوچھبیس۴۲۶ کو ہم نے بارہ۱۲ میں محصور کیا بلکہ متن میں بارہ۱۲ کو بھی دس۱۰ کی جانب پھیر دیا جیسا کہ پیش نظر ہے۔ اور خدا تعالی ہی کیلئے ساری تعریف ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وبہ تمت الضابطۃ٭ لجمیع الصور الاربعمائۃ والستۃ والعشرین ضابطۃ٭ بیانہ انی رددت الاقسام طرا الی عشرۃ لانہ اما ان یعطی اویعد اویسکت اویمنع اولاشیئ ولایکون الثالث الابعد السؤال ولاالخامس الابدونہ والاولان شاملان لھما فیصلحان للتثنیۃ بکون کل بعد السؤال اوبلاسؤال۔
فالعطاء۱ قسم واحد وھو غیر الاجل الذی یتأخر عن السؤال بزمان فلابدان یتقدمہ وعدا وصمت اومنع وھذا مقابل لھا فی التقسیم فلاجرم ان یکون عاجلا ای علی فور السؤال اولاعاجلا ولا اجلا بل بدون سؤال۔
والوعد۲ والمراد بہ الرجائی حال بقاء الماء کماھو المتبادر من اطلاقہ ثلثۃ اقسام لانہ ۲اما قبل تمام الصلاۃ او۳بعدہ وفی ھذا ظھر خلفہ ۴ اولا۔
والسکوت قسمان لانہ ۵یعطی بعدہ فی الوقت قبل الاطلاع علی تیممہ وصلاتہ اولا۔
ان ہی الفاظ میں تمام چارسوچھبیس۴۲۶ منضبط صورتوں کے لئے ضابطہ مکمل ہوگیا اس کا بیان یہ ہے کہ میں نے ساری قسموں کو دس صورتوں کی جانب پھیر دیا ہے وہ اس لئے کہ یا تو وہ دے۱ گا یا وعدہ۲ کرے گا یا سکوت۳ کرے گا یا منع۴ کرے گا یا کچھ۵ نہ کرے گا۔ اور تیسری صورت سوال کے بعد ہی ہوگی اور پانچویں بلاسوال ہی ہوگی۔ اور پہلی دونوں سوال وعدم سوال دونوں کو شامل ہیں تو وہ دو دو ہونے کی صلاحےت رکھتی ہیں اس طرح کہ ہر ایك بعد سوال ہوگی یا بلاسوال۔ (ت)
تو عطا۱ ایك قسم ہے اور یہ عطائے آجل نہیں جو زمان میں سوال سے کچھ بعد میں ہوتی ہے تو ضروری ہے کہ اس سے پہلے وعدہ یا خموشی یا انکار ہو۔ اور یہ تقسیم میں ان سب کے مقابل ہے تو ضروری ہے کہ عاجل ہو۔ یعنی سوال ہوتے ہی دینا ہو یا نہ عاجل ہو نہ آجل بلکہ بغیر سوال ہو۔
وعدہ۲ اس سے مراد ہے وعدہ رجائی جو بقائے آب کی حالت میں ہو جیسا کہ اطلاق سے یہی متبادر ہوتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں اس لئے کہ یا تو ۲قبل تکمیل نماز ہوگا یا ۳بعد تکمیل اور اس میں یا تو اس کا خلف ظاہر ہوگا یا ۴ایسانہ ہوگا۔
سکوت کی دو قسمیں ہیں اس لئے کہ وہ بعد۵ سکوت وقت کے اندر اس کے تیمم ونماز پر اطلاع سے پہلے پانی دے دے گا یا ایسا۶ نہ ہوگا۔
فالعطاء۱ قسم واحد وھو غیر الاجل الذی یتأخر عن السؤال بزمان فلابدان یتقدمہ وعدا وصمت اومنع وھذا مقابل لھا فی التقسیم فلاجرم ان یکون عاجلا ای علی فور السؤال اولاعاجلا ولا اجلا بل بدون سؤال۔
والوعد۲ والمراد بہ الرجائی حال بقاء الماء کماھو المتبادر من اطلاقہ ثلثۃ اقسام لانہ ۲اما قبل تمام الصلاۃ او۳بعدہ وفی ھذا ظھر خلفہ ۴ اولا۔
والسکوت قسمان لانہ ۵یعطی بعدہ فی الوقت قبل الاطلاع علی تیممہ وصلاتہ اولا۔
ان ہی الفاظ میں تمام چارسوچھبیس۴۲۶ منضبط صورتوں کے لئے ضابطہ مکمل ہوگیا اس کا بیان یہ ہے کہ میں نے ساری قسموں کو دس صورتوں کی جانب پھیر دیا ہے وہ اس لئے کہ یا تو وہ دے۱ گا یا وعدہ۲ کرے گا یا سکوت۳ کرے گا یا منع۴ کرے گا یا کچھ۵ نہ کرے گا۔ اور تیسری صورت سوال کے بعد ہی ہوگی اور پانچویں بلاسوال ہی ہوگی۔ اور پہلی دونوں سوال وعدم سوال دونوں کو شامل ہیں تو وہ دو دو ہونے کی صلاحےت رکھتی ہیں اس طرح کہ ہر ایك بعد سوال ہوگی یا بلاسوال۔ (ت)
تو عطا۱ ایك قسم ہے اور یہ عطائے آجل نہیں جو زمان میں سوال سے کچھ بعد میں ہوتی ہے تو ضروری ہے کہ اس سے پہلے وعدہ یا خموشی یا انکار ہو۔ اور یہ تقسیم میں ان سب کے مقابل ہے تو ضروری ہے کہ عاجل ہو۔ یعنی سوال ہوتے ہی دینا ہو یا نہ عاجل ہو نہ آجل بلکہ بغیر سوال ہو۔
وعدہ۲ اس سے مراد ہے وعدہ رجائی جو بقائے آب کی حالت میں ہو جیسا کہ اطلاق سے یہی متبادر ہوتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں اس لئے کہ یا تو ۲قبل تکمیل نماز ہوگا یا ۳بعد تکمیل اور اس میں یا تو اس کا خلف ظاہر ہوگا یا ۴ایسانہ ہوگا۔
سکوت کی دو قسمیں ہیں اس لئے کہ وہ بعد۵ سکوت وقت کے اندر اس کے تیمم ونماز پر اطلاع سے پہلے پانی دے دے گا یا ایسا۶ نہ ہوگا۔
والمنع قسمان ۷یعطی قبل تمام الصلاۃ ۸اولا۔ والخامس ۹قسمان کان یظن العطاء ۱۰اولا فھی عشرۃ وکل منحازعن صاحبہ بحکم فمافرقت الاالافتراق الحکم۔
بیان احاطتھا الاقسام
(۱) العطاء۱ غیر اجل مواقعہ ستۃ قبل۱ التیمم اوبعدہ۲ قبل الصلاۃ اوفیھا۳ اوبعدھا۴ فی الوقت قبل الاطلاع المذکور اوبعدہ۵ اوبعد۶ الوقت الاولان ثلاثیان بالظنین والشك والبواقی سداسیات باضافۃ الرؤیۃ فی الصلاۃ اوقبلھا فکانت ثلثین وبتثنیۃ کونہ بعد سؤال اوبدونہ کان ینبغی ان تکون ستین غیران الستۃ الاخیرۃ اعنی التی بعد الوقت لاتثنی لان السؤال بصلاۃ الوقت لایکون بعد الوقت فتبقی اربعۃ(۵۴)
وخمسین اربعۃ وعشرون منھا بالسؤال وثلثون بلاسؤال۔
حکمہ التأثیر ای ان وقع قبل التیمم منعہ اوبعدہ نقضہ اوفی الصلاۃ قطعھا اوبعدھا ابطلھا غیر ان الابطال فیما اذاسأل فی الصلاۃ مضاف الی السؤال
انکار کی بھی دو قسمیں ہیں یا تو قبل تکمیل نماز ۷دے گا یا نہ ۸دے گا۔
پانچویں کی بھی دو قسمیں ہیں۔ اسے ۹ظن عطا تھا یا ۱۰نہیں۔ یہ دس۱۰صورتیں ہیں اور ہر صورت دوسری سے حکم میں جدا ہے کیونکہ حکم الگ ہونے ہی کی وجہ سے ان کو الگ الگ کیا گیا ہے۔ (ت)
اس کا بیان کہ یہ صورتیں ساری قسموں کو محیط ہیں۔
(۱) عطائے غیر آجل کے مواقع چھ۶ ہیں : (۱) قبل تیمم (۲) بعد تیمم قبل نماز (۳) یا اندرون نماز (۴) یا بعد نماز وقت کے اندر اطلاع مذکور سے پہلے (۵) یا اطلاع مذکور کے بعد (۶) یا وقت کے بعد پہلی دونوں صورتیں ظن عطا ومنع اور شك کی وجہ سے ثلاثی ہیں اور نماز کے اندر دیکھنے یا اس سے قبل دیکھنے کے اضافہ کی وجہ سے باقی سب سداسی ہیں تو تیس۳۰ ہوئیں۔ اور عطا کے بعد سوال یا بلاسوال ہونے سے ہر ایك کو دو کر کے ساٹھ ۶۰ ہو جا نا چاہے تھا مگر آخری چھ ۶ صورتیں یعنی جو وقت کے لیے مانگنا وقت کے بعد نہ ہوگا تو چون۵۴ صورتیں رہ جائیں گی چوبیس ۲۴ سوال والی اور تیس۳۰ بلا سوال۔
اس عطا کا حکم یہ ہے کہ (بہرحال) مؤثر ہے۔ یعنی (۱) اگر یہ دینا قبل تمیم ہو تو تمیم سے مانع ہوگا۔ (۲) اگر بعد تمیم ہو تو اسے توڑے دے گا (۳) اگر دوران نماز ہو تو اسے قطع کردے گا (۴) بعد نماز ہو تو اسے باطل کردے گا۔ مگر یہ کہ اندرون نماز مانگنے کی صورت میں
بیان احاطتھا الاقسام
(۱) العطاء۱ غیر اجل مواقعہ ستۃ قبل۱ التیمم اوبعدہ۲ قبل الصلاۃ اوفیھا۳ اوبعدھا۴ فی الوقت قبل الاطلاع المذکور اوبعدہ۵ اوبعد۶ الوقت الاولان ثلاثیان بالظنین والشك والبواقی سداسیات باضافۃ الرؤیۃ فی الصلاۃ اوقبلھا فکانت ثلثین وبتثنیۃ کونہ بعد سؤال اوبدونہ کان ینبغی ان تکون ستین غیران الستۃ الاخیرۃ اعنی التی بعد الوقت لاتثنی لان السؤال بصلاۃ الوقت لایکون بعد الوقت فتبقی اربعۃ(۵۴)
وخمسین اربعۃ وعشرون منھا بالسؤال وثلثون بلاسؤال۔
حکمہ التأثیر ای ان وقع قبل التیمم منعہ اوبعدہ نقضہ اوفی الصلاۃ قطعھا اوبعدھا ابطلھا غیر ان الابطال فیما اذاسأل فی الصلاۃ مضاف الی السؤال
انکار کی بھی دو قسمیں ہیں یا تو قبل تکمیل نماز ۷دے گا یا نہ ۸دے گا۔
پانچویں کی بھی دو قسمیں ہیں۔ اسے ۹ظن عطا تھا یا ۱۰نہیں۔ یہ دس۱۰صورتیں ہیں اور ہر صورت دوسری سے حکم میں جدا ہے کیونکہ حکم الگ ہونے ہی کی وجہ سے ان کو الگ الگ کیا گیا ہے۔ (ت)
اس کا بیان کہ یہ صورتیں ساری قسموں کو محیط ہیں۔
(۱) عطائے غیر آجل کے مواقع چھ۶ ہیں : (۱) قبل تیمم (۲) بعد تیمم قبل نماز (۳) یا اندرون نماز (۴) یا بعد نماز وقت کے اندر اطلاع مذکور سے پہلے (۵) یا اطلاع مذکور کے بعد (۶) یا وقت کے بعد پہلی دونوں صورتیں ظن عطا ومنع اور شك کی وجہ سے ثلاثی ہیں اور نماز کے اندر دیکھنے یا اس سے قبل دیکھنے کے اضافہ کی وجہ سے باقی سب سداسی ہیں تو تیس۳۰ ہوئیں۔ اور عطا کے بعد سوال یا بلاسوال ہونے سے ہر ایك کو دو کر کے ساٹھ ۶۰ ہو جا نا چاہے تھا مگر آخری چھ ۶ صورتیں یعنی جو وقت کے لیے مانگنا وقت کے بعد نہ ہوگا تو چون۵۴ صورتیں رہ جائیں گی چوبیس ۲۴ سوال والی اور تیس۳۰ بلا سوال۔
اس عطا کا حکم یہ ہے کہ (بہرحال) مؤثر ہے۔ یعنی (۱) اگر یہ دینا قبل تمیم ہو تو تمیم سے مانع ہوگا۔ (۲) اگر بعد تمیم ہو تو اسے توڑے دے گا (۳) اگر دوران نماز ہو تو اسے قطع کردے گا (۴) بعد نماز ہو تو اسے باطل کردے گا۔ مگر یہ کہ اندرون نماز مانگنے کی صورت میں
فیبقی للعطاء نقض التیمم۔
(۲) وعد قبل تمام الصلاۃ مواقعہ الثلثۃ الاول ثلاثیان ثم سداسی ویحتمل الکل اربعۃ وجوہ لاغیر علی ماقدمنا تحت قانون البحر یعطی فی الوقت اوبعدہ اولا یعطی فیظھر خلفہ اولا فھی اربعۃ وعشرون فی الاولین ومثلھا فی الثالث فکانت ثمانیۃ واربعین فی ربعھا اعنی اثنی عشر العطاء بعد الوقت وھی لاتثنی کماعلمت وستۃ وثلثون البواقی تثنی فالمجموع اربعۃ(۸۴) وثمانون۔
حکمہ الاثار الثلثۃ بالوجہ المذکور
(۳) وعد بعد الصلاۃ فظھر خلفہ لہ وجھان ان لایعطی اصلا من دون عذر اویعطی بعد الوقت لماقدمنا ان الوعد فی حاجۃ موقتۃ يتعلق بالوقت خاصۃ وعلی کل یکون بعد الاطلاع اوبدونہ والکل سداسی فھی اربعۃ وعشرون نصفھا الاول اعنی مالاعطاء فيھا تثنی فتصیر اربعۃ وعشرین ونصفھا الاخر اعنی العطاء بعد الوقت لایثنی لمامر فیکون لکل ستۃ(۳۶) وثلثین اثنا عشر منھا لسؤال۔
ابطال کی نسبت مانگنے کی جانب ہے تو عطاء کی وجہ سے تمیم ٹوٹتا رہے گا۔
(۲) وعدہ قبل تکمیل نماز اس کے مواقع وہ پہلے تینوں مواقع ہیں وہ ثلاثی پھر ایك سداسی ہے اور ہر ایك میں چار صورتوں کا احتمال ہے۔ زیادہ نہیں جیسا کہ قانون بحر کے تحت ہم نے پہلے بیان کیا۔ (۱) وقت میں دے دے گا (۲) بعد وقت دے گا (۳) نہ دے گا تو اس کا خلف ظاہر ہوگا (۴) یا نہ ظاہر ہوگا تو پہلی دونوں میں یہ چوبیس۲۴ ہوگئیں۔ ان ہی کے مثل تیسری میں ہوں گی تو اڑتالیس۴۸ ہوئیں ان کی چوتھائی یعنی بارہ۱۲ میں عطا بعد وقت ہے۔ اور یہ دوگنا نہ ہوں گی جیسا کہ معلوم ہوا اور باقی چھتیس۳۶ دو۲دو۲ ہوں گی تو کل چوراسی۸۴ ہوئیں۔
حکم وہی تینوں اثرات بطریق مذکور(۳) وعدہ بعد نماز جس کا خلف ظاہر ہوا۔ اس کی دو۲ صورتیں ہیں یا(۱) تو بالکل نہ دے بغیر کسی عذر کے یا(۲) وقت کے بعد دے اس لئے کہ ہم بتاچکے کہ وقتی حاجت کے لئے وعدہ خاص وقت سے متعلق ہوتا ہے اور بہردو صورت یا تو بعد(۳) اطلاع مذکور ہوگا یا اس(۳) کے بغیر اور ہر صورت سداسی ہے تو چوبیس۲۴ صورتیں ہوئیں ان میں سے نصف اول یعنی وہ جن میں عطا نہیں ڈبل ہوکر چوبیس۲۴ ہوجائیں گی اور نصف ديگر یعنی عطا بعد وقت والی ڈبل نہ ہوں گی وجہ گزر چکی تو کل چھتیس۳۶ ہوجائیں گی جن میں سے بارہ سوال والی ہیں۔
(۲) وعد قبل تمام الصلاۃ مواقعہ الثلثۃ الاول ثلاثیان ثم سداسی ویحتمل الکل اربعۃ وجوہ لاغیر علی ماقدمنا تحت قانون البحر یعطی فی الوقت اوبعدہ اولا یعطی فیظھر خلفہ اولا فھی اربعۃ وعشرون فی الاولین ومثلھا فی الثالث فکانت ثمانیۃ واربعین فی ربعھا اعنی اثنی عشر العطاء بعد الوقت وھی لاتثنی کماعلمت وستۃ وثلثون البواقی تثنی فالمجموع اربعۃ(۸۴) وثمانون۔
حکمہ الاثار الثلثۃ بالوجہ المذکور
(۳) وعد بعد الصلاۃ فظھر خلفہ لہ وجھان ان لایعطی اصلا من دون عذر اویعطی بعد الوقت لماقدمنا ان الوعد فی حاجۃ موقتۃ يتعلق بالوقت خاصۃ وعلی کل یکون بعد الاطلاع اوبدونہ والکل سداسی فھی اربعۃ وعشرون نصفھا الاول اعنی مالاعطاء فيھا تثنی فتصیر اربعۃ وعشرین ونصفھا الاخر اعنی العطاء بعد الوقت لایثنی لمامر فیکون لکل ستۃ(۳۶) وثلثین اثنا عشر منھا لسؤال۔
ابطال کی نسبت مانگنے کی جانب ہے تو عطاء کی وجہ سے تمیم ٹوٹتا رہے گا۔
(۲) وعدہ قبل تکمیل نماز اس کے مواقع وہ پہلے تینوں مواقع ہیں وہ ثلاثی پھر ایك سداسی ہے اور ہر ایك میں چار صورتوں کا احتمال ہے۔ زیادہ نہیں جیسا کہ قانون بحر کے تحت ہم نے پہلے بیان کیا۔ (۱) وقت میں دے دے گا (۲) بعد وقت دے گا (۳) نہ دے گا تو اس کا خلف ظاہر ہوگا (۴) یا نہ ظاہر ہوگا تو پہلی دونوں میں یہ چوبیس۲۴ ہوگئیں۔ ان ہی کے مثل تیسری میں ہوں گی تو اڑتالیس۴۸ ہوئیں ان کی چوتھائی یعنی بارہ۱۲ میں عطا بعد وقت ہے۔ اور یہ دوگنا نہ ہوں گی جیسا کہ معلوم ہوا اور باقی چھتیس۳۶ دو۲دو۲ ہوں گی تو کل چوراسی۸۴ ہوئیں۔
حکم وہی تینوں اثرات بطریق مذکور(۳) وعدہ بعد نماز جس کا خلف ظاہر ہوا۔ اس کی دو۲ صورتیں ہیں یا(۱) تو بالکل نہ دے بغیر کسی عذر کے یا(۲) وقت کے بعد دے اس لئے کہ ہم بتاچکے کہ وقتی حاجت کے لئے وعدہ خاص وقت سے متعلق ہوتا ہے اور بہردو صورت یا تو بعد(۳) اطلاع مذکور ہوگا یا اس(۳) کے بغیر اور ہر صورت سداسی ہے تو چوبیس۲۴ صورتیں ہوئیں ان میں سے نصف اول یعنی وہ جن میں عطا نہیں ڈبل ہوکر چوبیس۲۴ ہوجائیں گی اور نصف ديگر یعنی عطا بعد وقت والی ڈبل نہ ہوں گی وجہ گزر چکی تو کل چھتیس۳۶ ہوجائیں گی جن میں سے بارہ سوال والی ہیں۔
حکمہ تمت۔
(۴) (۱) لم یظھر خلفہ لہ ایضا وجھان یعطی فی الوقت اولا یعطی لنحو وجوہ قدمنا فی المسألۃ الثامنۃ کأن کان قال لہ تعال فی الوقت الفلانی اعطك فلم یذھب ھذا والاقسام ھھنا ثمانیۃ۴۸واربعون لان التقسيم کسابقہ وھھنا الفریقان مثنیان۔
حکمہ یعيد الصلاۃ۔
(۵) ۲سکت واعطی فی الوقت قبل الاطلاع حیث ان السکوت يتقدمہ السؤال فللسؤال اربعۃ مواقع قبل التيمم۱ او۲ الصلاۃ او۳فيھا او۴بعدھا والعطاء علی الاول رباعی کذلك وعلی الثانی ثلاثی باسقاط الاول وعلی الثالث کذلك لانہ قطع الصلاۃ بالسؤال ولم ینتقض تيممہ فالعطاء اما ان یکون قبل المستانفۃ اوفيھا اوبعدھا وعلی الرابع مالہ الاوجہ واحد لانہ لایعيد الصلاۃ بالسکوت والاذلان ثلاثیان فسبعتھما احد وعشرون والاخيران سداسیان فاربعتھما اربعۃ وعشرون والکل خمسۃ۴۵ واربعون۔
حکمہ الاثار الثلثۃ۔
حکم نماز تام ہے۔
(۴) اس کا خلف ظاہر نہ ہوا۔ اس کی بھی دو۲ صورتیں ہیں وقت۱ کے اندر دے دے گا یا۲ نہ دے گا۔ اور اسی قسم کی وجہوں کے باعث جو ہم نے مسئلہ ہشتم میں بیان کیں۔ مثلا اس سے کہا تھا فلاں وقت آنا تمہیں دوں گا۔ یہ نہ گیا قسمیں یہاں اڑتالیس۴۸ ہیں۔ اس لئے کہ تقسيم اس سے پہلے والی کی طرح ہے اور یہاں دونوں ہی فریق ڈبل ہیں۔
حکم اعادہ نماز ہے۔
(۵) خاموش رہا اور وقت کے اندر قبل اطلاع مذکور دے دیا۔ چونکہ سکوت سے پہلے سوال ہوگا۔ تو سوال کے چار مواقع ہیں (۱) قبل تميم (۲) قبل نماز (۳) دوران نماز (۴) بعد نماز اور برتقدیر اول عطا کی بھی ایسے ہی چار۴ چار۴ صورتیں ہیں اور برتقدیر دوم ثلاثی ہے باسقاط اول اور برتقديم سوم بھی ایسا ہی ہے۔ اس لئے کہ اس نے مانگ کر نماز توڑ دی اور اس کا تميم ابھی نہ ٹوٹا تو دینا ازسرنو پڑھی جانے والی نماز سے پہلے ہوگا یا اس کے اندر یا اس کے بعد اور برتقدیر چہارم اس کی صرف ایك صورت ہے اس لئے کہ سکوت کی وجہ سے اس کو نماز کا اعادہ نہیں کرنا ہے پہلی دونوں ثلاثی ہیں تو ان کی ساتوں مل کر اکیس۲۱ ہونگی اور آخر والی دونوں سداسی ہیں تو ان کی چاروں چوبیس۲۴ ہوں گی اور کل پینتالیس۴۵ ہوں گی۔
حکم تینوں اثرات۔
(۴) (۱) لم یظھر خلفہ لہ ایضا وجھان یعطی فی الوقت اولا یعطی لنحو وجوہ قدمنا فی المسألۃ الثامنۃ کأن کان قال لہ تعال فی الوقت الفلانی اعطك فلم یذھب ھذا والاقسام ھھنا ثمانیۃ۴۸واربعون لان التقسيم کسابقہ وھھنا الفریقان مثنیان۔
حکمہ یعيد الصلاۃ۔
(۵) ۲سکت واعطی فی الوقت قبل الاطلاع حیث ان السکوت يتقدمہ السؤال فللسؤال اربعۃ مواقع قبل التيمم۱ او۲ الصلاۃ او۳فيھا او۴بعدھا والعطاء علی الاول رباعی کذلك وعلی الثانی ثلاثی باسقاط الاول وعلی الثالث کذلك لانہ قطع الصلاۃ بالسؤال ولم ینتقض تيممہ فالعطاء اما ان یکون قبل المستانفۃ اوفيھا اوبعدھا وعلی الرابع مالہ الاوجہ واحد لانہ لایعيد الصلاۃ بالسکوت والاذلان ثلاثیان فسبعتھما احد وعشرون والاخيران سداسیان فاربعتھما اربعۃ وعشرون والکل خمسۃ۴۵ واربعون۔
حکمہ الاثار الثلثۃ۔
حکم نماز تام ہے۔
(۴) اس کا خلف ظاہر نہ ہوا۔ اس کی بھی دو۲ صورتیں ہیں وقت۱ کے اندر دے دے گا یا۲ نہ دے گا۔ اور اسی قسم کی وجہوں کے باعث جو ہم نے مسئلہ ہشتم میں بیان کیں۔ مثلا اس سے کہا تھا فلاں وقت آنا تمہیں دوں گا۔ یہ نہ گیا قسمیں یہاں اڑتالیس۴۸ ہیں۔ اس لئے کہ تقسيم اس سے پہلے والی کی طرح ہے اور یہاں دونوں ہی فریق ڈبل ہیں۔
حکم اعادہ نماز ہے۔
(۵) خاموش رہا اور وقت کے اندر قبل اطلاع مذکور دے دیا۔ چونکہ سکوت سے پہلے سوال ہوگا۔ تو سوال کے چار مواقع ہیں (۱) قبل تميم (۲) قبل نماز (۳) دوران نماز (۴) بعد نماز اور برتقدیر اول عطا کی بھی ایسے ہی چار۴ چار۴ صورتیں ہیں اور برتقدیر دوم ثلاثی ہے باسقاط اول اور برتقديم سوم بھی ایسا ہی ہے۔ اس لئے کہ اس نے مانگ کر نماز توڑ دی اور اس کا تميم ابھی نہ ٹوٹا تو دینا ازسرنو پڑھی جانے والی نماز سے پہلے ہوگا یا اس کے اندر یا اس کے بعد اور برتقدیر چہارم اس کی صرف ایك صورت ہے اس لئے کہ سکوت کی وجہ سے اس کو نماز کا اعادہ نہیں کرنا ہے پہلی دونوں ثلاثی ہیں تو ان کی ساتوں مل کر اکیس۲۱ ہونگی اور آخر والی دونوں سداسی ہیں تو ان کی چاروں چوبیس۲۴ ہوں گی اور کل پینتالیس۴۵ ہوں گی۔
حکم تینوں اثرات۔
(۶) سکت(۱) ولم یعط فی الوقت قبل الاطلاع فاما فی الوقت بعد الاطلاع اوبعدہ اولا اصلا وفی کلھا السؤال علی مواقعہ الاربعۃ فکل من الاولین الثلاثین بثلثۃ وجوہ العطاء وعدمہ تسعۃ وکل من الاخيرین السداسيین ثمانیۃ عشر فھی اربعۃ۵۴ وخمسون۔
حکمہ تمت۔
(۷) منع(۲) فاعطی قبل تمام الصلاۃ لسؤال ثلثۃ مواقع غیر الاخیر وکذا للعطاء علی الاول وعلی الباقین اثنان لانہ بقطع الصلاۃ یستأنفھا فھی سبعۃ وکل فی الاولین الثالث سداسیان باثنی عشر فھی سبعۃ۲۷ وعشرون۔
حکمہ الاثار الثلثۃ لاجل لعطاء لاللمنع۔
(۸) منع(۳) ولم یعط قبلہ فاما بعدھا فی الوقت قبل الاطلاع اوبعدہ اوبعد الوقت اولا ولسؤالہ المواقع الاربعۃ ثلاثیان فیضرب اربعۃ اربعۃ وعشرون وسداسیان ثمانیۃ واربعون کلھا اثنان۷۲ وسبعون۔
(۶) خاموش رہا اور وقت کے اندر اطلاع مذکور سے قبل نہ دیا یا تو ۱ وقت کے اندر بعد اطلاع نہ دیا یا وقت۲ کے بعد نہ دیا یا بالکل۳ نہ دیا اور ان میں سے ہر ایك میں سوال اپنے چاروں مواقع پر ہے۔ تو پہلی دونوں ثلاثی میں سے ہر ایك عطا وعدم عطا کی تین صورتوں کے ساتھ نو۹ ہوگی اور بعد والی دونوں سداسی میں سے ہر ایك اٹھارہ۱۸ ہوگی۔ تو کل چون۵۴ ہوں گی۔
حکم نماز تام ہے۔
(۷) انکار کیا پھر قبل تکميل نماز دے دیا۔ اس کے سوال کے تین مواقع ہیں آخری چھوڑ کر اسی طرح پہی صورت میں عطا کے مواقع اور باقی دو۲ میں دو۲ ہیں اس لئے کہ نماز توڑ دینے کی وجہ سے اس کو ازسرنو ادا کرے گا۔ تو یہ سات۷ ہوئیں۔ اور اولین میں سے ہر ایك ثلاثی ہے تو ان کی پانچوں پندرہ۱۵ ہونگی اور سوم کی دونوں قسمیں سداسی ہیں تو بارہ۱۲ ہوں گی کل ستائیس۲۷ ہوں گی۔
حکم تینوں اثرات اس وجہ سے کہ عطا ہوئی اس وجہ سے نہیں کہ انکار ہوا۔ (۸) انکار کیا اور قبل تکميل نماز نہ دیا۔ یہ یا۱ تو بعد نماز وقت کے اندر قبل اطلاع یا بعد۲ اطلاع ہوگا یا بعد۳ وقت ہوگا یا ایسا نہ۴ ہوگا اس میں سوال کے وہی چاروں مواقع ہیں دو ثلاثی تو چار سے ضرب دینے سے چوبیس۲۴ صورتیں ہوں گی اور دو۲ سداسی ہیں تو اڑتالیس۴۸ ہوں گی۔ کل بہتر۷۲ ہونگی۔
حکمہ تمت۔
(۷) منع(۲) فاعطی قبل تمام الصلاۃ لسؤال ثلثۃ مواقع غیر الاخیر وکذا للعطاء علی الاول وعلی الباقین اثنان لانہ بقطع الصلاۃ یستأنفھا فھی سبعۃ وکل فی الاولین الثالث سداسیان باثنی عشر فھی سبعۃ۲۷ وعشرون۔
حکمہ الاثار الثلثۃ لاجل لعطاء لاللمنع۔
(۸) منع(۳) ولم یعط قبلہ فاما بعدھا فی الوقت قبل الاطلاع اوبعدہ اوبعد الوقت اولا ولسؤالہ المواقع الاربعۃ ثلاثیان فیضرب اربعۃ اربعۃ وعشرون وسداسیان ثمانیۃ واربعون کلھا اثنان۷۲ وسبعون۔
(۶) خاموش رہا اور وقت کے اندر اطلاع مذکور سے قبل نہ دیا یا تو ۱ وقت کے اندر بعد اطلاع نہ دیا یا وقت۲ کے بعد نہ دیا یا بالکل۳ نہ دیا اور ان میں سے ہر ایك میں سوال اپنے چاروں مواقع پر ہے۔ تو پہلی دونوں ثلاثی میں سے ہر ایك عطا وعدم عطا کی تین صورتوں کے ساتھ نو۹ ہوگی اور بعد والی دونوں سداسی میں سے ہر ایك اٹھارہ۱۸ ہوگی۔ تو کل چون۵۴ ہوں گی۔
حکم نماز تام ہے۔
(۷) انکار کیا پھر قبل تکميل نماز دے دیا۔ اس کے سوال کے تین مواقع ہیں آخری چھوڑ کر اسی طرح پہی صورت میں عطا کے مواقع اور باقی دو۲ میں دو۲ ہیں اس لئے کہ نماز توڑ دینے کی وجہ سے اس کو ازسرنو ادا کرے گا۔ تو یہ سات۷ ہوئیں۔ اور اولین میں سے ہر ایك ثلاثی ہے تو ان کی پانچوں پندرہ۱۵ ہونگی اور سوم کی دونوں قسمیں سداسی ہیں تو بارہ۱۲ ہوں گی کل ستائیس۲۷ ہوں گی۔
حکم تینوں اثرات اس وجہ سے کہ عطا ہوئی اس وجہ سے نہیں کہ انکار ہوا۔ (۸) انکار کیا اور قبل تکميل نماز نہ دیا۔ یہ یا۱ تو بعد نماز وقت کے اندر قبل اطلاع یا بعد۲ اطلاع ہوگا یا بعد۳ وقت ہوگا یا ایسا نہ۴ ہوگا اس میں سوال کے وہی چاروں مواقع ہیں دو ثلاثی تو چار سے ضرب دینے سے چوبیس۲۴ صورتیں ہوں گی اور دو۲ سداسی ہیں تو اڑتالیس۴۸ ہوں گی۔ کل بہتر۷۲ ہونگی۔
حکمہ تمت۔
(۹) لم۱ یکن شیئ وظن العطاء ھو علی وجھین بالرؤیۃ فی الصلاۃ اوقبلھا۔
حکمہ یعيد۔
(۱۰) لم۲ یکن شیئ ولاظن عطاء ھی اربعۃ بالوجھین مع ظن المنع اوالشک۔
حکمہ تمت۔
وبہ تمت احاطۃ۳ عــہ الاقسام٭ حکم نماز تام ہے۔
(۹) کچھ نہ ہوا اور اسے عطا کا گمان تھا۔ نماز کے اندر یا نماز سے قبل دیکھنے کی تقدیر کی وجہ سے اس کی دو۲ صورتیں ہیں۔ حکم نماز کا اعادہ کرے۔
(۱۰) کچھ نہ ہوا اور اسے ظن عطا بھی نہ تھا۔ دونوں وجہوں کو ظن منع یا شك کے ساتھ ملاکر اس کی چار صورتیں ہوں گی۔
حکم نماز تام ہے۔ اسی سے احاطہ اقسام مع بیان احکام مکمل ہوگیا۔
عــہ : وھذا جدول الاجمال باعتبار التقسيم الاول الی خمسۃ اقسام
پانچ اقسام کی طرف تقسيم اول کے اعتبار سے یہ اجمالی نقشہ ہے۔
this page for image word file no. 158
وھذا بعینہ ماحصل بالتقسيم الاول تحت قانون البحر فتوا فقھما مع شدۃ تباینھما فی الطریق دليل الصحۃ والتحقیق ۱۲ منہ غفرلہ (م)
بعینہ یہی قانون بحر کے تحت تقسيم اول سے حاصل ہوا تو طریق میں شديد مباینت کے باوجود دونوں کا باہم موافق ہوجانا صحت وتحقیق کی دليل ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
(۹) لم۱ یکن شیئ وظن العطاء ھو علی وجھین بالرؤیۃ فی الصلاۃ اوقبلھا۔
حکمہ یعيد۔
(۱۰) لم۲ یکن شیئ ولاظن عطاء ھی اربعۃ بالوجھین مع ظن المنع اوالشک۔
حکمہ تمت۔
وبہ تمت احاطۃ۳ عــہ الاقسام٭ حکم نماز تام ہے۔
(۹) کچھ نہ ہوا اور اسے عطا کا گمان تھا۔ نماز کے اندر یا نماز سے قبل دیکھنے کی تقدیر کی وجہ سے اس کی دو۲ صورتیں ہیں۔ حکم نماز کا اعادہ کرے۔
(۱۰) کچھ نہ ہوا اور اسے ظن عطا بھی نہ تھا۔ دونوں وجہوں کو ظن منع یا شك کے ساتھ ملاکر اس کی چار صورتیں ہوں گی۔
حکم نماز تام ہے۔ اسی سے احاطہ اقسام مع بیان احکام مکمل ہوگیا۔
عــہ : وھذا جدول الاجمال باعتبار التقسيم الاول الی خمسۃ اقسام
پانچ اقسام کی طرف تقسيم اول کے اعتبار سے یہ اجمالی نقشہ ہے۔
this page for image word file no. 158
وھذا بعینہ ماحصل بالتقسيم الاول تحت قانون البحر فتوا فقھما مع شدۃ تباینھما فی الطریق دليل الصحۃ والتحقیق ۱۲ منہ غفرلہ (م)
بعینہ یہی قانون بحر کے تحت تقسيم اول سے حاصل ہوا تو طریق میں شديد مباینت کے باوجود دونوں کا باہم موافق ہوجانا صحت وتحقیق کی دليل ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
مع بیان الاحکام٭ والحمد الدائم لولی الانعام٭ذی الجلال والاکرام٭ وافضل الصلاۃ والسلام٭ علی السيد المنعام٭ والہ الکرام٭ وصحبہ العظام٭ وامتہ الی يوم القیام٭ امین۔
تنبیہ : اتبعنا ھم فی ترك اقسام الوعد باظھار النفاد والوعد الابائی والمنع بعد العطاء مع ذکرھم العطاء بعد المنع۔
فان قيل لااثر لھذہ لمامر ان الوعد بعد النفاد لایعتبر والوعد الابائی لااثرلہ فی الوقت الحاضر بل فی الوقت الموعود بہ والمنع بعد العطاء ان اثر فاباحۃ تيمم منعہ العطاء لاغیر کماقدمت فی المسألۃ العاشرۃ۔
اقول : الیس ھذا اثرا والوعد کيفما کان ان لحقہ العطاء قبل تمام الصلاۃ تحصل الاثار الثلثۃ وان کان حصولھا بالعطاء کما بالعطاء قبلہ بعد المنع وان لم يلحقہ جاز تيممہ وبقی وتمت الصلوۃ۔
وقد ذکروا المنع ولااثرلہ الا ھذا وذکر المنع لايغنی عنہ فانہ من الوعد فيشتبہ الامر فیہ
اور دائمی حمد ہے ولی انعام مالك عزت وبزرگی کيلئے۔ اور افضل درودوسلام بہت انعام فرمانے والے آقا اور ان کی کريم آل عظيم اصحاب اور ان کی امت پر روز قیامت تك الہی قبول فرما!
چند اقسم ديگر پر تنبیہ : درج ذيل قسموں کو ترك کرنے میں ہم نے بھی ان ہی حضرات کی پيروی کی۔ (۱)پانی ختم ہونے کا اظہار کرکے وعدہ (۲) وعدہ ابائی (۳)منع بعد عطا -- جبکہ ان حضرات نے عطا بعد منع کو ذکر کیا ہے۔
اگر کہا جائے کہ اس کا کوئی اثر نہیں اس لئے کہ ختم ہونے کے بعد وعدہ کا اعتبار نہیں اور موجودہ وقت میں وعدہ ابائی کا کوئی اثر نہیں بلکہ وقت موعود میں ہے اور دینے کے بعد انکار اگر اثر کرے گا تو یہی کہ وہ تميم جو عطا سے ممنوع ہوگیا تھا اب مباح ہوجائے گا کچھ اور اثر نہ ہوگا جیسا کہ مسئلہ وہم میں بیان ہوا۔
اقول : کیا یہ اثر نہیں۔ اور وعدہ جیسا بھی ہو اگر قبل تکميل نماز اسے عطا لاحق ہوئی تو تینوں اثرات حاصل ہوں گے اگرچہ یہ عطا سے حاصل ہوں گے جیسا کہ اس سے قبل منع کے بعد دینے سے اگر عطا نہ لاحق ہو تو اس کا تميم جائز وباقی اور نماز تام ہے۔
علماء نے انکار کا ذکر کیا ہے اور اس کا سوائے اس کے کوئی اثر نہیں اور انکار کا ذکر کارآمد نہیں اس لئے کہ وہ وعدہ سے (انکار)
تنبیہ : اتبعنا ھم فی ترك اقسام الوعد باظھار النفاد والوعد الابائی والمنع بعد العطاء مع ذکرھم العطاء بعد المنع۔
فان قيل لااثر لھذہ لمامر ان الوعد بعد النفاد لایعتبر والوعد الابائی لااثرلہ فی الوقت الحاضر بل فی الوقت الموعود بہ والمنع بعد العطاء ان اثر فاباحۃ تيمم منعہ العطاء لاغیر کماقدمت فی المسألۃ العاشرۃ۔
اقول : الیس ھذا اثرا والوعد کيفما کان ان لحقہ العطاء قبل تمام الصلاۃ تحصل الاثار الثلثۃ وان کان حصولھا بالعطاء کما بالعطاء قبلہ بعد المنع وان لم يلحقہ جاز تيممہ وبقی وتمت الصلوۃ۔
وقد ذکروا المنع ولااثرلہ الا ھذا وذکر المنع لايغنی عنہ فانہ من الوعد فيشتبہ الامر فیہ
اور دائمی حمد ہے ولی انعام مالك عزت وبزرگی کيلئے۔ اور افضل درودوسلام بہت انعام فرمانے والے آقا اور ان کی کريم آل عظيم اصحاب اور ان کی امت پر روز قیامت تك الہی قبول فرما!
چند اقسم ديگر پر تنبیہ : درج ذيل قسموں کو ترك کرنے میں ہم نے بھی ان ہی حضرات کی پيروی کی۔ (۱)پانی ختم ہونے کا اظہار کرکے وعدہ (۲) وعدہ ابائی (۳)منع بعد عطا -- جبکہ ان حضرات نے عطا بعد منع کو ذکر کیا ہے۔
اگر کہا جائے کہ اس کا کوئی اثر نہیں اس لئے کہ ختم ہونے کے بعد وعدہ کا اعتبار نہیں اور موجودہ وقت میں وعدہ ابائی کا کوئی اثر نہیں بلکہ وقت موعود میں ہے اور دینے کے بعد انکار اگر اثر کرے گا تو یہی کہ وہ تميم جو عطا سے ممنوع ہوگیا تھا اب مباح ہوجائے گا کچھ اور اثر نہ ہوگا جیسا کہ مسئلہ وہم میں بیان ہوا۔
اقول : کیا یہ اثر نہیں۔ اور وعدہ جیسا بھی ہو اگر قبل تکميل نماز اسے عطا لاحق ہوئی تو تینوں اثرات حاصل ہوں گے اگرچہ یہ عطا سے حاصل ہوں گے جیسا کہ اس سے قبل منع کے بعد دینے سے اگر عطا نہ لاحق ہو تو اس کا تميم جائز وباقی اور نماز تام ہے۔
علماء نے انکار کا ذکر کیا ہے اور اس کا سوائے اس کے کوئی اثر نہیں اور انکار کا ذکر کارآمد نہیں اس لئے کہ وہ وعدہ سے (انکار)
ثم قد ذکروا العطاء بعد الاباء وخصوہ بالعطاء بعد الصلاۃ وھو لااثرلہ اصلا وانما ذکروہ لبیان خلوہ عن الاثر فان اردنا ايرادھا زدنا فی الضابطۃ ان الوعد باظھار النفاد والوعد الابائی کلاھما لااثرلہ الا اذالحقہ العطاء قبل تمام الصلاۃ ولایسمع منع بعد عطاء الا اذابقی الماء ولم يخرج عن ملك المعطی فیبيح التيمم ان منعہ عہ العطاء واذن تصیر اقسام الوعد سبعۃ لانہ باظھار نفاد الماء اوبدونہ علی الاول یعطی۱ قبل ختم الصلاۃ مؤولا بسھوہ مثلا اولا۲ وعلی الثانی ام ان یعد ابائیا۳ یعطی بعدہ قبل تمام الصلاۃ لان تاجيل وعدہ لايمنعہ عن تعجيلہ اولا۴ واما۵ رجائیا وقع قبل تمامھا او۶بعدہ وفی ھذا ظھر خلفہ اولا۷۔
والمنع ثلثۃ باضافۃ
ہے۔ تو معاملہ اس میں مشتبہ ہو جائے گا۔
پھر عطا بعد انکار کا ذکر کیا ہے اور اسے عطا بعد نماز سے خاص کیا ہے۔ اس کا بھی کوئی اثر نہیں۔ ا س کی بے اثری بتانے ہی کيلئے علما نے اسے ذکر کیا ہے۔ اگر ہم اسے بھی لانا چاہیں تو ضابطہ میں یہ اضافہ کردیں گے کہ ختم ہونے کا اظاہر کرکے وعدہ اور وعدہ ابائی دونوں بے اثر ہیں مگر جب کہ قبل تکميل نماز انہیں عطا لاحق ہو۔ اور منع بعد عطا مسموع نہیں مگر جب کہ پانی باقی ہو اور دینے والے کی ملك سے باہر نہ ہوا ہو تو تميم کو مباح کردے گا اگر عطا اس سے مانع ہو۔ اور اب وعدہ کی قسمیں سات۷ ہوجائیں گی اس لئے کہ وعدہ پانی ختم ہونے کا اظہار کے ساتھ ہوگا یا اس کے بغیر ہوگا برتقدیر اول ختم نماز سے پہلے۔ مثلا اپنے بھول جانے کا عذر کرتے ہوئے دے دےگا۔ (۲) یا نہیں برتقدیر ثانی (۳) یا تو ایسا وعد ابائی کرے گا جس کے بعد قبل تکميل نماز دے دے اس لئے کہ وعدہ کو مؤجل کرنا اس کی تعجيل سے مانع نہیں (۴) یا ایسا نہ ہوگا (۵) یا وعدہ رجائی کرے گا جو قبل تکميل نماز واقع ہو (۶) یا اس کے بعد ہو اور اس میں اس کا خلف ظاہر ہو (۷) یا ایسا نہ ہو۔ اور منع کی تین۳ قسمیں ہوجائیں گی اس کا اضافہ
عــہ : احتراز عن البیع بخیار البائع کماتقدم فی المسألۃ العاشرۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
بیع بشرط خیار بائع سے احتراز ہے جیساکہ مسئلہ دہم میں گزرا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
والمنع ثلثۃ باضافۃ
ہے۔ تو معاملہ اس میں مشتبہ ہو جائے گا۔
پھر عطا بعد انکار کا ذکر کیا ہے اور اسے عطا بعد نماز سے خاص کیا ہے۔ اس کا بھی کوئی اثر نہیں۔ ا س کی بے اثری بتانے ہی کيلئے علما نے اسے ذکر کیا ہے۔ اگر ہم اسے بھی لانا چاہیں تو ضابطہ میں یہ اضافہ کردیں گے کہ ختم ہونے کا اظاہر کرکے وعدہ اور وعدہ ابائی دونوں بے اثر ہیں مگر جب کہ قبل تکميل نماز انہیں عطا لاحق ہو۔ اور منع بعد عطا مسموع نہیں مگر جب کہ پانی باقی ہو اور دینے والے کی ملك سے باہر نہ ہوا ہو تو تميم کو مباح کردے گا اگر عطا اس سے مانع ہو۔ اور اب وعدہ کی قسمیں سات۷ ہوجائیں گی اس لئے کہ وعدہ پانی ختم ہونے کا اظہار کے ساتھ ہوگا یا اس کے بغیر ہوگا برتقدیر اول ختم نماز سے پہلے۔ مثلا اپنے بھول جانے کا عذر کرتے ہوئے دے دےگا۔ (۲) یا نہیں برتقدیر ثانی (۳) یا تو ایسا وعد ابائی کرے گا جس کے بعد قبل تکميل نماز دے دے اس لئے کہ وعدہ کو مؤجل کرنا اس کی تعجيل سے مانع نہیں (۴) یا ایسا نہ ہوگا (۵) یا وعدہ رجائی کرے گا جو قبل تکميل نماز واقع ہو (۶) یا اس کے بعد ہو اور اس میں اس کا خلف ظاہر ہو (۷) یا ایسا نہ ہو۔ اور منع کی تین۳ قسمیں ہوجائیں گی اس کا اضافہ
عــہ : احتراز عن البیع بخیار البائع کماتقدم فی المسألۃ العاشرۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
بیع بشرط خیار بائع سے احتراز ہے جیساکہ مسئلہ دہم میں گزرا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
مااذا کان بعد العطاء مع بقاء الماء وملکہ اما خلافہ وھو المنع بعد مانفد اوخرج عن ملك المانع فلايحتاج الی ادخالہ فی الاقسام لانہ يرجی الامن مجنون فتصیر جمیع الاقسام خمسۃ عشر۔
اما انواع ھذہ الخمسۃ المزيدۃ
فاقول : (۱۱) وعد۱ باظھار النفاد واعطی قبل تمام الصلاۃ صورہ ثمان واربعون۔
حکمہ التأثير۔
(۱۲) وعد۲ کذلك ولم یعط قبل تمامھا صورہ ۱۶۲۔
حکمہ تمت ویظھر لك ھذا بتاليیہ لان ھذا الوعد لايخالف الابائی احکاما ولااقساما اجمالا ولاتفصيلا۔
(۱۳) وعد۳ابائیا واعطی قبل تمام الصلاۃ مواقعہ ثلثۃ : (i) قبل التيمم (ii)اوالصلاۃ (iii) اوفيھا
فعلی الاول الثلاثی للعطاء المواقع الثلثۃ وعلی الثانی الثلاثی اثنان فخمسۃ فی ثلثۃ خمسۃ عشر وبالتثنیۃ
کردینے کی وجہ سے جو منع بعد عطا پانی اور ملك باقی رہے کے ساتھ ہو۔ لیکن اس کا خلاف۔ وہ یہ کہ پانی ختم ہونے کے بعد یا مانع کی ملك سے نکل جانے کے بعد منع ہو۔ تو اسے داخل اقسام کرنے کی ضرورت نہیں کہ ایسا منع وانکار مجنون کے سوا کسی سے متوقع نہیں اب کل اقسام پندرہ۱۵ ہوجائیں گی۔ لیکن ان اضافہ شدہ پانچ کی نوعیں فاقول : (تو میں کہتا ہوں) :
(۱۱) ختم ہونا ظاہر کرکے وعدہ کیا اور تکميل نماز سے پہلے دے دیا۔ اس کی اڑتالیس۴۸ صورتیں ہیں۔
اس کا حکم مؤثر ہے۔
(۱۲) اسی طرح وعدہ کیا اور قبل تکميل نماز نہ دیا۔ اس کی ۱۶۲ صورتیں ہیں۔
حکم نماز تام ہے۔ یہ اپنے بعد والی دونوں قسموں سے واضح ہوگی اس لئے کہ یہ وعدہ احکام اقسام اجمال تفصيل کسی وعدہ ابائی کے برخلاف نہیں۔
تو اول ثلاثی میں عطا کے تینوں مواقع ہیں۔ اور دوم ثلاثی میں دو۲ ہیں تو پانچ کو تین میں ضرب دینے سے پندرہ۱۵ صورتیں ہوں گی اور پندرہ کو دو میں ضرب دینے سے
اما انواع ھذہ الخمسۃ المزيدۃ
فاقول : (۱۱) وعد۱ باظھار النفاد واعطی قبل تمام الصلاۃ صورہ ثمان واربعون۔
حکمہ التأثير۔
(۱۲) وعد۲ کذلك ولم یعط قبل تمامھا صورہ ۱۶۲۔
حکمہ تمت ویظھر لك ھذا بتاليیہ لان ھذا الوعد لايخالف الابائی احکاما ولااقساما اجمالا ولاتفصيلا۔
(۱۳) وعد۳ابائیا واعطی قبل تمام الصلاۃ مواقعہ ثلثۃ : (i) قبل التيمم (ii)اوالصلاۃ (iii) اوفيھا
فعلی الاول الثلاثی للعطاء المواقع الثلثۃ وعلی الثانی الثلاثی اثنان فخمسۃ فی ثلثۃ خمسۃ عشر وبالتثنیۃ
کردینے کی وجہ سے جو منع بعد عطا پانی اور ملك باقی رہے کے ساتھ ہو۔ لیکن اس کا خلاف۔ وہ یہ کہ پانی ختم ہونے کے بعد یا مانع کی ملك سے نکل جانے کے بعد منع ہو۔ تو اسے داخل اقسام کرنے کی ضرورت نہیں کہ ایسا منع وانکار مجنون کے سوا کسی سے متوقع نہیں اب کل اقسام پندرہ۱۵ ہوجائیں گی۔ لیکن ان اضافہ شدہ پانچ کی نوعیں فاقول : (تو میں کہتا ہوں) :
(۱۱) ختم ہونا ظاہر کرکے وعدہ کیا اور تکميل نماز سے پہلے دے دیا۔ اس کی اڑتالیس۴۸ صورتیں ہیں۔
اس کا حکم مؤثر ہے۔
(۱۲) اسی طرح وعدہ کیا اور قبل تکميل نماز نہ دیا۔ اس کی ۱۶۲ صورتیں ہیں۔
حکم نماز تام ہے۔ یہ اپنے بعد والی دونوں قسموں سے واضح ہوگی اس لئے کہ یہ وعدہ احکام اقسام اجمال تفصيل کسی وعدہ ابائی کے برخلاف نہیں۔
تو اول ثلاثی میں عطا کے تینوں مواقع ہیں۔ اور دوم ثلاثی میں دو۲ ہیں تو پانچ کو تین میں ضرب دینے سے پندرہ۱۵ صورتیں ہوں گی اور پندرہ کو دو میں ضرب دینے سے
ثلثون عن اما الثالث ففیہ وجھان لان الوعد فی الصلاۃ ان کان بسؤال فقد لزمہ استئناف الصلاۃ والامضت لان ھذا الوعد لاینقض التيمم فعلی الثانی ماللعطاء الاوجہ واحد ان یعطی قبل تمام ھذہ الصلاۃ وعلی الاول يحتمل ان یعطی قبل شروع الصلاۃ المستأنفۃ اوفيھا فصار الثالث وھو سداسی علی ثلثۃ وجوہ بثمانیۃ عشر ومع الثلثین ثمانیۃ واربعون۴۸۔
حکمہ التأثیر لاللوعد فانہ منع بالنظر للوقت بل للعطاء۔
(۱۴)۱وعدا بائیا ولم یعط قبل تمامھا لہ المواقع الخمسۃ بزیادۃ ما۴ بعد الصلاۃ مطلعا۵ اوغیر مطلع فان کان قبل التيمم اوالصلاۃ احتمل اربعۃ : (۱) ان یعطی بعد الصلاۃ فی الوقت مع الاطلاع۔ (۲) اوبدونہ (۳) اوبعد الوقت (۴) اولا۔ وان کان بعد الصلاۃ قبل الاطلاع خرج الاول بعدہ خرج الثانی لان العطاء لايخالف الوعد فی ھذین فان المراد الاطلاع حین تيمم وصلی بہ ليتوھم اویثبت السکوت اذذاك دليل المنع۔
(۱۳) وعدہ ابائی کیا اور قبل تکميل نماز دے دیا۔ اس کے تین۳ مواقع ہیں :
(i) قبل تميم (ii) قبل نماز (iii) اندرون نماز
تیس ہوں گی۔ تقدیر سوم پر دو۲ صورتیں ہیں اس لئے کہ نماز میں وعدہ اگر اس کے مانگنے پر ہوا تو اس پر ازسرنو پڑھنا لازم ہے ورنہ نافذ وتام ہوگئی اس لئے کہ یہ وعدہ تميم نہیں توڑتا۔ تو دوسری صورت میں عطا کی صرف ایك شکل ہوگی وہ یہ کہ قبل تکميل نماز دے دے اور پہلی صورت میں احتمال ہے کہ ازسرنو پڑھی جانے والی نماز شروع کرنے سے پہلے دے یا اس نماز کے اندر ہی دے تو سوم جو سداسی ہے تین شکلوں پر ہوکر اٹھارہ۱۸ ہوگئی۔ یہ تیس۳۰ کے ساتھ مل کر کل اڑتالیس۴۸ ہوئیں۔
حکم : تاثیر وعدہ کی وجہ سے نہیں کيونکہ یہ تو بنظر وقت منع ہے بلکہ عطا کی وجہ سے۔
(۱۴) وعدابائی کیا اور قبل تکميل نماز نہ دیا نماز(۴) کے بعد مطلع ہوکر یا غیر مطلع(۵) رہ کر نہ دینے کی صورت کا اضافہ کرکے اس کے پانچ مواقع ہوں گے اگر تميم یا نماز سے پہلے ہو تو اس میں چار۴ احتمال ہوں گے :
(۱) نماز کے بعد وقت کے اندر اسے اطلاع دینا۔ (۲) بغیر اطلاع دینا(۳) بعد وقت دینا(۴) ایسا کچھ نہ ہو۔
اگر بعد نماز قبل اطلاع ہو تو احتمال اول خارج ہوجائے گا اور اگر بعد اطلاع ہو تو احتمال دوم خارج ہوجائےگا۔ اس لئے کہ ان دونوں میں عطا خلاف وعدہ نہیں۔ کيونکہ مراد ہے اس وقت اطلاع جب تميم کیا اور اس سے نماز ادا کی تاکہ یہ وہم یا ثبوت
حکمہ التأثیر لاللوعد فانہ منع بالنظر للوقت بل للعطاء۔
(۱۴)۱وعدا بائیا ولم یعط قبل تمامھا لہ المواقع الخمسۃ بزیادۃ ما۴ بعد الصلاۃ مطلعا۵ اوغیر مطلع فان کان قبل التيمم اوالصلاۃ احتمل اربعۃ : (۱) ان یعطی بعد الصلاۃ فی الوقت مع الاطلاع۔ (۲) اوبدونہ (۳) اوبعد الوقت (۴) اولا۔ وان کان بعد الصلاۃ قبل الاطلاع خرج الاول بعدہ خرج الثانی لان العطاء لايخالف الوعد فی ھذین فان المراد الاطلاع حین تيمم وصلی بہ ليتوھم اویثبت السکوت اذذاك دليل المنع۔
(۱۳) وعدہ ابائی کیا اور قبل تکميل نماز دے دیا۔ اس کے تین۳ مواقع ہیں :
(i) قبل تميم (ii) قبل نماز (iii) اندرون نماز
تیس ہوں گی۔ تقدیر سوم پر دو۲ صورتیں ہیں اس لئے کہ نماز میں وعدہ اگر اس کے مانگنے پر ہوا تو اس پر ازسرنو پڑھنا لازم ہے ورنہ نافذ وتام ہوگئی اس لئے کہ یہ وعدہ تميم نہیں توڑتا۔ تو دوسری صورت میں عطا کی صرف ایك شکل ہوگی وہ یہ کہ قبل تکميل نماز دے دے اور پہلی صورت میں احتمال ہے کہ ازسرنو پڑھی جانے والی نماز شروع کرنے سے پہلے دے یا اس نماز کے اندر ہی دے تو سوم جو سداسی ہے تین شکلوں پر ہوکر اٹھارہ۱۸ ہوگئی۔ یہ تیس۳۰ کے ساتھ مل کر کل اڑتالیس۴۸ ہوئیں۔
حکم : تاثیر وعدہ کی وجہ سے نہیں کيونکہ یہ تو بنظر وقت منع ہے بلکہ عطا کی وجہ سے۔
(۱۴) وعدابائی کیا اور قبل تکميل نماز نہ دیا نماز(۴) کے بعد مطلع ہوکر یا غیر مطلع(۵) رہ کر نہ دینے کی صورت کا اضافہ کرکے اس کے پانچ مواقع ہوں گے اگر تميم یا نماز سے پہلے ہو تو اس میں چار۴ احتمال ہوں گے :
(۱) نماز کے بعد وقت کے اندر اسے اطلاع دینا۔ (۲) بغیر اطلاع دینا(۳) بعد وقت دینا(۴) ایسا کچھ نہ ہو۔
اگر بعد نماز قبل اطلاع ہو تو احتمال اول خارج ہوجائے گا اور اگر بعد اطلاع ہو تو احتمال دوم خارج ہوجائےگا۔ اس لئے کہ ان دونوں میں عطا خلاف وعدہ نہیں۔ کيونکہ مراد ہے اس وقت اطلاع جب تميم کیا اور اس سے نماز ادا کی تاکہ یہ وہم یا ثبوت
فاذن کل من الاولین الثلاثین اثناعشر وکل من الاخرین السداسيین ثمانیۃ عشر فھی ستون وبالتثنیۃ مائۃ وعشرون۔
بقی الثالث الوسطانی ان یکون الوعد فی الصلاۃ فان لم یکن عن سؤالہ احتمل ان یعطی بعدھا فی الوقت اوبعدہ اولا وان کان بسؤالہ فلاجل الاستئناف احتمل ان یعطی فی الوقت بعد المستأنفۃ مع الاطلاع اوبغيرہ اوبعد الوقت اولا فھذہ سبعۃ سداسیات باثنین واربعین والکل مائۃ واثنان۱۶۲ وستون۔
حکمہ تمت وینتقض تيممہ الان ان اعطی۔
(۱۵)۱اعطی ثم منع وملکہ والماء باق ھذا العطاء يحتمل انیکون بلاسؤال اوبعدہ عاجلا اوبعد وعدا وصمت اومنع وعلی کل یکون قبل التيمم اوالصلاۃ اوفيھا اوبعدھا بالاطلاع اوبدونہ اوبعد الوقت۔
وبالجملۃ جمیع صور العطاء الاتیۃ فی سائر الاقسام الماضیۃ ومنھا مؤثرات باحد الاثار الثلثۃ وھی کل القسم الاول اربعۃ وخمسون وثلثۃ اسباع الثانی ستۃ وثلثون لان العطاء قبل التيمم اوالصلاۃ اوفيھا وکل فی الوقت
ہوسکے کہ اس وقت سکوت دليل منع ہے۔
اب پہلی دونوں ثلاثی میں سے ہر ایك بارہ اور بعد والی دونوں سداسی میں سے ہر ایك اٹھارہ تو یہ ساٹھ۶۰ صورتیں ہوئیں اور دو۲ میں ضرب دینے سے ایك سوبیس۱۲۰ ہوئیں۔
تیسری درمیانی باقی رہ گئی وہ یہ کہ وعدہ نماز میں ہو تو اگر اس کے سوال پر نہ ہو تو احتمال ہے کہ بنا کے بعد وقت کے اندر یا بعد وقت دے دے یا نہ دے اور اگر اس کے سوال پر ہے تو استیناف نماز کی وجہ سے احتمال پيدا ہوا کہ ازسرنو پڑھی جانے والی نماز کے بعد وقت میں بحالت اطلاع یا بلااطلاع دے دے یا بعد وقت دے یا نہ دے۔ یہ سات۷ احتمالات ہوئے سب سداسی ہیں تو بیالیس۴۲ ہوئے اور کل ایك سو باسٹھ۱۶۲ ہوئے۔
حکم : نماز تام ہے اور تميم اس وقت ٹوٹ جائےگا اگر دے دے۔
(۱۵) دیا پھر منع کیا اور اس کی ملك اور پانی باقی ہے۔ اس عطا میں احتمال ہے کہ بلا سوال ہو یا بعد سوال فورا ہو یا وعدہ یا خموشی یا انکار کے بعد ہو اور بہرتقدیر یا تو دینا قبل تميم ہوگا یا قبل نماز یا اندرون نماز یا بعد نماز بحالت اطلاع یا بلا اطلاع یا بعد الوقت۔
بالجملہ آنے والی عطا کی ساری صورتیں گزشتہ ساری اقسام میں ہے ان میں سے کچھ تینوں اثرات میں سے کوئی ایك اثر بھی رکھتی ہیں اور یہ قسم اول کی سبھی ہیں جن کی تعداد چون۵۴ ہے اور ثانی کی ۷ / ۳ چھتیس۳۶ اس لئے کہ عطا تميم سے پہلے ہوگی یا نماز سے پہلے یا نماز کے اندر اور ہر ایك وقت کے۱ اندر
بقی الثالث الوسطانی ان یکون الوعد فی الصلاۃ فان لم یکن عن سؤالہ احتمل ان یعطی بعدھا فی الوقت اوبعدہ اولا وان کان بسؤالہ فلاجل الاستئناف احتمل ان یعطی فی الوقت بعد المستأنفۃ مع الاطلاع اوبغيرہ اوبعد الوقت اولا فھذہ سبعۃ سداسیات باثنین واربعین والکل مائۃ واثنان۱۶۲ وستون۔
حکمہ تمت وینتقض تيممہ الان ان اعطی۔
(۱۵)۱اعطی ثم منع وملکہ والماء باق ھذا العطاء يحتمل انیکون بلاسؤال اوبعدہ عاجلا اوبعد وعدا وصمت اومنع وعلی کل یکون قبل التيمم اوالصلاۃ اوفيھا اوبعدھا بالاطلاع اوبدونہ اوبعد الوقت۔
وبالجملۃ جمیع صور العطاء الاتیۃ فی سائر الاقسام الماضیۃ ومنھا مؤثرات باحد الاثار الثلثۃ وھی کل القسم الاول اربعۃ وخمسون وثلثۃ اسباع الثانی ستۃ وثلثون لان العطاء قبل التيمم اوالصلاۃ اوفيھا وکل فی الوقت
ہوسکے کہ اس وقت سکوت دليل منع ہے۔
اب پہلی دونوں ثلاثی میں سے ہر ایك بارہ اور بعد والی دونوں سداسی میں سے ہر ایك اٹھارہ تو یہ ساٹھ۶۰ صورتیں ہوئیں اور دو۲ میں ضرب دینے سے ایك سوبیس۱۲۰ ہوئیں۔
تیسری درمیانی باقی رہ گئی وہ یہ کہ وعدہ نماز میں ہو تو اگر اس کے سوال پر نہ ہو تو احتمال ہے کہ بنا کے بعد وقت کے اندر یا بعد وقت دے دے یا نہ دے اور اگر اس کے سوال پر ہے تو استیناف نماز کی وجہ سے احتمال پيدا ہوا کہ ازسرنو پڑھی جانے والی نماز کے بعد وقت میں بحالت اطلاع یا بلااطلاع دے دے یا بعد وقت دے یا نہ دے۔ یہ سات۷ احتمالات ہوئے سب سداسی ہیں تو بیالیس۴۲ ہوئے اور کل ایك سو باسٹھ۱۶۲ ہوئے۔
حکم : نماز تام ہے اور تميم اس وقت ٹوٹ جائےگا اگر دے دے۔
(۱۵) دیا پھر منع کیا اور اس کی ملك اور پانی باقی ہے۔ اس عطا میں احتمال ہے کہ بلا سوال ہو یا بعد سوال فورا ہو یا وعدہ یا خموشی یا انکار کے بعد ہو اور بہرتقدیر یا تو دینا قبل تميم ہوگا یا قبل نماز یا اندرون نماز یا بعد نماز بحالت اطلاع یا بلا اطلاع یا بعد الوقت۔
بالجملہ آنے والی عطا کی ساری صورتیں گزشتہ ساری اقسام میں ہے ان میں سے کچھ تینوں اثرات میں سے کوئی ایك اثر بھی رکھتی ہیں اور یہ قسم اول کی سبھی ہیں جن کی تعداد چون۵۴ ہے اور ثانی کی ۷ / ۳ چھتیس۳۶ اس لئے کہ عطا تميم سے پہلے ہوگی یا نماز سے پہلے یا نماز کے اندر اور ہر ایك وقت کے۱ اندر
بعد السؤال اوبدونہ اوبعد الوقت فھی ثلثۃ فی کل والاولان ثلاثیان والثالث سداسی ونصف الرابع اربعۃ وعشرون وکل الخامس خمسۃ واربعون والسابع سبعۃ وعشرون والثانی عشر ثمانیۃ واربعون مجموعھا مائتان واربعۃ وثلثون۔
ومنھا مالاےؤثر لکونہ بعد الوقت وھو ثلث الثالث اثنا عشر وثلث السادس ثمانیۃ عشرلان فیہ وجھین للعطاء ووجھا لعدمہ
ونصف العطاء بعد الوقت فکان ثلث الکل۔
وربع الثامن ثمانیۃ عشرلان فیہ وجھا لعدم العطاء وثلثۃ وجوہ للعطاء منھا وجھان لمافی الوقت فکان لعدم الوقت ربع الکل ومن الثالث عشر ثمانیۃ واربعون مجموعھا ستۃ وتسعون ومع المؤثرات ثلثمائۃ۳۳۰ وثلثون فلتخزن فان ھذہ لايفارق فيھا المنع والعطاء فی الموقع اما فی الفریق الثانی فظاھر لان العطاء بعد الوقت فلایکون المنع الابعدہ۔
واما فی فریق المؤثرات فلان الفرض منعہ قبل الاستعمال فان اعطی قبل التيمم لایکون لہ ان يتيمم حتی یقع المنع بعد التيمم وان اعطاہ قبل الصلاۃ لایکون لہ ان يصلی حتی یقع فی الصلاۃ وقس علیہ و
بعد سوال یا بلاسوال۲ یا بعد وقت تو ہر ایك میں یہ تین ہیں اور پہلی دونوں ثلاثی ہیں تیسری سداسی ہے اور چہارم کی نصف چوبیس۲۴ اور خامس کی سبھی پینتالیس۴۵ اور سابع کی ستائیس۲۷ اور بارھویں کی اڑتالیس۴۸۔ کل
دوسوچونتیس۲۳۴۔
ان میں سے کچھ غیر مؤثر ہیں کيونکہ بعد وقت ہیں یہ سوم کی تہائی بارہ ہیں اور ششم کی تہائی اٹھارہ اس لئے کہ اس میں عطائی دو شکلیں ہیں اور عدم عطا کی ایك شکل ہے اور نصف عطا بعد وقت تو کل کی تہائی ہوئیں۔
اور ہشتم کی چوتھائی اٹھارہ اس لئے کہ اس میں عدم عطا کی ایك صورت اور عطا کی تین صورتیں ہیں۔ دو صورتیں اس کی ہیں جو وقت کے اندر ہو۔ تو عدم وقت کے لئے کل کی چوتھائی ہوئی اور تيرھویں سے اڑتالیس۴۸ جن کا مجموعہ چھیانوے۹۶ ہوگا اور مؤثرات کے ساتھ تین سوتیس۳۳۰۔ انہیں جمع کرلیا جائے کہ ان کے اندر منع وعطا میں موقع کا اختلاف نہیں۔ فریق ثانی میں تو ظاہر ہے اس لئے کہ عطا بعد وقت ہے تو منع بھی بعد وقت ہی ہوگا۔
اور فریق مؤثرات میں اس لئے کہ فرض یہ کیا گیا ہے ہے کہ استعمال سے پہلے منع کردیا ہو تو اگر تميم سے پہلے دے دیا اسے تميم کرنا روانہ ہوگا یہاں تك کہ تميم کے بعد منع واقع ہو اور اگر نماز سے پہلے دے دیا تو اس کيلئے نماز ادا کرنا روانہ ہوگا یہاں تك کہ منع اندرون نماز واقع ہو اور اسی پر قیاس کرلیا جائے۔
ومنھا مالاےؤثر لکونہ بعد الوقت وھو ثلث الثالث اثنا عشر وثلث السادس ثمانیۃ عشرلان فیہ وجھین للعطاء ووجھا لعدمہ
ونصف العطاء بعد الوقت فکان ثلث الکل۔
وربع الثامن ثمانیۃ عشرلان فیہ وجھا لعدم العطاء وثلثۃ وجوہ للعطاء منھا وجھان لمافی الوقت فکان لعدم الوقت ربع الکل ومن الثالث عشر ثمانیۃ واربعون مجموعھا ستۃ وتسعون ومع المؤثرات ثلثمائۃ۳۳۰ وثلثون فلتخزن فان ھذہ لايفارق فيھا المنع والعطاء فی الموقع اما فی الفریق الثانی فظاھر لان العطاء بعد الوقت فلایکون المنع الابعدہ۔
واما فی فریق المؤثرات فلان الفرض منعہ قبل الاستعمال فان اعطی قبل التيمم لایکون لہ ان يتيمم حتی یقع المنع بعد التيمم وان اعطاہ قبل الصلاۃ لایکون لہ ان يصلی حتی یقع فی الصلاۃ وقس علیہ و
بعد سوال یا بلاسوال۲ یا بعد وقت تو ہر ایك میں یہ تین ہیں اور پہلی دونوں ثلاثی ہیں تیسری سداسی ہے اور چہارم کی نصف چوبیس۲۴ اور خامس کی سبھی پینتالیس۴۵ اور سابع کی ستائیس۲۷ اور بارھویں کی اڑتالیس۴۸۔ کل
دوسوچونتیس۲۳۴۔
ان میں سے کچھ غیر مؤثر ہیں کيونکہ بعد وقت ہیں یہ سوم کی تہائی بارہ ہیں اور ششم کی تہائی اٹھارہ اس لئے کہ اس میں عطائی دو شکلیں ہیں اور عدم عطا کی ایك شکل ہے اور نصف عطا بعد وقت تو کل کی تہائی ہوئیں۔
اور ہشتم کی چوتھائی اٹھارہ اس لئے کہ اس میں عدم عطا کی ایك صورت اور عطا کی تین صورتیں ہیں۔ دو صورتیں اس کی ہیں جو وقت کے اندر ہو۔ تو عدم وقت کے لئے کل کی چوتھائی ہوئی اور تيرھویں سے اڑتالیس۴۸ جن کا مجموعہ چھیانوے۹۶ ہوگا اور مؤثرات کے ساتھ تین سوتیس۳۳۰۔ انہیں جمع کرلیا جائے کہ ان کے اندر منع وعطا میں موقع کا اختلاف نہیں۔ فریق ثانی میں تو ظاہر ہے اس لئے کہ عطا بعد وقت ہے تو منع بھی بعد وقت ہی ہوگا۔
اور فریق مؤثرات میں اس لئے کہ فرض یہ کیا گیا ہے ہے کہ استعمال سے پہلے منع کردیا ہو تو اگر تميم سے پہلے دے دیا اسے تميم کرنا روانہ ہوگا یہاں تك کہ تميم کے بعد منع واقع ہو اور اگر نماز سے پہلے دے دیا تو اس کيلئے نماز ادا کرنا روانہ ہوگا یہاں تك کہ منع اندرون نماز واقع ہو اور اسی پر قیاس کرلیا جائے۔
ومنھا مافی الوقت ولايؤثر وھی ثلث السادس ثمانیۃ عشر ونصف الثامن ستۃ وثلثون ومن الثالث عشر ثمانیۃ واربعون مجموعھا مائۃ واثنان ففی ھذہ يمکن الافتراق لانہ اذا اعطی فی الوقت ولم يؤثر فلہ ان لایستعمل لماء الان ويدخرہ للوقت الاتی فيصح المنع قبل استعمالہ بعد الوقت فھذہ تنقسم الی قسمین المنع فی الوقت وبعدہ فتصیر مائتین۲۰۴ واربعۃ ومع المخزونات خسمائۃ۵۳۴ واربعۃ وثلثین ھذہ وجوہ ھذا القسم الخامس عشر۔
حکمہ اباحۃ التيمم الان ان کان العطاء منعہ ولا اثرلہ علی مامضی من تيمم اوصلاۃ بل ان کان فللعطاء السابق مجموع ھذہ الاقسام الخمسۃ تسعمائۃ واربعۃ وخمسون ومع السابقات الف وثلثمائۃ وثمانون والله تعالی اعلم۔
اضافۃ اخری
اقول : وھھنا وجوہ اخر فان احوال اربعۃ :
عطا وعد سکوت منع۔ وقد ذکروا العطاء بعد المنع وذکرنا فی وجوہ قوانینھم العطاء بعد الوعد وبعد السکوت وزدنا المنع بعد العطاء فمن
اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو وقت میں ہوں اور مؤثر نہ ہوں یہ ششم کی تہائی اٹھارہ ہیں اور ہشتم کی نصف چھتیس۳۶ اور تيرھویں سے اڑتالیس۔ کل ایك سودو۱۰۲ ہیں۔ ان میں افتراق ہوسکتا ہے۔ اس لئے کہ اگر وہ وقت میں دے اور مؤثر نہ ہو تو اسے حق ہے کہ اس وقت پانی استعمال نہ کرے اور وقت آئندہ کيلئے ذخيرہ کر رکھے تو بعد وقت اس کے استعمال سے پہلے منع صحيح ہوگا۔ تو ان کی دو قسمیں ہوں گی منع۱ اندرون وقت منع۲ بعد وقت تو دوسوچار۲۰۴ ہوجائیں گی اور جمع شدہ کو ملاکر پانچ سوچونتیس۵۳۴ ہونگی یہ اس پندرھویں قسم کی صورتیں ہیں۔
حکم : اس وقت تميم مباح ہونا ہے اگر عطا اس سے مانع تھی۔ اور گزشتہ تميم یا نماز پر اس کا کوئی اثر نہیں۔ بلکہ اگر اثر ہوگا تو عطائے سابق کا ہوگا۔ ان پانچوں اقسام کا مجموعہ نوسوچون۹۵۴ ہوا اور سابقہ قسموں کو ملاکر ایك ہزارتین سو اسی۱۳۸۰ ہوا اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔
اضافہ دیگر
اقول : یہاں کچھ اور صورتیں ہیں۔ اس لئے کہ حالتیں چار۴ ہیں : عطا وعدہ سکوت منع۔
علما نے عطا بعد منع بھی ذکر کیا ہے اور ہم نے ان کے قوانین کی صورتوں کے اندر عطا بعد وعدہ وبعد سکوت بھی ذکر کیا ہے اور منع بعد عطا کا اضافہ کیا ہے۔ تو
حکمہ اباحۃ التيمم الان ان کان العطاء منعہ ولا اثرلہ علی مامضی من تيمم اوصلاۃ بل ان کان فللعطاء السابق مجموع ھذہ الاقسام الخمسۃ تسعمائۃ واربعۃ وخمسون ومع السابقات الف وثلثمائۃ وثمانون والله تعالی اعلم۔
اضافۃ اخری
اقول : وھھنا وجوہ اخر فان احوال اربعۃ :
عطا وعد سکوت منع۔ وقد ذکروا العطاء بعد المنع وذکرنا فی وجوہ قوانینھم العطاء بعد الوعد وبعد السکوت وزدنا المنع بعد العطاء فمن
اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو وقت میں ہوں اور مؤثر نہ ہوں یہ ششم کی تہائی اٹھارہ ہیں اور ہشتم کی نصف چھتیس۳۶ اور تيرھویں سے اڑتالیس۔ کل ایك سودو۱۰۲ ہیں۔ ان میں افتراق ہوسکتا ہے۔ اس لئے کہ اگر وہ وقت میں دے اور مؤثر نہ ہو تو اسے حق ہے کہ اس وقت پانی استعمال نہ کرے اور وقت آئندہ کيلئے ذخيرہ کر رکھے تو بعد وقت اس کے استعمال سے پہلے منع صحيح ہوگا۔ تو ان کی دو قسمیں ہوں گی منع۱ اندرون وقت منع۲ بعد وقت تو دوسوچار۲۰۴ ہوجائیں گی اور جمع شدہ کو ملاکر پانچ سوچونتیس۵۳۴ ہونگی یہ اس پندرھویں قسم کی صورتیں ہیں۔
حکم : اس وقت تميم مباح ہونا ہے اگر عطا اس سے مانع تھی۔ اور گزشتہ تميم یا نماز پر اس کا کوئی اثر نہیں۔ بلکہ اگر اثر ہوگا تو عطائے سابق کا ہوگا۔ ان پانچوں اقسام کا مجموعہ نوسوچون۹۵۴ ہوا اور سابقہ قسموں کو ملاکر ایك ہزارتین سو اسی۱۳۸۰ ہوا اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔
اضافہ دیگر
اقول : یہاں کچھ اور صورتیں ہیں۔ اس لئے کہ حالتیں چار۴ ہیں : عطا وعدہ سکوت منع۔
علما نے عطا بعد منع بھی ذکر کیا ہے اور ہم نے ان کے قوانین کی صورتوں کے اندر عطا بعد وعدہ وبعد سکوت بھی ذکر کیا ہے اور منع بعد عطا کا اضافہ کیا ہے۔ تو
وزانھا الوعد ثم الاباء والاباء ثم الوعد والسکوت ثم الاباء اوالوعد فھذہ اربعۃ ترکیبات اخر ثنائیات اماما فوق الثنائی فلا امکان لاحصائہ جل من احصی کل شیئ عددا والاسترسال فی بیان تقاسيم ھزہ الاربعۃ ایضا مخرج عن القصد ومن عرف تصرفنا فی ابانۃ الاقسام لم یعسر علیہ فلنقتصر علی بیان الاحکام الکلیۃ بانین علی استظھارا تنا السالفۃ غیر قاطعی القول فيما يتعلق بابحاثنا۔
فاقول : ۱ اذا وعدثم ابی فان کان الوعد قبل التيمم واذن لایکون الاباء ایضا الاقبہ لان الوعد حاجز عن التيمم فھذا الاباء یبيح التيمم وان کان الوعد بعد التيمم نقضہ فلایعيدہ الاباء بل يجيز تجديدہ وکذا ان کان فی الصلاۃ قطعھا فلايصلھا الاباء بعدہ وان کان بعدھا تمت الصلاۃ وزال ماکان يخشی علیہ من جانب الوعد ان لم یظھر خلفہ۔
وان۲ ابی ثم وعد فان وقع الوی قبل تمام الصلاۃ نسخ الاباء ومنع ونقض وقطع وان وقع بعدھا
اسی کے مقابلہ میں وعدہ۱ پھر انکار انکار۲ پھر وعدہ سکوت۳ پھر انکار یا وعدہ۴ بھی ہیں۔ تو یہ چار دوسری ثنائی ترکیبیں ہوئیں لیکن ثنائی سے اوپر تو ان کا شمار ممکن نہیں بزرگ ہے وہ جس نے ہر چيز کا شمار رکھا ہے۔ اب ان چاروں کی تقسيموں کی توضیع میں چلیں تو اعتدال سے باہر ہوجائیں گے۔ توضيح اقسام میں ہمارا تصرف جس نے سمجھ لیا اس کيلئے یہ مشکل نہ ہوگا۔ تو ہم احکام کلیہ کے بیان پر اقتصار کریں بنائے کلام ہمارے سابقہ استظہاروں پر ہوگی مگر جو ہماری ابحاث سے متعلق ہے اس میں ہم قطعی قول نہ کریں گے۔
فاقول : ۱ جب وعدہ کرے پھر انکار کردے تو اگر وعدہ قبل تميم ہو اور اس صورت میں انکار بھی قبل تميم ہی ہوگا۔ اس لئے کہ وعدہ تميم میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو یہ۰ انکار تميم مباح کردے گا اور اگر وعدہ تميم کے بعد ہو تو اسے توڑ دے گا۔ تو انکار اسے واپس نہ لائےگا بلکہ اس کی تجديد جائز کردے گا اسی طرح اگر وعدہ نماز کے اندر ہو تو نماز کو توڑ دے گا تو اس کے بعد انکار اسے جوڑ نہ دے گا اور اگر وعدہ بعد نماز ہو تو نماز تام ہے اور وہ زائل ہے جس کا وعدہ کی جانب سے خطرہ رہتا ہے کہ اس کے خلاف نہ ظاہر ہو۔
(۲) اور اگر انکار کرے پھر وعدہ کرے تو اگر وعدہ قبل تکميل نماز واقع ہوا انکار کو منسوخ کردے گا اور مانع ناقض اور قاطع ہوگا۔ اور اگر بعد نماز ہوا
فاقول : ۱ اذا وعدثم ابی فان کان الوعد قبل التيمم واذن لایکون الاباء ایضا الاقبہ لان الوعد حاجز عن التيمم فھذا الاباء یبيح التيمم وان کان الوعد بعد التيمم نقضہ فلایعيدہ الاباء بل يجيز تجديدہ وکذا ان کان فی الصلاۃ قطعھا فلايصلھا الاباء بعدہ وان کان بعدھا تمت الصلاۃ وزال ماکان يخشی علیہ من جانب الوعد ان لم یظھر خلفہ۔
وان۲ ابی ثم وعد فان وقع الوی قبل تمام الصلاۃ نسخ الاباء ومنع ونقض وقطع وان وقع بعدھا
اسی کے مقابلہ میں وعدہ۱ پھر انکار انکار۲ پھر وعدہ سکوت۳ پھر انکار یا وعدہ۴ بھی ہیں۔ تو یہ چار دوسری ثنائی ترکیبیں ہوئیں لیکن ثنائی سے اوپر تو ان کا شمار ممکن نہیں بزرگ ہے وہ جس نے ہر چيز کا شمار رکھا ہے۔ اب ان چاروں کی تقسيموں کی توضیع میں چلیں تو اعتدال سے باہر ہوجائیں گے۔ توضيح اقسام میں ہمارا تصرف جس نے سمجھ لیا اس کيلئے یہ مشکل نہ ہوگا۔ تو ہم احکام کلیہ کے بیان پر اقتصار کریں بنائے کلام ہمارے سابقہ استظہاروں پر ہوگی مگر جو ہماری ابحاث سے متعلق ہے اس میں ہم قطعی قول نہ کریں گے۔
فاقول : ۱ جب وعدہ کرے پھر انکار کردے تو اگر وعدہ قبل تميم ہو اور اس صورت میں انکار بھی قبل تميم ہی ہوگا۔ اس لئے کہ وعدہ تميم میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو یہ۰ انکار تميم مباح کردے گا اور اگر وعدہ تميم کے بعد ہو تو اسے توڑ دے گا۔ تو انکار اسے واپس نہ لائےگا بلکہ اس کی تجديد جائز کردے گا اسی طرح اگر وعدہ نماز کے اندر ہو تو نماز کو توڑ دے گا تو اس کے بعد انکار اسے جوڑ نہ دے گا اور اگر وعدہ بعد نماز ہو تو نماز تام ہے اور وہ زائل ہے جس کا وعدہ کی جانب سے خطرہ رہتا ہے کہ اس کے خلاف نہ ظاہر ہو۔
(۲) اور اگر انکار کرے پھر وعدہ کرے تو اگر وعدہ قبل تکميل نماز واقع ہوا انکار کو منسوخ کردے گا اور مانع ناقض اور قاطع ہوگا۔ اور اگر بعد نماز ہوا
لم يؤثر لان العطاء بعد الصلاۃ لایضر اذاکان بعد المنع فکيف بالوعد۔
وان۱ سکت ثم ابی فالسکوت کان نفسہ دليل الاباء والان قداتی الصريح۔ وان۲ سکت ثم وعد فان کان السکوت يحتمل ان یکون لاللاباء کماوصفنا فی ابحاثہ فھذا الوعد جعل ذلك المحتمل متعینا فیعمل عملہ من الاثار الثلثہ والا لافصح التيمم وتمت الصلاۃ والله سبحنہ وتعالی اعلم٭ وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم٭ وصلی الله تعالی علی سيدنا ومولنا محمد والہ و صحبہ وابنہ وحزبہ وبارك وسلم٭ الی ابد الابدین٭ فی کل ان وحین٭ والحمدلله رب العلمین٭
تو مؤثر نہ ہوگا اس لئے کہ بعد نماز عطا مضر نہیں جبکہ بعد منح ہو۔ تو وعدہ کا کیا حال ہوگا۔
(۳) اگر خاموش رہا پھر انکار کیا تو سکوت خود ہی دليل انکار تھا اور اب تو صريح ہوگا۔ (۴) اگر خاموش رہا پھر وعدہ کیا تو اگر سکوت میں یہ احتمال ہو کہ انکار کی وجہ سے نہ ہوگا جیسا کہ اس کی بحثوں میں ہم نے بتایا تو یہ وعدہ اس محتمل کو متعین کردے گا۔ تو اپنا کام کرے گا کہ تینوں اثرات ڈالے گا۔ ورنہ نہیں تو تميم صحيح اور نماز تام ہوگی۔
اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے اس مجد بزرگ والے کا علم زیادہ تام اور محکم ہے اور خدائے برتر کی طرف سے ہمارے آقا ومولی محمد اور ان کی آل اصحاب فرزند اور گروہ پر ہميشہ ہميشہ ہر لمحہ وہر آن درود اور برکت وسلام ہو۔ اور ساری تعريفیں سارے جہانوں کے مالك خدا کيلئے ہیں۔ (ت)
________________
وان۱ سکت ثم ابی فالسکوت کان نفسہ دليل الاباء والان قداتی الصريح۔ وان۲ سکت ثم وعد فان کان السکوت يحتمل ان یکون لاللاباء کماوصفنا فی ابحاثہ فھذا الوعد جعل ذلك المحتمل متعینا فیعمل عملہ من الاثار الثلثہ والا لافصح التيمم وتمت الصلاۃ والله سبحنہ وتعالی اعلم٭ وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم٭ وصلی الله تعالی علی سيدنا ومولنا محمد والہ و صحبہ وابنہ وحزبہ وبارك وسلم٭ الی ابد الابدین٭ فی کل ان وحین٭ والحمدلله رب العلمین٭
تو مؤثر نہ ہوگا اس لئے کہ بعد نماز عطا مضر نہیں جبکہ بعد منح ہو۔ تو وعدہ کا کیا حال ہوگا۔
(۳) اگر خاموش رہا پھر انکار کیا تو سکوت خود ہی دليل انکار تھا اور اب تو صريح ہوگا۔ (۴) اگر خاموش رہا پھر وعدہ کیا تو اگر سکوت میں یہ احتمال ہو کہ انکار کی وجہ سے نہ ہوگا جیسا کہ اس کی بحثوں میں ہم نے بتایا تو یہ وعدہ اس محتمل کو متعین کردے گا۔ تو اپنا کام کرے گا کہ تینوں اثرات ڈالے گا۔ ورنہ نہیں تو تميم صحيح اور نماز تام ہوگی۔
اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے اس مجد بزرگ والے کا علم زیادہ تام اور محکم ہے اور خدائے برتر کی طرف سے ہمارے آقا ومولی محمد اور ان کی آل اصحاب فرزند اور گروہ پر ہميشہ ہميشہ ہر لمحہ وہر آن درود اور برکت وسلام ہو۔ اور ساری تعريفیں سارے جہانوں کے مالك خدا کيلئے ہیں۔ (ت)
________________
رسالہ
الطلبۃ البدیعۃ فی قول صدر الشریعۃ ۱۳۳۵ھ
کلام صدر الشریعۃ سے متعلق انوکھا مطلوب (ت)
نمبر ۱۵۷ میں تھا کہ نہانا ہو اور پانی صرف وضو کے قابل ہے تو فقط تميم کرے۔ یہاں شرح وقایہ امام صدر الشریعۃ رحمۃ اللہ تعالی علیہکی ایك عبارت نے اس مسئلہ کو معرکۃ الآرا کردیا اس کے حواشی کے علاوہ اور کتب مثل شرح نقایہ قہستانی ودرر علامہ خسرو ودرمختار وغيرہا میں اس کی طرف توجہ مبذول ہوئی اس بحث کو بھی وہاں سے جدا کیا کہ یہ رسالہ ہوا وبالله التوفیق۔
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدلله وھو المستعان٭الذی شرح صدر الشریعۃ والايمان٭بارسال سيد الانس والجان ٭وقایۃ للمومنین من النيران٭وطھرنا بہ عن خبث الکفر وحدث الضلال٭ونھانا عن اضاعۃ الماء والمال٭
ساری خوبیاں خدا کيلئے اور وہی ہے جس سے مدد طلب کی جاتی ہے جس نے جن وانس کے سردار کو نار سے اہل ايمان کو بچانے کيلئے بھيج کر شریعت اور ايمان کا سینہ کھولا۔ اور ان کے ذریعہ ہمیں کفر کے خبث اور ضلالت کے حدث سے پاك کیا۔ اور ہمیں پانی اور مال برباد کرنے سے منع فرمایا
الطلبۃ البدیعۃ فی قول صدر الشریعۃ ۱۳۳۵ھ
کلام صدر الشریعۃ سے متعلق انوکھا مطلوب (ت)
نمبر ۱۵۷ میں تھا کہ نہانا ہو اور پانی صرف وضو کے قابل ہے تو فقط تميم کرے۔ یہاں شرح وقایہ امام صدر الشریعۃ رحمۃ اللہ تعالی علیہکی ایك عبارت نے اس مسئلہ کو معرکۃ الآرا کردیا اس کے حواشی کے علاوہ اور کتب مثل شرح نقایہ قہستانی ودرر علامہ خسرو ودرمختار وغيرہا میں اس کی طرف توجہ مبذول ہوئی اس بحث کو بھی وہاں سے جدا کیا کہ یہ رسالہ ہوا وبالله التوفیق۔
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدلله وھو المستعان٭الذی شرح صدر الشریعۃ والايمان٭بارسال سيد الانس والجان ٭وقایۃ للمومنین من النيران٭وطھرنا بہ عن خبث الکفر وحدث الضلال٭ونھانا عن اضاعۃ الماء والمال٭
ساری خوبیاں خدا کيلئے اور وہی ہے جس سے مدد طلب کی جاتی ہے جس نے جن وانس کے سردار کو نار سے اہل ايمان کو بچانے کيلئے بھيج کر شریعت اور ايمان کا سینہ کھولا۔ اور ان کے ذریعہ ہمیں کفر کے خبث اور ضلالت کے حدث سے پاك کیا۔ اور ہمیں پانی اور مال برباد کرنے سے منع فرمایا
علیہ وعلی الہ الطیبن٭واصحابہ المطیبین المطیبین٭وتابعيھم باحسان الی يوم الدین٭ صلاۃ الله وسلامہ کل ان وحین٭من ازل الازال الی ابد الابدین٭امین وعلینا بھم یاارحم الراحمین٭
ان پر اور ان کی پاکيزہ آل پاکيزہ کيے ہوئے پاکيزہ کرنے والے اصحاب اور روز جزا تك بھلائی کے ساتھ ان حضرات کی پيروی کرنے والوں پر خدا کی جانب سے ہر لمحہ وہر آن ازلوں کے ازل سے ابدوں کے ابد تك درود وسلام قبول فرما اور ان کے طفيل ہم پر بھی اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والے۔ (ت)
اقول : وبالله التوفیق (میں کہتا ہوں اللہتعالی کی مدد سے۔ ت) اگر کوئی۱ شخص جنب ہو اور اس کے ساتھ کوئی ایسا حدث بھی ہو جو وضو واجب کرے مثلا پيشاب کیا تھا اس کے بعد جماع کیا یا احتلام سے اٹھا پھر پيشاب کیا اور حالت یہ ہو کہ وہ نہانہ سکے اور وضو کرسکے خواہ يوں کہ جنگل میں ہے اور پانی صرف وضو کے قابل ہے یا يوں کہ مریض ہے نہانا مضر ہے وضو سے ضرر نہیں یا يوں کہ صبح تنگ وقت محتلم اٹھا نہائے تو وقت نکل جائے گا اور وضو کی گنجائش ہے اس صورت میں قول امام زفر پر فتوی ہے کہ محافظت وقت کيلئے تميم سے پڑھ لے احتیاطا اس پر عمل کرے پھر برعايت اصل مذہب بعد خروج وقت پانی سے طہارت کرکے اعادہ کرے جس کا بیان ہمارے رسالہ “ الظفر لقول زفر “ میں گزرا۔ اور اب بحمدہ۲ تعالی اس کی اور تائيد قوی پائی کتب جليلہ معتمدہ محیط وذخيرہ وبنایہ امام عینی میں ہے
شرع التيمم لدفع الحرج وصیانۃ الوقت عن الفوات ۔
تميم حرج کے دفعیہ اور وقت کو فوت ہونے سے بچانے کيلئے مشروع ہوا ہے۔ (ت)
کفایہ میں ہے :
التيمم شرع لصیانۃ الصلاۃ عن الفوات (الی ان قال) فلما جوز الشرع التيمم لتوھم الفوات لأن يجوز عند تحقق الفوات اولی ۔
تميم اس لئے مشروع ہوا کہ فوت ہونے سے نماز کی حفاظت ہو (یہاں تك کہ فرمایا) تو جب شریعت نے فوت ہونے کے وہم کی وجہ سے تميم جائز کیا تو فوت ہونے کے تحقق ویقین کے وقت بدرجہ اولی جائز ہوگا۔ (ت)
ان پر اور ان کی پاکيزہ آل پاکيزہ کيے ہوئے پاکيزہ کرنے والے اصحاب اور روز جزا تك بھلائی کے ساتھ ان حضرات کی پيروی کرنے والوں پر خدا کی جانب سے ہر لمحہ وہر آن ازلوں کے ازل سے ابدوں کے ابد تك درود وسلام قبول فرما اور ان کے طفيل ہم پر بھی اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والے۔ (ت)
اقول : وبالله التوفیق (میں کہتا ہوں اللہتعالی کی مدد سے۔ ت) اگر کوئی۱ شخص جنب ہو اور اس کے ساتھ کوئی ایسا حدث بھی ہو جو وضو واجب کرے مثلا پيشاب کیا تھا اس کے بعد جماع کیا یا احتلام سے اٹھا پھر پيشاب کیا اور حالت یہ ہو کہ وہ نہانہ سکے اور وضو کرسکے خواہ يوں کہ جنگل میں ہے اور پانی صرف وضو کے قابل ہے یا يوں کہ مریض ہے نہانا مضر ہے وضو سے ضرر نہیں یا يوں کہ صبح تنگ وقت محتلم اٹھا نہائے تو وقت نکل جائے گا اور وضو کی گنجائش ہے اس صورت میں قول امام زفر پر فتوی ہے کہ محافظت وقت کيلئے تميم سے پڑھ لے احتیاطا اس پر عمل کرے پھر برعايت اصل مذہب بعد خروج وقت پانی سے طہارت کرکے اعادہ کرے جس کا بیان ہمارے رسالہ “ الظفر لقول زفر “ میں گزرا۔ اور اب بحمدہ۲ تعالی اس کی اور تائيد قوی پائی کتب جليلہ معتمدہ محیط وذخيرہ وبنایہ امام عینی میں ہے
شرع التيمم لدفع الحرج وصیانۃ الوقت عن الفوات ۔
تميم حرج کے دفعیہ اور وقت کو فوت ہونے سے بچانے کيلئے مشروع ہوا ہے۔ (ت)
کفایہ میں ہے :
التيمم شرع لصیانۃ الصلاۃ عن الفوات (الی ان قال) فلما جوز الشرع التيمم لتوھم الفوات لأن يجوز عند تحقق الفوات اولی ۔
تميم اس لئے مشروع ہوا کہ فوت ہونے سے نماز کی حفاظت ہو (یہاں تك کہ فرمایا) تو جب شریعت نے فوت ہونے کے وہم کی وجہ سے تميم جائز کیا تو فوت ہونے کے تحقق ویقین کے وقت بدرجہ اولی جائز ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
البنایۃ شرح الہدایہ باب التميم مطبع ملك سنز ، فيصل آباد ۱ / ۳۲۷
الکفایۃ مع فتح القدیر باب التميم مطبع نوریہ رضویہ سکھّر ۱ / ۱۶۶
الکفایۃ مع فتح القدیر باب التميم مطبع نوریہ رضویہ سکھّر ۱ / ۱۶۶
ان سب صورتوں میں حکم یہ ہے کہ صرف تميم کرے اور وضو اگرچہ مضر نہیں اور اس کے قابل پانی بھی موجود اور وقت میں بھی اس کی وسعت ہے اصلا نہ کرے وہی تميم کہ جنابت کيلئے کرے گا حدث کے لئے بھی کافی ہوجائےگا۔ کتب مذہب سے اس پر دلائل کثيرہ ہیں :
دليل اول : عامہ معتمدات میں تصريح ہے کہ ہمارے۱ ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکے نزدیك ایك طہارت میں پانی اور مٹی جمع نہیں ہوسکتے مثلا محدث کے پاس اتنا پانی ہے کہ ہاتھ منہ دھولے یا جنب کے پاس اتنا کہ وضو کرلے یا سارا بدن دھولے مگر چند انگل جگہ رہ جائے تو اسے حکم ہے کہ صرف تميم کرے ان مواضع میں پانی خرچ کرنے کی اصلا حاجت نہیں کہ جب تك ناخن بھر جگہ باقی رہ جائے گی حدث وجنابت بدستور رہیں گے ان میں ذرہ بھر بھی کم نہ ہوگا کہ ہر حدث۲ چھوٹا یا بڑا آتا ہے تو ایك ساتھ اور جاتا ہے تو ایك ساتھ اس میں حصے نہیں کہ بعض بدن کو حدث یا جنابت اب لاحق ہو بعض کو پھر یا بعض بدن سے اب دور ہوجائے اور بعض سے کچھ دیر میں اور جب بعد صرف بھی حدث بدستور تو پانی کا خرچ کیا ضرور۔ يوں۳ ہی اگر محدث کے اکثر اعضائے وضو یا جنب کا اکثر بدن مجروح ہو تميم کریں یہ نہیں کہ جتنا بدن صحيح ہے اتنا دھوئیں اور باقی کے لئے تميم۔ تبيین الحقائق امام فخرالدین زيلعی میں ہے :
انہ تعالی امرنا باحدی الطھارتین علی البدل ولم یامرنا بالجمع بینہما ومن جمع بینہما فقد جمع بین الاصل والبدل فصار مخالفا للنص ۔
اللہتعالی نے ہمیں بطور بدل دو طہارتوں میں سے ایك کا حکم دیا دونوں کو جمع کرنے کا حکم نہ دیا۔ جو دونوں کو اکٹھا کرے وہ اصل اور بدل کو یکجا کرکے نص کا مخالف ہوا۔ (ت)
بنایہ امام عینی میں ہے :
انہ عجز عن بعض الاصل فیسقط الاعتداد بہ مع البدل فی حالۃ واحدۃ کمن عجز عن بعض الرقبۃ فی الکفارۃ ولايلزم(۴) اذاغسل بعض الاعضاء ثم نضب الماء لان ماتقدم یسقط ويصیر مؤدیا للفرض بالتيمم خاصۃ ۔
وہ اصل کے کچھ حصہ سے عاجز ہوگیا تو بدل کے ساتھ بیك وقت اس کا شمار ساقط ہے جیسے دو شخص کفارہ میں بردہ کے بعض حصہ سے عاجز ہوجائے اس پر اس صورت سے اعتراض نہ لازم آئے گا جب کچھ اعضاء دھوچکا ہو پھر پانی ختم ہوگیا اس لئے کہ جو پہلے ہوا وہ ساقط ہوجائے گا اور وہ خاص تميم سے فرض ادا کرنے والا ہوگا۔ (ت)
دليل اول : عامہ معتمدات میں تصريح ہے کہ ہمارے۱ ائمہ رضی اللہ تعالی عنہمکے نزدیك ایك طہارت میں پانی اور مٹی جمع نہیں ہوسکتے مثلا محدث کے پاس اتنا پانی ہے کہ ہاتھ منہ دھولے یا جنب کے پاس اتنا کہ وضو کرلے یا سارا بدن دھولے مگر چند انگل جگہ رہ جائے تو اسے حکم ہے کہ صرف تميم کرے ان مواضع میں پانی خرچ کرنے کی اصلا حاجت نہیں کہ جب تك ناخن بھر جگہ باقی رہ جائے گی حدث وجنابت بدستور رہیں گے ان میں ذرہ بھر بھی کم نہ ہوگا کہ ہر حدث۲ چھوٹا یا بڑا آتا ہے تو ایك ساتھ اور جاتا ہے تو ایك ساتھ اس میں حصے نہیں کہ بعض بدن کو حدث یا جنابت اب لاحق ہو بعض کو پھر یا بعض بدن سے اب دور ہوجائے اور بعض سے کچھ دیر میں اور جب بعد صرف بھی حدث بدستور تو پانی کا خرچ کیا ضرور۔ يوں۳ ہی اگر محدث کے اکثر اعضائے وضو یا جنب کا اکثر بدن مجروح ہو تميم کریں یہ نہیں کہ جتنا بدن صحيح ہے اتنا دھوئیں اور باقی کے لئے تميم۔ تبيین الحقائق امام فخرالدین زيلعی میں ہے :
انہ تعالی امرنا باحدی الطھارتین علی البدل ولم یامرنا بالجمع بینہما ومن جمع بینہما فقد جمع بین الاصل والبدل فصار مخالفا للنص ۔
اللہتعالی نے ہمیں بطور بدل دو طہارتوں میں سے ایك کا حکم دیا دونوں کو جمع کرنے کا حکم نہ دیا۔ جو دونوں کو اکٹھا کرے وہ اصل اور بدل کو یکجا کرکے نص کا مخالف ہوا۔ (ت)
بنایہ امام عینی میں ہے :
انہ عجز عن بعض الاصل فیسقط الاعتداد بہ مع البدل فی حالۃ واحدۃ کمن عجز عن بعض الرقبۃ فی الکفارۃ ولايلزم(۴) اذاغسل بعض الاعضاء ثم نضب الماء لان ماتقدم یسقط ويصیر مؤدیا للفرض بالتيمم خاصۃ ۔
وہ اصل کے کچھ حصہ سے عاجز ہوگیا تو بدل کے ساتھ بیك وقت اس کا شمار ساقط ہے جیسے دو شخص کفارہ میں بردہ کے بعض حصہ سے عاجز ہوجائے اس پر اس صورت سے اعتراض نہ لازم آئے گا جب کچھ اعضاء دھوچکا ہو پھر پانی ختم ہوگیا اس لئے کہ جو پہلے ہوا وہ ساقط ہوجائے گا اور وہ خاص تميم سے فرض ادا کرنے والا ہوگا۔ (ت)
حوالہ / References
تبيین الحقائق ، باب التميم ، مطبعہ اميریہ مصر ۱ / ۴۱
البنایۃ شرح الہدایۃ باب الماء الذی يجوزبہ الوضوء ملك سنز فيصل آباد ۱ / ۳۲۴
البنایۃ شرح الہدایۃ باب الماء الذی يجوزبہ الوضوء ملك سنز فيصل آباد ۱ / ۳۲۴
حلیہ محقق ابن امیر الحاج میں ہے :
اعلم ان الجواب فی ھذہ المسائل يتفرع علی اصل مذھبی وھو ان تلفیق اقامۃ الطھارۃ الواحدۃ بالماء والتراب معاغیر مشروع عنہ اصحابنا لان الماء اصل والتراب خلف والجمع بین الاصل والبدل فی حکم واحد لانظيرلہ فی الشرع الاتری ان(۱) التکفیر بالمال لایکمل بالصوم ولابالعکس ولاعدۃ(۲) الحائض بالاشھر ولاذوات الاشھر بالحیض ۔
واضح ہو کہ ان مسائل کا جواب ایك مذہبی قاعدہ پر متفرع ہے۔ وہ یہ کہ ایك ہی طہارت کی ادائيگی بیك وقت پانی اور مٹی دونوں سے مخلوط کرنا ہمارے اصحاب کے نزدیك نامشروع ہے۔ اس لئے کہ پانی اصل ہے اور مٹی نائب ہے۔ اور ایك حکم کے اندر اصل اور بدل دونوں کو جمع کرنے کی شریعت میں کوئی نظیر نہیں دیکھئے مال کے ذریعہ کفارہ کی ادائيگی روزے سے پوری نہیں کی جاتی۔ اسی طرح برعکس بھی نہیں يونہی حیض والی کی عدت مہینوں سے اور مہینوں والی کی عدت حیض سے تکميل نہیں پاتی۔ (ت)
اختیار شرح مختار پھر خزانۃ المفتین میں ہے :
من بہ جراحۃ وعلیہ الغسل غسل بدنہ الاموضعھا ولايتيمم وکذلك اذاکانت فی اعضاء الوضوء لان الجمع بینھما جمع بین البدل والمبدل ولانظيرلہ فی الشرع ۔
جسے زخم ہو اور اس کو غسل کرنا ہے تو وہ جگہ چھوڑ کر اپنے بدن کو دھوئے اور تميم نہ کرے۔ اسی طرح جب اعضائے وضو میں جراحت ہو (تو وہ جگہ چھوڑ کر باقی دھوئے) اس لئے کہ دونوں کو جمع کرنا بدل اور مبدل کو جمع کرنا ہے اور شریعت میں اس کی کوئی نظیر نہیں۔ (ت)
بدائع امام ملك العلماء میں ہے :
لوکان ببعض اعضاء الجنب جراحۃ اوجدری فان کان الغالب ھو السقيم تيمم لان العبرۃ للغالب ولايغسل الصحيح عندنا خلافا للشافعی لان الجمع بین الغسل و
جنب کے بعض اعضاء میں زخم یا چيچك ہو تو اگر اکثر حصہ سقيم ہے تميم کرے اس لئے کہ اعتبار اکثر کا ہے اور صحيح حصہ کو ہمارے نزدیك دھونا نہیں ہے بخلاف امام شافعی کے۔ وجہ یہ ہے کہ دھونا اور تميم دونوں کو
اعلم ان الجواب فی ھذہ المسائل يتفرع علی اصل مذھبی وھو ان تلفیق اقامۃ الطھارۃ الواحدۃ بالماء والتراب معاغیر مشروع عنہ اصحابنا لان الماء اصل والتراب خلف والجمع بین الاصل والبدل فی حکم واحد لانظيرلہ فی الشرع الاتری ان(۱) التکفیر بالمال لایکمل بالصوم ولابالعکس ولاعدۃ(۲) الحائض بالاشھر ولاذوات الاشھر بالحیض ۔
واضح ہو کہ ان مسائل کا جواب ایك مذہبی قاعدہ پر متفرع ہے۔ وہ یہ کہ ایك ہی طہارت کی ادائيگی بیك وقت پانی اور مٹی دونوں سے مخلوط کرنا ہمارے اصحاب کے نزدیك نامشروع ہے۔ اس لئے کہ پانی اصل ہے اور مٹی نائب ہے۔ اور ایك حکم کے اندر اصل اور بدل دونوں کو جمع کرنے کی شریعت میں کوئی نظیر نہیں دیکھئے مال کے ذریعہ کفارہ کی ادائيگی روزے سے پوری نہیں کی جاتی۔ اسی طرح برعکس بھی نہیں يونہی حیض والی کی عدت مہینوں سے اور مہینوں والی کی عدت حیض سے تکميل نہیں پاتی۔ (ت)
اختیار شرح مختار پھر خزانۃ المفتین میں ہے :
من بہ جراحۃ وعلیہ الغسل غسل بدنہ الاموضعھا ولايتيمم وکذلك اذاکانت فی اعضاء الوضوء لان الجمع بینھما جمع بین البدل والمبدل ولانظيرلہ فی الشرع ۔
جسے زخم ہو اور اس کو غسل کرنا ہے تو وہ جگہ چھوڑ کر اپنے بدن کو دھوئے اور تميم نہ کرے۔ اسی طرح جب اعضائے وضو میں جراحت ہو (تو وہ جگہ چھوڑ کر باقی دھوئے) اس لئے کہ دونوں کو جمع کرنا بدل اور مبدل کو جمع کرنا ہے اور شریعت میں اس کی کوئی نظیر نہیں۔ (ت)
بدائع امام ملك العلماء میں ہے :
لوکان ببعض اعضاء الجنب جراحۃ اوجدری فان کان الغالب ھو السقيم تيمم لان العبرۃ للغالب ولايغسل الصحيح عندنا خلافا للشافعی لان الجمع بین الغسل و
جنب کے بعض اعضاء میں زخم یا چيچك ہو تو اگر اکثر حصہ سقيم ہے تميم کرے اس لئے کہ اعتبار اکثر کا ہے اور صحيح حصہ کو ہمارے نزدیك دھونا نہیں ہے بخلاف امام شافعی کے۔ وجہ یہ ہے کہ دھونا اور تميم دونوں کو
حوالہ / References
حلیہ
اختیار شرح مختار آخر باب التميم مطبع البابی مصر ۱ / ۲۳
اختیار شرح مختار آخر باب التميم مطبع البابی مصر ۱ / ۲۳
التيمم ممتنع الا فی حال وقوع الشك فی طھوریۃ الماء ولم يوجد اھ کلامہ الشريف۔
اقول : عــہ بل ولافيھا(۱) لان الصحيح فی الواقع احدھما والاخر معدوم شرعا فلاجمع الاصورۃ۔
جمع کرنا ممتنع ہے مگر جبکہ پانی کی طہوريت میں شك ہو اور یہ شك موجود نہیں۔ (ان کا کلام شريف ختم ہوا) (ت)
اقول : بلکہ اس حالت میں بھی نہیں اس لئے کہ فی الواقع دونوں میں سے ایك ہی درست ہے اور دوسرا شرعا معدوم ہے تو جمع کرنا صرف صورۃ ہے۔ (ت)
کنز الدقائق وتنویر الابصار میں ہے :
لايجمع بینھما اھ ای تيمم وغسل درمختار بفتح الغین لیعم الطھارتین ش عن ح۔
اقول : کل(۲) لیس لمتوھم ان یتوھم الجمع بین التیمم والغسل بالضم۔
دونوں کو جمع نہ کرے گا اھ یعنی تيمم اور غسل (دھونے) کو -- درمختار غسل عین کے فتحہ کے ساتھ تاکہ دونوں طہارتوں کو شامل ہوجائے۔ شامی ازحلبی۔ (ت)اقول : بلکہ کوئی یہ وہم نہیں کرسکتا کہ تیمم اور غسل (بالضم) جمع ہوگا۔ (ت)
دلیل دوم : صاف مطلق ارشاد ہے کہ جنب کے پاس اگرچہ وضو کےلئے کافی پانی موجود ہو وضو نہ کرے صرف تیمم کرے اور یہ کہ مذہب حنفی کا اس پر اجماع ہے شافعی وحنبلی کو نزاع ہے۔ جواہر الفتاوی امام کرمانی باب رابع میں ہے :
عــہ ثم رأیتہ فی ش عن البحر قال لان الفرض یتأدی باحدھما لابھما فجمعنا بینھما بالشک اھ ثم رأیتہ بعینہ فی التبیین ۱۲ منہ غفرلہ (م)
پھر میں نے اسے شامی میں بحر کے حوالہ سے دیکھا فرما یا : اس لئے کہ فرض ایك ہی سے ادا ہوتا ہے دونوں سے نہیں تو شك کی وجہ سے ہم نے دونوں کو جمع کیا اھ پھر بعینہ یہی میں نے تبیین میں بھی دیکھا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
اقول : عــہ بل ولافيھا(۱) لان الصحيح فی الواقع احدھما والاخر معدوم شرعا فلاجمع الاصورۃ۔
جمع کرنا ممتنع ہے مگر جبکہ پانی کی طہوريت میں شك ہو اور یہ شك موجود نہیں۔ (ان کا کلام شريف ختم ہوا) (ت)
اقول : بلکہ اس حالت میں بھی نہیں اس لئے کہ فی الواقع دونوں میں سے ایك ہی درست ہے اور دوسرا شرعا معدوم ہے تو جمع کرنا صرف صورۃ ہے۔ (ت)
کنز الدقائق وتنویر الابصار میں ہے :
لايجمع بینھما اھ ای تيمم وغسل درمختار بفتح الغین لیعم الطھارتین ش عن ح۔
اقول : کل(۲) لیس لمتوھم ان یتوھم الجمع بین التیمم والغسل بالضم۔
دونوں کو جمع نہ کرے گا اھ یعنی تيمم اور غسل (دھونے) کو -- درمختار غسل عین کے فتحہ کے ساتھ تاکہ دونوں طہارتوں کو شامل ہوجائے۔ شامی ازحلبی۔ (ت)اقول : بلکہ کوئی یہ وہم نہیں کرسکتا کہ تیمم اور غسل (بالضم) جمع ہوگا۔ (ت)
دلیل دوم : صاف مطلق ارشاد ہے کہ جنب کے پاس اگرچہ وضو کےلئے کافی پانی موجود ہو وضو نہ کرے صرف تیمم کرے اور یہ کہ مذہب حنفی کا اس پر اجماع ہے شافعی وحنبلی کو نزاع ہے۔ جواہر الفتاوی امام کرمانی باب رابع میں ہے :
عــہ ثم رأیتہ فی ش عن البحر قال لان الفرض یتأدی باحدھما لابھما فجمعنا بینھما بالشک اھ ثم رأیتہ بعینہ فی التبیین ۱۲ منہ غفرلہ (م)
پھر میں نے اسے شامی میں بحر کے حوالہ سے دیکھا فرما یا : اس لئے کہ فرض ایك ہی سے ادا ہوتا ہے دونوں سے نہیں تو شك کی وجہ سے ہم نے دونوں کو جمع کیا اھ پھر بعینہ یہی میں نے تبیین میں بھی دیکھا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
حوالہ / References
بدائع الصنائع شرائط تیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۱
درمختار ، باب التیمم ، مجتبائی دہلی ۱ / ۴۵
ردالمحتار ، باب التیمم ، مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۹
ردالمحتار ، باب التیمم ، مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۱۸۹
درمختار ، باب التیمم ، مجتبائی دہلی ۱ / ۴۵
ردالمحتار ، باب التیمم ، مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۹
ردالمحتار ، باب التیمم ، مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۱۸۹
جنب فی مفازۃ معہ من الماء مایکفی لوضوئہ فانہ یتیمم ولایستعمل الماء ۔
کسی بیابان میں جنابت والا ہے جس کے پاس اتنا پانی ہے جو اس کے وضو کےلئے کفایت کرے تو وہ تیمم کرے گا اور پانی استعمال نہیں کرے گا۔ (ت)
نوازل امام اجل فقیہ ابو اللیث پھر خزانۃ المفتین میں ہے :
مسافرا جنب ومعہ ماء یکفی للوضوء فانہ یتیمم ۔
کوئی مسافر جنب ہوا اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو وضو کےلئے کفایت کرے تو وہ تیمم کرے گا۔ (ت)
خلاصہ میں ہے :
فان اجنب المسافر ولم یجد من الماء الاقدرما یتوضأ فانہ یتیمم ولایتوضأ عندنا ۔
اگر مسافر جنب ہوا اور اسے اسی قدر پانی ملاکہ وضو کرے تو ہمارے نزدیك وہ تیمم کرے گا اور وضو نہیں کرے گا۔ (ت)
کافی میں ہے :
جنب معہ ماء کاف للوضؤ تیمم ولم یتوضأ وعند الشافعی توضأ ثم تیمم ۔
جنب ہے جس کے پاس وضو کےلئے بقدر کفایت پانی ہے وہ تیمم کرے اور وضو نہ کرے اور امام شافعی کے نزدیك وضو کرے پھر تیمم کرے۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
انما تنقض رؤیۃ الماء اذاکان یکفی للوضؤ ان کان محدثا اوالاغتسال ان کان جنبا والا لا وھذا فرع انہ فی الابتداء اذاوجد مالایکفیہ لایستعملہ فی بعض محل الطھارۃ بل یترکہ
پانی دیکھنا اسی وقت ناقض ہوتا ہے جبکہ بے وضو تھا تو اتنا پانی ہو جو وضو کےلئے کافی ہو اور جنب تھا تو اتنا جو غسل کےلئے کافی ہو ورنہ ناقض نہیں اور یہ اس کی فرع ہے کہ ابتدا میں جب اسے ناکافی پانی ملے تو اسے محل طہارت کے ایك حصے میں استعمال
کسی بیابان میں جنابت والا ہے جس کے پاس اتنا پانی ہے جو اس کے وضو کےلئے کفایت کرے تو وہ تیمم کرے گا اور پانی استعمال نہیں کرے گا۔ (ت)
نوازل امام اجل فقیہ ابو اللیث پھر خزانۃ المفتین میں ہے :
مسافرا جنب ومعہ ماء یکفی للوضوء فانہ یتیمم ۔
کوئی مسافر جنب ہوا اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو وضو کےلئے کفایت کرے تو وہ تیمم کرے گا۔ (ت)
خلاصہ میں ہے :
فان اجنب المسافر ولم یجد من الماء الاقدرما یتوضأ فانہ یتیمم ولایتوضأ عندنا ۔
اگر مسافر جنب ہوا اور اسے اسی قدر پانی ملاکہ وضو کرے تو ہمارے نزدیك وہ تیمم کرے گا اور وضو نہیں کرے گا۔ (ت)
کافی میں ہے :
جنب معہ ماء کاف للوضؤ تیمم ولم یتوضأ وعند الشافعی توضأ ثم تیمم ۔
جنب ہے جس کے پاس وضو کےلئے بقدر کفایت پانی ہے وہ تیمم کرے اور وضو نہ کرے اور امام شافعی کے نزدیك وضو کرے پھر تیمم کرے۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
انما تنقض رؤیۃ الماء اذاکان یکفی للوضؤ ان کان محدثا اوالاغتسال ان کان جنبا والا لا وھذا فرع انہ فی الابتداء اذاوجد مالایکفیہ لایستعملہ فی بعض محل الطھارۃ بل یترکہ
پانی دیکھنا اسی وقت ناقض ہوتا ہے جبکہ بے وضو تھا تو اتنا پانی ہو جو وضو کےلئے کافی ہو اور جنب تھا تو اتنا جو غسل کےلئے کافی ہو ورنہ ناقض نہیں اور یہ اس کی فرع ہے کہ ابتدا میں جب اسے ناکافی پانی ملے تو اسے محل طہارت کے ایك حصے میں استعمال
حوالہ / References
جواہر الفتاوٰی
خزانۃ المفتین)
خلاصۃ الفتاوٰی ، الفصل الخامس فی التیمم ، نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۳
کافی
خزانۃ المفتین)
خلاصۃ الفتاوٰی ، الفصل الخامس فی التیمم ، نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۳
کافی
ویتیمم لاغیر وھذا قول اصحابنا ومالك و غیرہ بل حکاہ البغوی عن اکثر العلماء ۔
نہیں کرے گا بلکہ اسے چھوڑ دے گا اور صرف تیمم کرےگا۔ یہ ہمارے اصحاب اور امام مالك و غیرہ کا قول ہے بلکہ بغوی نے اسے اکثر علماء سے حکایت کیا ہے۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
من علیہ الغسل اذاتیمم ثم وجد ماء لایکفی لغسلہ اوالمحدث ماء غیر کاف لوضوئہ لاینتقض تیممہ ولوکان معہ ذلك قبل التیمم جازلہ التیمم بدون استعمال خلافا للشافعی واحمد رحمھما الله تعالی ۔
جس کے اوپر غسل فرض ہے جب وہ تیمم کرلے پھر اسے اتنا پانی ملے جو غسل کےلئے ناکافی ہو یا بے وضو کو اتنا پانی ملے جو وضو کےلئے نہ کافی ہو تو تیمم نہ ٹوٹے گا اور اگر قبل تیمم اتنا پانی ہوتا تو بھی اسے استعمال کیے بغیر اس کےلئے تیمم جائز ہوتا بخلاف امام شافعی وامام احمد رحمہم اللہ تعالی کے۔ (ت)
اسی طرح کتب کثیرہ حتی کہ خود شرح وقایہ میں ہے :
اذاکان للجنب ماء یکفی للوضوء لاللغسل یتیمم ولایجب علیہ التوضی عندنا خلافا للشافعی رضی الله تعالی عنہ ۔
جب جنب کے پاس اتنا پانی ہو جو وضو کےلئے کافی ہو غسل کےلئے نہیں تو وہ تیمم کرے اور اس پر وضو ہمارے نزدیك واجب نہیں بخلاف امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہکے۔ (ت)
اور سب سے اجل واعظم محرر المذہب امام محمد رضی اللہ تعالی عنہکا کتاب الاصل میں ارشاد ہے :
اجنبب وعندہ ماء یکفی للوضوء تیمم وصلی اھ اثرہ فی الکفایۃ والغنیۃ فصل مسح الخفین تحت قولہ لایجوز المسح لمن علیہ الغسل ۔
جنب ہوا اور اس کے پاس اتنا ہی پانی ہے جو وضو کےلئے کافی ہو تو وہ تیمم کرے اور نماز پڑھے۔ اھ اسے کفایہ اور غنیہ فصل مسح الخفین میں ز یرقول “ لایجوز المسح لمن علیہ الغسل “ نقل کیا۔ (ت)
نہیں کرے گا بلکہ اسے چھوڑ دے گا اور صرف تیمم کرےگا۔ یہ ہمارے اصحاب اور امام مالك و غیرہ کا قول ہے بلکہ بغوی نے اسے اکثر علماء سے حکایت کیا ہے۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
من علیہ الغسل اذاتیمم ثم وجد ماء لایکفی لغسلہ اوالمحدث ماء غیر کاف لوضوئہ لاینتقض تیممہ ولوکان معہ ذلك قبل التیمم جازلہ التیمم بدون استعمال خلافا للشافعی واحمد رحمھما الله تعالی ۔
جس کے اوپر غسل فرض ہے جب وہ تیمم کرلے پھر اسے اتنا پانی ملے جو غسل کےلئے ناکافی ہو یا بے وضو کو اتنا پانی ملے جو وضو کےلئے نہ کافی ہو تو تیمم نہ ٹوٹے گا اور اگر قبل تیمم اتنا پانی ہوتا تو بھی اسے استعمال کیے بغیر اس کےلئے تیمم جائز ہوتا بخلاف امام شافعی وامام احمد رحمہم اللہ تعالی کے۔ (ت)
اسی طرح کتب کثیرہ حتی کہ خود شرح وقایہ میں ہے :
اذاکان للجنب ماء یکفی للوضوء لاللغسل یتیمم ولایجب علیہ التوضی عندنا خلافا للشافعی رضی الله تعالی عنہ ۔
جب جنب کے پاس اتنا پانی ہو جو وضو کےلئے کافی ہو غسل کےلئے نہیں تو وہ تیمم کرے اور اس پر وضو ہمارے نزدیك واجب نہیں بخلاف امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہکے۔ (ت)
اور سب سے اجل واعظم محرر المذہب امام محمد رضی اللہ تعالی عنہکا کتاب الاصل میں ارشاد ہے :
اجنبب وعندہ ماء یکفی للوضوء تیمم وصلی اھ اثرہ فی الکفایۃ والغنیۃ فصل مسح الخفین تحت قولہ لایجوز المسح لمن علیہ الغسل ۔
جنب ہوا اور اس کے پاس اتنا ہی پانی ہے جو وضو کےلئے کافی ہو تو وہ تیمم کرے اور نماز پڑھے۔ اھ اسے کفایہ اور غنیہ فصل مسح الخفین میں ز یرقول “ لایجوز المسح لمن علیہ الغسل “ نقل کیا۔ (ت)
حوالہ / References
حلیہ
غنیۃ المستملی ، باب التیمم ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ص۸۴
شرح الوقا یۃ ، باب التیمم ، مکتبہ رشیدیہ دہلی ، ۱ / ۹۵
الکفا یۃ مع فتح القد یر باب المسح علی الخفین مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۳۵
الکفا یۃ مع فتح القد یر باب المسح علی الخفین مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۳۵
غنیۃ المستملی ، باب التیمم ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ص۸۴
شرح الوقا یۃ ، باب التیمم ، مکتبہ رشیدیہ دہلی ، ۱ / ۹۵
الکفا یۃ مع فتح القد یر باب المسح علی الخفین مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۳۵
الکفا یۃ مع فتح القد یر باب المسح علی الخفین مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۳۵
ظاہر ہے کہ جنابت غالبا حدث سے جدا نہیں ہوتی اگر جماع کیا تو اس سے پہلے مباشرت فاحشہ تھی اور احتلام ہوا تو اس سے پہلے سونا تھا اور مطلقا انزال بے سبقت خروج مذی نہیں ہوتا یوں ہی بعد ہر انزال بول عادات مستمرہ عامہ سے ہے اور طبا بلکہ شرعا ۱ بھی مطلوب کہ منی منفصل بشہوت کا جو بقیہ ہو خارج ہوجائے ورنہ بعد۲ غسل نکلا تو دوبارہ نہانا ہوگا تو ظاہر ہوا کہ عام جنابتیں حدث سابق وحدث لاحق دونوں اپنے ساتھ رکھتی ہیں پھر تمام کتب کی تصریح کہ جنب غسل سے عاجز ہو اور وضو پر قادر جب بھی وضو نہ کرے صرف تیمم کرے دلیل صریح ہے کہ جنابت کا تیمم اس وقت جتنے بھی حدث موجود ہوں سب کا رافع ہے تو وضو کیا ضرور فقہائے۳ کرام نادر صورت کا اکثر لحاظ نہیں فرماتے جنابت کے ساتھ حدث کا ہونا تو اس درجہ کثیر وغالب ہے کہ مفارقت ہی شاذ نادر ہے تو اس حالت میں اگر تیمم جنابت کے ساتھ حدث کےلئے وضو بھی درکار ہوتا تو یوں عام حکم معقول تھا کہ جنب اگر غسل نہ کرسکے اور وضو پر قادر ہو تو تیمم کے ساتھ وضو لازم ہے کہ صورت نادرہ افتراق کا لحاظ نہ فرما یا نہ کہ غالب کو ساقط النظر فرماکر یوں عام حکم دیں بل فی ش الجنابۃ لاتنفك عن حدث یوجب الوضوء اھ (بلکہ شامی میں ہے : جنابت وضو واجب کرنے والے حدث سے جدا نہیں ہوتی۔ (ت)
وھذا ظاھرہ اللزوم اقول : ان(۴) حمل علی الغالب والافبلی کمن اجنب ولم یجد الامایکفی للوضوء فتیمم ثم احدث فتوضأ ثم وجد مایکفی للغسل فقد عاد جنبا من دون حدث۔
اس عبارت کا ظاہر یہی بتاتا ہے کہ جنابت اور حدث میں لزوم اقول : اسے اگر اکثر پر محمول کریں تو ٹھیك ہے ورنہ جنابت حدث سے جدا کیوں نہیں ہوتی اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص جنب ہوا اور اسے اتنا ہی پانی ملا جو وضو کےلئے کفایت کرسکے تو اس نے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو وضو کیا پھر اسے اتنا پانی ملا جو غسل کےلئے کافی ہے اب وہ پھر جنب ہوگیا اس کی جنابت حدث سے جدا ہے۔ (ت)
دلیل سوم : تصریح فرماتے ہیں کہ جنب کے پاس وضو کےلئے کافی پانی ہو تو اس پر وضو اس حالت میں ہے کہ جنابت کےلئے تیمم کے بعد حدث واقع ہو بہت عبارات آگے آتی ہیں
اور نوازل امام فقیہ ابواللیث پھر خزانۃ المفتین میں ہے :
اذا احدث بعد التیمم ومعہ مایکفی
جب اس تیمم کے بعد حدث ہو اور اس کے پاس وضو
وھذا ظاھرہ اللزوم اقول : ان(۴) حمل علی الغالب والافبلی کمن اجنب ولم یجد الامایکفی للوضوء فتیمم ثم احدث فتوضأ ثم وجد مایکفی للغسل فقد عاد جنبا من دون حدث۔
اس عبارت کا ظاہر یہی بتاتا ہے کہ جنابت اور حدث میں لزوم اقول : اسے اگر اکثر پر محمول کریں تو ٹھیك ہے ورنہ جنابت حدث سے جدا کیوں نہیں ہوتی اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص جنب ہوا اور اسے اتنا ہی پانی ملا جو وضو کےلئے کفایت کرسکے تو اس نے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو وضو کیا پھر اسے اتنا پانی ملا جو غسل کےلئے کافی ہے اب وہ پھر جنب ہوگیا اس کی جنابت حدث سے جدا ہے۔ (ت)
دلیل سوم : تصریح فرماتے ہیں کہ جنب کے پاس وضو کےلئے کافی پانی ہو تو اس پر وضو اس حالت میں ہے کہ جنابت کےلئے تیمم کے بعد حدث واقع ہو بہت عبارات آگے آتی ہیں
اور نوازل امام فقیہ ابواللیث پھر خزانۃ المفتین میں ہے :
اذا احدث بعد التیمم ومعہ مایکفی
جب اس تیمم کے بعد حدث ہو اور اس کے پاس وضو
حوالہ / References
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۷
للوضوء فانہ یتوضأ بہ
کے لئے بقدر کفایت پانی ہو تو اس سے وضو کرےگا۔ (ت)
فتح القد یر ودرالحکام وشرح نقایہ عــہ برجندی وبحرالرائق حتی کہ خود شرح وقایہ مسح الخفین میں ہے :
واللفظ لہ تیمم للجنابت فان احدث بعد ذلك توضأ ۔
الفاظ شرح وقایہ ہی کے ہیں : جنابت کا تیمم کیا اگر اس کے بعد حدث ہو تو وضو کرے۔ (ت)
یہ تقیید صاف بتارہی ہے کہ تیمم جنابت سے پہلے جو حدث ہو اس کےلئے وضو نہیں یہی تیمم اسے بھی رفع کردےگا بلکہ خود کتاب مبسوط میں ارشاد محرر المذہب بعد بعد عبارت مذکورہ ہے :
فان(۱) احدث وعندہ ذلك الماء توضأ ۔
پھر اگر حدث ہو اور اس کے پاس وہ پانی موجود ہے تو وضو کرے۔ (ت)
تیمم جنابت کے بعد جو حدث ہوا اس میں حکم وضو فرما یا۔
فان قلت ماتفعل بمانقل فی العنا یۃ ولوبلفظۃ قیل فی مسألۃ الاصل ھذہ اذقال تحت قول الھدا یۃ لایجوز المسح لمن علیہ الغسل قیل صورتہ توضأ ولبس الخف ثم اجنب ثم وجد ماء یکفی للوضوء لاللاغتسال فانہ یتوضأ ویغسل رجلیہ ولایمسح ویتیمم
اگر سوال ہو اسے کیا کیا جائے جو عنا یۃ کے اندر اسی مسئلہ مبسوط میں نقل ہے اگرچہ “ قیل “ کے لفظ سے ہے۔ ہدایہ کی عبارت ہے : “ اس کےلئے مسح جائز نہیں جس کے اوپر غسل ہو “ اس کے تحت صاحب عنایہ لکھتے ہیں : “ کہا گیا اس کی صورت یہ ہے کہ وضو کرکے موزہ پہن لیا پھر جنابت ہوئی پھر اتنا پانی ملا جو وضو کےلئے کفایت کرسکتا ہے غسل کےلئے
عــہ ھو فی نسختی البرجندی معز وللنھا یۃ لکن فی البحر عن النھا یۃ لایتأتی الاغتسال مع وجوہ الخف ملبوسا اھ والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م) میری نسخہ برجندی میں اس پر نہایہ کا حوالہ ہے لیکن بحر میں نہایہ سے یہ نقل ہے : “ موزہ ملبوس ہوتے ہوئے غسل نہیں ہوسکتا اھ “ اور خدائے بزرگ وبرتر خوب جاننے والا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
کے لئے بقدر کفایت پانی ہو تو اس سے وضو کرےگا۔ (ت)
فتح القد یر ودرالحکام وشرح نقایہ عــہ برجندی وبحرالرائق حتی کہ خود شرح وقایہ مسح الخفین میں ہے :
واللفظ لہ تیمم للجنابت فان احدث بعد ذلك توضأ ۔
الفاظ شرح وقایہ ہی کے ہیں : جنابت کا تیمم کیا اگر اس کے بعد حدث ہو تو وضو کرے۔ (ت)
یہ تقیید صاف بتارہی ہے کہ تیمم جنابت سے پہلے جو حدث ہو اس کےلئے وضو نہیں یہی تیمم اسے بھی رفع کردےگا بلکہ خود کتاب مبسوط میں ارشاد محرر المذہب بعد بعد عبارت مذکورہ ہے :
فان(۱) احدث وعندہ ذلك الماء توضأ ۔
پھر اگر حدث ہو اور اس کے پاس وہ پانی موجود ہے تو وضو کرے۔ (ت)
تیمم جنابت کے بعد جو حدث ہوا اس میں حکم وضو فرما یا۔
فان قلت ماتفعل بمانقل فی العنا یۃ ولوبلفظۃ قیل فی مسألۃ الاصل ھذہ اذقال تحت قول الھدا یۃ لایجوز المسح لمن علیہ الغسل قیل صورتہ توضأ ولبس الخف ثم اجنب ثم وجد ماء یکفی للوضوء لاللاغتسال فانہ یتوضأ ویغسل رجلیہ ولایمسح ویتیمم
اگر سوال ہو اسے کیا کیا جائے جو عنا یۃ کے اندر اسی مسئلہ مبسوط میں نقل ہے اگرچہ “ قیل “ کے لفظ سے ہے۔ ہدایہ کی عبارت ہے : “ اس کےلئے مسح جائز نہیں جس کے اوپر غسل ہو “ اس کے تحت صاحب عنایہ لکھتے ہیں : “ کہا گیا اس کی صورت یہ ہے کہ وضو کرکے موزہ پہن لیا پھر جنابت ہوئی پھر اتنا پانی ملا جو وضو کےلئے کفایت کرسکتا ہے غسل کےلئے
عــہ ھو فی نسختی البرجندی معز وللنھا یۃ لکن فی البحر عن النھا یۃ لایتأتی الاغتسال مع وجوہ الخف ملبوسا اھ والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م) میری نسخہ برجندی میں اس پر نہایہ کا حوالہ ہے لیکن بحر میں نہایہ سے یہ نقل ہے : “ موزہ ملبوس ہوتے ہوئے غسل نہیں ہوسکتا اھ “ اور خدائے بزرگ وبرتر خوب جاننے والا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
خزانۃ المفتین
شرح الوقایہ باب التیمم مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۸
مبسوط امام محمد ، باب التیمم ، ادارۃ القرآن کراچی ، ۱ / ۱۰۷
شرح الوقایہ باب التیمم مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۸
مبسوط امام محمد ، باب التیمم ، ادارۃ القرآن کراچی ، ۱ / ۱۰۷
للجنابۃ اھ۔
اقول : رحمہ الله تعالی فلم یذکر الحدث اصلافان احتج بارسالہ وجب الوضوء علی جنب لاحدث معہ ووجد وضوء وھو باطل قطعا باجماع الحنفیۃ حتی ظاھر العبارۃ الاتیۃ للامام شارح الوقا یۃ بل معناہ قطعا انہ اذا احتاج بعد ذلك للوضوء یتوضأ ویغسل رجلیہ کماھو عبارۃ العلامۃ الوز یر فی الایضاح وشیخی زادہ فی مجمع الانھر فی نفس ھذا التصو یر اذقالا من(۱) لبس خفیہ علی وضوء ثم اجنب فی مدۃ المسح ینزع خفیہ ویغسل رجلیہ اذاتوضأ اھ۔
واذا ابتنی الامر علی حاجۃ الوضوءلم تبق للعبارۃ دلالۃ علی ماتوھمت فانا نقول انما یحتاج الیہ اذا احدث بعد تیممہ للجنابۃ والواو فی قولہ ویتیمم لیست للترتیب فالمعنی ثم اجنب فتیمم للجنابۃ ثم احدث ثم
نہیں تو یہ وضو کرےگا اور اپنے پیروں کو دھوئے گا مسح نہیں کرےگا اور جنابت کا تیمم کرے گا۔ (ت)
اقول : اللہتعالی ان پر رحمت فرمائے۔ انہوں نے حدث کا تو کوئی ذکر ہی نہ کیا۔ اگر ان کے بلاقید ذکر کرنے سے استدلال ہے تو وضو ایسے جنب پر بھی واجب ہوگا جس کے ساتھ کوئی حدث نہیں اور اسے وضو کا پانی مل گیا اور یہ باجماع حنفیہ قطعا باطل ہے یہاں تك کہ امام شارح وقایہ کی آنے والی عبارت کا ظاہر بھی یہ نہیں بلکہ عنایہ کی عبارت بالا کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد جب اسے وضو کی ضرورت ہو تو وضو کرےگا اور اپنے پیروں کو دھوئے گا جیسا کہ ایضاح میں علامہ وز یر کی عبارت اور مجمع الانہر میں شیخی زادہ کی عبارت خود اسی صورت مسئلہ کے بیان میں ہے دونوں حضرات فرماتے ہیں : “ جس نے وضو پر اپنے موزے پہنے پھر مدت مسح میں جنابت لاحق ہوئی تو وقت وضو اپنے موزے نکالے اور پیروں کو دھوئے “ اھ (ت)
جب بنائے امر وضو کی احت یاج پر ہے تو مذکورہ وہم پر عبارت کی کوئی دلالت ہی نہیں۔ اس لئے کہ ہم کہتے ہیں اسے اس کی ضرورت اس وقت ہوگی جب جنابت کا تیمم کرنے کے بعد پھر اسے حدث ہو۔ ان کی عبارت “ ویتیمم “ میں واو ترتیب کا نہیں۔ تو معنی یہ ہے کہ پھر وہ جنب ہو تو جنابت کا
اقول : رحمہ الله تعالی فلم یذکر الحدث اصلافان احتج بارسالہ وجب الوضوء علی جنب لاحدث معہ ووجد وضوء وھو باطل قطعا باجماع الحنفیۃ حتی ظاھر العبارۃ الاتیۃ للامام شارح الوقا یۃ بل معناہ قطعا انہ اذا احتاج بعد ذلك للوضوء یتوضأ ویغسل رجلیہ کماھو عبارۃ العلامۃ الوز یر فی الایضاح وشیخی زادہ فی مجمع الانھر فی نفس ھذا التصو یر اذقالا من(۱) لبس خفیہ علی وضوء ثم اجنب فی مدۃ المسح ینزع خفیہ ویغسل رجلیہ اذاتوضأ اھ۔
واذا ابتنی الامر علی حاجۃ الوضوءلم تبق للعبارۃ دلالۃ علی ماتوھمت فانا نقول انما یحتاج الیہ اذا احدث بعد تیممہ للجنابۃ والواو فی قولہ ویتیمم لیست للترتیب فالمعنی ثم اجنب فتیمم للجنابۃ ثم احدث ثم
نہیں تو یہ وضو کرےگا اور اپنے پیروں کو دھوئے گا مسح نہیں کرےگا اور جنابت کا تیمم کرے گا۔ (ت)
اقول : اللہتعالی ان پر رحمت فرمائے۔ انہوں نے حدث کا تو کوئی ذکر ہی نہ کیا۔ اگر ان کے بلاقید ذکر کرنے سے استدلال ہے تو وضو ایسے جنب پر بھی واجب ہوگا جس کے ساتھ کوئی حدث نہیں اور اسے وضو کا پانی مل گیا اور یہ باجماع حنفیہ قطعا باطل ہے یہاں تك کہ امام شارح وقایہ کی آنے والی عبارت کا ظاہر بھی یہ نہیں بلکہ عنایہ کی عبارت بالا کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد جب اسے وضو کی ضرورت ہو تو وضو کرےگا اور اپنے پیروں کو دھوئے گا جیسا کہ ایضاح میں علامہ وز یر کی عبارت اور مجمع الانہر میں شیخی زادہ کی عبارت خود اسی صورت مسئلہ کے بیان میں ہے دونوں حضرات فرماتے ہیں : “ جس نے وضو پر اپنے موزے پہنے پھر مدت مسح میں جنابت لاحق ہوئی تو وقت وضو اپنے موزے نکالے اور پیروں کو دھوئے “ اھ (ت)
جب بنائے امر وضو کی احت یاج پر ہے تو مذکورہ وہم پر عبارت کی کوئی دلالت ہی نہیں۔ اس لئے کہ ہم کہتے ہیں اسے اس کی ضرورت اس وقت ہوگی جب جنابت کا تیمم کرنے کے بعد پھر اسے حدث ہو۔ ان کی عبارت “ ویتیمم “ میں واو ترتیب کا نہیں۔ تو معنی یہ ہے کہ پھر وہ جنب ہو تو جنابت کا
حوالہ / References
العنا یۃ مع فتح القد یر ، باب التیمم ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۱۳۴
مجمع الانہر باب المسح دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۶
مجمع الانہر باب المسح دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۶
وجد الماء۔ الخ
وانظر عبارۃ الفاضل معین الھروی فی شرح الکنز فی نفس التصو یر توضأ ولیس الخف ثم اجنب فتیمم للجنابۃ ثم احدث ثم جوجد ماء یکفی للوضوء لا للاغتسال فانہ یتوضأ ویغسل رجلیہ ولایمسح ویتیمم للجنابۃ اھ
فالعبارۃ عین عبارۃ العنا یۃ وقدابرز کل ماقدرہ ورحم الله اخی چلپی اذنقل عبارۃ العنا یۃ ھذہ واسقط منھا قولہ ویتیمم للجنابۃ والله تعالی اعلم۔
تیمم کرے پھر اسے حدث ہو پھر پانی پائے الخ
شرح کنز میں فاضل معین ہروی کی عبارت خود اسی صورت مسئلہ کے بیان میں ملاحظہ ہو : “ وضو کیا اور موزہ پہن لیا پھر اسے جنابت ہوئی تو جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا پھر اسے اتنا پانی ملا جو صرف وضو کےلئے کافی ہے غسل کےلئے نہیں تو وہ وضو کرے گا اور اپنے پیروں کو دھوئے گا اور مسح نہیں کرے گا اور جنابت کے لئے تیمم کرے گا “ اھ (ت)
یہ عبارت بعینہ عنا یۃ کی عبارت ہے اور ہر ایك نے اپنا اندازہ بیان کیا ہے اللہتعالی اخی چلپی پر رحم کرے کیونکہ انہوں نے عنا یۃ کی یہی عبارت نقل کی ہے اور اس سے اس کا یہ قول “ ویتیمم للجنابۃ “ ساقط کرد یا ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
دلیل چہارم : اس کی تعلیل فرماتے ہیں کہ تیمم جو پہلے ہوچکا حدث متأخر کو زائل نہ کرے ظاہر ہوا کہ جنابت کے لئے تیمم سے پہلے جو حدث ہوگا تیمم اسے بھی زائل کردے گا۔ کافی امام جلیل ابو البرکات نسفی میں ہے :
جنب(۱) اغتسل وبقی لمعۃ وفنی ماؤہ یتیمم لبقاء الجنابۃ لانھا لاتتجزی زوالا وثبوتا فان تیمم ثم احدث تیمم للحدث لان تیممہ للجنابۃ متقدم علی الحدث فلم یجز عن الحدث المتؤخر کمالو اغتسل عن الجنابۃ ثم احدث علیہ ان یتوضأ ولم یجز الاغتسال عن
جنب نے غسل کیا کچھ جگہ چمکتی رہ گئی اور اس کا پانی ختم ہوگیا تو جنابت باقی رہنے کی وجہ سے وہ تیمم کرے اس لئے کہ زائل ہونے اور ثابت ہونے کسی معاملہ میں جنابت حصہ حصہ نہیں ہوتی (جاتی ہے تو ایك ساتھ آتی ہے تو ایك ساتھ) تو اگر اس نے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو حدث کےلئے تیمم کرے اس لئے کہ اس کا تیمم جنابت حدث سے پہلے ہوچکا۔ تو بعد والے حدث
وانظر عبارۃ الفاضل معین الھروی فی شرح الکنز فی نفس التصو یر توضأ ولیس الخف ثم اجنب فتیمم للجنابۃ ثم احدث ثم جوجد ماء یکفی للوضوء لا للاغتسال فانہ یتوضأ ویغسل رجلیہ ولایمسح ویتیمم للجنابۃ اھ
فالعبارۃ عین عبارۃ العنا یۃ وقدابرز کل ماقدرہ ورحم الله اخی چلپی اذنقل عبارۃ العنا یۃ ھذہ واسقط منھا قولہ ویتیمم للجنابۃ والله تعالی اعلم۔
تیمم کرے پھر اسے حدث ہو پھر پانی پائے الخ
شرح کنز میں فاضل معین ہروی کی عبارت خود اسی صورت مسئلہ کے بیان میں ملاحظہ ہو : “ وضو کیا اور موزہ پہن لیا پھر اسے جنابت ہوئی تو جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا پھر اسے اتنا پانی ملا جو صرف وضو کےلئے کافی ہے غسل کےلئے نہیں تو وہ وضو کرے گا اور اپنے پیروں کو دھوئے گا اور مسح نہیں کرے گا اور جنابت کے لئے تیمم کرے گا “ اھ (ت)
یہ عبارت بعینہ عنا یۃ کی عبارت ہے اور ہر ایك نے اپنا اندازہ بیان کیا ہے اللہتعالی اخی چلپی پر رحم کرے کیونکہ انہوں نے عنا یۃ کی یہی عبارت نقل کی ہے اور اس سے اس کا یہ قول “ ویتیمم للجنابۃ “ ساقط کرد یا ہے والله تعالی اعلم۔ (ت)
دلیل چہارم : اس کی تعلیل فرماتے ہیں کہ تیمم جو پہلے ہوچکا حدث متأخر کو زائل نہ کرے ظاہر ہوا کہ جنابت کے لئے تیمم سے پہلے جو حدث ہوگا تیمم اسے بھی زائل کردے گا۔ کافی امام جلیل ابو البرکات نسفی میں ہے :
جنب(۱) اغتسل وبقی لمعۃ وفنی ماؤہ یتیمم لبقاء الجنابۃ لانھا لاتتجزی زوالا وثبوتا فان تیمم ثم احدث تیمم للحدث لان تیممہ للجنابۃ متقدم علی الحدث فلم یجز عن الحدث المتؤخر کمالو اغتسل عن الجنابۃ ثم احدث علیہ ان یتوضأ ولم یجز الاغتسال عن
جنب نے غسل کیا کچھ جگہ چمکتی رہ گئی اور اس کا پانی ختم ہوگیا تو جنابت باقی رہنے کی وجہ سے وہ تیمم کرے اس لئے کہ زائل ہونے اور ثابت ہونے کسی معاملہ میں جنابت حصہ حصہ نہیں ہوتی (جاتی ہے تو ایك ساتھ آتی ہے تو ایك ساتھ) تو اگر اس نے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو حدث کےلئے تیمم کرے اس لئے کہ اس کا تیمم جنابت حدث سے پہلے ہوچکا۔ تو بعد والے حدث
حوالہ / References
شرح الکنز للہروی مع فتح المعین باب مسح الخفین ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۱
الحدث المتأخر ۔
سے کفایت نہ کرے گا۔ جیسے اگر جنابت کا غسل کیا پھر اسے حدث ہوا تو اسے وضو کرنا ہے اور غسل سابق حدث متأخر سے کفایت نہ کرسکے گا۔ (ت)
دلیل پنجم : اس کی توجیہ میں یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ جنابت کےلئے تیمم کرلینے کے بعد جو حدث ہوا تو اب یہ جنب نہیں کہ جنابت تو تیمم سے زائل ہوچکی نرامحدث ہے اور وضو کےلئے پانی موجود ہے تو وضو لازم ہے صاف اشعار فرما یا کہ اس وقت بھی اگر یہ جنب ہوتا وضو نہ کرتا صرف تیمم جنابت وحدث دونوں کے رفع کو کافی ہوتا ورنہ اس فرمانے کے کیا معنی کہ اور یہ جنب نہیں وھذا اظھر من ان یظھر (یہ اس سے ز یادہ واضح ہے کہ اس کی وضاحت کی جائے۔ ت)بدائع ملك العلماء میں ہے :
الجنب اذاوجد من الماء قدرمایتوضأ بہ لا غیر اجزأہ التیمم عندنا لان الغسل اذالم یفد الجواز کان الاشتغال بہ سفھا مع ان فیہ تضییع(۱) الماء وانہ حرام فصار کمن وجد(۲) مایطعم بہ خمسۃ مساکین فکفر بالصوم یجوز ولایؤمر باطعام الخمسۃ لعدم الفائدۃ فکذا ھذا بل اولی لان ھناك لایؤدی الی تضییع المال لحصول الثواب بالتصدق ومع ذلك لم یؤمر بہ لماقلنا فھھنا اولی ولوتیمم الجنب ثم احدث بعد ذلك ومعہ من الماء جنب کو جب اتنا ہی پانی ملے جس سے صرف وضو کرسکے تو ہمارے نزدیك تیمم اسے کافی ہوگا اس لئے کہ دھونے سے جب جواز نماز کا فائدہ نہیں حاصل ہوسکتا تو اس میں مشغولی بے وقوفی ہے۔ ساتھ ہی اس میں پانی کی بربادی بھی ہے اور یقینا یہ حرام ہے۔ تو اس کا حال اس کی طرح ہوا جسے اسی قدر ملاکہ اس سے پانچ مسکینوں کو کھلاسکے اس لئے اس نے روزوں سے کفارہ ادا کیا تو جائز ہے اور اسے پانچ کو کھلانے کا حکم نہیں د یا جائےگا اس لئے کہ بے فائدہ ہے۔ اسی طرح یہ بھی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہے اس لئے کہ وہاں مال کی بربادی تك معاملہ نہیں پہنچتا کیونکہ صدقہ کرنے کا ثواب مل جائےگا اس کے باوجود اس کا اسے حکم نہ د یا گیا تو یہاں بدرجہ اولی حکم نہ ہوگا۔ اور اگر جنب نے تیمم کیا پھر اس کے
سے کفایت نہ کرے گا۔ جیسے اگر جنابت کا غسل کیا پھر اسے حدث ہوا تو اسے وضو کرنا ہے اور غسل سابق حدث متأخر سے کفایت نہ کرسکے گا۔ (ت)
دلیل پنجم : اس کی توجیہ میں یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ جنابت کےلئے تیمم کرلینے کے بعد جو حدث ہوا تو اب یہ جنب نہیں کہ جنابت تو تیمم سے زائل ہوچکی نرامحدث ہے اور وضو کےلئے پانی موجود ہے تو وضو لازم ہے صاف اشعار فرما یا کہ اس وقت بھی اگر یہ جنب ہوتا وضو نہ کرتا صرف تیمم جنابت وحدث دونوں کے رفع کو کافی ہوتا ورنہ اس فرمانے کے کیا معنی کہ اور یہ جنب نہیں وھذا اظھر من ان یظھر (یہ اس سے ز یادہ واضح ہے کہ اس کی وضاحت کی جائے۔ ت)بدائع ملك العلماء میں ہے :
الجنب اذاوجد من الماء قدرمایتوضأ بہ لا غیر اجزأہ التیمم عندنا لان الغسل اذالم یفد الجواز کان الاشتغال بہ سفھا مع ان فیہ تضییع(۱) الماء وانہ حرام فصار کمن وجد(۲) مایطعم بہ خمسۃ مساکین فکفر بالصوم یجوز ولایؤمر باطعام الخمسۃ لعدم الفائدۃ فکذا ھذا بل اولی لان ھناك لایؤدی الی تضییع المال لحصول الثواب بالتصدق ومع ذلك لم یؤمر بہ لماقلنا فھھنا اولی ولوتیمم الجنب ثم احدث بعد ذلك ومعہ من الماء جنب کو جب اتنا ہی پانی ملے جس سے صرف وضو کرسکے تو ہمارے نزدیك تیمم اسے کافی ہوگا اس لئے کہ دھونے سے جب جواز نماز کا فائدہ نہیں حاصل ہوسکتا تو اس میں مشغولی بے وقوفی ہے۔ ساتھ ہی اس میں پانی کی بربادی بھی ہے اور یقینا یہ حرام ہے۔ تو اس کا حال اس کی طرح ہوا جسے اسی قدر ملاکہ اس سے پانچ مسکینوں کو کھلاسکے اس لئے اس نے روزوں سے کفارہ ادا کیا تو جائز ہے اور اسے پانچ کو کھلانے کا حکم نہیں د یا جائےگا اس لئے کہ بے فائدہ ہے۔ اسی طرح یہ بھی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہے اس لئے کہ وہاں مال کی بربادی تك معاملہ نہیں پہنچتا کیونکہ صدقہ کرنے کا ثواب مل جائےگا اس کے باوجود اس کا اسے حکم نہ د یا گیا تو یہاں بدرجہ اولی حکم نہ ہوگا۔ اور اگر جنب نے تیمم کیا پھر اس کے
حوالہ / References
کافی
بدائع الصنائع شرائط تیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۰
بدائع الصنائع شرائط تیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۰
قدرمایتوضأ بہ فانہ یتوضأ بہ لان ھذا محدث ولیس بجنب ومعہ من المائقدر مایکفیہ للوضؤ فیتوضأبہ ۔
بعد اسے حدث ہوا اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جس سے وضو کرلے تو وہ وضو کرے گا کیونکہ یہ بے وضو ہے جنب نہیں ہے اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو وضو کےلئے کافی ہے تو اس سے وضو کرے گا۔ (ت)
یونہی درمختار میں ہے :
لوتیمم للجنابۃ ثم احدث صار محدثا لاجنبا فیتوضأ ۔
اور اگر جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو وہ محدث ہے جنب نہیں اس لئے وضو کرےگا۔ (ت)
تیمم کے بعد حدث پر حکم وضو کو اس پر متفرع کیا کہ اب وہ محدث ہے جنب نہیں یعنی جنب ہوتا تو حدث کے باعث وضو نہ کرتا ولہذا ردالمحتار میں فرما یا :
افاد انہ اذا وجد ماء یکفیہ للوضوء فقط انما یتوضأ بہ اذا احدث بعد تیممہ عن الجنابۃ امالووجدہ وقت التیمم قبل الحدث لایلزمہ عندنا الوضوء بہ عن الحدث الذی مع الجنابۃ لانہ عبث اذ لابد لہ من التیمم اھ۔
تنبیہ : قول ملك العلماء قدس سرہ فیہ تضییع الماء تبعہ فیہ الامام النسفی فی الکافی فقال لنا انہ اذالم یطھر عن الجنابۃ باستعمالہ تکون تضییعا اھ۔
اس سے یہ افادہ فرما یا کہ جب اسے اتنا پانی ملے جس سے صرف اس کا وضو ہوسکتا ہو تو وہ اس سے وضو کرے گا جبکہ اسے اپنے تیمم جنابت کے بعد حدث ہوا ہو۔ لیکن اگر یہ پانی تیمم ہی کے وقت قبل حدث ملا تو ہمارے نزدیك اسے اس حدث سے جو جنابت کے ساتھ ہے وضو کرنا لازم نہیں کیونکہ عبث ہے اس لئے کہ تیمم اس کےلئے ضروری ہے۔ اھ (ت)
تنبیہ : ملك العلماء قدس سرہ کا ارشاد “ فیہ تضییع الماء “ (اس میں پانی برباد کرنا ہے) اس پر امام نسفی نے ان کی پیروی کی ہے-وہ فرماتے ہیں : “ ہماری دلیل یہ ہے کہ اس کے استعمال سے جب وہ جنابت سے پاك نہ ہوا تو یہ برباد کرنا ہی ہے “ اھ (ت)
بعد اسے حدث ہوا اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جس سے وضو کرلے تو وہ وضو کرے گا کیونکہ یہ بے وضو ہے جنب نہیں ہے اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو وضو کےلئے کافی ہے تو اس سے وضو کرے گا۔ (ت)
یونہی درمختار میں ہے :
لوتیمم للجنابۃ ثم احدث صار محدثا لاجنبا فیتوضأ ۔
اور اگر جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو وہ محدث ہے جنب نہیں اس لئے وضو کرےگا۔ (ت)
تیمم کے بعد حدث پر حکم وضو کو اس پر متفرع کیا کہ اب وہ محدث ہے جنب نہیں یعنی جنب ہوتا تو حدث کے باعث وضو نہ کرتا ولہذا ردالمحتار میں فرما یا :
افاد انہ اذا وجد ماء یکفیہ للوضوء فقط انما یتوضأ بہ اذا احدث بعد تیممہ عن الجنابۃ امالووجدہ وقت التیمم قبل الحدث لایلزمہ عندنا الوضوء بہ عن الحدث الذی مع الجنابۃ لانہ عبث اذ لابد لہ من التیمم اھ۔
تنبیہ : قول ملك العلماء قدس سرہ فیہ تضییع الماء تبعہ فیہ الامام النسفی فی الکافی فقال لنا انہ اذالم یطھر عن الجنابۃ باستعمالہ تکون تضییعا اھ۔
اس سے یہ افادہ فرما یا کہ جب اسے اتنا پانی ملے جس سے صرف اس کا وضو ہوسکتا ہو تو وہ اس سے وضو کرے گا جبکہ اسے اپنے تیمم جنابت کے بعد حدث ہوا ہو۔ لیکن اگر یہ پانی تیمم ہی کے وقت قبل حدث ملا تو ہمارے نزدیك اسے اس حدث سے جو جنابت کے ساتھ ہے وضو کرنا لازم نہیں کیونکہ عبث ہے اس لئے کہ تیمم اس کےلئے ضروری ہے۔ اھ (ت)
تنبیہ : ملك العلماء قدس سرہ کا ارشاد “ فیہ تضییع الماء “ (اس میں پانی برباد کرنا ہے) اس پر امام نسفی نے ان کی پیروی کی ہے-وہ فرماتے ہیں : “ ہماری دلیل یہ ہے کہ اس کے استعمال سے جب وہ جنابت سے پاك نہ ہوا تو یہ برباد کرنا ہی ہے “ اھ (ت)
حوالہ / References
بدائع الصنائع شرائط التیمم ، مکتبہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۵۰
دُرمختار ، باب التیمم ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۴۵
ردالمحتار باب التیمم ، مکتبہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۱۸۷
کافی للامام النسفی
دُرمختار ، باب التیمم ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۴۵
ردالمحتار باب التیمم ، مکتبہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۱۸۷
کافی للامام النسفی
وتبعھما الامام الزیلعی فی التبیین فقال اذا لم یفدکان الاشتغال عبثا وتضییعا للماء فی موضع عزتہ وتضییع(۱) المال حرام اھ۔
وتبعھم المحقق فی الفتح فقال لایفید اذلایتجزأ بل الحدث قائم مابقی ادنی لمعۃ فیبقی مجرد اضاعۃ مال خصوصا فی موضع عزتہ مع بقاء الحدث کماھو اھ۔ وتبعہ فی الحلیۃ والبحر علی الفاظہ وزادت الحلیۃ وقدصح عن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ قال وانھی امتی عن اضاعۃ المال اھ والفقیر تبعھم فیما مضی واجدر بھم للاتباع۔
اقول : لکن(۲) للعبد الضعیف نظر فیہ قوی فانہ وان لم یرفع الحدث لعدم تجزیہ فلاشك انہ یسقط الفرض
تبیین میں امام زیلعی نے ان دونوں حضرات کی پیروی کی ہے۔ تو فرما یا : “ جب یہ بے فائدہ ہے تو اس میں مشغول عبث ہے اور ایسی جگہ پانی برباد کرنا ہے جہاں پانی کم یاب ہے اور مال برباد کرنا حرام ہے اھ “
اور محقق علی الاطلاق نے فتح القد یر میں ان حضرات کی پیروی کرتے ہوئے فرما یا : “ بے فائدہ ہے اس لئے کہ حدث کی تجزی نہیں ہوتی بلکہ جب تك ذرا سا بھی حصہ چھوٹا رہے گا حدث رہے گا تو صرف مال کی بربادی باقی رہ جائے گی خصوصا ایسی جگہ جہاں پانی کم یاب ہے باوجودیك ہ حدث جیسے تھا ویسے ہی باقی رہے گا “ ۔ اھ (ت)اب حلیہ اور بحر نے الفاظ میں بھی ان کی پیروی کی۔ حلیہ نے مزید یہ فرما یا : حالانکہ رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے بروایت صحیحہ ثابت ہے کہ فرما یا : “ اور میں اپنی امت کو مال برباد کرنے سے منع فرماتا ہوں “ اھ۔ فقیر نے بھی ماضی میں انہی حضرات کی پیروی کی اور وہ ان کی پیروی کا ز یادہ مستحق ہے۔
اقول : لیکن بندہ ضعیف کو اس میں نظر قوی ہے کیونکہ اس سے حدث غیر متجزی ہونے کے باعث اگرچہ ختم نہیں ہوتا لیکن اس میں شك نہیں کہ جس حصے
وتبعھم المحقق فی الفتح فقال لایفید اذلایتجزأ بل الحدث قائم مابقی ادنی لمعۃ فیبقی مجرد اضاعۃ مال خصوصا فی موضع عزتہ مع بقاء الحدث کماھو اھ۔ وتبعہ فی الحلیۃ والبحر علی الفاظہ وزادت الحلیۃ وقدصح عن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ قال وانھی امتی عن اضاعۃ المال اھ والفقیر تبعھم فیما مضی واجدر بھم للاتباع۔
اقول : لکن(۲) للعبد الضعیف نظر فیہ قوی فانہ وان لم یرفع الحدث لعدم تجزیہ فلاشك انہ یسقط الفرض
تبیین میں امام زیلعی نے ان دونوں حضرات کی پیروی کی ہے۔ تو فرما یا : “ جب یہ بے فائدہ ہے تو اس میں مشغول عبث ہے اور ایسی جگہ پانی برباد کرنا ہے جہاں پانی کم یاب ہے اور مال برباد کرنا حرام ہے اھ “
اور محقق علی الاطلاق نے فتح القد یر میں ان حضرات کی پیروی کرتے ہوئے فرما یا : “ بے فائدہ ہے اس لئے کہ حدث کی تجزی نہیں ہوتی بلکہ جب تك ذرا سا بھی حصہ چھوٹا رہے گا حدث رہے گا تو صرف مال کی بربادی باقی رہ جائے گی خصوصا ایسی جگہ جہاں پانی کم یاب ہے باوجودیك ہ حدث جیسے تھا ویسے ہی باقی رہے گا “ ۔ اھ (ت)اب حلیہ اور بحر نے الفاظ میں بھی ان کی پیروی کی۔ حلیہ نے مزید یہ فرما یا : حالانکہ رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے بروایت صحیحہ ثابت ہے کہ فرما یا : “ اور میں اپنی امت کو مال برباد کرنے سے منع فرماتا ہوں “ اھ۔ فقیر نے بھی ماضی میں انہی حضرات کی پیروی کی اور وہ ان کی پیروی کا ز یادہ مستحق ہے۔
اقول : لیکن بندہ ضعیف کو اس میں نظر قوی ہے کیونکہ اس سے حدث غیر متجزی ہونے کے باعث اگرچہ ختم نہیں ہوتا لیکن اس میں شك نہیں کہ جس حصے
حوالہ / References
تبیین الحقائق باب التیمم ، مطبعہ امیریہ بولاق مصر ۱ / ۴۱
فتح القد یر باب التیمم ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۱۹
حلیہ
فتح القد یر باب التیمم ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۱۹
حلیہ
عما یصیبہ وکفی بہ فائدۃ ویعظم وقعہ اذاوجد بعدہ مایکفی للباقی بعد ھذا الاستعمال ولوترکہ وراح ثم وجد ھذالم یکف۔
وقدقال الامام رضی الدین السرخسی فی المحیط فیما اذا(۱) اغتسل وبقیت لمعۃ ثم وجد ماء لایکفی لھا یغسل شیئا من اللمعۃ ان شاء تقلیلا للجنابۃ اھ قال فی الحل یۃ بعد نقلہ فی مسألۃ اخری نظیرہ مانصہ یغسل من اللمعۃ مایتأتی تقلیلا للجنابۃ اھ
وفی خزانۃ المفتین عن شرح الطحاوی للامام الاسبیجابی وان کان لایکفی یغسل مقدار ما یکفیہ حتی تقل الجنابۃ ویتیمم اھ
ومثلہ فی الخلاصۃ وشرح الوقا یۃ وکثیر من الکتب بل قدقال فی الکافی نفسہ جنب(۲) علی ظھرہ لمعۃ ونسی اعضاء وضوئہ وماؤہ یکفی احدھما صرفہ الی ایھما شاء لان کل واحد نجاسۃ الجنابۃ فاعضاء الوضؤ اولی اقامۃ
تك پہنچے گا اس سے فرض ساقط کردے گا۔ اتنی افادیت کافی ہے۔ اس کی وقعت اس وقت اور بڑھ جائےگی جب اس کے بعد اسے اتنا پانی ملے جو اسے استعمال کرنے کے بعد بقیہ اعضا کےلئے کافی ہو۔ اور اگر اسے چھوڑ کر چلاجائے پھر یہ ملے تو ناکافی ہوگا۔ امام رضی الدین سرخسینے محیط میں فرما یا ہے : “ اس صورت میں جبکہ غسل کرلیا اور کچھ جگہ چمکتی رہ گئی پھر اتنا پانی ملا جو اس کےلئے کافی نہیں تو اگر چاہے جنابت کم کرنے کےلئے اس جگہ کا کچھ حصہ دھولے“۔ اھ حلیہ کے اندر اسے نقل کرنے کے بعد ویسے ہی ایك دوسرے مسئلہ میں یہ لکھا : “ چھوٹی ہوئی جگہ سے جو ہوسکے جنابت کم کرنے کی خاطر دھولے “ اھ خزانۃ المفتین میں امام اسبیجابی کی شرح طحاوی سے نقل ہے : “ اگر کافی نہ ہو تو جس قدر کفایت کرے دھولے تاکہ جنابت کم ہوسکے اور تیمم کرے “ ۔ اھ بلکہ خود “ کافی “ میں لکھا ہے : “ جنب کی پشت پر چھوٹی ہوئی جگہ ہے اور اعضائے وضو دھونا بھول گیا اب جو پانی ہے کسی ایك ہی کےلئے کفایت کرسکتا ہے تو دونوں میں سے جس میں چاہے اسے صرف کرے۔ اس لئے کہ ہر ایك نجاست جنابت
وقدقال الامام رضی الدین السرخسی فی المحیط فیما اذا(۱) اغتسل وبقیت لمعۃ ثم وجد ماء لایکفی لھا یغسل شیئا من اللمعۃ ان شاء تقلیلا للجنابۃ اھ قال فی الحل یۃ بعد نقلہ فی مسألۃ اخری نظیرہ مانصہ یغسل من اللمعۃ مایتأتی تقلیلا للجنابۃ اھ
وفی خزانۃ المفتین عن شرح الطحاوی للامام الاسبیجابی وان کان لایکفی یغسل مقدار ما یکفیہ حتی تقل الجنابۃ ویتیمم اھ
ومثلہ فی الخلاصۃ وشرح الوقا یۃ وکثیر من الکتب بل قدقال فی الکافی نفسہ جنب(۲) علی ظھرہ لمعۃ ونسی اعضاء وضوئہ وماؤہ یکفی احدھما صرفہ الی ایھما شاء لان کل واحد نجاسۃ الجنابۃ فاعضاء الوضؤ اولی اقامۃ
تك پہنچے گا اس سے فرض ساقط کردے گا۔ اتنی افادیت کافی ہے۔ اس کی وقعت اس وقت اور بڑھ جائےگی جب اس کے بعد اسے اتنا پانی ملے جو اسے استعمال کرنے کے بعد بقیہ اعضا کےلئے کافی ہو۔ اور اگر اسے چھوڑ کر چلاجائے پھر یہ ملے تو ناکافی ہوگا۔ امام رضی الدین سرخسینے محیط میں فرما یا ہے : “ اس صورت میں جبکہ غسل کرلیا اور کچھ جگہ چمکتی رہ گئی پھر اتنا پانی ملا جو اس کےلئے کافی نہیں تو اگر چاہے جنابت کم کرنے کےلئے اس جگہ کا کچھ حصہ دھولے“۔ اھ حلیہ کے اندر اسے نقل کرنے کے بعد ویسے ہی ایك دوسرے مسئلہ میں یہ لکھا : “ چھوٹی ہوئی جگہ سے جو ہوسکے جنابت کم کرنے کی خاطر دھولے “ اھ خزانۃ المفتین میں امام اسبیجابی کی شرح طحاوی سے نقل ہے : “ اگر کافی نہ ہو تو جس قدر کفایت کرے دھولے تاکہ جنابت کم ہوسکے اور تیمم کرے “ ۔ اھ بلکہ خود “ کافی “ میں لکھا ہے : “ جنب کی پشت پر چھوٹی ہوئی جگہ ہے اور اعضائے وضو دھونا بھول گیا اب جو پانی ہے کسی ایك ہی کےلئے کفایت کرسکتا ہے تو دونوں میں سے جس میں چاہے اسے صرف کرے۔ اس لئے کہ ہر ایك نجاست جنابت
حوالہ / References
محیط رضی الدین السرخسی
حلیہ
خزانۃ المفتین
حلیہ
خزانۃ المفتین
للسنۃ اھ
وبمعناہ فی الھند یۃ عن شرح الز یادات للعتابی فھذا الصرف لیس الاتقلیلا للجنابۃ کماصرح بہ الائمۃ الاسبیجابی ورضی الدین السرخسی وطاھر البخاری وصدر الشریعۃ ومحمد الحلبی و غیرھم والالزم الجمع بین الوظیفتین فعلم انہ لیس باضاعۃ ولایوجب حرمۃ ولاشناعۃ۔
اقول : بل لایبعد ان یعد مستحبا لمافیہ من الخروج عن خلاف الامام الشافعی رضی الله تعالی عنہ والخروج(۱) عن الخلاف مستحب بلاخلاف مالم یلزم مکروہ مذھبہ وانتفاء الکراھۃ قد علم ممااثرنا من النصوص۔
اسی کے مثل خلاصہ شرح وقایہ اور بہت سی کتابوں میں ہے بہی ہے تو اعضائے وضو بہتر ہوں گے تاکہ سنت کی ادائیگی ہوجائے “ ۔ اھ
اسی کے ہم معنی ہندیہ میں عتابی کی شرح ز یادات سے نقل ہے۔ تو یہ صرف کرنا تقلیل جنابت کے لئے ہے جیسا کہ امام اسبیجابی امام رضی الدین سرخسی امام طاہر بخاری امام صدر الشریعۃ امام محمد حلبی و غیرہم نے اس کی صراحت فرمائی ورنہ دونوں عمل (دھونا اور تیمم) جمع کرنا لازم آتا اس سے معلوم ہوا کہ یہ پانی برباد کرنا نہیں اور اس سے کوئی حرمت وشناعت لازم نہیں آتی۔ (ت)
اقول : بلکہ اسے اگر مستحب شمار کیا جائے تو بعید نہ ہوگا کیونکہ اس میں امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہکے اختلاف سے بچنا ہے اور اختلاف سے بچنا جب تك کہ اپنے مذہب کا کوئی مکروہ نہ لازم آئے بلاخلاف مستحب ہے۔ اور کراہت نہ ہونا ان نصوص سے معلوم ہوگیا جو ہم نے نقل کئے۔ (ت)
دلیل ششم : تصریحات ہیں کہ آیہ کریمہ فلم تجدوا ماء میں وہ پانی مراد ہے جس کا استعمال اسے قابل نماز کردے اتنا پانی کہ اسے استعمال کیے پر بھی قابلیت نماز نہ پیدا ہو (اقول : یعنی یوں کہ اتنا پانی جس کے استعمال پر اسے قدرت ہے اور زائد بوجہ فقدان یا ضرر یا تنگی وقت مقدور نہیں تحصیل طہارت کےلئے کافی نہ ہو اس سے ز یادہ کی حاجت ہو ورنہ اگر یہ فی نفسہ مقدار مطلوب پر ہے اور کوئی اور وجہ مانع تو اس پانی کی مورث قابلیت ہونے میں خلل نہیں) نہ ابتداء مانع تیمم ہے نہ انتہاء اس کا ناقض اس کا وجود وعدم برابر ہے۔ بدائع امام ملك العلماء میں ہے :
المراد من الماء المطلق فی الا یۃ
آیت میں مائے مطلق سے مراد مقید ہے اور
وبمعناہ فی الھند یۃ عن شرح الز یادات للعتابی فھذا الصرف لیس الاتقلیلا للجنابۃ کماصرح بہ الائمۃ الاسبیجابی ورضی الدین السرخسی وطاھر البخاری وصدر الشریعۃ ومحمد الحلبی و غیرھم والالزم الجمع بین الوظیفتین فعلم انہ لیس باضاعۃ ولایوجب حرمۃ ولاشناعۃ۔
اقول : بل لایبعد ان یعد مستحبا لمافیہ من الخروج عن خلاف الامام الشافعی رضی الله تعالی عنہ والخروج(۱) عن الخلاف مستحب بلاخلاف مالم یلزم مکروہ مذھبہ وانتفاء الکراھۃ قد علم ممااثرنا من النصوص۔
اسی کے مثل خلاصہ شرح وقایہ اور بہت سی کتابوں میں ہے بہی ہے تو اعضائے وضو بہتر ہوں گے تاکہ سنت کی ادائیگی ہوجائے “ ۔ اھ
اسی کے ہم معنی ہندیہ میں عتابی کی شرح ز یادات سے نقل ہے۔ تو یہ صرف کرنا تقلیل جنابت کے لئے ہے جیسا کہ امام اسبیجابی امام رضی الدین سرخسی امام طاہر بخاری امام صدر الشریعۃ امام محمد حلبی و غیرہم نے اس کی صراحت فرمائی ورنہ دونوں عمل (دھونا اور تیمم) جمع کرنا لازم آتا اس سے معلوم ہوا کہ یہ پانی برباد کرنا نہیں اور اس سے کوئی حرمت وشناعت لازم نہیں آتی۔ (ت)
اقول : بلکہ اسے اگر مستحب شمار کیا جائے تو بعید نہ ہوگا کیونکہ اس میں امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہکے اختلاف سے بچنا ہے اور اختلاف سے بچنا جب تك کہ اپنے مذہب کا کوئی مکروہ نہ لازم آئے بلاخلاف مستحب ہے۔ اور کراہت نہ ہونا ان نصوص سے معلوم ہوگیا جو ہم نے نقل کئے۔ (ت)
دلیل ششم : تصریحات ہیں کہ آیہ کریمہ فلم تجدوا ماء میں وہ پانی مراد ہے جس کا استعمال اسے قابل نماز کردے اتنا پانی کہ اسے استعمال کیے پر بھی قابلیت نماز نہ پیدا ہو (اقول : یعنی یوں کہ اتنا پانی جس کے استعمال پر اسے قدرت ہے اور زائد بوجہ فقدان یا ضرر یا تنگی وقت مقدور نہیں تحصیل طہارت کےلئے کافی نہ ہو اس سے ز یادہ کی حاجت ہو ورنہ اگر یہ فی نفسہ مقدار مطلوب پر ہے اور کوئی اور وجہ مانع تو اس پانی کی مورث قابلیت ہونے میں خلل نہیں) نہ ابتداء مانع تیمم ہے نہ انتہاء اس کا ناقض اس کا وجود وعدم برابر ہے۔ بدائع امام ملك العلماء میں ہے :
المراد من الماء المطلق فی الا یۃ
آیت میں مائے مطلق سے مراد مقید ہے اور
حوالہ / References
فتاوٰی ہند یۃ باب التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۹
ھو المقید وھو الماء المقید لاباحۃ الصلاۃ عند الغسل بہ۔
یہ وہ پانی ہے کہ اگر اس سے دھو یا جائے تو جواز نماز کا فائدہ دے۔ (ت)
تبیین الحقائق امام فخر الدین میں ہے :
الغسل الماموربہ ھو المبیح للصلاۃ ومالا یبیحھا فوجودہ وعدمہ سواء ۔
جس دھونے کا حکم دے د یا گیا ہے یہ وہ ہے جس سے نماز جائز ہوجائے اور جس سے نماز جائز نہ ہو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ (ت)
بنایہ امام بدر محمود میں ہے :
المحدث اوالجنب اذا وجد بعض مایکفیہ من الماء لطھارتہ فعدم وجوب الاستعمال مذھبنا ومذھب مالك واکثر العلماء لان الا یۃ سیقت لبیان الطھارۃ الحکمیۃ فکان قولہ تعالی فلم تجدوا ماء ای طھورا محللا للصلاۃ وبوجود مالایکفی لم یوجد مایحلل ۔
بے وضو یا جنب کو جب اپنی طہارت کےلئے کفایت کرنے والے پانی میں سے کچھ ہی ملے تو اس کا استعمال واجب نہیں۔ یہ ہمارا امام مالك اور اکثر علماء کا مذہب ہے۔ اس لئے کہ آیت کریمہ طہارت حکمیہ کے بیان کےلئے آئی ہے تو ارشاد باری تعالی “ فلم تجدوا ماء “ (پھر تم پانی نہ پاؤ) سے مراد ایسا آب طہارت ہے جو نمازمباح کردے اور ناکافی پانی ہونے سے وہ نا پا یا گیا جو نماز حلال کردے۔ (ت)
فتح محقق حیث اطلق میں مجملا پھر حلیہ میں موضحا مفصلا ہے :
واللفظ لھا قلنا المراد بالماء فی النص مایکفی لازالۃ المانع لانہ سبحنہ امر بغسل جمیع البدن فی حق الجنب ومعلوم ان ذلك بالماء ثم نقل الی التیمم عند عدمہ بقولہ عزوجل فلم تجدوا
یہ وہ پانی ہے کہ اگر اس سے دھو یا جائے تو جواز نماز کا فائدہ دے۔ (ت)
تبیین الحقائق امام فخر الدین میں ہے :
الغسل الماموربہ ھو المبیح للصلاۃ ومالا یبیحھا فوجودہ وعدمہ سواء ۔
جس دھونے کا حکم دے د یا گیا ہے یہ وہ ہے جس سے نماز جائز ہوجائے اور جس سے نماز جائز نہ ہو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ (ت)
بنایہ امام بدر محمود میں ہے :
المحدث اوالجنب اذا وجد بعض مایکفیہ من الماء لطھارتہ فعدم وجوب الاستعمال مذھبنا ومذھب مالك واکثر العلماء لان الا یۃ سیقت لبیان الطھارۃ الحکمیۃ فکان قولہ تعالی فلم تجدوا ماء ای طھورا محللا للصلاۃ وبوجود مالایکفی لم یوجد مایحلل ۔
بے وضو یا جنب کو جب اپنی طہارت کےلئے کفایت کرنے والے پانی میں سے کچھ ہی ملے تو اس کا استعمال واجب نہیں۔ یہ ہمارا امام مالك اور اکثر علماء کا مذہب ہے۔ اس لئے کہ آیت کریمہ طہارت حکمیہ کے بیان کےلئے آئی ہے تو ارشاد باری تعالی “ فلم تجدوا ماء “ (پھر تم پانی نہ پاؤ) سے مراد ایسا آب طہارت ہے جو نمازمباح کردے اور ناکافی پانی ہونے سے وہ نا پا یا گیا جو نماز حلال کردے۔ (ت)
فتح محقق حیث اطلق میں مجملا پھر حلیہ میں موضحا مفصلا ہے :
واللفظ لھا قلنا المراد بالماء فی النص مایکفی لازالۃ المانع لانہ سبحنہ امر بغسل جمیع البدن فی حق الجنب ومعلوم ان ذلك بالماء ثم نقل الی التیمم عند عدمہ بقولہ عزوجل فلم تجدوا
حوالہ / References
بدائع الصنائع باب التیمم مکتبہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۱
تبیین الحقائق باب التیمم ، مکتبہ امیریہ بولاق مصر ۱ / ۴۱
البنا یۃ شرح الہدا یۃ باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ملك سنز فیصل آباد کراچی ، ۱ / ۳۲۳
تبیین الحقائق باب التیمم ، مکتبہ امیریہ بولاق مصر ۱ / ۴۱
البنا یۃ شرح الہدا یۃ باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ملك سنز فیصل آباد کراچی ، ۱ / ۳۲۳
الفاظ حلیہ کے ہیں : ہم کہتے ہیں نص میں پانی سے مراد وہ ہے جو ازالہ مانع کےلئے کافی ہو اس لئے کہ خدائے پاك نے حق جنب میں پورا بدن دھونے کا حکم فرما یا ہے اور معلوم ہے کہ یہ پانی ہی سے ہوگا۔ پھر پانی نہ ہونے کے وقت ارشاد باری عزوجل “ فلم تجدوا
ماء فبالضرورۃ یکون التقد یر ان لم تجدوا ماء تغسلون بہ جمیع ابدانکم جنبا فتیمموا وھذا کمایصدق عند عدم الماء اصلا یصدق عند وجود الماء غیر کاف لذلك فیتعین التیمم فی ھذا کالاول ۔
مآء “ (پھر تم پانی نہ پاؤ) سے حکم تیمم کی طرف منتقل ہوگیا۔ تو ضروری طور پر تقد یر کلام یہ ہوگی : اگر تم ایسا پانی نہ پاؤ جس سے اپنا پورا بدن بحالت جنابت دھو سکو تو تیمم کرو۔ اور یہ بات جیسے بالکل پانی نہ ہونے کے وقت صادق ہے ویسے ہی ناکافی پانی ہونے کے وقت بھی صادق ہے تو اول کی طرح اس میں بھی تیمم متعین ہے۔ (ت)
کفایہ امام جلال الدین پھر بحر محقق زین العابدین میں ہے :
واللفظ لہ الا یۃ سےقت لبیان الطھارۃ الحکم یۃ فکان التقد یر فلم تجدوا ماء محللا للصلاۃ وباستعمال القلیل لم یثبت شیئ من الحل فان الحل حکم والعلۃ غسل الاعضاء کلھا وشیئ من الحکم لایثبت ببعض العلۃ کبعض النصاب فی حق الزکاۃ وبعض الرقبۃ فی حق الکفارۃ کذا ذکر فی کثیر من الشروح۔
الفاظ بحر کے ہیں : آیت طہارت حکمیہ کے بیان کے لئے آئی ہے تو تقد یر کلام یہ ہوگی : پھر تمام نماز کو حلال کرنے والا پانی نہ پاؤ -اور قلیل کے استعمال کرنے سے کچھ بھی حلت ثابت نہ ہوئی کیونکہ حلت حکم ہے اور سارے اعضا کو دھونا علت ہے۔ اور کوئی حکم بعض علت سے ثابت نہیں ہوتا جیسے حق زکاۃ میں بعض نصاب اور حق کفارہ میں بعض بردہ کا حال ہے۔ اسی طرح بہت سی شروح میں مذکور ہے۔ (ت)
اور ظاہرہے کہ جنابت کے ساتھ اگرچہ سو حدث ہوں وضو کرلینا ہرگز اسے نماز کے قابل نہیں کرسکتا تو جب اسی قدر پانی پر قدرت ہے اس کا ہونا نہ
ہونا یکساں۔ اگر اتنا پانی بھی نہ پاتا کیا کرتا۔ صرف تیمم اب بھی صرف تیمم ہی کرے۔
دلیل ہفتم : شرح وقایہ میں جو خود اپنی اور تمام ائمہ کی تصریحات کے خلاف ایك موہم عبارت واقع ہوئی جس سے یہ متبادر کہ جنابت کے ساتھ حدث بھی ہو تو وضو کرے اور جنابت کےلئے تیمم عامہ محشین وکبرائے ناظرین یك زبان اس کی تاویل کی طرف جھکے کہ ساتھ سے مراد بعد ہے یعنی جنب نے تیمم کرلیا اس کے بعد حدث ہوا
ماء فبالضرورۃ یکون التقد یر ان لم تجدوا ماء تغسلون بہ جمیع ابدانکم جنبا فتیمموا وھذا کمایصدق عند عدم الماء اصلا یصدق عند وجود الماء غیر کاف لذلك فیتعین التیمم فی ھذا کالاول ۔
مآء “ (پھر تم پانی نہ پاؤ) سے حکم تیمم کی طرف منتقل ہوگیا۔ تو ضروری طور پر تقد یر کلام یہ ہوگی : اگر تم ایسا پانی نہ پاؤ جس سے اپنا پورا بدن بحالت جنابت دھو سکو تو تیمم کرو۔ اور یہ بات جیسے بالکل پانی نہ ہونے کے وقت صادق ہے ویسے ہی ناکافی پانی ہونے کے وقت بھی صادق ہے تو اول کی طرح اس میں بھی تیمم متعین ہے۔ (ت)
کفایہ امام جلال الدین پھر بحر محقق زین العابدین میں ہے :
واللفظ لہ الا یۃ سےقت لبیان الطھارۃ الحکم یۃ فکان التقد یر فلم تجدوا ماء محللا للصلاۃ وباستعمال القلیل لم یثبت شیئ من الحل فان الحل حکم والعلۃ غسل الاعضاء کلھا وشیئ من الحکم لایثبت ببعض العلۃ کبعض النصاب فی حق الزکاۃ وبعض الرقبۃ فی حق الکفارۃ کذا ذکر فی کثیر من الشروح۔
الفاظ بحر کے ہیں : آیت طہارت حکمیہ کے بیان کے لئے آئی ہے تو تقد یر کلام یہ ہوگی : پھر تمام نماز کو حلال کرنے والا پانی نہ پاؤ -اور قلیل کے استعمال کرنے سے کچھ بھی حلت ثابت نہ ہوئی کیونکہ حلت حکم ہے اور سارے اعضا کو دھونا علت ہے۔ اور کوئی حکم بعض علت سے ثابت نہیں ہوتا جیسے حق زکاۃ میں بعض نصاب اور حق کفارہ میں بعض بردہ کا حال ہے۔ اسی طرح بہت سی شروح میں مذکور ہے۔ (ت)
اور ظاہرہے کہ جنابت کے ساتھ اگرچہ سو حدث ہوں وضو کرلینا ہرگز اسے نماز کے قابل نہیں کرسکتا تو جب اسی قدر پانی پر قدرت ہے اس کا ہونا نہ
ہونا یکساں۔ اگر اتنا پانی بھی نہ پاتا کیا کرتا۔ صرف تیمم اب بھی صرف تیمم ہی کرے۔
دلیل ہفتم : شرح وقایہ میں جو خود اپنی اور تمام ائمہ کی تصریحات کے خلاف ایك موہم عبارت واقع ہوئی جس سے یہ متبادر کہ جنابت کے ساتھ حدث بھی ہو تو وضو کرے اور جنابت کےلئے تیمم عامہ محشین وکبرائے ناظرین یك زبان اس کی تاویل کی طرف جھکے کہ ساتھ سے مراد بعد ہے یعنی جنب نے تیمم کرلیا اس کے بعد حدث ہوا
حوالہ / References
فتح القد یر باب التیمم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۱۹
البحرالرائق ، باب التیمم ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۳۹
البحرالرائق ، باب التیمم ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۳۹
اور پانی قابل وضو حاضر ہے تو اب وضو کرے کہ گزشتہ تیمم بعد کے حدث میں کام نہیں دے سکتا جیسے نہالینے کے بعد حدث ہوتا تو وضو کرنا لازم تھا نہ یہ کہ جنابت کا تیمم رفع حدث سابق کو کافی نہیں تیمم کے ساتھ وضو بھی کرنا پڑے کہ یہ بلاشبہہ مذہب کے خلاف اور اس کا بطلان ظاہر وصاف۔ خلاصہ یہ کہ طہارت وحدث میں جو متأخر ہے سابق کو رفع کردیتا ہے تو جنابت کے ساتھ اگر ہزار حدث ہوں جب تیمم کرے گا سب رفع ہوجائیں گے لہذا واجب کہ عبارت شرح وقایہ کو حدث بعد تیمم پر حمل کریں۔ علماء کا تاویل پر ہجوم روشن دلیل ہے کہ حکم وہ نہیں جو اس کے ظاہر سے مفہوم ولہذا جس نے تاویل نہ پائی اعتراض کرد یا بہرحال اس کا ظاہر کسی نے مسلم نہ رکھا۔
اللھم الا الفاضل القرہ باغی فی حاشیتہ علی شرح الوقا یۃ کماس یاتی ان شاء الله تعالی۔
اقول : والعجب من علامۃ الوز یر سکت عنہ فی الایضاح مع شدۃ ولوعہ بالاعتراض علی الامامین الشارح والماتن رحم الله الجمیع حتی تجاوز الی المؤاخذات اللفظ یۃ وسمی متنہ الفقھی الاصلاح والاصولی تغییر التنقیح غیر انہ لاینسب الی ساکت قول اما اثبات الھند یۃ کلام شرح الوقا یۃ ھذا بالتقر یر فمع قطع النظر عن ان غالب الفتاوی المنسوجۃ علی ھذا المنوال جل ھمتھا الجمع والتلفیق ولذا(۱) رجحت علیھا الشروح الباحثۃ بالتنقیح والتحقیق۔
ہاں مگر فاضل قرہ باغی نے شرح وقایہ پر اپنے حاشیہ میں جیسا کہ ان کا کلام ان شاءالله تعالی آئےگا۔ (ت)
اقول : تعجب ہے کہ علامہ وز یر اس پر ایضاح میں خاموش رہے جبکہ امامین شارح وماتن پر اعتراض سے ان کو بہت ز یادہ دلچسپی ہے-خدا سب پر رحمت فرمائے یہاں تك کہ لفظی گرفتوں تك تجاوز کرگئے اور اپنے فقہی متن کا نام “ اصلاح “ اور اصولی متن کا نام “ تغییر التنقیح “ رکھا مگر (یہاں وہ ساکت رہے تو) ساکت کی طرف تو کوئی قول منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ ہندیہ نے شرح وقایہ کا یہ کلام ایك تقر یر سے ثابت کیا ہے۔ یوں تو اس انداز پر جمع شدہ ز یادہ تر فتاوی کا بڑا مقصد جمع وتلفیق ہوتا ہے اسی لئے تنقیح وتحقیق سے بحث کرنے والی شروح کو ایسے فتاوی پر ترجیح حاصل ہے۔ (ت)
اللھم الا الفاضل القرہ باغی فی حاشیتہ علی شرح الوقا یۃ کماس یاتی ان شاء الله تعالی۔
اقول : والعجب من علامۃ الوز یر سکت عنہ فی الایضاح مع شدۃ ولوعہ بالاعتراض علی الامامین الشارح والماتن رحم الله الجمیع حتی تجاوز الی المؤاخذات اللفظ یۃ وسمی متنہ الفقھی الاصلاح والاصولی تغییر التنقیح غیر انہ لاینسب الی ساکت قول اما اثبات الھند یۃ کلام شرح الوقا یۃ ھذا بالتقر یر فمع قطع النظر عن ان غالب الفتاوی المنسوجۃ علی ھذا المنوال جل ھمتھا الجمع والتلفیق ولذا(۱) رجحت علیھا الشروح الباحثۃ بالتنقیح والتحقیق۔
ہاں مگر فاضل قرہ باغی نے شرح وقایہ پر اپنے حاشیہ میں جیسا کہ ان کا کلام ان شاءالله تعالی آئےگا۔ (ت)
اقول : تعجب ہے کہ علامہ وز یر اس پر ایضاح میں خاموش رہے جبکہ امامین شارح وماتن پر اعتراض سے ان کو بہت ز یادہ دلچسپی ہے-خدا سب پر رحمت فرمائے یہاں تك کہ لفظی گرفتوں تك تجاوز کرگئے اور اپنے فقہی متن کا نام “ اصلاح “ اور اصولی متن کا نام “ تغییر التنقیح “ رکھا مگر (یہاں وہ ساکت رہے تو) ساکت کی طرف تو کوئی قول منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ ہندیہ نے شرح وقایہ کا یہ کلام ایك تقر یر سے ثابت کیا ہے۔ یوں تو اس انداز پر جمع شدہ ز یادہ تر فتاوی کا بڑا مقصد جمع وتلفیق ہوتا ہے اسی لئے تنقیح وتحقیق سے بحث کرنے والی شروح کو ایسے فتاوی پر ترجیح حاصل ہے۔ (ت)
اقول : وعندی مثل المتون عــہ
اقول : میرے نزدیك فقہ میں متون
عــہ اقول : ای کمختصرات(۱) الائمۃ الطحاوی والکرخی والقدوری والکنز والوافی والوقا یۃ والنقا یۃ والاصلاح والمختار ومجمع البحرین ومواھب الرحمن والملتقی وامثالھا الموضوعۃ لنقل المذھب لا کامثال(۲) المنیۃ فانھا لاتعد والفتاوی وقد رأیت التنو یر(۳) یدخل روا یات عن القنیۃ مع مصادمھا للمذھب المنصوص علیہ فی کتب محمد کمابینت بعضہ فی کتابی کفل الفقیہ الفاھم فی حکم قرطاس الدراھم وقد(۴) جھل بعض ضلال الزمان وھو الگنگوھی فی رسالتہ فی الجماعۃ الثانیۃ اذجعل الاشباہ من المتون(۵) ولم یدر السفیہ مامعنی المتن المراد ھنا وزعم بجھلہ ان کل بیضاء شحمۃ وکل سوداء تمرۃ وھذا کتاب الاشباہ مشحونا بالنقول عن الفتاوی وبابحاثہ فمامرتبتہ الافی الفتاوی اوفی الشروح ھذا وقد(۶) عدوا الھدا یۃ من المتون مع انھا شرح بالصورۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : یعنی جیسے مختصر امام طحاوی مختصر امام کرخی مختصر امام قدوری کنزالدقائق وافی وقایہ نقایہ اصلاح مختار مجمع البحرین مواہب الرحمن ملتقی۔ اور ایسی ہی دوسری کتابیں جو نقل مذہب کےلئے لکھی گئی ہیں۔ منیہ جیسی کتاب نہیں کہ اس کا درجہ فتاوی سے ز یادہ نہیں اور میں نے دیکھا کہ تنو یر الابصار میں قنیہ سے نقل شدہ روا یات داخل ہیں جب کہ وہ امام محمد کی کتابوں میں منصوص مذہب سے متصادم ہیں۔ جیسا کہ ان میں سے بعض کا میں نے اپنی کتاب “ کفل الفقیہ الفاھم فی حکم قرطاس الدراھم “ میں بیان کیا ہے ایك گمراہ زمانہ گنگوہی کی بے خبری دیکھیے کہ جماعت ثانیہ سے متعلق اپنے رسالہ میں “ اشباہ “ کو متون سے قرار د یا۔ نادان کو یہ پتا نہیں کہ یہاں متن سے کون سا معنی مراد ہے اور اپنی بے خبری سے یہ سمجھ لیا کہ “ ہر سفید چیز چربی اور ہر سیاہ چیز کھجور ہے “ ۔ ( یا اردو مثل میں : ہر چمکتی چیز سونا ہے ۱۲م۔ الف) یہ کتاب الاشباہ فتاوی کی نقول وابحاث سے بھری ہوئی ہے تو اس کا درجہ فتاوی ہی کا ہے یا شروح کا۔ یہ ذہن نشین رہے اور علما نے ہدایہ کو متون سے شمار کیا ہے باوجودیہ کہ وہ صورۃ شرح ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : میرے نزدیك فقہ میں متون
عــہ اقول : ای کمختصرات(۱) الائمۃ الطحاوی والکرخی والقدوری والکنز والوافی والوقا یۃ والنقا یۃ والاصلاح والمختار ومجمع البحرین ومواھب الرحمن والملتقی وامثالھا الموضوعۃ لنقل المذھب لا کامثال(۲) المنیۃ فانھا لاتعد والفتاوی وقد رأیت التنو یر(۳) یدخل روا یات عن القنیۃ مع مصادمھا للمذھب المنصوص علیہ فی کتب محمد کمابینت بعضہ فی کتابی کفل الفقیہ الفاھم فی حکم قرطاس الدراھم وقد(۴) جھل بعض ضلال الزمان وھو الگنگوھی فی رسالتہ فی الجماعۃ الثانیۃ اذجعل الاشباہ من المتون(۵) ولم یدر السفیہ مامعنی المتن المراد ھنا وزعم بجھلہ ان کل بیضاء شحمۃ وکل سوداء تمرۃ وھذا کتاب الاشباہ مشحونا بالنقول عن الفتاوی وبابحاثہ فمامرتبتہ الافی الفتاوی اوفی الشروح ھذا وقد(۶) عدوا الھدا یۃ من المتون مع انھا شرح بالصورۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : یعنی جیسے مختصر امام طحاوی مختصر امام کرخی مختصر امام قدوری کنزالدقائق وافی وقایہ نقایہ اصلاح مختار مجمع البحرین مواہب الرحمن ملتقی۔ اور ایسی ہی دوسری کتابیں جو نقل مذہب کےلئے لکھی گئی ہیں۔ منیہ جیسی کتاب نہیں کہ اس کا درجہ فتاوی سے ز یادہ نہیں اور میں نے دیکھا کہ تنو یر الابصار میں قنیہ سے نقل شدہ روا یات داخل ہیں جب کہ وہ امام محمد کی کتابوں میں منصوص مذہب سے متصادم ہیں۔ جیسا کہ ان میں سے بعض کا میں نے اپنی کتاب “ کفل الفقیہ الفاھم فی حکم قرطاس الدراھم “ میں بیان کیا ہے ایك گمراہ زمانہ گنگوہی کی بے خبری دیکھیے کہ جماعت ثانیہ سے متعلق اپنے رسالہ میں “ اشباہ “ کو متون سے قرار د یا۔ نادان کو یہ پتا نہیں کہ یہاں متن سے کون سا معنی مراد ہے اور اپنی بے خبری سے یہ سمجھ لیا کہ “ ہر سفید چیز چربی اور ہر سیاہ چیز کھجور ہے “ ۔ ( یا اردو مثل میں : ہر چمکتی چیز سونا ہے ۱۲م۔ الف) یہ کتاب الاشباہ فتاوی کی نقول وابحاث سے بھری ہوئی ہے تو اس کا درجہ فتاوی ہی کا ہے یا شروح کا۔ یہ ذہن نشین رہے اور علما نے ہدایہ کو متون سے شمار کیا ہے باوجودیہ کہ وہ صورۃ شرح ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
والشروح عــہ۱ والفتاوی عــہ۲ فی الفقہ۔
3شروح اور فتاوی کا حال وہی ہے
عـــہ اقول : کشروح(۱) کتب الاصول الجامعین والاصل والز یادات والسیرین للائمۃ وشروح المختصر المذکورۃ المبنیۃ علی التحقیق ومبسوط الامام السرخسی وبدائع ملك العلماء والتبیین والفتح والعنا یۃ والبنا یۃ وغا یۃ البیان والدرا یۃ والکفا یۃ والنھا یۃ والحلیۃ والغنیۃ والبحر والنھر والدرر والدر وجامع المضمرات والجوھرۃ النیرۃ والایضاح وامثالھا وتدخل فیھا عندی حواشی المحققین مثل غنیۃ الشرنبلالی وحواشی الخیر الرملی وردالمحتار ومنحۃ الخالق واشباھھا لا کالمجتبی(۲) وجامع الرموز وابی المکارم ونظرائھا بل ولا کالسراج الوھاج ومسکین ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ اقول مثل الخانیۃ(۳) والخلاصۃ والبزاز یۃ وخزانۃ المفتین وجواھر الفتاوی والمحیطات والذخیرۃ والواقعات للناطفی وللصدر الشھید ونوازل الفقیہ ومجموع النوازل والولو الجیۃ والظھیریۃ والعمدۃ والکبری والصغری وتتمۃ الفتاوی والصیرفیۃ وفصول العمادی وفصول الاستروشنی
اقول : جیسے کتب اصول کی شرحیں جو ائمہ نے لکھیں (کتب اصول یہ ہیں : جامع کبیر جامع صغیر مبسوط ز یادات سیر کبیر سیر صغیر) اور (حاشیہ بالا میں) مذکورہ مختصرات کی شرحیں جو تحقیق پر مبنی ہوں -اور مبسوط امام سرخسی بدائع ملك العلماء تبیین الحقائق فتح القد یر عنایہ بنایہ غا یۃ البیان درایہ کفایہ نہایہ حلیہ غنیہ البحرالرائق النہر الفائق درراحکام درمختار جامع المضمرات جوہرہ نیرہ ایضاح۔ اور ایسی ہی دیگرکتابیں- میرے نزدیك ان ہی میں محققین کے حواشی بھی داخل ہیں جیسے غنیہ شرنبلالی حواشی خیر الدین رملی رد المحتار منحۃ الخالق اور ایسے ہی حواشی -مجتبی جامع الرموز شرح ابی المکارم جیسی کتابیں نہیں -بلکہ سراج وہاج اور شرح مسکین بھی نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : جیسے خانیہ خلاصہ بزازیہ خزانۃ المفتین جواہر الفتاوی محیطات (محیط نام کی متعدد کتابیں ہیں) ذخیرہ واقعات ناطفی واقعات صدر شہید نوازل فقیہ مجموع النوازل ولوالجیہ ظہیریہ عمدہ کبری صغری تتمہ الفتاوی صیرفیہ فصول عمادی فصول استروشنی جامع صغار تاتارخانیہ ہندیہ (باقی برصفحہ ائندہ)
3شروح اور فتاوی کا حال وہی ہے
عـــہ اقول : کشروح(۱) کتب الاصول الجامعین والاصل والز یادات والسیرین للائمۃ وشروح المختصر المذکورۃ المبنیۃ علی التحقیق ومبسوط الامام السرخسی وبدائع ملك العلماء والتبیین والفتح والعنا یۃ والبنا یۃ وغا یۃ البیان والدرا یۃ والکفا یۃ والنھا یۃ والحلیۃ والغنیۃ والبحر والنھر والدرر والدر وجامع المضمرات والجوھرۃ النیرۃ والایضاح وامثالھا وتدخل فیھا عندی حواشی المحققین مثل غنیۃ الشرنبلالی وحواشی الخیر الرملی وردالمحتار ومنحۃ الخالق واشباھھا لا کالمجتبی(۲) وجامع الرموز وابی المکارم ونظرائھا بل ولا کالسراج الوھاج ومسکین ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ اقول مثل الخانیۃ(۳) والخلاصۃ والبزاز یۃ وخزانۃ المفتین وجواھر الفتاوی والمحیطات والذخیرۃ والواقعات للناطفی وللصدر الشھید ونوازل الفقیہ ومجموع النوازل والولو الجیۃ والظھیریۃ والعمدۃ والکبری والصغری وتتمۃ الفتاوی والصیرفیۃ وفصول العمادی وفصول الاستروشنی
اقول : جیسے کتب اصول کی شرحیں جو ائمہ نے لکھیں (کتب اصول یہ ہیں : جامع کبیر جامع صغیر مبسوط ز یادات سیر کبیر سیر صغیر) اور (حاشیہ بالا میں) مذکورہ مختصرات کی شرحیں جو تحقیق پر مبنی ہوں -اور مبسوط امام سرخسی بدائع ملك العلماء تبیین الحقائق فتح القد یر عنایہ بنایہ غا یۃ البیان درایہ کفایہ نہایہ حلیہ غنیہ البحرالرائق النہر الفائق درراحکام درمختار جامع المضمرات جوہرہ نیرہ ایضاح۔ اور ایسی ہی دیگرکتابیں- میرے نزدیك ان ہی میں محققین کے حواشی بھی داخل ہیں جیسے غنیہ شرنبلالی حواشی خیر الدین رملی رد المحتار منحۃ الخالق اور ایسے ہی حواشی -مجتبی جامع الرموز شرح ابی المکارم جیسی کتابیں نہیں -بلکہ سراج وہاج اور شرح مسکین بھی نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : جیسے خانیہ خلاصہ بزازیہ خزانۃ المفتین جواہر الفتاوی محیطات (محیط نام کی متعدد کتابیں ہیں) ذخیرہ واقعات ناطفی واقعات صدر شہید نوازل فقیہ مجموع النوازل ولوالجیہ ظہیریہ عمدہ کبری صغری تتمہ الفتاوی صیرفیہ فصول عمادی فصول استروشنی جامع صغار تاتارخانیہ ہندیہ (باقی برصفحہ ائندہ)
مثل عــہ۱ الصحاح عـــہ۲ والسنن عـــہ۳۔
جو حدیث میں صحاح سنن
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وجامع الصغار والتاتارخانیۃ والھند یۃ وامثالھا ومنھا المنیۃ کماذکرت لا کالقن یۃ(۱) والرحمانیۃ وخزانۃ الروا یات ومجمع البرکات وبرھانہ اما المعروضات(۲) فمابنی منھا علی التنقر والتنقید والتنقیح فھی عندی فی مرتبۃ الشروح کالفتاوی الخیر یۃ والعقود الدر یۃ للعلامۃ شامی واطمع ان یسلك ربی بمنہ وکرمہ فتاوای ھذہ فی سلکھا فللارض من کأس الکرام نصیب اما فتاوی(۳) الطوری والمحقق ابن نجیم فقدقیل انہ لایعمد علیھا والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عـــہ۱ الثلثۃ بالثلثۃ علی الولاء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عـــہ ۲ کصحاح(۴)الشیخین والمنتقی وابن السکن والمختارۃ وعندی منھا موطا مالك ویتلوھاابن حبان لا کالمستدرك ۱۲ منہ غفرلہ
(م)عـــہ۳ کسنن(۵) ابی داؤد والنسائی والترمذی وفی مرتبتھا مسند الرؤ یانی ومثلھا بل فوق(۶)
اورایسی ہی کتابیں- ان ہی فتاوی میں منیہ بھی ہے جیسا کہ میں نے ذکر کیا -قنیہ رحمانیہ خزانۃ الروا یات مجمع البرکات اور ان کی برہان جیسی کتابیں نہیں۔ لیکن معروضات تو ان میں جو چھان بین اور تنقید وتنقیح پر مبنی ہوں وہ میرے نزدیك شروح کے درجہ میں ہیں جیسے فتاوی خیریہ اور علامہ شامی کی العقود الدریہ- اور مجھے امید ہے کہ میرا رب اپنے احسان وکرم سے میرے ان فتاوی کو بھی ان ہی کی سلك میں منسلك فرمائے گا کہ اہل کرم کے جام سے زمین کو بھی حصہ مل جاتا ہے۔ رہے فتاوی طوری اور فتاوی محقق ابن نجیم تو ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ قابل اعتماد نہیں -اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
تینوں تینوں کے مقابل پے بہ پے ہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت) (یعنی سب سے معتبر صحاح پھر سنن پھر مسانید اسی طرح متون پھر شروح پھر فتاوی۔ م الف)جیسے صحاح شیخین ومنتقی وابن السکن ومختارہ -اور میرے نزدیك ان ہی میں مؤطا امام مالك بھی ہے اور انہی سے متصل صحیح ابن حبان بھی- مستدرك جیسی کتب نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)جیسے ابوداؤد نسائی اور ترمذی کی سنن- ان ہی کے درجہ میں مسندرو یانی بھی ہے اور ان ہی کے مثل بلکہ ان میں
(باقی برصفحہ ائندہ)
جو حدیث میں صحاح سنن
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
وجامع الصغار والتاتارخانیۃ والھند یۃ وامثالھا ومنھا المنیۃ کماذکرت لا کالقن یۃ(۱) والرحمانیۃ وخزانۃ الروا یات ومجمع البرکات وبرھانہ اما المعروضات(۲) فمابنی منھا علی التنقر والتنقید والتنقیح فھی عندی فی مرتبۃ الشروح کالفتاوی الخیر یۃ والعقود الدر یۃ للعلامۃ شامی واطمع ان یسلك ربی بمنہ وکرمہ فتاوای ھذہ فی سلکھا فللارض من کأس الکرام نصیب اما فتاوی(۳) الطوری والمحقق ابن نجیم فقدقیل انہ لایعمد علیھا والله تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عـــہ۱ الثلثۃ بالثلثۃ علی الولاء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عـــہ ۲ کصحاح(۴)الشیخین والمنتقی وابن السکن والمختارۃ وعندی منھا موطا مالك ویتلوھاابن حبان لا کالمستدرك ۱۲ منہ غفرلہ
(م)عـــہ۳ کسنن(۵) ابی داؤد والنسائی والترمذی وفی مرتبتھا مسند الرؤ یانی ومثلھا بل فوق(۶)
اورایسی ہی کتابیں- ان ہی فتاوی میں منیہ بھی ہے جیسا کہ میں نے ذکر کیا -قنیہ رحمانیہ خزانۃ الروا یات مجمع البرکات اور ان کی برہان جیسی کتابیں نہیں۔ لیکن معروضات تو ان میں جو چھان بین اور تنقید وتنقیح پر مبنی ہوں وہ میرے نزدیك شروح کے درجہ میں ہیں جیسے فتاوی خیریہ اور علامہ شامی کی العقود الدریہ- اور مجھے امید ہے کہ میرا رب اپنے احسان وکرم سے میرے ان فتاوی کو بھی ان ہی کی سلك میں منسلك فرمائے گا کہ اہل کرم کے جام سے زمین کو بھی حصہ مل جاتا ہے۔ رہے فتاوی طوری اور فتاوی محقق ابن نجیم تو ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ قابل اعتماد نہیں -اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
تینوں تینوں کے مقابل پے بہ پے ہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت) (یعنی سب سے معتبر صحاح پھر سنن پھر مسانید اسی طرح متون پھر شروح پھر فتاوی۔ م الف)جیسے صحاح شیخین ومنتقی وابن السکن ومختارہ -اور میرے نزدیك ان ہی میں مؤطا امام مالك بھی ہے اور انہی سے متصل صحیح ابن حبان بھی- مستدرك جیسی کتب نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)جیسے ابوداؤد نسائی اور ترمذی کی سنن- ان ہی کے درجہ میں مسندرو یانی بھی ہے اور ان ہی کے مثل بلکہ ان میں
(باقی برصفحہ ائندہ)
والمسانید عــــہ۱ فی الحدیث انما یشعر باعتمادہ٭ علی مایتقرر من مرادہ٭لابخصوص العمل علی ظاھر مفادہ٭والله اعلم بنیات عبادہ٭
اور مسانید کا حال ہے۔ مگر اس سے قطع نظر تقر یر ہندیہ سے یہی پتا چلتا ہے کہ اس کا اعتماد اس مراد پر ہے جو اس تقریر سے ثابت ہوتی ہے خاص اس کے ظاہر مفاد پر عمل معتمد نہیں -اور خدا ہی اپنے بندوں کی نیتیں خوب جانتا ہے۔ (ت)
شرح نقایہ علامہ برجندی میں بعد نقل کلام شرح وقایہ وبحث وجواب جس کا ذکر ان شاءالله تعالی آگے آتا ہے حکم مذکور پر انکار کرد یا
حیث قال اجنب ولم یوجد ناقض الوضوء ھل یجب التیمم والتوضئ جمیعا اذا احدث ومعہ ماء یکفی للوضؤ فقط فیہ تردد والظاھر انہ اذاتیمم للجنابۃ لاحاجۃ الی
ان کے الفاظ یہ ہیں : جنابت ہوئی اور کوئی ناقض وضو نہ پا یا گیا تو کیا اس پر تیمم اور وضو دونوں ہی واجب ہوں گے جبکہ اسے حدث ہوا ہو اور اس کے پاس اتنا ہی پانی ہے جو صرف وضو کے لئے کفایت کرسکے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بعضھا شرح معانی الاثار للطحاوی وکتاب الا ثار لمحمد والحجج لعیسی بن ابان عن محمد وکتاب الخراج لابی یوسف رضی الله تعالی عن الجمیع ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عـــہ۱ : اجلھا(۱) مسند الامام احمد ومن ھذۃ الدرجۃ المصنفان ومعاجیم الطبرانی لا کمسندالفردوس وامثالہ ولیس مسندا بھذا المعنی بل ھو تخریج احادیث الفردوس ومن احب تمامہ فلینظر رسالتی مدارج طبقات الحدیث ۱۲ منہ غفرلہ (م)
بعض سے بالاتر امام طحاوی کی شرح معانی الآثار امام محمد کی کتاب الآثار امام محمد سے روایت شدہ حجج عیسی بن ابان اور امام ابویوسف کی کتاب الخراج ہے۔ اللہتعالی سب سے راضی ہو۔ (ت)
ان میں سب سے بزرگ تر مسند امام احمد ہے اور اسی درجہ میں دونوں مصنف (مصنف عبدالرزاق ومصنف ابن ابی شیبہ) اور طبرانی کی معجم کبیر وصغیر واوسط بھی ہیں۔ مسند الفردوس اور اس جیسی کتابیں نہیں۔ وہ اس معنی میں مسند ہے بھی نہیں۔ بلکہ اس میں احادیث فردوس کی تخریج ہے۔ اس سے متعلق پوری بحث کا جسے شوق ہو وہ میرا رسالہ “ مدارج طبقات الحدیث “ ملاحظہ کرے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اور مسانید کا حال ہے۔ مگر اس سے قطع نظر تقر یر ہندیہ سے یہی پتا چلتا ہے کہ اس کا اعتماد اس مراد پر ہے جو اس تقریر سے ثابت ہوتی ہے خاص اس کے ظاہر مفاد پر عمل معتمد نہیں -اور خدا ہی اپنے بندوں کی نیتیں خوب جانتا ہے۔ (ت)
شرح نقایہ علامہ برجندی میں بعد نقل کلام شرح وقایہ وبحث وجواب جس کا ذکر ان شاءالله تعالی آگے آتا ہے حکم مذکور پر انکار کرد یا
حیث قال اجنب ولم یوجد ناقض الوضوء ھل یجب التیمم والتوضئ جمیعا اذا احدث ومعہ ماء یکفی للوضؤ فقط فیہ تردد والظاھر انہ اذاتیمم للجنابۃ لاحاجۃ الی
ان کے الفاظ یہ ہیں : جنابت ہوئی اور کوئی ناقض وضو نہ پا یا گیا تو کیا اس پر تیمم اور وضو دونوں ہی واجب ہوں گے جبکہ اسے حدث ہوا ہو اور اس کے پاس اتنا ہی پانی ہے جو صرف وضو کے لئے کفایت کرسکے۔
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
بعضھا شرح معانی الاثار للطحاوی وکتاب الا ثار لمحمد والحجج لعیسی بن ابان عن محمد وکتاب الخراج لابی یوسف رضی الله تعالی عن الجمیع ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عـــہ۱ : اجلھا(۱) مسند الامام احمد ومن ھذۃ الدرجۃ المصنفان ومعاجیم الطبرانی لا کمسندالفردوس وامثالہ ولیس مسندا بھذا المعنی بل ھو تخریج احادیث الفردوس ومن احب تمامہ فلینظر رسالتی مدارج طبقات الحدیث ۱۲ منہ غفرلہ (م)
بعض سے بالاتر امام طحاوی کی شرح معانی الآثار امام محمد کی کتاب الآثار امام محمد سے روایت شدہ حجج عیسی بن ابان اور امام ابویوسف کی کتاب الخراج ہے۔ اللہتعالی سب سے راضی ہو۔ (ت)
ان میں سب سے بزرگ تر مسند امام احمد ہے اور اسی درجہ میں دونوں مصنف (مصنف عبدالرزاق ومصنف ابن ابی شیبہ) اور طبرانی کی معجم کبیر وصغیر واوسط بھی ہیں۔ مسند الفردوس اور اس جیسی کتابیں نہیں۔ وہ اس معنی میں مسند ہے بھی نہیں۔ بلکہ اس میں احادیث فردوس کی تخریج ہے۔ اس سے متعلق پوری بحث کا جسے شوق ہو وہ میرا رسالہ “ مدارج طبقات الحدیث “ ملاحظہ کرے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
التوضی ولابد للحکم بالاحتیاج الیھما من روا یۃ صریحۃ ۔
اس بارے میں تردد ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ وہ جب جنابت کا تیمم کرلے تو وضو کی کوئی ضرورت نہیں۔ دونوں ہی کی ضرورت ہونے کا حکم کرنے کےلئے کوئی صریح روایت ہونا ضروری ہے۔ (ت)
اقول : فاضل۱ شارح کو تردد ہوا اور وضو کی حاجت نہ ہونے کو ظاہر رکھا اور جانب خلاف کسی روایت صریحہ کا انتظار کیا حالانکہ یہ محل جزم ہے اور روا یات صریحہ اس طرف موجود کماعرفت وتعرف ان شاء الله تعالی (جیسا کہ معلوم ہوا اور بمشیت خدائے برتر آئندہ بھی معلوم ہوگا۔ ت) اسی کے قریب حاشیہ درمختار میں سید علامہ احمد طحطاوی کا قول ہے :
فی صدر الشریعۃ اذاکان مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء یجب علیہ الوضوء ای اذاوجد الحدث بعد التیمم للجنابۃ کمانص علیہ القھستانی وظاھر ھذا انہ اذاوجد حین التیمم المذکور ماء یکفی للوضوء لایتوضأ بہ للاستغناء بھذا التیمم عنہ وانما یستعملہ اذاوجد الحدث بعد ذلك وھو صریح عبارۃ القھستانی اھ فنقل عنہ ما یاتی انفا۔
اقول : لم(۲) یصل فھمی الی سرجعلہ ظاھر نص القھستانی ثم صریح عبارتہ وھو(۳) صریحھا لاشك ثم(۴) انما عاقہ عن الجزم بہ قصر نسبتہ علی القھستانی وماھولہ بل
شرح صدر الشریعۃ میں ہے : “ جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے تو اس پر وضو واجب ہے “ - یعنی جب تیمم جنابت کے بعد حدث پا یا گیا ہو جیسا کہ اس پر قہستانی نے نص کیا ہے- اس کا ظاہر یہ ہے کہ جب تیمم مذکور کے وقت وضو کےلئے کفایت کرجانے والا پانی ملے تو اس سے وضو نہیں کرےگا کیونکہ اس تیمم کی وجہ سے اس وضو سے بے نیازی ہے وہ پانی اسی وقت استعمال کرےگا جب اس کے بعد حدث پا یا جائے۔ یہی قہستانی کی صریح عبارت ہے “ ۔ اور اس کے بعد قہستانی کی وہ عبارت نقل کی جو ابھی آرہی ہے۔ (ت)
اقول : انہوں نے پہلے اسے نص قہستانی کا ظاہر کہا پھر اس کو صریح عبارت کہا اس میں کیا رمز ہے میرے فہم کی رسائی وہاں تك نہ ہوئی۔ یقینا یہ قہستانی کی صریح عبارت ہے۔ اس پر جزم سے ان کےلئے یہی چیز مانع ہوئی کہ اس کی نسبت
اس بارے میں تردد ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ وہ جب جنابت کا تیمم کرلے تو وضو کی کوئی ضرورت نہیں۔ دونوں ہی کی ضرورت ہونے کا حکم کرنے کےلئے کوئی صریح روایت ہونا ضروری ہے۔ (ت)
اقول : فاضل۱ شارح کو تردد ہوا اور وضو کی حاجت نہ ہونے کو ظاہر رکھا اور جانب خلاف کسی روایت صریحہ کا انتظار کیا حالانکہ یہ محل جزم ہے اور روا یات صریحہ اس طرف موجود کماعرفت وتعرف ان شاء الله تعالی (جیسا کہ معلوم ہوا اور بمشیت خدائے برتر آئندہ بھی معلوم ہوگا۔ ت) اسی کے قریب حاشیہ درمختار میں سید علامہ احمد طحطاوی کا قول ہے :
فی صدر الشریعۃ اذاکان مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء یجب علیہ الوضوء ای اذاوجد الحدث بعد التیمم للجنابۃ کمانص علیہ القھستانی وظاھر ھذا انہ اذاوجد حین التیمم المذکور ماء یکفی للوضوء لایتوضأ بہ للاستغناء بھذا التیمم عنہ وانما یستعملہ اذاوجد الحدث بعد ذلك وھو صریح عبارۃ القھستانی اھ فنقل عنہ ما یاتی انفا۔
اقول : لم(۲) یصل فھمی الی سرجعلہ ظاھر نص القھستانی ثم صریح عبارتہ وھو(۳) صریحھا لاشك ثم(۴) انما عاقہ عن الجزم بہ قصر نسبتہ علی القھستانی وماھولہ بل
شرح صدر الشریعۃ میں ہے : “ جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے تو اس پر وضو واجب ہے “ - یعنی جب تیمم جنابت کے بعد حدث پا یا گیا ہو جیسا کہ اس پر قہستانی نے نص کیا ہے- اس کا ظاہر یہ ہے کہ جب تیمم مذکور کے وقت وضو کےلئے کفایت کرجانے والا پانی ملے تو اس سے وضو نہیں کرےگا کیونکہ اس تیمم کی وجہ سے اس وضو سے بے نیازی ہے وہ پانی اسی وقت استعمال کرےگا جب اس کے بعد حدث پا یا جائے۔ یہی قہستانی کی صریح عبارت ہے “ ۔ اور اس کے بعد قہستانی کی وہ عبارت نقل کی جو ابھی آرہی ہے۔ (ت)
اقول : انہوں نے پہلے اسے نص قہستانی کا ظاہر کہا پھر اس کو صریح عبارت کہا اس میں کیا رمز ہے میرے فہم کی رسائی وہاں تك نہ ہوئی۔ یقینا یہ قہستانی کی صریح عبارت ہے۔ اس پر جزم سے ان کےلئے یہی چیز مانع ہوئی کہ اس کی نسبت
حوالہ / References
شرح النقا یۃ للبرجندی فصل فی التیمم مطبع نولکشور ۱ / ۴۴
طحطاوی علی الدرالمختار باب التیمم مطبوعہ بیروت ، ۱ / ۱۳۴
طحطاوی علی الدرالمختار باب التیمم مطبوعہ بیروت ، ۱ / ۱۳۴
للامام الجلیل الاسبیجابی۔
قہستانی تك محدود ہے حالانکہ یہ قہستانی کا کلام نہیں بلکہ امام جلیل اسبیجابی کا ہے۔ (ت)
یہ سات۷ دلائل ہیں اور بحمداللہتعالی روشن وکامل ہیں اب صریح تر نصوص جزئیہ لیجئے وبالله التوفیق۔
نص اول : محقق علامہ محمد بن فراموز دررالحکام میں فرماتے ہیں :
لوان رجلا انتبہ من النوم محتملا وکان لہ ماء یکفی للوضوء لاللغسل تیمم ولم یجب علیہ الوضوء عندنا خلافا للشافعی ۔
اگر کوئی شخص احتلام کی حالت میں نیند سے بیدار ہو اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو صرف وضو کےلئے کافی ہے غسل کےلئے نہیں تو وہ تیمم کرے گا ہمارے نزدیك - بخلاف امام شافعی کے- اس پر وضو واجب نہیں۔ (ت)
صریح تصریح ہے کہ سوتے سے محتلم اٹھا جنابت وحدث دونوں تھے اور وضو کے قابل پانی موجود وضو نہ کرے صرف تیمم کرے اور یہ کہ جنب کو حدث کےلئے وضو کا حکم دینا ہمارا مذہب نہیں امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہکا مذہب ہے۔
نص دوم : شرح مختصر امام اجل طحاوی للامام علی الاسبیجابی و غیرہ پھر جامع الرموز پھر طحطاوی علی الدر پھر ردالمحتار میں ہے :
الجنب اذاکان لہ ماء یکفی لبعض اعضائہ اوالمحدث عــہ للوضوء تیمم ولم یجب علیہ
جنب کے پاس جب اتنا ہی پانی ہو جو اس کے بعض اعضاء کےلئے کفایت کرسکے۔ یا محدث کو
عــہ ھکذا ھو فی جامع الرموز وعنہ فی ردالمحتار ووقع نسخۃ ط المصر یۃ طبع المیری بدون لفظ المحدث وھو یشبہ التکرار فما اعضاء الوضوء الابعض اعضاء الجنب ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یہ لفظ اسی طرح جامع الرموز میں ہے اور اس سے ردالمحتار میں بھی ایسے ہی نقل ہے اور طحطاوی کے مصری نسخہ طبع میری میں لفظ “ محدث “ کے بغیر ہے اور اس سے تکرار سی معلوم ہوتی ہے اس لئے کہ اعضائے وضو جنب کے بعض اعضاء ہی تو ہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
قہستانی تك محدود ہے حالانکہ یہ قہستانی کا کلام نہیں بلکہ امام جلیل اسبیجابی کا ہے۔ (ت)
یہ سات۷ دلائل ہیں اور بحمداللہتعالی روشن وکامل ہیں اب صریح تر نصوص جزئیہ لیجئے وبالله التوفیق۔
نص اول : محقق علامہ محمد بن فراموز دررالحکام میں فرماتے ہیں :
لوان رجلا انتبہ من النوم محتملا وکان لہ ماء یکفی للوضوء لاللغسل تیمم ولم یجب علیہ الوضوء عندنا خلافا للشافعی ۔
اگر کوئی شخص احتلام کی حالت میں نیند سے بیدار ہو اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو صرف وضو کےلئے کافی ہے غسل کےلئے نہیں تو وہ تیمم کرے گا ہمارے نزدیك - بخلاف امام شافعی کے- اس پر وضو واجب نہیں۔ (ت)
صریح تصریح ہے کہ سوتے سے محتلم اٹھا جنابت وحدث دونوں تھے اور وضو کے قابل پانی موجود وضو نہ کرے صرف تیمم کرے اور یہ کہ جنب کو حدث کےلئے وضو کا حکم دینا ہمارا مذہب نہیں امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہکا مذہب ہے۔
نص دوم : شرح مختصر امام اجل طحاوی للامام علی الاسبیجابی و غیرہ پھر جامع الرموز پھر طحطاوی علی الدر پھر ردالمحتار میں ہے :
الجنب اذاکان لہ ماء یکفی لبعض اعضائہ اوالمحدث عــہ للوضوء تیمم ولم یجب علیہ
جنب کے پاس جب اتنا ہی پانی ہو جو اس کے بعض اعضاء کےلئے کفایت کرسکے۔ یا محدث کو
عــہ ھکذا ھو فی جامع الرموز وعنہ فی ردالمحتار ووقع نسخۃ ط المصر یۃ طبع المیری بدون لفظ المحدث وھو یشبہ التکرار فما اعضاء الوضوء الابعض اعضاء الجنب ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یہ لفظ اسی طرح جامع الرموز میں ہے اور اس سے ردالمحتار میں بھی ایسے ہی نقل ہے اور طحطاوی کے مصری نسخہ طبع میری میں لفظ “ محدث “ کے بغیر ہے اور اس سے تکرار سی معلوم ہوتی ہے اس لئے کہ اعضائے وضو جنب کے بعض اعضاء ہی تو ہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
درر الحکام لمولٰی خسرو باب التیمم المکتبۃ الکاملیہ بیروت ۱ / ۴۹
صرفہ الیہ الا اذا تیمم للجنابۃ ثم وقع منہ حدث موجب للوضوءفانہ یجب علیہ الوضوء حینئذ لانہ قدرعلی ماء کان لہ ۔
وضو کےلئے۔ تو وہ تیمم کرے اور اس پر اس پانی کو بعض اعضاء کےلئے صرف کرنا واجب نہیں مگر جب جنابت کا تیمم کرلے پھر اس سے کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے تو اب اس پر وضو واجب ہے اس لئے کہ وہ وضو کےلئے کافی پانی پر قادر ہے۔ (ت)
صاف ارشاد ہے کہ جنب کو حدث کےلئے وضو صرف اسی وقت ہے کہ جنابت کا تیمم کرچکنے کے بعد حدث ہو اس سے پہلے جتنے بھی حدث تھے ان کےلئے وضو کی اصلا حاجت نہیں۔
اقول : یعنی دونوں حالتوں میں جنب مذکور پر حدث کےلئے وضو نہیں۔ جب تك تیمم نہ کیا تھا جنب تھا اور حدث کےلئے وضو کا حکم نہ تھا اب کہ تیمم کرلیا پھر حدث ہوا اور اس پر حکم وضو آ یا اس وقت وہ جنب نہیں کہ جنابت کےلئے تیمم کرچکا اور وہ وقوع حدث اصغر سے نہیں ٹوٹ سکتا عبارت مذکورہ شرح طحاوی کا تتمہ ہے ولم یجب علیہ التیمم لانہ بالتیمم خرج عن الجنابۃ الی ان یجد ماء کافیا للغسل (اور اس پر تیمم واجب نہیں کیونکہ وہ تیمم کرکے جنابت سے نکل چکا ہے یہاں تك کہ غسل کےلئے کافی پانی پائے۔ ت)
نص سومعــہ : فتاوی امام اجل فقیہ النفس فخر الملۃ والدین قاضی خان میں ہے :
جنب تیمم للظھر وصلی ثم احدث فحضرتہ العصر ومعہ ماء یکفی للوضوء فانہ یتوضأ لان الجنابۃ
کسی جنب نے ظہر کےلئے تیمم کیا اور نماز پڑھی پھر اسے حدث ہوا تو نماز عصر کا وقت آ یا اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو وضو کےلئے کافی ہو تو وہ وضو کرے گا
عــــہ : ردالمحتار کی عبارت کہ دلیل پنجم میں گزری کہ جس جنب کو صرف وضو کے قابل پانی ملے اس پر وضو فقط اس وقت ہے کہ تیمم جنابت کے بعد حدث ہو اگر اس تیمم سے پہلے حدث تھا اس کےلئے وضو عبث ہے گو یا نص چہارم ہے کہ نصوص ائمہ واکابر ہی اس کے مأخذ ہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
وضو کےلئے۔ تو وہ تیمم کرے اور اس پر اس پانی کو بعض اعضاء کےلئے صرف کرنا واجب نہیں مگر جب جنابت کا تیمم کرلے پھر اس سے کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے تو اب اس پر وضو واجب ہے اس لئے کہ وہ وضو کےلئے کافی پانی پر قادر ہے۔ (ت)
صاف ارشاد ہے کہ جنب کو حدث کےلئے وضو صرف اسی وقت ہے کہ جنابت کا تیمم کرچکنے کے بعد حدث ہو اس سے پہلے جتنے بھی حدث تھے ان کےلئے وضو کی اصلا حاجت نہیں۔
اقول : یعنی دونوں حالتوں میں جنب مذکور پر حدث کےلئے وضو نہیں۔ جب تك تیمم نہ کیا تھا جنب تھا اور حدث کےلئے وضو کا حکم نہ تھا اب کہ تیمم کرلیا پھر حدث ہوا اور اس پر حکم وضو آ یا اس وقت وہ جنب نہیں کہ جنابت کےلئے تیمم کرچکا اور وہ وقوع حدث اصغر سے نہیں ٹوٹ سکتا عبارت مذکورہ شرح طحاوی کا تتمہ ہے ولم یجب علیہ التیمم لانہ بالتیمم خرج عن الجنابۃ الی ان یجد ماء کافیا للغسل (اور اس پر تیمم واجب نہیں کیونکہ وہ تیمم کرکے جنابت سے نکل چکا ہے یہاں تك کہ غسل کےلئے کافی پانی پائے۔ ت)
نص سومعــہ : فتاوی امام اجل فقیہ النفس فخر الملۃ والدین قاضی خان میں ہے :
جنب تیمم للظھر وصلی ثم احدث فحضرتہ العصر ومعہ ماء یکفی للوضوء فانہ یتوضأ لان الجنابۃ
کسی جنب نے ظہر کےلئے تیمم کیا اور نماز پڑھی پھر اسے حدث ہوا تو نماز عصر کا وقت آ یا اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو وضو کےلئے کافی ہو تو وہ وضو کرے گا
عــــہ : ردالمحتار کی عبارت کہ دلیل پنجم میں گزری کہ جس جنب کو صرف وضو کے قابل پانی ملے اس پر وضو فقط اس وقت ہے کہ تیمم جنابت کے بعد حدث ہو اگر اس تیمم سے پہلے حدث تھا اس کےلئے وضو عبث ہے گو یا نص چہارم ہے کہ نصوص ائمہ واکابر ہی اس کے مأخذ ہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
حوالہ / References
جامع الرموز باب التیمم مطبعہ کریمیہ قزان ا یران ۱ / ۶۴
السعا یۃ شرح الوقا یۃ ، باب التیمم ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۴۹۱
السعا یۃ شرح الوقا یۃ ، باب التیمم ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۴۹۱
قد زالت بالتیمم فاذا احدث بعد التیمم ومعہ ماء یکفی للوضوء فانہ یتوضأ بہ فان توضأ للعصر وصلی ثم مربماء وعلم بہ ولم یغتسل حتی حضرتہ المغرب وقداحدث اولم یحدث ومعہ ماء قدر مایتوضأ بہ فانہ عــہ یتیمم ولایتوضأ بہ
کیونکہ جنابت تو تیمم سے دور ہوگئی۔ پھر جب بعد تیمم اسے حدث ہوا اور اس کے پاس اتنا پانی بھی ہے جو وضو کےلئے کافی ہو تو وہ اس سے وضو کرے گا۔ تو اگر عصر کےلئے وضو کیا اور نماز پڑھی پھر پانی کے پاس سے گزرا اور اس سے باخبربھی ہوا مگر غسل نہ کیا یہاں تك کہ مغرب کا وقت آگیا اور اسے حدث بھی ہوا یا حدث نہ ہوا۔ اتنا پانی بھی اس کے پاس ہے جس سے وضو کرسکے تو اسے تیمم کرنا ہے وضو نہیں کرنا ہے
عــہ فقیر کے پاس خانیہ کے چار۴ نسخے ہیں ایك مطبع العلوم کا مطبوعہ ۱۲۷۲ ہجریہ اس کی جلد اول نہیں۔ دوسرا مطبوعہ کلکتہ ۱۸۳۵ء جسے چوراسی۸۴ برس ہوئے۔ تیسرا مطبوعہ مصر ۱۳۱۰ھ کہ ہامش ہندیہ پر ہے۔ چوتھا مطبع مصطفائی ۱۳۱۰ھ جس کے ہامش پر سراجیہ ہے۔ عجب کہ ان سب میں ومعہ ماء قدر مایتوضأبہ کے بعد الفاظ حکم ساقط ہیں اس کے بعد لانہ لمامر تعلیل ہے عجب نہیں کہ مصری ومصطفائی دونوں نسخے اسی نسخہ کلکتہ سے نقل ہوئے ہوں جس میں عبارت چھوٹ گئی اگرچہ خود فحوائے عبارت نیز ملاحظہ ارشاد امام محمد کتاب الاصل سے کہ بعونہ تعالی افادات میں آتا ہے الفاظ ساقطہ ظاہر تھے کہ فانہ یتیمم ولایتوضأ بہ ہوں گے کاتب کی نظر ایك لایتوضأ بہ سے دوسرے کی طرف منتقل ہوگئی بحمدہ تعالی نسخ قدیمہ سے اس کی تصدیق ہوگئی۔ چند سال ہوئے فقیر کے پاس ایك پرانا قلمی نسخہ لکھنؤ سے آ یا تھا اس میں بعینہ عبارت یونہی تھی جس طرح فقیر نے خیال کی ومعہ من الماء قدر مایتوضأ بہ فانہ یتیمم ولایتوضأ بہ لانہ لمامر۔ ۔ ۔ الخ اس کے بعد ولد عزیز ذوالعلم والتمیز فاضل بہار مولوی محمد ظفرالدین وفقہ الله تعالی لحما یۃ الدین٭ونکا یۃ للمفسدین٭وجعلہ کاسمہ ظفرالدین٭نے اپنے زمانہ مدرسی مدرسہ شمس الہدی بانکی پور میں عظیم آباد کے مشہور کتب خانہ خدابخش خان سے ایك بہت قدیم قلمی نسخے مکتوبہ ۹۰۰ ہجریہ سے جسے لکھے ہوئے ۴۳۵ برس ہوئے یہ مسئلہ نقل کرکے بھیجا اس میں بھی یہی صحیح عبارت ہے ومعہ ماء قدرما یتوضأ بہ فانہ یتیمم ولایتوضأبہ لانہ لمامر۔ ۔ ۔ الخ۔ دوسری نقل ایك نسخہ مکتوبہ ۹۲۷ھ سے بھیجی جسے ۴۰۸ برس ہوئے اس میں یوں ہے ومعہ ماء قدرمایتوضأ بہ فانہ یتیمم لانہ لمامر۔ ۔ ۔ الخ اس کا بھی حاصل وہی ہے کمالایخفی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
کیونکہ جنابت تو تیمم سے دور ہوگئی۔ پھر جب بعد تیمم اسے حدث ہوا اور اس کے پاس اتنا پانی بھی ہے جو وضو کےلئے کافی ہو تو وہ اس سے وضو کرے گا۔ تو اگر عصر کےلئے وضو کیا اور نماز پڑھی پھر پانی کے پاس سے گزرا اور اس سے باخبربھی ہوا مگر غسل نہ کیا یہاں تك کہ مغرب کا وقت آگیا اور اسے حدث بھی ہوا یا حدث نہ ہوا۔ اتنا پانی بھی اس کے پاس ہے جس سے وضو کرسکے تو اسے تیمم کرنا ہے وضو نہیں کرنا ہے
عــہ فقیر کے پاس خانیہ کے چار۴ نسخے ہیں ایك مطبع العلوم کا مطبوعہ ۱۲۷۲ ہجریہ اس کی جلد اول نہیں۔ دوسرا مطبوعہ کلکتہ ۱۸۳۵ء جسے چوراسی۸۴ برس ہوئے۔ تیسرا مطبوعہ مصر ۱۳۱۰ھ کہ ہامش ہندیہ پر ہے۔ چوتھا مطبع مصطفائی ۱۳۱۰ھ جس کے ہامش پر سراجیہ ہے۔ عجب کہ ان سب میں ومعہ ماء قدر مایتوضأبہ کے بعد الفاظ حکم ساقط ہیں اس کے بعد لانہ لمامر تعلیل ہے عجب نہیں کہ مصری ومصطفائی دونوں نسخے اسی نسخہ کلکتہ سے نقل ہوئے ہوں جس میں عبارت چھوٹ گئی اگرچہ خود فحوائے عبارت نیز ملاحظہ ارشاد امام محمد کتاب الاصل سے کہ بعونہ تعالی افادات میں آتا ہے الفاظ ساقطہ ظاہر تھے کہ فانہ یتیمم ولایتوضأ بہ ہوں گے کاتب کی نظر ایك لایتوضأ بہ سے دوسرے کی طرف منتقل ہوگئی بحمدہ تعالی نسخ قدیمہ سے اس کی تصدیق ہوگئی۔ چند سال ہوئے فقیر کے پاس ایك پرانا قلمی نسخہ لکھنؤ سے آ یا تھا اس میں بعینہ عبارت یونہی تھی جس طرح فقیر نے خیال کی ومعہ من الماء قدر مایتوضأ بہ فانہ یتیمم ولایتوضأ بہ لانہ لمامر۔ ۔ ۔ الخ اس کے بعد ولد عزیز ذوالعلم والتمیز فاضل بہار مولوی محمد ظفرالدین وفقہ الله تعالی لحما یۃ الدین٭ونکا یۃ للمفسدین٭وجعلہ کاسمہ ظفرالدین٭نے اپنے زمانہ مدرسی مدرسہ شمس الہدی بانکی پور میں عظیم آباد کے مشہور کتب خانہ خدابخش خان سے ایك بہت قدیم قلمی نسخے مکتوبہ ۹۰۰ ہجریہ سے جسے لکھے ہوئے ۴۳۵ برس ہوئے یہ مسئلہ نقل کرکے بھیجا اس میں بھی یہی صحیح عبارت ہے ومعہ ماء قدرما یتوضأ بہ فانہ یتیمم ولایتوضأبہ لانہ لمامر۔ ۔ ۔ الخ۔ دوسری نقل ایك نسخہ مکتوبہ ۹۲۷ھ سے بھیجی جسے ۴۰۸ برس ہوئے اس میں یوں ہے ومعہ ماء قدرمایتوضأ بہ فانہ یتیمم لانہ لمامر۔ ۔ ۔ الخ اس کا بھی حاصل وہی ہے کمالایخفی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
لانہ لمامر بماء یکفی للاغتسال عادجنبا فھذا جنب معہ ماء لایکفی للاغتسال فیتیمم ۔
کیونکہ جب وہ غسل کےلئے کافی پانی پر گزرا تو پھر جنب ہوگیا۔ اب یہ ایسا جنب ہے جس کے پاس غسل کےلئے ناکافی پانی ہے تو اسے تیمم کرنا ہے۔ (ت)
کیسا روشن نص ہے کہ جنب جسے غسل کو پانی نہ ملے اور وضو کے قابل موجود ہو اسے اگر تیمم جنابت کے بعد حدث ہو جب تو وضو کرے اور تیمم سے پہلے ہو تو صرف تیمم کرے وضو نہ کرے۔
اقول : واستنادی بماذکر رحمہ الله تعالی من اصول الاحکام فی التعلیلات والافدخول ھذا الفرع فی ھذا الاصل فیہ کلام قوی للعبد الضعیف٭غفرلہ المولی اللطیف کماستعرفہ فی الافادات٭انشاء واھب العطیات٭
اقول : میرا استناد ان اصول احکام سے ہے جو امام فقیہ النفس رحمۃ اللہ تعالی علیہنے تعلیلات کے تحت ذکر کیے۔ ورنہ اس جزئیہ کے اس اصل کے اندر داخل ہونے میں بندہ ضعیف کو- مولائے لطیف اسے مغفرت سے نوازے- پر زور کلام ہے جیسا کہ اگر عطاؤں سے نوازنے والے رب نے چاہا تو افادات کے تحت معلوم ہوگا۔ (ت)
بالجملہ سات۷ روشن دلائل اور تین۳ نصوص جلائل تلك عشرۃ کاملۃ (وہ پورے دس ہیں۔ ت) سے بحمدہ عزوجل حکم آشکار ہوگیا۔
ولله الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ کمایحب ربنا و یرضی٭وصلی الله تعالی علی اصفی مصطفی٭وارضی مرتضی٭جوالہ وصحبہ الی یوم القضاء٭امین۔
اور خدا ہی کےلئے حمد ہے کثیر پاکیزہ برکت والی حمد جیسی ہمارا رب چاہے اور پسند فرمائے۔ اور خدائے برتر کی طرف سے درود ہو سب سے ز یادہ پسندیدہ ذات گرامی پر اور ان کی آل واصحاب پر فیصلہ کے دن تک۔ الہی قبول فرما!
رہا امام صدر الشریعۃ کا کلام اور اس میں تاویلات علمائے کرام ہم اولا کلام پیشینیاں پیش کریں۔ پھر وہ جو قلب فقیر پر جفیض قد یر سے فائض ہوا ہدیہ انظار انصاف کش۔
قال الامام٭صدر الشریعۃ الھمام٭اعلی الله تعالی مقامہ فی
امام بلند ہمت صدر الشریعۃ -خدائے برتر دارالسلام میں انہیں مقام بلند عطا فرمائے اور
کیونکہ جب وہ غسل کےلئے کافی پانی پر گزرا تو پھر جنب ہوگیا۔ اب یہ ایسا جنب ہے جس کے پاس غسل کےلئے ناکافی پانی ہے تو اسے تیمم کرنا ہے۔ (ت)
کیسا روشن نص ہے کہ جنب جسے غسل کو پانی نہ ملے اور وضو کے قابل موجود ہو اسے اگر تیمم جنابت کے بعد حدث ہو جب تو وضو کرے اور تیمم سے پہلے ہو تو صرف تیمم کرے وضو نہ کرے۔
اقول : واستنادی بماذکر رحمہ الله تعالی من اصول الاحکام فی التعلیلات والافدخول ھذا الفرع فی ھذا الاصل فیہ کلام قوی للعبد الضعیف٭غفرلہ المولی اللطیف کماستعرفہ فی الافادات٭انشاء واھب العطیات٭
اقول : میرا استناد ان اصول احکام سے ہے جو امام فقیہ النفس رحمۃ اللہ تعالی علیہنے تعلیلات کے تحت ذکر کیے۔ ورنہ اس جزئیہ کے اس اصل کے اندر داخل ہونے میں بندہ ضعیف کو- مولائے لطیف اسے مغفرت سے نوازے- پر زور کلام ہے جیسا کہ اگر عطاؤں سے نوازنے والے رب نے چاہا تو افادات کے تحت معلوم ہوگا۔ (ت)
بالجملہ سات۷ روشن دلائل اور تین۳ نصوص جلائل تلك عشرۃ کاملۃ (وہ پورے دس ہیں۔ ت) سے بحمدہ عزوجل حکم آشکار ہوگیا۔
ولله الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ کمایحب ربنا و یرضی٭وصلی الله تعالی علی اصفی مصطفی٭وارضی مرتضی٭جوالہ وصحبہ الی یوم القضاء٭امین۔
اور خدا ہی کےلئے حمد ہے کثیر پاکیزہ برکت والی حمد جیسی ہمارا رب چاہے اور پسند فرمائے۔ اور خدائے برتر کی طرف سے درود ہو سب سے ز یادہ پسندیدہ ذات گرامی پر اور ان کی آل واصحاب پر فیصلہ کے دن تک۔ الہی قبول فرما!
رہا امام صدر الشریعۃ کا کلام اور اس میں تاویلات علمائے کرام ہم اولا کلام پیشینیاں پیش کریں۔ پھر وہ جو قلب فقیر پر جفیض قد یر سے فائض ہوا ہدیہ انظار انصاف کش۔
قال الامام٭صدر الشریعۃ الھمام٭اعلی الله تعالی مقامہ فی
امام بلند ہمت صدر الشریعۃ -خدائے برتر دارالسلام میں انہیں مقام بلند عطا فرمائے اور
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خان باب التیمم مطبع نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۰
دارالسلام٭ورحمنابہ وبسائر الائمۃ الکرام٭فی کل حال ومقام٭مدی اللیالی والا یام٭اول باب التیمم من شرحہ للوقا یۃ اذاکان للجنب ماء یکفی للوضوء لاللغسل یتیمم ولایجب علیہ التوضی عندنا خلافا للشافعی اما اذاکان مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء یجب علیہ الوضوء فالتیمم للجنابۃ بالاتفاق واذاکان للمحدث ماء یکفی لغسل بعض اعضائہ فالخلاف ثابت ایضا اھ
واعترضوہ بخمسۃ وجوہ :
الاول : قال البرجندی فی شرح النقا یۃ بعد نقل کلام الصدر الامام ھو مشعر بانہ قدتکون جنابۃ مع وجود الوضوء ولایخفی ان الجنابۃ تحصل بخروج المنی او بغیبۃ الحشفۃ وخروج الخارج من الذکر وغیبۃ الحشفۃ ناقضان للوضوء۔
والجواب ان الجنب اذاتیمم واحدث ثم توضأ ومر بماء کاف للاغتسال ولم یغتسل ثم بعد عن الماء فانہ صار جنبا ومع عــہ ذلك وضوءہ باق۔
ہم پر ان کی برکت سے اور دیگر ائمہ کرام کی برکت سے ہر حال ومقام میں جب تك گردش شب وروز رہے ہمیشہ رحمت فرمائے -شرح وقایہ اول باب التیمم میں فرماتے ہیں : “ جب جنابت والے کے پاس اتنا پانی ہو جو وضو کےلئے کفایت کرے غسل کےلئے نہیں تو وہ تیمم کرے ہمارے نزدیك بخلاف امام شافعی کے۔ اس پر وضو کرنا واجب نہیں- لیکن جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہو جو وضوکو واجب کرتا ہے تو اس پر وضو واجب ہے- تو جنابت کےلئے تیمم بالاتفاق ہے۔ اور جب محدث کے پاس اتنا ہی پانی ہو جو صرف اس کے بعض اعضا کے دھونے میں کفایت کرسکے تو اس صورت میں بھی اختلاف ثابت ہے “ ۔ (ت)
ناظرین نے اس پر پانچ طرح اعتراض کیا ہے :
اول : برجندی نے شرح نقایہ میں امام صدر الشریعۃ کا کلام نقل کرنے کے بعد لکھا : یہ کلام اس کا پتا دیتا ہے کہ کبھی وضو رہتے ہوئے بھی جنابت ہوتی ہے حالانکہ مخفی نہیں کہ جنابت منی کے نکلنے یا حشفہ کے غائب ہونے سے ہوتی ہے۔ اور ذکر سے نکلنے والی چیز کا باہر آنا اور حشفہ کا غائب ہونا دونوں ہی ناقض وضو ہیں۔
جواب یہ ہے کہ جنب جب تیمم کرلے اور بے وضو ہوکر پھر وضو کرے اور غسل کےلئے کافی پانی پر گزرے مگر غسل نہ کرے پھر پانی سے دور ہوجائے تو وہ جنابت والا ہوگیا۔ اس کے باوجود اس کا
عــہ اقول : ای لم یعد حدثہ علی وزان ماقدمنا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : یعنی دوبارہ اسے حدث نہ ہوا اسی انداز پر جو ہم نے پہلے بیان کیا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
واعترضوہ بخمسۃ وجوہ :
الاول : قال البرجندی فی شرح النقا یۃ بعد نقل کلام الصدر الامام ھو مشعر بانہ قدتکون جنابۃ مع وجود الوضوء ولایخفی ان الجنابۃ تحصل بخروج المنی او بغیبۃ الحشفۃ وخروج الخارج من الذکر وغیبۃ الحشفۃ ناقضان للوضوء۔
والجواب ان الجنب اذاتیمم واحدث ثم توضأ ومر بماء کاف للاغتسال ولم یغتسل ثم بعد عن الماء فانہ صار جنبا ومع عــہ ذلك وضوءہ باق۔
ہم پر ان کی برکت سے اور دیگر ائمہ کرام کی برکت سے ہر حال ومقام میں جب تك گردش شب وروز رہے ہمیشہ رحمت فرمائے -شرح وقایہ اول باب التیمم میں فرماتے ہیں : “ جب جنابت والے کے پاس اتنا پانی ہو جو وضو کےلئے کفایت کرے غسل کےلئے نہیں تو وہ تیمم کرے ہمارے نزدیك بخلاف امام شافعی کے۔ اس پر وضو کرنا واجب نہیں- لیکن جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہو جو وضوکو واجب کرتا ہے تو اس پر وضو واجب ہے- تو جنابت کےلئے تیمم بالاتفاق ہے۔ اور جب محدث کے پاس اتنا ہی پانی ہو جو صرف اس کے بعض اعضا کے دھونے میں کفایت کرسکے تو اس صورت میں بھی اختلاف ثابت ہے “ ۔ (ت)
ناظرین نے اس پر پانچ طرح اعتراض کیا ہے :
اول : برجندی نے شرح نقایہ میں امام صدر الشریعۃ کا کلام نقل کرنے کے بعد لکھا : یہ کلام اس کا پتا دیتا ہے کہ کبھی وضو رہتے ہوئے بھی جنابت ہوتی ہے حالانکہ مخفی نہیں کہ جنابت منی کے نکلنے یا حشفہ کے غائب ہونے سے ہوتی ہے۔ اور ذکر سے نکلنے والی چیز کا باہر آنا اور حشفہ کا غائب ہونا دونوں ہی ناقض وضو ہیں۔
جواب یہ ہے کہ جنب جب تیمم کرلے اور بے وضو ہوکر پھر وضو کرے اور غسل کےلئے کافی پانی پر گزرے مگر غسل نہ کرے پھر پانی سے دور ہوجائے تو وہ جنابت والا ہوگیا۔ اس کے باوجود اس کا
عــہ اقول : ای لم یعد حدثہ علی وزان ماقدمنا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : یعنی دوبارہ اسے حدث نہ ہوا اسی انداز پر جو ہم نے پہلے بیان کیا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
شرح الوقایہ باب التیمم مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۹۵
ویمکن ان یصور ذلك علی قول محمد بان یجامع الرجل المتوضئ امرأۃ ولم ینزل فانہ قداجنب ولم ینتقض عــہ۱ وضوءہ فان المباشرۃ الفاحشۃ غیر ناقضۃ عندہ ولم یوجد عــہ۲ شیئ اخر من نواقض الوضوء۔
وعلی قول الشیخین عــہ۳ رضی الله تعالی عنھم بان یستمنی بالید ثم یاخذ رأس الذکر حتی لایخرج المنی فقد عــہ۴ اجنب و وضو باقی ہے۔
اس کی صورت امام محمد کے قول پر یہ بھی پیش کی جاسکتی ہے کہ باوضو مرد عورت سے مجامعت کرے اور انزال نہ ہو تو وہ جنابت زدہ ہوگیا اور اس کا وضو نہ ٹوٹا کیونکہ ان کے نزدیك مباشرت فاحشہ ناقض وضو نہیں اور نواقض وضو میں سے کوئی دوسری چیز بھی نہ پائی گئی۔
اور شیخین رضی اللہ تعالی عنہما کے قول پر یہ صورت ہوسکتی ہے کہ ہاتھ سے منی نکالے پھر ذکر کا سرا پکڑلے تاکہ منی باہر نہ آئے تو وہ جنب ہوگیا اور ناقض وضو
عــہ۱ اقول : قد علمت المعنی فاحتفظ ولاتزل ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ اقول : ای مما ھو حدث اصغر اذ لایقال نواقض الوضوء الاعلیھا فھھنا افصح عن المراد ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۳ اقول : ھذا(۱) سھو وانما ھو قول الطرفین واطلاق الشیخین علیھما بعید وان(۲) جاء فی بعض المواضع علی الصاحبین
کمابینتہ فی کتابی فصل القضاء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۴ اقول : ای(۳) اذاخرج المنی لان الخروج شرط بالاجماع انما النزاع فی اشتراط الشھوۃ عند الخروج اوکفایتھا عند الانفصال بہ قالا وبالاول ابویوسف فاحتمال ارادۃ خلافہ ظن مالایلیق بالعلماء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : ناظر کو مراد معلوم ہوگئی تو نگہداشت چاہئے اور لغزش سے پرہیز ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : یعنی اس چیز سے جو حدث اصغر ہوکیوں کہ نواقض وضو کا اطلاق اسی پر ہوتا ہے تو یہاں اپنی مراد واضح کردی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : یہ سہو ہے۔ وہ طرفین کا قول ہے اور ان پر اطلاق شیخین بعید ہے اگرچہ بعض مقامات میں صاحبین کے لئے شیخین کا اطلاق ہے جیسا کہ میں نے اپنی کتاب “ فصل القضاء “ میں بیان کیا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : یعنی جب منی باہر آجائے اس لئے کہ باہر آنا بالاجماع شرط ہے نزاع صرف اس میں ہے کہ شہوت یعنی باہر آنے کے وقت ہونا شرط ہے یا بس اپنے مقر سے منی کے انفصال کے وقت (شہوت) ہونا کافی ہے۔ دوم کے قائل طرفین ہیں اور اول کے قائل امام ابویوسف ہیں۔ تو یہ احتمال کہ اس کے خلاف مراد لے لیا ہو ایسا ظن ہے جو علماء کے لائق نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وعلی قول الشیخین عــہ۳ رضی الله تعالی عنھم بان یستمنی بالید ثم یاخذ رأس الذکر حتی لایخرج المنی فقد عــہ۴ اجنب و وضو باقی ہے۔
اس کی صورت امام محمد کے قول پر یہ بھی پیش کی جاسکتی ہے کہ باوضو مرد عورت سے مجامعت کرے اور انزال نہ ہو تو وہ جنابت زدہ ہوگیا اور اس کا وضو نہ ٹوٹا کیونکہ ان کے نزدیك مباشرت فاحشہ ناقض وضو نہیں اور نواقض وضو میں سے کوئی دوسری چیز بھی نہ پائی گئی۔
اور شیخین رضی اللہ تعالی عنہما کے قول پر یہ صورت ہوسکتی ہے کہ ہاتھ سے منی نکالے پھر ذکر کا سرا پکڑلے تاکہ منی باہر نہ آئے تو وہ جنب ہوگیا اور ناقض وضو
عــہ۱ اقول : قد علمت المعنی فاحتفظ ولاتزل ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ اقول : ای مما ھو حدث اصغر اذ لایقال نواقض الوضوء الاعلیھا فھھنا افصح عن المراد ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۳ اقول : ھذا(۱) سھو وانما ھو قول الطرفین واطلاق الشیخین علیھما بعید وان(۲) جاء فی بعض المواضع علی الصاحبین
کمابینتہ فی کتابی فصل القضاء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۴ اقول : ای(۳) اذاخرج المنی لان الخروج شرط بالاجماع انما النزاع فی اشتراط الشھوۃ عند الخروج اوکفایتھا عند الانفصال بہ قالا وبالاول ابویوسف فاحتمال ارادۃ خلافہ ظن مالایلیق بالعلماء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : ناظر کو مراد معلوم ہوگئی تو نگہداشت چاہئے اور لغزش سے پرہیز ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : یعنی اس چیز سے جو حدث اصغر ہوکیوں کہ نواقض وضو کا اطلاق اسی پر ہوتا ہے تو یہاں اپنی مراد واضح کردی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : یہ سہو ہے۔ وہ طرفین کا قول ہے اور ان پر اطلاق شیخین بعید ہے اگرچہ بعض مقامات میں صاحبین کے لئے شیخین کا اطلاق ہے جیسا کہ میں نے اپنی کتاب “ فصل القضاء “ میں بیان کیا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : یعنی جب منی باہر آجائے اس لئے کہ باہر آنا بالاجماع شرط ہے نزاع صرف اس میں ہے کہ شہوت یعنی باہر آنے کے وقت ہونا شرط ہے یا بس اپنے مقر سے منی کے انفصال کے وقت (شہوت) ہونا کافی ہے۔ دوم کے قائل طرفین ہیں اور اول کے قائل امام ابویوسف ہیں۔ تو یہ احتمال کہ اس کے خلاف مراد لے لیا ہو ایسا ظن ہے جو علماء کے لائق نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
لم یوجد ناقض للوضوء اھ۔
واعترضہ عصری وھو اللکنوی فی سعایتہ بما تلخیصہ انہ فی صورۃ المباشرۃ الفاحشۃ ان لم یولج لم یجنب وان اولج فقد انتقض وضوءہ لان دخول الحشفۃ ناقض للغسل والوضوء جمیعا وکذا فی صورۃ الاستمناء ان خرج المنی فقد انتقض وضوءہ وان لم تحصل الجنابۃ وان لم یخرج فلاجنابۃ ولاحدث اھ۔ ھذا حاصل ما اطال بہ فی نحو ثلثۃ امثال عبارتنا ھذہ۔
والثانی : التناقض وقررہ ش بمایبتنی علی الاول فجوابہ جوابہ وذلك قولہ فی ردالمحتار قول صدر الشریعۃ مشکل لان الجنابۃ لاتنفك عن حدث یوجب الوضوء وقد قال اولایجب علیہ التیمم لا الوضوء فقولہ ثان یا یجب علیہ الوضوء تناقض جاھ۔ ثم ذکر الجواب الاتی عن القہستانی فی الاشکال الخامس فانہ دافع
نہ پا یا گیا اھ (ت) (برجندی کی عبارت ختم ہوگئی)
اس پر ایك معاصرعالم- مولوی عبدالحی لکھنوی فرنگی محلی -نے اپنی سعایہ (حاشیہ شرح وقایہ) میں اعتراض کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے : “ مباشرت فاحشہ کی صورت میں اگر ایلاج نہ کیا تو جنب نہ ہوا۔ اور ایلاج کیا تو اس کا وضو ٹوٹ گیا اس لئے کہ دخول حشفہ غسل و وضو دونوں ہی کا ناقض ہے- اسی طرح منی نکالنے کی صورت میں اگر منی باہر آئی تو اس کا وضو ٹوٹ گیا اگرچہ جنابت نہ ہوئی اور اگر منی باہر نہ آئی تو نہ جنابت ہے نہ حدث اھ “ یہ اس کا حاصل ہے جو انہوں نے ہماری اس عبارت سے تین گنا میں پھیلا کر لکھا ہے۔ (ت)
دوم : تناقض۔ شامی نے اس کی تقر یر ایسے کلام سے کی ہے جو اشکال اول ہی پر مبنی ہے تو جو اس کا جواب ہے اس کا جواب ہے ردالمحتار میں ان کا یہ کلام ہے : “ صدر الشریعۃ کے قول میں اشکال ہے اس لئے کہ جنابت وضو واجب کرنے والے حدث سے جدا نہیں ہوتی اور پہلے فرماچکے ہیں کہ اس پر تیمم واجب ہے “ وضو نہیں “ تو پھر اس کے بعد یہ کہنا کہ اس پر وضو واجب “ ہے “ دونوں میں تناقض ہے “ اھ۔ پھر اس کا وہ جواب ذکر کیا جو قہستانی کے حوالہ
واعترضہ عصری وھو اللکنوی فی سعایتہ بما تلخیصہ انہ فی صورۃ المباشرۃ الفاحشۃ ان لم یولج لم یجنب وان اولج فقد انتقض وضوءہ لان دخول الحشفۃ ناقض للغسل والوضوء جمیعا وکذا فی صورۃ الاستمناء ان خرج المنی فقد انتقض وضوءہ وان لم تحصل الجنابۃ وان لم یخرج فلاجنابۃ ولاحدث اھ۔ ھذا حاصل ما اطال بہ فی نحو ثلثۃ امثال عبارتنا ھذہ۔
والثانی : التناقض وقررہ ش بمایبتنی علی الاول فجوابہ جوابہ وذلك قولہ فی ردالمحتار قول صدر الشریعۃ مشکل لان الجنابۃ لاتنفك عن حدث یوجب الوضوء وقد قال اولایجب علیہ التیمم لا الوضوء فقولہ ثان یا یجب علیہ الوضوء تناقض جاھ۔ ثم ذکر الجواب الاتی عن القہستانی فی الاشکال الخامس فانہ دافع
نہ پا یا گیا اھ (ت) (برجندی کی عبارت ختم ہوگئی)
اس پر ایك معاصرعالم- مولوی عبدالحی لکھنوی فرنگی محلی -نے اپنی سعایہ (حاشیہ شرح وقایہ) میں اعتراض کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے : “ مباشرت فاحشہ کی صورت میں اگر ایلاج نہ کیا تو جنب نہ ہوا۔ اور ایلاج کیا تو اس کا وضو ٹوٹ گیا اس لئے کہ دخول حشفہ غسل و وضو دونوں ہی کا ناقض ہے- اسی طرح منی نکالنے کی صورت میں اگر منی باہر آئی تو اس کا وضو ٹوٹ گیا اگرچہ جنابت نہ ہوئی اور اگر منی باہر نہ آئی تو نہ جنابت ہے نہ حدث اھ “ یہ اس کا حاصل ہے جو انہوں نے ہماری اس عبارت سے تین گنا میں پھیلا کر لکھا ہے۔ (ت)
دوم : تناقض۔ شامی نے اس کی تقر یر ایسے کلام سے کی ہے جو اشکال اول ہی پر مبنی ہے تو جو اس کا جواب ہے اس کا جواب ہے ردالمحتار میں ان کا یہ کلام ہے : “ صدر الشریعۃ کے قول میں اشکال ہے اس لئے کہ جنابت وضو واجب کرنے والے حدث سے جدا نہیں ہوتی اور پہلے فرماچکے ہیں کہ اس پر تیمم واجب ہے “ وضو نہیں “ تو پھر اس کے بعد یہ کہنا کہ اس پر وضو واجب “ ہے “ دونوں میں تناقض ہے “ اھ۔ پھر اس کا وہ جواب ذکر کیا جو قہستانی کے حوالہ
حوالہ / References
شرح النقا یۃ للبرجندی فصل فی التیمم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۴
السعا یۃ ، باب التیمم ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۴۹۱
ردالمحتار ، باب التیمم ، مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۱۸۷
السعا یۃ ، باب التیمم ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۴۹۱
ردالمحتار ، باب التیمم ، مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۱۸۷
للتناقض ایضا بوجہ حسن صحیح۔
ونقل ھھنا فی السعا یۃ مایمکن ان یؤخذ منہ تقر یر اخر للتناقض غیر مبتن علی الاشکال الاول وھو انہ اذا لم یکن معھا حدث فکیف یوجب الشافعی ھناك الوضوء اھ۔ فیؤخذ منہ ان الحدث الاصغر وان لم یلزم الاکبر ولکن کلام الصدر الامام فی الصورۃ الاولی ایضا فی جنابۃ معھا حدث بدلیل ایجاب الشافعی الوضوء فجاء التناقض۔
والثالث : ان قولہ فالتیمم للجنابۃ بالفاء ان کان تفریعا فلامحصل لہ لان کون التیمم للجنابۃ غیر مفرع علی وجوب الوضوء وان کان تعلیلا ورد علیہ ان فی الصورۃ السابقۃ ایضا التیمم للجنابۃ فیلزم ان یجب الوضوء ھناك ایضا ۔
والرابع : ان کون التیمم للجنابۃ بالاتفاق مشترك بین الصورتین لااختصاص لہ بھذہ الصورۃ اھ۔ نقلھما اللکنوی۔
والخامس : مخالفتہ لما تقرر فی المذھب کمابیناہ بالدلائل والنصوص
سے اشکال پنجم کے تحت آرہا ہے۔ وہ جواب بھی عمدہ وصحیح طرز پر تناقض دفع کردیتا ہے۔
یہاں سعایہ میں وہ نقل کیا جس سے تناقض کی ایك دوسری تقر یر اخذ کی جاسکتی ہے جو اشکال اول پر مبنی نہ ہو “ وہ یہ کہ جب جنابت کے ساتھ حدث نہ ہو تو وہاں امام شافعی وضو کیسے واجب کریں گے اھ اور اس سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ حدث اصغر اگرچہ حدث اکبر کو لازم نہیں لیکن صدر الشریعۃ کا کلام پہلی صورت میں بھی ایسی ہی جنابت کے بارے میں ہے جس کے ساتھ حدث بھی ہو اس دلیل سے کہ اس میں امام شافعی وضو واجب کرتے ہیں۔ تو تناقض ہوگا۔
سوم : ان کی عبارت “ فالتیمم للجنابۃ “ (تو تیمم جنابت کےلئے ہے) میں “ فا “ اگر تفریع کےلئے ہے تو اس کا کوئی حاصل نہیں اس لئے کہ تیمم جنابت کے لئے ہونا وجوب وضو پر متفرع نہیں - اور اگر تعلیل کےلئے ہے تو یہ اعتراض ہوگا کہ سابقہ صورت میں بھی تیمم جنابت ہی کے سبب ہے تو لازم آئے کہ وہاں بھی وضو واجب ہو۔
چہارم : بالاتفاق جنابت کےلئے تیمم ہونا دونوں صورتوں میں مشترك ہے ا سی صورت سے خاص نہیں اھ۔ یہ دونوں اعتراض مولانا فرنگی محلی نے نقل کیے۔
پنجم : یہ اس کے مخالف ہے جو مذہب میں مقرر وثابت ہے جیسا کہ دس دلائل ونصوص سے
ونقل ھھنا فی السعا یۃ مایمکن ان یؤخذ منہ تقر یر اخر للتناقض غیر مبتن علی الاشکال الاول وھو انہ اذا لم یکن معھا حدث فکیف یوجب الشافعی ھناك الوضوء اھ۔ فیؤخذ منہ ان الحدث الاصغر وان لم یلزم الاکبر ولکن کلام الصدر الامام فی الصورۃ الاولی ایضا فی جنابۃ معھا حدث بدلیل ایجاب الشافعی الوضوء فجاء التناقض۔
والثالث : ان قولہ فالتیمم للجنابۃ بالفاء ان کان تفریعا فلامحصل لہ لان کون التیمم للجنابۃ غیر مفرع علی وجوب الوضوء وان کان تعلیلا ورد علیہ ان فی الصورۃ السابقۃ ایضا التیمم للجنابۃ فیلزم ان یجب الوضوء ھناك ایضا ۔
والرابع : ان کون التیمم للجنابۃ بالاتفاق مشترك بین الصورتین لااختصاص لہ بھذہ الصورۃ اھ۔ نقلھما اللکنوی۔
والخامس : مخالفتہ لما تقرر فی المذھب کمابیناہ بالدلائل والنصوص
سے اشکال پنجم کے تحت آرہا ہے۔ وہ جواب بھی عمدہ وصحیح طرز پر تناقض دفع کردیتا ہے۔
یہاں سعایہ میں وہ نقل کیا جس سے تناقض کی ایك دوسری تقر یر اخذ کی جاسکتی ہے جو اشکال اول پر مبنی نہ ہو “ وہ یہ کہ جب جنابت کے ساتھ حدث نہ ہو تو وہاں امام شافعی وضو کیسے واجب کریں گے اھ اور اس سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ حدث اصغر اگرچہ حدث اکبر کو لازم نہیں لیکن صدر الشریعۃ کا کلام پہلی صورت میں بھی ایسی ہی جنابت کے بارے میں ہے جس کے ساتھ حدث بھی ہو اس دلیل سے کہ اس میں امام شافعی وضو واجب کرتے ہیں۔ تو تناقض ہوگا۔
سوم : ان کی عبارت “ فالتیمم للجنابۃ “ (تو تیمم جنابت کےلئے ہے) میں “ فا “ اگر تفریع کےلئے ہے تو اس کا کوئی حاصل نہیں اس لئے کہ تیمم جنابت کے لئے ہونا وجوب وضو پر متفرع نہیں - اور اگر تعلیل کےلئے ہے تو یہ اعتراض ہوگا کہ سابقہ صورت میں بھی تیمم جنابت ہی کے سبب ہے تو لازم آئے کہ وہاں بھی وضو واجب ہو۔
چہارم : بالاتفاق جنابت کےلئے تیمم ہونا دونوں صورتوں میں مشترك ہے ا سی صورت سے خاص نہیں اھ۔ یہ دونوں اعتراض مولانا فرنگی محلی نے نقل کیے۔
پنجم : یہ اس کے مخالف ہے جو مذہب میں مقرر وثابت ہے جیسا کہ دس دلائل ونصوص سے
حوالہ / References
السعا یۃ باب التیمم مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۹۰
السعا یۃ ، باب التیمم ، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۴۹۰
السعا یۃ ، باب التیمم ، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۴۹۰
السعا یۃ ، باب التیمم ، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۴۹۰
السعا یۃ ، باب التیمم ، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۴۹۰
العشرۃ ان الحدث مع الجنابۃ لایوجب الوضوء اصلا اذا لم یجد ماء یکفی للغسل الیہ اشار البرجندی بقولہ متصل العبارۃ المذکورۃ انفا۔
لکن الکلام فی انہ ھل یجب فی الصورتین عــہ التوضئ اذا احدث فیہ تردد والظاھر لا ولابد للحکم بالاحتیاج من روا یۃ صریحۃ اھ۔
کماقدمنا عنہ تلو الدلائل وذکرنا انہ لوکان فی نظرہ اذ ذاك نصوص المذھب لماقنع بالتردد والاستظھار۔ وھذا ھو اعظم الا یرادات وھو الذی احوج العلماء الی تأویل کلامہ رحمہ الله تعالی۔ ومحط کلامھم جمیعا ارجاع
ہم نے اسے بیان کیا۔ مذہب میں یہ ہے کہ جنابت کے ساتھ حدث بالکل موجب وضو نہیں جب اتنا پانی دستیاب نہ ہو جو غسل کےلئے کافی ہو اسی کی طرف برجندی نے ابھی ذکر شدہ عبارت سے متصل اپنے درج ذیل کلام سے اشارہ کیا ہے :
“ لیکن کلام اس میں ہے کہ کیا دونوں صورتوں میں وضو کرنا واجب ہے جب حدث ہوا ہو۔ اس بارے میں تردد ہے اور ظاہر نفی ہے۔ احتیاج وضو کا حکم کرنے کےلئے کوئی صریح روایت ہونا ضروری ہے “ ۔ اھ جیسا کہ دلائل کے بعد ان سے ہم نے یہ عبارت نقل کی اور بتا یا کہ اگر اس وقت ان کی نظر میں مذہب کے نصوص ہوتے تو وہ تردد واستظہار پر قناعت نہ کرتے۔ یہی سب سے بڑا اعتراض ہے اسی کی وجہ سے حضرات علماء کو صد الشریعۃ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے کلام کی تاویل کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اور ان سب حضرات کی تاویلات کا مآل یہ ہے
عــہ : ای الاخریین ولعمری لقد اصاب فی تخصیص الکلام بھما وعزل الصورۃ الاولی لان فیھا لاشك فی وجوب الوضوء اذا احدث کماسیاتی تحقیقہ فی الافادۃ بعونہ تعالی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یعنی بعد والی دونوں صورتوں میں۔ اور ان دونوں سے کلام خاص کرکے اور پہلی کو الگ کرکے یقینا انہوں نے صحیح کیا اس لئے کہ پہلی صورت میں حدث ہونے کے وقت وجوب وضو میں شك نہیں جیسا کہ اس کی تحقیق بعونہ تعالی افادہ(نمبر) ۱۱ میں آرہی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
لکن الکلام فی انہ ھل یجب فی الصورتین عــہ التوضئ اذا احدث فیہ تردد والظاھر لا ولابد للحکم بالاحتیاج من روا یۃ صریحۃ اھ۔
کماقدمنا عنہ تلو الدلائل وذکرنا انہ لوکان فی نظرہ اذ ذاك نصوص المذھب لماقنع بالتردد والاستظھار۔ وھذا ھو اعظم الا یرادات وھو الذی احوج العلماء الی تأویل کلامہ رحمہ الله تعالی۔ ومحط کلامھم جمیعا ارجاع
ہم نے اسے بیان کیا۔ مذہب میں یہ ہے کہ جنابت کے ساتھ حدث بالکل موجب وضو نہیں جب اتنا پانی دستیاب نہ ہو جو غسل کےلئے کافی ہو اسی کی طرف برجندی نے ابھی ذکر شدہ عبارت سے متصل اپنے درج ذیل کلام سے اشارہ کیا ہے :
“ لیکن کلام اس میں ہے کہ کیا دونوں صورتوں میں وضو کرنا واجب ہے جب حدث ہوا ہو۔ اس بارے میں تردد ہے اور ظاہر نفی ہے۔ احتیاج وضو کا حکم کرنے کےلئے کوئی صریح روایت ہونا ضروری ہے “ ۔ اھ جیسا کہ دلائل کے بعد ان سے ہم نے یہ عبارت نقل کی اور بتا یا کہ اگر اس وقت ان کی نظر میں مذہب کے نصوص ہوتے تو وہ تردد واستظہار پر قناعت نہ کرتے۔ یہی سب سے بڑا اعتراض ہے اسی کی وجہ سے حضرات علماء کو صد الشریعۃ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے کلام کی تاویل کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اور ان سب حضرات کی تاویلات کا مآل یہ ہے
عــہ : ای الاخریین ولعمری لقد اصاب فی تخصیص الکلام بھما وعزل الصورۃ الاولی لان فیھا لاشك فی وجوب الوضوء اذا احدث کماسیاتی تحقیقہ فی الافادۃ بعونہ تعالی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یعنی بعد والی دونوں صورتوں میں۔ اور ان دونوں سے کلام خاص کرکے اور پہلی کو الگ کرکے یقینا انہوں نے صحیح کیا اس لئے کہ پہلی صورت میں حدث ہونے کے وقت وجوب وضو میں شك نہیں جیسا کہ اس کی تحقیق بعونہ تعالی افادہ(نمبر) ۱۱ میں آرہی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
شرح النقا یۃ للبرجندی فصل فی التیمم نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۴
الحکم بوجوب الوضوء الی الحدث بعد التیمم للجنابۃ غیران لھم فیہ مسلکین :
احدھما تقدیر عــہ المضاف ای
کہ “ وجوب وضو کا حکم اس حدث کی طرف عائد ہے جو تیمم جنابت کے بعد ہو “ -مگر اس بارے میں ان کے دو۲ مسلك ہیں : طریق اول : ( “ اما اذاکان مع الجنابۃ
عــہ قال فی السعا یۃ فی غا یۃ الحواشی قولہ یجب جزاء اما وکلمۃ کان تامۃ وتقد یر الکلام اما اذا وجد مع تیمم الجنابۃ حدث یوجب الوضوء فیجب الوضوء اتفاقا یعنی احدث بالتیمم للجنابۃ مع وجود الماء الکافی للوضوء فیجب الوضوء مع انہ تیمم الجنب اتفاقا بخلاف الصورۃ المسطورۃ فان فیھا بعد تیمم الجنابۃ لایجب الوضوء فقولہ بالاتفاق متعلق بقولہ یجب وقولہ فالتیمم الفاء للتفریع ای فثبت التیمم للجنابۃ مع وجوب الوضوء فانہ ذکر فی الجامع عن شرح الطحاوی و غیرہ انہ لایجب للجنب صرف الماء الی بعض الاعضاء اوللحدث الا اذا تیمم للجنابۃ ثم وقع منہ حدث یوجب الوضوء لانہ یجب علیہ الوضوء ح لانہ قدر علی ماء کاف بہ ولم یجب التیمم لانہ بالتیمم خرج عن الجنابۃ الی ان یجد
سعایہ میں لکھا ہے : غا یۃ الحواشی میں ہے : لفظ “ یجب “ “ اما “ کی جزا ہے اور کان تامہ ہے۔ تقد یر کلام یہ ہوگی لیکن جب تیمم جنابت کے ساتھ کوئی حدث پا یا جائے تو بالاتفاق وضو واجب ہے- یعنی تیمم جنابت کے ساتھ وضو کےلئے کافی پانی ہوتے ہوئے وہ محدث ہوا تو وضو واجب ہے باوجودیك ہ یہ جنب کا تیمم ہے اتفاقا- بخلاف صورت مسطورہ کے کہ اس میں تیمم جنابت کے بعد وضو واجب نہیں تو لفظ “ بالاتفاق “ لفظ “ یجب “ سے متعلق ہے۔ اور فالتیمم میں فا تفریع کےلئے ہے یعنی-تو وجوب وضو کے ساتھ جنابت کےلئے تیمم ثابت ہوا۔ کیونکہ جامع میں شرح طحاوی و غیرہ سے ذکر کیا ہے کہ جنب کے لئے بعض اعضاء میں پانی صرف کرنا یا حدث کےلئے صرف کرنا واجب نہیں مگر جب جنابت کا تیمم کرلے پھر اس سے کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے تو اب اس پر وضو واجب ہوگا اس لئے کہ وہ اتنے پانی پر قادر ہے جو وضو کےلئے کافی ہے- اور تیمم واجب نہیں اس لئے کہ وہ تیمم کرکے جنابت سے نکل چکا ہے یہاں تك کہ(باقی اگلے صفحہ پر)
احدھما تقدیر عــہ المضاف ای
کہ “ وجوب وضو کا حکم اس حدث کی طرف عائد ہے جو تیمم جنابت کے بعد ہو “ -مگر اس بارے میں ان کے دو۲ مسلك ہیں : طریق اول : ( “ اما اذاکان مع الجنابۃ
عــہ قال فی السعا یۃ فی غا یۃ الحواشی قولہ یجب جزاء اما وکلمۃ کان تامۃ وتقد یر الکلام اما اذا وجد مع تیمم الجنابۃ حدث یوجب الوضوء فیجب الوضوء اتفاقا یعنی احدث بالتیمم للجنابۃ مع وجود الماء الکافی للوضوء فیجب الوضوء مع انہ تیمم الجنب اتفاقا بخلاف الصورۃ المسطورۃ فان فیھا بعد تیمم الجنابۃ لایجب الوضوء فقولہ بالاتفاق متعلق بقولہ یجب وقولہ فالتیمم الفاء للتفریع ای فثبت التیمم للجنابۃ مع وجوب الوضوء فانہ ذکر فی الجامع عن شرح الطحاوی و غیرہ انہ لایجب للجنب صرف الماء الی بعض الاعضاء اوللحدث الا اذا تیمم للجنابۃ ثم وقع منہ حدث یوجب الوضوء لانہ یجب علیہ الوضوء ح لانہ قدر علی ماء کاف بہ ولم یجب التیمم لانہ بالتیمم خرج عن الجنابۃ الی ان یجد
سعایہ میں لکھا ہے : غا یۃ الحواشی میں ہے : لفظ “ یجب “ “ اما “ کی جزا ہے اور کان تامہ ہے۔ تقد یر کلام یہ ہوگی لیکن جب تیمم جنابت کے ساتھ کوئی حدث پا یا جائے تو بالاتفاق وضو واجب ہے- یعنی تیمم جنابت کے ساتھ وضو کےلئے کافی پانی ہوتے ہوئے وہ محدث ہوا تو وضو واجب ہے باوجودیك ہ یہ جنب کا تیمم ہے اتفاقا- بخلاف صورت مسطورہ کے کہ اس میں تیمم جنابت کے بعد وضو واجب نہیں تو لفظ “ بالاتفاق “ لفظ “ یجب “ سے متعلق ہے۔ اور فالتیمم میں فا تفریع کےلئے ہے یعنی-تو وجوب وضو کے ساتھ جنابت کےلئے تیمم ثابت ہوا۔ کیونکہ جامع میں شرح طحاوی و غیرہ سے ذکر کیا ہے کہ جنب کے لئے بعض اعضاء میں پانی صرف کرنا یا حدث کےلئے صرف کرنا واجب نہیں مگر جب جنابت کا تیمم کرلے پھر اس سے کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے تو اب اس پر وضو واجب ہوگا اس لئے کہ وہ اتنے پانی پر قادر ہے جو وضو کےلئے کافی ہے- اور تیمم واجب نہیں اس لئے کہ وہ تیمم کرکے جنابت سے نکل چکا ہے یہاں تك کہ(باقی اگلے صفحہ پر)
اذا وجد عــہ۱ مع تیمم الجنابۃ حدث یجب الوضوء بالاتفاق عــہ۲ فیبقی عــہ۳ ھذا التیمم للجنابۃ خاصۃ عــہ۴بخلاف ما اذا وجد الحدث
حدث “ میں جنابت سے پہلے) مضاف مقدر ماننا
یعنی جب تیمم جنابت کے ساتھ کوئی حدث پا یا جائے تو بالاتفاق وضو واجب ہے تو یہ تیمم خاص جنابت کےلئے رہ جائےگا بخلاف
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الماء الکافی للغسل انتھی فاندفع السؤال المشھور ان الجنابۃ تستلزم الحدث فکیف یصح قولہ اذاکان مع الجنابۃ حدث ومن فسر فالتیمم للجنابۃ واجب بعد الوضوء فما شم رائحۃ المقصود اھ۔ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۱ : اشار الی ماقالہ فی غا یۃ الحواشی ان کان فی قول الشارح تامۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ : اشار الی ماقالہ ان بالاتفاق متعلق بیجب ۱۲ منہ غفرلہ (م) الله
عــہ۳ : اشار الی ماقالہ ان الفاء فی قولہ فالتیمم للتفریع ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۴ : زدت(۱) خاصۃ اذبہ یتم المقصود و غیرت ماسلکہ ان المراد ثبت التیمم للجنابۃ مع وجوب الوضوء فان(۲) المقصود اذن فیما حذفہ الصدر۱۲
غسل کےلئے کافی پانی اسے ملے -انتہی- تو وہ مشہور اعتراض دفع ہوگیا کہ جنابت حدث کو مستلزم ہوتی ہے۔ پھر صدر الشریعۃ کا قول “ اذا کان مع الجنابۃ حدث “ (جب جنابت کے ساتھ کوئی حدث ہو) کیسے صحیح ہوگا۔ اور جس نے یہ تفسیر کی : فالتیمم للجنابۃ واجب بعد الوضوء(تو جنابت کےلئے تیمم وضو کے بعد واجب ہے) تو اسے مقصد کی بو بھی نہ ملی اھ- عبارت سعایہ ختم ہوئی۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اس کی طرف اشارہ ہے جو غایۃ الحواشی میں لکھا کہ شارح کی عبارت میں “ کان “ تامہ ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
(تو اذا کان کی تفسیر “ اذاوجد “ (جب پا یا جائے) سے کی گئی۔ ۱۲ م الف)اس کی طرف اشارہ ہے جو اس میں لکھا ہے کہ “ بالاتفاق “ یجب سے متعلق ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اس کی طرف اشارہ ہے کہ فالتیمم میں ف برائے تفریع ہے جیسا کہ اس میں لکھا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
میں نے “ خاصۃ “ بڑھا د یا کیونکہ اسی سے مقصد پورا ہوتا ہے اور اس میں جو طریقہ اختیار کیا کہ “ یہ مراد ہے کہ وجوب وضو کے ساتھ جنابت کا تیمم ثابت ہے “ میں نے اسے بدل د یا کیونکہ اس طور پر (باقی برصفحہ ائندہ)
حدث “ میں جنابت سے پہلے) مضاف مقدر ماننا
یعنی جب تیمم جنابت کے ساتھ کوئی حدث پا یا جائے تو بالاتفاق وضو واجب ہے تو یہ تیمم خاص جنابت کےلئے رہ جائےگا بخلاف
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الماء الکافی للغسل انتھی فاندفع السؤال المشھور ان الجنابۃ تستلزم الحدث فکیف یصح قولہ اذاکان مع الجنابۃ حدث ومن فسر فالتیمم للجنابۃ واجب بعد الوضوء فما شم رائحۃ المقصود اھ۔ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۱ : اشار الی ماقالہ فی غا یۃ الحواشی ان کان فی قول الشارح تامۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ : اشار الی ماقالہ ان بالاتفاق متعلق بیجب ۱۲ منہ غفرلہ (م) الله
عــہ۳ : اشار الی ماقالہ ان الفاء فی قولہ فالتیمم للتفریع ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۴ : زدت(۱) خاصۃ اذبہ یتم المقصود و غیرت ماسلکہ ان المراد ثبت التیمم للجنابۃ مع وجوب الوضوء فان(۲) المقصود اذن فیما حذفہ الصدر۱۲
غسل کےلئے کافی پانی اسے ملے -انتہی- تو وہ مشہور اعتراض دفع ہوگیا کہ جنابت حدث کو مستلزم ہوتی ہے۔ پھر صدر الشریعۃ کا قول “ اذا کان مع الجنابۃ حدث “ (جب جنابت کے ساتھ کوئی حدث ہو) کیسے صحیح ہوگا۔ اور جس نے یہ تفسیر کی : فالتیمم للجنابۃ واجب بعد الوضوء(تو جنابت کےلئے تیمم وضو کے بعد واجب ہے) تو اسے مقصد کی بو بھی نہ ملی اھ- عبارت سعایہ ختم ہوئی۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اس کی طرف اشارہ ہے جو غایۃ الحواشی میں لکھا کہ شارح کی عبارت میں “ کان “ تامہ ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
(تو اذا کان کی تفسیر “ اذاوجد “ (جب پا یا جائے) سے کی گئی۔ ۱۲ م الف)اس کی طرف اشارہ ہے جو اس میں لکھا ہے کہ “ بالاتفاق “ یجب سے متعلق ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اس کی طرف اشارہ ہے کہ فالتیمم میں ف برائے تفریع ہے جیسا کہ اس میں لکھا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
میں نے “ خاصۃ “ بڑھا د یا کیونکہ اسی سے مقصد پورا ہوتا ہے اور اس میں جو طریقہ اختیار کیا کہ “ یہ مراد ہے کہ وجوب وضو کے ساتھ جنابت کا تیمم ثابت ہے “ میں نے اسے بدل د یا کیونکہ اس طور پر (باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
السعایۃ حاشیہ شرح وقایہ باب التیمم سہیل اکیڈیمی ، لاہور ۱ / ۴۹۰
قبل التیمم فانہ عــہ ۱ یکون لہ وللجنابۃ معا کما افید فی شرح الطحاوی و غیرہ۔
ھذا تھذیب مانقلتہ السعا یۃ عن غا یۃ الحواشی واعتمدتہ وان ناقشتہ عــہ۲ فی زوائد ومن طالع عبارتھا و
اس صورت کے جب حدث تیمم سے قبل پا یا جائے کہ یہ حدث اور جنابت دونوں کےلئے ہوگا۔ جیسا کہ شرح طحاوی و غیرہ میں اس کا افادہ ہوا ہے۔
یہ اس کی اصلاح وتنقیح ہے جو سعایہ میں غا یۃ الحواشی سے نقل کیا اور اس پر اعتماد کیا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
قولہ مع وجوب الوضوء وفیہ الفرق بین الصورتین فتبقی الجملۃ بحذفہ ناقصۃ مختلۃ وحذفت(۱) قولہ اتفاقا لانہ خلاف المقصود وفی نفسہ مردود٭ کماستعلم بعون الودود ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۱ : زدتہ اذ بہ تمام التقرےب علی الوجہ الذی وصفنا منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ : نازعہ فی کون کان تامۃ بانہ لادخل لہ فی المقصود ویمکن کونھا ناقصۃ وفی کون الفاء للتفریع وقال الاظھر علی ھذا ان
تکون تعلیلیۃ یعنی لان التیمم للجنابۃ ووالحدث طار (ای طارئ) فلایکفی لہ اھ۔ ملخصا مھذبا اقول : (۲) یحتاج الی ذکر الخصوص کمافعلنا والافکون التیمم للجنابۃ لایمنع کونہ للحدث الا ان یکون الحدث طارئافاذن ذکر فی التعلیل ما لادخل لہ وطوی ماھو التعلیل وکیفما کان لیس
مقصود اسی لفظ سے ادا ہوگا جو صدر الشریعۃ نے حذف کیا یعنی “ مع وجوب الوضوء “ اور اسی سے دونوں صورتوں کے درمیان فرق ہوسکے گا تو اسے حذف کر دینے سے جملہ ناقص اور مختل ہوجائےگا -اور غا یۃ الحواشی کا لفظ “ اتفاقا “ میں نے حذف کرد یا اس لئے کہ خلاف مقصود ہے اور بجائے خود بھی نامقبول ہے جیسا کہ بعون الہی معلوم ہوگا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
میں نے اسے بڑھاد یا کیونکہ اس سے تقرےب تام ہوتی ہے اس طور پر جو ہم نے بیان کیا ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
اس سے کان کے تامہ ہونے میں نزاع کیا کہ اس کا مقصد میں کچھ دخل نہیں ناقصہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور فا کے برائے تفریع ہونے میں نزاع کیا اور کہا اس طور پر ظاہر تر یہ ہے کہ تعلیلیہ ہو یعنی اس لئے کہ تیمم جنابت کا ہے اور حدث طاری ہے تو اس کےلئے کافی نہیں اھ انکی عبارت تلخیص اور اصلاح وتنقیح کے ساتھ ختم ہوئی اقول : انہیں “ خصوص “ کے ذکر کی ضرورت ہے جیسا کہ ہم نے کیا ورنہ تیمم کا جنابت کےلئے ہونا اس سے مانع نہیں کہ حدث کےلئے بھی ہو مگر یہ کہ حدث (بعد تیمم) طاری ہو-تو تعلیل میں وہ ذکر کیا جسے کوئی دخل نہیں اور اسے چھوڑ د یا(باقی برصفحہ ائندہ)
ھذا تھذیب مانقلتہ السعا یۃ عن غا یۃ الحواشی واعتمدتہ وان ناقشتہ عــہ۲ فی زوائد ومن طالع عبارتھا و
اس صورت کے جب حدث تیمم سے قبل پا یا جائے کہ یہ حدث اور جنابت دونوں کےلئے ہوگا۔ جیسا کہ شرح طحاوی و غیرہ میں اس کا افادہ ہوا ہے۔
یہ اس کی اصلاح وتنقیح ہے جو سعایہ میں غا یۃ الحواشی سے نقل کیا اور اس پر اعتماد کیا
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
قولہ مع وجوب الوضوء وفیہ الفرق بین الصورتین فتبقی الجملۃ بحذفہ ناقصۃ مختلۃ وحذفت(۱) قولہ اتفاقا لانہ خلاف المقصود وفی نفسہ مردود٭ کماستعلم بعون الودود ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۱ : زدتہ اذ بہ تمام التقرےب علی الوجہ الذی وصفنا منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ : نازعہ فی کون کان تامۃ بانہ لادخل لہ فی المقصود ویمکن کونھا ناقصۃ وفی کون الفاء للتفریع وقال الاظھر علی ھذا ان
تکون تعلیلیۃ یعنی لان التیمم للجنابۃ ووالحدث طار (ای طارئ) فلایکفی لہ اھ۔ ملخصا مھذبا اقول : (۲) یحتاج الی ذکر الخصوص کمافعلنا والافکون التیمم للجنابۃ لایمنع کونہ للحدث الا ان یکون الحدث طارئافاذن ذکر فی التعلیل ما لادخل لہ وطوی ماھو التعلیل وکیفما کان لیس
مقصود اسی لفظ سے ادا ہوگا جو صدر الشریعۃ نے حذف کیا یعنی “ مع وجوب الوضوء “ اور اسی سے دونوں صورتوں کے درمیان فرق ہوسکے گا تو اسے حذف کر دینے سے جملہ ناقص اور مختل ہوجائےگا -اور غا یۃ الحواشی کا لفظ “ اتفاقا “ میں نے حذف کرد یا اس لئے کہ خلاف مقصود ہے اور بجائے خود بھی نامقبول ہے جیسا کہ بعون الہی معلوم ہوگا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
میں نے اسے بڑھاد یا کیونکہ اس سے تقرےب تام ہوتی ہے اس طور پر جو ہم نے بیان کیا ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
اس سے کان کے تامہ ہونے میں نزاع کیا کہ اس کا مقصد میں کچھ دخل نہیں ناقصہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور فا کے برائے تفریع ہونے میں نزاع کیا اور کہا اس طور پر ظاہر تر یہ ہے کہ تعلیلیہ ہو یعنی اس لئے کہ تیمم جنابت کا ہے اور حدث طاری ہے تو اس کےلئے کافی نہیں اھ انکی عبارت تلخیص اور اصلاح وتنقیح کے ساتھ ختم ہوئی اقول : انہیں “ خصوص “ کے ذکر کی ضرورت ہے جیسا کہ ہم نے کیا ورنہ تیمم کا جنابت کےلئے ہونا اس سے مانع نہیں کہ حدث کےلئے بھی ہو مگر یہ کہ حدث (بعد تیمم) طاری ہو-تو تعلیل میں وہ ذکر کیا جسے کوئی دخل نہیں اور اسے چھوڑ د یا(باقی برصفحہ ائندہ)
حوالہ / References
السعایۃ حاشیہ شرح وقایہ باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۹
وازن بینھما وبین الفاظنا عرف کیف لخصنا ما اطال بہ وقربناہ٭ونقحناہ وھذبناہ٭
والاخر : جعل مع بمعنی بعد وھو المسلك المشہور۔
قال : المحقق مولی خسرو فی الدرر بعد بعارتہ التی قدمنا فی النصوص اما اذاکان مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء بان احدث بعد التیمم فیجب علیہ الوضوء فالتیمم للجنابۃ بالاتفاق اھ۔
اگرچہ کچھ زوائد میں اس سے مناقشہ بھی کیا-عبارت سعایہ کا مطالعہ اور اس کا اور ہمارے الفاظ کا موازنہ کرنے والے کو معلوم ہوگا کہ اس میں جو طویل کلام تھا ہم نے اس کی کیسی تلخیص کردی اور فہم کے قریب بھی کرد یا۔ الفاظ کی تنقیح وتہذیب بھی ہوگئی۔ (ت)
طریق دوم : مع کو بعد کے معنی میں قرار دینا۔ یہ مشہور طریقہ ہے۔
محقق مولی خسرو نے درر الحکام-میں اس عبارت کے بعد جو ہم نے نصوص میں پیش کی فرما یا : “ لیکن جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے اس طرح کہ تیمم کے بعد محدث ہوا تو اس پر وضو واجب ہے۔ تو اس پر وضو واجب ہے۔ تو تیمم بالاتفاق جنابت کےلئے ہے “ اھ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الاکلاما فی امر زائد ومن(۱) سلك مسلکا صحیحا لایقال ان کلامہ مخدوش کماقالہ فی عمدۃ الرعا یۃ وان اختار فی امر زائد ظاھرا مکان الاظھر وکون بحث کان بمعزل عن المقصود بالکل یۃ اظھر من ان یظھر ثم کونھا تامۃ ھو الظاھر المتبادر ذکرہ(۲) المحشی بیانا للواقع کعادتھم لالتوقف الجواب علیہ فلیس فیما نقل من عبارتہ دلالۃ علیہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
جو واقعۃ تعلیل ہے- خیر جو بھی ہو یہ ایك زائد معاملہ میں ہی کلام ہے-اور جو کسی صحیح روش پر چلا ہو اس کےلئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا کلام مخدوش ہے جیسا کہ عمدۃ الرعایہ میں کہا اگرچہ اس امر زائد میں وہاں ظاہر تر کی جگہ ظاہر اختیار کیا ہے۔ اور کان کی بحث کا مقصود سے بالکل الگ ہونا بالکل محتاج بیان نہیں- پھر اس کا تامہ ہونا بھی ظاہر ومتبادر ہے۔ محشی نے بیان واقع کے طور پر اسے ذکر کرد یا ہے جیسا کہ ان حضرات کی عادت ہے۔ اس لئے نہیں ذکر کیا ہے کہ جواب اسی پر موقوف ہے منقولہ عبارت میں اس پر کوئی دلالت بھی نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
والاخر : جعل مع بمعنی بعد وھو المسلك المشہور۔
قال : المحقق مولی خسرو فی الدرر بعد بعارتہ التی قدمنا فی النصوص اما اذاکان مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء بان احدث بعد التیمم فیجب علیہ الوضوء فالتیمم للجنابۃ بالاتفاق اھ۔
اگرچہ کچھ زوائد میں اس سے مناقشہ بھی کیا-عبارت سعایہ کا مطالعہ اور اس کا اور ہمارے الفاظ کا موازنہ کرنے والے کو معلوم ہوگا کہ اس میں جو طویل کلام تھا ہم نے اس کی کیسی تلخیص کردی اور فہم کے قریب بھی کرد یا۔ الفاظ کی تنقیح وتہذیب بھی ہوگئی۔ (ت)
طریق دوم : مع کو بعد کے معنی میں قرار دینا۔ یہ مشہور طریقہ ہے۔
محقق مولی خسرو نے درر الحکام-میں اس عبارت کے بعد جو ہم نے نصوص میں پیش کی فرما یا : “ لیکن جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے اس طرح کہ تیمم کے بعد محدث ہوا تو اس پر وضو واجب ہے۔ تو اس پر وضو واجب ہے۔ تو تیمم بالاتفاق جنابت کےلئے ہے “ اھ
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
الاکلاما فی امر زائد ومن(۱) سلك مسلکا صحیحا لایقال ان کلامہ مخدوش کماقالہ فی عمدۃ الرعا یۃ وان اختار فی امر زائد ظاھرا مکان الاظھر وکون بحث کان بمعزل عن المقصود بالکل یۃ اظھر من ان یظھر ثم کونھا تامۃ ھو الظاھر المتبادر ذکرہ(۲) المحشی بیانا للواقع کعادتھم لالتوقف الجواب علیہ فلیس فیما نقل من عبارتہ دلالۃ علیہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
جو واقعۃ تعلیل ہے- خیر جو بھی ہو یہ ایك زائد معاملہ میں ہی کلام ہے-اور جو کسی صحیح روش پر چلا ہو اس کےلئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا کلام مخدوش ہے جیسا کہ عمدۃ الرعایہ میں کہا اگرچہ اس امر زائد میں وہاں ظاہر تر کی جگہ ظاہر اختیار کیا ہے۔ اور کان کی بحث کا مقصود سے بالکل الگ ہونا بالکل محتاج بیان نہیں- پھر اس کا تامہ ہونا بھی ظاہر ومتبادر ہے۔ محشی نے بیان واقع کے طور پر اسے ذکر کرد یا ہے جیسا کہ ان حضرات کی عادت ہے۔ اس لئے نہیں ذکر کیا ہے کہ جواب اسی پر موقوف ہے منقولہ عبارت میں اس پر کوئی دلالت بھی نہیں ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
حوالہ / References
درر مولٰی خسرو باب التیمم مکتبہ احمد کامل الکائنۃ فی دار السعادۃ مصر ۱ / ۲۹
قال العلامۃ الشرنبلالی فی الغنیۃ یعنی فالتیمم باق لرفع الجنابۃ وقال تلمیذہ (الفاضل اخی چلپی فی ذخیرۃ العقبی۔
قولہ مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء) یعنی اذا اغتسل الجنب وبقی فی عضو من اعضائہ عــہ۱ لمعۃ وفنی الماء فتیمم للجنابۃ ثم احدث حدثا یوجب الوضوء ولم عــہ۲ یتیمم للحدث فوجد مایکفی
علامہ شرنبلالی نے غنیہ میں فرما یا یعنی : “ تو تیمم جنابت دور کرنے کےلئے باقی ہے “ اور ان کے تلمیذ فاضل اخی چلپی نے ذخیرۃ العقبی میں لکھا : قولہ “ مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء “ (جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہے جو وضو واجب کرتا ہے)یعنی جب غسل کرلے اور اس کے کسی عضو میں کچھ جگہ چھوٹ جائے اور پانی ختم ہوجائے تو جنابت کےلئے تیمم کرلے پھر اسے کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے اور اس حدث کےلئے اس نے تیمم نہ کیا پھر
عــہ۱ : اعترضہ فی السعا یۃ بان تقر یرہ یحکم یکون مع بمعنی بعد و اذاحمل علیہ فتصو یرہ سھل لایحتاج الی حدیث اللمعۃ اھ۔ اقول : الاعتراض(۱) علی التصو یر کالمناقشۃ فی المثال فانہ لایضر بالمقصود ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ اقول : ھذہ(۲) ز یادۃ ضائعۃ فلوتیمم للحدث لکان الحکم کذا وانما زادہ مراعاۃ للتصو یر الذی ذکر فیہ الشارح الامام اخر الباب مانقل عنہ وھو(۳) ایضا غیر محوج فان الشارح ذکر ایضا مااذا تیمم للجنابۃ ثم احدث فتیمم للحدث وقال فکذا فی الوجوہ المذکورۃ ومن وجوہ المشار الیھا قولہ وان کفی لاحدھما بعینہ غسلہ ویبقی التیمم فی حق الاخر ۱۲ منہ غفرلہ (م)
سعایہ میں اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس تقر یر کا حکم یہ ہے کہ مع بمعنی بعد ہو اور جب اس پر محمول کرلیا جائے تو اس کی تصو یر آسان ہے۔ حدیث لمعہ (چھوٹی ہوئی جگہ کی بات) درمیان میں لانے کی ضرورت ہی نہیں اھ اقول : کسی مسئلہ کی صورت نکالنے پر اعتراض ایسا ہی ہے جیسے مثال میں مناقشہ کہ یہ مقصود کےلئے مضر نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : یہ بیکار کا اضافہ ہے-اگر وہ حدث کےلئے تیمم کرلے جب بھی حکم یہی ہوگا-اسے انہوں نے اس تصو یر کی رعایت میں بڑھاد یا جس میں یہ منقولہ جملہ شارح امام نے آخر باب میں ذکر فرما یا ہے حالانکہ اضافہ کی ضرورت نہیں کیونکہ شارح نے یہ ذکر کیا ہے لیکن (باقی برصفحہ ائندہ)
للوضوء لا للمعۃ فتیممہ باق وعلیہ الوضوء اھ۔
اسے اتنا پانی ملا جو وضو کےلئے کافی ہے اس چھوٹی ہوئی جگہ
قولہ مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء) یعنی اذا اغتسل الجنب وبقی فی عضو من اعضائہ عــہ۱ لمعۃ وفنی الماء فتیمم للجنابۃ ثم احدث حدثا یوجب الوضوء ولم عــہ۲ یتیمم للحدث فوجد مایکفی
علامہ شرنبلالی نے غنیہ میں فرما یا یعنی : “ تو تیمم جنابت دور کرنے کےلئے باقی ہے “ اور ان کے تلمیذ فاضل اخی چلپی نے ذخیرۃ العقبی میں لکھا : قولہ “ مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء “ (جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہے جو وضو واجب کرتا ہے)یعنی جب غسل کرلے اور اس کے کسی عضو میں کچھ جگہ چھوٹ جائے اور پانی ختم ہوجائے تو جنابت کےلئے تیمم کرلے پھر اسے کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے اور اس حدث کےلئے اس نے تیمم نہ کیا پھر
عــہ۱ : اعترضہ فی السعا یۃ بان تقر یرہ یحکم یکون مع بمعنی بعد و اذاحمل علیہ فتصو یرہ سھل لایحتاج الی حدیث اللمعۃ اھ۔ اقول : الاعتراض(۱) علی التصو یر کالمناقشۃ فی المثال فانہ لایضر بالمقصود ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ اقول : ھذہ(۲) ز یادۃ ضائعۃ فلوتیمم للحدث لکان الحکم کذا وانما زادہ مراعاۃ للتصو یر الذی ذکر فیہ الشارح الامام اخر الباب مانقل عنہ وھو(۳) ایضا غیر محوج فان الشارح ذکر ایضا مااذا تیمم للجنابۃ ثم احدث فتیمم للحدث وقال فکذا فی الوجوہ المذکورۃ ومن وجوہ المشار الیھا قولہ وان کفی لاحدھما بعینہ غسلہ ویبقی التیمم فی حق الاخر ۱۲ منہ غفرلہ (م)
سعایہ میں اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس تقر یر کا حکم یہ ہے کہ مع بمعنی بعد ہو اور جب اس پر محمول کرلیا جائے تو اس کی تصو یر آسان ہے۔ حدیث لمعہ (چھوٹی ہوئی جگہ کی بات) درمیان میں لانے کی ضرورت ہی نہیں اھ اقول : کسی مسئلہ کی صورت نکالنے پر اعتراض ایسا ہی ہے جیسے مثال میں مناقشہ کہ یہ مقصود کےلئے مضر نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : یہ بیکار کا اضافہ ہے-اگر وہ حدث کےلئے تیمم کرلے جب بھی حکم یہی ہوگا-اسے انہوں نے اس تصو یر کی رعایت میں بڑھاد یا جس میں یہ منقولہ جملہ شارح امام نے آخر باب میں ذکر فرما یا ہے حالانکہ اضافہ کی ضرورت نہیں کیونکہ شارح نے یہ ذکر کیا ہے لیکن (باقی برصفحہ ائندہ)
للوضوء لا للمعۃ فتیممہ باق وعلیہ الوضوء اھ۔
اسے اتنا پانی ملا جو وضو کےلئے کافی ہے اس چھوٹی ہوئی جگہ
حوالہ / References
غنیہ ذوی الاحکام باب التیمم مکتبہ احمد کامل الکائنۃ فی دار السعادۃ مصر ۱ / ۲۹
السعایہ شرح وقایہ باب التیمم سہیل اکیڈمی ، لاہور ۱ / ۴۹۱
ذخیرۃ العقبی باب التیمم مطبع اسلامیہ لاہور ۱ / ۱۶۷
السعایہ شرح وقایہ باب التیمم سہیل اکیڈمی ، لاہور ۱ / ۴۹۱
ذخیرۃ العقبی باب التیمم مطبع اسلامیہ لاہور ۱ / ۱۶۷
وقال الشمس القھستانی فی شرح النقا یۃ بعد مانقلنا عنہ فی النصوص وھذا صورۃ ماقال المصنف واما اذاکان مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء یجب علیہ الوضوء فالتیمم للجنابۃ بالاتفاق (۱) فان مع فیہ بمعنی بعد کما قالوا فی قولہ تعالی ان مع العسر یسرا(۶)وبہ ینحل مافی ھذا المقام من الاشکال المشھور اھ۔
وتبعہ المدقق العلائی فی الدر واقرہ محشوہ واعترض ھذا المسلك فی السعا یۃ بانہ لواجنب ثم احدث فوجد مایکفی للوضوء فقط
کےلئے نہیں تو اس کا تیمم باقی ہے اور اسے وضو کرنا ہے اھ (ت)
شمس قہستانی نے شرح نقایہ میں کہا اس عبارت کے بعد جو ہم نے نصوص میں ان سے نقل کی : اور یہی اس کی صورت ہے جو مصنف نے کہا : “ لیکن جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے اس پر وضو لازم ہے تو تیمم جنابت کےلئے ہے بالاتفاق “ ۔ کیونکہ اس میں “ مع “ بعد کے معنی میں ہے جیسا کہ علماء نے ارشاد باری تعالی “ ان مع العسر یسرا(۶) “ (بیشك دشواری کے ساتھ آسانی ہے) میں کہا ہے۔ اسی سے وہ مشہور اشکال حل ہوجاتا ہے جو اس مقام پر پیش آتا ہے اھ مدقق علائی نے درمختار میں اس کا اتباع کیا اور اسے محشین نے بھی برقرار رکھا۔ سعایہ میں اس
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ثم احدث فلتیمم للحدث و قال فکذا فی الوجوہ المذکورۃ ومن وجوہ المشار الیھا قولہ وان کفی لاحدھما بعینہ غسلہ و یبقی التیمم فی حق الاخر ۱۲ منہ غفرلہ(م)
جنابت کا تیمم کیا۔ پھر حدث ہوا تو حدث کا تیمم کیا۔ اور آگے فرما یا مذکورہ صورتوں میں بھی ایسا ہے جن صورتوں کی طرف اشارہ فرما یا ہے ان میں یہ بھی ہے کہ اگر ان میں سے بعینہ کسی ایك پر کفایت کرنے والا ہو تو اسے دھوئے اور دوسرے کے حق میں تیمم باقی رہے گا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وتبعہ المدقق العلائی فی الدر واقرہ محشوہ واعترض ھذا المسلك فی السعا یۃ بانہ لواجنب ثم احدث فوجد مایکفی للوضوء فقط
کےلئے نہیں تو اس کا تیمم باقی ہے اور اسے وضو کرنا ہے اھ (ت)
شمس قہستانی نے شرح نقایہ میں کہا اس عبارت کے بعد جو ہم نے نصوص میں ان سے نقل کی : اور یہی اس کی صورت ہے جو مصنف نے کہا : “ لیکن جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے اس پر وضو لازم ہے تو تیمم جنابت کےلئے ہے بالاتفاق “ ۔ کیونکہ اس میں “ مع “ بعد کے معنی میں ہے جیسا کہ علماء نے ارشاد باری تعالی “ ان مع العسر یسرا(۶) “ (بیشك دشواری کے ساتھ آسانی ہے) میں کہا ہے۔ اسی سے وہ مشہور اشکال حل ہوجاتا ہے جو اس مقام پر پیش آتا ہے اھ مدقق علائی نے درمختار میں اس کا اتباع کیا اور اسے محشین نے بھی برقرار رکھا۔ سعایہ میں اس
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
ثم احدث فلتیمم للحدث و قال فکذا فی الوجوہ المذکورۃ ومن وجوہ المشار الیھا قولہ وان کفی لاحدھما بعینہ غسلہ و یبقی التیمم فی حق الاخر ۱۲ منہ غفرلہ(م)
جنابت کا تیمم کیا۔ پھر حدث ہوا تو حدث کا تیمم کیا۔ اور آگے فرما یا مذکورہ صورتوں میں بھی ایسا ہے جن صورتوں کی طرف اشارہ فرما یا ہے ان میں یہ بھی ہے کہ اگر ان میں سے بعینہ کسی ایك پر کفایت کرنے والا ہو تو اسے دھوئے اور دوسرے کے حق میں تیمم باقی رہے گا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
جامع الرموز باب التیمم مطبعہ کریمیہ قزان ا یران ۱ / ۶۴
فانہ یتیمم ولایجب علیہ الوضوء یکون تیممہ کافیا لرفع الحدث الاکبر و الاصغر مع انہ یصدق علیہ انہ وجد بہ حدث یوجب الوضوء بعد الجنابۃ فیلزم بمقتضی عبارۃ الشارح ان یجب علیہ الوضوء قال فالاولی ان یقال مع بمعنی بعد والمضاف محذوف ای بعد تیم م الجنابۃ اویقال مع علی معناہ والمضاف محذوف ای مع تیمم الجنابۃ اھ۔ ملخصا
ھذا وعندی حاشیۃ علی شرح الوقا یۃ للفاضل محمد القرہ باغی اتمھا سنۃ تسعمائۃ وثلثین ای بعد خمس وعشرین سنۃ من وفاۃ اخی چلپی وقال قلت لتاریخہ ثم تسویدی(۹) وھی کتابۃ یوسف بن حسن بن عبدالله سنۃ تسعمائۃ وسبعوسبعین نقل فیھا کلام اخی چلپی بلفظۃ قال بعض المحشین ثم قال اقول لایخفی ان ھذا التصو یر تکلف بعید الاخذ من ھذہ العبارۃ علا ان الشارح سیصرح ھذہ المسألۃ بقولہ وان کفی للوضوء لاللمعۃ فتیممہ باق وعلیہ الوضوء فبحمل ھذہ العبارۃ علی ماذکرہ
طریق پر اعتراض کیا کہ اگر اسے جنابت ہو پھر حدث ہو۔ اس کے بعد اسے اتنا ہی پانی ملے جو صرف وضو کےلئے کفایت کرسکے تو وہ تیمم کرے گا اور اس پر وضو واجب نہیں۔ اس کا تیمم حدث اکبر و اصغر دونوں کو رفع کرنے کےلئے کافی ہوگا-باوجودیکہ اس کے متعلق یہ صادق ہے کہ اس کے ساتھ جنابت کے بعد ایسا حدث پا یا گیا جو وضو واجب کرتا ہے تو بمقتضائے عبارت شارح لازم آئےگا کہ اس پر وضو واجب ہو۔ کہا : تو اولی یہ کہنا ہے کہ مع بمعنی بعد ہے اور مضاف محذوف ہے یعنی “ مع تیمم الجنابۃ “ اھ (ت)
یہ سب ہوا۔ اور میرے پاس شرح وقایہ پر فاضل محمد قرہ باغی کا ایك حاشیہ ہے جسے انہوں نے ۹۳۰ میں مکمل کیا یعنی اخی چلپی کی وفات کے پچیس۲۵سال بعد۔ اور اس کی تاریخ تکمیل کےلئے ثم تسویدی کہا ہے اور یہ ۹۷۷ میں یوسف بن حسن بن عبداللہکا کتابت کیا ہوا ہے اس میں اخی چلپی کاکلام “ قال بعض المحشین “ کے لفظ سے نقل کیا ہے پھر لکھا ہے : “ میں کہتا ہوں مخفی نہیں کہ یہ صورت نکالنے میں تکلف ہے اور اس عبارت سے اسے اخذ کرنا بعید ہے علاوہ ازیں شارح عنقریب اس مسئلہ کی تصریح اس عبارت میں کریں گے : “ اور اگر وضو کےلئے کافی ہے چھوٹی ہوئی جگہ کےلئے نہیں تو اس کا تیمم باقی ہے اور اسے وضو کرنا ہے “ اب اگر
ھذا وعندی حاشیۃ علی شرح الوقا یۃ للفاضل محمد القرہ باغی اتمھا سنۃ تسعمائۃ وثلثین ای بعد خمس وعشرین سنۃ من وفاۃ اخی چلپی وقال قلت لتاریخہ ثم تسویدی(۹) وھی کتابۃ یوسف بن حسن بن عبدالله سنۃ تسعمائۃ وسبعوسبعین نقل فیھا کلام اخی چلپی بلفظۃ قال بعض المحشین ثم قال اقول لایخفی ان ھذا التصو یر تکلف بعید الاخذ من ھذہ العبارۃ علا ان الشارح سیصرح ھذہ المسألۃ بقولہ وان کفی للوضوء لاللمعۃ فتیممہ باق وعلیہ الوضوء فبحمل ھذہ العبارۃ علی ماذکرہ
طریق پر اعتراض کیا کہ اگر اسے جنابت ہو پھر حدث ہو۔ اس کے بعد اسے اتنا ہی پانی ملے جو صرف وضو کےلئے کفایت کرسکے تو وہ تیمم کرے گا اور اس پر وضو واجب نہیں۔ اس کا تیمم حدث اکبر و اصغر دونوں کو رفع کرنے کےلئے کافی ہوگا-باوجودیکہ اس کے متعلق یہ صادق ہے کہ اس کے ساتھ جنابت کے بعد ایسا حدث پا یا گیا جو وضو واجب کرتا ہے تو بمقتضائے عبارت شارح لازم آئےگا کہ اس پر وضو واجب ہو۔ کہا : تو اولی یہ کہنا ہے کہ مع بمعنی بعد ہے اور مضاف محذوف ہے یعنی “ مع تیمم الجنابۃ “ اھ (ت)
یہ سب ہوا۔ اور میرے پاس شرح وقایہ پر فاضل محمد قرہ باغی کا ایك حاشیہ ہے جسے انہوں نے ۹۳۰ میں مکمل کیا یعنی اخی چلپی کی وفات کے پچیس۲۵سال بعد۔ اور اس کی تاریخ تکمیل کےلئے ثم تسویدی کہا ہے اور یہ ۹۷۷ میں یوسف بن حسن بن عبداللہکا کتابت کیا ہوا ہے اس میں اخی چلپی کاکلام “ قال بعض المحشین “ کے لفظ سے نقل کیا ہے پھر لکھا ہے : “ میں کہتا ہوں مخفی نہیں کہ یہ صورت نکالنے میں تکلف ہے اور اس عبارت سے اسے اخذ کرنا بعید ہے علاوہ ازیں شارح عنقریب اس مسئلہ کی تصریح اس عبارت میں کریں گے : “ اور اگر وضو کےلئے کافی ہے چھوٹی ہوئی جگہ کےلئے نہیں تو اس کا تیمم باقی ہے اور اسے وضو کرنا ہے “ اب اگر
حوالہ / References
السعا یۃ باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۹۱
القائل یلزم التکرار ولعلہ انما ارتکبہ زعما بان الحدثین لایجتمعان فی شخص ابتداء ولاشك انہما یجتمعان لکن یکفی عنھما تیمم واحد اذا لم یوجد الماء الکافی للوضوء واما اذا وجد فلابد من الوضوء ثم التیمم للجنابۃ والمذکور فی الکتاب ھو ھذا المعنی۔
والعجب منہ انہ لم یلتفت الی ھذا المعنی مع ان عبارۃ الشارح بعیدا ھذا صریح باجتماع الحدثین ابتداء حیث قال لوکان بہ حدثان کالجنابۃ وحدث یوجب الوضوء ینبغی ان ینوی عنھما لایقال ان الجنابۃ لما اوجب غسل بعض الاجزاء الذی ھو عبارۃ عن الوضوء فلافائدۃ لاعتبار الحدث الذی یوجب الوضوء مع الجنابۃ لانا نقول بعد تسلیم جمیع المقدمات یجوز(۱) اجتماع العلل الشرعیۃ علی معلول واحد شرعی کماصرح بہ صاحب التلویح فقال لو(۲) حلف ان لایتوضأ من الرعاف فبال ثم رعف فتوضأ حنث ولہ نظائر فی الشرع اھ کلام القرہ باغی ببعض اختصار۔
اس عبارت کو اس پر محمول کیا جائے جو قائل نے ذکر کیا تو تکرار لازم آئےگی۔ اور اس نے اس تاویل کا ارتکاب شاید اس خیال سے کیا ہے کہ کسی شخص میں دونوں حدث ابتداء جمع نہیں ہوتے حالانکہ بلا شبہہ دونوں جمع ہوتے ہیں لیکن دونوں کی طرف سے ایك ہی تیمم کافی ہے جبکہ وضو کےلئے آب کافی دست یاب نہ ہو اور دست یاب ہو تو وضو پھر جنابت کا تیمم ضروری ہے۔ کتاب میں یہی بات مذکور ہے۔
قائل پر تعجب ہے کہ اس معنی کی طرف التفات نہ کیا حالانکہ اس کے کچھ ہی بعد شارح کی عبارت اس بارے میں صریح ہے کہ دونوں حدث ابتداء جمع ہوتے ہیں۔ انہوں نے فرما یاہے : “ اگر اسے دو حدث ہوں جیسے جنابت اور کوئی ایسا حدث جو وضو واجب کرتا ہے تو اسے چاہئے کہ دونوں سے تیمم کی نیت کرے “۔ اگر یہ کہا جائے کہ جنابت سے جب ان بعض اجزاء کا دھونا واجب ہوا جو وضو سے عبارت ہے تو جنابت کے ساتھ وضو واجب کرنے والے حدث کا اعتبار کرنے میں کوئی فائدہ نہیں تو ہم کہیں گے اگر اعتراض کے تمام مقدمات تسلیم کرلیے جائیں تو بھی جواب یہ ہے کہ ایك معلول شرعی پر چند علل شرعیہ کا اجتماع ہوسکتا ہے جیسا کہ صاحب تلویح نے اس کی صراحت کرتے ہوئے لکھا ہے : اگر قسم کھائی کہ نکسیر سے وضو نہ کرے گا پھر اس نے پیشاب کیا اس کے بعد نکسیر ٹوٹی پھر اس نے وضو کیا تو اس کی قسم ٹوٹ گئی۔ اور شریعت میں اس کی بہت سی نظیریں ہیں “ ۔ فاضل قرہ باغی کا کلام کچھ اختصار کے ساتھ ختم ہوا۔ (ت)
والعجب منہ انہ لم یلتفت الی ھذا المعنی مع ان عبارۃ الشارح بعیدا ھذا صریح باجتماع الحدثین ابتداء حیث قال لوکان بہ حدثان کالجنابۃ وحدث یوجب الوضوء ینبغی ان ینوی عنھما لایقال ان الجنابۃ لما اوجب غسل بعض الاجزاء الذی ھو عبارۃ عن الوضوء فلافائدۃ لاعتبار الحدث الذی یوجب الوضوء مع الجنابۃ لانا نقول بعد تسلیم جمیع المقدمات یجوز(۱) اجتماع العلل الشرعیۃ علی معلول واحد شرعی کماصرح بہ صاحب التلویح فقال لو(۲) حلف ان لایتوضأ من الرعاف فبال ثم رعف فتوضأ حنث ولہ نظائر فی الشرع اھ کلام القرہ باغی ببعض اختصار۔
اس عبارت کو اس پر محمول کیا جائے جو قائل نے ذکر کیا تو تکرار لازم آئےگی۔ اور اس نے اس تاویل کا ارتکاب شاید اس خیال سے کیا ہے کہ کسی شخص میں دونوں حدث ابتداء جمع نہیں ہوتے حالانکہ بلا شبہہ دونوں جمع ہوتے ہیں لیکن دونوں کی طرف سے ایك ہی تیمم کافی ہے جبکہ وضو کےلئے آب کافی دست یاب نہ ہو اور دست یاب ہو تو وضو پھر جنابت کا تیمم ضروری ہے۔ کتاب میں یہی بات مذکور ہے۔
قائل پر تعجب ہے کہ اس معنی کی طرف التفات نہ کیا حالانکہ اس کے کچھ ہی بعد شارح کی عبارت اس بارے میں صریح ہے کہ دونوں حدث ابتداء جمع ہوتے ہیں۔ انہوں نے فرما یاہے : “ اگر اسے دو حدث ہوں جیسے جنابت اور کوئی ایسا حدث جو وضو واجب کرتا ہے تو اسے چاہئے کہ دونوں سے تیمم کی نیت کرے “۔ اگر یہ کہا جائے کہ جنابت سے جب ان بعض اجزاء کا دھونا واجب ہوا جو وضو سے عبارت ہے تو جنابت کے ساتھ وضو واجب کرنے والے حدث کا اعتبار کرنے میں کوئی فائدہ نہیں تو ہم کہیں گے اگر اعتراض کے تمام مقدمات تسلیم کرلیے جائیں تو بھی جواب یہ ہے کہ ایك معلول شرعی پر چند علل شرعیہ کا اجتماع ہوسکتا ہے جیسا کہ صاحب تلویح نے اس کی صراحت کرتے ہوئے لکھا ہے : اگر قسم کھائی کہ نکسیر سے وضو نہ کرے گا پھر اس نے پیشاب کیا اس کے بعد نکسیر ٹوٹی پھر اس نے وضو کیا تو اس کی قسم ٹوٹ گئی۔ اور شریعت میں اس کی بہت سی نظیریں ہیں “ ۔ فاضل قرہ باغی کا کلام کچھ اختصار کے ساتھ ختم ہوا۔ (ت)
حوالہ / References
تعلیق علٰی شرح الوقا یۃ للقرہ باغی
فھذا کل مارأیت لھم من القال والقیل٭والنقض والتاویل٭والانکار عــہ والتعویل٭
واعلم ان السعا یۃ لیست عندی وانما ارسل الی بعض اصحابی من لکھنؤ نقل نحو ورقۃ منھا متعلقۃ بھذا المقام علی طلبی لکی اری ماعندہ فیہ عسی ان نقل عن کتاب مافیہ غناء فقد کان جمع من الکتب اکثر مما عندی فلما طالعتہ لم ارہ فازبطائل٭ ولاجاز بنائل٭وانما جمع القال والقیل٭ وتکلم علی زوائد بفارغ عن التحصیل٭ اوباغالیط واباطیل٭ولم یھتد لکثیر من الابحاث الراقۃ٭ والانظار الفائقۃ٭واذا اتی علی المقصود جرح الصحیح٭ واعتمد الجریح٭کما ستعرف کل ذلك ان شاء الله المستعان٭والان ان ان نفیض فی تحقیق المرام بتوفیق المنان٭
اقول : وبالله الاستعانۃ ومنہ الفیض والاعانۃ ٭الکلام ھھنا فی ثمان یۃ مواضع دفع(۱) النقوض وتقر یر(۲)معنی الکلام علی مسلك التأویل والتعویل اعنی اجراء ہ وبیان(۳) معنی قولہ
یہ وہ سب قیل وقال تاویل اعتراض اور انکار واعتماد ہے جو میری نظر سے گزرا۔
معلوم رہے کہ سعایہ میرے پاس نہیں میرے ایك دوست نے اس مقام سے متعلق اس کے تقریبا ایك ورق کی نقل میرے پاس بھیجی جو میں نے اس خیال سے طلب کی تھی کہ اس مقام سے متعلق محشی صاحب سعایہ نے جو کچھ تحر یر کیا ہے وہ دیکھ سکوں۔ ہوسکتا ہے اس میں کسی کتاب سے کوئی اطمینان بخش بات نقل کی ہو۔ کیونکہ ان کے پاس میرے یہاں سے ز یادہ کتابوں کا ذخیرہ تھا۔ مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ انہیں کوئی کام کی بات نہ ملی اور کوئی مفید کلام نہ لاسکے بس قیل وقال جمع کرد یا۔ اور کچھ زائد باتوں پر ایسا کلام کیا ہے جو افادیت سے خالی یا باطل وغلط ہے۔ اور اس مقام سے متعلق بہت سی دلکش بحثوں اور بلند فکروں تك ان کی رسائی نہ ہوئی اور مقصود پر آئے تو صحیح کو مجروح اور مجروح کو معتمد بناد یا۔ جیسا کہ یہ سب ان شاء اللہمعلوم ہوگا اب وقت آ یا کہ بہ توفیق رب منان تحقیق مطلوب کا آغاز کریں۔
اقول : (میں کہتا ہوں) اور خدا ہی سے مدد طلبی ہے اور اسی کی جانب سے فیض ومدد ہے یہاں پر کلام آٹھ مقامات میں ہے : (۱) اعتراضات کا جواب (۲)معنی کلام کی تقر یر مسلك تاویل پر بھی اور مسلك اعتماد پر بھی یعنی ظاہر پر جاری رکھتے ہوئے بھی (۳) کلام شارح
عــہ الانکار لعلامۃ البرجندی والتعویل للفاضل القرہ باغی والنقوض خمسۃ۔ (م)
انکار علامہ برجندی نے کیا اعتماد فاضل قرہ باغی نے اور اعتراضات پانچ ہیں۔ (ت)
واعلم ان السعا یۃ لیست عندی وانما ارسل الی بعض اصحابی من لکھنؤ نقل نحو ورقۃ منھا متعلقۃ بھذا المقام علی طلبی لکی اری ماعندہ فیہ عسی ان نقل عن کتاب مافیہ غناء فقد کان جمع من الکتب اکثر مما عندی فلما طالعتہ لم ارہ فازبطائل٭ ولاجاز بنائل٭وانما جمع القال والقیل٭ وتکلم علی زوائد بفارغ عن التحصیل٭ اوباغالیط واباطیل٭ولم یھتد لکثیر من الابحاث الراقۃ٭ والانظار الفائقۃ٭واذا اتی علی المقصود جرح الصحیح٭ واعتمد الجریح٭کما ستعرف کل ذلك ان شاء الله المستعان٭والان ان ان نفیض فی تحقیق المرام بتوفیق المنان٭
اقول : وبالله الاستعانۃ ومنہ الفیض والاعانۃ ٭الکلام ھھنا فی ثمان یۃ مواضع دفع(۱) النقوض وتقر یر(۲)معنی الکلام علی مسلك التأویل والتعویل اعنی اجراء ہ وبیان(۳) معنی قولہ
یہ وہ سب قیل وقال تاویل اعتراض اور انکار واعتماد ہے جو میری نظر سے گزرا۔
معلوم رہے کہ سعایہ میرے پاس نہیں میرے ایك دوست نے اس مقام سے متعلق اس کے تقریبا ایك ورق کی نقل میرے پاس بھیجی جو میں نے اس خیال سے طلب کی تھی کہ اس مقام سے متعلق محشی صاحب سعایہ نے جو کچھ تحر یر کیا ہے وہ دیکھ سکوں۔ ہوسکتا ہے اس میں کسی کتاب سے کوئی اطمینان بخش بات نقل کی ہو۔ کیونکہ ان کے پاس میرے یہاں سے ز یادہ کتابوں کا ذخیرہ تھا۔ مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ انہیں کوئی کام کی بات نہ ملی اور کوئی مفید کلام نہ لاسکے بس قیل وقال جمع کرد یا۔ اور کچھ زائد باتوں پر ایسا کلام کیا ہے جو افادیت سے خالی یا باطل وغلط ہے۔ اور اس مقام سے متعلق بہت سی دلکش بحثوں اور بلند فکروں تك ان کی رسائی نہ ہوئی اور مقصود پر آئے تو صحیح کو مجروح اور مجروح کو معتمد بناد یا۔ جیسا کہ یہ سب ان شاء اللہمعلوم ہوگا اب وقت آ یا کہ بہ توفیق رب منان تحقیق مطلوب کا آغاز کریں۔
اقول : (میں کہتا ہوں) اور خدا ہی سے مدد طلبی ہے اور اسی کی جانب سے فیض ومدد ہے یہاں پر کلام آٹھ مقامات میں ہے : (۱) اعتراضات کا جواب (۲)معنی کلام کی تقر یر مسلك تاویل پر بھی اور مسلك اعتماد پر بھی یعنی ظاہر پر جاری رکھتے ہوئے بھی (۳) کلام شارح
عــہ الانکار لعلامۃ البرجندی والتعویل للفاضل القرہ باغی والنقوض خمسۃ۔ (م)
انکار علامہ برجندی نے کیا اعتماد فاضل قرہ باغی نے اور اعتراضات پانچ ہیں۔ (ت)
فالتیمم للجنابۃ وان(۴) قولہ بالاتفاق متعلق بھذا ام بقولہ یجب علیہ الوضوء وان (۵) الفاء فی قولہ فالتیمم للتفریع ام للتعلیل٭وبیان(۶) الحسن والقبیح والباطل والصحیح من مسالك التاویل٭وانہ(۷) ھل ثم شبھات ترد علی المرام٭وماکشفھا وحلھا بتوفیق العلام٭وھل(۸) للکلام تاویل اخر٭خیر مما ذکرو اظھر٭وھا انا اعطیك بحول الله تعالی افادات تحیط بکل ذلک٭وتسلم بك ان شاء الله تعالی احسن المسالک٭وما توفیقی الا بالله خیر مالک٭
الافادۃ : کفی بحمدہ عزوجل لحل الاشکال الاول ماقدمت من تصو یر جنب تیمم فاحدث فتوضأ فمر علی ماء کاف لغسلہ وقد ذکرہ البرجندی ایضا
اقول : فھذا جنب لیس معہ حدث یوجب الوضوء لان الوضوء(۱) طرأ علی اعضاء الوضوء فطھرھا مطلقا الی ان یطرأ حدث اخر اصغرا واکبر حتی انہ اذاوجد ماء للغسل لم یکن علیہ غسل ھذہ الاعضاء لماسیاتی فی الافادۃ الحاد یۃ عشرۃ ان الحدث الحال
“ فالتیمم للجنابۃ “ (تو تیمم جنابت کےلئے ہے)کا معنی (۴) ان کا قول “ بالاتفاق “ اسی سے متعلق ہے (۵) فالتیمم میں “ ف “ برائے تفریع ہے یا برائے تعلیل (۶) تاویل کے طریقوں میں سے حسن وقبیح اور باطل وصحیح کا بیان (۷)کیا یہاں کچھ اعتراضات بھی ہیں جو مقصود پر وارد ہوتے ہیں۔ پھر خدائے علام کی توفیق سے ان کا حل اور جواب کیا ہے (۸) کلام کی جن تاویلوں کا ذکر اور اظہار ہوا کیا ان سے بہتر کوئی دوسری تاویل بھی ہے اب میں بعون اللہتعالی کچھ افادات پیش کرتا ہوں جو ان سارے مقامات ومباحث کا احاطہ کرتے ہوئے ان شاء الله تعالی ناظرین کو بہترین راہ پر گامزن کریں گے۔ اور مجھے توفیق نہیں مگر خدائے برتر ہی سے جو بہتر مالك ومنعم ہے۔ (ت)
افادہ ۱ : بحمد خدائے غالب وبزرگ اشکال اول کے حل کےلئے وہی تصو یر مسئلہ کافی ہے جو میں نے پہلے پیش کی کہ کسی جنابت والے نے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس نے وضو کیا پھر وہ اتنے پانی کے پاس گزرا جو اس کے غسل کےلئے کافی ہے۔ اسے علامہ برجندی نے بھی ذکر کیا ہے۔
اقول : تو یہ ایسا جنب ہے جس کے ساتھ کوئی ایسا حدث نہیں جو وضو واجب کرتا ہو۔ اس لئے کہ عمل وضو اعضائے وضو پر طاری ہوا تو انہیں مطلقا پاك کرد یا جب تك کہ کوئی دوسرا حدث اصغر یا اکبر طاری ہو۔ یہاں تك کہ
الافادۃ : کفی بحمدہ عزوجل لحل الاشکال الاول ماقدمت من تصو یر جنب تیمم فاحدث فتوضأ فمر علی ماء کاف لغسلہ وقد ذکرہ البرجندی ایضا
اقول : فھذا جنب لیس معہ حدث یوجب الوضوء لان الوضوء(۱) طرأ علی اعضاء الوضوء فطھرھا مطلقا الی ان یطرأ حدث اخر اصغرا واکبر حتی انہ اذاوجد ماء للغسل لم یکن علیہ غسل ھذہ الاعضاء لماسیاتی فی الافادۃ الحاد یۃ عشرۃ ان الحدث الحال
“ فالتیمم للجنابۃ “ (تو تیمم جنابت کےلئے ہے)کا معنی (۴) ان کا قول “ بالاتفاق “ اسی سے متعلق ہے (۵) فالتیمم میں “ ف “ برائے تفریع ہے یا برائے تعلیل (۶) تاویل کے طریقوں میں سے حسن وقبیح اور باطل وصحیح کا بیان (۷)کیا یہاں کچھ اعتراضات بھی ہیں جو مقصود پر وارد ہوتے ہیں۔ پھر خدائے علام کی توفیق سے ان کا حل اور جواب کیا ہے (۸) کلام کی جن تاویلوں کا ذکر اور اظہار ہوا کیا ان سے بہتر کوئی دوسری تاویل بھی ہے اب میں بعون اللہتعالی کچھ افادات پیش کرتا ہوں جو ان سارے مقامات ومباحث کا احاطہ کرتے ہوئے ان شاء الله تعالی ناظرین کو بہترین راہ پر گامزن کریں گے۔ اور مجھے توفیق نہیں مگر خدائے برتر ہی سے جو بہتر مالك ومنعم ہے۔ (ت)
افادہ ۱ : بحمد خدائے غالب وبزرگ اشکال اول کے حل کےلئے وہی تصو یر مسئلہ کافی ہے جو میں نے پہلے پیش کی کہ کسی جنابت والے نے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس نے وضو کیا پھر وہ اتنے پانی کے پاس گزرا جو اس کے غسل کےلئے کافی ہے۔ اسے علامہ برجندی نے بھی ذکر کیا ہے۔
اقول : تو یہ ایسا جنب ہے جس کے ساتھ کوئی ایسا حدث نہیں جو وضو واجب کرتا ہو۔ اس لئے کہ عمل وضو اعضائے وضو پر طاری ہوا تو انہیں مطلقا پاك کرد یا جب تك کہ کوئی دوسرا حدث اصغر یا اکبر طاری ہو۔ یہاں تك کہ
حوالہ / References
شرح النقایہ للبرجندی باب التیمم مطبع نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۴
بالاعضاء متجزئ فاذارأی ماء الغسل لم تعد عــہ الجنابۃ الافیما وراء تلك الاعضاء٭
جب اسے غسل کےلئے پانی ملے تو اس پر ان اعضاء کا دھونا لازم نہیں- اس کی وجہ افادہ ۱۱
عــہ قال العلامۃ الحلبی فی الغنیۃ من مسح الخفین اجنب وتیمم فاحدث وتوضأ ومربعد ذلك علی مایکفی للاغتسال فلم یغتسل فالرجل (ای بکسر الراء) بعد غسلھا اذذاك لاتعود جنابتھا برؤ یۃ الماء ولایلزم غسلھا مرۃ اخری لاجل تلك الجنابۃ اھ۔
ونقلہ فی المنحۃ واقر وانما خص القدم بالذکرلان الکلام فی نزع الخف وغسل الرجل وسائر اعضاء الوضوء کمثلھا وفی البدائع(۱) ینقض المسح نزع الخفین لانہ سری الحدث السابق الی القدمین ثم ان کان محدثا یتوضأ بکمالہ وان لم یکن محدثا یغسل قدمیہ لا غیر وللشافعی فی قول یستقبل الوضوء وجہہ ان الحدث حل ببعض اعضائہ والحدث لایتجزء فیتعدی الی الباقی ولنا ان الحدث السابق ھو الذی حل بقدمیہ وقدغسل بعدہ سائر الاعضاء وبقیت القدمان فقط فلایجب علیہ الاغسلھما اھ۔ ملخصا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
علامہ حلبی نے غنیہ میں مسح خفین کے تحت لکھا ہے : “ کسی کو جنابت لاحق ہوئی اور تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا اور وضو کیا۔ اس کے بعد وہ اتنے پانی پر گزرا جو غسل کےلئے کافی ہے مگر غسل نہ کیا تو پیر جب پہلے اس وقت دھولیا تھا اب پانی دیکھنے سے اس میں جنابت عود نہ کرے گی اور اس جنابت کی وجہ سے اسے دوبارہ دھونا لازم نہ ہوگا “ اھ
یہ کلام علامہ شامی نے بھی منحۃ الخالق میں نقل کیا اور برقرار رکھا خاص قدم ہی کو اس لئے ذکر کیا ہے کہ کلام موزہ نکالنے اور پیر دھونے کے بارے میں ہے (اسی سے دیگراعضائے وضو کا حکم بھی معلوم ہوجاتا ہے کیوں کہ) دیگر اعضائے وضو بھی قدم ہی کے مثل ہیں بدائع میں ہے : “ موزوں کا نکالنا مسح کو توڑ دیتا ہے اس لئے کہ سابقہ حدث قدموں تك سرایت کر آ یا پھر اگر وہ محدث تھا تو پورا وضو کرے اور اگر محدث نہ تھا تو صرف قدموں کو دھوئے کچھ اور نہیں۔ اور امام شافعی -کا ایك قول یہ ہے کہ ازسرنو وضو کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حدث اس کے بعض اعضاء میں حلول کر آ یا اور حدث کی تجزی نہیں ہوتی تو باقی اعضاء کی طرف بھی تجاوز کرجائے گا ہماری دلیل یہ ہے کہ حدث سابق وہی ہے جو اس کے قدموں پر آ یا دیگراعضاء کو تو اس حدث کے بعد دھو چکا ہے صرف دونوں قدم رہ گئے تھے تو اسے ان دونوں کو ہی دھونا واجب ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
جب اسے غسل کےلئے پانی ملے تو اس پر ان اعضاء کا دھونا لازم نہیں- اس کی وجہ افادہ ۱۱
عــہ قال العلامۃ الحلبی فی الغنیۃ من مسح الخفین اجنب وتیمم فاحدث وتوضأ ومربعد ذلك علی مایکفی للاغتسال فلم یغتسل فالرجل (ای بکسر الراء) بعد غسلھا اذذاك لاتعود جنابتھا برؤ یۃ الماء ولایلزم غسلھا مرۃ اخری لاجل تلك الجنابۃ اھ۔
ونقلہ فی المنحۃ واقر وانما خص القدم بالذکرلان الکلام فی نزع الخف وغسل الرجل وسائر اعضاء الوضوء کمثلھا وفی البدائع(۱) ینقض المسح نزع الخفین لانہ سری الحدث السابق الی القدمین ثم ان کان محدثا یتوضأ بکمالہ وان لم یکن محدثا یغسل قدمیہ لا غیر وللشافعی فی قول یستقبل الوضوء وجہہ ان الحدث حل ببعض اعضائہ والحدث لایتجزء فیتعدی الی الباقی ولنا ان الحدث السابق ھو الذی حل بقدمیہ وقدغسل بعدہ سائر الاعضاء وبقیت القدمان فقط فلایجب علیہ الاغسلھما اھ۔ ملخصا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
علامہ حلبی نے غنیہ میں مسح خفین کے تحت لکھا ہے : “ کسی کو جنابت لاحق ہوئی اور تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا اور وضو کیا۔ اس کے بعد وہ اتنے پانی پر گزرا جو غسل کےلئے کافی ہے مگر غسل نہ کیا تو پیر جب پہلے اس وقت دھولیا تھا اب پانی دیکھنے سے اس میں جنابت عود نہ کرے گی اور اس جنابت کی وجہ سے اسے دوبارہ دھونا لازم نہ ہوگا “ اھ
یہ کلام علامہ شامی نے بھی منحۃ الخالق میں نقل کیا اور برقرار رکھا خاص قدم ہی کو اس لئے ذکر کیا ہے کہ کلام موزہ نکالنے اور پیر دھونے کے بارے میں ہے (اسی سے دیگراعضائے وضو کا حکم بھی معلوم ہوجاتا ہے کیوں کہ) دیگر اعضائے وضو بھی قدم ہی کے مثل ہیں بدائع میں ہے : “ موزوں کا نکالنا مسح کو توڑ دیتا ہے اس لئے کہ سابقہ حدث قدموں تك سرایت کر آ یا پھر اگر وہ محدث تھا تو پورا وضو کرے اور اگر محدث نہ تھا تو صرف قدموں کو دھوئے کچھ اور نہیں۔ اور امام شافعی -کا ایك قول یہ ہے کہ ازسرنو وضو کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حدث اس کے بعض اعضاء میں حلول کر آ یا اور حدث کی تجزی نہیں ہوتی تو باقی اعضاء کی طرف بھی تجاوز کرجائے گا ہماری دلیل یہ ہے کہ حدث سابق وہی ہے جو اس کے قدموں پر آ یا دیگراعضاء کو تو اس حدث کے بعد دھو چکا ہے صرف دونوں قدم رہ گئے تھے تو اسے ان دونوں کو ہی دھونا واجب ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
حوالہ / References
منیۃ المستملی فصل فی المسح علی الخفین ، سہیل اکیڈمی لاہور ، ص / ۱۰۹ ، ۱۰۸
بدائع الصنائع نواقض المسح ایم ایم سعید کمپنی ، کراچی ۱ / ۱۲
بدائع الصنائع نواقض المسح ایم ایم سعید کمپنی ، کراچی ۱ / ۱۲
فھذا جنب متوضئ بلامراء٭
وان اعتراك شبھۃ فیہ فاعتبرہ بجنب واجد للماء فان المسنون لہ ان یقدم الوضوء ولاشك انہ مادام فی بدنہ لمعۃ لم یصبھا الماء یبقی جنبا فھو حین ھو متوضئ جنب ولیس علیہ الاافاضۃ الماء علی سائر جسدہ فاذافعل فقد طھر ولایعید الوضوء اجماعا فالجنابۃ الحالۃ بماوراء اعضاء الوضوء اذالم تناف الوضوء حینئذ بل الوضوء ھو الذی نفاھا من تلك الاعضاء فکیف ینقض عودھا فی غیر الاعضاء اذمالایمنع وجودہ الطھارۃ بدء لن ینقضھا حدوثہ بقاء وھذا اظھر من ان یظھر۔
ونعنی بالمتوضئ طھارۃ اعضاء وضوءہ ونزاھتھا عن الحدثین لاالتوضئ الذی تجوزلہ الصلاۃ فان ذلك بزوال الحدث القائم بنفس
میں آرہی ہے کہ اعضاء میں حلول کرنے والے حدث کی تجزی ہوتی ہے تو جب اس نے غسل کا پانی دیکھا جنابت ان اعضا کے ماسوا میں ہی عود کرے گی۔ ان اعضا میں نہیں تو یہ بلاشبہہ ایسا جنب ہے جو باوضو ہے۔ (ت)
اگر اس میں کوئی شبہہ درانداز ہو تو اس کا قیاس اس جنب پر کیجئے جسے پانی دستیاب ہے۔ اس کےلئے مسنون یہی ہے کہ پہلے وضو کرے اور اس میں کوئی شك نہیں کہ جب تك اس کے بدن پر کوئی ایسی جگہ رہ جائے گی جس پر پانی نہ گزرا ہو تووہ جنب باقی رہے گا۔ تو جس وقت وہ باوضوہے اس وقت بھی جنابت والا ہے اور اس کے ذمہ یہی کام ہے کہ بقیہ سارے جسم پر پانی بہالے۔ یہ کام کرلیا تو وہ بالکل پاك ہوگیا۔ اب بالاجماع اس کو دوبارہ وضو نہیں کرنا ہے۔ تو اعضائے وضو کے ماسوا میں حلول کرنے والی جنابت جب اس وقت وضو کے منافی نہ ہوئی- بلکہ وضو ہی نے تو اس جنابت کو ان اعضا سے دور کیا- تو دیگراعضا میں اس جنابت کا عود کرنا اس وضو کا ناقض کیسے ہوگاجس چیز کا وجود ابتداء مانع طہارت نہیں ہرگز اس کا حدوث بقاء ناقض طہارت نہیں۔ یہ معنی اتنا روشن و واضح ہے کہ اظہار وبیان سے بے نیاز ہے۔ اور باوضو سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس کے اعضائے وضو پاك اور حدث اکبر واصغر سے خالی ہیں۔ وہ باوضو مراد نہیں جس کےلئے نماز جائز ہو یہ بات تو اس حدث کے دور ہونے سے حاصل ہوگی جو
وان اعتراك شبھۃ فیہ فاعتبرہ بجنب واجد للماء فان المسنون لہ ان یقدم الوضوء ولاشك انہ مادام فی بدنہ لمعۃ لم یصبھا الماء یبقی جنبا فھو حین ھو متوضئ جنب ولیس علیہ الاافاضۃ الماء علی سائر جسدہ فاذافعل فقد طھر ولایعید الوضوء اجماعا فالجنابۃ الحالۃ بماوراء اعضاء الوضوء اذالم تناف الوضوء حینئذ بل الوضوء ھو الذی نفاھا من تلك الاعضاء فکیف ینقض عودھا فی غیر الاعضاء اذمالایمنع وجودہ الطھارۃ بدء لن ینقضھا حدوثہ بقاء وھذا اظھر من ان یظھر۔
ونعنی بالمتوضئ طھارۃ اعضاء وضوءہ ونزاھتھا عن الحدثین لاالتوضئ الذی تجوزلہ الصلاۃ فان ذلك بزوال الحدث القائم بنفس
میں آرہی ہے کہ اعضاء میں حلول کرنے والے حدث کی تجزی ہوتی ہے تو جب اس نے غسل کا پانی دیکھا جنابت ان اعضا کے ماسوا میں ہی عود کرے گی۔ ان اعضا میں نہیں تو یہ بلاشبہہ ایسا جنب ہے جو باوضو ہے۔ (ت)
اگر اس میں کوئی شبہہ درانداز ہو تو اس کا قیاس اس جنب پر کیجئے جسے پانی دستیاب ہے۔ اس کےلئے مسنون یہی ہے کہ پہلے وضو کرے اور اس میں کوئی شك نہیں کہ جب تك اس کے بدن پر کوئی ایسی جگہ رہ جائے گی جس پر پانی نہ گزرا ہو تووہ جنب باقی رہے گا۔ تو جس وقت وہ باوضوہے اس وقت بھی جنابت والا ہے اور اس کے ذمہ یہی کام ہے کہ بقیہ سارے جسم پر پانی بہالے۔ یہ کام کرلیا تو وہ بالکل پاك ہوگیا۔ اب بالاجماع اس کو دوبارہ وضو نہیں کرنا ہے۔ تو اعضائے وضو کے ماسوا میں حلول کرنے والی جنابت جب اس وقت وضو کے منافی نہ ہوئی- بلکہ وضو ہی نے تو اس جنابت کو ان اعضا سے دور کیا- تو دیگراعضا میں اس جنابت کا عود کرنا اس وضو کا ناقض کیسے ہوگاجس چیز کا وجود ابتداء مانع طہارت نہیں ہرگز اس کا حدوث بقاء ناقض طہارت نہیں۔ یہ معنی اتنا روشن و واضح ہے کہ اظہار وبیان سے بے نیاز ہے۔ اور باوضو سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس کے اعضائے وضو پاك اور حدث اکبر واصغر سے خالی ہیں۔ وہ باوضو مراد نہیں جس کےلئے نماز جائز ہو یہ بات تو اس حدث کے دور ہونے سے حاصل ہوگی جو
المکلف لاباعضائہ وھو تلبسہ بنجاسۃ حکمیۃ فانہ لایزول مالم یطھر بدنہ کلہ کماقدمنا فی الطرس المعدل وھذا معنی قولھم ان الحدث لایتجزأ۔
اما تصو یر البرجندی علی قول محمد فاقول : یبتنی علی ان ینتشر فیولج فینزع فیفترکل ھذا قبل ان یمذی والالم یفارق الاکبر الاصغر
وھو وان ندر محتمل ویکفی للتصو یر الاحتمال۔
ورد اللکنوی (۱) علیہ مردود بما یاتی اما تصو یرہ الاخیر علی قول الشیخین ای الطرفین وقولہ فیہ لم یوجد ناقض الوضوء۔
فاقول : بلی(۲) اذ الامناء لایخلو عن امذاء سواء کان عند الاستمناء اوالامناء ولذا استشکل الامام شمس الائمۃ الحلوانی طھارۃ المنی بالفرك لان(۳)کل فحل یمذی ثم یمنی واجاب بانہ مغلوب بالمنی مستھلك فیہ فیجعل تبعا قال المحقق فی الفتح وھذا ظاھر فانہ اذاکان الواقع انہ لایمنی حتی یمذی وقدطھرہ الشرع بالفرك یابسایلزم انہ اعتبر ذلك للضرورۃ اھ۔
مکلف کے اعضاء سے نہیں بلکہ اس کی ذات سے لگا ہوا ہے۔ وہ تو نجاست حکمیہ سے اس کے تلبس وآلودگی کا نام ہے۔ یہ حدث اس وقت تك دور نہ ہوگا جب تك اس کا پورا بدن پاك نہ ہوجائے جیسا کہ ہم “ الطرس المعدل “ میں اسے بیان کرچکے ہیں۔ حضرات علماء کے قول “ حدث متجزی نہیں ہوتا “ کا یہی معنی ہے۔ (ت)برجندی نے امام محمد کے قول پر جو صورت مسئلہ پیش کی (فاقول) اس پر میں کہتا ہوں یہ اس پر مبنی ہے کہ انتشار ہو پھر داخل کرکے نکال لے اس کے بعد سست پڑے۔ یہ سب مذی آنے سے قبل ہو ورنہ حدث اکبر حدث اصغر سے جدا نہ پا یا جاسکے گا۔ یہ صورت اگرچہ نادر ہے مگر محتمل ہے اور صورت مسئلہ بتانے کےلئے احتمال کافی ہے۔ (ت)اس پر مولوی عبدالحی فرنگی محلی نے جو رد کیا ہے وہ خود غلط ہے۔ اس کی تردید آرہی ہے لیکن شیخین یعنی- طرفین - کے قول پر تصو یر مسئلہ اور اس میں یہ کہنا کہ ناقض وضو نہ پا یا گیا۔ فاقول : (تو اس پر میں کہتا ہوں)کیوں نہیں منی نکلنا بغیر مذی نکلنے کے نہیں ہوتا خواہ نکالنے کے وقت ہو یا خود سے نکلنے کے وقت۔ اسی لئے امام شمس الائمہ حلوانی نے رگڑنے سے منی کی طہارت ہونے کو مشکل سمجھا اس لیے کہ ہر نر کو پہلے مذی آتی ہے پھر منی آتی ہے۔ اور اشکال کا جواب یہ د یا کہ مذی منی سے مغلوب اس میں مستہلك ہوتی ہے اس لئے اسی کے تابع قرار دے دی جاتی ہے محقق علی الاطلاق نے فتح القد یر میں فرما یا : “ یہ ظاہر ہے اس لئے کہ جب واقعہ یہ ہے کہ بغیر مذی کے منی نہیں آتی اور شرع نے خشك ہونے کی حالت میں رگڑنے سے اس کو پاك قرار د یا تو لازم ہے کہ
اما تصو یر البرجندی علی قول محمد فاقول : یبتنی علی ان ینتشر فیولج فینزع فیفترکل ھذا قبل ان یمذی والالم یفارق الاکبر الاصغر
وھو وان ندر محتمل ویکفی للتصو یر الاحتمال۔
ورد اللکنوی (۱) علیہ مردود بما یاتی اما تصو یرہ الاخیر علی قول الشیخین ای الطرفین وقولہ فیہ لم یوجد ناقض الوضوء۔
فاقول : بلی(۲) اذ الامناء لایخلو عن امذاء سواء کان عند الاستمناء اوالامناء ولذا استشکل الامام شمس الائمۃ الحلوانی طھارۃ المنی بالفرك لان(۳)کل فحل یمذی ثم یمنی واجاب بانہ مغلوب بالمنی مستھلك فیہ فیجعل تبعا قال المحقق فی الفتح وھذا ظاھر فانہ اذاکان الواقع انہ لایمنی حتی یمذی وقدطھرہ الشرع بالفرك یابسایلزم انہ اعتبر ذلك للضرورۃ اھ۔
مکلف کے اعضاء سے نہیں بلکہ اس کی ذات سے لگا ہوا ہے۔ وہ تو نجاست حکمیہ سے اس کے تلبس وآلودگی کا نام ہے۔ یہ حدث اس وقت تك دور نہ ہوگا جب تك اس کا پورا بدن پاك نہ ہوجائے جیسا کہ ہم “ الطرس المعدل “ میں اسے بیان کرچکے ہیں۔ حضرات علماء کے قول “ حدث متجزی نہیں ہوتا “ کا یہی معنی ہے۔ (ت)برجندی نے امام محمد کے قول پر جو صورت مسئلہ پیش کی (فاقول) اس پر میں کہتا ہوں یہ اس پر مبنی ہے کہ انتشار ہو پھر داخل کرکے نکال لے اس کے بعد سست پڑے۔ یہ سب مذی آنے سے قبل ہو ورنہ حدث اکبر حدث اصغر سے جدا نہ پا یا جاسکے گا۔ یہ صورت اگرچہ نادر ہے مگر محتمل ہے اور صورت مسئلہ بتانے کےلئے احتمال کافی ہے۔ (ت)اس پر مولوی عبدالحی فرنگی محلی نے جو رد کیا ہے وہ خود غلط ہے۔ اس کی تردید آرہی ہے لیکن شیخین یعنی- طرفین - کے قول پر تصو یر مسئلہ اور اس میں یہ کہنا کہ ناقض وضو نہ پا یا گیا۔ فاقول : (تو اس پر میں کہتا ہوں)کیوں نہیں منی نکلنا بغیر مذی نکلنے کے نہیں ہوتا خواہ نکالنے کے وقت ہو یا خود سے نکلنے کے وقت۔ اسی لئے امام شمس الائمہ حلوانی نے رگڑنے سے منی کی طہارت ہونے کو مشکل سمجھا اس لیے کہ ہر نر کو پہلے مذی آتی ہے پھر منی آتی ہے۔ اور اشکال کا جواب یہ د یا کہ مذی منی سے مغلوب اس میں مستہلك ہوتی ہے اس لئے اسی کے تابع قرار دے دی جاتی ہے محقق علی الاطلاق نے فتح القد یر میں فرما یا : “ یہ ظاہر ہے اس لئے کہ جب واقعہ یہ ہے کہ بغیر مذی کے منی نہیں آتی اور شرع نے خشك ہونے کی حالت میں رگڑنے سے اس کو پاك قرار د یا تو لازم ہے کہ
حوالہ / References
فتح القد یر ، تطہیر الانجاس ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ / ۱۷۴
اما رداللکنوی علیہ فاقول : نداء من بعید٭ وقول من لم یصل الی العنقود٭ رسخ بالہ کمااشار الیہ فی مسألۃ المباشرۃ مرتین وافصح عنہ قبلہ وفی عمدۃ الرعا یۃ ان الحدث الاصغر لازم للاکبر فان کل ماینتقض بہ الغسل ینتقض بہ الوضوء اھ۔
وھو اولا(۱) بعد عن فھم المرام٭وخروج عمافیہ الکلام٭فان البحث فی انفکاك الاکبر عن الاصغر ای ھل توجد جنابۃ بلاحدث اصغر وکل احد(۲) یعلم ان الاصغر لایقال الاعلی مایوجب الوضوء فقط فھو مأخوذ بشرط لافیباین الاکبر صدقا کیف ولاملحظ لوصفہ بالاصغر یۃ الاھذا ولوکان لابشرط شیئ لصح ان یقال ان الجنابۃ وانقطاع الحیض والنفاس حدث اصغر ولایقبلہ الاذوجہل اکبر فاذا تباینا صدقا استحال ان یوجد بنفس وجودہ بل لابدلہ من وجود مایوجبہ عینا فھذا معنی قولہ لم یوجد ناقض الوضوء کمااشرنا الی ذلك علی الھامش۔
ضرورت کی وجہ سے اس کا اعتبار کیا “ ۔ اھ (ت
اب رہی مولانا لکھنوی کی تردید۔ فاقول : دور کی پکار ہے اور اس کی بات جو خوشہ تك نہ پہنچ سکا ان کے دل میں یہ راسخ ہوگیا جیسا کہ مسئلہ مباشرت میں دو۲ بار اشارہ کیا اور اس سے پہلے واضح طور سے کہا اور عمدۃ الرعا یۃ میں لکھا کہ حدث اصغر حدث اکبر کےلئے لازم ہے کیونکہ ہر وہ چیز جس سے غسل ٹوٹتا ہے اس سے وضو بھی ٹوٹ جاتا ہے اھ۔
اولا : یہ فہم مقصد سے دوری اور جس بارے میں کلام ہے اس سے علیحدگی ہے کیونکہ بحث حدث اکبر کے حدث اصغر سے جدا ہونے میں ہے۔ یعنی کیا کوئی جنابت حدث اصغر کے بغیر پائی جاتی ہے اور ہر ایك جانتا ہے کہ اصغر اسی کو کہا جاتا ہے جو صرف وضو واجب کرے۔ تو یہ شرط نفی کے ساتھ (بشرط لا) لیا گیا ہے (یعنی وضو واجب کرے غسل نہ واجب کرے ۱۲ م الف) تو صدق میں اکبر کے مباین ہوگا کیوں نہ ہو جبکہ اصغریت سے اس کا اتصاف کے لحاظ کی صورت یہی ہے۔ اور یہ اگر لابشرط شیئ ہوتا تو یہ کہنا صحیح ہوتا کہ جنابت اور انقطاع حیض ونفاس حدث اصغر ہیں اور اسے کوئی جہل اکبر والا ہی قبول کرسکتا ہے۔ تو جب دونوں صدق میں ایك دوسرے کے مباین ہیں تو محال ہے کہ اصغر کا وجود اکبر ہی کے وجود سے ہوجائے بلکہ اس کےلئے اس کا وجود ضروری ہے جو معین طور پر اسے لازم کرے تو برجندی کے قول
وھو اولا(۱) بعد عن فھم المرام٭وخروج عمافیہ الکلام٭فان البحث فی انفکاك الاکبر عن الاصغر ای ھل توجد جنابۃ بلاحدث اصغر وکل احد(۲) یعلم ان الاصغر لایقال الاعلی مایوجب الوضوء فقط فھو مأخوذ بشرط لافیباین الاکبر صدقا کیف ولاملحظ لوصفہ بالاصغر یۃ الاھذا ولوکان لابشرط شیئ لصح ان یقال ان الجنابۃ وانقطاع الحیض والنفاس حدث اصغر ولایقبلہ الاذوجہل اکبر فاذا تباینا صدقا استحال ان یوجد بنفس وجودہ بل لابدلہ من وجود مایوجبہ عینا فھذا معنی قولہ لم یوجد ناقض الوضوء کمااشرنا الی ذلك علی الھامش۔
ضرورت کی وجہ سے اس کا اعتبار کیا “ ۔ اھ (ت
اب رہی مولانا لکھنوی کی تردید۔ فاقول : دور کی پکار ہے اور اس کی بات جو خوشہ تك نہ پہنچ سکا ان کے دل میں یہ راسخ ہوگیا جیسا کہ مسئلہ مباشرت میں دو۲ بار اشارہ کیا اور اس سے پہلے واضح طور سے کہا اور عمدۃ الرعا یۃ میں لکھا کہ حدث اصغر حدث اکبر کےلئے لازم ہے کیونکہ ہر وہ چیز جس سے غسل ٹوٹتا ہے اس سے وضو بھی ٹوٹ جاتا ہے اھ۔
اولا : یہ فہم مقصد سے دوری اور جس بارے میں کلام ہے اس سے علیحدگی ہے کیونکہ بحث حدث اکبر کے حدث اصغر سے جدا ہونے میں ہے۔ یعنی کیا کوئی جنابت حدث اصغر کے بغیر پائی جاتی ہے اور ہر ایك جانتا ہے کہ اصغر اسی کو کہا جاتا ہے جو صرف وضو واجب کرے۔ تو یہ شرط نفی کے ساتھ (بشرط لا) لیا گیا ہے (یعنی وضو واجب کرے غسل نہ واجب کرے ۱۲ م الف) تو صدق میں اکبر کے مباین ہوگا کیوں نہ ہو جبکہ اصغریت سے اس کا اتصاف کے لحاظ کی صورت یہی ہے۔ اور یہ اگر لابشرط شیئ ہوتا تو یہ کہنا صحیح ہوتا کہ جنابت اور انقطاع حیض ونفاس حدث اصغر ہیں اور اسے کوئی جہل اکبر والا ہی قبول کرسکتا ہے۔ تو جب دونوں صدق میں ایك دوسرے کے مباین ہیں تو محال ہے کہ اصغر کا وجود اکبر ہی کے وجود سے ہوجائے بلکہ اس کےلئے اس کا وجود ضروری ہے جو معین طور پر اسے لازم کرے تو برجندی کے قول
حوالہ / References
عمدۃ الرعا یۃ مع شرح الوقا یۃ باب التیمم المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۹۵
وثانیا(۱) : اللزوم باطل بماصورنا انفا من جنب توضأ وقد(۲) سلمہ الرجل اذخص الصورتین الاخیرتین بالاعتراض ولم یمس الصورۃ الاولی فان کان یعلم ان فیھا جنابۃ ولاحدث فلم ھذہ الا یرادات وادعاء اللزوم وان کان لایعلمہ فلم ترکھا من الا یراد فقدعاد فیھا ایضا الحدث الاکبر وھو ینقض الغسل والوضوء کلیھما۔
وثالثا(۲) : لایخفی مافی قولہ وان لم تحصل الجنابۃ فان الکلام علی قول الطرفین۔
ورابعا(۳) : ای محل لھذہ الوصل یۃ فماکان مقصود البرجندی ان الحدث لایوجد بلاجنابۃ بل ان الجنابۃ قدتوجد ولاحدث فکان الرد علیہ باثبات الحدث فی صورۃ جنابۃ یصورھا البرجندی للانفکاك لافی صورۃ عدم الجنابۃ حتی یقال قد وجد الحدث وان لم تحصل جنابۃ۔
تنبیہ(۴)۔ اقول : لربما یقول قائل لیس لموجب غسل قط ان یوجب الوضوء فضلا عن اللزوم وذلك لان من لم یوجد ناقض الوضوء
(ناقض وضو نہ پا یا گیا) کا یہی معنی ہے۔ جیسا کہ اس کی طرف ہم نے حاشیہ میں اشارہ کیا۔ (ت)
ثانیا : اصغر کا لازم اکبر ہونا اس صورت سے باطل ہے جو ابھی ہم نے اوپر بیان کی۔ جنب نے وضو کیا اور مولانا لکھنوی نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے اس لئے کہ انہوں نے صرف اخیر دو صورتوں پر اعتراض کیا اور پہلی صورت کو ہاتھ نہ لگا یا۔ اگر جانتے تھے کہ اس صورت میں جنابت ہے حدث نہیں تو یہ اعتراضات اور لزوم کا دعوی کیوں اور اگر اسے نہیں جانتے تھے تو اس پر اعتراض کیوں ترك کیا اس میں بھی تو حدث اکبر لوٹ آ یاہے اور وہ غسل ووضو دونوں توڑدیتا ہے۔
ثالثا : ان کے قول “ اگرچہ جنابت نہ حاصل ہوئی “ کی خامی پوشیدہ نہیں۔ اس لئے کہ کلام طرفین کے قول پر ہے۔
رابعا : اس وصلیہ (اگرچہ) کا کون سا موقع ہے۔ برجندی کا مقصود یہ نہ تھا کہ حدث بلاجنابت نہیں پا یا جاتا بلکہ یہ تھا کہ کبھی جنابت بلاحدث ہوتی ہے۔ تو اس کا رد یوں ہوتا کہ برجندی انفکاك ثابت کرنے کےلئے جو صورت جنابت پیش کررہے ہیں اس میں حدث بھی ثابت کیا جاتا نہ کہ عدم جنابت کی صورت میں حدث کا اثبات ہو اور کہا جائے “ حدث پالیا گیا اگرچہ جنابت نہ حاصل ہوئی “ ۔ (ت)
تنبیہ۔ اقول : شاید کوئی یہ کہے کہ کوئی بھی موجب غسل کبھی وضو واجب نہیں کرسکتا اور یہ تو دور کی بات ہے کہ ہر موجب غسل موجب وضو بھی ہے۔
وثالثا(۲) : لایخفی مافی قولہ وان لم تحصل الجنابۃ فان الکلام علی قول الطرفین۔
ورابعا(۳) : ای محل لھذہ الوصل یۃ فماکان مقصود البرجندی ان الحدث لایوجد بلاجنابۃ بل ان الجنابۃ قدتوجد ولاحدث فکان الرد علیہ باثبات الحدث فی صورۃ جنابۃ یصورھا البرجندی للانفکاك لافی صورۃ عدم الجنابۃ حتی یقال قد وجد الحدث وان لم تحصل جنابۃ۔
تنبیہ(۴)۔ اقول : لربما یقول قائل لیس لموجب غسل قط ان یوجب الوضوء فضلا عن اللزوم وذلك لان من لم یوجد ناقض الوضوء
(ناقض وضو نہ پا یا گیا) کا یہی معنی ہے۔ جیسا کہ اس کی طرف ہم نے حاشیہ میں اشارہ کیا۔ (ت)
ثانیا : اصغر کا لازم اکبر ہونا اس صورت سے باطل ہے جو ابھی ہم نے اوپر بیان کی۔ جنب نے وضو کیا اور مولانا لکھنوی نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے اس لئے کہ انہوں نے صرف اخیر دو صورتوں پر اعتراض کیا اور پہلی صورت کو ہاتھ نہ لگا یا۔ اگر جانتے تھے کہ اس صورت میں جنابت ہے حدث نہیں تو یہ اعتراضات اور لزوم کا دعوی کیوں اور اگر اسے نہیں جانتے تھے تو اس پر اعتراض کیوں ترك کیا اس میں بھی تو حدث اکبر لوٹ آ یاہے اور وہ غسل ووضو دونوں توڑدیتا ہے۔
ثالثا : ان کے قول “ اگرچہ جنابت نہ حاصل ہوئی “ کی خامی پوشیدہ نہیں۔ اس لئے کہ کلام طرفین کے قول پر ہے۔
رابعا : اس وصلیہ (اگرچہ) کا کون سا موقع ہے۔ برجندی کا مقصود یہ نہ تھا کہ حدث بلاجنابت نہیں پا یا جاتا بلکہ یہ تھا کہ کبھی جنابت بلاحدث ہوتی ہے۔ تو اس کا رد یوں ہوتا کہ برجندی انفکاك ثابت کرنے کےلئے جو صورت جنابت پیش کررہے ہیں اس میں حدث بھی ثابت کیا جاتا نہ کہ عدم جنابت کی صورت میں حدث کا اثبات ہو اور کہا جائے “ حدث پالیا گیا اگرچہ جنابت نہ حاصل ہوئی “ ۔ (ت)
تنبیہ۔ اقول : شاید کوئی یہ کہے کہ کوئی بھی موجب غسل کبھی وضو واجب نہیں کرسکتا اور یہ تو دور کی بات ہے کہ ہر موجب غسل موجب وضو بھی ہے۔
ارکان الوضوء المسح ولایوجبہ موجب الغسل ومالایوجب الجزء لایوجب الکل۔
وحلہ کما اقول : معنی(۱) المسح الواجب فی الوضوء اصابۃ بلۃ ولوفی ضمن اسالۃ لامایبانھا والالما تأدی بغسل الراس واصابۃ المطر والانغماس وھو باطل قطعا قال فی الفتح والحلیۃ والبحر و غیرھا الالۃ لم تقصد الاللایصال الی المحل فاذا اصابہ من المطر قدر الفرض اجزاء اھ۔
فی المحیط والھند یۃ اذاغسل الرأس مع الوجہ اجزأہ عن المسح ولکن(۲) یکرہ لانہ خلاف ماامربہ اھ
ولاشك ان موجب الغسل یوجب اصابۃ الرأس بلۃ بالاسالۃ فقد اوجب جمیع اجزاء الوضوء وبالجملۃ مسح الرأس ماخوذ لابشرط شیئ فیتأدی بالغسل والحدث الاصغر
سبب یہ ہے کہ ارکان وضو میں مسح بھی ہے۔ موجب غسل مسح واجب نہیں کرتا اور جو جز واجب نہ کرے وہ کل بھی واجب نہ کرے گا۔
اس کا حل وہ ہے جو میں بیان کرتا ہوں (اقول) وضو میں جو مسح واجب ہے اس کا معنی ہے تری پہنچانا اگرچہ پانی بہانے ہی کے ضمن میں ہو۔ اس کا معنی وہ نہیں جو پانی بہانے کے مباین ہو ورنہ یہ (فرض مسح) سر کو دھونے بارش پہنچنے اور غوطہ کھانے سے ادا نہ ہوتا۔ اور یہ قطعا باطل ہے۔ فتح القد یر حلیہ اور بحر و غیرہا میں ہے : “ ذریعہ وآلہ صرف محل تك پہنچانے کےلئے مقصود ہے۔ تو اگر مقدار فرض پر بارش کا پانی پہنچ جائے کافی ہے “ ۔
محیط اور ہندیہ میں ہے : “ جب چہرے کے ساتھ سر بھی دھولے تو مسح کی ضرورت نہیں لیکن یہ مکروہ ہے اس لئے کہ جو حکم ہوا ہے اس کے برخلاف ہے “ ۔ اھ
اب اس میں شك نہیں کہ موجب غسل پانی بہانا واجب کرکے سر کو تری پہنچانا واجب کردیتا ہے تو اس نے تمام ہی اجزائے وضو واجب کردیے۔ بالجملہ مسح سرلا بشرط شیئ لیا گیا ہے تو وہ دھونے سے بھی ادا ہوجائےگا اور حدث اصغر بشرط لاشئی
وحلہ کما اقول : معنی(۱) المسح الواجب فی الوضوء اصابۃ بلۃ ولوفی ضمن اسالۃ لامایبانھا والالما تأدی بغسل الراس واصابۃ المطر والانغماس وھو باطل قطعا قال فی الفتح والحلیۃ والبحر و غیرھا الالۃ لم تقصد الاللایصال الی المحل فاذا اصابہ من المطر قدر الفرض اجزاء اھ۔
فی المحیط والھند یۃ اذاغسل الرأس مع الوجہ اجزأہ عن المسح ولکن(۲) یکرہ لانہ خلاف ماامربہ اھ
ولاشك ان موجب الغسل یوجب اصابۃ الرأس بلۃ بالاسالۃ فقد اوجب جمیع اجزاء الوضوء وبالجملۃ مسح الرأس ماخوذ لابشرط شیئ فیتأدی بالغسل والحدث الاصغر
سبب یہ ہے کہ ارکان وضو میں مسح بھی ہے۔ موجب غسل مسح واجب نہیں کرتا اور جو جز واجب نہ کرے وہ کل بھی واجب نہ کرے گا۔
اس کا حل وہ ہے جو میں بیان کرتا ہوں (اقول) وضو میں جو مسح واجب ہے اس کا معنی ہے تری پہنچانا اگرچہ پانی بہانے ہی کے ضمن میں ہو۔ اس کا معنی وہ نہیں جو پانی بہانے کے مباین ہو ورنہ یہ (فرض مسح) سر کو دھونے بارش پہنچنے اور غوطہ کھانے سے ادا نہ ہوتا۔ اور یہ قطعا باطل ہے۔ فتح القد یر حلیہ اور بحر و غیرہا میں ہے : “ ذریعہ وآلہ صرف محل تك پہنچانے کےلئے مقصود ہے۔ تو اگر مقدار فرض پر بارش کا پانی پہنچ جائے کافی ہے “ ۔
محیط اور ہندیہ میں ہے : “ جب چہرے کے ساتھ سر بھی دھولے تو مسح کی ضرورت نہیں لیکن یہ مکروہ ہے اس لئے کہ جو حکم ہوا ہے اس کے برخلاف ہے “ ۔ اھ
اب اس میں شك نہیں کہ موجب غسل پانی بہانا واجب کرکے سر کو تری پہنچانا واجب کردیتا ہے تو اس نے تمام ہی اجزائے وضو واجب کردیے۔ بالجملہ مسح سرلا بشرط شیئ لیا گیا ہے تو وہ دھونے سے بھی ادا ہوجائےگا اور حدث اصغر بشرط لاشئی
حوالہ / References
البحرالرائق فرائض الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴
فتاوٰی ہند یۃ فرائض الوضوء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۶
فتاوٰی ہند یۃ فرائض الوضوء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۶
ماخوذ بشرط لاشیئ فلایلزم الحدث الاکبر ھکذا ینبغی التحقیق والله تعالی ولی التوفیق۔
الافادۃ : لاشك ان ظاھر الکلام وجوب الوضوء علی جنب معہ حدث اذاوجد مایکفی للوضوء فقط وھذا ھو مسلك التعویل الذی سلکہ القرۃ باغی ولاشك ان المراد حینئذ بالصورۃ الاولی التی حکم فیھا بعدم وجوب الوضوء عندنا خلافا للامام المطلبی رضی الله تعالی عنہ جنابۃ لاحدث معھا کماصورناہ وعلی ھذا یکون معنی الکلام ان من لہ حدث واحد اصغر اواکبر وجد ماء لایکفی لطھرہ لایستعملہ عندنا خلافا للشافعی وھذا قولہ حتی اذاکان للجنب وقولہ واذاکان للمحدث امااذا اجتمع الحدثان وکفی الماء لاحدھما وجب صرفہ الیہ فان کان یکفی للوضوء یجب علیہ الوضوء وھذا قولہ اما اذاکان الخ ولاشك ان التناقض یندفع بھذا الوجہ بابین وجہ۔
لیا گیا ہے تو وہ لازم حدث اکبر نہیں۔ اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اور خدا ہی مالك توفیق ہے۔ (ت)افادہ ۲ : اس میں شك نہیں کہ صدر الشریعۃ کا ظاہر کلام یہی ہے کہ وہ جنب جس کے ساتھ کوئی حدث بھی ہے اس پر وضو کرنا واجب ہے جبکہ اسے اتنا ہی پانی ملے جو صرف وضو کےلئے کفایت کرسکے یہی وہ مسلك اعتماد ہے جو فاضل قرہ باغی نے اخت یار کیا۔ اب پہلی صورت جس میں ہمارے نزدیك امام شافعی مطلبی رضی اللہ تعالی عنہکے برخلاف عدم وجوب وضو کا حکم کیا ہے بلاشبہہ اس سے مراد وہ صورت جنابت ہوگی جس کے ساتھ کوئی حدث نہ ہو جیسا کہ ہم نے اس کی شکل پیش کی ہے۔ اب معنی کلام یہ ہوجائےگا کہ جسے ایك ہی حدث ہے اصغر یا اکبر اس نے اتنا پانی پا یا جو اس کی طہارت کےلئے ناکافی ہے تو ہمارے نزدیك وہ اس پانی کو استعمال نہ کرے گا بخلاف امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے یہ بات ان کی اس عبارت میں ہے : “ اذاکان للجنب ماء یکفی للوضوء لاللغسل ولایجب علیہ التوضی عندنا خلافا للشافعی “ اور اس عبارت میں بھی : “ واذا کان للمحدث ماء یکفی لغسل بعض اعضائہ فالخلاف ثابت ایضا “ (یعنی جب جنب کے پاس اتنا پانی ہو جو وضو کا کام دے سکے غسل کا نہیں تو وہ تیمم کرے اور اس پر ہمارے نزدیك بخلاف امام شافعی کے وضو کرنا واجب نہیں اور جب محدث کے پاس اتنا پانی ہو جس سے بعض ہی اعضاء کو دھوسکے اس صورت میں بھی خلاف ثابت ہے) لیکن جب دونوں حدث جمع ہوجائیں اور پانی ایك ہی کےلئے کفایت کرتا ہو تو اس میں اسے صرف کرنا ضروری ہے۔ اگر وضو کےلئے کفایت کررہا ہے تو اس پر وضو واجب ہے یہ بات صدر الشریعۃ کی اس عبارت میں ہے : “ اما اذاکان مع
الافادۃ : لاشك ان ظاھر الکلام وجوب الوضوء علی جنب معہ حدث اذاوجد مایکفی للوضوء فقط وھذا ھو مسلك التعویل الذی سلکہ القرۃ باغی ولاشك ان المراد حینئذ بالصورۃ الاولی التی حکم فیھا بعدم وجوب الوضوء عندنا خلافا للامام المطلبی رضی الله تعالی عنہ جنابۃ لاحدث معھا کماصورناہ وعلی ھذا یکون معنی الکلام ان من لہ حدث واحد اصغر اواکبر وجد ماء لایکفی لطھرہ لایستعملہ عندنا خلافا للشافعی وھذا قولہ حتی اذاکان للجنب وقولہ واذاکان للمحدث امااذا اجتمع الحدثان وکفی الماء لاحدھما وجب صرفہ الیہ فان کان یکفی للوضوء یجب علیہ الوضوء وھذا قولہ اما اذاکان الخ ولاشك ان التناقض یندفع بھذا الوجہ بابین وجہ۔
لیا گیا ہے تو وہ لازم حدث اکبر نہیں۔ اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اور خدا ہی مالك توفیق ہے۔ (ت)افادہ ۲ : اس میں شك نہیں کہ صدر الشریعۃ کا ظاہر کلام یہی ہے کہ وہ جنب جس کے ساتھ کوئی حدث بھی ہے اس پر وضو کرنا واجب ہے جبکہ اسے اتنا ہی پانی ملے جو صرف وضو کےلئے کفایت کرسکے یہی وہ مسلك اعتماد ہے جو فاضل قرہ باغی نے اخت یار کیا۔ اب پہلی صورت جس میں ہمارے نزدیك امام شافعی مطلبی رضی اللہ تعالی عنہکے برخلاف عدم وجوب وضو کا حکم کیا ہے بلاشبہہ اس سے مراد وہ صورت جنابت ہوگی جس کے ساتھ کوئی حدث نہ ہو جیسا کہ ہم نے اس کی شکل پیش کی ہے۔ اب معنی کلام یہ ہوجائےگا کہ جسے ایك ہی حدث ہے اصغر یا اکبر اس نے اتنا پانی پا یا جو اس کی طہارت کےلئے ناکافی ہے تو ہمارے نزدیك وہ اس پانی کو استعمال نہ کرے گا بخلاف امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے یہ بات ان کی اس عبارت میں ہے : “ اذاکان للجنب ماء یکفی للوضوء لاللغسل ولایجب علیہ التوضی عندنا خلافا للشافعی “ اور اس عبارت میں بھی : “ واذا کان للمحدث ماء یکفی لغسل بعض اعضائہ فالخلاف ثابت ایضا “ (یعنی جب جنب کے پاس اتنا پانی ہو جو وضو کا کام دے سکے غسل کا نہیں تو وہ تیمم کرے اور اس پر ہمارے نزدیك بخلاف امام شافعی کے وضو کرنا واجب نہیں اور جب محدث کے پاس اتنا پانی ہو جس سے بعض ہی اعضاء کو دھوسکے اس صورت میں بھی خلاف ثابت ہے) لیکن جب دونوں حدث جمع ہوجائیں اور پانی ایك ہی کےلئے کفایت کرتا ہو تو اس میں اسے صرف کرنا ضروری ہے۔ اگر وضو کےلئے کفایت کررہا ہے تو اس پر وضو واجب ہے یہ بات صدر الشریعۃ کی اس عبارت میں ہے : “ اما اذاکان مع
ومانقلہ اللکنوی من الرد علیہ ان کیف اوجب الشافعی الوضوء بلاحدث فاقول : ھو(۱) رضی الله تعالی عنہ یوجب استعمال القدر المقدور مطلقا سواء کان محدثا اوجنبا معہ حدث اولا فاذاقدر الجنب علی الوضوء وجب وان لم یکن محدثا۔
الافادۃ : اماتاویل سلکہ فی غا یۃ الحواشی وتبعہ اللکنوی۔
فاقول اولا(۲) : لاشك انہ ابعد تاویل٭ولوساغ مثل الحذف بلادلیل٭لاستقام کثیر من الاباطیل٭
وثانیا : الحدث(۳) المقارن للتیمم یبطلہ فلایبقی لہ ولاللجنابۃ فکیف قال فالتیمم للجنابۃ فلم ینفعہ تقد یر المضاف۔
الا ان یراد بالتیمم کونہ متیمما ولایکون متیمما الا اذاتم التیمم و یراد بالمع یۃ اتصال الزمانین المتعاقبین الجنابۃ حدث یوجب الوضوء یجب علیہ الوضوء
(جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث بھی ہو جو وضو واجب کرتا ہے تو اس پر وضو واجب ہے) اس میں شك نہیں کہ اس توجیہ سے بھی تناقض بہت روشن وواضح طور پر دور ہوجاتا ہے۔ (ت)اس پر مولانا لکھنوی نے جو رد نقل کیا کہ “ امام شافعی نے بغیر حدث کے وضو کیسے واجب کرد یا “ ۔ تو اس پر میں کہتا ہوں (فاقول) امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہمطلقا صرف یہ واجب کرتے ہیں کہ جس قدر پانی استعمال کرنے کی قدرت ہو اتنا استعمال کرے۔ خواہ محدث ہو یا ایسا جنب جس کے ساتھ حدث ہو یا ایسا جس کے ساتھ حدث نہ ہو۔ تو جب جنابت والے کو وضو کی قدرت ہو اس پر وضو واجب ہوگا اگرچہ وہ محدث نہ ہو۔ (ت)
افادہ ۳ : وہ تاویل جو غا یۃ الحواشی میں اختیار کی اور مولانا لکھنوی نے جس کی پیروی کی اب اس پر کلام کیا جاتا ہے۔
فاقول۔ اولا : اس میں شك نہیں کہ یہ سب سے بعید تاویل ہے۔ اگر بغیر کسی دلیل کے حذف جیسی چیز روا ہو تو بہت سی اباطیل درست ہوجائیں گی۔
ثانیا : وہ حدث جو تیمم کے مقارن ہو اسے باطل کردے گا اب یہ نہ حدث کا رہ جائے گا نہ جنابت کا پھر یہ کیسے کہا : “ فالتیمم للجنابۃ “ (تو تیمم جنابت کا ہے) تو مضاف مقدر ماننا کام نہ آیا۔ مگر یہ کہ تیمم سے مراد لیا جائے اس کا متیمم ہونا۔ اور وہ متیمم اسی وقت ہوگا جب تیمم پورا ہوجائے۔ اور معیت سے مراد ہویکے بعد دیگرے دو۲ وقتوں کا
الافادۃ : اماتاویل سلکہ فی غا یۃ الحواشی وتبعہ اللکنوی۔
فاقول اولا(۲) : لاشك انہ ابعد تاویل٭ولوساغ مثل الحذف بلادلیل٭لاستقام کثیر من الاباطیل٭
وثانیا : الحدث(۳) المقارن للتیمم یبطلہ فلایبقی لہ ولاللجنابۃ فکیف قال فالتیمم للجنابۃ فلم ینفعہ تقد یر المضاف۔
الا ان یراد بالتیمم کونہ متیمما ولایکون متیمما الا اذاتم التیمم و یراد بالمع یۃ اتصال الزمانین المتعاقبین الجنابۃ حدث یوجب الوضوء یجب علیہ الوضوء
(جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث بھی ہو جو وضو واجب کرتا ہے تو اس پر وضو واجب ہے) اس میں شك نہیں کہ اس توجیہ سے بھی تناقض بہت روشن وواضح طور پر دور ہوجاتا ہے۔ (ت)اس پر مولانا لکھنوی نے جو رد نقل کیا کہ “ امام شافعی نے بغیر حدث کے وضو کیسے واجب کرد یا “ ۔ تو اس پر میں کہتا ہوں (فاقول) امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہمطلقا صرف یہ واجب کرتے ہیں کہ جس قدر پانی استعمال کرنے کی قدرت ہو اتنا استعمال کرے۔ خواہ محدث ہو یا ایسا جنب جس کے ساتھ حدث ہو یا ایسا جس کے ساتھ حدث نہ ہو۔ تو جب جنابت والے کو وضو کی قدرت ہو اس پر وضو واجب ہوگا اگرچہ وہ محدث نہ ہو۔ (ت)
افادہ ۳ : وہ تاویل جو غا یۃ الحواشی میں اختیار کی اور مولانا لکھنوی نے جس کی پیروی کی اب اس پر کلام کیا جاتا ہے۔
فاقول۔ اولا : اس میں شك نہیں کہ یہ سب سے بعید تاویل ہے۔ اگر بغیر کسی دلیل کے حذف جیسی چیز روا ہو تو بہت سی اباطیل درست ہوجائیں گی۔
ثانیا : وہ حدث جو تیمم کے مقارن ہو اسے باطل کردے گا اب یہ نہ حدث کا رہ جائے گا نہ جنابت کا پھر یہ کیسے کہا : “ فالتیمم للجنابۃ “ (تو تیمم جنابت کا ہے) تو مضاف مقدر ماننا کام نہ آیا۔ مگر یہ کہ تیمم سے مراد لیا جائے اس کا متیمم ہونا۔ اور وہ متیمم اسی وقت ہوگا جب تیمم پورا ہوجائے۔ اور معیت سے مراد ہویکے بعد دیگرے دو۲ وقتوں کا
بلافصل ای اما اذاولی حدث تمام التیمم فیستفاد منہ تأخر الحدث منہ فبعد ھذہ التکلفات یؤل الامر الی ماسلك الجمھور ان مع بمعنی بعد فاین ھذا مما اختاروہ والعجب(۱) ان مؤلف السعا یۃ ردعلیھم ماسلکوہ مع مالہ من قرب عتید٭وتبع ھذا علی تلك التجشمات مع مالھا من بعد بعید۔
وثالثا(۲) : یرد علیہ بعد تلك التمحلات انہ لم قید باتصال الحدث بتمام التیمم فانہ ان تأخر عنہ ولوطویلا کان الحکم ھکذا قطعا۔
ورابعا : علی(۳) اللکنوی خاصۃ انہ لم یقتصر علیہ بل زاد فی الطنبور نغمۃ وفی الشطرنج بغلۃ فجوز علی حذف المضاف ان یکون مع
بمعناہ فھدم لزوم البعد یۃ التی فیھا کان المنجأرأسا۔
الا ان یضاف لہ تکلف ثالث ان المراد بالمعیۃ البعد یۃ المتصلۃ وبالبعد یۃ البعد یۃ المنفصلۃ فیکون المعنی علی الاول اما اذا لحق التیمم حدث من فورتمامہ وعلی الثانی اما اذالحقہ حدث
ایك دوسرے سے ملا ہوا ہونا۔ اب معنی یہ ہوگا : “ لیکن جب حدث تیمم مکمل ہونے کے متصلا بعد ہو “ اس سے حدث کا متأخر ہونا مستفاد ہوگا اتنے سارے تکلفات کے بعد مآل کا ر و ہی ہوگا جو جمہور نے اختیار کیا کہ “ مع “ بمعنی بعد ہے تو کہاں یہ اور کہاں وہ جو انہوں نے اختیار کیا تعجب ہے کہ مؤلف سعایہ نے مسلك جمہور کی تو تردید کی جبکہ وہ عبارت سے بہت قریب تھا۔ اور اس مسلك کا اتنے سارے تکلفات کے باوجود اتباع کیا جبکہ یہ سب بہت بعید ہیں۔
ثالثا : ان سارے تکلفات کے بعد بھی اس پر یہ اعتراض وارد ہوگا کہ تکمیل تیمم سے حدث کے متصل ہونے کی قید کیوں اگر حدث اس سے بہت ز یادہ بعد میں ہو جب بھی تو حکم قطعا اور یقینی یہی ہے۔
رابعا : مولانا لکھنوی پر خاص طور سے یہ اعتراض بھی ہوگا کہ انہوں نے اسی پر اکتفا نہ کی بلکہ طنبور میں ایك نغمہ اور شطرنج میں ایك بغلہ اور بڑھا یا کہ حذف مضاف کے ساتھ یہ بھی جائز رکھا کہ “ مع “ اپنے معنی ہی میں رہے۔ اس طرح انہوں نے اس بعدیت کے لزوم کو بالکل ہی ڈھاد یا جس میں کچھ جائے پناہ تھی۔
مگر یہ کہ اس کے لئے ایك تیسرا تکلف بھی بڑھالیا جائے کہ معیت سے مراد بعدیت متصلہ یا بعدیت سے مراد بعدیت منفصلہ برتقد یر اول معنی یہ ہوگا : لیکن جب تیمم کو کوئی حدث اس کے تام ہوتے ہی لاحق ہو اور برتقد یر ثانی یہ معنی
وثالثا(۲) : یرد علیہ بعد تلك التمحلات انہ لم قید باتصال الحدث بتمام التیمم فانہ ان تأخر عنہ ولوطویلا کان الحکم ھکذا قطعا۔
ورابعا : علی(۳) اللکنوی خاصۃ انہ لم یقتصر علیہ بل زاد فی الطنبور نغمۃ وفی الشطرنج بغلۃ فجوز علی حذف المضاف ان یکون مع
بمعناہ فھدم لزوم البعد یۃ التی فیھا کان المنجأرأسا۔
الا ان یضاف لہ تکلف ثالث ان المراد بالمعیۃ البعد یۃ المتصلۃ وبالبعد یۃ البعد یۃ المنفصلۃ فیکون المعنی علی الاول اما اذا لحق التیمم حدث من فورتمامہ وعلی الثانی اما اذالحقہ حدث
ایك دوسرے سے ملا ہوا ہونا۔ اب معنی یہ ہوگا : “ لیکن جب حدث تیمم مکمل ہونے کے متصلا بعد ہو “ اس سے حدث کا متأخر ہونا مستفاد ہوگا اتنے سارے تکلفات کے بعد مآل کا ر و ہی ہوگا جو جمہور نے اختیار کیا کہ “ مع “ بمعنی بعد ہے تو کہاں یہ اور کہاں وہ جو انہوں نے اختیار کیا تعجب ہے کہ مؤلف سعایہ نے مسلك جمہور کی تو تردید کی جبکہ وہ عبارت سے بہت قریب تھا۔ اور اس مسلك کا اتنے سارے تکلفات کے باوجود اتباع کیا جبکہ یہ سب بہت بعید ہیں۔
ثالثا : ان سارے تکلفات کے بعد بھی اس پر یہ اعتراض وارد ہوگا کہ تکمیل تیمم سے حدث کے متصل ہونے کی قید کیوں اگر حدث اس سے بہت ز یادہ بعد میں ہو جب بھی تو حکم قطعا اور یقینی یہی ہے۔
رابعا : مولانا لکھنوی پر خاص طور سے یہ اعتراض بھی ہوگا کہ انہوں نے اسی پر اکتفا نہ کی بلکہ طنبور میں ایك نغمہ اور شطرنج میں ایك بغلہ اور بڑھا یا کہ حذف مضاف کے ساتھ یہ بھی جائز رکھا کہ “ مع “ اپنے معنی ہی میں رہے۔ اس طرح انہوں نے اس بعدیت کے لزوم کو بالکل ہی ڈھاد یا جس میں کچھ جائے پناہ تھی۔
مگر یہ کہ اس کے لئے ایك تیسرا تکلف بھی بڑھالیا جائے کہ معیت سے مراد بعدیت متصلہ یا بعدیت سے مراد بعدیت منفصلہ برتقد یر اول معنی یہ ہوگا : لیکن جب تیمم کو کوئی حدث اس کے تام ہوتے ہی لاحق ہو اور برتقد یر ثانی یہ معنی
متأخر عنہ بزمان وانت تعلم ان (۱) کلا القیدین ضائع۔
الافادۃ۴ : مادندن بہ اللکنوی علی الجماعۃ وتلخیصہ ان بعد یۃ الحدث عن الجنابۃ حاصلۃ اذاتأخر حدوثہ عنھا قبل التیمم فال الاشکال کماکان یریدبہ انھم اخطؤا فی ترك ماارتکبہ ھو وغا یۃ الحواشی من تقد یر المضاف فان البعد یۃ عن الجنابۃ لاتغنی مالم یکن بعد التیمم۔
فاقول : بل(۲)ھو الذی اخطأ وارتکب فی کلامھم ایضا تقد یر مضاف تسو یۃ للرد علیھم وذلك ان البعد یۃ زمانیۃ ولایجتمع فیھا القبل مع البعد والجنابۃ باق یۃ مالم ترتفع بغسل اوتیمم فان حدث حدث قبلہ فقد اجتمع مع الجنابۃ فلم یکن بعدھا بل معھا نعم کان بعد حدوثھا وماقالوہ بل المعترض ھو الذی اضاف ھذا المضاف الی کلامھم فثبت ان الحدث لایکون بعد الجنابۃ الا اذاحدث بعد زوالھا وھو ھھنا بالتیمم فتأخرہ عن التیمم مفاد نفس اللفظ ھکذا تفھم کلمات العلماء ولله الحمد فظھران احسن التاویلات اللام للعھد
ہوگا : لیکن جب اسے کوئی ایسا حدث لاحق ہو جو وقت میں اس سے کچھ متأخر ہو _ ناظر پر یہ بھی واضح ہے کہ دونوں ہی قید میں بیکار ہیں۔ (ت)
افادہ ۴ : فاضل لکھنوی نے جماعت پر جو بے جا رد کیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حدث کا بعد جنابت ہونا اس صورت میں بھی حاصل ہے جب حدث جنابت کے بعد تیمم سے پہلے پیدا ہو تو اشکال بدستور لوٹ آئے گا۔ مقصد یہ ہے کہ مضاف مقدر ماننے کا عمل جس کا انہوں نے اور غا یۃ الحواشی نے ارتکاب کیا جمہور نے اسے چھوڑ کر غلطی کی اس لئے کہ حدث کا بعد جنابت ہونا کچھ کارآ مد نہیں جب تك کہ بعد تیمم نہ ہو۔
اقول : بلکہ انہوں نے ہی خطا کی اور کلام جمہور میں بھی ایك زائد بات ماننے کا ارتکاب کیا تاکہ ان کی تردید کی راہ ہموار ہوسکے وہ یہ کہ بعدیت زمانی ہے جس میں قبل بعد کے ساتھ مجتمع نہیں ہوتا۔ اور جنابت باقی ہے جب تك غسل یا تیمم سے دور نہ ہو۔ تو اگر اس سے پہلے کوئی حدث پیدا ہوا تو وہ جنابت کے ساتھ جمع ہوگیا اس طرح اس کے بعد نہ ہوا بلکہ ساتھ ہوا۔ ہاں اس کے حدوث کے بعد ہوا حالانکہ جمہور نے یہ نہ کہا بلکہ خود معترض ہی نے یہ مزید ان کے کلام میں ز یادہ کرد یا تو ثابت یہ ہوا کہ حدث بعد جنابت اسی وقت ہوگا جب جنابت ختم ہونے کے بعد ہو۔ اور یہاں جنابت کا ختم ہونا تیمم سے ہے۔
الافادۃ۴ : مادندن بہ اللکنوی علی الجماعۃ وتلخیصہ ان بعد یۃ الحدث عن الجنابۃ حاصلۃ اذاتأخر حدوثہ عنھا قبل التیمم فال الاشکال کماکان یریدبہ انھم اخطؤا فی ترك ماارتکبہ ھو وغا یۃ الحواشی من تقد یر المضاف فان البعد یۃ عن الجنابۃ لاتغنی مالم یکن بعد التیمم۔
فاقول : بل(۲)ھو الذی اخطأ وارتکب فی کلامھم ایضا تقد یر مضاف تسو یۃ للرد علیھم وذلك ان البعد یۃ زمانیۃ ولایجتمع فیھا القبل مع البعد والجنابۃ باق یۃ مالم ترتفع بغسل اوتیمم فان حدث حدث قبلہ فقد اجتمع مع الجنابۃ فلم یکن بعدھا بل معھا نعم کان بعد حدوثھا وماقالوہ بل المعترض ھو الذی اضاف ھذا المضاف الی کلامھم فثبت ان الحدث لایکون بعد الجنابۃ الا اذاحدث بعد زوالھا وھو ھھنا بالتیمم فتأخرہ عن التیمم مفاد نفس اللفظ ھکذا تفھم کلمات العلماء ولله الحمد فظھران احسن التاویلات اللام للعھد
ہوگا : لیکن جب اسے کوئی ایسا حدث لاحق ہو جو وقت میں اس سے کچھ متأخر ہو _ ناظر پر یہ بھی واضح ہے کہ دونوں ہی قید میں بیکار ہیں۔ (ت)
افادہ ۴ : فاضل لکھنوی نے جماعت پر جو بے جا رد کیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حدث کا بعد جنابت ہونا اس صورت میں بھی حاصل ہے جب حدث جنابت کے بعد تیمم سے پہلے پیدا ہو تو اشکال بدستور لوٹ آئے گا۔ مقصد یہ ہے کہ مضاف مقدر ماننے کا عمل جس کا انہوں نے اور غا یۃ الحواشی نے ارتکاب کیا جمہور نے اسے چھوڑ کر غلطی کی اس لئے کہ حدث کا بعد جنابت ہونا کچھ کارآ مد نہیں جب تك کہ بعد تیمم نہ ہو۔
اقول : بلکہ انہوں نے ہی خطا کی اور کلام جمہور میں بھی ایك زائد بات ماننے کا ارتکاب کیا تاکہ ان کی تردید کی راہ ہموار ہوسکے وہ یہ کہ بعدیت زمانی ہے جس میں قبل بعد کے ساتھ مجتمع نہیں ہوتا۔ اور جنابت باقی ہے جب تك غسل یا تیمم سے دور نہ ہو۔ تو اگر اس سے پہلے کوئی حدث پیدا ہوا تو وہ جنابت کے ساتھ جمع ہوگیا اس طرح اس کے بعد نہ ہوا بلکہ ساتھ ہوا۔ ہاں اس کے حدوث کے بعد ہوا حالانکہ جمہور نے یہ نہ کہا بلکہ خود معترض ہی نے یہ مزید ان کے کلام میں ز یادہ کرد یا تو ثابت یہ ہوا کہ حدث بعد جنابت اسی وقت ہوگا جب جنابت ختم ہونے کے بعد ہو۔ اور یہاں جنابت کا ختم ہونا تیمم سے ہے۔
تاویل الجماعۃ وانہ لاصحۃ لمزعومات غا یۃ الحواشی والسعا یۃ الا اذا ارجعت الیہ۔
الافادۃ۵ : اذاعلمت ان لامحید الاالبعد یۃ فالمراد بالصورۃ الاولی ما اذالم یکن معھا حدث اوکان قبل التیمم فمعنی الکلام ان الجنب الفاقد الغسل فی کلا الوجھین ان وجد وضوء لایتوضأ بل یتیمم خلافا للشافعی اما اذاکان حدث بعد ماتیمم لھا فحینئذ یجب علیہ الوضوء وھذا کلام صحیح عین مامر عن شرح الطحاوی للامام الاسبیجابی و غیرہ وبہ انحلت الشبھۃ الخامسۃ ومعھا شبھۃ التناقض ایضاباصح وجہ واحسنہ۔
الافادۃ ۶ : قولہ فالتیمم للجنابۃ لاشك ان اللام فیہ للعھد ای التیمم المذکور الصادر من جنب معہ وضوء لان فرض المسألۃ فیہ اوبدل عن المضاف الیہ ای تیمم الجنب المذکور فمن البدیھی بطلان کون للاستغراق اوالطبیعۃ وکذا اخذ المضاف الیہ مطلق الجنب فانہ ان ارید التخصیص ای تیمم کل جنب
تو حدث کا تیمم سے متأخر ہونا خود اس لفظ ہی سے مستفاد ہے اسی طرح علماء کے کلمات سجھے جاتے ہیں۔ اور خدا ہی کےلئے حمد ہے۔ تو واضح ہوا کہ درست تاویلات میں سب سے بہتر تاویل جماعت کی اختیار کردہ تاویل ہے اور یہ بھی واضح ہوا کہ غا یۃ الحواشی اور سعایہ کے مزعومات میں کوئی درستی وصحت نہیں مگر اسی وقت جبکہ وہ تاویل جماعت کی طرف راجع ہوں۔ (ت)
افادہ ۵ : جب یہ معلوم ہوا کہ چارہ کار بعدیت ہی ہے۔ صورت اولی سے مراد وہ ہے جب جنابت کے ساتھ کوئی حدث نہ ہو یا تیمم سے پہلے ہو۔ تو معنی کلام یہ ہوا کہ جنب جسے ان دونوں صورتوں میں آب غسل دست یاب نہیں اگر اسے آب وضو مل جائے تو وضو نہیں کرے گا بلکہ تیمم کرے گا بخلاف امام شافعی کے لیکن جب کوئی حدث جنابت کا تیمم کرلینے کے بعد ہو تو اب اس پر وضو واجب ہے۔ یہ درست کلام ہے ٹھیك یہی بات امام اسبیجابی کی شرح طحاوی و غیرہ کے حوالہ سے گزری اسی سے پانچواں شبہہ حل ہوگیا اور اس کے ساتھ شبہہ تناقض بھی اصح واحسن طریقہ پر حل ہوگیا۔ (ت)
افادہ ۶ : ان کی عبارت “ فالتیمم للجنابۃ “ میں لام بلاشبہہ لام عہد ہے یعنی تیمم مذکور جو ایسے جنب سے عمل میں آ یا جس کے پاس آب وضو ہے۔ اس لئے کہ مسئلہ اسی کے بارے میں فرض کیا گیا ہے یا یہ لام مضاف الیہ کے عوض ہے یعنی جب مذکور تیمم جب واقعہ یہ ہے تو بدیہی بات ہے کہ اس کا لام استغراق یا لام طبیعت وماہیت ہونا باطل ہے۔ اسی طرح
الافادۃ۵ : اذاعلمت ان لامحید الاالبعد یۃ فالمراد بالصورۃ الاولی ما اذالم یکن معھا حدث اوکان قبل التیمم فمعنی الکلام ان الجنب الفاقد الغسل فی کلا الوجھین ان وجد وضوء لایتوضأ بل یتیمم خلافا للشافعی اما اذاکان حدث بعد ماتیمم لھا فحینئذ یجب علیہ الوضوء وھذا کلام صحیح عین مامر عن شرح الطحاوی للامام الاسبیجابی و غیرہ وبہ انحلت الشبھۃ الخامسۃ ومعھا شبھۃ التناقض ایضاباصح وجہ واحسنہ۔
الافادۃ ۶ : قولہ فالتیمم للجنابۃ لاشك ان اللام فیہ للعھد ای التیمم المذکور الصادر من جنب معہ وضوء لان فرض المسألۃ فیہ اوبدل عن المضاف الیہ ای تیمم الجنب المذکور فمن البدیھی بطلان کون للاستغراق اوالطبیعۃ وکذا اخذ المضاف الیہ مطلق الجنب فانہ ان ارید التخصیص ای تیمم کل جنب
تو حدث کا تیمم سے متأخر ہونا خود اس لفظ ہی سے مستفاد ہے اسی طرح علماء کے کلمات سجھے جاتے ہیں۔ اور خدا ہی کےلئے حمد ہے۔ تو واضح ہوا کہ درست تاویلات میں سب سے بہتر تاویل جماعت کی اختیار کردہ تاویل ہے اور یہ بھی واضح ہوا کہ غا یۃ الحواشی اور سعایہ کے مزعومات میں کوئی درستی وصحت نہیں مگر اسی وقت جبکہ وہ تاویل جماعت کی طرف راجع ہوں۔ (ت)
افادہ ۵ : جب یہ معلوم ہوا کہ چارہ کار بعدیت ہی ہے۔ صورت اولی سے مراد وہ ہے جب جنابت کے ساتھ کوئی حدث نہ ہو یا تیمم سے پہلے ہو۔ تو معنی کلام یہ ہوا کہ جنب جسے ان دونوں صورتوں میں آب غسل دست یاب نہیں اگر اسے آب وضو مل جائے تو وضو نہیں کرے گا بلکہ تیمم کرے گا بخلاف امام شافعی کے لیکن جب کوئی حدث جنابت کا تیمم کرلینے کے بعد ہو تو اب اس پر وضو واجب ہے۔ یہ درست کلام ہے ٹھیك یہی بات امام اسبیجابی کی شرح طحاوی و غیرہ کے حوالہ سے گزری اسی سے پانچواں شبہہ حل ہوگیا اور اس کے ساتھ شبہہ تناقض بھی اصح واحسن طریقہ پر حل ہوگیا۔ (ت)
افادہ ۶ : ان کی عبارت “ فالتیمم للجنابۃ “ میں لام بلاشبہہ لام عہد ہے یعنی تیمم مذکور جو ایسے جنب سے عمل میں آ یا جس کے پاس آب وضو ہے۔ اس لئے کہ مسئلہ اسی کے بارے میں فرض کیا گیا ہے یا یہ لام مضاف الیہ کے عوض ہے یعنی جب مذکور تیمم جب واقعہ یہ ہے تو بدیہی بات ہے کہ اس کا لام استغراق یا لام طبیعت وماہیت ہونا باطل ہے۔ اسی طرح
انما یکون للجنابۃ لا غیر فبطلانہ ظاھر حتی علی مسلك التعویل فان جنبا معہ حدث ولاماء یکون تیممہ للحدثین قطعا الاتری الی قول شرح الوقا یۃ نفسہ اذاکان بہ حدثان حدث یوجب الغسل کالجنابۃ وحدث یوجب الوضوء یکفی تیمم واحد عنھما اھ وان لم یرد کانت المقدمۃ القائلۃ ان کل جنب یتیمم للجنابۃ خال یۃ عن الافادۃ لانہ معلوم لکل احد ولایصلح تعلیلا ولاتفریعا وبہ استبان ان الامام فی قولہ للجنابۃ لام التخصیص فکان المعنی ان تیمم الجنب المذکور للجنابۃ خاصۃ۔
الافادۃ ۷ : تعلق قولہ بالاتفاق بکون التیمم للجنابۃ ھو الظاھر المتبادر من العبارۃ لانہ انما یفھم عائدا الی الجملۃ المذیلۃ بہ۔
اقول : لکن لاصحۃ لہ اصلا لان فرض المسألۃ فی جنب لہ ماء یکفی للوضوء ووجود ماء مامطلقا وان قل وان لم یکف للوضوء ایضا مانع للتیمم مطلقا عند الامام المطلبی سواء کان المتیمم
مضاف الیہ مطلق جنب لینا بھی باطل ہے۔ اس لئے کہ اگر تخصیص مراد ہو یعنی ہر جنب کا تیمم صرف جنابت کےلئے ہوتا ہے اور کسی چیز کےلئے نہیں۔ تو اس کا بطلان ظاہر ہے یہاں تك کہ مسلك اعتماد پر بھی۔ کیونکہ وہ جنب جس کے ساتھ کوئی حدث بھی ہو اور پانی نہ ہو اس کا تیمم یقینا دونوں ہی حدث کےلئے ہوگا خود شرح وقایہ کی یہ عبارت دیکھئے : “ جب اسے دو۲حدث ہوں ایك حدث غسل واجب کرتا ہے جیسے جنابت اور ایك حدث وضو واجب کرتا ہے تو ایك ہی تیمم دونوں سے کافی ہے “ اھ اور اگر تخصیص نہ مراد ہو تو یہ مقدمہ کہ “ ہر جنب جنابت کا تیمم کرے گا “ غیر مفید ہوجائے گا کیونکہ یہ تو سبھی کو معلوم ہے اور نہ تعلیل بن سکے گی نہ تفریع۔ اسی سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ “ للجنابۃ “ میں لام لام تخصیص ہے تو معنی یہ ہوگا کہ جنب مذکور کا تیمم خاص جنابت کےلئے ہے۔ (ت)
افادہ ۷ : لفظ “ بالاتفاق “ کا تعلق تیمم کے جنابت کےلئے ہونے سے ہی ظاہر اور عبارت سے متبادر ہے اس لئے کہ سمجھ میں یہی آتا ہے کہ جس جملہ کے ذیل میں یہ لفظ رکھا گیا ہے اسی کی طرف راجع ہے۔
اقول : لیکن یہ بالکل درست نہیں اس لئے کہ مسئلہ اس جنب کے بارے میں فرض کیا گیا ہے جس کے پاس وضو کےلئے آب کافی موجود ہے اور مطلقا کسی بھی پانی کا موجود ہونا اگرچہ کم ہی ہو اگرچہ وضو کےلئے بھی کافی نہ ہو
الافادۃ ۷ : تعلق قولہ بالاتفاق بکون التیمم للجنابۃ ھو الظاھر المتبادر من العبارۃ لانہ انما یفھم عائدا الی الجملۃ المذیلۃ بہ۔
اقول : لکن لاصحۃ لہ اصلا لان فرض المسألۃ فی جنب لہ ماء یکفی للوضوء ووجود ماء مامطلقا وان قل وان لم یکف للوضوء ایضا مانع للتیمم مطلقا عند الامام المطلبی سواء کان المتیمم
مضاف الیہ مطلق جنب لینا بھی باطل ہے۔ اس لئے کہ اگر تخصیص مراد ہو یعنی ہر جنب کا تیمم صرف جنابت کےلئے ہوتا ہے اور کسی چیز کےلئے نہیں۔ تو اس کا بطلان ظاہر ہے یہاں تك کہ مسلك اعتماد پر بھی۔ کیونکہ وہ جنب جس کے ساتھ کوئی حدث بھی ہو اور پانی نہ ہو اس کا تیمم یقینا دونوں ہی حدث کےلئے ہوگا خود شرح وقایہ کی یہ عبارت دیکھئے : “ جب اسے دو۲حدث ہوں ایك حدث غسل واجب کرتا ہے جیسے جنابت اور ایك حدث وضو واجب کرتا ہے تو ایك ہی تیمم دونوں سے کافی ہے “ اھ اور اگر تخصیص نہ مراد ہو تو یہ مقدمہ کہ “ ہر جنب جنابت کا تیمم کرے گا “ غیر مفید ہوجائے گا کیونکہ یہ تو سبھی کو معلوم ہے اور نہ تعلیل بن سکے گی نہ تفریع۔ اسی سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ “ للجنابۃ “ میں لام لام تخصیص ہے تو معنی یہ ہوگا کہ جنب مذکور کا تیمم خاص جنابت کےلئے ہے۔ (ت)
افادہ ۷ : لفظ “ بالاتفاق “ کا تعلق تیمم کے جنابت کےلئے ہونے سے ہی ظاہر اور عبارت سے متبادر ہے اس لئے کہ سمجھ میں یہی آتا ہے کہ جس جملہ کے ذیل میں یہ لفظ رکھا گیا ہے اسی کی طرف راجع ہے۔
اقول : لیکن یہ بالکل درست نہیں اس لئے کہ مسئلہ اس جنب کے بارے میں فرض کیا گیا ہے جس کے پاس وضو کےلئے آب کافی موجود ہے اور مطلقا کسی بھی پانی کا موجود ہونا اگرچہ کم ہی ہو اگرچہ وضو کےلئے بھی کافی نہ ہو
حوالہ / References
شرح الوقایہ باب التیمم المکتبۃ الرشید یۃ دہلی ۱ / ۹۹
جنبا اومحدثا لانہ یحمل قولہ عزوجل فلم تجدوا مآء علی الاستغراق مع الاطلاق فکیف
یوافقنا فی شیئ من الصور علی کون تیمم جنب لہ بعض الماء للجنابۃ بل باطل عندہ لفقد شرطہ وھو عدم الماء مطلقا والباطل لایکون لشیئ اللھم الا علی مسلك التعویل وجعل الفاء للتفریع وفرض التیمم بعد الوضوء لوقوعہ ح عند نفاد الماء ولامساغ لہ علی مسلك التاویل لان فیہ التیمم قبل الحدث فکیف یکون بعد الوضوء وکذا علی مسلك التعویل واخذ لان للتعلیل اذلامعنی لقولك یجب الوضوء لان التیمم ان وقع بعدہ یکون للجنابۃ بالاتفاق ومسلك التعویل نفسہ من الاباطیل فلاصحۃ لتعلقہ بمایلیہ وبہ(۱) استبان قلۃ فھم الذی عــہ زعم ان قولہ بالاتفاق متعلق بوجوب الوضوء اوبکون التیمم للجنابۃ اھ فخیربین الصحیح والباطل وقد(۲) اضطرب کلامہ فیہ فاقرفی سعایتہ تعیین تعلقہ بیجب وقال فی عمدۃ فی تقر یر الا یراد الرابع ان فی الصورۃ السابقۃ ایضا التیمم للجنابۃ اتفاقا اھ فجعلہ متعلقا
امام شافعی کے نزدیك تیمم سے مطلقا مانع ہے خواہ تیمم کرنے والا جنب ہو یا محدث وجہ یہ ہے کہ وہ ارشاد باری
عزوجل “ فلم تجدوا مآء “ (پھر تم کوئی پانی نہ پاؤ) کو
استغراق مع اطلاق پر محمول کرتے ہیں تو وہ ہمارے ساتھ کسی بھی صورت میں اس پر کیسے اتفاق کرسکتے ہیں کہ وہ جنب جس کے پاس کچھ پانی موجود ہے اس کا تیمم جنابت کےلئے ہوگا بلکہ ان کے نزدیك ایسے جنب کا تیمم ہی باطل ہے کیونکہ تیمم کی شرط مطلقا پانی نہ ہونا ہی مفقود ہے۔ اور جو باطل ہو وہ کسی چیز کےلئے نہیں ہوسکتا ہاں اگر مسلك اعتماد لیا جائے اور ف کو تفریع کےلئے قرار د یا جائے
اور فرض کیا جائے کہ تیمم بعد وضو ہے تو معنی مذکور صحیح ہوسکتا ہے اس لئے کہ اس صورت میں تیمم اس وقت ہوگا جب پانی ختم ہوچکا ہو اور مسلك تاویل پر معنی مذکور کی گنجائش نہیں۔ اس لئے کہ اس میں تیمم قبل حدث ہوگا تو بعد وضو کیسے ہوسکے گا اسی طرح جب مسلك اعتماد مان کر فابرائے تعلیل قرار دیں تو بھی معنی بالا صحیح نہیں بن سکتا۔ کیوں کہ اس تقد یر پر کلام یہ ٹھہرے گا کہ “ وضو کرنا واجب ہے اس لئے کہ تیمم اگر اس کے بعد ہوگا تو بالاتفاق جنابت کےلئے ہوگا “ یہ کلام ہی بے معنی ہے اور مسلک
عــہ : ھو صاحب عمدۃ الرعا یۃ اللکنوی ۱۲
(صاحب عمدۃ الرعا یۃ فاضل لکھنوی ۱۲۔ ت)
یوافقنا فی شیئ من الصور علی کون تیمم جنب لہ بعض الماء للجنابۃ بل باطل عندہ لفقد شرطہ وھو عدم الماء مطلقا والباطل لایکون لشیئ اللھم الا علی مسلك التعویل وجعل الفاء للتفریع وفرض التیمم بعد الوضوء لوقوعہ ح عند نفاد الماء ولامساغ لہ علی مسلك التاویل لان فیہ التیمم قبل الحدث فکیف یکون بعد الوضوء وکذا علی مسلك التعویل واخذ لان للتعلیل اذلامعنی لقولك یجب الوضوء لان التیمم ان وقع بعدہ یکون للجنابۃ بالاتفاق ومسلك التعویل نفسہ من الاباطیل فلاصحۃ لتعلقہ بمایلیہ وبہ(۱) استبان قلۃ فھم الذی عــہ زعم ان قولہ بالاتفاق متعلق بوجوب الوضوء اوبکون التیمم للجنابۃ اھ فخیربین الصحیح والباطل وقد(۲) اضطرب کلامہ فیہ فاقرفی سعایتہ تعیین تعلقہ بیجب وقال فی عمدۃ فی تقر یر الا یراد الرابع ان فی الصورۃ السابقۃ ایضا التیمم للجنابۃ اتفاقا اھ فجعلہ متعلقا
امام شافعی کے نزدیك تیمم سے مطلقا مانع ہے خواہ تیمم کرنے والا جنب ہو یا محدث وجہ یہ ہے کہ وہ ارشاد باری
عزوجل “ فلم تجدوا مآء “ (پھر تم کوئی پانی نہ پاؤ) کو
استغراق مع اطلاق پر محمول کرتے ہیں تو وہ ہمارے ساتھ کسی بھی صورت میں اس پر کیسے اتفاق کرسکتے ہیں کہ وہ جنب جس کے پاس کچھ پانی موجود ہے اس کا تیمم جنابت کےلئے ہوگا بلکہ ان کے نزدیك ایسے جنب کا تیمم ہی باطل ہے کیونکہ تیمم کی شرط مطلقا پانی نہ ہونا ہی مفقود ہے۔ اور جو باطل ہو وہ کسی چیز کےلئے نہیں ہوسکتا ہاں اگر مسلك اعتماد لیا جائے اور ف کو تفریع کےلئے قرار د یا جائے
اور فرض کیا جائے کہ تیمم بعد وضو ہے تو معنی مذکور صحیح ہوسکتا ہے اس لئے کہ اس صورت میں تیمم اس وقت ہوگا جب پانی ختم ہوچکا ہو اور مسلك تاویل پر معنی مذکور کی گنجائش نہیں۔ اس لئے کہ اس میں تیمم قبل حدث ہوگا تو بعد وضو کیسے ہوسکے گا اسی طرح جب مسلك اعتماد مان کر فابرائے تعلیل قرار دیں تو بھی معنی بالا صحیح نہیں بن سکتا۔ کیوں کہ اس تقد یر پر کلام یہ ٹھہرے گا کہ “ وضو کرنا واجب ہے اس لئے کہ تیمم اگر اس کے بعد ہوگا تو بالاتفاق جنابت کےلئے ہوگا “ یہ کلام ہی بے معنی ہے اور مسلک
عــہ : ھو صاحب عمدۃ الرعا یۃ اللکنوی ۱۲
(صاحب عمدۃ الرعا یۃ فاضل لکھنوی ۱۲۔ ت)
حوالہ / References
عمدۃ الرعا یۃ مع شرح الوقا یۃ ، باب التیمم ، المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۹۵
عمدۃ الرعا یۃ مع شرح الوقا یۃ ، باب التیمم ، المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۹۵
عمدۃ الرعا یۃ مع شرح الوقا یۃ ، باب التیمم ، المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۹۵
بمایلیہ ثم ذکر ھذا التخییر ثم قال متصلا بہ اویقال معناہ فالتیمم ثابت اوباق للجنابۃ اتفاقا اھ فعاد(۱) الی الباطل الصریح ولایدری مامعنی(۲) اوعطفا علی التخییر فان ھذا داخل فیہ الا ان یرید انہ مخیربین الحق والباطل اولاتخییر بل علی الباطل عینا۔ ھذا۔
واقول : بل لوکان فرض المسألۃ وجدان الماء بعد التیمم لم یستقم الکلام ایضا اما علی مسلك التعویل فظاھر لان الصورۃ الاخیرۃ فیہ اجتماع الحدثین فاذا وجد اوعدم الماء وتیمم کان عنھما بالوفاق لا عن الجنابۃ خاصۃ عند احد من الفریقین اما مذھبنا فمعلوم واما مذھب السادۃ الشافعیۃ فقال الامام ابن حجر المکی الشافعی فی فتاواہ الکبری من علیہ جنابۃ وحدث اصغر یکفیہ لھما تیمم واحد وھذا واضح جلی لان
اعتماد خود باطل ہے تو جس عبارت کے بعد یہ لفظ ہے اس سے اس کا تعلق کسی طرح درست نہیں۔ اسی سے اس کی کم فہمی بھی عیاں ہوگئی جس کا یہ خیال ہے کہ “ لفظ بالاتفاق یا تو وجوب وضو سے متعلق ہے یا تیمم کے جنابت کےلئے ہونے سے متعلق ہے “ اھ یہ کہہ کر صحیح اور باطل کے درمیان تخییر کی راہ اختیار کی۔
اور اس بارے میں قائل مذکور کا کلام اضطراب وانتشار کا حامل ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ (۱) سعایہ میں تو یہ صورت متعین رکھی کہ اس کا تعلق “ یجب “ (وجوب وضو) سے ہے (۲) اور عمدۃ الرعایہ میں اعتراض چہارم کی تقر یر میں یہ لکھا کہ “ سابقہ صورت میں بھی تیمم جنابت کےلئے ہے اتفاقا “ اھ اس میں اس لفظ کو اسی عبارت سے متعلق قرار د یا جس سے یہ متصل ہے (۳) پھر یہی تخییر والی بات ذکر کی (۴) پھر اسی سے متصل یہ لکھ د یا کہ “ یا یہ کہا جائے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ پس تیمم جنابت کےلئے ثابت یا باقی ہے اتفاقا اھ اس عبارت میں پھر باطل صریح کی طرف عود کیا قائل کو یہ پتا نہیں کہ تخییر پر عطف کرکے “ او “ کہنے کا کیا معنی ہوگا یہ بھی تو اس میں داخل ہے۔ مگر یہ مقصد ہوسکتا ہے کہ حق اور باطل دونوں کے درمیان تخییر دی جائے یا تخییر بالکل نہ ہو بلکہ ٹھیك باطل ہی متعین ہو یہ ذہن نشین رہے۔ (ت)
واقول : اگر مسئلہ کی صورت مفروضہ یہ ہوتی کہ تیمم کے بعد پانی پاجائے تو بھی بات نہ بنتی۔ مسلك اعتماد پر تو ظاہر ہے۔ اس لئے کہ اس میں صورت اخیرہ یہ ہے کہ دونوں حدث جمع ہوں تو وہ پانی پائے اور تیمم کرے یا نہ پائے اور تیمم کرے بہرتقد یر تیمم دونوں ہی حدث سے ہوگا۔ کسی بھی فریق کے نزدیك خاص جنابت سے نہ ہوگا۔ اس بارے میں ہمارا مذہب تو معلوم ہی ہے۔ حضرات شافعیہ کا مذہب ملاحظہ ہو۔ امام ابن حجر مکی شافعی اپنے فتاوی کبری میں رقم طراز ہیں : “ جس پر جنابت اور حدث اصغر دونوں ہیں اسے دونوں کےلئے ایك ہی
التیمم عن الحدث الاصغر وعن الاکبر حقیقتھما
تیمم کافی ہے۔ اور یہ روشن و واضح ہے اس لئے کہ تیمم حدث اصغر
واقول : بل لوکان فرض المسألۃ وجدان الماء بعد التیمم لم یستقم الکلام ایضا اما علی مسلك التعویل فظاھر لان الصورۃ الاخیرۃ فیہ اجتماع الحدثین فاذا وجد اوعدم الماء وتیمم کان عنھما بالوفاق لا عن الجنابۃ خاصۃ عند احد من الفریقین اما مذھبنا فمعلوم واما مذھب السادۃ الشافعیۃ فقال الامام ابن حجر المکی الشافعی فی فتاواہ الکبری من علیہ جنابۃ وحدث اصغر یکفیہ لھما تیمم واحد وھذا واضح جلی لان
اعتماد خود باطل ہے تو جس عبارت کے بعد یہ لفظ ہے اس سے اس کا تعلق کسی طرح درست نہیں۔ اسی سے اس کی کم فہمی بھی عیاں ہوگئی جس کا یہ خیال ہے کہ “ لفظ بالاتفاق یا تو وجوب وضو سے متعلق ہے یا تیمم کے جنابت کےلئے ہونے سے متعلق ہے “ اھ یہ کہہ کر صحیح اور باطل کے درمیان تخییر کی راہ اختیار کی۔
اور اس بارے میں قائل مذکور کا کلام اضطراب وانتشار کا حامل ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ (۱) سعایہ میں تو یہ صورت متعین رکھی کہ اس کا تعلق “ یجب “ (وجوب وضو) سے ہے (۲) اور عمدۃ الرعایہ میں اعتراض چہارم کی تقر یر میں یہ لکھا کہ “ سابقہ صورت میں بھی تیمم جنابت کےلئے ہے اتفاقا “ اھ اس میں اس لفظ کو اسی عبارت سے متعلق قرار د یا جس سے یہ متصل ہے (۳) پھر یہی تخییر والی بات ذکر کی (۴) پھر اسی سے متصل یہ لکھ د یا کہ “ یا یہ کہا جائے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ پس تیمم جنابت کےلئے ثابت یا باقی ہے اتفاقا اھ اس عبارت میں پھر باطل صریح کی طرف عود کیا قائل کو یہ پتا نہیں کہ تخییر پر عطف کرکے “ او “ کہنے کا کیا معنی ہوگا یہ بھی تو اس میں داخل ہے۔ مگر یہ مقصد ہوسکتا ہے کہ حق اور باطل دونوں کے درمیان تخییر دی جائے یا تخییر بالکل نہ ہو بلکہ ٹھیك باطل ہی متعین ہو یہ ذہن نشین رہے۔ (ت)
واقول : اگر مسئلہ کی صورت مفروضہ یہ ہوتی کہ تیمم کے بعد پانی پاجائے تو بھی بات نہ بنتی۔ مسلك اعتماد پر تو ظاہر ہے۔ اس لئے کہ اس میں صورت اخیرہ یہ ہے کہ دونوں حدث جمع ہوں تو وہ پانی پائے اور تیمم کرے یا نہ پائے اور تیمم کرے بہرتقد یر تیمم دونوں ہی حدث سے ہوگا۔ کسی بھی فریق کے نزدیك خاص جنابت سے نہ ہوگا۔ اس بارے میں ہمارا مذہب تو معلوم ہی ہے۔ حضرات شافعیہ کا مذہب ملاحظہ ہو۔ امام ابن حجر مکی شافعی اپنے فتاوی کبری میں رقم طراز ہیں : “ جس پر جنابت اور حدث اصغر دونوں ہیں اسے دونوں کےلئے ایك ہی
التیمم عن الحدث الاصغر وعن الاکبر حقیقتھما
تیمم کافی ہے۔ اور یہ روشن و واضح ہے اس لئے کہ تیمم حدث اصغر
حوالہ / References
عمدۃ الرعا یۃ مع شرح الوقا یۃ باب التیمم المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۹۵
ومعناھما وصورتھما ومقصودھما واحد فلایتخیل منع الاندراج ولانہ یلزم علی الامر بتیممین متوالیین مایشبہ العبث لانہ اذاتیمم اولا لاستباحۃ الصلاۃ استباحھا بہ فایجاب الثانی عبث لا فائدۃ فیہ اھ ھذا فی الابتداء۔ وان ارید البقاء ای ان بعد وجدانہ یبقی للجنابۃ بالاتفاق فباطل اذیبطل عندہ رأسا بوجدان ماء مامطلقا لفقدان شرطہ واما علی مسلك التاویل والصورۃ الاخیرۃ فیہ الحدث بعد التیمم فان ارید بقاء کماافصح بہ الشرنبلالی فظاھر البطلان کمامر انفا غیر انہ رحمہ الله تعالی لم یذیلہ بالاتفاق فسلم بخلاف ذلك عــہ الذی قال فالتیمم باق اتفاقا فانہ وقع فی خطأ مظلم٭وان ارید ابتداء فنعم ھو متفق علیہ کونہ اذ ذاك للجنابۃ خاصۃ لعدم الحدث حینئذ لکن لفظۃ بالاتفاق تقع عبثا و موھمۃ غلط اما الاول فلانہ اذابطل عندہ بالوجدان فمافائدۃ وفاقہ البائن واما الاخیر فلان
اور تیمم حدث اکبر دونوں کی حقیقت دونوں کا معنی دونوں کی صورت اور دونوں کا مقصود ایك ہی ہے تو یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ ایك دوسرے میں مندرج نہیں ہوسکتا۔ اور ایك دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اگر پے درپے دو تیمم کا حکم د یا جائے تو ایك بیکار وعبث سا کام کرنا لازم آئے گا کیوں کہ جب اس نے پہلی بار اباحت نماز حاصل کرنے کےلئے تیمم کرلیا تو اس سے جواز نماز حاصل کرلیا پھر دوسرا تیمم واجب کرنا عبث ہے جس میں کوئی فائدہ نہیں “ اھ یہ حکم ابتدا کا ہوا۔ اگر بقا مراد ہو یعنی پانی کی دستیابی کے بعد تیمم بالاتفاق جنابت کےلئے باقی رہے گا تو یہ باطل ہے۔ کیونکہ امام شافعی کے نزدیك کسی بھی آب مطلق کی دستیابی کے وقت تیمم سرے سے باطل ہے کیونکہ ان کے طور پر اس کی شرط (عدم ماء مطلق) ہی مفقود ہے اب رہا مسلك تاویل (بصورت مفروضہ بالا اس مسلك کی بنیاد پر بھی بات نہ بنے گی جس کی تفصیل یہ ہے ۱۲ م الف) اس میں صورت اخیرہ یہ ہے کہ حدث تیمم کے بعد ہو تو اگر بقاء مراد ہو جیسا کہ شرنبلالی نے اسے غیر مبہم طور پر کہا تو اس کا بطلان ظاہر ہے جس کی
عــہ ھو اللکنوی المذکور
(فاضل لکھنوی مذکور ۱۲۔ ت)
اور تیمم حدث اکبر دونوں کی حقیقت دونوں کا معنی دونوں کی صورت اور دونوں کا مقصود ایك ہی ہے تو یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ ایك دوسرے میں مندرج نہیں ہوسکتا۔ اور ایك دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اگر پے درپے دو تیمم کا حکم د یا جائے تو ایك بیکار وعبث سا کام کرنا لازم آئے گا کیوں کہ جب اس نے پہلی بار اباحت نماز حاصل کرنے کےلئے تیمم کرلیا تو اس سے جواز نماز حاصل کرلیا پھر دوسرا تیمم واجب کرنا عبث ہے جس میں کوئی فائدہ نہیں “ اھ یہ حکم ابتدا کا ہوا۔ اگر بقا مراد ہو یعنی پانی کی دستیابی کے بعد تیمم بالاتفاق جنابت کےلئے باقی رہے گا تو یہ باطل ہے۔ کیونکہ امام شافعی کے نزدیك کسی بھی آب مطلق کی دستیابی کے وقت تیمم سرے سے باطل ہے کیونکہ ان کے طور پر اس کی شرط (عدم ماء مطلق) ہی مفقود ہے اب رہا مسلك تاویل (بصورت مفروضہ بالا اس مسلك کی بنیاد پر بھی بات نہ بنے گی جس کی تفصیل یہ ہے ۱۲ م الف) اس میں صورت اخیرہ یہ ہے کہ حدث تیمم کے بعد ہو تو اگر بقاء مراد ہو جیسا کہ شرنبلالی نے اسے غیر مبہم طور پر کہا تو اس کا بطلان ظاہر ہے جس کی
عــہ ھو اللکنوی المذکور
(فاضل لکھنوی مذکور ۱۲۔ ت)
حوالہ / References
فتاوٰی کبرٰی لابن حجر مکی ، باب التیمم ، مطبوعہ دار الکتب العلم یۃ بیروت ، ۱ / ۷۰
ذکرھا فی الصورۃ الاخیرۃ لاسیما بمقابلۃ الاختلاف المذکورفی الاولی یفید عدم الاتفاق فی الاولی ولیس کذلك لان فی الاولی ان لم یکن حدث کان للجنابۃ وحدھا بالاتفاق وانکان کان لھما بالوفاق انما الاختلاف ثمہ فی بقاء التیمم عندنا وانتقاضہ عندہ بوجدان ماء غیر کاف وبالجملۃ قولہ بالاتفاق یجب صرفہ الی قولہ یجب کمافعل فی غا یۃ الحواشی نعما فعل۔
اقول : وبہ ظھر اولا انہ(۱)کان الانسب للدرر تقدیم قولہ بالاتفاق علی قولہ فالتیمم لانہ بصدد ایضاح کلامہ الصدر الامام وان یز ]یح عنہ الاوھام۔
وثانیا : (۲)ان صاحب غایۃ الحواشی مع تصریحہ بتعلقہ بیجب لم یحسن فی ضمہ مع الجملۃ التالیۃ ایضا اذقال
وجہ ابھی بیان ہوئی ہاں علامہ شرنبلالی نے یہ صورت لکھ کر اس کے بعد “ بالاتفاق “ نہ کہا اس لئے وہ سلامت رہے بخلاف اس قائل کے جس نے یہ لکھ د یا کہ “ تیمم باقی ہے اتفاقا “ وہ تو تاریك خطا میں پڑ گیا۔ اور اگر ابتداء مراد ہو تو وہاں یہ متفق علیہ ہے کہ وہ تیمم اس صورت میں خاص جنابت کےلئے ہوگا کیونکہ اس صورت میں حدث ہے ہی نہیں لیکن اس تقد یر پر لفظ “ بالاتفاق “ عبث اور ایك غلطی کا وہم پیدا کرنے والا ٹھہرے گا عبث اس لئے کہ جب یہ تیمم امام شافعی کے نزدیك پانی کی دستیابی کی وجہ سے باطل ہے تو ان کے اس اختلاف آمیز اتفاق سے فائدہ کیا ابہام غلط اس لئے کہ یہ لفظ صورت اخیرہ میں خصوصا صورت اولی میں ذکر شدہ اختلاف کے مقابل ذکر کرنے سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ صورت اولی میں اتفاق نہیں حالانکہ معاملہ ایسا نہیں۔ اس لئے کہ پہلی صورت میں بھی اگر حدث نہ ہو تو تیمم صرف جنابت ہی کےلئے ہوگا بالاتفاق اور اگر حدث بھی ہو تو دونوں ہی کےلئے ہوگا بلااختلاف وہاں اختلاف صرف اس بارے میں ہے کہ ہمارے نزدیك تیمم باقی رہے گا اور ان کے نزدیك غیر کافی پانی کی دست یابی سے ٹوٹ جائے گا۔ بالجملہ لفظ “ بالاتفاق “ کو ان کے قول “ یجب “ (وجوب وضو) کی جانب پھیرنا لازم ہے جیسا کہ غا یۃ الحواشی میں کیا اور خوب کیا۔ (ت)
اقول : اس سے چند باتیں اور واضح ہوگئیں اولا دررالحکام میں لفظ “ بالاتفاق “ کو لفظ “ فالتیمم “ سے پہلے رکھنا انسب تھا کیوں کہ صاحب درر اپنی اس عبارت سے صدر الشریعۃ کے کلام کو واضح کرنا اور اس سے اوہام دور کرنا چاہتے ہیں۔
ثانیا : “ یجب “ سے لفظ مذکور کے تعلق کی صراحت کرنے کے باوجود صاحب غا یۃ الحواشی نے بھی اس لفظ کو بعد والے جملہ سے ملاکر اچھا نہ کیا
اقول : وبہ ظھر اولا انہ(۱)کان الانسب للدرر تقدیم قولہ بالاتفاق علی قولہ فالتیمم لانہ بصدد ایضاح کلامہ الصدر الامام وان یز ]یح عنہ الاوھام۔
وثانیا : (۲)ان صاحب غایۃ الحواشی مع تصریحہ بتعلقہ بیجب لم یحسن فی ضمہ مع الجملۃ التالیۃ ایضا اذقال
وجہ ابھی بیان ہوئی ہاں علامہ شرنبلالی نے یہ صورت لکھ کر اس کے بعد “ بالاتفاق “ نہ کہا اس لئے وہ سلامت رہے بخلاف اس قائل کے جس نے یہ لکھ د یا کہ “ تیمم باقی ہے اتفاقا “ وہ تو تاریك خطا میں پڑ گیا۔ اور اگر ابتداء مراد ہو تو وہاں یہ متفق علیہ ہے کہ وہ تیمم اس صورت میں خاص جنابت کےلئے ہوگا کیونکہ اس صورت میں حدث ہے ہی نہیں لیکن اس تقد یر پر لفظ “ بالاتفاق “ عبث اور ایك غلطی کا وہم پیدا کرنے والا ٹھہرے گا عبث اس لئے کہ جب یہ تیمم امام شافعی کے نزدیك پانی کی دستیابی کی وجہ سے باطل ہے تو ان کے اس اختلاف آمیز اتفاق سے فائدہ کیا ابہام غلط اس لئے کہ یہ لفظ صورت اخیرہ میں خصوصا صورت اولی میں ذکر شدہ اختلاف کے مقابل ذکر کرنے سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ صورت اولی میں اتفاق نہیں حالانکہ معاملہ ایسا نہیں۔ اس لئے کہ پہلی صورت میں بھی اگر حدث نہ ہو تو تیمم صرف جنابت ہی کےلئے ہوگا بالاتفاق اور اگر حدث بھی ہو تو دونوں ہی کےلئے ہوگا بلااختلاف وہاں اختلاف صرف اس بارے میں ہے کہ ہمارے نزدیك تیمم باقی رہے گا اور ان کے نزدیك غیر کافی پانی کی دست یابی سے ٹوٹ جائے گا۔ بالجملہ لفظ “ بالاتفاق “ کو ان کے قول “ یجب “ (وجوب وضو) کی جانب پھیرنا لازم ہے جیسا کہ غا یۃ الحواشی میں کیا اور خوب کیا۔ (ت)
اقول : اس سے چند باتیں اور واضح ہوگئیں اولا دررالحکام میں لفظ “ بالاتفاق “ کو لفظ “ فالتیمم “ سے پہلے رکھنا انسب تھا کیوں کہ صاحب درر اپنی اس عبارت سے صدر الشریعۃ کے کلام کو واضح کرنا اور اس سے اوہام دور کرنا چاہتے ہیں۔
ثانیا : “ یجب “ سے لفظ مذکور کے تعلق کی صراحت کرنے کے باوجود صاحب غا یۃ الحواشی نے بھی اس لفظ کو بعد والے جملہ سے ملاکر اچھا نہ کیا
مع انہ تیمم للجنب اتفاقا
وثالثا : بطلان(۱)الا یراد الرابع المنقول فی السعا یۃ مع التقر یر ان کون التیمم للجنابۃ بالاتفاق مشترك بین الصورتین فانہ لیس
لشیئ اصلا عندالامام الشافعی فی کلا الوجھین۔
فان استعفی عن لفظۃ بالاتفاق واقتصر علی ان کونہ للجنابۃ مشترك بین الصورتین لااختصاص لہ بھذہ الصورۃ اندرج فی الایراد
السابق علیہ وسیاتیك الجواب عنہ بعونہ تعالی۔
الافادۃ۸ : نختار ان الفاء للتفریع کمامشی علیہ العلامۃ الشرنبلالی وغا یۃ الحواشی وقول(۲) السعا یۃ لامحصل لہ لامحصل لہ لان کون ھذا التیمم للجنابۃ خاصۃ لم ینشأ الا من وجوب الوضوء للحدث اذ لولم یجب لکان التیمم لھما معا لاستحالۃ ان تجوز صلاۃ مع الحدث فلابدان یعتبر التیمم المذکور رافعا لہ اودافعا
انہوں نے اپنی عبارت میں یہ کہا : “ مع انہ تیمم للجنب اتفاقا “ (تو وضو واجب ہے باوجودیکہ یہ جنب کا تیمم ہے اتفاقا)
ثالثا : چوتھا اعتراض جو سعایہ میں اس تقر یر کے ساتھ منقول ہے کہ “ تیمم کا بالاتفاق جنابت کےلئے ہونا دونوں ہی صورتوں میں مشترك ہے “ (یہ اعتراض و تقر یر) باطل ہے اس لئے کہ دونوں صورتوں میں یہ تیمم امام شافعی کے نزدیك کسی چیز کےلئے نہیں۔
اب اگر لفظ “ بالاتفاق “ سے دستبردار ہوکر صرف یہ کہیں کہ “ تیمم کا جنابت کےلئے ہونا دونوں ہی صورتوں میں مشترك ہے اسی صورت کے ساتھ اسے کوئی اختصاص نہیں “ تو یہ بات اسی اعتراض میں شامل ہوجائے گی جو اس سے پہلے ان پر کیا۔ اور بعونہ تعالی اس کا جواب عنقریب سامنے آرہا ہے۔ (ت)
افادہ ۸ : ہم یہ اخت یار کرتے ہیں کہ ف تفریع کےلئے ہے جیسا کہ اسی راہ پر علامہ شرنبلالی اور غا یۃ الحواشی کے روش ہے۔ اور سعایہ کا اسے لاحاصل بتانا خود لاحاصل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس تیمم کا خاص جنابت کےلئے ہونا اسی امر سے پیدا ہوا کہ حدث کےلئے وضو واجب ہے اس لئے کہ اگریہ وجوب نہ ہوتا تو تیمم حدث وجنابت دونوں ہی کےلئے ہوتا کیونکہ حدث کے ساتھ کسی نماز کا جواز محال ہے تو یہ ماننا ضروری ہے
وثالثا : بطلان(۱)الا یراد الرابع المنقول فی السعا یۃ مع التقر یر ان کون التیمم للجنابۃ بالاتفاق مشترك بین الصورتین فانہ لیس
لشیئ اصلا عندالامام الشافعی فی کلا الوجھین۔
فان استعفی عن لفظۃ بالاتفاق واقتصر علی ان کونہ للجنابۃ مشترك بین الصورتین لااختصاص لہ بھذہ الصورۃ اندرج فی الایراد
السابق علیہ وسیاتیك الجواب عنہ بعونہ تعالی۔
الافادۃ۸ : نختار ان الفاء للتفریع کمامشی علیہ العلامۃ الشرنبلالی وغا یۃ الحواشی وقول(۲) السعا یۃ لامحصل لہ لامحصل لہ لان کون ھذا التیمم للجنابۃ خاصۃ لم ینشأ الا من وجوب الوضوء للحدث اذ لولم یجب لکان التیمم لھما معا لاستحالۃ ان تجوز صلاۃ مع الحدث فلابدان یعتبر التیمم المذکور رافعا لہ اودافعا
انہوں نے اپنی عبارت میں یہ کہا : “ مع انہ تیمم للجنب اتفاقا “ (تو وضو واجب ہے باوجودیکہ یہ جنب کا تیمم ہے اتفاقا)
ثالثا : چوتھا اعتراض جو سعایہ میں اس تقر یر کے ساتھ منقول ہے کہ “ تیمم کا بالاتفاق جنابت کےلئے ہونا دونوں ہی صورتوں میں مشترك ہے “ (یہ اعتراض و تقر یر) باطل ہے اس لئے کہ دونوں صورتوں میں یہ تیمم امام شافعی کے نزدیك کسی چیز کےلئے نہیں۔
اب اگر لفظ “ بالاتفاق “ سے دستبردار ہوکر صرف یہ کہیں کہ “ تیمم کا جنابت کےلئے ہونا دونوں ہی صورتوں میں مشترك ہے اسی صورت کے ساتھ اسے کوئی اختصاص نہیں “ تو یہ بات اسی اعتراض میں شامل ہوجائے گی جو اس سے پہلے ان پر کیا۔ اور بعونہ تعالی اس کا جواب عنقریب سامنے آرہا ہے۔ (ت)
افادہ ۸ : ہم یہ اخت یار کرتے ہیں کہ ف تفریع کےلئے ہے جیسا کہ اسی راہ پر علامہ شرنبلالی اور غا یۃ الحواشی کے روش ہے۔ اور سعایہ کا اسے لاحاصل بتانا خود لاحاصل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس تیمم کا خاص جنابت کےلئے ہونا اسی امر سے پیدا ہوا کہ حدث کےلئے وضو واجب ہے اس لئے کہ اگریہ وجوب نہ ہوتا تو تیمم حدث وجنابت دونوں ہی کےلئے ہوتا کیونکہ حدث کے ساتھ کسی نماز کا جواز محال ہے تو یہ ماننا ضروری ہے
حوالہ / References
السعا یۃ باب التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۹۰
وان کان الاخیر لیس لہ فی الشرع نظیر فاستلزام محال محالا غیر محال۔
الافادۃ۹ : نختار انھا للتعلیل وزعم(۱) السعا یۃ اشتراك العلۃ مردود اما علی مسلك التاویل مع اجتماع الحدثین فی الصورۃ الاولی فظاھر لان التیمم طرأ علیھما فرفعھما معا فکیف یختص بالجنابۃ واما علیہ مع انفراد الجنابۃ فی الصورۃ الاولی وعلی مسلك التعویل فاختصاص(۲) شیئ بشیئ تارۃ یکون لانحصار الوجود فیہ واخری لتفردہ بہ من بین مشارکاتہ فی الوجود ومعلوم بداھۃ ان ھذا ھو المراد ھنا فانہ اذا وجد حدث ولم یقع التیمم الاعن الجنابۃ لم یغن عن الحدث ووجب الوضوء بخلاف مااذا لم یکن حدث فلای شیئ یجب وھذا الوجہ من الاختصاص غیر مشترك فظھر ان الفاء تحمل الوجہین فقصر(۳)الشرنبلالی وغا یۃ الحواشی علی احدھما وقع وفاقا لاداعی الیہ بل التعلیل ھو(۴) الاظھر الازھر فان کون التیمم لخصوص الجنابۃ غیر مقصود ھنا بالافادۃ والله تعالی اعلم۔
کہ تیمم مذکور اسے رفع کرنے والا ہے یا دفع کرنے والا ہے اگر اخیر ہو تو شرع میں اس کی کوئی نظیر نہیں تو ایك محال کا دوسرے محال کو مستلزم ہونا کوئی محال نہیں۔ (ت)
افادہ ۹ : ہم یہ اختیار کرتے ہیں کہ فاتعلیل کےلئے ہے اور سعایہ کا یہ خیال کہ “ علت مشترك ہے “ غلط ہے یہ مسلك تاویل پر جبکہ پہلی صورت میں دونوں حدث جمع ہوں ظاہر ہے اس لئے کہ تیمم نے دونوں حدثوں پر طاری ہوکہ دونوں ہی کو رفع کیا تو وہ جنابت کے ساتھ خاص کیسے ہوگا اور مسلك تاویل پر جب کہ پہلی صورت میں جنابت بلاحدث ہو اور مسلك اعتماد پر وجہ یہ ہے کہ ایك چیز کا دوسری چیز کے ساتھ خاص ہونا کبھی اس لئے ہوتا ہے کہ اس کا وجود اسی میں منحصر ہے اور کبھی اس لئے ہوتا ہے کہ یہ اس کے مشارکات فی الوجود کے درمیان اسی کے ساتھ متفرد ہے۔ اور بداہۃ معلوم ہے کہ یہاں پر یہی مراد ہے اس لئے کہ جب کوئی حدث پا یا جائے اور تیمم صرف جنابت کا واقع ہو تو حدث کا کچھ کام نہ کرسکا اور وضو واجب ہوا بخلاف اس صورت کے جبکہ کوئی حدث پا یا جائے اور تیمم صرف جنابت کا واقع ہو تو حدث کا کچھ کام نہ کرسکا اور وضو واجب ہوا بخلاف اس صورت کے جبکہ کوئی حدث موجود ہی نہ ہو پھر کس چیز کےلئے وضو واجب ہوگا۔ یہ وجہ اختصاص مشترك نہیں۔ اس بیان سے ظاہر ہوا کہ فا میں تفریع وتعلیل دونوں ہی احتمال جاری ہیں۔ تو شرنبلالی اور غا یۃ الحواشی کا صرف ایك ہی کو ذکر کرنا محض اتفاقا واقع ہوا اس کا کوئی داعی نہیں ہے بلکہ احتمال تعلیل ہی ز یادہ ظاہر وروشن ہے۔ اس لئے کہ یہاں یہ بتانا مقصود نہیں کہ تیمم خاص جنابت ہی کےلئے ہے۔ اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
الافادۃ۹ : نختار انھا للتعلیل وزعم(۱) السعا یۃ اشتراك العلۃ مردود اما علی مسلك التاویل مع اجتماع الحدثین فی الصورۃ الاولی فظاھر لان التیمم طرأ علیھما فرفعھما معا فکیف یختص بالجنابۃ واما علیہ مع انفراد الجنابۃ فی الصورۃ الاولی وعلی مسلك التعویل فاختصاص(۲) شیئ بشیئ تارۃ یکون لانحصار الوجود فیہ واخری لتفردہ بہ من بین مشارکاتہ فی الوجود ومعلوم بداھۃ ان ھذا ھو المراد ھنا فانہ اذا وجد حدث ولم یقع التیمم الاعن الجنابۃ لم یغن عن الحدث ووجب الوضوء بخلاف مااذا لم یکن حدث فلای شیئ یجب وھذا الوجہ من الاختصاص غیر مشترك فظھر ان الفاء تحمل الوجہین فقصر(۳)الشرنبلالی وغا یۃ الحواشی علی احدھما وقع وفاقا لاداعی الیہ بل التعلیل ھو(۴) الاظھر الازھر فان کون التیمم لخصوص الجنابۃ غیر مقصود ھنا بالافادۃ والله تعالی اعلم۔
کہ تیمم مذکور اسے رفع کرنے والا ہے یا دفع کرنے والا ہے اگر اخیر ہو تو شرع میں اس کی کوئی نظیر نہیں تو ایك محال کا دوسرے محال کو مستلزم ہونا کوئی محال نہیں۔ (ت)
افادہ ۹ : ہم یہ اختیار کرتے ہیں کہ فاتعلیل کےلئے ہے اور سعایہ کا یہ خیال کہ “ علت مشترك ہے “ غلط ہے یہ مسلك تاویل پر جبکہ پہلی صورت میں دونوں حدث جمع ہوں ظاہر ہے اس لئے کہ تیمم نے دونوں حدثوں پر طاری ہوکہ دونوں ہی کو رفع کیا تو وہ جنابت کے ساتھ خاص کیسے ہوگا اور مسلك تاویل پر جب کہ پہلی صورت میں جنابت بلاحدث ہو اور مسلك اعتماد پر وجہ یہ ہے کہ ایك چیز کا دوسری چیز کے ساتھ خاص ہونا کبھی اس لئے ہوتا ہے کہ اس کا وجود اسی میں منحصر ہے اور کبھی اس لئے ہوتا ہے کہ یہ اس کے مشارکات فی الوجود کے درمیان اسی کے ساتھ متفرد ہے۔ اور بداہۃ معلوم ہے کہ یہاں پر یہی مراد ہے اس لئے کہ جب کوئی حدث پا یا جائے اور تیمم صرف جنابت کا واقع ہو تو حدث کا کچھ کام نہ کرسکا اور وضو واجب ہوا بخلاف اس صورت کے جبکہ کوئی حدث پا یا جائے اور تیمم صرف جنابت کا واقع ہو تو حدث کا کچھ کام نہ کرسکا اور وضو واجب ہوا بخلاف اس صورت کے جبکہ کوئی حدث موجود ہی نہ ہو پھر کس چیز کےلئے وضو واجب ہوگا۔ یہ وجہ اختصاص مشترك نہیں۔ اس بیان سے ظاہر ہوا کہ فا میں تفریع وتعلیل دونوں ہی احتمال جاری ہیں۔ تو شرنبلالی اور غا یۃ الحواشی کا صرف ایك ہی کو ذکر کرنا محض اتفاقا واقع ہوا اس کا کوئی داعی نہیں ہے بلکہ احتمال تعلیل ہی ز یادہ ظاہر وروشن ہے۔ اس لئے کہ یہاں یہ بتانا مقصود نہیں کہ تیمم خاص جنابت ہی کےلئے ہے۔ اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
الافادۃ۱۰ : تبین الجواب الصواب بحمد الجلیل٭عن الاسئلۃ الخمسۃ کلھا علی مسلك التاویل٭وعن غیر الخامس علی مسلك التعویل٭وظھر ان اقواھا السؤال الاخیر الجلیل٭و ھو الذی دعا العلماء الی الانکار اوالتاویل٭وان السؤال الاول لیس باشکال٭بل سریع الانحلال٭وکذا الثانی کشفہ رخیص٭ان لم یمزج بالخامس العو یص٭اما الثالث والرابع الذان اتت بھما السعا یۃ٭فانھما واھیان الی الغا یۃ٭وبقاء الخامس علی مسلك التعویل ھو الذی نادی علیہ بالرحیل٭لمصادمتہ الدلائل القاھرۃ٭والنصوص الزاھرۃ٭ولم ار من یختارہ و یرتضیہ الا القرہ باغی فی الحاشیۃ ولم یات اصلا بشیئ یغنیہ٭فقولہ تکلف بعید الاخذ من العبارۃ۔
اقول : نعم(۱) لمازاد چلپی من حدیث اللمعۃ ارجا عالہ الی ما یاتی عن الشارح والافلیس فیہ الااخذ مع بمعنی بعد ولیس فیہ بعد فقد فی الکتاب العزیز۔ قولہ : یلزم التکرار۔
افادہ ۱۰ : بحمد رب جلیل مسلك تاویل پر پانچوں اعتراضات کا جواب اور مسلك اعتماد پر پنجم کے سوا باقی سب کا جواب واضح ہوگیااور یہ بھی ظاہر ہوا کہ سب سے قوی اعتراض پانچواں ہے یہی علماء کے لئے انکار وتاویل کا باعث بنا۔ اور پہلا اعتراض کوئی مشکل نہیں بلکہ بہت جلد حل ہوجاتا ہے اسی طرح دوسرے کا جواب بھی آسان ہے اگر پانچویں مشکل سوال کے ساتھ اس کو نہ ملا یا جائے __رہا تیسرا اور چوتھا جن کو سعایہ نے پیش کیا تو یہ انتہائی کمزور ہیں مسلك اعتماد پر پانچویں اعتراض کا باقی رہ جانا یہی وہ امر ہے جو اس کےلئے کوچ کا اعلان کررہا ہے کیونکہ وہ قاہر دلائل اور روشن نصوص سے متصادم ہے۔ میں نے قرہ باغی محشی کے سوا کسی ایسے کو نہ دیکھا جس نے اس مسلك کو اختیار وپسند کیا ہو۔ اور قرہ باغی قطعا کوئی کام کی بات نہ لاسکے۔ (اب ان کے خیال اور عبارت کا تھوڑا تجزیہ ملاحظہ ہو ۱۲ م الف) قول قرہ باغی : چلپی کا کلام سراسر تکلف ہے عبارت سے یہ معنی ماخوذ ہونا بہت بعید ہے۔ (ت)
اقول : ہاں اس لئے کہ انہوں نے حضرت شارح کے کلام آئندہ کی طرف راجع کرنے کی غرض سے لمعہ کی بات بڑھادی ورنہ اس تاویل میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ مع کو بعد کے معنی میں لیا ہے اور اس میں کوئی بعد نہیں یہ تو قرآن عزیز میں بھی ہوا ہے(فان مع العسر یسرا(۵))۔ قول قرہ باغی : تکرار لازم آتی ہے۔
اقول : نعم(۱) لمازاد چلپی من حدیث اللمعۃ ارجا عالہ الی ما یاتی عن الشارح والافلیس فیہ الااخذ مع بمعنی بعد ولیس فیہ بعد فقد فی الکتاب العزیز۔ قولہ : یلزم التکرار۔
افادہ ۱۰ : بحمد رب جلیل مسلك تاویل پر پانچوں اعتراضات کا جواب اور مسلك اعتماد پر پنجم کے سوا باقی سب کا جواب واضح ہوگیااور یہ بھی ظاہر ہوا کہ سب سے قوی اعتراض پانچواں ہے یہی علماء کے لئے انکار وتاویل کا باعث بنا۔ اور پہلا اعتراض کوئی مشکل نہیں بلکہ بہت جلد حل ہوجاتا ہے اسی طرح دوسرے کا جواب بھی آسان ہے اگر پانچویں مشکل سوال کے ساتھ اس کو نہ ملا یا جائے __رہا تیسرا اور چوتھا جن کو سعایہ نے پیش کیا تو یہ انتہائی کمزور ہیں مسلك اعتماد پر پانچویں اعتراض کا باقی رہ جانا یہی وہ امر ہے جو اس کےلئے کوچ کا اعلان کررہا ہے کیونکہ وہ قاہر دلائل اور روشن نصوص سے متصادم ہے۔ میں نے قرہ باغی محشی کے سوا کسی ایسے کو نہ دیکھا جس نے اس مسلك کو اختیار وپسند کیا ہو۔ اور قرہ باغی قطعا کوئی کام کی بات نہ لاسکے۔ (اب ان کے خیال اور عبارت کا تھوڑا تجزیہ ملاحظہ ہو ۱۲ م الف) قول قرہ باغی : چلپی کا کلام سراسر تکلف ہے عبارت سے یہ معنی ماخوذ ہونا بہت بعید ہے۔ (ت)
اقول : ہاں اس لئے کہ انہوں نے حضرت شارح کے کلام آئندہ کی طرف راجع کرنے کی غرض سے لمعہ کی بات بڑھادی ورنہ اس تاویل میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ مع کو بعد کے معنی میں لیا ہے اور اس میں کوئی بعد نہیں یہ تو قرآن عزیز میں بھی ہوا ہے(فان مع العسر یسرا(۵))۔ قول قرہ باغی : تکرار لازم آتی ہے۔
اقول : اولا(۱) : فکان ما ذا اذا ذکر ضابطۃ تشمل فروعا ثم بعد حین اورد فرعا منھا لتبین حکم یعد تکرار فاذا لم یقبح مع تقدم ذکرہ فی الضابطۃ کیف یقبح ولم تذکر بعد۔
وثانیا : لو(۲) تتبعت ماوقع (۳) لھم و للشارح الامام من تکرر عــہ الافادات لاعیاك طلبھا۔
قولہ : ولعلہ انما ارتکبہ زعما۔ ۔ الخ۔
اقول : من(۴) این لکم ھذا وانما
اقول : اولا : تکرار لازم آتی ہے تو کیا ہوگا۔ جب کوئی ایسا ضابطہ بیان کیا جائے جو بہت سی جزئیات کو شامل ہو پھر کچھ آگے کسی حکم کو واضح کرنے کےلئے ان میں سے کوئی جزئیہ لا یا جائے تو اسے تکرار شمار کیا جائے گا جب یہ ضابطہ کے تحت پہلے مذکور ہونے کے باوجود برا نہیں تو یہ کیسے قبیح ہوگاجبکہ مسئلہ ابھی تك بیان نہ ہوا۔ (ت)
ثانیا : اگر اس کی تلاش اور چھان بین ہوکہ حضرات علماء اور خود شارح امام سے افادات کی تکرار کس قدر ہوئی ہے تو تھك کر بیٹھ جانا پڑے گا قول قرہ باغی : شاید چلپی نے یہ سمجھ کر اس تکلف کا ارتکاب کیا ہے کہ دونوں حدث کسی شخص میں ابتداء جمع نہیں ہوتے۔ (ت)اقول : آپ کو یہ کہاں سے پتا چلا انہوں
عــہ : وھذا سید الائمۃ محرر المذھب محمد رضی الله تعالی عنہ قدکرر المسائل فی کتبہ قال الامام شمس الائمۃ السرخسی رحمہ الله تعالی فی المبسوط فرغ نفسہ لتصنیف مافرعہ ابوحنیفۃ رضی الله تعالی عنہ محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ الله تعالی فانہ جمع المبسوط لترغیب المتعلمین والتیسیر علیھم ببسط الالفاظ وتکرار المسائل فی الکتب لیحفظوھا شاؤا ا وابوا اھ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اور یہ ہیں ائمہ کے سردار محرر المذہب امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکہ آپ نے مسائل کو اپنی کتب میں تکرار کے ساتھ بیان کیا ہے۔ امام شمس الائمہ اپنی مبسوط میں فرماتے ہیں کہ محمد بن الحسن الشیبانی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فروعات امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے لئے خود کو وقف کررکھا تھا پس انہوں نے متعلمین کے شوق اور آسانی کو ملحوظ رکھتے ہوئے کتاب مبسوط کو جمع فرما یا جس میں الفاظ کو وسعت اور مسائل کو تکرار کے ساتھ بیان کیا تاکہ متعلمین جنہیں چاہیں محفوظ کرلیں یا جنہیں نہ چاہیں نہ کریں ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
وثانیا : لو(۲) تتبعت ماوقع (۳) لھم و للشارح الامام من تکرر عــہ الافادات لاعیاك طلبھا۔
قولہ : ولعلہ انما ارتکبہ زعما۔ ۔ الخ۔
اقول : من(۴) این لکم ھذا وانما
اقول : اولا : تکرار لازم آتی ہے تو کیا ہوگا۔ جب کوئی ایسا ضابطہ بیان کیا جائے جو بہت سی جزئیات کو شامل ہو پھر کچھ آگے کسی حکم کو واضح کرنے کےلئے ان میں سے کوئی جزئیہ لا یا جائے تو اسے تکرار شمار کیا جائے گا جب یہ ضابطہ کے تحت پہلے مذکور ہونے کے باوجود برا نہیں تو یہ کیسے قبیح ہوگاجبکہ مسئلہ ابھی تك بیان نہ ہوا۔ (ت)
ثانیا : اگر اس کی تلاش اور چھان بین ہوکہ حضرات علماء اور خود شارح امام سے افادات کی تکرار کس قدر ہوئی ہے تو تھك کر بیٹھ جانا پڑے گا قول قرہ باغی : شاید چلپی نے یہ سمجھ کر اس تکلف کا ارتکاب کیا ہے کہ دونوں حدث کسی شخص میں ابتداء جمع نہیں ہوتے۔ (ت)اقول : آپ کو یہ کہاں سے پتا چلا انہوں
عــہ : وھذا سید الائمۃ محرر المذھب محمد رضی الله تعالی عنہ قدکرر المسائل فی کتبہ قال الامام شمس الائمۃ السرخسی رحمہ الله تعالی فی المبسوط فرغ نفسہ لتصنیف مافرعہ ابوحنیفۃ رضی الله تعالی عنہ محمد بن الحسن الشیبانی رحمہ الله تعالی فانہ جمع المبسوط لترغیب المتعلمین والتیسیر علیھم ببسط الالفاظ وتکرار المسائل فی الکتب لیحفظوھا شاؤا ا وابوا اھ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اور یہ ہیں ائمہ کے سردار محرر المذہب امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکہ آپ نے مسائل کو اپنی کتب میں تکرار کے ساتھ بیان کیا ہے۔ امام شمس الائمہ اپنی مبسوط میں فرماتے ہیں کہ محمد بن الحسن الشیبانی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فروعات امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکے لئے خود کو وقف کررکھا تھا پس انہوں نے متعلمین کے شوق اور آسانی کو ملحوظ رکھتے ہوئے کتاب مبسوط کو جمع فرما یا جس میں الفاظ کو وسعت اور مسائل کو تکرار کے ساتھ بیان کیا تاکہ متعلمین جنہیں چاہیں محفوظ کرلیں یا جنہیں نہ چاہیں نہ کریں ۱۲ منہ غفرلہ(ت)
حوالہ / References
مبسوط سرخسی ، خطبۃ الکتاب ، دار المعرفہ ، بیروت ۳ / ۱
فعلہ لان ذا الحدثین لایتوضأ اذا لم یکف الماء لغسلہ۔
قولہ : اما اذاوجد فلابدمن الوضوء ثم التیمم للجنابۃ۔
اقول : ھذا(۱) ھو مذھب الشافعی لاسیما بلفظۃ ثم فان فیہ ایجاب اعدام الماء وان قل قبل التیمم ولایقول بہ حنفی قط۔
قولہ : والعجب منہ انہ لم یلتفت۔
اقول : مبنی(۲) علی ماتصور ولامتصور
قولہ : بعد تسلیم جمیع المقدمات۔
اقول : ماتلک(۳) المنوع المطو یات فان المقدمات عند الحنفیۃ من البدیھیات۔
قولہ یجوز اجتماع العلل الشرعیۃ علی معلول واحد۔
اقول : کما(۴) لایمتنع اجتماع علل علی معلول کذلك لایمتنع ارتفاع علل برافع واحد کالتی(۵) انقطع حیضھا ثم احتلمت ثم التقی الختانان ثم انزلت فقد اجتمعت
نے وہ تاویل اس لئے اختیار کی ہے کہ غسل کےلئے پانی ناکافی ہونے کی صورت میں دونوں حدث والے کو وضو نہیں کرنا ہے۔ قول قرہ باغی : لیکن جب وضو کےلئے بقدر کفایت پانی مل جائے تو وضو کرنا ضروری ہے پھر جنابت کےلئے تیمم کرنا ہے۔ (ت)
اقول : یہی امام شافعی کا مذہب ہے خصوصا لفظ ثم (پھر) کے ساتھ۔ کیونکہ اس میں یہ واجب کرنا ہے کہ پانی اگرچہ کم ہی ہو تیمم سے پہلے اسے ختم کرلینا ہے۔ کوئی حنفی کبھی اس کا قائل نہ ہوگا۔ قول قرہ باغی : تعجب ہے کہ انہوں نے اس طرف التفات نہ کیا۔ (ت)
اقول : قرہ باغی نے خود جو تصور کیا اسی پر اس کی بنیاد ہے حقیقت میں وہ متصور ہی نہیں۔
قول محشی مذکور : تمام مقدمات تسلیم کرلینے کے بعد۔
اقول : وہ منع کیا ہیں جو آپ نے تہ کردئے حنفیہ کے نزدیك تو سارے مقدمات بدیہیات سے ہیں۔
قولہ ایك معلول پر متعدد علل شرعیہ کا اجتماع ہوسکتا ہے۔
اقول : جیسے ایك معلول پر چند علتوں کا اجتماع ممتنع نہیں ایسے ہی ایك رافع سے چند علتوں کا ارتفاع بھی ممتنع نہیں۔ جیسے وہ عورت جس کا حیض منقطع ہوا پھر اسے احتلام ہوا پھر التقائے ختانین ہوا
قولہ : اما اذاوجد فلابدمن الوضوء ثم التیمم للجنابۃ۔
اقول : ھذا(۱) ھو مذھب الشافعی لاسیما بلفظۃ ثم فان فیہ ایجاب اعدام الماء وان قل قبل التیمم ولایقول بہ حنفی قط۔
قولہ : والعجب منہ انہ لم یلتفت۔
اقول : مبنی(۲) علی ماتصور ولامتصور
قولہ : بعد تسلیم جمیع المقدمات۔
اقول : ماتلک(۳) المنوع المطو یات فان المقدمات عند الحنفیۃ من البدیھیات۔
قولہ یجوز اجتماع العلل الشرعیۃ علی معلول واحد۔
اقول : کما(۴) لایمتنع اجتماع علل علی معلول کذلك لایمتنع ارتفاع علل برافع واحد کالتی(۵) انقطع حیضھا ثم احتلمت ثم التقی الختانان ثم انزلت فقد اجتمعت
نے وہ تاویل اس لئے اختیار کی ہے کہ غسل کےلئے پانی ناکافی ہونے کی صورت میں دونوں حدث والے کو وضو نہیں کرنا ہے۔ قول قرہ باغی : لیکن جب وضو کےلئے بقدر کفایت پانی مل جائے تو وضو کرنا ضروری ہے پھر جنابت کےلئے تیمم کرنا ہے۔ (ت)
اقول : یہی امام شافعی کا مذہب ہے خصوصا لفظ ثم (پھر) کے ساتھ۔ کیونکہ اس میں یہ واجب کرنا ہے کہ پانی اگرچہ کم ہی ہو تیمم سے پہلے اسے ختم کرلینا ہے۔ کوئی حنفی کبھی اس کا قائل نہ ہوگا۔ قول قرہ باغی : تعجب ہے کہ انہوں نے اس طرف التفات نہ کیا۔ (ت)
اقول : قرہ باغی نے خود جو تصور کیا اسی پر اس کی بنیاد ہے حقیقت میں وہ متصور ہی نہیں۔
قول محشی مذکور : تمام مقدمات تسلیم کرلینے کے بعد۔
اقول : وہ منع کیا ہیں جو آپ نے تہ کردئے حنفیہ کے نزدیك تو سارے مقدمات بدیہیات سے ہیں۔
قولہ ایك معلول پر متعدد علل شرعیہ کا اجتماع ہوسکتا ہے۔
اقول : جیسے ایك معلول پر چند علتوں کا اجتماع ممتنع نہیں ایسے ہی ایك رافع سے چند علتوں کا ارتفاع بھی ممتنع نہیں۔ جیسے وہ عورت جس کا حیض منقطع ہوا پھر اسے احتلام ہوا پھر التقائے ختانین ہوا
علیھا اربع علل وترفع جمیعا بغسل اوتیمم واحد فاذاکان لہ حدثان اصغر و اکبر ولم یجد ماء للغسل فلابد لہ ان یتیمم وتیممہ لکونہ عن جنابۃ مطھر لجمیع البدن ومن البدن اعضاء الوضوء فقط طھرھا ورفع الحدثین کمااذا اغتسل فلیس ھذا التیمم الا قائما مقام الغسل فکما یرتفعان بہ فکذا بنائبہ ولم یعرف من الشرع تیمم یطرؤ علی حدثین فیرفع احدھما ویذر الاخر والا لزم لہ اما تیمم اخر وھو باطل حتی عند الشافعیۃ کما قدمناہ اوالماء وھو الجمع بین البدل والمبدل الباطل باجماع الحنفیۃ فبلج الحق والحمدلله رب العلمین۔
فان قلت القیاس علی الغسل مع فارق وذلك لان ذا الحدثین اذا اغتسل فقد اتی بما امربہ فی کل من الحدثین وھو اسالۃ الماء علی تلك الاعضاء وکذلك اذاتیمم فاقدا للماء اما اذاوجد وضوء فبالتیمم انما یکون اتیا بما امر بہ للحدث الاکبر لا بما امر بہ للاصغر لانہ قادر فیہ علی الاصل
(قربت ہوئی) پھر انزال ہوا اس پر چار علتوں کا اجتماع ہوا اور ایك ہی غسل یا تیمم سے چاروں مرتفع ہوجائےگی۔ تو جب کسی کو دو۲حدث ہوں ایك اصغر ایك اکبر۔ اور اسے غسل کےلئے پانی نہ ملے تو ضروری ہے کہ تیمم کرے۔ اس کا تیمم چونکہ جنابت سے ہوگا اس لئے تمام بدن کو پاك کردے گا۔ اعضائے وضو بھی بدن ہی کا حصہ ہیں تو انہیں بھی تیمم نے پاك کرد یا اور اکبر و اصغر دونوں حدث رفع کردئے۔ جیسے غسل کی صورت میں ہوتا ہے اور یہ تیمم غسل ہی کے قائم مقام ہے تو جیسے غسل سے دونوں حدث مرتفع ہوجاتے ہیں ویسے ہی اس کے نائب سے بھی مرتفع ہوجائیں گے۔ شریعت میں ایسے کسی تیمم کا نشان نہیں ملتا جو دو حدثوں پر طاری ہو مگر ایك کو ختم کرے دوسرے کو چھوڑ دے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس پر یا تو ایك دوسرا تیمم بھی لازم ہوتا اور یہ باطل ہے یہاں تك کہ شافعیہ کے نزدیك بھی جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا یا پانی (استعمال کرنا) بھی لازم ہوتا اور یہ بدل اور اصل دونوں کو جمع کرنا ہے جو باجماع حنفیہ باطل ہے تو حق روشن ہوگیا اور ساری خوبیاں سارے جہانوں کے مالك خدا کےلئے ہیں۔ (ت)
اگر سوال ہو کہ غسل پر قیاس قیاس مع الفارق ہے اس لئے کہ دونوں حدث والے نے جب غسل کیا تو وہ سب بجالا یا جس کا دونوں حدثوں میں سے ہر ایك میں اسے حکم د یا گیا وہ ہے ان اعضا پر پانی بہانا (جو غسل سے پورا ہوگیا)یہی حال اس وقت ہے جب پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کیا۔ لیکن جب آب وضو موجود ہو توتیمم سے صرف اس کی بجاآوری کرنے والا ہوگا جس کا حدث اکبر سے متعلق اسے
فان قلت القیاس علی الغسل مع فارق وذلك لان ذا الحدثین اذا اغتسل فقد اتی بما امربہ فی کل من الحدثین وھو اسالۃ الماء علی تلك الاعضاء وکذلك اذاتیمم فاقدا للماء اما اذاوجد وضوء فبالتیمم انما یکون اتیا بما امر بہ للحدث الاکبر لا بما امر بہ للاصغر لانہ قادر فیہ علی الاصل
(قربت ہوئی) پھر انزال ہوا اس پر چار علتوں کا اجتماع ہوا اور ایك ہی غسل یا تیمم سے چاروں مرتفع ہوجائےگی۔ تو جب کسی کو دو۲حدث ہوں ایك اصغر ایك اکبر۔ اور اسے غسل کےلئے پانی نہ ملے تو ضروری ہے کہ تیمم کرے۔ اس کا تیمم چونکہ جنابت سے ہوگا اس لئے تمام بدن کو پاك کردے گا۔ اعضائے وضو بھی بدن ہی کا حصہ ہیں تو انہیں بھی تیمم نے پاك کرد یا اور اکبر و اصغر دونوں حدث رفع کردئے۔ جیسے غسل کی صورت میں ہوتا ہے اور یہ تیمم غسل ہی کے قائم مقام ہے تو جیسے غسل سے دونوں حدث مرتفع ہوجاتے ہیں ویسے ہی اس کے نائب سے بھی مرتفع ہوجائیں گے۔ شریعت میں ایسے کسی تیمم کا نشان نہیں ملتا جو دو حدثوں پر طاری ہو مگر ایك کو ختم کرے دوسرے کو چھوڑ دے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس پر یا تو ایك دوسرا تیمم بھی لازم ہوتا اور یہ باطل ہے یہاں تك کہ شافعیہ کے نزدیك بھی جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا یا پانی (استعمال کرنا) بھی لازم ہوتا اور یہ بدل اور اصل دونوں کو جمع کرنا ہے جو باجماع حنفیہ باطل ہے تو حق روشن ہوگیا اور ساری خوبیاں سارے جہانوں کے مالك خدا کےلئے ہیں۔ (ت)
اگر سوال ہو کہ غسل پر قیاس قیاس مع الفارق ہے اس لئے کہ دونوں حدث والے نے جب غسل کیا تو وہ سب بجالا یا جس کا دونوں حدثوں میں سے ہر ایك میں اسے حکم د یا گیا وہ ہے ان اعضا پر پانی بہانا (جو غسل سے پورا ہوگیا)یہی حال اس وقت ہے جب پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کیا۔ لیکن جب آب وضو موجود ہو توتیمم سے صرف اس کی بجاآوری کرنے والا ہوگا جس کا حدث اکبر سے متعلق اسے
فکیف یصیر الی البدل وبالجملۃ شرط التیمم العجز عن الماء وقدعجز فی الحدث الاکبر دون الاصغر فکان التیمم مجزئا عن ذلك لا عن ھذا فافترق الحدثان بقاء وارتفاعا۔
اقول : ھذا لوکان کل منھما مستبدا بحیالہ ولیس کذلك فلیس الحدث الااعتبارا شرعیا لاثار معلومۃ کمنع الصلاۃ وقد انطوی الاکبر علی جمیع اثار الاصغر فکلما منعہ الاصغر منعہ الاکبر بالاولی ولاعکس وارتفاع شیئ یوجب زوال جمیع اثارہ وقدسلمتم ارتفاع الاکبر بھذا التیمم فیجب ارتفاع کل اثارہ ومنھا منع الصلاۃ فلزم اباحتھا ولاتباح قط مع حدث فثبت ان ھذا التیمم رفع کل حدث طرأعلیہ۔
فان قلت ارتفاع شیئ انما یوجب زوال اثارہ من حیث ھی اثارہ ولاینافیہ بقاء بعضھا لمؤثر اخر کمن توضأ وفی فخذہ نجاسۃ مانعۃ فلاشك ان قد صح وضوءہ و زال المنع الذی کان
حکم ہوا۔ اس کی بجاآوری کرنے والا نہ ہوگا جس کا حدث اصغر سے متعلق اسے حکم ہوا۔ اس لئے کہ اس میں یہ اصل پر قادر ہے تو بدل کی طرف کیسے منتقل ہوسکتا ہے مختصر یہ کہ تیمم کی شرط پانی سے عاجز ہونا ہے اور اس کا عجز حدث اکبر میں تو ہے حدث اصغر میں نہیں تو تیمم صرف اس سے کفایت کرنے والا ہوگا اس سے نہ ہوگا اس طرح دونوں حدث بقا اور ارتفاع میں جدا جدا ہوجائیں گے (ایك ختم ہوگا ایك باقی رہ جائے گا) (ت)
اقول : یہ اس وقت ہوتا جب دونوں حدثوں میں سے ہر ایك کو مستقل حیثیت حاصل ہوتی۔ اور ایسا نہیں اس لئے کہ حدث کچھ معلوم آثار جیسے منع نماز و غیرہ کے شرعی اعتبار ہی کا نام ہے اور حدث اکبر حدث اصغر کے تمام اثرات پر مشتمل ہے تو اصغر جس سے مانع ہوگا اس سے اکبر بدرجہ اولی مانع ہوگا۔ اس کے برعکس نہیں۔ اور کسی چیز کا ختم ہوجانا اسے لازم کرتا ہے کہ اس کے جتنے بھی اثرات ہوں سبھی زائل ہوجائیں آپ کو تسلیم ہے کہ اس تیمم سے حدث اکبر مرتفع ہوگیا تو ضروری ہے کہ اس کے سارے اثرات بھی اٹھ جائیں ان ہی میں منع نماز بھی ہے تو لازم ہوگا کہ نماز مباح ہو۔ اور نماز کسی حدث کے ساتھ کبھی مباح نہیں ہوتی۔ تو ثابت ہوا کہ اس تیمم نے ہر وہ حدث دور کرد یا جو اس پر طاری ہوا۔ (ت)
اگر یہ سوال ہو کہ کسی چیز کا مرتفع ہونا اس کے اثرات دور ہونے کو واجب کرتا ہے تو اسی حیثیت سے کہ وہ اس چیز کے اثرات ہیں۔ اب ان میں کچھ اثرات کسی دوسرے مؤثر کی وجہ سے باقی رہ جائیں تو یہ اس کے منافی نہیں۔ مثلا کسی نے وضو کیا
اقول : ھذا لوکان کل منھما مستبدا بحیالہ ولیس کذلك فلیس الحدث الااعتبارا شرعیا لاثار معلومۃ کمنع الصلاۃ وقد انطوی الاکبر علی جمیع اثار الاصغر فکلما منعہ الاصغر منعہ الاکبر بالاولی ولاعکس وارتفاع شیئ یوجب زوال جمیع اثارہ وقدسلمتم ارتفاع الاکبر بھذا التیمم فیجب ارتفاع کل اثارہ ومنھا منع الصلاۃ فلزم اباحتھا ولاتباح قط مع حدث فثبت ان ھذا التیمم رفع کل حدث طرأعلیہ۔
فان قلت ارتفاع شیئ انما یوجب زوال اثارہ من حیث ھی اثارہ ولاینافیہ بقاء بعضھا لمؤثر اخر کمن توضأ وفی فخذہ نجاسۃ مانعۃ فلاشك ان قد صح وضوءہ و زال المنع الذی کان
حکم ہوا۔ اس کی بجاآوری کرنے والا نہ ہوگا جس کا حدث اصغر سے متعلق اسے حکم ہوا۔ اس لئے کہ اس میں یہ اصل پر قادر ہے تو بدل کی طرف کیسے منتقل ہوسکتا ہے مختصر یہ کہ تیمم کی شرط پانی سے عاجز ہونا ہے اور اس کا عجز حدث اکبر میں تو ہے حدث اصغر میں نہیں تو تیمم صرف اس سے کفایت کرنے والا ہوگا اس سے نہ ہوگا اس طرح دونوں حدث بقا اور ارتفاع میں جدا جدا ہوجائیں گے (ایك ختم ہوگا ایك باقی رہ جائے گا) (ت)
اقول : یہ اس وقت ہوتا جب دونوں حدثوں میں سے ہر ایك کو مستقل حیثیت حاصل ہوتی۔ اور ایسا نہیں اس لئے کہ حدث کچھ معلوم آثار جیسے منع نماز و غیرہ کے شرعی اعتبار ہی کا نام ہے اور حدث اکبر حدث اصغر کے تمام اثرات پر مشتمل ہے تو اصغر جس سے مانع ہوگا اس سے اکبر بدرجہ اولی مانع ہوگا۔ اس کے برعکس نہیں۔ اور کسی چیز کا ختم ہوجانا اسے لازم کرتا ہے کہ اس کے جتنے بھی اثرات ہوں سبھی زائل ہوجائیں آپ کو تسلیم ہے کہ اس تیمم سے حدث اکبر مرتفع ہوگیا تو ضروری ہے کہ اس کے سارے اثرات بھی اٹھ جائیں ان ہی میں منع نماز بھی ہے تو لازم ہوگا کہ نماز مباح ہو۔ اور نماز کسی حدث کے ساتھ کبھی مباح نہیں ہوتی۔ تو ثابت ہوا کہ اس تیمم نے ہر وہ حدث دور کرد یا جو اس پر طاری ہوا۔ (ت)
اگر یہ سوال ہو کہ کسی چیز کا مرتفع ہونا اس کے اثرات دور ہونے کو واجب کرتا ہے تو اسی حیثیت سے کہ وہ اس چیز کے اثرات ہیں۔ اب ان میں کچھ اثرات کسی دوسرے مؤثر کی وجہ سے باقی رہ جائیں تو یہ اس کے منافی نہیں۔ مثلا کسی نے وضو کیا
من قبلہ مع ان المنع لاجل النجاسۃ بحالہ کذا ھنا ھما حدثان قام احدھما باعضاء الوضوء والاخر عم ظاھر البدن طرأ ففیھا مانعیتان وفی سائر الجسد مانعیۃ واحدۃ فاذا تیمم وھو واجد لماء الوضوء زالت من اعضاء الوضوء المانعیۃ الکبری لصحۃ مزیلھا بوجود شرطہ وھو العجز عن الماء الکافی للغسل وبقیت الصغری لان المزیل لاصحۃ لہ بالنسبۃ الیھا لفقد شرطہ بالقدرۃ علی الماء الکافی للوضوء وبہ ظھر انہ لیس کاللتی وصفت انھا حاضت واحتلمت وجومعت وامنت وکفاھا غسل او تیمم واحد وکذا من احدث مرارا یکفیہ وضوء واحد وذلك لان المزیل لیس فاقد الشرط بالنظر الی شیئ منھا فازالھا جمیعا بخلاف مانحن فیہ وبہ اتضح الفرق بین ھذا وبین من لیس لہ الا الجنابۃ فانہ ان وجد وضوء لایتوضؤ لازالۃ المانع یۃ القائمۃ باعضاء الوضوء فانھا لیست الا الکبری وھی لا تتجزی بخلاف الصورۃ الاولی وبہ تبین ان لیس فیہ الجمع بین البدلین بل توزیعھما علی شیئین کمن صرف الماء الی غسل النجس وتیمم للحدث بل کمن اطعم عن یمین وصام عن اخری وبہ استبان
اور اس کی ران پر اتنی نجاست ہے جو جواز نماز سے مانع ہے۔ تو اس میں شك نہیں کہ اس کا وضو صحیح ہے اور اس کی جانب سے جو رکاوٹ تھی وہ دور ہوگئی باوجودیکہ نجاست کی وجہ سے رکاوٹ اب بھی برقرار ہے اسی طرح یہاں وہ دو۲حدث ہیں ایك تو اعضائے وضو پر لگا ہوا ہے دوسرا پورے ظاہر بدن کو شامل ہے تو اعضاء وضو کے اندر دو۲ ممانعتیں ہیں اور باقی سارے جسم میں ایك ممانعت (مانعیت) ہے جب آب وضوء موجود ہونے کی حالت میں اس نے تیمم کیا تو اعضاء وضو سے مانعیت کبری دور ہوگئی کیونکہ اسے دور کرنیوالا امر اپنی شرط غسل کےلئے کفایت کرنیوالے پانی سے عجز کے پائے جانے کی وجہ سے صحیح ودرست ہے۔ اور مانعیت صغری رہ گئی کیونکہ اس کی بہ نسبت جو دور کرنے والا امر تھا وہ صحیح ودرست نہیں اس لئے کہ اس کی شرط مفقود ہے کیوں کہ وضو کےلئے کافی پانی پر قدرت موجود ہے۔ اسی سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اس کا معاملہ اس عورت کی طرح نہیں جس کی حالت بیان ہوئی کہ اس میں انقطاع حیض احتلام جماع انزال چار اسباب جمع ہوئے اور ایك ہی غسل یا تیمم کافی ہوگیا۔ اسی طرح وہ شخص جسے بار بار حدث ہوا ہو اسے ایك ہی وضو کافی ہے اس لئے کہ ان میں کی بہ نسبت جو دور کرنے والا امر ہے وہ فقدان شرط کا شکار نہیں اس لئے اس نے سبھی کو دور کرد یا بخلاف اس صورت کے جو ہمارے ز یربحث ہے اسی سے اس شخص میں (جسے دونوں حدث ہیں) اور اس میں جسے صرف جنابت ہے واضح فرق ہوگیاکہ وہ اگر آب وضو پائے
اور اس کی ران پر اتنی نجاست ہے جو جواز نماز سے مانع ہے۔ تو اس میں شك نہیں کہ اس کا وضو صحیح ہے اور اس کی جانب سے جو رکاوٹ تھی وہ دور ہوگئی باوجودیکہ نجاست کی وجہ سے رکاوٹ اب بھی برقرار ہے اسی طرح یہاں وہ دو۲حدث ہیں ایك تو اعضائے وضو پر لگا ہوا ہے دوسرا پورے ظاہر بدن کو شامل ہے تو اعضاء وضو کے اندر دو۲ ممانعتیں ہیں اور باقی سارے جسم میں ایك ممانعت (مانعیت) ہے جب آب وضوء موجود ہونے کی حالت میں اس نے تیمم کیا تو اعضاء وضو سے مانعیت کبری دور ہوگئی کیونکہ اسے دور کرنیوالا امر اپنی شرط غسل کےلئے کفایت کرنیوالے پانی سے عجز کے پائے جانے کی وجہ سے صحیح ودرست ہے۔ اور مانعیت صغری رہ گئی کیونکہ اس کی بہ نسبت جو دور کرنے والا امر تھا وہ صحیح ودرست نہیں اس لئے کہ اس کی شرط مفقود ہے کیوں کہ وضو کےلئے کافی پانی پر قدرت موجود ہے۔ اسی سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ اس کا معاملہ اس عورت کی طرح نہیں جس کی حالت بیان ہوئی کہ اس میں انقطاع حیض احتلام جماع انزال چار اسباب جمع ہوئے اور ایك ہی غسل یا تیمم کافی ہوگیا۔ اسی طرح وہ شخص جسے بار بار حدث ہوا ہو اسے ایك ہی وضو کافی ہے اس لئے کہ ان میں کی بہ نسبت جو دور کرنے والا امر ہے وہ فقدان شرط کا شکار نہیں اس لئے اس نے سبھی کو دور کرد یا بخلاف اس صورت کے جو ہمارے ز یربحث ہے اسی سے اس شخص میں (جسے دونوں حدث ہیں) اور اس میں جسے صرف جنابت ہے واضح فرق ہوگیاکہ وہ اگر آب وضو پائے
انہ لیس عبثا ولااضاعۃ ولا الاشتغال بہ سفھا ولیس کماقالوا من بقاء الحدث کماھو بل زال احدھما۔
اقول : ماامتنہ من کلام لولا ان فیہ ذھولا عن حدیث منع الاستبداد عــہ فانك جعلتھما شیئین مستقلین عند الاجتماع مع ان المتقرر فی الشرع ان(۱) المتجانسین اذا اجتمعا ولم یختلف مقصودھما تداخلا وقداعترفت بہ فی التی وصفت
تو اعضائے وضو سے لگی ہوئی مانعیت زائل کرنے کےلئے اسے وضو نہیں کرنا ہے اس لئے کہ وہاں تو صرف مانعیت کبری ہے اور یہ متجزی نہیں برخلاف پہلی صورت کے اسی سے یہ بھی عیاں ہوا کہ دونوں بدل جمع کرنا نہیں بلکہ دو۲ چیزوں پر دونوں کو تقسیم کرنا ہے۔ جیسے وہ شخص جو پانی نجس کے دھونے میں صرف کرے اور حدث کےلئے تیمم کرے۔ بلکہ جیسے وہ جو ایك قسم کے کفارے میں کھانا کھلائے اور دوسری کے کفارے میں روزہ رکھے۔ اور اسی سے یہ بھی منکشف ہوگیا کہ یہ نہ عبث ہے نہ پانی کی بربادی نہ اس میں مشغولی کوئی نادانی وبے وقوفی اور لوگوں نے جو کہا کہ حدث جیسے تھا ویسے ہی رہ گیا۔ یہ بات بھی نہیں بلکہ ایك حدث زائل ہوگیا۔ (ت)
اقول : کیا ہی متیں کلام ہے اگر اس میں منع استقلال کی بات سے ذہول نہ ہوتا۔ آپ نے دونوں کو بوقت اجتماع دو مستقل چیز بناد یا جبکہ شریعت میں مقرر و ثابت یہ ہے کہ دوہم جنس جب یکجا ہوں اور ان کا مقصود مختلف نہ ہو تو ایك دوسرے میں داخل ہوجائیں گے۔ آپ نے اس کا اعتراف
عــہ ذکرہ علی سبیل الجدل ای لانسلم ان الحدث الاصغر عند اجتماعہ بالاکبر یستبد فی امر الطھارۃ بحکم لم لایندمج فیہ فیطھر بطھارتہ ولایکون الحکم الا للاکبر وذلك لان من یحکم بوجوب الوضوء لہ مدع فیکفینا المنع وعلیہ الدلیل والا فامر الاندماج متیقن لاشبھۃ فیہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اسے بطور جدل ذکر کیا ہے یعنی ہم نہیں مانتے کہ حدث اصغر حدث اکبر کے ساتھ یك جائی کی صورت میں طہارت سے متعلق کوئی مستقل حکم رکھتا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ اکبر میں داخل ہوکر اس کی طہارت سے یہ بھی طہارت پائے اور حکم صرف اکبر کو حاصل ہو یہ طرز کلام اس لئے کہ جو شخص اس کےلئے وجوب وضو کا حکم کرتا ہے وہ مدعی ہے تو ہمارے لئے منع کافی ہے اور اس کے ذمہ دلیل ہے ورنہ اصغر کے اکبر میں دخول وانضمام کا معاملہ تو یقینی ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : ماامتنہ من کلام لولا ان فیہ ذھولا عن حدیث منع الاستبداد عــہ فانك جعلتھما شیئین مستقلین عند الاجتماع مع ان المتقرر فی الشرع ان(۱) المتجانسین اذا اجتمعا ولم یختلف مقصودھما تداخلا وقداعترفت بہ فی التی وصفت
تو اعضائے وضو سے لگی ہوئی مانعیت زائل کرنے کےلئے اسے وضو نہیں کرنا ہے اس لئے کہ وہاں تو صرف مانعیت کبری ہے اور یہ متجزی نہیں برخلاف پہلی صورت کے اسی سے یہ بھی عیاں ہوا کہ دونوں بدل جمع کرنا نہیں بلکہ دو۲ چیزوں پر دونوں کو تقسیم کرنا ہے۔ جیسے وہ شخص جو پانی نجس کے دھونے میں صرف کرے اور حدث کےلئے تیمم کرے۔ بلکہ جیسے وہ جو ایك قسم کے کفارے میں کھانا کھلائے اور دوسری کے کفارے میں روزہ رکھے۔ اور اسی سے یہ بھی منکشف ہوگیا کہ یہ نہ عبث ہے نہ پانی کی بربادی نہ اس میں مشغولی کوئی نادانی وبے وقوفی اور لوگوں نے جو کہا کہ حدث جیسے تھا ویسے ہی رہ گیا۔ یہ بات بھی نہیں بلکہ ایك حدث زائل ہوگیا۔ (ت)
اقول : کیا ہی متیں کلام ہے اگر اس میں منع استقلال کی بات سے ذہول نہ ہوتا۔ آپ نے دونوں کو بوقت اجتماع دو مستقل چیز بناد یا جبکہ شریعت میں مقرر و ثابت یہ ہے کہ دوہم جنس جب یکجا ہوں اور ان کا مقصود مختلف نہ ہو تو ایك دوسرے میں داخل ہوجائیں گے۔ آپ نے اس کا اعتراف
عــہ ذکرہ علی سبیل الجدل ای لانسلم ان الحدث الاصغر عند اجتماعہ بالاکبر یستبد فی امر الطھارۃ بحکم لم لایندمج فیہ فیطھر بطھارتہ ولایکون الحکم الا للاکبر وذلك لان من یحکم بوجوب الوضوء لہ مدع فیکفینا المنع وعلیہ الدلیل والا فامر الاندماج متیقن لاشبھۃ فیہ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اسے بطور جدل ذکر کیا ہے یعنی ہم نہیں مانتے کہ حدث اصغر حدث اکبر کے ساتھ یك جائی کی صورت میں طہارت سے متعلق کوئی مستقل حکم رکھتا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ اکبر میں داخل ہوکر اس کی طہارت سے یہ بھی طہارت پائے اور حکم صرف اکبر کو حاصل ہو یہ طرز کلام اس لئے کہ جو شخص اس کےلئے وجوب وضو کا حکم کرتا ہے وہ مدعی ہے تو ہمارے لئے منع کافی ہے اور اس کے ذمہ دلیل ہے ورنہ اصغر کے اکبر میں دخول وانضمام کا معاملہ تو یقینی ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
وفیمن احدث مرارا کان ھنالك التداخل مع المساواۃ فان الکل فی رتبۃ واحدۃ فکیف واحدھما اکبر واقوی ومن کل وجہ یتضمن الاخری فالمحل جزء من المحل والمطھر بعض من المطھر والمقصود شقص من المقصود فکیف لایلزم اندماج الصغری فی الکبری وان یکون الحکم لھا فی امرالطھارۃ لاللصغری فان(۱) التابع(۱) لایفرد بحکم ویسقط(۲) اذا سقط المتبوع والشیئ(۳) اذابطل بطل مافی ضمنہ والمتضمن(۴)عـــہ بالفتح لاتراعی لہ شروطہ بل شروط متضمنۃ کل ذلك من القواعد الشرعیۃ الاتری ان المذی لایطھر عن ثوب ولابدن بفرك ولایظھر لہ حکم مع المنی فیطھربہ ویظھربہ الجواب عن توارد العلل ھذا ماسمح بہ الجنان٭تشحیذ الاذھان٭وحسبنا فی الحکم
بھی کیا ہے اس عورت کے بارے میں جس کی حالت بیان ہوئی ہے اور اس شخص کے بارے میں جسے چند بار حدث ہوا ہو۔ وہاں باوجود مساوات کے تداخل ہوگیا۔ مساوات اس لئے کہ وہ سب ایك ہی درجہ میں ہیں۔ پھر اس وقت کیوں نہ ہوگا جبکہ ایك اکبر و اقوی اور ہر جہت سے دوسرے کو متضمن بھی ہو دیکھئے کہ ایك کا محل طہارت دوسرے کے محل طہارت کا جز ہے۔ اور مطہر مطہر کا بعض ہے اور مقصود مقصود کا حصہ ہے۔ تو کیسے لازم نہ ہوگا کہ صغری کبری میں داخل ہوجائے اور امرطہارت میں حکم اسی کبری کو حاصل ہو صغری کو نہیں۔ اس لئے کہ تابع کا کوئی الگ حکم نہیں ہوتا۔ اور متبوع ساقط ہو تو وہ بھی ساقط ہوجاتا ہے اور شیئ جب باطل ہوتی ہے تو وہ بھی باطل ہوجاتا ہے جو اس کے ضمن میں ہو۔ اور متضمن(بالفتح)کےلئے اس کی شرطوں کی رعایت نہیں ہوتی بلکہ اس کے متضمن کی
عــہ کما(۶) فی اعتق عبدك عنی بالف لماکان البیع فیہ ضمن یا لم یشترط فیہ الایجاب والقبول لعدم اشتراطھما فی العتق ولایثبت فیہ خیار الرؤ یۃ والعیب ولایشترط کونہ مقدور التسلیم ش عن الرحمتی اوائل النکاح ۱۲ منہ غفرلہ (م)
جیسے اعتق عبدك عنی بالف (اپنا غلام میری طرف سے ہزار روپے میں آزاد کردو) اس میں چونکہ بیع ضمنی ہے اس لئے اس بیع میں ایجاب وقبول کی شرط نہ ہوئی کیونکہ آزادی میں ان دونوں کی شرط نہیں اور اس میں خیار رؤیت اور خیار عیب بھی ثابت نہیں ہوتا اور نہ یہ شرط ہے کہ مولی وہ غلام اس کے قبضے میں دینے پر قادر ہو شامی عن الرحمتی اوائل النکاح ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
بھی کیا ہے اس عورت کے بارے میں جس کی حالت بیان ہوئی ہے اور اس شخص کے بارے میں جسے چند بار حدث ہوا ہو۔ وہاں باوجود مساوات کے تداخل ہوگیا۔ مساوات اس لئے کہ وہ سب ایك ہی درجہ میں ہیں۔ پھر اس وقت کیوں نہ ہوگا جبکہ ایك اکبر و اقوی اور ہر جہت سے دوسرے کو متضمن بھی ہو دیکھئے کہ ایك کا محل طہارت دوسرے کے محل طہارت کا جز ہے۔ اور مطہر مطہر کا بعض ہے اور مقصود مقصود کا حصہ ہے۔ تو کیسے لازم نہ ہوگا کہ صغری کبری میں داخل ہوجائے اور امرطہارت میں حکم اسی کبری کو حاصل ہو صغری کو نہیں۔ اس لئے کہ تابع کا کوئی الگ حکم نہیں ہوتا۔ اور متبوع ساقط ہو تو وہ بھی ساقط ہوجاتا ہے اور شیئ جب باطل ہوتی ہے تو وہ بھی باطل ہوجاتا ہے جو اس کے ضمن میں ہو۔ اور متضمن(بالفتح)کےلئے اس کی شرطوں کی رعایت نہیں ہوتی بلکہ اس کے متضمن کی
عــہ کما(۶) فی اعتق عبدك عنی بالف لماکان البیع فیہ ضمن یا لم یشترط فیہ الایجاب والقبول لعدم اشتراطھما فی العتق ولایثبت فیہ خیار الرؤ یۃ والعیب ولایشترط کونہ مقدور التسلیم ش عن الرحمتی اوائل النکاح ۱۲ منہ غفرلہ (م)
جیسے اعتق عبدك عنی بالف (اپنا غلام میری طرف سے ہزار روپے میں آزاد کردو) اس میں چونکہ بیع ضمنی ہے اس لئے اس بیع میں ایجاب وقبول کی شرط نہ ہوئی کیونکہ آزادی میں ان دونوں کی شرط نہیں اور اس میں خیار رؤیت اور خیار عیب بھی ثابت نہیں ہوتا اور نہ یہ شرط ہے کہ مولی وہ غلام اس کے قبضے میں دینے پر قادر ہو شامی عن الرحمتی اوائل النکاح ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ماقدمنا من دلالاتھم وتصریحاتھم والله المستعان وبالله التوفیق والله تعالی اعلم۔
الافادۃ ۱۱ : الان حصحص الحق وکشف قناعۃ٭وظھر ان المسلك مسلك التاویل والتأویل مستأویل الجماعۃ٭بیدان ھھنا شبھات خطرت فخشیت ان تعتری قاصرا مثل فیحتاج الی الجواب فاجبت الاسعاف با یرادھا٭وابانۃ سقوطھا وفسادھا٭وبالله التوفیق۔
الشبھۃ الاولی : ان الامام صدر الشریعۃ یقول اغتسل(۱) الجنب ولم یصل الماء لمعۃ ظھرہ وفنی الماء واحدث حدثا یوجب الوضوء فتیمم لھما ثم وجد(۱) من الماء مایکفیھما بطل تیممہ فی حق کل منھما وان(۲) لم یکف لاحدھما بقی فی حقھما وان(۳) کفی لاحدھما بعینہ غسلہ ویبقی التیمم فی حق الاخر وان(۴) کفی لکل منفرد اغسل اللمعۃ ۔ ۔ الخ فالصورۃ الثالثۃ
شرطوں کی رعایت کی جاتی ہے۔ یہ سب شرعی قواعد ہیں۔ دیك ھئے کہ مذی رگڑنے کے ذریعہ نہ کپڑے سے پاك ہوتی ہے نہ بدن سے اور وہی منی کے ساتھ ہو تو اس کا کوئی حکم ظاہر نہیں ہوتا رگڑنے سے پاك ہوجاتی ہے۔ اسی سے توارد علل کا جواب بھی ظاہر ہے یہ وہ ہے جو کچھ اذہان کو صیقل کرنے کےلئے خاطر کا فیضان ہوا۔ اور حکم سے متعلق تو ہمارے لئے وہ دلالت وتصریحات کافی ہیں جو حضرات فقہاء سے ہم نے پیش کیں۔ اور خدا ہی مستعان ہے اور خدائے بزرگ وبرتر ہی خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
افادہ ۱۱ : اب حق صاف ظاہر ہوگیا اور اپنے چہرے سے پردہ ہٹاد یا اور واضح ہوگیا کہ مسلك وہی مسلك تاویل ہے اور تاویل وہی تاویل جماعت ہے۔ لیکن یہاں دل میں چند شبہات گزرے تو اندیشہ ہوا کہ ایسے ہی کسی قاصر کو درپیش ہوں تو اسے جواب کی ضرورت ہوگی تو میں نے چاہا کہ ان شبہات کو لاکر اور ان کے سقوط وفساد کو واضح کرکے اس کی حاجت روائی کردوں اور اللہہی سے توفیق ہے (ت)
شبہ : امام صدر الشریعۃ فرماتے ہیں : “ جنب نے غسل کیا پانی اس کی پےٹھ کی ایك جگہ تك نہ پہنچا اور ختم ہوگیا۔ اور کوئی ایسا حدث ہوا جو وضو واجب کرتا ہے تو اس نے دونوں کےلئے تیمم کیا پھر(۱) اسے اتنا پانی مل گیا جو دونوں کےلئے کافی ہوتو اس کا تیمم دونوں میں سے ہر ایك کے حق میں باطل ہوگیا۔ اور(۲) اگر کسی ایك کےلئے ناکافی ہو تو دونوں کے حق میں باقی رہے گا۔ اور(۳) اگر معین طور پر ایك کےلئے کافی ہو تو اسے دھوئے اور
الافادۃ ۱۱ : الان حصحص الحق وکشف قناعۃ٭وظھر ان المسلك مسلك التاویل والتأویل مستأویل الجماعۃ٭بیدان ھھنا شبھات خطرت فخشیت ان تعتری قاصرا مثل فیحتاج الی الجواب فاجبت الاسعاف با یرادھا٭وابانۃ سقوطھا وفسادھا٭وبالله التوفیق۔
الشبھۃ الاولی : ان الامام صدر الشریعۃ یقول اغتسل(۱) الجنب ولم یصل الماء لمعۃ ظھرہ وفنی الماء واحدث حدثا یوجب الوضوء فتیمم لھما ثم وجد(۱) من الماء مایکفیھما بطل تیممہ فی حق کل منھما وان(۲) لم یکف لاحدھما بقی فی حقھما وان(۳) کفی لاحدھما بعینہ غسلہ ویبقی التیمم فی حق الاخر وان(۴) کفی لکل منفرد اغسل اللمعۃ ۔ ۔ الخ فالصورۃ الثالثۃ
شرطوں کی رعایت کی جاتی ہے۔ یہ سب شرعی قواعد ہیں۔ دیك ھئے کہ مذی رگڑنے کے ذریعہ نہ کپڑے سے پاك ہوتی ہے نہ بدن سے اور وہی منی کے ساتھ ہو تو اس کا کوئی حکم ظاہر نہیں ہوتا رگڑنے سے پاك ہوجاتی ہے۔ اسی سے توارد علل کا جواب بھی ظاہر ہے یہ وہ ہے جو کچھ اذہان کو صیقل کرنے کےلئے خاطر کا فیضان ہوا۔ اور حکم سے متعلق تو ہمارے لئے وہ دلالت وتصریحات کافی ہیں جو حضرات فقہاء سے ہم نے پیش کیں۔ اور خدا ہی مستعان ہے اور خدائے بزرگ وبرتر ہی خوب جاننے والا ہے۔ (ت)
افادہ ۱۱ : اب حق صاف ظاہر ہوگیا اور اپنے چہرے سے پردہ ہٹاد یا اور واضح ہوگیا کہ مسلك وہی مسلك تاویل ہے اور تاویل وہی تاویل جماعت ہے۔ لیکن یہاں دل میں چند شبہات گزرے تو اندیشہ ہوا کہ ایسے ہی کسی قاصر کو درپیش ہوں تو اسے جواب کی ضرورت ہوگی تو میں نے چاہا کہ ان شبہات کو لاکر اور ان کے سقوط وفساد کو واضح کرکے اس کی حاجت روائی کردوں اور اللہہی سے توفیق ہے (ت)
شبہ : امام صدر الشریعۃ فرماتے ہیں : “ جنب نے غسل کیا پانی اس کی پےٹھ کی ایك جگہ تك نہ پہنچا اور ختم ہوگیا۔ اور کوئی ایسا حدث ہوا جو وضو واجب کرتا ہے تو اس نے دونوں کےلئے تیمم کیا پھر(۱) اسے اتنا پانی مل گیا جو دونوں کےلئے کافی ہوتو اس کا تیمم دونوں میں سے ہر ایك کے حق میں باطل ہوگیا۔ اور(۲) اگر کسی ایك کےلئے ناکافی ہو تو دونوں کے حق میں باقی رہے گا۔ اور(۳) اگر معین طور پر ایك کےلئے کافی ہو تو اسے دھوئے اور
حوالہ / References
شرح الوقا یۃ باب التیمم المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۴
تشمل ما اذا کفی للوضوء دون اللمعۃ وقدحکم فیہ ببطلان تیممہ فی حق الحدث وایجاب الوضوء والظاھر ان ھذا انما یستقیم علی ماقدم اول الباب من وجوب الوضوء علی ذی حدثین وجد وضوء فانہ فرض فیہ الحدث قبل التیمم ثم اوجب الوضوء للحدث فاذن یکون التأویل توجیھا للقول بمالا یرضی بہ قائلہ۔
بل یسری الشك الی الحکم المنقح فان صدر الشریعۃ غیر متفرد بہ ھذا الامام الجلیل الاقدم ابوالبرکات النسفی قائلا فی الکافی فی جنب علی بدنہ لمعۃ احدث قبل ان یتیمم تیمم لھما واحدا فان وجد مایکفی لاحدھما غیر عین صرفہ الی اللمعۃ ویعید التیمم للحدث عند محمد اھ فمامنشؤا عادۃ تیمم الحدث الاایجاب الوضوء لہ مع کونہ قبل تیمم الجنابۃ وابویوسف وان خالفہ فی الاعادۃ فلالانہ لایوجب الوضوء فی نفسہ بل لعارض وذلك ان امر الجنابۃ اغلظ فکان الماء
دوسرے کے حق میں تیمم باقی رہے گا اور اگر(۴) تنہا ہر ایك کےلئے کافی ہو تو لمعہ (غسل میں چھوٹی ہوئی جگہ) دھوئے الخ۔
تو تیسری صورت اسے بھی شامل ہے جب پانی وضو کےلئے کافی ہو لمعہ کےلئے کافی نہ ہو۔ اور اس صورت میں یہ حکم کیا ہے کہ حق حدث میں اس کا تیمم باطل ہوجائےگا اور وضو کرنا واجب ہوگا۔ ظاہر یہ ہے کہ اسی بنیاد پر راست آسکے گا جسے اول باب میں بتا یا کہ ایسا دو حدث والا جس کے پاس وضو کا پانی موجود ہے اس پر وضو واجب ہے کہ اس میں حدث تیمم سے پہلے ہونا فرض کیا ہے پھر حدث کےلئے وضو واجب کیا اس کے پیش نظر تاویل مذکور کسی کے کلام کی ایسی توجیہ ہوگی جس سے خود صاحب کلام راضی نہ ہو۔ (ت)
بلکہ یہ شك منقح حکم تك سرایت کر آئےگا اس لئے کہ صدر الشریعۃ اس میں متفرد نہیں۔ یہ ان سے مقدم امام جلیل ابوالبرکات نسفی ہیں جو کافی میں رقمطراز ہیں : “ ایسا جنب ہے جس کے بدن پر لمعہ ہے اسے قبل تیمم حدث ہوا تو دونوں ہی کےلئے ایك تیمم کرے۔ اب اگر اسے اتنا پانی مل جائے جو غیر معین طور پر دونوں میں سے کسی ایك کےلئے کافی ہو تو اسے لمعہ میں صرف کرے اور امام محمد کے نزدیك حدث کےلئے تیمم کا اعادہ کرے “ اھ تو تیمم حدث کے اعادہ کا منشا اس کے سوا نہیں کہ حدث کے سبب وضو واجب ہے باوجودیکہ حدث تیمم جنابت سے پہلے ہے اور امام ابویوسف اعادہ کے
بل یسری الشك الی الحکم المنقح فان صدر الشریعۃ غیر متفرد بہ ھذا الامام الجلیل الاقدم ابوالبرکات النسفی قائلا فی الکافی فی جنب علی بدنہ لمعۃ احدث قبل ان یتیمم تیمم لھما واحدا فان وجد مایکفی لاحدھما غیر عین صرفہ الی اللمعۃ ویعید التیمم للحدث عند محمد اھ فمامنشؤا عادۃ تیمم الحدث الاایجاب الوضوء لہ مع کونہ قبل تیمم الجنابۃ وابویوسف وان خالفہ فی الاعادۃ فلالانہ لایوجب الوضوء فی نفسہ بل لعارض وذلك ان امر الجنابۃ اغلظ فکان الماء
دوسرے کے حق میں تیمم باقی رہے گا اور اگر(۴) تنہا ہر ایك کےلئے کافی ہو تو لمعہ (غسل میں چھوٹی ہوئی جگہ) دھوئے الخ۔
تو تیسری صورت اسے بھی شامل ہے جب پانی وضو کےلئے کافی ہو لمعہ کےلئے کافی نہ ہو۔ اور اس صورت میں یہ حکم کیا ہے کہ حق حدث میں اس کا تیمم باطل ہوجائےگا اور وضو کرنا واجب ہوگا۔ ظاہر یہ ہے کہ اسی بنیاد پر راست آسکے گا جسے اول باب میں بتا یا کہ ایسا دو حدث والا جس کے پاس وضو کا پانی موجود ہے اس پر وضو واجب ہے کہ اس میں حدث تیمم سے پہلے ہونا فرض کیا ہے پھر حدث کےلئے وضو واجب کیا اس کے پیش نظر تاویل مذکور کسی کے کلام کی ایسی توجیہ ہوگی جس سے خود صاحب کلام راضی نہ ہو۔ (ت)
بلکہ یہ شك منقح حکم تك سرایت کر آئےگا اس لئے کہ صدر الشریعۃ اس میں متفرد نہیں۔ یہ ان سے مقدم امام جلیل ابوالبرکات نسفی ہیں جو کافی میں رقمطراز ہیں : “ ایسا جنب ہے جس کے بدن پر لمعہ ہے اسے قبل تیمم حدث ہوا تو دونوں ہی کےلئے ایك تیمم کرے۔ اب اگر اسے اتنا پانی مل جائے جو غیر معین طور پر دونوں میں سے کسی ایك کےلئے کافی ہو تو اسے لمعہ میں صرف کرے اور امام محمد کے نزدیك حدث کےلئے تیمم کا اعادہ کرے “ اھ تو تیمم حدث کے اعادہ کا منشا اس کے سوا نہیں کہ حدث کے سبب وضو واجب ہے باوجودیکہ حدث تیمم جنابت سے پہلے ہے اور امام ابویوسف اعادہ کے
حوالہ / References
کافی
مستحق الصرف الیھا والمستحق لحاجۃ اھم کالمعدوم کماسیاتی عن الکافی ان شاء الله تعالی فی الرسالۃ التالیۃ وھذا یفید اتفاق الصاحبین رضی الله تعالی عنہا علی وجوب الوضوء لجنب احدث قبل التیمم لھا مع ان المقرر فیمامر ان بل اوضوء علیہ الااذا احدث بعد ماتیمم۔
ولعلك تقول اولا : این ھذا من ذاك فانہ کان ثمہ واجد الماء الوضوء قبل التیمم للجنابۃ فکان ایجاب الوضوء ایجابہ علی جنب لایجد غسلا وھو خلاف المذھب اماھھنا فانما وجدہ بعدماتیمم لھا والفرض انہ لایکفی للمعۃ فکان تیممہ لھا بحالہ فلم یعد جنبا وبالقدرۃعلی الوضوء انتقض تیممہ فی حق الحدث لانہ لایکون طھارۃ الا الی وجدان الماء فاذا وجد فقد فقد عاد محدثا والمحدث غیر جنب اذا وجد وضوء فلاشك فی وجوب الوضوء علیہ الاتری الی ماقدمت فی الدلیل الخامس عن البدائع یتوضأبہ لان ھذا محدث ولیس بجنب
وعن الدر صار محدثا لاجنبا
حکم میں اگرچہ ان کے برخلاف ہیں مگر اس لئے نہیں کہ وہ فی نفسہ وضو واجب نہیں کہتے بلکہ کسی عارض کی وجہ سے۔ اور وہ یہ ہے کہ جنابت کا معاملہ ز یادہ سخت ہے تو پانی اسی کا مستحق ہوا کہ جنابت میں صرف ہو اور جو کسی اہم حاجت کا مستحق ہوچکا ہو وہ کالمعدوم ہے۔ جیسا کہ اگلے رسالہ میں ان شاء اللہتعالی کافی کے حوالہ سے آرہا ہے اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ صاحبین رضی اللہ تعالی عنہاکا اس جنب کےلئے وجوب وضو پر اتفاق ہے جو جنابت کا تیمم کرنے سے پہلے محدث ہوا باوجودیکہ ماسبق میں ثابت ومقرر یہ ہے کہ اس پر وضو نہیں مگر اس صورت میں جبکہ تیمم کرلینے کے بعد اسے حدث ہو۔ (ت)
اس پر چند باتیں کہی جاسکتی ہیں اولا کہاں یہ کہاں وہ! وہاں اسے تیمم جنابت سے پہلے آب وضو دستیاب تھا تو وہاں وضو واجب کرنا ایسے جنب پر وضو واجب کرنا تھا جسے غسل کا پانی دستیاب نہیں اور وہ خلاف مذہب ہے لیکن یہاں اسے جنابت کا تیمم کرلینے کے بعد پانی ملا ہے اور فرض یہ کیا گیا ہے کہ وہ پانی لمعہ کے لئے کافی نہیں اس لئے اس کا تیمم جنابت برقرار ہے تو دوبارہ وہ جنابت والا نہ ہوا۔ اور وضو پر قدرت کی وجہ سے حق حدث میں اس کا تیمم ٹوٹ گیا کیونکہ تیمم پانی کی دست یابی تك ہی طہارت ہوتا ہے جب وہ دستیاب ہوگیا یہ مفقود ہوگیا۔ تووہ پھر محدث ہوگیا۔ اور محدث غیر جنب کو جب وضو کا پانی مل جائے تو اس پر وضو واجب ہونے میں کوئی شك نہیں وہ عبارت دیکھئے جو دلیل پنجم میں بدائع کے حوالہ سے پیش ہوئی : “ اس سے وضو کرے گا کیونکہ یہ محدث ہے
ولعلك تقول اولا : این ھذا من ذاك فانہ کان ثمہ واجد الماء الوضوء قبل التیمم للجنابۃ فکان ایجاب الوضوء ایجابہ علی جنب لایجد غسلا وھو خلاف المذھب اماھھنا فانما وجدہ بعدماتیمم لھا والفرض انہ لایکفی للمعۃ فکان تیممہ لھا بحالہ فلم یعد جنبا وبالقدرۃعلی الوضوء انتقض تیممہ فی حق الحدث لانہ لایکون طھارۃ الا الی وجدان الماء فاذا وجد فقد فقد عاد محدثا والمحدث غیر جنب اذا وجد وضوء فلاشك فی وجوب الوضوء علیہ الاتری الی ماقدمت فی الدلیل الخامس عن البدائع یتوضأبہ لان ھذا محدث ولیس بجنب
وعن الدر صار محدثا لاجنبا
حکم میں اگرچہ ان کے برخلاف ہیں مگر اس لئے نہیں کہ وہ فی نفسہ وضو واجب نہیں کہتے بلکہ کسی عارض کی وجہ سے۔ اور وہ یہ ہے کہ جنابت کا معاملہ ز یادہ سخت ہے تو پانی اسی کا مستحق ہوا کہ جنابت میں صرف ہو اور جو کسی اہم حاجت کا مستحق ہوچکا ہو وہ کالمعدوم ہے۔ جیسا کہ اگلے رسالہ میں ان شاء اللہتعالی کافی کے حوالہ سے آرہا ہے اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ صاحبین رضی اللہ تعالی عنہاکا اس جنب کےلئے وجوب وضو پر اتفاق ہے جو جنابت کا تیمم کرنے سے پہلے محدث ہوا باوجودیکہ ماسبق میں ثابت ومقرر یہ ہے کہ اس پر وضو نہیں مگر اس صورت میں جبکہ تیمم کرلینے کے بعد اسے حدث ہو۔ (ت)
اس پر چند باتیں کہی جاسکتی ہیں اولا کہاں یہ کہاں وہ! وہاں اسے تیمم جنابت سے پہلے آب وضو دستیاب تھا تو وہاں وضو واجب کرنا ایسے جنب پر وضو واجب کرنا تھا جسے غسل کا پانی دستیاب نہیں اور وہ خلاف مذہب ہے لیکن یہاں اسے جنابت کا تیمم کرلینے کے بعد پانی ملا ہے اور فرض یہ کیا گیا ہے کہ وہ پانی لمعہ کے لئے کافی نہیں اس لئے اس کا تیمم جنابت برقرار ہے تو دوبارہ وہ جنابت والا نہ ہوا۔ اور وضو پر قدرت کی وجہ سے حق حدث میں اس کا تیمم ٹوٹ گیا کیونکہ تیمم پانی کی دست یابی تك ہی طہارت ہوتا ہے جب وہ دستیاب ہوگیا یہ مفقود ہوگیا۔ تووہ پھر محدث ہوگیا۔ اور محدث غیر جنب کو جب وضو کا پانی مل جائے تو اس پر وضو واجب ہونے میں کوئی شك نہیں وہ عبارت دیکھئے جو دلیل پنجم میں بدائع کے حوالہ سے پیش ہوئی : “ اس سے وضو کرے گا کیونکہ یہ محدث ہے
حوالہ / References
بدائع الصنائع شرائط رکن التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۱
فیتوضأ ۔
وثانیا : لم یکن علیہ وضوء لبقاء الحدث کماھو لوجود الجنابۃ ولاتزول بالوضوء اما الان فقدزالت بالتیمم۔
وثالثا : لم یکن ماءہ مبیحا للصلاۃ لاجل الجنابۃ والان یبیح۔
ورابعا : کان فیہ الجمع بین البدلین فی طھارۃ واحدۃ والان قدتمت الطھارۃ الاولی بالتیمم بلاماء وبعود الحدث بالقدرۃ علی الماء دون الجنابۃ تتم ھذہ بالماء بلاتراب۔
وخامسا : قدعلم دوارفی المتون وسائر کتب المذھب ان حدوث قدرۃ علی الماء کحدوث حدث فی نقض التیمم ولاشك ان لوتیمم لھما ثم احدث فعلیہ الوضوء فکذا اذا قدر علی ماء الوضوء فانی الابتناء علی ماصدر عن الصدر فی صدر الباب۔ اقول : بلی فان مبنی کل ذلك علی
اور جنب نہیں ہے “ ۔ اور درمختار کے حوالہ سے یہ “ محدث ہوا جنابت والا نہیں تو اسے وضو کرنا ہے “ ۔
ثانیا : اس پر وضو اس لئے نہیں تھا کہ جنابت موجود ہونے کی وجہ سے حدث ویسے ہی باقی رہتا اور جنابت وضو سے دور نہ ہوتی لیکن اس وقت تو جنابت تیمم سے دور ہوچکی ہے۔
ثالثا : اس کا پانی جنابت کی وجہ سے نماز مباح کرنے والا نہ تھا اور اس وقت مباح کرنے والا ہے۔
رابعا : اس میں ایك طہارت کے اندر دونوں بدل جمع کرنا ہوتا۔ اور اس وقت پہلی طہارت بغیر پانی کے تیمم کے ذریعہ پوری ہوچکی ہے اور پانی پر قادر ہونے سے حدث بلاجنابت لوٹ آنے کی وجہ سے یہ طہارت بغیر مٹی کے پانی سے پوری ہوگی۔
خامسا : متون اور دیگرکتب مذہب میں یہ مسئلہ متداول طور پر معروف ہے کہ تیمم توڑنے کے معاملہ میں پانی پر قدرت پیدا ہونا ایسے ہی ہے جیسے حدث پیدا ہونا۔ اور اس میں شك نہیں کہ اگر وہ دونوں ہی کےلئے تیمم کرلیتا پھر اسے حدث ہوتا تو اس پر وضو واجب ہوتا تو یہی حکم اس وقت بھی ہوگا جب آب وضو پر اسے قدرت مل جائے۔ تو یہ حکم اس پر کہاں مبنی رہا جو شروع باب میں صدر الشریعۃ کے حوالہ سے صادر ہوا۔ اقول : (میں کہتا ہوں) کیوں نہیں ان سب
وثانیا : لم یکن علیہ وضوء لبقاء الحدث کماھو لوجود الجنابۃ ولاتزول بالوضوء اما الان فقدزالت بالتیمم۔
وثالثا : لم یکن ماءہ مبیحا للصلاۃ لاجل الجنابۃ والان یبیح۔
ورابعا : کان فیہ الجمع بین البدلین فی طھارۃ واحدۃ والان قدتمت الطھارۃ الاولی بالتیمم بلاماء وبعود الحدث بالقدرۃ علی الماء دون الجنابۃ تتم ھذہ بالماء بلاتراب۔
وخامسا : قدعلم دوارفی المتون وسائر کتب المذھب ان حدوث قدرۃ علی الماء کحدوث حدث فی نقض التیمم ولاشك ان لوتیمم لھما ثم احدث فعلیہ الوضوء فکذا اذا قدر علی ماء الوضوء فانی الابتناء علی ماصدر عن الصدر فی صدر الباب۔ اقول : بلی فان مبنی کل ذلك علی
اور جنب نہیں ہے “ ۔ اور درمختار کے حوالہ سے یہ “ محدث ہوا جنابت والا نہیں تو اسے وضو کرنا ہے “ ۔
ثانیا : اس پر وضو اس لئے نہیں تھا کہ جنابت موجود ہونے کی وجہ سے حدث ویسے ہی باقی رہتا اور جنابت وضو سے دور نہ ہوتی لیکن اس وقت تو جنابت تیمم سے دور ہوچکی ہے۔
ثالثا : اس کا پانی جنابت کی وجہ سے نماز مباح کرنے والا نہ تھا اور اس وقت مباح کرنے والا ہے۔
رابعا : اس میں ایك طہارت کے اندر دونوں بدل جمع کرنا ہوتا۔ اور اس وقت پہلی طہارت بغیر پانی کے تیمم کے ذریعہ پوری ہوچکی ہے اور پانی پر قادر ہونے سے حدث بلاجنابت لوٹ آنے کی وجہ سے یہ طہارت بغیر مٹی کے پانی سے پوری ہوگی۔
خامسا : متون اور دیگرکتب مذہب میں یہ مسئلہ متداول طور پر معروف ہے کہ تیمم توڑنے کے معاملہ میں پانی پر قدرت پیدا ہونا ایسے ہی ہے جیسے حدث پیدا ہونا۔ اور اس میں شك نہیں کہ اگر وہ دونوں ہی کےلئے تیمم کرلیتا پھر اسے حدث ہوتا تو اس پر وضو واجب ہوتا تو یہی حکم اس وقت بھی ہوگا جب آب وضو پر اسے قدرت مل جائے۔ تو یہ حکم اس پر کہاں مبنی رہا جو شروع باب میں صدر الشریعۃ کے حوالہ سے صادر ہوا۔ اقول : (میں کہتا ہوں) کیوں نہیں ان سب
حوالہ / References
الدرالمختار مع الشامی باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۶
فرض انتقاض تیممہ فی حق الحدث برؤ یۃ الماء وفیہ النظر کیف ولونقضہ بقاء لمنعہ ابتداء ومنعہ ابتداء ھو عین مافی صدر الباب خلاف ماعلیہ النصوص والدلائل اما الملازمۃ فقدقال(۱) الامام ملك العلماء فی البدائع الغراء الاصل فیہ ان کل مامنع وجودہ التیمم نقض وجودہ التیمم ومالا فلا اھ ومثلہ فی البحر والتنو یر والدرو غیرھا من الاسفار الغرای کل مالایمنع ابتداء لاینقض بقاء وینعکس بعکس النقیض الی قولنا کل ما(۱) ینقض بقاء یمنع ابتداء فثبت المطلوب وبہ علم ان الخامس ابین بطلانا وافصح بالبناء علی ذلك الحکم المحذور۔
الشبھۃ الثانیۃ : نصوا فیمن بقیت لہ لمعۃ واحدث بعد التیمم لھاکما صورفی اکثر الکتب وکذا ان احدث قبلہ کماصور بالوجھین فی
بعضھا ثم وجد الماء قبل التیمم للحدث انہ ان کفی للمعۃ دون الوضوء غسلھا وتیمم للحدث وکذا ان کفی لکل منھما لاعلی التعیین لان الجنابۃ اغلظ فان(۲) خالف وتوضأ اعاد التیمم للمعۃ باتفاق
کی بنیاد اسی مفروضہ پر ہے کہ پانی دیکھنے سے اس کا تیمم حق حدث میں ٹوٹ جاتا ہے اور یہی محل نظر ہے۔ یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے اگر یہ بقاء ناقض تیمم ہوتا تو ابتداء مانع تیمم بھی ہونا اور ابتداء مانع تیمم ہونا یہی تو وہ بات ہے جو شروع باب میں نصوص ودلائل کے برخلاف وارد ہوتی ہے۔ ملازمہ (بقاء ناقض ہونے کو ابتداء مانع ہونا لازم ہے) کا ثبوت یہ ہے کہ امام ملك العلماء نے بدائع شریف میں رقم فرما یا ہے کہ “ اس بارے میں اصل یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس کا وجود تیمم سے مانع ہے اس کا وجود تیمم کا ناقض بھی ہے اور جو مانع نہیں وہ ناقض بھی نہیں “ اھ۔ اسی کے مثل البحرالرائق تنو یر الابصار درمختار و غیرہا مشہور کتابوں میں بھی ہے۔ یعنی ہر وہ جو ابتداء مانع نہیں وہ بقاء ناقض نہیں اس کا عکس نقیض یہ ہوگا “ ہر وہ جو بقاء “ ناقض ہے وہ ابتداء مانع ہے “ تو مطلوب ثابت ہوگیا۔ اسی سے معلوم ہوا کہ خامس کا بطلان ز یادہ روشن ہے اور اس حکم محذور پر مبنی ہونے میں یہ ز یادہ واضح ہے۔ (ت)
شبہ ۲ : وہ شخص جس کا کچھ حصہ نہانے میں دھونے سے رہ گیا اور جنابت کا تیمم کرنے کے بعد اسے حدث ہوا جیسا کہ اکثر کتابوں میں یہ صورت مسئلہ بیان کی ہے یوں ہی اگر تیمم کرنے سے پہلے اسے حدث ہوا جیسا کہ بعض کتابوں میں دونوں ہی صورت بیان کی ہے پھر اس شخص کو حدث کاتیمم کرنے سے پہلے پانی مل گیا اس کے بارے میں علماء نے صراحت فرمائی ہے کہ اگر وہ پانی وضو کےلئے نہیں بلکہ
الشبھۃ الثانیۃ : نصوا فیمن بقیت لہ لمعۃ واحدث بعد التیمم لھاکما صورفی اکثر الکتب وکذا ان احدث قبلہ کماصور بالوجھین فی
بعضھا ثم وجد الماء قبل التیمم للحدث انہ ان کفی للمعۃ دون الوضوء غسلھا وتیمم للحدث وکذا ان کفی لکل منھما لاعلی التعیین لان الجنابۃ اغلظ فان(۲) خالف وتوضأ اعاد التیمم للمعۃ باتفاق
کی بنیاد اسی مفروضہ پر ہے کہ پانی دیکھنے سے اس کا تیمم حق حدث میں ٹوٹ جاتا ہے اور یہی محل نظر ہے۔ یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے اگر یہ بقاء ناقض تیمم ہوتا تو ابتداء مانع تیمم بھی ہونا اور ابتداء مانع تیمم ہونا یہی تو وہ بات ہے جو شروع باب میں نصوص ودلائل کے برخلاف وارد ہوتی ہے۔ ملازمہ (بقاء ناقض ہونے کو ابتداء مانع ہونا لازم ہے) کا ثبوت یہ ہے کہ امام ملك العلماء نے بدائع شریف میں رقم فرما یا ہے کہ “ اس بارے میں اصل یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس کا وجود تیمم سے مانع ہے اس کا وجود تیمم کا ناقض بھی ہے اور جو مانع نہیں وہ ناقض بھی نہیں “ اھ۔ اسی کے مثل البحرالرائق تنو یر الابصار درمختار و غیرہا مشہور کتابوں میں بھی ہے۔ یعنی ہر وہ جو ابتداء مانع نہیں وہ بقاء ناقض نہیں اس کا عکس نقیض یہ ہوگا “ ہر وہ جو بقاء “ ناقض ہے وہ ابتداء مانع ہے “ تو مطلوب ثابت ہوگیا۔ اسی سے معلوم ہوا کہ خامس کا بطلان ز یادہ روشن ہے اور اس حکم محذور پر مبنی ہونے میں یہ ز یادہ واضح ہے۔ (ت)
شبہ ۲ : وہ شخص جس کا کچھ حصہ نہانے میں دھونے سے رہ گیا اور جنابت کا تیمم کرنے کے بعد اسے حدث ہوا جیسا کہ اکثر کتابوں میں یہ صورت مسئلہ بیان کی ہے یوں ہی اگر تیمم کرنے سے پہلے اسے حدث ہوا جیسا کہ بعض کتابوں میں دونوں ہی صورت بیان کی ہے پھر اس شخص کو حدث کاتیمم کرنے سے پہلے پانی مل گیا اس کے بارے میں علماء نے صراحت فرمائی ہے کہ اگر وہ پانی وضو کےلئے نہیں بلکہ
حوالہ / References
بدائع الصنائع باب نواقض التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۷
الروا یات وستأتی النصوص فالذی فی ھذہ الصور الثلاث لیس الا تلفیق الطھارتین والجمع بین البدلین حیث تطھر فی وقت واحد بالماء والتراب معاوکون الماء للجنابۃ والتراب للحدث لایمنع الجمع والافلم منعتم ذاحدثین وجد وضوء عن الوضوء فان ثمہ ایضا لم یجتمعا علی شیئ واحد بل کان التراب للجنابۃ والماء للحدث۔
الشبھۃ الثالثۃ : نصوا قاطبۃ فی صورتی کفا یۃ الماء لللمعۃ وحدھا اولکل منفردا بوجوب استعمالہ فی اللمعۃ وانتقاض تیممہ لھا وانہ یتیمم للحدث ومعلوم قطعا ان ھذا الماء لم یکن محللا للصلاۃ فی الصورتین لبقاء الحدث والاحتیاج لہ الی التیمم فکان یجب ان لاینتقض تیممہ لھا لمامر من نصوص الائمۃ الجھابذۃ فی الدلیل السادس ان المراد فی الکریمۃ ھو الماء الذی اذا استعمل اباح الصلاۃ وھذا لیس بہ ھذا تقر یر الشبھات۔
واقول : فی الجواب بتوفیق الوھاب اما الاخر یان ان کان الحدث فیھما بعد التیمم
صرف چوٹی ہوئی جگہ کےلئے کافی ہے تو اسے دھولے اور حدث کےلئے تیمم کرے یوں ہی اگر دونوں میں سے ہر ایك کےلئے بلاتعین کافی ہو تو بھی اس جگہ کو دھوئے اس لئے کہ جنابت ز یادہ سخت ہے۔ اگر اس نے اس کے برخلاف کیا اور پانی وضو میں صرف کیا تو چھوٹی ہوئی جگہ کےلئے اسے باتفاق روایت دوبارہ تیمم کرنا ہے نصوص عنقریب آرہے ہیں۔ ان تینوں صورتوں میں دونوں طہارتوں کو خلط کرنا اور دونوں بدل کو جمع کرنا ہی تو ہے۔ اس طرح کہ بیك وقت اس نے پانی اور مٹی دونوں سے طہارت حاصل کی اور پانی کا جنابت کےلئے مٹی کا حدث کےلئے ہونا جمع سے مانع نہیں۔ اگر یہ بات نہیں تو دو حدث والے کو جسے آب وضو دستیاب ہے آپ نے وضو سے کیوں روکا (وجہ فرق کیا ہے) وہاں بھی تو دونوں بدل ایك شیئ پر مجتمع نہ ہوئے بلکہ مٹی جنابت کےلئے ہے اور پانی حدث کےلئے ہے۔ (ت)
شبہہ ۳ : جب پانی صرف لمعہ کےلئے کفایت کرے یا جب تنہا ہر ایك کےلئے کفایت کرے دونوں صورتوں میں سبھی علماء نے صراحت فرمائی ہے کہ پانی لمعہ میں استعمال کرنا واجب ہے۔ اس کا تیمم جنابت ٹوٹ جائے گا اور حدث کےلئے وہ تیمم کرے گا۔ یہ بھی قطعا معلوم ہے کہ دونوں صورتوں میں یہ پانی نماز مباح کرنیوالا نہ تھا کیونکہ حدث باقی ہے اور اس کےلئے تیمم کی ضرورت ہے۔ تو ضروری کہ اس کا تیمم جنابت نہ ٹوٹے اس لئے کہ دلیل سادس میں ائمہ ماہرین کی تصریحات گزرچکی ہیں کہ آیت کریمہ میں وہ پانی مراد ہے جو استعمال کیا جائے تو نماز مباح ہوجائے گی اور یہ وہ پانی نہیں۔ یہ شبہات کی تقر یر ہے۔ (ت)
جواب شبہات : جواب شبہات میں بتوفیق خدائے وہاب میں کہتا ہوں-آخری دونوں
الشبھۃ الثالثۃ : نصوا قاطبۃ فی صورتی کفا یۃ الماء لللمعۃ وحدھا اولکل منفردا بوجوب استعمالہ فی اللمعۃ وانتقاض تیممہ لھا وانہ یتیمم للحدث ومعلوم قطعا ان ھذا الماء لم یکن محللا للصلاۃ فی الصورتین لبقاء الحدث والاحتیاج لہ الی التیمم فکان یجب ان لاینتقض تیممہ لھا لمامر من نصوص الائمۃ الجھابذۃ فی الدلیل السادس ان المراد فی الکریمۃ ھو الماء الذی اذا استعمل اباح الصلاۃ وھذا لیس بہ ھذا تقر یر الشبھات۔
واقول : فی الجواب بتوفیق الوھاب اما الاخر یان ان کان الحدث فیھما بعد التیمم
صرف چوٹی ہوئی جگہ کےلئے کافی ہے تو اسے دھولے اور حدث کےلئے تیمم کرے یوں ہی اگر دونوں میں سے ہر ایك کےلئے بلاتعین کافی ہو تو بھی اس جگہ کو دھوئے اس لئے کہ جنابت ز یادہ سخت ہے۔ اگر اس نے اس کے برخلاف کیا اور پانی وضو میں صرف کیا تو چھوٹی ہوئی جگہ کےلئے اسے باتفاق روایت دوبارہ تیمم کرنا ہے نصوص عنقریب آرہے ہیں۔ ان تینوں صورتوں میں دونوں طہارتوں کو خلط کرنا اور دونوں بدل کو جمع کرنا ہی تو ہے۔ اس طرح کہ بیك وقت اس نے پانی اور مٹی دونوں سے طہارت حاصل کی اور پانی کا جنابت کےلئے مٹی کا حدث کےلئے ہونا جمع سے مانع نہیں۔ اگر یہ بات نہیں تو دو حدث والے کو جسے آب وضو دستیاب ہے آپ نے وضو سے کیوں روکا (وجہ فرق کیا ہے) وہاں بھی تو دونوں بدل ایك شیئ پر مجتمع نہ ہوئے بلکہ مٹی جنابت کےلئے ہے اور پانی حدث کےلئے ہے۔ (ت)
شبہہ ۳ : جب پانی صرف لمعہ کےلئے کفایت کرے یا جب تنہا ہر ایك کےلئے کفایت کرے دونوں صورتوں میں سبھی علماء نے صراحت فرمائی ہے کہ پانی لمعہ میں استعمال کرنا واجب ہے۔ اس کا تیمم جنابت ٹوٹ جائے گا اور حدث کےلئے وہ تیمم کرے گا۔ یہ بھی قطعا معلوم ہے کہ دونوں صورتوں میں یہ پانی نماز مباح کرنیوالا نہ تھا کیونکہ حدث باقی ہے اور اس کےلئے تیمم کی ضرورت ہے۔ تو ضروری کہ اس کا تیمم جنابت نہ ٹوٹے اس لئے کہ دلیل سادس میں ائمہ ماہرین کی تصریحات گزرچکی ہیں کہ آیت کریمہ میں وہ پانی مراد ہے جو استعمال کیا جائے تو نماز مباح ہوجائے گی اور یہ وہ پانی نہیں۔ یہ شبہات کی تقر یر ہے۔ (ت)
جواب شبہات : جواب شبہات میں بتوفیق خدائے وہاب میں کہتا ہوں-آخری دونوں
للجنابۃ فالجواب واضح لانہ اذن مستبد قطعا لا یصلح للاندراج لارتفاع الجنابۃ بالتیمم فکیف یندرج الموجود فی المرفوع ولذا اجمعت الامۃ انہ اذا احدث بعد تطھیر الجنابۃ بالغسل اوبالتیمم و وجد وضوء یجب علیہ الوضوء فاذا لم یندرج فیھا لم یکن الجمع بین البدلین فی طھارۃ واحدۃ بل طھارتین کمن اجنب ولم یجد غسلا فتیمم فاحدث و وجد وضوء فتوضأ ولا یرد ذوالحدثین لاجل الاندراج فیکون جمعا فی طھارۃ واحدۃ وکذلك المراد بالاباحۃ الاباحۃ من جھۃ ازالۃ مانعیۃ لاقاھا وان بقی المنع من جھۃ اخری کماسبق فی من توضأ وعلی فخذہ نجس مانع ولا یرد ذوالحدثین فلیس بہ مانعیتان و وضوؤہ یزیل احدھما وان بقیت الاخری بل مانعیۃ واحدۃ لاندراج الصغری فی الکبری فاذالم یکف للکبری لم یکن محللا للصلاۃ اصلا ولوکان یکفی للصغری۔
واما ان کان الحدث فیھما قبل التیمم کمافی الشبھۃ الاولی فاقول : الجواب عنھا جمیعا فی حرف واحد٭ان شاء الله العزیز
شبہات کو لیجئے۔ اگر ان میں حدث تیمم جنابت کے بعد تھا تو جواب واضح ہے کہ اس صورت میں وہ یقینا مستقل ہے۔ جنابت میں شامل و مندرج ہونے کے قابل نہیں کیونکہ جنابت تو تیمم سے ختم ہوچکی ہے تو موجود معدوم میں کیسے شامل ہوگا۔ اسی لئے اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ جب غسل یا تیمم سے تطہیر جنابت کے بعد حدث ہو اور آب وضو دست یاب ہو تو اس پر وضو واجب ہے۔ جب حدث جنابت میں شامل نہ ہوا تو دونوں بدل کو ایك طہارت میں جمع کرنا نہ ہوا بلکہ دو طہارتوں میں ہوا جیسے وہ شخص جسے جنابت لاحق ہوئی اور غسل کا پانی نہ پا یا تو تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا اور وضو کا پانی پا یا تو وضو کیا-اس پر دونوں حدث والے سے اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کا ایك حدث دوسرے میں شامل ہے تو وہاں ایك ہی طہارت میں دونوں بدل جمع کرنا لازم آئے گا اسی طرح اباحت سے مراد وہ اباحت ہے جو اس مانعیت کے ازالہ کی جہت سے ہو جس پانی کا اتصال ہوا اگرچہ دوسری جہت سے ممانعت باقی ہو جیسا کہ اس کے بارے میں گزرا جس نے وضو کیا اور اس کی ران پر کوئی مانع نجس موجود ہے۔ اس پر بھی دونوں حدث والے سے اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کا حال ایسا نہیں کہ اس میں دو مانعیت (ممانعت) ہوں اور وضو ایك کو دور کردے اگرچہ دوسری باقی رہ جائے بلکہ اس میں ایك ہی مانعیت ہے کیونکہ صغری کبری میں شامل ہوگئی ہے تو پانی جب کبری کےلئے ناکافی ہو قطعا نماز کو مباح کرنے والا نہ ہوسکے گا اگرچہ صغری کےلئے کافی ہو۔ (ت)
لیکن ان دونوں صورتوں میں اگر حدث تیمم سے پہلے ہو جیسا کہ شبہہ اولی میں ذکر ہے تو میں کہتا ہوں اس کا جواب ایك حرف میں ہے
واما ان کان الحدث فیھما قبل التیمم کمافی الشبھۃ الاولی فاقول : الجواب عنھا جمیعا فی حرف واحد٭ان شاء الله العزیز
شبہات کو لیجئے۔ اگر ان میں حدث تیمم جنابت کے بعد تھا تو جواب واضح ہے کہ اس صورت میں وہ یقینا مستقل ہے۔ جنابت میں شامل و مندرج ہونے کے قابل نہیں کیونکہ جنابت تو تیمم سے ختم ہوچکی ہے تو موجود معدوم میں کیسے شامل ہوگا۔ اسی لئے اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ جب غسل یا تیمم سے تطہیر جنابت کے بعد حدث ہو اور آب وضو دست یاب ہو تو اس پر وضو واجب ہے۔ جب حدث جنابت میں شامل نہ ہوا تو دونوں بدل کو ایك طہارت میں جمع کرنا نہ ہوا بلکہ دو طہارتوں میں ہوا جیسے وہ شخص جسے جنابت لاحق ہوئی اور غسل کا پانی نہ پا یا تو تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا اور وضو کا پانی پا یا تو وضو کیا-اس پر دونوں حدث والے سے اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کا ایك حدث دوسرے میں شامل ہے تو وہاں ایك ہی طہارت میں دونوں بدل جمع کرنا لازم آئے گا اسی طرح اباحت سے مراد وہ اباحت ہے جو اس مانعیت کے ازالہ کی جہت سے ہو جس پانی کا اتصال ہوا اگرچہ دوسری جہت سے ممانعت باقی ہو جیسا کہ اس کے بارے میں گزرا جس نے وضو کیا اور اس کی ران پر کوئی مانع نجس موجود ہے۔ اس پر بھی دونوں حدث والے سے اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کا حال ایسا نہیں کہ اس میں دو مانعیت (ممانعت) ہوں اور وضو ایك کو دور کردے اگرچہ دوسری باقی رہ جائے بلکہ اس میں ایك ہی مانعیت ہے کیونکہ صغری کبری میں شامل ہوگئی ہے تو پانی جب کبری کےلئے ناکافی ہو قطعا نماز کو مباح کرنے والا نہ ہوسکے گا اگرچہ صغری کےلئے کافی ہو۔ (ت)
لیکن ان دونوں صورتوں میں اگر حدث تیمم سے پہلے ہو جیسا کہ شبہہ اولی میں ذکر ہے تو میں کہتا ہوں اس کا جواب ایك حرف میں ہے
الواجد الماجد٭وقدلوحنا الیہ فی الافادۃ العاشرۃ وذلک(۱) ان الحدث لہ معنیان کماقدمنا فی الطرس المعدل احدھما نجاسۃ حکمیۃ تحل بسطوح الاعضاء الظاھرۃ التی یلحقھا حکم التطھیر حلول سر یان والسطح ممتد منقسم طولا وعرضا فبانقسامھا تنقسم النجاسۃ الحالۃ بھا وعن ھذا یسقط الفرض عما اصابہ الماء مع بقاء النجاسۃ فی الباقی والاخر وصف للمکلف وھو تلبسہ بھا فیبقی مادام ذرۃ منھا وھذا ھو الحدث الذی لایتجزی واذ() کان الاول متجزئاینقسم الی قسمین شامل ومقتصر فالشمول فی الجنابۃ مالم یمس ماء والاقتصار اذا غسل بعض البدن فان النجاسۃ الحکمیۃ تزول من المغسول وتبقی فی غیرہ والحدث الاصغر لایعتبر فی غیر الاعضاء الاربعۃ فان کانت الکبری شاملۃ وجب الاندراج لعمومھا تلك الاعضاء ایضا وان کانت مقتصرۃ لم یلزم کأن تکون الجنابۃ فی غیرھن وفیھن الحدث ولایکون الابان یتوضأ الجنب اویمر الماء علی اعضاء وضوئہ وتبقی لمعۃ فی غیرھن ثم یحدث فیعتریھن الحدث ح ولاوجہ للاندراج لتباین المحل والی ھذا اشرت بقولی فی المندرج المحل جزء من المحل والمطھر بعض من المطھر وھذا ھو مرادھم ھھنا کمادل علیہ قول الامام صدر الشریعۃ ولم
اگر خدائے غالب غنی بزرگ نے چاہا۔ اس جواب کی طرف ہم افادہ دہم میں اشارہ بھی کرچکے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ حدث کے دو۲ معنی ہیں جیسا کہ ہم نے الطرس المعدل میں بیان کیا-ایك نجاست حکمیہ جو اعضا کی ان ظاہری سطحوں میں حلول سر یانی کئے ہوتی ہے جنہیں حکم تطہ یر لاحق ہوتا ہے-اور سطح ایك پھیلی ہوئی طول وعرض میں منقسم چیز ہے تو سطحوں کے منقسم ہونے سے ان میں حلول کرنے والی نجاست بھی منقسم ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس حصہ کو پانی پہنچتا ہے اس سے فرض ساقط ہوجاتا ہے اور بقیہ حصہ میں نجاست باقی رہتی ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ حدث مکلف کی ایك صفت ہے اور وہ یہ ہے کہ مکلف نجاست حکمیہ سے متلبس ہے تو جب تك اس نجاست کا ایك ذرہ بھی باقی ہے یہ حدث باقی رہے گا۔ یہی وہ حدث ہے جو غیر متجزی و غیر منقسم ہے۔ اور اول چونکہ متجزی ہے اس کی دو۲ قسمیں ہونگی شامل اور مقتصر۔ جنابت میں شمول اس وقت ہے جب پانی مس نہ ہوا ہو۔ اور اقتصار اس صورت میں ہے جب بدن کا کوئی حصہ دھل گیا ہو اس لئے کہ دھوئے ہوئے حصہ سے نجاست حکمیہ زائل ہوجاتی ہے اور دوسرے حصہ میں باقی رہتی ہے-
اور حدث اصغر کا چاروں اعضا کے علاوہ میں اعتبار ہی نہیں تو اگر نجاست کبری شاملہ ہے تو اندراج لازم ہے کیونکہ وہ ان اعضا میں بھی عام ہے اور اگر مقتصرہ ہے تو اندراج لازم نہیں۔ مثلا یہ صورت ہوکہ جنابت اعضائے اربعہ کے علاوہ میں ہو اور ان اعضا میں
اگر خدائے غالب غنی بزرگ نے چاہا۔ اس جواب کی طرف ہم افادہ دہم میں اشارہ بھی کرچکے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ حدث کے دو۲ معنی ہیں جیسا کہ ہم نے الطرس المعدل میں بیان کیا-ایك نجاست حکمیہ جو اعضا کی ان ظاہری سطحوں میں حلول سر یانی کئے ہوتی ہے جنہیں حکم تطہ یر لاحق ہوتا ہے-اور سطح ایك پھیلی ہوئی طول وعرض میں منقسم چیز ہے تو سطحوں کے منقسم ہونے سے ان میں حلول کرنے والی نجاست بھی منقسم ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس حصہ کو پانی پہنچتا ہے اس سے فرض ساقط ہوجاتا ہے اور بقیہ حصہ میں نجاست باقی رہتی ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ حدث مکلف کی ایك صفت ہے اور وہ یہ ہے کہ مکلف نجاست حکمیہ سے متلبس ہے تو جب تك اس نجاست کا ایك ذرہ بھی باقی ہے یہ حدث باقی رہے گا۔ یہی وہ حدث ہے جو غیر متجزی و غیر منقسم ہے۔ اور اول چونکہ متجزی ہے اس کی دو۲ قسمیں ہونگی شامل اور مقتصر۔ جنابت میں شمول اس وقت ہے جب پانی مس نہ ہوا ہو۔ اور اقتصار اس صورت میں ہے جب بدن کا کوئی حصہ دھل گیا ہو اس لئے کہ دھوئے ہوئے حصہ سے نجاست حکمیہ زائل ہوجاتی ہے اور دوسرے حصہ میں باقی رہتی ہے-
اور حدث اصغر کا چاروں اعضا کے علاوہ میں اعتبار ہی نہیں تو اگر نجاست کبری شاملہ ہے تو اندراج لازم ہے کیونکہ وہ ان اعضا میں بھی عام ہے اور اگر مقتصرہ ہے تو اندراج لازم نہیں۔ مثلا یہ صورت ہوکہ جنابت اعضائے اربعہ کے علاوہ میں ہو اور ان اعضا میں
یصل الماء لمعۃ ظھرہ خص الظھر بالذکر لیفید ان الکبری فی غیر محل الصغری فلا یصح الاندراج الا تری(۱) ان ذا الجنابۃ الشاملۃ والحدث اذا اغتسل کفاہ عن الوضوء وان لم یجد ماء لغسلہ فتیمم کفاہ ایضا اما صاحب المقتصرۃ فی غیر اعضاء الوضوء والحدث کمن اغتسل وبقیت ظھرہ مثلا ثم احدث فھذا اذا غسل ظھرہ تم غسلہ وخرج عن الجنابۃ لکن لایکفیہ غسلہ ظھرہ عن الوضوء بل یجب علیہ ان یتوضأ اویتیمم للحدث ان لم یجد لہ الماء وماھو الالعدم اندراج الصغری فی تلك المقتصرۃ الکبری۔
فان قلت ھذا فی الماء فانہ(۲) ایضا مطھر مقتصر علی ما یصے بخلاف التیمم فانہ یعم جمیع البدن کالغسل۔
اقول : نعم یعم البدن لکن عملہ(۳) فی
حدث ہو-اور اس کی یہی شکل ہوگی کہ جنب وضو کرے یا اس کے اعضائے وضو پر پانی گزر جائے اور دیگراعضا میں لمعہ رہ جائے پھر اسے حدث ہو تو اعضائے وضو پر حدث عارض ہوجائےگا۔ ایسی صورت میں اندراج کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ (اصغر واکبر کے) محل الگ الگ ہیں۔ اس کی طرف مندرج کے تحت میں نے اپنے ان الفاظ سے اشارہ کیا کہ- “ محل محل کا جز ہے۔ اور مطہر مطہر کا بعض ہے اور یہا ں پر علماء کی یہی مراد ہے۔ جیسا کہ صدر الشریعۃ کے یہ الفاظ بتارہے ہیں : “ اور پانی اس کی پشت کے لمعہ (چھوٹی ہوئی جگہ) تك نہ پہنچا-خاص طور سے پشت کو اس لئے ذکر فرما یا کہ یہ افادہ ہوسکے کہ کبری غیر محل صغری میں ہے اس لئے اندراج نہ ہوسکے گا۔ دیکھئے جنابت شاملہ اور حدث دونوں رکھنے والا جب غسل کرے تو یہی غسل وضو سے بھی کفایت کرجاتا ہے اور اگر غسل کےلئے پانی نہ ملنے کی وجہ سے تیمم کرے تو یہ بھی کافی ہوتا ہے-مگر وہ جو غیر اعضائے وضو میں جنابت مقتصرہ اور (اعضائے وضو میں) حدث رکھتا ہے-مثلا وہ جس نے غسل کیا اور اس کی پیٹھ باقی رہ گئی پھر اسے حدث ہوا تو یہ جب اپنی پیٹھ دھولے اس کا غسل مکمل ہوگیا اور وہ جنابت سے نکل گیا۔ لیکن اس کا اپنی پیٹھ دھولینا وضو سے کفایت نہیں کرسکتا بلکہ اس پر واجب ہے کہ وضو کرے یا اگر پانی نہ ملے تو حدث کےلئے تیمم کرے۔ یہ اسی لئے ہے کہ نجاست معنوی اس نجاست کبری مقتصرہ میں مندرج نہیں۔ (ت)
اگر سوال ہو کہ یہ تو پانی میں ہے کہ وہ بھی جس حصہ تك پہنچتا ہے اس کےلئے مطہر مقتصر ہے۔ مگر تیمم کا یہ حال نہیں کیونکہ وہ غسل کی طرح پورے بدن کو ہمہ گیر اور عام ہے۔
اقول : ہاں بدن کو عام اور ہمہ گ یر ہے لیکن
فان قلت ھذا فی الماء فانہ(۲) ایضا مطھر مقتصر علی ما یصے بخلاف التیمم فانہ یعم جمیع البدن کالغسل۔
اقول : نعم یعم البدن لکن عملہ(۳) فی
حدث ہو-اور اس کی یہی شکل ہوگی کہ جنب وضو کرے یا اس کے اعضائے وضو پر پانی گزر جائے اور دیگراعضا میں لمعہ رہ جائے پھر اسے حدث ہو تو اعضائے وضو پر حدث عارض ہوجائےگا۔ ایسی صورت میں اندراج کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ (اصغر واکبر کے) محل الگ الگ ہیں۔ اس کی طرف مندرج کے تحت میں نے اپنے ان الفاظ سے اشارہ کیا کہ- “ محل محل کا جز ہے۔ اور مطہر مطہر کا بعض ہے اور یہا ں پر علماء کی یہی مراد ہے۔ جیسا کہ صدر الشریعۃ کے یہ الفاظ بتارہے ہیں : “ اور پانی اس کی پشت کے لمعہ (چھوٹی ہوئی جگہ) تك نہ پہنچا-خاص طور سے پشت کو اس لئے ذکر فرما یا کہ یہ افادہ ہوسکے کہ کبری غیر محل صغری میں ہے اس لئے اندراج نہ ہوسکے گا۔ دیکھئے جنابت شاملہ اور حدث دونوں رکھنے والا جب غسل کرے تو یہی غسل وضو سے بھی کفایت کرجاتا ہے اور اگر غسل کےلئے پانی نہ ملنے کی وجہ سے تیمم کرے تو یہ بھی کافی ہوتا ہے-مگر وہ جو غیر اعضائے وضو میں جنابت مقتصرہ اور (اعضائے وضو میں) حدث رکھتا ہے-مثلا وہ جس نے غسل کیا اور اس کی پیٹھ باقی رہ گئی پھر اسے حدث ہوا تو یہ جب اپنی پیٹھ دھولے اس کا غسل مکمل ہوگیا اور وہ جنابت سے نکل گیا۔ لیکن اس کا اپنی پیٹھ دھولینا وضو سے کفایت نہیں کرسکتا بلکہ اس پر واجب ہے کہ وضو کرے یا اگر پانی نہ ملے تو حدث کےلئے تیمم کرے۔ یہ اسی لئے ہے کہ نجاست معنوی اس نجاست کبری مقتصرہ میں مندرج نہیں۔ (ت)
اگر سوال ہو کہ یہ تو پانی میں ہے کہ وہ بھی جس حصہ تك پہنچتا ہے اس کےلئے مطہر مقتصر ہے۔ مگر تیمم کا یہ حال نہیں کیونکہ وہ غسل کی طرح پورے بدن کو ہمہ گیر اور عام ہے۔
اقول : ہاں بدن کو عام اور ہمہ گ یر ہے لیکن
حوالہ / References
شرح الوقا یۃ باب التیمم مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۴
الحدث ھو الرفع لاتغییرہ عن صفتہ حتی یجعل المندرج غیرمندرج اوبالعکس بل انما یرفعہ علی ماھو علیہ من الحال ان مندرجا فمندرجا اومستبدا فمستبدا فاذا اغتسل وبقیت لمعۃ فی ظھرہ ثم احدث فتیمم لھما ازالھما مغیین الی وجدان الماء وھذہ ثمرۃ عمومہ لاان یدرج نجاسۃ حکم یۃ قائمۃ بالاعضاء الاربعۃ فی نجاسۃ اخری قائمۃ بالظھر فتبقی کل منھما تنتظر الماء الکافی لھا بحیالہ فاذا وجد وضوء وجب علیہ الوضوء ولووجدہ قبل ھذا التیمم لمعہ التیمم للحدث لان کل ناقض بقاء مانع ابتداء ویکون الماء محللا للصلاۃ بالنظر الی ھذا المستقل المستبد ال غیر المنظور فیہ الی الاخر ولم یجتمع الماء والتراب علی طھارۃ بل توزعا علی طھارتین مستقلتین فانحلت الشبھات جمیعا والحمدلله رب العلمین وصلی الله تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔ اقول : ومن ھھنا ظھر ولله الحمد ان(۱) من اجنب فتیمم فاحدث فتوضأ فمربنھر
حدث میں اس کا عمل یہی ہے کہ اسے دور کردے یہ نہیں کہ اس کی صفت بدل ڈالے اس طرح کہ مندرج کو غیر مندرج بنادے یا اس کے برعکس۔ بلکہ صرف اتنا کرے گا کہ حدث جس حالت و صفت پر ہے اسی حال پر اسے رفع کردے گا۔ مندرج ہے تو بحالت اندراج مستقل ہے تو بحالت استقلال-اب دیکھئے جب اس نے غسل کیا اور اس کی پشت میں لمعہ باقی رہ گیا پھر اسے حدث ہوا اب اس نے حدث وجنابت دونوں کےلئے تیمم کیا تو یہ تیمم دونوں کو پانی کی دست یابی تك کےلئے دور کردے گا-یہی اس کے عموم اور ہمہ گ یری کا ثمرہ ہے۔ یہ نہیں کہ ایك نجاست حکمیہ جو اعضائے اربعہ میں ہے اسے دوسری نجاست حکمیہ میں جو پشت میں-ہے مندرج کردے۔ اس لئے دونوں نجاستوں میں سے ہر ایك اپنے اپنے لےے مستقل طور پر مائے کافی کے انتظار میں رہے گی جس وقت اسے وضو کا پانی مل جائے اس پر وضو واجب ہوجائے گا-اور اگر اس تیمم سے پہلے اسے وضو کا پانی ملتا تو وہ حدث کا تیمم کرنے سے مانع ہوتا اس لئے کہ ہر وہ جو بقائ ناقض ہے ابتداء مانع ہے-اور پانی اس مستقل مستبد کے لحاظ سے جس میں دوسرے کی جانب نظر نہیں نماز کو مباح کرنے والا ہے-اور ایك طہارت پر پانی اور مٹی کا اجتماع نہ ہوا بلکہ دونوں دو مستقل طہارتوں پر متفرق اور جدا جدا ہیں-تمام شبہات حل ہوگئے اور ساری تعریف خدائے رب العلمین کےلئے ہے۔ اور اللہتعالی کی طرف سے ہمارے آقا ومولی محمد اور ان کی آل واصحاب سب پر درود ہو۔ (ت)
اقول : یہیں سے بحمدہ تعالی یہ بھی ظاہر ہوا کہ جسے جنابت ہوئی تو اس نے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس نے وضو کیا پھر کسی در یا کے
حدث میں اس کا عمل یہی ہے کہ اسے دور کردے یہ نہیں کہ اس کی صفت بدل ڈالے اس طرح کہ مندرج کو غیر مندرج بنادے یا اس کے برعکس۔ بلکہ صرف اتنا کرے گا کہ حدث جس حالت و صفت پر ہے اسی حال پر اسے رفع کردے گا۔ مندرج ہے تو بحالت اندراج مستقل ہے تو بحالت استقلال-اب دیکھئے جب اس نے غسل کیا اور اس کی پشت میں لمعہ باقی رہ گیا پھر اسے حدث ہوا اب اس نے حدث وجنابت دونوں کےلئے تیمم کیا تو یہ تیمم دونوں کو پانی کی دست یابی تك کےلئے دور کردے گا-یہی اس کے عموم اور ہمہ گ یری کا ثمرہ ہے۔ یہ نہیں کہ ایك نجاست حکمیہ جو اعضائے اربعہ میں ہے اسے دوسری نجاست حکمیہ میں جو پشت میں-ہے مندرج کردے۔ اس لئے دونوں نجاستوں میں سے ہر ایك اپنے اپنے لےے مستقل طور پر مائے کافی کے انتظار میں رہے گی جس وقت اسے وضو کا پانی مل جائے اس پر وضو واجب ہوجائے گا-اور اگر اس تیمم سے پہلے اسے وضو کا پانی ملتا تو وہ حدث کا تیمم کرنے سے مانع ہوتا اس لئے کہ ہر وہ جو بقائ ناقض ہے ابتداء مانع ہے-اور پانی اس مستقل مستبد کے لحاظ سے جس میں دوسرے کی جانب نظر نہیں نماز کو مباح کرنے والا ہے-اور ایك طہارت پر پانی اور مٹی کا اجتماع نہ ہوا بلکہ دونوں دو مستقل طہارتوں پر متفرق اور جدا جدا ہیں-تمام شبہات حل ہوگئے اور ساری تعریف خدائے رب العلمین کےلئے ہے۔ اور اللہتعالی کی طرف سے ہمارے آقا ومولی محمد اور ان کی آل واصحاب سب پر درود ہو۔ (ت)
اقول : یہیں سے بحمدہ تعالی یہ بھی ظاہر ہوا کہ جسے جنابت ہوئی تو اس نے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس نے وضو کیا پھر کسی در یا کے
و قدر عــہ علی الاغتسال فلم یغتسل عاد جنبا غیر محدث بالحدث الاصغر لان الجنابۃ انما تعود فیما لم یصبہ الماء من اعضائہ وبوضوئہ السابق مر الماء علی اعضاء الوضوء فلا تعود الیھا جنابۃ الابسبب جدید کمابینا فی الافادۃ الاولی ونقلنا التنصیص بہ عن الغنیۃ والبدائع فھذا(۱) ان حدث ولوقبل التیمم للجنابۃ العائدۃ و وجد وضوء وجب علیہ الوضوء قطعا لان ھذا حدث طرأ علی طھر فینقضہ ولایکفیہ تیممہ الان لانہ لجنابۃ مقتصرۃ فی غیر اعضاء الوضوء فلم یندرج الحدث فیہ وبقی مستقلا بحیالہ نعم یرتفع (۲) بتیممہ للجنابۃ العائدۃ ان لوکان عاجزا عن الوضوء ایضا لان التیمم وان کان لجنابۃ قدر ظفر یعم البدن فاذا وجد شرطہ وھو العجز عن الماء فی اعضاء الوضوء ایضا طھرھا ایضا اما وھو قادر علی الوضوء فلا لفقد الشرط وبالجملۃ(۳) اذا استقل الحدثان فالتیمم لھما وان کان واحدا بالصورۃ تیممان معنی ینظر فی کل منھما الی شرطہ فحیث تحقق یصح فی حقہ وحیث لا لابخلاف تیمم(۴) جنب ذی حدث مندرج فانہ تیمم
پاس سے گزرا اور غسل پر قادر ہوا مگر اس نے غسل نہ کیا تو وہ پھر جنب ہوگیالیکن محدث بہ حدث اصغر نہ ہوا-اس لئے کہ کہ جنابت ان ہی اعضاء میں عود کرے گی جنہیں پانی نہ پہنچا اور اعضائے وضو پر اس کے وضوئے سابق کی وجہ سے پانی گزرگیا تو ان پر جنابت بغیر کسی سبب جدید کے عود نہ کرےگی جیسا کہ ہم نے افادہ اولی میں بیان کیا۔ اور اس کی تصرےح غنیہاور بدائع سے نقل کی-پھر اس کو اگر حدث ہو-اگرچہ لوٹ آنے والی جنابت کا تیمم کرنے سے پہلے ہو-اور وہ آب وضو پائے تو اس پر وضو قطعا واجب ہے۔ اس لئے کہ یہ ایسا حدث ہے جو طہارت پر طاری ہواتو اسے توڑ دے گا۔ اور اس وقت اس کا تیمم کرنا اسے کفایت نہیں کرسکتا اس لئے کہ وہ اس جنابت کےلئے ہے جو غیر اعضائے وضو میں مقتصرہے تو حدث اس میں مندرج نہ ہوا اور الگ مستقل رہ گیا-ہاں اس کا حدث لوٹ آنے والی جنابت کا تیمم کرنے سے اٹھ جائے گا اگر وہ وضو سے بھی عاجز ہو۔ کیونکہ تیمم اگرچہ ناخن برابر جنابت کےلئے ہو لیکن تمام بدن کو عام ہوتا ہے۔ تو جب اس کی شرط-اعضائے وضو میں بھی
عــہ قال الامام فقیہ النفس علم بہ اقول : والمراد القدرۃ فان العلم لایستلزم القدرۃ والقدرۃ تستلزم العلم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
امام فقیہ النفس نے فرما یا : در یا کا اسے علم ہوا اقول : مراد قدرت ہے اس لئے کہ علم ہونا قدرت کو مستلزم نہیں اور قادر ہونا علم کو مستلزم ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
پاس سے گزرا اور غسل پر قادر ہوا مگر اس نے غسل نہ کیا تو وہ پھر جنب ہوگیالیکن محدث بہ حدث اصغر نہ ہوا-اس لئے کہ کہ جنابت ان ہی اعضاء میں عود کرے گی جنہیں پانی نہ پہنچا اور اعضائے وضو پر اس کے وضوئے سابق کی وجہ سے پانی گزرگیا تو ان پر جنابت بغیر کسی سبب جدید کے عود نہ کرےگی جیسا کہ ہم نے افادہ اولی میں بیان کیا۔ اور اس کی تصرےح غنیہاور بدائع سے نقل کی-پھر اس کو اگر حدث ہو-اگرچہ لوٹ آنے والی جنابت کا تیمم کرنے سے پہلے ہو-اور وہ آب وضو پائے تو اس پر وضو قطعا واجب ہے۔ اس لئے کہ یہ ایسا حدث ہے جو طہارت پر طاری ہواتو اسے توڑ دے گا۔ اور اس وقت اس کا تیمم کرنا اسے کفایت نہیں کرسکتا اس لئے کہ وہ اس جنابت کےلئے ہے جو غیر اعضائے وضو میں مقتصرہے تو حدث اس میں مندرج نہ ہوا اور الگ مستقل رہ گیا-ہاں اس کا حدث لوٹ آنے والی جنابت کا تیمم کرنے سے اٹھ جائے گا اگر وہ وضو سے بھی عاجز ہو۔ کیونکہ تیمم اگرچہ ناخن برابر جنابت کےلئے ہو لیکن تمام بدن کو عام ہوتا ہے۔ تو جب اس کی شرط-اعضائے وضو میں بھی
عــہ قال الامام فقیہ النفس علم بہ اقول : والمراد القدرۃ فان العلم لایستلزم القدرۃ والقدرۃ تستلزم العلم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
امام فقیہ النفس نے فرما یا : در یا کا اسے علم ہوا اقول : مراد قدرت ہے اس لئے کہ علم ہونا قدرت کو مستلزم نہیں اور قادر ہونا علم کو مستلزم ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت)
واحد صورۃ ومعنی لاجل الاندراج وھھنا لا اندراج الا تری الی ماقدمنا عن الکافی الان من ایجاب الوضوء علیہ اذا وجد ماء کافیا بلہ باتفاق الامامین وان قال الامام الثانی بصرف حکم الوضوء عنہ لعارض وسیجیئ فی الرسالۃ التال یۃ ان الاصح قول محمد وھذہ عین الجزئیۃ المطلوبۃ فانہ جنب ذولمعۃ وقد احدث قبل التیمم لھا فوجب الوضوء علیہ وکذلك ھو مفاد المنیۃ علی نسخۃ المتن کماقدمنا وکذلك نص علیہ فی شرح الوقا یۃ کما تقدم وقد اقرہ المحشون و الناظرون ولم یستشکلہ احد کما استشکلوا جمیعا قولہ فی صدرالباب٭وماھو الا لان ما ھنا فی حدث مستقل فلایحوم حول ایجاب الوضوء فیہ شبھۃ ولاارتیاب٭ وھھنا تعود جمیع الابحاث التی اوردناھا فی الافادۃ العاشرۃ علی طریقۃ السؤال٭ودفعناھابعدم الاستقلال٭فترد الان ولامرد لشیئ منھا ولازوال٭ورحم الله الفاضل البرجندی والعلماء جمیعا اذ صور وجود الجنابۃ من دون حدث بثلاث صور اولھا ھذہ ولما اتی علی استظھار عدم وجوب الوضوء خص الکلام بالاخریین وجعل ھذہ بمعزل عنہ کما نقلنا کلامہ اخر الدلائل وتتمتہ فی الاشکال الخامس لان ھذہ لا یرتاب فیھا وجوب
پانی سے عجز-پائی جائے تو انہیں بھی پاك کردے گا۔ مگر وضو پر قدرت کی حالت میں پاك نہ کرے گا اس لئے کہ شرط مفقود ہے-
خلاصہ یہ کہ جب دونوں حدث مستقل ہوں تو ان کےلئے تیمم اگرچہ صورۃ ایك ہو معنی دو۲تیمم ہوتے ہیں ہر ایك میں اس کی شرط پر نظر کی جائےگی جہاں جس کی شرط متحقق ہو اس کے حق میں وہ تیمم صحیح ہوگا جہاں شرط نہ متحقق ہو صحیح نہیں ہوگا۔ مگر حدث مندرج والے جنب کا تیمم اس کے برخلاف ہے اس لئے کہ اندراج کی وجہ سے وہ صورۃ بھی ایك تیمم ہے اور معنی بھی اور یہاں اندراج نہیں وہی عبارت دیکھ لیجئے جو ابھی ہم نے کافی کے حوالہ سے پیش کی ہے کہ باتفاق امام اعظم وامام محمدعلیہما الرحمۃ اس پر وضو کےلئے کافی پانی کی دستیابی کی صورت میں وضو واجب ہے اگرچہ امام ثانی(ابویوسف)کا قول ہے کہ اس سے وضو کا حکم عارضہ کے سبب ساقط ہوجائےگا اور آنیوالے رسالہ میں یہ بات آرہی ہے کہ اصح قول امام محمدکا ہے اور یہ بعینہ ہمارا مطلوب جزئیہ ہے اس لئے کہ وہ لمعہ والاجنب ہے جسے تیمم جنابت سے پہلے حدث بھی لاحق ہو تو اس پر وضو واجب ہوگیا۔ اسی طرح شرح وقایہ میں بھی اس کی تصریح ہے جیسا کہ گزرا۔ اسے محشین اور ناظرین نے برقرار بھی رکھا اور کسی نے اس میں اشکال نہ محسوس کیا جیسے شروع باب میں ان کے قول میں سبھی حضرات نے اشکال سمجھا- اس کی وجہ یہی ہے کہ وہاں جو کلام ہے وہ حدث مستقل کے بارے میں ہے تو اس میں ایجاب وضو کے گرد کسی شك وشبہہ کا گزر نہیں۔ اور یہاں وہ ساری بحثیں آجاتی ہیں جنہیں ہم افادہ دہم
پانی سے عجز-پائی جائے تو انہیں بھی پاك کردے گا۔ مگر وضو پر قدرت کی حالت میں پاك نہ کرے گا اس لئے کہ شرط مفقود ہے-
خلاصہ یہ کہ جب دونوں حدث مستقل ہوں تو ان کےلئے تیمم اگرچہ صورۃ ایك ہو معنی دو۲تیمم ہوتے ہیں ہر ایك میں اس کی شرط پر نظر کی جائےگی جہاں جس کی شرط متحقق ہو اس کے حق میں وہ تیمم صحیح ہوگا جہاں شرط نہ متحقق ہو صحیح نہیں ہوگا۔ مگر حدث مندرج والے جنب کا تیمم اس کے برخلاف ہے اس لئے کہ اندراج کی وجہ سے وہ صورۃ بھی ایك تیمم ہے اور معنی بھی اور یہاں اندراج نہیں وہی عبارت دیکھ لیجئے جو ابھی ہم نے کافی کے حوالہ سے پیش کی ہے کہ باتفاق امام اعظم وامام محمدعلیہما الرحمۃ اس پر وضو کےلئے کافی پانی کی دستیابی کی صورت میں وضو واجب ہے اگرچہ امام ثانی(ابویوسف)کا قول ہے کہ اس سے وضو کا حکم عارضہ کے سبب ساقط ہوجائےگا اور آنیوالے رسالہ میں یہ بات آرہی ہے کہ اصح قول امام محمدکا ہے اور یہ بعینہ ہمارا مطلوب جزئیہ ہے اس لئے کہ وہ لمعہ والاجنب ہے جسے تیمم جنابت سے پہلے حدث بھی لاحق ہو تو اس پر وضو واجب ہوگیا۔ اسی طرح شرح وقایہ میں بھی اس کی تصریح ہے جیسا کہ گزرا۔ اسے محشین اور ناظرین نے برقرار بھی رکھا اور کسی نے اس میں اشکال نہ محسوس کیا جیسے شروع باب میں ان کے قول میں سبھی حضرات نے اشکال سمجھا- اس کی وجہ یہی ہے کہ وہاں جو کلام ہے وہ حدث مستقل کے بارے میں ہے تو اس میں ایجاب وضو کے گرد کسی شك وشبہہ کا گزر نہیں۔ اور یہاں وہ ساری بحثیں آجاتی ہیں جنہیں ہم افادہ دہم
الوضوء نعم (۱) لوتیمم ثم احدث ولم یتوضأ ثم مر بماء وجاوزہ فھذا وان وجد وضوء لاوضوء علیہ سواء احدث او لم یحدث لان الحدث بعد ماکان مستقلا صار مندرجا لعود الجنابۃ الی اعضاء الوضوء وکذا (۲) کل حدث یحدث بعدہ ما لم یحدث بعد رفع الجنابۃ العائدۃ عن اعضاء الوضوء بعضا اوکلا بماء اوتراب
فظھر(۳)ان ماوقع فی مسألۃ الجنب المذکورۃ فی الخانیۃ الشریفۃ من قولہ احدث اولم یحدث سبق قلم من الامام الاجل فقیہ النفس رحمہ الله تعالی رحمۃ واسعۃ ورحمنا بہ فی الدنیا والاخرۃ امین ولاغر وفلکل جوادکبوۃ٭ولکل صارم نبوۃ٭ ولاعصمۃ الالکلام الالوھیۃ ثم النبوۃ ٭والمسألۃ قد ذکرھا محرر المذھب محمد رضی الله تعالی عنہ فی کتاب الاصل لم یذکر فیہ احدث اولم یحدث وھکذا اثرہ فی الخلاصۃ اذ قال رجل(۴) تیمم للجنابۃ وصلی ثم احدث ومعہ من الماء قدرمایتوضأ بہ لصلاۃ یتوضأ بہ لصلاۃ اخری فان توضأ بہ ولبس خفیہ ثم مر بالماء ولم یغتسل حتی صارعادم الماء ثم حضرت الصلاۃ ومعہ من الماء قدرمایتوضأ بہ فانہ یتیمم ولایتوضأ فان تیمم ثم حضرت الصلاۃ الاخری وقدسبقہ الحدث فانہ یتوضؤ بہ وینزع خفیہ وان لم یکن مر بماء قبل
میں بطور سوال لائے اور انہیں عدم استقلال کے جواب سے دفع کیا وہ اب پھر وارد ہوں گی اور ان میں سے کوئی نہ رد ہوسکتی ہے نہ ٹل سکتی ہے۔ خدا کی رحمت ہو فاضل برجندی -اور تمام علماء- پر کہ فاضل موصوف نے بغیر حدث کے جنابت پائے جانے کی تین صورتیں پیش کیں جن میں پہلی صورت یہی ہے-اور جب عدم وجوب وضو کے بارے میں اپنی رائے کے اظہار پر آئے تو صرف بعد والی دونوں صورتوں سے متعلق کلام کیا اور اسے معرض کلام سے بالکل الگ رکھا جیسا کہ دلائل کے آخر میں ہم نے ان کا کلام نقل کیا اور اس کا تکملہ اشکال پنجم میں ہے کیونکہ اس سے متعلق وجوب وضو میں کوئی شك نہیں-ہاں اگر تیمم کرلیا پھر اسے حدث ہوا اور وضو نہ کیا پھر (نہانے کے قابل) پانی کے پاس سے گزرا اور اسے چھوڑ کر آگے چلاگیا-تو اس شخص کے پاس اگرچہ آب وضو موجود ہے مگر اس پر وضو نہیں خواہ اسے حدث ہو یا نہ ہو-اس لئے کہ اس کا حدث پہلے اگرچہ مستقل تھا مگر اب اعضائے وضو میں جنابت لوٹ آنے کی وجہ سے مندرج ہوگیا۔ اسی طرح عود جنابت کے بعد جو بھی حدث ہوگا(سب مندرج ہوجائے گا ) بشرطیکہ عود کرنے والی جنابت کو پانی یا مٹی کے ذریعہ اعضائے وضو سے کلا یا بعضا رفع کرنے کے بعد وہ حدث نہ پیدا ہوا ہو(کہ ایسا حدث مندرج نہ ہوگا)اس سے ظاہر ہوا کہ جنب کے مذکورہ مسئلہ میں خانیہ شریف میں واقع یہ عبارت “ احدث اولم یحدث “ (اسے حدث ہو یا نہ ہو)امام اجل فقیہ النفس کی سبقت قلم سے صادر ہوئی۔
فظھر(۳)ان ماوقع فی مسألۃ الجنب المذکورۃ فی الخانیۃ الشریفۃ من قولہ احدث اولم یحدث سبق قلم من الامام الاجل فقیہ النفس رحمہ الله تعالی رحمۃ واسعۃ ورحمنا بہ فی الدنیا والاخرۃ امین ولاغر وفلکل جوادکبوۃ٭ولکل صارم نبوۃ٭ ولاعصمۃ الالکلام الالوھیۃ ثم النبوۃ ٭والمسألۃ قد ذکرھا محرر المذھب محمد رضی الله تعالی عنہ فی کتاب الاصل لم یذکر فیہ احدث اولم یحدث وھکذا اثرہ فی الخلاصۃ اذ قال رجل(۴) تیمم للجنابۃ وصلی ثم احدث ومعہ من الماء قدرمایتوضأ بہ لصلاۃ یتوضأ بہ لصلاۃ اخری فان توضأ بہ ولبس خفیہ ثم مر بالماء ولم یغتسل حتی صارعادم الماء ثم حضرت الصلاۃ ومعہ من الماء قدرمایتوضأ بہ فانہ یتیمم ولایتوضأ فان تیمم ثم حضرت الصلاۃ الاخری وقدسبقہ الحدث فانہ یتوضؤ بہ وینزع خفیہ وان لم یکن مر بماء قبل
میں بطور سوال لائے اور انہیں عدم استقلال کے جواب سے دفع کیا وہ اب پھر وارد ہوں گی اور ان میں سے کوئی نہ رد ہوسکتی ہے نہ ٹل سکتی ہے۔ خدا کی رحمت ہو فاضل برجندی -اور تمام علماء- پر کہ فاضل موصوف نے بغیر حدث کے جنابت پائے جانے کی تین صورتیں پیش کیں جن میں پہلی صورت یہی ہے-اور جب عدم وجوب وضو کے بارے میں اپنی رائے کے اظہار پر آئے تو صرف بعد والی دونوں صورتوں سے متعلق کلام کیا اور اسے معرض کلام سے بالکل الگ رکھا جیسا کہ دلائل کے آخر میں ہم نے ان کا کلام نقل کیا اور اس کا تکملہ اشکال پنجم میں ہے کیونکہ اس سے متعلق وجوب وضو میں کوئی شك نہیں-ہاں اگر تیمم کرلیا پھر اسے حدث ہوا اور وضو نہ کیا پھر (نہانے کے قابل) پانی کے پاس سے گزرا اور اسے چھوڑ کر آگے چلاگیا-تو اس شخص کے پاس اگرچہ آب وضو موجود ہے مگر اس پر وضو نہیں خواہ اسے حدث ہو یا نہ ہو-اس لئے کہ اس کا حدث پہلے اگرچہ مستقل تھا مگر اب اعضائے وضو میں جنابت لوٹ آنے کی وجہ سے مندرج ہوگیا۔ اسی طرح عود جنابت کے بعد جو بھی حدث ہوگا(سب مندرج ہوجائے گا ) بشرطیکہ عود کرنے والی جنابت کو پانی یا مٹی کے ذریعہ اعضائے وضو سے کلا یا بعضا رفع کرنے کے بعد وہ حدث نہ پیدا ہوا ہو(کہ ایسا حدث مندرج نہ ہوگا)اس سے ظاہر ہوا کہ جنب کے مذکورہ مسئلہ میں خانیہ شریف میں واقع یہ عبارت “ احدث اولم یحدث “ (اسے حدث ہو یا نہ ہو)امام اجل فقیہ النفس کی سبقت قلم سے صادر ہوئی۔
ذلك مسح علی خفیہ الکل فی الاصل اھ۔ ھذا ماعندی والعلم بالحق عندربی انہ بکل شیئ علیم۔
الافادۃ۱۲ : تقر یری ھذا فتح ولله الحمد بابااخر للتاویل فاقول : مع علی معناھا ولانتصرف فی شیئ من الالفاظ ونقول الجنابۃ اذاشملت لم یظھر معھا حدث بل اندمج فیھا واستھلك کالمذی فی المنی فی حکم الطھارۃ فمعیتھما لاتکون الا باستقلالھما وذلك فی جنابۃ مقتصرۃ لاتشتمل محل الحدث طرأ ولایکون الا بان یتوضأ بعد الجنابۃ کلا اوبعضا ثم یحدث کماتقدم والفرض ان الماء یکفی للحدث لاللجنابۃ فیجب ان تکون
خدائے برتر انہیں اپنی وسیع رحمت سے نوازے اور ان کی برکت سے دنیا وآخرت میں ہم پر بھی رحم فرمائے۔ یہ کوئی حیرت انگیزامر نہیں کیونکہ ہراسپ خوش رفتار کو ٹھوکر بھی لگتی ہے اور ہر شمشیربردار کو ناموافقت سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے۔ عصمت تو صرف کلام الوہیت پھر کلام نبوت کو ہے یہ مسئلہ محرر مذہب امام محمدرضی اللہ تعالی عنہنے کتاب الاصل (مبسوط شریف)میں بیان کیا ہے۔ اس میں “ احدث اولم یحدث “ ذکر نہ فرما یا۔ خلاصہ میں ان کی عبارت اسی طرح نقل فرمائی ہے جو درج ذیل ہے : “ ایك شخص نے جنابت کا تیمم کیا اور نماز ادا کی پھر اسے حدث ہوا اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جس سے وضو کرسکتا ہے تو اس سے دوسری نماز کےلئے وضو کرے گا۔ اگر اس سے وضو کرلیا اور موزے پہن لیے پھر پانی کے پاس سے گزرا اور غسل نہ کیا یہاں تك کہ پانی اس کے لئے معدوم ہوگیا پھر نماز کا وقت آ یا اب اس کے پاس بقدر وضو پانی ہے تو وہ تیمم کرے گا اور وضو نہیں کرے گا۔ اگر اس نے تیمم کرلیا پھر دوسری نماز کا وقت اس حالت میں آ یا کہ اسے حدث لاحق ہوچکا تو اس پانی سے وہ وضو کرے گا اور اپنے موزے اتارے گا-اور اگر اس سے پہلے وہ پانی سے نہ گزرا تھا تو اپنے موزوں پر مسح کرے- یہ سب اصل (مبسوط) میں ہے اھ یہ وہ ہے جو میرے نزدیك ہے۔ اور حق کا علم میرے رب کے یہاں ہے یقینا وہ ہر شے کا علم رکھتا ہے۔ (ت)
افادہ ۱۲ : میری اس تقر یر نے بحمدہ تعالی تاویل کا ایك اور دروازہ کھولا فاقول : (تو میں کہتا ہوں) عبارت شرح وقایہ میں مع اپنے معنی پر ہے اور ہم کسی لفظ میں تصرف نہیں کرتے۔ ہم کہتے ہیں جنابت جب شاملہ ہو اس کے ساتھ کوئی حدث ظاہر نہ ہوگا بلکہ اسی میں مل جائےگا اور غائب ومستہلك ہوجائے گا جیسے حکم طہارت میں منی کے اندر مذی کے غ یاب واستہلاك کا حال ہے۔ تو حدث وجنابت دونوں ایك ساتھ اسی وقت ہوں گے جب دونوں مستقل ہوں۔ یہ اس جنابت مقتصرہ میں ہوگا جو
الافادۃ۱۲ : تقر یری ھذا فتح ولله الحمد بابااخر للتاویل فاقول : مع علی معناھا ولانتصرف فی شیئ من الالفاظ ونقول الجنابۃ اذاشملت لم یظھر معھا حدث بل اندمج فیھا واستھلك کالمذی فی المنی فی حکم الطھارۃ فمعیتھما لاتکون الا باستقلالھما وذلك فی جنابۃ مقتصرۃ لاتشتمل محل الحدث طرأ ولایکون الا بان یتوضأ بعد الجنابۃ کلا اوبعضا ثم یحدث کماتقدم والفرض ان الماء یکفی للحدث لاللجنابۃ فیجب ان تکون
خدائے برتر انہیں اپنی وسیع رحمت سے نوازے اور ان کی برکت سے دنیا وآخرت میں ہم پر بھی رحم فرمائے۔ یہ کوئی حیرت انگیزامر نہیں کیونکہ ہراسپ خوش رفتار کو ٹھوکر بھی لگتی ہے اور ہر شمشیربردار کو ناموافقت سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے۔ عصمت تو صرف کلام الوہیت پھر کلام نبوت کو ہے یہ مسئلہ محرر مذہب امام محمدرضی اللہ تعالی عنہنے کتاب الاصل (مبسوط شریف)میں بیان کیا ہے۔ اس میں “ احدث اولم یحدث “ ذکر نہ فرما یا۔ خلاصہ میں ان کی عبارت اسی طرح نقل فرمائی ہے جو درج ذیل ہے : “ ایك شخص نے جنابت کا تیمم کیا اور نماز ادا کی پھر اسے حدث ہوا اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جس سے وضو کرسکتا ہے تو اس سے دوسری نماز کےلئے وضو کرے گا۔ اگر اس سے وضو کرلیا اور موزے پہن لیے پھر پانی کے پاس سے گزرا اور غسل نہ کیا یہاں تك کہ پانی اس کے لئے معدوم ہوگیا پھر نماز کا وقت آ یا اب اس کے پاس بقدر وضو پانی ہے تو وہ تیمم کرے گا اور وضو نہیں کرے گا۔ اگر اس نے تیمم کرلیا پھر دوسری نماز کا وقت اس حالت میں آ یا کہ اسے حدث لاحق ہوچکا تو اس پانی سے وہ وضو کرے گا اور اپنے موزے اتارے گا-اور اگر اس سے پہلے وہ پانی سے نہ گزرا تھا تو اپنے موزوں پر مسح کرے- یہ سب اصل (مبسوط) میں ہے اھ یہ وہ ہے جو میرے نزدیك ہے۔ اور حق کا علم میرے رب کے یہاں ہے یقینا وہ ہر شے کا علم رکھتا ہے۔ (ت)
افادہ ۱۲ : میری اس تقر یر نے بحمدہ تعالی تاویل کا ایك اور دروازہ کھولا فاقول : (تو میں کہتا ہوں) عبارت شرح وقایہ میں مع اپنے معنی پر ہے اور ہم کسی لفظ میں تصرف نہیں کرتے۔ ہم کہتے ہیں جنابت جب شاملہ ہو اس کے ساتھ کوئی حدث ظاہر نہ ہوگا بلکہ اسی میں مل جائےگا اور غائب ومستہلك ہوجائے گا جیسے حکم طہارت میں منی کے اندر مذی کے غ یاب واستہلاك کا حال ہے۔ تو حدث وجنابت دونوں ایك ساتھ اسی وقت ہوں گے جب دونوں مستقل ہوں۔ یہ اس جنابت مقتصرہ میں ہوگا جو
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی خمسۃ من المتیممین مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۸
الجنابۃ فی محل اکبر من اعضاء الوضوء وحینئذ لاشك انہ اذا وجد وضوء یجب علیہ الوضوء بالاتفاق لان تیممہ یکون للجنابۃ خاصۃ ولا یرفع الحدث لکونہ مستبدا بالحکم والماء کاف لہ والحمدلله حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ٭وصلی الله تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ وذویہ٭امین۔
فظھران معنی کلام الامام ان المحدث علی ثلثۃ انواع الاول من بہ جنابۃ وحدھا سواء لم یکن معھا حدث اصلا کمامر تصویرہ اوکان وھو مغمور مستہلك فیھا کجنب لم یمس ماء اوغسل بدنہ ماعدا اعضاء الوضوء اوغسل غیرھا و غیرحصۃ اخری ثم احدث فی الکل قبل ان یتطھر لھا والثانی من بہ جنابۃ معھا حدث کجنب توضأ اوغسل بعض اعضاء وضوئہ فقط اومع غیرھا من سائر البدن کلا او بعضا ثم احدث قبل التیمم لھا او فعل ذلك وفنی الماء وتیمم لھا ثم احدث ثم مر بماء یکفی لھا فلم یغتسل والثالث من بہ حدث وحدہ وھوظاہر وھذہ احکامھا اما القسم الاول
پورے محل حدث کو شامل نہ ہو اس کی صورت یہی ہوگی کہ جنابت کے بعد کلا یا بعضا وضو کرے پھر اسے حدث ہو جیسا کہ پہلے ذکر ہوا۔ اور فرض یہ کیا گیا ہے کہ پانی حدث ہی کےلئے کفایت کررہا ہے جنابت کےلئے نہیں۔ تو ضروری ہے کہ جنابت اعضائے وضو سے ز یادہ بڑے حصے میں ہو جب یہ صورت ہو تو بلاشبہہ آب وضو ملنے کے وقت اس پر بالاتفاق وضو واجب ہوگا اس لئے کہ اس کا تیمم خاص جنابت کےلئے ہوگا اور حدث رفع نہ کرے گا کیونکہ حدث تو اپنا مستقل حکم رکھتا ہے۔ اور اس کےلئے بقدر کفایت پانی موجود ہے اور ساری حمد خدا کےلئے ہے کثیر پاکیزہ بابرکت حمد-اور خدائے برتر کی طرف سے ہمارے آقا ومولی محمد اور ان کی آل اور ان کے سبھی لوگوں پر درود وہو۔ الہی! قبول فرما۔ (ت)اس سے ظاہر ہوا کہ امام صدر الشریعۃ کے کلام کا معنی یہ ہے کہ محدث کی تین۳ قسمیں ہیں :
اول : وہ جسے صرف جنابت ہے خواہ اس کے ساتھ کوئی حدث بالکل نہ ہو۔ جیسا کہ اس کی صورت کا بیان گزرا۔ یا حدث ہو تو وہ جنابت ہی میں مخفی ومستہلك ہوجیسے وہ جنب جس نے پانی مس نہ کیا۔ یا اعضائے وضو کے ماسوا بدن دھولیا۔ یا اعضائے وضو اور کسی دوسرے حصہ کو چھوڑ کر باقی سب دھولیا۔ پھر ان سبھی صورتوں میں جنابت سے پاکی حاصل کرنے سے پہلے اسے حدث ہوا۔
دوم : وہ جسے ایسی جنابت ہے جس کے ساتھ کوئی حدث بھی ہے۔ جیسے وہ جنب جس نے وضو کرلیا یا صرف بعض اعضائے وضو دھولیے یا بعض اعضائے وضو باقی بدن میں سے کل یا بعض
فظھران معنی کلام الامام ان المحدث علی ثلثۃ انواع الاول من بہ جنابۃ وحدھا سواء لم یکن معھا حدث اصلا کمامر تصویرہ اوکان وھو مغمور مستہلك فیھا کجنب لم یمس ماء اوغسل بدنہ ماعدا اعضاء الوضوء اوغسل غیرھا و غیرحصۃ اخری ثم احدث فی الکل قبل ان یتطھر لھا والثانی من بہ جنابۃ معھا حدث کجنب توضأ اوغسل بعض اعضاء وضوئہ فقط اومع غیرھا من سائر البدن کلا او بعضا ثم احدث قبل التیمم لھا او فعل ذلك وفنی الماء وتیمم لھا ثم احدث ثم مر بماء یکفی لھا فلم یغتسل والثالث من بہ حدث وحدہ وھوظاہر وھذہ احکامھا اما القسم الاول
پورے محل حدث کو شامل نہ ہو اس کی صورت یہی ہوگی کہ جنابت کے بعد کلا یا بعضا وضو کرے پھر اسے حدث ہو جیسا کہ پہلے ذکر ہوا۔ اور فرض یہ کیا گیا ہے کہ پانی حدث ہی کےلئے کفایت کررہا ہے جنابت کےلئے نہیں۔ تو ضروری ہے کہ جنابت اعضائے وضو سے ز یادہ بڑے حصے میں ہو جب یہ صورت ہو تو بلاشبہہ آب وضو ملنے کے وقت اس پر بالاتفاق وضو واجب ہوگا اس لئے کہ اس کا تیمم خاص جنابت کےلئے ہوگا اور حدث رفع نہ کرے گا کیونکہ حدث تو اپنا مستقل حکم رکھتا ہے۔ اور اس کےلئے بقدر کفایت پانی موجود ہے اور ساری حمد خدا کےلئے ہے کثیر پاکیزہ بابرکت حمد-اور خدائے برتر کی طرف سے ہمارے آقا ومولی محمد اور ان کی آل اور ان کے سبھی لوگوں پر درود وہو۔ الہی! قبول فرما۔ (ت)اس سے ظاہر ہوا کہ امام صدر الشریعۃ کے کلام کا معنی یہ ہے کہ محدث کی تین۳ قسمیں ہیں :
اول : وہ جسے صرف جنابت ہے خواہ اس کے ساتھ کوئی حدث بالکل نہ ہو۔ جیسا کہ اس کی صورت کا بیان گزرا۔ یا حدث ہو تو وہ جنابت ہی میں مخفی ومستہلك ہوجیسے وہ جنب جس نے پانی مس نہ کیا۔ یا اعضائے وضو کے ماسوا بدن دھولیا۔ یا اعضائے وضو اور کسی دوسرے حصہ کو چھوڑ کر باقی سب دھولیا۔ پھر ان سبھی صورتوں میں جنابت سے پاکی حاصل کرنے سے پہلے اسے حدث ہوا۔
دوم : وہ جسے ایسی جنابت ہے جس کے ساتھ کوئی حدث بھی ہے۔ جیسے وہ جنب جس نے وضو کرلیا یا صرف بعض اعضائے وضو دھولیے یا بعض اعضائے وضو باقی بدن میں سے کل یا بعض
(اذاکان للجنب) المتفرد بالجنابۃ بدلیل المقابلۃ (ماء یکفی للوضوء لاللغسل) ای ازالۃ الجنابۃ الشاملۃ کمافی الصورۃ الاولی او غیرھا کمافی الاخیرتین فانہ (یتیمم لایجب علیہ التوضی عندنا)اذلاحدث معہ یستقل بحکم والفرض انہ لایخرجہ عن جنابتہ فکان وجودہ وعدمہ سواء (خلافا للشافعی) رضی الله تعالی عنہ لماعلمت و(اما) القسم الثانی (اذاکان مع الجنابۃ حدث یوجب الوضوء) مستبد بالحکم (فانہ یجب علیہ الوضوء) قطعالان حدثہ مستقل وقدقدر علی ماء یکفی لازالتہ ولایکفیہ التیمم (فا) عـــہ ن ا (التیمم الذی یفعلہ انما یکون (للجنابۃ) خاصۃ لعدم الاندراج فیلزم الوضوء (بالاتفاق و) اما القسم الثالث (اذاکان للمحدث) المتفرد بالحدث (ماء یکفی لغسل بعض اعضائہ
کے ساتھ دھولےے پھر جنابت کا تیمم کرنے سے پہلے اسے حدث ہوا یا اتنا اس نے کیا اور پانی ختم ہوگیا اور جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا پھر اتنے پانی کے پاس سے گزرا جو جنابت کےلئے کافی تھا مگر اس نے غسل نہ کیا۔
سوم : وہ جسے صرف حدث ہو یہ ظاہر ہے۔ اور تینوں قسموں کے احکام یہ ہیں۔ لیکن قسم اول (جب جنب کے پاس) وہ جسے صرف جنابت ہو اس قید کی دلیل یہ ہے کہ مقابلہ میں ایسا جنب مذکور ہے جس کے ساتھ حدث بھی ہے(اتنا پانی ہو جو وضو کےلئے کافی ہو غسل کےلئے نہیں)یعنی جنابت شاملہ دور کرنے کے لئے نہیں جیسا کہ پہلی صورت میں ہے۔ یا غیر جنابت شاملہ کے لئے نہیں جیسا کہ بعد والی دونوں صورتوں میں ہے۔ (تو وہ تیمم کرے گا اور ہمارے نزدیك اس پر وضو واجب نہیں)اس لئے کہ اس کے ساتھ کوئی ایسا حدث نہیں جو مستقل
عـــہ : ھذا علی التعلیل وان جعلنا الفاء للتفریع امکن تعلق قولہ بالاتفاق بمایلیہ علی تقد یر تأخر التیمم عن الوضوء فیکون المعنی (یجب علیہ الوضوء) فاذاتوضأ (فالتیمم) الذی یفعلہ بعد ےبقی (للجنابۃ بالاتفاق)لارتفاع الحدث بالوضوء ونفاد الماء بعدہ ولکن الاول ھو الاولی کمالایخفی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یہ اس تقد یر پر ہے کہ ف برائے تعلیل ہے۔ اور اگر فاء برائے تفریع مانیں تو ان کے قول بالاتفاق کا تعلق اسی عبارت سے ہوگا جس سے یہ متصل ہے اس تقد یر پر کہ تیمم وضو کے بعد ہو تو معنی یہ ہوگا (اس پر وضو واجب ہے) تو جب وہ وضو کرلے (تو تیمم) جسے وہ بعد میں ہی کرے گا(بالاتفاق جنابت کےلئے)باقی رہے گا کیونکہ حدث وضو سے رفع ہوگیا اور اس کے بعد پانی بھی ختم ہوگیا۔ لیکن اول اولی ہے جیسا کہ مخفی نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
کے ساتھ دھولےے پھر جنابت کا تیمم کرنے سے پہلے اسے حدث ہوا یا اتنا اس نے کیا اور پانی ختم ہوگیا اور جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا پھر اتنے پانی کے پاس سے گزرا جو جنابت کےلئے کافی تھا مگر اس نے غسل نہ کیا۔
سوم : وہ جسے صرف حدث ہو یہ ظاہر ہے۔ اور تینوں قسموں کے احکام یہ ہیں۔ لیکن قسم اول (جب جنب کے پاس) وہ جسے صرف جنابت ہو اس قید کی دلیل یہ ہے کہ مقابلہ میں ایسا جنب مذکور ہے جس کے ساتھ حدث بھی ہے(اتنا پانی ہو جو وضو کےلئے کافی ہو غسل کےلئے نہیں)یعنی جنابت شاملہ دور کرنے کے لئے نہیں جیسا کہ پہلی صورت میں ہے۔ یا غیر جنابت شاملہ کے لئے نہیں جیسا کہ بعد والی دونوں صورتوں میں ہے۔ (تو وہ تیمم کرے گا اور ہمارے نزدیك اس پر وضو واجب نہیں)اس لئے کہ اس کے ساتھ کوئی ایسا حدث نہیں جو مستقل
عـــہ : ھذا علی التعلیل وان جعلنا الفاء للتفریع امکن تعلق قولہ بالاتفاق بمایلیہ علی تقد یر تأخر التیمم عن الوضوء فیکون المعنی (یجب علیہ الوضوء) فاذاتوضأ (فالتیمم) الذی یفعلہ بعد ےبقی (للجنابۃ بالاتفاق)لارتفاع الحدث بالوضوء ونفاد الماء بعدہ ولکن الاول ھو الاولی کمالایخفی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یہ اس تقد یر پر ہے کہ ف برائے تعلیل ہے۔ اور اگر فاء برائے تفریع مانیں تو ان کے قول بالاتفاق کا تعلق اسی عبارت سے ہوگا جس سے یہ متصل ہے اس تقد یر پر کہ تیمم وضو کے بعد ہو تو معنی یہ ہوگا (اس پر وضو واجب ہے) تو جب وہ وضو کرلے (تو تیمم) جسے وہ بعد میں ہی کرے گا(بالاتفاق جنابت کےلئے)باقی رہے گا کیونکہ حدث وضو سے رفع ہوگیا اور اس کے بعد پانی بھی ختم ہوگیا۔ لیکن اول اولی ہے جیسا کہ مخفی نہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
فالخلاف) بیننا وبین الشافعی رضی الله تعالی عنہ (ثابت ایضا) فی وجوب صرف ذلك الماء وعدمہ وھذا کماتری بحمدالله تعالی احق باسم الشرح من اسم التأویل اذلیس فیہ صرف لفظ عن معناہ واصلا وانا اجعلہ ھد یۃ لروح الامام صدر الشریعۃ٭جعلہ الله تعالی لاصلاح احوالی ومغفرۃ٭ذنوبی ذریعۃ٭انہ ھو الرؤف الرحیم٭ربنا تقبل منا انك انت السمیع العلیم٭والحمدلله حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ٭وصلی الله تعالی علی سیدنا ومولنا محمد والہ وذویہ٭امین۔
حکم رکھتا ہو۔ اور فرض یہ کیا گیا ہے کہ وہ پانی اسے جنابت سے نکال نہیں سکتا تو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے(بخلاف امام شافعی کے)رضی اللہ تعالی عنہ۔ اس کی وجہ معلوم ہوچکی(لیکن) قسم دوم (جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے)جبکہ حدث اپنا مستقل حکم رکھتا ہو (تو اس پر وضو واجب ہے) قطعا کیونکہ اس کا حدث مستقل ہے اور اسے اتنے پانی پر قدرت بھی ہے جو اس حدث کو دور کرنے کےلئے کافی ہے۔ اور اس کے لئے تیمم کفایت نہیں کرسکتا اس لئے(کہ تیمم) جو وہ کررہا ہے صرف (جنابت کےلئے ہے)کیونکہ حدث اس میں مندرج نہیں۔ تو وضو لازم ہے (بالاتفاق)۔ رہی قسم سوم (جب محدث) جو صرف حدث والا ہے(کے پاس اتنا پانی ہو جو اس کے بعض اعضاء کے دھونے کے لئے کفایت کرے تو بھی اختلاف) ہمارے اور امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہکے درمیان(ثابت ہے)اس بارے میں کہ اس پانی کو صرف کرنا واجب ہے یا نہیں۔ (ان کے نزدیك ہے ہمارے نزدیك نہیں ۱۲ م الف)یہ توضیح جیسا کہ ناظرین کے سامنے ہے تاویل سے ز یادہ شرح کا نام دیے جانے کی مستحق ہے۔ کیونکہ اس میں کسی لفظ کو اس کے معنی سے پھیرنا بالکل نہیں۔ میں اسے امام صدر الشریعۃکی روح پاك کےلئے ہدیہ کرتا ہوں۔ انہیں خدائے برتر میرے احوال کی اصلاح اور میرے گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ بنائے۔ اور خدا ہی کےلئے حمد ہے کثیر پاکیزہ بابرکت حمد اور خدائے برتر کی طرف سے ہمارے آقا ومولی محمد ان کی آل اور ان کے سبھی لوگوں پر درود ہو۔ الہی قبول فرما۔ (ت)
خلاصہ تحقیقات : ان چند مسائل سے واضح تنبیہ ان مسائل میں ہم جہاں جنابت کا لفظ لکھیں گے اس سے مراد حدث اکبر ہے یعنی جس سے نہانا واجب ہوتا ہے خواہ جنابت ہو یا انقطاع حیض ونفاس اور لفظ حدث سے خاص حدث اصغر مراد ہے یعنی جس سے صرف وضو واجب ہوتا ہے اقول : وبالله التوفیق
مسئلہ (۱) : جنابت باقی ہونے کی حالت میں جب حدث پا یا جائے (خواہ۱ جنابت سے پہلے کا ہو
حکم رکھتا ہو۔ اور فرض یہ کیا گیا ہے کہ وہ پانی اسے جنابت سے نکال نہیں سکتا تو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے(بخلاف امام شافعی کے)رضی اللہ تعالی عنہ۔ اس کی وجہ معلوم ہوچکی(لیکن) قسم دوم (جب جنابت کے ساتھ کوئی ایسا حدث ہو جو وضو واجب کرتا ہے)جبکہ حدث اپنا مستقل حکم رکھتا ہو (تو اس پر وضو واجب ہے) قطعا کیونکہ اس کا حدث مستقل ہے اور اسے اتنے پانی پر قدرت بھی ہے جو اس حدث کو دور کرنے کےلئے کافی ہے۔ اور اس کے لئے تیمم کفایت نہیں کرسکتا اس لئے(کہ تیمم) جو وہ کررہا ہے صرف (جنابت کےلئے ہے)کیونکہ حدث اس میں مندرج نہیں۔ تو وضو لازم ہے (بالاتفاق)۔ رہی قسم سوم (جب محدث) جو صرف حدث والا ہے(کے پاس اتنا پانی ہو جو اس کے بعض اعضاء کے دھونے کے لئے کفایت کرے تو بھی اختلاف) ہمارے اور امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہکے درمیان(ثابت ہے)اس بارے میں کہ اس پانی کو صرف کرنا واجب ہے یا نہیں۔ (ان کے نزدیك ہے ہمارے نزدیك نہیں ۱۲ م الف)یہ توضیح جیسا کہ ناظرین کے سامنے ہے تاویل سے ز یادہ شرح کا نام دیے جانے کی مستحق ہے۔ کیونکہ اس میں کسی لفظ کو اس کے معنی سے پھیرنا بالکل نہیں۔ میں اسے امام صدر الشریعۃکی روح پاك کےلئے ہدیہ کرتا ہوں۔ انہیں خدائے برتر میرے احوال کی اصلاح اور میرے گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ بنائے۔ اور خدا ہی کےلئے حمد ہے کثیر پاکیزہ بابرکت حمد اور خدائے برتر کی طرف سے ہمارے آقا ومولی محمد ان کی آل اور ان کے سبھی لوگوں پر درود ہو۔ الہی قبول فرما۔ (ت)
خلاصہ تحقیقات : ان چند مسائل سے واضح تنبیہ ان مسائل میں ہم جہاں جنابت کا لفظ لکھیں گے اس سے مراد حدث اکبر ہے یعنی جس سے نہانا واجب ہوتا ہے خواہ جنابت ہو یا انقطاع حیض ونفاس اور لفظ حدث سے خاص حدث اصغر مراد ہے یعنی جس سے صرف وضو واجب ہوتا ہے اقول : وبالله التوفیق
مسئلہ (۱) : جنابت باقی ہونے کی حالت میں جب حدث پا یا جائے (خواہ۱ جنابت سے پہلے کا ہو
حوالہ / References
ماخوذ من شرح الوقا یۃ ، باب التیمم ، المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ، ۱ / ۹۵
جیسے سوکر اٹھا اور نہانے کی حاجت پائی بلکہ یہ صورت ہر انزال میں ہے کہ اس سے پہلے خروج مذی ہے یوں ہی غیبوبت حشفہ سے پہلے مباشرت فاحشہ یا اس سے بعد کا جیسے جماع کے بعد پیشاب کیا یا اس کے ساتھ کا جیسے جنابت کےلئے تیمم کیا پھر حدث ہوا وضو کیا پھر پیشاب کو بیٹھا اور اس کا پہلا قطرہ نکلنے کے ساتھ قابل غسل پانی موجود ہونے کا علم ہوا یا عورت کو پہلی ہی بار دس۱۰دن دو۲منٹ خون آ یا تو جس وقت دس۱۰رات دن کے گھنٹے منٹ ختم ہوئے وہی وقت اس کے انقطاع حیض اور اس پر وجوب غسل کا تھا اور ساتھ ہی ہنوز جر یان خون باقی ہے اب یہ استحاضہ اور حدث اصغر ہے اگرچہ یہاں معیت بمعنی اتصال حقےقی ہے کہ ایك آن کا بھی فاصلہ نہیں بلکہ ایك ہی آن فصل مشترك ہے کہ اس پر حیض ختم اور اسی سے استحاضہ شروع) بالجملہ۱ جب حدث وجنابت ایك وقت میں جمع ہوں اگرچہ ان کے حدوث میں تقدم تأخر معیت کچھ بھی ہو اس کی دو۲ قسمیں ہیں :
اول : کل یا بعض اعضائے وضو جتنی جگہ حدث ہے جنابت اس سب جگہ کو محیط ہو حدث کا کوئی حصہ محل جنابت سے باہر نہ ہو عام ازیں کہ جنابت بھی صرف اتنی ہی جگہ ہو یا اس کے علاوہ اور بھی ہم نے اس کا نام حدث مندرج یا مندمج رکھا اس کی بارہ۱۲ صورتیں ہیں کہ اگر حدث۱ کل اعضائے وضو میں ہے تو جنابت بھی کل میں ہے یا۲ حدث بعض میں ہے تو جنابت کل یا((۳) اعضائے وضو سے اس بعض یا۴ کے ساتھ بعض باقی کے بھی ایك حصہ میں ہے یہ چار۴ شکلیں ہوئیں اور ہر شکل پر ممکن کہ جنابت صرف یہیں ہو یا اس کے ساتھ باقی بدن کے بعض یا کل میں بھی تو بارہ۱۲ ہوگئیں مثلا :
(۱) جنب۱ محدث نے وضو نہ کیا باقی کل بدن دھولیا کہ حدث وجنابت صرف کل اعضائے وضو میں ہیں یا۲ باقی بعض بدن دھو یا کہ حدث کل اعضائے وضو اور جنابت ان کے ساتھ باقی بدن کے بھی بعض میں ہے یا۳ اصلا پانی نہ چھوا کہ حدث اس کل اور جنابت سارے بدن میں ہے۔
(۲) محدث۴ نے بعض اعضائے وضو دھولئے کہ حدث بعض میں رہا پھر بلاحدث جنابت ہوئی جس کی تصو یر اوپر گزری اب یہ جنابت کل اعضائے وضو میں ہے
اور وہی صورتیں ہیں کہ باقی بدن کل یا بعض۵ دھولیا یا۵کچھ نہیں۔
(۳) جنب۷ محدث نے بعض اعضائے وضو دھولےے اور باقی بدن کل یا۸ بعض یا۹ کچھ نہیں۔
(۴) محدث۱۰ نے مثلا دو عضو وضو دھولےے پھر جنابت بے حدث ہوئی اور ان دو۲ میں کا ایك ہی دھو یا کہ حدث دو۲ عضو باقی میں ہے اور جنابت ان دو۲ اور ان کے سوا تیسرے میں بھی اور باقی بدن کل یا بعض۱۱ دھو یا یا۱۲ کچھ نہیں۔
تنبیہ اقول : اندراج۲ حدث کی چھ۶ صورتیں جن میں جنابت اعضائے وضو میں محل حدث سے زائد میں ہے یعنی ۴۔ ۵۔ ۶۔ ۱۰۔ ۱۱۔ ۱۲ اسی حالت میں ممکن ہیں کہ جنابت حدث کے بعد ہوکہ یہاں یہ درکار کہ اعضائے وضو میں بعض جگہ حدث نہ ہو اور جنابت ہو اگر حدث متأخر ہوا تو اس بعض سے اس کا ارتفاع دھونے
اول : کل یا بعض اعضائے وضو جتنی جگہ حدث ہے جنابت اس سب جگہ کو محیط ہو حدث کا کوئی حصہ محل جنابت سے باہر نہ ہو عام ازیں کہ جنابت بھی صرف اتنی ہی جگہ ہو یا اس کے علاوہ اور بھی ہم نے اس کا نام حدث مندرج یا مندمج رکھا اس کی بارہ۱۲ صورتیں ہیں کہ اگر حدث۱ کل اعضائے وضو میں ہے تو جنابت بھی کل میں ہے یا۲ حدث بعض میں ہے تو جنابت کل یا((۳) اعضائے وضو سے اس بعض یا۴ کے ساتھ بعض باقی کے بھی ایك حصہ میں ہے یہ چار۴ شکلیں ہوئیں اور ہر شکل پر ممکن کہ جنابت صرف یہیں ہو یا اس کے ساتھ باقی بدن کے بعض یا کل میں بھی تو بارہ۱۲ ہوگئیں مثلا :
(۱) جنب۱ محدث نے وضو نہ کیا باقی کل بدن دھولیا کہ حدث وجنابت صرف کل اعضائے وضو میں ہیں یا۲ باقی بعض بدن دھو یا کہ حدث کل اعضائے وضو اور جنابت ان کے ساتھ باقی بدن کے بھی بعض میں ہے یا۳ اصلا پانی نہ چھوا کہ حدث اس کل اور جنابت سارے بدن میں ہے۔
(۲) محدث۴ نے بعض اعضائے وضو دھولئے کہ حدث بعض میں رہا پھر بلاحدث جنابت ہوئی جس کی تصو یر اوپر گزری اب یہ جنابت کل اعضائے وضو میں ہے
اور وہی صورتیں ہیں کہ باقی بدن کل یا بعض۵ دھولیا یا۵کچھ نہیں۔
(۳) جنب۷ محدث نے بعض اعضائے وضو دھولےے اور باقی بدن کل یا۸ بعض یا۹ کچھ نہیں۔
(۴) محدث۱۰ نے مثلا دو عضو وضو دھولےے پھر جنابت بے حدث ہوئی اور ان دو۲ میں کا ایك ہی دھو یا کہ حدث دو۲ عضو باقی میں ہے اور جنابت ان دو۲ اور ان کے سوا تیسرے میں بھی اور باقی بدن کل یا بعض۱۱ دھو یا یا۱۲ کچھ نہیں۔
تنبیہ اقول : اندراج۲ حدث کی چھ۶ صورتیں جن میں جنابت اعضائے وضو میں محل حدث سے زائد میں ہے یعنی ۴۔ ۵۔ ۶۔ ۱۰۔ ۱۱۔ ۱۲ اسی حالت میں ممکن ہیں کہ جنابت حدث کے بعد ہوکہ یہاں یہ درکار کہ اعضائے وضو میں بعض جگہ حدث نہ ہو اور جنابت ہو اگر حدث متأخر ہوا تو اس بعض سے اس کا ارتفاع دھونے
ہی سے ہوگا اور دھونا جنابت کو بھی زائل کردے گا۔ ہاں باقی چھ۶ میں حدث وجنابت کا تقدم و تأخر دونوں ممکن ولہذا ہم نے ان میں جنب محدث کہا کہ ہر صورت کو محتمل رہے وباالله التوفیق۔
دوم : حدث کل یا بعض محل جنابت سے جدا ہو اسے حدث مستقل یا مستبد کہےے۔ اس۱ کی دس۱۰ صورتیں ہیں کہ حدث کل یا بعض اعضائے وضو جتنی جگہ میں ہو جنابت اس جگہ کے بعض میں ہو یا اعضائے وضو میں اصلا نہ ہو یہ بھی چار۴ شکلیں ہوئیں مگر دو۲ پہلی بدستور ثلاثی ہیں اور دو۲ پچھلی کہ اعضائے وضو میں اصلا نہ ہو ثنائی کہ باقی بدن کے بعض یا کلی کے سوا بالکل نہ ہونے کا احتمال نہیں کہ کلام اجتماع جنابت وحدث میں ہے لہذا یہ دس۱۰ ہی صورتیں رہیں مثلا :
(۱) جنب۱ نے صرف بعض اعضائے وضو یا۲ ان کے ساتھ باقی کل یا۳ بعض بدن دھولیا پھر حدث ہوا کہ یہ کل اعضائے وضو میں ہے۔
(۲) جنب۴ نے صرف پورا وضو کیا یا۵باقی بدن کا بھی ایك حصہ دھو یا پھر حدث ہوا۔
(۳) جنب۶ نے فقط ہاتھ یا(۷) غیر اعضائے وضو کا کل یا(۸) بعض بھی دھو یا پھر حدث ہوا اور پاؤں دھوئے کہ پاؤں سے جنابت و حدث دونوں زائل ہوگئے اور حدث باقی تین۳اعضاء میں ہے اور جنابت ان میں سے صرف دو۲ میں کہ بعد جنابت ہاتھ دھوچکا ہے
(۴) جنب۹نے فقط وضو یا۱۰باقی بدن کا بھی بعض دھو یا پھر حدث ہوا اور بعض اعضائے وضو دھوئے۔
اقول : یہاں۲ کلیہ یہ ہے کہ جنابت کے بعد جو عضو وضو دھل چکا اس میں حدث مستقل ہے خواہ جمیع اعضائے وضو ہوں کہ اس وقت پورا حدث مستقل ہوگا جیسے ۴۔ ۵۔ ۹۔ ۱۰ میں یا بعض اس وقت یہی ٹکڑا مستقل ہوگا جو اس بعض میں ہے باقی بدستور تابع جنابت رہے گا جیسا باقی ۶میں۔ والله تعالی اعلم۔
تنبیہ اقول : استقلال۳ حدث نہیں ہوتا مگر جبکہ حدث جنابت کے بعد ہوکہ یہاں یہ درکار کہ جنابت محل حدث میں اصلا نہ ہو یا ہو تو اس کے بعض میں ہو اگر حدث پہلے ہو تو یہ ناممکن ہے کہ جنابت لاحقہ کل یا بعض محل حدث سے بے دھوئے نہ اٹھے گی اور دھونا حدث سابق کو بھی زائل کردے گا۔
ثم اقول : تفصیل مقام یہ ہے کہ یہاں چونتیس۳۴ احتمال عقلی ہیں کہ حدث۱ اگر کل اعضائے وضو میں ہے تو جنابت کل یا۲ بعض میں ہو یا۳ ان میں کہیں نہیں اور۴ اگر حدث بعض میں ہے تو جنابت کل اعضائے وضو یا۵ اسی حدث والے حیض کے کل یا بعض۶ یا بعض۷دیگرکے کل یا بعض۸ یا بعض۹ اول کے کل اور دیگرکے بعض یا۱۰ بالعکس یا۱۱ دونوں بعضوں کے بعض یا۱۲ کسی میں نہیں۔ یہ بارہ۱۲ شکلیں ہوئیں جن میں سوم و دوازدہم بوجہ مذکور ثنائی ہیں اور باقی دس۱۰ ثلاثی۔ ان میں بارہ۱۲ صورتیں کہ جنابت بعض دیگرکے کل یا بعض میں ہو خواہ تنہا یا بعض حدثی کے بعض
دوم : حدث کل یا بعض محل جنابت سے جدا ہو اسے حدث مستقل یا مستبد کہےے۔ اس۱ کی دس۱۰ صورتیں ہیں کہ حدث کل یا بعض اعضائے وضو جتنی جگہ میں ہو جنابت اس جگہ کے بعض میں ہو یا اعضائے وضو میں اصلا نہ ہو یہ بھی چار۴ شکلیں ہوئیں مگر دو۲ پہلی بدستور ثلاثی ہیں اور دو۲ پچھلی کہ اعضائے وضو میں اصلا نہ ہو ثنائی کہ باقی بدن کے بعض یا کلی کے سوا بالکل نہ ہونے کا احتمال نہیں کہ کلام اجتماع جنابت وحدث میں ہے لہذا یہ دس۱۰ ہی صورتیں رہیں مثلا :
(۱) جنب۱ نے صرف بعض اعضائے وضو یا۲ ان کے ساتھ باقی کل یا۳ بعض بدن دھولیا پھر حدث ہوا کہ یہ کل اعضائے وضو میں ہے۔
(۲) جنب۴ نے صرف پورا وضو کیا یا۵باقی بدن کا بھی ایك حصہ دھو یا پھر حدث ہوا۔
(۳) جنب۶ نے فقط ہاتھ یا(۷) غیر اعضائے وضو کا کل یا(۸) بعض بھی دھو یا پھر حدث ہوا اور پاؤں دھوئے کہ پاؤں سے جنابت و حدث دونوں زائل ہوگئے اور حدث باقی تین۳اعضاء میں ہے اور جنابت ان میں سے صرف دو۲ میں کہ بعد جنابت ہاتھ دھوچکا ہے
(۴) جنب۹نے فقط وضو یا۱۰باقی بدن کا بھی بعض دھو یا پھر حدث ہوا اور بعض اعضائے وضو دھوئے۔
اقول : یہاں۲ کلیہ یہ ہے کہ جنابت کے بعد جو عضو وضو دھل چکا اس میں حدث مستقل ہے خواہ جمیع اعضائے وضو ہوں کہ اس وقت پورا حدث مستقل ہوگا جیسے ۴۔ ۵۔ ۹۔ ۱۰ میں یا بعض اس وقت یہی ٹکڑا مستقل ہوگا جو اس بعض میں ہے باقی بدستور تابع جنابت رہے گا جیسا باقی ۶میں۔ والله تعالی اعلم۔
تنبیہ اقول : استقلال۳ حدث نہیں ہوتا مگر جبکہ حدث جنابت کے بعد ہوکہ یہاں یہ درکار کہ جنابت محل حدث میں اصلا نہ ہو یا ہو تو اس کے بعض میں ہو اگر حدث پہلے ہو تو یہ ناممکن ہے کہ جنابت لاحقہ کل یا بعض محل حدث سے بے دھوئے نہ اٹھے گی اور دھونا حدث سابق کو بھی زائل کردے گا۔
ثم اقول : تفصیل مقام یہ ہے کہ یہاں چونتیس۳۴ احتمال عقلی ہیں کہ حدث۱ اگر کل اعضائے وضو میں ہے تو جنابت کل یا۲ بعض میں ہو یا۳ ان میں کہیں نہیں اور۴ اگر حدث بعض میں ہے تو جنابت کل اعضائے وضو یا۵ اسی حدث والے حیض کے کل یا بعض۶ یا بعض۷دیگرکے کل یا بعض۸ یا بعض۹ اول کے کل اور دیگرکے بعض یا۱۰ بالعکس یا۱۱ دونوں بعضوں کے بعض یا۱۲ کسی میں نہیں۔ یہ بارہ۱۲ شکلیں ہوئیں جن میں سوم و دوازدہم بوجہ مذکور ثنائی ہیں اور باقی دس۱۰ ثلاثی۔ ان میں بارہ۱۲ صورتیں کہ جنابت بعض دیگرکے کل یا بعض میں ہو خواہ تنہا یا بعض حدثی کے بعض
کے ساتھ کہ ۷ ۸ ۱۰ ۱۱ ہیں اور ہر ایك ثلاثی محال ہیں کہ ان سب صورتوں کا حاصل یہ ہوا کہ اعضائے وضو کا دوسرا حصہ جسے بعض دیگرکہا تھا حدث سے بالکل خالی ہے اور اس کے کل یا بعض میں جنابت ہے اور پہلے حصے کے کل میں حدث ہے اور اس میں جنابت اصلا نہیں یا بعض میں ہے اب اگر جنابت پہلے ہے اس کے بعد حدث ہوا تو دوسرا حصہ بے پورا دھوئے حدث سے کیونکر خالی ہوسکتا ہے اور جب دھو یا جائے گا جنابت کو بھی رفع کردےگا اس کے کل یا بعض میں کیسے رہ سکتی ہے اور حدث پہلے ہے اس کے بعد جنابت بے حدث ہوئی تو پہلے حصے کا جب تك کل یا بعض نہ دھو یا گیا اس سے جنابت کیونکر اٹھی اور اگر دھو یا گیا تو کل یا بعض سے حدث بھی دھل گیا اس کے کل میں کیسے رہ سکتا ہے اور اگر حدث وجنابت ساتھ ہوں تو دونوں استحالے ہیں لہذا ان ۳۴ میں سے ۲۲ ہی رہیں ۱۲ مندرج ۱۰ مستقل۔
مسئلہ۲(۱) : حدث مندرج کوئی حکم جداگانہ نہیں رکھتا جنابت کے اندر مستہلك ومستغرق ہوجاتا ہے جیسے منی میں مذی۔ اس کی بارہ۱۲ صورتوں سے ۱ و ۷ جن میں جنابت وحدث باہم منطبق ہیں ایك دوسرے سے باہر نہیں یہ تو حاجت بیان سے مستغنی ہیں کہ پانی پہلی صورت میں وضو یا ساتویں میں تکمیل وضو کو کافی ملا تو ضرور استعمال کرے گا اسی میں جنابت وحدث دونوں زائل ہوجائیں گے۔ نہ ملا نہ کرے گا دونوں رہیں گے ہاں باقی دس صورتوں میں اندراج کا اثر ان احکام سے ظاہر ہوگا۔
مسئلہ ۳ : صورت سوم میں کہ پورا نہانا درکار ہے اور کل اعضائے وضو میں حدث ہے جو وضوئے کامل چاہتا اگر نہانے پر قادر نہ ہو کر پانی اتنا نہیں یا نہانا مضر ہے یا نہائے تو نماز کا وقت جاتا ہے اور وضو کےلئے کافی پانی موجود ہے اور اس سے ضرر بھی نہیں اور وقت میں بھی اس کے گنجائش ہے با اینہمہ وضو نہ کرے صرف تیمم کافی ہے کہ یہ حدث کوئی حکم مستقل نہیں رکھتا۔
مسئلہ ۴ : یوں ہی صورت۶ میں کہ غسل کامل درکار ہے اور حدث صرف بعض اعضائے وضو میں کہ فقط تکمیل وضو چاہتا۔ ممکن ہے کہ اس کے لئے ایك ہی چلو درکار ہوتا اگر اتنے پانی پر قادر ہو جب بھی استعمال نہ کرے صرف تیمم پر قانع ہو۔
مسئلہ ۵ : یوں ہی صورت ۹ و ۱۲ میں کہ حدث اگر چاہتا تو تکمیل وضو لیکن جنابت اعضائے وضو کا ایك حصہ اور ان کے علاوہ سارا بدن دھونا مانگتی ہے اگر انہیں وجوہ سے اس پر قدرت نہ ہو اور تکمیل وضو کو پانی حاضر اور اس پر قادر جب بھی صرف تیمم کرے۔ غرض تضاعیف۳ کی چاروں۴ صورتیں ایك حکم رکھتی ہیں۔
مسئلہ ۶ : باقی ۶ صورتوں ۲۔ ۴۔ ۵۔ ۸۔ ۱۰۔ ۱۱ میں جنابت کے لئے جتنا دھونا درکار ہے
مسئلہ۲(۱) : حدث مندرج کوئی حکم جداگانہ نہیں رکھتا جنابت کے اندر مستہلك ومستغرق ہوجاتا ہے جیسے منی میں مذی۔ اس کی بارہ۱۲ صورتوں سے ۱ و ۷ جن میں جنابت وحدث باہم منطبق ہیں ایك دوسرے سے باہر نہیں یہ تو حاجت بیان سے مستغنی ہیں کہ پانی پہلی صورت میں وضو یا ساتویں میں تکمیل وضو کو کافی ملا تو ضرور استعمال کرے گا اسی میں جنابت وحدث دونوں زائل ہوجائیں گے۔ نہ ملا نہ کرے گا دونوں رہیں گے ہاں باقی دس صورتوں میں اندراج کا اثر ان احکام سے ظاہر ہوگا۔
مسئلہ ۳ : صورت سوم میں کہ پورا نہانا درکار ہے اور کل اعضائے وضو میں حدث ہے جو وضوئے کامل چاہتا اگر نہانے پر قادر نہ ہو کر پانی اتنا نہیں یا نہانا مضر ہے یا نہائے تو نماز کا وقت جاتا ہے اور وضو کےلئے کافی پانی موجود ہے اور اس سے ضرر بھی نہیں اور وقت میں بھی اس کے گنجائش ہے با اینہمہ وضو نہ کرے صرف تیمم کافی ہے کہ یہ حدث کوئی حکم مستقل نہیں رکھتا۔
مسئلہ ۴ : یوں ہی صورت۶ میں کہ غسل کامل درکار ہے اور حدث صرف بعض اعضائے وضو میں کہ فقط تکمیل وضو چاہتا۔ ممکن ہے کہ اس کے لئے ایك ہی چلو درکار ہوتا اگر اتنے پانی پر قادر ہو جب بھی استعمال نہ کرے صرف تیمم پر قانع ہو۔
مسئلہ ۵ : یوں ہی صورت ۹ و ۱۲ میں کہ حدث اگر چاہتا تو تکمیل وضو لیکن جنابت اعضائے وضو کا ایك حصہ اور ان کے علاوہ سارا بدن دھونا مانگتی ہے اگر انہیں وجوہ سے اس پر قدرت نہ ہو اور تکمیل وضو کو پانی حاضر اور اس پر قادر جب بھی صرف تیمم کرے۔ غرض تضاعیف۳ کی چاروں۴ صورتیں ایك حکم رکھتی ہیں۔
مسئلہ ۶ : باقی ۶ صورتوں ۲۔ ۴۔ ۵۔ ۸۔ ۱۰۔ ۱۱ میں جنابت کے لئے جتنا دھونا درکار ہے
اگر اسکے لیے پانی یا وقت نہیں اور حدث کہ دوم میں وضو باقیوں میں تکمیل چاہتا اس کے لئے پانی اور وقت کافی موجود ہیں اور یہ اسی وقت ہوگا کہ مطلوب جنابت مطلوب حدث سے ز یادت معتدبہا رکھتاہو جب تو ان چھ کا بھی وہی حکم ہے کہ وضو و تکمیل کی حاجت نہیں تیمم کرے۔
ولایلزم فیھا ولا فی الصورتین و تلفیق الطہارت من ماء و تراب بل یسقط ما تقدم ویکون مؤد یا بالتیمم فقط کما قدمنا عن الامام العینی فی الدلیل الاول۔
ان میں اور صورت ۹۔ ۱۲ میں طہارت کو پانی اور مٹی سے خلط کرنا لازم نہیں آتا بلکہ پہلے جو ہوچکا ساقط ہوجائےگا اور وہ صرف تیمم سے ادا کرنے والا ہوگا جیساکہ دلیل اول میں امام عینی کے حوالے سے ہم نے پیش کیا۔ (ت)
مسئلہ ۷ : ان چھ۶ صور میں مطلوب جنابت سے عجز بوجہ ضرر ہونا ظاہرا صورت چہارم و دہم میں متوقع نہیں کہ اس میں سے ایك حصہ پہلے بوجہ حدث ہوچکا تھا اور باقی کو دھونے پر قدرت اب مفروض ہے کہ مطلوب حدث کے لئے پانی پا یا اور اس کے دھونے پر قادر ہے تو عجز کہیں نہ ہوا لہذا ضرور ہے کہ صورت چہارم میں پورا وضو اور دہم میں جس قدر مطلوب جنابت سے بجا لائے یہاں اگرچہ وضو یا تکمیل وضو کا حکم ہوا مگر نہ حدث بلکہ جنابت کے لئے۔ اور اگر فرض کیجئے کہ اتنی د یر میں اس حصہ اعضائے وضو میں ضرر پیدا ہوگیا جتنا مطلوب جنابت میں مطلوب حدث سے زائد ہے اور تیمم کی اجازت اب بھی نہیں ہوسکتی کہ یہ حصہ سارے بدن کے لحاظ سے بہت کم ہے اور غسل میں جب محل ضرر غیر محل ضرر سے کم ہو یہ جائز نہیں کہ غیر محل ضرر کو دھوئے اور باقی کےلئے تیمم کرے فانہ ہو التلفیق الممنوع ولا امکان لسقوط ما تقدم لعدم ق یام التیمم مقامہ لفقد شرطہ العجز (کیونکہ یہی تلفیق ممنوع ہے اور سابق کے ساقط ہونے کا امکان نہیں اس لیے کہ تیمم اپنی شرط-عجز-کے فقدان کی وجہ سے اس کے قائم مقام نہیں۔ ت)بلکہ محل ضرر پر مسح کرے باقی دھوئے۔ یہی حکم یہاں سے بہرحال حدث کےلئے وضو یا تکمیل یہاں بھی نہیں۔
مسئلہ ۸ : باقی چارصورتوں ۲۔ ۵۔ ۸۔ ۱۱ میں کہ تین کے فصل متوالی سے ہیں نظر کی جائے کہ جتنا بدن دھوچکا اور باقی میں سے جتنے کے دھونے پر قدرت ہے یہ مجموعہ زائدہے یا اس کے علاوہ اب جو جنابت کےلئے دھونا ہے وہ ز یادہ ہے بر تقد یر اول محل ضرر پر مسح کرے اور جو باقی رہ جائے اسے دھوئے اور بر تقد یردوم تیمم۔ وجو و تکمیل بوجہ حدث یہاں بھی نہیں اسکی تفصےل یہ ہے کہ اعضائے وضو کل یا بعض جس قدر حدث میں نہ دھوئے گئے کہ ان کا نام مطلوب حدث ہے اتنے پر قدرت تو مانی ہوئی ہے کماتقدم (جیساکہ گزرا۔ ت)اور جتنا بدن بعد جنابت دھل چکا اس کا کام بھی فارغ ہوگیااس مجموعہ کا
ولایلزم فیھا ولا فی الصورتین و تلفیق الطہارت من ماء و تراب بل یسقط ما تقدم ویکون مؤد یا بالتیمم فقط کما قدمنا عن الامام العینی فی الدلیل الاول۔
ان میں اور صورت ۹۔ ۱۲ میں طہارت کو پانی اور مٹی سے خلط کرنا لازم نہیں آتا بلکہ پہلے جو ہوچکا ساقط ہوجائےگا اور وہ صرف تیمم سے ادا کرنے والا ہوگا جیساکہ دلیل اول میں امام عینی کے حوالے سے ہم نے پیش کیا۔ (ت)
مسئلہ ۷ : ان چھ۶ صور میں مطلوب جنابت سے عجز بوجہ ضرر ہونا ظاہرا صورت چہارم و دہم میں متوقع نہیں کہ اس میں سے ایك حصہ پہلے بوجہ حدث ہوچکا تھا اور باقی کو دھونے پر قدرت اب مفروض ہے کہ مطلوب حدث کے لئے پانی پا یا اور اس کے دھونے پر قادر ہے تو عجز کہیں نہ ہوا لہذا ضرور ہے کہ صورت چہارم میں پورا وضو اور دہم میں جس قدر مطلوب جنابت سے بجا لائے یہاں اگرچہ وضو یا تکمیل وضو کا حکم ہوا مگر نہ حدث بلکہ جنابت کے لئے۔ اور اگر فرض کیجئے کہ اتنی د یر میں اس حصہ اعضائے وضو میں ضرر پیدا ہوگیا جتنا مطلوب جنابت میں مطلوب حدث سے زائد ہے اور تیمم کی اجازت اب بھی نہیں ہوسکتی کہ یہ حصہ سارے بدن کے لحاظ سے بہت کم ہے اور غسل میں جب محل ضرر غیر محل ضرر سے کم ہو یہ جائز نہیں کہ غیر محل ضرر کو دھوئے اور باقی کےلئے تیمم کرے فانہ ہو التلفیق الممنوع ولا امکان لسقوط ما تقدم لعدم ق یام التیمم مقامہ لفقد شرطہ العجز (کیونکہ یہی تلفیق ممنوع ہے اور سابق کے ساقط ہونے کا امکان نہیں اس لیے کہ تیمم اپنی شرط-عجز-کے فقدان کی وجہ سے اس کے قائم مقام نہیں۔ ت)بلکہ محل ضرر پر مسح کرے باقی دھوئے۔ یہی حکم یہاں سے بہرحال حدث کےلئے وضو یا تکمیل یہاں بھی نہیں۔
مسئلہ ۸ : باقی چارصورتوں ۲۔ ۵۔ ۸۔ ۱۱ میں کہ تین کے فصل متوالی سے ہیں نظر کی جائے کہ جتنا بدن دھوچکا اور باقی میں سے جتنے کے دھونے پر قدرت ہے یہ مجموعہ زائدہے یا اس کے علاوہ اب جو جنابت کےلئے دھونا ہے وہ ز یادہ ہے بر تقد یر اول محل ضرر پر مسح کرے اور جو باقی رہ جائے اسے دھوئے اور بر تقد یردوم تیمم۔ وجو و تکمیل بوجہ حدث یہاں بھی نہیں اسکی تفصےل یہ ہے کہ اعضائے وضو کل یا بعض جس قدر حدث میں نہ دھوئے گئے کہ ان کا نام مطلوب حدث ہے اتنے پر قدرت تو مانی ہوئی ہے کماتقدم (جیساکہ گزرا۔ ت)اور جتنا بدن بعد جنابت دھل چکا اس کا کام بھی فارغ ہوگیااس مجموعہ کا
نام مقدور رکھئے اور مطلوب حدث کے علاوہ جتنا مطلوب جنابت یعنی اس میں دھونا اب درکار ہے اسے دوسرا فریق کیجئے ان میں کمی بیشی کی نسبت دیك ھی جائے صورت دوم میں تمام اعضائے وضو اور بعض باقی بدن مطلوب جنابت تھی یہ فریق دیگرہوا اور تمام اعضائے وضو مطلوب حدث تھا اور بعض دیگرباقی بدن دھل چکا یہ فریق اول تمام اعضائے وضو دونوں فریقوں میں مشترك ہیں مشترك ساقط کرکے باقی بدن کے دونوں میں نسبت دیك ھی جائے جو دھل چکا وہ ز یادہ ہے تو وضو کرے نہ حدث بلکہ جنابت کے لےے اور باقی بدن سے جتنا نہ دھلا تھا اس پر مسح کرے اور اگر جتنا نہ دھلاتھا وہ ز یادہ ہے تو تیمم۔
مسئلہ ۹ : یونہی صورت ہشتم میں بعض اعضائے وضو تو جنابت و حدث دونوں سے دھل چکے تھے اور بعض کہ باقی تھے مطلوب حدث ومطلوب جنابت دونوں میں مشترك تھے لہذا باقی ہی بدن کے دونوں حصہ مغسول و غیر مغسول میں نسبت ملحوظ ہوگی مغسول ز یادہ ہے تو تکمیل وضو کرے نہ حدث بلکہ جنابت کے لئے اور باقی مطلوب جنابت پر مسح اور غیر مغسول ز یادہ ہے تو تیمم۔
مسئلہ ۱۰ : صورت پنجم میں مطلوب حدث بعض اعضائے وضو ہیں اورمطلوب جنابت میں کل تو وہ اعضائے وضو کہ حدث میں نہ دھلے تھے بوجہ اشتراك ساقط ہوئے اور جتنے دھل چکے تھے مقدور میں شامل ہونگے تو مغسول حدث اور باقی بدن سے مغسول سابق یہ دونوں ایك فریق ہوئے اور باقی بدن کا غیر مغسول دوسرا فریق اگر فریق اول زائد ہے وضو کرے نہ حدث بلکہ جنابت کے لیے اور باقی مطلوب جنابت پر مسح اور اگر دوم زائد ہے تیمم۔ ہاں اگر اتنی د یر میں مغسول حدث میں ضرر پیدا ہوگیا تو یہ فریق دوم میں شامل ہوگا اب اگر پہلا فریق زائد ہو تو اعضائے وضو سے جس قدر حدث میں نہ دھلے تھے اب دھوئے بغرض جنابت نہ بوجہ حدث اور جتنے دھل چکے تھے ان پر اور باقی بدن کے غیر مغسول پر مسح۔ اور دوسرا فریق زیادہ ہو تو تیمم۔
مسئلہ ۱۱ : صورت ۱۱ میں مطلوب حدث کہ بعض اعضائے وضو ہیں مع ز یادت داخل مطلوب جنابت ہیں تو مطلوب حدث مشترك ہوکر ساقط ہوا اور مغسول حدث بدستور شامل مقدور تو وہ اور باقی بدن نہ دھلے انہیں جنابت کے لئے اور باقی بدن کے لئے غیر مغسول پر مسح اورفریق دوم ز یادہ ہے تو تیمم مگر یہ کہ مغسول حدث کا جتنا ٹکڑا جنابت میں نہ دھلا اس میں ضرر تازہ پیدا ہوا تو وہ بھی فریق دوم میں شامل ہوگا اگر فریق اول ز یادہ ہو تو اس ٹکڑے اور باقی بدن کے غیر مغسول پر مسح کرے اور مطلوب حدث بغرض جنابت دھوئے ورنہ تیمم۔
مسئلہ ۹ : یونہی صورت ہشتم میں بعض اعضائے وضو تو جنابت و حدث دونوں سے دھل چکے تھے اور بعض کہ باقی تھے مطلوب حدث ومطلوب جنابت دونوں میں مشترك تھے لہذا باقی ہی بدن کے دونوں حصہ مغسول و غیر مغسول میں نسبت ملحوظ ہوگی مغسول ز یادہ ہے تو تکمیل وضو کرے نہ حدث بلکہ جنابت کے لئے اور باقی مطلوب جنابت پر مسح اور غیر مغسول ز یادہ ہے تو تیمم۔
مسئلہ ۱۰ : صورت پنجم میں مطلوب حدث بعض اعضائے وضو ہیں اورمطلوب جنابت میں کل تو وہ اعضائے وضو کہ حدث میں نہ دھلے تھے بوجہ اشتراك ساقط ہوئے اور جتنے دھل چکے تھے مقدور میں شامل ہونگے تو مغسول حدث اور باقی بدن سے مغسول سابق یہ دونوں ایك فریق ہوئے اور باقی بدن کا غیر مغسول دوسرا فریق اگر فریق اول زائد ہے وضو کرے نہ حدث بلکہ جنابت کے لیے اور باقی مطلوب جنابت پر مسح اور اگر دوم زائد ہے تیمم۔ ہاں اگر اتنی د یر میں مغسول حدث میں ضرر پیدا ہوگیا تو یہ فریق دوم میں شامل ہوگا اب اگر پہلا فریق زائد ہو تو اعضائے وضو سے جس قدر حدث میں نہ دھلے تھے اب دھوئے بغرض جنابت نہ بوجہ حدث اور جتنے دھل چکے تھے ان پر اور باقی بدن کے غیر مغسول پر مسح۔ اور دوسرا فریق زیادہ ہو تو تیمم۔
مسئلہ ۱۱ : صورت ۱۱ میں مطلوب حدث کہ بعض اعضائے وضو ہیں مع ز یادت داخل مطلوب جنابت ہیں تو مطلوب حدث مشترك ہوکر ساقط ہوا اور مغسول حدث بدستور شامل مقدور تو وہ اور باقی بدن نہ دھلے انہیں جنابت کے لئے اور باقی بدن کے لئے غیر مغسول پر مسح اورفریق دوم ز یادہ ہے تو تیمم مگر یہ کہ مغسول حدث کا جتنا ٹکڑا جنابت میں نہ دھلا اس میں ضرر تازہ پیدا ہوا تو وہ بھی فریق دوم میں شامل ہوگا اگر فریق اول ز یادہ ہو تو اس ٹکڑے اور باقی بدن کے غیر مغسول پر مسح کرے اور مطلوب حدث بغرض جنابت دھوئے ورنہ تیمم۔
تنبیہ : یہ نسبتیں اسی تقد یر پر ہیں کہ حصہ مقدور کے علاوہ باقی تمام حصے میں ضرر ہو ورنہ اس میں بھی جتنے میں ضرر نہیں شامل مقدور ہوگا۔
تنبیہ : جتنے حصہ میں فی نفسہ ضرر نہ ہو مگر اس کے دھونے سے پانی وہاں تك پہنچنا لازم ہو جس میں ضرر ہے تو وہ بھی غیر مقدور ہے کمانصوا علیہ والله سبحنہ وتعالی اعلم (جیسا کہ علما نے اس کی تصریح کی ہے اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے۔ ت)
مسئلہ ۱۲ : جس طرح ابتدا میں اس حدث کے قابل پانی موجود ہونا تیمم کو مانع نہیں یوں ہی اگر پانی اصلا نہ تھا اور تیمم کرلیا کہ جنابت وحدث دونوں کو رفع کرگیا اب پانی اتنا ملا کہ اس حدث کو کافی ہے جب بھی اس کے استعمال کی حاجت نہیں یہ تیمم حدث کے حق میں بھی نہ ٹوٹے گا کہ حدث کا کوئی حکم نہ تھا تیمم جنابت کا تھا اور اس کے قابل پانی نہیں بفضلہ عزوجل یہ تمام احکام ومسائل وتفصیلات جلائل اس فتاوی کے خصائص سے ہیں اس کے غیر میں نہ ملیں گے۔
ذکرناھا تفقھا ونرجو من ربنا اصابۃ الصواب٭والحمدلله العزیز الوھاب٭وصلی الله تعالی علی السید الاواب٭والہ وصحبہ وامتہ الی یوم الحساب٭
ہم نے یہ تفقہابیان کیے اور ہمیں اپنے رب سے امید ہے کہ صواب ودرستی کو ہم نے پالیا اور تمام تعریف عزت والے بہت عطا فرمانے والے خدا کےلئے ہے۔ اور خدائے برتر کی طرف سے درود ہو بہت رجوع لانے والے آقا ان کی آل ان کے اصحاب اور ان کی امت پر روز حساب تک۔ (ت)
مسئلہ ۱۳ : حدث۱ مستقل مستقل ہے اس کےلئے تیمم میں خاص اس پانی سے عجز دیکھا جائےگا جو اس کےلئے کافی ہو مطلوب جنابت سے عجز اس کےلئے تیمم جائز نہ کرے گا مثلا استقلال۲ کی صورت نہم میں جنب نے وضو کیا پھر حدث ہوا پھر سارا وضو کیا مگر ایك انگلی کی ایك پور چھوڑ دی کہ اب جنابت کےلئے اتنا پانی درکار ہے جو اعضائے وضو کے علاوہ جمیع بدن کو کافی ہو اور حدث کے لئے صرف اس پور کو۔ اب اس نے اگر صرف اتنا پانی پا یا کہ اس پور کو دھوسکے تو یہ خیال نہ کرے کہ اس سارے بدن کے لئے تو تیمم کرنا ہے ایك پور دھونا کیا ضرور ایسا کرے گا تو تیمم کافی نہ ہوگا نماز نہ ہوگی بلکہ ضرور ہے کہ اس پور کو دھولے کہ حدث مستقل سے فارغ ہوجائے جنابت کے لئے تیمم کرے۔
مسئلہ ۱۴ : اگر جنابت وحدث مستقل کسی کے قابل پانی نہ پا یا اور تیمم کیا کہ دونوں کےلئے ایك ہی کافی ہوا یہ تیمم
تنبیہ : جتنے حصہ میں فی نفسہ ضرر نہ ہو مگر اس کے دھونے سے پانی وہاں تك پہنچنا لازم ہو جس میں ضرر ہے تو وہ بھی غیر مقدور ہے کمانصوا علیہ والله سبحنہ وتعالی اعلم (جیسا کہ علما نے اس کی تصریح کی ہے اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے۔ ت)
مسئلہ ۱۲ : جس طرح ابتدا میں اس حدث کے قابل پانی موجود ہونا تیمم کو مانع نہیں یوں ہی اگر پانی اصلا نہ تھا اور تیمم کرلیا کہ جنابت وحدث دونوں کو رفع کرگیا اب پانی اتنا ملا کہ اس حدث کو کافی ہے جب بھی اس کے استعمال کی حاجت نہیں یہ تیمم حدث کے حق میں بھی نہ ٹوٹے گا کہ حدث کا کوئی حکم نہ تھا تیمم جنابت کا تھا اور اس کے قابل پانی نہیں بفضلہ عزوجل یہ تمام احکام ومسائل وتفصیلات جلائل اس فتاوی کے خصائص سے ہیں اس کے غیر میں نہ ملیں گے۔
ذکرناھا تفقھا ونرجو من ربنا اصابۃ الصواب٭والحمدلله العزیز الوھاب٭وصلی الله تعالی علی السید الاواب٭والہ وصحبہ وامتہ الی یوم الحساب٭
ہم نے یہ تفقہابیان کیے اور ہمیں اپنے رب سے امید ہے کہ صواب ودرستی کو ہم نے پالیا اور تمام تعریف عزت والے بہت عطا فرمانے والے خدا کےلئے ہے۔ اور خدائے برتر کی طرف سے درود ہو بہت رجوع لانے والے آقا ان کی آل ان کے اصحاب اور ان کی امت پر روز حساب تک۔ (ت)
مسئلہ ۱۳ : حدث۱ مستقل مستقل ہے اس کےلئے تیمم میں خاص اس پانی سے عجز دیکھا جائےگا جو اس کےلئے کافی ہو مطلوب جنابت سے عجز اس کےلئے تیمم جائز نہ کرے گا مثلا استقلال۲ کی صورت نہم میں جنب نے وضو کیا پھر حدث ہوا پھر سارا وضو کیا مگر ایك انگلی کی ایك پور چھوڑ دی کہ اب جنابت کےلئے اتنا پانی درکار ہے جو اعضائے وضو کے علاوہ جمیع بدن کو کافی ہو اور حدث کے لئے صرف اس پور کو۔ اب اس نے اگر صرف اتنا پانی پا یا کہ اس پور کو دھوسکے تو یہ خیال نہ کرے کہ اس سارے بدن کے لئے تو تیمم کرنا ہے ایك پور دھونا کیا ضرور ایسا کرے گا تو تیمم کافی نہ ہوگا نماز نہ ہوگی بلکہ ضرور ہے کہ اس پور کو دھولے کہ حدث مستقل سے فارغ ہوجائے جنابت کے لئے تیمم کرے۔
مسئلہ ۱۴ : اگر جنابت وحدث مستقل کسی کے قابل پانی نہ پا یا اور تیمم کیا کہ دونوں کےلئے ایك ہی کافی ہوا یہ تیمم
جدا جدا اپنی شرط کا پابند رہے گا اگر اتنا پانی پا یا کہ حدث کو کافی ہے اور جنابت کو کافی نہیں حدث کے حق میں تیمم ٹوٹ جائے گا اسے دھونا لازم ہوگا بخلاف صورت مسئلہ۱۲ کہ اس میں تیمم صورۃ ومعنی ہر طرح ایك تھا تو حدث کےلئے کافی پانی سے نہ جائے گا جب تك جنابت کو کافی نہ ہو۔
مسئلہ ۱۵ : جنابت کی تطہیر اگرچہ تیمم سے ہوئی ہو پانی سے کوئی حصہ نہ دھو یا ہو اس کے بعد جو حدث ہوگا تمام وکمال مطلقا مستقل رہے گا کہ جنابت رفع ہوچکی معدوم میں موجود کا اندراج کیا معنی مثلا کسی۱ مریض کو نہانا مضر ہے وضو مضر نہیں اسے جنابت ہوئی اور حدث بھی اسے فقط تیمم کا حکم تھا تیمم کرلیا اب پھر حدث ہوا اور وہ یہ خیال کرے کہ مجھے تو حدث کےلئے بھی تیمم ہی کافی ہوا تھا اب بھی تیمم کرلوں یہ نہیں ہوسکتا کہ جنابت کےلئے تو تیمم کرچکا وہ حدث سے نہ ٹوٹے گا جب تك دوبارہ جنابت نہ ہو اب اگر یہ تیمم جنابت کےلئے کرتا ہے لغو ہے اور اگر حدث کےلئے کرتا ہے تو وضو پر تو وہ قادر ہے اس کےلئے تیمم کیسے کرسکتا ہے لاجرم وضو لازم ہے۔
مسئلہ ۱۶ : ہاں اگر جنب نے پانی نہ پاکر تیمم کیا پھر حدث ہوا پھر قابل جنابت پانی پا یا اور استعمال نہ کیا کہ تیمم ٹوٹ گیا اور جنابت عود کر آئی اب یہ صورت اجتماع جنابت وحدث کی ہوگی اور دونوں کہاں کہاں ہیں اس کے لحاظ سے وہی صور اندراج واستقلال جاری ہوں گی جو ان میں سے پائی جائے مثلا جنابت کےلئے صرف تیمم کیا تھا پھر حدث ہوا پھر جنابت پلٹی تو اب یہ سارے بدن میں ہے جس میں اعضائے وضو بھی داخل لہذا حدث کہ مستقل تھا اب مندرج ہوگیا اورفقط قابل وضو پانی کا استعمال اسے ضرور نہ ہوگا اور اگر بعد جنابت وضو کرلیا تھا پھر پانی نہ رہا تیمم کیا پھر حدث ہوا پھر جنابت پلٹی تو اب یہ حدث مستقل ہی رہے گا کہ اعضائے وضو میں جنابت نہ رہی اور پلٹے گی اتنی ہی جتنی باقی رہی تھی وقس علیہ(اور اسی پر ق یاس کیا جائے۔ ت) یوں ہی اگر اس عود جنابت کے بعد حدث ہوا تو انہیں تفاصیل واحکام پر رہے گا اگر بعد جنابت و عود اعضائے وضو سے دونوں وقت کچھ نہ دھو یا تھا حدث بتمامہ مندرج ہوجائے گا اور اگر پہلے یا اب وضو کرلیا تھا اس کے بعد حدث ہوا بالکلیہ مستقل رہے گا اور اگر بعض اعضائے وضو دھولئے تھے تو اس قدر میں مستقل باقی میں مندرج۔
والله سبحنہ وتعالی اعلم٭وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم٭وصلی الله تعالی علی سیدنا ومولنا محمد النبی الکریم الاکرام٭الحبیب الرؤف الارأف الرحیم الارحم٭وعلی الہ وصحبہ سادۃ الامم٭ قادتنا
اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے اور اس کا علم بہت تام اور محکم ہے اس کا مجد جلیل ہے۔ اور خدائے برتر درود نازل فرمائے ہمارے آقا ومولی محمد نبی کریم اکرم حبیب مہربان مہربان تر رحیم ارحم پر اور ان کی آل واصحاب سرداران اقوام پر جو راہ راست کی جانب ہماری قیادت کرنے والے
مسئلہ ۱۵ : جنابت کی تطہیر اگرچہ تیمم سے ہوئی ہو پانی سے کوئی حصہ نہ دھو یا ہو اس کے بعد جو حدث ہوگا تمام وکمال مطلقا مستقل رہے گا کہ جنابت رفع ہوچکی معدوم میں موجود کا اندراج کیا معنی مثلا کسی۱ مریض کو نہانا مضر ہے وضو مضر نہیں اسے جنابت ہوئی اور حدث بھی اسے فقط تیمم کا حکم تھا تیمم کرلیا اب پھر حدث ہوا اور وہ یہ خیال کرے کہ مجھے تو حدث کےلئے بھی تیمم ہی کافی ہوا تھا اب بھی تیمم کرلوں یہ نہیں ہوسکتا کہ جنابت کےلئے تو تیمم کرچکا وہ حدث سے نہ ٹوٹے گا جب تك دوبارہ جنابت نہ ہو اب اگر یہ تیمم جنابت کےلئے کرتا ہے لغو ہے اور اگر حدث کےلئے کرتا ہے تو وضو پر تو وہ قادر ہے اس کےلئے تیمم کیسے کرسکتا ہے لاجرم وضو لازم ہے۔
مسئلہ ۱۶ : ہاں اگر جنب نے پانی نہ پاکر تیمم کیا پھر حدث ہوا پھر قابل جنابت پانی پا یا اور استعمال نہ کیا کہ تیمم ٹوٹ گیا اور جنابت عود کر آئی اب یہ صورت اجتماع جنابت وحدث کی ہوگی اور دونوں کہاں کہاں ہیں اس کے لحاظ سے وہی صور اندراج واستقلال جاری ہوں گی جو ان میں سے پائی جائے مثلا جنابت کےلئے صرف تیمم کیا تھا پھر حدث ہوا پھر جنابت پلٹی تو اب یہ سارے بدن میں ہے جس میں اعضائے وضو بھی داخل لہذا حدث کہ مستقل تھا اب مندرج ہوگیا اورفقط قابل وضو پانی کا استعمال اسے ضرور نہ ہوگا اور اگر بعد جنابت وضو کرلیا تھا پھر پانی نہ رہا تیمم کیا پھر حدث ہوا پھر جنابت پلٹی تو اب یہ حدث مستقل ہی رہے گا کہ اعضائے وضو میں جنابت نہ رہی اور پلٹے گی اتنی ہی جتنی باقی رہی تھی وقس علیہ(اور اسی پر ق یاس کیا جائے۔ ت) یوں ہی اگر اس عود جنابت کے بعد حدث ہوا تو انہیں تفاصیل واحکام پر رہے گا اگر بعد جنابت و عود اعضائے وضو سے دونوں وقت کچھ نہ دھو یا تھا حدث بتمامہ مندرج ہوجائے گا اور اگر پہلے یا اب وضو کرلیا تھا اس کے بعد حدث ہوا بالکلیہ مستقل رہے گا اور اگر بعض اعضائے وضو دھولئے تھے تو اس قدر میں مستقل باقی میں مندرج۔
والله سبحنہ وتعالی اعلم٭وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم٭وصلی الله تعالی علی سیدنا ومولنا محمد النبی الکریم الاکرام٭الحبیب الرؤف الارأف الرحیم الارحم٭وعلی الہ وصحبہ سادۃ الامم٭ قادتنا
اور خدائے پاك وبرتر خوب جاننے والا ہے اور اس کا علم بہت تام اور محکم ہے اس کا مجد جلیل ہے۔ اور خدائے برتر درود نازل فرمائے ہمارے آقا ومولی محمد نبی کریم اکرم حبیب مہربان مہربان تر رحیم ارحم پر اور ان کی آل واصحاب سرداران اقوام پر جو راہ راست کی جانب ہماری قیادت کرنے والے
الی الطریق الامم٭وابنہ وحزبہ وامتہ وبارك وسلم٭ابد الابدین٭والحمدلله رب العلمین٭
ہیں اور ان کے فرزند ان کے گروہ و ان کی امت پر اور برکت و سلام سے بھی نوازے ہمیشہ ہمیشہ اور تمام تعریف سارے جہانوں کے مالك خدا کےلئے ہے۔ (ت)
_______________________
ہیں اور ان کے فرزند ان کے گروہ و ان کی امت پر اور برکت و سلام سے بھی نوازے ہمیشہ ہمیشہ اور تمام تعریف سارے جہانوں کے مالك خدا کےلئے ہے۔ (ت)
_______________________
رسالہ
مجلی الشمعۃ لجامع حدث ولمعۃ ۱۳۳۶ھ
(حدث اور لمعہ رکھنے والے سے متعلق شمع افروز)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدلله الذی جلی الشمعۃ٭شمعۃ الاسلام باوفی لمعۃ٭حمدا بر یاعن الر یاء والسمعۃ٭ اذاظھر انوار من عید الجمعۃ ٭ وفتح بنورہ بصر المؤمن وسمعہ٭واتم بظھورہ قلع کل ضلال وقمعہ٭صلی الله تعالی علیہ وبارك وسلم ابد الصلاۃ وسلاما وبرکات تعم ذویہ وتجمع جمعہ٭امین۔ الله
تمام حمد خدا کےلئے جس نے شمع فروزاں کی شمع اسلام کو بھرپور تابندگی کے ساتھ جلوہ گرگیا ایسی حمد جو ر یا وسمعہ سے پاك ہو اس لئے کہ اس نے اس ذات کے انوار ظاہر کیے جس نے جمعہ کو عید بنا یا اور جس کے نور سے مومن کی بصارت وسماعت کھولی اور اس کے ظہور سے ہر گمراہی کا قلع قمع تام کیا اس ذات پر خدائے برتر کی طرف سے درود اور برکت وسلام ہو ایسا درود وسلام اور ایسی برکتیں جو حضور کے سبھی لوگوں کو عام اور ان کی پوری جماعت کو ہمہ گیر ہو الہی قبول فرما۔ (ت)
رسالہ الطلبۃ البدیعہ میں مسئلہ لمعہ کا ذکر آ یا اور اس میں تفاصیل کثیرہ ہیں کہ کتابوں میں نہ ملیں گی ان کے بیان میں یہ سطور ہیں وبالله التوفیق (اور یہ اللہ تعالی کی توفیق سے ہے۔ ت) جنب نے بدن کا کچھ حصہ دھو یا کچھ باقی رہا کہ پانی نہ رہا پھر حدث ہوا کہ موجب وضو ہے اب جو پانی ملے اسے وضو ورفع حدث میں
مجلی الشمعۃ لجامع حدث ولمعۃ ۱۳۳۶ھ
(حدث اور لمعہ رکھنے والے سے متعلق شمع افروز)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدلله الذی جلی الشمعۃ٭شمعۃ الاسلام باوفی لمعۃ٭حمدا بر یاعن الر یاء والسمعۃ٭ اذاظھر انوار من عید الجمعۃ ٭ وفتح بنورہ بصر المؤمن وسمعہ٭واتم بظھورہ قلع کل ضلال وقمعہ٭صلی الله تعالی علیہ وبارك وسلم ابد الصلاۃ وسلاما وبرکات تعم ذویہ وتجمع جمعہ٭امین۔ الله
تمام حمد خدا کےلئے جس نے شمع فروزاں کی شمع اسلام کو بھرپور تابندگی کے ساتھ جلوہ گرگیا ایسی حمد جو ر یا وسمعہ سے پاك ہو اس لئے کہ اس نے اس ذات کے انوار ظاہر کیے جس نے جمعہ کو عید بنا یا اور جس کے نور سے مومن کی بصارت وسماعت کھولی اور اس کے ظہور سے ہر گمراہی کا قلع قمع تام کیا اس ذات پر خدائے برتر کی طرف سے درود اور برکت وسلام ہو ایسا درود وسلام اور ایسی برکتیں جو حضور کے سبھی لوگوں کو عام اور ان کی پوری جماعت کو ہمہ گیر ہو الہی قبول فرما۔ (ت)
رسالہ الطلبۃ البدیعہ میں مسئلہ لمعہ کا ذکر آ یا اور اس میں تفاصیل کثیرہ ہیں کہ کتابوں میں نہ ملیں گی ان کے بیان میں یہ سطور ہیں وبالله التوفیق (اور یہ اللہ تعالی کی توفیق سے ہے۔ ت) جنب نے بدن کا کچھ حصہ دھو یا کچھ باقی رہا کہ پانی نہ رہا پھر حدث ہوا کہ موجب وضو ہے اب جو پانی ملے اسے وضو ورفع حدث میں
صرف کرے یا بقیہ جنابت کے دھونے میں یا کیا۔ یہ مسئلہ لمعہ ہے لمعہ بالضم یہاں وہ حصہ بدن ہے جو بعد جنابت سےلان آب سے رہ گیا۔
اقول : یہاں تین تقسیمیں ہیں :
تقسيم اول : بلحاظ محل لمعہ۔ اس میں سات۷ احتمال ہیں :
(۱) وہ لمعہ خود یہی اعضائے وضو ہوں انہیں کو غسل میں نہ دھو یا تھا پھر حدث بھی ہوا اور یہ صورت وہ ہے کہ کلی اور ناك میں پانی پہنچانا ہوچکا ہو ورنہ صرف ان اعضا میں جنابت نہ ہوگی جن کا وضو میں دھونا فرض ہے جس پر پانی کی کفایت و عدم کفایت کا مدار ہے کہ یہاں کافی سے وہی مراد ہے جو ادائے فرض کردے ولہذا ۱ محدث اگر اتنا پانی پائے کہ منہ ہاتھ پاؤں ایك ایك بار دھولے نہ تثلیث کو کافی ہو نہ مضمضہ واستنشاق کو تو اس پر وضو فرض ہے تیمم جائز نہیں اور بعد تیمم اتنا پانی پائے تو تیمم ٹوٹ جائے گا۔
(۲) لمعہ تمام اعضائے وضو مع ز یادت ہوں کہ وضو بھی نہ کیا اور باقی بدن کا بھی بعض حصہ نہ دھو یا تھا اگرچہ اسی قدر کہ مضمضہ واستنشاق نہ کیا تھا۔
(۳) لمعہ صرف بعض اعضائے وضو ہو یعنی ان کے سوا تمام بدن مع دہان وبینی اور ان میں سے بعض دھولیےتھے بعض باقی۔
(۴) لمہ بعض اعضائے وضو مع بعض باقی بدن ہو مثلا نصف وضو کیا اور باقی نصف بدن دھو یا یا مثلا صرف منہ دھونا اور مضمضہ باقی تھا۔
(۵) لمعہ بعض وضو مع جمیع باقی بدن ہوکہ صرف اعضائے وضو سے کچھ دھوئے۔
(۶) لمعہ اعضائے وضو سے جدا بعض باقی بدن ہو اگرچہ اسی قدر کہ پورا نہا یا اور مضمضہ واستنشاق نہ کیا۔
(۷) لمعہ جمیع باقی بدن ہوکہ صرف وضو بے مضمضہ واستنشاق کیا۔
تقسیم دوم : بنظر ترتیب حدث وتیمم و وجدان آب۔ علما نے کچھ مفصل کچھ مجمل ان شقوق کی طرف توجہ فرمائی کہ تیمم جنابت کے بعد حدث ہوا یا پہلے اور بعد ہوا تو اس کےلئے تیمم کے بعد پانی ملا یا پہلے اقول : یہاں چار۴ چیزیں ہیں:
(i) تیمم جنابت
(ii) حدث
(iii) تیمم حدث
(iv) وجدان آب
اقول : یہاں تین تقسیمیں ہیں :
تقسيم اول : بلحاظ محل لمعہ۔ اس میں سات۷ احتمال ہیں :
(۱) وہ لمعہ خود یہی اعضائے وضو ہوں انہیں کو غسل میں نہ دھو یا تھا پھر حدث بھی ہوا اور یہ صورت وہ ہے کہ کلی اور ناك میں پانی پہنچانا ہوچکا ہو ورنہ صرف ان اعضا میں جنابت نہ ہوگی جن کا وضو میں دھونا فرض ہے جس پر پانی کی کفایت و عدم کفایت کا مدار ہے کہ یہاں کافی سے وہی مراد ہے جو ادائے فرض کردے ولہذا ۱ محدث اگر اتنا پانی پائے کہ منہ ہاتھ پاؤں ایك ایك بار دھولے نہ تثلیث کو کافی ہو نہ مضمضہ واستنشاق کو تو اس پر وضو فرض ہے تیمم جائز نہیں اور بعد تیمم اتنا پانی پائے تو تیمم ٹوٹ جائے گا۔
(۲) لمعہ تمام اعضائے وضو مع ز یادت ہوں کہ وضو بھی نہ کیا اور باقی بدن کا بھی بعض حصہ نہ دھو یا تھا اگرچہ اسی قدر کہ مضمضہ واستنشاق نہ کیا تھا۔
(۳) لمعہ صرف بعض اعضائے وضو ہو یعنی ان کے سوا تمام بدن مع دہان وبینی اور ان میں سے بعض دھولیےتھے بعض باقی۔
(۴) لمہ بعض اعضائے وضو مع بعض باقی بدن ہو مثلا نصف وضو کیا اور باقی نصف بدن دھو یا یا مثلا صرف منہ دھونا اور مضمضہ باقی تھا۔
(۵) لمعہ بعض وضو مع جمیع باقی بدن ہوکہ صرف اعضائے وضو سے کچھ دھوئے۔
(۶) لمعہ اعضائے وضو سے جدا بعض باقی بدن ہو اگرچہ اسی قدر کہ پورا نہا یا اور مضمضہ واستنشاق نہ کیا۔
(۷) لمعہ جمیع باقی بدن ہوکہ صرف وضو بے مضمضہ واستنشاق کیا۔
تقسیم دوم : بنظر ترتیب حدث وتیمم و وجدان آب۔ علما نے کچھ مفصل کچھ مجمل ان شقوق کی طرف توجہ فرمائی کہ تیمم جنابت کے بعد حدث ہوا یا پہلے اور بعد ہوا تو اس کےلئے تیمم کے بعد پانی ملا یا پہلے اقول : یہاں چار۴ چیزیں ہیں:
(i) تیمم جنابت
(ii) حدث
(iii) تیمم حدث
(iv) وجدان آب
ان کے اختلاف ترتیب میں عقلی احتمال چوبیس۲۴ہیں لیکن یہاں چند نکتے ہیں کہ ان میں سے بہت کو کم کردیں گے۔ اولا : وجدان آب کے بعد فرض صورت کا مرتبہ نہیں بلکہ بیان حکم کا کہ پانی پا یا تو کیا کرے
ولھذا لما ذکر الامام الاسبیجابی فی شرح الطحاوی ما اذا وجد الماء بعد التیمم للجنابۃ لم یزد علی انہ ان کفاہ غسل والا فتیممہ باق ۔
اسی لئے جب امام اسبیجابی نے شرح طحاوی میں تیمم جنابت کے بعد پانی ملنے کی صورت بیان کی تو اس سے ز یادہ نہ کہا کہ “ وہ پانی اگر کافی ہو تو غسل کرے ورنہ اس کا تیمم باقی ہے۔ (ت)
تو چوبیس۲۴ میں وہ چھ۶ جن کی ابتدا میں وجدان آب ہے صرف ایك رہی کہ جنب نے ابھی نہ تیمم کیا تھا نہ حدث ہوا کہ پانی پا یا یوں ہی باقی ۱۸ میں جہاں وجدان آب وسط میں آئے تصو یر اس پر ختم کردی جائے کہ رباعی کی جگہ ثلاثی یا ثنائی رہ جائے۔
ثانیا : مذہب صحیح۱ ومعتمد پر نیت تیمم میں تعیین حدث وجنابت لغو ہے تو باقی ۱۸ میں وہ چھ۶جن کی ابتدا میں تیمم جنابت ہے اور وہ چھ۶جن کے آغاز میں تیمم حدث ہے متحد ہیں اور اگر تعیین ہی کیجئے تو تیمم حدث پیش ازحدث باطل ہے یوں بھی یہ چھ۶نکل جائیں گے۔
ثالثا : جس ترتیب میں دونوں تیمم متصل واقع ہوں ایك واجب الحذف ہے کہ تیمم۲ بعد تیمم لغو ہے یوں ان ۱۸ سے پانچ رہ جائیں گی اور اس ایك سے مل کر ۶۔ ایك یہ کہ بعد جنابت پانی پالیا ابھی تیمم و حدث کچھ نہ ہوا تھا دوسری یہ کہ تیمم جنابت کے بعد پا یا ابھی حدث نہ تھا یہ دو۲یہاں قابل لحاظ نہیں کہ ان میں حدث وجنابت کا اجتماع ہی نہیں۔ اور ان کا حکم خود ظاہر پہلی میں اگر پانی غسل کو کافی ہے غسل کرے ورنہ تیمم دوسری میں اگر پانی کافی ہے تیمم ٹوٹ گیا نہائے ورنہ نہیں باقی چار۴ یہ ہیں :
(۱) حدث کے بعد پانی پا یا ابھی تیمم نہ کیا تھا یہ دوم متروك کی طرح ثنائی ہے یعنی ان چار۴چیزوں سے اس میں دو۲ہیں۔
(۲) حدث ہوا پھر تیمم کیا پھر پانی پا یا۔
(۳) تیمم کیا پھر حدث ہوا پھر پانی پا یا یہ دونوں ثلاثی ہیں۔
(۴) تیمم کیا پھر حدث ہوا پھر تیمم کیا پھر پانی پا یا یہ رباعی ہے۔
ثم اقول : مسئلہ لمعہ میں معظم مقصود یہ بتانا ہے کہ حدث وجنابت دونوں جمع ہوں اور پانی ایك کے
ولھذا لما ذکر الامام الاسبیجابی فی شرح الطحاوی ما اذا وجد الماء بعد التیمم للجنابۃ لم یزد علی انہ ان کفاہ غسل والا فتیممہ باق ۔
اسی لئے جب امام اسبیجابی نے شرح طحاوی میں تیمم جنابت کے بعد پانی ملنے کی صورت بیان کی تو اس سے ز یادہ نہ کہا کہ “ وہ پانی اگر کافی ہو تو غسل کرے ورنہ اس کا تیمم باقی ہے۔ (ت)
تو چوبیس۲۴ میں وہ چھ۶ جن کی ابتدا میں وجدان آب ہے صرف ایك رہی کہ جنب نے ابھی نہ تیمم کیا تھا نہ حدث ہوا کہ پانی پا یا یوں ہی باقی ۱۸ میں جہاں وجدان آب وسط میں آئے تصو یر اس پر ختم کردی جائے کہ رباعی کی جگہ ثلاثی یا ثنائی رہ جائے۔
ثانیا : مذہب صحیح۱ ومعتمد پر نیت تیمم میں تعیین حدث وجنابت لغو ہے تو باقی ۱۸ میں وہ چھ۶جن کی ابتدا میں تیمم جنابت ہے اور وہ چھ۶جن کے آغاز میں تیمم حدث ہے متحد ہیں اور اگر تعیین ہی کیجئے تو تیمم حدث پیش ازحدث باطل ہے یوں بھی یہ چھ۶نکل جائیں گے۔
ثالثا : جس ترتیب میں دونوں تیمم متصل واقع ہوں ایك واجب الحذف ہے کہ تیمم۲ بعد تیمم لغو ہے یوں ان ۱۸ سے پانچ رہ جائیں گی اور اس ایك سے مل کر ۶۔ ایك یہ کہ بعد جنابت پانی پالیا ابھی تیمم و حدث کچھ نہ ہوا تھا دوسری یہ کہ تیمم جنابت کے بعد پا یا ابھی حدث نہ تھا یہ دو۲یہاں قابل لحاظ نہیں کہ ان میں حدث وجنابت کا اجتماع ہی نہیں۔ اور ان کا حکم خود ظاہر پہلی میں اگر پانی غسل کو کافی ہے غسل کرے ورنہ تیمم دوسری میں اگر پانی کافی ہے تیمم ٹوٹ گیا نہائے ورنہ نہیں باقی چار۴ یہ ہیں :
(۱) حدث کے بعد پانی پا یا ابھی تیمم نہ کیا تھا یہ دوم متروك کی طرح ثنائی ہے یعنی ان چار۴چیزوں سے اس میں دو۲ہیں۔
(۲) حدث ہوا پھر تیمم کیا پھر پانی پا یا۔
(۳) تیمم کیا پھر حدث ہوا پھر پانی پا یا یہ دونوں ثلاثی ہیں۔
(۴) تیمم کیا پھر حدث ہوا پھر تیمم کیا پھر پانی پا یا یہ رباعی ہے۔
ثم اقول : مسئلہ لمعہ میں معظم مقصود یہ بتانا ہے کہ حدث وجنابت دونوں جمع ہوں اور پانی ایك کے
حوالہ / References
شرح الطحاوی للاسبیجابی
قابل تو اسے کس طرف صرف کرے باقی صور تکمیل اقسام کے لئے ہیں یہ سوال وہیں عائد ہوگا جہاں حدث مستقل ہوکہ حدث مندرج اپنا کوئی حکم ہی نہیں رکھتا نہ وہ اپنے لئے پانی کا طالب اور ہم رسالہ الطلبۃ البدیعہ میں واضح کرچکے کہ جنب کا حدث مستقل نہ ہوگا مگر جبکہ کل یا بعض اعضائے وضو سے پانی یا مٹی سے جنابت کے زوال کلی عـــہ یا موقت کے بعد حادث ہو اور حدث جب حادث ہوگا کل اعضائے وضو پر طاری ہوگا تو وہ صورت جس پر اس مسئلہ لمعہ میں کلام ہے اقسام مسطورہ رسالہ مذکورہ سے صورت اولی کے اقسام پر ہے جس میں حدث کل اعضائے وضو میں تھا اس کی آٹھ قسمیں تھیں جنابت کل یا بعض اعضائے وضو میں تنہا یا مع بعض یا کل باقی بدن ہو یا اعضائے وضو میں اصلا نہ ہو صرف بعض یا کل باقی بدن میں ہو ان میں سے قسم سوم کہ جنابت کل اعضائے وضو مع جمیع باقی بدن میں ہو یہاں نہیں کہ کلام لمعہ میں ہے یہ لمعہ نہ ہوا سارے بدن میں جنابت ہوئی باقی سات۷یہی سات۷ہیں جو ابھی تقسیم اول میں مذکور ہوئیں۔ یہ ان چار۴ انواع تقسیم دوم سے مل کر اٹھائیس۲۸ہوئیں مگر ان میں چار۴وہ ہیں جن میں حدث اصلا مستقل نہیں یعنی تقسیم اول کی دو۲ قسم پیشن جن میں جنابت جمیع اعضائے وضو میں ہے تقسیم دوم کی دو۲ نوع اول سے مل کر جن میں حدث تیمم جنابت سے پہلے ہے لہذا یہ چار۴ اس مسئلہ میں ملحوظ نہیں۔
اقول : اور ان کا حکم ظاہر پانی لمعہ کےلئے کافی دیکھا جائے گا اگر ہے اس کا دھونا واجب اس کے ساتھ حدث خود ہی دھل جائے گا ولہذا پہلی صورت میں کہ جنابت صرف کل اعضائے وضو میں تھی وضو کے قابل پانی پانے سے وضو واجب ہوگا نہ حدث بلکہ جنابت کےلئے اور اگر پانی لمعہ کو کافی نہیں تو استعمال اصلا ضروری نہیں اگرچہ وضو کےلئے کافی ہو ہاں تقلیل لمعہ کےلئے اسے استعمال کرے گا جس میں اختیار رہے گا کہ خواہ وضو کرے خواہ باقی بدن میں جو لمعہ ہے اسے دھولے خواہ بعض وہ اور بعض اعضائے وضو دھولے اور اگر پانی ان میں ہر ایك کے بعد بچے تو چاہے باقی بدن کا لمعہ دھوئے اور کچھ اعضائے وضو یا وضو پورا کرے اور کچھ لمعہ دھوئے ہاں دونوں صورتوں میں وضو اولی ہے کہ ادائے سنت ہے کماتقدم عن الکافی وشرح الز یادات للعتابی فی الطلبۃ البدیعۃ (جیسا کہ کافی اور عتابی کی شرح زیادات کے حوالے سے الطلبۃ البدیعۃ میں گزرا۔ ت) باقی رہیں چوبیس۲۴ ان میں اٹھارہ۱۸ کا حدث مطلقا مستقل ہے یعنی تقسیم اول کی ساتوں قسمیں تقسیم دوم کی اخیرین سے مل کر کہ چودہ۱۴ ہوئیں اس لئے کہ حدث بعد تیمم ہمیشہ مستقل ہوتا ہے نیز تقسیم اول کی دو قسم اخیر دوم کی اولین سے مل کر چار ہوئیں اس لئے کہ یہاں جنابت خود ہی اعضائے وضو میں نہیں تو حدث اگرچہ اس کے
عــہ : بعد جنابت اگر پورا وضو کرلیا کل اعضائے وضو سے جنابت کا زوال کلی ہوگیا اور بعض دھلے تو بعض سے اور اگر صرف تیمم کیا تو کل اعضا سے وقت وجدان آب تك زوال ہوا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اقول : اور ان کا حکم ظاہر پانی لمعہ کےلئے کافی دیکھا جائے گا اگر ہے اس کا دھونا واجب اس کے ساتھ حدث خود ہی دھل جائے گا ولہذا پہلی صورت میں کہ جنابت صرف کل اعضائے وضو میں تھی وضو کے قابل پانی پانے سے وضو واجب ہوگا نہ حدث بلکہ جنابت کےلئے اور اگر پانی لمعہ کو کافی نہیں تو استعمال اصلا ضروری نہیں اگرچہ وضو کےلئے کافی ہو ہاں تقلیل لمعہ کےلئے اسے استعمال کرے گا جس میں اختیار رہے گا کہ خواہ وضو کرے خواہ باقی بدن میں جو لمعہ ہے اسے دھولے خواہ بعض وہ اور بعض اعضائے وضو دھولے اور اگر پانی ان میں ہر ایك کے بعد بچے تو چاہے باقی بدن کا لمعہ دھوئے اور کچھ اعضائے وضو یا وضو پورا کرے اور کچھ لمعہ دھوئے ہاں دونوں صورتوں میں وضو اولی ہے کہ ادائے سنت ہے کماتقدم عن الکافی وشرح الز یادات للعتابی فی الطلبۃ البدیعۃ (جیسا کہ کافی اور عتابی کی شرح زیادات کے حوالے سے الطلبۃ البدیعۃ میں گزرا۔ ت) باقی رہیں چوبیس۲۴ ان میں اٹھارہ۱۸ کا حدث مطلقا مستقل ہے یعنی تقسیم اول کی ساتوں قسمیں تقسیم دوم کی اخیرین سے مل کر کہ چودہ۱۴ ہوئیں اس لئے کہ حدث بعد تیمم ہمیشہ مستقل ہوتا ہے نیز تقسیم اول کی دو قسم اخیر دوم کی اولین سے مل کر چار ہوئیں اس لئے کہ یہاں جنابت خود ہی اعضائے وضو میں نہیں تو حدث اگرچہ اس کے
عــہ : بعد جنابت اگر پورا وضو کرلیا کل اعضائے وضو سے جنابت کا زوال کلی ہوگیا اور بعض دھلے تو بعض سے اور اگر صرف تیمم کیا تو کل اعضا سے وقت وجدان آب تك زوال ہوا ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
تیمم سے پہلے ہو مستقل ہوگا۔ باقی چھ۶ یعنی تقسیم اول کی ۳۔ ۴۔ ۵ تقسیم دوم کی ۱۔ ۲ سے مل کر ان میں پورا حدث مستقل نہیں بلکہ اتنے ہی حصہ اعضائے وضو کا جو بعدجنابت دھل چکے تھے ان ۱۸ میں حدث پورے وضو کا پانی چاہے گا اور ان چھ۶ میں صرف اتنا جو اس حصہ کو دھو دے جس میں یہ مستقل ہے۔ یہ یاد رکھیے کہ آگے کام دے گا۔
تقسیم سوم : پانی کہ پا یا کس مقدار کا تھا اس میں علماء نے پانچ اصناف فرمائیں :
(۱) صرف وضو کوکافی
(۲) صرف لمعہ کوکافی
(۳) مجموع کوکافی
(۴) ہر ایك کو جدا جدا کافی کہ چاہے وضو کرلے یا لمعہ دھولے دونوں نہ ہوسکیں۔
(۵) اصلا کافی نہیں اکثر کتب مثل(۱) شرح طحاوی و(۲) خزانۃ المفتین و(۳) منیہ و(۴)حلیہ و(۵) شرح وقایہ و(۶) ردالمحتارمیں وضو و لمعہ سے تعبیر فرمائی۔
وانا اقول : تعبیر۱ حدث وجنابت سے جس طرح خلاصہ میں فرمائی اس سے اولی ہے اور حق۲ تعبیر تقےید حدث بمستقل ورنہ اطلاق حدث سے کل حدث متبادر او ہم ابھی ثابت کرچکے کہ یہاں چھ۶ صورتوں میں حدث کا صرف ایك پارہ مستقل ہوتا ہے اس کےلئے وضو کو کافی پانی درکار نہیں بلکہ اتنے ٹکڑے کو۔
والکافی(۳) والھند یۃ وان عبرا بالحدث واللمعۃ فقدقالا لوصرفہ الی الوضوء جاز اتفاقا ۔
وقال فی الکافی فی الاخر ثم وجد ماء یکفی لاحدھما ای لبقیۃ بدنہ اولمواضع وضوئہ اھ۔
وقال فی السراج الوھاج ومنحۃ الخالق فی مسألۃ اللمعۃ لوتوضأ بذلك الماء لم یجز اھ۔
وصدر(۴)الشریعۃ وان عبر فی موضعین بالحدث والجنابۃ
اور کافی وہندیہ میں اگرچہ حدث ولمعہ سے تعبیر کی پھر بھی یہ فرما یا “ اسے اگر وضو میں صرف کیا تو بالاتفاق جائز ہے “ ۔ اور کافی کے اندر آخر میں فرما یا “ پھر اتنا پانی پا یا جو دونوں میں سے ایك کےلئے کافی ہے یعنی بقیہ بدن کے لئے یا مواضع وضو کےلئے “ اھ سراج وہاج اور منحۃ الخالق میں لمعہ کے مسئلہ میں فرما یا “ اگر اس پانی سے وضو کیا تو جائز نہیں “ اھ
اور صدر الشریعۃ نے اگرچہ دو جگہ حدث وجنابت سے
تقسیم سوم : پانی کہ پا یا کس مقدار کا تھا اس میں علماء نے پانچ اصناف فرمائیں :
(۱) صرف وضو کوکافی
(۲) صرف لمعہ کوکافی
(۳) مجموع کوکافی
(۴) ہر ایك کو جدا جدا کافی کہ چاہے وضو کرلے یا لمعہ دھولے دونوں نہ ہوسکیں۔
(۵) اصلا کافی نہیں اکثر کتب مثل(۱) شرح طحاوی و(۲) خزانۃ المفتین و(۳) منیہ و(۴)حلیہ و(۵) شرح وقایہ و(۶) ردالمحتارمیں وضو و لمعہ سے تعبیر فرمائی۔
وانا اقول : تعبیر۱ حدث وجنابت سے جس طرح خلاصہ میں فرمائی اس سے اولی ہے اور حق۲ تعبیر تقےید حدث بمستقل ورنہ اطلاق حدث سے کل حدث متبادر او ہم ابھی ثابت کرچکے کہ یہاں چھ۶ صورتوں میں حدث کا صرف ایك پارہ مستقل ہوتا ہے اس کےلئے وضو کو کافی پانی درکار نہیں بلکہ اتنے ٹکڑے کو۔
والکافی(۳) والھند یۃ وان عبرا بالحدث واللمعۃ فقدقالا لوصرفہ الی الوضوء جاز اتفاقا ۔
وقال فی الکافی فی الاخر ثم وجد ماء یکفی لاحدھما ای لبقیۃ بدنہ اولمواضع وضوئہ اھ۔
وقال فی السراج الوھاج ومنحۃ الخالق فی مسألۃ اللمعۃ لوتوضأ بذلك الماء لم یجز اھ۔
وصدر(۴)الشریعۃ وان عبر فی موضعین بالحدث والجنابۃ
اور کافی وہندیہ میں اگرچہ حدث ولمعہ سے تعبیر کی پھر بھی یہ فرما یا “ اسے اگر وضو میں صرف کیا تو بالاتفاق جائز ہے “ ۔ اور کافی کے اندر آخر میں فرما یا “ پھر اتنا پانی پا یا جو دونوں میں سے ایك کےلئے کافی ہے یعنی بقیہ بدن کے لئے یا مواضع وضو کےلئے “ اھ سراج وہاج اور منحۃ الخالق میں لمعہ کے مسئلہ میں فرما یا “ اگر اس پانی سے وضو کیا تو جائز نہیں “ اھ
اور صدر الشریعۃ نے اگرچہ دو جگہ حدث وجنابت سے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ ماینقص التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۹
کافی
منحۃ الخالق مع البحر ، باب التیمم ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۱۳۹
کافی
منحۃ الخالق مع البحر ، باب التیمم ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۱۳۹
غیر ان عبارتہ ابعد العبارات عن احاطۃ الاقسام لتخصیصہ الکلام بلمعۃ فی الظھر فقد اختار القسم السادس من الاقسام السبعۃ عینا وبالجملۃ الظاھر المتبادر من کلامھم رحمھم الله تعالی ورحمنا بھم قصر الکلام علی القسمین الاخیرین الذین فیھما الحدث خارج اعضاء الوضوء والله تعالی اعلم بمراد عبادہ۔
تعبیر فرما یا سوا اس کے کہ لمعہ پشت سے کلام خاص کردینے کی وجہ سے ان کی عبارت احاطہ اقسام کے معاملہ میں سب سے ز یادہ بعید ہے۔ پھر انہوں نے ساتوں اقسام میں سے قسم ششم خاص طور سے اخت یار کی بالجملہ کلمات علماء سے ظاہر متبادر یہی ہے کہ کلام ان اخیر دو قسموں میں محدود ہے جن میں حدث اعضا وضو کے باہر ہے۔ خدا ان حضرات پر رحمت فرمائے اور ان کی برکت سے ہم پر رحم فرمائے اور خدائے برتر کو اپنے بندوں کی مراد خوب معلوم ہے۔ (ت)
ثم اقول : تقسیم اول کی ہر قسم میں یہ پانچوں صنفیں نہ ہوسکیں گی۔
قسم اول میں صرف دو۲ ہوں گی کہ پانی وضو کو کافی ہے یا نہیں کہ وضو و لمعہ متحد ہیں تو پہلی عــہ۱ تین۳ صنفیں ایك ہیں اور چہارم ناممکن۔ لہذا قسم عــہ۲ اول کہ دو۲ نوع آخر سے دو۲ تھی ان دو۲ صنفوں سے چار۴ ہوئی۔
قسم دوم میں تین کہ صرف وضو کو کافی ہو یا مجموع کو کہ لمعہ ہے یا کسی کو نہیں یہاں دوم و چہارم محال تو یہ قسم دو۲ نوع آخر پھر ان تین صنفوں سے چھ۶ ہوئی۔
قسم سوم میں دو۲ نوع آخر کے ساتھ پورا حدث مستقل ہے تو کامل وضو کا طالب لہذا یہاں بھی تین۳ ہی صنفیں ہوں گی صرف لمعہ کو کافی ہو یا مجموع کو کہ وضو ہے یا کسی کو نہیں۔ یہاں اول وچہارم محال اور دو۲ نوع اول کے ساتھ بعض حدث مستقل ہے تو اپنے ہی قابل پانی چاہے گا اور اب پانچوں صنفیں ہوں گی کہ یہاں اعضائے وضو دو۲ حصے ہوگئے ایك میں جنابت ہے جو بعد جنابت نہ دھو یا تھا دوسرے میں حدث مستقل اب ہوسکتا ہے کہ پانی۱ صرف اس حدث کو کافی ہو جبکہ یہ حصہ چھوٹا ہو یا۲ صرف جنابت کو جبکہ وہ حصہ کم ہو اور دونوں صورتوں میں پانی بڑے کے قابل نہیں یا۳ پورے وضو کو کافی ہوکہ مجموعہ ہے یا۴ ہر حصے کو جدا جدا جبکہ وہ
عــہ۱ : یا یوں کہیے کہ پہلی دو بھی ناممکن صرف سوم وپنجم ہیں۔ ظاہر ہے کہ مجموع کو کافی ہونے کے یہ معنی کہ اس سے دونوں ادا ہوسکیں یہ یہاں حاصل ہے ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ : یہ اختلاف تعبیر ملحوظ رہے کہ قسم سے مراد تقسیم اول کے اقسام ہیں اور نوع سے تقسیم دوم کے اور صنف سے تقسیم سوم کے ۱۲ منہ غفرلہ (م)
تعبیر فرما یا سوا اس کے کہ لمعہ پشت سے کلام خاص کردینے کی وجہ سے ان کی عبارت احاطہ اقسام کے معاملہ میں سب سے ز یادہ بعید ہے۔ پھر انہوں نے ساتوں اقسام میں سے قسم ششم خاص طور سے اخت یار کی بالجملہ کلمات علماء سے ظاہر متبادر یہی ہے کہ کلام ان اخیر دو قسموں میں محدود ہے جن میں حدث اعضا وضو کے باہر ہے۔ خدا ان حضرات پر رحمت فرمائے اور ان کی برکت سے ہم پر رحم فرمائے اور خدائے برتر کو اپنے بندوں کی مراد خوب معلوم ہے۔ (ت)
ثم اقول : تقسیم اول کی ہر قسم میں یہ پانچوں صنفیں نہ ہوسکیں گی۔
قسم اول میں صرف دو۲ ہوں گی کہ پانی وضو کو کافی ہے یا نہیں کہ وضو و لمعہ متحد ہیں تو پہلی عــہ۱ تین۳ صنفیں ایك ہیں اور چہارم ناممکن۔ لہذا قسم عــہ۲ اول کہ دو۲ نوع آخر سے دو۲ تھی ان دو۲ صنفوں سے چار۴ ہوئی۔
قسم دوم میں تین کہ صرف وضو کو کافی ہو یا مجموع کو کہ لمعہ ہے یا کسی کو نہیں یہاں دوم و چہارم محال تو یہ قسم دو۲ نوع آخر پھر ان تین صنفوں سے چھ۶ ہوئی۔
قسم سوم میں دو۲ نوع آخر کے ساتھ پورا حدث مستقل ہے تو کامل وضو کا طالب لہذا یہاں بھی تین۳ ہی صنفیں ہوں گی صرف لمعہ کو کافی ہو یا مجموع کو کہ وضو ہے یا کسی کو نہیں۔ یہاں اول وچہارم محال اور دو۲ نوع اول کے ساتھ بعض حدث مستقل ہے تو اپنے ہی قابل پانی چاہے گا اور اب پانچوں صنفیں ہوں گی کہ یہاں اعضائے وضو دو۲ حصے ہوگئے ایك میں جنابت ہے جو بعد جنابت نہ دھو یا تھا دوسرے میں حدث مستقل اب ہوسکتا ہے کہ پانی۱ صرف اس حدث کو کافی ہو جبکہ یہ حصہ چھوٹا ہو یا۲ صرف جنابت کو جبکہ وہ حصہ کم ہو اور دونوں صورتوں میں پانی بڑے کے قابل نہیں یا۳ پورے وضو کو کافی ہوکہ مجموعہ ہے یا۴ ہر حصے کو جدا جدا جبکہ وہ
عــہ۱ : یا یوں کہیے کہ پہلی دو بھی ناممکن صرف سوم وپنجم ہیں۔ ظاہر ہے کہ مجموع کو کافی ہونے کے یہ معنی کہ اس سے دونوں ادا ہوسکیں یہ یہاں حاصل ہے ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ : یہ اختلاف تعبیر ملحوظ رہے کہ قسم سے مراد تقسیم اول کے اقسام ہیں اور نوع سے تقسیم دوم کے اور صنف سے تقسیم سوم کے ۱۲ منہ غفرلہ (م)
دونوں برابر ہوں یا کم وبیش اور پانی بڑے کو کافی ہے نہ مجموع کو یا۵ کسی کو کافی نہیں جبکہ دونوں برابر ہوں یا پانی چھوٹے سے بھی کم تو دس۱۰یہ چھ۶وہ سولہ۱۶ ہوئیں۔
قسم چہارم : چاروں نوعوں کے ساتھ پانچ ہے کہ مطلوب حدث کل وضو ہو جیسے دو۲ نوع آخر کے ساتھ یا بعض وضو جیسے دو۲ نوع اول کے ساتھ بہر تقد یر اسے مطلوب جنابت سے کہ بعض وضو وبعض باقی بدن ہے کمی بیشی مساوات ہر نسبت ممکن۔ بیشی یوں کہ جنابت میں رو وپشت سے دو۲دو۲ انگل جگہ رہی تھی ظاہر ہے کہ اعضائے ثلثہ کو اس سے بہت زائد پانی درکار ہوگا و قس علیہ تو یہ قسم بیس۲۰ ہوئے۔
قسم پنجم : ہر نوع کے ساتھ چار رہی ہے کہ تنہا جمیع باقی بدن کل محل وضو سے زائد ہے تو یہاں صنف دوم ناممکن ہے اور یہ قسم سولہ۱۶۔
قسم ششم : میں بہرحال پانچوں ہونا ظاہر کہ اعضائے وضو کو بعض باقی بدن سے ہر نسبت متصور تو یہ بھی بیس۲۰ہے۔
قسم ہفتم : میں صنف دوم محال اور مثل پنجم سولہ۱۶۔ لہذا مسئلہ لمعہ میں سب صورتیں اٹھانوے۹۸ ہوئیں کتب اکابر میں بہت کم کابیان ہے اگرچہ ظاہر متبادر اقتصار بدوقسم آخر پر رکھیں جب تو بہت کم رہیں گی حتی کہ سب سے زیادہ تفصیل والی کتاب شرح وقایہ میں ۹۸ میں سے صرف پندرہ۱۵ ورنہ احاطہ بہرحال نہیں ہوسکتا کہ اصناف ہی کا احاطہ نہ فرما یا صور درکنار تفصیل مسئلہ اس وقت دس۱۰ کتابوں سے پیش نظر شرح۱ مختصر الطحاوی للامام الاسبیجابی پھر۲ خزانۃ المفتین ۳خلاصہ ۴کافی پھر۵ہندیہ ۶منیہ ۷حلیہ پھر ۸ردالمحتار ۹سراج وہاج ۱۰صدرالشریعۃ۔ سراج سے منحۃ الخالق نے کچھ نقل کرکے باقی کا اس پر حوالہ کرد یا اور البحرالرائق نے ز یر قول مصنف لبعدہ میلا ضمنا صرف ایك صورت کی طرف اشعار فرما یا۔ منیہ نے صرف نوع اول لی اور اس میں بھی تین ہی صنفیں۔ خلاصہ نے نوع سوم پر اقتصار فرما یا۔ کافی وہندیہ نے نوع چہارم میں پانچوں اصناف اور دوم وسوم میں صرف صنف چہارم۔ شرح طحاوی وخزانۃ المفتین وحلیہ وردالمحتار نے دو۲ نوع اخیر میں پانچوں صنف۔ شرح وقایہ نے نوع دوم کا بھی اضافہ فرما یا مگر کلام کو تصریحا صرف قسم ششم سے خاص فرماد یا۔ عبارت یہ ہیں :
منیہ : جنب اغتسل وبقی لمعۃ ولیس معہ ماء تیمم للمعۃ وان وجد ماء بعد ما احدث یغسل اللمعۃ ویتیمم للحدث اذاکان الماء یکفی للمعۃ
منیہ : کسی جنب نے غسل کیا لمعہ رہ گیا اور اس کے پاس پانی نہیں تو لمعہ کےلئے تیمم کرے اور اگر حدث ہونے کے بعد پانی پاجائے تو لمعہ دھوئے اور حدث کےلئے تیمم کرے جبکہ پانی لمعہ کےلئے کفایت کرتا ہو
قسم چہارم : چاروں نوعوں کے ساتھ پانچ ہے کہ مطلوب حدث کل وضو ہو جیسے دو۲ نوع آخر کے ساتھ یا بعض وضو جیسے دو۲ نوع اول کے ساتھ بہر تقد یر اسے مطلوب جنابت سے کہ بعض وضو وبعض باقی بدن ہے کمی بیشی مساوات ہر نسبت ممکن۔ بیشی یوں کہ جنابت میں رو وپشت سے دو۲دو۲ انگل جگہ رہی تھی ظاہر ہے کہ اعضائے ثلثہ کو اس سے بہت زائد پانی درکار ہوگا و قس علیہ تو یہ قسم بیس۲۰ ہوئے۔
قسم پنجم : ہر نوع کے ساتھ چار رہی ہے کہ تنہا جمیع باقی بدن کل محل وضو سے زائد ہے تو یہاں صنف دوم ناممکن ہے اور یہ قسم سولہ۱۶۔
قسم ششم : میں بہرحال پانچوں ہونا ظاہر کہ اعضائے وضو کو بعض باقی بدن سے ہر نسبت متصور تو یہ بھی بیس۲۰ہے۔
قسم ہفتم : میں صنف دوم محال اور مثل پنجم سولہ۱۶۔ لہذا مسئلہ لمعہ میں سب صورتیں اٹھانوے۹۸ ہوئیں کتب اکابر میں بہت کم کابیان ہے اگرچہ ظاہر متبادر اقتصار بدوقسم آخر پر رکھیں جب تو بہت کم رہیں گی حتی کہ سب سے زیادہ تفصیل والی کتاب شرح وقایہ میں ۹۸ میں سے صرف پندرہ۱۵ ورنہ احاطہ بہرحال نہیں ہوسکتا کہ اصناف ہی کا احاطہ نہ فرما یا صور درکنار تفصیل مسئلہ اس وقت دس۱۰ کتابوں سے پیش نظر شرح۱ مختصر الطحاوی للامام الاسبیجابی پھر۲ خزانۃ المفتین ۳خلاصہ ۴کافی پھر۵ہندیہ ۶منیہ ۷حلیہ پھر ۸ردالمحتار ۹سراج وہاج ۱۰صدرالشریعۃ۔ سراج سے منحۃ الخالق نے کچھ نقل کرکے باقی کا اس پر حوالہ کرد یا اور البحرالرائق نے ز یر قول مصنف لبعدہ میلا ضمنا صرف ایك صورت کی طرف اشعار فرما یا۔ منیہ نے صرف نوع اول لی اور اس میں بھی تین ہی صنفیں۔ خلاصہ نے نوع سوم پر اقتصار فرما یا۔ کافی وہندیہ نے نوع چہارم میں پانچوں اصناف اور دوم وسوم میں صرف صنف چہارم۔ شرح طحاوی وخزانۃ المفتین وحلیہ وردالمحتار نے دو۲ نوع اخیر میں پانچوں صنف۔ شرح وقایہ نے نوع دوم کا بھی اضافہ فرما یا مگر کلام کو تصریحا صرف قسم ششم سے خاص فرماد یا۔ عبارت یہ ہیں :
منیہ : جنب اغتسل وبقی لمعۃ ولیس معہ ماء تیمم للمعۃ وان وجد ماء بعد ما احدث یغسل اللمعۃ ویتیمم للحدث اذاکان الماء یکفی للمعۃ
منیہ : کسی جنب نے غسل کیا لمعہ رہ گیا اور اس کے پاس پانی نہیں تو لمعہ کےلئے تیمم کرے اور اگر حدث ہونے کے بعد پانی پاجائے تو لمعہ دھوئے اور حدث کےلئے تیمم کرے جبکہ پانی لمعہ کےلئے کفایت کرتا ہو
ولایکفی للوضوء وان کان یکفی للوضوء لاللمعۃ یتوضأ ویتیمم عــہ لاجل اللمعۃ وان کان الماء یکفی لاحدھما علی الانفراد فانہ یغسل اللمعۃ ویتیمم للحدث اھ۔
خلاصہ : اغتسل وبقی لمعۃ یتیمم فان وجد الماء غسل اللمعۃ ولایتیمم فان عــہ احدث قبل غسل اللمعۃ ثم وجد الماء ان کفی ھما صرفہ الیھما وان کان لایکفی لواحد منھما یتیمم للحدث وتیممہ للجنابۃ باق یستعمل ذلك الماء فی اللمعۃ لتقلیل الجنابۃ
اور وضو کےلئے کفایت نہ کرتا ہو۔ اور اگر وضو کےلئے کفایت کرے لمعہ کے لئے نہیں تو وضو کرے اور لمعہ کی وجہ سے تیمم کرے اور اگر پانی تنہا کسی ایك کےلئے کافی ہو تو لمعہ دھوئے اور حدث کےلئے تیمم کرے اھ۔
خلاصہ غسل کیا اور لمعہ رہ گیا تو تیمم کرے پھر اگر پانی مل جائے تو لمعہ دھوئے اور تیمم نہ کرے۔ اگر لمعہ دھونے سے پہلے اسے حدث ہو پھر اسے پانی ملے اگر دونوں کےلئے کافی ہو تو دونوں میں صرف کرے اور اگر دونوں میں سے کسی کےلئے کافی نہ ہو تو حدث کےلئے تیمم کرے اور اس کا تیمم جنابت باقی ہے۔ وہ پانی تقلیل جنابت کےلئے لمعہ میں استعمال کرے گا۔
عــہ۱ : قولہ ویتیمم لاجل اللمعۃ ساقط من نسخۃ شرح علیھا الشارحان المحققان فانصرف الکلام الی ماوجد الماء بعد التیمم للمعۃ وھو ثابت فی نسخۃ المتن فوجب ان یکون الکلام فی وجدان الماء قبل التیمم لھما ولزم ان یکون المراد اللمعۃ فی غیر اعضاء الوضوء کالصورۃ الاولی فی شرح الوقا یۃ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ : قولہ احدث ای بعد التیمم للمعۃ بدلیل قولہ یتیمم الحدث وتیممہ للجنابۃ باق ۱۲ منہ غفرلہ (م)
لفظ “ ویتمم لاجل اللمعۃ “ (اور لمعہ کی وجہ سے تیمم کرے) اس نسخہ سے ساقط ہے جس پر دونوں محقق شارحوں نے شرح کی ہے تو کلام لمعہ کا تیمم کرنے کے بعد پانی پانے والی صورت کی طرف راجع ہوگیا اور یہ لفظ متن کے نسخہ میں ثابت ہے تو ضروری ہے کہ دونوں کا تیمم کرنے سے پہلے پانی ملنے کی صورت میں کلام ہو۔ اور لازم ہے کہ وہ لمعہ مراد ہو جو اعضائے وضو کے علاوہ میں ہو جیسے شرح وقایہ کی صورت اولی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
“ اسے حدث ہو “ یعنی لمعہ کا تیمم کرنے کے بعد جس پر یہ عبارت دلالت کررہی ہے : “ تو حدث کےلئے تیمم کرے اور اس کا تیمم جنابت کرے اور اس کا تیمم جنابت باقی ہے “ ۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
خلاصہ : اغتسل وبقی لمعۃ یتیمم فان وجد الماء غسل اللمعۃ ولایتیمم فان عــہ احدث قبل غسل اللمعۃ ثم وجد الماء ان کفی ھما صرفہ الیھما وان کان لایکفی لواحد منھما یتیمم للحدث وتیممہ للجنابۃ باق یستعمل ذلك الماء فی اللمعۃ لتقلیل الجنابۃ
اور وضو کےلئے کفایت نہ کرتا ہو۔ اور اگر وضو کےلئے کفایت کرے لمعہ کے لئے نہیں تو وضو کرے اور لمعہ کی وجہ سے تیمم کرے اور اگر پانی تنہا کسی ایك کےلئے کافی ہو تو لمعہ دھوئے اور حدث کےلئے تیمم کرے اھ۔
خلاصہ غسل کیا اور لمعہ رہ گیا تو تیمم کرے پھر اگر پانی مل جائے تو لمعہ دھوئے اور تیمم نہ کرے۔ اگر لمعہ دھونے سے پہلے اسے حدث ہو پھر اسے پانی ملے اگر دونوں کےلئے کافی ہو تو دونوں میں صرف کرے اور اگر دونوں میں سے کسی کےلئے کافی نہ ہو تو حدث کےلئے تیمم کرے اور اس کا تیمم جنابت باقی ہے۔ وہ پانی تقلیل جنابت کےلئے لمعہ میں استعمال کرے گا۔
عــہ۱ : قولہ ویتیمم لاجل اللمعۃ ساقط من نسخۃ شرح علیھا الشارحان المحققان فانصرف الکلام الی ماوجد الماء بعد التیمم للمعۃ وھو ثابت فی نسخۃ المتن فوجب ان یکون الکلام فی وجدان الماء قبل التیمم لھما ولزم ان یکون المراد اللمعۃ فی غیر اعضاء الوضوء کالصورۃ الاولی فی شرح الوقا یۃ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ : قولہ احدث ای بعد التیمم للمعۃ بدلیل قولہ یتیمم الحدث وتیممہ للجنابۃ باق ۱۲ منہ غفرلہ (م)
لفظ “ ویتمم لاجل اللمعۃ “ (اور لمعہ کی وجہ سے تیمم کرے) اس نسخہ سے ساقط ہے جس پر دونوں محقق شارحوں نے شرح کی ہے تو کلام لمعہ کا تیمم کرنے کے بعد پانی پانے والی صورت کی طرف راجع ہوگیا اور یہ لفظ متن کے نسخہ میں ثابت ہے تو ضروری ہے کہ دونوں کا تیمم کرنے سے پہلے پانی ملنے کی صورت میں کلام ہو۔ اور لازم ہے کہ وہ لمعہ مراد ہو جو اعضائے وضو کے علاوہ میں ہو جیسے شرح وقایہ کی صورت اولی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
“ اسے حدث ہو “ یعنی لمعہ کا تیمم کرنے کے بعد جس پر یہ عبارت دلالت کررہی ہے : “ تو حدث کےلئے تیمم کرے اور اس کا تیمم جنابت کرے اور اس کا تیمم جنابت باقی ہے “ ۔ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
منیۃ المصلی فصل فی التیمم مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۶۰
فان کفی لاحدھما دون الاخر صرف الیہ وان کفی لکل علی الانفراد یغسل اللمعۃ ویتمم للحدث اھ۔
کافی و ھندیہ : جنب اغتسل وبقی لمعۃ یتیمم فان تیمم ثم احدث تیمم للحدث فان تیمم عــہ۱ (ای للحدث) فوجد ماء یکفیھما صرفہ الیھما وان کفی معینا صرفہ الیہ والتیمم للاخر باق وان کفی واحدا غیر عین صرفہ الی اللمعۃ واعاد تیممہ للحدث عند محمد وعند ابی یوسف لایعید فان عــہ۲ لم یکن تیمم للحدث قبل وجود ھذا الماء فتیمم (ای للحدث کمافی الھند یۃ) قبل غسل اللمعۃ لم یجز عند محمد وعند ابی یوسف یجوز وان لم یکف عــہ۳ واحدا بقی تیممھا جنب
اگر ایك کےلئے کافی ہو دوسرے کےلئے نہیں تو اسی میں اسے صرف کرے اور اگر تنہا ہر ایك کےلئے کافی ہو تو لمعہ کو دھوئے اور حدث کےلئے تیمم کرے اھ
کافی وہندیہ کسی جنب نے غسل کیا اور لمعہ رہ گیا تو تیمم کرے اگر تیمم کرلیا پھر حدث ہوا تو حدث کا تیمم کرے پھر اگر حدث کا تیمم کرلینے کے بعد اتنا پانی ملا جو دونوں کو کافی ہو تو دونوں میں صرف کرے۔ اور اگر کسی ایك معین کے لئے کافی ہو تو اسی میں صرف کرے اور دوسرے کا تیمم باقی ہے۔ اور اگر کسی ایك کےلئے غیر معین طور پر کافی ہو تو اسے لمعہ میں صرف کرے اور اپنے تیمم حدث کا اعادہ کرے امام محمد کے نزدیك اور امام ابویوسف کے نزدیك اعادہ نہیں اگر یہ پانی ملنے سے پہلے حدث کا تیمم نہ کیا تھا تو لمعہ دھونے سے
عــہ : ای تیمم للمعۃ ثم احدث فتیمم لہ ثم وجد الماء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ : ای تیمم للمعۃ ثم احدث فوجد الماء قبل ان یتیمم لہ وھو یکفی لاحدھما غیر معین فان غسل اللمعۃ ثم تیمم للحدث جاز بالاتفاق وان عکس ففیہ خلاف ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ : رجع الی الکلام السابق اکمالا للتخمیس ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یعنی لمعہ کی وجہ سے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس کا تیمم کیا پھر اسے پانی ملا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
یعنی لمعہ کی وجہ سے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس کا تیمم کرنے سے پہلے پانی ملا جو دونوں میں سے ایك کےلئے غیر معین طور پر کافی ہے۔ تو اگر لمعہ دھولیا پھر حدث کا تیمم کیا تو بالاتفاق جائز ہے اور اگر برعکس کیا تو اس میں اختلاف ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
پانچویں صورت کی تکمیل کےلئے کلام سابق کی جانب رجوع کیا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
کافی و ھندیہ : جنب اغتسل وبقی لمعۃ یتیمم فان تیمم ثم احدث تیمم للحدث فان تیمم عــہ۱ (ای للحدث) فوجد ماء یکفیھما صرفہ الیھما وان کفی معینا صرفہ الیہ والتیمم للاخر باق وان کفی واحدا غیر عین صرفہ الی اللمعۃ واعاد تیممہ للحدث عند محمد وعند ابی یوسف لایعید فان عــہ۲ لم یکن تیمم للحدث قبل وجود ھذا الماء فتیمم (ای للحدث کمافی الھند یۃ) قبل غسل اللمعۃ لم یجز عند محمد وعند ابی یوسف یجوز وان لم یکف عــہ۳ واحدا بقی تیممھا جنب
اگر ایك کےلئے کافی ہو دوسرے کےلئے نہیں تو اسی میں اسے صرف کرے اور اگر تنہا ہر ایك کےلئے کافی ہو تو لمعہ کو دھوئے اور حدث کےلئے تیمم کرے اھ
کافی وہندیہ کسی جنب نے غسل کیا اور لمعہ رہ گیا تو تیمم کرے اگر تیمم کرلیا پھر حدث ہوا تو حدث کا تیمم کرے پھر اگر حدث کا تیمم کرلینے کے بعد اتنا پانی ملا جو دونوں کو کافی ہو تو دونوں میں صرف کرے۔ اور اگر کسی ایك معین کے لئے کافی ہو تو اسی میں صرف کرے اور دوسرے کا تیمم باقی ہے۔ اور اگر کسی ایك کےلئے غیر معین طور پر کافی ہو تو اسے لمعہ میں صرف کرے اور اپنے تیمم حدث کا اعادہ کرے امام محمد کے نزدیك اور امام ابویوسف کے نزدیك اعادہ نہیں اگر یہ پانی ملنے سے پہلے حدث کا تیمم نہ کیا تھا تو لمعہ دھونے سے
عــہ : ای تیمم للمعۃ ثم احدث فتیمم لہ ثم وجد الماء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ : ای تیمم للمعۃ ثم احدث فوجد الماء قبل ان یتیمم لہ وھو یکفی لاحدھما غیر معین فان غسل اللمعۃ ثم تیمم للحدث جاز بالاتفاق وان عکس ففیہ خلاف ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ : رجع الی الکلام السابق اکمالا للتخمیس ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یعنی لمعہ کی وجہ سے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس کا تیمم کیا پھر اسے پانی ملا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
یعنی لمعہ کی وجہ سے تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اس کا تیمم کرنے سے پہلے پانی ملا جو دونوں میں سے ایك کےلئے غیر معین طور پر کافی ہے۔ تو اگر لمعہ دھولیا پھر حدث کا تیمم کیا تو بالاتفاق جائز ہے اور اگر برعکس کیا تو اس میں اختلاف ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
پانچویں صورت کی تکمیل کےلئے کلام سابق کی جانب رجوع کیا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی الموضوع فی الفلوات مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۳
علی بدنہ لمعۃ احدث قبل ان یتیمم تیمم لھما واحدا فان وجد ما یکفی لاحدھما غیر عین صرفہ الی اللمعۃ ویعید التیمم للحدث عند محمد ۔
جنب معہ ماء کاف للوضوء تیمم ولم یتوضأ فان عــہ۱ توضأ وتیمم لجنابتہ فاحدث تیمم لحدثہ فان وجد ماء یکفی لاحدھما صرفہ الی الجنابۃ ویعید تیممہ للحدث عند محمد اھ۔
حلیہ وردالمحتار : الواجد للماء بعد ماتیمم للجنابۃ ثم احدث بعد ذلك علی وجھین احدھما ان یجد الماء قبل عــہ۲ ان یتیمم للحدث فالماء اما ان یکون کافیا للمعۃ والوضوء فیغسلھا ویتوضأ
پہلے (حدث کا جیسا کہ ہندیہ میں ہے) تیمم کرلیا تو امام محمد کے نزدیك جائز نہیں اور امام ابویوسف کے نزدیك جائز ہے۔ اور اگر ان میں سے کسی کے لئے کافی نہ ہو تو دونوں کا تیمم باقی ہے۔ کوئی جنب جس کے بدن پر لمعہ ہے اسے تیمم سے پہلے حدث ہوا تو دونوں کےلئے ایك ہی تیمم کرے پھر اگر اتنا پانی ملے جو غیر معین طور پر کسی ایك کےلئے کافی ہو تو اسے لمعہ میں صرف کرے اور امام محمد کے نزدیك حدث کے تیمم کا اعادہ کرے۔
کسی جنب کے پاس وضو کےلئے بقدر کفایت پانی ہے تو وہ تیمم کرے اور وضو نہ کرے پھر اگر اس نے وضو کرلیا اور جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اپنے حدث کا تیمم کرے اب اگر
عــہ۱ اقول : ای عبثا عند ھذا الامام ومن معہ اومقللا للجنابۃ عند الاکثرین اوخارجا عن الخلاف کمابحثت ۱۲ منہ غفرلہ(م)
عــہ۲ اقول : القبل یۃ(۱) لاتقتضی وجود مدخولھا قال تعالی قل لوکان البحر مدادا لکلمت ربی لنفد البحر ان تنفد کلمت ربی فالمعنی
اقول : یعنی اس امام اور ان کے موافق حضرات کے مذہب پر عبث وبے فائدہ طور پر وضو کرلیا یا اکثر حضرات کے نزدیك تقلیل جنابت کےلئے وضو کرلیا یا اختلاف سے نکلنے کےلئے وضو کیا جیسا کہ میں نے بحث کی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : قبلیت اپنے مدخول کے وجود کی مقتضی نہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے : “ تم فرماؤ اگر سمندر میرے رب کی باتوں کےلئے روشنائی ہوجائے تو سمندر ختم ہوجائے اس سے قبل کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں “ (باقی اگلے صفحہ پر)
جنب معہ ماء کاف للوضوء تیمم ولم یتوضأ فان عــہ۱ توضأ وتیمم لجنابتہ فاحدث تیمم لحدثہ فان وجد ماء یکفی لاحدھما صرفہ الی الجنابۃ ویعید تیممہ للحدث عند محمد اھ۔
حلیہ وردالمحتار : الواجد للماء بعد ماتیمم للجنابۃ ثم احدث بعد ذلك علی وجھین احدھما ان یجد الماء قبل عــہ۲ ان یتیمم للحدث فالماء اما ان یکون کافیا للمعۃ والوضوء فیغسلھا ویتوضأ
پہلے (حدث کا جیسا کہ ہندیہ میں ہے) تیمم کرلیا تو امام محمد کے نزدیك جائز نہیں اور امام ابویوسف کے نزدیك جائز ہے۔ اور اگر ان میں سے کسی کے لئے کافی نہ ہو تو دونوں کا تیمم باقی ہے۔ کوئی جنب جس کے بدن پر لمعہ ہے اسے تیمم سے پہلے حدث ہوا تو دونوں کےلئے ایك ہی تیمم کرے پھر اگر اتنا پانی ملے جو غیر معین طور پر کسی ایك کےلئے کافی ہو تو اسے لمعہ میں صرف کرے اور امام محمد کے نزدیك حدث کے تیمم کا اعادہ کرے۔
کسی جنب کے پاس وضو کےلئے بقدر کفایت پانی ہے تو وہ تیمم کرے اور وضو نہ کرے پھر اگر اس نے وضو کرلیا اور جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو اپنے حدث کا تیمم کرے اب اگر
عــہ۱ اقول : ای عبثا عند ھذا الامام ومن معہ اومقللا للجنابۃ عند الاکثرین اوخارجا عن الخلاف کمابحثت ۱۲ منہ غفرلہ(م)
عــہ۲ اقول : القبل یۃ(۱) لاتقتضی وجود مدخولھا قال تعالی قل لوکان البحر مدادا لکلمت ربی لنفد البحر ان تنفد کلمت ربی فالمعنی
اقول : یعنی اس امام اور ان کے موافق حضرات کے مذہب پر عبث وبے فائدہ طور پر وضو کرلیا یا اکثر حضرات کے نزدیك تقلیل جنابت کےلئے وضو کرلیا یا اختلاف سے نکلنے کےلئے وضو کیا جیسا کہ میں نے بحث کی ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : قبلیت اپنے مدخول کے وجود کی مقتضی نہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے : “ تم فرماؤ اگر سمندر میرے رب کی باتوں کےلئے روشنائی ہوجائے تو سمندر ختم ہوجائے اس سے قبل کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں “ (باقی اگلے صفحہ پر)
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ ماینقض التیمم پشاور ۱ / ۲۹
کافی
کافی
واما غیرکاف لاحدھما فیتیمم للحدث واماکاف یا للمعۃ دون الوضوء فیصرفہ الی اللمعۃ ویتیمم للحدث واما کافیا للوضوء دون اللمعۃ فیتوضأ ولایغسل اللمعۃ ولایتیمم لھا واما کافیا لاحدھما غیرعین فیغسل اللمعۃ ویتیمم للحدث الوجہ الثانی ان یجد الماء بعد ان یتیمم للحدث الخ فیہ ذکر الخمسۃ علی نحومامر۔
شرح طحاوی وخزانۃ المفتین المسافر اجنب فاغتسل ثم علم انہ بقی لمعۃ فانہ یتیمم لانہ لم یخرج عن الجنابۃ
اتنا پانی ملا جو دونوں میں سے کسی ایك کےلئے کافی ہے تو اسے جنابت میں صرف کرے اور امام محمد کے نزدیك تیمم حدوث کا اعادہ کرے “ اھ
حلیہ و ردالمحتار وہ جسے تیمم جنابت کے بعد پانی ملے پھر اس کے بعد اسے حدث ہو اس کی دو صورتیں ہیں ایك یہ کہ حدث کا تیمم کرنے سے پہلے پانی ملے تو پانی اگر لمعہ اور وضو دونوں کےلئے کافی ہو تو لمعہ کو دھوئے اور وضو کرے اور اگر پانی کسی ایك کے لئے ناکافی ہو تو حدث کا تیمم کرے۔ اگر لمعہ کے لئے کافی ہو وضو کےلئے نہیں تو پانی لمعہ کےلئے صرف کرے حدث کےلئے تیمم کرے اور اگر وضو کےلئے کافی ہو لمعہ کےلئے نہیں تو وضو کرے اور لمعہ کو نہ دھوئے نہ ہی اس کےلئے تیمم کرے اور اگر غیر معین طور پر کسی ایك کےلئے کافی ہو تو لمعہ کو دھوئے اور حدث کا تیمم کرے دوسری
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
تیمم للجنابۃ ثم احدث ثم وجد الماء من دون ان یتیمم قبلہ للحدث والا فالتیمم بعدہ للحدث لیس فیما اذاکفی لھما معا اوللوضوء خاصۃ وقس علیہ قول الخلاصۃ احدث قبل غسل اللمعۃ بل وقول شرح الطحاوی الاتی وجد الماء بعد ماتیمم قبل الحدث فان وجود الحدث بعدہ غیر ملحوظ فیہ وان کان لابدمنہ عاش اومات علی قول ان الموت حدث کماھو الراجح عندنا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
تو معنی یہ ہوا کہ جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا پھر پانی پا یا بغیر اس کے کہ اس سے پہلے حدث کا تیمم کیا ہو۔ ورنہ اس کے بعد حدث کا تیمم اس صورت میں نہیں جب دونوں ہی کےلئے پانی کافی ہو یا صرف وضو کےلئے کافی ہو۔ اسی پر خلاصہ کی عبارت “ لمعہ دھونے سے پہلے حدث ہوا “ کا ق یاس کیا جائے بلکہ شرح طحاوی کی آنے والی اس عبارت کا بھی “ اسے پانی ملا اس کے بعد کہ تیمم کرچکا حدث سے پہلے “ ۔ کیونکہ اس کے بعد حدث کا وجود ملحوظ نہیں اگرچہ اس سے مضر نہیں جئے یا مرے اس قول پر موت حدث ہے جیسا کہ ہمارے نزدیك راجح بھی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
شرح طحاوی وخزانۃ المفتین المسافر اجنب فاغتسل ثم علم انہ بقی لمعۃ فانہ یتیمم لانہ لم یخرج عن الجنابۃ
اتنا پانی ملا جو دونوں میں سے کسی ایك کےلئے کافی ہے تو اسے جنابت میں صرف کرے اور امام محمد کے نزدیك تیمم حدوث کا اعادہ کرے “ اھ
حلیہ و ردالمحتار وہ جسے تیمم جنابت کے بعد پانی ملے پھر اس کے بعد اسے حدث ہو اس کی دو صورتیں ہیں ایك یہ کہ حدث کا تیمم کرنے سے پہلے پانی ملے تو پانی اگر لمعہ اور وضو دونوں کےلئے کافی ہو تو لمعہ کو دھوئے اور وضو کرے اور اگر پانی کسی ایك کے لئے ناکافی ہو تو حدث کا تیمم کرے۔ اگر لمعہ کے لئے کافی ہو وضو کےلئے نہیں تو پانی لمعہ کےلئے صرف کرے حدث کےلئے تیمم کرے اور اگر وضو کےلئے کافی ہو لمعہ کےلئے نہیں تو وضو کرے اور لمعہ کو نہ دھوئے نہ ہی اس کےلئے تیمم کرے اور اگر غیر معین طور پر کسی ایك کےلئے کافی ہو تو لمعہ کو دھوئے اور حدث کا تیمم کرے دوسری
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
تیمم للجنابۃ ثم احدث ثم وجد الماء من دون ان یتیمم قبلہ للحدث والا فالتیمم بعدہ للحدث لیس فیما اذاکفی لھما معا اوللوضوء خاصۃ وقس علیہ قول الخلاصۃ احدث قبل غسل اللمعۃ بل وقول شرح الطحاوی الاتی وجد الماء بعد ماتیمم قبل الحدث فان وجود الحدث بعدہ غیر ملحوظ فیہ وان کان لابدمنہ عاش اومات علی قول ان الموت حدث کماھو الراجح عندنا ۱۲ منہ غفرلہ (م)
تو معنی یہ ہوا کہ جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا پھر پانی پا یا بغیر اس کے کہ اس سے پہلے حدث کا تیمم کیا ہو۔ ورنہ اس کے بعد حدث کا تیمم اس صورت میں نہیں جب دونوں ہی کےلئے پانی کافی ہو یا صرف وضو کےلئے کافی ہو۔ اسی پر خلاصہ کی عبارت “ لمعہ دھونے سے پہلے حدث ہوا “ کا ق یاس کیا جائے بلکہ شرح طحاوی کی آنے والی اس عبارت کا بھی “ اسے پانی ملا اس کے بعد کہ تیمم کرچکا حدث سے پہلے “ ۔ کیونکہ اس کے بعد حدث کا وجود ملحوظ نہیں اگرچہ اس سے مضر نہیں جئے یا مرے اس قول پر موت حدث ہے جیسا کہ ہمارے نزدیك راجح بھی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
رد المحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفے البانی مصر ۱ / ۱۸۷
لبقاء اللمعۃ ولواحدث قبل التیمم یتیمم تیمما واحدا للمعۃ والحدث جمیعاکما اذا احدث مرارا لایجب علیہ اکثر من وضوء واحد ولواحدث بعد التیمم ثم وجد الماء عــہ۱ فھو علی خمسۃ اوجہ اذا کفا ھما جمیعا یغسل اللمعۃ ویتوضأ للحدث وان کان لایکفیھما عــہ۲ یغسل مقدار مایکفیہ حتی تقل الجنابۃ ویتیمم ولوکفی للمعۃ عــہ۳ یغسل اللمعۃ ویتیمم للحدث ولوکفی للوضوء دون اللمعۃ ویتیمم للحدث ولوکفی للوضوء دون اللمعۃ یتوضأ ولایغتسل اللمعۃ وھو کالجنب اذاتیمم ثم احدث ثم وجد الماء یکفیہ للوضوء یتوضأ بہ ولوکفی لکل علی الانفراد لاجمیعا یغسل اللمعۃ لان الجنابۃ اغلظ ثم یتیمم للحدث ولوبدأ بالتیمم ثم غسل اللمعۃ لایجوز وعلیہ ان یتیمم بعد الغسل وفی النوادر ان علیہ عــہ۴
صورت یہ کہ حدث کا تیمم کرنے کے بعد پانی ملے۔ الخ اس میں بھی سابق کی طرح پانچ صورتیں ذکر کیں “ ۔
شرح طحاوی وخزانۃ المفتین مسافر کو جنابت لاحق ہوئی تو اس نے غسل کیا پھر اسے معلوم ہوا کہ لمعہ رہ گیا تو وہ تیمم کرے اس لئے کہ لمعہ باقی رہ جانے کی وجہ سے وہ جنابت سے باہر نہ ہوا اور اگر قبل تیمم اسے حدث ہوا تو لمعہ اور حدث دونوں کےلئے ایك ہی تیمم کرے جیسے بار بار حدث ہو تو اس پر ایك وضو سے ز یادہ واجب نہیں۔ اور اگر بعد تیمم اسے حدث ہوا پھر پانی ملا تو اس کی پانچ صورتیں ہیں : (۱) جب دونوں کو پانی کافی ہو تو لمعہ دھوئے اور حدث کےلئے وضو کرے (۲) اور اگر دونوں کےلئے غیر کافی ہو تو جس حصہ تك کفایت کرے دھولے تاکہ جنابت کم ہو اور تیمم کرے (۳) اگر لمعہ کےلئے کافی ہو تو لمعہ دھوئے اور حدث کا تیمم کرے (۴) اگر وضو کےلئے کافی ہو لمعہ کےلئے نہیں تو وضو کرے اور لمعہ نہ دھوئے اور وہ اس جنب کی طرح ہے جو تیمم کرے
عــہ۱ ای قبل یتیمم للحدث لان الوجدان بعدہ یاتی بعدہ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ ای شیئا منھما ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۳ ای دون الوضوء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۴ اقول : ای لہ ولك ان تقول ان(۱) التخییر لاینافی الوجوب کمافی کفارۃ الیمین ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یعنی حدث کا تیمم کرنے سے پہلے اس لئے کہ اس کے بعد ملنے کا ذکر آگے آرہا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
یعنی دونوں میں سے کسی کےلئے کافی نہ ہو ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
یعنی وضو کےلئے کافی نہ ہو ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : یعنی اسے اختیار ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ تخییر منافی وجوب نہیں جیسے کفارہ یمین میں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
صورت یہ کہ حدث کا تیمم کرنے کے بعد پانی ملے۔ الخ اس میں بھی سابق کی طرح پانچ صورتیں ذکر کیں “ ۔
شرح طحاوی وخزانۃ المفتین مسافر کو جنابت لاحق ہوئی تو اس نے غسل کیا پھر اسے معلوم ہوا کہ لمعہ رہ گیا تو وہ تیمم کرے اس لئے کہ لمعہ باقی رہ جانے کی وجہ سے وہ جنابت سے باہر نہ ہوا اور اگر قبل تیمم اسے حدث ہوا تو لمعہ اور حدث دونوں کےلئے ایك ہی تیمم کرے جیسے بار بار حدث ہو تو اس پر ایك وضو سے ز یادہ واجب نہیں۔ اور اگر بعد تیمم اسے حدث ہوا پھر پانی ملا تو اس کی پانچ صورتیں ہیں : (۱) جب دونوں کو پانی کافی ہو تو لمعہ دھوئے اور حدث کےلئے وضو کرے (۲) اور اگر دونوں کےلئے غیر کافی ہو تو جس حصہ تك کفایت کرے دھولے تاکہ جنابت کم ہو اور تیمم کرے (۳) اگر لمعہ کےلئے کافی ہو تو لمعہ دھوئے اور حدث کا تیمم کرے (۴) اگر وضو کےلئے کافی ہو لمعہ کےلئے نہیں تو وضو کرے اور لمعہ نہ دھوئے اور وہ اس جنب کی طرح ہے جو تیمم کرے
عــہ۱ ای قبل یتیمم للحدث لان الوجدان بعدہ یاتی بعدہ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ ای شیئا منھما ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۳ ای دون الوضوء ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۴ اقول : ای لہ ولك ان تقول ان(۱) التخییر لاینافی الوجوب کمافی کفارۃ الیمین ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یعنی حدث کا تیمم کرنے سے پہلے اس لئے کہ اس کے بعد ملنے کا ذکر آگے آرہا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
یعنی دونوں میں سے کسی کےلئے کافی نہ ہو ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
یعنی وضو کےلئے کافی نہ ہو ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : یعنی اسے اختیار ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ تخییر منافی وجوب نہیں جیسے کفارہ یمین میں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ان یبدء بایھما شاء۔
ولووجد الماء عــہ۱ بعد ماتیمم للمعۃ قبل الحدث فھو علی وجھین ان کفاہ یغسلہ وان لم یکفہ یغسل قدر مایکفیہ وتیممہ علی حالہ ولو وجد عــہ۲ بعد ما احدث وتیمم للحدث فھو علی خمسۃ اوجہ علی ماذکرنا ان کفاھما صرف الیھما وان لم یکفھما غسل اللمعۃ مقدار مایکفیہ وتیممہ علی حالہ وان کفی للمعۃ لاللوضوء یغسل اللمعۃ والتیمم علی حالہ وان کفی للوضوء دون اللمعۃ یتوضوء وان کفی لاحدھما علی الانفراد یغسل اللمعۃ وتیممہ علی حالہ وعلی
پھر اسے حدث ہو پھر پانی ملے جو وضو کےلئے کافی ہو تو اس سے وضو کرے گا (۵) اور اگر تنہا ہر ایك کےلئے کافی ہو دونوں کےلئے نہیں تو لمعہ دھوئے اس لئے کہ جنابت ز یادہ سخت ہے پھر حدث کےلئے تیمم کرے اور اگر پہلے تیمم کیا پھر لمعہ دھو یا تو جائز نہیں۔ اور اس پر یہ ہے کہ دھونے کے بعد تیمم کرے اور نوادر میں ہے کہ اس پر یہ ہے کہ دونوں میں جس سے چاہے ابتدا کرے۔ اور اگر لمعہ کےلئے تیمم کرنے کے بعد حدث سے پہلے پانی پا یا تو اس کی دو۲ صورتیں ہیں اگر اسے کافی ہو دھوئے اور اگر کافی نہ ہو تو جہاں تك کفایت کرے دھولے اور اس کا تیمم برقرار ہے اور اگر حدث ہونے اور حدث کا تیمم کرنے کے بعد پا یا تو اس کی پانچ صورتیں ہیں اسی طرح جو ہم نے بیان کیں۔ اگر دونوں کو کفایت کرے تو دونوں میں صرف کرے اور
عــہ۱ : ای تیمم لھاثم وجد الماء ولم یحدث بعد ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ : اقول : ای اجنب فتیمم للمعۃ ثم احدث فتیمم لہ ثم وجد الماء لان الوجوہ کلھا مسوقۃ فےما اذا بقی لمعۃ فتیمم لھا ولقولہ وتیمم للحدث فعلم ان التیمم للمعۃ مفروغ عنہ والا لقال تیمم لھما وقداتضح لك بکلام الحل یۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یعنی لمعہ کی وجہ سے تیمم کیا پھر اسے پانی ملا اور ابھی اسے حدث نہیں ہوا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : یعنی اسے جنابت ہوئی تو لمعہ کا تیمم کیا پھر حدث ہوا تو حدث کاتیمم کیا پھر پانی ملا اس لئے کہ تمام صورتیں اس میں جاری کی جارہی ہیں جب لمعہ رہ گیا ہو پھر اس کا تیمم کرلیا ہو اور ان کے قول وتیمم للحدث (اور حدث کا تیمم کیا) سے بھی یہ معنی متعین ہوتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ لمعہ کے تیمم سے کلام الگ ہے اور اس سے بحث نہیں ورنہ یوں کہتے تیمم لھما (دونوں کا تیمم کرلیا) اور حلیہ کی عبارت سے یہ معنی واضح ہوچکا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
ولووجد الماء عــہ۱ بعد ماتیمم للمعۃ قبل الحدث فھو علی وجھین ان کفاہ یغسلہ وان لم یکفہ یغسل قدر مایکفیہ وتیممہ علی حالہ ولو وجد عــہ۲ بعد ما احدث وتیمم للحدث فھو علی خمسۃ اوجہ علی ماذکرنا ان کفاھما صرف الیھما وان لم یکفھما غسل اللمعۃ مقدار مایکفیہ وتیممہ علی حالہ وان کفی للمعۃ لاللوضوء یغسل اللمعۃ والتیمم علی حالہ وان کفی للوضوء دون اللمعۃ یتوضوء وان کفی لاحدھما علی الانفراد یغسل اللمعۃ وتیممہ علی حالہ وعلی
پھر اسے حدث ہو پھر پانی ملے جو وضو کےلئے کافی ہو تو اس سے وضو کرے گا (۵) اور اگر تنہا ہر ایك کےلئے کافی ہو دونوں کےلئے نہیں تو لمعہ دھوئے اس لئے کہ جنابت ز یادہ سخت ہے پھر حدث کےلئے تیمم کرے اور اگر پہلے تیمم کیا پھر لمعہ دھو یا تو جائز نہیں۔ اور اس پر یہ ہے کہ دھونے کے بعد تیمم کرے اور نوادر میں ہے کہ اس پر یہ ہے کہ دونوں میں جس سے چاہے ابتدا کرے۔ اور اگر لمعہ کےلئے تیمم کرنے کے بعد حدث سے پہلے پانی پا یا تو اس کی دو۲ صورتیں ہیں اگر اسے کافی ہو دھوئے اور اگر کافی نہ ہو تو جہاں تك کفایت کرے دھولے اور اس کا تیمم برقرار ہے اور اگر حدث ہونے اور حدث کا تیمم کرنے کے بعد پا یا تو اس کی پانچ صورتیں ہیں اسی طرح جو ہم نے بیان کیں۔ اگر دونوں کو کفایت کرے تو دونوں میں صرف کرے اور
عــہ۱ : ای تیمم لھاثم وجد الماء ولم یحدث بعد ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عــہ۲ : اقول : ای اجنب فتیمم للمعۃ ثم احدث فتیمم لہ ثم وجد الماء لان الوجوہ کلھا مسوقۃ فےما اذا بقی لمعۃ فتیمم لھا ولقولہ وتیمم للحدث فعلم ان التیمم للمعۃ مفروغ عنہ والا لقال تیمم لھما وقداتضح لك بکلام الحل یۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یعنی لمعہ کی وجہ سے تیمم کیا پھر اسے پانی ملا اور ابھی اسے حدث نہیں ہوا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
اقول : یعنی اسے جنابت ہوئی تو لمعہ کا تیمم کیا پھر حدث ہوا تو حدث کاتیمم کیا پھر پانی ملا اس لئے کہ تمام صورتیں اس میں جاری کی جارہی ہیں جب لمعہ رہ گیا ہو پھر اس کا تیمم کرلیا ہو اور ان کے قول وتیمم للحدث (اور حدث کا تیمم کیا) سے بھی یہ معنی متعین ہوتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ لمعہ کے تیمم سے کلام الگ ہے اور اس سے بحث نہیں ورنہ یوں کہتے تیمم لھما (دونوں کا تیمم کرلیا) اور حلیہ کی عبارت سے یہ معنی واضح ہوچکا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
قیاس قول محمد یتیمم اھ
شرح وقا یۃ اغتسل الجنب ولم یصل الماء لمعۃ ظھرہ وفنی الماء واحدث حدثا یوجب الوضوء فتیمم لھما ثم وجد من الماء مایکفیھما بطل تیممہ فی حق کل واحد منھما وان لم یکف لاحدھما بقی فی حقھما وان کفی لاحدھما بعینہ غسلہ ویبقی التیمم فی حق الاخر وان کفی لکل منفردا غسل اللمعۃ ھذا اذاتیمم للحدثین واحدا اما اذا تیمم للجنابۃ ثم احدث فتیمم للحدث ثم وجد الماء فکذا فی الوجوہ المذکورۃ وان تیمم للجنابۃ ثم احدث ولم یتیمم للحدث فوجد الماء الخ وفیہ ذکر الخمسۃ نحومامر۔
اگر دونوں کے لئے غیر کافی ہو تو جہاں تك کفایت کرے دھولے اور اس کا تیمم برقرار ہے اور اگر لمعہ کےلئے کافی ہو وضو کےلئے نہیں تو لمعہ دھوئے اور تیمم برقرار ہے اور اگر وضوکےلئے کافی ہو لمعہ کےلئے نہیں تو وضو کرے اور اگر تنہا کسی ایك کےلئے کافی ہو تو لمعہ دھوئے اور اس کا تیمم برقرار ہے اور امام محمد کے قول کے قیاس پر تیمم کرے “ اھ۔ شرح وقایہ جنب نے غسل کیا اور پانی اس کی پیٹھ کے لمعہ تك نہ پہنچا اور پانی ختم ہوگیا اور اسے وضو واجب کرنے والا کوئی حدث ہوا تو اس نے دونوں کا تیمم کیا پھر اسے اتنا پانی مل گیا جو دونوں کےلئے کافی ہو تو اس کا تیمم دونوں میں سے ہر ایك کے حق میں باطل ہوگیا اور اگر کسی کےلئے کافی نہ ہو تو دونوں کے حق میں باقی رہا اور اگر معین طور پر ایك کےلئے کافی ہو تو اسے دھوئے اور دوسرے کے حق میں تیمم باقی رہے گا اور اگر تنہا ہر ایك کے لئے کافی ہو تو لمعہ دھوئے یہ اس صورت میں ہے جب دونوں حدثوں کےلئے ایك ہی تیمم کیا ہو لیکن جب جنابت کا تیمم کرلیا پھر حدث ہوا تو حدث کا تیمم کیا پھر پانی ملا تو مذکورہ صورتوں میں حکم وہی ہے اور اگر جنابت کا تیمم کرلیا پھر حدث ہوا اور حدث کا تیمم نہ کیا پھر پانی ملا الخ اس میں بھی پانچ صورتیں اسی طرح ذکر کی ہیں جو گزریں۔
توضیحات مصنف : فقیر غفرلہ المولی القد یر چاہتا ہے کہ بتوفیق الہی عزوجل جملہ اٹھانوے۹۸ صور مع احکام مبین کرے ان کےلئے یہ تصو یر رکھیں کہ اقسام سبعہ پیشانی پر ہوں اور ہر پیشانی کے تحت میں
شرح وقا یۃ اغتسل الجنب ولم یصل الماء لمعۃ ظھرہ وفنی الماء واحدث حدثا یوجب الوضوء فتیمم لھما ثم وجد من الماء مایکفیھما بطل تیممہ فی حق کل واحد منھما وان لم یکف لاحدھما بقی فی حقھما وان کفی لاحدھما بعینہ غسلہ ویبقی التیمم فی حق الاخر وان کفی لکل منفردا غسل اللمعۃ ھذا اذاتیمم للحدثین واحدا اما اذا تیمم للجنابۃ ثم احدث فتیمم للحدث ثم وجد الماء فکذا فی الوجوہ المذکورۃ وان تیمم للجنابۃ ثم احدث ولم یتیمم للحدث فوجد الماء الخ وفیہ ذکر الخمسۃ نحومامر۔
اگر دونوں کے لئے غیر کافی ہو تو جہاں تك کفایت کرے دھولے اور اس کا تیمم برقرار ہے اور اگر لمعہ کےلئے کافی ہو وضو کےلئے نہیں تو لمعہ دھوئے اور تیمم برقرار ہے اور اگر وضوکےلئے کافی ہو لمعہ کےلئے نہیں تو وضو کرے اور اگر تنہا کسی ایك کےلئے کافی ہو تو لمعہ دھوئے اور اس کا تیمم برقرار ہے اور امام محمد کے قول کے قیاس پر تیمم کرے “ اھ۔ شرح وقایہ جنب نے غسل کیا اور پانی اس کی پیٹھ کے لمعہ تك نہ پہنچا اور پانی ختم ہوگیا اور اسے وضو واجب کرنے والا کوئی حدث ہوا تو اس نے دونوں کا تیمم کیا پھر اسے اتنا پانی مل گیا جو دونوں کےلئے کافی ہو تو اس کا تیمم دونوں میں سے ہر ایك کے حق میں باطل ہوگیا اور اگر کسی کےلئے کافی نہ ہو تو دونوں کے حق میں باقی رہا اور اگر معین طور پر ایك کےلئے کافی ہو تو اسے دھوئے اور دوسرے کے حق میں تیمم باقی رہے گا اور اگر تنہا ہر ایك کے لئے کافی ہو تو لمعہ دھوئے یہ اس صورت میں ہے جب دونوں حدثوں کےلئے ایك ہی تیمم کیا ہو لیکن جب جنابت کا تیمم کرلیا پھر حدث ہوا تو حدث کا تیمم کیا پھر پانی ملا تو مذکورہ صورتوں میں حکم وہی ہے اور اگر جنابت کا تیمم کرلیا پھر حدث ہوا اور حدث کا تیمم نہ کیا پھر پانی ملا الخ اس میں بھی پانچ صورتیں اسی طرح ذکر کی ہیں جو گزریں۔
توضیحات مصنف : فقیر غفرلہ المولی القد یر چاہتا ہے کہ بتوفیق الہی عزوجل جملہ اٹھانوے۹۸ صور مع احکام مبین کرے ان کےلئے یہ تصو یر رکھیں کہ اقسام سبعہ پیشانی پر ہوں اور ہر پیشانی کے تحت میں
حوالہ / References
شرح الطحاوی للاسبیجابی وخزانۃ المفتین
شرح الوقا یۃ ماینقض التیمم المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۴
شرح الوقا یۃ ماینقض التیمم المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۴
چاروں نوعیں ان رموز حروف میں لکھیں :
ت : تیمم جنابت
ح : حدث
م : تیمم حدث
و : وجدان آب
تو ح و کا مطلب یہ ہوا کہ جنابت کا ابھی تیمم نہ کیا تھا کہ حدث ہوا اور اب بھی تیمم نہ کیا تھا کہ پانی پا یا اور ت ح و یہ کہ جنابت کے بعد تیمم کیا پھر حدث ہوا پھر پانی ملا وقس علیہ پھر ان میں ہر ایك کو اتنے اصناف پر منقسم کریں جتنی اس میں محتمل ہیں یہاں لمعہ ووضو وہر دو وہریك وہیچ سے پانی کی کفایت مقصود ہے کہ لمعہ کو کافی ہے یا وضو کو یا دونوں کو یا ہر ایك کو یا کسی کو نہیں اور جہاں پورا حدث مستقل نہیں وہاں بجائے وضو قدر مستقل لکھا ہے یعنی اتنا پانی ملا جو صرف ان اعضا کو کافی ہے جن میں حدث مستقل ہے یعنی اعضائے وضو کا جتنا حصہ جنابت کے بعد دھولیا تھاپھر حدث ہوا یوں یہ تمام صورتیں مفصل ہوگئیں اب احکام کی باری آئی وہ بہت جگہ مشترك ہیں ایك ایك پانچ پانچ یا کم وبیش صورتوں کے لئے ہے لہذا تکرار سے بچنے کو اول ان احکام کی فہرست نمبر شمار کے ساتھ لکھیں پھر جدول صور میں ہر صورت کے نیچے حکم لکھ کر جو حکم ہو اس کا نمبر تحر یر کردیں کہ اس کے ذریعہ سے جس صورت کا حکم چاہیں فہرست میں دیکھ لیں وبالله التوفیق۔
فہرست احکام : مناسب ہو کہ ہر نوع کے حکم علیحدہ لکھیں کہ مراجعت میں اور بھی سہولت ہو
ح و (۱)لمعہ دھوئے اور حدث کے لئے تیمم کرے اس کے دھونے سے پہلے خواہ بعد اور بعد ہونا بہتر ہے کہ امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہکا خلاف نہ رہے۔ صورت ۱۱و ۲۷و ۶۳۔
(۲) قدر مستقل کو دھوئے اور لمعہ کا تیمم کرے ص ۱۲و ۲۸و ۴۸۔
(۳) وضو کرے اور لمعہ کا تیمم۔ ص۶۴و ۸۴۔
(۴) پورا وضو کرے طہارت ہوگئی۔ ص۱۳۔
(۵) وضو کرے اور باقی جگہ عــہ دھوئے طاہر ہوگیا۔ ص ۲۹و ۶۵۔
(۶) پورا نہائے۔ ص۴۹و ۸۵۔
(۷) پہلے لمہ دھوئے پھر حدث کا تیمم کرے اگر پہلے تیمم کرلے گا لمعہ دھونے کے بعد پھر کرنا ہوگا۔ ص۱۴و ۳۰و ۴۷و ۶۶و ۸۳۔ ت
عــہ : باقی جگہ کے یہ معنی کہ اعضائے وضو کے علاوہ اور بدن میں جہاں جنابت تھی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
ت : تیمم جنابت
ح : حدث
م : تیمم حدث
و : وجدان آب
تو ح و کا مطلب یہ ہوا کہ جنابت کا ابھی تیمم نہ کیا تھا کہ حدث ہوا اور اب بھی تیمم نہ کیا تھا کہ پانی پا یا اور ت ح و یہ کہ جنابت کے بعد تیمم کیا پھر حدث ہوا پھر پانی ملا وقس علیہ پھر ان میں ہر ایك کو اتنے اصناف پر منقسم کریں جتنی اس میں محتمل ہیں یہاں لمعہ ووضو وہر دو وہریك وہیچ سے پانی کی کفایت مقصود ہے کہ لمعہ کو کافی ہے یا وضو کو یا دونوں کو یا ہر ایك کو یا کسی کو نہیں اور جہاں پورا حدث مستقل نہیں وہاں بجائے وضو قدر مستقل لکھا ہے یعنی اتنا پانی ملا جو صرف ان اعضا کو کافی ہے جن میں حدث مستقل ہے یعنی اعضائے وضو کا جتنا حصہ جنابت کے بعد دھولیا تھاپھر حدث ہوا یوں یہ تمام صورتیں مفصل ہوگئیں اب احکام کی باری آئی وہ بہت جگہ مشترك ہیں ایك ایك پانچ پانچ یا کم وبیش صورتوں کے لئے ہے لہذا تکرار سے بچنے کو اول ان احکام کی فہرست نمبر شمار کے ساتھ لکھیں پھر جدول صور میں ہر صورت کے نیچے حکم لکھ کر جو حکم ہو اس کا نمبر تحر یر کردیں کہ اس کے ذریعہ سے جس صورت کا حکم چاہیں فہرست میں دیکھ لیں وبالله التوفیق۔
فہرست احکام : مناسب ہو کہ ہر نوع کے حکم علیحدہ لکھیں کہ مراجعت میں اور بھی سہولت ہو
ح و (۱)لمعہ دھوئے اور حدث کے لئے تیمم کرے اس کے دھونے سے پہلے خواہ بعد اور بعد ہونا بہتر ہے کہ امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہکا خلاف نہ رہے۔ صورت ۱۱و ۲۷و ۶۳۔
(۲) قدر مستقل کو دھوئے اور لمعہ کا تیمم کرے ص ۱۲و ۲۸و ۴۸۔
(۳) وضو کرے اور لمعہ کا تیمم۔ ص۶۴و ۸۴۔
(۴) پورا وضو کرے طہارت ہوگئی۔ ص۱۳۔
(۵) وضو کرے اور باقی جگہ عــہ دھوئے طاہر ہوگیا۔ ص ۲۹و ۶۵۔
(۶) پورا نہائے۔ ص۴۹و ۸۵۔
(۷) پہلے لمہ دھوئے پھر حدث کا تیمم کرے اگر پہلے تیمم کرلے گا لمعہ دھونے کے بعد پھر کرنا ہوگا۔ ص۱۴و ۳۰و ۴۷و ۶۶و ۸۳۔ ت
عــہ : باقی جگہ کے یہ معنی کہ اعضائے وضو کے علاوہ اور بدن میں جہاں جنابت تھی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
(۸) دونوں کے لئے ایك تیمم کرے اور لمعہ کی تقلیل استحبابا نہ وجوبا یعنی ناکافی پانی جنابت کی جتنی جگہ کو دھوسکے بہتر یہ کہ دھولے کہ جنابت کم ہوجائے اور آئندہ تھوڑا پانی بھی کفایت کرے۔ ص۱۵و ۳۱و ۵۰و ۶۷و ۸۶۔
ح ت و (۹) لمعہ کے حق میں تیمم ٹوٹ گیا حدث کے حق میں باقی ہے لمعہ دھوئے۔ ص۱۶و ۳۲و ۶۸۔
(۱۰) حدث کے حق میں تیمم ٹوٹ گیا لمعہ کے حق میں باقی ہے قدر مستقل کو دھوئے۔ ص۱۷و ۳۳و ۵۲۔
(۱۱) تیمم حدث کےلئے نہ رہا لمعہ کے لئے ہے وضو کرے۔ ص۶۹و ۸۸۔
(۱۲) تیمم دونوں کے حق میں ٹوٹ گیا پورا وضو کرے طہارت ہوگئی۔ ص۱۸۔
(۱۳) تیمم دونوں کے حق میں ٹوٹ گیا وضو کرے اور باقی عــہ جگہ دھوئے طاہر ہوگیا۔ ص۳۴و ۷۰۔
(۱۴) تیمم دونوں کے حق میں ٹوٹ گیا : پورا نہائے۔ ص۵۳و ۸۹۔
(۱۵) تیمم دونوں کے حق میں ٹوٹ گیا پہلے لمعہ دھوئے اس کے بعد حدث کا تیمم کرے۔ ص۱۹و ۳۵و ۵۱و ۷۱و ۸۷۔
(۱۶) تیمم دونوں کے حق میں باقی ہے لمعہ کی تقلیل کرے۔ ص۲۰و ۳۶و ۵۴و ۷۲و ۹۰۔
ت ح و (۱۷) تیمم گیا وضو کرے طہارت ہوگئی ص۱و ۲۲۔
(۱۸) تیمم نہ رہا وضو کرے اور باقی عــــــہ جگہ دھوئے طاہر ہوگیا۔ ص۵و ۳۹و ۷۵۔
(۱۹) تیمم ٹوٹ گیا لمعہ دھوئے اور حدث کا تیمم کرے۔ ص۲۱و ۳۷ و ۷۳۔
(۲۰) تیمم باقی ہے حدث کےلئے وضو کرے ص۶و ۳۸و ۵۶و ۷۴ و ۹۲۔
(۲۱) تیمم نہ رہا پورا نہائے ص۵۷و ۹۳۔
(۲۲) تیمم نہ رہا پہلے لمعہ دھوئے پھر حدث کا تیمم کرے ص۴۰و ۵۵و ۷۶و ۹۱۔
(۲۳) تیمم باقی ہے حدث کےلئے تیمم کرے اور لمعہ کی تقلیل ص۲و ۷و ۲۳و ۴۱و ۵۸و ۷۷و ۹۴۔
ت ح م و (۲۴) دونوں تیمم ٹوٹ گئے وضو کرے طہارت ہوگئی۔ ص۳و ۲۵۔
(۲۵) دونوں تیمم گئے وضو کرے اور باقی عــہ جگہ دھوئے طاہر ہوگیا۔ ص۸و ۴۴و ۸۰۔
(۲۶) لمعہ کا تیمم گیا حدث کا باقی ہے لمعہ دھوئے۔ ص۲۴و ۴۲و ۷۸۔
عــہ باقی جگہ کے یہ معنی کہ اعضائے وضو کے سوا اور بدن میں جہاں جنابت تھی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
ح ت و (۹) لمعہ کے حق میں تیمم ٹوٹ گیا حدث کے حق میں باقی ہے لمعہ دھوئے۔ ص۱۶و ۳۲و ۶۸۔
(۱۰) حدث کے حق میں تیمم ٹوٹ گیا لمعہ کے حق میں باقی ہے قدر مستقل کو دھوئے۔ ص۱۷و ۳۳و ۵۲۔
(۱۱) تیمم حدث کےلئے نہ رہا لمعہ کے لئے ہے وضو کرے۔ ص۶۹و ۸۸۔
(۱۲) تیمم دونوں کے حق میں ٹوٹ گیا پورا وضو کرے طہارت ہوگئی۔ ص۱۸۔
(۱۳) تیمم دونوں کے حق میں ٹوٹ گیا وضو کرے اور باقی عــہ جگہ دھوئے طاہر ہوگیا۔ ص۳۴و ۷۰۔
(۱۴) تیمم دونوں کے حق میں ٹوٹ گیا : پورا نہائے۔ ص۵۳و ۸۹۔
(۱۵) تیمم دونوں کے حق میں ٹوٹ گیا پہلے لمعہ دھوئے اس کے بعد حدث کا تیمم کرے۔ ص۱۹و ۳۵و ۵۱و ۷۱و ۸۷۔
(۱۶) تیمم دونوں کے حق میں باقی ہے لمعہ کی تقلیل کرے۔ ص۲۰و ۳۶و ۵۴و ۷۲و ۹۰۔
ت ح و (۱۷) تیمم گیا وضو کرے طہارت ہوگئی ص۱و ۲۲۔
(۱۸) تیمم نہ رہا وضو کرے اور باقی عــــــہ جگہ دھوئے طاہر ہوگیا۔ ص۵و ۳۹و ۷۵۔
(۱۹) تیمم ٹوٹ گیا لمعہ دھوئے اور حدث کا تیمم کرے۔ ص۲۱و ۳۷ و ۷۳۔
(۲۰) تیمم باقی ہے حدث کےلئے وضو کرے ص۶و ۳۸و ۵۶و ۷۴ و ۹۲۔
(۲۱) تیمم نہ رہا پورا نہائے ص۵۷و ۹۳۔
(۲۲) تیمم نہ رہا پہلے لمعہ دھوئے پھر حدث کا تیمم کرے ص۴۰و ۵۵و ۷۶و ۹۱۔
(۲۳) تیمم باقی ہے حدث کےلئے تیمم کرے اور لمعہ کی تقلیل ص۲و ۷و ۲۳و ۴۱و ۵۸و ۷۷و ۹۴۔
ت ح م و (۲۴) دونوں تیمم ٹوٹ گئے وضو کرے طہارت ہوگئی۔ ص۳و ۲۵۔
(۲۵) دونوں تیمم گئے وضو کرے اور باقی عــہ جگہ دھوئے طاہر ہوگیا۔ ص۸و ۴۴و ۸۰۔
(۲۶) لمعہ کا تیمم گیا حدث کا باقی ہے لمعہ دھوئے۔ ص۲۴و ۴۲و ۷۸۔
عــہ باقی جگہ کے یہ معنی کہ اعضائے وضو کے سوا اور بدن میں جہاں جنابت تھی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
(۲۷) حدث کا تیمم گیا لمعہ کا باقی ہے وضو کرے۔ ص۹و ۴۳و ۶۰و ۷۹و ۹۶۔
(۲۸) دونوں تیمم گئے پورا نہائے۔ ص۶۱و ۹۷۔
(۲۹) دونوں تیمم گئے پہلے لمعہ دھوئے اس کے بعد حدث کا تیمم کرے۔ ص۴۵و ۵۹و ۸۱و ۹۵۔
(۳۰) دونوں تیمم باقی ہیں لمعہ کی تقلیل کرے۔ ص۴و ۱۰و ۲۶و ۴۶و ۶۲و ۸۲و ۹۸ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
(۱) جنب نہالیا صرف وضو باقی تھا پھر حدث ہوا (۲) وضو اور کچھ اور حصئہ بدن باقی تھا
this space for image word file page no. 278
(۲۸) دونوں تیمم گئے پورا نہائے۔ ص۶۱و ۹۷۔
(۲۹) دونوں تیمم گئے پہلے لمعہ دھوئے اس کے بعد حدث کا تیمم کرے۔ ص۴۵و ۵۹و ۸۱و ۹۵۔
(۳۰) دونوں تیمم باقی ہیں لمعہ کی تقلیل کرے۔ ص۴و ۱۰و ۲۶و ۴۶و ۶۲و ۸۲و ۹۸ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
(۱) جنب نہالیا صرف وضو باقی تھا پھر حدث ہوا (۲) وضو اور کچھ اور حصئہ بدن باقی تھا
this space for image word file page no. 278
مصنف کا ضابطہ کلیہ:ثم اقول علمائے کرام نفعنا اللہ تعالی برکاتہم فی الدارین نے یہ تقسیم وتفصیل بغرض تفہیم وتسہیل اختیار فرمائی جو بحمدہ تعالی اپنے منتہائے کمال کو پہنچی اب ہم بغرض ضبط وربط وقلت انتشار انہیں کے کلمات شریفہ کے استفادہ سے ضابطہ کلیہ لکھیں کہ جملہ اقسام واحکام کو حاوی ہو جنب کہ بعد جنابت ہنوز پورا نہ نہا یا مگر بعض یا کل اعضائے وضو کی تطہ یر پانی سے یا تیمم کرچکا اس کے بعد حدث
ہوا کہ دو۲ صورت اخیرہ میں بتمامہ مستقل ہے اور صورت اولی میں صرف اتنا کہ حصہ مغسولہ اعضائے وضو میں ہے اس صورت میں پانی کہ پا یا اگر بقیہ جنابت وحدث مستقل دونوں میں سے صرف ایك کو کافی ہے اس میں صرف کرے اس کےلئے اگر پہلے تیمم کرچکا تھا ٹوٹ گیا اور دوسرے کےلئے نہ کیا تھا تو اول کے حق میں ٹوٹ گیا ثانی کے حق میں باقی رہا اور اگر پانی دونوں کو معا کافی ہے تو دونوں کا وہ حکم ہے جو اول کا تھا بجالائے طہارت ہوگئی اور اگر کسی کو کافی نہیں تو دونوں کا وہ حکم ہے جو ثانی کا تھا اگر کسی کےلئے تیمم نہ کیا تھا اب دونوں کےلئے ایك تیمم کرے اور کرلیا تھا تو باقی رہا بہرحال لمعہ کی تقلیل کرے کہ مستحب ہے اور اگر ہر ایك کو جدا جدا کافی ہے تو لمعہ میں صرف کرے تیمم ان میں جس ایك کا یا دونوں کےلئے ایك یا جدا جدا جیسا بھی کرچکا تھا کسی کے حق میں باقی نہ رہا۔ پانی نہ رہنے کے بعد حدث کےلئے تیمم کرے پہلے کرلے گا تو بعد صرف پھر کرنا ہوگا یہی اصح ہے جس کی تفصےل وتحقےق اس تنبیہ آئندہ میں آتی ہے وبالله التوفیق (اور اللہ تعالی کی توفیق سے۔ ت) اور اگر اس نے برخلاف حکم اسے حدث میں صرف کرلیا حدث تو زائل ہوگیا مگر جنابت کے لئے تیمم بالاجماع لازم ہوا اگرچہ پہلے کر بھی چکا ہو یہ ہے قول جامع ونافع٭
باذن الجامع النافع٭ عزجلالہ٭ وعم نوالہ٭ والحمدلله رب العلمین٭ وصلی الله تعالی وسلم وبارك علی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین٭ ابد الابدین امین٭
باذن جامع نافع اس کی بزرگی غالب اور اس کی عطا وبخشش عام ہے۔ اور تمام تعریف اللہ کےلئے جو تمام جہانوں کا مالك ہے۔ اور خدائے برتر درود وسلام اور برکت نازل فرمائے ہمارے آقا ومولی محمد اور ان کی آل واصحاب سب پر ہمیشہ ہمیشہ الہی! قبول فرما۔ (ت)
تنبیہ : اس جدول کے ۱۸ نمبروں میں یعنی ۱۴۔ ۱۹۔ ۳۰۔ ۳۵۔ ۴۷۔ ۵۱۔ ۶۶۔ ۷۱۔ ۸۳۔ ۸۷ دس۱۰ یہ اور ۴۰۔ ۴۵۔ ۵۵۔ ۵۹۔ ۷۶۔ ۸۱۔ ۹۱۔ ۹۵ آٹھ۸ یہ ان میں اختلاف روا یات ہے ان اٹھارہ۱۸ میں پانی لمعہ وحدث مستقل ہر ایك کےلئے جدا جدا کافی ہے کہ ان میں جس ایك کو چاہے دھولے دونوں کے قابل نہیں ان میں اتنا حکم تو بالاتفاق ہے کہ اس سے لمعہ دھوئے حدث میں صرف نہ کرے کہ جنابت سخت تر ہے۔ اس میں اختلاف ہوا کہ پہلی دس۱۰ صورتوں میں جو حدث کے لئے تیمم کرے گا آ یا یہ ضرور ہے کہ اول لمعہ دھوئے جب پانی نہ رہے اس وقت حدث کے لئے تیمم کرے یا پہلے پےچھے ہر طرح کرسکتا ہے دونوں روایتیں ہیں اور پچھلی آٹھ میں کہ حدث کا تیمم پہلے کرچکا تھا اس پانی کے ملنے سے ٹوٹا یا نہیں دونوں قول ہیں پھر جن کے نزدیك نہ ٹوٹا جب تو اس پر تیمم کا اعادہ ہی نہیں اور جن کے نزدیك ٹوٹ گیا وہ لازم کرتے ہیں کہ پہلے لمعہ دھوکر تیمم کا اعادہ کرے
باذن الجامع النافع٭ عزجلالہ٭ وعم نوالہ٭ والحمدلله رب العلمین٭ وصلی الله تعالی وسلم وبارك علی سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین٭ ابد الابدین امین٭
باذن جامع نافع اس کی بزرگی غالب اور اس کی عطا وبخشش عام ہے۔ اور تمام تعریف اللہ کےلئے جو تمام جہانوں کا مالك ہے۔ اور خدائے برتر درود وسلام اور برکت نازل فرمائے ہمارے آقا ومولی محمد اور ان کی آل واصحاب سب پر ہمیشہ ہمیشہ الہی! قبول فرما۔ (ت)
تنبیہ : اس جدول کے ۱۸ نمبروں میں یعنی ۱۴۔ ۱۹۔ ۳۰۔ ۳۵۔ ۴۷۔ ۵۱۔ ۶۶۔ ۷۱۔ ۸۳۔ ۸۷ دس۱۰ یہ اور ۴۰۔ ۴۵۔ ۵۵۔ ۵۹۔ ۷۶۔ ۸۱۔ ۹۱۔ ۹۵ آٹھ۸ یہ ان میں اختلاف روا یات ہے ان اٹھارہ۱۸ میں پانی لمعہ وحدث مستقل ہر ایك کےلئے جدا جدا کافی ہے کہ ان میں جس ایك کو چاہے دھولے دونوں کے قابل نہیں ان میں اتنا حکم تو بالاتفاق ہے کہ اس سے لمعہ دھوئے حدث میں صرف نہ کرے کہ جنابت سخت تر ہے۔ اس میں اختلاف ہوا کہ پہلی دس۱۰ صورتوں میں جو حدث کے لئے تیمم کرے گا آ یا یہ ضرور ہے کہ اول لمعہ دھوئے جب پانی نہ رہے اس وقت حدث کے لئے تیمم کرے یا پہلے پےچھے ہر طرح کرسکتا ہے دونوں روایتیں ہیں اور پچھلی آٹھ میں کہ حدث کا تیمم پہلے کرچکا تھا اس پانی کے ملنے سے ٹوٹا یا نہیں دونوں قول ہیں پھر جن کے نزدیك نہ ٹوٹا جب تو اس پر تیمم کا اعادہ ہی نہیں اور جن کے نزدیك ٹوٹ گیا وہ لازم کرتے ہیں کہ پہلے لمعہ دھوکر تیمم کا اعادہ کرے
ورنہ جس پانی کے پانے نے پہلا تیمم توڑ د یا اس کا موجود رہنا دوسرا تیمم باطل کرے گا۔ منشاء اختلاف تمام صورتوں میں ایك ہے کہ آ یا یہ پانی جو ازالہ حدث مستقل کے بھی قابل ہے اگرچہ اس سے لمہ ہی دھونے کا حکم ہے اس کے ملنے سے حدث کے لئے پانی پر قدرت ثابت ہوئی یا نہیں جنہوں نے خیال فرما یا کہ ہوئی حکم د یا کہ جب تك یہ پانی خرچ نہ ہولے حدث کا تیمم نہ کرے اور اگر پہلے کرچکا ہے ٹوٹ گیا کہ پانی پر قدرت تیمم گزشتہ کی ناقض اور آئندہ کی مانع ہے اور جنہوں نے لحاظ فرما یا کہ اگرچہ پانی اس کے بھی قابل پا یا مگر وہ بحکم شرع دوسری حاجت کی طرف مصروف ہے لہذا اس سے ازالہ حدث پر قدرت نہ ہوئی انہوں نے حکم د یا کہ یہ پانی نہ اگلے تیمم حدث کو توڑے گا نہ اس کے ہوتے حدث کےلئے تیمم ممنوع ہوگا۔
اقول : ایك اختلاف تو یہ اصل مسئلے میں تھا ثانیا ان روایتوں کی طرز نقل بھی مختلف آئی بعض عــہ۱میں یوں کہ ایك روایت یہ ہے ایك وہ جس سے ان کی مساوات ظاہر اور یہ نہ کھلا کہ روا یات ظاہرہ ہیں یا نادرہ بعض میں عــہ۲ یوں کہ دوم روایت نوادر ہے جس سے ظاہر کہ اول ظاہر الروا یۃ ہے۔
بعض عــہ۳ میں یوں کہ اول روایت ز یادات ہے اور دوم روایت اصل۔ اصل وز یادات دونوں کتب ظاہر الروا یۃ سے ہیں اقول اور ہے یہی کہ دونوں روایتیں ظاہر الروا یۃ ہیں کہ مثبت نافی پر مقدم ہے نافی کو اس وقت روایت اصل خیال میں نہ تھی اور نوادر سے یاد لہذا اسے روایت نادرہ فرما یا اور جب حسب تصریح ثقات وہ کتاب الاصل میں موجود تو ضرور ظاہر الروا یۃ ہے بلکہ اول سے بھی اولی کہ اصل ز یادات پر مرجح ہے۔ شرح وقایہ حلیہ بحر ۱۲ (م )
ثالثا : قائلین کرام کی طرف اس کی نسبت بھی مختلف طور پر آئی بعض نے عــہ۴ بلفظ ضعف فرما یا کہ کہا گیا کہ اول قول محمد دوم قول ابویوسف ہے بعض عــہ۵ نے جزما انہیں ان کا
عــہ۱ سراج وہاج منحۃ الخالق شرح وقایہ ردالمحتار مع ان فی اصلہ الحل یۃ تسم یۃ الاصل والز یادات (م)
(بوجود اس کے اس کی اصل حلیہ میں اصل اور ز یادات کا نام ذکر کیا ہے۔ ت)
عــہ۲ شرح طحاوی خزانۃ المفتین ۱۲ (م)
عــہ۴ محیط رضوی سراج منحہ و غیرہ ۱۲ (م)
عــہ۵ کافی حلیہ ہندیہ ردالمحتار مع نقل الحلیۃ ا یاہ عن المحیط و غیرہ بلفظۃ قیل ۱۲ (م)
(اس کے باوجود حلیہ نے اس کو محیط و غیرہ سے لفظ “ قیل “ سے نقل کیا ہے۔ ت)
اقول : ایك اختلاف تو یہ اصل مسئلے میں تھا ثانیا ان روایتوں کی طرز نقل بھی مختلف آئی بعض عــہ۱میں یوں کہ ایك روایت یہ ہے ایك وہ جس سے ان کی مساوات ظاہر اور یہ نہ کھلا کہ روا یات ظاہرہ ہیں یا نادرہ بعض میں عــہ۲ یوں کہ دوم روایت نوادر ہے جس سے ظاہر کہ اول ظاہر الروا یۃ ہے۔
بعض عــہ۳ میں یوں کہ اول روایت ز یادات ہے اور دوم روایت اصل۔ اصل وز یادات دونوں کتب ظاہر الروا یۃ سے ہیں اقول اور ہے یہی کہ دونوں روایتیں ظاہر الروا یۃ ہیں کہ مثبت نافی پر مقدم ہے نافی کو اس وقت روایت اصل خیال میں نہ تھی اور نوادر سے یاد لہذا اسے روایت نادرہ فرما یا اور جب حسب تصریح ثقات وہ کتاب الاصل میں موجود تو ضرور ظاہر الروا یۃ ہے بلکہ اول سے بھی اولی کہ اصل ز یادات پر مرجح ہے۔ شرح وقایہ حلیہ بحر ۱۲ (م )
ثالثا : قائلین کرام کی طرف اس کی نسبت بھی مختلف طور پر آئی بعض نے عــہ۴ بلفظ ضعف فرما یا کہ کہا گیا کہ اول قول محمد دوم قول ابویوسف ہے بعض عــہ۵ نے جزما انہیں ان کا
عــہ۱ سراج وہاج منحۃ الخالق شرح وقایہ ردالمحتار مع ان فی اصلہ الحل یۃ تسم یۃ الاصل والز یادات (م)
(بوجود اس کے اس کی اصل حلیہ میں اصل اور ز یادات کا نام ذکر کیا ہے۔ ت)
عــہ۲ شرح طحاوی خزانۃ المفتین ۱۲ (م)
عــہ۴ محیط رضوی سراج منحہ و غیرہ ۱۲ (م)
عــہ۵ کافی حلیہ ہندیہ ردالمحتار مع نقل الحلیۃ ا یاہ عن المحیط و غیرہ بلفظۃ قیل ۱۲ (م)
(اس کے باوجود حلیہ نے اس کو محیط و غیرہ سے لفظ “ قیل “ سے نقل کیا ہے۔ ت)
قول بتایا بعض عــہ۱ نے اول کو فرما یا قیاس قول محمد ہے یعنی تصریحا ان سے مروی نہیں ان کے قول کا قیاس چاہتا ہے کہ حکم یہ ہو۔ اقول : اور ہے یہی کہ اول قول محمد اور دوم قول ابویوسف ہے رضی اللہ تعالی عنہماجمعین کہ نقل ثقات موجب اثبات رابعا : اختیار بھی مختلف رہا بعض نے اس عــہ۲ پر جزم فرما یا بعض نے عــہ۳ اس پر بعض عــہ۴ نے دونوں ذکر کرکے چھوڑ دئے۔ خامسا : تصحیح میں بھی اختلاف پڑا بعض عــہ۵ نے اسے اصح کہا بعض عــہ۶ نے اسے ظاہرا اوجہ سادسا : اس منشأ اختلاف کی تقر یر بھی مختلف آئی۔ بعض نے یوں فرما یا کہ اگرچہ یہ پانی لمعہ میں صرف کرنا بالاتفاق واجب ہے مگر امام محمد کے نزدیك یہ وجوب اس سے ازالہ حدث پر قدرت کا مانع نہیں کہ کرے تو بالاجماع صحیح تو ہوگا اور امام ابویوسف کے نزدیك مانع ہے کہ جب شرع اس سے ازالہ حدث کی اسے اجازت نہیں دیتی تو قدرت شرعیہ کب ہوئی اور بعض نے یوں تقر یر کی کہ نہیں بلکہ وجوب ہی میں اختلاف ہے۔ امام محمد کے نزدیك اسے لمعہ کی طرف صرف کرنا واجب نہیں صرف اولی ہے لہذا ازالہ حدث پر قدرت ثابت اور امام ابویوسف کے نزدیك واجب ہے اور واجب کی مخالفت شرعا ممنوع ومحظور لہذا حدث میں صرف غیر مقدور۔ اب ہم عبارات کرام ذکر کریں جن سے ان بیانات کا انکشاف ہو۔
فی السراج الوھاج ثم منحۃ الخالق اذا احدث بعد التیمم ثم وجد ماء یکفی لکل واحد منھما علی الانفراد غسل بہ اللمعۃ لان الجنابۃ اغلظ ثم یتیمم للحدث ولوبدأ بالتیمم ثم غسلھا
سراج وہاج پھر منحۃ الخالق میں ہے : “ جب تیمم کے بعد حدث ہو پھر اتنا پانی پائے جو تنہا ہر ایك کےلئے کافی ہو تو اس سے لمعہ دھوئے اس لئے کہ جنابت ز یادہ سخت ہے پھر حدث کا تیمم کرے۔ اور اگر پہلے تیمم کیا پھر لمعہ دھو یا تو ایك روایت میں ہے کہ جائز نہیں اور وہ تیمم کا اعادہ کرے گا ایک
عــہ۱ شرح طحاوی خزانۃ المفتین ۱۲ (م)
عــہ۲ حلیہ نیز بدائع ومحیط رضوی بہ دلالۃ النص کماستعرف (م) (اسی پر دلالۃ النص ہے جیسا کہ عنقریب جان لوگے۔ (ت)
عــہ۳درمختار ومحشیان ۱۲ (م)
عــہ۴ سراج وہاج منحہ ۱۲ (م)
عــہ۵ ہندیہ ونقل عن شرح الز یادات للعتابی ۱۲ (م) (اور عتابی کی شرح ز یادات سے نقل کیا گیا ہے۔ ت)
عــہ۶ حلیہ ردالمحتار وادمی الیہ فی شرح الوقا یۃ واعتمدۃ البحر تبعا للحلبی ۱۲ (م) (شرح وقایہ میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے اور بحر نے حلبی کی اتباع میں اسی پر اعتماد کیا ہے ۱۲۔ ت)
فی السراج الوھاج ثم منحۃ الخالق اذا احدث بعد التیمم ثم وجد ماء یکفی لکل واحد منھما علی الانفراد غسل بہ اللمعۃ لان الجنابۃ اغلظ ثم یتیمم للحدث ولوبدأ بالتیمم ثم غسلھا
سراج وہاج پھر منحۃ الخالق میں ہے : “ جب تیمم کے بعد حدث ہو پھر اتنا پانی پائے جو تنہا ہر ایك کےلئے کافی ہو تو اس سے لمعہ دھوئے اس لئے کہ جنابت ز یادہ سخت ہے پھر حدث کا تیمم کرے۔ اور اگر پہلے تیمم کیا پھر لمعہ دھو یا تو ایك روایت میں ہے کہ جائز نہیں اور وہ تیمم کا اعادہ کرے گا ایک
عــہ۱ شرح طحاوی خزانۃ المفتین ۱۲ (م)
عــہ۲ حلیہ نیز بدائع ومحیط رضوی بہ دلالۃ النص کماستعرف (م) (اسی پر دلالۃ النص ہے جیسا کہ عنقریب جان لوگے۔ (ت)
عــہ۳درمختار ومحشیان ۱۲ (م)
عــہ۴ سراج وہاج منحہ ۱۲ (م)
عــہ۵ ہندیہ ونقل عن شرح الز یادات للعتابی ۱۲ (م) (اور عتابی کی شرح ز یادات سے نقل کیا گیا ہے۔ ت)
عــہ۶ حلیہ ردالمحتار وادمی الیہ فی شرح الوقا یۃ واعتمدۃ البحر تبعا للحلبی ۱۲ (م) (شرح وقایہ میں اسی کی طرف اشارہ کیا ہے اور بحر نے حلبی کی اتباع میں اسی پر اعتماد کیا ہے ۱۲۔ ت)
حوالہ / References
کافی ۱۲
غنیہ ۱۲
غنیہ ۱۲
فی روا یۃ لایجوز ویعید التیمم وفی روا یۃ لہ ان یبدأ بایھما شاء قیل الاولی قول محمد والثانیۃ قول ابی یوسف اھ
وتقدم عن شرح الطحاوی وخزانۃ المفتین فیما اذالم یکن تیمم قبل وجدان الماء لوبدأ بالتیمم ثم غسل اللمعۃ لایجوز وفی النوادر یبدأ بایھما شاء ثم قالا فیما اذاسبق تیممہ یغسل اللمعۃ وتیممہ علی حالہ وعلی قیاس قول محمد یتیمم اھ۔
اقول : ولا(۱) فرق بین الصورتین لاتحاد المبنی کماعلمت فقدمشی اولا علی قول محمد وجعل(۲) الثانی روایۃ النوادر ومشی ثانیا علی قول ابی یوسف وجعل الاول قیاس قول محمد وفی المنیۃ وعلیہ ان یبتدئ بغسل اللمعۃ ثم یتیمم اھ فقد مشی علی قول محمد وفی الدر المختار (ناقضہ قدرۃ ماء کاف لطھرہ فضل عن حاجتہ) کعطش وعجن وغسل نجس و
روایت میں ہے کہ اسے اختیار ہے دونوں میں سے جس کو چاہے پہلے کرے کہا گیا کہ روایت اولی امام محمد کا قول ہے اور روایت ثانیہ امام ابویوسف کا قول ہے “ اھ شرح طحاوی اور خزانۃ المفتین سے گزرا اس صورت میں جبکہ پانی ملنے سے پہلے تیمم نہ کیا ہو اگر پہلے تیمم کیا پھر لمعہ دھو یا تو جائز نہیں اور نوادر میں ہے کہ دونوں میں سے جسے چاہے پہلے کرے پھر اس صورت میں جب اس کا تیمم پہلے ہوچکا ہو لکھا کہ “ لمعہ دھوئے اور اس کا تیمم برقرار ہے۔ اور برق یاس قول محمد تیمم کرے “ اھ (ت)
اقول : دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں کیونکہ مبنی میں اتحاد ہے جیسا کہ معلوم ہوا۔ تو پہلے امام محمد کے قول پر چلے اور ثانی کو روایت نوادر قرار د یا۔ اور ثانیا امام ابویوسف کے قول پر چلے اور اول کو امام محمد کے قول کا قیاس قرار د یا۔ اور منیہ میں ہے : اس پر یہ ہے کہ پہلے لمعہ دھوئے پھر تیمم کرے “ ۔ اور اس میں امام محمد کے قول پر چلے ہیں۔ درمختار میں ہے : “ (ناقض تیمم اتنے پانی پر قدرت ہے جو اس کی طہارت کے لئے کافی اس کی حاجت سے زائد ہو) حاجت جیسے پیاس آٹا گوندھنا نجس اور
وتقدم عن شرح الطحاوی وخزانۃ المفتین فیما اذالم یکن تیمم قبل وجدان الماء لوبدأ بالتیمم ثم غسل اللمعۃ لایجوز وفی النوادر یبدأ بایھما شاء ثم قالا فیما اذاسبق تیممہ یغسل اللمعۃ وتیممہ علی حالہ وعلی قیاس قول محمد یتیمم اھ۔
اقول : ولا(۱) فرق بین الصورتین لاتحاد المبنی کماعلمت فقدمشی اولا علی قول محمد وجعل(۲) الثانی روایۃ النوادر ومشی ثانیا علی قول ابی یوسف وجعل الاول قیاس قول محمد وفی المنیۃ وعلیہ ان یبتدئ بغسل اللمعۃ ثم یتیمم اھ فقد مشی علی قول محمد وفی الدر المختار (ناقضہ قدرۃ ماء کاف لطھرہ فضل عن حاجتہ) کعطش وعجن وغسل نجس و
روایت میں ہے کہ اسے اختیار ہے دونوں میں سے جس کو چاہے پہلے کرے کہا گیا کہ روایت اولی امام محمد کا قول ہے اور روایت ثانیہ امام ابویوسف کا قول ہے “ اھ شرح طحاوی اور خزانۃ المفتین سے گزرا اس صورت میں جبکہ پانی ملنے سے پہلے تیمم نہ کیا ہو اگر پہلے تیمم کیا پھر لمعہ دھو یا تو جائز نہیں اور نوادر میں ہے کہ دونوں میں سے جسے چاہے پہلے کرے پھر اس صورت میں جب اس کا تیمم پہلے ہوچکا ہو لکھا کہ “ لمعہ دھوئے اور اس کا تیمم برقرار ہے۔ اور برق یاس قول محمد تیمم کرے “ اھ (ت)
اقول : دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں کیونکہ مبنی میں اتحاد ہے جیسا کہ معلوم ہوا۔ تو پہلے امام محمد کے قول پر چلے اور ثانی کو روایت نوادر قرار د یا۔ اور ثانیا امام ابویوسف کے قول پر چلے اور اول کو امام محمد کے قول کا قیاس قرار د یا۔ اور منیہ میں ہے : اس پر یہ ہے کہ پہلے لمعہ دھوئے پھر تیمم کرے “ ۔ اور اس میں امام محمد کے قول پر چلے ہیں۔ درمختار میں ہے : “ (ناقض تیمم اتنے پانی پر قدرت ہے جو اس کی طہارت کے لئے کافی اس کی حاجت سے زائد ہو) حاجت جیسے پیاس آٹا گوندھنا نجس اور
حوالہ / References
منحۃ الخالق مع البحر ، باب التیمم ، مطبع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۱۳۹
شرح الطحاوی للاسبیجابی وخزانۃ المفتین
منیۃ المصلی باب التیمم مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۶۰
شرح الطحاوی للاسبیجابی وخزانۃ المفتین
منیۃ المصلی باب التیمم مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۶۰
لمعۃ عــہ جنابۃ لان المشغول بالحاجۃ کالمعدوم اھ فقد مشی علی قول ابی یوسف۔
واقرہ محشوہ وفی الحلیۃ ھل علیہ ان یبتدئ بغسل اللمعۃ حتی لوتیمم للحدث ثم غسل اللمعۃ اعاد التیمم للحدث ففی روا یات الز یادات نعم وعلیھا اقتصر المصنف ووجھھا انہ یصیر عادما للماء فیجزئہ التیمم وفی روا یۃ الاصل لابل بایھما بدأجاز لان الماء صار مستحق الصرف الی اللمعۃ فصار معدوما حکما کالماء المستحق للعطش۔ قال رضی الدین فی المحیط وکذا غیرہ قبل مافی الز یادات قول محمد ومافی الاصل قول ابی یوسف اھ وفیھا یظھر ان قول ابی یوسف لمعہ جنابت دھونا اس لئے کہ جو حاجت میں مشغول ہے وہ معدوم کی طرح ہے “ اھ اس میں امام ابویوسف کے قول پر چلے۔ اور درمختار کے محشی حضرات نے اسے برقرار رکھا۔ حلیہ میں ہے : کیا اس پر یہ لازم ہے کہ پہلے لمعہ دھوئے یہاں تك کہ اگر حدث کا تیمم کرلیا پھر لمعہ دھو یا تو اسے تیمم حدث کا اعادہ کرنا ہے روایت زیادات میں اس کا جواب اثبات میں ہے اور اسی پر مصنف نے اکتفا کی اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فقدان آب والا ہوجاتا ہے تو اس کا تیمم کفایت کرجاتا ہے۔ اور روایت اصل میں اس کا جواب نفی میں ہے بلکہ وہ دونوں میں سے جو بھی پہلے کرلے جائز ہے اس لئے کہ پانی لمعہ میں صرف کا مستحق ہوگیا تو وہ حکما معدوم ہوگیا جیسے وہ پانی جو پ یاس کا مستحق ہوگیا ہو۔ رضی الدین نے محیط اور ایسے ہی انکے علاوہ نے بھی فرما یا ہے : کہا گیا ہے
عــہ قال العلامۃ ش ای لواغتسل وبقیۃ لمعۃ فتیمم ثم احدث فتیمم ثم وجد ماء یکفیھا فقط فانہ یغسلھا بہ ولایبطل تیممہ للحدث اھ اقول : (۱) سبحن الله اذالم یکف للوضوء کان عدم انتقاض تیممہ لعدم الکفا یۃ لاللشغل بالحاجۃ والشارح بصدد بیان المشغول فالوجہ ان مرادہ کماصرحت بہ الاحکام ما اذاکفی لکل علی البدل یۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
علامہ شامی نے فرما یا : “ یعنی اگر غسل کیا اور کوئی لمعہ رہ گیا پھر تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو تیمم کیا پھر اتنا پانی ملا جو صرف لمعہ کے لئے کافی ہے تو اسے اس پانی سے دھوئے گا اور اس کا تیمم حدث باطل نہ ہوگا “ اھ اقول : سبحان الله جب وضو کےلئے کافی نہ ہوا تو اس کے تیمم کا نہ ٹوٹنا عدم کفایت کی وجہ سے ہوا حاجت میں مشغول کی وجہ سے نہیں اور شارح اس پانی کو بتانا چاہتے ہیں جو حاجت میں مشغول ہو۔ تو وجہ صحیح یہ ہے کہ ان کی مراد حسب تصریح احکام وہ صورت ہے جب پانی بطور بدلیت ہر ایك کےلئے کافی ہو ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
واقرہ محشوہ وفی الحلیۃ ھل علیہ ان یبتدئ بغسل اللمعۃ حتی لوتیمم للحدث ثم غسل اللمعۃ اعاد التیمم للحدث ففی روا یات الز یادات نعم وعلیھا اقتصر المصنف ووجھھا انہ یصیر عادما للماء فیجزئہ التیمم وفی روا یۃ الاصل لابل بایھما بدأجاز لان الماء صار مستحق الصرف الی اللمعۃ فصار معدوما حکما کالماء المستحق للعطش۔ قال رضی الدین فی المحیط وکذا غیرہ قبل مافی الز یادات قول محمد ومافی الاصل قول ابی یوسف اھ وفیھا یظھر ان قول ابی یوسف لمعہ جنابت دھونا اس لئے کہ جو حاجت میں مشغول ہے وہ معدوم کی طرح ہے “ اھ اس میں امام ابویوسف کے قول پر چلے۔ اور درمختار کے محشی حضرات نے اسے برقرار رکھا۔ حلیہ میں ہے : کیا اس پر یہ لازم ہے کہ پہلے لمعہ دھوئے یہاں تك کہ اگر حدث کا تیمم کرلیا پھر لمعہ دھو یا تو اسے تیمم حدث کا اعادہ کرنا ہے روایت زیادات میں اس کا جواب اثبات میں ہے اور اسی پر مصنف نے اکتفا کی اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فقدان آب والا ہوجاتا ہے تو اس کا تیمم کفایت کرجاتا ہے۔ اور روایت اصل میں اس کا جواب نفی میں ہے بلکہ وہ دونوں میں سے جو بھی پہلے کرلے جائز ہے اس لئے کہ پانی لمعہ میں صرف کا مستحق ہوگیا تو وہ حکما معدوم ہوگیا جیسے وہ پانی جو پ یاس کا مستحق ہوگیا ہو۔ رضی الدین نے محیط اور ایسے ہی انکے علاوہ نے بھی فرما یا ہے : کہا گیا ہے
عــہ قال العلامۃ ش ای لواغتسل وبقیۃ لمعۃ فتیمم ثم احدث فتیمم ثم وجد ماء یکفیھا فقط فانہ یغسلھا بہ ولایبطل تیممہ للحدث اھ اقول : (۱) سبحن الله اذالم یکف للوضوء کان عدم انتقاض تیممہ لعدم الکفا یۃ لاللشغل بالحاجۃ والشارح بصدد بیان المشغول فالوجہ ان مرادہ کماصرحت بہ الاحکام ما اذاکفی لکل علی البدل یۃ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
علامہ شامی نے فرما یا : “ یعنی اگر غسل کیا اور کوئی لمعہ رہ گیا پھر تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو تیمم کیا پھر اتنا پانی ملا جو صرف لمعہ کے لئے کافی ہے تو اسے اس پانی سے دھوئے گا اور اس کا تیمم حدث باطل نہ ہوگا “ اھ اقول : سبحان الله جب وضو کےلئے کافی نہ ہوا تو اس کے تیمم کا نہ ٹوٹنا عدم کفایت کی وجہ سے ہوا حاجت میں مشغول کی وجہ سے نہیں اور شارح اس پانی کو بتانا چاہتے ہیں جو حاجت میں مشغول ہو۔ تو وجہ صحیح یہ ہے کہ ان کی مراد حسب تصریح احکام وہ صورت ہے جب پانی بطور بدلیت ہر ایك کےلئے کافی ہو ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
درمختا ، باب التیمم ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۴۵
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۷
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۷
اوجہ اھ۔ وعبر عنہ فی ردالمحتار بقولہ لاینتقض تیمم الحدث عند ابی یوسف وعند محمد ینتقض ویظھر ان الاول اوجہ اھ ثم قال فیمالم یتیمم قبل الوجدان فی روا یۃیلزمہ غسلھا قبل التیمم للحدث وفی روا یۃ یخیر اھ ملخصا من الحلیۃ اھ
وفی شرح الوقایۃ واذاغسل اللمعۃ ھل یعید التیمم روایتان وان تیمم اولاثم غسل اللمعۃ ففی اعادۃ التیمم روایتان ایضا وان صرف الی الحدث انتقض تیممہ فی حق اللمعۃ باتفاق الروایتین اھ ثم قال فیما اذا لم یتیمم للحدث قبل ان کفی کل واحد منفردا یصرفہ الی اللمعۃ ویتیمم للحدث فان توضأ بہ جاز ویعید التیمم للحدث ولوبدأ بالتیمم للحدث ھل یعید التیمم فی روا یۃ الز یادات یعید وفی روا یۃ الاصل لاثم انما تثبت القدرۃ اذا لم یکن مصروفا الی جھۃ اھم حتی اذاکان علی بدنہ اوثوبہ نجاسۃ یصرفہ الی النجاسۃ اھ وھو کما تری یشیر الی ترجیح روا یۃ الاصل۔
وفی الھندیۃ صرفہ الی اللمعۃ واعاد تیممہ للحدث
کہ جو زیادات میں ہے وہ امام محمد کا قول ہے اور جو اصل میں ہے وہ امام ابویوسف کا قول ہے۔ اھ حلیہ میں یہ بھی ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ امام ابویوسف کا قول زیادہ مناسب ہے اھ۔
ردالمحتار میں اس کی تعبیر ان الفاظ میں کی ہے : “ تیمم حدث امام ابویوسف کے نزدیك نہ ٹوٹے گا اور امام محمد کے نزدیك ٹوٹ جائےگا اور ظاہر یہ ہے کہ اول درجہ ہے اھ۔ پھر اس صورت کے متعلق جبکہ پانی ملنے سے پہلے تیمم نہ کیا ہو لکھا ہے : “ ایك روایت میں اس پر تیمم حدث سے پہلے لمعہ دھونا لازم ہے اور ایك روایت میں اسے اختیار ہے “ اھ۔ ملخصا من الحلیہ اھ۔
شرح وقایہ میں ہے : “ جب لمعہ دھولیا تو کیا تیمم کا اعادہ کرے گا دو۲ روایتیں ہیں اور اگر پہلے تیمم کرلیا پھر لمعہ دھو یا تو بھی اعادہ تیمم میں دو روایتیں ہیں۔ اور اگر حدث میں صرف کریں تو حق لمعہ میں اس کا تیمم باتفاق روایتیں ٹوٹ گیا “ ۔ اھ پھر اس صورت سے متعلق جبکہ حدث کا تیمم پہلے نہ کیا ہو لکھا ہے : “ اگر تنہا ہر ایك کے لئے کافی ہوتو اسے لمعہ میں صرف کرے گا اور حدث کا تیمم کرے گا پھر اگر اس سے وضو کرلیا تو جائز ہے اور تیمم کا اعادہ کرنا ہے اور اگر حدث کا تیمم پہلے کیا تو کیا تیمم لوٹائے گا روایت ز یادات میں ہے کہ لوٹائے گا اور روایت اصل میں ہے کہ : نہیں لوٹائے گا پھر
وفی شرح الوقایۃ واذاغسل اللمعۃ ھل یعید التیمم روایتان وان تیمم اولاثم غسل اللمعۃ ففی اعادۃ التیمم روایتان ایضا وان صرف الی الحدث انتقض تیممہ فی حق اللمعۃ باتفاق الروایتین اھ ثم قال فیما اذا لم یتیمم للحدث قبل ان کفی کل واحد منفردا یصرفہ الی اللمعۃ ویتیمم للحدث فان توضأ بہ جاز ویعید التیمم للحدث ولوبدأ بالتیمم للحدث ھل یعید التیمم فی روا یۃ الز یادات یعید وفی روا یۃ الاصل لاثم انما تثبت القدرۃ اذا لم یکن مصروفا الی جھۃ اھم حتی اذاکان علی بدنہ اوثوبہ نجاسۃ یصرفہ الی النجاسۃ اھ وھو کما تری یشیر الی ترجیح روا یۃ الاصل۔
وفی الھندیۃ صرفہ الی اللمعۃ واعاد تیممہ للحدث
کہ جو زیادات میں ہے وہ امام محمد کا قول ہے اور جو اصل میں ہے وہ امام ابویوسف کا قول ہے۔ اھ حلیہ میں یہ بھی ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ امام ابویوسف کا قول زیادہ مناسب ہے اھ۔
ردالمحتار میں اس کی تعبیر ان الفاظ میں کی ہے : “ تیمم حدث امام ابویوسف کے نزدیك نہ ٹوٹے گا اور امام محمد کے نزدیك ٹوٹ جائےگا اور ظاہر یہ ہے کہ اول درجہ ہے اھ۔ پھر اس صورت کے متعلق جبکہ پانی ملنے سے پہلے تیمم نہ کیا ہو لکھا ہے : “ ایك روایت میں اس پر تیمم حدث سے پہلے لمعہ دھونا لازم ہے اور ایك روایت میں اسے اختیار ہے “ اھ۔ ملخصا من الحلیہ اھ۔
شرح وقایہ میں ہے : “ جب لمعہ دھولیا تو کیا تیمم کا اعادہ کرے گا دو۲ روایتیں ہیں اور اگر پہلے تیمم کرلیا پھر لمعہ دھو یا تو بھی اعادہ تیمم میں دو روایتیں ہیں۔ اور اگر حدث میں صرف کریں تو حق لمعہ میں اس کا تیمم باتفاق روایتیں ٹوٹ گیا “ ۔ اھ پھر اس صورت سے متعلق جبکہ حدث کا تیمم پہلے نہ کیا ہو لکھا ہے : “ اگر تنہا ہر ایك کے لئے کافی ہوتو اسے لمعہ میں صرف کرے گا اور حدث کا تیمم کرے گا پھر اگر اس سے وضو کرلیا تو جائز ہے اور تیمم کا اعادہ کرنا ہے اور اگر حدث کا تیمم پہلے کیا تو کیا تیمم لوٹائے گا روایت ز یادات میں ہے کہ لوٹائے گا اور روایت اصل میں ہے کہ : نہیں لوٹائے گا پھر
حوالہ / References
حلیہ
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۷
شرح الوقا یۃ باب التیمم مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۴ ، ۱۰۵
ردالمحتار باب التیمم مطبع مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۷
شرح الوقا یۃ باب التیمم مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۴ ، ۱۰۵
عند محمد وعند ابی یوسف لاولو صرفہ الی الوضوء جاز وتیمم لجنابتہ اتفاقا فان لم یکن تیمم للحدث قبل وجود ھذا الماء فتیمم قبل غسل اللمعۃ لم یجز عند محمد وعند ابی یوسف یجوز والاول اصح ھکذا فی الکافی اھ۔
اقول : قولہ والاول اصح لیس فی نسختی الکافی والعبارۃ غیر منقولۃ کماھی فی الکافی کمایظھر بالمقابلۃ وقد(۱)نبہ علیہ بقولہ ھکذا فی الکافی کماذکر فی خطبۃ الکتاب اصطلاحہ فی کذا وھکذا نعم ذکر بعض العصریین ان فی شرح الز یادات للعتابی انہ وھواللکنوی۱۲ الاصح ولم یذکر الواسطۃ فی النقل فان صح ھذا فلعلہ زید فی الھند یۃ من ثمہ اومن غیرہ اولعلہ ساقط من نسختی الکافی وعلی کل فالھند یۃ ثقۃ فی النقل والله تعالی اعلم وفی الکافی ان کفی واحدا غیر عین صرفہ الی اللمعۃ لانہ اھم واعاد تیممہ للحدث
قدرت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب ز یادہ اہم جانب میں مصروف نہ ہو۔ یہاں تك کہ اگر اس کے بدن یا کپڑے پر کوئی نجاست ہو تو اسے نجاست کی جانب صرف کرے گا “ اھ یہ کلام روایت اصل کی ترجیح کی جانب اشارہ کررہا ہے جیسا کہ سامنے ہے۔
ہندیہ میں ہے : اسے لمعہ میں صرف کرے اور تیمم حدث کا اعادہ کرے امام محمد کے نزدیك اور امام ابویوسف کے نزدیك اعادہ نہیں اور اگر اسے وضو میں صرف کرلیا جائے تو جائز ہے اور اسے جنابت کا تیمم کرنا ہے بالاتفاق اگر یہ پانی ملنے سے پہلے حدث کا تیمم نہیں کیا تھا اب لمعہ دھونے سے پہلے تیمم کیا تو امام محمد کے نزدیك جائز نہیں اور امام ابویوسف کے نزدیك جائز ہے اور اول اصح ہے اسی طرح کافی میں ہے “ اھ۔ (ت)
اقول : والاول اصح (اور اول اصح ہے) کافی کے میرے نسخہ میں نہیں اور عبارت جیسے کافی میں ہے ویسے منقول نہیں جیسا کہ مقابلہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے اس پر اپنے الفاظ “ ھکذا فی الکافی “ سے تنبیہ بھی کردی ہے جیسا کہ خطبہ کتاب میں لفظ کذا اور ھکذا سے متعلق اپنی اصطلاح بتائی ہے ہاں بعض معاصرین (فاضل لکھنوی ۱۲) نے ذکر کیا ہے کہ عتابی کی شرح ز یادات میں ہے کہ “ وہی اصح ہے “ واسطہ نقل نہ بتا یا۔ اگر یہ صحیح ہے تو شاید ہندیہ میں وہیں سے یا اور کسی کتاب سے یہ اضافہ کرد یا گیا ہے یا ہوسکتا ہے یہ لفظ میرے نسخہ کافی میں چھوٹ گیا ہو۔ بہرحال ہندیہ نقل میں ثقہ ہے اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے
اقول : قولہ والاول اصح لیس فی نسختی الکافی والعبارۃ غیر منقولۃ کماھی فی الکافی کمایظھر بالمقابلۃ وقد(۱)نبہ علیہ بقولہ ھکذا فی الکافی کماذکر فی خطبۃ الکتاب اصطلاحہ فی کذا وھکذا نعم ذکر بعض العصریین ان فی شرح الز یادات للعتابی انہ وھواللکنوی۱۲ الاصح ولم یذکر الواسطۃ فی النقل فان صح ھذا فلعلہ زید فی الھند یۃ من ثمہ اومن غیرہ اولعلہ ساقط من نسختی الکافی وعلی کل فالھند یۃ ثقۃ فی النقل والله تعالی اعلم وفی الکافی ان کفی واحدا غیر عین صرفہ الی اللمعۃ لانہ اھم واعاد تیممہ للحدث
قدرت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب ز یادہ اہم جانب میں مصروف نہ ہو۔ یہاں تك کہ اگر اس کے بدن یا کپڑے پر کوئی نجاست ہو تو اسے نجاست کی جانب صرف کرے گا “ اھ یہ کلام روایت اصل کی ترجیح کی جانب اشارہ کررہا ہے جیسا کہ سامنے ہے۔
ہندیہ میں ہے : اسے لمعہ میں صرف کرے اور تیمم حدث کا اعادہ کرے امام محمد کے نزدیك اور امام ابویوسف کے نزدیك اعادہ نہیں اور اگر اسے وضو میں صرف کرلیا جائے تو جائز ہے اور اسے جنابت کا تیمم کرنا ہے بالاتفاق اگر یہ پانی ملنے سے پہلے حدث کا تیمم نہیں کیا تھا اب لمعہ دھونے سے پہلے تیمم کیا تو امام محمد کے نزدیك جائز نہیں اور امام ابویوسف کے نزدیك جائز ہے اور اول اصح ہے اسی طرح کافی میں ہے “ اھ۔ (ت)
اقول : والاول اصح (اور اول اصح ہے) کافی کے میرے نسخہ میں نہیں اور عبارت جیسے کافی میں ہے ویسے منقول نہیں جیسا کہ مقابلہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے اس پر اپنے الفاظ “ ھکذا فی الکافی “ سے تنبیہ بھی کردی ہے جیسا کہ خطبہ کتاب میں لفظ کذا اور ھکذا سے متعلق اپنی اصطلاح بتائی ہے ہاں بعض معاصرین (فاضل لکھنوی ۱۲) نے ذکر کیا ہے کہ عتابی کی شرح ز یادات میں ہے کہ “ وہی اصح ہے “ واسطہ نقل نہ بتا یا۔ اگر یہ صحیح ہے تو شاید ہندیہ میں وہیں سے یا اور کسی کتاب سے یہ اضافہ کرد یا گیا ہے یا ہوسکتا ہے یہ لفظ میرے نسخہ کافی میں چھوٹ گیا ہو۔ بہرحال ہندیہ نقل میں ثقہ ہے اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ فصل فیما ینقض التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۹
عند محمد لقدرتہ علی الماء ووجوب صرفہ الی الجنابۃ لاینافی قدرتہ علی صرفہ الی الحدث ولھذا لوصرفہ الی الوضوء جاز وتیمم لجنابۃ اتفاقا وعند ابی یوسف لایعید لانہ مستحق الصرف الی اللمعۃ والمستحق بجھۃ کالمعدوم فان لم یکن تیمم للحدث الخ وقد سبق۔
اقول : اخردلیل ابی یوسف فافاد ترجیحہ وصرح فی تعلیل محمد بوجوب صرفہ الی اللمعۃ وانہ لاینافی قدرتہ علی الوضوء وفی الغنیۃ (علیہ ان یبدأ بغسل اللمعۃ) لیصیر عادما للماء فی حق الحدث ولایجوز تیممہ للحدث قبلہ عند محمد لان صرف ذلك الماء الی اللمعۃ دون الحدث لیس بواجب عندہ بل علی سبیل الاولو یۃ فوجودہ یمنع التیمم للحدث وعند ابی یوسف صرفہ الی اللمعۃ واجب فھو کالمعدوم بالنسبۃ الی الحدث فیجوز التیمم لہ قبل غسل اللمعۃ ولوکان تیمم بعد ما احدث
کافی میں ہے : “ اگر غیر معین طور پر ایك کےلئے کافی ہو تو اسے لمعہ میں صرف کرے کیونکہ وہ اہم ہے اور امام محمد کے نزدیك تیمم حدث کا اعادہ ہے کیونکہ وہ پانی پر قادر ہوگیا تھا اور جنابت میں اسے صرف کرنے کا وجوب حدث میں صرف کرنے پر قدرت کے منافی نہیں۔ اسی لئے اگر اسے وضو میں صرف کرلیا تو جائز ہے اور اسے جنابت کا تیمم کرنا ہے بالاتفاق۔ اور امام ابویوسف کے نزدیك (تیمم حدث کا) اعادہ نہیں اس لئے کہ وہ پانی لمعہ میں صرف کیے جانے کا مستحق ہوچکا تھا اور جو کسی جانب کا مستحق ہو معدوم کی طرح ہے۔ تو اگر اس نے حدث کا تیمم نہ کیا توتھا الخ یہ کلام گزرچکا۔ (ت)
اقول : امام ابویوسف کی دلیل مؤخر کرکے اس کی ترجیح کا افادہ کیا اور امام محمد کی تعلیل میں اس بات کی تصریح فرمائی کہ لمعہ میں اسے صرف کرنا واجب ہے اور یہ وضو پر قدرت کے منافی نہیں۔ غنیہ میں ہے (اس پر یہ ہے کہ پہلے لمعہ دھوئے) تاکہ حق حدث میں پانی نہ رکھنے والا ہوجائے۔ امام محمد کے نزدیك اس سے پہلے اس کا تیمم حدث جائز نہیں کیونکہ ان کے نزدیك اس پانی کو حدث چھوڑ کر لمعہ میں صرف کرنا واجب نہیں بلکہ بطور اولی کے ہے تو اس کا وجود تیمم حدث سے مانع ہے اور امام ابویوسف کے نزدیك اسے لمعہ میں صرف کرنا واجب ہے تو وہ حدث کی بہ نسبت کالمعدوم ہے اس لئے لمعہ دھونے سے پہلے حدث کا تیمم جائز ہے اور اگر حدث ہونے کے
اقول : اخردلیل ابی یوسف فافاد ترجیحہ وصرح فی تعلیل محمد بوجوب صرفہ الی اللمعۃ وانہ لاینافی قدرتہ علی الوضوء وفی الغنیۃ (علیہ ان یبدأ بغسل اللمعۃ) لیصیر عادما للماء فی حق الحدث ولایجوز تیممہ للحدث قبلہ عند محمد لان صرف ذلك الماء الی اللمعۃ دون الحدث لیس بواجب عندہ بل علی سبیل الاولو یۃ فوجودہ یمنع التیمم للحدث وعند ابی یوسف صرفہ الی اللمعۃ واجب فھو کالمعدوم بالنسبۃ الی الحدث فیجوز التیمم لہ قبل غسل اللمعۃ ولوکان تیمم بعد ما احدث
کافی میں ہے : “ اگر غیر معین طور پر ایك کےلئے کافی ہو تو اسے لمعہ میں صرف کرے کیونکہ وہ اہم ہے اور امام محمد کے نزدیك تیمم حدث کا اعادہ ہے کیونکہ وہ پانی پر قادر ہوگیا تھا اور جنابت میں اسے صرف کرنے کا وجوب حدث میں صرف کرنے پر قدرت کے منافی نہیں۔ اسی لئے اگر اسے وضو میں صرف کرلیا تو جائز ہے اور اسے جنابت کا تیمم کرنا ہے بالاتفاق۔ اور امام ابویوسف کے نزدیك (تیمم حدث کا) اعادہ نہیں اس لئے کہ وہ پانی لمعہ میں صرف کیے جانے کا مستحق ہوچکا تھا اور جو کسی جانب کا مستحق ہو معدوم کی طرح ہے۔ تو اگر اس نے حدث کا تیمم نہ کیا توتھا الخ یہ کلام گزرچکا۔ (ت)
اقول : امام ابویوسف کی دلیل مؤخر کرکے اس کی ترجیح کا افادہ کیا اور امام محمد کی تعلیل میں اس بات کی تصریح فرمائی کہ لمعہ میں اسے صرف کرنا واجب ہے اور یہ وضو پر قدرت کے منافی نہیں۔ غنیہ میں ہے (اس پر یہ ہے کہ پہلے لمعہ دھوئے) تاکہ حق حدث میں پانی نہ رکھنے والا ہوجائے۔ امام محمد کے نزدیك اس سے پہلے اس کا تیمم حدث جائز نہیں کیونکہ ان کے نزدیك اس پانی کو حدث چھوڑ کر لمعہ میں صرف کرنا واجب نہیں بلکہ بطور اولی کے ہے تو اس کا وجود تیمم حدث سے مانع ہے اور امام ابویوسف کے نزدیك اسے لمعہ میں صرف کرنا واجب ہے تو وہ حدث کی بہ نسبت کالمعدوم ہے اس لئے لمعہ دھونے سے پہلے حدث کا تیمم جائز ہے اور اگر حدث ہونے کے
حوالہ / References
کافی
لاجل عــہ الحدث ثم وجد ماء یکفی لاحدھما ینتقض تیممہ عند محمد لاعند ابی یوسف بناء علی ماتقدم اھ ثم ھھنا مسألۃ اخری من ھذا القبیل مشی فیھا الامام ملك العلماء والامام رضی الدین السرخسی علی وجوب تأخیر التیمم فظاھر قیاسہ المشی علی قول محمد ھنا ففی البدائع بعد ذکر القدرۃ علی الماء الکافی وعلی ھذا الاصل مسائل فی الزیادات مسافر(۱) محدث علی ثوبہ نجاسۃ اکثر من قدر الدرھم ومعہ مایکفی لاحدھما غسل بہ الثوب وتیمم للحدث عندعامۃ العلماء لان الصرف الی النجاسۃ یجعلہ مصلیا بطھارتین حقیقیۃ وحکمیۃ فکان اولی من الصلاۃ بطھارۃ واحدۃ ویجب ان یغسل ثوبہ من النجاسۃ ثم یتیمم ولو بدأبالتیمم لایجزء بہ لانہ قدر علی ماء لوتوضأ بہ تجوز صلاتہ اھ وفی
بعد حدث کے لئے تیمم کرلیا تھا پھر اسے اتنا پانی ملا جو کسی ایك کے لئے کافی ہو تو اس کا تیمم امام محمد کے نزدیك ٹوٹ جائےگا امام ابویوسف کے نزدیك نہ ٹوٹے گا۔ اسی بنیاد پر جو پہلے بیان ہوئی “ اھ۔
پھر یہاں اسی قبیل کا ایك اور مسئلہ ہے جس میں امام ملك العلماء اور امام رضی الدین سرخسی کی روش اس پر ہے کہ تیمم مؤخر کرنا واجب ہے تو اس کا ظاہر قیاس یہ ہے کہ یہاں امام محمد کے قول پر چلے ہیں۔ بدائع میں آب کافی پر قدرت کا ذکر کرنے کے بعد ہے : “ اس اصل کے تحت ز یادات میں چند مسائل میں کوئی حدث والا مسافر ہے جس کے کپڑے پر قدر درہم سے ز یادہ نجاست ہے اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو دونوں میں سے کسی ایك کےلئے کافی ہے تو اس سے کپڑا دھوئے اور حدث کےلئے تیمم کرے۔ عامہ علماء کے نزدیك اس لئے کہ نجاست میں صرف کرنا اسے حقیقی وحکمی دو طہارتوں سے نماز ادا کرنے والا بنادے گا تو یہ ایك طہارت سے نماز ادا کرنے سے بہتر ہے اور واجب ہے کہ
عــہ اقول : کانہ زادہ(۲) ایضاحا والا فلا حاجۃ الیہ لانہ لواحدث ثم تیمم لھالکان لہ ایضا ولایختلف الحکم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : معلوم ہوتا ہے کہ اسے انہوں نے بطور توضیح بڑھا د یا ہے ورنہ اس کی ضرورت نہیں اس لئے کہ اگر اسے حدث ہوا پھر اس نے جنابت کا تیمم کیا تو وہ حدث کے لئے بھی ہوجائے گا اور حکم مختلف نہ ہوگا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
بعد حدث کے لئے تیمم کرلیا تھا پھر اسے اتنا پانی ملا جو کسی ایك کے لئے کافی ہو تو اس کا تیمم امام محمد کے نزدیك ٹوٹ جائےگا امام ابویوسف کے نزدیك نہ ٹوٹے گا۔ اسی بنیاد پر جو پہلے بیان ہوئی “ اھ۔
پھر یہاں اسی قبیل کا ایك اور مسئلہ ہے جس میں امام ملك العلماء اور امام رضی الدین سرخسی کی روش اس پر ہے کہ تیمم مؤخر کرنا واجب ہے تو اس کا ظاہر قیاس یہ ہے کہ یہاں امام محمد کے قول پر چلے ہیں۔ بدائع میں آب کافی پر قدرت کا ذکر کرنے کے بعد ہے : “ اس اصل کے تحت ز یادات میں چند مسائل میں کوئی حدث والا مسافر ہے جس کے کپڑے پر قدر درہم سے ز یادہ نجاست ہے اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو دونوں میں سے کسی ایك کےلئے کافی ہے تو اس سے کپڑا دھوئے اور حدث کےلئے تیمم کرے۔ عامہ علماء کے نزدیك اس لئے کہ نجاست میں صرف کرنا اسے حقیقی وحکمی دو طہارتوں سے نماز ادا کرنے والا بنادے گا تو یہ ایك طہارت سے نماز ادا کرنے سے بہتر ہے اور واجب ہے کہ
عــہ اقول : کانہ زادہ(۲) ایضاحا والا فلا حاجۃ الیہ لانہ لواحدث ثم تیمم لھالکان لہ ایضا ولایختلف الحکم ۱۲ منہ غفرلہ (م)
اقول : معلوم ہوتا ہے کہ اسے انہوں نے بطور توضیح بڑھا د یا ہے ورنہ اس کی ضرورت نہیں اس لئے کہ اگر اسے حدث ہوا پھر اس نے جنابت کا تیمم کیا تو وہ حدث کے لئے بھی ہوجائے گا اور حکم مختلف نہ ہوگا ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
غنیۃ المستملی باب التیمم مطبع سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۶
بدائع الصنائع فصل فی بیان ماینقض التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۷
بدائع الصنائع فصل فی بیان ماینقض التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۷
المحیط الرضوی ثم الھند یۃ لوتیمم اولاثم غسل النجاسۃ یعید التیمم لانہ تیمم وھو قادر علی مایتوضأ بہ اھ ورأیتنی کتبت علیہ سابقا مانصہ۔
اقول : ھذا علی قول محمد اماعلی قول ابی یوسف فلا لکونہ مشغولا بحاجۃ فکان کالمعد لعطش وبہ جزم فی الدر المختار اھ ثم رأیت بعدہ بزمان نظر فیہ المحقق الحلبی فی الحلیۃ کمانظر فیہ المحقق الحلبی فی الحلیۃ کمانظر الفقیر ولله الحمد فقال بعد نقل مافی البدائع والمحیط قال العبد الضعیف غفرالله تعالی لہ فیہ نظر بل الظاھر الحکم بجواز التیمم تقدم علی غسل الثوب اوتأخر لانہ مستحق الصرف الی الثوب علی ما قالوا والمستحق الصرف الی جھۃ منعدم حکما بالنسبۃ الی غیرھا کما فی مسألۃ اللمعۃ مع الحدث قبل التیمم لہ اذاکان الماء کافیا لاحدھما فبدأ بالتیمم للحدث قبل غسلھا کماھو روا یۃ الاصل وکمافی مسألۃ خوف
کپڑے سے نجاست دھوئے پھر تیمم کرے اور اگر پہلے تیمم کرلیا تو یہ کفایت نہیں کرسکتا اس لئے کہ وہ اتنے پانی پر قادر ہے کہ اگر اس سے وضو کرے تو اس کی نماز ہوجائے “ اھ اور محیط رضوی پھر ہندیہ میں ہے : “ اگر پہلے تیمم کیا پھر نجاست دھوئی تو تیمم کا اعادہ کرے اس لئے کہ اس نے اس حالت میں تیمم کیا جب کہ وہ اتنے پانی پر قادر تھا جس سے وضو کرے “ ۔ اھ اس پر میں نے زمانہ سابق میں اپنی لکھی ہوئی یہ عبارت دیکھی :
اقول : یہ حکم امام محمد کے قول پر ہے لیکن امام ابویوسف کے قول پر اعادہ نہیں اس لئے کہ وہ پانی حاجت میں مشغول تھا تو اس پانی کی طرح ہوا جو پ یاس کےلئے رکھا ہوا ہو۔ اسی پر درمختار میں جزم کیا ہے “ اھ پھر اس کے کچھ عرصہ کے بعد میں نے دیکھا کہ اس پر محقق حلبی نے حلیہ میں بھی ویسے ہی کلام کیا ہے جیسے فقیر نے کلام کیا اور خدا ہی کےلئے حمد ہے انہوں نے بدائع اور محیط کی عبارتیں نقل کرنے کے بعد لکھا ہے : بندہ ضعیف کہتا ہے خدائے برتر اس کی مغفرت فرمائے یہ محل نظر ہے بلکہ ظاہر جواز تیمم کا حکم ہے۔ کپڑا دھونے سے پہلے تیمم ہو یا اس کے بعد ہو۔ اس لئے کہ حسب ارشاد علماء وہ پانی کپڑے میں صرف کیے جانے کا مستحق ہے اور جو کسی ایك جانب صرف کئے جانے کا مستحق ہوچکا ہو وہ دوسری جانب کی بہ نسبت حکما معدوم ہے جیسے حدث کے ساتھ لمعہ کے مسئلہ میں اس سے پہلے کہ
اقول : ھذا علی قول محمد اماعلی قول ابی یوسف فلا لکونہ مشغولا بحاجۃ فکان کالمعد لعطش وبہ جزم فی الدر المختار اھ ثم رأیت بعدہ بزمان نظر فیہ المحقق الحلبی فی الحلیۃ کمانظر فیہ المحقق الحلبی فی الحلیۃ کمانظر الفقیر ولله الحمد فقال بعد نقل مافی البدائع والمحیط قال العبد الضعیف غفرالله تعالی لہ فیہ نظر بل الظاھر الحکم بجواز التیمم تقدم علی غسل الثوب اوتأخر لانہ مستحق الصرف الی الثوب علی ما قالوا والمستحق الصرف الی جھۃ منعدم حکما بالنسبۃ الی غیرھا کما فی مسألۃ اللمعۃ مع الحدث قبل التیمم لہ اذاکان الماء کافیا لاحدھما فبدأ بالتیمم للحدث قبل غسلھا کماھو روا یۃ الاصل وکمافی مسألۃ خوف
کپڑے سے نجاست دھوئے پھر تیمم کرے اور اگر پہلے تیمم کرلیا تو یہ کفایت نہیں کرسکتا اس لئے کہ وہ اتنے پانی پر قادر ہے کہ اگر اس سے وضو کرے تو اس کی نماز ہوجائے “ اھ اور محیط رضوی پھر ہندیہ میں ہے : “ اگر پہلے تیمم کیا پھر نجاست دھوئی تو تیمم کا اعادہ کرے اس لئے کہ اس نے اس حالت میں تیمم کیا جب کہ وہ اتنے پانی پر قادر تھا جس سے وضو کرے “ ۔ اھ اس پر میں نے زمانہ سابق میں اپنی لکھی ہوئی یہ عبارت دیکھی :
اقول : یہ حکم امام محمد کے قول پر ہے لیکن امام ابویوسف کے قول پر اعادہ نہیں اس لئے کہ وہ پانی حاجت میں مشغول تھا تو اس پانی کی طرح ہوا جو پ یاس کےلئے رکھا ہوا ہو۔ اسی پر درمختار میں جزم کیا ہے “ اھ پھر اس کے کچھ عرصہ کے بعد میں نے دیکھا کہ اس پر محقق حلبی نے حلیہ میں بھی ویسے ہی کلام کیا ہے جیسے فقیر نے کلام کیا اور خدا ہی کےلئے حمد ہے انہوں نے بدائع اور محیط کی عبارتیں نقل کرنے کے بعد لکھا ہے : بندہ ضعیف کہتا ہے خدائے برتر اس کی مغفرت فرمائے یہ محل نظر ہے بلکہ ظاہر جواز تیمم کا حکم ہے۔ کپڑا دھونے سے پہلے تیمم ہو یا اس کے بعد ہو۔ اس لئے کہ حسب ارشاد علماء وہ پانی کپڑے میں صرف کیے جانے کا مستحق ہے اور جو کسی ایك جانب صرف کئے جانے کا مستحق ہوچکا ہو وہ دوسری جانب کی بہ نسبت حکما معدوم ہے جیسے حدث کے ساتھ لمعہ کے مسئلہ میں اس سے پہلے کہ
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ فصل بیان ماینقض التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۹
العطش ونحوہ نعم یتمشی ذلك علی روا یۃ الزیادات اھ وتبعہ فی البحر الرائق علی الفاظہ وزاد بعدہ ولھذا قال فی شرح الوقا یۃ وانما تثبت القدرۃ اذا لم یکن مصروفا الی جھۃ اھم اھ لکن زعم فی السراج ان وجوب تاخیر التیمم فی مسألۃ النجاسۃ مجمع علیہ بخلاف مسألۃ اللمعۃ فاذن لایکون جزم البدائع والمحیط فیھا بوجوب التاخیر دلیل المشی علی قول محمد فی اللمعۃ۔
اقول : لکن(۱) قداسمعناك نص الامام صدر الشریعۃ انفا انما تثبت القدرۃ اذا لم یکن مصروفا الی نجاسۃ ۔ ونص الدر المختار المشغول بحاجۃ غسل نجس کالمعدوم فاین الاجماع وقد جزما بہ کأنہ لاخلاف فیہ فضلا عن الاجماع علی خلافہ ثم اذقد ذکر الاجماع ھھنا
حدث کا تیمم کیا ہو۔ جب پانی دونوں میں سے کسی ایك کے لئے کافی ہو تو لمعہ دھونے سے پہلے تیمم حدث سے ابتدا کی ہو۔ جیسا کہ اصل کی روایت ہے اور جیسا کہ خوف تشنگی و غیرہ کے مسئلہ میں ہے ہاں وہ حکم روایت ز یادات پر چل سکتا ہے اھ اور البحرالرائق میں ان ہی کے الفاظ کے ساتھ ان کا اتباع کیا ہے۔ اور اس کے بعد مزید یہ لکھا ہے : “ اسی لئے شرح وقایہ میں فرما یا : “ اور قدرت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب اس سے ز یادہ اہم جانب میں مصروف نہ ہو “ اھ لیکن سراج میں یہ خیال کیا ہے کہ مسئلہ نجاست میں تیمم مؤخر کرنے کا وجوب متفق علیہ اور اجماعی ہے بخلاف مسئلہ لمعہ کے اس کے پیش نظر مسئلہ نجاست میں وجوب تاخیر پر بدائع ومحیط کا جزم مسئلہ لمعہ میں امام محمد کے قول پر مشی کی دلیل نہ ہوگا۔ (ت)اقول : لیکن امام صدر الشریعۃ کی عبارت ہم ابھی پیش کرچکے کہ “ قدرت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب نجاست کی جانب مصروف نہ ہو “ ۔ اور درمختار کی یہ عبارت کہ “ جو کسی نجس کو دھونے کی ضرورت میں مشغول ہے معدوم کی طرح ہے “ تو اجماع کہاں جب کہ ان دونوں نے اس پر یوں جزم کیا ہے جیسے اس میں کوئی خلاف ہی نہیں اس کے خلاف پر
اقول : لکن(۱) قداسمعناك نص الامام صدر الشریعۃ انفا انما تثبت القدرۃ اذا لم یکن مصروفا الی نجاسۃ ۔ ونص الدر المختار المشغول بحاجۃ غسل نجس کالمعدوم فاین الاجماع وقد جزما بہ کأنہ لاخلاف فیہ فضلا عن الاجماع علی خلافہ ثم اذقد ذکر الاجماع ھھنا
حدث کا تیمم کیا ہو۔ جب پانی دونوں میں سے کسی ایك کے لئے کافی ہو تو لمعہ دھونے سے پہلے تیمم حدث سے ابتدا کی ہو۔ جیسا کہ اصل کی روایت ہے اور جیسا کہ خوف تشنگی و غیرہ کے مسئلہ میں ہے ہاں وہ حکم روایت ز یادات پر چل سکتا ہے اھ اور البحرالرائق میں ان ہی کے الفاظ کے ساتھ ان کا اتباع کیا ہے۔ اور اس کے بعد مزید یہ لکھا ہے : “ اسی لئے شرح وقایہ میں فرما یا : “ اور قدرت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب اس سے ز یادہ اہم جانب میں مصروف نہ ہو “ اھ لیکن سراج میں یہ خیال کیا ہے کہ مسئلہ نجاست میں تیمم مؤخر کرنے کا وجوب متفق علیہ اور اجماعی ہے بخلاف مسئلہ لمعہ کے اس کے پیش نظر مسئلہ نجاست میں وجوب تاخیر پر بدائع ومحیط کا جزم مسئلہ لمعہ میں امام محمد کے قول پر مشی کی دلیل نہ ہوگا۔ (ت)اقول : لیکن امام صدر الشریعۃ کی عبارت ہم ابھی پیش کرچکے کہ “ قدرت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب نجاست کی جانب مصروف نہ ہو “ ۔ اور درمختار کی یہ عبارت کہ “ جو کسی نجس کو دھونے کی ضرورت میں مشغول ہے معدوم کی طرح ہے “ تو اجماع کہاں جب کہ ان دونوں نے اس پر یوں جزم کیا ہے جیسے اس میں کوئی خلاف ہی نہیں اس کے خلاف پر
حوالہ / References
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۳۹
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۳۹
شرح الوقا یۃ باب التیمم المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۵
الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱ / ۴۵
البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۳۹
شرح الوقا یۃ باب التیمم المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۱۰۵
الدرالمختار باب التیمم مجتبائی دہلی ۱ / ۴۵
وقدم نقل الخلاف فی مسألۃ اللمعۃ ابدی بینھما فارقا بہ تشبت العلامۃ الشامی فی دفع نظر الحلیۃ والبحر۔ فقال فی منحۃ الخالق ذکر فی السراج لوبدأ بالتیمم ثم غسل النجاسۃ اعاد التیمم اجماعا بخلاف المسألۃ الاولی ای مسألۃ اللمعۃ علی قول ابی یوسف لانہ تیمم ھنا وھو قادر علی ماء لوتوضأ بہ جاز وھناك ای فی مسألۃ اللمعۃ لوتوضأ بذلك الماء لم یجز لانہ عاد جنبا برؤ یۃ الماء اھ وبہ یندفع النظر فتدبر اھ و اوردہ ایضا فی ردالمحتار فقال وھو فرق حسن دقیق فتدبرہ اھ
اقول : وبالله التوفیق لہ محملان۔
الاول : الجواز بمعنی الصحۃ کماتعطیہ عبارۃ ملك العلماء حیث نسب الجواز الی الصلاۃ وفیہ۔
اولا (۱) : ان مجرد صحۃ الوضوء بہ لایثبت القدرۃ ولاینفی العجز
اجماع تو درکنار- پھر جب سراج میں یہاں اجماع ذکر کیا اور اس سے پہلے مسئلہ لمعہ میں اختلاف نقل کیا تو ان دونوں کے درمیان ایك وجہ فرق بھی ظاہر کی جس سے علامہ شامی نے حلیہ وبحر کا کلام دفع کرنے میں تمسك کیا۔
منحۃ الخالق میں لکھتے ہیں : “ سراج میں ذکر کیا ہے کہ اگر پہلے تیمم کرلیا پھر نجاست دھوئی تو اسے اجماعا تیمم کا اعادہ کرنا ہے بخلاف پہلے مسئلہ کے یعنی مسئلہ لمعہ کے برخلاف امام ابویوسف کے قول پر اس لئے کہ یہاں اس نے اس حالت میں تیمم کیا کہ وہ ایسے پانی پر قادر تھا جس سے اگر وضو کرتا تو جائز ہوتا اور وہاں یعنی مسئلہ لمعہ میں اگر اس پانی سے وضو کرتا تو جائز نہ ہوتا اس لئے کہ پانی دیکھنے کی وجہ سے وہ پھر جنب ہوگیا “ ۔ اھ اور اسی سے وہ کلام دفع ہوجاتا ہے۔ فتدبر (تو غور کرنا چاہئے) اھ—سراج کا کلام ردالمحتار میں بھی ذکر کرکے فرما یا ہے : “ وھو فرق حسن دقیق فتدبرہ (اور یہ ایك عمدہ دقیق فرق ہے جس میں تدبر کرنا چاہئے) “ اھ (ت) اقول : (میں کہتا ہوں) اور توفیق خدا ہی سے ہے اس کے دو۲ محمل ہیں : اول : جواز بمعنی صحت ہو جیسا کہ ملك العلماء کی عبارت سے مستفاد ہوتا ہے اس طرح کہ انہوں نے جواز کی نسبت نماز کی طرف کی ہے۔ اب اس میں کلام ہے اولا محض اتنا کہ اس سے وضو درست ہے نہ قدرت کا اثبات کرتا ہے نہ عجز کی نفی کرتا ہے۔
اقول : وبالله التوفیق لہ محملان۔
الاول : الجواز بمعنی الصحۃ کماتعطیہ عبارۃ ملك العلماء حیث نسب الجواز الی الصلاۃ وفیہ۔
اولا (۱) : ان مجرد صحۃ الوضوء بہ لایثبت القدرۃ ولاینفی العجز
اجماع تو درکنار- پھر جب سراج میں یہاں اجماع ذکر کیا اور اس سے پہلے مسئلہ لمعہ میں اختلاف نقل کیا تو ان دونوں کے درمیان ایك وجہ فرق بھی ظاہر کی جس سے علامہ شامی نے حلیہ وبحر کا کلام دفع کرنے میں تمسك کیا۔
منحۃ الخالق میں لکھتے ہیں : “ سراج میں ذکر کیا ہے کہ اگر پہلے تیمم کرلیا پھر نجاست دھوئی تو اسے اجماعا تیمم کا اعادہ کرنا ہے بخلاف پہلے مسئلہ کے یعنی مسئلہ لمعہ کے برخلاف امام ابویوسف کے قول پر اس لئے کہ یہاں اس نے اس حالت میں تیمم کیا کہ وہ ایسے پانی پر قادر تھا جس سے اگر وضو کرتا تو جائز ہوتا اور وہاں یعنی مسئلہ لمعہ میں اگر اس پانی سے وضو کرتا تو جائز نہ ہوتا اس لئے کہ پانی دیکھنے کی وجہ سے وہ پھر جنب ہوگیا “ ۔ اھ اور اسی سے وہ کلام دفع ہوجاتا ہے۔ فتدبر (تو غور کرنا چاہئے) اھ—سراج کا کلام ردالمحتار میں بھی ذکر کرکے فرما یا ہے : “ وھو فرق حسن دقیق فتدبرہ (اور یہ ایك عمدہ دقیق فرق ہے جس میں تدبر کرنا چاہئے) “ اھ (ت) اقول : (میں کہتا ہوں) اور توفیق خدا ہی سے ہے اس کے دو۲ محمل ہیں : اول : جواز بمعنی صحت ہو جیسا کہ ملك العلماء کی عبارت سے مستفاد ہوتا ہے اس طرح کہ انہوں نے جواز کی نسبت نماز کی طرف کی ہے۔ اب اس میں کلام ہے اولا محض اتنا کہ اس سے وضو درست ہے نہ قدرت کا اثبات کرتا ہے نہ عجز کی نفی کرتا ہے۔
حوالہ / References
منحۃ الخالق علی البحرالرائق باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۳۹
ردالمحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۷
ردالمحتار باب التیمم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۷
الاتری ان المریض اوالبعید میلا لوتحمل الحرج وتوضأ بہ لصح وجازت صلاتہ بہ بل الشغل بحاجۃ اھم ایضا من وجوہ العجز کالمدخر لعطش اوعجن مع جواز صلاتہ بہ قطعا ان فعل۔
وثانیا : علی(۱) السراج خاصۃ اذن یطیح الفرق فالصحۃ وجواز الصلاۃ حاصل قطعا فی مسألۃ اللمعۃ ایضا الا تری الی ماتقدم عن الھند یۃ والکافی وشرح الوقا یۃ لوصرفہ الی الوضوء جاز زاد الاولان اتفاقا وعودہ جنبا لایمنعہ عن التوضی للحدث لان ھذہ الجنابۃ مقتصرۃ والحدث غیر مندمج فیھا۔
الثانی : بمعنی الحل ای لوتوضأ بہ فی مسألۃ النجاسۃ حل بخلاف مسألۃ اللمعۃ لانہ عادجنبا فوجب صرفہ الی اجنابۃ۔
اقول : وفیہ
اولا : لانسلم الحل فی النجاسۃ فان فیہ اختیار الصلاۃ مع نجاسۃ حقیقیۃ عمدا لانہ کان قادرا علی ان یزیل النجاستین الحقیقۃ
دیکھئے بیمار یا ایك میل دوری والے نے اگر مشقت اٹھائی اور پانی سے وضو کیا تو وضو صحیح ہے اور اس سے نماز جائز ہے بلکہ ز یادہ اہم ضرورت میں پانی کا مشغول ہونا بھی عجز کی صورتوں میں سے ہے جیسے وہ پانی جو پ یاس کےلئے آٹا گوندھنے کےلئے جمع کررکھا ہو باوجودیکہ اگر اس سے وضو کرے تو اس کی نماز قطعا جائز ہے۔ ثانیا : خاص سراج پر یہ کلام ہے کہ ایسا ہے تو فرق ضائع کردینا چاہئے کیونکہ صحت اور جواز نماز تو قطعا مسئلہ لمعہ میں بھی حاصل ہے۔ وہ دیکھئے جو ہندیہ کافی اور شرح وقایہ کے حوالہ سے گزرا کہ اگر اس پانی کو وضو میں صرف کرلیا تو جائز ہے۔ ہندیہ وکافی نے اتفاقا (بالاتفاق) کا اضافہ کیا۔ اور اس کا پھر جنب ہوجانا حدث کا وضو کرنے سے مانع نہیں اس لئے کہ یہ جنابت مقتصرہ ہے اور حدث اس میں مندرج نہیں۔ دوم : جواز بمعنی حلت ہو یعنی مسئلہ نجاست میں اگر اس پانی سے وضو کرلیا تو حلال ہے بخلاف مسئلہ لمعہ کے۔ اس لئے کہ پھر جنب ہوگیا تو اسے جنابت میں صرف کرنا واجب ہے۔ اقول : اس میں بھی کلام ہے۔ اولا : ہم نہیں مانتے کہ مسئلہ نجاست میں حلت ہے کیونکہ اس میں نجاست حقیقیہ کے ساتھ نماز کی ادائےگی کو قصدا اختیار کرنا ہے اس لئے کہ اسے قدرت تھی کہ دونوں نجاستیں دور کرے حقیقیہ کو پانی
وثانیا : علی(۱) السراج خاصۃ اذن یطیح الفرق فالصحۃ وجواز الصلاۃ حاصل قطعا فی مسألۃ اللمعۃ ایضا الا تری الی ماتقدم عن الھند یۃ والکافی وشرح الوقا یۃ لوصرفہ الی الوضوء جاز زاد الاولان اتفاقا وعودہ جنبا لایمنعہ عن التوضی للحدث لان ھذہ الجنابۃ مقتصرۃ والحدث غیر مندمج فیھا۔
الثانی : بمعنی الحل ای لوتوضأ بہ فی مسألۃ النجاسۃ حل بخلاف مسألۃ اللمعۃ لانہ عادجنبا فوجب صرفہ الی اجنابۃ۔
اقول : وفیہ
اولا : لانسلم الحل فی النجاسۃ فان فیہ اختیار الصلاۃ مع نجاسۃ حقیقیۃ عمدا لانہ کان قادرا علی ان یزیل النجاستین الحقیقۃ
دیکھئے بیمار یا ایك میل دوری والے نے اگر مشقت اٹھائی اور پانی سے وضو کیا تو وضو صحیح ہے اور اس سے نماز جائز ہے بلکہ ز یادہ اہم ضرورت میں پانی کا مشغول ہونا بھی عجز کی صورتوں میں سے ہے جیسے وہ پانی جو پ یاس کےلئے آٹا گوندھنے کےلئے جمع کررکھا ہو باوجودیکہ اگر اس سے وضو کرے تو اس کی نماز قطعا جائز ہے۔ ثانیا : خاص سراج پر یہ کلام ہے کہ ایسا ہے تو فرق ضائع کردینا چاہئے کیونکہ صحت اور جواز نماز تو قطعا مسئلہ لمعہ میں بھی حاصل ہے۔ وہ دیکھئے جو ہندیہ کافی اور شرح وقایہ کے حوالہ سے گزرا کہ اگر اس پانی کو وضو میں صرف کرلیا تو جائز ہے۔ ہندیہ وکافی نے اتفاقا (بالاتفاق) کا اضافہ کیا۔ اور اس کا پھر جنب ہوجانا حدث کا وضو کرنے سے مانع نہیں اس لئے کہ یہ جنابت مقتصرہ ہے اور حدث اس میں مندرج نہیں۔ دوم : جواز بمعنی حلت ہو یعنی مسئلہ نجاست میں اگر اس پانی سے وضو کرلیا تو حلال ہے بخلاف مسئلہ لمعہ کے۔ اس لئے کہ پھر جنب ہوگیا تو اسے جنابت میں صرف کرنا واجب ہے۔ اقول : اس میں بھی کلام ہے۔ اولا : ہم نہیں مانتے کہ مسئلہ نجاست میں حلت ہے کیونکہ اس میں نجاست حقیقیہ کے ساتھ نماز کی ادائےگی کو قصدا اختیار کرنا ہے اس لئے کہ اسے قدرت تھی کہ دونوں نجاستیں دور کرے حقیقیہ کو پانی
بالماء والحکمیۃ بالتراب کماقال ملك العلماء ولم یکن للماء خلف فی الحقیقۃ فاذاصرفہ الی الحکمیۃ التی کان یجدلہ خلفا فیھا فقدازمع واجمع علی ان یصلی فی نجس مانع مع القدرۃ علی ازالتہ فکیف یحل ھذا اما الاجزاء فلانہ عاجز عن الماء عند ایقاع الصلاۃ وانما النظر فیہ الی الحالۃ الراھنۃ۔
فان قلت بل یدل علی الحل قول ملك العلماء فکان اولی من الصلاۃ بطھارۃ واحدۃ وقول الخانیۃ والخلاصۃ والحلیۃ والبحر لوتوضأ وصلی فی الثوب النجس جاز ویکون مسیئا اھ فان(۱) الاساء ۃ دون کراھۃ التحریم۔
اقول : تعلیل ملك العلماء ادل دلیل کماعلمت علی ان(۲) لفظۃ الاولی فیہ مثلھا فی قول عــہ التجنیس والمزید ان
سے اور حکمیہ کو مٹی سے جیسا کہ ملك العلماء نے فرما یا ہے اور نجاست حقیقیہ میں پانی کا کوئی بدل اور نائب نہیں تو جب اس نے پانی کو حکمیہ میں صرف کیا جس میں پانی کا ایك بدل اسے دستیاب تھا تو اس نے اس بات کا پختہ ارادہ اور عزم محکم کرلیا کہ نجس مانع کے ازالہ پر قدرت کے باوجود اس نجس مانع کے ساتھ نماز ادا کرے گا تو یہ حلال کیسے ہوگا -رہا کفایت کر جانا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی ادائےگی کے وقت وہ پانی سے عاجز ہے اور اس بارے میں صرف حالت موجودہ پر نظر کی جاتی ہے۔ (ت)
اگر یہ سوال ہو کہ ملك العلماء کی یہ عبارت حلت پر دلالت کررہی ہے : “ تو ایك طہارت سے نماز کی ادائےگی سے اولی ہے “ ۔ اور خانیہ خلاصہ حلیہ اور بحر کی یہ عبارت : “ اگر وضو کرلیا اور نجس کپڑے میں نماز ادا کی تو جائز ہے اور اسأت والا (برا کرنے والا) ہوگا “ اھ اس لئے کہ اساءت کا درجہ کراہت تحریم سے نیچے ہے۔ اقول : ملك العلماء کی تعلیل سب سے بڑی دلیل ہے جیسا کہ ناظر کو معلوم ہے مگر یہ ہے کہ جیسے اس میں لفظ “ اولی “ ہے ویسے ہی تجنیس اور مزید کی اس عبارت میں ہے : “ بیشك
عــہ بل فی نفس البدائع من کتاب الاستحسان الامتناع من المباح اولی من ارتکاب المحظور اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
بلکہ خود بدائع کتاب الاستحسان میں یہ عبارت ہے : مباح سے باز رہنا ممنوع کے ارتکاب سے اولی ہے اھ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
فان قلت بل یدل علی الحل قول ملك العلماء فکان اولی من الصلاۃ بطھارۃ واحدۃ وقول الخانیۃ والخلاصۃ والحلیۃ والبحر لوتوضأ وصلی فی الثوب النجس جاز ویکون مسیئا اھ فان(۱) الاساء ۃ دون کراھۃ التحریم۔
اقول : تعلیل ملك العلماء ادل دلیل کماعلمت علی ان(۲) لفظۃ الاولی فیہ مثلھا فی قول عــہ التجنیس والمزید ان
سے اور حکمیہ کو مٹی سے جیسا کہ ملك العلماء نے فرما یا ہے اور نجاست حقیقیہ میں پانی کا کوئی بدل اور نائب نہیں تو جب اس نے پانی کو حکمیہ میں صرف کیا جس میں پانی کا ایك بدل اسے دستیاب تھا تو اس نے اس بات کا پختہ ارادہ اور عزم محکم کرلیا کہ نجس مانع کے ازالہ پر قدرت کے باوجود اس نجس مانع کے ساتھ نماز ادا کرے گا تو یہ حلال کیسے ہوگا -رہا کفایت کر جانا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز کی ادائےگی کے وقت وہ پانی سے عاجز ہے اور اس بارے میں صرف حالت موجودہ پر نظر کی جاتی ہے۔ (ت)
اگر یہ سوال ہو کہ ملك العلماء کی یہ عبارت حلت پر دلالت کررہی ہے : “ تو ایك طہارت سے نماز کی ادائےگی سے اولی ہے “ ۔ اور خانیہ خلاصہ حلیہ اور بحر کی یہ عبارت : “ اگر وضو کرلیا اور نجس کپڑے میں نماز ادا کی تو جائز ہے اور اسأت والا (برا کرنے والا) ہوگا “ اھ اس لئے کہ اساءت کا درجہ کراہت تحریم سے نیچے ہے۔ اقول : ملك العلماء کی تعلیل سب سے بڑی دلیل ہے جیسا کہ ناظر کو معلوم ہے مگر یہ ہے کہ جیسے اس میں لفظ “ اولی “ ہے ویسے ہی تجنیس اور مزید کی اس عبارت میں ہے : “ بیشك
عــہ بل فی نفس البدائع من کتاب الاستحسان الامتناع من المباح اولی من ارتکاب المحظور اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
بلکہ خود بدائع کتاب الاستحسان میں یہ عبارت ہے : مباح سے باز رہنا ممنوع کے ارتکاب سے اولی ہے اھ ۱۲ منہ غفرلہ (ت)
حوالہ / References
بدائع الصنائع فصل بیان ماینقض التیمم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۵۷
البحرالرائق باب التیمم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۳۹
بدائع الصنائع کتاب الاحسان ایم ایم سعید کمپنی ، کراچی ۵ / ۱۳۰
البحرالرائق باب التیمم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۳۹
بدائع الصنائع کتاب الاحسان ایم ایم سعید کمپنی ، کراچی ۵ / ۱۳۰
مراعاۃ فرض العین اولی قال الشامی فحیث ثبت انہ فرض کان خلافہ حراما اھ
من صدر الجہاد واطلاق(۱) المسیئ علی من ترك واجبا غیر نادر لاجرم ان قال فی الغنیۃ لوازال بذلك الماء الحدث وبقی الثوب نجسا لکان قدترك الطھارۃ الحقیقۃ مع قدرتہ علیھا بغیر عذر فیکون اثما لکن تصح صلاتہ لثبوت العجز بعد نفاد الماء اھ وھذا عین مافھمت وقداداہ بلفظ اوجز وا حسن رحمہ الله تعالی والعلماء جمیعا۔
وثانیا : اذن ینقلب الفرق فحیث جازلہ صرف الماء الی الوضوء وابقاء النجاسۃ المانعۃ بلامزیل لان یحل لہ صرفہ الی الوضوء مع ازالۃ الجنابۃ بالتیمم لاولی وای مدخل فیہ لکون الجنابۃ اغلظ فان الکل ینتفی اما بالماء اوبالتراب وای دلیل علی انہ تجب ازالۃ الاغلظ بالماء دون التراب
فرض عین کی رعایت “ اولی “ ہے اس پر شامی نے فرما یا : تو جب یہ ثابت ہوا کہ وہ فرض ہے تو اس کا خلاف حرام ہوا اھ ازشروع کتاب الجہاد اور واجب ترك کرنے والے پر لفظ “ مسیئ “ (برا کرنے والا) کا اطلاق کوئی نادر بات نہیں۔ لاجرم غنیہ میں لکھا ہے : “ اگر اس پانی سے حدث دور کیا اور کپڑا نجس رہ گیا تو وہ طہارت حقیقیہ پر قادر ہونے کے باوجود بلاعذر اس کا تارك ہوا تو گنہ گار ہوگا لیکن اس کی نماز صحیح ہوجائے گی کیوں کہ پانی ختم ہوجانے کے بعد عجز ثابت ہوگیا “ اھ یہ بعینہ وہ ہے جو میں نے سمجھا اور انہوں نے اسے ز یادہ مختصر اور بہتر الفاظ میں ادا کیا ان پر اور تمام علما پر خدا کی رحمت ہو۔
ثانیا : ایسا ہے تو فرق پلٹ جائے گا۔ جب اس کےلئے یہ جائز ہے کہ پانی وضو میں صرف کردے اور بغیر کسی زائل کرنے والی چیز کے نجاست مانعہ کو باقی رکھے تو اس کےلئے جنابت کو تیمم سے زائل کرنے کے ساتھ پانی کو وضو میں صرف کرلینا بدرجہ اولی جائز وحلال ہوگا اور اس میں نجاست کے ز یادہ سخت ہونے کا کیا دخل سبھی تو دور ہوجارہا ہے یا پانی سے یا مٹی سے اس پر کیا دلیل ہے کہ جو
من صدر الجہاد واطلاق(۱) المسیئ علی من ترك واجبا غیر نادر لاجرم ان قال فی الغنیۃ لوازال بذلك الماء الحدث وبقی الثوب نجسا لکان قدترك الطھارۃ الحقیقۃ مع قدرتہ علیھا بغیر عذر فیکون اثما لکن تصح صلاتہ لثبوت العجز بعد نفاد الماء اھ وھذا عین مافھمت وقداداہ بلفظ اوجز وا حسن رحمہ الله تعالی والعلماء جمیعا۔
وثانیا : اذن ینقلب الفرق فحیث جازلہ صرف الماء الی الوضوء وابقاء النجاسۃ المانعۃ بلامزیل لان یحل لہ صرفہ الی الوضوء مع ازالۃ الجنابۃ بالتیمم لاولی وای مدخل فیہ لکون الجنابۃ اغلظ فان الکل ینتفی اما بالماء اوبالتراب وای دلیل علی انہ تجب ازالۃ الاغلظ بالماء دون التراب
فرض عین کی رعایت “ اولی “ ہے اس پر شامی نے فرما یا : تو جب یہ ثابت ہوا کہ وہ فرض ہے تو اس کا خلاف حرام ہوا اھ ازشروع کتاب الجہاد اور واجب ترك کرنے والے پر لفظ “ مسیئ “ (برا کرنے والا) کا اطلاق کوئی نادر بات نہیں۔ لاجرم غنیہ میں لکھا ہے : “ اگر اس پانی سے حدث دور کیا اور کپڑا نجس رہ گیا تو وہ طہارت حقیقیہ پر قادر ہونے کے باوجود بلاعذر اس کا تارك ہوا تو گنہ گار ہوگا لیکن اس کی نماز صحیح ہوجائے گی کیوں کہ پانی ختم ہوجانے کے بعد عجز ثابت ہوگیا “ اھ یہ بعینہ وہ ہے جو میں نے سمجھا اور انہوں نے اسے ز یادہ مختصر اور بہتر الفاظ میں ادا کیا ان پر اور تمام علما پر خدا کی رحمت ہو۔
ثانیا : ایسا ہے تو فرق پلٹ جائے گا۔ جب اس کےلئے یہ جائز ہے کہ پانی وضو میں صرف کردے اور بغیر کسی زائل کرنے والی چیز کے نجاست مانعہ کو باقی رکھے تو اس کےلئے جنابت کو تیمم سے زائل کرنے کے ساتھ پانی کو وضو میں صرف کرلینا بدرجہ اولی جائز وحلال ہوگا اور اس میں نجاست کے ز یادہ سخت ہونے کا کیا دخل سبھی تو دور ہوجارہا ہے یا پانی سے یا مٹی سے اس پر کیا دلیل ہے کہ جو
حوالہ / References
ردالمحتار ، کتاب الجہاد ، مصطفی البابی مصر ۳ / ۲۴۱
غنیۃ المستملی فصل فی التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۶
غنیۃ المستملی فصل فی التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۶
وبالجملۃ ظھر بحمدالله تعالی ان النظر لامرد لہ وان الاظھر فی مسألۃ النجاسۃ مااستظھرہ فی الحلیۃ والبحر وجزم بہ فی شرح الوقا یۃ والدرالمختار۔
اقول : وبہ ترجح ولله الحمد ماسلکہ المحقق الحلبی صاحب الغنیۃ فی تقر یر منشأ الخلاف(۱) فان القول بجواز الصرف الی الوضوء مع اولو یۃ الصرف الی اللمعۃ ھو الذی یقتضیہ الدلیل وعلی تسلیم وجوب الصرف الیھا ترد مسائل کثیرۃ ثبت فیھا العجز عن الماء لاجل المنع الشرعی کمابیناھا فی رسالۃ قوانین العلماء وقد(۲) یکون الوجوب فی کلام الکافی من باب قولك حقك واجب علی فظھران الاظھر فی ھذہ خلاف مااستظھرہ فی الحلیۃ فالراجع فیہ قول محمد وقدذیل بالاصح وھو تصحیح صریح وصاحب(۳) الحلیۃ رحمہ الله تعالی لیس من اصحاب الترجیح۔
فان قلت کونہ مستحق الصرف الی حاجۃ اھم لایختص بالوجوب الاتری ان المعد لعجن منہ مع ان العجن غیر واجب۔
زیادہ سخت ہے اسے مٹی سے نہیں پانی ہی سے زائل کرنا واجب ہے بالجملہ بحمد خدائے برتر یہ واضح ہوگیا کہ اس کلام کو کوئی بات رد کرنے والی نہیں اور مسئلہ نجاست میں اظہر وہی ہے جو حلیہ اور بحر میں ظاہر کیا گیا اور جس پر شرح وقایہ اور درمختار میں جزم ہوا۔ (ت)اقول : اسی سے بحمدہ تعالی اسے بھی ترجیح حاصل ہوگئی جس پر محقق حلبی منشأ خلاف کی تقر یر میں چلے اس لئے کہ مقتضائے دلیل یہی قول ہے کہ لمعہ میں پانی صرف کرنے کے اولی ہونے کے ساتھ وضو میں اس کے صرف کا جواز ہے اور لمعہ میں صرف کا وجوب مان لینے پر ان بہت سے مسائل سے اعتراض ہوگا جن میں کسی شرعی ممانعت کی وجہ سے پانی سے عجز ثابت ہے جیسا کہ انہیں ہم نے رسالہ “ قوانین العلماء “ میں بیان کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کافی کی عبارت میں وجوب “ حقك واجب علی “ (تمہارا حق میرے اوپر واجب ہے یعنی بقوت ثابت ہے) کے باب سے ہو۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ اس بارے میں اظہر اس کے برخلاف ہے جو حلیہ میں ظاہر کیا اور کہا “ تو اس میں راجح امام محمد کا قول ہے “ اور اس کے آخر میں “ اصح “ بھی لکھ د یا یہ صریح تصحیح ہے جبکہ صاحب حلیہ ان پر خدا کی رحمت ہو اصحاب ترجیح سے نہیں ہیں۔ (ت) اگر سوال ہو پانی کا ز یادہ اہم ضرور میں صرف کئے جانے کا مستحق ہونا وجوب سے ہی خاص نہیں دیکھئے آٹا گوندھنے کے لئے رکھا ہوا پانی اسی باب سے ہے باوجودیکہ آٹا گوندھنا واجب نہیں۔
اقول : وبہ ترجح ولله الحمد ماسلکہ المحقق الحلبی صاحب الغنیۃ فی تقر یر منشأ الخلاف(۱) فان القول بجواز الصرف الی الوضوء مع اولو یۃ الصرف الی اللمعۃ ھو الذی یقتضیہ الدلیل وعلی تسلیم وجوب الصرف الیھا ترد مسائل کثیرۃ ثبت فیھا العجز عن الماء لاجل المنع الشرعی کمابیناھا فی رسالۃ قوانین العلماء وقد(۲) یکون الوجوب فی کلام الکافی من باب قولك حقك واجب علی فظھران الاظھر فی ھذہ خلاف مااستظھرہ فی الحلیۃ فالراجع فیہ قول محمد وقدذیل بالاصح وھو تصحیح صریح وصاحب(۳) الحلیۃ رحمہ الله تعالی لیس من اصحاب الترجیح۔
فان قلت کونہ مستحق الصرف الی حاجۃ اھم لایختص بالوجوب الاتری ان المعد لعجن منہ مع ان العجن غیر واجب۔
زیادہ سخت ہے اسے مٹی سے نہیں پانی ہی سے زائل کرنا واجب ہے بالجملہ بحمد خدائے برتر یہ واضح ہوگیا کہ اس کلام کو کوئی بات رد کرنے والی نہیں اور مسئلہ نجاست میں اظہر وہی ہے جو حلیہ اور بحر میں ظاہر کیا گیا اور جس پر شرح وقایہ اور درمختار میں جزم ہوا۔ (ت)اقول : اسی سے بحمدہ تعالی اسے بھی ترجیح حاصل ہوگئی جس پر محقق حلبی منشأ خلاف کی تقر یر میں چلے اس لئے کہ مقتضائے دلیل یہی قول ہے کہ لمعہ میں پانی صرف کرنے کے اولی ہونے کے ساتھ وضو میں اس کے صرف کا جواز ہے اور لمعہ میں صرف کا وجوب مان لینے پر ان بہت سے مسائل سے اعتراض ہوگا جن میں کسی شرعی ممانعت کی وجہ سے پانی سے عجز ثابت ہے جیسا کہ انہیں ہم نے رسالہ “ قوانین العلماء “ میں بیان کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کافی کی عبارت میں وجوب “ حقك واجب علی “ (تمہارا حق میرے اوپر واجب ہے یعنی بقوت ثابت ہے) کے باب سے ہو۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ اس بارے میں اظہر اس کے برخلاف ہے جو حلیہ میں ظاہر کیا اور کہا “ تو اس میں راجح امام محمد کا قول ہے “ اور اس کے آخر میں “ اصح “ بھی لکھ د یا یہ صریح تصحیح ہے جبکہ صاحب حلیہ ان پر خدا کی رحمت ہو اصحاب ترجیح سے نہیں ہیں۔ (ت) اگر سوال ہو پانی کا ز یادہ اہم ضرور میں صرف کئے جانے کا مستحق ہونا وجوب سے ہی خاص نہیں دیکھئے آٹا گوندھنے کے لئے رکھا ہوا پانی اسی باب سے ہے باوجودیکہ آٹا گوندھنا واجب نہیں۔
اقول : ذلك تخفیف(۱) من ربکم ورحمۃ یراعی حاجات عبادہ بالنقیر والقطمیر فجاز التیمم اذاکان یبیع الماء من عندہ بفلس وقیمتہ ثمہ نصف فلس وجاز لبعد میل وانکان فی جھۃ مذھبہ وھویسیر الیہ لحاجۃ نفسہ انما المنع لحق الشرع فلایتحقق الابالوجوب اذمالایجب شرعا لایمنع ترکہ شرعا فظھر الفرق والحمدلله رب العلمین ولذا مشیت فی الجدول علی قول محمد لانہ المذیل بالتصحیح الصریح ولانہ الاظھر من حیث الدلیل ولانہ الاحوط فی الدین وان کان قول ابی یوسف ایضالہ قوۃ لانہ قول ابی یوسف ولانہ فی الاصل وقداستظھر اوجھیتہ فی الحلیۃ واومی الی ترجیحہ فی شرح الوقا یۃ واخردلیلہ فی الکافی غیر انھم اعتمدوا حرفا واحدا وھو استحقاق الصرف وقدعلمت جوابہ ولله الحمد۔
اقول : (میں کہتا ہوں) یہ تمہارے رب کی جانب سے آسانی اور رحمت ہے وہ نقیر وقطمیر (کھجور کی چھال اور گٹھلی کے چھلکے) میں اپنے بندوں کی حاجتوں کی رعایت فرماتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس صورت میں تیمم جائز ہوگیا جب پانی والا ایك پیسے میں پانی بیچ رہا ہے اور وہاں اس کی قیمت آدھا پیسہ ہے۔ اور ایك میل پانی دور ہوتو تیمم جائز ہوگیا اگرچہ وہ اس کے راستے ہی کی سمت میں ہو۔ اور اس طرف وہ اپنی ضرورت کےلئے جابھی رہا ہے لیکن حق شرع کی وجہ سے ممانعت تو یہ بغیر وجوب کے متحقق نہ ہوگی اس لئے کہ شرعا جو واجب نہیں اس کا ترك شرعا ممنوع نہیں اس سے فرق واضح ہوگیا اور تمام حمد خدا کےلئے ہے جو سارے جہانوں کا مالك ہے اسی لئے میں نقشہ میں امام محمد کے قول پر چلاہوں اس لئے کہ اس پر صریح تصحیح کا نشان د یا گیا ہے اور اس لئے کہ دلیل کے اعتبار سے وہی اظہر ہے اور اس لئے کہ دین میں وہی احوط ہے۔ اگرچہ امام ابویوسف کے قول میں بھی قوت ہے اس لئے کہ وہ امام ابویوسف کا قول ہے اور اس لئے کہ وہ “ اصل “ میں ہے اور حلیہ میں اس کے اوجہ ہونے کو ظاہر بتا یا اور شرح وقایہ میں اس کی ترجیح کی طرف اشارہ کیا اور کافی میں اس کی دلیل مؤخر رکھی۔ مگر ان سب حضرات کا معتمد ایك ہی حرف ہے اور وہ ہے استحقاق صرف اور اس کا جواب معلوم ہوچکا اور خدا ہی کےلئے حمد ہے۔ (ت)
بالجملہ۲ حاصل تحقیق یہ ہوا کہ اگر کپڑے یا بدن پر کوئی نجاست حقیقیہ مانعہ ہے اور وضو نہیں اور پانی اتنا ملا کہ چاہے نجاست دھولے چاہے وضو کرلے دونوں نہیں ہوسکتے تو واجب ہے کہ اس سے نجاست ہی دھوئے اگر خلاف کرے گا گنہگار ہوگا حدث کےلئے تیمم کرے خواہ نجاست دھونے سے پہلے یا بعد اور بعد اولی ہے کہ
اقول : (میں کہتا ہوں) یہ تمہارے رب کی جانب سے آسانی اور رحمت ہے وہ نقیر وقطمیر (کھجور کی چھال اور گٹھلی کے چھلکے) میں اپنے بندوں کی حاجتوں کی رعایت فرماتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس صورت میں تیمم جائز ہوگیا جب پانی والا ایك پیسے میں پانی بیچ رہا ہے اور وہاں اس کی قیمت آدھا پیسہ ہے۔ اور ایك میل پانی دور ہوتو تیمم جائز ہوگیا اگرچہ وہ اس کے راستے ہی کی سمت میں ہو۔ اور اس طرف وہ اپنی ضرورت کےلئے جابھی رہا ہے لیکن حق شرع کی وجہ سے ممانعت تو یہ بغیر وجوب کے متحقق نہ ہوگی اس لئے کہ شرعا جو واجب نہیں اس کا ترك شرعا ممنوع نہیں اس سے فرق واضح ہوگیا اور تمام حمد خدا کےلئے ہے جو سارے جہانوں کا مالك ہے اسی لئے میں نقشہ میں امام محمد کے قول پر چلاہوں اس لئے کہ اس پر صریح تصحیح کا نشان د یا گیا ہے اور اس لئے کہ دلیل کے اعتبار سے وہی اظہر ہے اور اس لئے کہ دین میں وہی احوط ہے۔ اگرچہ امام ابویوسف کے قول میں بھی قوت ہے اس لئے کہ وہ امام ابویوسف کا قول ہے اور اس لئے کہ وہ “ اصل “ میں ہے اور حلیہ میں اس کے اوجہ ہونے کو ظاہر بتا یا اور شرح وقایہ میں اس کی ترجیح کی طرف اشارہ کیا اور کافی میں اس کی دلیل مؤخر رکھی۔ مگر ان سب حضرات کا معتمد ایك ہی حرف ہے اور وہ ہے استحقاق صرف اور اس کا جواب معلوم ہوچکا اور خدا ہی کےلئے حمد ہے۔ (ت)
بالجملہ۲ حاصل تحقیق یہ ہوا کہ اگر کپڑے یا بدن پر کوئی نجاست حقیقیہ مانعہ ہے اور وضو نہیں اور پانی اتنا ملا کہ چاہے نجاست دھولے چاہے وضو کرلے دونوں نہیں ہوسکتے تو واجب ہے کہ اس سے نجاست ہی دھوئے اگر خلاف کرے گا گنہگار ہوگا حدث کےلئے تیمم کرے خواہ نجاست دھونے سے پہلے یا بعد اور بعد اولی ہے کہ
خلاف علماء سے بچنا ہے اور اسی لئے اگر پہلے کرچکا ہے نجاست دھونے کے بعد دوبارہ تیمم کرلینا انسب واحری ہے اور۱ اگر جنابت کا لمعہ باقی ہے اور حدث بھی ہوا اور وہ لمعہ غیر مواضع وضو میں ہے یا کچھ مواضع وضو کے ایك حصے میں کچھ دوسرے عضو میں اور پانی اتنا ملا کہ دونوں میں جس ایك کو چاہے دھولے دونوں نہیں ہوسکتے تو اس پانی کو لمعہ دھونے میں صرف کرے اور حدث کےلئے لازم کہ جب پانی خرچ ہولے اس کے بعد تیمم کرے اگرچہ پہلے بھی کرچکا ہوکہ وہ منتقض ہوگیا ظاہر ہے کہ تیمم بعد کو کرنے یا بعد کو دوبارہ کرلینے میں نہ کچھ خرچ ہے نہ کچھ حرج۔ تو اگر قول امام محمد کی صریح تصحیح نہ بھی ہوتی خلاف ائمہ سے خروج کے لئے اسی پر عمل مناسب ومندوب ہوتا نہ کہ اس طرف صراحۃ لفظ اصح موجود اور یہی دلیل کی رو سے ظاہرتر اور اسی میں احت یاط اور امر نماز میں احتیاط باعث فلاح وصلاح۔
اصلح الله سبحنہ وتعالی بالنامع سائر اخواننا فی الدین٭ وجعلنا جمیعا من المفلحین٭ وحشرنا فی زمرۃ الصلحین٭ تحت لواء سید المرسلین٭ صلی الله تعالی علیہ وعلیھم وعلی الہ والھم وحزبہ وحزبھم اجمعین٭ ابد الابدین٭ والحمدلله رب العلمین٭ وصلی الله تعالی علی المصطفی والہ وصحبہ٭ وابنہ وحزبہ٭ وعلینا بھم ولھم وفیھم ومعھم امین٭ یاارحم الرحمین والله تعالی اعلم٭ وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم٭
خدائے پاك برتر ہمارا حال ہمارے تمام دینی بھائیوں کے ساتھ درست فرمائے اور ہم سب کو فلاح والوں میں سے بنائے اور ہمیں صالحین کے زمرے میں سید المرسلین کے جھنڈے تلے جمع فرمائے۔ خدائے برتر کا درود ہو حضور پر اور رسولوں پر اور حضور کی آل اور رسولوں کی آل اور حضور کی جماعت اور رسولوں کی جماعت سب پر ہمیشہ ہمیشہ اور تمام حمد خدا کےلئے ہے جو تمام جہانوں کا مالك ہے اور اللہ تعالی رحمت فرمائے سرکار مصطفی ان کی آل ان کے اصحاب ان کے فرزند ان کے گروہ پر اور ہم ان کے طفےل ان کے سبب ان کے اندر اور ان کے ساتھ قبول فرما اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والے اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے اور اس کا علم بہت تام اور محکم ہے اس کا مجد جلےل ہے۔ (ت)
الحمدلله کتاب مستطاب حسن التعمم لبیان حد التیمم مسودہ فقیر سے اٹھارہ۱۸ جز سے زائد میں باحسن وجوہ تمام ہوئی جس میں صدہا وہ ابحاث جلےلہ ہیں کہ قطعا طاقت فقیر سے بدر جہاورا ہیں مگر فیض قد یر عاجز فقیر سے وہ کام لے لیتا ہے جسے دیکھ کر انصاف والی نگاہیں کہ حسد سے پاك ہوں ناخواستہ کہہ اٹھیں ع :
اصلح الله سبحنہ وتعالی بالنامع سائر اخواننا فی الدین٭ وجعلنا جمیعا من المفلحین٭ وحشرنا فی زمرۃ الصلحین٭ تحت لواء سید المرسلین٭ صلی الله تعالی علیہ وعلیھم وعلی الہ والھم وحزبہ وحزبھم اجمعین٭ ابد الابدین٭ والحمدلله رب العلمین٭ وصلی الله تعالی علی المصطفی والہ وصحبہ٭ وابنہ وحزبہ٭ وعلینا بھم ولھم وفیھم ومعھم امین٭ یاارحم الرحمین والله تعالی اعلم٭ وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم٭
خدائے پاك برتر ہمارا حال ہمارے تمام دینی بھائیوں کے ساتھ درست فرمائے اور ہم سب کو فلاح والوں میں سے بنائے اور ہمیں صالحین کے زمرے میں سید المرسلین کے جھنڈے تلے جمع فرمائے۔ خدائے برتر کا درود ہو حضور پر اور رسولوں پر اور حضور کی آل اور رسولوں کی آل اور حضور کی جماعت اور رسولوں کی جماعت سب پر ہمیشہ ہمیشہ اور تمام حمد خدا کےلئے ہے جو تمام جہانوں کا مالك ہے اور اللہ تعالی رحمت فرمائے سرکار مصطفی ان کی آل ان کے اصحاب ان کے فرزند ان کے گروہ پر اور ہم ان کے طفےل ان کے سبب ان کے اندر اور ان کے ساتھ قبول فرما اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم فرمانے والے اور خدائے برتر ہی خوب جاننے والا ہے اور اس کا علم بہت تام اور محکم ہے اس کا مجد جلےل ہے۔ (ت)
الحمدلله کتاب مستطاب حسن التعمم لبیان حد التیمم مسودہ فقیر سے اٹھارہ۱۸ جز سے زائد میں باحسن وجوہ تمام ہوئی جس میں صدہا وہ ابحاث جلےلہ ہیں کہ قطعا طاقت فقیر سے بدر جہاورا ہیں مگر فیض قد یر عاجز فقیر سے وہ کام لے لیتا ہے جسے دیکھ کر انصاف والی نگاہیں کہ حسد سے پاك ہوں ناخواستہ کہہ اٹھیں ع :
کم ترك الاول للاخر
(اگلے پچھلوں کے لئے کتنا چھوڑ گئے۔ ت)
کتنے مسائل جلےلہ معرکۃ الآرا بحمدہ تعالی کیسی خوبی وخوش اسلوبی سے طے ہوئے ولله الحمد (اور خدا ہی کےلئے حمد ہے۔ ت) کتاب میں اصل مضمون کے علاوہ آٹھ۸ رسائل ہیں :
(۱) سمح الندری فیما یورث العجز عن الماء۱۳۳۵ھ۔
کہ وقت طبع حاشیہ پر اس عــہ کا نام لکھنارہ گیا۔
(۲) الظفر لقول زفر۱۳۳۵ھ۔
(۳) المطرالسعید علی نبت جنس الصعید۱۳۳۵ھ۔
(۴) الجد السدید فی نفی الاستعمال عن الصعید۱۳۳۵ھ۔
یہ چار ضمنیہ ہیں۔
(۵) باب العقائد والکلام۱۳۳۵ھ۔
(۶) قوانین العلماء فی متیمم علم عند زید ماء۱۳۳۵ھ۔
(۷) الطلبۃ البدیعۃ فی قول صدر الشریعۃ۱۳۳۵ھ۔
(۸) مجلی الشمعۃ لجامع حدث ولمعۃ ۱۳۳۵ھ۔
یہ چار ملحقہ ہیں سوال وشروع جواب ۱۳۲۵ میں ہے لہذا نام کتاب میں یہی عدد ہیں پھر بحمدہ تعالی اس مقام کے طبع کے وقت کے اوائل ماہ رمضان مبارك ۱۳۳۵ سے ہے یہ رسائل اور ان کے ساتھ اور مضامین کثیرہ اضافہ ہوئے مجموع کی تصنیف بحمدہ تعالی ساڑھے پانچ مہینے میں ہے جن میں دو۲ دن کم تین مہینے علالت شدیدہ ونقاہت مدیدہ کے ہیں جس کا بقیہ اب تك ہے لہذا رسالہ اخیرہ اوائل ۱۳۳۶ میں آ یا جیسا کہ اس کے نام نے ظاہر کیا بہرحال جو کچھ ہے میری قدرت سے ورا اور محض فضل میرے رب کریم پھر میرے نبی رؤف رحیم کا ہے جل وعلا و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
ولله الحمد حمد الشاکرین٭ وصلی الله تعالی علی خیر خلقہ محمد والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین٭
اور خدا ہی کےلئے حمد ہے شکر گزاروں کی حمد اور اللہ تعالی کا درود ہو اس کی مخلوق میں سب سے بہتر محمد اور ان کی آل ان کے اصحاب ان کے
عــہ یہ رسالہ (طبع جدید میں) جلد سوم کے صفحہ ۴۱۱ سے ۴۴۰ تك ہے۔
(اگلے پچھلوں کے لئے کتنا چھوڑ گئے۔ ت)
کتنے مسائل جلےلہ معرکۃ الآرا بحمدہ تعالی کیسی خوبی وخوش اسلوبی سے طے ہوئے ولله الحمد (اور خدا ہی کےلئے حمد ہے۔ ت) کتاب میں اصل مضمون کے علاوہ آٹھ۸ رسائل ہیں :
(۱) سمح الندری فیما یورث العجز عن الماء۱۳۳۵ھ۔
کہ وقت طبع حاشیہ پر اس عــہ کا نام لکھنارہ گیا۔
(۲) الظفر لقول زفر۱۳۳۵ھ۔
(۳) المطرالسعید علی نبت جنس الصعید۱۳۳۵ھ۔
(۴) الجد السدید فی نفی الاستعمال عن الصعید۱۳۳۵ھ۔
یہ چار ضمنیہ ہیں۔
(۵) باب العقائد والکلام۱۳۳۵ھ۔
(۶) قوانین العلماء فی متیمم علم عند زید ماء۱۳۳۵ھ۔
(۷) الطلبۃ البدیعۃ فی قول صدر الشریعۃ۱۳۳۵ھ۔
(۸) مجلی الشمعۃ لجامع حدث ولمعۃ ۱۳۳۵ھ۔
یہ چار ملحقہ ہیں سوال وشروع جواب ۱۳۲۵ میں ہے لہذا نام کتاب میں یہی عدد ہیں پھر بحمدہ تعالی اس مقام کے طبع کے وقت کے اوائل ماہ رمضان مبارك ۱۳۳۵ سے ہے یہ رسائل اور ان کے ساتھ اور مضامین کثیرہ اضافہ ہوئے مجموع کی تصنیف بحمدہ تعالی ساڑھے پانچ مہینے میں ہے جن میں دو۲ دن کم تین مہینے علالت شدیدہ ونقاہت مدیدہ کے ہیں جس کا بقیہ اب تك ہے لہذا رسالہ اخیرہ اوائل ۱۳۳۶ میں آ یا جیسا کہ اس کے نام نے ظاہر کیا بہرحال جو کچھ ہے میری قدرت سے ورا اور محض فضل میرے رب کریم پھر میرے نبی رؤف رحیم کا ہے جل وعلا و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
ولله الحمد حمد الشاکرین٭ وصلی الله تعالی علی خیر خلقہ محمد والہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اجمعین٭
اور خدا ہی کےلئے حمد ہے شکر گزاروں کی حمد اور اللہ تعالی کا درود ہو اس کی مخلوق میں سب سے بہتر محمد اور ان کی آل ان کے اصحاب ان کے
عــہ یہ رسالہ (طبع جدید میں) جلد سوم کے صفحہ ۴۱۱ سے ۴۴۰ تك ہے۔
امین والحمدلله رب العلمین٭ سبحنك اللھم وبحمدك اشھد ان لاالہ الاانت استغفرك واتوب الیك ط
فرزند ان کے گروہ سب پر الہی! قبول فرما۔ اور تمام تعریف اللہ کے لئے جو تمام جہانوں کا مالك ہے۔ پاکی ہے تجھے اے اللہ ساتھ ہی تیری حمد بھی۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ ت یرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔ (ت)
_____________________
فرزند ان کے گروہ سب پر الہی! قبول فرما۔ اور تمام تعریف اللہ کے لئے جو تمام جہانوں کا مالك ہے۔ پاکی ہے تجھے اے اللہ ساتھ ہی تیری حمد بھی۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ ت یرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔ (ت)
_____________________
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
ذیل باب الوضوء
مسئلہ۱۱۵ : ازمیرٹھ محلہ خیر نگر دروازہ مرسلہ مولوی محمد حسین صاحب تاجر طلسمی پریس ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ
شیخ بشیر الدین صاحب رئیس لال کورتی میرٹھ کی ایك آنکھ میں سے خفیف خفیف پانی اس طرح نکلتا ہے کہ تھوڑی تھوڑی د یر میں ذرا ذرا نمی محسوس ہوتی ہے اور رومال سے صاف کرنے پر قریبا ایك چاول کے برابر کپڑا نم معلوم ہوتا ہے نمی کے الکس کی وجہ سے بار بار صاف کرتا ہوتا ہے۔ کبھی وہ نمی جلد جلد محسوس ہوتی ہے اور کبھی د یر د یر میں صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے فجر میں بہت وقت اس طرح گزرجاتا ہے کہ صاف نہیں کیا جاتا ہے جب بھی سلانی کیفیت پیدا نہیں ہوتی بلکہ نمی بصورت کےچڑ معمولی طور پر معلوم ہوتی ہے۔ کبھی یہ نہیں ہوا کہ اگر کسی کام کی وجہ سے بھول گئے ہوں د یر تك صاف نہ کیا ہو تو بھی سیلانی حالت رہتی ہے۔
اس کی بابت ایك بڑے ڈاکٹر کی رائے یہ ہے کہ دماغ سے جو پانی آتا ہے بینی کی راہ نکلنا ہے وہ یہی ہے چونکہ بینی میں جانے کا راستہ بند ہوگیا ہے اس واسطے آنکھ کے کوئے سے نمی کا الکس معلوم ہوتا ہے بعض کا خیال یہ ہے کہ سر میں کہیں کسی موقع پر کچھ ناسوری کیفیت ہے وہ جگہ یہ پانی پیدا کرتی ہے۔ ایسی حالت میں وضو ہر وقت تازہ ہونا چاہئے بعض کا یہ خیال ہے کہ جب تك سیلانی کیفیت نہ ہو تازہ وضو لازم نہیں۔ ان کو اس وجہ سے تکدر رہتا ہے اور محض احتیاط کی وجہ سے کہ بعض مقامات میں وضو کرنا دشوار ہوتا ہے انہوں نے اپنی آمدورفت کم
ذیل باب الوضوء
مسئلہ۱۱۵ : ازمیرٹھ محلہ خیر نگر دروازہ مرسلہ مولوی محمد حسین صاحب تاجر طلسمی پریس ۱۸شوال ۱۳۳۸ھ
شیخ بشیر الدین صاحب رئیس لال کورتی میرٹھ کی ایك آنکھ میں سے خفیف خفیف پانی اس طرح نکلتا ہے کہ تھوڑی تھوڑی د یر میں ذرا ذرا نمی محسوس ہوتی ہے اور رومال سے صاف کرنے پر قریبا ایك چاول کے برابر کپڑا نم معلوم ہوتا ہے نمی کے الکس کی وجہ سے بار بار صاف کرتا ہوتا ہے۔ کبھی وہ نمی جلد جلد محسوس ہوتی ہے اور کبھی د یر د یر میں صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے فجر میں بہت وقت اس طرح گزرجاتا ہے کہ صاف نہیں کیا جاتا ہے جب بھی سلانی کیفیت پیدا نہیں ہوتی بلکہ نمی بصورت کےچڑ معمولی طور پر معلوم ہوتی ہے۔ کبھی یہ نہیں ہوا کہ اگر کسی کام کی وجہ سے بھول گئے ہوں د یر تك صاف نہ کیا ہو تو بھی سیلانی حالت رہتی ہے۔
اس کی بابت ایك بڑے ڈاکٹر کی رائے یہ ہے کہ دماغ سے جو پانی آتا ہے بینی کی راہ نکلنا ہے وہ یہی ہے چونکہ بینی میں جانے کا راستہ بند ہوگیا ہے اس واسطے آنکھ کے کوئے سے نمی کا الکس معلوم ہوتا ہے بعض کا خیال یہ ہے کہ سر میں کہیں کسی موقع پر کچھ ناسوری کیفیت ہے وہ جگہ یہ پانی پیدا کرتی ہے۔ ایسی حالت میں وضو ہر وقت تازہ ہونا چاہئے بعض کا یہ خیال ہے کہ جب تك سیلانی کیفیت نہ ہو تازہ وضو لازم نہیں۔ ان کو اس وجہ سے تکدر رہتا ہے اور محض احتیاط کی وجہ سے کہ بعض مقامات میں وضو کرنا دشوار ہوتا ہے انہوں نے اپنی آمدورفت کم
کردی یہ حالت ناقض وضو ہے یا نہیں
الجواب :
اگر دماغ کی وہ رطوبت ہے کہ ناك سے آتی ہے جب تو ظاہر کہ طاہر ہے قابل سیلان بھی ہو تو ناقض وضو نہیں اور اگر ناسور سے ہو جب بھی صورت مذکورہ سےلان کی نہیں اور چھڑانے سے چھوٹنے کا کچھ اعتبار نہیں بہرحال اس سے وضو نہ جائے گا و الله تعالی اعلم
_____________________
الجواب :
اگر دماغ کی وہ رطوبت ہے کہ ناك سے آتی ہے جب تو ظاہر کہ طاہر ہے قابل سیلان بھی ہو تو ناقض وضو نہیں اور اگر ناسور سے ہو جب بھی صورت مذکورہ سےلان کی نہیں اور چھڑانے سے چھوٹنے کا کچھ اعتبار نہیں بہرحال اس سے وضو نہ جائے گا و الله تعالی اعلم
_____________________
ذیل باب الغسل
مسئلہ ۱۱۶ : ازسرونج مسؤلہ عبدالرشید خان صاحب ۱۹ محرم الحرام ۱۳۳۱ھ
برس یا چھ۶ماہ عرصہ سے زید حالت جنابت میں ہے جب اسے ضرورت غسل کی ہوئی اس نے غسل نہ کیا اور کوئی وجہ اسے غسل سے روکنے والی بھی نہیں ہے اور اسی حالت جنابت میں وہ پان کھاتا رہا تو چونا کتھا حالت ناپاکی میں زید کے دانتوں پر جم گیا اب زید نے غسل کیا اور غرغرہ کیا مگر پانی زید کے دانتوں پر اور دانتوں کی جڑوں میں نہ پہنچا کیونکہ دانتوں پر اور دانتوں کی جڑوں میں تو چونا کتھا جما ہوا ہے۔ ایسی حالت میں غسل زید کا جائز ہوا یا ناجائز اور اگر ناجائز ہوا تو کیا تدبیر کرنی چاہئے بینوا توجروا (بیان کرو اور اجر پاؤ۔ ت)
الجواب :
اگروہ جگہ جہاں چونا جم گیا ہے جنابت کے بعد کسی طرح کلی کرنے یا پانی پینے سے نہ دھل گئی تھی اور وہ چونا ایسا جم گیا ہے کہ اس کا چھڑانا باعث ضرر وایذا ہے تو معاف ہے غرغرہ کافی ہوگا اور اگربے ضرر چھڑا سکتا ہے تو چھڑانا واجب ہے بغیر چھڑائے غسل نہ ہوگا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۷ : از مانیا والہ ڈاك خانہ قاسم پور ضلع بجنور مرسلہ سید کفایت علی صاحب ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱) غسل کی نیت کرنی چاہئے یا نہیں اور کیا نیت ہے اس کی یا غسل جنابت یا احتلام کا ہو اگر اس نے نیت نہیں کی غسل ہوا یا نہیں
(۲) غسل کرنے والا بند مکان میں غسل کررہا ہے اور ز یادہ تر اس مکان میں تاریکی نہیں ہے اور فرض اپنے دیکھ رہا ہے اور کپڑا نہیں باندھا ہے غسل ہوا یا نہیں بینوا توجروا (بیان کرو اور اجر پاؤ۔ ت)
مسئلہ ۱۱۶ : ازسرونج مسؤلہ عبدالرشید خان صاحب ۱۹ محرم الحرام ۱۳۳۱ھ
برس یا چھ۶ماہ عرصہ سے زید حالت جنابت میں ہے جب اسے ضرورت غسل کی ہوئی اس نے غسل نہ کیا اور کوئی وجہ اسے غسل سے روکنے والی بھی نہیں ہے اور اسی حالت جنابت میں وہ پان کھاتا رہا تو چونا کتھا حالت ناپاکی میں زید کے دانتوں پر جم گیا اب زید نے غسل کیا اور غرغرہ کیا مگر پانی زید کے دانتوں پر اور دانتوں کی جڑوں میں نہ پہنچا کیونکہ دانتوں پر اور دانتوں کی جڑوں میں تو چونا کتھا جما ہوا ہے۔ ایسی حالت میں غسل زید کا جائز ہوا یا ناجائز اور اگر ناجائز ہوا تو کیا تدبیر کرنی چاہئے بینوا توجروا (بیان کرو اور اجر پاؤ۔ ت)
الجواب :
اگروہ جگہ جہاں چونا جم گیا ہے جنابت کے بعد کسی طرح کلی کرنے یا پانی پینے سے نہ دھل گئی تھی اور وہ چونا ایسا جم گیا ہے کہ اس کا چھڑانا باعث ضرر وایذا ہے تو معاف ہے غرغرہ کافی ہوگا اور اگربے ضرر چھڑا سکتا ہے تو چھڑانا واجب ہے بغیر چھڑائے غسل نہ ہوگا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۷ : از مانیا والہ ڈاك خانہ قاسم پور ضلع بجنور مرسلہ سید کفایت علی صاحب ۵ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱) غسل کی نیت کرنی چاہئے یا نہیں اور کیا نیت ہے اس کی یا غسل جنابت یا احتلام کا ہو اگر اس نے نیت نہیں کی غسل ہوا یا نہیں
(۲) غسل کرنے والا بند مکان میں غسل کررہا ہے اور ز یادہ تر اس مکان میں تاریکی نہیں ہے اور فرض اپنے دیکھ رہا ہے اور کپڑا نہیں باندھا ہے غسل ہوا یا نہیں بینوا توجروا (بیان کرو اور اجر پاؤ۔ ت)
الجواب
(۱) غسل میں نیت سنت ہے اگر نہ کی غسل جب بھی ہوجائے گا اور اس کی نیت یہ ہے کہ ناپاکی دور ہوجانے اور نماز جائز ہونے کی نیت کرتا ہوں۔
(۲) برہنہ غسل کرنے سے بھی غسل ہوجاتا ہے اور اس میں کچھ حرج نہیں اگر مکان پردے کا ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۸ : مولوی عبدالحفیظ صاحب طالب علم مدرسہ منظر اسلام ۳۔ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی شخص کو احتلام بغیر شہوت و دفق کے ہو یا کسی مرض کی وجہ سے جیسے جر یان و غیرہ کیونکہ اس میں بھی بلاشہوت و دفق کے ہوتا ہے ان دو۲ صورتوں میں غسل محتلم پر واجب ہوگا یا نہیں یا یہ بھی وہی حکم رکھتا ہے جو کہ ذی دفق و شہوت سے خارج ہوتا ہے۔
الجواب :
جاگتے میں جو منی بغیر دفق و شہوت کے نکلے اس سے وضو واجب ہوتا ہے غسل نہیں مگر احتلام کی نسبت اس کو کیا خبر کہ بغیر دفق وشہوت ہے احتیاطا غسل کرے گا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۹ : از جنوبی افریقہ مقام بھوٹا بھوٹی برٹش پاسوٹولینڈ مسؤلہ حاجی اسمعیل میاں بن حاجی امیر م یاں کاٹھ یاواری۔
حضور نے فرمایا ہے کہ زانی کے ہاتھ کا ذبیحہ جائز ہے۔ اس پر زید کہتا ہے کہ کیسے جائز ہو زانی پر غسل چالیس۴۰روز تك نہیں اترتا ہے۔ کیا زید کا قول سچا ہے اور زانی کا غسل اترتا ہے یا نہیں
الجواب :
زید نے محض غلط کہا زانی کے ظاہر بدن کی طہارت اول ہی بار نہانے سے فورا ہوجائے گی ہاں قلب کی طہارت توبہ سے ہوگی اس میں چالیس۴۰دن کی حد باندھنی غلط ہے چالیس۴۰برس توبہ نہ کرے تو چالیس۴۰برس طہارت باطن نہ ہوگی۔ اور غسل نہ اترنے کو ذبیحہ ناجائز ہونے سے کیا علاقہ! طہارت شرط ذبح نہیں جنب کے ہاتھ کا ذبیحہ بھی درست ہے بلکہ وہ جن کا غسل فی الواقع کبھی نہیں اترتا یعنی کافر ان کتابی ان کے ہاتھ کا ذبیحہ سب کتابوں بلکہ خود قرآن عظیم میں حلال فرما یا ہے :
و طعام الذین اوتوا الكتب حل لكم۪- ۔
کتابیوں کے ہاتھ کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے۔
(۱) غسل میں نیت سنت ہے اگر نہ کی غسل جب بھی ہوجائے گا اور اس کی نیت یہ ہے کہ ناپاکی دور ہوجانے اور نماز جائز ہونے کی نیت کرتا ہوں۔
(۲) برہنہ غسل کرنے سے بھی غسل ہوجاتا ہے اور اس میں کچھ حرج نہیں اگر مکان پردے کا ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۸ : مولوی عبدالحفیظ صاحب طالب علم مدرسہ منظر اسلام ۳۔ ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی شخص کو احتلام بغیر شہوت و دفق کے ہو یا کسی مرض کی وجہ سے جیسے جر یان و غیرہ کیونکہ اس میں بھی بلاشہوت و دفق کے ہوتا ہے ان دو۲ صورتوں میں غسل محتلم پر واجب ہوگا یا نہیں یا یہ بھی وہی حکم رکھتا ہے جو کہ ذی دفق و شہوت سے خارج ہوتا ہے۔
الجواب :
جاگتے میں جو منی بغیر دفق و شہوت کے نکلے اس سے وضو واجب ہوتا ہے غسل نہیں مگر احتلام کی نسبت اس کو کیا خبر کہ بغیر دفق وشہوت ہے احتیاطا غسل کرے گا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۱۹ : از جنوبی افریقہ مقام بھوٹا بھوٹی برٹش پاسوٹولینڈ مسؤلہ حاجی اسمعیل میاں بن حاجی امیر م یاں کاٹھ یاواری۔
حضور نے فرمایا ہے کہ زانی کے ہاتھ کا ذبیحہ جائز ہے۔ اس پر زید کہتا ہے کہ کیسے جائز ہو زانی پر غسل چالیس۴۰روز تك نہیں اترتا ہے۔ کیا زید کا قول سچا ہے اور زانی کا غسل اترتا ہے یا نہیں
الجواب :
زید نے محض غلط کہا زانی کے ظاہر بدن کی طہارت اول ہی بار نہانے سے فورا ہوجائے گی ہاں قلب کی طہارت توبہ سے ہوگی اس میں چالیس۴۰دن کی حد باندھنی غلط ہے چالیس۴۰برس توبہ نہ کرے تو چالیس۴۰برس طہارت باطن نہ ہوگی۔ اور غسل نہ اترنے کو ذبیحہ ناجائز ہونے سے کیا علاقہ! طہارت شرط ذبح نہیں جنب کے ہاتھ کا ذبیحہ بھی درست ہے بلکہ وہ جن کا غسل فی الواقع کبھی نہیں اترتا یعنی کافر ان کتابی ان کے ہاتھ کا ذبیحہ سب کتابوں بلکہ خود قرآن عظیم میں حلال فرما یا ہے :
و طعام الذین اوتوا الكتب حل لكم۪- ۔
کتابیوں کے ہاتھ کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے۔
حوالہ / References
القرآن ۵ / ۵
اور کفار کا کبھی غسل نہ اترنا اس لئے کہ غسل کا ایك فرض تمام دہن کے پرزے پرزے کا حلق تك دھل جانا ہے دوسرا فرض ناك کے دونوں نتھنوں میں پورے نرم بانسے تك پانی چڑھنا اول اگرچہ ان سے ادا ہوجاتا ہو جبکہ بے تمیزی سے منہ بھر کر پانی پئیں مگر دوم کے لئے پانی سونگھ کر چڑھانا درکار ہے جسے وہ قطعا نہیں کرتے بلکہ آج لاکھوں جاہل مسلمان اس سے غافل ہیں جس کے سبب ان کا غسل نا درست اور نمازیں باطل ہیں نہ کہ کفار۔ امام ابن امیر الحاج حلبی حلیہ میں فرماتے ہیں :
فی المحیط نص محمد فی السیر الکبیر فقال و ینبغی للکافر اذا اسلم ان یغتسل غسل الجنابۃ لان المشرکین لایغتسلون من الجنابۃ ولایدرون کیفیۃ الغسل اھ۔ وفی الذخیرۃ من المشرکین من لایدری الاغتسال من الجنابۃ ومنھم من یدری کقرشی فانھم توارثوا ذلك من اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام الا انھم لایدرون کیفیتہ لایتمضمضون ولا یستنشقون وھما فرضان الا تری ان فرضیۃ المضمضۃ والاستنشاق خفیت علی کثیر من العلماء فکیف علی الکفار فحال الکفار علی مااشار الیہ فی الکتاب اما ان لایغتسلوا من الجنابۃ اویغتسلون ولکن لایدرون کیفیتہ وای ذلك کان یؤمرون بالاغتسال بعد الاسلام لبقاء الجنابۃ وبہ تبین ان ماذکر بعض مشایخنا ان الغسل بعد الاسلام مستحب فذلك فیمن لم یکن اجنب اھ۔ مختصرا ۔ محیط میں ہے : “ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے سیر کبیر میں تصریح فرمائی ہے کہ کافر جب اسلام قبول کرے تو اسے غسل جنابت کرنا چاہئے کیونکہ مشرکین جنابت کا غسل نہیں کرتے اور نہ ہی غسل کا طریقہ جانتے ہیں “ (انتہی)۔ اور ذخیرہ میں ہے کہ بعض مشرك غسل جنابت کا علم نہیں رکھتے اور بعض جیسے کفار قریش جانتے ہیں کیونکہ وہ حضرت اسمعیل علیہ السلام سے نسلا بعد نسل ایسا کرتے آئے ہیں لیکن وہ اس کا طریقہ نہیں جانتے ہیں وہ نہ کلی کرتے ہیں نہ ناك میں پانی چڑھاتے ہیں حالانکہ یہ دونوں باتیں فرض ہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ کلی کرنے اور ناك میں پانی چڑھانے کی فرضیت بہت سے اہل علم پر مخفی ہے تو کفار پر اس کے پوشیدہ رہنے کا کیا حال ہوگا لہذا کفار کا وہی حال ہے جس کی طرف انہوں نے (امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے) کتاب (سیر کبیر) میں اشارہ فرما یا کہ یا تو وہ غسل جنابت کرتے ہی نہیں یا غسل تو کرتے ہیں لیکن اس کا طریقہ نہیں جانتے۔ جو بھی بات ہو بہرحال اسلام لانے کے بعد ان کو غسل کرنے کا حکم د یا جائےگا کیونکہ جنابت باقی ہے
فی المحیط نص محمد فی السیر الکبیر فقال و ینبغی للکافر اذا اسلم ان یغتسل غسل الجنابۃ لان المشرکین لایغتسلون من الجنابۃ ولایدرون کیفیۃ الغسل اھ۔ وفی الذخیرۃ من المشرکین من لایدری الاغتسال من الجنابۃ ومنھم من یدری کقرشی فانھم توارثوا ذلك من اسمعیل علیہ الصلوۃ والسلام الا انھم لایدرون کیفیتہ لایتمضمضون ولا یستنشقون وھما فرضان الا تری ان فرضیۃ المضمضۃ والاستنشاق خفیت علی کثیر من العلماء فکیف علی الکفار فحال الکفار علی مااشار الیہ فی الکتاب اما ان لایغتسلوا من الجنابۃ اویغتسلون ولکن لایدرون کیفیتہ وای ذلك کان یؤمرون بالاغتسال بعد الاسلام لبقاء الجنابۃ وبہ تبین ان ماذکر بعض مشایخنا ان الغسل بعد الاسلام مستحب فذلك فیمن لم یکن اجنب اھ۔ مختصرا ۔ محیط میں ہے : “ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے سیر کبیر میں تصریح فرمائی ہے کہ کافر جب اسلام قبول کرے تو اسے غسل جنابت کرنا چاہئے کیونکہ مشرکین جنابت کا غسل نہیں کرتے اور نہ ہی غسل کا طریقہ جانتے ہیں “ (انتہی)۔ اور ذخیرہ میں ہے کہ بعض مشرك غسل جنابت کا علم نہیں رکھتے اور بعض جیسے کفار قریش جانتے ہیں کیونکہ وہ حضرت اسمعیل علیہ السلام سے نسلا بعد نسل ایسا کرتے آئے ہیں لیکن وہ اس کا طریقہ نہیں جانتے ہیں وہ نہ کلی کرتے ہیں نہ ناك میں پانی چڑھاتے ہیں حالانکہ یہ دونوں باتیں فرض ہیں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ کلی کرنے اور ناك میں پانی چڑھانے کی فرضیت بہت سے اہل علم پر مخفی ہے تو کفار پر اس کے پوشیدہ رہنے کا کیا حال ہوگا لہذا کفار کا وہی حال ہے جس کی طرف انہوں نے (امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے) کتاب (سیر کبیر) میں اشارہ فرما یا کہ یا تو وہ غسل جنابت کرتے ہی نہیں یا غسل تو کرتے ہیں لیکن اس کا طریقہ نہیں جانتے۔ جو بھی بات ہو بہرحال اسلام لانے کے بعد ان کو غسل کرنے کا حکم د یا جائےگا کیونکہ جنابت باقی ہے
حوالہ / References
حلیہ
اس سے ظاہر ہوا کہ بعض مشایخ کا یہ کہنا کہ اسلام لانے کے بعد غسل کرنا مستحب ہے۔ اس شخص کے بارے میں ہے جو جنبی نہ ہو اھ مثلا بلوغ سے پہلے اسلام لے آ یا (مختصرا)(ت)
ہاں یہ اور بات ہے کہ بحال جنابت بلاضرورت ذبح نہ چاہئے کہ ذبح عبادت الہی ہے جس سے خاص اس کی تعظم چاہی جاتی ہے پھر اس میں تسمیہ وتکبیر ذکر الہی ہے تو بعد طہارت اولی ہے اگرچہ ممانعت اب بھی نہیں۔ درمختار میں ہے :
لایکرہ النظر الی القران لجنب کما لا تکرہ ادعیۃ ای تحریما والا فالوضوء لمطلق الذکر مندوب وترکہ خلاف الاولی ۔ والله تعالی اعلم۔
جنبی کے لئے دعائیں پڑھنے کی طرح قرآن پاك کو دیکھنا بھی مکروہ نہیں اور اس سے مکروہ تحریمیہ مراد ہے ورنہ مطلق ذکر کےلئے وضو کرنا مستحب ہے اور اس کا چھوڑنا خلاف اولی ہے۔ اور اللہتعالی بہتر جانتا ہے (ت)
سوال۱۲۰دوم : اگر زید غسل خانہ میں غسل جنابت یا احتلام کاکرتا ہے اور وضو کرکے تہبند نکال کر غسل کرے تو غسل اترتا ہے یا نہیں غسل خانہ اوپر سے بند ہو یا کھلا دونوں صورتوں میں کیا حکم ہے
الجواب :
سارے بدن پر پانی بہنے سے غسل اترتا ہے جس میں حلق تك منہ اور ہڈی کے کناروں تك اندر سے ناك کا بانسا بھی داخل ہے اس کے بعد جیسے بھی ہو غسل اتر جائے گا ہاں کھلے غسل خانے میں ننگا نہ ہونا بہتر ہے اور اگر وہاں قریب بلند مکان ہوں جس سے احتمال ہوکہ کسی کی نظر پڑے گی تو وہاں تہبند رکھنے کی تاکید ہے۔ وہ احتمال نظر جتنا قوی ہوگا اتنی ہی یہ تاکید بڑھتی جائے گی یہاں تك کہ اگر نظر پڑنے کا ظن غالب ہوگا تہبند رکھنا واجب ہوگا اور وہاں برہنہ نہانا گناہ والله تعالی اعلم
_____________________
ہاں یہ اور بات ہے کہ بحال جنابت بلاضرورت ذبح نہ چاہئے کہ ذبح عبادت الہی ہے جس سے خاص اس کی تعظم چاہی جاتی ہے پھر اس میں تسمیہ وتکبیر ذکر الہی ہے تو بعد طہارت اولی ہے اگرچہ ممانعت اب بھی نہیں۔ درمختار میں ہے :
لایکرہ النظر الی القران لجنب کما لا تکرہ ادعیۃ ای تحریما والا فالوضوء لمطلق الذکر مندوب وترکہ خلاف الاولی ۔ والله تعالی اعلم۔
جنبی کے لئے دعائیں پڑھنے کی طرح قرآن پاك کو دیکھنا بھی مکروہ نہیں اور اس سے مکروہ تحریمیہ مراد ہے ورنہ مطلق ذکر کےلئے وضو کرنا مستحب ہے اور اس کا چھوڑنا خلاف اولی ہے۔ اور اللہتعالی بہتر جانتا ہے (ت)
سوال۱۲۰دوم : اگر زید غسل خانہ میں غسل جنابت یا احتلام کاکرتا ہے اور وضو کرکے تہبند نکال کر غسل کرے تو غسل اترتا ہے یا نہیں غسل خانہ اوپر سے بند ہو یا کھلا دونوں صورتوں میں کیا حکم ہے
الجواب :
سارے بدن پر پانی بہنے سے غسل اترتا ہے جس میں حلق تك منہ اور ہڈی کے کناروں تك اندر سے ناك کا بانسا بھی داخل ہے اس کے بعد جیسے بھی ہو غسل اتر جائے گا ہاں کھلے غسل خانے میں ننگا نہ ہونا بہتر ہے اور اگر وہاں قریب بلند مکان ہوں جس سے احتمال ہوکہ کسی کی نظر پڑے گی تو وہاں تہبند رکھنے کی تاکید ہے۔ وہ احتمال نظر جتنا قوی ہوگا اتنی ہی یہ تاکید بڑھتی جائے گی یہاں تك کہ اگر نظر پڑنے کا ظن غالب ہوگا تہبند رکھنا واجب ہوگا اور وہاں برہنہ نہانا گناہ والله تعالی اعلم
_____________________
حوالہ / References
دُرمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۳
ذیل باب المیاہ
مسئلہ ۱۲۱ : ازپولول مولول ڈاك خانہ ہیروں ضلع دربھنگہ بلگرام چرن مرسلہ عبدالحکیم صاحب ۲۱ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
ان اطراف کے مولوی کہتے ہیں کہ ہندوؤں کے جھوٹے پانی سے وضو درست ہے۔ اس پر ہم کو شك ہے اس شك کو رفع کیجئے۔
الجواب :
ہندو تو ہندو بے وضو مسلمان بھی مثلا جس کٹورے یا بادیے سے منہ لگا کر پئے گا اس پانی سے
مسئلہ ۱۲۱ : ازپولول مولول ڈاك خانہ ہیروں ضلع دربھنگہ بلگرام چرن مرسلہ عبدالحکیم صاحب ۲۱ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
ان اطراف کے مولوی کہتے ہیں کہ ہندوؤں کے جھوٹے پانی سے وضو درست ہے۔ اس پر ہم کو شك ہے اس شك کو رفع کیجئے۔
الجواب :
ہندو تو ہندو بے وضو مسلمان بھی مثلا جس کٹورے یا بادیے سے منہ لگا کر پئے گا اس پانی سے
وضو جائز نہ رہے گا مگر یہ کہ وہ پانی تھوڑا ہو اور اسے اچھے پانی میں کہ اس سے زائد ہے ملاد یا جائے پھر بھی کافر کے جھوٹے سے احتراز چاہئے۔ حدیث میں ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : ایاك ومایسوء الاذن (جس بات کا سننا (شرعا) ناگوار ہو اس سے بچو۔ ت) ہاں اگر اس کے سوا اور پانی نہ ملے اور اس کا نجس یا مستعمل ہونا ثابت نہ ہو تو بضرورت آپ ہی اس سے وضو کرنا ہوگا ایسے مسائل یوں اطلاق کے طور بیان کرنا مسلمانوں کی خیر خواہی نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۲ : از ڈاکخانہ راموچکما کول ضلع چٹاگانگ مدرسہ عزیزیہ مرسلہ سید محمد مفیض الرحمن صاحب ۹۔ جمادی الاخرہ ۱۳۳۶ھ
جو حوض دہ در دہ یا اس سے بڑا ہو مگر موسم گرما میں خشك ہونے کے باعث پانی دہ در دہ سے کم ہوگیا اب اگر حوض میں کوئی نجاست گر جائے بشرطیکہ اوصاف ثلثہ میں سے کوئی وصف متغیر نہ ہو وہ پانی پاك ہوگا یا ناپاک
الجواب :
حوض اگرچہ ہزار درہزار ہو جبکہ اس وقت اس میں پانی دہ در دہ سے کم ہے ایك ذرہ نجاست اسے ناپاك کردے گا اگرچہ کوئی وصف نہ بدلے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۳ : موضع بیتھوڈاك خانہ وضلع گیا مسئولہ جناب الطاف اشرف صاحب ۳ محرم الحرام ۱۳۳۷ھ
(۱) دہ در دہ کے عمق و عرض و طول کا کس قدر ہونا لازم ہے۔ (۲) دہ در دہ حکم جاری کا رکھتا ہے یا نہیں اور رکھتا ہے تو کس وجہ کر اور نہیں رکھتا ہے تو کس وجہ کر۔ (۳) اس موضع کے جانب غرب ایك گڈھی ہے جس کو لوگ پوکھر کہا کرتے ہیں متصل بستی کے پیش دروازہ ایك شخص کے واقع ہے جس کا نقشہ حسب ذیل ہے گڈھی کے جانب شرق ایك چھوٹانالہ ہے
مسئلہ ۱۲۲ : از ڈاکخانہ راموچکما کول ضلع چٹاگانگ مدرسہ عزیزیہ مرسلہ سید محمد مفیض الرحمن صاحب ۹۔ جمادی الاخرہ ۱۳۳۶ھ
جو حوض دہ در دہ یا اس سے بڑا ہو مگر موسم گرما میں خشك ہونے کے باعث پانی دہ در دہ سے کم ہوگیا اب اگر حوض میں کوئی نجاست گر جائے بشرطیکہ اوصاف ثلثہ میں سے کوئی وصف متغیر نہ ہو وہ پانی پاك ہوگا یا ناپاک
الجواب :
حوض اگرچہ ہزار درہزار ہو جبکہ اس وقت اس میں پانی دہ در دہ سے کم ہے ایك ذرہ نجاست اسے ناپاك کردے گا اگرچہ کوئی وصف نہ بدلے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۲۳ : موضع بیتھوڈاك خانہ وضلع گیا مسئولہ جناب الطاف اشرف صاحب ۳ محرم الحرام ۱۳۳۷ھ
(۱) دہ در دہ کے عمق و عرض و طول کا کس قدر ہونا لازم ہے۔ (۲) دہ در دہ حکم جاری کا رکھتا ہے یا نہیں اور رکھتا ہے تو کس وجہ کر اور نہیں رکھتا ہے تو کس وجہ کر۔ (۳) اس موضع کے جانب غرب ایك گڈھی ہے جس کو لوگ پوکھر کہا کرتے ہیں متصل بستی کے پیش دروازہ ایك شخص کے واقع ہے جس کا نقشہ حسب ذیل ہے گڈھی کے جانب شرق ایك چھوٹانالہ ہے
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن ابی الغاد یۃ المکتبۃ الاسلامی بیروت ۴ / ۷۶
معروف پل سے ہے _ یہ نالہ ہمیشہ خشك رہتا ہے جب زمانہ برسات کا ہوتا ہے تو ہمیشہ یا جب آب باراں ہوتا ہے تو اس نالہ سے تمام بستی کاپانی ہر اقسام کا ناطاہر گڈھی مذکور میں گراکرتا ہے اور زمانہ خشکی میں جب یہ گڈھی خشك ہوتی ہے تو لوگ کمینہ اس میں بول وبراز کیا کرتے ہیں اور اس گڈھی کے کنارے میں ہر چہار جانب ہمیشہ بول وبراز ہوا کرتا ہے اور جب اس میں پانی رہتا ہے تو دھوبی کپڑا بھی دھوتا ہے اور کمینا یان آب دست بھی کیا کرتے ہیں اور کمینا یان کی عورتیں کپڑے ناطاہر ہر اقسام کے دھوتی ہیں اور گندی وناطاہر چیزیں بھی اس میں لوگ پھینکا کرتے ہیں۔
اور زمانہ میں شاید باید کمتر خصوصا زمانہ برسات میں جب پانی بے حساب ز یادہ برستا ہے تب گوشہ سے اس گڈھی کے ہموارہ نالی سے کھیتوں میں ہوکر پانی نکلتا ہے جب گڈھی کے کناروں تك برابر پانی رہتا ہے تو پانی نکلنے سے محفوظ رہتا ہے اورجب کبھی اس گڈھی میں پانی کم ہوجاتا ہے اور جب کچھ پانی انداز کا برستا ہے تو اس حالت میں تمامی بستی کا پانی ناطاہر بذریعہ نالہ مذکورہ وبذریعہ گلیاں اور ہر چہارجانب کی غلاظت بذریعہ آب باراں کے گر کر مل جاتے ہیں اور کسی طرف سے اس گڈھی کا پانی نہیں نکلتا ہے اس گڈھی کا پانی قابل استعمال کے ہے یا نہیں اور ہے تو کس وجہ کر اور نہیں ہے تو کس وجہ کر۔
(۴) یہ گڈھی دہ در دہ میں شمار کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ (۵) دہ در دہ میں شرائط رنگ وبو وذائقہ کا ہے یا نہیں۔ ہے تو کس وجہ کر اور نہیں ہے تو کس وجہ کر۔ (۶) دہ در دہ کے عمق و عرض و طول میں بھی اختلاف ہے یا نہیں۔ اگر مختلف فیہ ہے تو جمہور کی رائے کس روایت پر ہے۔ (۷) مسئلہ اکراہ طبعی اس گڈھی کے پانی پر محمول ہوگا یا نہیں۔ (۸) جس کا آب جانب جنوب ساٹھ ہاتھ وجانب شمال ساٹھ ہاتھ وجانب شرق پچاس ہاتھ وجانب غرب ۱۰۰ ہاتھ وعمق اختلافیہ درمیان گڈھی تیراتا پانی بعض جگہ کمر تك بعض جگہ کمر سے کم۔
(نقشہ گڈھی اگلے صفحہ پر ملاحظہ ہو)
اور زمانہ میں شاید باید کمتر خصوصا زمانہ برسات میں جب پانی بے حساب ز یادہ برستا ہے تب گوشہ سے اس گڈھی کے ہموارہ نالی سے کھیتوں میں ہوکر پانی نکلتا ہے جب گڈھی کے کناروں تك برابر پانی رہتا ہے تو پانی نکلنے سے محفوظ رہتا ہے اورجب کبھی اس گڈھی میں پانی کم ہوجاتا ہے اور جب کچھ پانی انداز کا برستا ہے تو اس حالت میں تمامی بستی کا پانی ناطاہر بذریعہ نالہ مذکورہ وبذریعہ گلیاں اور ہر چہارجانب کی غلاظت بذریعہ آب باراں کے گر کر مل جاتے ہیں اور کسی طرف سے اس گڈھی کا پانی نہیں نکلتا ہے اس گڈھی کا پانی قابل استعمال کے ہے یا نہیں اور ہے تو کس وجہ کر اور نہیں ہے تو کس وجہ کر۔
(۴) یہ گڈھی دہ در دہ میں شمار کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ (۵) دہ در دہ میں شرائط رنگ وبو وذائقہ کا ہے یا نہیں۔ ہے تو کس وجہ کر اور نہیں ہے تو کس وجہ کر۔ (۶) دہ در دہ کے عمق و عرض و طول میں بھی اختلاف ہے یا نہیں۔ اگر مختلف فیہ ہے تو جمہور کی رائے کس روایت پر ہے۔ (۷) مسئلہ اکراہ طبعی اس گڈھی کے پانی پر محمول ہوگا یا نہیں۔ (۸) جس کا آب جانب جنوب ساٹھ ہاتھ وجانب شمال ساٹھ ہاتھ وجانب شرق پچاس ہاتھ وجانب غرب ۱۰۰ ہاتھ وعمق اختلافیہ درمیان گڈھی تیراتا پانی بعض جگہ کمر تك بعض جگہ کمر سے کم۔
(نقشہ گڈھی اگلے صفحہ پر ملاحظہ ہو)
this space for image
الجواب :
(۱) دہ در دہ ہونے کو عرض و طول اتنا چاہئے جن کا حاصل ضرب سو۱۰۰ ہاتھ ہو اور عمق اتنا کہ لپ سے پانی لیں تو زمین نہ کھلے۔
(۲) دہ در دہ حکم جاری میں ہے اور اس کی وجہ اندازہ ائمہ کہ مائے کثیر کی یہ تقد یر فرمائی کمابیناہ فی فتاونا (جیسے ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔ ت)
الجواب :
(۱) دہ در دہ ہونے کو عرض و طول اتنا چاہئے جن کا حاصل ضرب سو۱۰۰ ہاتھ ہو اور عمق اتنا کہ لپ سے پانی لیں تو زمین نہ کھلے۔
(۲) دہ در دہ حکم جاری میں ہے اور اس کی وجہ اندازہ ائمہ کہ مائے کثیر کی یہ تقد یر فرمائی کمابیناہ فی فتاونا (جیسے ہم نے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔ ت)
ردالمحتار میں ہے :
ذکر بعض المحشین عن شیخ الاسلام العلامۃ سعد الدین الد یری فی رسالتہ القول الراقی انہ حقق فیھا ما اختارہ اصحاب المتون من اعتبار العشر و اورد نحومائۃ نقل ناطقۃ بالصواب ولایخفی ان الذین افتوا بالعشر کصاحب الھدا یۃ وقاضی خان و غیرھما من اھل الترجیح ھم اعلم بالمذھب منا فعلینا اتباعھم ۔ ۔ ۔ الخ۔
بعض حاشیہ نگاروں نے شیخ الاسلام علامہ سعد الدین د یری سے نقل کیا انہوں نے اپنے رسالہ “ القول الراقی فی حکم الفساقی “ میں دہ در دہ کے اعتبار میں اصحاب متون کی مختار بات کو صحیح ثابت کرتے ہوئے (اس کی تائید میں) تقریبا ایك سو صحیح اقوال نقل کےے ہیں۔ مخفی نہ رہے کہ متاخرین مثلا صاحب ہدایہ اور قاضیخان نے جو (ہرطرف سے دس گز کا) فتوی تو وہ لوگ اہل ترجیح میں سے ہیں مذہب کا علم ہم سے ز یادہ رکھتے ہیں لہذا ہم پر ان کی اتباع ضروری ہے الخ (ت)
(۳) مینہ کا پانی جب تك بہہ رہا ہے اگرچہ اس میں نجس پانی یا اور نجاستیں ملیں ناپاك نہ ہوگا جب تك اس کا رنگ یا مزہ یا بو نجاست کے سبب نہ بدلے فان الماء طھورلاینجسہ شیئ مالم یتغیر احد اوصافہ (بے شك پانی پاك ہے اسے کوئی چیز ناپاك نہیں کرتی جب تك اس کا کوئی وصف نجاست کی وجہ سے نہ بدلے۔ ت)
تو بارش کا پانی جب تك بہتا ہوا اس گڈھی کے کناروں تك آ یا اور اس کا کوئی وصف نجاست نے نہ بدلا پاك ہے اگرچہ اس میں ناپاك نالیوں کے پانی و غیرہ شامل ہوں اگرچہ گڈھی کے کنارے پر نجاستیں پڑی ہوں۔
ایك حالت تو یہ تھی دوسری حالت اس پانی کے گڈھی میں داخل ہونے کی ہے اس وقت اگر اس میں کوئی نجاست مرئیہ نہیں صرف ناپاك نالیوں کے پانی اس کے ساتھ بہہ کر آئے ہیں اور ان سے اس کا کوئی وصف نہ بدلا اور دہ در دہ کی مساحت میں پھیلنے تك گڑھی کے اندر بھی کسی نجاست سے نہ ملا اگرچہ آگے بڑھ کر نجاستوں سے ملے تو اندر بھی یہ پانی پاك ہی رہے گا وہ ناپاك پانی جو اس کے ساتھ بہہ کر آئے تھے ان کو بھی اس نے پاك کرد یا فان الماء الجاری یطھر بعضہ بعضا (جاری پانی کا بعض (اس کے) دوسرے بعض کو پاک
ذکر بعض المحشین عن شیخ الاسلام العلامۃ سعد الدین الد یری فی رسالتہ القول الراقی انہ حقق فیھا ما اختارہ اصحاب المتون من اعتبار العشر و اورد نحومائۃ نقل ناطقۃ بالصواب ولایخفی ان الذین افتوا بالعشر کصاحب الھدا یۃ وقاضی خان و غیرھما من اھل الترجیح ھم اعلم بالمذھب منا فعلینا اتباعھم ۔ ۔ ۔ الخ۔
بعض حاشیہ نگاروں نے شیخ الاسلام علامہ سعد الدین د یری سے نقل کیا انہوں نے اپنے رسالہ “ القول الراقی فی حکم الفساقی “ میں دہ در دہ کے اعتبار میں اصحاب متون کی مختار بات کو صحیح ثابت کرتے ہوئے (اس کی تائید میں) تقریبا ایك سو صحیح اقوال نقل کےے ہیں۔ مخفی نہ رہے کہ متاخرین مثلا صاحب ہدایہ اور قاضیخان نے جو (ہرطرف سے دس گز کا) فتوی تو وہ لوگ اہل ترجیح میں سے ہیں مذہب کا علم ہم سے ز یادہ رکھتے ہیں لہذا ہم پر ان کی اتباع ضروری ہے الخ (ت)
(۳) مینہ کا پانی جب تك بہہ رہا ہے اگرچہ اس میں نجس پانی یا اور نجاستیں ملیں ناپاك نہ ہوگا جب تك اس کا رنگ یا مزہ یا بو نجاست کے سبب نہ بدلے فان الماء طھورلاینجسہ شیئ مالم یتغیر احد اوصافہ (بے شك پانی پاك ہے اسے کوئی چیز ناپاك نہیں کرتی جب تك اس کا کوئی وصف نجاست کی وجہ سے نہ بدلے۔ ت)
تو بارش کا پانی جب تك بہتا ہوا اس گڈھی کے کناروں تك آ یا اور اس کا کوئی وصف نجاست نے نہ بدلا پاك ہے اگرچہ اس میں ناپاك نالیوں کے پانی و غیرہ شامل ہوں اگرچہ گڈھی کے کنارے پر نجاستیں پڑی ہوں۔
ایك حالت تو یہ تھی دوسری حالت اس پانی کے گڈھی میں داخل ہونے کی ہے اس وقت اگر اس میں کوئی نجاست مرئیہ نہیں صرف ناپاك نالیوں کے پانی اس کے ساتھ بہہ کر آئے ہیں اور ان سے اس کا کوئی وصف نہ بدلا اور دہ در دہ کی مساحت میں پھیلنے تك گڑھی کے اندر بھی کسی نجاست سے نہ ملا اگرچہ آگے بڑھ کر نجاستوں سے ملے تو اندر بھی یہ پانی پاك ہی رہے گا وہ ناپاك پانی جو اس کے ساتھ بہہ کر آئے تھے ان کو بھی اس نے پاك کرد یا فان الماء الجاری یطھر بعضہ بعضا (جاری پانی کا بعض (اس کے) دوسرے بعض کو پاک
حوالہ / References
ردالمحتار باب المیاہ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۱
ردالمحتار باب المیاہ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۳۳
ردالمحتار ، باب المیاہ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۱۴۰
ردالمحتار باب المیاہ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۳۳
ردالمحتار ، باب المیاہ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۱۴۰
کردیتا ہے۔ ت) اور اب یہ پانی کبھی ناپاك نہ ہوگا اگرچہ گڑھی کے اندر کتنی ہی نجاستیں ہوں اور اوپر سے کتنی ہی نجاستیں ڈالی یا دھوئی جائیں جب تك خاص نجاست کی وجہ سے اس کا کوئی وصف بدلنا معلوم نہ ہو خواہ گڑھی سے باہر ابل کر بہے یا اس میں رکا رہے۔
اور اگر گڑھی میں داخل ہوتے وقت اس میں نجاست مرئیہ تھی یا اس کا کوئی وصف نجاست سے بدلا ہوا تھا یا دہ در دہ کی مساحت میں پھےلنے سے پہلے گڑھی کے اندر کسی نجاست سے ملا تو یہ پانی ناپاك ہے اس قسم کا پانی جتنا بھی آتا جائے گا سب ناپاك ہوگا اگرچہ اس سے ساری گڑھی بھر جائے مگر یہ کہ گڑھی میں پہلے سے دہ در دہ پاك پانی ہوکر اب یہ بھی اس سے مل کر پاك ہوتا جائےگا جب تك نجاست تبدےل وصف نہ کرے یا یہ ہوکہ مثلا بارش کا پانی پاك اس پر آکر اسے بہادے ابال کر گڑھی سے باہر نکال دے تو پاك ہوجائےگا اور پھر ٹھہر کر بھی پاك ہی رہے گا اگرچہ نالہ و غیرہ سے اس میں نجاستیں آکر شامل ہوں جب تك نجاست اس کا کوئی وصف نہ بدل دے اور اگر گڑھی میں مثلا دو طرف سے بارش کا بہاؤ آ یا ایك جانب دہ در دہ کی مساحت سے پہلے ہی نجاستیں تھیں یا خود اس بہتے پانی میں نجاست مرئیہ موجود تھی کہ گڑھی میں داخل ہوکر ناپاك ہوگیا اور دوسری جانب کا پانی کوئی نجاست مرئیہ بہاکر نہ لا یا تھا اور گڑھی کے اندر بھی دہ در دہ ہونے سے پہلے کسی نجاست سے نہ ملاکہ پاك رہا اب یہ دونوں پانی مل گئے تو ناپاك طرف کا پانی بھی پاك ہوگیا لانہ فی حکم الجاری (کیونکہ وہ جاری پانی کے حکم میں ہے۔ ت) اس طرح پاك وناپاك پانی مل کر گڑھی بھرے تو سب پاك ہے اور نہ بھرے تو سب پاك ہے جب تك نجاست تبدیل وصف نہ کرے۔
(۴ و ۸) یہ گڑھی دہ در دہ سے بہت زائد ہے کہ اسے سو۱۰۰ ہاتھ درکار ہے اور یہ ہزاروں ہاتھ ہے۔
(۵) دہ در دہ کا رنگ یا بو یا ذائقہ اگر نجاست ملنے کے سبب بدل جائے تو ضرور ناپاك ہوجائے گا اور پاك چیزوں کے سڑنے یا بہت دن گزرنے سے تینوں وصف بدل جائیں تو کچھ حرج نہیں اور تحقیق نہ ہوکہ یہ تغیر کس وجہ سے ہے تو حکم جواز ہے درمختار میں ہے :
ینجس بتغیر احد اوصافہ من لون اوطعم اوریح بنجس لا لوتغیر بطول مکث ولوشك فالاصل الطھارۃ ویجوز بماء خالطہ طاھر جامد کاشنان وزعفران
نجاست ملنے سے پانی کے رنگ ذائقے اور بو میں کسی ایك وصف کے بدلنے سے پانی ناپاك ہوجاتا ہے ز یادہ ٹھہرنے کی وجہ سے تبدےل ہوتو ناپاك نہیں ہوتا کیونکہ طہارت اصل ہے اور اس پانی سے وضو جائز ہے جس میں کوئی ٹھوس
اور اگر گڑھی میں داخل ہوتے وقت اس میں نجاست مرئیہ تھی یا اس کا کوئی وصف نجاست سے بدلا ہوا تھا یا دہ در دہ کی مساحت میں پھےلنے سے پہلے گڑھی کے اندر کسی نجاست سے ملا تو یہ پانی ناپاك ہے اس قسم کا پانی جتنا بھی آتا جائے گا سب ناپاك ہوگا اگرچہ اس سے ساری گڑھی بھر جائے مگر یہ کہ گڑھی میں پہلے سے دہ در دہ پاك پانی ہوکر اب یہ بھی اس سے مل کر پاك ہوتا جائےگا جب تك نجاست تبدےل وصف نہ کرے یا یہ ہوکہ مثلا بارش کا پانی پاك اس پر آکر اسے بہادے ابال کر گڑھی سے باہر نکال دے تو پاك ہوجائےگا اور پھر ٹھہر کر بھی پاك ہی رہے گا اگرچہ نالہ و غیرہ سے اس میں نجاستیں آکر شامل ہوں جب تك نجاست اس کا کوئی وصف نہ بدل دے اور اگر گڑھی میں مثلا دو طرف سے بارش کا بہاؤ آ یا ایك جانب دہ در دہ کی مساحت سے پہلے ہی نجاستیں تھیں یا خود اس بہتے پانی میں نجاست مرئیہ موجود تھی کہ گڑھی میں داخل ہوکر ناپاك ہوگیا اور دوسری جانب کا پانی کوئی نجاست مرئیہ بہاکر نہ لا یا تھا اور گڑھی کے اندر بھی دہ در دہ ہونے سے پہلے کسی نجاست سے نہ ملاکہ پاك رہا اب یہ دونوں پانی مل گئے تو ناپاك طرف کا پانی بھی پاك ہوگیا لانہ فی حکم الجاری (کیونکہ وہ جاری پانی کے حکم میں ہے۔ ت) اس طرح پاك وناپاك پانی مل کر گڑھی بھرے تو سب پاك ہے اور نہ بھرے تو سب پاك ہے جب تك نجاست تبدیل وصف نہ کرے۔
(۴ و ۸) یہ گڑھی دہ در دہ سے بہت زائد ہے کہ اسے سو۱۰۰ ہاتھ درکار ہے اور یہ ہزاروں ہاتھ ہے۔
(۵) دہ در دہ کا رنگ یا بو یا ذائقہ اگر نجاست ملنے کے سبب بدل جائے تو ضرور ناپاك ہوجائے گا اور پاك چیزوں کے سڑنے یا بہت دن گزرنے سے تینوں وصف بدل جائیں تو کچھ حرج نہیں اور تحقیق نہ ہوکہ یہ تغیر کس وجہ سے ہے تو حکم جواز ہے درمختار میں ہے :
ینجس بتغیر احد اوصافہ من لون اوطعم اوریح بنجس لا لوتغیر بطول مکث ولوشك فالاصل الطھارۃ ویجوز بماء خالطہ طاھر جامد کاشنان وزعفران
نجاست ملنے سے پانی کے رنگ ذائقے اور بو میں کسی ایك وصف کے بدلنے سے پانی ناپاك ہوجاتا ہے ز یادہ ٹھہرنے کی وجہ سے تبدےل ہوتو ناپاك نہیں ہوتا کیونکہ طہارت اصل ہے اور اس پانی سے وضو جائز ہے جس میں کوئی ٹھوس
حوالہ / References
ردالمحتار ، باب المیاہ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۱۴۰
وفاکھۃ ورق شجر وان غیر کل اوصافہ ۔
پاك چیز مثلا اشنان زعفران پھل اور درختوں کے پتے مل جائیں اگرچہ وہ اس کے تمام اوصاف بدل دے۔ (ت)
(۶) دہ دردہ کے عرض و طول میں کچھ اختلاف نہیں ہوسکتا کہ اس کا مفاد ہی سو۱۰۰ ہاتھ ہے ہاں اس میں اختلاف ہے کہ عرض وطول دس دس ہاتھ ہونا ضرور یا صرف حاصل ضرب سو۱۰۰ ہاتھ ہونا کافی مثلا ۲۵ ہاتھ طول ۴ ہاتھ عرض یا ۵۰ ہاتھ طول ۲ ہاتھ عرض اور یہی صحیح ہے اور عمق ہیں صحیح ومعتمد یہی ہے کہ پانی لینے سے زمین نہ کھلے ہمارے فتاوی میں اس مسئلہ میں خاص ایك رسالہ ہے ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ جسے تحقیق بازغ وتنقیح بالغ دیکھنی ہو اس کی طرف رجوع کرے۔
(۷) کراہت طبعی کوئی مسئلہ شرعی نہیں ہاں کوئی محل شك ہو تو احتیاط مناسب ہے او یہ بھی نہ ہو کہ شرعا جس کی طہارت ثابت ہو اسے اپنی اوہام پرستی سے ناپاك سمجھے یا اس کے استعمال کرنے والوں پر طعن کرے۔ حکم وہی ہے جو اللہورسول کا ہے اور حکم نہیں مگر اللہرسول کےلئے جل وعلا وصلی اللہتعالی علیہ وسلم۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۴ : از بلند شہر بالائے کوٹ محلہ قاضی واڑہ مرسلہ محمد عبدالسلام صاحب ۳۰۔ رمضان ۱۳۳۷ھ
یہاں جامع مسجد میں ایك حوض وضو کے لئے تعمیر ہوا اس کے بنانے میں جو خرچ ہوا اس کی کیفیت یہ ہے کہ کچھ روپیہ تو اہل محلہ سے لیا گیا اور اس کے علاوہ مبلغ عــہ۱۰روپیہ مرغ بازی کی شرط کے بھی اسی حوض میں خرچ ہوئے اور کچھ روپیہ جو برادری میں کسی آدمی پر ایك مقدمہ میں ڈنڈ ڈالا گیا تھا وہ بھی اس حوض میں صرف ہوا۔ آ یا اس حوض کے پانی سے وضو جائز ہے یا نہیں
الجواب :
اس سے وضو جائز ہے اول تو حرام روپیہ حوض میں خود نہ لگا یا گیا بلکہ اس کے عوض اینٹ یا مسالا خریدا یا راج مزدوروں کی اجرت میں د یا ہوگا بصورت اجرت تو ظاہر ہے کہ اس خبیث مال کو حوض سے تعلق نہ ہوا اور بصورت خریداری یہاں عام خریدار یاں یوں ہوتی ہیں کہ اتنے کی فلاں چیز دے دو اس نے دی اس کے قبضے میں آگئی بیع تمام ہوگئی اس کے بعد قیمت دی جاتی ہے تو عقد ونقد زرحرام میں جمع نہ ہوا تو خریدی شے میں خباثت نہ آئی کماھو قول الامام الکرخی المفتی بہ علی مافصلناہ فی فتاونا (جیسا کہ امام کرخی رحمۃ اللہ تعالی علیہکا
پاك چیز مثلا اشنان زعفران پھل اور درختوں کے پتے مل جائیں اگرچہ وہ اس کے تمام اوصاف بدل دے۔ (ت)
(۶) دہ دردہ کے عرض و طول میں کچھ اختلاف نہیں ہوسکتا کہ اس کا مفاد ہی سو۱۰۰ ہاتھ ہے ہاں اس میں اختلاف ہے کہ عرض وطول دس دس ہاتھ ہونا ضرور یا صرف حاصل ضرب سو۱۰۰ ہاتھ ہونا کافی مثلا ۲۵ ہاتھ طول ۴ ہاتھ عرض یا ۵۰ ہاتھ طول ۲ ہاتھ عرض اور یہی صحیح ہے اور عمق ہیں صحیح ومعتمد یہی ہے کہ پانی لینے سے زمین نہ کھلے ہمارے فتاوی میں اس مسئلہ میں خاص ایك رسالہ ہے ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر۱۳۳۴ جسے تحقیق بازغ وتنقیح بالغ دیکھنی ہو اس کی طرف رجوع کرے۔
(۷) کراہت طبعی کوئی مسئلہ شرعی نہیں ہاں کوئی محل شك ہو تو احتیاط مناسب ہے او یہ بھی نہ ہو کہ شرعا جس کی طہارت ثابت ہو اسے اپنی اوہام پرستی سے ناپاك سمجھے یا اس کے استعمال کرنے والوں پر طعن کرے۔ حکم وہی ہے جو اللہورسول کا ہے اور حکم نہیں مگر اللہرسول کےلئے جل وعلا وصلی اللہتعالی علیہ وسلم۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۴ : از بلند شہر بالائے کوٹ محلہ قاضی واڑہ مرسلہ محمد عبدالسلام صاحب ۳۰۔ رمضان ۱۳۳۷ھ
یہاں جامع مسجد میں ایك حوض وضو کے لئے تعمیر ہوا اس کے بنانے میں جو خرچ ہوا اس کی کیفیت یہ ہے کہ کچھ روپیہ تو اہل محلہ سے لیا گیا اور اس کے علاوہ مبلغ عــہ۱۰روپیہ مرغ بازی کی شرط کے بھی اسی حوض میں خرچ ہوئے اور کچھ روپیہ جو برادری میں کسی آدمی پر ایك مقدمہ میں ڈنڈ ڈالا گیا تھا وہ بھی اس حوض میں صرف ہوا۔ آ یا اس حوض کے پانی سے وضو جائز ہے یا نہیں
الجواب :
اس سے وضو جائز ہے اول تو حرام روپیہ حوض میں خود نہ لگا یا گیا بلکہ اس کے عوض اینٹ یا مسالا خریدا یا راج مزدوروں کی اجرت میں د یا ہوگا بصورت اجرت تو ظاہر ہے کہ اس خبیث مال کو حوض سے تعلق نہ ہوا اور بصورت خریداری یہاں عام خریدار یاں یوں ہوتی ہیں کہ اتنے کی فلاں چیز دے دو اس نے دی اس کے قبضے میں آگئی بیع تمام ہوگئی اس کے بعد قیمت دی جاتی ہے تو عقد ونقد زرحرام میں جمع نہ ہوا تو خریدی شے میں خباثت نہ آئی کماھو قول الامام الکرخی المفتی بہ علی مافصلناہ فی فتاونا (جیسا کہ امام کرخی رحمۃ اللہ تعالی علیہکا
حوالہ / References
درمختار باب الم یاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵
مفتی بہ قول ہے ہم نے اپنے فتاوی میں اسے مفصل بیان کیا ہے۔ ت) اور اگر بالفرض عقد و نقد اس شرا میں حرام پر جمع ہوئے ہوں مثلا وہ زرحرام دکھا کر کہا اس کے بدلے فلاں چیز دے اس نے دے دی اس نے زرحرام ثمن میں دے د یا تو اگرچہ اب وہ خریدی ہوئی شے خبیث ہوئی مگر کیا معین کرسکتا ہے کہ وہ اینٹ یا مسالا کون سا ہے مجہول حالت میں حکم ممانعت نہیں ہوسکتا۔ امام محمد فرماتے ہیں :
بہ ناخذ مالم یعرف شیئا حراما بعینہ ھند یۃ عن الذخیرۃ ۔
ہم اسی بات کو اختیار کریں گے جب تك کسی معین چیز کا حرام ہونا معلوم نہ ہو اسے فتاوی ہندیہ میں ذخیرہ سے نقل کیا گیا۔ (ت)
ہاں اگر اکثر چنائی ایسی ہی خبیث اشیا سے ہو تو اس سے وضو نہ کرنا مناسب ہے لان للاکثر حکم الکل فی ھذا عند قوم (کیونکہ بعض لوگوں کے نزدیك ایسی صورت میں اکثر کل کے حکم میں ہوتا ہے۔ ت) اگرچہ اس کے پانی میں کوئی نقص نہیں نہ اس سے وضو صحیح وبے خلل ہونے میں کوئی نقص اگرچہ کل حوض کی تعمیر زر حرام سے ہو لان الکراھۃ لمجاور(کیونکہ کراہت اس سے ملنے والی چیز کے باعث ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۵ : از باسنی متصل ناگور ماڑواڑ مرسلہ امیر احمد صاحب۹۔ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کا دہ در دہ حوض طول مکث وکثیر الاستعمال کی وجہ سے بدبو کرجائے اور رنگ میں تغیر آجائے تو وضو کرنا درست ہے یا نہیں۔ ایك مولوی صاحب ماء مستعمل غیر مطہر قرار دے کر پیشاب کے برابر فرمارہے ہیں اور یہ بھی فرمارہے ہیں کہ ہمارے امام صاحب کے نزدیك ماء مستعمل نجس بہ نجاست غلیظہ ہے لہذا نجس ہے تو کیا وہ دہ در دہ حوض کا پانی مستعمل قرار د یا جاسکتا ہے مولنا عبدالحی صاحب لکھنوی مرحوم فتاوی عالمگیری وفتاوی قاضی خان کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے فتاوی میں تحر یر فرماتے ہیں کہ ایسے پانی سے وضو بنانا درست ہے یجوز التوضئ فی الحوض الکبیر المنتن اذا لم یعلم نجاستہ ۔ (بڑے بدبودار حوض ینجس بتغیر احد اوصافہ بنجس لا لوتغیر بمکث ۱۔ سے وضو کرنا جائز ہے جب تك نجاست کا علم نہ ہو۔ ت) اسے مولوی صاحب موصوف تسلیم نہیں کرتے۔
بہ ناخذ مالم یعرف شیئا حراما بعینہ ھند یۃ عن الذخیرۃ ۔
ہم اسی بات کو اختیار کریں گے جب تك کسی معین چیز کا حرام ہونا معلوم نہ ہو اسے فتاوی ہندیہ میں ذخیرہ سے نقل کیا گیا۔ (ت)
ہاں اگر اکثر چنائی ایسی ہی خبیث اشیا سے ہو تو اس سے وضو نہ کرنا مناسب ہے لان للاکثر حکم الکل فی ھذا عند قوم (کیونکہ بعض لوگوں کے نزدیك ایسی صورت میں اکثر کل کے حکم میں ہوتا ہے۔ ت) اگرچہ اس کے پانی میں کوئی نقص نہیں نہ اس سے وضو صحیح وبے خلل ہونے میں کوئی نقص اگرچہ کل حوض کی تعمیر زر حرام سے ہو لان الکراھۃ لمجاور(کیونکہ کراہت اس سے ملنے والی چیز کے باعث ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۵ : از باسنی متصل ناگور ماڑواڑ مرسلہ امیر احمد صاحب۹۔ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کا دہ در دہ حوض طول مکث وکثیر الاستعمال کی وجہ سے بدبو کرجائے اور رنگ میں تغیر آجائے تو وضو کرنا درست ہے یا نہیں۔ ایك مولوی صاحب ماء مستعمل غیر مطہر قرار دے کر پیشاب کے برابر فرمارہے ہیں اور یہ بھی فرمارہے ہیں کہ ہمارے امام صاحب کے نزدیك ماء مستعمل نجس بہ نجاست غلیظہ ہے لہذا نجس ہے تو کیا وہ دہ در دہ حوض کا پانی مستعمل قرار د یا جاسکتا ہے مولنا عبدالحی صاحب لکھنوی مرحوم فتاوی عالمگیری وفتاوی قاضی خان کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے فتاوی میں تحر یر فرماتے ہیں کہ ایسے پانی سے وضو بنانا درست ہے یجوز التوضئ فی الحوض الکبیر المنتن اذا لم یعلم نجاستہ ۔ (بڑے بدبودار حوض ینجس بتغیر احد اوصافہ بنجس لا لوتغیر بمکث ۱۔ سے وضو کرنا جائز ہے جب تك نجاست کا علم نہ ہو۔ ت) اسے مولوی صاحب موصوف تسلیم نہیں کرتے۔
حوالہ / References
فتاوٰی ہندیہ الباب الثانی عشر فی الہدا یا۔ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۴۲
یتبیین الحقائق باب مسح الخفین المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ مصر ۱ / ۵۰
فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول من باب المیاہ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ مصر ۱ / ۱۸
یتبیین الحقائق باب مسح الخفین المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ مصر ۱ / ۵۰
فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول من باب المیاہ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ مصر ۱ / ۱۸
الجواب :
طول مکث سے بدبولانا پانی کو نجس نہیں کرسکتا اگرچہ کٹورا بھر ہو تنو یر و غیرہ متون میں ہے :
ینجس بتغیر احد اوصافہ بنجس لا لوتغیر بمکث ۔
نجاست ملنے سے کوئی وصف بدل جائے تو پانی ناپاك ہوجاتا ہے ز یادہ د یر ٹھہرنے سے بدلے تو ناپاك نہیں ہوتا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
فلوعلم نتنہ بنجاسۃ لم یجز ولوشك فالاصل الطھارۃ ۔
اگر نجاست کی وجہ سے پانی کے بدبودار ہونے کا یقین ہو تو وضو جائز نہیں اور اگر شك ہوتو اصل چیز طہارت ہے (لہذا جائز ہوگا)۔ (ت)
دہ در دہ حوض قلیل نجاست سے بھی ناپاك نہیں ہوتا نہ کہ مائے مستعمل سے مائے مستعمل صحیح ومعتمد ومفتی بہ مذہب میں ناپاك نہیں طاہر غیر مطہر ہے یہی ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکا مذہب معتمد ہے۔ تنویرالابصار میں ہے :
وھو طاھر لیس بطھور ۔
اور وہ پاك ہے پاك کرنے والا نہیں۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
رواہ محمد عن الامام وھذہ الروا یۃ ھی المشھورۃ عنہ واختارھا المحققون قالوا علیھا الفتوی ۔
اسے امام محمدرحمۃ اللہ تعالی علیہنے امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہسے روایت کیا ہے اور ان سے مشہور روایت یہی ہے اور محققین نے اسے اختیار کیا ہے اور فرما یا اسی پر فتوی ہے۔ (ت)
مائے مستعمل اگر غیر مستعمل سے زائد یا برابر ہوجائے تو مجموع سے وضو ناجائز ہوگا اور مستعمل کم ہے تو وضو جائز۔ درمختار میں ہے :
غلبۃ المخالط لومماثلا کمستعمل
اگر (پانی میں) ملنے والی چیز اسی جیسی ہو جیسے مستعمل
طول مکث سے بدبولانا پانی کو نجس نہیں کرسکتا اگرچہ کٹورا بھر ہو تنو یر و غیرہ متون میں ہے :
ینجس بتغیر احد اوصافہ بنجس لا لوتغیر بمکث ۔
نجاست ملنے سے کوئی وصف بدل جائے تو پانی ناپاك ہوجاتا ہے ز یادہ د یر ٹھہرنے سے بدلے تو ناپاك نہیں ہوتا۔ (ت)
درمختار میں ہے :
فلوعلم نتنہ بنجاسۃ لم یجز ولوشك فالاصل الطھارۃ ۔
اگر نجاست کی وجہ سے پانی کے بدبودار ہونے کا یقین ہو تو وضو جائز نہیں اور اگر شك ہوتو اصل چیز طہارت ہے (لہذا جائز ہوگا)۔ (ت)
دہ در دہ حوض قلیل نجاست سے بھی ناپاك نہیں ہوتا نہ کہ مائے مستعمل سے مائے مستعمل صحیح ومعتمد ومفتی بہ مذہب میں ناپاك نہیں طاہر غیر مطہر ہے یہی ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکا مذہب معتمد ہے۔ تنویرالابصار میں ہے :
وھو طاھر لیس بطھور ۔
اور وہ پاك ہے پاك کرنے والا نہیں۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
رواہ محمد عن الامام وھذہ الروا یۃ ھی المشھورۃ عنہ واختارھا المحققون قالوا علیھا الفتوی ۔
اسے امام محمدرحمۃ اللہ تعالی علیہنے امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہسے روایت کیا ہے اور ان سے مشہور روایت یہی ہے اور محققین نے اسے اختیار کیا ہے اور فرما یا اسی پر فتوی ہے۔ (ت)
مائے مستعمل اگر غیر مستعمل سے زائد یا برابر ہوجائے تو مجموع سے وضو ناجائز ہوگا اور مستعمل کم ہے تو وضو جائز۔ درمختار میں ہے :
غلبۃ المخالط لومماثلا کمستعمل
اگر (پانی میں) ملنے والی چیز اسی جیسی ہو جیسے مستعمل
حوالہ / References
درمختار مع التنو یر باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵
درمختار مع التنو یر باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵
درمختار مع التنو یر باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۷
درمختار مع التنو یر باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵
درمختار مع التنو یر باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۷
ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۷
فبالاجزاء فان المطلق اکثر من النصف جاز التطھیر بالکل والا لا ۔
پانی تو غلبے کا اعتبار اجزاء کے اعتبار سے ہوگا اگر مطلق پانی نصف سے زیادہ ہے تو تمام پانی سے طہارت حاصل کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔ (ت)
بالجملہ حوض مذکور سے وضو بلاشبہ جائز ہے اور معترض کا قول غلط وناقابل التفات۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۶ : از پوربندرکاٹھ یا وار میٹھی مسجد مرسلہ سید غلام محمد صاحب۱۱۔ شوال ۱۳۳۷ھ
امام العلماء المحققین مقدام الفضلاء المدققین جامع شریعت وطریقت حکیم امت مولنا ومرشدنا ومخدومنا مولوی حاجی قاری شاہ احمد رضا خان صاحب متع الله المسلمین بطول بقائہم۔
بعد تسلیم فدویت ترمیم معروض رائے شریف وذہن لفیط ہوکہ ایك حوض دہ در دہ ہے عرض و طول میں لیکن حوض کو اوپر کو پتھر لگانے سے منہ حوض کا کم از دہ در دہ ہوگیا ہے اس صورت میں حوض پانی سے پورا بھر د یا جاتا ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس حوض میں وضو نہیں ہوتا اس لئے کہ دہ در دہ کی حد سے پانی تجاوز کرجاتا ہے اور پانی بھی ہلتا نہیں ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ وضو ہوجاتا ہے اس لئے یہاں پر لوگوں میں سخت فساد واقع ہے۔ سو حضرت مسئلہ کا خلاصہ کرکے تحر یر فرمائیں تاکہ اس پر عمل کیا جاوے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ
اگر پانی پتھر سے نےچا ہے تو وہ دہ در دہ ہے نجاست سے بھی ناپاك نہ ہوگا جب تك اس سے مزہ یا رنگ یا بو نہ بدلے اور پانی اس حد سے اونچا ہوکر پتھر سے گھر جائے اور پتھر کے بےچ میں مساحت دہ در دہ سے کم ہے تو اب دہ در دہ نہ رہا ایك خفیف قطرہ نجاست سے ساری سطح ناپاك ہوجائے گی ہاں وضو کےلئے ہاتھ ڈال کر پانی لینے سے مستعمل نہ ہوگا بے وضو پاؤں ڈال دینے سے مستعمل ہوجائےگا قابل وضو نہ رہے گا وضو کا مستعمل پانی اس میں گرنے سے مستعمل نہ ہوگا جب تك مستعمل غیر مستعمل سے ز یادہ یا مساوی نہ ہوجائے اس کے پاك کردینے کو یہ کافی ہے کہ اوپر کا حصہ پانی کا نکال دیں یہاں تك کہ صرف پتھر کے نےچے نےچے پانی رہ جائے جہاں سے دہ در دہ ہے وہ سب پاك ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۷ : ازمدرسہ منظر اسلام بریلی مسئولہ مولوی عبداللہبہاری۳۔ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے وضو کے پانی کے قطرے کپڑے یا کسی چیز پر گریں گے
پانی تو غلبے کا اعتبار اجزاء کے اعتبار سے ہوگا اگر مطلق پانی نصف سے زیادہ ہے تو تمام پانی سے طہارت حاصل کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔ (ت)
بالجملہ حوض مذکور سے وضو بلاشبہ جائز ہے اور معترض کا قول غلط وناقابل التفات۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۶ : از پوربندرکاٹھ یا وار میٹھی مسجد مرسلہ سید غلام محمد صاحب۱۱۔ شوال ۱۳۳۷ھ
امام العلماء المحققین مقدام الفضلاء المدققین جامع شریعت وطریقت حکیم امت مولنا ومرشدنا ومخدومنا مولوی حاجی قاری شاہ احمد رضا خان صاحب متع الله المسلمین بطول بقائہم۔
بعد تسلیم فدویت ترمیم معروض رائے شریف وذہن لفیط ہوکہ ایك حوض دہ در دہ ہے عرض و طول میں لیکن حوض کو اوپر کو پتھر لگانے سے منہ حوض کا کم از دہ در دہ ہوگیا ہے اس صورت میں حوض پانی سے پورا بھر د یا جاتا ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس حوض میں وضو نہیں ہوتا اس لئے کہ دہ در دہ کی حد سے پانی تجاوز کرجاتا ہے اور پانی بھی ہلتا نہیں ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ وضو ہوجاتا ہے اس لئے یہاں پر لوگوں میں سخت فساد واقع ہے۔ سو حضرت مسئلہ کا خلاصہ کرکے تحر یر فرمائیں تاکہ اس پر عمل کیا جاوے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
وعلیکم السلام ورحمتہ وبرکاتہ
اگر پانی پتھر سے نےچا ہے تو وہ دہ در دہ ہے نجاست سے بھی ناپاك نہ ہوگا جب تك اس سے مزہ یا رنگ یا بو نہ بدلے اور پانی اس حد سے اونچا ہوکر پتھر سے گھر جائے اور پتھر کے بےچ میں مساحت دہ در دہ سے کم ہے تو اب دہ در دہ نہ رہا ایك خفیف قطرہ نجاست سے ساری سطح ناپاك ہوجائے گی ہاں وضو کےلئے ہاتھ ڈال کر پانی لینے سے مستعمل نہ ہوگا بے وضو پاؤں ڈال دینے سے مستعمل ہوجائےگا قابل وضو نہ رہے گا وضو کا مستعمل پانی اس میں گرنے سے مستعمل نہ ہوگا جب تك مستعمل غیر مستعمل سے ز یادہ یا مساوی نہ ہوجائے اس کے پاك کردینے کو یہ کافی ہے کہ اوپر کا حصہ پانی کا نکال دیں یہاں تك کہ صرف پتھر کے نےچے نےچے پانی رہ جائے جہاں سے دہ در دہ ہے وہ سب پاك ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۷ : ازمدرسہ منظر اسلام بریلی مسئولہ مولوی عبداللہبہاری۳۔ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے وضو کے پانی کے قطرے کپڑے یا کسی چیز پر گریں گے
حوالہ / References
درمختار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴
تو وہ ناپاك ہوجائے گا اور اگر جماعت ختم ہونے پر ہے اس صورت میں وہ بلا ہاتھ پاؤں پونچھے شریك جماعت ہوگیا تو جو قطرے اس کی ریش و غیرہ سے گریں گے اس سے رحمت کے فرشتے پیدا ہوں گے۔ حضور کا اس بارے میں کیا ارشاد ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
ان قطروں سے کپڑا ناپاك نہیں ہوتا مگر مسجد میں ان کا گرانا جائز نہیں بدن اتنا پونچھ کر کہ قطرے نہ گریں مسجد میں داخل ہو اور ان قطروں سے رحمت کے فرشتے بننا مجھے معلوم نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۸ : ازشہرگیا محلہ نذرگنج مسئولہ شمس الدین احمد اللہخان ۸۔ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حقہ کے پانی سے وضو جائز رکھا گیا ہے وہ کون حالت اور کس وقت پر
الجواب :
جب آب مطلق اصلا نہ ملے تو یہ پانی بھی آب مطلق ہے اس کے ہوتے ہوئے تیمم ہرگز صحیح نہیں اور اس تیمم سے نماز باطل۔ والله تعالی اعلم۔
____________________
الجواب :
ان قطروں سے کپڑا ناپاك نہیں ہوتا مگر مسجد میں ان کا گرانا جائز نہیں بدن اتنا پونچھ کر کہ قطرے نہ گریں مسجد میں داخل ہو اور ان قطروں سے رحمت کے فرشتے بننا مجھے معلوم نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۲۸ : ازشہرگیا محلہ نذرگنج مسئولہ شمس الدین احمد اللہخان ۸۔ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حقہ کے پانی سے وضو جائز رکھا گیا ہے وہ کون حالت اور کس وقت پر
الجواب :
جب آب مطلق اصلا نہ ملے تو یہ پانی بھی آب مطلق ہے اس کے ہوتے ہوئے تیمم ہرگز صحیح نہیں اور اس تیمم سے نماز باطل۔ والله تعالی اعلم۔
____________________
فصل فی البئر
مسئلہ ۱۲۹ تا ۱۳۴ : از شہرکہنہ محلہ سہسوانی ٹولہ مرسلہ محمد ادریس خان ۲۸ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
(۱) ایك چاہ میں ایك چوہا نکلا جس کے نصف دھڑ کے نیچے کی کھال گل کر پانی ہی میں رہ گئی تھی لیکن پیٹ نہیں پھٹا تھا تو اب کنواں کس طرح پاك ہو۔
(۲) یہ بھی تشریح فرمائیے کہ پانی کا ٹوٹنا کسے کہتے ہیں یعنی کتنا پانی کنویں میں جائے تو چھوڑ دینا چاہئے۔
(۳) اگر کسی وجہ سے کنویں کے پاك کرنے کی غرض سے مٹی نکالنے کا حکم ہو تو مٹی کس قدر نکالنا چاہئے۔
(۴) اگر کنواں پاکی کے شرائط پورے کرنے کے اندر بیٹھنے یا شق ہونے لگے تو اس کا بیٹھنا یا شق ہونا پاکی کا مانع ہوسکتا ہے یا نہیں۔ مثلا ایك کنواں پانی ٹوٹنے کا حکم رکھتا ہے اور اس کنویں میں دو۲ آدمی کے قد پانی ہے اور پانی نکالتے نکالتے ز یادہ سے ز یادہ گھٹنوں تك اور کم سے کم اتنا کہ بالٹی خوب ڈوب جاتی ہے بلکہ اس کے اوپر بھی پانی چھ سات انگل رہتا ہے بدیں وجوہات اسے چھوڑ د یا گیا (کہ آدمی پانی نکالتے نکالتے تھك گئے یا کنواں شق ہونے لگا یا بیٹھنے لگا تو خیال کیا کہ اس کو پھر کون بنوائے گا یہ تو بیکار ہوا جاتا ہے) تو کنواں پاك ہوا یا نہیں
مسئلہ ۱۲۹ تا ۱۳۴ : از شہرکہنہ محلہ سہسوانی ٹولہ مرسلہ محمد ادریس خان ۲۸ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
(۱) ایك چاہ میں ایك چوہا نکلا جس کے نصف دھڑ کے نیچے کی کھال گل کر پانی ہی میں رہ گئی تھی لیکن پیٹ نہیں پھٹا تھا تو اب کنواں کس طرح پاك ہو۔
(۲) یہ بھی تشریح فرمائیے کہ پانی کا ٹوٹنا کسے کہتے ہیں یعنی کتنا پانی کنویں میں جائے تو چھوڑ دینا چاہئے۔
(۳) اگر کسی وجہ سے کنویں کے پاك کرنے کی غرض سے مٹی نکالنے کا حکم ہو تو مٹی کس قدر نکالنا چاہئے۔
(۴) اگر کنواں پاکی کے شرائط پورے کرنے کے اندر بیٹھنے یا شق ہونے لگے تو اس کا بیٹھنا یا شق ہونا پاکی کا مانع ہوسکتا ہے یا نہیں۔ مثلا ایك کنواں پانی ٹوٹنے کا حکم رکھتا ہے اور اس کنویں میں دو۲ آدمی کے قد پانی ہے اور پانی نکالتے نکالتے ز یادہ سے ز یادہ گھٹنوں تك اور کم سے کم اتنا کہ بالٹی خوب ڈوب جاتی ہے بلکہ اس کے اوپر بھی پانی چھ سات انگل رہتا ہے بدیں وجوہات اسے چھوڑ د یا گیا (کہ آدمی پانی نکالتے نکالتے تھك گئے یا کنواں شق ہونے لگا یا بیٹھنے لگا تو خیال کیا کہ اس کو پھر کون بنوائے گا یہ تو بیکار ہوا جاتا ہے) تو کنواں پاك ہوا یا نہیں
(۵) وہ لوگ جو بلاتشریح در یافت کیے ہوئے ہما وشما کے کہنے سے کنویں کو پاك کرادیں یا کردیں اور پاك بھی ایسا کہ حکم پانی ٹوٹنے کا رکھتا ہو اور ٹوٹا نہ ہو ایسی نجاست جوکہ ساٹھ۶۰ڈول نکالنے سے پاك ہوسکتی ہے اور ہما و شما کے کہنے سے جنہوں نے کہ نجاست کو دیکھا بھی نہ ہو بیس۲۰ڈول نکلوادئے اور پانی کے استعمال کا حکم دے د یا کہ اب کنواں پاك ہوگیا۔ ان کے واسطے کا کیا حکم ہے۔
(۶) اگر ناپاك پانی سے وضو یا غسل کرکے نماز پڑھی اور بعد کو ناپاکی کا حال معلوم ہوا تو نماز کب تك کی واپس دہرانا چاہئے۔
الجواب :
(۱) کل پانی نکالا جائے یہاں تك کہ آدھا ڈول نہ ڈوبے اور اگر وہ کنواں نہ ٹوٹتا ہو تو اس کے پانی کا اندازہ کرلیں کہ اتنے ڈول ہے اس قدر نکال لیں والله تعالی اعلم۔
(۲) اس کا جواب اوپر گزرا کہ جب آدھے ڈول سے کم بھرنے لگے تو پانی ٹوٹ گیا والله اعلم۔
(۳) چڑ یا چوہا مثلا کنویں میں مر کر رہ گیا اور مٹی میں دب گیا کہ پانی نکالنے سے نہیں نکل سکتا تو پانی توڑ کر نکالیں اور اگر پانی کسی طرح نہ ٹوٹ سکے تو وہ کنواں اتنی مدت چھوڑ دیں کہ ظن غالب ہوجائے کہ وہ جانور اب گل کر مٹی ہوگیا ہوگا اور اس کا اندازہ چھ۶مہینے کیا گیا ہے باقی مٹی نکالنے کی کوئی حاجت کنواں پاك کرنے میں نہیں ہے۔ والله تعالی اعلم۔
(۴) جتنا پانی توڑنے سے باقی رہ گیا ہو مثلا فرض کرو کہ اگر سو۱۰۰ یا دوسو۲۰۰ ڈول اور نکالے جاتے تو آدھی بالٹی سے کم بھرتی مگر اس وقت اتنے ڈول نکالنا بوجہ مذکور مصلحت نہیں تو آج چھوڑدیں کل یا دو چار روز میں جب پانی ز یادہ ہوجائے وہ باقی کے سو۱۰۰ دوسو۲۰۰ ڈول نکال دیں کنواں پاك ہوگیا لان الولاء غیرشرط (کیوں کہ مسلسل نکالنا شرط نہیں۔ ت) والله تعالی اعلم۔
(۵) ایسے لوگ گنہگار ہیں اور شرعا مستحق تعز یر جس کا اختیار سلطان اسلام کو ہوتا ہے اب اتنا ہونا چاہئے کہ اگر وہ توبہ نہ کریں تو مسلمان ان سے میل جول ترك کردیں کہ انہوں نے شریعت میں بے جا دخل د یا اور مسلمانوں کو نجاست پلائی اور ان کی نمازیں او ربدن اور کپڑے خراب کیے والله تعالی اعلم۔
(۶) جب سے اس ناپاك پانی سے وضو کرکے نماز پڑھی ہو اور اس کے بعد پاك پانی سے طہارت کرکے پاك کپڑوں سے نماز نہ پڑھی ہو مثلا ناپاك پانی سے وضو کیا اور اس کے بعد پانی پاك کرلیا گیا اور اس پاك پانی سے کسی دن اس طرح نہا یا کہ سر سے پاؤں تك تین بار پانی بہہ گیا اس کے بعد پاك پانی سے وضو کرتا رہا اور کسی دن سر دھو یا اور کپڑے بدلے تو اس کے بعد سے جو نمازیں پڑھیں وہ نہ پھیری جائیں گی اور
(۶) اگر ناپاك پانی سے وضو یا غسل کرکے نماز پڑھی اور بعد کو ناپاکی کا حال معلوم ہوا تو نماز کب تك کی واپس دہرانا چاہئے۔
الجواب :
(۱) کل پانی نکالا جائے یہاں تك کہ آدھا ڈول نہ ڈوبے اور اگر وہ کنواں نہ ٹوٹتا ہو تو اس کے پانی کا اندازہ کرلیں کہ اتنے ڈول ہے اس قدر نکال لیں والله تعالی اعلم۔
(۲) اس کا جواب اوپر گزرا کہ جب آدھے ڈول سے کم بھرنے لگے تو پانی ٹوٹ گیا والله اعلم۔
(۳) چڑ یا چوہا مثلا کنویں میں مر کر رہ گیا اور مٹی میں دب گیا کہ پانی نکالنے سے نہیں نکل سکتا تو پانی توڑ کر نکالیں اور اگر پانی کسی طرح نہ ٹوٹ سکے تو وہ کنواں اتنی مدت چھوڑ دیں کہ ظن غالب ہوجائے کہ وہ جانور اب گل کر مٹی ہوگیا ہوگا اور اس کا اندازہ چھ۶مہینے کیا گیا ہے باقی مٹی نکالنے کی کوئی حاجت کنواں پاك کرنے میں نہیں ہے۔ والله تعالی اعلم۔
(۴) جتنا پانی توڑنے سے باقی رہ گیا ہو مثلا فرض کرو کہ اگر سو۱۰۰ یا دوسو۲۰۰ ڈول اور نکالے جاتے تو آدھی بالٹی سے کم بھرتی مگر اس وقت اتنے ڈول نکالنا بوجہ مذکور مصلحت نہیں تو آج چھوڑدیں کل یا دو چار روز میں جب پانی ز یادہ ہوجائے وہ باقی کے سو۱۰۰ دوسو۲۰۰ ڈول نکال دیں کنواں پاك ہوگیا لان الولاء غیرشرط (کیوں کہ مسلسل نکالنا شرط نہیں۔ ت) والله تعالی اعلم۔
(۵) ایسے لوگ گنہگار ہیں اور شرعا مستحق تعز یر جس کا اختیار سلطان اسلام کو ہوتا ہے اب اتنا ہونا چاہئے کہ اگر وہ توبہ نہ کریں تو مسلمان ان سے میل جول ترك کردیں کہ انہوں نے شریعت میں بے جا دخل د یا اور مسلمانوں کو نجاست پلائی اور ان کی نمازیں او ربدن اور کپڑے خراب کیے والله تعالی اعلم۔
(۶) جب سے اس ناپاك پانی سے وضو کرکے نماز پڑھی ہو اور اس کے بعد پاك پانی سے طہارت کرکے پاك کپڑوں سے نماز نہ پڑھی ہو مثلا ناپاك پانی سے وضو کیا اور اس کے بعد پانی پاك کرلیا گیا اور اس پاك پانی سے کسی دن اس طرح نہا یا کہ سر سے پاؤں تك تین بار پانی بہہ گیا اس کے بعد پاك پانی سے وضو کرتا رہا اور کسی دن سر دھو یا اور کپڑے بدلے تو اس کے بعد سے جو نمازیں پڑھیں وہ نہ پھیری جائیں گی اور
اگر کپڑے نہ بدلے یا سر نہ دھو یا اور اس پاك پانی سے وضو کرتا رہا تو سب نمازیں پھیری جائیں گی اگرچہ مہینے ہوگئے ہوں کہ بعد کے وضوؤں سے اگرچہ منہ ہاتھ پاك ہوگئے مگر وہ ناپاك پانی جو مسح میں سر کو لگا تھا وہ ہزار بار کے مسح سے بھی پاك نہ ہوگا جب تك دھو یا نہ جائے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۵ : ازشہر بریلی محلہ خواجہ قطب مرسلہ منشی رضا علی صاحب۲۔ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا ارشاد ہے علمائے دین کا اس مسئلہ میں کہ ٹھیلے کی رسی جس میں ایك کپڑا لپٹا ہوا تھا اور جو بیل کے سینے کے نیچے باندھی جاتی ہے کنویں میں ڈالی گئی جس نے کپڑا رسی پر لپیٹا تھا اس کا بیان ہے کہ کپڑا پاك لپیٹا تھا۔ لوگوں کا شبہہ ہے کہ بیل کے گوبر یا پیشاب کی چھینٹیں شاید پڑی ہوں ایسی صورت میں کنواں پاك رہا یا ناپاك ہوا۔ اگر ناپاك ہوا تو کس قدر پانی نکالنا چاہئے۔
الجواب :
کنواں پاك ہے اصلا کچھ نکالنے کی حاجت نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۶ : ازشہر بریلی محلہ خواجہ قطب مسئولہ مسعودعلی ۲۔ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ٹھیلے میں بیل کے جوتنے کے لئے بیل کے سینہ بند اور گردن میں ایك رسی بندھی ہوئی تھی اور اس کے سینے اور گردن کی خراش بچانے کے واسطے ایك بے نمازی عورت کا میلا دوپٹا رسی پر لپٹا ہوا جو کہ ایك عرصہ دراز تك استعمال میں آچکا ہے اس حالت میں ظن ہے کہ رسی اور کپڑا گوبر اور پیشاب کی آلودگی سے یا اس خون اور رطوبت سے جو بیل یا پہیے کی رگڑ سے کھال چھلنے کے بعد نکلتا ہے نہیں بچا ہوگا وہ کنویں میں گر گیا اس حالت میں کنواں پاك ہے یا نجس۔
الجواب :
بے نمازی عورت کا میلا دوبٹا ہونے سے اس کی ناپاکی لازم نہیں نہ عرصہ دراز تك استعمال سے نہ سینے کی رسی کو گوبر اور پیشاب سے علاقہ رہا کھال چھل کر خون نکلنا یہ ثبوت طلب ہے نکلا ہوگا کافی نہیں یہ معلوم وثابت وتحقیق ہونا لازم کہ واقعی خون و غیرہ نجس رطوبت نکل کر اس کپڑے میں لگی تھی اس تحقیق کے بعد ضرور کنواں ناپاك مانا جائے گا اور کل پانی نکالنے کا حکم ہوگا ورنہ وہم وشك پر نجاست نہیں ہوسکتی ایسا ہی زیادہ شك ہو تو بیس۲۰ڈول نکال دیں جن سے مقصود نہ کنواں بلکہ اپنے دل کا شك سے پاك کرنا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ۱۳۵ : ازشہر بریلی محلہ خواجہ قطب مرسلہ منشی رضا علی صاحب۲۔ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا ارشاد ہے علمائے دین کا اس مسئلہ میں کہ ٹھیلے کی رسی جس میں ایك کپڑا لپٹا ہوا تھا اور جو بیل کے سینے کے نیچے باندھی جاتی ہے کنویں میں ڈالی گئی جس نے کپڑا رسی پر لپیٹا تھا اس کا بیان ہے کہ کپڑا پاك لپیٹا تھا۔ لوگوں کا شبہہ ہے کہ بیل کے گوبر یا پیشاب کی چھینٹیں شاید پڑی ہوں ایسی صورت میں کنواں پاك رہا یا ناپاك ہوا۔ اگر ناپاك ہوا تو کس قدر پانی نکالنا چاہئے۔
الجواب :
کنواں پاك ہے اصلا کچھ نکالنے کی حاجت نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۶ : ازشہر بریلی محلہ خواجہ قطب مسئولہ مسعودعلی ۲۔ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ٹھیلے میں بیل کے جوتنے کے لئے بیل کے سینہ بند اور گردن میں ایك رسی بندھی ہوئی تھی اور اس کے سینے اور گردن کی خراش بچانے کے واسطے ایك بے نمازی عورت کا میلا دوپٹا رسی پر لپٹا ہوا جو کہ ایك عرصہ دراز تك استعمال میں آچکا ہے اس حالت میں ظن ہے کہ رسی اور کپڑا گوبر اور پیشاب کی آلودگی سے یا اس خون اور رطوبت سے جو بیل یا پہیے کی رگڑ سے کھال چھلنے کے بعد نکلتا ہے نہیں بچا ہوگا وہ کنویں میں گر گیا اس حالت میں کنواں پاك ہے یا نجس۔
الجواب :
بے نمازی عورت کا میلا دوبٹا ہونے سے اس کی ناپاکی لازم نہیں نہ عرصہ دراز تك استعمال سے نہ سینے کی رسی کو گوبر اور پیشاب سے علاقہ رہا کھال چھل کر خون نکلنا یہ ثبوت طلب ہے نکلا ہوگا کافی نہیں یہ معلوم وثابت وتحقیق ہونا لازم کہ واقعی خون و غیرہ نجس رطوبت نکل کر اس کپڑے میں لگی تھی اس تحقیق کے بعد ضرور کنواں ناپاك مانا جائے گا اور کل پانی نکالنے کا حکم ہوگا ورنہ وہم وشك پر نجاست نہیں ہوسکتی ایسا ہی زیادہ شك ہو تو بیس۲۰ڈول نکال دیں جن سے مقصود نہ کنواں بلکہ اپنے دل کا شك سے پاك کرنا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۷ : ازشہرکہنہ بریلی محلہ گھیر جعفر خان پنجابی ٹولہ مسئولہ جناب محمود علی خان صاحب رضوی۸ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك کنواں ہے جس میں پانی اس قدر ہے کہ ایك حوض دہ در دہ اس کے پانی سے بذریعہ چرسے کے بھر د یا جاتا ہے مگر پانی اس کا نہیں ٹوٹتا اس کنویں میں گلہری گر کر مرگئی اور سڑ کر پھٹ گئی ایسی حالت میں کس قدر پانی نکالا جاوے کہ کنواں پاك ہوجاوے۔
الجواب :
اگر کنواں آپ دہ در دہ ہو یعنی اس کا قطر پانچ گز دس گرہ ایك انگل ہو جب تو ناپاك نہ ہوگا اور اس سے کم ہے تو ذراسی نجاست سے اس کا کل پانی ناپاك ہوجائے گا اگرچہ کثرت عمق یا ز یادات آمد آب کے سبب اس سے دس۱۰ حوض دہ در دہ بھر سکیں۔ اس صورت میں اس میں جتنے ڈول پانی ہو وہ ناپ کر نکال د یا جائے پاك ہوجائے گا خواہ دفعۃ نکالیں یا کئی روز میں اور خواہ نکالنے سے اس کا پانی ٹوٹ جائے یا اصلا نہ گھٹے ہر صورت میں اتنے ڈول نکالنے سے پاك ہوجائے گا اور وہ جو آج کل بعض بے علم لوگ ایسے کنویں سے ۳۰۰ یا ۳۶۰ ڈول نکالنا کافی بتاتے ہیں غلط ہے۔ ناپنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ رسی میں پتھر باندھ کر آہستہ آہستہ چھوڑیں خم نہ پڑے جب تہہ کو پہنچ جائے نکال کر ناپیں کہ اتنے ہاتھ پانی ہے پھر جلد جلد سو۱۰۰ ڈول کھینچ کر ایسے ہی ناپیں جتنا پانی گھٹا اس سے حساب لگالیں مثلا بیس۲۰ ہاتھ پانی ناپ میں آ یا اور سو۱۰۰ڈول نکالنے سے ایك ہاتھ گھٹا تو ۱۹۰۰ ڈول اور نکالیں یا دو۲ معتبر شخص کہ پانی میں نگاہ رکھتے ہوں اندازہ کرکے بتادیں کہ اس میں اتنے ڈول پانی ہے ہزار دوہزار جتنے بتائیں اس قدر نکال دیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۸ : از رامہ تحصیل گوجرخان ڈاکخانہ جاتلی ضلع راولپنڈی مرسلہ قاضی تاج محمود صاحب ۱۰۔ شوال ۱۳۳۸ھ
اگر سگ کنویں میں گر پڑے اور اس کے منہ کے پانی میں داخل ہونے کی ثبوت نہیں ملتی پانی کا کیا حکم ہے۔
الجواب ز یادہ احتیاط یہ ہے کہ کل پانی نکالیں کہ بہت مشائخ کے نزدیك وہ نجس العین ہے مگر صحیح ومعتمد یہ کہ اس کا حکم باقی سباع کے مثل ہے کہ صرف لعاب ناپاك ہے تو اگر منہ پانی نہ پہنچا صرف بیس۲۰ ڈول تطییب قلب کےلئے کافی ہیں درمختار میں ہے :
لواخرج حیا ولیس بنجس العین ولا بہ حدث او خبث لم ینزح شیئ الاان
اگر زندہ نکالاگیا اور وہ نہ تو نجس عین ہے اور نہ ہی کوئی نجاست لگی ہوئی ہے توکچھ بھی نہیں نکالا جائےگا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك کنواں ہے جس میں پانی اس قدر ہے کہ ایك حوض دہ در دہ اس کے پانی سے بذریعہ چرسے کے بھر د یا جاتا ہے مگر پانی اس کا نہیں ٹوٹتا اس کنویں میں گلہری گر کر مرگئی اور سڑ کر پھٹ گئی ایسی حالت میں کس قدر پانی نکالا جاوے کہ کنواں پاك ہوجاوے۔
الجواب :
اگر کنواں آپ دہ در دہ ہو یعنی اس کا قطر پانچ گز دس گرہ ایك انگل ہو جب تو ناپاك نہ ہوگا اور اس سے کم ہے تو ذراسی نجاست سے اس کا کل پانی ناپاك ہوجائے گا اگرچہ کثرت عمق یا ز یادات آمد آب کے سبب اس سے دس۱۰ حوض دہ در دہ بھر سکیں۔ اس صورت میں اس میں جتنے ڈول پانی ہو وہ ناپ کر نکال د یا جائے پاك ہوجائے گا خواہ دفعۃ نکالیں یا کئی روز میں اور خواہ نکالنے سے اس کا پانی ٹوٹ جائے یا اصلا نہ گھٹے ہر صورت میں اتنے ڈول نکالنے سے پاك ہوجائے گا اور وہ جو آج کل بعض بے علم لوگ ایسے کنویں سے ۳۰۰ یا ۳۶۰ ڈول نکالنا کافی بتاتے ہیں غلط ہے۔ ناپنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ رسی میں پتھر باندھ کر آہستہ آہستہ چھوڑیں خم نہ پڑے جب تہہ کو پہنچ جائے نکال کر ناپیں کہ اتنے ہاتھ پانی ہے پھر جلد جلد سو۱۰۰ ڈول کھینچ کر ایسے ہی ناپیں جتنا پانی گھٹا اس سے حساب لگالیں مثلا بیس۲۰ ہاتھ پانی ناپ میں آ یا اور سو۱۰۰ڈول نکالنے سے ایك ہاتھ گھٹا تو ۱۹۰۰ ڈول اور نکالیں یا دو۲ معتبر شخص کہ پانی میں نگاہ رکھتے ہوں اندازہ کرکے بتادیں کہ اس میں اتنے ڈول پانی ہے ہزار دوہزار جتنے بتائیں اس قدر نکال دیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۳۸ : از رامہ تحصیل گوجرخان ڈاکخانہ جاتلی ضلع راولپنڈی مرسلہ قاضی تاج محمود صاحب ۱۰۔ شوال ۱۳۳۸ھ
اگر سگ کنویں میں گر پڑے اور اس کے منہ کے پانی میں داخل ہونے کی ثبوت نہیں ملتی پانی کا کیا حکم ہے۔
الجواب ز یادہ احتیاط یہ ہے کہ کل پانی نکالیں کہ بہت مشائخ کے نزدیك وہ نجس العین ہے مگر صحیح ومعتمد یہ کہ اس کا حکم باقی سباع کے مثل ہے کہ صرف لعاب ناپاك ہے تو اگر منہ پانی نہ پہنچا صرف بیس۲۰ ڈول تطییب قلب کےلئے کافی ہیں درمختار میں ہے :
لواخرج حیا ولیس بنجس العین ولا بہ حدث او خبث لم ینزح شیئ الاان
اگر زندہ نکالاگیا اور وہ نہ تو نجس عین ہے اور نہ ہی کوئی نجاست لگی ہوئی ہے توکچھ بھی نہیں نکالا جائےگا
یدخل فمہ الماء فیعتبر بسورہ فان نجسا نزح الکل والا لا ھو الصحیح ۔
مگر یہ کہ اس کا منہ پانی تك پہنچ جائے تو اس وقت اس کے جھوٹے کا اعتبار کیا جائے گا اگر ناپاك ہے تو تمام پانی نکالا جائے ورنہ نہیں۔ یہی صحیح ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ لم ینزح شیئ ای وجوبا لما فی الخانیۃ لوقعت شاۃ وخرجت حیۃ ینزح عشرون دلوا لتسکین القلب لاللتطھیر ۔ والله تعالی اعلم۔
اس (صاحب درمختار) کے قول “ لم ینزح شیئ “ (کچھ بھی نہ نکالا جائے) سے مراد یہ ہے کہ نکالنا واجب نہیں جیسا کہ خانیہ میں ہے کہ اگر بکری گر جائے اور زندہ نکل آئے تو اطمینان قلب کےلئے بیس ڈول نکالے جائیں پاك کرنے کےلئے نہیں۔ والله تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۳۹ : ازضلع فریدپور موضع قنل نگر مرسلہ عبدالغنی صاحب ۲۲ ذیقعدہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایك بہشتی بے نمازی جو چھوٹا استنجا پانی سے نہیں کرتے معمولی طور پر غسل کرکے یعنی ایك ڈول پانی سرپر ڈال کر کنویں میں غوطہ لگا یا تھا اور استعمالی کپڑا بھی نہیں بدلا تھا اب اس کنویں کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر چھوٹا استنجا ڈھیلے سے کرلیا ہو اور بدن یا کپڑے پر کوئی نجاست ہونا تحقیق نہ ہو تو بیس۲۰ڈول نکالیں ورنہ کل پانی۔ والله تعالی اعلم۔
____________________
مگر یہ کہ اس کا منہ پانی تك پہنچ جائے تو اس وقت اس کے جھوٹے کا اعتبار کیا جائے گا اگر ناپاك ہے تو تمام پانی نکالا جائے ورنہ نہیں۔ یہی صحیح ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ لم ینزح شیئ ای وجوبا لما فی الخانیۃ لوقعت شاۃ وخرجت حیۃ ینزح عشرون دلوا لتسکین القلب لاللتطھیر ۔ والله تعالی اعلم۔
اس (صاحب درمختار) کے قول “ لم ینزح شیئ “ (کچھ بھی نہ نکالا جائے) سے مراد یہ ہے کہ نکالنا واجب نہیں جیسا کہ خانیہ میں ہے کہ اگر بکری گر جائے اور زندہ نکل آئے تو اطمینان قلب کےلئے بیس ڈول نکالے جائیں پاك کرنے کےلئے نہیں۔ والله تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۳۹ : ازضلع فریدپور موضع قنل نگر مرسلہ عبدالغنی صاحب ۲۲ ذیقعدہ ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایك بہشتی بے نمازی جو چھوٹا استنجا پانی سے نہیں کرتے معمولی طور پر غسل کرکے یعنی ایك ڈول پانی سرپر ڈال کر کنویں میں غوطہ لگا یا تھا اور استعمالی کپڑا بھی نہیں بدلا تھا اب اس کنویں کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر چھوٹا استنجا ڈھیلے سے کرلیا ہو اور بدن یا کپڑے پر کوئی نجاست ہونا تحقیق نہ ہو تو بیس۲۰ڈول نکالیں ورنہ کل پانی۔ والله تعالی اعلم۔
____________________
حوالہ / References
درمختار فصل فی البئر مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۹
ردالمحتار فصل فی البئر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۵۶
ردالمحتار فصل فی البئر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۵۶
باب المسح علی الخفین
مسئلہ ۱۴۰ : از اوجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ ملا یعقوب علی خان ۱۵ جمادی الاولی ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سوتی موزہ پر مسح جائز ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
سوتی یا اونی موزے جیسے ہمارے بلاد میں رائج ان پر مسح کسی کے نزدیك درست نہیں کہ نہ وہ مجلد ہیں
مسئلہ ۱۴۰ : از اوجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ ملا یعقوب علی خان ۱۵ جمادی الاولی ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سوتی موزہ پر مسح جائز ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
سوتی یا اونی موزے جیسے ہمارے بلاد میں رائج ان پر مسح کسی کے نزدیك درست نہیں کہ نہ وہ مجلد ہیں
یعنی ٹخنوں تك چمڑا منڈھے ہوئے نہ منعل یعنی تلاچمڑے کا لگا ہوا نہ ثخین یعنی ایسے دبیز ومحکم کہ تنہا انہیں کو پہن کر قطع مسافت کریں تو شق نہ ہوجائیں اور ساق پر اپنے دبیز ہونے کے سبب بے بندش کے رکے رہیں ڈھلك نہ آئیں اور ان پر پانی پڑے تو روك لیں فورا پاؤں کی طرف چھن نہ جائے جو پائتابے ان تینوں وصف مجلد منعل ثخین سے خالی ہوں ان پر مسح بالاتفاق ناجائز ہے۔ ہاں اگر ان پر چمڑا منڈھ لیں یا چمڑے کا تلا لگالیں تو بالاتفاق یا شاید کہیں اس طرح کے دبیز بنائے جائیں تو صاحبین کے نزدیك مسح جائز ہوگا اور اسی پر فتوی ہے۔
فی المنیۃ والغنیۃ (المسح علی الجوارب لایجوز عند ابی حینفۃ الا ان یکونا مجلدین) ای استوعب الجلد مایستقر القدم الی الکعب (اومنعلین) ای جعل الجلد علی ما یلی الارض منھما خاصۃ کالنعل للرجل (وقالایجوز اذاکانا ثخینین لایشفان) فان الجورب اذاکان بحیث لایجاوز الماء منہ الی القدم فھو بمنزلۃ الادیم والصرم فی عدم جذب الماء الی نفسہ الابعد لبث اودلك بخلاف الرقیق فانہ یجذب الماء وینفذہ الی الرجل فی الحال ۔
(وعلیہ) ای علی قول ابی یوسف ومحمد (الفتوی والثخین ان یستمسك علی الساق من غیر ان یشد بشیئ) ھکذا فسروہ کلھم وینبغی ان یقید بما اذا لم یکن ضیقا فانا نشاھد مایکون فیہ ضیق یستمسك علی الساق من غیرشد والحد
منیہ اور غنیہ میں ہے (امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك جرابوں پر مسح جائز نہیں مگر یہ کہ چمڑے کی ہوں) یعنی اس تمام جگہ کو گھ یرلیں جو قدم کو ٹخنوں تك ڈھانپتی ہے ( یا منعل ہوں) یعنی جرابوں کا جو حصہ زمین سے ملتا ہے صرف وہ چمڑے کا ہو جیسے پاؤں کی جوتی ہوتی ہے (اور صاحبین نے فرما یا اگر (جرابیں) ایسی دبیز ہوں کہ نہ کھلتی ہوں تو مسح جائز ہے کیونکہ اگر جراب اس طرح کی ہو کہ پانی قدم تك تجاوز نہ کرے تو وہ جذب کرنے کے حق میں چمڑے اور چمڑا چڑھائے ہوئے موزے کی طرح ہے مگر کچھ د یر ٹھہرنے یا رگڑنے سے پانی جذب کرے تو کوئی حرج نہیں بخلاف پتلی جراب کے کہ وہ پانی کو جذب کرکے فورا پاؤں تك پہنچاتی ہے۔ (ت)
(وعلیہ) یعنی امام ابویوسف اور امام محمد رحمہم اللہ تعالی کے قول پر (فتوی ہے اور ثخین وہ ہے کہ کسی چیز سے باندھے بغیر پنڈلی پر ٹھہر جائے) تمام فقہا نے اس کی یونہی وضاحت کی ہے لیکن مناسب ہے کہ اس کے ساتھ تنگ نہ ہونے کی قید لگائی جائے کیونکہ ہمارے مشاہدے میں ہے کہ جو جراب تنگ ہو
فی المنیۃ والغنیۃ (المسح علی الجوارب لایجوز عند ابی حینفۃ الا ان یکونا مجلدین) ای استوعب الجلد مایستقر القدم الی الکعب (اومنعلین) ای جعل الجلد علی ما یلی الارض منھما خاصۃ کالنعل للرجل (وقالایجوز اذاکانا ثخینین لایشفان) فان الجورب اذاکان بحیث لایجاوز الماء منہ الی القدم فھو بمنزلۃ الادیم والصرم فی عدم جذب الماء الی نفسہ الابعد لبث اودلك بخلاف الرقیق فانہ یجذب الماء وینفذہ الی الرجل فی الحال ۔
(وعلیہ) ای علی قول ابی یوسف ومحمد (الفتوی والثخین ان یستمسك علی الساق من غیر ان یشد بشیئ) ھکذا فسروہ کلھم وینبغی ان یقید بما اذا لم یکن ضیقا فانا نشاھد مایکون فیہ ضیق یستمسك علی الساق من غیرشد والحد
منیہ اور غنیہ میں ہے (امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك جرابوں پر مسح جائز نہیں مگر یہ کہ چمڑے کی ہوں) یعنی اس تمام جگہ کو گھ یرلیں جو قدم کو ٹخنوں تك ڈھانپتی ہے ( یا منعل ہوں) یعنی جرابوں کا جو حصہ زمین سے ملتا ہے صرف وہ چمڑے کا ہو جیسے پاؤں کی جوتی ہوتی ہے (اور صاحبین نے فرما یا اگر (جرابیں) ایسی دبیز ہوں کہ نہ کھلتی ہوں تو مسح جائز ہے کیونکہ اگر جراب اس طرح کی ہو کہ پانی قدم تك تجاوز نہ کرے تو وہ جذب کرنے کے حق میں چمڑے اور چمڑا چڑھائے ہوئے موزے کی طرح ہے مگر کچھ د یر ٹھہرنے یا رگڑنے سے پانی جذب کرے تو کوئی حرج نہیں بخلاف پتلی جراب کے کہ وہ پانی کو جذب کرکے فورا پاؤں تك پہنچاتی ہے۔ (ت)
(وعلیہ) یعنی امام ابویوسف اور امام محمد رحمہم اللہ تعالی کے قول پر (فتوی ہے اور ثخین وہ ہے کہ کسی چیز سے باندھے بغیر پنڈلی پر ٹھہر جائے) تمام فقہا نے اس کی یونہی وضاحت کی ہے لیکن مناسب ہے کہ اس کے ساتھ تنگ نہ ہونے کی قید لگائی جائے کیونکہ ہمارے مشاہدے میں ہے کہ جو جراب تنگ ہو
حوالہ / References
غنیۃ المستملی ، فصل فی المسح علی الخفین مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۲۰
بعدم جذب الماء اقرب وبمایمکن فیہ متابعۃ المشی اصوب۔
وقدذکر نجم الدین الزاھدی عن شمس الائمۃ الحلوانی ان الجوارب من الغزل والشعر ماکان رقیقا منھا لایجوز المسح علیہ اتفاقا الاان یکون مجلدا اومنعلا وماکان ثخینا منھا فان لم یکن مجلدا اومنعلا فمختلف فیہ وماکان فلاخلاف فیہ اھ۔ ملتقطا۔
قلت وھھنا وھم عرض للمولی الفاضل اخی یوسف چلپی فی حاشیۃ شرح الوقا یۃ فلاعلیك منہ بعد ماسمعت نص امام الشان شمس الائمۃ وکذلك نص فی الخلاصۃ بمایکفی لازاھتہ کماحققہ فی الغنیۃ وذکر طرفا منہ فی ردالمحتار فراجعھا ان شئت والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
وہ باندھے بغیر بھی پنڈلی پر ٹھہر جاتی ہے۔ موزے کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ پانی کو جذب نہ کرے اور اس کے ساتھ لگاتار چلنا ممکن ہو حق کے ز یادہ قریب اور بہترین تعریف ہے۔ (ت)
نجم الدین زاہدی نے شمس الائمہ حلوانی سے نقل کرتے ہوئے ذکر کیا کہ اون اور بالوں سے بنی ہوئی جرابیں پتلی ہوں تو بالاتفاق ان پر مسح جائز نہیں جب تك وہ مجلد یا منعل نہ ہوں اور اگر وہ (دبینر ہوں تو ان میں سے جو مجلد اور منعل نہ ہوں ان پر مسح کرنے میں اختلاف ہے جبکہ مجلد اور منعل میں کوئی اختلاف نہیں انتہی انتخابا۔ (ت)
فاضل اخی یوسف چلپی کو حاشیہ شرح وقایہ کے اس مقام پر ایك وہم ہوا۔ لہذا امام الشان شمس الائمہ کی تصریح سننے کے بعد اب تمہیں وہ قول اخت یار نہیں کرنا چاہئے اسی طرح خلاصہ میں بھی تصریح ہے جو اس کے ازالہ کے لئے کافی ہے جیسا کہ غنیہ میں اس کی تحقیق کی ہے اور کچھ بحث ردالمحتار میں بھی مذکور ہے اگر چاہو تو وہاں رجوع کرو۔ اور اللہسبحانہ وتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۴۱ : مقام کہنہ دہانہ ضلع رزےڈنسی گوالیار مسئولہ منشی نور محمد سوداگر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ بوٹ جن سے ٹخنہ ڈھك جاتا ہے یعنی بوٹ کہ پلٹن والے پہنتے ہیں وہ بوٹ کیا چمڑے کے موزے کا حکم رکھتا ہے یا نہیں۔ چونکہ چمڑے کے موزے پر
وقدذکر نجم الدین الزاھدی عن شمس الائمۃ الحلوانی ان الجوارب من الغزل والشعر ماکان رقیقا منھا لایجوز المسح علیہ اتفاقا الاان یکون مجلدا اومنعلا وماکان ثخینا منھا فان لم یکن مجلدا اومنعلا فمختلف فیہ وماکان فلاخلاف فیہ اھ۔ ملتقطا۔
قلت وھھنا وھم عرض للمولی الفاضل اخی یوسف چلپی فی حاشیۃ شرح الوقا یۃ فلاعلیك منہ بعد ماسمعت نص امام الشان شمس الائمۃ وکذلك نص فی الخلاصۃ بمایکفی لازاھتہ کماحققہ فی الغنیۃ وذکر طرفا منہ فی ردالمحتار فراجعھا ان شئت والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
وہ باندھے بغیر بھی پنڈلی پر ٹھہر جاتی ہے۔ موزے کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ پانی کو جذب نہ کرے اور اس کے ساتھ لگاتار چلنا ممکن ہو حق کے ز یادہ قریب اور بہترین تعریف ہے۔ (ت)
نجم الدین زاہدی نے شمس الائمہ حلوانی سے نقل کرتے ہوئے ذکر کیا کہ اون اور بالوں سے بنی ہوئی جرابیں پتلی ہوں تو بالاتفاق ان پر مسح جائز نہیں جب تك وہ مجلد یا منعل نہ ہوں اور اگر وہ (دبینر ہوں تو ان میں سے جو مجلد اور منعل نہ ہوں ان پر مسح کرنے میں اختلاف ہے جبکہ مجلد اور منعل میں کوئی اختلاف نہیں انتہی انتخابا۔ (ت)
فاضل اخی یوسف چلپی کو حاشیہ شرح وقایہ کے اس مقام پر ایك وہم ہوا۔ لہذا امام الشان شمس الائمہ کی تصریح سننے کے بعد اب تمہیں وہ قول اخت یار نہیں کرنا چاہئے اسی طرح خلاصہ میں بھی تصریح ہے جو اس کے ازالہ کے لئے کافی ہے جیسا کہ غنیہ میں اس کی تحقیق کی ہے اور کچھ بحث ردالمحتار میں بھی مذکور ہے اگر چاہو تو وہاں رجوع کرو۔ اور اللہسبحانہ وتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۴۱ : مقام کہنہ دہانہ ضلع رزےڈنسی گوالیار مسئولہ منشی نور محمد سوداگر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ بوٹ جن سے ٹخنہ ڈھك جاتا ہے یعنی بوٹ کہ پلٹن والے پہنتے ہیں وہ بوٹ کیا چمڑے کے موزے کا حکم رکھتا ہے یا نہیں۔ چونکہ چمڑے کے موزے پر
حوالہ / References
غنیۃ المستملی فصل فی المسح علی الخفین مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۲۱
چلپی نے فرما یا اگر وہ ثخین نہ ہو تو نیچے چمڑا چڑھا ہونے کے باوجود مسح جائز نہیں۔ ذخیرۃ العقبٰی ص۵۲
چلپی نے فرما یا اگر وہ ثخین نہ ہو تو نیچے چمڑا چڑھا ہونے کے باوجود مسح جائز نہیں۔ ذخیرۃ العقبٰی ص۵۲
مسح کرنا درست ہے (عالمگیری) تو فرمائیے کہ بوٹ پر مسح کرنا درست ہے یعنی مسح کرنا چاہئے یا نہیں اور نماز اس سے درست ہے یاکیا
الجواب :
درست ہے معراج الدرایہ پھر بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے :
یجوز علی الجاروق المشقوق علی ظھر القدم ولہ ازرار یشدھا علیہ تسدہ لانہ کغیر المشقوق وان ظھر من ظھر القدم شیئ فھو کخروق الخف والله تعالی اعلم۔
ایسے موزے پر مسح جائز ہے جو قدم کے اوپر سے کھلا ہو اور اسے بٹن لگا کر بند کیا گیا ہو تو وہ بند کی طرح ہے اور اگر قدم کی پیٹھ سے کچھ حصہ ننگا ہو تو وہ پھٹے ہوئے موزے کی طرح ہے۔ اور اللہتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
_____________________
الجواب :
درست ہے معراج الدرایہ پھر بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے :
یجوز علی الجاروق المشقوق علی ظھر القدم ولہ ازرار یشدھا علیہ تسدہ لانہ کغیر المشقوق وان ظھر من ظھر القدم شیئ فھو کخروق الخف والله تعالی اعلم۔
ایسے موزے پر مسح جائز ہے جو قدم کے اوپر سے کھلا ہو اور اسے بٹن لگا کر بند کیا گیا ہو تو وہ بند کی طرح ہے اور اگر قدم کی پیٹھ سے کچھ حصہ ننگا ہو تو وہ پھٹے ہوئے موزے کی طرح ہے۔ اور اللہتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
_____________________
حوالہ / References
ردالمحتار باب المسح علی الخفین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۹۲
باب الحیض
مسئلہ ۱۴۲ : از وطن مرسلہ نواب مولوی سلطان احمد خان صاحب ۲ رمضان المبارک۱۳۱۰ھ
ماقولکم رحمکم الله تعالی ہذہ المسئلۃ دروسالہ طہارت کبری نوشۃ است نونے نماز میگزاردہم دراثنائے صلاۃ حائضہ شد نماز قطع کندپس اگر نماز فرض بود بعد طہارت قضایش واجب نبود واگر نفل بود قضا واجب آید۔ بینوا توجروا۔
اللہتعالی آپ کو اپنی رحمت سے نوازے اس مسئلہ میں آپ کی کیارائے ہے رسالہ “ طہارت کبری “ میں لکھا ہے : “ کوئی عورت نماز پڑھ رہی ہو اور نماز کے دوران اسے حیض آجائے تو وہ نماز توڑدے پھر اگر وہ فرض نماز ہے تو حصول طہارت کے بعد اس کی قضا واجب نہ ہوگی اور اگر نفل نماز ہو تو واجب ہوگی۔ بیان کریں اجر پائیں۔ (ت)
الجواب :
دریں رسالہ اگرچہ بس یار جاخطا سرزدہ اماایں مسئلہ درست نوشتہ است فمثلہ فی البحر والدر و غیرھما من الاسفار الغر وجہش انچہ
اس رسالے میں اگرچہ بہت جگہ غلطی واقع ہوئی ہے تاہم یہ مسئلہ صحیح لکھا گیا ہے اسی کی مثل البحرالرائق درمختار اور ان کے علاوہ عمدہ کتب میں منقول ہے
مسئلہ ۱۴۲ : از وطن مرسلہ نواب مولوی سلطان احمد خان صاحب ۲ رمضان المبارک۱۳۱۰ھ
ماقولکم رحمکم الله تعالی ہذہ المسئلۃ دروسالہ طہارت کبری نوشۃ است نونے نماز میگزاردہم دراثنائے صلاۃ حائضہ شد نماز قطع کندپس اگر نماز فرض بود بعد طہارت قضایش واجب نبود واگر نفل بود قضا واجب آید۔ بینوا توجروا۔
اللہتعالی آپ کو اپنی رحمت سے نوازے اس مسئلہ میں آپ کی کیارائے ہے رسالہ “ طہارت کبری “ میں لکھا ہے : “ کوئی عورت نماز پڑھ رہی ہو اور نماز کے دوران اسے حیض آجائے تو وہ نماز توڑدے پھر اگر وہ فرض نماز ہے تو حصول طہارت کے بعد اس کی قضا واجب نہ ہوگی اور اگر نفل نماز ہو تو واجب ہوگی۔ بیان کریں اجر پائیں۔ (ت)
الجواب :
دریں رسالہ اگرچہ بس یار جاخطا سرزدہ اماایں مسئلہ درست نوشتہ است فمثلہ فی البحر والدر و غیرھما من الاسفار الغر وجہش انچہ
اس رسالے میں اگرچہ بہت جگہ غلطی واقع ہوئی ہے تاہم یہ مسئلہ صحیح لکھا گیا ہے اسی کی مثل البحرالرائق درمختار اور ان کے علاوہ عمدہ کتب میں منقول ہے
کہ ایں وقت بخیال میرسد آنست کہ نماز اگرچہ نفل باشد بشروع واجب گردد واگرقبل ازاتمام فسادےرونماید قضا لازم آید اما ایں حکم حکم شروع قصدی ست پس اگر کسے مثلا نماز ظہر گزرا دہ فراموش کردوباز عقدش بربست پیش ازفراغ بیادش آمد ہمچناں بشکست قضا بردلازم نیست کہ ایں شروع بربنائے ظن غلط بودہمچناں چوں زن راحیض رسید پیداشد کہ نمازایں وقت برو واجب نبود وظن وجابے کہ بربنایش آغاز کردہ بود غلط برآمد ز یراکہ نزد مااعتبار مراآخر وقت راست کمانصوا علیہ پس قضا لازم نیا یدبخلاف نفل کہ شروع دروے نہ بظن وجوب بودونہ عروض حیض درآخر وقت مانع تنفل در اول ست پس شروع دروے صحیح بودچوں فاسد شدقضا واجب آمد۔ واللہتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ اس کا سبب جو اس وقت خیال میں آرہا ہے یہ ہے کہ نماز اگرچہ نفل ہو شروع کرنے سے واجب ہوجاتی ہے اگر تکمیل سے پہلے کوئی فساد ظاہر ہو تو قضا لازم ہوگی لیکن یہ حکم اس نماز کا ہے جسے قصدا شروع کیا ہو۔ لہذا اگر کوئی شخص نماز ظہر اداکرکے بھول گیا ہو پھر اس کی نیت کرلی لیکن فارغ ہونے سے پہلے یاد آگیا اور اسی حالت میں نماز توڑدی تو اس پر قضا لازم نہیں ہوگی کیونکہ یہ شروع کرنا غلط گمان کی بنیاد پر تھا۔ اسی طرح جب عورت کو حیض آ یا تو اس وقت کی نماز اس پر فرض نہ تھی اس نے فرض خیال کرتے ہوئے شروع کردی تھی تو یہ خیال غلط ثابت ہوا کیونکہ ہمارے نزدیك آخر وقت کا اعتبار ہے جیسے فقہاء کرام نے بیان فرما یا لہذا قضا لازم نہیں ہوگی بخلاف نفل کے کہ وہ نہ تو واجب سمجھ کر شروع کئے اور نہ ہی آخر وقت میں حیض کا شروع نفل پڑھنے سے مانع ہے لہذا نوافل کا شروع کرنا صحیح تھا جب فاسد ہوگئے تو قضا واجب ہوگئی۔ اللہتعالی خوب جانتا ہے اور اس بزرگ وبرتر ذات کا علم سب سے ز یادہ مکمل اور مستحکم ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۴۳ ۴ صفر مظفر ۱۳۱۲ھ
ایك مسماہ کو بوجہ عارضہ چند سال سے حبس طمث تھا بالکل ادرار مسدود تھا اگرچہ مقتضائے عمر نہ تھا پھر جب دوا ہوئی باعانت دوا اجرائے دم ہوا ہے ایسی حالت میں نماز ترك کی جائے یا ادا کی جائے۔ بینوا توجروا
الجواب :
جب تك دم آئے نماز ترك کی جائے ہاں اگر دس۱۰ روز کامل سے آگے بڑھے تو غسل کرکے پڑھنا شروع کریں اور وہ پچھلا طمث جس کے بعد احتباس ہوگیا تھا اگر دس۱۰ دن آ یا تھا تو خیر ورنہ جب یہ دن دس سے بڑھے تو وہ جتنا دس سے کم تھا اتنے دنوں کی نماز قضا کی جائے مثلا وہ چھ۶ روز کا تھا تو چار۴ دن کی نماز قضا کریں اور چار کا تو چھ کی وعلی ھذا القیاس والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۳ ۴ صفر مظفر ۱۳۱۲ھ
ایك مسماہ کو بوجہ عارضہ چند سال سے حبس طمث تھا بالکل ادرار مسدود تھا اگرچہ مقتضائے عمر نہ تھا پھر جب دوا ہوئی باعانت دوا اجرائے دم ہوا ہے ایسی حالت میں نماز ترك کی جائے یا ادا کی جائے۔ بینوا توجروا
الجواب :
جب تك دم آئے نماز ترك کی جائے ہاں اگر دس۱۰ روز کامل سے آگے بڑھے تو غسل کرکے پڑھنا شروع کریں اور وہ پچھلا طمث جس کے بعد احتباس ہوگیا تھا اگر دس۱۰ دن آ یا تھا تو خیر ورنہ جب یہ دن دس سے بڑھے تو وہ جتنا دس سے کم تھا اتنے دنوں کی نماز قضا کی جائے مثلا وہ چھ۶ روز کا تھا تو چار۴ دن کی نماز قضا کریں اور چار کا تو چھ کی وعلی ھذا القیاس والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۴۴ : از جالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی احمد جان صاحب مرسلہ محمد احمد خان صاحب ۲۔ شوال ۱۳۱۴ھ۔
عورت حالت حیض اور نفاس میں مراقبہ جیسا کہ طریقہ نقشبندیہ میں دستور ہے کرسکتی ہے یا نہیں اور اسی حالت میں بیٹھ کر مرشد سے توجہ لے سکتی ہے یا نہیں بحوالہ کتاب مع عبارت ارقام فرمائیں۔
الجواب :
ہاں ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق رضی اللہ تعالی عنہما فرماتی ہیں :
کان رسول الله صلی الله علیہ وسلم یذکر الله علی کل احیانہ رواہ الامام احمد ومسلم وابوداو د والترمذی وابن ماجۃ۔ “
رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہر وقت اللہتعالی کا ذکر فرماتے تھے “ ۔ اس (حدیث) کو امام احمد مسلم ابوداؤد ترمذی اور ابن ماجہ رحمہم اللہ تعالی نے روایت کیا ہے۔ (ت)
رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان المؤمن لاینجس رواہ الستۃ عن ابی ھر یرۃ رضی الله تعالی عنہ۔
“ مومن ناپاك نہیں ہوتا “ اسے چھ ائمہ حدیث (اصحاب صحاح ستہ) نے حضرت ابوہر یرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لاباس لحائض وجنب بقراء ۃ ادعیۃ ومسھا وحملھا والله تعالی اعلم۔
حائضہ اور جنبی کے لئے دعاؤں کے پڑھنے انہیں ہاتھ لگانے اور اٹھانے میں کوئی حرج نہیں۔ واللہتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۴۵ : از علی گڑھ ۵۔ رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
سوال اول : ایك عورت کو آٹھ دن سے کم حیض ہوتا ہے سپیدی آجانے کے بعد بے نہائے اس سے
عورت حالت حیض اور نفاس میں مراقبہ جیسا کہ طریقہ نقشبندیہ میں دستور ہے کرسکتی ہے یا نہیں اور اسی حالت میں بیٹھ کر مرشد سے توجہ لے سکتی ہے یا نہیں بحوالہ کتاب مع عبارت ارقام فرمائیں۔
الجواب :
ہاں ام المومنین صدیقہ بنت الصدیق رضی اللہ تعالی عنہما فرماتی ہیں :
کان رسول الله صلی الله علیہ وسلم یذکر الله علی کل احیانہ رواہ الامام احمد ومسلم وابوداو د والترمذی وابن ماجۃ۔ “
رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہر وقت اللہتعالی کا ذکر فرماتے تھے “ ۔ اس (حدیث) کو امام احمد مسلم ابوداؤد ترمذی اور ابن ماجہ رحمہم اللہ تعالی نے روایت کیا ہے۔ (ت)
رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان المؤمن لاینجس رواہ الستۃ عن ابی ھر یرۃ رضی الله تعالی عنہ۔
“ مومن ناپاك نہیں ہوتا “ اسے چھ ائمہ حدیث (اصحاب صحاح ستہ) نے حضرت ابوہر یرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
لاباس لحائض وجنب بقراء ۃ ادعیۃ ومسھا وحملھا والله تعالی اعلم۔
حائضہ اور جنبی کے لئے دعاؤں کے پڑھنے انہیں ہاتھ لگانے اور اٹھانے میں کوئی حرج نہیں۔ واللہتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۴۵ : از علی گڑھ ۵۔ رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
سوال اول : ایك عورت کو آٹھ دن سے کم حیض ہوتا ہے سپیدی آجانے کے بعد بے نہائے اس سے
حوالہ / References
سنن ابوداؤد باب فی الرجل یذکر اللہ علٰی غیر طہور مطبع مجتبائی پاکستان ۱ / ۴
جامع ترمذی ، باب ماجاء فی مصافحۃ الجنب ، طبع مجتبائی پاکستان ۱ / ۱۷
درمختار ، باب الحیض ، مطبع مجتبائی پاکستان ۱ / ۵۱
جامع ترمذی ، باب ماجاء فی مصافحۃ الجنب ، طبع مجتبائی پاکستان ۱ / ۱۷
درمختار ، باب الحیض ، مطبع مجتبائی پاکستان ۱ / ۵۱
صحبت کرنا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب
جو حیض اپنی پوری مدت یعنی دس دن کامل سے کم میں ختم ہوجائے اس میں دو۲ صورتیں ہیں یاتو عورت کی عادت سے بھی کم میں ختم ہوا یعنی اس سے پہلے مہینے میں جتنے دنوں آ یا تھا اتنے دن بھی ابھی نہ گزرے اور خون بند ہوگیا جب تو اس سے صحبت ابھی جائز نہیں اگرچہ نہالے اور اگر عادت سے کم نہیں مثلا پہلے مہینے سات۷ دن آیا تھا اب بھی سات یا آٹھ روز آکر ختم ہوا یا یہ پہلا ہی حیض ہے جو اس عورت کو آ یا اور دس۱۰ دن سے کم میں ختم ہوا تو اس سے صحبت جائز ہونے کےلئے دو۲ باتوں سے ایك بات ضرور ہے یا۱ تو عورت نہالے اور اگر بوجہ مرض یا پانی نہ ہونے کے تیمم کرنا ہو تو تیمم کرکے نماز بھی پڑھ لے خالی تیمم کافی نہیں یا۲ طہارت نہ کرے تو اتنا ہوکہ اس پر کوئی نمازفرض فرض ہوجائے یعنی نماز پنجگانہ سے کسی نماز کا وقت گزر جائے جس میں کم سے کم اس نے اتنا وقت پا یا ہو جس میں نہاکر سر سے پاؤں تك ایك چادر اوڑھ کر تکبیر تحریمہ کہہ سکتی تھی اس صورت میں بے طہارت کے بھی اس سے صحبت جائز ہوجائے گی ورنہ نہیں مگر یہ کہ عورت کتابیہ یہودیہ یا نصرانیہ ہو تو اس سے مطلقا بے نہائے صحبت جائز ہے جبکہ انقطاع حیض ایام عادت سے کم میں نہ ہوا ہو۔
فی الدر المختار یحل وطؤھا اذا انقطع حیضھا لاکثرہ بلا غسل وجوبا بل ندبا وان انقطع لاقلہ فان لدون عادتھا لم یحل (الوطؤ وان اغتسلت لان العود فی العادۃ غالب بحر) وان لعادتھا فان کتاب یۃ حل فی الحال (لانہ لااغتسال علیھا لعدم المطالب) والالایحل حتی تغتسل اوتتیمم بشرطہ (ھو فقد الماء بہ والصلوۃ بہ علی الصحیح کمایعلم من النھر و غیرہ وبھذا ظھر ان المراد التیمم الکامل المبیح للصلاۃ مع الصلاۃ بہ ایضا) اویمضی علیھا زمن یسع الغسل ولبس الث یاب والتحریمۃ
درمختار میں ہے : اگر عورت کا حیض ز یادہ دنوں کے بعد ختم ہو تو اس کے ساتھ غسل واجب بلکہ مستحب غسل سے بھی پہلے وطی کرنا جائز ہے اور اگر کم از کم مدت میں ختم ہو تو (دیکھیں گے) اگر عادت سے کم میں ختم ہو تو جماع جائز نہیں اگرچہ غسل کرلے کیونکہ عادت کی طرف لوٹنا غالب ہے (بحرالرائق) اگر عادت کے مطابق ختم ہوا تو کتابیہ ہونے کی صورت میں اسی وقت وطی حلال ہوجائےگی کیونکہ اس پر غسل واجب نہیں اس لئے کہ اس سے (غسل کا) مطالبہ کرنے والی چیز (یعنی اسلام) نہیں۔ اگر وہ کتابیہ نہیں تو جب تك غسل یا شرائط تیمم پائے جانے کی صورت میں تیمم نہ کرے اس سے جماع جائز نہیں۔ صحیح قول کے مطابق (اس کےلئے تیمم کی) شرط یہ ہے کہ پانی نہ ہونا اور اس کے ساتھ نماز پڑھنا ہے جیسا کہ
الجواب
جو حیض اپنی پوری مدت یعنی دس دن کامل سے کم میں ختم ہوجائے اس میں دو۲ صورتیں ہیں یاتو عورت کی عادت سے بھی کم میں ختم ہوا یعنی اس سے پہلے مہینے میں جتنے دنوں آ یا تھا اتنے دن بھی ابھی نہ گزرے اور خون بند ہوگیا جب تو اس سے صحبت ابھی جائز نہیں اگرچہ نہالے اور اگر عادت سے کم نہیں مثلا پہلے مہینے سات۷ دن آیا تھا اب بھی سات یا آٹھ روز آکر ختم ہوا یا یہ پہلا ہی حیض ہے جو اس عورت کو آ یا اور دس۱۰ دن سے کم میں ختم ہوا تو اس سے صحبت جائز ہونے کےلئے دو۲ باتوں سے ایك بات ضرور ہے یا۱ تو عورت نہالے اور اگر بوجہ مرض یا پانی نہ ہونے کے تیمم کرنا ہو تو تیمم کرکے نماز بھی پڑھ لے خالی تیمم کافی نہیں یا۲ طہارت نہ کرے تو اتنا ہوکہ اس پر کوئی نمازفرض فرض ہوجائے یعنی نماز پنجگانہ سے کسی نماز کا وقت گزر جائے جس میں کم سے کم اس نے اتنا وقت پا یا ہو جس میں نہاکر سر سے پاؤں تك ایك چادر اوڑھ کر تکبیر تحریمہ کہہ سکتی تھی اس صورت میں بے طہارت کے بھی اس سے صحبت جائز ہوجائے گی ورنہ نہیں مگر یہ کہ عورت کتابیہ یہودیہ یا نصرانیہ ہو تو اس سے مطلقا بے نہائے صحبت جائز ہے جبکہ انقطاع حیض ایام عادت سے کم میں نہ ہوا ہو۔
فی الدر المختار یحل وطؤھا اذا انقطع حیضھا لاکثرہ بلا غسل وجوبا بل ندبا وان انقطع لاقلہ فان لدون عادتھا لم یحل (الوطؤ وان اغتسلت لان العود فی العادۃ غالب بحر) وان لعادتھا فان کتاب یۃ حل فی الحال (لانہ لااغتسال علیھا لعدم المطالب) والالایحل حتی تغتسل اوتتیمم بشرطہ (ھو فقد الماء بہ والصلوۃ بہ علی الصحیح کمایعلم من النھر و غیرہ وبھذا ظھر ان المراد التیمم الکامل المبیح للصلاۃ مع الصلاۃ بہ ایضا) اویمضی علیھا زمن یسع الغسل ولبس الث یاب والتحریمۃ
درمختار میں ہے : اگر عورت کا حیض ز یادہ دنوں کے بعد ختم ہو تو اس کے ساتھ غسل واجب بلکہ مستحب غسل سے بھی پہلے وطی کرنا جائز ہے اور اگر کم از کم مدت میں ختم ہو تو (دیکھیں گے) اگر عادت سے کم میں ختم ہو تو جماع جائز نہیں اگرچہ غسل کرلے کیونکہ عادت کی طرف لوٹنا غالب ہے (بحرالرائق) اگر عادت کے مطابق ختم ہوا تو کتابیہ ہونے کی صورت میں اسی وقت وطی حلال ہوجائےگی کیونکہ اس پر غسل واجب نہیں اس لئے کہ اس سے (غسل کا) مطالبہ کرنے والی چیز (یعنی اسلام) نہیں۔ اگر وہ کتابیہ نہیں تو جب تك غسل یا شرائط تیمم پائے جانے کی صورت میں تیمم نہ کرے اس سے جماع جائز نہیں۔ صحیح قول کے مطابق (اس کےلئے تیمم کی) شرط یہ ہے کہ پانی نہ ہونا اور اس کے ساتھ نماز پڑھنا ہے جیسا کہ
یعنی من آخر الوقت لتعلیلھم بوجوبھا فی ذمتھا حتی لوطھرت فی وقت العید لابد ان یمضی وقت الظھر کمافی السراج اھ مزیدا من ردالمحتار ۔
ورأیتنی کتبت علی قولہ ولیس الثیاب مانصہ ای المبیحۃ للصلاۃ ولورداء واحدا یسترھا من قرنھا الی قدمھا لان المقصود کون الصلاۃ دینا علیھا وذلك یحصل بھذا القدر ولذا استظھر العلامۃ الحلبی فی الغسل ان المراد قدر الفرض وھو ظاھر والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
نہر (نہرالفائق) و غیرہ سے معلوم ہوتا ہے اس سے ظاہر ہوا کہ تیمم کامل مراد ہے جس سے نہ صرف یہ کہ نماز پڑھنا جائز ہوجائے بلکہ اس کے ساتھ نماز بھی پڑھ لے) یا اتنا وقت گزر جائے جس میں غسل کرکے کپڑے پہننے اور تکبیر تحریمہ کی گنجائش ہوکیونکہ انہوں نے اسی بات کو عورت کے ذمہ (نماز) واجب ہونے کی علت قرار د یا ہے حتی کہ اگر عید کے وقت پاك ہوجائے تو اس پر وقت ظہر گزرنا ضروی ہے جیسا کہ سراج میں ہے (انتہی) یہ ردالمحتار سے اضافہ کے ساتھ ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ میں نے اس (درمختار) کے قول “ ولیس الثیاب “ پر لکھا ہے کہ اس سے وہ کپڑے مراد ہیں جن کے ساتھ نماز جائز ہوجاتی ہے اگرچہ ایك چادر ہو جو سر سے قدموں تك اسے ڈھانپ لے کیونکہ مقصد تو نماز کا اس کے ذمہ فرض ہونا ہے اور یہ اس مقدار سے حاصل ہوجاتا ہے اسی لئے علامہ حلبی نے غسل کے بارے میں بتا یا کہ اس سے فرض کا اندازہ مراد ہے اور یہی ظاہر ہے والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
سوال دوم : ایام حیض میں اپنی عورت سے ران یا پیٹ پر یا کسی اور مقام پر فراغت حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
پیٹ پر جائز اور ر ان پر ناجائز۔ کلیہ یہ ہے کہ حالت حیض ونفاس میں ز یر ناف سے زانو تك عورت کے بدن سے بلاکسی ایسے حائل کے جس کے سبب جسم عورت کی گرمی اس کے جسم کو نہ پہنچے تمتع جائز نہیں یہاں تك کہ اتنے ٹکڑے بدن پر شہوت سے نظر بھی جائز نہیں اور اتنے ٹکڑے کا چھونا بلاشہوت بھی جائز نہیں اور اس سے اوپر نیچے کے بدن سے مطلقا ہر قسم کا تمتع جائز یہاں تك کہ سحق ذکر کرکے انزال کرنا۔
ورأیتنی کتبت علی قولہ ولیس الثیاب مانصہ ای المبیحۃ للصلاۃ ولورداء واحدا یسترھا من قرنھا الی قدمھا لان المقصود کون الصلاۃ دینا علیھا وذلك یحصل بھذا القدر ولذا استظھر العلامۃ الحلبی فی الغسل ان المراد قدر الفرض وھو ظاھر والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
نہر (نہرالفائق) و غیرہ سے معلوم ہوتا ہے اس سے ظاہر ہوا کہ تیمم کامل مراد ہے جس سے نہ صرف یہ کہ نماز پڑھنا جائز ہوجائے بلکہ اس کے ساتھ نماز بھی پڑھ لے) یا اتنا وقت گزر جائے جس میں غسل کرکے کپڑے پہننے اور تکبیر تحریمہ کی گنجائش ہوکیونکہ انہوں نے اسی بات کو عورت کے ذمہ (نماز) واجب ہونے کی علت قرار د یا ہے حتی کہ اگر عید کے وقت پاك ہوجائے تو اس پر وقت ظہر گزرنا ضروی ہے جیسا کہ سراج میں ہے (انتہی) یہ ردالمحتار سے اضافہ کے ساتھ ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ میں نے اس (درمختار) کے قول “ ولیس الثیاب “ پر لکھا ہے کہ اس سے وہ کپڑے مراد ہیں جن کے ساتھ نماز جائز ہوجاتی ہے اگرچہ ایك چادر ہو جو سر سے قدموں تك اسے ڈھانپ لے کیونکہ مقصد تو نماز کا اس کے ذمہ فرض ہونا ہے اور یہ اس مقدار سے حاصل ہوجاتا ہے اسی لئے علامہ حلبی نے غسل کے بارے میں بتا یا کہ اس سے فرض کا اندازہ مراد ہے اور یہی ظاہر ہے والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
سوال دوم : ایام حیض میں اپنی عورت سے ران یا پیٹ پر یا کسی اور مقام پر فراغت حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں۔ بینواتوجروا۔
الجواب :
پیٹ پر جائز اور ر ان پر ناجائز۔ کلیہ یہ ہے کہ حالت حیض ونفاس میں ز یر ناف سے زانو تك عورت کے بدن سے بلاکسی ایسے حائل کے جس کے سبب جسم عورت کی گرمی اس کے جسم کو نہ پہنچے تمتع جائز نہیں یہاں تك کہ اتنے ٹکڑے بدن پر شہوت سے نظر بھی جائز نہیں اور اتنے ٹکڑے کا چھونا بلاشہوت بھی جائز نہیں اور اس سے اوپر نیچے کے بدن سے مطلقا ہر قسم کا تمتع جائز یہاں تك کہ سحق ذکر کرکے انزال کرنا۔
حوالہ / References
دُرمختار باب الحیض مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۱
ردالمحتار باب الحیض مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۱۵
جدّ الممتار علی الدر المختار باب الحیض اللمجمع الاسلامی مبارکپور ہندوستان ص۱۶۴
ردالمحتار باب الحیض مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۱۵
جدّ الممتار علی الدر المختار باب الحیض اللمجمع الاسلامی مبارکپور ہندوستان ص۱۶۴
فی الدرالمختار یمنع حل قربان ماتحت ازار یعنی مابین سرۃ ورکبۃ ولوبلاشھوۃ وحل ماعداہ مطلقا اھ
وفی ردالمحتار نقل فی الحقائق عن التحفۃ والخانیۃ یجتنب الرجل من الحائض ماتحت الازار عند الامام وقال محمد الجماع فقط ثم اختلفوا فی تفسیر قول الامام قیل لایباح الاستمتاع من النظر و غیرہ بمادون السرۃ الی الرکبۃ ویباح ماورائہ وقیل یباح مع الازار اھ ولایخفی ان الاول صریح فی عدم حل النظر الی ماتحت الازار والثانی قریب منہ ولیس بعد النقل الاالرجوع الیہ اھ والله تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے : “ ازار کے نیچے یعنی ناف اور گھٹنے کے درمیان کا قرب جائز نہیں اگرچہ بلاشہوت ہو اور اس کے علاوہ مطلقا جائز ہے۔ اھ “ ۔
اور ردالمحتار میں ہے : “ حقائق میں تحفہ اور خانیہ سے نقل کیا گیا کہ “ امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك مرد کو حائضہ عورت کی ازار کے نیچے سے اجتناب کرنا چاہئے “ ۔ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں : “ فقط جماع سے پرہیز کرے “ ۔ پھر امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے قول کی وضاحت میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے۔ کہا گیا ہے کہ ناف سے گھٹنوں تك دیکھنے اور اس کے ساتھ نفع حاصل کرنا بھی جائز نہیں اس کے ماسوا جائز ہے۔ اور ایك قول یہ ہے کہ ازار کے ساتھ جائز ہے (انتہی) مخفی نہ رہے کہ پہلا قول ازار کے نیچے (جسم) کی طرف دیکھنے کی حرمت میں واضح ہے اور دوسرا اس کے قریب ہے اور نقل کے بعد گنجائش نہیں اس کی طرف رجوع ہوتا ہے (انتہی) (یعنی قیاس نہیں کیا جاتا) والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۴۷ : از شہرکہنہ ۱۰ جمادی الاولی ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نفاس کی اکثر مدت چالیس۴۰ روز ہے کمتر کی حد نہیں اگر نفاس کا پانی ہشت روز میں بند ہو اور نماز اور روزہ اور وطی کے بعد پانی پھر آ یا اس میں کیا حکم ہے
الجواب :
پانی کوئی چیز نہیں وہ تو رطوبت ہے نفاس میں خون ہوتا ہے چالیس۴۰ دن کے اندر جب خون عود کرے شروع ولادت سے ختم خون تك سب دن نفاس ہی کے گنے جائیں گے جو دن بیچ میں خالی رہ گئے وہ بھی نفاس ہی میں شمار ہوں گے مثلا ولادت کے بعد دو۲ منٹ تك خون آکر بند ہوگیا عورت بگمان طہارت غسل کرکے نماز
وفی ردالمحتار نقل فی الحقائق عن التحفۃ والخانیۃ یجتنب الرجل من الحائض ماتحت الازار عند الامام وقال محمد الجماع فقط ثم اختلفوا فی تفسیر قول الامام قیل لایباح الاستمتاع من النظر و غیرہ بمادون السرۃ الی الرکبۃ ویباح ماورائہ وقیل یباح مع الازار اھ ولایخفی ان الاول صریح فی عدم حل النظر الی ماتحت الازار والثانی قریب منہ ولیس بعد النقل الاالرجوع الیہ اھ والله تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے : “ ازار کے نیچے یعنی ناف اور گھٹنے کے درمیان کا قرب جائز نہیں اگرچہ بلاشہوت ہو اور اس کے علاوہ مطلقا جائز ہے۔ اھ “ ۔
اور ردالمحتار میں ہے : “ حقائق میں تحفہ اور خانیہ سے نقل کیا گیا کہ “ امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك مرد کو حائضہ عورت کی ازار کے نیچے سے اجتناب کرنا چاہئے “ ۔ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں : “ فقط جماع سے پرہیز کرے “ ۔ پھر امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے قول کی وضاحت میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے۔ کہا گیا ہے کہ ناف سے گھٹنوں تك دیکھنے اور اس کے ساتھ نفع حاصل کرنا بھی جائز نہیں اس کے ماسوا جائز ہے۔ اور ایك قول یہ ہے کہ ازار کے ساتھ جائز ہے (انتہی) مخفی نہ رہے کہ پہلا قول ازار کے نیچے (جسم) کی طرف دیکھنے کی حرمت میں واضح ہے اور دوسرا اس کے قریب ہے اور نقل کے بعد گنجائش نہیں اس کی طرف رجوع ہوتا ہے (انتہی) (یعنی قیاس نہیں کیا جاتا) والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۴۷ : از شہرکہنہ ۱۰ جمادی الاولی ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نفاس کی اکثر مدت چالیس۴۰ روز ہے کمتر کی حد نہیں اگر نفاس کا پانی ہشت روز میں بند ہو اور نماز اور روزہ اور وطی کے بعد پانی پھر آ یا اس میں کیا حکم ہے
الجواب :
پانی کوئی چیز نہیں وہ تو رطوبت ہے نفاس میں خون ہوتا ہے چالیس۴۰ دن کے اندر جب خون عود کرے شروع ولادت سے ختم خون تك سب دن نفاس ہی کے گنے جائیں گے جو دن بیچ میں خالی رہ گئے وہ بھی نفاس ہی میں شمار ہوں گے مثلا ولادت کے بعد دو۲ منٹ تك خون آکر بند ہوگیا عورت بگمان طہارت غسل کرکے نماز
حوالہ / References
درمختار باب الحیض مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۱
ردالمحتار باب الحیض مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۱۴
ردالمحتار باب الحیض مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۱۴
روزہ و غیرہ کرتی رہی چالیس۴۰ دن پورے ہونے میں ابھی دو۲ منٹ باقی تھے پھر خون آگیا تو یہ سارا چلہ نفاس میں ٹھہرے گا نمازیں بیکار گئیں فرض یا واجب روزے یا ان کی قضا نمازیں جتنی پڑھی ہوں انہیں پھر پھیرے۔
فی ردالمحتار ان من اصل الامام ان الدم اذاکان فی الاربعین فالطھر المتخلل لایفصل طال اوقصر حتی لورأت ساعۃ دما واربعین الاساعتین طھرا ثم ساعۃ وماکان الاربعون کلھا نفاسا وعلیہ الفتوی کذا فی الخلاصۃ نھر والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
ردالمحتار میں ہے : “ امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے ہاں ضابطہ یہ ہے کہ جب خون چالیس دنوں میں ہو تو طہر متخلل فاصل نہیں ہوگا وقت ز یادہ ہو یا کم۔ حتی کہ اگر عورت نے ایك ساعت خون دیکھا پھر دو ساعتیں کم چالیس دن پاك رہی پھر ایك ساعت خون دیکھا تو پورے چالیس دن نفاس کے شمار ہوں گے اور اسی پر فتوی ہے۔ خلاصہ میں اسی طرح ہے نہر والله تعالی اعلم وعلمہ مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ ۱۴۸ : ۸ ذی القعدہ ۱۳۲۴ھ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حیض والی عورت کی روٹی پکی ہوئی کھانا جائز ہے یا نہ اور اپنے ساتھ اس کو روٹی کھلانا جائز ہے یا نہ اور اس عرصہ میں اگر مرجائے تو اس کا کیا حکم ہے حیض کے کتنے دن ہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا بھی جائز اسے اپنے ساتھ کھلانا بھی جائز۔ ان باتوں سے احتراز یہود ومجوس کا مسئلہ ہے۔
وقدکان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یدنی راسہ الکریم لام المؤمنین الصدیقۃ رضی الله تعالی عنھا وھی فی بیتھا وھو صلی الله تعالی علیہ وسلم معتکف فی المسجد لتغسلہ فتقول اماحائض فیقول حیضتك لیست فی یدك ۔
سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنا سرمبارك دھلوانے کےلئے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاکے قریب کرتے تھے اس وقت آپ گھر میں ہوتیں اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممسجد میں معتکف ہوتے ام المومنین عرض کرتیں : میں حائضہ ہوں۔ آپ فرماتے : حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔ (ت)
فی ردالمحتار ان من اصل الامام ان الدم اذاکان فی الاربعین فالطھر المتخلل لایفصل طال اوقصر حتی لورأت ساعۃ دما واربعین الاساعتین طھرا ثم ساعۃ وماکان الاربعون کلھا نفاسا وعلیہ الفتوی کذا فی الخلاصۃ نھر والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
ردالمحتار میں ہے : “ امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے ہاں ضابطہ یہ ہے کہ جب خون چالیس دنوں میں ہو تو طہر متخلل فاصل نہیں ہوگا وقت ز یادہ ہو یا کم۔ حتی کہ اگر عورت نے ایك ساعت خون دیکھا پھر دو ساعتیں کم چالیس دن پاك رہی پھر ایك ساعت خون دیکھا تو پورے چالیس دن نفاس کے شمار ہوں گے اور اسی پر فتوی ہے۔ خلاصہ میں اسی طرح ہے نہر والله تعالی اعلم وعلمہ مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ ۱۴۸ : ۸ ذی القعدہ ۱۳۲۴ھ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حیض والی عورت کی روٹی پکی ہوئی کھانا جائز ہے یا نہ اور اپنے ساتھ اس کو روٹی کھلانا جائز ہے یا نہ اور اس عرصہ میں اگر مرجائے تو اس کا کیا حکم ہے حیض کے کتنے دن ہیں بینواتوجروا۔
الجواب :
اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا بھی جائز اسے اپنے ساتھ کھلانا بھی جائز۔ ان باتوں سے احتراز یہود ومجوس کا مسئلہ ہے۔
وقدکان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یدنی راسہ الکریم لام المؤمنین الصدیقۃ رضی الله تعالی عنھا وھی فی بیتھا وھو صلی الله تعالی علیہ وسلم معتکف فی المسجد لتغسلہ فتقول اماحائض فیقول حیضتك لیست فی یدك ۔
سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنا سرمبارك دھلوانے کےلئے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاکے قریب کرتے تھے اس وقت آپ گھر میں ہوتیں اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممسجد میں معتکف ہوتے ام المومنین عرض کرتیں : میں حائضہ ہوں۔ آپ فرماتے : حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب الحیض مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۱۹
جامع ترمذی ، باب ماجاء فی الحائض تتناول الشیئ من المسجد ، مطبع مجتبائی لاہور ۱ / ۱۹
جامع ترمذی ، باب ماجاء فی الحائض تتناول الشیئ من المسجد ، مطبع مجتبائی لاہور ۱ / ۱۹
مرجائے تو اس کے لئے ایك ہی غسل کافی ہے کمانص علیہ علماؤنا وبہ قال جمہور الائمۃ (جیسا کہ ہمارے علماء نے اس کی تصریح فرمائی ہے اور جمہور ائمہ کا بھی یہی قول ہے۔ ت) حیض کم از کم تین رات دن کامل ہے اور ز یادہ سے زیادہ دس رات دن کامل۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ : ۱۴۹ ۹۔ محرم الحرام ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دے اس مسئلہ میں کہ ایك عورت لڑکا جنے اور نفاس سے آٹھ دن میں فارغ ہوگئی اب اس کے واسطے روزے نماز کا کیا حکم ہے اور چوڑی و غیرہ چاندی یا کانچ کی یا وہ چارپائی یا مکان پاك رہا یا ناپاك یا چالیس۴۰ دن کی میعاد لگائی جائے گی۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
یہ جو عوام جاہلوں عورتوں میں مشہور ہے کہ جب تك چلہ نہ ہوجائے زچہ پاك نہیں ہوتی محض غلط ہے خون بند ہونے کے بعد ناحق ناپاك رہ کر نماز روزے چھوڑ کر سخت کبیرہ گناہ میں گرفتار ہوتی ہیں مردوں پر فرض ہے کہ انہیں اس سے باز رکھیں نفاس کی ز یادہ حد کےلئے چالیس۴۰ دن رکھے گئے ہیں نہ یہ کہ چالیس دن سے کم کا ہوتا ہی نہ ہو اس کے کم کےلئے کوئی حد نہیں اگر بچہ جننے کے بعد صرف ایك منٹ خون آ یا اور بند ہوگیا عورت اسی وقت پاك ہوگئی نہائے اور نماز پڑھے اور روزے رکھے۔ اگر چالیس۴۰ دن کے اندر اسے خون عود نہ کرے گا تو نماز روزے سب صحیح رہے گے۔ چوڑ یاں چارپائی مکان سب پاك ہیں فقط وہی چیز ناپاك ہوگی جسے خون لگ جائے گا بغیر اس کے ان چیزوں کو ناپاك سمجھ لینا ہندوؤں کا مسئلہ ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۰ : از فرخ آبادشمس الدین احمد شنبہ ۱۸۔ شوال ۱۳۳۴ھ
کوئی شخص اپنی بی بی سے حیض یا نفاس کی حالت میں صحبت کرے تو اس کا کفارہ کیا ہے
الجواب :
اگر ابتدائے حیض میں ہے تو ایك دینار اور ختم پر ہے تو نصف دینار اور دینار دس درم کا ہوتا ہے اور دس درہم دو روپے تیرہ آنے کچھ کوڑ یاں کم۔ سنن دارمی وابوداؤد وترمذی وابن ماجہ عــہ میں حضرت عبداللہبن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے رسول اللہتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذاوقع الرجل باھلہ وھی حائض فلیتصدق
جب آدمی اپنی عورت سے حالت حیض میں صحبت کرے
عــہ : عزاہ فی المشکوۃ لاربعۃ وانما الذی رأیت للنسائی ما یاتی ۱۲ منہ (م)
مشکوۃ المصابیح میں اسے چاروں سنن کی طرف منسوب کیا ہے اور وہ جو میں نے نسائی کےلئے دیکھی ہے وہ ہے جو اس کے بعد آرہی ہے ۱۲ منہ (ت)
مسئلہ : ۱۴۹ ۹۔ محرم الحرام ۱۳۲۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دے اس مسئلہ میں کہ ایك عورت لڑکا جنے اور نفاس سے آٹھ دن میں فارغ ہوگئی اب اس کے واسطے روزے نماز کا کیا حکم ہے اور چوڑی و غیرہ چاندی یا کانچ کی یا وہ چارپائی یا مکان پاك رہا یا ناپاك یا چالیس۴۰ دن کی میعاد لگائی جائے گی۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
یہ جو عوام جاہلوں عورتوں میں مشہور ہے کہ جب تك چلہ نہ ہوجائے زچہ پاك نہیں ہوتی محض غلط ہے خون بند ہونے کے بعد ناحق ناپاك رہ کر نماز روزے چھوڑ کر سخت کبیرہ گناہ میں گرفتار ہوتی ہیں مردوں پر فرض ہے کہ انہیں اس سے باز رکھیں نفاس کی ز یادہ حد کےلئے چالیس۴۰ دن رکھے گئے ہیں نہ یہ کہ چالیس دن سے کم کا ہوتا ہی نہ ہو اس کے کم کےلئے کوئی حد نہیں اگر بچہ جننے کے بعد صرف ایك منٹ خون آ یا اور بند ہوگیا عورت اسی وقت پاك ہوگئی نہائے اور نماز پڑھے اور روزے رکھے۔ اگر چالیس۴۰ دن کے اندر اسے خون عود نہ کرے گا تو نماز روزے سب صحیح رہے گے۔ چوڑ یاں چارپائی مکان سب پاك ہیں فقط وہی چیز ناپاك ہوگی جسے خون لگ جائے گا بغیر اس کے ان چیزوں کو ناپاك سمجھ لینا ہندوؤں کا مسئلہ ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۰ : از فرخ آبادشمس الدین احمد شنبہ ۱۸۔ شوال ۱۳۳۴ھ
کوئی شخص اپنی بی بی سے حیض یا نفاس کی حالت میں صحبت کرے تو اس کا کفارہ کیا ہے
الجواب :
اگر ابتدائے حیض میں ہے تو ایك دینار اور ختم پر ہے تو نصف دینار اور دینار دس درم کا ہوتا ہے اور دس درہم دو روپے تیرہ آنے کچھ کوڑ یاں کم۔ سنن دارمی وابوداؤد وترمذی وابن ماجہ عــہ میں حضرت عبداللہبن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے ہے رسول اللہتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذاوقع الرجل باھلہ وھی حائض فلیتصدق
جب آدمی اپنی عورت سے حالت حیض میں صحبت کرے
عــہ : عزاہ فی المشکوۃ لاربعۃ وانما الذی رأیت للنسائی ما یاتی ۱۲ منہ (م)
مشکوۃ المصابیح میں اسے چاروں سنن کی طرف منسوب کیا ہے اور وہ جو میں نے نسائی کےلئے دیکھی ہے وہ ہے جو اس کے بعد آرہی ہے ۱۲ منہ (ت)
بنصف دینار
تو چاہیے کہ نصف دینار صدقہ دے۔
سنن نسائی وابن ماجہ میں انہیں سے ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرما یا : یتصدق بدینار اونصف دینار ایك یا نصف دینار تصدق کرے ورواہ الدارمی فجعل التردید من شك الراوی حیث قال یتصدق بدینار ونصف دینار شك الحکم (اسے امام دارمی نے روایت کیا اور تردید کو راوی کا شك قرار د یا کہ اس نے کہا ایك دینار صدقہ کرے یا نصف دینار حکم (راوی کو) شك ہوا۔ ت)
مسند عــہ احمد ودارمی وترمذی میں انہیں سے ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرما یا :
اذاکان دمااحمر فدینار واذاکان دمااصفر فنصف دینار ۔
جب سرخ خون ہو تو ایك دینار اور زرد ہو تو آدھا۔
طبرانی نے معجم کبیر اور حاکم نے بافادہ تصحیح انہیں سے یوں روایت کی رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
من اتی امرأتہ فی حیضھا فلیتصدق بدینار ومن اتاھا وقدادبر الدم عنھا ولم تغتسل فنصف دینار ۔
جس نے اپنی عورت سے حیض میں صحبت کی وہ ایك اشرفی تصدق کرے اور اگر خون بند ہوچکا اور ابھی نہائی نہ تھی تو آدھی۔
مسند میں انہیں سے یوں ہے : تصدق بدینار فان لم تجد دینار فنصف
عــہ وعزاہ ایضا فی الجامع الکبیر لابی داود والنسائی لم ارہ لھما۔
جامع کبیر میں ہے اس کو بھی ابو داؤد اور نسائی کی طرف منسوب کیا ہے میں نے یہ حدیث ان دونوں میں نہیں دیکھی۔
تو چاہیے کہ نصف دینار صدقہ دے۔
سنن نسائی وابن ماجہ میں انہیں سے ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرما یا : یتصدق بدینار اونصف دینار ایك یا نصف دینار تصدق کرے ورواہ الدارمی فجعل التردید من شك الراوی حیث قال یتصدق بدینار ونصف دینار شك الحکم (اسے امام دارمی نے روایت کیا اور تردید کو راوی کا شك قرار د یا کہ اس نے کہا ایك دینار صدقہ کرے یا نصف دینار حکم (راوی کو) شك ہوا۔ ت)
مسند عــہ احمد ودارمی وترمذی میں انہیں سے ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرما یا :
اذاکان دمااحمر فدینار واذاکان دمااصفر فنصف دینار ۔
جب سرخ خون ہو تو ایك دینار اور زرد ہو تو آدھا۔
طبرانی نے معجم کبیر اور حاکم نے بافادہ تصحیح انہیں سے یوں روایت کی رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
من اتی امرأتہ فی حیضھا فلیتصدق بدینار ومن اتاھا وقدادبر الدم عنھا ولم تغتسل فنصف دینار ۔
جس نے اپنی عورت سے حیض میں صحبت کی وہ ایك اشرفی تصدق کرے اور اگر خون بند ہوچکا اور ابھی نہائی نہ تھی تو آدھی۔
مسند میں انہیں سے یوں ہے : تصدق بدینار فان لم تجد دینار فنصف
عــہ وعزاہ ایضا فی الجامع الکبیر لابی داود والنسائی لم ارہ لھما۔
جامع کبیر میں ہے اس کو بھی ابو داؤد اور نسائی کی طرف منسوب کیا ہے میں نے یہ حدیث ان دونوں میں نہیں دیکھی۔
حوالہ / References
جامع الترمذی باب ماجاء فی کراہۃ ات یان الحائض ، مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۹
سنن ابن ماجہ باب کفارۃ من اتی حائضا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۷
سُنن الدارمی باب من قال علیہ الکفارۃ مدینہ منورہ حجاز ۱ / ۲۰۳
جامع الترمذی باب ماجاء فی الکفارۃ فی ذلک ، مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۰
المعجم الکبیر للطبرانی عن عبداللہ بن عباس حدیث نمبر ۱۲۱۳۴ المکتبۃ الفضل یۃ بیروت ۱۱ / ۴۰۲
سنن ابن ماجہ باب کفارۃ من اتی حائضا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۷
سُنن الدارمی باب من قال علیہ الکفارۃ مدینہ منورہ حجاز ۱ / ۲۰۳
جامع الترمذی باب ماجاء فی الکفارۃ فی ذلک ، مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۲۰
المعجم الکبیر للطبرانی عن عبداللہ بن عباس حدیث نمبر ۱۲۱۳۴ المکتبۃ الفضل یۃ بیروت ۱۱ / ۴۰۲
دینار ۔ ایك اشرفی صدقہ کر اور نہ ہوسکے تو آدھی۔ درمختار میں ہے :
یندب تصدقہ بدینار اونصفہ ومصرفہ کزکاۃ وھل علی المرأۃ تصدق قال فی الضیاء الظاھرلا ۔
ایك دینار یا نصف دینار صدقہ دینا مستحب ہے اس کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کا ہے۔ اور کیا عورت کو بھی صدقہ دینا واجب ہے تو ضیاء (الضیاء المعنوی شرح مقدمۃ الغزنوی) میں فرما یا : ظاہر بات یہ ہے کہ اس پر (واجب) نہیں۔ (ت)
فتح القد یر میں ہے :
یتصدق بدینار اوبنصفہ استحبابا وقیل بدینار انکان اول الحیض وبنصفہ ان وطئ فی اخرہ کان قائلہ رأی انہ لامعنی للتخییر بین القلیل والکثیر فی النوع الواحد اھ اقول لاعزا فی التخییر بین الفاضل والافضل فیکون المعنی یتصدق بنصف دینار وھذا ادنی مایندب الیہ کفارۃ لماوقع فان اکمل دینارا فاجود وایضا قدیکون التردید باعتبار المیسر ای بدینار ان تیسر والا فبنصفہ وقدروی فی الحدیث کمامر لکن الاظھر کماقال القاری فی المرقاۃ ان قائلہ اخذ التفصیل من الحدیث الاتی عن ابن عباس اھ
ایك دینار یا نصف دینار صدقہ کرنا مستحب ہے اور کہا گیا کہ اگر حیض کا آغاز تھا تو ایك دینار اور آخری دنوں میں وطی کی تو نصف دینار دے گو یا اس قائل کی رائے میں ایك ہی نوع میں قلیل وکثیر کے درمیان اختیار کا کوئی مطلب نہیں اھ۔
اقول : فاضل اور افضل کے درمیان اخت یار دینا قابل تعجب نہیں لہذا مطلب یہ ہوگا کہ نصف دینار صدقہ کرے اور یہ اس کے جرم کا کم ازکم مستحب کفارہ ہے اگر پورا دینا ر دے تو نہایت عمدہ ہے نیز کبھی اختیار میسر آنے والی چیز کے اعتبار سے بھی ہوتا ہے یعنی اگر میسر ہو تو ایك دینار اور میسر نہ ہو تو نصف دینار دے اور یہ بات حدیث میں مروی ہے جیسا کہ گزرچکا لیکن ز یادہ ظاہر بات وہ ہے جو حضرت ملا علی قاری
یندب تصدقہ بدینار اونصفہ ومصرفہ کزکاۃ وھل علی المرأۃ تصدق قال فی الضیاء الظاھرلا ۔
ایك دینار یا نصف دینار صدقہ دینا مستحب ہے اس کا مصرف وہی ہے جو زکاۃ کا ہے۔ اور کیا عورت کو بھی صدقہ دینا واجب ہے تو ضیاء (الضیاء المعنوی شرح مقدمۃ الغزنوی) میں فرما یا : ظاہر بات یہ ہے کہ اس پر (واجب) نہیں۔ (ت)
فتح القد یر میں ہے :
یتصدق بدینار اوبنصفہ استحبابا وقیل بدینار انکان اول الحیض وبنصفہ ان وطئ فی اخرہ کان قائلہ رأی انہ لامعنی للتخییر بین القلیل والکثیر فی النوع الواحد اھ اقول لاعزا فی التخییر بین الفاضل والافضل فیکون المعنی یتصدق بنصف دینار وھذا ادنی مایندب الیہ کفارۃ لماوقع فان اکمل دینارا فاجود وایضا قدیکون التردید باعتبار المیسر ای بدینار ان تیسر والا فبنصفہ وقدروی فی الحدیث کمامر لکن الاظھر کماقال القاری فی المرقاۃ ان قائلہ اخذ التفصیل من الحدیث الاتی عن ابن عباس اھ
ایك دینار یا نصف دینار صدقہ کرنا مستحب ہے اور کہا گیا کہ اگر حیض کا آغاز تھا تو ایك دینار اور آخری دنوں میں وطی کی تو نصف دینار دے گو یا اس قائل کی رائے میں ایك ہی نوع میں قلیل وکثیر کے درمیان اختیار کا کوئی مطلب نہیں اھ۔
اقول : فاضل اور افضل کے درمیان اخت یار دینا قابل تعجب نہیں لہذا مطلب یہ ہوگا کہ نصف دینار صدقہ کرے اور یہ اس کے جرم کا کم ازکم مستحب کفارہ ہے اگر پورا دینا ر دے تو نہایت عمدہ ہے نیز کبھی اختیار میسر آنے والی چیز کے اعتبار سے بھی ہوتا ہے یعنی اگر میسر ہو تو ایك دینار اور میسر نہ ہو تو نصف دینار دے اور یہ بات حدیث میں مروی ہے جیسا کہ گزرچکا لیکن ز یادہ ظاہر بات وہ ہے جو حضرت ملا علی قاری
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اللہ عنہ مطبوعہ بیروت ۱ / ۳۶۳
درمختار باب الحیض مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۲
فتح القد یر باب الحیض مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۴۷
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الحیض مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۰۰
درمختار باب الحیض مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۲
فتح القد یر باب الحیض مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۴۷
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الحیض مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۰۰
بلون الدم فانہ یکون فی بدنہ احمر فاذا قارب الانقطاع یصفر۔
اقول : وبہ ظھر ضعف ماوقع فی البحر وتبعہ ش من جعل العبارتین قولین اذقال قیل ان کان فی الاول الحیض فدینار اواخرہ فنصفہ وقیل دینار لواسود ونصفہ لواصفر اھ قال فی البحر ویدل لہ مارواہ ابوداود والحاکم وصححہ
فذکر اللفظ الثالث الذی عزوناہ لاحمد والترمذی ولم ارہ لابی داؤد والله تعالی اعلم ھذا وقال القاری قال المنذری قدوقع اضطراب فی ھذا الحدیث متناواسنادا رفعا ووقفا وارسالا واعضالا کذا نقلہ السید جمال الدین عن التخریج
رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے بیان فرمائی کہ اس کے قائل نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی روایت سے جو آگے (مرقات میں) آرہی ہے تفصیل حاصل کی ہے (انتہی) یعنی خون کے رنگ کے اعتبار سے جو تفصیل گزری ہے کیونکہ وہ شروع میں سرخ ہوتا ہے اور ختم ہونے کے قریب زرد ہوجاتا ہے۔
اقول : اسی سے اس بات کی کمزوری ظاہر ہوگئی جو البحرالرائق میں ہے اور امام شامی نے بھی اس کی اتباع کرتے ہوئے دو عبارتوں کو دو قول قرار د یا جب انہوں نے کہا کہ کہا گیا ہے اگر حیض کے شروع میں (جماع کیا) تو ایك دینار اور آخر میں ہو تو نصف دینار ہوگا۔ اور ایك قول یہ ہے کہ اگر سیاہ رنگ ہو تو ایك دینار اور زرد رنگ ہو تو نصف دینار ہوگا ۔ البحرالرائق میں فرما یا اس بات پر امام ابوداؤد اور حاکم کی روایت دلالت کرتی ہے جسے انہوں نے صحیح قرار د یا ہے۔
اور لفظ ثالث (سرخ رنگ) ذکر کیا جسے ہم نے امام احمد اور ترمذی کے حوالے سے نقل کیا ہے لیکن میں نے اسے ابوداؤد میں نہیں دیکھا واللہتعالی اعلم۔ اس (تقر یر) کو اپنائیے حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرما یا : منذری نے کہا ہے کہ اس حدیث میں متن سند رفع وقف
اقول : وبہ ظھر ضعف ماوقع فی البحر وتبعہ ش من جعل العبارتین قولین اذقال قیل ان کان فی الاول الحیض فدینار اواخرہ فنصفہ وقیل دینار لواسود ونصفہ لواصفر اھ قال فی البحر ویدل لہ مارواہ ابوداود والحاکم وصححہ
فذکر اللفظ الثالث الذی عزوناہ لاحمد والترمذی ولم ارہ لابی داؤد والله تعالی اعلم ھذا وقال القاری قال المنذری قدوقع اضطراب فی ھذا الحدیث متناواسنادا رفعا ووقفا وارسالا واعضالا کذا نقلہ السید جمال الدین عن التخریج
رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے بیان فرمائی کہ اس کے قائل نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی روایت سے جو آگے (مرقات میں) آرہی ہے تفصیل حاصل کی ہے (انتہی) یعنی خون کے رنگ کے اعتبار سے جو تفصیل گزری ہے کیونکہ وہ شروع میں سرخ ہوتا ہے اور ختم ہونے کے قریب زرد ہوجاتا ہے۔
اقول : اسی سے اس بات کی کمزوری ظاہر ہوگئی جو البحرالرائق میں ہے اور امام شامی نے بھی اس کی اتباع کرتے ہوئے دو عبارتوں کو دو قول قرار د یا جب انہوں نے کہا کہ کہا گیا ہے اگر حیض کے شروع میں (جماع کیا) تو ایك دینار اور آخر میں ہو تو نصف دینار ہوگا۔ اور ایك قول یہ ہے کہ اگر سیاہ رنگ ہو تو ایك دینار اور زرد رنگ ہو تو نصف دینار ہوگا ۔ البحرالرائق میں فرما یا اس بات پر امام ابوداؤد اور حاکم کی روایت دلالت کرتی ہے جسے انہوں نے صحیح قرار د یا ہے۔
اور لفظ ثالث (سرخ رنگ) ذکر کیا جسے ہم نے امام احمد اور ترمذی کے حوالے سے نقل کیا ہے لیکن میں نے اسے ابوداؤد میں نہیں دیکھا واللہتعالی اعلم۔ اس (تقر یر) کو اپنائیے حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرما یا : منذری نے کہا ہے کہ اس حدیث میں متن سند رفع وقف
حوالہ / References
رد المحتار باب الحیض مصطفی البانی مصر ۱ / ۲۱۸
البحرالرائق باب الحیض مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۷
امام اہلسنت علیہ الرحمۃکا مطلب یہ ہے کہ حیض کی ابتدا میں خون کا رنگ سیاہ ہوتا ہے اور آخر میں زرد ، لہذا آغازِ حیض اور سیاہ رنگ ایك ہی بات ہے جبکہ اختتامِ حیض اور زرد رنگ بھی ایك ہی چیز ہے گو یا ایك ہی قول کو صاحب البحرالرائق اور شامی نے دو قول قرار د یا ۱۲ ہزاروی
البحرالرائق باب الحیض مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۹۷
امام اہلسنت علیہ الرحمۃکا مطلب یہ ہے کہ حیض کی ابتدا میں خون کا رنگ سیاہ ہوتا ہے اور آخر میں زرد ، لہذا آغازِ حیض اور سیاہ رنگ ایك ہی بات ہے جبکہ اختتامِ حیض اور زرد رنگ بھی ایك ہی چیز ہے گو یا ایك ہی قول کو صاحب البحرالرائق اور شامی نے دو قول قرار د یا ۱۲ ہزاروی
فقول ابن حجر وسندہ حسن غیر مستحسن اھ
اقول : لایضر عندنا الارسال ولاالاعضال وقد یاتی الرادی بالسند تاما وقد یحذف فلا اضطراب وکذا الرفع والوقف ثم الوصل والرفع ز یادۃ ثقۃ فتقبل کماحققہ المحقق فی الفتح فی غیرما موضع قال القاری قال میرك ھذا بیان اضطراب الاسناد اما الاضطراب فی متنہ فروی(۱) بدینار اونصف دینار علی الشك وروی(۲) یتصدق بدینار فان لم یجد فبنصف دینار وروی(۳) التفرقۃ بین ان یصیبھا فی اقبال الدم اوفی انقطاع الدم وروی(۴) یتصدق بخمس دینار وروی(۵) بنصف دینار وروی(۶) اذاکان دما احمر فدینار وان کان دما اصفر فنصف دینار اھ
اقول : قدعلمت کل ھذہ الروا یات وتخار یجھا الاروا یۃ الخمس وھو للدارمی ابن راھویہ وحسنہ خاتم الحفاظ عن عبدالحمید بن زید بن الخطاب قال کان لعمر بن الخطاب
ارسال اور اعضال کے اعتبار سے اضطراب ہے سید جمال الدین نے تخریج سے اسی طرح نقل کیا ہے پس ابن حجر (عسقلانی) کا اس کی سند کو حسن قرار دینا غیر مستحسن ہے اھ۔
اقول : ہمارے نزدیك ارسال واعضال سے کوئی فرق نہیں پڑتا راوی کبھی پوری سند لاتا ہے اور کبھی حذف کردیتا ہے لہذا کوئی اضطراب نہیں رفع اور وقف کا بھی یہی حال ہے پھر رفع اور وصل (راوی کے) اضافہ ثقاہت کے لئے ہیں لہذا اسے قبول کیا جائے جسے محقق نے فتح القد یر کے کئی مقامات پر اس کی تحقیق کی ہے۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں میرك نے کہا ہے کہ یہ اضطراب سند کا بیان ہے لیکن متن کا اضطراب یہ ہے کہ ایك روایت میں ایك دینار اور نصف دینار کا بطور شك ذکر کیا گیا۔ دوسری روایت میں ہے کہ ایك دینار صدقہ دے۔ تیسری روایت کے مطابق خون آنے اور نہ آنے کے دونوں میں جماع کرنے کا فرق ہے جبکہ چوتھی روایت میں ہے دینار کا پانچواں حصہ صدقہ کرے۔ پانچویں روایت میں ہے وہ نصف دینار صدقہ کرے۔ اور چھٹی روایت میں ہے اگر خون سرخ ہو تو ایك دینار دے اور زرد ہو تو نصف دینار دے اھ۔ اقول : ان تمام روایات
اقول : لایضر عندنا الارسال ولاالاعضال وقد یاتی الرادی بالسند تاما وقد یحذف فلا اضطراب وکذا الرفع والوقف ثم الوصل والرفع ز یادۃ ثقۃ فتقبل کماحققہ المحقق فی الفتح فی غیرما موضع قال القاری قال میرك ھذا بیان اضطراب الاسناد اما الاضطراب فی متنہ فروی(۱) بدینار اونصف دینار علی الشك وروی(۲) یتصدق بدینار فان لم یجد فبنصف دینار وروی(۳) التفرقۃ بین ان یصیبھا فی اقبال الدم اوفی انقطاع الدم وروی(۴) یتصدق بخمس دینار وروی(۵) بنصف دینار وروی(۶) اذاکان دما احمر فدینار وان کان دما اصفر فنصف دینار اھ
اقول : قدعلمت کل ھذہ الروا یات وتخار یجھا الاروا یۃ الخمس وھو للدارمی ابن راھویہ وحسنہ خاتم الحفاظ عن عبدالحمید بن زید بن الخطاب قال کان لعمر بن الخطاب
ارسال اور اعضال کے اعتبار سے اضطراب ہے سید جمال الدین نے تخریج سے اسی طرح نقل کیا ہے پس ابن حجر (عسقلانی) کا اس کی سند کو حسن قرار دینا غیر مستحسن ہے اھ۔
اقول : ہمارے نزدیك ارسال واعضال سے کوئی فرق نہیں پڑتا راوی کبھی پوری سند لاتا ہے اور کبھی حذف کردیتا ہے لہذا کوئی اضطراب نہیں رفع اور وقف کا بھی یہی حال ہے پھر رفع اور وصل (راوی کے) اضافہ ثقاہت کے لئے ہیں لہذا اسے قبول کیا جائے جسے محقق نے فتح القد یر کے کئی مقامات پر اس کی تحقیق کی ہے۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں میرك نے کہا ہے کہ یہ اضطراب سند کا بیان ہے لیکن متن کا اضطراب یہ ہے کہ ایك روایت میں ایك دینار اور نصف دینار کا بطور شك ذکر کیا گیا۔ دوسری روایت میں ہے کہ ایك دینار صدقہ دے۔ تیسری روایت کے مطابق خون آنے اور نہ آنے کے دونوں میں جماع کرنے کا فرق ہے جبکہ چوتھی روایت میں ہے دینار کا پانچواں حصہ صدقہ کرے۔ پانچویں روایت میں ہے وہ نصف دینار صدقہ کرے۔ اور چھٹی روایت میں ہے اگر خون سرخ ہو تو ایك دینار دے اور زرد ہو تو نصف دینار دے اھ۔ اقول : ان تمام روایات
حوالہ / References
مرقات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الحیض مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۰۱
مرقات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الحیض مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۰۱
تابعی سے اوپر کا راوی ساقط ہو تو یہ ارسال ہے اور حدیث کی سند سے دو یا زاید راویوں کا سقوط اعضال کہلاتا ہے ۱۲ ہزاروی۔
مرقات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الحیض مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۰۱
تابعی سے اوپر کا راوی ساقط ہو تو یہ ارسال ہے اور حدیث کی سند سے دو یا زاید راویوں کا سقوط اعضال کہلاتا ہے ۱۲ ہزاروی۔
امرأۃ تکرہ الجماع فکان اذااراد ان یاتیھا اعتلت علیہ بالحیض فوقع علیھا فاذاھی صادقۃ فاتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فامرہ ان یتصدق بخمس دینار اھ۔
ووقع فی کنز العمال ومنتخبہ فامرہ ان یتصدق بخمسین دینارا ولااراہ الاتصحیفا والله تعالی اعلم وذکر فیہ عاز یا للحارث فی مسندہ ورامز الابن ماجۃ ولم ارہ لم عن عمر رضی الله تعالی عنہ انہ اتی جار یۃ لہ فقالت انی حائض فوقع بھا فوجدھا حائضا فوقع بھا فوجدھا حائضا فاتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فذکر ذلك لہ فقال یغفرالله لك یااباحفص تصدق بنصف دینار اقول : ویبعد تعدد الواقعۃ فیرجع الی الترجیح فان کان ھذا اقوی سند اخرج
کی تخریج معلوم ہوچکی البتہ دینار کے پانچویں حصے والی روایت امام دارمی اور ابن راہویہ نے نقل کی ہے اور خاتم الحفاظ (علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ) نے اسے حسن قرار د یا ہے وہ حضرت عبدالحمید بن زید بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہسے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہکی ایك لونڈی جماع کو ناپسند کرتی تھی آپ جب بھی اس کے پاس جانے کا اردہ فرماتے وہ حیض کا بہانہ پیش کردیتی۔ ایك مرتبہ آپ نے اس سے جماع کیا تو (واقعی) وہ سچی تھی آپ بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے دینار کا پانچواں حصہ صدقہ کرنے کا حکم د یا اھ۔ کنز العمال اور اس کے انتخاب میں ہے کہ آپ نے ان کو پچاس دینار صدقہ کرنے کا حکم د یا۔ میرے خیال کے مطابق ان کو پڑھنے میں غلطی لگی ہے واللہتعالی اعلم۔ اس میں حارث کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہ انہوں نے اپنی مسند میں لکھا اور ابن ماجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ذکر کیا لیکن میں نے اس میں وہ روایت نہیں پائی وہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہاپنی ایك لونڈی کے پاس تشریف لے گئے اس نے کہا میں حائضہ ہوں آپ نے اس سے جماع کیا تو اسے حائضہ پا یا پھر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرما یا : اے ابو حفص! اللہ
ووقع فی کنز العمال ومنتخبہ فامرہ ان یتصدق بخمسین دینارا ولااراہ الاتصحیفا والله تعالی اعلم وذکر فیہ عاز یا للحارث فی مسندہ ورامز الابن ماجۃ ولم ارہ لم عن عمر رضی الله تعالی عنہ انہ اتی جار یۃ لہ فقالت انی حائض فوقع بھا فوجدھا حائضا فوقع بھا فوجدھا حائضا فاتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم فذکر ذلك لہ فقال یغفرالله لك یااباحفص تصدق بنصف دینار اقول : ویبعد تعدد الواقعۃ فیرجع الی الترجیح فان کان ھذا اقوی سند اخرج
کی تخریج معلوم ہوچکی البتہ دینار کے پانچویں حصے والی روایت امام دارمی اور ابن راہویہ نے نقل کی ہے اور خاتم الحفاظ (علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ) نے اسے حسن قرار د یا ہے وہ حضرت عبدالحمید بن زید بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہسے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہکی ایك لونڈی جماع کو ناپسند کرتی تھی آپ جب بھی اس کے پاس جانے کا اردہ فرماتے وہ حیض کا بہانہ پیش کردیتی۔ ایك مرتبہ آپ نے اس سے جماع کیا تو (واقعی) وہ سچی تھی آپ بارگاہ نبوی میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے دینار کا پانچواں حصہ صدقہ کرنے کا حکم د یا اھ۔ کنز العمال اور اس کے انتخاب میں ہے کہ آپ نے ان کو پچاس دینار صدقہ کرنے کا حکم د یا۔ میرے خیال کے مطابق ان کو پڑھنے میں غلطی لگی ہے واللہتعالی اعلم۔ اس میں حارث کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہ انہوں نے اپنی مسند میں لکھا اور ابن ماجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ذکر کیا لیکن میں نے اس میں وہ روایت نہیں پائی وہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہاپنی ایك لونڈی کے پاس تشریف لے گئے اس نے کہا میں حائضہ ہوں آپ نے اس سے جماع کیا تو اسے حائضہ پا یا پھر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرما یا : اے ابو حفص! اللہ
حوالہ / References
مرقات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الحیض مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۰۱
کنز العمال محظورۃ المباشرۃ حدیث ۴۵۸۸۸ مکتبۃ التراث الاسلامی بیروت ۱۶ / ۵۶۵
کنز العمال محظورۃ المباشرۃ حدیث نمبر ۴۵۸۸۹ مکتبۃ التراث الاسلامی بیروت ۱۶ / ۵۶۶
کنز العمال محظورۃ المباشرۃ حدیث ۴۵۸۸۸ مکتبۃ التراث الاسلامی بیروت ۱۶ / ۵۶۵
کنز العمال محظورۃ المباشرۃ حدیث نمبر ۴۵۸۸۹ مکتبۃ التراث الاسلامی بیروت ۱۶ / ۵۶۶
الخمس من الاضطراب ثم اقول : الاصوب ان اوللتنویع کمابینتہ الروایات الثلاث الاخیرۃ لکن العجب انہ جعلھا للشك ثم ادخلہ فی الاضطراب وکیف یسری الاضطراب الی المتن بشك بعض الرواۃ فی بعض الالفاظ ھذا لایقول بہ احد ثم قدبقی علیہ من الروایات خمسا دینار فروی ابوداود مرسلا عن الحکم بترك المقسم وابن عباس وفیہ فامرہ ان یتصدق بخمسی دینار بصیغۃ التثنیۃ فی نسخہ الثلاث فعلی طریقتہ تمت سبعا
اقول : ولیس ھذا اضطرابا قادحا فانہ مالایمکن جمعہ کماافادہ المحققان العسقلانی وابن الھمام والجمع ھھنا میسور فالخمس والخمسان لمن وقع فیہ خطأ کماھی واقعۃ الفاروق رضی الله تعالی عنہ والنصف والنصفان علی من تعمد کمایشیر الیہ لفظ من اتی والتوزیع باعتبار
تعالی تمہاری مغفرت کرے نصف دینار صدقہ کرو۔
اقول : واقعہ کا متعدد ہونا (سمجھ سے) بعید ہے پس ترجیح کی طرف رجوع کیا جائے اگر اس (نصف دینار والی روایت) کی سند قوی ہو تو خمس (پانچویں حصے) والی روایت اضطراب سے نکل جائے گی ثم اقول : لفظ “ او “ تقسیم نوع کیلئے ہے جیسے آخری تین روایات سے واضح ہے لیکن تعجب کی بات ہے کہ انہوں نے اسے شك کے لئے قرار دے کر اضطراب میں داخل کیا (لیکن) بعض راویوں کے بعض الفاظ میں شك سے متن میں اضطراب کیسے ہوگا اس بات کا کوئی بھی قائل نہیں۔ اس کے بعد روایات میں سے دینار کے دو خمس والی روایت باقی رہ گئی امام ابوداؤد نے حکم سے مرسلا روایت کرتے ہوئے مقسم اور حضرت ابن عباس رضی اللہعنہما کا ذکر چھوڑ دیا ۔ اس روایت میں ہے “ پس آپ نے دو۲ خمس دینار صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ان (امام ابوداؤد) کے تین نسخوں میں تثنیہ کے صیغے سے مروی ہے پس ان کے طریقے پر سات۷ روایات پوری ہوگئیں۔
اقول : یہ اضطراب نقصان دہ نہیں کیونکہ نقصان اس صورت میں ہوتا ہے جب روایات کے درمیان موافقت ممکن نہ ہو جیسے دو محققین علامہ عسقلانی اور ابن ہمام رحمہم اللہ تعالی نے بتایا لیکن یہاں روایات کے درمیان مطابقت ممکن ہے لہذا
اقول : ولیس ھذا اضطرابا قادحا فانہ مالایمکن جمعہ کماافادہ المحققان العسقلانی وابن الھمام والجمع ھھنا میسور فالخمس والخمسان لمن وقع فیہ خطأ کماھی واقعۃ الفاروق رضی الله تعالی عنہ والنصف والنصفان علی من تعمد کمایشیر الیہ لفظ من اتی والتوزیع باعتبار
تعالی تمہاری مغفرت کرے نصف دینار صدقہ کرو۔
اقول : واقعہ کا متعدد ہونا (سمجھ سے) بعید ہے پس ترجیح کی طرف رجوع کیا جائے اگر اس (نصف دینار والی روایت) کی سند قوی ہو تو خمس (پانچویں حصے) والی روایت اضطراب سے نکل جائے گی ثم اقول : لفظ “ او “ تقسیم نوع کیلئے ہے جیسے آخری تین روایات سے واضح ہے لیکن تعجب کی بات ہے کہ انہوں نے اسے شك کے لئے قرار دے کر اضطراب میں داخل کیا (لیکن) بعض راویوں کے بعض الفاظ میں شك سے متن میں اضطراب کیسے ہوگا اس بات کا کوئی بھی قائل نہیں۔ اس کے بعد روایات میں سے دینار کے دو خمس والی روایت باقی رہ گئی امام ابوداؤد نے حکم سے مرسلا روایت کرتے ہوئے مقسم اور حضرت ابن عباس رضی اللہعنہما کا ذکر چھوڑ دیا ۔ اس روایت میں ہے “ پس آپ نے دو۲ خمس دینار صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ان (امام ابوداؤد) کے تین نسخوں میں تثنیہ کے صیغے سے مروی ہے پس ان کے طریقے پر سات۷ روایات پوری ہوگئیں۔
اقول : یہ اضطراب نقصان دہ نہیں کیونکہ نقصان اس صورت میں ہوتا ہے جب روایات کے درمیان موافقت ممکن نہ ہو جیسے دو محققین علامہ عسقلانی اور ابن ہمام رحمہم اللہ تعالی نے بتایا لیکن یہاں روایات کے درمیان مطابقت ممکن ہے لہذا
حوالہ / References
سُنن ابی داؤد باب فی اتیان الحائض مطبوعہ مجتبائی لاہور پاکستان ۱ / ۳۵
سُنن ابی داؤد میں یہ روایت امام ابوداؤد ، امام اوزاعی سے مرسلًا روایت کرتے ہیں حَکم سے نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ہزاروی
سنن ابی داؤد کے تین نسخے ہیں : (۱) نسخہ لؤلوی (۲) نسخہ ابن داسہ (۳) نسخہ ابن الاعرابی ۱۲ ہزاروی
سُنن ابی داؤد میں یہ روایت امام ابوداؤد ، امام اوزاعی سے مرسلًا روایت کرتے ہیں حَکم سے نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ہزاروی
سنن ابی داؤد کے تین نسخے ہیں : (۱) نسخہ لؤلوی (۲) نسخہ ابن داسہ (۳) نسخہ ابن الاعرابی ۱۲ ہزاروی
اخر الدم واولہ کمافی الروایۃ الثالثۃ والرابعۃ وفی اولہ ایضا باعتبار الواجد والفاقد کمافی الروایۃ الخامسۃ وھذا جمع جلی واضح ولله الحمد والتخفیف عن المخطئ ظاھر وعن اتی فی اخر الدم فزعم العلامۃ فرشتۃ ان الصفرۃ مترددۃ بین الحمرۃ والبیاض فبالنظر الی الثانی لایجب شیئ وبالنظر الی الاول یجب الکل فینصف اھ
اقول : وفیہ مالایخفی فان الصفرۃ حیض قطعا لاتردد فیہ ثم التعبیر بالوجوب خلاف المذھب واستظھر القاری انہ تعبد محض لامدخل للعقل فیہ قال والاقرب ماقیل فیہ ان الحکمۃ فی اختلاف الکفارۃ بالاقبال والادبار انہ فی اولہ قریب عھد بالجماع فلم یعذر فیہ بخلافہ فی اخرہ فخفف فیہ اھ۔
اقول : اذاکان ھذا اقرب فکیف یکون کونہ تعبدیا اظھر ولاشك انہ نزع ظاھر ولایصار الی التعبد مالم ینسد باب العقل۔ والله تعالی اعلم۔ خمس (۵ / ۱) اور دو خمس (۵ / ۲) کا حکم اس شخص کیلئے ہوگا جس نے غلطی سے جماع کیا جیسے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ ہے نصف اور پورا دینار اس شخص پر ہوگا جس نے جان بوجھ کر ایسا کیا جیسے لفظ “ من اتی “ (جو شخص عورت کے پاس جائے) سے اشارہ ہوتا ہے اور تقسیم خون کے آغاز واختتام کے اعتبار سے بھی ہے جیسا کہ تیسری اور چوتھی روایت میں ہے اور شروع میں دینار پانے والے اور نہ پانے والے کے اعتبار سے ہے جیسا کہ پانچویں روایت میں ہے یہ جمع نہایت روشن اور واضح ہے اور اللہتعالی ہی کیلئے حمد وستائش ہے مخطی سے تخفیفہ کا ہونا تو ظاہر اور جو مرد حیض کے آخری ایام میں جماع کرے تو اس کے بارے میں علامہ فرشتہ کا خیال ہے کہ زرد رنگ سرخی اور سفیدی کے درمیان میں ہے لہذا دوسرے (سفید رنگ) کا اعتبار کرتے ہوئے کچھ بھی واجب نہیں ہوتا اور پہلے (سرخ رنگ) کے اعتبار سے پورا دینار واجب ہوتا ہے لہذا (زرد رنگ میں) نصف کردیا جائے گا اھ۔
اقول : اس قول کی خرابی واضح ہے کیونکہ زرد رنگ قطعا حیض ہے جس میں کوئی شك نہیں پھر وجوب سے تعبیر کرنا خلاف مذہب ہے۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے واضح طورپر فرمایا کہ یہ محض ایك تعبدی حکم ہے عقل کا اس میں کوئی دخل نہیں انہوں نے فرمایا اس سلسلے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں اقرب بات یہ ہے کہ حیض کے آغاز واختتام میں کفارہ کے اختلاف میں یہ حکمت ہے کہ
اقول : وفیہ مالایخفی فان الصفرۃ حیض قطعا لاتردد فیہ ثم التعبیر بالوجوب خلاف المذھب واستظھر القاری انہ تعبد محض لامدخل للعقل فیہ قال والاقرب ماقیل فیہ ان الحکمۃ فی اختلاف الکفارۃ بالاقبال والادبار انہ فی اولہ قریب عھد بالجماع فلم یعذر فیہ بخلافہ فی اخرہ فخفف فیہ اھ۔
اقول : اذاکان ھذا اقرب فکیف یکون کونہ تعبدیا اظھر ولاشك انہ نزع ظاھر ولایصار الی التعبد مالم ینسد باب العقل۔ والله تعالی اعلم۔ خمس (۵ / ۱) اور دو خمس (۵ / ۲) کا حکم اس شخص کیلئے ہوگا جس نے غلطی سے جماع کیا جیسے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ ہے نصف اور پورا دینار اس شخص پر ہوگا جس نے جان بوجھ کر ایسا کیا جیسے لفظ “ من اتی “ (جو شخص عورت کے پاس جائے) سے اشارہ ہوتا ہے اور تقسیم خون کے آغاز واختتام کے اعتبار سے بھی ہے جیسا کہ تیسری اور چوتھی روایت میں ہے اور شروع میں دینار پانے والے اور نہ پانے والے کے اعتبار سے ہے جیسا کہ پانچویں روایت میں ہے یہ جمع نہایت روشن اور واضح ہے اور اللہتعالی ہی کیلئے حمد وستائش ہے مخطی سے تخفیفہ کا ہونا تو ظاہر اور جو مرد حیض کے آخری ایام میں جماع کرے تو اس کے بارے میں علامہ فرشتہ کا خیال ہے کہ زرد رنگ سرخی اور سفیدی کے درمیان میں ہے لہذا دوسرے (سفید رنگ) کا اعتبار کرتے ہوئے کچھ بھی واجب نہیں ہوتا اور پہلے (سرخ رنگ) کے اعتبار سے پورا دینار واجب ہوتا ہے لہذا (زرد رنگ میں) نصف کردیا جائے گا اھ۔
اقول : اس قول کی خرابی واضح ہے کیونکہ زرد رنگ قطعا حیض ہے جس میں کوئی شك نہیں پھر وجوب سے تعبیر کرنا خلاف مذہب ہے۔ ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے واضح طورپر فرمایا کہ یہ محض ایك تعبدی حکم ہے عقل کا اس میں کوئی دخل نہیں انہوں نے فرمایا اس سلسلے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں اقرب بات یہ ہے کہ حیض کے آغاز واختتام میں کفارہ کے اختلاف میں یہ حکمت ہے کہ
حوالہ / References
مرقات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الحیض مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۰۱
مرقات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الحیض مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۰۱
مرقات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الحیض مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۰۱
شروع میں وہ زمانہ جماع سے قریب ہوتا ہے لہذا اس ضمن میں معذور نہیں سمجھا جائے گا بخلاف اختتام حیض کے لہذا اس وقت کفارہ میں تخفیف ہوگی اھ۔
اقول : جب یہ بات اقرب ہے تو اس (مقدار) کا تعبدی ہونا کیسے اظہر ہوگا اس میں شك نہیں کہ یہ محض ظاہری نزاع ہے اور وہ اس وقت تك عبادت نہیں بن سکتا جب تك عقل کا دروازہ بند نہ کیا جائے۔ (ت) والله تعالی اعلم
بالجملہ حاصل جمع احادیث یہ ٹھہرا کہ جس سے نادانستہ ایسا واقع ہوا اگر آخر حیض میں تھا (اور اسی میں حکما وہ صورت داخل کہ خون دس۱۰ دن سے کم میں منقطع ہوا اور عورت نے ابھی غسل نہ کیا نہ کوئی نماز اس پر دین ہوئی) وہ ایك خمس دینار کفارہ دے اور اگر شباب حیض میں تھا تو دو خمس اور جس نے دانستہ ایسا کیا اگر آخر حیض میں تھا نصف دینار دے اور اول میں تو ایك دینار ہاں ایك کی طاقت نہ ہو تو نصف ہی دے۔ یہ سب حکم استحبابی ہے واجب نہیں مگر استغفار۔
اقول : دینار شرعی دس۱۰ درم ہے تو خمس دینار کی جگہ دو۲ درم دو۲ خمس پر چار نصف پر پانچ کل پر دس۱۰ ہوئے اور درم شرعی اس انگریزی روپے سے ۲۵ / ۷ ہے تو ایك درم یہاں کے چار آنے ۵ ۲۵ / ۱۹ پائی ہوا اور دس۱۰ درم دو۲ روپے پونے تیرہ آنے ۵ / ۳ پائی مگر عجب نہیں کہ یہاں سونا دینا ہی انسب ہوکہ ہر جگہ دینارہی کے حصے فرمائے گئے۔ دینار ساڑے چار ماشے ہے اور اس کا خمس سات رتی اور رتی کا پانچواں حصہ واللہتعالی اعلم۔ یہ سب دربارہ حیض تھا اور اس پر نفاس واضح القیاس مرقاۃ میں زیر روایت ثالث اذاکان دما احمر (جب حیض کا خون سرخ ہو۔ ت) ہے ای الحیض وقیس بہ النفاس اھ (یعنی حیض کا خون سرخ ہو اور اسی پر نفاس کو قیاس کیا جائے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۱ : ازقصبہ میراں پور کٹرہ ضلع شاہجہان پور مرسلہ محمد صدیق بیگ ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد کب تك عورت ناپاك رہتی ہے کتنے یوم کے بعد غسل کرکے نماز پڑھے
الجواب :
بچہ پیدا ہونے کے بعد جب تك خون آئے ناپاك رہے گی جس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس روز کامل ہے اور کم کی کوئی حد نہیں اگر پاؤمنٹ آکر بند ہوگیا اور چالیس۴۰ روز تك پھر نہ آیا تو اسی پاؤمنٹ
اقول : جب یہ بات اقرب ہے تو اس (مقدار) کا تعبدی ہونا کیسے اظہر ہوگا اس میں شك نہیں کہ یہ محض ظاہری نزاع ہے اور وہ اس وقت تك عبادت نہیں بن سکتا جب تك عقل کا دروازہ بند نہ کیا جائے۔ (ت) والله تعالی اعلم
بالجملہ حاصل جمع احادیث یہ ٹھہرا کہ جس سے نادانستہ ایسا واقع ہوا اگر آخر حیض میں تھا (اور اسی میں حکما وہ صورت داخل کہ خون دس۱۰ دن سے کم میں منقطع ہوا اور عورت نے ابھی غسل نہ کیا نہ کوئی نماز اس پر دین ہوئی) وہ ایك خمس دینار کفارہ دے اور اگر شباب حیض میں تھا تو دو خمس اور جس نے دانستہ ایسا کیا اگر آخر حیض میں تھا نصف دینار دے اور اول میں تو ایك دینار ہاں ایك کی طاقت نہ ہو تو نصف ہی دے۔ یہ سب حکم استحبابی ہے واجب نہیں مگر استغفار۔
اقول : دینار شرعی دس۱۰ درم ہے تو خمس دینار کی جگہ دو۲ درم دو۲ خمس پر چار نصف پر پانچ کل پر دس۱۰ ہوئے اور درم شرعی اس انگریزی روپے سے ۲۵ / ۷ ہے تو ایك درم یہاں کے چار آنے ۵ ۲۵ / ۱۹ پائی ہوا اور دس۱۰ درم دو۲ روپے پونے تیرہ آنے ۵ / ۳ پائی مگر عجب نہیں کہ یہاں سونا دینا ہی انسب ہوکہ ہر جگہ دینارہی کے حصے فرمائے گئے۔ دینار ساڑے چار ماشے ہے اور اس کا خمس سات رتی اور رتی کا پانچواں حصہ واللہتعالی اعلم۔ یہ سب دربارہ حیض تھا اور اس پر نفاس واضح القیاس مرقاۃ میں زیر روایت ثالث اذاکان دما احمر (جب حیض کا خون سرخ ہو۔ ت) ہے ای الحیض وقیس بہ النفاس اھ (یعنی حیض کا خون سرخ ہو اور اسی پر نفاس کو قیاس کیا جائے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۱ : ازقصبہ میراں پور کٹرہ ضلع شاہجہان پور مرسلہ محمد صدیق بیگ ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد کب تك عورت ناپاك رہتی ہے کتنے یوم کے بعد غسل کرکے نماز پڑھے
الجواب :
بچہ پیدا ہونے کے بعد جب تك خون آئے ناپاك رہے گی جس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس روز کامل ہے اور کم کی کوئی حد نہیں اگر پاؤمنٹ آکر بند ہوگیا اور چالیس۴۰ روز تك پھر نہ آیا تو اسی پاؤمنٹ
حوالہ / References
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب الحیض مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۱۰۱
کے بعد پاك ہوگئی نہاکر نماز پڑھے اور اگر چالیس روز کامل تك آیا ےیا اس سے کم تو جس وقت بند ہوا اس وقت پاك ہوئی۔ بیس۲۰ تیس۳۰ چالیس۴۰ جتنے دن ہوں اور اگر چالیس دن سے زیادہ آیا تو اس سے پہلے ولادت میں جتنے دن آیا تھا اتنا نفاس ہے اس کے بعد پاك ہوگئی باقی استحاضہ ہے اس کی نمازیں کہ قضا ہوئی ہوں ادا کرے۔ اور اگر پہلی دلادت ہے تو چالیس۴۰ دن کامل تك نفاس تھا باقی جو آگے بڑھا استحاضہ ہے اس میں نہاکر نمازیں پڑھے روزے رکھے خون اگر پورے چالیس دن پر بند ہو تو نہالے اور نماز پڑھے اور اس سے کم پر بند ہوتو اس سے پہلی ولالت پر جتنے دن آیا تھا اتنے دن پورے کرکے بند ہوا تو ابھی نہاکر نماز پڑھ سکتی ہے مگر بہتر یہ کہ نماز کے اخیر وقت مستحب تك انتظار کرے اور اگر عادت سابقہ سے کم پر بند ہوگیا تو واجب ہے اخیر وقت مستحب تك انتظار کرکے نہائے اور نماز پڑھے پھر اگر چالیس دن کے اندر آگیا تو پھر چھوڑدے پھر بند ہوجائے تو اسی طرح کرے یہاں تك کہ چالیس دن پورے ہوں وھو تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۲ : ازجنوبی افریقہ مقام بھوٹا بھوٹی برٹش باسوٹولینڈ مسئولہ حاجی اسمعیل میاں بن حاجی امیر میاں کاٹھیاواڑی۔
زید اگر ایام حیض میں عورت کی ران یا شکم پر آلہ کو مس کرکے انزال کرے تو جائز ہے یا نہیں اور زید کو شہوت کا زور ہے اور ڈر یہ کہ کہیں زنا میں نہ پھنس جاؤں۔
الجواب :
پیٹ پر جائز ہے ران پر ناجائز کہ حالت حیض ونفاس میں ناف کے نیچے سے زانو تك اپنی عورت کے بدن سے تمتع نہیں کرسکتا کمافی المتون وغیرھا (جیسا کہ (کتب) متون وغیرہ میں ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
سوال۱۵۳ دوم : نکاح پڑھتے وقت عورت کو پانچ کلمے پڑھاتے ہیں اب وہ عورت حیض کی حالت میں ہے تو وہ پانچ کلمے اپنی زبان سے پڑھے تو جائز ہے یا نہیں
الجواب :
حالت حیض میں صرف قرآن عظیم کی تلاوت ممنوع ہے کلمے پانچوں پڑھ سکتی ہے کہ اگرچہ ان میں بعض کلمات قرآن ہیں مگر ذکر وثنا ہیں اور کلمہ پڑھنے میں نیت ذکر ہی ہے نہ نیت تلاوت تو جواز یقینی ہے۔ کماصرحوا بہ قاطبۃ (جیسا کہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
سوال۱۵۴سوم : عمرو پر غسل جنابت یا احتلام کا ہے اور زید سامنے ملا اور سلام کہا تو اس کو جواب دے یا نہیں اور اگر اپنے دل میں کوئی کلام الہی یا درود شریف پڑھے تو جائز ہے یا نہیں
مسئلہ ۱۵۲ : ازجنوبی افریقہ مقام بھوٹا بھوٹی برٹش باسوٹولینڈ مسئولہ حاجی اسمعیل میاں بن حاجی امیر میاں کاٹھیاواڑی۔
زید اگر ایام حیض میں عورت کی ران یا شکم پر آلہ کو مس کرکے انزال کرے تو جائز ہے یا نہیں اور زید کو شہوت کا زور ہے اور ڈر یہ کہ کہیں زنا میں نہ پھنس جاؤں۔
الجواب :
پیٹ پر جائز ہے ران پر ناجائز کہ حالت حیض ونفاس میں ناف کے نیچے سے زانو تك اپنی عورت کے بدن سے تمتع نہیں کرسکتا کمافی المتون وغیرھا (جیسا کہ (کتب) متون وغیرہ میں ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
سوال۱۵۳ دوم : نکاح پڑھتے وقت عورت کو پانچ کلمے پڑھاتے ہیں اب وہ عورت حیض کی حالت میں ہے تو وہ پانچ کلمے اپنی زبان سے پڑھے تو جائز ہے یا نہیں
الجواب :
حالت حیض میں صرف قرآن عظیم کی تلاوت ممنوع ہے کلمے پانچوں پڑھ سکتی ہے کہ اگرچہ ان میں بعض کلمات قرآن ہیں مگر ذکر وثنا ہیں اور کلمہ پڑھنے میں نیت ذکر ہی ہے نہ نیت تلاوت تو جواز یقینی ہے۔ کماصرحوا بہ قاطبۃ (جیسا کہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
سوال۱۵۴سوم : عمرو پر غسل جنابت یا احتلام کا ہے اور زید سامنے ملا اور سلام کہا تو اس کو جواب دے یا نہیں اور اگر اپنے دل میں کوئی کلام الہی یا درود شریف پڑھے تو جائز ہے یا نہیں
الجواب :
دل میں بایں معنی کہ نرے تصور میں بے حرکت زبان تو یوں قرآن مجید بھی پڑھ سکتا ہے اور زبان سے قرآن مجید بحالت جنابت جائز نہیں اگرچہ آہستہ ہو اور درود شریف پڑھ سکتا ہے مگر کلی کے بعد چاہے اور جواب سلام دے سکتا ہے اور بہتر یہ کہ بعد تمیم ہو کما فعلہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم (جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کیا۔ ت)تنویر میں ہے :
لایکرہ النظر الیہ (ای القران) لجنب وحائض ونفساء کادعیۃ ۔
جنبی حائضہ اور نفاس والی عورت کے لئے دعاؤں کی طرح قرآن پاك کی طرف دیکھنا بھی مکروہ نہیں۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
نص فی الھدایۃ علی استحباب الوضوء لذکر الله تعالی ۔
ہدایہ میں اللہتعالی کے ذکر کیلئے وضو کے مستحب ہونے پر تصریح کی ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
ترك المستحب لایوجب الکراھۃ ۔ والله تعالی اعلم۔
مستحب کو چھوڑنے سے کراہت ثابت نہیں ہوتی۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۵۵ : از پچم گاؤں ضلع پترہ ملك بنگال مرسلہ سید عبدالاغفر ۱۰۔ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی اردو کتاب یا اخبار میں چند آیات قرآن بھی شامل ہوں تو اس کو بلاوضو چھونا یا پڑھنا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
کتاب یا اخبار جس جگہ آیت لکھی ہے خاص اس جگہ کو بلاوضو ہاتھ لگانا جائز نہیں اسی طرف ہاتھ لگایا جائے جس طرف آیت لکھی ہے خواہ اس کی پشت پر دونوں ناجائز ہیں باقی ورق کے چھونے میں حرج نہیں پڑھنا بے وضو جائز ہے۔ نہانے کی حاجت ہو تو حرام ہے والله تعالی اعلم۔
دل میں بایں معنی کہ نرے تصور میں بے حرکت زبان تو یوں قرآن مجید بھی پڑھ سکتا ہے اور زبان سے قرآن مجید بحالت جنابت جائز نہیں اگرچہ آہستہ ہو اور درود شریف پڑھ سکتا ہے مگر کلی کے بعد چاہے اور جواب سلام دے سکتا ہے اور بہتر یہ کہ بعد تمیم ہو کما فعلہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم (جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کیا۔ ت)تنویر میں ہے :
لایکرہ النظر الیہ (ای القران) لجنب وحائض ونفساء کادعیۃ ۔
جنبی حائضہ اور نفاس والی عورت کے لئے دعاؤں کی طرح قرآن پاك کی طرف دیکھنا بھی مکروہ نہیں۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
نص فی الھدایۃ علی استحباب الوضوء لذکر الله تعالی ۔
ہدایہ میں اللہتعالی کے ذکر کیلئے وضو کے مستحب ہونے پر تصریح کی ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
ترك المستحب لایوجب الکراھۃ ۔ والله تعالی اعلم۔
مستحب کو چھوڑنے سے کراہت ثابت نہیں ہوتی۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۵۵ : از پچم گاؤں ضلع پترہ ملك بنگال مرسلہ سید عبدالاغفر ۱۰۔ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی اردو کتاب یا اخبار میں چند آیات قرآن بھی شامل ہوں تو اس کو بلاوضو چھونا یا پڑھنا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
کتاب یا اخبار جس جگہ آیت لکھی ہے خاص اس جگہ کو بلاوضو ہاتھ لگانا جائز نہیں اسی طرف ہاتھ لگایا جائے جس طرف آیت لکھی ہے خواہ اس کی پشت پر دونوں ناجائز ہیں باقی ورق کے چھونے میں حرج نہیں پڑھنا بے وضو جائز ہے۔ نہانے کی حاجت ہو تو حرام ہے والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References
دُرمختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۳
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۲۸
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۲۸
ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۲۸
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۲۸
فصل فی المعذور
مسئلہ ۱۵۶ : از لکھنؤ محلہ محمودنگر مطبع مصطفائی مرسلہ مولوی ضیاء الدین صاحب ۷ جمادی الاولی ۱۳۱۳ھ
ما تقولون ایھا السادۃ العلماء فی من لایستطیع ان یصلی صلاۃ واحدۃ الابوضع القطن فی الاحلیل لمابہ من سلس البول وجریانہ فی کل وقت بحیث یبتل رأس احلیلہ وینجس ازارہ ھل ھو معذور عند الشرع ویجری علیہ احکام المعذورین من الوضوء فی کل وقت واداء الصلوۃ بذلك الثوب وعدم صلوحہ لامامۃ الناس وغیرھا من الاحکام ام لاوکیف یصلی فی الاسفار سیما اذاکان علی الوابور البری ای المرکب الدخانی الذی یجری فی کثیر من بلادنا فان فی وضع القطن ھناك فی الاحلیل تعذرا ای تعذر بینوا ھذا وفصلوا بمالامزید علیہ من الکتاب والسنۃ واقاویل السلف واستحقوا الثواب الجزیل من الله سبحنہ وتعالی فی غدان شاء الله تعالی۔
اے رہبری کرنے والے علماء کرام! آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو آلہ تناسل کے سوراخ میں روئی رکھے بغیر ایك نماز بھی نہیں پڑھ سکتا کیونکہ وہ سلسل البول کا مریض ہے اور اس کا پیشاب ہر وقت اس طرح جاری رہتا ہے کہ عضو مخصوص کے سوراخ کا سر تر رہتا ہے اور اس کی ازار ناپاك رہتی ہے کیا وہ شرعی طور پر معذور ہے اور اس پر معذور کے احکام جاری ہوں گے کہ وہ ہر وقت کیلئے وضو کرے اور وہ اس ناپاك کپڑے کے ساتھ نماز پڑھ سکے نیز وہ لوگوں کی امامت کرانے اور اس طرح کے دیگر کی صلاحیت نہ رکھتا ہو یا وہ معذور نہیں ہے۔ وہ سفر میں نماز کیسے پڑھے خصوصا جب بھاپ سے چلنے والی گاڑی پر ہو جو ہمارے اکثر شہروں چلتی ہیں کیونکہ وہاں سوراخ ذکر میں روئی رکھنے میں کوئی نہ کوئی مشکل درپیش ہوتی ہے قرآن وسنت اور اقوال سلف سے اس طرح تفصیل سے بیان فرمائیں کہ مزید گنجائش نہ رہے اور کل (بروز قیامت) اللہسبحانہ وتعالی کی طرف سے عظیم ثواب کے مستحق ہوں ان شاء الله تعالی۔ (ت)
مسئلہ ۱۵۶ : از لکھنؤ محلہ محمودنگر مطبع مصطفائی مرسلہ مولوی ضیاء الدین صاحب ۷ جمادی الاولی ۱۳۱۳ھ
ما تقولون ایھا السادۃ العلماء فی من لایستطیع ان یصلی صلاۃ واحدۃ الابوضع القطن فی الاحلیل لمابہ من سلس البول وجریانہ فی کل وقت بحیث یبتل رأس احلیلہ وینجس ازارہ ھل ھو معذور عند الشرع ویجری علیہ احکام المعذورین من الوضوء فی کل وقت واداء الصلوۃ بذلك الثوب وعدم صلوحہ لامامۃ الناس وغیرھا من الاحکام ام لاوکیف یصلی فی الاسفار سیما اذاکان علی الوابور البری ای المرکب الدخانی الذی یجری فی کثیر من بلادنا فان فی وضع القطن ھناك فی الاحلیل تعذرا ای تعذر بینوا ھذا وفصلوا بمالامزید علیہ من الکتاب والسنۃ واقاویل السلف واستحقوا الثواب الجزیل من الله سبحنہ وتعالی فی غدان شاء الله تعالی۔
اے رہبری کرنے والے علماء کرام! آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو آلہ تناسل کے سوراخ میں روئی رکھے بغیر ایك نماز بھی نہیں پڑھ سکتا کیونکہ وہ سلسل البول کا مریض ہے اور اس کا پیشاب ہر وقت اس طرح جاری رہتا ہے کہ عضو مخصوص کے سوراخ کا سر تر رہتا ہے اور اس کی ازار ناپاك رہتی ہے کیا وہ شرعی طور پر معذور ہے اور اس پر معذور کے احکام جاری ہوں گے کہ وہ ہر وقت کیلئے وضو کرے اور وہ اس ناپاك کپڑے کے ساتھ نماز پڑھ سکے نیز وہ لوگوں کی امامت کرانے اور اس طرح کے دیگر کی صلاحیت نہ رکھتا ہو یا وہ معذور نہیں ہے۔ وہ سفر میں نماز کیسے پڑھے خصوصا جب بھاپ سے چلنے والی گاڑی پر ہو جو ہمارے اکثر شہروں چلتی ہیں کیونکہ وہاں سوراخ ذکر میں روئی رکھنے میں کوئی نہ کوئی مشکل درپیش ہوتی ہے قرآن وسنت اور اقوال سلف سے اس طرح تفصیل سے بیان فرمائیں کہ مزید گنجائش نہ رہے اور کل (بروز قیامت) اللہسبحانہ وتعالی کی طرف سے عظیم ثواب کے مستحق ہوں ان شاء الله تعالی۔ (ت)
الجواب :
الحمدلله وحدہ اذاکان احتشاؤہ یردمابہ کماوصف فی السؤال فقدخرج عن حد العذر والتحق بالاصحاء یتوضأ لکل حدث ویغسل کل نجس ویؤم کل نفس ولایعذر فی ترك الاحتشاء بل ھو فریضۃ علیہ کفریضۃ الصلاۃ قال فی الدر یجب ردعزرہ اوتقلیلہ بقدر قدرتہ ولوبصلاتہ مؤمنا وبردہ لایبقی ذاعذر اھ ومثلہ فی البحر وغیرہ والمسألہ ظاھرۃ وفی الزبر دائرۃ اما تعسرہ فی العجلۃ الدخانیۃ فضلا عن تعذرہ فلا یظھرلہ وجہ فان من سافر فحمل معہ زادہ لایثقل علیہ القطن ان زادہ وان کان یزعم انہ یخرج بصدمات الحرکۃ فلیطولہ ولیسفلہ ولیربط العضو الی فوق۔
وذکر العلامۃ الشامی فی ردالمحتار ان من کان بطئ الاستبراء فلیفتل نحوورقۃ مثل الشعیرۃ ویحتشی بھافی الاحلیل فانھا تتشرب مابقی من اثرالرطوبۃ التی یحاف خروجھا وینبغی ان یغیب فی المحل لئلا تذھب الرطوبۃ الی طرفھا الخارج و
تمام تعریفیں اللہتعالی کے لئے ہیں جو یکتا ہے۔ اگر روئی رکھنے سے اس کے قطرے ٹپکنے بند ہوجاتے ہیں جیسا کہ سوال میں بیان کیا تو وہ عذر کی حد سے نکل گیا اور صحیح افراد کے ساتھ شامل ہوگا۔ ہر حدث (اصغر) کے بعد وضو کرے جہاں نجاست لگی ہو اسے دھوڈالے اور ہر ایك کی امامت کراسکتا ہے اس سے روئی نہ رکھنے کا عذر قبول نہ ہوگا بلکہ نماز کی طرح روئی رکھنا بھی اس پر فرض ہے۔ درمختار میں ہے : “ حسب طاقت عذر کو دور کرنا یا کم کرنا واجب ہے اگرچہ اشارے کے ساتھ نماز پڑھنے کے ذریعے وہ اور اس کو دور کرنے کے بعد وہ معذور نہیں رہے گا اھ البحرالرائق وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے مسئلہ ظاہر ہے اور (تمام) کتب میں موجود ہے بھاپ سے چلنے والی گاڑی میں مشکل پیش آنے نہ کہ متعذر ہونے کی بظاہر کوئی وجہ نہیں کیونکہ جو آدمی سفر کرتے ہوئے زاد راہ لے جاتا ہے وہ اگر اس میں روئی کا اضافہ کرلے تو کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔ اور اگر اس کا خیال یہ ہے کہ گاڑی کی بار بار حرکت سے روئی نکل جائیگی تو وہ اسے لمبا کرکے نیچے کی طرف کرے اور اوپر کی طرف سے عضو کو باندھ دے۔
علامہ شامی نے ردالمحتار میں ذکر کیا جس شخص کو تاخیر سے طہارت حاصل ہوتی ہو وہ جو کے دانے برابر (روئی وغیرہ کا) پتا وغیرہ بٹ کراسی
الحمدلله وحدہ اذاکان احتشاؤہ یردمابہ کماوصف فی السؤال فقدخرج عن حد العذر والتحق بالاصحاء یتوضأ لکل حدث ویغسل کل نجس ویؤم کل نفس ولایعذر فی ترك الاحتشاء بل ھو فریضۃ علیہ کفریضۃ الصلاۃ قال فی الدر یجب ردعزرہ اوتقلیلہ بقدر قدرتہ ولوبصلاتہ مؤمنا وبردہ لایبقی ذاعذر اھ ومثلہ فی البحر وغیرہ والمسألہ ظاھرۃ وفی الزبر دائرۃ اما تعسرہ فی العجلۃ الدخانیۃ فضلا عن تعذرہ فلا یظھرلہ وجہ فان من سافر فحمل معہ زادہ لایثقل علیہ القطن ان زادہ وان کان یزعم انہ یخرج بصدمات الحرکۃ فلیطولہ ولیسفلہ ولیربط العضو الی فوق۔
وذکر العلامۃ الشامی فی ردالمحتار ان من کان بطئ الاستبراء فلیفتل نحوورقۃ مثل الشعیرۃ ویحتشی بھافی الاحلیل فانھا تتشرب مابقی من اثرالرطوبۃ التی یحاف خروجھا وینبغی ان یغیب فی المحل لئلا تذھب الرطوبۃ الی طرفھا الخارج و
تمام تعریفیں اللہتعالی کے لئے ہیں جو یکتا ہے۔ اگر روئی رکھنے سے اس کے قطرے ٹپکنے بند ہوجاتے ہیں جیسا کہ سوال میں بیان کیا تو وہ عذر کی حد سے نکل گیا اور صحیح افراد کے ساتھ شامل ہوگا۔ ہر حدث (اصغر) کے بعد وضو کرے جہاں نجاست لگی ہو اسے دھوڈالے اور ہر ایك کی امامت کراسکتا ہے اس سے روئی نہ رکھنے کا عذر قبول نہ ہوگا بلکہ نماز کی طرح روئی رکھنا بھی اس پر فرض ہے۔ درمختار میں ہے : “ حسب طاقت عذر کو دور کرنا یا کم کرنا واجب ہے اگرچہ اشارے کے ساتھ نماز پڑھنے کے ذریعے وہ اور اس کو دور کرنے کے بعد وہ معذور نہیں رہے گا اھ البحرالرائق وغیرہ میں بھی اسی طرح ہے مسئلہ ظاہر ہے اور (تمام) کتب میں موجود ہے بھاپ سے چلنے والی گاڑی میں مشکل پیش آنے نہ کہ متعذر ہونے کی بظاہر کوئی وجہ نہیں کیونکہ جو آدمی سفر کرتے ہوئے زاد راہ لے جاتا ہے وہ اگر اس میں روئی کا اضافہ کرلے تو کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔ اور اگر اس کا خیال یہ ہے کہ گاڑی کی بار بار حرکت سے روئی نکل جائیگی تو وہ اسے لمبا کرکے نیچے کی طرف کرے اور اوپر کی طرف سے عضو کو باندھ دے۔
علامہ شامی نے ردالمحتار میں ذکر کیا جس شخص کو تاخیر سے طہارت حاصل ہوتی ہو وہ جو کے دانے برابر (روئی وغیرہ کا) پتا وغیرہ بٹ کراسی
حوالہ / References
درمختار فروع من باب الحیض مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۳
للخروج من خلاف الشافعی وقدجرب ذلك فوجد انفع من ربط المحل لکن الربط اولی اذا کان صائما لئلا یفسد صومہ علی قول الامام الشافعی رحمہ الله تعالی اعلم اھ ۔
اقول : لکن مجرد الربط لایسد الخلۃ لصاحب السلس فھویجب علیہ الاحتشاء کماذکرنا ولامراعاۃ للخلاف فی اتیان الواجبات وعندی احسن من وضع المفتول ان یأخذو رقۃ لھاصلابۃ مع نعومۃ کورقۃ التمر الھندی فیطویہ طیا ویحتشی بہ بحیث یکون وسطہ داخلا ویبقی طرفاہ عندراس الاحلیل فانہ اجدی واحری لسد المجری فان خشی الخروج ربط المحل الی فوق کماوصفنا والله تعالی اعلم۔
عضو مخصوص کے سوراخ میں ڈالے وہ رطوبت کے باقیماندہ اثر کو جس کے نکلنے کا ڈر ہے جذب کرلے گا اور چاہے کہ اسے اندر غائب کردے تاکہ رطوبت اس کی باہر والی جانب نہ نکلے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے مسلك کے خلاف عمل کرنے سے بھی بچ جائے گا۔ اس کا متعدد بار تجربہ کیا گیا اور اسے باندھنے سے زیادہ نافع پایا لیکن جب روزہ دار ہو تو باندھنا زیادہ بہتر ہے تاکہ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے قول پر (بھی) اس کا روزہ نہ ٹوٹے اھ
اقول : (میں کہتا ہوں) سلسل البول والے کیلئے محض باندھنا سوراخ کو بند نہیں کرتا اس میں (روئی وغیرہ) داخل کرنا واجب ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اور واجب کی ادائیگی میں اختلاف (سے بچنے) کی رعایت نہیں کی جاتی اور میرے نزدیك بٹی ہوئی چیز رکھنا نہایت اچھا ہے وہ یوں کہ ایك پتا جو سخت ہونے کے ساتھ کچھ نرم بھی ہو جیسے ہندی کھجور کا پتا ہوتا ہے لیا جائے اور خوب لپیٹ کر سوراخ میں اس طرح داخل کرے کہ اس کا درمیانی حصہ داخل ہوجائے اور کنارے آلہ تناسل کے کنارے کے پاس رہ جائیں۔ جریان کو بند کرنے کیلئے یہ طریقہ نہایت نافع اور زیادہ مناسب ہے اگر نکلنے کا ڈر ہو تو اوپر سے اس جگہ کو باندھ دے جیسا کہ ہم نے طریقہ بیان کیا ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۵۷ : مسئولہ مولوی مودود الحسن سہسوانی ۲۲۔ رمضان المبارك ۱۳۱۷ھ
زید کو اس قسم کا عارضہ ہے کہ دو۲ دو۲ تین۳ تین۳ منٹ کے بعد دبر سے ایك قسم کے جانور جن کو چنچنے کہتے
اقول : لکن مجرد الربط لایسد الخلۃ لصاحب السلس فھویجب علیہ الاحتشاء کماذکرنا ولامراعاۃ للخلاف فی اتیان الواجبات وعندی احسن من وضع المفتول ان یأخذو رقۃ لھاصلابۃ مع نعومۃ کورقۃ التمر الھندی فیطویہ طیا ویحتشی بہ بحیث یکون وسطہ داخلا ویبقی طرفاہ عندراس الاحلیل فانہ اجدی واحری لسد المجری فان خشی الخروج ربط المحل الی فوق کماوصفنا والله تعالی اعلم۔
عضو مخصوص کے سوراخ میں ڈالے وہ رطوبت کے باقیماندہ اثر کو جس کے نکلنے کا ڈر ہے جذب کرلے گا اور چاہے کہ اسے اندر غائب کردے تاکہ رطوبت اس کی باہر والی جانب نہ نکلے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے مسلك کے خلاف عمل کرنے سے بھی بچ جائے گا۔ اس کا متعدد بار تجربہ کیا گیا اور اسے باندھنے سے زیادہ نافع پایا لیکن جب روزہ دار ہو تو باندھنا زیادہ بہتر ہے تاکہ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے قول پر (بھی) اس کا روزہ نہ ٹوٹے اھ
اقول : (میں کہتا ہوں) سلسل البول والے کیلئے محض باندھنا سوراخ کو بند نہیں کرتا اس میں (روئی وغیرہ) داخل کرنا واجب ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اور واجب کی ادائیگی میں اختلاف (سے بچنے) کی رعایت نہیں کی جاتی اور میرے نزدیك بٹی ہوئی چیز رکھنا نہایت اچھا ہے وہ یوں کہ ایك پتا جو سخت ہونے کے ساتھ کچھ نرم بھی ہو جیسے ہندی کھجور کا پتا ہوتا ہے لیا جائے اور خوب لپیٹ کر سوراخ میں اس طرح داخل کرے کہ اس کا درمیانی حصہ داخل ہوجائے اور کنارے آلہ تناسل کے کنارے کے پاس رہ جائیں۔ جریان کو بند کرنے کیلئے یہ طریقہ نہایت نافع اور زیادہ مناسب ہے اگر نکلنے کا ڈر ہو تو اوپر سے اس جگہ کو باندھ دے جیسا کہ ہم نے طریقہ بیان کیا ہے۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۵۷ : مسئولہ مولوی مودود الحسن سہسوانی ۲۲۔ رمضان المبارك ۱۳۱۷ھ
زید کو اس قسم کا عارضہ ہے کہ دو۲ دو۲ تین۳ تین۳ منٹ کے بعد دبر سے ایك قسم کے جانور جن کو چنچنے کہتے
حوالہ / References
ردالمحتار فصل الاستنجائ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۵۳
ہیں نکلتے ہیں اور ان کا خروج بعد زوال تقریبا ایك بجے سے لے کر نصف شب تك عارض رہتا ہے اس درمیان میں ہر ہر نماز کے واسطے ایك ایك وضو کافی ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر اخیر شب میں بالکل انقطاع ہوجاتا ہے کہ ایك کرم بھی طلوع شمس تك نہیں نکلتا جب تو یہ شخص روزانہ صحیح ہوجاتا ہے ہر روز اسے وہی تدبیر چاہیے جو اس قسم کے امراض میں پہلے دن کی جاتی ہے یعنی جبکہ شروع مرض بعد زوال ہوتا ہے ظہر میں آخر وقت تك انتظار کرے کہ شاید منقطع ہوجائے اگر منقطع ہوجائے فبہا ورنہ اخیر وقت وضو کرکے نماز پڑھ لے پھر اگر عصر میں مرض منقطع ہوجائے نماز باوضوئے صحیح پڑھ لینے کی مہلت ملے تو ظہر کی نماز کا بھی اعادہ کرے اور اگر عصر میں فرصت نہ پائے تو ظہر وعصر کی بھی صحیح ہوگئیں اور مغرب وعشا میں صرف وضوئے تازہ کافی ہے بشرطیکہ ایك ایك بار بھی خروج ہوتا رہے پھر جب صبح کا سارا وقت خروج سے خالی گزرے گا وہ حکم معذوری زائل ہوگا اور وقت ظہر یا جس وقت عارضہ عود کرے پھر وہی روز اول کا حساب کرنا پڑے گا اور اگر وقت صبح میں بھی انقطاع کلی نہیں ہوتا خروج ہوتا رہتا ہے اگرچہ ایك ہی بار تو وہی پہلے دن کا امتحان اسے کافی ہے اگر ایك وقت کامل کبھی ایسا گزر چکا ہے کہ شروع وقت سے آخر تك وضو کرکے فرض پڑھ لینے کی مہلت نہ ملی تو وہ معذور ہے جب تك ہر وقت میں کم سے کم ایك بار بھی عارضہ ہوتا رہے گا صرف پانچ وقت وضوئے تازہ کافی ہوگا۔
فی ردالمحتار لوعرض بعد دخول وقت فرض انتظر الی اخرہ فان لم ینقطع یتوضأ ویصلی ثم ان انقطع فی اثناء الوقت الثانی یعید تلك الصلوۃ وان استوعب الوقت الثانی لایعید لثبوت العذر حینئذ من وقت العروض اھ برکویۃ ونحوہ فی الزیلعی والظھیریۃ الخ وباقی المسائل معروفۃ متونا وشروحا والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے اگر فرض نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد عذر پیش آیا تو آخر وقت تك انتظار کرے اگر منقطع نہ ہو تو وضو کرکے نماز پڑھ لے پھر اگر دوسرے وقت میں ختم ہوجائے تو اس (پہلی) نماز کو لوٹائے اور اگر دوسرے وقت کو گھیرے تو نہ لوٹائے کیونکہ اس وقت عذر ثابت ہوگیا جس کی ابتداء پیش آنے کے وقت سے ہوگی اھ برکویہ زیلعی اور ظہیریہ میں بھی اسی طرح ہے الخ اور باقی مسائل متون اور شروح کے اعتبار سے معروف ہیں والله سبحنہ وتعالی اعلم (ت)
الجواب :
اگر اخیر شب میں بالکل انقطاع ہوجاتا ہے کہ ایك کرم بھی طلوع شمس تك نہیں نکلتا جب تو یہ شخص روزانہ صحیح ہوجاتا ہے ہر روز اسے وہی تدبیر چاہیے جو اس قسم کے امراض میں پہلے دن کی جاتی ہے یعنی جبکہ شروع مرض بعد زوال ہوتا ہے ظہر میں آخر وقت تك انتظار کرے کہ شاید منقطع ہوجائے اگر منقطع ہوجائے فبہا ورنہ اخیر وقت وضو کرکے نماز پڑھ لے پھر اگر عصر میں مرض منقطع ہوجائے نماز باوضوئے صحیح پڑھ لینے کی مہلت ملے تو ظہر کی نماز کا بھی اعادہ کرے اور اگر عصر میں فرصت نہ پائے تو ظہر وعصر کی بھی صحیح ہوگئیں اور مغرب وعشا میں صرف وضوئے تازہ کافی ہے بشرطیکہ ایك ایك بار بھی خروج ہوتا رہے پھر جب صبح کا سارا وقت خروج سے خالی گزرے گا وہ حکم معذوری زائل ہوگا اور وقت ظہر یا جس وقت عارضہ عود کرے پھر وہی روز اول کا حساب کرنا پڑے گا اور اگر وقت صبح میں بھی انقطاع کلی نہیں ہوتا خروج ہوتا رہتا ہے اگرچہ ایك ہی بار تو وہی پہلے دن کا امتحان اسے کافی ہے اگر ایك وقت کامل کبھی ایسا گزر چکا ہے کہ شروع وقت سے آخر تك وضو کرکے فرض پڑھ لینے کی مہلت نہ ملی تو وہ معذور ہے جب تك ہر وقت میں کم سے کم ایك بار بھی عارضہ ہوتا رہے گا صرف پانچ وقت وضوئے تازہ کافی ہوگا۔
فی ردالمحتار لوعرض بعد دخول وقت فرض انتظر الی اخرہ فان لم ینقطع یتوضأ ویصلی ثم ان انقطع فی اثناء الوقت الثانی یعید تلك الصلوۃ وان استوعب الوقت الثانی لایعید لثبوت العذر حینئذ من وقت العروض اھ برکویۃ ونحوہ فی الزیلعی والظھیریۃ الخ وباقی المسائل معروفۃ متونا وشروحا والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
ردالمحتار میں ہے اگر فرض نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد عذر پیش آیا تو آخر وقت تك انتظار کرے اگر منقطع نہ ہو تو وضو کرکے نماز پڑھ لے پھر اگر دوسرے وقت میں ختم ہوجائے تو اس (پہلی) نماز کو لوٹائے اور اگر دوسرے وقت کو گھیرے تو نہ لوٹائے کیونکہ اس وقت عذر ثابت ہوگیا جس کی ابتداء پیش آنے کے وقت سے ہوگی اھ برکویہ زیلعی اور ظہیریہ میں بھی اسی طرح ہے الخ اور باقی مسائل متون اور شروح کے اعتبار سے معروف ہیں والله سبحنہ وتعالی اعلم (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب الحیض مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۲۳
مسئلہ ۱۵۸ ۱۵۹ : ازنجیب آباد مرسلہ حافظ محمد ایاز صاحب ۲۶ جمادی الاخری ۱۳۲۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرح متین مسائل ذیل میں موجب حکم قرآن مجید وحدیث شریف ارشاد فرمائیے اللہتعالی اجر عظیم عطا فرمائے ایك شخص کو عرصہ سے مرض بواسیر تھا اب صرف اس قدر باقی ہے کہ مسوں میں ہر وقت چپك سا رہتا ہے اور طرادت رہتی ہے جس کے باعث سے طہارت کلی حاصل نہیں ہے لہذا بوجہ اس کے وہ شخص ہو وقت پاجامے کے اندر لنگوٹ رکھتا ہے اور عملدر آماد اس کا اس صورت سے رہتا ہے کہ اول وقت صبح طہارت پانی سے کرکے لنگوٹ پاك باندھا اس کے بعد وضو کیا اور نماز پڑھی یعنی اتنی دیر بھی اگر لنگوٹ نہ باندھا جائے تو پاجامہ ناپاك ہوجائے بعد ازاں ظہر کے وقت پاخانہ گیا اور لنگوٹ کھول دیا بعد انفراغ طہارت وغیرہ کے لنگوٹ دوسرا پاك باندھ لیا اور وضو کرکے نماز پڑھ لی ازاں بعد عصر کے وقت بھی اسی طرح لنگوٹ بدلا گیا۔ اب مغرب وعشا کے وقت پاخانہ وغیرہ کی ضرورت ہوئی نہ لنگوٹ کھولنے کی ضرورت پڑی اسی لنگوٹ سے جو عصر کے وقت باندھا تھا نماز مغرب وعشا خواہ وضو خواہ تیمم سے اداکرے۔
تو اب ان صورتہائے مذکورہ بالا میں پانچوں نمازیں اس شخص کی پورے طور پر ادا ہوگئیں یا نہیں اور حالات مذکورہ پر نماز پڑھنا اور نماز کافی ہونا درست ہے یا نہیں
۲ایسا شخص جس کا بیان اوپر گزرا جبکہ اس کی نماز کامل متصور ہو تو ایسی حالت میں جب کوئی شخص امامت کے لائق نہ ہو یعنی مسجد میں سب لوگ جاہل ہوں تو یہ شخص مذکور امامت کرسکتا ہے یا نہیںـ اور رمضان المبارك میں نماز تراویح پڑھا سکتا ہے یا نہیں اس وجہ سے کہ حافظ ہے۔ عنداللہارشاد کافی کہ جس سے اس عاجز معذور ومجبور کی تسلی ہوجائے ارقام فرمادیجئے۔
الجواب :
اگر ۱ وہ چپك صرف نم ہوتی ہے جس میں قوت سیلان نہیں کپڑا لگ کر اسے چھڑا لاتا ہے اگرچہ بار بار مختلف جگہ مس ہونے سے قدر درہم سے زائد آلود ہوجاتا ہو تو اس سے نہ وضو جائے گا نہ کپڑا ناپاك ہوگا۔
اور۲ اگر وہ رطوبت سیلان کرتی ہے اور لنگوٹ کے سبب غایت یہ کہ پاجامہ اس کے تلوث سے محفوظ اور اس کا سیلان لنگوٹ تك محدود رہے تو اس صورت میں ضرور جتنی بار بہہ کر خروج کرے گی فی نفسہ حدث وناقض وضو ہے اور لنگوٹ اگر قدر درم سے زائد بھر جائے تو بذاتہ ناپاك ہے اور پاجامہ کا پاك ہونا اس کی پاکی کو کافی نہیں۔
ہاں۳ اگر لنگوٹ باندھنا اس کے سیلان ہی کو منع کردیتا ہے تو ضرور اس پر فرض ہے کہ لنگوٹ باندھے اور جب تك سیلان سے مانع ہوگا نہ وضو جائے گا نہ کپڑا ناپاك ہوگا۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان شرح متین مسائل ذیل میں موجب حکم قرآن مجید وحدیث شریف ارشاد فرمائیے اللہتعالی اجر عظیم عطا فرمائے ایك شخص کو عرصہ سے مرض بواسیر تھا اب صرف اس قدر باقی ہے کہ مسوں میں ہر وقت چپك سا رہتا ہے اور طرادت رہتی ہے جس کے باعث سے طہارت کلی حاصل نہیں ہے لہذا بوجہ اس کے وہ شخص ہو وقت پاجامے کے اندر لنگوٹ رکھتا ہے اور عملدر آماد اس کا اس صورت سے رہتا ہے کہ اول وقت صبح طہارت پانی سے کرکے لنگوٹ پاك باندھا اس کے بعد وضو کیا اور نماز پڑھی یعنی اتنی دیر بھی اگر لنگوٹ نہ باندھا جائے تو پاجامہ ناپاك ہوجائے بعد ازاں ظہر کے وقت پاخانہ گیا اور لنگوٹ کھول دیا بعد انفراغ طہارت وغیرہ کے لنگوٹ دوسرا پاك باندھ لیا اور وضو کرکے نماز پڑھ لی ازاں بعد عصر کے وقت بھی اسی طرح لنگوٹ بدلا گیا۔ اب مغرب وعشا کے وقت پاخانہ وغیرہ کی ضرورت ہوئی نہ لنگوٹ کھولنے کی ضرورت پڑی اسی لنگوٹ سے جو عصر کے وقت باندھا تھا نماز مغرب وعشا خواہ وضو خواہ تیمم سے اداکرے۔
تو اب ان صورتہائے مذکورہ بالا میں پانچوں نمازیں اس شخص کی پورے طور پر ادا ہوگئیں یا نہیں اور حالات مذکورہ پر نماز پڑھنا اور نماز کافی ہونا درست ہے یا نہیں
۲ایسا شخص جس کا بیان اوپر گزرا جبکہ اس کی نماز کامل متصور ہو تو ایسی حالت میں جب کوئی شخص امامت کے لائق نہ ہو یعنی مسجد میں سب لوگ جاہل ہوں تو یہ شخص مذکور امامت کرسکتا ہے یا نہیںـ اور رمضان المبارك میں نماز تراویح پڑھا سکتا ہے یا نہیں اس وجہ سے کہ حافظ ہے۔ عنداللہارشاد کافی کہ جس سے اس عاجز معذور ومجبور کی تسلی ہوجائے ارقام فرمادیجئے۔
الجواب :
اگر ۱ وہ چپك صرف نم ہوتی ہے جس میں قوت سیلان نہیں کپڑا لگ کر اسے چھڑا لاتا ہے اگرچہ بار بار مختلف جگہ مس ہونے سے قدر درہم سے زائد آلود ہوجاتا ہو تو اس سے نہ وضو جائے گا نہ کپڑا ناپاك ہوگا۔
اور۲ اگر وہ رطوبت سیلان کرتی ہے اور لنگوٹ کے سبب غایت یہ کہ پاجامہ اس کے تلوث سے محفوظ اور اس کا سیلان لنگوٹ تك محدود رہے تو اس صورت میں ضرور جتنی بار بہہ کر خروج کرے گی فی نفسہ حدث وناقض وضو ہے اور لنگوٹ اگر قدر درم سے زائد بھر جائے تو بذاتہ ناپاك ہے اور پاجامہ کا پاك ہونا اس کی پاکی کو کافی نہیں۔
ہاں۳ اگر لنگوٹ باندھنا اس کے سیلان ہی کو منع کردیتا ہے تو ضرور اس پر فرض ہے کہ لنگوٹ باندھے اور جب تك سیلان سے مانع ہوگا نہ وضو جائے گا نہ کپڑا ناپاك ہوگا۔
پہلی اور تیسری صورت میں اسے امامت کی بھی اجازت ہے اور دوسری صورت میں اگر معذوری کی حد کو نہ پہنچا تو بے طہارت کاملہ خود اس کی اپنی نماز بھی نہ ہوگی اس پر فرض ہوگا کہ جب سیلان ہو وضو کرے اور جب کپڑا ناپاك ہو بدلے یا دھوئے۔
ہاں اگر کبھی اسے یہ تجربہ ہولیا کہ ایك وقت کامل شروع سے آخر تك گزر گیا کہ اسے وضو کرکے فرض پڑھنے کی مہلت نہ ملی تو اب دو۲ صورتیں ہیں اگر اس حالت کے بعد نماز کے پانچوں وقتوں میں یہ عارضہ برابر ہوتا رہا اگرچہ ہر وقت میں ایك ایك بار تو معذور ہے اس کی اپنی نماز ہوجائے گی مگر امامت نہیں کرسکتا مگر ایسے شخص کی جو اسی عذر میں مبتلا ہو اور اگر ایسا نہیں بلکہ اس کے بعد کوئی وقت کامل ایسا گزرا کہ وہ عارضہ بالکل نہ ہوا تو حکم معذور جاتا رہا پھر اگر شروع ہو تو دوبارہ معذور ہونے کے لئے وہی درکار ہوگا کہ ایك وقت کامل شروع سے آخر تك گزر جائے جس میں اسے طہارت کرکے فرض کی مہلت نہ ملے ولہذا وہ اوقات جن میں وہ لنگوٹ نہیں بدلتا اگر پوری طہارت کے ساتھ گزر جاتے ہیں تو ان میں تو اس کی اپنی نماز بھی صحیح ہے اور امامت بھی صحیح فرائض ہوں خواہ تراویح مگر صبح کو جو پھر عارضہ کا آغاز ہوگا ابھی معذور نہ ٹھہرے گا ہر بار عارضہ آنے پر وضو کرنا اور کپڑا ناپاك ہونے پر دھونا یا بدلنا پڑے گا جب تك وہی تجربہ ایك وقت کامل میں نہ ہوجائے کل کا تجربہ آج کیلئے کافی نہ ہوگا۔ ردالمحتار میں ہے :
قال فی الفتح معناہ اذاکان بحیث لولاالربط سال لان القمیص لوتردد علی الجرح فابتل لاینجس مالم یکن کذلك لانہ لیس بحدث اھ ای وان فحش کمافی المنیۃ ۔
فتح القدیر میں فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اس صورت میں ہوکہ باندھنے کے بغیر جاری ہوجاتا ہو کیونکہ اگر قمیص زخم سے ٹکرا کر تر ہوجائے تو اس وقت ناپاك نہ ہوگی جب تك وہ (زخم) اس صورت میں نہ ہو (یعنی جاری ہونے کی صورت میں ناپاك ہوگی) کیونکہ وہ (نہ جاری ہونے والا) حدث نہیں اگرچہ زیادہ ہو جیسا کہ منیہ میں ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
فی البزازیۃ اذاقدر ذوجرح علی منع دم بربط لزم وکان کالاصحاء ۔ والله تعالی اعلم۔
بزازیہ میں ہے اگر زخمی (زخم کو) باندھنے کے ذریعے خون روکنے پر قادر ہو تو اس پر (باندھنا) لازم ہے اور وہ شخص غیر معذور لوگوں کی طرح ہوجائے گا واللہتعالی اعلم۔ (ت)
ہاں اگر کبھی اسے یہ تجربہ ہولیا کہ ایك وقت کامل شروع سے آخر تك گزر گیا کہ اسے وضو کرکے فرض پڑھنے کی مہلت نہ ملی تو اب دو۲ صورتیں ہیں اگر اس حالت کے بعد نماز کے پانچوں وقتوں میں یہ عارضہ برابر ہوتا رہا اگرچہ ہر وقت میں ایك ایك بار تو معذور ہے اس کی اپنی نماز ہوجائے گی مگر امامت نہیں کرسکتا مگر ایسے شخص کی جو اسی عذر میں مبتلا ہو اور اگر ایسا نہیں بلکہ اس کے بعد کوئی وقت کامل ایسا گزرا کہ وہ عارضہ بالکل نہ ہوا تو حکم معذور جاتا رہا پھر اگر شروع ہو تو دوبارہ معذور ہونے کے لئے وہی درکار ہوگا کہ ایك وقت کامل شروع سے آخر تك گزر جائے جس میں اسے طہارت کرکے فرض کی مہلت نہ ملے ولہذا وہ اوقات جن میں وہ لنگوٹ نہیں بدلتا اگر پوری طہارت کے ساتھ گزر جاتے ہیں تو ان میں تو اس کی اپنی نماز بھی صحیح ہے اور امامت بھی صحیح فرائض ہوں خواہ تراویح مگر صبح کو جو پھر عارضہ کا آغاز ہوگا ابھی معذور نہ ٹھہرے گا ہر بار عارضہ آنے پر وضو کرنا اور کپڑا ناپاك ہونے پر دھونا یا بدلنا پڑے گا جب تك وہی تجربہ ایك وقت کامل میں نہ ہوجائے کل کا تجربہ آج کیلئے کافی نہ ہوگا۔ ردالمحتار میں ہے :
قال فی الفتح معناہ اذاکان بحیث لولاالربط سال لان القمیص لوتردد علی الجرح فابتل لاینجس مالم یکن کذلك لانہ لیس بحدث اھ ای وان فحش کمافی المنیۃ ۔
فتح القدیر میں فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اس صورت میں ہوکہ باندھنے کے بغیر جاری ہوجاتا ہو کیونکہ اگر قمیص زخم سے ٹکرا کر تر ہوجائے تو اس وقت ناپاك نہ ہوگی جب تك وہ (زخم) اس صورت میں نہ ہو (یعنی جاری ہونے کی صورت میں ناپاك ہوگی) کیونکہ وہ (نہ جاری ہونے والا) حدث نہیں اگرچہ زیادہ ہو جیسا کہ منیہ میں ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
فی البزازیۃ اذاقدر ذوجرح علی منع دم بربط لزم وکان کالاصحاء ۔ والله تعالی اعلم۔
بزازیہ میں ہے اگر زخمی (زخم کو) باندھنے کے ذریعے خون روکنے پر قادر ہو تو اس پر (باندھنا) لازم ہے اور وہ شخص غیر معذور لوگوں کی طرح ہوجائے گا واللہتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ۱۶۰ : ازقصبہ نجیب آباد وضلع بجنور مرسلہ حافظ محمد ایاز صاحب ۲۰ صفر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ جو شخص معذور ہے کہ پاخانہ کی جگہ سے اس کے کچھ چپك سا ہروقت آتا ہے تو اس کے واسطے حضور نے معذور کا حکم فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ وہ شخص ہر نماز کے واسطے تازہ وضو کرے اور جو پانی غلیظ درہم سے کم ہو اور وہ بہتا بھی نہ ہو تو اس سے وضو بھی نہیں ٹوٹتا صورت اول میں جو ہر نماز کے واسطے تازہ وضو کی ضرورت ہے اس وضو کو اگر قبل ازوقت کرلیا۔ مثلا جمعہ کی نماز کے واسطے بارہ بجے وضو کرکے مسجد کو چلاگیا تو اس وضو سے نماز جمعہ اداہوگی یا نہیں اور یا نماز مغرب کے واسطے ایك گھنٹہ دن سے وضو کرلیا تو اس سے نماز مغرب اداہوگی یا نہیں یا مثلا نماز تہجد کے وقت جسم وغیرہ دھوکر صاف تہبند یعنی لنگوٹ پاجامہ کے اندر باندھ لیا اور وضو کرے نماز تہجد وقرآن شریف وغیرہ وغیرہ صبح کی نماز تك پڑھتا رہا جب نماز کا وقت ہوا دو۲ رکعت سنت صبح کی پڑھ کر مسجد میں جاکر فرض باجماعت اداکیا اور ازاں بعد طلوع آفتاب تك وہاں بیٹھا رہا بعد طلوع نماز اشراق سے فارغ ہوکر مکان کو آیا۔ تو اب اس تہجد کے وضو سے یہ سب نمازیں اس کی ہوگئیں یا بعد نماز تہجد کے صبح کی نماز کے واسطے مکرر وضو کرنا چاہے اور اس کے بعد اشراق کے واسطے صبح کی نماز کا وضو کافی ہوگا یا اشراق کے واسطے پھر جدید وضو کرے۔ اور دوسری صورت کو جو غلاظت درہم سے کم ہو اور بہتی نہ ہو بلکہ لنگوٹ سے بار بار پونچھ جائے اس کے واسطے وضو ونماز کا کیا حکم ہے عنداللہوعند الرسول مع دلائل ارشاد فرمائیے ورنہ اسی فکر میں یہ عاجز ہمیشہ رہے گا واللہتعالی اعلم آپ کو اجر عظیم وثواب جمیل عطا فرمائے۔
الجواب :
مسئلہ کو پھر دیکھیے نہ بہنے کی صورت میں درم سے کم زائد کی کوئی تخصیص نہ تھی اگر بہنے کے قابل نہیں بلکہ کپڑا لگ کر چھڑا لاتا ہے تو نہ وہ معذور ہوا نہ وضو گیا نہ کپڑا ناپاك ہوا اگرچہ درم سے زائد بھر جائے اور اگر بہنے کے قابل ہے تو اس صورت میں معذور بتایا تھا اور اس میں بھی درم سے کم وزائد کی کوئی قید نہیں ہاں اس صورت میں کپڑا ناپاك ہونے کیلئے درم سے زائد بھرنے کی شرط ہے معذور کا وضو ہمارے نزدیك خروج وقت سے جاتا ہے دخول سے نہیں تو تہجد کے وضو سے صبح نہیں پڑھ سکتا کہ وقت عشا خارج ہوگیا صبح کے وضو سے اشراق نہیں پڑھ سکتا کہ وقت صبح خارج ہوگیا اشراق کے وضو سے ظہر وجمعہ پڑھ سکتا ہے اس بیچ میں کسی فرض نماز کا وقت خارج نہ ہوا۔ والله تعالی اعلم۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ جو شخص معذور ہے کہ پاخانہ کی جگہ سے اس کے کچھ چپك سا ہروقت آتا ہے تو اس کے واسطے حضور نے معذور کا حکم فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ وہ شخص ہر نماز کے واسطے تازہ وضو کرے اور جو پانی غلیظ درہم سے کم ہو اور وہ بہتا بھی نہ ہو تو اس سے وضو بھی نہیں ٹوٹتا صورت اول میں جو ہر نماز کے واسطے تازہ وضو کی ضرورت ہے اس وضو کو اگر قبل ازوقت کرلیا۔ مثلا جمعہ کی نماز کے واسطے بارہ بجے وضو کرکے مسجد کو چلاگیا تو اس وضو سے نماز جمعہ اداہوگی یا نہیں اور یا نماز مغرب کے واسطے ایك گھنٹہ دن سے وضو کرلیا تو اس سے نماز مغرب اداہوگی یا نہیں یا مثلا نماز تہجد کے وقت جسم وغیرہ دھوکر صاف تہبند یعنی لنگوٹ پاجامہ کے اندر باندھ لیا اور وضو کرے نماز تہجد وقرآن شریف وغیرہ وغیرہ صبح کی نماز تك پڑھتا رہا جب نماز کا وقت ہوا دو۲ رکعت سنت صبح کی پڑھ کر مسجد میں جاکر فرض باجماعت اداکیا اور ازاں بعد طلوع آفتاب تك وہاں بیٹھا رہا بعد طلوع نماز اشراق سے فارغ ہوکر مکان کو آیا۔ تو اب اس تہجد کے وضو سے یہ سب نمازیں اس کی ہوگئیں یا بعد نماز تہجد کے صبح کی نماز کے واسطے مکرر وضو کرنا چاہے اور اس کے بعد اشراق کے واسطے صبح کی نماز کا وضو کافی ہوگا یا اشراق کے واسطے پھر جدید وضو کرے۔ اور دوسری صورت کو جو غلاظت درہم سے کم ہو اور بہتی نہ ہو بلکہ لنگوٹ سے بار بار پونچھ جائے اس کے واسطے وضو ونماز کا کیا حکم ہے عنداللہوعند الرسول مع دلائل ارشاد فرمائیے ورنہ اسی فکر میں یہ عاجز ہمیشہ رہے گا واللہتعالی اعلم آپ کو اجر عظیم وثواب جمیل عطا فرمائے۔
الجواب :
مسئلہ کو پھر دیکھیے نہ بہنے کی صورت میں درم سے کم زائد کی کوئی تخصیص نہ تھی اگر بہنے کے قابل نہیں بلکہ کپڑا لگ کر چھڑا لاتا ہے تو نہ وہ معذور ہوا نہ وضو گیا نہ کپڑا ناپاك ہوا اگرچہ درم سے زائد بھر جائے اور اگر بہنے کے قابل ہے تو اس صورت میں معذور بتایا تھا اور اس میں بھی درم سے کم وزائد کی کوئی قید نہیں ہاں اس صورت میں کپڑا ناپاك ہونے کیلئے درم سے زائد بھرنے کی شرط ہے معذور کا وضو ہمارے نزدیك خروج وقت سے جاتا ہے دخول سے نہیں تو تہجد کے وضو سے صبح نہیں پڑھ سکتا کہ وقت عشا خارج ہوگیا صبح کے وضو سے اشراق نہیں پڑھ سکتا کہ وقت صبح خارج ہوگیا اشراق کے وضو سے ظہر وجمعہ پڑھ سکتا ہے اس بیچ میں کسی فرض نماز کا وقت خارج نہ ہوا۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۱ ۱۶۳ : از شہر محلہ بہاری پور مسئولہ نواب مولوی سلطان احمد خان صاحب۲۸۔ ذی القعدہ ۱۳۳۰ھ
(۱) معذور صبح کے وضو سے اشراق کی نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں۔
(۲) معذور نے ایسے آخر وقت میں نماز شروع کی کہ دوسرے وقت میں تمام ہوئی مثلا ظہر کی عصر میں یا عصر کی مغرب میں تو نماز ہوگئی یا اس کو پھر قضا پڑھے درصورت ثانیہ جب ایسا وقت آخر ہوگیا کہ نماز دوسرے وقت میں جاکر ختم ہوگی تو نماز پڑھ کر پھر اس کی قضا پڑھے یا نہ پڑھے جب تك وقت دوسرا نہ ہوجائے کہ پہلے نماز اول پڑھے پھر دوسری۔
الجواب :
(۱) نہیں کہ خروج وقت ناقض وضوء معذور ہے ہاں اشراق کے وضو سے آخر تك نمازیں فرض ونفل پڑھ سکتا ہے کہ دخول وقت ناقض وضو نہیں والله تعالی اعلم۔
(۲) نماز بالاجماع باطل ہوگئی کہ خروج وقت ودخول وقت دونوں پائے گئے تو خلال نماز میں وضو جاتا رہا۔ ہاں اگر بعد قعدہ اخیرہ کے قبل سلام وقت جاتا رہے تو صاحبین کے نزدیك نماز ہوجائے گی اور امام کے نزدیك نہیں کما فی المسائل الاثنا عشریۃ (جیسا کہ بارہ مسائل والی صورت میں ہے۔ ت) اگر وقت قلیل رہ گیا اور خلال نماز میں خروج وقت کا اندیشہ ہے واجبات پر اقتصار کرے مثلا ثنا وتعوذ ودرود دعا ترك کرے رکوع وسجود میں صرف ایك بار سبحنك کہے اور اگر واجبات کی بھی گنجائش نہیں تو بجائے فاتحہ صرف ایك آیت پڑھے غرض فرائض پر قناعت کرے اور خروج وقت مشکوك ہوجائے تو شك سے نہ وقت خارج مانا جائے گا نہ وضو ساقط لان الیقین لایزول بالشك (اس لئے کہ یقین شك سے زائل نہیں ہوتا۔ ت) ہاں اگر اقتصار علی الفرائض پر بھی خروج وقت بالیقین ہوجائیگا تو اگر کسی امام کے نزدیك نماز ہوسکے گی اس کے اتباع سے پڑھ لے فان الاداء الجائز عند البعض اولی من الترك کمافی الدر (بلاشبہ ایسی ادائیگی جو بعض کے نزدیك جائز ہو چھوڑنے کی نسبت اولی ہے جیسا کہ درمختار میں ہے۔ ت) پھر قضا پڑھے اس وقت مذاہب دیگر کی طرف مراجعت کی مہلت نہ ملی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۲ : مسئولہ منشی حفیظ الدین صاحب مدرس مدرسہ اسلامیہ خیر المعاد ضلع رہتک ۲۶محرم ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص بعا رضہ بواسیر سخت مبتلا ہے
(۱) معذور صبح کے وضو سے اشراق کی نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں۔
(۲) معذور نے ایسے آخر وقت میں نماز شروع کی کہ دوسرے وقت میں تمام ہوئی مثلا ظہر کی عصر میں یا عصر کی مغرب میں تو نماز ہوگئی یا اس کو پھر قضا پڑھے درصورت ثانیہ جب ایسا وقت آخر ہوگیا کہ نماز دوسرے وقت میں جاکر ختم ہوگی تو نماز پڑھ کر پھر اس کی قضا پڑھے یا نہ پڑھے جب تك وقت دوسرا نہ ہوجائے کہ پہلے نماز اول پڑھے پھر دوسری۔
الجواب :
(۱) نہیں کہ خروج وقت ناقض وضوء معذور ہے ہاں اشراق کے وضو سے آخر تك نمازیں فرض ونفل پڑھ سکتا ہے کہ دخول وقت ناقض وضو نہیں والله تعالی اعلم۔
(۲) نماز بالاجماع باطل ہوگئی کہ خروج وقت ودخول وقت دونوں پائے گئے تو خلال نماز میں وضو جاتا رہا۔ ہاں اگر بعد قعدہ اخیرہ کے قبل سلام وقت جاتا رہے تو صاحبین کے نزدیك نماز ہوجائے گی اور امام کے نزدیك نہیں کما فی المسائل الاثنا عشریۃ (جیسا کہ بارہ مسائل والی صورت میں ہے۔ ت) اگر وقت قلیل رہ گیا اور خلال نماز میں خروج وقت کا اندیشہ ہے واجبات پر اقتصار کرے مثلا ثنا وتعوذ ودرود دعا ترك کرے رکوع وسجود میں صرف ایك بار سبحنك کہے اور اگر واجبات کی بھی گنجائش نہیں تو بجائے فاتحہ صرف ایك آیت پڑھے غرض فرائض پر قناعت کرے اور خروج وقت مشکوك ہوجائے تو شك سے نہ وقت خارج مانا جائے گا نہ وضو ساقط لان الیقین لایزول بالشك (اس لئے کہ یقین شك سے زائل نہیں ہوتا۔ ت) ہاں اگر اقتصار علی الفرائض پر بھی خروج وقت بالیقین ہوجائیگا تو اگر کسی امام کے نزدیك نماز ہوسکے گی اس کے اتباع سے پڑھ لے فان الاداء الجائز عند البعض اولی من الترك کمافی الدر (بلاشبہ ایسی ادائیگی جو بعض کے نزدیك جائز ہو چھوڑنے کی نسبت اولی ہے جیسا کہ درمختار میں ہے۔ ت) پھر قضا پڑھے اس وقت مذاہب دیگر کی طرف مراجعت کی مہلت نہ ملی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۲ : مسئولہ منشی حفیظ الدین صاحب مدرس مدرسہ اسلامیہ خیر المعاد ضلع رہتک ۲۶محرم ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص بعا رضہ بواسیر سخت مبتلا ہے
حوالہ / References
درمختار کتاب الصلاۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۱
اور اس کی یہ حالت ہے کہ شب وروز تمام مسے مقعد سے باہر نکلے ہوئے رہتے ہیں اور ان میں سے ہر وقت رطوبت جاری رہتی ہے اور پاجامہ یا تہبند کو لگتی رہتی ہے اس سے بچاؤ اس شخص کو غیر ممکن ہے کسی صورت سے وہ اپنا کپڑا نہیں بچاسکتا۔ اگر نیچے لنگوٹ رکھتا ہے تو وہ بھی زیادہ دیر میں تر ہوکر پارچہ تہبند یا پاجامہ کو ناپاك کردیتا ہے ہاں بعد فراغ اجابت طہارت تو وہ بخوبی باقاعدہ کرلیتا ہے رطوبت مسوں سے کپڑا اس کا کسی صورت سے پاك نہیں رہ سکتا پس ایسا شخص بغیر پاك کیے کپڑے کے ویسی حالت میں نماز اداکرے تو یہ نماز اس کی جائز ہے یا نہیں بموجب شرع شریف کے ہدایت فرماؤ کہ اللہتعالی اس کی جزا دینے والا ہے۔
الجواب :
مسوں سے اگر رطوبت بہہ کر نہ نکلے بلکہ ان کی سطح بالاتر پرتری ہوکہ کپڑا لگ کر چھڑا لائے جب تو اس سے کپڑا ناپاك نہ ہوگا بے تکلف نماز پڑھے اور اس تقدیر پر اس کے نکلنے سے وضو بھی نہ جائے گا لان مالیس بحدث لیس بنجس (کیونکہ جو چیز حدث نہیں وہ ناپاك بھی نہیں۔ ت) ہاں جبکہ بہہ کر نکلتی ہے تو وضو کی بھی ناقض ہے اور درم بھر سے زائد جگہ میں ہو تو کپڑا بھی نجس کرے گی جبکہ وہ ہر وقت نکلتی ہے تو اسے حکم معذور ہے پانچ وقت تازہ وضو کرے۔ رہا کپڑا اگر سمجھتا ہے کہ پاك کپڑا بدل کر فرض پڑھے گا تو اس کے ایك درم سے زائد بھرنے سے پیشتر فرض ادا کرلے گا جب تو اس پر لازم ہے کہ ہر وقت پاك کپڑا بدلے اور اگر جانتا ہے کہ فرض پڑھنے کی مہلت نہ ملے گی اور کپڑا پھر اتنا ہی ناپاك ہوجائیگا تو اسے معافی ہے اسی کپڑے سے پڑھے لا یكلف الله نفسا الا وسعها- (اللہتعالی کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ ت) والله تعالی اعلم۔
_____________________
الجواب :
مسوں سے اگر رطوبت بہہ کر نہ نکلے بلکہ ان کی سطح بالاتر پرتری ہوکہ کپڑا لگ کر چھڑا لائے جب تو اس سے کپڑا ناپاك نہ ہوگا بے تکلف نماز پڑھے اور اس تقدیر پر اس کے نکلنے سے وضو بھی نہ جائے گا لان مالیس بحدث لیس بنجس (کیونکہ جو چیز حدث نہیں وہ ناپاك بھی نہیں۔ ت) ہاں جبکہ بہہ کر نکلتی ہے تو وضو کی بھی ناقض ہے اور درم بھر سے زائد جگہ میں ہو تو کپڑا بھی نجس کرے گی جبکہ وہ ہر وقت نکلتی ہے تو اسے حکم معذور ہے پانچ وقت تازہ وضو کرے۔ رہا کپڑا اگر سمجھتا ہے کہ پاك کپڑا بدل کر فرض پڑھے گا تو اس کے ایك درم سے زائد بھرنے سے پیشتر فرض ادا کرلے گا جب تو اس پر لازم ہے کہ ہر وقت پاك کپڑا بدلے اور اگر جانتا ہے کہ فرض پڑھنے کی مہلت نہ ملے گی اور کپڑا پھر اتنا ہی ناپاك ہوجائیگا تو اسے معافی ہے اسی کپڑے سے پڑھے لا یكلف الله نفسا الا وسعها- (اللہتعالی کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ ت) والله تعالی اعلم۔
_____________________
حوالہ / References
القرآن ۲ / ۲۸۶
باب الانجاس
(نجاستوں کا بیان)
مسئلہ ۱۶۴ : از مارہرہ مطہرہ باغ پختہ مرسلہ جناب سید محمد ابراہیم صاحب ۱۳ رجب ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہاتھی دانت کا استعمال کرنا کیسا ہے اگر سرمہ دانی دندان فیل کی ہو یا چوب دستی پر نصب کیا جائے تو رکھنا ان کا جائز ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
جائز ہے۔
اخرج البھیقی عن بقیۃ عن عمروبن خالد
بیہقی نے بقیہ سے عمروبن خالد سے قتادہ سے انس
(نجاستوں کا بیان)
مسئلہ ۱۶۴ : از مارہرہ مطہرہ باغ پختہ مرسلہ جناب سید محمد ابراہیم صاحب ۱۳ رجب ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہاتھی دانت کا استعمال کرنا کیسا ہے اگر سرمہ دانی دندان فیل کی ہو یا چوب دستی پر نصب کیا جائے تو رکھنا ان کا جائز ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
جائز ہے۔
اخرج البھیقی عن بقیۃ عن عمروبن خالد
بیہقی نے بقیہ سے عمروبن خالد سے قتادہ سے انس
عن قتادہ عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کان یمتشط بمشط من عاج
بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عاج کا کنگھا کرتے تھے۔ (ت)
مراقی الفلاح میں ہے :
انہ (یعنی الفیل) کسائر السباع فی الاصح الخ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
اصح قول کے مطابق ہاتھی باقی درندوں کی طرح ہے والله سبحنہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۶۵ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چوہا راب کے گھڑے میں گر کر مر گیا پھولا پھٹانہ تھا نکال دیا۔ یہ راب پاك یاناپاک اور طریقہ تطہیر کیا ہے۔ بینووا توجروا۔
الجواب :
اگر وہ راب جمی ہوئی ہے جب تو چوہے کی گرد کی تھوڑی راب نکال دیں باقی سب پاك ہے۔
فقدعد فی الدرالمختار وغیرہ التقویر من المطھرات ۔
قال العلامۃ الشامی ای تقویر نحو سمن جامد من جوانب النجاسۃ وخرج بالجامد المائع وھو ماینضم بعضہ الی بعض فانہ ینجس کلہ مالم یبلغ القدر الکثیر اھ فتح اھ ملخصا۔
درمختار وغیرہ میں کھرچ کر نکالنے کو پاك کرنے والی چیزوں میں شمار کیا گیا ہے۔
علامہ شامی نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ نجاست کے اطراف میں جما ہوا (مثلا) گھی کھرچنا لفظ “ جامد “ سے مائع نکل گیا یعنی جو ایك دوسرے سے ملا ہوا ہو وہ تمام کا تمام ناپاك ہے جب تك کثیر کی حد کو نہ پہنچے اھ فتح القدیر انتہی (خلاصہ)۔ (ت)
اور اگر پتلی تھی تو سب ناپاك ہوگئی اور اس کے پاك کرنے کے دو طریقے ہیں : ایك یہ کہ جس قدر راب ہو
بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عاج کا کنگھا کرتے تھے۔ (ت)
مراقی الفلاح میں ہے :
انہ (یعنی الفیل) کسائر السباع فی الاصح الخ والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
اصح قول کے مطابق ہاتھی باقی درندوں کی طرح ہے والله سبحنہ وتعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۶۵ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چوہا راب کے گھڑے میں گر کر مر گیا پھولا پھٹانہ تھا نکال دیا۔ یہ راب پاك یاناپاک اور طریقہ تطہیر کیا ہے۔ بینووا توجروا۔
الجواب :
اگر وہ راب جمی ہوئی ہے جب تو چوہے کی گرد کی تھوڑی راب نکال دیں باقی سب پاك ہے۔
فقدعد فی الدرالمختار وغیرہ التقویر من المطھرات ۔
قال العلامۃ الشامی ای تقویر نحو سمن جامد من جوانب النجاسۃ وخرج بالجامد المائع وھو ماینضم بعضہ الی بعض فانہ ینجس کلہ مالم یبلغ القدر الکثیر اھ فتح اھ ملخصا۔
درمختار وغیرہ میں کھرچ کر نکالنے کو پاك کرنے والی چیزوں میں شمار کیا گیا ہے۔
علامہ شامی نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ نجاست کے اطراف میں جما ہوا (مثلا) گھی کھرچنا لفظ “ جامد “ سے مائع نکل گیا یعنی جو ایك دوسرے سے ملا ہوا ہو وہ تمام کا تمام ناپاك ہے جب تك کثیر کی حد کو نہ پہنچے اھ فتح القدیر انتہی (خلاصہ)۔ (ت)
اور اگر پتلی تھی تو سب ناپاك ہوگئی اور اس کے پاك کرنے کے دو طریقے ہیں : ایك یہ کہ جس قدر راب ہو
حوالہ / References
السنن الکبرٰی للبیہقی ، باب المنع من الادھان فی عظام الفیلۃ ، مطبوعہ دار صادر بیروت ، ۱ / ۲۶
مراقی الفلاح علی حاشیۃ الطحطاوی فصل یطہر جلد المیتۃ نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص۸۹
درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۴
ردالمحتار باب الانجاس مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۳۱
مراقی الفلاح علی حاشیۃ الطحطاوی فصل یطہر جلد المیتۃ نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص۸۹
درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۴
ردالمحتار باب الانجاس مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۳۱
اتنا ہی پانی اس میں ملاکر جوش دیں یہاں تك کہ پانی جل جائے تین بار ایسا ہی کریں مگر اس میں وقت ہے اور عجب نہیں کہ راب خراب ہوجائے۔
قال العلامۃ خسروفی الدرر لوتنجس العسل فتطھیرہ ان یصب فیہ ماء بقدرہ فیغلی حتی یعود الی مکانہ ھکذا ثلث مرات اھ ملخصا۔
وفی ردالمحتار عن شرح الشیخ اسمعیل عن جامع الفتاوی ھذا عند ابی یوسف خلافا لمحمد وھو اوسع وعلیہ الفتوی اھ۔
علامہ خسرو نے الدرر میں فرمایا : اگر شہد ناپاك ہوجائے تو اسے پاك کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس میں اتنا ہی پانی ڈال کر جوش دیا جائے یہاں تك کہ صرف شہد رہ جائے تین بار اسی طرح کیا جائے (انتہی) تلخیص۔ اور ردالمحتار میں شرح شیخ اسمعیل سے ہے انہوں نے جامع الفتاوی سے نقل کیا کہ یہ حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك ہے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکا اس میں اختلاف ہے لیکن اس میں زیادہ وسعت ہے اور اسی پر فتوی ہے۔ اھ (ت)
اور تحقیق یہ ہے کہ پانی ملاکر جوش دینا کچھ شرط نہیں اصل مقصود یہ ہے کہ پانی کے اجزاء اس شے کے اجزا سے خوب خلط ہوکر پانی تین بار جدا ہوجائے یہ بات اگر صرف پانی ملاکر حرکت دینے سے حاصل ہوجائے کافی ہے۔
کماصرح بہ فی مجمع الروایۃ وشرح القدوری وحققہ العلامۃ الخیر الرملی فی فتاواہ وایدہ العلامۃ الشامی فی ردالمحتار فراجعہ۔
جیسا کہ مجمع الروایۃ اور شرح قدوری میں اس کی تصریح کی گئی ہے علامہ رملی نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق فرمائی اور علامہ شامی نے ردالمحتار میں اس کی تائید کی ہے پس اس کی طرف رجوع کرو۔ (ت)
دوسرا طریقہ سہل وعمدہ یہ ہے کہ اس میں ویسی ہی پتلی راب ڈالتے رہیں یہاں تك کہ بھر کر ابلنا شروع ہو اور ابل کر ہاتھ دو ہاتھ بہہ جائے سارا گھڑا پاك ہوجائے گا یا دوسرے گھڑے میں پاك راب لیں اور دونوں کو بلندی پر رکھیں نیچے خالی دیگچہ رکھ لیں اوپر سے دونوں گھڑوں کی دھاریں ملاکر چھوڑیں کہ ہوا میں دونوں مل کر ایك دھار ہوکر دیگچہ میں پہنچیں ساری راب پاك ہوجائے گی یوں راب ضائع بھی نہ ہوجائے گی مگر اس میں احتیاط یہ ہے کہ ناپاك راب کی کوئی بوند دیگچہ میں پاك راب سے نہ پہلے پہنچے نہ بعد ورنہ وہ پاك بھی
قال العلامۃ خسروفی الدرر لوتنجس العسل فتطھیرہ ان یصب فیہ ماء بقدرہ فیغلی حتی یعود الی مکانہ ھکذا ثلث مرات اھ ملخصا۔
وفی ردالمحتار عن شرح الشیخ اسمعیل عن جامع الفتاوی ھذا عند ابی یوسف خلافا لمحمد وھو اوسع وعلیہ الفتوی اھ۔
علامہ خسرو نے الدرر میں فرمایا : اگر شہد ناپاك ہوجائے تو اسے پاك کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس میں اتنا ہی پانی ڈال کر جوش دیا جائے یہاں تك کہ صرف شہد رہ جائے تین بار اسی طرح کیا جائے (انتہی) تلخیص۔ اور ردالمحتار میں شرح شیخ اسمعیل سے ہے انہوں نے جامع الفتاوی سے نقل کیا کہ یہ حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك ہے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکا اس میں اختلاف ہے لیکن اس میں زیادہ وسعت ہے اور اسی پر فتوی ہے۔ اھ (ت)
اور تحقیق یہ ہے کہ پانی ملاکر جوش دینا کچھ شرط نہیں اصل مقصود یہ ہے کہ پانی کے اجزاء اس شے کے اجزا سے خوب خلط ہوکر پانی تین بار جدا ہوجائے یہ بات اگر صرف پانی ملاکر حرکت دینے سے حاصل ہوجائے کافی ہے۔
کماصرح بہ فی مجمع الروایۃ وشرح القدوری وحققہ العلامۃ الخیر الرملی فی فتاواہ وایدہ العلامۃ الشامی فی ردالمحتار فراجعہ۔
جیسا کہ مجمع الروایۃ اور شرح قدوری میں اس کی تصریح کی گئی ہے علامہ رملی نے اپنے فتاوی میں اس کی تحقیق فرمائی اور علامہ شامی نے ردالمحتار میں اس کی تائید کی ہے پس اس کی طرف رجوع کرو۔ (ت)
دوسرا طریقہ سہل وعمدہ یہ ہے کہ اس میں ویسی ہی پتلی راب ڈالتے رہیں یہاں تك کہ بھر کر ابلنا شروع ہو اور ابل کر ہاتھ دو ہاتھ بہہ جائے سارا گھڑا پاك ہوجائے گا یا دوسرے گھڑے میں پاك راب لیں اور دونوں کو بلندی پر رکھیں نیچے خالی دیگچہ رکھ لیں اوپر سے دونوں گھڑوں کی دھاریں ملاکر چھوڑیں کہ ہوا میں دونوں مل کر ایك دھار ہوکر دیگچہ میں پہنچیں ساری راب پاك ہوجائے گی یوں راب ضائع بھی نہ ہوجائے گی مگر اس میں احتیاط یہ ہے کہ ناپاك راب کی کوئی بوند دیگچہ میں پاك راب سے نہ پہلے پہنچے نہ بعد ورنہ وہ پاك بھی
حوالہ / References
درر الحکام شرح غرر الاحکام باب تطہیر الانجاس مطبوعہ دار السعادۃ بیروت ۱ / ۴۵
ردالمحتار ، مطلب فی تطہیر الدھن والعسل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۴۵
ردالمحتار ، مطلب فی تطہیر الدھن والعسل مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۴۵
ناپاك ہوجائیگی لہذا بہتر یوں ہے کہ پاك کی دھار پہلے چھوڑیں بعدہ اس میں ناپاك کی دھار ملائیں اور ناپاك کا ہاتھ پہلے روك لیں بعدہ پاك کا ہاتھ روکیں اس میں اگر ناپاك راب گھڑے میں باقی رہ جائے اور پاك ختم ہوجائے دوبارہ پاك گھڑے میں دیگچہ سے بھر لیں اور باقیماندہ کے ساتھ جاری کردیں کہ دیگچہ میں جتنی پہنچ چکی ہے پاك ہوئی ہے اور یہ طریقے کچھ راب ہی سے خاص نہیں ہر بہتی چیز اپنی جنس سے ملاکر یونہی پاك کرسکتے ہیں دودھ سے دودھ تیل سے تیل سرکہ سے سرکہ رس سے رس وعلی ہذا القیاس۔
فی القھستانی المائع کالماء والدبس وغیرھما طھارتہ باجرائہ مع جنسہ مختلطا بہ کماروی عن محمد کمافی التمرتاشی واما بالخلط مع الماء الخ۔
قہستانی میں ہے مائع جیسے پانی اور شیرہ وغیرہ کو اس کی جنس سے ملاکر دھار چھوڑنے سے پاك ہوجاتا ہے جیسا کہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے مروی ہے تمرتاشی میں ایسے ہی ہے اوریا پانی کے ساتھ ملاکر پاك کیا جائے الخ۔ (ت)
اس مسئلہ کی تحقیق تام ردالمحتار میں ہے۔ من شاء فلیرجع الیہ (جو تحقیق حاصل کرنا چاہے وہ ردالمحتار کی طرف رجوع کرے الخ۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۶ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حالت جنابت میں اگر پسینہ آئے اور کپڑے تر ہوجائیں تو نجس ہوجائیں گے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
نہیں جنب کا پسینہ مثل اس کے لعاب دہن کے پاك ہے۔
فی الدرالمختار سؤر الآدمی مطلقا ولوجنبا اوکافرا طاھر وحکم العرق کسؤر اھ ملخصا والله تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے : “ آدمی کا جھوٹا مطلقا پاك ہے چاہے جنبی ہو یا کافر ہو اور پسینے کا حکم جھوٹے جیسا ہے (انتہی) ملخصا والله تعالی اعلم۔ (ت)
فی القھستانی المائع کالماء والدبس وغیرھما طھارتہ باجرائہ مع جنسہ مختلطا بہ کماروی عن محمد کمافی التمرتاشی واما بالخلط مع الماء الخ۔
قہستانی میں ہے مائع جیسے پانی اور شیرہ وغیرہ کو اس کی جنس سے ملاکر دھار چھوڑنے سے پاك ہوجاتا ہے جیسا کہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے مروی ہے تمرتاشی میں ایسے ہی ہے اوریا پانی کے ساتھ ملاکر پاك کیا جائے الخ۔ (ت)
اس مسئلہ کی تحقیق تام ردالمحتار میں ہے۔ من شاء فلیرجع الیہ (جو تحقیق حاصل کرنا چاہے وہ ردالمحتار کی طرف رجوع کرے الخ۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۶ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حالت جنابت میں اگر پسینہ آئے اور کپڑے تر ہوجائیں تو نجس ہوجائیں گے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
نہیں جنب کا پسینہ مثل اس کے لعاب دہن کے پاك ہے۔
فی الدرالمختار سؤر الآدمی مطلقا ولوجنبا اوکافرا طاھر وحکم العرق کسؤر اھ ملخصا والله تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے : “ آدمی کا جھوٹا مطلقا پاك ہے چاہے جنبی ہو یا کافر ہو اور پسینے کا حکم جھوٹے جیسا ہے (انتہی) ملخصا والله تعالی اعلم۔ (ت)
حوالہ / References
جامع الرموز فصل یطہر الشیئ الخ مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۹۵
ردالمحتار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۱۲۴
درمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
ردالمحتار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۱۲۴
درمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
مسئلہ ۱۶۷ : از کلکتہ فوجداری بالاخانہ ۳۶مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۳۰ ربیع الاول شریف ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مصری ایك سرخ رنگ کے کاغذ میں جس کی نسبت قوی گمان ہے کہ پڑیا کے رنگ میں رنگا گیا ہو بندھی تھی اس کی سرخی فی الجملہ مصری میں آگئی تو وہ مصری کھائی جائے یا نہیں اور نہ کھائیں تو پھینك دیں یا کیا کریں بینوا توجروا۔
الجواب :
پڑیا کی نجاست پر فتوی دئے جانے میں فقیر کو کلام کثیر ہے ملخص اس کا یہ کہ پڑیا میں اسپرٹ کا ملنا اگر(۱) بطریقہ شرعی ثابت بھی ہو تو اس(۲) میں شك نہیں کہ ہندیوں کو اس کی رنگت میں ابتلائے عام ہے اور عموم بلوے نجاست متفق علیہا میں باعث تخفیف۔
حتی فی موضع النص القطعی کمافی ترشش البول قدرؤس الابرکما حققہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر ۔
حتی کہ نص قطعی کی جگہ میں جیسا کہ سوئی کے سرے برابر پیشاب کے چھینٹے (باعث تخفیف ہیں) جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں تحقیق فرمائی ہے۔ (ت)
نہ کہ محل۳ اختلاف میں جو زمانہ صحابہ سے عہد مجتہدین تك برابر اختلافی چلاآیا نہ کہ۴ جہاں صاحب مذہب حضرت امام اعظم وامام ابویوسف کا اصل مذہب طہارت ہو اور وہی امام ثالث امام محمد سے بھی ایك روایت اور اسی کو امام طحاوی وغیرہ ائمہ ترجیح وتصحیح نے مختار ومرجح رکھا ہو نہ کہ۵ ایسی حالت میں جہاں اس مصلحت کو بھی دخل نہ ہو جو متأخرین اہل فتوی کو اصل مذہب سے عدول اور روایت اخری امام محمد کے قبول پر باعث ہوئی نہ کہ۶ جب مصلحت الٹی اس کے ترك اور اصل مذہب پر افتا کی موجب ہو تو ایسی جگہ بلاوجہ بلکہ برخلاف وجہ مذہب مہذب صاحب مذہب رضی اللہ تعالی عنہکو ترك کرکے مسلمانوں کو ضیق وحرج میں ڈالنا اور عامہ مومنین ومومنات جمیع دیار واقطار ہندیہ کی نمازیں معاذاللہباطل اور انہیں آثم ومصر علی الکبیرہ (گناہ گار اور گناہ کبیرہ پر اصرار کرنے والا۔ ت) قرار دینا روش فقہی سے یکسر دور پڑنا ہے وبالله التوفیق۔
پھر اس کاغذ میں تو یقین بھی نہیں کہ پڑیا ہی سے رنگاگیا ہو اور صرف گمان اگرچہ قوی ہو جب تك اس درجہ قوت وشوکت کو نہ پہنچے کہ دوسرا احتمال اس کے حضور محض مضمحل ومہجور ہوجائے ہرگز اصل طہارت کا معارض نہیں ہوسکتا کماحققت ذلك بتوفیق الله تعالی فی رسالتی الاحلی من السکر لطلبۃ سکرر وسر
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مصری ایك سرخ رنگ کے کاغذ میں جس کی نسبت قوی گمان ہے کہ پڑیا کے رنگ میں رنگا گیا ہو بندھی تھی اس کی سرخی فی الجملہ مصری میں آگئی تو وہ مصری کھائی جائے یا نہیں اور نہ کھائیں تو پھینك دیں یا کیا کریں بینوا توجروا۔
الجواب :
پڑیا کی نجاست پر فتوی دئے جانے میں فقیر کو کلام کثیر ہے ملخص اس کا یہ کہ پڑیا میں اسپرٹ کا ملنا اگر(۱) بطریقہ شرعی ثابت بھی ہو تو اس(۲) میں شك نہیں کہ ہندیوں کو اس کی رنگت میں ابتلائے عام ہے اور عموم بلوے نجاست متفق علیہا میں باعث تخفیف۔
حتی فی موضع النص القطعی کمافی ترشش البول قدرؤس الابرکما حققہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر ۔
حتی کہ نص قطعی کی جگہ میں جیسا کہ سوئی کے سرے برابر پیشاب کے چھینٹے (باعث تخفیف ہیں) جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں تحقیق فرمائی ہے۔ (ت)
نہ کہ محل۳ اختلاف میں جو زمانہ صحابہ سے عہد مجتہدین تك برابر اختلافی چلاآیا نہ کہ۴ جہاں صاحب مذہب حضرت امام اعظم وامام ابویوسف کا اصل مذہب طہارت ہو اور وہی امام ثالث امام محمد سے بھی ایك روایت اور اسی کو امام طحاوی وغیرہ ائمہ ترجیح وتصحیح نے مختار ومرجح رکھا ہو نہ کہ۵ ایسی حالت میں جہاں اس مصلحت کو بھی دخل نہ ہو جو متأخرین اہل فتوی کو اصل مذہب سے عدول اور روایت اخری امام محمد کے قبول پر باعث ہوئی نہ کہ۶ جب مصلحت الٹی اس کے ترك اور اصل مذہب پر افتا کی موجب ہو تو ایسی جگہ بلاوجہ بلکہ برخلاف وجہ مذہب مہذب صاحب مذہب رضی اللہ تعالی عنہکو ترك کرکے مسلمانوں کو ضیق وحرج میں ڈالنا اور عامہ مومنین ومومنات جمیع دیار واقطار ہندیہ کی نمازیں معاذاللہباطل اور انہیں آثم ومصر علی الکبیرہ (گناہ گار اور گناہ کبیرہ پر اصرار کرنے والا۔ ت) قرار دینا روش فقہی سے یکسر دور پڑنا ہے وبالله التوفیق۔
پھر اس کاغذ میں تو یقین بھی نہیں کہ پڑیا ہی سے رنگاگیا ہو اور صرف گمان اگرچہ قوی ہو جب تك اس درجہ قوت وشوکت کو نہ پہنچے کہ دوسرا احتمال اس کے حضور محض مضمحل ومہجور ہوجائے ہرگز اصل طہارت کا معارض نہیں ہوسکتا کماحققت ذلك بتوفیق الله تعالی فی رسالتی الاحلی من السکر لطلبۃ سکرر وسر
حوالہ / References
فتح القدیر باب الانجاس مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۸۳
(جیسا کہ میں نے اللہتعالی کی توفیق سے اپنے رسالہ الاحلی من السکر لطلبۃ سکرر وسر میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت)
اور جہاں مصری ناپاك ہوجائے تو اس کا پھینك دینا روا نہیں کہ اضاعت مال ہے اور اضاعت مال حرام بلکہ اگر اس کے بڑے بڑے ٹکڑے دلدار ہیں جن پر سے کھرچ کر نجاست کو دور کرسکتے ہیں جب تو یوں ہی کریں کہ یہ طریقہ بھی تطہیر کیلئے کافی ہے۔ کمانصوا علیہ فی مسئلۃ تقویر السمن کمافی الدر المختار وغیرہ من اسفار الکبار (جیسا کہ فقہاء کرام نے گھی کھرچنے کے مسئلہ میں بیان فرمایا جس طرح درمختار وغیرہ میں اکابر کی کتب سے منقول ہے۔ ت)
اور اگر ریزے ہیں جن پر سے کھرچنا میسر نہیں یا نجاست جگر میں پیر گئی کہ کھرچے سے نہ جائے گی تو مصری کو قوام کریں کہ خوب رقیق وسیال ہوجائے اور اس کے ساتھ ہی دوسری مصری پاك بھی قوام کریں کہ وہ بھی اسی حالت پر آئے اب فورا بحالت رقت وسیلان ہی یہ پاك مصری اس ناپاك کے برتن میں ڈالتے جائیں یہاں تك کہ بھر کر ابلنے لگے اور قدرے بہہ جائے سب پاك ہوگئی یا دونوں مصریوں پاك وناپاك کی دھار ملاکر تیسرے خالی برتن میں چھوڑیں کہ ناپاك مصری کی بوند نہ اس پاك سے پہلے اس برتن میں پہنچے نہ بعد بلکہ ہوا میں دونوں کی دھار ایك ہوکر برتن میں گرے سب پاك ہوجائے گی کمابیناہ فی فتاونا (جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔ ت)والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۸ : ایضا۔
روسر کی شکر جیسی شاہجہان پور میں بنتی ہے اور اس کی نسبت مشہور ہے کہ ہڈی کی راکھ سے صاف کی جاتی ہے کھانا جائز یا ناجائز۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
حلال ہے جب تك تحقیق نہ ہوکہ اس خاص شکر میں جو ہمارے سامنے رکھی ہے کوئی نجس یا حرام چیز ملی ہے محرر مذہب سیدنا امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں :
بہ ناخذ مالم نعرف شیئاحرما بعینہ ۔
ہم اسے اختیار کریں گے جب تك ہمیں کسی چیز کا بالذات حرام ہونا معلوم نہ ہو۔ (ت)
فقیر نے اس شکر کی تحقیق یں بحمد اللہتعالی ایك کافی و وافی رسالہ مسمی بنام تاریخی الاحلی من السکر لطلبۃ سکرر وسر۱۳۰۳ھ لکھا جس میں نہ صرف اس شکر بلکہ اس قسم کی تمام چیزوں اور انگریزی دواؤں شربتوں
اور جہاں مصری ناپاك ہوجائے تو اس کا پھینك دینا روا نہیں کہ اضاعت مال ہے اور اضاعت مال حرام بلکہ اگر اس کے بڑے بڑے ٹکڑے دلدار ہیں جن پر سے کھرچ کر نجاست کو دور کرسکتے ہیں جب تو یوں ہی کریں کہ یہ طریقہ بھی تطہیر کیلئے کافی ہے۔ کمانصوا علیہ فی مسئلۃ تقویر السمن کمافی الدر المختار وغیرہ من اسفار الکبار (جیسا کہ فقہاء کرام نے گھی کھرچنے کے مسئلہ میں بیان فرمایا جس طرح درمختار وغیرہ میں اکابر کی کتب سے منقول ہے۔ ت)
اور اگر ریزے ہیں جن پر سے کھرچنا میسر نہیں یا نجاست جگر میں پیر گئی کہ کھرچے سے نہ جائے گی تو مصری کو قوام کریں کہ خوب رقیق وسیال ہوجائے اور اس کے ساتھ ہی دوسری مصری پاك بھی قوام کریں کہ وہ بھی اسی حالت پر آئے اب فورا بحالت رقت وسیلان ہی یہ پاك مصری اس ناپاك کے برتن میں ڈالتے جائیں یہاں تك کہ بھر کر ابلنے لگے اور قدرے بہہ جائے سب پاك ہوگئی یا دونوں مصریوں پاك وناپاك کی دھار ملاکر تیسرے خالی برتن میں چھوڑیں کہ ناپاك مصری کی بوند نہ اس پاك سے پہلے اس برتن میں پہنچے نہ بعد بلکہ ہوا میں دونوں کی دھار ایك ہوکر برتن میں گرے سب پاك ہوجائے گی کمابیناہ فی فتاونا (جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوی میں بیان کیا ہے۔ ت)والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۸ : ایضا۔
روسر کی شکر جیسی شاہجہان پور میں بنتی ہے اور اس کی نسبت مشہور ہے کہ ہڈی کی راکھ سے صاف کی جاتی ہے کھانا جائز یا ناجائز۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
حلال ہے جب تك تحقیق نہ ہوکہ اس خاص شکر میں جو ہمارے سامنے رکھی ہے کوئی نجس یا حرام چیز ملی ہے محرر مذہب سیدنا امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں :
بہ ناخذ مالم نعرف شیئاحرما بعینہ ۔
ہم اسے اختیار کریں گے جب تك ہمیں کسی چیز کا بالذات حرام ہونا معلوم نہ ہو۔ (ت)
فقیر نے اس شکر کی تحقیق یں بحمد اللہتعالی ایك کافی و وافی رسالہ مسمی بنام تاریخی الاحلی من السکر لطلبۃ سکرر وسر۱۳۰۳ھ لکھا جس میں نہ صرف اس شکر بلکہ اس قسم کی تمام چیزوں اور انگریزی دواؤں شربتوں
حوالہ / References
فتاوٰی عالمگیری الباب الثانی فی الہدایا والضیافات نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۴۲
وغیرہا کا حکم منقح کردیا اس باب میں بفضلہ تعالی وہ نفیس ضوابط لکھے جس سے ہر جزئیہ کا حکم بہ نہایت انجلا منکشف ہوسکے من شاء فلیرجع الیھا (جو چاہے اس کی طرف رجوع کرے۔ ت) واللہسبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۹ : از رائے پور ڈاك خانہ ہنڈوان راج سوائی جے پور مرسلہ سیدمحمد نوازش علی صاحب۱۸ شعبان ۱۳۰۵ھ
بعد سلام سنۃ الاسلام کے عرض یہ ہے کہ ایك سبوچہ سرکہ میں چھپکلی گر پڑی اور قریب چار پانچ منٹ کے سرکہ میں پڑی رہی بعد ازاں اسے زندہ نکال لیا کہ بھاگ گئی ایسی صورت میں اس سرکہ کو کھانا چاہیے یا نہیں اور حرام ہے یا مکروہ اور اگر سرکے میں مرجائے تو کیا حکم ہے اور وہ سرکہ کس طرح پاك ہوسکتا ہے۔ جواب سے سرفرازی بخشیے فقط۔
الجواب :
جبکہ وہ زندہ نکل آئی سرکہ پاك ہے۔
فی الدرالمختار لواخرج حیاولیس بنجس العین ولابہ حدث اوخبث لم ینزح شیئ الاان یدخل فمہ الماء فیعتبر بسؤرہ ۔
درمختار میں ہے اگر اسے زندہ نکالا گیا تو وہ نہ تو نجس عین ہے اور نہ ہی اس پر پاخانہ یا نجاست لگی ہوئی ہے تو کچھ بھی نہ نکالا جائے مگر یہ کہ اس کا منہ پانی تك پہنچ جائے پس (اس وقت) اس کے جھوٹے کا اعتبار کیا جائیگا۔ (ت)
پھر اگر اس کا منہ سرکہ میں نہ ڈوبا بلکہ تیرتی ہی رہی تو اس سرکہ کا کھانا مکروہ تك نہیں اور ڈوب گیا تو غنی کیلئے کراہت تنزیہی ہے فقیر کے لئے اس قدر بھی نہیں۔
فی الدرالمختار سؤرسواکن البیوت طاھر للضرورۃ مکروہ تنزیھا ان وجد غیرہ والالم یکرہ اصلاکاکلہ لفقیر اھ ملخصا ۔
درمختار میں ہے گھروں میں رہنے والے جانوروں کا جھوٹا ضرورت کے تحت پاك ہے اس کے سوا موجود ہو تو مکروہ تنزیہی ہے ورنہ بالکل مکروہ نہیں جیسے فقیر کیلئے اس کا کھانا (مکروہ نہیں) اھ ملخصا (ت)
ہاں اگر مرجائے تو سرکہ ناپاك ہوگیا پس زندہ رہنے کی حالت میں اگر غنی ازالہ کراہت اور سرکہ کا اپنے حق میں ستھرا نظیف ہوجانا چاہے یا مرجانے کی صورت میں پاك کریں تو اس کے دو طریقے ہیں : ایك یہ کہ دوسرا سرکہ صاف محفوظ کسی لوٹے میں لے کر اس گھڑے میں ڈالتے جائیں یہاں تك کہ یہ منہ تك بھر کر ابل جائے اور باہر نکلنا شروع ہو
مسئلہ ۱۶۹ : از رائے پور ڈاك خانہ ہنڈوان راج سوائی جے پور مرسلہ سیدمحمد نوازش علی صاحب۱۸ شعبان ۱۳۰۵ھ
بعد سلام سنۃ الاسلام کے عرض یہ ہے کہ ایك سبوچہ سرکہ میں چھپکلی گر پڑی اور قریب چار پانچ منٹ کے سرکہ میں پڑی رہی بعد ازاں اسے زندہ نکال لیا کہ بھاگ گئی ایسی صورت میں اس سرکہ کو کھانا چاہیے یا نہیں اور حرام ہے یا مکروہ اور اگر سرکے میں مرجائے تو کیا حکم ہے اور وہ سرکہ کس طرح پاك ہوسکتا ہے۔ جواب سے سرفرازی بخشیے فقط۔
الجواب :
جبکہ وہ زندہ نکل آئی سرکہ پاك ہے۔
فی الدرالمختار لواخرج حیاولیس بنجس العین ولابہ حدث اوخبث لم ینزح شیئ الاان یدخل فمہ الماء فیعتبر بسؤرہ ۔
درمختار میں ہے اگر اسے زندہ نکالا گیا تو وہ نہ تو نجس عین ہے اور نہ ہی اس پر پاخانہ یا نجاست لگی ہوئی ہے تو کچھ بھی نہ نکالا جائے مگر یہ کہ اس کا منہ پانی تك پہنچ جائے پس (اس وقت) اس کے جھوٹے کا اعتبار کیا جائیگا۔ (ت)
پھر اگر اس کا منہ سرکہ میں نہ ڈوبا بلکہ تیرتی ہی رہی تو اس سرکہ کا کھانا مکروہ تك نہیں اور ڈوب گیا تو غنی کیلئے کراہت تنزیہی ہے فقیر کے لئے اس قدر بھی نہیں۔
فی الدرالمختار سؤرسواکن البیوت طاھر للضرورۃ مکروہ تنزیھا ان وجد غیرہ والالم یکرہ اصلاکاکلہ لفقیر اھ ملخصا ۔
درمختار میں ہے گھروں میں رہنے والے جانوروں کا جھوٹا ضرورت کے تحت پاك ہے اس کے سوا موجود ہو تو مکروہ تنزیہی ہے ورنہ بالکل مکروہ نہیں جیسے فقیر کیلئے اس کا کھانا (مکروہ نہیں) اھ ملخصا (ت)
ہاں اگر مرجائے تو سرکہ ناپاك ہوگیا پس زندہ رہنے کی حالت میں اگر غنی ازالہ کراہت اور سرکہ کا اپنے حق میں ستھرا نظیف ہوجانا چاہے یا مرجانے کی صورت میں پاك کریں تو اس کے دو طریقے ہیں : ایك یہ کہ دوسرا سرکہ صاف محفوظ کسی لوٹے میں لے کر اس گھڑے میں ڈالتے جائیں یہاں تك کہ یہ منہ تك بھر کر ابل جائے اور باہر نکلنا شروع ہو
حوالہ / References
درمختار فصل فی البئر مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۹
درمختار فصل فی البئر مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
درمختار فصل فی البئر مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
جب زمین پر کچھ دور بہہ جائے موقوف کریں سارا گھڑا صاف ونظیف ہوجائے گا۔ اور انسب یہ کہ اس قدر ڈالیں جس میں سرکہ گھڑے سے ابل کر بقدر د وڈیڑھ ہاتھ طول کے بہہ جائے۔
دوم : یہ کہ ایك گھڑا طیب محفوظ سرکہ کالے کر دونوں سبوچے کسی بلندی مثلا پلنگ پر رکھیں اور ان کی محاذات میں کوئی بڑا دیگچہ کشادہ منہ کا نیچے رکھا ہو دونوں گھڑوں کو ایك ساتھ اس طرح جھکائیں کہ ان کی دھاریں دیگچے تك پہنچنے سے پہلے ہوا میں باہم مل جائیں اور دیگچے میں ایك دھار ہوکر گریں یوں جس قدر سرکہ دیگچے میں پہنچے گا سب پاك ونظیف بلاکراہت ہوجائیگا مگر اس میں یہ خیال رکھیں کہ مکروہ یا نجس سرکہ کا کوئی جز بغیر دوسرے سرکہ سے ملے ہوئے دیگچے میں نہ پہنچے مثلا جھکاتے وقت دوسرا سرکہ ابھی نہ گرا تھا کہ اس کی دھار اول گئی یا دوسرا گھڑا ختم ہوگیا اس میں کا سرکہ باقی تھا وہ بعد کو ڈال دیا گیا یا کسی وقت ایسا ہوا کہ دونوں کی دھار الگ الگ ہوکر گری یہ صورتیں نہ ہونے پائیں بلکہ اس سرکہ کا ہر جز دیگچے میں دوسرے سرکہ کی دھار سے ہوا میں مل ہی کر پہنچے۔ یہ دونوں نفیس طریقے بغور سمجھ کر ہمیشہ محفوظ رکھے جائیں کہ وہ نہ صرف ازالہ کراہت بلکہ ازالہ نجاست میں بھی بکار آمد ہیں۔ دودھ پانی سرکہ تیل رقیق گھی اور ایسی ہی ہر بہتی چیز جو ناپاك ہوجائے دودھ ہو تو پاك دودھ اور پانی ہو تو پاك پانی وعلی ھذا القیاس ہر شے اپنی ہی جنس کے ساتھ ملاکر بطور مذکور بہادیں یا دھاریں ملاکر برتن میں لے لیں سب پاك ہوجائے گا اور دوسرا طریقہ پہلے سے بھی افضل واعلی ہے کہ اس میں اس شے کا کوئی جز ضائع نہیں جاتا۔ درمختار میں ہے :
المختار طھارۃ المتنجس بمجرد جریانہ ۔
مختار یہ ہے کہ ناپاك چیز کو محض جاری کرکے پاك کیا جائے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
وان قل الخارج ۔
اگرچہ نکلنے والا کم ہو۔ (ت)
علامہ عبدالبر ابن الشحنہ نے فرمایا :
لانہ صارجاریا حقیقۃ وبخروج بعضہ
کیونکہ وہ حقیقتا جاری ہوگیا اور بعض کے نکلنے سے
دوم : یہ کہ ایك گھڑا طیب محفوظ سرکہ کالے کر دونوں سبوچے کسی بلندی مثلا پلنگ پر رکھیں اور ان کی محاذات میں کوئی بڑا دیگچہ کشادہ منہ کا نیچے رکھا ہو دونوں گھڑوں کو ایك ساتھ اس طرح جھکائیں کہ ان کی دھاریں دیگچے تك پہنچنے سے پہلے ہوا میں باہم مل جائیں اور دیگچے میں ایك دھار ہوکر گریں یوں جس قدر سرکہ دیگچے میں پہنچے گا سب پاك ونظیف بلاکراہت ہوجائیگا مگر اس میں یہ خیال رکھیں کہ مکروہ یا نجس سرکہ کا کوئی جز بغیر دوسرے سرکہ سے ملے ہوئے دیگچے میں نہ پہنچے مثلا جھکاتے وقت دوسرا سرکہ ابھی نہ گرا تھا کہ اس کی دھار اول گئی یا دوسرا گھڑا ختم ہوگیا اس میں کا سرکہ باقی تھا وہ بعد کو ڈال دیا گیا یا کسی وقت ایسا ہوا کہ دونوں کی دھار الگ الگ ہوکر گری یہ صورتیں نہ ہونے پائیں بلکہ اس سرکہ کا ہر جز دیگچے میں دوسرے سرکہ کی دھار سے ہوا میں مل ہی کر پہنچے۔ یہ دونوں نفیس طریقے بغور سمجھ کر ہمیشہ محفوظ رکھے جائیں کہ وہ نہ صرف ازالہ کراہت بلکہ ازالہ نجاست میں بھی بکار آمد ہیں۔ دودھ پانی سرکہ تیل رقیق گھی اور ایسی ہی ہر بہتی چیز جو ناپاك ہوجائے دودھ ہو تو پاك دودھ اور پانی ہو تو پاك پانی وعلی ھذا القیاس ہر شے اپنی ہی جنس کے ساتھ ملاکر بطور مذکور بہادیں یا دھاریں ملاکر برتن میں لے لیں سب پاك ہوجائے گا اور دوسرا طریقہ پہلے سے بھی افضل واعلی ہے کہ اس میں اس شے کا کوئی جز ضائع نہیں جاتا۔ درمختار میں ہے :
المختار طھارۃ المتنجس بمجرد جریانہ ۔
مختار یہ ہے کہ ناپاك چیز کو محض جاری کرکے پاك کیا جائے۔ (ت)
بحرالرائق میں ہے :
وان قل الخارج ۔
اگرچہ نکلنے والا کم ہو۔ (ت)
علامہ عبدالبر ابن الشحنہ نے فرمایا :
لانہ صارجاریا حقیقۃ وبخروج بعضہ
کیونکہ وہ حقیقتا جاری ہوگیا اور بعض کے نکلنے سے
حوالہ / References
درمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۸ ، ردالمحتار مطلب یطہرا لحوض بمجرد الجریان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۰
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۸ ، ردالمحتار مطلب یطہرا لحوض بمجرد الجریان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۰
وقع الشك فی بقاء النجاسۃ فلاتبقی مع الشك ۔
نجاست کے باقی رہنے میں شك ہے تو شك کے ساتھ نجاست باقی نہیں رہے گی۔ (ت)
بدائع میں ہے :
وعلی ھذا حوض الحمام اوالاوانی اذاتنجس ۔
حمام کا حوض اور برتن ناپاك ہوجائیں تو ان کا بھی یہی حکم ہے۔ (ت)
شرح تنویر میں ہے :
حکم سائر المائعات کالماء فی الاصح ۔
اصح قول کے مطابق تمام مائع چیزوں کا حکم پانی کی طرح ہے۔ (ت)
شرح نقایہ میں ہے :
المائع کالماء والدبس وغیرھما طھارتہ اما باجرائہ مع جنسہ مختلطابہ کماروی عن محمد کمافی التمرتاشی الخ۔
مائع (بہنے والی چیز) پانی اور شیرے وغیرہ کی طہارت اس کی جنس کے ساتھ ملاکر جاری کرنے سے ہوتی ہے جیسا کہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے مروی ہے جیسے تمرتاشی میں ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ھذا صریح بانہ یطھر بالاجراء نعم علی ماقدمناہ عن الخلاصۃ من تخصیص الجریان بان یکون اکثر من ذراع اوذراعین تیقید بذلك ھنالکنہ مخالف لاطلاقھم من طھارۃ الحوض بمجرد الجریان ۔
یہ اس بارے میں واضح ہے کہ وہ جاری کرنے سے پاك ہوجاتا ہے۔ ہاں جو کچھ ہم نے اس سے پہلے خلاصہ سے نقل کیا ہے کہ جریان ایك یا دوہاتھوں سے زیادہ بلند ہونے کے ساتھ خاص ہے۔ یہ قید وہاں تو صحیح ہے لیکن حوض کے بارے میں ان کے اطلاق کے خلاف ہے کیونکہ وہ محض جاری ہونے سے پاك ہوجاتا ہے (ت)
نجاست کے باقی رہنے میں شك ہے تو شك کے ساتھ نجاست باقی نہیں رہے گی۔ (ت)
بدائع میں ہے :
وعلی ھذا حوض الحمام اوالاوانی اذاتنجس ۔
حمام کا حوض اور برتن ناپاك ہوجائیں تو ان کا بھی یہی حکم ہے۔ (ت)
شرح تنویر میں ہے :
حکم سائر المائعات کالماء فی الاصح ۔
اصح قول کے مطابق تمام مائع چیزوں کا حکم پانی کی طرح ہے۔ (ت)
شرح نقایہ میں ہے :
المائع کالماء والدبس وغیرھما طھارتہ اما باجرائہ مع جنسہ مختلطابہ کماروی عن محمد کمافی التمرتاشی الخ۔
مائع (بہنے والی چیز) پانی اور شیرے وغیرہ کی طہارت اس کی جنس کے ساتھ ملاکر جاری کرنے سے ہوتی ہے جیسا کہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے مروی ہے جیسے تمرتاشی میں ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
ھذا صریح بانہ یطھر بالاجراء نعم علی ماقدمناہ عن الخلاصۃ من تخصیص الجریان بان یکون اکثر من ذراع اوذراعین تیقید بذلك ھنالکنہ مخالف لاطلاقھم من طھارۃ الحوض بمجرد الجریان ۔
یہ اس بارے میں واضح ہے کہ وہ جاری کرنے سے پاك ہوجاتا ہے۔ ہاں جو کچھ ہم نے اس سے پہلے خلاصہ سے نقل کیا ہے کہ جریان ایك یا دوہاتھوں سے زیادہ بلند ہونے کے ساتھ خاص ہے۔ یہ قید وہاں تو صحیح ہے لیکن حوض کے بارے میں ان کے اطلاق کے خلاف ہے کیونکہ وہ محض جاری ہونے سے پاك ہوجاتا ہے (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار مطلب یطہر الحوض بمجرد الجریان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۰
بدائع الصنائع فصل فی بیان مایقع بہ التطہیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۷
درمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵
جامع الرموز فصل یطہر الشیئ الخ مکتبہ اسلامیہ قاموس گنبد ایران ۱ / ۹۵
ردالمحتار مطلب فی الحاق نحوالقصعۃ بالحوض مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۱
بدائع الصنائع فصل فی بیان مایقع بہ التطہیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۷
درمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵
جامع الرموز فصل یطہر الشیئ الخ مکتبہ اسلامیہ قاموس گنبد ایران ۱ / ۹۵
ردالمحتار مطلب فی الحاق نحوالقصعۃ بالحوض مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۱
خزانہ میں ہے :
اناء ان ماء احدھما طاھر والاخر نجس فصبا من مکان عال فاختلطا فی الھواء ثم نزلاطھر کلہ ۔
دو۲ برتن جن میں سے ایك کا پانی پاك ہو اور دوسرے کا ناپاك ہو بلند جگہ سے ان کا پانی گرایا جائے پھر فضا میں ان کا پانی مل کر گرے تو تمام پانی پاك ہوجائے گا۔ (ت)
ان مسائل کی تحقیق کامل حاشیہ علامہ فاضل شامی قدس سرہ السامی میں ہے
من شاء فلیرجع الیھا قلت واذاکانت النجاسۃ تزول بھذا فزوال الکراھۃ من باب اولی فانھا انما کانت فی سؤر السواکن لتوھم النجاسۃ کماحققہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر فمزیل المعلوم احق واحری بازالۃ الموھوم والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ جو چاہے اس کی طرف رجوع کرے قلت جب اس طریقے سے نجاست زائل ہوجاتی ہے تو کراہت کا زوال بطریق اولی ہوگا وہ گھروں میں رہنے والے جانوروں کے جھوٹے میں نجاست کے وہم سے ہوتی ہے جیسے محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں تحقیق فرمائی ہے پس جو چیز معلوم نجاست کو زائل کرتی ہے وہ موہوم نجاست کو زائل کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے اور زیادہ مناسب ہے۔ اللہسبحنہ وتعالی خوب جانتا ہے اور اس ذات بزرگ وبرتر کا علم زیادہ کامل اور مضبوط ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۰ : از اندور صدربازار چھاؤنی بانسری صاحب قریب مکان بابودین دیال مرسلہ میاں عبدالقادر صاحب یکم رجب ۱۳۰۸ھ
چہمی فرمایند علمائے ذوی الاقتدار ومفتیان ورع شعاردریں مسئلہ کہ مردے میگوید کہ ماکیان مذبوحہ رابدون برآوردن پروچاك شکمش درآب گرم انداختہ برون برآوردہ پرہاے برکندہ پزانندپس بعدم چاك شکم اوکہ آلایش بطنی اندرونش بودمردار گردیدہ ازیں باعث تشکیك است ورحلت وحرمت آں جانور مذبوجہ صورت ایں مسئلہ چگونہ است بیان فرمایند کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور متقی مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ ایك آدمی کہتا ہے کہ ذبح کی ہوئی مرغیوں کے پر اکھیڑنے اور پیٹ چاك کیے بغیر ان کو گرم پانی میں ڈالتے ہیں پھر باہر نکال کر پر اکھاڑ کر پکاتے چونکہ پیٹ چاك نہ کرنے کی وجہ سے پیٹ کی آلائش اندر ہی رہتی ہے لہذا وہ مردار ہوگیا۔ بنابریں اس مذبوحہ جانور کے حلال وحرام ہونے میں شك پیدا ہوگیا
اناء ان ماء احدھما طاھر والاخر نجس فصبا من مکان عال فاختلطا فی الھواء ثم نزلاطھر کلہ ۔
دو۲ برتن جن میں سے ایك کا پانی پاك ہو اور دوسرے کا ناپاك ہو بلند جگہ سے ان کا پانی گرایا جائے پھر فضا میں ان کا پانی مل کر گرے تو تمام پانی پاك ہوجائے گا۔ (ت)
ان مسائل کی تحقیق کامل حاشیہ علامہ فاضل شامی قدس سرہ السامی میں ہے
من شاء فلیرجع الیھا قلت واذاکانت النجاسۃ تزول بھذا فزوال الکراھۃ من باب اولی فانھا انما کانت فی سؤر السواکن لتوھم النجاسۃ کماحققہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر فمزیل المعلوم احق واحری بازالۃ الموھوم والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ جو چاہے اس کی طرف رجوع کرے قلت جب اس طریقے سے نجاست زائل ہوجاتی ہے تو کراہت کا زوال بطریق اولی ہوگا وہ گھروں میں رہنے والے جانوروں کے جھوٹے میں نجاست کے وہم سے ہوتی ہے جیسے محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں تحقیق فرمائی ہے پس جو چیز معلوم نجاست کو زائل کرتی ہے وہ موہوم نجاست کو زائل کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے اور زیادہ مناسب ہے۔ اللہسبحنہ وتعالی خوب جانتا ہے اور اس ذات بزرگ وبرتر کا علم زیادہ کامل اور مضبوط ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۰ : از اندور صدربازار چھاؤنی بانسری صاحب قریب مکان بابودین دیال مرسلہ میاں عبدالقادر صاحب یکم رجب ۱۳۰۸ھ
چہمی فرمایند علمائے ذوی الاقتدار ومفتیان ورع شعاردریں مسئلہ کہ مردے میگوید کہ ماکیان مذبوحہ رابدون برآوردن پروچاك شکمش درآب گرم انداختہ برون برآوردہ پرہاے برکندہ پزانندپس بعدم چاك شکم اوکہ آلایش بطنی اندرونش بودمردار گردیدہ ازیں باعث تشکیك است ورحلت وحرمت آں جانور مذبوجہ صورت ایں مسئلہ چگونہ است بیان فرمایند کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور متقی مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ ایك آدمی کہتا ہے کہ ذبح کی ہوئی مرغیوں کے پر اکھیڑنے اور پیٹ چاك کیے بغیر ان کو گرم پانی میں ڈالتے ہیں پھر باہر نکال کر پر اکھاڑ کر پکاتے چونکہ پیٹ چاك نہ کرنے کی وجہ سے پیٹ کی آلائش اندر ہی رہتی ہے لہذا وہ مردار ہوگیا۔ بنابریں اس مذبوحہ جانور کے حلال وحرام ہونے میں شك پیدا ہوگیا
حوالہ / References
ردالمحتار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۷
بسند عبارت کتب علماء رحمۃ اللہعلیہم اجمعین۔
اس مسئلہ کی کیا صورت ہوگی۔ علمائے کرام رحمہم اللہ تعالیکی کتابوں سے حوالہ دیتے ہوئے بیان فرمائیں۔ (ت)
الجواب :
پیداست کہ مراد اینان ازنیکار یختن ماکیان دریں آب نمی باشد ب بلالکہ ہمیں ایصال حرارتے لظاہر جلدش تامواضع بینحاے پرسست ونرم شود وبرکندن نیز آساں گردر اینقدر راتیزگرم آبی کہ بحدجوش وغلیان رسیدہ باشد ضرورنیست نہ درنگ بسیارے کہ باعث نفوذ آب وجزآں دراجزائے باطنہ لحم باشدبلکہ اگر ایں چنیں کنند مقصود ایشاں رازیاں دارد پس ہمیں قدر کہ درآب فاترے نہادند یادرجوشش آب مہلت بسیارے ندادند نجاست باجزائے گوشت سرایت نمی کندہمیں بسطوح ظاہرہ میر سد لہذا دریں صورت حکم مردار زنہارنتواں دادطہارت وحلت اور اہمیں بسندست کہ لحم را سہ باربہ آب شویند وفشرند وبکاربرند۔
آرے اگر ماکیان بحالت غلیان وفوران آب آں مقدار در آب مکث کرد کہ نجاست باطن بسبب جوش ودرنگ درقعر وعمق لحم نفود نمود آنگاہ برقول مفتی بہ حکم مردار پیدا کندکہ بہےیچ حیلہ او را طاہر وحلال نتواں ساخت۔
ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے اس عمل کا مقصد مرغیوں کو اس پانی میں پکانا نہیں ہے بلکہ یہی ان کی ظاہری جلد کو حرارت پہنچاتا ہے تاکہ پر کی جڑوں والی جگہ ڈھیلی اور نرم پڑ جائے اور پروں کا اکھاڑنا آسان ہوجائے۔ اس کام کیلئے اتنے گرم پانی کا ہونا ضروری نہیں جو جوش کی حالت کو پہنچ چکا ہو نہ ہی زیادہ ٹھہرنا جو پانی اور اس کے اجزا کا گوشت کے اندرونی اجزاء میں سرایت کرنے کا باعث بنے بلکہ اگر وہ ایسا کریں تو ان کے مقصد میں نقصان ہوگا۔ پس اتنے کام سے کہ نیم گرم پانی میں رکھیں یا ابلے ہوئے پانی میں زیادہ دیر نہ رکھیں نجاست گوشت کے اجزاء میں سرایت نہیں کرتی محض ظاہری سطح تك پہنچتی ہے لہذا اس صورت میں ہرگز مردار ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا اور اس کے پاك وحلال ہونے کیلئے یہی کافی سند ہے کہ گوشت کو تین بار پانی سے دھوئیں اور نچوڑیں اور کام میں لائیں۔ (ت)
البتہ اگر مرغیوں کو ابلتے ہوئے پانی میں اتنا وقت رکھیں کہ پانی کے جوش اور اس میں ٹھہرنے کی وجہ سے اندر کی نجاست گوشت کی گہرائیوں میں سرایت کرجائے تو اس وقت مفتی بہ قول کے مطابق وہ مردار ہوجائیں گی کیونکہ اسے کسی طریقے سے بھی پاك اور حلال نہیں کیا جاسکتا۔ (ت)
اس مسئلہ کی کیا صورت ہوگی۔ علمائے کرام رحمہم اللہ تعالیکی کتابوں سے حوالہ دیتے ہوئے بیان فرمائیں۔ (ت)
الجواب :
پیداست کہ مراد اینان ازنیکار یختن ماکیان دریں آب نمی باشد ب بلالکہ ہمیں ایصال حرارتے لظاہر جلدش تامواضع بینحاے پرسست ونرم شود وبرکندن نیز آساں گردر اینقدر راتیزگرم آبی کہ بحدجوش وغلیان رسیدہ باشد ضرورنیست نہ درنگ بسیارے کہ باعث نفوذ آب وجزآں دراجزائے باطنہ لحم باشدبلکہ اگر ایں چنیں کنند مقصود ایشاں رازیاں دارد پس ہمیں قدر کہ درآب فاترے نہادند یادرجوشش آب مہلت بسیارے ندادند نجاست باجزائے گوشت سرایت نمی کندہمیں بسطوح ظاہرہ میر سد لہذا دریں صورت حکم مردار زنہارنتواں دادطہارت وحلت اور اہمیں بسندست کہ لحم را سہ باربہ آب شویند وفشرند وبکاربرند۔
آرے اگر ماکیان بحالت غلیان وفوران آب آں مقدار در آب مکث کرد کہ نجاست باطن بسبب جوش ودرنگ درقعر وعمق لحم نفود نمود آنگاہ برقول مفتی بہ حکم مردار پیدا کندکہ بہےیچ حیلہ او را طاہر وحلال نتواں ساخت۔
ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے اس عمل کا مقصد مرغیوں کو اس پانی میں پکانا نہیں ہے بلکہ یہی ان کی ظاہری جلد کو حرارت پہنچاتا ہے تاکہ پر کی جڑوں والی جگہ ڈھیلی اور نرم پڑ جائے اور پروں کا اکھاڑنا آسان ہوجائے۔ اس کام کیلئے اتنے گرم پانی کا ہونا ضروری نہیں جو جوش کی حالت کو پہنچ چکا ہو نہ ہی زیادہ ٹھہرنا جو پانی اور اس کے اجزا کا گوشت کے اندرونی اجزاء میں سرایت کرنے کا باعث بنے بلکہ اگر وہ ایسا کریں تو ان کے مقصد میں نقصان ہوگا۔ پس اتنے کام سے کہ نیم گرم پانی میں رکھیں یا ابلے ہوئے پانی میں زیادہ دیر نہ رکھیں نجاست گوشت کے اجزاء میں سرایت نہیں کرتی محض ظاہری سطح تك پہنچتی ہے لہذا اس صورت میں ہرگز مردار ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا اور اس کے پاك وحلال ہونے کیلئے یہی کافی سند ہے کہ گوشت کو تین بار پانی سے دھوئیں اور نچوڑیں اور کام میں لائیں۔ (ت)
البتہ اگر مرغیوں کو ابلتے ہوئے پانی میں اتنا وقت رکھیں کہ پانی کے جوش اور اس میں ٹھہرنے کی وجہ سے اندر کی نجاست گوشت کی گہرائیوں میں سرایت کرجائے تو اس وقت مفتی بہ قول کے مطابق وہ مردار ہوجائیں گی کیونکہ اسے کسی طریقے سے بھی پاك اور حلال نہیں کیا جاسکتا۔ (ت)
امام محقق علی الاطلاق سیدی کمال الملۃ دالدین محمد بن الہمام قدسنا اللہتعالی بسرہ الکریم درفتح القدیر فرماید :
لوالقیت دجاجۃ حالۃ الغلیان فی الماء قبل ان یشق بطنھا لنتف اوکرش قبل الغسل لایطھر ابدا لکن علی قول ابی یوسف یجب ان یطھر علی قانون ماتقدم فی اللحم۔
قلت وھو سبحنہ اعلم ھو معلل بتشربھا النجاسۃ المتخللۃ فی اللحم بواسطۃ الغلیان وعلی ھذا اشتھران اللحم السمیط بمصر نجس لایطھر لکن العلۃ المذکورۃ لاتثبت حتی یصل الماء الی حد الغلیان ویمکث فیہ اللحم بعد ذلك زمانا یقع فی مثلہ التشرب والدخول فی باطن اللحم وکل من الامرین غیر متحقق فی السمیط الواقع حیث لایصل الماء الی حد الغلیان ولایترك فیہ الامقدار ماتصل الحرارۃ الی سطح الجلد فتنحل مسام السطح عن الصوف بل ذلك الترك یمنع من جودۃ انقلاع الشعر فالاولی فی السمیط ان یطھر بالغسل ثلثا لتنجس سطح الجلد بذلك الماء فانھم لایتحرسون فیہ عن المنجس۔ وقدقال شرف الائمۃ
محقق علی الاطلاق دین وملت میں کامل سیدی امام محمد بن ہمام اللہتعالی ان کی ذات والا صفات سے ہمیں برکت عطا فرمائے فتح القدیر میں فرماتے ہیں : اگر تم مرغی کے پیٹ کو چاك کرنے سے پہلے اسے دھوئے بغیر پر اکھاڑنے کے لئے ابلتے ہوئے پانی میں ڈال دی تو وہ کبھی بھی پاك نہ ہوگی البتہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے قول پر گوشت کے بارے میں جو قانون گزر چکا ہے اس کا پاك ہونا ثابت ہے۔ (ت)
قلت وھوسبحنہ اعلم اس مذکور بالا قول کی علت یہ ہے کہ پانی کے جوش کے باعث وہ نجاست گوشت کے اندر جذب ہوجاتی ہے اسی بنیاد پر مشہور ہے کہ مصر میں سمیط (بکری کا بچہ جس کے بال صاف کرکے اسے بھون لیا جائے) کا گوشت ناپاك شمار ہوتا ہے وہ پاك نہیں ہوتا لیکن یہ علت اس وقت تك ثابت نہیں ہوتی جب تك پانی جوش کی حد کو نہ پہنچ جائے اور اس کے بعد اس میں گوشت اتنی دیر تك نہ ٹھہرا رہے جس سے پانی گوشت کے اندر داخل ہوکر جذب ہوجائے۔ اور سمیط میں یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتیں کیونکہ نہ تو پانی جوش کی حد کو پہنچتا ہے اور نہ ہی اسے اس میں اتنی دیر چھوڑا جاتا ہے کہ حرارت جلد کی سطح کے نیچے پہنچ جائے اور بالوں کے نیچے مساموں میں داخل ہوجائے بلکہ اس کو اس قدر (پانی میں) چھوڑنا اچھی طرح بال اکھاڑنے سے بھی مانع ہے پس سمیط کے بارے میں بہترین بات یہ ہے کہ چونکہ اس نجس پانی سے جلد کا ظاہر ناپاك ہوگیا لہذا تین بار
لوالقیت دجاجۃ حالۃ الغلیان فی الماء قبل ان یشق بطنھا لنتف اوکرش قبل الغسل لایطھر ابدا لکن علی قول ابی یوسف یجب ان یطھر علی قانون ماتقدم فی اللحم۔
قلت وھو سبحنہ اعلم ھو معلل بتشربھا النجاسۃ المتخللۃ فی اللحم بواسطۃ الغلیان وعلی ھذا اشتھران اللحم السمیط بمصر نجس لایطھر لکن العلۃ المذکورۃ لاتثبت حتی یصل الماء الی حد الغلیان ویمکث فیہ اللحم بعد ذلك زمانا یقع فی مثلہ التشرب والدخول فی باطن اللحم وکل من الامرین غیر متحقق فی السمیط الواقع حیث لایصل الماء الی حد الغلیان ولایترك فیہ الامقدار ماتصل الحرارۃ الی سطح الجلد فتنحل مسام السطح عن الصوف بل ذلك الترك یمنع من جودۃ انقلاع الشعر فالاولی فی السمیط ان یطھر بالغسل ثلثا لتنجس سطح الجلد بذلك الماء فانھم لایتحرسون فیہ عن المنجس۔ وقدقال شرف الائمۃ
محقق علی الاطلاق دین وملت میں کامل سیدی امام محمد بن ہمام اللہتعالی ان کی ذات والا صفات سے ہمیں برکت عطا فرمائے فتح القدیر میں فرماتے ہیں : اگر تم مرغی کے پیٹ کو چاك کرنے سے پہلے اسے دھوئے بغیر پر اکھاڑنے کے لئے ابلتے ہوئے پانی میں ڈال دی تو وہ کبھی بھی پاك نہ ہوگی البتہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے قول پر گوشت کے بارے میں جو قانون گزر چکا ہے اس کا پاك ہونا ثابت ہے۔ (ت)
قلت وھوسبحنہ اعلم اس مذکور بالا قول کی علت یہ ہے کہ پانی کے جوش کے باعث وہ نجاست گوشت کے اندر جذب ہوجاتی ہے اسی بنیاد پر مشہور ہے کہ مصر میں سمیط (بکری کا بچہ جس کے بال صاف کرکے اسے بھون لیا جائے) کا گوشت ناپاك شمار ہوتا ہے وہ پاك نہیں ہوتا لیکن یہ علت اس وقت تك ثابت نہیں ہوتی جب تك پانی جوش کی حد کو نہ پہنچ جائے اور اس کے بعد اس میں گوشت اتنی دیر تك نہ ٹھہرا رہے جس سے پانی گوشت کے اندر داخل ہوکر جذب ہوجائے۔ اور سمیط میں یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتیں کیونکہ نہ تو پانی جوش کی حد کو پہنچتا ہے اور نہ ہی اسے اس میں اتنی دیر چھوڑا جاتا ہے کہ حرارت جلد کی سطح کے نیچے پہنچ جائے اور بالوں کے نیچے مساموں میں داخل ہوجائے بلکہ اس کو اس قدر (پانی میں) چھوڑنا اچھی طرح بال اکھاڑنے سے بھی مانع ہے پس سمیط کے بارے میں بہترین بات یہ ہے کہ چونکہ اس نجس پانی سے جلد کا ظاہر ناپاك ہوگیا لہذا تین بار
بھذا فی الدجاجۃ والکرش والسمیط مثلھما اھ۔
وقال قدس سرہ قبل ذلك ناقلا عن التجنیس طبخت الحنطۃ فی الخمر قال ابویوسف تطبخ ثلثا بالماء وتجفف کل مرۃ وکذا اللحم وقال ابوحنیفۃ لاتطھر ابدا وبہ یفتی اھ قال والکل عند محمد لاتطھر ابدا ۔
وازینجا بوضوح پیوست کہ ہرکہ ایں کارخواہدا ولے واحوط درحقش آنست کہ اولا ماکیان راشکم چاك وازامعا پاك کندوخون مسفوح کہ بمحل ذبح منجمد مے شود شوید پس ازاں بہرآبے کہ خواہد تہدتا ازنجس شدن لحم ایمن ماند سید علامہ احمد طحطاوی درحاشیہ درمختارفرمودہ فالاولی قبل وضعھا فی الماء المسخن ان ےیخرج مافی جوفھا ویغسل محل الذبح مما علیہ من دم مسفوح تجمد اھ والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
دھونے سے پاك ہوجائے گا کیونکہ وہ لوگ ناپاك کرنے والی چیز سے پرہیز نہیں کرتے۔ شرف الائمہ نے مرغی اور کرش (جگالی کرنے والے جانوروں کی اوجھڑی) کے بارے میں یہی بات فرمائی اور سمیط ان دونوں کی مثل ہے الخ۔
صاحب فتح القدیر قدس سرہ نے اسے پہلے تجنیس سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ گندم شراب میں پکائی گئی اس کے بارے میں امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں اسے تین بار پانی میں پکایا جائے اور ہر بار خشك کیا جائے۔ گوشت کا بھی یہی حکم ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں وہ کبھی پاك نہیں ہوگی اور اسی پر فتوی ہے اھ اور فرمایا یہ سب کچھ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك پاك نہیں ہوتا۔ (ت)
یہاں سے ظاہر ہوا کہ جو شخص یہ کام کرنا چاہے اس کیلئے بہتر اور زیادہ محتاط یہ ہے کہ پہلے مرغی کا پیٹ چاك کرکے اسے آنتوں سے پاك کرے اور بہنے والے خون کو جو گردن وغیرہ پر جم جاتا ہے دھولے اس کے بعد جس پانی میں چاہے رکھے تاکہ گوشت کے ناپاك ہونے سے مطمئن ہو۔ علامہ احمد طحطاوی نے درمختار کے حاشیہ میں فرمایا بہتر یہ ہے کہ گرم پانی میں رکھنے سے پہلے جو کچھ اس کے پیٹ میں ہے نکال لیا جائے اور ذبح کے مقام سے جما ہوا خون مسفوح دھولیا جائے اھ۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۱ : از شہرکہنہ۴۔ ذیقعدہ ۱۳۰۸
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پڑیا کے رنگ ہوئے کپڑے سے نماز درست ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
وقال قدس سرہ قبل ذلك ناقلا عن التجنیس طبخت الحنطۃ فی الخمر قال ابویوسف تطبخ ثلثا بالماء وتجفف کل مرۃ وکذا اللحم وقال ابوحنیفۃ لاتطھر ابدا وبہ یفتی اھ قال والکل عند محمد لاتطھر ابدا ۔
وازینجا بوضوح پیوست کہ ہرکہ ایں کارخواہدا ولے واحوط درحقش آنست کہ اولا ماکیان راشکم چاك وازامعا پاك کندوخون مسفوح کہ بمحل ذبح منجمد مے شود شوید پس ازاں بہرآبے کہ خواہد تہدتا ازنجس شدن لحم ایمن ماند سید علامہ احمد طحطاوی درحاشیہ درمختارفرمودہ فالاولی قبل وضعھا فی الماء المسخن ان ےیخرج مافی جوفھا ویغسل محل الذبح مما علیہ من دم مسفوح تجمد اھ والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
دھونے سے پاك ہوجائے گا کیونکہ وہ لوگ ناپاك کرنے والی چیز سے پرہیز نہیں کرتے۔ شرف الائمہ نے مرغی اور کرش (جگالی کرنے والے جانوروں کی اوجھڑی) کے بارے میں یہی بات فرمائی اور سمیط ان دونوں کی مثل ہے الخ۔
صاحب فتح القدیر قدس سرہ نے اسے پہلے تجنیس سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ گندم شراب میں پکائی گئی اس کے بارے میں امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں اسے تین بار پانی میں پکایا جائے اور ہر بار خشك کیا جائے۔ گوشت کا بھی یہی حکم ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں وہ کبھی پاك نہیں ہوگی اور اسی پر فتوی ہے اھ اور فرمایا یہ سب کچھ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك پاك نہیں ہوتا۔ (ت)
یہاں سے ظاہر ہوا کہ جو شخص یہ کام کرنا چاہے اس کیلئے بہتر اور زیادہ محتاط یہ ہے کہ پہلے مرغی کا پیٹ چاك کرکے اسے آنتوں سے پاك کرے اور بہنے والے خون کو جو گردن وغیرہ پر جم جاتا ہے دھولے اس کے بعد جس پانی میں چاہے رکھے تاکہ گوشت کے ناپاك ہونے سے مطمئن ہو۔ علامہ احمد طحطاوی نے درمختار کے حاشیہ میں فرمایا بہتر یہ ہے کہ گرم پانی میں رکھنے سے پہلے جو کچھ اس کے پیٹ میں ہے نکال لیا جائے اور ذبح کے مقام سے جما ہوا خون مسفوح دھولیا جائے اھ۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۱ : از شہرکہنہ۴۔ ذیقعدہ ۱۳۰۸
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پڑیا کے رنگ ہوئے کپڑے سے نماز درست ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
حوالہ / References
فتح القدیر آخر باب الانجاس وتطہیرھا مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۸۶
فتح القدیر آخر باب الانجاس وتطہیرھا مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۸۵
طحطاوی حاشیہ درمختار آخر باب الانجاس دار المعرفۃ بیروت لبنان ۱ / ۱۶۴
فتح القدیر آخر باب الانجاس وتطہیرھا مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۸۵
طحطاوی حاشیہ درمختار آخر باب الانجاس دار المعرفۃ بیروت لبنان ۱ / ۱۶۴
الجواب :
بادامی رنگ کی پڑیا میں تو کوئی مضائقہ نہیں اور رنگت کی پڑیا سے ورع کے لئے بچنا اولی ہے پھر بھی اس سے نماز نہ ہونے پر فتوی دینا آج کل سخت حرج کا باعث ہے۔
والحرج مدفوع بالنص وعموم البلوی من موجبات التخفیف لاسیما فی مسائل الطھارۃ والنجاسۃ۔
نص سے ثابت ہے کہ حرج دور کیا گیا اور عموم بلوی اسباب تخفیف سے ہے خصوصا مسائل طہارت اور نجاست میں۔ (ت)
لہذا اس مسئلہ میں مذہب حضرت امام اعظم وامام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہما سے عدول کی کوئی وجہ نہیں ہمارے ان اماموں کے مذہب پر پڑیا کی رنگت سے نماز بلاشبہ جائز ہے۔ فقیر اس زمانے میں اسی پر فتوی دینا پسند کرتا ہے۔
وقدذکرنا علی ھذہ المسئلۃ کلاما اکثر من ھذا فی فتاونا وسنحقق الامر بمالامزید علیہ ان ساعد التوفیق من الله سبحنہ وتعالی والله تعالی اعلم۔
ہم نے اپنے فتاوی میں اسی مسئلہ پر اس سے بھی زیادہ بحث کی ہے اور اللہتعالی کی طرف سے توفیق معاون ہوئی تو ہم اس سلسلے میں ایسی تحقیق کریں گے جس کے بعد مزید گنجائش نہیں رہے گی۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۲ : مرسلہ مرزا باقی بیگ صاحب رام پوری ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرغی کی قے پاك ہے یا ناپاک اور جس شے کی بیٹ پلید ہے کیا اس کی قے بھی پلید ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
ہر جانور کی قے اس کی بیٹ کا حکم رکھتی ہے جس کی بیٹ پاك ہے جیسے چڑیا یا کبوتر اس کی قے بھی پاك ہے۔ اور جس کی نجاست خفیفہ جیسے باز یا کوا اس کی قے بھی نجاست خفیفہ۔ اور جس کی نجاست غلیظہ ہے جیسے بط یا مرغی اس کی قے بھی نجاست غلیظہ۔ اور قے سے مراد وہ کھانا پانی وغیرہ ہے جو پوٹے سے باہر نکلے کہ جس جانور کی بیٹ ناپاك ہے اس کا پوٹا معدن نجاسات ہے پوٹے سے جو چیز باہر آئے گی خود نجس ہوگی یا نجس سے مل کر آئے گی بہرحال مثل بیٹ نجاست رکھے گی خفیفہ میں خفیفہ غلیظہ میں غلیظہ بخلاف اس چیز کے جو ابھی پوٹے تك نہ پہنچی تھی کہ نکل آئی۔ مثلا مرغی نے پانی پیا ابھی گلے ہی میں تھا کہ اچھو لگا اور نکل گیا
بادامی رنگ کی پڑیا میں تو کوئی مضائقہ نہیں اور رنگت کی پڑیا سے ورع کے لئے بچنا اولی ہے پھر بھی اس سے نماز نہ ہونے پر فتوی دینا آج کل سخت حرج کا باعث ہے۔
والحرج مدفوع بالنص وعموم البلوی من موجبات التخفیف لاسیما فی مسائل الطھارۃ والنجاسۃ۔
نص سے ثابت ہے کہ حرج دور کیا گیا اور عموم بلوی اسباب تخفیف سے ہے خصوصا مسائل طہارت اور نجاست میں۔ (ت)
لہذا اس مسئلہ میں مذہب حضرت امام اعظم وامام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہما سے عدول کی کوئی وجہ نہیں ہمارے ان اماموں کے مذہب پر پڑیا کی رنگت سے نماز بلاشبہ جائز ہے۔ فقیر اس زمانے میں اسی پر فتوی دینا پسند کرتا ہے۔
وقدذکرنا علی ھذہ المسئلۃ کلاما اکثر من ھذا فی فتاونا وسنحقق الامر بمالامزید علیہ ان ساعد التوفیق من الله سبحنہ وتعالی والله تعالی اعلم۔
ہم نے اپنے فتاوی میں اسی مسئلہ پر اس سے بھی زیادہ بحث کی ہے اور اللہتعالی کی طرف سے توفیق معاون ہوئی تو ہم اس سلسلے میں ایسی تحقیق کریں گے جس کے بعد مزید گنجائش نہیں رہے گی۔ والله تعالی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۲ : مرسلہ مرزا باقی بیگ صاحب رام پوری ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرغی کی قے پاك ہے یا ناپاک اور جس شے کی بیٹ پلید ہے کیا اس کی قے بھی پلید ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
ہر جانور کی قے اس کی بیٹ کا حکم رکھتی ہے جس کی بیٹ پاك ہے جیسے چڑیا یا کبوتر اس کی قے بھی پاك ہے۔ اور جس کی نجاست خفیفہ جیسے باز یا کوا اس کی قے بھی نجاست خفیفہ۔ اور جس کی نجاست غلیظہ ہے جیسے بط یا مرغی اس کی قے بھی نجاست غلیظہ۔ اور قے سے مراد وہ کھانا پانی وغیرہ ہے جو پوٹے سے باہر نکلے کہ جس جانور کی بیٹ ناپاك ہے اس کا پوٹا معدن نجاسات ہے پوٹے سے جو چیز باہر آئے گی خود نجس ہوگی یا نجس سے مل کر آئے گی بہرحال مثل بیٹ نجاست رکھے گی خفیفہ میں خفیفہ غلیظہ میں غلیظہ بخلاف اس چیز کے جو ابھی پوٹے تك نہ پہنچی تھی کہ نکل آئی۔ مثلا مرغی نے پانی پیا ابھی گلے ہی میں تھا کہ اچھو لگا اور نکل گیا
یہ پانی پیٹ کا حکم نہ رکھے گا لانہ مااستحال الی نجاسۃ ولالاقی محلھا (کیونکہ اس نے نجاست میں حلول نہیں کیا اور نہ ہی نجاست کی جگہ سے ملا۔ ت) بلکہ اسے سؤر یعنی جھوٹے کا حکم دیا جائے گا کہ اس کے منہ سے مل کر آیا ہے اس جانور کا جھوٹا نجاست غلیظہ یا خفیفہ یا مشکوك یا مکروہ یا طاہر جیسا ہوگا ویسا ہی اس چیز کو حکم دیا جائے گا جو معدہ تك پہنچنے سے پہلے باہر آئی جو مرغی چھوٹی پھرے اس کا جھوٹا مکروہ ہے یہ پانی بھی مکروہ ہوگا اور پوٹے میں پہنچ کر آتا تو نجاست غلیظہ ہوتا۔
اقول : اتقن ھذا التحقیق النفیس فلعلك لاتجدہ مصرحابہ فی متداولات الاسفار وانما استنبطناہ بحمدالله من کلمات العلماء استنباطا واضحا کالصبح حین الاسفار۔
اقول : اس نفیس تحقیق کو محفوظ کرلو شاید تم اسے بڑی کتب میں بھی بالتصریح نہ پاؤ بحمداللہتعالی ہم نے اسے علماء کرام کے کلام سے روز روشن کی طرح واضح استنباط کیا ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
مرارۃ کل حیوان کبولہ وجرتہ کزب لہ ۔
ہر جانور کا پتا اس کے پیشاب کی طرح اور اس کی جگالی گوبر کے حکم میں ہے۔ (ت)
کتاب التجنیس والمزیر میں ہے :
لانہ واراہ جوفہ ۔
(کیونکہ اس نے اسے پیٹ میں چھپایا۔ ت)
درمختار میں ہے :
ینقضہ قیئ ملا ئفاہ من مرۃ اوطعام اوماء اذا وصل الی معدتہ وان لم یستقر وھو نجس مغلظ ولومن صبی ساعۃ ارتضاعہ وھو الصحیح لمخالطۃ النجاسۃ ولوھو فی المرئ فلانقض اتفاقا اھ ملخصا۔
صفرا نیز کھانے یا پانی کی قے منہ بھر وضو کو توڑ دیتی ہے جب وہ معدے تك پہنچے اگرچہ وہاں نہ ٹھہرے اور وہ نجاست غلیظہ ہے اگرچہ دودھ پیتے بچے کی ہو اور یہی صحیح ہے کیونکہ وہ نجاست سے مل جاتی ہے اور اگر وہ نرخرے میں رہے تو بالاتفاق وضو نہیں ٹوٹے گا اھ ملخصا۔ (ت)
اقول : اتقن ھذا التحقیق النفیس فلعلك لاتجدہ مصرحابہ فی متداولات الاسفار وانما استنبطناہ بحمدالله من کلمات العلماء استنباطا واضحا کالصبح حین الاسفار۔
اقول : اس نفیس تحقیق کو محفوظ کرلو شاید تم اسے بڑی کتب میں بھی بالتصریح نہ پاؤ بحمداللہتعالی ہم نے اسے علماء کرام کے کلام سے روز روشن کی طرح واضح استنباط کیا ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
مرارۃ کل حیوان کبولہ وجرتہ کزب لہ ۔
ہر جانور کا پتا اس کے پیشاب کی طرح اور اس کی جگالی گوبر کے حکم میں ہے۔ (ت)
کتاب التجنیس والمزیر میں ہے :
لانہ واراہ جوفہ ۔
(کیونکہ اس نے اسے پیٹ میں چھپایا۔ ت)
درمختار میں ہے :
ینقضہ قیئ ملا ئفاہ من مرۃ اوطعام اوماء اذا وصل الی معدتہ وان لم یستقر وھو نجس مغلظ ولومن صبی ساعۃ ارتضاعہ وھو الصحیح لمخالطۃ النجاسۃ ولوھو فی المرئ فلانقض اتفاقا اھ ملخصا۔
صفرا نیز کھانے یا پانی کی قے منہ بھر وضو کو توڑ دیتی ہے جب وہ معدے تك پہنچے اگرچہ وہاں نہ ٹھہرے اور وہ نجاست غلیظہ ہے اگرچہ دودھ پیتے بچے کی ہو اور یہی صحیح ہے کیونکہ وہ نجاست سے مل جاتی ہے اور اگر وہ نرخرے میں رہے تو بالاتفاق وضو نہیں ٹوٹے گا اھ ملخصا۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الاستنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۷
ردالمحتار باب الاستنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۳۳
درمختار نواقض الوضوء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵
ردالمحتار باب الاستنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۳۳
درمختار نواقض الوضوء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵
وقدعلم من لہ ادنی فھم وجہ الاستنباط فی المسألتین واعلم انابیننا الکلام علی ظاھر الروایۃ المصحح المرجح الواضح الوجہ القوی الدلیل الواجب التعویل وان کان ھھنا فی بعض الصور کلام للکمال اجبنا عــہ عنہ علی ھامشہ والحمدلله حمدا کثیرا والله تعالی اعلم۔
جس شخص کو ادنی سمجھ بھی حاصل ہے وہ دونوں مسئلوں میں استنباط کی وجہ جان سکتا ہے جان لوکہ ہمارے کلام کی بنیاد ظاہر روایت ہے جس کی تصحیح کی گئی اسے ترجیح دی گئی وہ نہایت واضح ہے اس کی دلیل قوی ہے اور اس پر اعتماد واجب ہے۔ اگرچہ اس جگہ بعض صورتوں میں کمال نے کلام کیا ہے جس کا جواب ہم نے اس کے حاشیے پر دیا ہے۔ اللہتعالی کے لئے بہت زیادہ حمد ہے اور اللہتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۳ : مرسلہ مرزاباقی بیگ صاحب رام پوری۲۰۔ ذیقعدہ ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نجس چیز ایك مرتبہ میں پاك ہوگی بغیر مبالغہ کے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
نجاست اگر مرئیہ ہو یعنی خشك ہونے کے بعد بھی نظر آئے تو اس کی تطہیر میں عدد اصلا شرط نہیں بلکہ زوال عین درکار ہے خواہ ایك بار میں ہوجائے یا دس بار میں مگر بقائے اثر بقائے عین پر دلیل تو زوال اثر مثل رنگ وبو ضرور لیکن وہ اثر جس کا زوال دشوار ہو معاف کیا جائےگا صابون یا گرم پانی وغیرہ سے چھڑانے کی حاجت نہیں۔ درمختار میں ہے :
یطھر محل نجاسۃ مرئیۃ بعد جفاف بزوال عینھا واثرھا ولوبمرۃ اوبمافوق ثلث فی الاصح ولایضربقاء اثرکلون وریح لازم فلایکلف فی ازالتہ الی ماء حار اوصابون ونحوہ اھ ملخصا۔
اصح قول کے مطابق نظر آنے والی نجاست کی جگہ سے عین نجاست اور اس کا اثر دور کیا جائے خواہ ایك مرتبہ سے یا تین۳ سے بھی زیادہ مرتبہ سے دور ہو تو خشك ہونے کے بعد پاك ہوجاتی ہے اور ایسا اثر جو اس کے لئے لازم ہوچکا ہے (یعنی دور نہیں ہوتا) مثلا رنگ اور بو تو اسے گرم پانی یا صابن وغیرہ کے ساتھ دور کرنے کی تکلیف نہیں دی جائے گی اھ ملخصا (ت)
عـــہ وقدتقدم فی المسألۃ العاشرۃ باب الوضوء (م)
اس کا جواب باب الوضوء کے دسویں مسئلہ میں گزرچکا ہے۔ (ت)
جس شخص کو ادنی سمجھ بھی حاصل ہے وہ دونوں مسئلوں میں استنباط کی وجہ جان سکتا ہے جان لوکہ ہمارے کلام کی بنیاد ظاہر روایت ہے جس کی تصحیح کی گئی اسے ترجیح دی گئی وہ نہایت واضح ہے اس کی دلیل قوی ہے اور اس پر اعتماد واجب ہے۔ اگرچہ اس جگہ بعض صورتوں میں کمال نے کلام کیا ہے جس کا جواب ہم نے اس کے حاشیے پر دیا ہے۔ اللہتعالی کے لئے بہت زیادہ حمد ہے اور اللہتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۳ : مرسلہ مرزاباقی بیگ صاحب رام پوری۲۰۔ ذیقعدہ ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نجس چیز ایك مرتبہ میں پاك ہوگی بغیر مبالغہ کے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
نجاست اگر مرئیہ ہو یعنی خشك ہونے کے بعد بھی نظر آئے تو اس کی تطہیر میں عدد اصلا شرط نہیں بلکہ زوال عین درکار ہے خواہ ایك بار میں ہوجائے یا دس بار میں مگر بقائے اثر بقائے عین پر دلیل تو زوال اثر مثل رنگ وبو ضرور لیکن وہ اثر جس کا زوال دشوار ہو معاف کیا جائےگا صابون یا گرم پانی وغیرہ سے چھڑانے کی حاجت نہیں۔ درمختار میں ہے :
یطھر محل نجاسۃ مرئیۃ بعد جفاف بزوال عینھا واثرھا ولوبمرۃ اوبمافوق ثلث فی الاصح ولایضربقاء اثرکلون وریح لازم فلایکلف فی ازالتہ الی ماء حار اوصابون ونحوہ اھ ملخصا۔
اصح قول کے مطابق نظر آنے والی نجاست کی جگہ سے عین نجاست اور اس کا اثر دور کیا جائے خواہ ایك مرتبہ سے یا تین۳ سے بھی زیادہ مرتبہ سے دور ہو تو خشك ہونے کے بعد پاك ہوجاتی ہے اور ایسا اثر جو اس کے لئے لازم ہوچکا ہے (یعنی دور نہیں ہوتا) مثلا رنگ اور بو تو اسے گرم پانی یا صابن وغیرہ کے ساتھ دور کرنے کی تکلیف نہیں دی جائے گی اھ ملخصا (ت)
عـــہ وقدتقدم فی المسألۃ العاشرۃ باب الوضوء (م)
اس کا جواب باب الوضوء کے دسویں مسئلہ میں گزرچکا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶
اور غیر مرئیہ کو سوکھنے کے بعد نہ دکھائی دے اس میں علماء کے دو قول ہیں ایك قول پر غلبہ ظن کا اعتبار ہے یعنی جب گمان غالب ہوجائے کہ اب نجاست نکل گئی پاك ہوگیا اگرچہ یہ غلبہ ظن ایك ہی بار میں حاصل ہو یا زائد میں۔ اور دوسرے قول پر تثلیث یعنی تین بار دھونا شرط ہے ہر بار اتنا نچوڑیں کہ بوند نہ ٹپکے اور نچوڑنے کی چیز نہ ہو تو ہر بار خشك ہونے کے بعد دوبارہ دھوئیں اس قول پر اگر یوں تثلیث نہ کرے گا طہارت نہ ہوگی۔ ایك جماعت علماء نے فرمایا یہ طریقہ خاصل اہل وسواس کے لئے ہے جسے وسوسہ نہ ہو وہ اسی غلبہ ظن پر عمل کرے ان علماء کا قصد یہ ہے کہ دونوں قولوں کو ہر دو حالت وسوسہ وعدم وسوسہ پر تقسیم کرکے نزاع اٹھادیں۔
اقول : الا ان ھذا التطبیق لایکاد یلائم ظاھر اطلاق عامۃ المتون فان الموسوسین فی الناس اقل قلیل بالنسبت الی غیرھم واطلاق الحکم المختص بالغالب الکثیر غیر بعید ولامستنکر بخلاف عکسہ کمالایخفی۔
اقول : مگر یہ تطبیق عام متون کے ظاہر اطلاق کے مناسب معلوم نہیں ہوتی کیونکہ وسوسے والے لوگ دوسروں کی نسبت بہت کم ہیں اور حکم کا اطلاق جو غالب اکثریت سے مختص ہے وہ (عقل سے) نہ تو بعید ہے اور نہ ہی غیر معروف بخلاف اس کے عکس کے جیسا کہ مخفی نہیں۔ (ت)
دوسری جماعت ائمہ نے فرمایا قول ثانی قول اول کی تحدید وتقدیر ہے یعنی یہ غلبہ ظن غالبا تین بار میں حاصل ہوتا ہے۔
ای وانما العبرۃ للغالب وعلیہ تبنی الاحکام ویقطع النظر عن القلیل النادر۔
یعنی اعتبار غالب کا ہوتا ہے اور احکام کی بنیاد بھی یہی ہے قلیل وکمیاب سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ (ت)
اس تقدیر پر دونوں قول قول ثانی کی طرف عود کرآئیں گے ہدایہ وکافی ودرر وغنیہ وتنویر وغیرہا میں اسی طرف میل فرمایا اور بیشك وہ بہت قرین قیاس ہے بالجملہ دنوں قول نہایت باقوت ہیں اور دونوں کو ظاہر الروایۃ کہا گیا اور دونوں طرف تصحیح وترجیح۔
اقول : مگر قول ثانی عامہ متون میں مذکور اور غالبا اسی میں احتیاط زیادہ اور اس میں انضباط ازید اور آج کل اگر بعض لوگ موسوس ہیں تو بہتیرے مداہن وبے پروا ہیں انہیں ایك ایسے غیر منضبط بات بتانے میں ان کی بے پرواہی کی مطلق العنانی ہے لہذا قول ثانی ہی پر عمل انسب والیق ہے اور ہدایہ وکافی کی توفیق حسن پر تو قول ثانی کے سوا دوسرا قول ہی نہیں۔ بہرحال ایك بار دھونے سے جبکہ زوال نجاست کا ظن غالب نہ ہو اور غالبا بلامبالغہ سرسری طور پر ایك دفعہ دھونے میں ایسا ہی ہوگا تو اس صورت میں بالاتفاق حاصل نہ ہوگی۔
اقول : الا ان ھذا التطبیق لایکاد یلائم ظاھر اطلاق عامۃ المتون فان الموسوسین فی الناس اقل قلیل بالنسبت الی غیرھم واطلاق الحکم المختص بالغالب الکثیر غیر بعید ولامستنکر بخلاف عکسہ کمالایخفی۔
اقول : مگر یہ تطبیق عام متون کے ظاہر اطلاق کے مناسب معلوم نہیں ہوتی کیونکہ وسوسے والے لوگ دوسروں کی نسبت بہت کم ہیں اور حکم کا اطلاق جو غالب اکثریت سے مختص ہے وہ (عقل سے) نہ تو بعید ہے اور نہ ہی غیر معروف بخلاف اس کے عکس کے جیسا کہ مخفی نہیں۔ (ت)
دوسری جماعت ائمہ نے فرمایا قول ثانی قول اول کی تحدید وتقدیر ہے یعنی یہ غلبہ ظن غالبا تین بار میں حاصل ہوتا ہے۔
ای وانما العبرۃ للغالب وعلیہ تبنی الاحکام ویقطع النظر عن القلیل النادر۔
یعنی اعتبار غالب کا ہوتا ہے اور احکام کی بنیاد بھی یہی ہے قلیل وکمیاب سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔ (ت)
اس تقدیر پر دونوں قول قول ثانی کی طرف عود کرآئیں گے ہدایہ وکافی ودرر وغنیہ وتنویر وغیرہا میں اسی طرف میل فرمایا اور بیشك وہ بہت قرین قیاس ہے بالجملہ دنوں قول نہایت باقوت ہیں اور دونوں کو ظاہر الروایۃ کہا گیا اور دونوں طرف تصحیح وترجیح۔
اقول : مگر قول ثانی عامہ متون میں مذکور اور غالبا اسی میں احتیاط زیادہ اور اس میں انضباط ازید اور آج کل اگر بعض لوگ موسوس ہیں تو بہتیرے مداہن وبے پروا ہیں انہیں ایك ایسے غیر منضبط بات بتانے میں ان کی بے پرواہی کی مطلق العنانی ہے لہذا قول ثانی ہی پر عمل انسب والیق ہے اور ہدایہ وکافی کی توفیق حسن پر تو قول ثانی کے سوا دوسرا قول ہی نہیں۔ بہرحال ایك بار دھونے سے جبکہ زوال نجاست کا ظن غالب نہ ہو اور غالبا بلامبالغہ سرسری طور پر ایك دفعہ دھونے میں ایسا ہی ہوگا تو اس صورت میں بالاتفاق حاصل نہ ہوگی۔
درمختار میں ہے :
یطھر محل غیر مرئیۃ بغلبۃ ظن غاسل لومکلفا والا فمستعمل طھارۃ محلھا بلاعدد بہ یفتی وقدر لموسوس بغسل وعصر ثلثا فیما ینعصر مبالغا بحیث لایقطر وبتثلیث جفاف فی غیر منعصر اھ ملخصا۔
جس جگہ نجاست دکھائی نہ دیتی ہو اگر دھونے والے کو غالب گمان حاصل ہوجائے تو پاك ہوجاتی ہے ورنہ اس جگہ کی طہارت کے لئے گنتی کے بغیر پانی استعمال کیا جائے اسی پر فتوی ہے اور وسوسہ والے کے لئے جس چیز کو نچوڑنا ممکن ہے اسے تین بار دھونا اور یوں نچوڑنا کہ اب قطرے نہ گریں اور جس چیز کو نچوڑنا ممکن نہیں اس کو تین بار خشك کرنا مقرر ہے۔ اھ ملخصا (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ بلاعددبہ یفتی کذافی المنیۃ وظاھرہ انہ لوغلب علی ظنہ زوالھا بمرۃ اجزأہ وبہ صرح الامام الکرخی فی مختصرہ واختارہ الامام الاسبیجابی وفی غایۃ البیان التقدیر بالثلث ظاھر الروایۃ وفی السراج اعتبار غلبۃ الظن مختار العراقیین والتقدیر بالثلث مختار البخاریین والظاھر الاول ان لم یکن موسوسا وان کان موسوسا فالثانی اھ بحرقال فی النھر وھو توفیق حسن اھ وعلیہ جری صاحب المختار فانہ اعتبر غلبۃ الظن الافی الموسوس وھومامشی علیہ المصنف واستحسنہ فی الحلیۃ وقال وقدمشی الجم الغفیر علیہ فی الاستنجاء۔
اقول : وھذا مبنی علی تحقق الخلاف
اس (صاحب درمختار) کا قول “ بلاعدد “ (گنتی شرط نہیں) پر فتوی ہے منیہ میں بھی اسی طرح ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ایك مرتبہ دھونے سے نجاست کے زائل ہونے کا غالب گمان ہوجائے تو یہی کافی ہے۔ امام کرخی نے اپنی مختصر میں اسی کی تصریح فرمائی اور امام اسبیجابی نے بھی اسے ہی اختیار کیا اور غایۃ البیان میں ہے کہ تین بار کا مقرر کرنا ظاہر روایت ہے۔ سراج میں ہے کہ عراقیوں کے نزدیك غلبہ ظن کا اعتبار مختار ہے جبکہ تین بار کا اندازہ بخارا والوں کا مختار ہے۔ اور پہلا ظاہر ہے اگر وسوسے والا نہ ہو اگر وسوسہ کرنے والا ہو تو دوسری بات ظاہر ہے اھ (بحرالرائق انتہی) نہر الفائق میں فرمایا کہ یہ اچھی تطبیق ہے اھ۔ صاحب مختار نے بھی یہی راستہ اختیار کیا کہ انہوں نے وسوسہ نہ کرنے والوں کے بارے میں اسی کا اعتبار کیا ہے مگر وسوسہ کرنے والے کے بارے میں ان کا وہی موقف جس پر مصنف (صاحب درمختار) چلے ہیں اور حلیہ نے بھی اسی کو مستحسن قرار دیا ہے اور فرمایا استنجاء کے بارے میں جم غفیر کا یہی مسلك ہے (ت)اقول : میں (علامہ شامی) کہتا ہوں اس کی
یطھر محل غیر مرئیۃ بغلبۃ ظن غاسل لومکلفا والا فمستعمل طھارۃ محلھا بلاعدد بہ یفتی وقدر لموسوس بغسل وعصر ثلثا فیما ینعصر مبالغا بحیث لایقطر وبتثلیث جفاف فی غیر منعصر اھ ملخصا۔
جس جگہ نجاست دکھائی نہ دیتی ہو اگر دھونے والے کو غالب گمان حاصل ہوجائے تو پاك ہوجاتی ہے ورنہ اس جگہ کی طہارت کے لئے گنتی کے بغیر پانی استعمال کیا جائے اسی پر فتوی ہے اور وسوسہ والے کے لئے جس چیز کو نچوڑنا ممکن ہے اسے تین بار دھونا اور یوں نچوڑنا کہ اب قطرے نہ گریں اور جس چیز کو نچوڑنا ممکن نہیں اس کو تین بار خشك کرنا مقرر ہے۔ اھ ملخصا (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ بلاعددبہ یفتی کذافی المنیۃ وظاھرہ انہ لوغلب علی ظنہ زوالھا بمرۃ اجزأہ وبہ صرح الامام الکرخی فی مختصرہ واختارہ الامام الاسبیجابی وفی غایۃ البیان التقدیر بالثلث ظاھر الروایۃ وفی السراج اعتبار غلبۃ الظن مختار العراقیین والتقدیر بالثلث مختار البخاریین والظاھر الاول ان لم یکن موسوسا وان کان موسوسا فالثانی اھ بحرقال فی النھر وھو توفیق حسن اھ وعلیہ جری صاحب المختار فانہ اعتبر غلبۃ الظن الافی الموسوس وھومامشی علیہ المصنف واستحسنہ فی الحلیۃ وقال وقدمشی الجم الغفیر علیہ فی الاستنجاء۔
اقول : وھذا مبنی علی تحقق الخلاف
اس (صاحب درمختار) کا قول “ بلاعدد “ (گنتی شرط نہیں) پر فتوی ہے منیہ میں بھی اسی طرح ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ایك مرتبہ دھونے سے نجاست کے زائل ہونے کا غالب گمان ہوجائے تو یہی کافی ہے۔ امام کرخی نے اپنی مختصر میں اسی کی تصریح فرمائی اور امام اسبیجابی نے بھی اسے ہی اختیار کیا اور غایۃ البیان میں ہے کہ تین بار کا مقرر کرنا ظاہر روایت ہے۔ سراج میں ہے کہ عراقیوں کے نزدیك غلبہ ظن کا اعتبار مختار ہے جبکہ تین بار کا اندازہ بخارا والوں کا مختار ہے۔ اور پہلا ظاہر ہے اگر وسوسے والا نہ ہو اگر وسوسہ کرنے والا ہو تو دوسری بات ظاہر ہے اھ (بحرالرائق انتہی) نہر الفائق میں فرمایا کہ یہ اچھی تطبیق ہے اھ۔ صاحب مختار نے بھی یہی راستہ اختیار کیا کہ انہوں نے وسوسہ نہ کرنے والوں کے بارے میں اسی کا اعتبار کیا ہے مگر وسوسہ کرنے والے کے بارے میں ان کا وہی موقف جس پر مصنف (صاحب درمختار) چلے ہیں اور حلیہ نے بھی اسی کو مستحسن قرار دیا ہے اور فرمایا استنجاء کے بارے میں جم غفیر کا یہی مسلك ہے (ت)اقول : میں (علامہ شامی) کہتا ہوں اس کی
حوالہ / References
درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶
وھو ان القول بغلبۃ الظن غیر القول بالثلث قال فی الحلیۃ وھو الحق واستشھد لہ بکلام الحاوی القدسی والمحیط۔
اقول : وھوخلاف مافی الکافی ممایقتضی انھما قول واحد وعلیہ مشی فی شرح المنیۃ فقال فعلم بھذا ان المذھب اعتبار غلبۃ الظن وانھا مقدرۃ بالثلث لحصولھا بھافی الغالب وقطعا للوسوسۃ وانہ من اقامۃ السبب الظاھر مقام المسبب الذی فی الاطلاع علی حقیقتہ عسرکالسفر مقام المشقۃ اھ وھو مقتضی کلام الھدایۃ وغیرھا واقتصر علیہ فی الامداد وھو ظاھر المتون حیث صرحوا بالثلث اھ والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
بنیاد (دونوں باتوں میں) ثبوت اختلاف پر ہے یعنی جب غلبہ ظن کا قول تین کے قول کا غیر ہو حلیہ میں فرمایا یہی حق ہے اور انہوں نے اس پر حاوی قدسی اور محیط کے کلام سے شہادت پیش کی ہے۔ (ت)
اقول : (میں (علامہ شامی) کہتا ہوں) یہ (اختلاف) اس کے خلاف ہے جو کافی میں ہے اور اس کا مقتضی یہ ہے کہ دونوں ایك ہی قول ہیں۔ شرح منیہ میں یہی راستہ اختیار کیا گیا ہے انہوں نے فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ مذہب میں غلبہ ظن کا اعتبار ہے اور وہ تین بار کا اندازہ ہے کیوں کہ غالب یہی ہے تین بار دھونے سے طہارت حاصل ہوجاتی ہے اور وسوسہ ختم ہوجاتا ہے اور یہ کہ سبب ظاہر کو اس مسبب کے قائم مقام رکھنا ہے جس کی حقیقت پر اطلاع مشکل ہے جیسے سفر مشقت کے قائم مقام ہے اھ ہدایہ وغیرہ کے کلام کا مقتضی بھی یہی ہے اور الامداد بھی اسی پر اختصار کیا گیا ہے۔ ظاہر متون بھی یہی ہیں کیونکہ انہوں نے تین کی تصریح کی ہے اھ والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (ت)
مسئلہ ۱۷۴ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جوتے پر پیشاب پڑ گیا اور اس پر خاك جم کر تندار ہوگیا تو رگڑنے سے پاك ہوجائے گا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
جوتے پر اگر پیشا ب پڑ گیا اور اس پر خاك جم گئی تو ایسے ملنے سے جس سے اس کا اثر زائل ہوجائے پاك ہوجائے گا ورنہ بغیر دھونے کے پاك نہ ہوگا۔
اقول : وھوخلاف مافی الکافی ممایقتضی انھما قول واحد وعلیہ مشی فی شرح المنیۃ فقال فعلم بھذا ان المذھب اعتبار غلبۃ الظن وانھا مقدرۃ بالثلث لحصولھا بھافی الغالب وقطعا للوسوسۃ وانہ من اقامۃ السبب الظاھر مقام المسبب الذی فی الاطلاع علی حقیقتہ عسرکالسفر مقام المشقۃ اھ وھو مقتضی کلام الھدایۃ وغیرھا واقتصر علیہ فی الامداد وھو ظاھر المتون حیث صرحوا بالثلث اھ والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
بنیاد (دونوں باتوں میں) ثبوت اختلاف پر ہے یعنی جب غلبہ ظن کا قول تین کے قول کا غیر ہو حلیہ میں فرمایا یہی حق ہے اور انہوں نے اس پر حاوی قدسی اور محیط کے کلام سے شہادت پیش کی ہے۔ (ت)
اقول : (میں (علامہ شامی) کہتا ہوں) یہ (اختلاف) اس کے خلاف ہے جو کافی میں ہے اور اس کا مقتضی یہ ہے کہ دونوں ایك ہی قول ہیں۔ شرح منیہ میں یہی راستہ اختیار کیا گیا ہے انہوں نے فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ مذہب میں غلبہ ظن کا اعتبار ہے اور وہ تین بار کا اندازہ ہے کیوں کہ غالب یہی ہے تین بار دھونے سے طہارت حاصل ہوجاتی ہے اور وسوسہ ختم ہوجاتا ہے اور یہ کہ سبب ظاہر کو اس مسبب کے قائم مقام رکھنا ہے جس کی حقیقت پر اطلاع مشکل ہے جیسے سفر مشقت کے قائم مقام ہے اھ ہدایہ وغیرہ کے کلام کا مقتضی بھی یہی ہے اور الامداد بھی اسی پر اختصار کیا گیا ہے۔ ظاہر متون بھی یہی ہیں کیونکہ انہوں نے تین کی تصریح کی ہے اھ والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (ت)
مسئلہ ۱۷۴ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جوتے پر پیشاب پڑ گیا اور اس پر خاك جم کر تندار ہوگیا تو رگڑنے سے پاك ہوجائے گا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
جوتے پر اگر پیشا ب پڑ گیا اور اس پر خاك جم گئی تو ایسے ملنے سے جس سے اس کا اثر زائل ہوجائے پاك ہوجائے گا ورنہ بغیر دھونے کے پاك نہ ہوگا۔
حوالہ / References
ردالمحتار باب الانجاس مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۴۲
فی الدرالمختار ویطھر خف ونحوہ کنعل تنجس بذی جرم ھو کل مایری بعد الجفاف ولومن غیرھا کخمر وبول اصابہ تراب بہ یفتی بذلك یزول بہ اثرھا والاجرم لھافیغسل انتھی والله تعالی اعلم۔
درمختار میں ہے موزہ اور اس کی مثل جیسے جوتا (وغیرہ) اگر جسم والی نجاست سے ناپاك ہوجائیں اور یہ ہر وہ نجاست ہے جو خشك ہونے کے بعد دکھائی دیتی ہو اگرچہ (یہ جسم نجاست کے) غیر سے ہو جیسے شراب اور پیشاب جس پر مٹی پڑ گئی تو یہ ایسے رگڑنے سے پاك ہوجائیں گے جس سے اثر زائل ہوجائے اسی پر فتوی ہے اور جس نجاست کا جسم نہ ہو اسے دھویا جائے گا اھ۔ اور اللہتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۵ : از کلکتہ دھرم تلا نمبر۶ مرسلہ جناب میرزا غلام قادر بیگ صاحب۸رمضان المبارك ۱۳۱۰ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گدا روئی کا جس میں نجس ہونے کا شبہہ قوی ہے نیچے بچھا ہے اور اس پر پاك رضائی اوڑھی ہے بارش سے چھت ٹپکی رضائی اور گدا خوب تر ہوگیا رضائی پیروں کے تلے بھی دبی تھی یعنی گدے سے ملحق تھی اس صورت میں رضائی کی نسبت کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
شبہہ سے کوئی چیز ناپاك نہیں ہوتی کہ اصل طہارت ہے والیقین لایزول بالشك (یقین شك سے دور نہیں ہوتا۔ ت) ہاں ظن غالب کہ بربنائے دلیل صحیح ہو فقہیات میں ملحق بیقین ہے نہ بربنائے تو ہمات عامہ پس اگر گدے۱ میں کسی نجاست کا ہونا معلوم تھا اور۲ یہ بھی معلوم ہوکہ رضائی گدے کے خاص موضع نجاست سے ملصق تھی اور۳ گدے میں خاص اس جگہ تری بھی اتنی تھی کہ چھوٹ کر رضائی کو لگے یا رضائی کے موضع اتصال میں اس قدر رطوبت تھی کہ چھوٹ کر گدے کے محل نجاست کو تر کردے غرض یہ کہ موضع نجاست پر رطوبت خواہ وہیں کہ خواہ دوسری چیز مجاور کی پہنچی ہوئی اس قدر ہو جس کے باعث نجاست ایك کپڑے سے دوسرے تك تجاوز کرسکے (اور اس تجاوز کے یہ معنی کہ کچھ اجزائے رطوبت نجسہ اس سے متصل ہوکر اس میں آجائیں نہ صرف وہ جسے سیل یا ٹھنڈك کہتے ہیں کہ حکم فقہ میں یہ انفصال اجزا نہیں صرف انتقال کیفیت ہے اور وہ موجب نجاست نہیں اور اس قابلیت تجاوز کی تقدیرر رطوبت کا اس قدر ہونا ہے جسے نچوڑے سے بوند ٹپکے کہ ایسے ہی رطوبت کے
درمختار میں ہے موزہ اور اس کی مثل جیسے جوتا (وغیرہ) اگر جسم والی نجاست سے ناپاك ہوجائیں اور یہ ہر وہ نجاست ہے جو خشك ہونے کے بعد دکھائی دیتی ہو اگرچہ (یہ جسم نجاست کے) غیر سے ہو جیسے شراب اور پیشاب جس پر مٹی پڑ گئی تو یہ ایسے رگڑنے سے پاك ہوجائیں گے جس سے اثر زائل ہوجائے اسی پر فتوی ہے اور جس نجاست کا جسم نہ ہو اسے دھویا جائے گا اھ۔ اور اللہتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۵ : از کلکتہ دھرم تلا نمبر۶ مرسلہ جناب میرزا غلام قادر بیگ صاحب۸رمضان المبارك ۱۳۱۰ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گدا روئی کا جس میں نجس ہونے کا شبہہ قوی ہے نیچے بچھا ہے اور اس پر پاك رضائی اوڑھی ہے بارش سے چھت ٹپکی رضائی اور گدا خوب تر ہوگیا رضائی پیروں کے تلے بھی دبی تھی یعنی گدے سے ملحق تھی اس صورت میں رضائی کی نسبت کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
شبہہ سے کوئی چیز ناپاك نہیں ہوتی کہ اصل طہارت ہے والیقین لایزول بالشك (یقین شك سے دور نہیں ہوتا۔ ت) ہاں ظن غالب کہ بربنائے دلیل صحیح ہو فقہیات میں ملحق بیقین ہے نہ بربنائے تو ہمات عامہ پس اگر گدے۱ میں کسی نجاست کا ہونا معلوم تھا اور۲ یہ بھی معلوم ہوکہ رضائی گدے کے خاص موضع نجاست سے ملصق تھی اور۳ گدے میں خاص اس جگہ تری بھی اتنی تھی کہ چھوٹ کر رضائی کو لگے یا رضائی کے موضع اتصال میں اس قدر رطوبت تھی کہ چھوٹ کر گدے کے محل نجاست کو تر کردے غرض یہ کہ موضع نجاست پر رطوبت خواہ وہیں کہ خواہ دوسری چیز مجاور کی پہنچی ہوئی اس قدر ہو جس کے باعث نجاست ایك کپڑے سے دوسرے تك تجاوز کرسکے (اور اس تجاوز کے یہ معنی کہ کچھ اجزائے رطوبت نجسہ اس سے متصل ہوکر اس میں آجائیں نہ صرف وہ جسے سیل یا ٹھنڈك کہتے ہیں کہ حکم فقہ میں یہ انفصال اجزا نہیں صرف انتقال کیفیت ہے اور وہ موجب نجاست نہیں اور اس قابلیت تجاوز کی تقدیرر رطوبت کا اس قدر ہونا ہے جسے نچوڑے سے بوند ٹپکے کہ ایسے ہی رطوبت کے
حوالہ / References
دُرمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۳
اجزا دوسری شے کی طرف متجاوز ہوتےہیں)
جب تینوں شرطیں ثابت ہوں تو البتہ رضائی کے اتنے موضع پر تجاوز نجاست کا حکم دیا جائے گا پھر اگر وہ موضع بقدر معتبر فی الشرع مثلا ایك درہم سے زائد ہو تو رضائی ناپاك ٹھہرے گی اور اسے اوڑھ کر نماز ناجائز ہوگی ورنہ حکم عفو میں رہے گی اگرچہ ایك درم کی قدر میں کراہت تحریمی اور کم میں صرف تنزیہی ہوگی اور اگر ان تینوں شرط میں کسی کی بھی کمی ہوئی تو رضائی سرے سے اپنی طہارت پر باقی اور سراپاك ہے۔ مثلا گدے کی نجاست مشکوك تھی یا وہ سب ناپاك نہ تھا اور رضائی کا خاص موضع نجاست سے ملنا معلوم نہیں یا محل نجاست کی رطوبت خود اپنی خواہ رضائی سے حاصل کی ہوئی قابل تجاوز نہ تھی یہ سب صورتیں طہارت مطلقہ تامہ کے ہیں۔
ھذا ھو التحقیق الذی عولنا علیہ لظھور وجھہ ولکونہ احوط وان کان الکلام فی المسئلۃ طویل الذیل ذکر بعضہ فی ردالمحتار اخر الانجاس واخر الکتاب وفیہ عن البرھان ولایخفی منہ انہ لایتیقن بانہ مجرد نداوۃ الا اذاکان النجس الرطب ھو الذی لایتقاطر بعصرہ اذیمکن ان یصیب الثوب الجاف قدر کثیر من النجاسۃ ولاینبع منہ شیئ بعصرہ کماھو مشاھد عند البدایۃ بغسلہ اھ وفیہ عن الامام الزیلعی لانہ اذالم یتقاطر منہ بالعصر لاینفصل منہ شیئ وانما یبتل مایجاورہ بالنداوۃ وبذلك لایتنجس الخ وفیہ عن الخانیۃ اذاغسل رجلہ فمشی علی ارض نجسۃ بغیر مکعب فابتل الارض من بلل رجلہ واسود وجہ الارض
یہی وہ تحقیق ہے جس پر ہم نے اعتماد کیا کیونکہ اس کا سبب ظاہر ہے اور اس میں زیادہ احتیاط ہے اگرچہ اس مسئلہ میں کلام کا دامن نہایت طویل ہے جس میں سے کچھ ردالمحتار میں باب الانجاس اور کتاب ردالمحتار کے آخر میں مذکور ہے۔ اور اس میں البرہان سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی خفا نہیں کہ اس کے محض رطوبت ہونے کا یقین نہیں کیا جاسکتا مگر جب کہ تر نجاست کے نچوڑنے سے قطرے نہ نکلیں کیوں کہ ممکن ہے کہ خشك کپڑے کو بہت سی نجاست لگے اور نچوڑنے سے اس سے کچھ نہ نکلے جیسا کہ اسے دھونے کا آغاز کرتے وقت مشاہدہ ہوتا ہے۔ الخ اسی (ردالمحتار) میں امام زیلعی سے نقل کیا کہ جب نچوڑنے سے قطرے نہ نکلیں تو اس سے کچھ بھی جدا نہ ہوگا اور اس سے ملنے والی چیز محض مجاورت (ملنے) سے تر ہوگی اور اس سے وہ ناپاك نہیں ہوتی۔
جب تینوں شرطیں ثابت ہوں تو البتہ رضائی کے اتنے موضع پر تجاوز نجاست کا حکم دیا جائے گا پھر اگر وہ موضع بقدر معتبر فی الشرع مثلا ایك درہم سے زائد ہو تو رضائی ناپاك ٹھہرے گی اور اسے اوڑھ کر نماز ناجائز ہوگی ورنہ حکم عفو میں رہے گی اگرچہ ایك درم کی قدر میں کراہت تحریمی اور کم میں صرف تنزیہی ہوگی اور اگر ان تینوں شرط میں کسی کی بھی کمی ہوئی تو رضائی سرے سے اپنی طہارت پر باقی اور سراپاك ہے۔ مثلا گدے کی نجاست مشکوك تھی یا وہ سب ناپاك نہ تھا اور رضائی کا خاص موضع نجاست سے ملنا معلوم نہیں یا محل نجاست کی رطوبت خود اپنی خواہ رضائی سے حاصل کی ہوئی قابل تجاوز نہ تھی یہ سب صورتیں طہارت مطلقہ تامہ کے ہیں۔
ھذا ھو التحقیق الذی عولنا علیہ لظھور وجھہ ولکونہ احوط وان کان الکلام فی المسئلۃ طویل الذیل ذکر بعضہ فی ردالمحتار اخر الانجاس واخر الکتاب وفیہ عن البرھان ولایخفی منہ انہ لایتیقن بانہ مجرد نداوۃ الا اذاکان النجس الرطب ھو الذی لایتقاطر بعصرہ اذیمکن ان یصیب الثوب الجاف قدر کثیر من النجاسۃ ولاینبع منہ شیئ بعصرہ کماھو مشاھد عند البدایۃ بغسلہ اھ وفیہ عن الامام الزیلعی لانہ اذالم یتقاطر منہ بالعصر لاینفصل منہ شیئ وانما یبتل مایجاورہ بالنداوۃ وبذلك لایتنجس الخ وفیہ عن الخانیۃ اذاغسل رجلہ فمشی علی ارض نجسۃ بغیر مکعب فابتل الارض من بلل رجلہ واسود وجہ الارض
یہی وہ تحقیق ہے جس پر ہم نے اعتماد کیا کیونکہ اس کا سبب ظاہر ہے اور اس میں زیادہ احتیاط ہے اگرچہ اس مسئلہ میں کلام کا دامن نہایت طویل ہے جس میں سے کچھ ردالمحتار میں باب الانجاس اور کتاب ردالمحتار کے آخر میں مذکور ہے۔ اور اس میں البرہان سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی خفا نہیں کہ اس کے محض رطوبت ہونے کا یقین نہیں کیا جاسکتا مگر جب کہ تر نجاست کے نچوڑنے سے قطرے نہ نکلیں کیوں کہ ممکن ہے کہ خشك کپڑے کو بہت سی نجاست لگے اور نچوڑنے سے اس سے کچھ نہ نکلے جیسا کہ اسے دھونے کا آغاز کرتے وقت مشاہدہ ہوتا ہے۔ الخ اسی (ردالمحتار) میں امام زیلعی سے نقل کیا کہ جب نچوڑنے سے قطرے نہ نکلیں تو اس سے کچھ بھی جدا نہ ہوگا اور اس سے ملنے والی چیز محض مجاورت (ملنے) سے تر ہوگی اور اس سے وہ ناپاك نہیں ہوتی۔
حوالہ / References
ردالمحتار باب الانجاس مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۵۵
رد المحتار مسائل شتی مصطفی البابی مصر ۵ / ۵۱۷
رد المحتار مسائل شتی مصطفی البابی مصر ۵ / ۵۱۷
لکن لم یظھر اثر طبل الارض فی رجلہ فصلی جازت صلاتہ وان کان بلل الماء فی رجلہ کثیرا حتی ابتل وجہ الارض وصارطینا ثم اصاب الطین رجلہ لاتجوز صلاتہ الخ والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اور اسی (ردالمحتار) میں خانیہ سے نقل کیا ہے کہ اگر کوئی شخص پاؤں دھوکر جوتے کے بغیر ناپاك زمین پر چلا اور اس کے پاؤں کی رطوبت سے زمین تر ہوگئی اور زمین پر نشان لگ گیا لیکن زمین کی رطوبت اس کے پاؤں میں ظاہر نہیں ہوئی اب اس نے نماز پڑھی تو اس کی نماز جائز ہے اور اگر پاؤں میں پانی کی رطوبت زیادہ تھی حتی کہ زمین کا ظاہر تر ہوگیا اور کیچڑ پاؤں میں لگ گیا تو اس کی نماز جائز نہیں الخ والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۶ : از کلکتہ دھرم تلا نمبر۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۹ ذیقعد ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر پکی ہوئی کھچڑی یا چاول میں یا چونے میں چوہے کی مینگنی نکلے تو کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
چوہے کی مینگنی اگر چاول کھچڑی روٹی وغیرہ کھانے کی چیزوں میں نکلے تو اسے پھینك کر وہ اشیا کھالی جائیں بشرطیکہ اس کا رنگ یا بو یا مزہ ان میں نہ آگیا ہو اور اگر چونے میں نکلے اور وہ چونا جما ہوا ہے تو اس کے قریب کا پھینك کر باقی کھالیں اور بہتا ہوا ہے تو اس سب سے احتراز کریں والله تعالی اعلم۔
_____________________
اور اسی (ردالمحتار) میں خانیہ سے نقل کیا ہے کہ اگر کوئی شخص پاؤں دھوکر جوتے کے بغیر ناپاك زمین پر چلا اور اس کے پاؤں کی رطوبت سے زمین تر ہوگئی اور زمین پر نشان لگ گیا لیکن زمین کی رطوبت اس کے پاؤں میں ظاہر نہیں ہوئی اب اس نے نماز پڑھی تو اس کی نماز جائز ہے اور اگر پاؤں میں پانی کی رطوبت زیادہ تھی حتی کہ زمین کا ظاہر تر ہوگیا اور کیچڑ پاؤں میں لگ گیا تو اس کی نماز جائز نہیں الخ والله سبحنہ وتعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۶ : از کلکتہ دھرم تلا نمبر۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۹ ذیقعد ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر پکی ہوئی کھچڑی یا چاول میں یا چونے میں چوہے کی مینگنی نکلے تو کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
چوہے کی مینگنی اگر چاول کھچڑی روٹی وغیرہ کھانے کی چیزوں میں نکلے تو اسے پھینك کر وہ اشیا کھالی جائیں بشرطیکہ اس کا رنگ یا بو یا مزہ ان میں نہ آگیا ہو اور اگر چونے میں نکلے اور وہ چونا جما ہوا ہے تو اس کے قریب کا پھینك کر باقی کھالیں اور بہتا ہوا ہے تو اس سب سے احتراز کریں والله تعالی اعلم۔
_____________________
حوالہ / References
ردالمحتار مسائل شتّی مصطفی البابی مصر ۵ / ۵۱۸
رسالہ
سلب الثلب عن القائلین بطھارۃ الکلب ۱۳۱۲ھ
کتے کی طہارت عین کے قائلین سے عیب دور کرنے کا بیان
مسئلہ ۱۷۷ : از بنارس محلہ پترکنڈہ مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب ۸ رجب ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ابقاھم الله تعالی الی یوم الدین اس میں کہ زید تو مستندا بقولہ تعالی یســٴـلونك ما ذا احل لهم- الآیۃ(اور وہ آپ سے پوچھتے ہیں ان کے لئے کیا حلال ہے۔ ت)ومتمسکا باحادیث الامر باکل صید قتلہ الکلب المعلم المرسل ولم یاکل منہ (اور ان احادیث کو دلیل بناتے ہوئے جن میں ایسے شکار کے کھانے کا حکم ہے جسے سکھائے ہوئے اور چوڑھے ہوئے کتے نے شکار کیا لیکن اس سے کچھ نہیں کھایا۔ ت) کہ از انجملہ ایك یہ حدیث عدی بن حاتم ہے :
قال قلت یارسول الله انانرسل الکلاب المعلمۃ قال کل ماامسکن علیك قلت
فرماتے ہیں میں نے عرض کیا “ یارسول اللہ ! ہم سکھائے ہوئے کتوں کو (شکار پر) چھوڑتے ہیں
سلب الثلب عن القائلین بطھارۃ الکلب ۱۳۱۲ھ
کتے کی طہارت عین کے قائلین سے عیب دور کرنے کا بیان
مسئلہ ۱۷۷ : از بنارس محلہ پترکنڈہ مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب ۸ رجب ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ابقاھم الله تعالی الی یوم الدین اس میں کہ زید تو مستندا بقولہ تعالی یســٴـلونك ما ذا احل لهم- الآیۃ(اور وہ آپ سے پوچھتے ہیں ان کے لئے کیا حلال ہے۔ ت)ومتمسکا باحادیث الامر باکل صید قتلہ الکلب المعلم المرسل ولم یاکل منہ (اور ان احادیث کو دلیل بناتے ہوئے جن میں ایسے شکار کے کھانے کا حکم ہے جسے سکھائے ہوئے اور چوڑھے ہوئے کتے نے شکار کیا لیکن اس سے کچھ نہیں کھایا۔ ت) کہ از انجملہ ایك یہ حدیث عدی بن حاتم ہے :
قال قلت یارسول الله انانرسل الکلاب المعلمۃ قال کل ماامسکن علیك قلت
فرماتے ہیں میں نے عرض کیا “ یارسول اللہ ! ہم سکھائے ہوئے کتوں کو (شکار پر) چھوڑتے ہیں
حوالہ / References
القرآن ۵ / ۴
ان قتلن قال وان قتلن الحدیث۔
(اس کا کیا حکم ہے) آپ نے فرمایا : “ جو کچھ وہ تمہارے لئے روك رکھیں اسے کھاؤ “ ۔ میں نے عرض کیا “ اگرچہ وہ اسے ہلاك کردیں “ فرمایا : “ اگرچہ وہ اسے ہلاك کردیں “ الحدیث (ت)
اور احادیث الاذن فی اقتناء کلب ماشیۃ وصید وزرع وغنم (جانوروں کی حفاظت شکار کھیتی اور بکریوں کی حفاظت کیلئے کتا رکھنے کی اجازت کے بارے میں احادیث۔ ت) کہ از انجملہ ایك یہ حدیث عبداللہ بن مغفل ہے :
قال انی لمن یرفع اغصان الشجرۃ عن وجہ رسول الله وھو یخطب فقال لولا ان الکلاب امۃ من الامام لامرت بقتلھا فاقتلوا کل اسود وبھیم ومامن اھل بیت یرتبطون کلبا الا نقص من عملھم کل یوم قیراط الاکلب صیدا وکلب حرث اوکلب غنم ۔
آپ فرماتے ہیں میں ان لوگوں میں سے ہوں جو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے چہرہ انور کے آگے سے ٹہنیاں اٹھارہے تھے جب آپ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے آپ نے فرمایا : اگر کتے ایك مخلوق نہ ہوتے تو میں ان کو قتل کرنے کا حکم دیتا پس ہر سیاہ کتے کو ماردو اور جو لوگ گھروں میں کتا رکھتے ہیں ان کے عمل سے روزانہ ایك قیراط کم ہوتا ہے مگر شکار کا کتا کھتیی کی حفاظت اور بکریوں کی حفاظت کے لئے کتا (اس سے مشتشنی ہے)۔ (ت)
واحادیث الترخیص فی ثمن کلب الصعید (شکاری کتے کہ حصول قیمت کے بارے میں آپکی اجازت سے متعلق احادیث۔ ت) کہ از انجملہ ایك وہ حدیث ہے جس کو ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اپنی مسند میں ہیثم سے وہ عکرمہ سے وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں :
قال رخص رسول الله فی ثمن کلب الصید ۔
فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے شکاری کتے کی قیمت لینے کی اجازت فرمائی ہے۔ (ت)
وحدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما :
کانت الکلاب تقبل وتدبر فی عھد رسول الله
رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے عہد مبارك میں
(اس کا کیا حکم ہے) آپ نے فرمایا : “ جو کچھ وہ تمہارے لئے روك رکھیں اسے کھاؤ “ ۔ میں نے عرض کیا “ اگرچہ وہ اسے ہلاك کردیں “ فرمایا : “ اگرچہ وہ اسے ہلاك کردیں “ الحدیث (ت)
اور احادیث الاذن فی اقتناء کلب ماشیۃ وصید وزرع وغنم (جانوروں کی حفاظت شکار کھیتی اور بکریوں کی حفاظت کیلئے کتا رکھنے کی اجازت کے بارے میں احادیث۔ ت) کہ از انجملہ ایك یہ حدیث عبداللہ بن مغفل ہے :
قال انی لمن یرفع اغصان الشجرۃ عن وجہ رسول الله وھو یخطب فقال لولا ان الکلاب امۃ من الامام لامرت بقتلھا فاقتلوا کل اسود وبھیم ومامن اھل بیت یرتبطون کلبا الا نقص من عملھم کل یوم قیراط الاکلب صیدا وکلب حرث اوکلب غنم ۔
آپ فرماتے ہیں میں ان لوگوں میں سے ہوں جو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے چہرہ انور کے آگے سے ٹہنیاں اٹھارہے تھے جب آپ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے آپ نے فرمایا : اگر کتے ایك مخلوق نہ ہوتے تو میں ان کو قتل کرنے کا حکم دیتا پس ہر سیاہ کتے کو ماردو اور جو لوگ گھروں میں کتا رکھتے ہیں ان کے عمل سے روزانہ ایك قیراط کم ہوتا ہے مگر شکار کا کتا کھتیی کی حفاظت اور بکریوں کی حفاظت کے لئے کتا (اس سے مشتشنی ہے)۔ (ت)
واحادیث الترخیص فی ثمن کلب الصعید (شکاری کتے کہ حصول قیمت کے بارے میں آپکی اجازت سے متعلق احادیث۔ ت) کہ از انجملہ ایك وہ حدیث ہے جس کو ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اپنی مسند میں ہیثم سے وہ عکرمہ سے وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں :
قال رخص رسول الله فی ثمن کلب الصید ۔
فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے شکاری کتے کی قیمت لینے کی اجازت فرمائی ہے۔ (ت)
وحدیث ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما :
کانت الکلاب تقبل وتدبر فی عھد رسول الله
رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے عہد مبارك میں
حوالہ / References
جامع الترمذی باب مایؤکل من صید الکلب مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۷۷
جامع الترمذی باب من امسك کلباً ماینقص من اجرہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۸۰
مسند امام اعظم ابوحنیفہ کتاب البیوع نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۹
جامع الترمذی باب من امسك کلباً ماینقص من اجرہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۸۰
مسند امام اعظم ابوحنیفہ کتاب البیوع نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۹
فلم یکونوا یرشون شیأ من ذلك ۔
کتے (ادھر ادھر) آتے جاتے تھے لیکن صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اس سے (یعنی کتوں کے ان کے ساتھ چھونے سے) کچھ بھی نہیں دھوتے تھے۔ (ت)
وحدیث ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما :
قال علیہ الصلاۃ والسلام ایما اھاب دبغ فقدطھر ۔
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : جس چمڑے کو رنگ لیا جائے وہ پاك ہوجاتا ہے۔ (ت)
ومستدلا باقوال علمائنا الحنفیۃ (اور ہمارے علماء حنفیہ کے اقوال سے استدلال کرتے ہوئے۔ ت) کہ از انجملہ ایك یہ ہے کہ جو عامہ کتب فقہ میں ہے :
کل اھاب اذادبغ فقدطھر الاجلد الخنزیر والآدمی ۔
خنزیر اور آدمی کے چمڑے کے علاوہ ہر چمڑا دباغت سے پاك ہوجاتا ہے۔ (ت)
اور دوسرا یہ جو ہدایہ میں ہے :
ولیس الکلب بنجس العین ۔
اور کتا نجس عین نہیں۔ (ت)
اور تیسرا جو تنویر الابصار اور اس کی شرح درمختار میں ہے :
اعلم انہ لیس الکلب بنجس العین عند الامام وعلیہ الفتوی وان رجح بعضھم النجاسۃ کمابسطہ ابن الشحنۃ ۔
جان لو! امام اعظم کے نزدیك کتا نجس عین نہیں۔ اور اسی پر فتوی ہے اگرچہ بعض فقہاء نے اس کے نجس ہونے کو ترجیح دی ہے جیسا کہ ابن الشحنہ نے اسے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ (ت)
اور چوتھا یہ جو ردالمحتار میں ہے :
وھو (ای عدم کون الکلب نجس العین) الصحیح والاقرب الی الصواب بدائع و
اور وہ (یعنی کتے کا نجس العین نہ ہونا ہی) صحیح اور درستگی کے زیادہ قریب ہے بدائع۔ متون سے
کتے (ادھر ادھر) آتے جاتے تھے لیکن صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اس سے (یعنی کتوں کے ان کے ساتھ چھونے سے) کچھ بھی نہیں دھوتے تھے۔ (ت)
وحدیث ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما :
قال علیہ الصلاۃ والسلام ایما اھاب دبغ فقدطھر ۔
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : جس چمڑے کو رنگ لیا جائے وہ پاك ہوجاتا ہے۔ (ت)
ومستدلا باقوال علمائنا الحنفیۃ (اور ہمارے علماء حنفیہ کے اقوال سے استدلال کرتے ہوئے۔ ت) کہ از انجملہ ایك یہ ہے کہ جو عامہ کتب فقہ میں ہے :
کل اھاب اذادبغ فقدطھر الاجلد الخنزیر والآدمی ۔
خنزیر اور آدمی کے چمڑے کے علاوہ ہر چمڑا دباغت سے پاك ہوجاتا ہے۔ (ت)
اور دوسرا یہ جو ہدایہ میں ہے :
ولیس الکلب بنجس العین ۔
اور کتا نجس عین نہیں۔ (ت)
اور تیسرا جو تنویر الابصار اور اس کی شرح درمختار میں ہے :
اعلم انہ لیس الکلب بنجس العین عند الامام وعلیہ الفتوی وان رجح بعضھم النجاسۃ کمابسطہ ابن الشحنۃ ۔
جان لو! امام اعظم کے نزدیك کتا نجس عین نہیں۔ اور اسی پر فتوی ہے اگرچہ بعض فقہاء نے اس کے نجس ہونے کو ترجیح دی ہے جیسا کہ ابن الشحنہ نے اسے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ (ت)
اور چوتھا یہ جو ردالمحتار میں ہے :
وھو (ای عدم کون الکلب نجس العین) الصحیح والاقرب الی الصواب بدائع و
اور وہ (یعنی کتے کا نجس العین نہ ہونا ہی) صحیح اور درستگی کے زیادہ قریب ہے بدائع۔ متون سے
حوالہ / References
صحیح البخاری باب اذاشرب الکلب فی الاناء قدیمی کُتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹
جامع الترمذی ، باب جاء فی جلود المیتۃ ، آفتاب عالم پریس لاہور ، ۱ / ۲۰۶
منیۃ المصلی فصل فی النجاسۃ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۰۸
ہدایہ شریف ، قبیل فصل فی البئر ، المکتبۃ العربیہ ، کراچی ، ۱ / ۲۴
درمختار ، باب المیاہ ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۳۸
جامع الترمذی ، باب جاء فی جلود المیتۃ ، آفتاب عالم پریس لاہور ، ۱ / ۲۰۶
منیۃ المصلی فصل فی النجاسۃ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۰۸
ہدایہ شریف ، قبیل فصل فی البئر ، المکتبۃ العربیہ ، کراچی ، ۱ / ۲۴
درمختار ، باب المیاہ ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۳۸
وھو ظاھر المتون بحر ومقتضی عموم الادلۃ فتح ۔
ےہی ظاہر ہوتا ہے البحرالرائق۔ عام دلائل کا مقتضی یہی ہے فتح القدیر (ت)
اور پانچواں یہ جو علمگیری میں ہے :
والصحیح ان الکلب لیس بنجس العین ۔
صحیح یہ ہے کہ کتا نجس عین نہیں۔ (ت)
اور چھٹا یہ جو عنایہ میں ہے :
الاصح ان الکلب لیس بنجس العین ۔
اصح بات یہ ہے کہ کتا نجس عین نہیں۔ (ت)
اور ساتواں یہ جو غایۃ البیان میں ہے :
فی نجاسۃ عینہ اختلاف المشایخ والاصح انہ لیس بنجس العین ۔
اس کے نجس عین ہونے میں مشائخ کا اختلاف ہے زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ نجس عین نہیں۔ (ت)
اور آٹھواں یہ جو مراقی الفلاح میں ہے :
یطھر جلد الکلب لانہ لیس بنجس العین علی الصحیح ۔
کتے کا چمڑا پاك ہوجاتا ہے کیونکہ صحیح قول کے مطابق وہ نجس عین نہیں۔ (ت)
اور نواں یہ جو نہر الفائق میں ہے :
یطھر جلد الکلب ایضا بناء علی ماعلیہ الفتوی من طھارۃ عینہ وان رجح بعضھم النجاسۃ ۔
کتے کا چمڑا بھی پاك ہوجاتا ہے اور اس کی بنیاد وہ مفتی بہ قول ہے کہ یہ ذاتی طور پر پاك ہے اگرچہ بعض فقہاء نے اس کے ناپاك ہونے کو ترجیح دی ہے۔ (ت)
اور دسواں یہ جو شامی میں ہے :
فمعنی القول بطھارۃ عینہ طھارۃ ذاتہ
اس کے طاہر عین ہونے کے قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ جب تک
ےہی ظاہر ہوتا ہے البحرالرائق۔ عام دلائل کا مقتضی یہی ہے فتح القدیر (ت)
اور پانچواں یہ جو علمگیری میں ہے :
والصحیح ان الکلب لیس بنجس العین ۔
صحیح یہ ہے کہ کتا نجس عین نہیں۔ (ت)
اور چھٹا یہ جو عنایہ میں ہے :
الاصح ان الکلب لیس بنجس العین ۔
اصح بات یہ ہے کہ کتا نجس عین نہیں۔ (ت)
اور ساتواں یہ جو غایۃ البیان میں ہے :
فی نجاسۃ عینہ اختلاف المشایخ والاصح انہ لیس بنجس العین ۔
اس کے نجس عین ہونے میں مشائخ کا اختلاف ہے زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ نجس عین نہیں۔ (ت)
اور آٹھواں یہ جو مراقی الفلاح میں ہے :
یطھر جلد الکلب لانہ لیس بنجس العین علی الصحیح ۔
کتے کا چمڑا پاك ہوجاتا ہے کیونکہ صحیح قول کے مطابق وہ نجس عین نہیں۔ (ت)
اور نواں یہ جو نہر الفائق میں ہے :
یطھر جلد الکلب ایضا بناء علی ماعلیہ الفتوی من طھارۃ عینہ وان رجح بعضھم النجاسۃ ۔
کتے کا چمڑا بھی پاك ہوجاتا ہے اور اس کی بنیاد وہ مفتی بہ قول ہے کہ یہ ذاتی طور پر پاك ہے اگرچہ بعض فقہاء نے اس کے ناپاك ہونے کو ترجیح دی ہے۔ (ت)
اور دسواں یہ جو شامی میں ہے :
فمعنی القول بطھارۃ عینہ طھارۃ ذاتہ
اس کے طاہر عین ہونے کے قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ جب تک
حوالہ / References
ردالمحتار ، باب المیاہ ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۱۳۹
فتاوٰی عالمگیری الفصل الاول من الباب الثالث مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۹
العنایۃ مع فتح القدیر قبیل فصل فی البئر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۸۲
السعایۃ فی کشف مافی شرح الوقایۃ / من احکام الدباغۃ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۰۸
مراقی الفلاح مع الطحطاوی فصل یطہر جلد المیتۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۹۰
السعایۃ فی کشف مافی شرح الوقایۃ من احکام الدباغۃ سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۴۰۹
فتاوٰی عالمگیری الفصل الاول من الباب الثالث مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۱۹
العنایۃ مع فتح القدیر قبیل فصل فی البئر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۸۲
السعایۃ فی کشف مافی شرح الوقایۃ / من احکام الدباغۃ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۰۸
مراقی الفلاح مع الطحطاوی فصل یطہر جلد المیتۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۹۰
السعایۃ فی کشف مافی شرح الوقایۃ من احکام الدباغۃ سہیل اکیڈمی لاہور ، ۱ / ۴۰۹
مادام حیا وطھارۃ جلدہ بالدباغ والذکاۃ وطھارۃ مالا تحلہ الحیوۃ من اجزائہ کغیرہ من السباع ۔
زندہ ہے ذاتی طور پر پاك ہے۔ اس کا چمڑا دباغت یا ذبح (شرعی) کے ساتھ پاك ہوجاتا ہے نیز اس کے جن اجزاء میں زندگی سرایت نہیں کرتی دوسرے درندوں کی طرح وہ بھی پاك ہیں۔ (ت)
اور گیارھواں یہ جو سعایہ میں ہے :
قلت لم یتضح لی الی الان دلیل علی کونہ نجس العین ودلائل المثبتین کلھا مخدوشۃ ۔
میں کہتا ہوں اب تك مجھے اس کے نجس عین ہونے پر کوئی واضح دلیل نہیں ملی نجس ثابت کرنے والوں کے تمام دلائل کمزور ہیں۔ (ت)
اور بارھواں وہ جو مولوی عبدالحی لکھنوی نے تعلیق ممجد میں بعد ذکر ان حدیثوں کے جو کہ طہارت اہب پر دباغت سے مطلقا دلالت کرتی ہیں کہا ہے :
وبھذہ الاحادیث ونظائرھا ذھب الجمہور الی الطھارۃ بالدباغۃ مطلقا الا انھم استثنوا من ذلك جلد الانسان لکرامتہ وجلد الخنزیر لنجاسۃ عینہ واستثنی ایضا جلد الکلب من ذھب الی کونہ نجس العین وھو قول جمع من الحنفیۃ وغیرھم ولم یدل علی دلیل قوی بعد ۔
ان احادیث اور ان کی مثل پر بنیاد رکھتے ہوئے جمہور فقہاء نے دباغت کے ذریعے مطلقا طہارت کی راہ اختیار کی ہے مگر انہوں نے اس سے انسان کے چمڑے کو اس کی عزت کی بنیاد پر اور خنزیر کے چمڑے کو اس کے نجس عین ہونے کی وجہ سے مستشنی قرار دیا ہے اور جو لوگ کتے کو نجس عین سمجھتے ہیں انہوں نے اس کو بھی مستشنی کیا ہے احناف کی ایك جماعت اور ان کے علاوہ فقہاء کرام کا یہی قول ہے لیکن ابھی تك اس پر کوئی مضبوط دلیل نہیں پائی گئی۔ (ت)
اور تیرھواں یہ جو فتح القدیر میں ہے :
اختلف المشایخ فی التصحیح والذی یقتضیہ
تصحیح میں علماءکا اختلاف ہے اور “ ایما اھاب “
زندہ ہے ذاتی طور پر پاك ہے۔ اس کا چمڑا دباغت یا ذبح (شرعی) کے ساتھ پاك ہوجاتا ہے نیز اس کے جن اجزاء میں زندگی سرایت نہیں کرتی دوسرے درندوں کی طرح وہ بھی پاك ہیں۔ (ت)
اور گیارھواں یہ جو سعایہ میں ہے :
قلت لم یتضح لی الی الان دلیل علی کونہ نجس العین ودلائل المثبتین کلھا مخدوشۃ ۔
میں کہتا ہوں اب تك مجھے اس کے نجس عین ہونے پر کوئی واضح دلیل نہیں ملی نجس ثابت کرنے والوں کے تمام دلائل کمزور ہیں۔ (ت)
اور بارھواں وہ جو مولوی عبدالحی لکھنوی نے تعلیق ممجد میں بعد ذکر ان حدیثوں کے جو کہ طہارت اہب پر دباغت سے مطلقا دلالت کرتی ہیں کہا ہے :
وبھذہ الاحادیث ونظائرھا ذھب الجمہور الی الطھارۃ بالدباغۃ مطلقا الا انھم استثنوا من ذلك جلد الانسان لکرامتہ وجلد الخنزیر لنجاسۃ عینہ واستثنی ایضا جلد الکلب من ذھب الی کونہ نجس العین وھو قول جمع من الحنفیۃ وغیرھم ولم یدل علی دلیل قوی بعد ۔
ان احادیث اور ان کی مثل پر بنیاد رکھتے ہوئے جمہور فقہاء نے دباغت کے ذریعے مطلقا طہارت کی راہ اختیار کی ہے مگر انہوں نے اس سے انسان کے چمڑے کو اس کی عزت کی بنیاد پر اور خنزیر کے چمڑے کو اس کے نجس عین ہونے کی وجہ سے مستشنی قرار دیا ہے اور جو لوگ کتے کو نجس عین سمجھتے ہیں انہوں نے اس کو بھی مستشنی کیا ہے احناف کی ایك جماعت اور ان کے علاوہ فقہاء کرام کا یہی قول ہے لیکن ابھی تك اس پر کوئی مضبوط دلیل نہیں پائی گئی۔ (ت)
اور تیرھواں یہ جو فتح القدیر میں ہے :
اختلف المشایخ فی التصحیح والذی یقتضیہ
تصحیح میں علماءکا اختلاف ہے اور “ ایما اھاب “
حوالہ / References
ردالمحتار قبیل فصل فی البئر مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۹
السعایۃ فی کشف مافی شرح الوقایۃ من احکام الدباغۃ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۰۹
تعلیق ممجد لعبد الحی اللکھنوی
السعایۃ فی کشف مافی شرح الوقایۃ من احکام الدباغۃ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۰۹
تعلیق ممجد لعبد الحی اللکھنوی
عموم ایما اھاب طھارۃ عینہ ولم یعارضہ مایوجب نجاستھا فوجب حقیقۃ عدم نجاستھا ۔
(جو بھی چمڑا) کا عموم طہارت عین کا مقتضی ہے اور اس کے مقابلے میں نجاست کو واجب کرنے والی کوئی دلیل موجود نہیں لہذا ضروری ہوا کہ اس کا نجس نہ ہونا حق ہوا۔ (ت)
کہتا ہے کہ کتا طاہر العین ہے اور کہتا ہے کہ آیت میں تو وجہ دلالت کی یہ ہے کہ یہ آیت بلاضرورت کتے سے ازروئے اصطیاد کے جواز انتفاع پر بلکہ بجز کھانے کے اور اس سے سب طرح کے فائدے اٹھانے کے جواز پر دلالت کرتی ہے قرطبی نے کہا ہے :
وقدذکر بعض من صنف فی احکام القران ان الایۃ تدل علی ان الاباحۃ تناولت ماعلمنا الجوارح وھو ینظم الکلب وسائر جوارح الطیر وذلك یوجب اباحۃ سائر وجوہ الانتفاع فدل علی جواز بیع الکلب والجوارح والانتفاع بھابسائر وجوہ المنافع الاماخصہ الدلیل وھو الاکل من الجوارح ای الکواسب من الکلاب وسباع الطیر ۔
احکام قرآن کے بعض مصنفین نے ذکر کیا ہے کہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اباحت ان تمام شکاری جانوروں کو شامل ہے جن کو ہم سکھائیں اور اس میں کتا اور تمام شکاری پرندے بھی شامل ہیں اور یہ (جواز) انتفاع کے تمام طریقوں کی اباحت کو واجب کرتا ہے پس یہ کتے اور (دیگر) شکاری جانوروں کو بیچنے اور ان سے ہر طرح کا نفع حاصل کرنے پر دلالت کرتا ہے مگر جس کو دلیل نے خاص کرلیا ہو اور وہ شکاری جانوروں یعنی کسب کرنے والے کتوں اور درندوں کو کھانا ہے (اور یہ جائز نہیں)۔ (ت)
اور کسی چیز سے بلاضرورت انتفاع کا جائز ہونا اس چیز کے عدم نجاست کی علامت ہے تو اس نے اس کے عدم نجاست پر بھی دلالت کی کماھو ظاھر (جیسا کہ وہ ظاہر ہے۔ ت)
اور حدیث ابن عمر میں یہ کہ موسم گرمی میں اکثر اوقات کتے کیچڑ میں بھرئے ہوئے پانی میں بھیگے ہوئے مسجد میں آتے جاتے ہوں گے اور کیچڑ پانی مسجد میں گرتا ٹپکتا ہوگا تو جبکہ باوجود اس کے رش بھی نہ ثابت ہوا تو ان کے اجسام اور اعیان کے عدم نجاست ثابت ہوئی۔
(جو بھی چمڑا) کا عموم طہارت عین کا مقتضی ہے اور اس کے مقابلے میں نجاست کو واجب کرنے والی کوئی دلیل موجود نہیں لہذا ضروری ہوا کہ اس کا نجس نہ ہونا حق ہوا۔ (ت)
کہتا ہے کہ کتا طاہر العین ہے اور کہتا ہے کہ آیت میں تو وجہ دلالت کی یہ ہے کہ یہ آیت بلاضرورت کتے سے ازروئے اصطیاد کے جواز انتفاع پر بلکہ بجز کھانے کے اور اس سے سب طرح کے فائدے اٹھانے کے جواز پر دلالت کرتی ہے قرطبی نے کہا ہے :
وقدذکر بعض من صنف فی احکام القران ان الایۃ تدل علی ان الاباحۃ تناولت ماعلمنا الجوارح وھو ینظم الکلب وسائر جوارح الطیر وذلك یوجب اباحۃ سائر وجوہ الانتفاع فدل علی جواز بیع الکلب والجوارح والانتفاع بھابسائر وجوہ المنافع الاماخصہ الدلیل وھو الاکل من الجوارح ای الکواسب من الکلاب وسباع الطیر ۔
احکام قرآن کے بعض مصنفین نے ذکر کیا ہے کہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اباحت ان تمام شکاری جانوروں کو شامل ہے جن کو ہم سکھائیں اور اس میں کتا اور تمام شکاری پرندے بھی شامل ہیں اور یہ (جواز) انتفاع کے تمام طریقوں کی اباحت کو واجب کرتا ہے پس یہ کتے اور (دیگر) شکاری جانوروں کو بیچنے اور ان سے ہر طرح کا نفع حاصل کرنے پر دلالت کرتا ہے مگر جس کو دلیل نے خاص کرلیا ہو اور وہ شکاری جانوروں یعنی کسب کرنے والے کتوں اور درندوں کو کھانا ہے (اور یہ جائز نہیں)۔ (ت)
اور کسی چیز سے بلاضرورت انتفاع کا جائز ہونا اس چیز کے عدم نجاست کی علامت ہے تو اس نے اس کے عدم نجاست پر بھی دلالت کی کماھو ظاھر (جیسا کہ وہ ظاہر ہے۔ ت)
اور حدیث ابن عمر میں یہ کہ موسم گرمی میں اکثر اوقات کتے کیچڑ میں بھرئے ہوئے پانی میں بھیگے ہوئے مسجد میں آتے جاتے ہوں گے اور کیچڑ پانی مسجد میں گرتا ٹپکتا ہوگا تو جبکہ باوجود اس کے رش بھی نہ ثابت ہوا تو ان کے اجسام اور اعیان کے عدم نجاست ثابت ہوئی۔
حوالہ / References
فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۸۳
الجامع لاحکام القرآن زیر آیہ وماعلمتم من الجوارح الخ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۶۶
الجامع لاحکام القرآن زیر آیہ وماعلمتم من الجوارح الخ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۶۶
اور احادیث اذن فی اقتناء الکلب (کتا رکھنے کی اجازت سے متعلق احادیث۔ ت) کی دلالت کی نسبت مولوی عبدالحی نے سعایہ میں کہا ہے :
نعم لھا دلالۃ علی طھارۃ جسمہ وعدم تنجس عینہ البتۃ فان الاذن فی اقتنائہ دال علی انہ لیس ینجس العین ۔
ہاں اس کے جسم کے پاك ہونے اور نجس عین نہ ہونے پر یقینا دلیل ہے کیوں کہ اسے رکھنے کی اجازت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ نجس عین نہیں۔ (ت)
اور باقی حدیثوں میں وجہ دلالت کی ظاہر ہے اور عمرو استدلالا باحادیث الامر بقتل الکلاب (کتوں کو ہلاك کرنے کے حکم سے متعلق احادیث سے استدلال کرتے ہوئے۔ ت) واحادیث عدم دخول الملئکۃ بیتافیہ کلب (جس گھر میں کتا ہو اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کے بارے میں احادیث۔ ت) واحادیث الامر بغسل الاناء من دلوغ الکلب سبعا اوثمانیا اوثلثا واھراق مافضل من شربہ (کتے کے چاٹنے سے برتن کو سات یا آٹھ یا تین بار دھونے اور اس کے پینے سے جو بچ جائے اسے بہادینے کے بارے میں احادیث۔ ت)وحدیث ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ:
ان النبی دعی الی دار قوم فاجاب ودعی ای دار اخرین فلم یجب فقیل لہ فی ذلك فقال ان فی دار فلاں کلبا فقیل لہ وان فی دار فلان ھرۃ فقال الھرۃ لیست بنجسۃ انما ھی الطوافین علیکم والطوافات ۔
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو ایك قوم نے دعوت دی آپ نے قبول کرلی۔ اور آپ کو دوسروں کے گھر میں بلایا گیا تو آپ نے قبول نہ کیا اس بارے میں آپ سے عرض کیا گیا۔ آپ نے فرمایا کہ فلاں کے گھر میں کتا ہے۔ عرض کیا گیا اور فلاں کے گھر میں بلی ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا : بلی ناپاك نہیں اور وہ تمہارے پاس آنے جانے والے (غلاموں) اور آنے جانے والی (لونڈیوں) کی طرح ہے۔ (ت)
وتمسکا باقوال بعض علمائنا الحنفیۃ کو ازانجملہ ایك یہ ہے جو مبسوط میں ہے :
الصحیح من المذھب عندنا ان الکلب نجس ۔
ہمارے نزدیك صحیح مذہب یہ ہے کہ کتا ناپاك ہے۔ (ت)
نعم لھا دلالۃ علی طھارۃ جسمہ وعدم تنجس عینہ البتۃ فان الاذن فی اقتنائہ دال علی انہ لیس ینجس العین ۔
ہاں اس کے جسم کے پاك ہونے اور نجس عین نہ ہونے پر یقینا دلیل ہے کیوں کہ اسے رکھنے کی اجازت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ نجس عین نہیں۔ (ت)
اور باقی حدیثوں میں وجہ دلالت کی ظاہر ہے اور عمرو استدلالا باحادیث الامر بقتل الکلاب (کتوں کو ہلاك کرنے کے حکم سے متعلق احادیث سے استدلال کرتے ہوئے۔ ت) واحادیث عدم دخول الملئکۃ بیتافیہ کلب (جس گھر میں کتا ہو اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کے بارے میں احادیث۔ ت) واحادیث الامر بغسل الاناء من دلوغ الکلب سبعا اوثمانیا اوثلثا واھراق مافضل من شربہ (کتے کے چاٹنے سے برتن کو سات یا آٹھ یا تین بار دھونے اور اس کے پینے سے جو بچ جائے اسے بہادینے کے بارے میں احادیث۔ ت)وحدیث ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ:
ان النبی دعی الی دار قوم فاجاب ودعی ای دار اخرین فلم یجب فقیل لہ فی ذلك فقال ان فی دار فلاں کلبا فقیل لہ وان فی دار فلان ھرۃ فقال الھرۃ لیست بنجسۃ انما ھی الطوافین علیکم والطوافات ۔
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو ایك قوم نے دعوت دی آپ نے قبول کرلی۔ اور آپ کو دوسروں کے گھر میں بلایا گیا تو آپ نے قبول نہ کیا اس بارے میں آپ سے عرض کیا گیا۔ آپ نے فرمایا کہ فلاں کے گھر میں کتا ہے۔ عرض کیا گیا اور فلاں کے گھر میں بلی ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا : بلی ناپاك نہیں اور وہ تمہارے پاس آنے جانے والے (غلاموں) اور آنے جانے والی (لونڈیوں) کی طرح ہے۔ (ت)
وتمسکا باقوال بعض علمائنا الحنفیۃ کو ازانجملہ ایك یہ ہے جو مبسوط میں ہے :
الصحیح من المذھب عندنا ان الکلب نجس ۔
ہمارے نزدیك صحیح مذہب یہ ہے کہ کتا ناپاك ہے۔ (ت)
حوالہ / References
السعایۃ فی کشف مافی شرح الوقایۃ احکام الاٰسار سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۴۴۶
التلخیص الجیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر ، اب بیان النجاسات ، المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ، ۱ / ۲۵
المبسوط للسرخسی سؤرمالایوکل لحمہ مطبوعہ دار المعرفت بیروت ۱ / ۴۸
التلخیص الجیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر ، اب بیان النجاسات ، المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ، ۱ / ۲۵
المبسوط للسرخسی سؤرمالایوکل لحمہ مطبوعہ دار المعرفت بیروت ۱ / ۴۸
اور دوسرا یہ جو ابو المکارم کی شرح نقایہ میں ہے :
فی فتاوی قاضی خان مایدل علی ان الکلب نجس العین وفی موضع آخر مایدل علی انہ لیس کذلك وسمعت ان الروایۃ الصحیحۃ عندنا ھو الاول ۔
فتاوی قاضی خان میں ایسی بات ہے جو کتے کے نجس عین ہونے پر دلالت کرتی ہے اور (اسی میں) دوسری جگہ وہ بات ہے جس میں ایسا نہ ہونے پر دلالت ہے اور میں نے سنا کہ ہمارے نزدیك صحیح روایت پہلی ہے (یعنی نجس عین)۔ (ت)
اور تیسرا یہ جو شرح وقایہ وغیرہ بعض کتب فقہ میں ہے :
اذاسد کلب عرض النھر ویجری الماء فوقہ انکان مایلاقی الکلب اقل ممالایلاقیہ یجوز الوضوء فی الاسفل والالا ۔
اگر کتا نہرکی چوڑائی بند کردے اور پانی اس کے اوپر سے جاری ہو تو اگر کتے سے ملا ہوا پانی اس سے کم ہے جو اس (کے جسم) سے ملا ہوا نہیں ہے تو (نہر کی) نچلی جانب سے وضو کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔ (ت)
کہتا ہے کہ کتا نجس العین ہے اور زید عمرو کے ان دلائل میں سے احادیث امر بقتل کلاب اور احادیث عدم دخول ملائکہ اور احادیث امر بغسل اناء کا توجواب یہ دیتا ہے کہ ان سب حدیثوں کے نجاست کلب پر دلالت کرنے میں ضعف ہے۔ احادیث امر بقتل کلاب کے دلالت کرنے میں تو اس وجہ سے کہ یہ امر ان کی نجاست کے سبب نہ تھا بلکہ ملائکہ کے اس گھر میں جس میں کتا ہو نہ داخل ہونے کی وجہ سے تھا جیسا کہ امر مذکور ہی کی احادیث سے مفہوم ہوتا ہے اور اگر ہم تسلیم بھی کرلیں تو اس کا نسخ وارد ہوچکا ہے اور احادیث عدم دخول ملائکہ کے دلالت کرنے میں اس وجہ سے کہ امتناع ملائکہ کا باعث کلب کی نجاست ہی نہیں متعین ہوسکتی بلکہ ممکن ہے کہ کوئی اور امر ہو۔
قال العلامۃ الدمیری فی حیوۃ الحیوان قال العلماء سبب امتناعھم من البیت الذی فیہ الکلب کثرۃ اکلہ النجاسات وبعض الکلاب یسمی شیطانا والملائکۃ
علامہ دمیری نے حیوۃ الحیوان میں فرمایا کہ علماء فرماتے ہیں جس گھر میں کتا ہو اس میں فرشتوں کے نہ آنے کا باعث کتوں کا بکثرت نجاست کھانا ہے اور بعض کتوں کو تو شیطان کہا جاتا ہے اور فرشتے شیطان
فی فتاوی قاضی خان مایدل علی ان الکلب نجس العین وفی موضع آخر مایدل علی انہ لیس کذلك وسمعت ان الروایۃ الصحیحۃ عندنا ھو الاول ۔
فتاوی قاضی خان میں ایسی بات ہے جو کتے کے نجس عین ہونے پر دلالت کرتی ہے اور (اسی میں) دوسری جگہ وہ بات ہے جس میں ایسا نہ ہونے پر دلالت ہے اور میں نے سنا کہ ہمارے نزدیك صحیح روایت پہلی ہے (یعنی نجس عین)۔ (ت)
اور تیسرا یہ جو شرح وقایہ وغیرہ بعض کتب فقہ میں ہے :
اذاسد کلب عرض النھر ویجری الماء فوقہ انکان مایلاقی الکلب اقل ممالایلاقیہ یجوز الوضوء فی الاسفل والالا ۔
اگر کتا نہرکی چوڑائی بند کردے اور پانی اس کے اوپر سے جاری ہو تو اگر کتے سے ملا ہوا پانی اس سے کم ہے جو اس (کے جسم) سے ملا ہوا نہیں ہے تو (نہر کی) نچلی جانب سے وضو کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔ (ت)
کہتا ہے کہ کتا نجس العین ہے اور زید عمرو کے ان دلائل میں سے احادیث امر بقتل کلاب اور احادیث عدم دخول ملائکہ اور احادیث امر بغسل اناء کا توجواب یہ دیتا ہے کہ ان سب حدیثوں کے نجاست کلب پر دلالت کرنے میں ضعف ہے۔ احادیث امر بقتل کلاب کے دلالت کرنے میں تو اس وجہ سے کہ یہ امر ان کی نجاست کے سبب نہ تھا بلکہ ملائکہ کے اس گھر میں جس میں کتا ہو نہ داخل ہونے کی وجہ سے تھا جیسا کہ امر مذکور ہی کی احادیث سے مفہوم ہوتا ہے اور اگر ہم تسلیم بھی کرلیں تو اس کا نسخ وارد ہوچکا ہے اور احادیث عدم دخول ملائکہ کے دلالت کرنے میں اس وجہ سے کہ امتناع ملائکہ کا باعث کلب کی نجاست ہی نہیں متعین ہوسکتی بلکہ ممکن ہے کہ کوئی اور امر ہو۔
قال العلامۃ الدمیری فی حیوۃ الحیوان قال العلماء سبب امتناعھم من البیت الذی فیہ الکلب کثرۃ اکلہ النجاسات وبعض الکلاب یسمی شیطانا والملائکۃ
علامہ دمیری نے حیوۃ الحیوان میں فرمایا کہ علماء فرماتے ہیں جس گھر میں کتا ہو اس میں فرشتوں کے نہ آنے کا باعث کتوں کا بکثرت نجاست کھانا ہے اور بعض کتوں کو تو شیطان کہا جاتا ہے اور فرشتے شیطان
حوالہ / References
شرح النقایۃ لابی المکارم
شرح الوقایۃ بیان مایجوز بہ الوضوء المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۸۴
شرح الوقایۃ بیان مایجوز بہ الوضوء المکتبۃ الرشیدیہ دہلی ۱ / ۸۴
ضد الشیاطین ولقبح رائحۃ الکلب والملئکۃ تکرہ والرائحۃ الخبیثۃ ولانھا منھی عن اتخاذھا فعوقب متخذھا بحرمانہ دخول الملئکۃ بیتہ ۔
کی ضد میں نیز کتا بدبودار ہوتا ہے اور فرشتے بدبو کو پسند نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ کتا رکھنے سے منع کیا گیا پس اسے رکھنے والے کو یوں سزا دی گئی کہ اس کے گھر میں فرشتوں کا داخلہ نہیں ہوتا۔ (ت)
اور نظیر اس کی وہ حدیث ہے جس کو امام مالك اور بخاری اور مسلم نے حضرت عائشہ سے مرفوعا اخراج کیا ہے کہ جس گھر میں تصویریں ہوتی ہیں اس میں فرشتے نہیں داخل ہوتے اور نیز وہ حدیث ہے جس کو امام مالك اور احمد اور ترمذی اور ابن حبان نے ابوسعید سے مرفوعا اخراج کیا ہے کہ جس گر میں تماثیل یا صورت ہوتی ہیں اس میں فرشتے نہیں آتے اور نیز وہ حدیث جس کو بغوی اور طبرانی اور ابونعیم نے معرفۃ میں اور ابن قانع نے سوط بن غزی سے مرفوعا اخراج کیا ہے کہ ملائکہ اس قافلہ کے ساتھ نہیں ہوتے جس میں گھنٹا ہوتا ہے اور نیز وہ حدیث ہے جس کو طبرانی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے مرفوعا اخراج کیا ہے کہ ملائکہ جنب اور متضمخ بخلوق پر ان کے غسل کرنے تك حاضر نہیں ہوتے۔
اور نیز وہ حدیث ہے جس کو احمد اور ابوداؤد نے عمار سے مرفوعا اخراج کیا ہے کہ ملائکہ جنازہ کافر پر خیر سے اور متضمخ بزعفران اور جنب پر نہیں حاضر ہوتے تو جیسا کہ ان حدیثوں سے نجاست تصویر اور جنازہ کافر اور متضمخ بزعفران وغیر ذلك پر استدلال کرنا غیر ممکن ہے ایسا ہی احادیث عدم دخول ملائکہ سے نجاست کلب پر تمسك کرنا ناجائز اور احادیث امر بغسل اناء کے دلالت کرنے میں تو ضعف کا ہونا ظاہر ہے ہاں نجاست لعاب کلب پر یہ حدیثیں البتہ دال ہیں نہ اس کے عین کی نجاست پر۔ اور حدیث ابی ہریرہ کا جواب اولا تو یہ دیتا ہے کہ مولنا الہداد جونپوری نے حاشیہ ہدایہ میں اور دمیری نے حیوۃ الحیوان میں نقل کیا ہے اور کہا ہے یعنی دمیری نے کہ اس حدیث کو امام احمد اور دارقطنی اور حاکم اور بیہقی نے حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے لیکن میں نے جو سنن دارقطنی اور مستدرك حاکم کی طرف مراجعت کی تو میں نے ان دونوں میں اس حدیث کو اس لفظ سے نہیں پایا بلکہ لفظ
کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یاتی دارقوم من الانصار ودونھم دارفیشق ذلك علیھم فقالوا یارسول الله تاتی دارفلان ولاتاتی دارنا فقال
رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم چند انصار کے گھروں میں تشریف لاتے تھے ان میں سے نیچے کی جانب ایك گھر تھا ان پر یہ بات گراں گزری تو انہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ فلاں
کی ضد میں نیز کتا بدبودار ہوتا ہے اور فرشتے بدبو کو پسند نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ کتا رکھنے سے منع کیا گیا پس اسے رکھنے والے کو یوں سزا دی گئی کہ اس کے گھر میں فرشتوں کا داخلہ نہیں ہوتا۔ (ت)
اور نظیر اس کی وہ حدیث ہے جس کو امام مالك اور بخاری اور مسلم نے حضرت عائشہ سے مرفوعا اخراج کیا ہے کہ جس گھر میں تصویریں ہوتی ہیں اس میں فرشتے نہیں داخل ہوتے اور نیز وہ حدیث ہے جس کو امام مالك اور احمد اور ترمذی اور ابن حبان نے ابوسعید سے مرفوعا اخراج کیا ہے کہ جس گر میں تماثیل یا صورت ہوتی ہیں اس میں فرشتے نہیں آتے اور نیز وہ حدیث جس کو بغوی اور طبرانی اور ابونعیم نے معرفۃ میں اور ابن قانع نے سوط بن غزی سے مرفوعا اخراج کیا ہے کہ ملائکہ اس قافلہ کے ساتھ نہیں ہوتے جس میں گھنٹا ہوتا ہے اور نیز وہ حدیث ہے جس کو طبرانی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے مرفوعا اخراج کیا ہے کہ ملائکہ جنب اور متضمخ بخلوق پر ان کے غسل کرنے تك حاضر نہیں ہوتے۔
اور نیز وہ حدیث ہے جس کو احمد اور ابوداؤد نے عمار سے مرفوعا اخراج کیا ہے کہ ملائکہ جنازہ کافر پر خیر سے اور متضمخ بزعفران اور جنب پر نہیں حاضر ہوتے تو جیسا کہ ان حدیثوں سے نجاست تصویر اور جنازہ کافر اور متضمخ بزعفران وغیر ذلك پر استدلال کرنا غیر ممکن ہے ایسا ہی احادیث عدم دخول ملائکہ سے نجاست کلب پر تمسك کرنا ناجائز اور احادیث امر بغسل اناء کے دلالت کرنے میں تو ضعف کا ہونا ظاہر ہے ہاں نجاست لعاب کلب پر یہ حدیثیں البتہ دال ہیں نہ اس کے عین کی نجاست پر۔ اور حدیث ابی ہریرہ کا جواب اولا تو یہ دیتا ہے کہ مولنا الہداد جونپوری نے حاشیہ ہدایہ میں اور دمیری نے حیوۃ الحیوان میں نقل کیا ہے اور کہا ہے یعنی دمیری نے کہ اس حدیث کو امام احمد اور دارقطنی اور حاکم اور بیہقی نے حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے لیکن میں نے جو سنن دارقطنی اور مستدرك حاکم کی طرف مراجعت کی تو میں نے ان دونوں میں اس حدیث کو اس لفظ سے نہیں پایا بلکہ لفظ
کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یاتی دارقوم من الانصار ودونھم دارفیشق ذلك علیھم فقالوا یارسول الله تاتی دارفلان ولاتاتی دارنا فقال
رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم چند انصار کے گھروں میں تشریف لاتے تھے ان میں سے نیچے کی جانب ایك گھر تھا ان پر یہ بات گراں گزری تو انہوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ فلاں
حوالہ / References
حیٰوۃ الحیوان الکبرٰی ، زیر لفظ الکلب ، مصطفی البابی حلبی مصر ، ۲ / ۲۹۰
خلوق (ایك خاص قسم کی خوشبو) لگانے والا۔
خلوق (ایك خاص قسم کی خوشبو) لگانے والا۔
رسول الله صلی الله علیہ وسلم لان فے دارکم کلبا قالوا فان فی دارھم سنورا فقال النبی السنور سبع ۔
کے گھر تشریف لاتے ہیں اور ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا اس لئے کہ تمہارے گھر کتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا تو ان (فلاں کے) گھر بلی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : بلی ایك درندہ ہے۔ (ت)
کے ساتھ پایا تو اول تو اصح اس کا وقف ہے اور دوسرے اسناد اس کی قوی نہیں۔
قال الحافظ ابن حجر فی التلخیص بعدذکر الحدیث قال ابن ابی حاتم فی العلل سألت ابازرعۃ عنہ فقال لم یرفعہ ابونعیم وھو اصح وعیسی عــہ لیس بالقوی قال العقیلی لایتابعہ علی ھذا الحدیث الامن ھو مثلہ اودونہ وقال ابن حبان خرج عیسی عن حدالاحتجاج ولما ذکرہ الحاکم قال ھذا الحدیث صحیح تفرد بہ عیسی عن ابی زرعۃ وھو صدوق لم یجرح قط ھکذا قال وقدضعفہ ابوحاتم وابوداود وغیرھا وقال ابن الجوزی لایصح انتھی ملخصا۔
حافظ ابن حجر (عسقلانی) نے تلخیص میں یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد فرمایا ابن ابی حاتم نے علل میں فرمایا کہ میں نے اس حدیث کے بارے میں ابوزرعہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ابونعیم نے اسے مرفوع ذکر نہیں کیا اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ اور عیسی (راوی) قوی نہیں۔ عقیلی نے فرمایا اس حدیث میں ان کی متابعت وہی کرے گا جو اس کی مثل یا اس سے کم (درجہ میں) ہو۔ ابن حبان نے کہا : عیسی حجت کی حد سے نکل گیا (یعنی اس کی بات کو دلیل نہیں بناسکتے) اور حاکم نے اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے کہا یہ حدیث صحیح ہے اس کو ابو زرعہ سے روایت کرنے میں عیسی متفرد ہیں اور وہ سچے ہیں ان پر کبھی جرح نہیں ہوئی انہوں نے اسی طرح کہا (لیکن) ابوحاتم اور ابوداؤد کے علاوہ دوسروں نے اسے ضعیف قرار دیا اور ابن جوزی نے کہا یہ صحیح نہیں انتہی ملخصا (ت)
اور تیسرے برتقدیر اس کے رفع اور اس کے اسناد کی صحت کے اس کو اس لفظ سے نجاست کلب
عــہ : ھذا احد رواۃ ھذا الحدیث ۱۲ (م)
اس حدیث کے راویوں میں سے ایك یہ ہیں۔ (ت)
کے گھر تشریف لاتے ہیں اور ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا اس لئے کہ تمہارے گھر کتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا تو ان (فلاں کے) گھر بلی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : بلی ایك درندہ ہے۔ (ت)
کے ساتھ پایا تو اول تو اصح اس کا وقف ہے اور دوسرے اسناد اس کی قوی نہیں۔
قال الحافظ ابن حجر فی التلخیص بعدذکر الحدیث قال ابن ابی حاتم فی العلل سألت ابازرعۃ عنہ فقال لم یرفعہ ابونعیم وھو اصح وعیسی عــہ لیس بالقوی قال العقیلی لایتابعہ علی ھذا الحدیث الامن ھو مثلہ اودونہ وقال ابن حبان خرج عیسی عن حدالاحتجاج ولما ذکرہ الحاکم قال ھذا الحدیث صحیح تفرد بہ عیسی عن ابی زرعۃ وھو صدوق لم یجرح قط ھکذا قال وقدضعفہ ابوحاتم وابوداود وغیرھا وقال ابن الجوزی لایصح انتھی ملخصا۔
حافظ ابن حجر (عسقلانی) نے تلخیص میں یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد فرمایا ابن ابی حاتم نے علل میں فرمایا کہ میں نے اس حدیث کے بارے میں ابوزرعہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ابونعیم نے اسے مرفوع ذکر نہیں کیا اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ اور عیسی (راوی) قوی نہیں۔ عقیلی نے فرمایا اس حدیث میں ان کی متابعت وہی کرے گا جو اس کی مثل یا اس سے کم (درجہ میں) ہو۔ ابن حبان نے کہا : عیسی حجت کی حد سے نکل گیا (یعنی اس کی بات کو دلیل نہیں بناسکتے) اور حاکم نے اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے کہا یہ حدیث صحیح ہے اس کو ابو زرعہ سے روایت کرنے میں عیسی متفرد ہیں اور وہ سچے ہیں ان پر کبھی جرح نہیں ہوئی انہوں نے اسی طرح کہا (لیکن) ابوحاتم اور ابوداؤد کے علاوہ دوسروں نے اسے ضعیف قرار دیا اور ابن جوزی نے کہا یہ صحیح نہیں انتہی ملخصا (ت)
اور تیسرے برتقدیر اس کے رفع اور اس کے اسناد کی صحت کے اس کو اس لفظ سے نجاست کلب
عــہ : ھذا احد رواۃ ھذا الحدیث ۱۲ (م)
اس حدیث کے راویوں میں سے ایك یہ ہیں۔ (ت)
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ ، مطبوعہ دار الفکر بیروت ، ۲ / ۳۲۷
التلخیص الجیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر باب بیان النجاسات المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ۱ / ۲۵
التلخیص الجیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر باب بیان النجاسات المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل ۱ / ۲۵
پر ہرگز دلالت نہیں۔ ہاں بلی کے مثل کتے کے شیطان نہ ہونے پر البتہ اس کو دلالت ہے جیسا کہ بعض شارحین نے لکھا ہے اور ثانیا یہ کہ برتقدیر اس کے اس لفظ کے ساتھ موجود ہونے اور اس کے رفع اور اس کے اسناد کی صحت کے نہیں ثابت ہوگی اس سے مگر نجاست اضافیہ یعنی کتے کا بہ نسبت بلی کے نجس ہونا نہ حقیقیہ کمالایخفی علی من لہ طبع سلیم وذھن مستقیم (جیسا کہ اس شخص پر مخفی نہیں جس کی فطرت سلیم اور ذہن ٹھیك ہے۔ ت) اور وہ مسلم ہے بیشك بہ نسبت بلی کے کتا نجس ہے کیونکہ اس کا گوشت اور خون اور لعاب اور سور اور عرق ہمارے نزدیك نجس ہے بخلاف بلی کے اور بحث اس کی نجاست عین سے ہے تو حدیث کو اس پر دلالت نہیں فتدبر اور اقوال فقہا میں سے ان دونوں قولوں کا تو جو مبسوط اور شرح نقایہ میں ہے جواب یہ دیتا ہے کہ اول تو ان دونوں قولوں میں کلب کی نجاست کی نسبت لفظ صحیح بولا ہے اور ان اقوال میں جو میرے دلائل سے ہیں اس کے طاہر العین ہونے کی نسبت لفظ اقرب الی الصواب اور لفظ اصح کہا ہے وقدصرحوا بان لفظ الاصح اکد من الصحیح فیتبع الاکد کماصرح بہ فی ردالمحتار (فقہاء کرام نے تصریح کی ہے کہ لفظ “ اصح “ لفظ “ صحیح “ سے زیادہ مؤکد ہے پس جس میں زیادہ تاکید ہے اس کی اتباع کی جائے جیسا کہ ردالمحتار میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔ ت)
اور دوم : اگر ہم مساوات لفظ تصحیح کو بھی مان لیں تو فتوی تو اس کے طاہر العین ہونے پر ہے فیؤخذ بماعلیہ الفتوی دون غیرہ (پس اسے اختیار کےیا جائے جس پر فتوی ہے نہ کہ اس کے غیر کو۔ ت)
اور سوم : اگر ہم اختلاف فتوی کو بھی تسلیم کریں تو تب بھی بموجب قاعدہ اذا اختلف التصحیح والفتوی فالعمل بمافی المتون اولی (جب تصحیح اور فتوی میں اختلاف ہو تو جو کچھ متون میں ہے اس پر عمل کرنا اولی ہے۔ ت) کے عمل مافی المتون ہی پر کیا جائے گا۔
والمراد بالمتون لیس جمیع المتون بل المختصرات التی الفھا حذاق الائمۃ وکبار الفقھاء المعروفین بالعلم والزھد والفقۃ والثقۃ فی الروایۃ کابی جعفر الطحاوی والکرخی والحاکم والشھید
متون سے مراد تمام متون نہیں بلالکہ وہ مختصر کتب میں جن کو ماہر ائمہ اور فقہاء کبیر جو علم زہد فقہ اور روایت میں ثقافت کے ساتھ مشہور ہیں نے تالیف کیا جیسے ابوجعفر طحاوی کرخی حاکم شہید قدوری اور وہ لوگ جو اس طبقے
اور دوم : اگر ہم مساوات لفظ تصحیح کو بھی مان لیں تو فتوی تو اس کے طاہر العین ہونے پر ہے فیؤخذ بماعلیہ الفتوی دون غیرہ (پس اسے اختیار کےیا جائے جس پر فتوی ہے نہ کہ اس کے غیر کو۔ ت)
اور سوم : اگر ہم اختلاف فتوی کو بھی تسلیم کریں تو تب بھی بموجب قاعدہ اذا اختلف التصحیح والفتوی فالعمل بمافی المتون اولی (جب تصحیح اور فتوی میں اختلاف ہو تو جو کچھ متون میں ہے اس پر عمل کرنا اولی ہے۔ ت) کے عمل مافی المتون ہی پر کیا جائے گا۔
والمراد بالمتون لیس جمیع المتون بل المختصرات التی الفھا حذاق الائمۃ وکبار الفقھاء المعروفین بالعلم والزھد والفقۃ والثقۃ فی الروایۃ کابی جعفر الطحاوی والکرخی والحاکم والشھید
متون سے مراد تمام متون نہیں بلالکہ وہ مختصر کتب میں جن کو ماہر ائمہ اور فقہاء کبیر جو علم زہد فقہ اور روایت میں ثقافت کے ساتھ مشہور ہیں نے تالیف کیا جیسے ابوجعفر طحاوی کرخی حاکم شہید قدوری اور وہ لوگ جو اس طبقے
حوالہ / References
الدرالمختار علی حاشیۃ ردالمحتار ، مطلب اذاتعارض التصحیح ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۵۰
ردالمختار مطلب اذاتعارض التصحح مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۹
ردالمختار مطلب اذاتعارض التصحح مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۹
والقدوری ومن فی ھذہ الطبقۃ وقدکثر اعتماد المتأخرین علی الوقایۃ لبرھان الشریعۃ وکنزالدقائق لابی البرکات والمختار لابی الفضل ومجمع البحرین لمظفر الدین ومختصر القدوری لاحمد بن محمد وذلك لماعلموا من جلالۃ مولفیھا والتزامھم ایراد مسائل معتمد علیھا واشھرھا ذکرا واقولھا اعتمادا الوقایۃ والکنز ومختصر القدوری وھی المراد بقولھم المتون الثلثۃ۔
میں شامل ہیں متاخرین کا برہان الشریعۃ کے وقایہ ابو البرکات کی کنز الدقائق اور ابو الفضل کی المختار مظفر الدین کی مجمع البحرین اور احمد بن محمد کی مختصر القدوری پر بہت زیادہ اعتماد ہے اور یہ اس لئے کہ انہیں ان کتب کے مولفین کی جلالت علمی نیز قابل اعتماد مسائل ذکر کرنے کے التزام کا علم تھا۔ ان میں سے ذکر کے اعتبار سے زیادہ مشہور اور قول کے اعتبار سے زیادہ معتمد علیہ وقایہ کنزالدقائق اور مختصر القدوری ہے اور فقہاء کرام کے قول متون سے یہی “ تین متون “ مراد ہیں۔ (ت)
تو ان سب میں علی الخصوص ان متون ثلثہ میں بجز اس کے طاہر العین ہونے کے اور کچھ نہیں ہے ولله الحمد اور اس کا جو کہ شرح وقایہ وغیرہ میں ہے یہ کہ اس قول میں کلب سے مراد کلب میت ہے۔ حسن چلپی نے ذخیرۃ العقبی میں کہا ہے :
قولہ واذاسد کلب ای میت
قولہ اور جب کتا (نہر کی چوڑائی) بند کرے یعنی مردہ (کتا)۔ (ت)
اور ایسا ہی سعایہ اور رعایہ میں بھی ہے اور شرح وقایہ کے اردو ترجمہ میں ہے کہ اگر مرا ہوا کتا رواں ندی میں پڑا ہو تو دونوں میں صحیح قول کس کا ہے اور برتقدیر زید کے قول کے صحیح ہونے کے اس کے استدلال اور جواب بھی صحیح ہیں یا نہیں اور نیز اس میں کہ برتقدیر کلب کی طہارت عین کی صحت کے یہ جو ردالمحتار میں نقلا عن البدائع ہے
قال مشایخنا من صلی وفی کمہ جر وتجوز صلاتہ وقیدہ الفقیہ ابوجعفر الھندوانی بکونہ مشدود الفم ۔
ہمارے مشائخ نے فرمایا جس نے اس حال میں نماز پڑھی کہ اس کی آستین میں کتے کا بچہ تھا تو اس کی نماز جائز ہے فقیہ ابوجعفر ہندوانی نے قید لگائی ہے کہ اس کا منہ باندھا ہوا ہو۔ (ت)
اور نیز یہ جو اس میں نقلا عن المحیط ہے :
میں شامل ہیں متاخرین کا برہان الشریعۃ کے وقایہ ابو البرکات کی کنز الدقائق اور ابو الفضل کی المختار مظفر الدین کی مجمع البحرین اور احمد بن محمد کی مختصر القدوری پر بہت زیادہ اعتماد ہے اور یہ اس لئے کہ انہیں ان کتب کے مولفین کی جلالت علمی نیز قابل اعتماد مسائل ذکر کرنے کے التزام کا علم تھا۔ ان میں سے ذکر کے اعتبار سے زیادہ مشہور اور قول کے اعتبار سے زیادہ معتمد علیہ وقایہ کنزالدقائق اور مختصر القدوری ہے اور فقہاء کرام کے قول متون سے یہی “ تین متون “ مراد ہیں۔ (ت)
تو ان سب میں علی الخصوص ان متون ثلثہ میں بجز اس کے طاہر العین ہونے کے اور کچھ نہیں ہے ولله الحمد اور اس کا جو کہ شرح وقایہ وغیرہ میں ہے یہ کہ اس قول میں کلب سے مراد کلب میت ہے۔ حسن چلپی نے ذخیرۃ العقبی میں کہا ہے :
قولہ واذاسد کلب ای میت
قولہ اور جب کتا (نہر کی چوڑائی) بند کرے یعنی مردہ (کتا)۔ (ت)
اور ایسا ہی سعایہ اور رعایہ میں بھی ہے اور شرح وقایہ کے اردو ترجمہ میں ہے کہ اگر مرا ہوا کتا رواں ندی میں پڑا ہو تو دونوں میں صحیح قول کس کا ہے اور برتقدیر زید کے قول کے صحیح ہونے کے اس کے استدلال اور جواب بھی صحیح ہیں یا نہیں اور نیز اس میں کہ برتقدیر کلب کی طہارت عین کی صحت کے یہ جو ردالمحتار میں نقلا عن البدائع ہے
قال مشایخنا من صلی وفی کمہ جر وتجوز صلاتہ وقیدہ الفقیہ ابوجعفر الھندوانی بکونہ مشدود الفم ۔
ہمارے مشائخ نے فرمایا جس نے اس حال میں نماز پڑھی کہ اس کی آستین میں کتے کا بچہ تھا تو اس کی نماز جائز ہے فقیہ ابوجعفر ہندوانی نے قید لگائی ہے کہ اس کا منہ باندھا ہوا ہو۔ (ت)
اور نیز یہ جو اس میں نقلا عن المحیط ہے :
حوالہ / References
ذخیرۃ العقبٰی فی شرح صدر الشریعۃ کتاب الطہارۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۴
ردالمحتار باب المیاہ ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۹
ردالمحتار باب المیاہ ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۹
صلی ومعہ جروکلب اومالایجوز الوضوء بسورہ قیل لم یجز والاصح انکان فمہ مفتوحا لم ےیجز لان لعابہ یسیل فی کمہ فینجس لواکثر من قدر الدرھم ولوکان مشدودا بحیث لایصل لعابہ الی ثوبہ جازلان ظاھر کل حیوان طاھر ولایتنجس الابالموت ونجاسۃ باطنہ فی معدنھا فلایظھر حکمھا کنجاسۃ باطن المصلی ۔
کسی نے نماز پڑھی اور اس کے پاس کتے کا بچہ یا وہ چیز تھی جس کے جھوٹے سے وضو جائز نہیں تو کہا گیا (نماز) جائز نہیں یقینا زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اگر اس کا منہ کھلا ہوا ہو تو جائز نہیں کیونکہ اس کا لعاب آستین میں بہہ کر اسے ناپاك کردے گا جبکہ وہ ایك درہم سے زیادہ ہو اور اگر اس کا منہ اس طرح باندھا ہو ہوکہ اس کا لعاب نمازی کے کپڑے تك نہ پہنچے تو نماز جائز ہے کیونکہ ہر حیوان کا ظاہر پاك ہے اور وہ مرنے کے بغیر ناپاك نہیں ہوتا اندرونی نجاست اپنے اصل مقام پر ہے لہذا نمازی کے پیٹ کی نجاست کی طرح اس کا حکم بھی ظاہر نہ ہوگا۔ (ت)
اور نیز یہ جو اس میں نقلا عن الحلیۃ ہے :
والاشبہ اطلاق الجواز عند امن سیلان القدر المانع قبل الفراغ من الصلاۃ ۔
زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ مطلقا جائز ہے جبکہ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے اس قدر (لعاب) جاری ہونے سے بے خوف ہوجو مانع طہارت ہے۔ (ت)
بوجہ اس کے اس پر یعنی کلب کی طہارت عین پر مبنی ہونے کے بدلیل المبنی علی الصحیح صحیح (جس کی بنیاد صحیح پر ہو وہ صحیح ہوتا ہے۔ ت) کے صحیح ہوگا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدلله الذی اعطی کل شیئ خلقہ ثم ھدی فکان اصل کل شیئ طاھرا اذمن القدوس الطاھر بدا وصلی الله تعالی علی السید الطیب الطاھر الذی میز
تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلئے ہیں جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت دی پھر اسے بداہت دی پس ہر چیز کی اصل پاك ہے کیونکہ وہ پاکیزہ طاہر ذات کی طرف سے ظاہر ہوئی طیب وطاہر سردار پر
کسی نے نماز پڑھی اور اس کے پاس کتے کا بچہ یا وہ چیز تھی جس کے جھوٹے سے وضو جائز نہیں تو کہا گیا (نماز) جائز نہیں یقینا زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اگر اس کا منہ کھلا ہوا ہو تو جائز نہیں کیونکہ اس کا لعاب آستین میں بہہ کر اسے ناپاك کردے گا جبکہ وہ ایك درہم سے زیادہ ہو اور اگر اس کا منہ اس طرح باندھا ہو ہوکہ اس کا لعاب نمازی کے کپڑے تك نہ پہنچے تو نماز جائز ہے کیونکہ ہر حیوان کا ظاہر پاك ہے اور وہ مرنے کے بغیر ناپاك نہیں ہوتا اندرونی نجاست اپنے اصل مقام پر ہے لہذا نمازی کے پیٹ کی نجاست کی طرح اس کا حکم بھی ظاہر نہ ہوگا۔ (ت)
اور نیز یہ جو اس میں نقلا عن الحلیۃ ہے :
والاشبہ اطلاق الجواز عند امن سیلان القدر المانع قبل الفراغ من الصلاۃ ۔
زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ مطلقا جائز ہے جبکہ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے اس قدر (لعاب) جاری ہونے سے بے خوف ہوجو مانع طہارت ہے۔ (ت)
بوجہ اس کے اس پر یعنی کلب کی طہارت عین پر مبنی ہونے کے بدلیل المبنی علی الصحیح صحیح (جس کی بنیاد صحیح پر ہو وہ صحیح ہوتا ہے۔ ت) کے صحیح ہوگا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
الحمدلله الذی اعطی کل شیئ خلقہ ثم ھدی فکان اصل کل شیئ طاھرا اذمن القدوس الطاھر بدا وصلی الله تعالی علی السید الطیب الطاھر الذی میز
تمام تعریفیں اللہ تعالی کیلئے ہیں جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت دی پھر اسے بداہت دی پس ہر چیز کی اصل پاك ہے کیونکہ وہ پاکیزہ طاہر ذات کی طرف سے ظاہر ہوئی طیب وطاہر سردار پر
حوالہ / References
ردالمحتار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۳۹
ردالمحتار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۹
ردالمحتار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۹
الخبیث من الطیب بنور الھدی وعلی الہ الاطائب وصحبہ الطاھر وبارك وسلم دائما ابدا قال احد کلاب الباب النبوی احمد رضا المحمدی السنی الحنفی القادری البریلوی غفرالله لہ وحقق املہ امین قول زید اصح وارجح واحق بالقبول واوفق بالمنقول والمعقول ہے۔
جس نے نور ہدایت کے ساتھ ناپاك کو پاك سے جدا کردیا آپ کی پاکیزہ آل اور پاك صحابہ کرام پر اللہ تعالی کی رحمت برکت اور سلامتی ہمیشہ ہمیشہ نازل ہو۔ سگ باب نبوی احمد رضا محمدی سنی حنفی قادری بریلوی اللہ تعالی اس کی بخشش کرے اور اس کی امید کو ثابت وسچ کردے (آمین) نے کہا کہ زید کا قول زیادہ صحیح راجح اور قبولیت کا زیادہ حق رکھتا ہے نیز معقول ومنقول کے زیادہ موافق ہے۔ (ت)
اور اس کے اکثر دلائل وجوابات صحیح ونجیح وقابل قبول فی الواقع ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے مذہب میں یہ جانور سائر سباع کے مانند ہے کہ لعاب نجس اور عین طاہر یہی مذہب ہے صحیح واصح ومعتمد ومؤید بدلائل قرآن وحدیث ومختار وماخوذ للفتوی عند جمہور مشایخ القدیم والحدیث ہے۔ کلام زید میں بقدر کفایت اس کی تفصیل مذکور اور مسئلہ خود کثیر الددر ومعروف ومشہور لہذا اداء لحق الجواب وکشف الصواب جمیع ابحاث متقدمہ حدیث وفقہ وترجیح وتزییف میں اضافہ چند فائدہ زائدہ منظور
اما الحدیث فنذکر ماذکر اصحابنا ثم نورد تحقیق الروایۃ ثم نشیر الی تنقیح الدرایۃ۔
رہی حدیث تو ہم وہی ذکر کرینگے جو ہمارے اصحاب نے ذکر کیا پھر روایت کی تحقیق لائیں گے اس کے بعد درایت کی درستگی بیان کرینگے۔ (ت)
آثار عدیدہ میں مروی کہ کلب مملوك کے قاتل پر ضمان لازم اور سگ شکاری کو عورت کا مہر مقرر کرسکتے ہیں۔
قال العلامۃ علی القاری علیہ رحمۃ الباری فی المرقاۃ کتاب البیوع باب الکسب تحت حدیث ابی مسعود الانصاری رضی الله تعالی عنہ ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نھی عن ثمن الکلب مانصہ ھو محمول عندنا علی ماکان فی زمنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم حین امربقتلہ وکان الانتفاع بہ ےیومئذ محرما ثم رخص فی الانتفاع بہ حتی روی انہ قضی فی کلب صید قتلہ رجل
علامہ ملا علی قاری ان پر اللہ تعالی کی رحمت ہو نے مرقاۃ کے کتاب البیوع باب الکسب میں حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث کو “ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کتے کی قیمت وصول کرنے سے منع فرمایا “ کے تحت فرمایا “ جو کچھ انہوں نے ذکر کیا وہ ہمارے نزدیك اس پر محمول ہے جو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے زمانے میں تھا جب آپ نے اسے مار دینے کا حکم دیا اور ان دنوں اس سے نفع حاصل کرنا حرام تھا پھر اس سے انتفاع کی اجازت دے دی
جس نے نور ہدایت کے ساتھ ناپاك کو پاك سے جدا کردیا آپ کی پاکیزہ آل اور پاك صحابہ کرام پر اللہ تعالی کی رحمت برکت اور سلامتی ہمیشہ ہمیشہ نازل ہو۔ سگ باب نبوی احمد رضا محمدی سنی حنفی قادری بریلوی اللہ تعالی اس کی بخشش کرے اور اس کی امید کو ثابت وسچ کردے (آمین) نے کہا کہ زید کا قول زیادہ صحیح راجح اور قبولیت کا زیادہ حق رکھتا ہے نیز معقول ومنقول کے زیادہ موافق ہے۔ (ت)
اور اس کے اکثر دلائل وجوابات صحیح ونجیح وقابل قبول فی الواقع ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکے مذہب میں یہ جانور سائر سباع کے مانند ہے کہ لعاب نجس اور عین طاہر یہی مذہب ہے صحیح واصح ومعتمد ومؤید بدلائل قرآن وحدیث ومختار وماخوذ للفتوی عند جمہور مشایخ القدیم والحدیث ہے۔ کلام زید میں بقدر کفایت اس کی تفصیل مذکور اور مسئلہ خود کثیر الددر ومعروف ومشہور لہذا اداء لحق الجواب وکشف الصواب جمیع ابحاث متقدمہ حدیث وفقہ وترجیح وتزییف میں اضافہ چند فائدہ زائدہ منظور
اما الحدیث فنذکر ماذکر اصحابنا ثم نورد تحقیق الروایۃ ثم نشیر الی تنقیح الدرایۃ۔
رہی حدیث تو ہم وہی ذکر کرینگے جو ہمارے اصحاب نے ذکر کیا پھر روایت کی تحقیق لائیں گے اس کے بعد درایت کی درستگی بیان کرینگے۔ (ت)
آثار عدیدہ میں مروی کہ کلب مملوك کے قاتل پر ضمان لازم اور سگ شکاری کو عورت کا مہر مقرر کرسکتے ہیں۔
قال العلامۃ علی القاری علیہ رحمۃ الباری فی المرقاۃ کتاب البیوع باب الکسب تحت حدیث ابی مسعود الانصاری رضی الله تعالی عنہ ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نھی عن ثمن الکلب مانصہ ھو محمول عندنا علی ماکان فی زمنہ صلی الله تعالی علیہ وسلم حین امربقتلہ وکان الانتفاع بہ ےیومئذ محرما ثم رخص فی الانتفاع بہ حتی روی انہ قضی فی کلب صید قتلہ رجل
علامہ ملا علی قاری ان پر اللہ تعالی کی رحمت ہو نے مرقاۃ کے کتاب البیوع باب الکسب میں حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ تعالی عنہکی حدیث کو “ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کتے کی قیمت وصول کرنے سے منع فرمایا “ کے تحت فرمایا “ جو کچھ انہوں نے ذکر کیا وہ ہمارے نزدیك اس پر محمول ہے جو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے زمانے میں تھا جب آپ نے اسے مار دینے کا حکم دیا اور ان دنوں اس سے نفع حاصل کرنا حرام تھا پھر اس سے انتفاع کی اجازت دے دی
باربعین درھما وقضی فی کلب ماشیۃ بکبش ذکرہ ابن الملك اھ۔
اقول : ظاھرہ عزوذلك الی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وقدصرح بہ فی الاسرار والنھایۃ وذخیرۃ العقبی وغیرھا من الشروح والاسفار فقالوا ان عبدالله بن عمروبن العاص رضی الله عنہما روی عن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ قضی فی کلب باربعین درھما ولکن ظنی ان المعروف عـــہ وقفہ فلعل قضی فی الموضعین علی البناء للمفعول قال الامام الاجل ابوجعفر فی شرح معافی الآثار نزول ھذہ الایۃ بعد تحریم الکلاب وان ھذہ الایۃ اعادت الجوارح المکلبین الی صیرتھا حلالا واذاصارت کذلك کانت فی سائر الاشیاء التی ھی حلال فی حل امساکھا واباحۃ اثمانھا
یہاں تك مروی ہے کہ ایك شخص نے شکاری کتا ہلاك کردیا تو آپ نے (اس کے خلاف) چالیس درہم کے ساتھ فیصلہ فرمایا اور جانوروں کی حفاظت کیلئے رکھے گئے کتے کے سلسلے میں ایك مینڈھا دینے کا فیصلہ فرمایا اسے ابن الملك نے ذکر کیا اھ (ت)
اقول : بظاہر یہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی طرف منسوب ہے اور اسرار نہایہ ذخیرۃ العقبی وغیرہ شروح اور بڑی بڑی کتب میں اس کی تصریح کرتے ہوئے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہمانے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ نے کتے کے سلسلے میں چالیس درہم کا فیصلہ فرمایا لیکن میرے خیال میں اس کا موقوف ہونا معروف ہے شاید دونوں جگہوں میں “ قضی “ مبنی للمفعول ہے۔ امام اجل ابوجعفر طحاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے شرح معافی الآثار میں فرمایا کہ اس آیت کا نزول کتوں کو حرام قرار دینے کے بعد ہوا اور اس آیت نے سکھائے ہوئے شکاری کتوں کو دوبارہ حلت کی طرف لوٹا دیا یعنی ان کا روکا ہوا (شکار) حلال ہوگا ان کی قیمت لینا جائز ہوگی اور ان میں سے
عـــہ بعد کتابتی لھذا المحل رأیت المحقق حیث اطلق ذکر الحدیث فی الفتح عن الاسرار ثم قال ھذا لایعرف الاموقوفا الخ والله الحمد ۱۲ منہ
اس جگہ کی کتابت کے بعد میں نے دیکھا کہ محقق علی الاطلاق نے اس حدیث کو فتح القدیر میں اسرار سے ذکر کیا ہے پھر فرمایا یہ حدیث نہیں پہچانی جاتی مگر موقوفا الخ ولله الحمد ۱۲ منہ (ت)
اقول : ظاھرہ عزوذلك الی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم وقدصرح بہ فی الاسرار والنھایۃ وذخیرۃ العقبی وغیرھا من الشروح والاسفار فقالوا ان عبدالله بن عمروبن العاص رضی الله عنہما روی عن رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ قضی فی کلب باربعین درھما ولکن ظنی ان المعروف عـــہ وقفہ فلعل قضی فی الموضعین علی البناء للمفعول قال الامام الاجل ابوجعفر فی شرح معافی الآثار نزول ھذہ الایۃ بعد تحریم الکلاب وان ھذہ الایۃ اعادت الجوارح المکلبین الی صیرتھا حلالا واذاصارت کذلك کانت فی سائر الاشیاء التی ھی حلال فی حل امساکھا واباحۃ اثمانھا
یہاں تك مروی ہے کہ ایك شخص نے شکاری کتا ہلاك کردیا تو آپ نے (اس کے خلاف) چالیس درہم کے ساتھ فیصلہ فرمایا اور جانوروں کی حفاظت کیلئے رکھے گئے کتے کے سلسلے میں ایك مینڈھا دینے کا فیصلہ فرمایا اسے ابن الملك نے ذکر کیا اھ (ت)
اقول : بظاہر یہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی طرف منسوب ہے اور اسرار نہایہ ذخیرۃ العقبی وغیرہ شروح اور بڑی بڑی کتب میں اس کی تصریح کرتے ہوئے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہمانے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ نے کتے کے سلسلے میں چالیس درہم کا فیصلہ فرمایا لیکن میرے خیال میں اس کا موقوف ہونا معروف ہے شاید دونوں جگہوں میں “ قضی “ مبنی للمفعول ہے۔ امام اجل ابوجعفر طحاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے شرح معافی الآثار میں فرمایا کہ اس آیت کا نزول کتوں کو حرام قرار دینے کے بعد ہوا اور اس آیت نے سکھائے ہوئے شکاری کتوں کو دوبارہ حلت کی طرف لوٹا دیا یعنی ان کا روکا ہوا (شکار) حلال ہوگا ان کی قیمت لینا جائز ہوگی اور ان میں سے
عـــہ بعد کتابتی لھذا المحل رأیت المحقق حیث اطلق ذکر الحدیث فی الفتح عن الاسرار ثم قال ھذا لایعرف الاموقوفا الخ والله الحمد ۱۲ منہ
اس جگہ کی کتابت کے بعد میں نے دیکھا کہ محقق علی الاطلاق نے اس حدیث کو فتح القدیر میں اسرار سے ذکر کیا ہے پھر فرمایا یہ حدیث نہیں پہچانی جاتی مگر موقوفا الخ ولله الحمد ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب الکسب وطلب الحلال مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۶ / ۳۸
ذخیرۃ العقبٰی علی شرح الوقایۃ مسائل شتی من البیع ، مطبع منشی نولکشور کان پور ۲ / ۴۰۰
ذخیرۃ العقبٰی علی شرح الوقایۃ مسائل شتی من البیع ، مطبع منشی نولکشور کان پور ۲ / ۴۰۰
وضمان متلفیھا مااتلفوا منھا کغیرھا اوقدوری فی ذلك عمن بعد النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم حدثنا یونس ثناابن وھب قال سمعت ابن جریج یحدث عن عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ عبدالله بن عمرو انہ قضی فی کلب صید قتلہ رجل باربعین درھما وقضی فی کلب ماشیۃ بکبش اھ ثم اسند عن ابن شھاب الزھری انہ قال اذا قتل الکلب المعلم فانہ یقوم قیمتہ فیغرمہ الذی قتلہ ثم عن محمد بن یحیی بن حبان الانصاری قال کان یقال یجعل فی الکلب الضاری اذاقتل اربعون درھما اھ
وفی عمدۃ القاری للعلامۃ البدر محمود العینی عن عثمن رضی الله تعالی عنہ انہ اجاز الکلب الضاری فی المھر وجعل علی قاتلہ عشرین من الابل ذکرہ ابوعمر في التمھید۔
جو کچھ ضائع کیا گیا ضائع کرنے والے پر اس کی ضمان ہوگی جیسا کہ دوسرے جانوروں میں ہوتا ہے (یہ مطلب نہیں کہ خود اس کا کھانا حلال ہوگیا) اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے بعد والوں (صحابہ کرام وتابعین) سے بھی روایات مروی ہیں۔ ہم (امام طحاوی) سے یونس نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں ہم سے ابن وہب نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ابن جریج سے سنا وہ عمروبن شعیب سے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا (عبداللہ بن عمرو) سے روایت کرتے ہیں کہ ایك شکاری کتے کو کسی نے ہلاك کردیا تو انہوں نے اس کے بدلے میں چالیس درہموں کا فیصلہ فرمایا اور جانوروں کی حفاظت کرنے والے کتے کے بارے میں ایك مینڈھے کا فیصلہ کیا اھ پھر (امام طحاوی نے) ابن شہاب زہری کا قول نقل کیا انہوں نے فرمایا : جب معلم کتا ہلاك کیا جائے تو اس کی قیمت معین کرکے قاتل تاوان اداکرے پھر محمد بن یحیی بن حبان کا قول نقل کیا فرماتے ہیں کہا جاتا تھا کہ جب کوئی شخص شکاری کتے کو ہلاك کرے تو اس کے بدلے میں چالیس درھم مقرر کئے جائیں اھ علامہ بدر الدین عینی محمود کی عمدۃ القاری میں ہے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے کہ انہوں نے مہر میں شکاری کتا دینا جائز قرار دیا ہے اور اس کے قاتل پر بیس۲۰ اونٹ تاوان رکھا ہے اسے ابوعمر نے تمہید میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
ان احادیث سے کلب کا مال متقوم ہونا ثابت اور پرظاہر کہ نجس العین مال متقوم نہیں تو واجب کہ طاہر العین ہو
ولذاجعل التضمین فی الدر مبنیا علی القول
اسی لئے درمختار میں اس کی ضمان مقرر کرنے کیلئے
وفی عمدۃ القاری للعلامۃ البدر محمود العینی عن عثمن رضی الله تعالی عنہ انہ اجاز الکلب الضاری فی المھر وجعل علی قاتلہ عشرین من الابل ذکرہ ابوعمر في التمھید۔
جو کچھ ضائع کیا گیا ضائع کرنے والے پر اس کی ضمان ہوگی جیسا کہ دوسرے جانوروں میں ہوتا ہے (یہ مطلب نہیں کہ خود اس کا کھانا حلال ہوگیا) اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے بعد والوں (صحابہ کرام وتابعین) سے بھی روایات مروی ہیں۔ ہم (امام طحاوی) سے یونس نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں ہم سے ابن وہب نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ابن جریج سے سنا وہ عمروبن شعیب سے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا (عبداللہ بن عمرو) سے روایت کرتے ہیں کہ ایك شکاری کتے کو کسی نے ہلاك کردیا تو انہوں نے اس کے بدلے میں چالیس درہموں کا فیصلہ فرمایا اور جانوروں کی حفاظت کرنے والے کتے کے بارے میں ایك مینڈھے کا فیصلہ کیا اھ پھر (امام طحاوی نے) ابن شہاب زہری کا قول نقل کیا انہوں نے فرمایا : جب معلم کتا ہلاك کیا جائے تو اس کی قیمت معین کرکے قاتل تاوان اداکرے پھر محمد بن یحیی بن حبان کا قول نقل کیا فرماتے ہیں کہا جاتا تھا کہ جب کوئی شخص شکاری کتے کو ہلاك کرے تو اس کے بدلے میں چالیس درھم مقرر کئے جائیں اھ علامہ بدر الدین عینی محمود کی عمدۃ القاری میں ہے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے کہ انہوں نے مہر میں شکاری کتا دینا جائز قرار دیا ہے اور اس کے قاتل پر بیس۲۰ اونٹ تاوان رکھا ہے اسے ابوعمر نے تمہید میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
ان احادیث سے کلب کا مال متقوم ہونا ثابت اور پرظاہر کہ نجس العین مال متقوم نہیں تو واجب کہ طاہر العین ہو
ولذاجعل التضمین فی الدر مبنیا علی القول
اسی لئے درمختار میں اس کی ضمان مقرر کرنے کیلئے
حوالہ / References
شرح معانی الآثار باب ثمن الکلب ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۲ / ۲۵۱
عمدۃ القاری شرح البخاری باب ثمن الکلب ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۱۲ / ۵۹
عمدۃ القاری شرح البخاری باب ثمن الکلب ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۱۲ / ۵۹
بالطھارۃ حیث قال لیس الکلب بنجس العین عند الامام وعلیہ الفتوی فیباع ویوجر ویضمن الخ
قال الشامی ھذہ الفروع بعضھا ذکرت احکامھا فی الکتب ھکذا وبعضھا بالعکس والتوفیق بالتخریج علی القولین کمابسطہ فی البحر الخ۔
اقول : وانتظر مانذکرہ فی جواز البیع وفتش تعرف۔
واما الفقہ : فنقول نقول کثیرۃ بثیرۃ شائع فی کتب المذھب متونا وشروحا وفتاوی۔
طہارت کے قول کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ جب انہوں نے فرمایا کہ امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك کتا نجس عین نہیں ہے۔ اور اسی پر فتوی ہے لہذا اسے بیچا جاسکتا ہے اجرت پر دیا جاسکتا ہے اور اس کی ضمان بھی (واجب) ہوگی۔ الخ علامہ شامی نے فرمایا : ان فروع میں سے بعض کے احکام کتب میں اس طرح ذکر کیے گئے ہیں اور بعض کے بالعکس اور ان کے درمیان مطابقت دونوں پر تخریج کی صورت میں ہوسکتی ہے جیسا کہ البحرالرائق میں اس کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ الخ
اقول : جو کچھ ہم بیع کے جواز میں ذکر کریں گے اس کا انتطار کرو اور جستجو کروگے جان لوگے (ت)
رہا فقہ کے بارے تو ہم کہتے ہیں کتب مذہب میں چاہے وہ متون شروح ہوں یا فتاوی ان میں اس مسئلہ کا بکثرت ذکر ہے۔ (ت)
مختصر۱ قدوری وہدایہ۲ وقایہ۳ ونقایہ۴ ومختار۵ وکنز۶ ووافی۷ واصلاح۸ ونور الایضاح۹ وملتقی۱۰ وتنویر وغیرہا عامہ متون میں تصریح صریح ہے کہ :
کل اھاب دبغ فقدطھر الاجلد الخنزیر والآدمی ۔
خنزیر اور آدمی کے چمڑے کے علاوہ جس چمڑے کو بھی دباغت دی جائے وہ پاك ہوجاتا ہے (ت)
اس کلیہ سے صرف یہی دو استشنا فرماتے ہیں استشناے کلب کا اصلا پتا نہیں دیتے ولہذا علامہ زین العلماء نے البحرالرائق۱۳ پھر علامہ حسن شرنبلالی نے غنیہ۱۳ ذوی الاحکام میں تبعا للمحق علی الاطلاق فی الفتح فرمایا :
الذی یقتضیہ عموم مافی المتون کالقدوری والمختار والکنز طھارۃ عینہ ولم یعارضہ
متون مثلا مختصر القدوری المختار اور کنزالدقائق کا عموم اسی بات کا مقتضی ہے کہ اس (کتے) کا عین پاک
قال الشامی ھذہ الفروع بعضھا ذکرت احکامھا فی الکتب ھکذا وبعضھا بالعکس والتوفیق بالتخریج علی القولین کمابسطہ فی البحر الخ۔
اقول : وانتظر مانذکرہ فی جواز البیع وفتش تعرف۔
واما الفقہ : فنقول نقول کثیرۃ بثیرۃ شائع فی کتب المذھب متونا وشروحا وفتاوی۔
طہارت کے قول کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ جب انہوں نے فرمایا کہ امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك کتا نجس عین نہیں ہے۔ اور اسی پر فتوی ہے لہذا اسے بیچا جاسکتا ہے اجرت پر دیا جاسکتا ہے اور اس کی ضمان بھی (واجب) ہوگی۔ الخ علامہ شامی نے فرمایا : ان فروع میں سے بعض کے احکام کتب میں اس طرح ذکر کیے گئے ہیں اور بعض کے بالعکس اور ان کے درمیان مطابقت دونوں پر تخریج کی صورت میں ہوسکتی ہے جیسا کہ البحرالرائق میں اس کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ الخ
اقول : جو کچھ ہم بیع کے جواز میں ذکر کریں گے اس کا انتطار کرو اور جستجو کروگے جان لوگے (ت)
رہا فقہ کے بارے تو ہم کہتے ہیں کتب مذہب میں چاہے وہ متون شروح ہوں یا فتاوی ان میں اس مسئلہ کا بکثرت ذکر ہے۔ (ت)
مختصر۱ قدوری وہدایہ۲ وقایہ۳ ونقایہ۴ ومختار۵ وکنز۶ ووافی۷ واصلاح۸ ونور الایضاح۹ وملتقی۱۰ وتنویر وغیرہا عامہ متون میں تصریح صریح ہے کہ :
کل اھاب دبغ فقدطھر الاجلد الخنزیر والآدمی ۔
خنزیر اور آدمی کے چمڑے کے علاوہ جس چمڑے کو بھی دباغت دی جائے وہ پاك ہوجاتا ہے (ت)
اس کلیہ سے صرف یہی دو استشنا فرماتے ہیں استشناے کلب کا اصلا پتا نہیں دیتے ولہذا علامہ زین العلماء نے البحرالرائق۱۳ پھر علامہ حسن شرنبلالی نے غنیہ۱۳ ذوی الاحکام میں تبعا للمحق علی الاطلاق فی الفتح فرمایا :
الذی یقتضیہ عموم مافی المتون کالقدوری والمختار والکنز طھارۃ عینہ ولم یعارضہ
متون مثلا مختصر القدوری المختار اور کنزالدقائق کا عموم اسی بات کا مقتضی ہے کہ اس (کتے) کا عین پاک
حوالہ / References
درمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۸
ردالمحتار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۹
المختصر للقدوری کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجیدی کان پور ص۷
ردالمحتار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۹
المختصر للقدوری کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجیدی کان پور ص۷
ما یوجب نجاستھا فوجب احقیۃ تصحیح عدم نجاستھا الخ۔
ہے اور ایسی کوئی چیز معارض نہیں جو اس کی نجاست کو واجب کرتی ہو لہذا اس کی طہارت کا زیادہ حق ہونا ثابت ہوا۔ (ت)
علامہ سید ابوسعود ازہری نے فتح اللہ ۱۴ المعین میں فرمایا :
قولہ وکل اھاب مقتضی ھذہ الکلیۃ طھارۃ جلد الکلب بالدباغ بناء علی ماھو المفتی بہ من انہ لیس بنجس العین ۔
اس کا قول “ وکل اھاب “ (اور ہر چمڑا) ایك ایسا کلیہ ہے جس کے مطابق کتے کا چمڑا بھی دباغت کے ذریعے پاك ہوجاتا ہے اس کی بنیاد وہ مفتی بہ قول ہے کہ یہ نجس عین نہیں ہے۔ (ت)
اسی میں حکم قیل بیان کرکے فرمایا :
وکذا الکلب ایضا علی ماعلیہ الفتوی من طھارۃ عینہ وان رجح بعضھم النجاسۃ ۔
کتے کا بھی یہی حکم ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی طہارت ذاتی پر فتوی ہے اگرچہ ان (فقہاء کرام) میں سے بعض نے نجاست کو ترجیح دی ہے۔ (ت)
امام ابوالبرکات عبداللہ محمود نسفی کافی۱۵ شرح وافی میں فرماتے ہیں :
الکلب لیس بنجس العین لانہ ینتفع بہ حراسۃ واصطیادا فکان کالفھد فیطھر بالدباغ ۔
کتا نجس عین نہیں کے کیونکہ حفاظت اور شکار کے لئے اس سے نفع حاصل کیا جاتا ہے لہذا وہ چیتے کی طرح ہے پس دباغت سے پاك ہوجائے گا۔ (ت)
اسی طرح مستخلص۱۶ الحقائق میں ہے۔ امام۱۷ زیلعی تبیین۱۸ الحقائق پھر علامہ شرنبلالی غنیہ میں فرماتے ہیں :
فی الکلب روایتان بناء علی انہ نجس العین اولا والصحیح انہ لایفسد مالم یدخل فاہ لانہ لیس بنجس العین ۔
اس بنیاد پر کہ کتا نجس عین ہے یا نہیں اس کے بارے میں دو۲ روایتیں ہیں صحیح یہ ہے کہ (پانی وغیرہ) خراب
ہے اور ایسی کوئی چیز معارض نہیں جو اس کی نجاست کو واجب کرتی ہو لہذا اس کی طہارت کا زیادہ حق ہونا ثابت ہوا۔ (ت)
علامہ سید ابوسعود ازہری نے فتح اللہ ۱۴ المعین میں فرمایا :
قولہ وکل اھاب مقتضی ھذہ الکلیۃ طھارۃ جلد الکلب بالدباغ بناء علی ماھو المفتی بہ من انہ لیس بنجس العین ۔
اس کا قول “ وکل اھاب “ (اور ہر چمڑا) ایك ایسا کلیہ ہے جس کے مطابق کتے کا چمڑا بھی دباغت کے ذریعے پاك ہوجاتا ہے اس کی بنیاد وہ مفتی بہ قول ہے کہ یہ نجس عین نہیں ہے۔ (ت)
اسی میں حکم قیل بیان کرکے فرمایا :
وکذا الکلب ایضا علی ماعلیہ الفتوی من طھارۃ عینہ وان رجح بعضھم النجاسۃ ۔
کتے کا بھی یہی حکم ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی طہارت ذاتی پر فتوی ہے اگرچہ ان (فقہاء کرام) میں سے بعض نے نجاست کو ترجیح دی ہے۔ (ت)
امام ابوالبرکات عبداللہ محمود نسفی کافی۱۵ شرح وافی میں فرماتے ہیں :
الکلب لیس بنجس العین لانہ ینتفع بہ حراسۃ واصطیادا فکان کالفھد فیطھر بالدباغ ۔
کتا نجس عین نہیں کے کیونکہ حفاظت اور شکار کے لئے اس سے نفع حاصل کیا جاتا ہے لہذا وہ چیتے کی طرح ہے پس دباغت سے پاك ہوجائے گا۔ (ت)
اسی طرح مستخلص۱۶ الحقائق میں ہے۔ امام۱۷ زیلعی تبیین۱۸ الحقائق پھر علامہ شرنبلالی غنیہ میں فرماتے ہیں :
فی الکلب روایتان بناء علی انہ نجس العین اولا والصحیح انہ لایفسد مالم یدخل فاہ لانہ لیس بنجس العین ۔
اس بنیاد پر کہ کتا نجس عین ہے یا نہیں اس کے بارے میں دو۲ روایتیں ہیں صحیح یہ ہے کہ (پانی وغیرہ) خراب
حوالہ / References
فتح القدیر باب ماء الذی یجوزبہ الوضوء الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۸۳
فتح اللہ المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
فتح اللہ المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
کافی شرح وافی
غنیہ ذوی الاحکام برحاشیہ الدرر الحکام مطبعۃ احمد کامل امکائنہ فی دار السعادۃ ۱ / ۲۷
فتح اللہ المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
فتح اللہ المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۱
کافی شرح وافی
غنیہ ذوی الاحکام برحاشیہ الدرر الحکام مطبعۃ احمد کامل امکائنہ فی دار السعادۃ ۱ / ۲۷
نہیں کرتا جب تك منہ نہ ڈالے کیونکہ وہ نجس عین نہیں ہے۔ (ت)
ملتقی الابحر اور اس کی شرح مجمع الانہر(۱۸) میں ہے :
(کل اھاب دبغ فقط طھرا لاجلد الادمی لکرامتہ والخنزیر لنجاسۃ عینہ) واختلف فی جلد الکلب والصحیح انہ یطھر ۔
(ہر چمڑا جسے دباغت دی جائے پاك ہوجاتا ہے مگر آدمی کا چمڑا اس کی عزت اور خنزیر کا چمڑا اس کے نجس عین ہونے کی وجہ سے پاك نہیں ہوتا) کتے کے چمڑے میں اختلاف ہے اور صحیح یہ ہے کہ وہ پاك ہوجاتا ہے۔ (ت)
نقایہ اور اس کی شرح جامع۱۹ الرموز میں ہے :
(کل اھاب دبغ طھر الاجلد الخنزیر والادمی) فی الاکتفاء رمزالی ان الکلب یطھربہ خلافا للصاحبین ففی کونہ نجس العین خلاف کمافی الزاھدی والاول الصحیح کمافی التحفۃ ۔
(جس چمڑے کو دباغت دی جائے پاك ہوجاتا ہے سوائے خنزیر اور آدمی کے چمڑے کے) (ان دونوں پر) اکتفاء کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دباغت سے کتے کا چمڑ اپاك ہوجاتا ہے اس میں صاحبین کا اختلاف ہے جیسا کہ زاہدی میں ہے۔ پہلا قول صحیح ہے جیسا کہ تحفہ میں ہے۔ (ت)
نور الایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں ہے :
تنزح (بوقوع خنزیر ولوخرج حیاولم یصب فمہ الماء) لنجاسۃ عینہ (و) تنزح (بموت کلب) قید بموتہ فیھالانہ غیر نجس العین علی الصحیح ۔
خنزیر کے گرنے سے سارا پانی نکالا جائے اگرچہ زندہ نکلے اور اس کا منہ پانی تك نہ پہنا ہو کیونکہ وہ نجس عین ہے اور کتے کے مرنے سے تمام پانی نکالا جائے اس کے ساتھ موت کی قید اس لئے لگائی ہے کہ صحیح قول کے مطابق یہ نجس عین نہیں ہے۔ (ت)
علامہ احمد مصری اس کے حاشیہ(۲۰) میں فرماتے ہیں :
ملتقی الابحر اور اس کی شرح مجمع الانہر(۱۸) میں ہے :
(کل اھاب دبغ فقط طھرا لاجلد الادمی لکرامتہ والخنزیر لنجاسۃ عینہ) واختلف فی جلد الکلب والصحیح انہ یطھر ۔
(ہر چمڑا جسے دباغت دی جائے پاك ہوجاتا ہے مگر آدمی کا چمڑا اس کی عزت اور خنزیر کا چمڑا اس کے نجس عین ہونے کی وجہ سے پاك نہیں ہوتا) کتے کے چمڑے میں اختلاف ہے اور صحیح یہ ہے کہ وہ پاك ہوجاتا ہے۔ (ت)
نقایہ اور اس کی شرح جامع۱۹ الرموز میں ہے :
(کل اھاب دبغ طھر الاجلد الخنزیر والادمی) فی الاکتفاء رمزالی ان الکلب یطھربہ خلافا للصاحبین ففی کونہ نجس العین خلاف کمافی الزاھدی والاول الصحیح کمافی التحفۃ ۔
(جس چمڑے کو دباغت دی جائے پاك ہوجاتا ہے سوائے خنزیر اور آدمی کے چمڑے کے) (ان دونوں پر) اکتفاء کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دباغت سے کتے کا چمڑ اپاك ہوجاتا ہے اس میں صاحبین کا اختلاف ہے جیسا کہ زاہدی میں ہے۔ پہلا قول صحیح ہے جیسا کہ تحفہ میں ہے۔ (ت)
نور الایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں ہے :
تنزح (بوقوع خنزیر ولوخرج حیاولم یصب فمہ الماء) لنجاسۃ عینہ (و) تنزح (بموت کلب) قید بموتہ فیھالانہ غیر نجس العین علی الصحیح ۔
خنزیر کے گرنے سے سارا پانی نکالا جائے اگرچہ زندہ نکلے اور اس کا منہ پانی تك نہ پہنا ہو کیونکہ وہ نجس عین ہے اور کتے کے مرنے سے تمام پانی نکالا جائے اس کے ساتھ موت کی قید اس لئے لگائی ہے کہ صحیح قول کے مطابق یہ نجس عین نہیں ہے۔ (ت)
علامہ احمد مصری اس کے حاشیہ(۲۰) میں فرماتے ہیں :
حوالہ / References
مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل فی ابحاث الماء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۲
جامع الرموز کتاب الطہارۃ المکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۵۴
مراقی الفلاح علی حاشیۃ الطحاوی فصل فی مسائل الاٰبار نور محمد کارخانہ کراچی ص۲۱
جامع الرموز کتاب الطہارۃ المکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۵۴
مراقی الفلاح علی حاشیۃ الطحاوی فصل فی مسائل الاٰبار نور محمد کارخانہ کراچی ص۲۱
ھو قول الامام رضی الله تعالی عنہ وعندھما نجس العین کالخنزیر والفتوی علی قول الامام وان رجح قولھما کمافی الدرعن ابن الشحنۃ ۔
امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہکا یہی قول ہے جبکہ صاحبین کے نزدیك یہ خنزیر کی طرح نجس عین ہے فتوی امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہکے قول پر ہے اگرچہ صاحبین کے قول کو ترجیح دی گئی ہے جیسا کہ درمختار میں ابن الشحنہ سے منقول ہے۔ (ت)
علامہ محقق محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلیہ۲۱ میں فرماتے ہیں :
کون الکلب لیس بنجس العین ھو المرجح۔
کتے کے نجس عین نہ ہونے کو ترجیح حاصل ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
قدسلف مرارا انہ القول الراجح ۔
بارہا گزرچکا ہے کہ اسی قول کو ترجیح ہے۔ (ت)
یہی قول امام صدر۲۶ شہید کا مختار ہے
کمافی الطحطاوی علی الدر وفی الحلیۃ عن الذخیرۃ عن شرح الطحاوی ان الکلب لیس بنجس العین وھو اختیار الصدر الشھید۔
جیسا کہ درمختار کی شرح طحطاوی میں اور حلیہ میں ذخیرہ کے حوالے سے شرح طحاوی سے منقول ہے کہ کتا نجس عین نہیں ہے صدر الشہید کا مختار قول بھی یہی ہے۔ (ت)
اسی میں تحفہ۲۳ الفقہاء امام علاء الدین سمرقندی ومحیط۲۴ امام رضی الدین وبدائع امام۲۵ العلماء ابوبکر مسعود کاشانی رحمہم اللہ تعالیسے ہے :
الصحیح انہ لیس بنجس العین ۔
صحیح بات یہ ہے کہ یہ نجس عین نہیں ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
وفی موضع آخر من البدائع وھذا اقرب القولین الی الصواب انتھی ومشی علیہ غیر واحد من المشایخ ۔
بدائع میں دوسرے مقام پر ہے کہ یہ قول صحت کے زیادہ قریب ہے اھ اکثر مشائخ نے یہی راہ اختیار کی ہے۔ (ت)
امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہکا یہی قول ہے جبکہ صاحبین کے نزدیك یہ خنزیر کی طرح نجس عین ہے فتوی امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہکے قول پر ہے اگرچہ صاحبین کے قول کو ترجیح دی گئی ہے جیسا کہ درمختار میں ابن الشحنہ سے منقول ہے۔ (ت)
علامہ محقق محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلیہ۲۱ میں فرماتے ہیں :
کون الکلب لیس بنجس العین ھو المرجح۔
کتے کے نجس عین نہ ہونے کو ترجیح حاصل ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
قدسلف مرارا انہ القول الراجح ۔
بارہا گزرچکا ہے کہ اسی قول کو ترجیح ہے۔ (ت)
یہی قول امام صدر۲۶ شہید کا مختار ہے
کمافی الطحطاوی علی الدر وفی الحلیۃ عن الذخیرۃ عن شرح الطحاوی ان الکلب لیس بنجس العین وھو اختیار الصدر الشھید۔
جیسا کہ درمختار کی شرح طحطاوی میں اور حلیہ میں ذخیرہ کے حوالے سے شرح طحاوی سے منقول ہے کہ کتا نجس عین نہیں ہے صدر الشہید کا مختار قول بھی یہی ہے۔ (ت)
اسی میں تحفہ۲۳ الفقہاء امام علاء الدین سمرقندی ومحیط۲۴ امام رضی الدین وبدائع امام۲۵ العلماء ابوبکر مسعود کاشانی رحمہم اللہ تعالیسے ہے :
الصحیح انہ لیس بنجس العین ۔
صحیح بات یہ ہے کہ یہ نجس عین نہیں ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
وفی موضع آخر من البدائع وھذا اقرب القولین الی الصواب انتھی ومشی علیہ غیر واحد من المشایخ ۔
بدائع میں دوسرے مقام پر ہے کہ یہ قول صحت کے زیادہ قریب ہے اھ اکثر مشائخ نے یہی راہ اختیار کی ہے۔ (ت)
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی فصل فی مسائل الآبار نور محمد کارخانہ کراچی ص۲۱
حلیہ ابن امیر الحاج
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار باب المیاہ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۱۱۴
بدائع الصنائع فصل فی طہارۃ الحقیقیۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۳
بدائع الصنائع فصل اما بیان المقدار الذی الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۴
حلیہ ابن امیر الحاج
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار باب المیاہ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۱۱۴
بدائع الصنائع فصل فی طہارۃ الحقیقیۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۳
بدائع الصنائع فصل اما بیان المقدار الذی الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۴
علامہ ابراہیم حلبی غنیہ۲۶ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :
الذی تقتضیہ الدرایۃ عدم نجاسۃ عینہ لماقال صاحب الھدایۃ ولعدم الدلیل علی نجاسۃ العین والاصل عدمھا والدلیل الدال علی نجاسۃ سؤرہ لایقتضی نجاسۃ عینہ ۔
درایت کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کا عین ناپاك نہیں جیسا کہ صاحب ہدایہ نے فرمایا نیز اس کے نجس ہونے پر کوئی دلیل نہیں اور اصل چیز عدم ہے اور وہ دلیل جو اس کے جھوٹے کے ناپاك ہونے پر دلالت کرتی ہے وہ اس کے نجس ہونے کی مقتضی نہیں ہے۔ (ت)
صغیری۲۷ میں فرمایا :
جروالکلب اذاجلس علیہ بنفسہ فعلی الروایۃ الصحیحۃ ینبغی ان تجوز صلاتہ لانہ غیر حاصل للنجاسۃ اھ ملخصا۔
اگر اس (نمازی) پر کتے کا بچہ خود بخود بیٹھ جائے تو صحیح روایت کے مطابق مناسب ہے کہ اس کی نماز جائز ہو کیونکہ وہ نجاست اٹھائے ہوئے نہیں ہے اھ ملخصا (ت)
علامہ شرنبلالی تیسیر۲۸ المقاصد شرح نظم الفرائد میں فرماتے ہیں :
الکلب لیس نجس العین فی الاصح ۔
اصح قول کے مطابق کتا نجس عین نہیں ہے۔ (ت)
حاشیہ طحطاویہ علی الدر میں ہے :
علی القول بان الکلب لیس بنجس العین لا ینجسہ اذالم یصل فمہ الماء وھو الاصح ۔
اس قول کی بنیاد پر کہ کتا نجس عین نہیں ہے وہ پانی (وغیرہ) کو ناپاك نہیں کرے گا جب تك اس کا منہ پانی تك نہ پہنچے یہی زیادہ صحیح ہے۔ (ت)
اسی میں کتاب التجنیس۳۰ والمزید للامام برہان الدین الفرغانی سے ہے : انہ الاصح (یہی زیادہ صحیح ہے۔ ت)
بزازیہ۳۱ میں اسی سے یوں ہے : ھو الصحیح (وہی صحیح ہے۔ ت)نیز وجیز میں جامع صغیر۳۲ سے ہے :
الذی تقتضیہ الدرایۃ عدم نجاسۃ عینہ لماقال صاحب الھدایۃ ولعدم الدلیل علی نجاسۃ العین والاصل عدمھا والدلیل الدال علی نجاسۃ سؤرہ لایقتضی نجاسۃ عینہ ۔
درایت کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کا عین ناپاك نہیں جیسا کہ صاحب ہدایہ نے فرمایا نیز اس کے نجس ہونے پر کوئی دلیل نہیں اور اصل چیز عدم ہے اور وہ دلیل جو اس کے جھوٹے کے ناپاك ہونے پر دلالت کرتی ہے وہ اس کے نجس ہونے کی مقتضی نہیں ہے۔ (ت)
صغیری۲۷ میں فرمایا :
جروالکلب اذاجلس علیہ بنفسہ فعلی الروایۃ الصحیحۃ ینبغی ان تجوز صلاتہ لانہ غیر حاصل للنجاسۃ اھ ملخصا۔
اگر اس (نمازی) پر کتے کا بچہ خود بخود بیٹھ جائے تو صحیح روایت کے مطابق مناسب ہے کہ اس کی نماز جائز ہو کیونکہ وہ نجاست اٹھائے ہوئے نہیں ہے اھ ملخصا (ت)
علامہ شرنبلالی تیسیر۲۸ المقاصد شرح نظم الفرائد میں فرماتے ہیں :
الکلب لیس نجس العین فی الاصح ۔
اصح قول کے مطابق کتا نجس عین نہیں ہے۔ (ت)
حاشیہ طحطاویہ علی الدر میں ہے :
علی القول بان الکلب لیس بنجس العین لا ینجسہ اذالم یصل فمہ الماء وھو الاصح ۔
اس قول کی بنیاد پر کہ کتا نجس عین نہیں ہے وہ پانی (وغیرہ) کو ناپاك نہیں کرے گا جب تك اس کا منہ پانی تك نہ پہنچے یہی زیادہ صحیح ہے۔ (ت)
اسی میں کتاب التجنیس۳۰ والمزید للامام برہان الدین الفرغانی سے ہے : انہ الاصح (یہی زیادہ صحیح ہے۔ ت)
بزازیہ۳۱ میں اسی سے یوں ہے : ھو الصحیح (وہی صحیح ہے۔ ت)نیز وجیز میں جامع صغیر۳۲ سے ہے :
حوالہ / References
غنیۃ المستملی فصل فے البئر مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۹
صغیری شرح منیۃ المصلی فصل فی الآسار مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۱۰۷
تيسر المقاصد شرح نظم الفرائد
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر باب المیاہ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۱۱۷
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر باب المیاہ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۱۱۴
فتاوی بزازیۃ علٰی حاشیۃ فتاوٰی ہندیۃ السادس فی ازالۃ الحقیقیۃ ، نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۱
صغیری شرح منیۃ المصلی فصل فی الآسار مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۱۰۷
تيسر المقاصد شرح نظم الفرائد
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر باب المیاہ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۱۱۷
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر باب المیاہ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۱۱۴
فتاوی بزازیۃ علٰی حاشیۃ فتاوٰی ہندیۃ السادس فی ازالۃ الحقیقیۃ ، نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۱
جلدہ یطہر بالدباغ عندنا ۔
ہمارے نزدیك اس کا (کتے کا) چمڑا دباغت سے پاك ہوجاتا ہے۔ (ت)
اسی میں نصاب۳۳ سے ہے :
ان کان الجرو مشدود الفم تجوز اھ یعنی صلاۃ حاملہ ۔
اگر کتے کے بچے کا منہ باندھا ہوا ہو تو (نماز) جائز ہے اھ یعنی اسے اٹھانے والے کی نماز جائز ہے۔ (ت)
مجموعہ علامہ۳۴ انقروی میں ہے : سنہ لیس بنجس
(اس کا دانت ناپاك نہیں ہے۔ ت)
اسی میں بحوالہ قنیہ۳۵ امام اجل ابونصر دبوسی۳۶ سے ہے :
طین الشارع ومواطئ الکلاب فیہ طاھر الا اذارأی عین النجاسۃ قال وھو الصحیح من حیث الروایۃ وقریب المنصوص عن اصحابنا ۔
راستے کا کیچڑ اور اس میں کتوں کی گزرگاہ پاك ہے مگر جب اس میں عین نجاست دیکھے۔ فرمایا روایت کے اعتبار سے یہی صحیح ہے اور ہمارے اصحاب کی تصریح کے قریب ہے۔ (ت)
اسی طرح طریقہ محمدیہ۳۷ میں مجمع الفتاوی۳۸ سے ہے۔ خلاصہ۳۹ میں ہے :
لوصلی وفی عنقہ قلادۃ فیھا من کلب اوذئب تجوز صلاتہ ۔
اگر کسی آدمی نے نماز پڑھی اور اس کی گردن میں ایك ہار تھا جس میں کتے یا بھیڑئیے سے کوئی چیز تھی (مثلا بال وغیرہ) تو اس کی نماز جائز ہے (ت)
اسی طرح اس مذہب مہذب کی تصحیح وترجیح اور اس پر جزم واعتماد بنا وتفریع شراح ہدایہ مثل
ہمارے نزدیك اس کا (کتے کا) چمڑا دباغت سے پاك ہوجاتا ہے۔ (ت)
اسی میں نصاب۳۳ سے ہے :
ان کان الجرو مشدود الفم تجوز اھ یعنی صلاۃ حاملہ ۔
اگر کتے کے بچے کا منہ باندھا ہوا ہو تو (نماز) جائز ہے اھ یعنی اسے اٹھانے والے کی نماز جائز ہے۔ (ت)
مجموعہ علامہ۳۴ انقروی میں ہے : سنہ لیس بنجس
(اس کا دانت ناپاك نہیں ہے۔ ت)
اسی میں بحوالہ قنیہ۳۵ امام اجل ابونصر دبوسی۳۶ سے ہے :
طین الشارع ومواطئ الکلاب فیہ طاھر الا اذارأی عین النجاسۃ قال وھو الصحیح من حیث الروایۃ وقریب المنصوص عن اصحابنا ۔
راستے کا کیچڑ اور اس میں کتوں کی گزرگاہ پاك ہے مگر جب اس میں عین نجاست دیکھے۔ فرمایا روایت کے اعتبار سے یہی صحیح ہے اور ہمارے اصحاب کی تصریح کے قریب ہے۔ (ت)
اسی طرح طریقہ محمدیہ۳۷ میں مجمع الفتاوی۳۸ سے ہے۔ خلاصہ۳۹ میں ہے :
لوصلی وفی عنقہ قلادۃ فیھا من کلب اوذئب تجوز صلاتہ ۔
اگر کسی آدمی نے نماز پڑھی اور اس کی گردن میں ایك ہار تھا جس میں کتے یا بھیڑئیے سے کوئی چیز تھی (مثلا بال وغیرہ) تو اس کی نماز جائز ہے (ت)
اسی طرح اس مذہب مہذب کی تصحیح وترجیح اور اس پر جزم واعتماد بنا وتفریع شراح ہدایہ مثل
حوالہ / References
فتاوی بزازیۃ علٰی حاشیۃ فتاوٰی ہندیۃ السادس فی ازالۃ الحقیقیۃ ، نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۱
فتاوی بزازیۃ علٰی حاشیۃ فتاوٰی ہندیۃ السابع فی النجس نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۱
فتاوٰی انقرویہ ، کتاب الطہارۃ دار الاشاعۃ العربیۃ قندھار افغانستان ۱ / ۴
فتاوٰی انقرویہ کتاب الطہارۃ دار الاشاعۃ العربیۃ قندھار افغانستان ۱ / ۴
خلاصۃ الفتاوی ، الفصل السابع ، مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ، ۱ / ۴۴
فتاوی بزازیۃ علٰی حاشیۃ فتاوٰی ہندیۃ السابع فی النجس نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۱
فتاوٰی انقرویہ ، کتاب الطہارۃ دار الاشاعۃ العربیۃ قندھار افغانستان ۱ / ۴
فتاوٰی انقرویہ کتاب الطہارۃ دار الاشاعۃ العربیۃ قندھار افغانستان ۱ / ۴
خلاصۃ الفتاوی ، الفصل السابع ، مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ، ۱ / ۴۴
علامہ۴۰ قوام الدین کاکی وعلامہ۴۱ سغناقی صاحب نہایہ وغیرہما وعقد الفوائد شرح نظم الفرائد ۴۲ للعلامۃ ابن الشحنۃ وامام اسبیجابی شارح مختصر طحاوی۴۳ وذخیرۃ۴۴ وتوشیح شرح الہدایہ۴۵ للعلامۃ السراج الہندی وتجرید۴۶ وعمدۃ المفتی۴۷ وغیرہا سے ثابت۔ بحرالرائق میں ہے :
صحح فی الھدایۃ طھارۃ عینہ وتبعہ شارحوھا کالاتقانی والکاکی والسغناقی ۔
ہدایہ میں اس کی ذاتی طہارت کو صحیح قرار دیا گیا ہے اور اس کے شارحین جیسے اتقانی کاکی اور سغناقی نے بھی اسی کی پیروی کی ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
وقدصرح فی عقد الفوائد شرح منظومۃ ابن وھبان بان الفتوی علی طھارۃ عینہ ۔
ابن وہبان کی منظوم شرح عقد الفرائد میں تصریح کی گئی ہے کہ فتوی اس کی ذاتی طہارت پر ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
قال القاضی الاسبیجابی واما الکلب یحتمل الذکاۃ والدباغۃ فی ظاھر الروایۃ خلافا لماروی والحسن ۔
قاضی اسبیجابی نے کہا ظاہر روایت کے مطابق کتا ذبح اور دباغت کا احتمال رکھتا ہے یہ حسن کی روایت کے خلاف ہے (ت)
اسی میں ہے :
ذکر فی السراج الوھاج معزیا الی الذخیرۃ اسنان الکلب طاھرۃ واسنان الادمی نجسۃ لان الکلب یقع علیہ الذکاۃ بخلاف الخنزیر والادمی اھ ولایخفی ان ھذاکلہ علی القول بطھارۃ عینہ لانہ علله بکونہ یطھر بالذکاۃ ۔
السراج الوہاج میں ذخیرہ کے حوالے سے ذکر کیا گیا کہ کتے کے دانت پاك ہیں اور آدمی کے دانت ناپاك ہیں کیونکہ کتے کو ذبح کیا جاسکتا ہے نہ کہ خنزیر اور آدمی کو اھ مخفی نہیں کہ یہ تمام باتیں اس کی ذاتی طہارت کے قول کی بنیاد پر ہیں کیوں کہ انہوں نے اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ وہ ذبح کے ساتھ پاك ہوجاتا ہے۔ (ت)
صحح فی الھدایۃ طھارۃ عینہ وتبعہ شارحوھا کالاتقانی والکاکی والسغناقی ۔
ہدایہ میں اس کی ذاتی طہارت کو صحیح قرار دیا گیا ہے اور اس کے شارحین جیسے اتقانی کاکی اور سغناقی نے بھی اسی کی پیروی کی ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
وقدصرح فی عقد الفوائد شرح منظومۃ ابن وھبان بان الفتوی علی طھارۃ عینہ ۔
ابن وہبان کی منظوم شرح عقد الفرائد میں تصریح کی گئی ہے کہ فتوی اس کی ذاتی طہارت پر ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
قال القاضی الاسبیجابی واما الکلب یحتمل الذکاۃ والدباغۃ فی ظاھر الروایۃ خلافا لماروی والحسن ۔
قاضی اسبیجابی نے کہا ظاہر روایت کے مطابق کتا ذبح اور دباغت کا احتمال رکھتا ہے یہ حسن کی روایت کے خلاف ہے (ت)
اسی میں ہے :
ذکر فی السراج الوھاج معزیا الی الذخیرۃ اسنان الکلب طاھرۃ واسنان الادمی نجسۃ لان الکلب یقع علیہ الذکاۃ بخلاف الخنزیر والادمی اھ ولایخفی ان ھذاکلہ علی القول بطھارۃ عینہ لانہ علله بکونہ یطھر بالذکاۃ ۔
السراج الوہاج میں ذخیرہ کے حوالے سے ذکر کیا گیا کہ کتے کے دانت پاك ہیں اور آدمی کے دانت ناپاك ہیں کیونکہ کتے کو ذبح کیا جاسکتا ہے نہ کہ خنزیر اور آدمی کو اھ مخفی نہیں کہ یہ تمام باتیں اس کی ذاتی طہارت کے قول کی بنیاد پر ہیں کیوں کہ انہوں نے اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ وہ ذبح کے ساتھ پاك ہوجاتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
البحرالرائق ، کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۱
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۱
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۳
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۱
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۳
اسی میں ہے :
ذکر السراج الھندی فی شرح الھدایۃ معزیا الی التجرید ان الکلب لواتلفہ انسان ضمنہ ویجوزبیعہ وتملیکہ وفی عمدۃ المفتی لواستأجر الکلب یجوز ۔
السراج الہندی نے ہدایہ کی شرح میں تجرید کی طرف منسوب کرتے ہوئے ذکر کیا کہ اگر کوئی شخص کسی کتے کو مارے دے تو ضامن ہوگا اور اس کا بیچنا اور اس کا مالك بنانا جائز ہے۔ عمدۃ المفتی میں ہے کتا اجرت پر لینا جائز ہے۔ (ت)
اس کے حاشیہ منحۃ۴۸ الخالق میں نہر الفائق سے ہے :
اقول بطھارۃ عینہ ھو الاصح اھ ملخصا۔
اس کے طاہر عین ہونے کا قول ہی زیادہ صحیح ہے اھ۔ تلخیص مرقاۃ۴۹ میں زیرحدیث اذادبغ الاھاب فقدطھر (جب چمڑے کو دباغت دی جائے تو وہ پاك ہوجاتا۔ ت)
علامہ ابن(۵۰) ملك سے نقل فرمایا :
ھذا بعمومہ حجۃ علی الشافعی فی قولہ جلد الکلب لایطھر بالدباغ واستشنی من عمومہ الادمی تکریمالہ والخنزیر لنجاسۃ عینہ ۔
یہ (حدیث) اپنے عموم کے ساتھ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے اس قول میں کہ کتے کا چمڑا دباغت سے پاك نہیں ہوتا ان کے خلاف حجت ہے اس کے عموم کی وجہ سے آدمی کو اس کی عزت واحترام کے پیش نظر اور خنزیر کو اس کے نجس عین ہونے کی وجہ سے مستشنی کیا گیا ہے۔ (ت)
یہ پچاس۵۰ ہیں ان میں اگرچہ ضمنا ہدایہ ودرمختار واتقانی ومراقی ونہر کا بھی ذکر آیا مگر یہ کلام زید میں معدود ہوچکی تھیں لہذا انہیں شمار نہ کیا۔
وانمالم نعد السراج الوھاج لانہ وان نقل عن الذخیرۃ مامرلکنہ ذکر ان جلد الکلب نجس وشعرہ طاھر ھوالمختار اھ وھذا قول ثالث ذکرہ الولوالجی وغیرہ واعتمدہ الفقیہ
ہم سراج وہاج کو شمار نہیں کرتے کیونکہ اگرچہ اس نے ذخیرہ سے نقل کیا جیسا کہ گزرگیا لیکن اس نے ذکر کیا کہ کتے کا چمڑا ناپاك اور اس کے بال پاك ہیں۔ یہی مختار ہے اھ۔
یہ تیسرا قول ہے جسے ولوالجی وغیرہ نے ذکر کیا اور
ذکر السراج الھندی فی شرح الھدایۃ معزیا الی التجرید ان الکلب لواتلفہ انسان ضمنہ ویجوزبیعہ وتملیکہ وفی عمدۃ المفتی لواستأجر الکلب یجوز ۔
السراج الہندی نے ہدایہ کی شرح میں تجرید کی طرف منسوب کرتے ہوئے ذکر کیا کہ اگر کوئی شخص کسی کتے کو مارے دے تو ضامن ہوگا اور اس کا بیچنا اور اس کا مالك بنانا جائز ہے۔ عمدۃ المفتی میں ہے کتا اجرت پر لینا جائز ہے۔ (ت)
اس کے حاشیہ منحۃ۴۸ الخالق میں نہر الفائق سے ہے :
اقول بطھارۃ عینہ ھو الاصح اھ ملخصا۔
اس کے طاہر عین ہونے کا قول ہی زیادہ صحیح ہے اھ۔ تلخیص مرقاۃ۴۹ میں زیرحدیث اذادبغ الاھاب فقدطھر (جب چمڑے کو دباغت دی جائے تو وہ پاك ہوجاتا۔ ت)
علامہ ابن(۵۰) ملك سے نقل فرمایا :
ھذا بعمومہ حجۃ علی الشافعی فی قولہ جلد الکلب لایطھر بالدباغ واستشنی من عمومہ الادمی تکریمالہ والخنزیر لنجاسۃ عینہ ۔
یہ (حدیث) اپنے عموم کے ساتھ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے اس قول میں کہ کتے کا چمڑا دباغت سے پاك نہیں ہوتا ان کے خلاف حجت ہے اس کے عموم کی وجہ سے آدمی کو اس کی عزت واحترام کے پیش نظر اور خنزیر کو اس کے نجس عین ہونے کی وجہ سے مستشنی کیا گیا ہے۔ (ت)
یہ پچاس۵۰ ہیں ان میں اگرچہ ضمنا ہدایہ ودرمختار واتقانی ومراقی ونہر کا بھی ذکر آیا مگر یہ کلام زید میں معدود ہوچکی تھیں لہذا انہیں شمار نہ کیا۔
وانمالم نعد السراج الوھاج لانہ وان نقل عن الذخیرۃ مامرلکنہ ذکر ان جلد الکلب نجس وشعرہ طاھر ھوالمختار اھ وھذا قول ثالث ذکرہ الولوالجی وغیرہ واعتمدہ الفقیہ
ہم سراج وہاج کو شمار نہیں کرتے کیونکہ اگرچہ اس نے ذخیرہ سے نقل کیا جیسا کہ گزرگیا لیکن اس نے ذکر کیا کہ کتے کا چمڑا ناپاك اور اس کے بال پاك ہیں۔ یہی مختار ہے اھ۔
یہ تیسرا قول ہے جسے ولوالجی وغیرہ نے ذکر کیا اور
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۳
منحۃ الخالق علی البحر ، کتاب الطہارۃ ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۱۰۲
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ فصل اول من باب تطہیر النجاسات مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۷۰
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۱۰۲
منحۃ الخالق علی البحر ، کتاب الطہارۃ ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۱۰۲
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ فصل اول من باب تطہیر النجاسات مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۷۰
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۱۰۲
ابواللیث فی فتاواہ وحکاہ فی العیون عن ابی یوسف رحمہ الله تعالی ان الکلب اذادخل الماء فانتفض فاصاب ثوبا افسدہ ولواصابہ مطرلالان فی الاول اصاب الماء جلدہ وجلدہ نجس وفی الثانی شعرہ وشعرہ طاھر ۔ لیس فیہ ان القائلین بنجاسۃ العین متفقون علی طھارۃ الشعر کماظنہ البحر حیث قال بعد ذکرطھرہ لایخفی ان ھذا علی القول بنجاسۃ عینہ ویستفادمنہ ان الشعر طاھر علی القول بنجاسۃ عینہ لماذکر فی السراج الوھاج الخ۔ ثم قال بعد کلام طویل علم مماقررناہ انہ لایدخل فی قول من قال بنجاسۃ عین الخنزیر الخ وتبعہ الشرنبلالی ثم الدر ثم ابوالسعود وھذا نظم الدر لاخلاف فی نجاسۃ لحمہ وطھارۃ شعرہ اھقال السید العلامۃ فی ردالمحتار یفھم من عبارۃ السراج ان القائلین بنجاسۃ عینہ اختلفوا فی طھارۃ شعرہ والمختار الطھارۃ وعلیہ یبتنی ذکر الاتفاق لکن ھذا مشکل لان
فقیہ ابواللیث نے اپنے فتاوی میں اس پر اعتماد کیا اور عیون میں امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہسے نقل کیا کہ کتا جب پانی میں داخل ہوکر اپنے آپ کو جھاڑے اور اس سے کپڑے پر چھینٹے پڑجائیں تو کپڑے کو ناپاك کردے گا اور اگر اسے بارش پہنچے تو کپڑا خراب نہیں ہوگا کیونکہ پہلی صورت میں پانی اس کے چمڑے کو پہنچا اور اس کا چمڑا ناپاك ہے جبکہ دوسری صورت میں پانی اس کے بالوں کو پہنچا اور اس کے بال پاك ہیں۔
اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کے نجس عین ہونے کا قول کرنے والے بالوں کی طہارت پر متفق ہیں جیسا کہ صاحب بحرالرائق نے گمان کیا جب اس کی طہارت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا مخفی نہ رہے کہ یہ بات اس کے نجس عین ہونے کے قول پر مبنی ہے اور اس سے مستفاد ہے کہ نجاست ذاتی کا قول کرنے کی صورت میں بھی بال پاك ہیں جیسا کہ سراج وہاج میں ذکر کیا گیا الخ۔ پھر طویل کلام کے بعد فرمایا اس چیز سے جس کو ہم نے ثابت کیا معلوم ہوا کہ جو شخص کتے کے نجس عین ہونے کا قائل ہے اس کے قول میں بال داخل نہیں بخلاف ان کے اس قول کے کہ خنزیر نجس عین ہے (یعنی اس کے بال بھی ناپاك ہیں الخ شرنبلالی پھر درمختار اور ابوالسعود نے اس کی اتباع کی
فقیہ ابواللیث نے اپنے فتاوی میں اس پر اعتماد کیا اور عیون میں امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہسے نقل کیا کہ کتا جب پانی میں داخل ہوکر اپنے آپ کو جھاڑے اور اس سے کپڑے پر چھینٹے پڑجائیں تو کپڑے کو ناپاك کردے گا اور اگر اسے بارش پہنچے تو کپڑا خراب نہیں ہوگا کیونکہ پہلی صورت میں پانی اس کے چمڑے کو پہنچا اور اس کا چمڑا ناپاك ہے جبکہ دوسری صورت میں پانی اس کے بالوں کو پہنچا اور اس کے بال پاك ہیں۔
اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کے نجس عین ہونے کا قول کرنے والے بالوں کی طہارت پر متفق ہیں جیسا کہ صاحب بحرالرائق نے گمان کیا جب اس کی طہارت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا مخفی نہ رہے کہ یہ بات اس کے نجس عین ہونے کے قول پر مبنی ہے اور اس سے مستفاد ہے کہ نجاست ذاتی کا قول کرنے کی صورت میں بھی بال پاك ہیں جیسا کہ سراج وہاج میں ذکر کیا گیا الخ۔ پھر طویل کلام کے بعد فرمایا اس چیز سے جس کو ہم نے ثابت کیا معلوم ہوا کہ جو شخص کتے کے نجس عین ہونے کا قائل ہے اس کے قول میں بال داخل نہیں بخلاف ان کے اس قول کے کہ خنزیر نجس عین ہے (یعنی اس کے بال بھی ناپاك ہیں الخ شرنبلالی پھر درمختار اور ابوالسعود نے اس کی اتباع کی
حوالہ / References
درر شرح غرر قبیل فصل بئر مطبعۃ احمد کامل الکائنہ فی دار سعادۃ ۱ / ۲۴
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۳
درمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۸
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۳
درمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۸
نجاسۃ عینہ تقتضی نجاسۃ جمیع اجزائہ ولعل ما فی السراج محمول علی ما اذا کان میتا لکن ینافیہ ما مر عن الولوالجیۃ نعم قال فی المنح وفی ظاھر الروایۃ اطلق ولم یفعل ای انہ لوانتفض من الماء فاصاب ثوب انسان افسدہ سواء کان البلل وصل الی جلدہ اولا وھذا یقتضی نجاسۃ شعرہ فتأمل اھ
اقول : فیہ بحث من وجوہ۔
الاول : ضمیر ھو المختار فی عبارۃ السراج کما یحتمل رجوعہ الی کل من نجاسۃ الجلد وطھارۃ الشعر کذلك الی الکل اعنی المجموع من حیث ھومجموع فیکون المعنی ان قول القائل بان جلدہ نجس وشعرہ طاھر ھو المختار دون قول من یقول بطھارۃ الجمیع وح یکون التصحیح ناظرا الی ھذا القول الثالث ولایفھم خلافا بین قائلی النجاسۃ
درمختار کی عبارت یہ ہے کہ “ اس کے گوشت کے ناپاك اور بالوں کے پاك ہونے میں کوئی اختلاف نہیں “ اھ
سید علامہ (ابن عابدین) نے ردالمحتار میں فرمایا سراج کی عبارت سے معلوم ہوا ہے کہ اس کی ذاتی نجاست کے قائلین کا اس کے بالوں کی طہارت میں اختلاف ہے اور مختار طہارت ہے اور اسی پر ذکر اتفاق کی بنیاد ہے۔ لیکن یہ مشکل ہے کیونکہ اس کا نجس عین ہونا تمام اجزاء کی نجاست کا تقاضا کرتا ہے اور شاید جو کچھ سراج میں ہے وہ اس کے مردہ ہونے کی صورت پر محمول ہو لیکن جو کچھ ولوالجیہ سے گزرا ہے وہ اس کے منافی ہے ہاں المنح میں فرمایا “ اور ظاہر روایت میں مطلقا ہے تفصیل سے بیان نہیں کیا یعنی اگر وہ پانی سے نکل کر اپنے آپ کو جھاڑے اور پانی انسان کے کپڑے کو لگ جائے تو اسے ناپاك کردے گا برابر ہے رطوبت اس کے چمڑے تك پہنچے یا نہ اور یہ بات اس کے بالوں کی نجاست کا تقاضا کرتی ہے پس غور کرو اھ۔ (ت)
اقول : اس میں کئی وجوہ سے بحث ہے :
اول : سراج کی عبارت میں “ ھوالمختار کی “ ھو “ ضمیر جیسے “ نجاسۃ الجلد “ اور “ طہارۃ الشعر “ میں سے ہر ایك کی طرف رجوع کا احتمال رکھتی ہے اسی طرح وہ کل یعنی مجموعے کی طرف اس حیثیت سے کہ وہ دونوں کا مجموعہ ہے لوٹنے کا احتمال بھی رکھتی ہے۔ پس معنی یہ ہوگا کہ قائل کا قول “ اس کا چمڑا ناپاك اور بال پاك ہیں “ یہی مختار ہے نہ اس کا قول جو دونوں کی طہارت کا قائل ہے اور اس وقت تصحیح اس تیسرے قول کی طرف
اقول : فیہ بحث من وجوہ۔
الاول : ضمیر ھو المختار فی عبارۃ السراج کما یحتمل رجوعہ الی کل من نجاسۃ الجلد وطھارۃ الشعر کذلك الی الکل اعنی المجموع من حیث ھومجموع فیکون المعنی ان قول القائل بان جلدہ نجس وشعرہ طاھر ھو المختار دون قول من یقول بطھارۃ الجمیع وح یکون التصحیح ناظرا الی ھذا القول الثالث ولایفھم خلافا بین قائلی النجاسۃ
درمختار کی عبارت یہ ہے کہ “ اس کے گوشت کے ناپاك اور بالوں کے پاك ہونے میں کوئی اختلاف نہیں “ اھ
سید علامہ (ابن عابدین) نے ردالمحتار میں فرمایا سراج کی عبارت سے معلوم ہوا ہے کہ اس کی ذاتی نجاست کے قائلین کا اس کے بالوں کی طہارت میں اختلاف ہے اور مختار طہارت ہے اور اسی پر ذکر اتفاق کی بنیاد ہے۔ لیکن یہ مشکل ہے کیونکہ اس کا نجس عین ہونا تمام اجزاء کی نجاست کا تقاضا کرتا ہے اور شاید جو کچھ سراج میں ہے وہ اس کے مردہ ہونے کی صورت پر محمول ہو لیکن جو کچھ ولوالجیہ سے گزرا ہے وہ اس کے منافی ہے ہاں المنح میں فرمایا “ اور ظاہر روایت میں مطلقا ہے تفصیل سے بیان نہیں کیا یعنی اگر وہ پانی سے نکل کر اپنے آپ کو جھاڑے اور پانی انسان کے کپڑے کو لگ جائے تو اسے ناپاك کردے گا برابر ہے رطوبت اس کے چمڑے تك پہنچے یا نہ اور یہ بات اس کے بالوں کی نجاست کا تقاضا کرتی ہے پس غور کرو اھ۔ (ت)
اقول : اس میں کئی وجوہ سے بحث ہے :
اول : سراج کی عبارت میں “ ھوالمختار کی “ ھو “ ضمیر جیسے “ نجاسۃ الجلد “ اور “ طہارۃ الشعر “ میں سے ہر ایك کی طرف رجوع کا احتمال رکھتی ہے اسی طرح وہ کل یعنی مجموعے کی طرف اس حیثیت سے کہ وہ دونوں کا مجموعہ ہے لوٹنے کا احتمال بھی رکھتی ہے۔ پس معنی یہ ہوگا کہ قائل کا قول “ اس کا چمڑا ناپاك اور بال پاك ہیں “ یہی مختار ہے نہ اس کا قول جو دونوں کی طہارت کا قائل ہے اور اس وقت تصحیح اس تیسرے قول کی طرف
حوالہ / References
ردالمحتار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۹
فی طہارۃ الشعر۔
الثانی : ظاھر کلامی البحر والدر لا یدخل ولاخلاف لکونھما نکرۃ او فی معناھا داخلین تحت النفی ناطق بنفی الخلاف اصلا وآب عن
البناء علی روایۃ دون اخری ولاحاجۃ الیہ علی ما قررنا عبارۃ السراج کما تری۔
الثالث : لاغرو فی حمل الکلب علی المیت الغیر المذکی والجلد علی غیر المدبوغ فلر بما تترك امثال القیود اعتمادا علی معرفتہا فی مواضعہا ولذا لما قال فی المنیۃ وفی البقال قطعۃ جلد کلب التزق بجراحۃ فی الرأس یعید ماصلی بہ اھ
فسرہ العلامۃ الشارح ابرھیم الحلبی ھکذا جلد کلب ای غیر مدبوغ ولامذکی یعید ما صلی بہ ای بذلك الجلد اذاکان اکثر من قدر الدرھم وحدہ اوبانضمام نجاسۃ اخری وھذا ظاھر اھ۔ وح لاملمح لکلام السراج الی قول نجاسۃ العین کما افاد
متوجہ ہوگی اور نجاست (کتے کے نجس عین ہونے) کے قائلین کے درمیان بالوں کی طہارت میں اختلاف نہیں سمجھا جائے گا۔
دوم : البحرالرائق اور درمختار کا ظاہر کلام “ لایدخل “ اور “ لا خلاف “ نکرہ یا اس کے حکم میں ہیں جو نفی کے تحت داخل ہوکر اختلاف کی بالکل نفی کرتا ہے اور اس بات سے انکار کرتا ہے کہ یہ ایك روایت پر مبنی ہو دوسرے پر نہ ہو اور اس کی حاجت بھی نہیں جیسا کہ ہم نے سراج کی عبارت سے ثابت کیا جس طرح تم دیکھ رہے ہو۔
سوم : کتے سے مراد غیر مذبوح اور چمڑے سے بغیر دباغت چمڑا مراد لینا تعجب خیز بات نہیں کیونکہ بعض اوقات امثال قیود کو ان کے مقام میں حصول معرفۃ پر اعتماد کرتے ہوئے چھوڑ دیا جاتا ہے اسی لئے جب منیہ نے کہا کہ بقالی میں ہے کتے کے چمڑے کا ٹکڑا سر میں زخم کے ساتھ چمٹ گیا تو پڑھی گئی نماز لوٹائے اھ۔
علامہ شارح ابراہیم حلبی نے اس کی وضاحت یوں کی کہ اسی طرح کہ کتے کا چمڑا یعنی جسے دباغت نہ دی گئی ہو اور نہ اس (کتے) کو ذبح کیا گیا اس چمڑے کے ساتھ جو نماز پڑھی ہے اسے لوٹائے جبکہ وہ تنہا (چمڑا) ایك درہم سے زائد ہو یا اس کے ساتھ دوسری نجاست ملی ہوئی ہو اور یہ ظاہر ہے اھ۔ اس وقت سراج کے کلام میں نجاست عین
الثانی : ظاھر کلامی البحر والدر لا یدخل ولاخلاف لکونھما نکرۃ او فی معناھا داخلین تحت النفی ناطق بنفی الخلاف اصلا وآب عن
البناء علی روایۃ دون اخری ولاحاجۃ الیہ علی ما قررنا عبارۃ السراج کما تری۔
الثالث : لاغرو فی حمل الکلب علی المیت الغیر المذکی والجلد علی غیر المدبوغ فلر بما تترك امثال القیود اعتمادا علی معرفتہا فی مواضعہا ولذا لما قال فی المنیۃ وفی البقال قطعۃ جلد کلب التزق بجراحۃ فی الرأس یعید ماصلی بہ اھ
فسرہ العلامۃ الشارح ابرھیم الحلبی ھکذا جلد کلب ای غیر مدبوغ ولامذکی یعید ما صلی بہ ای بذلك الجلد اذاکان اکثر من قدر الدرھم وحدہ اوبانضمام نجاسۃ اخری وھذا ظاھر اھ۔ وح لاملمح لکلام السراج الی قول نجاسۃ العین کما افاد
متوجہ ہوگی اور نجاست (کتے کے نجس عین ہونے) کے قائلین کے درمیان بالوں کی طہارت میں اختلاف نہیں سمجھا جائے گا۔
دوم : البحرالرائق اور درمختار کا ظاہر کلام “ لایدخل “ اور “ لا خلاف “ نکرہ یا اس کے حکم میں ہیں جو نفی کے تحت داخل ہوکر اختلاف کی بالکل نفی کرتا ہے اور اس بات سے انکار کرتا ہے کہ یہ ایك روایت پر مبنی ہو دوسرے پر نہ ہو اور اس کی حاجت بھی نہیں جیسا کہ ہم نے سراج کی عبارت سے ثابت کیا جس طرح تم دیکھ رہے ہو۔
سوم : کتے سے مراد غیر مذبوح اور چمڑے سے بغیر دباغت چمڑا مراد لینا تعجب خیز بات نہیں کیونکہ بعض اوقات امثال قیود کو ان کے مقام میں حصول معرفۃ پر اعتماد کرتے ہوئے چھوڑ دیا جاتا ہے اسی لئے جب منیہ نے کہا کہ بقالی میں ہے کتے کے چمڑے کا ٹکڑا سر میں زخم کے ساتھ چمٹ گیا تو پڑھی گئی نماز لوٹائے اھ۔
علامہ شارح ابراہیم حلبی نے اس کی وضاحت یوں کی کہ اسی طرح کہ کتے کا چمڑا یعنی جسے دباغت نہ دی گئی ہو اور نہ اس (کتے) کو ذبح کیا گیا اس چمڑے کے ساتھ جو نماز پڑھی ہے اسے لوٹائے جبکہ وہ تنہا (چمڑا) ایك درہم سے زائد ہو یا اس کے ساتھ دوسری نجاست ملی ہوئی ہو اور یہ ظاہر ہے اھ۔ اس وقت سراج کے کلام میں نجاست عین
حوالہ / References
منیہ المصلی فصل الآسار مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۱۵۸
غنیۃ المستملی فصل فی الآسار مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ، ص۱۹۱
غنیۃ المستملی فصل فی الآسار مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ، ص۱۹۱
ھو رحمہ الله تعالی ولایعکر علیہ بمنافاتہ لما ذکر الولوالجی کما لا یخفی فانہ وان نافاہ فقد وافق لاصح الارجح ولیس السراج ھھنا فی بیان کلام الولوالجی حتی یجب التوافق بینھما۔
الرابع : ھب ان نجاسۃ العین تقتضی نجاسۃ جمیع الاجزاء لکن لقائل ان یقول لا بدع فی استشناء الشعر الا تری ان الخنزیر نجس العین باتفاق مذھب اصحابنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنہم ومع ذلك محمد یقول بطھارۃ شعرہ ففی الخلاصۃ من الفصل السابع من کتاب الطہارۃ شعر الخنزیر اذا وقع فی البئر علی الخلاف عند محمد لاینجس لان حل الانتفاع یدل علی طھارتہ وعند ابی یوسف ینجس لانہ نجس العین ویجوز الخرز بہ للضرورۃ اھ۔
وفی الغرر لمولی خسرو شعر المیتۃ طاھر وکذا شعر الخنزیر عند محمد قال فی الدرر لضرورۃ استعمالہ فلا ینجس الماء بوقوعہ فیہ وعند ابی یوسف نجس فینجس الماء اھ۔
کے قول کی طرف اشارہ نہیں ہوگا جیسا کہ انہوں (صاحب بحر) نے بتایا اور نہ ہی ان پر یہ الزام ہوگا کہ یہ ولوالجی کے کلام کے منافی ہے جیسا کہ مخفی نہیں کیونکہ وہ اگر اس کے منافی ہو تب بھی یہ اس کے موافق ہے جسے ترجیح دے کر اصح قرار دیا گیا ہے اور سراج یہاں ولوالجی کے کلام کے درپے نہیں کہ ان دونوں کے درمیان موافقت واجب ہو۔
چہارم : عین نجاست کا تمام اجزاء کی نجاست کا مقتضی ہونا مسلم ہے لیکن قائل کہہ سکتا ہے کہ بالوں کا استشناء کوئی نئی بات نہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہمارے تینوں اصحاب (احناف) رضی اللہ عنہم خنزیر کے نجس عین ہونے پر متفق ہیں لیکن اس کے باوجود امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہاس کے بالوں کی طہارت کے قائل ہیں خلاصہ میں طہارت کی ساتویں فصل میں ہے کہ خنزیر کے بال کنویں میں گر جائیں تو اس میں اختلاف ہے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك پانی ناپاك نہیں ہوگا کیونکہ انتفاع کا جائز ہونا اس کی طہارت پر دلالت کرتا ہے امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك ناپاك ہوجائے گا کیونکہ وہ نجس عین ہے اور اس کے ساتھ سلائی کرنا ضرورت کے تحت جائز ہے اھ۔ مولی خسرو کی غرر میں ہے کہ مردار کے بال پاك ہیں۔ اسی طرح امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك خنزیر کے بال بھی پاك ہیں الدرر میں “ ضرورت استعمال کے لئے “ فرمایا پس اس کے
الرابع : ھب ان نجاسۃ العین تقتضی نجاسۃ جمیع الاجزاء لکن لقائل ان یقول لا بدع فی استشناء الشعر الا تری ان الخنزیر نجس العین باتفاق مذھب اصحابنا الثلثۃ رضی الله تعالی عنہم ومع ذلك محمد یقول بطھارۃ شعرہ ففی الخلاصۃ من الفصل السابع من کتاب الطہارۃ شعر الخنزیر اذا وقع فی البئر علی الخلاف عند محمد لاینجس لان حل الانتفاع یدل علی طھارتہ وعند ابی یوسف ینجس لانہ نجس العین ویجوز الخرز بہ للضرورۃ اھ۔
وفی الغرر لمولی خسرو شعر المیتۃ طاھر وکذا شعر الخنزیر عند محمد قال فی الدرر لضرورۃ استعمالہ فلا ینجس الماء بوقوعہ فیہ وعند ابی یوسف نجس فینجس الماء اھ۔
کے قول کی طرف اشارہ نہیں ہوگا جیسا کہ انہوں (صاحب بحر) نے بتایا اور نہ ہی ان پر یہ الزام ہوگا کہ یہ ولوالجی کے کلام کے منافی ہے جیسا کہ مخفی نہیں کیونکہ وہ اگر اس کے منافی ہو تب بھی یہ اس کے موافق ہے جسے ترجیح دے کر اصح قرار دیا گیا ہے اور سراج یہاں ولوالجی کے کلام کے درپے نہیں کہ ان دونوں کے درمیان موافقت واجب ہو۔
چہارم : عین نجاست کا تمام اجزاء کی نجاست کا مقتضی ہونا مسلم ہے لیکن قائل کہہ سکتا ہے کہ بالوں کا استشناء کوئی نئی بات نہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہمارے تینوں اصحاب (احناف) رضی اللہ عنہم خنزیر کے نجس عین ہونے پر متفق ہیں لیکن اس کے باوجود امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہاس کے بالوں کی طہارت کے قائل ہیں خلاصہ میں طہارت کی ساتویں فصل میں ہے کہ خنزیر کے بال کنویں میں گر جائیں تو اس میں اختلاف ہے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك پانی ناپاك نہیں ہوگا کیونکہ انتفاع کا جائز ہونا اس کی طہارت پر دلالت کرتا ہے امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك ناپاك ہوجائے گا کیونکہ وہ نجس عین ہے اور اس کے ساتھ سلائی کرنا ضرورت کے تحت جائز ہے اھ۔ مولی خسرو کی غرر میں ہے کہ مردار کے بال پاك ہیں۔ اسی طرح امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك خنزیر کے بال بھی پاك ہیں الدرر میں “ ضرورت استعمال کے لئے “ فرمایا پس اس کے
حوالہ / References
خلاصۃ الفتاوٰی فصل سابع من کتاب الطہارۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴۴
درر شرح غرر ، قبیل فصل بئر ، مطبعۃ احمد کامل الکائنہ فی دار سعادۃ ، ۱ / ۲۴
درر شرح غرر ، قبیل فصل بئر ، مطبعۃ احمد کامل الکائنہ فی دار سعادۃ ، ۱ / ۲۴
اقول : حاصل التعلیل ان الضرورۃ اوجبت اباحۃ استعمالہ ثم اذا ثبت الاباحۃ ثبت الطھارۃ لان الشیئ اذا ثبت ثبت بلوازمہ وجواب ابی یوسف رحمہ الله تعالی ان ما ثبت بضرورۃ تقدر بقدرھا وانت تعلم انہ بین البرھان فلا جرم ان صححہ فی البدائع ورجحہ فی الاختیار وجعلہ فی الدر ھو المذھب وبما قررنا کلام الدر بان الجواب عما اوردعلیہ السید العلامۃ ابوالسعود الازھری فی حاشیۃ الکنز حیث زعم ان محمدا اباح الانتفاء بہ مطلقا ولومن دون ضرورۃ وجعلہ مقتضی قول النھر طھرہ محمد وعلیہ ابتنی رد قول من قال انہ فی زماننا استغنی عنہ فینبغی ان لا یجوز استعمالہ عند الکل لانعدام الضرورۃ قائلا فیہ نظر لان محمدا لم یقصر جواز استعمالہ علی الضرورۃ ورد علی الدر تعلیلہ بالضرورۃ بان لوکان کذلك لقال ان الماء القلیل ینجس بوقوعہ فیہ لعدم الضرورۃ ولیس کذلك ولان صریح قولہ فی النھر واثر الخلاف یظھر فیما لوصلی ومعہ من شعر الخنزیر ما یزید علی الدرھم او وقع فی الماء القلیل یاباہ وبماقررناہ
گرنے سے پانی ناپاك نہیں ہوگا۔ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك وہ نجس ہے پس پانی بھی ناپاك ہوجائیگا۔ اھ (ت)
اقول : اس علت کا ماحصل یہ ہے کہ ضرورت نے اس کے استعمال کی اباحت ثابت کردی پھر جب اباحت ثابت ہوگئی تو طہارت بھی ثابت ہوگئی تو طہارت بھی ثابت ہوگئی کیوں کہ جو چیز بھی ثابت ہوتی ہے وہ اپنے تمام لوازم کے ساتھ ثابت ہوتی ہے۔ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکا جواب یہ ہے کہ جو چیز ضرورت کے تحت ثابت ہوتی ہے اس کا اندازہ ضرورت کے حساب سے لگایا جاتا ہے اور تم جانتے ہو کہ اس کی دلیل واضح ہے لہذا بدائع میں اسے صحیح قرار دیا الاختیار میں اسے ترجیح دی اور درمختار میں اسی کو مذہب قرار دیا اور جس طرح ہم نے درمختار کا کلام بیان کیا اس سے اس اعتراض کا جواب واضح ہوگیا جو ان پر سید علامہ ابو السعود الازہری نے حاشیہ کنز میں نقل کیا جب یہ خیال کیا کہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اس سے مطلق انتفاع جائز قرار دیا ہے اگرچہ بغیر ضرورت ہو اور نہر الفائق کے قول (امام محمد نے اسے پاك قرار دیا) کو ابوالسعود الازہری نے اسی کا مقتضی قرار دیا اور اسی پر ان کے قول کے رد کی بنا ہے جو کہتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں اس کی ضرورت نہیں لہذا چاہے کہ سب کے نزدیك اس کا استعمال جائز نہ ہو کیونکہ ضرورت ہی نہیں رہتی ابو السعود نے “ فیہ نظر “ کہہ کر اس پر اعتراض کیا کیونکہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ
گرنے سے پانی ناپاك نہیں ہوگا۔ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك وہ نجس ہے پس پانی بھی ناپاك ہوجائیگا۔ اھ (ت)
اقول : اس علت کا ماحصل یہ ہے کہ ضرورت نے اس کے استعمال کی اباحت ثابت کردی پھر جب اباحت ثابت ہوگئی تو طہارت بھی ثابت ہوگئی تو طہارت بھی ثابت ہوگئی کیوں کہ جو چیز بھی ثابت ہوتی ہے وہ اپنے تمام لوازم کے ساتھ ثابت ہوتی ہے۔ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکا جواب یہ ہے کہ جو چیز ضرورت کے تحت ثابت ہوتی ہے اس کا اندازہ ضرورت کے حساب سے لگایا جاتا ہے اور تم جانتے ہو کہ اس کی دلیل واضح ہے لہذا بدائع میں اسے صحیح قرار دیا الاختیار میں اسے ترجیح دی اور درمختار میں اسی کو مذہب قرار دیا اور جس طرح ہم نے درمختار کا کلام بیان کیا اس سے اس اعتراض کا جواب واضح ہوگیا جو ان پر سید علامہ ابو السعود الازہری نے حاشیہ کنز میں نقل کیا جب یہ خیال کیا کہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اس سے مطلق انتفاع جائز قرار دیا ہے اگرچہ بغیر ضرورت ہو اور نہر الفائق کے قول (امام محمد نے اسے پاك قرار دیا) کو ابوالسعود الازہری نے اسی کا مقتضی قرار دیا اور اسی پر ان کے قول کے رد کی بنا ہے جو کہتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں اس کی ضرورت نہیں لہذا چاہے کہ سب کے نزدیك اس کا استعمال جائز نہ ہو کیونکہ ضرورت ہی نہیں رہتی ابو السعود نے “ فیہ نظر “ کہہ کر اس پر اعتراض کیا کیونکہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ
یظھر مافی الدرمن المنافاۃ حیث علل طھارتہ عند محمد بضرورۃ الاستعمال ثم فرع علیہ ان الماء لاینجس بوقوعہ فیہ اھ۔
اقول : ولعلك اذاتأملت فیما القینا علیك علمت ان ھذا کلہ فی غیر محلہ وحاشا محمدا ان یبیح الانتفاع بہ بلاضرورۃ مع قول الله تعالی فانہ رجس وانما الامر مابینا انہ اباح للضرورۃ ومن ضرورۃ الاباحۃ سقوط النجاسۃ واذا سقطت جازت الصلاۃ ولم یفسد الماء فمحمد اعتبر زمان الضرورۃ ولم یعتبر خصوص محلھا وابویوسف اعتبر الامرین جمیعا وھو الصحیح لاجرم نص فی البرھان شرح مواھب الرحمن ان رخص محمد الانتفاع بشعرہ لثبوت الضرورۃ عندہ فی ذلك ومنعاہ لعدم تحققھا لقیام غیرہ مقامہ اھ
نے اس کے استعمال کا جواز ضرورت پر منحصر نہیں کیا اور الدرر نے جو ضرورت کو اس کی تعلیل قرار دیا ہے ابوالسعود نے اس کو بھی رد کردیا کہ اگر ایسا ہو تا تو وہ کہتے اس کے گرنے سے تھوڑا پانی ناپاك ہوجاتا ہے کیونکہ ضرورت معدوم ہے حالانکہ ایسا نہیں نیز نہر میں ان کا صریح قول کہ اختلاف کا اثر اس صورت میں ہی ظاہر ہوگا جب وہ نماز پڑھے اور اس کے پاس ایك درہم سے زیادہ خنزیر کے بال ہوں یا وہ تھوڑے پانی میں گریں اس طرح کی تعلیل کا انکار کرتا ہے اور جو کچھ ہم نے ثابت کیا وہ الدرر میں پائی جانے والی منافات کو ظاہر کرتا ہے جب انہوں نے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك ضرورت استعمال کو اس کی طہارت قرار دیا پھر اس پر تفریعا کہا کہ اس کے گرنے سے پانی ناپاك نہیں ہوتا اھ (ت)
اقول : شاید جب تو اس پر غور کرے جو ہم نے تمہارے سامنے پیش کیا تو جان لے کہ یہ سب کچھ اپنے محل پر نہیں ہے ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا کہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہبلا ضرورت اس سے انتفاع جائز قرار دیں حالانکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے “ پس بیشك یہ ناپاك ہے “ بات وہی ہے جو ہم نے بیان کی کہ آپ نے ضرورت کے تحت جائز قرار دیا اور اباحت سے نجاست کا ساقط ہوجانا لازم ہے جب نجاست ساقط ہوگئی تو نماز جائز ہوگی اور پانی خراب نہ ہوا پس امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے وقت ضرورت کا اعتبار کیا ہے محل مخصوص کا نہیں کیا اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہنے دونوں باتوں کے مجموعہ کا اعتبار کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔ یقینا برہان شرح
اقول : ولعلك اذاتأملت فیما القینا علیك علمت ان ھذا کلہ فی غیر محلہ وحاشا محمدا ان یبیح الانتفاع بہ بلاضرورۃ مع قول الله تعالی فانہ رجس وانما الامر مابینا انہ اباح للضرورۃ ومن ضرورۃ الاباحۃ سقوط النجاسۃ واذا سقطت جازت الصلاۃ ولم یفسد الماء فمحمد اعتبر زمان الضرورۃ ولم یعتبر خصوص محلھا وابویوسف اعتبر الامرین جمیعا وھو الصحیح لاجرم نص فی البرھان شرح مواھب الرحمن ان رخص محمد الانتفاع بشعرہ لثبوت الضرورۃ عندہ فی ذلك ومنعاہ لعدم تحققھا لقیام غیرہ مقامہ اھ
نے اس کے استعمال کا جواز ضرورت پر منحصر نہیں کیا اور الدرر نے جو ضرورت کو اس کی تعلیل قرار دیا ہے ابوالسعود نے اس کو بھی رد کردیا کہ اگر ایسا ہو تا تو وہ کہتے اس کے گرنے سے تھوڑا پانی ناپاك ہوجاتا ہے کیونکہ ضرورت معدوم ہے حالانکہ ایسا نہیں نیز نہر میں ان کا صریح قول کہ اختلاف کا اثر اس صورت میں ہی ظاہر ہوگا جب وہ نماز پڑھے اور اس کے پاس ایك درہم سے زیادہ خنزیر کے بال ہوں یا وہ تھوڑے پانی میں گریں اس طرح کی تعلیل کا انکار کرتا ہے اور جو کچھ ہم نے ثابت کیا وہ الدرر میں پائی جانے والی منافات کو ظاہر کرتا ہے جب انہوں نے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك ضرورت استعمال کو اس کی طہارت قرار دیا پھر اس پر تفریعا کہا کہ اس کے گرنے سے پانی ناپاك نہیں ہوتا اھ (ت)
اقول : شاید جب تو اس پر غور کرے جو ہم نے تمہارے سامنے پیش کیا تو جان لے کہ یہ سب کچھ اپنے محل پر نہیں ہے ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا کہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہبلا ضرورت اس سے انتفاع جائز قرار دیں حالانکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے “ پس بیشك یہ ناپاك ہے “ بات وہی ہے جو ہم نے بیان کی کہ آپ نے ضرورت کے تحت جائز قرار دیا اور اباحت سے نجاست کا ساقط ہوجانا لازم ہے جب نجاست ساقط ہوگئی تو نماز جائز ہوگی اور پانی خراب نہ ہوا پس امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے وقت ضرورت کا اعتبار کیا ہے محل مخصوص کا نہیں کیا اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہنے دونوں باتوں کے مجموعہ کا اعتبار کیا ہے اور یہی صحیح ہے۔ یقینا برہان شرح
حوالہ / References
فتح المعین ، کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۷۳
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل یطہر جلد المیتۃ کارخانہ تجارت کراچی ص۹۰
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل یطہر جلد المیتۃ کارخانہ تجارت کراچی ص۹۰
نقلہ ط فی حاشیۃ المراقی وقال فی الغنیۃ شعر الخنزیر لما ابیح الانتفاع بہ للخرز ضرورۃ قال محمد انہ لو وقع فی الماء لاینجسہ اھ۔
وقال العلامۃ عبدالعلی البرجندی فی شرح النقایۃ اطلاق الشعر یدل علی ان شعر الخنزیر ایضا طاھر لایفسد الماء ولایضر حملہ فی الصلاۃ وھوقول محمد وذلك لضرورۃ حاجۃ الناس الی استعمالہ فی الخرز وعند ابی یوسف نجس لان الخنزیر نجس العین کذا فی الحصر واما عظم الخنزیر فنجس اتفاقا لانہ لاضرورۃ فی استعمالہ کمافی الشعر اھ۔
فانظر کیف نصوا جمیعا ان تطہیر محمد مبتن علی الضرورۃ فظھر سقوط کل ماذکر ھذا السید العلامۃ رحمہ الله تعالی واستبان ان لاحجۃ لہ فی قول النھر ولامنافاۃ بین قولی الدرر وان عند زوال الضرورۃ یجب وفاق
مواہب الرحمن میں اس بات کی تصریح کی ہے کہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکا اس کے بالوں سے انتفاع کی اجازت دینا اس ضرورت کی بنیاد پر ہے جو اس سلسلے میں ان کے ہاں ثابت ہوئی اور شیخین نے منع کیا کیونکہ ان کے نزدیك ضرورت ثابت نہیں کیونکہ دوسری چیز اس کے قائم مقام ہے اھ (ت)اسے امام طحطاوی نے مراقی الفلاح کے حاشیہ میں نقل کیا اور غنیہ میں فرمایا کہ جب ضرورت کے تحت خنزیر کے بالوں سے سلائی کیلئے نفع حاصل کرنا جائز قرار دیا گیا تو امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا اگر وہ پانی میں گر جائیں تو اسے ناپاك نہیں کرے گے اھ۔ علامہ عبدالعلی برجندی نے شرح نقایہ میں فرمایا : “ مطلق بالوں کا ذکر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خنزیر کا بال بھی پاك ہے نہ وہ پانی کو خراب کرتا ہے اور نہ ہی نماز میں اس کا اٹھانا نقصان دہ ہے۔ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکا یہی قول ہے اور یہ اس لئے کہ لوگوں کو سلائی کیلئے اس کے استعمال کی ضرورت پیش آتی ہے۔ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك ناپاك ہے کیونکہ خنزیر نجس عین ہے جیسا کہ حصر میں ہے لیکن خنزیر کی ہڈی بالاتفاق ناپاك ہے کیونکہ بالوں کی طرح ہڈی کے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آتی اھ (ت)
پس دیکھو کس طرح تمام (فقہاء) نے بیان فرمایا کہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکا اسے پاك قرار دینا ضرورت کی بنیاد پر ہے پس جو کچھ اس سید علامہ (ابوالسعود) رحمۃ اللہ تعالی علیہنے ذکر کیا اس کا ساقط ہونا ظاہر ہوا۔ اور واضح ہوا کہ نہر کے قول میں ان کے لئے کوئی حجت نہیں اور نہ ہی
وقال العلامۃ عبدالعلی البرجندی فی شرح النقایۃ اطلاق الشعر یدل علی ان شعر الخنزیر ایضا طاھر لایفسد الماء ولایضر حملہ فی الصلاۃ وھوقول محمد وذلك لضرورۃ حاجۃ الناس الی استعمالہ فی الخرز وعند ابی یوسف نجس لان الخنزیر نجس العین کذا فی الحصر واما عظم الخنزیر فنجس اتفاقا لانہ لاضرورۃ فی استعمالہ کمافی الشعر اھ۔
فانظر کیف نصوا جمیعا ان تطہیر محمد مبتن علی الضرورۃ فظھر سقوط کل ماذکر ھذا السید العلامۃ رحمہ الله تعالی واستبان ان لاحجۃ لہ فی قول النھر ولامنافاۃ بین قولی الدرر وان عند زوال الضرورۃ یجب وفاق
مواہب الرحمن میں اس بات کی تصریح کی ہے کہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکا اس کے بالوں سے انتفاع کی اجازت دینا اس ضرورت کی بنیاد پر ہے جو اس سلسلے میں ان کے ہاں ثابت ہوئی اور شیخین نے منع کیا کیونکہ ان کے نزدیك ضرورت ثابت نہیں کیونکہ دوسری چیز اس کے قائم مقام ہے اھ (ت)اسے امام طحطاوی نے مراقی الفلاح کے حاشیہ میں نقل کیا اور غنیہ میں فرمایا کہ جب ضرورت کے تحت خنزیر کے بالوں سے سلائی کیلئے نفع حاصل کرنا جائز قرار دیا گیا تو امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا اگر وہ پانی میں گر جائیں تو اسے ناپاك نہیں کرے گے اھ۔ علامہ عبدالعلی برجندی نے شرح نقایہ میں فرمایا : “ مطلق بالوں کا ذکر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خنزیر کا بال بھی پاك ہے نہ وہ پانی کو خراب کرتا ہے اور نہ ہی نماز میں اس کا اٹھانا نقصان دہ ہے۔ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکا یہی قول ہے اور یہ اس لئے کہ لوگوں کو سلائی کیلئے اس کے استعمال کی ضرورت پیش آتی ہے۔ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك ناپاك ہے کیونکہ خنزیر نجس عین ہے جیسا کہ حصر میں ہے لیکن خنزیر کی ہڈی بالاتفاق ناپاك ہے کیونکہ بالوں کی طرح ہڈی کے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آتی اھ (ت)
پس دیکھو کس طرح تمام (فقہاء) نے بیان فرمایا کہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکا اسے پاك قرار دینا ضرورت کی بنیاد پر ہے پس جو کچھ اس سید علامہ (ابوالسعود) رحمۃ اللہ تعالی علیہنے ذکر کیا اس کا ساقط ہونا ظاہر ہوا۔ اور واضح ہوا کہ نہر کے قول میں ان کے لئے کوئی حجت نہیں اور نہ ہی
حوالہ / References
غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الانجاس سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۴۶
شرح النقایۃ للبرجندی ، کتاب الطھارۃ نولکشور لکھنؤ ، ۱ / ۳
شرح النقایۃ للبرجندی ، کتاب الطھارۃ نولکشور لکھنؤ ، ۱ / ۳
الکل علی التحریم والمتنجیس کماافادہ العلامۃ المقدسی وتبعہ العلامۃ نوح افندی ومن بعدہ وھو الذی نعتقد فی دین الله سبحنہ وتعالی وبہ ظھر الجواب عن ھذا البحث بان لاضرورۃ فی شعر الکلب فعلی قائل النجاسۃ العمل بقضیتھا ثم رأیت البرجندی صرح بہ حیث قال انا قد ذکرنا ان الکلب نجس العین عند بعضھم فینبغی ان یکون شعرہ نجسا عندھم اذلاضرورۃ فی استعمالہ اھ
الخامس : ماعزاہ للمنح مذکور ایضا فی الخانیۃ واعتمدہ واشار الی ضعف التفصیل حیث قال مانصہ الکلب اذا خرج من الماء وانتفض فاصاب ثوب انسان افسدہ قیل ان کان ذلك من ماء المطر لایفسدہ الا اذا اصاب المطر جلدہ وفی ظاھر الروایۃ اطلق ولم یفصل اھ وقدصرح فی خزانۃ المفتین برمزق لقاضی خان ان شعر الخنزیر او الکلب اذاوقع فی الماء یفسدہ لانہ نجس العین ۔ لکن لقائل ان یقول
الدرر کے دو قولوں کے درمیان منافات ہے نیز ضرورت کے زائل ہونے کی صورت میں اس کی حرمت اور نجاست پر سب کا اتفاق ہے جیسا کہ علامہ مقدسی (کے کلام) سے اس بات کا فائدہ حاصل ہوا اور علامہ نوح آفندی اور ان کے بعد والوں نے ان کی اتباع کی اور دین خداوندی میں ہم بھی اسی بات کا اعتقاد رکھتے ہیں اور اسی کے ساتھ اس بحث کا جواب بھی ظاہر ہوا کہ کتے کے بالوں کی ضرورت نہیں پڑتی پس نجاست کے قائل کو اس کے فیصلہ پر عمل کرنا ہوگا پھر میں نے برجندی میں اس کی تصریح دیکھی جب انہوں نے فرمایا کہ ہم نے بعض کے نزدیك کتے کے نجس عین ہونے کا ذکر کیا ہے پس مناسب یہ ہے کہ ان کے نزدیك اس کے بال بھی ناپاك ہوں کیونکہ اس کے استعمال کی ضرورت نہیں اھ (ت)
پنجم : جو کچھ انہوں نے منح کی طرف منسوب کیا ہے وہ خانیہ میں بھی مذکور ہے انہوں نے اس پر اعتماد کیا اور تفصیل کے ضعف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا “ کتا جب پانی سے نکل کر اپنے آپ کو جھاڑے اور وہ کسی انسان کے کپڑے کو لگ جائے تو اسے ناپاك کردے گا کہا گیا کہ اگر یہ بارش کے پانی سے ہو تو اسے ناپاك نہیں کریگا مگر جب بارش اس کے چمڑے تك پہنچ جائے اور ظاہر روایت میں اطلاق ہے تفصیل نہیں ہے اھ اور خزانۃ المفتین میں “ ق “ کے ساتھ قاضی خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان سے
الخامس : ماعزاہ للمنح مذکور ایضا فی الخانیۃ واعتمدہ واشار الی ضعف التفصیل حیث قال مانصہ الکلب اذا خرج من الماء وانتفض فاصاب ثوب انسان افسدہ قیل ان کان ذلك من ماء المطر لایفسدہ الا اذا اصاب المطر جلدہ وفی ظاھر الروایۃ اطلق ولم یفصل اھ وقدصرح فی خزانۃ المفتین برمزق لقاضی خان ان شعر الخنزیر او الکلب اذاوقع فی الماء یفسدہ لانہ نجس العین ۔ لکن لقائل ان یقول
الدرر کے دو قولوں کے درمیان منافات ہے نیز ضرورت کے زائل ہونے کی صورت میں اس کی حرمت اور نجاست پر سب کا اتفاق ہے جیسا کہ علامہ مقدسی (کے کلام) سے اس بات کا فائدہ حاصل ہوا اور علامہ نوح آفندی اور ان کے بعد والوں نے ان کی اتباع کی اور دین خداوندی میں ہم بھی اسی بات کا اعتقاد رکھتے ہیں اور اسی کے ساتھ اس بحث کا جواب بھی ظاہر ہوا کہ کتے کے بالوں کی ضرورت نہیں پڑتی پس نجاست کے قائل کو اس کے فیصلہ پر عمل کرنا ہوگا پھر میں نے برجندی میں اس کی تصریح دیکھی جب انہوں نے فرمایا کہ ہم نے بعض کے نزدیك کتے کے نجس عین ہونے کا ذکر کیا ہے پس مناسب یہ ہے کہ ان کے نزدیك اس کے بال بھی ناپاك ہوں کیونکہ اس کے استعمال کی ضرورت نہیں اھ (ت)
پنجم : جو کچھ انہوں نے منح کی طرف منسوب کیا ہے وہ خانیہ میں بھی مذکور ہے انہوں نے اس پر اعتماد کیا اور تفصیل کے ضعف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا “ کتا جب پانی سے نکل کر اپنے آپ کو جھاڑے اور وہ کسی انسان کے کپڑے کو لگ جائے تو اسے ناپاك کردے گا کہا گیا کہ اگر یہ بارش کے پانی سے ہو تو اسے ناپاك نہیں کریگا مگر جب بارش اس کے چمڑے تك پہنچ جائے اور ظاہر روایت میں اطلاق ہے تفصیل نہیں ہے اھ اور خزانۃ المفتین میں “ ق “ کے ساتھ قاضی خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان سے
حوالہ / References
شرح النقایہ للبرجندی کتاب الطھارت نولکشور (لکھنؤ) ۱ / ۳۸
فتاوٰی قاضی خان فصل فی النجاسۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۱
فتاوٰی قاضی خان فصل فی مایقع فی البئر مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۶
فتاوٰی قاضی خان فصل فی النجاسۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۱
فتاوٰی قاضی خان فصل فی مایقع فی البئر مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۶
اذابنیتم حکایۃ الوفاق علی الروایۃ المختارۃ للسراج فلاوجہ للردعلیہ بروایۃ اخری نعم لوذکر ماذکرنا عن الخانیۃ وبین ان الترجیح قداختلف وان التنجیس ظاھر الروایۃ فوجب اختیارہ وسقط الحکم بالوفاق معتمدا علی اختیار السراج لکان وجیھا وبعد اللتیا واللتی فحکایۃ الوفاق مدخولۃ لاشك لاجرم ان صرح فی متن الغرر بالتثلیث فقال والکلب نجس العین وقیل ل اوقیل جلدہ نجس وشعرہ طاھر اھ۔
واما الترجیح فاقول بوجوہ :
نقل کیا کہ خنزیر یا کتے کے بال پانی میں گر جائیں تو اسے خراب کردیتے ہیں کیونکہ وہ نجس عین ہے۔
لیکن کوئی قائل کہہ سکتا ہے کہ جب تم نے سراج کی مختار روایت پر حکایت اتفاق کی بنیاد رکھی ہے تو دوسری روایت کے ساتھ اسے رد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ہاں اگر وہ اس بات کا ذکر کرتے جو ہم نے خانیہ سے (نقل کرتے ہوئے) ذکر کی ہے اور بیان کرتے کہ ترجیح مختلف ہے اور ظاہر روایت کے مطابق اسے ناپاك قرار دیا ہے لہذا اسے اختیار کرنا واجب ہے اور سراج کے اختیار کے مطابق جس اتفاق کا حکم دیا گیا ہے وہ ساقط ہے تو اس بات کا کوئی وقار ہوتا مختصر اور طویل گفتگو کے بعد اتفاق کی بات محل نظر ہوگئی۔ بلاشك وشبہہ غرر کے متن میں تثلیث کی تصریح کرتے ہوئے کہا “ اور کتا نجس عین ہے کہا گیا کہ نہیں ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ اس کا چمڑا ناپاك ہے بال پاك ہیں۔ (ت)
ترجیح : میں اس سلسلے میں کئی طرح سے گفتگو کروں گا :
اولا : یہی قول امام ہے
کماقدمہ السائل عن الدر المختار وقدمناہ عن القھستانی والطحطاوی۔
اول : یہی قول امام ہے جیسا کہ سائل نے اس سے پہلے درمختار سے نقل کیا ہے اور ہم نے قہستانی اور طحطاوی سے (نقل کرتے ہوئے) اس سے پہلے بیان کیا ہے (ت)
نظم الفرائد میں ہے :
وعندھما عین الکلاب نجاسۃ وطاھرۃ قال الامام المطھر
اور ان دونوں (صاحبین) کے نزدیك کتے کا عین ناپاك ہے اور امام پاك (ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ) نے فرمایا پاك ہے۔ (ت)
واما الترجیح فاقول بوجوہ :
نقل کیا کہ خنزیر یا کتے کے بال پانی میں گر جائیں تو اسے خراب کردیتے ہیں کیونکہ وہ نجس عین ہے۔
لیکن کوئی قائل کہہ سکتا ہے کہ جب تم نے سراج کی مختار روایت پر حکایت اتفاق کی بنیاد رکھی ہے تو دوسری روایت کے ساتھ اسے رد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ہاں اگر وہ اس بات کا ذکر کرتے جو ہم نے خانیہ سے (نقل کرتے ہوئے) ذکر کی ہے اور بیان کرتے کہ ترجیح مختلف ہے اور ظاہر روایت کے مطابق اسے ناپاك قرار دیا ہے لہذا اسے اختیار کرنا واجب ہے اور سراج کے اختیار کے مطابق جس اتفاق کا حکم دیا گیا ہے وہ ساقط ہے تو اس بات کا کوئی وقار ہوتا مختصر اور طویل گفتگو کے بعد اتفاق کی بات محل نظر ہوگئی۔ بلاشك وشبہہ غرر کے متن میں تثلیث کی تصریح کرتے ہوئے کہا “ اور کتا نجس عین ہے کہا گیا کہ نہیں ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ اس کا چمڑا ناپاك ہے بال پاك ہیں۔ (ت)
ترجیح : میں اس سلسلے میں کئی طرح سے گفتگو کروں گا :
اولا : یہی قول امام ہے
کماقدمہ السائل عن الدر المختار وقدمناہ عن القھستانی والطحطاوی۔
اول : یہی قول امام ہے جیسا کہ سائل نے اس سے پہلے درمختار سے نقل کیا ہے اور ہم نے قہستانی اور طحطاوی سے (نقل کرتے ہوئے) اس سے پہلے بیان کیا ہے (ت)
نظم الفرائد میں ہے :
وعندھما عین الکلاب نجاسۃ وطاھرۃ قال الامام المطھر
اور ان دونوں (صاحبین) کے نزدیك کتے کا عین ناپاك ہے اور امام پاك (ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ) نے فرمایا پاك ہے۔ (ت)
حوالہ / References
درر شرح غرر قبیل فصل بئردون عشر الخ مطبعۃ احمد الکامل الکائنہ فی دار سعادۃ ۱ / ۲۴
نظم الفرائد
نظم الفرائد
حلیہ میں ہے :
مشی علیہ فی الحاوی القدسی ۔
حاوی قدسی میں یہی راہ اختیار کی ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
فی النھایۃ وغیرھا عن المحیط الکلب اذاوقع فی الماء فاخرج حیا ان اصاب فمہ یجب نزح جمیع الماء وان لم یصب فمہ الماء فعلی قولھما یجب نزح جمیع الماء وعلی قول ابی حنیفۃ لاباس وقال ھذا اشارۃ الی ان عین الکلب لیس بنجس ۔
نہایہ وغیرہ میں محیط سے نقل کیا کہ کتا جب پانی میں گر جائے اور زند نکال لیا جائے اگر اس کا منہ پانی تك پہنچا ہے تو تمام پانی نکالا جائے اور اگر منہ پانی تك نہیں پہنچا تو صاحبین کے قول پر تمام پانی نکالا جائے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك کوئی حرج نہیں اور فرمایا کہ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ کتا نجس عین نہیں۔ (ت)
اسی طرح تجرید القدوری میں ہے کمانقلہ عنہ ایضا فی الحلیۃ (جیسے کہ انہوں نے اسے حلیہ میں بھی ان سے نقل کیا۔ ت) بحرالرائق میں ہے :
قال فی القنیۃ رامز المجد الائمۃ وقداختلف فی نجاسۃ الکلب والذی صح عندی من الروایات فی النوادر والامالی انہ نجس العین عندھما وعند ابی حنیفۃ لیس بنجس العین ۔
قنیہ میں مجد الائمہ کے حوالے سے بتایا کہ کتے کے نجس ہونے میں اختلاف ہے اور نوادر وامالی کی روایات میں سے جو کچھ میرے نزدیك صحیح ہے وہ یہ ہے کہ صاحبین کے نزدیك نجس عین ہے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك نجس عین نہیں ہے۔ (ت)
اور کچھ روایتیں امام محمد سے بھی اس کے موافق آئیں :
فی الحلیۃ عن الخانیۃ عن الناطفی انہ اذاصلی
حلیہ میں بحوالہ خانیہ ناطفی سے نقل کیا ہے کہ جب کسی نے
مشی علیہ فی الحاوی القدسی ۔
حاوی قدسی میں یہی راہ اختیار کی ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
فی النھایۃ وغیرھا عن المحیط الکلب اذاوقع فی الماء فاخرج حیا ان اصاب فمہ یجب نزح جمیع الماء وان لم یصب فمہ الماء فعلی قولھما یجب نزح جمیع الماء وعلی قول ابی حنیفۃ لاباس وقال ھذا اشارۃ الی ان عین الکلب لیس بنجس ۔
نہایہ وغیرہ میں محیط سے نقل کیا کہ کتا جب پانی میں گر جائے اور زند نکال لیا جائے اگر اس کا منہ پانی تك پہنچا ہے تو تمام پانی نکالا جائے اور اگر منہ پانی تك نہیں پہنچا تو صاحبین کے قول پر تمام پانی نکالا جائے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك کوئی حرج نہیں اور فرمایا کہ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ کتا نجس عین نہیں۔ (ت)
اسی طرح تجرید القدوری میں ہے کمانقلہ عنہ ایضا فی الحلیۃ (جیسے کہ انہوں نے اسے حلیہ میں بھی ان سے نقل کیا۔ ت) بحرالرائق میں ہے :
قال فی القنیۃ رامز المجد الائمۃ وقداختلف فی نجاسۃ الکلب والذی صح عندی من الروایات فی النوادر والامالی انہ نجس العین عندھما وعند ابی حنیفۃ لیس بنجس العین ۔
قنیہ میں مجد الائمہ کے حوالے سے بتایا کہ کتے کے نجس ہونے میں اختلاف ہے اور نوادر وامالی کی روایات میں سے جو کچھ میرے نزدیك صحیح ہے وہ یہ ہے کہ صاحبین کے نزدیك نجس عین ہے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك نجس عین نہیں ہے۔ (ت)
اور کچھ روایتیں امام محمد سے بھی اس کے موافق آئیں :
فی الحلیۃ عن الخانیۃ عن الناطفی انہ اذاصلی
حلیہ میں بحوالہ خانیہ ناطفی سے نقل کیا ہے کہ جب کسی نے
حوالہ / References
حلیہ شرح منیۃ المصلی
حلیہ شرح منیۃ المصلی
تجریدی القدوری
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
حلیہ شرح منیۃ المصلی
تجریدی القدوری
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
علی جلد کلب اوذئب قدذبح جازت صلاتہ ۔
مذبوح کتے یا بھیڑیے کی کھال پر نماز پڑھی تو اس کی نماز جائز ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں عقد الفوائد سے ہے :
لایخفی ان ھذہ الروایۃ تفید طھارۃ عینہ عند محمد الخ۔
مخفی نہیں کہ یہ روایت امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك اس کی ذاتی طہارت کا فائدہ دیتی ہے (ت)
منیہ میں ہے :
روی عن محمد امرأۃ صلت وفی عنقھا قلاوۃ علیھا سن اسد او ثعلب اوکلب جازت صلاتھا اھ قال شارحھا العلامۃ ابرھیم کون الروایۃ عن محمد لاینافی کونھا اتفاقیۃ ففی الفتاوی ذکرھا مطلقا والدلیل یدل علیہ اھ
اقول : نعم اطلقھا فی الخانیۃ والخلاصۃ والولوالجیۃ وغیرھا وقداسمعناك نص الخلاصۃ وھو بعینہ لفظ الخانیۃ والولوالجی عزاھا لہ فی الحلیۃ لکن الاطلاق لایدل علی الاتفاق فربما یطلق المطلق مایختارہ وان کانت ھناك خلافات عدیدۃ ورأیتنی کتبت علی ھامشہ
حضرت امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے مروی ہے ایك عورت نے گلے میں ایسا ہار ڈال کر نماز پڑھی جس میں شیر لومڑی یا کتے کے دانت (جڑے ہوئے) تھے تو اس کی نماز جائز ہے اھ اس کے شارح ابراہیم نے فرمایا اس روایت کا امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے مروی ہونا اس کے اتفاقی ہونے کے منافی نہیں فتاوی میں اسے مطلقا ذکر کیا گیا ہے اور دلیل بھی اس پر دلالت کرتی ہے۔ (ت)
اقول : ہاں خانیہ خلاصہ اور ولوالجیہ وغیرہ نے اس کو مطلق ذکر کیا ہے ہم نے تمہیں خلاصہ کی عبارت سنائی تھی خانیہ کے الفاظ بھی بعینہ یہی ہیں اور حلیہ میں اسے ولوالجی کی طرف منسوب کیا گیا ہے لیکن اطلاق اتفاق پر دلالت نہیں کرتا بسااوقات اپنے مختار کو مطلق قرار دیا جاتا ہے اگرچہ وہاں متعدد اختلافات ہوتے ہیں میرا خیال ہے کہ میں نے اس کے
مذبوح کتے یا بھیڑیے کی کھال پر نماز پڑھی تو اس کی نماز جائز ہے۔ (ت)
بحرالرائق میں عقد الفوائد سے ہے :
لایخفی ان ھذہ الروایۃ تفید طھارۃ عینہ عند محمد الخ۔
مخفی نہیں کہ یہ روایت امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك اس کی ذاتی طہارت کا فائدہ دیتی ہے (ت)
منیہ میں ہے :
روی عن محمد امرأۃ صلت وفی عنقھا قلاوۃ علیھا سن اسد او ثعلب اوکلب جازت صلاتھا اھ قال شارحھا العلامۃ ابرھیم کون الروایۃ عن محمد لاینافی کونھا اتفاقیۃ ففی الفتاوی ذکرھا مطلقا والدلیل یدل علیہ اھ
اقول : نعم اطلقھا فی الخانیۃ والخلاصۃ والولوالجیۃ وغیرھا وقداسمعناك نص الخلاصۃ وھو بعینہ لفظ الخانیۃ والولوالجی عزاھا لہ فی الحلیۃ لکن الاطلاق لایدل علی الاتفاق فربما یطلق المطلق مایختارہ وان کانت ھناك خلافات عدیدۃ ورأیتنی کتبت علی ھامشہ
حضرت امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے مروی ہے ایك عورت نے گلے میں ایسا ہار ڈال کر نماز پڑھی جس میں شیر لومڑی یا کتے کے دانت (جڑے ہوئے) تھے تو اس کی نماز جائز ہے اھ اس کے شارح ابراہیم نے فرمایا اس روایت کا امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے مروی ہونا اس کے اتفاقی ہونے کے منافی نہیں فتاوی میں اسے مطلقا ذکر کیا گیا ہے اور دلیل بھی اس پر دلالت کرتی ہے۔ (ت)
اقول : ہاں خانیہ خلاصہ اور ولوالجیہ وغیرہ نے اس کو مطلق ذکر کیا ہے ہم نے تمہیں خلاصہ کی عبارت سنائی تھی خانیہ کے الفاظ بھی بعینہ یہی ہیں اور حلیہ میں اسے ولوالجی کی طرف منسوب کیا گیا ہے لیکن اطلاق اتفاق پر دلالت نہیں کرتا بسااوقات اپنے مختار کو مطلق قرار دیا جاتا ہے اگرچہ وہاں متعدد اختلافات ہوتے ہیں میرا خیال ہے کہ میں نے اس کے
حوالہ / References
حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
منیۃ المصلی فصل فی النجاسۃ مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۱۰
غنیۃ المستملی فصل فی النجاسۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۵
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
منیۃ المصلی فصل فی النجاسۃ مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۱۰
غنیۃ المستملی فصل فی النجاسۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۵
مانصہ۔
اقول : کیف تکون اتفاقیۃ مع ان المنقول من الثانی المشہور عن الثالث نجاسۃ عین الکلب وقدصححہ جماعۃ وان کان الاصح المعتمد المفتی بہ ھی الطھارۃ اھ نعم ھو صحیح بالنسبۃ الی ماعدا الکلب من السباع المذکورۃ وامثالھا۔
حاشیے پر لکھا ہے جس کی عبارت یہ ہے۔
اقول : (میں کہتا ہوں) یہ کیسے اتفاقی ہوگا حالانکہ ثانی سے منقول اور ثالث سے مشہور ہے کہ کتا نجس عین ہے۔ ایك جماعت نے اس کی تصحیح کی اگرچہ زیادہ صحیح معتمد علیہ اور مفتی بہ طہارت ہی ہے اھ ہاں یہ کتے کے علاوہ دیگر مذکورہ بالا درندوں اور ان کی امثال کی طرف نسبت کرتے ہوئے صحیح ہے۔ (ت)
بلکہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے بھی بعض فروع اسی طرف جاتی ہیں۔
وقدقرأنا علیك عن الانقروی عن الزاھدی عن الدبوسی فی مواطئ الکلاب فی الطین ان طھارتھا ھی الروایۃ الصحیحۃ وقریب المنصوص عن اصحابنا وھذہ کتب المذھب طافحۃ بتصریح جواز بیع الکلب وحل ثمنہ وانما ذکروا الخلف فی بیع العقود فعن محمد جوازہ وعن ابی یوسف منعہ واطلاق الاصل یؤید الاول وعلیہ مشی القدوری وغیرہ وصحح شمس الائمۃ الثانی فقال انما لا یجوز بیع الکلب العقور الذی لایقبل التعلیم وقال ھذا ھو الصحیح من المذھب کمانقلہ فی الفتح۔ لاجرم ان قال حافظ الحدیث والمذھب الامام الطحاوی فی شرح معانی الاثار بعدماحق حل اثمان
ہم نے بواسطہ انقروی اور زاہدی دبوسی سے نقل کرتے ہوئے کیچڑ میں کتوں کی گزرگاہ کے بارے میں تمہیں بتایا ہے کہ اس کا پاك ہونا ہی صحیح روایت ہے اور ہمارے اصحاب سے منصوص روایات کے قریب ہے اور یہ کتب مذاہب کتے کی خریدوفروخت کے جواز اور اس کی قیمت حلال ہونے سے متعلق تصریح سے بھری پڑی ہیں البتہ کاٹنے والے کتے کے بارے میں ان کا اختلاف ہے۔ پس امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے اس کا جواز اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہسے عدم جواز منقول ہے۔ اصل (مبسوط) کا اطلاق پہلی بات کی تائید کرتا ہے قدوری وغیرہ نے یہی راہ اختیار کی ہے جبکہ شمس الائمہ نے دوسری بات کو صحیح قرار دیا ہے انہوں نے فرمایا کاٹنے والا کتا جو تعلیم کو قبول نہیں کرتا اس کی خریدوفروخت جائز نہیں اور فرمایا کہ صحیح مذہب یہی ہے جیسا کہ فتح القدیر میں اسے نقل کیا ہے۔ یقینا حدیث ومذہب کے
اقول : کیف تکون اتفاقیۃ مع ان المنقول من الثانی المشہور عن الثالث نجاسۃ عین الکلب وقدصححہ جماعۃ وان کان الاصح المعتمد المفتی بہ ھی الطھارۃ اھ نعم ھو صحیح بالنسبۃ الی ماعدا الکلب من السباع المذکورۃ وامثالھا۔
حاشیے پر لکھا ہے جس کی عبارت یہ ہے۔
اقول : (میں کہتا ہوں) یہ کیسے اتفاقی ہوگا حالانکہ ثانی سے منقول اور ثالث سے مشہور ہے کہ کتا نجس عین ہے۔ ایك جماعت نے اس کی تصحیح کی اگرچہ زیادہ صحیح معتمد علیہ اور مفتی بہ طہارت ہی ہے اھ ہاں یہ کتے کے علاوہ دیگر مذکورہ بالا درندوں اور ان کی امثال کی طرف نسبت کرتے ہوئے صحیح ہے۔ (ت)
بلکہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے بھی بعض فروع اسی طرف جاتی ہیں۔
وقدقرأنا علیك عن الانقروی عن الزاھدی عن الدبوسی فی مواطئ الکلاب فی الطین ان طھارتھا ھی الروایۃ الصحیحۃ وقریب المنصوص عن اصحابنا وھذہ کتب المذھب طافحۃ بتصریح جواز بیع الکلب وحل ثمنہ وانما ذکروا الخلف فی بیع العقود فعن محمد جوازہ وعن ابی یوسف منعہ واطلاق الاصل یؤید الاول وعلیہ مشی القدوری وغیرہ وصحح شمس الائمۃ الثانی فقال انما لا یجوز بیع الکلب العقور الذی لایقبل التعلیم وقال ھذا ھو الصحیح من المذھب کمانقلہ فی الفتح۔ لاجرم ان قال حافظ الحدیث والمذھب الامام الطحاوی فی شرح معانی الاثار بعدماحق حل اثمان
ہم نے بواسطہ انقروی اور زاہدی دبوسی سے نقل کرتے ہوئے کیچڑ میں کتوں کی گزرگاہ کے بارے میں تمہیں بتایا ہے کہ اس کا پاك ہونا ہی صحیح روایت ہے اور ہمارے اصحاب سے منصوص روایات کے قریب ہے اور یہ کتب مذاہب کتے کی خریدوفروخت کے جواز اور اس کی قیمت حلال ہونے سے متعلق تصریح سے بھری پڑی ہیں البتہ کاٹنے والے کتے کے بارے میں ان کا اختلاف ہے۔ پس امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہسے اس کا جواز اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہسے عدم جواز منقول ہے۔ اصل (مبسوط) کا اطلاق پہلی بات کی تائید کرتا ہے قدوری وغیرہ نے یہی راہ اختیار کی ہے جبکہ شمس الائمہ نے دوسری بات کو صحیح قرار دیا ہے انہوں نے فرمایا کاٹنے والا کتا جو تعلیم کو قبول نہیں کرتا اس کی خریدوفروخت جائز نہیں اور فرمایا کہ صحیح مذہب یہی ہے جیسا کہ فتح القدیر میں اسے نقل کیا ہے۔ یقینا حدیث ومذہب کے
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۱
فتح القدیر مسائل منثورہ من باب البیع مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ / ۳۴۵
فتح القدیر مسائل منثورہ من باب البیع مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ / ۳۴۵
الکلب ھذا قول ابیحنیفۃ وابی یوسف ومحمد رحمۃ الله تعالی علیھم اجمعین اھ۔ وقال فی البحر امابیعہ وتملیکہ فھوجائز ھکذا نقلوا واطلقوا لکن ینبغی انیکون ھذا علی القول بطھارۃ عینہ اماعلی القول بالنجاسۃ فھو کالخنزیر فبیعہ باطل فی حق المسلمین کالخنزیر الخ فینقدح من ذلك وفاقھم جمیعا علی قضیۃ الطھارۃ من جراء تلك الروایات۔
اقول : لکن افاد فی الفتح منع توقف جواز البیع علی طھارۃ العین وانما یعتمد جوازہ جواز الانتفاع الا تری ان السرقین والبعرلما جاز الانتفاع بھما جاز بیعھما وقد قال فی الھدایۃ مجیبا عن استدلال الشافعی علی حرمۃ بیع الکلب بانہ نجس العین ولانسلم نجاسۃ العین ولوسلم فیحرم التناول دون البیع اھ فان عدت قائلا ان حل الانتفاع ایضا یعتمد طہارۃ العین فان الخنزیر لماکان نجس العین لم یجز الانتفاع بہ بوجوجہ من الوجوہ بذلك عللوہ فی حافظ امام طحاوی نے شرح معافی الآثار میں کتے کی قیمت کے حلال ہونے کے بارے میں تحقیق فرمانے کے بعد فرمایا امام ابوحنیفہ امام ابویوسف اور امام محمد رحمہم اللہ تعالیتمام کا یہی قول ہے اھ۔ بحرالرائق میں فرمایا کہ اس (کتے) کی بیع اور تملیك جائز ہے۔ اسی طرح فقہاء کرام نے نقل کیا اور مطلقا بیان کیا لیکن مناسب ہے کہ یہ بات اس کی عینی طہارت کے قول پر ہو لیکن نجاست کے قول پر وہ خنزیر جیسا ہوگا لہذا مسلمانوں کے حق میں خنزیر کی طرح اس کی خریدوفروخت بھی باطل ہے الخ پس ان روایات کے پیش نظر ان سب کا طہارت کے فیصلی پر اتفاق مطعون ہوگا۔ (ت)بلکہ بیع کا جواز جواز انتفاع پر مبنی ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ گوبر اور مینگنی سے جب نفع حاصل کرنا جائز ہے تو ان کی خریدوفروخت بھی جائز ہے۔ کتے کی بیع حرام ہونے پر امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے استدلال کہ وہ نجس عین ہونے کی وجہ سے حرام ہے کا جواب دیتے ہوئے ہدایہ میں فرمایا ہم نجاست عین تسلیم نہیں کرتے اور اگر تسلیم کربھی لیا جائے تو اس کا کھانا حرام ہے خریدوفروخت حرام نہیں اھ۔ اگر تم یہ کہتے ہوئے اعتراض کرو کہ انتفاع کا جائز ہونا بھی تو طہارت عین پر مبنی ہے کیونکہ جب
اقول : لکن افاد فی الفتح منع توقف جواز البیع علی طھارۃ العین وانما یعتمد جوازہ جواز الانتفاع الا تری ان السرقین والبعرلما جاز الانتفاع بھما جاز بیعھما وقد قال فی الھدایۃ مجیبا عن استدلال الشافعی علی حرمۃ بیع الکلب بانہ نجس العین ولانسلم نجاسۃ العین ولوسلم فیحرم التناول دون البیع اھ فان عدت قائلا ان حل الانتفاع ایضا یعتمد طہارۃ العین فان الخنزیر لماکان نجس العین لم یجز الانتفاع بہ بوجوجہ من الوجوہ بذلك عللوہ فی حافظ امام طحاوی نے شرح معافی الآثار میں کتے کی قیمت کے حلال ہونے کے بارے میں تحقیق فرمانے کے بعد فرمایا امام ابوحنیفہ امام ابویوسف اور امام محمد رحمہم اللہ تعالیتمام کا یہی قول ہے اھ۔ بحرالرائق میں فرمایا کہ اس (کتے) کی بیع اور تملیك جائز ہے۔ اسی طرح فقہاء کرام نے نقل کیا اور مطلقا بیان کیا لیکن مناسب ہے کہ یہ بات اس کی عینی طہارت کے قول پر ہو لیکن نجاست کے قول پر وہ خنزیر جیسا ہوگا لہذا مسلمانوں کے حق میں خنزیر کی طرح اس کی خریدوفروخت بھی باطل ہے الخ پس ان روایات کے پیش نظر ان سب کا طہارت کے فیصلی پر اتفاق مطعون ہوگا۔ (ت)بلکہ بیع کا جواز جواز انتفاع پر مبنی ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ گوبر اور مینگنی سے جب نفع حاصل کرنا جائز ہے تو ان کی خریدوفروخت بھی جائز ہے۔ کتے کی بیع حرام ہونے پر امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے استدلال کہ وہ نجس عین ہونے کی وجہ سے حرام ہے کا جواب دیتے ہوئے ہدایہ میں فرمایا ہم نجاست عین تسلیم نہیں کرتے اور اگر تسلیم کربھی لیا جائے تو اس کا کھانا حرام ہے خریدوفروخت حرام نہیں اھ۔ اگر تم یہ کہتے ہوئے اعتراض کرو کہ انتفاع کا جائز ہونا بھی تو طہارت عین پر مبنی ہے کیونکہ جب
حوالہ / References
شرح معافی الآثار باب ثمن الکلب مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۵۰
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۳
الہدایۃ مسائل منثوہ من کتاب البیوع مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲ / ۱۰۳
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۳
الہدایۃ مسائل منثوہ من کتاب البیوع مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲ / ۱۰۳
عامۃ الکتب نعم یجوز الانتفاع بنجس العین علی سبیل الاستھلاك وھذا ھو الثابت فی السرقین کما افادہ فی النھایۃ ونقلہ فی البحر۔
قلت نعم ھذا یصلح دلیلا لاصل المدعی اعنی الطھارۃ اماجعلہ وجھا لتخصیص جواز البیع بقول الطھارۃ فکلا کیف وحل الانتفاع بالکلب بطریق الاصطیاد مجمع علیہ قطعا لما نطق بہ النص الکریم فمبنی جواز البیع ثابت عند الکل وان انکرالصاحبان مبنی المبنی اعنی الطھارۃ کما انکر الشافعی فرع المبنی اعنی جواز البیع فافھم۔
اقول : لیکن فتح القدیر سے اس بات کا فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ جو ازبیع طہارت عین پر موقوف نہیں ب
خنزیر نجس عین ہے تو کسی طرح اس سے انتفاع جائز نہیں۔ عام کتب میں اس کی یہی علت بیان کی ہے ہاں نجس عین کو ہلاك کرکے اس سے نفع حاصل کرنا جائز ہے۔ یہی بات گوبر میں بھی ثابت ہے جیسا کہ نہایہ میں اس بات کا فائدہ دیا اور اسے البحرالرائق نے نقل کیا۔ میں کہتا ہوں ہاں یہ اصل مدعی یعنی طہارت کی دلیل بن سکتی ہے لیکن اسے طہارت کے قول پر جواز بیع کی تخصیص کیلئے سبب قرار دینا ہرگز صحیح نہیں اور یہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ کتے سے شکار کے طریقے پر نفع حاصل کرنا جائز ہے اور یہ قطعی طور پر متفق علیہامسئلہ ہے کیونکہ اس کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے پس جواز بیع کی بنیاد سب کے نزدیك ثابت ہے اگرچہ صاحبین اس بنیاد کی بنیاد یعنی طہارت کا انکار کرتے ہیں جیسا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اس بنیاد کی فرع یعنی جواز بیع کا انکار کیا ہے۔ پس اسے سمجھو۔ (ت)
اور معلوم ومقرر ہے کہ کلام الامام امام الکلام علما فرماتے ہیں قول امام پر افتا لازم ہے اگرچہ صاحبین خلاف پر ہوں نہ کہ جب صاحبین سے بھی روایات ان کے موافق آئی ہوں۔
اللھم الالضرورۃ اوضعف دلیل وقدعلم انتفاؤھما ھھنا۔
اے اللہ ! مگر ضرورت یا ضعف دلیل کی وجہ سے اور یقینا یہاں ان دونوں کا نہ ہونا معلوم ہے (ت)
بحرالرائق وفتاوی خیریہ وحاشیہ طحطاویہ علی الدر المختار وردالمحتار میں ہے :
واللفظ للعلامۃ الرملی المقرر ایضا عندنا انہ لا یفتی ولا یعمل الابقول الامام الاعظم ولایعدل عنہ الی قولھما اوقول احدھما اوغیرھما الا لضرورۃ من ضعف دلیل او تعامل بخلافہ کمسألۃ المزارعۃ
اور الفاظ علامہ رملی کے ہیں ہمارے نزدیك بھی ثابت ہے کہ صرف امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہکے قول پر فتوی دیا جائے گا اور عمل کیا جائیگا اس سے صاحبین یا ان میں سے ایك یا کسی دوسرے کے قول کی طرف بغیر ضرورت متوجہ نہیں ہوں گے ضرورت جیسے کمزور دلیل یا اس کے خلاف
قلت نعم ھذا یصلح دلیلا لاصل المدعی اعنی الطھارۃ اماجعلہ وجھا لتخصیص جواز البیع بقول الطھارۃ فکلا کیف وحل الانتفاع بالکلب بطریق الاصطیاد مجمع علیہ قطعا لما نطق بہ النص الکریم فمبنی جواز البیع ثابت عند الکل وان انکرالصاحبان مبنی المبنی اعنی الطھارۃ کما انکر الشافعی فرع المبنی اعنی جواز البیع فافھم۔
اقول : لیکن فتح القدیر سے اس بات کا فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ جو ازبیع طہارت عین پر موقوف نہیں ب
خنزیر نجس عین ہے تو کسی طرح اس سے انتفاع جائز نہیں۔ عام کتب میں اس کی یہی علت بیان کی ہے ہاں نجس عین کو ہلاك کرکے اس سے نفع حاصل کرنا جائز ہے۔ یہی بات گوبر میں بھی ثابت ہے جیسا کہ نہایہ میں اس بات کا فائدہ دیا اور اسے البحرالرائق نے نقل کیا۔ میں کہتا ہوں ہاں یہ اصل مدعی یعنی طہارت کی دلیل بن سکتی ہے لیکن اسے طہارت کے قول پر جواز بیع کی تخصیص کیلئے سبب قرار دینا ہرگز صحیح نہیں اور یہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ کتے سے شکار کے طریقے پر نفع حاصل کرنا جائز ہے اور یہ قطعی طور پر متفق علیہامسئلہ ہے کیونکہ اس کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے پس جواز بیع کی بنیاد سب کے نزدیك ثابت ہے اگرچہ صاحبین اس بنیاد کی بنیاد یعنی طہارت کا انکار کرتے ہیں جیسا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اس بنیاد کی فرع یعنی جواز بیع کا انکار کیا ہے۔ پس اسے سمجھو۔ (ت)
اور معلوم ومقرر ہے کہ کلام الامام امام الکلام علما فرماتے ہیں قول امام پر افتا لازم ہے اگرچہ صاحبین خلاف پر ہوں نہ کہ جب صاحبین سے بھی روایات ان کے موافق آئی ہوں۔
اللھم الالضرورۃ اوضعف دلیل وقدعلم انتفاؤھما ھھنا۔
اے اللہ ! مگر ضرورت یا ضعف دلیل کی وجہ سے اور یقینا یہاں ان دونوں کا نہ ہونا معلوم ہے (ت)
بحرالرائق وفتاوی خیریہ وحاشیہ طحطاویہ علی الدر المختار وردالمحتار میں ہے :
واللفظ للعلامۃ الرملی المقرر ایضا عندنا انہ لا یفتی ولا یعمل الابقول الامام الاعظم ولایعدل عنہ الی قولھما اوقول احدھما اوغیرھما الا لضرورۃ من ضعف دلیل او تعامل بخلافہ کمسألۃ المزارعۃ
اور الفاظ علامہ رملی کے ہیں ہمارے نزدیك بھی ثابت ہے کہ صرف امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہکے قول پر فتوی دیا جائے گا اور عمل کیا جائیگا اس سے صاحبین یا ان میں سے ایك یا کسی دوسرے کے قول کی طرف بغیر ضرورت متوجہ نہیں ہوں گے ضرورت جیسے کمزور دلیل یا اس کے خلاف
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۱
وان صرح المشایخ بان الفتوی علی قولھما لانہ صاحب المذھب والامام المقدم
اذاقالت حذام فصدقوھا
فان القول ماقالت حذام
تعامل کا پایا جانا جیسا کہ مسئلہ زراعت میں ہے اگرچہ مشائخ تصریح کریں کہ فتوی صاحبین کے قول پر ہے کیونکہ آپ (امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ) صاحب مذہب اور امام متقدم ہیں
جب حذام کوئی بات کہے تو اس کی تصدیق کرو کیونکہ بات تو وہی ہے جو خدام نے کہی۔
امام برہان الدین فرغانی صاحب ہدایہ تجنیس میں فرماتے ہیں :
الواجب عندی ان یفتی بقول ابی حنیفۃ علی کل حال ۔
میرے نزدیك واجب ہے کہ ہر حال میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے قول پر فتوی دیا جائے۔ (ت)
اسی طرح اور کتب سے ثابت وقدذکرناہ فی کتا النکاح من فتاونا (ہم نے اسے اپنے فتاوی کی کتاب النکاح میں ذکر کیا ہے۔ ت) تو واجب ہوا کہ طہارت عین ہی پر فتوے دیں اور اسی کو معمول ومقبول رکھیں۔
ثانیا : یہی قول اکثر ہے۔
کمایظھر لمن یطالع نقولنا فی التطھیر مع ما ترکنا من الکثیر البشیر ویراجع نقول التنجس یجدھا لاتبلغ نصف ذلك ولاثلثہ وان شرط مع ذلك عدم الاضطراب فلا یبقی فی یدہ الا اقل قلیل کماستقف علیہ ان شاء الله تعالی وقدقال فی الحلیۃ الکثیر علی انہ لیس بنجس العین ۔
جیسا کہ اس شخص کے لئے ظاہر ہے جو تطہیر کے بارے میں ہمارے نقول کا مطالعہ کرے باوجود کہ ہم نے بہت کچھ چھوڑ دیا ہے اور اس کے نجس ہونے کے بارے میں نقول کی طرف رجوع کرے تو انہیں ان (نقول تطہیر) کا نصف بلکہ تہائی بھی نہیں پائے گا۔ اور اس کے ساتھ عدم اضطراب کی شرط رکھی جائے تو اس کے ہاتھ میں بہت کم رہ جائیگی جیسا کہ تو عنقریب اس پر مطلع ہوگا ان شاء الله
اذاقالت حذام فصدقوھا
فان القول ماقالت حذام
تعامل کا پایا جانا جیسا کہ مسئلہ زراعت میں ہے اگرچہ مشائخ تصریح کریں کہ فتوی صاحبین کے قول پر ہے کیونکہ آپ (امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ) صاحب مذہب اور امام متقدم ہیں
جب حذام کوئی بات کہے تو اس کی تصدیق کرو کیونکہ بات تو وہی ہے جو خدام نے کہی۔
امام برہان الدین فرغانی صاحب ہدایہ تجنیس میں فرماتے ہیں :
الواجب عندی ان یفتی بقول ابی حنیفۃ علی کل حال ۔
میرے نزدیك واجب ہے کہ ہر حال میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکے قول پر فتوی دیا جائے۔ (ت)
اسی طرح اور کتب سے ثابت وقدذکرناہ فی کتا النکاح من فتاونا (ہم نے اسے اپنے فتاوی کی کتاب النکاح میں ذکر کیا ہے۔ ت) تو واجب ہوا کہ طہارت عین ہی پر فتوے دیں اور اسی کو معمول ومقبول رکھیں۔
ثانیا : یہی قول اکثر ہے۔
کمایظھر لمن یطالع نقولنا فی التطھیر مع ما ترکنا من الکثیر البشیر ویراجع نقول التنجس یجدھا لاتبلغ نصف ذلك ولاثلثہ وان شرط مع ذلك عدم الاضطراب فلا یبقی فی یدہ الا اقل قلیل کماستقف علیہ ان شاء الله تعالی وقدقال فی الحلیۃ الکثیر علی انہ لیس بنجس العین ۔
جیسا کہ اس شخص کے لئے ظاہر ہے جو تطہیر کے بارے میں ہمارے نقول کا مطالعہ کرے باوجود کہ ہم نے بہت کچھ چھوڑ دیا ہے اور اس کے نجس ہونے کے بارے میں نقول کی طرف رجوع کرے تو انہیں ان (نقول تطہیر) کا نصف بلکہ تہائی بھی نہیں پائے گا۔ اور اس کے ساتھ عدم اضطراب کی شرط رکھی جائے تو اس کے ہاتھ میں بہت کم رہ جائیگی جیسا کہ تو عنقریب اس پر مطلع ہوگا ان شاء الله
حوالہ / References
فتاوٰی خیریۃ مطلب لایفتی بغیر قول ابی حنیفہ وان صححہ المشایخ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۲ / ۳۳
التجنیس والمزید
التعلیق المجلی حاشیہ منیۃ المصلی فصل فی البئر مکتبہ قادیہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۱۵
التجنیس والمزید
التعلیق المجلی حاشیہ منیۃ المصلی فصل فی البئر مکتبہ قادیہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۱۵
تعالی۔ اور حلیہ میں فرمایا کہ زیادہ روایات اس کے نجس عین نہ ہونے پر ہیں۔ (ت)
اور ثابت ومشہور ہے کہ معمول بہ وہی قول اکثر وجمہور ہے۔
فی ردالمحتار قدصرحوا بان العمل بماعلیہ الاکثر اھ۔ وفی العقود الدریۃ عن شرح الاشباہ للبیری لایجوز لاحد الاخذ بہ لان المقرر عند المشایخ انہ متی اختلف فی مسألۃ فالعبرۃ بماقالہ الاکثر ۔
ردالمحتار میں ہے فقہاء کرام نے تصریح کی ہے کہ عمل اکثر کے اقوال پر ہوگا اھ۔ بیری کی شرح اشباہ کے حوالے سے العقود الدریہ میں ہے کہ اسے اختیار کرنا کسی کیلئے جائز نہیں کیونکہ مشائخ کے نزدیك یہ بات ثابت ہے کہ جب کسی مسئلہ میں اختلاف ہو تو اکثر کے قول کا اعتبار ہوگا۔ (ت)
ثالثا : يہی موافق احکام قرآن وحدیث ہے۔
کماعلمت وتعلم وقدقال فی الغنیۃ قبیل واجبات الصلاۃ لاینبغی ان یعدل عن الداریۃ اذاوافقتھا روایۃ اھ و مثلہ فی ردالمحتار۔
جیسا کہ تونے جانا اور تجھے معلوم ہوجائیگا۔ اور غنیہ میں واجبات نماز سے کچھ پہلے فرمایا کہ جب روایت درایت کے موافق ہوجائے تو اس سے روگردانی کرنا مناسب نہیں اھ ردالمحتار میں بھی اسی کی مثل ہے (ت)
رابعا : یہی من حیث الدلیل اقوے بلکہ قول تنجیس پر دلیل اصلا ظاہر نہیں۔
وقدسمعت قول الغنیۃ لعدم الدلیل علی نجاسۃ العین اھ وقداعترف بذلك الائمۃ الشافعیۃ قال فی البحر ولقد انصف النووی حیث قال فی شرح المھذب واحتج اصحابنا باحادیث لادلالۃ فیھا فترکتھا لانی التزمت فی خطبۃ الکتاب الاعراض عن الدلائل
تو نے غنیہ کا قول سنا ہے کہ نجاست عین پر کوئی دلیل نہیں۔ اھ شافعی ائمہ نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔ بحرالرائق میں فرمایا امام نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے شرح مہذب میں یہ کہہ کر انصاف سے کام لیا کہ ہمارے اصحاب نے ایسی احادیث کو دلیل بنایا جن میں کوئی دلالت نہیں پس میں نے ان کو چھوڑ دیا کیونکہ میں نے خطبہ کتاب
اور ثابت ومشہور ہے کہ معمول بہ وہی قول اکثر وجمہور ہے۔
فی ردالمحتار قدصرحوا بان العمل بماعلیہ الاکثر اھ۔ وفی العقود الدریۃ عن شرح الاشباہ للبیری لایجوز لاحد الاخذ بہ لان المقرر عند المشایخ انہ متی اختلف فی مسألۃ فالعبرۃ بماقالہ الاکثر ۔
ردالمحتار میں ہے فقہاء کرام نے تصریح کی ہے کہ عمل اکثر کے اقوال پر ہوگا اھ۔ بیری کی شرح اشباہ کے حوالے سے العقود الدریہ میں ہے کہ اسے اختیار کرنا کسی کیلئے جائز نہیں کیونکہ مشائخ کے نزدیك یہ بات ثابت ہے کہ جب کسی مسئلہ میں اختلاف ہو تو اکثر کے قول کا اعتبار ہوگا۔ (ت)
ثالثا : يہی موافق احکام قرآن وحدیث ہے۔
کماعلمت وتعلم وقدقال فی الغنیۃ قبیل واجبات الصلاۃ لاینبغی ان یعدل عن الداریۃ اذاوافقتھا روایۃ اھ و مثلہ فی ردالمحتار۔
جیسا کہ تونے جانا اور تجھے معلوم ہوجائیگا۔ اور غنیہ میں واجبات نماز سے کچھ پہلے فرمایا کہ جب روایت درایت کے موافق ہوجائے تو اس سے روگردانی کرنا مناسب نہیں اھ ردالمحتار میں بھی اسی کی مثل ہے (ت)
رابعا : یہی من حیث الدلیل اقوے بلکہ قول تنجیس پر دلیل اصلا ظاہر نہیں۔
وقدسمعت قول الغنیۃ لعدم الدلیل علی نجاسۃ العین اھ وقداعترف بذلك الائمۃ الشافعیۃ قال فی البحر ولقد انصف النووی حیث قال فی شرح المھذب واحتج اصحابنا باحادیث لادلالۃ فیھا فترکتھا لانی التزمت فی خطبۃ الکتاب الاعراض عن الدلائل
تو نے غنیہ کا قول سنا ہے کہ نجاست عین پر کوئی دلیل نہیں۔ اھ شافعی ائمہ نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔ بحرالرائق میں فرمایا امام نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے شرح مہذب میں یہ کہہ کر انصاف سے کام لیا کہ ہمارے اصحاب نے ایسی احادیث کو دلیل بنایا جن میں کوئی دلالت نہیں پس میں نے ان کو چھوڑ دیا کیونکہ میں نے خطبہ کتاب
حوالہ / References
ردالمحتار ، فصل فی البئر ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۶۶
العقود الدریۃ قدائد تتعلق باداب المفتی (حاجی عبدالغفار وسپراں ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ / ۳
غنیۃ المستملی قبیل واجبات الصلٰوۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۹۵
غنیۃ المستملی فصل فی البئر مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۹
العقود الدریۃ قدائد تتعلق باداب المفتی (حاجی عبدالغفار وسپراں ارگ بازار قندھار افغانستان ۱ / ۳
غنیۃ المستملی قبیل واجبات الصلٰوۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۹۵
غنیۃ المستملی فصل فی البئر مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۹
الواھیۃ اھ۔
وقال الامام العارف الشعرانی الشافعی فی میزان الشریعۃ الکبری سمعت سیدی علیا الخواص رحمہ الله تعالی یقول لیس لنادلیل علی نجاسۃ عین الکلب الامانھی عنہ الشارع من بیعہ اواکل ثمنہ اھ۔
اقول : ای ولایتم ایضا فان الشارع صلی الله تعالی علیہ وسلم قدنھی عن بیع اشیاء واثمانھا وھی طاھرۃ العین وفاقا اخرج الائمۃ احمد والستۃ عن جابر رضی الله تعالی علیہ وسلم ان الله ورسولہ حرم بیع الخمر والمیتۃ والخنزیر والاصنام ۔ ولاحمد ومسلم والاربعۃ والطحاوی والحاکم عنہ رضی الله تعالی عنہ ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نھی عن ثمن الکلب والسنور علی ان علماء نا قدبینوا ان ذلك کان حین کان الامر بقتل الکلاب ولم یکن یحل لاحد امساك شیئ منھا فنسخ بنسخہ کماحققہ الامام
میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ کمزور دلائل سے اعراض کروں گا اھ۔ امام عارف شعرانی شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے میزان الشریعۃ الکبری میں فرمایا کہ میں نے سیدی علی الخواص رحمۃ اللہ تعالی علیہسے سنا آپ فرماتے تھے ہمارے پاس کتے کے نجس عین ہونے پر اس کے سوا کوئی دلیل نہیں کو شارع علیہ السلام نے اس کی خریدوفروخت اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا اھ۔ (ت)
اقول : یہ دلیل بھی تام نہیں کیونکہ شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بعض چیزوں کی خریدوفروخت اور ان کی قیمت لینے سے منع فرمایا حالانکہ ان کا عین بالاتفاق پاك ہے۔ امام احمد اور اصحاب صحاح ستہ نے بواسطہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے شراب مردار خنزیر اور بتوں کی خریدوفروخت سے منع فرمایا۔ احمد مسلم اصحاب اربعہ طحاوی اور حاکم رحمہم اللہ تعالی انہی حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کتے اور بلی کی قیمت لینے سے منع فرمایا۔ علاوہ ازیں ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ یہ اس وقت تھا جب کتے کو قتل کرنے کا حکم تھا اور کسی کیلئے اس میں سے
وقال الامام العارف الشعرانی الشافعی فی میزان الشریعۃ الکبری سمعت سیدی علیا الخواص رحمہ الله تعالی یقول لیس لنادلیل علی نجاسۃ عین الکلب الامانھی عنہ الشارع من بیعہ اواکل ثمنہ اھ۔
اقول : ای ولایتم ایضا فان الشارع صلی الله تعالی علیہ وسلم قدنھی عن بیع اشیاء واثمانھا وھی طاھرۃ العین وفاقا اخرج الائمۃ احمد والستۃ عن جابر رضی الله تعالی علیہ وسلم ان الله ورسولہ حرم بیع الخمر والمیتۃ والخنزیر والاصنام ۔ ولاحمد ومسلم والاربعۃ والطحاوی والحاکم عنہ رضی الله تعالی عنہ ان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم نھی عن ثمن الکلب والسنور علی ان علماء نا قدبینوا ان ذلك کان حین کان الامر بقتل الکلاب ولم یکن یحل لاحد امساك شیئ منھا فنسخ بنسخہ کماحققہ الامام
میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ کمزور دلائل سے اعراض کروں گا اھ۔ امام عارف شعرانی شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے میزان الشریعۃ الکبری میں فرمایا کہ میں نے سیدی علی الخواص رحمۃ اللہ تعالی علیہسے سنا آپ فرماتے تھے ہمارے پاس کتے کے نجس عین ہونے پر اس کے سوا کوئی دلیل نہیں کو شارع علیہ السلام نے اس کی خریدوفروخت اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا اھ۔ (ت)
اقول : یہ دلیل بھی تام نہیں کیونکہ شارع صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بعض چیزوں کی خریدوفروخت اور ان کی قیمت لینے سے منع فرمایا حالانکہ ان کا عین بالاتفاق پاك ہے۔ امام احمد اور اصحاب صحاح ستہ نے بواسطہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے شراب مردار خنزیر اور بتوں کی خریدوفروخت سے منع فرمایا۔ احمد مسلم اصحاب اربعہ طحاوی اور حاکم رحمہم اللہ تعالی انہی حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کتے اور بلی کی قیمت لینے سے منع فرمایا۔ علاوہ ازیں ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ یہ اس وقت تھا جب کتے کو قتل کرنے کا حکم تھا اور کسی کیلئے اس میں سے
حوالہ / References
البحرالرائق ، کتاب الطہارت ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۶
المیزان الکبرٰی باب النجاسۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۱۱۴
صحیح البخاری باب بیع المیتۃ والاصنام مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹۸
شرع معافی الآثار باب ثمن الکلب مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۵۱
شرع معافی الآثار باب ثمن الکلب مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۴۸
المیزان الکبرٰی باب النجاسۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۱۱۴
صحیح البخاری باب بیع المیتۃ والاصنام مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹۸
شرع معافی الآثار باب ثمن الکلب مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۵۱
شرع معافی الآثار باب ثمن الکلب مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۴۸
ابوجعفر الطحاوی وفی شرح معانی الاثار۔
کچھ روك رکھنا جائز نہ تھا پس اس (قتل) کے منسوخ ہونے سے یہ بھی منسوخ ہوگیا جیسا کہ امام ابوجعفر طحاوی نے شرح معانی الآثار میں اس کی تحقیق فرمائی ہے۔ (ت)
خامسا : اگر دلائل میں تعارض بھی ہو تو مرجع اصل ہے
کمانصوا علیہ فی الاصول وتشبثوا بہ فی مسائل الاسرار بال تائین وترك رفع الیدین وغیرھما۔
جیسا کہ انہوں نے اسے اصول میں بیان کیا اور آہستہ آمین کہنے اور ترك رفع یدین جیسے مسائل میں اس کو اختیار کیا۔ (ت)
اور اصل تمام اشیا میں طہارت ہے۔
حتی الخنزیر فانہ من المنی والمنی من الدم والدم من الغذاء والغذاء من العناصر والعناصر طاھرۃ حتی لولم یرد الشرع بتنجیس عینہ بقی علی اصلہ فی المیزان الاصل فی الاشیاء الطھارۃ وانما النجاسۃ عارضۃ فانھا صادرۃ عن تکوین الله تعالی القدوس الطاھر الخ۔ وفی الطریقۃ والحدیقۃ ص ان الطھارۃ فی الاشیاء اصل ش لان الله تعالی لم یخلق شیأ نجسا من اصل خلقتہ ص وش انما ص النجاسۃ عارضۃ ش فاصل البول ماء طاھر وکذلك الدم والمنی والخمر عصیر طاھر ثم عرضت النجاسۃ اھ ملخصا۔ ولذا قال فی الغنیۃ ھھنا والاصل عدمھا ای عدم النجاسۃ کمامر۔
حتی کہ خنزیر بھی کیونکہ وہ منی سے ہے منی خون سے خون غذا سے اور غذا عناصر سے اور عناصر پاك ہیں حتی کہ اگر شریعت اسے نجس عین قرار نہ دیتی تو وہ اپنی اصل پر باقی رہتا۔ میزان میں ہے اشیاء میں اصل طہارت ہے اور نجاست لاحق ہوتی ہے یعنی اللہ تعالی پاك وطاہر کے حکم سے صادر ہوتی ہے الخ۔
الطریقۃ الحمدیہ اور الحدیقۃ الندیہ میں ہے (متن) اشیاء میں اصل طہارت ہے (شرح) کیونکہ اللہ تعالی نے اصل تخلیق میں کسی چیز کو نجس پیدا نہیں کیا (متن) نجاست عارضی ہے (شرح) پس پیشاب کا اصل پاك پانی ہے اسی طرح خون منی اور شراب پاك رس ہے پھر نجاست لاحق ہوئی اھ ملخصا۔ اسی لئے غنیہ میں اس مقام پر فرمایا اور اصل عدم نجاست ہے جیسا کہ گزرگیا۔ (ت)
کچھ روك رکھنا جائز نہ تھا پس اس (قتل) کے منسوخ ہونے سے یہ بھی منسوخ ہوگیا جیسا کہ امام ابوجعفر طحاوی نے شرح معانی الآثار میں اس کی تحقیق فرمائی ہے۔ (ت)
خامسا : اگر دلائل میں تعارض بھی ہو تو مرجع اصل ہے
کمانصوا علیہ فی الاصول وتشبثوا بہ فی مسائل الاسرار بال تائین وترك رفع الیدین وغیرھما۔
جیسا کہ انہوں نے اسے اصول میں بیان کیا اور آہستہ آمین کہنے اور ترك رفع یدین جیسے مسائل میں اس کو اختیار کیا۔ (ت)
اور اصل تمام اشیا میں طہارت ہے۔
حتی الخنزیر فانہ من المنی والمنی من الدم والدم من الغذاء والغذاء من العناصر والعناصر طاھرۃ حتی لولم یرد الشرع بتنجیس عینہ بقی علی اصلہ فی المیزان الاصل فی الاشیاء الطھارۃ وانما النجاسۃ عارضۃ فانھا صادرۃ عن تکوین الله تعالی القدوس الطاھر الخ۔ وفی الطریقۃ والحدیقۃ ص ان الطھارۃ فی الاشیاء اصل ش لان الله تعالی لم یخلق شیأ نجسا من اصل خلقتہ ص وش انما ص النجاسۃ عارضۃ ش فاصل البول ماء طاھر وکذلك الدم والمنی والخمر عصیر طاھر ثم عرضت النجاسۃ اھ ملخصا۔ ولذا قال فی الغنیۃ ھھنا والاصل عدمھا ای عدم النجاسۃ کمامر۔
حتی کہ خنزیر بھی کیونکہ وہ منی سے ہے منی خون سے خون غذا سے اور غذا عناصر سے اور عناصر پاك ہیں حتی کہ اگر شریعت اسے نجس عین قرار نہ دیتی تو وہ اپنی اصل پر باقی رہتا۔ میزان میں ہے اشیاء میں اصل طہارت ہے اور نجاست لاحق ہوتی ہے یعنی اللہ تعالی پاك وطاہر کے حکم سے صادر ہوتی ہے الخ۔
الطریقۃ الحمدیہ اور الحدیقۃ الندیہ میں ہے (متن) اشیاء میں اصل طہارت ہے (شرح) کیونکہ اللہ تعالی نے اصل تخلیق میں کسی چیز کو نجس پیدا نہیں کیا (متن) نجاست عارضی ہے (شرح) پس پیشاب کا اصل پاك پانی ہے اسی طرح خون منی اور شراب پاك رس ہے پھر نجاست لاحق ہوئی اھ ملخصا۔ اسی لئے غنیہ میں اس مقام پر فرمایا اور اصل عدم نجاست ہے جیسا کہ گزرگیا۔ (ت)
حوالہ / References
المیزان الکبرٰی باب النجاسۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۱۴
الحدیقۃ الندیۃ النوع الرابع تمام انواع الاربعۃ فی بیان اختلاف الفقہا فی امر الطہارۃ والنجاسۃ الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۳
غنیۃ المستملی فصل فی البئر مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۹
الحدیقۃ الندیۃ النوع الرابع تمام انواع الاربعۃ فی بیان اختلاف الفقہا فی امر الطہارۃ والنجاسۃ الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۳
غنیۃ المستملی فصل فی البئر مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۹
سادسا : اسی میں تیسیر ہے :
لاسیما علی من ابتلی باقتنائہ لصید اوزرع اوماشیۃ والتیسیر محبوب فی نظر الشارع
یرید الله بكم الیسر و لا یرید بكم العسر-
وقال صلی الله علیہ وسلم ان الدین یسر الحدیث رواہ البخاری والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ وقال صلی الله تعالی علیہ وسلم یسروا ولاتعسروا رواہ احمد والشیخان والنسائی عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ۔
خصوصا جو شخص شکار کھیتی باڑی یا جانوروں کی حفاظت کے لئے اس کے رکھنے پر مجبور ہو اور شارع کی نظر میں آسانی محبوب ہے (ارشاد خداوندی ہے) الله تعالی تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا۔ اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ بے شك دین آسان ہے “ (الحدیث) اسے امام بخاری اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ اور سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ آسانی پیدا کرو اور تنگی پیدا نہ کرو “ ۔ اس حدیث کو امام احمد بخاری ومسلم اور نسائی نے حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ (ت)
سابعا : بہت قائلان تنجیس کے اقوال خود مضطرب ہیں کہیں نجاست عین پر حکم فرماتے کہیں طہارت عین کا پتادیتے بلکہ صاف تصریح کرتے ہیں جس مبسوط شمس الائمہ سرخسی کے مسائل الآسار میں ہے :
الصحیح من المذھب عندنا ان عین الکلب نجس ۔
ہمارے نزدیك صحیح مذہب یہ ہے کہ کتے کا عین نجس ہے۔ (ت)
اسی کے باب الحدث میں ہے :
جلد الکلب یطھر عندنا بالدباغ خلافا للحسن والشافعی لان عینہ نجس عندھما ولکنا نقول الانتفاع بہ مباح حالۃ الاختیار فلوکان عینہ نجسا لماابیح الانتفاع بہ ۔
ہمارے نزدیك کتے کا چمڑا دباغت سے پاك ہوجاتا ہے امام حسن اور امام شافعیرحمہم اللہ تعالیکا اس میں اختلاف ہے کیونکہ ان کے نزدیك اس کا عین ناپاك ہے لیکن ہم کہتے ہیں حالت اختیار میں اس سے نفع حاصل کرنا جائز ہے پس اگر اس کا عین ناپاك ہوتا تو اس سے نفع حاصل کرنا جائز نہ ہوتا۔ (ت)
لاسیما علی من ابتلی باقتنائہ لصید اوزرع اوماشیۃ والتیسیر محبوب فی نظر الشارع
یرید الله بكم الیسر و لا یرید بكم العسر-
وقال صلی الله علیہ وسلم ان الدین یسر الحدیث رواہ البخاری والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ وقال صلی الله تعالی علیہ وسلم یسروا ولاتعسروا رواہ احمد والشیخان والنسائی عن انس بن مالك رضی الله تعالی عنہ۔
خصوصا جو شخص شکار کھیتی باڑی یا جانوروں کی حفاظت کے لئے اس کے رکھنے پر مجبور ہو اور شارع کی نظر میں آسانی محبوب ہے (ارشاد خداوندی ہے) الله تعالی تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا۔ اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ بے شك دین آسان ہے “ (الحدیث) اسے امام بخاری اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ اور سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ آسانی پیدا کرو اور تنگی پیدا نہ کرو “ ۔ اس حدیث کو امام احمد بخاری ومسلم اور نسائی نے حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ (ت)
سابعا : بہت قائلان تنجیس کے اقوال خود مضطرب ہیں کہیں نجاست عین پر حکم فرماتے کہیں طہارت عین کا پتادیتے بلکہ صاف تصریح کرتے ہیں جس مبسوط شمس الائمہ سرخسی کے مسائل الآسار میں ہے :
الصحیح من المذھب عندنا ان عین الکلب نجس ۔
ہمارے نزدیك صحیح مذہب یہ ہے کہ کتے کا عین نجس ہے۔ (ت)
اسی کے باب الحدث میں ہے :
جلد الکلب یطھر عندنا بالدباغ خلافا للحسن والشافعی لان عینہ نجس عندھما ولکنا نقول الانتفاع بہ مباح حالۃ الاختیار فلوکان عینہ نجسا لماابیح الانتفاع بہ ۔
ہمارے نزدیك کتے کا چمڑا دباغت سے پاك ہوجاتا ہے امام حسن اور امام شافعیرحمہم اللہ تعالیکا اس میں اختلاف ہے کیونکہ ان کے نزدیك اس کا عین ناپاك ہے لیکن ہم کہتے ہیں حالت اختیار میں اس سے نفع حاصل کرنا جائز ہے پس اگر اس کا عین ناپاك ہوتا تو اس سے نفع حاصل کرنا جائز نہ ہوتا۔ (ت)
حوالہ / References
القرآن ۲ / ۱۵۸
صحیح البخاری باب الدین یسر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
صحیح البخاری باب امر الوالی اذاوجہ امیرین الٰی موضع الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۰۶۳
المبسوط للسرخسی ، سؤرمالایؤکل لحمہ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۴۸
المبسوط للسرخسی جلد المیتۃ واحکامہ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۲۰۲
صحیح البخاری باب الدین یسر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
صحیح البخاری باب امر الوالی اذاوجہ امیرین الٰی موضع الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۰۶۳
المبسوط للسرخسی ، سؤرمالایؤکل لحمہ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۴۸
المبسوط للسرخسی جلد المیتۃ واحکامہ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۲۰۲
اسی کی کتاب الصید میں ہے :
بھذا یتبین انہ لیس بنجس العین
اس سے واضح ہوا کہ یہ نجس عین نہیں۔ (ت)
جس فتاوی ولوالجیہ میں مسئلہ تنجس ثوب بانتقاض قلب بیان کیا۔
قال فی البحر ولایخفی ان ھذا علی القول بنجاسۃ عینہ ۔
بحرالرائق میں فرمایا مخفی نہ رہے کہ یہ بات (کتے کے جھاڑنے سے کپڑے کا ناپاك ہونا) اس کے نجس عین ہونے کا قائل ہونے کی بنیاد پر ہے (ت)
اسی میں مثل تجنیس مسئلہ جواز صلاۃ مع قلادہ اسنان کلب بیان فرمایا۔
قال فی البحر ولایخفی ان ھذا کلہ علی القول بطہارۃ عینہ ۔
بحرالرائق میں فرمایا مخفی نہ رہے یہ سب کچھ اس کا عین پاك ہونے کی بنیاد پر ہے۔ (ت)
جس ایضاح میں عبارت مبسوط شیخ الاسلام فی روایۃ لایطھر وھو الظاھر من المذھب (ایك روایت میں ہے پاك نہیں ہوتا اور یہی ظاہر مذہب ہے۔ ت) نقل کرکے خود اپنے متن اصلاح کے قول الا جلد الخنزیر والادمی (مگر خنزیر اور آدمی کی کھال۔ ت) پر اعتراض فرمایا الحصر المذکور علی خلاف الظاھر (حصر مذکور ظاہر کے خلاف ہے۔ ت)اسی کی کتاب البیوع میں فرمایا :
صح بیع الکلب خلافا للشافعی لانہ نجس العین عندہ لاعندنا لانہ ینتفع بہ ۔
کتے کی خرید وفروخت صحیح ہے اس میں امام شافعی کا اختلاف ہے کیونکہ ان کے نزدیك یہ نجس عین ہے ہمارے نزدیك نہیں کیونکہ اس سے نفع حاصل کیا جاتا ہے۔ (ت)
جن درر وغرر میں وہ فرمایا تھا کہ الکلب نجس العین الخ (کتا نجس عین ہے الخ۔ ت)انھی کی بیوع میں ہے :
صح بیع کل ذی ناب کالکلب لانہ مال
کتے کی طرح ہر دانت والے جانور کی خریدوفروخت
بھذا یتبین انہ لیس بنجس العین
اس سے واضح ہوا کہ یہ نجس عین نہیں۔ (ت)
جس فتاوی ولوالجیہ میں مسئلہ تنجس ثوب بانتقاض قلب بیان کیا۔
قال فی البحر ولایخفی ان ھذا علی القول بنجاسۃ عینہ ۔
بحرالرائق میں فرمایا مخفی نہ رہے کہ یہ بات (کتے کے جھاڑنے سے کپڑے کا ناپاك ہونا) اس کے نجس عین ہونے کا قائل ہونے کی بنیاد پر ہے (ت)
اسی میں مثل تجنیس مسئلہ جواز صلاۃ مع قلادہ اسنان کلب بیان فرمایا۔
قال فی البحر ولایخفی ان ھذا کلہ علی القول بطہارۃ عینہ ۔
بحرالرائق میں فرمایا مخفی نہ رہے یہ سب کچھ اس کا عین پاك ہونے کی بنیاد پر ہے۔ (ت)
جس ایضاح میں عبارت مبسوط شیخ الاسلام فی روایۃ لایطھر وھو الظاھر من المذھب (ایك روایت میں ہے پاك نہیں ہوتا اور یہی ظاہر مذہب ہے۔ ت) نقل کرکے خود اپنے متن اصلاح کے قول الا جلد الخنزیر والادمی (مگر خنزیر اور آدمی کی کھال۔ ت) پر اعتراض فرمایا الحصر المذکور علی خلاف الظاھر (حصر مذکور ظاہر کے خلاف ہے۔ ت)اسی کی کتاب البیوع میں فرمایا :
صح بیع الکلب خلافا للشافعی لانہ نجس العین عندہ لاعندنا لانہ ینتفع بہ ۔
کتے کی خرید وفروخت صحیح ہے اس میں امام شافعی کا اختلاف ہے کیونکہ ان کے نزدیك یہ نجس عین ہے ہمارے نزدیك نہیں کیونکہ اس سے نفع حاصل کیا جاتا ہے۔ (ت)
جن درر وغرر میں وہ فرمایا تھا کہ الکلب نجس العین الخ (کتا نجس عین ہے الخ۔ ت)انھی کی بیوع میں ہے :
صح بیع کل ذی ناب کالکلب لانہ مال
کتے کی طرح ہر دانت والے جانور کی خریدوفروخت
حوالہ / References
المبسوط للسرخسی ثمن کلب الصید مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱۱ / ۲۳۵
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۳
ایضاح واصلاح
درر الحکام فی شرح غرر الاحکام فرض الغسل مطبوعہ کامل الکائنہ فی دار السعادۃ ۱ / ۲۴
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۳
ایضاح واصلاح
درر الحکام فی شرح غرر الاحکام فرض الغسل مطبوعہ کامل الکائنہ فی دار السعادۃ ۱ / ۲۴
متقوم الاالخنزیر لانہ نجس العین اھ
ملخصا جائز ہے کیونکہ وہ مال متقوم ہے سوائے خنزیر کے کیونکہ وہ نجس عین ہے اھ ملخصا (ت)
جس خزانۃ المفتین میں ہے عینہ نجس (اس کا عین ناپاك ہے۔ ت) اسی میں ہے :
سنہ لیس بنجس
(اس کا دانت ناپاك نہیں ہے۔ ت)
جس خانیہ میں مسائل متقدمہ شعر وانتفاض فرمائے اور فرمایا :
اذامشی کلب علی ثلج یصیر الثلج نجسا وکذا الطین والردغۃ اھ ملخصا ۔
کتا برف پر چلے تو برف ناپاك ہوجائے گی اسی طرح مٹی اور گارا بھی اھ ملخصا (ت)
یہاں تك کہ حلیہ وغنیہ وبحرالرائق میں واقع ہوا
واللفظ للبحر اختار قاضی خان فی الفتاوی نجاسۃ عینہ وفرع علیھا فروعا اھ
الفاظ بحرالرائق کے ہیں کہ قاضی خان نے اپنے فتاوی میں اس کے نجس عین ہونے کو اختیار کیا اور اس کو کئی مسائل کی بنیاد بنایا اھ (ت)
اسی خانیہ میں فرمایا : سنہ غیر نجس (اس کا دانت ناپاك نہیں ہے۔ ت) اور فرمایا :
لوصلی وفی عنقہ قلادۃ فیھا سن کلب اوذئب یجوز صلاتہ ۔
اگر کوئی شخص نماز پڑھے اور اس کے گلے میں ایسا ہار ہو جس میں کتے یا بھیڑیے کے دانت ہوں تو اس کی نماز جائز ہے(ت)
اور فرمایا :
ان کان فی کمہ ثعلب اوجروکلب لاتجوز صلاتہ لان سؤرہ نجس لایجوزبہ التوضأ ۔
اگر اس کی آستین میں لومڑی یا کتے کا بچہ ہو تو اس کی نماز جائز نہیں کیونکہ اس کا جھوٹا ناپاك ہے تو اس سے وضو کرنا جائز نہیں۔ (ت)
ملخصا جائز ہے کیونکہ وہ مال متقوم ہے سوائے خنزیر کے کیونکہ وہ نجس عین ہے اھ ملخصا (ت)
جس خزانۃ المفتین میں ہے عینہ نجس (اس کا عین ناپاك ہے۔ ت) اسی میں ہے :
سنہ لیس بنجس
(اس کا دانت ناپاك نہیں ہے۔ ت)
جس خانیہ میں مسائل متقدمہ شعر وانتفاض فرمائے اور فرمایا :
اذامشی کلب علی ثلج یصیر الثلج نجسا وکذا الطین والردغۃ اھ ملخصا ۔
کتا برف پر چلے تو برف ناپاك ہوجائے گی اسی طرح مٹی اور گارا بھی اھ ملخصا (ت)
یہاں تك کہ حلیہ وغنیہ وبحرالرائق میں واقع ہوا
واللفظ للبحر اختار قاضی خان فی الفتاوی نجاسۃ عینہ وفرع علیھا فروعا اھ
الفاظ بحرالرائق کے ہیں کہ قاضی خان نے اپنے فتاوی میں اس کے نجس عین ہونے کو اختیار کیا اور اس کو کئی مسائل کی بنیاد بنایا اھ (ت)
اسی خانیہ میں فرمایا : سنہ غیر نجس (اس کا دانت ناپاك نہیں ہے۔ ت) اور فرمایا :
لوصلی وفی عنقہ قلادۃ فیھا سن کلب اوذئب یجوز صلاتہ ۔
اگر کوئی شخص نماز پڑھے اور اس کے گلے میں ایسا ہار ہو جس میں کتے یا بھیڑیے کے دانت ہوں تو اس کی نماز جائز ہے(ت)
اور فرمایا :
ان کان فی کمہ ثعلب اوجروکلب لاتجوز صلاتہ لان سؤرہ نجس لایجوزبہ التوضأ ۔
اگر اس کی آستین میں لومڑی یا کتے کا بچہ ہو تو اس کی نماز جائز نہیں کیونکہ اس کا جھوٹا ناپاك ہے تو اس سے وضو کرنا جائز نہیں۔ (ت)
حوالہ / References
درر الحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب البیوع مسائل شتی مطبوعہ کامل الکائنہ فی دار السعادۃ ۲ / ۱۹۸
خزانۃ المفتین
فتاوٰی قاضی خان فصل فی النجاسۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۱
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۱
فتاوٰی قاضی خان فصل فی النجاسۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۰
فتاوٰی قاضی خان فصل فی النجاسۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۱
خزانۃ المفتین
فتاوٰی قاضی خان فصل فی النجاسۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۱
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۱
فتاوٰی قاضی خان فصل فی النجاسۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۰
فتاوٰی قاضی خان فصل فی النجاسۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۱۱
بلکہ صاف واضح فرمادیا کہ اس کی نجاست عین کے یہ معنے ہیں کہ اس کا مادی نجاسات ہیں لہذا اس کا بدن غالبا ناپاك ہوتا ہے۔
حیث قال ینزح کل الماء اذاوقع فیھا کلب اوخنزیر مات اولم یمت اصاب الماء فم الواقع اولم یصب اما الخنزیر فلان عینہ نجس والکلب کذلك ولھذا لوابتل الکلب وانتقض فاصاب ثوبا اکثر من قدر الدرھم افسدہ لان مأواہ النجاسات وسائر السباع بمنزلۃ الکلب اھ ملخصا۔
جہاں فرمایا کہ جب اس میں کتا یا خنزیر گر جائیں تو تمام پانی نکالا جائے چاہے وہ مریں یا نہ اور گرنے والے کا منہ پانی کو پہنچے یا نہ۔ خنزیر اسی لئے کہ وہ نجس عین ہے اور کتا بھی اسی طرح ہے اس لئے اگر کتا تر ہوجائے اور اپنے آپ کو جھاڑے اور یہ (پانی) درہم سے زیادہ کپڑے کو پہنچے تو اسے ناپاك کردے گا کیونکہ اس کا ٹھکانہ نجاستیں ہیں اور تمام درندے کتے کی طرح ہیں اھ تلخیص (ت)
اور اسی باب سے ہے عامہ کتب مذہب کا اتفاق کہ کلیہ کل اھاب دبغ طاھر (ہر وہ چمڑا جسے دباغت دی جائے پاك ہو جاتا ہے۔ ت) سے سوا خنزیر کے کسی جانور کا استشناء نہیں فرماتے فقیر کی نظر سے نہ گزرا کہ کسی کتاب میں یہاں والکلب بھی فرمایا ہو اگرچہ دوسری جگہ طہارت جلد کلب میں خلاف نقل کریں وبالله التوفیق۔
واما التزیيف فاقول اولا : (رہا اس کا کھوٹاپن! تو میں کہتا ہوں اولا۔ ت) امر بالقتل سے تحریم پر استدلال تو ایك طریق ہے مگر نجاست عین پر اس سے احتجاج محض باطل وسحیق احادیث میں سانپ بچھو چیل کوے چوہے چھپکلی گرگٹ وغیرہا اشیائے کثیرہ کے قتل کا حکم ہے یہاں تك کہ احرام میں حتی کہ حرم میں پھر کیا یہ سب اشیا نجس العین ہوں گی۔
ھذا لم یقل بہ احد اخرج الائمۃ مالك واحمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ عن ابن عمرو البخاری ومسلم والنسائی والترمذی وابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ وابوداؤد بسند
اس کا کوئی بھی قائل نہیں امام مالک احمد بخاری مسلم ابوداؤد نسائی اور ابن ماجہ (رحمہم اللہ تعالیتعالی) نے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے بخاری مسلم نسائی ترمذی اور ابن ماجہ نے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ابوداؤد
حیث قال ینزح کل الماء اذاوقع فیھا کلب اوخنزیر مات اولم یمت اصاب الماء فم الواقع اولم یصب اما الخنزیر فلان عینہ نجس والکلب کذلك ولھذا لوابتل الکلب وانتقض فاصاب ثوبا اکثر من قدر الدرھم افسدہ لان مأواہ النجاسات وسائر السباع بمنزلۃ الکلب اھ ملخصا۔
جہاں فرمایا کہ جب اس میں کتا یا خنزیر گر جائیں تو تمام پانی نکالا جائے چاہے وہ مریں یا نہ اور گرنے والے کا منہ پانی کو پہنچے یا نہ۔ خنزیر اسی لئے کہ وہ نجس عین ہے اور کتا بھی اسی طرح ہے اس لئے اگر کتا تر ہوجائے اور اپنے آپ کو جھاڑے اور یہ (پانی) درہم سے زیادہ کپڑے کو پہنچے تو اسے ناپاك کردے گا کیونکہ اس کا ٹھکانہ نجاستیں ہیں اور تمام درندے کتے کی طرح ہیں اھ تلخیص (ت)
اور اسی باب سے ہے عامہ کتب مذہب کا اتفاق کہ کلیہ کل اھاب دبغ طاھر (ہر وہ چمڑا جسے دباغت دی جائے پاك ہو جاتا ہے۔ ت) سے سوا خنزیر کے کسی جانور کا استشناء نہیں فرماتے فقیر کی نظر سے نہ گزرا کہ کسی کتاب میں یہاں والکلب بھی فرمایا ہو اگرچہ دوسری جگہ طہارت جلد کلب میں خلاف نقل کریں وبالله التوفیق۔
واما التزیيف فاقول اولا : (رہا اس کا کھوٹاپن! تو میں کہتا ہوں اولا۔ ت) امر بالقتل سے تحریم پر استدلال تو ایك طریق ہے مگر نجاست عین پر اس سے احتجاج محض باطل وسحیق احادیث میں سانپ بچھو چیل کوے چوہے چھپکلی گرگٹ وغیرہا اشیائے کثیرہ کے قتل کا حکم ہے یہاں تك کہ احرام میں حتی کہ حرم میں پھر کیا یہ سب اشیا نجس العین ہوں گی۔
ھذا لم یقل بہ احد اخرج الائمۃ مالك واحمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ عن ابن عمرو البخاری ومسلم والنسائی والترمذی وابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ وابوداؤد بسند
اس کا کوئی بھی قائل نہیں امام مالک احمد بخاری مسلم ابوداؤد نسائی اور ابن ماجہ (رحمہم اللہ تعالیتعالی) نے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے بخاری مسلم نسائی ترمذی اور ابن ماجہ نے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ابوداؤد
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خان فصل فی مایقع فی البئر مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۵
حسن عن ابی ھریرۃ واحمد باسناد حسن عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھم کلھم عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم خمس من الدواب لیس علی المحرم فی قتلھن جناح الغراب والحدأۃ والعقرب والفارۃ والکلب العقور ۔ وفی حدیث ابن عباس خمس کلھن فاسقۃ یقتلھن المحرم ویقتلن فی الحرم وعد الحیۃ بدل الحدأۃ وفی احدی روایات الصدیقۃ الحیۃ مکان العقرب ۔ احمد والشیخان وابوداود والترمذی وابن ماجۃ عن ابن عمرعن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اقتلوا الحیات اقتلوا ذاالطفیتین والابتر الحدیث۔ ابوداؤد و النسائی عن ابن مسعود والطبرانی فی الکبیر عن جریر بن عبدالله البجلی وعن عثمان بن ابی العاص بسند صحیح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اقتلوا الحیات کلھن فمن خاف ثأرھن فلیس منا ۔ ابوداود والترمذی والنسائی وابن حبان والحاکم عن ابی ھریرۃ والطبرانی فی الکبیر
نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے اور احمد نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا ان سب نے سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا کہ محرم پر پانچ جانوروں کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں کوا چیل بچھو چوہا اور کاٹ کھانے والا کتا۔ حضرت ابن عباس کی روایت میں ہے پانچ جانور تمام کے تمام فاسق ہیں محرم ان کو قتل کرے اور انہیں حرم میں بھی قتل کیا جائے انہوں نے چیل کی جگہ سانپ کو شمار کیا ہے۔ ام المومنین صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ایك روایت میں بچھو کی جگہ سانپ کا ذکر ہے۔ امام احمد شیخان (بخاری ومسلم) ابوداؤد ترمذی اور ابن ماجہ رحمہم اللہ تعالی حضرت عبداللہ ابن عمر کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : سانپوں کو قتل کرو گر گل کے پتوں جیسے نشانات والے سانپ اور دم کٹے سانپ کو قتل کرو (الحدیث)۔ ابوداؤد اور نسائی نے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے اور طبرانی نے کبیر میں حضرت جریر بن عبداللہ بجلی اور حضرت عثمان ابن ابی العاص رضی اللہ تعالی عنہسے صحیح سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا آپ نے فرمایا تمام
نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے اور احمد نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا ان سب نے سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا کہ محرم پر پانچ جانوروں کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں کوا چیل بچھو چوہا اور کاٹ کھانے والا کتا۔ حضرت ابن عباس کی روایت میں ہے پانچ جانور تمام کے تمام فاسق ہیں محرم ان کو قتل کرے اور انہیں حرم میں بھی قتل کیا جائے انہوں نے چیل کی جگہ سانپ کو شمار کیا ہے۔ ام المومنین صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ایك روایت میں بچھو کی جگہ سانپ کا ذکر ہے۔ امام احمد شیخان (بخاری ومسلم) ابوداؤد ترمذی اور ابن ماجہ رحمہم اللہ تعالی حضرت عبداللہ ابن عمر کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : سانپوں کو قتل کرو گر گل کے پتوں جیسے نشانات والے سانپ اور دم کٹے سانپ کو قتل کرو (الحدیث)۔ ابوداؤد اور نسائی نے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے اور طبرانی نے کبیر میں حضرت جریر بن عبداللہ بجلی اور حضرت عثمان ابن ابی العاص رضی اللہ تعالی عنہسے صحیح سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا آپ نے فرمایا تمام
حوالہ / References
صحیح البخاری باب ما یقتل المحرم من الدواب مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۴۶
مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اللہ عنہ مطبوعہ دار الفکر بیروت ۱ / ۲۵۷
سنن ابن ماجہ مایقتل المحرم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۰
سنن ابی داؤد باب قتل الحیات مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۵۶
سنن ابی داؤد باب قتل الحیات مطبوعہ مجتبائی پاکستان لاہور ۲ / ۳۵۶
مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی اللہ عنہ مطبوعہ دار الفکر بیروت ۱ / ۲۵۷
سنن ابن ماجہ مایقتل المحرم مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۳۰
سنن ابی داؤد باب قتل الحیات مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۵۶
سنن ابی داؤد باب قتل الحیات مطبوعہ مجتبائی پاکستان لاہور ۲ / ۳۵۶
عن ابن عباس عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اقتلو السودین فی الصلوۃ الحیۃ والعقرب وایضا ھذا عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اقتلوا الوزغ ولوفی جوف الکعبۃ ۔
احمد عن ابن مسعود بسند صحیح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم من قتل حیۃ فکانما قتل رجلا مشرکا قد حل دمہ احمد وابن حبان بسند صحیح عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم من قتل حیۃ فلہ سبع حسنات ومن قتل وزغۃ فلہ حسنۃ ۔
سانپوں کو مارو جو شخص ان کی طرف سے حملے کا خوف رکھے وہ ہم میں سے نہیں۔ ابوداؤد ترمذی نسائی ابن حبان اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے اور طبرانی نے کبیر میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کرتے ہیں کہ (آپ نے فرمایا) نماز میں دو سیاہ جانوروں سانپ اور بچھو کو ہلاك کرو نیز انہوں نے ہی نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا گرگٹ کو قتل کرو اگرچہ کعبہ شریف کے اندر ہو۔ امام احمد نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : “ جو شخص سانپ کو مارے گویا اس نے ایسے مشرك مرد کو قتل کیا “ جس کا خون (بہانا) حلال ہوچکا تھا۔ امام احمد اور ابن حبان نے صحیح سند کے ساتھ انہی کی روایت سے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا آپ نے فرمایا : “ جس نے سانپ کو قتل کیا اس نے سات۷ نیکیاں پائیں جس نے گرگٹ کو ہلاك کیا اس کیلئے ایك نیکی ہے “ ۔ (ت)
ثانیا : رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ثلثۃ لاتقربھم الملئکۃ الجنب والسکران والمتضمخ بالخلوق رواہ البزار باسناد صحیح عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما۔
تین آدمیوں کے قریب (رحمت کے) فرشتے نہیں جاتے جنبی نشے والا اور خلوق (ایك قسم کی خوشبو) لگانے والا۔ بزار نے اسے صحیح سند کے ساتھ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا۔ (ت)
اس حدیث میں مست نشہ کو بھی فرمایا کہ ملائکہ اس کے پاس نہیں آتے کیا مدہوش نجس العین ہے۔
احمد عن ابن مسعود بسند صحیح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم من قتل حیۃ فکانما قتل رجلا مشرکا قد حل دمہ احمد وابن حبان بسند صحیح عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم من قتل حیۃ فلہ سبع حسنات ومن قتل وزغۃ فلہ حسنۃ ۔
سانپوں کو مارو جو شخص ان کی طرف سے حملے کا خوف رکھے وہ ہم میں سے نہیں۔ ابوداؤد ترمذی نسائی ابن حبان اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے اور طبرانی نے کبیر میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کرتے ہیں کہ (آپ نے فرمایا) نماز میں دو سیاہ جانوروں سانپ اور بچھو کو ہلاك کرو نیز انہوں نے ہی نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا گرگٹ کو قتل کرو اگرچہ کعبہ شریف کے اندر ہو۔ امام احمد نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : “ جو شخص سانپ کو مارے گویا اس نے ایسے مشرك مرد کو قتل کیا “ جس کا خون (بہانا) حلال ہوچکا تھا۔ امام احمد اور ابن حبان نے صحیح سند کے ساتھ انہی کی روایت سے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا آپ نے فرمایا : “ جس نے سانپ کو قتل کیا اس نے سات۷ نیکیاں پائیں جس نے گرگٹ کو ہلاك کیا اس کیلئے ایك نیکی ہے “ ۔ (ت)
ثانیا : رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ثلثۃ لاتقربھم الملئکۃ الجنب والسکران والمتضمخ بالخلوق رواہ البزار باسناد صحیح عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما۔
تین آدمیوں کے قریب (رحمت کے) فرشتے نہیں جاتے جنبی نشے والا اور خلوق (ایك قسم کی خوشبو) لگانے والا۔ بزار نے اسے صحیح سند کے ساتھ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے روایت کیا۔ (ت)
اس حدیث میں مست نشہ کو بھی فرمایا کہ ملائکہ اس کے پاس نہیں آتے کیا مدہوش نجس العین ہے۔
حوالہ / References
سنن ابی داؤد باب العمل فی الصلٰوۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۳۳
المعجم الکبیر حدیث ۱۱۴۹۵ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱ / ۲۰۲
مسند الامام احمد بن حنبل عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ مطبوعہ دار الفکر بیروت ۱ / ۳۹۵
مسند الامام احمد بن حنبل عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ مطبوعہ دار الفکر بیروت ۱ / ۴۲۰
مجمع الزوائد باب ماجاء فی الخمرومن یشربہا مطبوعہ دار الکتاب بیروت ۵ / ۷۲
المعجم الکبیر حدیث ۱۱۴۹۵ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱ / ۲۰۲
مسند الامام احمد بن حنبل عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ مطبوعہ دار الفکر بیروت ۱ / ۳۹۵
مسند الامام احمد بن حنبل عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ مطبوعہ دار الفکر بیروت ۱ / ۴۲۰
مجمع الزوائد باب ماجاء فی الخمرومن یشربہا مطبوعہ دار الکتاب بیروت ۵ / ۷۲
ثالثا : ولوغ کلب سے غسل اناء بلکہ مبالغہ تسبیع وتثمین وتتر یب کو بھی تنجیس عین سے اصلا علاقہ نہ ہونا اجلے بدیہیات سے ہے۔
وقداغرب الشوکانی فی نیل الاوطار فجعلہ حجۃ زاعما انہ اذاکان لعابہ نجسا وھوعرق فمہ ففمہ نجس ویستلزم نجاسۃ سائر بدنہ وذلك لان لعابہ جزء من فمہ وفمہ اشرف مافیہ فبقیۃ بدنہ اولی اھ۔
اقول : ھذا کما تری یساوی ھزلا ویتساوك ھزلا فان کون اللعاب جزء الفم ممالایتفوہ بہ صبی عاقل فضلا عن فاضل ثم ھو انما یتولد من داخل لا من الجلد فانما یدل علی نجاسۃ اللحم دون العین ثم لوتم لدل علی نجاسۃ عین کل ماسؤرہ نجس وھوباطل۔
شوکانی نے نیل الاوطار میں عجیب بات کرتے ہوئے اسے حجت قرار دیا ہے ان کا خیال ہے کہ جب اس کا لعاب ناپاك ہے اور وہ منہ کا پسینہ ہے تو اس کا منہ بھی ناپاك ہوگا اور یہ تمام بدن کی نجاست کو مستلزم ہے یہ اس لئے کہ اس کا لعاب اس کے منہ کا ایك جزء ہے اور منہ اس کے جسم کا اشرف حصہ ہے پس باقی بدن تو بدرجہ اولی ناپاك ہوگا۔ اھ (ت)
اقول : یہ بات جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو مذاق کے برابر ہے اور کمزوری کے باعث متزلزل ہے کیونکہ لعاب کا منہ کا جزء ہونا کسی عقلمند بچے کا قول بھی نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ ایك فاضل یہ کہے پھر یہ (لعاب) اندر سے پیدا ہوتا ہے جلد سے نہیں اور یہ گوشت کی نجاست پر دلالت کرتا ہے عین کے نجس ہونے پر نہیں پھر اگر ان کی بات صحیح بھی ہو تو یہ اس چیز کے عین نجس ہونے پر دلالت کرے گی جس کا جھوٹا ناپاك ہے حالانکہ یہ باطل ہے۔ (ت)
رابعا : حدیث انھا لیست بنجس انھا من الطوافین والطوافات
(یہ ناپاك نہیں کیونکہ تمہارے پاس چکر لگانے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہے۔ ت)حدیث حسن صحیح ہے
اخرجہ الا ئمہ مالك و احمد و الاربعۃ وابن حبان والحاکم وابن خزیمۃ وابن منیدۃ فی صحاحھم عن ابی قتادۃ وابوداود والدارقطنی
ائمہ حدیث امام مالک احمد ائمہ اربعہ (بخاری مسلم ترمذی اور ابن ماجہ) ابن حبان حاکم ابن خزیمہ اور ابن مندہ نے اپنی صحاح میں حضرت ابوقتادہ
وقداغرب الشوکانی فی نیل الاوطار فجعلہ حجۃ زاعما انہ اذاکان لعابہ نجسا وھوعرق فمہ ففمہ نجس ویستلزم نجاسۃ سائر بدنہ وذلك لان لعابہ جزء من فمہ وفمہ اشرف مافیہ فبقیۃ بدنہ اولی اھ۔
اقول : ھذا کما تری یساوی ھزلا ویتساوك ھزلا فان کون اللعاب جزء الفم ممالایتفوہ بہ صبی عاقل فضلا عن فاضل ثم ھو انما یتولد من داخل لا من الجلد فانما یدل علی نجاسۃ اللحم دون العین ثم لوتم لدل علی نجاسۃ عین کل ماسؤرہ نجس وھوباطل۔
شوکانی نے نیل الاوطار میں عجیب بات کرتے ہوئے اسے حجت قرار دیا ہے ان کا خیال ہے کہ جب اس کا لعاب ناپاك ہے اور وہ منہ کا پسینہ ہے تو اس کا منہ بھی ناپاك ہوگا اور یہ تمام بدن کی نجاست کو مستلزم ہے یہ اس لئے کہ اس کا لعاب اس کے منہ کا ایك جزء ہے اور منہ اس کے جسم کا اشرف حصہ ہے پس باقی بدن تو بدرجہ اولی ناپاك ہوگا۔ اھ (ت)
اقول : یہ بات جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو مذاق کے برابر ہے اور کمزوری کے باعث متزلزل ہے کیونکہ لعاب کا منہ کا جزء ہونا کسی عقلمند بچے کا قول بھی نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ ایك فاضل یہ کہے پھر یہ (لعاب) اندر سے پیدا ہوتا ہے جلد سے نہیں اور یہ گوشت کی نجاست پر دلالت کرتا ہے عین کے نجس ہونے پر نہیں پھر اگر ان کی بات صحیح بھی ہو تو یہ اس چیز کے عین نجس ہونے پر دلالت کرے گی جس کا جھوٹا ناپاك ہے حالانکہ یہ باطل ہے۔ (ت)
رابعا : حدیث انھا لیست بنجس انھا من الطوافین والطوافات
(یہ ناپاك نہیں کیونکہ تمہارے پاس چکر لگانے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہے۔ ت)حدیث حسن صحیح ہے
اخرجہ الا ئمہ مالك و احمد و الاربعۃ وابن حبان والحاکم وابن خزیمۃ وابن منیدۃ فی صحاحھم عن ابی قتادۃ وابوداود والدارقطنی
ائمہ حدیث امام مالک احمد ائمہ اربعہ (بخاری مسلم ترمذی اور ابن ماجہ) ابن حبان حاکم ابن خزیمہ اور ابن مندہ نے اپنی صحاح میں حضرت ابوقتادہ
حوالہ / References
نیل الاوطار باب آسار البہائم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۴۷
سنن ابی داؤد باب سور الہرۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۰
سنن ابی داؤد باب سور الہرۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۰
عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی الله تعالی عنھا عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم
رضی اللہ تعالی عنہسے نیز ابوداو د اور دارقطنی نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا (ت)
مگر یہ حدیث ابی ہریرہ کا تتمہ نہیں نہ اس میں مقاب
بلہ بالکلب ہے اس کا تتمہ یا طرق مختصرہ کی تمام حدیث احمد واسحق بن راہویہ وابوبکر بن ابی شیبہ دارقطنی وحاکم وعقیلی سب کے یہاں اسی قدر ہے کہ :
الھر یا السنور سبع فرواہ الاربعۃ الاول من طریق وکیع عن سعید بن المسیب عن ابی زرعۃ عن ابی ھریرۃ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الھر سبع ۔ ورواہ الدارقطنی من جھۃ محمد بن ربیعۃ عن سعید عن ابی زرعۃ وھومطولا بالقصۃ والحاکم من حدیث عیسی بن المسیب ثنا ابوزرعۃ عن ابی ھریرۃ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم السنور سبع ۔ وقال العقیلی فی ترجمۃ عیسی بن المسیب من کتاب الضعفاء حدثنا محمد بن زکریا البلخی نامحمد بن ابان ومحمدبن الصباع قالا ثنا وکیع نا عیسی بن المسیب عن ابی زرعۃ عن ابی ھریرۃ قال قال رسول الله صلی الله تعالی
(الھر یا السنور فرمایا) بلی درندہ ہے پہلے چار نے اسے وکیع سے انہوں نے حضرت سعید بن مسیب سے انہوں نے ابوزرعہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا بلی درندہ ہے۔ دارقطنی نے محمد بن ربیعہ سے انہوں نے حضرت سعید سے انہوں نے حضرت ابوزرعہ سے روایت کیا اس کا قصہ طویل ہے حاکم نے عیسی بن مسیب کی روایت سے نقل کیا وہ فرماتے ہیں ہم سے ابوزرعہ نے بیان کیا انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ بلی درندہ ہے “ ۔ عقیلی نے کتاب الضعفاء میں عیسی بن مسیب کا ترجمہ (تعارف) نقل کرتے ہوئے کہا ہم سے محمد بن زکریا بلخی نے بیان کیا ان سے محمد بن ابان اور محمد بن صباح نے بیان کیا وہ دونوں فرماتے ہیں ہم سے وکیع نے وہ فرماتے ہیں ہم سے عیسی بن مسیب نے بواسطہ ابوزرعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ
رضی اللہ تعالی عنہسے نیز ابوداو د اور دارقطنی نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا (ت)
مگر یہ حدیث ابی ہریرہ کا تتمہ نہیں نہ اس میں مقاب
بلہ بالکلب ہے اس کا تتمہ یا طرق مختصرہ کی تمام حدیث احمد واسحق بن راہویہ وابوبکر بن ابی شیبہ دارقطنی وحاکم وعقیلی سب کے یہاں اسی قدر ہے کہ :
الھر یا السنور سبع فرواہ الاربعۃ الاول من طریق وکیع عن سعید بن المسیب عن ابی زرعۃ عن ابی ھریرۃ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم الھر سبع ۔ ورواہ الدارقطنی من جھۃ محمد بن ربیعۃ عن سعید عن ابی زرعۃ وھومطولا بالقصۃ والحاکم من حدیث عیسی بن المسیب ثنا ابوزرعۃ عن ابی ھریرۃ قال قال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم السنور سبع ۔ وقال العقیلی فی ترجمۃ عیسی بن المسیب من کتاب الضعفاء حدثنا محمد بن زکریا البلخی نامحمد بن ابان ومحمدبن الصباع قالا ثنا وکیع نا عیسی بن المسیب عن ابی زرعۃ عن ابی ھریرۃ قال قال رسول الله صلی الله تعالی
(الھر یا السنور فرمایا) بلی درندہ ہے پہلے چار نے اسے وکیع سے انہوں نے حضرت سعید بن مسیب سے انہوں نے ابوزرعہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا بلی درندہ ہے۔ دارقطنی نے محمد بن ربیعہ سے انہوں نے حضرت سعید سے انہوں نے حضرت ابوزرعہ سے روایت کیا اس کا قصہ طویل ہے حاکم نے عیسی بن مسیب کی روایت سے نقل کیا وہ فرماتے ہیں ہم سے ابوزرعہ نے بیان کیا انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ بلی درندہ ہے “ ۔ عقیلی نے کتاب الضعفاء میں عیسی بن مسیب کا ترجمہ (تعارف) نقل کرتے ہوئے کہا ہم سے محمد بن زکریا بلخی نے بیان کیا ان سے محمد بن ابان اور محمد بن صباح نے بیان کیا وہ دونوں فرماتے ہیں ہم سے وکیع نے وہ فرماتے ہیں ہم سے عیسی بن مسیب نے بواسطہ ابوزرعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ
حوالہ / References
مصنف ابن ابی شیبہ من قال لایجزئ ویغسل منہ الاناء ، مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۳۲
مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۳۲۷
مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۳۲۷
علیہ وسلم وذکر الھر وقال ھی سبع اھ
فلعل العلامۃ الدمیری شبہ علیہ فانتقل ذھنہ فی تتمۃ ھذا الحدیث الی ذاك ھذا فی لفظ الھرۃ وقدذکرہ علی الصواب فی لفظ السنور فقال روی الحاکم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ قال کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یأتی دارقوم من الانصار فساق الحدیث الی قولہ فقال السنور سبع اھ۔
فانقلت ربما یتحصل لناالمقصود بھذا اللفظ ایضا فان الحدیث قدعلل زیارۃ اھل بیت عندھم ھر دون الذین عندھم کلب بانھا سبع فدل علی ان الکلب اخبث من السبع وقد تقرر عندنا نجاسۃ اسار سائر السباع فلوکانت ھی ایضا قصاری الامر فی الکلاب غیر متعدیۃ من اللعاب علی الاھاب لم یکن لھذا التعلیل معنی قلت نعم یدل علی زیادہ شیئ فی الکلب علی سائر السباع ولیکن مافیہ من عدم دخول الملئکۃ بیتا ھو فیہ اما خصوص الفرق بنجاسۃ العین
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا پھر انہوں نے بلی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : “ یہ درندہ ہے “ اھ۔ شاید علامہ دمیری کو شبہہ ہوگیا اور ان کا ذہن اس حدیث کے تتمہ پر اس بات کی طرف منتقل ہوگیا۔ یہ تو لفظ “ ھرۃ “ میں ہے لیکن انہوں نے لفظ “ سنور “ کو صحیح قرار دیتے ہوئے ذکر کیا فرماتے ہیں حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمقوم انصار کے گھر تشریف لاتے تھے پھر وہ حدیث بیان کرتے ہوئے یہاں تك پہنچے آپ نے فرمایا بلی درندہ ہے اھ۔
اگر تم کہو کہ کبھی ہمیں اس لفظ سے بھی مقصود حاصل ہوجاتا ہے کیونکہ جن کے ہاں بلی ہو وہاں جانا صحیح ہے جہاں کتا ہو وہاں نہیں۔ حدیث شریف میں اس کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ ایك درندہ ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کتا درندوں سے بھی زیادہ خبیث ہے۔ اور ہمارے نزدیك تمام درندوں کے پس خوردہ کی نجاست ثابت ہوچکی ہے۔ پس اگر کتے کے بارے میں بھی صرف اتنی ہی بات ہو اور وہ لعاب سے چمڑے کی طرف متعدی نہ ہو تو اس تعلیل کا کوئی مطلب نہ ہوگا (قلت) ہاں کتے میں باقی درندوں سے زائد چیز پر دلالت موجود ہے وہ یہ کہ کتے کے بارے میں جس گھر میں یہ ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے لیکن نجاست عین کے ساتھ خصوصی فرق ہرگز نہیں جو
فلعل العلامۃ الدمیری شبہ علیہ فانتقل ذھنہ فی تتمۃ ھذا الحدیث الی ذاك ھذا فی لفظ الھرۃ وقدذکرہ علی الصواب فی لفظ السنور فقال روی الحاکم عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ قال کان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یأتی دارقوم من الانصار فساق الحدیث الی قولہ فقال السنور سبع اھ۔
فانقلت ربما یتحصل لناالمقصود بھذا اللفظ ایضا فان الحدیث قدعلل زیارۃ اھل بیت عندھم ھر دون الذین عندھم کلب بانھا سبع فدل علی ان الکلب اخبث من السبع وقد تقرر عندنا نجاسۃ اسار سائر السباع فلوکانت ھی ایضا قصاری الامر فی الکلاب غیر متعدیۃ من اللعاب علی الاھاب لم یکن لھذا التعلیل معنی قلت نعم یدل علی زیادہ شیئ فی الکلب علی سائر السباع ولیکن مافیہ من عدم دخول الملئکۃ بیتا ھو فیہ اما خصوص الفرق بنجاسۃ العین
صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا پھر انہوں نے بلی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : “ یہ درندہ ہے “ اھ۔ شاید علامہ دمیری کو شبہہ ہوگیا اور ان کا ذہن اس حدیث کے تتمہ پر اس بات کی طرف منتقل ہوگیا۔ یہ تو لفظ “ ھرۃ “ میں ہے لیکن انہوں نے لفظ “ سنور “ کو صحیح قرار دیتے ہوئے ذکر کیا فرماتے ہیں حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمقوم انصار کے گھر تشریف لاتے تھے پھر وہ حدیث بیان کرتے ہوئے یہاں تك پہنچے آپ نے فرمایا بلی درندہ ہے اھ۔
اگر تم کہو کہ کبھی ہمیں اس لفظ سے بھی مقصود حاصل ہوجاتا ہے کیونکہ جن کے ہاں بلی ہو وہاں جانا صحیح ہے جہاں کتا ہو وہاں نہیں۔ حدیث شریف میں اس کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ ایك درندہ ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کتا درندوں سے بھی زیادہ خبیث ہے۔ اور ہمارے نزدیك تمام درندوں کے پس خوردہ کی نجاست ثابت ہوچکی ہے۔ پس اگر کتے کے بارے میں بھی صرف اتنی ہی بات ہو اور وہ لعاب سے چمڑے کی طرف متعدی نہ ہو تو اس تعلیل کا کوئی مطلب نہ ہوگا (قلت) ہاں کتے میں باقی درندوں سے زائد چیز پر دلالت موجود ہے وہ یہ کہ کتے کے بارے میں جس گھر میں یہ ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے لیکن نجاست عین کے ساتھ خصوصی فرق ہرگز نہیں جو
حوالہ / References
کتاب الضعفاء الکبیر فی ترجمہ عیسٰی بن المسیب مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۳۸۷
حیاۃ الحیوان تحت لفظ السنور مطبوعہ مصطفی البابی الحلبی مصر ۱ / ۵۷۶
حیاۃ الحیوان تحت لفظ السنور مطبوعہ مصطفی البابی الحلبی مصر ۱ / ۵۷۶
فکلا ومن ادعی فعلیہ الدلیل ولعل تعلیلی ھذا احسن من تعلیل الطیبی بان الکلب شیطان کمانقلہ فی مجمع بحار الانوار واقرہ۔ فان ذلك انماورد فیما نعلمہ فی الکلب الاسود کما فی حدیث قطع الصلاۃ عند احمد والستۃ الا البخاری عن عبدالله بن الصامت عن ابی ذر رضی الله تعالی عنہ وفیہ فانہ یقطع صلاتہ المرأۃ والحمار والکلب الاسود قلت یااباذر مابال الکلب الاسود من الکلب الاحمر من الکلب الاصفر قال یاابن اخی سألت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کماسألتنی فقال الکلب الاسود شیطان ۔
ولاحمد عن ام المؤمنین رضی الله تعالی عنھا عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الکلب الاسود البھیم الشیطان وقد دل السؤال والجواب ان القید ملحوظ وان غیر الاسود عن ذاك محفوظ۔
فان قلت مایدریك لعل الکلب الذی کان فی بیتھم کان اسود
دعوی کرے اس کے ذمہ دلیل ہے اور شاید میری یہ تعلیل طیبی کی تعلیل کہ کتا شیطان ہے سے زیادہ اچھی ہے جیسا کہ انہوں نے مجمع بحار الانوار میں نقل کرکے اسے برقرار رکھا۔ ہمارے علم کے مطابق یہ بات سیاہ کتے کے بارے میں آئی ہے جیسا کہ نماز توڑنے سے متعلق حدیث میں ہے جسے امام احمد نے اور بخاری کے سوا صحاح ستہ کے دیگر ائمہ نے بواسطہ حضرت عبداللہ بن صامت حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ “ آدمی کی نماز عورت گدھے اور سیاہ کتے کے گزرنے سے ٹوٹ جاتی ہے “ میں نے عرض کیا اے ابوذر سیاہ کتے کی کیا خصوصیت ہے جو سرخ اور زرد کو حاصل نہیں۔ انہوں نے فرمایا : اے بھتیجے! میں نے اس کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے تمہاری طرح سوال کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : “ سیاہ کتا شیطان ہے “ ۔ امام احمد حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا سے وہ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کرتی ہیں آپ نے فرمایا : “ نہایت سیاہ کتا شیطان ہے “ ۔ سوال وجواب اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ (رنگ کی) قید ملحوظ ہے اور غیر سیاہ کتا اس (حکم) سے محفوظ ہے۔ (ت)اگر تم کہو کہ تمہیں کیا معلوم شاید وہ کتا جو ان کے گھروں میں تھا سیاہ رنگ کا ہو میں کہتا ہوں تمہیں
ولاحمد عن ام المؤمنین رضی الله تعالی عنھا عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الکلب الاسود البھیم الشیطان وقد دل السؤال والجواب ان القید ملحوظ وان غیر الاسود عن ذاك محفوظ۔
فان قلت مایدریك لعل الکلب الذی کان فی بیتھم کان اسود
دعوی کرے اس کے ذمہ دلیل ہے اور شاید میری یہ تعلیل طیبی کی تعلیل کہ کتا شیطان ہے سے زیادہ اچھی ہے جیسا کہ انہوں نے مجمع بحار الانوار میں نقل کرکے اسے برقرار رکھا۔ ہمارے علم کے مطابق یہ بات سیاہ کتے کے بارے میں آئی ہے جیسا کہ نماز توڑنے سے متعلق حدیث میں ہے جسے امام احمد نے اور بخاری کے سوا صحاح ستہ کے دیگر ائمہ نے بواسطہ حضرت عبداللہ بن صامت حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ “ آدمی کی نماز عورت گدھے اور سیاہ کتے کے گزرنے سے ٹوٹ جاتی ہے “ میں نے عرض کیا اے ابوذر سیاہ کتے کی کیا خصوصیت ہے جو سرخ اور زرد کو حاصل نہیں۔ انہوں نے فرمایا : اے بھتیجے! میں نے اس کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے تمہاری طرح سوال کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : “ سیاہ کتا شیطان ہے “ ۔ امام احمد حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا سے وہ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کرتی ہیں آپ نے فرمایا : “ نہایت سیاہ کتا شیطان ہے “ ۔ سوال وجواب اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ (رنگ کی) قید ملحوظ ہے اور غیر سیاہ کتا اس (حکم) سے محفوظ ہے۔ (ت)اگر تم کہو کہ تمہیں کیا معلوم شاید وہ کتا جو ان کے گھروں میں تھا سیاہ رنگ کا ہو میں کہتا ہوں تمہیں
حوالہ / References
مرقات المفاتیح باب السترۃ فصل اول مکتبہ امدادیہ ملتان ۲ / ۲۴۵
الصحیح لمسلم باب سترۃ المصلی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹۷
مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ عنہا دار الفکر بیروت ۶ / ۱۵۷
الصحیح لمسلم باب سترۃ المصلی قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹۷
مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ عنہا دار الفکر بیروت ۶ / ۱۵۷
قلت مایدریك لعلہ کان احمر اواصغر وبالجملۃ فالحدیث اقتصر فی معرض التعلیل علی وصف الکلبیۃ فلوکان العلۃ خصوص اللون لصرح بہ او اتی بلام العہد ھذا ثم ان فی الحدیث تاویلا اخر افادہ ایضا الطیبی فقال ھو استفھام انکار اھ فعلی ھذا یکون المعنی اثبات السبعیۃ للکلب ونفیھا عن الھر فینصلم الاستدلال من اصلہ۔
اقول : لکن الحدیث فی بعض طرقہ بلفظ ان السنور سبع کمافی المیزان فافھم عـــہ۔
کیا معلوم شاید وہ سرخ یا زرد رنگ کا ہو۔ بہرحال حدیث شریف میں صرف اس کا کتا ہونا ہی دلیل بنے گا۔ اگر کوئی خصوصی رنگ علت ہوتا تو اس کی تصریح فرماتے یا لام عہدلاتے اسے اپنائیے پھر حدیث میں ایك اور تاویل بھی ہے جس کا فائدہ بھی طیبی سے حاصل ہوا انہوں نے فرمایا یہ استفہام انکاری ہے اھ پس اس بنیاد پر معنی یہ ہوگا کہ کتنے کیلئے درندگی ثابت کرنا اور بلی سے اس کی نفی کرنا ہے لہذا استدلال سرے سے ہی ختم ہوجائیگا۔ اقول : لیکن حدیث کے بعض طرق یہ الفاظ ہیں “ ان السنور سبع “ جیسا کہ میزان میں ہے۔ پس سمجھ لو۔ (ت)
خامسا : عبارت شرح وقایہ سے استدلال عجیب ہے حالانکہ اسی کی بیوع میں یہاں تك تصریح ہے :
صح بیع الکلب والفھد والسباع علمت اولا ش ھذا عندنا وعند ابی یوسف رحمہ الله تعالی لایجوز بیع الکلب العقور وعند الشافعی رحمہ الله تعالی لایجوز بیع الکلب اصلا بناء علی انہ نجس العین عندہ ۔
(متن) کتے بھیڑیے اور درندوں کی بیع جائز ہے انہیں سکھایا جائے یا نہ۔ (شرح) یہ ہمارے نزدیك ہے اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك کاٹنے والے کتے کی بیع جائز نہیں جبکہ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك کتے کی بیع بالکل جائز نہیں کیوں کہ وہ ان کے نزدیك نجس عین ہے۔ (ت)
بالجملہ قول اصح وارجح بلکہ ماخوذ ومعمول ومفتی بہ وہی طہارت عین ہے تو جتنے امور بربناے نجاست عین مانے جاتے ہیں سب خلاف معتمد ومخالف قول مختار ومشید ہیں لاجرم فتح میں فرمایا :
ماذکر فی الفتاوی من التنجس من وضع
فتاوی میں جو مذکور ہے کہ برف یا کیچڑ میں جہاں
عـــہ : یشیر الی ان ان لیس بنص فی عدم حذف الھمزۃ (م)
اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ لفظ “ ان “ ہمزہ کے حذف نہ ہونے میں نص نہیں۔ (ت)
اقول : لکن الحدیث فی بعض طرقہ بلفظ ان السنور سبع کمافی المیزان فافھم عـــہ۔
کیا معلوم شاید وہ سرخ یا زرد رنگ کا ہو۔ بہرحال حدیث شریف میں صرف اس کا کتا ہونا ہی دلیل بنے گا۔ اگر کوئی خصوصی رنگ علت ہوتا تو اس کی تصریح فرماتے یا لام عہدلاتے اسے اپنائیے پھر حدیث میں ایك اور تاویل بھی ہے جس کا فائدہ بھی طیبی سے حاصل ہوا انہوں نے فرمایا یہ استفہام انکاری ہے اھ پس اس بنیاد پر معنی یہ ہوگا کہ کتنے کیلئے درندگی ثابت کرنا اور بلی سے اس کی نفی کرنا ہے لہذا استدلال سرے سے ہی ختم ہوجائیگا۔ اقول : لیکن حدیث کے بعض طرق یہ الفاظ ہیں “ ان السنور سبع “ جیسا کہ میزان میں ہے۔ پس سمجھ لو۔ (ت)
خامسا : عبارت شرح وقایہ سے استدلال عجیب ہے حالانکہ اسی کی بیوع میں یہاں تك تصریح ہے :
صح بیع الکلب والفھد والسباع علمت اولا ش ھذا عندنا وعند ابی یوسف رحمہ الله تعالی لایجوز بیع الکلب العقور وعند الشافعی رحمہ الله تعالی لایجوز بیع الکلب اصلا بناء علی انہ نجس العین عندہ ۔
(متن) کتے بھیڑیے اور درندوں کی بیع جائز ہے انہیں سکھایا جائے یا نہ۔ (شرح) یہ ہمارے نزدیك ہے اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك کاٹنے والے کتے کی بیع جائز نہیں جبکہ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك کتے کی بیع بالکل جائز نہیں کیوں کہ وہ ان کے نزدیك نجس عین ہے۔ (ت)
بالجملہ قول اصح وارجح بلکہ ماخوذ ومعمول ومفتی بہ وہی طہارت عین ہے تو جتنے امور بربناے نجاست عین مانے جاتے ہیں سب خلاف معتمد ومخالف قول مختار ومشید ہیں لاجرم فتح میں فرمایا :
ماذکر فی الفتاوی من التنجس من وضع
فتاوی میں جو مذکور ہے کہ برف یا کیچڑ میں جہاں
عـــہ : یشیر الی ان ان لیس بنص فی عدم حذف الھمزۃ (م)
اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ لفظ “ ان “ ہمزہ کے حذف نہ ہونے میں نص نہیں۔ (ت)
حوالہ / References
مجمع بحار الانوار
شرح الوقایہ مسائل شتی ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۸۴
شرح الوقایہ مسائل شتی ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ / ۸۴
رجلہ موضع رجل کلب فی الثلج اوالطین ونظائر ھذہ مبنی علی روایۃ نجاسۃ عین الکلب ولیست بالمختارۃ ۔
کتے نے پاؤں رکھا وہاں پاؤں رکھا جائے تو ناپاك ہوجاتا ہے اور اس قسم کی دوسری باتیں کتے کے نجس عین ہونے پر مبنی ہیں اور یہ بات مختار نہیں (ت)
حلیہ میں فرمایا :
الکثیر علی انہ لیس نجس العین وعلی ھذا فیکون الصحیح عند الکثیر انہ لاینزح اذا اخرج ولم یصب الماء فمہ کماھو معزو الی ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ ۔
بہت سے فقہا کے نزدیك یہ نجس عین نہیں لہذا اس بنیاد پر زیادہ لوگوں کے نزدیك صحیح یہ ہے کہ جب کتا (پانی سے) نکالا جائے اور اس کا منہ پانی تك نہ پہنچا ہو تو (کنویں سے) پانی نہیں نکالا جائے گا یہ بات امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکی طرف منسوب ہے۔ (ت)
پس عندالتحقیق اس کے بال۱ بھی پاک کھال۲ بھی پاک ذبح۳ ودباغت۴ باعث تطہیر جلد علی القول المتفق علیہ عندنا واللحم ایضا علی اضعف التصحیحین (اس قول کے مطابق جو ہمارے نزدیك متفق علیہ ہے اور دو تصحیحوں سے کمزور تر تصحیح کے مطابق گوشت بھی پاك ہے۔ ت) زندہ ومردہ۵ مذبوح وغیر مذبوح ہر حالت میں دانت پاک ناخن۶ پاک اگر ۷ کنویں میں گرا اور زندہ نکل آیا اور بدن پر کوئی نجاست معلوم نہ تھی نہ لعاب پانی کو پہنچا تو پانی پاک تطیيبا للقلب صرف بیس۲۰ ڈول نکالے جائیں۔ کیچڑ۸ وغیرہ پر چلا ہے اور وہیں آدمی برہنہ پاچلے تو پاؤں نجس نہ ہوں گے۔ پانی۹ میں بھیگا ہوا چٹائی پر لیٹے یا۱۰ بدن جھاڑے اور اس کی چھینٹوں سے کپڑا وغیرہ تر ہوجائے ناپاك نہ ہوگا جب تك بدن پر نجاست نہ ہو۔ ان تمام فروع میں تو اصلا کلام نہیں
ووقع فی الدرلیس نجس العین وعلیہ الفتوی فیباع ویؤجر ویضمن ولایفسد الثوب بعضہ مالم یر ریقہ ولاصلاۃ حاملہ ولوکبیرا وشرط الحلوانی شدفمہ اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے کہ نجس عین نہیں ہے اور اسی پر فتوی ہے پس اسے بیچا جاسکتا ہے اجرت پر دیا جاسکتا ہے اور (ہلاکت کی صورت میں) اس کا تاوان لازم ہوگا اور اس کے کاٹنے سے کپڑا ناپاك نہیں ہوگا جب تك لعاب دکھائی نہ دے اسے اٹھاکر نماز پڑھنے والے کی نماز نہیں ٹوٹے گی اگرچہ بڑا ہو۔ حلوانی کے نزدیك اس کا منہ بندھا ہونا شرط ہے اھ تلخیص (ت)
کتے نے پاؤں رکھا وہاں پاؤں رکھا جائے تو ناپاك ہوجاتا ہے اور اس قسم کی دوسری باتیں کتے کے نجس عین ہونے پر مبنی ہیں اور یہ بات مختار نہیں (ت)
حلیہ میں فرمایا :
الکثیر علی انہ لیس نجس العین وعلی ھذا فیکون الصحیح عند الکثیر انہ لاینزح اذا اخرج ولم یصب الماء فمہ کماھو معزو الی ابی حنیفۃ رضی الله تعالی عنہ ۔
بہت سے فقہا کے نزدیك یہ نجس عین نہیں لہذا اس بنیاد پر زیادہ لوگوں کے نزدیك صحیح یہ ہے کہ جب کتا (پانی سے) نکالا جائے اور اس کا منہ پانی تك نہ پہنچا ہو تو (کنویں سے) پانی نہیں نکالا جائے گا یہ بات امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہکی طرف منسوب ہے۔ (ت)
پس عندالتحقیق اس کے بال۱ بھی پاک کھال۲ بھی پاک ذبح۳ ودباغت۴ باعث تطہیر جلد علی القول المتفق علیہ عندنا واللحم ایضا علی اضعف التصحیحین (اس قول کے مطابق جو ہمارے نزدیك متفق علیہ ہے اور دو تصحیحوں سے کمزور تر تصحیح کے مطابق گوشت بھی پاك ہے۔ ت) زندہ ومردہ۵ مذبوح وغیر مذبوح ہر حالت میں دانت پاک ناخن۶ پاک اگر ۷ کنویں میں گرا اور زندہ نکل آیا اور بدن پر کوئی نجاست معلوم نہ تھی نہ لعاب پانی کو پہنچا تو پانی پاک تطیيبا للقلب صرف بیس۲۰ ڈول نکالے جائیں۔ کیچڑ۸ وغیرہ پر چلا ہے اور وہیں آدمی برہنہ پاچلے تو پاؤں نجس نہ ہوں گے۔ پانی۹ میں بھیگا ہوا چٹائی پر لیٹے یا۱۰ بدن جھاڑے اور اس کی چھینٹوں سے کپڑا وغیرہ تر ہوجائے ناپاك نہ ہوگا جب تك بدن پر نجاست نہ ہو۔ ان تمام فروع میں تو اصلا کلام نہیں
ووقع فی الدرلیس نجس العین وعلیہ الفتوی فیباع ویؤجر ویضمن ولایفسد الثوب بعضہ مالم یر ریقہ ولاصلاۃ حاملہ ولوکبیرا وشرط الحلوانی شدفمہ اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے کہ نجس عین نہیں ہے اور اسی پر فتوی ہے پس اسے بیچا جاسکتا ہے اجرت پر دیا جاسکتا ہے اور (ہلاکت کی صورت میں) اس کا تاوان لازم ہوگا اور اس کے کاٹنے سے کپڑا ناپاك نہیں ہوگا جب تك لعاب دکھائی نہ دے اسے اٹھاکر نماز پڑھنے والے کی نماز نہیں ٹوٹے گی اگرچہ بڑا ہو۔ حلوانی کے نزدیك اس کا منہ بندھا ہونا شرط ہے اھ تلخیص (ت)
حوالہ / References
فتح القدیر ، آخر باب الانجاس مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۸۶
التعلیق المجلی حاشیۃ منیۃ المصلی فصل فی البئر مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۱۵
درمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۳۸
التعلیق المجلی حاشیۃ منیۃ المصلی فصل فی البئر مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۱۵
درمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت ۱ / ۳۸
اقول : اما البیع فقد تقدم الکلام علیہ وھو الکلام فی الاجارۃ فانھا ایضا انما تعتمد حل الانتفاع واماعدم فساد الثوب مالم یبتل بلعابہ فقد اقرہ علی ھذا التفریع محشیہ العلامۃ الشامی والعبد الضعیف لا یحصلہ فانہ ماش علی قول التجنیس ایضا قطعا لان الرجس لایعدی النجاسۃ الابلل ونجاسۃ ریقہ لاخلف فیھا فی المذھب فعدم النجاسۃ بسن یابس والتنجس بشفۃ رطبۃ کلاھما متفق علیہ لاجرم ان قال البحر فی البحر لایخفی ان ھذہ المسألۃ علی القولین الخ ثم رأیت العلامۃ الطحطاوی نبہ علیہ معترفا ایضا من البحر والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
اقول : جہاں تك خریدوفروخت کا تعلق ہے تو اس پر کلام گزرچکا ہے اور اجارہ کے بارے میں بھی وہی حکم ہے کیونکہ اس کی بنیاد بھی تو انتفاع کا حلال ہونا ہے لیکن کپڑے کا خراب نہ ہونا جب تك لعاب سے تر نہ ہو اس پر اس کے محشی علامہ شامی نے اس تفریع کو برقرار رکھا ہے۔ یہ بندہ ضعیف اسے نہیں مانتا کیونکہ وہ اس کے قطعی نجس ہونے کا بھی قائل ہے اور نجاست رطوبت کے بغیر آگے متجاوز نہیں ہوتی اور تھوك کے نجس ہونے میں مذہب میں کوئی اختلاف نہیں پس خشك دانت کے ساتھ ناپاك نہ ہونا اور تر ہونٹ کے ساتھ ناپاك ہوجانا دونوں باتوں پر اتفاق ہے صاحب بحر نے بحرالرائق میں فرمایا مخفی نہ رہے کہ یہ مسئلہ دو۲ قولوں کی بنیاد پر ہے الخ پھر میں نے دیکھا کہ علامہ طحطاوی نے بحر سے اس کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر تنبیہ کی ہے والله سبحنہ وتعالی (ت)
باقی رہی وہ فرع کہ اس کے حامل کی نماز ہوگی یا نہیں اگر کتا خود آکر مصلی پر بیٹھ جائے جب تو ظاہر ہے کہ اس صورت میں صحت نماز خاص اسی مذہب صحیح یعنی طہارت عین ہی پر مبتنی ہے قول نجاست پر نماز نہ ہوگی کہ اگرچہ کتا خود آکر بیٹھا مگر وہ عین نجاست ہے تو مصلی حامل نجاست ہوا اور قول طہارت پر ہوجائے گی کہ اب نجس ہے تو لعاب اور لعاب محمول کلب ہے نہ محمول مصلی اور حمل بالواسطہ یہاں معتبر نہیں جیسے ہوشیار بچہ جس کے جسم وثوب یقینا ناپاك ہوں خود آکر مصلی پر بیٹھ جائے نماز جائز ہے اگرچہ ختم نماز تك بیٹھا رہے کہ اس صورت میں مصلی خود حامل نجاست نہیں اور جبکہ مذہب مفتی بہ طہارت عین ہے تو اس صورت میں جواز نماز بھی قطعا مفتی بہ۔
فان مالایبتنی الا علی الصحیح لایکون
جس چیز کی بنیاد صحیح ہو وہ بھی صحیح ہوتی ہے اور یہ
اقول : جہاں تك خریدوفروخت کا تعلق ہے تو اس پر کلام گزرچکا ہے اور اجارہ کے بارے میں بھی وہی حکم ہے کیونکہ اس کی بنیاد بھی تو انتفاع کا حلال ہونا ہے لیکن کپڑے کا خراب نہ ہونا جب تك لعاب سے تر نہ ہو اس پر اس کے محشی علامہ شامی نے اس تفریع کو برقرار رکھا ہے۔ یہ بندہ ضعیف اسے نہیں مانتا کیونکہ وہ اس کے قطعی نجس ہونے کا بھی قائل ہے اور نجاست رطوبت کے بغیر آگے متجاوز نہیں ہوتی اور تھوك کے نجس ہونے میں مذہب میں کوئی اختلاف نہیں پس خشك دانت کے ساتھ ناپاك نہ ہونا اور تر ہونٹ کے ساتھ ناپاك ہوجانا دونوں باتوں پر اتفاق ہے صاحب بحر نے بحرالرائق میں فرمایا مخفی نہ رہے کہ یہ مسئلہ دو۲ قولوں کی بنیاد پر ہے الخ پھر میں نے دیکھا کہ علامہ طحطاوی نے بحر سے اس کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر تنبیہ کی ہے والله سبحنہ وتعالی (ت)
باقی رہی وہ فرع کہ اس کے حامل کی نماز ہوگی یا نہیں اگر کتا خود آکر مصلی پر بیٹھ جائے جب تو ظاہر ہے کہ اس صورت میں صحت نماز خاص اسی مذہب صحیح یعنی طہارت عین ہی پر مبتنی ہے قول نجاست پر نماز نہ ہوگی کہ اگرچہ کتا خود آکر بیٹھا مگر وہ عین نجاست ہے تو مصلی حامل نجاست ہوا اور قول طہارت پر ہوجائے گی کہ اب نجس ہے تو لعاب اور لعاب محمول کلب ہے نہ محمول مصلی اور حمل بالواسطہ یہاں معتبر نہیں جیسے ہوشیار بچہ جس کے جسم وثوب یقینا ناپاك ہوں خود آکر مصلی پر بیٹھ جائے نماز جائز ہے اگرچہ ختم نماز تك بیٹھا رہے کہ اس صورت میں مصلی خود حامل نجاست نہیں اور جبکہ مذہب مفتی بہ طہارت عین ہے تو اس صورت میں جواز نماز بھی قطعا مفتی بہ۔
فان مالایبتنی الا علی الصحیح لایکون
جس چیز کی بنیاد صحیح ہو وہ بھی صحیح ہوتی ہے اور یہ
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارت مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۳
الاصحیحا وھذا کما تری من اجلی البدیھات۔
جیسا کہ تم دیکھتے ہو نہایت واضح باتوں میں سے ہے۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
(ان صلی ومعہ سنورتجوز) صلاتہ مطلقا ان جلس بنفسہ واذا لم یکن علی ظاھرہ نجاسۃ مانعۃ ان حملہ اما ان کان علیہ نجاسۃ مانعۃ اذ ذاك فلا تجوز صلاتہ کما لوحمل صبیا لایستمسك بنفسہ وفی ثیابہ اوبدنہ نجاسۃ مانعۃ لانہ حینئذ ھو الحاصل للنجاسۃ بخلاف المستمسك فان المصلی لیس حاملا للنجاسۃ التی علیہ (بخلاف الکلب) اذا حملہ المصلی حیث لا تجوز صلاتہ لانہ حامل للنجاسۃ التی ھی لعابہ اما اذا جلس علیہ بنفسہ فعلی روایۃ انہ نجس العین کذلك لانہ حاملہ وھو نجاسۃ واما علی الروایۃ الصحیحۃ فینبغی ان تجوز صلاتہ لانہ غیر حامل للنجاسۃ کما فی الھرۃ ونحوھا علی ماسبق اھ ملخصا۔
اگر کسی نے نماز پڑھی اور اس کے پاس بلی تھی اس کی نماز مطلقا جائز ہے اگر وہ خودبخود بیٹھی ہو اور اگر اس نے اسے اٹھایا ہو تو اس صورت میں اس کے ظاہر پر اتنی نجاست نہ ہو جو مانع ہو (نماز جائز ہوگی) لیکن جب اس پر مانع کی حد تك نجاست ہو اس وقت نماز جائز نہیں جیسا کہ اگر اس نے بچہ اٹھایا ہو جو خود بخود ٹھہر نہیں سکتا اور اس کے کپڑوں یا بدن پر اتنی نجاست ہے جو نماز سے مانع ہے کیونکہ اس وقت وہ خود نجاست اٹھانے والا ہوگا بخلاف اس کے جو خود بخود ٹھہر سکتا ہے اس صورت میں نماز ہی اپنے اور پائی جانے والی نجاست کو اٹھانے والا شمار نہیں ہوگا (بخلاف کتے کے) جب اسے اٹھایا ہو تو نماز جائز نہ ہوگی کیونکہ وہ اس کی نجاست یعنی لعاب کو اٹھائے ہوئے ہے۔ لیکن جب وہ خودبخود بیٹھ جائے تو اس روایت کی بنیاد پر کہ وہ نجس عین ہے اسی طرح ہے کہ کیونکہ وہ اسے اٹھائے ہوئے ہے اور وہ نجاست ہے لیکن صحیح روایت کے مطابق مناسب ہے کہ اس کی نماز صحیح ہو کیونکہ وہ نجاست کو اٹھائے ہوئے نہیں جیسا کہ بلی وغیرہ کے بارے میں گزرچکا ہے۔ (ت)
اور اگر خود مصلی ہی نے اسے لے کر نماز پڑھی یا نماز میں اٹھالیا تو قول طہارت عین ہی پر اس صورت میں دو۲ قول ہیں۔
جیسا کہ تم دیکھتے ہو نہایت واضح باتوں میں سے ہے۔ (ت)
غنیہ میں ہے :
(ان صلی ومعہ سنورتجوز) صلاتہ مطلقا ان جلس بنفسہ واذا لم یکن علی ظاھرہ نجاسۃ مانعۃ ان حملہ اما ان کان علیہ نجاسۃ مانعۃ اذ ذاك فلا تجوز صلاتہ کما لوحمل صبیا لایستمسك بنفسہ وفی ثیابہ اوبدنہ نجاسۃ مانعۃ لانہ حینئذ ھو الحاصل للنجاسۃ بخلاف المستمسك فان المصلی لیس حاملا للنجاسۃ التی علیہ (بخلاف الکلب) اذا حملہ المصلی حیث لا تجوز صلاتہ لانہ حامل للنجاسۃ التی ھی لعابہ اما اذا جلس علیہ بنفسہ فعلی روایۃ انہ نجس العین کذلك لانہ حاملہ وھو نجاسۃ واما علی الروایۃ الصحیحۃ فینبغی ان تجوز صلاتہ لانہ غیر حامل للنجاسۃ کما فی الھرۃ ونحوھا علی ماسبق اھ ملخصا۔
اگر کسی نے نماز پڑھی اور اس کے پاس بلی تھی اس کی نماز مطلقا جائز ہے اگر وہ خودبخود بیٹھی ہو اور اگر اس نے اسے اٹھایا ہو تو اس صورت میں اس کے ظاہر پر اتنی نجاست نہ ہو جو مانع ہو (نماز جائز ہوگی) لیکن جب اس پر مانع کی حد تك نجاست ہو اس وقت نماز جائز نہیں جیسا کہ اگر اس نے بچہ اٹھایا ہو جو خود بخود ٹھہر نہیں سکتا اور اس کے کپڑوں یا بدن پر اتنی نجاست ہے جو نماز سے مانع ہے کیونکہ اس وقت وہ خود نجاست اٹھانے والا ہوگا بخلاف اس کے جو خود بخود ٹھہر سکتا ہے اس صورت میں نماز ہی اپنے اور پائی جانے والی نجاست کو اٹھانے والا شمار نہیں ہوگا (بخلاف کتے کے) جب اسے اٹھایا ہو تو نماز جائز نہ ہوگی کیونکہ وہ اس کی نجاست یعنی لعاب کو اٹھائے ہوئے ہے۔ لیکن جب وہ خودبخود بیٹھ جائے تو اس روایت کی بنیاد پر کہ وہ نجس عین ہے اسی طرح ہے کہ کیونکہ وہ اسے اٹھائے ہوئے ہے اور وہ نجاست ہے لیکن صحیح روایت کے مطابق مناسب ہے کہ اس کی نماز صحیح ہو کیونکہ وہ نجاست کو اٹھائے ہوئے نہیں جیسا کہ بلی وغیرہ کے بارے میں گزرچکا ہے۔ (ت)
اور اگر خود مصلی ہی نے اسے لے کر نماز پڑھی یا نماز میں اٹھالیا تو قول طہارت عین ہی پر اس صورت میں دو۲ قول ہیں۔
حوالہ / References
غنیۃ المستملی منیۃ المصلی فصل فی الآسار مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۹۱
اقول : والسرفیہ ان الابتناء علی شےیئ لہ وجھان احدھما ان لایبتنی الا علیہ والاخر ان یکون ھو احد ما یبتنی علیہ والمبنی علی الصحیح بالمعنی الاول صحیح قطعا وبالمعنی الاخر لایجب ان یکون صحیحا فجواز ان یکون البعض الاخر مما یبتنی علیہ غیر صحیح فلا یکون المبتنی صحیحا بسبہ وعن ھذا نقول ان صحۃ الفرع تستلزم صحۃ الاصل ولاعکس لان الاصل لازم اعم فثبوتہ غیرقاض بثبوت ملزومہ۔
اقول : اس میں راز یہ ہے کہ کسی چیز پر بنیاد رکھنے کی دو۲ صورتیں ہیں ایک۱ یہ کہ اس کے علاوہ دوسری چیز پر بنیاد نہ ہو اور دوسرا۲ یہ کہ جن باتوں پر بنیاد رکھی گئی ہے یہ ان میں سے ایك ہے پہلے معنی کے اعتبار سے جو چیز صحیح پر مبنی ہوگی وہ قطعی طور پر صحیح ہوگی اور دوسرے معنی کے اعتبار سے اس کا صحیح ہونا واجب نہیں کیونکہ جائز ہے کہ دوسرا بعض جس پر اس کی بنیاد ہے وہ غیر صحیح ہو لہذا اس کے سبب (فرع کی صحت) سے بنیاد کا صحیح ہونا لازم نہ ہوگا اسی بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ فرع کی صحت اصل کے صحیح ہونے کو مستلزم ہے لیکن اس کا عکس نہیں کیونکہ اصل لازم اعم ہے پس اس کے ثبوت سے ملزوم کا ثبوت ضروری نہیں۔ (ت)
اس قول پر اگرچہ عین کلب نجس نہیں مگر لعاب تو بالاتفاق نجس ہے اور اصل کلی یہ ہے کہ کوئی نجاست اپنے معدن میں حکم نجاست نہیں پاتی ورنہ نماز محال ہوکہ خود بدن مصلی خون وغیرہ سے کبھی خالی نہیں اب نظر علماء دو۲ مسلك پر مختلف ہوئی :
مسلك اول : جن کی نظر میں لعاب جب تك منہ سے باہر نہ نکلے اپنے معدن میں ہے انہوں نے حکم صحت دیا یا تو مطلقا جیسا کہ امام ملك العلماء نے بدائع میں اختیار فرمایا اور اپنے مشائخ کرام سے نقل کیا اور اسی پر حلیہ میں اور بحرالرائق ودرمختار کے کتاب الطہارت میں اور حلبی وشامی نے حواشی در اور طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں جزم فرمایا یا اس شرط کے ساتھ کہ اس کا منہ بندھا ہو ورنہ نماز نہ ہوگی یہ امام فقیہ ابوجعفر ہندوانی کا ارشاد ہے۔ محیط رضوی ونصاب وابوالسعود وغیرہا اور بحر ودر کی شروط الصلاۃ میں اسی پر اعتماد اور اسی طرف علامہ طحطاوی نے حاشیہ در میں میل کیا اور نظر فقہی میں تحقیق وہی ہے کہ بندش شرط نہیں قبل از فراغ نماز لعاب بقدر مانع جواز کے سیلان پر بنا ہے نہ بہے تو نماز ہوجائے گی اگرچہ منہ کھلا رہے ورنہ نہیں اگرچہ بندھا ہو۔
اقول : ب لکہ حق یہ کہ شرط بندش کا مقصود بھی یہی ہے کمایفیدہ مانذکر عن المحیط وغیرہ من تعلیل التقیيد (جیسا کہ وہ بات یعنی تقیےد کی علت اس کا فائدہ دے گی جسے ہم محیط وغیرہ سے
اقول : اس میں راز یہ ہے کہ کسی چیز پر بنیاد رکھنے کی دو۲ صورتیں ہیں ایک۱ یہ کہ اس کے علاوہ دوسری چیز پر بنیاد نہ ہو اور دوسرا۲ یہ کہ جن باتوں پر بنیاد رکھی گئی ہے یہ ان میں سے ایك ہے پہلے معنی کے اعتبار سے جو چیز صحیح پر مبنی ہوگی وہ قطعی طور پر صحیح ہوگی اور دوسرے معنی کے اعتبار سے اس کا صحیح ہونا واجب نہیں کیونکہ جائز ہے کہ دوسرا بعض جس پر اس کی بنیاد ہے وہ غیر صحیح ہو لہذا اس کے سبب (فرع کی صحت) سے بنیاد کا صحیح ہونا لازم نہ ہوگا اسی بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ فرع کی صحت اصل کے صحیح ہونے کو مستلزم ہے لیکن اس کا عکس نہیں کیونکہ اصل لازم اعم ہے پس اس کے ثبوت سے ملزوم کا ثبوت ضروری نہیں۔ (ت)
اس قول پر اگرچہ عین کلب نجس نہیں مگر لعاب تو بالاتفاق نجس ہے اور اصل کلی یہ ہے کہ کوئی نجاست اپنے معدن میں حکم نجاست نہیں پاتی ورنہ نماز محال ہوکہ خود بدن مصلی خون وغیرہ سے کبھی خالی نہیں اب نظر علماء دو۲ مسلك پر مختلف ہوئی :
مسلك اول : جن کی نظر میں لعاب جب تك منہ سے باہر نہ نکلے اپنے معدن میں ہے انہوں نے حکم صحت دیا یا تو مطلقا جیسا کہ امام ملك العلماء نے بدائع میں اختیار فرمایا اور اپنے مشائخ کرام سے نقل کیا اور اسی پر حلیہ میں اور بحرالرائق ودرمختار کے کتاب الطہارت میں اور حلبی وشامی نے حواشی در اور طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں جزم فرمایا یا اس شرط کے ساتھ کہ اس کا منہ بندھا ہو ورنہ نماز نہ ہوگی یہ امام فقیہ ابوجعفر ہندوانی کا ارشاد ہے۔ محیط رضوی ونصاب وابوالسعود وغیرہا اور بحر ودر کی شروط الصلاۃ میں اسی پر اعتماد اور اسی طرف علامہ طحطاوی نے حاشیہ در میں میل کیا اور نظر فقہی میں تحقیق وہی ہے کہ بندش شرط نہیں قبل از فراغ نماز لعاب بقدر مانع جواز کے سیلان پر بنا ہے نہ بہے تو نماز ہوجائے گی اگرچہ منہ کھلا رہے ورنہ نہیں اگرچہ بندھا ہو۔
اقول : ب لکہ حق یہ کہ شرط بندش کا مقصود بھی یہی ہے کمایفیدہ مانذکر عن المحیط وغیرہ من تعلیل التقیيد (جیسا کہ وہ بات یعنی تقیےد کی علت اس کا فائدہ دے گی جسے ہم محیط وغیرہ سے
ذکر کریں گے۔ ت) غالبا لعاب کلاب کا منہ کھلا ہونے کی حالت میں میلان کرتا اور بندش سے رکنا مظنون ہے لہذا شدوفتح سے تعبیر کی گئی ومثلہ کثیرالوقوع من الفقھاء کمالایخفی علی من تتبع (اور اس کی مثل فقہاء سے کثیر الوقوع ہے جیسا کہ تلاش کرنے والے پر مخفی نہیں۔ ت) غرض اختلاف لفظ میں ہے نہ معنی میں وبھذا یندفع التھافت المظنون فی کلمات البحر والدر والطحطاوی وبالله التوفیق (بحرالرائق درمختار اور طحطاوی کے کلمات میں جس تکرار کا گمان تھا اس سے وہ دور ہوگیا۔ اور اللہ تعالی ہی توفیق عطا کرنے والا ہے۔ ت) بہرحال ان سب ائمہ وعلماء نے نجاست لعاب کا اعتبار نہ فرمایا جب تك منہ سے باہر سیلان نہ کرے اس مسلك پر بلاشبہہ یہ فرع بھی صرف اسی طہارت میں کلب پر مبتنی اور جب وہ مفتی بہ تو یہ بھی اس طریقہ پر یقینا مفتی بہ۔
فی البحر عن البدائع انہ (ای طھارۃ عین الکلب) اقرب القولین الی الصواب ولذالك قال مشایخنا فیمن صلی وفی کمہ جرو انہ تجوز صلاتہ وقید الفقیہ ابوجعفر الھندوانی الجواز بکونہ مشدود الفم اھ۔ وفی البحر ایضا اذاصلی وھوحامل جروا صغیرا لا تصح صلاتہ علی القول بنجاسۃ مطلقا وتصح علی القول بطھارتہ اما مطلقا او بکونہ مشدود الفم کما قدمناہ عن البدائع اھ۔ وفی حاشیۃ المراقی انہ لیس بنجس العین وعلیہ الفتوی واثر الخلاف یظھر فیما لوصلی وفی کمہ جروصغیر جازت علی الاول لا الثانی وشرط الھندوانی کونہ مشدود
بحرالرائق میں بدائع سے منقول ہے کہ یہ (کتے کا طاہر عین ہونا) دو۲ قولوں میں سے صحت کے زیادہ قریب قول ہے۔ اس لئے ہمارے مشایخ نے فرمایا کہ جس آدمی کی آستین میں کتے کا بچہ ہو اس کی نماز جائز ہے اور فقیہ ابوجعفر ہندوانی کے نزدیك جواز کے لئے اس کے منہ کا باندھا ہونا شرط ہے اھ۔ بحرالرائق میں ہی ہے کہ جب کسی آدمی نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ اس نے کتے کا چھوٹا سا بچہ اٹھارکھا تھا تو اس قول پر کہ وہ نجس ہے نماز مطلقا صحیح نہیں ہوگی اور طہارت کے قول کی بنیاد پر یا تو مطلقا صحیح ہوگی یا اس صورت میں کہ اس کا منہ باندھا ہوا ہو جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بدائع سے نقل کیا اھ۔ مراقی الفلاح کے حاشیہ میں ہے کہ وہ نجس عین نہیں اور اسی پر فتوی ہے۔ اور اختلاف کا اثر اس
فی البحر عن البدائع انہ (ای طھارۃ عین الکلب) اقرب القولین الی الصواب ولذالك قال مشایخنا فیمن صلی وفی کمہ جرو انہ تجوز صلاتہ وقید الفقیہ ابوجعفر الھندوانی الجواز بکونہ مشدود الفم اھ۔ وفی البحر ایضا اذاصلی وھوحامل جروا صغیرا لا تصح صلاتہ علی القول بنجاسۃ مطلقا وتصح علی القول بطھارتہ اما مطلقا او بکونہ مشدود الفم کما قدمناہ عن البدائع اھ۔ وفی حاشیۃ المراقی انہ لیس بنجس العین وعلیہ الفتوی واثر الخلاف یظھر فیما لوصلی وفی کمہ جروصغیر جازت علی الاول لا الثانی وشرط الھندوانی کونہ مشدود
بحرالرائق میں بدائع سے منقول ہے کہ یہ (کتے کا طاہر عین ہونا) دو۲ قولوں میں سے صحت کے زیادہ قریب قول ہے۔ اس لئے ہمارے مشایخ نے فرمایا کہ جس آدمی کی آستین میں کتے کا بچہ ہو اس کی نماز جائز ہے اور فقیہ ابوجعفر ہندوانی کے نزدیك جواز کے لئے اس کے منہ کا باندھا ہونا شرط ہے اھ۔ بحرالرائق میں ہی ہے کہ جب کسی آدمی نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ اس نے کتے کا چھوٹا سا بچہ اٹھارکھا تھا تو اس قول پر کہ وہ نجس ہے نماز مطلقا صحیح نہیں ہوگی اور طہارت کے قول کی بنیاد پر یا تو مطلقا صحیح ہوگی یا اس صورت میں کہ اس کا منہ باندھا ہوا ہو جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بدائع سے نقل کیا اھ۔ مراقی الفلاح کے حاشیہ میں ہے کہ وہ نجس عین نہیں اور اسی پر فتوی ہے۔ اور اختلاف کا اثر اس
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۱
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۰۲
الفم اھ ملخصا وفی البزازیۃ عن النصاب ان کان الجرو مشدود الفم یجوز اھ وفی شروط الصلاۃ للدر والبحر وفتح الله المعین واللفظ للدر ما یتحرك بحرکۃ او یعد حامل لہ کصبی علیہ نجس ان لم یستمسك بنفسہ منع والالا کجنب وکلب ان شد فمہ فی الاصح اھ۔ وفی حاشیتہ للعلامۃ ط قولہ ان شد فمہ لوقال وکلب ان لم یسل منہ ما یمنع الصلاۃ لکان اولی لانہ لوعلم عدم السیلان اوسال منہ دون المانع لایبطل الصلاۃ وان لم یشد فمہ حلبی وفیہ تأمل اھ ونقل العلامۃ الشامی ما افادہ الحلبی فاقرہ وایدہ وفی الحلیۃ فی محیط رضی الدین رجل صلی ومعہ جروکلب ومالا یجوز ان یتوضأ بسؤرہ قیل لم یجز والاصح یسیل فی کمہ فیصیر مبتلا بلعابہ فیتنجس کمہ فیمنع جواز الصلاۃ ان کان اکثر من قدر الدرھم فان فمہ مشدودا بحیث لایصل لعابہ
صورت میں ظاہر ہوگا جب وہ اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کی آستین میں کتے کا چھوٹا بچہ ہو پہلے قول کے مطابق نماز جائز ہوگی دوسرے کے مطابق نہیں۔ اور ہندوانی نے منہ بندھا ہونا شرط رکھی ہے اھ تلخیص۔
بزازیہ میں نصاب سے نقل کیا ہے کہ اگر کتے کے بچے کا منہ باندھا ہوا ہو تو نماز جائز ہے اھ۔ نماز کی شرائط میں درمختار بحرالرائق اور فتح اللہ المعین میں ہے الفاظ درمختار کے ہیں کہ جو اس کی حرکت سے حرکت کرے یا اسے اٹھانے والا شمار ہو جیسے بچہ کہ اس پر نجاست ہو اگر وہ خودبخود نہ ٹھہر سکے تو منع کیا جائے گا ورنہ نہیں جیسے جنبی اور کتا اگر اس کا منہ باندھا ہو۔ یہ اصح قول کے مطابق ہے اھ۔ اور اس کے حاشیہ میں علامہ (طحطاوی) نے فرمایا “ یہ کہنے کی بجائے کہ اگر اس کا منہ باندھا ہوا ہو وہ فرماتے اور کتے کے منہ سے اگر وہ چیز نہ نکلے جو نماز کو روکتی ہے “ تو یہ بات زیادہ بہتر ہوتی کیونکہ جاری نہ ہونا معلوم ہو یا اس سے اتنا جاری ہو جو مانع نہیں ہے تو نماز باطل نہ ہوگی اگرچہ منہ باندھا ہوا نہ ہو۔ (حلبی) اور کہا اس میں غور کرو اھ۔ علامہ شامی نے وہ بات نقل کی جس کا فائدہ حلبی سے حاصل ہوا
صورت میں ظاہر ہوگا جب وہ اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کی آستین میں کتے کا چھوٹا بچہ ہو پہلے قول کے مطابق نماز جائز ہوگی دوسرے کے مطابق نہیں۔ اور ہندوانی نے منہ بندھا ہونا شرط رکھی ہے اھ تلخیص۔
بزازیہ میں نصاب سے نقل کیا ہے کہ اگر کتے کے بچے کا منہ باندھا ہوا ہو تو نماز جائز ہے اھ۔ نماز کی شرائط میں درمختار بحرالرائق اور فتح اللہ المعین میں ہے الفاظ درمختار کے ہیں کہ جو اس کی حرکت سے حرکت کرے یا اسے اٹھانے والا شمار ہو جیسے بچہ کہ اس پر نجاست ہو اگر وہ خودبخود نہ ٹھہر سکے تو منع کیا جائے گا ورنہ نہیں جیسے جنبی اور کتا اگر اس کا منہ باندھا ہو۔ یہ اصح قول کے مطابق ہے اھ۔ اور اس کے حاشیہ میں علامہ (طحطاوی) نے فرمایا “ یہ کہنے کی بجائے کہ اگر اس کا منہ باندھا ہوا ہو وہ فرماتے اور کتے کے منہ سے اگر وہ چیز نہ نکلے جو نماز کو روکتی ہے “ تو یہ بات زیادہ بہتر ہوتی کیونکہ جاری نہ ہونا معلوم ہو یا اس سے اتنا جاری ہو جو مانع نہیں ہے تو نماز باطل نہ ہوگی اگرچہ منہ باندھا ہوا نہ ہو۔ (حلبی) اور کہا اس میں غور کرو اھ۔ علامہ شامی نے وہ بات نقل کی جس کا فائدہ حلبی سے حاصل ہوا
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل یطہر جلد المیتۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۸۸
فتاوٰی بزازیۃ مع الفتاوٰی الہندیۃ السابع فی النجس نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۱
الدرالمختار باب شروط الصلاۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۵
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب شروط الصلٰوۃ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۱۹۰
فتاوٰی بزازیۃ مع الفتاوٰی الہندیۃ السابع فی النجس نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۱
الدرالمختار باب شروط الصلاۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۶۵
حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار باب شروط الصلٰوۃ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۱۹۰
الی ثوبہ جازلان ظاھر کل حیوان طاھر ولایتنجس الا بالموت ونجاسۃ باطنہ فی معدنھا فلا یظھر حکمھا کنجاسۃ باطن المصلی انتھی ۔ والاشبہ ان ھذا التفصیل فی کلب من شانہ غلبۃ سیلان لعابہ بحیث یبلغ مایسیل منہ قبل فراغ حاملہ ما یمنع صحۃ الصلاۃ وانشد فوہ یمنع ذلك منہ وما لیس کذلك فالاشبہ فیہ اطلاق الجواز کماھوظاھر مافی البدائع عن مشایخنا اھ۔
پھر اسے برقرار رکھا اور اس کی تائید کی۔ اور حلیہ میں رضی الدین کی محیط سے منقول ہے کہ ایك شخص نے نماز پڑھی اور اس کے ساتھ کتے کا بچہ یا وہ چیز تھی جس کے جھوٹے سے وضو کرنا جائز نہیں کہاگیا ہے کہ نماز جائز نہیں لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اگر اس کا منہ کھلا ہوا ہو تو جائز نہیں کیونکہ اس کا لعاب آستین میں بہتا رہے گا اور وہ لعاب سے ترہوکر ناپاك ہوجائے گی لہذا ایك درہم سے زیادہ ہونے کی صورت میں نماز کے جواز کو روکے گی اور اگر اس کا منہ اس طرح باندھا ہوا ہو کہ اس کا لعاب کپڑے تك نہ پہنچے تو نماز جائز ہے کیونکہ ہر حیوان کا ظاہر پاك ہے اور وہ موت کے بغیر ناپاك نہیں ہوتا جبکہ اندر کی نجاست اپنے مرکز میں ہے۔ پس نمازی کے اندر کی نجاست کی مثل اس کا حکم بھی ظاہر نہ ہوگا انتہی۔ زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ یہ تفصیل اس کتے کے بارے میں ہے جس کا لعاب اکثر جاری رہتا ہے کیونکہ اس کا لعاب جب اس صورت میں ہو کہ جو کچھ جاری ہوا وہ اٹھانے والے کے فارغ ہونے سے پہلے اس حد تك پہنچ جائے جو نماز کے صحیح ہونے سے مانع ہے اگرچہ اس کا منہ بند کیا جائے تو یہ نماز سے مانع ہوگا اور جو ایسا نہ ہو اس میں مطلقا جواز (کا قول) زیادہ مناسب ہے جیسا کہ ہمارے مشایخ کے اس قول سے ظاہر ہے جو بدائع میں ہے۔ (ت)
مسلك دوم : جن کی نظر اس طرف گئی کہ لعاب سطح دہن میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ باطن گوشت سے متولد ہوکر دہن میں آتا ہے تو منہ سے باہر نکلنے نہ نکلنے کو کچھ دخل نہ رہا کہ اپنے اصل موضع سے منتقل ہوچکا تو اگرچہ بیرون دہن آئے حکم نجاست پالیا جیسے خون کہ اندر سے نکل کر دہن وزبان کی سطوح پر آجائے پس صورت مذکور میں دہن کلب وغیرہ سباع بہائم کے اندر ہی لعاب کا ہونا حمل نجاست کا موجب ہے انہوں نے مطلقا فساد نماز کا حکم دیا خانیہ وخلاصہ وبزازیہ وہندیہ وذخیرہ منتقی ومنیہ وغنیہ میں اسی
پھر اسے برقرار رکھا اور اس کی تائید کی۔ اور حلیہ میں رضی الدین کی محیط سے منقول ہے کہ ایك شخص نے نماز پڑھی اور اس کے ساتھ کتے کا بچہ یا وہ چیز تھی جس کے جھوٹے سے وضو کرنا جائز نہیں کہاگیا ہے کہ نماز جائز نہیں لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اگر اس کا منہ کھلا ہوا ہو تو جائز نہیں کیونکہ اس کا لعاب آستین میں بہتا رہے گا اور وہ لعاب سے ترہوکر ناپاك ہوجائے گی لہذا ایك درہم سے زیادہ ہونے کی صورت میں نماز کے جواز کو روکے گی اور اگر اس کا منہ اس طرح باندھا ہوا ہو کہ اس کا لعاب کپڑے تك نہ پہنچے تو نماز جائز ہے کیونکہ ہر حیوان کا ظاہر پاك ہے اور وہ موت کے بغیر ناپاك نہیں ہوتا جبکہ اندر کی نجاست اپنے مرکز میں ہے۔ پس نمازی کے اندر کی نجاست کی مثل اس کا حکم بھی ظاہر نہ ہوگا انتہی۔ زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ یہ تفصیل اس کتے کے بارے میں ہے جس کا لعاب اکثر جاری رہتا ہے کیونکہ اس کا لعاب جب اس صورت میں ہو کہ جو کچھ جاری ہوا وہ اٹھانے والے کے فارغ ہونے سے پہلے اس حد تك پہنچ جائے جو نماز کے صحیح ہونے سے مانع ہے اگرچہ اس کا منہ بند کیا جائے تو یہ نماز سے مانع ہوگا اور جو ایسا نہ ہو اس میں مطلقا جواز (کا قول) زیادہ مناسب ہے جیسا کہ ہمارے مشایخ کے اس قول سے ظاہر ہے جو بدائع میں ہے۔ (ت)
مسلك دوم : جن کی نظر اس طرف گئی کہ لعاب سطح دہن میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ باطن گوشت سے متولد ہوکر دہن میں آتا ہے تو منہ سے باہر نکلنے نہ نکلنے کو کچھ دخل نہ رہا کہ اپنے اصل موضع سے منتقل ہوچکا تو اگرچہ بیرون دہن آئے حکم نجاست پالیا جیسے خون کہ اندر سے نکل کر دہن وزبان کی سطوح پر آجائے پس صورت مذکور میں دہن کلب وغیرہ سباع بہائم کے اندر ہی لعاب کا ہونا حمل نجاست کا موجب ہے انہوں نے مطلقا فساد نماز کا حکم دیا خانیہ وخلاصہ وبزازیہ وہندیہ وذخیرہ منتقی ومنیہ وغنیہ میں اسی
حوالہ / References
التعلیق المجلی مع منیۃ المصلی مسائل ازالۃ النجاسۃ الحقیقۃ ، مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۵۸
التعلیق المجلی مع منیۃ المصلی ، مسائل ازالۃ النجاسۃ الحقیقۃ ، مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۵۸
التعلیق المجلی مع منیۃ المصلی ، مسائل ازالۃ النجاسۃ الحقیقۃ ، مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۵۸
پر جزم فرمایا۔
ففی الاربع الاول اللفظ متقارب والمعنی واحد والسیاق للوجیز صلی ومعہ حیوان حی یجوز التوضئ بسؤرہ کالفارۃ یجوز واساء وان کان سؤرہ نجسا کجروکلب لایجوز وفی النصاب ان کان الجرو مشدود الفم یجوز اھ۔ وفی الحلیۃ عن الذخیرۃ عن المنتقی عن محمد صلی ومعہ حیۃ اوسنورا وفارۃ اجزأہ وقد اساء وان کان ثعلب اوجر وکلب لم تجز صلاتہ وذکر فی جنس ھذہ المسائل اصلا فقال کل مایجوز التوضئ بسؤرہ تجوز الصلاۃ معہ ومالایجوز الوضوء بسؤرہ لا تجوز الصلاۃ معہ انتھی۔ قال فی الحلیۃ بعد نقلہ ولکن لایعری عن تأمل وسنوضحہ الخ والموعود بہ ھو ما قدمنا عنھا من ان الاشبہ التفصیل بالشد والفتح فی کلب شانہ کذا واطلاق الجواز فی غیرہ قال بعد تحقیقہ وحینئذ فیظھر ان فی کلیۃ الاصل المذکور نظرا فتنبہ لہ اھ۔ وفی المنیۃ ان صلی ومعہ سنورا وحیۃ یجوز
پہلی چار (کتب) میں الفاظ تقریبا ایك جیسے ہیں اور معنے بھی اور وجیز (بزازیہ) کے الفاظ یوں ہی کسی آدمی نے نماز پڑھی اور اس کے پاس ایسا زندہ حیوان تھا جس کے جھوٹے سے وضو جائز ہے مثلا چوہا تو نماز جائز ہوگی لیکن گناہ گار ہوگا اور اگر اس کا جھوٹا ناپاك ہو جیسے کتے کا بچہ تو نماز ناجائز نہیں ہوگی۔ اور نصاب میں ہے اگر کتے کے بچے کا منہ بندھا ہوا ہو تو جائز ہوگی انتہی۔
حلیہ میں بحوالہ ذخیرہ منتقی سے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکا قول نقل کیا کہ کسی شخص نے نماز پڑھی اور اس کے پاس سانپ یا بلی یا چوہا تھا تو نماز جائز ہے۔ لیکن اس نے گناہ کیا۔ اور اگر لومڑی یا کتے کا بچہ ہو تو نماز جائز نہ ہوگی اور اس قسم کے مسائل کے بارے میں قاعدہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا : “ جب اس کے جھوٹے سے وضو جائز ہو تو اس کے ساتھ نماز بھی جائز ہوگی اور جس کے جھوٹے سے وضو جائز نہ ہو اس کے ساتھ نماز جائز نہ ہوگی انتہی۔ اسے نقل کرنے کے بعد حلیہ میں فرمایا لیکن یہ غور وفکر سے خالی نہیں اور ہم عنقریب اس کی وضاحت کرینگے الخ جس بات کا وعدہ کیا گیا ہے یہ وہی ہے جو ہم
ففی الاربع الاول اللفظ متقارب والمعنی واحد والسیاق للوجیز صلی ومعہ حیوان حی یجوز التوضئ بسؤرہ کالفارۃ یجوز واساء وان کان سؤرہ نجسا کجروکلب لایجوز وفی النصاب ان کان الجرو مشدود الفم یجوز اھ۔ وفی الحلیۃ عن الذخیرۃ عن المنتقی عن محمد صلی ومعہ حیۃ اوسنورا وفارۃ اجزأہ وقد اساء وان کان ثعلب اوجر وکلب لم تجز صلاتہ وذکر فی جنس ھذہ المسائل اصلا فقال کل مایجوز التوضئ بسؤرہ تجوز الصلاۃ معہ ومالایجوز الوضوء بسؤرہ لا تجوز الصلاۃ معہ انتھی۔ قال فی الحلیۃ بعد نقلہ ولکن لایعری عن تأمل وسنوضحہ الخ والموعود بہ ھو ما قدمنا عنھا من ان الاشبہ التفصیل بالشد والفتح فی کلب شانہ کذا واطلاق الجواز فی غیرہ قال بعد تحقیقہ وحینئذ فیظھر ان فی کلیۃ الاصل المذکور نظرا فتنبہ لہ اھ۔ وفی المنیۃ ان صلی ومعہ سنورا وحیۃ یجوز
پہلی چار (کتب) میں الفاظ تقریبا ایك جیسے ہیں اور معنے بھی اور وجیز (بزازیہ) کے الفاظ یوں ہی کسی آدمی نے نماز پڑھی اور اس کے پاس ایسا زندہ حیوان تھا جس کے جھوٹے سے وضو جائز ہے مثلا چوہا تو نماز جائز ہوگی لیکن گناہ گار ہوگا اور اگر اس کا جھوٹا ناپاك ہو جیسے کتے کا بچہ تو نماز ناجائز نہیں ہوگی۔ اور نصاب میں ہے اگر کتے کے بچے کا منہ بندھا ہوا ہو تو جائز ہوگی انتہی۔
حلیہ میں بحوالہ ذخیرہ منتقی سے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکا قول نقل کیا کہ کسی شخص نے نماز پڑھی اور اس کے پاس سانپ یا بلی یا چوہا تھا تو نماز جائز ہے۔ لیکن اس نے گناہ کیا۔ اور اگر لومڑی یا کتے کا بچہ ہو تو نماز جائز نہ ہوگی اور اس قسم کے مسائل کے بارے میں قاعدہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا : “ جب اس کے جھوٹے سے وضو جائز ہو تو اس کے ساتھ نماز بھی جائز ہوگی اور جس کے جھوٹے سے وضو جائز نہ ہو اس کے ساتھ نماز جائز نہ ہوگی انتہی۔ اسے نقل کرنے کے بعد حلیہ میں فرمایا لیکن یہ غور وفکر سے خالی نہیں اور ہم عنقریب اس کی وضاحت کرینگے الخ جس بات کا وعدہ کیا گیا ہے یہ وہی ہے جو ہم
حوالہ / References
فتاوٰی بزازیۃ مع الفتاوی الہندیۃ السابع فی النجس نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۲۱
حلیۃ المحلی
حلیۃ المحلی
حلیۃ المحلی
حلیۃ المحلی
بخلاف جروالکلب اھ۔
وفی الغنیۃ لایقال النجاسۃ التی فی محلھا غیر معتبرۃ ولایعطی لھا حکم النجاسۃ لانا نقول سلمنا ولکن اللعاب قد انتقل عن محلہ الذی تولہ فیہ واتصل بالفم الذی لہ حکم الظاھر بالنظر الی ما یخرج من الباطل فاعتبر نجاسۃ وقد تنجس بھالسانہ وسائر فمہ فکان مانعا اھ ملخصا۔
نے اس سے پہلے ان سے نقل کی ہے یعنی منہ باندھنے اور کھلا چھوڑنے کی تفصیل اس کتے کے بارے میں ہے جو اس شان کا ہو اور مطلق جواز اس کے غیر میں ہے انہوں نے تحقیق کے بعد فرمایا اس وقت ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ قاعدے میں نظر ہے پس اس سے آگاہی حاصل کرو (انتہی)منیہ میں ہے کہ اگر کسی نے نماز پڑھی اور اس کے پاس بلی یا سانپ ہو تو جائز ہوگی بخلاف کتے کے بچے کے انتہی۔ غنیہ میں ہے یہ نہ کہا جائے کہ جو نجاست اپنے محل میں ہے غیر معتبر ہے اور اس کو نجاست کا حکم نہیں دیا جائے گا کیونکہ ہم کہتے ہیں ہم نے مان لیا لیکن لعاب اپنے اس مقام سے جہاں وہ پیدا ہوا منتقل ہو کر منہ سے مل جاتا ہے جسے باطن سے باہر آنے والی چیز کی طرف نظر کرتے ہوئے ظاہر کا حکم دیا جاتا ہے لہذا اس کی نجاست کا اعتبار ہوگا اور اس سے اس کی زبان اور تمام منہ ناپاك ہوگیا پس وہ مانع ہوگا انتہی تلخیص۔ (ت)
اس مسلك پر یہ فرع صرف طہارت عین پر مبنی نہیں بلکہ اس کے ساتھ صحت صلاۃ کے لئے طہارت لعاب بھی درکار اور وہ کلب وغیرہ سباع بہائم میں مفقود لہذا صحت نماز بھی مفقود اگرچہ طاہر العین ہی ہو ایسی جگہ المبنی علی صحیح صحیح نہیں یہ تو اختلاف علماء تھا ترجیح دیکھیے تو وہ مسلك اول ہی کی طرف ہے محیط رضوی وبحرالرائق ودرمختار وغیرہا میں صراحۃ اس کی تصحیح بلفظ اصح اور حلیہ میں بلفظ اشبہ مذکور۔
کمامروقدصرح العلامۃ الفقیہ خیر الدین الرملی فی فتاواہ الخیریۃ لنفع البریۃ من کتاب الطلاق بما نصہ وانت علی علم بانہ بعد التنصیص علی اصحیتہ لایعدل عنہ الی غیرہ اھ وفیھا من کتاب الصلح حیث
جیسا کہ گزرا علامہ فقیہ خیر الدین رملی نے اپنے فتاوی الخیریہ لنفع البریہ کی کتاب الطلاق میں اسے صراحۃ بیان کیا اور تم جانتے ہو کہ اس کے اصح ہونے پر تنصیص کے بعد غیر کی طرف عدول نہیں کیا جاتا انتہی اور اس کی کتاب الصلح میں ہے کہ جب اصح ثابت
وفی الغنیۃ لایقال النجاسۃ التی فی محلھا غیر معتبرۃ ولایعطی لھا حکم النجاسۃ لانا نقول سلمنا ولکن اللعاب قد انتقل عن محلہ الذی تولہ فیہ واتصل بالفم الذی لہ حکم الظاھر بالنظر الی ما یخرج من الباطل فاعتبر نجاسۃ وقد تنجس بھالسانہ وسائر فمہ فکان مانعا اھ ملخصا۔
نے اس سے پہلے ان سے نقل کی ہے یعنی منہ باندھنے اور کھلا چھوڑنے کی تفصیل اس کتے کے بارے میں ہے جو اس شان کا ہو اور مطلق جواز اس کے غیر میں ہے انہوں نے تحقیق کے بعد فرمایا اس وقت ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ قاعدے میں نظر ہے پس اس سے آگاہی حاصل کرو (انتہی)منیہ میں ہے کہ اگر کسی نے نماز پڑھی اور اس کے پاس بلی یا سانپ ہو تو جائز ہوگی بخلاف کتے کے بچے کے انتہی۔ غنیہ میں ہے یہ نہ کہا جائے کہ جو نجاست اپنے محل میں ہے غیر معتبر ہے اور اس کو نجاست کا حکم نہیں دیا جائے گا کیونکہ ہم کہتے ہیں ہم نے مان لیا لیکن لعاب اپنے اس مقام سے جہاں وہ پیدا ہوا منتقل ہو کر منہ سے مل جاتا ہے جسے باطن سے باہر آنے والی چیز کی طرف نظر کرتے ہوئے ظاہر کا حکم دیا جاتا ہے لہذا اس کی نجاست کا اعتبار ہوگا اور اس سے اس کی زبان اور تمام منہ ناپاك ہوگیا پس وہ مانع ہوگا انتہی تلخیص۔ (ت)
اس مسلك پر یہ فرع صرف طہارت عین پر مبنی نہیں بلکہ اس کے ساتھ صحت صلاۃ کے لئے طہارت لعاب بھی درکار اور وہ کلب وغیرہ سباع بہائم میں مفقود لہذا صحت نماز بھی مفقود اگرچہ طاہر العین ہی ہو ایسی جگہ المبنی علی صحیح صحیح نہیں یہ تو اختلاف علماء تھا ترجیح دیکھیے تو وہ مسلك اول ہی کی طرف ہے محیط رضوی وبحرالرائق ودرمختار وغیرہا میں صراحۃ اس کی تصحیح بلفظ اصح اور حلیہ میں بلفظ اشبہ مذکور۔
کمامروقدصرح العلامۃ الفقیہ خیر الدین الرملی فی فتاواہ الخیریۃ لنفع البریۃ من کتاب الطلاق بما نصہ وانت علی علم بانہ بعد التنصیص علی اصحیتہ لایعدل عنہ الی غیرہ اھ وفیھا من کتاب الصلح حیث
جیسا کہ گزرا علامہ فقیہ خیر الدین رملی نے اپنے فتاوی الخیریہ لنفع البریہ کی کتاب الطلاق میں اسے صراحۃ بیان کیا اور تم جانتے ہو کہ اس کے اصح ہونے پر تنصیص کے بعد غیر کی طرف عدول نہیں کیا جاتا انتہی اور اس کی کتاب الصلح میں ہے کہ جب اصح ثابت
حوالہ / References
منیۃ المصلی ، فصل الاسآر مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامع نظامیہ لاہور ص۱۵۸
غنیۃ المستملی فصل الاسآر مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۹۱
فتاوٰی خیریۃ کتاب الطلاق مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۳۹
غنیۃ المستملی فصل الاسآر مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۹۱
فتاوٰی خیریۃ کتاب الطلاق مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۱ / ۳۹
ثبت الاصح لایعدل عنہ ۔
ہوجائے تو اس سے عدول نہیں کیا جاتا۔ (ت)
معہذا اکثر وہ کتابیں جن میں مسلك اول اختیار فرمایا شروح ہیں اور مسلك دوم پر اکثر مشی کرنے والے فتاوی اور شروح فتاوے پر مرجح ہیں۔ کمانصوا علیہ فی مواضع لاتحصی کثرۃ (جیسا کہ انہوں نے بیشمار مقامات پر اس بات کی تصریح فرمائی ہے۔ ت) تو ثابت ہوا کہ مذہب ارجح پر اس فرع کو بھی مثل فروع سابقہ صرف طہارت عین ہی پر ابتنا ہے او ر ایسی جگہ بلاشبہہ المبنی علی صحیح صحیح صحیح (جو چیز صحیح پر مبنی ہوتی ہے وہ صحیح ہوتی ہے۔ ت)
اما تدقیق الغنیۃ فاقول : وبالله التوفیق سلمنا ان الریق لایتولد فی الفم لکن لاشك ان معدنہ ھو الفم حتی انہ لایسمی ریقا مالم یطلع فی الفم وبہ فارق الدم ولایجب لکون شےیئ معدن شےیئ تولدہ فیہ الا تری ان العروق معادن الدم لاشك مع انہ لایتولد فیھا بل فی الکبد ثم یسری الیھا ویجری فیھا وقدرأیناکم فی مسئلۃ ان السخلۃ اذا وقعت من امھا رطبۃ فی الماء لا تفسدہ عللتموھا بقولکم وھذا لان الرطوبۃ التی علیھا لیست بنجسۃ لکونھا فی محلھا اھ امافاذاکانت رطوبۃ رحم امھا علی جلدھا فی محلھا فماظنکم بالریق فی الفم بل التحقیق عندی ان نفی الکون فی المحل عن ھذا واثباتہ لرطوبۃ السخلۃ کلاھما سھواما
میں غنیہ کی تدقیق کے بارے میں اللہ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں ہم نے مان لیا کہ لعاب منہ میں پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اس میں شك نہیں کہ اس کا معدن منہ ہی حتی کہ جب تك وہ منہ میں ظاہر نہ ہو اس کو لعاب نہیں کہا جاتا اور اس سے خون (کا حکم) الگ ہوگیا اور کسی چیز کے کسی کیلئے معدن ہونے سے لازم نہیں آتا کہ وہ اس میں پیدا بھی ہوکیا تم نہیں دیکھتے کہ خون کا معدن رگیں ہیں اس میں کوئی شك نہیں لیکن اس کے باوجود وہاں پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ جگر میں پیدا ہوتا ہے پھر ان کی طرف چلتا اور رگوں میں جاری ہوتا ہے۔ ہم نے تمہیں دکھایا کہ بکری کا تربچہ جو اپنی ماں سے پیدا ہوکر پانی میں گرا پانی خراب نہیں ہوا تم نے اس کی علت یوں بیان کی کہ اس پر جو رطوبت ہے وہ ناپاك نہیں کیونکہ وہ اپنے محل میں ہے اھ۔ پس جب بچے کی جلد پر اس کی ماں کے رحم کی رطوبت اپنے محل میں ہے تو منہ میں پائے جانےوالے
ہوجائے تو اس سے عدول نہیں کیا جاتا۔ (ت)
معہذا اکثر وہ کتابیں جن میں مسلك اول اختیار فرمایا شروح ہیں اور مسلك دوم پر اکثر مشی کرنے والے فتاوی اور شروح فتاوے پر مرجح ہیں۔ کمانصوا علیہ فی مواضع لاتحصی کثرۃ (جیسا کہ انہوں نے بیشمار مقامات پر اس بات کی تصریح فرمائی ہے۔ ت) تو ثابت ہوا کہ مذہب ارجح پر اس فرع کو بھی مثل فروع سابقہ صرف طہارت عین ہی پر ابتنا ہے او ر ایسی جگہ بلاشبہہ المبنی علی صحیح صحیح صحیح (جو چیز صحیح پر مبنی ہوتی ہے وہ صحیح ہوتی ہے۔ ت)
اما تدقیق الغنیۃ فاقول : وبالله التوفیق سلمنا ان الریق لایتولد فی الفم لکن لاشك ان معدنہ ھو الفم حتی انہ لایسمی ریقا مالم یطلع فی الفم وبہ فارق الدم ولایجب لکون شےیئ معدن شےیئ تولدہ فیہ الا تری ان العروق معادن الدم لاشك مع انہ لایتولد فیھا بل فی الکبد ثم یسری الیھا ویجری فیھا وقدرأیناکم فی مسئلۃ ان السخلۃ اذا وقعت من امھا رطبۃ فی الماء لا تفسدہ عللتموھا بقولکم وھذا لان الرطوبۃ التی علیھا لیست بنجسۃ لکونھا فی محلھا اھ امافاذاکانت رطوبۃ رحم امھا علی جلدھا فی محلھا فماظنکم بالریق فی الفم بل التحقیق عندی ان نفی الکون فی المحل عن ھذا واثباتہ لرطوبۃ السخلۃ کلاھما سھواما
میں غنیہ کی تدقیق کے بارے میں اللہ تعالی کی توفیق سے کہتا ہوں ہم نے مان لیا کہ لعاب منہ میں پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اس میں شك نہیں کہ اس کا معدن منہ ہی حتی کہ جب تك وہ منہ میں ظاہر نہ ہو اس کو لعاب نہیں کہا جاتا اور اس سے خون (کا حکم) الگ ہوگیا اور کسی چیز کے کسی کیلئے معدن ہونے سے لازم نہیں آتا کہ وہ اس میں پیدا بھی ہوکیا تم نہیں دیکھتے کہ خون کا معدن رگیں ہیں اس میں کوئی شك نہیں لیکن اس کے باوجود وہاں پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ جگر میں پیدا ہوتا ہے پھر ان کی طرف چلتا اور رگوں میں جاری ہوتا ہے۔ ہم نے تمہیں دکھایا کہ بکری کا تربچہ جو اپنی ماں سے پیدا ہوکر پانی میں گرا پانی خراب نہیں ہوا تم نے اس کی علت یوں بیان کی کہ اس پر جو رطوبت ہے وہ ناپاك نہیں کیونکہ وہ اپنے محل میں ہے اھ۔ پس جب بچے کی جلد پر اس کی ماں کے رحم کی رطوبت اپنے محل میں ہے تو منہ میں پائے جانےوالے
حوالہ / References
فتاوی خیریۃ کتاب الصلح مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۱۰۴
غنیۃ المستملی فصل فی الانجاس مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۰
غنیۃ المستملی فصل فی الانجاس مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۵۰
الاول فلما سمعت واما الاخر فلان المحل الذی لایحکم فیہ بنجاسۃ النجاسۃ انماھو معدنھا لا ما اصابتہ ومعدن تلك الرطوبات ھی الرحم دون جلد السخلۃ کمالایخفی والفرع ماش علی قول الامام بطھارۃ رطوبۃ الرحم فقدحققنا فیما علقنا علی ردالمحتار ان الفرج فی قولھم رطوبۃ الفرج طاھرۃ عندہ لاعندھما بالمعنی الشامل للفرج الخارج والفرج الداخل والرحم جمیعا وما یری من التعارض فی الفروع فللتفریع علی القولین۔
لعاب کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے بلکہ میرے نزدیك تحقیق یہ ہے کہ اس کا اپنے محل میں نہ ہونا اور بکری کے بچے کی رطوبت کا اپنے محل میں ثابت ہونا دونوں باتیں سہو ہیں۔ پہلی بات اس بنیاد پر جو تم نے سن لیا۔ اور دوسری بات اس لئے کہ وہ محل اس کا معدن ہے جس میں (پائی جانے والی) نجاست پر نجاست کا حکم نہیں لگے گا نہ وہ جو اس کو پہنچے۔ اور ان رطوبات کا معدن رحم ہے نہ بچے کی جلد۔ جیسا کہ مخفی نہیں اور فرع امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہکے قول کہ رحم کی رطوبت پاك ہے پر جاری ہوتی ہے ہم نے ردالمحتار کی تعلیق میں اس مسئلہ کی تحقیق کی ہے کہ فرج انکے قول “ فرج کی رطوبت امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك پاك ہے صاحبین کے نزدیك نہیں “ میں عام معنی کے اعتبار سے فرج خارج فرج داخل اور رحم سب کو شامل ہے۔ اوروہ جو فروع میں تعارض دکھائی دیتا ہے تو یہ دو قولوں پر تفریع کی بنیاد پر ہے۔ (ت)
پس ثابت ہوا کہ ان دونوں مسئلہ اصل وفرع میں کلام زید عین اصابت سے ناشی اور قول صحیح ورجیح وصح وارجح پر ماشی ہے ھکذا ینبغی التحقیق والله تعالی ولی التوفیق (تحقیق اسی طرح چاہے اور اللہ تعالی ہی توفیق دینے والا ہے۔ ت)
تنبیہ نبیہ : ہر عاقل ذی علم جانتا ہے کہ جواز بمعنی صحت وبمعنی اباحت خصوصا اباحت بالمعنی الاخص الغیر الشامل لکراہۃ التنزیہ اعنی تساوی الطرفین (خصوصا اباحت اخص معنی کے اعتبار سے جو کراہۃ تنزیہی کو شامل نہیں یعنی دونوں طرفوں کے برابر ہونے میں۔ ت) میں زمین آسمان کا فرق ہے اول ہرگز مستلزم ثانی نہیں بہت افعال کہ مکروہ تنزیہی بلکہ تحریمی بلکہ حرام ہیں منافی صحت نماز نہیں ہوتے تو نماز ان افعال کے ساتھ جائز ہوگی یعنی صحیح ومسقط فرض مکروہ فعل جائز ومباح بالمعنے المذکور نہ ہوگا بلکہ حرام یا گناہ یا ناپسند علمائے کرام اہل مسلك اول کہ حمل کلب وغیرہ سباع سوائے خنزیر کے ساتھ نماز جائز بتاتے ہیں جواز بمعنی صحت میں کلام فرمارہے ہیں یعنی ان جانوروں کا پاس ہونا نہ طہارت وغیرہ کسی شرط نماز کا ناکافی نہ کسی رکن وفرض نماز کا منافی تو نماز فاسد نہ ہوگی فرض اترجائے گا معاذاللہ یہ نہیں فرماتے کہ بے ضرورت شرعیہ ایسا فعل مکروہ وناپسند نہیں حاشا کلب تو کلب
لعاب کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے بلکہ میرے نزدیك تحقیق یہ ہے کہ اس کا اپنے محل میں نہ ہونا اور بکری کے بچے کی رطوبت کا اپنے محل میں ثابت ہونا دونوں باتیں سہو ہیں۔ پہلی بات اس بنیاد پر جو تم نے سن لیا۔ اور دوسری بات اس لئے کہ وہ محل اس کا معدن ہے جس میں (پائی جانے والی) نجاست پر نجاست کا حکم نہیں لگے گا نہ وہ جو اس کو پہنچے۔ اور ان رطوبات کا معدن رحم ہے نہ بچے کی جلد۔ جیسا کہ مخفی نہیں اور فرع امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہکے قول کہ رحم کی رطوبت پاك ہے پر جاری ہوتی ہے ہم نے ردالمحتار کی تعلیق میں اس مسئلہ کی تحقیق کی ہے کہ فرج انکے قول “ فرج کی رطوبت امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك پاك ہے صاحبین کے نزدیك نہیں “ میں عام معنی کے اعتبار سے فرج خارج فرج داخل اور رحم سب کو شامل ہے۔ اوروہ جو فروع میں تعارض دکھائی دیتا ہے تو یہ دو قولوں پر تفریع کی بنیاد پر ہے۔ (ت)
پس ثابت ہوا کہ ان دونوں مسئلہ اصل وفرع میں کلام زید عین اصابت سے ناشی اور قول صحیح ورجیح وصح وارجح پر ماشی ہے ھکذا ینبغی التحقیق والله تعالی ولی التوفیق (تحقیق اسی طرح چاہے اور اللہ تعالی ہی توفیق دینے والا ہے۔ ت)
تنبیہ نبیہ : ہر عاقل ذی علم جانتا ہے کہ جواز بمعنی صحت وبمعنی اباحت خصوصا اباحت بالمعنی الاخص الغیر الشامل لکراہۃ التنزیہ اعنی تساوی الطرفین (خصوصا اباحت اخص معنی کے اعتبار سے جو کراہۃ تنزیہی کو شامل نہیں یعنی دونوں طرفوں کے برابر ہونے میں۔ ت) میں زمین آسمان کا فرق ہے اول ہرگز مستلزم ثانی نہیں بہت افعال کہ مکروہ تنزیہی بلکہ تحریمی بلکہ حرام ہیں منافی صحت نماز نہیں ہوتے تو نماز ان افعال کے ساتھ جائز ہوگی یعنی صحیح ومسقط فرض مکروہ فعل جائز ومباح بالمعنے المذکور نہ ہوگا بلکہ حرام یا گناہ یا ناپسند علمائے کرام اہل مسلك اول کہ حمل کلب وغیرہ سباع سوائے خنزیر کے ساتھ نماز جائز بتاتے ہیں جواز بمعنی صحت میں کلام فرمارہے ہیں یعنی ان جانوروں کا پاس ہونا نہ طہارت وغیرہ کسی شرط نماز کا ناکافی نہ کسی رکن وفرض نماز کا منافی تو نماز فاسد نہ ہوگی فرض اترجائے گا معاذاللہ یہ نہیں فرماتے کہ بے ضرورت شرعیہ ایسا فعل مکروہ وناپسند نہیں حاشا کلب تو کلب
ان جانوروں کی نسبت جن کا نہ صرف بدن بلکہ لعاب بھی پاك ہے صاف تصریح فرماتے ہیں کہ نماز میں انہیں اٹھائے ہونا برا ہے جو ایسا کرے گا برا کرے گا خانیہ وخلاصہ وبزازیہ وہندیہ وذخیرہ ومنتقی کی عبارتیں محرر مذہب سیدنا امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد سن چکے کہ یجوز واساء اجزأہ وقد اساء (جائز ہے لیکن برا کیا اسے کفایت کرتا ہے لیکن وہ گنہگار ہوا۔ ت) نماز تو ہوگئی مگر اس نے برا کیا تو جب پاك بدن پاك دہن جانوروں کی نسبت یہ ارشاد ہے ناپاك دہن جانوروں کو لینا کس قدر سخت ناپسند رکھیں گے بلکہ جانور کا کیا ذکر بے ضرورت لڑکوں بچوں کا اٹھانا بھی مکروہ بتاتے ہیں۔ درمختار میں ہے : یکرہ حمل الطفل (بچے کو اٹھانا مکروہ ہے۔ ت) یہاں تك کہ بے ضرورت تلوار باندھنا بھی مکروہ رکھتے ہیں جبکہ اس کی حرکت سے دل بٹے۔ نورالایضاح ومراقی الفلاح میں ہے :
لایکرہ تقلد المصلی بسیف ونحوہ اذالم یشتغل بحرکۃ وان شغلہ کرہ فی غیر حالۃ قتال ۔
نمازی کا تلوار وغیرہ باندھنا مکروہ نہیں جب اس کی حرکت سے مشغول نہ ہو اگر وہ مشغول رکھے تو حالت جنگ کے سوا مکروہ ہے۔ (ت)
تو ان کی نسبت یہ گمان کرنا کہ وہ اس فعل کو پسند رکھتے یا ناپسند نہیں جانتے ہیں محض بدگمانی وبدزبانی ہے۔ بحمداللہ تعالی اس تقریر سے روشن ہوگیا کہ غیر مقلد صاحبوں کا اس مسئلہ کو مطاعن ائمہ عظام حنفیہ کرام خصہم اللہ تعالی باللطف العام وعمہم بالجود والانعام واللہ تعالی انہیں عمومی لطف وکرم کے ساتھ خاص فرمائے اور انہیں عام جود وانعام عطا فرمائے۔ ت) میں شمار کرنا محض سفاہت وبے عقلی ہے حضرات صاحبین اور ان کے موافقین رحمۃ اللہ تعالی علیہتعالی علیہم اجمعین کے نزدیك تو کتا نجس العین ہے اور طاہر ماننے والوں سے بھی ایك جماعت عظمیہ اہل مسلك ثانی مطلقا اس صورت میں نماز فاسد بتاتے ہیں رہے قائلین طہارت سے اہل مسلك اول وہ بھی اسأت وکراہت کی تصریح فرماتے ہیں ان کا مطلب صرف اس قدر کہ اگر کسی شخص نے کسی ضرورت وحاجت خواہ اپنی نادانی وجہالت سے ایسا کیا تو نماز باطل نہ ہوگی اس میں معاذ اللہ کیا جائے طعن ہے ہاں اگر فرماتے کہ ایسا کرنا چاہے یا کرے تو کچھ ناپسندیدہ نہیں تو ایك بات تھی مگر حاشاوہ اس تہمت سے پاك ومنزہ ہیں ولله الحمد الحمدلله کہ یہ جواب ۲۴ رجب مرجب عـــہ ۱۳۱۲ ہجریہ قدسیہ روزجان سے افروز دوشنبہ کو تمام اور بلحاظ تاریخ سلب الثلب عن القائلین بطھارۃ الکلب۱۳۳۳ھ(کتے کی طہارت عین کے قائلین سے عیب دور کرنے کا
عـــہ : بسبب مکابرہ بعض اہل بدعت وتحریر بعض دیگر فتاوائے ضروریہ بارہ روز تك یہ جواب نہ لکھا گیا ۱۲ (م)
لایکرہ تقلد المصلی بسیف ونحوہ اذالم یشتغل بحرکۃ وان شغلہ کرہ فی غیر حالۃ قتال ۔
نمازی کا تلوار وغیرہ باندھنا مکروہ نہیں جب اس کی حرکت سے مشغول نہ ہو اگر وہ مشغول رکھے تو حالت جنگ کے سوا مکروہ ہے۔ (ت)
تو ان کی نسبت یہ گمان کرنا کہ وہ اس فعل کو پسند رکھتے یا ناپسند نہیں جانتے ہیں محض بدگمانی وبدزبانی ہے۔ بحمداللہ تعالی اس تقریر سے روشن ہوگیا کہ غیر مقلد صاحبوں کا اس مسئلہ کو مطاعن ائمہ عظام حنفیہ کرام خصہم اللہ تعالی باللطف العام وعمہم بالجود والانعام واللہ تعالی انہیں عمومی لطف وکرم کے ساتھ خاص فرمائے اور انہیں عام جود وانعام عطا فرمائے۔ ت) میں شمار کرنا محض سفاہت وبے عقلی ہے حضرات صاحبین اور ان کے موافقین رحمۃ اللہ تعالی علیہتعالی علیہم اجمعین کے نزدیك تو کتا نجس العین ہے اور طاہر ماننے والوں سے بھی ایك جماعت عظمیہ اہل مسلك ثانی مطلقا اس صورت میں نماز فاسد بتاتے ہیں رہے قائلین طہارت سے اہل مسلك اول وہ بھی اسأت وکراہت کی تصریح فرماتے ہیں ان کا مطلب صرف اس قدر کہ اگر کسی شخص نے کسی ضرورت وحاجت خواہ اپنی نادانی وجہالت سے ایسا کیا تو نماز باطل نہ ہوگی اس میں معاذ اللہ کیا جائے طعن ہے ہاں اگر فرماتے کہ ایسا کرنا چاہے یا کرے تو کچھ ناپسندیدہ نہیں تو ایك بات تھی مگر حاشاوہ اس تہمت سے پاك ومنزہ ہیں ولله الحمد الحمدلله کہ یہ جواب ۲۴ رجب مرجب عـــہ ۱۳۱۲ ہجریہ قدسیہ روزجان سے افروز دوشنبہ کو تمام اور بلحاظ تاریخ سلب الثلب عن القائلین بطھارۃ الکلب۱۳۳۳ھ(کتے کی طہارت عین کے قائلین سے عیب دور کرنے کا
عـــہ : بسبب مکابرہ بعض اہل بدعت وتحریر بعض دیگر فتاوائے ضروریہ بارہ روز تك یہ جواب نہ لکھا گیا ۱۲ (م)
حوالہ / References
درمختار باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۹۳
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فیما یکر للمصلی مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص۲۰۲
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی فصل فیما یکر للمصلی مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص۲۰۲
بیان۔ ت) تام ہوا۔
(واخر دعونا ان الحمدلله رب العلمین وافضل الصلاۃ والسلام علی سید المرسلین سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔
اور ہماری آخر پکار یہ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے اور صلاۃ وسلام تمام رسولوں کے سردار ہمارے سردار اور مولی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور آپ کے تمام آل واصحاب پر ہو۔ (ت)
والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
______________
مسئلہ ۱۷۸ : از کلکتہ دھرم تلانمبر ۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب۲۲ شعبان ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میری بغل میں دادیا پھنسی کسی قسم کی ہوگئی ہے اس میں چل ہوتی ہے جس وقت کھجلاتا ہوں تو کچ لہو سا نکل آتا ہے اس جگہ کا پاك کرنا سیلان آب تو بغیر سارے بدن زیرین کے ہونہیں سکتا لہذا اس موضع کو تین مرتبہ کپڑا پانی میں تر کرکے اپنے فہم کے موافق پاك کرلیتا ہوں اور کپڑا ہر مرتبہ میں دوسرا لیتا ہوں کہ اول کو پاك کرنا ذرا دشوار ہوتا ہے اور یہی صورت جناب مولوی سعادت حسین صاحب مدرس مدرسہ عالیہ نے بتائی اگر آپ اپنی رائے سے مطلع فرمائیں گے تو ان شاء الله تعالی اطمینان کل ہوجائے گا بینوا توجروا۔
الجواب :
یہ مسئلہ اگرچہ ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہممیں مختلف فیہ اور مشایخ فتوی رحمۃ اللہ تعالی علیہم میں معرکۃ الآرا رہا ہے مگر فقیر غفراللہ تعالی اسی پر فتوی دیتا ہے کہ بدن سے نجاست دور کرنے میں دھونا یعنی پانی وغیرہ بہانا شرط نہیں بلکہ اگر پاك کپڑا پانی میں بھگوکر اس قدر پونچھیں کہ نجاست مرئیہ ہے تو اس کا اثر نہ رہے مگر اتنا جس کا ازالہ شاق ہو اور غیر مرئیہ ہے تو ظن غالب ہوجائے کہ اب باقی نہ رہی اور ہر بار کپڑا تازہ لیں یا اسی کو پاك کرلیا کریں تو بدن پاك ہوجائیگا اگرچہ ایك قطرہ پانی کا نہ بہے یہ مذہب ہمارے امام مذہب سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکا ہے اور یہاں امام محمد بھی ان کے موافق ہیں اور بہت اکابر ائمہ فتوی نے اسے اختیار فرمایا اور عامہ کتب معتبرہ مذہب میں بہت فروع اسی پر مبتنی ہیں تو اس پر بے دغدغہ عمل کیا جاسکتا ہے مثلا ۱ انگلی پر کچھ نجاست لگ گئی تھی اسے خبر نہ تھی کسی وجہ سے انگلی تین بار چاٹ لی یہاں تك کہ اس کا اثر
(واخر دعونا ان الحمدلله رب العلمین وافضل الصلاۃ والسلام علی سید المرسلین سیدنا ومولنا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔
اور ہماری آخر پکار یہ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے اور صلاۃ وسلام تمام رسولوں کے سردار ہمارے سردار اور مولی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور آپ کے تمام آل واصحاب پر ہو۔ (ت)
والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
______________
مسئلہ ۱۷۸ : از کلکتہ دھرم تلانمبر ۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب۲۲ شعبان ۱۳۱۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میری بغل میں دادیا پھنسی کسی قسم کی ہوگئی ہے اس میں چل ہوتی ہے جس وقت کھجلاتا ہوں تو کچ لہو سا نکل آتا ہے اس جگہ کا پاك کرنا سیلان آب تو بغیر سارے بدن زیرین کے ہونہیں سکتا لہذا اس موضع کو تین مرتبہ کپڑا پانی میں تر کرکے اپنے فہم کے موافق پاك کرلیتا ہوں اور کپڑا ہر مرتبہ میں دوسرا لیتا ہوں کہ اول کو پاك کرنا ذرا دشوار ہوتا ہے اور یہی صورت جناب مولوی سعادت حسین صاحب مدرس مدرسہ عالیہ نے بتائی اگر آپ اپنی رائے سے مطلع فرمائیں گے تو ان شاء الله تعالی اطمینان کل ہوجائے گا بینوا توجروا۔
الجواب :
یہ مسئلہ اگرچہ ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالی عنہممیں مختلف فیہ اور مشایخ فتوی رحمۃ اللہ تعالی علیہم میں معرکۃ الآرا رہا ہے مگر فقیر غفراللہ تعالی اسی پر فتوی دیتا ہے کہ بدن سے نجاست دور کرنے میں دھونا یعنی پانی وغیرہ بہانا شرط نہیں بلکہ اگر پاك کپڑا پانی میں بھگوکر اس قدر پونچھیں کہ نجاست مرئیہ ہے تو اس کا اثر نہ رہے مگر اتنا جس کا ازالہ شاق ہو اور غیر مرئیہ ہے تو ظن غالب ہوجائے کہ اب باقی نہ رہی اور ہر بار کپڑا تازہ لیں یا اسی کو پاك کرلیا کریں تو بدن پاك ہوجائیگا اگرچہ ایك قطرہ پانی کا نہ بہے یہ مذہب ہمارے امام مذہب سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہکا ہے اور یہاں امام محمد بھی ان کے موافق ہیں اور بہت اکابر ائمہ فتوی نے اسے اختیار فرمایا اور عامہ کتب معتبرہ مذہب میں بہت فروع اسی پر مبتنی ہیں تو اس پر بے دغدغہ عمل کیا جاسکتا ہے مثلا ۱ انگلی پر کچھ نجاست لگ گئی تھی اسے خبر نہ تھی کسی وجہ سے انگلی تین بار چاٹ لی یہاں تك کہ اس کا اثر
جاتا رہا انگلی پاك ہوگئی۔ عورت۲ کے سرپستان پر ناپاکی تھی بچے نے دودھ پیا یہاں تك کہ اثر نجاست زائل ہوا پستان پاك ہوگئی
فی الدرالمختار والبحر وغیرھما تطھر اصبع وثدی تنجس بلحس ثلثا ۔
درمختار اور بحرالرائق وغیرہ میں ہے ناپاك انگلی اور پستان تین مرتبہ چاٹنے سے پاك ہوجاتی ہے (ت)
شراب پی۳ اس کے بعد لب تین بار چاٹ لئے اور لعاب دہن میں پیدا ہوکر بار بار نگل لیا یہاں تك کہ اثر خمر نہ رہا منہ پاك ہوگیا۔ یونہی۴ بلی نے چوہا کھاکر زبان سے اپنا منہ صاف کرلیا اور دیرگزری کہ دہن بوجہ لعاب صاف ہوگیا اس کے بعد پانی پیا پانی ناپاك نہ ہوگا۔
فی التنویر سؤر شارب خمر فورشربھا وھرۃ فوراکل فارۃ نجس فی ردالمحتار عن الحلیۃ بخلاف ما اذا مکث ساعۃ ابتلع ریقہ ثلث مرات بعد لحس شفیتہ بلسانہ وریقہ ثم شرب فانہ لاینجس لا بد ان یکون المراد اذا لم یکن فی بزاقہ اثر الخمر من طعم اوریح اھ۔ وفیہ عنھا فی مسألۃ الھرۃ فان مکث ساعۃ ولحست فمھا فمکروہ منیۃ ولاینجس عندھما وقال محمد ینجس لان النجاسۃ لا تزول عندہ الابالماء الخ۔
تنویر میں ہے شرابی کے شراب پینے کے فورا بعد کا جھوٹا اور بلی کے چوہا کھانے کے فورا بعد کا جھوٹا ناپاك ہے۔ ردالمحتار میں حلیہ سے منقول ہے کہ بخلاف اس کے جب ایك ساعت ٹھہر جائے اور زبان اور لعاب کے ساتھ ہونٹوں کو چاٹنے کے بعد اپنا لعاب تین بارنگل لے پھر (پانی وغیرہ) پئے تو وہ ناپاك نہیں ہوگا۔ اس سے یہ بات مراد لینا ضروری ہے کہ جب اس کے لعاب میں شراب کے ذائقے یا بو کا اثر نہ ہو اھ۔ اور اسی (ردالمحتار) میں اس (حلیہ) سے بلی کے مسئلے میں ہے کہ اگر وہ ایك ساعت ٹھہرے اور اپنا منہ چاٹ لے تو مکروہ ہے (منیہ) شیخین کے نزدیك ناپاك نہیں ہوگا اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں ناپاك ہوجائے کیونکہ ان کے نزدیك پانی کے بغیر نجاست زائل نہیں ہوتی۔ (ت)
فی الدرالمختار والبحر وغیرھما تطھر اصبع وثدی تنجس بلحس ثلثا ۔
درمختار اور بحرالرائق وغیرہ میں ہے ناپاك انگلی اور پستان تین مرتبہ چاٹنے سے پاك ہوجاتی ہے (ت)
شراب پی۳ اس کے بعد لب تین بار چاٹ لئے اور لعاب دہن میں پیدا ہوکر بار بار نگل لیا یہاں تك کہ اثر خمر نہ رہا منہ پاك ہوگیا۔ یونہی۴ بلی نے چوہا کھاکر زبان سے اپنا منہ صاف کرلیا اور دیرگزری کہ دہن بوجہ لعاب صاف ہوگیا اس کے بعد پانی پیا پانی ناپاك نہ ہوگا۔
فی التنویر سؤر شارب خمر فورشربھا وھرۃ فوراکل فارۃ نجس فی ردالمحتار عن الحلیۃ بخلاف ما اذا مکث ساعۃ ابتلع ریقہ ثلث مرات بعد لحس شفیتہ بلسانہ وریقہ ثم شرب فانہ لاینجس لا بد ان یکون المراد اذا لم یکن فی بزاقہ اثر الخمر من طعم اوریح اھ۔ وفیہ عنھا فی مسألۃ الھرۃ فان مکث ساعۃ ولحست فمھا فمکروہ منیۃ ولاینجس عندھما وقال محمد ینجس لان النجاسۃ لا تزول عندہ الابالماء الخ۔
تنویر میں ہے شرابی کے شراب پینے کے فورا بعد کا جھوٹا اور بلی کے چوہا کھانے کے فورا بعد کا جھوٹا ناپاك ہے۔ ردالمحتار میں حلیہ سے منقول ہے کہ بخلاف اس کے جب ایك ساعت ٹھہر جائے اور زبان اور لعاب کے ساتھ ہونٹوں کو چاٹنے کے بعد اپنا لعاب تین بارنگل لے پھر (پانی وغیرہ) پئے تو وہ ناپاك نہیں ہوگا۔ اس سے یہ بات مراد لینا ضروری ہے کہ جب اس کے لعاب میں شراب کے ذائقے یا بو کا اثر نہ ہو اھ۔ اور اسی (ردالمحتار) میں اس (حلیہ) سے بلی کے مسئلے میں ہے کہ اگر وہ ایك ساعت ٹھہرے اور اپنا منہ چاٹ لے تو مکروہ ہے (منیہ) شیخین کے نزدیك ناپاك نہیں ہوگا اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں ناپاك ہوجائے کیونکہ ان کے نزدیك پانی کے بغیر نجاست زائل نہیں ہوتی۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۳
درمختار فصل فی البئر مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
ردالمحتار فصل فی البئر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۳
ردالمحتار فصل فی البئر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۴
درمختار فصل فی البئر مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰
ردالمحتار فصل فی البئر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۳
ردالمحتار فصل فی البئر مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۶۴
قے۵ ہوئی اور اتنی دیر کے بعد کہ آمدورفت لعاب نے اس کا اثر کھودیا یا نماز پڑھی نماز ہوگئی۔
فی المنیۃ والحلیۃ م وکذا باللحس اذا اصاب الخمر یدہ فلحسہ بریقہ ثلاث مراۃ یطھر کما یطھر فمہ بریقہ ش فی الفتاوی الخانیۃ اذا قاء ملأ الفم ینبغی ان یغسل فاہ فان توضأ ولم یغسل فاہ حتی صلی جازت صلاتہ لانہ یطھر بالبزاق فی قول ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی الله تعالی عنہما وکذا اذا شرب الخمر ثم صلی بعد زمان وکذا اذااصاب بعض اعضائہ نجاسۃ فطھرھا بلسانہ حتی ذھب اثرھا وکذا السکین اذا تنجس فلحسہ بلسانہ اومسحہ بریقہ وکذا الصبی اذا قاء علی ثدی الامام ثم مص الثدی مرارا یطھر انتھی وکذا فی غیرھا والذی تقتضیہ القواعد المذھبیۃ من تحریر الکلام فی ھذا المقام انہ اذا اصاب بعض اعضائہ نجاسۃ حقیقیۃ فان کانت مرئیۃ ولحسھا ھو اوغیرہ حتی ذھب عینھا واثرھا ان کان لایشق زوالہ یطھر وان کانت غیر مرئیۃ فتطھر باللحس ثلاث مرات کماذکرہ المصنف فی ھذہ المسألۃ اوحتی یغلب علی الظن زوالھا وسیصرح المصنف ان الفتوی علیہ ۔
منیہ اور حلیہ میں ہے ماتن نے فرمایا “ اور اسی طرح چاٹنے کے ساتھ (پاك ہوجاتا ہے) جب کسی آدمی کے ہاتھ کو شراب لگ گئی پس اس نے اپنے لعاب کے ساتھ تین بار چاٹا تو پاك ہوجائیگا جیسے اس کا منہ تھوك کے ساتھ پاك ہوجاتا ہے اس پر شارح نے فرمایا فتاوی خانیہ میں ہے جب کسی نے منہ بھر کر قے کی تو چاہے کہ اپنا منہ دھولے اگر اس نے وضو کیا لیکن کلی نہیں کی یہاں تك کہ نماز پڑھ لی تو اس کی نماز جائز ہوجائیگی کیونکہ وہ امام اعظم اور امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہماکے نزدیك تھوك سے پاك ہوجاتا ہے۔ اس طرح جب شراب پی پھر کچھ دیر بعد نماز پڑھی یوں ہی جب اس کے بعض اعضا پر نجاست لگی اور اس نے اس کو اپنی زبان سے پاك کردیا یہاں تك کہ اس کا اثر چلاگیا اسی طرح جب چھری ناپاك ہوگئی پھر اس نے اسے زبان سے چاٹا یا تھوك سے صاف کیا یوں ہی جب بچے نے ماں کے پستان پر قے کی پھر کئی بار پستان کو چوسا تو وہ پاك ہوجائے گا انتہی۔ دوسری کتب میں بھی اسی طرح ہے۔ قواعد مذہبیہ اس مقام پر جس کلام کے تحریر کے متقاضی ہیں وہ یہ ہیں کہ جب کسی عضو پر نجاست حقیقی لگ جائے تو اگر وہ دکھائی دینے والی ہے اور اس نے یا کسی دوسرے نے اس کو چاٹ لیا یہاں تك کہ اصل نجاست اور اس کا اثر زائل ہوگیا۔ اگر اس کو دور کرنے میں مشقت نہ ہو تو پاك ہوجائے گا اور
فی المنیۃ والحلیۃ م وکذا باللحس اذا اصاب الخمر یدہ فلحسہ بریقہ ثلاث مراۃ یطھر کما یطھر فمہ بریقہ ش فی الفتاوی الخانیۃ اذا قاء ملأ الفم ینبغی ان یغسل فاہ فان توضأ ولم یغسل فاہ حتی صلی جازت صلاتہ لانہ یطھر بالبزاق فی قول ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی الله تعالی عنہما وکذا اذا شرب الخمر ثم صلی بعد زمان وکذا اذااصاب بعض اعضائہ نجاسۃ فطھرھا بلسانہ حتی ذھب اثرھا وکذا السکین اذا تنجس فلحسہ بلسانہ اومسحہ بریقہ وکذا الصبی اذا قاء علی ثدی الامام ثم مص الثدی مرارا یطھر انتھی وکذا فی غیرھا والذی تقتضیہ القواعد المذھبیۃ من تحریر الکلام فی ھذا المقام انہ اذا اصاب بعض اعضائہ نجاسۃ حقیقیۃ فان کانت مرئیۃ ولحسھا ھو اوغیرہ حتی ذھب عینھا واثرھا ان کان لایشق زوالہ یطھر وان کانت غیر مرئیۃ فتطھر باللحس ثلاث مرات کماذکرہ المصنف فی ھذہ المسألۃ اوحتی یغلب علی الظن زوالھا وسیصرح المصنف ان الفتوی علیہ ۔
منیہ اور حلیہ میں ہے ماتن نے فرمایا “ اور اسی طرح چاٹنے کے ساتھ (پاك ہوجاتا ہے) جب کسی آدمی کے ہاتھ کو شراب لگ گئی پس اس نے اپنے لعاب کے ساتھ تین بار چاٹا تو پاك ہوجائیگا جیسے اس کا منہ تھوك کے ساتھ پاك ہوجاتا ہے اس پر شارح نے فرمایا فتاوی خانیہ میں ہے جب کسی نے منہ بھر کر قے کی تو چاہے کہ اپنا منہ دھولے اگر اس نے وضو کیا لیکن کلی نہیں کی یہاں تك کہ نماز پڑھ لی تو اس کی نماز جائز ہوجائیگی کیونکہ وہ امام اعظم اور امام ابویوسف رضی اللہ تعالی عنہماکے نزدیك تھوك سے پاك ہوجاتا ہے۔ اس طرح جب شراب پی پھر کچھ دیر بعد نماز پڑھی یوں ہی جب اس کے بعض اعضا پر نجاست لگی اور اس نے اس کو اپنی زبان سے پاك کردیا یہاں تك کہ اس کا اثر چلاگیا اسی طرح جب چھری ناپاك ہوگئی پھر اس نے اسے زبان سے چاٹا یا تھوك سے صاف کیا یوں ہی جب بچے نے ماں کے پستان پر قے کی پھر کئی بار پستان کو چوسا تو وہ پاك ہوجائے گا انتہی۔ دوسری کتب میں بھی اسی طرح ہے۔ قواعد مذہبیہ اس مقام پر جس کلام کے تحریر کے متقاضی ہیں وہ یہ ہیں کہ جب کسی عضو پر نجاست حقیقی لگ جائے تو اگر وہ دکھائی دینے والی ہے اور اس نے یا کسی دوسرے نے اس کو چاٹ لیا یہاں تك کہ اصل نجاست اور اس کا اثر زائل ہوگیا۔ اگر اس کو دور کرنے میں مشقت نہ ہو تو پاك ہوجائے گا اور
حوالہ / References
منیۃ المصلی فصل فی الاسآر مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۱۴۷
حلیہ
حلیہ
اگر وہ نجاست دکھائی نہیں دیتی تو تین بار چاٹنے سے پاك ہوجاتی ہے جیسا کہ مصنف نے اس مسئلہ میں ذکر کیا ہے یا کہ اس وقت جبکہ اس کے زوال کا غالب گمان ہوجائے۔ عنقریب مصنف اس کی تصریح کریں گے کہ فتوی اسی پر ہے۔ (ت)
۶ پچھنے لگائے اور موضع خون کو بھیگے ہوئے پاکیزہ کپڑے کے تین ٹکڑوں سے پونچھ دیا پاك ہوگیا یہ صورت مسئولہ کا خاص جزئیہ ہے کہ محیط رضوی وفتاوی ذخیرہ وتتمۃ الفتاوی ظہیریہ وحلیہ وغیرہا میں اس کی تصریح ہے۔
فی الحلیۃ بعدما تقدم انفا اعلم بانھم صرحوا کما فی الخلاصۃ وکما یشیر الیہ مانقلنا انفا من الخانیۃ بان الحکم بالطھارۃ فی ھذہ الفروع تفریع علی ان الطھارۃ للبدن من النجاسۃ الحقیقیۃ یکون بغیر الماء من المائعات الطاھرات وقدعرفت انہ قول ابی حنیفۃ وابی یوسف علی اختلاف عن ابی یوسف فی ذلك غیران فی محیط الشیخ رضی الدین ولومسح موضع المحجمۃ بثلاث خرقات رطبات لطائف اجزأہ من الغسل لانہ عمل عمل الغسل وقال ابویوسف لایجزئہ حتی یغسلہ انتھی وعن الاول فی الذخیرۃ وتتمۃ الفتاوی الصغری الی ان الحاکم قال انہ روی عن ابی حفص عن محمد بن الحسن رحمہ الله تعالی ومشی علی الثانی قاضی خان بعد ان حکاہ عن الفقیہ ابی جعفر حیث قال اذاکان علی بدنہ نجاسۃ فمسحھا بخرقۃ مبلولۃ ثلاث مرات حکی عن الفقیہ ابی جعفر انہ قال یطہر اذاکان الماء متقاطرا علی بدنہ ثم قال بعد ذلك ولومسح موضع الجمامۃ بثلاثۃ خرق مبلولۃ قدمر قبل ھذا
حلیہ میں اس کے بعد جو ابھی گزرا ہے “ جان لو کہ فقہائے کرام نے تصریح کی ہے جیسا کہ خلاصہ میں ہے اور جیسا کہ اس کی طرف وہ بات اشارہ کرتی ہے جسے ہم نے ابھی خانیہ سے نقل کیا ہے کہ ان فروع میں طہارت کا حکم اس بات پر تفریع ہے کہ نجاست حقیقیہ سے بدن کی طہارت پانی کے علاوہ دیگر پاك بہنے والی چیزوں سے ہوجاتی ہے اور تم معلوم کرچکے ہوکہ یہ امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکا قول ہے لیکن امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکا کچھ اختلاف بھی ہے۔ شیخ رضی الدین کی محیط میں ہے اگر حجامت کی جگہ کو کپڑے کے تین باریك تر ٹکڑوں سے صاف کیا تو دھونے کے قائم مقام ہے کیونکہ اس نے غسل کا عمل کیا امام ابویوسف فرماتے ہیں دھونے کے بغیر کفایت نہ ہوگی (انتہی) اور پہلے کے بارے میں ذخیرہ اور فتاوی صغری کے تتمہ میں ہے یہاں تك کہ حاکم نے کہا یہ ابوحفص سے اور وہ محمد بن حسن سے روایت کرتے ہیں اور دوسرے کو قاضی خان نے فقیہ ابوجعفر سے حکایت کرنے کے بعد اختیار کیا جب کہا “ اگر اس کے بدن پر نجاست ہو پس وہ اسے کپڑے کے تر ٹکڑے کے ساتھ تین بار صاف کرے تو فقیہ ابوجعفر سے منقول ہے کہ پاك ہوجائیگا بشرطیکہ اس کے بدن پر پانی کے قطرے گریں اس کے بعد فرمایا اگر تین تر ٹکڑوں کو حجامت کی جگہ پھیرا تو پہلے گزرچکا کہ یہ
۶ پچھنے لگائے اور موضع خون کو بھیگے ہوئے پاکیزہ کپڑے کے تین ٹکڑوں سے پونچھ دیا پاك ہوگیا یہ صورت مسئولہ کا خاص جزئیہ ہے کہ محیط رضوی وفتاوی ذخیرہ وتتمۃ الفتاوی ظہیریہ وحلیہ وغیرہا میں اس کی تصریح ہے۔
فی الحلیۃ بعدما تقدم انفا اعلم بانھم صرحوا کما فی الخلاصۃ وکما یشیر الیہ مانقلنا انفا من الخانیۃ بان الحکم بالطھارۃ فی ھذہ الفروع تفریع علی ان الطھارۃ للبدن من النجاسۃ الحقیقیۃ یکون بغیر الماء من المائعات الطاھرات وقدعرفت انہ قول ابی حنیفۃ وابی یوسف علی اختلاف عن ابی یوسف فی ذلك غیران فی محیط الشیخ رضی الدین ولومسح موضع المحجمۃ بثلاث خرقات رطبات لطائف اجزأہ من الغسل لانہ عمل عمل الغسل وقال ابویوسف لایجزئہ حتی یغسلہ انتھی وعن الاول فی الذخیرۃ وتتمۃ الفتاوی الصغری الی ان الحاکم قال انہ روی عن ابی حفص عن محمد بن الحسن رحمہ الله تعالی ومشی علی الثانی قاضی خان بعد ان حکاہ عن الفقیہ ابی جعفر حیث قال اذاکان علی بدنہ نجاسۃ فمسحھا بخرقۃ مبلولۃ ثلاث مرات حکی عن الفقیہ ابی جعفر انہ قال یطہر اذاکان الماء متقاطرا علی بدنہ ثم قال بعد ذلك ولومسح موضع الجمامۃ بثلاثۃ خرق مبلولۃ قدمر قبل ھذا
حلیہ میں اس کے بعد جو ابھی گزرا ہے “ جان لو کہ فقہائے کرام نے تصریح کی ہے جیسا کہ خلاصہ میں ہے اور جیسا کہ اس کی طرف وہ بات اشارہ کرتی ہے جسے ہم نے ابھی خانیہ سے نقل کیا ہے کہ ان فروع میں طہارت کا حکم اس بات پر تفریع ہے کہ نجاست حقیقیہ سے بدن کی طہارت پانی کے علاوہ دیگر پاك بہنے والی چیزوں سے ہوجاتی ہے اور تم معلوم کرچکے ہوکہ یہ امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکا قول ہے لیکن امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکا کچھ اختلاف بھی ہے۔ شیخ رضی الدین کی محیط میں ہے اگر حجامت کی جگہ کو کپڑے کے تین باریك تر ٹکڑوں سے صاف کیا تو دھونے کے قائم مقام ہے کیونکہ اس نے غسل کا عمل کیا امام ابویوسف فرماتے ہیں دھونے کے بغیر کفایت نہ ہوگی (انتہی) اور پہلے کے بارے میں ذخیرہ اور فتاوی صغری کے تتمہ میں ہے یہاں تك کہ حاکم نے کہا یہ ابوحفص سے اور وہ محمد بن حسن سے روایت کرتے ہیں اور دوسرے کو قاضی خان نے فقیہ ابوجعفر سے حکایت کرنے کے بعد اختیار کیا جب کہا “ اگر اس کے بدن پر نجاست ہو پس وہ اسے کپڑے کے تر ٹکڑے کے ساتھ تین بار صاف کرے تو فقیہ ابوجعفر سے منقول ہے کہ پاك ہوجائیگا بشرطیکہ اس کے بدن پر پانی کے قطرے گریں اس کے بعد فرمایا اگر تین تر ٹکڑوں کو حجامت کی جگہ پھیرا تو پہلے گزرچکا کہ یہ
انہ یجوز اذاکان متقاطرا والولوالجی حیث قال ولواصاب بعض اعضائہ نجاسۃ قبل یدہ ثلثا ومسحھا علی ذلك الموضع ان کانت البلۃ من یدہ متقاطرۃ جاز والا فلا لانہ یکون غسلا انتھی فقیاس ھذا انہ لایجوز عند ابی یوسف ازالۃ النجاسۃ المذکورۃ فی الفروع الماضیۃ بالبزاق حتی یکون متقاطرا بحیث تسمی الازالۃ غسلا والله تعالی سبحنہ اعلم اھ ماافاد واجاد علیہ رحمۃ الملك الجواد وفی ردالمحتار بقی ممایطھر بالمسح موضع الحجامۃ ففی الظھیریۃ اذامسحھا بثلاث خرق رطبات لطاف اجزأہ عن الغسل واقرہ فی الفتح وقاس علیہ ماحول محل الفصد اذاتلطخ ویخاف من الاسالۃ السریان الی الثقب قال فی البحر وھو یقتضی تقیےد مسئلۃ المحاجم بمااذا خاف من الاسالۃ ضررا والمنقول مطلق اھ اقول وقدنقل فی القنیۃ عن نجم الائمۃ الاکتفاء فیھا بالمسح مرۃ واحدۃ اذازال بھا الدم لکن فی اخانیۃ لومسح موضع الحجامۃ بثلاث خرق مبلولۃ یجوز ان کان الماء متقاطرا اھ والظاھر ان ھذا مبنی علی قول ابی یوسف فی المسئلۃ بلزوم الغسل کمانقلہ عنہ فی
جائز ہے جبکہ قطرے گریں اور ولوالجی سے نقل کیا انہوں نے فرمایا اگر کسی عضو پر نجاست لگ جائے پھر وہ اپنے ہاتھ کو تین بار تر کرکے اس جگہ پر ملے تو اگر اس کے ہاتھ کی رطوبت متقاطر ہے تو جائز ہے ورنہ نہیں کیونکہ یہ دھونا ہوجائے گا (انتہی) اس کا قیاس یہ ہے کہ گزشتہ فروع میں جس نجاست کا ذکر کیا گیا ہے امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیك اس کو لعاب سے دور کرنا اس وقت جائز ہے جب لعاب قطروں کی طرح گرے کیونکہ اس ازالے کو دھونا قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی خوب جانتا ہے (انتہی)ان پر سخی بادشاہ کی رحمت ہو۔ انہوں نے کیا ہی اچھا فائدہ پہنچایا۔ ردالمحتار میں ہے کہ جو چیزیں پونچھنے سے صاف ہوجاتی ہیں ان میں سے حجامت کی جگہ باقی رہ گئی۔ ظہیریہ میں ہے جب تین تر اور نرم ٹکڑوں سے پونچھا تو دھونے کے قائم مقام ہوگا۔ فتح القدیر میں بھی اس کو برقرار رکھا ہے پچھنہ کی جگہ کے ارد گرد کو بھی اس پر قیاس کیا ہے جب وہ وہ آلودہ ہوجائے اور پانی بہانے سے سوراخ میں جانے کا ڈر ہو۔ بحر میں فرمایا اس کا تقاضا یہ ہے کہ حجامت کی جگہوں کے مسئلے کو اس بات سے مقید کیا جائے کہ جب پانی بہانے سے ضرر کا خوف ہے اور جو کچھ منقول ہے وہ مطلق ہے (انتہی) قنیہ میں نجم الائمہ سے منقول ہے کہ ایك مرتبہ پونچھنے پر اکتفا اس وقت ہوگا جب اس سے خون نکلنا بند ہوجائے۔ لیکن خانیہ میں ہے کہ حجامت کی جگہ کو تین تر ٹکڑوں کے ساتھ پونچھا تو جائز ہے
جائز ہے جبکہ قطرے گریں اور ولوالجی سے نقل کیا انہوں نے فرمایا اگر کسی عضو پر نجاست لگ جائے پھر وہ اپنے ہاتھ کو تین بار تر کرکے اس جگہ پر ملے تو اگر اس کے ہاتھ کی رطوبت متقاطر ہے تو جائز ہے ورنہ نہیں کیونکہ یہ دھونا ہوجائے گا (انتہی) اس کا قیاس یہ ہے کہ گزشتہ فروع میں جس نجاست کا ذکر کیا گیا ہے امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیك اس کو لعاب سے دور کرنا اس وقت جائز ہے جب لعاب قطروں کی طرح گرے کیونکہ اس ازالے کو دھونا قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی خوب جانتا ہے (انتہی)ان پر سخی بادشاہ کی رحمت ہو۔ انہوں نے کیا ہی اچھا فائدہ پہنچایا۔ ردالمحتار میں ہے کہ جو چیزیں پونچھنے سے صاف ہوجاتی ہیں ان میں سے حجامت کی جگہ باقی رہ گئی۔ ظہیریہ میں ہے جب تین تر اور نرم ٹکڑوں سے پونچھا تو دھونے کے قائم مقام ہوگا۔ فتح القدیر میں بھی اس کو برقرار رکھا ہے پچھنہ کی جگہ کے ارد گرد کو بھی اس پر قیاس کیا ہے جب وہ وہ آلودہ ہوجائے اور پانی بہانے سے سوراخ میں جانے کا ڈر ہو۔ بحر میں فرمایا اس کا تقاضا یہ ہے کہ حجامت کی جگہوں کے مسئلے کو اس بات سے مقید کیا جائے کہ جب پانی بہانے سے ضرر کا خوف ہے اور جو کچھ منقول ہے وہ مطلق ہے (انتہی) قنیہ میں نجم الائمہ سے منقول ہے کہ ایك مرتبہ پونچھنے پر اکتفا اس وقت ہوگا جب اس سے خون نکلنا بند ہوجائے۔ لیکن خانیہ میں ہے کہ حجامت کی جگہ کو تین تر ٹکڑوں کے ساتھ پونچھا تو جائز ہے
حوالہ / References
حلیہ
الحلیۃ عن المحیط الخ۔
شرطیکہ پانی کے قطرے گریں (انتہی) اور ظاہر یہ ہے کہ یہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے اس قول پر مبنی ہے کہ دھونا ضروری ہے جیسا کہ آپ سے حلیہ میں محیط کے حوالے سے نقل کیا۔ (ت)
ان عبارات سے واضح ہوا کہ تطہیر نجاست حقیقیہ میں شیخین مذہب رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیك پانی شرط نہیں مگر امام محمد مثل نجاست حکمیہ یہاں بھی مائے مطلق ضرور جانتے ہیں ولہذا لعاب دہن کے پانچوں مسائل گزشتہ میں خلاف فرماتے ہیں اور طرفین رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیك تطہیر بدن میں تقاطر بھی شرط نہیں صرف زوال نجاست درکار ہے جس طرح ہو۔
وعلیہ تبتنی المسائل المذکورۃ وعلیہ مشی الذخیرۃ والتتمۃ والظھیریۃ والمحیط الرضوی وغیرھا۔
اور مسائل مذکورہ اسی پر مبنی ہیں اور ذخیرۃ تتمہ ظہیریۃ اور محیط رضوی وغیرہ میں یہی راہ اختیار کی ہے۔ (ت)
مگر امام ابویوسف مثل نجاست حکمیہ یہاں بھی اسالہ لازم مانتے ہیں۔
وھو الذی مشی علیہ فی الخانیۃ والولوالجیۃ واختارہ الفقیہ ابوجعفر والیہ یمیل کلام الفتح ویرد علیہ وفاقہ الامام فی مسائل البزاق الا ان یحمل علی کون البزاق کثیرا یسمی مرورہ سیلانا کما تقدم عن الحلیۃ۔
اقول : وقد لا یساعدہ التعبیر باللحس والاطلاقات او یقال ان امرار الریق باللسان بمنزلۃ الصب کما ابداہ عذرا عنہ فی الغنیۃ۔
اقول : وفیہ نظرظاھر فالظاھر ان وفاقہ ھھنا لاجل الضرورۃ کمامشی علیہ فی الغنیۃ اولا والله تعالی اعلم۔
خانیہ اور ولوالجیۃ نے یہی راستہ اختیار کیا۔ فقیہ ابوجعفر نے اسے پسند کیا۔ فتح القدیر کا کلام بھی اسی طرف مائل ہے لیکن تھوك کے مسائل میں ان کا امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہسے موافق ہونے پر اعتراض وارد ہوتا ہے مگر یہ کہ اسے تھوك کے زیادہ ہونے پر محمول کیا جائے جس کے گزرنے کو جاری ہونا کہا جاسکے جیسا کہ حلیہ سے گزرا۔ (ت)
اقول : چاٹنے یا مطلق تھوك کی صورت میں یہ تعبیر اس کی موافقت نہیں کرتی یا کہا جائے کہ لعاب کو زبان کے ساتھ گزارنا بہانے کی طرح ہے جیسا کہ غنیہ میں ان سے عذر پیش کرتے ہوئے ظاہر کیا ہے۔ (ت)
اقول : یہ بھی واضح طور پر قابل اعتراض ہے ظاہر یہ ہے کہ ان کا یہاں (امام صاحب کی) موافقت کرنا ضرورت کے تحت ہے جیسا کہ غنیہ کے شروع میں انہوں نے یہ راہ اختیار کی ہے واللہ تعالی اعلم۔ (ت)
تو حاصل امام مذہب رضی اللہ تعالی عنہیہ قرار پایا کہ بدن سے ازالہ نجاست حقیقیہ پانی لعاب دہن خواہ کسی
شرطیکہ پانی کے قطرے گریں (انتہی) اور ظاہر یہ ہے کہ یہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے اس قول پر مبنی ہے کہ دھونا ضروری ہے جیسا کہ آپ سے حلیہ میں محیط کے حوالے سے نقل کیا۔ (ت)
ان عبارات سے واضح ہوا کہ تطہیر نجاست حقیقیہ میں شیخین مذہب رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیك پانی شرط نہیں مگر امام محمد مثل نجاست حکمیہ یہاں بھی مائے مطلق ضرور جانتے ہیں ولہذا لعاب دہن کے پانچوں مسائل گزشتہ میں خلاف فرماتے ہیں اور طرفین رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیك تطہیر بدن میں تقاطر بھی شرط نہیں صرف زوال نجاست درکار ہے جس طرح ہو۔
وعلیہ تبتنی المسائل المذکورۃ وعلیہ مشی الذخیرۃ والتتمۃ والظھیریۃ والمحیط الرضوی وغیرھا۔
اور مسائل مذکورہ اسی پر مبنی ہیں اور ذخیرۃ تتمہ ظہیریۃ اور محیط رضوی وغیرہ میں یہی راہ اختیار کی ہے۔ (ت)
مگر امام ابویوسف مثل نجاست حکمیہ یہاں بھی اسالہ لازم مانتے ہیں۔
وھو الذی مشی علیہ فی الخانیۃ والولوالجیۃ واختارہ الفقیہ ابوجعفر والیہ یمیل کلام الفتح ویرد علیہ وفاقہ الامام فی مسائل البزاق الا ان یحمل علی کون البزاق کثیرا یسمی مرورہ سیلانا کما تقدم عن الحلیۃ۔
اقول : وقد لا یساعدہ التعبیر باللحس والاطلاقات او یقال ان امرار الریق باللسان بمنزلۃ الصب کما ابداہ عذرا عنہ فی الغنیۃ۔
اقول : وفیہ نظرظاھر فالظاھر ان وفاقہ ھھنا لاجل الضرورۃ کمامشی علیہ فی الغنیۃ اولا والله تعالی اعلم۔
خانیہ اور ولوالجیۃ نے یہی راستہ اختیار کیا۔ فقیہ ابوجعفر نے اسے پسند کیا۔ فتح القدیر کا کلام بھی اسی طرف مائل ہے لیکن تھوك کے مسائل میں ان کا امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہسے موافق ہونے پر اعتراض وارد ہوتا ہے مگر یہ کہ اسے تھوك کے زیادہ ہونے پر محمول کیا جائے جس کے گزرنے کو جاری ہونا کہا جاسکے جیسا کہ حلیہ سے گزرا۔ (ت)
اقول : چاٹنے یا مطلق تھوك کی صورت میں یہ تعبیر اس کی موافقت نہیں کرتی یا کہا جائے کہ لعاب کو زبان کے ساتھ گزارنا بہانے کی طرح ہے جیسا کہ غنیہ میں ان سے عذر پیش کرتے ہوئے ظاہر کیا ہے۔ (ت)
اقول : یہ بھی واضح طور پر قابل اعتراض ہے ظاہر یہ ہے کہ ان کا یہاں (امام صاحب کی) موافقت کرنا ضرورت کے تحت ہے جیسا کہ غنیہ کے شروع میں انہوں نے یہ راہ اختیار کی ہے واللہ تعالی اعلم۔ (ت)
تو حاصل امام مذہب رضی اللہ تعالی عنہیہ قرار پایا کہ بدن سے ازالہ نجاست حقیقیہ پانی لعاب دہن خواہ کسی
حوالہ / References
ردالمحتار باب الانجاس مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۲۷
مائع طاہر سے ہو دھوکر خواہ پونچھ کر کہ اکثر نہ رہے مطلقا کافی وموجب طہارت ہے پھر اگر یہ ازالہ بذریعہ آب ہو جیسے صورت سوال میں کہ پانی سے بھیگے کپڑے سے بدن پونچھا گیا تو امام محمد بھی طہارت مانیں گے اور اگر پانی کی تری کپڑے میں اس قدر تھی کہ ہر بار قطرے بدن پر سے ٹپکے تو جمیع ائمہ مذہب حصول تطہیر پر اتفاق فرمائیں گے۔
ھذا ھو التحریر البالغ بتوفیق الله تعالی وبہ تبین ان تقیيد الفتح مسألۃ الفصد بخوف الضرر میل منہ الی مذھب الثانی اوارشاد الی الاحوط والا فعلی مذھب صاحب المذھب لاحاجۃ الیہ ولذا قال فی البحر ان المنقول مطلق وبہ تبین تخصیص العلامۃ الشامی تطہیر المسح بموضع الحجامۃ جمود علی تصویر وقع فی مسألۃ والا فھو لایوافق شیأ من المذاھب لاسیما مذھب صاحب المذھب کما علمت وقداسمعناك من النصوص مافیہ غنیۃ ولله الحمد والله تعالی اعلم۔
اللہ تعالی کی توفیق سے یہی تحریر (مقصد تک) پہنچنے والی ہے اس سے ظاہر ہوا کہ پچھنے لگوانے کے مسئلے میں فتح القدیر کا خوف ضرر کی قید لگانا ان کا دوسرے مذہب کی طرف میلان ہے یا زیادہ محتاط کی طرف رہنمائی کرنا ہے ورنہ صاحب مذہب کے مذہب پر اس کی حمایت نہیں اسی لئے بحرالرائق میں فرمایا کہ منقول مطلق ہے اور اسی سے واضح ہوا کہ علامہ شامی کا مسح کے ساتھ پاك کرنے کو حجامت کی جگہ سے خاص کرنا صرف اسی صورت سے متعلق ہے جو اس مسئلے میں واقع ہوئی ورنہ وہ کسی مذہب بالخصوص صاحب مذہب کے مذہب کے موافق نہیں جیسا کہ تم نے جان لیا اور ہم نے تمہیں بے پروا کردینے والی نصوص سنادیں ولله الحمد والله تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۷۹ : غرہ شعبان ۱۳۱۲ھ
حضور اقدس! پرسوں کوے کی بیٹ پانی میں پڑی تھی کمترین نے اسی پانی سے استنجا کیا اور جسم جس جگہ سے ناپاك تھا وہ بھی پاك کیا بعد کو وضو کیلئے جو پانی لینے کو جانا ہوا تو مٹکے میں بیٹ پڑی دیکھی پیٹ اور پسلیوں پر بھی پانی بہایا تھا اور تولیہ سے پونچھا تھا مگر بالکل جسم خشك نہ ہوا تھا کسی قدر نمی پسلیوں اور پیٹ پر لگی تھی اسی حالت میں صدری روئی کی پہن لی اور بٹن بھی لگالیے اب یہ نہیں معلوم کہ پوروں سے صدری بھیگی یا نہیں بعد چند منٹ کے دیکھا تو صدری پر کہیں پانی لگا ہوا نظر نہ آیا اس صورت میں کیا حکم ہے
الجواب :
صدری پاك ہے صرف ایسی نم جو کپڑے کو تر نہ کرسکے ناپاك نہیں کرتی فقط سیل آجانے کا کچھ اعتبار نہیں
ھذا ھو التحریر البالغ بتوفیق الله تعالی وبہ تبین ان تقیيد الفتح مسألۃ الفصد بخوف الضرر میل منہ الی مذھب الثانی اوارشاد الی الاحوط والا فعلی مذھب صاحب المذھب لاحاجۃ الیہ ولذا قال فی البحر ان المنقول مطلق وبہ تبین تخصیص العلامۃ الشامی تطہیر المسح بموضع الحجامۃ جمود علی تصویر وقع فی مسألۃ والا فھو لایوافق شیأ من المذاھب لاسیما مذھب صاحب المذھب کما علمت وقداسمعناك من النصوص مافیہ غنیۃ ولله الحمد والله تعالی اعلم۔
اللہ تعالی کی توفیق سے یہی تحریر (مقصد تک) پہنچنے والی ہے اس سے ظاہر ہوا کہ پچھنے لگوانے کے مسئلے میں فتح القدیر کا خوف ضرر کی قید لگانا ان کا دوسرے مذہب کی طرف میلان ہے یا زیادہ محتاط کی طرف رہنمائی کرنا ہے ورنہ صاحب مذہب کے مذہب پر اس کی حمایت نہیں اسی لئے بحرالرائق میں فرمایا کہ منقول مطلق ہے اور اسی سے واضح ہوا کہ علامہ شامی کا مسح کے ساتھ پاك کرنے کو حجامت کی جگہ سے خاص کرنا صرف اسی صورت سے متعلق ہے جو اس مسئلے میں واقع ہوئی ورنہ وہ کسی مذہب بالخصوص صاحب مذہب کے مذہب کے موافق نہیں جیسا کہ تم نے جان لیا اور ہم نے تمہیں بے پروا کردینے والی نصوص سنادیں ولله الحمد والله تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۷۹ : غرہ شعبان ۱۳۱۲ھ
حضور اقدس! پرسوں کوے کی بیٹ پانی میں پڑی تھی کمترین نے اسی پانی سے استنجا کیا اور جسم جس جگہ سے ناپاك تھا وہ بھی پاك کیا بعد کو وضو کیلئے جو پانی لینے کو جانا ہوا تو مٹکے میں بیٹ پڑی دیکھی پیٹ اور پسلیوں پر بھی پانی بہایا تھا اور تولیہ سے پونچھا تھا مگر بالکل جسم خشك نہ ہوا تھا کسی قدر نمی پسلیوں اور پیٹ پر لگی تھی اسی حالت میں صدری روئی کی پہن لی اور بٹن بھی لگالیے اب یہ نہیں معلوم کہ پوروں سے صدری بھیگی یا نہیں بعد چند منٹ کے دیکھا تو صدری پر کہیں پانی لگا ہوا نظر نہ آیا اس صورت میں کیا حکم ہے
الجواب :
صدری پاك ہے صرف ایسی نم جو کپڑے کو تر نہ کرسکے ناپاك نہیں کرتی فقط سیل آجانے کا کچھ اعتبار نہیں
بلکہ سرے سے وہ پانی ہی جس سے استنجا کیا بدن دھویا پاك تھا کہ اس کے بعد بیٹ پڑی دیکھی ممکن ہے کہ پانی لینے کے بعد پڑی ہو والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۰ : از گلگٹ مرسلہ سردار امیر خان ملازم کپتان اسٹوٹ ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہڈی مردار جانور کی پاك ہے یا ناپاك ہے کیونکہ سینگ تو ہر جانور کا پاك ہے اگر مسواك میں ہڈی ہاتھی دانت کی ہو تو کیسی ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
ہڈی ہر جانور کی پاك ہے حلال ہو یا حرام مذبوح ہو یا مردار جبکہ اس پر بدن میتہ کی کوئی رطوبت نہ ہو سوا سوئر کے کہ اس کی ہر چیز ناپاك ہے مسواك میں ہاتھی دانت کی ہڈی ہو تو کچھ حرج نہیں ہاں اس کا ترك بہتر ہے۔
لمحل خلاف محمد فانہ قائل بنجاسۃ عینہ کالخنزیر کمافی الفتح القدیر وردالمحتار وغیرھما ورعایۃ الخلاف مستحبۃ بالاجماع۔
کیونکہ اس جگہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکا اختلاف ہے۔ آپ خنزیر کی طرح اس کے بھی نجس عین ہونے کے قائل ہیں جیسے فتح القدیر اور ردالمحتار وغیرہ میں ہے اور اختلاف کی رعایت کرنا بالاجماع مستحب ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
شعر المیتۃ غیر الخنزیر وعظمھا طاھر اھ ملخصا۔ والله تعالی اعلم۔
خنزیر کے علاوہ مردار کے بال اور ہڈیاں پاك ہیں انتہی تلخیص۔ اور اللہ تعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۸۱ : ۹ ربیع الاول ۱۳۱۴ھ
جناب مولانا صاحب دام برکاتہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ آداب غلامانہ بجا لاکر ملتمس ہوں چھت پر گوبری کی گئی اور پہلی مرتبہ کی بارش میں وہ چھت ٹپکی اس ٹپکے ہوئے پانی پر ناپاکی کا حکم ہے یا نہیں بینوا توجروا۔ زیادہ حدادب کمترین احمد حسین عرف منجھلا عفی عنہ۔
الجواب :
گرامی برادر! وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ اگر گوبر بالکل دھل گیا اس کے بعد کا پانی ٹپکا تو کچھ
مسئلہ ۱۸۰ : از گلگٹ مرسلہ سردار امیر خان ملازم کپتان اسٹوٹ ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہڈی مردار جانور کی پاك ہے یا ناپاك ہے کیونکہ سینگ تو ہر جانور کا پاك ہے اگر مسواك میں ہڈی ہاتھی دانت کی ہو تو کیسی ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
ہڈی ہر جانور کی پاك ہے حلال ہو یا حرام مذبوح ہو یا مردار جبکہ اس پر بدن میتہ کی کوئی رطوبت نہ ہو سوا سوئر کے کہ اس کی ہر چیز ناپاك ہے مسواك میں ہاتھی دانت کی ہڈی ہو تو کچھ حرج نہیں ہاں اس کا ترك بہتر ہے۔
لمحل خلاف محمد فانہ قائل بنجاسۃ عینہ کالخنزیر کمافی الفتح القدیر وردالمحتار وغیرھما ورعایۃ الخلاف مستحبۃ بالاجماع۔
کیونکہ اس جگہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکا اختلاف ہے۔ آپ خنزیر کی طرح اس کے بھی نجس عین ہونے کے قائل ہیں جیسے فتح القدیر اور ردالمحتار وغیرہ میں ہے اور اختلاف کی رعایت کرنا بالاجماع مستحب ہے۔ (ت)
درمختار میں ہے :
شعر المیتۃ غیر الخنزیر وعظمھا طاھر اھ ملخصا۔ والله تعالی اعلم۔
خنزیر کے علاوہ مردار کے بال اور ہڈیاں پاك ہیں انتہی تلخیص۔ اور اللہ تعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۸۱ : ۹ ربیع الاول ۱۳۱۴ھ
جناب مولانا صاحب دام برکاتہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ آداب غلامانہ بجا لاکر ملتمس ہوں چھت پر گوبری کی گئی اور پہلی مرتبہ کی بارش میں وہ چھت ٹپکی اس ٹپکے ہوئے پانی پر ناپاکی کا حکم ہے یا نہیں بینوا توجروا۔ زیادہ حدادب کمترین احمد حسین عرف منجھلا عفی عنہ۔
الجواب :
گرامی برادر! وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ اگر گوبر بالکل دھل گیا اس کے بعد کا پانی ٹپکا تو کچھ
حوالہ / References
ردالمحتار مطلب فی احکام الدباغۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۷
درمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۸۹
درمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۸۹
مضائقہ نہیں مگر غالبا اول ہی بارش میں اس کی امید کم ہے۔ اور اگر گوبر باقی تھا اور ٹپکتے ہوئے پانی میں اس کا رنگ یا بو تھی تو بے شك ناپاك ہے اور اگر رنگ وبو کچھ نہ تھا تو اگر یہ پانی اس حالت میں ٹپکا کہ بارش ہنوز ہو رہی ہے اور مینہ کا پانی رواں تھا تو ناپاك نہیں اور مینہ برس چکا تھا اس کے بعد ٹپکا تو ناپاك ہے والسلام والمسئلۃ فی الھندیۃ وغیرھا والله تعالی اعلم (یہ مسئلہ فتاوی ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ اور اللہ تعالی خوب جانتا ہے۔ ت)
________________
________________
رسالہ
الاحلی من السکر لطلبۃ سکرروسر ۱۳۰۳ھ
(یہ رسالہ شکرروسر کے طالب (حکم شرعی) کیلئے شکر سے زیادہ میٹھا ہے)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
استفتاء
از نواب گنج بارہ بنکی مرسلہ شیخ الجلیل پنجابی ماہ ذیقعدہ ۱۳۰۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روسر کی شکر کہ ہڈیوں سے صاف کی جاتی ہے اور صاف کرنے والوں کو کچھ احتیاط اس کی نہیں کہ وہ ہڈیاں پاك ہوں یا ناپاک حلال جانور کی ہوں یا مردار کی اور سنا گیا کہ اس میں شراب بھی پڑتی ہے اسی طرح کل کی برف اور کل کی وہ چیزیں جن میں شراب کا لگاؤ سنا جاتا ہے شرعا کیا حکم رکھتی ہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
فتوی
بسم الله الرحمن الرحیم
سمع المولی وشکر٭ لمن حمد العلی الاکبر٭
جس نے بلندوبالا ذات کی تعریف کی مولا تعالی نے اسے
الاحلی من السکر لطلبۃ سکرروسر ۱۳۰۳ھ
(یہ رسالہ شکرروسر کے طالب (حکم شرعی) کیلئے شکر سے زیادہ میٹھا ہے)
بسم اللہ الرحمن الر حیم ط
استفتاء
از نواب گنج بارہ بنکی مرسلہ شیخ الجلیل پنجابی ماہ ذیقعدہ ۱۳۰۳ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روسر کی شکر کہ ہڈیوں سے صاف کی جاتی ہے اور صاف کرنے والوں کو کچھ احتیاط اس کی نہیں کہ وہ ہڈیاں پاك ہوں یا ناپاک حلال جانور کی ہوں یا مردار کی اور سنا گیا کہ اس میں شراب بھی پڑتی ہے اسی طرح کل کی برف اور کل کی وہ چیزیں جن میں شراب کا لگاؤ سنا جاتا ہے شرعا کیا حکم رکھتی ہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
فتوی
بسم الله الرحمن الرحیم
سمع المولی وشکر٭ لمن حمد العلی الاکبر٭
جس نے بلندوبالا ذات کی تعریف کی مولا تعالی نے اسے
شکرك ربنا الذ واحلی٭ من کل ما یلذ ویستحلی٭ والصلاۃ والسلام٭ علی سیدالانام٭ اعظم یعسوب لنحل الاسلام٭ عذاب الریق حلو الکلام٭ منبع شھد یزیل السقام٭ والہ وصحبہ العظام الفخام٭ ماا شتفی بالعسل مریض سقیم٭ واحب الحلو مسلم سلیم٭ امین٭
سنا اور جزا عطا فرمائی۔ اے ہمارے رب! ہر اس چیز پر تیرا شکر نہایت لذیذ وشیریں ہے جس سے لذت اور مٹھاس حاصل کی جاتی ہے اور درودوسلام مخلوق کے سردار پر جو اسلام کے درخت خرما کیلئے شہد کی مکھی سے بہتر حیثیت رکھتے ہیں جن کا لعاب میٹھا اور کلام شیریں ہے شہد کا منبع ہیں جو بیماریوں کو دور کردیتا ہے اور آپ کے باعظمت اور عظیم المرتبت آل واصحاب پر جب تك شہد سے بیمار کو شفاء اور بے عیب مسلمان میٹھی چیز کو پسند کرے آمین۔ (ت)
امابعد اس مسئلہ سے سوال متکرر آیا اور آرائے عصر کو مضطرب پایا اور حاجت ناس اس طرف ماس اور دفع ہوا جس نہایت ضرور اور کشف وساوس اہم امور لہذا مناسب کہ بحول الواہب اس تازہ فرع کی تحقیق وتنقیح اور حکم شرع کی توضیح وتصریح اس نہج نجیع وطرز رجیح کے ساتھ عمل میں آئے کہ نہ صرف اسی مسئلہ تازہ بلکہ اس قسم کی تمام جزئیات بے اندازہ کا حکم واضح وآشکار ہوجائے افقر الفقرا عبدالمصطفی احمد رضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی عاملہ المولی القوی بلطفہ الحفی الحنفی الوفی وغفرلہ وللمومنین واحسن الیہ والیہم اجمعین (نہایت طاقت والا مولا اسے اپنی کامل اور غیبی مہربانی سے نوازے اسے اور تمام مومنوں کو بخشش دے اس سے اور تمام مسلمانوں سے اچھا سلوك کرے۔ ت) اس بارہ میں یہ مختصر فتوی لکھتا اور الاحلی عـــہ من السکر لطلبۃ سکرروسر (شکرروسر کے طالب کیلئے یہ رسالہ
عـــہ : من لطائف ھذا الاسم مطابقتہ للسمی من جھۃ ان الرسالۃ کماحکمت علی ھذا السکر بحکمین الحل فی صورۃ والحرمۃ فی اخری کذلك لھذا الاسم وجھان الی کلا الحکمین فالمعنی علی الحل انھا احلی لھم من السکر لتسویغھا لھم ما تشتھیہ انفسھم مع ازالۃ الوساوس ودفع الطعن وعلی الحرمۃ انھا وان نھتھم عن سکر فلم تحرمھم الحلاوۃ فان تحقیق حکم الشرع لذۃ القلب وتناول المشتھیات لذۃ النفس والاولی اھم واعلی فھذہ الرسالۃ احلی لھم من السکر الذی حرم علیھم ۱۲ منہ۔ (م)
اس رسالے کے نام میں یہ خوبی ہے کہ یہ اسم بامسمی ہے کیونکہ جس طرح رسالہ نے اس شکر کے بارے ایك لحاظ سے حلال اور ایك لحاظ سے حرام دو حکم بیان کئے ہیں اسی طرح نام میں بھی دونوں کا لحاظ ہے۔ حلت کے لحاظ سے عوام کیلئے یہ شکر سے زیادہ میٹھا ہے کیونکہ اس نے شبہات اور اعتراضات کو ختم کرکے عوام کیلئے شکر کو مرغوب بنادیا ہے اور حرمت کے لحاظ سے اس نے عوام کو اگرچہ شکر سے منع کردیا ہے تاہم ان کو لذت ایمانی سے محروم نہیں کیا کیونکہ ان کو شرعی مسئلہ کی تحقیق دے کر قلبی لذت دی ہے جبکہ مرغوب غذا سے صرف لذت نفس حاصل ہوتی ہے۔ پہلی چیز یعنی قلبی لذت اہم اور اعلی ہے اس لئے شکر کو حرام کرنے والا یہ رسالہ عوام کے لئے شکر سے زیادہ میٹھا ہے ۱۲ منہ (ت)
سنا اور جزا عطا فرمائی۔ اے ہمارے رب! ہر اس چیز پر تیرا شکر نہایت لذیذ وشیریں ہے جس سے لذت اور مٹھاس حاصل کی جاتی ہے اور درودوسلام مخلوق کے سردار پر جو اسلام کے درخت خرما کیلئے شہد کی مکھی سے بہتر حیثیت رکھتے ہیں جن کا لعاب میٹھا اور کلام شیریں ہے شہد کا منبع ہیں جو بیماریوں کو دور کردیتا ہے اور آپ کے باعظمت اور عظیم المرتبت آل واصحاب پر جب تك شہد سے بیمار کو شفاء اور بے عیب مسلمان میٹھی چیز کو پسند کرے آمین۔ (ت)
امابعد اس مسئلہ سے سوال متکرر آیا اور آرائے عصر کو مضطرب پایا اور حاجت ناس اس طرف ماس اور دفع ہوا جس نہایت ضرور اور کشف وساوس اہم امور لہذا مناسب کہ بحول الواہب اس تازہ فرع کی تحقیق وتنقیح اور حکم شرع کی توضیح وتصریح اس نہج نجیع وطرز رجیح کے ساتھ عمل میں آئے کہ نہ صرف اسی مسئلہ تازہ بلکہ اس قسم کی تمام جزئیات بے اندازہ کا حکم واضح وآشکار ہوجائے افقر الفقرا عبدالمصطفی احمد رضا محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی عاملہ المولی القوی بلطفہ الحفی الحنفی الوفی وغفرلہ وللمومنین واحسن الیہ والیہم اجمعین (نہایت طاقت والا مولا اسے اپنی کامل اور غیبی مہربانی سے نوازے اسے اور تمام مومنوں کو بخشش دے اس سے اور تمام مسلمانوں سے اچھا سلوك کرے۔ ت) اس بارہ میں یہ مختصر فتوی لکھتا اور الاحلی عـــہ من السکر لطلبۃ سکرروسر (شکرروسر کے طالب کیلئے یہ رسالہ
عـــہ : من لطائف ھذا الاسم مطابقتہ للسمی من جھۃ ان الرسالۃ کماحکمت علی ھذا السکر بحکمین الحل فی صورۃ والحرمۃ فی اخری کذلك لھذا الاسم وجھان الی کلا الحکمین فالمعنی علی الحل انھا احلی لھم من السکر لتسویغھا لھم ما تشتھیہ انفسھم مع ازالۃ الوساوس ودفع الطعن وعلی الحرمۃ انھا وان نھتھم عن سکر فلم تحرمھم الحلاوۃ فان تحقیق حکم الشرع لذۃ القلب وتناول المشتھیات لذۃ النفس والاولی اھم واعلی فھذہ الرسالۃ احلی لھم من السکر الذی حرم علیھم ۱۲ منہ۔ (م)
اس رسالے کے نام میں یہ خوبی ہے کہ یہ اسم بامسمی ہے کیونکہ جس طرح رسالہ نے اس شکر کے بارے ایك لحاظ سے حلال اور ایك لحاظ سے حرام دو حکم بیان کئے ہیں اسی طرح نام میں بھی دونوں کا لحاظ ہے۔ حلت کے لحاظ سے عوام کیلئے یہ شکر سے زیادہ میٹھا ہے کیونکہ اس نے شبہات اور اعتراضات کو ختم کرکے عوام کیلئے شکر کو مرغوب بنادیا ہے اور حرمت کے لحاظ سے اس نے عوام کو اگرچہ شکر سے منع کردیا ہے تاہم ان کو لذت ایمانی سے محروم نہیں کیا کیونکہ ان کو شرعی مسئلہ کی تحقیق دے کر قلبی لذت دی ہے جبکہ مرغوب غذا سے صرف لذت نفس حاصل ہوتی ہے۔ پہلی چیز یعنی قلبی لذت اہم اور اعلی ہے اس لئے شکر کو حرام کرنے والا یہ رسالہ عوام کے لئے شکر سے زیادہ میٹھا ہے ۱۲ منہ (ت)
شکر سے زیادہ میٹھا ہے۔ ت) اس کا تاریخی نام رکھتا ہے وبالله التوفیق والوصول الی ذری التحقیق (اللہتعالی ہی کی طرف سے توفیق کا حصول اور تحقیق کی بلندیوں تك پہنچانا ہے۔ ت) پیش ازجواب چند مقدمے موضع صواب واسأل جالرشاد من الملك الجواد (فیاض بادشاہ سے رہنمائی کا سوال کرتا ہوں۔ ت)
مقدمہ اولی:
ہڈیاں ہر جانور یہاں تك کہ غیر ماکول و نا مذبوح کی بھی مطلقا پاك ہیں جب تك ان پر ناپاك دسومت (چکنائی ۱۲) نہ ہو سوا خنزیر کے کہ نجس العین ہے اور اس کا ہر جزو بدن ایسا ناپاك کہ اصلا صلاحیت طہارت نہیں رکھتا اور دسومت میں قید ناپاکی اس غرض سے ہے کہ مثلا جو جانور خون سائل نہیں رکھتے ان کی ہڈیاں بہرحال پاك ہیں اگرچہ دسومت آمیز ہوں کہ ان کی دسومت بوجہ عدم اختلاط دم خود پاك ہے تو اس کی آمیزش سے استخواں کیونکر ناپاك ہوسکتے ہیں۔
فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمختار شعر المیتۃ غیر الخنزیر وعظمھا وعصبھا وحافرھا وقرنھا الخالیۃ عن الدسومۃ (قید للجمیع کما فی القھستانی فخرج الشعر المنتوف ومابعدہ اذا کان فیہ دسومۃ ) ودم سمك طاھر انتھت ملخصۃ۔
تنویر الابصار درمختار اور ردالمحتار میں ہے “ خنزیر کے علاوہ ہر مردار کے بال ہڈی پٹھے کھر اور سینگ جو چربی سے خالی ہوں (یہ قید سب کے ساتھ ہے جیسا کہ قہستانی میں ہے۔ پس اکھاڑے ہوئے بال اور جو کچھ اس کے بعد ہے اگر اس میں چربی ہو تو وہ اس حکم سے خارج ہیں) اور مچھلی کا خون پاك ہے انتہت تلخیص (ت)
مگر حلال وجائز الاکل صرف جانور ماکول اللحم مذکی یعنی مذبوح بذبح شرعی کی ہڈیاں ہیں حرام جانور اور ایسے ہی جو بے ذکاۃ شرعی عـــہ مرجائے یا کاٹا جائے بجمیع اجزائیہ حرام ہے اگرچہ طاہر ہوکہ طہارت مستلزم وحلت نہیں جیسے سنکھےیا بقدر مضرت اور انسان کا دودھ بعد عمر رضاعت اور مچھلی کے سوا جانوران دریائی کا گوشت وغیرذلك کہ سب پاك ہیں اور باوجود پاکی حرام۔
عـــہ : یعنی بشرطیکہ محتاج ذکاۃ ہونہ سمك وجراد کہ ان کا استشنا معلوم ومعروف ۱۲ منہ (م)
مقدمہ اولی:
ہڈیاں ہر جانور یہاں تك کہ غیر ماکول و نا مذبوح کی بھی مطلقا پاك ہیں جب تك ان پر ناپاك دسومت (چکنائی ۱۲) نہ ہو سوا خنزیر کے کہ نجس العین ہے اور اس کا ہر جزو بدن ایسا ناپاك کہ اصلا صلاحیت طہارت نہیں رکھتا اور دسومت میں قید ناپاکی اس غرض سے ہے کہ مثلا جو جانور خون سائل نہیں رکھتے ان کی ہڈیاں بہرحال پاك ہیں اگرچہ دسومت آمیز ہوں کہ ان کی دسومت بوجہ عدم اختلاط دم خود پاك ہے تو اس کی آمیزش سے استخواں کیونکر ناپاك ہوسکتے ہیں۔
فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمختار شعر المیتۃ غیر الخنزیر وعظمھا وعصبھا وحافرھا وقرنھا الخالیۃ عن الدسومۃ (قید للجمیع کما فی القھستانی فخرج الشعر المنتوف ومابعدہ اذا کان فیہ دسومۃ ) ودم سمك طاھر انتھت ملخصۃ۔
تنویر الابصار درمختار اور ردالمحتار میں ہے “ خنزیر کے علاوہ ہر مردار کے بال ہڈی پٹھے کھر اور سینگ جو چربی سے خالی ہوں (یہ قید سب کے ساتھ ہے جیسا کہ قہستانی میں ہے۔ پس اکھاڑے ہوئے بال اور جو کچھ اس کے بعد ہے اگر اس میں چربی ہو تو وہ اس حکم سے خارج ہیں) اور مچھلی کا خون پاك ہے انتہت تلخیص (ت)
مگر حلال وجائز الاکل صرف جانور ماکول اللحم مذکی یعنی مذبوح بذبح شرعی کی ہڈیاں ہیں حرام جانور اور ایسے ہی جو بے ذکاۃ شرعی عـــہ مرجائے یا کاٹا جائے بجمیع اجزائیہ حرام ہے اگرچہ طاہر ہوکہ طہارت مستلزم وحلت نہیں جیسے سنکھےیا بقدر مضرت اور انسان کا دودھ بعد عمر رضاعت اور مچھلی کے سوا جانوران دریائی کا گوشت وغیرذلك کہ سب پاك ہیں اور باوجود پاکی حرام۔
عـــہ : یعنی بشرطیکہ محتاج ذکاۃ ہونہ سمك وجراد کہ ان کا استشنا معلوم ومعروف ۱۲ منہ (م)
حوالہ / References
درمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۸
ردالمحتار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۸
درمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۸
ردالمحتار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۸
درمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۸
فی الحاشیۃ الشامیۃ اذاکان جلد حیوان میت ماکول اللحم لایجوز اکلہ وھو الصحیح لقولہ تعالی حرمت علیکم المیتۃ وھذا جزء منھا وقال عـــہ۱ علیہ الصلاۃ والسلام انما یحرم من المیتۃ اکلہا امااذاکان جلد مالایوکل فانہ لایجوز اکلہ اجماعا بحرعن السراج اھ ملخصا۔ وفی الغنیۃ شرح المنیۃ عن القنیۃ حیوان البحرطاھر وان لم یؤکل حتی خنزالبحر ولوکان میتتۃ اھ۔
وفیھا تحت قولہ والمسك طاھر حلال زاد قولہ حلال لانہ لایلزم من الطھارۃ الحل کما فی التراب منح اھ۔
حاشیہ شامیہ میں ہے جب ایسے مردار حیوان کا چمڑا ہو جس کا گوشت کھایا جاتا ہے تو اس کا کھانا جائز نہیں اور یہی صحیح ہے کیونکہ اللہتعالی کا ارشاد ہے تم پر مردار حرام کیا گیا ہے اور یہ اس کا جز ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ مردار سے صرف اس کا کھانا حرام ہوتا ہے “ ۔ اور اگر ایسے جانور کا چمڑا ہو جس کا گوشت نہیں کھایا جاتا تو بالاجماع اس کا کھانا جائز نہیں۔ البحرالرائق نے سراج سے نقل کیا (انتہی) تلخیص۔ اور اسی میں ہے “ مشك (کستوری) پاك حلال ہے “ کے تحت ہے حلال کا لفظ زیادہ کیا کیونکہ طہارت سے حلال ہونا لازم نہیں آتا ہے جیسا کہ مٹی میں ہے (منح) اھ۔ اور غنیہ شرح منیہ میں قنیہ سے نقل کیا ہے کہ دریائی جانور پاك ہیں اگرچہ انہیں کھایا نہ جاتا ہو۔ یہاں تك کہ دریائی خنزیر بھی اگرچہ مردار ہو۔ اھ (ت)
مقدمہ ثانیہ:
شریعت مطہرہ میں طہارت وحلت عــــہ۲ اصل ہیں اور ان کا ثبوت خود حاصل کہ اپنے اثبات میں کسی دلیل کا محتاج نہیں اور حرمت ونجاست عارضی کہ ان کے ثبوت کو دلیل خاص درکار اور محض شکوك وظنون سے ان کا اثبات ناممکن کہ
عــــہ۱ : اقول : اخرجہ احمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والنسائی والترمذی بالفاظ متقاربۃ کلھم عن ابن عباس وابن ماجۃ عن ام المومنین میمونۃ رضی الله تعالی عنھم ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : یعنی سوا بعض اشیاء کے جن میں حرمت اصل ہے جیسے دماء وفروج ومضار ۱۲ منہ (ت)
اقول : اس کو احمد بخاری مسلم ابوداؤد نسائی ترمذی سب نے متقارب الفاظ سے ابن عباس سے اور ابن ماجہ نے ام المومنین میمونہ رضی اللہ تعالی عنہمسے روایت کیا ۱۲ منہ (ت)
وفیھا تحت قولہ والمسك طاھر حلال زاد قولہ حلال لانہ لایلزم من الطھارۃ الحل کما فی التراب منح اھ۔
حاشیہ شامیہ میں ہے جب ایسے مردار حیوان کا چمڑا ہو جس کا گوشت کھایا جاتا ہے تو اس کا کھانا جائز نہیں اور یہی صحیح ہے کیونکہ اللہتعالی کا ارشاد ہے تم پر مردار حرام کیا گیا ہے اور یہ اس کا جز ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ مردار سے صرف اس کا کھانا حرام ہوتا ہے “ ۔ اور اگر ایسے جانور کا چمڑا ہو جس کا گوشت نہیں کھایا جاتا تو بالاجماع اس کا کھانا جائز نہیں۔ البحرالرائق نے سراج سے نقل کیا (انتہی) تلخیص۔ اور اسی میں ہے “ مشك (کستوری) پاك حلال ہے “ کے تحت ہے حلال کا لفظ زیادہ کیا کیونکہ طہارت سے حلال ہونا لازم نہیں آتا ہے جیسا کہ مٹی میں ہے (منح) اھ۔ اور غنیہ شرح منیہ میں قنیہ سے نقل کیا ہے کہ دریائی جانور پاك ہیں اگرچہ انہیں کھایا نہ جاتا ہو۔ یہاں تك کہ دریائی خنزیر بھی اگرچہ مردار ہو۔ اھ (ت)
مقدمہ ثانیہ:
شریعت مطہرہ میں طہارت وحلت عــــہ۲ اصل ہیں اور ان کا ثبوت خود حاصل کہ اپنے اثبات میں کسی دلیل کا محتاج نہیں اور حرمت ونجاست عارضی کہ ان کے ثبوت کو دلیل خاص درکار اور محض شکوك وظنون سے ان کا اثبات ناممکن کہ
عــــہ۱ : اقول : اخرجہ احمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والنسائی والترمذی بالفاظ متقاربۃ کلھم عن ابن عباس وابن ماجۃ عن ام المومنین میمونۃ رضی الله تعالی عنھم ۱۲ منہ (م)
عــــہ۲ : یعنی سوا بعض اشیاء کے جن میں حرمت اصل ہے جیسے دماء وفروج ومضار ۱۲ منہ (ت)
اقول : اس کو احمد بخاری مسلم ابوداؤد نسائی ترمذی سب نے متقارب الفاظ سے ابن عباس سے اور ابن ماجہ نے ام المومنین میمونہ رضی اللہ تعالی عنہمسے روایت کیا ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار مطلب فی احکام الدباغۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۶
ردالمحتار مطلب فی احکام الدباغۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۹
غنیۃ المستملی قبیل ستر العورۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۰۸
ردالمحتار مطلب فی احکام الدباغۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۹
غنیۃ المستملی قبیل ستر العورۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۲۰۸
طہارت وحلت پر بوجہ اصالت جو یقین تھا اس کا زوال بھی اس کے مثل یقین ہی سے متصور نراظن لاحق یقین سابق کے حکم کو رفع نہیں کرتا یہ شرع شریف کا ضابطہ عظیمہ ہے جس پر ہزارہا احکام متفرع یہاں تك کہ کہتے ہیں تین چوتھائی فقہ سے زائد اس پر مبتنی اور فی الواقع جس نے اس قاعدہ کو سمجھ لیا وہ صدہا وساوس ہائلہ وفتنہ پردازی اوہام باطلہ ودست اندازی ظنون عاطلہ سے امان میں رہا۔ حدیث صحیح میں حضور اقدس سیدعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث رواہ الائمۃ مالك والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔
بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ اسے ائمہ حدیث امام مالک بخاری مسلم ابوداؤد اور ترمذی نے حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ (ت)
اور یہ نفیس ضابطہ نہ صرف اسی قسم کے مسائل میں بلکہ ہزارہا جگہ کام دیتا ہے جب کسی کو کسی شے پر منع وانکار کرتے اور اسے حرام یا مکروہ یا ناجائز کہتے سنو جان لو کہ بار ثبوت اس کے ذمہ ہے جب تك دلیل واضح شرعی سے ثابت نہ کرے اس کا دعوی اسی پر مردود اور جائز ومباح کہنے والا بالکل سبکدوش کہ اس کے لئے تمسك باصل موجود علماء فرماتے ہیں یہ قاعدہ نصوص علیہ احادیث نبویہ علی صاحبھا افضل الصلاۃ والتحیۃ وتصریحات جلیہ حنفیہ وشافعیہ وغیرہم عامہ علما وائمہ سے ثابت یہاں تك کہ کسی عالم کو اس میں خلاف نظر نہیں آتا۔
فی الطریقۃ المحمدیۃ وشرحھا الحدیقۃ الندیۃ للعلامۃ عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی الاصل فی الاشیاء الطھارۃ لقولہ سبحنہ وتعالی ھو الذی خلق لکم مافی الارض جمیعا والیقین لایزول الشك والظن بل یزول بیقین مثلہ وھذا اصل مقرر فی الشرع منصوص علیہ فی الاحادیث مصرح بہ فی کتب الفقھاء من الحنفیۃ والشافعیۃ وغیرھم ولم ارفیہ مخالفا من احد من العلماء اصلا فاذا شك اوظن فی طھارۃ ماء اوطعام
علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی کی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں لکھا ہے اشیا کی اصل طہارت ہے کیونکہ اللہتعالی کا ارشاد ہے : “ اللہنے زمین میں جو کچھ ہے تمہارے لئے پیدا فرمایا اور یقین شك اور گمان کے ساتھ زائل نہیں ہوتا بلکہ اپنے جیسے یقین کے ساتھ یقین زائل ہوتا ہے۔ یہ قاعدہ شریعت میں مقرر ہے احادیث میں اس کی تصریح ہے اور حنفی شافعی اور دیگر فقہا کی کتب میں واضح طور پر مذکور ہے میں نے اس میں علما کا اختلاف بالکل نہیں پایا لہذا جب پانی کھانے یا اس کے علاوہ کسی دوسری چیز کی طہارت میں
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث رواہ الائمۃ مالك والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ۔
بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ اسے ائمہ حدیث امام مالک بخاری مسلم ابوداؤد اور ترمذی نے حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ (ت)
اور یہ نفیس ضابطہ نہ صرف اسی قسم کے مسائل میں بلکہ ہزارہا جگہ کام دیتا ہے جب کسی کو کسی شے پر منع وانکار کرتے اور اسے حرام یا مکروہ یا ناجائز کہتے سنو جان لو کہ بار ثبوت اس کے ذمہ ہے جب تك دلیل واضح شرعی سے ثابت نہ کرے اس کا دعوی اسی پر مردود اور جائز ومباح کہنے والا بالکل سبکدوش کہ اس کے لئے تمسك باصل موجود علماء فرماتے ہیں یہ قاعدہ نصوص علیہ احادیث نبویہ علی صاحبھا افضل الصلاۃ والتحیۃ وتصریحات جلیہ حنفیہ وشافعیہ وغیرہم عامہ علما وائمہ سے ثابت یہاں تك کہ کسی عالم کو اس میں خلاف نظر نہیں آتا۔
فی الطریقۃ المحمدیۃ وشرحھا الحدیقۃ الندیۃ للعلامۃ عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی الاصل فی الاشیاء الطھارۃ لقولہ سبحنہ وتعالی ھو الذی خلق لکم مافی الارض جمیعا والیقین لایزول الشك والظن بل یزول بیقین مثلہ وھذا اصل مقرر فی الشرع منصوص علیہ فی الاحادیث مصرح بہ فی کتب الفقھاء من الحنفیۃ والشافعیۃ وغیرھم ولم ارفیہ مخالفا من احد من العلماء اصلا فاذا شك اوظن فی طھارۃ ماء اوطعام
علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی کی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں لکھا ہے اشیا کی اصل طہارت ہے کیونکہ اللہتعالی کا ارشاد ہے : “ اللہنے زمین میں جو کچھ ہے تمہارے لئے پیدا فرمایا اور یقین شك اور گمان کے ساتھ زائل نہیں ہوتا بلکہ اپنے جیسے یقین کے ساتھ یقین زائل ہوتا ہے۔ یہ قاعدہ شریعت میں مقرر ہے احادیث میں اس کی تصریح ہے اور حنفی شافعی اور دیگر فقہا کی کتب میں واضح طور پر مذکور ہے میں نے اس میں علما کا اختلاف بالکل نہیں پایا لہذا جب پانی کھانے یا اس کے علاوہ کسی دوسری چیز کی طہارت میں
حوالہ / References
بخاری شریف باب ماینہی عن القاسد والتدابر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۹۶
وغیرذلك ممالیس بنجس العین فذلك الشےیئ طاھر فی حق الوضوء وحل الاکل وسائر التصرفات وکذا اذاغلب الظن علی نجاستہ الخ اھ ملتقطا ۔ وفی الاشباہ والنظائر شك فی وجود النجس فالاصل بقاء الطھارۃ الخ وفی الحدیقۃ لاحرمۃ الامع العلم لامع الشك والظن لان الاصل فی الاشیاء الحل الخ وفی غمزالعیون للعلامۃ السید الحموی تحت قاعدۃ الیقین لا یزول بالشك قیل ھذہ القاعدۃ تدخل فی جمیع ابواب الفقہ والمسائل المخرجۃ علیھا تبلغ ثلثۃ ارباع الفقہ واکثر۔
جو نجس عین نہیں ہے شك پیدا ہو تو یہ چیز وضو کے حق میں پاك ہے اور اس کا کھانا بھی جائز نیز دیگر تصرفات میں استعمال جائز اسی طرح جب اس کی نجاست کا غالب گمان ہو (یقین نہ ہو تو بھی پاك ہے الخ اھ ملتقطا۔ (ت)اور الاشباہ والنظائر میں ہے وجود نجاست میں شك ہو تو اصل طہارت باقی رہتی ہے الخ
اور حدیقہ میں ہے حرمت علم (یقین) کے ساتھ ہے شك اور گمان کے ساتھ نہیں کیونکہ اشیاء کی اصل حلت ہے الخ علامہ سید حموی کی غمزالعیون میں ایك قاعدے “ یقین شك سے زائل نہیں ہوتا “ کے تحت ہے کہا گیا ہے کہ یہ قاعدہ فقہ کے تمام ابواب میں داخل ہے اور اس کے تحت نکالے جانے والے مسائل فقہ کی تین چوتھائی بلکہ اس سے زیادہ تك پہنچتے ہیں۔ (ت)
مقدمہ ثالثہ:
احتیاط اس میں نہیں کہ بے تحقیق بالغ وثبوت کامل کسی شے کو حرام ومکروہ کہہ کر شریعت مطہرہ پر افترا کیجئے بلکہ احتیاط اباحت ماننے میں ہے کہ وہی اصل متیقن اور بے حاجت مبین سیدی عبدالغنی بن سیدی اسمعیل قدس سرہما الجلیل فرماتے ہیں :
لیس الاحتیاط فی الافتراء علی الله تعالی باثبات
احتیاط اس بات میں نہیں کہ حرمت یا کراہت جن کے لئے
جو نجس عین نہیں ہے شك پیدا ہو تو یہ چیز وضو کے حق میں پاك ہے اور اس کا کھانا بھی جائز نیز دیگر تصرفات میں استعمال جائز اسی طرح جب اس کی نجاست کا غالب گمان ہو (یقین نہ ہو تو بھی پاك ہے الخ اھ ملتقطا۔ (ت)اور الاشباہ والنظائر میں ہے وجود نجاست میں شك ہو تو اصل طہارت باقی رہتی ہے الخ
اور حدیقہ میں ہے حرمت علم (یقین) کے ساتھ ہے شك اور گمان کے ساتھ نہیں کیونکہ اشیاء کی اصل حلت ہے الخ علامہ سید حموی کی غمزالعیون میں ایك قاعدے “ یقین شك سے زائل نہیں ہوتا “ کے تحت ہے کہا گیا ہے کہ یہ قاعدہ فقہ کے تمام ابواب میں داخل ہے اور اس کے تحت نکالے جانے والے مسائل فقہ کی تین چوتھائی بلکہ اس سے زیادہ تك پہنچتے ہیں۔ (ت)
مقدمہ ثالثہ:
احتیاط اس میں نہیں کہ بے تحقیق بالغ وثبوت کامل کسی شے کو حرام ومکروہ کہہ کر شریعت مطہرہ پر افترا کیجئے بلکہ احتیاط اباحت ماننے میں ہے کہ وہی اصل متیقن اور بے حاجت مبین سیدی عبدالغنی بن سیدی اسمعیل قدس سرہما الجلیل فرماتے ہیں :
لیس الاحتیاط فی الافتراء علی الله تعالی باثبات
احتیاط اس بات میں نہیں کہ حرمت یا کراہت جن کے لئے
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ بیان اختلاف الفقہا فی امر الطہارۃ والنجاسۃمطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۱۱۔ ۷۱۰
الاشباہ والنظائر القاعدۃ الثالثہ من الفن الاول مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۸۷
الحدیقۃ الندیۃ بیان اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۱۱۔ ۷۱۰
غمزالعیون مع الاشباہ والنظائر القاعدۃ الثالثہ من الفن الاول مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی۱ / ۸۵
الاشباہ والنظائر القاعدۃ الثالثہ من الفن الاول مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۱ / ۸۷
الحدیقۃ الندیۃ بیان اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۱۱۔ ۷۱۰
غمزالعیون مع الاشباہ والنظائر القاعدۃ الثالثہ من الفن الاول مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی۱ / ۸۵
الحرمۃ اوالکراھۃ اللذین لابدلھما من دلیل بل فی القول بالاباحۃ التی ھی الاصل وقد توقف النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم مع انہ ھوالمشرع فی تحریم الخمر ام الخبائث حتی نزل علیہ النص القطعی وآثرہ ابن عابدین فی الاشربۃ مقررا۔
دلیل کی ضرورت ہے کو ثابت کرنے کے ذریعے اللہتعالی پر افترا باندھا جائے بلکہ اباحت کے قول میں احتیاط ہے کیونکہ اباحت اصل ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے شارع ہونے کے باوجود تمام خباثتوں کی جڑ شراب کو حرام قرار دینے میں اس وقت تك توقف کیا جب تك آپ پر نص قطعی نازل نہیں ہوئی اھ ابن عابدین نے مشروبات کے باب میں اسے ثابت رکھتے ہوئے ترجیح دی ہے۔ (ت)
مقدمہ رابعہ:
بازاری افواہ قابل اعتبار اور احکام شرع کی مناط ومدار نہیں ہوسکتی بہت خبریں بے سروپا ایسی مشتہر ہوجاتی ہیں جن کی کچھ اصل نہیں یا ہے تو بہزار۱۰۰۰ تفاوت اکثر دیکھا ہے ایك خبر نے شہر میں شہرت پائی اور قائلوں سے تحقیق کیا تو یہی جواب ملاکر سنا ہے نہ کوئی اپنا دیکھا بیان کرے نہ اس کی سند کا پتا چلے کہ اصل قائل کون تھا ج س سے سن کر شدہ شدہ اس اشتہار کی نوبت آئی یا ثابت ہوا تو یہ کہ فلاں کا فرمایا فاسق منتہائے اسناد تھا پھر معلوم ومشاہد کہ جس قدر سلسلہ بڑھتا جاتا ہے خبر میں نئے نئے شگوفے نکلتے آتے ہیں زید سے ایك واقعہ سنیے کہ مجھ سے عمرو نے کہا تھا عمرو سے پوچھیے تو وہ کچھ اور بیان کرے گا۔ بکر سے دریافت ہوا تو اور تفاوت نکلا۔ علی ھذا القیاس۔ الخ
وماھذا الالما اخبر الصادق المصدوق صلی الله تعالی علیہ وسلم من فشو الکذب بعد قرون الخیر لاسیما ھذا الزمان الابعد الاخر وقد قال صلی الله تعالی علیہ وسلم لایأتی علیکم زمان الا الذی بعدہ شرمنہ حتی تلقوا ربکم اخرجہ احمد ومحمد بن اسمعیل والترمذی والنسائی
اور یہ بات حضور علیہ السلام کی اس خبر کی بنیاد پر ہے جو آپ نے بھلائی کے زمانوں کے بعد جھوٹ کے عام ہونے سے متعلق دی ہے بالخصوص اس نہایت ہی بعید اور پچھلے زمانہ میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ارشاد فرمایا “ تم پر جو آئندہ زمانہ آئے گا بد سے بدتر ہوگا یہاں تك کہ تم اپنے رب سے ملاقات کرو “ ۔ اسے امام احمد
دلیل کی ضرورت ہے کو ثابت کرنے کے ذریعے اللہتعالی پر افترا باندھا جائے بلکہ اباحت کے قول میں احتیاط ہے کیونکہ اباحت اصل ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے شارع ہونے کے باوجود تمام خباثتوں کی جڑ شراب کو حرام قرار دینے میں اس وقت تك توقف کیا جب تك آپ پر نص قطعی نازل نہیں ہوئی اھ ابن عابدین نے مشروبات کے باب میں اسے ثابت رکھتے ہوئے ترجیح دی ہے۔ (ت)
مقدمہ رابعہ:
بازاری افواہ قابل اعتبار اور احکام شرع کی مناط ومدار نہیں ہوسکتی بہت خبریں بے سروپا ایسی مشتہر ہوجاتی ہیں جن کی کچھ اصل نہیں یا ہے تو بہزار۱۰۰۰ تفاوت اکثر دیکھا ہے ایك خبر نے شہر میں شہرت پائی اور قائلوں سے تحقیق کیا تو یہی جواب ملاکر سنا ہے نہ کوئی اپنا دیکھا بیان کرے نہ اس کی سند کا پتا چلے کہ اصل قائل کون تھا ج س سے سن کر شدہ شدہ اس اشتہار کی نوبت آئی یا ثابت ہوا تو یہ کہ فلاں کا فرمایا فاسق منتہائے اسناد تھا پھر معلوم ومشاہد کہ جس قدر سلسلہ بڑھتا جاتا ہے خبر میں نئے نئے شگوفے نکلتے آتے ہیں زید سے ایك واقعہ سنیے کہ مجھ سے عمرو نے کہا تھا عمرو سے پوچھیے تو وہ کچھ اور بیان کرے گا۔ بکر سے دریافت ہوا تو اور تفاوت نکلا۔ علی ھذا القیاس۔ الخ
وماھذا الالما اخبر الصادق المصدوق صلی الله تعالی علیہ وسلم من فشو الکذب بعد قرون الخیر لاسیما ھذا الزمان الابعد الاخر وقد قال صلی الله تعالی علیہ وسلم لایأتی علیکم زمان الا الذی بعدہ شرمنہ حتی تلقوا ربکم اخرجہ احمد ومحمد بن اسمعیل والترمذی والنسائی
اور یہ بات حضور علیہ السلام کی اس خبر کی بنیاد پر ہے جو آپ نے بھلائی کے زمانوں کے بعد جھوٹ کے عام ہونے سے متعلق دی ہے بالخصوص اس نہایت ہی بعید اور پچھلے زمانہ میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے ارشاد فرمایا “ تم پر جو آئندہ زمانہ آئے گا بد سے بدتر ہوگا یہاں تك کہ تم اپنے رب سے ملاقات کرو “ ۔ اسے امام احمد
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الاشربۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۲۶
بخاری شریف باب لایأتی زمانٌ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۰۴۷
بخاری شریف باب لایأتی زمانٌ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۰۴۷
عن انس رضی الله تعالی عنہ۔ واخرج الطبرانی بسند صحیح عن ابن مسعود عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم : امس خیر من الیوم خیر من غدوکذلك حتی تقوم الساعۃ ۔
محمد بن اسمعیل (بخاری) ترمذی اور نسائی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہکی روایت سے نقل کیا ہے۔ اور طبرانی نے بسند صحیح حضرت عبداللہابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے انہوں نے سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کی آپ نے فرمایا : “ کل گزرا ہوا آج سے بہتر تھا اور آج کا دن آنے والے کل سے بہتر ہے تاقیامت اسی طرح ہوگا “ ۔ (ت)
حدیث موقوف میں ہے شیطان آدمی کی شکل بن کر لوگوں میں جھوٹی بات مشہور کردیتا ہے سننے والا اوروں سے بیان کرتا اور کہتا ہے مجھ سے ایك شخص نے ذکر کیا جس کی صورت پہچانتا ہوں نام نہیں جانتا۔
مسلم فی مقدمۃ الصحیح عن عامر بن عبدۃ قال قال عبدالله ان الشيطین لیتمثل فی صورۃ الرجل فیأتی القوم فیحدثھم بالحدیث من الکذب فیتفرقون فیقول الرجل منھم سمعت رجلا اعرف وجھہ ولاادری مااسمہ یحدث ۔
امام مسلم نے اپنی صحیح کے مقدمہ میں جناب عامر بن عبدہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ حضرت عبداللہرضی اللہ تعالی عنہفرماتے ہیں : شیطان آدمی کی شکل میں ایك قوم کے پاس آتا ہے اور ان سے جھوٹی بات بیان کرتا ہے پھر وہ منتشر ہوجاتے ہیں تو ان میں سے ایك آدمی کہتا ہے میں نے ایك آدمی کو بیان کرتے ہوئے سنا میں اس کو چہرے سے پہچانتا ہوں لیکن اس کا نام نہیں جانتا۔ (ت)
علماء فرماتے ہیں افواہی خبر اگرچہ تمام شہر بیان کرے سننے کے قابل نہیں نہ کہ اس سے کوئی حکم ثابت کیا جائے۔
الفاضل المصطفی الرحمتی فی صوم حاشیۃ الدر المختار لامجرد الشیوع من غیر علم بمن اشاعہ کماقد تشیع اخبار یتحدث بھاسائر اھل البلدۃ ولایعلم من اشاعھا کماورد عـــہ ان فی اخر الزمان یجلس الشیطن بین الجماعۃ فیتکلم
درمختار کے حاشیہ (ردالمحتار) میں (استفاضہ کے معنی کے بارے میں) فاضل مصطفی رحمتی کا قول منقول ہے کہ محض خبر پھیلنا کہ شائع کرنے والے کا علم نہ ہو (استفاضہ نہیں ہے) جیسے بعض بے بیناد خبریں لوگوں کی زبان پر عام ہوجاتی ہیں لیکن شائع کرنے والے کا علم نہیں ہوتا جیسا کہ حدیث شریف
عـــہ : قدمنا تخریجہ آنفا منہ (م)
(ہماری طرف سے ابھی اس کی تخریج گزرچکی ہے۔ (ت)
محمد بن اسمعیل (بخاری) ترمذی اور نسائی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہکی روایت سے نقل کیا ہے۔ اور طبرانی نے بسند صحیح حضرت عبداللہابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے انہوں نے سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کی آپ نے فرمایا : “ کل گزرا ہوا آج سے بہتر تھا اور آج کا دن آنے والے کل سے بہتر ہے تاقیامت اسی طرح ہوگا “ ۔ (ت)
حدیث موقوف میں ہے شیطان آدمی کی شکل بن کر لوگوں میں جھوٹی بات مشہور کردیتا ہے سننے والا اوروں سے بیان کرتا اور کہتا ہے مجھ سے ایك شخص نے ذکر کیا جس کی صورت پہچانتا ہوں نام نہیں جانتا۔
مسلم فی مقدمۃ الصحیح عن عامر بن عبدۃ قال قال عبدالله ان الشيطین لیتمثل فی صورۃ الرجل فیأتی القوم فیحدثھم بالحدیث من الکذب فیتفرقون فیقول الرجل منھم سمعت رجلا اعرف وجھہ ولاادری مااسمہ یحدث ۔
امام مسلم نے اپنی صحیح کے مقدمہ میں جناب عامر بن عبدہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ حضرت عبداللہرضی اللہ تعالی عنہفرماتے ہیں : شیطان آدمی کی شکل میں ایك قوم کے پاس آتا ہے اور ان سے جھوٹی بات بیان کرتا ہے پھر وہ منتشر ہوجاتے ہیں تو ان میں سے ایك آدمی کہتا ہے میں نے ایك آدمی کو بیان کرتے ہوئے سنا میں اس کو چہرے سے پہچانتا ہوں لیکن اس کا نام نہیں جانتا۔ (ت)
علماء فرماتے ہیں افواہی خبر اگرچہ تمام شہر بیان کرے سننے کے قابل نہیں نہ کہ اس سے کوئی حکم ثابت کیا جائے۔
الفاضل المصطفی الرحمتی فی صوم حاشیۃ الدر المختار لامجرد الشیوع من غیر علم بمن اشاعہ کماقد تشیع اخبار یتحدث بھاسائر اھل البلدۃ ولایعلم من اشاعھا کماورد عـــہ ان فی اخر الزمان یجلس الشیطن بین الجماعۃ فیتکلم
درمختار کے حاشیہ (ردالمحتار) میں (استفاضہ کے معنی کے بارے میں) فاضل مصطفی رحمتی کا قول منقول ہے کہ محض خبر پھیلنا کہ شائع کرنے والے کا علم نہ ہو (استفاضہ نہیں ہے) جیسے بعض بے بیناد خبریں لوگوں کی زبان پر عام ہوجاتی ہیں لیکن شائع کرنے والے کا علم نہیں ہوتا جیسا کہ حدیث شریف
عـــہ : قدمنا تخریجہ آنفا منہ (م)
(ہماری طرف سے ابھی اس کی تخریج گزرچکی ہے۔ (ت)
حوالہ / References
مجمع الزوائد باب فیما مضی من الزمان الخ مطبوعہ دارالکتاب بیروت ۷ / ۲۸۶
مقدمۃ الصحیح لمسلم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
مقدمۃ الصحیح لمسلم مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
بالکلمۃ فیتحدثون بھا ویقولون لاندری من قالھا فمثل ھذا لاینبغی ان یسمع فضلا من ان یثبت بہ حکم اھ ملخصا۔
میں وارد ہے کہ آخری زمانے میں شیطان ایك جماعت کے درمیان بیٹھ کر کچھ باتیں کرے گا تو وہ اسے بیان کرینگے اور کہیں گے ہم اس کے قائل کو نہیں جانتے پس اس قسم کی بات کو سننا بھی مناسب نہیں چہ جائیکہ اس سے کوئی حکم ثابت کیا جائے اھ ملخصا (ت)
سیدی محمد امین الدین شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہاسے نقل کرکے فرماتے ہیں :
قلت وھوکلام حسن ویشیر الیہ قول الذخیرۃ اذا استفاض وتحقق فان التحقق لایوجد بمجرد الشیوع اھ۔
میں کہتا ہوں یہ اچھا کلام ہے اور ذخیرہ کا قول کہ “ جب اس سے یقین کا فائدہ حاصل ہو اور وہ ثابت ہوجائے کیونکہ مجرد شائع ہونے سے اس کا تحقق نہیں ہوتا “ اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ (ت)
مقدمہ خامسہ:
حلت حرمت طہارت نجاست احکام دینیہ ہیں ان میں کافر کی خبر محض عــــہ نامعتبر۔
قال الله تعالی
و لن یجعل الله للكفرین على المؤمنین سبیلا(۱۴۱)
اللہتعالی نے فرمایا : اللہتعالی ہرگز مسلمانوں پر کافروں کو راہ نہ دے گا۔ (ت )
بلکہ مسلمان فاسق بلکہ مستور الحال کی خبر بھی واجب القبول نہیں چہ جائے کافر۔
قال الله
یایها الذین امنوا ان جآءكم فاسق بنبا فتبینوا
اللہتعالی نے فرمایا : اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لائے تو اس کی تحقیق کرو الآیۃ (ت)
عــــہ : یعنی جب ضمن معاملات میں نہ ہو مثلا کافر گوشت لایا اور کہا مسلمان سے خریدار ہے بات اس کی مقبول اورگوشت حلال اور جو کہا مجوسی کا ذبیحہ ہے قول اس کا ماخوذ اور لحم حرام وکم من شیئ یثبت ضمنا ولایثبت قصدا ۱۲ منہ (بہت سی چیزیں ضمنا ثابت ہوتی ہیں اور قصدا ثابت نہیں ہوتیں۔ ت)
میں وارد ہے کہ آخری زمانے میں شیطان ایك جماعت کے درمیان بیٹھ کر کچھ باتیں کرے گا تو وہ اسے بیان کرینگے اور کہیں گے ہم اس کے قائل کو نہیں جانتے پس اس قسم کی بات کو سننا بھی مناسب نہیں چہ جائیکہ اس سے کوئی حکم ثابت کیا جائے اھ ملخصا (ت)
سیدی محمد امین الدین شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہاسے نقل کرکے فرماتے ہیں :
قلت وھوکلام حسن ویشیر الیہ قول الذخیرۃ اذا استفاض وتحقق فان التحقق لایوجد بمجرد الشیوع اھ۔
میں کہتا ہوں یہ اچھا کلام ہے اور ذخیرہ کا قول کہ “ جب اس سے یقین کا فائدہ حاصل ہو اور وہ ثابت ہوجائے کیونکہ مجرد شائع ہونے سے اس کا تحقق نہیں ہوتا “ اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ (ت)
مقدمہ خامسہ:
حلت حرمت طہارت نجاست احکام دینیہ ہیں ان میں کافر کی خبر محض عــــہ نامعتبر۔
قال الله تعالی
و لن یجعل الله للكفرین على المؤمنین سبیلا(۱۴۱)
اللہتعالی نے فرمایا : اللہتعالی ہرگز مسلمانوں پر کافروں کو راہ نہ دے گا۔ (ت )
بلکہ مسلمان فاسق بلکہ مستور الحال کی خبر بھی واجب القبول نہیں چہ جائے کافر۔
قال الله
یایها الذین امنوا ان جآءكم فاسق بنبا فتبینوا
اللہتعالی نے فرمایا : اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لائے تو اس کی تحقیق کرو الآیۃ (ت)
عــــہ : یعنی جب ضمن معاملات میں نہ ہو مثلا کافر گوشت لایا اور کہا مسلمان سے خریدار ہے بات اس کی مقبول اورگوشت حلال اور جو کہا مجوسی کا ذبیحہ ہے قول اس کا ماخوذ اور لحم حرام وکم من شیئ یثبت ضمنا ولایثبت قصدا ۱۲ منہ (بہت سی چیزیں ضمنا ثابت ہوتی ہیں اور قصدا ثابت نہیں ہوتیں۔ ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الصوم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ / ۱۰۲
القرآن ۴ / ۱۴۱
القرآن ۴۹ / ۶
القرآن ۴ / ۱۴۱
القرآن ۴۹ / ۶
درمختار میں ہے :
شرط العدالۃ فی الدیانات کالخبر عن نجاسۃ الماء فتیمم ولایتوضأ ان اخبربھا مسلم عدل منزجرعما یعتقد حرمتہ ویتحری فی خبر الفاسق والمستور اھ ملخصا ۔
وفی العالمگیریۃ عن الکافی لا یقبل قول المستور فی الدیانات فی ظاھر الروایات وھو الصحیح اھ۔
وفی ردالمحتار عن الھدایۃ الفاسق متھم والکافر لایلتزم الحکم فلیس لہ ان یلزم المسلم اھ۔
دیانات (عبادات سے متعلق خبر) میں عدالت شرط ہے جیسے پانی کے ناپاك ہونے کے بارے میں اگر کوئی مسلمان عادل جو حرام امور سے باز رہنے والا ہو خبر دے تو تمیم کرے وضو نہ کرے۔ اور فاسق ومستور الحال کی خبر کے بارے میں غوروفکر کرے انتہی تلخیص۔
اور عالمگیریہ میں کافی ہے نقل کیا کہ ظاہر روایات کے مطابق دیانات میں مستور الحال کا قول قبول نہ کیا جائے یہی صحیح ہے اھ۔ اور ردالمحتار میں ہدایہ سے نقل کیا ہے کہ فاسق تہمت زدہ ہے اور کافر حکم کا خود التزام نہیں کرتا پس اسے مسلمان پر لازم کرنے کا حق نہیں۔ اھ (ت)
ہاں فاسق ومستور میں اتنا ہے کہ ان کی خبر سن کر تحری واجب اگر دل پر ان کا صدق جمے تو لحاظ کرے جب تك دلیل اقوی معارض نہ ہو اور کافر میں اس کی بھی حاجت نہیں مثلا پانی رکھا ہو کافر کہے ناپاك ہے تو مسلمان کو رواکہ اس سے وضو کرلے یا گوشت خریدا ہو کافر کہے اس میں لحم خنزیر ملا ہے مسلمان کو اس کا کھانا حلال اگرچہ اس کا صدق ہی غالب ہو اگرچہ اس کی یہ بات دل پر کچھ عـــہ جمتی ہوئی ہوکہ جو خدا کو جھٹلاتا ہے اس سے بڑھ کر جھوٹا کون پھر ایسے کی بات محض واہیات البتہ احتیاط کرے تو بہتر وہ بھی وہاں جب کچھ حرج نہ ہو۔
فی فتاوی الامام قاضی خان ان کان المخبر بنجاسۃ الماء رجلا من اھل الذمۃ لایقبل قولہ فان وقع فی قلبہ انہ صادق فی ھذا الوجہ قال
فتاوائے امام قاضی خان میں ہے اگر پانی کے ناپاك ہونے کی خبر دینے والا ذمی (کافر) ہو تو اس کی بات قبول نہ کی جائے اگر اس کے دل میں واقع ہوکہ وہ اس
عـــہ : کچھ اس لئے کہ مجرد خبر کافر کا بے ملاخطہ امور دیگر جو اس کے مؤیدات وقرائن ہوں قلب مومن پر ٹھیك ٹھیك جمنا کالمحال ہے ۱۲ منہ (م)
شرط العدالۃ فی الدیانات کالخبر عن نجاسۃ الماء فتیمم ولایتوضأ ان اخبربھا مسلم عدل منزجرعما یعتقد حرمتہ ویتحری فی خبر الفاسق والمستور اھ ملخصا ۔
وفی العالمگیریۃ عن الکافی لا یقبل قول المستور فی الدیانات فی ظاھر الروایات وھو الصحیح اھ۔
وفی ردالمحتار عن الھدایۃ الفاسق متھم والکافر لایلتزم الحکم فلیس لہ ان یلزم المسلم اھ۔
دیانات (عبادات سے متعلق خبر) میں عدالت شرط ہے جیسے پانی کے ناپاك ہونے کے بارے میں اگر کوئی مسلمان عادل جو حرام امور سے باز رہنے والا ہو خبر دے تو تمیم کرے وضو نہ کرے۔ اور فاسق ومستور الحال کی خبر کے بارے میں غوروفکر کرے انتہی تلخیص۔
اور عالمگیریہ میں کافی ہے نقل کیا کہ ظاہر روایات کے مطابق دیانات میں مستور الحال کا قول قبول نہ کیا جائے یہی صحیح ہے اھ۔ اور ردالمحتار میں ہدایہ سے نقل کیا ہے کہ فاسق تہمت زدہ ہے اور کافر حکم کا خود التزام نہیں کرتا پس اسے مسلمان پر لازم کرنے کا حق نہیں۔ اھ (ت)
ہاں فاسق ومستور میں اتنا ہے کہ ان کی خبر سن کر تحری واجب اگر دل پر ان کا صدق جمے تو لحاظ کرے جب تك دلیل اقوی معارض نہ ہو اور کافر میں اس کی بھی حاجت نہیں مثلا پانی رکھا ہو کافر کہے ناپاك ہے تو مسلمان کو رواکہ اس سے وضو کرلے یا گوشت خریدا ہو کافر کہے اس میں لحم خنزیر ملا ہے مسلمان کو اس کا کھانا حلال اگرچہ اس کا صدق ہی غالب ہو اگرچہ اس کی یہ بات دل پر کچھ عـــہ جمتی ہوئی ہوکہ جو خدا کو جھٹلاتا ہے اس سے بڑھ کر جھوٹا کون پھر ایسے کی بات محض واہیات البتہ احتیاط کرے تو بہتر وہ بھی وہاں جب کچھ حرج نہ ہو۔
فی فتاوی الامام قاضی خان ان کان المخبر بنجاسۃ الماء رجلا من اھل الذمۃ لایقبل قولہ فان وقع فی قلبہ انہ صادق فی ھذا الوجہ قال
فتاوائے امام قاضی خان میں ہے اگر پانی کے ناپاك ہونے کی خبر دینے والا ذمی (کافر) ہو تو اس کی بات قبول نہ کی جائے اگر اس کے دل میں واقع ہوکہ وہ اس
عـــہ : کچھ اس لئے کہ مجرد خبر کافر کا بے ملاخطہ امور دیگر جو اس کے مؤیدات وقرائن ہوں قلب مومن پر ٹھیك ٹھیك جمنا کالمحال ہے ۱۲ منہ (م)
حوالہ / References
درمختار کتاب الحظر والاباحۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲ / ۲۳۷
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۰۹
ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۴۳
فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۰۹
ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۴۳
فی الکتاب احب الی ان یریق الماء ثم یتیمم ولوتوضأ وصلی جازت صلاتہ اھ وفی الھندیۃ عن التاتارخانیۃ رجل اشتری لحما فلما قبضہ فاخبرہ مسلم ثقۃ انہ قدخالطہ لحم الخنزیر لم یسعہ ان یاکلہ اھ۔
قلت ومفھوم المخالفۃ معتبر فی الکتب کماصرح بہ الائمۃ والعلماء وفی ردالمحتار عن الذخیرۃ انہ فی الفاسق یجب التحری وفی الذمی یستحب اھ۔ وفی شرح التنویر عن شرح النقایۃ والخلاصۃ والخانیۃ اما الکافر اذاغلب صدقہ علی کذبہ فاراقتہ احب اھ
بات میں سچا ہے تو کتاب میں فرمایا : مجھے زیادہ پسند ہے کہ پانی بہادے اور تمیم کرے اور اگر اس کے ساتھ وضو کرکے نماز پڑھی تو بھی جائز ہے (ت)
اور فتاوی ہندیہ میں تاتارخانیہ سے نقل کیا ہے کہ ایك آدمی نے گوشت خریدا جب اس پر قبضہ کرلیا تو اسے کسی صالح مسلمان نے خبر دی کہ اس میں خنزیر کا گوشت ملا ہوا ہے تو اس کے لئے کھانے کی گنجائش نہیں اھ (ت)
میں کہتا ہوں کتب میں مفہوم مخالف کا اعتبار کیا گیا ہے جیسا کہ ائمہ وعلما نے اس کی تصریح کی ردالمحتار میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ فاسق کے سلسلے میں سوچ وبچار ضروری ہے اور ذمی کے بارے میں مستحب ہے اھ (ت)اور شرح تنویر میں شرح نقایہ خلاصہ اور خانیہ سے منقول ہے کہ کافر کا سچ جب اس کے جھوٹ پر غالب ہو تب بھی اس (پانی) کا بہادینا زیادہ پسندیدہ ہے اھ (ت)
مقدمہ سادسہ:
کسی شے کا محل احتیاط سے دور یا کسی قوم کا بے احتیاط وشعور اور پروائے نجاست وحرمت سے مہجور ہونا اسے مستلزم نہیں کہ وہ شے یا اس قوم کی استعمالی خواہ بنائی ہوئی چیزیں مطلقا ناپاك یا حرام وممنوع قرار پائیں کہ اس سے اگر یقین ہوا تو ان کی بے احتیاطی پر اور بے احتیاطی مقتضی وقوع دائم نہیں پھر نفس شے میں سو اظنون وخیالات کے کیا باقی رہا جنہیں امثال مقام میں شرع مطہر لحاظ سے ساقط فرماچکی کماذکرنا فی المقدمۃ الثانیۃ(جیسا کہ ہم نے
قلت ومفھوم المخالفۃ معتبر فی الکتب کماصرح بہ الائمۃ والعلماء وفی ردالمحتار عن الذخیرۃ انہ فی الفاسق یجب التحری وفی الذمی یستحب اھ۔ وفی شرح التنویر عن شرح النقایۃ والخلاصۃ والخانیۃ اما الکافر اذاغلب صدقہ علی کذبہ فاراقتہ احب اھ
بات میں سچا ہے تو کتاب میں فرمایا : مجھے زیادہ پسند ہے کہ پانی بہادے اور تمیم کرے اور اگر اس کے ساتھ وضو کرکے نماز پڑھی تو بھی جائز ہے (ت)
اور فتاوی ہندیہ میں تاتارخانیہ سے نقل کیا ہے کہ ایك آدمی نے گوشت خریدا جب اس پر قبضہ کرلیا تو اسے کسی صالح مسلمان نے خبر دی کہ اس میں خنزیر کا گوشت ملا ہوا ہے تو اس کے لئے کھانے کی گنجائش نہیں اھ (ت)
میں کہتا ہوں کتب میں مفہوم مخالف کا اعتبار کیا گیا ہے جیسا کہ ائمہ وعلما نے اس کی تصریح کی ردالمحتار میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ فاسق کے سلسلے میں سوچ وبچار ضروری ہے اور ذمی کے بارے میں مستحب ہے اھ (ت)اور شرح تنویر میں شرح نقایہ خلاصہ اور خانیہ سے منقول ہے کہ کافر کا سچ جب اس کے جھوٹ پر غالب ہو تب بھی اس (پانی) کا بہادینا زیادہ پسندیدہ ہے اھ (ت)
مقدمہ سادسہ:
کسی شے کا محل احتیاط سے دور یا کسی قوم کا بے احتیاط وشعور اور پروائے نجاست وحرمت سے مہجور ہونا اسے مستلزم نہیں کہ وہ شے یا اس قوم کی استعمالی خواہ بنائی ہوئی چیزیں مطلقا ناپاك یا حرام وممنوع قرار پائیں کہ اس سے اگر یقین ہوا تو ان کی بے احتیاطی پر اور بے احتیاطی مقتضی وقوع دائم نہیں پھر نفس شے میں سو اظنون وخیالات کے کیا باقی رہا جنہیں امثال مقام میں شرع مطہر لحاظ سے ساقط فرماچکی کماذکرنا فی المقدمۃ الثانیۃ(جیسا کہ ہم نے
حوالہ / References
فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یقبل قول الواحد مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۴ / ۷۸۷
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۰۹
ردالمحتار کتاب الخطروالا باحۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۴۴
درمختار کتاب الخطروالا باحۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲ / ۲۳۷
فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۰۹
ردالمحتار کتاب الخطروالا باحۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۴۴
درمختار کتاب الخطروالا باحۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲ / ۲۳۷
دوسرے مقدمہ میں ذکر کیا ہے۔ ت) اور توضیحا للمرام مسائل مسائل شرح سے اس کے چند نظائر بھی معرض بیان میں آنا مناسب کہ اس میں ایك تو ایضاح قاعدہ دوسرے اکثار فائدہ تیسرے علاج وساوس واللہتعالی الموفق۔
(۱) دیکھو کیا کم ہے ان کنوؤں کی بے احتیاطی جن سے کفار فجار جہاں گنوار نادان بچے بے تمیز عورتیں سب طرح کے لوگ پانی بھرتے ہیں پھر شرع مطہر ان کی طہارت کا حکم دیتی اور شرب ووضو روا فرماتی ہے جب تك نجاست معلوم نہ ہو۔
فی التتارخانیۃ ثم ردالمحتار من شك فی انائہ اوثوبہ اوبدنہ اصابتہ نجاسۃ اولا فھو طاھر مالم یستیقن وکذا الابار والحیاض والحباب الموضوعۃ فی الطرقات ویستقی منھا الصغار والکبار والمسلمون والکفار اھ۔
اقول : وھذا امر مستمر من لدن الصدر الاول الی زماننا ھذا لایعیبہ عائب ولاینکرہ منکر فکان اجماعا۔
تتارخانیہ پھر ردالمحتار میں ہے جس کو اپنے برتن کپڑے یا بدن میں شك ہو کہ اسے نجاست پہنچی ہے یا نہیں تو جب تك (نجاست لگنے کا) یقین نہ ہو وہ پاك ہے اسی طرح کنویں حوض اور راستوں میں رکھے ہوئے مٹکے جن میں سےچھوٹے اور بڑے مسلمان اور کفار (سب) پیتے ہیں (پاك ہیں) اھ
اقول : یہ بات پہلے دور سے ہمارے زمانے تك جاری ہے کوئی عیب لگانے والا اسے عیب نہیں لگاتا اور نہ کوئی منکر اس کا انکار کرتا ہے پس اجماع ہوا۔ (ت)
(۲) خیال کرو اس سے زیادہ ظنوں وخیالات ہیں ان جوتوں کے بارہ میں جنہیں گلی کوچوں ہر قسم کی جگہوں میں پہنے پھرے پھر علما فرماتے ہیں جوتا کنویں سے نکلے اور اس پر کوئی نجاست ظاہر نہ ہو کنواں طاہر اگرچہ تطیبا للقلب (دل کی تسلی کے لئے) دس بیس۲۰ عـــہ ڈول تجویز کیے گئے۔
فی الطریقۃ والحدیقۃ عن التاترخانیۃ سئل الامام الخجندی عن رکیۃ وھی البئر وجدفیھا
طریقہ محمدیہ اور حدیقہ ندیہ میں تتارخانیہ سے منقول ہے امام خجندی سے رکیہ کے بارے میں پوچھا گیا اور یہ ایک
عـــہ : الاول مصرح بہ بعض الکتب والثانی لضابطۃ وضعھا محمد نظرا الی ان العشرین اقل ماورد کمافی الخانیۃ وھذا ھو الاولی بالاخذ والله اعلم ۱۲ منہ (م)
پہلے کی تصریح بعض کتب میں موجود ہے اور دوسرا اس ضابطہ کی بناء پر جسے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے وضع کیا ہے اس کی رعایت کرتے ہوئے کہ احادیث میں وارد شدہ اقوال میں تعداد کے اعتبار سے سب سے کم بیس۲۰ کا قول ہے جیسا کہ خانیہ میں ہے یہ وہ ہے جس پر عمل کرنا اولی ہے والله تعالی اعلم ۱۲ منہ (ت)
(۱) دیکھو کیا کم ہے ان کنوؤں کی بے احتیاطی جن سے کفار فجار جہاں گنوار نادان بچے بے تمیز عورتیں سب طرح کے لوگ پانی بھرتے ہیں پھر شرع مطہر ان کی طہارت کا حکم دیتی اور شرب ووضو روا فرماتی ہے جب تك نجاست معلوم نہ ہو۔
فی التتارخانیۃ ثم ردالمحتار من شك فی انائہ اوثوبہ اوبدنہ اصابتہ نجاسۃ اولا فھو طاھر مالم یستیقن وکذا الابار والحیاض والحباب الموضوعۃ فی الطرقات ویستقی منھا الصغار والکبار والمسلمون والکفار اھ۔
اقول : وھذا امر مستمر من لدن الصدر الاول الی زماننا ھذا لایعیبہ عائب ولاینکرہ منکر فکان اجماعا۔
تتارخانیہ پھر ردالمحتار میں ہے جس کو اپنے برتن کپڑے یا بدن میں شك ہو کہ اسے نجاست پہنچی ہے یا نہیں تو جب تك (نجاست لگنے کا) یقین نہ ہو وہ پاك ہے اسی طرح کنویں حوض اور راستوں میں رکھے ہوئے مٹکے جن میں سےچھوٹے اور بڑے مسلمان اور کفار (سب) پیتے ہیں (پاك ہیں) اھ
اقول : یہ بات پہلے دور سے ہمارے زمانے تك جاری ہے کوئی عیب لگانے والا اسے عیب نہیں لگاتا اور نہ کوئی منکر اس کا انکار کرتا ہے پس اجماع ہوا۔ (ت)
(۲) خیال کرو اس سے زیادہ ظنوں وخیالات ہیں ان جوتوں کے بارہ میں جنہیں گلی کوچوں ہر قسم کی جگہوں میں پہنے پھرے پھر علما فرماتے ہیں جوتا کنویں سے نکلے اور اس پر کوئی نجاست ظاہر نہ ہو کنواں طاہر اگرچہ تطیبا للقلب (دل کی تسلی کے لئے) دس بیس۲۰ عـــہ ڈول تجویز کیے گئے۔
فی الطریقۃ والحدیقۃ عن التاترخانیۃ سئل الامام الخجندی عن رکیۃ وھی البئر وجدفیھا
طریقہ محمدیہ اور حدیقہ ندیہ میں تتارخانیہ سے منقول ہے امام خجندی سے رکیہ کے بارے میں پوچھا گیا اور یہ ایک
عـــہ : الاول مصرح بہ بعض الکتب والثانی لضابطۃ وضعھا محمد نظرا الی ان العشرین اقل ماورد کمافی الخانیۃ وھذا ھو الاولی بالاخذ والله اعلم ۱۲ منہ (م)
پہلے کی تصریح بعض کتب میں موجود ہے اور دوسرا اس ضابطہ کی بناء پر جسے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے وضع کیا ہے اس کی رعایت کرتے ہوئے کہ احادیث میں وارد شدہ اقوال میں تعداد کے اعتبار سے سب سے کم بیس۲۰ کا قول ہے جیسا کہ خانیہ میں ہے یہ وہ ہے جس پر عمل کرنا اولی ہے والله تعالی اعلم ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۱۱
خف ای نعل تلبس ویمشی بھا صاحبھا فی الطرقات لایدری متی وقع فیھا ولیس علیہ اثر النجاسۃ ھل یحکم بنجاسۃ الماء قال لا اھ ملخصا۔
اقول : بل قدصح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم واصحابہ الصلاۃ فی النعال التی کانوا یمشون بھا فی الطرقات ۔ کمافی حدیث خلع النعال عند احمد وابی داود جمع المحدثین عن ابی سعید الخدری رضی الله تعالی عنہ واخرج الائمۃ احمد والشیخان والترمذی والنسائی عن سعید بن یزید سألت انسا اکان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یصلی فی نعلیہ قال نعم۔ واخرج وابوداود والحاکم وابن حبان والبھیقی باسناد صحیح والطبرانی فی الکبیر علی نزاع فی صحتہ عن شداد بن اوس والبزار بسند ضعیف عن انس مرفوعا وھذا حدیث الاول خالفوا الیھود (وفی روایۃ والنصاری) فانھم لایصلون فی نعالھم ولاخفافھم وقد کثرت الاحادیث القولیۃ والفعلیۃ فی ھذا المعنی مرفوعات وموقوفات۔
کنواں ہے کہ اس میں موزہ یعنی جوتا پایا گیا جس کو پہننے والا پہن کر راستوں پر چلتا ہے اسے معلوم نہیں کہ اس میں کب گرا اور اس پر نجاست کا نشان بھی نہیں تو کیا پانی کے ناپاك ہونے کا حکم دیا جائے گا انہوں نے فرمایا : نہیں اھ تلخیص۔
اقول : بلکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے ان جوتوں میں جن کے ساتھ وہ راستوں میں چلتے تھے نماز پڑھنا صحیح طور پر ثابت ہے جیسا کہ جوتا اتارنے والی حدیث میں ہے جسے امام احمد ابوداؤد اور محدثین کی ایك جماعت نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہکی روایت سے نقل کیا ہے۔ اور امام احمد بخاری ومسلم ترمذی اور نسائی نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے پوچھا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنعلین مبارك میں نماز پڑھتے تھے انہوں نے فرمایا : ہاں۔ اور ابوداؤد حاکم ابن حبان اور بہےیقی نے صحیح سند کے ساتھ اور طبرانی نے کبیر میں ایسی سند کے ساتھ جس کی صحت میں نزاع ہے شداد بن اوس سے اور بزار نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے مرفوعا روایت کیا اور یہ پہلی حدیث ہے کہ یہودیوں کی مخالفت کرو (ایك روایت میں ہے اور نصاری کی بھی) کیونکہ وہ اپنے جوتوں اور موزوں میں نماز نہیں پڑھتے اس مفہوم میں قولی فعل مرفوع اور موقوف احادیث بکثرت پائی جاتی ہیں۔ (ت)
اقول : بل قدصح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم واصحابہ الصلاۃ فی النعال التی کانوا یمشون بھا فی الطرقات ۔ کمافی حدیث خلع النعال عند احمد وابی داود جمع المحدثین عن ابی سعید الخدری رضی الله تعالی عنہ واخرج الائمۃ احمد والشیخان والترمذی والنسائی عن سعید بن یزید سألت انسا اکان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم یصلی فی نعلیہ قال نعم۔ واخرج وابوداود والحاکم وابن حبان والبھیقی باسناد صحیح والطبرانی فی الکبیر علی نزاع فی صحتہ عن شداد بن اوس والبزار بسند ضعیف عن انس مرفوعا وھذا حدیث الاول خالفوا الیھود (وفی روایۃ والنصاری) فانھم لایصلون فی نعالھم ولاخفافھم وقد کثرت الاحادیث القولیۃ والفعلیۃ فی ھذا المعنی مرفوعات وموقوفات۔
کنواں ہے کہ اس میں موزہ یعنی جوتا پایا گیا جس کو پہننے والا پہن کر راستوں پر چلتا ہے اسے معلوم نہیں کہ اس میں کب گرا اور اس پر نجاست کا نشان بھی نہیں تو کیا پانی کے ناپاك ہونے کا حکم دیا جائے گا انہوں نے فرمایا : نہیں اھ تلخیص۔
اقول : بلکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے ان جوتوں میں جن کے ساتھ وہ راستوں میں چلتے تھے نماز پڑھنا صحیح طور پر ثابت ہے جیسا کہ جوتا اتارنے والی حدیث میں ہے جسے امام احمد ابوداؤد اور محدثین کی ایك جماعت نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہکی روایت سے نقل کیا ہے۔ اور امام احمد بخاری ومسلم ترمذی اور نسائی نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کی وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے پوچھا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنعلین مبارك میں نماز پڑھتے تھے انہوں نے فرمایا : ہاں۔ اور ابوداؤد حاکم ابن حبان اور بہےیقی نے صحیح سند کے ساتھ اور طبرانی نے کبیر میں ایسی سند کے ساتھ جس کی صحت میں نزاع ہے شداد بن اوس سے اور بزار نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے مرفوعا روایت کیا اور یہ پہلی حدیث ہے کہ یہودیوں کی مخالفت کرو (ایك روایت میں ہے اور نصاری کی بھی) کیونکہ وہ اپنے جوتوں اور موزوں میں نماز نہیں پڑھتے اس مفہوم میں قولی فعل مرفوع اور موقوف احادیث بکثرت پائی جاتی ہیں۔ (ت)
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیہ الصنف الثانی من الصنفین الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل اباد ۲ / ۶۷۴
مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ مطبوعہ دار الفکر بیروت ۳ / ۹۲
صحیح البخاری باب الصلٰوۃ فی النعال مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۶
سنن ابی داؤد باب الصلٰوۃ فی النعال مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۵
مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ مطبوعہ دار الفکر بیروت ۳ / ۹۲
صحیح البخاری باب الصلٰوۃ فی النعال مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۶
سنن ابی داؤد باب الصلٰوۃ فی النعال مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۹۵
قلت وقد افرزت فی ھذہ المسئلۃ وتحقیق الحکم فیھا کراہۃ لطیفۃ تحتوی بعون الملك القوی علی فرائد نظیفۃ وفوائد شریفۃ سمیتھا جمال الاجمال لتوقیف حکم الصلاۃ فی النعال حاصل ماحققت فیھا ان الصلاۃ فی الحذاء الجدید والنظیف المصون عن مواضع الدفق ومواقع الریبۃ تجوز بلاکراھۃ ولابأس وکذا النعل الھندیۃ اذا لم تکن صلبۃ ضیقۃ تمنع افتراش اصابع القدم والاعتماد علیھا بل قد یقال باستحبابہ واما غیر ذلك فیمنع منہ ومن المشی بھا فی المساجد وان کانت رخصۃ فی الصدر الاول فکم من حکم یختلف باختلاف الزمان والله تعالی اعلم۔
میں کہتا ہوں میں نے اس مسئلہ اور اس کے حکم کی تحقیق میں ایك عمدہ کتابچہ لکھا ہے جو طاقت والے بادشاہ کی مدد سے عمدہ موتیوں اور عظیم فوائد پر مشتمل ہے میں نے اس کا نام جمال الاجمال لتوقیف حکم الصلاۃ فی النعال (جوتوں سمیت نماز پڑھنے کے حکم کی واقفیت کا عمدہ اجمالی بیان۔ ت) رکھا ہے۔ میں نے اس میں جو تحقیق کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نئے اور پاك جوتے میں جو نجاست کی جگہوں اور شك وشبہ کے مقامات سے محفوظ ہو بلاکراہت نماز پڑھنا جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہندوستانی جوتے کابھی یہی حکم ہے جب کہ وہ ایسا سخت اور تنگ نہ ہو جو انگلیاں بچھانے اور ان پر ٹیك لگانے میں رکاوٹ ہو بلکہ اس کے مستحب ہونے کا قول بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ جوتے میں نماز پڑھنے اور اس کے ساتھ مساجد میں چلنے سے بھی منع کیا جائے گا اگرچہ پہلے دور میں اس کی اجازت تھی کچھ احکام اختلاف زمانہ سے بدل جاتے ہیں والله تعالی اعلم (ت)
(۳) غور کرو کیا کچھ گمان ہیں بچوں کے جسم وجامہ میں کہ وہ احتیاط کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی پھر فقہا حکم دیتے ہیں جس پانی میں بچہ ہاتھ یا پاؤں ڈال دے پاك ہے جب تك نجاست تحقیق نہ ہو۔
فی المتن والشرح المذکورین کذلك حکم الماء الذی ادخل الصبی یدہ فیہ لان الصبیان لایتوقون النجاسۃ لکن لایحکم بھابالشك والظن حتی لوظھرت عین النجاسۃ اواثرھا حکم بالنجاسۃ اھ ملخصا۔
مذکور متن وشرح (طریقہ وحدیقہ) میں ہے “ اسی طرح اس پانی کا حکم ہے جس میں بچے نے ہاتھ داخل کیا کیونکہ بچے نجاست سے اجتناب نہیں کرتے لیکن شك اور گمان کی بنیاد پر اس کا حکم نہیں دیا جائے گا البتہ عین نجاست یا اس کا اثر ظاہر ہوجائے تو نجاست کا حکم دیا جائے گا اھ ملخصا (ت)
(۴) لحاظ کرو کس درجہ مجال وسیع ہے روغن کتان میں جس سے صابون بنتا ہے اس کی کلیاں کھلی رکھی رہتی ہیں اور چوہا
میں کہتا ہوں میں نے اس مسئلہ اور اس کے حکم کی تحقیق میں ایك عمدہ کتابچہ لکھا ہے جو طاقت والے بادشاہ کی مدد سے عمدہ موتیوں اور عظیم فوائد پر مشتمل ہے میں نے اس کا نام جمال الاجمال لتوقیف حکم الصلاۃ فی النعال (جوتوں سمیت نماز پڑھنے کے حکم کی واقفیت کا عمدہ اجمالی بیان۔ ت) رکھا ہے۔ میں نے اس میں جو تحقیق کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نئے اور پاك جوتے میں جو نجاست کی جگہوں اور شك وشبہ کے مقامات سے محفوظ ہو بلاکراہت نماز پڑھنا جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہندوستانی جوتے کابھی یہی حکم ہے جب کہ وہ ایسا سخت اور تنگ نہ ہو جو انگلیاں بچھانے اور ان پر ٹیك لگانے میں رکاوٹ ہو بلکہ اس کے مستحب ہونے کا قول بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ جوتے میں نماز پڑھنے اور اس کے ساتھ مساجد میں چلنے سے بھی منع کیا جائے گا اگرچہ پہلے دور میں اس کی اجازت تھی کچھ احکام اختلاف زمانہ سے بدل جاتے ہیں والله تعالی اعلم (ت)
(۳) غور کرو کیا کچھ گمان ہیں بچوں کے جسم وجامہ میں کہ وہ احتیاط کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی پھر فقہا حکم دیتے ہیں جس پانی میں بچہ ہاتھ یا پاؤں ڈال دے پاك ہے جب تك نجاست تحقیق نہ ہو۔
فی المتن والشرح المذکورین کذلك حکم الماء الذی ادخل الصبی یدہ فیہ لان الصبیان لایتوقون النجاسۃ لکن لایحکم بھابالشك والظن حتی لوظھرت عین النجاسۃ اواثرھا حکم بالنجاسۃ اھ ملخصا۔
مذکور متن وشرح (طریقہ وحدیقہ) میں ہے “ اسی طرح اس پانی کا حکم ہے جس میں بچے نے ہاتھ داخل کیا کیونکہ بچے نجاست سے اجتناب نہیں کرتے لیکن شك اور گمان کی بنیاد پر اس کا حکم نہیں دیا جائے گا البتہ عین نجاست یا اس کا اثر ظاہر ہوجائے تو نجاست کا حکم دیا جائے گا اھ ملخصا (ت)
(۴) لحاظ کرو کس درجہ مجال وسیع ہے روغن کتان میں جس سے صابون بنتا ہے اس کی کلیاں کھلی رکھی رہتی ہیں اور چوہا
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیہ النور الرابع فی بیان اختلاف الفقہاء الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۱
اس کی بو پر دوڑتا اور جیسے بن پڑے پیتا اور اکثر اس میں گر بھی جاتا ہے پھر ائمہ ارشاد کرتے ہیں ہم اس بنا پر روغن کو ناپاك نہیں کہہ سکتے کہ یہ فقط ظن ہیں کیا معلوم کہ خواہی نخواہی ایسا ہوا ہی۔
فیھما عن التاتارخانیۃ عن المحیط البرھانی قدوقع عند بعض الناس ان الصابون نجس لانہ یؤخذ من دھن الکتان ودھن الکتان نجس لانہ اوعیتہ تکون مفتوحۃ الرأس عادۃ والفأرۃ تقصد شربھا وتقع فیھا غالبا ولکنا محشر الحنفیۃ لانفتی بنجاسۃ الصابون لانالانفتی بنجاسۃ الدھن لان وقوع الفأرۃ مظنون ولانجاسۃ بالظن اھ ملخصا۔
ان دونوں (طریقہ وحدیقہ) میں بحوالہ تتارخانیہ محیط برہانی سے منقول ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیك صابن ناپاك ہے کیونکہ وہ کتان کے تیل سے بنایا جاتا ہے اور کتان کا تیل ناپاك ہے کیونکہ اس کے برتن عام طور پر کھلے منہ ہوتے ہیں اور چوہے اس کو پینا چاہتے ہیں اور اکثر اس میں گر پڑتے ہیں لیکن ہم گروہ احناف صابن کے ناپاك ہونے کا فتوی نہیں دیتے کیونکہ تیل کی نجاست پر ہمارا فتوی نہیں ہے اس لئے کہ چوہے کا گرنا محض گمان ہے اور گمان سے نجاست ثابت نہیں ہوتی اھ تلخیص (ت)
(۵) نظر کرو کتنی ردی حالت ہے ان کھانوں اور مٹھائیوں کی جو کفار وہنود بناتے ہیں کیا ہمیں ان کی سخت بے احتیاطوں پر یقین نہیں کیا ہم نہیں کہہ سکتے کہ ان کی کوئی چیز گوبر وغیرہ نجاسات سے خالی نہیں کیا ہمیں نہیں معلوم کہ ان کے نزدیك گائے بھینس کا گوبر اور بچھیا کا پیشاب نظیف طاہر بلکہ طھورو مطہر بلکہ نہایت مبارك ومقدس ہے کہ جب طہارت ونظافت میں اہتمام تمام منظور رکھتے ہیں تو ان سے زائد یہ فضیلت کسی شے سے حاصل نہیں جانتے پھر علما ان چیزوں کا کھانا جائز رکھتے ہیں۔
فی ردالمختار عن التترخانیۃ طاھر ما یتخذہ اھل الشرك او الجھلۃ من المسلمین کالسمن والخبز والاطعمۃ والثیاب اھ ملخصا۔
ردالمحتار میں تتارخانیہ سے منقول ہے کہ جو چیز مشرکین اور جاہل مسلمان بناتے ہیں مثلا گھی روٹی کھانے اور کپڑے وغیرہ وہ پاك ہیں اھ ملخصا (ت)
بلکہ خود حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بکمال رافت ورحمت وتواضع ولینت وتالیف واستمالت کفار کی دعوت قبول فرمائی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
الامام احمد عن انس رضی الله تعالی عنہ ان
امام احمد نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے
فیھما عن التاتارخانیۃ عن المحیط البرھانی قدوقع عند بعض الناس ان الصابون نجس لانہ یؤخذ من دھن الکتان ودھن الکتان نجس لانہ اوعیتہ تکون مفتوحۃ الرأس عادۃ والفأرۃ تقصد شربھا وتقع فیھا غالبا ولکنا محشر الحنفیۃ لانفتی بنجاسۃ الصابون لانالانفتی بنجاسۃ الدھن لان وقوع الفأرۃ مظنون ولانجاسۃ بالظن اھ ملخصا۔
ان دونوں (طریقہ وحدیقہ) میں بحوالہ تتارخانیہ محیط برہانی سے منقول ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیك صابن ناپاك ہے کیونکہ وہ کتان کے تیل سے بنایا جاتا ہے اور کتان کا تیل ناپاك ہے کیونکہ اس کے برتن عام طور پر کھلے منہ ہوتے ہیں اور چوہے اس کو پینا چاہتے ہیں اور اکثر اس میں گر پڑتے ہیں لیکن ہم گروہ احناف صابن کے ناپاك ہونے کا فتوی نہیں دیتے کیونکہ تیل کی نجاست پر ہمارا فتوی نہیں ہے اس لئے کہ چوہے کا گرنا محض گمان ہے اور گمان سے نجاست ثابت نہیں ہوتی اھ تلخیص (ت)
(۵) نظر کرو کتنی ردی حالت ہے ان کھانوں اور مٹھائیوں کی جو کفار وہنود بناتے ہیں کیا ہمیں ان کی سخت بے احتیاطوں پر یقین نہیں کیا ہم نہیں کہہ سکتے کہ ان کی کوئی چیز گوبر وغیرہ نجاسات سے خالی نہیں کیا ہمیں نہیں معلوم کہ ان کے نزدیك گائے بھینس کا گوبر اور بچھیا کا پیشاب نظیف طاہر بلکہ طھورو مطہر بلکہ نہایت مبارك ومقدس ہے کہ جب طہارت ونظافت میں اہتمام تمام منظور رکھتے ہیں تو ان سے زائد یہ فضیلت کسی شے سے حاصل نہیں جانتے پھر علما ان چیزوں کا کھانا جائز رکھتے ہیں۔
فی ردالمختار عن التترخانیۃ طاھر ما یتخذہ اھل الشرك او الجھلۃ من المسلمین کالسمن والخبز والاطعمۃ والثیاب اھ ملخصا۔
ردالمحتار میں تتارخانیہ سے منقول ہے کہ جو چیز مشرکین اور جاہل مسلمان بناتے ہیں مثلا گھی روٹی کھانے اور کپڑے وغیرہ وہ پاك ہیں اھ ملخصا (ت)
بلکہ خود حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بکمال رافت ورحمت وتواضع ولینت وتالیف واستمالت کفار کی دعوت قبول فرمائی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم۔
الامام احمد عن انس رضی الله تعالی عنہ ان
امام احمد نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیہ الصنف الثانی من الصنفین فیماورد عن ائمتنا الحنفیۃمطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۷۵
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۱۱
ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۱۱
یھودیا دعا النبی صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم الی خبز شعیرو اھالۃ سخنۃ فاجابہ ۔
کہ ایك یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو جو کی روٹی اور پرانے تیل کی دعوت دی آپ نے قبول فرمائی۔ (ت)
(۶) نگاہ کرو مشرکوں کے برتن کون نہیں جانتا جیسے ہوتے ہیں وہ انہی ظروف میں شرابیں پیں سور چکھیں جھٹکے کے ناپاك گوشت کھائیں پھر شرع فرماتی ہے جب تك علم نجاست نہ ہو حکم طہارت ہے۔
فی الحدیقۃ اوعیۃ الیھود والنصاری والمجوس لا تخلوعن نجاسۃ لکن لایحکم بھا بالاحتمال والشك اھ ملخصا۔
حدیقہ میں ہے یہودیوں عیسائیوں اور مجوسیوں کے برتن اکثر پاك نہیں ہوتے لیکن محض احتمال اور شك کی بنا پر اس کا حکم نہیں دیا جائیگا اھ تلخیص (ت)
یہاں تك کہ خود صحابہ کرام حضور سیدالعلمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے سامنے غنیمت کے برتن بے تکلف استعمال کرتے اور حضور منع نہ فرماتے۔
احمد فی المسند و ابوداود فی السنن عن جابر رضی الله تعالی عنہ قال کنا نغزو مع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فنصیب من آنیۃ المشرکین واسقیتھم ونستمتع بھافلا یعیب ذلك علینا قال المحقق النابلسی ای ننتفع بالانیۃ والاسقیۃ من غیر غسلھا فلایعیب علینا فضلا عن نھیہ وھودلیل الطھارۃ وجواز الاستعمال اھ ملخصا۔
اقول : بل قدصح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم التوضؤ من مزادۃ مشرکۃ امام احمد نے مسند میں اور امام ابوداؤد نے سنن میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ جہاد میں جاتے تو ہمیں مشرکین کے برتن اور مشکیزے ملتے اور ان سے ہم فائدہ حاصل کرتے اور حضور علیہ السلام اس بات کو ہمارے لئے معیوب نہ جانتے۔ محقق نابلسی رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں یعنی ہم ان برتنوں اور مشکیزوں کو بغیر دھوئے استعمال کرتے تو آپ ہمارے لئے معیوب نہ سمجھتے روکنا تو الگ بات ہے۔ یہ طہارت اور جواز استعمال کی دلیل ہے اھ تلخیص۔ (ت)میں کہتا ہوں بلکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا مشرکہ عورت کے توشہ دان سے وضو کرنا صحیح طور پر ثابت ہے
کہ ایك یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو جو کی روٹی اور پرانے تیل کی دعوت دی آپ نے قبول فرمائی۔ (ت)
(۶) نگاہ کرو مشرکوں کے برتن کون نہیں جانتا جیسے ہوتے ہیں وہ انہی ظروف میں شرابیں پیں سور چکھیں جھٹکے کے ناپاك گوشت کھائیں پھر شرع فرماتی ہے جب تك علم نجاست نہ ہو حکم طہارت ہے۔
فی الحدیقۃ اوعیۃ الیھود والنصاری والمجوس لا تخلوعن نجاسۃ لکن لایحکم بھا بالاحتمال والشك اھ ملخصا۔
حدیقہ میں ہے یہودیوں عیسائیوں اور مجوسیوں کے برتن اکثر پاك نہیں ہوتے لیکن محض احتمال اور شك کی بنا پر اس کا حکم نہیں دیا جائیگا اھ تلخیص (ت)
یہاں تك کہ خود صحابہ کرام حضور سیدالعلمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے سامنے غنیمت کے برتن بے تکلف استعمال کرتے اور حضور منع نہ فرماتے۔
احمد فی المسند و ابوداود فی السنن عن جابر رضی الله تعالی عنہ قال کنا نغزو مع رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فنصیب من آنیۃ المشرکین واسقیتھم ونستمتع بھافلا یعیب ذلك علینا قال المحقق النابلسی ای ننتفع بالانیۃ والاسقیۃ من غیر غسلھا فلایعیب علینا فضلا عن نھیہ وھودلیل الطھارۃ وجواز الاستعمال اھ ملخصا۔
اقول : بل قدصح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم التوضؤ من مزادۃ مشرکۃ امام احمد نے مسند میں اور امام ابوداؤد نے سنن میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ساتھ جہاد میں جاتے تو ہمیں مشرکین کے برتن اور مشکیزے ملتے اور ان سے ہم فائدہ حاصل کرتے اور حضور علیہ السلام اس بات کو ہمارے لئے معیوب نہ جانتے۔ محقق نابلسی رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں یعنی ہم ان برتنوں اور مشکیزوں کو بغیر دھوئے استعمال کرتے تو آپ ہمارے لئے معیوب نہ سمجھتے روکنا تو الگ بات ہے۔ یہ طہارت اور جواز استعمال کی دلیل ہے اھ تلخیص۔ (ت)میں کہتا ہوں بلکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا مشرکہ عورت کے توشہ دان سے وضو کرنا صحیح طور پر ثابت ہے
حوالہ / References
مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ مطبوعہ دار المعرفۃ المکتب الاسلامی بیروت ۳ / ۲۷۰
الحدیقۃ الندیۃ بیان اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۱
سنن ابی داؤد باب فی استعمال آنیۃ اھل الکتاب مطبوعہ آفتاب عالم پریس ، لاہور ۲ / ۱۸۰
الحدیقۃ الندیۃ بیان اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۲
الحدیقۃ الندیۃ بیان اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۱
سنن ابی داؤد باب فی استعمال آنیۃ اھل الکتاب مطبوعہ آفتاب عالم پریس ، لاہور ۲ / ۱۸۰
الحدیقۃ الندیۃ بیان اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۲
وعن امیر المؤمنین عمر رضی الله تعالی عنہ من جرۃ نصرانیۃ مع علمہ بان النصاری لایتوقون الانجاس بل لانجس عندھم الادم الحیض کما فی مدخل الامام ابن الحاج الشیخان فی حدیث طویل عن عمران بن حصین رضی الله تعالی عنہ وعن جمیع الصحابۃ ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم واصحابہ توضؤا من مزادۃ امرأۃ مشرکۃ الشافعی وعبدالرزاق وغیرھما عن سفےن بن عیےنۃ عن زید بن اسلم عن ابیہ ان عمر رضی الله تعالی عنہ توضأ من ماء فی جرۃ النصرانیۃ ۔
قلت وقدعلقہ عـــہ خ فقال توضأ عمر بالحمیم ومن بیت نصرانیۃ اھ فی الطریقۃ وشرحھا وقال الامام الغزالی فی الاحیاء
اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہنے ایك نصرانی عورت کے گھڑے سے وضو کیا حالانکہ آپ کو معلوم تھا کہ عیسائی نجاست سے اجتناب نہیں کرتے بلکہ ان کے نزدیك خون حیض کے علاوہ کوئی چیز ناپاك نہیں جیسا کہ امام ابن الحاج کی مدخل میں ہے۔ امام بخاری ومسلم نے ایك طویل روایت میں حضرت عمر ابن حصین اور تمام صحابہ کرام سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور آپ کے صحابہ کرام نے ایك مشرکہ عورت کے توشہ دان سے وضو کیا۔ امام شافعی اور عبدالرزاق وغیرہ نے سفیان بن عینہ سے انہوں نے زید بن اسلم سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہنے ایك نصرانی عورت کے گھڑے کے پانی سے وضو فرمایا۔ (ت)میں کہتا ہوں امام بخاری رحمۃ اللہ تعالی علیہنے تعلیقا روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہنے گرم پانی سے اور ایك عیسائی عورت کے گھر سے
عــــہ : اقول : واذ قد علمت ان البخاری انما اوردہ معضلا فاطلاق العزو الیہ کما وقع عن الشاہ ولی الله الدھلوی فی ازالۃ الخفاء فیہ خفاء کمالایخفی ۱۲ منہ (م)
اقول : جب یہ معلوم ہوگیا کہ امام بخاری نے اسے معضلا ذکر کیا تو مطلقا تعلیق کی طرف منسوب کرنے (جیسا کہ شاہ ولی اللہدہلوی سے ازالۃ الخفاء میں واقع ہوا ہے) میں خفاء (غلطی) ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ (ت)
قلت وقدعلقہ عـــہ خ فقال توضأ عمر بالحمیم ومن بیت نصرانیۃ اھ فی الطریقۃ وشرحھا وقال الامام الغزالی فی الاحیاء
اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہنے ایك نصرانی عورت کے گھڑے سے وضو کیا حالانکہ آپ کو معلوم تھا کہ عیسائی نجاست سے اجتناب نہیں کرتے بلکہ ان کے نزدیك خون حیض کے علاوہ کوئی چیز ناپاك نہیں جیسا کہ امام ابن الحاج کی مدخل میں ہے۔ امام بخاری ومسلم نے ایك طویل روایت میں حضرت عمر ابن حصین اور تمام صحابہ کرام سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماور آپ کے صحابہ کرام نے ایك مشرکہ عورت کے توشہ دان سے وضو کیا۔ امام شافعی اور عبدالرزاق وغیرہ نے سفیان بن عینہ سے انہوں نے زید بن اسلم سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہنے ایك نصرانی عورت کے گھڑے کے پانی سے وضو فرمایا۔ (ت)میں کہتا ہوں امام بخاری رحمۃ اللہ تعالی علیہنے تعلیقا روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہنے گرم پانی سے اور ایك عیسائی عورت کے گھر سے
عــــہ : اقول : واذ قد علمت ان البخاری انما اوردہ معضلا فاطلاق العزو الیہ کما وقع عن الشاہ ولی الله الدھلوی فی ازالۃ الخفاء فیہ خفاء کمالایخفی ۱۲ منہ (م)
اقول : جب یہ معلوم ہوگیا کہ امام بخاری نے اسے معضلا ذکر کیا تو مطلقا تعلیق کی طرف منسوب کرنے (جیسا کہ شاہ ولی اللہدہلوی سے ازالۃ الخفاء میں واقع ہوا ہے) میں خفاء (غلطی) ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ (ت)
حوالہ / References
الطریقۃ المحمدیۃ الباب الثالث مطبوعہ مطبع اسلام اسٹیم پریس لاہور ۲ / ۳۰۹
الطریقۃ المحمدیۃ الباب الثالث مطبوعہ مطبع اسلام اسٹیم پریس لاہور ۲ / ۳۳۴
صحیح البخاری باب وضوء الرجل مع امرائتہ وفضل وضوء المرأۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۲
الطریقۃ المحمدیۃ الباب الثالث مطبوعہ مطبع اسلام اسٹیم پریس لاہور ۲ / ۳۳۴
صحیح البخاری باب وضوء الرجل مع امرائتہ وفضل وضوء المرأۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۲
سیرۃ الاولین استغراق جمیع لاھم فی تطھیر القلوب والتساھل ای عدم عـــہ المبالاۃ فی تطہیر الظاھر وعدم الاکتراث عـــہ بتنظیف البدن والثیاب والاماکن من النجاسات حتی ان عمر مع علو منصبہ توضأ بماء فی جرۃ نصرانیۃ مع علمہ بان النصاری لایتحامون النجاسۃ وعادتھم انھم یضعون الخمر فی الجرار اھ ملخصا۔
وضو فرمایا اھ طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح میں ہے “ امام محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے احیاء العلوم میں فرمایا : پہلے لوگوں کی سیرت یہ ہے کہ ان کے تمام فکر وغم کا محور دلوں کی تطہیر ہوتی تھی جبکہ ظاہر کو پاك کرنے میں سستی کرتے اور بدن کپڑوں اور جگہوں کی پاکیزگی حاصل کرنے کی زیادہ پروا نہیں کرتے تھے یہاں تك کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہسے ثابت ہے کہ آپ نے باوجود بلند منصب پر فائزہونے کے ایك عیسائی عورت کے گھڑے سے وضو کیا حالانکہ آپ جانتے تھے کہ عیسائی نجاست سے پرہیز نہیں کرتے اور ان کی عادت ہے کہ وہ گھڑوں میں شراب رکھتے ہیں اھ تلخیص (ت)۔
(۷) تامل کرو کس قدر معدن بے احتیاطی بلکہ مخزن ہرگونہ گندگی ہیں کفار خصوصا ان کے شراب نوش کے کپڑے علی الخصوص پاجامے کہ وہ ہرگز استنجاء کا لحاظ رکھیں نہ شراب پیشاب وغیرہما نجاسات سے احتراز کریں پھر علماء حکم دیتے ہیں کہ وہ پاك ہیں اور مسلمان بے دھوئے پہن کر نماز پڑھ لے تو صحیح وجائز جب تك تلوث واضح نہ ہو۔
فی الدرالمختار ثیاب الفسقۃ واھل الذمۃ طاھرۃ وفی الحدیقۃ سراویل الکفرۃ من الیھود والنصاری و المجوس یغلب علی الظن نجاستہ لانہم لایستنجون من غیر ان یأخذ القلب بذلك فتصح الصلاۃ فیہ لان الاصل الیقین بالطھارۃ اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے فاسق اور ذمی لوگوں کے کپڑے پاك ہیں اھ اور حدیقہ میں ہے یہودیوں عیسائیوں مجوسیوں وغیرہ کفار کی شلوار غالب گمان کے مطابق ناپاك ہے کیونکہ وہ استنجاء نہیں کرتے لیکن جب یہ بات دل میں نہ بیٹھے تو اس کے ساتھ نماز صحیح ہے کیونکہ اصل چیز طہارت کا یقین ہے اھ تلخیص (ت)
عـــہ۱ : اقول الاولی لفظا ومعنےی تبدیل العدم بالقلۃ ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : ای قلتہ ای ترك التعمق فیہ ۱۲ منہ (م)
میں کہتا ہوں لفظی اور معنوی اعتبار سے بہتری “ عدم “ کو “ قلت “ سے تبدیل کردینے میں ہے ۱۲ منہ (ت)
یعنی کم پرواہ کرتے یعنی پاکیزگی میں کوشش کو ترك کرتے تھے۔ (ت)
وضو فرمایا اھ طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح میں ہے “ امام محمد غزالی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے احیاء العلوم میں فرمایا : پہلے لوگوں کی سیرت یہ ہے کہ ان کے تمام فکر وغم کا محور دلوں کی تطہیر ہوتی تھی جبکہ ظاہر کو پاك کرنے میں سستی کرتے اور بدن کپڑوں اور جگہوں کی پاکیزگی حاصل کرنے کی زیادہ پروا نہیں کرتے تھے یہاں تك کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہسے ثابت ہے کہ آپ نے باوجود بلند منصب پر فائزہونے کے ایك عیسائی عورت کے گھڑے سے وضو کیا حالانکہ آپ جانتے تھے کہ عیسائی نجاست سے پرہیز نہیں کرتے اور ان کی عادت ہے کہ وہ گھڑوں میں شراب رکھتے ہیں اھ تلخیص (ت)۔
(۷) تامل کرو کس قدر معدن بے احتیاطی بلکہ مخزن ہرگونہ گندگی ہیں کفار خصوصا ان کے شراب نوش کے کپڑے علی الخصوص پاجامے کہ وہ ہرگز استنجاء کا لحاظ رکھیں نہ شراب پیشاب وغیرہما نجاسات سے احتراز کریں پھر علماء حکم دیتے ہیں کہ وہ پاك ہیں اور مسلمان بے دھوئے پہن کر نماز پڑھ لے تو صحیح وجائز جب تك تلوث واضح نہ ہو۔
فی الدرالمختار ثیاب الفسقۃ واھل الذمۃ طاھرۃ وفی الحدیقۃ سراویل الکفرۃ من الیھود والنصاری و المجوس یغلب علی الظن نجاستہ لانہم لایستنجون من غیر ان یأخذ القلب بذلك فتصح الصلاۃ فیہ لان الاصل الیقین بالطھارۃ اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے فاسق اور ذمی لوگوں کے کپڑے پاك ہیں اھ اور حدیقہ میں ہے یہودیوں عیسائیوں مجوسیوں وغیرہ کفار کی شلوار غالب گمان کے مطابق ناپاك ہے کیونکہ وہ استنجاء نہیں کرتے لیکن جب یہ بات دل میں نہ بیٹھے تو اس کے ساتھ نماز صحیح ہے کیونکہ اصل چیز طہارت کا یقین ہے اھ تلخیص (ت)
عـــہ۱ : اقول الاولی لفظا ومعنےی تبدیل العدم بالقلۃ ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : ای قلتہ ای ترك التعمق فیہ ۱۲ منہ (م)
میں کہتا ہوں لفظی اور معنوی اعتبار سے بہتری “ عدم “ کو “ قلت “ سے تبدیل کردینے میں ہے ۱۲ منہ (ت)
یعنی کم پرواہ کرتے یعنی پاکیزگی میں کوشش کو ترك کرتے تھے۔ (ت)
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ الدقۃ امر الطہارۃ والنجاسۃ مطبوعہ نوریہ فیصل آباد ۲ / ۶۵۸
درمختار فصل الاستنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۷
الحدیقۃ الندیۃ بیان اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۱
درمختار فصل الاستنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۷
الحدیقۃ الندیۃ بیان اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۱
بلکہ عہد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین سے آج تك مسلمین میں متوارث کہ لباس غنیمت میں نماز پڑھتے ہیں اور ظنون وساوس کو دخل نہیں دیتے۔
فی الحلیۃ التوارث جارفیما بین المسلمین فی الصلوۃ بالثیاب المغنومۃ من الکفرۃ قبل الغسل اھ
حلیہ میں ہے کہ کفار سے مال غنیمت میں حاصل ہونے والے کپڑوں کو دھونے سے پہلے ان میں نماز پڑھنا مسلمانوں میں نسل درنسل سے چلاآرہا ہے اھ (ت)
یہ سات۷ نظیریں ہیں اور اگر استقصا ہو تو کتاب ضخیم لکھنا ہو تو وجہ کیا ہے وہی جو ہم اوپر ذکر کرآئے کہ طہارت وعلت اصل ومتتیقن اور ازلہ یقین کو یقین ہی متعین۔ ولہذا عادت علمائے دین یوں ہے کہ حکم بطہارت کے لئے ادنی احتمال کافی سمجھتے ہیں اور اس کا عکس ہرگز معہود نہیں کہ محض خیالات پر حکم نجاست لگادیں۔ دیکھو گائے بکری اور ان کی امثال اگر کنویں میں گر کر زندہ نکل آئیں قطعا حکم طہارت ہے حالانکہ کون کہہ سکتا ہے کہ ان کی رانیں پیشاب کی چھینٹوں سے پاك ہوتی ہیں مگر علما فرماتے ہیں محتمل کہ اس سے پہلے کسی آب کثیر میں اتری ہوں اور ان کا جسم دھل کر صاف ہوگیا ہو۔
فی حاشیۃ ابن عابدین افندی رحمہ الله تعالی قال فی البحر وقیدنا بالعلم لانھم قالوا فی البقر ونحوہ یخرج حیا لایجب نزح شیئ وان کان الظاھر اشتمال بولھا علی افخاذھا لکن یحتمل طہارتھا بان سقطت عقب دخولھا ماء کثیرا مع ان الاصل الطھارۃ اھ ومثلہ فی الفتح اھ۔
یقول العبد الضعیف غفرالله تعالی لہ علقت ھھنا علی ھامش ردالمحتار مانصہ۔
حاشیہ ابن عابدین آفندی میں ہے : “ البحرالرائق میں فرمایا ہم نے اسے علم (یقین) کے ساتھ مقید کیا ہے کیونکہ انہوں نے گائے اور اس کی مثل جو (کنویں سے) زندہ نکلیں کے بارے میں کہا ہے کہ کسی چیز کا نکالنا واجب نہیں اگرچہ ظاہر یہ ہے کہ ان کی رانوں پر پیشاب لگا ہوتا ہے لیکن اس بات کا احتمال ہے کہ اس کے زیادہ پانی میں داخل ہونے کے بعد نجاست دھل گئی ہو اور وہ پاك ہوگئی ہو علاوہ ازیں طہارت اصل ہے اھ اور اسی طرح فتح القدیر میں ہے اھ۔ بندہ ضعیف اللہتعالی اس کی بخشش فرمائے کہتا ہے کہ میں نے اس مقام پر ردالمحتار کے حاشیے پر کچھ تحریر کیا ہے جس کی عبارت یہ ہے (ت)
فی الحلیۃ التوارث جارفیما بین المسلمین فی الصلوۃ بالثیاب المغنومۃ من الکفرۃ قبل الغسل اھ
حلیہ میں ہے کہ کفار سے مال غنیمت میں حاصل ہونے والے کپڑوں کو دھونے سے پہلے ان میں نماز پڑھنا مسلمانوں میں نسل درنسل سے چلاآرہا ہے اھ (ت)
یہ سات۷ نظیریں ہیں اور اگر استقصا ہو تو کتاب ضخیم لکھنا ہو تو وجہ کیا ہے وہی جو ہم اوپر ذکر کرآئے کہ طہارت وعلت اصل ومتتیقن اور ازلہ یقین کو یقین ہی متعین۔ ولہذا عادت علمائے دین یوں ہے کہ حکم بطہارت کے لئے ادنی احتمال کافی سمجھتے ہیں اور اس کا عکس ہرگز معہود نہیں کہ محض خیالات پر حکم نجاست لگادیں۔ دیکھو گائے بکری اور ان کی امثال اگر کنویں میں گر کر زندہ نکل آئیں قطعا حکم طہارت ہے حالانکہ کون کہہ سکتا ہے کہ ان کی رانیں پیشاب کی چھینٹوں سے پاك ہوتی ہیں مگر علما فرماتے ہیں محتمل کہ اس سے پہلے کسی آب کثیر میں اتری ہوں اور ان کا جسم دھل کر صاف ہوگیا ہو۔
فی حاشیۃ ابن عابدین افندی رحمہ الله تعالی قال فی البحر وقیدنا بالعلم لانھم قالوا فی البقر ونحوہ یخرج حیا لایجب نزح شیئ وان کان الظاھر اشتمال بولھا علی افخاذھا لکن یحتمل طہارتھا بان سقطت عقب دخولھا ماء کثیرا مع ان الاصل الطھارۃ اھ ومثلہ فی الفتح اھ۔
یقول العبد الضعیف غفرالله تعالی لہ علقت ھھنا علی ھامش ردالمحتار مانصہ۔
حاشیہ ابن عابدین آفندی میں ہے : “ البحرالرائق میں فرمایا ہم نے اسے علم (یقین) کے ساتھ مقید کیا ہے کیونکہ انہوں نے گائے اور اس کی مثل جو (کنویں سے) زندہ نکلیں کے بارے میں کہا ہے کہ کسی چیز کا نکالنا واجب نہیں اگرچہ ظاہر یہ ہے کہ ان کی رانوں پر پیشاب لگا ہوتا ہے لیکن اس بات کا احتمال ہے کہ اس کے زیادہ پانی میں داخل ہونے کے بعد نجاست دھل گئی ہو اور وہ پاك ہوگئی ہو علاوہ ازیں طہارت اصل ہے اھ اور اسی طرح فتح القدیر میں ہے اھ۔ بندہ ضعیف اللہتعالی اس کی بخشش فرمائے کہتا ہے کہ میں نے اس مقام پر ردالمحتار کے حاشیے پر کچھ تحریر کیا ہے جس کی عبارت یہ ہے (ت)
حوالہ / References
حلیۃ المحلی
ردالمحتار فصل فی البئر مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۴۲
ردالمحتار فصل فی البئر مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۴۲
اقول : لولاھیبۃ العلامۃ المحقق علی الاطلاق مقارب الاجتہاد صاحب الفتح رضی الله تعالی عنہ لقلت ان ھذا الاحتمال انما یتمشی فی السوائم اوفی بعضھا اما العلوفۃ فلاتخفی احوالھا علی مقتنیھا غالبا والحکم عام فلا بد من توجیہ اخر ویظھر لی عـــہ والله تعالی اعلم ان ھذا الاشتمال انما ھو ظاھر یغلب علی الظن من غیران یبلغ درجۃ الیقین لان البول لاینزل علی الافخاذ والقرب غیر قاض بالتلوث دائما وھی ربما تتفاج وتنخفض حین الاھراق فلم یحصل العلم بالنجاسۃ والی ھذا یشیر اخر کلام المحقق حیث یقول وقیل ینزح من الشاۃ کلہ والقواعد تنبو عنہ ما لم یعلم یقینا تنجسھا اھ۔ نعم الظھور المفضی الی غلبۃ الظن یقضی باستحباب التنزہ وھذا لاشك فیہ قد استحبوا فی ھذہ المسئلۃ نزح عشرین دلوا کما نص علیہ فی الخانیۃ فافھم والله تعالی اعلم اھ ماعلقتہ علی الھامش
اقول : اگر محقق علی الاطلاق اور منصب اجتہاد کا قرب رکھنے والے صاحب فتح القدیر کی ہیبت کا خیال نہ ہوتا تو میں کہتا کہ یہ احتمال سال بھر چرنے والے تمام یا بعض جانوروں کے بارے میں ہے جہاں تك گر میں چارہ کھانے والے جانوروں کا تعلق ہے تو عام طور پر مالك سے ان کا حال پوشیدہ نہیں ہوتا اور حکم عام ہے لہذا کسی دوسری توجیہ کی ضرورت ہے مجھ پر یہ بات ظاہر ہوئی.اور اللہبہتر جانتا ہے کہ پیشاب کا رانوں سے لگاہونا ظاہرا غلبہ ظن ہے درجہ یقین کو نہیں پہنچتا کیوں کہ پیشاب رانوں پر نہیں اترتا اور قرب ہمیشہ ملوث ہونے کا فیصلہ نہیں کرتا اور بعض جانور ٹانگیں پھیلا کر اور جھك کر پیشاب کرتے ہیں اور اس طرح وہ اسے بہا دیتے ہیں لہذا نجاست کا یقین حاصل نہ ہوا۔ کلام محقق کا آخری حصہ بھی اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے جب انہوں نے فرمایا کہا گیا ہے کہ بکری (کے گرنے) سے پورا پانی نکالا جائے حالانکہ قواعد اس کی نفی کرتے ہیں جب تك اس کے ناپاك ہونے کا یقین نہ ہو اھ۔ ہاں ایسا ظہور جو غلبہ ظن تك پہنچائے
عـــہ : ثم ان المولی سبحنہ وتعالی فتح وجھا اخر شافیا کافیا ابلح ازھر کماقدمناہ فی فصل البیر والحمدلله اللطیف الخبیر فراجعہ فانہ مھم کبیر ۱۲ منہ غفرلہ (م)
پھر مولی سبحنہ نے ایك دوسری وجہ ظاہر فرمائی جو شافی کافی واضح اور روشن ہے جیسا کہ ہم نے اسے فصل فی البئر میں پہلے ذکر کیا ہے اور سب خوبیاں اللہلطیف وخبیر کے لئے ہیں پس اس کی طرف رجوع کرو کہ یہ ایك بڑا معاملہ ہے۔ (ت)
اقول : اگر محقق علی الاطلاق اور منصب اجتہاد کا قرب رکھنے والے صاحب فتح القدیر کی ہیبت کا خیال نہ ہوتا تو میں کہتا کہ یہ احتمال سال بھر چرنے والے تمام یا بعض جانوروں کے بارے میں ہے جہاں تك گر میں چارہ کھانے والے جانوروں کا تعلق ہے تو عام طور پر مالك سے ان کا حال پوشیدہ نہیں ہوتا اور حکم عام ہے لہذا کسی دوسری توجیہ کی ضرورت ہے مجھ پر یہ بات ظاہر ہوئی.اور اللہبہتر جانتا ہے کہ پیشاب کا رانوں سے لگاہونا ظاہرا غلبہ ظن ہے درجہ یقین کو نہیں پہنچتا کیوں کہ پیشاب رانوں پر نہیں اترتا اور قرب ہمیشہ ملوث ہونے کا فیصلہ نہیں کرتا اور بعض جانور ٹانگیں پھیلا کر اور جھك کر پیشاب کرتے ہیں اور اس طرح وہ اسے بہا دیتے ہیں لہذا نجاست کا یقین حاصل نہ ہوا۔ کلام محقق کا آخری حصہ بھی اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے جب انہوں نے فرمایا کہا گیا ہے کہ بکری (کے گرنے) سے پورا پانی نکالا جائے حالانکہ قواعد اس کی نفی کرتے ہیں جب تك اس کے ناپاك ہونے کا یقین نہ ہو اھ۔ ہاں ایسا ظہور جو غلبہ ظن تك پہنچائے
عـــہ : ثم ان المولی سبحنہ وتعالی فتح وجھا اخر شافیا کافیا ابلح ازھر کماقدمناہ فی فصل البیر والحمدلله اللطیف الخبیر فراجعہ فانہ مھم کبیر ۱۲ منہ غفرلہ (م)
پھر مولی سبحنہ نے ایك دوسری وجہ ظاہر فرمائی جو شافی کافی واضح اور روشن ہے جیسا کہ ہم نے اسے فصل فی البئر میں پہلے ذکر کیا ہے اور سب خوبیاں اللہلطیف وخبیر کے لئے ہیں پس اس کی طرف رجوع کرو کہ یہ ایك بڑا معاملہ ہے۔ (ت)
حوالہ / References
فتح القدیر فصل فی البئر مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۹۲
فتاوٰی قاضی خان فصل مایقع فی البئر مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۵
فتاوٰی قاضی خان فصل مایقع فی البئر مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۵
لکن لایعکربہ علی مااردنا اثباتہ ھھنا من ان المعھود من العلماء ابداء الاحتمال للحکم بالطھارۃ دون العکس فان ھذا حاصل بعد کمالیس بخاف علی ذی فھم۔
پاك کرنا مستحب قرار دیتا ہے۔ اور اس میں کوئی شك نہیں فقہاء کرام نے اس مسئلے میں بیس۲۰ ڈول نکالنا مستحب کہا ہے جیسا کہ خانیہ میں اسے بیان کیا۔ پس سمجھ لو اور اللہتعالی خوب جانتا ہے اھ یہ وہ ہے جو میں نے حاشیے پر تعلیق کی ہے لیکن اس کے ساتھ اس بات پر اعتراض نہیں کرنا چاہے جو ہم یہاں ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ یہ کہ علماء سے معروف ہے کہ احتمال حکم طہارت کو ظاہر کرنے کیلئے لایا جاتا ہے کہ نہ کہ اس کا عکس۔ اور یہ (طہارت) ابھی تك حاصل ہے جیسا کہ کسی بھی ذی فہم پر مخفی نہیں۔ (ت)
مقدمہ سابعہ:
شدت بے احتیاطی جس کے باعث اکثر احوال میں نجاست وآلودگی کا غلبہ وقوع وکثرت شیوع ہو بیشك باعث غلبہ ظن اور ظن غالب شرعا معتبر اور فقہ میں مبنائے احکام مگر اس کی دو۲ صورتیں ہیں :
ایك تو یہ کہ جانب راجح پر قلب کو اس درجہ وثوق واعتماد ہوکہ دوسری طرف کو بالکل نظر سے ساقط کردے اور محض ناقابل التفات سمجھے گویا اس کا عدم وجود یکساں ہو ایسا ظن غالب فقہ میں ملحق بیقین کہ ہر جگہ کار یقین دے گا اور اپنے خلاف یقین سابق کا پورا مزاحم ورافع ہوگا اور غالبا اصطلاح علما میں غالب ظن واکبر رای اسی پر اطلاق کرتے ہیں۔
فی غمزالعیون والبصائر شرح الاشباہ والنظائر الشك لغۃ مطلق التردد وفی اصطلاح الاصول استواء طرفی الشیئ وھو الوقوف بین الشیئین بحیث لایمیل القلب الی احدھما فان ترجح احدھما ولم یطرح الاخر فھو ظن فان طرحہ فھو غالب الظن وھو بمنزلۃ الیقین وان لم یترجح فھو وھم۔ ولبعض متأخری اصولیين عبارۃ اخری اوجز مماذکرناہ مع زیادۃ علی
الاشباہ والنظائر کی شرح غمزالعیون والبصائر میں ہے “ شک لغت میں مطلق تردد کو کہتے ہیں اور اصول فقہ کی اصطلاح میں کسی چیز کی دونوں طرفوں کا برابر ہونا اور دو چیزوں کے درمیان یوں ٹھہر جانا کہ دل ان میں سے ایك کی طرف بھی مائل نہ ہو اگر ان میں سے ایك کو ترجیح حاصل ہوجائے اور دوسری کو چھوڑا نہ جائے تو وہ ظن ہے اگر دوسری کو چھوڑ دیا جائے تو یہ ظن غالب ہے جو یقین کے درجہ میں ہے اور اگر کسی جانب ترجیح نہ ملے تو وہم ہے (ت)بعض متاخرین اصولیوں کے نزدیك ایك دوسری عبارت ہے جو ہماری مذکورہ عبارت سے زیادہ مختصر ہے
پاك کرنا مستحب قرار دیتا ہے۔ اور اس میں کوئی شك نہیں فقہاء کرام نے اس مسئلے میں بیس۲۰ ڈول نکالنا مستحب کہا ہے جیسا کہ خانیہ میں اسے بیان کیا۔ پس سمجھ لو اور اللہتعالی خوب جانتا ہے اھ یہ وہ ہے جو میں نے حاشیے پر تعلیق کی ہے لیکن اس کے ساتھ اس بات پر اعتراض نہیں کرنا چاہے جو ہم یہاں ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ یہ کہ علماء سے معروف ہے کہ احتمال حکم طہارت کو ظاہر کرنے کیلئے لایا جاتا ہے کہ نہ کہ اس کا عکس۔ اور یہ (طہارت) ابھی تك حاصل ہے جیسا کہ کسی بھی ذی فہم پر مخفی نہیں۔ (ت)
مقدمہ سابعہ:
شدت بے احتیاطی جس کے باعث اکثر احوال میں نجاست وآلودگی کا غلبہ وقوع وکثرت شیوع ہو بیشك باعث غلبہ ظن اور ظن غالب شرعا معتبر اور فقہ میں مبنائے احکام مگر اس کی دو۲ صورتیں ہیں :
ایك تو یہ کہ جانب راجح پر قلب کو اس درجہ وثوق واعتماد ہوکہ دوسری طرف کو بالکل نظر سے ساقط کردے اور محض ناقابل التفات سمجھے گویا اس کا عدم وجود یکساں ہو ایسا ظن غالب فقہ میں ملحق بیقین کہ ہر جگہ کار یقین دے گا اور اپنے خلاف یقین سابق کا پورا مزاحم ورافع ہوگا اور غالبا اصطلاح علما میں غالب ظن واکبر رای اسی پر اطلاق کرتے ہیں۔
فی غمزالعیون والبصائر شرح الاشباہ والنظائر الشك لغۃ مطلق التردد وفی اصطلاح الاصول استواء طرفی الشیئ وھو الوقوف بین الشیئین بحیث لایمیل القلب الی احدھما فان ترجح احدھما ولم یطرح الاخر فھو ظن فان طرحہ فھو غالب الظن وھو بمنزلۃ الیقین وان لم یترجح فھو وھم۔ ولبعض متأخری اصولیين عبارۃ اخری اوجز مماذکرناہ مع زیادۃ علی
الاشباہ والنظائر کی شرح غمزالعیون والبصائر میں ہے “ شک لغت میں مطلق تردد کو کہتے ہیں اور اصول فقہ کی اصطلاح میں کسی چیز کی دونوں طرفوں کا برابر ہونا اور دو چیزوں کے درمیان یوں ٹھہر جانا کہ دل ان میں سے ایك کی طرف بھی مائل نہ ہو اگر ان میں سے ایك کو ترجیح حاصل ہوجائے اور دوسری کو چھوڑا نہ جائے تو وہ ظن ہے اگر دوسری کو چھوڑ دیا جائے تو یہ ظن غالب ہے جو یقین کے درجہ میں ہے اور اگر کسی جانب ترجیح نہ ملے تو وہم ہے (ت)بعض متاخرین اصولیوں کے نزدیك ایك دوسری عبارت ہے جو ہماری مذکورہ عبارت سے زیادہ مختصر ہے
ذلك وھی ان الیقین جزم القلب مع الاستناد الی الدلیل القطعی والاعتقاد جزم القلب من غیر استناد الی الدلیل القطعی کاعتقاد العامی والظن تجویز امرین احدھما اقوی من الاخر والوھم تجویز امرین احدھما اضعف من الاخر والشك تجویز امرین لامزیۃ لاحدھما علی الاخر انتھی اھ ملخصا۔
اقول : وبالله التوفیق انما یتعلق غرضنا من ھذہ العبارۃ بماذکر السید الفاضل رحمہ الله تعالی من التفرقۃ بین الظن وغالب الظن واما بقیۃ کلام فماش علی المعھود من العلماء الکرام من عدم التعمق فی الالفاظ عند اتضاح المرام ولابأس ان اذکرہ اشباعا للفائدۃ وان کان اجنبیا عن المقام۔ (قولہ رحمہ الله تعالی استواء طرفی الشیئ اقول تفسیر بالاعم فانہ یشمل المعقول والمحسوس کاستواء طرفی حوض مربع مثلا ولوزید عندالعقل لما نفع ایضا لان المربع کمایستوی طرفاہ فی الخارج فکذا فی الذھن بل لوقیل استواء
لیکن اس میں کچھ اضافہ بھی ہے وہ یہ ہے کہ یقین دل کی پختگی کو کہتے ہیں جبکہ اس میں دلیل قطعی کی سند بھی ہو اعتقاد دل کی پختگی ہے لیکن کسی دلیل قطعی کی طرف اضافت نہیں ہوتی جیسے عام آدمی کا اعتقاد۔ ظن دو۲ باتوں کا یوں جائز قرار دینا کہ ان میں سے ایك دوسری کی نسبت زیادہ قوی ہو۔ وہم دو۲ باتوں کا (اس طرح) جائز قرار دینا کہ ان میں سے ایک دوسری کی نسبت ضعیف ہو۔ اور شک دو۲ باتوں کا یوں جائز قرار دینا کہ ان میں سے ایك کو دوسری پر کوئی فوقیت حاصل نہ ہو اھ ملخصا۔
میں اللہتعالی کی توفیق سے کہتا ہوں جو کچھ سید فاضل رحمۃ اللہ تعالی علیہنے ذکر کیا ہے ان کی عبارت سے ہماری غرض ظن اور ظن غالب کے درمیان تفریق ہے جہاں تك باقی کلام کا تعلق ہے تو وہ اسی پر جاری ہے جو علماء کرام کے درمیان معروف ہے کہ مقصد واضح ہونے کے بعد الفاظ میں غوروفکر نہیں کیا جاتا اور اگر میں فائدے میں سیری حاصل کرنے کے لئے ذکر کروں تو کوئی حرج نہیں اگرچہ یہ بحث اس مقام میں اجنبی ہے۔
ان کے قول “ کسی چیز کی دونوں طرفوں کے برابر ہونے “ کے بارے میں میں کہتا ہوں کہ یہ اعم کے ساتھ تفسیر ہے کیونکہ یہ معقول اور محسوس کو شامل ہے جیسے مربع حوض کی دونوں طرفوں کا برابر ہونا اگر وہ “ عندالعقل “ کی قید کا اضافہ کرتے تو بھی نفع نہ دیتا کیونکہ مربع کی دونوں اطراف جس طرح خارج میں برابر ہوتی ہیں ذہن میں بھی اسی طرح ہوتی ہیں اور اگر “ استواء
اقول : وبالله التوفیق انما یتعلق غرضنا من ھذہ العبارۃ بماذکر السید الفاضل رحمہ الله تعالی من التفرقۃ بین الظن وغالب الظن واما بقیۃ کلام فماش علی المعھود من العلماء الکرام من عدم التعمق فی الالفاظ عند اتضاح المرام ولابأس ان اذکرہ اشباعا للفائدۃ وان کان اجنبیا عن المقام۔ (قولہ رحمہ الله تعالی استواء طرفی الشیئ اقول تفسیر بالاعم فانہ یشمل المعقول والمحسوس کاستواء طرفی حوض مربع مثلا ولوزید عندالعقل لما نفع ایضا لان المربع کمایستوی طرفاہ فی الخارج فکذا فی الذھن بل لوقیل استواء
لیکن اس میں کچھ اضافہ بھی ہے وہ یہ ہے کہ یقین دل کی پختگی کو کہتے ہیں جبکہ اس میں دلیل قطعی کی سند بھی ہو اعتقاد دل کی پختگی ہے لیکن کسی دلیل قطعی کی طرف اضافت نہیں ہوتی جیسے عام آدمی کا اعتقاد۔ ظن دو۲ باتوں کا یوں جائز قرار دینا کہ ان میں سے ایك دوسری کی نسبت زیادہ قوی ہو۔ وہم دو۲ باتوں کا (اس طرح) جائز قرار دینا کہ ان میں سے ایک دوسری کی نسبت ضعیف ہو۔ اور شک دو۲ باتوں کا یوں جائز قرار دینا کہ ان میں سے ایك کو دوسری پر کوئی فوقیت حاصل نہ ہو اھ ملخصا۔
میں اللہتعالی کی توفیق سے کہتا ہوں جو کچھ سید فاضل رحمۃ اللہ تعالی علیہنے ذکر کیا ہے ان کی عبارت سے ہماری غرض ظن اور ظن غالب کے درمیان تفریق ہے جہاں تك باقی کلام کا تعلق ہے تو وہ اسی پر جاری ہے جو علماء کرام کے درمیان معروف ہے کہ مقصد واضح ہونے کے بعد الفاظ میں غوروفکر نہیں کیا جاتا اور اگر میں فائدے میں سیری حاصل کرنے کے لئے ذکر کروں تو کوئی حرج نہیں اگرچہ یہ بحث اس مقام میں اجنبی ہے۔
ان کے قول “ کسی چیز کی دونوں طرفوں کے برابر ہونے “ کے بارے میں میں کہتا ہوں کہ یہ اعم کے ساتھ تفسیر ہے کیونکہ یہ معقول اور محسوس کو شامل ہے جیسے مربع حوض کی دونوں طرفوں کا برابر ہونا اگر وہ “ عندالعقل “ کی قید کا اضافہ کرتے تو بھی نفع نہ دیتا کیونکہ مربع کی دونوں اطراف جس طرح خارج میں برابر ہوتی ہیں ذہن میں بھی اسی طرح ہوتی ہیں اور اگر “ استواء
حوالہ / References
غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر ، الفن الاول من القاعدۃ الثانیہ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی۱ / ۸۴
طرفی المعقول لم یتم ایضا لصدقہ علی الحوض المذکورفی مرتبۃ المعلوم سواء قلنا بحصول الاشیاء بانفسھا کما لحج بہ کثیر من اتباع الفلاسفۃ اوباشباحھا کما ھو الحق ولبقاء الطرفین علی العموم وانما المقصود الایجاب والسلب ولبقاء الاستواء علی الاطلاق وانما المراد فی میل القلب من جھۃ الحکم لامن جھۃ اخری کملاء مۃ غرض وغیرہ۔ (قولہ وھو الوقوف الخ) اقول : ھذا کذلك فیعم مثلا وقوف السالك بین طریقین الی بلد لایمیل قلبہ الی احدھما وغیرذلک۔ (قولہ فان ترجح احدھما الخ) اقول یشمل المستحب مثلا ففعلہ مترجح علی ترکہ مع ان الترك غیر مطروح ویجری فی الامور العادیۃ والطبعیۃ وغیرذلك فربما یعرض للانسان شیأان فی الطعام واللباس والدواء والنکاح وغیرھا وھوامیل وارغب الی احدھما منہ الی الاخر من دون ان یطرح الاخر۔ (قولہ فان طرحۃ الخ) طرفی المعقول
“ (معقول کی دونوں طرفوں کا برابر) کی قید لگائی جائے تو بھی تعریف کامل نہ ہوگی کیونکہ مرتبہ معلوم میں یہ حوض مذکور پر صادق آتی ہے چاہے ہم ذات کے ساتھ اشیاء کے حصول کا قول کریں جیسا کہ اکثر متبعین فلاسفہ نے اسے اختیار کیا یا مشابہ ذات کے ساتھ اشیاء کے حصول کا قول کریں جیسا کہ یہی حق ہے یہ تعریف اس لئے بھی تام نہیں ہوتی کہ دونوں اطراف عموم پر باقی رہتی ہیں حالانکہ مقصود تو ایجاب اور سلب ہے نیز ان کا برابر ہونا مطلق ہے اس سے بھی تعریف کامل نہیں حالانکہ میلان قلب میں حکم کا اعتبار مراد ہے کوئی دوسری وجہ مثلا کسی غرض کا پایا جانا وغیرہ مراد نہیں ہے۔ ان کا قول “ وھو الوقوف “ (اور وہ ٹھہرنا ہے) میں کہتا ہوں یہ بھی عام ہے مثلا اس کو بھی شامل ہوسکتا ہے جو کسی شہر کی طرف جانے والے دو۲ راستوں کے درمیان کھڑا ہو اور اس کا دل کسی ایك کی طرف بھی مائل نہ ہو اس کے علاوہ بھی (مراد ہوسکتا ہے) ان کے قول “ فان ترجح احدھما “ (اگر ان میں سے ایك راجح ہوجائے) کے بارے میں میں کہتا ہوں مثال کے طور پر یہ مستحب کو بھی شامل ہے کیونکہ اس کا کرنا چھوڑنے پر ترجیح رکھتا ہے باوجودیکہ ترك بھی کیا جاتا ہے اور یہ طبعی وعادی امور اور اس کے علاوہ میں بھی جاری ہونا ہے۔ بعض اوقات انسان کے سامنے دو۲ چیزیں ہوتی ہیں اشیاء خوردنی ولباس ودوا ونکاح وغیرہ میں وہ ان میں سے ایك کی طرف دوسرے کی نسبت زیادہ میلان رکھتا ہے لیکن دوسری کو چھوڑنا بھی نہیں چاہتا۔ ان کے قول “ فان طرحہ “ (اگر وہ اسے چھوڑ دے)
“ (معقول کی دونوں طرفوں کا برابر) کی قید لگائی جائے تو بھی تعریف کامل نہ ہوگی کیونکہ مرتبہ معلوم میں یہ حوض مذکور پر صادق آتی ہے چاہے ہم ذات کے ساتھ اشیاء کے حصول کا قول کریں جیسا کہ اکثر متبعین فلاسفہ نے اسے اختیار کیا یا مشابہ ذات کے ساتھ اشیاء کے حصول کا قول کریں جیسا کہ یہی حق ہے یہ تعریف اس لئے بھی تام نہیں ہوتی کہ دونوں اطراف عموم پر باقی رہتی ہیں حالانکہ مقصود تو ایجاب اور سلب ہے نیز ان کا برابر ہونا مطلق ہے اس سے بھی تعریف کامل نہیں حالانکہ میلان قلب میں حکم کا اعتبار مراد ہے کوئی دوسری وجہ مثلا کسی غرض کا پایا جانا وغیرہ مراد نہیں ہے۔ ان کا قول “ وھو الوقوف “ (اور وہ ٹھہرنا ہے) میں کہتا ہوں یہ بھی عام ہے مثلا اس کو بھی شامل ہوسکتا ہے جو کسی شہر کی طرف جانے والے دو۲ راستوں کے درمیان کھڑا ہو اور اس کا دل کسی ایك کی طرف بھی مائل نہ ہو اس کے علاوہ بھی (مراد ہوسکتا ہے) ان کے قول “ فان ترجح احدھما “ (اگر ان میں سے ایك راجح ہوجائے) کے بارے میں میں کہتا ہوں مثال کے طور پر یہ مستحب کو بھی شامل ہے کیونکہ اس کا کرنا چھوڑنے پر ترجیح رکھتا ہے باوجودیکہ ترك بھی کیا جاتا ہے اور یہ طبعی وعادی امور اور اس کے علاوہ میں بھی جاری ہونا ہے۔ بعض اوقات انسان کے سامنے دو۲ چیزیں ہوتی ہیں اشیاء خوردنی ولباس ودوا ونکاح وغیرہ میں وہ ان میں سے ایك کی طرف دوسرے کی نسبت زیادہ میلان رکھتا ہے لیکن دوسری کو چھوڑنا بھی نہیں چاہتا۔ ان کے قول “ فان طرحہ “ (اگر وہ اسے چھوڑ دے)
اقول : یصدق علی الواجب وکذا الکلام فی الامور بالغیر الشرعیۃ علی ان الظن اعم من غالب الظن ولاشك فی صحۃ اطلاق الاول علی الاخر والمراد بالمقابلۃ بینھما کماذکر ان ھذا القسم یختص بھذا الاسم۔
(قولہ وان لم یترجح فھو وھم) اقول : عدم الترجح یشمل الاستواء ثم الاحسن ترتیب الظن والوھم معا علی شیئ واحد وھو ترجح احد الجانبین اذ لاینفك کل منھما عن صاحبہ وجودا فھما متلازمان تحققا وان تباینا صدقا فکان الاسلم ان یقول فان ترجح احدھما علی الاخر فالراجح مظنون ویخص بالغالب ان طرح الاخر والمرجوح مرھوم۔ (قولہ مع زیادۃ علی ذلک) اقول ظاھرہ انہ اتی بجمیع ما مر و زاد مع انہ زاد شیأ ونقص اخر اعنی التفرقۃ بین الظن وغالبہ۔ (قولہ و الاعتقاد جزم القلب) اقول : المعروف شمول الاعتقاد للظن عن ھذا تسمعھم یعرفون الظن بالاعتقاد الراجح کمانص علیہ فی شرح
کے بارے میں میں کہتا ہوں کہ یہ واجب پر بھی صادق آتا ہے اسی طرح غیر شرعی امور میں بھی کلام ہوسکتا ہے علاوہ ازیں ظن ظن غالب سے عام ہے اور اس میں کوئی شك نہیں کہ پہلے کا دوسرے پر اطلاق صحیح ہے اور ان دونوں میں مقابلہ سے مراد جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے اس قسم کا اس نام کے ساتھ خاص ہونا ہے۔ ان کے قول “ وان لم یترجح فھو وھم “ (اگر ایك جانب راجح نہ ہو تو وہم ہے) کے بارے میں کہتا ہوں کہ راجح نہ ہونا برابری کو شامل ہے پھر احسن بات یہ ہے کہ ظن اور وہم اکٹھے ایك چیز پر مرتب ہوتے ہیں اور وہ دو۲ جانیوں میں سے ایك کا راجح ہونا ہے کیونکہ وجودی طور پر ان میں سے ہر ایك اپنے ساتھی سے جدا نہیں ہوتا پس تحقیق کے اعتبار سے وہ ایك دوسرے کو لازم ہیں اگرچہ صدق کے اعتبار سے جدا جدا ہوں لہذا زیادہ محفوظ بات یہ تھی کہ فرماتے “ اگر ان میں سے ایک دوسرے پر راجح ہو تو وہ ظن ہوگا پھر اگر دوسری جانب کو چھوڑ دیا گیا تو غالب کے ساتھ مختص ہوگا (ظن غالب ہوگا) اور جسے ترجیح حاصل نہیں ہوئی وہ موہوم ہوگا۔ ان کے قول “ مع زیادۃ علی ذلک “ (اس پر کچھ اضافے کے ساتھ) کے بارے میں میں کہتا ہوں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ گزشتہ تمام عبارت کچھ اضافے کے ساتھ لائے ہیں حالانکہ انہوں نے کچھ اضافہ کیا اور کچھ یعنی ظن اور غالب ظن کے درمیان فرق کا بیان کم کردیا۔ ان کے قول “ والاعتقاد جزم القلب “ (دل کی پختگی کو اعتقاد کہا جاتا ہے) کے بارے میں میں کہتا ہوں معروف یہ ہے کہ اعتقاد
(قولہ وان لم یترجح فھو وھم) اقول : عدم الترجح یشمل الاستواء ثم الاحسن ترتیب الظن والوھم معا علی شیئ واحد وھو ترجح احد الجانبین اذ لاینفك کل منھما عن صاحبہ وجودا فھما متلازمان تحققا وان تباینا صدقا فکان الاسلم ان یقول فان ترجح احدھما علی الاخر فالراجح مظنون ویخص بالغالب ان طرح الاخر والمرجوح مرھوم۔ (قولہ مع زیادۃ علی ذلک) اقول ظاھرہ انہ اتی بجمیع ما مر و زاد مع انہ زاد شیأ ونقص اخر اعنی التفرقۃ بین الظن وغالبہ۔ (قولہ و الاعتقاد جزم القلب) اقول : المعروف شمول الاعتقاد للظن عن ھذا تسمعھم یعرفون الظن بالاعتقاد الراجح کمانص علیہ فی شرح
کے بارے میں میں کہتا ہوں کہ یہ واجب پر بھی صادق آتا ہے اسی طرح غیر شرعی امور میں بھی کلام ہوسکتا ہے علاوہ ازیں ظن ظن غالب سے عام ہے اور اس میں کوئی شك نہیں کہ پہلے کا دوسرے پر اطلاق صحیح ہے اور ان دونوں میں مقابلہ سے مراد جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے اس قسم کا اس نام کے ساتھ خاص ہونا ہے۔ ان کے قول “ وان لم یترجح فھو وھم “ (اگر ایك جانب راجح نہ ہو تو وہم ہے) کے بارے میں کہتا ہوں کہ راجح نہ ہونا برابری کو شامل ہے پھر احسن بات یہ ہے کہ ظن اور وہم اکٹھے ایك چیز پر مرتب ہوتے ہیں اور وہ دو۲ جانیوں میں سے ایك کا راجح ہونا ہے کیونکہ وجودی طور پر ان میں سے ہر ایك اپنے ساتھی سے جدا نہیں ہوتا پس تحقیق کے اعتبار سے وہ ایك دوسرے کو لازم ہیں اگرچہ صدق کے اعتبار سے جدا جدا ہوں لہذا زیادہ محفوظ بات یہ تھی کہ فرماتے “ اگر ان میں سے ایک دوسرے پر راجح ہو تو وہ ظن ہوگا پھر اگر دوسری جانب کو چھوڑ دیا گیا تو غالب کے ساتھ مختص ہوگا (ظن غالب ہوگا) اور جسے ترجیح حاصل نہیں ہوئی وہ موہوم ہوگا۔ ان کے قول “ مع زیادۃ علی ذلک “ (اس پر کچھ اضافے کے ساتھ) کے بارے میں میں کہتا ہوں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ گزشتہ تمام عبارت کچھ اضافے کے ساتھ لائے ہیں حالانکہ انہوں نے کچھ اضافہ کیا اور کچھ یعنی ظن اور غالب ظن کے درمیان فرق کا بیان کم کردیا۔ ان کے قول “ والاعتقاد جزم القلب “ (دل کی پختگی کو اعتقاد کہا جاتا ہے) کے بارے میں میں کہتا ہوں معروف یہ ہے کہ اعتقاد
المواقف من المقصد الاول من المرصد الخامس من الموقف الاول اللھم الا ان یصطلح علی تخصیصہ بالجازم قلت وقد یشھد لہ قولھم ان الاحادلا تفید الاعتقاد فافھم۔
(قولہ من غیر استناد الخ) اقول : الله اعلم بما افاد من قصر الاعتقاد علی التقلید اما نحن قدرأینا ان علم الاصول یقال لہ علم العقائد وربما نسمع الائمۃ یقولون نعتقد کذا الدلیل کذا واعتقدنا کذالبرھان کذا وھذا الامام الاعظم رحمہ الله تعالی یقول فی صدرالفقہ الاکبر اصل التوحید ومایصح الاعتقاد علیہ الخ افتری ان المعنی مایصح الجزم بہ من دون استناد الی قاطع (قولہ والظن تجویز امرین الخ) اقول : یشمل تجویز العزیمۃ والرخصہ والعزیمۃ اقوی۔ (قولہ والوھم الخ) اقول اولا یشمل تجویز الرخصہ والعزیمۃ والرخصہ اضعف وثانیا
ظن کو بھی شامل ہے اسی لئے تم ان سے سنو گے کہ وہ ظن کی تعریف اعتقاد راجح کے ساتھ کرتے ہیں جیسا کہ شرح مواقف کے موقف اول میں مرصد خامس کے مقصد اول میں اس کی تصریح ہے البتہ یہ کہ وہ جازم کی تخصیص کے ساتھ اپنی اصطلاح بنالیں۔ میں کہتا ہوں اس پر ان (مصطلحین) کا قول کہ خبر واحد اعتقاد کا فائدہ نہیں دیتی شہادت ہے سمجھ لو۔ ان کے قول “ من غیر استناد “ (کسی نسبت واضافت کے بغیر) کے متعلق میں کہتا ہوں اور اللہتعالی خوب جانتا ہے کہ انہوں نے اعتقاد کو تقلید پر بند کردیا ہم نے تو یہ دیکھا ہے کہ علم اصول کو علم العقائد کہا جاتا ہے اور کبھی کبھی ہم ائمہ کرام کو کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ ہم فلاں دلیل کی بنیاد پر ےیہ اعتقاد رکھتے ہیں اور فلاں برہان کی بنیاد پر ہمارا یہ عقیدہ ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہفقہ اکبر کے شروع میں فرماتے ہیں اصل توحید اور ہے جس کا اعتقاد رکھنا صحیح ہے (آخر تک) کیا تمہارے خیال میں اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی قطعی دلیل کی طرف نسبت کیے بغیر جس پر جزم صحیح ہوان کے قول “ والظن تجویز امرین “ (دو باتوں کو جائز قرار دینا ظن ہے) الخ کے بارے میں میں کہتا ہوں کہ یہ عزیمت اور رخصت کے جواز کو بھی شامل ہے حالانکہ عزیمت زیادہ قوی ہوتی ہے۔ ان کے قول “ والوھم الخ “ (اور وہم الخ) کے متعلق میں کہتا ہوں پہلی بات یہ ہے کہ یہ رخصت وعزیمت کو جائز قرار دینے پر مشتمل ہے حالانکہ رخصت
(قولہ من غیر استناد الخ) اقول : الله اعلم بما افاد من قصر الاعتقاد علی التقلید اما نحن قدرأینا ان علم الاصول یقال لہ علم العقائد وربما نسمع الائمۃ یقولون نعتقد کذا الدلیل کذا واعتقدنا کذالبرھان کذا وھذا الامام الاعظم رحمہ الله تعالی یقول فی صدرالفقہ الاکبر اصل التوحید ومایصح الاعتقاد علیہ الخ افتری ان المعنی مایصح الجزم بہ من دون استناد الی قاطع (قولہ والظن تجویز امرین الخ) اقول : یشمل تجویز العزیمۃ والرخصہ والعزیمۃ اقوی۔ (قولہ والوھم الخ) اقول اولا یشمل تجویز الرخصہ والعزیمۃ والرخصہ اضعف وثانیا
ظن کو بھی شامل ہے اسی لئے تم ان سے سنو گے کہ وہ ظن کی تعریف اعتقاد راجح کے ساتھ کرتے ہیں جیسا کہ شرح مواقف کے موقف اول میں مرصد خامس کے مقصد اول میں اس کی تصریح ہے البتہ یہ کہ وہ جازم کی تخصیص کے ساتھ اپنی اصطلاح بنالیں۔ میں کہتا ہوں اس پر ان (مصطلحین) کا قول کہ خبر واحد اعتقاد کا فائدہ نہیں دیتی شہادت ہے سمجھ لو۔ ان کے قول “ من غیر استناد “ (کسی نسبت واضافت کے بغیر) کے متعلق میں کہتا ہوں اور اللہتعالی خوب جانتا ہے کہ انہوں نے اعتقاد کو تقلید پر بند کردیا ہم نے تو یہ دیکھا ہے کہ علم اصول کو علم العقائد کہا جاتا ہے اور کبھی کبھی ہم ائمہ کرام کو کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ ہم فلاں دلیل کی بنیاد پر ےیہ اعتقاد رکھتے ہیں اور فلاں برہان کی بنیاد پر ہمارا یہ عقیدہ ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہفقہ اکبر کے شروع میں فرماتے ہیں اصل توحید اور ہے جس کا اعتقاد رکھنا صحیح ہے (آخر تک) کیا تمہارے خیال میں اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی قطعی دلیل کی طرف نسبت کیے بغیر جس پر جزم صحیح ہوان کے قول “ والظن تجویز امرین “ (دو باتوں کو جائز قرار دینا ظن ہے) الخ کے بارے میں میں کہتا ہوں کہ یہ عزیمت اور رخصت کے جواز کو بھی شامل ہے حالانکہ عزیمت زیادہ قوی ہوتی ہے۔ ان کے قول “ والوھم الخ “ (اور وہم الخ) کے متعلق میں کہتا ہوں پہلی بات یہ ہے کہ یہ رخصت وعزیمت کو جائز قرار دینے پر مشتمل ہے حالانکہ رخصت
حوالہ / References
فقہ اکبر شروع کتاب مطبوعہ ملك سراج الدین اینڈ سنز لاہور ص۲
لافرق بین تفسیری الظن والوھم فتجویز امرین احدھما اقوی ھو بعینہ تجویز امرین احدھما اضعف۔ (قولہ والشك الخ) اقول : یشمل الاباحۃ والتخیير وبالجملۃ فلا یخلو شیئ من التفاسیر الثمانیۃ المذکورۃ للشك والوھم والظن من الشکوك فالاوضح الاخصر فی حدھا ما اقول : اذا لم تجزم فی حکم بایجاب ولا سلب فان استوےیا عندك فھو الشك والا فالمرجوح موھوم والراجح مظنون فان بلغ الرجحان بحیث طرح القلب الجانب الاخر فھو غالب الظن واکبر الرأی والله تعالی اعلم ولنرجع الی ماکنافیہ۔
زیادہ ضعیف ہے دوسری بات یہ ہے کہ ظن اور وہم کی تفسیروں میں کوئی فرق نہیں پس (ایسی) دو۲ باتوں کو جائز قرار دینا جن میں سے ایك زیادہ قوی ہو بعینہ ان دو۲ باتوں کو جائز قرار دینا ہے جن میں سے ایك زیادہ ضعیف ہو۔ ان کے قول “ والشک “ (اور شک۔ آخر تک) کے بارے میں کہتا ہوں کہ یہ اباحت وتخیير کو شامل ہے حاصل کلام یہ ہے کہ شك وہم اور ظن کے بارے میں مذکورہ آٹھ تفاسیر شکوك سے خالی نہیں لہذا ان کی تعریف میں نہایت واضح اور بہت مختصربات وہ ہے جو میں کہتا ہوں (یعنی) جب ایجاب وسلب کے حکم میں تمہیں کوئی قطعی بات حاصل نہ ہو تو اگر تمہارے نزدیك وہ دونوں برابر ہیں تو یہ شك ہے ورنہ جو مرجوح ہے وہ موہوم اور راجح مظنون ہوگا۔ اور اگر ترجیح اس حد کو پہنچ جائے کہ دل دوسری جانب کو چھوڑ جائے تو وہ غالب گمان اور بڑی رائے ہے۔ اللہتعالی بہتر جانتا ہے اور ہمیں اسی کی طرف لوٹنا چاہے جس میں ہم تھے۔ (ت)
دوسرے یہ کہ ہنوز جانب راجح پر دل ٹھیك ٹھیك نہ جمے اور جانب مرجوح کو محض مضمحل نہ سمجھے بلکہ ادھر بھی ذہن جائے اگرچہ بضعف وقلت یہ صورت نہ یقین کا کام دے نہ یقین خلاف کا معارضہ کرے ب لکہ مرتبہ شك وتردد ہی میں سمجھی جاتی ہے کلمات علماء میں کبھی اسے بھی ظن غالب کہتے ہیں اگرچہ حقیقۃ یہ مجرد ظن ہے نہ غلبہ ظن۔
بفی الحدیقۃ الندیۃ غالب الظن اذا لم یأخذ بہ القلب فھو بمنزلۃ الشك والیقین لایزول بالشك اھ وفی شرح المواقف الظن ھو المعبر عنہ بغلبۃ الظن لان الرجحان ماخوذ فی حقیقتہ فان ماھیتہ ھو
حدیقہ ندیہ میں ہے کہ جب ظن غالب کو دل قبول نہ کرے تو وہ شك کی طرح ہے۔ اور یقین شك کے ساتھ زائل نہیں ہوتا اھ اور شرح مواقف میں ہے ظن ہی کو غلبہ ظن کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی حقیقت میں ترجیح پائی جاتی ہے اس لئے اس کی
زیادہ ضعیف ہے دوسری بات یہ ہے کہ ظن اور وہم کی تفسیروں میں کوئی فرق نہیں پس (ایسی) دو۲ باتوں کو جائز قرار دینا جن میں سے ایك زیادہ قوی ہو بعینہ ان دو۲ باتوں کو جائز قرار دینا ہے جن میں سے ایك زیادہ ضعیف ہو۔ ان کے قول “ والشک “ (اور شک۔ آخر تک) کے بارے میں کہتا ہوں کہ یہ اباحت وتخیير کو شامل ہے حاصل کلام یہ ہے کہ شك وہم اور ظن کے بارے میں مذکورہ آٹھ تفاسیر شکوك سے خالی نہیں لہذا ان کی تعریف میں نہایت واضح اور بہت مختصربات وہ ہے جو میں کہتا ہوں (یعنی) جب ایجاب وسلب کے حکم میں تمہیں کوئی قطعی بات حاصل نہ ہو تو اگر تمہارے نزدیك وہ دونوں برابر ہیں تو یہ شك ہے ورنہ جو مرجوح ہے وہ موہوم اور راجح مظنون ہوگا۔ اور اگر ترجیح اس حد کو پہنچ جائے کہ دل دوسری جانب کو چھوڑ جائے تو وہ غالب گمان اور بڑی رائے ہے۔ اللہتعالی بہتر جانتا ہے اور ہمیں اسی کی طرف لوٹنا چاہے جس میں ہم تھے۔ (ت)
دوسرے یہ کہ ہنوز جانب راجح پر دل ٹھیك ٹھیك نہ جمے اور جانب مرجوح کو محض مضمحل نہ سمجھے بلکہ ادھر بھی ذہن جائے اگرچہ بضعف وقلت یہ صورت نہ یقین کا کام دے نہ یقین خلاف کا معارضہ کرے ب لکہ مرتبہ شك وتردد ہی میں سمجھی جاتی ہے کلمات علماء میں کبھی اسے بھی ظن غالب کہتے ہیں اگرچہ حقیقۃ یہ مجرد ظن ہے نہ غلبہ ظن۔
بفی الحدیقۃ الندیۃ غالب الظن اذا لم یأخذ بہ القلب فھو بمنزلۃ الشك والیقین لایزول بالشك اھ وفی شرح المواقف الظن ھو المعبر عنہ بغلبۃ الظن لان الرجحان ماخوذ فی حقیقتہ فان ماھیتہ ھو
حدیقہ ندیہ میں ہے کہ جب ظن غالب کو دل قبول نہ کرے تو وہ شك کی طرح ہے۔ اور یقین شك کے ساتھ زائل نہیں ہوتا اھ اور شرح مواقف میں ہے ظن ہی کو غلبہ ظن کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی حقیقت میں ترجیح پائی جاتی ہے اس لئے اس کی
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ بیان اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۱
الاعتقاد الراجح فکانہ قیل اوغلبۃ الاعتقاد التی ھی الظن وفائدۃ العدول الی ھذہ العبارۃ ھی التنبیہ علی ان الغلبۃ ای الرجحان ماخوذۃ فی ماھیتہ اھ۔
ماہیت اعتقاد راجح ہی ہے گویا کہا گیا “ یا غلبہ اعتقاد جو ظن ہے “ اور اس عبارت کی طرف رخ کرنے کا فائدہ اس بات پر تنبیہ کرنا ہے کہ اس کی ماہیت میں غلبہ یعنی ترجیح کے معنے پائے جاتے ہیں اھ (ت)
ہاں اس قسم کا اتنا لحاظ کرتے ہیں کہ احتیاط کو بہتر وافضل جانتے ہیں نہ کہ اس پر عمل واجب ومتحتم ہوجائے دیکھو کافروں کے پاجامے مشرکوں کے برتن ان کے پکائے کھانے بچوں کے ہاتھ پاؤں وغیر ذلك وہ مقامات جہاں اس قدر غلبہ وکثرت و وفورو شدت سے نجاست کا جوش کہ اکثر اوقات وغالب احوال تلوث وتنجس جس کے سبب اگر طہارت کی طرف ایك بار ذہن جاتا ہے تو نجاست کی جانب دس۱۰ بیس۲۰ دفعہ مگر از انجاکہ ہنوز ان میں کسی چیز کو بے دیکھے تحقیق طور پر ناپاك نہیں کہہ سکتے اور قلب قبول کرتا ہے کہ شاید پاك ہوں لہذا علما نے تصریح کی کہ اس پانی سے وضو اور اس کھانے کا تناول اور ان برتنوں کا استعمال اور ان کپڑوں میں نماز صحیح وجائز اور فاعل زنہار آثم ومستحق عقاب نہیں اور اس غلبہ ظن کا یہی جواب عطا فرمایا کہ اکثر احوال یوں سہی پر تحقیق وتیقن تو نہیں پھر اصل طہارت کا حکم کیونکر مرتفع ہو البتہ باعتبار غلبہ وظہور احتراز افضل وبہتر اور فعل مکروہ تنزیہی یعنی مناسب نہیں کہ بے ضرورت ارتکاب کرے اور کیا تو کچھ حرج بھی نہیں۔
فی الطریقۃ المحمدیۃ وشرحھا لکن ھنا ای فی غلبۃ الظن من غیران یأخذ بہ القلب لےیستحب الاحتراز عنہ ویکرہ تنزیھا استعمالہ کسراویل الکفرۃ وسؤر الدجاجۃ المخلاۃ والماء الذی ادخل الصبی یدہ فیہ واوانی المشرکین وقال فی الذخیرۃ یکرہ الاکل والشرب فی اوانی المشرکین قبل الغسل لان الغالب الظاھر من جال اوانیہم النجاسۃ فانھم یستحلون شرب الخمر واکل المیتۃ ولحم الخنزیر ویشربون ذلك ویا کلون فی قصاعھم واوانیھم فیکرہ للمسلمین الاکل والشرب
طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح میں ہے “ لیکن یہاں پر یعنی غلبہ ظن میں کہ اسے دل قبول نہ کرتا ہو اس سے احتراز مستحب ہے اور اس کا استعمال مکروہ تنزیہی ہے جیسے کفار کی شلوار پا جامے گلیوں میں پھرنے والی مرغی کا جھوٹا وہ پانی جس میں بچے نے اپنا ہاتھ داخل کیا اور مشرکین کے برتن ذخیرہ میں فرمایا “ مشرکین کے برتن دھونے سے پہلے ان میں کھانا پینا مکروہ ہے کیونکہ ان کے برتن بظاہر غالبا نجس ہیں وہ شراب نوشی مردار خوری اور خنزیر کے گوشت کو حلال جانتے اسے کھاتے پیتے اور اپنے پیالوں اور دوسرے برتنوں میں استعمال کرتے ہیں پس ان کو تین بار دھونے سے پہلے مسلمانوں کو ان کا
ماہیت اعتقاد راجح ہی ہے گویا کہا گیا “ یا غلبہ اعتقاد جو ظن ہے “ اور اس عبارت کی طرف رخ کرنے کا فائدہ اس بات پر تنبیہ کرنا ہے کہ اس کی ماہیت میں غلبہ یعنی ترجیح کے معنے پائے جاتے ہیں اھ (ت)
ہاں اس قسم کا اتنا لحاظ کرتے ہیں کہ احتیاط کو بہتر وافضل جانتے ہیں نہ کہ اس پر عمل واجب ومتحتم ہوجائے دیکھو کافروں کے پاجامے مشرکوں کے برتن ان کے پکائے کھانے بچوں کے ہاتھ پاؤں وغیر ذلك وہ مقامات جہاں اس قدر غلبہ وکثرت و وفورو شدت سے نجاست کا جوش کہ اکثر اوقات وغالب احوال تلوث وتنجس جس کے سبب اگر طہارت کی طرف ایك بار ذہن جاتا ہے تو نجاست کی جانب دس۱۰ بیس۲۰ دفعہ مگر از انجاکہ ہنوز ان میں کسی چیز کو بے دیکھے تحقیق طور پر ناپاك نہیں کہہ سکتے اور قلب قبول کرتا ہے کہ شاید پاك ہوں لہذا علما نے تصریح کی کہ اس پانی سے وضو اور اس کھانے کا تناول اور ان برتنوں کا استعمال اور ان کپڑوں میں نماز صحیح وجائز اور فاعل زنہار آثم ومستحق عقاب نہیں اور اس غلبہ ظن کا یہی جواب عطا فرمایا کہ اکثر احوال یوں سہی پر تحقیق وتیقن تو نہیں پھر اصل طہارت کا حکم کیونکر مرتفع ہو البتہ باعتبار غلبہ وظہور احتراز افضل وبہتر اور فعل مکروہ تنزیہی یعنی مناسب نہیں کہ بے ضرورت ارتکاب کرے اور کیا تو کچھ حرج بھی نہیں۔
فی الطریقۃ المحمدیۃ وشرحھا لکن ھنا ای فی غلبۃ الظن من غیران یأخذ بہ القلب لےیستحب الاحتراز عنہ ویکرہ تنزیھا استعمالہ کسراویل الکفرۃ وسؤر الدجاجۃ المخلاۃ والماء الذی ادخل الصبی یدہ فیہ واوانی المشرکین وقال فی الذخیرۃ یکرہ الاکل والشرب فی اوانی المشرکین قبل الغسل لان الغالب الظاھر من جال اوانیہم النجاسۃ فانھم یستحلون شرب الخمر واکل المیتۃ ولحم الخنزیر ویشربون ذلك ویا کلون فی قصاعھم واوانیھم فیکرہ للمسلمین الاکل والشرب
طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح میں ہے “ لیکن یہاں پر یعنی غلبہ ظن میں کہ اسے دل قبول نہ کرتا ہو اس سے احتراز مستحب ہے اور اس کا استعمال مکروہ تنزیہی ہے جیسے کفار کی شلوار پا جامے گلیوں میں پھرنے والی مرغی کا جھوٹا وہ پانی جس میں بچے نے اپنا ہاتھ داخل کیا اور مشرکین کے برتن ذخیرہ میں فرمایا “ مشرکین کے برتن دھونے سے پہلے ان میں کھانا پینا مکروہ ہے کیونکہ ان کے برتن بظاہر غالبا نجس ہیں وہ شراب نوشی مردار خوری اور خنزیر کے گوشت کو حلال جانتے اسے کھاتے پیتے اور اپنے پیالوں اور دوسرے برتنوں میں استعمال کرتے ہیں پس ان کو تین بار دھونے سے پہلے مسلمانوں کو ان کا
حوالہ / References
شرح المواقف المرصد الخامس مقصد الثانی قم ایران ۱ / ۴۹۸۔ ۴۹۹
فیھا قبل الغسل ثلاث مرات۔ وذلك مقدار مایغلب علی ظنہ انھا طھرت لوکانت متحققۃ النجاسۃ دفعا للوسواس اعتبارا للظاھر من حال تلك الاوانی کماکرہ التوضی بسؤر الدجاجۃ المخلاۃ لانھا لاتتوقی عن النجاسۃ فی الغالب والظاھر المتبادر للافھام لعدم تمیےیزھا وعدم تحاشیھا عن استعمال ذلك وکماکرہ التوضی بماء قلیل ادخل الصبی یدہ فیہ لانہ لایتوقی من النجاسۃ فی الظاھر المتبادر والغالب الکثیر المعتاد وکماکرہ الصلاۃ فی سراویل المشرکین اعتبارا للظاھر فانھم لایستنجون اذابالوا و تغوطوا وکان الظاھر من سراویلھم النجاسۃ ومع ھذا ای کون الغالب الظاھر من حال اوانیھم النجاسۃ لواکل اوشرب فیھا قبل الغسل جاز ولایکون اکلا ولاشاربا حراما لان الطھارۃ اصل لان الله تعالی لم یخلق شیئا نجسا من اصل خلقتہ وانما النجاسۃ عارضۃ فاصل البول ماء طاھر وکذلك الدم والمنی والخمر عصیر طاھر ثم عرضت النجاسۃ فیجری علی الاصل المحقق حتی یعلم بحدوث العارض وما یقول الانسان بان الظاھر الغالب فی الاشیاء المذکورۃ النجاسۃ قلنا نعم
استعمال مکروہ ہے۔ اور یہ مقدار وہ ہے کہ اگر ان برتنوں پر نجاست لگی ہوئی ہو تو اس سے اس کے پاك ہونے کا غالب گمان حاصل ہوجائے اس طرح ان برتنوں کے ظاہری حالت سے پیدا ہونے والا وسوسہ دور ہوجائے گا جیسا کہ گلیوں میں پھرنے والی مرغی کے جھوٹے سے وضو مکروہ ہے کیونکہ عام طور پر وہ نجاست سے نہیں بچتی۔ اور ذہنوں میں ظاہر ومتبادر بات یہ ہے کہ وہ اس (نجاست) کے استعمال میں نہ تمیز کرتی ہے اور نہ ہی اس سے بچتی ہے۔ اور جیسا کہ اس قلیل پانی سے وضو کرنا مکروہ ہے جس میں بچے نے اپنے ہاتھ ڈالا کیونکہ ظاہر اور متبادر اور غالب نیز عام عادت یہ ہے کہ وہ نجاست سے نہیں بچتا۔ اور جیسے ظاہر کا اعتبار کرتے ہوئے مشرکین کی شلواروں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے کیونکہ وہ پیشاب اور قضائے حاجت کے بعد استنجاء نہیں کرتے اور ان کی شلواروں کا ظاہری حال ناپاکی ہے اور اس کے باوجود یعنی ان کے برتنوں کے بارے میں ظاہر وغالب یہی ہے کہ وہ ناپاك ہیں اگر دھونے سے پہلے ان میں کھایا ےیاپیا تو جائز ہے اور کھانا پینا حرام نہ ہوگا کیونکہ طہارت اصل ہے اس لئے کہ اللہتعالی نے حقیقت میں کسی چیز کو ناپاك پیدا نہیں کیا نجاست (بعد میں) لاحق ہوتی ہے پس پیشاب کی اصل پاك پانی ہے اسی طرح خون منی اور شراب پاك رس ہے پھر ان کو نجاست لاحق ہوئی پس حکم اصل پر جاری ہوگئی جو ثابت ہے یہاں تك کہ عارض کے پیدا ہونے کا علم ہوجائے۔ اور اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ ظاہرا مذکورہ اشیا میں گمان نجاست ہے ہم کہتے ہیں ہاں لیکن طہارت
استعمال مکروہ ہے۔ اور یہ مقدار وہ ہے کہ اگر ان برتنوں پر نجاست لگی ہوئی ہو تو اس سے اس کے پاك ہونے کا غالب گمان حاصل ہوجائے اس طرح ان برتنوں کے ظاہری حالت سے پیدا ہونے والا وسوسہ دور ہوجائے گا جیسا کہ گلیوں میں پھرنے والی مرغی کے جھوٹے سے وضو مکروہ ہے کیونکہ عام طور پر وہ نجاست سے نہیں بچتی۔ اور ذہنوں میں ظاہر ومتبادر بات یہ ہے کہ وہ اس (نجاست) کے استعمال میں نہ تمیز کرتی ہے اور نہ ہی اس سے بچتی ہے۔ اور جیسا کہ اس قلیل پانی سے وضو کرنا مکروہ ہے جس میں بچے نے اپنے ہاتھ ڈالا کیونکہ ظاہر اور متبادر اور غالب نیز عام عادت یہ ہے کہ وہ نجاست سے نہیں بچتا۔ اور جیسے ظاہر کا اعتبار کرتے ہوئے مشرکین کی شلواروں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے کیونکہ وہ پیشاب اور قضائے حاجت کے بعد استنجاء نہیں کرتے اور ان کی شلواروں کا ظاہری حال ناپاکی ہے اور اس کے باوجود یعنی ان کے برتنوں کے بارے میں ظاہر وغالب یہی ہے کہ وہ ناپاك ہیں اگر دھونے سے پہلے ان میں کھایا ےیاپیا تو جائز ہے اور کھانا پینا حرام نہ ہوگا کیونکہ طہارت اصل ہے اس لئے کہ اللہتعالی نے حقیقت میں کسی چیز کو ناپاك پیدا نہیں کیا نجاست (بعد میں) لاحق ہوتی ہے پس پیشاب کی اصل پاك پانی ہے اسی طرح خون منی اور شراب پاك رس ہے پھر ان کو نجاست لاحق ہوئی پس حکم اصل پر جاری ہوگئی جو ثابت ہے یہاں تك کہ عارض کے پیدا ہونے کا علم ہوجائے۔ اور اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ ظاہرا مذکورہ اشیا میں گمان نجاست ہے ہم کہتے ہیں ہاں لیکن طہارت
لکن الطہارۃ ثابتۃ بیقین والیقین لایزول الابیقین مثلہ انتھی ثم قال فی الذخیرۃ ولاباس بطعام الیھود والنصاری کلہ من غیر استشناء طعام دون طعام اذاکان مباحا من الذبائح وغیرھا لقولہ تعالی وطعام الذین اوتوا الکتب حل لکم من غیر تفصیل فی الایۃ بین الذبیحۃ وغیرھا وبین اھل الحرب وغیر اھل الحرب وبین بنی اسرائیل کنصاری العرب ولابأس بطعام المجوس کلہ الا الذبیحۃ وقال فی الذخیرۃ فی موضع اخر روی عن ابن سیرین رحمہ الله تعالی ان اصحاب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم کانوا یظھرون ویغلبون علی المشرکین ویأکلون ویشربون فی اوانیھم ولم ینقل انھم کانوا یغسلونھا وروی عن اصحاب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم لماھجموا علی باب کسری وجدوا فی مطبخہ قدورا فیھا الوان الاطعمۃ فسألوا عنھا فقیل لھم انھا مرقۃ فاکلوا وبعثوا بشیئ من ذلك الی عمر رضی الله تعالی عنہ فتناول عمر رضی الله تعالی عنہ من ذلك الطعام وتناول اصحابہ ای بقیۃ الصحابۃ رضی الله تعالی عنھم منہ ایضا فالصحابۃ رضی الله تعالی عنھم اکلوا من الطعام الذی طبخوا المجوس لان الاصل حل الاکل ولاتثبت الحرمۃ بالظن وطبخوا ای الصحابۃ رضی الله تعالی عنھم فی قدورھم قبل الغسل والدلیل لہ ان الطھارۃ اصل
یقین سے ثابت ہے اور یقین یقین کامل کے ساتھ زائل ہوتا ہے اھ پھر ذخیرہ میں فرمایا : “ یہود ونصاری کے تمام کھانوں میں بغیر استشناء کوئی حرج نہیں کہ یہ کھانا ہو وہ نہ ہو جبکہ وہ مباح ہو ذبیحہ ہو یا اس کے سوا کیونکہ اللہتعالی کا ارشاد ہے : “ اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے “ آیت کریمہ میں ذبیحہ اور غیر ذبیحہ اہل حرب غیر اہل حرب اور بنی اسرائیل جیسا کہ عرب کے عیسائی کے درمیان کوئی تفصیل نہیں ہے اور مجوسیوں کے ذبیحہ کے علاوہ تمام کھانوں میں کوئی حرج نہیں ذخیرہ میں ایك دوسرے مقام پر ابن سرین رحم اللہسے نقل کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمحملہ کرکے مشرکین پر غالب آتے تو ان کے برتنوں میں کھاتے پیتے تھے اور یہ بات منقول نہیں کہ وہ ان کو دھوکر استعمال کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے کہ وہ کسری کے دروازے پر جمع ہوئے تو ان کے باورچی خانہ میں ہانڈیاں پائیں جن میں طرح طرح کے کھانے تھے انہوں نے ان کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ شوربہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے اسے کھایا اور کچھ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہکی خدمت میں بھیج دیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہاور باقی صحابہ کرام نے بھی اسے تناول فرمایا۔ پس صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمنے اس کھانے سے کھایا جس کو مجوسیوں نے پکایا تھا کیونکہ اصل میں اسکا کھانا حلال ہے اور گمان سے حرمت ثابت نہیں ہوتی نیز صحابہ کرام نے ان کی ہانڈیوں کو دھونے سے پہلے ان میں پکایا اس بات کی دلیل یہ ہے کہ طہارت اصل ہے
یقین سے ثابت ہے اور یقین یقین کامل کے ساتھ زائل ہوتا ہے اھ پھر ذخیرہ میں فرمایا : “ یہود ونصاری کے تمام کھانوں میں بغیر استشناء کوئی حرج نہیں کہ یہ کھانا ہو وہ نہ ہو جبکہ وہ مباح ہو ذبیحہ ہو یا اس کے سوا کیونکہ اللہتعالی کا ارشاد ہے : “ اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے “ آیت کریمہ میں ذبیحہ اور غیر ذبیحہ اہل حرب غیر اہل حرب اور بنی اسرائیل جیسا کہ عرب کے عیسائی کے درمیان کوئی تفصیل نہیں ہے اور مجوسیوں کے ذبیحہ کے علاوہ تمام کھانوں میں کوئی حرج نہیں ذخیرہ میں ایك دوسرے مقام پر ابن سرین رحم اللہسے نقل کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمحملہ کرکے مشرکین پر غالب آتے تو ان کے برتنوں میں کھاتے پیتے تھے اور یہ بات منقول نہیں کہ وہ ان کو دھوکر استعمال کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہے کہ وہ کسری کے دروازے پر جمع ہوئے تو ان کے باورچی خانہ میں ہانڈیاں پائیں جن میں طرح طرح کے کھانے تھے انہوں نے ان کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ شوربہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے اسے کھایا اور کچھ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہکی خدمت میں بھیج دیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہاور باقی صحابہ کرام نے بھی اسے تناول فرمایا۔ پس صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمنے اس کھانے سے کھایا جس کو مجوسیوں نے پکایا تھا کیونکہ اصل میں اسکا کھانا حلال ہے اور گمان سے حرمت ثابت نہیں ہوتی نیز صحابہ کرام نے ان کی ہانڈیوں کو دھونے سے پہلے ان میں پکایا اس بات کی دلیل یہ ہے کہ طہارت اصل ہے
والنجاسۃ عارضۃ وقدوقع الشك فی العارض ولاترتفع الطھارۃ الثابتۃ بقضیۃ الاصل ومایقول القائل ان الظاھر ھو النجاسۃ قلنا نعم ولکن الطھارۃ کانت ثابتۃ بیقین والیقین لایزول بالشك والظن الابیقین الایری انہ اذا اصاب عضوانسان اوثوبہ مقدار فاحش من سؤر الدجاجۃ المخلاۃ اوالماء القلیل الذی ادخل الصبی یدہ اورجلہ فیہ وصلی مع ذلك جازت صلاتہ واذاصلی فی سراویل المشرکین جازت ایضا لاناقد تیقنا الطھارۃ وشککنا فی النجاسۃ فلم تثبت بالشك کذا ھنا فی طعام المجوس وقدورھم لاتثبت النجاسۃ بالشك وان کان الاحتیاط عدم ذلك فی نظیرہ ولانقول بھذا فی واقعۃ الصحابۃ رضی الله تعالی عنھم لاحتمال معارضۃ ھذا الاحتیاط امر اخر کالحاجۃ الی الطعام فی ذلك الوقت اوبیان الجواز للقاصر لانھم من اھل القدوۃ کماقال علیہ الصلاۃ والسلام علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین من بعدی انتھی مانقلہ عن الذخیرۃ اھ مانقلتہ عنھما بتلخیص و
اور نجاست لاحق ہونے والی اور اور لاحق ہونے والی میں شك واقع ہوا جس سے وہ طہارت جو اصل سے ثابت ہے ختم نہیں ہوگی۔ اور وہ جو کچھ کہنے والا کہنا ہے کہ ظاہر نجاست ہی ہے ہم کہتے ہیں ہاں لیکن طہارت یقین کے ساتھ ثابت ہوئی تھی اور یقین شك اور گمان کے ساتھ زائل نہیں ہوتا وہ صرف یقین سے دور ہوتا ہے کیا نہیں دیکھا گیا کہ جب کسی انسان کے عضو یا کپڑے کو گلیوں میں پھرنے والی مرغی کا جھوٹا زیادہ مقدار میں پہنچ جائے یا قلیل پانی جس میں بچے نے اپنا ہاتھ یا پاؤں ڈالا اور وہ اس کے ساتھ نماز پڑھے تو نماز جائز ہوگی اور جب مشرکین کی شلوار میں نماز اداکرے تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ ہمیں طہارت کا یقین اور نجاست میں شك ہے پس وہ شك کے ساتھ ثابت نہ ہوگی جس طرح یہاں مجوسی کے کھانے اور ہانڈیوں میں شك سے نجاست ثابت نہ ہوتی اگرچہ اس کی مثل میں احتیاط عدم طہارت ہی ہے اور صحابہ کرام کے واقعہ میں ہم یہ بات نہیں کہتے کیونکہ اس احتیاط کے مقابل ایك دوسرا معاملہ ہے جیسے اس وقت کھانے کی حاجت یا مجبور انسان کے لئے بیان جواز کیونکہ وہ لوگ ان لوگوں میں سے تھے جن کی اقتداء کی جاتی ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : تم پر میری اور میرے بعد خلفاء راشدین کی سنت کی پیروی لازم ہے “ اھ جو کچھ ذخیرہ سے نقل کیا ہے وہ مکمل ہوگیا۔ جو کچھ میں نے ان دونوں سے تلخیص اور
اور نجاست لاحق ہونے والی اور اور لاحق ہونے والی میں شك واقع ہوا جس سے وہ طہارت جو اصل سے ثابت ہے ختم نہیں ہوگی۔ اور وہ جو کچھ کہنے والا کہنا ہے کہ ظاہر نجاست ہی ہے ہم کہتے ہیں ہاں لیکن طہارت یقین کے ساتھ ثابت ہوئی تھی اور یقین شك اور گمان کے ساتھ زائل نہیں ہوتا وہ صرف یقین سے دور ہوتا ہے کیا نہیں دیکھا گیا کہ جب کسی انسان کے عضو یا کپڑے کو گلیوں میں پھرنے والی مرغی کا جھوٹا زیادہ مقدار میں پہنچ جائے یا قلیل پانی جس میں بچے نے اپنا ہاتھ یا پاؤں ڈالا اور وہ اس کے ساتھ نماز پڑھے تو نماز جائز ہوگی اور جب مشرکین کی شلوار میں نماز اداکرے تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ ہمیں طہارت کا یقین اور نجاست میں شك ہے پس وہ شك کے ساتھ ثابت نہ ہوگی جس طرح یہاں مجوسی کے کھانے اور ہانڈیوں میں شك سے نجاست ثابت نہ ہوتی اگرچہ اس کی مثل میں احتیاط عدم طہارت ہی ہے اور صحابہ کرام کے واقعہ میں ہم یہ بات نہیں کہتے کیونکہ اس احتیاط کے مقابل ایك دوسرا معاملہ ہے جیسے اس وقت کھانے کی حاجت یا مجبور انسان کے لئے بیان جواز کیونکہ وہ لوگ ان لوگوں میں سے تھے جن کی اقتداء کی جاتی ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : تم پر میری اور میرے بعد خلفاء راشدین کی سنت کی پیروی لازم ہے “ اھ جو کچھ ذخیرہ سے نقل کیا ہے وہ مکمل ہوگیا۔ جو کچھ میں نے ان دونوں سے تلخیص اور
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیہ والنوع الرابع فی اختلاف الفقہاء مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۱
التقاط وھو کماتری کلام نفیس یفید النفائس ویبید الوساوس والله الحافظ من شر الدسائس۔
اقول : ومما ینبغی التنبہ لہ ان قولہ فیمامر انہ لم ینقل عن الصحابۃ رضی الله تعالی عنھم انھم کانوا یغسلون اوانی الغنائم وقصاعھا کانہ اراد بہ الادامۃ والالتزام والا فقد صح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الامر بغسلھا احمد والشیخان وابوداؤد والترمذی وغیرھم عن ابی ثعلبۃ رضی الله تعالی عنہ قال قلت یارسول الله انا بارض قوم اھل کتاب افناکل فی انیتھم قال ان وجدتم غیرھا فلا تأکلوا فیھا وان لم تجدوا فاغسلوھا وکلوا فیھا وفی لفظ ابی داؤد انھم یأکلون لحم الخنزیر ویشربون الخمر فکیف نصنع بانیتھم وقدورھم الحدیث
وفی احدی روایتی ابی عیسی سئل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن قدور المجوس
انتخاب کے طریقے پر نقل کیا ہے وہ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو نفیس کلام ہے جو عمدہ باتوں کا فائدہ دیتا اور وسوسوں کو دور کرتا ہے اور اللہتعالی ہی سازشوں کے شر سے حفاظت فرمانے والا ہے۔ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں) یہاں اس بات پر آگاہی مناسب ہے کہ ان کے گزشتہ قول یعنی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے منقول نہیں کہ وہ غنیمتوں کے برتن اور پیالے دھوتے تھے ان سے مراد یہ ہے کہ وہ ہمیشہ نہیں دھوتے تھے اور نہ اس کا التزام کرتے تھے ورنہ صحیح حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ان کے دھونے کا حکم ثابت ہے۔ اس حدیث کو امام احمد امام بخاری ومسلم ابوداؤد اور ترمذی وغیرہ نے حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا : یارسول اللہصلی اللہعلیہ وسلم) ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھاسکتے ہیں آپ نے فرمایا : اگر تم ان کے علاوہ برتن پاؤ تو ان میں نہ کھاؤ اور اگر نہ پاؤ تو ان کو دھوکر ان میں کھالو۔ ابوداؤد کے الفاظ میں ہے کہ وہ خنزیر کا گوشت کھاتے اور شراب پیتے ہیں تو ہم ان کے برتنوں اور ہانڈیوں کے ساتھ کیا کریں (الحدیث)
ابوعیسی کی دو۲ روایتوں میں سے ایك میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مجوسیوں کی
اقول : ومما ینبغی التنبہ لہ ان قولہ فیمامر انہ لم ینقل عن الصحابۃ رضی الله تعالی عنھم انھم کانوا یغسلون اوانی الغنائم وقصاعھا کانہ اراد بہ الادامۃ والالتزام والا فقد صح عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم الامر بغسلھا احمد والشیخان وابوداؤد والترمذی وغیرھم عن ابی ثعلبۃ رضی الله تعالی عنہ قال قلت یارسول الله انا بارض قوم اھل کتاب افناکل فی انیتھم قال ان وجدتم غیرھا فلا تأکلوا فیھا وان لم تجدوا فاغسلوھا وکلوا فیھا وفی لفظ ابی داؤد انھم یأکلون لحم الخنزیر ویشربون الخمر فکیف نصنع بانیتھم وقدورھم الحدیث
وفی احدی روایتی ابی عیسی سئل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن قدور المجوس
انتخاب کے طریقے پر نقل کیا ہے وہ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو نفیس کلام ہے جو عمدہ باتوں کا فائدہ دیتا اور وسوسوں کو دور کرتا ہے اور اللہتعالی ہی سازشوں کے شر سے حفاظت فرمانے والا ہے۔ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں) یہاں اس بات پر آگاہی مناسب ہے کہ ان کے گزشتہ قول یعنی صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمسے منقول نہیں کہ وہ غنیمتوں کے برتن اور پیالے دھوتے تھے ان سے مراد یہ ہے کہ وہ ہمیشہ نہیں دھوتے تھے اور نہ اس کا التزام کرتے تھے ورنہ صحیح حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ان کے دھونے کا حکم ثابت ہے۔ اس حدیث کو امام احمد امام بخاری ومسلم ابوداؤد اور ترمذی وغیرہ نے حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا : یارسول اللہصلی اللہعلیہ وسلم) ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھاسکتے ہیں آپ نے فرمایا : اگر تم ان کے علاوہ برتن پاؤ تو ان میں نہ کھاؤ اور اگر نہ پاؤ تو ان کو دھوکر ان میں کھالو۔ ابوداؤد کے الفاظ میں ہے کہ وہ خنزیر کا گوشت کھاتے اور شراب پیتے ہیں تو ہم ان کے برتنوں اور ہانڈیوں کے ساتھ کیا کریں (الحدیث)
ابوعیسی کی دو۲ روایتوں میں سے ایك میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مجوسیوں کی
حوالہ / References
بخاری شریف کتاب الذبائح باب صید القوس مطبوعہ قدیمی کتب خانہ مقابل آرام باغ کراچی ۲ / ۸۲۳
مسند احمد بن حنبل عن ابی ثعلبہ رضی اللہ عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ / ۱۹۴
مسند احمد بن حنبل عن ابی ثعلبہ رضی اللہ عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ / ۱۹۴
فقال انقوھا غسلا واطبخوا فیھا ۔
وعند احمد عن ابن عمر ان اباثعلبۃ رضی الله تعالی عنھم سأل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم افتنا فی انیۃ المجوس اذا اضطررنا الیھا قال اذا اضطررتم الیھا فاغسلوھا بالماء واطبخوا فیھا ۔ فاذاثبت الامر فقدثبت الغسل وان لم ینقل بخصوصہ اذ ما کانوا لیخالفوا امر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ولا یأتمروا بہ ابدا ھذا ومن نظر فی الدلائل التی اسلفنا ایقن ان الامر فی ھذا الحدیث للندب والنھی للتنزیہ والله تعالی اعلم۔
وفی نصاب الاحتساب بعد نقل ما فی الذخیرۃ بالاختصار قال العبد اصلحہ الله تعالی وماابتلینا من شراء السمن والخل واللبن والجبن وسائر المائعات من الھنود علی ھذا الاحتمال تلویث اوانیھم وان نساء ھم لایتوقین عن السرقین وکذا یأکلون لحم ماقتلوہ
ہانڈیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ان کو دھوکر پاك کرلو اور ان میں پکاؤ۔ امام احمد نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ ابوثعلبہ رضی اللہ تعالی عنہنے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی خدمت میں عرض کیا : ہمیں مجوسیوں کے برتنوں کے بارے میں حکم بتائیے جب ہم ان کے استعمال پر مجبور ہوں۔ آپ نے فرمایا : جب تم ان کے استعمال پر مجبور ہو تو ان کو پانی سے دھوکر ان میں پکاؤ۔ جب حکم ثابت ہوا تو عملا دھونا بھی ثابت ہوگیا اگرچہ وہ خاص طور پر منقول نہیں کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمنہ تو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے حکم کی مخالفت کرتے تھے اور نہ ہمیشہ ہمیشہ بجالاتے اسے اختیار کیجئے۔ اور جو شخص ہمارے گزشتہ دلائل پر غور کرے گا اسے اس بات کا یقین ہوجائیگا کہ امر استحباب کے لئے ہے اور نہی تنزیہ کے لئے اللہتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
نصاب الاحتساب میں ذخیرہ کی بحث بالاختصار نقل کرنے کے بعد فرمایا بندہ عرض کرتا ہے اللہتعالی اس کی اصلاح کرے اور جو ہم گھی سرہ دودھ پنیر اور دیگر مائع چیزیں ہندؤں سے خریدنے کے سلسلے میں مبتلا ہیں حالانکہ ان کے برتنوں کے (نجاست سے) ملوث ہونے کا احتمال ہے ان کی عورتیں گوبر سے اجتناب نہیں کرتیں اور اسی طرح وہ اپنے مقتول کا گوشت
وعند احمد عن ابن عمر ان اباثعلبۃ رضی الله تعالی عنھم سأل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم افتنا فی انیۃ المجوس اذا اضطررنا الیھا قال اذا اضطررتم الیھا فاغسلوھا بالماء واطبخوا فیھا ۔ فاذاثبت الامر فقدثبت الغسل وان لم ینقل بخصوصہ اذ ما کانوا لیخالفوا امر رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ولا یأتمروا بہ ابدا ھذا ومن نظر فی الدلائل التی اسلفنا ایقن ان الامر فی ھذا الحدیث للندب والنھی للتنزیہ والله تعالی اعلم۔
وفی نصاب الاحتساب بعد نقل ما فی الذخیرۃ بالاختصار قال العبد اصلحہ الله تعالی وماابتلینا من شراء السمن والخل واللبن والجبن وسائر المائعات من الھنود علی ھذا الاحتمال تلویث اوانیھم وان نساء ھم لایتوقین عن السرقین وکذا یأکلون لحم ماقتلوہ
ہانڈیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ان کو دھوکر پاك کرلو اور ان میں پکاؤ۔ امام احمد نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ ابوثعلبہ رضی اللہ تعالی عنہنے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی خدمت میں عرض کیا : ہمیں مجوسیوں کے برتنوں کے بارے میں حکم بتائیے جب ہم ان کے استعمال پر مجبور ہوں۔ آپ نے فرمایا : جب تم ان کے استعمال پر مجبور ہو تو ان کو پانی سے دھوکر ان میں پکاؤ۔ جب حکم ثابت ہوا تو عملا دھونا بھی ثابت ہوگیا اگرچہ وہ خاص طور پر منقول نہیں کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمنہ تو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے حکم کی مخالفت کرتے تھے اور نہ ہمیشہ ہمیشہ بجالاتے اسے اختیار کیجئے۔ اور جو شخص ہمارے گزشتہ دلائل پر غور کرے گا اسے اس بات کا یقین ہوجائیگا کہ امر استحباب کے لئے ہے اور نہی تنزیہ کے لئے اللہتعالی خوب جانتا ہے۔ (ت)
نصاب الاحتساب میں ذخیرہ کی بحث بالاختصار نقل کرنے کے بعد فرمایا بندہ عرض کرتا ہے اللہتعالی اس کی اصلاح کرے اور جو ہم گھی سرہ دودھ پنیر اور دیگر مائع چیزیں ہندؤں سے خریدنے کے سلسلے میں مبتلا ہیں حالانکہ ان کے برتنوں کے (نجاست سے) ملوث ہونے کا احتمال ہے ان کی عورتیں گوبر سے اجتناب نہیں کرتیں اور اسی طرح وہ اپنے مقتول کا گوشت
حوالہ / References
ترمذی شریف باب جاء فی الاکل فی اٰنیۃ الکفار آفتاب عالم پریس مطبع مجتبائی لاہور ۲ / ۲
مسند احمد بن حنبل عن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۱۸۴
مسند احمد بن حنبل عن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۱۸۴
وذلك میتۃ فالاباحۃ فتوی والتحرز تقوی اھ ملخصا اقول : واراد بالاباحۃ ما لا اثم فیہ وبالتقوی الرعۃ فافھم۔
فائدۃ جلیلۃ : یقول العبد الضعیف لطف بہ المولی اللطیف اعلم ان ھذا الذی جزمنا بہ وعولنا علیہ فیما مرمن ان المکروہ تنزیھا لیس من الاثم فی شی لاکبیرۃ ولاصغیرۃ ولایستحق العبد بہ معاقبۃ مالا کثیرۃ ولایسیرۃ ھو الحق الناصع الذی لامحید منہ وبہ صرح غیر واحد من العلماء ففی حظر ردالمحتار تحت قولہ اما المکروہ کراھۃ تنزیہ فالی الحل اقرب اتفاقا بمعنی انہ لایعاقب فاعلہ اصلا لکن یثاب تارکہ ادنی ثواب تلویح اھ۔
اقول : والی الحل اقرب یعنی الاباحۃ والافالحل المقابل للحرمۃ ثابت لاشك وفیہ اخر الاشربۃ عن العلامۃ ابی السعود المکروہ تنزیھا یجامع الاباحۃ اھ
اقول : یعنی الاساغۃ وعدم الحظر ونفی الحرج وسلب الحجر والا فاستواء الطرفین یباین ترجح احد الجانبین ولو
کھاتے ہیں اور یہ مردار ہوتا ہے پس فتوی کے اعتبار سے وہ مباح ہے لیکن تقوی یہ ہے کہ اجتناب کرے اھ ملخصا اقول اباحت سے مراد وہ ہے جس میں گناہ نہ ہو اور تقوی سے مراد شبہات سے بچنا ہے پس سمجھ لو۔ (ت)
عظیم فائدہ : بندہ ضعیف اس پر لطف وکرم کا مالك رحم فرمائے کہتا ہے جان لو جو کچھ پہلے گزرچکا ہے اور اس پر ہم نے جزم اور بھروسا کیا وہ یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی پر صغیرہ کبیرہ کوئی گناہ نہیں اور اس سے بندہ کسی قسم کی سزا کا مستحق نہیں ہوتا نہ زیادہ کا اور نہ ہی کم کا یہی واضح حق ہے جس سے علیحدگی اختیار نہیں کی جاسکتی اور معتمدد علماء نے اس کی تصریح کی ہے ردالمحتار کے باب الحظرمیں اما المکروہ کراھۃ تنزیۃ کے تحت ہے کہ بالاتفاق حلت کے زیادہ قریب ہے یعنی اس کے مرتکب کو بالکل عذاب نہیں ہوگا۔ لیکن تارك کو کچھ نہ کچھ ثواب ملے گا تلویح اھ۔ (ت)
اقول : حلت کے زیادہ قریب ہونے سے مراد اباحت ہے ورنہ وہ حلت جو حرمت کے مقابلے میں ہے ثابت ہے اس میں کوئی شك نہیں اور اس میں اشربہ کے آخر میں علامہ ابوالسعود سے نقل کیا ہے کہ مکروہ تنزیہی اباحت کے ساتھ جمع ہوتی ہے اھ (ت)
اقول : اس سے جائز غیر ممنوع حرج کی نفی اور رکاوٹ کا سلب مراد ہے ورنہ دونوں طرفوں کا برابر ہونا ایك جانب کی ترجیح کے خلاف ہے اگرچہ
فائدۃ جلیلۃ : یقول العبد الضعیف لطف بہ المولی اللطیف اعلم ان ھذا الذی جزمنا بہ وعولنا علیہ فیما مرمن ان المکروہ تنزیھا لیس من الاثم فی شی لاکبیرۃ ولاصغیرۃ ولایستحق العبد بہ معاقبۃ مالا کثیرۃ ولایسیرۃ ھو الحق الناصع الذی لامحید منہ وبہ صرح غیر واحد من العلماء ففی حظر ردالمحتار تحت قولہ اما المکروہ کراھۃ تنزیہ فالی الحل اقرب اتفاقا بمعنی انہ لایعاقب فاعلہ اصلا لکن یثاب تارکہ ادنی ثواب تلویح اھ۔
اقول : والی الحل اقرب یعنی الاباحۃ والافالحل المقابل للحرمۃ ثابت لاشك وفیہ اخر الاشربۃ عن العلامۃ ابی السعود المکروہ تنزیھا یجامع الاباحۃ اھ
اقول : یعنی الاساغۃ وعدم الحظر ونفی الحرج وسلب الحجر والا فاستواء الطرفین یباین ترجح احد الجانبین ولو
کھاتے ہیں اور یہ مردار ہوتا ہے پس فتوی کے اعتبار سے وہ مباح ہے لیکن تقوی یہ ہے کہ اجتناب کرے اھ ملخصا اقول اباحت سے مراد وہ ہے جس میں گناہ نہ ہو اور تقوی سے مراد شبہات سے بچنا ہے پس سمجھ لو۔ (ت)
عظیم فائدہ : بندہ ضعیف اس پر لطف وکرم کا مالك رحم فرمائے کہتا ہے جان لو جو کچھ پہلے گزرچکا ہے اور اس پر ہم نے جزم اور بھروسا کیا وہ یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی پر صغیرہ کبیرہ کوئی گناہ نہیں اور اس سے بندہ کسی قسم کی سزا کا مستحق نہیں ہوتا نہ زیادہ کا اور نہ ہی کم کا یہی واضح حق ہے جس سے علیحدگی اختیار نہیں کی جاسکتی اور معتمدد علماء نے اس کی تصریح کی ہے ردالمحتار کے باب الحظرمیں اما المکروہ کراھۃ تنزیۃ کے تحت ہے کہ بالاتفاق حلت کے زیادہ قریب ہے یعنی اس کے مرتکب کو بالکل عذاب نہیں ہوگا۔ لیکن تارك کو کچھ نہ کچھ ثواب ملے گا تلویح اھ۔ (ت)
اقول : حلت کے زیادہ قریب ہونے سے مراد اباحت ہے ورنہ وہ حلت جو حرمت کے مقابلے میں ہے ثابت ہے اس میں کوئی شك نہیں اور اس میں اشربہ کے آخر میں علامہ ابوالسعود سے نقل کیا ہے کہ مکروہ تنزیہی اباحت کے ساتھ جمع ہوتی ہے اھ (ت)
اقول : اس سے جائز غیر ممنوع حرج کی نفی اور رکاوٹ کا سلب مراد ہے ورنہ دونوں طرفوں کا برابر ہونا ایك جانب کی ترجیح کے خلاف ہے اگرچہ
حوالہ / References
نصاب الاحتساب
ردالمحتار کتاب الحظرو بالاحۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۱۴
ردالمحتار آخر باب الاشربۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۲۷
ردالمحتار کتاب الحظرو بالاحۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۱۴
ردالمحتار آخر باب الاشربۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵ / ۳۲۷
دون عزم وفیہ من الصلاۃ الظاھر انہ اراد بالمباح مالایمنع فلا ینا فی کراھۃ التنزیہ اھ
وفی شرح الطوالع من بحث العصمۃ ترك الاولی لیس بذنب فالاولی ومایقابلہ یشترکان فی اباحۃ الفعل اھ اقول : والمعنی ماذکرنا اعنی الرخصہ وعدم التشدید المعبر عنہ بنفی البأس وانت تعلم ان لوکان اثما لماجامع الاباحۃ اذلاشیئ من الاثم بمباح ولکان مما یمنع فان کل اثم ولوصغیرۃ محظور ولما جاز التعبیر عنہ بلا بأس بہ اذ ما من اثم الا وفیہ بأس ولماساغ الجزم بنفی العقاب علیہ فقد ثبت فی العقائد تجویز العقاب علی الصغائر نعم قد افصح العلماء ان کل مکروہ تحریما من الصغائر ۔ کمافی صلاۃ ردالمحتار عن البحر صاحب البحر فی بعض رسائلہ وھو المستفاد من کلمات غیرہ فی ھذا المقام۔ وقدزلت قدم بعض عــہ۱ المشاھیر من ابناء العصر فزعم ان المکروہ تنزیھا صغیرۃ فاذا اصر
قصدا نہ ہو۔ اور اسی میں نماز کی بحث میں ہے “ ظاہر یہ ہے کہ مباح سے مراد وہ ہے جو منع نہ ہو پس وہ راہت تنزیہی کے منافی نہ ہوگا “ اھ۔ شرح الطوالع کی بحث عصمۃ میں ہے کہ اولی کا چھوڑنا گناہ نہیں پس اولی اور اس کا مقابل فعل کے مباح ہونے میں برابر ہیں اھ
اقول : جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اس کا مطلب رخصت اور عدم تشدید ہے جس کو “ لاباس بہ “ سے تعبیر کیا گیا ہے اور تو جانتا ہے کہ اگر وہ گناہ ہوتا تو مباح کے ساتھ جمع نہ ہوتا کیونکہ کوئی گناہ مباح نہیں اور وہ ان میں سے ہوتا جو ممنوع ہیں کیونکہ ہر گناہ چاہے وہ چھوٹا ہی ہو ممنوع ہے اور “ لاباس بہ “ کے ساتھ اس کی تعبیر نہ ہوتی کیونکہ ہر گناہ میں حرج ہے اور وہ عذاب کی نفی کا جزم نہ کرتے کیونکہ عقائد میں صغیرہ گناہوں پر عذاب کا جائز ہونا ثابت ہے۔ ہاں علماء نے واضح کیا ہے کہ ہر مکروہ تحریمہ صغائر سے ہے جیسا کہ ردالمحتار میں نماز کے ذکر میں بحرالرائق سے نقل کیا صاحب البحرالرائق نے اپنے بعض رسائل میں لکھا ہے اس مقام پر دوسروں کے کلمات سے بھی اسی بات کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ بعض علماء عصر میں سے بعض مشہور حضرات (مثلا
عـــہ ۱ : یعنی المولوی عبدالحی اللکنوی فی رسالۃ فی شرب الدخان ۱۲ منہ (م)
یعنی مولوی عبدالحی لکھنوی سے اپنے رسالہ فی شرب الدخان میں لغزش ہوئی۔ (ت)
وفی شرح الطوالع من بحث العصمۃ ترك الاولی لیس بذنب فالاولی ومایقابلہ یشترکان فی اباحۃ الفعل اھ اقول : والمعنی ماذکرنا اعنی الرخصہ وعدم التشدید المعبر عنہ بنفی البأس وانت تعلم ان لوکان اثما لماجامع الاباحۃ اذلاشیئ من الاثم بمباح ولکان مما یمنع فان کل اثم ولوصغیرۃ محظور ولما جاز التعبیر عنہ بلا بأس بہ اذ ما من اثم الا وفیہ بأس ولماساغ الجزم بنفی العقاب علیہ فقد ثبت فی العقائد تجویز العقاب علی الصغائر نعم قد افصح العلماء ان کل مکروہ تحریما من الصغائر ۔ کمافی صلاۃ ردالمحتار عن البحر صاحب البحر فی بعض رسائلہ وھو المستفاد من کلمات غیرہ فی ھذا المقام۔ وقدزلت قدم بعض عــہ۱ المشاھیر من ابناء العصر فزعم ان المکروہ تنزیھا صغیرۃ فاذا اصر
قصدا نہ ہو۔ اور اسی میں نماز کی بحث میں ہے “ ظاہر یہ ہے کہ مباح سے مراد وہ ہے جو منع نہ ہو پس وہ راہت تنزیہی کے منافی نہ ہوگا “ اھ۔ شرح الطوالع کی بحث عصمۃ میں ہے کہ اولی کا چھوڑنا گناہ نہیں پس اولی اور اس کا مقابل فعل کے مباح ہونے میں برابر ہیں اھ
اقول : جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اس کا مطلب رخصت اور عدم تشدید ہے جس کو “ لاباس بہ “ سے تعبیر کیا گیا ہے اور تو جانتا ہے کہ اگر وہ گناہ ہوتا تو مباح کے ساتھ جمع نہ ہوتا کیونکہ کوئی گناہ مباح نہیں اور وہ ان میں سے ہوتا جو ممنوع ہیں کیونکہ ہر گناہ چاہے وہ چھوٹا ہی ہو ممنوع ہے اور “ لاباس بہ “ کے ساتھ اس کی تعبیر نہ ہوتی کیونکہ ہر گناہ میں حرج ہے اور وہ عذاب کی نفی کا جزم نہ کرتے کیونکہ عقائد میں صغیرہ گناہوں پر عذاب کا جائز ہونا ثابت ہے۔ ہاں علماء نے واضح کیا ہے کہ ہر مکروہ تحریمہ صغائر سے ہے جیسا کہ ردالمحتار میں نماز کے ذکر میں بحرالرائق سے نقل کیا صاحب البحرالرائق نے اپنے بعض رسائل میں لکھا ہے اس مقام پر دوسروں کے کلمات سے بھی اسی بات کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ بعض علماء عصر میں سے بعض مشہور حضرات (مثلا
عـــہ ۱ : یعنی المولوی عبدالحی اللکنوی فی رسالۃ فی شرب الدخان ۱۲ منہ (م)
یعنی مولوی عبدالحی لکھنوی سے اپنے رسالہ فی شرب الدخان میں لغزش ہوئی۔ (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار آخر باب الاشربۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۵ / ۳۲۷
شرح الطوالع
ردالمحتار مطلب المکروہ تحریما من الصغائر مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۵۶
شرح الطوالع
ردالمحتار مطلب المکروہ تحریما من الصغائر مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۵۶
یکون کبیرۃ کما نص علیہ فی رسالۃ لہ وقد استوفینا الکلام علی ھذا المرام فی رسالۃ عـــہ۲ اخری والله الموفق۔
مولانا عبدالحی لکھنوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ) سے لغزش ہوئی۔ اور انہوں نے گمان کیا کہ مکروہ تنزیہی صغیرہ گناہ ہے جو بار بار کرنے سے گناہ کبیرہ بن جاتا ہے جیسا کہ انہوں نے اپنے رسالے (شرب الدخان) میں لکھا ہے ہم نے ایك دوسرے رسالے میں اس مقصد پر پورا کلام کیا ہے۔ اور اللہتعالی ہی توفیق دینے والا ہے۔ (ت)
مقدمہ ثامنہ:
کسی شے کی نوع وصنف میں بوجہ ملاقات نجس یا اختلاط حرام نجاست وحرمت کا تیقن اس کے ہر فرد سے منع واحتراز کا موجب اسی وقت ہوسکتا ہے جب معلوم ومحقق ہوکر یہ ملاقات واختلاط بروجہ عموم وشمول ہے مثلا جس شے کی نسبت ثابت ہوکہ اس میں شراب یا شحم خنزیر پڑتی ہے اور بنانے والوں کو اس کا التزام ہے تو اس کا استعمال کلیۃ ناجائز وحرام ہے اور وہاں اس احتمال کو گنجائش نہ دیں گے کہ ہم نے یہ فرد خاص مثلا خود بنتے ہوئے نہ دیکھی نہ خاص اس کی نسبت معتبر خبر پائی ممکن کہ اس میں نہ ڈالی گئی ہوکہ جب علی العموم التزام معلوم تو یہ احتمال اسی قبیل سے ہے جسے قلب قابل قبول والتفات نہیں جانتا اور بالکل متضائل ومضمحل مانتا ہے اور ہم پہلے کہہ چکے کہ ایسا احتمال کچھ کارآمد نہیں نہ وہ ظن غالب کو مساوات یقین سے نازل کرے تو اصل طہارت کا یقین اس غلبہ ظن سے ذاہب وزائل ہوگیا مگر یہ کہ اس فرد خاص کی محفوظی کسی ایسے ہی یقین سے واضح ہوجائے تو البتہ اس کے جواز کا حکم دیا جائے گا ولہذا علماء نے فرمایا دیبائے فارسی ناپاك اور اس سے نماز محض ناجائز کہ وہ اس کی چمك بھڑك زیادہ کرنے کو پیشاب کا خلط کرتے ہیں اور پھر دھوتے یوں نہیں کہ رنگ کٹ جائے گا۔
فی الدرالمختار دیباج اھل فارس نجس لجعلھم فیہ البول لبریقہ اھ وفی الحلیۃ عن
درمختار میں ہے کہ اہل فارس کا دیباج (ریشمی کپڑا) ناپاك ہے کیونکہ وہ اس میں چمك پیدا کرنے کیلئے پیشاب
عـــہ ۲ : ثم الفنا فیہ بتوفیق الله تعالی رسالۃ مستقلۃ سمیناھا جمل مجلیہ ان المکروہ ۱۳۰۴ھ تنزیھا لیس بمعصیہ ۱۲ منہ (م)
اللہتعالی کی توفیق سے پھر ہم نے اس مسئلہ کے بارے ایك مستقل رسالہ لکھا جس کا نام جمل مجلیہ ان المکروہ تنزیہا لیس بمعصیہ رکھا ہے ۱۲ منہ (ت)
مولانا عبدالحی لکھنوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ) سے لغزش ہوئی۔ اور انہوں نے گمان کیا کہ مکروہ تنزیہی صغیرہ گناہ ہے جو بار بار کرنے سے گناہ کبیرہ بن جاتا ہے جیسا کہ انہوں نے اپنے رسالے (شرب الدخان) میں لکھا ہے ہم نے ایك دوسرے رسالے میں اس مقصد پر پورا کلام کیا ہے۔ اور اللہتعالی ہی توفیق دینے والا ہے۔ (ت)
مقدمہ ثامنہ:
کسی شے کی نوع وصنف میں بوجہ ملاقات نجس یا اختلاط حرام نجاست وحرمت کا تیقن اس کے ہر فرد سے منع واحتراز کا موجب اسی وقت ہوسکتا ہے جب معلوم ومحقق ہوکر یہ ملاقات واختلاط بروجہ عموم وشمول ہے مثلا جس شے کی نسبت ثابت ہوکہ اس میں شراب یا شحم خنزیر پڑتی ہے اور بنانے والوں کو اس کا التزام ہے تو اس کا استعمال کلیۃ ناجائز وحرام ہے اور وہاں اس احتمال کو گنجائش نہ دیں گے کہ ہم نے یہ فرد خاص مثلا خود بنتے ہوئے نہ دیکھی نہ خاص اس کی نسبت معتبر خبر پائی ممکن کہ اس میں نہ ڈالی گئی ہوکہ جب علی العموم التزام معلوم تو یہ احتمال اسی قبیل سے ہے جسے قلب قابل قبول والتفات نہیں جانتا اور بالکل متضائل ومضمحل مانتا ہے اور ہم پہلے کہہ چکے کہ ایسا احتمال کچھ کارآمد نہیں نہ وہ ظن غالب کو مساوات یقین سے نازل کرے تو اصل طہارت کا یقین اس غلبہ ظن سے ذاہب وزائل ہوگیا مگر یہ کہ اس فرد خاص کی محفوظی کسی ایسے ہی یقین سے واضح ہوجائے تو البتہ اس کے جواز کا حکم دیا جائے گا ولہذا علماء نے فرمایا دیبائے فارسی ناپاك اور اس سے نماز محض ناجائز کہ وہ اس کی چمك بھڑك زیادہ کرنے کو پیشاب کا خلط کرتے ہیں اور پھر دھوتے یوں نہیں کہ رنگ کٹ جائے گا۔
فی الدرالمختار دیباج اھل فارس نجس لجعلھم فیہ البول لبریقہ اھ وفی الحلیۃ عن
درمختار میں ہے کہ اہل فارس کا دیباج (ریشمی کپڑا) ناپاك ہے کیونکہ وہ اس میں چمك پیدا کرنے کیلئے پیشاب
عـــہ ۲ : ثم الفنا فیہ بتوفیق الله تعالی رسالۃ مستقلۃ سمیناھا جمل مجلیہ ان المکروہ ۱۳۰۴ھ تنزیھا لیس بمعصیہ ۱۲ منہ (م)
اللہتعالی کی توفیق سے پھر ہم نے اس مسئلہ کے بارے ایك مستقل رسالہ لکھا جس کا نام جمل مجلیہ ان المکروہ تنزیہا لیس بمعصیہ رکھا ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
درمختار فصل الاستنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۷
البدائع قالوا فی الدیباج الذی ینسجہ اھل فارس لا تجوز الصلاۃ فیہ لانھم یستعملون فیہ البول عند النسج ویزعمون انہ یزید فی تزینہ ثم لایغسلونہ فان الغسل یفسدہ الخ
استعمال کرتے ہیں اھ اور حلیہ میں بدائع سے منقول ہے انہوں نے کہا اہل فارس جو دیباج بنتے ہیں اس میں نماز جائز نہیں کیونکہ وہ بنتے وقت اس میں پیشاب استعمال کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس سے اس کی زینت میں اضافہ ہوتا ہے پھر وہ اسے دھوتے نہیں کیونکہ دھونے سے وہ خراب ہوجاتا ہے الخ (ت)
اور اگر ایسا نہیں بلکہ صرف اتنا محقق کہ ایسا بھی ہوتا ہے نہ کہ خاص ناپاك وحرام میں کوئی خصوصیت ہے جس کے باعث قصدا اس کا التزام کرتے ہیں تو اس بنا پر ہرگز ہرگز حکم تحریم وتنجےیس علی الاطلاق روا نہیں اور یہاں وہ احتمالات قطعا مسموع ہوں گے کہ جب عموم نہیں تو جس فرد کا ہم استعمال چاہتے ہیں ممکن کہ افراد محفوظ سے ہو اور اصل متیقن طہارت وحلت تو شکوك وظنون ناقابل عبرت۔ دیکھو کیا ہم کو مطعوم وملبوس وظروف کفار کی نسبت یقین کامل نہیں کہ بے شبہہ ا ن میں ناپاك بھی ہیں پھر اس یقین نے کیا کام دیا اور ان اشیاء کا استعمال مطلق حرام کیوں نہ ہوا تو وجہ وہی ہے کہ ان کے طعام ولباس وظروف پر عموم نجاست معلوم نہیں اور جب ان میں طاہر بھی ہیں اگرچہ کم ہوں تو کیا معلوم کہ جس فرد کا ہم استعمال چاہتے ہیں ان میں سے نہیں۔
فی الاحیاء الغالب الذی لایستند الی علامۃ تتعلق بعین مافیہ النظر مطرح اھ۔
احیاء العلوم میں ہے وہ غالب چھوڑ دیا جائے جو کسی ایسی علامت کی طرف منسوب نہ ہو جس کا اس معین چیز کے ساتھ تعلق ہے جس میں غور کیا جارہا ہے اھ (ت)
واضح تر سنیے مجمع الفتاوی وغیرہ میں تصریح کی کہ ہمارے ملك میں جو کھالیں پکائی جاتی ہیں نہ ان کے گلوں سے خون دھوئیں نہ پکانے میں نجاستوں سے بچیں پھر ویسے ہی ناپاك زمینوں پر ڈال دیتے ہیں اور بعد کو دھوتے بھی نہیں (دیکھو نوع کی نسبت کس درجہ وضاحت وصراحت کے ساتھ وقوع نجاست بیان فرمایا) بااینہمہ حکم ناطق دیا کہ وہ بے دغدغہ پاك ہیں ان کے خشك وتر سے موزے بناؤ کتابوں کی جلدیں بناؤ پانی پینے کو مشك ڈول بناؤ کچھ مضائقہ نہیں۔
فی الطریقۃ عنہ وفیھا فی الغنیۃ وغیرھا عن القنیۃ الجلود التی تدبغ فی بلادنا ولایغسل مذبحھا ولا تتوقی النجاسات
الطریقۃ المحمدیۃ میں اس (مجموعۃ الفتاوی) سے منقول ہے اور اسی میں ہے کہ غنیہ وغیرہ میں قنیہ سے منقول ہے کہ ہمارے شہروں جن چمڑوں کو دباغت
استعمال کرتے ہیں اھ اور حلیہ میں بدائع سے منقول ہے انہوں نے کہا اہل فارس جو دیباج بنتے ہیں اس میں نماز جائز نہیں کیونکہ وہ بنتے وقت اس میں پیشاب استعمال کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس سے اس کی زینت میں اضافہ ہوتا ہے پھر وہ اسے دھوتے نہیں کیونکہ دھونے سے وہ خراب ہوجاتا ہے الخ (ت)
اور اگر ایسا نہیں بلکہ صرف اتنا محقق کہ ایسا بھی ہوتا ہے نہ کہ خاص ناپاك وحرام میں کوئی خصوصیت ہے جس کے باعث قصدا اس کا التزام کرتے ہیں تو اس بنا پر ہرگز ہرگز حکم تحریم وتنجےیس علی الاطلاق روا نہیں اور یہاں وہ احتمالات قطعا مسموع ہوں گے کہ جب عموم نہیں تو جس فرد کا ہم استعمال چاہتے ہیں ممکن کہ افراد محفوظ سے ہو اور اصل متیقن طہارت وحلت تو شکوك وظنون ناقابل عبرت۔ دیکھو کیا ہم کو مطعوم وملبوس وظروف کفار کی نسبت یقین کامل نہیں کہ بے شبہہ ا ن میں ناپاك بھی ہیں پھر اس یقین نے کیا کام دیا اور ان اشیاء کا استعمال مطلق حرام کیوں نہ ہوا تو وجہ وہی ہے کہ ان کے طعام ولباس وظروف پر عموم نجاست معلوم نہیں اور جب ان میں طاہر بھی ہیں اگرچہ کم ہوں تو کیا معلوم کہ جس فرد کا ہم استعمال چاہتے ہیں ان میں سے نہیں۔
فی الاحیاء الغالب الذی لایستند الی علامۃ تتعلق بعین مافیہ النظر مطرح اھ۔
احیاء العلوم میں ہے وہ غالب چھوڑ دیا جائے جو کسی ایسی علامت کی طرف منسوب نہ ہو جس کا اس معین چیز کے ساتھ تعلق ہے جس میں غور کیا جارہا ہے اھ (ت)
واضح تر سنیے مجمع الفتاوی وغیرہ میں تصریح کی کہ ہمارے ملك میں جو کھالیں پکائی جاتی ہیں نہ ان کے گلوں سے خون دھوئیں نہ پکانے میں نجاستوں سے بچیں پھر ویسے ہی ناپاك زمینوں پر ڈال دیتے ہیں اور بعد کو دھوتے بھی نہیں (دیکھو نوع کی نسبت کس درجہ وضاحت وصراحت کے ساتھ وقوع نجاست بیان فرمایا) بااینہمہ حکم ناطق دیا کہ وہ بے دغدغہ پاك ہیں ان کے خشك وتر سے موزے بناؤ کتابوں کی جلدیں بناؤ پانی پینے کو مشك ڈول بناؤ کچھ مضائقہ نہیں۔
فی الطریقۃ عنہ وفیھا فی الغنیۃ وغیرھا عن القنیۃ الجلود التی تدبغ فی بلادنا ولایغسل مذبحھا ولا تتوقی النجاسات
الطریقۃ المحمدیۃ میں اس (مجموعۃ الفتاوی) سے منقول ہے اور اسی میں ہے کہ غنیہ وغیرہ میں قنیہ سے منقول ہے کہ ہمارے شہروں جن چمڑوں کو دباغت
حوالہ / References
بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار مایصیر بہ المحل نجسًا الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۱
احیاء علوم الدین المثار الثانی للشبہۃ مطبوعہ المشہد الحسینی قاہرہ ۲ / ۱۰۶
احیاء علوم الدین المثار الثانی للشبہۃ مطبوعہ المشہد الحسینی قاہرہ ۲ / ۱۰۶
فی دبغھا ویلقونھا علی الارض النجسۃ ولایغلسونھا بعد تمام الدبغ فھی طاھرۃ یجوز اتخاذ الخفاف منھا وغلاف الکتب والقرب والدلاء رطبا ویابسا اھ
دی جاتی ہے اور ان کے مذبح کو دھویا نہیں جاتا اور نہ ہی دباغت کے دوران نجاستوں سے اجتناب کیا جاتا ہے ب لکہ وہ اسے ناپاك زمین پر ڈالتے ہیں اور دباغت مکمل ہونے کے بعد بھی نہیں دھوتے تو وہ پاك ہیں ان سے جوتا بنانا کتابوں کی جلدیں مشك اور ڈول بنانا جائز ہے چاہے تر ہوں یا خشك اھ (ت)
بس ایسی صورت میں ائمہ نے یہی حکم عطا فرمایا کہ ہر فرد خاص کو ملاحظہ کریں گے اور نوع کی نسبت جو اجمالی یقین ہو اسے تمام افراد میں مساوی نہ مانیں گے مثلا کفار خصوصا اہل حرب کو ہم یقینا جانتے ہیں کہ انہیں پروائے نجاسات نہیں اور بیشك وہ جیسی چیز پاتے ہیں استعمال میں لاتے ہیں پھر وہ پوستین کہ دار الحرب سے پك کر آئے علما فرماتے ہیں اسے دیکھا چاہے کہ اس کا پکنا نجس چیز سے تحقیق ہو تو بے دھوئے نماز ناجائز اور طاہر سے ثابت ہو تو قطعا جائز اور شك رہے تو دھونا افضل نہ کہ استعمال گناہ وممنوع ٹھہرے۔
فی الدرالمختار مایخرج من دارالحرب کسنجاب ان علم دبغہ بطاھر فطاھر اوبنجس فنجس وان شك فغسلہ افضل اھ ومثلہ فی المنیۃ وغیرھا ۔
درمختار میں ہے جو کچھ دار الحرب سے نکلے جیسے سنجاب اگر معہوم ہوکہ پاك چیز کے ساتھ اس کی دباغت ہوئی ہے تو پاك ہے اور ناپاك کے ساتھ ہوئی ہے تو ناپاك ہے اگر شك ہو تو دھونا افضل ہے اھ منیہ وغیرہ میں اس کی مثل ہے۔ (ت)
یونہی خود منقح مذہب سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہفرماتے ہیں بچہ جب پانی میں اپنا ہاتھ یا پاؤں ڈال دے تو خاص اس بچہ کو رکھ پاؤں دیکھیں اگر ڈالتے وقت نجاست ثابت ہو تو ناپاك اور پاکی ظاہر ہو تو طاہر اور کچھ نہ کھلے تو صرف مستحب ہے کہ اور پانی استعمال کریں اور اگر اسی سے وضو کرلے نماز پڑھ لے تاہم بے شبہہ جائز۔
فی سیرۃ الاحمدیۃ للعلامۃ محمد الرومی احمدی عن التاترخانیۃ عن اصل الامام محمد رحمہ الله تعالی الصبی اذادخل یدہ فی کوز ماء اورجلہ فان علم ان یدہ طاھرۃ
محمد رومی آفندی کی کتاب سیرت احمدیہ میں تتارخانیہ کے حوالے سے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکی اصل (مبسوط) سے منقول ہے کہ جب بچہ اپنا ہاتھ یا پاؤں پانی کے کوزے (لوٹے وغیرہ) میں ڈالے اگر یقین کے ساتھ معلوم ہوا کہ اس کا
دی جاتی ہے اور ان کے مذبح کو دھویا نہیں جاتا اور نہ ہی دباغت کے دوران نجاستوں سے اجتناب کیا جاتا ہے ب لکہ وہ اسے ناپاك زمین پر ڈالتے ہیں اور دباغت مکمل ہونے کے بعد بھی نہیں دھوتے تو وہ پاك ہیں ان سے جوتا بنانا کتابوں کی جلدیں مشك اور ڈول بنانا جائز ہے چاہے تر ہوں یا خشك اھ (ت)
بس ایسی صورت میں ائمہ نے یہی حکم عطا فرمایا کہ ہر فرد خاص کو ملاحظہ کریں گے اور نوع کی نسبت جو اجمالی یقین ہو اسے تمام افراد میں مساوی نہ مانیں گے مثلا کفار خصوصا اہل حرب کو ہم یقینا جانتے ہیں کہ انہیں پروائے نجاسات نہیں اور بیشك وہ جیسی چیز پاتے ہیں استعمال میں لاتے ہیں پھر وہ پوستین کہ دار الحرب سے پك کر آئے علما فرماتے ہیں اسے دیکھا چاہے کہ اس کا پکنا نجس چیز سے تحقیق ہو تو بے دھوئے نماز ناجائز اور طاہر سے ثابت ہو تو قطعا جائز اور شك رہے تو دھونا افضل نہ کہ استعمال گناہ وممنوع ٹھہرے۔
فی الدرالمختار مایخرج من دارالحرب کسنجاب ان علم دبغہ بطاھر فطاھر اوبنجس فنجس وان شك فغسلہ افضل اھ ومثلہ فی المنیۃ وغیرھا ۔
درمختار میں ہے جو کچھ دار الحرب سے نکلے جیسے سنجاب اگر معہوم ہوکہ پاك چیز کے ساتھ اس کی دباغت ہوئی ہے تو پاك ہے اور ناپاك کے ساتھ ہوئی ہے تو ناپاك ہے اگر شك ہو تو دھونا افضل ہے اھ منیہ وغیرہ میں اس کی مثل ہے۔ (ت)
یونہی خود منقح مذہب سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہفرماتے ہیں بچہ جب پانی میں اپنا ہاتھ یا پاؤں ڈال دے تو خاص اس بچہ کو رکھ پاؤں دیکھیں اگر ڈالتے وقت نجاست ثابت ہو تو ناپاك اور پاکی ظاہر ہو تو طاہر اور کچھ نہ کھلے تو صرف مستحب ہے کہ اور پانی استعمال کریں اور اگر اسی سے وضو کرلے نماز پڑھ لے تاہم بے شبہہ جائز۔
فی سیرۃ الاحمدیۃ للعلامۃ محمد الرومی احمدی عن التاترخانیۃ عن اصل الامام محمد رحمہ الله تعالی الصبی اذادخل یدہ فی کوز ماء اورجلہ فان علم ان یدہ طاھرۃ
محمد رومی آفندی کی کتاب سیرت احمدیہ میں تتارخانیہ کے حوالے سے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکی اصل (مبسوط) سے منقول ہے کہ جب بچہ اپنا ہاتھ یا پاؤں پانی کے کوزے (لوٹے وغیرہ) میں ڈالے اگر یقین کے ساتھ معلوم ہوا کہ اس کا
حوالہ / References
الطریقۃ المحمدیۃ مع الحدیقۃ الندیۃ الصنف الثانی من الصنفین الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۸۲
دُرمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۸
دُرمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۸
بیقین (بان غسلھا لہ اوغسلت عندہ اھ نابلسی) یجوز التوضی بھذا الماء وان علم ان یدہ نجسۃ بیقین (بان رأی علیھا عین النجاسۃ اواثرھا اھ حدیقۃ) لایجوز التوضی بہ وان کان لایعلم انہ طاھرا ونجس فالمستحب ان یتوضأ بغیرہ لان الصبی لایتوقی عن النجاسات عادۃ ومع ھذا لوتوضأبہ اجزأہ اھ۔
ہاتھ پاك تھا (یعنی اس نے خود اسے دھویا ےیا اس کے سامنے دھویا گیا اھ نابلسی) تو اس پانی کے ساتھ وضو جائز ہے اگر یقین کے ساتھ معلوم ہوکہ وہ ناپاك تھا (مثلا اس پر عین نجاست یا اس کا نشان دیکھا اھ حدیقہ) تو اس سے وضو جائز نہیں اور اگر معلوم نہ ہوکہ وہ پاك ہے یا ناپاک تو مستحب ہے کہ اس کے غیر سے وضو کرے کیونکہ بچہ عام طور پر نجاستوں سے پرہیز نہیں کرتا اس کے باوجود اگر اس کے ساتھ وضو کرے تو کافی ہوگا اھ۔ (ت)
خاص ضابطہ کی تصریح لیجئے سیدنا امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں :
بہ نأخذ مالم نعرف شیأ حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ واصحابہ اھ نقلہ الامام الاجل ظہیر الدین فی فتاواہ وغیرہ فی غیرھا۔
ہم اسی کو اختیار کریں گے جب تك ہمیں بعینہ کسی چیز کے حرام ہونے کا علم نہ ہوجائے امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب (شاگردوں) رحمہم اللہ تعالیکا یہی قول ہے اھ اسے امام اجل ظہیر الدین نے اپنے فتاوی میں اور دوسروں نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
حدیقہ میں ہے :
الحرمۃ بالیقین والعلم وھو لم یتیقن ولم یعلم ان عین مااخذہ حرام ولایکلف الله نفسا الاوسعھا اھ
اقول : وھذا وانکان فی مسئلۃ الجوائز فلیس الحرام للغصب بدون الحرام حرمت یقین اور علم کے ساتھ ہوتی ہے اور وہ نہیں جانتا اور نہ اسے یقین ہے کہ جو کچھ اس نے لیا ہے وہ بعینہ حرام ہے اور اللہتعالی کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اھ (ت)
اقول : یہ اگرچہ تحائف کے مسئلہ میں ہے پس اجتناب کے حکم میں غصب کی صورت میں حرام ہونے والا نجاست کی بنیاد پر حرام ہونے والے سے
ہاتھ پاك تھا (یعنی اس نے خود اسے دھویا ےیا اس کے سامنے دھویا گیا اھ نابلسی) تو اس پانی کے ساتھ وضو جائز ہے اگر یقین کے ساتھ معلوم ہوکہ وہ ناپاك تھا (مثلا اس پر عین نجاست یا اس کا نشان دیکھا اھ حدیقہ) تو اس سے وضو جائز نہیں اور اگر معلوم نہ ہوکہ وہ پاك ہے یا ناپاک تو مستحب ہے کہ اس کے غیر سے وضو کرے کیونکہ بچہ عام طور پر نجاستوں سے پرہیز نہیں کرتا اس کے باوجود اگر اس کے ساتھ وضو کرے تو کافی ہوگا اھ۔ (ت)
خاص ضابطہ کی تصریح لیجئے سیدنا امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں :
بہ نأخذ مالم نعرف شیأ حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ واصحابہ اھ نقلہ الامام الاجل ظہیر الدین فی فتاواہ وغیرہ فی غیرھا۔
ہم اسی کو اختیار کریں گے جب تك ہمیں بعینہ کسی چیز کے حرام ہونے کا علم نہ ہوجائے امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب (شاگردوں) رحمہم اللہ تعالیکا یہی قول ہے اھ اسے امام اجل ظہیر الدین نے اپنے فتاوی میں اور دوسروں نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
حدیقہ میں ہے :
الحرمۃ بالیقین والعلم وھو لم یتیقن ولم یعلم ان عین مااخذہ حرام ولایکلف الله نفسا الاوسعھا اھ
اقول : وھذا وانکان فی مسئلۃ الجوائز فلیس الحرام للغصب بدون الحرام حرمت یقین اور علم کے ساتھ ہوتی ہے اور وہ نہیں جانتا اور نہ اسے یقین ہے کہ جو کچھ اس نے لیا ہے وہ بعینہ حرام ہے اور اللہتعالی کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اھ (ت)
اقول : یہ اگرچہ تحائف کے مسئلہ میں ہے پس اجتناب کے حکم میں غصب کی صورت میں حرام ہونے والا نجاست کی بنیاد پر حرام ہونے والے سے
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۲
فتاوٰی ہندیۃ باب فی الہدایا والضیافات مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۴۲
الحدیقۃ الندیۃ الفصل الثانی من الفصول الثلاثہ فی بیان حکم التورع الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد۲ / ۷۲۱
فتاوٰی ہندیۃ باب فی الہدایا والضیافات مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۴۲
الحدیقۃ الندیۃ الفصل الثانی من الفصول الثلاثہ فی بیان حکم التورع الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد۲ / ۷۲۱
للنجاسۃ فی حکم الاجتناب کمالایخفی۔
کم نہیں ہے جیسا کہ مخفی نہیں (ت)
بالجملہ ایسی صورت میں حکم کلی یہی ہے کہ نوع کی نسبت غیر کلی یقین منع کلی کا موجب نہیں ب لکہ خصوص افراد کا لحاظ کریں گے والله تعالی اعلم۔
مقدمہ تاسعہ:
جب بازار میں حلال وحرام مطلقا یا کسی جنس خاص میں مختلط ہوں اور کوئی ممیز وعلامت فارقہ نہ ملے تو شریعت مطہرہ خریداری سے اجتناب کا حکم نہیں دیتی کہ آخر ان میں حلال بھی ہے تو ہر شے میں احتمال حلت قائم اور رخصت واباحت کو اسی قدر کافی یہ دعوی بھی ہماری تقریرات سابقہ سے واضح اور خود ملاذ مذہب ابوعبداللہشیبانی رضی اللہ تعالی عنہنے مبسوط میں کہ کتب ظاہر الروایۃ سے ہے اس پر نص فرمایا۔
فی الاشباہ عن الاصل اذاختلط الحلال بالحرام فی البلد تقوم دلالۃ علی انہ من الحرام اھ۔
وفی الحمویۃ کون الغالب فی السوق الحرام لایستلزم کون المشتری حراما لجواز کونہ من الحلال المغلوب والاصل الحل اھ۔
اشباہ میں اصل (مبسوط) سے نقل کیا گیا ہے کہ جب شہر میں حلال وحرام مخلوط ہوجائے تو اس کا خریدنا اور لینا جائز ہے مگر یہ کہ اس کے حرام ہونے پر کوئی دلالت قائم ہوجائے اھ۔ اور حمویہ میں ہے بازار میں حرام کی بکثرت پائے جانے سے لازم نہیں آتا کہ جو کچھ خریدا ہے وہ بھی حرام ہو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ چیز حلال مغلوب سے ہو اور اصل بات حلت ہے اھ (ت)
تنبیہ اقول : وبالله التوفیق (اور اللہتعالی کی توفیق سے میں کہتا ہوں۔ ت) یہ احتمال حل پر عمل کا قاعدہ نظر بفروع فقہیہ اس صورت سے مخصوص ہے کہ وہ سب اشیا جن میں وجود حرام کا تیقن اور ان میں سے ہر فرد کے تناول میں تناول حرام کا احتمال ہے اس تناول کرنے والے کی ملك میں نہ ہوں ورنہ ان میں سے کسی کا استعمال جائز نہ ہوگا مگر تین صورتوں سے ایك یہ کہ وجہ حرمت جب صالح ازالہ ہو تو ان میں کسی سے اسے زائل کردیا جائے کہ اب بقائے مانع میں شك ہوگیا اور یقین مجہول المحل جس کا محل خاص بالتعین معلوم نہ ہو ایسے شك سے زائل ہوجاتا ہے مثلا چادر کا ایك گوشہ یقینا ناپاك تھا اور تعیےن یاد نہ رہے کوئی سا کونا دھولے پاکی کا حکم دیں گے عــہ۔
عــہ : تنبیہ بعد کو اضافہ فرمائی تھی مگر نامکمل رہی ۱۲ ح (م)
کم نہیں ہے جیسا کہ مخفی نہیں (ت)
بالجملہ ایسی صورت میں حکم کلی یہی ہے کہ نوع کی نسبت غیر کلی یقین منع کلی کا موجب نہیں ب لکہ خصوص افراد کا لحاظ کریں گے والله تعالی اعلم۔
مقدمہ تاسعہ:
جب بازار میں حلال وحرام مطلقا یا کسی جنس خاص میں مختلط ہوں اور کوئی ممیز وعلامت فارقہ نہ ملے تو شریعت مطہرہ خریداری سے اجتناب کا حکم نہیں دیتی کہ آخر ان میں حلال بھی ہے تو ہر شے میں احتمال حلت قائم اور رخصت واباحت کو اسی قدر کافی یہ دعوی بھی ہماری تقریرات سابقہ سے واضح اور خود ملاذ مذہب ابوعبداللہشیبانی رضی اللہ تعالی عنہنے مبسوط میں کہ کتب ظاہر الروایۃ سے ہے اس پر نص فرمایا۔
فی الاشباہ عن الاصل اذاختلط الحلال بالحرام فی البلد تقوم دلالۃ علی انہ من الحرام اھ۔
وفی الحمویۃ کون الغالب فی السوق الحرام لایستلزم کون المشتری حراما لجواز کونہ من الحلال المغلوب والاصل الحل اھ۔
اشباہ میں اصل (مبسوط) سے نقل کیا گیا ہے کہ جب شہر میں حلال وحرام مخلوط ہوجائے تو اس کا خریدنا اور لینا جائز ہے مگر یہ کہ اس کے حرام ہونے پر کوئی دلالت قائم ہوجائے اھ۔ اور حمویہ میں ہے بازار میں حرام کی بکثرت پائے جانے سے لازم نہیں آتا کہ جو کچھ خریدا ہے وہ بھی حرام ہو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ چیز حلال مغلوب سے ہو اور اصل بات حلت ہے اھ (ت)
تنبیہ اقول : وبالله التوفیق (اور اللہتعالی کی توفیق سے میں کہتا ہوں۔ ت) یہ احتمال حل پر عمل کا قاعدہ نظر بفروع فقہیہ اس صورت سے مخصوص ہے کہ وہ سب اشیا جن میں وجود حرام کا تیقن اور ان میں سے ہر فرد کے تناول میں تناول حرام کا احتمال ہے اس تناول کرنے والے کی ملك میں نہ ہوں ورنہ ان میں سے کسی کا استعمال جائز نہ ہوگا مگر تین صورتوں سے ایك یہ کہ وجہ حرمت جب صالح ازالہ ہو تو ان میں کسی سے اسے زائل کردیا جائے کہ اب بقائے مانع میں شك ہوگیا اور یقین مجہول المحل جس کا محل خاص بالتعین معلوم نہ ہو ایسے شك سے زائل ہوجاتا ہے مثلا چادر کا ایك گوشہ یقینا ناپاك تھا اور تعیےن یاد نہ رہے کوئی سا کونا دھولے پاکی کا حکم دیں گے عــہ۔
عــہ : تنبیہ بعد کو اضافہ فرمائی تھی مگر نامکمل رہی ۱۲ ح (م)
حوالہ / References
الاشباہ والنظائر القاعدۃ الثانیۃ من الفن الاول مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم اسلامیہ کراچی ، ۱ / ۱۴۸
حمویۃ المعروف غمزالعیون مع الاشباہ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم اسلامیہ کراچی ص ۱۴۸
حمویۃ المعروف غمزالعیون مع الاشباہ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم اسلامیہ کراچی ص ۱۴۸
مقدمہ عاشرہ:
حضرت حق جل وعلا نے ہمیں یہ تکلیف نہ دی کہ ایسی ہی چیز کو استعمال کریں جو واقع ونفس الامر میں طاہر وحلال ہو کہ اس کا علم ہمارے حیطہ قدرت سے ورا۔
قال الله تعالی لا یكلف الله نفسا الا وسعها- ۔
ارشاد باری تعالی ہے “ اللہتعالی کسی نفس کو اسکی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا “ ۔ (ت)
نہ یہ تکلیف فرمائی کہ صرف وہی شے برتیں جسے ہم اپنے علم ویقین کی رو سے طیب وطاہر جانتے ہیں کہ اس میں بھی حرج عظیم اور حرج مدفوع بالنص۔
قال تعالی و ما جعل علیكم فی الدین من حرج-
وقال تعالی یرید الله بكم الیسر و لا یرید بكم العسر-
اللہتعالی نے فرمایا : “ دین کے سلسلے میں تمہیں کسی حرج میں نہیں ڈالا “ ۔
اور فرمایا : “ اللہتعالی تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تنگی نہیں چاہتا “ ۔ (ت)
اے عزیز! یہ دین بحمداللہآسانی وسماحت کے ساتھ آیا جو اسے اس کے طور پر لے گا اس کے لئے ہمیشہ رفق ونرمی ہے اور جو تعمق وتشدد کو راہ دے گا یہ دین اس کے لئے سخت ہوتا جائے گا۔ یہاں تك کہ وہی تھك رہے گا اور اپنی سخت گیری کی آپ ندامت اٹھائے گا۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان الدین یسر ولن یشاد الدین احد الاغلبہ فسددوا وقاربوا وابشروا الحدیث اخرجہ البخاری والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ وصدرہ عند البھیقی فی شعب الایمان بلفظ الدین یسر ولن یغالب الدین احد الاغلبہ واخرج احمد والنسائی وابن ماجۃ والحاکم باسناد صحیح عن ابن عباس رضی الله
بے شك دین آسان ہے اور ہرگز کوئی شخص دین میں سختی نہ کرے گا مگر وہ اس پر غالب آجائے گا پس ٹھیك ٹھیك چلو قریب ہوجاؤ اور خوشخبری دو (الحدیث) اسے بخاری اور نسائی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا اور بیہقی شعب الایمان میں ان الفاظ کے ساتھ لائے ہیں “ دین آسان ہے اور کوئی شخص دین پر غالب آنے کی کوشش نہیں کرتا مگر وہ (دین) اس پر غالب آجاتا ہے “
حضرت حق جل وعلا نے ہمیں یہ تکلیف نہ دی کہ ایسی ہی چیز کو استعمال کریں جو واقع ونفس الامر میں طاہر وحلال ہو کہ اس کا علم ہمارے حیطہ قدرت سے ورا۔
قال الله تعالی لا یكلف الله نفسا الا وسعها- ۔
ارشاد باری تعالی ہے “ اللہتعالی کسی نفس کو اسکی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا “ ۔ (ت)
نہ یہ تکلیف فرمائی کہ صرف وہی شے برتیں جسے ہم اپنے علم ویقین کی رو سے طیب وطاہر جانتے ہیں کہ اس میں بھی حرج عظیم اور حرج مدفوع بالنص۔
قال تعالی و ما جعل علیكم فی الدین من حرج-
وقال تعالی یرید الله بكم الیسر و لا یرید بكم العسر-
اللہتعالی نے فرمایا : “ دین کے سلسلے میں تمہیں کسی حرج میں نہیں ڈالا “ ۔
اور فرمایا : “ اللہتعالی تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تنگی نہیں چاہتا “ ۔ (ت)
اے عزیز! یہ دین بحمداللہآسانی وسماحت کے ساتھ آیا جو اسے اس کے طور پر لے گا اس کے لئے ہمیشہ رفق ونرمی ہے اور جو تعمق وتشدد کو راہ دے گا یہ دین اس کے لئے سخت ہوتا جائے گا۔ یہاں تك کہ وہی تھك رہے گا اور اپنی سخت گیری کی آپ ندامت اٹھائے گا۔ نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ان الدین یسر ولن یشاد الدین احد الاغلبہ فسددوا وقاربوا وابشروا الحدیث اخرجہ البخاری والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ وصدرہ عند البھیقی فی شعب الایمان بلفظ الدین یسر ولن یغالب الدین احد الاغلبہ واخرج احمد والنسائی وابن ماجۃ والحاکم باسناد صحیح عن ابن عباس رضی الله
بے شك دین آسان ہے اور ہرگز کوئی شخص دین میں سختی نہ کرے گا مگر وہ اس پر غالب آجائے گا پس ٹھیك ٹھیك چلو قریب ہوجاؤ اور خوشخبری دو (الحدیث) اسے بخاری اور نسائی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا اور بیہقی شعب الایمان میں ان الفاظ کے ساتھ لائے ہیں “ دین آسان ہے اور کوئی شخص دین پر غالب آنے کی کوشش نہیں کرتا مگر وہ (دین) اس پر غالب آجاتا ہے “
حوالہ / References
القرآن ۲ / ۲۸۶
القرآن ۲۲ / ۷۸
القرآن ۲ / ۱۸۵
صحیح البخاری باب الدین یسر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
شعب الایمان القصد فی العبادۃ حدیث۳۸۸۱ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۴۰۱
القرآن ۲۲ / ۷۸
القرآن ۲ / ۱۸۵
صحیح البخاری باب الدین یسر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
شعب الایمان القصد فی العبادۃ حدیث۳۸۸۱ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ۳ / ۴۰۱
تعالی عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ایاکم والغلوفی الدین فانما ھلك من کان قبلکم بالغلوفی الدین ۔ واخرج احمد برجال الصحیح والبھیقی فی الشعب وابن سعد فی الطبقات عن ابن الادرع رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انکم لن تدرکوا ھذا الامر بالمغالبۃ ۔ واخرج احمد فی المسند والبخاری فی الادب المفرد والطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھما عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم احب الدین الی الله الحنیفۃ السمحۃ واخرج ایضا ھؤلاء فیھا بسند جید عن محجن بن ادرع الاسلمی والطبرانی ایضا فی الکبیر عن عمران بن حصین وفی الاوسط وابن عدی والضیاء وابن عبدالبر فی العلم عن انس رضی الله تعالی عنھم عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم خیر دینکم الیسرہ واخرج ابوالقاسم بن بشران فی امالیہ عن امیر المؤمنین عمر رضی الله تعالی عنہ عن النبی
امام احمد نسائی ابن ماجہ اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا “ دین میں زیادتی کرنے سے بچو تم سے پہلے لوگ دین میں زیادتی کی وجہ سے ہلاك ہوئے “ ۔ امام احمد نے صحیح روایوں کے ساتھ بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابن سعد نے طبقات میں حضرت ابن الادرع رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا “ تم اس دین کو مغالبہ کے ساتھ ہرگز نہیں پاسکتے “ ۔ (یعنی جو حکم ملے اس پر عمل کرو خود مباح امور کو واجب قرار نہ دو)۔ امام احمد نے اپنی مسند میں امام بخاری نے الادب المفرو میں اور طبرانی نے معجم کبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت عبداللہابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ اللہتعالی کے ہاں پسندیدہ دین کامل وابستگی اور نرمی اختیار کرنا ہے “ نیز انہوں نے اپنی کتب میں عمدہ سند کے ساتھ حضرت محجن بن ادر ع اسلمی سے اور طبرانی نے کبیر میں عمران بن حصین سے اور اوسط میں نیز ابن عدی ضیاء اور ابن عبدالبر نے علم کے بیان میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ تمہارا بہترین دین وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو“ ۔
امام احمد نسائی ابن ماجہ اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا “ دین میں زیادتی کرنے سے بچو تم سے پہلے لوگ دین میں زیادتی کی وجہ سے ہلاك ہوئے “ ۔ امام احمد نے صحیح روایوں کے ساتھ بیہقی نے شعب الایمان میں اور ابن سعد نے طبقات میں حضرت ابن الادرع رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا “ تم اس دین کو مغالبہ کے ساتھ ہرگز نہیں پاسکتے “ ۔ (یعنی جو حکم ملے اس پر عمل کرو خود مباح امور کو واجب قرار نہ دو)۔ امام احمد نے اپنی مسند میں امام بخاری نے الادب المفرو میں اور طبرانی نے معجم کبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت عبداللہابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ اللہتعالی کے ہاں پسندیدہ دین کامل وابستگی اور نرمی اختیار کرنا ہے “ نیز انہوں نے اپنی کتب میں عمدہ سند کے ساتھ حضرت محجن بن ادر ع اسلمی سے اور طبرانی نے کبیر میں عمران بن حصین سے اور اوسط میں نیز ابن عدی ضیاء اور ابن عبدالبر نے علم کے بیان میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ تمہارا بہترین دین وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو“ ۔
حوالہ / References
سنن نسائی باب التقاط الحصی مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۲ / ۴۸
مسند اما م احمد حدیث ابن الادرع مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۳۳۷
بخاری شریف باب الدین یسر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
مسند امام احمد بن حنبل حدیث محجن بن الادرع مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ / ۳۳۸
مسند اما م احمد حدیث ابن الادرع مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۳۳۷
بخاری شریف باب الدین یسر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰
مسند امام احمد بن حنبل حدیث محجن بن الادرع مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ / ۳۳۸
صلی الله تعالی علیہ وسلم ایاکم والتعمق فی الدین فان الله قدجعلہ سھلا الحدیث۔
ابو القاسم بن بشران نے اپنی امالی میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا آپ نے فرمایا : دین کی گہرائی (باریکیوں) میں جانے سے پرہیز کرو اللہتعالی نے اسے آسان بنایا ہے۔ الحدیث (ت)
بلکہ صرف اس قدر حکم ہے کہ وہ چیز تصرف میں لائیں جو اپنی اصل میں حلال وطیب ہو اور اسے مانع ونجاست کا عارض ہونا ہمارے علم میں نہ ہو لہذا جب تك خاص اس شے میں جسے استعمال کرنا چاہتا ہے کوئی مظنہ قویہ حظر وممانعت کا نہ پایا جائے تفتیش وتحقیقات کی بھی حاجت نہیں مسلمان کو رواکہ اصل حل وطہارت پر عمل کرے اور یمکن ویحتمل وشاید ولعل کو جگہ نہ دے۔
فی الحدیقۃ لاحرمۃ الامع العلم لان الاصل الحل ولایلزمہ السؤال عن شیئ حتی یطلع علی حرمتہ ویتحقق بھا فیحرم علیہ ح اھ ملخصا وفیھا عن جامع الفتاوی لایلزم السؤال عن طھارۃ الحوض مالم یغلب علی ظنہ نجاستہ وبمجرد الظن لایمنع من التوضئ لان الاصل فی الاشیاء الطھارۃ اھ
حدیقہ میں ہے علم کے بغیر حرمت نہیں کیونکہ اصل حلت ہے اور انسان پر لازم نہیں کہ وہ کسی چیز کے بارے میں سوال کرے حتی کہ اس کی حرمت پر مطلع ہوجائے اور یوں وہ اس کی تحقیق کرکے اب اپنے اوپر حرام کرلے حدیقہ ملخصا اور اسی میں جامع الفتاوی سے منقول ہے جب تك اس کو نجاست کا غالب گمان نہ ہوجائے حوض کی طہارت کے بارے میں سوال نہ کرے اور محض گمان کی بنیاد پر وضو کرنے سے نہ روکے کیونکہ اشیاء میں اصل طہارت ہے۔ (ت)
بلکہ خود سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مروی جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی مسلمان کے یہاں جائے اور وہ اسے اپنے کھانے میں سے کھلائے تو کھالے اور کچھ نہ پوچھے اور اپنے پینے کی چیز سے پلائے تو پی لے اور کچھ دریافت نہ کرے۔
اخرج الحاکم فی المستدرك والطبرانی فی الاوسط والبھیقی فی الشعب باسناد لابأس بہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ عن
حاکم نے مستدرک طبرانی نے اوسط اور بیہقی نے شعب الایمان میں ایسی سند کے ساتھ جس میں کوئی حرج نہیں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا
ابو القاسم بن بشران نے اپنی امالی میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا آپ نے فرمایا : دین کی گہرائی (باریکیوں) میں جانے سے پرہیز کرو اللہتعالی نے اسے آسان بنایا ہے۔ الحدیث (ت)
بلکہ صرف اس قدر حکم ہے کہ وہ چیز تصرف میں لائیں جو اپنی اصل میں حلال وطیب ہو اور اسے مانع ونجاست کا عارض ہونا ہمارے علم میں نہ ہو لہذا جب تك خاص اس شے میں جسے استعمال کرنا چاہتا ہے کوئی مظنہ قویہ حظر وممانعت کا نہ پایا جائے تفتیش وتحقیقات کی بھی حاجت نہیں مسلمان کو رواکہ اصل حل وطہارت پر عمل کرے اور یمکن ویحتمل وشاید ولعل کو جگہ نہ دے۔
فی الحدیقۃ لاحرمۃ الامع العلم لان الاصل الحل ولایلزمہ السؤال عن شیئ حتی یطلع علی حرمتہ ویتحقق بھا فیحرم علیہ ح اھ ملخصا وفیھا عن جامع الفتاوی لایلزم السؤال عن طھارۃ الحوض مالم یغلب علی ظنہ نجاستہ وبمجرد الظن لایمنع من التوضئ لان الاصل فی الاشیاء الطھارۃ اھ
حدیقہ میں ہے علم کے بغیر حرمت نہیں کیونکہ اصل حلت ہے اور انسان پر لازم نہیں کہ وہ کسی چیز کے بارے میں سوال کرے حتی کہ اس کی حرمت پر مطلع ہوجائے اور یوں وہ اس کی تحقیق کرکے اب اپنے اوپر حرام کرلے حدیقہ ملخصا اور اسی میں جامع الفتاوی سے منقول ہے جب تك اس کو نجاست کا غالب گمان نہ ہوجائے حوض کی طہارت کے بارے میں سوال نہ کرے اور محض گمان کی بنیاد پر وضو کرنے سے نہ روکے کیونکہ اشیاء میں اصل طہارت ہے۔ (ت)
بلکہ خود سیدالمرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مروی جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی مسلمان کے یہاں جائے اور وہ اسے اپنے کھانے میں سے کھلائے تو کھالے اور کچھ نہ پوچھے اور اپنے پینے کی چیز سے پلائے تو پی لے اور کچھ دریافت نہ کرے۔
اخرج الحاکم فی المستدرك والطبرانی فی الاوسط والبھیقی فی الشعب باسناد لابأس بہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ عن
حاکم نے مستدرک طبرانی نے اوسط اور بیہقی نے شعب الایمان میں ایسی سند کے ساتھ جس میں کوئی حرج نہیں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا
حوالہ / References
الجامع الصغیر مع فیض القدیر حدیث ۲۹۳۳ مطبوعہ دارالمعرفت بیروت ۳ / ۱۳۴
الحدیقۃ الندیۃ بیان حکم التورع والتوقی من طعام اہل الوظائف مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۳۸
الحدیقۃ الندیۃ الصنف الثانی من الصنفین فیماورد عن ائمتنا الحنفیۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۶۶
الحدیقۃ الندیۃ بیان حکم التورع والتوقی من طعام اہل الوظائف مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۳۸
الحدیقۃ الندیۃ الصنف الثانی من الصنفین فیماورد عن ائمتنا الحنفیۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۶۶
النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم اذادخل احدکم علی اخیہ المسلم فاطعمہ من طعامہ فلیأکل ولایسأل عنہ وان سقاہ من شرابہ فلیشرب ولایسأل عنہ ۔
کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ اسے اپنے کھانے سے کھلائے تو کھالے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے اور اگر وہ اپنے مشروب سے پلائے تو پی لے اور اس کے بارے میں کچھ نہ پوچھے۔ (ت)
امیر المومنین عـــہ۱ عمررضی اللہ تعالی عنہایك حوض پر گزرے عمروبن عاص رضی اللہ تعالی عنہساتھ تھے حوض والے سے پوچھنے لگے کیا تیرے حوض میں درندے بھی پانی پیتے ہیں امیر المومنین نے فرمایا : اے حوض والے! ہمیں نہ بتا
مالك فی مؤطاہ عن یحيی بن عبدالرحمن ان عمر رضی الله تعالی عنہ خرج فی رکب فیھم عمرو بن العاص رضی الله تعالی عنہ حتی وردوا حوضا فقال عمرو یاصاحب الحوض ھل ترد حوضک
امام مالك رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اپنے مؤطا میں حضرت یحیی بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہسواروں کے ایك دستہ میں تشریف لائے ان میں حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالی عنہبھی تھے ایك حوض پر پہنچے تو حضرت عمرو بن عاص
عـــہ۱ : ویروی مثل ذلك عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم من حدیث ابن عمر رضی الله تعالی عنھما قال خرج رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فی بعض اسفارہ فسار لیلا فمروا علی رجل عند مقراۃلہ عـــہ۲ فقال عمر یا صاحب المقراۃ اولغت السباع اللیلۃ فی مقراتك فقال صلی الله تعالی علیہ وسلم یا صاحب المقراۃ لاتخبرہ ھذا مکلف لھا احملت فی بطونھا ولنا ما بقی شراب وطھور ۱۲منہ۔
عـــہ۲ : المقراۃ بالکسر مجتمع الماء (م)
اسی طرح کی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے وہ حدیث مروی ہے جو ابن عمر نے روایت کی ہے فرمایا : رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنے بعض سفروں میں تشریف لے گئے ایك دفعہ رات کو سفر شروع کیا تو ایك ایسے شخص پر گزر ہوا جس کے پاس اس کا اپنا تالاب تھا تو حضرت عمر نے کہا اے تالاب والے! کیا رات کو تیرے تالاب سے درندوں نے پانی پیا ہے سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا اے تالاب والے! اسے اس بات کی خبر نہ دو یہ مکلف ہے جو ان کے پیٹوں میں ہے وہ ان کے لئے ہے اور باقی ہے وہ ہمارے پینے اور طہارت کے لئے ہے۔ (ت) “ المقراۃ “ کسرہ کے ساتھ وہ جگہ جہاں بارش کا پانی جمع ہو۔ (ت)
کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ اسے اپنے کھانے سے کھلائے تو کھالے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے اور اگر وہ اپنے مشروب سے پلائے تو پی لے اور اس کے بارے میں کچھ نہ پوچھے۔ (ت)
امیر المومنین عـــہ۱ عمررضی اللہ تعالی عنہایك حوض پر گزرے عمروبن عاص رضی اللہ تعالی عنہساتھ تھے حوض والے سے پوچھنے لگے کیا تیرے حوض میں درندے بھی پانی پیتے ہیں امیر المومنین نے فرمایا : اے حوض والے! ہمیں نہ بتا
مالك فی مؤطاہ عن یحيی بن عبدالرحمن ان عمر رضی الله تعالی عنہ خرج فی رکب فیھم عمرو بن العاص رضی الله تعالی عنہ حتی وردوا حوضا فقال عمرو یاصاحب الحوض ھل ترد حوضک
امام مالك رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اپنے مؤطا میں حضرت یحیی بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہسواروں کے ایك دستہ میں تشریف لائے ان میں حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالی عنہبھی تھے ایك حوض پر پہنچے تو حضرت عمرو بن عاص
عـــہ۱ : ویروی مثل ذلك عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم من حدیث ابن عمر رضی الله تعالی عنھما قال خرج رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فی بعض اسفارہ فسار لیلا فمروا علی رجل عند مقراۃلہ عـــہ۲ فقال عمر یا صاحب المقراۃ اولغت السباع اللیلۃ فی مقراتك فقال صلی الله تعالی علیہ وسلم یا صاحب المقراۃ لاتخبرہ ھذا مکلف لھا احملت فی بطونھا ولنا ما بقی شراب وطھور ۱۲منہ۔
عـــہ۲ : المقراۃ بالکسر مجتمع الماء (م)
اسی طرح کی نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے وہ حدیث مروی ہے جو ابن عمر نے روایت کی ہے فرمایا : رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپنے بعض سفروں میں تشریف لے گئے ایك دفعہ رات کو سفر شروع کیا تو ایك ایسے شخص پر گزر ہوا جس کے پاس اس کا اپنا تالاب تھا تو حضرت عمر نے کہا اے تالاب والے! کیا رات کو تیرے تالاب سے درندوں نے پانی پیا ہے سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا اے تالاب والے! اسے اس بات کی خبر نہ دو یہ مکلف ہے جو ان کے پیٹوں میں ہے وہ ان کے لئے ہے اور باقی ہے وہ ہمارے پینے اور طہارت کے لئے ہے۔ (ت) “ المقراۃ “ کسرہ کے ساتھ وہ جگہ جہاں بارش کا پانی جمع ہو۔ (ت)
حوالہ / References
شعب الایمان باب فی المطاعم حدیث ۵۸۰۱ مطبوعہ دار الکتب علمیہ بیروت لبنان ۵ / ۶۷ ، المستدرك کتاب الاطعمہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴ / ۱۲۶
سنن دار قطنی کتاب الطھارۃ ، ۱ / ۲۶
سنن دار قطنی کتاب الطھارۃ ، ۱ / ۲۶
السباع فقال عمربن الخطاب یاصاحب الحوض لاتخبرنا فانا نرد علی السباع وترد علینا
قال سیدی عبدالغنی ولعلہ کان حوضا صغیرا والا لما سأل اھ ملخصا وقال تحت قولہ لاتخبرنا ای ولوکنت تعلم انہ تردد السباع لانانحن لانعلم ذلك فالماء طاھر عندنا فلواستعملناہ لاستعملنا ماء طاھرا عــہ ولایکلف الله نفسا الا وسعھا اھ
یقول العبد الضعیف غفرلہ القوی اللطیف جل وعلا قد حمل المولی الفاضل رحمہ الله تعالی ھذا الحدیث کما تری علی ماقدمنا من ان المطلوب عدم العلم بالنجاسۃ لا العلم بعدم النجاسۃ ولیس علینا ان نبحث فان الشیئ وان کان متنجسا فی الواقع فانہ طاھرلنا مالم نعلم بذلك ولذاحمل الحوض علی حوض صغیر یحمل الخبث وقد سبقہ الی ھذا الحمل علامۃ عصرہ سیدی زین بن نجیم المصری رحمہ الله تعالی
رضی اللہ تعالی عنہنے پوچھا : اے حوض والے! کیا تیرے حوض میں درندے بھی آتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا : اے صاحب حوض! ہمیں نہ بتانا کیوں کہ ہم درندوں کے پاس اور وہ ہمارے ہاں آتے جاتے ہیں۔ سیدی عبدالغنی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا : شاید وہ چھوٹا حوض تھا ورنہ وہ نہ پوچھتے انتہی تلخیص۔ وہ “ لاتخیرنا “ (ہمیں نہ بتانا) کے تحت فرماتے ہیں یعنی اگرچہ تو جانتا بھی ہو کہ درندے آتے ہیں کیونکہ ہم اس بات کو نہیں جانتے پس ہمارے نزدیك پانی پاك ہے پس اگر ہم اسے استعمال کریں گے تو پاك پانی استعمال کریں گے۔ اور ہر نفس کو اللہتعالی اس کی طاقت کے مطابق تکلیف دیتا ہے۔ (ت)بندہ ضعیف “ قوی ومہربان اور بلندو بالا ذات باری اس کی بخشش فرمائے “ کہتا ہے کہ فاضل مولانا نے اس حدیث کو جیسا کہ تم دیکھتے ہو اس بات پر محمول کیا ہے جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا ہے یعنی مطلوب نجاست کا علم نہ ہونا ہے نہ کہ عدم نجاست کا علم ہونا ہے اور ہم پر لازم نہیں کہ ہم بحث کریں کیونکہ کوئی چیز اگرچہ فی الواقع ناپاك بھی ہو تو ہمارے نزدیك پاك ہوگی جب تك ہمیں اس کے نجس ہونے کا علم نہ ہو۔ اسی لئے حوض کو چھوٹے حوض پر محمول کیا گیا ہے جو نجس ہوجاتا ہے۔ اپنے زمانے کے علامہ سیدی زین بن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالی علیہنے البحرالرائق
عـــہ ۱ : ای فی حقنا وان کان علی خلاف ذلك فی الواقع ۱۲ منہ (م)
یعنی ہمارے حق میں پاك ہے اگرچہ وہ حقیقۃ اس کے خلاف ہو ۱۲ منہ (ت)
قال سیدی عبدالغنی ولعلہ کان حوضا صغیرا والا لما سأل اھ ملخصا وقال تحت قولہ لاتخبرنا ای ولوکنت تعلم انہ تردد السباع لانانحن لانعلم ذلك فالماء طاھر عندنا فلواستعملناہ لاستعملنا ماء طاھرا عــہ ولایکلف الله نفسا الا وسعھا اھ
یقول العبد الضعیف غفرلہ القوی اللطیف جل وعلا قد حمل المولی الفاضل رحمہ الله تعالی ھذا الحدیث کما تری علی ماقدمنا من ان المطلوب عدم العلم بالنجاسۃ لا العلم بعدم النجاسۃ ولیس علینا ان نبحث فان الشیئ وان کان متنجسا فی الواقع فانہ طاھرلنا مالم نعلم بذلك ولذاحمل الحوض علی حوض صغیر یحمل الخبث وقد سبقہ الی ھذا الحمل علامۃ عصرہ سیدی زین بن نجیم المصری رحمہ الله تعالی
رضی اللہ تعالی عنہنے پوچھا : اے حوض والے! کیا تیرے حوض میں درندے بھی آتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا : اے صاحب حوض! ہمیں نہ بتانا کیوں کہ ہم درندوں کے پاس اور وہ ہمارے ہاں آتے جاتے ہیں۔ سیدی عبدالغنی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا : شاید وہ چھوٹا حوض تھا ورنہ وہ نہ پوچھتے انتہی تلخیص۔ وہ “ لاتخیرنا “ (ہمیں نہ بتانا) کے تحت فرماتے ہیں یعنی اگرچہ تو جانتا بھی ہو کہ درندے آتے ہیں کیونکہ ہم اس بات کو نہیں جانتے پس ہمارے نزدیك پانی پاك ہے پس اگر ہم اسے استعمال کریں گے تو پاك پانی استعمال کریں گے۔ اور ہر نفس کو اللہتعالی اس کی طاقت کے مطابق تکلیف دیتا ہے۔ (ت)بندہ ضعیف “ قوی ومہربان اور بلندو بالا ذات باری اس کی بخشش فرمائے “ کہتا ہے کہ فاضل مولانا نے اس حدیث کو جیسا کہ تم دیکھتے ہو اس بات پر محمول کیا ہے جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا ہے یعنی مطلوب نجاست کا علم نہ ہونا ہے نہ کہ عدم نجاست کا علم ہونا ہے اور ہم پر لازم نہیں کہ ہم بحث کریں کیونکہ کوئی چیز اگرچہ فی الواقع ناپاك بھی ہو تو ہمارے نزدیك پاك ہوگی جب تك ہمیں اس کے نجس ہونے کا علم نہ ہو۔ اسی لئے حوض کو چھوٹے حوض پر محمول کیا گیا ہے جو نجس ہوجاتا ہے۔ اپنے زمانے کے علامہ سیدی زین بن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالی علیہنے البحرالرائق
عـــہ ۱ : ای فی حقنا وان کان علی خلاف ذلك فی الواقع ۱۲ منہ (م)
یعنی ہمارے حق میں پاك ہے اگرچہ وہ حقیقۃ اس کے خلاف ہو ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
المؤطا امام مالك الطہور للوضوء مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۱۷
الحدیقۃ الندیۃ الصنف الاول فیما ورد عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۵۶
الحدیقۃ الندیۃ الصنف الاول فیما ورد عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۵۶
الحدیقۃ الندیۃ الصنف الاول فیما ورد عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۵۶
الحدیقۃ الندیۃ الصنف الاول فیما ورد عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۵۶
فی البحر حیث قال (فروع) فی الخلاصۃ معزیا الی الاصل یتوضأ من الحوض الذی یخاف فیہ قذر ولایتیقنہ ولایجب ان یسأل اذا لحاجۃ الیہ عند عدم الدلیل والاصل دلیل یطلق الاستعمال وقال عمر رضی الله تعالی عنہ الخ فذکر الحدیث المذکور بمعناہ وانت تعلم ان کلامہ انما ھو فی الحوض الصغیر کمالا یخفی وقد استشھد بالحدیث علی عدم وجوب السؤال والتفتیش عنہ وان خشی التنجس بناء علی اصابۃ الطھارۃ۔ فالعبد الضعیف تمسك بہ فی ھذا المقام تبعا لھما لکن الحدیث ذو وجوہ وشجون فقد قیل یعنی ان الماء کثیر فلایحتمل التنجس بولوغ السباع وعلیہ درج الشیخ المحقق الدھلوی رحمہ الله تعالی فی شرح المشکوۃ ویکدرہ سؤال عمروبن العاص رضی الله تعالی عنہ کما اشار الیہ علی القاری وقال العارف النابلسی لوکان کثیرا مقدار العشر لما سأل لانہ لایتنجس ح الابظھور اثر النجاسۃ فیہ اجماعا وظھور الاثر یعرف بالحس فلایحتاج
میں اس حمل کی طرف سبقت کی ہے جب انہوں نے فرمایا : (فروع) خلاصہ میں مبسوط کی طرف نسبت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس حوض سے وضو کرسکتا ہے جس کے گندہ ہونے کا گمان ہو لیکن اس کا یقین نہ ہو اور اس پر سوال کرنا واجب نہیں کیونکہ اس کی ضرورت دلیل نہ ہونے کی صورت میں ہوتی ہے اور اصل (طہارت) دلیل ہے جو استعمال کا اطلاق کرتی ہے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا (آخر تک) انہوں نے حدیث مذکور کو معنوی طور پر ذکر کیا اور تم جانتے ہو کہ ان کا کلام چھوٹے حوض کے بارے میں ہے جیسا کہ مخفی نہیں اور انہوں نے حدیث شریف سے شہادت پیش کی ہے کہ اس کے بارے میں پوچھنا اور تفتیش کرنا واجب نہیں اگرچہ اس کے ناپاك ہونے کا اندیشہ ہو کیونکہ طہارت اصل ہے۔ پس اس ضعیف بندے نے اس مقام پر ان دونوں کی اتباع میں اسی بات کو اختیار کیا لیکن حدیث کی کئی وجوہ اور مفاہیم ہیں کہا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ پانی زیادہ ہے تو درندوں کے منہ ڈالنے سے ناپاك نہیں ہوگا۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے مشکوۃ شریف کی شرح میں یہی بات درج فرمائی لیکن حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالی عنہکا سوال اس بات کو مکدر کردیتا ہے جیسا کہ اس کی طرف حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اشارہ فرمایا۔ عارف نابلسی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا اگر وہ زیادہ دہ در دہ کی مقدار ہوتا تو آپ اس کی نجاست کا سوال نہ فرماتے کیونکہ اس صورت میں
میں اس حمل کی طرف سبقت کی ہے جب انہوں نے فرمایا : (فروع) خلاصہ میں مبسوط کی طرف نسبت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس حوض سے وضو کرسکتا ہے جس کے گندہ ہونے کا گمان ہو لیکن اس کا یقین نہ ہو اور اس پر سوال کرنا واجب نہیں کیونکہ اس کی ضرورت دلیل نہ ہونے کی صورت میں ہوتی ہے اور اصل (طہارت) دلیل ہے جو استعمال کا اطلاق کرتی ہے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا (آخر تک) انہوں نے حدیث مذکور کو معنوی طور پر ذکر کیا اور تم جانتے ہو کہ ان کا کلام چھوٹے حوض کے بارے میں ہے جیسا کہ مخفی نہیں اور انہوں نے حدیث شریف سے شہادت پیش کی ہے کہ اس کے بارے میں پوچھنا اور تفتیش کرنا واجب نہیں اگرچہ اس کے ناپاك ہونے کا اندیشہ ہو کیونکہ طہارت اصل ہے۔ پس اس ضعیف بندے نے اس مقام پر ان دونوں کی اتباع میں اسی بات کو اختیار کیا لیکن حدیث کی کئی وجوہ اور مفاہیم ہیں کہا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ پانی زیادہ ہے تو درندوں کے منہ ڈالنے سے ناپاك نہیں ہوگا۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے مشکوۃ شریف کی شرح میں یہی بات درج فرمائی لیکن حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالی عنہکا سوال اس بات کو مکدر کردیتا ہے جیسا کہ اس کی طرف حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اشارہ فرمایا۔ عارف نابلسی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا اگر وہ زیادہ دہ در دہ کی مقدار ہوتا تو آپ اس کی نجاست کا سوال نہ فرماتے کیونکہ اس صورت میں
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۶
الی السؤال اھ وماکان عمرو لیخفی علیہ حکم الماء الکثیر ولا کان من الموسوسین فسؤالہ ادل دلیل علی ان الماء کان قلیلا یحمل الخبث وقدکان فی فلاۃ فکان مظنۃ ورود السباع فعن ھذا نشأ السؤال وردہ عمر بطرح الاحتمال ولیتنبہ ان نقلہ الاجماع انما ھو ناظر الی الماء الکثیر مع قطع النظر عن خصوص التفسیر لا الی مقدار العشر بالتخصیص کمالایخفی ھذا تقریر کلامہ علی حسب مرامہ۔
اقول : ویظھر لی ان ھھنا مجال سؤال بوجھین۔ اما اولا فلما قدالقینا علیك ان الاجماع انما ھو علی ان الکثیر لا یتنجس الا بتغییر اما تحدید الکثیر ففیہ نزاع شھیر واختلاف کبیر فی الکتب سطیر فرب کثیر عند قوم قلیل عند اخرین وبالعکس واذالامرکما وصفنالك فما یدریك لعل الماء کان قلیلا عند عمرو فبحث وکثیرا عند عمر فمااکتثرت والامر اظھر علی قول
وہ بالاجماع اسی وقت ناپاك ہوتا ہے جب اس میں نجاست کا اثر ظاہر ہو اور اثر کا ظاہر ہونا حس کے ساتھ پہچانا جاتا ہے پس وہ سوال کا محتاج نہ ہوگا اھ یعنی حضرت عمروبن عاص رضی اللہتعالی کی یہ شان نہ تھی کہ آپ پر زیادہ پانی کا حکم مخفی رہتا اور نہ ہی آپ وسوسہ کرنے والوں میں سے تھے لہذا آپ کا سوال اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ پانی تھوڑا تھا جو ناپاك ہوجاتا ہے اور وہ جنگل میں تھا لہذا وہاں درندوں کے آنے کا گمان ہوسکتا تھا اس بنیاد پر سوال پیدا ہوا جسے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہنے ترك احتمال کے ساتھ رد کردیا۔ آگاہ رہنا چاہئے کہ ان کا اجماع نقل کرنا خاص تفسیر سے قطع نظر محض زیادہ پانی کی بنیاد پر تھا دس۱۰ کی مقدار سے تخصیص کرتے ہوئے نہیں جیسا کہ مخفی نہیں یہ ان کے مقصد کے مطابق ان کے کلام کی تقریر ہے۔ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں۔ ت) مجھ پر یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ یہاں دو طرح سے سوال ہوسکتا ہے۔ اول : جب ہم نے تمہیں بتایا کہ اجماع اس بات پر ہے کہ کثیر پانی تبدیلی کے بغیر ناپاك نہیں ہوتا لیکن کثیر کی حدبندی میں اختلاف مشہور ہے اور بہت بڑا اختلاف جو کتب میں تحریر ہے اکثر ایك چیز کسی قوم کے نزدیك کثیر ہوتی ہے اور دوسروں کے نزدیك قلیل اور کبھی اس کے خلاف ہوتا ہے اور جب معاملہ ایسا ہو جیسا کہ ہم نے بیان کیا تو تمہیں کیا خبر کہ حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك پانی تھوڑا ہو لہذا انہوں نے
اقول : ویظھر لی ان ھھنا مجال سؤال بوجھین۔ اما اولا فلما قدالقینا علیك ان الاجماع انما ھو علی ان الکثیر لا یتنجس الا بتغییر اما تحدید الکثیر ففیہ نزاع شھیر واختلاف کبیر فی الکتب سطیر فرب کثیر عند قوم قلیل عند اخرین وبالعکس واذالامرکما وصفنالك فما یدریك لعل الماء کان قلیلا عند عمرو فبحث وکثیرا عند عمر فمااکتثرت والامر اظھر علی قول
وہ بالاجماع اسی وقت ناپاك ہوتا ہے جب اس میں نجاست کا اثر ظاہر ہو اور اثر کا ظاہر ہونا حس کے ساتھ پہچانا جاتا ہے پس وہ سوال کا محتاج نہ ہوگا اھ یعنی حضرت عمروبن عاص رضی اللہتعالی کی یہ شان نہ تھی کہ آپ پر زیادہ پانی کا حکم مخفی رہتا اور نہ ہی آپ وسوسہ کرنے والوں میں سے تھے لہذا آپ کا سوال اس بات کی بہت بڑی دلیل ہے کہ پانی تھوڑا تھا جو ناپاك ہوجاتا ہے اور وہ جنگل میں تھا لہذا وہاں درندوں کے آنے کا گمان ہوسکتا تھا اس بنیاد پر سوال پیدا ہوا جسے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہنے ترك احتمال کے ساتھ رد کردیا۔ آگاہ رہنا چاہئے کہ ان کا اجماع نقل کرنا خاص تفسیر سے قطع نظر محض زیادہ پانی کی بنیاد پر تھا دس۱۰ کی مقدار سے تخصیص کرتے ہوئے نہیں جیسا کہ مخفی نہیں یہ ان کے مقصد کے مطابق ان کے کلام کی تقریر ہے۔ (ت)
اقول : (میں کہتا ہوں۔ ت) مجھ پر یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ یہاں دو طرح سے سوال ہوسکتا ہے۔ اول : جب ہم نے تمہیں بتایا کہ اجماع اس بات پر ہے کہ کثیر پانی تبدیلی کے بغیر ناپاك نہیں ہوتا لیکن کثیر کی حدبندی میں اختلاف مشہور ہے اور بہت بڑا اختلاف جو کتب میں تحریر ہے اکثر ایك چیز کسی قوم کے نزدیك کثیر ہوتی ہے اور دوسروں کے نزدیك قلیل اور کبھی اس کے خلاف ہوتا ہے اور جب معاملہ ایسا ہو جیسا کہ ہم نے بیان کیا تو تمہیں کیا خبر کہ حضرت عمروبن عاص رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك پانی تھوڑا ہو لہذا انہوں نے
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ فیماور دعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۵۶
اصحابنا ان الکثیر فی حق کل مایستکثرہ۔
ویترا أی لی فی الجواب عنہ ان المجتہد لیس لہ ان یحمل المجتھد الاخر علی تقلید نفسہ ویصدہ عن العمل بمذھبہ ولذا انکر عالم المدینۃ علی ھارون الرشید اذاستأذنہ ان یعلق المؤطا علی الکعبۃ ویحمل الناس علی مافیہ فقال لا تفعل فان اصحاب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اختلفوا فی الفروع وتفرقوا فی البلدان وکل مصیب ابونعیم عنہ فی الحلیۃ وعلی المنصور اذ ھم ان یبعث بکتبہ الی الامصار ویأمر المسلمین ان لایتعدوھا فقال لا تفعل ھذا فان الناس قد سبقت الیھم الاقاویل وسمعوا احادیث و رووا روایات واخذ کل قوم بما سبق الیھم ودانوا بہ فدع الناس وما اختار کل اھل بلد منھم لانفسھم ابن سعد عنہ فی الطبقات ففکذا لایجبر مجتھد بل عامی علی تقلید ظن الغیر فیما یفوض الی رأی المبتلی کما نص علیہ فی البحر وغیرہ فعلی ھذا قول
بحث کی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك زیادہ ہو لہذا انہوں نے اس کی پروانہ کی۔ ہمارے اصحاب کے قول پر بات ظاہر ہے کہ ہر ایك کے حق میں وہی کثیر ہے جس کو وہ کثیر سمجھے۔ اس کا جواب مجھ پر یوں ظاہر ہوا کہ کسی مجتہد کو حق نہیں پہنچتا کہ کسی دوسرے مجتہد کو اپنی تقلید کی ترغیب دے اور اسے اس کے اپنے مذہب پر عمل کرنے سے روکے یہی وجہ ہے کہ مدینہ کے عالم نے ہارون الرشید کی بات ماننے سے انکار کردیا جب اس نے مؤطا کو کعبۃ اللہکی دیوار پر لٹکانے اور لوگوں کو اس پر عمل کی ترغیب دینے کی اجازت طلب کی۔ عالم نے فرمایا : ایسا نہ کرو رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے صحابہ نے فروع میں اختلاف کیا اور مختلف شہروں میں پھیل گئے اور ہر ایك حق پر ہے۔ یہ بات حلیہ میں ابونعیم سے مروی ہے۔ اورجب منصور نے مختلف شہروں میں انکی کتابیں بھیجنے اور مسلمانوں کو حکم دینے کا ارادہ کیا کہ وہ ان سے تجاوز نہ کریں تو اس کا انکار کرتے ہوئے عالم مدینہ نے فرمایا : “ ایسا مت کرو لوگوں تك باتیں پہنچ چکی ہیں انہوں نے احادیث سنی ہیں روایات نقل کی ہیں اور جس قوم تك جو پہنچا انہوں نے اسے اختیار کرکے اس پر عمل پیرا ہوگئے پس لوگوں کو اسی چیز پر چھوڑ دیجئے جو ہر شہر والوں نے اپنے لئے اختیار کرلی “ ۔ اسے ابن سعد نے طبقات میں نقل کیا۔ اسی طرح کسی مجتہد اور کسی عامی کو بھی اس چیز میں جو مبتلا کی رائے پر چھوڑی گئی ہے دوسرے کے گمان کی تقلید پر مجبور نہ کیا جائے جیسا کہ بحرالرائق وغیرہ میں بیان کیا ہے۔ اس بنیاد پرحضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہکے قول “ لاتخبرنا “ (ہمیں خبر نہ دینا) کو اس بات پر محمول کرنا مناسب نہیں کہ میرے نزدیك پانی زیادہ ہے اگر تمہارے نزدیك تھوڑا بھی ہو تب بھی تم میری رائے پر عمل کرو اور سوال نہ کرو بلالکہ اس بنیاد پر
ویترا أی لی فی الجواب عنہ ان المجتہد لیس لہ ان یحمل المجتھد الاخر علی تقلید نفسہ ویصدہ عن العمل بمذھبہ ولذا انکر عالم المدینۃ علی ھارون الرشید اذاستأذنہ ان یعلق المؤطا علی الکعبۃ ویحمل الناس علی مافیہ فقال لا تفعل فان اصحاب رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اختلفوا فی الفروع وتفرقوا فی البلدان وکل مصیب ابونعیم عنہ فی الحلیۃ وعلی المنصور اذ ھم ان یبعث بکتبہ الی الامصار ویأمر المسلمین ان لایتعدوھا فقال لا تفعل ھذا فان الناس قد سبقت الیھم الاقاویل وسمعوا احادیث و رووا روایات واخذ کل قوم بما سبق الیھم ودانوا بہ فدع الناس وما اختار کل اھل بلد منھم لانفسھم ابن سعد عنہ فی الطبقات ففکذا لایجبر مجتھد بل عامی علی تقلید ظن الغیر فیما یفوض الی رأی المبتلی کما نص علیہ فی البحر وغیرہ فعلی ھذا قول
بحث کی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہکے نزدیك زیادہ ہو لہذا انہوں نے اس کی پروانہ کی۔ ہمارے اصحاب کے قول پر بات ظاہر ہے کہ ہر ایك کے حق میں وہی کثیر ہے جس کو وہ کثیر سمجھے۔ اس کا جواب مجھ پر یوں ظاہر ہوا کہ کسی مجتہد کو حق نہیں پہنچتا کہ کسی دوسرے مجتہد کو اپنی تقلید کی ترغیب دے اور اسے اس کے اپنے مذہب پر عمل کرنے سے روکے یہی وجہ ہے کہ مدینہ کے عالم نے ہارون الرشید کی بات ماننے سے انکار کردیا جب اس نے مؤطا کو کعبۃ اللہکی دیوار پر لٹکانے اور لوگوں کو اس پر عمل کی ترغیب دینے کی اجازت طلب کی۔ عالم نے فرمایا : ایسا نہ کرو رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے صحابہ نے فروع میں اختلاف کیا اور مختلف شہروں میں پھیل گئے اور ہر ایك حق پر ہے۔ یہ بات حلیہ میں ابونعیم سے مروی ہے۔ اورجب منصور نے مختلف شہروں میں انکی کتابیں بھیجنے اور مسلمانوں کو حکم دینے کا ارادہ کیا کہ وہ ان سے تجاوز نہ کریں تو اس کا انکار کرتے ہوئے عالم مدینہ نے فرمایا : “ ایسا مت کرو لوگوں تك باتیں پہنچ چکی ہیں انہوں نے احادیث سنی ہیں روایات نقل کی ہیں اور جس قوم تك جو پہنچا انہوں نے اسے اختیار کرکے اس پر عمل پیرا ہوگئے پس لوگوں کو اسی چیز پر چھوڑ دیجئے جو ہر شہر والوں نے اپنے لئے اختیار کرلی “ ۔ اسے ابن سعد نے طبقات میں نقل کیا۔ اسی طرح کسی مجتہد اور کسی عامی کو بھی اس چیز میں جو مبتلا کی رائے پر چھوڑی گئی ہے دوسرے کے گمان کی تقلید پر مجبور نہ کیا جائے جیسا کہ بحرالرائق وغیرہ میں بیان کیا ہے۔ اس بنیاد پرحضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہکے قول “ لاتخبرنا “ (ہمیں خبر نہ دینا) کو اس بات پر محمول کرنا مناسب نہیں کہ میرے نزدیك پانی زیادہ ہے اگر تمہارے نزدیك تھوڑا بھی ہو تب بھی تم میری رائے پر عمل کرو اور سوال نہ کرو بلالکہ اس بنیاد پر
عمر لاتخبرنا لاینبغی حملہ علی ان الماء کثیر عندی وان کان قلیلا عندك فبرأیی فاعمل ولاتسأل بل المعنی علی ھذا ایضا ھو المنع عن اتباع الظنون ای ان الماء وان تستقلہ لکن لست علی یقین من نجاستہ فانصرف الکلام الی مااردنا۔
واما ثانیا : فلانا لانسلم ان الکثیر لایحتاج فیہ الی السؤال فلربما ینتن الماء فیتغیر لونہ فیحتمل انہ لطول المکث اوحلول الخبث فیتحقق مثارللسؤال فعلم ان القلیل والکثیر سواء فی حاجۃ السؤال لکشف الحال عند المظنۃ والاحتمال بیدان الکثیر فی الاشربۃ المظنۃ کالامر الحسی اعنی تغیر احد الاوصاف بخلاف القلیل وبھذا القدر لا یستند العلم الی مجرد الحسن لان الذی یدرك بالحس لا یکفی لبتین الامر وزوال اللبس کما لا یخفی۔
وافاض الله الجواب عنہ بان ھذا مضر یعود نفعا محضا فلئن قلتم بہ فی قصۃ الحدیث عـــہ فقد ترکتم
بھی مفہوم یہ ہوگا کہ گمان کی اتباع سے روکا گیا مطلب یہ کہ اگرچہ تم پانی کو تھوڑا سمجھتے ہو لیکن تمہیں اس کی نجاست کا یقین نہیں پس ان کے کلام کو اس کی طرف پھیرا جائے گا جو ہماری مراد ہے۔
دوم : ہم نہیں مانتے کہ زیادہ پانی کے بارے میں سوال کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ بعض اوقات وہ بدبودار ہوجاتا ہے یا اس کا رنگ بدل جاتا ہے۔ پس اس بات کا احتمال ہے کہ زیادہ دیر ٹھہرنے یا نجاست داخل ہونے کے باعث ایسا ہوا ہو لہذا اس کا مقام سوال ہونا ثابت ہوگیا۔ پس معلوم ہوا کہ جب گمان واحتمال والی صورت ہو تو کشف حال کے لئے سوال کی ضرورت میں قلیل وکثیر برابر ہیں۔ علاوہ ازیں کثیر میں (نجاست کا) گمان محض امر حسی کی بنیاد پر ہوتا ہے یعنی اس کا کوئی وصف بدلتا ہے بخلاف قلیل کے۔ اور محض اتنی سی بات سے علم مجرد حس کی طرف منسوب نہیں ہوگا کیونکہ حس کے ساتھ جس چیز کا ادراك ہوتا ہے وہ بات کو واضح کرنے اور شك کو دور کرنے کے لئے کافی نہیں جیسا کہ مخفی نہیں۔
فیضان الہی : اللہتعالی نے اس کے جواب کا فیضان عطا فرمایا اگرچہ یہ ضرر ہے اللہتعالی اسے نفع بخش فرمائے کہ اگر تم اس حدیث کے ضمن یہ بات کرتے ہو
عـــہ : فان قلت لامساغ لھذا فی
اگر تو کہے کہ حدیث کے اس واقعہ سے(باقی برصفحہ ائندہ)
واما ثانیا : فلانا لانسلم ان الکثیر لایحتاج فیہ الی السؤال فلربما ینتن الماء فیتغیر لونہ فیحتمل انہ لطول المکث اوحلول الخبث فیتحقق مثارللسؤال فعلم ان القلیل والکثیر سواء فی حاجۃ السؤال لکشف الحال عند المظنۃ والاحتمال بیدان الکثیر فی الاشربۃ المظنۃ کالامر الحسی اعنی تغیر احد الاوصاف بخلاف القلیل وبھذا القدر لا یستند العلم الی مجرد الحسن لان الذی یدرك بالحس لا یکفی لبتین الامر وزوال اللبس کما لا یخفی۔
وافاض الله الجواب عنہ بان ھذا مضر یعود نفعا محضا فلئن قلتم بہ فی قصۃ الحدیث عـــہ فقد ترکتم
بھی مفہوم یہ ہوگا کہ گمان کی اتباع سے روکا گیا مطلب یہ کہ اگرچہ تم پانی کو تھوڑا سمجھتے ہو لیکن تمہیں اس کی نجاست کا یقین نہیں پس ان کے کلام کو اس کی طرف پھیرا جائے گا جو ہماری مراد ہے۔
دوم : ہم نہیں مانتے کہ زیادہ پانی کے بارے میں سوال کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ بعض اوقات وہ بدبودار ہوجاتا ہے یا اس کا رنگ بدل جاتا ہے۔ پس اس بات کا احتمال ہے کہ زیادہ دیر ٹھہرنے یا نجاست داخل ہونے کے باعث ایسا ہوا ہو لہذا اس کا مقام سوال ہونا ثابت ہوگیا۔ پس معلوم ہوا کہ جب گمان واحتمال والی صورت ہو تو کشف حال کے لئے سوال کی ضرورت میں قلیل وکثیر برابر ہیں۔ علاوہ ازیں کثیر میں (نجاست کا) گمان محض امر حسی کی بنیاد پر ہوتا ہے یعنی اس کا کوئی وصف بدلتا ہے بخلاف قلیل کے۔ اور محض اتنی سی بات سے علم مجرد حس کی طرف منسوب نہیں ہوگا کیونکہ حس کے ساتھ جس چیز کا ادراك ہوتا ہے وہ بات کو واضح کرنے اور شك کو دور کرنے کے لئے کافی نہیں جیسا کہ مخفی نہیں۔
فیضان الہی : اللہتعالی نے اس کے جواب کا فیضان عطا فرمایا اگرچہ یہ ضرر ہے اللہتعالی اسے نفع بخش فرمائے کہ اگر تم اس حدیث کے ضمن یہ بات کرتے ہو
عـــہ : فان قلت لامساغ لھذا فی
اگر تو کہے کہ حدیث کے اس واقعہ سے(باقی برصفحہ ائندہ)
ما قصدتم واعترفتم بما نرید اذکان مثار سؤال عمرو ح ھواحتمال الخبث ومبنی جواب عمر ھواتباع الاصل وذلك ماکنا نبغ وانما کنتم تذھبون بالحدیث الی ان الماء کثیر لایحمل الخبث فلا تخبرنا ای اخبارك وعدمہ سواء وعلی ھذا التقریر یصیر الکثیر نظیر الیسیر کما اعترفتم فلم تغن عنکم کثرتکم شیئا والله الموفق ھذا۔
وقیل عـــہ بل ذھب عمر رضی الله تعالی عنہ الی طھارۃ سؤر السباع کما تقولہ الائمۃ الثلثۃ علی خلاف بینھم فی الکلب والخنزیر فقولہ لا تخبرنا ای سواء علینا اخبرتنا اولم تخبرنا فانا نطھر ما تفضل السباع۔
تو تم نے اپنا مقصود چھوڑ کر ہماری مراد کا اعتراف کرلیا کیونکہ اس وقت حضرت عمرو رضی اللہ تعالی عنہکے سوال کا دارومدار نجاست کو برداشت کرنے پر ہے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہکے جواب کی بنیاد اصل کی اتباع ہے اور ہم اسی کی تلاش میں ہیں۔ حدیث کی روشنی میں تمہارا موقف یہ ہے کہ (چونکہ) زیادہ پانی نجاست سے ناپاك نہیں ہوتا لہذا تو ہمیں خبر نہ دے یعنی تیرا خبر دینا اور نہ دینا دونوں برابر ہیں اس تقریر کی بنیاد پر زیادہ تھوڑے کی مثل ہوجائے گا جیسا کہ تم نے اعتراف کیا۔ پس تمہاری کثرت نے تم کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ اور اللہتعالی ہی اس کی توفیق دینے والا ہے۔ (ت)
اور کہا گیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہدرندوں کے جھوٹے کو پاك سمجھتے ہیں جیسا کہ ائمہ ثلاثہ کتے اور خنزیر کے (جھوٹے کے) بارے میں اس کے قائل ہیں اگرچہ ان میں کچھ اختلاف بھی ہے پس ان کا قول کہ “ ہمیں خبر نہ دینا “ کا مطلب یہ ہے کہ خبر دو یا نہ دو ہمارے لئے برابر ہے کیونکہ ہم درندوں کے جھوٹے کو پاك سمجھتے ہیں (ت) (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
قصۃ الحدیث اصلا اذالماء الکثیر لایتغیر بمجرد ولوغ السباع وشرب الماء قلت بلی فان لفظ الحدیث ھل ترد لاھل تلغ ویمکن ان ترد جماعات منھن وتقع فی الماء وتبول فیہ وتقضی الحاجۃ فتغلب النجاسۃ علی بعض اوصاف الماء ۱۲ منہ (م)
عــہ : معطوف علی قیل السابق منہ (م)
اس کا جواز ہر جگہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ کثیر پانی محض درندوں کے چاٹنے اور پینے سے متغیر نہیں ہوتا۔ میں کہتا ہوں ہاں کیونکہ حدیث کا لفظ “ ھل ترد “ ہے “ ھل تلغ “ نہیں اور ممکن ہے کہ درندوں کے کئی گروہ پانی پر وارد ہوتے ہوں اور پانی میں جاکر بول وبراز کرتے ہوں تو پانی کے بعض اوصاف پر نجاست غالب آجائے۔ (ت)
پہلے گزرے ہوئے قیل پر معطوف ہے ۱۲ منہ (ت)
وقیل عـــہ بل ذھب عمر رضی الله تعالی عنہ الی طھارۃ سؤر السباع کما تقولہ الائمۃ الثلثۃ علی خلاف بینھم فی الکلب والخنزیر فقولہ لا تخبرنا ای سواء علینا اخبرتنا اولم تخبرنا فانا نطھر ما تفضل السباع۔
تو تم نے اپنا مقصود چھوڑ کر ہماری مراد کا اعتراف کرلیا کیونکہ اس وقت حضرت عمرو رضی اللہ تعالی عنہکے سوال کا دارومدار نجاست کو برداشت کرنے پر ہے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہکے جواب کی بنیاد اصل کی اتباع ہے اور ہم اسی کی تلاش میں ہیں۔ حدیث کی روشنی میں تمہارا موقف یہ ہے کہ (چونکہ) زیادہ پانی نجاست سے ناپاك نہیں ہوتا لہذا تو ہمیں خبر نہ دے یعنی تیرا خبر دینا اور نہ دینا دونوں برابر ہیں اس تقریر کی بنیاد پر زیادہ تھوڑے کی مثل ہوجائے گا جیسا کہ تم نے اعتراف کیا۔ پس تمہاری کثرت نے تم کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ اور اللہتعالی ہی اس کی توفیق دینے والا ہے۔ (ت)
اور کہا گیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہدرندوں کے جھوٹے کو پاك سمجھتے ہیں جیسا کہ ائمہ ثلاثہ کتے اور خنزیر کے (جھوٹے کے) بارے میں اس کے قائل ہیں اگرچہ ان میں کچھ اختلاف بھی ہے پس ان کا قول کہ “ ہمیں خبر نہ دینا “ کا مطلب یہ ہے کہ خبر دو یا نہ دو ہمارے لئے برابر ہے کیونکہ ہم درندوں کے جھوٹے کو پاك سمجھتے ہیں (ت) (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
قصۃ الحدیث اصلا اذالماء الکثیر لایتغیر بمجرد ولوغ السباع وشرب الماء قلت بلی فان لفظ الحدیث ھل ترد لاھل تلغ ویمکن ان ترد جماعات منھن وتقع فی الماء وتبول فیہ وتقضی الحاجۃ فتغلب النجاسۃ علی بعض اوصاف الماء ۱۲ منہ (م)
عــہ : معطوف علی قیل السابق منہ (م)
اس کا جواز ہر جگہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ کثیر پانی محض درندوں کے چاٹنے اور پینے سے متغیر نہیں ہوتا۔ میں کہتا ہوں ہاں کیونکہ حدیث کا لفظ “ ھل ترد “ ہے “ ھل تلغ “ نہیں اور ممکن ہے کہ درندوں کے کئی گروہ پانی پر وارد ہوتے ہوں اور پانی میں جاکر بول وبراز کرتے ہوں تو پانی کے بعض اوصاف پر نجاست غالب آجائے۔ (ت)
پہلے گزرے ہوئے قیل پر معطوف ہے ۱۲ منہ (ت)
اقول : وقد یلمح الیہ علی مافیہ قولہ فی الحدیث فانا نرد علی السباع وترد علینا وقولہ کمازاد رزین عن بعض الرواۃ وانی سمعت رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم یقول لھا مااخذت فی بطونھا ومابقی فھولنا طھور ۔
ومااخرج الامام الشافعی عن عمربن دینار ان عمربن الخطاب رضی الله تعالی عنہ ورد حوض مجنۃ فقیل انما ولغ الکلب انفا فقال انما ولغ بلسانہ فشرب وتوضأ ۔
ویکدر ھذا والذی قبلہ جمیعا انکم ملتم بالکلام الی خلاف ما یتبادر منہ فان ظاھر النھی کراھۃ الاخبار وماذاك الاخشیۃ ان لواخبر لزمہ التحرج فاراد التوسیع باستصحاب الطھارۃ مالم یعلم ولوکان الامر کما ذکرتم من کثرۃ الماء اوطھارۃ السؤر لما ضر اخبارہ شیأ فعلی ماینھاہ عنہ بل کان حق الکلام
اقول : حدیث شریف میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہکے الفاظ کہ “ ہم درندوں کے پاس جاتے اور وہ ہمارے پاس آتے ہیں “ میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے نیز رزین نے بعض راویوں سے جو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہکا یہ قول زائد نقل کیا ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے سنا آپ نے فرمایا : “ جو کچھ ان جانوروں نے اپنے پیٹوں میں لے لیا وہ ان کے لئے ہے اور جو باقی رہ گیا ہے وہ ہمارے لئے پاك ہے۔
اسی طرح جو امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے عمربن دینار رضی اللہ تعالی عنہسے نقل کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہمجنہ کے حوض پر تشریف لے گئے تو کہا گیا ابھی یہاں کتے نے منہ مارا ہے۔ تو آپ نے فرمایا : اس نے اپنی زبان سے چاٹا ہے۔ پھر آپ نے اس سے پیا اور وضو فرمایا۔ اس میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ (ت)یہ اور اس سے پہلے کی تمام بحث سے یہ بات مکدر ہوجاتی ہے کیونکہ تمہارے کلام کا میلان اس بات کے خلاف ہے جو واضح طور پر ذہن میں آتی ہے کیونکہ نہی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خبر دینا مکروہ ہے اور یہ اس ڈر کی بنیاد پر ہے کہ اگر خبر دے گا تو حرج میں پڑنا لازم آئے گا لہذا ان کی مراد یہ تھی کہ جب تك علم نہ ہو حصول طہارت میں وسعت ہونی چاہئے۔ اور اگر وہ بات ہوتی جس کا تم نے ذکر کیا پانی زیادہ تھا یا وہ جھوٹے کو پاك سمجھتے تھے تو اس صورت میں ان کا خبر دینا نقصان دہ نہ ہوتا پس انہوں نے کس
ومااخرج الامام الشافعی عن عمربن دینار ان عمربن الخطاب رضی الله تعالی عنہ ورد حوض مجنۃ فقیل انما ولغ الکلب انفا فقال انما ولغ بلسانہ فشرب وتوضأ ۔
ویکدر ھذا والذی قبلہ جمیعا انکم ملتم بالکلام الی خلاف ما یتبادر منہ فان ظاھر النھی کراھۃ الاخبار وماذاك الاخشیۃ ان لواخبر لزمہ التحرج فاراد التوسیع باستصحاب الطھارۃ مالم یعلم ولوکان الامر کما ذکرتم من کثرۃ الماء اوطھارۃ السؤر لما ضر اخبارہ شیأ فعلی ماینھاہ عنہ بل کان حق الکلام
اقول : حدیث شریف میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہکے الفاظ کہ “ ہم درندوں کے پاس جاتے اور وہ ہمارے پاس آتے ہیں “ میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے نیز رزین نے بعض راویوں سے جو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہکا یہ قول زائد نقل کیا ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے سنا آپ نے فرمایا : “ جو کچھ ان جانوروں نے اپنے پیٹوں میں لے لیا وہ ان کے لئے ہے اور جو باقی رہ گیا ہے وہ ہمارے لئے پاك ہے۔
اسی طرح جو امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے عمربن دینار رضی اللہ تعالی عنہسے نقل کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہمجنہ کے حوض پر تشریف لے گئے تو کہا گیا ابھی یہاں کتے نے منہ مارا ہے۔ تو آپ نے فرمایا : اس نے اپنی زبان سے چاٹا ہے۔ پھر آپ نے اس سے پیا اور وضو فرمایا۔ اس میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ (ت)یہ اور اس سے پہلے کی تمام بحث سے یہ بات مکدر ہوجاتی ہے کیونکہ تمہارے کلام کا میلان اس بات کے خلاف ہے جو واضح طور پر ذہن میں آتی ہے کیونکہ نہی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خبر دینا مکروہ ہے اور یہ اس ڈر کی بنیاد پر ہے کہ اگر خبر دے گا تو حرج میں پڑنا لازم آئے گا لہذا ان کی مراد یہ تھی کہ جب تك علم نہ ہو حصول طہارت میں وسعت ہونی چاہئے۔ اور اگر وہ بات ہوتی جس کا تم نے ذکر کیا پانی زیادہ تھا یا وہ جھوٹے کو پاك سمجھتے تھے تو اس صورت میں ان کا خبر دینا نقصان دہ نہ ہوتا پس انہوں نے کس
حوالہ / References
المؤطا امام مالك الطہور للوضوء مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۱۷
مشکوٰۃ المصابیح باب احکام المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۵۱
مصنف عبدالرزاق حدیث ۲۴۹ باب الماء تردہ الکلاب والسباع مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۷۶
مشکوٰۃ المصابیح باب احکام المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۵۱
مصنف عبدالرزاق حدیث ۲۴۹ باب الماء تردہ الکلاب والسباع مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۷۶
ح ان یقول لعمروماذا ترید بالاستنخبار الماء کثیر ولوولغت اوسؤرھا طاھر فما فعلت الی ھذا اشار محمد رحمہ الله تعالی حیث قال بعد روایۃ الحدیث فی مؤطاہ اذاکان الحوض عظیما ان حرکت منہ ناحیۃ لم تتحرك بہ الناحیۃ الاخری لم یفسد ذلك الماء ماولغ فیہ من سبع ولاماوقع فیہ من قذر الا ان یغلب علی ریح اوطعم ای اولون فاذاکان حوضا صغیرا ان حرکت منہ ناحیۃ تحرکت الناحیۃ الاخری فولغ فیہ السباع اووقع فیہ القذر لایتوضأ منہ الایری ان عمربن الخطاب رضی الله تعالی عنہ کرہ ان یخبرہ ونھاہ عن ذلك وھذا کلہ قول ابی حنیفۃ رحمہ الله تعالی اھ۔
اقول : فعلی ھذا معنی قولہ فانانرد الخ وکذا استشھادہ بارشاد النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ان ثبت انا نعلم ان المیاہ قلما تسلم عن
ورد السباع لکن لم نؤمر بالبحث ولابالتکلف وامرنا بالاتکال علی اصل الطھارۃ مالم نعلم بعروض النجاسۃ فلھا
بنا پر اس سے منع فرمایا بلکہ اس وقت حق کلام یہ تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عمرو رضی اللہ تعالی عنہسے فرماتے خبر حاصل کرنے سے تمہارا کیا مقصد ہے پانی زیادہ ہے اگرچہ اس میں (درندہ) منہ ڈالے یا ان کا جھوٹا ہو پاك ہے پس تم کیا کروگے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے بھی اسی کی طرف اشارہ کیا ہے جب انہوں نے اپنے مؤطا میں یہ حدیث روایت کرنے کے بعد فرمایا جب حوض اتنا بڑا ہوکر اس کی ایك جانب کو حرکت دی جائے تو دوسری جانب حرکت نہ کرے تو اس میں درندے کے پانی پینے یا نجاست گرنے سے پانی ناپاك نہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کی بو اور ذائقے پر غالب آجائے اور اگر حوض اتنا چھوٹا ہوکہ اس کی ایك طرف کو حرکت دینے سے دوسری جانب متحرك ہو اور اس میں سے درندے نے پانی پیا یا نجاست پڑ گئی تو اس سے وضو نہ کیا جائے۔ کیا نہیں دیکھا گیا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہنے ناپسند کیا کہ وہ ان کو خبر دے اور اس سے منع فرمادیا یہ تمام حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکا مسلك ہے۔ (ت)
اقول : اس بنیاد پر ان کے قول “ ہم درندوں کے پاس جاتے اور وہ ہمارے ہاں آتے ہیں “ اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ارشاد گرامی سے انکے استدلال بشرطیکہ وہ ثابت ہو کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم جانتے ہیں کہ پانی درندوں کی آمدورفت سے بہت کم محفوظ ہوتے ہیں لیکن ہمیں بحث اور تکلف کا حکم نہیں دیا گیا ہمیں اصل طہارت پر بھروسا کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تك نجاست کے واقع ہونے کا
اقول : فعلی ھذا معنی قولہ فانانرد الخ وکذا استشھادہ بارشاد النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ان ثبت انا نعلم ان المیاہ قلما تسلم عن
ورد السباع لکن لم نؤمر بالبحث ولابالتکلف وامرنا بالاتکال علی اصل الطھارۃ مالم نعلم بعروض النجاسۃ فلھا
بنا پر اس سے منع فرمایا بلکہ اس وقت حق کلام یہ تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عمرو رضی اللہ تعالی عنہسے فرماتے خبر حاصل کرنے سے تمہارا کیا مقصد ہے پانی زیادہ ہے اگرچہ اس میں (درندہ) منہ ڈالے یا ان کا جھوٹا ہو پاك ہے پس تم کیا کروگے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے بھی اسی کی طرف اشارہ کیا ہے جب انہوں نے اپنے مؤطا میں یہ حدیث روایت کرنے کے بعد فرمایا جب حوض اتنا بڑا ہوکر اس کی ایك جانب کو حرکت دی جائے تو دوسری جانب حرکت نہ کرے تو اس میں درندے کے پانی پینے یا نجاست گرنے سے پانی ناپاك نہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کی بو اور ذائقے پر غالب آجائے اور اگر حوض اتنا چھوٹا ہوکہ اس کی ایك طرف کو حرکت دینے سے دوسری جانب متحرك ہو اور اس میں سے درندے نے پانی پیا یا نجاست پڑ گئی تو اس سے وضو نہ کیا جائے۔ کیا نہیں دیکھا گیا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہنے ناپسند کیا کہ وہ ان کو خبر دے اور اس سے منع فرمادیا یہ تمام حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہکا مسلك ہے۔ (ت)
اقول : اس بنیاد پر ان کے قول “ ہم درندوں کے پاس جاتے اور وہ ہمارے ہاں آتے ہیں “ اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے ارشاد گرامی سے انکے استدلال بشرطیکہ وہ ثابت ہو کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم جانتے ہیں کہ پانی درندوں کی آمدورفت سے بہت کم محفوظ ہوتے ہیں لیکن ہمیں بحث اور تکلف کا حکم نہیں دیا گیا ہمیں اصل طہارت پر بھروسا کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تك نجاست کے واقع ہونے کا
حوالہ / References
المؤطالامام محمد باب الوضوء ممایشرب منہ السباع وتلغ فیہ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع آرام باغ کراچی ص۶۶
ماحملت فی بطونھا لان ماء الله مباح علی کل ذات کبد حراء ولنا ما غیر طھور لعدم التیقن بعروض المحذور فال الکلام الی ماوصفنا لك من ان الیقین الاجمالی بعروض النجاسۃ لنوع لایقضی بتنجس کل فرد منہ وبالجملۃ فالحدیث ذووجوہ والاوجہ ماذکرنا فصح الاستدلال علی عدم وجوب السؤال لاجل ظن اواحتمال وکان اول قدوۃ لنا فیہ امامنا محمد رضی الله تعالی عنہ۔ لکن یرتاب فیہ بان النھی عن الاخبار علی ھذا یکون نھیا عن مناصحۃ المسلمین وصونھم عن تعاطی المنکر فی الدین فان من علم ان فی ثوب المصلی نجاسۃ مثلا وھولایدری وجب علیہ اخبارہ بذلك ان ظن قبولہ لان فعلہ علی خلاف امر الله سبحنہ وتعالی فی نفسہ وان ارتفع الاثم لعدم العلم۔
والجواب عنہ کماافاد العارف النابلسی ان عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ لایعلم ان صاحب الحوض یعلم ان السباع تردہ حتی یکون قولہ ذلك کفا و منعا من الامر بالمعروف والنھی عن المنکر ومن النصیحۃ فی الدین غایتہ انہ اراد
علم نہ ہو پس جو ان جانوروں نے اپنے پیٹوں میں لے لیا وہ ان کے لئے ہے۔ کیونکہ اللہتعالی کا پانی ہر گرم جگر والی چیز کیلئے مباح ہے اور جو کچھ باقی ہے وہ ہمارے لئے پاك ہے کیونکہ ناپاك چیز کے گرنے کا ہمیں علم نہیں۔ پس ہم نے جو کچھ کہا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کسی نوع کے ناپاك ہونے کا اجمالی یقین اس کے ہر فرد کی نجاست کا تقاضہ نہیں کرتا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ حدیث (کا مفہوم) کئی وجوہ پر مشتمل ہے لیکن زیادہ مناسب وہ ہے جو ہم نے ذکر کیا پس ظن یا احتمال کی وجہ سے سوال واجب نہ ہونے پر استدلال صحیح ہے اور اس میں ہمارے پہلے مقتدا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہہیں۔ (ت)لیکن یہاں شك پیدا ہوتا ہے کہ اس بنیاد پر خبر دینے سے روکنا دین کے سلسلے میں مسلمانوں کی خیر خواہی اور برائی میں مشغول ہونے سے ان کی حفاظت سے روکنا ہو کیونکہ جو شخص جانتا ہے کہ نمازی کے کپڑے پر نجاست لگی ہوئی ہے اور اسے (نمازی کو) معلوم نہیں تو اس پر واجب ہے کہ اسے خبر کردے اگر اس کی قبولیت کا گمان ہو کیونکہ حقیقت میں ا سکا یہ فعل اللہتعالی کے حکم کے خلاف ہے اگرچہ عدم علم کی وجہ سے وہ گناہ گار نہ ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ عارف نابلسی رحمۃ اللہ تعالی علیہسے مستفاد ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہکو معلوم نہ تھا کہ حوض والے کو اس پر درندوں کے آنے جانے کا علم ہے جس کی وجہ سے آپ کا وہ قول “ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر “ اور دین میں خیر خواہی سے باز رکھتا اور رکاوٹ بنتا ہو نتیجہ یہ ہوا کہ آپ نے پانی کی طہارت کے سلسلے میں
والجواب عنہ کماافاد العارف النابلسی ان عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ لایعلم ان صاحب الحوض یعلم ان السباع تردہ حتی یکون قولہ ذلك کفا و منعا من الامر بالمعروف والنھی عن المنکر ومن النصیحۃ فی الدین غایتہ انہ اراد
علم نہ ہو پس جو ان جانوروں نے اپنے پیٹوں میں لے لیا وہ ان کے لئے ہے۔ کیونکہ اللہتعالی کا پانی ہر گرم جگر والی چیز کیلئے مباح ہے اور جو کچھ باقی ہے وہ ہمارے لئے پاك ہے کیونکہ ناپاك چیز کے گرنے کا ہمیں علم نہیں۔ پس ہم نے جو کچھ کہا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کسی نوع کے ناپاك ہونے کا اجمالی یقین اس کے ہر فرد کی نجاست کا تقاضہ نہیں کرتا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ حدیث (کا مفہوم) کئی وجوہ پر مشتمل ہے لیکن زیادہ مناسب وہ ہے جو ہم نے ذکر کیا پس ظن یا احتمال کی وجہ سے سوال واجب نہ ہونے پر استدلال صحیح ہے اور اس میں ہمارے پہلے مقتدا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہہیں۔ (ت)لیکن یہاں شك پیدا ہوتا ہے کہ اس بنیاد پر خبر دینے سے روکنا دین کے سلسلے میں مسلمانوں کی خیر خواہی اور برائی میں مشغول ہونے سے ان کی حفاظت سے روکنا ہو کیونکہ جو شخص جانتا ہے کہ نمازی کے کپڑے پر نجاست لگی ہوئی ہے اور اسے (نمازی کو) معلوم نہیں تو اس پر واجب ہے کہ اسے خبر کردے اگر اس کی قبولیت کا گمان ہو کیونکہ حقیقت میں ا سکا یہ فعل اللہتعالی کے حکم کے خلاف ہے اگرچہ عدم علم کی وجہ سے وہ گناہ گار نہ ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ عارف نابلسی رحمۃ اللہ تعالی علیہسے مستفاد ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہکو معلوم نہ تھا کہ حوض والے کو اس پر درندوں کے آنے جانے کا علم ہے جس کی وجہ سے آپ کا وہ قول “ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر “ اور دین میں خیر خواہی سے باز رکھتا اور رکاوٹ بنتا ہو نتیجہ یہ ہوا کہ آپ نے پانی کی طہارت کے سلسلے میں
رضی الله تعالی عنہ نفی الوسواس فی طھارۃ الماء والنھی عن کثرۃ السؤال فی الامور المبنیۃ علی الیقین فی ان الاصل فی الماء الطھارۃ اھ۔
قلت وحاصلہ ان المحذور ای کون النھی نھیا عن النھی عن المنکر مبنی علی العلم بکونہ منکرا وھو مبتن علی العلم بالتجنس واذلیس ھذا فلیس ذاك فلیس ذلك ولم یکن ان صاحب الحوض ھم بالاخبار فنھاہ عمر حتی یکون نھیا بعد الظن بانہ یعلم شیأ وانما سأل عمرو ولایدری ماعند المسؤل عنہ فاراد سدباب الظنون والتنبیہ علی انالم نؤمر بذلك ولو فتحنا مثل ھذا الباب علی وجوھنا لوقعنا فی الحرج والحرج مدفوع بالنص فتأمل حق التأمل ولاتظنن ان الامر دار بین مصلحۃ التوسیع ومفسدۃ النھی عن النھی عن المنکر بل بین دفع مفسدۃ الوسوسۃ والتعمق والمفسدۃ التی ذکرت وتلك حاضرۃ متیقنۃ وھذہ محتملۃ متوھمۃ فترجح الاول فافھم والله تعالی اعلم۔
وسوسوں کی نفی فرمائی اور جو امور یقین پر مبنی ہیں ان کے بارے میں کثرت سوال سے منع فرمایا کیونکہ پانی میں اصل طہارت ہے اھ۔ (ت)
قلت اس کا ماحصل یہ ہے کہ ممنوع یعنی نہی عن المنکر سے روکنے کی ممانعت اس پر مبنی ہے کہ اس کے منکر ہونے کا علم ہو اور وہ اس پر مبنی ہے کہ اس کے نجس ہونے کا علم ہو۔ پس جب یہ بات (اس کا ناپاك ہونا) نہیں تو وہ (یعنی اس کے منکر ہونے کا علم نہیں) لہذا نہی عن المنکر سے روکنے کی ممانعت بھی نہ پائی گئی اور یہ بات بھی نہیں کہ حوض کا مالك خبر دینے کا ارادہ کرچکا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہنے روك دیا تاکہ اس ظن کے بعد کہ وہ کچھ جانتا تھا یہ نفی کہلائے حضرت عمرو رضی اللہ تعالی عنہنے سوال کیا اور ان کو معلوم نہ تھا کہ مسؤل عنہ کے پاس اس کا کیا جواب ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہنے خیالات وگمان کا دروازہ بند کرنیکا ارادہ کیا اور اس بات پر تنبیہ فرمائی کہ ہمیں اس بات کا حکم نہیں دیا گیا اور اگر ہم اپنے سامنے اس قسم کا دروازہ کھول دیں تو حرج میں پڑ جائیں گے اور شرعی طور پر حرج دور کیا گیا ہے پس غور کرو جیسے غور کرنے کا حق ہے۔ اور یہ خیال نہ کروکہ یہ معاملہ توسیع کی مصلحت اور نہی عن المنکر سے روکنے کی خرابی کے درمیان دائر ہے بلکہ وسوسہ اور بہت گہرائی میں جانے کے فساد کو دور کرنے اور اس فساد کے درمیان دائر ہے جس کا میں نے ذکر کیا اور وہ موجود یقینی ہے جبکہ اس میں احتمال اور وہم ہے پس پہلے کو ترجیح حاصل ہوگی۔ سمجھ لو والله تعالی اعلم(ت)
قلت وحاصلہ ان المحذور ای کون النھی نھیا عن النھی عن المنکر مبنی علی العلم بکونہ منکرا وھو مبتن علی العلم بالتجنس واذلیس ھذا فلیس ذاك فلیس ذلك ولم یکن ان صاحب الحوض ھم بالاخبار فنھاہ عمر حتی یکون نھیا بعد الظن بانہ یعلم شیأ وانما سأل عمرو ولایدری ماعند المسؤل عنہ فاراد سدباب الظنون والتنبیہ علی انالم نؤمر بذلك ولو فتحنا مثل ھذا الباب علی وجوھنا لوقعنا فی الحرج والحرج مدفوع بالنص فتأمل حق التأمل ولاتظنن ان الامر دار بین مصلحۃ التوسیع ومفسدۃ النھی عن النھی عن المنکر بل بین دفع مفسدۃ الوسوسۃ والتعمق والمفسدۃ التی ذکرت وتلك حاضرۃ متیقنۃ وھذہ محتملۃ متوھمۃ فترجح الاول فافھم والله تعالی اعلم۔
وسوسوں کی نفی فرمائی اور جو امور یقین پر مبنی ہیں ان کے بارے میں کثرت سوال سے منع فرمایا کیونکہ پانی میں اصل طہارت ہے اھ۔ (ت)
قلت اس کا ماحصل یہ ہے کہ ممنوع یعنی نہی عن المنکر سے روکنے کی ممانعت اس پر مبنی ہے کہ اس کے منکر ہونے کا علم ہو اور وہ اس پر مبنی ہے کہ اس کے نجس ہونے کا علم ہو۔ پس جب یہ بات (اس کا ناپاك ہونا) نہیں تو وہ (یعنی اس کے منکر ہونے کا علم نہیں) لہذا نہی عن المنکر سے روکنے کی ممانعت بھی نہ پائی گئی اور یہ بات بھی نہیں کہ حوض کا مالك خبر دینے کا ارادہ کرچکا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہنے روك دیا تاکہ اس ظن کے بعد کہ وہ کچھ جانتا تھا یہ نفی کہلائے حضرت عمرو رضی اللہ تعالی عنہنے سوال کیا اور ان کو معلوم نہ تھا کہ مسؤل عنہ کے پاس اس کا کیا جواب ہے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہنے خیالات وگمان کا دروازہ بند کرنیکا ارادہ کیا اور اس بات پر تنبیہ فرمائی کہ ہمیں اس بات کا حکم نہیں دیا گیا اور اگر ہم اپنے سامنے اس قسم کا دروازہ کھول دیں تو حرج میں پڑ جائیں گے اور شرعی طور پر حرج دور کیا گیا ہے پس غور کرو جیسے غور کرنے کا حق ہے۔ اور یہ خیال نہ کروکہ یہ معاملہ توسیع کی مصلحت اور نہی عن المنکر سے روکنے کی خرابی کے درمیان دائر ہے بلکہ وسوسہ اور بہت گہرائی میں جانے کے فساد کو دور کرنے اور اس فساد کے درمیان دائر ہے جس کا میں نے ذکر کیا اور وہ موجود یقینی ہے جبکہ اس میں احتمال اور وہم ہے پس پہلے کو ترجیح حاصل ہوگی۔ سمجھ لو والله تعالی اعلم(ت)
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ الصف الثانی من الصنفین فیما ورد عن ائمتنا الحنفیۃ مطبوعہ نوریۃ رضویہ آباد ۲ / ۶۵۶
ہاں اس میں شك نہیں کہ شبہہ کی جگہ تفتیش وسوال بہتر ہے جب اس پر کوئی فائدہ مترتب ہوتا سمجھے
فی البحر الرائق عن السراج الھندی عن الفقیہ ابی اللیث ان عدم وجوب السؤال من طریق الحکم وان سأل کان احوط لدینہ الخ۔
البحرالرائق میں سراج ہندی سے منقول ہے انہوں نے فقیہ ابواللیث سے نقل کیا کہ سوال کا واجب نہ ہونا شرعی حکم کے طریقے پر ہے اور اگر سوال کرے تو یہ دینی اعتبار سے زیادہ محتاط ہونا ہے الخ (ت)
اور یہ بھی اسی وقت تك ہے جب اس احتیاط وورع میں کسی امراہم وآکد کا خلاف نہ لازم آئے کہ شرع مطہر میں مصلحت کی تحصیل سے مفسدہ کا ازالہ مقدم تر ہے مثلا مسلمان نے دعوت کی یہ اس کے مال وطعام کی تحقیقات کررہے ہیں کہاں سے لایا کیونکر پیدا کیا حلال ہے یا حرام کوئی نجاست تو اس میں نہیں ملی ہے کہ بیشك یہ باتیں وحشت دینے والی ہیں اور مسلمان پر بدگمانی کرکے ایسی تحقیقات میں اسے ایذا دینا ہے خصوصا اگر وہ شخص شرعا معظم ومحترم ہو جیسے عالم دین یا سچا مرشد یا ماں باپ یا استاذ یا ذی عزت مسلمان سردار قوم تو اس نے اور بے جا کیا ایك تو بدگمانی دوسرے موحش باتیں تیسرے بزرگوں کا ترك ادب اور یہ گمان نہ کرے کہ خفیہ تحقیقات کر لوں گا حاشا وکلا اگر اسے خبر پہنچی اور نہ پہنچنا تعجب ہے کہ آج کل بہت لوگ پرچہ نویس ہیں تو اس میں تنہا برر وپوچھنے سے زیادہ رنج کی صورت ہے کماھو مجرب معلوم (جیسا کہ تجربہ سے معلوم ہے۔ ت) نہ یہ خیال کرے کہ احباب کے ساتھ ایسا برتاؤ برتوں گا “ ہیہات “ احبا کو رنج دینا کب روا ہے۔ اور یہ گمان کہ شاید ایذا نہ پائے ہم کہتے ہیں شاید ایذا پائے اگر ایسا ہی شاید پر عمل ہے تو اس کے مال وطعام کی حلت وطہارت میں شاید پر کیوں نہیں عمل کرتا۔ معہذا اگر ایذا نہ بھی ہوئی اور اس نے براہ بے تکلفی بتادیا تو ایك مسلمان کی پردہ دری ہوئی کہ شرعا ناجائز۔ غرض ایسے مقامات میں ورع واحتیاط کی دو۲ ہی صورتیں ہیں یا تو اس طور پر بچ جائے کہ اسے اجتناب ودامن کشی پر اطلاع نہ ہو یا سوال وتحقیق کرے تو ان امور میں جن کی تفتیش موجب ایذا نہیں ہوتی مثلا کسی کا جوتا پہنے ہے وضو کرکے اس میں پاؤں رکھنا چاہتا ہے دریافت کرلے کہ پاؤں تر ہیں یوں ہی پہن لوں وعلی ہذا القیاس یا کوئی فاسق بیباك مجاہر معلن اس درجہ وقاحت وبیحیائی کو پہنچا ہواہوکہ اسے نہ بتادینے میں باك ہو نہ دریافت سے صدمہ گزرے نہ اس سے کوئی فتنہ متوقع ہو نہ اظہار ظاہر میں پردہ دردی ہو تو عندالتحقیق اس سے تفتیش میں بھی جرح نہیں ورنہ ہرگز بنام ورع واحتیاط مسلمانوں کی نفرت ووحشت یا ان کی رسوائی وفضیحت یا تجسس عیوب ومعصیت کا باعث نہ ہو کہ یہ سب امور ناجائز ہیں اور شکوك وشبہات میں ورع نہ برتنا ناجائز نہیں عجب کہ امر جائز سے بچنے کے لئے چند نارواباتوں کا ارتکاب کرے یہ بھی شیطان کا ایك دھوکا ہے کہ اسے محتاط بننے کے پردے میں محض غیر محتاط کردیا اے عزیز! مدارات خلق والفت وموانست
فی البحر الرائق عن السراج الھندی عن الفقیہ ابی اللیث ان عدم وجوب السؤال من طریق الحکم وان سأل کان احوط لدینہ الخ۔
البحرالرائق میں سراج ہندی سے منقول ہے انہوں نے فقیہ ابواللیث سے نقل کیا کہ سوال کا واجب نہ ہونا شرعی حکم کے طریقے پر ہے اور اگر سوال کرے تو یہ دینی اعتبار سے زیادہ محتاط ہونا ہے الخ (ت)
اور یہ بھی اسی وقت تك ہے جب اس احتیاط وورع میں کسی امراہم وآکد کا خلاف نہ لازم آئے کہ شرع مطہر میں مصلحت کی تحصیل سے مفسدہ کا ازالہ مقدم تر ہے مثلا مسلمان نے دعوت کی یہ اس کے مال وطعام کی تحقیقات کررہے ہیں کہاں سے لایا کیونکر پیدا کیا حلال ہے یا حرام کوئی نجاست تو اس میں نہیں ملی ہے کہ بیشك یہ باتیں وحشت دینے والی ہیں اور مسلمان پر بدگمانی کرکے ایسی تحقیقات میں اسے ایذا دینا ہے خصوصا اگر وہ شخص شرعا معظم ومحترم ہو جیسے عالم دین یا سچا مرشد یا ماں باپ یا استاذ یا ذی عزت مسلمان سردار قوم تو اس نے اور بے جا کیا ایك تو بدگمانی دوسرے موحش باتیں تیسرے بزرگوں کا ترك ادب اور یہ گمان نہ کرے کہ خفیہ تحقیقات کر لوں گا حاشا وکلا اگر اسے خبر پہنچی اور نہ پہنچنا تعجب ہے کہ آج کل بہت لوگ پرچہ نویس ہیں تو اس میں تنہا برر وپوچھنے سے زیادہ رنج کی صورت ہے کماھو مجرب معلوم (جیسا کہ تجربہ سے معلوم ہے۔ ت) نہ یہ خیال کرے کہ احباب کے ساتھ ایسا برتاؤ برتوں گا “ ہیہات “ احبا کو رنج دینا کب روا ہے۔ اور یہ گمان کہ شاید ایذا نہ پائے ہم کہتے ہیں شاید ایذا پائے اگر ایسا ہی شاید پر عمل ہے تو اس کے مال وطعام کی حلت وطہارت میں شاید پر کیوں نہیں عمل کرتا۔ معہذا اگر ایذا نہ بھی ہوئی اور اس نے براہ بے تکلفی بتادیا تو ایك مسلمان کی پردہ دری ہوئی کہ شرعا ناجائز۔ غرض ایسے مقامات میں ورع واحتیاط کی دو۲ ہی صورتیں ہیں یا تو اس طور پر بچ جائے کہ اسے اجتناب ودامن کشی پر اطلاع نہ ہو یا سوال وتحقیق کرے تو ان امور میں جن کی تفتیش موجب ایذا نہیں ہوتی مثلا کسی کا جوتا پہنے ہے وضو کرکے اس میں پاؤں رکھنا چاہتا ہے دریافت کرلے کہ پاؤں تر ہیں یوں ہی پہن لوں وعلی ہذا القیاس یا کوئی فاسق بیباك مجاہر معلن اس درجہ وقاحت وبیحیائی کو پہنچا ہواہوکہ اسے نہ بتادینے میں باك ہو نہ دریافت سے صدمہ گزرے نہ اس سے کوئی فتنہ متوقع ہو نہ اظہار ظاہر میں پردہ دردی ہو تو عندالتحقیق اس سے تفتیش میں بھی جرح نہیں ورنہ ہرگز بنام ورع واحتیاط مسلمانوں کی نفرت ووحشت یا ان کی رسوائی وفضیحت یا تجسس عیوب ومعصیت کا باعث نہ ہو کہ یہ سب امور ناجائز ہیں اور شکوك وشبہات میں ورع نہ برتنا ناجائز نہیں عجب کہ امر جائز سے بچنے کے لئے چند نارواباتوں کا ارتکاب کرے یہ بھی شیطان کا ایك دھوکا ہے کہ اسے محتاط بننے کے پردے میں محض غیر محتاط کردیا اے عزیز! مدارات خلق والفت وموانست
اہم امور سے ہے۔
عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بعثت بمدارۃ الناس الطبرانی فی الکبیر عن جابر وقال صلی الله تعالی علیہ وسلم رأس العقل بعد الایمان بالله التحبب الی الناس الطبرانی فی الاوسط عن علی والبزار فی المسند عن ابی ھریرۃ والشیرازی فی الالقاب عن انس والبھیقی فی الشعب عنھم جمیعا رضی الله تعالی عنھم۔
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مروی ہے فرمایا : “ مجھے لوگوں سے خاطر مدارات کے لئے بھیجا گیا ہے “ ۔ اسے طبرانی نے کبیر میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہسے بیان کیا۔ اور رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ اللہتعالی پر ایمان لانے کے بعد کمال عقل انسانوں سے محبت کرنا ہے “ ۔ اس کو طبرانی نے اوسط میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ اور بزار نے مسند میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے اور شیرازی نے القاب میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے اور بیہقی نے شعب الایمان میں ان تمام سے روایت کیا رضی اللہ تعالی عنہم(ت)
مگر جب تك نہ دین میں مداہنت نہ اس کے لئے کسی گناہ شرعی میں ابتلا ہو۔
قال الله تعالی لا یخافون لومة لآىم-
وقال تعالی لا تاخذكم بهما رافة فی دین الله
وقال تعالی و الله و رسوله احق ان یرضوه ان كانوا مؤمنین(۶۲)
۔ وقال صلی الله تعالی علیہ وسلم لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ الله انما الطاعۃ فی المعروف الشیخان و
اللہتعالی ارشاد فرماتا ہے : “ وہ اللہتعالی کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے “ ۔
اور ارشاد خداوندی ہے : “ ان دونوں (زانی اور زانیہ) کے بارے میں تمہیں دین خداوندی میں نرمی نہیں کرنی چاہئے “ ۔
ارشاد باری تعالی ہے : “ اور اللہتعالی اور اس کا رسول اس بات کا زیادہ حق رکھتے ہیں کہ
عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بعثت بمدارۃ الناس الطبرانی فی الکبیر عن جابر وقال صلی الله تعالی علیہ وسلم رأس العقل بعد الایمان بالله التحبب الی الناس الطبرانی فی الاوسط عن علی والبزار فی المسند عن ابی ھریرۃ والشیرازی فی الالقاب عن انس والبھیقی فی الشعب عنھم جمیعا رضی الله تعالی عنھم۔
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مروی ہے فرمایا : “ مجھے لوگوں سے خاطر مدارات کے لئے بھیجا گیا ہے “ ۔ اسے طبرانی نے کبیر میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہسے بیان کیا۔ اور رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ اللہتعالی پر ایمان لانے کے بعد کمال عقل انسانوں سے محبت کرنا ہے “ ۔ اس کو طبرانی نے اوسط میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا۔ اور بزار نے مسند میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے اور شیرازی نے القاب میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے اور بیہقی نے شعب الایمان میں ان تمام سے روایت کیا رضی اللہ تعالی عنہم(ت)
مگر جب تك نہ دین میں مداہنت نہ اس کے لئے کسی گناہ شرعی میں ابتلا ہو۔
قال الله تعالی لا یخافون لومة لآىم-
وقال تعالی لا تاخذكم بهما رافة فی دین الله
وقال تعالی و الله و رسوله احق ان یرضوه ان كانوا مؤمنین(۶۲)
۔ وقال صلی الله تعالی علیہ وسلم لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ الله انما الطاعۃ فی المعروف الشیخان و
اللہتعالی ارشاد فرماتا ہے : “ وہ اللہتعالی کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے “ ۔
اور ارشاد خداوندی ہے : “ ان دونوں (زانی اور زانیہ) کے بارے میں تمہیں دین خداوندی میں نرمی نہیں کرنی چاہئے “ ۔
ارشاد باری تعالی ہے : “ اور اللہتعالی اور اس کا رسول اس بات کا زیادہ حق رکھتے ہیں کہ
حوالہ / References
شعب الایمان فصل فی الحلم والتورۃ الخ حدیث ۸۴۷۵ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت۶ / ۳۵۱
شعب الایمان فصل فی الحلم والتورۃ الخ حدیث ۸۴۴۷ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ۶ / ۳۴۴
القرآن ۵ / ۵۴
القرآن ۲۴ / ۲
القرآن ۹ / ۶۲
صحیح البخاری کتاب اخبار الآحاد مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۰۷۸
شعب الایمان فصل فی الحلم والتورۃ الخ حدیث ۸۴۴۷ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ۶ / ۳۴۴
القرآن ۵ / ۵۴
القرآن ۲۴ / ۲
القرآن ۹ / ۶۲
صحیح البخاری کتاب اخبار الآحاد مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۰۷۸
وابوداود والنسائی عن علی کرم الله تعالی وجھہ۔ وقال صلی الله تعالی علیہ وسلم لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق احمد الامام ومحمد الحاکم عن عمران والحکم بن عمرو الغفاری رضی الله تعالی عنھم۔
وہ (لوگ) انہیں راضی کریں اگر وہ ایمان دار ہیں “ ۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ اللہتعالی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں فرمانبرداری صرف نیك امور میں ہے “ اس حدیث کو امام بخاری مسلم ابوداؤد اور نسائی نے حضرت علی کرم اللہوجہہ سے روایت کیا ہے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں “ ۔ اسے امام احمد اور محمد حاکم نے حضرت عمران اور حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ تعالی عنہمسے روایت کیا۔ (ت)
پس ان امور میں ضابطہ کلیہ واجبۃ الحفظ یہ ہے کہ فعل فرائض وترك محرمات کو ارضائے خلق پر مقدم رکھے اور ان امور میں کسی کی مطلقا پروانہ کرے اور اتیان مستحب وترك غیر اولی پر مدارات خلق ومراعات قلوب کو اہم جانے اور فتنہ ونفرت وایذا ووحشت کا باعث ہونے سے بہت بچے۔ اسی طرح جو عادات ورسوم خلق میں جاری ہوں اور شرع مطہر سے ان کی حرمت وشناعت نہ ثابت ہو ان میں اپنے ترفع وتنزہ کے لئے خلاف وجدائی نہ کرے کہ یہ سب امور ایتلاف وموانست کے معارض اور مراد ومحبوب شارع کے مناقض ہیں ہاں وہاں ہوشیار وگوش دار کہ یہ وہ نکتہ جمیلہ وحکمت جلیلہ وکوچہ سلامت وجادہ کرامت ہے جس سے بہت زاہدان خشك واہل تکشف غافل وجاہل ہوتے ہیں وہ اپنے زعم میں محتاط ودین پرور بنتے ہیں اور فی الواقع مغز حکمت ومقصود شریعت سے دور پڑتے ہیں خبردار ومحکم گیر یہ چند سطروں میں علم غزیر وباللہالتوفیق والیہ المصیر (یہ سب اللہتعالی کی توفیق سے ہے اور اسی کی طرف رجوع کرنا ہے۔ ت)
قال الامام حجۃ الاسلام حکیم الامۃ کاشف الغمۃ ابوحامد محمد بن محمد بن محمد الغزالی رضی الله تعالی عنہ فی الاحیاء المبارك اقول لیس لہ ان یسألہ بل ان کان یتورع فیتلطف فی الترك و ان کان لابد لہ فلیأکل بغیر سوأل ایذاء
حجۃ الاسلام حکیم الامہ کاشف الغمہ امام ابوحامد محمد بن محمد بن محمد غزالی رضی اللہ تعالی عنہنے احیاء العلوم شریف میں فرمایا : “ میں کہتا ہوں (جس کو دعوت دی گئی) اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس (داعی) سے سوال کرے بلکہ اگر وہ تقوی اختیار کرنا چاہتا ہے تو نرمی کے ساتھ چھوڑ دے اور اگر (دعوت میں) جانا ضروری ہو تو پوچھے بغیر کھائے کیونکہ سوال
وہ (لوگ) انہیں راضی کریں اگر وہ ایمان دار ہیں “ ۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ اللہتعالی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں فرمانبرداری صرف نیك امور میں ہے “ اس حدیث کو امام بخاری مسلم ابوداؤد اور نسائی نے حضرت علی کرم اللہوجہہ سے روایت کیا ہے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں “ ۔ اسے امام احمد اور محمد حاکم نے حضرت عمران اور حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ تعالی عنہمسے روایت کیا۔ (ت)
پس ان امور میں ضابطہ کلیہ واجبۃ الحفظ یہ ہے کہ فعل فرائض وترك محرمات کو ارضائے خلق پر مقدم رکھے اور ان امور میں کسی کی مطلقا پروانہ کرے اور اتیان مستحب وترك غیر اولی پر مدارات خلق ومراعات قلوب کو اہم جانے اور فتنہ ونفرت وایذا ووحشت کا باعث ہونے سے بہت بچے۔ اسی طرح جو عادات ورسوم خلق میں جاری ہوں اور شرع مطہر سے ان کی حرمت وشناعت نہ ثابت ہو ان میں اپنے ترفع وتنزہ کے لئے خلاف وجدائی نہ کرے کہ یہ سب امور ایتلاف وموانست کے معارض اور مراد ومحبوب شارع کے مناقض ہیں ہاں وہاں ہوشیار وگوش دار کہ یہ وہ نکتہ جمیلہ وحکمت جلیلہ وکوچہ سلامت وجادہ کرامت ہے جس سے بہت زاہدان خشك واہل تکشف غافل وجاہل ہوتے ہیں وہ اپنے زعم میں محتاط ودین پرور بنتے ہیں اور فی الواقع مغز حکمت ومقصود شریعت سے دور پڑتے ہیں خبردار ومحکم گیر یہ چند سطروں میں علم غزیر وباللہالتوفیق والیہ المصیر (یہ سب اللہتعالی کی توفیق سے ہے اور اسی کی طرف رجوع کرنا ہے۔ ت)
قال الامام حجۃ الاسلام حکیم الامۃ کاشف الغمۃ ابوحامد محمد بن محمد بن محمد الغزالی رضی الله تعالی عنہ فی الاحیاء المبارك اقول لیس لہ ان یسألہ بل ان کان یتورع فیتلطف فی الترك و ان کان لابد لہ فلیأکل بغیر سوأل ایذاء
حجۃ الاسلام حکیم الامہ کاشف الغمہ امام ابوحامد محمد بن محمد بن محمد غزالی رضی اللہ تعالی عنہنے احیاء العلوم شریف میں فرمایا : “ میں کہتا ہوں (جس کو دعوت دی گئی) اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اس (داعی) سے سوال کرے بلکہ اگر وہ تقوی اختیار کرنا چاہتا ہے تو نرمی کے ساتھ چھوڑ دے اور اگر (دعوت میں) جانا ضروری ہو تو پوچھے بغیر کھائے کیونکہ سوال
حوالہ / References
مسند امام احمد بن حنبل عن علی مطبوعہ دارالکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۱۲۹
وھتك ستر و ایحاش وھو حرام بلاشك فان قلت لعلہ لایتأذی فاقول لعلہ یتأذی فانت تسأل حذرا من “ لعل “ فان قنعت بلعل فلعل مالہ حلال والغالب علی الناس الاستیحاش بالتفتیش ولایجوزلہ ان یسأل عن غیرہ من حیث یدری ھو بہ فان الایذاء فی ذلك اکثر وان سأل من حیث لایدری ھو ففیہ اساء ۃ ظن وھتك ستروفیہ تجس وفیہ تسبیب للغیبۃ وان لم یکن ذلك صریحا وکل ذلك منھی عنہ فی ایۃ واحدۃ وکم من زاھد جاھل یوحش القلوب فی التفتیش ویتکلم بالکلام الخشن المؤذی وانما یحسن الشیطان ذلك عندہ طلبا للشھرۃ باکل الحلال ولوکان باعثہ محض الدین لکان خوفہ علی قلب مسلم ان یتأذی اشد من خوفہ علی بطنہ ان یدخلہ مالایدری وھو غیر مؤاخذ بمالایدری اذالم یکن ثم علامۃ توجب الاجتناب فلیعلم ان طریق الورع الترك دون التجسس واذالم یکن بدمن الاکل فالورع الاکل واحسان الظن ھذا ھو المألوف من الصحابہ رضی اللہ
کرنے میں ایذار سانی پردہ دری اور وحشت پیدا کرنا ہے اور یہ بلاشبہہ حرام ہے۔ اگر تم کہو کہ شاید اسے ایذا نہ پہنچے۔ تو میں کہوں گا شاید اسے تکلیف پہنچے اور تم لفظ “ لعل “ “ شاید “ پر قناعت کرتے تو اچھا تھا کیونکہ ممکن ہے اس کا مال حلال ہو (یعنی اس کو حرام نہ سمجھتے) اور غالب بات یہ ہے کہ تفتیش سے لوگوں کو وحشت ہوتی ہے اور جب وہ جانتا ہو تو اس کے لئے جائز نہیں کہ دوسرے سے سوال کرے کیونکہ اس میں ایذا رسانی زیادہ ہے اور اگر یوں پوچھتا ہے کہ اسے معلوم نہیں تو اس میں بدگمانی اور پردہ دری ہے نیز اس میں تجسس ہے جو غیبت کا باعث بنتا ہے اگرچہ یہ صریح نہ ہو اور یہ تمام باتیں ایك آیت (سورہ حجرات آیت ۱۲) میں ممنوع قرار دی گئی ہیں اور کتنے ہی جاہل زاہد ہیں جو تفتیش کے ذریعے دلوں میں وحشت پیدا کرتے ہیں اور نہایت سخت اور ایذا رساں کلام استعمال کرتے ہیں درحقیقت شیطان اس کی نظروں میں اسے اچھا قرار دیتا ہے تاکہ وہ حلال خور مشہور ہو اور اگر اس کا باعث محض دین ہو تو پھر مسلمانوں کے دل کو اذیت پہنچانے کا خوف ایسی چیز کو پیٹ میں داخل کرنے کے خوف سے زیادہ ہے جس کے بارے میں وہ نہیں جانتا کیونکہ جس بات کو وہ نہیں جانتا اس پر مواخذہ نہیں ہوگا۔ جب وہاں ایسی علامت نہ ہو جس کی وجہ سے اجتناب لازم ہوتا ہے تو جان لو پرہیزگاری ترك سوال میں ہے تجسس میں نہیں اور اگر کھانا ضروری ہوتو کھانے اور اچھا گمان کرنے میں پرہیزگاری ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکو یہی طریقہ پسند ہے اور جو
کرنے میں ایذار سانی پردہ دری اور وحشت پیدا کرنا ہے اور یہ بلاشبہہ حرام ہے۔ اگر تم کہو کہ شاید اسے ایذا نہ پہنچے۔ تو میں کہوں گا شاید اسے تکلیف پہنچے اور تم لفظ “ لعل “ “ شاید “ پر قناعت کرتے تو اچھا تھا کیونکہ ممکن ہے اس کا مال حلال ہو (یعنی اس کو حرام نہ سمجھتے) اور غالب بات یہ ہے کہ تفتیش سے لوگوں کو وحشت ہوتی ہے اور جب وہ جانتا ہو تو اس کے لئے جائز نہیں کہ دوسرے سے سوال کرے کیونکہ اس میں ایذا رسانی زیادہ ہے اور اگر یوں پوچھتا ہے کہ اسے معلوم نہیں تو اس میں بدگمانی اور پردہ دری ہے نیز اس میں تجسس ہے جو غیبت کا باعث بنتا ہے اگرچہ یہ صریح نہ ہو اور یہ تمام باتیں ایك آیت (سورہ حجرات آیت ۱۲) میں ممنوع قرار دی گئی ہیں اور کتنے ہی جاہل زاہد ہیں جو تفتیش کے ذریعے دلوں میں وحشت پیدا کرتے ہیں اور نہایت سخت اور ایذا رساں کلام استعمال کرتے ہیں درحقیقت شیطان اس کی نظروں میں اسے اچھا قرار دیتا ہے تاکہ وہ حلال خور مشہور ہو اور اگر اس کا باعث محض دین ہو تو پھر مسلمانوں کے دل کو اذیت پہنچانے کا خوف ایسی چیز کو پیٹ میں داخل کرنے کے خوف سے زیادہ ہے جس کے بارے میں وہ نہیں جانتا کیونکہ جس بات کو وہ نہیں جانتا اس پر مواخذہ نہیں ہوگا۔ جب وہاں ایسی علامت نہ ہو جس کی وجہ سے اجتناب لازم ہوتا ہے تو جان لو پرہیزگاری ترك سوال میں ہے تجسس میں نہیں اور اگر کھانا ضروری ہوتو کھانے اور اچھا گمان کرنے میں پرہیزگاری ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہمکو یہی طریقہ پسند ہے اور جو
تعالی عنھم ومن زاد علیھم فی الورع فھوضال مبتدع ولیس بمتبع اھ ملخصا۔
وفیہ قال الحارث المحاسبی رحمہ الله تعالی لوکان لہ صدیق اواخ وھو یأمن غضبہ لوسألہ فلاینبغی ان یسألہ لاجل الورع لانہ ربما یبدو لہ ماکان مستور عنہ فیکون قدحملہ علی ھتك الستر ثم یؤدی ذلك الی البغضاء وان رابہ منہ شیئ ایضالم یسألہ ویظن بہ انہ یطعمہ من الطیب ویجنبہ الخبیث فان کان لایطمئن قلبہ الیہ فلیحترز متلطفا ولایھتك سترہ بالسؤال لانی لم ار احدا من العلماء فعلہ اھ ملخصا۔
وفی الطریقۃ والحدیقۃ مالا یدرك کلہ وھو الاحتراز عن الشبھات کلھا فی جمیع المعاملات لایترك کلہ فالاولی والاحوط الاحتراز ممافیہ امارۃ ظاھرۃ للحرمۃ وھی الشبھۃ القویۃ وممن لہ شھرۃ تامۃ بالظلم والغصب اوالسرقۃ
شخص پرہیز گاری کے سلسلے میں ان سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے وہ گمراہ اور بدعتی ہے مطیع نہیں ہے تلخیص۔
اور اسی سلسلے میں حضرت حارث محاسبی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا : “ اگر کسی شخص کا دوست یا بھائی ہو اور سوال کرنے میں اس کی ناراضگی کا ڈر نہ ہو تو بھی پرہیزگاری کے حصول کیلئے سوال کرنا مناسب نہیں کیونکہ بعض اوقات اس کے سامنے وہ بات ظاہر ہوجاتی ہے جو اس سے پوشیدہ رکھی گئی ہے پس وہ اسے پردہ دری پر برانگیختہ کرے گی پھر دشمنی تك پہنچائے گی اور اگر اسے اس میں کچھ شك ہو تب بھی سوال نہ کرے بلکہ اس کے بارے میں یہی گمان رکھے کہ وہ اسے پاکیزہ چیزیں کھلاتا اور خبیث چیزوں سے دور رکھتا ہے اگر اس پر اس کا دل مطمئن نہ ہو تو نہایت نرم طریقے سے کنارہ کش ہوجائے لیکن سوال کرکے اس کی پردہ دری نہ کرے کیونکہ میں نے کسی عالم کو ایسا کرتے نہیں دیکھا تلخیص۔ اور الطریقۃ المحمدیہ اور الحدیقۃ الندیہ میں ہے “ جس چیز کو مکمل طور پر نہ پایا جاسکے اور وہ تمام معاملات میں ہر قسم کے شبہے سے بچنا ہے تو سب کو نہ چھوڑا جائے پس زیادہ بہتر اور مناسب یہ ہے کہ ان چیزوں سے احتراز کیا جائے جن میں حرمت کی نشانی واضح ہے اور وہ قوی شبہ ہے اور اسی طرح اس سے بھی اجتناب کیا جائے جو ظلم غصب چوری خیانت اور دھوکادہی وغیرہ
وفیہ قال الحارث المحاسبی رحمہ الله تعالی لوکان لہ صدیق اواخ وھو یأمن غضبہ لوسألہ فلاینبغی ان یسألہ لاجل الورع لانہ ربما یبدو لہ ماکان مستور عنہ فیکون قدحملہ علی ھتك الستر ثم یؤدی ذلك الی البغضاء وان رابہ منہ شیئ ایضالم یسألہ ویظن بہ انہ یطعمہ من الطیب ویجنبہ الخبیث فان کان لایطمئن قلبہ الیہ فلیحترز متلطفا ولایھتك سترہ بالسؤال لانی لم ار احدا من العلماء فعلہ اھ ملخصا۔
وفی الطریقۃ والحدیقۃ مالا یدرك کلہ وھو الاحتراز عن الشبھات کلھا فی جمیع المعاملات لایترك کلہ فالاولی والاحوط الاحتراز ممافیہ امارۃ ظاھرۃ للحرمۃ وھی الشبھۃ القویۃ وممن لہ شھرۃ تامۃ بالظلم والغصب اوالسرقۃ
شخص پرہیز گاری کے سلسلے میں ان سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے وہ گمراہ اور بدعتی ہے مطیع نہیں ہے تلخیص۔
اور اسی سلسلے میں حضرت حارث محاسبی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا : “ اگر کسی شخص کا دوست یا بھائی ہو اور سوال کرنے میں اس کی ناراضگی کا ڈر نہ ہو تو بھی پرہیزگاری کے حصول کیلئے سوال کرنا مناسب نہیں کیونکہ بعض اوقات اس کے سامنے وہ بات ظاہر ہوجاتی ہے جو اس سے پوشیدہ رکھی گئی ہے پس وہ اسے پردہ دری پر برانگیختہ کرے گی پھر دشمنی تك پہنچائے گی اور اگر اسے اس میں کچھ شك ہو تب بھی سوال نہ کرے بلکہ اس کے بارے میں یہی گمان رکھے کہ وہ اسے پاکیزہ چیزیں کھلاتا اور خبیث چیزوں سے دور رکھتا ہے اگر اس پر اس کا دل مطمئن نہ ہو تو نہایت نرم طریقے سے کنارہ کش ہوجائے لیکن سوال کرکے اس کی پردہ دری نہ کرے کیونکہ میں نے کسی عالم کو ایسا کرتے نہیں دیکھا تلخیص۔ اور الطریقۃ المحمدیہ اور الحدیقۃ الندیہ میں ہے “ جس چیز کو مکمل طور پر نہ پایا جاسکے اور وہ تمام معاملات میں ہر قسم کے شبہے سے بچنا ہے تو سب کو نہ چھوڑا جائے پس زیادہ بہتر اور مناسب یہ ہے کہ ان چیزوں سے احتراز کیا جائے جن میں حرمت کی نشانی واضح ہے اور وہ قوی شبہ ہے اور اسی طرح اس سے بھی اجتناب کیا جائے جو ظلم غصب چوری خیانت اور دھوکادہی وغیرہ
حوالہ / References
احیاء العلوم الباب الثالث فی البحث والسؤال المثار الاول مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ۲ / ۱۱۹
احیاء العلوم الباب الثالث فی البحث والسؤال المثار الثانی مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۲ / ۱۲۴
احیاء العلوم الباب الثالث فی البحث والسؤال المثار الثانی مطبعۃ المشہد الحسینی قاہرہ ۲ / ۱۲۴
اوالخانیۃ اوالتزویر اونحوھا من الربو والمکس فی الاموال وقطع الطریق ممایمکن الاحتراز عنہ من غیر ترك مافعلہ اولی منہ ای من ترکہ اوفعل ما ترکہ کذلك ای اولی من فعلہ وھذا احتراز عما اذا ترتب علی اجتنابہ عن اموال من ذکروترك الاحترام لھم اذاکانوا ممایجب احترامھم اوینبغی لہ کاسلاطین والحکام وقضاۃ الشرع والابوین والاستاذ والمعلم عـــہ۱ والکبیر فی السن وشیخ المحلۃ والصدیق ولاینبغی بل لایجوز اساءۃ الظن بھم ومتی ادی ذلك الی شیئ من ھذا لم یکن الاولی ولا الاحتیاط الاحتراز عن تلك الشبھات لما یعارضھا من ترك الاحترام اواساء ۃ الظن بمن یجب اوینبغی احترامہ ولایحسن عـــہ۲ اساء ۃ الظن بہ وھذا من اصعب الامور یرید المستحب فیقع فی الحرام اھ ملخصا۔
مثلا سود کھانے مالی نقصان پہنچانے اور ڈاکہ زنی میں مشہور ہو یہ وہ چیزیں ہیں کہ اولی کو چھوڑے بغیر بھی ان سے اجتناب ممکن ہے مراد یہ ہے کہ اس پر عمل اسے چھوڑنے سے اولی ہے اسی طرح جس چیز کا چھوڑنا اسے بجالانے سے بہتر ہے اسے کئے بغیر بھی ان چیزوں سے اجتناب ہوسکتا ہے۔ یہ بات کہ جن لوگوں کا ذکر کیا گیا ان کے مال سے بچنے کی بنا پر ان کے احترام کو چھوڑنا لازم آتا ہے یہ اس بات سے احتراز ہے کہ جب وہ ایسے لوگ ہوں جن کا احترام واجب یا مناسب ہے جیسے بادشاہ حکام قاضی شرع ماں باپ استاذ معلم عمر رسیدہ محلہ کے بزرگ اور دوست تو ان کے بارے میں بدگمانی نامناسب بلکہ ناجائز ہے اور جب یہ بات (ان کی دعوت سے احتراز) ایسی بات کی طرف پہنچائے تو ان شبہات سے بچنا نہ تو اولی ہے اور نہ ہی زیادہ محتاط کیونکہ اس صورت میں ان لوگوں کا احترام چھوڑنا پڑتا ہے اور ان کے بارے میں بدگمانی پیدا ہوتی ہے جن کا احترام واجب یا مناسب ہے اور ان کے بارے میں بدگمانی (جائز) نہیں یہ نہایت مشکل کام ہے وہ مستحب کا ارادہ کرتے کرتے حرام میں پڑ جائے گا تلخیص (ت)
عـــہ۱ : ای ولولحرفۃ من الحرف کماذکرہ العارف النابلسی بنفسہ فی بعض المواضع من ھذا الشرح ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : ای لایجوز کماسبق ۱۲ (م)
یعنی پیشوں میں سے اگرچہ وہ کسی بھی پیشے کا معلم ہو جیسا کہ خود عارف نابلسی نے اسی شرح کے بعض مواضع پر اس کا ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
یعنی لایجوز (ناجائز ہے) جیسا کہ گزرا ۲۱ (ت)
مثلا سود کھانے مالی نقصان پہنچانے اور ڈاکہ زنی میں مشہور ہو یہ وہ چیزیں ہیں کہ اولی کو چھوڑے بغیر بھی ان سے اجتناب ممکن ہے مراد یہ ہے کہ اس پر عمل اسے چھوڑنے سے اولی ہے اسی طرح جس چیز کا چھوڑنا اسے بجالانے سے بہتر ہے اسے کئے بغیر بھی ان چیزوں سے اجتناب ہوسکتا ہے۔ یہ بات کہ جن لوگوں کا ذکر کیا گیا ان کے مال سے بچنے کی بنا پر ان کے احترام کو چھوڑنا لازم آتا ہے یہ اس بات سے احتراز ہے کہ جب وہ ایسے لوگ ہوں جن کا احترام واجب یا مناسب ہے جیسے بادشاہ حکام قاضی شرع ماں باپ استاذ معلم عمر رسیدہ محلہ کے بزرگ اور دوست تو ان کے بارے میں بدگمانی نامناسب بلکہ ناجائز ہے اور جب یہ بات (ان کی دعوت سے احتراز) ایسی بات کی طرف پہنچائے تو ان شبہات سے بچنا نہ تو اولی ہے اور نہ ہی زیادہ محتاط کیونکہ اس صورت میں ان لوگوں کا احترام چھوڑنا پڑتا ہے اور ان کے بارے میں بدگمانی پیدا ہوتی ہے جن کا احترام واجب یا مناسب ہے اور ان کے بارے میں بدگمانی (جائز) نہیں یہ نہایت مشکل کام ہے وہ مستحب کا ارادہ کرتے کرتے حرام میں پڑ جائے گا تلخیص (ت)
عـــہ۱ : ای ولولحرفۃ من الحرف کماذکرہ العارف النابلسی بنفسہ فی بعض المواضع من ھذا الشرح ۱۲ منہ (م)
عـــہ۲ : ای لایجوز کماسبق ۱۲ (م)
یعنی پیشوں میں سے اگرچہ وہ کسی بھی پیشے کا معلم ہو جیسا کہ خود عارف نابلسی نے اسی شرح کے بعض مواضع پر اس کا ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
یعنی لایجوز (ناجائز ہے) جیسا کہ گزرا ۲۱ (ت)
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ بیان حکم التورع والتوقی من طعام اہل الوظائف مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۴۰
اقول : وھو کماتری صریح اوکالصریح فی ترك السؤال ولوکان اکثر مالہ من الحرام فانہ ذکر المشھورین بالسرقۃ وقطع الطریق والغصب والربو ولم یفصل مطلقا اما الامام حجۃ الاسلام فجنح عند کثرۃ الحرام الی ایجاب السؤال وقال انما اوجبنا السؤال اذا تحقق ان اکثر مالہ حرام وعند ذلك لایبالی بغضب مثلہ بل یجب ایذاء الظالم باکثر من ذلك والغالب ان مثل ھذا لایغضب من السؤال اھ
قلت ومبنی ذلك تحریمہ الاکل عند من غالب مالہ حرام فیدخل فی القسم الاول الذی ذکرنا انہ لایبالی فیہ بسخط احد ولا لومۃ لائم وھذا وجہ عند مشایخنا وبہ افتی الفقیہ السمرقندی وغیرہ وصححہ فی الذخیرۃ والصحیح المختار فی المذھب المعول علیہ المفتی بہ اطلاق الرخصۃ مالم یعرف شیأ حراما بعینہ وھو مذھب ابراھیم النخعی وابی حنیفۃ واصحابہ قال محمد وبہ ناخذ فانی یعارض فتوی ابی اللیث فتوی ابی حنیفۃ وتصحیح الذخیرۃ ترجیح محمد۔
وابوحنیفۃ ھوالامام اقول : یہ ترك سوال میں صریح یا صریح کی طرح ہے جیسا کہ دیکھ رہے ہو اور اگر اس کا زیادہ مال حرام (کی کمائی) سے ہوتو وہ چوری ڈاکے غصب اور سود میں مشہور لوگوں کا ذکر کرے لیکن تفصیل میں مطلقا نہ جائے امام حجۃ الاسلام کا میلان حرام مال زیادہ ہونے کی صورت میں وجوب سوال کی طرف ہے انہوں نے فرمایا ہم نے اس صورت میں سوال کرنا واجب قرار دیا ہے جب ثابت ہوجائے کہ اس کا زیادہ مال حرام ہے اس حالت میں اس کے غصہ وغیرہ کی پروانہ کی جائے بلکہ ظالم کو اس سے بھی زیادہ ایذا پہنچانا واجب ہے اور غالب یہ ہے کہ اس قسم کا آدمی ایسے سوال پر غصہ نہیں کرتا اھ (ت)
قلت اس کی بنیاد یہ ہے کہ جس کا اکثر مال حرام ہو اس کے ہاں کھانا حرام ہے یہ پہلی قسم میں داخل ہوگا جس کا ہم نے ذکر کیا کہ اس سلسلے میں کسی کی ناراضگی کی پروانہ کرے اور نہ ہی کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈرے ہمارے مشایخ کے نزدیك یہ زیادہ مناسب ہے فقیہ سمرقندی وغیرہ نے اسی پر فتوی دیا ہے ذخیرہ میں اسے صحیح قرار دیا اور قابل اعتماد مذہب اور مفتی بہ قول میں صحیح اور مختار بات مطلق رخصت ہے جب تك کسی معین چیز کا حرام ہونا معلوم نہ ہو ابراہیم نخعی امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب کا یہی مذہب ہے۔ امام محمد فرماتے ہیں ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں پس ابواللیث کا فتوی امام ابوحنیفہ کے فتوی کا اور تصحیح ذخیرہ امام محمد کی ترجیح کا معارض کیسے ہوگا حالانکہ امام ابوحنیفہ جو امام اعظم ہیں۔
قلت ومبنی ذلك تحریمہ الاکل عند من غالب مالہ حرام فیدخل فی القسم الاول الذی ذکرنا انہ لایبالی فیہ بسخط احد ولا لومۃ لائم وھذا وجہ عند مشایخنا وبہ افتی الفقیہ السمرقندی وغیرہ وصححہ فی الذخیرۃ والصحیح المختار فی المذھب المعول علیہ المفتی بہ اطلاق الرخصۃ مالم یعرف شیأ حراما بعینہ وھو مذھب ابراھیم النخعی وابی حنیفۃ واصحابہ قال محمد وبہ ناخذ فانی یعارض فتوی ابی اللیث فتوی ابی حنیفۃ وتصحیح الذخیرۃ ترجیح محمد۔
وابوحنیفۃ ھوالامام اقول : یہ ترك سوال میں صریح یا صریح کی طرح ہے جیسا کہ دیکھ رہے ہو اور اگر اس کا زیادہ مال حرام (کی کمائی) سے ہوتو وہ چوری ڈاکے غصب اور سود میں مشہور لوگوں کا ذکر کرے لیکن تفصیل میں مطلقا نہ جائے امام حجۃ الاسلام کا میلان حرام مال زیادہ ہونے کی صورت میں وجوب سوال کی طرف ہے انہوں نے فرمایا ہم نے اس صورت میں سوال کرنا واجب قرار دیا ہے جب ثابت ہوجائے کہ اس کا زیادہ مال حرام ہے اس حالت میں اس کے غصہ وغیرہ کی پروانہ کی جائے بلکہ ظالم کو اس سے بھی زیادہ ایذا پہنچانا واجب ہے اور غالب یہ ہے کہ اس قسم کا آدمی ایسے سوال پر غصہ نہیں کرتا اھ (ت)
قلت اس کی بنیاد یہ ہے کہ جس کا اکثر مال حرام ہو اس کے ہاں کھانا حرام ہے یہ پہلی قسم میں داخل ہوگا جس کا ہم نے ذکر کیا کہ اس سلسلے میں کسی کی ناراضگی کی پروانہ کرے اور نہ ہی کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈرے ہمارے مشایخ کے نزدیك یہ زیادہ مناسب ہے فقیہ سمرقندی وغیرہ نے اسی پر فتوی دیا ہے ذخیرہ میں اسے صحیح قرار دیا اور قابل اعتماد مذہب اور مفتی بہ قول میں صحیح اور مختار بات مطلق رخصت ہے جب تك کسی معین چیز کا حرام ہونا معلوم نہ ہو ابراہیم نخعی امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب کا یہی مذہب ہے۔ امام محمد فرماتے ہیں ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں پس ابواللیث کا فتوی امام ابوحنیفہ کے فتوی کا اور تصحیح ذخیرہ امام محمد کی ترجیح کا معارض کیسے ہوگا حالانکہ امام ابوحنیفہ جو امام اعظم ہیں۔
حوالہ / References
احیاء العلوم الباب الثالث فی البحث والسؤال المثار الثانی مطبعۃ المشہد الحسینی القاہرہ ۲ / ۱۲۴
الاعظم ومحمد ھو المحرر للمذھب فلذا اطلق العلامۃ البرکلی القول وتبعناہ فی ذلك لکن یظھرلی ان التورع محمود فی نفسہ وقدمدح فی احادیث متواترۃ المعنی فصلنا جملۃ منھا فی کتابنا المبارك ان شاء الله تعالی مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین “ وانما یترك حیث یترك لاجل عارضۃ اقوی مالی اقول یترك کلا لایترك ولکن ح یکون الورع فی ترك مایظنہ المتقشف ورعا فحیث لا توجد العوارض کالایذاء وھتك الستر واثارۃ الفتنۃ کماوصفنا لك من شان ذاك الجرئ المجاھر فلامعنی لترك الرعۃ ح مع وجود المقتضی وعدم المانع فلذا ذھبنا الی استثنائہ والله الموفق ھذا وفی عین العلم والاسرار بالمساعدۃ فیما لم ینہ عنہ وصار معتادا فی عصرھم حسن وان کان بدعۃ اھ ای حسنۃ اوفی العادات کمایفیدہ التقیید بمالم ینہ عنہ ومثلہ فی الاحیاء والله تعالی اعلم۔
اور امام محمد ان کے مذہب کو تحریر کرنے والے ہیں اسی لئے علامہ برکلی کا قول مطلق ہے اور ہم نے اس سلسلے میں اس کی اتباع کی لیکن مجھ پر ظاہر ہوا کہ ذاتی طور پر پرہیزگاری قابل تعریف ہے احادیث متواتر المعنی میں اس کی تعریف آئی ہے ہم ان میں سے کچھ (احادیث) اپنی مبارك کتاب “ مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین “ میں تفصیل سے نقل کریں گے ان شاء الله تعالی جہاں چھوڑا جاتا ہے وہاں کسی نہایت مضبوط عارضہ کی وجہ سے چھوڑا جاتا ہے مجھے کیا ہے کہ میں کہوں کہ چھوڑا جائے ہرگز نہیں چھوڑا جائے لیکن اس وقت پرہیزگاری اس چیز کو چھوڑنے میں ہوگی جس کو حقیقت حال معلوم کرنے والا پرہیزگاری خیال کرتا ہے پس جہاں ایذاء رسانی پردہ دری اور فتنہ پروری جیسے عوارض نہیں پائے جائیں گے جیسا کہ ہم نے تمہارے لئے اس جرأت مند اعلانیہ روکنے والے کی شان بیان کی وہاں پرہیزگاری چھوڑنے کا کوئی مطلب نہیں کیونکہ وہاں اس سے (پوچھ گچھ) کا مقتضی بھی موجود ہے اور کوئی مانع بھی نہیں اسی لئے ہم نے اس کے استشناء کا راستہ اپنایا ہے واللہالموفق ہذا۔ اور “ عین العلم والاسرار بالمساعدۃ “ میں ہے کہ جس چیز سے روکا نہیں گیا اور وہ ان کے زمانے میں عادت بن گئی ہو وہ اچھی چیز ہے اگرچہ وہ بدعت حسنہ ہی ہو یا وہ عادات ہوں جیسا کہ “ اس سے نہ روکا گیا ہو “ کی قید سے فائدہ حاصل ہوتا ہے احیاء العلوم میں بھی اسی کی مثل ہے و الله تعالی اعلم۔ (ت)
___________________
اور امام محمد ان کے مذہب کو تحریر کرنے والے ہیں اسی لئے علامہ برکلی کا قول مطلق ہے اور ہم نے اس سلسلے میں اس کی اتباع کی لیکن مجھ پر ظاہر ہوا کہ ذاتی طور پر پرہیزگاری قابل تعریف ہے احادیث متواتر المعنی میں اس کی تعریف آئی ہے ہم ان میں سے کچھ (احادیث) اپنی مبارك کتاب “ مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین “ میں تفصیل سے نقل کریں گے ان شاء الله تعالی جہاں چھوڑا جاتا ہے وہاں کسی نہایت مضبوط عارضہ کی وجہ سے چھوڑا جاتا ہے مجھے کیا ہے کہ میں کہوں کہ چھوڑا جائے ہرگز نہیں چھوڑا جائے لیکن اس وقت پرہیزگاری اس چیز کو چھوڑنے میں ہوگی جس کو حقیقت حال معلوم کرنے والا پرہیزگاری خیال کرتا ہے پس جہاں ایذاء رسانی پردہ دری اور فتنہ پروری جیسے عوارض نہیں پائے جائیں گے جیسا کہ ہم نے تمہارے لئے اس جرأت مند اعلانیہ روکنے والے کی شان بیان کی وہاں پرہیزگاری چھوڑنے کا کوئی مطلب نہیں کیونکہ وہاں اس سے (پوچھ گچھ) کا مقتضی بھی موجود ہے اور کوئی مانع بھی نہیں اسی لئے ہم نے اس کے استشناء کا راستہ اپنایا ہے واللہالموفق ہذا۔ اور “ عین العلم والاسرار بالمساعدۃ “ میں ہے کہ جس چیز سے روکا نہیں گیا اور وہ ان کے زمانے میں عادت بن گئی ہو وہ اچھی چیز ہے اگرچہ وہ بدعت حسنہ ہی ہو یا وہ عادات ہوں جیسا کہ “ اس سے نہ روکا گیا ہو “ کی قید سے فائدہ حاصل ہوتا ہے احیاء العلوم میں بھی اسی کی مثل ہے و الله تعالی اعلم۔ (ت)
___________________
حوالہ / References
عین العلم باب فی الصمت واٰفۃ اللسان مطبوعہ مطبع اسلامیہ لاہور ص۲۰۶
تمت المقدمات
(مقدمات پورے ہوگئے۔ت)
وضع ضابطہ کلیہ دریں باب وتفرقہ درحکم عظام وشراب
اس باب میں ضابطہ کلیہ کا بیان اور شراب اور ہڈیوں کے حکم میں فرق کا بیان
اقول : وبالله التوفیق
واضح ہوکہ کسی شے حرام خواہ نجس کے دوسری چیز میں خلط ہونے پر یقین دو۲ قسم ہے :
(۱) شخصی یعنی ایك فرد خاص کی نسبت تیقن مثلا آنکھوں سے دیکھا کہ اس کنویں میں نجاست گری ہے۔
(۲) اورنوعی یعنی عـــہ مطلق نوع کی نسبت یقین۔ اور اس کی پھر دو۲ قسمیں ہیں :
ایك اجمالی یعنی اس قدر ثابت کہ اس نوع میں اختلاط واقع ہوتا ہے نہ یہ کہ علی العموم اس کے ہر فرد کی نسبت علم ہو جیسے کفار کے برتن کپڑے کنویں۔ دوسرا کلی یعنی نوع کی نسبت بروجہ شمول وعموم ودوام والتزام اس معنی کا ثبوت ہو مثلا تحقیق پائے کہ فلاں نجس یا حرام چیز اس ترکیب کا جزوخاص ہے کہ جب بناتے ہیں اسے شریك کرتے ہیں اور یہ وہیں ہوگا کہ بنانے والوں کو بالخصوص اس کے ڈالنے سے کوئی غرض خاص مقصود ہو ورنہ بلاوجہ التزام متیقن نہیں ہوسکتا جیسے پانی وغیرہ کسی شے کو ہڈیوں سے صاف کریں کہ تصفیہ میں ناپاك یا حرام استخواں کی کوئی خصوصیت نہیں جو مقصود ان سے حاصل پا ك و حلا ل ہڈیوں سے بھی قطعا متیسر کمالایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت)
اور وہ اشیاء بھی جن کا کسی ماکول ومشروب یا اور استعمالی چیزوں میں خلط سنا جانا موجب تردد وتشویش وباعث سوال وتفتیش ہو دو۲ قسم ہیں :
ایك مامنہ محذور یعنی وہ جن میں ہر قسم کے افراد موجود بعض ان میں حرام ونجس بھی ہیں اور بعض حلال وطاہر جیسے عظام یہاں منشاء تو ہم صرف ان لوگوں کا بیباك ونامحتاط ہونا ہے جن کے اہتمام سے وہ چیز بنتی ہے کہ جب ان اشیاء میں حرام ونجس بھی موجود اور ان کو پرواہ واحتیاط مفقود تو کیا خبر کہ یہاں کس قسم کی چیز ڈالی گئی ہے اسی لئے جب وہ کارخانہ ثقہ مسلمانوں کے تعلق ہو تو خاطر پر اصلا تردد نہ آئے گا اور صدور محذور کی طرف ذہن سلیم نہ جائے گا۔
عـــہ : اراد بالنوع مالیس بشخص بدلیل المقابلۃ فیعم الصنف والجنس ۱۲ منہ (م)
نوع سے مراد وہ ہے جو شخصی نہ ہو کیونکہ یہاں نوعی شخصی کے مقابل ہے تو یہ نوع اور جنس دونوں کو عام ہوگی ۱۲ منہ (ت)
(مقدمات پورے ہوگئے۔ت)
وضع ضابطہ کلیہ دریں باب وتفرقہ درحکم عظام وشراب
اس باب میں ضابطہ کلیہ کا بیان اور شراب اور ہڈیوں کے حکم میں فرق کا بیان
اقول : وبالله التوفیق
واضح ہوکہ کسی شے حرام خواہ نجس کے دوسری چیز میں خلط ہونے پر یقین دو۲ قسم ہے :
(۱) شخصی یعنی ایك فرد خاص کی نسبت تیقن مثلا آنکھوں سے دیکھا کہ اس کنویں میں نجاست گری ہے۔
(۲) اورنوعی یعنی عـــہ مطلق نوع کی نسبت یقین۔ اور اس کی پھر دو۲ قسمیں ہیں :
ایك اجمالی یعنی اس قدر ثابت کہ اس نوع میں اختلاط واقع ہوتا ہے نہ یہ کہ علی العموم اس کے ہر فرد کی نسبت علم ہو جیسے کفار کے برتن کپڑے کنویں۔ دوسرا کلی یعنی نوع کی نسبت بروجہ شمول وعموم ودوام والتزام اس معنی کا ثبوت ہو مثلا تحقیق پائے کہ فلاں نجس یا حرام چیز اس ترکیب کا جزوخاص ہے کہ جب بناتے ہیں اسے شریك کرتے ہیں اور یہ وہیں ہوگا کہ بنانے والوں کو بالخصوص اس کے ڈالنے سے کوئی غرض خاص مقصود ہو ورنہ بلاوجہ التزام متیقن نہیں ہوسکتا جیسے پانی وغیرہ کسی شے کو ہڈیوں سے صاف کریں کہ تصفیہ میں ناپاك یا حرام استخواں کی کوئی خصوصیت نہیں جو مقصود ان سے حاصل پا ك و حلا ل ہڈیوں سے بھی قطعا متیسر کمالایخفی (جیسا کہ مخفی نہیں۔ ت)
اور وہ اشیاء بھی جن کا کسی ماکول ومشروب یا اور استعمالی چیزوں میں خلط سنا جانا موجب تردد وتشویش وباعث سوال وتفتیش ہو دو۲ قسم ہیں :
ایك مامنہ محذور یعنی وہ جن میں ہر قسم کے افراد موجود بعض ان میں حرام ونجس بھی ہیں اور بعض حلال وطاہر جیسے عظام یہاں منشاء تو ہم صرف ان لوگوں کا بیباك ونامحتاط ہونا ہے جن کے اہتمام سے وہ چیز بنتی ہے کہ جب ان اشیاء میں حرام ونجس بھی موجود اور ان کو پرواہ واحتیاط مفقود تو کیا خبر کہ یہاں کس قسم کی چیز ڈالی گئی ہے اسی لئے جب وہ کارخانہ ثقہ مسلمانوں کے تعلق ہو تو خاطر پر اصلا تردد نہ آئے گا اور صدور محذور کی طرف ذہن سلیم نہ جائے گا۔
عـــہ : اراد بالنوع مالیس بشخص بدلیل المقابلۃ فیعم الصنف والجنس ۱۲ منہ (م)
نوع سے مراد وہ ہے جو شخصی نہ ہو کیونکہ یہاں نوعی شخصی کے مقابل ہے تو یہ نوع اور جنس دونوں کو عام ہوگی ۱۲ منہ (ت)
دوسرے ماہو محذور یعنی وہ کہ حرام مطلق یا نجس محض ہیں جن کا کوئی فرد حلال وطاہر نہیں جیسے شراب بجمیع اقسامھا علی مذھب محمد الماخوذ للفتوی (اپنی تمام اقسام کے ساتھ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکے مذہب کے مطابق اسی پر فتوی ہے۔ ت) یہاں باعث احتراز وتنزہ خود اس شے کی نفس حالت ہے نہ بنانے والوں کو جرأت وجسارت یہاں تك کہ ابتداء اہل کارخانہ کی وثاقت وعدالت معلوم ہونا اس مقام پر علاج اندیشہ نہ ہوگی بلکہ یہ سن کر ان کی وثاقت واحتیاط میں شك آسکتا ہے۔ اسی وجہ سے ان دو۲ صورتوں میں ہنگام نظر وتنقیح حکم بوجہ فرق واقع ہوتا ہے۔
صورت اولی میں مجرد اس شے مثلا استخواں کے پڑنے پر تیقن عام ازاں کہ شخصی ہو یا نوعی اجمالی ہو یا کلی خواہی نخواہی اس جزئی یا نوع میں مخالطت حرام یا نجس کا یقین نہیں دلاتا۔ ممکن کہ صرف افراد طیبہ ومباحہ استعمال میں آئے ہوں۔ اسی طرح خاص افراد محرمہ ونجسہ کے استعمال پر یقین نوعی اجمالی بھی علی الاطلاق تحریم وتنجیس کا مورث نہیں کہ ہر جزئی خاص میں استعمال فرد طاہر وحلال کا احتمال قائم ولہذا افراد قسمین کا بازار میں اختلاط مانع اشترا وتناول نہیں کہ کسی معین پر حکم بالجزم نہیں کرسکتے کماحققنا کل ذلك فی المقدمۃ الثامنۃ والتاسعۃ (جیسا کہ ہم نے آٹھویں اور نویں مقدمہ میں ان تمام باتوں کی تحقیق کی ہے۔ ت) بخلاف صورت ثانیہ کہ وہاں صرف اس کے پڑنے کا یقین شخصی خواہ نوعی کلی اس جزئی خاص یا تمام نوع کی تنجیس وتحریم میں بس ہے جس کے بعد کچھ کلام باقی نہیں رہتا اور وہ احتمالات کی بوجہ تنوع افراد صورت اولی میں متحقق ہوتے تھے یہاں قطعا منقطع کما لایخفی (جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ت) اسی طرح صورت اولی میں اگر بالخصوص افراد حرام وناپاك ہی پڑنے کا ایسا ہی یقین یعنی شخص یا نوعی کلی ہو تو اس کا بھی یہی حکم کہ اس تقدیر پر صورت اولی صورت ثانیہ کی طرف رجوع کر آئی۔
لانتفاء التنوع فی الافراد فان الیقین تعلق بخصوص الافراد المحرمۃ والنجسۃ وھی لاتتنوع الی محذور وغیر محذور۔
کیونکہ افراد میں تنوع کی نفی ہے پس یقین خاص حرام وناپاك افراد سے متعلق ہوگا اور وہ ممنوع وغیر ممنوع میں تقسیم نہیں ہوتا۔ (ت)
البتہ یقین نوعی اجمالی یہاں بھی بکار آمد نہیں کہ جب علی وجہ العموم والالتزام تیقن نہیں تو ہر فرد کی محفوظی محتمل جب تك کسی جزئی خاص کا حال تحقیق نہ ہوکہ اس وقت یہ یقین یقین شخصی کی طرف رجوع کرجائے گا وھومانع کماذکرنا (جیسا کہ ہم نے ذکر کیا وہ مانع ہے۔ ت)
بالجملہ خلاصہ ضابطہ یہ ہے کہ مامنہ محذور میں ہر قسم کا یقین بکار آمد نہیں جب تك وہ ماہومحذور کی طرف رجوع نہ کرے اور ماہو محذور میں ہر قسم کا یقین کافی مگر صرف نوعی اجمالی کہ ساقط وغیر مثبت ممانعت ہے جب تك یقین شخصی کی طرف مائل نہ ہو یہ نفیس ضابطہ قابل حفظ ہے کہ شاید اس رسالہ عجالہ کے سوا دوسری جگہ نہ ملے اگرچہ جو کچھ ہے کلمات علماء سے مستنبطا اور انہی کی کفش برداری کا تصدق والحمدالله رب العلمین۔
صورت اولی میں مجرد اس شے مثلا استخواں کے پڑنے پر تیقن عام ازاں کہ شخصی ہو یا نوعی اجمالی ہو یا کلی خواہی نخواہی اس جزئی یا نوع میں مخالطت حرام یا نجس کا یقین نہیں دلاتا۔ ممکن کہ صرف افراد طیبہ ومباحہ استعمال میں آئے ہوں۔ اسی طرح خاص افراد محرمہ ونجسہ کے استعمال پر یقین نوعی اجمالی بھی علی الاطلاق تحریم وتنجیس کا مورث نہیں کہ ہر جزئی خاص میں استعمال فرد طاہر وحلال کا احتمال قائم ولہذا افراد قسمین کا بازار میں اختلاط مانع اشترا وتناول نہیں کہ کسی معین پر حکم بالجزم نہیں کرسکتے کماحققنا کل ذلك فی المقدمۃ الثامنۃ والتاسعۃ (جیسا کہ ہم نے آٹھویں اور نویں مقدمہ میں ان تمام باتوں کی تحقیق کی ہے۔ ت) بخلاف صورت ثانیہ کہ وہاں صرف اس کے پڑنے کا یقین شخصی خواہ نوعی کلی اس جزئی خاص یا تمام نوع کی تنجیس وتحریم میں بس ہے جس کے بعد کچھ کلام باقی نہیں رہتا اور وہ احتمالات کی بوجہ تنوع افراد صورت اولی میں متحقق ہوتے تھے یہاں قطعا منقطع کما لایخفی (جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ت) اسی طرح صورت اولی میں اگر بالخصوص افراد حرام وناپاك ہی پڑنے کا ایسا ہی یقین یعنی شخص یا نوعی کلی ہو تو اس کا بھی یہی حکم کہ اس تقدیر پر صورت اولی صورت ثانیہ کی طرف رجوع کر آئی۔
لانتفاء التنوع فی الافراد فان الیقین تعلق بخصوص الافراد المحرمۃ والنجسۃ وھی لاتتنوع الی محذور وغیر محذور۔
کیونکہ افراد میں تنوع کی نفی ہے پس یقین خاص حرام وناپاك افراد سے متعلق ہوگا اور وہ ممنوع وغیر ممنوع میں تقسیم نہیں ہوتا۔ (ت)
البتہ یقین نوعی اجمالی یہاں بھی بکار آمد نہیں کہ جب علی وجہ العموم والالتزام تیقن نہیں تو ہر فرد کی محفوظی محتمل جب تك کسی جزئی خاص کا حال تحقیق نہ ہوکہ اس وقت یہ یقین یقین شخصی کی طرف رجوع کرجائے گا وھومانع کماذکرنا (جیسا کہ ہم نے ذکر کیا وہ مانع ہے۔ ت)
بالجملہ خلاصہ ضابطہ یہ ہے کہ مامنہ محذور میں ہر قسم کا یقین بکار آمد نہیں جب تك وہ ماہومحذور کی طرف رجوع نہ کرے اور ماہو محذور میں ہر قسم کا یقین کافی مگر صرف نوعی اجمالی کہ ساقط وغیر مثبت ممانعت ہے جب تك یقین شخصی کی طرف مائل نہ ہو یہ نفیس ضابطہ قابل حفظ ہے کہ شاید اس رسالہ عجالہ کے سوا دوسری جگہ نہ ملے اگرچہ جو کچھ ہے کلمات علماء سے مستنبطا اور انہی کی کفش برداری کا تصدق والحمدالله رب العلمین۔
الشروع فی الجواب بتوفیق الوھاب
(وہاب (الله تعالی) کی توفیق سے جواب کا آغاز ہے۔ ت)
کل کی برف میں شراب ملنے کی خبر قابل غور و واجب النظر اب مقدمہ ۴ و ۵ کی تقریر پیش نگاہ رکھ کر لحاظ درکار اگر یہ اخبار افواہ بازار یا منتہائے سند بعض مشرکین وکفار تو بالکل مردود ومحض بے اعتبار ہاں صورت اخیرہ میں اگر ان کا صدق دل پر جمے تو احتیاط بہتر تاہم گناہ نہیں اور اتنا بھی نہ ہو تو اصلا پرواہ نہیں اور اگر فساق بداعمال یا مستور نامعلوم الحال کی خبر تو شہادت قلب کی طرف رجوع معتبر اگر دل اس امر میں ان کے کذب کی طرف جھکے تو کچھ باك نہیں مگر احتراز افضل کہ آخر مسلمان ہیں عجب کیا کہ سچ کہتے ہوں خصوصا مستور کہ اس کی عدالت معلوم نہیں تو فسق بھی تو ثابت نہیں اور اگر قلب ان کے صدق پر گواہی دے تو بیشك احتراز چاہئے کہ ایسے مقام پر تحری حجت شرعیہ ہے اگرچہ وہ خبر بنفسہ حجت نہ تھی مگر یہاں ممانعت کا درجہ حرمت قطعیہ تك تجاوز نہ کرے گا۔
لان التحری محتمل للخطاء کمافی الھدایۃ والظنون ربما تکذب کمافی الحدیث۔
کیونکہ سوچ وبچار میں خطاء کا بھی احتمال ہوتا ہے جیسا کہ ہدایہ میں ہے اور گمان بعض اوقات جھوٹے ہوتے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے (ت)
اور وہ بھی اسی کے حق میں جس کا دل ان کے صدق کی طرف جائے۔
فان شھادۃ قلبك لیست حجۃ الاعلیك وذلك فی القاطع کالوجدان فکیف بالظنون۔
کیونکہ تمہارے دل کی گواہی تو تمہارے خلاف ہی جائیگی اور وہ قطعی چیز وجدان کی طرح ہے تو گمان کی صورت میں کیا کیفیت ہوگی۔ (ت)
پس اگر دوسرے کے دل پر ان کا کذب جمے اس کے حق میں وہی پہلا حکم ہے کہ احتراز بہتر ورنہ اجازت۔
فی صلاۃ ردالمحتار استفید مماذکر انہ بعد العجز عن الادلۃ المارۃ علیہ ان یتحری ولایقلد مثلہ لان المجتھد لایقلد مجتھدا الخ
ردالمحتار میں نماز کی بحث میں ہے مذکورہ کلام سے مستفید ہوا کہ گزشتہ دلائل سے عجز کے بعد اس پر لازم ہے کہ غوروفکر کرے اور اپنے جیسے کی تقلید نہ کرے کیونکہ مجتہد مجتہد کی تقلید نہیں کرتا الخ (ت)
ہاں اگر اس قدر جماعت کثیر کی خبر ہو جن کا کذب پر اتفاق عقل تجویز نہ کرے تو بیشك علی الاطلاق حرمت قطعی کا حکم دیا جائیگا اور اس کے سوا کسی امر پر لحاظ نہ کیا جائے گا اگرچہ وہ سب مخبر فساق وفجار بلکہ مشرکین وکفار ہوں۔
فان العدالۃ بل والاسلام ایضا لایشترط فی
کیونکہ جمہور کے نزدیك تواتر میں عدالت بلکہ اسلام کی شرط
(وہاب (الله تعالی) کی توفیق سے جواب کا آغاز ہے۔ ت)
کل کی برف میں شراب ملنے کی خبر قابل غور و واجب النظر اب مقدمہ ۴ و ۵ کی تقریر پیش نگاہ رکھ کر لحاظ درکار اگر یہ اخبار افواہ بازار یا منتہائے سند بعض مشرکین وکفار تو بالکل مردود ومحض بے اعتبار ہاں صورت اخیرہ میں اگر ان کا صدق دل پر جمے تو احتیاط بہتر تاہم گناہ نہیں اور اتنا بھی نہ ہو تو اصلا پرواہ نہیں اور اگر فساق بداعمال یا مستور نامعلوم الحال کی خبر تو شہادت قلب کی طرف رجوع معتبر اگر دل اس امر میں ان کے کذب کی طرف جھکے تو کچھ باك نہیں مگر احتراز افضل کہ آخر مسلمان ہیں عجب کیا کہ سچ کہتے ہوں خصوصا مستور کہ اس کی عدالت معلوم نہیں تو فسق بھی تو ثابت نہیں اور اگر قلب ان کے صدق پر گواہی دے تو بیشك احتراز چاہئے کہ ایسے مقام پر تحری حجت شرعیہ ہے اگرچہ وہ خبر بنفسہ حجت نہ تھی مگر یہاں ممانعت کا درجہ حرمت قطعیہ تك تجاوز نہ کرے گا۔
لان التحری محتمل للخطاء کمافی الھدایۃ والظنون ربما تکذب کمافی الحدیث۔
کیونکہ سوچ وبچار میں خطاء کا بھی احتمال ہوتا ہے جیسا کہ ہدایہ میں ہے اور گمان بعض اوقات جھوٹے ہوتے ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے (ت)
اور وہ بھی اسی کے حق میں جس کا دل ان کے صدق کی طرف جائے۔
فان شھادۃ قلبك لیست حجۃ الاعلیك وذلك فی القاطع کالوجدان فکیف بالظنون۔
کیونکہ تمہارے دل کی گواہی تو تمہارے خلاف ہی جائیگی اور وہ قطعی چیز وجدان کی طرح ہے تو گمان کی صورت میں کیا کیفیت ہوگی۔ (ت)
پس اگر دوسرے کے دل پر ان کا کذب جمے اس کے حق میں وہی پہلا حکم ہے کہ احتراز بہتر ورنہ اجازت۔
فی صلاۃ ردالمحتار استفید مماذکر انہ بعد العجز عن الادلۃ المارۃ علیہ ان یتحری ولایقلد مثلہ لان المجتھد لایقلد مجتھدا الخ
ردالمحتار میں نماز کی بحث میں ہے مذکورہ کلام سے مستفید ہوا کہ گزشتہ دلائل سے عجز کے بعد اس پر لازم ہے کہ غوروفکر کرے اور اپنے جیسے کی تقلید نہ کرے کیونکہ مجتہد مجتہد کی تقلید نہیں کرتا الخ (ت)
ہاں اگر اس قدر جماعت کثیر کی خبر ہو جن کا کذب پر اتفاق عقل تجویز نہ کرے تو بیشك علی الاطلاق حرمت قطعی کا حکم دیا جائیگا اور اس کے سوا کسی امر پر لحاظ نہ کیا جائے گا اگرچہ وہ سب مخبر فساق وفجار بلکہ مشرکین وکفار ہوں۔
فان العدالۃ بل والاسلام ایضا لایشترط فی
کیونکہ جمہور کے نزدیك تواتر میں عدالت بلکہ اسلام کی شرط
حوالہ / References
ردالمحتار مطلب فی حکم التقلید والرجوع عنہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۱
التواتر عند الجمھور خلافا للامام فخرالاسلام علی مااشتھر مع ان کلامہ قدس سرہ ایضا غیر نص فی الاشتراط کماافادہ المولی بحرالعلوم فی الفواتح والله اعلم۔
بھی نہیں البتہ اس میں امام فخرالاسلام کا اختلاف ہے جیسا کہ مشہور ہے لیکن اس کے باوجود ان کا کلام بھی شرط رکھنے میں صریح نہیں جیسا کہ بحرالعلوم نے فواتح میں اس بات کا فائدہ دیا والله تعالی اعلم (ت)
اسی طرح اگر منتہائے سند مسلمان عادل اگرچہ ایك ہی ہو جب بھی احتراز واجب اور برف حرام ونجس۔
فان فی الدیانات لایشترط العدد ویقبل خبر الواحد العدل بلاتردد۔
کیونکہ دیانتوں میں گنتی شرط نہیں اور ایك عادل آدمی کی خبر کسی تردد کے بغیر قبول کی جاتی ہے۔ (ت)
مگر یہ ضرور ہے کہ وہ خود اپنے معاینہ سے خبر دے ورنہ سنی سنائی کہنے میں اس کا قول خود اس کا قول نہیں یہاں تك کہ جب اکابر علما نے دیبائے فارسی کی نسبت لکھا اس میں پیشاب پڑتا ہے۔ امام علامہ ملك العلماء ابوبکر بن مسعود کاشانی قدس سرہ الربانی وغیرہ ائمہ نے فرمایا : اگر یہ بات تحقیق ہوجائے تو اس سے نماز ناجائز ہوگی تو کیا وجہ کہ ان علماء کا خود مشاہدہ نہ تھا لہذا ہنوز معاملہ تحقیق طلب رہا۔
فی البدائع ثم الحلیۃ بعدذکر مانقلنا عنھما فی المقدمۃ الثامنۃ فان صح انھم یفعلون ذلك فلاشك انہ لاتجوز الصلاۃ معہ اھ وفی ردالمحتار علی ما اثرنا عن الدرالمختار ثمہ ان کان کذلك لاشك انہ نجس تاترخانیۃ اھ
بدائع پھر حلیہ میں اس کے بعد جس کو ہم نے ان دونوں سے آٹھویں مقدمہ میں نقل کیا ہے کہا ہے کہ “ اگر صحیح طور پر ثابت ہوجائے کہ وہ ایسا کرتے ہیں تو اس میں شك نہیں کہ اس کے ساتھ نماز جائز نہیں (انتہی) اور ردالمحتار میں اس بات پر جو ہم نے وہاں درمختار سے نقل کی ہے یہ ہے کہ اگر اسی طرح ہے تو اس کے نجس ہونے میں کوئی شك نہیں تاترخانیہ اھ (ت)
اسی طرح تواتر کے یہ معنی کہ اس قدر جماعت کثیر خاص اپنے معاینہ سے بیان کرے نہ یہ کہ کہنے واے تو ہزار ہے مگر جس سے پوچھی سننا بیان کرتا ہے کہ اس صورت میں اگ اصل مخبر کا پتا نہیں تو وہ ہی افواہ بازاری ہے ورنہ
بھی نہیں البتہ اس میں امام فخرالاسلام کا اختلاف ہے جیسا کہ مشہور ہے لیکن اس کے باوجود ان کا کلام بھی شرط رکھنے میں صریح نہیں جیسا کہ بحرالعلوم نے فواتح میں اس بات کا فائدہ دیا والله تعالی اعلم (ت)
اسی طرح اگر منتہائے سند مسلمان عادل اگرچہ ایك ہی ہو جب بھی احتراز واجب اور برف حرام ونجس۔
فان فی الدیانات لایشترط العدد ویقبل خبر الواحد العدل بلاتردد۔
کیونکہ دیانتوں میں گنتی شرط نہیں اور ایك عادل آدمی کی خبر کسی تردد کے بغیر قبول کی جاتی ہے۔ (ت)
مگر یہ ضرور ہے کہ وہ خود اپنے معاینہ سے خبر دے ورنہ سنی سنائی کہنے میں اس کا قول خود اس کا قول نہیں یہاں تك کہ جب اکابر علما نے دیبائے فارسی کی نسبت لکھا اس میں پیشاب پڑتا ہے۔ امام علامہ ملك العلماء ابوبکر بن مسعود کاشانی قدس سرہ الربانی وغیرہ ائمہ نے فرمایا : اگر یہ بات تحقیق ہوجائے تو اس سے نماز ناجائز ہوگی تو کیا وجہ کہ ان علماء کا خود مشاہدہ نہ تھا لہذا ہنوز معاملہ تحقیق طلب رہا۔
فی البدائع ثم الحلیۃ بعدذکر مانقلنا عنھما فی المقدمۃ الثامنۃ فان صح انھم یفعلون ذلك فلاشك انہ لاتجوز الصلاۃ معہ اھ وفی ردالمحتار علی ما اثرنا عن الدرالمختار ثمہ ان کان کذلك لاشك انہ نجس تاترخانیۃ اھ
بدائع پھر حلیہ میں اس کے بعد جس کو ہم نے ان دونوں سے آٹھویں مقدمہ میں نقل کیا ہے کہا ہے کہ “ اگر صحیح طور پر ثابت ہوجائے کہ وہ ایسا کرتے ہیں تو اس میں شك نہیں کہ اس کے ساتھ نماز جائز نہیں (انتہی) اور ردالمحتار میں اس بات پر جو ہم نے وہاں درمختار سے نقل کی ہے یہ ہے کہ اگر اسی طرح ہے تو اس کے نجس ہونے میں کوئی شك نہیں تاترخانیہ اھ (ت)
اسی طرح تواتر کے یہ معنی کہ اس قدر جماعت کثیر خاص اپنے معاینہ سے بیان کرے نہ یہ کہ کہنے واے تو ہزار ہے مگر جس سے پوچھی سننا بیان کرتا ہے کہ اس صورت میں اگ اصل مخبر کا پتا نہیں تو وہ ہی افواہ بازاری ہے ورنہ
حوالہ / References
فواتح الرحموت بحث العلم بالتواتر حق مطبوعہ المطبعۃ الامیریہ بولاق مصر ۲ / ۱۱۸
بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار مایصیربہ المحل نجسا الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۱
ردالمحتار قبیل کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۵۷
بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار مایصیربہ المحل نجسا الخ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۱
ردالمحتار قبیل کتاب الصلوٰۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۵۷
انتہائے خبر اس مخبر پر رہے گی اور ناقلین درمیان سے ساقط ہوجائیں گے صرف نظر اس اصل کے حال پر اقتصار کرے گی یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کا ہے کہ اکثر اس قسم کی خبریں عوام یا کم علموں کے نزدیك متواترات سے ملتبس ہوجاتی ہیں حالانکہ عندالتحقیق تواتر کی بو نہیں۔
قال المولی الناصح سیدی عبدالغنی قدس سرہ فی مبحث افۃ الرقص من شرح الطریقۃ اماخبر التواتر من الناس لبعضھم بعضا بذلك عــہ فھو ممنوع لاستناد الکل فیہ الی الظن والتوھم والتخمین واستفادۃ الخبر من بعضھم لبعض بحیث لوسألت کل واحد منھم عن رویۃ ذلك ومعاینۃ لقال لم اعاینہ وانما سمعت ومن قال عاینتہ تستکشف عن حالہ فتراہ مستندا الی ظنون وامارات وھمیۃ وعلامات ظنیۃ وربما اذتأملت وتفحصت وجدت خبر ذلك التواتر الذی تزعمہ کلہ مستندا فی الاصل الی خبر واحد اواثنین الی اخر مااطال واطاب رحمہ الله تعالی۔
نصیحت کرنے والے ہمارے سردا ر مولانا عبدالغنی قدس سرہ نے الطریقۃ المحمدیہ کی شرح میں رقص کی مصیبت ذکر کرتے ہوئے فرمایا لوگوں کی اس بارے خبر کو متواتر قرار دینا غلط ہے کیونکہ یہ تمام ظن وہم اور اندازے کی طرف منسوب ہیں اور یہی حال اس خبر کے مستفید ہونے کا ہے کہ اگر تم ان میں سے ہر ایك سے اس کے دیکھنے کے بارے میں پوچھو تو کہے گا میں نے اسے نہیں دیکھا میں نے تو سنا ہے۔ اور جو کہے کہ میں نے دیکھا ہے اس کا حال معلوم کرو تو دیکھوگے کہ وہ محض گمان وہمی نشانیوں اور ظنی علامتوں کی طرف نسبت کرے گا اور جب تم غوروفکر اور چھان بین کرو گے تو جسے تم تواتر سمجھتے ہو اس کو ایك یا دو شخصوں کی طرف منسوب پاؤ گے۔ آخر تك جو آپ نے طویل بحث کی ہے۔ اللہآپ پر رحم فرمائے۔ (ت)
الحاصل جب خبر معتبر شرعی سے ثابت ہوجائے کہ شراب اس ترکیب کا جز ہے تو برف کی حرمت ونجاست میں کلام نہیں اور علی العموم اس کے تمام افراد ممنوع ومحذور اور یہ احتمال کہ شاید اس فرد خاص میں نہ پڑی ہو محض مہمل ومہجور کہ یہ ماہو محذور میں یقین نوعی کلی ہے اور ایسی جگہ یہ احتمالات یك لخت مضمحل وغیر کافی (دیکھو ضابطہ کلیہ کی تحریر اور
عــہ : ای بماذکر من معائب المتصوفۃ المدعین لہ بالکذب اذااخبر بذلك عن رجل معین ۱۲ منہ (م)
یعنی تصوف کے جھوٹے دعویدار حضرت کے مذکورہ عیوب (رقص وغیرہ) کی جب کسی شخص کے بارے خبر دی جائے ۱۲ منہ (ت)
قال المولی الناصح سیدی عبدالغنی قدس سرہ فی مبحث افۃ الرقص من شرح الطریقۃ اماخبر التواتر من الناس لبعضھم بعضا بذلك عــہ فھو ممنوع لاستناد الکل فیہ الی الظن والتوھم والتخمین واستفادۃ الخبر من بعضھم لبعض بحیث لوسألت کل واحد منھم عن رویۃ ذلك ومعاینۃ لقال لم اعاینہ وانما سمعت ومن قال عاینتہ تستکشف عن حالہ فتراہ مستندا الی ظنون وامارات وھمیۃ وعلامات ظنیۃ وربما اذتأملت وتفحصت وجدت خبر ذلك التواتر الذی تزعمہ کلہ مستندا فی الاصل الی خبر واحد اواثنین الی اخر مااطال واطاب رحمہ الله تعالی۔
نصیحت کرنے والے ہمارے سردا ر مولانا عبدالغنی قدس سرہ نے الطریقۃ المحمدیہ کی شرح میں رقص کی مصیبت ذکر کرتے ہوئے فرمایا لوگوں کی اس بارے خبر کو متواتر قرار دینا غلط ہے کیونکہ یہ تمام ظن وہم اور اندازے کی طرف منسوب ہیں اور یہی حال اس خبر کے مستفید ہونے کا ہے کہ اگر تم ان میں سے ہر ایك سے اس کے دیکھنے کے بارے میں پوچھو تو کہے گا میں نے اسے نہیں دیکھا میں نے تو سنا ہے۔ اور جو کہے کہ میں نے دیکھا ہے اس کا حال معلوم کرو تو دیکھوگے کہ وہ محض گمان وہمی نشانیوں اور ظنی علامتوں کی طرف نسبت کرے گا اور جب تم غوروفکر اور چھان بین کرو گے تو جسے تم تواتر سمجھتے ہو اس کو ایك یا دو شخصوں کی طرف منسوب پاؤ گے۔ آخر تك جو آپ نے طویل بحث کی ہے۔ اللہآپ پر رحم فرمائے۔ (ت)
الحاصل جب خبر معتبر شرعی سے ثابت ہوجائے کہ شراب اس ترکیب کا جز ہے تو برف کی حرمت ونجاست میں کلام نہیں اور علی العموم اس کے تمام افراد ممنوع ومحذور اور یہ احتمال کہ شاید اس فرد خاص میں نہ پڑی ہو محض مہمل ومہجور کہ یہ ماہو محذور میں یقین نوعی کلی ہے اور ایسی جگہ یہ احتمالات یك لخت مضمحل وغیر کافی (دیکھو ضابطہ کلیہ کی تحریر اور
عــہ : ای بماذکر من معائب المتصوفۃ المدعین لہ بالکذب اذااخبر بذلك عن رجل معین ۱۲ منہ (م)
یعنی تصوف کے جھوٹے دعویدار حضرت کے مذکورہ عیوب (رقص وغیرہ) کی جب کسی شخص کے بارے خبر دی جائے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ الصنف التاسع فی آفات البدن الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۵۲۱۹
مقدمہ ۸ کی صدر تقریر) یہاں تك کہ ایسی شے کا دوا میں بھی استعمال ناروا مگر جب اس کے سوا دوا نہ ہو اور یقین کامل ہوکہ اس سے قطعا شفا ہوجائے گی جیسے بحالت اضطرار پیاسے کو شراب پینا یا بھوکے کو گوشت مردار کھانا شرع مطہر نے جائز فرمایا کہ اس سے پیاس اور اس سے بھوك کا جانا یقینی ہے نہ مجرد قول اطباء کہ ہرگز موجب یقین نہیں بارہا اطبا نسخے تجویز کرتے اور ان کے موافق آنے پر اعتماد کلی رکھتے ہیں پھر ہزار دفعہ کا تجربہ ہے کہ ہرگز ٹھیك نہیں اترتے بلکہ کبھی بجائے نفع مضرت کرتے ہیں اور قرابادین کی بالا خوانیں کون نہیں جانتا یہاں تك کہ اکذب من قرابادین الاطباء (فلاں) اطباء کی قرابادین (دواؤں کی ڈکشنری) سے زیادہ جھوٹا ہے۔ ت) مثل ہوگئی علی الخصوص اس بارہ میں ڈاکٹروں کا قول تو بدرجہ اولی قابل قبول نہیں کہ نہ انہیں دین اسلام کے حلال وحرام کا غم واہتمام نہ اس ملك والوں کی معرفت مزاج وطرق علاج وتدقیق علل وتحقیق علامات میں حذاقت کامل ومہارت تام۔
وھذا الذی اخترناہ فی مسئلۃ التداوی بالمحرم ھو الصواب الواضح الذی بہ یحصل التوفیق قال فی ردالمحتار قولہ اختلف فی التداوی بالمحرم ففی النھایۃ عن الذخیرۃ یجوز ان علم فیہ شفاء ولم یعلم دواء اخر وفی الخانیۃ فی معنی قولہ علیہ الصلاۃ والسلام ان الله لم یجعل شفاء کم فیما حرم علیکم کمارواہ البخاری ان مافیہ شفاء لابأس بہ کمایحل الخمر للعطشان فی الضرورۃ وکذا اختارہ صاحب الھدایۃ فی التجنیس اھ من البحر۔
وافاد سیدی عبدالغنی انہ لایظھر الاختلاف فی کلامھم لاتفاقھم
حرام چیز کے ساتھ علاج کے مسئلہ میں ہم نے اس بات کو اختیار کیا ہے یہی بہتر اور واضح ہے جس کے ساتھ توفیق حاصل ہوتی ہے تنقید وتحقیق کے ائمہ نے بھی اسے پسند کیا ہے ردالحتار میں فرمایا : اس (درمختار) قول کہ حرام چیز سے علاج کرنے میں اختلاف ہے تو نہایہ میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ جائز ہے بشرطیکہ اسے اس میں شفاء کا علم ہو اور کسی دوسری دوا کا علم نہ ہو۔ اور خانیہ میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد گرامی :
“ اللہتعالی نے اس چیز میں تمہارے لئے شفا نہیں رکھی جسے تم پر حرام قرار دیا “ ۔ جیسا کہ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا کہ جس چیز میں شفاء ہو اس (کے استعمال) میں حرج نہیں جیسا کہ ضرورت کے وقت پیاسے کیلئے شراب حلال ہے صاحب ہدایہ نے تجنیس میں اسے پسند کیا ہے اھ (بحرالرائق)۔ اور سیدی عبدالغنی (نابلسی) رحمۃ اللہ تعالی علیہنے بتایا کہ ان (فقہاء) کے کلام میں اختلاف ظاہر نہیں ہوتا
وھذا الذی اخترناہ فی مسئلۃ التداوی بالمحرم ھو الصواب الواضح الذی بہ یحصل التوفیق قال فی ردالمحتار قولہ اختلف فی التداوی بالمحرم ففی النھایۃ عن الذخیرۃ یجوز ان علم فیہ شفاء ولم یعلم دواء اخر وفی الخانیۃ فی معنی قولہ علیہ الصلاۃ والسلام ان الله لم یجعل شفاء کم فیما حرم علیکم کمارواہ البخاری ان مافیہ شفاء لابأس بہ کمایحل الخمر للعطشان فی الضرورۃ وکذا اختارہ صاحب الھدایۃ فی التجنیس اھ من البحر۔
وافاد سیدی عبدالغنی انہ لایظھر الاختلاف فی کلامھم لاتفاقھم
حرام چیز کے ساتھ علاج کے مسئلہ میں ہم نے اس بات کو اختیار کیا ہے یہی بہتر اور واضح ہے جس کے ساتھ توفیق حاصل ہوتی ہے تنقید وتحقیق کے ائمہ نے بھی اسے پسند کیا ہے ردالحتار میں فرمایا : اس (درمختار) قول کہ حرام چیز سے علاج کرنے میں اختلاف ہے تو نہایہ میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ جائز ہے بشرطیکہ اسے اس میں شفاء کا علم ہو اور کسی دوسری دوا کا علم نہ ہو۔ اور خانیہ میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد گرامی :
“ اللہتعالی نے اس چیز میں تمہارے لئے شفا نہیں رکھی جسے تم پر حرام قرار دیا “ ۔ جیسا کہ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا کہ جس چیز میں شفاء ہو اس (کے استعمال) میں حرج نہیں جیسا کہ ضرورت کے وقت پیاسے کیلئے شراب حلال ہے صاحب ہدایہ نے تجنیس میں اسے پسند کیا ہے اھ (بحرالرائق)۔ اور سیدی عبدالغنی (نابلسی) رحمۃ اللہ تعالی علیہنے بتایا کہ ان (فقہاء) کے کلام میں اختلاف ظاہر نہیں ہوتا
علی الجواز للضرورۃ واشتراط صاحب النھایۃ العلم لاینافیہ اشتراط من بعدہ الشفاء ولذاقال والدی فی شرح الدرر ان قولہ لاللتداوی محمول علی المظنون والا فجوازہ بالیقینی اتفاقی کماصرح بہ فی المصفی اھ۔
اقول : وھو ظاھر موافق لمامر فی الاستدلال لقول الامام لکن قدعلمت ان قول الاطباء لایحصل بہ العلم والظاھر ان التجربۃ یحصل بھاغلبۃ الظن دون الیقین الا ان یریدوا بالعلم غلبۃ الظن وھوشائع فی کلامھم تأمل اھ مافی ردالمحتار مع بعض اختصار۔
اقول : اماما ذکر من امر التجارب فللعبد الضعیف ھھنا تنقیح شریف وارید ان احقق المسئلۃ فی بعض رسائلی ان یسر المولی سبحنہ وتعالی واما عزوہ الحدیث للبخاری فلم ارہ فی البحر ولافی الخانیۃ وانما رواہ الطبرانی فی المعجم الکبیر بسند صحیح علی اصول عـــہ الحنفیۃ۔
کیونکہ ضرورت کے تحت جواز پر سب کا اتفاق ہے۔ اور صاحب نہایہ نے جو علم کی شرط لگائی ہے بعد والوں کا شفاء کی قید لگانا اس کے منافی نہیں اسی لئے میرے والد ماجد نے الدرر کی شرح میں فرمایا کہ اس کا قول “ نہ دوائی کیلئے “ حالت ظن پر محمول ہے ورنہ یقینی صورت میں اس کا جواز متفق علیہ ہے جیسا کہ المصفی میں اس کی تصریح ہے انتہی۔
میں کہتا ہوں یہ ظاہر ہے اور امام صاحب کے قول کا جو استدلال گزرچکا ہے اس کے موافق ہے لیکن تم جانتے ہوکہ اطباء کے قول سے علم حاصل نہیں ہوتا اور ظاہر ہے کہ تجربہ سے محض غالب گمان حاصل ہوتا ہے یقین نہیں مگر یہ کہ وہ علم سے غالب گمان مراد لیں اور یہ بات ان کے کلام میں عام ہے اس پر غور کرو اھ اختصار ازردالمحتار۔ (ت)
اقول : وہ تجربات کا ذکر کیا گیا ہے اس کے بارے میں یہاں بندہ ضعیف کی قابل قدر تنقیح ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اپنے بعض رسائل میں مسئلہ کی تحقیق کروں گا اگر اللہتعالی اسے میرے لئے آسان کردے باقی انہوں نے حدیث امام بخاری کی طرف منسوب کی ہے میں نے اسے بحرالرائق اور خانیہ میں نہیں دیکھا۔ اسے طبرانی نے معجم کبیر میں صحیح سند کے ساتھ حنفی قواعد کے
عــہ : قالہ لان رجالہ رجال الصحیح علی مافیہ من انقطاع ۱۲ منہ (م)
یہ اس لئے کہا کہ اس حدیث کے سب راوی ثقہ ومعتمد صحیح کے راوی ہیں اس بنا پر کہ اس میں انقطاع ہے ۱۲ منہ (ت)
اقول : وھو ظاھر موافق لمامر فی الاستدلال لقول الامام لکن قدعلمت ان قول الاطباء لایحصل بہ العلم والظاھر ان التجربۃ یحصل بھاغلبۃ الظن دون الیقین الا ان یریدوا بالعلم غلبۃ الظن وھوشائع فی کلامھم تأمل اھ مافی ردالمحتار مع بعض اختصار۔
اقول : اماما ذکر من امر التجارب فللعبد الضعیف ھھنا تنقیح شریف وارید ان احقق المسئلۃ فی بعض رسائلی ان یسر المولی سبحنہ وتعالی واما عزوہ الحدیث للبخاری فلم ارہ فی البحر ولافی الخانیۃ وانما رواہ الطبرانی فی المعجم الکبیر بسند صحیح علی اصول عـــہ الحنفیۃ۔
کیونکہ ضرورت کے تحت جواز پر سب کا اتفاق ہے۔ اور صاحب نہایہ نے جو علم کی شرط لگائی ہے بعد والوں کا شفاء کی قید لگانا اس کے منافی نہیں اسی لئے میرے والد ماجد نے الدرر کی شرح میں فرمایا کہ اس کا قول “ نہ دوائی کیلئے “ حالت ظن پر محمول ہے ورنہ یقینی صورت میں اس کا جواز متفق علیہ ہے جیسا کہ المصفی میں اس کی تصریح ہے انتہی۔
میں کہتا ہوں یہ ظاہر ہے اور امام صاحب کے قول کا جو استدلال گزرچکا ہے اس کے موافق ہے لیکن تم جانتے ہوکہ اطباء کے قول سے علم حاصل نہیں ہوتا اور ظاہر ہے کہ تجربہ سے محض غالب گمان حاصل ہوتا ہے یقین نہیں مگر یہ کہ وہ علم سے غالب گمان مراد لیں اور یہ بات ان کے کلام میں عام ہے اس پر غور کرو اھ اختصار ازردالمحتار۔ (ت)
اقول : وہ تجربات کا ذکر کیا گیا ہے اس کے بارے میں یہاں بندہ ضعیف کی قابل قدر تنقیح ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اپنے بعض رسائل میں مسئلہ کی تحقیق کروں گا اگر اللہتعالی اسے میرے لئے آسان کردے باقی انہوں نے حدیث امام بخاری کی طرف منسوب کی ہے میں نے اسے بحرالرائق اور خانیہ میں نہیں دیکھا۔ اسے طبرانی نے معجم کبیر میں صحیح سند کے ساتھ حنفی قواعد کے
عــہ : قالہ لان رجالہ رجال الصحیح علی مافیہ من انقطاع ۱۲ منہ (م)
یہ اس لئے کہا کہ اس حدیث کے سب راوی ثقہ ومعتمد صحیح کے راوی ہیں اس بنا پر کہ اس میں انقطاع ہے ۱۲ منہ (ت)
حوالہ / References
رد المحتا ر مطلب فی التداوی بالمحرم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۵۴
نعم رأیتہ فی اشربۃ الجامع الصحیح باب شرب الحلواء والعسل عن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ من قولہ تعلیقا فلیتنبہ والله تعالی اعلم۔
مطابق روایت کیا ہے۔ ہاں میں نے اسے صحیح بخاری کے کتاب الاشربہ کے باب “ شرب الحلواء والعسل “ میں حضرت عبداللہبن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکی روایت سے تعلیقا مروی دیکھا ہے پس اس پر آگاہ ہوجاؤ واللہتعالی اعلم (ت)
اور اگر ایسی خبر سے ثبوت نہیں تو غایت درجہ اس قدر کہ بحکم تورع واجتناب شہادت احتراز کرے مگر تحریم وتنجیس کا حکم بے دلیل شرعی ہرگز روا نہیں قدرے بیان اس کا آگے گزرا اور ان شاء الله تعالی خاتمہ رسالہ میں ہم پھر اس طرف عود کریں گے والعود احمد (اور عود زیادہ بہتر ہے۔ ت) یہ تو اصل حکم فقہی ہے اور واقع پر نظر کیجئے تو اس خبر کی کچھ حقیقت پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی نہ اس پانی میں جسے منجمد کرتے ہیں شراب ملانے کی کوئی وجہ معلوم ہوتی ہے تو برف پر حکم جواز ہی ہے والله تعالی اعلم بالصواب (اور اللہتعالی خوب جانتا ہے۔ ت) ہاں انگریزی دواؤں میں جتنی دوائیں رقیق ہوتی ہیں جنہیں ٹنچر کہتے ہیں ان سب میں یقینا شراب ہوتی ہے وہ سب حرام بھی ہیں اور ناپاك بھی نہ ان کا کھانا حلال نہ بدن پر لگانا جائز نہ خریدنا حلال نہ بیچنا جائز۔
کماحققناہ فی فتاونا ان اسبارتو وھی روح النبیذخمر قطعابل من اخبث الخمور فھی حرام ورجس نجس نجاسۃ غلیظۃ کالبول وما استروح بہ بعض الجھلۃ المتسمین بالعلم من کبراء اراکین الندوۃ المخذولۃ فمن اخبث القول نسأل الله العصمۃ فی کل حرکۃ وکلمۃ۔
جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں ثابت کیا ہے کہ اسپرٹ نبیذ کی روح اور قطعی طور پر شراب ہے بلکہ یہ سب سے زیادہ خبیث شراب ہے پس یہ پیشاب کی طرح حرام ہے ناپاك ہے اور نجاست غلیظہ ہے ندوہ کے ذلیل ورسوا اراکین نے جو جاہل ہونے کے باوجود اپنے آپ کو عالم کہلاتے ہیں جس بات سے راحت حاصل کی وہ نہایت خبیث قول ہے ہم بارگاہ خداوندی میں ہر حرکت اور قول کی حفاظت کا سوال کرتے ہیں۔ (ت)
مسلمان اسے خوب سمجھ لیں اور ڈاکٹری علاج میں ان ناپاکیوں نجاستوں سے بچیں خصوصا سخت آفت اس وقت ہے کہ ان علاجوں میں قضا آجائے اور مسلمان اس حالت میں مرے کہ معاذاللہاس کے پیٹ میں شراب ہو والعیاذ بالله رب العلمین (دو جہانوں کا پروردگار اللہبچائے۔ ت) اسی طرح بیشك اس شکر کا ہڈیوں سے صاف کیا جانا ایسا یقینی جس کے انکار کی گنجائش نہیں مگر اولا غور واجب کہ اس تصفیہ میں ہڈیوں پر شکر کا
مطابق روایت کیا ہے۔ ہاں میں نے اسے صحیح بخاری کے کتاب الاشربہ کے باب “ شرب الحلواء والعسل “ میں حضرت عبداللہبن مسعود رضی اللہ تعالی عنہکی روایت سے تعلیقا مروی دیکھا ہے پس اس پر آگاہ ہوجاؤ واللہتعالی اعلم (ت)
اور اگر ایسی خبر سے ثبوت نہیں تو غایت درجہ اس قدر کہ بحکم تورع واجتناب شہادت احتراز کرے مگر تحریم وتنجیس کا حکم بے دلیل شرعی ہرگز روا نہیں قدرے بیان اس کا آگے گزرا اور ان شاء الله تعالی خاتمہ رسالہ میں ہم پھر اس طرف عود کریں گے والعود احمد (اور عود زیادہ بہتر ہے۔ ت) یہ تو اصل حکم فقہی ہے اور واقع پر نظر کیجئے تو اس خبر کی کچھ حقیقت پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی نہ اس پانی میں جسے منجمد کرتے ہیں شراب ملانے کی کوئی وجہ معلوم ہوتی ہے تو برف پر حکم جواز ہی ہے والله تعالی اعلم بالصواب (اور اللہتعالی خوب جانتا ہے۔ ت) ہاں انگریزی دواؤں میں جتنی دوائیں رقیق ہوتی ہیں جنہیں ٹنچر کہتے ہیں ان سب میں یقینا شراب ہوتی ہے وہ سب حرام بھی ہیں اور ناپاك بھی نہ ان کا کھانا حلال نہ بدن پر لگانا جائز نہ خریدنا حلال نہ بیچنا جائز۔
کماحققناہ فی فتاونا ان اسبارتو وھی روح النبیذخمر قطعابل من اخبث الخمور فھی حرام ورجس نجس نجاسۃ غلیظۃ کالبول وما استروح بہ بعض الجھلۃ المتسمین بالعلم من کبراء اراکین الندوۃ المخذولۃ فمن اخبث القول نسأل الله العصمۃ فی کل حرکۃ وکلمۃ۔
جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوی میں ثابت کیا ہے کہ اسپرٹ نبیذ کی روح اور قطعی طور پر شراب ہے بلکہ یہ سب سے زیادہ خبیث شراب ہے پس یہ پیشاب کی طرح حرام ہے ناپاك ہے اور نجاست غلیظہ ہے ندوہ کے ذلیل ورسوا اراکین نے جو جاہل ہونے کے باوجود اپنے آپ کو عالم کہلاتے ہیں جس بات سے راحت حاصل کی وہ نہایت خبیث قول ہے ہم بارگاہ خداوندی میں ہر حرکت اور قول کی حفاظت کا سوال کرتے ہیں۔ (ت)
مسلمان اسے خوب سمجھ لیں اور ڈاکٹری علاج میں ان ناپاکیوں نجاستوں سے بچیں خصوصا سخت آفت اس وقت ہے کہ ان علاجوں میں قضا آجائے اور مسلمان اس حالت میں مرے کہ معاذاللہاس کے پیٹ میں شراب ہو والعیاذ بالله رب العلمین (دو جہانوں کا پروردگار اللہبچائے۔ ت) اسی طرح بیشك اس شکر کا ہڈیوں سے صاف کیا جانا ایسا یقینی جس کے انکار کی گنجائش نہیں مگر اولا غور واجب کہ اس تصفیہ میں ہڈیوں پر شکر کا
حوالہ / References
صحیح البخاری باب شرب الحلواء والعسل قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۴۰
صرف مروروعبور ہوتا ہے بغیر اس کے کہ ان کے کچھ اجزا شکر میں رہ جاتے ہوں جس طرح پانی کو کوئلوں اور ہڈیوں سے متقاطر کرکے صاف کرتے ہیں کہ برتن میں نتھرا پانی شفاف آجاتا ہے اور انکشف واستخواں کا کوئی جز اس میں شریك نہیں ہونے پاتا جب تو اس شکر کی حلت کو صرف ان ہڈیوں کی طہارت درکار ہے اگرچہ حلال وماکول نہ ہوں۔
کمالایخفی علی عاقل وذلك لانہ لم یختلط بالحرام فیتمحض فی الاکل والمرورعلی طاھر ولوحراما لایورث منعا۔
جیسا کہ یہ کسی بھی عقلمند پر مخفی نہیں اور یہ اس لئے کہ اس میں حرام کی آمیزش نہیں پس اس کا کھانا واضح ہے اور پاك چیز پر گرنے سے اگرچہ وہ حرام ہو ممانعت لازم نہیں آتی۔ (ت)
اور درصورت مرور ظاہر یہی ہے کہ منافذ کو تنگ کرتے اور بطور تقاطر رس کو عبور دیتے ہوں کہ ازالہ کثافت کی ظاہرا یہی صورت ہڈیوں پر صرف بہاؤ میں نکل جانا غالبا باعث تصفیہ نہ ہوگا تو اس تقدیر پر درصورت نجاست استخوان نجاست عصیر وحرمت شکر میں شك نہیں ورنہ عـــہ بلاریب طیب وحلال۔
اور اگر اجزائے استخوان پیس کر رس میں ملاتے اور وہ مخلوط وغیر متمیز ہوکر اس میں رہ جاتے ہیں تو حلت شکر کو ان ہڈیوں کی حلت بھی ضرورصرف طہارت کفایت نہ کریگی کہ اگر غیر ماکول یا مردار کے استخواں ہوئے تو اس تقدیر پر شکر کے ساتھ ان کے اجزاء بھی کھانے میں آئیں گے للاختلاط وعدم الامتیاز (اختلاط اور عدم امتیاز کی وجہ سے۔ ت) (اور ان کا کھانا گو طاہر ہوں حرام تو شکر بھی حرام ہوجائے گی فی الدرالمختار وغیرہ من الاسفار لوتفتت فیہ نحوضفدع جاز الوضوء بہ لاشربہ لحرمۃ لحمہ اھ (درمختار وغیرہ بڑی کتب میں ہے اگر اس پانی میں مینڈك وغیرہ پھول جائیں تو اس سے وضو جائز ہوگا لیکن اس کا پینا جائز نہ ہوگا کیونکہ اس کا گوشت حرام ہے۔ ت)روسر کی جس شکر کا حال تحقیقا معلوم ہوکہ یہ بالخصوص کیونکر بنی ہے اس کے تفاصیل احکام ہماری اس تقریر سے ظاہر اور استخواں کی طہارت نجاست حلت حرمت کا حکم پہلے معلوم ہوچکا (دیکھو مقدمہ۱)
ثانیا : کیف ماکان ان خیالات پر مطلق شکر روسر کو نجس وحرام کہہ دینا صحیح نہیں بلکہ مقام اطلاق میں طہارت وحلت ہی پر فتوی دیا جائیگا تاوقتیکہ کسی صورت کا خاص حال تحقیق نہ ہوکہ اس قدر سے تمام افراد کی نجاست وحرمت پر یقین نہیں صرف ظنون وخیالات ہیں جنہیں شرع اعتبار نہیں فرماتی (دیکھو مقدمہ ۲)
مانا کہ بنانے والے بے احتیاط ہیں مانا کہ انہیں نجس وطاہر وحرام وحلال کی پرواہ نہیں مانا کہ ہڈیوں میں وہ بھی
عــہ : یعنی اگر ہڈیاں ناپاك نہ ہوں یا رس اپنے بہاؤ میں ان پر گزر جاتا ہو ۱۲ منہ (م)
کمالایخفی علی عاقل وذلك لانہ لم یختلط بالحرام فیتمحض فی الاکل والمرورعلی طاھر ولوحراما لایورث منعا۔
جیسا کہ یہ کسی بھی عقلمند پر مخفی نہیں اور یہ اس لئے کہ اس میں حرام کی آمیزش نہیں پس اس کا کھانا واضح ہے اور پاك چیز پر گرنے سے اگرچہ وہ حرام ہو ممانعت لازم نہیں آتی۔ (ت)
اور درصورت مرور ظاہر یہی ہے کہ منافذ کو تنگ کرتے اور بطور تقاطر رس کو عبور دیتے ہوں کہ ازالہ کثافت کی ظاہرا یہی صورت ہڈیوں پر صرف بہاؤ میں نکل جانا غالبا باعث تصفیہ نہ ہوگا تو اس تقدیر پر درصورت نجاست استخوان نجاست عصیر وحرمت شکر میں شك نہیں ورنہ عـــہ بلاریب طیب وحلال۔
اور اگر اجزائے استخوان پیس کر رس میں ملاتے اور وہ مخلوط وغیر متمیز ہوکر اس میں رہ جاتے ہیں تو حلت شکر کو ان ہڈیوں کی حلت بھی ضرورصرف طہارت کفایت نہ کریگی کہ اگر غیر ماکول یا مردار کے استخواں ہوئے تو اس تقدیر پر شکر کے ساتھ ان کے اجزاء بھی کھانے میں آئیں گے للاختلاط وعدم الامتیاز (اختلاط اور عدم امتیاز کی وجہ سے۔ ت) (اور ان کا کھانا گو طاہر ہوں حرام تو شکر بھی حرام ہوجائے گی فی الدرالمختار وغیرہ من الاسفار لوتفتت فیہ نحوضفدع جاز الوضوء بہ لاشربہ لحرمۃ لحمہ اھ (درمختار وغیرہ بڑی کتب میں ہے اگر اس پانی میں مینڈك وغیرہ پھول جائیں تو اس سے وضو جائز ہوگا لیکن اس کا پینا جائز نہ ہوگا کیونکہ اس کا گوشت حرام ہے۔ ت)روسر کی جس شکر کا حال تحقیقا معلوم ہوکہ یہ بالخصوص کیونکر بنی ہے اس کے تفاصیل احکام ہماری اس تقریر سے ظاہر اور استخواں کی طہارت نجاست حلت حرمت کا حکم پہلے معلوم ہوچکا (دیکھو مقدمہ۱)
ثانیا : کیف ماکان ان خیالات پر مطلق شکر روسر کو نجس وحرام کہہ دینا صحیح نہیں بلکہ مقام اطلاق میں طہارت وحلت ہی پر فتوی دیا جائیگا تاوقتیکہ کسی صورت کا خاص حال تحقیق نہ ہوکہ اس قدر سے تمام افراد کی نجاست وحرمت پر یقین نہیں صرف ظنون وخیالات ہیں جنہیں شرع اعتبار نہیں فرماتی (دیکھو مقدمہ ۲)
مانا کہ بنانے والے بے احتیاط ہیں مانا کہ انہیں نجس وطاہر وحرام وحلال کی پرواہ نہیں مانا کہ ہڈیوں میں وہ بھی
عــہ : یعنی اگر ہڈیاں ناپاك نہ ہوں یا رس اپنے بہاؤ میں ان پر گزر جاتا ہو ۱۲ منہ (م)
حوالہ / References
درمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۵
پائی جاتی ہیں جن کے اختلاط سے شے حرام یا نجس ہوجائے مگر نہ سب ہڈیاں ایسی ہی ہیں بلکہ حلال وطاہر بھی بکثرت نہ بنانے والوں کو خواہی نخواہی التزام کہ خاص ایسے ہی طریقہ سے صاف کریں جو موجب تحریم وتنجیس ہو نہ کچھ ناپاك یا حرام ہڈیوں میں کوئی خصوصیت کہ انہیں تصفیہ میں زیادہ دخل ہو جس کے سبب وہ لوگ انہیں کو اختیار کریں اور جب ایسا نہیں تو صرف اس قدر پر یقین حاصل ہوا کہ ہڈیوں سے صاف کرتے ہیں کیا ممکن نہیں کہ وہ ہڈیاں طاہر وحلال ہوں دیکھو اگر آدمی کو جنگل میں ایك چھوٹا سا گڑھا پانی سے بھراملے اور اس کے کنارے پر اقدام وحوش کا پتا چلے اور پانی بھی جانور کے پینے سے کنارہ پر گرا دیکھے بلکہ فرض کیجئے کہ جانور بھی جاتا ہوا نظر پڑے مگر بوجہ بعد یا ظلمت شب پہچان میں نہ آئے تو اس سے خواہی نخواہی یہ ٹھہرا لینا کہ کوئی درندہ یا خاص خنزیر ہی تھا اور پانی کو ناپاك جان کر ا س سے احتراز کرنا ہرگز حکم شرع نہیں بلکہ وسوسہ ہے۔ مانا کہ جنگل میں سباع وخنزیر بھی ہیں مانا کہ وہ بھی انہیں پانیوں سے پیتے ہیں مانا کہ یہ جانور جو جاتے دیکھا ممکن کہ سوئر ہو مگر کیا ممکن نہیں کہ کوئی ماکول اللحم جانور ہو۔
قال فی الحدیقۃ بعدنقل ماقدمنا عنھا عن جامع الفتاوی اول المقدمۃ العاشرۃ من ان بمجرد الظن لایمنع التوضئ الخ (مقولۃ قال ۱۲) لکن نقل قبل ذلك قال ولورأی (یعنی صاحب المجمع ۱۲ ) اقدام الوحوش عندالماء القلیل لایتوضأ بہ انتھی وینبغی تقیيد ذلك بما اذاغلب علی ظنہ انھا اقدام الوحوش والا فیحتمل انھا اقدام ماکول اللحم فلا یحکم بالنجاسۃ بالشك ویقید ایضا بانہ رأی رشاش الماء حول ذلك الماء القلیل ونحو ذلك من القرائن الدالۃ علی ان الوحوش شربت منہ و الافلا نجاسۃ بالشك اھ۔
قلت فقدسبقہ بھذا الحمل
ہم نے دسویں مقدمہ کے شروع میں بحوالہ حدیقۃ الندیۃ جامع الفتاوی سے نقل کیا کہ محض گمان وضو میں رکاوٹ نہیں بنتا الخ اسے نقل کرنے کے بعد صاحب حدیقہ فرماتے ہیں لیکن صاحب مجمع نے اس سے پہلے نقل کیا کہ کوئی شخص تھوڑے پانی کے پاس درندوں کے قدم دیکھے تو اس سے وضو نہ کرے انتہی اسے اس بات سے مقید کرنا مناسب ہے کہ جب اسے غالب گمان ہوکہ یہ درندوں کے قدم ہیں ورنہ یہ بھی احتمال ہوگاکہ ان جانوروں کے قدم ہوں جن کا گوشت کھایا جاتا ہے لہذا شك کی بنیاد پر نجاست کا حکم نہیں لگایا جائے گا اور یہ قید بھی ہونی چاہے کہ جب وہ اس قلیل پانی کے گرد پانی کے چھینٹے دیکھے اور اس طرح کے دوسرے قرائن جو اس بات پر دلالت کرتے ہوں کہ درندوں نے اس سے پیا ہے ورنہ محض شك کی بنیاد پر نجاست ثابت نہ ہوگی اھ (ت) قلت اس بات پر (کہ پانی تھوڑا ہو) محمول
قال فی الحدیقۃ بعدنقل ماقدمنا عنھا عن جامع الفتاوی اول المقدمۃ العاشرۃ من ان بمجرد الظن لایمنع التوضئ الخ (مقولۃ قال ۱۲) لکن نقل قبل ذلك قال ولورأی (یعنی صاحب المجمع ۱۲ ) اقدام الوحوش عندالماء القلیل لایتوضأ بہ انتھی وینبغی تقیيد ذلك بما اذاغلب علی ظنہ انھا اقدام الوحوش والا فیحتمل انھا اقدام ماکول اللحم فلا یحکم بالنجاسۃ بالشك ویقید ایضا بانہ رأی رشاش الماء حول ذلك الماء القلیل ونحو ذلك من القرائن الدالۃ علی ان الوحوش شربت منہ و الافلا نجاسۃ بالشك اھ۔
قلت فقدسبقہ بھذا الحمل
ہم نے دسویں مقدمہ کے شروع میں بحوالہ حدیقۃ الندیۃ جامع الفتاوی سے نقل کیا کہ محض گمان وضو میں رکاوٹ نہیں بنتا الخ اسے نقل کرنے کے بعد صاحب حدیقہ فرماتے ہیں لیکن صاحب مجمع نے اس سے پہلے نقل کیا کہ کوئی شخص تھوڑے پانی کے پاس درندوں کے قدم دیکھے تو اس سے وضو نہ کرے انتہی اسے اس بات سے مقید کرنا مناسب ہے کہ جب اسے غالب گمان ہوکہ یہ درندوں کے قدم ہیں ورنہ یہ بھی احتمال ہوگاکہ ان جانوروں کے قدم ہوں جن کا گوشت کھایا جاتا ہے لہذا شك کی بنیاد پر نجاست کا حکم نہیں لگایا جائے گا اور یہ قید بھی ہونی چاہے کہ جب وہ اس قلیل پانی کے گرد پانی کے چھینٹے دیکھے اور اس طرح کے دوسرے قرائن جو اس بات پر دلالت کرتے ہوں کہ درندوں نے اس سے پیا ہے ورنہ محض شك کی بنیاد پر نجاست ثابت نہ ہوگی اھ (ت) قلت اس بات پر (کہ پانی تھوڑا ہو) محمول
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ الصنف الثانی من الصنفین فیماورد عن ائمتنا الحنفیۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۶۶
البحر فی البحر حیث قال وفی المبتغی بالغین المعجمۃ وبرؤیۃ اثر اقدام الوحوش عند الماء القلیل لایتوضأ بہ سبع مر بالرکیۃ وغلب علی ظنہ شربہ منھا تنجس والافلا اھ وینبغی ان یحمل الاول علی مااذا غلب علی ظنہ ان الوحوش شربت منہ بدلیل الفرع الثانی والا فمجرد الشك لایمنع الوضوء بہ بدلیل ماقدمنا عــہ نقلہ عن الاصل الخ۔
کرنے میں بحرالرائق کے مصنف نے ان سے سبقت کرتے ہوئے بحر میں کہا المبتغی میں ہے کہ تھوڑے پانی کے پاس درندوں کے قدموں کے نشانات دیکھے تو اس سے وضو نہ کرے۔ ایك درندہ کنویں کے پاس سے گزرا اگر غالب گمان ہو کہ اس نے اس سے پیا ہے تو وہ ناپاك ہوجائے گا ورنہ نہیں اھ اور مناسب ہے کہ پہلے کو اس بات پر محمول کیا جائے کہ جب اسے گمان غالب ہوکہ درندوں نے اس سے پیا ہے کیونکہ اس (مفہوم) پر فرع ثانی (درندے کا گزرنا) دلیل ہے ورنہ محض شك اس کے ساتھ وضو کو منع نہیں کرتا اس کی دلیل وہ ہے جسے ہم (صاحب بحرالرائق) نے اس سے پہلے اصل (مبسوط) سے نقل کیا ہے الخ (کہ اس حوض سے وضو کیا جاسکتا ہے جس میں نجاست گرنے کا خوف ہو لیکن یقین نہ ہو)۔ (ت)
یا اتنا یقین ہوا کہ وہ بے پرواہ ہیں پھر نفس شکر میں سوا ظنون کے کیا حاصل اس سے بدر جہا زیادہ ہیں وہ بے احتیاطیاں اور خیالات جو بعض مسائل سابقۃ الذکر میں متحقق (دیکھو مقدمہ ۶) بلکہ جہاں بوجہ غلبہ وکثرت وفور وشدت بے احتیاطی غلبہ ظن غیر ملتحق بالیقین حاصل ہو وہاں بھی علما تنجیس وتحریم کا حکم نہیں دیتے صرف کراہت تنزیہی فرماتے ہیں (دیکھو مقدمہ ۷) پھر ما نحن فیہ تو اس حالت کا وجود بھی محل نظر کون کہہ سکتا ہے کہ اکثر ناپاك وحرام ہڈیاں ہی ڈالتے ہوں گے اور طیب وطاہر شاذونادر۔
یا اتنا یقین ہوا کہ وہ اپنی بے پرواہی کو وقوع میں لاتے اور ہرطرح کی ہڈیاں ڈالتے ہی ہیں پھر یہ تو نہیں کہ دائما صرف وہی طریقہ برتتے ہیں جو نجس وحرام کردے اور جب یوں بھی ہے اور یوں بھی تو ہر شکر میں احتمال محفوظی تو ہرگز حکم نجاست وحرمت نہیں دے سکتے (دیکھو مقدمہ ۸) بلکہ جب تك کسی جگہ کوئی وجہ وجیہ ریب وشبہہ کی نہ پائی جائے تحقیقات کی بھی حاجت نہیں بلکہ جہاں تحقیق پر کوئی فتنہ یا ایذائے اہل ایمان یا ترك ادب بزرگان یا پردہ دری مسلمان یا اور کوئی محذور سمجھے وہاں تو ہرگز ان خیالات وظنون کی پابندی نہ کرے (دیکھو مقدمہ ۱۰)
عـــہ ھو ماقدمناہ عنہ عن الخلاصۃ عن الاصل اول المقدمۃ العاشرۃ ۱۲ منہ (م)
یہ وہ ہے جو ہم نے دسویں مقدمہ کے شروع میں اصل سے خلاصہ سے البحرالرائق سے بیان کیا ہے ۱۲ م نہ (ت)
کرنے میں بحرالرائق کے مصنف نے ان سے سبقت کرتے ہوئے بحر میں کہا المبتغی میں ہے کہ تھوڑے پانی کے پاس درندوں کے قدموں کے نشانات دیکھے تو اس سے وضو نہ کرے۔ ایك درندہ کنویں کے پاس سے گزرا اگر غالب گمان ہو کہ اس نے اس سے پیا ہے تو وہ ناپاك ہوجائے گا ورنہ نہیں اھ اور مناسب ہے کہ پہلے کو اس بات پر محمول کیا جائے کہ جب اسے گمان غالب ہوکہ درندوں نے اس سے پیا ہے کیونکہ اس (مفہوم) پر فرع ثانی (درندے کا گزرنا) دلیل ہے ورنہ محض شك اس کے ساتھ وضو کو منع نہیں کرتا اس کی دلیل وہ ہے جسے ہم (صاحب بحرالرائق) نے اس سے پہلے اصل (مبسوط) سے نقل کیا ہے الخ (کہ اس حوض سے وضو کیا جاسکتا ہے جس میں نجاست گرنے کا خوف ہو لیکن یقین نہ ہو)۔ (ت)
یا اتنا یقین ہوا کہ وہ بے پرواہ ہیں پھر نفس شکر میں سوا ظنون کے کیا حاصل اس سے بدر جہا زیادہ ہیں وہ بے احتیاطیاں اور خیالات جو بعض مسائل سابقۃ الذکر میں متحقق (دیکھو مقدمہ ۶) بلکہ جہاں بوجہ غلبہ وکثرت وفور وشدت بے احتیاطی غلبہ ظن غیر ملتحق بالیقین حاصل ہو وہاں بھی علما تنجیس وتحریم کا حکم نہیں دیتے صرف کراہت تنزیہی فرماتے ہیں (دیکھو مقدمہ ۷) پھر ما نحن فیہ تو اس حالت کا وجود بھی محل نظر کون کہہ سکتا ہے کہ اکثر ناپاك وحرام ہڈیاں ہی ڈالتے ہوں گے اور طیب وطاہر شاذونادر۔
یا اتنا یقین ہوا کہ وہ اپنی بے پرواہی کو وقوع میں لاتے اور ہرطرح کی ہڈیاں ڈالتے ہی ہیں پھر یہ تو نہیں کہ دائما صرف وہی طریقہ برتتے ہیں جو نجس وحرام کردے اور جب یوں بھی ہے اور یوں بھی تو ہر شکر میں احتمال محفوظی تو ہرگز حکم نجاست وحرمت نہیں دے سکتے (دیکھو مقدمہ ۸) بلکہ جب تك کسی جگہ کوئی وجہ وجیہ ریب وشبہہ کی نہ پائی جائے تحقیقات کی بھی حاجت نہیں بلکہ جہاں تحقیق پر کوئی فتنہ یا ایذائے اہل ایمان یا ترك ادب بزرگان یا پردہ دری مسلمان یا اور کوئی محذور سمجھے وہاں تو ہرگز ان خیالات وظنون کی پابندی نہ کرے (دیکھو مقدمہ ۱۰)
عـــہ ھو ماقدمناہ عنہ عن الخلاصۃ عن الاصل اول المقدمۃ العاشرۃ ۱۲ منہ (م)
یہ وہ ہے جو ہم نے دسویں مقدمہ کے شروع میں اصل سے خلاصہ سے البحرالرائق سے بیان کیا ہے ۱۲ م نہ (ت)
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۸۷
ہاں بے شك جو شخص اپنی آنکھ سے دیکھ لے کہ خاص مردار یا حرام ہڈیاں لی گئیں اور اس کے سامنے شکر میں اس طور پر ملادی گئیں کہ اب جدا نہیں ہوسکتیں یا بچشم خود معاینہ کرے کہ بالخصوص ناپاك استخواں لائے گئے اور اس کے روبرو اس میں بے حالت جریان شامل ہوئے اور وہی رس منعقد ہوکر شکر بناتو بالخصوص یہی شکر جو اس کے پیش نظر یوں بنی اس پر حرام جس کا کھانا جائز نہ کھلانا جائز نہ لینا جائز نہ دینا جائز۔ یوہیں جس خاص شکر کی نسبت خبر معتبر شرعی سے جس کا بیان مقدمہ ۵ میں گزرا ایسا برتاؤ درجہ ثبوت کو پہنچے اور معتمد بیان کرنے والا کہے میں پہچانتا ہوں یہ خاص وہی شکر ہے جس میں ایسا عمل کیا گیا تو اس کا استعمال بھی روانہ رہے گا بغیر ان صورتوں کے ہرگز ممانعت نہیں اور اگر اس نے خود دیکھا یا معتبر سے سنا مگر جب بازار میں شکر بکنے آئی مخلوط ہوگئی اور کچھ تمیز نہ رہی تو پھر حکم جواز سے اور خریداری واستعمال میں مضائقہ نہیں جب تك کسی خاص شکر پر پھر دلیل شرعی قائم نہ ہو (دیکھئے مقدمہ ۹) یہ ہے حکم شرع اور حکم نہیں مگر شرع کے لئے صلی اللہتعالی علی صاحبہ وبارك وسلم آمین!
خاتمہ:
رزقنا الله حسنھا امین
بحمد اللہ تعالی ہم نے اس شکر کے بارے میں ہر صورت پر وہ واضح وبین کلام کیا کہ کسی پہلو پر حکم شرع مخفی نہ رہا اب اہل اسلام نظر کریں اگر یہاں ان صورتوں میں سے کوئی شکل موجود جن پر ہم نے حکم حرمت ونجاست دیا تو وہی حکم ہے ورنہ مجرد ظنون واوہام کی پابندی محض تشدد وناواقفی نہ بے تحقیق کسی شے کو حرام وممنوع کہہ دینے میں کچھ احتیاط بلکہ احتیاط اباحت ہی ماننے میں ہے جب تك دلیل خلاف واضح نہ ہو (دیکھو مقدمہ ۳) ہم یقین کرتے ہیں کہ ان خیالات وتصورات کا دروازہ کھولا جائے گا تو مبتدیوں پر دائرہ نہایت تنگ ہوجائے گا ایك روسرکی شکر کیا ہزارہا چیزیں چھوڑنی پڑیں گی گھوسیوں کا گھی تیلیوں کا تیل حلوائیوں کا دودھ ہرقسم کی مٹھائی کافر عطاروں کا عرق شربت کیا بلا ہے اور ان کی طہارت پر بے تمسك باصل کونسا بینہ قاطعہ ملا ہے اس دائرہ کی توسیع میں امت پر تضییق اور ہزاروں مسلمانوں کی تاثیم وتفسیق جسے شرع مطہر کہ کمال یسروسماحت ہے ہرگز گوارا نہیں فرماتی صلی اللہتعالی علی صاحبہ وبارك وسلم۔
فی الحاشیۃ الشامیۃ فیہ حرج عظیم لانہ یلزم منہ تاثیم الامۃ اھ و فیھا ھو ارفق باھل ھذا الزمان
حاشیہ شامی میں ہے کہ اس میں بہت بڑا حرج ہے کیونکہ اس میں امت کی طرف گناہ کی نسبت لازم آتی ہے اھ اور اسی میں ہے کہ اس میں موجودہ دور کے
خاتمہ:
رزقنا الله حسنھا امین
بحمد اللہ تعالی ہم نے اس شکر کے بارے میں ہر صورت پر وہ واضح وبین کلام کیا کہ کسی پہلو پر حکم شرع مخفی نہ رہا اب اہل اسلام نظر کریں اگر یہاں ان صورتوں میں سے کوئی شکل موجود جن پر ہم نے حکم حرمت ونجاست دیا تو وہی حکم ہے ورنہ مجرد ظنون واوہام کی پابندی محض تشدد وناواقفی نہ بے تحقیق کسی شے کو حرام وممنوع کہہ دینے میں کچھ احتیاط بلکہ احتیاط اباحت ہی ماننے میں ہے جب تك دلیل خلاف واضح نہ ہو (دیکھو مقدمہ ۳) ہم یقین کرتے ہیں کہ ان خیالات وتصورات کا دروازہ کھولا جائے گا تو مبتدیوں پر دائرہ نہایت تنگ ہوجائے گا ایك روسرکی شکر کیا ہزارہا چیزیں چھوڑنی پڑیں گی گھوسیوں کا گھی تیلیوں کا تیل حلوائیوں کا دودھ ہرقسم کی مٹھائی کافر عطاروں کا عرق شربت کیا بلا ہے اور ان کی طہارت پر بے تمسك باصل کونسا بینہ قاطعہ ملا ہے اس دائرہ کی توسیع میں امت پر تضییق اور ہزاروں مسلمانوں کی تاثیم وتفسیق جسے شرع مطہر کہ کمال یسروسماحت ہے ہرگز گوارا نہیں فرماتی صلی اللہتعالی علی صاحبہ وبارك وسلم۔
فی الحاشیۃ الشامیۃ فیہ حرج عظیم لانہ یلزم منہ تاثیم الامۃ اھ و فیھا ھو ارفق باھل ھذا الزمان
حاشیہ شامی میں ہے کہ اس میں بہت بڑا حرج ہے کیونکہ اس میں امت کی طرف گناہ کی نسبت لازم آتی ہے اھ اور اسی میں ہے کہ اس میں موجودہ دور کے
حوالہ / References
ردالمحتار مطلب فیمن وطء من زفت الیہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۴ / ۲۶
لئلا یقعوافی الفسق والعصیان اھ وقد قالت العلماء من کل مذھب کلماضاق امرا تسع ومن القواعد المسلمۃ المشقۃ تجلب التیسیر ۔
لوگوں کے لئے زیادہ نرمی ہے تاکہ وہ نافرمانی اور گناہ میں نہ پڑیں اھ۔ ہر مذہب کے علماء فرماتے ہیں جب کوئی معاملہ سختی کا باعث ہو تو اس میں وسعت آجاتی ہے اور مسلمہ قواعد سے ہے کہ مشقت آسانی کو لاتی ہے۔ (ت)
علماء تصریح فرماتے ہیں ہمارا زمانہ اتقائے شبہات کا نہیں غنیمت ہے کہ آدمی آنکھوں دیکھے حرام سے بچے۔
فی فتاوی الامام قاضی خان قالوا لیس زماننا زمان اجتناب الشبھات وانما علی المسلم ان یتقی الحرام المعاین اھ۔ و فی تجنیس الامام ھان الدین عن ابی بکر ابراھیم لیس ھذا زمان الشبھات ان الحرام اغنانا یعنی ان اجتنبت الحرام کفاك اھ ملخصا وعنھما فی الاشباھ نحوذلك۔ و فی الطریقۃ وشرحھا بعد النقل علی الامامین المعاصرین رحمھماالله تعالی زمانھما ای زمان قاضی خان وصاحب الھدایۃ رحمھماالله تعالی قبل ستمائۃ سنۃ من الھجرۃ النبویۃ وقدبلغ التاریخ الیوم ای فی زمان المصنف لھذا الکتاب رحمہ الله تعالی تسعمائۃ فتاوی قاضی خان میں ہے فقہاء فرماتے ہیں ہمارا زمانہ شبہات سے اجتناب کا زمانہ نہیں مسلمان پر لازم ہے کہ آنکھوں دیکھے حرام سے بچے اھ امام برہان الدین کی تجنیس میں ابوبکر بن ابراہیم سے منقول ہے کہ یہ شبہات کا زمانہ نہیں ہے بیشك حرام نے ہمیں مستغنی کردیا یعنی اگر تو حرام سے بچے تو کافی ہے اھ۔ (تلخیص) اور ان دونوں سے الاشباہ میں اسی کی مثل ہے۔ الطریقۃ المحمدیہ اور اس کی شرح میں دو معاصر ائمہ رحمہم اللہ تعالیسے نقل کرنے کے بعد فرمایا ان دونوں یعنی قاضی خان اور صاحب ہدایہ کا زمانہ سن ہجری کے اعتبار سے چھ سو۶۰۰ سال پہلے کا ہے اور آج اس مصنف کے زمانے میں ۹۸۰ھ ہوگئی ہے اور آج (شرح لکھتے وقت) ۱۰۹۳ھ ہے اور یہ بات مخفی نہیں کہ عہد نبوت
لوگوں کے لئے زیادہ نرمی ہے تاکہ وہ نافرمانی اور گناہ میں نہ پڑیں اھ۔ ہر مذہب کے علماء فرماتے ہیں جب کوئی معاملہ سختی کا باعث ہو تو اس میں وسعت آجاتی ہے اور مسلمہ قواعد سے ہے کہ مشقت آسانی کو لاتی ہے۔ (ت)
علماء تصریح فرماتے ہیں ہمارا زمانہ اتقائے شبہات کا نہیں غنیمت ہے کہ آدمی آنکھوں دیکھے حرام سے بچے۔
فی فتاوی الامام قاضی خان قالوا لیس زماننا زمان اجتناب الشبھات وانما علی المسلم ان یتقی الحرام المعاین اھ۔ و فی تجنیس الامام ھان الدین عن ابی بکر ابراھیم لیس ھذا زمان الشبھات ان الحرام اغنانا یعنی ان اجتنبت الحرام کفاك اھ ملخصا وعنھما فی الاشباھ نحوذلك۔ و فی الطریقۃ وشرحھا بعد النقل علی الامامین المعاصرین رحمھماالله تعالی زمانھما ای زمان قاضی خان وصاحب الھدایۃ رحمھماالله تعالی قبل ستمائۃ سنۃ من الھجرۃ النبویۃ وقدبلغ التاریخ الیوم ای فی زمان المصنف لھذا الکتاب رحمہ الله تعالی تسعمائۃ فتاوی قاضی خان میں ہے فقہاء فرماتے ہیں ہمارا زمانہ شبہات سے اجتناب کا زمانہ نہیں مسلمان پر لازم ہے کہ آنکھوں دیکھے حرام سے بچے اھ امام برہان الدین کی تجنیس میں ابوبکر بن ابراہیم سے منقول ہے کہ یہ شبہات کا زمانہ نہیں ہے بیشك حرام نے ہمیں مستغنی کردیا یعنی اگر تو حرام سے بچے تو کافی ہے اھ۔ (تلخیص) اور ان دونوں سے الاشباہ میں اسی کی مثل ہے۔ الطریقۃ المحمدیہ اور اس کی شرح میں دو معاصر ائمہ رحمہم اللہ تعالیسے نقل کرنے کے بعد فرمایا ان دونوں یعنی قاضی خان اور صاحب ہدایہ کا زمانہ سن ہجری کے اعتبار سے چھ سو۶۰۰ سال پہلے کا ہے اور آج اس مصنف کے زمانے میں ۹۸۰ھ ہوگئی ہے اور آج (شرح لکھتے وقت) ۱۰۹۳ھ ہے اور یہ بات مخفی نہیں کہ عہد نبوت
حوالہ / References
ردالمحتار فصل فی اللبس مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۳۵۳
الاشباہ والنظائر الفن الاول ، القاعدۃ الرابعہ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۱۱۷
الاشباہ والنظائر الفن الاول ، القاعدۃ الرابعہ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۱۰۵
فتاوی قاضی خان الحظر و الاباحۃ نولکشور لکنھؤ ۴ / ۷۷
غمز عیون البصائر مع الاشباہ کتاب الحظرو الاباحۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۰۸
الاشباہ والنظائر الفن الاول ، القاعدۃ الرابعہ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۱۱۷
الاشباہ والنظائر الفن الاول ، القاعدۃ الرابعہ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱ / ۱۰۵
فتاوی قاضی خان الحظر و الاباحۃ نولکشور لکنھؤ ۴ / ۷۷
غمز عیون البصائر مع الاشباہ کتاب الحظرو الاباحۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۰۸
وثمانین سنۃ من الھجرۃ وبلغ التاریخ الیوم الی الف وثلث وتسعین سنۃ من الھجرۃ ولاخفاء ان الفساد والتغیر یزیدان بزیادۃ الزمان لبعدہ عن عھد النبوۃ اھ ملخصا وفی العلمگیریۃ عن جواھر الفتاوی عن بعض مشایخہ علیك بترك الحرام المحض فی ھذا الزمان فانك لاتجد شیأ لاشبھۃ فیہ اھ۔
سے دوری کی وجہ سے جوں جوں زمانہ بڑھتا جاتا ہے فساد وتغیر میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے اھ ملخصا۔ فتاوی عالمگیری میں بحوالہ جواہر الفتاوی بعض مشائخ سے نقل کیا گیا ہے کہ اس زمانے میں تم پر محض حرام کا چھوڑنا واجب ہے کیونکہ آج تم کوئی ایسی چیز نہیں پاؤ گے جس میں شبہہ نہ ہو۔ (ت)
سبحن الله جبکہ چھٹی صدی بلکہ اس سے پہلے سے ائمہ دین یوں ارشاد فرماتے آئے تو ہم پسماندوں کو اس چودھویں صدی میں کیا امید ہے فاناللہوانا الیہ راجعون ایسی ہی وجوہ ہیں کہ حدیث میں آیا :
انکم فی زمان من ترك منکم عشرما امربہ ھلك ثم یاتی زمان من عمل منھم بعشر ماامربہ نجا اخرجہ الترمذی وغیرہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
تم (اے صحابہ کرام) اس زمانے میں ہوکہ تم میں سے جو شخص اس چیز کا دسواں حصہ بھی چھوڑ دے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے تو ہلاك ہوگا پھر ایك زمانہ آئے گا کہ تم میں سے جو آدمی اس چیز کے دسویں حصے پر بھی عمل کرے گا جس کا اسے حکم دیا گیا ہے تو وہ نجات پائے گا۔ ترمذی وغیرہ نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا۔ (ت)
ہاں جو شخص بحکم
قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کیف وقدقیل اخرجہ خ وغیرہ عن عقبۃ بن الحارث النوفلی۔ وقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم
رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد جسے امام بخاری وغیرہ نے عقبہ بن حارث نوفلی سے روایت کیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے (کہ تو اس سے مباشرت کرے) جبکہ کہا گیا ہے (تو اس کا بھائی ہے)
سے دوری کی وجہ سے جوں جوں زمانہ بڑھتا جاتا ہے فساد وتغیر میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے اھ ملخصا۔ فتاوی عالمگیری میں بحوالہ جواہر الفتاوی بعض مشائخ سے نقل کیا گیا ہے کہ اس زمانے میں تم پر محض حرام کا چھوڑنا واجب ہے کیونکہ آج تم کوئی ایسی چیز نہیں پاؤ گے جس میں شبہہ نہ ہو۔ (ت)
سبحن الله جبکہ چھٹی صدی بلکہ اس سے پہلے سے ائمہ دین یوں ارشاد فرماتے آئے تو ہم پسماندوں کو اس چودھویں صدی میں کیا امید ہے فاناللہوانا الیہ راجعون ایسی ہی وجوہ ہیں کہ حدیث میں آیا :
انکم فی زمان من ترك منکم عشرما امربہ ھلك ثم یاتی زمان من عمل منھم بعشر ماامربہ نجا اخرجہ الترمذی وغیرہ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم۔
تم (اے صحابہ کرام) اس زمانے میں ہوکہ تم میں سے جو شخص اس چیز کا دسواں حصہ بھی چھوڑ دے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے تو ہلاك ہوگا پھر ایك زمانہ آئے گا کہ تم میں سے جو آدمی اس چیز کے دسویں حصے پر بھی عمل کرے گا جس کا اسے حکم دیا گیا ہے تو وہ نجات پائے گا۔ ترمذی وغیرہ نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے روایت کیا۔ (ت)
ہاں جو شخص بحکم
قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم کیف وقدقیل اخرجہ خ وغیرہ عن عقبۃ بن الحارث النوفلی۔ وقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم
رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا ارشاد جسے امام بخاری وغیرہ نے عقبہ بن حارث نوفلی سے روایت کیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے (کہ تو اس سے مباشرت کرے) جبکہ کہا گیا ہے (تو اس کا بھائی ہے)
حوالہ / References
الحدیقۃ الندیۃ الفصل الثانی من الفصول الثلاثہ مطبع نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۲۰
فتاوٰی ھندیۃ کتاب الکراھیۃ باب نمبر۲۵فی البیع الخ نورانی کتب خانہ ۵ / ۳۶۴
جامع الترمذی ابواب الفتن ، مطببوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۵۱
صحیح البخاری باب الرحلۃ فی المسئلۃ النازلۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹
فتاوٰی ھندیۃ کتاب الکراھیۃ باب نمبر۲۵فی البیع الخ نورانی کتب خانہ ۵ / ۳۶۴
جامع الترمذی ابواب الفتن ، مطببوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۵۱
صحیح البخاری باب الرحلۃ فی المسئلۃ النازلۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۹
من اتقی الشبھات فقد استبرأ لدینہ وعرضہ اخرجہ الستۃ عن النعمان بن بشیر رضی الله تعالی عنھم۔
اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ جو شخص شبہات سے بچا اس نے اپنا دین اور عزت بچالی “ ۔ اس حدیث کو اصحاب صحاح ستہ نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہمسے روایت کیا ہے (ت)
بچنا چاہے اور ان امور کا کہ ہم مقدمہ دہم میں ذکر کر آئے لحاظ رکھے بہتر وافضل اور نہایت محمود عمل مگر اس کے ورع کا حکم صرف اسی کے نفس پر ہے نہ کہ اس کے سبب اصل شے کو ممنوع کہنے لگے یا جو مسلمان اسے استعمال کرتے ہوں ان پر طعن واعتراض کرے انہیں اپنی نظیر میں حقیر سمجھے اس سے تو اس ورع کا ترك ہزار درجہ بہتر تھا کہ شرح پر افترا اور مسلمانوں کی تشنیع وتحقیر سے تو محفوظ رہتا۔
وقال الله تبارك وتعالی
و لا تقولوا لما تصف السنتكم الكذب هذا حلل و هذا حرام لتفتروا على الله الكذب-ان الذین یفترون على الله الكذب لا یفلحون(۱۱۶) وقال جل مجدہ
و لا تلمزوا انفسكم ای لایعب بعضکم بعضا واللمزھو الطعن باللسان و لابی داؤد وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کل المسلم علی المسلم حرام مالہ وعرصہ ودمہ حسب امریئ من الشران یحتقر اخاہ المسلم ۔
اور اللہتعالی نے فرمایا : “ اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام کہ اللہپر جھوٹ باندھو بیشك جو اللہتعالی پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا “ اور اللہبزرگ وبرتر نے فرمایا : اپنے آپ پر طعن نہ کرو۔ یعنی ایك دوسرے پر طعن نہ کرو۔ زبان سے طعنہ زنی کو “ اللمز “ کہتے ہیں۔
ابوداؤد اور ابن ماجہ نے بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے نقل کیا آپ نے فرمایا : “ مسلمان کا مال عزت اور جان دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ کسی انسان کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ (ت)
اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : “ جو شخص شبہات سے بچا اس نے اپنا دین اور عزت بچالی “ ۔ اس حدیث کو اصحاب صحاح ستہ نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہمسے روایت کیا ہے (ت)
بچنا چاہے اور ان امور کا کہ ہم مقدمہ دہم میں ذکر کر آئے لحاظ رکھے بہتر وافضل اور نہایت محمود عمل مگر اس کے ورع کا حکم صرف اسی کے نفس پر ہے نہ کہ اس کے سبب اصل شے کو ممنوع کہنے لگے یا جو مسلمان اسے استعمال کرتے ہوں ان پر طعن واعتراض کرے انہیں اپنی نظیر میں حقیر سمجھے اس سے تو اس ورع کا ترك ہزار درجہ بہتر تھا کہ شرح پر افترا اور مسلمانوں کی تشنیع وتحقیر سے تو محفوظ رہتا۔
وقال الله تبارك وتعالی
و لا تقولوا لما تصف السنتكم الكذب هذا حلل و هذا حرام لتفتروا على الله الكذب-ان الذین یفترون على الله الكذب لا یفلحون(۱۱۶) وقال جل مجدہ
و لا تلمزوا انفسكم ای لایعب بعضکم بعضا واللمزھو الطعن باللسان و لابی داؤد وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کل المسلم علی المسلم حرام مالہ وعرصہ ودمہ حسب امریئ من الشران یحتقر اخاہ المسلم ۔
اور اللہتعالی نے فرمایا : “ اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام کہ اللہپر جھوٹ باندھو بیشك جو اللہتعالی پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا “ اور اللہبزرگ وبرتر نے فرمایا : اپنے آپ پر طعن نہ کرو۔ یعنی ایك دوسرے پر طعن نہ کرو۔ زبان سے طعنہ زنی کو “ اللمز “ کہتے ہیں۔
ابوداؤد اور ابن ماجہ نے بروایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے نقل کیا آپ نے فرمایا : “ مسلمان کا مال عزت اور جان دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ کسی انسان کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ (ت)
حوالہ / References
صحیح البخاری باب فضل من استبرألدینہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳
القرآن ۱۶ / ۱۱۶
القرآن ۴۹ / ۱۱
تعلیقات جدیدۃ من التفاسیر المعتبرۃ لحل الجلالین مع الجلالین مطبوعہ اصح المطالع دہلی ۲ / ۴۲۸
سُنن ابنِ ماجہ باب حرمۃ دم المؤمن ومالہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۹۰
القرآن ۱۶ / ۱۱۶
القرآن ۴۹ / ۱۱
تعلیقات جدیدۃ من التفاسیر المعتبرۃ لحل الجلالین مع الجلالین مطبوعہ اصح المطالع دہلی ۲ / ۴۲۸
سُنن ابنِ ماجہ باب حرمۃ دم المؤمن ومالہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۹۰
عجب اس سے کہ ورع کا قصد کرے اور محرمات قطعیہ میں پڑے یہ صرف تشدد وتعمق کا نتیجہ ہے اور واقعی دین وسنت صراط مستقیم ہیں ان میں جس طرح تفریط سے آدمی مداہن ہوجاتا ہے یونہی افراط سے اس قسم کے آفات میں ابتلا پاتا ہے لم یجعل لہ عوجا (اس میں اصلا کجی نہ رکھی ت) دونوں مذموم۔ بھلا عوام بیچاروں کی کیا شکایت آج کل بہت جہال منتسب بنام علم وکمال یہی روش چلتے ہیں مکروہات کہ مباحات بلکہ مستحبات جنہیں بزعم خود ممنوع سمجھ لیں ان سے تحذیر وتنفیر کو کیا کچھ نہیں لکھ دیتے حتی کہ نوبت تابہ اطلاق شرك وکفر پہنچانے میں باك نہیں رکھتے۔ پھر یہ نہیں کہ شاید ایك آدھ جگہ قلم سے نکل جائے تو دس جگہ اس کا تدارك عمل میں آئے۔ نہیں نہیں بلکہ اسے طرح طرح سے جمائیں الٹی سیدھی دلیلیں لائیں۔ پھر جب مؤاخذہ کیجئے تو ہوا خواہ بفحواے عذر گناہ بدتر ازگناہ تاویل کریں کہ بنظر تخویف وترہیب تشدد مقصود ہے۔ سبحن اللہاچھا تشدد ہے کہ ان سے زیادہ بدتر گناہوں کا خود ارتکاب کر بیٹھے کیا نہیں جانتے کہ مسلمان کو کافر ومشرك بتانا بلالکہ براہ اصرار اسے عقیدہ ٹھہرانا کتنا شدید وعظیم اور دین حنیف سہل لطیف سمح نظیف میں یہ سخت گیری کیسی بدعت شنیع ووخیم ولاحول ولاقوۃ الا بالله العزیز الحکیم نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : “ آسانی کرو اور دقت میں نہ ڈالو اور خوشخبری دو اور نفرت نہ دلاؤ “
احمد والبخاری ومسلم والنسائی عن انس رضی الله تعالی عنہ مرفوعا یسروا ولا تعسروا وبشروا ولاتنفروا ۔ ولمسلم وابی داؤد عن ابی موسی الاشعری رضی الله تعالی عنہ کان صلی الله تعالی علیہ وسلم اذابعث احدا من اصحابہ فی بعض امرہ قال بشروا ولاتنفروا ویسروا ولا تعسروا ۔
امام احمد بخاری مسلم اور نسائی رحمہم اللہ تعالیحضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے مرفوعا روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : آسانی پیدا کرو تنگی نہ کرو خوشخبری دو نفرت پیدا نہ کرو۔ امام مسلم اور ابوداؤد رحمہم اللہ تعالیحضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہیں کہ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب کسی صحابی کو کسی کام کے لئے بھیجتے تو فرماتے خوشخبری دو متنفر نہ کرو آسانی پیدا کرو تنگی میں نہ ڈالو (ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتم آسانی کرنے والے بھیجے گئے ہو نہ دشواری میں ڈالنے والے۔
احمد والستۃ ماخلا مسلما عن ابی ھریرۃ
امام احمد اور اصحاب صحاح ستہ ماسوائے امام مسلم کے
احمد والبخاری ومسلم والنسائی عن انس رضی الله تعالی عنہ مرفوعا یسروا ولا تعسروا وبشروا ولاتنفروا ۔ ولمسلم وابی داؤد عن ابی موسی الاشعری رضی الله تعالی عنہ کان صلی الله تعالی علیہ وسلم اذابعث احدا من اصحابہ فی بعض امرہ قال بشروا ولاتنفروا ویسروا ولا تعسروا ۔
امام احمد بخاری مسلم اور نسائی رحمہم اللہ تعالیحضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے مرفوعا روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : آسانی پیدا کرو تنگی نہ کرو خوشخبری دو نفرت پیدا نہ کرو۔ امام مسلم اور ابوداؤد رحمہم اللہ تعالیحضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہیں کہ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمجب کسی صحابی کو کسی کام کے لئے بھیجتے تو فرماتے خوشخبری دو متنفر نہ کرو آسانی پیدا کرو تنگی میں نہ ڈالو (ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتم آسانی کرنے والے بھیجے گئے ہو نہ دشواری میں ڈالنے والے۔
احمد والستۃ ماخلا مسلما عن ابی ھریرۃ
امام احمد اور اصحاب صحاح ستہ ماسوائے امام مسلم کے
حوالہ / References
صحیح البخاری باب ماکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم يتخولہم بالموعظۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶
الصحیح لمسلم باب تامیر الامام الامراء الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۲
الصحیح لمسلم باب تامیر الامام الامراء الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۸۲
رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم انما بعثتم میسرین ولم تبعثوا معسرین ۔
(رحمہم اللہ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : تمہیں آسانی پیدا کرنے والا بناکر بھیجا گیا ہے تنگی میں ڈالنے والا بناکر نہیں بھیجا گیا۔ (ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم: “ ہلاك ہوئے غلو وتشدد والے “ ۔
احمد ومسلم وابوداؤد عن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ھلك المتنطعون ۔
امام احمد مسلم اور ابوداؤد رحمہم اللہ تعالیحضرت عبداللہبن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : گفتگو میں شدت اختیار کرنے والے ہلاك ہوئے۔ (ت)
اور وارد ہوا فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں نرم شریعت ہر باطل سے کنارہ کرنے والی لے کر بھیجا گیا جو میرے طریقے کا خلاف کرے میرے گروہ سے نہیں۔
الخطیب فی التاریخ عن جابر رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بعثت بالحنیفیۃ السمحۃ ومن خالف سنتی فلیس منی الی غیر ذلك من احادیث یطول ذکرھا والتی ذکرنا کافیۃ وافیۃ نسأل الله سبحانہ العفو والعافیۃ امین۔
خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : مجھے آسانی اور ہر باطل سے جدا شریعت کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور جس نے میری سنت کی مخالفت کی وہ مجھ سے نہیں۔ اس کے علاوہ احادیث ہیں جن کا ذکر باعث طوالت ہے جو کچھ ہم نے ذکر کیا وہ کافی ووافی ہے ہم اللہتعالی سے عفو وعافیت کا سوال کرتے ہیں۔ (ت)
فقیر غفرلہ اللہتعالی لہ نے آج تك اس شکر کی صورت دیکھی نہ کبھی اپنے یہاں منگائی نہ آگے منگائے جانے کا قصد مگر بایں ہمہ ہرگز ممانعت نہیں مانتا نہ جو مسلمان استعمال کریں انہیں آثم خواہ بیباك جانتا ہے نہ تو ورع و
(رحمہم اللہ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : تمہیں آسانی پیدا کرنے والا بناکر بھیجا گیا ہے تنگی میں ڈالنے والا بناکر نہیں بھیجا گیا۔ (ت)
اور فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم: “ ہلاك ہوئے غلو وتشدد والے “ ۔
احمد ومسلم وابوداؤد عن ابن مسعود رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ھلك المتنطعون ۔
امام احمد مسلم اور ابوداؤد رحمہم اللہ تعالیحضرت عبداللہبن مسعود رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : گفتگو میں شدت اختیار کرنے والے ہلاك ہوئے۔ (ت)
اور وارد ہوا فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں نرم شریعت ہر باطل سے کنارہ کرنے والی لے کر بھیجا گیا جو میرے طریقے کا خلاف کرے میرے گروہ سے نہیں۔
الخطیب فی التاریخ عن جابر رضی الله تعالی عنہ عن النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بعثت بالحنیفیۃ السمحۃ ومن خالف سنتی فلیس منی الی غیر ذلك من احادیث یطول ذکرھا والتی ذکرنا کافیۃ وافیۃ نسأل الله سبحانہ العفو والعافیۃ امین۔
خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : مجھے آسانی اور ہر باطل سے جدا شریعت کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور جس نے میری سنت کی مخالفت کی وہ مجھ سے نہیں۔ اس کے علاوہ احادیث ہیں جن کا ذکر باعث طوالت ہے جو کچھ ہم نے ذکر کیا وہ کافی ووافی ہے ہم اللہتعالی سے عفو وعافیت کا سوال کرتے ہیں۔ (ت)
فقیر غفرلہ اللہتعالی لہ نے آج تك اس شکر کی صورت دیکھی نہ کبھی اپنے یہاں منگائی نہ آگے منگائے جانے کا قصد مگر بایں ہمہ ہرگز ممانعت نہیں مانتا نہ جو مسلمان استعمال کریں انہیں آثم خواہ بیباك جانتا ہے نہ تو ورع و
حوالہ / References
صحیح البخاری باب صب الماء علی البول فی المسجد مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۵
سنن ابی داؤد باب فی لزوم السنۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۲۷۹
تاریخِ بغدا د حدیث نمبر ۳۶۷۸ دارالکتب العربیہ بیروت ۷ / ۲۰۹
سنن ابی داؤد باب فی لزوم السنۃ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۲۷۹
تاریخِ بغدا د حدیث نمبر ۳۶۷۸ دارالکتب العربیہ بیروت ۷ / ۲۰۹
احتیاط کا نام بدنام کرکے عوام مومنین پر طعن کرے نہ اپنے نفس ذلیل مہین رذیل کے لئے ان پر ترفع وتعلی روا رکھے
وبالله التوفیق٭والعیاذ من المداھنۃ والتضیيق٭وھو سبحانہ وتعالی اعلم٭وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم٭واعلم ان لنافی الکلام٭علی ھذا المرام٭بتوفیق المولی۔ سبحانہ وتعالی مباحث اخری٭ادق واعلی لکنھا دقیقۃ المنزع٭عمیقۃ المشرع٭عریصۃ المنال٭طویلۃ الازیال٭وقد قضینا الوطر عن ابانۃ الصواب وتحقیق الجواب٭فکیفنا امرھا۔ فطوینا ذکرھا فھاك جوابا قل ودل۔ بفضل الملك عزوجل فان لم یصبها وابل فطل- ۔
ومعلوم ان ماقل وکفی۔ خیرمماکثر والھی ۔ قالہ المصطفی علیہ افضل الثنا۔ رواہ ابویعلی والضیاء المقدسی۔ عن ابی سعیدن الخدری رضی الله تعالی عنہ وعن کل ولی امین۔
اور اللہہی توفیق دینے والا ہے منافقت اور تنگی پیدا کرنے سے اس کی پناہ چاہتا ہوں اور اس پاك اور بلند ذات کا علم زیادہ ہے اس کی ذات بلند اور اس کا علم نہایت مکمل اور مضبوط ومحکم ہے۔ جان لو اپنے مولی سبحانہ وتعالی کی توفیق سے اس مقصد پر ہمارے پاس کچھ اور مباحث بھی ہیں جو نہایت باریك اور اعلی ہیں لیکن ان کا حصول نہایت باریك بینی کا کام ہے اور ان کا منبع نہایت گہرائی میں ہے ان کو پانا دشوار ہے اور ان کا دامن نہایت طویل ہے۔ ہم نے راہ حق کے اظہار اور جواب کی تحقیق میں مقصود حاصل کرلیا ہے ہم نے اس معاملہ میں اسی پر اکتفاء کیا اور اس کا ذکر ختم کردیا کہ جواب عزت وبزرگی والے بادشاہ کے فضل سے قلیل لیکن زیادہ راہنمائی کرنے والا ہے اگر تیز بارش نہ بھی پہنچے تو اوس کافی ہے۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ جو بات مختصر اور کفایت کرنے والی ہو وہ زیادہ اور غافل کرنے والی سے بہتر ہے حضرت محمد مصطفی علیہ افضل الثناء نے یہی بات فرمائی اسے ابویعلی اور ضیاء مقدسی نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت کیا اللہتعالی ان سے اور ہر ولی سے راضی ہو۔ آمین (ت)
تنبیہ : فقیر غفراللہتعالی لہ نے ان مقدمات عشرہ میں جو مسائل ودلائل تقریر کیے جو انہیں اچھی طرح سمجھ لیا ہے اس قسم کے تمام جزئیات مثلا بسکٹ نان پاؤ رنگت کی پڑیوں یورپ کے آئے ہوئے دودھ مکھن صابون مٹھائیوں وغیرہا کا حکم خود جان سکتا ہے۔ غرض ہر جگہ کیفیت خبر وحالت مخبر وحاصل واقعہ وطریقہ مداخلت حرام ونجس وتفرقہ ظن ویقین ومدارج ظنون وملاحظہ ضابطہ کلیہ ومسالك ورع ومدارات خلق وغیرہا امور مذکورہ کی تنقیح ومراعات کرلیں پھر ان شاء اللہتعالی کوئی جزئیہ ایسا نہ نکلے گا جس کا حکم تقاریر
وبالله التوفیق٭والعیاذ من المداھنۃ والتضیيق٭وھو سبحانہ وتعالی اعلم٭وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم٭واعلم ان لنافی الکلام٭علی ھذا المرام٭بتوفیق المولی۔ سبحانہ وتعالی مباحث اخری٭ادق واعلی لکنھا دقیقۃ المنزع٭عمیقۃ المشرع٭عریصۃ المنال٭طویلۃ الازیال٭وقد قضینا الوطر عن ابانۃ الصواب وتحقیق الجواب٭فکیفنا امرھا۔ فطوینا ذکرھا فھاك جوابا قل ودل۔ بفضل الملك عزوجل فان لم یصبها وابل فطل- ۔
ومعلوم ان ماقل وکفی۔ خیرمماکثر والھی ۔ قالہ المصطفی علیہ افضل الثنا۔ رواہ ابویعلی والضیاء المقدسی۔ عن ابی سعیدن الخدری رضی الله تعالی عنہ وعن کل ولی امین۔
اور اللہہی توفیق دینے والا ہے منافقت اور تنگی پیدا کرنے سے اس کی پناہ چاہتا ہوں اور اس پاك اور بلند ذات کا علم زیادہ ہے اس کی ذات بلند اور اس کا علم نہایت مکمل اور مضبوط ومحکم ہے۔ جان لو اپنے مولی سبحانہ وتعالی کی توفیق سے اس مقصد پر ہمارے پاس کچھ اور مباحث بھی ہیں جو نہایت باریك اور اعلی ہیں لیکن ان کا حصول نہایت باریك بینی کا کام ہے اور ان کا منبع نہایت گہرائی میں ہے ان کو پانا دشوار ہے اور ان کا دامن نہایت طویل ہے۔ ہم نے راہ حق کے اظہار اور جواب کی تحقیق میں مقصود حاصل کرلیا ہے ہم نے اس معاملہ میں اسی پر اکتفاء کیا اور اس کا ذکر ختم کردیا کہ جواب عزت وبزرگی والے بادشاہ کے فضل سے قلیل لیکن زیادہ راہنمائی کرنے والا ہے اگر تیز بارش نہ بھی پہنچے تو اوس کافی ہے۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ جو بات مختصر اور کفایت کرنے والی ہو وہ زیادہ اور غافل کرنے والی سے بہتر ہے حضرت محمد مصطفی علیہ افضل الثناء نے یہی بات فرمائی اسے ابویعلی اور ضیاء مقدسی نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت کیا اللہتعالی ان سے اور ہر ولی سے راضی ہو۔ آمین (ت)
تنبیہ : فقیر غفراللہتعالی لہ نے ان مقدمات عشرہ میں جو مسائل ودلائل تقریر کیے جو انہیں اچھی طرح سمجھ لیا ہے اس قسم کے تمام جزئیات مثلا بسکٹ نان پاؤ رنگت کی پڑیوں یورپ کے آئے ہوئے دودھ مکھن صابون مٹھائیوں وغیرہا کا حکم خود جان سکتا ہے۔ غرض ہر جگہ کیفیت خبر وحالت مخبر وحاصل واقعہ وطریقہ مداخلت حرام ونجس وتفرقہ ظن ویقین ومدارج ظنون وملاحظہ ضابطہ کلیہ ومسالك ورع ومدارات خلق وغیرہا امور مذکورہ کی تنقیح ومراعات کرلیں پھر ان شاء اللہتعالی کوئی جزئیہ ایسا نہ نکلے گا جس کا حکم تقاریر
حوالہ / References
القرآن ۲ / ۲۶۵
مسند ابی یعلی عن مسند ابی سعید الخدری حدیث ۱۰۴۸ مطبوعہ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت۲ / ۱۷
مسند ابی یعلی عن مسند ابی سعید الخدری حدیث ۱۰۴۸ مطبوعہ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت۲ / ۱۷
سابقہ سے واضح نہ ہوجائے۔
والله سبحانہ الموفق والمعین۔ وبہ نستعین فی کل حین۔ وصلی اللۃ تعالی علی سیدالمرسلین وخاتم النبین۔ محمد والہ وصحبہ اجمعین وعلینا معھم برحمتك یاارحم الراحمین۔ امین امین الہ الحق امین۔ استراح القلم من تحریرہ فی ثلثۃ ایام من اواخر ذی القعدۃ المحرم۔ اخرھا یوم السبت السادس والعشرون من ذاك الشھر المکرم۔ سنۃ ثلث بعد الالف ھ وثلثمائۃ من ھجرۃ حضرۃ سید العالم۔ صلی الله تعالی علیہ وعلی الہ وصحبہ وبارك وسلم۔ مع اشتغال البال برد اھل الضلال وشیون اخر۔ والحمد لله العلی الاکبر۔ مالذا الملح وحب السکر۔ والله تعالی اعلم۔ وعلمہ اتم۔ وحکمہ احکم۔
اللہسبحنہ وتعالی ہی توفیق دینے والا اور مدد کرنے والا ہے اور ہر وقت ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ رسولوں کے سردار اور آخری نبی حضرت محمد مصطفی اور آپ کے تمام آل واصحاب پر رحمت ہو اور ان کے ساتھ ہم پر بھی اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے تیری رحمت کے ساتھ۔ یا اللہ! ہماری دعا قبول فرما یا اللہ! ہماری دعا قبول فرما اے سچے معبود! ہماری دعا قبول فرما۔ حرمت والے ذیقعد کے آخر میں تین دن کے اندر قلم اس کی تحریر سے فارغ ہوگیا۔ ۲۶ ذی القعدۃ ۱۳۰۳ھ بروز ہفتہ آخری دن تھا۔ باوجودیکہ میں گمراہ لوگوں کے رد اور دوسرے امور میں قلبی طور پر مشغول تھا اللہبزرگ وبرتر کے لئے حمد ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۸۳ : از نینی تال متصل سوکھاتال مرسلہ حافظ محمد ابراہیم خان محرر پیشی ڈائریکٹر کرنیل میجر ریاست گوالیار ۱۴ ذی الحجہ ۱۳۱۵ھ
حضرت محذومی دامت برکاتہم بعد آداب خادمانہ التماس خدمت اطہر کہ مسئلہ مندرجہ ذیل سے جلد غلام کو سرفراز فرمائیں عیسائی کے ہاتھ کی چھوئی ہوئی شیرینی قابل استعمال ہے یا نہیں۔ مثلا زید عیسائی ہے اور بکر مسلمان ہے زید نے بازار سے مٹھائی لی اور بکر کو قبل اپنے کھانے کے احتیاط کے ساتھ دے دی تو بکر استعمال کرسکتا ہے یا نہیں۔ بکر مسلمان اپنے یہاں سے کتھا چونا زید کو دے دیتا ہے اور جب ضرورت ہوتی ہے تو بکر اپنے یہاں سے پانی وغیرہ اس کتھے چونے میں ڈال دیتا ہے اور اپنے ہی یہاں کے پانی سے بکر پان وغیرہ بھگودیتا ہے بلالکہ زید خود احتیاط رکھتا ہے کہ جب ضرورت ہوتی ہے تو پانی بکر کے یہاں سے اس میں استعمال کے واسطے منگوالیتا ہے اس حالت میں بکر پان زید کے ہاتھ کا استعمال کرسکتا ہے یا نہیں
والله سبحانہ الموفق والمعین۔ وبہ نستعین فی کل حین۔ وصلی اللۃ تعالی علی سیدالمرسلین وخاتم النبین۔ محمد والہ وصحبہ اجمعین وعلینا معھم برحمتك یاارحم الراحمین۔ امین امین الہ الحق امین۔ استراح القلم من تحریرہ فی ثلثۃ ایام من اواخر ذی القعدۃ المحرم۔ اخرھا یوم السبت السادس والعشرون من ذاك الشھر المکرم۔ سنۃ ثلث بعد الالف ھ وثلثمائۃ من ھجرۃ حضرۃ سید العالم۔ صلی الله تعالی علیہ وعلی الہ وصحبہ وبارك وسلم۔ مع اشتغال البال برد اھل الضلال وشیون اخر۔ والحمد لله العلی الاکبر۔ مالذا الملح وحب السکر۔ والله تعالی اعلم۔ وعلمہ اتم۔ وحکمہ احکم۔
اللہسبحنہ وتعالی ہی توفیق دینے والا اور مدد کرنے والا ہے اور ہر وقت ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ رسولوں کے سردار اور آخری نبی حضرت محمد مصطفی اور آپ کے تمام آل واصحاب پر رحمت ہو اور ان کے ساتھ ہم پر بھی اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے تیری رحمت کے ساتھ۔ یا اللہ! ہماری دعا قبول فرما یا اللہ! ہماری دعا قبول فرما اے سچے معبود! ہماری دعا قبول فرما۔ حرمت والے ذیقعد کے آخر میں تین دن کے اندر قلم اس کی تحریر سے فارغ ہوگیا۔ ۲۶ ذی القعدۃ ۱۳۰۳ھ بروز ہفتہ آخری دن تھا۔ باوجودیکہ میں گمراہ لوگوں کے رد اور دوسرے امور میں قلبی طور پر مشغول تھا اللہبزرگ وبرتر کے لئے حمد ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۸۳ : از نینی تال متصل سوکھاتال مرسلہ حافظ محمد ابراہیم خان محرر پیشی ڈائریکٹر کرنیل میجر ریاست گوالیار ۱۴ ذی الحجہ ۱۳۱۵ھ
حضرت محذومی دامت برکاتہم بعد آداب خادمانہ التماس خدمت اطہر کہ مسئلہ مندرجہ ذیل سے جلد غلام کو سرفراز فرمائیں عیسائی کے ہاتھ کی چھوئی ہوئی شیرینی قابل استعمال ہے یا نہیں۔ مثلا زید عیسائی ہے اور بکر مسلمان ہے زید نے بازار سے مٹھائی لی اور بکر کو قبل اپنے کھانے کے احتیاط کے ساتھ دے دی تو بکر استعمال کرسکتا ہے یا نہیں۔ بکر مسلمان اپنے یہاں سے کتھا چونا زید کو دے دیتا ہے اور جب ضرورت ہوتی ہے تو بکر اپنے یہاں سے پانی وغیرہ اس کتھے چونے میں ڈال دیتا ہے اور اپنے ہی یہاں کے پانی سے بکر پان وغیرہ بھگودیتا ہے بلالکہ زید خود احتیاط رکھتا ہے کہ جب ضرورت ہوتی ہے تو پانی بکر کے یہاں سے اس میں استعمال کے واسطے منگوالیتا ہے اس حالت میں بکر پان زید کے ہاتھ کا استعمال کرسکتا ہے یا نہیں
الجواب :
نصاری کے مذہب میں خون حیض کے سوا شراب پیشاب پاخانہ غرض کوئی بلااصلا ناپاك نہیں وہ ان چیزوں سے بچنے پر ہنستے اور اپنی ساختہ تہذیب کے خلاف سمجھتے ہیں تو ان کا ظاہر حال نجاست سے متلوث ہی رہتا ہے۔ امام ابن الحاج مکی مدخل میں فرماتے ہیں :
یتعین علی من لہ امران یقیم من الاسواق من یشتغل بھذا السبب (یرید بیع الاشربۃ الدوائیۃ کشراب العناب وشراب البنفسج وغیر ذلک) من اھل الکتاب لان النصاری عندھم ابوالھم طاھرۃ ولایتدینون بترك نجاسۃ الادم الحیض فقط فالشراب الماخوذ من النصاری الغالب علیہ انہ متنجس ۔ صاحب اختیار کا فرض ہے کہ وہ ان اہل کتاب کو بازاروں سے اٹھادے جو اس کام میں مشغول ہیں (یعنی دوائیوں پر مبنی مشروبات جیسے عناب اور بنفشہ وغیرہ کا شربت بیچتے ہیں) کیونکہ عیسائی اپنے پیشاب کو پاك سمجھتے ہیں اور وہ خون حیض کے علاوہ کسی نجاست کو چھوڑنے کا عقیدہ نہیں رکھتے۔ لہذا عیسائیوں سے حاصل کردہ مشروب غالب گمان کے مطابق ناپاك ہوتا ہے۔ (ت)
استفسارات رد نصاری کے سترھویں استفسار میں ہے مسلمان لوگ بول وبراز اور خون سے آلودہ رہنے کو عقلا بھی نامستحسن جانتے ہیں اور عیسائی لوگ اس بات پر انہیں ہنسا کرتے ہیں تو ان کی چھوئی ہوئی تر چیزوں کا استعمال شرعا مطلقا مکروہ ناپسند جیسے بھیگے ہوئے پان اگرچہ مسلمان ہی کے پانی سے بھیگے ہوں کماحققنا ذلك فی کتابنا الاحلی من السکر لطلبۃ سکرروسر (جیسا کہ ہم نے اسے اپنی کتاب “ الاحلی من السکر لطلبۃ سکرروسر “ میں تحقیق سے بیان کیا ہے۔ ت) اور اس کے سوا یہاں ایك دقیقہ انیقہ اور ہے جو اس کراہت کو تر وخشك دونوں کو شامل اور اشد وکامل کرتا ہے شرع مطہر میں جس طرح گناہ سے بچنا فرض ہے یونہی مواضع تہمت سے احتراز ضرور ہے اور بلاوجہ شرعی اپنے اوپر دروازہ طعن کھولنا ناجائز اور مسلمانوں کو اپنی غیبت وبدگوئی میں مبتلا کرنے کے اسباب کا ارتکاب ممنوع اور انہیں اپنے سے نفرت دلانا قبیح وشنیع۔ احادیث واقوال ائمہ دین سے اس پر صدہا دلائل ہیں وقد ذکرنا بعضھا فی کتاب الحظر من فتاونا وفی غیرہ من تصانیفنا منھا الحدیث الصحیح بشروا ولاتنفروا (ہم اپنے فتاوی کی “ کتاب الحظر “ اور دوسری تصانیف میں اس کا کچھ حصہ ذکر کیا ہے اس سے ایك صحیح حدیث یہ ہے : خوشخبری دو متنفر نہ کرو۔ ت) وحدیث ایاك ومایعتذر
نصاری کے مذہب میں خون حیض کے سوا شراب پیشاب پاخانہ غرض کوئی بلااصلا ناپاك نہیں وہ ان چیزوں سے بچنے پر ہنستے اور اپنی ساختہ تہذیب کے خلاف سمجھتے ہیں تو ان کا ظاہر حال نجاست سے متلوث ہی رہتا ہے۔ امام ابن الحاج مکی مدخل میں فرماتے ہیں :
یتعین علی من لہ امران یقیم من الاسواق من یشتغل بھذا السبب (یرید بیع الاشربۃ الدوائیۃ کشراب العناب وشراب البنفسج وغیر ذلک) من اھل الکتاب لان النصاری عندھم ابوالھم طاھرۃ ولایتدینون بترك نجاسۃ الادم الحیض فقط فالشراب الماخوذ من النصاری الغالب علیہ انہ متنجس ۔ صاحب اختیار کا فرض ہے کہ وہ ان اہل کتاب کو بازاروں سے اٹھادے جو اس کام میں مشغول ہیں (یعنی دوائیوں پر مبنی مشروبات جیسے عناب اور بنفشہ وغیرہ کا شربت بیچتے ہیں) کیونکہ عیسائی اپنے پیشاب کو پاك سمجھتے ہیں اور وہ خون حیض کے علاوہ کسی نجاست کو چھوڑنے کا عقیدہ نہیں رکھتے۔ لہذا عیسائیوں سے حاصل کردہ مشروب غالب گمان کے مطابق ناپاك ہوتا ہے۔ (ت)
استفسارات رد نصاری کے سترھویں استفسار میں ہے مسلمان لوگ بول وبراز اور خون سے آلودہ رہنے کو عقلا بھی نامستحسن جانتے ہیں اور عیسائی لوگ اس بات پر انہیں ہنسا کرتے ہیں تو ان کی چھوئی ہوئی تر چیزوں کا استعمال شرعا مطلقا مکروہ ناپسند جیسے بھیگے ہوئے پان اگرچہ مسلمان ہی کے پانی سے بھیگے ہوں کماحققنا ذلك فی کتابنا الاحلی من السکر لطلبۃ سکرروسر (جیسا کہ ہم نے اسے اپنی کتاب “ الاحلی من السکر لطلبۃ سکرروسر “ میں تحقیق سے بیان کیا ہے۔ ت) اور اس کے سوا یہاں ایك دقیقہ انیقہ اور ہے جو اس کراہت کو تر وخشك دونوں کو شامل اور اشد وکامل کرتا ہے شرع مطہر میں جس طرح گناہ سے بچنا فرض ہے یونہی مواضع تہمت سے احتراز ضرور ہے اور بلاوجہ شرعی اپنے اوپر دروازہ طعن کھولنا ناجائز اور مسلمانوں کو اپنی غیبت وبدگوئی میں مبتلا کرنے کے اسباب کا ارتکاب ممنوع اور انہیں اپنے سے نفرت دلانا قبیح وشنیع۔ احادیث واقوال ائمہ دین سے اس پر صدہا دلائل ہیں وقد ذکرنا بعضھا فی کتاب الحظر من فتاونا وفی غیرہ من تصانیفنا منھا الحدیث الصحیح بشروا ولاتنفروا (ہم اپنے فتاوی کی “ کتاب الحظر “ اور دوسری تصانیف میں اس کا کچھ حصہ ذکر کیا ہے اس سے ایك صحیح حدیث یہ ہے : خوشخبری دو متنفر نہ کرو۔ ت) وحدیث ایاك ومایعتذر
حوالہ / References
المدخل فصل فی ذکر الشراب الذی یستعملہ المریض مطبعہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۴ / ۱۵۴
صحیح البخاری باب ماکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶
صحیح البخاری باب ماکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶
منہ
(جس بات سے عذر پیش کرنا پڑے اس سے بچو۔ ت) وحدیث ایاك ومایسوء الاذن (جو بات کان کو اچھی نہ لگے اس سے بچو۔ ت) وحدیث من کان یؤمن بالله والیوم الاخر فلایقفن مواقف التھم الی غیر ذلك من النصوص (جو شخص اللہتعالی اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ تہمتوں کی جگہ پر کھڑا نہ ہوا اسکے علاوہ دیگر نصوص ہیں ت) تو اپنا کھتا چونہ دینا اپنے پانی سے پان بھگونا ساری احتیاط کرنا مگر پان عیسائی کے ہاتھ کا ہونا اس میں سوا اس کے کیا نفع ہے کہ مسلمان نفرت کھائیں بدنام کریں متہم جانیں غیبت میں پڑیں اسی طرح جب اس کے یہاں کی شیرینی ان مفاسد کا دروازہ کھولتی ہو تو اس سے بھی احتراز شرعا درکار والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۴ : ۲۹ صفر ۱۳۱۷ھ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے عمرو سے کہا کہ تم مٹی کے برتن کو اب پاك کرکے رکھو تو میں تمہارے چاقو مار دوں اب زید کے لئے کیا حکم ہے بموجب شرع شریف کے بنیوا توجروا۔
الجواب :
صورت مذکورہ میں زید نے تین۳ گناہ کئے : مسلمان۱ کو ناحق تہدید مال۲ کو ضائع رکھنے کی تاکید مسئلہ۳ شرعیہ پر انکار شدید۔ زید پر لازم ہے کہ توبہ کرے اور عمرو سے بھی اپنا قصور معاف کرائے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۵ : از پیلی بھیت قاضی محلہ مرسلہ قاضی ممتاز حسین صاحب ممتاز ۲۰ رمضان ۱۳۱۷ھ
اگر کپڑا بقدر درم کے یا اس سے کم پیشاب سے پلید ہوگیا اور پھر وہ کپڑا تہہ توڑ کر سب میں اثر پلیدی سرایت کرگیا تو وہ کپڑا پاك رہے گا یا نہیں۔
الجواب :
جب کپڑے کو نجاست پہنچے اور ایك تہہ سے دوسری تہہ تك سرایت کرے تو ہر تہہ کی نجاست جدا شمار میں آئیگی اگر سب مل کر قدر درم سے زائد ہو نماز فاسد ہو خواہ وہ تہیں ایك ہی کپڑے کی ہوں جیسے دو ہرے لباس یا چند کپڑے تہہ بتہہ بدن پر ہوں جیسے شعار ووثار۔
(جس بات سے عذر پیش کرنا پڑے اس سے بچو۔ ت) وحدیث ایاك ومایسوء الاذن (جو بات کان کو اچھی نہ لگے اس سے بچو۔ ت) وحدیث من کان یؤمن بالله والیوم الاخر فلایقفن مواقف التھم الی غیر ذلك من النصوص (جو شخص اللہتعالی اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ تہمتوں کی جگہ پر کھڑا نہ ہوا اسکے علاوہ دیگر نصوص ہیں ت) تو اپنا کھتا چونہ دینا اپنے پانی سے پان بھگونا ساری احتیاط کرنا مگر پان عیسائی کے ہاتھ کا ہونا اس میں سوا اس کے کیا نفع ہے کہ مسلمان نفرت کھائیں بدنام کریں متہم جانیں غیبت میں پڑیں اسی طرح جب اس کے یہاں کی شیرینی ان مفاسد کا دروازہ کھولتی ہو تو اس سے بھی احتراز شرعا درکار والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۴ : ۲۹ صفر ۱۳۱۷ھ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے عمرو سے کہا کہ تم مٹی کے برتن کو اب پاك کرکے رکھو تو میں تمہارے چاقو مار دوں اب زید کے لئے کیا حکم ہے بموجب شرع شریف کے بنیوا توجروا۔
الجواب :
صورت مذکورہ میں زید نے تین۳ گناہ کئے : مسلمان۱ کو ناحق تہدید مال۲ کو ضائع رکھنے کی تاکید مسئلہ۳ شرعیہ پر انکار شدید۔ زید پر لازم ہے کہ توبہ کرے اور عمرو سے بھی اپنا قصور معاف کرائے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۵ : از پیلی بھیت قاضی محلہ مرسلہ قاضی ممتاز حسین صاحب ممتاز ۲۰ رمضان ۱۳۱۷ھ
اگر کپڑا بقدر درم کے یا اس سے کم پیشاب سے پلید ہوگیا اور پھر وہ کپڑا تہہ توڑ کر سب میں اثر پلیدی سرایت کرگیا تو وہ کپڑا پاك رہے گا یا نہیں۔
الجواب :
جب کپڑے کو نجاست پہنچے اور ایك تہہ سے دوسری تہہ تك سرایت کرے تو ہر تہہ کی نجاست جدا شمار میں آئیگی اگر سب مل کر قدر درم سے زائد ہو نماز فاسد ہو خواہ وہ تہیں ایك ہی کپڑے کی ہوں جیسے دو ہرے لباس یا چند کپڑے تہہ بتہہ بدن پر ہوں جیسے شعار ووثار۔
حوالہ / References
اتحاف السادۃ المتقین بیان ذم الحرص والطمع مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان ۸ / ۱۶۰
مسند احمد بن حنبل حدیث ابو الفادیہ رضی اللہ عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان ۴ / ۸۶ ، مجمع الزوائد باب فیما یجنب من الکلام مطبوعہ دارالکتاب بیروت لبنان ۸ / ۹۵
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب ادراك الفریضہ مطبوعہ کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۴۹
مسند احمد بن حنبل حدیث ابو الفادیہ رضی اللہ عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان ۴ / ۸۶ ، مجمع الزوائد باب فیما یجنب من الکلام مطبوعہ دارالکتاب بیروت لبنان ۸ / ۹۵
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی باب ادراك الفریضہ مطبوعہ کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۴۹
فی ردالمحتار فی البحر وغیرہ لایعتبر نفوذ المقدار الی الوجہ الاخر لوالثوب واحدا بخلاف مااذاکان ذاطاقین کدرھم متنجس الوجھین اھ الخ والله تعالی اعلم۔
ردالمحتار اور بحرالرائق وغیرہ میں ہے کہ مقدار کا دوسری طرف سرایت کرنا معتبر نہ ہوگا اگر کپڑا ایك ہو بخلاف اس کے جب دو تہوں والا ہو جس طرح درھم کی دونوں طرفیں ناپاك ہوں الخ والله تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۸۶ : از بزریہ عنایت گنج بریلی شہر کہنہ ۲۶ صفر ۱۳۱۸ھ : شیر خوار بچے کا پیشاب پاك یا ناپاک
الجواب :
آدمی کا بچہ اگرچہ ایك دن کا ہو اس کا پیشاب ناپاك ہے اگرچہ لڑکا ہو والمسألۃ دوارۃ متونا وشروحا (یہ مسئلہ متن وشرح کی کتب میں اکثر پایا جاتا ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۷ : از اٹاوہ کچہری کلکٹری مکان منشی عنایت اللہ۱۲ شعبان ۱۳۱۸ھ
جسم پر اگر کوئی نجاست بالتحقیق لگ چکی ہو اور وہاں ورم ہو مثلا شکم پر ہو یا رانوں تك ورم پہنچا ہو تو نجاست دھوئیں یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر پانی بہانا ضرر کرے تو کسی عرق مثلا عرق مکوہ وغیرہ سے گنگنا کرکے دھوئے نجاست حقیقی ان چیزوں سے بھی پاك ہوجاتی ہے ہاں نہانے یا وضو میں پانی کے سوا دوسری چیز کام نہیں دیتی اور اگر ان سے بھی ضرر ہو تو کپڑا پانی یا عرق میں خوب بھگو کر اس سے موضع نجاست کو ملے دوبارہ دوسرا کپڑا سہ بارہ تیسرا بھگوکر ملے طہارت ہوجائے گی اور اگر یہ بھی نقصان دے تو جب تك حالت ضرر کی رہے ویسے ہی نماز پڑھے معاف ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۸ : از فراشی محلہ ۷۔ رجب ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لحاف تو شك وغیرہ روئی دار کپڑے ناپاك ہوجائیں تو وہ مع روئی کے دھل کر پاك ہوسکتے ہیں یا روئڑ علیحدہ ہوکر کپڑا الگ اور روئڑ الگ دھونے سے پاك ہوگا اور اگر روئڑ کا سوت کات لیا جائے تو وہ سوت بغیر اسی کے کہ دری وغیر بنوائی جائے دھونے سے پاك ہوسکتا ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
ردالمحتار اور بحرالرائق وغیرہ میں ہے کہ مقدار کا دوسری طرف سرایت کرنا معتبر نہ ہوگا اگر کپڑا ایك ہو بخلاف اس کے جب دو تہوں والا ہو جس طرح درھم کی دونوں طرفیں ناپاك ہوں الخ والله تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۸۶ : از بزریہ عنایت گنج بریلی شہر کہنہ ۲۶ صفر ۱۳۱۸ھ : شیر خوار بچے کا پیشاب پاك یا ناپاک
الجواب :
آدمی کا بچہ اگرچہ ایك دن کا ہو اس کا پیشاب ناپاك ہے اگرچہ لڑکا ہو والمسألۃ دوارۃ متونا وشروحا (یہ مسئلہ متن وشرح کی کتب میں اکثر پایا جاتا ہے۔ ت) والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۷ : از اٹاوہ کچہری کلکٹری مکان منشی عنایت اللہ۱۲ شعبان ۱۳۱۸ھ
جسم پر اگر کوئی نجاست بالتحقیق لگ چکی ہو اور وہاں ورم ہو مثلا شکم پر ہو یا رانوں تك ورم پہنچا ہو تو نجاست دھوئیں یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر پانی بہانا ضرر کرے تو کسی عرق مثلا عرق مکوہ وغیرہ سے گنگنا کرکے دھوئے نجاست حقیقی ان چیزوں سے بھی پاك ہوجاتی ہے ہاں نہانے یا وضو میں پانی کے سوا دوسری چیز کام نہیں دیتی اور اگر ان سے بھی ضرر ہو تو کپڑا پانی یا عرق میں خوب بھگو کر اس سے موضع نجاست کو ملے دوبارہ دوسرا کپڑا سہ بارہ تیسرا بھگوکر ملے طہارت ہوجائے گی اور اگر یہ بھی نقصان دے تو جب تك حالت ضرر کی رہے ویسے ہی نماز پڑھے معاف ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۸ : از فراشی محلہ ۷۔ رجب ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ لحاف تو شك وغیرہ روئی دار کپڑے ناپاك ہوجائیں تو وہ مع روئی کے دھل کر پاك ہوسکتے ہیں یا روئڑ علیحدہ ہوکر کپڑا الگ اور روئڑ الگ دھونے سے پاك ہوگا اور اگر روئڑ کا سوت کات لیا جائے تو وہ سوت بغیر اسی کے کہ دری وغیر بنوائی جائے دھونے سے پاك ہوسکتا ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
حوالہ / References
ردالمحتار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۱
الجواب :
جو کپڑے نچوڑنے میں آسکیں جیسے ہلکی تو شك رضائی وغیرہ وہ یوں ہی دھونے سے پاك ہوجائیں گے ورنہ بہتے دریا میں رکھیں یا ان پر پانی بہائیں یہاں تك کہ نجاست باقی نہ رہنے پر ظن حاصل ہو یا تین بار دھوئیں اور ہر بار اتنا وقفہ کریں کہ پہلا پانی نکل جائے۔
فی الدرالمختار یطھر محل غیر مرئیۃ بغلبۃ ظن غاسل طھارۃ محلھا بلاعدد بہ یفتی وقدر ذلك لموسوس بغسل وعصر ثلثا فیما ینعصر وتثلیث جفاف ای انقطاع تقاطر فی غیرہ ممایتشرب النجاسۃ وھذا کلہ اذاغسل فی اجانۃ اما لوغسل فی غدیر اوصب علیہ ماء کثیرا وجری علیہ الماء طھر مطلقا بلاشرط عصر وتجفیف وتکرار غمس ھو المختار اھ باختصار۔
درمختار میں ہے (نجاست) نہ دکھائی دینے والی جگہ دھونے والے کے غالب گمان کے ساتھ کہ اب جگہ پاك ہوگئی کسی خاص تعداد کے بغیر بھی پاك ہوجاتی ہے اور اسی پر فتوی ہے اگر وسوسہ کرنے والا ہو تو تین بار دھوکر ہر بار نچوڑے جبکہ وہ ایسی چیز ہو جو نچوڑی جاسکتی ہے اگر نچوڑی نہ جاسکتی ہو تین بار خشك کرلیا جائے یعنی جو نجاست اس کے اندر جذب ہوئی اس کے قطرے ختم ہوجائیں یہ تمام باتیں اس صورت میں ہیں جب ٹب وغیرہ میں دھوئے اگر بڑے تالاب میں دھوئے یا اس پر بہت سا پانی ڈالے یا اس پر پانی جاری کرے تو نچوڑنے یا خشك کرنے اور بار بار غوطہ دینے کی شرط کے بغیر مطلقا پاك ہوجائے گی یہی مختار ہے اھ تلخیص (ت)
ناپاك روئڑ کا سوت دھونے سے بخوبی پاك ہوسکتا ہے بلکہ دری بناکر پاك کرنے سے سوت کی تطہیر آسان ہے کہ وہ نچوڑنے میں سہل آسکتا ہے کمالایخفی والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۹ : از شہرکہنہ ۲۷۔ رجب ۱۳۲۰ھ : غسل خانہ کے چہ بچہ کا پانی گھڑے سے نکالنا اور پھر اس کو دھوکر استعمال میں لانا مکروہ ہے یا نہیں
الجواب :
مکروہ نہیں مگر بے ضرورت پینے یا وضو یا کھانا پکانے کے گھڑے سے یہ کام نہ لیا جائے۔
لان الطباع تتنفر عن ھذا وقد قال صلی الله تعالی علیہ وسلم بشروا
کیونکہ طبیعتیں اس سے نفرت کرتی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : خوشخبری دو
جو کپڑے نچوڑنے میں آسکیں جیسے ہلکی تو شك رضائی وغیرہ وہ یوں ہی دھونے سے پاك ہوجائیں گے ورنہ بہتے دریا میں رکھیں یا ان پر پانی بہائیں یہاں تك کہ نجاست باقی نہ رہنے پر ظن حاصل ہو یا تین بار دھوئیں اور ہر بار اتنا وقفہ کریں کہ پہلا پانی نکل جائے۔
فی الدرالمختار یطھر محل غیر مرئیۃ بغلبۃ ظن غاسل طھارۃ محلھا بلاعدد بہ یفتی وقدر ذلك لموسوس بغسل وعصر ثلثا فیما ینعصر وتثلیث جفاف ای انقطاع تقاطر فی غیرہ ممایتشرب النجاسۃ وھذا کلہ اذاغسل فی اجانۃ اما لوغسل فی غدیر اوصب علیہ ماء کثیرا وجری علیہ الماء طھر مطلقا بلاشرط عصر وتجفیف وتکرار غمس ھو المختار اھ باختصار۔
درمختار میں ہے (نجاست) نہ دکھائی دینے والی جگہ دھونے والے کے غالب گمان کے ساتھ کہ اب جگہ پاك ہوگئی کسی خاص تعداد کے بغیر بھی پاك ہوجاتی ہے اور اسی پر فتوی ہے اگر وسوسہ کرنے والا ہو تو تین بار دھوکر ہر بار نچوڑے جبکہ وہ ایسی چیز ہو جو نچوڑی جاسکتی ہے اگر نچوڑی نہ جاسکتی ہو تین بار خشك کرلیا جائے یعنی جو نجاست اس کے اندر جذب ہوئی اس کے قطرے ختم ہوجائیں یہ تمام باتیں اس صورت میں ہیں جب ٹب وغیرہ میں دھوئے اگر بڑے تالاب میں دھوئے یا اس پر بہت سا پانی ڈالے یا اس پر پانی جاری کرے تو نچوڑنے یا خشك کرنے اور بار بار غوطہ دینے کی شرط کے بغیر مطلقا پاك ہوجائے گی یہی مختار ہے اھ تلخیص (ت)
ناپاك روئڑ کا سوت دھونے سے بخوبی پاك ہوسکتا ہے بلکہ دری بناکر پاك کرنے سے سوت کی تطہیر آسان ہے کہ وہ نچوڑنے میں سہل آسکتا ہے کمالایخفی والله سبحنہ وتعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۹ : از شہرکہنہ ۲۷۔ رجب ۱۳۲۰ھ : غسل خانہ کے چہ بچہ کا پانی گھڑے سے نکالنا اور پھر اس کو دھوکر استعمال میں لانا مکروہ ہے یا نہیں
الجواب :
مکروہ نہیں مگر بے ضرورت پینے یا وضو یا کھانا پکانے کے گھڑے سے یہ کام نہ لیا جائے۔
لان الطباع تتنفر عن ھذا وقد قال صلی الله تعالی علیہ وسلم بشروا
کیونکہ طبیعتیں اس سے نفرت کرتی ہیں اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا : خوشخبری دو
حوالہ / References
درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶
ولاتنفروا ۔ والله تعالی اعلم۔
اور متنفر نہ کرو۔ (ت)
مسئلہ ۱۹۰ : احمد یار خان موضع ٹھریا نجابت خاں ضلع وتحصیل بریلی
علماء دین اتباع شرع متین کیا فرماتے ہیں مسئلہ ہذا میں جنبی شخص پیشتر ہاتھ دھوکر ناف سے نیچے ناپاکی دھولے بعد وہ تہبند پاك باندھ کر میدان میں مسنون غسل اداکرے تو اس حالت میں وہ تہبند پاك رہے گا یا ناپاك اور غسل سے وہ آدمی پاك ہوگیا یا ناپاك رہا اور اس پانی کی چھینٹ دیگر شخص کے واسطے پاك ہے یا ناپاک بینوا توجروا۔
الجواب :
تہبند پاك رہے گا غسل کا پانی پاك ہے اسکی چھینٹ سے کوئی ناپاکی نہ آئے گی رہا غسل ادا ہوجانا اگر تہبند ایسا ہے کہ پانی اس کے نیچے کے تمام بدن پر بھی ذرہ ذرہ پر بہ جائے گا تو غسل ادا ہوجائے گا ورنہ نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۱ : از ضلع گورگانوہ مقام ریواڑی متصل تحصیل حکیم جلال الدین بروز سہ شنبہ بتاریخ ۱۴ صفر المظفر ۱۳۳۲ھ۔
حلوائیوں کی کڑاہیوں کو کتے چاٹتے ہیں انہی کڑاہیوں میں وہ شیرینی بناتے ہیں اور دودھ گرم کرتے ہیں ان کے یہاں کی شیرینی یا دودھ لے کر کھانا پینا درست ہے یا کہ نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
طہارت ونجاست ظاہری میں شرع مطہر کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ احتمال سے نجاست ثابت نہیں ہوتی جس خاص شے کی نجاست معلوم ہو وہی خاص نجس وحرام ہے وبس۔ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :
بہ نأخذ مالم نعرف شیأ حراما بعینہ ۔
ہم اسی کو اختیار کرینگے جب تك ہمیں کسی خاص چیز کے حرام ہونے کا علم نہ ہو۔ (ت)
مسئلہ کی تمامتر تحقیق وتفصیل ہمارے رسالہ الاحلی من السکر میں ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۲ : از کوٹ ضلع بجنور محلہ کوٹرہ مسئولہ امتیاز حسین صاحب ۱۷ شعبان ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ اگر مٹی کے برتن مثل پیالے وکونڈے وغیرہ میں نجاست غلیظہ مثل پاخانہ وپیشاب لگ جائے اور اس کو پانی سے دھوکر پاك کریں اور دھوپ میں خشك کردیں اسی طرح
اور متنفر نہ کرو۔ (ت)
مسئلہ ۱۹۰ : احمد یار خان موضع ٹھریا نجابت خاں ضلع وتحصیل بریلی
علماء دین اتباع شرع متین کیا فرماتے ہیں مسئلہ ہذا میں جنبی شخص پیشتر ہاتھ دھوکر ناف سے نیچے ناپاکی دھولے بعد وہ تہبند پاك باندھ کر میدان میں مسنون غسل اداکرے تو اس حالت میں وہ تہبند پاك رہے گا یا ناپاك اور غسل سے وہ آدمی پاك ہوگیا یا ناپاك رہا اور اس پانی کی چھینٹ دیگر شخص کے واسطے پاك ہے یا ناپاک بینوا توجروا۔
الجواب :
تہبند پاك رہے گا غسل کا پانی پاك ہے اسکی چھینٹ سے کوئی ناپاکی نہ آئے گی رہا غسل ادا ہوجانا اگر تہبند ایسا ہے کہ پانی اس کے نیچے کے تمام بدن پر بھی ذرہ ذرہ پر بہ جائے گا تو غسل ادا ہوجائے گا ورنہ نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۱ : از ضلع گورگانوہ مقام ریواڑی متصل تحصیل حکیم جلال الدین بروز سہ شنبہ بتاریخ ۱۴ صفر المظفر ۱۳۳۲ھ۔
حلوائیوں کی کڑاہیوں کو کتے چاٹتے ہیں انہی کڑاہیوں میں وہ شیرینی بناتے ہیں اور دودھ گرم کرتے ہیں ان کے یہاں کی شیرینی یا دودھ لے کر کھانا پینا درست ہے یا کہ نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
طہارت ونجاست ظاہری میں شرع مطہر کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ احتمال سے نجاست ثابت نہیں ہوتی جس خاص شے کی نجاست معلوم ہو وہی خاص نجس وحرام ہے وبس۔ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :
بہ نأخذ مالم نعرف شیأ حراما بعینہ ۔
ہم اسی کو اختیار کرینگے جب تك ہمیں کسی خاص چیز کے حرام ہونے کا علم نہ ہو۔ (ت)
مسئلہ کی تمامتر تحقیق وتفصیل ہمارے رسالہ الاحلی من السکر میں ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۲ : از کوٹ ضلع بجنور محلہ کوٹرہ مسئولہ امتیاز حسین صاحب ۱۷ شعبان ۱۳۳۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ اگر مٹی کے برتن مثل پیالے وکونڈے وغیرہ میں نجاست غلیظہ مثل پاخانہ وپیشاب لگ جائے اور اس کو پانی سے دھوکر پاك کریں اور دھوپ میں خشك کردیں اسی طرح
حوالہ / References
ابوداؤد شریف باب فی کراھیۃ الماء مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۳۰۹
فتاویٰ ہندیہ الباب الثانی عشر فی الہدایا والضیافات مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۴۲
فتاویٰ ہندیہ الباب الثانی عشر فی الہدایا والضیافات مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۴۲
تین مرتبہ پاك کرلیا جائے تو وہ عندالشرع پاك قابل استعمال رہا یا نجس ہے۔
الجواب :
ہاں پاك ہوگیا مٹی کا برتن چکنا استعمالی جس کے مسام بند ہوگئے ہوں جیسے ہانڈی وہ تو تانبے کے برتن کی طرح صرف تین بار دھو ڈالنے سے پاك ہوجاتا ہے اور جو ایسا نہ ہو جیسے پانی کے گھڑے وغیرہ ان کو ایك بار دھوکر چھوڑدیں کہ پھر بوند نہ ٹپکے اور تری نہ رہے دوبارہ دھوئیں اور اسی طرح چھوڑدیں سہ بارہ ایسا ہی کریں کہ پاك ہوجائیگا چینی کا برتن جس میں بال ہو وہ بھی یوں ہی خشك کرکے تین بار دھویا جائے گا اور ثابت ہو تو صرف تین بار دھودینا کافی ہے مگر نجاست اگر جرم دار ہے تو اس کا جرم چھڑا دینا بہرحال لازم ہے خشك کرنے کے یہ معنی ہیں کہ اتنی تری نہ رہے کہ ہاتھ لگانے سے ہاتھ بھیگ جائے خالی نم یا سیل کا رہنا مضائقہ نہیں نہ اس کے لئے دھوپ یا سایہ شرط درمختار میں ہے:
قدر بتثلیث جفاف ای انقطاع تقاطر فی غیر منعصر ممایتشرب النجاسۃ والا فبقلعھا کمامر۔
تین بار خشك کرنا مقرر کیا ہے یعنی جو چیز نچوڑی نہ جاسکتی ہو اور نجاست کو جذب کرلے اس کے قطرے ختم ہوجائیں ورنہ اس کی نجاست کو دور کیا جائے جیسا کہ گزرا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ انقطاع تقاطر زاد القھستانی وذھاب النداوۃ وفی التاترخانیۃ حد التجفیف ان یصیر بحال لاتبتل منہ الید ولایشترط صیرورتہ یابساجدا ۔ والله تعالی اعلم۔
اس (درمختار) کے قول “ انقطاع تقاطر “ میں قہستانی نے اضافہ کیا ہے کہ رطوبت ختم ہوجائے۔ تاتارخانیہ میں ہے خشك کرنے کی حد یہ ہے کہ اب اس سے ہاتھ تر نہ ہو بالکل خشك ہونا شرط نہیں (ت)
مسئلہ۱۹۳ : مسئولہ مولوی سلیم اللہصاحب جنرل سیکریٹری انجمن نعمانیہ لاہور ۳۰ ربیع الآخر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ کفار کا استعمال کیا ہوا چرس یا ڈول چرمی یا حقہ چرمی دھوکر اور صاف کرکے مسلمان استعمال کرسکتا ہے۔
الجواب :
ہاں پاك ہوگیا مٹی کا برتن چکنا استعمالی جس کے مسام بند ہوگئے ہوں جیسے ہانڈی وہ تو تانبے کے برتن کی طرح صرف تین بار دھو ڈالنے سے پاك ہوجاتا ہے اور جو ایسا نہ ہو جیسے پانی کے گھڑے وغیرہ ان کو ایك بار دھوکر چھوڑدیں کہ پھر بوند نہ ٹپکے اور تری نہ رہے دوبارہ دھوئیں اور اسی طرح چھوڑدیں سہ بارہ ایسا ہی کریں کہ پاك ہوجائیگا چینی کا برتن جس میں بال ہو وہ بھی یوں ہی خشك کرکے تین بار دھویا جائے گا اور ثابت ہو تو صرف تین بار دھودینا کافی ہے مگر نجاست اگر جرم دار ہے تو اس کا جرم چھڑا دینا بہرحال لازم ہے خشك کرنے کے یہ معنی ہیں کہ اتنی تری نہ رہے کہ ہاتھ لگانے سے ہاتھ بھیگ جائے خالی نم یا سیل کا رہنا مضائقہ نہیں نہ اس کے لئے دھوپ یا سایہ شرط درمختار میں ہے:
قدر بتثلیث جفاف ای انقطاع تقاطر فی غیر منعصر ممایتشرب النجاسۃ والا فبقلعھا کمامر۔
تین بار خشك کرنا مقرر کیا ہے یعنی جو چیز نچوڑی نہ جاسکتی ہو اور نجاست کو جذب کرلے اس کے قطرے ختم ہوجائیں ورنہ اس کی نجاست کو دور کیا جائے جیسا کہ گزرا۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قولہ انقطاع تقاطر زاد القھستانی وذھاب النداوۃ وفی التاترخانیۃ حد التجفیف ان یصیر بحال لاتبتل منہ الید ولایشترط صیرورتہ یابساجدا ۔ والله تعالی اعلم۔
اس (درمختار) کے قول “ انقطاع تقاطر “ میں قہستانی نے اضافہ کیا ہے کہ رطوبت ختم ہوجائے۔ تاتارخانیہ میں ہے خشك کرنے کی حد یہ ہے کہ اب اس سے ہاتھ تر نہ ہو بالکل خشك ہونا شرط نہیں (ت)
مسئلہ۱۹۳ : مسئولہ مولوی سلیم اللہصاحب جنرل سیکریٹری انجمن نعمانیہ لاہور ۳۰ ربیع الآخر ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ کفار کا استعمال کیا ہوا چرس یا ڈول چرمی یا حقہ چرمی دھوکر اور صاف کرکے مسلمان استعمال کرسکتا ہے۔
حوالہ / References
درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶
ردالمحتار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۱
ردالمحتار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۱
الجواب : دھونے نے صاف کرلینے کے بعد کوئی شبہہ نہیں رہتا استعمال بلاشبہہ جائز ہے۔ صحیحین ومسند امام احمد وسنن ابی داؤد وجامع ترمذی شریف میں ابوثعلبہ رضی اللہ تعالی عنہسے ہے :
واللفظ للترمذی قال سئل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن قدور المجوس فقال انقوھا غسلا واطبخوا فیھا ۔ والله تعالی اعلم۔
الفاظ امام ترمذی کے ہیں فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مجوسیوں کی ہانڈیوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : انہیں دھوکر پاك کرلو اور ان میں پکاؤ۔ (ت)
مسئلہ ۱۹۴ تا ۱۹۷ : از لکھنؤ چوبداری محلہ متصل کوٹھی قدیم عینك سازان مکان نمبر ۱۰۳ مرسلہ حضرت سید محمد میاں صاحب مارہروی ۵ محرم۳ ۱۳۳ھ
(۱) کپڑے یا بدن پر کوئی حصہ نجس ہوگیا اس پر پانی پہلی مرتبہ ڈالا پھر ہاتھ سے اس کے قطرے پونچھ ڈالے اسی طرح تین مرتبہ پانی ڈالا اور اسی ہاتھ سے جس سے پہلی مرتبہ قطرے پونچھے تھے اس کو دھوئے بغیر قطرے پونچھے تو آیا یہ عضو مغسول اور وہ ہاتھ دونوں پاك ہوجائیں گے بحالیکہ عضو مغسول کو وہ ہاتھ لگا ہے جس نے پہلی اور دوسری تیسری مرتبہ کے غسالہ کو پونچھا تھا اور خود الگ پانی سے دھویا نہ گیا تھا۔
(۲) اگر اس ترکیب سے پاکی نہ ہوسکے تو کیا کیا جائے
(۳) بدن کو دھوکر جھٹك دیا سب قطرے گر گئے ہاں وہ رہ گئے جو بال کی جڑمیں ہیں یا بہت ہی باریك میں جھٹکنے سے بھی نہیں گرتے تو ایسی صورت میں عضو تین بار دھو ڈالے پاك ہوجائیگا یا نہیں اگر نہیں تو کیا کرے خاص کر اس صورت میں جب دونوں ہاتھ نجس ہوں۔
(۴) بدن پاك کرنے میں ہر بار کے دھونے میں تقاطر جاتا رہنا ضرور ہے یا مطلقا ہر قطرہ کا خواہ وہ چھوٹا ہی ہو اور پونچھنے سے صرف بدن پر پھیل کر رہ جاتا ہو اس کا بھی دور کرنا یعنی وہی پھیلادینا ضرور ہے۔
الجواب :
بدن پاك کرنے میں نہ چھوٹے قطرے صاف کرکے دوبارہ دھونا ضرور نہ انقطاع تقاطر کا انتظار درکار بلکہ قطرات وتقاطر درکنار دھار کا موقوف ہونا لازم نہیں نجاست اگر مرئیہ ہو جب تو اس کے عین کا زوال مطلوب اگرچہ ایك ہی بار میں ہوجائے اور غیر مرئیہ ہے تو زوال کا غلبہ ظن جس کی تقدیر تثلیث سے کی گئی جہاں عصر شرط ہے اور وہ متعذر ہو
واللفظ للترمذی قال سئل رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم عن قدور المجوس فقال انقوھا غسلا واطبخوا فیھا ۔ والله تعالی اعلم۔
الفاظ امام ترمذی کے ہیں فرماتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے مجوسیوں کی ہانڈیوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : انہیں دھوکر پاك کرلو اور ان میں پکاؤ۔ (ت)
مسئلہ ۱۹۴ تا ۱۹۷ : از لکھنؤ چوبداری محلہ متصل کوٹھی قدیم عینك سازان مکان نمبر ۱۰۳ مرسلہ حضرت سید محمد میاں صاحب مارہروی ۵ محرم۳ ۱۳۳ھ
(۱) کپڑے یا بدن پر کوئی حصہ نجس ہوگیا اس پر پانی پہلی مرتبہ ڈالا پھر ہاتھ سے اس کے قطرے پونچھ ڈالے اسی طرح تین مرتبہ پانی ڈالا اور اسی ہاتھ سے جس سے پہلی مرتبہ قطرے پونچھے تھے اس کو دھوئے بغیر قطرے پونچھے تو آیا یہ عضو مغسول اور وہ ہاتھ دونوں پاك ہوجائیں گے بحالیکہ عضو مغسول کو وہ ہاتھ لگا ہے جس نے پہلی اور دوسری تیسری مرتبہ کے غسالہ کو پونچھا تھا اور خود الگ پانی سے دھویا نہ گیا تھا۔
(۲) اگر اس ترکیب سے پاکی نہ ہوسکے تو کیا کیا جائے
(۳) بدن کو دھوکر جھٹك دیا سب قطرے گر گئے ہاں وہ رہ گئے جو بال کی جڑمیں ہیں یا بہت ہی باریك میں جھٹکنے سے بھی نہیں گرتے تو ایسی صورت میں عضو تین بار دھو ڈالے پاك ہوجائیگا یا نہیں اگر نہیں تو کیا کرے خاص کر اس صورت میں جب دونوں ہاتھ نجس ہوں۔
(۴) بدن پاك کرنے میں ہر بار کے دھونے میں تقاطر جاتا رہنا ضرور ہے یا مطلقا ہر قطرہ کا خواہ وہ چھوٹا ہی ہو اور پونچھنے سے صرف بدن پر پھیل کر رہ جاتا ہو اس کا بھی دور کرنا یعنی وہی پھیلادینا ضرور ہے۔
الجواب :
بدن پاك کرنے میں نہ چھوٹے قطرے صاف کرکے دوبارہ دھونا ضرور نہ انقطاع تقاطر کا انتظار درکار بلکہ قطرات وتقاطر درکنار دھار کا موقوف ہونا لازم نہیں نجاست اگر مرئیہ ہو جب تو اس کے عین کا زوال مطلوب اگرچہ ایك ہی بار میں ہوجائے اور غیر مرئیہ ہے تو زوال کا غلبہ ظن جس کی تقدیر تثلیث سے کی گئی جہاں عصر شرط ہے اور وہ متعذر ہو
حوالہ / References
جامع ترمذی باب ماجاء فی الاکل فی آنیۃ الکفار مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۲ / ۲
جیسے مٹی کا گھڑا یا معتسر ہو جیسے بھاری قالین دری تو شك لحاف وہاں انقطاع تقاطر یا ذہاب تری کو قائم مقام عصر رکھا ہے بدن میں عصر ہی درکار نہیں کہ ان کی حاجت ہو صرف تین بار پانی بہ جانا چاہئے اگرچہ پہلی دھار ابھی حصہ زیریں پر باقی ہے مثلا ساق پر نجاست غیر مرئیہ تھی اوپر سے پانی ایك بار بہایا وہ ابھی ایڑی سے بہ رہا ہے دوبارہ اوپر سے پھر بہایا ابھی اس کا سیلان نیچے باقی تھا سہ بارہ پھر بہایا جب یہ پانی اتر گیا تطہیر ہوگئی بلکہ ایك مذہب پر تو انقطاع تقاطر کا انتظار جائز نہیں اگر انتظار کرے گا طہارت نہ ہوگی کہ ان کے نزدیك تطہیر بدن میں عصر کی جگہ توالی غسلات یعنی تینوں غسل پے درپے ہونا ضرور ہے مذہب ارجح میں اگرچہ اس کی بھی ضرورت نہیں مگر خلاف سے بچنے کے لئے اس کی رعایت ضرور مناسب ہے اس تقریر سے تین سوال اخیر کا جواب ہوگیا۔ درمختار میں ہے :
یطھر محل نجاسۃ مرئیۃ بقلعا ای زوال عینھا واثرھا ولوبمرۃ اوبما فوق ثلث فی الاصح ولایضر بقاء اثرلازم ومحل غیر مرئیۃ بغلبۃ ظن غاسل طھارۃ محلھا بلاعدد بہ یفتی وقدر بغسل وعصر ثلثا فیما ینعصر مبالغا بحیث لایقطر وبتثلیث جفاف ای انقطاع تقاطر فی غیر منعصر ممایتشرب النجاسۃ والا فبقلعھا ۔
اصح مذہب کے مطابق نظر آنے والی نجاست کی جگہ عین نجاست اور اس کے اثر کو دور کرنے سے پاك ہوجاتی ہے اگرچہ ایك مرتبہ سے ہو یا تین بار سے زیادہ یہ اصح مذہب ہے۔ اس سے لازم ہونے والے (نہ دور ہونے والے) اثر کا باقی رہنا کچھ نقصان دہ نہیں اور جہاں نجاست نظر نہ آتی ہو اگر دھونے والے کو اس جگہ کے پاك ہونے کا غالب گمان حاصل ہوجائے تو پاك ہوجائیگی۔ اس میں گنتی شرط نہیں اور اسی پر فتوی ہے۔ جس چیز کو نچوڑا جاسکتا ہے وہ تین بار دھونے اور خوب نچوڑنے کے ساتھ کہ اب کوئی قطرہ باقی نہ ہو پاك ہوجاتی ہے۔ اور جس کا نچوڑنا ممکن ہو اور اس میں نجاست جذب ہوتی ہو وہ تین بار خشك کرنے یعنی قطرات کے ختم ہونے سے پاك ہوجاتی ہے ورنہ اسے زائل کیا جائے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
بتثلیث جفاف ای جفاف کل غسلۃ من الغسلات الثلاث وھذا شرط فی غیر البدن ونحوہ امافیہ فیقوم مقامہ توالی الغسل ثلثا قال فی الحلیۃ والاظھر ان کلا من التوالی
تین بار خشك کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہربار دھونے کے بعد خشك کیا جائے یہ شرط غیر بدن وغیرہ میں ہے بدن میں تین بار مسلسل دھونا اس کے قائم مقام ہوگا حلیہ میں فرمایا اظہر بات یہ ہے کہ اس میں تسلسل اور
یطھر محل نجاسۃ مرئیۃ بقلعا ای زوال عینھا واثرھا ولوبمرۃ اوبما فوق ثلث فی الاصح ولایضر بقاء اثرلازم ومحل غیر مرئیۃ بغلبۃ ظن غاسل طھارۃ محلھا بلاعدد بہ یفتی وقدر بغسل وعصر ثلثا فیما ینعصر مبالغا بحیث لایقطر وبتثلیث جفاف ای انقطاع تقاطر فی غیر منعصر ممایتشرب النجاسۃ والا فبقلعھا ۔
اصح مذہب کے مطابق نظر آنے والی نجاست کی جگہ عین نجاست اور اس کے اثر کو دور کرنے سے پاك ہوجاتی ہے اگرچہ ایك مرتبہ سے ہو یا تین بار سے زیادہ یہ اصح مذہب ہے۔ اس سے لازم ہونے والے (نہ دور ہونے والے) اثر کا باقی رہنا کچھ نقصان دہ نہیں اور جہاں نجاست نظر نہ آتی ہو اگر دھونے والے کو اس جگہ کے پاك ہونے کا غالب گمان حاصل ہوجائے تو پاك ہوجائیگی۔ اس میں گنتی شرط نہیں اور اسی پر فتوی ہے۔ جس چیز کو نچوڑا جاسکتا ہے وہ تین بار دھونے اور خوب نچوڑنے کے ساتھ کہ اب کوئی قطرہ باقی نہ ہو پاك ہوجاتی ہے۔ اور جس کا نچوڑنا ممکن ہو اور اس میں نجاست جذب ہوتی ہو وہ تین بار خشك کرنے یعنی قطرات کے ختم ہونے سے پاك ہوجاتی ہے ورنہ اسے زائل کیا جائے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
بتثلیث جفاف ای جفاف کل غسلۃ من الغسلات الثلاث وھذا شرط فی غیر البدن ونحوہ امافیہ فیقوم مقامہ توالی الغسل ثلثا قال فی الحلیۃ والاظھر ان کلا من التوالی
تین بار خشك کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہربار دھونے کے بعد خشك کیا جائے یہ شرط غیر بدن وغیرہ میں ہے بدن میں تین بار مسلسل دھونا اس کے قائم مقام ہوگا حلیہ میں فرمایا اظہر بات یہ ہے کہ اس میں تسلسل اور
حوالہ / References
درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶
والجفاف لیس بشرط فیہ وقدصرح بہ فی النوازل وفی الذخیرۃ مایوافقہ اھ واقرہ فی البحر۔
اور خشك کرنے (دونوں) میں سے کوئی بات بھی شرط نہیں نوازل میں اس کی تصریح ہے ذخیرہ میں اس کے موافق ہے اھ بحرالرائق میں اس کو برقرار ررکھا ہے۔ (ت)
رہا سوال اول یہ تو ظاہر ہوگیا کہ ہر بار قطرات کا پونچھنا فضول تھا بلکہ بلاوجہ ہاتھ ناپاك کرلینا مگر جبکہ اس نے ایسا کیا مثلا پاؤں پر نجاست تھی سیدھے ہاتھ میں لوٹا لے کر اس پر پانی بہایا اور جو قطرات باقی رہے بائیں ہاتھ سے پونچھ لیے تو یہ ہاتھ ناپاك ہوگیا مگر ایسی نجاست سے کہ دوبار دھونے سے پاك ہوجائے گی اس لئے کہ ایك بار دھل چکی اب پاؤں پر دوبار پانی ڈالنا تھا دوسری بار کے بعد ایك ہی بار ڈالنا تھا لیکن اس نے دوبارہ دھوکر نجس ہاتھ سے پھر اس کے قطرے پونچھے تو اب پاؤں کو وہ نجاست لگ گئی جو دوبار دھونے کی محتاج ہے تو پاؤں کو پھر دوبار دھونے کی ضرورت ہوگئی اور ہاتھ بدستور اسی نجاست سے نجس رہا اس میں تخفیف نہ ہوئی کہ اس پر سیلان آب نہ ہوا اب پاؤں پر سہ بارہ کا پانی دوبارہ کے حکم میں ہے کہ اس کے بعد ایك بار اور دھونے کی حاجت ہے لیکن اس نے اس کے بعد بھی وہی نجس ہاتھ اس کے قطرات صاف کرنے میں استعمال کیا تو اب پھر پاؤں کو دو۲ بار دھونے کی ضرورت ہوگئی وھکذا (اور اسی طرح ہے۔ ت) لہذا اسے لازم کہ پاؤں پر دوبار پانی بہائے اور قطرات نہ پونچھے اور وہ ہاتھ جدا دوبار دھولے۔ رد المحتار میں ہے :
قال فی الامداد والمیاہ الثلثۃ متفاوتۃ فی النجاسۃ فالاولی یطھر مااصابتہ بالغسل ثلثا والثانیۃ بالثنتین والثالثۃ بواحدۃ وکذا الاوانی الثلثۃ التی غسل فیھا واحدۃ بعد واحدۃ وقیل یطھر الاناء الثالث بمجرد الاراقۃ والثانی بواحدۃ والاول بثنتین اھ والله تعالی اعلم۔
“ الامداد “ میں فرمایا نجاست میں تینوں پانی الگ الگ حکم رکھتے ہیں پہلا پانی جس چیز کو لگ جائے وہ تین بار دھونے سے پاك ہے۔ دوسرا پانی جسے پہنچے وہ دو بار اور تیسرے پانی جسے پہنچے ایك بار دھونے سے پاك ہوجاتی ہے۔ اسی طرح وہ تینوں برتن جو یکے بعد دیگرے اس میں دھوئے گئے۔ اور کہا گیا ہے تیسرا برتن محض پانی بہانے سے پاك ہوجائے گا دوسرا ایك بار دھونے سے اور پہلا دوبار دھونے سے پاك ہوگا اھ والله تعالی اعلم (ت)
اور خشك کرنے (دونوں) میں سے کوئی بات بھی شرط نہیں نوازل میں اس کی تصریح ہے ذخیرہ میں اس کے موافق ہے اھ بحرالرائق میں اس کو برقرار ررکھا ہے۔ (ت)
رہا سوال اول یہ تو ظاہر ہوگیا کہ ہر بار قطرات کا پونچھنا فضول تھا بلکہ بلاوجہ ہاتھ ناپاك کرلینا مگر جبکہ اس نے ایسا کیا مثلا پاؤں پر نجاست تھی سیدھے ہاتھ میں لوٹا لے کر اس پر پانی بہایا اور جو قطرات باقی رہے بائیں ہاتھ سے پونچھ لیے تو یہ ہاتھ ناپاك ہوگیا مگر ایسی نجاست سے کہ دوبار دھونے سے پاك ہوجائے گی اس لئے کہ ایك بار دھل چکی اب پاؤں پر دوبار پانی ڈالنا تھا دوسری بار کے بعد ایك ہی بار ڈالنا تھا لیکن اس نے دوبارہ دھوکر نجس ہاتھ سے پھر اس کے قطرے پونچھے تو اب پاؤں کو وہ نجاست لگ گئی جو دوبار دھونے کی محتاج ہے تو پاؤں کو پھر دوبار دھونے کی ضرورت ہوگئی اور ہاتھ بدستور اسی نجاست سے نجس رہا اس میں تخفیف نہ ہوئی کہ اس پر سیلان آب نہ ہوا اب پاؤں پر سہ بارہ کا پانی دوبارہ کے حکم میں ہے کہ اس کے بعد ایك بار اور دھونے کی حاجت ہے لیکن اس نے اس کے بعد بھی وہی نجس ہاتھ اس کے قطرات صاف کرنے میں استعمال کیا تو اب پھر پاؤں کو دو۲ بار دھونے کی ضرورت ہوگئی وھکذا (اور اسی طرح ہے۔ ت) لہذا اسے لازم کہ پاؤں پر دوبار پانی بہائے اور قطرات نہ پونچھے اور وہ ہاتھ جدا دوبار دھولے۔ رد المحتار میں ہے :
قال فی الامداد والمیاہ الثلثۃ متفاوتۃ فی النجاسۃ فالاولی یطھر مااصابتہ بالغسل ثلثا والثانیۃ بالثنتین والثالثۃ بواحدۃ وکذا الاوانی الثلثۃ التی غسل فیھا واحدۃ بعد واحدۃ وقیل یطھر الاناء الثالث بمجرد الاراقۃ والثانی بواحدۃ والاول بثنتین اھ والله تعالی اعلم۔
“ الامداد “ میں فرمایا نجاست میں تینوں پانی الگ الگ حکم رکھتے ہیں پہلا پانی جس چیز کو لگ جائے وہ تین بار دھونے سے پاك ہے۔ دوسرا پانی جسے پہنچے وہ دو بار اور تیسرے پانی جسے پہنچے ایك بار دھونے سے پاك ہوجاتی ہے۔ اسی طرح وہ تینوں برتن جو یکے بعد دیگرے اس میں دھوئے گئے۔ اور کہا گیا ہے تیسرا برتن محض پانی بہانے سے پاك ہوجائے گا دوسرا ایك بار دھونے سے اور پہلا دوبار دھونے سے پاك ہوگا اھ والله تعالی اعلم (ت)
حوالہ / References
ردالمحتار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۱
ردالمحتارباب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۲
ردالمحتارباب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۲
مسئلہ ۱۹۸ : از سرنیا ضلع بریلی مسئولہ امیر علی صاحب رضوی ۱۶ شوال ۱۳۲۲ھ
اگر کپڑوں پر بیلوں کے پیشاب گوبر وغیرہ کی چھینٹیں پڑی ہیں اور کپڑے بدلنے کی فرصت نہیں ہے نماز ایسی حالت میں ہوگی یا نہیں
الجواب :
اگر چھینٹیں چہارم کپڑے سے کم پر پڑی ہیں نماز ہوجائے گی ورنہ نہیں اور کھیت کے کام سے فرصت نہ ہونے کا کچھ اعتبار نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۹ :
از موضع بھوٹا بھوٹی بسوٹولانڈ ملك افریقہ مرسلہ حاجی اسمعیل میاں صاحب صدیقی حنفی قادری ابن امیر میاں ۲۳ صفر ۱۳۳۶ھ
گھی گرم تھا اس میں مرغی کا بچہ گرا اور فورا مرگیا یہ گھی کھانا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
گھی ناپاك ہوگیا بے پاك کیے اس کا کھانا حرام ہے۔ پاك کرنے کے تین۳ طریقے ہیں : ایك یہ کہ اتنا ہی پانی اس میں ملاکر جنبش دیتے ہیں یہاں تك کہ سب گھی اوپر آجائے اسے اتارلیں۔ اور دوسرا پانی اسی قدر ملاکر یونہی کریں۔
پھر اتارکر تیسرے پانی سے اسی طرح دھوئیں۔ اور اگر گھی سرد ہوکر جم گیا ہو تو تینوں بار اس کے برابر پانی ملاکر جوش دیں یہاں تك کہ گھی اوپر آجائے اتارلیں۔
اقول : جوش دینے کی پہلی ہی بار حاجت ہے پھر تو گھی رقیق ہوجائے گا اور پانی ملاکر جنبش دینا کفایت کرے گا۔ ردالمحتار میں ہے :
قال فی الدرر لوتنجس الدھن یصب علیہ الماء فیغلی فیعلوا الدھن الماء فیرفع بشیئ ھکذا ثلاث مرات اھ وھذا عند ابی یوسف خلافا لمحمد وھو اوسع وعلیہ الفتوی کمافی شرح الشیخ اسمعیل عن جامع الفتاوی وقال فی الفتاوی الخیریۃ لفظۃ فیغلی ذکرت فی بعض الکتب والظاھر انھا من زیادۃ الناسخ فانالم نرمن
الدرر میں فرمایا اگر تیل ناپاك ہوجائے تو اس پر پانی ڈال کر جوش دیا جائے اس طرح تیل پانی پر غالب آکر کچھ اوپر آجائے گا۔ یوں ہی تین بار کیا جائے اھ یہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك ہے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکا اس میں اختلاف ہے اس میں زیادہ وسعت ہے اور اسی پر فتوی ہے جیسے شرح شیخ اسمعیل میں جامع الفتاوی سے منقو ل ہے۔ اور فتاوی خیریہ میں فرمایا : “ فیغلی “ (جوش دیا جائے) کا لفظ بعض
اگر کپڑوں پر بیلوں کے پیشاب گوبر وغیرہ کی چھینٹیں پڑی ہیں اور کپڑے بدلنے کی فرصت نہیں ہے نماز ایسی حالت میں ہوگی یا نہیں
الجواب :
اگر چھینٹیں چہارم کپڑے سے کم پر پڑی ہیں نماز ہوجائے گی ورنہ نہیں اور کھیت کے کام سے فرصت نہ ہونے کا کچھ اعتبار نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۹ :
از موضع بھوٹا بھوٹی بسوٹولانڈ ملك افریقہ مرسلہ حاجی اسمعیل میاں صاحب صدیقی حنفی قادری ابن امیر میاں ۲۳ صفر ۱۳۳۶ھ
گھی گرم تھا اس میں مرغی کا بچہ گرا اور فورا مرگیا یہ گھی کھانا جائز ہے یا نہیں
الجواب :
گھی ناپاك ہوگیا بے پاك کیے اس کا کھانا حرام ہے۔ پاك کرنے کے تین۳ طریقے ہیں : ایك یہ کہ اتنا ہی پانی اس میں ملاکر جنبش دیتے ہیں یہاں تك کہ سب گھی اوپر آجائے اسے اتارلیں۔ اور دوسرا پانی اسی قدر ملاکر یونہی کریں۔
پھر اتارکر تیسرے پانی سے اسی طرح دھوئیں۔ اور اگر گھی سرد ہوکر جم گیا ہو تو تینوں بار اس کے برابر پانی ملاکر جوش دیں یہاں تك کہ گھی اوپر آجائے اتارلیں۔
اقول : جوش دینے کی پہلی ہی بار حاجت ہے پھر تو گھی رقیق ہوجائے گا اور پانی ملاکر جنبش دینا کفایت کرے گا۔ ردالمحتار میں ہے :
قال فی الدرر لوتنجس الدھن یصب علیہ الماء فیغلی فیعلوا الدھن الماء فیرفع بشیئ ھکذا ثلاث مرات اھ وھذا عند ابی یوسف خلافا لمحمد وھو اوسع وعلیہ الفتوی کمافی شرح الشیخ اسمعیل عن جامع الفتاوی وقال فی الفتاوی الخیریۃ لفظۃ فیغلی ذکرت فی بعض الکتب والظاھر انھا من زیادۃ الناسخ فانالم نرمن
الدرر میں فرمایا اگر تیل ناپاك ہوجائے تو اس پر پانی ڈال کر جوش دیا جائے اس طرح تیل پانی پر غالب آکر کچھ اوپر آجائے گا۔ یوں ہی تین بار کیا جائے اھ یہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہکے نزدیك ہے امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہکا اس میں اختلاف ہے اس میں زیادہ وسعت ہے اور اسی پر فتوی ہے جیسے شرح شیخ اسمعیل میں جامع الفتاوی سے منقو ل ہے۔ اور فتاوی خیریہ میں فرمایا : “ فیغلی “ (جوش دیا جائے) کا لفظ بعض
شرط لتطھیر الدھن الغلیان مع کثرۃ النقل فی المسألۃ والتتبع لھا الا ان یرادبہ التحریك مجازا فقدصرح فی مجمع الروایۃ وشرح القدوری انہ یصب علیہ مثلہ ماء ویحرك فتأمل اھ اویحمل علی مااذاجمد الدھن بعد تنجسہ ثم رأیت الشارح صرح بذلك فی الخزائن فقال والدھن السائل یلقی فیہ الماء والجامد یغلی بہ حتی یعلو الخ۔
کتب میں مذکور ہے اور ظاہر ہے کہ یہ لکھنے والے کی طرف سے اضافہ ہے کیونکہ ہم نے تیل کو پاك کرنے کیلئے جوش دینے کی شرط نہیں دیکھی حالانکہ یہ مسئلہ بہت زیادہ منقول ہے اور اس کی چھان بین بھی بہت زیادہ کی گئی البتہ یہ کہ اس “ جوش دینے “ سے مجازا حرکت دینا مراد لیا جائے مجمع الروایۃ اور شرح قدوری میں اس کی تصریح کی گئی کہ اس پر اتنا ہی پانی ڈالا جائے اور حرکت دی جائے پس غور کرو اھ یا اسے اس صورت پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے کہ جب وہ ناپاك ہونے کے بعد جم جائے۔ پھر میں نے دیکھا کہ شارح نے الخزائن میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا بہنے والے تیل میں پانی ڈالا جائے اور جمے ہوئے کو جوش دیا جائے یہاں تك کہ وہ اوپر آجائے الخ (ت)
دوم : ناپاك گی جس برتن میں ہے اگر جمنے کی طرف مائل ہوگیا ہو آگ پر پگھلالیں اور ویسا ہی پگھلا ہوا پاك گھی اس برتن میں ڈالتے جائیں یہاں تك کہ گھی سے بھر کر ابل جائے سب گھی پاك ہوجائیگا۔ جامع الرموز میں ہے :
المائع کالماء والدبس وغیرھما طھارتہ باجرائہ مع جنسہ مختلطا بہ ۔
بہنے والی چیز جیسے پانی اور شیرہ وغیرہ کو اس کے ہم جنس کے ساتھ ملاکر جاری کیا جائے تو پاك ہوجاتی ہے۔ (ت)
سوم : دوسرا گھی پاك لیں اور مثلا تخت پر بیٹھ کر نیچے ایك خالی برتن رکھیں اور پر نالے کی مثل کسی چیز میں وہ پاك گھی ڈالیں اس کے بعد یہ ناپاك گھی اسی پر نالے میں ڈالیں یوں کہ دونوں کی دھاریں برتن میں گریں اس طرح پاك وناپاك دونوں گھی ملا کر ڈالیں یہاں تك کہ سب ناپاك گھی پاك گھی سے ایك دھار ہوکر برتن میں پہنچ جائے سب پاك ہوگیا خزانہ میں ہے :
اناء ان ماء احدھما طاھر والاخر نجس فصبا من مکان عال فاختلطا فی الھواء
دو۲ برتنوں میں سے ایك کا پانی پاك اور دوسرے کا ناپاك ہو تو ان کو بلند مقام سے گرایا جائے اور وہ
کتب میں مذکور ہے اور ظاہر ہے کہ یہ لکھنے والے کی طرف سے اضافہ ہے کیونکہ ہم نے تیل کو پاك کرنے کیلئے جوش دینے کی شرط نہیں دیکھی حالانکہ یہ مسئلہ بہت زیادہ منقول ہے اور اس کی چھان بین بھی بہت زیادہ کی گئی البتہ یہ کہ اس “ جوش دینے “ سے مجازا حرکت دینا مراد لیا جائے مجمع الروایۃ اور شرح قدوری میں اس کی تصریح کی گئی کہ اس پر اتنا ہی پانی ڈالا جائے اور حرکت دی جائے پس غور کرو اھ یا اسے اس صورت پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے کہ جب وہ ناپاك ہونے کے بعد جم جائے۔ پھر میں نے دیکھا کہ شارح نے الخزائن میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا بہنے والے تیل میں پانی ڈالا جائے اور جمے ہوئے کو جوش دیا جائے یہاں تك کہ وہ اوپر آجائے الخ (ت)
دوم : ناپاك گی جس برتن میں ہے اگر جمنے کی طرف مائل ہوگیا ہو آگ پر پگھلالیں اور ویسا ہی پگھلا ہوا پاك گھی اس برتن میں ڈالتے جائیں یہاں تك کہ گھی سے بھر کر ابل جائے سب گھی پاك ہوجائیگا۔ جامع الرموز میں ہے :
المائع کالماء والدبس وغیرھما طھارتہ باجرائہ مع جنسہ مختلطا بہ ۔
بہنے والی چیز جیسے پانی اور شیرہ وغیرہ کو اس کے ہم جنس کے ساتھ ملاکر جاری کیا جائے تو پاك ہوجاتی ہے۔ (ت)
سوم : دوسرا گھی پاك لیں اور مثلا تخت پر بیٹھ کر نیچے ایك خالی برتن رکھیں اور پر نالے کی مثل کسی چیز میں وہ پاك گھی ڈالیں اس کے بعد یہ ناپاك گھی اسی پر نالے میں ڈالیں یوں کہ دونوں کی دھاریں برتن میں گریں اس طرح پاك وناپاك دونوں گھی ملا کر ڈالیں یہاں تك کہ سب ناپاك گھی پاك گھی سے ایك دھار ہوکر برتن میں پہنچ جائے سب پاك ہوگیا خزانہ میں ہے :
اناء ان ماء احدھما طاھر والاخر نجس فصبا من مکان عال فاختلطا فی الھواء
دو۲ برتنوں میں سے ایك کا پانی پاك اور دوسرے کا ناپاك ہو تو ان کو بلند مقام سے گرایا جائے اور وہ
حوالہ / References
ردالمحتار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۲
جامع الرموز فصل یطہر الشیئ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۹۵
جامع الرموز فصل یطہر الشیئ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱ / ۹۵
ثم نزلاطھر کلہ
فضا میں مل کر اتریں تو تمام پانی پاك ہوجائیگا۔ (ت)
پہلے طریقہ میں پانی سے گھی کو تین بار دھونے میں گھی خراب ہونے کا اندیشہ ہے اور دوسرے طریقہ میں ابل کر تھوڑا گھی ضائع جائے گا۔ تیسرا طریقہ بالکل صاف ہے مگر اس میں احتیاط بہت درکار ہے کہ برتن میں ناپاك گھی کی کوئی بوند نہ پاك گھی سے پہلے نہ بعد کو گرے نہ پرنالے میں بہاتے وقت اس کی کوئی چھینٹ اڑ کر پاك گھی سے جدا برتن میں گرے ورنہ جتنا برتن میں پہنچا یا اب پہنچے گا سب ناپاك ہوجائے گا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۰ : از کٹك بخشی بازار متصل مسجد مولوی صاحب مرسلہ داور علی خان صاحب سہاوری ۸۔ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
انگلی پر نجاست لگ جائے اور اسے چاٹ لیا جائے تو انگلی پاك ہوجائے اور منہ بھی پاك رہے۔
الجواب : انگلی کی نجاست چاٹ کر پاك کرنا کسی سخت گندی ناپاك روح کا کام ہے اور اسے جائز جاننا شریعت پر افترا واتہام اور تحلیل حرام اور قاطع اسلام ہے اور یہ کہنا محض جھوٹ ہے کہ منہ بھی پاك رہے گا نجاست چاٹنے سے قطعا ناپاك ہوجائے گا اگرچہ بار بار وہ نجس ناپاك تھوك یہاں تك نگلنے سے کہ اثر نجاست کا منہ سے دھل کر سب پیٹ میں چلاجائےگا پاك ہوجائےگا مگر اس چاٹنے نگلنے کو وہی جائز رکھے گا جو نجس کھانے والا ہے۔
الخبیثت للخبیثین و الخبیثون للخبیثت-و الطیبت للطیبین و الطیبون للطیبت-اولىك مبرءون مما یقولون-والله تعالی اعلم۔
ناپاك عورتیں ناپاك مردوں کے لئے اور ناپاك مرد ناپاك عورتوں کیلئے۔ پاك عورتیں پاك مردوں کے لئے اور پاك مرد پاك عورتوں کے لئے۔ وہ ان باتوں سے پاك ہیں جو لوگ کہتے ہیں (ت)
مسئلہ ۲۰۱ : از بنگلور بازار مرسلہ قاضی عبدالغفار صاحب مورخہ ۱۱ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
ہنود سے اشیاء خوردنی جیسے دودھ دہی گھی ترکاری شیرینی وغیرہ تر یا خشك کا استعمال اہل سنت کے نزدیك درست ہے یا حرام اور آیہ انما المشركون نجس (بے شك مشرکین نجس ہیں۔ ت (سے اہل تشیع کا اشیاء مذکورہ میں کیا خیال ہے اور مجدد صاحب کا اس امر میں کیا فتوی ہے
الجواب :
آیہ کریمہ انما المشركون نجس ان کے نجاست قلب ونجاست دین کے بارے میں ہے اجسام
فضا میں مل کر اتریں تو تمام پانی پاك ہوجائیگا۔ (ت)
پہلے طریقہ میں پانی سے گھی کو تین بار دھونے میں گھی خراب ہونے کا اندیشہ ہے اور دوسرے طریقہ میں ابل کر تھوڑا گھی ضائع جائے گا۔ تیسرا طریقہ بالکل صاف ہے مگر اس میں احتیاط بہت درکار ہے کہ برتن میں ناپاك گھی کی کوئی بوند نہ پاك گھی سے پہلے نہ بعد کو گرے نہ پرنالے میں بہاتے وقت اس کی کوئی چھینٹ اڑ کر پاك گھی سے جدا برتن میں گرے ورنہ جتنا برتن میں پہنچا یا اب پہنچے گا سب ناپاك ہوجائے گا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۰ : از کٹك بخشی بازار متصل مسجد مولوی صاحب مرسلہ داور علی خان صاحب سہاوری ۸۔ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
انگلی پر نجاست لگ جائے اور اسے چاٹ لیا جائے تو انگلی پاك ہوجائے اور منہ بھی پاك رہے۔
الجواب : انگلی کی نجاست چاٹ کر پاك کرنا کسی سخت گندی ناپاك روح کا کام ہے اور اسے جائز جاننا شریعت پر افترا واتہام اور تحلیل حرام اور قاطع اسلام ہے اور یہ کہنا محض جھوٹ ہے کہ منہ بھی پاك رہے گا نجاست چاٹنے سے قطعا ناپاك ہوجائے گا اگرچہ بار بار وہ نجس ناپاك تھوك یہاں تك نگلنے سے کہ اثر نجاست کا منہ سے دھل کر سب پیٹ میں چلاجائےگا پاك ہوجائےگا مگر اس چاٹنے نگلنے کو وہی جائز رکھے گا جو نجس کھانے والا ہے۔
الخبیثت للخبیثین و الخبیثون للخبیثت-و الطیبت للطیبین و الطیبون للطیبت-اولىك مبرءون مما یقولون-والله تعالی اعلم۔
ناپاك عورتیں ناپاك مردوں کے لئے اور ناپاك مرد ناپاك عورتوں کیلئے۔ پاك عورتیں پاك مردوں کے لئے اور پاك مرد پاك عورتوں کے لئے۔ وہ ان باتوں سے پاك ہیں جو لوگ کہتے ہیں (ت)
مسئلہ ۲۰۱ : از بنگلور بازار مرسلہ قاضی عبدالغفار صاحب مورخہ ۱۱ جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
ہنود سے اشیاء خوردنی جیسے دودھ دہی گھی ترکاری شیرینی وغیرہ تر یا خشك کا استعمال اہل سنت کے نزدیك درست ہے یا حرام اور آیہ انما المشركون نجس (بے شك مشرکین نجس ہیں۔ ت (سے اہل تشیع کا اشیاء مذکورہ میں کیا خیال ہے اور مجدد صاحب کا اس امر میں کیا فتوی ہے
الجواب :
آیہ کریمہ انما المشركون نجس ان کے نجاست قلب ونجاست دین کے بارے میں ہے اجسام
حوالہ / References
ردالمحتار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۷
القرآن ۹ / ۲۸
القرآن ۹ / ۲۸
اگر ملوث بہ نجاست ہیں نجس ہیں ورنہ نہیں تمام کتب فقہ متون وشروح وفتاوی اس کی تصریحات سے مالامال ہیں ان کے یہاں کا گوشت تو ضرور حرام ہے مگر اس حالت میں کہ مسلمان نے اللہعزوجل کے لئے ذبح کیا اور بنانے پکانے لانے کے وقت مسلمانوں کی نگاہ سے غائب نہ ہوا کوئی نہ کوئی مسلمان اسے دیکھتا رہا تو اس وقت حلال ہے ورنہ حرام اور باقی اشیا جن میں نجاست یا حرمت متحقق وثابت ہو نجس وحرام ہیں اور نہ طاہر وحلال کہ اصل اشیا میں طہارت وحلت ہے قال تعالی :
خلق لكم ما فی الارض جمیعا- ۔
زمین میں جو کچھ ہے وہ سب تمہارے فائدے کے لئے پیدا فرمایا۔ (ت)
جب تك کسی عارض سے اس اصل کا زوال ثابت نہ ہو حکم اصل ہی کیلئے رہے گا۔ محرر المذہب سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہفرماتے ہیں :
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ ۔
ہم اسی پر عمل کرینگے جب تك کسی معین چیز کے حرام ہونے کا علم نہ ہوجائے۔ (ت)
مگر اس میں شك نہیں کہ ہنود بلکہ تمام کفار اکثر ملوث بہ نجاست رہتے ہیں بلکہ اکثر نجاستیں ان کے نزدیك پاك ہیں بلکہ بعض نجاستیں ہنود کے خیال میں پاك کنندہ ہیں تو جہاں تك دشواری نہ ہو ان سے بچنا اولی ہے غرض فتوی جواز اور تقوی احتراز روافض کا خیال ضلال ہے اور اس مسئلہ میں حضرت مجدد کا کوئی خیال مجھے اس وقت یاد نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۲ : از ڈاکخانہ رامو چکما کول ضلع چٹا گانگ مدرسہ عزیزیہ مرسلہ سید محمد مفیض الرحمان صاحب ۹۔ جمادی الاخرہ ۱۳۳۶ھ۔
جو زمین ناپاك دھوپ کی وجہ سے پاك ہوگئی ہو اب اس زمین پر اگر کوئی گیلا پیر رکھ دے اور مٹی لگ جائے تو کیا پیر ناپاك ہوگا
الجواب :
جب زمین کو زوال اثر کے بعد حکم طہارت دے دیا گیا اب وہ پانی پڑنے سے ناپاك نہ ہوگی تر پاؤں اس پر رکھ دينے سے ناپاك نہ ہوگا والله تعالی اعلم۔
خلق لكم ما فی الارض جمیعا- ۔
زمین میں جو کچھ ہے وہ سب تمہارے فائدے کے لئے پیدا فرمایا۔ (ت)
جب تك کسی عارض سے اس اصل کا زوال ثابت نہ ہو حکم اصل ہی کیلئے رہے گا۔ محرر المذہب سیدنا امام محمد رضی اللہ تعالی عنہفرماتے ہیں :
بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ ۔
ہم اسی پر عمل کرینگے جب تك کسی معین چیز کے حرام ہونے کا علم نہ ہوجائے۔ (ت)
مگر اس میں شك نہیں کہ ہنود بلکہ تمام کفار اکثر ملوث بہ نجاست رہتے ہیں بلکہ اکثر نجاستیں ان کے نزدیك پاك ہیں بلکہ بعض نجاستیں ہنود کے خیال میں پاك کنندہ ہیں تو جہاں تك دشواری نہ ہو ان سے بچنا اولی ہے غرض فتوی جواز اور تقوی احتراز روافض کا خیال ضلال ہے اور اس مسئلہ میں حضرت مجدد کا کوئی خیال مجھے اس وقت یاد نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۲ : از ڈاکخانہ رامو چکما کول ضلع چٹا گانگ مدرسہ عزیزیہ مرسلہ سید محمد مفیض الرحمان صاحب ۹۔ جمادی الاخرہ ۱۳۳۶ھ۔
جو زمین ناپاك دھوپ کی وجہ سے پاك ہوگئی ہو اب اس زمین پر اگر کوئی گیلا پیر رکھ دے اور مٹی لگ جائے تو کیا پیر ناپاك ہوگا
الجواب :
جب زمین کو زوال اثر کے بعد حکم طہارت دے دیا گیا اب وہ پانی پڑنے سے ناپاك نہ ہوگی تر پاؤں اس پر رکھ دينے سے ناپاك نہ ہوگا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۳ ۲۰۴ : از شہر کہنہ ۱۲۔ رمضان ۱۳۳۶ھ
(۱) بچے زمین پر پیشاب پاخانہ کرتے تھے اس پر راب گرگئی وہ سب اٹھاکر آڑے میں اس کی کھانچی پڑی کھاجر کے سوار پڑا اب وہ کچی شکر پاك ہوئی یا پکاکر پاك یا کس طرح پاك ہو (۲) کرسی یا چوہے کی مینگنی کھانے میں نکل آئے تو کیا کیا جائے
الجواب :
(۱) جب بچے زمین پر پاخانہ پھرتے ہیں وہ اٹھادیا جاتا ہے زمین کھرچ دی جاتی ہے پیشاب کرتے ہیں وہ خشك ہوجاتا ہے اس کا اثر زائل ہوجاتا ہے زمین پاك ہوجاتی ہے شبہہ اور وہم پالنا منع ہے والله تعالی اعلم۔
(۲) کرسی تر کھانے جیسے شوربے کو ناپاك کردے گی اور جس میں ایسی تری نہ ہو جیسے چاول اگر پك جانے کے بعد گری تو اس کے پاس کے دانے جدا کردیے جائیں اور اگر جس وقت پانی تھا اس وقت گری تو سب ناپاك ہے جانور کو کھلا دے۔ اور مینگنی اگر بکری کی ہے تو اس کا یہی حکم ہے اور چوہے کی ہے اور ناج مثلا روٹی یا دلیے یا دال پلاؤ کھچڑی میں نکلی تو معاف ہے جبکہ اتنی نہ ہوکہ اس کا مزہ کھانے میں آگیا ہو اور اگر شوربے دار سالن میں نکلی تو اسے نہ کھانا چاہئے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۵ : از ضلع بلیا مسئولہ سید محمد رضا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے غسل خانہ مسجد میں غسل کیا گھڑا پانی کا اتفاقا ایك منٹ زمین پر رکھ دیا اب وہ گھڑے کا پیندا تین مرتبہ آب طاہر سے غوطہ دینے سے پاك وطاہر ہوا قابل استعمال کے ہوگیا یا نہیں اگر پاك ہوگیا تو کیوں قیمت اس کی مثل ہنود کے اس شخص گھڑا زمین پر رکھنے والے سے طلب کی جاتی ہے کیا وہ غوطہ دینے سے پاك نہیں ہوا نجس کا نجس رہا اگر ایسا رہا تو متابعت ہنود کی کی گئی اور دوسرا امر یہ ہے کہ اگر کوئی جاہل شخص اپنے تئیں مولوی کہلائے تو شرع میں اس کے لئے کیا حکم ہے صورتہائے مذکورہ بالا میں صاف صاف جواب مزین بدستخط ومہر مرحمت ہو۔
الجواب :
فقط تین غوطے دینے سے پاك نہیں ہوسکتا نہ زمین پر رکھ دینا ناپاك کرے جب تك زمین کی ناپاکی قابل سرایت بوجہ تری سبو یا زمین ثابت نہ ہو نہ قیمت مانگنے کی ضرورت بلکہ ناپاك ہوا ہو تو اس سے پاك کرایا جائے جو نہ صرف غوطے بلکہ تین بار دھونے اور ہر بار خشك کرنے سے ہوگا۔ لوگ مولوی کہیں تو اس پر الزام نہیں ہاں وہ خود کہے کہ مجھے مولوی کہو تو الزام ہے والله تعالی اعلم۔
(۱) بچے زمین پر پیشاب پاخانہ کرتے تھے اس پر راب گرگئی وہ سب اٹھاکر آڑے میں اس کی کھانچی پڑی کھاجر کے سوار پڑا اب وہ کچی شکر پاك ہوئی یا پکاکر پاك یا کس طرح پاك ہو (۲) کرسی یا چوہے کی مینگنی کھانے میں نکل آئے تو کیا کیا جائے
الجواب :
(۱) جب بچے زمین پر پاخانہ پھرتے ہیں وہ اٹھادیا جاتا ہے زمین کھرچ دی جاتی ہے پیشاب کرتے ہیں وہ خشك ہوجاتا ہے اس کا اثر زائل ہوجاتا ہے زمین پاك ہوجاتی ہے شبہہ اور وہم پالنا منع ہے والله تعالی اعلم۔
(۲) کرسی تر کھانے جیسے شوربے کو ناپاك کردے گی اور جس میں ایسی تری نہ ہو جیسے چاول اگر پك جانے کے بعد گری تو اس کے پاس کے دانے جدا کردیے جائیں اور اگر جس وقت پانی تھا اس وقت گری تو سب ناپاك ہے جانور کو کھلا دے۔ اور مینگنی اگر بکری کی ہے تو اس کا یہی حکم ہے اور چوہے کی ہے اور ناج مثلا روٹی یا دلیے یا دال پلاؤ کھچڑی میں نکلی تو معاف ہے جبکہ اتنی نہ ہوکہ اس کا مزہ کھانے میں آگیا ہو اور اگر شوربے دار سالن میں نکلی تو اسے نہ کھانا چاہئے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۵ : از ضلع بلیا مسئولہ سید محمد رضا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے غسل خانہ مسجد میں غسل کیا گھڑا پانی کا اتفاقا ایك منٹ زمین پر رکھ دیا اب وہ گھڑے کا پیندا تین مرتبہ آب طاہر سے غوطہ دینے سے پاك وطاہر ہوا قابل استعمال کے ہوگیا یا نہیں اگر پاك ہوگیا تو کیوں قیمت اس کی مثل ہنود کے اس شخص گھڑا زمین پر رکھنے والے سے طلب کی جاتی ہے کیا وہ غوطہ دینے سے پاك نہیں ہوا نجس کا نجس رہا اگر ایسا رہا تو متابعت ہنود کی کی گئی اور دوسرا امر یہ ہے کہ اگر کوئی جاہل شخص اپنے تئیں مولوی کہلائے تو شرع میں اس کے لئے کیا حکم ہے صورتہائے مذکورہ بالا میں صاف صاف جواب مزین بدستخط ومہر مرحمت ہو۔
الجواب :
فقط تین غوطے دینے سے پاك نہیں ہوسکتا نہ زمین پر رکھ دینا ناپاك کرے جب تك زمین کی ناپاکی قابل سرایت بوجہ تری سبو یا زمین ثابت نہ ہو نہ قیمت مانگنے کی ضرورت بلکہ ناپاك ہوا ہو تو اس سے پاك کرایا جائے جو نہ صرف غوطے بلکہ تین بار دھونے اور ہر بار خشك کرنے سے ہوگا۔ لوگ مولوی کہیں تو اس پر الزام نہیں ہاں وہ خود کہے کہ مجھے مولوی کہو تو الزام ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۶ : از بریلی محلہ گندانالہ مسئولہ محمد جان صاحب ۱۱ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھانا پلنگ پر کسی برتن میں رکھا تھا اور قریب ہی ایك کتے کو کھڑا دیکھا کسی نے منہ ڈالتے نہیں دیکھا البتہ کچھ نشانات کھانے کے گرنے کے اور برتن میں بھی اس طرف جس طرف کتا کھڑا تھا کچھ جگہ خالی دیکھی اس صورت میں کیا حکم ہے
الجواب :
جبکہ اس طرف برتن خالی ہونے اور کھانا گرنے کی اور کوئی وجہ ظاہر نہ ہو اور کتا موجود ہے تو ضرور اس نے کھایا اور کھانا ناپاك ہوگیا اگر تر مثل شیر وشوربا ہے تو سب اور خشك مثل برنچ ہے تو جہاں منہ لگا ہے وہاں سے اتار کر پھینك دیں باقی پاك ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۷ : از بریلی شہر کہنہ مسئولہ سید گوہر علی حسین صاحب قائم مقام معتمد انجمن خادم المسلمین بریلی ۴ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سڑکوں پر چھڑکاؤ کرنے کی غرض سے پانی حوضوں میں بھرا جاتا ہے اور اس میں اکثر ہاتھ منہ اور کپڑے وغیرہ دھوئے جاتے ہیں چھڑکاؤ کرنے والے بہشتی انہی حوضوں سے پانی لے کر اور مشکوں میں بھرکر چھڑکاؤ کرتے ہیں اور بعدہ مشکوں کو ایك دفعہ پانی سے دھوکر اہل محلہ کے یہاں پانی بھرتے ہیں آیا یہ پانی خوردونوش میں استعمال کرنے کے قابل ہے اور پاك ہے واضح رائے عالی رہے کہ غیر مسلم بھی بہشتیوں کی ان حرکات پر نفرین کرتے ہیں۔
الجواب : صورت مسئولہ میں حکم جواز ہے جب تك کسی خاص حالت میں نجاست ثابت نہ ہو۔
نص علیہ فی کتب المذھب قاطبۃ ومن احسن من بینہ مصنف الطریقۃ المحدیۃ وشارحھا قدس سرھما وقدفصلناہ فی الاحلی من السکر۔
کتب مذہب میں اس کی تصریح موجود ہے طریقہ محمدیہ کے مصنف اور شارح نے اسے بہت ہی اچھا بیان کیا ہم نے “ الاحلی من السکر “ میں اسے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ (ت)
کفار کی نفرین وآفرین کچھ ملحوظ نہیں حلوائیوں کی کڑاہیاں جن کو شب بھر کتے چاٹیں صبح وہ اپنے مظنون النجاسۃ پانی سے دھوئیں اور سال بھر کے باندھے ہوئے انگوچھے سے پوچھیں جس میں تقریبا چھٹانك بھر پیشاب ہوگا یہ کچھ قابل نفریں نہیں اور ان کا دودھ مٹھائی طیب اور وہ پانی نجس۔ شریعت ایسے مہمل فرق نہیں فرماتی۔ والله تعالی اعلم۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کھانا پلنگ پر کسی برتن میں رکھا تھا اور قریب ہی ایك کتے کو کھڑا دیکھا کسی نے منہ ڈالتے نہیں دیکھا البتہ کچھ نشانات کھانے کے گرنے کے اور برتن میں بھی اس طرف جس طرف کتا کھڑا تھا کچھ جگہ خالی دیکھی اس صورت میں کیا حکم ہے
الجواب :
جبکہ اس طرف برتن خالی ہونے اور کھانا گرنے کی اور کوئی وجہ ظاہر نہ ہو اور کتا موجود ہے تو ضرور اس نے کھایا اور کھانا ناپاك ہوگیا اگر تر مثل شیر وشوربا ہے تو سب اور خشك مثل برنچ ہے تو جہاں منہ لگا ہے وہاں سے اتار کر پھینك دیں باقی پاك ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۷ : از بریلی شہر کہنہ مسئولہ سید گوہر علی حسین صاحب قائم مقام معتمد انجمن خادم المسلمین بریلی ۴ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سڑکوں پر چھڑکاؤ کرنے کی غرض سے پانی حوضوں میں بھرا جاتا ہے اور اس میں اکثر ہاتھ منہ اور کپڑے وغیرہ دھوئے جاتے ہیں چھڑکاؤ کرنے والے بہشتی انہی حوضوں سے پانی لے کر اور مشکوں میں بھرکر چھڑکاؤ کرتے ہیں اور بعدہ مشکوں کو ایك دفعہ پانی سے دھوکر اہل محلہ کے یہاں پانی بھرتے ہیں آیا یہ پانی خوردونوش میں استعمال کرنے کے قابل ہے اور پاك ہے واضح رائے عالی رہے کہ غیر مسلم بھی بہشتیوں کی ان حرکات پر نفرین کرتے ہیں۔
الجواب : صورت مسئولہ میں حکم جواز ہے جب تك کسی خاص حالت میں نجاست ثابت نہ ہو۔
نص علیہ فی کتب المذھب قاطبۃ ومن احسن من بینہ مصنف الطریقۃ المحدیۃ وشارحھا قدس سرھما وقدفصلناہ فی الاحلی من السکر۔
کتب مذہب میں اس کی تصریح موجود ہے طریقہ محمدیہ کے مصنف اور شارح نے اسے بہت ہی اچھا بیان کیا ہم نے “ الاحلی من السکر “ میں اسے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ (ت)
کفار کی نفرین وآفرین کچھ ملحوظ نہیں حلوائیوں کی کڑاہیاں جن کو شب بھر کتے چاٹیں صبح وہ اپنے مظنون النجاسۃ پانی سے دھوئیں اور سال بھر کے باندھے ہوئے انگوچھے سے پوچھیں جس میں تقریبا چھٹانك بھر پیشاب ہوگا یہ کچھ قابل نفریں نہیں اور ان کا دودھ مٹھائی طیب اور وہ پانی نجس۔ شریعت ایسے مہمل فرق نہیں فرماتی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۰۸ : از شہر بریلی بہاری پور مدرسہ نارمل اسکول مسئولہ خالق داد خان صاحب ۱۶۔ ذیقعدہ ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك خاکروب نے ایك سقہ کی ترمشك چھودی ہے اس صورت میں وہ مشك پاك رہی یا ناپاک۔ اور اگر ناپاك ہے تو کسی طرح سے وہ پاك ہوسکتی ہے یا نہیں
الجواب :
تین بار اس جگہ پر پانی بہادیں تطیيبا للقلب (دل کے اطمینان کے لئے ہے۔ ت) والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۰۹ : از پیلی بھیت محلہ بھورے خان مرسلہ سید محمد معین صاحب ۱۵ محرم الحرام ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ روغن زر ورقیق دیگچی میں کوٹھری کے اندر رکھا تھا کتا اندر گیا اور جاکر کتے نے دیگچی کھول کر کھایا ہوگا فورا کوٹھری میں جاکر کتے کو ہٹایا تو اس کے منہ سے گھی گرتا نظر آیا مگر کھاتے ہوئے نہیں دیکھا آیا وہ گھی قابل کھانے کے رہا یا نہیں اور رہا تو کس صورت میں۔
الجواب :
گھی ناپاك ہوگیا اگر رقیق ہے تو سب اور جما ہوا ہے تو جہاں سے کھایا وہ جگہ ناپاك ہوئی باقی پاك رہا یہ جو جاہلوں میں مشہور ہے کہ اس صورت میں ناپاك نہ ہوگا کہ آنکھ سے تو نہ دیکھا محض جہالت ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۰ : از سسونہ ڈاك خانہ شیش گڈھ ضلع بریلی مرسلہ علی جان خاں ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك خاکروب نے کھیلیں دکاندار سے خریدیں اور اپنے کپڑے میں لے لیں بعد کو کسی حجت پر کھیلوں کے ڈھیر پر لوٹ دیں اب وہ کھیلیں پاك ہیں یا ناپاک علاوہ اس کے شیرینی لڈو پیڑہ جلیبی اگر خاکروب ہاتھ میں یا کپڑے میں لے لے تو وہ پاك رہی یا ناپاک بینوا توجروا۔
الجواب : اگر اس کے ہاتھ میں نجاست ہو اور ہاتھ یا جو چیز اس نے لی تر ہو تو وہ شے ناپاك ہوجائے گی اور خشك چیز خشك ہاتھ یا کپڑے میں لینے سے ناپاك نہ ہوگی مگر بھنگی کی چھوئی ہوئی چیز سے لوگ تنفر کرتے ہیں لہذا اس سے بچنا چاہئے۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : بشروا ولاتنفروا (خوش کرو متنفر نہ کرو۔ ت) والله تعالی اعلم۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك خاکروب نے ایك سقہ کی ترمشك چھودی ہے اس صورت میں وہ مشك پاك رہی یا ناپاک۔ اور اگر ناپاك ہے تو کسی طرح سے وہ پاك ہوسکتی ہے یا نہیں
الجواب :
تین بار اس جگہ پر پانی بہادیں تطیيبا للقلب (دل کے اطمینان کے لئے ہے۔ ت) والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۰۹ : از پیلی بھیت محلہ بھورے خان مرسلہ سید محمد معین صاحب ۱۵ محرم الحرام ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ روغن زر ورقیق دیگچی میں کوٹھری کے اندر رکھا تھا کتا اندر گیا اور جاکر کتے نے دیگچی کھول کر کھایا ہوگا فورا کوٹھری میں جاکر کتے کو ہٹایا تو اس کے منہ سے گھی گرتا نظر آیا مگر کھاتے ہوئے نہیں دیکھا آیا وہ گھی قابل کھانے کے رہا یا نہیں اور رہا تو کس صورت میں۔
الجواب :
گھی ناپاك ہوگیا اگر رقیق ہے تو سب اور جما ہوا ہے تو جہاں سے کھایا وہ جگہ ناپاك ہوئی باقی پاك رہا یہ جو جاہلوں میں مشہور ہے کہ اس صورت میں ناپاك نہ ہوگا کہ آنکھ سے تو نہ دیکھا محض جہالت ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۰ : از سسونہ ڈاك خانہ شیش گڈھ ضلع بریلی مرسلہ علی جان خاں ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك خاکروب نے کھیلیں دکاندار سے خریدیں اور اپنے کپڑے میں لے لیں بعد کو کسی حجت پر کھیلوں کے ڈھیر پر لوٹ دیں اب وہ کھیلیں پاك ہیں یا ناپاک علاوہ اس کے شیرینی لڈو پیڑہ جلیبی اگر خاکروب ہاتھ میں یا کپڑے میں لے لے تو وہ پاك رہی یا ناپاک بینوا توجروا۔
الجواب : اگر اس کے ہاتھ میں نجاست ہو اور ہاتھ یا جو چیز اس نے لی تر ہو تو وہ شے ناپاك ہوجائے گی اور خشك چیز خشك ہاتھ یا کپڑے میں لینے سے ناپاك نہ ہوگی مگر بھنگی کی چھوئی ہوئی چیز سے لوگ تنفر کرتے ہیں لہذا اس سے بچنا چاہئے۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں : بشروا ولاتنفروا (خوش کرو متنفر نہ کرو۔ ت) والله تعالی اعلم۔
حوالہ / References
صحیح البخاری باب ماکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم يتخوالہم من المواعظ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۶
مسئلہ ۲۱۱ : از امام پور مرسلہ جناب گل احمد صاحب افغان خراسانی ۱۹ شوال المکرم ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنے ہاتھی کو قریب کنویں کے نہلاتا ہے اور اس کی چھینٹیں کنویں کے اندر جاتی ہیں اور جس ڈول میں ہاتھی پانی پیتا ہے وہی بار بار کنویں میں ڈالتا ہے ایسی صورت میں کنویں کا کیا حکم ہے اس کے پانی کا استعمال غسل وضو کھانے پینے میں کرنا درست ہے یا نہیں اور اگر اس سے وضو یا غسل کیا ہو تو نمازوں کا اعادہ کیا جائےگا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
ہاتھی کے بدن کی چھنیٹیں اگرچہ مذہب راجح میں ناپاك نہیں مگر اس کا پیا ہوا پانی اور وہ ڈول جس میں پانی پیا یقینا ناپاك ہیں جب وہی ڈول کنویں میں ڈالا سب پانی ناپاك ہوگیا اس کا استعمال وضو غسل وخوردونوش میں حرام ہے اور وضو وغسل کیا تو بدن اور کپڑے پاك کیے جائیں اور نمازیں پھیری جائیں اور ہاتھی والے کو اس حرام حرکت سے باز رکھا جائے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۲ : مسئولہ ننھے خاں کانکرٹولہ شہرکہنہ ۱۴ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں جو کہ نطفہ آدمی کی پیدائش کا قرار پاتا ہے وہ پاك ہے یا ناپاک
الجواب :
منی مطلق ناپاك ہی ہے سوا ان پاك نطفوں کے جن سے تخلیق حضرات انبیا علیہم الصلوۃ والسلام ہوئی اور خواہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے نطفے کہ ان کا پیشاب بھی پاك ہے یونہی تمام فضلات والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۲ : از بلڈانہ براربسوہ اسٹیشن متعلق ملکہ پور مدرسہ اسلامیہ مسئولہ سراج الدین صاحب ۱۳ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بیل گاڑی ہانکنے والا جس کے پاس ایك کرتا اور ایك ہی پاجامہ ہے یہی پیشہ ہے گاڑی کے کرائے سے شکم سیری کرتا ہے بیلوں کو ہانکنے کے وقت بیلوں کے پیشاب وگوبر کی چھینٹ دم بیل کے ہلانے سے سب جگہ لگی بڑے بڑے داغ کپڑوں پر آئے دھونے کی فرصت نہیں ملی اس حالت میں نماز پنجگانہ ادا کرنے کی شرح شریف میں کیا تعلیم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
بیلوں کاگوبر پیشاب نجاست خفیہ ہے جب تك چہارم کپڑا نہ بھر جائے یا متفرق اتنی پڑی ہوں کہ جمع کرنے سے چہارم کپڑے کی مقدار ہوجائے کپڑے کو نجاست کا حکم نہ دیں گے اور اس سے نماز جائز ہوگی اور بالفرض اگر اس سے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنے ہاتھی کو قریب کنویں کے نہلاتا ہے اور اس کی چھینٹیں کنویں کے اندر جاتی ہیں اور جس ڈول میں ہاتھی پانی پیتا ہے وہی بار بار کنویں میں ڈالتا ہے ایسی صورت میں کنویں کا کیا حکم ہے اس کے پانی کا استعمال غسل وضو کھانے پینے میں کرنا درست ہے یا نہیں اور اگر اس سے وضو یا غسل کیا ہو تو نمازوں کا اعادہ کیا جائےگا یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
ہاتھی کے بدن کی چھنیٹیں اگرچہ مذہب راجح میں ناپاك نہیں مگر اس کا پیا ہوا پانی اور وہ ڈول جس میں پانی پیا یقینا ناپاك ہیں جب وہی ڈول کنویں میں ڈالا سب پانی ناپاك ہوگیا اس کا استعمال وضو غسل وخوردونوش میں حرام ہے اور وضو وغسل کیا تو بدن اور کپڑے پاك کیے جائیں اور نمازیں پھیری جائیں اور ہاتھی والے کو اس حرام حرکت سے باز رکھا جائے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۲ : مسئولہ ننھے خاں کانکرٹولہ شہرکہنہ ۱۴ محرم ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں جو کہ نطفہ آدمی کی پیدائش کا قرار پاتا ہے وہ پاك ہے یا ناپاک
الجواب :
منی مطلق ناپاك ہی ہے سوا ان پاك نطفوں کے جن سے تخلیق حضرات انبیا علیہم الصلوۃ والسلام ہوئی اور خواہ انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے نطفے کہ ان کا پیشاب بھی پاك ہے یونہی تمام فضلات والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۲ : از بلڈانہ براربسوہ اسٹیشن متعلق ملکہ پور مدرسہ اسلامیہ مسئولہ سراج الدین صاحب ۱۳ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بیل گاڑی ہانکنے والا جس کے پاس ایك کرتا اور ایك ہی پاجامہ ہے یہی پیشہ ہے گاڑی کے کرائے سے شکم سیری کرتا ہے بیلوں کو ہانکنے کے وقت بیلوں کے پیشاب وگوبر کی چھینٹ دم بیل کے ہلانے سے سب جگہ لگی بڑے بڑے داغ کپڑوں پر آئے دھونے کی فرصت نہیں ملی اس حالت میں نماز پنجگانہ ادا کرنے کی شرح شریف میں کیا تعلیم ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
بیلوں کاگوبر پیشاب نجاست خفیہ ہے جب تك چہارم کپڑا نہ بھر جائے یا متفرق اتنی پڑی ہوں کہ جمع کرنے سے چہارم کپڑے کی مقدار ہوجائے کپڑے کو نجاست کا حکم نہ دیں گے اور اس سے نماز جائز ہوگی اور بالفرض اگر اس سے
زائد بھی دھبے ہوں اور دھونے سے سچی معذوری یعنی حرج شدید ہو تو نماز جائز ہے۔
فقدطھرہ محمد اخذ عـــہ اللبلوی کمافی الدر المختار۔ والله تعالی اعلم۔
امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے عموم بلوی کے پیش نظر اسے پاك قرار دیا ہے جیسا کہ درمختار میں ہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۱۳ : از شہر گیا محلہ نذرگنج مسئولہ شمس الدین واحمداللہخان صاحبان شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سوئر اور کتا اور ہاتھی کس وجہ خاص سے نجس کیے گئے ہیں مدلل بدلائل آیات قرآن مجید۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
جس وجہ خاص سے تم طاہر کیے گئے ہو والله تعالی اعلم
عـــہ : مسخہ الناسخ وصوابہ اخرا ای فی اخر امرہ حین دخل الری مع الخلیفۃ ورأی بلوی الناس من امتلاء الطرق والخانات وقاس المشایخ علی قولہ ھذا طین بخاری فتح واختارہ مجدد المائۃ الحاضرۃ سیدی ووالدی اعلحضرت قدس سرہ دفعا للحرج عن الفلاحین ومن حذا حذوھم ھذا ولذا اختار ھھنا فی الخشی قولھما انھا مخففۃ واستظھرہ فی الشرنبلالیۃ وعزاہ الی مواھب الرحمن لکن فی النکت للعلامۃ قاسم ان قول الامام بالتغلیظ رجحہ فی المبسوط وغیرہ ولذا جری علیہ اصحاب المتون اھ
الفقیر حامد رضا قادری الرضوی البریلوی
کاتب نے اس کو مسخ کردیا ہے اس کا درست بیان آخر میں یعنی آپ کے آخری حکم میں ہے جب آپ خلیفہ کے ساتھ ری میں داخل ہوئے اور راستوں اور دکانوں کے گوبر سے بھرے ہونے کی وجہ سے لوگوں کو ابتلاء عام میں دیکھا اور مشائخ نے امام محمد کے اسی قول پر بخاری کی مٹی کو قیاس کیا ہے فتح اور مجدد مائۃ حاضرہ میرے آقا ووالد اعلی حضرت قدس سرہ نے کسانوں اور ان جیسا کام کرنے والوں سے حرج کو دور کرنے کے لئے اسی کو اختیار فرمایا ہے اسے محفوظ کرلو اسی لئے یہاں مینگنی کے بارے میں شیخین کا قول اختیار فرمایا۔ شرنبلالیہ میں اسی کو ظاہر فرمایا ہے اور اس کو مواہب الرحمن کی طرف منسوب کیا ہے۔ لیکن علامہ قاسم کی نکت میں یہ ہے کہ امام کا قول نجاست غلیظہ کے ساتھ ہے مبسوط وغیرہ میں اسی کو ترجیح دی ہے اسی لئے اصحاب متون نے اسے اختیار فرمایا اھ ۱۲ (ت)
فقدطھرہ محمد اخذ عـــہ اللبلوی کمافی الدر المختار۔ والله تعالی اعلم۔
امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہنے عموم بلوی کے پیش نظر اسے پاك قرار دیا ہے جیسا کہ درمختار میں ہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۱۳ : از شہر گیا محلہ نذرگنج مسئولہ شمس الدین واحمداللہخان صاحبان شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سوئر اور کتا اور ہاتھی کس وجہ خاص سے نجس کیے گئے ہیں مدلل بدلائل آیات قرآن مجید۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
جس وجہ خاص سے تم طاہر کیے گئے ہو والله تعالی اعلم
عـــہ : مسخہ الناسخ وصوابہ اخرا ای فی اخر امرہ حین دخل الری مع الخلیفۃ ورأی بلوی الناس من امتلاء الطرق والخانات وقاس المشایخ علی قولہ ھذا طین بخاری فتح واختارہ مجدد المائۃ الحاضرۃ سیدی ووالدی اعلحضرت قدس سرہ دفعا للحرج عن الفلاحین ومن حذا حذوھم ھذا ولذا اختار ھھنا فی الخشی قولھما انھا مخففۃ واستظھرہ فی الشرنبلالیۃ وعزاہ الی مواھب الرحمن لکن فی النکت للعلامۃ قاسم ان قول الامام بالتغلیظ رجحہ فی المبسوط وغیرہ ولذا جری علیہ اصحاب المتون اھ
الفقیر حامد رضا قادری الرضوی البریلوی
کاتب نے اس کو مسخ کردیا ہے اس کا درست بیان آخر میں یعنی آپ کے آخری حکم میں ہے جب آپ خلیفہ کے ساتھ ری میں داخل ہوئے اور راستوں اور دکانوں کے گوبر سے بھرے ہونے کی وجہ سے لوگوں کو ابتلاء عام میں دیکھا اور مشائخ نے امام محمد کے اسی قول پر بخاری کی مٹی کو قیاس کیا ہے فتح اور مجدد مائۃ حاضرہ میرے آقا ووالد اعلی حضرت قدس سرہ نے کسانوں اور ان جیسا کام کرنے والوں سے حرج کو دور کرنے کے لئے اسی کو اختیار فرمایا ہے اسے محفوظ کرلو اسی لئے یہاں مینگنی کے بارے میں شیخین کا قول اختیار فرمایا۔ شرنبلالیہ میں اسی کو ظاہر فرمایا ہے اور اس کو مواہب الرحمن کی طرف منسوب کیا ہے۔ لیکن علامہ قاسم کی نکت میں یہ ہے کہ امام کا قول نجاست غلیظہ کے ساتھ ہے مبسوط وغیرہ میں اسی کو ترجیح دی ہے اسی لئے اصحاب متون نے اسے اختیار فرمایا اھ ۱۲ (ت)
حوالہ / References
درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۵
مسئلہ ۲۱۴ : از نگینہ ضلع بجنور محلہ شیخ کی سرائے تکیہ منہاران مسئولہ حافظ بشیر احمد صاحب ۱۰ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کہتا ہے کہ کورا کپڑا بازار کا خریدا ہوا دیسی ہو یا انگریزی جبکہ قیمت دے کر خریدا گیا ہو وہ بلادھوئے ہوئے پہننا جائز ہے اور نماز اس پر درست ہے دوسرا کہتا ہے بغیر دھوئے نماز جائز نہیں کہ اس کے طاہر ہونے کا یقین نہیں کس کا قول صحیح ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
طاہر ہونے پر یقین کی اصلا حاجت نہیں آدمی جو کپڑے پہنے سوتا ہے جاگنے پر کیا یقین ہے کہ انہیں کوئی نجاست نہ پہنچی۔ کپڑے کے استعمال اور اس سے نماز پڑھنے کے لئے صرف اتنا درکار ہے کہ اس کا نجس ہونا معلوم نہ ہو دیسی یا انگریزی جتنے کپڑے خریدے جائیں یا بے خریدے ملیں جب تك ان کی نجاست معلوم نہ ہو پاك ہیں یہ خیال بےاصل ہے کہ قیمت دینے سے پاك ہوں گے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۵ : از موضع خورد مؤ ڈاکخانہ بدوسرائے ضلع بارہ بنکی مرسلہ صفدر علی صاحب۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صابون دیسی یا ولایتی مروجہ کا استعمال زندہ اور مردہ کے لئے جائز ہے یا ناجائز۔ قطعی فیصل ہونا چاہئے۔
الجواب :
مسلمان کا بنایا ہوا صابون جائز ہے اور ہندو یا مجوسی یا نصرانی کا بنایا ہوا صابون جس میں چربی پڑتی ہو اگرچہ گائے یا بکری کی ناپاك وحرام ہے دیسی ہو یا ولایتی اور جس میں چربی نہ ہو جائز ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۶ : مرسلہ حاجی اسمعیل بن حاجی امیر میاں قادری کاٹھیاواڑی ازجنوبی افریقہ بمقام بھوٹابھوٹی برٹش باسوٹولینڈ۔ اگر تیل یا گھی گرم ہویا سرد اس میں حرام جانور مثلا چوہا بلی یا کتا یا خنزیر وغیرہ جانور اندر مرگیا یا جھوٹا کر گیا اب وہ گھی وتیل وغیرہ کیسے پاك ہوگا اور ہو کھانا درست ہوگا یا نہیں
الجواب :
گھی اگر رقیق پتلا ہے تو اس کے پاك کرنے کا طریقہ مسئلہ پنجم عـــہ میں گزرا اور اگر جما ہوا ہے تو اس جانور یا اس کے
عـــہ : حاجی اسمعیل میاں صاحب کے ایك سوگیارہ سوالات میں سے سوال پنجم کے جواب میں وہ طریقہ ذکر فرمایا کہ اس کتاب کے صفحہ ۵۶۳ پر مسئلہ ۱۹۹ میں مذکور ہے ۱۲ (م)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کہتا ہے کہ کورا کپڑا بازار کا خریدا ہوا دیسی ہو یا انگریزی جبکہ قیمت دے کر خریدا گیا ہو وہ بلادھوئے ہوئے پہننا جائز ہے اور نماز اس پر درست ہے دوسرا کہتا ہے بغیر دھوئے نماز جائز نہیں کہ اس کے طاہر ہونے کا یقین نہیں کس کا قول صحیح ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
طاہر ہونے پر یقین کی اصلا حاجت نہیں آدمی جو کپڑے پہنے سوتا ہے جاگنے پر کیا یقین ہے کہ انہیں کوئی نجاست نہ پہنچی۔ کپڑے کے استعمال اور اس سے نماز پڑھنے کے لئے صرف اتنا درکار ہے کہ اس کا نجس ہونا معلوم نہ ہو دیسی یا انگریزی جتنے کپڑے خریدے جائیں یا بے خریدے ملیں جب تك ان کی نجاست معلوم نہ ہو پاك ہیں یہ خیال بےاصل ہے کہ قیمت دینے سے پاك ہوں گے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۵ : از موضع خورد مؤ ڈاکخانہ بدوسرائے ضلع بارہ بنکی مرسلہ صفدر علی صاحب۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صابون دیسی یا ولایتی مروجہ کا استعمال زندہ اور مردہ کے لئے جائز ہے یا ناجائز۔ قطعی فیصل ہونا چاہئے۔
الجواب :
مسلمان کا بنایا ہوا صابون جائز ہے اور ہندو یا مجوسی یا نصرانی کا بنایا ہوا صابون جس میں چربی پڑتی ہو اگرچہ گائے یا بکری کی ناپاك وحرام ہے دیسی ہو یا ولایتی اور جس میں چربی نہ ہو جائز ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۱۶ : مرسلہ حاجی اسمعیل بن حاجی امیر میاں قادری کاٹھیاواڑی ازجنوبی افریقہ بمقام بھوٹابھوٹی برٹش باسوٹولینڈ۔ اگر تیل یا گھی گرم ہویا سرد اس میں حرام جانور مثلا چوہا بلی یا کتا یا خنزیر وغیرہ جانور اندر مرگیا یا جھوٹا کر گیا اب وہ گھی وتیل وغیرہ کیسے پاك ہوگا اور ہو کھانا درست ہوگا یا نہیں
الجواب :
گھی اگر رقیق پتلا ہے تو اس کے پاك کرنے کا طریقہ مسئلہ پنجم عـــہ میں گزرا اور اگر جما ہوا ہے تو اس جانور یا اس کے
عـــہ : حاجی اسمعیل میاں صاحب کے ایك سوگیارہ سوالات میں سے سوال پنجم کے جواب میں وہ طریقہ ذکر فرمایا کہ اس کتاب کے صفحہ ۵۶۳ پر مسئلہ ۱۹۹ میں مذکور ہے ۱۲ (م)
منہ لگنے کی جگہ سے تھوڑا سا گھی کھرچ کر پھینك دیں باقی پاك ہے احمد وابوداؤد ابوہریرہ اور دارمی عبداللہبن عباس رضی اللہتعالی عنہم سے راوی رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے فرمایا :
اذاوقعت الفارۃ فی السمن فان کان جامدا فا لقوھا وماحولھا ۔ والله تعالی اعلم۔
اگر جمے ہوئے گھی میں چوہا گرجائے تو چوہا اور اس کے آس پاس کا گھی نکال کر پھینك دو۔
______________
اذاوقعت الفارۃ فی السمن فان کان جامدا فا لقوھا وماحولھا ۔ والله تعالی اعلم۔
اگر جمے ہوئے گھی میں چوہا گرجائے تو چوہا اور اس کے آس پاس کا گھی نکال کر پھینك دو۔
______________
حوالہ / References
سنن ابی داؤد شریف باب فی الفارۃ تقع فی السمن مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲ / ۱۸۱
باب الاستنجاء
(یہ بات استنجا کے بیان میں ہے)
مسئلہ ۲۱۷ : کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے لوٹے سے وضو کیا اس میں پانی بچ رہا اس بچے ہوئے پانی سے چھوٹا بڑا استنجا یا وضو کرنا کیسا ہے اور اسے پھینك دینا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
پھینك دینا تو تضیع مال ہے کہ شرع میں قطعا ممنوع اور وضو کرنا بیشك جائز مگر یہ کہ اس میں مائے مستعمل اس قدر گرگیا ہوکر غیر مستعمل پر غالب ہوگیا۔ رہا استنجا جواز میں تو اس کے بھی شبہہ نہیں نہ کسی کتاب میں اس کی ممانعت نظیر فقیر سے گزری۔ ہاں اس قدر ہے کہ بقیہ وضو کیلئے شرعا عظمت واحترام ہے اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ثابت کہ حضور نے وضو فرماکر بقیہ آب کو کھڑے ہوکر نوش فرمایا اور ایك حدیث میں روایت کیا گیا کہ اس کا پینا ستر۷۰ مرض سے شفا ہے۔ تو وہ ان امور میں آب زمزم سے مشابہت رکھتا ہے ایسے پانی سے استنجا مناسب نہیں۔ تنویر کے آداب وضو میں ہے :
وان یشرب بعدہ من فضل وضوئہ مستقبل القبلۃ قائما ۔
وضو کے بعد وضو کا پسماندہ (پانی) قبلہ رخ کھڑے ہوکر پئے۔ (ت)
(یہ بات استنجا کے بیان میں ہے)
مسئلہ ۲۱۷ : کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے لوٹے سے وضو کیا اس میں پانی بچ رہا اس بچے ہوئے پانی سے چھوٹا بڑا استنجا یا وضو کرنا کیسا ہے اور اسے پھینك دینا جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
پھینك دینا تو تضیع مال ہے کہ شرع میں قطعا ممنوع اور وضو کرنا بیشك جائز مگر یہ کہ اس میں مائے مستعمل اس قدر گرگیا ہوکر غیر مستعمل پر غالب ہوگیا۔ رہا استنجا جواز میں تو اس کے بھی شبہہ نہیں نہ کسی کتاب میں اس کی ممانعت نظیر فقیر سے گزری۔ ہاں اس قدر ہے کہ بقیہ وضو کیلئے شرعا عظمت واحترام ہے اور نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ثابت کہ حضور نے وضو فرماکر بقیہ آب کو کھڑے ہوکر نوش فرمایا اور ایك حدیث میں روایت کیا گیا کہ اس کا پینا ستر۷۰ مرض سے شفا ہے۔ تو وہ ان امور میں آب زمزم سے مشابہت رکھتا ہے ایسے پانی سے استنجا مناسب نہیں۔ تنویر کے آداب وضو میں ہے :
وان یشرب بعدہ من فضل وضوئہ مستقبل القبلۃ قائما ۔
وضو کے بعد وضو کا پسماندہ (پانی) قبلہ رخ کھڑے ہوکر پئے۔ (ت)
حوالہ / References
درمختار مع تنویر الابصار باب مستحبات الوضوء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۳
درمختار میں ہے : کماء زمزم (آب زمزم کی طرح۔ ت)جامع ترمذی میں سیدنا علی کرم اللہتعالی وجہہ سے مروی کہ انہوں نے کھڑے ہوکر بقیہ وضو پیا پھر فرمایا :
احببت ان اریکم کیف کان طھور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔
میں نے چاہا کہ تمہیں دکھادوں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا طریقہ وضو کیونکر تھا۔
ردالمحتار میں ہے :
ماء زمزم شفاء وکذا فضل الوضوء وفی شرح ھدیۃ ابن العماد لسیدی عبدالغنی النابلسی ومما جربتہ انی اذااصابنی مرض اقصد الاستشفاء بشرب فضل الوضوء فحصل لی الشفاء وھذا دابی اعتمادا علی قول الصادق صلی الله تعالی علیہ وسلم فی ھذا الطب النبوی الصحیح اھ والله سبحنہ وتعالی اعلم بالصواب۔
آب زمزم شفا ہے اور اسی طرح وضو کا بچا ہوا پانی بھی۔ ہدیۃ ابن العماد کی شرح میں علامہ عبدالغنی نابلسی رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں میں نے تجربہ کیا ہے کہ جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وضو کے بقیہ پانی سے شفا حاصل کرنے کا ارادہ کرتا ہوں پس مجھے شفا حاصل ہوجاتی ہے نبی صادق صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اس صحیح طب نبوی میں پائے جانے والے ارشاد گرامی پر اعتماد کرتے ہوئے میں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے اھ والله سبحنہ وتعالی اعلم بالصواب (ت)
مسئلہ ۲۱۸ : حاجی اللہیار خان صاحب ۲۲ رمضان مبارك ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مصلی کے بائیں ہاتھ میں ایسی چوٹ لگ گئی ہے کہ حرکت نہیں کرسکتا پانی سے استنجا کرنے سے معذور ہے البتہ داہنے ہاتھ سے ڈھیلوں سے صاف کرسکتا ہے ایسا شخص نماز پڑھ سکتا ہے اور امامت اس کی جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
دہنے ہاتھ سے استنجا اگرچہ ممنوع وگناہ ہے صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اس سے نہی فرمائی کمااخرجہ احمد والشیخان عن ابی قتادۃ رضی الله تعالی عنہ (جیسا کہ امام احمد اور شیخان (امام بخاری ومسلم) رحمہم اللہ تعالیتعالی نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالی عنہسے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ ت) مگر جب عذر ہے تو کچھ مواخذہ نہیں فان الضرورات تبیح المحظورات (ضرورتیں ممنوعات کو جائز کردیتی ہیں۔ ت) درمختار
احببت ان اریکم کیف کان طھور رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ۔
میں نے چاہا کہ تمہیں دکھادوں نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا طریقہ وضو کیونکر تھا۔
ردالمحتار میں ہے :
ماء زمزم شفاء وکذا فضل الوضوء وفی شرح ھدیۃ ابن العماد لسیدی عبدالغنی النابلسی ومما جربتہ انی اذااصابنی مرض اقصد الاستشفاء بشرب فضل الوضوء فحصل لی الشفاء وھذا دابی اعتمادا علی قول الصادق صلی الله تعالی علیہ وسلم فی ھذا الطب النبوی الصحیح اھ والله سبحنہ وتعالی اعلم بالصواب۔
آب زمزم شفا ہے اور اسی طرح وضو کا بچا ہوا پانی بھی۔ ہدیۃ ابن العماد کی شرح میں علامہ عبدالغنی نابلسی رحمۃ اللہ تعالی علیہفرماتے ہیں میں نے تجربہ کیا ہے کہ جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وضو کے بقیہ پانی سے شفا حاصل کرنے کا ارادہ کرتا ہوں پس مجھے شفا حاصل ہوجاتی ہے نبی صادق صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اس صحیح طب نبوی میں پائے جانے والے ارشاد گرامی پر اعتماد کرتے ہوئے میں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے اھ والله سبحنہ وتعالی اعلم بالصواب (ت)
مسئلہ ۲۱۸ : حاجی اللہیار خان صاحب ۲۲ رمضان مبارك ۱۳۰۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مصلی کے بائیں ہاتھ میں ایسی چوٹ لگ گئی ہے کہ حرکت نہیں کرسکتا پانی سے استنجا کرنے سے معذور ہے البتہ داہنے ہاتھ سے ڈھیلوں سے صاف کرسکتا ہے ایسا شخص نماز پڑھ سکتا ہے اور امامت اس کی جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
دہنے ہاتھ سے استنجا اگرچہ ممنوع وگناہ ہے صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اس سے نہی فرمائی کمااخرجہ احمد والشیخان عن ابی قتادۃ رضی الله تعالی عنہ (جیسا کہ امام احمد اور شیخان (امام بخاری ومسلم) رحمہم اللہ تعالیتعالی نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالی عنہسے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ ت) مگر جب عذر ہے تو کچھ مواخذہ نہیں فان الضرورات تبیح المحظورات (ضرورتیں ممنوعات کو جائز کردیتی ہیں۔ ت) درمختار
حوالہ / References
درمختار مع التنویر ، باب مستحبات الوضوء ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۲۳
جامع الترمذی باب وضوء النبی صلی اللہ علیہ وسلم کیف کان مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۸
ردالمحتار مطلب فی مباحث الشرب قائما مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۸
جامع الترمذی باب وضوء النبی صلی اللہ علیہ وسلم کیف کان مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۸
ردالمحتار مطلب فی مباحث الشرب قائما مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۸۸
میں ہے :
کرہ تحریما بیمین ولاعذر بیسارہ اھ ملخصا۔
بائیں ہاتھ میں کوئی عذر نہ ہو تو دائیں ہاتھ سے (استنجا) مکروہ تحریمہ ہے اھ ملخصا (ت)
اور نجاست جب مخرج بول وبراز سے مقدار درہم سے زیادہ تجاوز نہ کرے تو ڈھیلے کافی ہوتے ہیں ان کے بعد پانی لینا فقط سنت ہے درمختار میں ہے :
الغسل بالماء بعد الحجر سنۃ اھ ملخصا۔
پتھر (استعمال کرنے) کے بعد پانی سے دھونا سنت ہے اھ ملخصا
یہ سنت بھی اگرچہ باقی سنن مؤکدہ کے مثل ہے جس کا ترك بیشك باعث کراہت
علی ماحققہ المحقق علی الاطلاق فی الفتح وتبعہ تلمیذہ المحقق ابن امیرالحاج فی الحلیۃ۔
جیسا کہ محقق علی الاطلاق رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فتح القدیر میں اور ان کی اتباع میں ان کے شاگرد محقق ابن امیرالحاج نے حلیہ میں اس کی تحقیق کی ہے۔ (ت)
مگر حالت عذر ہمیشہ مستشنی ہوتی ہے اور ترك سنت صحت نماز میں خلل انداز نہیں پس صورت مستفسرہ میں بلاتامل نہ اس شخص کی اپنی نماز میں حرج نہ امامت میں نقصان البتہ اگر نجاست مخرج کے علاوہ قدردرم سے زیادہ ہوتو اس وقت پانی سے دھوئے بغیر طہارت نہیں ہوتی۔ درمختار میں ہے :
یجب ای غسلہ ان جاوز المخرج نجس مانع ویعتبر القدر مانع للصلاۃ فیما وراء موضع الاستنجاء ۔
اگر (طہارت سے) مانع نجاست مخرج سے تجاوز کرجائے تو اس کا دھونا واجب اور نماز سے مانع نجاست کے اندازے کا اعتبار اس نجاست سے ہوگا جو جائے استنجا کے علاوہ ہے۔ (ت)
ایسی حالت میں اگر پانی پر کسی طرح کسی ہاتھ سے سے قدرت نہ پائے تو اس کی اپنی نماز ہوجائے گی درمختار میں ہے : لوشلتا سقط اصلا (اگر دونوں ہاتھ شل ہوجائیں تو طہارت بالکل ساقط ہوجائیگی۔ ت) مگر امامت
کرہ تحریما بیمین ولاعذر بیسارہ اھ ملخصا۔
بائیں ہاتھ میں کوئی عذر نہ ہو تو دائیں ہاتھ سے (استنجا) مکروہ تحریمہ ہے اھ ملخصا (ت)
اور نجاست جب مخرج بول وبراز سے مقدار درہم سے زیادہ تجاوز نہ کرے تو ڈھیلے کافی ہوتے ہیں ان کے بعد پانی لینا فقط سنت ہے درمختار میں ہے :
الغسل بالماء بعد الحجر سنۃ اھ ملخصا۔
پتھر (استعمال کرنے) کے بعد پانی سے دھونا سنت ہے اھ ملخصا
یہ سنت بھی اگرچہ باقی سنن مؤکدہ کے مثل ہے جس کا ترك بیشك باعث کراہت
علی ماحققہ المحقق علی الاطلاق فی الفتح وتبعہ تلمیذہ المحقق ابن امیرالحاج فی الحلیۃ۔
جیسا کہ محقق علی الاطلاق رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فتح القدیر میں اور ان کی اتباع میں ان کے شاگرد محقق ابن امیرالحاج نے حلیہ میں اس کی تحقیق کی ہے۔ (ت)
مگر حالت عذر ہمیشہ مستشنی ہوتی ہے اور ترك سنت صحت نماز میں خلل انداز نہیں پس صورت مستفسرہ میں بلاتامل نہ اس شخص کی اپنی نماز میں حرج نہ امامت میں نقصان البتہ اگر نجاست مخرج کے علاوہ قدردرم سے زیادہ ہوتو اس وقت پانی سے دھوئے بغیر طہارت نہیں ہوتی۔ درمختار میں ہے :
یجب ای غسلہ ان جاوز المخرج نجس مانع ویعتبر القدر مانع للصلاۃ فیما وراء موضع الاستنجاء ۔
اگر (طہارت سے) مانع نجاست مخرج سے تجاوز کرجائے تو اس کا دھونا واجب اور نماز سے مانع نجاست کے اندازے کا اعتبار اس نجاست سے ہوگا جو جائے استنجا کے علاوہ ہے۔ (ت)
ایسی حالت میں اگر پانی پر کسی طرح کسی ہاتھ سے سے قدرت نہ پائے تو اس کی اپنی نماز ہوجائے گی درمختار میں ہے : لوشلتا سقط اصلا (اگر دونوں ہاتھ شل ہوجائیں تو طہارت بالکل ساقط ہوجائیگی۔ ت) مگر امامت
حوالہ / References
درمختار فصل الاستنجا مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶
درمختار فصل الاستنجا مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶
درمختار فصل الاستنجا مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶
درمختار فصل الاستنجا مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶
درمختار فصل الاستنجا مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶
درمختار فصل الاستنجا مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶
درمختار فصل الاستنجا مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶
نہیں کرسکتا کمالایخفی والله سبحنہ وتعالی اعلم (جیسا کہ مخفی نہیں اللہتعالی خوب جانتا ہے۔ ت)
مسئلہ ۲۱۹ : ۴ جمادی الاخری ۱۳۱۲ھ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حضرت رسول مقبول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اور اصحابوں نے پیشاب کے بعد اکثر مرتبہ استنجا پانی سے کیا یا ڈھیلوں سے بینوا توجروا۔
الجواب :
صحابہ رضی اللہتعالی عنہم کی عادت اس باب میں مختلف تھی امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہاکثر مٹی سے استنجا فرماتے اور حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہپانی سے۔ کشف الغمہ میں ہے :
کان عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ یبول کثیرا ثم یمسح بالتراب اوالحائط ثم یقول ھکذا علمنا ولم یبلغنا انہ کان یغسلہ بالماء بعد وکان حذیفۃ لایجمع بین الماء والحجر اذابال وکذلك عائشۃ رضی الله تعالی عنھما فکانا یغسلان بالماء فقط ۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہبہت زیادہ پیشاب کرتے پھر مٹی یا دیوار سے خشك کرتے اس کے بعد فرماتے “ ہمیں اس طرح معلوم ہے “ ۔ اور ہم تك یہ بات نہیں پہنچی کہ اس کے بعد وہ پانی کے ساتھ دھوتے ہوں۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہپیشاب کرتے تو پانی اور پتھر کو جمع نہیں کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاکا بھی یہی طریقہ تھا یہ دونوں صرف پانی سے دھوتے تھے۔ (ت)
اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے دونوں صورتیں ثابت ہیں ام المومنین صدیقہ رضی اللہتعالی عنہا نے روایت کی کہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپیشاب کے بعد پانی سے استنجا فرماتے۔
احمد والترمذی وصححہ والنسائی عنھا رضی الله تعالی عنھا قالت مرن ازواجکن ان یغسلوا اثر الغائط والبول فان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کان یفعلہ ۔
امام احمد ترمذی اور نسائی رحمہم اللہ تعالیام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ اپنے خاوندوں کو کہو کہ وہ قضائے حاجت اور پیشاب کا اثر پانی سے دھوڈالیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبھی یونہی کرتے تھے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (ت)
اور وہی (عائشہ صدیقہ رضی اللہعنہا) روایت فرماتی ہیں کہ ایك بار حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے پیشاب فرمایا امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہپانی لیکر کھڑے ہوئے۔ فرمایا : کیا ہے عرض کی :
مسئلہ ۲۱۹ : ۴ جمادی الاخری ۱۳۱۲ھ : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حضرت رسول مقبول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اور اصحابوں نے پیشاب کے بعد اکثر مرتبہ استنجا پانی سے کیا یا ڈھیلوں سے بینوا توجروا۔
الجواب :
صحابہ رضی اللہتعالی عنہم کی عادت اس باب میں مختلف تھی امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہاکثر مٹی سے استنجا فرماتے اور حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہپانی سے۔ کشف الغمہ میں ہے :
کان عمر بن الخطاب رضی الله تعالی عنہ یبول کثیرا ثم یمسح بالتراب اوالحائط ثم یقول ھکذا علمنا ولم یبلغنا انہ کان یغسلہ بالماء بعد وکان حذیفۃ لایجمع بین الماء والحجر اذابال وکذلك عائشۃ رضی الله تعالی عنھما فکانا یغسلان بالماء فقط ۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہبہت زیادہ پیشاب کرتے پھر مٹی یا دیوار سے خشك کرتے اس کے بعد فرماتے “ ہمیں اس طرح معلوم ہے “ ۔ اور ہم تك یہ بات نہیں پہنچی کہ اس کے بعد وہ پانی کے ساتھ دھوتے ہوں۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہپیشاب کرتے تو پانی اور پتھر کو جمع نہیں کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاکا بھی یہی طریقہ تھا یہ دونوں صرف پانی سے دھوتے تھے۔ (ت)
اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے دونوں صورتیں ثابت ہیں ام المومنین صدیقہ رضی اللہتعالی عنہا نے روایت کی کہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپیشاب کے بعد پانی سے استنجا فرماتے۔
احمد والترمذی وصححہ والنسائی عنھا رضی الله تعالی عنھا قالت مرن ازواجکن ان یغسلوا اثر الغائط والبول فان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کان یفعلہ ۔
امام احمد ترمذی اور نسائی رحمہم اللہ تعالیام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ اپنے خاوندوں کو کہو کہ وہ قضائے حاجت اور پیشاب کا اثر پانی سے دھوڈالیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبھی یونہی کرتے تھے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (ت)
اور وہی (عائشہ صدیقہ رضی اللہعنہا) روایت فرماتی ہیں کہ ایك بار حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے پیشاب فرمایا امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہپانی لیکر کھڑے ہوئے۔ فرمایا : کیا ہے عرض کی :
حوالہ / References
کشف الغمہ فصل فی کیفیۃ الاستنجاء مطبوعہ دارالفکر بیروت ، لبنان ۱ / ۴۸
جامع الترمذی باب الاستنجاء بالماء مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۵
جامع الترمذی باب الاستنجاء بالماء مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۵
استنجے کے لئے پانی۔ فرمایا : مجھ پر واجب نہیں کیا گیا کہ ہر پیشاب کے بعد پانی سے طہارت کروں۔
ابوداؤد وابن ماجۃ بسند حسن عن ام المؤمنین عائشۃ رضی الله تعالی عنھا قالت بال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فقام عمر خلفہ بکوزمن ماء فقال ماھذا یاعمر فقال ماء تتوضؤ بہ قال ماامرت کلما بلت ان اتوضأ ولوفعلت لکانت سنۃ ۔
امام ابوداؤد اور ابن ماجہ رحمہم اللہ تعالینے سند حسن کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے پیشاب فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہآپ کے پیچھے پانی کا لوٹا لے کر کھڑے ہوگئے حضور علیہ السلام نے فرمایا : اے عمر! یہ کیا ہے انہوں نے عرض کیا : یہ پانی ہے آپ اس سے وضو فرمائیں۔ آپ نے فرمایا : مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں تو وضو کروں اگر ایسا کروں تو سنت بن جائے گا۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
المراد بالوضوء ھنا الاستنجاء بالماء کماذکرہ النووی ۔
یہاں وضو سے استنجا کرنا مراد ہے جیسا کہ امام نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے ذکر کیا ہے (ت)
اور مسئلہ یہ ہے کہ ڈھیلے اور پانی دونوں سے استنجا جائز ہے جس سے کرے گا کافی ہوگا اور افضل یہ ہے کہ دونوں کو جمع کرے فی الھندیۃ عن التبیین الافضل ان یجمع بینھما (فتاوی عالمگیری میں التبیين سے منقول ہے کہ دونوں کو جمع کرنا افضل ہے۔ ت) والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (اللہتعالی بہتر جانتا ہے اور اس بزرگ وبرتر ذات کا علم مکمل ومحکم ہے۔ ت)
مسئلہ ۲۲۰ : از گلگٹ مرسلہ سردار امیر خاں ملازم کپتان اسٹوٹ ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں اگر کسی جگہ پرانا کپڑا یا مٹی کا ڈھیلا یا ریت نہ ہو تو وہاں پتھر سے استنجا سکھانا کیسا ہے اور اگر تھوڑی دور پر ہر شے موجود ہے اور یہ کوتاہی کرگیا اور پتھر سے سکھایا تو کیسا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
استنجا خشك کرنے میں ہر بے قیمت بیکار پاك چیز کہ رطوبت کو جذب کرکے موضع کو صاف کردے ڈھیلا ہویا
ابوداؤد وابن ماجۃ بسند حسن عن ام المؤمنین عائشۃ رضی الله تعالی عنھا قالت بال رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم فقام عمر خلفہ بکوزمن ماء فقال ماھذا یاعمر فقال ماء تتوضؤ بہ قال ماامرت کلما بلت ان اتوضأ ولوفعلت لکانت سنۃ ۔
امام ابوداؤد اور ابن ماجہ رحمہم اللہ تعالینے سند حسن کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاسے روایت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے پیشاب فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہآپ کے پیچھے پانی کا لوٹا لے کر کھڑے ہوگئے حضور علیہ السلام نے فرمایا : اے عمر! یہ کیا ہے انہوں نے عرض کیا : یہ پانی ہے آپ اس سے وضو فرمائیں۔ آپ نے فرمایا : مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں تو وضو کروں اگر ایسا کروں تو سنت بن جائے گا۔ (ت)
حلیہ میں ہے :
المراد بالوضوء ھنا الاستنجاء بالماء کماذکرہ النووی ۔
یہاں وضو سے استنجا کرنا مراد ہے جیسا کہ امام نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے ذکر کیا ہے (ت)
اور مسئلہ یہ ہے کہ ڈھیلے اور پانی دونوں سے استنجا جائز ہے جس سے کرے گا کافی ہوگا اور افضل یہ ہے کہ دونوں کو جمع کرے فی الھندیۃ عن التبیین الافضل ان یجمع بینھما (فتاوی عالمگیری میں التبیين سے منقول ہے کہ دونوں کو جمع کرنا افضل ہے۔ ت) والله تعالی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (اللہتعالی بہتر جانتا ہے اور اس بزرگ وبرتر ذات کا علم مکمل ومحکم ہے۔ ت)
مسئلہ ۲۲۰ : از گلگٹ مرسلہ سردار امیر خاں ملازم کپتان اسٹوٹ ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں اگر کسی جگہ پرانا کپڑا یا مٹی کا ڈھیلا یا ریت نہ ہو تو وہاں پتھر سے استنجا سکھانا کیسا ہے اور اگر تھوڑی دور پر ہر شے موجود ہے اور یہ کوتاہی کرگیا اور پتھر سے سکھایا تو کیسا ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
استنجا خشك کرنے میں ہر بے قیمت بیکار پاك چیز کہ رطوبت کو جذب کرکے موضع کو صاف کردے ڈھیلا ہویا
حوالہ / References
سُنن ابوداؤد شریف کتاب الطہارۃ ، باب فی الاستبرائ مطبوعہ آفتاب عالم پرس لاہور ۱ / ۷
حلیہ (مذکورہ کتاب دستیاب نہ ہوسکی)
فتاویٰ ہندیۃ الفصل الثالث فی الاستنجاء مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۴۸
حلیہ (مذکورہ کتاب دستیاب نہ ہوسکی)
فتاویٰ ہندیۃ الفصل الثالث فی الاستنجاء مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۴۸
پتھر مٹی ہویا پرانا کپڑا زمین ہو یا دیوار سب برابر ہے ہاں ہڈی يا کوئلہ یا پکی اینٹ یا ٹھیکری یا چونا نہ ہو درمختار میں ہے :
(الاستنجاء سنۃ مؤکدۃ بنحوحجر) مما ھو عین طاھرۃ قالعۃ لاقیمۃ لھاکمدر (منق وکرہ بعظم وورث واجر وخزف وزجاج وفحم) وحق غیر وکل ماینتفع بہ ۔
پتھر جیسی چیز کے ساتھ استنجا سنت مؤکدہ ہے یعنی وہ چیز جو پاك ہو نجاست کو دور کرنے والی ہو اور قیمتی نہ ہو جیسا کہ صاف کرنے والا ڈھیلا ہڈی گوبر پکی اینٹ ٹھیکری گچ اور کوئلے کے ساتھ استنجاء مکروہ ہے نیز غیر کی ملکیت اور نفی بخش چیز کے ساتھ بھی مکروہ ہے (ت)
نورالایضاح میں ہے :
یکرہ الاستنجاء بجص اھ ملخصین۔
چونے کے ساتھ استنجاء مکروہ ہے اھ تلخیص (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قال فی البدائع السنۃ ھو الاستنجاء بالاشیاء الطاھرۃ من الاحجار والامداد والتراب والخرق البوالی اھ ومثلہ الجدار الاجدار غیرہ کالوقف ونحوہ وللمستأجر الاستنجاء بالحائط ولولدار مسبلۃ اھ ملخصا والله تعالی اعلم
بدائع میں فرمایا پاك چیز مثلا پتھروں ڈھیلوں مٹی پرانے کپڑے کے ٹکڑوں سے استنجا کرنا سنت ہے اھ دیوار بھی اسی طرح ہے لیکن کسی دوسرے کی دیوار نہ ہو مثلا وقف شدہ وغیرہ۔ کرایہ دار دیوار سے استنجا کرسکتا ہے اگرچہ دیوار تر ہو۔ اھ تلخیص (ت)
مسئلہ ۲۲۱ : ۲۷ صفر از کھنڈوا ضلع نماڑ ملك متوسط مرسلہ مولوی اللہیار خاں صاحب
ازمکان منشی حبیب اللہتحصیلدار باحسن آداب زانوائے ادب تہ کردہ بعرض مستفیضان باریابان حضور فیض معمور میر ساند دیرنوالا ضرورتے درمسئلہ کتاب منیۃ المصلی واقع ست لہذا بخدمت فیض درجت عالی منقبت محی مراسم شریعت ماحی لوازم بدعت مظہر حسنات ملت بیضا مصدر برکات شریعت غرا عمدہ آداب کے ساتھ زانوائے ادب تہ کرتے ہوئے آنحضور کے فیوض وبرکات سے مستفیض ہونے والے حضرات کی ایك عرض جو اس علاقے میں منیۃ المصلی کے ایك مسئلہ کے سلسلے میں ہے فیضدرجت عالی مرتبت شریعت کے رسوم کو زندہ کرنے والے بدعت کے لوازم کو
(الاستنجاء سنۃ مؤکدۃ بنحوحجر) مما ھو عین طاھرۃ قالعۃ لاقیمۃ لھاکمدر (منق وکرہ بعظم وورث واجر وخزف وزجاج وفحم) وحق غیر وکل ماینتفع بہ ۔
پتھر جیسی چیز کے ساتھ استنجا سنت مؤکدہ ہے یعنی وہ چیز جو پاك ہو نجاست کو دور کرنے والی ہو اور قیمتی نہ ہو جیسا کہ صاف کرنے والا ڈھیلا ہڈی گوبر پکی اینٹ ٹھیکری گچ اور کوئلے کے ساتھ استنجاء مکروہ ہے نیز غیر کی ملکیت اور نفی بخش چیز کے ساتھ بھی مکروہ ہے (ت)
نورالایضاح میں ہے :
یکرہ الاستنجاء بجص اھ ملخصین۔
چونے کے ساتھ استنجاء مکروہ ہے اھ تلخیص (ت)
ردالمحتار میں ہے :
قال فی البدائع السنۃ ھو الاستنجاء بالاشیاء الطاھرۃ من الاحجار والامداد والتراب والخرق البوالی اھ ومثلہ الجدار الاجدار غیرہ کالوقف ونحوہ وللمستأجر الاستنجاء بالحائط ولولدار مسبلۃ اھ ملخصا والله تعالی اعلم
بدائع میں فرمایا پاك چیز مثلا پتھروں ڈھیلوں مٹی پرانے کپڑے کے ٹکڑوں سے استنجا کرنا سنت ہے اھ دیوار بھی اسی طرح ہے لیکن کسی دوسرے کی دیوار نہ ہو مثلا وقف شدہ وغیرہ۔ کرایہ دار دیوار سے استنجا کرسکتا ہے اگرچہ دیوار تر ہو۔ اھ تلخیص (ت)
مسئلہ ۲۲۱ : ۲۷ صفر از کھنڈوا ضلع نماڑ ملك متوسط مرسلہ مولوی اللہیار خاں صاحب
ازمکان منشی حبیب اللہتحصیلدار باحسن آداب زانوائے ادب تہ کردہ بعرض مستفیضان باریابان حضور فیض معمور میر ساند دیرنوالا ضرورتے درمسئلہ کتاب منیۃ المصلی واقع ست لہذا بخدمت فیض درجت عالی منقبت محی مراسم شریعت ماحی لوازم بدعت مظہر حسنات ملت بیضا مصدر برکات شریعت غرا عمدہ آداب کے ساتھ زانوائے ادب تہ کرتے ہوئے آنحضور کے فیوض وبرکات سے مستفیض ہونے والے حضرات کی ایك عرض جو اس علاقے میں منیۃ المصلی کے ایك مسئلہ کے سلسلے میں ہے فیضدرجت عالی مرتبت شریعت کے رسوم کو زندہ کرنے والے بدعت کے لوازم کو
حوالہ / References
درمختار ، فصل الاستنجاء ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶
نورالایضاح فصل فی الاستنجاء مطبوعہ علیمی کتب خانہ لاہور ص۶
ردالمحتار فصل الاستنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
نورالایضاح فصل فی الاستنجاء مطبوعہ علیمی کتب خانہ لاہور ص۶
ردالمحتار فصل الاستنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۴
جناب مولوی احمد رضا خان صاحب ادام اللہفیضہم وظلمہم وبرکاتہم استفتا مع عبارت یکرہ دخول المخرج لمن فی اصبعہ خاتم فیہ شیئ من القران لمافیہ من ترك التعظیم ارسال می نمایند معنی دخول المخرج بتصریح ترجمہ اردو ارشاد فرمایند کہ چہ مراد مؤلف ست ومعنی لغوی واصطلاحی صیغہ مخرج درینجا چیست۔ بینوا توجروا۔
مٹانے والے روشن ملت کی اچھائیوں کو ظاہر کرنے والے چمکتی ہوئی شریعت کی برکات کے منبع حضرت مولانا محمد احمد رضا خان اللہتعالی ان کے فیوض سایہ عاطفت اور برکات کو ہمیشہ باقی رکھے کے حضور عبارت کے ساتھ استفتأ پیش کرتے ہیں عبارت یہ ہے “ جس آدمی کے ہاتھ میں ایسی انگوٹھی ہو جس میں قرآن پاك سے کچھ لکھا ہو اس کا مخرج میں داخل ہونا مکروہ ہے کیونکہ اس میں تعظیم کو چھوڑنا ہے “ ۔ جوابا وضاحت کے ساتھ اردو زبان میں دخول مخرج کا معنی لکھیں اور بتائیں کہ مؤلف کی کیا مراد ہے اور اس جگہ لفظ مخرج کا لغوی اور اصطلاحی معنی کیا ہے بیان فرمائیں اجر پائیں۔ (ت)
الجواب :
مولانا المکرم اکرمکم اللہتعالی وکرم السلام علیکم ورحمۃ اللہوبرکاتہ مخرج جائے خروج واینجا مراد بیت الخلاست کہ محل خروج خارج ست خارج بول وبراز را نامند چنانکہ در ردالمحتار اور آداب استنجا فرمود ویدفن الخارج وحلق موئے دبررا تعلیل نمود وکیلا یتعلق بہ شیئ من الخارج وتواند کہ خلارا مخرج گفتن ازاں عالم باشد کہ بیابان مہلکہ رامفازہ یعنی جائے فوز ونجات خوانند زیراکہ دخول خلامحض بضرورت ست وداخل درعین دخول برقصد تعجیل خروج پس گویا اومدخل نیست مخرج ست فافہم بالجملہ معنی دخول المخرج پاخانے میں جانا وحاصل مسئلہ آنکہ ہرکہ دردست اوخاتمی ست کہ بروچیزے ازقرآن یا ازاسمائے معظمہ
مولانا المکرم اللہتعالی آپ کو عزت بخشے السلام علیکم ورحمۃ اللہوبرکاتہ “ مخرج “ نکلنے کی جگہ کو کہتے ہیں یہاں بیت الخلا مراد ہے کہ نجاست خارج کرنے کی جگہ ہے بول وبراز کو خارج کہتے ہیں جیسا کہ ردالمحتار کے آداب استنجاء میں فرمایا : “ اور خارج (پیشاب وپاخانہ) کو (زمین میں) دبادے “ ۔ اور دبر کے بال مونڈنے کی علت یہ بیان کی کہ ان کے ساتھ خارج (پیشاب وپاخانہ) نہ لگ جائے اور ممکن ہے کہ خلا کو مخرج کہنا یوں ہو جیسے بیابان مہلکہ کو مفازہ یعنی جائے فوزوفلاح کہتے ہیں کیونکہ دخول خلا محض ضرورت کے پیش نظر ہوتا ہے۔ اور داخل ہونے والا دخول کے وقت فورا نکلنے کے ارادے پر ہوتا ہے تو گویا وہ مدخل
مٹانے والے روشن ملت کی اچھائیوں کو ظاہر کرنے والے چمکتی ہوئی شریعت کی برکات کے منبع حضرت مولانا محمد احمد رضا خان اللہتعالی ان کے فیوض سایہ عاطفت اور برکات کو ہمیشہ باقی رکھے کے حضور عبارت کے ساتھ استفتأ پیش کرتے ہیں عبارت یہ ہے “ جس آدمی کے ہاتھ میں ایسی انگوٹھی ہو جس میں قرآن پاك سے کچھ لکھا ہو اس کا مخرج میں داخل ہونا مکروہ ہے کیونکہ اس میں تعظیم کو چھوڑنا ہے “ ۔ جوابا وضاحت کے ساتھ اردو زبان میں دخول مخرج کا معنی لکھیں اور بتائیں کہ مؤلف کی کیا مراد ہے اور اس جگہ لفظ مخرج کا لغوی اور اصطلاحی معنی کیا ہے بیان فرمائیں اجر پائیں۔ (ت)
الجواب :
مولانا المکرم اکرمکم اللہتعالی وکرم السلام علیکم ورحمۃ اللہوبرکاتہ مخرج جائے خروج واینجا مراد بیت الخلاست کہ محل خروج خارج ست خارج بول وبراز را نامند چنانکہ در ردالمحتار اور آداب استنجا فرمود ویدفن الخارج وحلق موئے دبررا تعلیل نمود وکیلا یتعلق بہ شیئ من الخارج وتواند کہ خلارا مخرج گفتن ازاں عالم باشد کہ بیابان مہلکہ رامفازہ یعنی جائے فوز ونجات خوانند زیراکہ دخول خلامحض بضرورت ست وداخل درعین دخول برقصد تعجیل خروج پس گویا اومدخل نیست مخرج ست فافہم بالجملہ معنی دخول المخرج پاخانے میں جانا وحاصل مسئلہ آنکہ ہرکہ دردست اوخاتمی ست کہ بروچیزے ازقرآن یا ازاسمائے معظمہ
مولانا المکرم اللہتعالی آپ کو عزت بخشے السلام علیکم ورحمۃ اللہوبرکاتہ “ مخرج “ نکلنے کی جگہ کو کہتے ہیں یہاں بیت الخلا مراد ہے کہ نجاست خارج کرنے کی جگہ ہے بول وبراز کو خارج کہتے ہیں جیسا کہ ردالمحتار کے آداب استنجاء میں فرمایا : “ اور خارج (پیشاب وپاخانہ) کو (زمین میں) دبادے “ ۔ اور دبر کے بال مونڈنے کی علت یہ بیان کی کہ ان کے ساتھ خارج (پیشاب وپاخانہ) نہ لگ جائے اور ممکن ہے کہ خلا کو مخرج کہنا یوں ہو جیسے بیابان مہلکہ کو مفازہ یعنی جائے فوزوفلاح کہتے ہیں کیونکہ دخول خلا محض ضرورت کے پیش نظر ہوتا ہے۔ اور داخل ہونے والا دخول کے وقت فورا نکلنے کے ارادے پر ہوتا ہے تو گویا وہ مدخل
حوالہ / References
منیۃ المصلی قبیل فصل فی التمیم مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۴۵
ردالمحتار آداب استنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۲۳۰
ردالمحتار آداب استنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۲۳۰
مثل نام الہی یانام قرآن عظیم یااسما انبیاء یاملائکہ علیہم الصلاۃ والثنا نوشتہ است اومامورست کہ چوںبخلارود خاتم ازدست کشیدہ بیرون نہد افضل ہمین ست واگر خوف ضیاع باشدد رجیب انداز دیا بچیزے دگربپوشد کہ اینہم رواست اگرچہ بے ضرورت احترازو اولی ست اگر ازینہا ہیچ نکرد وہمچناں درخلا رفت مکروہ باشد علامہ ابراہیم حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہ درغنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی زیرہمیں عبارت مذکور فرماید یکرہ دخول المخرج ای الخلاء وفی اصبعہ خاتم فیہ شیئ من القران اومن اسمائہ تعالی لمافیہ من ترك التعظیم وقیل لایکرہ ان جعل فصلہ الی باطن الکف ولوکان مافیہ شیئ من القران اومن اسمائہ تعالی فی جیبہ لاباس بہ وکذا لوکان ملفوفا فی شیئ والتحرز اولی درمراقی الفلاح ست یکرہ دخول الخلاء ومعہ شیئ مکتوب فیہ اسم الله اوقران علامہ طحطاوی درحاشیہ ش فرمود لماروی ابوداود والترمذی عن انس رضی الله تعالی عنہ قال کان رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم اذادخل الخلاء نزع
نہیں مخرج ہے۔ اسے سمجھو بالجملہ دخول مخرج کا معنی پاخانے نے میں جانا ہے اور حاصل مسئلہ یہ ہے کہ جس کے ہاتھ میں ایسی انگوٹھی ہو جس پر قرآن پاك میں سے کچھ (کلمات) یا متبرك نام جیسے اللہتعالی کا اسم مبارك یا قرآن حکیم کا نام یا اسمائے انبیاء وملائکہ علیہم الصلوۃ والثناء (لکھے) ہوں تو اسے حکم ہے کہ جب وہ بیت الخلاء میں جائے تو اپنے ہاتھ سے انگوٹھی نکال کر باہر رکھ لے بہتر یہی ہے اور اس کے ضائئع ہونے کا خوف ہو تو جیب میں ڈال لے یا کسی دوسری چیز میں لپیٹ لے کہ یہ بھی جائز ہے اگر چہ بے ضرورت اس سے بچنا بہتر ہے اگر ان صورتوں میں کوئی بھی بجانہ لائے اور یوں ہی بیت الخلاء میں چلاجائے تو ایسا کرنا مکروہ ہے علامہ ابراہیم حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی میں اسی عبارت مذکور کے تحت فرمایا مخرج یعنی بیت الخلا میں داخل ہونا مکروہ ہے جب اسکی انگلی میں ایسی انگوٹھی ہو جس پر قرآن میں سے کچھ (کلمات) یا اللہتعالی کا کوئی اسم مبارك (لکھا ہوا) ہو کیونکہ اس میں ترك تعظیم ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف کرے تو مکروہ نہیں اور اگر اس کی جیب میں کوئی ایسی چیز (کاپی وغیرہ) ہو جس میں قرآن پاك کا کچھ حصہ اللہتعالی کا اسم گرامی ہو تو کوئی حرج نہیں اسی طرح اگر کسی لفافے میں بند ہو تو بھی حرج نہیں لیکن بچنا زیادہ بہتر ہے۔ مراقی الفلاح میں ہے جس آدمی کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اللہتعالی کا نام مبارك یا قرآن پاك کی کوئی آیت لکھی ہو تو اس کے لئے بیت الخلاء میں داخل ہونا مکروہ ہے۔
علامہ طحطاوی نے
نہیں مخرج ہے۔ اسے سمجھو بالجملہ دخول مخرج کا معنی پاخانے نے میں جانا ہے اور حاصل مسئلہ یہ ہے کہ جس کے ہاتھ میں ایسی انگوٹھی ہو جس پر قرآن پاك میں سے کچھ (کلمات) یا متبرك نام جیسے اللہتعالی کا اسم مبارك یا قرآن حکیم کا نام یا اسمائے انبیاء وملائکہ علیہم الصلوۃ والثناء (لکھے) ہوں تو اسے حکم ہے کہ جب وہ بیت الخلاء میں جائے تو اپنے ہاتھ سے انگوٹھی نکال کر باہر رکھ لے بہتر یہی ہے اور اس کے ضائئع ہونے کا خوف ہو تو جیب میں ڈال لے یا کسی دوسری چیز میں لپیٹ لے کہ یہ بھی جائز ہے اگر چہ بے ضرورت اس سے بچنا بہتر ہے اگر ان صورتوں میں کوئی بھی بجانہ لائے اور یوں ہی بیت الخلاء میں چلاجائے تو ایسا کرنا مکروہ ہے علامہ ابراہیم حلبی رحمۃ اللہ تعالی علیہنے غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی میں اسی عبارت مذکور کے تحت فرمایا مخرج یعنی بیت الخلا میں داخل ہونا مکروہ ہے جب اسکی انگلی میں ایسی انگوٹھی ہو جس پر قرآن میں سے کچھ (کلمات) یا اللہتعالی کا کوئی اسم مبارك (لکھا ہوا) ہو کیونکہ اس میں ترك تعظیم ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف کرے تو مکروہ نہیں اور اگر اس کی جیب میں کوئی ایسی چیز (کاپی وغیرہ) ہو جس میں قرآن پاك کا کچھ حصہ اللہتعالی کا اسم گرامی ہو تو کوئی حرج نہیں اسی طرح اگر کسی لفافے میں بند ہو تو بھی حرج نہیں لیکن بچنا زیادہ بہتر ہے۔ مراقی الفلاح میں ہے جس آدمی کے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس میں اللہتعالی کا نام مبارك یا قرآن پاك کی کوئی آیت لکھی ہو تو اس کے لئے بیت الخلاء میں داخل ہونا مکروہ ہے۔
علامہ طحطاوی نے
حوالہ / References
غنیۃ المستملی سنن الغسل مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۶۰
مراقی الفلاح فصل فی الاستنجاء مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۰
مراقی الفلاح فصل فی الاستنجاء مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۰
خاتمہ ای لان نقشہ محمد رسول الله اھ قلت بل رواہ الاربعۃ وابن حبان والحاکم وبعض اسانیدہ صحیح ثم قال اعنی الطحطاوی قال الطیبی فیہ دلیل علی وجوب تنحیۃ المستنجی اسم الله تعالی واسم رسولہ والقران اھ وقال الابھری وکذا سائر الرسل وقال ابن حجر استفید منہ انہ یندب لمرید التبرز ان ینحی کل ماعلیہ معظم من اسم الله تعالی اونبی اوملك فان خالف کرہ لترك التعظیم اھ وھوالموافق لمذھبنا کمافی شرح المشکوۃ ۔
در درمختار ست رقیۃ فی غلاف متجاف لم یکرہ دخول الخلاء بہ والاحتراز افضل والله تعالی اعلم۔
اس کے حاشیہ میں فرمایا کیونکہ امام ابوداؤد اور ترمذی رحمہم اللہ تعالینے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبیت الخلاء میں جاتے وقت انگوٹھی اتارلیتے کیونکہ اس میں “ محمد رسول اللہ“ کا منقش تھا اھ میں کہتا ہوں بلکہ اسے چاروں محدثیں (امام ترمذی امام ابوداؤد امام نسائی امام ابن ماجہ رحمہم اللہ تعالی) ابن حبان اور حاکم نے روایت کیا ہے اور اس کی بعض سندیں صحیح ہیں۔ پھر امام طحطاوی نے فرمایا : طیبی نے کہا ہے کہ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ استنجا کرنے والا اللہتعالی اور رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اسم گرامی نیز قرآن پاك کو الگ کردے اھ اور ابہری نے کہا اسی طرح باقی تمام رسولوں کے نام الگ کردے۔ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں اس سے معلوم ہواکہ قضائے حاجت کا ارادہ کرنے والے کے لئے مستحب ہے کہ ہر وہ چیز الگ کردے جس میں کوئی قابل تعظیم بات مثلا اللہتعالی کسی نبی یا فرشتے کا نام ہو اگر اس کے خلاف کرے گا تو ترك تعظیم کی وجہ سے مکروہ ہوگا اھ یہی بات ہمارے مذہب کے موافق ہے جیسا کہ شرح مشکوۃ میں ہے۔ درمختار میں ہے غلاف میں لپیٹے ہوئے تعویذ کے ساتھ بیت الخلاء میں داخل ہونا مکروہ نہیں لیکن بچنا افضل ہے اور اللہتعالی بہتر جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۲۲ : از پٹنہ مرسلہ ابوالمساکین مولوی ضیاء الدین صاحب ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندوستان کے اکثر شہروں میں مثل لکھنؤ وپٹنہ عظیم آباد اکثر لوگ بعد فراغت بول کلوخ سے استنجا نہیں کرتے بلکہ صرف پانی پر اکتفا کرتے ہیں آیا ان کا پائجامہ یا تہبند نجس ہوتا ہے یا نہیں اور ایسے شخص کی امامت میں کوئی خراب لازم آتی ہے یا نہیں اور بعض آدمیوں کا بیان ہے کہ پانی لینے سے قطرہ رك جاتا ہے یہ صرف ان کا خیال ہی خیال ہے یا واقعی امر ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
کلوخ وآب میں جمع افضل ہے نفس سنت ہر ایك سے ادا ہوجاتی ہے سب سے اولی جمع ہے پھر تنہا آب
در درمختار ست رقیۃ فی غلاف متجاف لم یکرہ دخول الخلاء بہ والاحتراز افضل والله تعالی اعلم۔
اس کے حاشیہ میں فرمایا کیونکہ امام ابوداؤد اور ترمذی رحمہم اللہ تعالینے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبیت الخلاء میں جاتے وقت انگوٹھی اتارلیتے کیونکہ اس میں “ محمد رسول اللہ“ کا منقش تھا اھ میں کہتا ہوں بلکہ اسے چاروں محدثیں (امام ترمذی امام ابوداؤد امام نسائی امام ابن ماجہ رحمہم اللہ تعالی) ابن حبان اور حاکم نے روایت کیا ہے اور اس کی بعض سندیں صحیح ہیں۔ پھر امام طحطاوی نے فرمایا : طیبی نے کہا ہے کہ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ استنجا کرنے والا اللہتعالی اور رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے اسم گرامی نیز قرآن پاك کو الگ کردے اھ اور ابہری نے کہا اسی طرح باقی تمام رسولوں کے نام الگ کردے۔ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں اس سے معلوم ہواکہ قضائے حاجت کا ارادہ کرنے والے کے لئے مستحب ہے کہ ہر وہ چیز الگ کردے جس میں کوئی قابل تعظیم بات مثلا اللہتعالی کسی نبی یا فرشتے کا نام ہو اگر اس کے خلاف کرے گا تو ترك تعظیم کی وجہ سے مکروہ ہوگا اھ یہی بات ہمارے مذہب کے موافق ہے جیسا کہ شرح مشکوۃ میں ہے۔ درمختار میں ہے غلاف میں لپیٹے ہوئے تعویذ کے ساتھ بیت الخلاء میں داخل ہونا مکروہ نہیں لیکن بچنا افضل ہے اور اللہتعالی بہتر جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۲۲ : از پٹنہ مرسلہ ابوالمساکین مولوی ضیاء الدین صاحب ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہندوستان کے اکثر شہروں میں مثل لکھنؤ وپٹنہ عظیم آباد اکثر لوگ بعد فراغت بول کلوخ سے استنجا نہیں کرتے بلکہ صرف پانی پر اکتفا کرتے ہیں آیا ان کا پائجامہ یا تہبند نجس ہوتا ہے یا نہیں اور ایسے شخص کی امامت میں کوئی خراب لازم آتی ہے یا نہیں اور بعض آدمیوں کا بیان ہے کہ پانی لینے سے قطرہ رك جاتا ہے یہ صرف ان کا خیال ہی خیال ہے یا واقعی امر ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
کلوخ وآب میں جمع افضل ہے نفس سنت ہر ایك سے ادا ہوجاتی ہے سب سے اولی جمع ہے پھر تنہا آب
حوالہ / References
حاشیۃ الطحطاوی مع مراقی الفلاح فصل فی الاستنجاء مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب خانہ کراچی ص۳۰
حاشیۃ الطحطاوی مع مراقی الفلاح فصل فی الاستنجاء مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب خانہ کراچی ص۳۰
درمختار حکم مس المصحف والکتب الشرعیۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴
حاشیۃ الطحطاوی مع مراقی الفلاح فصل فی الاستنجاء مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب خانہ کراچی ص۳۰
درمختار حکم مس المصحف والکتب الشرعیۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴
پھر تنہا کلوخ صرف پانی پر قناعت سے کپڑا نجس نہیں ہوتا نماز وامامت میں کوئی حرج نہیں والمسائل فی الحلیۃ وردالمحتار وغیرھا (مسائل حلیہ اور ردالمحتار وغیرہ میں ہیں۔ ت) پانی خصوصا سرد اکثر امزجہ میں بوجہ تکثیف ضرور انسداد قطرہ پر معین ہوتا ہے۔ حدیث میں خروج مذی پر غسل مذاکیر کے حکم کو علماء نے اسی پر حکمت پر محمول کیا ہے کماافادہ الامام الطحاوی فی شرح معافی الاثار (جیسا کہ امام طحاوی نے شرح معافی الآثار میں بتایا۔ ت) اور بحال برودت مثانہ نزول قطرہ کا اور مؤید ہوتا ہے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۳ : ۲ رجب مرجب ۱۳۲۱ھ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہڈی سے استنجا کس وجہ سے ناجائز ہے اور یہ جو کہتے ہیں کہ وہ خوراك جن کی ہے اس کی اصل ہے یا نہیں اور اگر خوراك جن کی ہے تو ان کے کفاروں کی ہے یا مسلمانوں کی بھی۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
قوم جن کے وفد جوبارگاہ اقدس حضور پرنور سید العالمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں حاضر ہوئے اور اپنے اور اپنے جانوروں کے لئے خوراك طلب کی ان سے ارشاد ہوا :
لکم کل عظم ذکر اسم الله یقع فی ایدیکم اوفرمایکون لحما وکل بعرۃ علف لدوابکم ۔
تمہارے لئے ہر ہڈی ہے جس پر اللہعزوجل کا نام پاك لیا جائے یعنی حلال مذکی جانور کی ہڈی ہو وہ تمہارے ہاتھ میں اس حال پر ہوگی جیسی اس وقت تھی جب اس پر گوشت پورا اور کامل تھا (یعنی گوشت چھڑائی ہوئی ہڈی تمہیں مع گوشت ملے گی) اور ہر مینگنی تمہارے چوپایوں کے لئے چارہ ہے۔ (م)
پھر انسانوں سے ارشاد فرمایا :
فلاتستنجوا بھما فانھما طعام اخوانکم رواہ مسلم فی صحیحہ عن ابی مسعود رضی الله تعالی عنہ۔ والله تعالی اعلم۔
ہڈی اور مینگنی سے استنجاء نہ کرو کہ وہ تمہارے بھائیوں کی خوراك ہے۔ (م) اسے امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اپنی صحیح میں حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ اور اللہتعالی بہتر جانتا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۲۳ : ۲ رجب مرجب ۱۳۲۱ھ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہڈی سے استنجا کس وجہ سے ناجائز ہے اور یہ جو کہتے ہیں کہ وہ خوراك جن کی ہے اس کی اصل ہے یا نہیں اور اگر خوراك جن کی ہے تو ان کے کفاروں کی ہے یا مسلمانوں کی بھی۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
قوم جن کے وفد جوبارگاہ اقدس حضور پرنور سید العالمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلممیں حاضر ہوئے اور اپنے اور اپنے جانوروں کے لئے خوراك طلب کی ان سے ارشاد ہوا :
لکم کل عظم ذکر اسم الله یقع فی ایدیکم اوفرمایکون لحما وکل بعرۃ علف لدوابکم ۔
تمہارے لئے ہر ہڈی ہے جس پر اللہعزوجل کا نام پاك لیا جائے یعنی حلال مذکی جانور کی ہڈی ہو وہ تمہارے ہاتھ میں اس حال پر ہوگی جیسی اس وقت تھی جب اس پر گوشت پورا اور کامل تھا (یعنی گوشت چھڑائی ہوئی ہڈی تمہیں مع گوشت ملے گی) اور ہر مینگنی تمہارے چوپایوں کے لئے چارہ ہے۔ (م)
پھر انسانوں سے ارشاد فرمایا :
فلاتستنجوا بھما فانھما طعام اخوانکم رواہ مسلم فی صحیحہ عن ابی مسعود رضی الله تعالی عنہ۔ والله تعالی اعلم۔
ہڈی اور مینگنی سے استنجاء نہ کرو کہ وہ تمہارے بھائیوں کی خوراك ہے۔ (م) اسے امام مسلم رحمۃ اللہ تعالی علیہنے اپنی صحیح میں حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ اور اللہتعالی بہتر جانتا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
الصحیح لمسلم باب الجہر بالقرأۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۴
الصحیح لمسلم باب الجہر بالقرأۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۴
الصحیح لمسلم باب الجہر بالقرأۃ الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۴
مسئلہ ۲۲۴ : مسئولہ سید شاہ مہدی حسن میاں صاحب ازسرکار مارہرہ شریف ۳ شعبان معظم ۱۳۲۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رشید احمد گنگوہی کا ایك مرید کہتا ہے کہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنے میں کوئی کراہت نہیں وہ حدیث سے ثابت ہے اس باب میں جو حکم ہو حدیث وفقہ سے بیان فرمائیں واجرکم علی اللہتعالی (تمہارے لئے اس کا اجر اللہتعالی کے ذمہ کرم پر ہے۔ ت)
الجواب :
اقول : کھڑے ہوکر پیشاب کرنے میں چار۴ حرج ہیں : اول : بدن اور کپڑوں پر چھینٹیں پڑنا جسم ولباس بلاضرورت شرعیہ ناپاك کرنا اور یہ حرام ہے بحرالرائق میں بدائع سے ہے :
اما تنجیس الطاھر فحرام اھ ذکرہ فی بحث الماء المستعمل۔
پاك چیز کو ناپاك کرنا حرام ہے اھ اسے مستعمل پانی کی بحث میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
مافی شرح المنیۃ فی الانجاس من ان التلوث بالنجاسۃ مکروہ فالظاھر حملہ علی مااذاکان بلاعذر والوط عذر۔
شرح منیۃ المصلی میں انجاس کی بحث میں ہے کہ نجاست سے ملوث ہونا مکروہ ہے ظاہر یہ ہے کہ اسے غیر عذر کی صورت پر محمول کیا جائے گا اور وطی عذر ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
افتی بعض الشافعیۃ بحرمۃ جماع من تنجس ذکرہ قبل غسلہ الا اذاکان بہ سلس فیحل کوطء المستحاضۃ مع الجریان ویظھر انہ عندنا کذلك لمافیہ من التضمخ بالنجاسۃ بلاضرورۃ لامکان غسلہ بخلاف وطء المستحاضۃ ووطء السلس تأمل ۔
بعض شوافع نے فتوی دیا ہے کہ جس آدمی کا آلہ تناسل ناپاك ہو اس کے لئے اسے دھونے سے پہلے جماع کرنا حرام ہے مگر یہ کہ سلسل البول کا مریض ہوتو جائز ہے جیسے مستحاضہ سے خون جاری ہونے کے باوجود جماع کرنا جائز ہے ظاہر یہ ہے کہ ہمارے نزدیك بھی اسی طرح ہے کیونکہ اس میں بلاضرورت نجاست سے ملوث ہونا ہے اس لئے کہ دھونا ممکن ہے بخلاف مستحاضہ اور سلسل البول والے کی وطی کرنے کے۔ غور کرو۔ (ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رشید احمد گنگوہی کا ایك مرید کہتا ہے کہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنے میں کوئی کراہت نہیں وہ حدیث سے ثابت ہے اس باب میں جو حکم ہو حدیث وفقہ سے بیان فرمائیں واجرکم علی اللہتعالی (تمہارے لئے اس کا اجر اللہتعالی کے ذمہ کرم پر ہے۔ ت)
الجواب :
اقول : کھڑے ہوکر پیشاب کرنے میں چار۴ حرج ہیں : اول : بدن اور کپڑوں پر چھینٹیں پڑنا جسم ولباس بلاضرورت شرعیہ ناپاك کرنا اور یہ حرام ہے بحرالرائق میں بدائع سے ہے :
اما تنجیس الطاھر فحرام اھ ذکرہ فی بحث الماء المستعمل۔
پاك چیز کو ناپاك کرنا حرام ہے اھ اسے مستعمل پانی کی بحث میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
ردالمحتار میں ہے :
مافی شرح المنیۃ فی الانجاس من ان التلوث بالنجاسۃ مکروہ فالظاھر حملہ علی مااذاکان بلاعذر والوط عذر۔
شرح منیۃ المصلی میں انجاس کی بحث میں ہے کہ نجاست سے ملوث ہونا مکروہ ہے ظاہر یہ ہے کہ اسے غیر عذر کی صورت پر محمول کیا جائے گا اور وطی عذر ہے۔ (ت)
اسی میں ہے :
افتی بعض الشافعیۃ بحرمۃ جماع من تنجس ذکرہ قبل غسلہ الا اذاکان بہ سلس فیحل کوطء المستحاضۃ مع الجریان ویظھر انہ عندنا کذلك لمافیہ من التضمخ بالنجاسۃ بلاضرورۃ لامکان غسلہ بخلاف وطء المستحاضۃ ووطء السلس تأمل ۔
بعض شوافع نے فتوی دیا ہے کہ جس آدمی کا آلہ تناسل ناپاك ہو اس کے لئے اسے دھونے سے پہلے جماع کرنا حرام ہے مگر یہ کہ سلسل البول کا مریض ہوتو جائز ہے جیسے مستحاضہ سے خون جاری ہونے کے باوجود جماع کرنا جائز ہے ظاہر یہ ہے کہ ہمارے نزدیك بھی اسی طرح ہے کیونکہ اس میں بلاضرورت نجاست سے ملوث ہونا ہے اس لئے کہ دھونا ممکن ہے بخلاف مستحاضہ اور سلسل البول والے کی وطی کرنے کے۔ غور کرو۔ (ت)
حوالہ / References
البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۹۴
ردالمحتار ، مطلب الفرق بین الفرض العملی والقطعی والواجب مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۸
ردالمحتار فی حکم وطء المستحاضۃ ومن بذکرہ نجاسۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۸
ردالمحتار ، مطلب الفرق بین الفرض العملی والقطعی والواجب مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۸
ردالمحتار فی حکم وطء المستحاضۃ ومن بذکرہ نجاسۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۸
دوم : ان چھینٹوں کے باعث عذاب قبر کا استحقاق اپنے سر پر لینا رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
تنزھوا من البول فان عامۃ عذاب القبرمنہ رواہ الدارقطنی عن انس رضی الله تعالی عنہ بسند صحیح وللحاکم بلفظ استنزھوا وقال صحیح علی شرطھما ۔
پیشاب سے بہت بچوکہ اکثر عذاب قبر اسی سے ہے (م)ا سے دارقطنی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے بسند صحیح روایت کیا۔ حاکم لفظ “ استنزھوا “ لائے ہیں اور فرمایا کہ یہ ان (بخاری ومسلم) کی شرط پر صحیح ہے۔ (ت)
رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے دو۲ شخصوں پر عذاب قبر ہوتے دیکھا۔ فرمایا :
کان احدھما لایستر من بولہ وکان الاخر یمشی بالنمیمۃ رواہ الستۃ عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھا۔
ان میں ایك تو اپنے پیشاب سے آڑ نہ کرتا تھا اور دوسرا چغلخوری کرتا۔ (م)اسے چھ۶ محدثین (اصحاب ستہ) نے حضرت ابن عباس رضی اللہعنہما سے روایت کیا ہے (ت)
سوم : رہگزر پر ہویا جہاں لوگ موجود ہوں تو باعث بے پردگی ہوگا بیٹھنے میں رانوں اور زانوؤں کی آڑ جاتی ہے اور کھڑے ہونے میں بالکل بے ستری اور یہ باعث لعنت الہی ہے۔ حدیث میں ہے :
لعن الله الناظر والمنظور الیہ ھکذا فی حفظی ولایحضرنی الان من خرجہ والله تعالی اعلم۔
جو دیکھے اس پر بھی لعنت اور دکھائے اس پر بھی لعنت۔ (م) میرے ذہن میں اسی طرح ہے لیکن اس وقت مجھے یاد نہیں کہ اس کی تخریج کس نے کی ہے۔ اللہتعالی بہتر جانتا ہے۔ (ت)
چہارم : یہ نصاری سے تشبہ اور ان کی سنت مذمومہ میں ان کا اتباع ہے آج کل جن کو یہاں یہ شوق جاگا ہے اس کی یہی علت اور یہ موجب عذاب وعقوبت ہے۔ اللہعزوجل فرماتا ہے : لا تتبعوا خطوت الشیطن- ۔ شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ (ت)رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
من تشبہ بقوم فھو منھم ۔
جو شخص جس قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔ (ت)
تنزھوا من البول فان عامۃ عذاب القبرمنہ رواہ الدارقطنی عن انس رضی الله تعالی عنہ بسند صحیح وللحاکم بلفظ استنزھوا وقال صحیح علی شرطھما ۔
پیشاب سے بہت بچوکہ اکثر عذاب قبر اسی سے ہے (م)ا سے دارقطنی نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہسے بسند صحیح روایت کیا۔ حاکم لفظ “ استنزھوا “ لائے ہیں اور فرمایا کہ یہ ان (بخاری ومسلم) کی شرط پر صحیح ہے۔ (ت)
رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے دو۲ شخصوں پر عذاب قبر ہوتے دیکھا۔ فرمایا :
کان احدھما لایستر من بولہ وکان الاخر یمشی بالنمیمۃ رواہ الستۃ عن ابن عباس رضی الله تعالی عنھا۔
ان میں ایك تو اپنے پیشاب سے آڑ نہ کرتا تھا اور دوسرا چغلخوری کرتا۔ (م)اسے چھ۶ محدثین (اصحاب ستہ) نے حضرت ابن عباس رضی اللہعنہما سے روایت کیا ہے (ت)
سوم : رہگزر پر ہویا جہاں لوگ موجود ہوں تو باعث بے پردگی ہوگا بیٹھنے میں رانوں اور زانوؤں کی آڑ جاتی ہے اور کھڑے ہونے میں بالکل بے ستری اور یہ باعث لعنت الہی ہے۔ حدیث میں ہے :
لعن الله الناظر والمنظور الیہ ھکذا فی حفظی ولایحضرنی الان من خرجہ والله تعالی اعلم۔
جو دیکھے اس پر بھی لعنت اور دکھائے اس پر بھی لعنت۔ (م) میرے ذہن میں اسی طرح ہے لیکن اس وقت مجھے یاد نہیں کہ اس کی تخریج کس نے کی ہے۔ اللہتعالی بہتر جانتا ہے۔ (ت)
چہارم : یہ نصاری سے تشبہ اور ان کی سنت مذمومہ میں ان کا اتباع ہے آج کل جن کو یہاں یہ شوق جاگا ہے اس کی یہی علت اور یہ موجب عذاب وعقوبت ہے۔ اللہعزوجل فرماتا ہے : لا تتبعوا خطوت الشیطن- ۔ شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ (ت)رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
من تشبہ بقوم فھو منھم ۔
جو شخص جس قوم سے مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔ (ت)
حوالہ / References
الدار قطنی باب نجاسۃ البول مطبوعہ دار المحاسن للطباعۃ قاہرہ ۱ / ۱۲۷
نصب الرایۃ کتاب الطہارۃ حدیث ۴۳ مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ بیروت ۱ / ۱۲۸
ترمذی شریف باب التشدید فی البول مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ امین کمپنی دہلی ۱ / ۱۱
مشکوٰہ شریف باب النظر الی المخطوبۃ ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۲۷۰
القرآن الحکیم ۲ / ۱۶۸
مسند امام احمد بن حنبل ، حدیث ابن عمر ، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت لبنان ۲ / ۵۰
نصب الرایۃ کتاب الطہارۃ حدیث ۴۳ مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ بیروت ۱ / ۱۲۸
ترمذی شریف باب التشدید فی البول مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ امین کمپنی دہلی ۱ / ۱۱
مشکوٰہ شریف باب النظر الی المخطوبۃ ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۲۷۰
القرآن الحکیم ۲ / ۱۶۸
مسند امام احمد بن حنبل ، حدیث ابن عمر ، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت لبنان ۲ / ۵۰
اس حرکت سے نہی اور اس کے بے ادبی وجفا وخلاف سنت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمہونے میں احادیث صحیحہ معتمدہ وارد ہیں۔
حدیث اول : امام احمد وترمذی ونسائی وابن حبان صحیح میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے راوی :
من حدثکم ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کان یبول قائما فلاتصدقوہ ماکان یبول الاقاعدا ۔
جو تم سے کہے کہ حضور اقدس اطہر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکھڑے ہوکر پیشاب فرماتے اس سچا نہ جاننا حضور پیشاب نہ فرماتے تھے مگر بیٹھ کر۔ (م)
امام ترمذی فرماتے ہیں :
حدیث عائشۃ احسن شیئ فی ھذا الباب واصح ۔
جتنی حدیثیں اس مسئلہ میں آئیں ان سب سے یہ حدیث بہتر وصحیح تر ہے۔ (م)
یہی حدیث صحیح ابوعوانہ ومستدرك حاکم میں ان لفظوں سے ہے :
مابال قائما منذانزل علیہ القران ۔
اقول : وبہ اندفع ماوقع للامامین الشھاب ابن حجر العسقلانی فی فتح الباری والبدر محمود العینی فی عمدۃ القاری حیث قالا واللفظ للعینی الجواب عن حدیث عائشۃ رضی الله تعالی عنھا انہ مستند الی علمھا فیحمل علی ماوقع منہ فی البیوت وامافی غیر البیوت فلاتطلع ھی علیہ وقدحفظہ حذیفۃ رضی الله
جب سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر قرآن مجید اترا کبھی کھڑے ہوکر پیشاب نہ فرمایا۔ (م)
اقول : اس سے وہ شبہہ دور ہوگیا جو دو۲ اماموں الشہاب ابن حجر عسقلانی کو فتح الباری میں اور البدر محمود عینی کو عمدۃ القاری میں پیش آیا کہ انہوں نے فرمایا (الفاظ عینی کے ہیں) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاکی حدیث کا جواب یہ ہے کہ یہ ان کی معلومات سے منسوب ہے پس اسے اس صورت پر محمول کیا جائیگا جو آپ سے گھروں میں وقوع پذیر ہوئیں۔ لیکن گھروں کے علاوہ پر ام المومنین مطلع نہیں ہوئیں اسے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہنے
حدیث اول : امام احمد وترمذی ونسائی وابن حبان صحیح میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہاسے راوی :
من حدثکم ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم کان یبول قائما فلاتصدقوہ ماکان یبول الاقاعدا ۔
جو تم سے کہے کہ حضور اقدس اطہر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکھڑے ہوکر پیشاب فرماتے اس سچا نہ جاننا حضور پیشاب نہ فرماتے تھے مگر بیٹھ کر۔ (م)
امام ترمذی فرماتے ہیں :
حدیث عائشۃ احسن شیئ فی ھذا الباب واصح ۔
جتنی حدیثیں اس مسئلہ میں آئیں ان سب سے یہ حدیث بہتر وصحیح تر ہے۔ (م)
یہی حدیث صحیح ابوعوانہ ومستدرك حاکم میں ان لفظوں سے ہے :
مابال قائما منذانزل علیہ القران ۔
اقول : وبہ اندفع ماوقع للامامین الشھاب ابن حجر العسقلانی فی فتح الباری والبدر محمود العینی فی عمدۃ القاری حیث قالا واللفظ للعینی الجواب عن حدیث عائشۃ رضی الله تعالی عنھا انہ مستند الی علمھا فیحمل علی ماوقع منہ فی البیوت وامافی غیر البیوت فلاتطلع ھی علیہ وقدحفظہ حذیفۃ رضی الله
جب سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمپر قرآن مجید اترا کبھی کھڑے ہوکر پیشاب نہ فرمایا۔ (م)
اقول : اس سے وہ شبہہ دور ہوگیا جو دو۲ اماموں الشہاب ابن حجر عسقلانی کو فتح الباری میں اور البدر محمود عینی کو عمدۃ القاری میں پیش آیا کہ انہوں نے فرمایا (الفاظ عینی کے ہیں) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاکی حدیث کا جواب یہ ہے کہ یہ ان کی معلومات سے منسوب ہے پس اسے اس صورت پر محمول کیا جائیگا جو آپ سے گھروں میں وقوع پذیر ہوئیں۔ لیکن گھروں کے علاوہ پر ام المومنین مطلع نہیں ہوئیں اسے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہنے
حوالہ / References
جامع الترمذی شریف باب النہی عن البول قائمًا ، مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی ، ۱ / ۴
جامع الترمذی شریف ، باب النہی عن البول قائمًا ، مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۴
المستدرك للحاکم البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۸۱
جامع الترمذی شریف ، باب النہی عن البول قائمًا ، مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ دہلی ۱ / ۴
المستدرك للحاکم البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱ / ۱۸۱
تعالی عنہ وھو من کبار الصحابۃ اھ۔ وذلك انھا رضی الله تعالی عنھا انما ولدت بعد نزول القران بخمس سنین فکیف یحمل علی مارأت من فعلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فی البیوت وانما تقولہ عن توقیف وبہ یترجح ان حدیث حذیفۃ رضی الله تعالی عنہ کان لعذر والاعذار مستشناۃ عقلا وشرعا ثم اذاثبتت ھذہ سنتہ صلی الله تعالی علیہ وسلم مختلیافی بیتہ الکریم تثبت دلالۃ فی الخارج فان خارج البیوت احوج الی الستر والتزام الادب قال العینی وایضا یمکن ان یکون قول عائشۃ رضی الله تعالی عنھا مابال قائما یعنی فی منزلہ والا اطلاع لھا علی مافی الخارج اھ۔
اقول : ماھو الاالاول وقدعلمت ردہ فلاادری مامعنی قولہ وایضا۔
یاد رکھا اور وہ جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے اھ۔
نیز ام المومنین نزول قرآن کے پانچ سال بعد پیدا ہوئیں لہذا اسے کیسے اس پر محمول کیا جائے جو ام المومنین نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا علم گھروں میں دیکھا آپ تو بتانے سے بیان فرمارہی ہیں (یعنی یہ حدیث موقوف ہے) اس سے اس بات کو ترجیح حاصل ہوگئی ك حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہکی روایت ایك عذر کی بنیاد ہے اور عذر عقلی اور شرعی طور پر مستشنی ہوتے ہیں۔ پھر جب آپ کی یہ سنت خانہ اقدس کی خلوت میں ثابت ہوگئی تو بطور دلالت باہر بھی ثابت ہوگئی کیونکہ گھروں سے باہر ستر اور آداب کا خیال رکھنے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے امام عینی فرماتے ہیں نیز ممکن ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاکا قول کہ “ آپ نے کھڑے ہوکر پیشاب نہیں فرمایا “ سے مراد یہ ہوکہ آپ نے گھر میں کھڑے ہوکر پیشاب نہیں فرمایا آپ کو باہر کے بارے میں اطلاع نہیں تھی اھ (ت)
اقول : بات تو وہی پہلی ہے اور تمہیں اس کا رد معلوم ہوچکا ہے پس مجھے معلوم نہیں کہ ان کے قول “ ایضا “ کا کیا مطلب ہے۔ (ت)
حدیث دوم : بزار اپنی مسند میں بسند صحیح بریدہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہیں رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ثلاث من الجفاء ان یبول الرجل قائما اویمسح جبھتہ قبل ان یفرغ من صلاتہ
تین۳ باتیں جفا وبے ادبی سے ہیں یہ کہ آدمی کھڑے ہوکر پیشاب کرے یا نماز میں اپنی پیشانی سے (مثلا
اقول : ماھو الاالاول وقدعلمت ردہ فلاادری مامعنی قولہ وایضا۔
یاد رکھا اور وہ جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے اھ۔
نیز ام المومنین نزول قرآن کے پانچ سال بعد پیدا ہوئیں لہذا اسے کیسے اس پر محمول کیا جائے جو ام المومنین نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکا علم گھروں میں دیکھا آپ تو بتانے سے بیان فرمارہی ہیں (یعنی یہ حدیث موقوف ہے) اس سے اس بات کو ترجیح حاصل ہوگئی ك حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہکی روایت ایك عذر کی بنیاد ہے اور عذر عقلی اور شرعی طور پر مستشنی ہوتے ہیں۔ پھر جب آپ کی یہ سنت خانہ اقدس کی خلوت میں ثابت ہوگئی تو بطور دلالت باہر بھی ثابت ہوگئی کیونکہ گھروں سے باہر ستر اور آداب کا خیال رکھنے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے امام عینی فرماتے ہیں نیز ممکن ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہاکا قول کہ “ آپ نے کھڑے ہوکر پیشاب نہیں فرمایا “ سے مراد یہ ہوکہ آپ نے گھر میں کھڑے ہوکر پیشاب نہیں فرمایا آپ کو باہر کے بارے میں اطلاع نہیں تھی اھ (ت)
اقول : بات تو وہی پہلی ہے اور تمہیں اس کا رد معلوم ہوچکا ہے پس مجھے معلوم نہیں کہ ان کے قول “ ایضا “ کا کیا مطلب ہے۔ (ت)
حدیث دوم : بزار اپنی مسند میں بسند صحیح بریدہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کرتے ہیں رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے ہیں :
ثلاث من الجفاء ان یبول الرجل قائما اویمسح جبھتہ قبل ان یفرغ من صلاتہ
تین۳ باتیں جفا وبے ادبی سے ہیں یہ کہ آدمی کھڑے ہوکر پیشاب کرے یا نماز میں اپنی پیشانی سے (مثلا
حوالہ / References
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۳ / ۱۵۳
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۳ / ۱۵۳
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۳ / ۱۵۳
اوینفخ فی سجودہ ۔
مٹی یا پسینہ) پونچھنے یا سجدہ کرتے وقت (زمین پر مثلا غبار صاف کرنے کو) پھونکے۔ (م)
تیسیر میں ہے : رجالہ رجال الصحیح (اس حدیث کے سبب راوی ثقہ معتمد صحیح کے راوی ہیں۔ م)عمدۃ القاری میں ہے : رواہ البزار بسند صحیح اسے بزار نے بسند صحیح روایت کیا۔ م)قال وقال الترمذی حیث بریدۃ فی ھذا غیر محفوظ وقول الترمذی یرد بہ (اور کہا کہ امام ترمذی نے فرمایا : اس سلسلے میں حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہکی روایت غیر محفوظ ہے۔ اور امام ترمذی کا قول اس کے ساتھ رد کیا جاتا ہے۔ ت)حدیث سوم : ترمذی عـــہ۱ وابن ماجہ وبیہقی امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال رانی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ابول قائما فقال یاعمر لاتبل قائما فمابلت قائما بعد ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے مجھے کھڑے ہوکر پیشاب کرتے دیکھا تو فرمایا : “ اے عمر! کھڑے ہوکر پیشاب نہ کرو “ ۔ اس دن سے میں نے کبھی کھڑے ہوکر پیشاب نہ کیا۔ (م)
حدیث چہارم : ابن ماجہ عـــہ۲ وبیہقی جابر رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
نھی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ان یبول الرجل قائما ۔
رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔ (م)
امام خاتم الحفاظ فرماتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ رہی حدیث حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ:
عـــہ۱ : اقتصر فی عمدۃ القاری علی عزوہ للبھیقی وھو ممالاینبغی ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
عـــہ۲ : کذا اقتصر ھھنا علی عزوہ للبھیقی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عمدۃ القاری میں اس حدیث کو بیہقی کی طرف منسوب کرنے پر اقتصار کیا ہے حالانکہ ایسا کرنا مناسب نہیں۔ (ت)
اسی طرح یہاں بھی اس حدیث کو بیہقی کی طرف منسوب کرنے پر اقتصار کیا ہے۔ (ت)
مٹی یا پسینہ) پونچھنے یا سجدہ کرتے وقت (زمین پر مثلا غبار صاف کرنے کو) پھونکے۔ (م)
تیسیر میں ہے : رجالہ رجال الصحیح (اس حدیث کے سبب راوی ثقہ معتمد صحیح کے راوی ہیں۔ م)عمدۃ القاری میں ہے : رواہ البزار بسند صحیح اسے بزار نے بسند صحیح روایت کیا۔ م)قال وقال الترمذی حیث بریدۃ فی ھذا غیر محفوظ وقول الترمذی یرد بہ (اور کہا کہ امام ترمذی نے فرمایا : اس سلسلے میں حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہکی روایت غیر محفوظ ہے۔ اور امام ترمذی کا قول اس کے ساتھ رد کیا جاتا ہے۔ ت)حدیث سوم : ترمذی عـــہ۱ وابن ماجہ وبیہقی امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
قال رانی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم ابول قائما فقال یاعمر لاتبل قائما فمابلت قائما بعد ۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے مجھے کھڑے ہوکر پیشاب کرتے دیکھا تو فرمایا : “ اے عمر! کھڑے ہوکر پیشاب نہ کرو “ ۔ اس دن سے میں نے کبھی کھڑے ہوکر پیشاب نہ کیا۔ (م)
حدیث چہارم : ابن ماجہ عـــہ۲ وبیہقی جابر رضی اللہ تعالی عنہسے راوی :
نھی رسول الله صلی الله تعالی علیہ وسلم ان یبول الرجل قائما ۔
رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔ (م)
امام خاتم الحفاظ فرماتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ رہی حدیث حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ:
عـــہ۱ : اقتصر فی عمدۃ القاری علی عزوہ للبھیقی وھو ممالاینبغی ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
عـــہ۲ : کذا اقتصر ھھنا علی عزوہ للبھیقی ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عمدۃ القاری میں اس حدیث کو بیہقی کی طرف منسوب کرنے پر اقتصار کیا ہے حالانکہ ایسا کرنا مناسب نہیں۔ (ت)
اسی طرح یہاں بھی اس حدیث کو بیہقی کی طرف منسوب کرنے پر اقتصار کیا ہے۔ (ت)
حوالہ / References
کشف الاستار عن زوائد البزار باب مانہی عنہ فی الصلوٰۃ مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۶۶
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر زیر حدیث مذکور مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۲۹۳
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا الطباعۃ المنیریہ بیروت ۳ / ۱۳۵
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا الطباعۃ المنیریہ بیروت ۳ / ۱۳۵
جامع الترمذی ، باب النہی عن البول قائما ، مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ امین کمپنی دہلی ، ۱ / ۴
سنن ابن ماجہ باب فی البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ص۲۷
فیض القدیر شرح الجامع الصغیر زیر حدیث مذکور مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۲۹۳
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا الطباعۃ المنیریہ بیروت ۳ / ۱۳۵
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا الطباعۃ المنیریہ بیروت ۳ / ۱۳۵
جامع الترمذی ، باب النہی عن البول قائما ، مطبوعہ کتب خانہ رشیدیہ امین کمپنی دہلی ، ۱ / ۴
سنن ابن ماجہ باب فی البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ص۲۷
نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمایك گھورے پر تشریف لے گئے اور وہاں کھڑے ہوکر پیشاب فرمایا۔ (رواہ الشیخان) (ت)
اتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سباطۃ قوم فبال قائما ۔ رواہ الشیخان۔
ائمہ کرام علمائے اعلام نے اس سے بہت جواب دیے : اول : یہ حدیث ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما سے منسوخ ہے۔ یہ امام ابوعوانہ نے اپنی صحیح اور ابن شاہین نے کتاب السنہ میں اختیار کیا امام عسقلانی اور عینی نے ان دونوں کا تعاقب کرتے ہوئے فرمایا : صحیح بات یہ ہے کہ یہ غیر منسوخ ہے کیونکہ حضرت عائشہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہعنہما دونوں نے جو کچھ دیکھا اس کی خبر دی اھ (ت)
اقول : یہ بات معلوم ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہکی روایت نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے آخری دور کی نہیں جبکہ حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہانے آپ کو وصال تك دیکھا اور آپ کے افعال مبارکہ پر مطلع رہیں اور آخری عمل کو اپنایا جاتا ہے لہذا آپ کے بھی آخری فعل پر عمل ہوگا۔ بنا بریں ہر ایك کا اپنے مشاہدے کے مطابق خبر دینا نسخ کو منع نہیں کرتا جب ہمیں معلوم ہوجائے کہ دو مشاہدوں میں سے ایك متاخر بھی ہے اور جاری بھی اور حکم نسخ پر آپ کا وہ قول حاوی ہوگا جو صحیح طور پر ثابت ہے کہ یہ ظلم ہے اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتمام
اتی النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم سباطۃ قوم فبال قائما ۔ رواہ الشیخان۔
ائمہ کرام علمائے اعلام نے اس سے بہت جواب دیے : اول : یہ حدیث ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما سے منسوخ ہے۔ یہ امام ابوعوانہ نے اپنی صحیح اور ابن شاہین نے کتاب السنہ میں اختیار کیا امام عسقلانی اور عینی نے ان دونوں کا تعاقب کرتے ہوئے فرمایا : صحیح بات یہ ہے کہ یہ غیر منسوخ ہے کیونکہ حضرت عائشہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہعنہما دونوں نے جو کچھ دیکھا اس کی خبر دی اھ (ت)
اقول : یہ بات معلوم ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہکی روایت نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے آخری دور کی نہیں جبکہ حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہانے آپ کو وصال تك دیکھا اور آپ کے افعال مبارکہ پر مطلع رہیں اور آخری عمل کو اپنایا جاتا ہے لہذا آپ کے بھی آخری فعل پر عمل ہوگا۔ بنا بریں ہر ایك کا اپنے مشاہدے کے مطابق خبر دینا نسخ کو منع نہیں کرتا جب ہمیں معلوم ہوجائے کہ دو مشاہدوں میں سے ایك متاخر بھی ہے اور جاری بھی اور حکم نسخ پر آپ کا وہ قول حاوی ہوگا جو صحیح طور پر ثابت ہے کہ یہ ظلم ہے اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمتمام
حوالہ / References
جامع البخاری ، باب البول قائمًا وقاعدًا ، مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ، ۱ / ۳۵۹
وتعقبھما العسقلانی والعینی فقالا الصواب انہ غیر منسوخ زاد العینی لان کلامن عائشۃ وحذیفۃ رضی الله تعالی عنھما اخبربما شاھدۃ اھ۔ اقول : معلوم ان حدیث حذیفۃ رضی الله تعالی عنہ لم یکن فی اخر عمرہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وقدرأتہ ام المؤمنین رضی الله تعالی عنہا واطلعت علی افعالہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الی یوم لحق الله عزوجل وانما یؤخذ بالاخر فالاخر من افعالہ صلی الله تعالی علیہ وسلم فکون کل اخبربما شاھد لایمنع النسخ اذاعلمنا ان احدی المشاھدتین متأخرۃ مستمرۃ والحاوی علی حکم النسخ ماصح من قولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم انہ من الجفاء
وقدکان صلی اللۃ تعالی علیہ وسلم ابعد الناس عنہ۔
لوگوں سے بڑھ کر اس سے پرہیز کرتے تھے۔ (ت)
دوم : اس وقت زانوائے مبارك میں زخم تھا بیٹھ نہ سکتے تھے۔ یہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہوا حاکم ودارقطنی وبیہقی ان سے راوی :
ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بال قائما من جرح کان بمابضہ لکن ضعفہ ھذان وابن عساکر فی غرائب مالك وتبعھم الذھبی فقال منکر۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اس زخم کی وجہ سے جو زانو کے اندرونی طرف تھا کھڑے ہوکر پیشاب فرمایا۔ لیکن ان دونوں (دارقطنی اور بہیقی) اور ابن عساکر نے غرائب مالك میں اسے ضعیف قرار دیا اور ذہبی نے بھی ان کی اتباع کرتے ہوئے فرمایا یہ منکر ہے۔ (ت)
سوم : وہاں نجاسات کے سبب بیٹھنے کی جگہ نہ تھی امام عبدالعظیم زکی الدین منذری نے اس کی ترجی کی۔
قال العینی قال المنذری لعلہ کانت فی السباطۃ نجاسات رطبۃ وھی رخوۃ فخشی ان یتطایر علیہ قال العینی قیل فیہ نظرلان القائم اجدر بھذہ الخشیۃ من القاعد وقال الطحاوی لکون ذلك سھلا ینحدر فیہ البول فلایرتد علی البائل اھ
اقول : انما اتجہ ھذا علی المنذری لزیادتہ خشیۃ التطایر ولوقال کماقلت لسلم قفد تکون مجمع نجاسات رطبۃ لایوجد معھا موضع جلوس ثم رأیت فی المرقاۃ قال قال السید جمال الدین قیل فعل ذلك لانہ لم یجد مکانا للقعود لامتلاء الموضع
عینی نے کہا منذری کہتے ہیں شاید ڈھیری میں تر نجاستیں تھیں اور وہ نرم تھیں اور آپ کو ملوث ہونے کا ڈر ہوا۔ امام عینی فرماتے ہیں کہا گیا ہے کہ یہ بات محل نظر ہے کیونکہ کھڑا ہونے والا بیٹھنے والے کی نسبت اس ڈر کے زیادہ لائق ہے۔ امام طحاوی فرماتے ہیں زمین کے نرم ہونے کی وجہ سے پیشاب اس میں اتر جاتا ہے اور پیشاب کرنے والے کی طرف نہیں لوٹتا اھ (ت)
اقول : امام منذری اس تاویل کی طرف اس لئے متوجہ ہوئے کہ انہوں نے چھینٹے اٹھ کر لگنے کا زیادہ ڈر محسوس کیا اور وہ ہمارے والی بات کہتے تو وہ اعتراض سے بچ جاتے کیونکہ جہاں تر نجاستیں جمع ہوں وہاں بعض اوقات بیٹھنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ پھر میں نے مرقاۃ میں دیکھا صاحب مرقاۃ فرماتے ہیں سید جمال الدین نے فرمایا کہا گیا ہے
وقدکان صلی اللۃ تعالی علیہ وسلم ابعد الناس عنہ۔
لوگوں سے بڑھ کر اس سے پرہیز کرتے تھے۔ (ت)
دوم : اس وقت زانوائے مبارك میں زخم تھا بیٹھ نہ سکتے تھے۔ یہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہسے مروی ہوا حاکم ودارقطنی وبیہقی ان سے راوی :
ان النبی صلی الله تعالی علیہ وسلم بال قائما من جرح کان بمابضہ لکن ضعفہ ھذان وابن عساکر فی غرائب مالك وتبعھم الذھبی فقال منکر۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے اس زخم کی وجہ سے جو زانو کے اندرونی طرف تھا کھڑے ہوکر پیشاب فرمایا۔ لیکن ان دونوں (دارقطنی اور بہیقی) اور ابن عساکر نے غرائب مالك میں اسے ضعیف قرار دیا اور ذہبی نے بھی ان کی اتباع کرتے ہوئے فرمایا یہ منکر ہے۔ (ت)
سوم : وہاں نجاسات کے سبب بیٹھنے کی جگہ نہ تھی امام عبدالعظیم زکی الدین منذری نے اس کی ترجی کی۔
قال العینی قال المنذری لعلہ کانت فی السباطۃ نجاسات رطبۃ وھی رخوۃ فخشی ان یتطایر علیہ قال العینی قیل فیہ نظرلان القائم اجدر بھذہ الخشیۃ من القاعد وقال الطحاوی لکون ذلك سھلا ینحدر فیہ البول فلایرتد علی البائل اھ
اقول : انما اتجہ ھذا علی المنذری لزیادتہ خشیۃ التطایر ولوقال کماقلت لسلم قفد تکون مجمع نجاسات رطبۃ لایوجد معھا موضع جلوس ثم رأیت فی المرقاۃ قال قال السید جمال الدین قیل فعل ذلك لانہ لم یجد مکانا للقعود لامتلاء الموضع
عینی نے کہا منذری کہتے ہیں شاید ڈھیری میں تر نجاستیں تھیں اور وہ نرم تھیں اور آپ کو ملوث ہونے کا ڈر ہوا۔ امام عینی فرماتے ہیں کہا گیا ہے کہ یہ بات محل نظر ہے کیونکہ کھڑا ہونے والا بیٹھنے والے کی نسبت اس ڈر کے زیادہ لائق ہے۔ امام طحاوی فرماتے ہیں زمین کے نرم ہونے کی وجہ سے پیشاب اس میں اتر جاتا ہے اور پیشاب کرنے والے کی طرف نہیں لوٹتا اھ (ت)
اقول : امام منذری اس تاویل کی طرف اس لئے متوجہ ہوئے کہ انہوں نے چھینٹے اٹھ کر لگنے کا زیادہ ڈر محسوس کیا اور وہ ہمارے والی بات کہتے تو وہ اعتراض سے بچ جاتے کیونکہ جہاں تر نجاستیں جمع ہوں وہاں بعض اوقات بیٹھنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ پھر میں نے مرقاۃ میں دیکھا صاحب مرقاۃ فرماتے ہیں سید جمال الدین نے فرمایا کہا گیا ہے
حوالہ / References
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۳ / ۱۳۵
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۳ / ۱۳۵
المستدرك علی الصحیحین البول قائمًا اوقاعدًا مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان ۱ / ۱۸۲ ، السنن الکبرٰی للبیہقی باب البول قائما مطبوعہ دار صادر بیروت ۱ / ۱۰
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۳ / ۱۳۶
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۳ / ۱۳۵
المستدرك علی الصحیحین البول قائمًا اوقاعدًا مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان ۱ / ۱۸۲ ، السنن الکبرٰی للبیہقی باب البول قائما مطبوعہ دار صادر بیروت ۱ / ۱۰
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۳ / ۱۳۶
بالنجاسۃ اھ فھذا ماذکرت وھو الصواب فی الجواب۔
آپ نے ایسا اس لئے کیا کہ تمام جگہ نجاست سے بھری ہونے کی وجہ سے آپ کو بیٹھنے کی جگہ نہ ملی اھ پس یہ ہے جو کچھ میں نے ذکر کیا اور جواب میں یہی بہتر ہے۔ (ت)
چہارم : اس میں ڈھال ایسا تھا کہ بیٹھنے کا موقع نہ تھا اسے ابہری وغیرہ نے نقل کیا۔
قال العینی قال بعضھم لانہ صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم لم یجد مکانا للقعود لکون الطرف الذی یلیہ من السباطۃ علیا مرتفعا اھ۔ وقال القاری فی المرقاۃ قال الابھری قیل کان مایقابلہ من السباطۃ عالیا ومن خلفہ منحدرا مستقلا لوجلس مستقبل السباطۃ سقط الی خلفہ ولوجلس مستدبرا لھا بدا عورتہ للناس اھ وقال بعد اسطر قیل فعل ذلك لانہ ان استدبر للسباطۃ تبدو العورۃ للمارۃ وان استقبلھا خیف ان یقع علی ظھرہ مع احتمال ارتداد البول الیہ اھ۔
اقول اولا : فی ھذہ الزیادۃ ماعلمت ان القائم اجدربہ۔ وثانیا : لوکان مایستقبلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم منھا عالیا مرتفعا لم یکن ان یختارہ لھذا لارتداد البول ح قطعا بل الصواب فیہ
عینی نے فرمايا بعض نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بیٹھنے کے لئے جگہ نہ پائی کیونکہ جس طرف آپ تھے ادھر سے ڈھیر بلند تھا اھ۔ حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہنے مرقات میں فرمایا ابہری فرماتے ہیں کہا گیا ہے کہ آپ کے سامنے کی طرف ڈھیر بلند تھا اور پچھلی جانب جھکا ہوا پست تھا اگر ڈھیر کی طرف منہ کرکے بیٹھتے تو پیچھے کی طرف گرپڑتے اور ادھر پیٹھ کرکے بیٹھتے تو لوگوں کے سامنے ستر ننگا ہوتا اھ چند سطروں کے بعد فرمایا کہا گیا ہے آپ نے ایسا اس لئے کیا کہ اگر ڈھیر کی طرف پیٹھ کرتے تو گزرنے والوں کے سامنے ستر ننگا ہوتا اور اگر منہ ادھر کرتے تو پیٹھ کے بل گرنے کا ڈر تھا اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کی جانب پیشاب کے لوٹنے کا احتمال بھی تھا اھ (ت) اقول اول : ان تمام اضافوں سے معلوم ہوا کہ کھڑا ہونا زیادہ مناسب تھا۔
دوم : اگر اس جانب جدھر آپ کا چہرہ مبارکہ تھا بلند جگہ ہوتی پیشاب کے لوٹنے کی وجہ سے آپ اسے قطعا اختیار نہ فرماتے بلکہ اس میں بہتر بات وہی ہے جو
آپ نے ایسا اس لئے کیا کہ تمام جگہ نجاست سے بھری ہونے کی وجہ سے آپ کو بیٹھنے کی جگہ نہ ملی اھ پس یہ ہے جو کچھ میں نے ذکر کیا اور جواب میں یہی بہتر ہے۔ (ت)
چہارم : اس میں ڈھال ایسا تھا کہ بیٹھنے کا موقع نہ تھا اسے ابہری وغیرہ نے نقل کیا۔
قال العینی قال بعضھم لانہ صلی الله تعالی علیہ وآلہ وسلم لم یجد مکانا للقعود لکون الطرف الذی یلیہ من السباطۃ علیا مرتفعا اھ۔ وقال القاری فی المرقاۃ قال الابھری قیل کان مایقابلہ من السباطۃ عالیا ومن خلفہ منحدرا مستقلا لوجلس مستقبل السباطۃ سقط الی خلفہ ولوجلس مستدبرا لھا بدا عورتہ للناس اھ وقال بعد اسطر قیل فعل ذلك لانہ ان استدبر للسباطۃ تبدو العورۃ للمارۃ وان استقبلھا خیف ان یقع علی ظھرہ مع احتمال ارتداد البول الیہ اھ۔
اقول اولا : فی ھذہ الزیادۃ ماعلمت ان القائم اجدربہ۔ وثانیا : لوکان مایستقبلہ صلی الله تعالی علیہ وسلم منھا عالیا مرتفعا لم یکن ان یختارہ لھذا لارتداد البول ح قطعا بل الصواب فیہ
عینی نے فرمايا بعض نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بیٹھنے کے لئے جگہ نہ پائی کیونکہ جس طرف آپ تھے ادھر سے ڈھیر بلند تھا اھ۔ حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہنے مرقات میں فرمایا ابہری فرماتے ہیں کہا گیا ہے کہ آپ کے سامنے کی طرف ڈھیر بلند تھا اور پچھلی جانب جھکا ہوا پست تھا اگر ڈھیر کی طرف منہ کرکے بیٹھتے تو پیچھے کی طرف گرپڑتے اور ادھر پیٹھ کرکے بیٹھتے تو لوگوں کے سامنے ستر ننگا ہوتا اھ چند سطروں کے بعد فرمایا کہا گیا ہے آپ نے ایسا اس لئے کیا کہ اگر ڈھیر کی طرف پیٹھ کرتے تو گزرنے والوں کے سامنے ستر ننگا ہوتا اور اگر منہ ادھر کرتے تو پیٹھ کے بل گرنے کا ڈر تھا اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کی جانب پیشاب کے لوٹنے کا احتمال بھی تھا اھ (ت) اقول اول : ان تمام اضافوں سے معلوم ہوا کہ کھڑا ہونا زیادہ مناسب تھا۔
دوم : اگر اس جانب جدھر آپ کا چہرہ مبارکہ تھا بلند جگہ ہوتی پیشاب کے لوٹنے کی وجہ سے آپ اسے قطعا اختیار نہ فرماتے بلکہ اس میں بہتر بات وہی ہے جو
حوالہ / References
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب آداب الخلاء فصل ثانی مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ، ۱ / ۳۶۳
عمدۃ القاری ، باب البول قائمًا وقاعدًا ، مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ، ۳ / ۱۳۶
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب آداب الخلاء فصل ثانی مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۳۶۳
عمدۃ القاری ، باب البول قائمًا وقاعدًا ، مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ، ۳ / ۱۳۶
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب آداب الخلاء فصل ثانی مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۳۶۳
ماقال ابن حبان کمانقل عنہ فی فتح الباری انہ صلی الله تعالی علیہ وسلم لم یجد مکانا یصلح للقعود فقام لکون الطرف الذی یلیہ من السباطۃ کان عالیا فامن ان یرتد الیہ شیئ من بولہ اھ فجعل ماقام علیہ عالیا ومایقابلہ منحدرا وجعلہ سبب الامن من ارتداد البول فانقلب الامر علی من نقل عنہ الابھری فجعل ماقام علیہ منحدرا ومایقابلہ عالیا وجعلہ سبب خوف السقوط فی القعود مع انہ کذلك فی القیام الا نادرا۔
فان قلت ھذا یرد علی ابن حبان ایضا اذلایظھر الفرق فی مثلہ بین القیام والقعود لان الصبب اذاکان بحیث لایستقر علیہ القاعد فکذا القائم۔
اقول : بلی قدتکون کھیأۃ مثلث لہ حرف دقیق یستقر علیہ القائم اذاوضع علیہ وسط قدمیہ لاعتدال الثقل فی الجانبین بخلاف القاعد فانہ لامستقر علیہ الالقدمیہ وساقیہ وثقل سائر جسمہ لاحامل لہ۔
ابن حبان نے کہی ہے جیسا کہ فتح الباری میں ان سے نقل کیا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بیٹھنے کیلئے مناسب جگہ نہ پائی تو کھڑے ہوئے کیونکہ آپ کے سامنے سے ڈھیر بلند تھا پس آپ پیشاب لوٹنے کے خطرہ سے بے خوف ہوگئے اھ پس انہوں نے کھڑے ہونے کی جگہ کو بلند قرار دیا اور سامنے کی جگہ کو پست قرار دیا اور اسے پیشاب کے لوٹنے سے امن کا باعث خیال کیا تو معاملہ اس شخص کے خلاف ہوگیا جس سے ابہری نے نقل کیا کیونکہ اس نے کھڑے ہونیکی جگہ کو پست اور مقابل کی جگہ کو بلند قرار دیا اور اسے بیٹھنے کی صورت میں گرنے کے ڈر کا باعث قرار دیا حالانکہ اکثر کھڑے ہونے کی صورت میں بھی اسی طرح ہوتا ہے۔ اگر تم کہو کہ یہ اعتراض ابن حبان پر بھی ہوتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں فرق ظاہر نہیں ہوتا کیونکہ جب نشیبی جگہ ایسی صورت میں ہوکہ وہاں بیٹھنے والا نہ ٹھہر سکے تو کھڑا ہونے والا بھی اسی طرح ہوگا۔
اقول (میں کہتا ہوں) ہاں کبھی وہ تکونی شکل میں ہوتی ہے اس کے کنارے باریك ہوتے ہیں اگر کھڑا ہونے والا اس پر قدم کا درمیانہ حصہ رکھے تو وہ ٹھہر سکتا ہے کیونکہ دونوں طرف بوجھ برابر ہوتا ہے بخلاف بیٹھنے والے کے کیونکہ اس کے لئے تو صرف پاؤں اور پنڈلیوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے جبکہ باقی جسم کے بوجھ کو اٹھانے والی کوئی چیز نہیں (ت)
فان قلت ھذا یرد علی ابن حبان ایضا اذلایظھر الفرق فی مثلہ بین القیام والقعود لان الصبب اذاکان بحیث لایستقر علیہ القاعد فکذا القائم۔
اقول : بلی قدتکون کھیأۃ مثلث لہ حرف دقیق یستقر علیہ القائم اذاوضع علیہ وسط قدمیہ لاعتدال الثقل فی الجانبین بخلاف القاعد فانہ لامستقر علیہ الالقدمیہ وساقیہ وثقل سائر جسمہ لاحامل لہ۔
ابن حبان نے کہی ہے جیسا کہ فتح الباری میں ان سے نقل کیا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے بیٹھنے کیلئے مناسب جگہ نہ پائی تو کھڑے ہوئے کیونکہ آپ کے سامنے سے ڈھیر بلند تھا پس آپ پیشاب لوٹنے کے خطرہ سے بے خوف ہوگئے اھ پس انہوں نے کھڑے ہونے کی جگہ کو بلند قرار دیا اور سامنے کی جگہ کو پست قرار دیا اور اسے پیشاب کے لوٹنے سے امن کا باعث خیال کیا تو معاملہ اس شخص کے خلاف ہوگیا جس سے ابہری نے نقل کیا کیونکہ اس نے کھڑے ہونیکی جگہ کو پست اور مقابل کی جگہ کو بلند قرار دیا اور اسے بیٹھنے کی صورت میں گرنے کے ڈر کا باعث قرار دیا حالانکہ اکثر کھڑے ہونے کی صورت میں بھی اسی طرح ہوتا ہے۔ اگر تم کہو کہ یہ اعتراض ابن حبان پر بھی ہوتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں فرق ظاہر نہیں ہوتا کیونکہ جب نشیبی جگہ ایسی صورت میں ہوکہ وہاں بیٹھنے والا نہ ٹھہر سکے تو کھڑا ہونے والا بھی اسی طرح ہوگا۔
اقول (میں کہتا ہوں) ہاں کبھی وہ تکونی شکل میں ہوتی ہے اس کے کنارے باریك ہوتے ہیں اگر کھڑا ہونے والا اس پر قدم کا درمیانہ حصہ رکھے تو وہ ٹھہر سکتا ہے کیونکہ دونوں طرف بوجھ برابر ہوتا ہے بخلاف بیٹھنے والے کے کیونکہ اس کے لئے تو صرف پاؤں اور پنڈلیوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے جبکہ باقی جسم کے بوجھ کو اٹھانے والی کوئی چیز نہیں (ت)
حوالہ / References
فتح الباری باب البول عند سباطۃ قوم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۳۴۳
پنجم : اس وقت پشت مبارك میں درد تھا اور عرب کے نزدیك یہ فعل اس سے استشفاء ہے۔ یہ جواب امام شافعی وامام احمد رضی اللہ تعالی عنہما کا ہے۔ چالیس طبیبوں کا اتفاق ہے کہ حمام میں ایسا کرنا ستر مرض کی دوا ہے
ذکرہ القاری عن زین العرب عن حجۃ الاسلام قال العینی قال الشافعی لماسألہ حفص الفرد عن الفائدۃ فی بولہ قائما العرب تستشفی لوجع الصلب بالبول قائما فنری انہ کان بہ اذذاك اھ۔ وفی فتح الباری روی عن الشافعی واحمد فذکر نحوہ قال العینی قلت یوضح ذلك حدیث ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ المذکور انفا اھ۔
اقول : لاادری ماھذا فاین فعل شیئ للاستشفاء من مرض قصدا غیر مضطر الیہ من فعلہ مع عدم الاختیار لاجل الاضطرار۔
ششم : زعم المارزی فی کتاب العلم فعل ذلك لانھا حالۃ یؤمن فیھا خروج الحدث من السبیل الاخر بخلاف القعود ومنہ قول عمر رضی الله تعالی عنہ البول قائما احصن للدبر اھ نقلہ فی العمدۃ زاد العسقلانی ففعل ذلك لکونہ قریبا
ملا علی قاری نے زین العرب سے انہوں نے حجۃ الاسلام سے یہ ذکر کیا۔ امام عینی فرماتے ہیں امام شافعی سے جب حفص فرد نے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کا فائدہ پوچھا تو انہوں نے جوابا فرمایا عربی لوگ کھڑے ہوکر پیشاب کرنے سے پیٹھ کے درد کا علاج کرتے ہیں پس ہمارا خیال ہے کہ حضور علیہ السلام کو اس وقت یہی تکلیف تھی اھ۔ اور فتح الباری میں امام شافعی اور امام حمد رحمہم اللہ تعالیسے اسی طرح مذکور ہے امام عینی فرماتے ہیں میں کہتا ہوں ابھی گزرنے والی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہکی روایت اس کی وضاحت کرتی ہے اھ (ت)
اقول : میں نہیں جانتا کہ یہ کیا ہے آپ کا کسی عمل کو کسی مجبوری کے بغیر قصدا بیماری سے شفاء کے لئے اختیار کرنا اس کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے کہ آپ نے اضطرار کے باوجود اسے اختیار نہ کیا۔ (ت)
ششم : مارزی نے کتاب العلم میں یہ خیال ظاہر کیا کہ آپ کا یہ عمل اس لئے تھا کہ اس صورت میں دوسرے راستے سے حدث (ہوا وغیرہ) نکلنے کا خوف نہیں ہوتا بخلاف بیٹھنے کے۔ اسی سلسلے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہکا قول بھی ہے کہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنا دبر کو محفوظ رکھتا ہے اھ اسے العمدۃ میں نقل کیا امام عسقلانی
ذکرہ القاری عن زین العرب عن حجۃ الاسلام قال العینی قال الشافعی لماسألہ حفص الفرد عن الفائدۃ فی بولہ قائما العرب تستشفی لوجع الصلب بالبول قائما فنری انہ کان بہ اذذاك اھ۔ وفی فتح الباری روی عن الشافعی واحمد فذکر نحوہ قال العینی قلت یوضح ذلك حدیث ابی ھریرۃ رضی الله تعالی عنہ المذکور انفا اھ۔
اقول : لاادری ماھذا فاین فعل شیئ للاستشفاء من مرض قصدا غیر مضطر الیہ من فعلہ مع عدم الاختیار لاجل الاضطرار۔
ششم : زعم المارزی فی کتاب العلم فعل ذلك لانھا حالۃ یؤمن فیھا خروج الحدث من السبیل الاخر بخلاف القعود ومنہ قول عمر رضی الله تعالی عنہ البول قائما احصن للدبر اھ نقلہ فی العمدۃ زاد العسقلانی ففعل ذلك لکونہ قریبا
ملا علی قاری نے زین العرب سے انہوں نے حجۃ الاسلام سے یہ ذکر کیا۔ امام عینی فرماتے ہیں امام شافعی سے جب حفص فرد نے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کا فائدہ پوچھا تو انہوں نے جوابا فرمایا عربی لوگ کھڑے ہوکر پیشاب کرنے سے پیٹھ کے درد کا علاج کرتے ہیں پس ہمارا خیال ہے کہ حضور علیہ السلام کو اس وقت یہی تکلیف تھی اھ۔ اور فتح الباری میں امام شافعی اور امام حمد رحمہم اللہ تعالیسے اسی طرح مذکور ہے امام عینی فرماتے ہیں میں کہتا ہوں ابھی گزرنے والی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہکی روایت اس کی وضاحت کرتی ہے اھ (ت)
اقول : میں نہیں جانتا کہ یہ کیا ہے آپ کا کسی عمل کو کسی مجبوری کے بغیر قصدا بیماری سے شفاء کے لئے اختیار کرنا اس کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے کہ آپ نے اضطرار کے باوجود اسے اختیار نہ کیا۔ (ت)
ششم : مارزی نے کتاب العلم میں یہ خیال ظاہر کیا کہ آپ کا یہ عمل اس لئے تھا کہ اس صورت میں دوسرے راستے سے حدث (ہوا وغیرہ) نکلنے کا خوف نہیں ہوتا بخلاف بیٹھنے کے۔ اسی سلسلے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہکا قول بھی ہے کہ کھڑے ہوکر پیشاب کرنا دبر کو محفوظ رکھتا ہے اھ اسے العمدۃ میں نقل کیا امام عسقلانی
حوالہ / References
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۳ / ۱۳۶
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۳ / ۱۳۶
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۳ / ۱۳۶
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۳ / ۱۳۶
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۳ / ۱۳۶
من الدیار اھ
اقول : وانا استبشع مثل ھذہ التعلیلات فی افعالہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وقدعصمہ الله تعالی من کل مایستھجن۔
ھفتم : قال العینی تکلموا فی سبب بولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم قائما فقال القاضی عیاض انما فعل لشغلہ بامور المسلمین فلعلہ طال علیہ المجلس حتی حصرہ البول ولم یمکن التباعد کعادتہ واراد السباطۃ لدمثھا واقام حذیفۃ لیسترہ عن الناس اھ
اقول : ای مساس لھذا بسبیۃ الفعل قائما انما ھو وجہ لترکہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الابعاد المعتادلہ وفی ھذا ذکرہ فی فتح الباری فھذا یحتاج فی تسدیدہ الی ان یضم الیہ ماذکر المارزی والا بطل کما یحتاج ماذکر المارزی فی تاییدہ الی ان یضم الیہ ھذا کمافعلی ابن حجر والا ضعف۔
نے اضافہ کیا کہ آپ نے یہ اس لئے کیا کہ آپ گھروں کے زیادہ قریب تھے اھ۔ (ت)
اقول : نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے افعال مبارکہ کی ایسی توجیہات کو میں نہایت بدذوقی سمجھتا ہوں اللہتعالی نے آپ کو ہر اس چیز سے محفوظ فرمایا جسے قبیح سمجھا جاتا ہے۔ (ت)
ہفتم : (محدثین نے) نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کے بارے میں گفتگو کی ہے قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا آپ نے ایسا اس لئے کیا کہ آپ مسلمانوں کے کاموں میں مشغول تھے اور ممکن ہے مجلس طویل ہوگئی حتی کہ پیشاب نے آپ کو روك دیا اور عادت کے مطابق آپ کے لئے دور جانا ممکن نہ ہوا اور آپ نے (کوڑے کرکٹ کے) ڈھیر کا ارادہ فرمایا کیونکہ وہ جگہ نرم تھی اور حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہکو کھڑا کیا تاکہ لوگوں سے پردہ ہو اھ (ت)
اقول : یہ بات کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کا سبب کیسے بن گئی یہ تو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے عادت کے مطابق دور جانے کو چھوڑنے کی وجہ ہے۔ اسے انہوں نے فتح الباری میں ذکر کیا ہے پس یہ اپنی مضبوطی کے لئے اس بات کا محتاج ہے کہ جو کچھ مارزی نے ذکر کیا اسے بھی اس کے ساتھ ملایا جائے ورنہ یہ باطل ہوجائیگا جیسا کہ مارزی کا ذکر کردہ قول اپنی تائید کے لئے اس کے ملانے کا محتاج ہے جیسا کہ ابن حجر نے کیا ورنہ وہ کمزور رہ جائیگا۔ (ت)
اقول : وانا استبشع مثل ھذہ التعلیلات فی افعالہ صلی الله تعالی علیہ وسلم وقدعصمہ الله تعالی من کل مایستھجن۔
ھفتم : قال العینی تکلموا فی سبب بولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم قائما فقال القاضی عیاض انما فعل لشغلہ بامور المسلمین فلعلہ طال علیہ المجلس حتی حصرہ البول ولم یمکن التباعد کعادتہ واراد السباطۃ لدمثھا واقام حذیفۃ لیسترہ عن الناس اھ
اقول : ای مساس لھذا بسبیۃ الفعل قائما انما ھو وجہ لترکہ صلی الله تعالی علیہ وسلم الابعاد المعتادلہ وفی ھذا ذکرہ فی فتح الباری فھذا یحتاج فی تسدیدہ الی ان یضم الیہ ماذکر المارزی والا بطل کما یحتاج ماذکر المارزی فی تاییدہ الی ان یضم الیہ ھذا کمافعلی ابن حجر والا ضعف۔
نے اضافہ کیا کہ آپ نے یہ اس لئے کیا کہ آپ گھروں کے زیادہ قریب تھے اھ۔ (ت)
اقول : نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے افعال مبارکہ کی ایسی توجیہات کو میں نہایت بدذوقی سمجھتا ہوں اللہتعالی نے آپ کو ہر اس چیز سے محفوظ فرمایا جسے قبیح سمجھا جاتا ہے۔ (ت)
ہفتم : (محدثین نے) نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کے بارے میں گفتگو کی ہے قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالی علیہنے فرمایا آپ نے ایسا اس لئے کیا کہ آپ مسلمانوں کے کاموں میں مشغول تھے اور ممکن ہے مجلس طویل ہوگئی حتی کہ پیشاب نے آپ کو روك دیا اور عادت کے مطابق آپ کے لئے دور جانا ممکن نہ ہوا اور آپ نے (کوڑے کرکٹ کے) ڈھیر کا ارادہ فرمایا کیونکہ وہ جگہ نرم تھی اور حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہکو کھڑا کیا تاکہ لوگوں سے پردہ ہو اھ (ت)
اقول : یہ بات کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کا سبب کیسے بن گئی یہ تو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکے عادت کے مطابق دور جانے کو چھوڑنے کی وجہ ہے۔ اسے انہوں نے فتح الباری میں ذکر کیا ہے پس یہ اپنی مضبوطی کے لئے اس بات کا محتاج ہے کہ جو کچھ مارزی نے ذکر کیا اسے بھی اس کے ساتھ ملایا جائے ورنہ یہ باطل ہوجائیگا جیسا کہ مارزی کا ذکر کردہ قول اپنی تائید کے لئے اس کے ملانے کا محتاج ہے جیسا کہ ابن حجر نے کیا ورنہ وہ کمزور رہ جائیگا۔ (ت)
حوالہ / References
فتح الباری باب البول عند سباطۃ قوم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۳۴۳
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۳ / ۱۳۶
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۳ / ۱۳۶
ھشتم : قال ابوالقاسم عبدالله بن احمد بن محمود البلخی فی کتابہ المسمی بقبول الاخبار ومعرفۃ الرجال حدیث حذیفۃ ھذا فاحش منکر لانراہ الامن قبل بعض الزنادقۃ قال الامام العینی بعد نقلہ ھذا کلام سوء لایساوی سماعہ وھو فی غایۃ الصحۃ اھ ووقع للقاری عقب ذکر حدیث الحذیفۃ وانہ متفق علیہ قال الشیخ لوصح ھذا الحدیث لکان فیہ غنی عن جمیع ماتقدم لکن ضعفہ الدارقطنی والبھیقی والاظھر انہ فعل ذلك لبیان الجواز نقلہ الابھری اھ۔
اقول : الشیخ ھو الامام ابن حجر العسقلانی وانما قال ھذا فی حدیث ابی ھریرۃ المار فلاادری ممن وقع ھذا التخلیط من الابھری اومن القاری۔
ہشتم : ابو القاسم عبداللہبن احمد بن محمود بلخی نے اپنی کتاب مسمی “ قبول الاخبار ومعرفۃ الرجال “ میں فرمایا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہکی یہ روایت قبیح منکر ہے یہ بعض زندیق بیان کرتے ہیں امام عینی اسے نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں یہ برا کلام ہے اسے سننا صحیح نہیں جبکہ حدیث بالکل صحیح ہے اھ حضرت ملا علی قاری روایت حذیفہ ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں یہ متفق علیہ ہے۔ شیخ فرماتے ہیں اگر یہ حدیث صحیح ثابت ہو تو اس میں پہلے بیان سے بے نیازی ہوگی۔ لیکن دارقطنی اور بیہقی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ زیادہ ظاہر یہ ہے کہ آپ نے بیان جواز کے لئے ایسا کیا اسے ابہری نے نقل کیا اھ (ت)
اقول : شیخ سے مراد امام ابن حجر عسقلانی میں اور انہوں نے یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہکی گزشتہ حدیث کے بارے میں کہی ہے پس میں نہیں جانتا کہ یہ گربڑا کس سے واقع ہوئی ابہری سے یا ملا علی قاری سے۔ (ت)
اقول : وبالله التوفیق (میں اللہتعالی کی توفیق سے کہتا ہوں) نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ایك بار یہ فعل وارد ہوا اور صحیح حدیث سے ثابت کہ روز نزول قرآن کریم سے آخر عمر اقدس تك عادت کریمہ ہمیشہ بیٹھ ہی کر پیشا ب فرمانے کی تھی اور صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کو جفا وبے ادبی فرمایا اور متعدد احادیث میں اس سے نہی وممانعت آئی تو واجب کہ ممنوع ہو اور انہیں احادیث کو ان پر ترجیح بوجوہ ہو :
اولا : وہ ایك بار کا واقعہ حال ہے کہ صدگونہ احتمال ہے۔
اقول : الشیخ ھو الامام ابن حجر العسقلانی وانما قال ھذا فی حدیث ابی ھریرۃ المار فلاادری ممن وقع ھذا التخلیط من الابھری اومن القاری۔
ہشتم : ابو القاسم عبداللہبن احمد بن محمود بلخی نے اپنی کتاب مسمی “ قبول الاخبار ومعرفۃ الرجال “ میں فرمایا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہکی یہ روایت قبیح منکر ہے یہ بعض زندیق بیان کرتے ہیں امام عینی اسے نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں یہ برا کلام ہے اسے سننا صحیح نہیں جبکہ حدیث بالکل صحیح ہے اھ حضرت ملا علی قاری روایت حذیفہ ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں یہ متفق علیہ ہے۔ شیخ فرماتے ہیں اگر یہ حدیث صحیح ثابت ہو تو اس میں پہلے بیان سے بے نیازی ہوگی۔ لیکن دارقطنی اور بیہقی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ زیادہ ظاہر یہ ہے کہ آپ نے بیان جواز کے لئے ایسا کیا اسے ابہری نے نقل کیا اھ (ت)
اقول : شیخ سے مراد امام ابن حجر عسقلانی میں اور انہوں نے یہ بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہکی گزشتہ حدیث کے بارے میں کہی ہے پس میں نہیں جانتا کہ یہ گربڑا کس سے واقع ہوئی ابہری سے یا ملا علی قاری سے۔ (ت)
اقول : وبالله التوفیق (میں اللہتعالی کی توفیق سے کہتا ہوں) نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمسے ایك بار یہ فعل وارد ہوا اور صحیح حدیث سے ثابت کہ روز نزول قرآن کریم سے آخر عمر اقدس تك عادت کریمہ ہمیشہ بیٹھ ہی کر پیشا ب فرمانے کی تھی اور صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمنے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کو جفا وبے ادبی فرمایا اور متعدد احادیث میں اس سے نہی وممانعت آئی تو واجب کہ ممنوع ہو اور انہیں احادیث کو ان پر ترجیح بوجوہ ہو :
اولا : وہ ایك بار کا واقعہ حال ہے کہ صدگونہ احتمال ہے۔
حوالہ / References
عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت ۳ / ۱۳۶
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب آداب الخلاء فصل ثانی مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۳۶۳
مرقاۃ شرح مشکوٰۃ باب آداب الخلاء فصل ثانی مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۳۶۳
ثانیا : فعل وقول میں جب تعارض ہو قول واجب العمل ہے کہ فعل احتمال خصوص وغیرہ رکھتا ہے۔
ثالثا : مبیح وحاظر جب متعارض ہوں حاظر مقدم ہے۔
ثم اقول : (پھر میں کہتا ہوں۔ ت) نفس حدیث حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہان مقلدان نصرانیت پر رد ہے وہاں کافی بلندی تھی اور نیچے ڈھال اور زمین گھورے کے سبب نرم کہ کسی طرح چھینٹ آنے کا احتمال نہ تھا سامنے دیوار تھی اور گھورا فنائے دار میں تھا نہ کہ گزرگاہ پس پشت حذیفہ رضی اللہتعالی عنہ کو کھڑاکرلیا تھا اس طرف کا بھی پردہ فرمایا اس حالت میں پشت اقدس پر بھی نظر پڑنا پسند نہ آیا ان احتیاطوں کے ساتھ تمام عمر مبارك میں ایك بار ایسا منقول ہوا کیا یہ نئی روشن کے مدعی ایسی ہی صورت کے قائل ہیں سبحان الله کہاں یہ اور کہاں ان بے ادبوں کے نامہذب افعال اور ان پر معاذاللہحدیث سے استدلال لاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم ع
کار پاکاں راقیاس ازخود مگیر
(پاك لوگوں کے کام کو اپنے اوپر قیاس نہ کرو)
اوگمان بردہ کہ من کروم چواو
فرق راکے بیند آں استیزہ جو
(اس نے گمان کیا کہ میں نے اس جیسا عمل کیا وہ بڑائی ڈھونڈنے والا فرق کب دیکھ سکتا ہے) والله سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۲۲۵ : از موضع منصورپور متصل ڈاك خانہ قصبہ شیش گڈھ تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ محمد شاہ خان ۳۰ محرم ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لوٹا پانی سے استنجاء وضو درست ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر یہ مطلب ہے کہ استنجا کے بچے ہوئے کہ پانی سے وضو کیا جائے یا نہیں تو جواب یہ ہے کہ حرج نہیں اور اگر یہ مطلب ہے کہ اتنے تھوڑے پانی میں استنجا ووضو دونوں کر لینا تو جواب یہ ہے کہ استنجا میں تطہیر شرط ہے اتنا دھونا کہ بدن پر سے چکنائی جاتی رہے اور وضو میں بن مو سے ٹھوڑی کے نیچے اور ایك کان سے دوسرے کان تك سارے منہ اور ناخنوں سے کہنیوں کے اوپر تك دونوں ہاتھ اور گٹوں تك دونوں پاؤں ایك ایك بار دھونا فرض ہے اور تین تین بار سنت یوں کہ اتنے جسم کے ایك ایك ذرہ پر پانی بہتا ہوا گزرے اگر کوئی ذرہ پانی بہنے سے رہ جائے گا اگرچہ بھیگا ہاتھ اس پر گزر جائے تو وضو نہ ہوگا نماز نہ ہوگی اور اگر تین بار کامل ہر ہر ذرہ پر نہ بہا تو سنت ادا نہ ہوگی اور ابتدائے وضو میں تین بار کلائیوں تك ہاتھ دھونا تین بار سارا دہن حلق کی جڑ تك دھونا تین بار ساری ناك میں اوپر تك پانی چڑھانا
ثالثا : مبیح وحاظر جب متعارض ہوں حاظر مقدم ہے۔
ثم اقول : (پھر میں کہتا ہوں۔ ت) نفس حدیث حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہان مقلدان نصرانیت پر رد ہے وہاں کافی بلندی تھی اور نیچے ڈھال اور زمین گھورے کے سبب نرم کہ کسی طرح چھینٹ آنے کا احتمال نہ تھا سامنے دیوار تھی اور گھورا فنائے دار میں تھا نہ کہ گزرگاہ پس پشت حذیفہ رضی اللہتعالی عنہ کو کھڑاکرلیا تھا اس طرف کا بھی پردہ فرمایا اس حالت میں پشت اقدس پر بھی نظر پڑنا پسند نہ آیا ان احتیاطوں کے ساتھ تمام عمر مبارك میں ایك بار ایسا منقول ہوا کیا یہ نئی روشن کے مدعی ایسی ہی صورت کے قائل ہیں سبحان الله کہاں یہ اور کہاں ان بے ادبوں کے نامہذب افعال اور ان پر معاذاللہحدیث سے استدلال لاحول ولاقوۃ الا بالله العلی العظیم ع
کار پاکاں راقیاس ازخود مگیر
(پاك لوگوں کے کام کو اپنے اوپر قیاس نہ کرو)
اوگمان بردہ کہ من کروم چواو
فرق راکے بیند آں استیزہ جو
(اس نے گمان کیا کہ میں نے اس جیسا عمل کیا وہ بڑائی ڈھونڈنے والا فرق کب دیکھ سکتا ہے) والله سبحنہ وتعالی اعلم
مسئلہ ۲۲۵ : از موضع منصورپور متصل ڈاك خانہ قصبہ شیش گڈھ تحصیل بہیڑی ضلع بریلی مرسلہ محمد شاہ خان ۳۰ محرم ۱۳۳۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك لوٹا پانی سے استنجاء وضو درست ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر یہ مطلب ہے کہ استنجا کے بچے ہوئے کہ پانی سے وضو کیا جائے یا نہیں تو جواب یہ ہے کہ حرج نہیں اور اگر یہ مطلب ہے کہ اتنے تھوڑے پانی میں استنجا ووضو دونوں کر لینا تو جواب یہ ہے کہ استنجا میں تطہیر شرط ہے اتنا دھونا کہ بدن پر سے چکنائی جاتی رہے اور وضو میں بن مو سے ٹھوڑی کے نیچے اور ایك کان سے دوسرے کان تك سارے منہ اور ناخنوں سے کہنیوں کے اوپر تك دونوں ہاتھ اور گٹوں تك دونوں پاؤں ایك ایك بار دھونا فرض ہے اور تین تین بار سنت یوں کہ اتنے جسم کے ایك ایك ذرہ پر پانی بہتا ہوا گزرے اگر کوئی ذرہ پانی بہنے سے رہ جائے گا اگرچہ بھیگا ہاتھ اس پر گزر جائے تو وضو نہ ہوگا نماز نہ ہوگی اور اگر تین بار کامل ہر ہر ذرہ پر نہ بہا تو سنت ادا نہ ہوگی اور ابتدائے وضو میں تین بار کلائیوں تك ہاتھ دھونا تین بار سارا دہن حلق کی جڑ تك دھونا تین بار ساری ناك میں اوپر تك پانی چڑھانا
سنت ہے اور ایك چلو پانی مسح سرکو چاہے۔ یہ سب باتیں بلاافراط وتفریط جتنے پانی میں ادا ہوجائیں اسی قدر درکار ہے لوٹے دو لوٹے کی کوئی تخصیص نہیں۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۶ : از ضلع ناگپور ڈاکخانہ محلہ نیابازار حافظ محمد اکبر بروزشنبہ ۲۴ رجب ۱۳۳۴ھ
چہ می فرمایند علمائے دین متین رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدریں مسئلہ کہ بیعت کردن یعنی مرید شدن بدست اشر فعلی دیوبندی بہ کاغذات جائز ست یا نہ۔ اور ان کے رسالوں پر علانیہ عمل کریں یا استنجا کرکے پھینك ڈالیں بقول فقہاء کے یجوز الاستنجاء باوراق المنطق (منطق کے مکتوب اوراق سے استننجا جائز ہے۔ ت)
اور یہ رسالے منطق سے بھی زیادہ خراب ہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
اشرفعلی کے ہاتھ پر بیعت حرام قطعی ہے بالمشافہہ ہو خواہ بذریعہ تحریر بلکہ بعیت درکنار علمائے حرمین طیبین نے بالاتفاق تحریر فرمایا : من شك فی عذابہ وکفرہ فقدکفر۔ جو اس کے اقوال پر مطلع ہوکر اس کے کفر میں شك کرے وہ خود کافر۔
اشرفعلی اور تمام دیوبندی عقیدے والوں کی کتابیں کتب منطق بلکہ ہنود کی پوتھیوں سے بدتر ہیں کہ انہیں دیکھ کر مسلمان کے بگڑنے کی اتنی توقع نہیں جو ان کتابوں سے ہے ان کا دیکھنا بیشك حرام ہے مگر وہ کہ ان کے ورقوں سے استنجا کیا جائے یہ زیادتی ہے اور بعض فقہاء کا وہ لکھ دینا مقبول نہیں حروف کی تعلیم لازم ہے کہ نہ انکی کتابیں کہ ان کی کتابوں میں قال اللہوقال الرسول بھی ہے جس سے وہ عوام کو دھوکا دیتے ہیں ایك امام کا بعض نوجوانوں پر گزر ہوا جنہوں نے نشانہ پر ابوجہل کا نام لکھ کر لگایا اور اس پر تیر اندازی کررہے تھے امام نے انہیں منع فرمایا جب ادھر سے واپس تشریف لائے ملاحظہ فرمایا کہ انہوں نے نام ابوجہل کے حروف متفرق کردیے اب ان پر تیر لگارہے ہیں فرمایا میں نے تمہیں نام ابوجہل کی تعظیم کو نہ کہا تھا بلکہ حروف کی تعظیم کو۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۷ ۲۲۸ : مسئولہ معرفت آدم جی سیٹھ مقیم بر دردولت اعلحضرت قبلہ۔ شنبہ یکم شعبان ۱۳۳۴ھ
(۱) عورت بعد پیشاب کلوخ لے یا صرف پانی سے استنجا کرے۔
(۲) بعد پیشاب حالت کلوخ میں سلام کرنا یا سلام کا جواب یا کلوخ کرتے ہوئے کو سلام کرنا کیسا ہے
الجواب
(۱) دونوں کا جمع کرنا افضل ہے اور اس کے حق میں کلوخ سے کپڑا بہتر ہے۔
مسئلہ ۲۲۶ : از ضلع ناگپور ڈاکخانہ محلہ نیابازار حافظ محمد اکبر بروزشنبہ ۲۴ رجب ۱۳۳۴ھ
چہ می فرمایند علمائے دین متین رسول اللہصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمدریں مسئلہ کہ بیعت کردن یعنی مرید شدن بدست اشر فعلی دیوبندی بہ کاغذات جائز ست یا نہ۔ اور ان کے رسالوں پر علانیہ عمل کریں یا استنجا کرکے پھینك ڈالیں بقول فقہاء کے یجوز الاستنجاء باوراق المنطق (منطق کے مکتوب اوراق سے استننجا جائز ہے۔ ت)
اور یہ رسالے منطق سے بھی زیادہ خراب ہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
اشرفعلی کے ہاتھ پر بیعت حرام قطعی ہے بالمشافہہ ہو خواہ بذریعہ تحریر بلکہ بعیت درکنار علمائے حرمین طیبین نے بالاتفاق تحریر فرمایا : من شك فی عذابہ وکفرہ فقدکفر۔ جو اس کے اقوال پر مطلع ہوکر اس کے کفر میں شك کرے وہ خود کافر۔
اشرفعلی اور تمام دیوبندی عقیدے والوں کی کتابیں کتب منطق بلکہ ہنود کی پوتھیوں سے بدتر ہیں کہ انہیں دیکھ کر مسلمان کے بگڑنے کی اتنی توقع نہیں جو ان کتابوں سے ہے ان کا دیکھنا بیشك حرام ہے مگر وہ کہ ان کے ورقوں سے استنجا کیا جائے یہ زیادتی ہے اور بعض فقہاء کا وہ لکھ دینا مقبول نہیں حروف کی تعلیم لازم ہے کہ نہ انکی کتابیں کہ ان کی کتابوں میں قال اللہوقال الرسول بھی ہے جس سے وہ عوام کو دھوکا دیتے ہیں ایك امام کا بعض نوجوانوں پر گزر ہوا جنہوں نے نشانہ پر ابوجہل کا نام لکھ کر لگایا اور اس پر تیر اندازی کررہے تھے امام نے انہیں منع فرمایا جب ادھر سے واپس تشریف لائے ملاحظہ فرمایا کہ انہوں نے نام ابوجہل کے حروف متفرق کردیے اب ان پر تیر لگارہے ہیں فرمایا میں نے تمہیں نام ابوجہل کی تعظیم کو نہ کہا تھا بلکہ حروف کی تعظیم کو۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۷ ۲۲۸ : مسئولہ معرفت آدم جی سیٹھ مقیم بر دردولت اعلحضرت قبلہ۔ شنبہ یکم شعبان ۱۳۳۴ھ
(۱) عورت بعد پیشاب کلوخ لے یا صرف پانی سے استنجا کرے۔
(۲) بعد پیشاب حالت کلوخ میں سلام کرنا یا سلام کا جواب یا کلوخ کرتے ہوئے کو سلام کرنا کیسا ہے
الجواب
(۱) دونوں کا جمع کرنا افضل ہے اور اس کے حق میں کلوخ سے کپڑا بہتر ہے۔
(۲) نہ اس پر سلام کیا جائے نہ وہ سلام کرے اور نہ جواب دے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۹ : ازمقام بھوٹا بھوٹی بسورٹولانڈ ملك افریقہ مرسلہ حاجی اسمعیل میاں صاحب حنفی قادری ابن امیر میاں ۲۳ صفر ۱۳۳۲ھ
مسلمان کو کھڑے ہوکر پیشاب کرنا جائز ہے یا نہیں۔ زید کہتا ہے بلند مکان پر جائز ہے۔
الجواب :
کھڑے ہوکر پیشاب کرنا مکروہ سنت نصاری ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے : من الجفاء ان یبول الرجل قائما بے ادبی وبدتہذیبی ہے یہ کہ آدمی کھڑے ہوکر پیشاب کرے۔ رواہ البزار بسند صحیح عن بریدۃ رضی اللہ تعالی عنہ(اسے بزار نے بسند صحیح حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ ت) اس کی پوری تحقیق مع ازالہ اوہام ہمارے فتاوی میں ہے والله تعالی اعلم۔
سوال۲۳۰دوم : بعد فراغت جائے ضرور کے کاغذ سے استنجا پاك کرنا جائز ہے یا نہیں۔ زید کہتا ہے ریل گاڑی میں درست ہے۔
الجواب :
کاغذ سے استنجا کرنا مکروہ وممنوع وسنت نصاری ہے کاغذ کی تعظیم کا حکم ہے اگرچہ سادہ ہو اور لکھا ہوا ہو تو بدرجہ اولی۔ درمختار میں ہے کرہ تحریما بشیئ محترم (کسی قابل احترام چیز کے ساتھ (استنجا) مکروہ تحریمی ہے۔ ت)ردالمحتار میں ہے :
یدخل فیہ الورق قال فی السراج قیل انہ ورق الکتابۃ وقیل ورق الشجر وایھما کان فانہ مکروہ اھ واقرہ فی البحر وغیرہ والعلۃ فی ورق الشجر کونہ علفا للدواب اونعومتہ فیکون ملوثا غیر مزیل وکذا ورق الکتابۃ لصقالتہ وتقومہ ولہ احترام ایضا لکونہ الۃ لکتابۃ العلم ولذا علله فی التاترخانیۃ بان
اس میں کاغذ بھی داخل ہے سراج میں فرمایا کہا گیا ہے کہ وہ کتابت کا ورق (کاغذ) ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے درخت کا ورق (پتا) مراد ہے جو بھی ہو مکروہ ہے اھ بحرالرائق وغیرہ میں بھی اسے برقرار رکھا گیا ہے درخت کے پتے (مکروہ ہونے کی) علت اس کا جانوروں کے لئے چارہ ہونا یا اس کی نرمی ہے پس یہ ملوث کرنے والا ہے (نجاست کو) دور کرنیوالا
مسئلہ ۲۲۹ : ازمقام بھوٹا بھوٹی بسورٹولانڈ ملك افریقہ مرسلہ حاجی اسمعیل میاں صاحب حنفی قادری ابن امیر میاں ۲۳ صفر ۱۳۳۲ھ
مسلمان کو کھڑے ہوکر پیشاب کرنا جائز ہے یا نہیں۔ زید کہتا ہے بلند مکان پر جائز ہے۔
الجواب :
کھڑے ہوکر پیشاب کرنا مکروہ سنت نصاری ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمفرماتے : من الجفاء ان یبول الرجل قائما بے ادبی وبدتہذیبی ہے یہ کہ آدمی کھڑے ہوکر پیشاب کرے۔ رواہ البزار بسند صحیح عن بریدۃ رضی اللہ تعالی عنہ(اسے بزار نے بسند صحیح حضرت بریدہ رضی اللہ تعالی عنہسے روایت کیا ہے۔ ت) اس کی پوری تحقیق مع ازالہ اوہام ہمارے فتاوی میں ہے والله تعالی اعلم۔
سوال۲۳۰دوم : بعد فراغت جائے ضرور کے کاغذ سے استنجا پاك کرنا جائز ہے یا نہیں۔ زید کہتا ہے ریل گاڑی میں درست ہے۔
الجواب :
کاغذ سے استنجا کرنا مکروہ وممنوع وسنت نصاری ہے کاغذ کی تعظیم کا حکم ہے اگرچہ سادہ ہو اور لکھا ہوا ہو تو بدرجہ اولی۔ درمختار میں ہے کرہ تحریما بشیئ محترم (کسی قابل احترام چیز کے ساتھ (استنجا) مکروہ تحریمی ہے۔ ت)ردالمحتار میں ہے :
یدخل فیہ الورق قال فی السراج قیل انہ ورق الکتابۃ وقیل ورق الشجر وایھما کان فانہ مکروہ اھ واقرہ فی البحر وغیرہ والعلۃ فی ورق الشجر کونہ علفا للدواب اونعومتہ فیکون ملوثا غیر مزیل وکذا ورق الکتابۃ لصقالتہ وتقومہ ولہ احترام ایضا لکونہ الۃ لکتابۃ العلم ولذا علله فی التاترخانیۃ بان
اس میں کاغذ بھی داخل ہے سراج میں فرمایا کہا گیا ہے کہ وہ کتابت کا ورق (کاغذ) ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے درخت کا ورق (پتا) مراد ہے جو بھی ہو مکروہ ہے اھ بحرالرائق وغیرہ میں بھی اسے برقرار رکھا گیا ہے درخت کے پتے (مکروہ ہونے کی) علت اس کا جانوروں کے لئے چارہ ہونا یا اس کی نرمی ہے پس یہ ملوث کرنے والا ہے (نجاست کو) دور کرنیوالا
حوالہ / References
درمختار فصل الاستنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶
تعظیمہ من ادب الدین ونقلوا عندنا ان للحروف حرمۃ ولومقطعۃ وذکر بعض القراء ان حروف الھجاء قران انزلت علی ھود علیہ الصلوۃ والسلام ۔
نہیں اسی طرح کاغذ صاف اور قیمتی ہونے کی وجہ سے مکروہ تحریمی ہے نیز وہ قابل احترام ہے کیونکہ وہ کتابت علم کا آلہ ہے اسی لئے تتارخانیہ میں اس کی علت یوں بیان کی ہے کہ اس کی تعظیم آداب دین سے ہے (فقہاء کرام) نے نقل کیا ہے کہ ہمارے نزدیك حروف کی عزت ہے اگرچہ وہ کٹے ہوئے ہوں بعض قراء نے فرمایا کہ حروف تہجی بھی قرآن ہیں جو حضرت ہود علیہ السلام پر نازل ہوئے۔ (ت)
اور ریل کا عذر صرف زید ہی کو لاحق ہوتا ہے اور مسلمانوں کو کیوں نہیں ہوتا کیا ڈھیلے یا پرانا کپڑا نہیں رکھ سکتے ہاں سنت نصاری کا اتباع منظور ہو تو یہ قلب کا مرض ہے دواچاہئے واللہتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۱ : از قصبہ واساواڑ ضلع کاٹھیا واڑ مرسلہ سید احمد صاحب پیش امام ۲۴ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
ایك شخص نے بعد پیشاب کلوخ لیا اور استنجا کرنا بھول گیا بعد اس کے نماز اداکرلی یا ادائیگی نماز یا بعد نماز یاد آیا کہ میں استنجا بھول گیا نماز ہوگئی یا اعادہ کرنا چاہئے۔
الجواب :
اگر پیشاب روپے بھر سے زیادہ جگہ میں نہ پھیلا تھا تو صرف ڈھیلا طہارت کیلئے کافی ہے نماز ہوگئی اور اگر روپے بھر سے زائد جگہ میں پھیل گیا تھا تو ڈھیلے سے طہارت نہیں ہوسکتی پانی سے دھونا فرض ہے اگر نماز میں یاد آئے فورا جدا ہوجائے اور استنجا کرے اور مستحب یہ ہے کہ اس کے بعد وضوء بھی پھر کرے اور نماز پھر پڑھے اور اگر نماز کے بعد یا د آیا تو اب استنجاء کر کے دوبارہ پڑھے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۲ : از موضع چپڑا ڈاك خانہ باسی ضلع پورینہ مرسلہ کلیم الدین ۲۵ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
پیشاب کرکے اسی جلسہ میں بغیر کلوخ کے استنجا کرنا صرف پانی سے درست ہے یا نہیں یا کلوخ سے لینا شرط ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ رسول مقبول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبغیر کلوخ کے صرف پانی سے استنجا اسی جلسہ میں کرتے تھے ہم لوگوں کے واسطے کیوں ناجائز ہوگا
الجواب :
ناجائز نہیں ہے صرف افضل ہے کہ ڈھیلے کے بعد پانی ہو اور بغیر ڈھلے کے اسی جلسہ میں ہوتو اقویا کے لئے جن کو قطرہ آنے کا اندیشہ نہ ہو یا جن کو قطرہ حرارت سے آتا اور پانی سے بند ہوجاتا ہو ان کے لئے کوئی حرج نہیں ورنہ
نہیں اسی طرح کاغذ صاف اور قیمتی ہونے کی وجہ سے مکروہ تحریمی ہے نیز وہ قابل احترام ہے کیونکہ وہ کتابت علم کا آلہ ہے اسی لئے تتارخانیہ میں اس کی علت یوں بیان کی ہے کہ اس کی تعظیم آداب دین سے ہے (فقہاء کرام) نے نقل کیا ہے کہ ہمارے نزدیك حروف کی عزت ہے اگرچہ وہ کٹے ہوئے ہوں بعض قراء نے فرمایا کہ حروف تہجی بھی قرآن ہیں جو حضرت ہود علیہ السلام پر نازل ہوئے۔ (ت)
اور ریل کا عذر صرف زید ہی کو لاحق ہوتا ہے اور مسلمانوں کو کیوں نہیں ہوتا کیا ڈھیلے یا پرانا کپڑا نہیں رکھ سکتے ہاں سنت نصاری کا اتباع منظور ہو تو یہ قلب کا مرض ہے دواچاہئے واللہتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۱ : از قصبہ واساواڑ ضلع کاٹھیا واڑ مرسلہ سید احمد صاحب پیش امام ۲۴ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
ایك شخص نے بعد پیشاب کلوخ لیا اور استنجا کرنا بھول گیا بعد اس کے نماز اداکرلی یا ادائیگی نماز یا بعد نماز یاد آیا کہ میں استنجا بھول گیا نماز ہوگئی یا اعادہ کرنا چاہئے۔
الجواب :
اگر پیشاب روپے بھر سے زیادہ جگہ میں نہ پھیلا تھا تو صرف ڈھیلا طہارت کیلئے کافی ہے نماز ہوگئی اور اگر روپے بھر سے زائد جگہ میں پھیل گیا تھا تو ڈھیلے سے طہارت نہیں ہوسکتی پانی سے دھونا فرض ہے اگر نماز میں یاد آئے فورا جدا ہوجائے اور استنجا کرے اور مستحب یہ ہے کہ اس کے بعد وضوء بھی پھر کرے اور نماز پھر پڑھے اور اگر نماز کے بعد یا د آیا تو اب استنجاء کر کے دوبارہ پڑھے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۲ : از موضع چپڑا ڈاك خانہ باسی ضلع پورینہ مرسلہ کلیم الدین ۲۵ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ
پیشاب کرکے اسی جلسہ میں بغیر کلوخ کے استنجا کرنا صرف پانی سے درست ہے یا نہیں یا کلوخ سے لینا شرط ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ رسول مقبول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمبغیر کلوخ کے صرف پانی سے استنجا اسی جلسہ میں کرتے تھے ہم لوگوں کے واسطے کیوں ناجائز ہوگا
الجواب :
ناجائز نہیں ہے صرف افضل ہے کہ ڈھیلے کے بعد پانی ہو اور بغیر ڈھلے کے اسی جلسہ میں ہوتو اقویا کے لئے جن کو قطرہ آنے کا اندیشہ نہ ہو یا جن کو قطرہ حرارت سے آتا اور پانی سے بند ہوجاتا ہو ان کے لئے کوئی حرج نہیں ورنہ
حوالہ / References
رد المحتار فصل الاستنجا مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۷
ناجائز ہے کہ استبرا واجب ہے یعنی وہ فعل کرنا کہ اطمینان ہوجائے کہ اب قطرہ نہ آئے گا والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۳ : از کاٹھیاوار گونڈل مرسلہ سیٹھ عبدالستار صاحب قادری برکاتی رضوی۹جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
یہاں مسجد جامع میں پیشاب خانے اس طرح بنے ہوئے ہیں کہ استنجے کے وقت آدمی کا رخ مشرق اور پشت مغرب کی طرف ہوتی ہے یہ کیسا ہے باجود چند علماء کے منع کرنے کے بھی اہل محلہ بے پرواہی کرکے ایسے پیشاب خانے بدلنے کی کوشش نہیں کرتے ان کے حق میں کیا حکم ہے نیز اس شخص کے لئے جو ہمیشہ ان پیشاب خانوں میں مشرق کی طرف منہ اور مغرب کی طرف پشت کرکے پیشاب وغیرہ کرتا ہو اس کی امامت جائز ہے یا نہیں
الجواب :
پیشاب کے وقت منہ نہ قبلہ کو ہونا جائز ہے نہ پشت جو لوگ ایسا کریں خطاکار ہیں مہتممین مسجد یا اہل محلہ پر واجب ہے کہ ان کا رخ جنوبا شمالا کریں اور جب تك ایسا نہ ہو پیشاب کرنے والوں پر لازم ہے کہ رخ بدل کر بیٹھیں ممکن ہے کہ جو لوگ واقف ہوں وہ ایسا ہی کرتے ہوں مسلمان پر نیك گمان چاہئے صرف اتنی وجہ سے ان کی امامت ناجائز نہیں کہی جاسکتی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۴ : مسئولہ شاہ محمد از دار العلوم منظر اسلام
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ
زید دروقت خشك کردن استنجا برعمرو سلام علیك گفت آیا عمروکہ استنجا خشك میکند جواب سلام زید رابدہد یانہ واگر دہدچہ گناہ ست واگر گناہ ست دلیل چیست۔ زید نے استنجا خشك کرتے وقت عمرو کو سلام کیا کیا عمرو جو استنجا خشك کررہا ہے زید کے سلام کا جواب دے یا نہ اگر دے تو گناہ ہے اور اگر گناہ ہے تو اس کی دلیل کیا ہے (ت)
الجواب :
اوبیچنان ست کہ بہ کسے ہنگام کمیزاندا ختنش سلام کنی کہ خشك کردن نمود مگر بسبب بقائے قطرات بول واللہتعالی اعلم۔
وہ ایسے ہی ہے جیسے کہ تم کسی کو پیشاب کرتے وقت سلام کہو کیونکہ خشك کرنا اسی وقت ہوتا ہے جب پیشاب کے قطرے باقی ہوں۔ (ت)
مسئلہ ۲۳۵ : از چوہرکوٹ بارکھان ملك بلوچستان مرسلہ قادر بخش صاحب ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
چہمی فرماند علمائے دین دریں مسئلہ کہ شخص راعادت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی
مسئلہ ۲۳۳ : از کاٹھیاوار گونڈل مرسلہ سیٹھ عبدالستار صاحب قادری برکاتی رضوی۹جمادی الاولی ۱۳۳۶ھ
یہاں مسجد جامع میں پیشاب خانے اس طرح بنے ہوئے ہیں کہ استنجے کے وقت آدمی کا رخ مشرق اور پشت مغرب کی طرف ہوتی ہے یہ کیسا ہے باجود چند علماء کے منع کرنے کے بھی اہل محلہ بے پرواہی کرکے ایسے پیشاب خانے بدلنے کی کوشش نہیں کرتے ان کے حق میں کیا حکم ہے نیز اس شخص کے لئے جو ہمیشہ ان پیشاب خانوں میں مشرق کی طرف منہ اور مغرب کی طرف پشت کرکے پیشاب وغیرہ کرتا ہو اس کی امامت جائز ہے یا نہیں
الجواب :
پیشاب کے وقت منہ نہ قبلہ کو ہونا جائز ہے نہ پشت جو لوگ ایسا کریں خطاکار ہیں مہتممین مسجد یا اہل محلہ پر واجب ہے کہ ان کا رخ جنوبا شمالا کریں اور جب تك ایسا نہ ہو پیشاب کرنے والوں پر لازم ہے کہ رخ بدل کر بیٹھیں ممکن ہے کہ جو لوگ واقف ہوں وہ ایسا ہی کرتے ہوں مسلمان پر نیك گمان چاہئے صرف اتنی وجہ سے ان کی امامت ناجائز نہیں کہی جاسکتی والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۴ : مسئولہ شاہ محمد از دار العلوم منظر اسلام
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ
زید دروقت خشك کردن استنجا برعمرو سلام علیك گفت آیا عمروکہ استنجا خشك میکند جواب سلام زید رابدہد یانہ واگر دہدچہ گناہ ست واگر گناہ ست دلیل چیست۔ زید نے استنجا خشك کرتے وقت عمرو کو سلام کیا کیا عمرو جو استنجا خشك کررہا ہے زید کے سلام کا جواب دے یا نہ اگر دے تو گناہ ہے اور اگر گناہ ہے تو اس کی دلیل کیا ہے (ت)
الجواب :
اوبیچنان ست کہ بہ کسے ہنگام کمیزاندا ختنش سلام کنی کہ خشك کردن نمود مگر بسبب بقائے قطرات بول واللہتعالی اعلم۔
وہ ایسے ہی ہے جیسے کہ تم کسی کو پیشاب کرتے وقت سلام کہو کیونکہ خشك کرنا اسی وقت ہوتا ہے جب پیشاب کے قطرے باقی ہوں۔ (ت)
مسئلہ ۲۳۵ : از چوہرکوٹ بارکھان ملك بلوچستان مرسلہ قادر بخش صاحب ۱۴ ربیع الاول شریف ۱۳۳۷ھ
چہمی فرماند علمائے دین دریں مسئلہ کہ شخص راعادت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص کی
است کہ چوں ذکرادمی شپلد برسرآں بول برآید دمی ایستد رواں نمی گردداگر نمی شپلد برسرآں بول نمودار نشود آیا دریں صورت وضو اس شکستہ شودیانہ اگر دریں حالت وضو بشکند آیا صاحب عذر شودیانہ یا حکم است کہ اونہ شپلدونہ وسواس کند ہرگاہ کہ بول آید وضو بکند ہرچہ بگنجد بفرمایند اگر ایں عادت بود اووضو نمی کرد نمازہا خواندہ است آیا جملہ نماز باز گرداند یا معاف ست بیاعث حرج بسیار ازیں سوال بے ادبی معاف فرمایند۔
عادت ہے جب اس کا آلہ تناسل حرکت میں آتا ہے تو پیشاب اس کے (آلہ تناسل) کے سر کے اوپر آکر ٹھہر جاتا ہے جاری نہیں ہوتا اور اگر حرکت نہ کرے تو اس کے اوپر پیشاب ظاہر نہیں ہوتا کیا اس صورت میں اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں اگر اس حالت میں وضو ٹوٹ جائے تو کیا وہ معذور شمار ہوگا یا نہ یا اسے نہ اچھلنے والے کا حکم دیاجائے اور کسی قسم کا وسوسہ نہ کرے جب پیشاب نکلے تو وضو کرے جو کچھ آنجناب فرمائیں۔ اور اگر اس کی یہ عادت تھی اور وضو کیے بغیر نمازیں پڑھتا رہا تو کیا تمام نمازیں لوٹائے یا زیادہ حرج کے باعث معاف ہے۔ سوال کرنے پر بے ادبی سے معاف فرمائیں۔ (ت)
الجواب :
کمیزتا آنکہ برلب عضو برنیاید وضو بجائے خودست نماز ہاکہ ایں چناں گزاردہ ست بے خلل ست فشردن عضو پس ازبول سنت بیش نیست اگر میداندکہ ہربارکہ می فشرد چیزے برمی آید ومنقطع نمی شود واگر نفشرد برنیاید آنگاہ اور افشردن بکار نیست ہمچناں وضو کردہ نماز گزار دو وسوسہ رابدل رانہ ندہد والله تعالی اعلم۔
پیشاب جب تك عضو کے کنارے پر نہ آئے وضو قائم ہے جو نمازیں اس حال میں پڑھی ہیں ان میں کوئی خرابی نہیں۔ پیشاب کے بعد عضو کو جھاڑنا صرف سنت ہے اس سے زیادہ (فرض یا واجب) نہیں اگر سمجھتا ہوکہ جب بھی جھاڑے گا کچھ نہ کچھ باہر آئے گا اور پیشاب ختم نہیں ہوگا اور اگر نہیں جھاڑے گا تو نہیں آئے گا اس صورت میں جھاڑنے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح وضوکرکے نماز پڑھے اور دل میں کسی قسم کے وسوسہ کو جگہ نہ دے والله تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۲۳۶ : شہر بریلی (دارالعلوم) منظر الاسلام مسئولہ مولوی حشمت علی صاحب طالب علم دارالعلوم مذکور ۹ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کا صحن اس طرح پر ہے کہ نصف حوض کے داہنے بائیں صحن مسجد ہے اور نصف کے اردگرد صرف زمین مقام الف میں اس کے سیڑھیاں ہیں زید کو مرض ہے کہ اگر ڈھیلا لے کر فورا علی الاتصال پانی سے استنجا پاك نہ کرے تو قطرہ آجاتا ہے اب وہ استنجا کرتا ہوا آیا ہے پانی حوض
عادت ہے جب اس کا آلہ تناسل حرکت میں آتا ہے تو پیشاب اس کے (آلہ تناسل) کے سر کے اوپر آکر ٹھہر جاتا ہے جاری نہیں ہوتا اور اگر حرکت نہ کرے تو اس کے اوپر پیشاب ظاہر نہیں ہوتا کیا اس صورت میں اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں اگر اس حالت میں وضو ٹوٹ جائے تو کیا وہ معذور شمار ہوگا یا نہ یا اسے نہ اچھلنے والے کا حکم دیاجائے اور کسی قسم کا وسوسہ نہ کرے جب پیشاب نکلے تو وضو کرے جو کچھ آنجناب فرمائیں۔ اور اگر اس کی یہ عادت تھی اور وضو کیے بغیر نمازیں پڑھتا رہا تو کیا تمام نمازیں لوٹائے یا زیادہ حرج کے باعث معاف ہے۔ سوال کرنے پر بے ادبی سے معاف فرمائیں۔ (ت)
الجواب :
کمیزتا آنکہ برلب عضو برنیاید وضو بجائے خودست نماز ہاکہ ایں چناں گزاردہ ست بے خلل ست فشردن عضو پس ازبول سنت بیش نیست اگر میداندکہ ہربارکہ می فشرد چیزے برمی آید ومنقطع نمی شود واگر نفشرد برنیاید آنگاہ اور افشردن بکار نیست ہمچناں وضو کردہ نماز گزار دو وسوسہ رابدل رانہ ندہد والله تعالی اعلم۔
پیشاب جب تك عضو کے کنارے پر نہ آئے وضو قائم ہے جو نمازیں اس حال میں پڑھی ہیں ان میں کوئی خرابی نہیں۔ پیشاب کے بعد عضو کو جھاڑنا صرف سنت ہے اس سے زیادہ (فرض یا واجب) نہیں اگر سمجھتا ہوکہ جب بھی جھاڑے گا کچھ نہ کچھ باہر آئے گا اور پیشاب ختم نہیں ہوگا اور اگر نہیں جھاڑے گا تو نہیں آئے گا اس صورت میں جھاڑنے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح وضوکرکے نماز پڑھے اور دل میں کسی قسم کے وسوسہ کو جگہ نہ دے والله تعالی اعلم (ت)
مسئلہ ۲۳۶ : شہر بریلی (دارالعلوم) منظر الاسلام مسئولہ مولوی حشمت علی صاحب طالب علم دارالعلوم مذکور ۹ ربیع الآخر ۱۳۳۷ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسجد کا صحن اس طرح پر ہے کہ نصف حوض کے داہنے بائیں صحن مسجد ہے اور نصف کے اردگرد صرف زمین مقام الف میں اس کے سیڑھیاں ہیں زید کو مرض ہے کہ اگر ڈھیلا لے کر فورا علی الاتصال پانی سے استنجا پاك نہ کرے تو قطرہ آجاتا ہے اب وہ استنجا کرتا ہوا آیا ہے پانی حوض
میں بہت نیچا ہوگیا ہے اور ادھر ادھر لوٹوں میں وضو کا بچا ہوا پانی رکھا ہے وہ مقام ب سے فصیل فصیل مقام الف تك ہاتھ میں درحالیکہ (درحالیکہ رضائی یا چادر وغیرہ اوڑھے ہو) جاکر پانی لاسکتا ہے یا نہیں۔
نقشہ یہ ہے :
this space for image
الجواب :
جبکہ حوض کی فصیل ہی پر گیا اور چادر اوڑھے ہے صحن مسجد میں قدم نہ رکھا یوں جاکر پانی لے آیا اور غسل خانہ میں استنجا کیا تو اصلا کسی قسم کا حرج نہیں حوض وفصیل حوض مسجد سے خارج ہے ولہذا اس پر وضو واذان بلاکراہت جائز ہے والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۷ : از رنگون مرسلہ سیٹھ عبدالستار ابن اسمعیل صاحب رضوی ۸ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد استنجا لینے پیشاب کرنے کے بجائے کلوخ کے وقت ضرورت جاذب (انگریزی ساخت کا بلاٹنگ) کا استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں
الجواب :
کاغذ سے استنجا سنت نصاری ہے اور شرعا منع ہے جبکہ قابل کتابت یا قیمتی ہو۔ اور ایسا نہ بھی ہو تو بلاضرورت سنت نصرانی سے بچنا ضرور ہے۔ ردالمحتار میں ہے :
کرہ تحریما بشیئ محترم یدخل فیہ الورق قیل انہ ورق الکتابۃ وقیل ورق الشجر وایھما کان فانہ مکروہ اھ ورق الکتابۃ لہ احترام لکونہ الۃ لکتابۃ العلم ولذا علله فی التاترخانیۃ بان تعظیمہ من ادب الدین واذاکانت العلۃ کونہ الۃ للکتابتہ یوخذ منھا عدم الکراھۃ فیما لایصلح لھا اذاکان قالعا للنجاسۃ غیر متقوم کماقدمنا من
کسی قابل احترام چیز کے ساتھ استنجاء کرنا مکروہ تحریمی ہے اور اس میں ورق بھی داخل ہے کہا گیا ہے کہ اس سے لکھنے کا کاغذ مراد ہے اور کسی نے کہا اس سے مراد درخت کا پتا ہے ان میں سے جو بھی ہو مکروہ ہے اھ۔ کتابت کا کاغذ اس لئے قابل عزت ہے کہ وہ کتابت علم کا آلہ ہے اسی لئے تتارخانیہ میں اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ اس کی تعظیم آداب دین سے ہے اور جب اس کی علت یہ ہوکہ وہ آلہ کتابت ہے تو اس کا
نقشہ یہ ہے :
this space for image
الجواب :
جبکہ حوض کی فصیل ہی پر گیا اور چادر اوڑھے ہے صحن مسجد میں قدم نہ رکھا یوں جاکر پانی لے آیا اور غسل خانہ میں استنجا کیا تو اصلا کسی قسم کا حرج نہیں حوض وفصیل حوض مسجد سے خارج ہے ولہذا اس پر وضو واذان بلاکراہت جائز ہے والله تعالی اعلم
مسئلہ ۲۳۷ : از رنگون مرسلہ سیٹھ عبدالستار ابن اسمعیل صاحب رضوی ۸ شعبان ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد استنجا لینے پیشاب کرنے کے بجائے کلوخ کے وقت ضرورت جاذب (انگریزی ساخت کا بلاٹنگ) کا استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں
الجواب :
کاغذ سے استنجا سنت نصاری ہے اور شرعا منع ہے جبکہ قابل کتابت یا قیمتی ہو۔ اور ایسا نہ بھی ہو تو بلاضرورت سنت نصرانی سے بچنا ضرور ہے۔ ردالمحتار میں ہے :
کرہ تحریما بشیئ محترم یدخل فیہ الورق قیل انہ ورق الکتابۃ وقیل ورق الشجر وایھما کان فانہ مکروہ اھ ورق الکتابۃ لہ احترام لکونہ الۃ لکتابۃ العلم ولذا علله فی التاترخانیۃ بان تعظیمہ من ادب الدین واذاکانت العلۃ کونہ الۃ للکتابتہ یوخذ منھا عدم الکراھۃ فیما لایصلح لھا اذاکان قالعا للنجاسۃ غیر متقوم کماقدمنا من
کسی قابل احترام چیز کے ساتھ استنجاء کرنا مکروہ تحریمی ہے اور اس میں ورق بھی داخل ہے کہا گیا ہے کہ اس سے لکھنے کا کاغذ مراد ہے اور کسی نے کہا اس سے مراد درخت کا پتا ہے ان میں سے جو بھی ہو مکروہ ہے اھ۔ کتابت کا کاغذ اس لئے قابل عزت ہے کہ وہ کتابت علم کا آلہ ہے اسی لئے تتارخانیہ میں اس کی علت یہ بیان کی ہے کہ اس کی تعظیم آداب دین سے ہے اور جب اس کی علت یہ ہوکہ وہ آلہ کتابت ہے تو اس کا
جوازہ بالخرق البوالی ۔
نتیجہ یہ ہوا کہ اگر کاغذ تحریر کی صلاحیت نہ رکھتا ہو اور نجاست کو زائل کرنے والا ہو اور قیمتی بھی نہ ہو تو اسکے استعمال میں کوئی کراہت نہیں جیسا کہ اس سے پہلے ہم نے پرانے کپڑے کے ٹکڑوں سے استنجاء کا جواز بیان کیا ہے۔ (ت)
پیشاب کے لئے خالی پانی بھی کافی ہے اگر کوئی عذر نہ ہو۔ ردالمحتار میں ہے :
الجمع بین الماء و الحجر افضل ویلیہ فی الفضل الاقتصار علی الماء ویلیہ الاقتصار علی الحجر وتحصل السنۃ بالکل وان تفاوت الفضل کما افادہ فی الامداد وغیرہ ۔
پانی اور پتھر کو جمع کرنا افضل ہے صرف پانی پر اکتفاء کرنے میں بھی فضیلت ہے اور صرف پتھروں سے استنجا کرنا بھی باعث فضیلت ہے ہر ایك سے سنت پر عمل ہوجاتا ہے اگرچہ فضیلت میں فرق ہے جیسا کہ الامداد وغیرہ میں بیان کیا ہے (ت)
پرانا کپڑا بھی کافی ہے زمین یا دیوار سے صاف کردینا بھی کافی ہے وفیہ عن امیر المؤمنین الفاروق الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ(اس سلسلے میں حضرت امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے حدیث مروی ہے۔ ت) ہاں کوئی صورت میسر نہ ہو تو جاذب سے بھی طہارت ہوجائیگی جبکہ نجاست کو درہم بھر سے زیادہ جگہ میں پھیلائے بغیر جذب کرلے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۸ : از شہر کہنہ مسئولہ محمد ظہور صاحب ۱۱ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ استنجا چھوٹا خواہ بڑا باوجود دستیاب ہونے مٹی کے ڈھیلے کے محض پانی سے کرنے والے کی نسبت کیا حکم ہے
الجواب :
خلاف افضل ہے خصوصا بڑا استنجاء والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۹ : از بیکانیر مارواڑ محلہ مہاوتان مرسلہ قاضی قمرالدین صاحب ۹ ربیع الاول ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پائخانہ میں تھوکنا کیسا ہے کہ اس کی ممانعت ہے کہ وہاں نہ تھوکے بینوا توجروا۔
الجواب :
ہاں پاخانے میں تھوکنے کی ممانعت ہے کہ مسلمان کا منہ قرآن عظیم کا راستہ ہے وہ اس سے ذکر الہی
نتیجہ یہ ہوا کہ اگر کاغذ تحریر کی صلاحیت نہ رکھتا ہو اور نجاست کو زائل کرنے والا ہو اور قیمتی بھی نہ ہو تو اسکے استعمال میں کوئی کراہت نہیں جیسا کہ اس سے پہلے ہم نے پرانے کپڑے کے ٹکڑوں سے استنجاء کا جواز بیان کیا ہے۔ (ت)
پیشاب کے لئے خالی پانی بھی کافی ہے اگر کوئی عذر نہ ہو۔ ردالمحتار میں ہے :
الجمع بین الماء و الحجر افضل ویلیہ فی الفضل الاقتصار علی الماء ویلیہ الاقتصار علی الحجر وتحصل السنۃ بالکل وان تفاوت الفضل کما افادہ فی الامداد وغیرہ ۔
پانی اور پتھر کو جمع کرنا افضل ہے صرف پانی پر اکتفاء کرنے میں بھی فضیلت ہے اور صرف پتھروں سے استنجا کرنا بھی باعث فضیلت ہے ہر ایك سے سنت پر عمل ہوجاتا ہے اگرچہ فضیلت میں فرق ہے جیسا کہ الامداد وغیرہ میں بیان کیا ہے (ت)
پرانا کپڑا بھی کافی ہے زمین یا دیوار سے صاف کردینا بھی کافی ہے وفیہ عن امیر المؤمنین الفاروق الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ(اس سلسلے میں حضرت امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہسے حدیث مروی ہے۔ ت) ہاں کوئی صورت میسر نہ ہو تو جاذب سے بھی طہارت ہوجائیگی جبکہ نجاست کو درہم بھر سے زیادہ جگہ میں پھیلائے بغیر جذب کرلے والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۸ : از شہر کہنہ مسئولہ محمد ظہور صاحب ۱۱ شوال ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ استنجا چھوٹا خواہ بڑا باوجود دستیاب ہونے مٹی کے ڈھیلے کے محض پانی سے کرنے والے کی نسبت کیا حکم ہے
الجواب :
خلاف افضل ہے خصوصا بڑا استنجاء والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۹ : از بیکانیر مارواڑ محلہ مہاوتان مرسلہ قاضی قمرالدین صاحب ۹ ربیع الاول ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پائخانہ میں تھوکنا کیسا ہے کہ اس کی ممانعت ہے کہ وہاں نہ تھوکے بینوا توجروا۔
الجواب :
ہاں پاخانے میں تھوکنے کی ممانعت ہے کہ مسلمان کا منہ قرآن عظیم کا راستہ ہے وہ اس سے ذکر الہی
حوالہ / References
ردالمحتار فصل الاستنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۷
ردالمحتار فصل الاستنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۶
ردالمحتار فصل الاستنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۶
کرتا ہے تو اس کا لعاب ناپاك جگہ پر ڈالنا بیجا ہے ردالمحتار میں ہے :
لایبزق فی البول اھ قلت والدلیل اعم کما علمت۔
پیشاب میں نہ تھوکا جائے اھ میں کہتا ہوں اور دلیل عام ہے جیسا کہ تم جانتے ہو (ت)
البتہ وہاں کی دیوار وغیرہ جہاں نجاست نہ ہو اس پر تھوکنے میں حرج نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۰ : از بنارس محلہ اودھوپورہ مرسلہ محمد بشیر الدین بن محمد قاسم صاحب ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خطیب کو خطبہ پڑھتے وقت شك معلوم ہوا کہ مجھ کو قطرہ اتر آیا اور خطبہ اس نے آلہ تناسل کو ہاتھ سے چھوا تو کچھ تری معلوم نہ ہوئی تو اس نے وضو نہ کیا اور اس شك کی حالت میں نماز جمعہ پڑھادی چونکہ اس کو شك تھا کیونکہ ایسا واقعہ اس سے قبل کئی مرتبہ اس کو ہوچکا تھا مگر اور مرتبہ وضو کرلیتا تھا اس مرتبہ اس نے وضو نہ کیا تو بعد نماز جمعہ جب اکثر لوگ چلے گئے تو اس نے آلہ تناسل کو دیکھا تو اوپر سے کچھ تری معلوم نہ ہوئی تو اس نے دودھ دوہنے کی طرح دوہا تو ذراسی تری معلوم ہوئی تو اب لوگوں کی نماز ہوئی یا نہیں اگر نہیں ہوئی تو اس میں کیا کرنا چاہئے یہ بھی نہیں معلوم کہ نماز جمعہ میں کتنے لوگ اور کہاں کہاں کے آدمی تھے خطیب بہت گھبرایا ہے اور اس کی نجات کی کیا صورت ہوسکتی ہے کہ خدا کے پاس رہائی ہو اور شریعت مطہرہ کیا حکم اس میں دیتی ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
صورت مذکورہ میں نہ وضو گیا نہ نماز میں خلل آیا نہ کسی کو اطلاع دینے کی حاجت نہ وسوسہ پر عمل کی اجازت۔ حدیث میں ارشاد ہواہے کہ شیطان دھوکا دینے کے لئے تھوك دیتا ہے جس سے تری کا شبہہ ہوتا ہے۔ جب ہاتھ سے دیکھ لیا تری نہ تھی پھر دغدغہ کا کیا محل رہا بعد نماز دیر کے بعد جب اکثر لوگ چلے گئے اگر دیکھنے سے تری نظر بھی آئی تو اس سے ختم شدہ نماز پر کچھ اثر نہیں ہوسکتا فان الحادث یضاف لاقرب اوقاتہ (نوپید (نجاست) کو قریب وقت کی طرف منسوب کیا جائے گا۔ ت) نہ کہ اس وقت نیز تری نہ پائی دودھ کی طرح دوہنے سے اگر کچھ نکلی تو وہ یقینا ابھی نکلی اب اس وقت وضو گیا نہ کہ پہلے سے جاتا رہا۔ امام عبداللہبن مبارك رضی اللہ تعالی عنہشاگرد جلیل سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا کہ جب حالت ایسے یقین کی ہوکہ تم قسم کھاکر کہہ سکو کہ وضو نہ رہا اس وقت سے اعتبار کیا جائے گا اور جب تك شك ہو جس پر قسم نہ کھاسکو وضو برقرار ہے امام اجل ابراہیم نخعی
لایبزق فی البول اھ قلت والدلیل اعم کما علمت۔
پیشاب میں نہ تھوکا جائے اھ میں کہتا ہوں اور دلیل عام ہے جیسا کہ تم جانتے ہو (ت)
البتہ وہاں کی دیوار وغیرہ جہاں نجاست نہ ہو اس پر تھوکنے میں حرج نہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۰ : از بنارس محلہ اودھوپورہ مرسلہ محمد بشیر الدین بن محمد قاسم صاحب ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خطیب کو خطبہ پڑھتے وقت شك معلوم ہوا کہ مجھ کو قطرہ اتر آیا اور خطبہ اس نے آلہ تناسل کو ہاتھ سے چھوا تو کچھ تری معلوم نہ ہوئی تو اس نے وضو نہ کیا اور اس شك کی حالت میں نماز جمعہ پڑھادی چونکہ اس کو شك تھا کیونکہ ایسا واقعہ اس سے قبل کئی مرتبہ اس کو ہوچکا تھا مگر اور مرتبہ وضو کرلیتا تھا اس مرتبہ اس نے وضو نہ کیا تو بعد نماز جمعہ جب اکثر لوگ چلے گئے تو اس نے آلہ تناسل کو دیکھا تو اوپر سے کچھ تری معلوم نہ ہوئی تو اس نے دودھ دوہنے کی طرح دوہا تو ذراسی تری معلوم ہوئی تو اب لوگوں کی نماز ہوئی یا نہیں اگر نہیں ہوئی تو اس میں کیا کرنا چاہئے یہ بھی نہیں معلوم کہ نماز جمعہ میں کتنے لوگ اور کہاں کہاں کے آدمی تھے خطیب بہت گھبرایا ہے اور اس کی نجات کی کیا صورت ہوسکتی ہے کہ خدا کے پاس رہائی ہو اور شریعت مطہرہ کیا حکم اس میں دیتی ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
صورت مذکورہ میں نہ وضو گیا نہ نماز میں خلل آیا نہ کسی کو اطلاع دینے کی حاجت نہ وسوسہ پر عمل کی اجازت۔ حدیث میں ارشاد ہواہے کہ شیطان دھوکا دینے کے لئے تھوك دیتا ہے جس سے تری کا شبہہ ہوتا ہے۔ جب ہاتھ سے دیکھ لیا تری نہ تھی پھر دغدغہ کا کیا محل رہا بعد نماز دیر کے بعد جب اکثر لوگ چلے گئے اگر دیکھنے سے تری نظر بھی آئی تو اس سے ختم شدہ نماز پر کچھ اثر نہیں ہوسکتا فان الحادث یضاف لاقرب اوقاتہ (نوپید (نجاست) کو قریب وقت کی طرف منسوب کیا جائے گا۔ ت) نہ کہ اس وقت نیز تری نہ پائی دودھ کی طرح دوہنے سے اگر کچھ نکلی تو وہ یقینا ابھی نکلی اب اس وقت وضو گیا نہ کہ پہلے سے جاتا رہا۔ امام عبداللہبن مبارك رضی اللہ تعالی عنہشاگرد جلیل سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہنے فرمایا کہ جب حالت ایسے یقین کی ہوکہ تم قسم کھاکر کہہ سکو کہ وضو نہ رہا اس وقت سے اعتبار کیا جائے گا اور جب تك شك ہو جس پر قسم نہ کھاسکو وضو برقرار ہے امام اجل ابراہیم نخعی
حوالہ / References
ردالمحتار مطلب فی الفرق بین الاستبراء والاستنقاء والاستننجاء مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۲۵۴
استاذ الاستاذ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہمفرماتے ہیں : “ شیطان کے وسوسے پر عمل نہ کرو اگر وہ زیادہ پریشان کرے تو اس سے کہے میں بے وضو ہی پڑھوں گا تیری نہ سنوں گا یوں وہ خبیث باز آتا ہے اور اس کی سنو تو اور زیادہ پریشان کرتا ہے “ ۔ ہاں اگر یہ حالت ہوتی کہ قطرے اترنے کا ظن غالب ہوگیا تھا اور وضو نہ رہنے پر یقین فقہی ہوچکا تھا پھر دانستہ نماز پڑھادی تو ضرور نماز نہ ہوتی اور سخت سے سخت گناہ کبیرہ ہوتا اور عذاب شدید عظیم کا استحقاق ہوتا اور تمام مقتدیوں کو اطلاع دینی فرض ہوتی زبانی یا خط بھیج کر۔ اور جو غیر معروف رہے ان کے لئے متعدد جمعوں جماعتوں میں اعلان کرنا ہوتا کہ فلاں جمعہ کی نماز باطل تھی ظہر کی قضا پڑھو۔ لیکن مسلمان سے اس کی توقع بہت بعید ہے۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۱ : از بلند شہر قریب جامع مسجد مرسلہ رحمت اللہصاحب ۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا ارشاد فرماتے ہیں کہ ایك امام صاحب کو یہ عارضہ ہے کہ دو تین مہینے جبکہ سردی پڑتی ہے تو ان کو سردی سے قطرہ آجاتا ہے اور خصوصا استنجا پاك کرکے اور دوسرے کپڑے سے خشك کرکے بھی یہی گمان رہتا ہے کہ قطرہ آگیا اور جب دیکھتے ہیں تو قطرہ نہیں اور کبھی کبھی آبھی جاتا ہے اور امام صاحب کو نماز میں بھی اکثر یہ گمان گزر جاتا ہے کہ قطرہ آگیا ہے اور نہیں آتا تو وہ اگر نیچے ایك پاك تہمد نماز پڑھنے پڑھانے کے وقت یا پاك لنگرولنگوٹ رکھ لیں تو نماز ہوگی یا نہیں اور حقیقت میں اس طرح قطرہ بھی نہیں آتا ہے اور اطمینان بھی رہتا ہے کیونکہ گرمائی رہتی ہے اور گرمائی سے واقعی قطرہ بھی نہیں آتا۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
جبکہ لنگریا لنگوٹ سے قطرہ بند ہوجاتا ہے تو ان کا باندھنا واجب ہے۔ بحر میں ہے :
متی قدر علی ردالسیلان برباط اوحشو وجب ردہ ۔
جب (کپڑا وغیرہ) باندھنے یا کوئی زائد چیز رکھنے کے ذریعے جریان کو روکنے پر قادر ہوتو روکنا واجب ہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۴۲ : از سہسوان ضلع بدایوں مسئولہ سید پرورش علی صاحب یکم ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پیشاب کرکے رفع کراہت کے واسطے اس پر چند بار پانی بہاکر اسی وقت اسی جگہ صرف پانی سے استنجا کیا ہے
الجواب :
زمین اگر پختہ یا سخت ہو جس پر تین بار پانی بہادینے سے ظن غالب ہوکہ نجاست کو بہالے گیا تو اسی وقت وہیں
مسئلہ ۲۴۱ : از بلند شہر قریب جامع مسجد مرسلہ رحمت اللہصاحب ۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۳۸ھ
علمائے دین اس مسئلہ میں کیا ارشاد فرماتے ہیں کہ ایك امام صاحب کو یہ عارضہ ہے کہ دو تین مہینے جبکہ سردی پڑتی ہے تو ان کو سردی سے قطرہ آجاتا ہے اور خصوصا استنجا پاك کرکے اور دوسرے کپڑے سے خشك کرکے بھی یہی گمان رہتا ہے کہ قطرہ آگیا اور جب دیکھتے ہیں تو قطرہ نہیں اور کبھی کبھی آبھی جاتا ہے اور امام صاحب کو نماز میں بھی اکثر یہ گمان گزر جاتا ہے کہ قطرہ آگیا ہے اور نہیں آتا تو وہ اگر نیچے ایك پاك تہمد نماز پڑھنے پڑھانے کے وقت یا پاك لنگرولنگوٹ رکھ لیں تو نماز ہوگی یا نہیں اور حقیقت میں اس طرح قطرہ بھی نہیں آتا ہے اور اطمینان بھی رہتا ہے کیونکہ گرمائی رہتی ہے اور گرمائی سے واقعی قطرہ بھی نہیں آتا۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
جبکہ لنگریا لنگوٹ سے قطرہ بند ہوجاتا ہے تو ان کا باندھنا واجب ہے۔ بحر میں ہے :
متی قدر علی ردالسیلان برباط اوحشو وجب ردہ ۔
جب (کپڑا وغیرہ) باندھنے یا کوئی زائد چیز رکھنے کے ذریعے جریان کو روکنے پر قادر ہوتو روکنا واجب ہے۔ (ت)
مسئلہ ۲۴۲ : از سہسوان ضلع بدایوں مسئولہ سید پرورش علی صاحب یکم ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پیشاب کرکے رفع کراہت کے واسطے اس پر چند بار پانی بہاکر اسی وقت اسی جگہ صرف پانی سے استنجا کیا ہے
الجواب :
زمین اگر پختہ یا سخت ہو جس پر تین بار پانی بہادینے سے ظن غالب ہوکہ نجاست کو بہالے گیا تو اسی وقت وہیں
حوالہ / References
البحرالرائق باب الحیض مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی پاکستان ۱ / ۲۱۶
پانی سے استنجا کرنے میں حرج نہیں واللہتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۳ : از مقام بسوہ اسٹیشن تعلق ملکاپور ضلع بلڈانہ برار مدرسہ اسلامی بسوہ اسٹیشن مسئولہ سراج الدین ۱۳رمضان ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ چکنی مٹی سے کپڑے خراب ہونے کے سبب اینٹ پختہ سے استنجا صاف کرنا بعد اینٹ کے ٹکڑے جس سے استنجا صاف کیا گیا وہ کسی صورت سے پاك ہوکر پھر استنجا صاف کرنے کے کام میں آسکتی ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
پختہ اینٹ سے استنجا منع ومکروہ ہے اور اس میں اندیشہ مرض بھی ہے جس ڈھیلے وغیرہ سے چھوٹا استنجا کیا گیا ہو بعد خشکی دوبارہ کام میں لاسکتے ہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۴ : از مدرسہ منظر اسلام بریلی مسئولہ مولوی عبداللہبہاری ۳ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ڈھیلے اور پانی سے استنجا کرنے پر قطرہ پیشاب کا ہمیشہ آجاتا ہے ایسی صورت میں کیا حکم ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر پانی سے استنجا کرنے پر قطرہ آتا ہے تو صرف ڈھیلے سے استنجا کرے اگر پیشاب روپے بھر سے زائد جگہ میں نہ پھیلا ہوتو ڈھیلے ہی سے پاك ہوجائے گا اور اگر ڈھیلے سے استنجا پر قطرہ آتا ہے اور پانی سے بند ہوجاتا ہے تو پانی سے استنجا ضرور ہے اور اگر دونوں طرح آتا ہے تو انتظار کرنا اور وہ تدبیريں بجالانا جن سے قطرہ رکے واجب ہے اور اگر کسی طرح نہ رکے اور ایك نماز کا وقت اول سے آخر تك گزر جائے کہ وضو کرکے فرض پڑھنے کی مہلت نہ پائے تو وہ معذور ہے جب تك نماز کے ہروقت میں کم ازکم ایك بار آتا رہے گا اسے وضو تازہ کرلینا کافی ہوگا واللہتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۵ تا ۲۴۷ : از کاٹھیاواڑ مسئولہ حسین ولد قاسم مہتمم مدرسہ اسلامیہ باٹوہ شب۔ ۱۷ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱) کیا استقبال واستدبار قبلہ بوقت پیشاب پائخانہ جائز ہے۔
(۲) کیا استقبال واستدبار جنوب وشمال بوقت پیشاب وپاخانہ مرخص ہے اگر مرخص ہے تو استقبال بسوئے شمال افضل ہے یا بجنوب۔
مسئلہ ۲۴۳ : از مقام بسوہ اسٹیشن تعلق ملکاپور ضلع بلڈانہ برار مدرسہ اسلامی بسوہ اسٹیشن مسئولہ سراج الدین ۱۳رمضان ۱۳۳۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ چکنی مٹی سے کپڑے خراب ہونے کے سبب اینٹ پختہ سے استنجا صاف کرنا بعد اینٹ کے ٹکڑے جس سے استنجا صاف کیا گیا وہ کسی صورت سے پاك ہوکر پھر استنجا صاف کرنے کے کام میں آسکتی ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
پختہ اینٹ سے استنجا منع ومکروہ ہے اور اس میں اندیشہ مرض بھی ہے جس ڈھیلے وغیرہ سے چھوٹا استنجا کیا گیا ہو بعد خشکی دوبارہ کام میں لاسکتے ہیں والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۴ : از مدرسہ منظر اسلام بریلی مسئولہ مولوی عبداللہبہاری ۳ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ڈھیلے اور پانی سے استنجا کرنے پر قطرہ پیشاب کا ہمیشہ آجاتا ہے ایسی صورت میں کیا حکم ہے۔ بینوا توجروا۔
الجواب :
اگر پانی سے استنجا کرنے پر قطرہ آتا ہے تو صرف ڈھیلے سے استنجا کرے اگر پیشاب روپے بھر سے زائد جگہ میں نہ پھیلا ہوتو ڈھیلے ہی سے پاك ہوجائے گا اور اگر ڈھیلے سے استنجا پر قطرہ آتا ہے اور پانی سے بند ہوجاتا ہے تو پانی سے استنجا ضرور ہے اور اگر دونوں طرح آتا ہے تو انتظار کرنا اور وہ تدبیريں بجالانا جن سے قطرہ رکے واجب ہے اور اگر کسی طرح نہ رکے اور ایك نماز کا وقت اول سے آخر تك گزر جائے کہ وضو کرکے فرض پڑھنے کی مہلت نہ پائے تو وہ معذور ہے جب تك نماز کے ہروقت میں کم ازکم ایك بار آتا رہے گا اسے وضو تازہ کرلینا کافی ہوگا واللہتعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۵ تا ۲۴۷ : از کاٹھیاواڑ مسئولہ حسین ولد قاسم مہتمم مدرسہ اسلامیہ باٹوہ شب۔ ۱۷ ذی الحجہ ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ :
(۱) کیا استقبال واستدبار قبلہ بوقت پیشاب پائخانہ جائز ہے۔
(۲) کیا استقبال واستدبار جنوب وشمال بوقت پیشاب وپاخانہ مرخص ہے اگر مرخص ہے تو استقبال بسوئے شمال افضل ہے یا بجنوب۔
(۳) دربارہ استقبال شمال عوام بلکہ دانستہ حضرات چہ میگوئیاں کرتے ہیں کہ بیت المقدس انبیاء علیہم السلام کا قبلہ خصوصا سرور انبیاء سرتاج اصفیاء روحی فداہ کاقبلہ بھی بیت المقدس ہی تھا اور وہ واقع بہ شمال ہے اور روضہ شیخ سید عبدالقادر گیلانی قدس سرہ العزیز بھی بسوئے شمال ہے لہذا استقبال شمالی میں کمال درجہ کی بے ادبی ہے تو کیا یہ ہر دومقامات اقدس واقع بہ شمال ہیں اور استقبال شمال میں کوئی ممانعت شرع میں پائی جاتی ہے بینوا توجروا۔
الجواب :
(۱) پاخانہ پیشاب کے وقت قبلہ معظمہ کا استقبال واستدبار دونوں ناجائز ہیں والله تعالی اعلم۔
(۲) شمال جنوب کی کوئی تخصیص نہیں قبلہ کو نہ منہ ہو نہ پیٹھ پھر جس طرف بھی بیٹھے جائز ہے والله تعالی اعلم۔
(۳) نہ بیت المقدس یہاں سے ٹھیك شمال کو ہے نہ بغداد شریف بلکہ دونوں یہاں سے جانب مغرب ہی ہیں اگرچہ شمال کو قدرے جھکے ہوئے اور شریعت پر زیادت کی اجازت نہیں اور اگر ان لوگوں کا کہنا فرض کرلیا جائے کہ وہ جانب شمال ہی ہیں تو فقط استقبال ہی بے ادبی نہیں بلکہ استدبار بھی۔ اب مشرق یا مغرب کو منہ کرنا تو یوں منع ہوا کہ کعبہ معظمہ کو منہ یا پیٹھ ہوگی اور جنوب وشمال کویوں منع ہواکہ بیت المقدس یا بغداد شریف کو رویا پشت ہوگی تو قضائے حاجت کے وقت کسی طرف منہ کرنے کی اجازت نہ رہی۔ یہ کیونکر ممکن۔ ہر جہت کا حکم اس کے دونوں پہلوؤں میں ۴۵ ۴۵ درجے تك رہتا ہے جس طرح نماز میں استقبال قبلہ تو تمام آفاق کا احاطہ ہوگیا اور قضائے حاجت کی کوئی صورت نہ رہی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۶ : از ادھ نگلہ ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مسئولہ جناب محمد صادق علی خان صاحب رمضان ۱۳۳۰ھ
بچوں کے گلے میں بچوں کے ماں باپ بچوں کی حفاظت کے لئے چھوٹی حمائل شریف ٹین کے تعویذ میں اور اوپر اس کے کپڑا پاك چڑھا کر ڈالتے ہیں غرض بہت احتیاط سے یہ کام ہوتا ہے یا فقط ایك دو آیت بچے پاخانے میں جاتے ہیں طرح طرح کی بے ادبیاں ظہور میں آتی ہیں یہ کام شرع میں جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
تعویذ موم جامعہ وغیرہ کرکے غلاف جداگانہ میں رکھ کر بچوں کے گلے میں ڈالنا جائز ہے اگر چہ اس میں بعض آیات قرآنیہ ہوں اور اس احتیاط کے ساتھ پاخانے میں لے جانا بھی جائز ہے ہاں افضل احتراز ہے درمختار میں ہے :
رقیۃ فی غلاف متجاف لم یکرہ دخول
غلاف میں لپٹے ہوئے تعویذ کے ساتھ بیت الخلاء
الجواب :
(۱) پاخانہ پیشاب کے وقت قبلہ معظمہ کا استقبال واستدبار دونوں ناجائز ہیں والله تعالی اعلم۔
(۲) شمال جنوب کی کوئی تخصیص نہیں قبلہ کو نہ منہ ہو نہ پیٹھ پھر جس طرف بھی بیٹھے جائز ہے والله تعالی اعلم۔
(۳) نہ بیت المقدس یہاں سے ٹھیك شمال کو ہے نہ بغداد شریف بلکہ دونوں یہاں سے جانب مغرب ہی ہیں اگرچہ شمال کو قدرے جھکے ہوئے اور شریعت پر زیادت کی اجازت نہیں اور اگر ان لوگوں کا کہنا فرض کرلیا جائے کہ وہ جانب شمال ہی ہیں تو فقط استقبال ہی بے ادبی نہیں بلکہ استدبار بھی۔ اب مشرق یا مغرب کو منہ کرنا تو یوں منع ہوا کہ کعبہ معظمہ کو منہ یا پیٹھ ہوگی اور جنوب وشمال کویوں منع ہواکہ بیت المقدس یا بغداد شریف کو رویا پشت ہوگی تو قضائے حاجت کے وقت کسی طرف منہ کرنے کی اجازت نہ رہی۔ یہ کیونکر ممکن۔ ہر جہت کا حکم اس کے دونوں پہلوؤں میں ۴۵ ۴۵ درجے تك رہتا ہے جس طرح نماز میں استقبال قبلہ تو تمام آفاق کا احاطہ ہوگیا اور قضائے حاجت کی کوئی صورت نہ رہی۔ والله تعالی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۶ : از ادھ نگلہ ڈاکخانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مسئولہ جناب محمد صادق علی خان صاحب رمضان ۱۳۳۰ھ
بچوں کے گلے میں بچوں کے ماں باپ بچوں کی حفاظت کے لئے چھوٹی حمائل شریف ٹین کے تعویذ میں اور اوپر اس کے کپڑا پاك چڑھا کر ڈالتے ہیں غرض بہت احتیاط سے یہ کام ہوتا ہے یا فقط ایك دو آیت بچے پاخانے میں جاتے ہیں طرح طرح کی بے ادبیاں ظہور میں آتی ہیں یہ کام شرع میں جائز ہے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب :
تعویذ موم جامعہ وغیرہ کرکے غلاف جداگانہ میں رکھ کر بچوں کے گلے میں ڈالنا جائز ہے اگر چہ اس میں بعض آیات قرآنیہ ہوں اور اس احتیاط کے ساتھ پاخانے میں لے جانا بھی جائز ہے ہاں افضل احتراز ہے درمختار میں ہے :
رقیۃ فی غلاف متجاف لم یکرہ دخول
غلاف میں لپٹے ہوئے تعویذ کے ساتھ بیت الخلاء
الخلاء بہ والاحتراز افضل
میں داخل ہونا مکروہ نہیں البتہ بچنا افضل ہے (ت)
ردالمحتار میں ہے :
الظاھر ان المراد بھامایسمونہ الان بالھیکل والحمائل المشتمل علی الایات القرانیۃ فاذاکان غلافہ منفصلا عنہ کالمشمع ونحوہ جاز دخول الخلاء بہ ومسہ وحملہ للجنب ۔
ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد وہ چیز ہے جسے آج کل ہیکل یا حمائل کہتے ہیں اور وہ آیات قرآنیہ پر مشتمل ہوتی ہے جب اس کا غلاف الگ ہو جیسے موم جامعہ وغیرہ تو اس کے ساتھ بھی بیت الخلا میں داخل ہونا جائز ہے نیزجنبی آدمی کا اسے ہاتھ لگانا اور اٹھانا بھی جائز ہے۔ (ت)
بے ادبیوں کی احتیاط کی جائے پھر یہ امر مانع انتفاع نہیں کہ پہنانے والوں کی نیت تبرك ہے۔
وانما الاعمال بالنیات وقد کتب امیرالمؤمنین عمر رضی الله تعالی عنہ علی افخاذاھل الصدقۃ حبیس فی سبیل اللہ۔
اعمال (کے ثواب) کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہنے اونٹوں کی رانوں پر لکھا “ اللہکی راہ میں روکا ہوا “ ۔ (ت)
اس مقصد کی تفصیل ہمارے رسالہ الحرف الحسن فی الکتابۃ علی الکفن میں ہے مگر تعویذ پر قرآن عظیم ومصحف کریم کا قیاس نہیں ہوسکتا۔
اولا : قرآن مجید اگرچہ دس۱۰ غلافوں میں ہو پاخانے میں لے جانا بلاشبہہ مسلمانوں کی نگاہ میں شنیع اور ان کے عرف میں بے ادبی ٹھہرے گا اور ادب وتوہین کا مدار عرف پر ہے تعویذ کہ بعض آیات پر مشتمل ہو وہ آیات ضرور قرآن عظیم ہیں مگر اسے تعویذ کہیں گے نہ قرآن جیسے کتاب نحوکہ امثلہ قواعد میں آیات قرآنیہ پر مشتمل اس کے لئے کتاب نحو ہی کا حکم ہوگا نہ کہ مصحف شریف کا۔ مصحف شریف دارالحرب میں لے جانا منع ہے اور کتاب لے جانے سے کسی نے منع نہ کیا مصحف کے پٹھے کو بے وضو چھونا حرام اور اس کتاب کے ورق کو بھی چھونا جائز۔
ثانیا : اس کا ٹین میں رکھ کر بند کردینا یا موم جامے یا کپڑے ہی کے غلاف میں سی دینا یہ خود خلاف شرع ہے کہ اس کی تلاوت سے منع ہے ائمہ سلف تو غلاف مصحف شریف میں بند لگانے کو مکروہ جانتے تھے کہ بند باندھنا بظاہر منع کی صورت ہوگا تو یوں ٹین وغیرہ میں رکھ کر ہمیشہ کیلئے سی دینا کہ حقیقۃ منع ہے کس درجہ مکروہ ومورد شنع ہے۔ تبیين الحقائق میں فرمایا :
میں داخل ہونا مکروہ نہیں البتہ بچنا افضل ہے (ت)
ردالمحتار میں ہے :
الظاھر ان المراد بھامایسمونہ الان بالھیکل والحمائل المشتمل علی الایات القرانیۃ فاذاکان غلافہ منفصلا عنہ کالمشمع ونحوہ جاز دخول الخلاء بہ ومسہ وحملہ للجنب ۔
ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد وہ چیز ہے جسے آج کل ہیکل یا حمائل کہتے ہیں اور وہ آیات قرآنیہ پر مشتمل ہوتی ہے جب اس کا غلاف الگ ہو جیسے موم جامعہ وغیرہ تو اس کے ساتھ بھی بیت الخلا میں داخل ہونا جائز ہے نیزجنبی آدمی کا اسے ہاتھ لگانا اور اٹھانا بھی جائز ہے۔ (ت)
بے ادبیوں کی احتیاط کی جائے پھر یہ امر مانع انتفاع نہیں کہ پہنانے والوں کی نیت تبرك ہے۔
وانما الاعمال بالنیات وقد کتب امیرالمؤمنین عمر رضی الله تعالی عنہ علی افخاذاھل الصدقۃ حبیس فی سبیل اللہ۔
اعمال (کے ثواب) کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہنے اونٹوں کی رانوں پر لکھا “ اللہکی راہ میں روکا ہوا “ ۔ (ت)
اس مقصد کی تفصیل ہمارے رسالہ الحرف الحسن فی الکتابۃ علی الکفن میں ہے مگر تعویذ پر قرآن عظیم ومصحف کریم کا قیاس نہیں ہوسکتا۔
اولا : قرآن مجید اگرچہ دس۱۰ غلافوں میں ہو پاخانے میں لے جانا بلاشبہہ مسلمانوں کی نگاہ میں شنیع اور ان کے عرف میں بے ادبی ٹھہرے گا اور ادب وتوہین کا مدار عرف پر ہے تعویذ کہ بعض آیات پر مشتمل ہو وہ آیات ضرور قرآن عظیم ہیں مگر اسے تعویذ کہیں گے نہ قرآن جیسے کتاب نحوکہ امثلہ قواعد میں آیات قرآنیہ پر مشتمل اس کے لئے کتاب نحو ہی کا حکم ہوگا نہ کہ مصحف شریف کا۔ مصحف شریف دارالحرب میں لے جانا منع ہے اور کتاب لے جانے سے کسی نے منع نہ کیا مصحف کے پٹھے کو بے وضو چھونا حرام اور اس کتاب کے ورق کو بھی چھونا جائز۔
ثانیا : اس کا ٹین میں رکھ کر بند کردینا یا موم جامے یا کپڑے ہی کے غلاف میں سی دینا یہ خود خلاف شرع ہے کہ اس کی تلاوت سے منع ہے ائمہ سلف تو غلاف مصحف شریف میں بند لگانے کو مکروہ جانتے تھے کہ بند باندھنا بظاہر منع کی صورت ہوگا تو یوں ٹین وغیرہ میں رکھ کر ہمیشہ کیلئے سی دینا کہ حقیقۃ منع ہے کس درجہ مکروہ ومورد شنع ہے۔ تبیين الحقائق میں فرمایا :
حوالہ / References
دُرمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۴
ردالمحتار ، مطلب یطلق الدعاء علٰی مایشتمل الثناء ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۱۳۱
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الٰی رسول اللہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲
ردالمحتار ، مطلب یطلق الدعاء علٰی مایشتمل الثناء ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱ / ۱۳۱
صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الٰی رسول اللہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲
کان المتقدمون یکرھون شد المصاحف واتخاذ الشد لھا لئلا یکون فی صورۃ المنع فاشبہ الغلق علی باب المسجد ۔
متقدمین قرآن پاك کو (کسی چیز میں) بند کردینے اور انہیں بند کرنے کا طریقہ اختیار کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے تاکہ (اس سے) روکنے کی صورت نہ پیدا ہو تو اس طرح وہ مسجد کا دروازہ بند کرنے کے مشابہ ہوجائے گا (ت)
ثالثا : قرآن عظیم چھوٹی تقطیع پر لکھنا حمائل بنانا شرعا مکروہ ناپسند ہے امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہنے ایك شخص کے پاس قرآن مجید باریك لکھا ہوا دیکھا اسے مکروہ رکھا اور اس شخص کو مارا اور فرمایا عظموا کتاب اللہ ۔ رواہ ابو عبید فی فضائل القران کتاب اللہکی عظمت کرو۔ (ابو عبید نے اسے فضائل قرآن میں روایت کیا۔ ت)امیر المومنین علی کرم اللہوجہہ الکریم مصحف کو چھوٹا بنانا مکروہ رکھتے رواہ عنہ عبدالرزاق فی مصنفہ وبمعناہ ابوعبید فی فضائلہ (عبدالرزاق نے اسے اپنے مصنف میں روایت کیا اور ابوعبید نے فضائل میں اس کا مفہوم نقل کیا ہے۔ ت) اسی طرح ابراہیم نخعی نے اسے مکروہ فرمایا رواہ ابن ابی داؤد فی المصاحف (ابن داؤد نے اسے مصاحف میں بیان کیا۔ ت)درمختار میں ہے : یکرہ تصغیر مصحف (قرآن پاك کو چھوٹی تقطیع میں لانا مکروہ ہے۔ ت)ردالمحتار میں ہے : ای تصغیر حجمہ (یعنی اس کا حجم چھوٹا کرنا۔ ت)تو اس قدر چھوٹا بنانا کہ معاذ اللہایك کھلونا اور تماشہ ہوکس طرح مقبول ہوسکتا ہے اور وہ جری لوگ یہ فعل مردود نہیں تعویذوں کی خاطر کرتے ہیں اگر مسلمان ان کو تعویذ نہ بنائیں تو کیوں خریدیں اور نہ خریدیں تو وہ کیوں اسے چھاپیں تو ان کا تعویذ بنانا ان کے اس فعل کا باعث ہے اور اس کے ترك میں اس کا انسداد تو اس کا تعویذ بنانا ضرور مستحق الترك ہے اس دلیل کی تفصیل جلیل ہمارے رسالہ الکشف الشافیافی حکم فونوجرافیا میں ہے والله تعالی اعلم۔
___________________
متقدمین قرآن پاك کو (کسی چیز میں) بند کردینے اور انہیں بند کرنے کا طریقہ اختیار کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے تاکہ (اس سے) روکنے کی صورت نہ پیدا ہو تو اس طرح وہ مسجد کا دروازہ بند کرنے کے مشابہ ہوجائے گا (ت)
ثالثا : قرآن عظیم چھوٹی تقطیع پر لکھنا حمائل بنانا شرعا مکروہ ناپسند ہے امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہنے ایك شخص کے پاس قرآن مجید باریك لکھا ہوا دیکھا اسے مکروہ رکھا اور اس شخص کو مارا اور فرمایا عظموا کتاب اللہ ۔ رواہ ابو عبید فی فضائل القران کتاب اللہکی عظمت کرو۔ (ابو عبید نے اسے فضائل قرآن میں روایت کیا۔ ت)امیر المومنین علی کرم اللہوجہہ الکریم مصحف کو چھوٹا بنانا مکروہ رکھتے رواہ عنہ عبدالرزاق فی مصنفہ وبمعناہ ابوعبید فی فضائلہ (عبدالرزاق نے اسے اپنے مصنف میں روایت کیا اور ابوعبید نے فضائل میں اس کا مفہوم نقل کیا ہے۔ ت) اسی طرح ابراہیم نخعی نے اسے مکروہ فرمایا رواہ ابن ابی داؤد فی المصاحف (ابن داؤد نے اسے مصاحف میں بیان کیا۔ ت)درمختار میں ہے : یکرہ تصغیر مصحف (قرآن پاك کو چھوٹی تقطیع میں لانا مکروہ ہے۔ ت)ردالمحتار میں ہے : ای تصغیر حجمہ (یعنی اس کا حجم چھوٹا کرنا۔ ت)تو اس قدر چھوٹا بنانا کہ معاذ اللہایك کھلونا اور تماشہ ہوکس طرح مقبول ہوسکتا ہے اور وہ جری لوگ یہ فعل مردود نہیں تعویذوں کی خاطر کرتے ہیں اگر مسلمان ان کو تعویذ نہ بنائیں تو کیوں خریدیں اور نہ خریدیں تو وہ کیوں اسے چھاپیں تو ان کا تعویذ بنانا ان کے اس فعل کا باعث ہے اور اس کے ترك میں اس کا انسداد تو اس کا تعویذ بنانا ضرور مستحق الترك ہے اس دلیل کی تفصیل جلیل ہمارے رسالہ الکشف الشافیافی حکم فونوجرافیا میں ہے والله تعالی اعلم۔
___________________
حوالہ / References
تبیين الحقائق فصل کرہ استقبال القبلۃ بالفرج الخ مطبوعہ بولاق مصر ۱ / ۱۶۸
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲ / ۲۴۵
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۴۷
درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲ / ۲۴۵
ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مصطفی البابی مصر ۵ / ۲۴۷
وثالثا : (۱) بل قدنص فی الاول ایضا علی خلافہ اذقال یقتضی ان یجب التاخیرعند التحقق فی اخرالوقت مع بعدالمسافۃ فی الروایات الظاھرۃ الخ فافصح ان الکلام عند بعد المسافۃ فکیف یکون مبنی الرجاء قربھا وان تنزلنایکن الکلام مطلقایشمل القرب والبعد والالم یکن لقولہ مع بعدالمسافۃ مساغ وعلی الکل یبطل ان المرادخصوص الرجاء لاجل القرب۔
ورابعا : بل(۲)الثانی ایضاشاھد علی بطلانہ فانہ قدرفیہ ان النادرۃ ھی التی تمنع التیمم فی الظن والیقین والظاھرۃ تخالفھافیھمالوکان ھذا
لاجل قرب المسافۃ کان المعنی ان الروایۃ الظاھرۃ تجیزالتیمم وانکان الماء قریبا بالیقین وھذا لایتفوہ بہ عاقل فکیف یجوزلھذا الامام الجلیل الذی قدقلتم انہ من المحققین الکبار ان یدخلہ فی المحامل۔
وخامسا : یا(۳)للعجب لم یقنع بجعلہ محملا بل ردہ بان ذلك یقتضی ان جواز التیمم یزول عند التیقن ولیس
ثالثا : ب لکہ محمل اول میں بھی اس کے برخلاف تصریح موجود ہے کہ وہ فرماتے ہیں : “ یہ اس کا مقتضی ہے کہ ظاہر روایات پر بعد مسافت کے باوجود آخر وقت میں یقین کی صورت میں تاخیر واجب ہو “ ۔ اس میں صاف بتادیا کہ بعد مسافت کی صورت میں کلام ہے پھر قرب مسافت امید کا مبنی کیسے ہوگا اگر ہم تنزل اختیار کریں تو کلام مطلق ہوکر قرب وبعد دونوں کو شامل ہوگا ورنہ ان کے الفاظ “ مع بعد المسافۃ “ (بعد مسافت کے باوجود) کی کوئی گنجائش نہ نکل سکے گی بہرصورت یہ باطل ہے کہ خاص وہی امید مراد ہے جو قرب مسافت کے باعث ہو۔ (ت)رابعا : بلکہ محمل دوم بھی اس کے بطلان پر شاہد ہے۔ اس لئے کہ اس میں انہوں نے یہ فرض کیا ہے کہ روایت نادرہ ہی ظن ویقین دونوں میں مانع تیمم ہے اور روایت ظاہر دونوں میں اس کے برخلاف ہے اگر یہ قرب مسافت کی وجہ سے ہوتا تو معنی یہ ہوتا کہ روایت ظاھرہ تیمم کو جائز قرار دیتی ہے اگرچہ پانی یقینا قریب ہو۔ یہ تو کوئی ہوشمند نہیں بول سکتا پھر امام جلیل کیلئے یہ کیسے ممکن ہوگا جن کے بارے میں آپ فرماچکے کہ وہ کبار محققین میں سے ہیں یہ کیسے ممکن ہوگا کہ اسے محملوں میں داخل فرمائیں۔ (ت)خامسا : یا للعجب!اسے محمل بتانے ہی پر قناعت نہ کی بلکہ اس کی تردید اس طرح فرمائی کہ اس کا اقتضا یہ ہے کہ یقین کی صورت میں جواز تیمم
ورابعا : بل(۲)الثانی ایضاشاھد علی بطلانہ فانہ قدرفیہ ان النادرۃ ھی التی تمنع التیمم فی الظن والیقین والظاھرۃ تخالفھافیھمالوکان ھذا
لاجل قرب المسافۃ کان المعنی ان الروایۃ الظاھرۃ تجیزالتیمم وانکان الماء قریبا بالیقین وھذا لایتفوہ بہ عاقل فکیف یجوزلھذا الامام الجلیل الذی قدقلتم انہ من المحققین الکبار ان یدخلہ فی المحامل۔
وخامسا : یا(۳)للعجب لم یقنع بجعلہ محملا بل ردہ بان ذلك یقتضی ان جواز التیمم یزول عند التیقن ولیس
ثالثا : ب لکہ محمل اول میں بھی اس کے برخلاف تصریح موجود ہے کہ وہ فرماتے ہیں : “ یہ اس کا مقتضی ہے کہ ظاہر روایات پر بعد مسافت کے باوجود آخر وقت میں یقین کی صورت میں تاخیر واجب ہو “ ۔ اس میں صاف بتادیا کہ بعد مسافت کی صورت میں کلام ہے پھر قرب مسافت امید کا مبنی کیسے ہوگا اگر ہم تنزل اختیار کریں تو کلام مطلق ہوکر قرب وبعد دونوں کو شامل ہوگا ورنہ ان کے الفاظ “ مع بعد المسافۃ “ (بعد مسافت کے باوجود) کی کوئی گنجائش نہ نکل سکے گی بہرصورت یہ باطل ہے کہ خاص وہی امید مراد ہے جو قرب مسافت کے باعث ہو۔ (ت)رابعا : بلکہ محمل دوم بھی اس کے بطلان پر شاہد ہے۔ اس لئے کہ اس میں انہوں نے یہ فرض کیا ہے کہ روایت نادرہ ہی ظن ویقین دونوں میں مانع تیمم ہے اور روایت ظاہر دونوں میں اس کے برخلاف ہے اگر یہ قرب مسافت کی وجہ سے ہوتا تو معنی یہ ہوتا کہ روایت ظاھرہ تیمم کو جائز قرار دیتی ہے اگرچہ پانی یقینا قریب ہو۔ یہ تو کوئی ہوشمند نہیں بول سکتا پھر امام جلیل کیلئے یہ کیسے ممکن ہوگا جن کے بارے میں آپ فرماچکے کہ وہ کبار محققین میں سے ہیں یہ کیسے ممکن ہوگا کہ اسے محملوں میں داخل فرمائیں۔ (ت)خامسا : یا للعجب!اسے محمل بتانے ہی پر قناعت نہ کی بلکہ اس کی تردید اس طرح فرمائی کہ اس کا اقتضا یہ ہے کہ یقین کی صورت میں جواز تیمم







